احتساب قادیانیت جلد 52 · مولانا صوفی سید عبدالرحمٰن گیلانی مجددی
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 52 · Maulana Sufi Syed Abdul Rahman
PDF 1

رَدّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

جلد ٥٢

عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّت

حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 4783486-061

PDF 2

داؤد منزل، اردو بازار، کراچی-1 021-3262525- e-mail: gabas

هدیه 70:00 روپے

صبح اور شام کی آسان مسنون دعائیں

GABA حضور کی سنتیں

رَدّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

٥٢

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ٣

اردو منزل، اردو بازار کراچی ٠٢١-٣٢٧٣٦٢٥١ e-mail: gabaso ہدیہ 70:00 روپے

صبح اور شام کی مسنون دُعائیں

قصص النبیین GABA

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ !

نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد باون (٥٢) مصنفین : مولانا صوفی سید عبدالرحمن گیلانی مجددی جناب منشی اللہ دتہ بہاول پوری حضرت مولانا سید عبدالسلام قادری باندوی حضرت مولانا محمد چراغ صاحب حضرت مولانا قاری حضرت گل بنوں حضرت مولانا عبدالرحمن فیصل آباد جناب پروفیسر ایم ۔ جے آغا خان جناب مہر عبدالرحیم جوہر جہلمی جناب سید محمد غلام احمد پوری جناب پروفیسر سید محمود علی کپور تھلوی حضرت مولانا مشتاق احمد ہوتوی حضرت مولانا عبدالحق رحیم یار خان حضرت مولانا محمد مصلح الحق حضرت مولانا علم دین حافظ آباد

صفحات : ٥٣٦ قیمت : ٣٥٠ روپے مطبع : ناصر آرٹ پریس لاہور طبع اوّل : مارچ ٢٠١٣ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فہرست رسائل مشمولہ...... احتساب

واحکام مرتبہ قرآن رحمانی و ربانی

بجواب چودھویں کا چاند

صفحہ ٣

٣ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٥٢

و احکام مرتبہ قرآن رحمانی و ربانی جناب سید محمد غلام احمد پوری ٤٥٣

بجواب چودھویں کا چاند حضرت مولانا علم دین حافظ آباد ٥٢٥

صفحہ ٥

اردو منزل، اردو بازار کراچی 021-32626571- e-mail: gabaso ہدیہ 70:00 روپے صبح اور شام کی آسان مسنون دعائیں تفسیر GABA

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ!

عرض مرتب

الحمد لله و کفی و سلام علی سید الرسل و خاتم الانبیاء۔ اما بعد! قارئین کرام! لیجئے محض اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے احتساب قادیانیت کی جلد باون (٥٢) پیش خدمت ہے۔ اس میں کل ٤ رسائل و کتب جمع ہوئے ہیں، جن کی تفصیل یہ ہے:

یہ رسالہ جناب مولوی صوفی سید عبد الرحمن خان گیلانی مجددی کا مرتب کردہ جو ١٩٢٥ء میں شائع ہوا۔ اڑسٹھ سال بعد دوبارہ یہ اس جلد میں شائع ہورہا ہے۔ سید، گیلانی، مجددی اور خان کا اجتماع مؤلف کے نام میں سمجھ میں نہیں آ رہا۔ موصوف مالیر کوٹلہ بھارتی پنجاب کے رہائشی تھے۔ اس پمفلٹ کے علاوہ بھی ان کی کتب ہیں۔

اس کا دوسرا نام۔ غلام احمد قادیانی کے اصلی حالات (١٩٠١ء): اس کا تیسرا نام۔ مختلف اعتقاد قادیانی (١٩٠٢ء): اس کے ٹائٹل پر یہ دو شعر بھی درج ہیں۔

اگر حق کی تجھے ہے چاہ پیارے خدا سے ڈر تعصب چھوڑ پیارے
نہ مانے جو حدیث مصطفےٰ کو اسی کو آگ ہے درگور پیارے

پہلے دو ناموں سے سن تالیف ١٩٠١ء نکلتا ہے۔ تیسرے نام ١٩٠٢ء سن اشاعت ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے مصنف جناب منشی اللہ دتہ صاحب تھے جو یتیم خانہ ریاست بہاول پور میں ملازم تھے۔ ایک سو بارہ سال بعد اب دوبارہ اس جلد میں یہ کتاب شائع ہورہی ہے۔

مولانا سید عبدالسلام قادری ہاندوی کی مرتب کردہ ہے۔ موصوف جمعیت علماء پاکستان کراچی کے نائب ناظم تھے۔

مؤلفہ حضرت مولانا محمد چراغ صاحب، موس کے مایہ ناز شاگرد تھے۔ آپ نے اپنے استاذ کی تقریر تر جو اس وقت ہر ترمذی پڑھانے والے کے لئے چراغ راہ ک حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کا فتنہ ق نسبت حضرت مولانا محمد چراغ مرحوم میں بھی منتقل ہوئی۔ آپ تھے۔ ان کی خوبی یہ تھی کہ وہ مرزا قادیانی کی تکذیب اس کی استاذ محترم فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحب رد قادیانیت پر شاگرد اور جانشین تھے۔ حضرت مولانا محمد چر مرتب کی تھی۔ جس میں ختم نبوت، حیات مسیح علیہ السلام او مناظرانہ مباحث کو دریا بکوزہ بند کیا گیا تھا۔ عرصہ تک وہ کا حیات اسی کو سامنے رکھ کر تیاری کرنے کا اپنے شاگردوں کو ح میں جامعہ عربیہ کے بانی تھے۔ آپ کے صاحبزادہ حضرت میں اس کاپی کو کتابی شکل میں ”چراغ ہدایت“ کے نام پر شائع کاپی پر اکثر حوالے مرزا قادیانی کی کتب کے لاہوری ایڈی شائع کرنے کا ارادہ ہوا تو مولانا محمد انور صاحب کے حکم پ آئے۔ حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر کی معاونت سے انہو حوالہ جات اس پر لگائے۔ اب ایڈیشن میں الحمد للہ ! کہ دجا حوالہ جات بھی لگا دیئے گئے ہیں۔ ہمارے ہاں علمی حلقوں ہے۔ واقعہ میں رد قادیانیت کے لئے یہ کتاب جامع کا درجہ ر اشاعت عالمی مجلس کے لئے اعزاز کی بات ہے۔ ہمارے العلماء کے بھی بانی تھے جو جماعت اسلامی پاکستان کا ذیلی مودودی صاحب کا جوڑ بجا طور پر ہمارے خیال میں ریشم میں سے بہتر تعبیر کرنی کم از کم فقیر کے لئے ممکن نہیں۔ کتاب کی خوشیاں لئے ہوئے ہے۔ اس کتاب کی احتساب میں شمولی ایک نسبت قائم ہو جانے کی خوشخبری اپنے اندر سموئے ہوئے

صفحہ ٥

٤....... چراغ ہدایت:

مؤلفہ حضرت مولانا محمد چراغ صاحبؒ، موصوف حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے مایہ ناز شاگرد تھے۔ آپ نے اپنے استاذ کی تقریر ترمذی کو العرف الشذی کے نام سے تحریر کیا جو اس وقت ہر ترمذی پڑھانے والے کے لئے چراغ راہ کا کام دیتی ہے۔

حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کا فتنہ قادیانیت کے خلاف جو جذبہ جہاد تھا۔ وہ نسبت حضرت مولانا محمد چراغ مرحوم میں بھی منتقل ہوئی۔ آپ رد قادیانیت کے اپنے وقت کے امام تھے۔ ان کی خوبی یہ تھی کہ وہ مرزا قادیانی کی تکذیب اس کی اپنی تحریرات سے کرتے تھے۔ ہمارے استاذ محترم فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحبؒ، حضرت مولانا محمد چراغ صاحبؒ کے رد قادیانیت پر شاگرد اور جانشین تھے۔ حضرت مولانا محمد چراغ صاحبؒ نے ایک کاپی رد قادیانیت پر مرتب کی تھی۔ جس میں ختم نبوت، حیات مسیح علیہ السلام اور کذب مرزا تینوں موضوعات پر جاندار مناظرانہ مباحث کو دریا بکوزہ بند کیا گیا تھا۔ عرصہ تک وہ کاپی نقل در نقل ہوتی رہی۔ حضرت مولانا محمد حیات اسی کو سامنے رکھ کر تیاری کرنے کا اپنے شاگردوں کو حکم دیتے تھے۔ مولانا محمد چراغ گوجرانوالہ میں جامعہ عربیہ کے بانی تھے۔ آپ کے صاحبزادہ حضرت مولانا محمد انور صاحب نے فروری ١٩٩٠ء میں اس کاپی کو کتابی شکل میں ”چراغ ہدایت“ کے نام پر شائع کیا۔ حضرت مولانا محمد چراغ صاحبؒ کی کاپی پر اکثر حوالے مرزا قادیانی کی کتب کے لاہوری ایڈیشن کے تھے۔ کاپی کو جب کتابی شکل میں شائع کرنے کا ارادہ ہوا تو مولانا محمد انور صاحب کے حکم پر ان کے دو نمائندے ملتان دفتر مرکز یہ آئے۔ حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ کی معاونت سے انہوں نے قادیان و چناب نگر ایڈیشنوں کے حوالہ جات اس پر لگائے۔ اب ایڈیشن میں الحمد للہ! کہ دجال قادیان کی کتب کے مجموعہ خزائن کے حوالہ جات بھی لگا دیئے گئے ہیں۔ ہمارے ہاں علمی حلقوں میں ایک لفظ ”جامع“ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ واقعہ میں رد قادیانیت کے لئے یہ کتاب جامع کا درجہ رکھتی ہے۔ ربع صدی بعد جدید ایڈیشن کی اشاعت عالمی مجلس کے لئے اعزاز کی بات ہے۔ ہمارے دادا استاذ حضرت مولانا محمد چراغ اتحاد العلماء کے بھی بانی تھے جو جماعت اسلامی پاکستان کا ذیلی ادارہ ہے۔ مولانا محمد چراغ سے جناب مودودی صاحب کا جوڑ بجا طور پر ہمارے خیال میں ریشم میں ٹاٹ کے پیوند کے مترادف ہے اور اس سے بہتر تعبیر کرنی کم از کم فقیر کے لئے ممکن نہیں۔ کتاب کی اشاعت بہرحال ہمارے لئے ڈھیروں خوشیاں لئے ہوئے ہے۔ اس کتاب کی احتساب میں شمولیت گویا فقیر راقم کی اپنے دادا استاذ سے ایک نسبت قائم ہو جانے کی خوشخبری اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ فالحمد للہ!

صفحہ ٧

اردو منزل، اردو بازار کراچی ٠٢١-٣٢٦٢٦٥٢٥- e-mail: gabas

ہدیہ 70:00 روپے

صبح اور شام کی مسنون دعائیں

مدرسہ تجوید القرآن مسجد حق نواز بنوں کے مہتمم جمعیت علماء اسلام کی مرکزی شوریٰ کے رکن، فدائے ختم نبوت قاری حضرت گل صاحب نے رد قادیانیت پر کتاب تحریر کی۔ اب اس کو احتساب کی اس جلد میں شامل کرنے پر بہت خوشی ہورہی ہے۔ حضرت قاری ”حضرت گل“ خوب مجاہد ختم نبوت تھے۔ فقیر راقم کے مہربان تھے ہر سال چنیوٹ و چناب نگر ختم نبوت کی کانفرنسوں میں شریک ہوتے۔ اپنے ایک مہربان کی کتاب کو احتساب کی اس جلد میں محفوظ کرنے کی سعادت پر اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر بجالاتا ہوں۔

جامعہ اشرف المدارس گرو نانک پورہ فیصل آباد کے مہتمم مولانا عبدالرحمن صاحب نے مولانا محمد منظور نعمانی کے متفرق مضامین جو تحذیر الناس پر مخالفین کے اعتراضات کے جوابات پر مشتمل تھے اور مختلف کتب ورسائل میں منتشر تھے۔ مولانا عبدالرحمن صاحب نے اس نام پر ان کو جمع کرکے شائع کر دیا۔ فجزاهم الله تعالى!

جناب پروفیسر ایم. جے آغا خان، ایم. اے کا مرتب کردہ ہے۔ جو ٢٥ اگست ١٩٦٠ء میں پہلی بار تبلیغی مرکز ریلوے روڈ لاہور سے شائع ہوا۔ نصف صدی بعد اسے دوبارہ اس جلد میں شامل کرنے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق سے سرفراز فرمایا۔

جہلم مجلس احرار الاسلام کے صدر مہر عبدالرحیم جو ہر جہلمی تھے۔ انہوں نے یہ رسالہ ترتیب دیا۔ اس کے ٹائٹل پر موصوف نے یہ تعارف شائع کیا۔ ”اہل سنت والجماعت کے بعض عقائد کے متعلق مرزائی اعتراض کرتے ہیں کہ یہ باتیں سنت اللہ کے خلاف ہیں۔ اس ٹریکٹ میں ان کے لغو اور بیہودہ اعتراضوں کا جواب پرلطف پیرایہ میں دیا گیا ہے۔“

اس کے مؤلف سید محمد غلام خلیفہ شیخ عبدالقادر جیلانی ہیں۔ یہ صاحب احمد پور شرقیہ ضلع بہاول پور کے مقیم تھے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی سے مراد حضرت بغدادیؒ نہیں بلکہ اوچ شریف کے ان کے ہمنام کو ئی بزرگ مراد ہیں۔ صادق الانوار بہاول پور مطبع سے اولاً یہ شائع ہوا۔

تفسیر عثمانی GABA

پروفیسر سید محمود علی صاحب کا مرتب کردہ یہ رسالہ مولوی محمد علی لاہوری ایم. اے نے ”ہمارے عق کے تقسیم کیا۔ جہاں اور حضرات کو یہ رسالہ بھجوایا ہوگا وہا آپ نے اس پر محاکمہ قائم کیا تھا جو اس پمفلٹ کی شکل کالج کپور تھلہ سے ریٹائرڈ تھے۔ آپ نے ستمبر ٣٦ مرزا قادیانی کے متبعین لاہوریوں کی تردید میں تیر بہد ہوا جائے ۔ ستر (٧٠) سال بعد دوبارہ اشاعت کی رہا ہے۔ فالحمد لله تعالى!

مولانا مشتاق احمد ہوتوی اس کے مرتب کراچی سے یہ شائع ہوا۔ بعد میں حضرت مولانا مختار ا جامعہ حنفیہ بورے والا میں صدر مدرس رہے۔ جامعہ ع میں یادگار اسلاف اور عالم ربانی تھے۔ ملنے کے دوسرا میں مرزا قادیانی کی مرصع گالیاں، سیاہ جھوٹ، غیر محرم لایا گیا ہے۔ اس جلد میں اسے محفوظ کرنے پر خوشی ہور

حضرت مولانا عبدالحق مبلغ احرار اسلام ضلع ہے جو مارچ ١٩٧٠ء میں شائع ہوا۔ اب چوالیس سال

حضرت مولانا محمد مطیع الحق صاحب جو کہ آپ نے یہ رسالہ مرتب کیا۔ اس کے ٹائٹل پر مصنف ”ہم تو تب جانیں کہ کوئی ان ارشادات تھے یا خدا؟ امتی تھے یا نبی؟ عورت تھے یا مرد؟ ماں ب پتھر؟ پاکستان بننے سے قبل کا شائع شدہ ہے۔ جمعی عثمانیؒ کی قائم کردہ جمعیت مراد ہے۔ یہ راقم کا اندازہ

صفحہ ٧

١٠...... احمدیہ (اسلامی محاکمہ ):

پروفیسر سید محمود علی صاحب کا مرتب کردہ یہ رسالہ ہے۔ لاہوری مرزائی جماعت کے سربراہ مولوی محمد علی لاہوری ایم۔اے نے ”ہمارے عقائد اور ہمارا کام“ کے نام پر رسالہ مرتب کر کے تقسیم کیا۔ جہاں اور حضرات کو یہ رسالہ بھجوایا ہو گا وہاں سید محمود علی صاحب کو بھی یہ رسالہ بھجوایا۔ آپ نے اس پر محاکمہ قائم کیا تھا جو اس پمفلٹ کی شکل میں شائع ہوا۔ پروفیسر سید محمود علی، راندھیر کالج کپور تھلہ سے ریٹائرڈ تھے۔ آپ نے ستمبر ١٩٣٦ء میں یہ رسالہ تحریر کیا۔ رسالہ کیا ہے، مرزا قادیانی کے متبعین لاہوریوں کی تردید میں تیر بہدف نسخہ اتنا شستہ اور دلنشیں انداز کہ جی خوش ہو جائے۔ ستتر (٧٧) سال بعد دوبارہ اشاعت کی سعادت پر دل مارے خوشی کے بلیوں اچھل رہا ہے۔ فالحمدللہ تعالیٰ!

١١...... مرزا کا چہرہ اپنے آئینہ میں:

مولانا مشتاق احمد ہوتوی اس کے مرتب ہیں۔ جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی سے یہ شائع ہوا۔ بعد میں حضرت مولانا مختار احمد، جامعہ رشیدیہ غلہ منڈی ساہیوال اور پھر جامعہ حنفیہ بورے والا میں صدر مدرس رہے۔ جامعہ مظاہرالعلوم سہارنپور کے فاضل تھے۔ صحیح معنی میں یادگار اسلاف اور عالم ربانی تھے۔ ملنے کے دوسرا پتہ میں آپ کا نام بھی درج ہے۔ اس رسالہ میں مرزا قادیانی کی مرصع گالیاں، سیاہ جھوٹ، غیر محرم عورتوں سے اختلاط ایسے مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ اس جلد میں اسے محفوظ کرنے پر خوشی ہو رہی ہے۔

١٢...... فرنگی سیاست کے برگ و بار:

حضرت مولانا عبدالحق مجلس احرار اسلام ضلع رحیم یار خان کے رہنما کا یہ مرتب کردہ رسالہ ہے جو مارچ ١٩٧٠ء میں شائع ہوا۔ اب چوالیس سال بعد دوبارہ یہ اشاعت خوشی کا موجب ہے۔

١٣...... چیستان مرزا:

حضرت مولانا محمد مطیع الحق صاحب جو جمعیت علماء اسلام پنجاب کے ممتاز رہنما تھے۔ آپ نے یہ رسالہ مرتب کیا۔ اس کے ٹائٹل پر مصنف نے خود یہ تعارف لکھا۔ ”ہم تو تب جانیں کہ کوئی ان ارشادات کی تلاوت کر کے یہ بتا دے کہ مرزا جی بندہ تھے یا خدا؟ امتی تھے یا نبی؟ عورت تھے یا مرد؟ ماں تھے یا باپ؟ مسلمان تھے یا کافر؟ انسان تھے یا پتھر؟ پاکستان بننے سے قبل کا شائع شدہ ہے۔ جمعیت علماء اسلام سے مراد حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی کی قائم کردہ جمعیت مراد ہے۔ یہ راقم کا اندازہ ہے۔“

صفحہ ٨

قادیانیوں نے ”بدر کامل یعنی چودھویں کا چاند“ رسالہ لکھ کر یہ چاند چڑھایا کہ مرزا قادیانی بدر کامل تھا۔ جامع مسجد اہل حدیث حافظ آباد کے خطیب مولانا علم دین صاحب نے جواب میں ”چودھویں صدی کا دجال کون؟“ نامی یہ رسالہ جواباً تحریر فرمایا۔

غرض احتساب قادیانیت کی جلد ہذا (یعنی باون ٥٢ جلد) میں ١٤ حضرات کے ١٤ رسائل و کتب محفوظ ہو گئے ہیں جن کی فہرست پر ایک بار پھر نظر ڈالیں۔

....................................................................

گویا ١٤ حضرات کے کل ١٤ رسائل و کتب احتساب قادیانی کی جلد (٥٢) میں شامل اشاعت ہیں۔ حق تعالیٰ شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ آمین ۔ بحرمة خاتم النبیین!

محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا! ١٨؍ جمادی الاول ١٤٣٤ھ، بمطابق ٣٠؍ مارچ ٢٠١٣ء

PDF 10

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخر کا نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

ختم نبوت

المعروف

ایٹم بم رحمانی برعنق قادیانی

مولانا صوفی سید عبدالرحمٰن گیلانی مجددی

صفحہ ١٠

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اما بعد ۔ واضح ہو کہ اتباع حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہر مسلمان کلمہ گو پر فرض عین ہے۔ جیسا کہ خداوند تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے: "قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله ویغفرلکم ذنوبکم والله غفور رحیم (آل عمران: ٣١) "کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو۔ اللہ تم کو پیار کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ ﴿

جاننا چاہئے کہ اتباع حکم کے لئے عظمت وحرمت کا پیدا ہونا ایک لازمی امر ہے اور عظمت وحرمت سچی معرفت اور محبت سے پیدا ہو سکتی ہے۔ اس لئے جب کسی کے دل میں حضرت نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت پیدا ہوگی تو لازمی طور سے وہ عظمت وحرمت کو مدنظر رکھتے ہوئے اتباع حکم کے لئے مستعد ہو جائے گا۔ مگر عظمت ومحبت پیدا کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ کی سوانح حیات، اقوال اور اعمال کا بہ نظر غائر مطالعہ ضروری ہے اور اگر بہ نظر غائر مطالعہ نہیں ہوگا تو معرفت ومحبت پیدا نہیں ہو سکتی اور جس کے مطالعہ میں جس قدر کمی ہوگی اور جس کے دل میں معرفت ومحبت کی کمی ہوگی۔ اس کے دل میں نبی علیہ السلام کی عزت وحرمت پیدا نہیں ہو سکتی اور جب دل میں عزت وحرمت نہیں تو وہ شخص حکم کی فرمانبرداری سے محروم ہوتا چلا جائے گا اور جب نبی ﷺ کے حکم کی فرمانبرداری سے محروم ہوا تو خدا تعالیٰ کی محبت زائل ہونی شروع ہوگی اور جب خدا تعالیٰ کی محبت میں کمی واقع ہو گئی تو لازمی طور سے اس شخص کا ٹھکانہ جہنم میں ہوگا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کی معرفت ومحبت کے لئے نبی ﷺ کی معرفت ومحبت کا حاصل ہونا ایک لازم وملزوم امر ہے۔ جس کے بغیر نجات ابدی ناممکن ہے۔

حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ "فرمایا رسول خدا ﷺ نے کہ نہیں ہو سکتا مومن تم میں سے کوئی، یہاں تک کہ ہوں میں پیارا اس کی طرف اس کے باپ اور اس کی اولاد اور تمام دوسرے آدمیوں کی نسبت" (بخاری ومسلم)

اس زمانہ میں یعنی چودھویں صدی کے اندر عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو حضرت محمد ﷺ کے ساتھ اصلی محبت نہیں رہی۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ مسلمانوں میں رسول ﷺ کے احکام کی فرمانبرداری کا شوق بالکل زائل ہورہا ہے۔ جیسا کہ نقشہ مندرجہ ذیل سے بخوبی واضح ہوگا۔

٢

صفحہ ١١

نبی علیہ السلام نے حکم دیا ہے کہ مسلمانو! ڈاڑھی رکھا کرو اور مونچھیں کٹوایا کرو اور حکم کے علاوہ خود رسول علیہ السلام نے مدت العمر کبھی ڈاڑھی استرے سے نہیں منڈوائی۔ لیکن کیا بوڑھے اور کیا جوان، کیا امیر اور کیا غریب، اکثر اہل اسلام نے ڈاڑھی کا صفایا بڑے حوصلہ کے ساتھ شروع کر رکھا ہے اور اپنے پیغمبر ﷺ کے حکم وعمل کو ٹھکرا کر عیسائی اور ہندوؤں کے فیشن کی تقلید اختیار کر رکھی ہے۔ تہ بند اور پاجامے ہیں کہ خلاف حکم رسول ﷺ ٹخنوں سے نیچے رکھے جاتے ہیں اور بڑے ذوق وشوق سے بے ملک نواب کی طرح اتراتے ہوئے سڑکوں اور گلیوں کی صفائی کی جاتی ہے اور اس بات کی پرواہ تک نہیں کہ ہمارے پیغمبر علیہ السلام کا اس بارہ میں کیا حکم صادر ہوا ہے۔

رسول علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ جس گھر میں تصویر ہوگی۔ اس گھر میں رحمت کا فرشتہ داخل نہیں ہوتا۔ لیکن آج کون سا گھر ہے جس میں تصویر نہیں۔ لواطت اور زنا کاری سے اپنی امت کو منع کیا تھا۔ مگر مسلمانوں میں اس کا اس قدر رواج ہے کہ دوسری قومیں ان کے مقابلہ میں شرماتی ہیں۔ باہمی اتحاد اور ہمدردی کی تاکید فرمائی تھی۔ مگر بجائے اتحاد و ہمدردی کے تفریق وتشتت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ علماء ہیں کہ وہ حضور ﷺ کے احکام سے روگردانی، صاف اور صریح احکام نبوی کو تاویلات کے ذریعہ سے یہود ونصاریٰ کی طرح ٹھکرا دیتے ہیں اور باقی دیگر جاہلوں کا تو کیا ذکر ہے۔ سوتیلی دادی، نانی کے ساتھ نکاح جائز کیا گیا۔ چاچی، مامی کے ساتھ نکاح حلال قرار دیا اور اس کے ساتھ قسم قسم کی شرابیں بھی مباح حلال قرار دی گئیں، وغیرہ وغیرہ۔ (معاذ اللہ ) غرضیکہ ہر طرح ہر جگہ اور ہر معاملہ میں نبی ﷺ کے حکم اور منشاء کے خلاف اپنی نفسانی خواہشات اور رسم ورواج کی پیروی کی جاتی ہے اور پھر دعویٰ ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور محبّ رسولؐ۔ ان سب حرکات کا باعث یہی ہے کہ بعد زمانہ کی وجہ سے نبی علیہ السلام کی معرفت اور محبت میں کمی واقع ہوگئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جس کے سبب عام مسلمانوں کے دلوں میں عظمت وحرمت نبوت باقی نہیں رہی اور جب عظمت وحرمت نبوت زائل ہوئی تو عظمت وحرمت دینی خود بخود مفقود ہوتی چلی گئی۔

قرآن وحدیث سے لوگوں نے اعراض کر لیا اور علمائے وقت کے فتاویٰ پر عمل درآمد شروع کر دیئے گئے اور جب دینی عظمت وحرمت مفقود ہوئی تو الٰہی غضب کے آثار بھی نمودار ہونا

٣

صفحہ ١٣

شروع ہوگئے۔ اسلامی حکومتیں ناپید ہونے لگیں۔ لاکھوں مسلمان مرتد ہو کر آریہ اور عیسائی بن گئے۔ اس گرم بازاری کو دیکھ کر جگہ بہ جگہ مدعیان نبوت بھی پیدا ہونے لگے۔ چنانچہ ایران میں علی محمد باب نے کعبہ اور قرآن کو منسوخ قرار دے کر اس کے بجائے البیان جاری کر دیا اور کعبہ کے بجائے بہاء اللہ کی قبر کو فخر حاصل ہو گیا اور ہندوستان میں مرزا غلام احمد قادیانی کو نبوت کا جامہ پہنا کر محسن نسل انسانی حضرت محمدﷺ کے پہلو بہ پہلو کھڑا کر دیا گیا۔ علوم دینیہ ومعارف شرعیہ سے نابلد لوگ، اور خاص کر انگریزی تعلیم یافتہ فرقہ اس مصنوعی نبوت کے حامی بن کر ایک جماعت کی شکل میں قائم ہو گئے اور لاکھوں روپے کے چندے جمع کر کے اپنی اپنی جماعت کو ترقی دینے کی غرض سے ہر دو فریق ایرانی اور ہندوستانی نے اپنی اپنی نبوت کا اعلان کرنا شروع کر دیا۔

بابئی نبوت کا یہ اعلان ہے کہ قرآن منسوخ، سود حلال، مکہ کے بجائے قبر بہاء اللہ مسجود، پانچ نمازوں کے بجائے تین نمازیں، رمضان کے روزے بالکل معاف، تقیہ (دھوکے بازی) جائز وغیرہ وغیرہ۔

ہندوستان کی مرزائی نبوت کا یہ اعلان ہے کہ جہاد منسوخ، حج معاف، مکہ کے بجائے قادیان ام القریٰ قرار دیا گیا۔ چنانچہ تحریر ہے کہ:

رکھے گا، وہ کاٹا جائے گا۔ ہمارا سالانہ جلسہ ایک قسم کا ظلی حج ہے۔“

(الفضل یکم دسمبر ١٩٣٢ء)

(برکات خلافت ص ٥)

جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں؟“

(حقیقت الرؤیا ص ٤٦، ملائکۃ القدس ٥٦)

اس کے سواء امت محمدیہ کے کلمہ گو مسلمانوں کی نسبت فتویٰ ہے کہ:

(آئینہ صداقت ص ٣٥)

(الحکم ٧ فروری ١٩٠٤ء، انوار خلافت ص٩٠، آئینہ صداقت ص ٨٩)

٤

منکر ہیں لہٰذا ان کا جنازہ ان کو نہ پڑھنا چاہئے۔“

محسن نسل انسانی محمد مصطفیٰ، احمد مجتبیٰﷺ کی نبوت

حضرت مسیح موعود کو آنحضرتﷺ پر حاصل ہے۔“

(مضمون ڈاکٹر شاہ نواز قادیانی)

حتیٰ کہ محمدؐ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“

(ڈائری خلیفہ قادیان، ا)

پڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کر کھڑا کر دیا۔“

ہندوستان کی مرزائی نبوت کے یہ چند اعلانات خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مرزائی جماعت کے اندر حضرت مصطفیٰﷺ کو کیسا اور کتنا مرتبہ ودرجہ حاصل ہے۔ امت محمدیہ ہو سکتے ہیں۔

حضرت محسن نسل انسانی و بزرگ ترین ہستی یہ ہے کہ: ”اِنَّ اللّٰهَ وَمَلَائِكَتَهٗ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب:٥٦)“ یعنی اللہ تعالیٰ رہتے ہیں۔ اے ایمان والو تم بھی اس پر درود و سلام بھیجتے اور اس کے علاوہ خود خدا تعالیٰ حدیث قدسی میں ”لَولَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الاَفلاكَ “ ﴿اگر تو ( نہ کرتا۔﴾ اور اسی فرمانِ خداوندی کے متعلق کیا خوب ایک

بعد از خدا بزرگ توئی

یعنی خدا کے بعد بزرگی کا مرتبہ تجھی کو حاصل ہے۔

٥

صفحہ ١٣

(انوار خلافت ص٩٤، برکات خلافت ص٧٥)

منکر ہیں لہٰذا ان کا جنازہ ان کو نہ پڑھنا چاہئے۔"

(انوار خلافت ص ٩١ تا ٩٣)

محسن نسل انسانی محمد مصطفیٰ، احمد مجتبیٰ ﷺ کی نسبت اعلان ہے:

حضرت مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔"

(مضمون ڈاکٹر شاہ نواز قادیانی، رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان، مئی ١٩٢٩ء)

حتیٰ کہ محمدؐ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔"

(ڈائری خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ص ٥ نمبر ٥ ج ١٧، جولائی ١٩٢٢ء)

بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کر کھڑا کر دیا۔"

(کلمۃ الفصل ص ١١٣)

ہندوستان کی مرزائی نبوت کے یہ چند اعلانات اختصاراً ہدیہ ناظرین ہیں۔ ناظرین خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مرزائی جماعت کے اندر حضرت محسن نسل انسانی سردار دو جہاں محمد مصطفیٰ ﷺ کو کیسا اور کتنا مرتبہ و درجہ حاصل ہے۔ امت محمدیہ کے کلمہ گو مسلمان تو کس گنتی و شمار میں ہو سکتے ہیں۔

حضرت محسن نسل انسانی وہ بزرگ ترین ہستی ہے کہ جس کی نسبت قرآن مجید میں ذکر آیا ہے کہ: "ان الله وملائکتہ یصلون علی النبی، یاایھا الذین امنو صلوا علیہ وسلموا تسلیماً (الاحزاب:٥٦)" "یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ اے ایمان والو تم بھی اس پر درود و سلام بھیجتے رہا کرو۔"

اور اس کے علاوہ خود خدا تعالیٰ حدیث قدسی کے ذریعے فرماتا ہے: "لولاك لما خلقت الافلاك" "اگر تو (اے محمدؐ) نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا ہی نہ کرتا۔" اور اسی فرمان خداوندی کے متعلق کیا خوب ایک شاعر نے کہا ہے:

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

یعنی خدا کے بعد بزرگی کا مرتبہ تجھی کو حاصل ہے۔ عامۃ المسلمین کا ابتدائے اسلام سے

٥

صفحہ ١٥

یہی اعتقاد چلا آتا ہے اور اجماع امت یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے بعد بزرگ ترین ہستی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ہستی ہے۔ اس کے بعد کوئی درجہ بزرگی باقی نہیں۔ اس سے اوپر الوہیت اور ربوبیت کا ہی مرتبہ ہے۔ لیکن مرزائی نبوت کے اعلانات سے پتہ چلتا ہے کہ مرزا غلام احمد کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا اور ہر شخص ترقی کر سکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمدؐ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔ ہر خاص و عام جانتے ہیں کہ ترقی کا دارو مدار ہر جگہ دین اور دنیا میں عمل اور کارگزاری پر ہوتا ہے۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی کارگزاری اور سرگذشت سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ حضرت محمدؐ نے یتیمی اور لاوارثی کی حالت میں غیر ذی ذرع پہاڑی، ریگستانی اور جنگجو علاقہ کے اندر بغیر تعلیم حاصل کئے جب کہ عامہ عرب پتھروں، درختوں اور سیاروں کی پوجا میں گرفتار تھے، تن تنہا توحید باری تعالیٰ کی آواز بلند کر کے تمام ملک عرب کو بت پرستی اور دیگر جملہ بد رسومات سے بالکل پاک وصاف کر دیا اور بالآخر قسم قسم کی تکالیف برداشت کرنے کے بعد ایک قلیل عرصہ کے اندر تمام ملک عرب کی بادشاہت پر متمکن ہو گئے اور بعد ازیں ملک عرب کی حکومت اپنی امت کے حوالہ کر کے اور نسل انسانی کی ترقی کے لئے قرآن اور اپنا اسوۂ حسنہ چھوڑ کر اس دار فانی سے رحلت فرما گئے۔

اور پھر آنحضرت ﷺ کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعاؤں کے مطابق امت نے بھی وہ ترقی حاصل کی کہ آٹھ دس سال کے قلیل عرصہ میں مسلمان تین براعظموں کے مالک تھے اور بائیس لاکھ مربع میل پر حکومت چلاتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ قرآن کریم اور اسوۂ حسنہ نے کروڑ ہا انسانوں کو معرفت الٰہی کا جام پلا کر اوج ترقی پر پہنچا دیا۔ اس کے برخلاف مرزا غلام احمد قادیانی کی سرگذشت یہ ہے کہ متمول زمیندار گھرانے میں والد کی نگرانی کے اندر ایک شیعہ عالم سے تعلیم حاصل کر کے شہر سیالکوٹ کی کچہری میں گورنمنٹ کے ملازم ہو گئے۔ ملازمت کے دوران میں مختاری کے امتحان کی تیاری کی۔ مگر اس امتحان میں فیل ہو گئے اور والد کے انتقال کے بعد ملازمت سے علیحدہ ہو کر خانہ نشین ہو گئے اور ردّ عیسائیت میں علمائے متقدمین کی طرح کتابیں تحریر کرنی شروع کر دیں اور پھر بعد شہرت بسیار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مردہ ثابت کر کے خود مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کر دیا۔

گورنمنٹ برطانیہ کے ماتحت امن وامان کا زمانہ تھا۔ انگریزی تعلیم عام رائج تھی۔ اس ٦

دعوے کی پکار پر انگریزی دانوں کی ایک جماعت قائم بعد ازاں رفتہ رفتہ تحریرات میں نبوت کا چرچا شروع ہو قادیانی یکدم شہر لاہور میں انتقال فرما گئے۔

مرزا قادیانی کی زندگانی میں گورداسپور کا انتظام اب تک اسی عیسائی گورنمنٹ کے ماتحت چلا آت تو ضرور تھا کہ قرآنی فیصلہ کے مطابق اور حضرت محمد ﷺ کے مالک ہوتے ورنہ کم از کم اپنے مریدین کو موضع قادیان ہی بوقت انتقال جو کچھ اپنے مریدین کو عطا فرما کر جو ہر وقت اور ہر آن مرزائی ممبران کے اندر جاری وس کھاؤ، پیو، گھر اپنے۔ رہو ہمارے پاس، مگر ہاں اتنا احمدیہ کا داخلہ ناممکن ہے اور جو شخص چندہ نہ دے اس کو ا یہ چندہ ایک عام چندہ ہے اور اس کے ع الخاص ہے۔ لیکن اس تمام چندہ کی رقم پر قبضہ و تصرف صاحبان ڈلہوزی وغیرہ کی ہوائیں کھاتے رہتے ہیں ب ہیں اور باقی بس۔

یاد رہے کہ عہدہ نبوت ایک نعمت عظمیٰ ہے کوئی نبوت کی نشانی نہیں۔ خواب ہر مومن و کافر سب جھوٹے۔ اسی طرح الہامات کا حال ہے۔ الہامات ر آسمان کو ہوتی ہے۔ وحی مرد وعورت کو ہوتی ہے۔ وحی درخت اور نباتات کو بھی ہوتی ہے۔ اس سے کسی کو نبو قرآنی فیصلہ کے مطابق ہر مدعی نبوت کو کتاب اور حکم عط مرزا قادیانی کتاب اور حکومت جیسی نعمت عظمیٰ سے کے مستحق قرار نہیں دیئے جاسکتے۔ فیصلہ قرآنی حسب اَوَّلُ ....... نبوت اور حکومت کے متعلق نعمت عظمیٰ ہو ٧

صفحہ ١٥

دعوے کی پکار پر انگریزی والوں کی ایک جماعت قائم ہوگئی اور چندہ جمع ہونا شروع ہو گیا اور پھر بعدازاں رفتہ رفتہ تحریرات میں نبوت کا چرچا شروع ہوتا چلا گیا اور بالآخر ماہ مئی ١٩٠٨ء میں مرزا قادیانی یکدم شہر لاہور میں انتقال فرما گئے۔

مرزا قادیانی کی زندگانی میں گورداسپور کا ضلع برطانیہ حکومت کے قبضہ میں تھا اور بعد انتقال اب تک اسی عیسائی گورنمنٹ کے ماتحت چلا آتا ہے۔ اگر مرزا قادیانی فی الواقعہ نبی ہوتے تو ضرور تھا کہ قرآنی فیصلہ کے مطابق اور حضرت محمدﷺ کے اسوۂ حسنہ کے مطابق ضلع گورداسپور کے مالک ہوتے ورنہ کم از کم اپنے مریدین کو موضع قادیان کی حکومت تو دے کر جاتے۔ مرزا قادیانی بوقت انتقال جو کچھ اپنے مریدین کو عطا فرما کر گئے ہیں۔ وہ صرف زبانی بحث نبوت ہے۔ جو ہر وقت اور ہر آن مرزائی ممبران کے اندر جاری وساری رہتی ہے اور باقی لین دین کو کچھ نہیں۔ کھاؤ، پیو، گھر اپنے۔ رہو ہمارے پاس، مگر ہاں اتنا تحریر فرما گئے ہیں کہ بغیر چندہ دیئے جماعت احمدیہ کا داخلہ ناممکن ہے اور جو شخص چندہ نہ دے اس کو خارج از جماعت کر دیا جائے۔

یہ چندہ ایک عام چندہ ہے اور اس کے علاوہ بہشتی مقبرے کی قبر فروشی کا چندہ خاص الخاص ہے۔ لیکن اس تمام چندہ کی رقم پر قبضہ وتصرف خلیفہ اور امیر جماعت کا ہوتا ہے اور یہی ہر دو صاحبان ڈلہوزی وغیرہ کی ہوائیں کھاتے رہتے ہیں۔ مرید تو بطور مہمان چند روزہ روٹی ٹکڑا کھاسکتے ہیں اور باقی لیس۔

یادرہے کہ عہدہ نبوت ایک نعمت عظمیٰ ہے اور خدائی منصب محض خواب اور الہام کا ہونا کوئی نبوت کی نشانی نہیں۔ خواب ہر مومن و کافر سب دیکھتے ہیں۔ کچھ سچے ہوجاتے ہیں اور کچھ جھوٹے۔ اسی طرح الہامات کا حال ہے۔ الہامات رحمانی اور شیطانی بھی ہوتے ہیں۔ وحی زمین و آسمان کو ہوتی ہے۔ وحی مرد وعورت کو ہوتی ہے۔ وحی حیوانات اور شہد کی مکھی کو بھی ہوتی ہے۔ وحی درخت اور نباتات کو بھی ہوتی ہے۔ اس سے کسی کو نبوت حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے معیار کے لئے قرآنی فیصلہ کے مطابق ہر مدعی نبوت کو کتاب اور حکم وحکومت کا حاصل ہونا ایک لازمی امر ہے۔ مگر مرزا قادیانی کتاب اور حکومت جیسی نعمت عظمیٰ سے محروم رخصت ہوتے ہیں۔ اس واسطے نبوت کے مستحق قرار نہیں دیئے جاسکتے۔ فیصلہ قرآنی حسب ذیل ہے۔

اول...... نبوت اور حکومت کے متعلق نعمت عظمیٰ ہونے کا ثبوت: ”یقوم اذکروا نعمت الله

٧

صفحہ ١٧

عليكم اذ جعل فيكم انبياء و جعلكم ملوكا و آتاكم مالم يؤت احدا من العلمين (المائده: ٢٠) ” ﴿اے قوم (بنی اسرائیل) یاد کرو اللہ کی نعمت کو جب کہ تم میں انبیاء مبعوث ہوئے اور تم کو بادشاہت بخشی اور تم کو وہ نعمتیں بخشیں جو دنیا کے دوسرے لوگوں کو حاصل نہیں تھیں۔ ﴾

یہ آیت قرآنی صاف پتہ دیتی ہے کہ دنیا میں کسی قوم کی سرفرازی کے لئے دو بڑی نعمتیں ہیں۔ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے موہبت عطاء ہوتی ہیں۔ باقی سب دوسری نعمتیں ان کے ذیل میں آتی ہیں اور وہ نبوت اور بادشاہت ہیں۔ باقی اور سب نعمتیں ان سے نیچے۔

دوم....... ایمانداروں کو حکومت دیئے جانے کے متعلق قرآنی وعدہ:

” وعد الله الذين امنوا منكم وعملوا الصلحت ليستخلفنهم فى الارض كما استخلف الذين من قبلهم (النور: ٥٥) ” ﴿وعدہ کیا ہے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے کہ بیشک ضرور ہم ان کو زمین پر بادشاہت بخشیں گے۔ جیسا کہ ہم نے ان سے پہلے لوگوں کو بادشاہت بخشی تھی۔ ﴾

اس آیت قرآنی سے صاف عیاں ہے کہ امت محمدیہ کے ان لوگوں سے جو ایمان لائیں اور ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ بھی کرتے رہیں۔ خدا کا حتمی وعدہ ہے کہ دنیا میں ان کو حکومت اور بادشاہت بخشی جائے گی۔ جیسا کہ پہلی قوموں کے نیک افراد کو بادشاہت اور حکومت بخشی گئی تھی۔ یہ خدائی وعدہ ہے جو کسی صورت میں جھوٹا نہیں ہو سکتا اور دنیا میں اس کا ظہور بھی ہو چکا ہے۔

سوم....... اس بات کا ثبوت کہ جس قدر انبیاء قرآن کے اندر مذکور ہوئے ہیں۔ ان سب کو کتاب، حکومت اور نبوت درگاہ ایزدی سے عطاء ہوئی تھی۔

سورۂ انعام رکوع نمبر ٩ کے اندر خدا تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام، اسحاق علیہ السلام، یعقوب علیہ السلام، نوح علیہ السلام، داؤد علیہ السلام، سلیمان علیہ السلام، ایوب علیہ السلام، یوسف علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، ہارون علیہ السلام، زکریا علیہ السلام، یحییٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام، اسماعیل علیہ السلام، الیاس علیہ السلام، یسع علیہ السلام، یونس علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کے نام بنام مسلسل ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

٨

” اولئك الذين اتينهم الكتب وا فقد وكلنا بها قوما ليسوا بها بكفرين (الان کتاب، حکومت اور نبوت بخشی۔ پس اگر یہ (کافر لوگ لوگ مقرر کئے ہیں جو ان باتوں کا انکار نہیں کریں گے۔

یہ آیت قرآنی صاف ظاہر کر رہی ہے کہ انبی کے لقب سے ممتاز ہونے والے خدا تعالیٰ کی طرف نشانات کے ساتھ دنیا میں تشریف فرما ہوتے رہے ہ تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر آخر میں حکومت جیسی نعم صداقت کا معیار تھا۔ جیسا کہ دنیاوی حکام بھی جب کس ہیں تو ان کو بھی تین چیزیں بطور نشانات گورنمنٹ کی طر ڈنڈا اور تیسرے عہدہ۔

اگر کسی ملازم سرکار کے پاس یہ تین نشانا سرکاری ملازم تصور نہیں کر سکتی اور بصورت خلاف ورز فیصلہ قرآنی جیسا کہ اوپر درج ہو چکا ہے، ناطق ہے۔

خاتم النبیین کے مسئلہ کو قرآن اور حدیث کی روشنی میں

” واذ اخذ الله ميثاق النبيين لما ات رسول مصدق لما معكم لتومنن به ولتن ذلكم اصری ، قالوا اقررنا، قال فاشهدوا بعد ذالك فاولئك هم الفاسقون (آل عمران کل انبیاء سے عہد لیا اور کہا کہ جب میں تم کو کتاب او جو تمہاری نبوتوں کی تصدیق کرے گا آئے، تو تم ضرو تم اس بات کا اقرار کرتے ہو اور مجھ سے عہد کرتے ہو کہا کہ تم سب گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ اس اقرار کے بعد اس سے پھر جائے گا، وہ فاسقوں میں سے

٩

صفحہ ١٧

"اولئك الذين اتينهم الكتب والحكم والنبوة وان يكفر بها هؤ لاء فقد وكلنا بها قوما ليسوا بها بكفرين (الانعام:٨٩)" ﴿یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے کتاب، حکومت اور نبوت بخشی۔ پس اگر یہ (کافر لوگ) ان باتوں کو نہ مانیں تو ہم نے ان پر ایسے لوگ مقرر کئے ہیں جو ان باتوں کا انکار نہیں کریں گے۔﴾

یہ آیت قرآنی صاف ظاہر کر رہی ہے کہ انبیاء کے منصب پر مامور ہونے والے اور نبی کے لقب سے ممتاز ہونے والے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیشہ کتاب، حکومت اور نبوت کے نشانات کے ساتھ دنیا میں تشریف فرما ہوتے رہے ہیں۔ اگرچہ ابتداء میں ان کو سخت سے سخت تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر آخر میں حکومت جیسی نعمت عظمیٰ سے سرفراز کئے گئے اور یہ ان کی صداقت کا معیار تھا۔ جیسا کہ دنیاوی حکام بھی جب کسی کو پولیس وغیرہ کے عہدے پر ممتاز کرتے ہیں تو ان کو بھی تین چیزیں بطور نشانات گورنمنٹ کی طرف سے عطاء ہوتی ہیں۔ اول وردی، دوم ڈنڈا اور تیسرے عہدہ۔

اگر کسی ملازم سرکار کے پاس یہ تین نشانات کسی موقعہ پر موجود نہ ہوں تو اس کو پبلک سرکاری ملازم تصور نہیں کر سکتی اور بصورت خلاف ورزی پبلک پر کوئی جرم بھی عائد نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلہ قرآنی جیسا کہ اوپر درج ہو چکا ہے، ناطق ہے۔ اب ضرورت اس بات کی باقی رہتی ہے کہ خاتم النبیین کے مسئلہ کو قرآن اور حدیث کی روشنی میں بیان کیا جائے۔ اول

"واذاخذالله ميثاق النبيين لما اتيتكم من الكتب وحكمة ثم جاءكم رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به ولتنصرنه، قال ءاقررتم واخذتم على ذلكم اصری، قالوا اقررنا، قال فاشهدوا وانا معكم من الشاهدين، فمن تولى بعد ذالك فاولئك هم الفاسقون (آل عمران: ٨١، ٨٢)" ﴿اور جس وقت اللہ تعالیٰ نے کل انبیاء سے عہد لیا اور کہا کہ جب میں تم کو کتاب اور حکمت دوں اور پھر تمہارے پاس وہ رسول جو تمہاری نبوتوں کی تصدیق کرے گا آئے، تو تم ضرور اس کی تصدیق کرنا اور اس پر ایمان لانا۔ کیا تم اس بات کا اقرار کرتے ہو اور مجھ سے عہد کرتے ہو۔ سب نے کہا ہم نے اقرار کیا (خدا نے) کہا کہ تم سب گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ اس گواہی میں شامل ہوں اور جو شخص اس عہد و اقرار کے بعد اس سے پھر جائے گا، وہ فاسقوں میں سے ہوگا۔﴾

٩

صفحہ ١٨

یہ آیت قرآنی صاف ظاہر کر رہی ہے کہ عالم ارواح میں جس وقت کہ خدا تعالیٰ نے تمام ارواح عالم سے اپنی ربوبیت کا عہد لیا تھا۔ اس وقت کل انبیاء سے بھی الرسول کی نبوت کے متعلق اقرار لیا تھا کہ وہ نبی معہود جو سارے نبیوں کا مصدق ہے اور سب کی تصدیق پر مہر ثبت کرنے والا ہے۔ اگر تمہارے پاس آئے تو تم ضرور اس کی تصدیق کرنا اور اس پر ایمان لانا۔ تمام ارواح انبیاء نے اس عہد و اقرار کو اپنے ذمہ لیا۔ بس یہی وہ اقرار ہے جس کے مطابق تمام انبیاء اپنے اپنے زمانے میں اس نبی معہود کی بشارت دیتے چلے آئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور بشارت کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بشارت کا ذکر توریت میں درج ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت انجیل میں پائی جاتی ہے اور قرآنی آیت ”و مبشراً برسول يأتي من بعدی اسمه احمد (الصف: ٦)“ اس کی شہادت دیتی ہے۔

جاننا چاہئے کہ تمام انبیاء کی تصدیق کرنے والا وہی پیغمبر ہو سکتا ہے۔ جو سب سے آخر میں تشریف آور ہو۔ پس حضرت محمد ﷺ ہی سب انبیاء کے آخر میں آنے والے نبی ہیں اور سب کی نبوت پر مہر تصدیق لگانے والے ہیں۔ اس نظریہ سے صاف عیاں ہے کہ خاتم النبیین کے معنی آخر الانبیاء ہیں، اور آپ کے بعد کوئی اور نبی ہرگز نہیں آئے گا۔ آیت مذکورہ بالا کے آخر میں خدائے تعالیٰ نے تمام انبیاء کو خبردار کر دیا کہ اس عہد و اقرار کے خلاف اگر کسی نے کوئی کارروائی کی اور اس آخر الانبیاء پر ایمان نہ لایا تو وہ فاسقین کے زمرہ میں شامل کر دیا جائے گا۔

دوم ...... ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين، وكان الله بكل شى عليما (احزاب: ٤٠)“ محمد کسی کے (جسمانی) باپ نہیں اور لیکن اللہ کے رسول ہیں اور نبوت کو ختم کرنے والے ہیں اور اللہ ہر شے کا عالم ہے۔

اس آیت قرآنی کا مفہوم صاف ہے۔ خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے متعلق نفی ابوت جسمانی بیان کرنے کے بعد ابوت روحانی کو بہ لفظ ”خاتم النبیین“ فرما کر قیامت تک کے لئے قائم کر دیا ہے۔ نبی ہمیشہ امت کا روحانی باپ ہوتا ہے۔ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی اور نبی یا رسول آ جائے تو پھر حضرت محمد ﷺ امت موجودہ کے روحانی باپ نہیں رہ سکتے۔ بلکہ دوسرا آنے والا نبی موجودہ امت کا باپ بن جائے گا۔ اس لئے لامحالہ ثابت ہوا کہ حضرت محمد ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور خاتم الرسول۔

١٠

١٩ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا اور جو آ گے ۔ نبی کا لقب پانے کے مستحق نہیں ہوں گے۔ کیونکہ حضور فرمائی ہے اور آخر الانبیاء ہی سب کا مصدق ہو سکتا ہے۔ پـ مبشر ہوتا ہے اپنے مابعد کا اور مصدق ہوتا ہے اپنے ماقبل ک عیاں ہے کہ انبیاء سابقین کو جھٹلایا گیا، تہمتیں لگائی گئیں۔ بـ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام بدکاری کی تہمتیں لگائیں اور دیگر انبیاء کو جھٹلا کر ان کے ساتھ قرآن مجید نے سب انبیاء کو 'كل من الص تصدیق ثبت کی۔ قرآنی الفاظ بتاتے ہیں کہ خاتم النبیین کے سب مفسرین یہی معنی لکھتے چلے آئے ہیں۔ جو حضرات اج معنی 'اجرائے نبوت' کرتے ہیں۔ وہ یہود و نصاریٰ کی ط محمد ﷺ کی اور آپ کے منصب کی سخت توہین کرتے ہیں گروہ میں شامل ہیں۔ ایسے لوگوں کے پیچھے نمازیں جاتی ہیں۔ انہی لوگوں کے متعلق حضرت رسول ﷺ کی پ پیدا ہو گی ۔ جو قرآن کو پڑھے گی مگر قرآن ان کے حلق سے

سوم ...... ” وما ارسلنک الا كافۃ للناس بـ لا يعلمون (سباء : ٢٨) ”ہم نے تجھ کو (اے محمد ﷺ نذیر بنا کر اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ اس آیت کے اندر 'الناس' کلی کی صورت فـ افراد انسانی کو شامل کیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ج رہے گا۔ وہاں تک محمد ﷺ کی نبوت ہوگی اور آپ ﷺ ک تک پہنچتا رہے گا اور آنحضرت ﷺ ہی خاتم النبیین ہیں

چہارم .... ”تبارك الذي نزل الفرقان علـ (الفرقان: ١) ” بڑی برکت والا ہے وہ ذات پاک ج

١١

صفحہ ١٩

آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا اور جو آئیں گے وہ امام کی حیثیت سے آئیں گے۔ نبی کا لقب پانے کے مستحق نہیں ہوں گے۔ کیونکہ حضور علیہ السلام نے سب انبیاء کی تصدیق فرمائی ہے اور آخر الانبیاء ہی سب کا مصدق ہوسکتا ہے۔ پہلے آنے والا تو مبشر ہوتا ہے اور ہر نبی مبشر ہوتا ہے اپنے مابعد کا اور مصدق ہوتا ہے اپنے ماقبل کا۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے صاف عیاں ہے کہ انبیاء سابقین کو جھٹلایا گیا، تہمتیں لگائی گئیں۔ خاص کر قوم یہود نے حضرت لوط علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت مریم علیہ السلام وغیرہ پر بدکاری کی تہمتیں لگائیں اور دیگر انبیاء کو جھٹلا کر ان کے ساتھ قتال کیا۔

قرآن مجید نے سب انبیاء کو ”كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ (الانعام:٨٥)“ بتا کر مہر تصدیق ثبت کی۔ قرآنی الفاظ بتاتے ہیں کہ خاتم النبیین کے آخر الانبیاء ہی معنی ہیں اور سب کے سب مفسرین یہی معنی لکھتے چلے آئے ہیں۔ جو حضرات اجماع امت کے خلاف خاتم النبیین کے معنی ”اجرائے نبوت“ کرتے ہیں۔ وہ یہود و نصارٰی کی طرح تاویلات سے کام لے کر حضرت محمد ﷺ کی اور آپؐ کے منصب کی سخت توہین کرتے ہیں اور بموجب آیت قرآنی فاسقین کے گروہ میں شامل ہیں۔ ایسے لوگوں کی جھوم جھام کر نمازیں پڑھنی اور لمبی لمبی دعائیں سب فضول جاتی ہیں۔ انہی لوگوں کے متعلق حضرت رسول ﷺ کی پیشین گوئی ہے کہ آخر زمانہ میں ایک قوم پیدا ہوگی۔ جو قرآن کو پڑھے گی مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ (بخاری، مسلم)

سوم...... ”وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (سباء:٢٨)“ ﴿ہم نے تجھ کو (اے محمدؐ) نہیں بھیجا مگر تمام انسانوں کے لئے بشیر و نذیر بنا کر اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔﴾

اس آیت کے اندر ”الناس“ کلی کی صورت میں ہے اور قیامت تک آنے والے کل افرادِ انسانی کو شامل کیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں تک انسان کا وجود قائم ہے اور قائم رہے گا۔ وہاں تک محمد ﷺ کی نبوت ہوگی اور آپ ﷺ کا روحانی فیض قیامت تک بنی نوع انسان تک پہنچتا رہے گا اور آنحضرت ﷺ ہی خاتم النبیین ہیں۔

چہارم...... ”تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا (الفرقان:١)“ ﴿بڑی برکت والا ہے وہ ذات پاک جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا

١١

صفحہ ٢٠

تاکہ وہ تمام عالمین کیلئے نذیر ہو۔﴾

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت محمدﷺ کل کائنات کے لئے نذیر ہیں۔ یعنی آنحضرتﷺ کی نبوت تاقیامت قائم رہے گی۔ جس کی تائید حدیث ذیل سے بروایت حضرت انسؓ بخوبی ہوتی ہے۔

”انا والساعة كهاتين“ ﴿یعنی میں (محمدﷺ) اور قیامت ایسے ہیں جیسے دو ملی ہوئی انگلیاں (بخاری ومسلم)﴾ یعنی محمدﷺ اور قیامت آپس میں ملے ہوئے ہیں کہ درمیان میں کسی تیسرے کی گنجائش نہیں۔ یہ حدیث صاف ظاہر کرتی ہے کہ آنحضورﷺ نبی آخر الزمان اور خاتم النبیین ہیں۔ قیامت تک آپ کا دین جاری رہے گا۔ اس لئے آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ نہ ظلی نہ بروزی اور جو مدعی نبوت ہوں گے اور لقب نبوت سے اپنے آپ کو ملقب کریں گے وہ فاسقین کے درجہ میں ہوں گے اور ان پر ایمان لانے والے گمراہ، بروز قیامت خدا تعالیٰ کے روبرو ان کا حساب و کتاب ہوگا۔

احادیث نبوی کی روشنی میں خاتم النبیین کے معنی

كذابين فاحذروهم“ ﴿حضرت جابر بن سمرہؓ روایت کرتے ہیں کہ سنا میں نے رسولﷺ سے کہ فرماتے تھے کہ تحقیق قیامت آنے سے پہلے جھوٹے پیدا ہوں گے پس پرہیز کرنا ان سے

(مسلم)﴾

محمد وانا احمد وانا الماحى الذى يمحو الله بى الكفر وانا الحاشر الذى يحشر الناس على قدمى وانا العاقب و العاقب الذى ليس بعده نبى“ ﴿حضرت جبیرؓ بن مطعم روایت کرتے ہیں کہ سنا میں نے رسول خداﷺ سے کہ فرماتے تھے میں محمدؐ ہوں۔ میں ماحی ہوں۔ خدا مجھ سے کفر کو مٹائے گا۔ میں حاشر ہوں کہ میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہوگا۔ میں عاقب ہوں اور عاقب سے مراد یہ ہے کہ جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔

(بخاری ومسلم)﴾

يرفع عنها الى يوم القيمة و لا تقوم الساعة حتى تلحق قبائل من امتى

١٢

صفحہ ٢١

بالمشركين وحتى تعبد قبائل من امتى الا وثان وانه سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبي الله وانا خاتم النبيين لا نبي بعدى ولا تزال طائفة من امتى على الحق ظاهرين لا يضرهم من خالفهم حتى يأتى امر الله“

﴿ حضرت ثوبان روایت کرتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس وقت رکھی جاوے گی تلوار میری امت میں نہیں اٹھائی جائے گی وہ اس سے قیامت تک، اور نہ قائم ہوگی قیامت یہاں تک کہ کتنے قبیلے میری امت میں سے مشرکین کے ساتھ مل جائیں اور بتوں کی عبادت کرنے لگ جائیں گے اور تحقیق حال یہ ہوگا کہ عنقریب میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے جن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کی طرف سے نبی ہو کر آیا ہے اور بات یہ ہے کہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور میری امت میں سے ہمیشہ ایک جماعت حق پر قائم رہے گی اور غالب رہے گی۔ نہیں ضرر پہنچا سکے گا ان کو وہ شخص کہ مخالفت کرے ان کی یہاں تک کہ حکم خدا آ جاوے۔ (ابوداؤد و ترمذی) ﴾

٤...... ”عن ابى هريرة قال قال رسول الله ﷺ مثلى ومثل الانبياء كمثل قصر احسن بنيانه ترك منه موضع لبنة فطاف به النظار يتعجبون من حسن بنيانه الا موضع تلك اللبنة فكنت انا سددت موضع اللبنة ختم بى البنيان و ختم بى الرسل و فى رواية فانا اللبنة وانا خاتم النبيين“

﴿ حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ فرمایا رسول خدا ﷺ نے میری مثال اور مثال انبیاء سابقین کی ایسی ہے۔ جیسے کہ ایک محل ہے کہ اچھی بنائی گئی ہو اس کی دیوار باقی چھوڑ دی گئی ہو۔ اس محل میں سے ایک اینٹ کی جگہ۔ پس ناظرین اس محل کے ارد گرد پھرنے لگے اس حالت میں کہ تعجب کرتے تھے اس دیوار کی خوبی سے بہ سبب اس اینٹ کی جگہ کے۔ پس میں ہوں کہ بند کیا میں نے اس اینٹ کی جگہ کو۔ ختم کی گئی میرے ساتھ وہ دیوار اور ختم کئے گئے میرے ساتھ رسول۔ اور ایک روایت میں ہے کہ میں مثال اس اینٹ کے ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ (بخاری مسلم) ﴾

٥...... ”عن ابى هريرة ان رسول الله ﷺ قال فضلت على الانبياء بست اعطيت جوامع الكلم ونصرت بالرعب واحلت لى الغنائم وجعلت لى الارض مسجدا وطهوراً وارسلت الى الخلق كافة وختم بى النبيون“

١٣

صفحہ ٢٣

٢٢ حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ بیشک فرمایا رسول خدا ﷺ نے کہ مجھے تمام انبیاء پر چھ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ ایک تو یہ کہ مجھے جوامع الکلم عطاء کئے گئے ہیں۔ دوسرے یہ کہ رعب دیا گیا ہے۔ تیسرے یہ کہ میرے لئے غنیمتیں حلال کر دی گئی ہیں اور زمین میرے لئے پاک اور سجدہ گاہ بنائی گئی اور میں تمام مخلوقات کے لئے رسول بنا کر بھیجا گیا اور ختم کی گئی میرے ساتھ نبوت۔ (مسلم)

یہ ہر پنج عدد احادیث نبوی ﷺ مذکورہ بالا بخوبی ثابت کرتی ہیں کہ خاتم الانبیاء سے مراد آخر الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی ظلی یا بروزی نہیں آسکتا اور جو نبی اللہ ہونے کا دعویٰ کریں گے وہ جھوٹے اور کاذب ہوں گے۔ تیس کی تعداد سے مراد کثیر جماعت کذابین ہے۔ ایک دوسری حدیث میں ستر کذابین کی تعداد کا ذکر ہے۔ اس لئے ان سے مراد صرف کثرت ہی ہے۔ یہ ضرور نہیں کہ اسی قدر تعداد بھی ہو۔ اس قسم کی احادیث اور بھی بہت ہیں مگر اختصاراً انہی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

اب جو امر بحث طلب باقی رہ گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آیا آخر الانبیاء حضرت محمد ﷺ نے بھی اپنے مابعد کسی آنے والے کی خوشخبری دی ہے یا نہیں۔ قبل ازیں یہ بیان کیا جا چکا ہے کہ ہر نبی اپنے مابعد کا مبشر ہوتا ہے۔ اسی نظریہ کے مطابق آنحضرت ﷺ نے اپنے مابعد آنے والوں کے متعلق خوشخبریاں دی ہیں۔ جو حسب ذیل ہیں:

تسوسھم الانبیاء کلما ھلك نبی خلفہ نبی وانہ لانبی بعدی، و سیکون خلفاء فیکثرون“ حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ فرمایا رسول خدا ﷺ نے کہ بنی اسرائیل پر انبیاء حکمرانی کیا کرتے تھے۔ جب ایک نبی مر جاتا تھا تو اس کے بعد دوسرا نبی آ جاتا تھا اور تحقیق میرے بعد کوئی نبی نہیں اور عنقریب خلفاء ہوں گے جو بہت کثرت سے ہوں گے۔ (بخاری)

اس حدیث سے صاف پتہ چلتا ہے کہ آنحضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ کیونکہ آپ کی نبوت کا سلسلہ قیامت تک جاری ہے اور آپ حیات النبی ہیں۔ قرآن اور سنت آپ کے جانشین حکمران ہیں اور جو آئیں گے وہ آنحضرت ﷺ کے خلفاء کی حیثیت سے آئیں گے ۔ نبی کے لقب سے ملقب نہیں ہوں گے ۔ کیونکہ حضور ﷺ کا فیضان کثیر ہے ۔ جو عام خلفائے ١٤

٢٣ امت کو تا قیامت حاصل ہوگا اور ان سے کرامتیں اور کشف تو آنحضرت ﷺ کا یہی فیضان کسی ایک نبی کے لئے مخـ نجات ہوتی اور نبی کے منکرین کافر کہلاتے۔ مگر کسی خلیفہ امتی دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہو سکتا۔ لیکن روحانی ترقـ کہ ایک دولت مند بھائی اپنے غریب بھائی کو جدی محـ کر سکتا ہے۔

علی راس کل مائة سنة من یجددلھا دینھا“ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر کیا کرے گا جو اس کے لئے دین کی تجدید کیا کرے گا۔ (ا

اس حدیث سے صاف عیاں ہے کہ بعد وفات روحانی ترقی کا دروازہ بند نہیں۔ بلکہ دین اسلام میں جو خـ کی غرض سے ہر صدی کے سر پر آتے رہیں گے۔

چنانچہ اس پیشین گوئی کی تائید وتصدیق میں میں مجدد ہوتے چلے آئے۔ اس ملک ہندوستان میں بھی سر پر گزر چکے ہیں۔ ان کے دعاوی ان کی کتابوں میں مو مختصراً ان ہر سہ مجددین کے حالات درج ذیل

گزرے ہیں۔ بادشاہ جہانگیر کے زمانے میں تجدید دین فتاویٰ کے بموجب دربار جہانگیر میں آپ کی ریش مبار قلعہ میں مقید رکھا گیا۔ مفصل حالات آپ کی کتاب مـ جگہ پر...... صرف آپ کا ایک دعویٰ درج کیا جاتا ہے جو ”یہ علوم نبوت کے انوار کے طاق سے حا کے بعد وراثت کے طور پر تازہ ہو گئے ہیں اور تر و تازگـ ١٥

صفحہ ٢٣

امت کو تا قیامت حاصل ہوگا اور ان سے کرامتیں اور کشف ظہور میں آئیں گے اور اگر نبی آنا ہوتا تو آنحضرت ﷺ کا یہی فیضان کسی ایک نبی کے لئے محدود ہو جاتا اور امت مرحومہ میں ضرور چھانٹ ہوتی اور نبی کے منکرین کافر کہلاتے۔ مگر کسی خلیفہ، مجدد یا امام کے انکار سے کوئی مسلمان امتی دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہو سکتا۔ لیکن روحانی ترقیات سے محروم ضرور ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ ایک دولت مند بھائی اپنے غریب بھائی کو جدی گھر سے نہیں نکال سکتا۔ صرف فیضان بند کر سکتا ہے۔

......٢ ”عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ ﷺ ان اللہ یبعث لھذہ الامة علی راس کل مائۃ سنة من یجدد لھا دینھا“ ﴿حضرت ابی ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر ایک شخص اس امت کے لئے مبعوث کیا کرے گا جو اس کے لئے دین کی تجدید کیا کرے گا۔ (ابوداؤد، سنن بیہقی، مستدرک حاکم)﴾

اس حدیث سے صاف عیاں ہے کہ بعد وفات حضور علیہ السلام امت مرحومہ کے لئے روحانی ترقی کا دروازہ بند نہیں۔ بلکہ دین اسلام میں جو خوبیاں واقع ہوں۔ ان کی تجدید اور اصلاح کی غرض سے ہر صدی کے سر پر آتے رہیں گے۔

چنانچہ اس پیشین گوئی کی تائید وتصدیق میں آج تک حسب ضرورت مختلف مقامات میں مجدد ہوتے چلے آئے۔ اس ملک ہندوستان میں بھی تین مشہور و معروف مجدد تین صدیوں کے سر پر گذر چکے ہیں۔ ان کے دعوے ان کی کتابوں میں موجود ہیں۔

مختصراً ان ہر سہ مجددین کے حالات درج ذیل کئے جاتے ہیں۔

اوّل...... حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد بن عبدالاحد سرہندی جو گیارھویں صدی کے مشہور مجدد گزرے ہیں۔ بادشاہ جہانگیر کے زمانے میں تجدید دین کے لئے کھڑے ہوئے۔ علماء زمانہ کے فتاویٰ کے بموجب دربار جہانگیر میں آپ کی ریش مبارک کھینچی گئی اور ایک عرصہ تک گوالیار کے قلعہ میں مقید رکھا گیا۔ مفصل حالات آپ کی کتاب مکتوبات سے بخوبی معلوم ہو سکتے ہیں۔ اس جگہ پر...... صرف آپ کا ایک دعویٰ درج کیا جاتا ہے جو حسب ذیل ہے۔

”یہ علوم نبوت کے انوار کے طاق سے حاصل ہوتے ہیں۔ جو دوسرے ہزار کی تجدید کے بعد وراثت کے طور پر تازہ ہو گئے ہیں اور تروتازگی سے ظہور پایا ہے۔ ان علوم اور معارف کا

١٥

صفحہ ٢٥

پانے والا اس ہزار کا یہ مجدد ہے اور جاننا چاہئے کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد گزرا ہے۔ ہاں مجدد صدی کا اور ہے اور مجدد ہزار کا اور ہے۔ جیسا کہ سو اور ہزار میں فرق ہے۔ اسی کے مطابق صدی اور ہزار کے مجددوں میں فرق ہے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر اور مجدد وہ ہوتا ہے کہ اس کے زمانہ میں جس قدر فیض امتوں کو پہنچتا ہے۔ وہ اسی مجدد کے توسط سے پہنچتا ہے۔ خواہ اس زمانے کے قطب، ابدال، اوتار اور نجیب بھی موجود ہوں۔

(مکتوبات مجدد صاحب جلد٢ ص١٤)

(تفہیمات الہیہ ص٤٠) میں آپ کا دعویٰ مجددیت بہ تفصیل ذیل موجود ہے۔ ”جب دور حکمت (یعنی گیارھویں صدی) انتہاء تک پہنچ چکا تو اللہ تعالیٰ نے خلعت مجددیت سے مجھے سرفراز فرمایا اور جب حقانیت کا خلعت مجھے پہنایا گیا اور ہر نظری اور فکری علم مجھ سے زائل کر دیئے گئے۔ تو میں حیرت کے جنگل میں سرگرداں رہا کہ کیونکر میں مجددیت کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوں گا۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے میرے لئے ایک طریق ایسا واضح کیا کہ جس سے مجددیت وحقانیت کو باہم ملا دیا گیا۔ جس میں اب نہ علم نظری کی ضرورت ہے اور نہ علم فکری کی حاجت۔“

عبدالحی صاحب دہلوی اور مولوی محمد اسمعیل صاحب آپ کی بیعت میں داخل تھے۔ آپ کی سعی مبارک سے کثیر التعداد مخلوق شرک اور قبر پرستی وغیرہ بد رسومات سے بیزار ہو کر خالص توحید کی شیدائی ہو گئی۔ پنجاب میں مسلمانوں پر سکھوں کے ظلم وستم دیکھ کر جناب ممدوح نے سکھوں پر چڑھائی کر دی۔ چنانچہ پٹنہ وغیرہ نواح سے فوج جمع کر کے پشاور فتح کر لیا۔ لیکن درمیان میں پٹھان لوگ غداری کر کے سکھوں کے ہمراہ ہو گئے۔ اس لئے مولوی محمد اسمعیل شاہ صاحب اور حضرت مجدد صاحب کافروں کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے پشاور کے قریب مقام بالاکوٹ پر شہید ہو گئے۔

معزز قارئین!

ملک ہندوستان کے ہر سہ مجددین کے حالات آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ ان بزرگان دین کو بارگاہ رب العزت میں وجاہت اور قرب حاصل تھا۔ سینکڑوں کرامتیں ان سے ظہور میں آئیں۔ مگر ان میں سے کسی نے لقب نبوت سے اپنے آپ کو ممتاز کرنے کی کوشش نہیں کی۔

١٦

برخلاف اس کے مرزائی صاحبان ہیں کہ ہر وقت اور ہر پر چڑھانے کے لئے ناحق سرتوڑ کوشش کرتے رہتے ہیں مجددین مذکورہ بالا کا ذکر خیر کرتے وقت ادبا ان کے نام ک زائد کر دیتے ہیں۔

مگر مرزائی صاحبان اپنے پیر کی عزت افزائی ک آخیر میں فقرہ ”علیہ السلام“ کو زائد کر کے اپنی گستاخی کا ثبو ابتدائے اسلام سے قرآنی انبیاء علیہم السلام کے لئے مخصو امت ہے۔ مگر یہ لوگ گستاخ ہیں۔ ان کو انبیاء علیہم السلام کی یہی گستاخی ہے کہ ان کے کسی قول و فعل میں برک نظر رہتے ہیں۔ نماز کے اوقات کا احترام ان کے اندر نہیں کے وقت پر مسجد کے اندر ان کی خوب گپ شپ جاری رہت پرواہ نہیں۔ رسول علیہ السلام کے احکام کی کچھ پروا نہیں نمازیوں کے آگے سے گزرتے رہتے ہیں۔ کوئی خوف نہیں

رسول ﷺ کے ارشاد کے خلاف جمعہ کا خطبہ اندر مرزا قادیانی کی نبوت کا ذکر یا چندے کا مطالبہ جاری نہیں۔ قرآن شریف کے غلط الٹ پلٹ معنی صرف مطلب کوئی خوف خدا نہیں۔ احادیث نبوی سے کوئی واقفیت نہیں کی کتابوں کا درس جاری رہتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اصحاب رس اندر نہیں پایا جاتا۔ صرف ایک غلط تبلیغ و اشاعت کا ڈھونگ ڈالی جاتی ہے۔ کتب فروشی اور چندہ وغیرہ سے روپیہ جمع بس۔ خدا تعالیٰ رحم فرمائے۔

مریم فیکم وامامکم منکم“ (حضرت ابی ہریرہ س لوگو! تمہارا حال کیا ہوگا کہ جب تم میں ابن مریم نزول کر تمہارا ایک امام ہوگا۔ (بخاری، مسلم)

ناظرین! حضرت محمد ﷺ نے اپنے مابعد آ

١٧

صفحہ ٢٥

برخلاف اس کے مرزائی صاحبان ہیں کہ ہر وقت اور ہر آن مرزا قادیانی کو نبوت کے بام پر چڑھانے کے لئے ناحق سر توڑ کوشش کرتے رہتے ہیں۔ تمام مسلمان مرید یا غیر مریدان مجددین مذکورہ بالا کا ذکر خیر کرتے وقت ادباً ان کے نام کے اخیر میں ”رحمۃ اللہ“ کا دعائیہ فقرہ زائد کر دیتے ہیں۔

مگر مرزائی صاحبان اپنے پیر کی عزت افزائی میں غلو کرتے ہیں اور اس کے نام کے اخیر میں فقرہ ”علیہ السلام“ کو زائد کر کے اپنی گستاخی کا ثبوت دیتے رہتے ہیں۔ فقرہ متذکرہ بالا ابتدائے اسلام سے قرآنی انبیاء علیہم السلام کے لئے مخصوص چلا آیا ہے اور اسی پر تاحال اجماع امت ہے۔ مگر یہ لوگ گستاخ ہیں۔ ان کو انبیاء علیہم السلام کی عزت و مرتبہ سے کیا سروکار۔

یہی گستاخی ہے کہ ان کے کسی قول و فعل میں برکت نہیں ہوتی اور ہمیشہ مسلمان ان سے متنفر رہتے ہیں۔ نماز کے اوقات کا احترام ان کے اندر نہیں۔ مساجد کا احترام ان کو نہیں۔ ٹھیک نماز کے وقت پر مسجد کے اندر ان کی خوب گپ شپ جاری رہتی ہے۔ نماز کے وقت میں تاخیر ہو کچھ پرواہ نہیں۔ رسول علیہ السلام کے احکام کی کچھ پروا نہیں۔ ننگے سر ننگے گھٹنے نماز پڑھتے ہیں۔ نمازیوں کے آگے سے گزرتے رہتے ہیں۔ کوئی خوف نہیں۔

رسول ﷺ کے ارشاد کے خلاف جمعہ کا خطبہ لمبا اور نماز مختصر پڑھتے ہیں اور خطبہ کے اندر مرزا قادیانی کی نبوت کا ذکر یا چندے کا مطالبہ جاری رہتا ہے۔ تقویٰ اور طہارت کا ذکر تک نہیں۔ قرآن شریف کے غلط الٹ پلٹ معنی صرف مطلب نکالنے کے لئے کئے جاتے ہیں۔ مگر کوئی خوف خدا نہیں۔ احادیث نبوی سے کوئی واقفیت نہیں اور نہ شوق ہے۔ ہر وقت مرزا قادیانی کی کتابوں کا درس جاری رہتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کا کوئی نمونہ ان کے اندر نہیں پایا جاتا۔ صرف ایک غلط تبلیغ و اشاعت کا ڈھونگ رچا کر دنیا اسلام کی آنکھوں میں خاک ڈالی جاتی ہے۔ کتب فروشی اور چندہ وغیرہ سے روپیہ جمع کر کے مزے اڑائے جاتے ہیں اور باقی بس۔ خدا تعالیٰ رحم فرمائے۔

مریم فیکم وامامکم منکم“ (حضرت ابی ہریرہؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے لوگو! تمہارا حال کیا ہوگا کہ جب تم میں ابن مریم نزول کرے گا اور حال یہ ہے کہ وہ تم ہی میں سے تمہارا ایک امام ہوگا۔ (بخاری، مسلم))

ناظرین! حضرت محمد ﷺ نے اپنے مابعد آنے والوں کے لئے جو پیشین گوئیاں فرمائی

١٧

صفحہ ٢٧

ہیں ۔ ان کا حال آپ پر روشن ہے۔ آنحضورﷺ نے اپنے مابعد آنے والوں کے لئے جو بشارات دی ہیں۔ وہ خلفاء کے نام کی دی ہیں۔ مجددین کے نام کی دی ہیں اور آنے والے مسیح ابن مریم کے لئے اور باقی بس۔

مگر مرزائی صاحبان ہیں جو خلاف قرآن مجید، احادیث نبویہ اور اجماع امت دیدہ دلیری سے کام لے کر مشکوک اور ظنی وفرضی حوالہ جات کے ساتھ اجرائے نبوت کے لئے ہر وقت ہاتھ پاؤں مارتے رہتے ہیں۔ کہیں حضرت عائشہؓ کے قول سے استنباط کرتے ہیں، کہیں سلف صالحین، ابن عربیؒ وغیرہ کے اقوال سے اپنے دلائل کو تقویت دیتے ہیں اور کہیں علماء کرام مولانا رومؒ کی تحریرات سے آڑ پکڑتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ یہ جملہ اقوال جو نص قرآنی اور احادیث نبویہ کے صریح خلاف ہوں۔ سب ناقابل تسلیم ہوتے ہیں۔ سب سے اول قرآنی فیصلہ ناطق ہوتا ہے اور اس کے بعد حدیث نبوی۔

اگر کسی حدیث نبوی کا مفہوم قرآنی آیت کے خلاف ہو تو وہ حدیث نبوی بھی متروک سمجھی جائے گی۔ کیونکہ حدیث علم ظنی ہے اور قرآن ناطق اور نص یقینی۔ یادرکھنا چاہئے کہ امام ہمام حضرت ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کا سب سے پہلا قائم کردہ زریں اصول یہ ہے کہ: ”جو حدیث قرآن کے مضمون کے خلاف ہوگی، اس کی وقعت اس حدیث کے مقابلہ میں کچھ نہیں ہوسکتی۔ جو قرآن کے موافق ہو۔ بلکہ جو حدیث قرآن کے خلاف ہوگی وہ متروک سمجھی جائے گی اور ہر حدیث کی صحت قرآن کی مطابقت پر موقوف ہے۔ صحیح حدیث پر عمل کرنا میرا ہی مذہب ہوگا۔ اگر میرا قول کسی حدیث نبوی کے خلاف پایا جاوے تو اس کو دیوار پر مار چھوڑو۔“

(عقد الجید مطبوعہ فاروقی دہلی ص ٦٦ ، ٦٧، روضۃ العلماء )

یہ زریں اصول مذکورہ بالا عین مطابق فرمان نبوی کے ہے۔ جو درج ذیل ہے: ”حضرت جابرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا رسول خداﷺ نے میرا کلام منسوخ نہیں کر سکتا اللہ کے کلام کو اور اللہ کا کلام منسوخ کر سکتا ہے میرے کلام کو اور کلام اللہ نسخ کرتا ہے بعض اس کا بعض کو۔“ (دار قطنی )

پس ثابت ہوا کہ جب ختم نبوت قرآن اور حدیث سے صاف صاف واضح ہے ۔ تو پھر اقوال صحابہ اور اقوال سلف وصالحین اور اقوال علماء کرام سے استنباط کرنا اور اجرائے نبوت کے لئے

١٨

ہاتھ پاؤں مارنا ایک فضول امر ہے اور دنیائے اسلام فقیر ناچیز صرف دو احادیث نبوی درج کرتا ہے۔ جن مرزا قادیانی کسی صورت میں بھی نبی کہلانے کے مستحق

جب کسی نبی کو وفات دی ہے تو اس کو بجز اس جگہ کے دفن نہیں کیا گیا۔“ (کنز العمال ج ٦ ص ١١٩)

ہوتا رہا وہ اس نبی سے جو اس سے پہلے گزرا نصف عـ رہے اور میں دیکھتا ہوں کہ میں ١٠ برس کے سرے پر العمال ج ٦ ص ١٢٠ حلیہ ابو نعیم بحوالہ کنز العمال ج ٦ ص ١١٩، مو

ناظرین کرام! یہ ہر دو احادیث آپ صا کی طرح سب کو معلوم ہے کہ جناب مرزا قادیانی صاحب رئیس قادیاں کے گھر بمقام موضع قادیان ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو بمقام لاہور یکدم انتقال فرمایا۔ جنا موجود ہے۔ مرزا قادیانی موصوف کی عمر پہلے سالا دوسرے سال کے حساب سے ٦٨ برس۔ اگر جناب لاہور آنجناب کا مدفن ہوتا تو بموجب ہر دو احادیث جاسکتا تھا۔ جب یہ ہر دو باتیں موجود نہیں تو پھر مرزا جائے انصاف ہے کہ قرآن حکیم اور احادیث نبوی صاحب اور حضرت محی الدین عربی وغیرہ کے اقوال

اگر ان بزرگان دین نے اپنے اجتہاد سے مسئلہ ایجاد کیا ہے ۔ تو یہ ان کا اپنا اجتہاد ہے۔ صاف پذیرائی نہیں ہو سکتا۔ بقول فرمان نبوی مجتہد کا اجتہاد طرح اگر کوئی امام یا مجدد یا خلیفہ کسی قسم کا اجتہاد کر کے صریح خلاف پایا جائے۔ تو وہ بھی اہل اسلام کے

١٩

صفحہ ٢٧

ہاتھ پاؤں مارنا ایک فضول امر ہے اور دنیائے اسلام کو مغالطہ دینے کے مترادف ہے۔ ذیل میں یہ فقیر ناچیز صرف دو احادیث نبوی درج کرتا ہے۔ جن کی رو سے صاف صاف پتہ چلے گا کہ جناب مرزا قادیانی کسی صورت میں بھی نبی کہلانے کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ وہ یہ ہیں:

جب کسی نبی کو وفات دی ہے تو اس کو بجز اسی جگہ کے جہاں اس کی روح قبض ہوئی ہے، کسی اور جگہ دفن نہیں کیا گیا۔" (کنزالعمال ج ٦ ص ١١٩)

ہوتا رہا وہ اس نبی سے جو اس سے پہلے گزرا نصف عمر پاتا رہا اور عیسیٰ بن مریم ١٢٠ برس تک زندہ رہے اور میں دیکھتا ہوں کہ میں ٦٠ برس کے سرے پر دنیا کو ترک کردوں گا۔" (حاکم طبرانی بحوالہ کنز العمال ج ٦ ص ١٢٠ حلیہ ابو نعیم بحوالہ کنز العمال ج ٦ ص ١١٩، مواہب الدنیہ قسطلانی ج اول ص ٤٢)

ناظرین کرام! یہ ہر دو احادیث آپ صاحبان کے روبرو پیش ہیں۔ یہ بات روز روشن کی طرح سب کو معلوم ہے کہ جناب مرزا قادیانی موصوف ١٨٣٩،٤٠ء میں مرزا غلام مرتضیٰ صاحب رئیس قادیاں کے گھر بمقام موضع قادیان تولد ہوئے اور تمام عمر قادیان میں گزار کر ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو بمقام لاہور یکدم انتقال فرمایا۔ جناب مرزا قادیانی موصوف کا مدفن قادیان میں موجود ہے۔ مرزا قادیانی موصوف کی عمر پہلے سال کے حساب سے ٦٩ برس کی ہوتی ہے اور دوسرے سال کے حساب سے ٦٨ برس۔ اگر جناب مرزا قادیانی کی عمر تیس برس کی ہوتی اور بمقام لاہور آنجناب کا مدفن ہوتا تو بموجب ہر دو احادیث مذکورہ بالا ان کی نسبت نبوت کا دعویٰ تسلیم کیا جاسکتا تھا۔ جب یہ ہر دو باتیں موجود نہیں تو پھر مرزا قادیانی کو کس طرح نبی منوایا جاسکتا ہے اور جائے انصاف ہے کہ قرآن حکیم اور احادیث نبوی کے مقابلہ میں تکملہ مجمع البحار والے محمد طاہر صاحب اور حضرت محی الدین عربی وغیرہ کے اقوال کیا وقعت رکھ سکتے ہیں۔

اگر ان بزرگان دین نے اپنے اجتہاد سے ظلی اور بروزی، تشریعی اور غیر تشریعی نبوت کا مسئلہ ایجاد کیا ہے۔ تو یہ ان کا اپنا اجتہاد ہے۔ صاف اور صریح قرآنی مفہوم کے مقابلہ میں قابل پذیرائی نہیں ہوسکتا۔ بقول فرمان نبوی مجتہد کا اجتہاد درست بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی۔ بناء علیہ اسی طرح اگر کوئی امام یا مجدد یا خلیفہ کسی قسم کا اجتہاد کرے۔ اگرچہ بذریعہ الہام ہو۔ مگر قرآنی مفہوم کے صریح خلاف پایا جائے۔ تو وہ بھی اہل اسلام کے نزدیک مردود ہے اور تقلید کے قابل نہیں۔

١٩

صفحہ ٢٨

مسلمان کے لئے صرف قرآن اور سنت رسول کے اتباع کا حکم ہے۔ کیونکہ انہی ہر دو کا سکہ قیامت تک جاری رہے گا اور کلمہ شہادت: ”لا الہ الا الله محمد رسول الله“ کا یہی مفہوم ہے۔ قرآن اور سنت رسول کے بعد کسی اولی الامر خلیفہ یا امام یا مجدد کی اطاعت ہو سکتی ہے۔ اہل کتاب یہود و نصاریٰ جب اپنی کتاب اللہ کو چھوڑ کر اپنے علمائے وقت اور صوفیاء کرام کی پیروی کرنے لگ گئے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے ذریعہ ان کو تنبیہ فرمائی: ”اتخذوا احبارهم ورهبانهم ارباب من دون الله (توبہ: ٣١) “ ﴿یعنی انہوں نے اپنے عالموں اور صوفیوں کو اللہ کو چھوڑ کر اپنا رب بنالیا ہوا ہے۔﴾

خلاصہ کلام یہ ہے کہ کتاب اللہ اور سنت نبوی سے ثابت کیا جا چکا ہے کہ محمد ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ آپ کی رسالت کا سکہ قیامت تک جاری رہے گا۔ اسی لئے آپ حیات النبی کہلانے کے مستحق ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی ظلی ہو یا بروزی تشریعی ہو یا غیر تشریعی قیامت تک نہیں آ سکتا اور جو حضرت محمد ﷺ کو آخر الانبیاء اور خاتم النبیین تسلیم نہیں کرتے وہ بروئے قرآن حکیم فاسقین کے گروہ میں شامل ہوں گے۔ اگر چہ وہ مسلمان کہلائیں۔ نماز روزے کے پابند ہوں۔ ہوا میں اڑ کر دکھلائیں۔ دنیاوی کامیابی کے سہرے سر پر باندھیں وغیرہ وغیرہ۔ مگر قرآنی فیصلہ کے مطابق فاسقین کے گروہ سے علیحدہ نہیں ہو سکتے۔

یہ مضمون چونکہ اب بہت طوالت پکڑ چکا ہے۔ اس لئے بندہ ختم نبوت کے مضمون کو ختم کر کے اپنے ابتدائی مضمون کی طرف عود کرتا ہے اور مسلمانوں کو توجہ دلاتا ہے کہ محسن نسل انسانی حضرت محمد ﷺ کو آخر الانبیاء تسلیم کر کے اطاعت نبوی پر کاربند رہیں۔ جیسا کہ ایک عاشق اپنے معشوق کے رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش کیا کرتا ہے۔ باہمی ہمدردی اور اتحاد کا سبق یاد رکھیں اور اس کے مطابق عملدرآمد کرتے رہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے فیشن کو ترک کر کے نصاریٰ اور کرزن فیشن کی تقلید میں داڑھی منڈوانا اور یہود اور سکھوں کی تقلید میں داڑھی کو حد سے زیادہ طویل کرنا چھوڑ دیں۔ کیونکہ اس سے مخالفت رسول اللہ ﷺ پائی جاتی ہے اور مخالفت سے محبت پیدا نہیں ہو سکتی۔

ذیل میں آنحضور سرور دو جہاں سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ایک حدیث درج کی جاتی ہے۔ جسے ہر مسلمان کو ہر وقت یاد رکھنا چاہئے۔ کیونکہ اس میں آخر زمانہ کے متعلق پیشین گوئی ہے۔

حالات

خلاف آیات

اس

غلام احمد قادیانی کے

ان

مختلف اعتقاد

جناب منشی ال

PDF 30

خاتم النبیین لا نبی بعدی

ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ وھو فی الاخرۃ من الخاسرین

حالات قادیانی

خلاف آیات آسمانی (١٩٠١ء)

اس کا دوسرا نام

غلام احمد قادیانی کے اصلی حالات (١٩٠١ء)

اس کا تیسرا نام

مختلف اعتقاد قادیانی (١٩٠٢ء)

جناب منشی اللہ دتہ بہاول پوری

صفحہ ٣١

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نحمده ونصلى على رسوله الكريم

احقر العباد، بندہ اللہ دتا ولد میاں احمد یار ساکن شہر جھنگ حال ملازم نہر عبدالحکیم علاقہ ضلع ملتان۔ بخدمت تمام اہل اسلام عرض کرتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی اکثر کتابیں میرے پاس موجود ہیں اور اکثر اوقات میں ان کو پڑھتا ہوں۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے رسالہ (ازالہ اوہام ص ١٨٥، خزائن ج ٣ ص ١٩٠، ١٨٩) میں تحریر فرماتے ہیں:

”مجھے کشفی طور سے اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی سچ ہے کہ تیرھویں صدی کے پورا ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے سے ہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ نام ہے ”غلام احمد قادیانی“ اس نام کے عدد پورے تیرہ سو ہیں۔“

اے بھائیو! جس دن میں نے ازالہ اوہام میں عبارت مرقومہ بالا کو پڑھا تو میں نے بھی خداوند تعالیٰ کی طرف یہ التجا کی کہ اے میرے رب تو کاشف القلوب ہے۔ اپنی خاص مہربانی سے میرے دل پر بھی اعداد وحروف کے ذریعہ سے حق بات کو ظاہر کردے۔ تو اسی دن مورخہ ٥؍ اپریل ١٩٠١ء کو میرے دل پر الفاظ ذیل ظاہر ہوئے ۔

الفاظ بنتا ہے مسیح موعود اس کا تو والد موجود کل عدد اعداد ٤٥٣ ١٥ ١١٨ ١٢٦ ٨٢ ٤٠٦ ٤١ ٥٩ ١٣٠٠ھ

اور مورخہ ٢٣؍ اپریل ١٩٠١ء کو میرے دل پر الفاظ ذیل القاء ہوئے:

الفاظ غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود کہنا بھی حق نہیں ہے اس عبارت کے کل عدد اعداد ١٣٢٦ ١١٨ ١٢٦ ٧٦ ١٧ ١٠٨ ١١٥ ١٥ ١٩٠١ء

اور مورخہ ١٩؍ مئی ١٩٠١ء مطابق ١٣١٩ھ کو میں نے (ازالہ اوہام ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٩) میں دیکھا جہاں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اس عاجز کا نام مسیح ابن مریم رکھ دیا اور اپنے الہام میں فرما دیا ”جعلناک المسیح ابن مریم“

اے بھائیو! الہام مرقومہ بالا کے پڑھنے کے بعد میں نے پھر خداوند تعالیٰ کی طرف ٢

التجاء کی کہ اے کاشف القلوب اپنی خاص مہربانی ۔ الہام تیری طرف سے ہے یا نہیں ۔ تو خداوند تعالیٰ ۔

الفاظ جس شخص کی والدہ بی بی مریم ہو اعداد ٦٣ ١٠٢٠ ٤٦ ٣٢ ٢٩٠ ١١

الفاظ خدا نے قادیانی کو مسیح یا عیسیٰ اعداد ٦٠٥ ٦٠ ٢٠٢ ١١٨ ١٦١

جن سے سن ہجری نکلتا ہے۔ میں نے ایسے الفاظ ڈال جو میرے سوال کا جواب بھی اور جن مطابق سن ہجری کے ہو۔ تو خداوند تعالیٰ نے اپنی مہربا ”شیطانی الہام نے بھلا دیا ہوا ۔“ کل عدد ٥٨٢ ہو

یعنی سن عیسوی بھی پورا ہوگیا ۔ پھر میں نے ”جعلنٰ ٦٦٦ ہوئے ۔ پھر میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف التجاء کی دجالوں سے بھی ہے ۔“ عدد نکالے تو کل ٦٦٦ ہوئے

میرا یہ دعویٰ ہرگز ہرگز نہیں ہے کہ میں الہ نہیں ہے کہ جو کچھ خداوند تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے مورخہ یکم جولائی ١٩٠١ء کو میں نے خداوند تعالیٰ کی قادیانی کے دعوؤں کی بنا تیری مرضی کے خلاف پر ہ کے طور پر میرے دل میں ذیل عبارت القاء ہوئی ۔

”اے انسان خداوند تعالیٰ کا کوئی کام کے نزدیک میعاد مقرر ہوتی ہے۔ اس کا ابتداء اور باعث خدا ان لوگوں کا امتحان کر رہا ہے جو زبان ۔

صفحہ ٣١

التجاء کی کہ اے کاشف القلوب اپنی خاص مہربانی سے میرے دل پر ظاہر کردے کہ قادیانی کا یہ الہام تیری طرف سے ہے یا نہیں۔ تو خداوند تعالیٰ نے میرے دل پر جو کچھ القاء کیا نقل کرتا ہوں۔

الفاظ جس شخص کی والدہ بی بی مریم نہو کیا وہ ابن مریم ہؤا اس عبارت کے کل عدد اعداد ٦٣ ١٠٢٠ ٤٦ ٢٤ ٢٩٠ ٦١ ٣١ ١١ ٥٣ ٢٩٠ ١٢ ١٩٠١ء الفاظ خدا نے قادیانی کو مسیح یا عیسیٰ بھی نہیں کہا ہے اس عبارت کے کل عدد اعداد ٦٠٥ ٦٠ ٢٠٢ ١١٨ ١٦١ ١٧ ١١٥ ٢٦ ١٥ ١٣٦٩ھ

جن سے سن ہجری نکلتا ہے۔ میں نے پھر التجاء کی کہ اے میرے رب تو میرے دل پر ایسے الفاظ ڈال جو میرے سوال کا جواب بھی ہو اور جن کے اعداد ملانے سے سن عیسوی بھی پورا ہو۔ یعنی مطابق سن ہجری کے ہو۔ تو خداوند تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے میرے دل پر الفاظ ذیل القاء کر دیئے۔ ”شیطانی الہام نے بھلا دیا ہوا۔“ کل عدد ٥٨٢ ہوئے۔ پس ١٣٦٩ جمع ٥٨٢ کل عدد ١٩٠١ بن گیا۔ یعنی سن عیسوی بھی پورا ہو گیا۔ پھر میں نے ”جعلنك المسيح ابن مریم“ کے عدد نکالے تو کل ٦٦٦ ہوئے۔ پھر میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف التجاء کی تو میرے دل پر عبارت ذیل القاء ہوئی۔ ”تمہیں دجالوں سے بھی ہے۔“ عدد نکالے تو کل ٦٦٦ ہوئے۔ ”ذلك من فضل اللہ“

میرا یہ دعویٰ ہرگز ہرگز نہیں ہے کہ میں ملہم ہوں۔ لیکن اس بات سے بھی ہرگز ہرگز انکار نہیں ہے کہ جو کچھ خداوند تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے میرے دل پر القاء کیا ہے۔ وہ سچ ہے۔ چنانچہ مورخہ یکم جولائی ١٩٠١ء کو میں نے خداوند تعالیٰ کی طرف پھر التجاء کی کہ اے کاشف القلوب اگر قادیانی کے دعووں کی بنا تیری مرضی کے خلاف پر ہے تو اس کو کس واسطے ہلاک نہیں کرتا؟ تو جواب کے طور پر میرے دل میں ذیل عبارت القاء ہوئی۔

”اے انسان خداوند تعالیٰ کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا اور ہر ایک کام کی خدا کے نزدیک میعاد مقرر ہوتی ہے۔ اس کا ابتداء اور انتہا خدا کو معلوم ہوتا ہے۔ قادیانی جماعت کے باعث خدا ان لوگوں کا امتحان کر رہا ہے جو زبان سے کہتے تھے کہ ہم محقق ہیں۔ ہم غیر مقلد ہیں۔

٣

صفحہ ٣٢

ہم راہ مستقیم پر ہیں اور ہم قرآن اور حدیث کے موافق اور مطابق چلیں گے اور قرآن کی آیات اور صحیح حدیث کے خلاف اگر کسی کا قول یا فعل ہوگا ہرگز نہ مانیں گے۔ بیشک خدا کے نزدیک بھی سیدھا اور پکا راستہ یہی تھا۔ خود قادیانی اور اس کے مرید بھی زبان سے یہی کہتے تھے کہ ہم قرآن اور صحیح حدیث کے موافق اور مطابق عمل کرتے رہیں گے۔ لیکن خدا پر ان کے دل کا حال پوشیدہ نہ تھا اور نہ اب ہے۔ قادیانی اپنے الہام کو اب آیات قرآنی اور احادیث پر مقدم خیال کرتا ہے اور اس کے مرید اس کے کہنے کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ جن آیات یا احادیث کے جس طرح قادیانی معنی کر دیوے، وہی معنی وہ صحیح جانتے ہیں اور جس حدیث کو قادیانی غیر صحیح کہہ دے اس کو غیر صحیح مان لیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان کو کہہ دے کہ ان آیات یا احادیث کے معنی علمائے سابقہ نے تو اس طرح سے نہیں کئے ہیں جس طرح اب تم کرتے ہو۔ جواب یہ دیتے ہیں کہ علمائے سابقہ نے ان آیات اور احادیث کے اصلی معنی کو نہیں سمجھا۔ لیکن اب غلام احمد قادیانی پر بذریعہ الہام یا کشف وہ معنی کھل گئے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو زبان سے کہتے تھے کہ بجز قرآن وحدیث ہمارا کوئی امام نہیں ہے۔ اب قادیانی کو اپنا امام بلکہ رسول بنالیا ہے۔ حالانکہ اس کے تمام دعوؤں کی بناء خلاف آیات آسمانی، الہام شیطانی پر ہے۔ اے انسان تو میری توفیق سے لوگوں پر قادیانی کتابوں سے ظاہر کر دے کہ قادیانی کے عقائد خداوند تعالیٰ کی آیات کے بالکل خلاف ہیں۔ پہلے میری کلام سے آیات کو لکھ کر اور پھر قادیانی کی کتابوں سے اصل عبارت نقل کر، تاکہ جو شخص اس رسالہ کو پڑھے یا سنے اور پھر حق کی طرف رجوع نہ کرے تو آگاہ رہے کہ خدا تعالیٰ شدید العذاب ہے۔“

پہلا باب ....... خداوند تعالیٰ کی تعریف میں، حصہ اول

قولہ تعالیٰ ”قل فمن يملك من الله شيئا ان اراد ان يهلك المسيح ابن مريم وامه ومن فى الارض جميعا“ ﴿کہہ پس کون اختیار رکھتا ہے اللہ کے کام سے کچھ اگر چاہے ہلاک کر ڈالے، مسیح بیٹے مریم کو اور اس کی ماں کو اور ان لوگوں کو کہ بیچ زمین کے ہیں سارے۔﴾

قولہ تعالیٰ ”ليس كمثله شى وهو السميع البصير “ ﴿نہیں ہے مانند اس کے کوئی چیز اور وہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔﴾

قولہ تعالیٰ ”وجعلوا له من عبادہ جزءًا ان الانسان لكفور مبین “ ﴿اور مقرر کیا انہوں نے واسطے حق تعالیٰ کے بندوں اس کے ایک جز، تحقیق آدمی البتہ کافر ہے ظاہر۔﴾

٢

قولہ تعالیٰ ”انما امره اذا اراد شـ نہیں کہ حکم اس کا جب چاہے پیدا کرنا۔ کسی چـ قولہ تعالیٰ ”والله یحکم لا موڑنے والا والا حکم اس کا۔﴾

اے بھائیو! خداوند تعالیٰ اپنی قـ میں اور صفات میں ہرگز ہرگز شراکت نہیں۔ موڑ سکتا۔

مرزا غلام احمد کا اعتقاد خدا تعالیٰ کی

فتح الاسلام (ص ١٥، خزائن ج ٣

ہمیشہ استعاروں سے کام لیا ہے اور طبع اور تـ وارد کرتا ہے۔“

ف ....... جائے تعجب ہے کہ وہ خداوند جـ استعاروں سے کام لیتا ہو۔ باوجویکہ اس کو

توضیح المرام (ص ٢١، خزائن ج ٣

طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی محبت قوی ایـ الٰہی پیدا ہو کر رب کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی نر اور مادہ کا حکم رکھتی ہے۔ ایک مستحکم رشتہ او محبت کی چمکنے والی آگ سے جو مخلوق کی ہیز ہے جس کا نام روح القدس ہے۔“

ف ....... اس عبارت میں اہل انصاف ـ

کا نام روح القدس ہے۔

توضیح المرام (ص ٧٥، خزائن ج ٣

بالا کی تصویر دکھلانے کے لئے تمثیلی طور پر آ

صفحہ ٣٤

قوله تعالیٰ "انما امره اذا اراد شيئا ان يقول له كن فيكون" ﴿سوائے اس کے نہیں کہ حکم اس کا جب چاہے پیدا کرنا کسی چیز کا یہ کہ کہتا ہے واسطے اس کے ہو۔ پس ہو جاتا ہے۔﴾

قوله تعالیٰ "والله يحكم لا معقب لحكمه" ﴿اور اللہ تعالیٰ حکم کرتا ہے نہیں کوئی موڑنے والا احکام اس کا۔﴾

اے بھائیو! خداوند تعالیٰ اپنی تمام مخلوقات سے نرالا ہے۔ یعنی کسی چیز کو اس کی ذات میں اور صفات میں ہرگز ہرگز شراکت نہیں ہے۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور اس کے حکم کو کوئی نہیں موڑ سکتا۔

مرزا غلام احمد کا اعتقاد خدا تعالیٰ کی نسبت، حصہ دوم

فتح الاسلام (ص ١٥، خزائن ج ٣ ص ١١) میں مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”خداوند تعالیٰ نے ہمیشہ استعاروں سے کام لیا ہے اور طبع اور خاصیت اور استعداد کے لحاظ سے ایک نام دوسرے پر وارد کرتا ہے۔“

ف ...... جائے تعجب ہے کہ وہ خداوند جو قادر اور قہار اور غالب ہے۔ بقول مرزا قادیانی ہمیشہ استعاروں سے کام لیتا ہو۔ باوجودیکہ اس کو کسی چیز کا ہرگز خوف بھی نہیں ہے۔ بعید از عقل ہے۔

توضیح المرام (ص ٢١، خزائن ج ٣ ص ٦١) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ”اوپر کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی محبت قوی ایمان سے ملی ہوئی ہے۔ جو ادنیٰ بندہ کے دل میں بارادہ الٰہی پیدا ہو کر رب کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور پھر ان دونوں محبتوں کے ملنے سے جو درحقیقت نر اور مادہ کا حکم رکھتی ہے۔ ایک مستحکم رشتہ اور ایک شدید مواصلت خالق اور مخلوق میں پیدا ہو کر الٰہی محبت کی چپکنے والی آگ سے جو مخلوق کی ہیزم مثال محبت کو پکڑ لیتی ہے۔ ایک تیسری چیز پیدا ہو جاتی ہے جس کا نام روح القدس ہے۔“

ف ...... اس عبارت میں اہل انصاف کے لئے چند فقرے غور طلب ہیں۔

کا نام روح القدس ہے۔

توضیح المرام (ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اس بیان مذکورہ بالا کی تصویر دکھلانے کے لئے تخیلی طور پر ہم فرض کر سکتے ہیں کہ قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم

٥

صفحہ ٣٤

ہے جس کے بے شمار ہاتھ، بے شمار پیر، ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لانتہاء عرض اور طول رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں۔ جو صفحہ ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں۔ یہ وہی اعضاء ہیں۔ جن کا دوسرے لفظوں میں عالم نام ہے۔ جب قیوم عالم کوئی حرکت جزوی یا کلی کرے گا تو اس کی حرکت کے ساتھ اس کے اعضاء میں حرکت کا پیدا ہو جانا ایک لازمی امر ہوگا اور وہ اپنے تمام ارادوں کو انہیں اعضاء کے ذریعہ سے ظہور میں لائے گا نہ کسی اور طرح سے۔“

ف ...... مرزا قادیانی کی اس تحریر میں بھی چند فقرات غور طلب ہیں۔

طرح سے۔

ف ثانی ...... مرزا قادیانی کا اس خداوند تعالیٰ کی نسبت جو مثل اور مانند سے پاک ہے اور جو بلا اسباب کن کہنے سے جو چاہے پیدا کر سکتا ہے اور اپنے تمام ارادوں کو بغیر کسی ذریعہ کے طرفۃ العین میں ظہور میں لاسکتا ہے۔ یہ تحریر کرنا کہ وہ اپنے تمام ارادوں کو انہیں اعضاء کے ذریعہ سے ظہور میں لائے گا نہ کسی اور طرح سے۔ ”انما امره اذا اراد شيئاً ان يقول له كن فيكون“ کے خلاف ہے۔

توضیح المرام (ص٧٦، خزائن ج٣ ص٩٠) میں مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں: ”پس در حقیقت یہی سچ ہے اور بالکل سچ ہے کہ یہ تمام عالم اس وجود اعظم کے لئے بطور اعضاء کے واقع.........!

ف ...... مرزا قادیانی کی اس تحریر سے صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ در حقیقت یہ بالکل سچ ہے کہ یہ تمام عالم اس وجود اعظم کے لئے بطور اعضاء کے واقع ہے۔ آیت ”لیس كمثله شیء“ اور نیز آیت ”وجعلوا له من عباده جزء ان الانسان لكفور مبين“ کے صاف خلاف ہے۔

ضمیمہ انجام آتھم (ص٢، خزائن ج١١ ص٢٨٦) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ” براہین احمدیہ میں خدا نے مجھے کہا ہے ”انت منی بمنزلة توحیدی وتفریدی“ (حقیقت الوحی ص١٦٦، خزائن ج٢٢ ص١٧٠ حاشیہ) یعنی تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید۔

٦

ف ...... اس الہام سے ظاہر ہے کہ مرزا قا خدا ہونے کے واسطے ابھی کچھ دیر لگی ہو گی۔ مع اور کیا ہے؟

ضمیمہ انجام آتھم کے (ص٧، خزا الله معك ان الله يقوم اينما قمت جہاں تو کھڑا ہو۔

ف ...... بے جا فخر ہو تو ایسا ہی ہو۔ آپ ہی دیکھو (اخبار الحکم نمبر ٨ ج ٥ مورخہ ٣ روایت کرتے ہیں ”ایک روز کسر صلیب ف نصرانی مذہب کے استیصال کے لئے ہے۔ بھ اس اعتقاد کی تباہی کے لئے اتنا ہی جوش ہے

ف ...... سبحان اللہ! کیا عجیب مرزا قادیا خداوند قادر اور قہار کو بھی جو طرفۃ العین میں تما مذہب کی بیخ کنی کے لئے مرزا قادیانی کے س دیکھو (اخبار نمبر ٥ ج ٥ مورخہ ١٠ فر محمد نے احمد قادیانی پر وہ تجلی ظاہر کی کہ وہ خدا کرسی پر ایک عورت کے بچے کو ظلم وزور کی صفات سے متصف قرار دیا گیا۔ اس نے ظ روشنی سے منور ہو کر میدان میں نکلا اور اس پ

ہے۔ وہاں نقل موجود ہے۔ خدا سے براہیم

ہیں۔ اے قیصرہ ملکہ معظمہ ہمارے دل تیر ہماری روحیں تیرے اقبال اور سلامتی کے کی بیخ کنی اور کجا دعا۔

صفحہ ٣٥

ف ....... اس الہام سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی توحید اور تفرید کا مرتبہ تو رکھتے ہیں۔ لیکن پورا خدا ہونے کے واسطے ابھی کچھ کسر رہ گئی ہو گی۔ معاذ اللہ عاجز انسان ہو کر ایسا دعویٰ کرنا فرعونیت نہیں تو اور کیا ہے؟

ضمیمہ انجام آتھم کے (ص٧، خزائن ج١١ ص٣٠١) میں لکھتے ہیں: ”مجھے یہ الہام ہوا ”ان الله معك ان الله يقوم اينما قمت“ یعنی خدا تیرے ساتھ ہے۔ خدا وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں تو کھڑا ہو۔

ف ....... بے جا فخر ہو تو ایسا ہی ہو۔ آپ ہی مدعی اور آپ ہی گواہ۔ کیا عمدہ ثبوت ہے۔

دیکھو (اخبار الحکم نمبر ٨ ج ٥ مورخہ ٣؍ مارچ ١٩٠٠ء ص١٢) میں عبدالکریم مرزا قادیانی سے روایت کرتے ہیں ”ایک روز کاسر الصلیب فرماتے تھے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کس قدر جوش مجھے نصرانی مذہب کے استیصال کے لئے ہے۔ پس میں اس کو ان لفظوں میں ہی ادا کر سکتا ہوں کہ مجھے اس اعتقاد کی تباہی کے لئے اتنا ہی جوش ہے جتنا خود خدا کو ہے۔“

ف ....... سبحان اللہ! کیا عجیب مرزا قادیانی کا یہ فقرہ ہے کہ نصاریٰ مذہب کی تباہی کے لئے اس خداوند قادر اور قہار کو بھی جو طرفتہ العین میں تمام جہان کو ہلاک کر سکتا ہے۔ بقول مرزا قادیانی نصاریٰ مذہب کی بیخ کنی کے لئے مرزا قادیانی کے مساوی جوش ہو۔ شرم، شرم، شرم ایسے اعتقاد پر۔

دیکھو (اخبار نمبر ٥ ج ٥ مورخہ ١٠ فروری ١٩٠١ء ص ١٢) میں عبد الکریم لکھتا ہے: ”ہاں رب محمد نے احمد قادیانی پر وہ تجلی ظاہر کی کہ وہ خدا جو دنیا کی نظروں سے پوشیدہ ہو چکا تھا۔ وہ خدا جس کی کرسی پر ایک عورت کے بچے کو ظلم وزور کی راہ سے بٹھایا گیا۔ مردوں میں سونے والے کو جس کی صفات سے متصف قرار دیا گیا۔ اس نے غلام احمد قادیانی کے وجود میں اپنی چمکار دکھائی۔ وہ اس روشنی سے منور ہو کر میدان میں نکلا اور اس نے دنیا کو پکار کر کہا:

١؎ دیکھو اس باب کے اخیر عبارت کو جو مرزا قادیانی نے ٢٣ اپریل ١٩٠٢ء کو تحریر کیا ہے۔ وہاں نقل موجود ہے۔ خدا سے برابر ہونے کا دعویٰ بھی کر دیا۔

٢؎ مرزا قادیانی کا عجیب مذہب ہے۔ (تحفہ قیصریہ ص١٤، خزائن ج١٢ ص٢٥٣) میں لکھتے ہیں اے قیصرہ ملکہ معظمہ ہمارے دل تیرے لئے دعا کرتے ہوئے جناب الٰہی میں جھکتے ہیں اور ہماری روحیں تیرے اقبال اور سلامتی کے لئے حضرت احدیت میں سجدہ کرتی ہیں۔“ کجا عیسویت کی بیخ کنی اور کجا دعا۔

٧

صفحہ ٣٦
آں خدائے کہ از و اہل جہاں بیخبراند
برہمن جلوہ نمود است اگر اہل ہندید

اس نے چلا چلا کر خواب گراں میں سونے والوں کو جگایا اور بتایا کہ میں نے ایک بیش قیمت ہیرا پایا ہے اور وہ ہیرا خدا ہے۔ اب اس وقت اسی رنگ میں اس نے للکار کر کہا کہ ”ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله ويغفرلكم ذنوبكم“ یعنی میری اطاعت کرو محبوب الٰہی بن جاؤ گے۔ گناہ سوز فطرت تمہیں دی جائے گی۔ احمد کی اطاعت اور محمد کی اطاعت ایک ہی ہے۔ اس وقت اسم احمد کی تجلی ہورہی ہے۔“

عورت کے بچے کو بٹھا دیا۔

بے جا تعریف اور نکما فخر تو ایسا ہی ہو اور اپنے کہنے کی آپ ہی تصدیق کرنا کیا عمدہ ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو غلط فہمی سے بچاوے۔ آمین۔ ثم آمین۔ ولعنة الله على الكاذبين۔

ایک اور عجیب حال سنو اور توبہ کرو۔ دیکھو رسالہ (دافع البلاء مورخہ ٢٣ اپریل ١٩٠٢ء ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٨) میں مرزا قادیانی اپنے عربی الہام کا ترجمہ کرتے ہیں۔ اصل عبارت نقل کرتا ہوں:

”یہ دن خدا کی مدد اور فتح کے ہوں گے۔ میں نے تجھ سے ایک خرید و فروخت کی ہے۔ یعنی ایک چیز میری تھی جس کا تو مالک بنایا گیا اور ایک چیز تیری تھی جس کا میں مالک بن گیا۔ تو بھی

٨

صفحہ ٣٧

اس خرید وفروخت کا اقرار کر اور کہہ دے کہ خدا نے مجھ سے خرید وفروخت کی۔ تو مجھ ١؎ سے ایسا ہے جیسا کہ اولاد، تو مجھ میں سے ہے اور میں تجھ میں سے ہوں۔“

تھی۔ اس واسطے مرزا قادیانی سے تبادلہ کیا۔

اہل انصاف غور فرمائیں کہ ان سے زیادہ اور کیا کلمات کفر ہوں گے۔ دیکھو قرآن مجید میں تو ”لم یلد ولم یولد“ موجود ہے اور ”ولم یتخذولدا“ بھی موجود ہے اور ”للّٰہ ما فی السمٰوت والارض“ بھی موجود ہے اور ”یاایھاالناس انتم الفقراء الی اللّٰہ، واللّٰہ ھو الغنی الحمید“ ﴿اے لوگو تم محتاج ہو طرف اللہ کے اور اللہ وہ ہے بے احتیاج تعریف کیا گیا۔﴾

مرزا قادیانی کا ہی حوصلہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی نسبت یہ تحریر کرنا کہ مجھ سے خدا نے تبادلہ کیا جس چیز کا وہ پہلے مالک نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے تمام مسلمانوں کو ایسے شخص کے شر سے بچاوے۔ آمین۔

دوسرا باب ...... اس بات کے ثبوت میں کہ خداوند تعالیٰ واحد ہے۔ نہ وہ

اولاد رکھتا ہے اور نہ جورو، حصہ اول

قولہ تعالیٰ ”الذی لہ ملک السموت والارض ولم یتخذولدا ولم یکن لہ شریک فی الملک وخلق کل شی فقدرہ تقدیراً“ ﴿اللہ وہ ہے جس کی ہے سلطنت آسمان اور زمین کی اور نہیں پکڑا اس نے بیٹا اور نہیں ہے کوئی اس کا شریک بیچ ملک کے اور پیدا کی ہر چیز اور ٹھیک کیا اس کو ماپ کر۔﴾

١؎ اصل عبارت جو رسالہ میں درج ہے ”انت منی بمنزلۃ اولادی انت منی وانا منک“

٢؎ اس شخص کے قول و فعل کا کوئی اعتبار نہیں۔ کہیں خدا بنتا ہے۔ کہیں خدا کا باپ اور کہیں خدا کا بیٹا۔ معاذ اللہ

٩

صفحہ ٣٨

”ولا تقولوا ثلثة انتهوا خيرا لكم انما الله اله واحد سبحنه ان يكون له ولد“ ﴿اور مت کہو تین ہیں باز رہو بہتر ہوگا واسطے تمہارے سوا اس کے نہیں معبود اکیلا ہے پاکی ہے اس کو اس سے کہ ہووے واسطے اس کے اولاد۔﴾

”لقد كفر الذين قالوا ان الله ثالث ثلثة وما من اله الا اله واحد وان لم ينتهوا عما يقولون ليمسن الذين كفروا منهم عذاب اليم“ ﴿البتہ تحقیق کافر ہوئے وہ لوگ کہ کہتے ہیں تحقیق اللہ تیسرا ہے تین میں کا اور نہیں کوئی معبود مگر معبود ایک اور اگر باز نہ رہیں گے اس چیز سے کہ کہتے ہیں البتہ لگے گا ان لوگوں کو کہ کافر ہوئے ان میں سے عذاب درد دینے والا۔﴾

”وقالوا اتخذالرحمن ولدا لقد جئتم شيئا ادا تكاد السموت يتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال هدا، ان دعوا للرحمن ولدا“ ﴿اور کہا انہوں نے پکڑی ہے رحمٰن نے اولاد البتہ تحقیق لائے تم ایک چیز بھاری نزدیک ہے کہ آسمان پھٹ جاویں اس سے اور پھٹ جاوے زمین اور گر پڑیں پہاڑ کانپ کر اس سے کہ دعویٰ کیا انہوں نے واسطے رحمٰن کے اولاد کا۔﴾

ان آیات سے چند امور صاف طور پر ظاہر ہیں۔

نزدیک ہے کہ پھٹ جاویں آسمان اور زمین شق ہو جاوے اور پہاڑ گر پڑیں کانپ کر۔

مرزا قادیانی اپنے آپ کو بطور استعارہ ، ابن اللہ کہتے ہیں۔ حصہ دوم

توضیح المرام (ص ٢٢، خزائن ج ٣ ص ٦٢) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ”اس مقام اور اس مرتبہ کی محبت میں بطور استعارہ یہ کہنا بے جا نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت سے بھری ہوئی

١٠

روح اس انسانی روح کو جو بارادہ الہی اب مـ سے اس محبت کی بھری ہوئی روح کو خدا تعالیٰ اہلیت کا علاقہ ہوتا ہے اور چونکہ روح القدس ہے۔ اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں اس درجہ محبت کے لئے ضروری ہے۔ جس کو

ف....... مرزا قادیانی نے اس جگہ بالکل

(دیکھو محولہ اول یوحنا باب ٥ آیت ٧

کلام اور روح القدس اور یہ تینوں ایک ہیں۔ سے کی ہے کہ ہم خدا کے فرزند کہلاویں۔“

ف ثانی....... جیسے نصاریٰ محبت ہوئے ہیں۔ ویسے ہی مرزا قادیانی بھی ہیـ دونوں کا ایک ہی ہے کہ ہم محبت کے باعث

(توضیح المرام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص

عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طـ

ف....... مرزا قادیانی یہاں بطور استعار

(ازالہ اوہام ص ٦٥٩، خزائن ج

صورت کے طور پر یہی عیسیٰ بن مریم ہے جـ کوئی والد روحانی ہے۔ کیا تم ثبوت دے سـ داخل ہے۔ پھر اگر ابن مریم نہیں تو کون ہے

ف....... اس جگہ مرزا قادیانی نے بغیر اکثر جگہ لکھتے ہیں کہ ”میرے والد کا نام مر ہوتا بعید از عقل ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٦٧٤، خزائن ج

انسانیت پر فنا طاری ہونے کے وقت میـ تعالیٰ کے ہاتھ سے تولد ہوتا جس کا آسما ابن مریم کے پیدا کرنے سے مجبور رہ سکتی

صفحہ ٣٩

روح اس انسانی روح کو جو بارادہ الٰہی اس محبت سے بھر گئی ہے۔ ایک نیا تولد بخشتی ہے۔ اس وجہ سے اس محبت کی بھری ہوئی روح کو خدا تعالیٰ کی روح سے جو نافخ المحبت ہے، استعارہ کے طور پر ابنیت کا علاقہ ہوتا ہے اور چونکہ روح القدس ان دونوں کے ملنے سے انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے لئے بطور ابن ہے اور یہی پاک تثلیث ہے۔ جو اس درجہ محبت کے لئے ضروری ہے۔ جس کو ناپاک طبیعتوں نے مشرکانہ طور پر سمجھ لیا ہے۔“

ف...... مرزا قادیانی نے اس جگہ بالکل نصاریٰ کی تقلید کی ہے۔

(دیکھو خط اول یوحنا باب ٥ آیت ٧) ”تین ہیں جو آسمان پر گواہی دیتے ہیں۔ باپ اور کلام اور روح القدس اور یہ تینوں ایک ہیں۔“ اور نیز باب ٢ آیت ١۔ ”دیکھو کیسے محبت باپ نے ہم سے کی ہے کہ ہم خدا کے فرزند کہلاویں۔“

ف ثانی...... جیسے نصاریٰ محبت کے ذریعہ سے خدا کے فرزند ہونے کے دعوے دار ہوئے ہیں۔ ویسے ہی مرزا قادیانی بھی ہیں۔ اگر کچھ فرق ہے تو چال بدلنے کا ہے۔ ورنہ دعویٰ دونوں کا ایک ہی ہے کہ ہم محبت کے باعث خدا کے فرزند ہیں۔

(توضیح المرام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ٧٣) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں کہ ”مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔“

ف...... مرزا قادیانی یہاں بطور استعارہ ابنیت کے مدعی ہوئے ہیں۔

(ازالہ اوہام ص ٦٥٩، خزائن ج ٣ ص ٤٥٦) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”پس مثالی صورت کے طور پر یہی عیسیٰ بن مریم ہے جو بغیر باپ کے پیدا ہوا۔ کیا تم ثابت کر سکتے ہو کہ اس کا کوئی والد روحانی ہے۔ کیا تم ثبوت دے سکتے ہو کہ تمہاری سلاسل اربعہ میں سے کسی سلسلہ میں یہ داخل ہے۔ پھر اگر ابن مریم نہیں تو کون ہے۔“

ف...... اس جگہ مرزا قادیانی نے بغیر باپ کے پیدا ہونا خود تسلیم کیا ہے اور اپنی کتابوں میں اکثر جگہ لکھتے ہیں کہ ”میرے والد کا نام مرزا غلام مرتضیٰ تھا۔“ پھر بغیر باپ کے پیدا ہونے کا مدعی ہونا بعید از عقل ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٦٧٤، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”پھر جب انسانیت پر فنا طاری ہونے کے وقت میں ایک ایسے ہی انسان کی ضرورت تھی۔ جس کا محض خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے تولد ہوتا جس کا آسمان پر ابن مریم نام ہے تو کیوں خدا تعالیٰ کی قادریت اس ابن مریم کے پیدا کرنے سے مجبور رہ سکتی۔ سو اس نے محض اپنے فضل سے بغیر وسیلہ کے زمینی والد

!!

صفحہ ٤١

کے اس ابن مریم کو روحانی پیدائش اور روحانی زندگی بخشی۔ جیسا کہ اس نے خود اس کو الہام میں فرمایا: ”ثم احینك بعد مااهلكنا القرون الا ولى وجعلنا المسيح ابن مريم“

ف ...... اس جگہ مرزا قادیانی نے صاف طور پر لکھا ہے کہ خدا نے مجھے بغیر وسیلہ کسی زمینی والد کے پیدا کیا اور پھر اپنے آپ کو ابن مریم بھی تسلیم کیا ہے۔ مرزا قادیانی کا زمینی والد سے انکار کرنا یہ صاف ظاہر کر رہا ہے کہ اس کی پیدائش کا ذریعہ انسانی نطفہ سے نہیں ہے۔ مگر جائے تعجب ہے کہ اکثر جگہ اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ میرے والد کا نام مرزا غلام مرتضیٰ ہے۔ کیا معنی رکھتا ہے؟ اور نیز میں نے معتبر لوگوں سے سنا ہے کہ مرزا قادیانی کی والدہ صاحبہ کا نام بھی مریم نہیں ہے۔ پھر مریم کا بیٹا کہلانا بھی خلاف قرآن مجید ہے۔ قولہ تعالیٰ ”ان امهتهم الا الى ولدنهم“ یعنی نہیں مائیں ان کی مگر جنہوں نے جنا ہے ان کو۔ اگر یہاں یہ سوال ہو کہ انبیاء علیہم السلام کی عورتیں مومنوں کی مائیں ہیں۔ تو جواب یہ ہے کہ اگرچہ تمام انبیاء علیہم السلام کی عورتیں بلحاظ ادب تمام مسلمانوں کی مائیں ہیں۔

لیکن جو حکم قرآن دیتا ہے وہ یہ ہے۔ قولہ تعالیٰ ”وازواجه امهتهم“ یعنی محمد ﷺ کی عورتیں تمہاری مائیں ہیں اور جائے تعجب تو یہ امر ہے کہ زمینی والد سے تو صاف انکار اور مریم کے بیٹا کہلانے کے اور خدا کو باپ کہنے کے بھی مدعی ہیں۔ اس جگہ بھی مرزا قادیانی نے نصاریٰ کی تقلید کی ہے۔ دیکھو (انجیل متی باب ٢٣ آیت ٩) ”کسی کو اپنا باپ زمین پر مت کہو۔ کیونکہ ایک تمہارا باپ ہے جو آسمان پر ہے۔“ چنانچہ قرآن میں ان کے اسی قول کی حکایت موجود ہے۔ ”نـحـن ابناء الله“ یعنی ہم اللہ کے بیٹے ہیں۔

(اخبار الحکم نمبر ٤٣ ج ٣ ص ٦ مورخہ ١٠ دسمبر ١٩٠٠ء) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”خدا نے ٤ دسمبر ١٩٠٠ء کو مجھے یہ الہام کیا ”انت منى بمنزلة اولادى“

ف ...... اس جگہ مرزا قادیانی صاف طور پر خدا کے بیٹا ہونے کے مدعی ہوئے ہیں۔ اگر یہ سوال ہو کہ خدا نے بذریعہ الہام مرزا قادیانی کو کہا ہے تو جواب دو طرح پر ہے۔ اوّل یہ کہ مرزا قادیانی کا الہام ایسا ہے جیسا کوئی اپنے دعویٰ کا آپ ہی گواہ بن جائے۔

دوسرا کوئی عقلمند مسلمان مرزا قادیانی کے ایسے الہام کو جو خلاف آیات قرآن مجید ہوگا۔ ہرگز ہرگز تسلیم نہیں کرے گا۔ بلکہ اس کو شیطانی یا بناوٹی ضرور خیال کرے گا۔ دیکھو اللہ تعالیٰ تو قرآن شریف میں فرماوے ”لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا احد“ اور نیز فرماوے ”لم

١٢

يتخذ ولدا “ اور نیز فرماویں ”لا تقولوا ثلثة “ اور الله ثالث ثلثة“ یعنی البتہ کافر ہوئے وہ لوگ کہ کہتے نیز فرماویں ”وقــالــوا اتـخـذالـرحـم السموت يتفطرن منه وتنشق الارض ولــدا “ اور کہا انہوں نے پکڑ لی ہے رحمٰن نے اولاد ہے کہ آسمان پھٹ جاویں اس سے اور پھٹ جاوے دعویٰ کیا انہوں نے واسطے اللہ کے اولاد کا ۔

ف ثانی ...... خدا وند تعالیٰ قرآن میں تو ا بقول مرزا قادیانی وہی خدا مرزا قادیانی کو یہ الہام کر عقل ہے۔ بلکہ جو شخص مرزا قادیانی کے اس الہام کو س نہیں لایا ہے۔

دیکھو مدعی بھول گیا اور ہار گیا۔ خدا نے حق

(حجج ص ٢٣، خزائن ج ٩ ص ٤٢٤) میں کہ خدا کو باپ قرار دیا جائے اور اس سے زیادہ تر نا تعالیٰ پر اطلاق کرے ۔“

ف ...... افسوس تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو اپنا پہلا قادیانی کی کتابوں سے اصل عبارت معہ پتہ نقل کر ہوگا اور اگر یہ سوال ہو کہ مرزا قادیانی نے یہاں ایسا جواب کے طور پر یہ لکھا۔ چنانچہ اسی رسالہ ص ٤٢١) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

”اگر کہو کہ انجیل نے یہ سکھلا کر کہ خدا کا جواب یہ ہے کہ یہ خیال سراسر غلط ہے۔“

ف ...... مرزا قادیانی کا عجیب حال ہے۔ ( ”اس وجہ سے اس محبت کی بھری ہوئی روح کو خدا کے طور پر ابنیّت کا علاقہ ہو جاتا ہے اور (توضیح المرام

صفحہ ٤١

يتخذ ولدا " اور نیز فرماویں ”لا تقولوا ثلثة“ اور نیز فرماویں ”لقد كفر الذين قالوا ان الله ثالث ثلثة“ یعنی البتہ کافر ہوئے وہ لوگ کہ کہتے ہیں تحقیق اللہ تیسرا ہے تین میں کا۔ نیز فرماویں ”وقالوا اتخذ الرحمن ولدا لقد جئتم شيئا ادا تكاد السموت يتفطرن منه وتنشق الارض و تخر الجبال هدا ان دعو للرحمن ولدا“ ﴿اور کہا انہوں نے پکڑی ہے رحمٰن نے اولاد۔ البتہ تحقیق لائے تم ایک چیز بھاری نزدیک ہے کہ آسمان پھٹ جاویں اس سے اور پھٹ جاوے زمین اور گر پڑیں پہاڑ کانپ کر اس سے کہ دعویٰ کیا انہوں نے واسطے اللہ کے اولاد کا۔﴾

ف....... خداوند تعالیٰ قرآن میں تو ایسا بیان فرماویں جیسا کہ اوپر تحریر کیا گیا اور بقول مرزا قادیانی وہی خدا مرزا قادیانی کو یہ الہام کرے ”انت منی بمنزلة اولادی“ بعید از عقل ہے۔ بلکہ جو شخص مرزا قادیانی کے اس الہام کو سچا جانے۔ وہ شخص قرآن شریف پر ہرگز ایمان نہیں لایا ہے۔

دیکھو مدعی بھول گیا اور ہار گیا۔ خدا نے حق ظاہر کر دیا

(فتح مسیح ص ٤٤، خزائن ج ٩ ص ٤٣٣) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”یہ بات خود غلط ہے کہ خدا کو باپ قرار دیا جائے اور اس سے زیادہ تر نادان اور بے ادب کون ہوگا کہ باپ کا لفظ خدا تعالیٰ پر اطلاق کرے۔“

ف....... افسوس تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو اپنا پہلا لکھا ہوا یاد نہیں رہتا۔ اس باب میں جو کچھ مرزا قادیانی کی کتابوں سے اصل عبارت معہ پتہ نقل کر چکا ہوں۔ اہل انصاف پر ہرگز پوشیدہ نہیں رہا ہوگا اور اگر یہ سوال ہو کہ مرزا قادیانی نے یہاں ایسا کیوں لکھا۔ تو جواب یہ ہے کہ پادری فتح مسیح کو جواب کے طور پر یہ لکھا۔ چنانچہ اسی رسالہ فتح مسیح کے (فتح مسیح ص ٤٢، خزائن ج٩ ص ٤٣١) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

”اگر کہو کہ انجیل نے یہ سکھلا کر کہ خدا کو باپ کہو محبت ذاتی کی طرف اشارہ کیا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خیال سراسر غلط ہے۔“

ف....... مرزا قادیانی کا عجیب حال ہے۔ (توضیح المرام ص ٢٢، خزائن ج ٣ ص ٦٢) میں لکھتے ہیں ”اس وجہ سے اس محبت کی بھری ہوئی روح کو خدا تعالیٰ کی روح سے جو نابع المحبت ہے۔ استعارہ کے طور پر ابوت کا علاقہ ہو جاتا ہے اور (توضیح المرام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ٦٤) میں یہ لکھا ہے:

١٣

صفحہ ٤٣

”اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں ۔“

اب آخر ماہ دسمبر ١٩٠٠ء میں اخبار الحکم میں یہ الہام لکھ دیا کہ خدا نے مجھے کہا ہے ”انت منی بمنزلۃ اولادی “ اور فتح المسیح میں لکھ دیا کہ جو شخص باپ کا لفظ خدا تعالیٰ پر اطلاق کرے وہ نادان اور بے ادب ہے۔ شرم ، شرم ، شرم ۔

اے پروردگار! جہاں اپنے فضل سے ہم سب مسلمانوں کو کج فہمی سے بچا اور ایسے شخص کے شر سے اور لوگوں کو بھی نجات دے جو اس کے دام میں آگئے ہیں ۔ آمین ثم آمین ۔

تیسرا باب ...... ختم نبوت کے ثبوت میں ۔ حصہ اول

” ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شي عليما (احزاب: ٤٠) ﴿نہیں ہے محمد باپ کسی کا مردوں تمہارے میں سے لیکن رسول اللہ کا اور ختم کرنے والا پیغمبروں کا اور ہے اللہ ہر چیز کا جاننے والا ۔ ﴾

مرزا غلام احمد قادیانی کھلے طور پر نبوت اور وحی کے مدعی ہیں۔ حصہ دوم

(ازالہ اوہام ص ٥٣٣ ، خزائن ج ٣ ص ٣٨٦) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”براہین احمدیہ میں اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا اور نبی بھی۔“

ف ....... بقول مرزا قادیانی براہین احمدیہ خدا کی کتاب ہوئی اور اس میں خدا نے مرزا قادیانی کو کہا کہ تو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔ یہ کیا عمدہ ثبوت ہے کہ اپنے قول کی آپ ہی تصدیق کردی۔ مگر افسوس ہے کہ ایسے شخص کی عقل پر کہ اپنے دعویٰ کی آپ ہی مرزا قادیانی تکذیب کرتے ہیں۔ دیکھو مدعی بھول گیا اور ہار گیا اور خدا نے حق ظاہر کر دیا ۔

(آسمانی فیصلہ ص ٧، خزائن ج ٤ ص ٣١٣) میں لکھتے ہیں: ”میں نبوت کا مدعی نہیں۔ بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“

برخلاف اس تحریر کے پھر بھی مرزا قادیانی نبوت کے کھلے طور پر مدعی ہیں ۔

(دافع البلاء ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) میں مورخہ ٢٣؍اپریل ١٩٠٢ء کو لکھتے ہیں: ”خدا نے مجھے کہا ہے میرے رسول کو میرے پاس کچھ خوف اور غم نہیں۔ میں نگاہ رکھنے والا ہوں۔ میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔“ اور اسی رسالہ کے (ص١٠، خزائن ج١٠ ص٢٣٠) میں تحریر کرتے ہیں ”خدا قادیان کو اس خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تختگاہ ہے اور تمام امتیوں کے لئے نشان ہے۔“

ف ...... کیا اب بھی کوئی مرزائی یہ کہہ سکتا ہے کہ مرزا خود دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہیں؟

(ازالہ اوہام ص ١٦٢، خزائن ج ٣ ص ١٩٣) میں تحریر رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على القادیان“ یہ پیشین گوئی ہے جو پہلے سے قرآن مجید میں

ف ...... اس جگہ مرزا قادیانی بشہادت قرآن ، رسول ا

(ازالہ اوہام ص ٢٧٣، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣) میں احمد رکھا گیا وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ اور عیسیٰ اور احمد اپنے جلالی معنوں کی رو سے ایک ہی ہیں برسول ياتى من بعدى اسمه احمد “ مگر ہما محمد بھی ہیں۔ یعنی جامع جلال اور جمال ہیں ۔ لیکن آخری اندر حقیقت عیسوی رکھتا ہے، بھیجا گیا۔“

ف ...... اس جگہ مرزا قادیانی کھلے طور پر مبشر رسول ہو ہوئے ۔ مگر افسوس کہ مرزا قادیانی کو اپنا پہلا لکھا ہوا بھو مورخہ ١٧؍جنوری ١٩٠١ء) میں لکھتے ہیں ”غرض اس قسم کے گیا۔ پھر آپ کا ایک اور نام بھی رکھا گیا وہ احمد ہے۔ چ یعنی ”مبشرا برسول يأتي من بعدی اسمه اح

ف ...... امام الزمان ایسا ہی ہو جس کو اپنا پہلا لکھا ہوا

(ازالہ اوہام ص ٨٥٥، خزائن ج ٣ ص ٥٦٥) م آج تک اس بارہ میں ہوئے ہیں ، وہ یہ ہیں ”اذا عزم باعيننا ووحينا الذين يبايعونك انما يبا جب تو نے اس خدمت کے لئے قصد کر لیا تو خدا پر بھر اور ہماری وحی سے بنا ۔ جو لوگ تجھ سے بیعت کریں گے گے۔ خدا کا ہاتھ ہوگا جو ان کے ہاتھ پر ہوگا۔“

١٥

صفحہ ٤٣

ف ....... کیا اب بھی کوئی مرزائی یہ کہہ سکتا ہے کہ مرزا قادیانی نبوت کے مدعی نہیں ہے اور بقول خود دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہیں؟

(ازالہ اوہام ص ١٦٢، خزائن ج ٣ ص ١٩٣) میں تحریر کرتے ہیں: ”ھو الذی ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله انا انزلناه قريبا من القادیان“ یہ پیشین گوئی ہے جو پہلے سے قرآن مجید میں انہیں دنوں کے لئے لکھی گئی ہے۔“

ف ....... اس جگہ مرزا قادیانی بشہادت قرآن، رسول اور ہادی ہونے کے مدعی ہوئے ہیں۔

(ازالہ اوہام ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣) میں لکھتے ہیں: ”اور اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی اور عیسیٰ اور احمد اپنے جلالی معنوں کی رو سے ایک ہی ہیں۔ اسی طرف اشارہ ہے’مبشرا برسول ياتى من بعدى اسمه احمد “ مگر ہمارے حضرت نبی ﷺ فقط احمد ہی نہیں۔ بلکہ محمد بھی ہیں۔ یعنی جامع جلال اور جمال ہیں۔ لیکن آخر زمانہ میں برطبق پیشین گوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسوی رکھتا ہے، بھیجا گیا۔“

ف ....... اس جگہ مرزا قادیانی کھلے طور پر مبشر رسول ہونے کے جس کا نام احمد ہے، اب بھی مدعی ہوئے۔ مگر افسوس کہ مرزا قادیانی کو اپنا پہلا لکھا ہوا بھول جاتا ہے۔ چنانچہ (اخبار الحکم نمبر ٢ ج ٥ ص ٤ مورخہ ١٧ جنوری ١٩٠١ء) میں لکھتے ہیں ”غرض اس قسم کے بہت وجوہ ہیں جن سے آپ کا نام محمد رکھا گیا۔ پھر آپ کا ایک اور نام بھی رکھا گیا وہ احمد ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح نے اسی نام کی پیش گوئی کی تھی ’مبشرا برسول یأتی من بعدى اسمه احمد “

ف ....... امام الزمان ایسا ہی ہو جس کو اپنا پہلا لکھا ہوا یاد نہ رہے۔

(ازالہ اوہام ص ٨٥٥، خزائن ج ٣ ص ٥٦٥) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں : ”اور جو الہام آج تک اس بارہ میں ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں ”اذا عزمت فتوکل على الله واصنع الفلك باعيننا ووحينا الذين يبايعونك انما يبايعون الله يدالله فوق ايديهم “ یعنی جب تو نے اس خدمت کے لئے قصد کر لیا تو خدا پر بھروسہ کر اور یہ کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا۔ جو لوگ تجھ سے بیعت کریں گے۔ وہ تجھ سے نہیں بلکہ خدا سے بیعت کریں گے۔ خدا کا ہاتھ ہوگا جو ان کے ہاتھ پر ہوگا۔“

١٥

صفحہ ٤٥

ف ...... اہل انصاف غور کریں۔ یہ صاف طور پر نبوت اور وحی کا دعویٰ نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ لعنت اللہ علی الکاذبین (آسمانی فیصلہ ص ٤ ٹائٹل پیج اول، خزائن ج ٤ ص ٣٠٩) کے شروع ہی کے ورق پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”یحسرۃ علی العباد ما یأتیھم من رسول الا كانوا بہ یستھزؤن“ ”اے حسرت بندوں پر ایسا کوئی رسول ان کے پاس نہ آیا جس سے انہوں نے ٹھٹھا نہ کیا ہو۔“

ف ...... اس جگہ رسول ہونے کا کھلا دعویٰ نہیں تو اور کیا ہے؟ اور (ضرورۃ الامام ص ٢٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”امام الزمان میں ہوں اور یادرہے کہ امام الزمان کے لفظ میں نبی، رسول، محدث، مجدد سب داخل ہیں۔

ف ...... اہل انصاف غور کریں۔ یہ نبی اور رسول ہونے کا کھلے طور پر دعویٰ نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ اب بھی کوئی مرزائی انکار کر سکتا ہے کہ مرزا قادیانی نبوت کے مدعی نہیں ہیں؟ (توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ”اس میں شک نہیں کہ یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے۔ گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں ہوتی۔ مگر تاہم جزوی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا شرف رکھتا ہے۔ امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطانی سے منزہ کیا جاتا ہے اور مغز شریعت اس پر کھولا جاتا ہے اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہو کر آتا ہے اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے۔ اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے اور نبوت کے معنی بجائے اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں۔“

ف ...... اہل انصاف کے لئے اس عبارت بالا سے چند فقرات غور طلب ہیں۔ جن سے مرزا قادیانی کا مدعی نبوت ہونا صاف ظاہر ہو رہا ہے۔

١٦

ف ثانی....... کیا اب بھی کوئی مرزائی جس کو طرفد منظور ہو اور خدا کا خوف دل میں ہو، انکار کر سکتا ہے کہ مرزا ہیں؟ کیونکہ بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہو کر آنا اور رسولوں کی سے منزہ سمجھنا یعنی مرزا قادیانی کا اپنی نسبت تحریر کرنا صاف ط طور مدعی ہیں۔ خدا سے ڈر کر تعصب اور طرف داری چھوڑ کر غ

(الحکم نمبر ٢٣ ج ٤ ص ٤ مورخہ ٢٤؍جون ١٩٠٠ء) میں مر کلام میں مجھ سے یہ محاورہ نہیں ہے مجھ کو حضرت خداوند کری سے یاد کرتا ہے اور نیز دوسرے لفظوں سے جن کی سننے کی آ خداوند کریم نے مجھ کو اس خطاب سے معزز فرما کر ”انی فض لتکم جمیعا“ یہ بات بخوبی کھول دی کہ اس ناکارہ کو ن فضیلت بخشی گئی ہے۔ ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی شخص اپنے دعو یہ بھی کہ خدا نے مجھے کہا ہے ”قل ارسلت الیکم جمیعا“

(اخبار الحکم ج ٤ نمبر ٣١ مورخہ ٧؍نومبر ١٩٠٠ء ص ٤) حیثیت ایک معمولی مولوی کی حیثیت نہیں ہے۔ بلکہ میری مجھے ایک سماوی مانو۔ پھر یہ سارے جھگڑے اور تمام نزاعیں دم میں طے ہو سکتی ہیں۔ جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر حک کہے وہ کرے گا وہی صحیح ہوں گے اور جس حدیث کو وہ صحیح قرار

ف....... اس جگہ مرزا قادیانی نے اپنی تعریف کرنے میں

١٧

صفحہ ٤٥

ف ثانی...... کیا اب بھی کوئی مرزائی جس کو طرفداری کا خیال نہ ہو اور حق بات پر چلنا منظور ہو اور خدا کا خوف دل میں ہو، انکار کر سکتا ہے کہ مرزا قادیانی نبوت اور وحی کے مدعی نہیں ہیں؟ کیونکہ بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہو کر آنا اور رسولوں کی وحی کی طرح اپنی وحی کو دخل شیطانی سے منزہ سمجھنا یعنی مرزا قادیانی کا اپنی نسبت تحریر کرنا صاف ظاہر کر رہا ہے کہ نبوت اور وحی کے کھلے طور مدعی ہیں۔ خدا سے ڈر کر تعصب اور طرف داری چھوڑ کر حق کی جانب رجوع کرو۔

(الحکم نمبر ٢٣ ج ٤ ص ٤ مورخہ ٢٣؍ جون ١٩٠٠ء) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”خدا تعالیٰ کی کلام میں مجھ سے یہ محاورہ نہیں ہے مجھ کو حضرت خداوند کریم محض اپنے فضل سے صدیق کے لفظ سے یاد کرتا ہے اور نیز دوسرے لفظوں سے جن کی سننے کی آپ کو برداشت نہیں ہوگی اور حضرت خداوند کریم نے مجھ کو اس خطاب سے معزز فرما کر ’انی فضلتک علی العلمین قل ارسلت الیکم جمیعا‘ یہ بات بخوبی کھول دی کہ اس ناکارہ کو تمام عالمین یعنی زمین کے باشندوں پر فضیلت بخشی گئی ہے۔ ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی شخص اپنے دعویٰ پر آپ ہی گواہی دے اور پھر یہ لکھنا بھی کہ خدا نے مجھے کہا ہے ’قل ارسلت الیکم جمیعا‘ نبوت کا دعویٰ نہیں تو اور کیا ہے؟

(اخبار الحکم ج ٤ نمبر ٤١ مورخہ ١٧؍ نومبر ١٩٠٠ء ص ٤) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”میری حیثیت ایک معمولی مولوی کی حیثیت نہیں ہے۔ بلکہ میری حیثیت شان انبیاء کی سی حیثیت ہے۔ مجھے ایک مجدد مانو۔ پھر یہ سارے جھگڑے اور تمام نزاعیں جو مسلمانوں میں پڑی ہوئی ہیں۔ ایک دم میں طے ہو سکتی ہیں۔ جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر حکم بن کر آیا ہے۔ جو معنی قرآن شریف کے وہ کرے گا وہی صحیح ہوں گے اور جس حدیث کو وہ صحیح قرار دے گا وہی صحیح ہوگی۔“

ف....... اس جگہ مرزا قادیانی نے اپنی تعریف کرنے میں چند باتوں پر فخر کیا ہے۔

١٧

صفحہ ٤٦

ف...... سبحان اللہ! اپنی زبان سے اپنی تعریف کی تصدیق کرتا ہے جانور نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ”ان اللہ لا یحب من کان مختالا فخورا“ ﴿تحقیق اللہ نہیں دوست رکھتا اس شخص کو کہ ہے تکبر کرنے والا، شیخی کرنے والا۔﴾

(اخبار الحکم نمبر ١٨ ص ٨ مورخہ ١٧/مارچ ١٩٠١ء) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اجتہادی غلطی سب نبیوں سے ہوا کرتی ہے اور اس میں سب ہمارے شریک ہیں۔“

ف...... یہ نبوت کا دعویٰ نہیں تو اور کیا ہے؟

(اخبار الحکم نمبر ٤٤ ج ٤ ص ٥ مورخہ ١٠/دسمبر ١٩٠٠ء) میں عبد الکریم لکھتا ہے: ”آج سے ٢٠ برس پیشتر خدا نے اس کو ابراہیم کہہ کر پکارا اور وہی وحی جو ابراہیم پر ہوئی تھی۔ اس مسیح موعود پر ہوئی۔ ”واتخذوا من مقام ابراھیم مصلی“

(الحکم نمبر ٣٠ ج ٤ ص ١٠ مورخہ ٢٤/اگست ١٩٠٠ء) میں عبد الکریم تحریر کرتا ہے ”فلا و ربک“ مسیح موعود کا الہام ہے اور اس کے اسرار اگر اس امر کے لئے کوئی اور ثبوت نہ بھی ہو جب مامور و مرسل ہونا اس کے لئے کافی دلیل ہے۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ یہی آیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک دفعہ الہام ہوئی۔ جس سے خدا کا منشاء ہے جو ایمان نبی کریم ﷺ پر مطلوب ہے۔ وہ ہی یہاں بھی مطلوب ہے۔“ (کالم ٤ میں) ہمارا ایمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقوال اور اعمال وافعال کی نسبت ویسا ہی ہو جیسا ہم پر فرض ڈالا گیا ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ پر رکھیں۔“

(الحکم نمبر ١٨ ج ٤ ص ٩ مورخہ ١٧/مئی ١٩٠٠ء) میں عبد الکریم لکھتا ہے: ”یہ مزکی اور مطہر انسان حضرت سید عالم ﷺ کی خو، بو اور قوت اور نشان کے ساتھ آیا۔ بلکہ بعینہ وہی آیا۔ کیونکہ اس میں احیاء اور اماتت کی وہی قدرت ہے یہ ویسا ہی بشیر ونذیر ہے۔ یہ حجة اللہ اور آیة اللہ ہے۔“

١٨

صفحہ ٤٧

ف....... اہل انصاف خدا سے ڈر کر اس عبارت کے الفاظ ذیل پر خوب غور کریں۔ خو، بو، قوت، نشان، احیا، امامت، قدرت، بشیر، نذیر، حجۃ اللہ، آیۃ اللہ ہونے میں مرزا قادیانی بقول عبدالکریم پیغمبر خدا محمد مصطفیٰ ﷺ کے برابر ہیں۔ لیکن عبدالکریم کی عقل اور علم دانی پر حیف ہے کہ اس نے رحمت اللعالمین کے تمام اوصاف میں ایسے شخص کو موصوف کر دیا کہ جس کے نام کے اول بقدرت خداوند حکیم غلام کا لفظ موجود ہے۔

(اخبار الحکم نمبر ٢ ج ٥ مورخہ ١٧؍جنوری ١٩٠١ء) میں عبدالکریم لکھتا ہے: ”میں راستی سے کہتا ہوں کہ میں اس برگزیدہ امام کے وجود میں رسول کریم کی چال کو ایسا زندہ دیکھتا ہوں کہ میں کہہ سکتا ہوں کہ دوبارہ خود رسول کریم تشریف لے آئے ہیں۔“

ف....... عبدالکریم کی دونوں تحریروں سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ تناسخ کا مسئلہ قادیانیوں کے نزدیک صحیح ہے اور نیز (تحفہ قیصریہ ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٦) میں مرزا قادیانی کی تحریر جس سے تناسخ کا مسئلہ بقول مرزا قادیانی درست معلوم ہوتا ہے۔ وہ عبارت یہ ہے: ”اور چونکہ اس نے مجھے یسوع مسیح کے رنگ میں پیدا کیا تھا اور طور اور طبع کے لحاظ سے یسوع کی روح میرے میں رکھی تھی۔“

(الحکم نمبر ٨ ج ٤ مورخہ ٣؍مارچ ١٩٠٠ء) میں عبداللہ کشمیری کہتا ہے:

ہمیں ست آں غلام احمد کہ مے باشد محمد ہم
ہمیں مہدی ہمیں عیسیٰ ہمیں آں تاجدار آمد
کلیم اللہ ہمیں باشد ہمیں آدم صفی اللہ
ہمیں خاتم ولایت راہبر یقیں دار آمد

لعنت اللہ علی الکاذبین

(الحکم نمبر ٤١ ج ٤ ص ٢ مورخہ ١٠؍نومبر ١٩٠٠ء) میں حامد شاہ سیالکوٹی، مرزا غلام احمد قادیانی کی تعریف میں لکھتا ہے:

کلام خدا ان پہ نازل نہ ہوتا
تو بار گراں یہ اٹھائے نہ ہوتے
نہ پاتے اگر خلعت انبیائی
تو جرأت وہ ایسی دکھائے نہ ہوتے

١٩

صفحہ ٤٩
نہ ہوتے اگر مرسل حق مسیحا
کلام ایسے منہ پر وہ لائے نہ ہوتے

دیکھو (اخبار الحکم نمبر ٨ ج ٥ ص ٩ کالم ٢ مورخہ ١٧ / مارچ ١٩٠١ء) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ” خدائے رحیم قدوس نے مجھے وحی کی ”انی اناالرحمن دافع الاذی“ اور پھر وحی ہوئی ”انی لا يخاف لدى المرسلون“

ف ...... اہل انصاف خدا سے ڈر کر مرزا قادیانی کی تحریر بالا مرقومہ میں غور کریں کہ مرزا قادیانی نبوت اور وحی کے کھلے طور پر مدعی ہیں یا نہیں۔ مگر میں امید کرتا ہوں کہ حق کے طالبوں کے لئے اس باب کے پڑھنے یا سننے سے ہرگز ہرگز پوشیدہ نہیں رہا ہو گا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبوت اور وحی کے صاف طور مدعی ہیں اور اس کے اکثر مرید اس کو ویسا ہی خیال کرتے ہیں۔

خداوند تعالیٰ تمام اہل اسلام کو ایسے جال باز کے شر سے بچائے۔ دیکھو لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے وہی مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ سچ ہے کہ دروغ گو را حافظہ نباشد۔

(فیصلہ آسمانی ص ١٥، خزائن ج ٣ ص ٣٣٥) میں لکھتے ہیں: ”اے لوگو! مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو! دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا سلسلہ جاری نہ کرو اور اس خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔“

ف ...... اب کوئی مرزا قادیانی سے پوچھے کہ اے مرزا جی اب سوائے آپ کے اور کون ہے جو وحی اور نبوت کا سلسلہ جاری کر رہا ہے؟ شاید اور مسلمانوں کے لئے ایسے دعوے کرنے کے لئے خدا سے شرم کرنا چاہئے۔ لیکن آپ کے لئے شرم کرنا درست نہیں ہے۔ واہ صاحب! کیا عمدہ آپ کی یادداشت ہے۔ ایک زبان اور دو مختلف بیان۔ اپنے قول کی آپ ہی تکذیب کرنا اور لعنت اللہ علی الکاذبین کا خیال نہ کرنا، افسوس اور حیف ہے ایسی عقل پر۔

چوتھا باب ....... قرآن کی تعریف میں۔ حصہ اول

”ياايهاالناس قد جاءكم برهان من ربكم وانزلنا اليكم نورا مبينا“ ﴿اے لوگو تحقیق آئی تمہارے پاس دلیل پروردگار تمہارے سے اور اتاری ہم نے طرف تمہاری روشنی ظاہر۔﴾

”الحمدلله الذى انزل على عبده الكتب ولم يجعل له عوجا “ ﴿سب تعریف واسطے اللہ کے ہے جس نے اتاری اوپر بندے اپنے کے کتاب اور نہیں کی واسطے اس کے کجی۔﴾

٢٠

”ان هذا القرآن يقص على بـ يختلفون، وانه لهدى ورحمة للمؤمنين اسرائیل کے اکثر اس چیز کا کہ وہ بیچ اس کے اختلاف کـ ہے اور رحمت واسطے ایمان والوں کے۔﴾

”هوالذى انزل عليك الكتب منـ متشبهت، فاما الذين فى قلوبهم زيغ فـ وابتغاء تاويله، ومايعلم تاويله الا الله والـ كل من عندربنا وما يذكر الا اولوالباب قولو انظرناواسمعو وللكفرين عذاب اليم،

کتاب بعض اس کی آیتیں محکم ہیں وہ جڑ ہیں کتاب کـ دلوں ان کے کجی ہے پس پیروی کرتے ہیں اس چیز کی فتنہ کے اور واسطے چاہنے حقیقت اس کی اور نہیں جانتا کے کہتے ہیں ایمان لائے ہم ساتھ اس کے ہر ایک نز پکڑتے مگر صاحب علم کے۔ اے لوگو! جو ایمان لائے اور واسطے کافروں کے عذاب درد دینے والا۔﴾

”قل لئن اجتمعت الانس والجن يأتون بمثله ولوكان بعضهم لبعض ظهـ

اس بات کے کہ لاویں مانند اس قرآن کے ہرگز نہ لا کے واسطے بعضوں کے مددگار۔﴾

مرزا قادیانی کا اعتقاد قرآن شریف کی نسـ

(ازالہ اوہام ص ٤٠٢، خزائن ج ٣ ص ٣١٥)

شریف اکثر استعارات سے بھرا ہوا ہے۔“

ف ...... مرزا قادیانی کا ایسا اعتقاد قرآن کی نسـ نہیں ہے بلکہ خداوند کے ساتھ بھی مقابلہ کرنا ہے

٢١

صفحہ ٤٩

”ان ھذا القرآن یقص علی بنی اسرائیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون، وانہ لھدی ورحمۃ للمؤمنین“ ﴿تحقیق یہ قرآن بیان کرتا ہے اوپر بنی اسرائیل کے اکثر اس چیز کا کہ وہ بیچ اس کے اختلاف کرتے ہیں اور تحقیق یہ قرآن البتہ ہدایت ہے اور رحمت واسطے ایمان والوں کے۔﴾

”ھوالذی انزل علیک الکتب منہ ایت محکمٰت ھن ام الکتب واخر متشبہٰت، فاما الذین فی قلوبھم زیغ فیتبعون ماتشابہ منہ ابتغاء الفتنۃ وابتغاء تاویلہ، ومایعلم تاویلہ الا اللّٰہ والراسخون فی العلم یقولون امنا بہ کل من عند ربنا وما یذکر الا اولوا الباب، یایھا الذین امنوا لاتقولوا راعنا و قولوا انظرنا واسمعوا وللکفرین عذاب الیم،“ ﴿اللہ وہ ہے جس نے اتاری اوپر تیرے کتاب بعض اس کی آیتیں محکم ہیں وہ جڑ ہیں کتاب کی اور دوسری متشابہ ہیں۔ پس وہ لوگ کہ بیچ دلوں ان کے کجی ہے پس پیروی کرتے ہیں اس چیز کی کہ شبہ ڈالتی ہے اس میں سے واسطے چاہنے فتنہ کے اور واسطے چاہنے حقیقت اس کی اور نہیں جانتا حقیقت اس کی کو مگر اللہ اور مضبوط لوگ بیچ علم کے کہتے ہیں ایمان لائے ہم ساتھ اس کے ہر ایک نزدیک رب ہمارے سے ہے اور نہیں نصیحت پکڑتے مگر صاحب علم کے۔ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو مت کہو راعنا اور کہو انتظار کرو ہمارا اور سنو اور واسطے کافروں کے عذاب درد دینے والا۔﴾

”قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یأتوا بمثل ھذا القرآن لا یأتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیرا“ ﴿کہہ اگر جمع ہوویں آدمی اور جن اوپر اس بات کے کہ لاویں مانند اس قرآن کے ہرگز نہ لاویں گے ایسا قرآن اور اگرچہ ہوویں بعضے ان کے واسطے بعضوں کے مددگار۔﴾

مرزا قادیانی کا اعتقاد قرآن شریف کی نسبت۔ حصہ دوم

(ازالہ اوہام ص٤٠٤، خزائن ج٣ ص٥٥٥) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں ”قرآن شریف اکثر استعارات سے بھرا ہوا ہے۔“

ف...... مرزا قادیانی کا ایسا اعتقاد قرآن کی نسبت غیر مذہب کے لئے ہی موقعہ اعتراض کا نہیں ہے بلکہ خداوند کے ساتھ بھی مقابلہ کرنا ہے۔ جیسے فرمایا ہے کہ قرآن کی آیات بینات ہیں۔

٢١

صفحہ ٥٠

اور جیسے فرمایا ”ولم یجعل لہ عوجا“ ﴿اور نہیں کی واسطے اس کے کجی﴾ اور جیسے فرمایا ”کتب انزلنہ الیک لتخرج الناس من الظلمت الی النور“ ﴿یہ کتاب ہے ہم نے اتاری تیری طرف تاکہ نکالے تو لوگوں کو اندھیروں سے طرف نور کے﴾ اور جیسے فرمایا ”ولقد یسرنا القرآن للذکر“ ﴿اور تحقیق ہم نے آسان کیا قرآن کو واسطے نصیحت کے۔﴾ اور جیسے فرمایا ”لا تقولوا راعنا وقولوا انظرنا“ ﴿مت کہو راعنا اور کہو انظرنا﴾

ف...... اے بھائیو! خداوند کریم تو قرآن شریف کی ایسی تعریف کریں اور مرزا قادیانی فرماویں قرآن شریف اکثر استعارات سے بھرا ہوا ہے۔ آفرین ہے ایسے حوصلہ پر اور حیف ہے ایسے اعتقاد اور ایمان پر۔

(توضیح المرام ص ١٤، خزائن ج ٣ ص ٥٨) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”بلاغت کا مدار استعارات لطیفہ پر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے خدا تعالیٰ کے کلام نے بھی جو ابلغ الکلم ہے۔ جس قدر استعارات کو استعمال کیا ہے اور کسی کلام میں یہ طرز لطیف نہیں ہے۔ اب ہر جگہ اور ہر محل میں ان پاکیزہ استعارات کو حقیقت پر حمل کرتے جانا گویا اس کلام معجزہ نظام کو خاک میں ملا دینا ہے۔“

ف...... اہل انصاف کے لئے دو امر غور طلب ہیں۔ اول بقول مرزا قادیانی قرآن میں استعارات کا اس قدر استعمال کیا گیا ہے کہ کسی اور کلام میں نہیں ہے۔ دوسرا مرزا قادیانی کا یہ فقرہ قرآن مجید و فرقان حمید کی نسبت جیسے لکھا ہے (اس کلام معجزہ نظام کو خاک میں ملا دینا ہے) کیا عمدہ فصیح ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٣٠) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ”جس روز الہام مذکورہ بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے، ہوا تھا۔ اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا میرے بھائی صاحب مرحوم غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا ”انا انزلناہ قریبا من القادیان“ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ قادیان کا نام بھی قرآن مجید میں لکھا ہوا ہے۔ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقعہ پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ، مدینہ اور قادیاں۔

٢٢

صفحہ ٥١

ف ....... مرزا قادیانی کی اس تحریر سے چند امور صاف ظاہر ہوتے ہیں۔

نام اور یہ عبارت ”انا انزلناہ قریبا من القادیان“ درج نہیں ہے۔

ہے۔ یعنی فی الحقیقت دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقعہ پر۔

ہے۔ مکہ، مدینہ اور قادیاں۔ اے مرزائیو! تم کو چاہئے کہ اب واسطے ثابت کرنے اس امر کے مرزا غلام احمد کی قبر سے یا کسی اور شخص کی قبر سے اس قرآن کو نکالو جس میں مرزا قادیانی کے نزول کا ثبوت اور قادیاں کا نام لکھا ہوا موجود ہے۔ کیونکہ تمہارے نزدیک مرزا قادیانی کا الہام بھی نص صریح ہے اور نص صریح کے منکر کو تم نے کافر لکھا ہے۔ دیکھو (اخبار الحکم نمبر ٤٢ ج ٣ ص ٥ مورخہ ٢٤ نومبر ١٨٩٩ء) میں حضرت اقدس کا الہام نص صریح ہے اور نص کا منکر کافر ہوتا ہے۔

ف....... معاذ اللہ مرزائیوں نے مرزا قادیانی کا الہام قرآن جیسا بنا دیا۔

(ازالہ اوہام ص ٢٥، خزائن ج ٣ ص ١١٥) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”قرآن شریف جس آواز بلند سے سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے۔ ایک غایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی اس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ مثلاً زمانہ حال کے مہذبین کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک سخت گالی ہے۔ لیکن قرآن شریف کفار کو سنا سنا کر ان پر لعنت بھیجتا ہے۔“

ف....... مرزا قادیانی کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن شریف ایسے قسم کا سخت زبان اور سخت گالی دینے والا ہے کہ جس سے نہایت درجہ کا جاہل بھی بے خبر نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کا یہ اعتراض قرآن پر نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ پر ہے۔ کیونکہ قرآن شریف خداوند تعالیٰ کا کلام ہے۔ خدا تعالیٰ اپنے فضل سے تمام مسلمانوں کو کج فہمی سے بچائے۔

(ازالہ اوہام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ١١٦) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ”قرآن میں ولید مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں، استعمال کئے گئے ہیں۔“

١؎ یہ قرآن سواء قادیاں کے اور کہیں نہیں ہے اور یہ منارۃ المسیح کی چوٹی پر رکھا ہوا ہو تو کیا عجب۔ لعنت اللہ علی الکاذبین، کہو مرزائیو، آمین۔

٢٣

صفحہ ٥٣

ف...... مرزا قادیانی نے اس جگہ بڑی دلیری سے خداوند قہار کا خوف دل سے دور کر کے خدا کی پاک کلام کی نسبت یہ لکھ دیا کہ اس میں ایسے سخت الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں۔ افسوس ہے مرزا قادیانی نے انسان کی صورت اور مسلمان ہو کر قرآن پر یا خداوند تعالیٰ پر یہ اعتراض کر دیا۔ کاش اگر مرزا قادیانی جن بھی ہوتے تو قرآن کی نسبت ان کے منہ سے یہ تو نکلتا قولہ تعالیٰ ”فقالوا انا سمعنا قرانا عجبا يهدى الى الرشد فامنابه“ یعنی پس کہا انہوں نے (جنوں نے اپنی قوم کو) تحقیق سنا ہم نے قرآن عجیب کہ راہ دکھاتا ہے طرف بھلائی کے۔ پس ایمان لائے ہم ساتھ اس کے اور خود اللہ تعالیٰ قرآن کی تعریف میں یوں ارشاد فرماتا ہے ”الله نزل احسن الحديث كتبا“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اتاری بہتر بات کتاب۔

احسن بمعنی بہت خوب۔ اللہ پاک تو فرمادیں میری کتاب احسن الحدیث ہے اور مرزا قادیانی کہیں قرآن میں ایسے الفاظ ہیں جو بصورت ظاہر گندی گالی معلوم ہوتی ہیں۔ پھر ایسے شخص کو امام الزمان ماننا بعید از عقل ہے اور اگر یہاں یہ سوال ہو کہ مرزا قادیانی نے ایسا کیوں لکھا ہے۔ تو جواب یہ ہے کہ مرزا قادیانی پر سخت الفاظ اپنی تالیفات میں تحریر کرنے کے باعث لوگوں نے اعتراض کیا تھا۔ تو مرزا قادیانی نے اپنی سخت زبانی کے الزام رفع کرنے کے لئے یہ لکھ دیا یا بوجہت ثبوت اصل عبارت نقل کرتا ہوں۔

(ازالۃ الاوہام ص ١٢، خزائن ج ٣ ص ١٠٨) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ”پہلی نکتہ چینی اس عاجز کی نسبت یہ کی گئی ہے کہ اپنی تالیفات میں مخالفین کی نسبت سخت الفاظ استعمال کئے ہیں۔“

ف...... لیکن چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔ بیشک مرزا قادیانی اپنی سخت زبانی کے باعث عند اللہ اور عندالناس بھی ملزم ہیں اور خداوند تعالیٰ کا معاملہ جو مخلوق کے ساتھ ہے۔ وہ واقعی اور ٹھیک طور پر ہے۔ کیونکہ خداوند تعالیٰ جیسے اکیلا تمام اشیاء کا خالق ہے ویسے ہی وہ تمام اشیاء کا اکیلا ہی مالک بھی ہے اور اس کو اپنی تمام مخلوق اور مملوک میں ہر طرح سے کرنے اور کہنے کا حق ہے۔

مخلوق میں سے کسی کی کیا مجال ہے کہ اس پر اعتراض کرے یا اس سے پوچھے کہ آپ نے ایسا کیوں کیا یا ایسا کیوں کہا۔ چنانچہ اس نے اپنی تعریف میں فرمایا ہے: ”لا يسئل عما يفعل وهم يسئلون“ ”نہیں سوال کیا جاتا اس چیز سے کہ کرتا ہے اور وہ سوال کئے جاتے ہیں۔ اب میں مرزائیوں سے دریافت کرتا ہوں کہ اے مرزائیو! تم ہی ایمان سے سچ کہو کہ اگر

٢٤

کوئی شخص کہے کہ قرآن ایسا سخت زبان ہے کہ جس سے گا بے خبر نہیں ہے اور نیز قرآن میں ایسے سخت الفاظ موجود ہ ہوتی ہیں۔ تو ایسے شخص کو تم مسلمان کہو گے یا کچھ اور ہی کہو ڈر جاؤ اور ہر نماز میں فتنہ دجال سے پناہ مانگو۔ ہم تو کہتے ہیں کہو اے مرزائیو آمین۔

(ازالۃ الاوہام ص ٥٣٨، خزائن ج ٣ ص ٣٨٩) میں

سلف اور خلف درحقیقت کوئی مستقل حجت نہیں۔“

ف...... سبحان اللہ اقوال سلف اور خلف تو حجت نہوں

(الحکم نمبر ٣١ مورخہ ٧ اکتوبر ١٩٠٠ء) میں یوں تحریر کریں کہ ”جو

اور جو معنی قرآن شریف کے میں کروں گا وہی صحیح ہوں گے“

(ازالۃ الاوہام ص ٥٩٧، خزائن ج ٣ ص ٤٢٢) میں م

کہ صحابی کو کلی غلطی اور خطا سے پاک سمجھا جاوے۔“

ف...... سبحان اللہ ! اپنی تعریف میں مرزا قادیانی (تو تحریر کریں کہ ”میرا الہام دخل شیطانی سے منزہ ہے۔“ بجا

اور (ازالۃ الاوہام ص ٢٢٦، خزائن ج ٣ ص ٣٩٢)

زمانہ میں بلاشبہ کتاب الہی کے لئے ضروری ہے کہ اس کی میں جن تفسیروں کی تعلیم دی جاتی ہے، وہ نہ اخلاقی حالت نیک اثر ڈالتی ہیں۔ بلکہ فطرتی سعادت اور روشنی کی مزاحم

ف...... اہل انصاف پر اب یہ امر بخوبی ظاہر ہو گیا ہ تفسیریں اعتبار کے لائق نہیں ہیں اور نہ ان کے پڑھنے ہے۔ بلکہ ان کے پڑھنے سے نقصان ہوتا ہے اور جو نئی تفسیر گی۔ فخر ہو تو ایسا ہی ہو۔

(الحکم نمبر ٣٨ ج ٤ ص ١١ مورخہ ٢٣ اکتوبر ١٩٠٠ء) م

پہلے حضرت مرزا قادیانی نے خدا تعالیٰ کی ہمکلامی اور طرح اپنے الہامات کو مدون اور مشتہر کیا۔ جس طرح

٢٥

صفحہ ٥٣

کوئی شخص کہے کہ قرآن ایسا سخت زبان ہے کہ جس سے غایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی بے خبر نہیں ہے اور نیز قرآن میں ایسے سخت الفاظ موجود ہیں جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں۔ تو ایسے شخص کو تم مسلمان کہو گے یا کچھ اور ہی کہو گے۔ اے بندگان خدا خداوند قہار سے ڈرجاؤ اور ہر نماز میں فتنہ دجال سے پناہ مانگو۔ ہم تو کہتے ہیں :”لعنت الله علی الکاذبین“ کہو اے مرزائیو آمین۔

(ازالہ اوہام ص ٥٤٨، خزائن ج ٣ ص ٣٨٩) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ”اقوال سلف اور خلف در حقیقت کوئی مستقل حجت نہیں ۔“

ف ....... سبحان اللہ اقوال سلف اور خلف تو حجت نہوں اور اپنی تعریف میں یوں لکھیں۔ دیکھو (الحکم نمبر ٤١ مورخہ ١٧ نومبر ١٩٠٠ء) میں یوں تحریر کریں کہ ” جس حدیث کو میں صحیح کہوں گا وہی صحیح ہوگی اور جو معنی قرآن شریف کے میں کروں گا وہی صحیح ہوں گے ۔“ بے جا فخر ہو تو ایسا ہی ہو۔

(ازالہ اوہام ص ٥٩٧، خزائن ج ٣ ص ٤٢٢) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ” یہ کیا جہالت ہے کہ صحابی کو کلی غلطی اور خطا سے پاک سمجھا جاوے۔“

ف....... سبحان اللہ ! اپنی تعریف میں مرزا قادیانی ( توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠) میں یوں تحریر کریں کہ ”میرا الہام دخل شیطانی سے منزہ ہے ۔“ بیجا فخر ہو تو ایسا ہی ہو۔

اور (ازالہ اوہام ص ٧٢٦، خزائن ج ٣ ص ٤٩٢) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ”اس زمانہ میں بلاشبہ کتاب الہی کے لئے ضروری ہے کہ اس کی ایک نئی اور صحیح تفسیر کی جائے ۔ کیونکہ حال میں جن تفسیروں کی تعلیم دی جاتی ہے، وہ نہ اخلاقی حالت کو درست کر سکتی ہیں اور نہ ایمانی حالت پر نیک اثر ڈالتی ہیں۔ بلکہ فطرتی سعادت اور روشنی کی مزاحم ہو رہی ہیں۔“

ف ....... اہل انصاف پر اب یہ امر بخوبی ظاہر ہو گیا ہو گا کہ مرزا قادیانی کا یہ مطلب ہے کہ تمام تفسیریں اعتبار کے لائق نہیں ہیں اور نہ ان کے پڑھنے سے ایمانی اور اخلاقی حالت درست ہوتی ہے۔ بلکہ ان کے پڑھنے نقصان ہوتا ہے اور جو نئی تفسیر میں بیان کروں گا۔ وہ اعتبار کے لائق ہو گی۔ فخر ہو تو ایسا ہی ہو۔

(الحکم نمبر ٣٨ ج ٤ ص ١١ مورخہ ٢٤ اکتوبر ١٩٠٠ء) میں عبدالکریم لکھتا ہے: ”آج سے ٢٥ سال پہلے حضرت مرزا قادیانی نے خدا تعالیٰ کی ہمکلامی اور مورد الہامات الٰہیہ ہونے کا دعویٰ کیا اور اسی طرح اپنے الہامات کو مدون اور مشتہر کیا۔ جس طرح قرآن کریم مدون اور مرتب اور مشتہر ہوا۔

٢٥

صفحہ ٥٤

پھر خدا تعالیٰ کی وہ باتیں جو اس نے اپنے بندہ غلام احمد کے مونہہ میں ڈالیں۔ اس طرح پوری ہوئیں جس طرح اس کی وہ باتیں پوری ہوئیں جو اس نے اپنے بندہ محمد مصطفیٰ ﷺ کے منہ میں ڈالی تھیں۔ جس طرح قرآن کریم کے کئی آیتوں میں کئے وعدے اپنے منطوق و مفہوم کے موافق پورے ہو کر اس امر کا قطعی ثبوت ٹھہر گئے کہ قرآن خدا کا کلام ہے۔ اسی نمونہ پر براہین احمدیہ کے مندرجہ الہامات اپنے منطوق و مفہوم کے مطابق نکل کر اس امر کا قطعی و یقینی ثبوت ٹھہر گئے کہ لاریب وہ بھی اسی طرح خدا تعالیٰ کا کلام ہیں۔“

ف...... اہل انصاف پر بقول عبد الکریم اب بخوبی ظاہر ہو گیا ہوگا کہ مرزائی مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب براہین احمدیہ کو ایسا خیال کرتے ہیں۔ جیسے قرآن شریف، بلکہ عبد الکریم نے صاف لکھا ہے کہ لاریب مرزا غلام احمد کی کتاب براہین کے الہام ایسے ہیں۔ جیسے قرآن خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔ 'لعنت الله على الكاذبين“

(اخبار الحکم نمبر ١ ج ٥ ص ٩ مورخہ ١٠ جنوری ١٩٠١ء) میں عبد الکریم لکھتا ہے: ”سو میں درخواست کرتا ہوں کہ جس طرح قرآن کی تلاوت کرتے ہو۔ اسی طرح اس آیت اور مسیح موعود کے کمالات و صفات میں تدبر کرو۔ یہ قرآن کا نمونہ ہے۔ یہ حجۃ اللہ ہے۔ یہ عظیم الشان آیۃ اللہ ہے۔ اس مونہہ سے بار دگر خدا کا مونہہ نظر آیا۔ جو صدیوں سے نہاں ہو گیا تھا۔

ف...... عبد الکریم نے اس تحریر میں بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی تعریف میں جو کچھ لکھا ہے۔ اہل انصاف پر ہرگز پوشیدہ نہیں رہا ہوگا۔ اس عبارت میں ہر ایک فقرہ ایسا بیہودہ درج ہے کہ جنہوں نے جھوٹ کو سچ بنا کر آسمان پر چڑھا دیا ہے۔ مگر عقلمند ہرگز ہرگز جھوٹ کی طرف اپنا رخ نہیں کرتے۔ اس واسطے کہ دروغ گو کے لئے یہ خطاب احکم الحاکمین کی طرف سے موجود ہے۔ جیسے فرمایا لعنت الله علی الكاذبين!

(کرامات الصادقین ص ١٩، خزائن ج ٧ ص ٦١) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ” پس یہ خیال کہ گویا جو کچھ آنحضرت ﷺ نے قرآن کریم کے بارہ میں بیان فرمایا ہے۔ اس سے بڑھ کر ممکن نہیں، بدیہی البطلان ہے۔“

ف...... اہل انصاف مرزا قادیانی کی اس تحریر پر غور کریں جس سے مرزا قادیانی کا مطلب صاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن شریف کے بارہ میں جو کچھ آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا ہے میں اس سے زیادہ بیان کر سکتا ہوں۔ مگر حیف صد حیف ہے ایسے فخر پر، جس کی نسبت خداوند کریم

٢٦

صفحہ ٥٥

یوں ارشاد فرمائیں: ”الم نشرح لك صدرك“ اس کی نسبت تو یہ خیال اور اپنی تعریف یہ کہ جو معنی قرآن کریم کے میں کروں گا وہی معنی صحیح ہوں گے۔ دیکھو (الحکم نمبر ٣١ ج ٣ ص ٢ مورخہ ١٧؍ نومبر ١٨٩٩ء) اور نیز اسی کتاب کے تیسرے باب میں تمام عبارت درج ہوچکی ہے۔ وہاں سے طالب حق دیکھ کر انصاف کی طرف رجوع کرسکتا ہے۔ ضد اور تعصب کی مرض تو لاعلاج ہے۔ اللہ تعالٰی اپنے فضل سے تمام مسلمانوں کو کج فہمی سے اور ایسے شخص کے شر سے بچائے۔ آمین ثم آمین۔

پانچواں باب پیغمبرﷺ کے جسمانی معراج کے ثبوت میں۔ حصہ اوّل

قولہ تعالٰی ”سبحن الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی الاقصی الذی برکنا حولہ لنریہ من ایتنا انہ ھو السمیع البصیر“ ”پاک ہے وہ ذات کہ لے گیا بندے اپنے کو ایک رات مسجد حرام سے طرف مسجد اقصٰی کے، جو برکت دی ہم نے گرد اس کے کو تاکہ دکھاویں نشانی اپنی۔ تحقیق وہ سننے والا دیکھنے والا ہے“

ف۔۔۔ ان آیات سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالٰی نے ایک رات میں پیغمبرﷺ کو مکہ سے مسجد اقصٰی تک کا سیر کرایا۔ یعنی پیغمبر خداﷺ ایک ہی رات میں مسجد الحرام سے مسجد اقصٰی تک گئے اور حالت بیداری میں گئے اور اللہ تعالٰی کی نشانیوں کو آنکھ سے دیکھا اور اسریٰ بعبدہ سے یہی صاف معلوم ہوتا ہے کہ جسم کے ساتھ دیکھا اور نیز عبد کا لفظ جسم اور روح دونوں پر دلالت کرتا ہے اور اگر یہ دیکھنا خواب کی حالت میں ہوتا تو اللہ تعالٰی یہ ہرگز نہ فرماتے ”سبحن الذی اسری بعبدہ“ اور نیز کفار مکہ کو کبھی اس کے سننے سے انکار ہرگز نہ ہوتا۔ کیونکہ خواب کی حالت میں تو اکثر مومن اور کافر ہمیشہ قسم قسم کے عجائبات دیکھتے ہی رہتے ہیں۔ چنانچہ حدیثوں میں یہ لکھا ہے کہ کفار مکہ نے مسجد اقصٰی کے نشان اور پتے آنحضرتﷺ سے طلب کئے تو پیغمبر خداﷺ نے ان کو پورے طور پر نشان بھی بتا دیئے۔

قولہ تعالٰی ”ولقد راہ نزلۃ اخرى عند سدرۃ المنتھیٰ عندھا جنۃ الماویٰ، اذ یغشی السدرۃ ما یغشی ما زاغ البصر وما طغیٰ لقد رایٰ من ایت ربہ الکبریٰ“

﴿اور البتہ تحقیق دیکھا اس نے اس کو ایک بار اور نزدیک سدرۃ المنتہٰی کے، نزدیک اس کے ہے جنت الماویٰ جس وقت کہ ڈھانک رہا تھا بیری کو جو کچھ ڈھانک رہا تھا نہیں کجی کی نظر نے اور نہ زیادہ بڑھ گئی البتہ تحقیق دیکھا اس نے نشانیوں پروردگار اپنے کی سے بڑی کو۔﴾

٢٧

صفحہ ٥٦

ف ....... ان آیات سے چند امور ظاہر ہیں۔ جن سے صاف طور پر واضح ہوتا ہے کہ پیغمبر خدا ﷺ جسم مبارک کے ساتھ آسمان پر تشریف لے گئے اور حضرت جبرائیل فرشتہ کو نزدیک سدرۃ المنتہی کے دیکھا اور سدرۃ المنتہی کے نزدیک جنت الماویٰ ہے۔ یہ سب کچھ پیغمبر خدا ﷺ نے آنکھ سے دیکھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”مازاغ البصر و ماطغی لقد رای من آیات ربہ الکبریٰ“ ﴿ نہیں کجی کی آنکھ نے اور نہ زیادہ بڑھ گئی۔ البتہ تحقیق دیکھا اس نے نشانیوں پروردگار اپنے کی سے بڑی کو۔ ﴾

اگر یہ سوال ہو کہ جسم خاکی کا آسمان پر جانا ممکن نہیں ہے۔ تو جواب یہ ہے کہ اول تو آنحضرت ﷺ کا جسم مبارک لطیف اور نوری ہی تھا اور دوسرا کوئی کام ایسا ہرگز نہیں ہے کہ جس کا کرنا خداوند تعالیٰ پر بھی ناممکن ہو۔ وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ کیونکہ اس کی ذات ”علی کل شی قدیر“ ہے۔

مرزا غلام احمد، جسمانی معراج سے بالکل انکاری ہیں۔ حصہ دوم

(توضیح المرام ص٩، خزائن ج٣ ص ٥٥) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اب میں کہتا ہوں کہ جو امر آنحضرت ﷺ کے لئے جو افضل الانبیاء تھے، جائز نہیں اور سنت اللہ سے باہر سمجھا گیا۔ وہ حضرت مسیح کے لئے کیونکر جائز ہوسکتا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص٤٧، ٤٨، خزائن ج٣ ص ١٤٦) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ”اس جگہ اگر کوئی اعتراض کرے کہ اگر جسم خاکی کا آسمان پر جانا محالات سے ہے تو پھر آنحضرت ﷺ کا معراج اس جسم کے ساتھ کیونکر جائز ہوگا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ وہ ایک نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔“

ف ....... اہل انصاف اور اہل ایمان مرزا قادیانی کی اس عبارت میں غور کریں کہ علاوہ انکار معراج جسمانی پیغمبر خدا ﷺ کے نوری جسم کو کثیف بھی لکھ دیا۔ لعنت ایسی دلیری پر اور پھر اسی

(ازالہ ص ٤٨، خزائن ج٣ ص ١٤٦ حاشیہ) میں لکھتے ہیں: ”اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے۔“

ف ثانی ....... اس عبارت سے بقول مرزا قادیانی صاف ظاہر ہے کہ پیغمبر خدا ﷺ کو صرف ایک دفعہ یہ کشفی معراج ہوا۔ مگر خود بدولت یعنی مرزا قادیانی تو تجربہ کار ہیں۔ بیشک فخر ہو تو ایسا ہی ہو۔ مگر حیف ہے ایسے بیجا فخر پر کہ اپنے دعویٰ کی آپ ہی تصدیق کرنا۔ علاوہ اس بے جا فخر کے ایک اور مقام نقل کرتا ہوں۔

٢٨

صفحہ ٥٧

دیکھو (ازالہ اوہام ص ٦٩١ ، خزائن ج ٣ ص ٤٧٢) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اسی بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصلی کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی عمق تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کما حقہ ہی ظاہر فرمائی گئی ہو اور صرف امثلہ قریبہ اور صور متشابہ اور تشابہ کلمہ طرز بیان میں جہاں تک غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسانی قوٰی کے ممکن ہے۔ اجمالی طور پر سمجھایا گیا ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔“

ف ...... سبحان اللہ جس شخص کی نسبت خداوند تعالٰی یوں ارشاد فرماویں ”وما ینطق عن الہوٰی ان ھو الا وحی یوحٰی“ (اور نہیں بولتا وہ اپنی خواہش سے، نہیں وہ مگر وحی کہ بھیجی جاتی ہے) اور نیز فرمایا ”الم نشرح لک صدرک“ (کیا نہ کھولا ہم نے واسطے تیرے سینہ تیرا۔) پھر بڑا تعجب ہے کہ جو شخص اپنی خواہش سے کبھی کلام نہ کرے اور خداوند کاشف القلوب اس کا سینہ بھی کھول دیوے اس پر تو ابن مریم اور دجال اور دجال کے ستر باع کے گدھے کی اور یا جوج ماجوج کی اور دابۃ الارض کی اصلی حقیقت اور کیفیت نہ کھلے یعنی پوری معلوم نہ ہو اور جو کچھ ان کے بارہ میں آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا ہے۔ یعنی حدیثیں جس قدر ہیں معاذ اللہ وہ سب کی سب اٹکل پچو ہوں اور اس زمانہ میں ابن مریم اور دجال وغیرہ کی اصلی حقیقت اور کیفیت مرزا غلام احمد قادیانی پر کھولی گئی ہو، بعید از عقل ہے۔

مرزا قادیانی کی عالی ہمت پر آفرین ہے کہ کہاں تک اپنے فخر کو بڑھایا ہے۔ بجز مرزا قادیانی کے ایسا کوئی گستاخ ہرگز نہ ہوا ہے اور نہ ہو گا کہ جس کو ایسے نابکار کلمہ کے کہنے کی جرأت ہو کہ میں پیغمبر خدا ﷺ سے قرآن زیادہ سمجھ سکتا ہوں۔ یا ابن مریم اور دجال و دابۃ الارض وغیرہ کی اصلی حقیقت جو ان پر نہ کھلی تھی، وہ مجھ پر کھولی گئی ہے۔ خداوند تعالٰی تمام مسلمانوں کو کج فہمی سے اور ایسے شخص کے شر سے بچاوے۔ آمین ثم آمین۔

چھٹا باب ...... قرآن شریف سے بحکم خدا مردہ زندہ ہونے کا ثبوت

حصہ اوّل

”او کالذی مرّ علٰی قریۃ وھی خاویۃ علٰی عروشھا، قال انّی یحی ھذہ اللہ بعد موتھا فاماتہ اللہ مائۃ عام ثم بعثہ، قال کم لبثت قال لبثت یوماً او بعض یوم، قال بل لبثت مائۃ عام فانظر الٰی طعامک وشرابک لم یتسنّہ وانظر الٰی حمارک ولنجعلک آیۃ للناس وانظر الٰی العظام کیف ننشزھا ثم

٢٩

صفحہ ٥٨

تکسوها لحماً فلما تبين له قال اعلم ان الله على كل شى قدير“ ﴿یا مانند اس شخص کی کہ گزرا اوپر ایک گاؤں کے اور وہ گرا ہوا تھا اوپر چھتوں اپنی کے، کہا کیونکر زندہ کرے گا اس کو اللہ پیچھے موت اس کی، کے پس مار ڈالا اس کو اللہ نے سو برس، پھر جلایا اس کو کہا کتنی مدت رہا تو کہا رہا میں ایک دن یا تھوڑا دن سے، کہا بلکہ رہا تو سو برس پس دیکھ طرف کھانے اپنے کے اور پینے اپنے کی کہ نہیں سڑا اور دیکھ طرف گدھے اپنے کی اور تو کہ کریں ہم تجھ کو نشانی واسطے لوگوں کے اور دیکھ طرف ہڈیوں کی کیونکر چڑھاتے ہیں ہم ان کو پھر پہناتے ہیں ہم ان کو گوشت، پس جب ظاہر ہوا واسطے اس کے کہا جانتا ہوں میں، تحقیق اللہ اوپر ہر چیز کے قادر ہے۔

ف...... ان آیات سے چند امور صاف طور پر ظاہر ہیں۔

تعالیٰ اسے کیونکر زندہ کرے گا۔

ہڈیوں پر ہم گوشت چڑھا کر زندہ کرتے ہیں۔

سب امور مردے کے زندہ ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔

"واذ قال ابراهيم رب ارنى كيف تحي الموتى، قال اولم تؤمن قال بلى ولكن ليطمئن قلبى، قال فخذ اربعة من الطير فصرهن اليك ثم اجعل على كل جبل منهن جزء ثم ادعهن ياتينك سعيا واعلم ان الله عزيز حكيم“ ﴿اور جب کہا ابراہیم نے اے رب میرے دکھا مجھ کو کیونکر زندہ کرتا ہے مردوں کو، کہا کیا نہیں ایمان لایا تو کہا لایا ہوں میں لیکن تو کہ آرام پکڑے دل میرا کہا پس لے چار جانوروں

٢٦

سے پس صورت پہچان رکھ ان کی طرف اپنی پھر بلا ان کو چلے آئیں گے تیرے پاس دوڑتے اور

ف...... ان آیات سے چند امور ثابت ہو

زندہ کرتا ہے۔

پہاڑوں پر رکھ۔ پھر ان کو اپنی طرف بلا وہ تیر حکمت والا ہے۔

مرزا قادیانی کا یہ اعتقاد ہے کہ قر

ثابت نہیں ۔

(ازالہ اوہام ص ٤٢٩، خزائن ج ٣

شریف کی کسی عبارت سے نہیں نکلتا کہ فی الح جان پڑ گئی تھی۔“

ف...... حضرت عزیر علیہ السلام کا ١٠٠ س روشن کی مانند ظاہر ہے۔ جیسے”فاماته الله برس پھر زندہ کیا اس کو ۔﴾ اور (ازالہ اوہام ص ”جو عزیر کے قصہ میں ہڈیوں بیان ہے۔ جس میں یہ جتلا نا منظور ہے کہ ہڈیوں پر گوشت چڑھاتا ہے اور پھر اس میں

ف...... اہل انصاف مرزا قادیانی کی ا الى حمارك ولنجعلك آية للناس لحما “﴿اور دیکھ طرف گدھے اپنے کی طرف ہڈیوں کے کیونکر چڑھاتے ہیں ہم ا

صفحہ ٥٩

سے پس صورت پہچان رکھ ان کی طرف اپنی پھر کر دے اوپر ہر پہاڑ کے ان میں سے ایک ٹکڑا۔ پھر بلا ان کو چلے آویں گے تیرے پاس دوڑتے اور جان یہ کہ اللہ غالب ہے حکمت والا۔ ﴾

ف ....... ان آیات سے چند امور ثابت ہوتے ہیں۔

زندہ کرتا ہے۔

پہاڑوں پر رکھ۔ پھر ان کو اپنی طرف بلا وہ تیرے پاس دوڑتے آویں گے اور جان یہ کہ اللہ غالب حکمت والا ہے۔

مرزا قادیانی کا یہ اعتقاد ہے کہ قرآن کی کسی آیت سے مردہ کا زندہ ہونا

ثابت نہیں ہے ....... حصہ دوم

(ازالہ اوہام ص ٤٧٩، خزائن ج ٣ ص ٥٠٤) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ”قرآن شریف کی کسی عبارت سے نہیں نکلتا کہ فی الحقیقت کوئی مردہ زندہ کیا گیا تھا اور واقعی کسی قالب میں جان پڑ گئی تھی۔“

ف ....... حضرت عزیر علیہ السلام کا ١٠٠ سال کے بعد زندہ ہونا تو قرآن شریف سے آفتاب روشن کی مانند ظاہر ہے۔ جیسے ”فاماته الله مائة عام ثم بعثه“ ﴿پس مارا اس کو اللہ نے ١٠٠ برس پھر زندہ کیا اس کو۔﴾ اور (ازالہ اوہام ص ٦٦٦، خزائن ج ٣ ص ٤٥٩) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

”جو عزیر کے قصہ میں ہڈیوں پر گوشت چڑھانے کا ذکر ہے۔ درحقیقت ایک الگ بیان ہے۔ جس میں یہ جتلانا منظور ہے کہ رحم میں خدا تعالیٰ ایک مردہ کو زندہ کرتا ہے اور اس کی ہڈیوں پر گوشت چڑھاتا ہے اور پھر اس میں جان ڈالتا ہے۔“

ف ....... اہل انصاف مرزا قادیانی کی اس تاویل کو غور سے دیکھیں کہ اس آیت یعنی ”فانظر الى حمارك ولنجعلك اية للناس وانظر الى العظام كيف ننشزها ثم نكسوها لحما“ ﴿اور دیکھ طرف گدھے اپنے کی اور تاکہ کریں ہم تجھ کو نشانی واسطے لوگوں کے۔ اور دیکھ طرف ہڈیوں کے کیونکر چڑھاتے ہیں ہم ان کو پھر پہناتے ہیں ان کو ہم گوشت۔﴾

٣١

صفحہ ٦٠

یہاں رحم میں ہڈیوں پر گوشت چڑھانا مراد لینا مرزا قادیانی کی سینہ زوری ہے اور اپنی تاویلات سے قرآن مجید کو رد کرنے پر زور لگاتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں عنقریب دربار الٰہی میں گرفتار ہو کر مار کھائیں گے۔

اور (ازالۃ الاوہام ص٧٥٢، خزائن ج٣ ص٥٠٦) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ”اور یاد رکھنا چاہئے کہ جو قرآن شریف میں چاروں پرندوں کا ذکر لکھا ہے کہ ان کو اجزائے متفرقہ یعنی جدا جدا کر کے چار پہاڑوں پر چھوڑا گیا تھا اور پھر بلانے سے آگئے تھے۔ یہ عمل الترب کی طرف اشارہ ہے۔“

ف....... اہل انصاف ایماناً خیال فرماویں کہ پیغمبر تو سوال کرنے والا ہے ”رب ارنی کیف تحی الموتیٰ“ ”اے رب میرے دکھا دے مجھ کو کیونکر جلاتا ہے تو مردوں کو۔“ اور خداوند تعالیٰ جواب دینے والا ہے۔ بقول مرزا قادیانی خداوند قادر اس کے دل کی تسلی عمل الترب سے کریں، بعید از عقل ہے۔ کیونکہ سائل کی تسلی تب ہی ہوتی ہے کہ جب اس کو اس کے سوال کے موافق جواب دیا جائے۔ اگر اس کا سوال اور ہو اور جواب اور ہو تو سائل کی تسلی ہرگز نہیں ہوتی۔ جو شخص خداوند قادر پر یہ گمان کرے کہ اللہ تعالیٰ نے مردہ جانور کو زندہ کر کے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل کی تسلی نہیں کی۔ بلکہ عمل الترب سے کی ہے۔ تو ایسے شخص کی عقل پر حیف اور افسوس ہے۔

اس واسطے کہ عزیر علیہ السلام کا سو سال کے بعد زندہ ہونا یا چار جانوروں کا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سامنے زندہ ہونا خدا کے حکم سے تھا۔ صرف خدا تعالیٰ کے اس بات پر قادر ہونے کا ثبوت ہے کہ بیشک خداوند تعالیٰ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔ مجھے مرزا قادیانی کے انکار کی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ شاید ان کے نزدیک خداوند تعالیٰ مردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں ہے۔ میرا تو اس بات پر ایمان ہے کہ خداوند تعالیٰ ایسی قدرت رکھتا ہے کہ ایک آن میں تمام مخلوق کو مردہ کر کے پھر زندہ کر سکتا ہے۔

ساتواں باب....... کہ فرشتوں نے خدا کے حکم سے آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا

حصہ اوّل

”واذ قلنا للملئکة اسجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس ابیٰ واستکبر و کان من الکفرین“ ”اور جب کہا ہم نے واسطے فرشتوں کے سجدہ کرو واسطے آدم کے پس سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ مانا اور تکبر کیا اور تھا کافروں سے۔“

صفحہ ٦١

”واذ قال ربك للملئكة انى خالق بشرا من صلصال من حما مسنون، فاذا سويته ونفخت فيه من روحی فقعواله، سجدين، فسجد الملئكة كلهم اجمعون الا ابليس ابى ان يكون مع السجدين“ ﴿اور جس وقت کہا رب تیرے نے واسطے فرشتوں کے تحقیق میں پیدا کرنے والا ہوں آدمی کو بجنے والی مٹی سے جو بنی تھی کیچڑ سڑی ہوئی سے۔ پس جب درست کروں میں اس کو اور پھونک دوں میں بیچ اس کے روح اپنی سے پس گر پڑو واسطے اس کے سجدہ کرتے ہوئے پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب نے اکٹھے مگر ابلیس نے نہ مانا یہ کہ ہو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے۔﴾

ف ...... ان ہر دو آیات سے چند امور صاف ظاہر ہیں۔

بجنے والی مٹی سے جو بنی تھی کیچڑ سڑی ہوئی سے۔ پس جب درست کروں میں اس کو اور پھونک دوں میں بیچ اس کے روح اپنے سے پس گر پڑو واسطے اس کے سجدہ کرتے ہوئے۔ پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب نے اکٹھے۔ مگر ابلیس نے نہ مانا یہ کہ ہو ساتھ سجدہ کرنے والوں کے۔

اب مرزا قادیانی کا اعتقاد کہ فرشتوں نے آدم علیہ السلام کو سجدہ نہیں کیا

حصہ دوم

(توضیح المرام ص٤٩، خزائن ج٣ ص٧٦) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ”یہ سجدہ کا حکم اس وقت سے متعلق نہیں ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے۔ بلکہ یہ علیحدہ ملائک کو حکم کیا گیا کہ جب کوئی انسان اپنی حقیقی انسانیت کے مرتبہ تک پہنچے اور اعتدال انسانی اُس کو حاصل ہو جائے اور خدا تعالیٰ کی روح اس میں سکونت اختیار کرے۔ تو اس کامل کے آگے سجدہ میں گرا کرو۔ یعنی آسمانی انوار کے ساتھ اس پر اترو اور اس پر صلوٰۃ بھیجو۔“

ف ...... اہل انصاف مرزا قادیانی کی اس عبارت کی طرف ایمانا غور کریں کہ (یہ سجدہ کا حکم اس وقت سے متعلق نہیں ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے) یہ نص صریح کے صاف خلاف ہے۔ دیکھو”فاذا سويته و نفخت فيه من روحی فقعواله سجدين فسجد الملئكة كلهم اجمعون الا ابليس“ کے ترجمہ کو حصہ اول میں یا کسی مترجم قرآن شریف سے۔

٣٣

صفحہ ٦٢

آٹھواں باب ...... فرشتوں کے ثبوت میں ...... حصہ اوّل

”الحمدلله فاطر السمٰوت والارض جاعل الملئكة رسلا اولى اجنحة مثنىٰ و ثلث و ربع يزيد فى الخلق مايشاء ان الله على كل شى قدير“

”سب تعریف واسطے اللہ کے پیدا کرنے والا آسمان و زمین کا کرنے والا فرشتوں کا پیغام لانے والے پروں والے دو دو اور تین تین اور چار چار زیادہ کرتا ہے بیچ پیدائش کے جس کو چاہتا ہے تحقیق اللہ اوپر ہر چیز کے قادر ہے۔“

”هل اتك حديث ضيف ابراهيم المكرمين، اذدخلوا عليه فقالوا سلما قال سلم قوم منكرون، فراغ الى اهله فجاء بعجل سمين، فقربه اليهم قال الا تاكلون، فاوجس منهم خيفه، قالو الا تخف وبشروه بغلم عليم، فاقبلت امراته فى صرة فصكت وجهها وقالت عجوز عقيم، قالوا كذلك قال ربك انه هو الحكيم العليم، قال فما خطبكم ايها المرسلون، قالوا انا ارسلنا الى قوم مجرمين، لنرسل عليهم حجارة من طين“

”کیا آئی تیرے پاس بات مہمانوں ابراہیم کی حرمت کئے گیوں کی۔ جس وقت کہ داخل ہوئے اوپر اس کے پس کہا انہوں نے سلام ہے۔ کہا سلام ہے اے قوم ناپہچان۔ پس پھر آیا طرف لوگوں اپنے کی پس لے آیا گائے کا بچہ تلا ہوا گھی میں۔ پس نزدیک کیا اس کو طرف ان کے کہا آیا نہیں کھاتے ہو تم۔ پس چھپایا ان سے ڈر، کہا انہوں نے مت ڈر اور خوشخبری دی اس کو ساتھ ایک لڑکے علم والے کے۔ پس آئی بی بی اس کی بیچ حیرت کے پس ہاتھ مارا منہہ اپنے کو اور کہا میں بوڑھی بانجھ ہوں۔ کہا انہوں نے اسی طرح کہا ہے رب تیرے نے، تحقیق وہ ہے حکمت والا جاننے والا۔ کہا پس کیا مہم ہے تمہاری اے بھیجے ہوئے۔ کہا انہوں نے تحقیق ہم بھیجے گئے ہیں طرف قوم گنہگار کے تا کہ بھیجیں ہم اوپر ان کے پتھر مٹی سے۔“

ف ...... ان آیات سے چند امور ظاہر ہیں۔

حضرت ابراہیم نے ان کو سلام کا جواب دیا۔

گائے کے بچے کا گوشت گھی میں بھون کر ان کے آگے واسطے کھانے کے رکھ دیا۔

٣٤

٦٣

کہ مبادا یہ میرے دشمن ہوں۔

والا لڑکا پیدا ہوگا۔

لگی کہ میں بوڑھی بانجھ ہوں مجھ سے کس طرح لڑکا پیدا

ہو؟ فرشتوں نے کہا ہم مٹی کے پتھروں سے قوم گنہگار کو

”واذكر فى الكتب مريم اذانتبذت من دونهم حجابا فارسلنا اليها روحنا فتمث بالرحمن منك ان كنت تقيا، قال انما انا قالت انى يكون لى غلم و لم يمسسنى بشر هو على هين، ولنجعله اية للناس ورح فانتبذت به مكانا قصيا“

”اور یاد کر بیچ کتاب کے مریم کو، جب جد پکڑا اور لیا ان سے پردہ، پس بھیجا ہم نے طرف اس اس کی آدمی تندرست کی۔ کہنے لگی تحقیق میں پناہ پکڑتی گار۔ کہا سوائے اس کے نہیں کہ میں بھیجا ہوا ہوں رب کہا کیونکر ہوگا واسطے میرے لڑکا اور نہیں ہاتھ لگایا مجھ کو کہا رب تیرے نے اوپر میرے آسان ہے اور تا کہ مہربانی اپنی طرف سے اور ہے کام مقرر کیا ہوا۔ پس حام کے مکان دور یعنی جنگل میں۔“

ف ...... ان آیات سے چند امور ظاہر ہیں۔

اور کہا کہ میں تیرے رب کا رسول ہوں

٣٥

صفحہ ٦٣

کہ مبادا یہ میرے دشمن ہوں۔

والا لڑکا پیدا ہوگا۔

لگی کہ میں بوڑھی بانجھ ہوں مجھ سے کس طرح لڑکا پیدا ہوگا؟

ہو؟ فرشتوں نے کہا ہم مٹی کے پتھروں سے قوم گنہگار کو ہلاک کریں گے۔

"واذكر في الكتب مريم اذانتبذت من اهلها مكانا شرقيا، فاتخذت من دونهم حجابا فارسلنا اليها روحنا فتمثل لها بشرا سويا، قالت انى اعوذ بالرحمن منك ان كنت تقيا، قال انما انا رسول ربك لا هب لك غلما زكيا، قالت انى يكون لى غلم ولم يمسسنى بشر ولم اك بغيا، قال كذلك قال ربك هو على هين، ولنجعله اية للناس ورحمة منا وكان امرا مقضيا، فحملته فانتبذت به مكانا قصيا"

﴿اور یاد کر بیچ کتاب کے مریم کو، جب جا پڑی لوگوں اپنے سے مکان شرقی میں۔ پس پکڑا اورے ان سے پردہ، پس بھیجا ہم نے طرف اس کی روح اپنے کو، پس صورت پکڑی واسطے اس کی آدمی تندرست کی۔ کہنے لگی تحقیق میں پناہ پکڑتی ہوں ساتھ رحمٰن کے تجھ سے اگر ہے تو پرہیز گار۔ کہا سوائے اس کے نہیں کہ میں بھیجا ہوا ہوں رب تیرے کا، تا کہ بخش جاؤں تجھ کو لڑکا پاکیزہ۔ کہا کیونکر ہوگا واسطے میرے لڑکا اور نہیں ہاتھ لگایا مجھ کو کسی آدمی نے اور نہیں میں بدکار۔ کہا اسی طرح کہا رب تیرے نے اوپر میرے آسان ہے اور تا کہ کریں ہم اس کو نشانی واسطے لوگوں کے اور مہربانی اپنی طرف سے اور ہے کام مقرر کیا ہوا، پس حاملہ ہو گئی ساتھ اس کے پس جا پڑی ساتھ اس کے مکان دور یعنی جنگل میں۔﴾

٢٥

صفحہ ٦٥

اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا۔ کہا میں پناہ پکڑتی ہوں ساتھ رحمن کے تجھ سے اگر ہے تو پرہیز گار۔

کہ تجھ کو ایک پاکیزہ لڑکا بخش جاؤں۔

نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ میں بدکار ہوں۔

تاکہ سب لوگوں کے لئے تیرے لڑکے کا بلا باپ پیدا ہونا میری عجیب قدرت کی نشانی ہو۔

”اذ قالت الملئكة يمريم ان الله يبشرك بكلمة منه اسمه المسيح عيسى ابن مريم وجيها فى الدنيا والاخرة ومن المقربين ويكلم الناس فى المهد وكهلا ومن الصلحين، قالت رب انى يكون لى ولد ولم يمسسنى بشر، قال كذلك الله يخلق ما يشاء اذا قضى امرا فانما يقول له كن فيكون“

﴿جس وقت کہا فرشتوں نے اے مریم تحقیق اللہ بشارت دیتا ہے تجھ کو ساتھ ایک بات کے اپنی طرف سے نام اس کا مسیح عیسیٰ بیٹا مریم کا آبرو والا بیچ دنیا کے اور آخرت کے اور نزدیک کئے گیوں سے اور باتیں کرے گا لوگوں سے بیچ جھولے کے اور ادھیڑ عمر میں اور صالحوں سے ہے۔ کہا اے رب میرے کیونکر ہو گا واسطے میرے بیٹا اور نہیں لگایا ہاتھ مجھ کو کسی آدمی نے۔ کہا اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ جب مقرر کرتا ہے کچھ کام پس سوائے اس کے نہیں کہ کہتا ہے اس کو ہو، پس ہو جاتا ہے۔﴾

ف...... ان آیات سے بھی چند امور ظاہر ہوتے ہیں۔

ایک بات کی بشارت دیتا ہے کہ تجھ سے ایک لڑکا ہوگا۔ جس کا نام مسیح عیسیٰ بیٹا مریم کا ہوگا۔

وقت اس کے کچھ بال سیاہ اور کچھ سفید ہوں گے۔ تب بھی لوگوں سے کلام کرے گا۔

٣٦

واسطے میرے بیٹا کہ مجھے کسی آدمی نے ہاتھ نہیں لگا

اس کے نہیں کہ کہتا ہے ہو، پس ہو جاتا ہے۔

”اذ تستغيثون ربكم فاستج مردفين“ ﴿جب لگے تم فریاد کرنے اپنے رب تمہاری ہزار فرشتے جن کے پیچھے لگے آویں۔﴾

”اذ يوحى ربك الى الملئكة اني قلوب الذين كفرو الرعب فاضربوا فوق بانهم شاقوا الله ورسوله ومن يشاقق ال

﴿جب حکم بھیجا تیرے رب نے طرف ثابت کرو دل مسلمانوں کے میں ڈال دوں گا دل ا اور مارو ان کے ہر پور پور پر اس واسطے کہ وہ مخالفت مخالف ہوا اللہ کا اور رسول اس کے کا پس تحقیق اللہ ش

مرزا غلام احمد فرشتوں کے نزول

دیکھو (توضیح المرام ص ٢٩، خزائن ج ٣ ص ہرگز اس بات کے قائل نہیں کہ ملائکہ اپنے شخصی وجو زمین پر اترتے ہیں اور یہ خیال بالبداہت باطل ہ

ف...... اس عبارت میں دو سفید جھوٹ ہیں۔

اہل انصاف پر ہرگز پوشیدہ نہیں ہے آئے تھے۔ وہ فرشتے ہی تھے۔ آدمیوں کی شکل ابراہیم علیہ السلام گائے کے بچہ کا گوشت بھون فرشتوں کو کھانے کی حاجت نہیں ہوتی۔ خدا کی با

صفحہ ٦٥

واسطے میرے بیٹا کہ مجھے کسی آدمی نے ہاتھ نہیں لگایا۔

اس کے نہیں کہ کہتا ہے ہو، پس ہو جاتا ہے۔

"اذ تستغیثون ربکم فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملئکۃ مردفین" ﴿جب لگے تم فریاد کرنے اپنے رب سے پس پہنچا تمہاری پکار کو کہ میں مدد بھیجوں گا تمہاری ہزار فرشتے جن کے پیچھے لگے آویں۔﴾

"اذ یوحی ربک الی الملئکۃ انی معکم فثبتوا الذین امنو سالقی فی قلوب الذین کفرو الرعب فاضربوا فوق العناق واضربوا منہم کل بنان، ذلک بانہم شاقوا اللہ ورسولہ ومن یشاقق اللہ ورسولہ فان اللہ شدید العقاب" ﴿جب حکم بھیجا تیرے رب نے طرف فرشتوں کی کہ میں ساتھ ہوں تمہارے سو تم ثابت کرو دل مسلمانوں کے میں ڈال دوں گا دل میں کافروں کے دہشت سو مارو اوپر گردنوں کے اور مارو ان کے ہر پور پور پر اس واسطے کہ وہ مخالف ہوئے اللہ کے اور رسول اس کے اور جو کوئی مخالف ہوا اللہ کا اور رسول اس کے کا پس تحقیق اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔﴾

مرزا غلام احمد فرشتوں کے نزول سے انکاری ہیں۔ حصہ دوم

دیکھو (توضیح المرام ص ٢٩، خزائن ج٣ ص ٦٦) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اہل اسلام ہرگز اس بات کے قائل نہیں کہ ملائکہ اپنے شخصی وجود کے ساتھ انسانوں کی طرح پیروں سے چل کر زمین پر اترتے ہیں اور یہ خیال بالبداہت باطل ہے۔“

اہل انصاف پر ہرگز پوشیدہ نہیں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جو مہمان آئے تھے۔ وہ فرشتے ہی تھے۔ آدمیوں کی شکل میں تھے۔ جن کے کھانے کے واسطے حضرت ابراہیم علیہ السلام گائے کے بچہ کا گوشت بھون کر لائے تھے۔ مگر انہوں نے نہ کھایا۔ کیونکہ فرشتوں کو کھانے کی حاجت نہیں ہوتی۔ خدا کی بندگی ہی ان کی غذا ہے اور نیز بی بی مریم کے پاس

٣٧

صفحہ ٦٦

فرشتہ تندرست آدمی کی شکل میں آیا تھا۔ جس کو بی بی مریم علیہا السلام نے اپنی طرف چل کر آتے دیکھ کر پناہ مانگی تھی اور نیز حضرت لوط علیہ السلام کے مہمان فرشتے ہی تھے جنکو اس کی بدکار قوم دیکھ کر پکڑنے کے لئے دوڑی آئی تھی۔ دیکھو اس قصہ کو قرآن شریف میں سورۂ ہود کے ساتویں رکوع میں ۔ باوجود اس قدر ثبوت کے پھر انکار کرنا مرزا قادیانی کا ہی حوصلہ ہے۔

(توضیح المرام ص ٦٨، خزائن ج ٣ ص ٨٦) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ”سو فرشتہ اگرچہ ہر ایک ایسے شخص پر نازل ہوتا ہے۔ جو وحی الہی سے مشرف کیا گیا ہو۔ نزول کی کیفیت جو صرف اثر اندازی کے طور پر ہے، نہ واقعی طور پر یاد رکھنی چاہئے ۔“

ف ...... مرزا قادیانی نے اس تحریر میں اپنی پہلی چال بدل دی ۔ یعنی اس جگہ لکھتے ہیں کہ نزول کی اصل کیفیت جو صرف اثر اندازی کے طور پر ہے نہ واقعی طور پر ۔ صریح قرآن کو اپنی تاویل کر کے رد کرتے ہیں۔

(توضیح المرام ص ٧٠، خزائن ج ٣ ص ٨٧) میں تحریر کرتے ہیں: ”اس وقت جبرائیل اپنا نورانی سایہ اس مستعد دل پر ڈال کر ایک عکسی تصویر اپنی اس کے اندر لکھ دیتا ہے۔ تب اس فرشتہ کا نام روح القدس ہے۔ تو عکسی تصویر کا نام بھی روح القدس رکھا جاتا ہے۔ سو یہ نہیں کہ فرشتہ انسان کے اندر گھس آتا ہے۔ بلکہ اس کا عکس انسان کے آئینہ قلب میں نمودار ہوتا ہے۔“

کیا ان باتوں سے ایمان والے لوگ قرآن صریح کو چھوڑ کر آپ کے دام میں آ جائیں گے؟ ہرگز نہیں۔ کچھ لوگ اگر آ گئے تو کیا ہوا۔

(توضیح المرام ص ٤٢، خزائن ج ٣ ص ٦٧) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں : ”سو اصل بات یہ ہے کہ جس طرح آفتاب اپنے مقام پر ہے اور اس کی گرمی اور روشنی زمین پر پھیل کر اپنے خواص کے موافق زمین کی ہر ایک چیز کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ اسی طرح روحانیات سماویہ خواہ ان کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس فلکیہ کہیں یا دساتیر اور وید کی اصطلاحات کے موافق کواکب سے ان کو نامزد کریں۔ یا سندھی اور موحدانہ طریق سے ملک اللہ کا ان کو لقب دیں۔ درحقیقت یہ عجیب مخلوقات اپنے اپنے مقام میں مستقر اور قرار گیر ہے۔

گمراہی اور ہدایت کو ایک بتانا بھی آپ ہی کا کام ہے۔

(توضیح المرام ص ٣٢، خزائن ج ٣ ص ٦٧) میں یوں لکھتے ہیں : ”فرشتے اپنے اصلی مقامات سے جو ان کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے، ایک ذرہ برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے ۔“

٣٨

صفحہ ٦٧

(توضیح المرام ص ٨٥، خزائن ج ٣ ص ٩٥) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”کہ جبریل نور آفتاب کی طرح جو اس کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ تمام معمورہ عالم پر حسب استعداد اثر ڈال رہا ہے۔“ ف...... اس جگہ مرزا قادیانی نے جبریل کے نزول سے صاف انکار کیا اور آفتاب کی طرح اس کا ہیڈ کوارٹر قرار دیا ہے۔ لیکن اہل انصاف پر یہ بات ہرگز پوشیدہ نہیں ہے کہ جبرئیل فرشتہ انبیاء علیہم السلام کے پاس خداوند تعالیٰ کے حکم سے آتے رہے ہیں اور ان کو خداوند تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچاتے رہے ہیں۔ تمام قرآن اس بات کا گواہ ہے اور حدیثیں تو اس قدر ہیں اگر تمام لکھوں تو ایک بڑا رسالہ بن جاوے۔

صرف سات حدیثوں کا ترجمہ جو بخاری شریف اور صحیح مسلم کی ہیں، یہاں نقل کرتا ہوں اور میں نے صحیح بخاری یا صحیح مسلم سے اس واسطے حدیثوں کو نقل کرنا پسند کیا ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک بھی یہ دونوں صحیح ہیں۔ دیکھو (اخبار الحکم نمبر ٨ ج ٥ ص ١٢ مورخہ ٣؍ مارچ ١٩٠١ء) میں مسمی صادق مرزائی بیان کرتا ہے کہ ”٢٤؍ فروری ١٩٠١ء کو صحیح بخاری کے متعلق مرزا قادیانی نے فرمایا یہی ایک کتاب ہے جو دنیا کی تمام کتابوں میں سے قرآن شریف کے بہت مطابق اور سب سے افضل اور صحیح ہے۔ اس کی دوسری بہن گویا مسلم ہے۔“

پہلی حدیث کا ترجمہ جو بخاری کی ہے

مشکوٰۃ کے باب المعجزات ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا دن بدر کے کہ یہ جبرئیل ہیں پکڑے ہوئے ہیں سر اپنے گھوڑے کا۔ جبرئیل پر ہے اسباب لڑائی کا۔

دوسری حدیث کا ترجمہ جو بخاری اور مسلم سے ہے

مشکوٰۃ کے باب المعجزات میں سعد ابن ابی وقاص سے روایت ہے کہ دیکھا میں نے داہنی طرف پیغمبر خدا ﷺ کے اور بائیں طرف ان کے دن احد کے دو شخصوں کو کہ ان پر تھے کپڑے سفید۔ لڑتے تھے وہ لڑنا سخت ترین لڑنے آدمیوں کو۔ نہیں دیکھا میں نے ان دونوں کو پہلے اس سے نہ پیچھے اس سے۔ یعنی جبرائیل اور میکائیل۔ متفق علیہ۔

تیسری حدیث کا ترجمہ جو بخاری اور مسلم سے ہے

مشکوٰۃ کے باب المعجزات میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کہا جب کہ پھرے رسول اللہ ﷺ غزوہ خندق سے اور رکھے ہتھیار اور غسل کیا آئے حضرت کے پاس جبرائیل اس حالت میں کہ آنحضرت ﷺ جھاڑتے تھے سر اپنا گرد سے پس کہا جبرائیل نے

٣٩

صفحہ ٦٨

حضرت محمد ﷺ کو کہ تحقیق آپ نے تو رکھے ہتھیار قسم ہے اللہ کی میں نے نہیں رکھے ہتھیار۔ نکلو طرف ان کافروں کی۔ پس فرمایا نبی ﷺ نے پس کہاں پس اشارہ کیا جبرائیل نے طرف بنی قریظہ کی۔ پس نکلے نبی ﷺ طرف بنی قریظہ کی۔ روایت کی یہ بخاری اور مسلم نے اور بخاری کی

ایک روایت میں یوں آیا ہے کہ کہا انس نے گویا میں دیکھتا ہوں طرف غبار کے کہ اٹھا تھا بیچ کوچہ بنی غنم کے سواروں کی جماعت سے کہ ہمراہ جبرائیل علیہ السلام کے تھے۔ جس وقت چلے رسول خدا ﷺ طرف بنی قریظہ کی۔

چوتھی حدیث کا ترجمہ جو بخاری اور مسلم کی ہے

مشکوٰۃ کے باب بدء الخلق و ذکر الانبیاء میں ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ کہا فرمایا خدا کے رسول ﷺ نے آیا فرشتہ موت کے پاس موسیٰ بن عمران کے پاس کہا فرشتہ نے موسیٰ کو کہ قبول کر حکم رب اپنے کا۔ فرمایا حضرت نے پس طمانچہ مارا موسیٰ علیہ السلام نے ملک الموت کی آنکھ پر پس پھوڑ ڈالی آنکھ۔ فرمایا حضرت ﷺ نے پس پھر گیا۔ فرشتہ طرف اللہ کی اور کہا بھیجا تو نے مجھ کو طرف بندے اپنے کی کہ نہیں چاہتا مرنا اور پھوڑ ڈالی آنکھ میری فرمایا حضرت نے پس پھیر دی اللہ نے طرف اس کی آنکھ اس کی اور فرمایا پھر جا تو میرے بندے کے پاس اور کہہ کہ آیا زندگانی چاہتا ہے تو پس اگر چاہتا ہے تو زندگانی پس رکھ ہاتھ اپنا بیل کی پیٹھ پر۔ پس اس چیز کو کہ ڈھانکے ہاتھ تیرا بالوں سے پس تحقیق تو زندہ رہے گا۔ بیشمار ان کے اتنے ہی برس، کہا موسیٰ علیہ السلام نے پھر بعد اس زندگی کے کیا ہے۔ کہا فرشتہ پھر مرے گا تو کہا موسیٰ علیہ السلام نے پس اختیار کی میں نے موت ابھی، اے پروردگار میرے نزدیک کر مجھ کو زمین پاک کی مٹی سے مقدار ایک سنگ انداز کے۔ فرمایا رسول خدا ﷺ نے قسم اللہ کی اگر ہوتا میں نزدیک بیت المقدس کے تو البتہ دکھا دیتا میں تم کو قبر موسیٰ کی ایک جانب راہ کے میں نزدیک تودے سرخ کے۔ روایت کی یہ بخاری اور مسلم نے۔

پانچویں حدیث کا ترجمہ جو مسلم کی ہے

مشکوٰۃ کے کتاب الایمان میں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس وقت کہ تھے ہم نزدیک رسول خدا ﷺ کے ایک روز ناگاہ ظاہر ہوا اوپر ہمارے ایک شخص نہایت سفید کپڑے بہت سیاہ تھے بال۔ نہیں معلوم ہوتا تھا اس پر نشان سفر کا اور نہیں پہچانتا تھا اس کو ہم میں سے کوئی یہاں تک کہ آبیٹھا روبرو حضرت محمد ﷺ کے۔ پس لگا دیئے دونوں زانو اپنے طرف دونوں زانوں حضرت ﷺ کے۔ اور رکھے دونوں ہاتھ اپنے اوپر دوزانوں آپ کے اور کہا اے محمدؐ خبر دے مجھ کو اسلام سے فرمایا حضرت نے اسلام یہ ہے کہ گواہی دے تو نہیں کوئی معبود سوا

٤٠

٦٩ اللہ کے اور محمدؐ بھیجے ہوئے ہیں اللہ کے اور قائم ک رمضان کے اور حج کرے خانہ کعبہ کا اگر طاقت رک

کہا اس شخص نے کہ سچ کہا تو نے۔ پ حضرت سے اور تصدیق کرتا ہے اس کو۔ کہا اس شخص تو ساتھ اللہ کے اور فرشتوں اس کے اور کتاب اس ایمان لاوے تو ساتھ تقدیر کے بھلائی اس کی کے او

کہا سچ کہا تو نے۔ پس کہا خبر دو مجھ ک کہ تو دیکھتا ہے اس کو پس اگر نہیں دیکھ سکتا تو اس قیامت سے۔ فرمایا نہیں وہ شخص کہ پوچھا گیا قیا خبر دو مجھ کو علامتوں اس کی سے۔ فرمایا کہ جنے والوں کو ننگے بدن والوں کو، مفلسوں کو، چرانے وا

کہا راوی نے پھر چلا گیا وہ شخص پھر ٹھہرا رہا میں د کون تھا پوچھنے والا؟ کہا اللہ اور رسول اللہ کا زیا تمہارے پاس سکھلاتا تھا تم کو تمہارا دین۔ روای

چھٹی حدیث کا ترجمہ جو بخاری اور مسل

مشکوٰۃ کے باب المواقیت کے فصل بن عبدالعزیز نے دیر کی عصر کو کچھ پس کہا واسطے پس نماز پڑھی آگے رسول خدا ﷺ کے۔ پس ک نے سنا میں نے بشیر بیٹے ابی مسعود کے سے ک نے رسول خدا ﷺ سے کہ فرماتے تھے کہ جبرائی نے ساتھ اس کے۔ پھر نماز پڑھی میں نے سات پھر نماز پڑھی میں نے ساتھ اس کے۔ پھر نماز ساتھ انگلیوں اپنی کے پانچوں نمازوں کا۔ روای

دنیا میں نہیں آتے۔ مگر متعصب ہاں جس کے ہے لیکن ضد کا مرض لا علاج ہے۔

صفحہ ٦٩

اللہ کے اور محمدﷺ بھیجے ہوئے ہیں اللہ کے اور قائم کرے نماز کو اور دے زکوٰۃ اور رکھے تو روزے رمضان کے اور حج کرے خانہ کعبہ کا اگر طاقت رکھے تو طرف اس کی راہ کی۔

کہا اس شخص نے کہ سچ کہا تو نے۔ پس تعجب کیا ہم نے واسطے اس کے کہ پوچھتا ہے حضرت سے اور تصدیق کرتا ہے اس کو۔ کہا اس شخص نے خبر دو مجھ کو ایمان سے، فرمایا ایمان لاوے تو ساتھ اللہ کے اور فرشتوں اس کے اور کتاب اس کی کے اور رسولوں اس کے اور قیامت کے اور ایمان لاوے تو ساتھ تقدیر کے بھلائی اس کی کے اور برائی اس کی کے۔

کہا سچ کہا تو نے۔ پس کہا خبر دو مجھ کو احسان سے فرمایا یہ کہ بندگی کرے تو اللہ کی ، گویا کہ تو دیکھتا ہے اس کو پس اگر نہیں دیکھ سکتا تو اس کو پس تحقیق وہ دیکھتا ہے تجھ کو۔ کہا خبر دو مجھ کو قیامت سے۔ فرمایا نہیں وہ شخص کہ پوچھا گیا اس سے زیادہ جاننے والا پوچھنے والے سے۔ کہا خبر دو مجھ کو علامتوں اس کی سے۔ فرمایا کہ جنے گی لونڈی مالک اپنی کو اور یہ کہ دیکھے تو ننگے پاؤں والوں کو ننگے بدن والوں کو ، مفلسوں کو ، چرانے والوں کو بکریوں کے فخر کریں گے بیچ عمارتوں کے۔

کہا راوی نے پھر چلا گیا وہ شخص پھر ٹھہرا رہا میں دیر تک پھر فرمایا واسطے میرے اے عمر کیا جانتا ہے تو کون تھا پوچھنے والا؟ کہا اللہ اور رسول اس کا زیادہ جاننے والا ہے۔ فرمایا تحقیق وہ جبرائیل تھا۔ آیا تمہارے پاس سکھلاتا تھا تم کو تمہارا دین۔ روایت کی ہے یہ حدیث مسلم نے۔

چھٹی حدیث کا ترجمہ جو بخاری اور مسلم کی ہے

مشکوٰۃ کے باب المواقیت کے فصل ثالث میں روایت ہے ابن شہاب سے کہ تحقیق عمرو بن عبدالعزیز نے دیر کی عصر کو کچھ پس کہا واسطے اس کے عروہ نے خبر دی تحقیق جبرائیل اترے۔ پس نماز پڑھی آگے رسول خداﷺ کے۔ پس کہا واسطے عروہ کے عمر کیا کہتا ہے تو اے عروہ پس کہا عروہ نے سنا میں نے بشیر بیٹے ابی مسعود کے سے کہ کہتا تھا سنا میں نے ابو مسعود سے کہ کہتے تھے سنا میں نے رسول خداﷺ سے کہ فرماتے تھے کہ جبرائیل اترے پس امامت کی میری۔ پس نماز پڑھی میں نے ساتھ اس کے۔ پھر نماز پڑھی میں نے ساتھ اس کے۔ پھر نماز پڑھی میں نے ساتھ اس کے۔ پھر نماز پڑھی میں نے ساتھ اس کے۔ پھر نماز پڑھی میں نے ساتھ اس کے۔ حساب کرتے تھے ساتھ انگلیوں اپنی کے پانچوں نمازوں کا۔ روایت کی بخاری اور مسلم نے۔

١؎ کیا اب بھی کوئی دشمن دین و ایمان اس حدیث کی رو سے انکار کر سکتا ہے کہ فرشتے دنیا میں نہیں آتے۔ مگر متعصب ہاں جس کے دل میں انصاف ہے۔ اس کے لئے تو دلیل صاف ہے لیکن ضد کا مرض لا علاج ہے۔

٤١

صفحہ ٧١

ساتویں حدیث کا ترجمہ جو بخاری اور مسلم کی ہے

مشکوٰۃ کے باب فضائل الصلوٰۃ میں ابی ہریرہؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے آتے ہیں فرشتے بیچ تمہارے رات کو اور فرشتے دن کو جمع ہوتے ہیں نماز فجر میں اور نماز عصر میں ۔ پھر چڑھتے ہیں وہ فرشتے کہ رہتے ہیں بیچ تمہارے ۔ پس پوچھتا ہے ان سے رب ان کا اور حال یہ ہے کہ وہ خوب جانتا ہے حال ان کا۔ کس طرح چھوڑا تم نے میرے بندوں کو۔ پس کہتے ہیں وہ چھوڑا ہم نے ان کو اس حال میں کہ وہ نماز پڑھتے تھے۔ روایت کیا اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے ۔

ف ...... اہل انصاف پر چند آیات سے اور نیز ان سات حدیثوں کے پڑھنے سے بخوبی روشن ہو گیا ہوگا کہ بیشک فرشتے آسمان سے زمین پر آتے اور جاتے ہیں اور بعض اوقات آدمیوں کی شکل میں بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کا یہ تحریر کرنا کہ فرشتے اپنے مقامات مقررہ سے ذرہ برابر نہیں ہلتے اور ان کا نزول اثر اندازی کے طور پر ہے۔ نہ واقعی طور پر بالکل قرآن اور احادیث کے خلاف ہے اور یہ بات جو لوگوں میں مشہور ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے بالکل سچ ہے۔ دیکھو مدعی بھول گیا اور ہار گیا اور خدا تعالیٰ کی قدرت نے مدعی سے سچ کا اقبال کرا ہی لیا۔

(دیکھو اشتہار ٣ نومبر ١٩٠٠ء ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٦١) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں : ”جب آنحضرت ﷺ شکم آمنہ عفیفہ میں تھے۔ تب فرشتہ نے آمنہ پر ظاہر ہو کر کہا تھا کہ تیرے پیٹ میں ایک لڑکا ہے جو عظیم الشان نبی ہوگا۔ اس کا نام محمدؐ رکھنا۔“

اور نیز (اخبار الحکم نمبر ٦ ج ٥ مورخہ ١٧ فروری ١٩٠١ء) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں : ”حضرت ابراہیم کو جب کفار نے آگ میں ڈالا ۔ تو فرشتوں نے آ کر حضرت ابراہیم سے پوچھا کہ آپ کو کوئی حاجت ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا ”بلیٰ ولکن الیکم لا“

ف ...... الحمد للہ مرزا قادیانی نے بہت ہی مدت کے بعد فرشتوں کے زمین پر آنے کا اقرار کچھ تو کر ہی دیا۔ مارا ایں ہم غنیمت است۔ اور نیز دیکھو مرزا قادیانی کے خاص مرید یا معاون محمد احسن امروہی اپنی کتاب (شمس البازغہ ص ٩٥) میں لکھتے ہیں: ”وہ یہ ہے ’وقتل الخنزیر‘ سے یہ مراد ہے کہ اس کی دعا اور الہام و پیش گوئی سے قتل خنزیر واقع ہوگا۔ جس کا مصداق قتل پنڈت لیکھرام کا ہے۔ جو بذریعہ تمثیل فرشتہ قاتل کے بصورت انسان قاتل واقع ہوا ۔“

ف ...... اے میرے خدا اپنی مہربانی سے مرزائیوں کو ضد اور کج فہمی سے بچا اور راست پر لا۔ آمین ثم آمین ۔

٤٢

نواں باب ...... قرآن مجید سے ا

”انا انزلناہ فی لیلۃ القدر ، وم من الف شھر ، تنزل الملئکۃ والروح حتیٰ مطلع الفجر“ ﴿تحقیق نازل کیا ہم نے رات قدر کی۔ رات قدر کی بہتر ہے ہزار مہینے سے ساتھ حکم اپنے رب کے واسطے ہر کام کے۔ سلامتی ف ...... مذکورہ بالا آیات سے صاف ظاہر ہے ک مہینہ سے بہتر ہے اور اس میں فرشتے اور جبرائیل بلوغ المرام میں بخاری اور مسلم سے یہ حدیث مر نبی ﷺ کے بہت سے صحابہ کو لیلۃ القدر خواب خدا ﷺ نے فرمایا میں تمہاری خوابوں کو دیکھتا ہو تلاش کرنے والا ہو اس کا تو وہ تلاش کرے اس کو مرزا قادیانی لیلۃ القدر کی رات ہونے

(دیکھو (ازالۃ اوہام ص ١٢٣، خزائن ج ٣ ص القدر کا نشان ہے جس کی بناء ابھی ڈالی گئی ہے نے اس عاجزؔ کو بھیجا ہے اور مجھے مخاطب کر کے واشبه الناس به خلقا وخلقا وزمانا کم نہیں ہوں گی۔ بلکہ بالا تصال کام کرتی رہ تعالیٰ نے آسمان پر مقرر کیا ہے۔“ دیکھو (توض کرتے ہیں : ”تم سمجھتے ہو کہ لیلۃ القدر کیا چ ظلمت کمال حد تک پہنچ جاتی ہے اس لئے وہ ظلمت کو دور کرے۔ اس زمانہ کا نام بطور است نہیں ہے۔ یہ ایک زمانہ ہے جو بوجہ ظلمت را

اے مرزا قادیانی کو اس کے خدا ا میں ڈالے۔

صفحہ ٧١

نواں باب ...... قرآن مجید سے لیلۃ القدر کا ثبوت ۔ حصہ اوّل

”انا انزلناہ فی لیلۃ القدر، وما ادرک ما لیلۃ القدر، لیلۃ القدر خیر من الف شھر، تنزل الملٰئکۃ والروح فیھا باذن ربھم من کل امر سلٰم، ھی حتیٰ مطلع الفجر“ ﴿تحقیق نازل کیا ہم نے قرآن کو بیچ رات قدر کی اور کیا جانے تو کیا ہے رات قدر کی۔ رات قدر کی بہتر ہے ہزار مہینے سے۔ اترتے ہیں فرشتے اور روح پاک بیچ اس کے ساتھ حکم اپنے رب کے واسطے ہر کام کے۔ سلامتی ہے وہ طلوع ہونے فجر تک۔﴾

ف ...... مذکورہ بالا آیات سے صاف ظاہر ہے کہ لیلۃ القدر ایک ایسی بابرکت رات ہے جو ہزار مہینہ سے بہتر ہے اور اس میں فرشتے اور جبرائیل نازل ہوتے ہیں اور طلوع فجر تک رہتے ہیں اور بلوغ المرام میں بخاری اور مسلم سے یہ حدیث مرقوم ہے۔ (ترجمہ) ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے بہت سے صحابہ کو لیلۃ القدر خواب میں دکھائی گئی۔ پچھلی سات راتوں میں تو رسول خدا ﷺ نے فرمایا میں تمہاری خوابوں کو دیکھتا ہوں کہ موافق ہوئیں آخر سات تاریخوں میں۔ پھر تلاش کرنے والا ہو اس کا تو وہ تلاش کرے اس کو اخیر کی سات راتوں میں۔

مرزا قادیانی لیلۃ القدر کی رات ہونے سے بالکل انکاری ہیں۔ حصہ دوم

دیکھو (ازالۃ اوہام ص ١٢٣، خزائن ج ٣ ص ١٦٥) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”یہ آخری لیلۃ القدر کا نشان ہے جس کی بناء ابھی ڈالی گئی ہے۔ جس کی تکمیل کے لئے سب سے پہلے خدا تعالیٰ نے اس عاجز لے کو بھیجا ہے اور مجھے مخاطب کر کے فرمایا ”انت اشد مناسبۃ من ابن مریم واشبہ الناس بہ خلقا وخلقا وزمانا“ مگر یہ تاثیرات اس لیلۃ القدر کی اب بعد اس کے کم نہیں ہوں گی۔ بلکہ بالاتصال کام کرتی رہیں گی۔ جب تک وہ سب کچھ پورا نہ ہو لے جو خدا تعالیٰ نے آسمان پر مقرر کیا ہے۔“ دیکھو (فتح اسلام ص ٥٤، خزائن ج ٣ ص ٣٢) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ”تم سمجھتے ہو کہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے۔ لیلۃ القدر اس ظلمانی زمانہ کا نام ہے جس کی ظلمت کمال حد تک پہنچ جاتی ہے اس لئے وہ زمانہ بالطبع تقاضا کرتا ہے کہ ایک نور نازل ہو جو اس ظلمت کو دور کرے۔ اس زمانہ کا نام بطور استعارہ کے لیلۃ القدر رکھا گیا ہے۔ مگر درحقیقت یہ رات نہیں ہے۔ یہ ایک زمانہ ہے جو بوجہ ظلمت رات کا ہمرنگ ہے۔“

لے مرزا قادیانی کو اس کے خدا نے اس واسطے دنیا میں بھیجا ہے تا کہ وہ لوگوں کو گمراہی میں ڈالے۔

٤٣

صفحہ ٧٢

ف ۔۔۔۔۔۔ اہل انصاف اس فقرہ کی طرف غور کریں کہ درحقیقت یہ رات نہیں ہے۔ یہ ایک زمانہ ہے اور نیز اس آیت کی طرف بھی خیال کریں: ”وما ادراك ما ليلة القدر ليلة القدر خير من الف شهر “ اور کیا جانے تو کیا ہے رات قدر کی۔ رات قدر کی ہزار مہینہ سے بہتر ہے اور پیغمبر ﷺ نے اپنے صحابہ کو فرمایا کہ لیلۃ القدر کو ماہ رمضان کے چاند کی اخیر سات راتوں میں تلاش کرو۔

اور جناب شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اپنی کتاب غنیۃ الطالبین میں جو کچھ لیلۃ القدر کی بابت تحریر فرماتے ہیں۔ اس کی عین عبارت کا ترجمہ نقل کرتا ہوں۔ ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا بیشک ہم نے قرآن کو شب قدر میں اتارا تا ۔۔۔۔ قول کریم! اس رات میں فرشتے اور روح اترتے ہیں یعنی شب قدر میں اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ جب شب قدر ہوتی ہے تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ جبرائیل علیہ السلام کو زمین کی طرف اترنے کا حکم کرتا ہے اور ان کے ساتھ ستر ہزار فرشتے سدرۃ المنتہیٰ کے رہنے والے ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ نور کے جھنڈے ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ زمین کی طرف اترتے ہیں۔ تو جبرائیل علیہ السلام اپنا جھنڈا گاڑ دیتا ہے اور پھر فرشتے بھی جھنڈے گاڑ دیتے ہیں۔ چار جگہ کعبہ کے پاس اور حضرت ﷺ کی قبر کے پاس اور بیت المقدس کی مسجد کے پاس اور طور سینا کی مسجد کے پاس۔ پھر جبرائیل کہتے ہیں فرشتوں سے کہ پھیل جاؤ۔ وہ پھیل جاتے ہیں۔ سو کوئی مکان باقی نہیں رہتا اور نہ کوئی حجرہ اور نہ کوئی گھر اور نہ کوئی کشتی جس میں کوئی مرد مومن یا عورت مومن ہو مگر فرشتے اس میں جاتے ہیں۔ لیکن اس گھر میں فرشتے نہیں جاتے۔ جس میں کتا ہو۔ یا سور یا جنب ہو حرام سے یا کوئی تصویر ہو۔ سو تسبیح اور تقدیس کہتے ہیں اور ”لا الہ الا اللہ “ کہتے ہیں اور حضرت محمد ﷺ کی امت کے لئے بخشش مانگتے ہیں۔ جب فجر کا وقت ہو جاتا ہے۔ آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں۔“

مرزا قادیانی کا تحریر کرنا کہ لیلۃ القدر رات نہیں بلکہ ظلمانی ہے سینہ زوری ہے۔ خدا تعالیٰ مرزا قادیانی کو گمراہی اور ضلالت سے بچاوے۔ آمین ثم آمین۔

ا؎ بیشک اس بات میں ذرہ بھر شک نہیں کرنا چاہئے جو مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ فرشتے زمین پر نہیں آتے۔ مرزا کے بیت الفکر اور بیت الذکر میں تصویریں موجود رہتی ہیں۔ وہاں فرشتوں کا کیا کام؟

٤٤

صفحہ ٧٣

دسواں باب ...... دابۃ الارض کے بیان میں ۔ حصہ اوّل

”واذا وقع القول عليهم اخرجنا لهم دابة من الارض تكلمهم ان الناس كانوا بايتنا لا يوقنون“ ﴿اور جس وقت آن پڑے گی بات اوپر ان کے نکالیں گے ہم واسطے ان کے ایک جانور زمین سے، بولے گا ان سے یہ کہ لوگ تھے ساتھ نشانیوں ہماری کے نہیں یقین لاتے۔﴾

ف۔۔۔۔۔۔ قریب قیامت ایک جانور زمین سے نکل کر لوگوں سے باتیں کرے گا۔

مرزا قادیانی کا اعتقاد دابۃ الارض کی نسبت ۔ حصہ دوم

(ازالہ اوہام ص ٥١٠، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ”جیسا دابۃ الارض یعنی وہ علماء واعظین جو آسمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتے ابتداء سے چلے آتے ہیں۔ لیکن قرآن کا مطلب یہ ہے کہ آخر زمانہ میں ان کی حد سے زیادہ کثرت ہو گی اور ان کے خروج سے مراد وہی ان کی کثرت ہے۔“

ف۔۔۔۔۔۔ اہل انصاف کے لئے یہ امر غور طلب ہے کہ اللہ تعالیٰ تو فرماویں: ”اخرجنا لهم دابة الارض تكلمهم“ یعنی نکالیں گے ہم واسطے ان کے ایک جانور زمین سے جو بولے گا ان سے۔ جبکہ مرزا قادیانی کہیں دابۃ الارض سے علماء واعظین مراد ہیں۔ اگر بقول مرزا قادیانی دابۃ الارض سے مراد علمائے واعظین ہیں تو خداوند تعالیٰ کا یہ فرمانا ”تكلمهم“ یعنی وہ جانور ان سے باتیں کرے گا، کیا ضرورت تھی۔ کیونکہ آدمیوں سے آدمیوں کا کلام کرنا کوئی عجیب اور انوکھی بات نہیں ہوتی اور نیز کسی جانور کا خدا کے حکم سے آدمیوں سے کلام کرنا بھی مشکل اور ناممکن امر نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ مرزا قادیانی کو خبط اور کبر اور کج فہمی سے بچاوے۔ آمین ثم آمین۔

گیارھواں باب ...... یاجوج ماجوج کے بیان میں ۔ حصہ اوّل

”حتى اذا فتحت ياجوج وماجوج وهم من كل حدب ينسلون“ ﴿یہاں تک کہ جب کھولے جاویں یاجوج اور ماجوج اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوں گے۔﴾

”قالو ياذاالقرنين ان ياجوج و ماجوج مفسدون فى الارض فهل نجعل لك خرجا على ان تجعل بيننا وبينهم سدا قال ما مكني فيه ربى خير فاعينونى بقوة اجعل بينكم وبينهم ردما اتونى زبر الحديد حتى اذا ساوى بين الصدفين قال انفخوا حتى اذا جعله نارا قال اتونى افرغ عليه قطرا فما

٤٥

صفحہ ٧٤

اسطاعوا ان يظهروه وما استطاعوا له نقبا، قال هذا رحمة من ربى فاذاجاء وعد ربى جعله دكاوكان وعد ربى حقا“

﴿ کہا انہوں نے اے ذوالقرنین تحقیق یاجوج ماجوج فساد کرنے والے ہیں بیچ زمین کے پس آیا کر دیویں ہم واسطے تیرے کچھ مال اوپر اسبات کے کہ کر دیوے تو درمیان ہمارے اور درمیان ان کے ایک دیوار کہا جو کچھ قدرت دی تھی مجھ کو بیچ اس کے رب میرے نے بہتر ہے پس مدد کرو میری ساتھ قوت کے کروں میں درمیان تمہارے اور درمیان ان کے دیوار موٹی ، لاؤ میرے پاس ٹکڑے لوہے کے یہاں تک کہ جب برابر کر دیا درمیان دو پہاڑوں کے کہا پھونکو یہاں تک کہ جب کر دیا اس کو آگ کہا لے آؤ میرے پاس ڈالوں اس پر تانبا گلا ہوا پس نہ کر سکے یہ کہ چڑھ آویں اوپر اس کے اور نہ کر سکے واسطے اس کے سوراخ کہا یہ مہربانی ہے پروردگار میرے سے پس جب آوے گا وعدہ پروردگار کا کر دیوے گا اس کو ریزہ ریزہ اور ہے وعدہ رب میرے کا سچا۔ ﴾

ف....... ان آیات سے چند امور ظاہر ہوتے ہیں جو اہل انصاف کے لئے غور طلب ہیں۔

ہوتا ہے۔

واضح ہوتا ہے۔

سکتے ہیں۔ جیسے ”فما اسطاعوا ان یظھروہ وما استطاعوا لہ نقبا“ سے روشن ہوتا ہے۔

یہ وعدہ اللہ کا سچا ہے جسے ”فاذاجاء وعد ربی جعلہ دکا وکان وعد ربی حقا“ سے ثابت ہوتا ہے۔

مرزا قادیانی کا اعتقاد یاجوج و ماجوج کی نسبت۔ حصہ دوم

(ازالہ اوہام ص٥٠٢، خزائن ج٣ ص٣٦٩) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اور یاجوج ماجوج کی نسبت تو فیصلہ ہو چکا ہے کہ دنیا کی دو اقبال مند قومیں ہیں۔ جن میں ایک انگریز اور دوسری روس ہیں۔ پھر دونوں قومیں بلندی سے نیچے کی طرف حملہ کر رہی ہیں یعنی اپنی خداداد صلاحیتوں کے ساتھ فتح یاب ہوتی جارہی ہیں۔ مسلمانوں کی بدچلنیوں نے مسلمانوں کو نیچے گرا دیا اور ان کی نہایت تہذیب اور کفایت شعاری اور ہمت اور الوالعزمی اور معاشرے کے اعلیٰ اصول

٤٦

صفحہ ٧٥

نے بحکم ومصلحت قادر مطلق ان کو اقبال دے دیا۔ ان دو قوموں کا بائبل میں ذکر ہے۔“ ف...... اہل انصاف مرزا قادیانی کی اس تحریر میں غور کریں کہ یاجوج ماجوج انگریز اور روس کو اپنے خیال میں مقرر کر کے کس قدر ان کی تعریف کرتے ہیں اور یاجوج ماجوج کو قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ ”ان یاجوج ماجوج مفسدون فی الارض“ ہیں اور مسلمانوں کو مرزا قادیانی نے بدچلن قرار دیا ہے۔ جن کو قرآن کریم ”کنتم خیر امۃ“ کی خوشخبری دیتا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ١٤٦، خزائن ج ٣ ص ١٧٤) میں یوں تحریر کرتے ہیں: ”ہمارے نزدیک ممکن ہے کہ دجال سے مراد با اقبال قومیں ہوں اور گدھا اون کا یہی ریل ہو۔“ اہل انصاف کی خدمت میں عرض ہے کہ پیغمبر صاحب ﷺ کے وقت بھی دونوں قومیں یعنی روس اور انگریز موجود تھے اور بہت ہی شہروں پر ان کی حکومت بھی تھی۔ پھر خداوند تعالیٰ کا قرآن میں بھی خبر دینا کہ یاجوج و ماجوج دو پہاڑوں کے درمیان بذریعہ دیوار ایسے ایک وعدہ تک بند ہیں کہ وہ وعدہ سے پہلے اس پر نہ چڑھ سکتی ہیں اور نہ اس دیوار میں سوراخ کرسکتی ہیں۔ کیا ضرورت تھی؟ پس قرآن شریف صاف مرزا قادیانی کی خلاف شہادت دے رہا ہے کہ یاجوج اور ماجوج انگریز اور روس ہیں۔ اللہ تعالیٰ کم فہمی سے بچاوے۔ آمین ثم آمین۔

بارھواں باب ...... قیامت کے قائم ہونے کے ثبوت میں

یعنی تمام مخلوقات قیامت کے دن خداوند تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو کر اپنا اپنا بدلہ بموجب اعمال پاوے گی۔ نیک اعمال والے بہشت میں جاویں گے اور بداعمال والے دوزخ میں ۔ حصہ اول: ”اللہ لااله الاهو ليجمعنكم الى يوم القيامة لا ريب فيه و من اصدق من اللہ حديثا “ ﴿اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہ البتہ اکٹھا کرے گا تم کو طرف دن قیامت کے نہیں شک بیچ اس کے اور کون شخص بہت سچا ہے اللہ سے بات میں۔﴾

”ونضع الموازن القسط ليوم القيامة فلا تظلم نفس شيئا“ ﴿اور رکھیں گے ہم ترازوئیں عدل کی دن قیامت کے پس نہ ظلم کیا جاوے گا کوئی جی کچھ۔﴾

”وتنذر يوم الجمع لاريب فيه فريق فى الجنة وفريق فى السعير“ ﴿اور تحقیق قیامت آنے والی ہے نہیں شک بیچ اس کے اور تحقیق اللہ اٹھاوے گا جو بیچ قبروں کے ہیں۔﴾

”ونفخ فى الصور فاذاهم من الاجداث الى ربهم ينسلون، قالوا يويلنا من بعثنا من مرقدنا،هذا ما وعدالرحمن وصدق المرسلون“ ﴿اور

٤٧

صفحہ ٧٦

پھونکا جاوے گا بیچ صور کے پس ناگہاں وہ قبروں سے طرف رب اپنے کے دوڑیں گے کہیں گے ہم کو کس نے اٹھایا ہماری خواب گاہ سے یہی وعدہ کیا تھا رحمٰن نے اور سچ کہا تھا پیغمبروں نے۔

”يوم يدع الداع الى شى نكر خشعا ابصارهم يخرجون من الاجداث كانهم جراد منتشر، مهطعين الى الداع يقول الكفرون هذا يوم عسر“ ﴿اس دن کہ پکارے گا ایک پکارنے والا طرف ایک چیز ناپہچان کی نیچی ہوں گی آنکھیں ان کی نکلیں گے قبروں میں سے گویا کہ وہ ٹڈیاں ہیں پریشان دوڑتے ہوئے طرف پکارنے والے کے کہیں گے کافر یہ دن ہے سخت۔﴾

”فذرهم يخوضوا ويلعبوا حتى يلقوا يومهم الذى يوعدون، يوم يخرجون من الاجداث سراعا كانهم الى نصب يوفضون خاشعة ابصارهم ترهقهم ذلة، ذلك اليوم الذى كانوا يوعدون“ ﴿پس چھوڑ دو ان کو جھگڑیں اور کھیلیں یہاں تک کہ ملاقات کریں دن اپنے سے وہ جو وعدہ دیئے گئے ہیں جس دن نکلیں گے قبروں میں سے دوڑتے ہوئے گویا کہ وہ طرف تھانوں بتوں کی دوڑتے ہیں نیچی ہوں گی آنکھیں ان کی ڈھانکتی ہوگی ان کو ذلت یہی دن وہ ہے جو تھے وعدہ دیئے جاتے۔﴾

”افلا يعلم اذا بعثر ما فى القبور و حصل ما فى الصدور ان ربهم بهم يومئذ لخبير“ ﴿کیا پس نہیں جانتا جب اٹھایا جاوے گا جو کچھ بیچ قبروں کے ہے اور حاصل کیا جائے گا جو کچھ بیچ سینوں کے ہے۔ تحقیق ان کے رب کو ان کی اس دن سب خبر ہے۔﴾

”فلا تحسبن الله مخلف وعده رسله ان الله عزيز ذو انتقام، يوم تبدل الارض غير الارض والسمٰوات وبرزوا لله الواحد القهار، وترى المجرمين يومئذ مقرنين فى الاصفاد، سرابيلهم من قطران وتغشى وجوههم النار، ليجزى الله كل نفس ما كسبت ان الله سريع الحساب“ ﴿پس مت گمان کر اللہ کو برخلاف کرنے والا وعدے اپنے کا پیغمبروں اپنے سے۔ تحقیق اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا اس دن بدلی جائے گی زمین سوائے زمین کے اور بدل جاوے گا آسمان اور روبرو ہوں گے سب لوگ واسطے اللہ واحد قہار کے اور دیکھے گا تو گنہگاروں کو اس دن جکڑے ہوئے بیچ زنجیروں کے کرتے اون کے گندھک کے ہوں گے اور ڈھانک لے گی مونہہ ان کے کو آگ تاکہ جزا دے اللہ ہر جی کو جو کچھ کمایا تحقیق اللہ جلد لینے والا ہے حساب کو۔﴾

٤٨

صفحہ ٧٧

”يوم يقوم الروح والملئكة صفا لايتكلمون الا من اذن له الرحمن وقال صوابا، ذلك اليوم الحق فمن شاء اتخذ الى ربه مابا “ ﴿جس دن کھڑا ہوگا روح یعنی جبرائیل اور فرشتے صف باندھ کر نہ بولیں گے مگر جو کوئی کہ اذن دیوے واسطے اس کے رحمن اور کہے گا اچھا یہی ہے دن برحق پس جو کوئی چاہے پکڑے طرف رب اپنے کی جگہ پھر جانے کی۔﴾

”ويوم نسير الجبال وترالارض بارزة وحشرنهم فلم نغادر منهم احدا وعرضوا على ربك صفا، لقد جئتمونا كما خلقناكم اوّل مرة بل زعمتم الن نجعل لكم موعدا “ ﴿اور جس دن چلاویں گے ہم پہاڑوں کو اور دیکھے تو زمین کو صاف نکلی ہوئی اور اکٹھا کریں گے ہم ان کو پس نہ چھوڑیں گے ہم ان میں کسی کو اور روبرو لائیں گے اوپر رب تیرے کی صف باندھ کر تحقیق آئے ہم تمہارے پاس جیسا کہ پیدا کیا ہے تم کو پہلی بار بلکہ گمان کیا تم نے یہ کہ نہ کریں گے ہم واسطے تمہارے وعدہ گاہ۔﴾

”فاذا نفخ فى الصور نفخة واحدة وحملت الارض والجبال فدكتا دكة واحدة، فيومئذ وقعت الواقعة، وانشقت السماء فهى يومئذ واهية، والملك على ارجائها، ويحمل عرش ربك فوقهم يومئذ ثمانية، يومئذ تعرضون لا تخفى منكم خافية، فاما من اوتى كتبه بيمينه فيقول هاؤم اقرأ واكتبيه، انى ظننت انى ملاق حسابيه، فهو فى عيشة راضية، فى جنة عالية، قطوفها دانية، كلوا واشربوا هنيئا بما اسلفتم فى الايام الخالية واما من اوتى كتبه، بشماله فيقول يلیتنى لم اوت كتبيه، ولم ادر ما حسابيه يليتها كانت القاضية، ما اغنى عنى ماليه، هلك عنى سلطنيه، خذوه فغلوه ثم الجحيم صلوه ثم فى سلسلة ذرعها سبعون ذراعا فاسلكوه، انه كان لا يومن بالله العظيم، ولا يحض على طعام المسكين، فليس له اليوم ههنا حميم، ولا طعام الا من غسلين، لاياكله الا الخاطئون “ ﴿پس جب پھونکا جاوے گا بیچ صور کی پھونکنا ایک بار اور اٹھائی جائے زمین اور پہاڑ پس توڑے جاویں توڑنا ایک بار پس اس دن ہو پڑے گی ہو پڑنے والی یعنی قیامت اور پھٹ

٤٩

صفحہ ٧٨

جاوے گا آسمان پس وہ اس دن سست ہوگا اور فرشتے جو اوپر کناروں اس کے کے اور اٹھاویں گے تخت رب تیرے کا اوپر اپنے اس دن آٹھ شخص اس دن رو برو لائے جاؤ گے تم نہ چھپی رہے گی تم میں سے کوئی بات چھپی ہوئی پس جو کوئی دیا گیا اعمال نامہ اپنا بیچ داہنے ہاتھ اپنے کے پس کہے گا لو پڑھو عمل نامہ میرا تحقیق میں جانتا تھا یہ کہ میں ملوں گا حساب اپنے سے پس وہ بیچ زندگانی خوش کی ہے بیچ بہشت بلند کے کہ میوے اوس کے نزدیک ہیں کھاؤ اور پیو ہنستا بدلے اس کے جو کر چکے ہو تم بیچ دنوں گزرے ہوؤں کے اور جو کوئی دیا گیا عمل نامہ اپنا بیچ بائیں ہاتھ اپنے کے پس کہے گا اے کاش کہ میں نہ دیا گیا ہوتا عمل نامہ اپنا اور نہ جانتا میں کیا ہے حساب میرا اے کاش کے یہ موت ہوتی تمام کرنے والی نہ کفایت کیا مجھے مال میرے نے جاتی رہی مجھ سے سلطنت میری پکڑو اس کو پس طوق پہناؤ اس کے پھر دوزخ میں لے جاؤ اس کو پھر بیچ زنجیر کے کہ پیمائش اس کی ستر ہاتھ ہے پس داخل کرو اس کو تحقیق وہ تھا نہیں ایمان لاتا ساتھ اللہ بڑے کے اور نہ رغبت دلاتا تھا اوپر کھانے فقیر کے پس نہیں واسطے اس کے آج اس جگہ کوئی دوست اور نہ کھانا مگر دھوون دوزخیوں کے سے نہیں کھاویں گے اس کو مگر گنہگار۔ ﴿

”فوقه الله سيات ما مکروا وحاق بال فرعون سوء العذاب النار يعرضون عليها غدوا وعشياء ويوم تقوم الساعة ادخلوا ال فرعون اشد العذاب“ ﴿پس بچا لیا اس کو اللہ نے بری اس چیز سے کہ مکر کرتے تھے اور گھیر لیا فرعون کو بڑے عذاب نے وہ آگ ہے کہ حاضر کئے جاویں گے اوپر صبح اور شام اور جس دن کہ قائم ہوگی قیامت کیا جائے گا کہ داخل کرو لوگوں فرعون کے کو۔ ﴾

”وما قدروا الله حق قدره والارض جميعا قبضته يوم القيمة والسموات مطويت بيمينه، سبحنه وتعلیٰ عما يشركون، ونفخ فی الصور فصعق من فی السموت و من فی الارض الا من شاء الله، ثم نفخ فيه اخرىٰ فاذاهم قيام ينظرون، واشرقت الارض بنور ربها ووضع الكتب وجائ النبين والشهداء وقضى بينهم بالحق وهم لا يظلمون، ووفيت كل نفس ما عملت وهو اعلم بما يفعلون، وسيق الذين كفروا الى جهنم زمرا، حتى اذا جاءها فتحت ابوابها وقال لهم خزنتها الم ياتكم رسل منكم يتلون عليكم ايت ربكم

٥٠

صفحہ ٧٩

وينذرونكم لقاء يومكم هذا قالوا بلى ولكن حقت كلمة العذاب على الكفرين، قيل ادخلوا ابواب جهنم خلدين فيها فبئس مثوى المتكبرين، وسيق الذين اتقوا ربهم الى الجنة زمرا، حتى اذا جاء ها وفتحت ابوابها وقال لهم خزنتها سلم عليكم طبتم فادخلوها خلدين، وقالو الحمد لله الذى صدقنا وعده واورثنا الارض“

﴿اور نہیں قدر کی اللہ کی جتنا کچھ وہ ہے اور زمین ساری ایک مٹھی ہے اس دن قیامت کے اور آسمان لپیٹے ہوئے ہیں اس کے داہنے ہاتھ میں وہ پاک ہے اور بہت اوپر ہے اس سے کہ شریک بناتے ہیں اور پھونکا گیا بیچ صور کے پھر بیہوش ہو کر پڑا جو کوئی ہے بیچ آسمانوں کے اور جو کوئی ہے بیچ زمین کے مگر جس کو چاہا اللہ نے پھر پھونکا گیا بیچ اوس کے دوسری بار پس تب ہی وہ ہیں دیکھتے اور چمکی زمین رب کے نور سے اور لا دھر دفتر ، اور حاضر آئے پیغمبر اور گواہ اور فیصلہ ہوا ان میں انصاف سے اور ان پر نہ ہوگا ظلم اور پورا ملا ہر جی کو جو کیا اور اس کو خوب خبر ہے جو کرتے ہیں اور ہانکے گئے جو کافر بنے ، طرف دوزخ کے گروہ گروہ یہاں تک کہ جب آئے اس پر پس کھولے گئے دروازے اس کے اور کہنے لگے ان کو داروغہ اس کے کیا نہ آئے تھے پاس رسول پڑھتے تم پر باتیں رب تمہارے کی اور ڈراتے تم کو اس تمہارے دن کی ملاقات سے بولے کیوں نہیں ولیکن ثابت ہوا حکم عذاب کا اوپر کافروں کے، حکم ہوا کہ داخل ہو دروازوں میں دوزخ کے، ہمیشہ رہو گے بیچ اس کے پس بری ہے جگہ رہنے کی غرور والوں کو اور ہانکے گئے جو ڈرتے رہے تھے رب اپنے سے طرف جنت کے گروہ گروہ یہاں تک کہ جب پہنچے اس پر اور کھولے گئے اس کے دروازے اور کہنے لگے واسطے ان کے داروغہ اس کے سلام ہے اوپر تمہارے تم لوگ پاکیزہ ہو پس رہو اس میں سدا رہنے کو اور بولے شکر اللہ کا جس نے سچ کیا ہم سے وعدہ اپنا اور وارث کیا ہم کو اس زمین کا گھر پکڑ لیں جنت میں سے جہاں چاہیں پس کیا خوب بدلہ ہے محنت کرنے والوں کا اور تو دیکھے فرشتے کہہ رہے ہیں گرد عرش کے پاکی بولتے ہیں اپنے رب کی خوبیاں اور فیصلہ ہوا ہے درمیان ان کے انصاف کا اور کہی بات ہوئی سب خوبی اللہ کو جو رب ہے۔﴾

ف....... ان آیات مرقومہ بالا سے چند امور ظاہر ہیں۔ یعنی نمبر ١ سے نمبر ١٤ تک۔ اب دوبارہ بطور خلاصہ اہل انصاف کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں۔

٥١

صفحہ ٨١

"لیجمعنکم الی یوم القیمۃ لا ریب فیہ" سے ثابت ہے۔

الموازین القسط لیوم القیمۃ فلاتظلم نفس شیئا" سے روشن ہے۔

یبعث من فی القبور" اور جیسے "ونفخ فی الصور فاذاھم من الاجداث الی ربھم ینسلون، قالوا یویلنا من بعثنا من مرقدنا" اور جیسے "یخرجون من الاجداث کانھم جراد منتشر" اور جیسے "یوم تخرجون من الاجداث سراعا" اور جیسے "اذا بعثر ما فی القبور" سے یعنی ان آیات سے صاف صاف ظاہر ہے کہ لوگ قبروں سے قیامت کے دن نکلیں گے۔

پڑے گی۔

دکھائے گا اور کہے گا لو پڑھو یہ میرا عملنامہ ہے اور تحقیق میں جانتا تھا کہ قیامت کے دن عملنامے تولے جاویں گے۔

٥٢

نہ دیا جاتا یہ عملنامہ اور میں نہ جانتا۔ کیا ہے حساب میرا کاش ک میرے مال نے اور جاتی رہی مجھ سے سلطنت میری۔

ہاتھ لمبے زنجیر سے اس کو جکڑ دو۔

دلاتا تھا۔

جو تم پر اللہ کی آیات پڑھ کر اس سے ڈراتے۔

جائیں گے۔

مرزا قادیانی کا اعتقاد قیامت کے د

(ازالہ اوہام ص ٣١٥، خزائن ج ٣ ص ٢٦١) میں م

کی نسبت حدیثوں میں بکثرت یہ بیان پایا جاتا ہے کہ ہوں گے اور سانپ ہوں گے اور آگ ہو گی۔ اگر ظاہ قبریں کھودو اور ان میں سانپ، بچھو دکھلاؤ۔“

٥٣

صفحہ ٨١

نہ دیا جاتا یہ عملنامہ اور میں نہ جانتا۔ کیا ہے حساب میرا کاش کہ آج موت ہوتی اور نہ کفایت کیا مال میرے نے اور جاتی رہی مجھ سے سلطنت میری۔

ہاتھ لمبے زنجیر سے اس کو جکڑ دو۔

دلاتا تھا۔

جو تم پر اللہ کی آیات پڑھ کر اس سے ڈراتے۔

جائیں گے۔

مرزا قادیانی کا اعتقاد قیامت کے دن کے متعلق ۔ حصہ دوم

(ازالہ اوہام ص ٤١٥، خزائن ج ٣ ص ٣١٦) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں : ”جو قبر کے عذاب کی نسبت حدیثوں میں بکثرت یہ بیان پایا جاتا ہے کہ ان میں گناہ گار ہونے کی حالت میں بچھو ہوں گے اور سانپ ہوں گے اور آگ ہوگی ۔ اگر ظاہر پر ان حدیثوں کو حمل کرنا ہے تو ایسی چند قبریں کھودو اور ان میں سانپ، بچھو دکھلاؤ۔“

٥٣

صفحہ ٨٢

ف....... اہل انصاف ایمانا غور کریں کہ قبر کے عذاب سے یہ صاف انکار نہیں تو اور کیا ہے؟ (ازالہ اوہام ص ٣٥٠، خزائن ج ٣ ص ٢٧٩) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اور قیامت کے دن بحضور رب العالمین ان کا حاضر ہونا ان کو بہشت سے نہیں نکالتا کیونکہ یہ تو نہیں کہ بہشت سے باہر کوئی لکڑی یا لوہے یا چاندی کا تخت بچھایا جائے گا اور خدا تعالیٰ مجازی حکام اور سلاطین کی طرح اس پر بیٹھے گا اور کسی قدر مسافت طے کر کے اس کے حضور میں حاضر ہونا ہوگا تا کہ یہ اعتراض لازم آوے کہ اگر بہشتی لوگ بہشت میں داخل شدہ تجویز کئے جائیں تو طلبی کے وقت انہیں بہشت سے نکلنا پڑے گا اور لق و دق جنگل میں جہاں تخت رب العالمین بچھایا گیا ہے، حاضر ہونا پڑے گا ایسا خیال تو سراسر جسمانی اور یہودیت کی سرشت سے نکلا ہے۔“

ف....... اہل انصاف مرزا قادیانی کی اس تحریر میں غور کریں کیسی عمدہ مخول سے قیامت کے دن میدان قیامت میں اللہ تعالیٰ کے آگے خلقت کے حاضر ہونے سے انکار کرتے ہیں اور نیز تخت رب العالمین کی نسبت کیسے ہی مخول سے لکھتے ہیں لکڑی کا ہوگا یا لوہے کا چاندی کا تخت بچھایا جائے گا۔ پھر لکھتے ہیں لق و دق جنگل میں جہاں تخت رب العالمین بچھایا جائے گا، حاضر ہونا پڑے گا۔ ایسا خیال تو سراسر جسمانی یہودیت کی سرشت سے نکلا ہے۔

افسوس صد افسوس، مرزا قادیانی قیامت کے ماننے والوں کو یہودی بناتے ہیں اور نیز تخت رب العالمین کی نسبت بھی ٹھٹھا اور مسخری کرنے سے نہیں ٹلتے اور اللہ تعالیٰ تو اپنی کلام پاک میں اپنے عرش کے آنے کا قیامت کے دن اس طرح بیان فرمایا ”فيومئذ وقعت الواقعة وانشقت السماء فهى يومئذ ...... ثمنية يومئذ تعرضون “ ﴿پس اس دن ہو پڑیں گے ہو پڑنے والی اور پھٹ جاوے گا آسمان پس وہ اس دن سست ہوگا اور فرشتے ہوں گے اوپر کناروں اس کے اور اٹھاویں گے عرش پروردگار تیرے کا اوپر اپنے اس دن آٹھ شخص اس دن روبرو لائے جاؤ گے تم ﴾ ”ونفخ في الصور فاذاهم من الاجداث الى ربهم ينسلون “ ﴿اور جب پھونکا جائے گا نفخ صور کے پس ناگہاں وہ قبروں سے طرف رب اپنے کی دوڑیں گے۔﴾ پھر اور دیکھو فرماتا ہے ”وان الساعة آتية لاريب فيها وان الله يبعث من فى القبور “ ﴿اور تحقیق قیامت آنے والی ہے نہیں شک بیچ اس کے اور تحقیق اللہ اٹھاوے

٥٤

صفحہ ٨٣

گا جو بیچ قبروں کے ہیں۔ ﴿اور دیکھو یوم تبدل الارض غیر الارض والسموت وبرزوا لله الواحد القهار ﴾ ”اس دن کہ بدلی جاوے گی زمین سوائے زمین کے اور بدلے جاویں گے آسمان اور روبرو ہوں گے سب لوگ واسطے اللہ واحد قہار کے ﴿اور دیکھو مرزا قادیانی کی اس فقرہ کی طرف ’اور لق و دق جنگل میں جہاں تخت رب العالمین بچھایا گیا ہے، حاضر ہونا پڑے گا۔ ایسا خیال تو جسمانی اور یہودیت کی سرشت سے نکلا ہے۔“ صریح صریح آیات کے خلاف نہیں ہے تو اور کیا ہے؟

اور (ازالہ اوہام ص ٣٦٤، خزائن ج ٣ ص ٢٨٧) میں لکھتے ہیں: ”اب ہماری تمام تقریر سے بخوبی ثابت ہو گیا کہ بہشت میں داخل ہونے کے لئے ایسے زبردست اسباب موجود ہیں کہ قریباً تمام مومنین یوم الحساب سے پہلے اس میں پورے طور پر داخل ہو جاویں گے اور یوم الحساب ان کو بہشت سے خارج نہیں کرے گا۔ بلکہ اس وقت اور بھی بہشت نزدیک ہو جاوے گا۔ کھڑکی کی مثال سے سمجھ لینا چاہئے کہ کیونکر بہشت قبر سے نزدیک کیا جاتا ہے۔ کیا قبر کے متصل جو زمین میں پڑی ہے اس میں آ جاتا ہے۔ نہیں، بلکہ روحانی طور پر نزدیک کیا جاتا ہے۔ اسی طرح روحانی طور پر بہشتی لوگ میدان حساب میں ہی ہوں گے اور بہشت میں بھی ہوں گے۔“

ف....... اس جگہ مرزا قادیانی نے اور ہی چال بدلی ہے۔ یعنی اب اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ روحانی طور پر میدان قیامت میں بھی جانا ہو گا۔ اہل انصاف غور سے خیال کریں کہ اللہ تعالیٰ تو فرماویں کہ قیامت کے دن اعمال نامے بہشتیوں کو داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے اور دوزخیوں کو اعمال نامے بائیں ہاتھ میں اور قیامت کے دن میدان قیامت میں ہاتھ اور پاؤں گواہی دیں گے اور دوزخی زنجیروں سے جکڑے جاویں گے اور قرآن شریف میں اکثر جگہ بہشت کی نعمتوں کا ذکر ہے۔ بلکہ یہ بہت جگہ صاف طور پر بیان کیا گیا ہے کہ بہشتیوں کو بہشت میں حوریں ملیں گی اور علاوہ ان کے دنیا والی عورتیں بھی اور ہر قسم کے عمدہ کپڑے اور سونے کے کنگن بھی پہنے کو ملیں گے اور کھانا کھانے اور پینے کے برتن بھی سونے اور چاندی کے ہوں گے اور ہر قسم کے میوے اور ہر قسم کے پرندوں کے گوشت کھانے کے لئے موجود ہوں گے اور بہشت میں شہد و شراب اور دودھ اور پانی کی نہریں ہیں۔ جن میں سے بہشتی لوگ پئیں گے۔ اب میں یہ مرزا قادیانی سے دریافت کرتا ہوں کہ ان سب نعمتوں کا ذکر قرآن شریف

٥٥

صفحہ ٨٤

میں جب موجود ہے تو پھر جسمانی طور سے انکار کرنا خلاف قرآن شریف ہے اور صریح آیات کا خلاف یا انکار سب کے نزدیک کفر ہے۔ کاش مرزا قادیانی کی ان دو چھوٹی سورتوں کی طرف کچھ بھی توجہ ہوتی تو جسمانی طور سے انکار نہ کرتے۔ دیکھو اور غور سے پڑھو۔ جو کہ قرآن شریف کیسا ہی صاف طور پر فرماتا ہے:

”القارعة ماالقارعة، وما ادرک ماالقارعة، یوم یکون الناس کالفراش المبثوث، وتکون الجبال کالعهن المنفوش، فاما من ثقلت موازینه، فهو فی عیشة راضیة، واما من خفت موازینه، فامه هاویة، وما ادرک ماهیه، نار حامیه “ ﴿ٹھوکنے والی کیا ہے ٹھوکنے والی اور کس چیز نے معلوم کرایا تجھ کو کیا ہے ٹھوکنے والی۔ جس دن ہو جاویں گے آدمی مانند ٹڈیوں پراگندہ کے اور ہو جاویں گے پہاڑ مانند پشم دھنی ہوئی کے، پس جو کوئی کہ بھاری ہوئی تول اس کی پس وہ بیچ زندگانی خوش کے ہے اور جو کوئی کہ ہلکی ہوئی تول اس کی پس ماں اس کی ہاویہ ہے اور کیا جانے تو کیا ہے وہ ہاویہ آگ ہی جلتی ہوئی ۔ ﴾

”الهکم التکاثر، حتی زرتم المقابر، کلا سوف تعلمون، ثم کلا سوف تعلمون، کلا لوتعلمون علم الیقین، لترون الجحیم، ثم لترونها عین الیقین، ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم،“ ﴿غافل کیا تم کو چاہ بہتایت کی نے، یہاں تک کہ ملو تم قبروں سے ہرگز نہ یوں البتہ جانو گے تم پھر ہرگز نہ یوں شتاب جانو گے ہرگز نہ یوں کاش کے جانو تم جاننا یقین کا البتہ دیکھو گے تم دوزخ کو پھر البتہ دیکھو گے تم اس کو دیکھنا یقین کا پھر البتہ پوچھے جاؤ گے تم اس دن نعمتوں سے ﴾

نوٹ :۔ کستوری اور یاقوتی اور ہر قسم کی شراب جو مرزا قادیانی استعمال کرتے ہیں، یہ وہاں نہیں ہوں گی۔ ان ہر دو سورت سے چند امور ظاہر ہیں۔

ہلکے پلے والے دوزخ میں ، جو جلتی آگ ہے۔

٥٦

صفحہ ٨٥

خدا تعالیٰ نے حق ظاہر کر دیا۔ دیکھو مدعی بھول گیا اور ہار گیا

رسالہ (فتح مسیح ص ٣٦، خزائن ج ٩ ص ٢٤٤) میں مرزا قادیانی تحریر کرتا ہے: ”ہم مسلمان لوگ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ بہشت جو جسم اور روح کے لئے دارالجزاء ہے۔ وہ ایک ادھورا اور ناقص دارالجزاء نہیں۔ بلکہ اس میں جسم اور جان دونوں کو اپنی اپنی حالت کے موافق جزا ملے گی۔ جیسا کہ جہنم میں اپنی اپنی حالت کے موافق دونوں کو سزا دی جائے گی اور اس کی اصل تفصیلات ہم خدا کے حوالے کرتے ہیں اور ایمان رکھتے ہیں کہ جزا سزا جسمانی روحانی دونوں طور پر ہوگی اور یہ عقیدہ ہے جو عقل اور انصاف کے موافق ہے۔“

ف...... اہل انصاف اس تحریر میں غور کریں کہ وہی مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔

خزائن ج ٣ ص ٢٧٩) میں تحریر کرتے ہیں: ”ایسا خیال تو سراسر جسمانی اور یہودیت کی سرشت سے نکلا ہے“ اور وہی مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ٣٦٥، خزائن ج ٣ ص ٢٨٧) میں لکھتے ہیں: ”روحانی طور پر بہشتی لوگ میدان حساب میں بھی ہوں گے اور بہشت میں بھی ہوں گے۔“

افسوس اور صد حیف ہے ایسے اعتقاد اور ایسی تحریر پر کہ دعویٰ تو یہ ہو کہ میں امام الزمان ہوں اور مجدد ہوں اور مہدی ہوں اور مسیح موعود ہوں اور زندہ نبی ہوں اور تحریر ایسی ”لعنة الله على الکاذبین “ خدا تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے تمام اہل اسلام کو اس کے شر سے بچاوے اور ہدایت راہ راست کی عنایت فرماوے۔ آمین۔

تیرہواں باب ...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اوصاف میں۔ حصہ اوّل

”واتینا عیسی ابن مریم البینت وایدناہ بروح القدس“ ﴿اور دیئے ہم نے عیسیٰ بیٹے مریم کو معجزے ظاہر کرنے اور قوت دی ہم نے اس کو ساتھ روح پاک کے یعنی جبرائیل کے۔﴾

”اذقالت الملئکۃ یمریم ان الله یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح

٥٧

صفحہ ٨٦

عيسى ابن مريم وجيها فى الدنيا والاخرة ومن المقربين، ويكلم الناس فى المهد وكهلا ومن الصلحين، قالت رب أنى يكون لى ولد ولم يمسسنى بشر، قال كذلك الله يخلق مايشاء اذاقضى امرا فانما يقول له كن فيكون و يعلمه الكتب والحكمة والتورية والانجيل ورسولا الى بنى اسرائيل انى قد جئتكم باية من ربكم انى اخلق لكم من الطين كهيئة الطير فانفخ فيه فيكون طيرا باذن الله وابرىء الاكمه والابرص واحي الموتى باذن الله، وانبئكم بما تاكلون وما تدخرون فى بيوتكم، ان فى ذالك لاية لكم ان كنتم مؤمنين“

﴿جس وقت کہا فرشتوں نے اے مریم تحقیق اللہ بشارت دیتا ہے تجھ کو ساتھ ایک بات کے اپنی طرف سے نام اس کا مسیح عیسیٰ بیٹا مریم کا آبرو والا بیچ دنیا کے اور آخرت کے اور نزدیک کئے گیوں سے اور باتیں کرے گا لوگوں سے بیچ جھولے کے اور ادھیڑ عمر میں اور صالحوں سے۔ کہا اے میرے رب کیونکر ہوگا واسطے میرے بیٹا اور نہیں ہاتھ لگایا مجھ کو کسی آدمی نے کہا اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے جب مقرر کرتا ہے کچھ کام، پس سوائے اس کے نہیں کہتا واسطے اس کے ہو جا پس وہ ہو جاتا ہے اور سکھلاوے گا اس کو کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل اور کرے گا اس کو پیغمبر طرف بنی اسرائیل کے یہ کہ تحقیق آیا ہوں میں تمہارے پاس نشان کو رب تمہارے سے یہ کہ بناتا ہوں میں واسطے تمہارے مٹی سے مانند صورت جانور کے پس پھونکتا ہوں میں بیچ اس کے ہو جاتا ہے جانور ساتھ حکم اللہ کے اور چنگا کرتا ہوں پیٹ کے اندھے کو اور سفید داغ والے کو اور جلاتا ہوں مردے کو ساتھ حکم اللہ کے اور خبر دیتا ہوں تم کو ساتھ اس چیز کے کہ کھاتے ہو تم جو کچھ ذخیرہ کرتے ہو تم بیچ گھروں اپنوں کے تحقیق بیچ اس کے البتہ نشانی ہے واسطے تمہارے اگر ہو تم ایمان والے۔﴾

لڑکا ہوگا۔ جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا۔

٥٨

دریافت کیا یعنی کہا: ”قالت رب أني يكون نے کیونکر ہوگا واسطے میرے لڑکا کہ نہیں ہاتھ لگا يخلق مايشاء اذاقضى امرا فانما يقول چاہتا ہے جب مقرر کرتا ہے کچھ کام سوائے اس

طيرا باذن الله “ ﴿تحقیق میں بناتا ہو پھونکتا ہوں میں بیچ اس کے۔ ہو جاتا ہے جا

دیتا ہوں تم کو اس چیز کی کہ کھاتے ہو تم بیچ

نشانی ہے واسطے تمہارے اگر ہو تم ایمان کے واسطے یہی معجزہ کافی ہے۔﴾

”اذ قال الله يعيسى بن بروح القدس تكلم الناس فی ا والانجيل واذ تخلق من الطين وتبرى الاكمه والا برص باذنی عنك اذ جئتهم بالبينت فقال الـ

١؎ قادیانی مرزا (ازالۂ او اپنے باپ یوسف نجار کے ساتھ بائبل علی الكاذبين الی يوم الدين

صفحہ ٨٧

دریافت کیا یعنی کہا: ”قالت رب انی یکون لی ولد ولم یمسسنی بشر“ ﴿کہا بی بی مریم نے کیونکر ہوگا واسطے میرے لڑکا کہ نہیں ہاتھ لگایا مجھ کو کسی آدمی نے۔﴾ جواب ملا ”کذلك الله یخلق مایشاء اذاقضیٰ امرا فانما یقول له کن فیکون “﴿اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے جب مقرر کرتا ہے کچھ کام سوائے اس کے نہیں کہ کہتا ہے ہو پس ہو جاتا ہے۔﴾

طیرا باذن الله “﴿تحقیق میں بناتا ہوں واسطے تمہارے مٹی سے مانند صورت جانور کے۔ پس پھونکتا ہوں میں بیچ اس کے۔ ہو جاتا ہے جانور ساتھ حکم اللہ کے۔﴾

دیتا ہوں تم کو اس چیز کی کہ کھاتے ہو تم بیچ گھروں اپنوں کے۔﴾

نشانی ہے واسطے تمہارے اگر ہو تم ایمان والے یعنی ایمان والوں کے لئے میری نبوت کے ثبوت کے واسطے یہی معجزہ کافی ہے۔﴾

”اذ قال الله یٰعیسیٰ بن مریم اذکر نعمتی علیک وعلی والدتک اذ ایدتک بروح القدس تکلم الناس فی المهد وکھلا، واذ علمتک الکتب والحکمة والتوریة والانجیل واذ تخلق من الطین کھیئة الطیر باذنی فتنفخ فیها فتکون طیرا باذنی وتبری الاکمه والابرص باذنی واذ تخرج الموتیٰ باذنی واذ کففت بنی اسرائیل عنک اذ جئتھم بالبینت فقال الذین کفروا منھم ان ھذا الا سحر مبین“

١؎ قادیانی مرزا (ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) میں لکھتا ہے کہ ”حضرت مسیح اپنے باپ یوسف نجار کے ساتھ بائیس برس کی عمر تک نجاری کا کام کرتے رہے۔“ لعنت الله علی الکاذبین الے یوم الدین!

٥٩

صفحہ ٨٨

﴿اور جس وقت کہ کہے گا اللہ اے عیسیٰ بیٹے مریم کے یاد کر نعمت میری اوپر اپنے اور اوپر ماں اپنی کے جس وقت قوت دی میں نے تجھ کو ساتھ جان پاک کے باتیں کرتا تھا لوگوں کے بیچ جھولے کے اور ادھیڑ عمر میں اور جس وقت سکھائی میں نے تجھ کو کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل اور جس وقت بناتا تھا تو مٹی سے جیسے صورت جانور کی ساتھ حکم میرے کے پس پھونکتا تھا بیچ اس کے پس ہو جاتا تھا پرندہ ساتھ حکم میرے کے اور چنگا کرتا تھا مادر زاد اندھے کو اور سفید داغ والے کو ساتھ حکم میرے اور جس وقت نکالتا تھا تو مردوں کو ساتھ حکم میرے کے اور جس وقت بند کیا میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے جب لایا تھا تو ان کے پاس دلیلیں پس کہا ان لوگوں نے جو کافر ہوئے ان میں سے نہیں یہ مگر جادو ظاہر۔﴾

ان آیات سے چند امور صاف طور پر ظاہر ہیں جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے وہ انعامات جو دنیا میں ان پر کئے گئے، گن گن کر سنائیں گے۔

تھے، تیرے معجزات کو جادو ہی خیال کیا۔ جیسے ”فقال الذین کفروا منھم ان ھذا الا سحر مبین“ ﴿پس کہا ان لوگوں نے جو کافر ہوئے ان میں سے نہیں یہ مگر جادو ظاہر اور بموجب ان آیات کے ظاہر ہے کہ جو شخص معجزات عیسیٰ علیہ السلام سے انکار کرے وہ قرآن مجید کا منکر ہے اور جو شخص معجزات عیسیٰ علیہ السلام کو جادو کی قسم خیال کرے وہ کافر ہے۔﴾

مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یوسف نجار کا بیٹا لکھتے ہیں

اور کل معجزات حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی انکاری ہیں۔ بلکہ از قسم شعبدہ بازی وعمل الترب خیال کرتے ہیں۔ حصہ دوم

٦٠

٨٩ دیکھو (ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) کچھ تعجب کی بات نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے پر یا جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے۔ یا اگر پرواز نہیں تو پاؤں س باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری ک کام درحقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ا بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔“

نوٹ...... جیسا کہ مرزا قادیانی ازالہ اوہام ص ٣٠١ و کے معجزات کو اگر میں قابل نفرت اور از قسم شعبدہ بازی بارہ میں کم نہ رہتا۔

ف...... مرزا قادیانی کی اس تحریر میں سے دو امر ظا

ذریعہ سے چلنا تسلیم کرتے ہیں۔ ٢...... لکھتے ہیں کہ ع بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام سیکھتے رہے۔

اور (ازالہ اوہام ص ٣٠٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) سلیمان علیہ السلام کے معجزہ ہی کی طرح صرف عقلی ق امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ سودا اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔“

١؎ دیکھو خدا نے حق کو ظاہر کر دیا۔ مدعی نبو

اشتہار واجب الاظہار

مورخہ ٤ نومبر ١٩٠٠ء کو ص ٣ میں لکھتے ہیں:

اپنا مسیح ان میں بھیجا جو لڑائیوں کا سخت مخالف تھا۔ وہ درح بد قسمت یہودیوں نے اس کا قدر نہ کیا۔ اس لئے خدا ن کے لئے اخیری اینٹ کر دیا اور اس کو بے باپ پیدا کر ف...... سبحان اللہ کیا عمدہ تحریر ہے ایک زبان اور ا بے باپ ہونا تسلیم کر کے تحریری اقبال کیا ہے۔ شرم! شر

٦١

صفحہ ٨٩

دیکھو (ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ”سو کچھ تعجب کی بات نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے پر پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے۔ یا اگر پرواز نہیں تو پاؤں سے چلتا ہو کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام کرتے رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔“

نوٹ ........ جیسا کہ مرزا قادیانی ازالہ اوہام ص ٣٠١، ٣٠٩ پر لکھتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کے معجزات کو اگر میں قابلِ نفرت اور از قسم شعبدہ بازی یعنی مسمریزم نہ سمجھتا تو ابنِ مریم سے اس بارہ میں کم نہ رہتا۔

ف ........ مرزا قادیانی کی اس تحریر میں سے دو امر ثابت ہیں۔ ١ ........ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو باذن اللہ تعالیٰ پرندہ بنا کر اڑانے کو عقلی طور پر کلوں کے ذریعہ سے چلنا تسلیم کرتے ہیں۔ ٢........ لکھتے ہیں کہ مسیح ابن مریم کا باپ یوسف نجار تھا۔ جس سے بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام سیکھتے رہے۔

اور (ازالہ اوہام ص ٣٢١، خزائن ج ٣ ص ٢٦٤) میں لکھتے ہیں: ”حضرت مسیح کا معجزہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے معجزہ ہی کی طرح صرف عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دنوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔“

اے دیکھو خدا نے حق کو ظاہر کر دیا۔ مدعی بھول گیا اور ہار گیا۔

اشتہار واجب الاظہار

مورخہ ٤ نومبر ١٩٠٠ء کو ص ٣ میں لکھتے ہیں۔ خدا نے حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس کے بعد اپنا مسیح ان میں بھیجا جو لڑائیوں کا سخت مخالف تھا۔ وہ درحقیقت صلح کا شہزادہ تھا اور صلح کا پیغام لایا تھا۔ لیکن بدقسمت یہودیوں نے اس کی قدر نہ کیا۔ اس لئے خدا کے غضب نے عیسیٰ علیہ السلام مسیح کو اسرائیلی نبوت کے لئے اخیری اینٹ کر دیا اور اس کو بے باپ پیدا کر کے سمجھا دیا کہ اب نبوت اسرائیل میں سے گئی۔

ف ........ سبحان اللہ کیا عمدہ تحریر ہے ایک زبان اور دو بیان ازالہ میں یوسف نجار کا بیٹا لکھا تھا اور یہاں بے باپ ہونا تسلیم کر کے تحریری اقبال کیا ہے۔ شرم! شرم!! شرم!!!

٦١

صفحہ ٩٠

ف ...... مرزا قادیانی کی اس تحریر سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا معجزہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرح عقلی تھا اور شعبدہ بازی کی قسم سے اور دراصل بے سود تھا۔

اور (ازالہ اوہام ص ٣٠٤، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥) میں لکھتے ہیں: ”ماسوائے اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے اعجاز طریق عمل الترب یعنی مسمریزم سے بطور لہو و لعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں ۔“

ف ...... اس تحریر سے بھی صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک مسیح علیہ السلام کا معجزہ از قسم عمل الترب یعنی مسمریزم بطور لہو و لعب کے تھا نہ بطور حقیقت۔

اور (ازالہ اوہام ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧) میں تحریر کرتے ہیں: ”بہر حال مسیح کی یہ تربی کارروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا ۔“

ف ...... مرزا قادیانی کی اس تحریر سے ظاہر ہے کہ مسیح علیہ السلام کے معجزات تربی تھے اور قدر کے لائق نہ تھے اور قابل نفرت تھے۔ افسوس ہے ایسے متکبر کی عقل پر جس کے نزدیک مسیح علیہ السلام کے وہ معجزات جو باذن اللہ تعالیٰ تھے تربی اور قدر کے لائق نہ ہوں اور قابل نفرت ہوں۔ اللہ کی پناہ ایسے برے عقیدہ سے۔

اور (ازالہ اوہام ص ٣١٠، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨) میں تحریر کرتے ہیں: ”یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماریوں کو اس عمل کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کو کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام رہے ۔“

اور (ازالہ اوہام ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣) میں لکھتے ہیں: ”غرض یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح علیہ السلام مٹی کے پرند بنا کر اور ان میں پھونک مار کر سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔

٦٢

صفحہ ٩١

بہر حال یہ معجزہ ایک کھیل کی قسم سے تھا اور وہ مٹی درحقیقت ایک مٹی ہی رہتی تھی۔ جیسے سامری کا گوسالہ۔“

ف ...... مرزا قادیانی کی اس تحریر سے ظاہر ہے کہ جو لوگ معجزات عیسیٰ علیہ السلام کو سچ جانتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے معجزات دکھاتے تھے۔ بقول مرزا قادیانی یہ اعتقاد غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے۔ یعنی جو معجزات کو سچ مانے وہ مشرک ہے اور افسوس ہے ایسے عقل پر جس کے نزدیک وہ معجزات جو پیغمبر کے ہاتھ سے باذن اللہ تعالیٰ ظاہر ہوں عمل الترب اور کھیل کی قسم سے ہوں۔

دیکھو قرآن شریف میں اس معجزہ کی نسبت ”واذ تخلق من الطین کہیئة الطیر باذنی فتنفخ فیھا فتکون طیرا باذنی “ ﴿اور جب بناتا تھا تو مٹی سے جیسے صورت جانور کی ساتھ حکم میرے، پس پھونکتا تھا بیچ اس کے ہو جاتا تھا پرندہ ساتھ حکم میرے کے۔﴾

سبحان اللہ! جس معجزہ کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف نسبت کریں کہ وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا اس کو مرزا قادیانی عمل الترب واز قسم شعبدہ بازی اور بے سود اور از قسم کھیل اور غلط اور قابل نفرت خیال کریں اور جو شخص معجزات کو حق مانے اس کو مشرک لکھیں اور اپنے کافر ہو جانے کا ذرا بھی بموجب اس فرمان اللہ قہار کے کچھ خوف نہ کریں جیسے ”فقال الذین کفروا منھم ان ھذا الا سحر مبین“ ﴿پس کہا ان لوگوں نے جو کافر ہوئے اس میں سے نہیں یہ مگر جادو ظاہر﴾

مرزا قادیانی بڑی عالی ہمت ہیں کہ معجزات مسیح علیہ السلام کو از قسم شعبدہ بازی اور بے سود اور قابل نفرت تحریر کرتے ہیں۔ جو باذن اللہ تعالیٰ پیغمبر کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے تھے۔

برین عقل و دانش بباید گریست

اگر یہاں یہ سوال ہو کہ مرزا قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات سے کیوں انکار کرتے ہیں؟ تو جواب یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے جب اپنے آپ کو مثیل مسیح قرار دیا۔ تب لوگوں نے کہا کہ اگر آپ مسیح علیہ السلام کے مثیل ہیں تو مسیح علیہ السلام کی طرح کوئی معجزہ دکھلاؤ۔ چونکہ مرزا قادیانی مسیح علیہ السلام کے معجزات کی طرح جن کا ذکر مفصل دو جگہ قرآن مجید میں ہے، دکھا تو نہیں سکتے تھے۔ اس لئے معجزات سے ہی انکاری ہو گئے۔ بجہت ثبوت ذیل میں مرزا قادیانی کی

٦٣

صفحہ ٩٣

کتاب سے اصل عبارت نقل کرتا ہوں۔ دیکھو (ازالہ اوہام ص ٦، خزائن ج ٣ ص ١٠٥) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں:

”مشابہت کے لئے مسیح کی پہلی زندگی کے معجزات جو طلب کئے جاتے ہیں۔ اس بارہ میں ابھی درج کر چکا ہوں کہ احیاء جسمانی کچھ چیز نہیں ہے۔ احیاء روحانی کے لئے یہ عاجز آیا ہے اور اس کا ظہور ہوگا۔ ماسوائے اس کے اگر مسیح کے اصلی کاموں کو ان حواشی سے الگ کر کے دیکھا جائے جو محض افتراء کے طور پر یا غلط فہمی کی وجہ سے گھڑے گئے ہیں......الخ۔“

اگر اہل انصاف کی ابھی تسلی نہیں ہوئی تو ایک اور نقل کرتا ہوں۔

(ازالہ اوہام ص ٢٩٦، خزائن ج ٣ ص ٢٥١) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”بعض لوگ موحدین کے فرقہ سے بحوالہ آیت قرآنی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح ابن مریم انواع واقسام کے پرند بنا کر اور ان میں پھونک مار کر زندہ کر دیا کرتے تھے۔ چنانچہ اسی بناء پر اس عاجز پر اعتراض کیا ہے کہ جس حالت میں مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔ تو پھر آپ بھی کوئی مٹی کا پرندہ بنا کر پھر اس کو زندہ کر دکھلاؤ۔“

ف...... اہل انصاف پر اب تو مرزا قادیانی کے انکار کی وجہ بخوبی روشن ہو گئی ہوگی۔

دیکھو تیسری دفعہ اہل انصاف کی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔ وہ یہ ہے جو ذیل میں درج کی جاتی ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٠) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اگر یہ سوال دل میں گزرا کہ پھر اللہ جل شانہ نے مسیح ابن مریم کی نسبت اس قصہ میں جہاں پرندہ بنانے کا ذکر ہے، تخلق کا لفظ کیوں استعمال کیا جس کے ظاہر معنی ہیں کہ تو پیدا کرتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خالق قرار دینا بطور استعارہ ہے۔“

ف...... مرزا قادیانی نے خود ہی سوال بنایا تھا۔ مگر خدا کی قدرت سے جواب سے عاجز ہو کر استعارہ کو اپنے بچاؤ کے لئے ڈھال بنا لیا۔ میں دعا مانگتا ہوں کہ اے میرے رب اپنی خاص مہربانی سے مرزا قادیانی اور اس کے چیلوں کو کج فہمی سے بچا۔ آمین ثم آمین۔

اب اہل انصاف کی خدمت میں مرزا قادیانی کی کتابوں میں سے وہ عبارتیں نقل کر کے پیش کرتا ہوں جن میں مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت نہایت ہی سخت اور

٦٤

بے ادبانہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔ جن کے پڑھنے سے۔ اگرچہ میرا دل بھی لکھنے کو نہیں چاہتا تھا۔ لیکن ان حالات سے آگاہ کرنا ایک ضروری اور لازمی امر خیال

دیکھو (ازالہ اوہام ص ٦٤٨، خزائن ج ٣ ص ثابت ہے کہ اس مسیح کو اسرائیلی مسیح پر ایک جزی فضیلت اور اس کی دعوت خاص تھی اور اس کو طفیلی طور پر تمام ضروری طور پر وہ حکمت اور معرفت سکھلائی گئی ہے جو

ف...... بے جا فخر ہو تو ایسا ہو۔

اور دیکھو رسالہ (فتح مسیح ص ١٩، خزائن ج افسوس کہ یہ توریہ آپ کے یسوع صاحب کی کلام پڑی ہیں۔ اس لئے ہمیں ماننا پڑتا ہے اگر توریہ کا نہیں گزرا، یسوع صاحب کا یہ قول کہ میں خدا کہہ سکتا ہوں یہ وہ قول ہے جس کو توریہ کہتے ہیں۔“

ف...... معاذ اللہ مرزا جی کا کیا عالی حوصلہ ہے ہوئے ”و من الصلحین“ یہ اس کو سب دنیا سے

اور (فتح مسیح ص ٤٦، خزائن ج ٩ ص ٤٨ کہیں اور کیا لکھیں اور کب تک ان کی چال پر ر موقعہ دیتا کہ وہ عین جوانی اور حسن کی حالت میں سے اس کے پاؤں پر بال ملے اور حرام کار کا دل بدخیال سے پاک ہوتا تو وہ ایک کسبی عورت جن کو حرام کار عورتوں کے چھونے سے مزا آتا ہے نہیں سنا کرتے۔ دیکھو یسوع کو ایک غیرت و ایسی حرکت کرنا مناسب نہیں۔ مگر یسوع نے تو حرکت سے یہ شخص بے زار ہے۔ تو رنڈوں کی

صفحہ ٩٣

بے ادبانہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔ جن کے پڑھنے اور سننے سے سچے مسلمان کا دل ضرور غمگین ہوگا۔ اگرچہ میرا دل بھی لکھنے کو نہیں چاہتا تھا۔ لیکن اہل اسلام اور اہل انصاف کو مرزا قادیانی کے حالات سے آگاہ کرنا ایک ضروری اور لازمی امر خیال کر کے ذیل میں درج کرتا ہوں۔

دیکھو (ازالہ اوہام ص ٦٤٨، خزائن ج ٣ ص ٤٥٠) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ”پھر ثابت ہے کہ اس مسیح کو اسرائیلی مسیح پر ایک جزی فضیلت حاصل ہے۔ کیونکہ اس کی دعوت عام ہے اور اس کی دعوت خاص تھی اور اس کو طفیلی طور پر تمام مخالف فرقوں کے اوہام دور کرنے کے لئے ضروری طور پر وہ حکمت اور معرفت سکھلائی گئی ہے۔ جو مسیح بن مریم کو نہیں سکھلائی تھی۔“

ف ...... بے جا فخر ہو تو ایسا ہو۔

اور دیکھو رسالہ (فتح مسیح ص ١٦، خزائن ج ٩ ص ٤٠٥) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”مگر افسوس کہ یہ توریہ آپ کے یسوع صاحب کی کلام میں بہت پایا جاتا ہے۔ انجیلیں اس سے بھری پڑی ہیں۔ اس لئے ہمیں ماننا پڑتا ہے اگر توریہ کذب ہے تو یسوع سے زیادہ دنیا میں کوئی کذاب نہیں گزرا، یسوع صاحب کا یہ قول کہ میں خدا کی ہیکل کو ڈھا سکتا ہوں اور پھر تین دن میں اسے بنا سکتا ہوں یہ وہ قول ہے جس کو توریہ کہتے ہیں۔“

ف ...... معاذ اللہ مرزا جی کا کیا عالی حوصلہ ہے جس مسیح کی نسبت قرآن شریف یہ شہادت دیوے ”ومن الصلحین“ یہ اس کو سب دنیا سے زیادہ کذاب لکھیں۔ معاذ اللہ

اور (فتح مسیح ص ٤٦، خزائن ج ٩ ص ٤٣٨) میں لکھتے ہیں ”مگر یسوع صاحب کی نسبت کیا کہیں اور کیا لکھیں اور کب تک ان کی چال پر روئیں۔ کیا یہ مناسب تھا کہ وہ ایک زانیہ عورت کو یہ موقعہ دیتا کہ وہ عین جوانی اور حسن کی حالت میں ننگے سر اس سے مل کر بیٹھے اور نہایت ناز اور نخرہ سے اس کے پاؤں پر بال ملے اور حرام کاری کے عطر سے اس کے سر پر مالش کرے۔ اگر یسوع کا دل بدخیال سے پاک ہوتا تو وہ ایک کسبی عورت کو نزدیک آنے سے ضرور منع کرتا۔ مگر ایسے لوگ جن کو حرام کار عورتوں کے چھونے سے مزا آتا ہے۔ وہ ایسے نفسانی موقعہ پر کسی ناصح کی نصیحت بھی نہیں سنا کرتے۔ دیکھو یسوع کو ایک غیرت مند بزرگ نے نصیحت کے ارادہ سے روکنا چاہا کہ ایسی حرکت کرنا مناسب نہیں۔ مگر یسوع نے اس کی جھڑکی اور ترش روی سے سمجھ لیا کہ میری اس حرکت سے یہ شخص بے زار ہے۔ تو رندوں کی طرح اعتراض کو باتوں میں ڈال دیا اور دعویٰ کیا کہ

٦٥

صفحہ ٩٤

یہ کنجری بڑی اخلاص مند ہے۔ ایسا اخلاص تو تجھ میں بھی نہیں پایا گیا۔ سبحان اللہ! کیا عمدہ جواب ہے۔ یسوع صاحب ایک زنا کار عورت کی تعریف کر رہے ہیں کہ بڑی نیک بخت ہے۔ دعویٰ خدائی کا اور کام ایسے، بھلا جو شخص ہر وقت شراب سے سرمست رہتا ہے اور کنجریوں سے میل جول رکھتا ہے اور کھانے پینے میں اول نمبر کا جو لوگوں میں اس کا نام بھی پڑ گیا ہے کہ یہ کھاؤ پیو ہے۔ اس سے کس تقویٰ اور نیک بختی کی امید کی جاسکتی ہے؟‘‘

ف...... اہل انصاف پر ہرگز پوشیدہ نہیں رہا ہوگا کہ جو کچھ مرزا قادیانی نے مسیح علیہ السلام کی نسبت اس تحریر میں لکھا ہے، جس کی نسبت قرآن یہ شہادت دے رہا ہے: ”وجيها في الدنيا والاخرة ومن المقربين “ معاذ اللہ مرزا قادیانی کو اس کی چال پر رونا آوے اور حرام کار عورتوں کے چھونے والا اور دل کا بد خیال اور کنجریوں سے میل جول رکھنے والا اور ہر وقت شراب سے سرمست لکھیں۔ بلکہ ایسا خیال کریں کہ اس سے کسی تقویٰ اور نیک بختی کی امید بھی نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ کی پناہ ایسے بد اعتقاد والے سے خدا ایسے عقیدہ رکھنے والے کو غارت کرے۔ یا اپنی مہربانی سے اس کے دل کی کجی دور کرے۔

اور (رسالہ فتح مسیح ص ٤٨، خزائن ج ٩ ص ٢٥٠) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ”مگر تعجب کہ عیسائی لوگ کیوں متعہ کا ذکر کرتے ہیں۔ جو صرف ایک نکاح موقت ہے۔ اپنے یسوع کی چال چلن کو نہیں دیکھتے کہ ایسی جوان عورتوں کی طرف نظر ڈالتا۔ جن پر ڈالنا اس کو درست نہ تھا، کیا جائز تھا کہ ایک کسبی کے ساتھ ہم نشین ہوتا۔ اگر وہ متعہ کا بھی پابند ہوتا تو ان حرکات سے بچ جاتا۔ کیا یسوع کی بزرگ دادیوں نے متعہ کیا تھا۔ یا صریح زنا کاری تھی ۔“

ف...... معاذ اللہ جو کچھ مرزا قادیانی نے جناب ”وجيها في الدنيا والاخرة“ کی نسبت اور آنجناب کی دادیوں کی نسبت لکھا ہے۔ کیسا ہی بیہودہ ہے۔ مگر کسی نے کیا عمدہ کہا ہے کہ جب حیا دل سے نکال دیا تو پھر بیہودہ بکنے سے کیا صرفہ ۔

اور دیکھو (فتح مسیح ص ٤٢، خزائن ج ٩ ص ٢٤١) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

”یسوع صاحب کے حواری لالچی اور کم عقل تھے۔ ان کی عقلیں اور ہمتیں تھیں ایسی ہی ان کو ہدایت بھی اور ایسا ہی یسوع بھی ان کو مل گیا۔ جس نے خودکشی کا دھوکہ دے کر سادہ لوحوں کو عبادت کرنے سے روک دیا۔

٦٦

صفحہ ٩٥

ف ....... اہل انصاف پر مرزا قادیانی کی تحریر سے پوشیدہ نہیں رہا ہو گا کہ جیسے اس نے حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوں کو لالچی اور کم عقل اور کم ہمت لکھا ہے۔ ویسے ہی حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی لکھا ہے۔ معاذ اللہ مرزا قادیانی کا دل بڑا ہی سخت ہے کہ جس کو خدا تعالیٰ ”مِن الصّٰلِحین، و مِن المقربین “ کے خطاب سے سرفراز فرمادیں اس کو کم عقل اور کم ہمت اور لوگوں کو عبادت سے روکنے والا تحریر کریں اور حواریوں کی نسبت بھی قرآن شریف یوں شہادت دے رہا ہے: ”قال عیسی ابن مریم للحواریین من انصاری الی اللّٰه قال الحواریون نحن انصار اللّٰه“

﴿کہا عیسیٰ بیٹے مریم کے نے واسطے حواریوں کے کون شخص مدد دینے والا ہے طرف خدا کی کہا حواریوں نے ہم ہیں مددگار خدا کے﴾ اور نیز حواریوں کی تعریف میں ”وجعلنا فی قلوب الذین اتبعوه رافة ورحمة “ ﴿اور لکھا ہم نے بیچ دلوں ان لوگوں کے کہ پیروی کرتے تھے اس کی شفقت اور مہربانی۔﴾ اور نیز حواریوں کی تعریف میں ”واذا وحیت الی الحواریین ان امنو بی وبرسولی قالوا امنا واشهد بانا مسلمون “ ﴿جس وقت وحی بھیجی میں نے طرف حواریوں کے یہ کہ ایمان لاؤ ساتھ میرے اور ساتھ پیغمبروں میرے کے۔ کہا انہوں نے ایمان لائے ہم اور شاہد رہ تو ساتھ اس کے کہ ہم مسلمان ہیں۔﴾

سبحان اللہ! کیا عجیب شان ہے ان کی جن کے ایمان دار ہونے کی قرآن شہادت دے رہا ہے۔ افسوس مرزا قادیانی کے ایسے حوصلہ پر جو حواریوں کو کم عقل اور لالچی تحریر کرتے ہیں۔

اور دیکھو (اشتہار ١٤؍جنوری ١٨٩٧ء ص٥، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص ٣٠٩) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”یسوع نے بعض اوقات فریب کے طور پر نادانوں کو بازی گروں کی طرح کوئی کھیل دکھلایا ہو اور پھر جب داناؤں نے اس سے معجزہ مانگا تو کانوں پر ہاتھ رکھ لیا کہ میں معجزہ نہیں دکھلاؤں گا۔“

معاذ اللہ مرزا قادیانی مسیح علیہ السلام کو فریبی اور بازی گر لکھتے ہیں۔ اور دیکھو (اشتہار ١٤؍جنوری ١٨٩٧ء ص٥، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٣٠٩) میں نوٹ لکھتے ہیں: ”یسوع نے تمام عمر میں معجزہ کے بارہ میں صرف یہ دعویٰ کیا تھا کہ میں ہیکل کو مسمار کر کے تین دن میں بنا سکتا ہوں ۔اب ظاہر ہے کہ یہ اوباشانہ دعویٰ ہے۔ یہ کیونکر ممکن تھا۔“

٦٧

صفحہ ٩٦

ف ...... معاذ اللہ حضرت یسوع مسیح علیہ السلام کو مرزا قادیانی اوباش لکھتے ہیں۔ کیا ایسا لکھنا بھلے مانسوں کا کام ہے؟ لعنت اللہ علی الکاذبین ، کہو مرزائیو! آمین!

اور دیکھو (اشتہار ١٣؍ جنوری ١٨٩٧ء، ص ٣، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٠٦) میں لکھتے ہیں: ”یسوع نے زبان سے تو بہت کچھ کہا۔ مگر عملی طور پر کسی خرابی کے زہر یلے درخت کو دنیا سے نہیں کاٹا۔ اگر ہم مان بھی لیں کہ اس نے کم عقل عورتوں اور بچوں کی طرح خود کشی کی تو اس سے اور بھی زیادہ اس کی حالت پر افسوس آئے گا کہ اگر ہمدردی کی اس کو کچھ سوجھی بھی تو احمقانہ راہ سوجھی۔“

ف ...... معاذ اللہ مرزا قادیانی یسوع مسیح کو عورتوں کی طرح کم عقل اور احمق لکھتے ہیں۔ کیا ایسا لکھنا عقلمندوں کا کام ہے یا احمقوں کا ؟ ”لعنت اللہ علی الکاذبین “ کہو مرزائیو! آمین۔

اور دیکھو (ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠) کے حاشیہ میں لکھتے ہیں: ”آپ کا ایک یہودی استاد تھا جس سے آپ نے توریت کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو قدرت نے آپ کو زیرکی سے کچھ بہت حصہ نہیں دیا تھا اور یا اس استاد کی یہ شرارت تھی کہ اس نے محض سادہ لوح رکھا۔ بہر حال آپ علمی اور عملی قویٰ سے بہت کچے تھے۔ اسی وجہ سے آپ ایک مرتبہ شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔“

ف ...... اس عبارت سے دو امر ظاہر ہیں۔

مرتبہ شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔

جواب امر اوّل

قولہ تعالیٰ ”واذعلمتك الکتب والحکمۃ والتوریٰۃ والانجیل “ ﴿اور سکھلا دے گا اس کو اللہ لکھنا اور حکمت اور توریت اور انجیل۔﴾ قرآن شریف تو کھلے طور پر یہ شہادت دے رہا ہے کہ خدا تعالیٰ نے خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو توریت سکھلائی اور مرزا قادیانی مسیح علیہ السلام کا توریت سکھلانے والا ایک یہودی کو لکھیں۔ واہ رے مرزا جی۔ تمہارا حوصلہ اور دوسرے امر کا خدا تعالیٰ نے مرزا قادیانی سے تحریری فیصلہ کرا دیا ہے۔ وہ یہ کہ اس جگہ نقل کرتا ہوں۔

دیکھو رسالہ (ضرورۃ الامام ص ١٦، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٦) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں ”یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے قوت نبوت سے اور نورِ حقیقت کے ساتھ شیطانی القا کو ہرگز ہرگز نزدیک آنے نہیں دیا۔ اس کے رفع میں فوراً مشغول ہو گئے اور جس

٧٨

طرح نور کے مقابل پر ظلمت ٹھہر نہیں سکتی بھاگ گیا۔ یہی ” ان عبادی لیس لك

ف ...... اہل انصاف مرزا قادیانی کی علیہ السلام نے شیطانی القا کو ہرگز ہرگز پا اور بھاگ گیا اور ضمیمہ انجام آتھم میں لکھ تھے۔ اسی وجہ سے آپ ایک مرتبہ شیطان بیان۔

اور دیکھو (ضمیمہ انجام آتھم ص نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

ف ...... معاذ اللہ معاذ اللہ معاذ اللہ مر والآخرۃ “ کی دادیوں اور نانیوں کی نسب کو ایسا بیہودہ کلمہ زبان پر لانا بھی اول درج نہیں ہے۔ ورنہ ادب سے کنارہ کش نہ ہو

اگر مرزائیوں کی ابھی تسلی نہیں ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣) میں لکھتے ہیں: ” دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں

ف ...... معاذ اللہ مرزا قادیانی حضر متکبر اور راستبازوں کا دشمن تھا اور ایک افسوس ہے ایسے عقل اور سمجھ پر اس سے ت الکاذبین “ کہو مرزائیو! آمین۔

مرزائیوں کے دھوکے کا جواب

اگر کوئی مرزائی کسی مسلمان میں سخت اور بے ادبانہ الفاظ لکھے ہیں انجیلوں میں ہر جگہ یسوع اور مسیح سے عیس موجود ہے کہ یسوع حضرت عیسیٰ علیہ ال

صفحہ ٩٧

طرح نور کے مقابل پر ظلمت ٹھہر نہیں سکتی۔ اسی طرح شیطان ان کے مقابل پر ٹھہر نہیں سکا اور بھاگ گیا۔ یہی ” ان عبادی لیس لك علیہم سلطان “ کے معنی ہیں ۔“

ف...... اہل انصاف مرزا قادیانی کی اس تحریر میں غور کریں کہ اقبال کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے شیطانی القا کو ہرگز ہرگز پاس آنے نہیں دیا۔ شیطان ان کے مقابل پر ٹھہر نہیں سکا اور بھاگ گیا اور ضمیمہ انجام آتھم میں لکھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام علمی اور عملی قویٰ میں بہت کچے تھے۔ اسی وجہ سے آپ ایک مرتبہ شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔ شرم شرم شرم ایک زبان اور دو بیان۔

اور دیکھو (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨١) میں لکھتے ہیں: ” آپ کا خاندان نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

ف...... معاذ اللہ معاذ اللہ مرزا قادیانی نے جو کچھ حضرت ” وجیہا فی الدنیا والاخرة “ کی دادیوں اور نانیوں کی نسبت بکواس بکا ہے۔ کسی مسلمان اہل ایمان کو اور سچے عیسائی کو ایسا بیہودہ کلمہ زبان پر لانا بھی اول درجہ کی بے حیائی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کو حیاء سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ ورنہ ادب سے کنارہ کش نہ ہوتے۔

اگر مرزائیوں کی ابھی تسلی نہیں ہوئی تو اور لکھتا ہوں۔ دیکھو مرزا قادیانی ( ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣) میں لکھتے ہیں: ”پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔“

ف...... معاذ اللہ مرزا قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت لکھتے ہیں کہ وہ ناپاک خیال اور متکبر اور راستبازوں کا دشمن تھا اور ایک بھلا مانس آدمی بھی نہ تھا۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دوں۔ افسوس ہے ایسے عقل اور سمجھ پر اس سے زیادہ اور کیا بے ادبی ہوگی؟ ” لعنت الله علیٰ الکاذبین “ کہو مرزائیو آمین۔

مرزائیوں کے دھوکے کا جواب

اگر کوئی مرزائی کسی مسلمان کو دھوکہ دے کر بھی کہے کہ مرزا قادیانی نے یسوع کے حق میں سخت اور بے ادبانہ الفاظ لکھے ہیں اور نہ مسیح علیہ السلام کی شان میں تو جواب یہ ہے کہ تمام انجیلوں میں ہر جگہ یسوع اور مسیح سے عیسیٰ علیہ السلام ہی مراد ہیں اور خود مرزا قادیانی کا تحریری اقبال موجود ہے کہ یسوع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہی نام ہے۔

٦٩

صفحہ ٩٨

دیکھو (توضیح المرام ص ٢٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢) میں لکھتے ہیں: ”مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“

ف....... افسوس اور حیف ہے ایسے عقل والے پر جس کو اپنا پہلا لکھا ہوا یاد نہ ہو اور یا دیدہ دانستہ لوگوں کو دھوکہ دیوے۔ اگر ابھی تسلی نہیں ہوئی تو دیکھو ایک اور نقل کرتا ہوں۔ (تحفہ قیصریہ ص ٢٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٤) میں لکھتے ہیں: ”اس خدا کے دائمی پیارے اور دائمی محبوب کی نسبت جس کا نام یسوع ہے، یہودیوں نے اپنی شرارت اور بے ایمانی سے لعنت کے برے سے برے مفہوم کو جائز رکھا۔ افسوس ہزار افسوس کہ یسوع مسیح جیسے خدا کے پیارے کی نسبت یہ اعتقاد رکھیں کہ کسی وقت اس کا دل لعنت کے مفہوم کا مصداق ہو گیا تھا۔“

ف....... اس عبارت سے بھی بقول مرزا قادیانی ثابت ہو گیا کہ یسوع ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام ہے۔ کیوں صاحب اب بھی کہو گے کہ عیسیٰ علیہ السلام اور ہے اور یسوع اور ہے؟ اگر اب بھی مرزائیوں کی پوری تسلی نہیں ہوئی ہے تو ایک اور حوالہ نقل کرتا ہوں۔ خدا سے ڈر کر ذرا غور سے پڑھیں اور حق کی طرف رجوع کریں۔ ضد سے باز آویں۔ دیکھو (تحفہ قیصریہ ص ٢٥، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٨) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

”اے مخدومہ ملکہ معظمہ یسوع مسیح کی بریت کے بارے میں یہ تینوں ذریعے شہادت دیتے ہیں۔ منقول کے ذریعے سے اس طرح تمام نوشتوں سے پایا جاتا ہے کہ یسوع دل کا غریب اور حلیم اور خدا سے پیار کرنے والا اور ہر دم خدا کے ساتھ تھا۔ پھر کیوں کر تجویز کیا جاوے کہ کسی وقت نعوذ باللہ اس کا دل خدا سے برگشتہ اور خدا کا منکر اور خدا کا دشمن ہو گیا تھا۔ جیسا کہ لعنت کا مفہوم دلالت کرتا ہے اور عقل کے ذریعہ سے اس طرح پر کہ عقل ہرگز باور نہیں کرتی کہ جو خدا کا نبی اور خدا کی توحید اور اس کی محبت سے بھرا ہوا اور جس کی سرشت نور سے خمیر ہو۔ اس میں نعوذ باللہ بے ایمانی اور نافرمانی کی تاریکی آ جائے۔ یعنی وہی تاریکی جس کو دوسرے لفظوں میں لعنت کہتے ہیں اور آسمانی نشانوں کے رو سے اس طرح پر کہ خدا آپ آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے خبر دے رہا ہے کہ مسیح علیہ السلام کی نسبت قرآن نے بیان کیا ہے وہ لعنت سے محفوظ رہا اور ایک سیکنڈ کے لئے بھی اس کا دل لعنتی نہیں ہوا۔ یہی سچ ہے۔“

ف....... سبحان اللہ! خداوند تعالیٰ کی عجیب قدرت ہے کہ جس یسوع کی نسبت نہایت بے ادبانہ اور گندے الفاظ مرزا قادیانی نے زبان سے بذریعہ تحریر نکالے تھے۔ اسی یسوع کی نسبت جناب ملکہ معظمہ کو خوش کرنے کے لئے اور نیز اس خوف سے کہیں گرفت نہ کیا جاؤں لکھتے ہیں کہ

٧٠

صفحہ ٩٩

”یسوع دل کا غریب اور حلیم اور خدا اسے پیار کرنے والا تھا اور ہر دم خدا کے ساتھ تھا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣) میں لکھا ہے کہ ”یسوع ناپاک خیال اور متکبر تھا اور راستبازوں کا دشمن تھا اور ایک بھلا مانس آدمی بھی نہ تھا۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔“ اور تحفہ میں یہ بھی لکھا کہ ”یسوع کی سرشت نور سے محروم تھی۔“ اور (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) میں یہ بھی لکھا کہ ”یسوع کی تین دادیاں اور نانیاں زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جنکے خون سے یسوع کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“ شرم! شرم!! شرم!!! ایسے شخص پر جس کی تحریر کا یہ حال ہو اور دعویٰ تو پھر یہ ہو کہ تمام دنیا بھر میں میری تحریر کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی مرزائی انصافاً اور ایماناً ایسے مختلف تحریروں کو غور سے پڑھے اور سوچے تو اس پر یہ ضرور ظاہر ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی کو اپنا پہلا لکھا ہوا یاد نہیں رہتا اور اس بات کا بھی اس کو ضرور یقین ہو جائے گا کہ یہ بقدرت خداوند قادر یسوع مسیح علیہ السلام کا معجزہ ہے کہ مرزا قادیانی نے بہت مدت سخت توہین کرنے کے بعد خلاف عادت یسوع کی تعریف عمدہ الفاظ میں اس طمع پر کی کہ جناب ملکہ معظمہ یسوع کی تعریف سن کر مجھ پر خوش ہوگی اور انعام عطاء کرے گی۔ مگر خدا کو مرزا قادیانی کا رسوا کرنا منظور تھا۔ ایک کوڑی بھی انعام نہ ملی۔ بجز افسوس اور مایوسی کے کچھ حاصل نہ ہوا اور مرزا قادیانی کے الہاموں کی حقیقت کھل گئی کہ شیطانی ہیں یا رحمانی۔

چودھواں باب ...... فخر کرنے کی برائی میں۔ حصہ اوّل

”ان اللہ لا یحب من کان مختالا فخورا“ ﴿تحقیق اللہ نہیں دوست رکھتا اس شخص کو کہ ہے تکبر کرنے والا شیخی کرنے والا۔﴾

”کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار“ ﴿اسی طرح مہر رکھتا ہے اللہ اوپر دل ہر تکبر کرنے والے سرکش کے۔﴾

”فلا تزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقی“ ﴿پس مت پاک کہو نفسوں اپنے کو وہ خوب جانتا ہے جو پرہیز گاری کرتا ہے۔﴾

”ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او قال اوحی الی ولم یوح الیہ شئ ومن قال سانزل مثل ما انزل اللہ“ ﴿اور کون ہے بہت ظالم اس شخص سے کہ باندھ لیتا ہے اوپر اللہ کے جھوٹ یا کہتا ہے وحی کی گئی طرف میری اور نہیں وحی کی گئی طرف اس کے کچھ اور کہتا ہے نازل کروں گا میں بھی مانند اس چیز کے کہ نازل کی اللہ نے۔﴾

”ان اللہ لا یحب المعتدین“ ﴿تحقیق اللہ نہیں دوست رکھتا سرکشوں کو۔﴾

٧١

صفحہ ١٠٠

حصہ دوم

اے بھائیو! کوئی ایسا مرتبہ اور منصب یا خطاب باقی نہیں ہوگا جس کے مدعی مرزا غلام احمد قادیانی نہ ہوئے ہوں اور نیز ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ میں اکثر انبیاء کا مثیل ہوں اور تمام روئے زمین کے مسلمانوں سے افضل ہوں۔ بلکہ یہاں تک دعویٰ ہے کہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام حسینؓ سے بھی افضل ہوں۔ اب میں بحجت ثبوت اصل عبارت مرزا قادیانی کی کتابوں سے ذیل میں نقل کرتا ہوں۔ دیکھو (فتح اسلام ص ٥٨، خزائن ج ٣ ص ٣٤) میں لکھتے ہیں:

”اس زمانہ کا حصن حصین میں ہوں جو مجھ میں داخل ہوتا ہے۔ وہ چوروں اور قزاقوں اور درندوں سے اپنی جان بچائے گا۔ مگر جو شخص میری دیواروں سے دور رہتا ہے۔ اس کو موت درپیش ہے۔ اس کی لاش بھی سلامت نہیں رہے گی۔“

ف ....... اہل انصاف خیال فرماویں یہ محض فخر نہیں تو اور کیا ہے۔ اپنے منہ سے اپنی تعریف اور (ازالہ اوہام ص ٢، خزائن ج ٣ ص ١٠٤) میں تحریر کرتے ہیں: ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مر گئے۔ مگر جو شخص میرے ہاتھ سے جام پیئے گا۔ جو مجھے دیا گیا ہے۔ وہ ہرگز نہ مرے گا۔“

ف ....... فخر ہو تو ایسا ہی ہو۔ آپ ہی مدعی اور آپ ہی گواہ، کیا عمدہ ثبوت ہے۔ اور (ازالہ اوہام ص ٣٩، خزائن ج ٣ ص ١٢٢) میں لکھتے ہیں: ”میں مسیح موعود ہوں۔“

ف ....... اپنے قول کی آپ ہی تصدیق کرنا کیا عمدہ ثبوت ہے۔ اور (ازالہ اوہام ص ٦٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٦) میں تحریر کرتے ہیں: ”مسلمانوں سے کوئی ایسا شخص مراد ہے۔ جو اپنی روحانی حالت کے رو سے مسیح سے اور نیز امام حسینؓ سے بھی مشابہت رکھتا ہے۔“

ف ....... مرزا قادیانی کا یہ مطلب ہے کہ میں روحانی حالت کی رو سے مسیح سے اور نیز امام حسین سے بھی مشابہت رکھتا ہوں۔ اور دیکھو (ازالہ اوہام ص ٦٨ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٦ حاشیہ) میں لکھتے ہیں: ”مسیح جو اتر نے والا ہے۔ وہ یہی مثیل مسیح ہے اور حسینی فطرت ہے۔“

لے دیکھو رسالہ (دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) میں جو مورخہ ٢٣؍ اپریل ١٩٠٢ء میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ”اے شیعہ قوم اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے جو حسین سے بڑھ کر ہے۔“ ف ....... فخر بے جا

٧٢

صفحہ ١٠١

ف...... یہاں مرزا قادیانی حسینی فطرت کے دعوٰی دار ہوئے ہیں۔

اور دیکھو (اخبار الحکم نمبر ٤ ج ٤ مورخہ ١٠؍نومبر ١٩٠٠ء، ملفوظات ج ٢ ص ١٤٢، ج ٣ ص ١٤٦) میں مرزا تحریر کرتے ہیں: ”اس لئے یاد رکھو کہ پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑ دو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے۔ اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔“

ف...... اس جگہ مرزا قادیانی نے اپنے کو زندہ علی قرار دیا اور حضرت علی علیہ السلام کو مردہ علی کہا۔

اور (ازالہ اوہام ص ٤٤٢، خزائن ج ٣ ص ٣٣٣) میں لکھتے ہیں: ”بلاشبہ میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر میری کلام سے مردہ زندہ نہ ہوں اور اندھے آنکھیں نہ کھولیں اور مجذوم صاف نہ ہوں۔ تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں آیا۔“

ف...... اہل انصاف غور کریں یہ محض فخر اور جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے۔

اور (ازالہ اوہام ص ٢٥٦، خزائن ج ٣ ص ٢٣٢) میں تحریر کرتے ہیں: ”اس عاجز کا نام آدم بھی رکھا اور مسیح بھی۔“

ف...... اس جگہ مرزا قادیانی آدم بننے کے مدعی بھی ہوئے۔

اور (ازالہ اوہام ص ١٩٢، خزائن ج ٣ ص ١٩٣) میں لکھتے ہیں: ”(الھام) یا احمدی بارك الله فيك ما رميت اذ رميت ولكن الله رمى الرحمن علم القرآن لتنذر قوما ما انذر اباؤھم“ یعنی میرا احمد خدا تعالیٰ نے تجھ میں برکت ڈال دی ہے۔ جو کچھ تو نے چلایا۔ جبکہ تو نے نہیں بلکہ خدا نے چلا دیا۔ وہی رحمن ہے۔ جس نے قرآن تجھے سکھلایا تاکہ ان لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے۔“

ف...... اہل انصاف غور کریں ایسا دعوٰی محض فخر اور جھوٹ نہیں ہے تو اور کیا ہے۔

اور (ازالہ اوہام ص ٢٥٣، خزائن ج ٣ ص ٢٢٧) میں تحریر کرتے ہیں: ”کتاب براہین احمدیہ میں خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو آدم صفی اللہ کا مثیل قرار دیا اور کسی علماء میں سے اس بات پر ذرہ رنج دل میں نہیں گزرا اور پھر مثیل نوح قرار دیا۔ کوئی رنجیدہ نہیں ہوا اور پھر مثیل یوسف علیہ السلام قرار دیا اور کسی مولوی صاحب کو اس سے غصہ نہیں آیا اور پھر مثیل داؤد بیان فرمایا اور کوئی علماء میں سے رنجیدہ خاطر نہ ہوا اور پھر مثیل موسیٰ کر کے بھی اس عاجز کو پکارا کوئی فقیہوں اور محدثوں سے مشتعل نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کو مثیل ابراہیم بھی کہا تو کسی شخص نے ایک ذرہ بھر غیظ و غضب ظاہر نہیں کیا اور پھر آخر مثیل مسیح ٹھہرانے کی یہاں تک نوبت پہنچی کہ بار بار یا احمد کے خطاب سے مخاطب کر کے ظلی طور پر مثیل سید الانبیاء وامام الاصفیاء حضرت اقدس محمد ﷺ قرار

٧٣

صفحہ ١٠٢

دیا تو کوئی ہماری مفسروں اور محدثوں میں سے جوش خروش میں نہیں آیا اور جب خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو عیسیٰ یا مثیل عیسیٰ کر کے پکارا تو سب کی شدت طیش اور غضب کی وجہ سے چہرے سرخ ہو گئے اور سخت درجہ کا اشتعال پیدا ہو کر کسی نے اس عاجز کو کافر ٹھہرا دیا اور کسی نے اس عاجز کا نام ملحد رکھا۔ جیسا کہ مولوی عبدالرحمن صاحب خلف مولوی محمد لکھووالہ نے اس عاجز کا نام ملحد رکھا۔‘‘

ف ...... اہل انصاف غور کریں کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ بھی اپنی زبان سے یہ ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے حضرت آدم اور حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت یوسف اور حضرت داؤد اور حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم اور حضرت محمد ﷺ کا مثیل بنا دیا۔ یہ ایک ایسا دعویٰ ہے کہ جس کا مدعی خود ہی گواہ ہو اور مولوی عبدالرحمن صاحب مرحوم کا مرزا قادیانی کو کافر کہنا بھی اسی بناء پر ہے کہ مجھ کو خداوند تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ شخص یعنی مرزا قادیانی کافر ہے۔ بلکہ اکثر علمائے ہندوستان اور پنجاب نے مرزا قادیانی کو کفر کا فتویٰ دے دیا ہے۔ جو چھپا ہوا میرے پاس موجود ہے۔

اور (ازالہ اوہام ص ٦٩٥ ، خزائن ج ٣ ص ٤٧٥) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ’’اس حکیم مطلق نے اس عاجز کا نام آدم اور خلیفۃ اللہ رکھ کر اور ”اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً “ کی کھلے کھلے طور پر براہین احمدیہ میں بشارت دے کر لوگوں کو توجہ دلائے کہ تا کہ اس خلیفۃ اللہ آدم کی اطاعت کریں اور اطاعت کرنے والی جماعت سے باہر نہ رہیں اور ابلیس کی طرح دھوکہ نہ کھاویں اور ”مَنْ شَذَّ شَذَّ فِی النَّارِ “ کی تہدید سے بچیں۔‘‘

ف ...... اس جگہ مرزا قادیانی خلیفۃ اللہ آدم ہونے کے دعویٰ دار بنے اور اپنی اطاعت کرانے کے لئے بھی مدعی اور نیز یہ بھی لکھا کہ جو اطاعت نہ کرے گا شیطان کی طرح دوزخی ہوگا۔ یعنی دوزخ کی دھمکی دیتے ہیں۔ اپنی اطاعت کرانے کے لئے ۔ اللہ بچائے ایسی کج روی سے۔

اور (ازالہ اوہام ص ٥٦٣، خزائن ج ٣ ص ٤٠٣) میں تحریر کرتے ہیں: ’’میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے اور میری تقویت کے لئے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے۔ جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر میں دیکھ رہا ہوں۔ میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے۔ جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے اور آسمان پر ایک جوش اور ابال پیدا ہوا ہے۔ جس نے پتلی کی طرح اس مشتِ خاک کو کھڑا کر دیا ہے۔‘‘

ف ...... اہل انصاف غور کریں کہ یہ کیسا بیجا فخر ہے اور یہ بھی ایک ایسا دعویٰ ہے جیسے کوئی آپ ہی مدعی اور آپ ہی گواہ ہو۔

اور (ازالہ اوہام ص ١١٨، خزائن ج ٣ ص ١٥٨ حاشیہ) میں لکھتے ہیں: ’’جو بات اس عاجز کی

٧٢

صفحہ ١٠٣

ں سے جوش خروش میں نہیں آیا اور جب خدا تعالیٰ نے اس سب کی شدت طیش اور غضب کی وجہ سے چہرے سرخ ہو گئے اس عاجز کو کافر ٹھہرا دیا اور کسی نے اس عاجز کا نام ملحد رکھا۔ مولوی محمد لکھووالے نے اس عاجز کا نام ملحد رکھا۔“

مرزا قادیانی کا دعویٰ بھی اپنی زبان سے یہ ہے کہ مجھے خدا علیہ السلام اور حضرت یوسف اور حضرت داؤد اور حضرت یٰ کا مثیل بنا دیا۔ یہ ایک ایسا دعویٰ ہے کہ جس کا مدعی خود مرحوم کا مرزا قادیانی کو کافر کہنا بھی اسی بناء پر ہے کہ مجھ کو نی مرزا قادیانی کافر ہے۔ بلکہ اکثر علمائے ہندوستان اور دے دیا ہے۔ جو چھپا ہوا میرے پاس موجود ہے۔

ن ج٣ ص٢٧٥) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اس حکیم اللہ رکھ کر اور ’اِنّی جاعل فی الارض خلیفۃ‘ کی ت دے کر لوگوں کو توجہ دلائے کہ تاکہ اس خلیفۃ اللہ آدم کی ماعت سے باہر نہ رہیں اور ابلیس کی طرح دھوکہ نہ کھاویں سے بچیں۔“

للہ آدم ہونے کے دعویٰ دار بنے اور اپنی اطاعت کرانے و اطاعت نہ کرے گا شیطان کی طرح دوزخی ہوگا۔ یعنی کرانے کے لئے۔ اللہ بچائے ایسی کج روی سے۔

ج٣ ص٢٠٣) میں تحریر کرتے ہیں: ”میری زبان کی تائید تقویت کے لئے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے۔ جس کو دنیا اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے۔ جو میرے لفظ لفظ ن پر ایک جوش اور ابال پیدا ہوا ہے۔ جس نے پتلی کی سچا فخر ہے اور یہ بھی ایک ایسا دعویٰ ہے جیسے کوئی آپ

٤ ص١٥٨ حاشیہ) میں لکھتے ہیں: ”جو بات اس عاجز کی ٧٤

دعا کے ذریعہ سے روکی جاوے۔ وہ کسی اور ذریعہ سے قبول نہیں ہو سکتی اور جو دروازہ اس عاجز کے ذریعہ کھولا جاوے وہ کسی اور ذریعہ سے بند نہیں ہو سکتا۔“

ف...... یہ بھی دعویٰ محض فخر اور جھوٹ نہیں ہے تو اور کیا ہے؟

اور (ازالہ اوہام ص١٥٨، خزائن ج٣ ص١٨٠) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

ایک منم کہ حسب بشارات آدم
عیسیٰ کجا است تا بنہد پا بمنبرم

اور (ازالہ اوہام ص١٥٨، خزائن ج٣ ص٤٥٠) میں تحریر کرتے ہیں: ”اس مسیح کو اسرائیلی مسیح پر ایک جزئی فضیلت حاصل ہے۔ کیونکہ اس کی دعوت عام ہے اور اس کی خاص تھی اور اس کو طفیلی طور پر تمام مخالف فرقوں کے اوہام دور کرنے کے لئے وہ حکمت اور معرفت سکھلائی گئی ہے۔ جو مسیح بن مریم کو نہیں سکھلائی تھی۔“

ف...... اس عبارت سے بقول مرزا قادیانی یہ صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو مسیح علیہ السلام سے افضل جانتے ہیں۔ دیکھو خدا نے حق ظاہر کر دیا مدعی بھول گیا اور ہار گیا

(تحفہ قیصریہ ص٢٢، خزائن ج١٢ ص٢٧٤) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”میں حضرت یسوع مسیح کی طرف سے ایک سچے سفیر کی حیثیت سے کھڑا ہوں۔“

اور دیکھو (تحفہ قیصریہ ص٢٣، خزائن ج١٢ ص٢٧٧) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ” حضرت یسوع مسیح کی سچی محبت اور سچی عظمت جو میرے دل میں ہے اور نیز جو باتیں وہ میں نے یسوع مسیح کی زبان سے سنیں اور وہ پیغام جو اس نے مجھے دیا ان سب امور نے مجھے تحریک کی کہ میں ملکہ معظمہ کے حضور میں یسوع مسیح کی طرف سے ایلچی ہو کر با ادب التماس کروں۔“

ف...... سچ ہے کہ طمع عقلمندوں کو بھی بھلا دیتا ہے۔

دیکھو (تحفہ قیصریہ ص٢٢، ٢٣) کی عبارت کو اور نیز دیکھو (ازالہ اوہام ص١٥٨، ٤٤٨) کی عبارت کو جن میں مرزا قادیانی نے لکھا کہ مسیح سے افضل ہوں۔ بلکہ یہاں تک فخر (عیسیٰ کجا است تا بنہد پا بمنبرم) اور وہی مرزا قادیانی تحفہ قیصریہ میں انعام کی امید پر جناب ملکہ معظمہ صاحبہ کو خوش کرنے کے واسطے تحریری اقبال کرتے ہیں کہ ”اے ملکہ معظمہ میں یسوع مسیح کی طرف سے سچے سفیر کی حیثیت میں کھڑا ہوں اور یسوع مسیح کی طرف سے ایلچی ہو کر با ادب التماس کرتا ہوں۔“ ٧٥

صفحہ ١٠٤

اے بھائیو طمع بری بلا ہے۔ جس نے مرزا قادیانی کو یسوع مسیح کا ایلچی ١؎ بنا دیا۔ مگر جائے افسوس تو یہ امر ہے کہ مرزا قادیانی ایلچی بھی بنے تاہم بھی انعام سے محروم رہے۔ ہزار افسوس ہے ایسے شخص کی حالت پر جس کی ایک زبان اور ہزار مختلف بیان ہوں۔ اللہ تعالیٰ تمام اہل اسلام کو فتنہ زمانہ سے بچاوے۔ آمین ثم آمین!

اور (ازالہ اوہام ص ٧٠١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٨) میں تحریر کرتے ہیں: ”کہ جو کچھ اس عاجز کو رؤیا صالحہ اور مکاشفہ اور استجابت دعا اور الہام صحیحہ صادقہ سے حصہ وافر نبیوں کے قریب قریب دیا گیا ہے۔ وہ دوسروں کو تمام عالم کے مسلمانوں میں سے ہرگز نہیں دیا گیا۔“

ف...... یہ دعویٰ بھی فخر اور جھوٹ ہے اور میں اہل انصاف کی خدمت میں مرزا قادیانی کی تحریر ذیل سے ایسے بیجا فخر اور جھوٹ صریح کو ثابت کر کے دکھا دیتا ہوں۔ غور سے پڑھیں اور سوچ کریں۔

دیکھو (ازالہ اوہام ص ٤٢، خزائن ج ٣ ص ١١٩) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ”عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ تم نظر اٹھا کر دیکھو گے کہ کوئی ہندو ان پڑھ دکھائی دے۔ مگر لاکھوں میں سے ایک ہندو بھی تمہیں دکھائی نہیں دے گا۔ سو تم ان کی جوشوں سے گھبرا کر ناامید مت ہو۔ کیونکہ وہ اندر ہی اندر اسلام کے قبول کرنے کے لئے تیاری کر رہے ہیں اور اسلام کی ڈیوڑھی کے قریب آچکے ہیں۔“

ف...... مرزا قادیانی نے ١٣٠٨ھ میں یہ لکھا تھا کہ عنقریب تمام ہندو مسلمان ہو جاویں گے اور ایک ہندو بھی دکھائی نہیں دے گا۔ کیونکہ اسلام کے قبول کرنے کے لئے اسلام کی ڈیوڑھی کے قریب آچکے ہیں۔ مگر مجھے بڑا تعجب آتا ہے کہ اس بات کو عرصہ قریباً گیارہ سال کا گزر چکا ہے اور بقول مرزا قادیانی بے چارے ہندو اسلام کی ڈیوڑھی پر اسلام کے قبول کرنے کے لئے کھڑے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی ان میں سے فیصدی پانچ کو بھی مسلمان نہیں کرسکے حیف ہے کہ غرور کریں

١؎ یہاں مرزا قادیانی اس یسوع کے ایلچی ہونے پر فخر کرتا ہے۔ جس کو وہ خود ہی چور وغیرہ لکھ چکا ہے۔ افسوس ایسی سمجھ پر

٢؎ مرزا قادیانی کی ایک زبان اور دو بیان۔ دیکھو رسالہ (دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) میں تحریر کرتے ہیں: ”اے عیسائی مشنریو اب ربنا مسیح مت کہو اور دیکھو کہ تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔“

ف...... کجا ایلچی بننا اور کجا افضلیت کا دعویٰ، واہ مرزا قادیانی، عجیب قسم کا فخر ہے۔

٧٦

صفحہ ١٠٥

تا کہ پیش گوئی بھی پوری ہو اور ترقی اسلام کا باعث بھی ہو۔ مگر جائے افسوس تو یہ بات ہے کہ جو سنی جاتی ہے کہ مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی کے بعد لاہور وغیرہ جگہ کے ہندوؤں نے بھی بہت ہی مسلمانوں کو ہندو بنا کر اپنے مذہب میں شامل کر لیا ہے اور کرتے رہتے ہیں۔ واہ واہ واہ مرزا قادیانی کی پیش گوئی؟ پنجابی مثل ہے۔ پیرا سنگی سی مٹھاں نوں دتیوی اوتے نوں۔ اہل انصاف کی تسلی کے لئے ایک اور پیش گوئی بھی نقل کرتا ہوں۔ ناظرین ضرور دلی توجہ سے غور فرمائیں۔

(ازالۃ الاوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ”عرصہ قریباً تین برس کا ہوا ہے کہ بعض تحریکات کی وجہ سے جن کا مفصل ذکر اشتہار دہم جولائی ١٨٨٨ء میں درج ہے۔ خدا تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آویں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا۔“

ف....... اس الہام سے بقول مرزا قادیانی ظاہر ہے کہ خداوند تعالیٰ نے فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد گاماں بیگ کی دختر کلاں کا نکاح مرزا قادیانی سے ضرور ہوگا۔ لوگوں کی عداوت اور کوشش کچھ کام نہ آوے گی۔ اس کے بعد دوسرا الہام۔

(ازالۃ الاوہام ص ٣٩٨، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”جب یہ پیش گوئی معلوم ہوئی اور ابھی پوری نہیں ہوئی۔ (جیسا کہ اب تک بھی جو ١٦؍ اپریل ١٨٩١ء ہے، پوری نہیں ہوئی ۔) تو اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی اس وقت گویا یہ پیش گوئی آنکھوں کے سامنے آ گئی اور یہ معلوم ہورہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیش گوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے معنی ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا۔ تب اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا ”الحق من ربك فلا تكونن من الممترين “ یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے اور تو کیوں شک کرتا ہے۔“

ف....... اس تحریر سے ثابت ہے کہ پہلے الہام کے بعد دو یا تین سال مرزا قادیانی سخت بیمار ہوئے۔ یہاں تک کہ مرنے کا گمان بھی مرزا قادیانی کو ہو گیا اور قریب موت کی حالت میں مرزا قادیانی کو مرزا احمد بیگ کی لڑکی کی شادی کا دل میں خیال آیا کہ ہائے مجھے کیوں نہیں ملی۔ اب تو میں مرنے والا ہوں۔ کل جنازہ نکلے گا۔ شاید میں نے پہلے الہام کے معنی نہ سمجھے ہوں تو اسی حالت میں دوسرا الہام یہ ہوا ”الحق من ربك فلا تكونن من الممترين “ یعنی یہ بات تیرے رب

٧٧

صفحہ ١٠٦

کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔ سبحان اللہ عشق بری بلا ہے مرزا قادیانی کو ایسی محبت مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے ساتھ شادی کرنے کی تھی۔ جس کو قریب موت بھی نہ بھولے اب آگے تیسرا الہام بھی حسب ذیل نقل کرتا ہوں۔

دیکھو (فیصلہ آسمانی آخری حصہ خزائن ج ٣ ص ٢٥٠) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں: ”اور مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات سچ ہے کہ اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے روک نہیں سکتے۔ ہم نے اس سے تیرا عقد نکاح باندھ دیا ہے۔ میری باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا اور نشان دیکھ کر منہ پھیر لیں گے اور کہیں گے کہ یہ کوئی پکا فریب یا پکا جادو ہے۔“

ف۔ مرزا قادیانی کے اس تیسری دفعہ کے الہام سے یہ امر بخوبی بقول مرزا قادیانی ظاہر ہے کہ خدا نے مرزا قادیانی سے کہا کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح میں نے تیرے ساتھ باندھ دیا ہے اور نیز یہ بھی خدا نے کہا ہے کہ تو لوگوں کو کہہ ”مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ بات سچ ہے کوئی اس بات کو وقوع میں آنے سے روک نہیں سکتا اور نہ کوئی خدا کی باتوں کو بدل سکتا ہے۔ یعنی وہ تیرے پاس ضرور آوے گی۔“ مگر افسوس صد افسوس اور حیف ہزار حیف مرزا قادیانی کے تین دفعہ کے ایسے بناوٹی الہاموں پر کہ ناحق تین دفعہ خدا صادق الوعد پر جھوٹ بولا۔ اس واسطے کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کی شادی ایک اور شخص سے ہو گئی اور مرزا قادیانی کی وہ دلی مراد جس کو وہ قریب موت بھی نہیں بھولے تھے، نہ موت کے پیچھے آئے اور نہ مراد پوری ہوئی۔ ہاتھ دھوتے ہی مایوس رہ گئے۔ اب یہ امر فیصلہ طلب ہے کہ مرزا غلام احمد کے یہ تینوں الہام اس خدا کی طرف سے تھے۔ جو عالم الغیب اور صادق الوعد ہے یا بناوٹی تھے۔ اگر ہم اس بات کو مان بھی لیں کہ یہ الہام سچے خدا کی طرف سے تھے تو معاذ اللہ ہم کو پھر یہ کہنا پڑے گا کہ اس خدا نے جس نے مرزا قادیانی کو دو دفعہ یہ کہا کہ ”تیری شادی ضرور مرزا احمد بیگ کی لڑکی سے ہو گی۔ میری باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا۔“

بلکہ مرزا قادیانی کو یہ بھی کہا تو شک مت کر جیسے ”الحق من ربک فلا تکونن من الممترین“ یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے اور تیسرے الہام میں فرمایا کہ میں نے تیرا عقد نکاح اس سے باندھ دیا ہے، ضرور تیرے پاس آوے گی۔ یہاں تک کہ تو کہہ دے مجھے اپنے رب کی قسم ہے یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے روک نہیں سکتے۔ کیوں اپنے وعدے کو پورا نہ کیا۔

ہائے نالے رائیگاں، ہائے حسرت گئی۔ مرزا عشق میں کیا کیا لٹیا۔ ایسی پیش گوئی خدایا کسی کو نصیب نہ ہو جس سے ایسی حالت ہو۔

٧٨

صفحہ ١٠٧

لیکن ہم اس خدا صادق الوعد کی نسبت ایسا خیال کر کے سفید کافر کیوں بنیں۔ بیشک یہ تینوں دفعہ کے مرزا قادیانی کے الہام بناوٹی ہی تھے۔ یا شیطان کی طرف سے تھے۔ اگر صادق خدا کی طرف سے ہوتے تو ضرور ہی پورے ہوتے۔ اب آگے اور بھی ایک الہام نقل کرتا ہوں۔ دیکھو مرزا قادیانی کی عالی ہمت بھی قابل ذکر ہے کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی پر اور شخص سے شادی ہو جانے کے بعد مرزا قادیانی نے یہ اشتہار جاری کر دیا کہ اس کا خاوند ٢١؍ نومبر ١٨٩٤ء تک مر جائے گا۔ یہ چوتھی دفعہ کا الہام ہے۔ مگر یہ بھی بناوٹی تھا۔ غلط ہی نکلا۔ کیونکہ مرزا احمد بیگ کا داماد ٢١؍ نومبر ١٨٩٤ء تک بھی نہ مرا۔ خدا نے مرزا کو سچا نہ کیا اور سنا جاتا ہے کہ آج بلمورخہ ٢٨؍ دسمبر ١٩٠١ء تک اس لڑکی کا خاوند اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے زندہ موجود ہے اور وہ عورت اس کے گھر میں آباد اور صاحب اولاد ہے۔ اگر اب بھی مرزائیوں کی تسلی نہیں ہوئی تو اور نقل کرتا ہوں۔ دیکھو (اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ کے ص٤ حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٩٥) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”احمد بیگ کے داماد کی وفات کے بارہ میں سنت اللہ کے موافق تاخیر ڈالی گئی۔ (نوٹ میں تحریر کرتے ہیں) احمد بیگ کے داماد کا یہ قصور تھا کہ اس نے تخویف کا اشتہار دیکھ کر اس کی پرواہ نہ کی۔ خط پر خط بھیجے گئے۔ اس سے کچھ نہ ڈرا پیغام بھیج کر سمجھایا گیا۔ کسی نے اس طرف ذرا التفات نہ کی اور احمد بیگ سے ترک تعلق نہ چاہا بلکہ وہ سب گستاخی اور استہزا میں شریک ہوئے۔ سو یہی قصور تھا کہ پیش گوئی کو سن کر پھر ناطہ کرنے پر راضی ہوئے۔“

ف....... اس عبارت سے دو امر بخوبی ظاہر ہیں۔

والدین کسی اور شخص سے شادی نہ کریں۔ ورنہ نقصان اٹھاویں گے۔

ناظرین کے دل کی تشفی کے لئے مرزا قادیانی کے تین خط حرف بہ حرف ذیل میں نقل کرتا ہوں جو مولوی غلام احمد قادیانی ساکن ضلع امرتسر نے اپنے رسالہ ”نکاح آسمانی کے راز ہائے نہانی“ کے صفحہ ١٠ تا ١٤ میں لکھتے ہیں کہ یہ ہیں۔ غور سے ملاحظہ فرمائیں۔

”بسم الله الرحمن الرحيم، نحمده ونصلی“ مشفقی مکرمی اخویم مرزا احمد بیگ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔

١؎ اس کے ہاں چھ سات بچے موجود ہیں اور ہر سال نیا بچہ جنتی ہے اور کبھی کبھی قادیان میں بھی وہ دونوں میاں بیوی مرزا قادیانی کو شرمسار کرنے کے لئے جاتے رہتے ہیں۔

٧٩

صفحہ ١٠٨

قادیاں میں جب واقعہ ہائلہ محمود فرزند آں مکرم کی خبر سنی تھی تو بہت درد اور رنج و غم ہوا۔ لیکن وجہ اس کی کہ یہ عاجز بیمار تھا اور خط نہیں لکھ سکتا تھا۔ اس لئے عزا پرسی سے مجبور رہا۔ صدمہ وفات فرزند درحقیقت میں ایک ایسا صدمہ ہے کہ شاید اس کے برابر دنیا میں اور کوئی صدمہ نہ ہو گا۔ خصوصاً بچوں کی ماؤں کے لئے تو سخت مصیبت ہوتی ہے۔ خداوند تعالیٰ آپ کو صبر بخشے اور اس کا بدل صالح عطا کرے اور عزیز مرزا محمد بیگ کو عمر دراز بخشے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی بات اس کے آگے انہونی نہیں۔ آپ کے دل میں گو اس عاجز کی نسبت کچھ غبار ہو۔ لیکن خداوند علیم جانتا ہے کہ اس عاجز کا دل بکلی صاف ہے اور خدائے قادر مطلق سے آپ کے لئے خیر وبرکت چاہتا ہوں۔

میں نہیں جانتا کہ میں کس طریق اور کن لفظوں میں بیان کروں تا کہ میرے دل کی محبت اور خلوص اور ہمدردی جو آپ کی نسبت ہے، آپ پر ظاہر ہو جائے۔ مسلمانوں کے ہر ایک نزاع کا اخیری فیصلہ قسم پر ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان خدائے تعالیٰ کی قسم کھا جاتا ہے۔ تو دوسرا مسلمان اس کی نسبت فی الفور دل صاف کر لیتا ہے۔ سو ہمیں خدا تعالیٰ قادر مطلق کی قسم ہے کہ میں اس بات میں بالکل سچا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا تھا کہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اس عاجز سے ہوگا اور اگر دوسری جگہ ہوگا۔ تو خدا تعالیٰ کی لعنتیں وارد ہوں گی اور آخر اسی جگہ ہوگا کیونکہ آپ میرے عزیز اور پیارے تھے۔ اس لئے میں نے عین خیر خواہی سے آپ کو جتلایا کہ دوسری جگہ اس رشتے کا کرنا ہرگز مبارک نہ ہوگا۔ میں نہایت ظالم طبع ہوتا جو آپ پر ظاہر نہ کرتا اور میں اب بھی عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتہ سے آپ انحراف نہ فرماویں کہ یہ آپ کی لڑکی کے لئے نہایت درجہ موجب برکت ہوگا اور خدا تعالیٰ ان برکتوں کا دروازہ کھول دے گا۔ جو آپ کے خیال میں نہیں۔ کوئی غم اور فکر کی بات نہیں ہوگی۔ جب کہ یہ اس کا حکم ہے جس کے ہاتھ میں زمین اور آسمان کی کنجی ہے تو پھر کیوں اس میں خرابی ہوگی۔

ہو جانا اس کا حکم تھا تو پھر کیوں نہ ہوسکی؟

٨٠

٠٩ اور آپ کو شاید معلوم ہوگا یا نہیں کہ یہ چکی ہے اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے ا ہے اور ایک جہان کی اس پر نظر لگی ہوئی ہے اور ہا منتظر ہیں کہ یہ پیش گوئی جھوٹی نکلے تو ہمارا پلہ بھار اپنے دین کی مدد کرے گا۔ میں نے لاہور میں م کے بعد اس پیش گوئی کے ظہور کے لئے بصدق ا ایمانی کا تقاضا ہے اور یہ عاجز جیسے ”لا اله الا ال ہی خدا تعالیٰ کے ان الہامات پر جو تواتر سے اس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کے پو برکتیں آپ پر نازل ہوں۔ خدا تعالیٰ سے کوئی ہے۔ زمین پر وہ ہرگز بدل نہیں سکتا۔

خدا تعالیٰ آپ کو دین اور دنیا کی برک جس کا اس نے آسمان پر سے مجھے الہام کیا ہے آپ کو خدا تعالیٰ عطاء فرمادے۔ اگر میرے والسلام۔ (الراقم خاکسار احقر م

دوسرا خط بھی حرف بحرف ذیل میں نق

” بسم الله الرحمن الرح صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و

تو پھر یہ واویلا کیوں کیا؟

یہ خط کیوں لکھا اور پھر بھی شادی سے محرومی کیوں

صفحہ ١٠٩

اور آپ کو شاید معلوم ہوگا یا نہیں کہ یہ پیش گوئی اس عاجز کی ہزار ہا لوگوں میں مشہور ہو چکی ہے اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زیادہ آدمی ہوگا۔ جو اس پیش گوئی پر اطلاع رکھتا ہے اور ایک جہان کی اس پر نظر لگی ہوئی ہے اور ہزاروں پادری شرارت سے نہیں بلکہ حماقت سے منتظر ہیں کہ یہ پیش گوئی جھوٹی نکلے تو ہمارا پلہ بھاری ہو۔ لیکن یقینا خدا تعالیٰ ان کو رسوا کرے گا اور اپنے دین کی مدد کرے گا۔ میں نے لاہور میں جا کر معلوم کیا کہ ہزاروں مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس پیش گوئی کے ظہور کے لئے بصدق دل دعا کرتے ہیں۔ سو یہ ان کی ہمدردی اور محبت ایمانی کا تقاضا ہے اور یہ عاجز جیسے ”لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ پر ایمان لایا ہے ویسے ہی خدا تعالیٰ کے ان الہامات پر جو تواتر سے اس عاجز پر ہوئے، ایمان لاتا ہے اور آپ سے ملتمس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے لئے معاون بنیں تاکہ خدا تعالیٰ کی برکتیں آپ پر نازل ہوں۔ خدا تعالیٰ سے کوئی بندہ لڑائی نہیں کر سکتا اور جو امر آسمان پر ٹھہر چکا ہے۔ زمین پر وہ ہرگز بدل نہیں سکتا۔

خدا تعالیٰ آپ کو دین اور دنیا کی برکتیں عطا کرے اور آپ کے دل میں وہ بات ڈالے جس کا اس نے آسمان پر سے مجھے الہام کیا ہے۔ آپ کے سب غم دور ہوں اور دین و دنیا دونوں آپ کو خدا تعالیٰ عطا فرمادے۔ اگر میرے اس خط میں کوئی ناملائم لفظ ہو تو معاف فرماویں والسلام۔

(الراقم خاکسار احقر عباداللہ غلام احمد عفی عنہ۔ مورخہ ١٧؍جولائی ١٨٩٠ء بروز جمعہ)

دوسرا خط بھی حرف بحرف ذیل میں نقل کرتا ہوں

”بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمدہ ونصلی“ منشی مرزا علی شیر بیگ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ!

تو پھر یہ واویلا کیوں کیا؟

یہ خط کیوں لکھا اور پھر بھی شادی سے محرومی کیوں حاصل ہوئی۔

٨١

صفحہ ١١٠

اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو آپ سے کسی طرح سے فرق نہ تھا اور میں آپ کو غریب طبع اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں۔ لیکن اب جو آپ کو ایک خبر سناتا ہوں۔ آپ کو اس سے بہت رنج گزرے گا۔ مگر میں محض للہ ان لوگوں سے تعلق چھوڑنا چاہتا ہوں۔ جو مجھے ناچیز بتاتے ہیں اور دین کی پرواہ نہیں کرتے۔ آپ کو معلوم ہے کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے بارہ میں ان لوگوں کے ساتھ کس قدر میری عداوت ہو رہی ہے۔ اب میں نے سنا ہے کہ عید کی دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور آپ کے گھر کے لوگ اس مشورہ میں ساتھ ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں۔ بلکہ میرے کیا دین اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں۔ ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور اللہ رسول کے دین کی کچھ پرواہ نہیں رکھتے اور اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس کو خوار کیا جائے۔ ذلیل کیا جائے۔ روسیاہ کیا جائے۔ یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں۔ اب مجھ کو بچالینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اگر میں خدا کا ہوں گا تو ضرور مجھے بچائے گا۔ اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھتا۔ کیا میں چوہڑا یا چمار تھا۔ جو مجھ کو لڑکی دینا عار یا ننگ تھی۔ بلکہ وہ تو اب تک ہاں سے ہاں ملاتے رہے اور اپنے بھائی کے لئے مجھے چھوڑ دیا اور اب اس لڑکی کے نکاح کے لئے سب ایک ہو گئے۔ یوں تو مجھے کسی کی لڑکی سے کیا غرض کہیں جائے مگر یہ تو آزمایا گیا کہ جن کو میں خویش سمجھتا تھا اور جن کی لڑکی کے لئے چاہتا تھا کہ اس کی اولاد ہو اور وہ میری وارث ہو۔ وہی میرے خون کے پیاسے وہی میری عزت کے پیاسے ہیں کہ چاہتے ہیں کہ خوار ہو اور روسیاہ ہو۔ خدا بے نیاز ہے۔ جس کو چاہے روسیاہ کرے۔

آپ کو انہوں نے وہ لڑکی نہ دی کہ جس کی محبت میں آپ کا دل بیقرار ہوا۔

احمد بیگ کی لڑکی کی شادی مجھ سے کی جائے گی ورنہ میں خوار اور ذلیل اور روسیاہ ہوں گا۔ جب کہ ان لوگوں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے۔ پس مرزا قادیانی خدا کے نہ تھے کیونکہ شادی کسی اور شخص سے ہو گئی۔

پورا کرنے کے لئے کتنے حیلہ سازیاں کر رہے ہیں۔ خدا کی پناہ ایسے شخص کی صحبت سے۔

٨٢

صفحہ ١١١

مگر اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ میں نے خط لکھے کہ پرانہ رشتہ مت توڑو۔ خدا تعالیٰ سے خوف کرو۔ کسی نے جواب نہ دیا۔ بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی نے جوش میں آ کر کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے۔ صرف عزت بی بی نام کے لئے فضل احمد کے گھر میں ہے۔ بیشک وہ طلاق دے دیوے۔ ہم راضی ہیں اور ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص کیا بلا ہے۔ ہم اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہیں کریں گے۔ یہ شخص کہیں مرتا بھی نہیں۔ پھر میں نے رجسٹری کرا کر آپ کی بیوی صاحب کے نام خط بھیجا مگر کوئی جواب نہ آیا اور بار بار کہا کہ اس سے کیا ہمارا رشتہ باقی رہ گیا ہے۔ جو چاہے کرے ہم اس کے لئے اپنے خویشوں سے اپنے بھائیوں سے جدا نہیں ہو سکتے۔ مرتا مرتا رہ گیا۔ ابھی مرا بھی ہوتا۔ یہ باتیں آپ کی بیوی صاحب کی مجھے پہنچی ہیں۔ بیشک میں ناچیز ہوں۔ ذلیل ہوں اور خوار ہوں۔ مگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں میری عزت ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اب جب میں ایسا ذلیل ہوں تو میرے بیٹے سے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے لہذا میں نے اس کی خدمت میں خط لکھ دیا کہ اگر آپ اپنے ارادہ سے باز نہ آویں اور اپنے بھائی کو اس نکاح سے نہ روک دیں پھر جیسا کہ آپ کی خود منشاء ہے۔

میرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی کو اپنے نکاح میں رکھ نہیں سکتا۔ بلکہ ایک طرف جب (محمدی) کا کسی شخص سے نکاح ہوگا تو دوسرا بطرف فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا۔ اگر نہیں دے گا تو اس کو عاق اور لاوارث کر دوں گا اور اگر میرے لئے احمد بیگ سے مقابلہ کرو گے اور یہ ارادہ اس کا بند کرا دو گے تو میں بدل و جان حاضر ہوں اور فضل احمد کو جو اب میرے قبضے میں ہے۔ ہر طرح سے درست کر کے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لئے کوشش کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہوگا لہذا آپ کو بھی لکھتا ہوں کہ آپ اس وقت کو سنبھال لیں اور احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ باز آ جائیں اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کر دیں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے روک دیوے ورنہ مجھے خدا کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کے لئے یہ تمام رشتے توڑ دوں گا۔

١؎ دیکھو امام الزمان صاحب عشق کی آتش کے جوش سے بے گناہ اپنی بہو کی طلاق کی تجویز کر رہے ہیں اور اپنے لڑکے فضل احمد کو عاق اور لاوارث کرنا ظاہر کر رہے ہیں کہ کسی مکر وحیلہ سے احمد بیگ مجھے لڑکی دے دے۔ افسوس ہے ایسے عقل پر کہ دعوئی تو یہ کہ میں زندہ نبی اور مرسل یزدانی ہوں اور کام ایسے۔

٢؎ مرزا قادیانی کو خدا کے الہاموں پر ہرگز ہرگز یقین نہ تھا۔ ورنہ اس بات کے لکھنے کی کیا ضرورت تھی کہ احمد بیگ کو پورے زور سے لکھیں کہ باز آوے۔

٨٣

صفحہ ١١٢

اگر فضل احمد میرا فرزند اور وارث بننا چاہتا ہے۔ تو اسی حالت میں آپ کی لڑکی کو گھر میں رکھے گا اور جب آپ کی بیوی کی خوشی ثابت ہو ورنہ جہاں میں رخصت ہوا ایسا ہی سب ناطے رشتے بھی ٹوٹ گئے۔ یہ باتیں خطوں کی معرفت مجھے معلوم ہوئی ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ کہاں تک درست ہیں۔ واللہ اعلم! راقم خاکسار غلام احمد لودھیانہ اقبال گنج ٤ مئی ١٨٩١ء

تیسرا خط بھی حرف بحرف ذیل میں نقل کرتا ہوں

”بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمدہ ونصلی“ والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز تک (محمدی) مرزا احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے سارے رشتے ناطے توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اس لئے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کراؤ اور جس طرح تم سمجھا سکتے ہو۔ اس کو سمجھا دو اور اگر ایسا نہیں ہوگا تو آج میں نے مولوی نور الدین صاحب اور فضل احمد کو خط لکھ دیا ہے کہ اگر تم ارادہ سے باز نہ آؤ گے تو فضل احمد عزت بی بی کے لئے طلاق نامہ لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جائے اور اپنے بعد اس کو وارث نہ سمجھا جاوے گا۔ جس کا پھر مضمون ہوگا کہ اگر مرزا احمد بیگ (محمدی) کا غیر کے ساتھ نکاح کرنے سے باز نہ آوے تو پھر اسی روز سے جو (محمدی) کا نکاح کسی اور سے ہو جاوے عزت بی بی کو تین طلاق ہیں۔

سو اس طرح پر لکھنے سے اس طرف (محمدی) کا کسی دوسرے سے نکاح ہوگا اور اس طرف عزت بی بی پر فضل احمد کی طلاق پڑ جائے گی۔ سو یہ شرط طلاق ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب بجز قبول کرنے کے کوئی راہ نہیں اور اگر فضل احمد نے نہ مانا تو میں فی الفور اس کو عاق کر دوں گا اور پھر وہ میری وراثت سے ایک دانہ نہیں پاسکتا اور اگر آپ اس وقت اپنے بھائی کو سمجھا لو تو آپ کے لئے بہتر ہوگا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے عزت بی بی کی بہتری کے لئے ہر طرح سے کوشش کرنا چاہا تھا اور میری کوشش سے سب نیک بات ہو جاتی۔ مگر آدمی پر تقدیر غالب ہے۔

اے خداوند تو ناطہ رشتہ توڑنے سے منع فرماویں اور مرزا قادیانی رشتہ ناطہ توڑنے کے لئے خدا کی قسم کھاویں۔ باعث کیا؟ بیگانی لڑکی کا عشق۔

٨٤

صفحہ ١١٣

یاد رہے کہ میں نے کوئی بات کچی نہیں لکھی۔ مجھے قسم ہے اللہ کی کہ میں ایسا کروں گا اور خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے جس دن نکاح ہوگا۔ اس دن عزت بی بی کا نکاح جاتا رہے گا۔ الراقم غلام احمد لودھیانہ اقبال گنج ٤ مئی ١٨٩١ء

اب ناظرین خدا سے ڈر کر انصاف کریں کہ ایسا شخص نفس پرست اور شہوت کا مرید کیا مامور من اللہ یا مسیح موعود یا امام الزمان یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا امام حسینؓ سے افضل ہو سکتا ہے؟ کہ جس کو بیگانی لڑکی کی خوبصورتی دیکھنے سے شہوت نے ایسا مغلوب اور پریشان کیا کہ ناحق کئی دفعہ جھوٹے الہاموں سے لڑکی کے والدین وغیرہ کو اللہ کی جھوٹی قسمیں کھا کھا کر ڈرایا اور یہاں تک نوبت پہنچا دی کہ اپنے لڑکے فضل احمد کو ڈرایا اور دھمکایا کہ اگر مرزا احمد بیگ اپنی لڑکی کا نکاح میرے سوا کسی اور شخص کے ساتھ کرے تو تم اسی وقت اپنی عورت کو طلاق دے دینا اور اگر تو طلاق نہ دے گا تو تجھ کو عاق اور لاوارث کردوں گا۔

اہل انصاف کی خدمت میں دوبارہ عرض کرتا ہوں کہ اگر مرزا قادیانی کو خداوند تعالیٰ نے کہہ دیا تھا کہ میں نے تیرا عقد نکاح مرزا احمد بیگ کی لڑکی سے آسمان پر باندھ دیا ہے تو پھر ایسے خط پر خط بھیج کر اس کے والدین وغیرہ کو ڈرانا اور منع کرنا کہ اس کی شادی کسی اور سے نہ کرو ورنہ نقصان اٹھاؤ گے۔ کیا ضرورت تھی؟ شاید مرزا قادیانی کو اپنے عاجز خدا کے الہاموں پر بھی پورا پورا بھروسہ اور یقین نہیں تھا۔ یا الہام ہی یقیناً بناوٹی تھا۔ اس واسطے کہ جس عورت کا عقد نکاح خداوند احکم الحاکمین نے مرزا غلام احمد سے باندھ دیا تھا تو کسی اور شخص کی کیا مجال تھی کہ اس کو شادی کر کے گھر میں لے جاتا اور پھر تعجب تر تو یہ بات ہے کہ شادی کرنے والے کو وہی خدا جس نے مرزا کا عقد نکاح باندھا تھا اڑھائی سال کی اندر مر جانے کا حکم صادر فرما دیا اور بقول مرزا قادیانی وہی خدا شادی کرنے والے کو توبہ کرنے کے باعث میعاد مقررہ کی اندر نہ مارے، بعید از قیاس ہے

اے نہیں صاحب نہیں۔ بے گناہ اپنی بہو کے لئے طلاق کا تجویز کرنا اور بے گناہ لڑکے کو عاق اور لاوارث کرنے کے لئے خدا کی قسم جھوٹی کھانا یہ سب کچھ اپنی نفسانی کو پورا کرنے کے لئے حیلہ سازی کرنا ہرگز ہرگز سچی بات نہیں ہے۔ بلکہ پختہ ہے لیکن آپ نے اپنے لڑکے کو عاق اور لاوارث کیا اور نہ بہو کو طلاق دلوائی۔ اس واسطے کچی ہو گئی کہ مرزا احمد بیگ نے تو اپنی بیٹی کا نکاح اور شخص سے کر دیا۔ مگر عزت بی بی کا نکاح اب تک باقی کا باقی۔ شاید مسیح موعود کے لئے نہیں ہوگا درست پورا کرنا قسم کا۔

٨٥

صفحہ ١١٤

اسی واسطے مرزا احمد بیگ کے داماد کا تو یہی قصور تھا کہ اس نے مرزا احمد بیگ کی لڑکی سے شادی کرلی تھی اور باوجود منع کرنے کے باز نہ آیا تھا۔ اسی جرم کے بدلہ میں اس کو موت کی سزا کا حکم سنایا گیا تھا۔ مگر تاہم ابھی اس نے نہ اپنی لڑکی کو طلاق دی اور نہ گھر سے نکالا۔

اہل انصاف خیال فرمائیں کہ پھر مرزا احمد بیگ کے داماد نے کس بات سے توبہ کی جس کے باعث اس کی موت میں تاخیر ڈالی گئی یہ تو ایسا ماجرا ہے جس کی کہاوت مشہور ہے کہ (نہ مانیں گے اور نہ جھوٹے ہوں گے) بیشک جو شخص ایماناً اور انصافاً بلا تعصب وطرفداری کے مرزا قادیانی کے ان الہامات اور خطوط کو دلی توجہ سے پڑھے یا سن کر غور کرے گا اس پر آفتاب کی طرح روشن ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی اپنی نفسانی خواہشات اور شہوت پرستی کو پورا کرنے کے لئے کوئی حیلہ ومکر باقی نہیں چھوڑا یہاں تک کہ کئی دفعہ خداوند صادق الوعد پر بھی جھوٹ بولا جس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے اس کو تمام دنیا میں ذلیل اور خوار اور شرمسار کیا کہ زبان سے بیان کرنے کی حاجت نہیں۔ کیونکہ طالبان حق کے دل کی تسلی کے واسطے اس قدر بیان کرنا کافی ہے اور ضد اور تعصب کا مرض تو لاعلاج ہے اور نیز ہدایت سب کی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور وہی سب کا ہادی ہے۔

التماس بدرگاہ خداوند تعالیٰ

اے میرے مالک ومولیٰ میں تیری ہی جناب میں بصدق دل التجا کرتا ہوں کہ اپنی خاص اور عام رحمت سے تمام اہل اسلام کو اور اس عاجز کو دجال اور شیطان کے دھوکہ سے بچا اور نیز یہ بھی التماس ہے کہ جیسے تو نے محض اپنی خاص مہربانی سے مجھ کو اس کتاب کی تالیف کی توفیق عطا فرمائی ورنہ میری لیاقت کیا۔ ویسی ہی اس کو اپنی عام مہربانی سے لوگوں میں عام مقبول کر اور جو شخص اس کو پڑھے یا سنے اس کو اپنی طرف سے حق بات کے قبول کرنے کی توفیق عطا فرما اور اس کو اس راستہ کی طرف کر جو تیری مرضی کے مطابق ہو۔ آمین!

”الحمدلله رب العلمین، اللهم انی اعوذبک من عذاب القبر و اعوذبک من فتنة المسیح الدجال و اعوذبک من فتنة المحیا وفتنة الممات، آمین ثم آمین“

١؎ مرزا قادیانی اگر لیکھرام کی طرح کوئی الہامی فرشتہ احمد بیگ کے داماد کو قتل کرنے کے واسطے بھیج دیتا تو مرزا کی یہ رسوائی نہ ہوتی۔

٨٦

PDF 116

انا خاتم النبيين لا نبي بعدي

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

خنجر براہین ختم نبوت

برگلوئے قادیانیت

حضرت مولانا سید عبدالسلام قادری باندوی

صفحہ ١١٦

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

”الحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام على سيد المرسلين خاتم النبيين شفيع المذنبين رحمت اللعلمين وعلى اله واصحابه اجمعين برحمتك ياارحم الراحمين“

خنجر براہین ختم نبوت، بر گلوئے قادیانیت

موجودہ دور میں گمراہوں نے گمراہ کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی ایسا اصول بنا رکھا ہے جس سے ان کو پارٹی بندی اور نفسانی خواہشات میں کامیابی ہو۔ مثلاً کوئی قرآن پاک کے اجمالی احکامات سے فائدے اٹھانے کے لئے حدیث کا منکر ہو کر کہتا ہے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اس کے آگے حدیث کی کوئی اہمیت نہیں۔ چونکہ وہ سمجھتا ہے کہ حدیث میں قرآنی احکام کے اجمال کی تفصیل ہے۔ اس سے اس کی مکاری کا پردہ چاک ہو جائے گا۔ کوئی کہتا ہے کہ میں قرآن اور حدیث دونوں کو مانتا ہوں۔ مگر فقہ کو نہیں مانتا۔ یہ ائمہ نے اختلاف اور جھگڑے ڈالے ہیں۔ وہ بھی یہ سمجھتا ہے کہ حدیث سے موضوع ضعیف اور صحیح کہہ کر تاویلوں سے اپنے مقصد کو پورا کرلوں گا۔

فقہ میں حدیث کے اجمالات کی تفصیل ہے۔ اس کو مانوں گا تو ناکام رہوں گا اور میری گندم نما جو فروشی کی حقیقت بے نقاب ہو جائے گی۔ اسی وجہ سے امامت، مہدویت اور نبوت کے دعوے ہوتے جاتے ہیں۔

حضرت عبدالوہاب شعرانی نے الشریعۃ الکبریٰ میں لکھا ہے: ”لولان رسول الله ﷺ فصل الشريعة مااجمل فى القرآن على اجماله كما ان الائمة المجتهدين لولم يفصلوا ما اجمل فى السنة لبقيت السنة على اجمالها وهكذا الى عصرنا هذا“

پس اگر رسول اللہ ﷺ اپنی شریعت سے مجملات قرآن عظیم کی تفصیل نہ فرماتے تو قرآن یوں ہی مجمل رہتا اور اگر ائمہ مجتہدین مجملات حدیث کی تفصیل نہ کرتے تو حدیث یوں ہی مجمل رہتی۔ اسی طرح ہمارے اس زمانہ تک اگر کلام ائمہ کی علماء مابعد شرح نہ کرتے تو ہم اسے بھی سمجھنے کی لیاقت نہ رکھتے۔ امیر المومنین فاروق اعظمؓ فرماتے ہیں: ”سياتى ناس

٢

صفحہ ١١٧

یجادلونکم بشبهات القرآن فخذوهم بالسنن فان اصحاب السنن اعلم بکتاب الله“

قریب ہے کہ کچھ لوگ آئیں جو تم سے قرآن عظیم کے مشتبہ کلمات سے جھگڑیں گے۔ تم انہیں حدیثوں سے پکڑو کہ حدیث والے قرآن کو خوب جانتے ہیں۔ لہٰذا مذہب مسلمانان اہل سنت یہ ہے بموجب قرآن پاک ”اطیعو الله واطیعو الرسول واولی الامر منکم “ ﴿اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو اس کے رسول کی اور پیشوایان اسلام جو تم میں ہیں۔﴾

معلوم ہوا کہ اول قرآن پاک پھر حدیث شریف، بعد میں فقہ ہے اور پیشوایان اسلام صحابہ، ائمہ، فقہاء، علماء، صلحاء کے اجماع پر قیاس مجتہدین ہے کوئی مسئلہ اختلافی صورت اختیار کر جائے تو اس کے لئے لائحہ عمل بھی حضور علیہ السلام نے فیصلہ کے لئے تجویز کر دیا ہے:

البخاری)“ ﴿اتباع کرو تم جماعت کثیر کی جو ان سے علیحدہ ہوا جہنم میں گیا۔﴾

”لا تجتمع امتی علی الضلالة“ ﴿میری امت ہرگز گمراہی پر جمع نہ ہوگی۔﴾

لہٰذا ”لااله الاالله محمد رسول الله“ پڑھ کر خدا اور رسول پر ایمان کے دعویدارو! دیکھو خدا اور رسول کے کلام قرآن پاک اور حدیث میں مسئلہ ختم نبوت کے متعلق کیا لکھا ہے اور حق و باطل کا اندازہ کرو کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے کھلم کھلا قرآن اور حدیث کے خلاف اقدام کرتے ہوئے اس میں تحریف اور تاویل سے کام لیا ہے۔

مرزا غلام احمد کی مکاری

دو چیزوں سے مرزا غلام احمد قادیانی نے فائدہ اٹھایا ہے۔ ایک تو احمد کے لفظ سے کہ جس نبی احمد نام والے کی خبریں دی گئی ہیں، وہ میں ہوں۔ حالانکہ اس کا نام غلام احمد ہے۔ اگر یہی دلیل ہے تو لاتعداد مسلمان غلام احمد بلکہ غلام محمد کے نام کے دنیا میں نظر آئیں گے۔ یہ حضور اکرمﷺ کا اسم شریف ہے اور آپﷺ سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں ہوا۔ بخاری اور مسلم کی متفقہ حدیث ہے حضورﷺ نے فرمایا کہ میرے کئی نام ہیں۔ میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے کفر کو میرے ذریعہ محو کر دیا۔ میں حاشر ہوں کہ لوگ میرے بعد محشر میں اٹھائے

٣

صفحہ ١١٨

جائیں گے۔ میں عاقب ہوں۔ عاقب وہ ہوتا ہے جس کے بعد کوئی اور نبی نہ ہو۔

فائدہ ...... تین ناموں کی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تصریح فرمائی جس سے مسئلہ ختم نبوت صفاتی طور پر ثابت ہو۔ محمد اور احمد ذاتی نام ہیں۔ آپ سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں۔ ذاتی طور پر ختم نبوت اور فضیلت کا اس طرح اظہار فرمایا۔ اس طرح اگر کوئی دنیا میں اس سے ناجائز فائدہ اٹھائے تو مخبر صادق ﷺ نے ہر طرح رد فرمادی سن لو غلام کو نبی ماننے والو۔

مرزا غلام احمد کے متعلق پیشین گوئی

"هلكة امتى على يدى غلمة من قريش (رواه البخاري) عن ابى هريرة (مشكوة ص٤٦٢) "میری امت کی ہلاکت و بربادی ایک غلام کے ہاتھوں پر ہوگی۔ جو اپنے آپ کو قریش سے ظاہر کرے گا۔ (یعنی مہدی) اب مسئلہ خاتم النبیین قرآن اور صحیح احادیث سے لیجئے۔ پہلے چند آیات ملاحظہ کیجئے۔

١....... "ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شئ عليما (الاحزاب:٤٠) "﴿نہیں ہیں محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن وہ اللہ کے رسول اور نبیوں میں سے آخری نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔﴾

نوٹ...... اللہ علیم نے اسی وجہ سے نبی آخرالزمان کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کا رد فرمایا۔ حضور علیہ السلام کا ارشاد ہے: "من قال فى القرآن برأيه فليتبوأ مقعده من النار (مشكوة ص٣٥) "﴿جو شخص قرآن کی تفسیر و معانی اپنی رائے سے بیان کرے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں تلاش کرے۔﴾

یہ امر مسلمہ ہے کہ قرآن جن پر نازل ہوا، وہی خوب سمجھ سکتے ہیں لہٰذا جو حضور ﷺ خاتم النبیین تفسیر کریں اور حدیث میں بیان کریں۔ وہ صحیح ہو سکتی ہے یا غلام کی تاویل کردہ تمامی لغتیں موجود ہیں خَاتَم، خَاتِم، خَتَام، خِتَام سب کے معنی ختم نبوت کے ہوتے ہیں۔ صحابہ، تابعین، محدثین کا اجماع بھی اسی پر ہے۔ مگر ہم خاتم النبیین کی زبان، یعنی صحیح احادیث سے ثابت کریں گے۔

٤

صفحہ ١١٩

الاسلام دينا (المائده:٣)" ﴿آج میں نے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لئے دین اسلام ہی پسند کیا۔﴾

فائدہ...... دین کامل ہو گیا۔ دوسرے دین کی ضرورت ہی نہیں تو نبی کی کیا حاجت ہے؟ اس لئے نعمت ہائے نبوت بھی ختم۔ اگر اب نبی کو مانا جائے گا تو قرآن پاک کی تکذیب ہوگی اور آدمی مرتد ہو جائے گا۔ اس لئے قادیانی اسلام سے خارج ہو گئے۔

ڈرانے والے اور ہدایت کرنے والے ہیں۔﴾

اس سے بھی ثابت ہوا کہ جب آپ ﷺ ہر قوم کے ہادی ہوئے۔ تو اب دوسرے نبی کی حاجت نہیں۔ جب تک ایک ایک قوم کے ہادی بن کر نبی آئے، ضرورت رہی۔ جب سب کے ہادی آ گئے۔ دروازہ نبوت بند ہو گیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ جھوٹا اور وہ مرتد ہو گیا۔

السموت والارض " ﴿اے (محبوب) آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہارے تمام لوگوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ کے لئے ملک ہے آسمانوں کا اور زمینوں کا۔﴾

اب جو شخص اس آیت کو پڑھ کر قیامت تک کسی اور کو نبی مانے گا۔ اس آیت کی تکذیب کر کے کافر اور مرتد ہو جائے گا۔ مرزائی ہوش میں آئیں۔

يوقنون اولئك على هدى من ربهم واولئك هم المفلحون (الم:٥) " ﴿اور وہ کہ ایمان لائیں اس پر جو اے (محبوب) تمہاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا اور آخرت پر یقین رکھیں وہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے۔﴾

اس آیت شریفہ میں نزول قرآن اور اس کی صداقت پر ہدایت خدا سے ڈرنے والوں کے لئے جو غیب پر ایمان اور نماز اور نفقہ پر قائم ہیں۔ بعد ان کے ایمان والوں کا تذکرہ ہے۔ یعنی اے محبوب جو ہم نے تم پر اتارا ہے اور جو تم سے پہلے اترا ہے۔ یعنی آپ پر اور سابقین پر ایمان

٥

صفحہ ١٢٠

من قبلک کا ذکر ہے اور غلام احمد نے بعد میں دعویٰ کیا ہے۔ اگر یہ سچا ہوتا تو من قبلک کی طرح بعد والے کا بھی ذکر ہوتا۔ معلوم ہوا کہ بعد میں دروازہ نبوت بند ہے۔ دعویٰ کرنے والا جھوٹا ہے۔ الیک اور قبلک پر ایمان رکھنے والے تو ہدایت اور فلاح یافتہ ہیں اور بعدک جو اپنی جانب سے بڑھائے وہ گمراہ اور ناکام ہے۔ اسے مرزائیو! ہدایت پر آجاؤ۔ توبہ کرو۔

”ياايها النبى انارسلنك شاهدا ومبشرا ونذيراوداعيا الى الله باذنه وسراجا منيرا (احزاب:٤٥، ٤٦)“ ﴿اے نبی ہم نے آپ کو شہادت دینے والا اور خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے دعوت دینے والا اور چمک دار سورج بنا کر دنیا میں رشد و ہدایت کے لئے بھیجا ہے۔﴾

اس آیت کے ترجمہ اور تفسیر سے ختم نبوت آشکار ہوتی ہے۔ شاہد یعنی گواہ۔ اس کی تفسیر کئی طرح سے ہے۔ ایک تو یہ کہ آپ گواہ ہوں گے قیامت میں انبیاء کی طرف سے جب ان کا اور ان کی امتوں کا معاملہ عدالت ربانی میں پیش ہوگا۔ تو آپ انبیاء سابقین کی گواہی دیں گے۔ ان کے فیصلے کے بعد نبی آخر الزمان کی آخری امت کا معاملہ پیش کیا جائے گا۔ جیسا کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں آخری نبی اور میری امت آخری امت ہے۔ جب وہ انبیاء سابقین کی گواہی دیں گے تو مرزا قادیانی کا دعویٰ تو حضور ﷺ کے بعد کا ہے۔ جب سب کا فیصلہ ہو جائے گا۔ تو غالبا جھوٹے نبی کا معاملہ ان کے جھوٹے خدا دجال اور ان کے پیشوا شیطان کے ساتھ ہوگا۔ معلوم ہوا کہ حضور خاتم النبیین ﷺ ہیں اور یہ جھوٹا نبی ہے۔

دوم! یہ کہ انبیاء سابقین نے شرک کے مقابلہ میں توحید کی طرف سے گواہی دی کہ اللہ ایک ہے۔ مگر یہ شہادت بغیر مشاہدے کے تھی۔ اس لئے کامیابی نہ ہوئی۔ دین کی تکمیل نہ ہوئی۔ اگرچہ انبیاء سابقین نے سچ کہا مگر بغیر دیکھے۔ لیکن جب دیکھنے والے معراجی دولہا شاہد بامشاہدہ آ گئے تو انبیاء کے قول کی تصدیق بھی ہوگئی اور شہادت بھی کامل تسلیم ہوئی۔ فیصلہ ہو گیا عدالت کا اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی سے معاملہ دین کا مکمل ہو گیا۔ شہادت اور نبوت ختم ہوئی۔ نبوت کی نعمتیں بھی ختم۔ مہر رسول ﷺ کے نام کی مہر لگ گئی اور عدالت بند ہوگئی۔ اب بعد میں غلام یعنی مرزا جی پہنچے کہ ہم بھی ہیں پانچویں سواروں میں تاکہ مشہور ہوں ہزاروں میں۔

٦

دربان یعنی چپڑاسی نے کہا کہ چلو میاں تم جو ہوتا منظوری کا، اور طلب کئے گئے ہوتے۔ دائر ہو جائے گا۔

”واذاخذ الله ميثاق النب ورسول مصدق لما معكم لتؤمنن به انبیاء سابقین سے اللہ تعالیٰ نے عہد لیا کہ ج ہو تو اس کے بعد ایک نبی آئے گا جو پہلے لانا اور اس کی مدد کرنا۔﴾

میثاق النبیین کے لفظ سے معلو معلوم ہوتا ہے کہ تم سب کے بعد آئے گا۔ النبیین ہیں۔ جو آپ ﷺ کے بعد دعویٰ کر الكاذبين“

انبیاء کرام سے اقرار لیا کہ تم تمہاری تصدیق کریں۔ تم سب ایک ہو کر عہد و پیمان ہے۔ جھوٹا نبی اور جھوٹا خدا دجا احفظنا“

محدث ابن ابی حاتم تفسیر میں حضرت ابو ہریرہؓ سے وہ حضور علیہ السلام اخذ الله ميثاق النبيين“ کی تفسي واخرهم في البعث (خصائص كبر اب خاتم النبیین کی زبان س ”وارسلت الى الخلق ص ٥١٦) ﴿ساری مخلوق کے لئے نبی

صفحہ ١٤١

دربان یعنی چپڑاسی نے کہا کہ چلو میاں تم جعل ساز ہو، اگر معاملہ کے گواہ ہوتے تو عدالت کا نوٹس ہوتا منظوری کا ، اور طلب کئے گئے ہوتے۔ بھاگو یہاں سے ورنہ چار سو بیس کا مقدمہ جعل سازی کا دائر ہو جائے گا۔

رسول مصدق لما معکم لتؤمنن به ولتنصرنه (آل عمران:٨١)“ ﴿ترجمہ﴾ تمام انبیاء سابقین سے اللہ تعالیٰ نے عہد لیا کہ جب میں دوں کتاب و حکمت اور تم منصب نبوت پر فائز ہو تو اس کے بعد ایک نبی آئے گا جو پہلے کی تصدیق کرے گا۔ تم لوگ اس کو ماننا اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا۔﴾

میثاق النبیین کے لفظ سے معلوم ہوا کہ تمام انبیاء کو خطاب ہے ”ثم جاءکم“ سے معلوم ہوتا ہے کہ تم سب کے بعد آئے گا۔ معلوم ہوا کہ وہ انبیاء سابقین اور محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ جو آپ ﷺ کے بعد دعویٰ کرے، وہ کذابین میں سے ہے۔ ”لعنة الله علی الکاذبین“

انبیاء کرام سے اقرار لیا کہ تم لوگ سچے خدا کے سچے نبی ہو، تو ان پر ایمان لانا وہ تمہاری تصدیق کریں۔ تم سب ایک ہو کر متحد رہنا۔ معلوم ہوا کہ جھوٹے نبی سے بچنے کے لئے یہ عہد و پیمان ہے۔ جھوٹا نبی اور جھوٹا خدا دجال ایک دوسرے کے حامی ہوں گے۔ ”اللهم احفظنا“

محدث ابن ابی حاتم تفسیر میں ابو نعیم دلائل میں حضرت قتادہ سے وہ حضرت حسنؒ سے وہ حضرت ابو ہریرہؓ سے وہ حضور علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے آیت ”واذ اخذ الله میثاق النبیین“ کی تفسیر میں فرمایا ہے: ”کنت اول النبیین فی الخلق واخرهم فی البعث (خصائص کبریٰ ص٢٣)“

اب خاتم النبیین کی زبان سے تفسیر اور معنی سنئے

”وارسلت الی الخلق کافة وختم بی النبیون (رواه مسلم، مشکوٰة ص٥١٢)“ ﴿ساری مخلوق کے لئے نبی ہوں، میری ذات پر نبوت ختم کی گئی۔﴾

صفحہ ١٢٢

”قال رسول الله ﷺ ولا نبی بعدی ولا امة بعد امتی (بیهقی)“ ﴿حضورﷺ نے فرمایا کہ نہ کوئی نبی ہے میرے بعد، نہ کوئی امت میری امت کے بعد۔﴾

مسلم میں صفحہ ٥١٢ سے ٥١٧ تک اور بخاری اور مسلم اور ترمذی میں بکثرت احادیث میں مختلف طریقوں سے حضورﷺ نے اپنے کو خاتم النبیین فرمایا۔”لانبی بعدی“ فرمایا۔ (ابن ماجہ ص ٣٠٧) میں فرمایا:”انا اخر الانبیاء وانتم اخر الامم “﴿میں آخری نبی اور تم آخری امت ہو۔﴾

ترمذی دیکھئے تو فرمایا:”ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی بعدی“ ﴿رسالت اور نبوت دونوں ختم ہوچکیں۔ نہ میرے بعد کوئی رسول ہوسکتا ہے نہ کوئی نبی۔﴾

تمام فقہاء اور محدثین کا اجماع ہے اور یہی معنی سب نے لکھے ہیں۔ بالتفصیل اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجدد مائتہ حاضرہ موید ملت طاہرہ مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کی کتاب ”جزاء الله عدوه بابائه ختم النبوت“ دیکھئے۔ علاوہ اس کے سچے نبی کے اقوال سچے ہوتے ہیں یہ جھوٹا نبی ہے اس لئے اس کے سارے اقوال اور پیشین گوئیاں جھوٹی نکلیں۔ جو دیگر رسالہ جات میں ناظرین نے دیکھا ہوگا، اور ہر نبی کے پاس معجزہ ہوتا ہے اور اس پر ایمان لے آنے والے پھر کبھی اس کی رسالت کے منکر نہیں ہوتے۔

مگر مرزا کے پاس نہ معجزہ اور اس پر لوگ ایمان لاکر مرزائیت سے تائب ہوکر اس کے مخالف ہوئے۔ مثلاً ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب پٹیالوی بیس سالہ ان کے مرید ایسے برگشتہ ہوئے کہ مرزا قادیانی کو انہوں نے کذاب، دجال، حرام خور وغیرہ لکھا۔ بڑے بڑے رسالے ان کے خلاف لکھے ہیں۔

اب دو ایک حدیثیں قاتل دجال عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی بھی ہدیہ ناظرین کی جاتی ہیں۔ جس کا دجال نبی مرزا نے انکار کیا ہے۔ مسند احمد و صحیح مسلم ”یخرج الدجال فی امتی فیمکث اربعین فیبعث الله عیسیٰ بن مریم فیطلبه فیھلکہ“ ﴿دجال میری امت میں نکلے گا۔ ایک چلہ ٹھہرے گا پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ ابن مریم کو

٨

بھیجے گا۔ وہ اسے ڈھونڈ کر قتل کریں گے۔﴾

گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے اسماء کتب السلام کا آسمان سے نزول ثابت ہے اور واقعہ طبرانی معجم کبیر، مستدرک، خزیمہ، مسند الفردوس احادیث بالتفصیل موجود ہیں اور قرآن مجید میں ﴿نہ قتل کیا نہ سولی دی گئی بلکہ اللہ نے بدل دیا کفا ”بل رفعه الله اليه “ ﴿بلکہ ا کا اسلام دیکھیں کہ قرآن اور صحیح احادیث کا انکا نے حضور اکرم ﷺ کی معراج جسمانی کا بھی حضور ﷺ کا آسمان پر جانا تسلیم کرتا تو پھر عیسٰی کے دعویٰ نبوت کے خلاف پڑتا اللہ تعالیٰ مرزا فرمائے۔آمین!

احادیث رسول مرزا کی نظر میں

”اور ہم اس کے جواب میں خدا ق کی بنیاد حدیث نہیں ہے۔ بلکہ قرآن اور وہ طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں۔ ب معارض نہیں۔ دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی ط

نوٹ:…… ناظرین مرزا کی خود نمائی کو ملاح اتباع کا دعویٰ کہ اسی شریعت پر چل کر ان کا کے نائب کی صورت میں احیاء دین کے ۔ ملاحظہ کیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم ہی خدا، ہ

صفحہ ١٢٤

بھیجے گا۔ وہ اسے ڈھونڈ کر قتل کریں گے۔﴾

گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے اسماء کتب نقل کئے جاتے ہیں۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول ثابت ہے اور روایات بخاری و مسلم، ترمذی، ابن ماجہ، نسائی، ابوداؤد، طبرانی معجم کبیر، مستدرک، خزیمہ، مسند الفردوس، صاحب الوفا اور بہت سی کتابوں میں بکثرت احادیث بالتفصیل موجود ہیں اور قرآن مجید میں ”ماقتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم “ ﴿نہ قتل کیا نہ سولی دی گئی بلکہ اللہ نے بدل دیا کفار خود شبہ میں پڑ گئے۔﴾

”بل رفعہ اللہ الیہ “ ﴿بلکہ اٹھا لیا اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف۔﴾ مرزائی اپنے نبی کا اسلام دیکھیں کہ قرآن اور صحیح احادیث کا انکار کر کے اسلام سے خارج ہوا یا نہیں۔ مرزا قادیانی نے حضور اکرم ﷺ کی معراج جسمانی کا بھی انکار کیا ہے۔ بات یہ ہے اگر اسی جسم کے ساتھ حضورﷺ کا آسمان پر جانا تسلیم کرتا تو پھر عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا بھی ماننا پڑتا اور یہ اس کے دعوئی نبوت کے خلاف پڑتا اللہ تعالیٰ مرزائیت سے بچائے اور مرزائیوں کو توبہ کی توفیق عطاء فرمائے۔آمین!

احادیث رسول مرزا کی نظر میں

”اور ہم اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی بنیاد حدیث نہیں ہے۔ بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے اوپر نازل ہوئی ہے۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں۔ جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں۔ دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٠ ، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)

نوٹ....... ناظرین مرزا کی خردماغی کو ملاحظہ کریں، ادھر تو اسلام اور قرآن اور شریعت محمدی کی اتباع کا دعویٰ کہ اسی شریعت پر چل کر ان کا امتی اور متبع بن کر ظلی اور بروزی نبی کی تقسیم کر کے ان کے نائب کی صورت میں احیاء دین کے لئے نبی ہوں اور حدیث کے متعلق ان کے الفاظوں کو ملاحظہ کیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم ہی خدا، ہم ہی رسول ہیں۔ جن کو ہم مانیں وہ صحیح ، ورنہ غلط ۔

٩

صفحہ ١٢٥

مرزا کی ترقیاں اور کفریات

سب سے پہلے تو مرزا غلام احمد قادیانی دعویٰ نبوت کرنے والے کو خارج از اسلام کہتا رہا اور حضورﷺ کی محبت اور غلامی کا دم بھرتا رہا تا کہ امت محمدیہ پر اقتدار قائم ہو۔ رفتہ رفتہ مجدد بننے کا دعویٰ کیا۔ پھر کرشن ہونے کا دعویٰ کیا۔ پھر صحابہ بعد میں ان سے افضل ہوا۔ پھر اہل بیت اور ان سے افضل بھی، پھر نبی اور بعد میں ان سے افضل۔ حتیٰ کہ خدا ہونے کا دعویٰ اور خدا سے بھی افضل ہونے کا دعویٰ کیا۔ دیکھئے ان کی کتابیں خطبہ الہامیہ، حقیقت الوحی، نزول المسیح وغیرہ ہم۔

مرزا کا نبوت کے دعویٰ کے بعد خدا کا بیٹا بننا

"انت منى بمنزلة ولدی" یعنی اے مرزا، مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

مرزا کا دعوائے الوہیت

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً) میں لکھتا ہے: ”ورایتنی فی المنام عين الله وتيقنت اننی ھو“ یعنی میں نے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کر لیا میں وہی ہوں۔

(الاستفتاء نمبر ٢، کتاب البریہ ص ٧٨، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)

"انت منى وانا منك“ یعنی اے مرزا تو مجھ سے میں تجھ سے ہوں۔

(الاستفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٠، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٦)

"الارض والسماء معك كما ھو معی“ یعنی زمین و آسمان اے مرزا تیرے ساتھ ایسے ہیں جیسے میرے ساتھ۔

(ایضاً)

"سرک سری“ یعنی تیرا میرا بھید ایک ہے۔

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨١، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٧)

خدا سے مرتبہ زائد ہونے کا بھی دعویٰ

"يا احمد يتم اسمك ولا يتم اسمی“ یعنی اے مرزا تیرا نام پورا ہوگا اور میرا نام ناقص رہے گا۔ (رسالہ دعوت قوم لمؤلفہ انجام آتھم ص ٥٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً) "استغفر الله ربی من كل ذنب واتوب اليه، لاحول ولا قوة الا بالله العلى العظيم"

١٠

ناظرین ایسی صورت میں اندازہ لگا ئیں سب سے بڑھ گیا۔ کیوں نہ مرزا قادیانی اور اس کی پر بھی کوئی نہ سمجھے تو خدا اس کو سمجھے۔

دجالی نبیوں کے متعلق پیشین گوئی

"سيكون في امتى كذابون ثـ خاتم النبيين لانبى بعدى (رواه ابوداؤد ﴿میری امت میں تیس یا قریب اس بات کا دعویٰ کرے گا کہ میں خدا کا نبی ہوں۔ حالانـ ہو چکا۔ میرے بعد کسی کو نبوت نہ ملے گی۔﴾

دوسری حدیث ”حتى يبعث دجـ يزعم انه رسول الله (رواه البخاري و مسـ اللہ تعالیٰ دجال اور دجالی نبیوں سے تمـ وماعلينا

اشعار متعلق دلائل ختم نبوت

منظور جب اپنے بندوں کی مولا
اصلاح عقائد کی خاطر تنظیم
تکمیل ہوئی جب مقصـ
پھر ختم نبوت اور اکـ
اکملت لکم دینکم بھی احمـ
اسلام سے راضی کی بھی سند حضر
قرآن اساس ایما
ماکان محمد سے ہی
اور انی رسول اللہ بھی ہے قرآ
بے شبہ لکل قوم ہاد ایک اور
ہے ختم نبوت کی
جس میں ہے ایک
صفحہ ١٢٥

ناظرین ایسی صورت میں اندازہ لگائیں کہ مرزا کس قسم کا تھا۔ شیطان اور دجال وغیرہ سب سے بڑھ گیا۔ کیوں نہ مرزا قادیانی اور اس کی جماعت کو اسلام سے خارج سمجھا جائے۔ اس پر بھی کوئی نہ سمجھے تو خدا اس کو سمجھے۔

دجالی نبیوں کے متعلق پیشین گوئی

”سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعمون انه نبى الله وانا خاتم النبيين لانبى بعدى (رواه ابوداؤد، ترمذى، عن ثوبان، مشكوة ص٤٦٥)“

﴿میری امت میں تیس یا قریب اس کے دجال، کذاب پیدا ہوں گے۔ ہر شخص اس بات کا دعویٰ کرے گا کہ میں خدا کا نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ سلسلہ نبوت مجھ پر ختم ہو چکا۔ میرے بعد کسی کو نبوت نہ ملے گی۔﴾

دوسری حدیث ”حتى يبعث دجالون كذابون قريب من ثلثين كلهم يزعم انه رسول الله (رواه البخارى و مسلم عن ابوهريرة مشكوة ص٤٦٥)“

اللہ تعالیٰ دجال اور دجالی نبیوں سے تمام مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔

وما علينا الا البلاغ

اشعار متعلق دلائل ختم نبوت

منظور جب اپنے بندوں کی مولا کو ہدایت ہوتی ہے
اصلاح عقائد کی خاطر تنظیم رسالت ہوتی ہے
تکمیل ہوئی جب مقصد کی اور ہو چکا کامل دین متین
پھر ختم نبوت اور اس کے انجام کی دولت ہوتی ہے
اکملت لکم دینکم بھی اتممت علیکم نعمت بھی
اسلام سے راضی کی بھی سند حضرت کو عنایت ہوتی ہے
قرآن اساس ایمان ہے قرآن کو پڑھ مرد مومن
ماکان محمد سے ہی عیاں ختم ان پہ نبوت ہوتی ہے
اور انی رسول اللہ بھی ہے قرآن میں ختم نبوت پر
بے شبہ لکل قوم ہاد ایک اور بھی آیت ہوتی ہے
ہے ختم نبوت کی شاہد پھر پہلے پارے کی آیت
جس میں ہے الیک من قبلک ختم ان پہ ہدایت ہوتی ہے

١١

صفحہ ١٢٦
شاہد ہیں مبشر اور نذیر ہیں مہر منیر بھی داعی بھی
ہوتے ہوئے سورج کے کس کو تاروں کی ضرورت ہوتی ہے
بے دیکھے گواہی دیتے رہے اللہ کی جملہ پیغمبر
جب دیکھنے والے آ پہنچے ختم ان پہ شہادت ہوتی ہے
وحدت کا جو دعوا شرک پہ تھا اس شاہد حق نے جیت لیا
پھر ختم رسل کی مہر لگی اور بند عدالت ہوتی ہے
میثاق کے دن سب نبیوں سے اقرار لیا تھا جن کے لئے
احمد ہیں یہی بعد عیسیٰ جن پر یہ بشارت ہوتی ہے
مرزا تو غلام احمد ہے اور ایسا جو باغی ہے ان سے
اور ایسے بغاوت والوں پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے
فرماتے ہیں خود بھی ختم رسل مشکوۃ میں قصر نبوت کی
میں آخری اینٹ ہوں وہ جس پر تکمیل عمارت ہوتی ہے
اترے یہ بخار کفر ترا گر پڑھے بخاری اے منکر
مسلم کی حدیثوں سے ہی عیاں یوں ختم نبوت ہوتی ہے
تھی پشت پہ مہر ختم رسل جب وہ پیدا ہوئے وہ ہادی کل
بتلائیں ذرا منکر سن کر یہ کس کی علامت ہوتی ہے
جب جھوٹے نبی پیدا ہوں گے پھر جھوٹا خدا بھی آئے گا
دجال ہے کانا ان کا خدا بعد اس کے قیامت ہوتی ہے
پھر حضرت عیسیٰ آئیں گے جھوٹوں کے خدا کو ماریں گے
اس واسطے مرزا کے دل میں عیسیٰ سے عداوت ہوتی ہے
دجال کے آنے کا منکر آمد عیسیٰ کے بھی خلاف
دجال نما اس مرزا کی ہر بات ضلالت ہوتی ہے
سرکار ہیں آخری پیغمبر اور آخری امت ہم ہیں غلام
ایمان کو رکھ محفوظ اپنے یہ رب کی امانت ہوتی ہے

١٢

چراغ

حضرت مولانا

PDF 128

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

چراغ ہدایت

حضرت مولانا محمد چراغ صاحب

صفحہ ١٢٩

میں یہ فتنہ ختم نہیں ہوا۔ بلکہ اس کی خفیہ سازشیں پہلے کی نسبت اس لئے ضروری ہے کہ اس فتنہ کی حقیقت سے تزویر سے انہیں بچایا جائے۔ چنانچہ اسی جذبہ کے تحت مولا گوجرانوالہ نے حضرت کے علمی مواد کو حضرت کی کاپیوں سے مرتب کیا اور قادیانی لٹریچر کے حوالہ جات کی تصحیح کے لئے سے زیادہ قابل اعتماد بنایا۔ الحمد للہ کہ حضرت کی خواہش کے مولانا محمد عارف صاحب نے اٹھایا تھا۔ آج ”چراغ ہدا پہنچ چکا ہے۔ جزاہ اللہ عنی و عن سائر المسلمین میں مولانا منظور احمد چنیوٹی، ایم پی اے کا شکر مصروفیات کے باوجود کتاب کے لئے فاضلانہ مقدمہ لک حضرت شیخ الحدیث مولانا عبد الخالق شاہ صاحب کا بھی شفقت سے کتاب کی تصحیح اور اغلاط کی درستگی کا کام بڑی خ مولانا محمد حنیف صاحب کا بھی مشکور ہوں کہ ان کے قیمتی طبع سے آراستہ ہوئی۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو امت مؤلف و مرتب اور اس کی اشاعت میں حصہ لینے والے فرمائے۔ آمین!

محمد انور

باسمہ تعالیٰ

”یہ جہان فانی ہے“ مختصر سا جملہ ہے۔ لیکن ہے کہ تمام دنیا اس کی قائل ہے اور دنیا کے اس پر ایمان دنیا بنائی اس کا اعلان ہے: "کل شئ ہالک الا وجـ (قصص: ٨٨) ”ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے۔ سوائے اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو۔“

دوسرے مقام پر ارشاد ربانی ہے: "کل من ع ذوالجلال والاکرام (الرحمن: ٢٧،٢٦) ”ہر ا اور صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے وا

٣

صفحہ ١٢٩

میں یہ فتنہ ختم نہیں ہوا۔ بلکہ اس کی خفیہ سازشیں پہلے کی نسبت تیز تر ہوگئی ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس فتنہ کی حقیقت سے مسلمانوں کو متعارف کرا کر ان کے دام تزویر سے انہیں بچایا جائے۔ چنانچہ اسی جذبہ کے تحت مولانا محمد عارف صاحب استاذ جامعہ عربیہ گوجرانوالہ نے حضرت کے علمی مواد کو حضرت کی کاپیوں کی مدد سے موجودہ کتاب کی صورت میں مرتب کیا اور قادیانی لٹریچر کے حوالہ جات کی تصحیح کے لئے مختلف مقامات کا سفر کیا اور کتاب کو زیادہ سے زیادہ قابل اعتماد بنایا۔ الحمد للہ کہ حضرت کی خواہش کے مطابق ان کی زندگی میں جس کام کا بیڑا مولانا محمد عارف صاحب نے اٹھایا تھا۔ آج ”چراغ ہدایت“ کی صورت میں طبع ہو کر پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔ جزاہ اللہ عنی و عن سائر المسلمين۔

میں مولانا منظور احمد چنیوٹی ، ایم پی اے کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنی گوناں گوں مصروفیات کے باوجود کتاب کے لئے فاضلانہ مقدمہ لکھ کر اس کے تعارف پر مزید اضافہ کیا۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا عبد الخالق شاہ صاحب کا بھی بے حد ممنون ہوں کہ جنہوں نے کمال شفقت سے کتاب کی تصحیح اور اغلاط کی درستگی کا کام بڑی دقت نظر سے مکمل فرمایا اور اپنے برادر حقیقی مولانا محمد حنیف صاحب کا بھی مشکور ہوں کہ ان کے قیمتی مشوروں اور کوششوں سے یہ کتاب زیور طبع سے آراستہ ہوئی۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو امت مسلمہ کی ہدایت کا ذریعہ بنائے۔ اس کے مؤلف و مرتب اور اس کی اشاعت میں حصہ لینے والے ہر آدمی کو نبی ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین ! محمد انور قاسمی، مہتمم جامعہ عربیہ، گوجرانوالہ

باسمہ تعالیٰ ”یہ جہان فانی ہے“ مختصر سا جملہ ہے۔ لیکن اس کے معنی پُر حقیقت ہونے کی شان یہ ہے کہ تمام دنیا اس کی قائل ہے اور دنیا کے اس پر ایمان نہ رکھنے کی کوئی وجہ بھی نہیں کہ جس نے یہ دنیا بنائی اس کا اعلان ہے: ”كل شى هالك الا وجهه له الحكم واليه ترجعون (قصص:٨٨) ” ﴿ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے۔ سوائے اس کی ذات کے، فرمانروائی اسی کی ہے اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو۔﴾

دوسرے مقام پر ارشاد ربانی ہے: ”كل من عليها فان، ويبقى وجه ربك ذوالجلال والاكرام (الرحمن:٢٦،٢٧) ”﴿ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہو جانے والی ہے اور صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔﴾

٣

صفحہ ١٣٠

اللہ تعالیٰ کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ نے اسی ”فنا“ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ”بعثت انا والساعۃ کہاتین“ (میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح بھیجے گئے ہیں کہ جس طرح شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی میں تھوڑا سا فرق ہے ۔ اسی طرح میرے بعد جلد ہی قیامت آنے والی ہے۔)

رسول اکرم ﷺ نے قرب قیامت کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” ان من اشراط الساعۃ ان یرفع العلم، الخ“ (قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا۔)

(صحیح بخاری کتاب العلم، باب رفع العلم وظہور الجہل ج ١ ص ١٨)

ایک دوسری حدیث میں نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ نے یہ بھی وضاحت کر دی ہے کہ علم کس طرح اٹھا لیا جائے گا؟ ارشاد نبوی ہے : ” ان اللہ لا یقبض العلم انتزاعا ینتزعہ من العباد ولکن یقبض العلم بقبض العلماء الخ (صحیح بخاری، کتاب العلم، باب کیف یقبض العلم ج ١ ص ٢٠)“ (اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں قبض کرے گا (اٹھائے گا) کہ اسے بندوں سے چھین لے بلکہ وہ علم کو اس طرح اٹھائے گا کہ علماء کو اٹھا لے گا۔)

مندرجہ بالا احادیث سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ دنیا کی زندگی علم سے ہے اور علم کا اٹھ جانا اس کائنات کے لئے پیغام اجل ہے۔ شاید اسی لئے کسی نے کہا اور بالکل صحیح کہا: ”موت العالم موت العالم“ (عالم کی موت جہان کی موت ہے۔)

عالم اسلام پر بالعموم اور برصغیر پاک و ہند پر بالخصوص حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کا تعلق قرآن اور حدیث سے جوڑنے کا تجدیدی کارنامہ سرانجام دیا۔ خصوصاً حدیث رسول ﷺ کی اشاعت میں اس خاندان کی عظیم خدمات ہیں۔ شاہ ولی اللہؒ کے بعد شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ اور پھر ان کے نواسے اور شاگرد رشید شاہ محمد اسحاق صاحب دہلویؒ اور ان کے دوسرے شاگرد شاہ عبدالغنی صاحبؒ کی یہ علمی میراث علماء دیوبند کی طرف منتقل ہوئی۔ چنانچہ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ و مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے بعد شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ، نابغۂ عصر، نمونۂ سلف، حافظ الحدیث، حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیریؒ اور شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد صاحب عثمانیؒ وہ نمایاں ترین ہستیاں ہیں کہ جنہوں نے علم حدیث کی بہترین خدمات انجام دیں اور قدرت نے ان بزرگوں کو ایسے تلامذۂ راشدین سے نوازا۔ جنہوں نے اپنے علم، زہد، تقویٰ اور فراست و فقاہت سے ایک عالم کو منور کیا۔

حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کے خصوصی تلامذہ میں سے قاری محمد طیب

٤

صفحہ ١٣١

صاحب، مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ، مولانا محمد یوسف بنوریؒ اور دوسرے بہت سے حضرات اس دارفانی کو پہلے ہی الوداع کہہ کر اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے تھے کہ ١٤؍ رمضان المبارک ١٤٠٩ھ مطابق ٢٦؍ اپریل ١٩٨٩ء کو حجۃ الاسلام مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیریؒ کے معارف وعلوم کا بہت بڑا خزانہ ہزاروں انسانوں کے افادے کے بعد زیرِ زمین روپوش ہوگیا۔ شاہ صاحبؒ کے نور سے مستفید چراغ تاباں چار دانگ عالم میں ہزاروں چراغ روشن کرنے کے بعد گل ہوگیا۔ علم کا ایک پہاڑ زمین بوس ہوگیا۔ ایک ایسی ہستی جس پر علم کو ناز تھا۔ اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئی۔ سیرتِ انوری کے پیکر، عالم باعمل، محدث ومفسر، استاذ العلماء حضرت مولانا محمد چراغ صاحب رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ واسعۃ کی رحلت پر عبدۃ بن الطبیب کا یہ مشہور شعر پوری طرح صادق آتا ہے:

فما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
ولکنہ بنیان قوم تہدما

استاذی محبی حضرت مولانا محمد چراغ صاحبؒ ١٤؍ جمادی الاخریٰ ١٣١٤ھ کو ضلع گجرات (پاکستان) کے ایک گاؤں موضع دھکڑ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد جناب حافظ کرم دین صاحب کاشتکاری کا کام کرتے تھے۔ لیکن اس کے ساتھ علمی و ادبی ذوق بھی بہت عمدہ تھا۔ مثنوی مولانا رومؒ اور دیوان حافظؒ وغیرہ کتب عموماً پاس رکھتے تھے۔ مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ سے والہانہ عقیدت ومحبت تھی۔ اسی عقیدت ومحبت کا اظہار تھا کہ اپنے چھوٹے بیٹے کا نام غلام رشید رکھا۔ جو بعد میں رشید احمد کے نام سے معروف ہوئے۔

ابتدائی تعلیم

حضرت مولانا محمد چراغ صاحبؒ نے اپنی تعلیم کا باقاعدہ آغاز تقریباً سات سال کی عمر میں کیا۔ جب مشہور عالم دین حضرت مولانا محمود صاحب گنجوی گجراتیؒ نے آپ کو عربی قاعدہ کی بسم اللہ کرائی۔ قرآن کریم کی تعلیم اپنے والدِ بزرگوار سے گھر پر ہی حاصل کی۔ اس کے بعد اسکول کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے اپنے برادرِ بزرگ محمد سراج صاحب عرف سراج الدین صاحب (جو اس دور کے منشی فاضل اور مولوی فاضل تھے) کے پاس لاہور تشریف لے گئے۔ تقریباً چار سال تک آپ نے لاہور میں قیام فرمایا اور مدرسہ نعمانیہ میں چوتھی جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ اسی دوران آپ نے فارسی کی اعلیٰ تعلیم اپنے بڑے بھائی مولانا محمد سراج صاحبؒ اور مولانا محمد عالم صاحب آسیؒ مصنف ’’الکاویہ علی الغاویہ‘‘ سے حاصل کی اور اس کے علاوہ مولانا محمد عالم صاحب آسیؒ سے خوشخطی سیکھی اور اس فن میں کامل مہارت حاصل کی۔

٥

صفحہ ١٣٢

موضع گنجہ میں قیام

لاہور میں تقریباً چار سال گزارنے کے بعد واپس اپنے گاؤں تشریف لے آئے اور عربی تعلیم کے لئے قریب کے ایک گاؤں موضع گنجہ میں اپنے استاد بزرگ کے صاحبزادے مولانا سلطان احمد گنجویؒ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کئے۔ مولانا سلطان احمد صاحبؒ چونکہ رشتہ میں مولانا چراغ صاحبؒ کے والد کے عزیز تھے۔ اس لئے انہوں نے مولانا موصوف کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی اور انتہائی محبت و شفقت سے نوازا۔ آپ نے یہاں تقریباً اڑھائی سال تک قیام کیا اور اس دوران علم صرف کی تکمیل کی۔ علم نحو شرح جامی تک اور منطق شرح تہذیب تک پڑھا۔

دیوبند و سہارن پور کا سفر

اس زمانہ میں دارالعلوم دیوبند کا نام چار دانگ عالم میں مشہور ہو چکا تھا اور علوم اسلامیہ کا مرکز اور گہوارہ قرار پا چکا تھا۔ اس لئے ایک طالب دین کا دارالعلوم دیوبند کی طرف رخ کرنا ایک قدرتی اور فطری بات تھی۔ کیونکہ اس کے بغیر علمی پیاس بجھائی نہیں جاسکتی تھی۔ حضرت مولانا محمد چراغ صاحبؒ ایک طالب دین تھے۔ چنانچہ آپ بھی علوم عربیہ اور اسلامیہ کی تکمیل کے لئے پہلے دیوبند اور پھر سہارنپور (مدرسہ مظاہرالعلوم) میں چلے گئے۔ وہاں آپ نے حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ بانی تبلیغی جماعت، حضرت مولانا عبدالرحمٰن صاحبؒ اور دیگر اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور مولانا خلیل احمد صاحبؒ مؤلف بذل المجہود کی زیارت سے مشرف ہوئے۔

استاذ العلماء حضرت مولانا ولی اللہ صاحبؒ

(انبی شریف) کی خدمت اقدس میں

دارالعلوم دیوبند اور مظاہرالعلوم سہارنپور کے ممتاز ترین اساتذہ سے استفادہ کے بعد اپنے گاؤں تشریف لائے۔ اس وقت پنجاب میں علم کے دو سمندر ہزاروں انسانوں کی علمی پیاس بجھا رہے تھے۔ ایک مولانا غلام رسول صاحبؒ جو موضع انبی ضلع گجرات میں اپنا فیض عام کئے ہوئے تھے اور دوسرے مولانا غلام رسول صاحبؒ کے شاگرد رشید مولانا ولی اللہ صاحبؒ جو دندہ شاہ بلاول (ضلع اٹک) میں علم کے موتی بکھیر رہے تھے۔ مولانا محمد چراغ صاحبؒ نے جب مزید تعلیم کے لئے مولانا غلام رسول صاحبؒ سے رابطہ کیا تو انہوں نے مولانا ولی اللہ صاحبؒ سے کہا کہ آپ محمد چراغ صاحب کو اپنے ساتھ لے جائیں۔

مولانا ولی اللہ صاحبؒ نے بڑی مسرت سے پسند فرمایا۔ اس طرح آپ ایک ایسی ٦

صفحہ ١٣٣

ہستی کے سایہ عاطفت میں پہنچ گئے۔ جس کے علم کی دھوم دور دور تک پھیلی ہوئی تھی اور دارالعلوم جیسے عظیم علمی مرکز میں بھی آپ کے علم اور تعلیمی خصوصیات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ استاذ الاساتذہ حضرت مولانا ولی اللہ صاحبؒ کی جوہر شناس نگاہوں نے اپنے ہونہار شاگرد محمد چراغ کی خداداد صلاحیتوں کو بھانپ لیا اور انتہائی محبت اور توجہ سے علمی سرپرستی فرمائی۔ دندہ شاہ بلاول (اٹک) میں آپ نے حضرت استاذ الاساتذہ مولانا ولی اللہ صاحبؒ کی خدمت اقدس میں تقریباً تین سال کا عرصہ گزارا اور مروجہ نصاب کے مطابق موقوف علیہ کی تکمیل کی۔ موقوف علیہ کی تکمیل کے بعد دورۂ حدیث کے لئے آپ کے دل میں دوبارہ دیوبند جانے کا شوق بیدار ہوا۔ آپ نے جب استاذ الاساتذہ سے اس کا ذکر کیا تو حضرت نے نہ صرف یہ کہ اسے پسند فرمایا بلکہ اپنے قلبی تعلق اور پدرانہ شفقت و مودت کا اظہار کرتے ہوئے سفر دیوبند کے لئے اپنی گرہ سے گیارہ روپے مرحمت فرمائے۔ یہ اس دور کی بات ہے جب ایک روپیہ ایک مہینے کے لئے کفالت کر سکتا تھا۔

دارالعلوم دیوبند میں داخلہ

دارالعلوم دیوبند پہنچے تو شیخ الادب والفقہ مولانا اعزاز علی صاحبؒ نے داخلہ کا امتحان لیا اور بڑی خوشی و مسرت سے دورۂ حدیث میں شرکت کی اجازت دی۔ آپ نے جن اساتذۂ کرام سے علم حدیث حاصل کیا۔ ان کے اسماء گرامی مندرجہ ذیل ہیں:

بخاری و ترمذی: از حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیریؒ۔

مسلم شریف: از حجۃ الاسلام حضرت حافظ محمد احمد صاحبؒ والد مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ۔

سنن ابی داؤد: از سید اصغر حسین شاہ صاحبؒ۔

سنن ابن ماجہ: از حضرت مولانا رسول خان صاحبؒ۔

سنن نسائی: از شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی صاحبؒ۔

مؤطا امام محمدؒ و مالکؒ و شرح معانی الآثار از حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمٰن صاحبؒ۔

اگرچہ یہ تمام حضرات جبال علم اور معارف و عوارف کے بحر ہائے ناپیدا کنار تھے۔ لیکن مولانا محمد چراغ صاحبؒ کو جس ہستی نے سب سے بڑھ کر متاثر کیا۔ وہ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیریؒ کی ذات گرامی تھی۔ آپ نے حضرت شاہ صاحب کے افادات و تقریرات کو لفظ بہ لفظ محفوظ کرنے کا اہتمام کیا اور دوران درس حضرت شاہ صاحبؒ کے افادات کو اردو سے عربی میں منتقل کر کے تحریر کرتے رہے۔

٧

صفحہ ١٣٥

صحیح بخاری سے متعلق حضرت شاہ صاحب کے افادات کا مجموعہ تیار ہوا۔ اس کا نام مولانا محمد چراغ صاحب نے ”المنح الباری الی ترجمۃ البخاری“ تجویز کیا۔ (یہ کتاب انتہائی باریک قلم سے لکھی ہوئی ہے اور ایک سو پچیس صفحات پر مشتمل ہے۔ آج کل حضرت شاہ صاحب کے داماد مولانا احمد رضا صاحب بجنوری (انڈیا) کے پاس غیر مطبوعہ شکل میں موجود ہے۔

اس کتاب میں وہ سب کچھ آ گیا جو حضرت شاہ صاحب نے دوران سبق بیان فرمایا یعنی مسائل و تشریحات کے علاوہ ضمناً جو قصص اور حکایات بیان فرمائیں۔ وہ بھی درج ہیں۔

دورۂ حدیث کا سال ختم ہو رہا تھا۔ امتحان بالکل قریب تھا کہ انہی دنوں عراق کے شیخ عبدالعزیز موصلی نے مولانا محمد چراغ سے درخواست کی کہ آپ نے جو تقریر بخاری قلمبند کی ہے اس کی ایک کاپی (نقل) مجھے بھی کر دیں۔ اگرچہ وہ امتحان کی تیاری کے دن تھے۔ تاہم مولانا محمد چراغ صاحب نے فرمایا کہ میں نے سوچا دیار غیر کا ایک مسافر ہے۔ طالب دین ہے اس کی درخواست کو رد نہیں کرنا چاہئے۔ اسے تقریر بخاری کی ایک نقل کر دی۔

العرف الشذی شرح ترمذی

دارالعلوم دیوبند سے سند فراغت پانے کے بعد حضرت مولانا محمد چراغ صاحب واپس اپنے گاؤں تشریف لے آئے۔ ابھی مشکل ایک ماہ گزرا ہوگا کہ ادھر رمضان المبارک میں شیخ موصلی کی ملاقات حضرت شاہ صاحب سے ہوئی۔ ان کے ہاتھ میں چند اوراق دیکھ کر حضرت شاہ صاحب نے استفسار کیا کہ یہ کیسے اوراق ہیں؟ شیخ موصلی نے جواب دیا کہ یہ آپ کی تقریر بخاری جو شیخ سراج پنجابی (چراغ پنجابی) نے نوٹ کی ہے۔ اس کی نقل ہے۔ (حضرت شاہ صاحب پیار سے مولانا محمد چراغ صاحب کو چراغ پنجابی کے نام سے پکارتے تھے) حضرت شاہ صاحب نے اس تحریر کو دیکھ کر فرمایا: ”اچھا! میں نہیں سمجھتا تھا کہ اس زمانے میں بھی کچھ لوگ ایسے ذی سواد (صاحب استعداد) ہوتے ہیں۔“

یہ الفاظ آپ کی پسندیدگی اور بہترین تائید کا اظہار تھے۔ اس تحریر کو دیکھنے کے بعد حضرت شاہ صاحب نے مولانا محمد مظفر صاحب جہلمی (مولانا محمد چراغ صاحب کے دوست) جو اس وقت دیوبند ہی میں رہائش پذیر تھے، کو فرمایا کہ محمد چراغ کو خط لکھو کہ میری تقریر ترمذی نوٹ کرے۔ چنانچہ رمضان المبارک کے بعد آپ نئے تعلیمی سال کے آغاز ہی میں دیوبند حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور تقریر ترمذی کو ضبط تحریر میں لانا شروع کر دیا۔ اسی دوران ساتھ ہی شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی صاحب سے عربی ادب کی تکمیل کی۔

٨

تقریر ترمذی (جو بعد میں ”العرف الشذی“ دو نسخے تیار کئے۔ ایک حضرت شاہ صاحب کی خدمت لئے۔ جو نسخہ حضرت شاہ صاحب کے پاس رہا۔ اس پـ (نوٹ) تحریر کئے۔ جو بعد میں دوسرے نسخے پر بھی نقل کـ ”العرف الشذی“ کی تالیف پر جمـ کشمیری جس قدر خوش ہوئے اور آپ نے اسے کس قدر بـ ہو سکتا ہے کہ دوسرے سال حضرت شاہ صاحب نے مولـ الہند مولانا محمود الحسن صاحب رہا ہو کر تشریف لے آئـ تقریر ترمذی بھی نوٹ کریں۔ اس حکم کی تعمیل کی خاطر سیاسی سرگرمیوں میں مشغول ہو جانے کی وجہ سے حضرـ شروع نہ کر سکے۔

خیال تھا کہ جب بھی حضرت شیخ الہند سیاـ پڑھانا شروع کریں گے۔ مولانا محمد چراغ صاحب اـ گے۔ لیکن چند ماہ بعد ہی حضرت شیخ الہند اس دارالفـ علیہ رحمۃ واسعۃ!

حضرت شیخ الہند کی رحلت کے بعد حضرـ سے فرمایا کہ دارالعلوم دیوبند کے کتب خانہ میں حصـ نسخہ ہے۔ آپ یہاں رہ کر اس نسخہ کو نقل کر دیں تاکـ نے عرض کیا کہ حضرت اگر آپ کا یہ حکم ہے تو سر آنکھـ بجائے مدرس بننا پسند کروں گا۔ حضرت شاہ صاحب نے خود ہی میرٹھ سلطان التمش کی مسجد سے ملحق مدرسـ

آپ نے وہاں ایک سال تک تدریسـ یہاں آکر آپ نے جامعہ فتحیہ (اچھرہ لاہور) سیداں (سیالکوٹ) پھر کچھ عرصہ کے لئے جہلم مـ ١٩٢٤ء میں گوجرانوالہ تشریف لائے۔ یہاں آ تقریباً بارہ سال تک عوام و خواص کو اپنے علم سـ

صفحہ ١٣٥

تقریر ترمذی (جو بعد میں ”العرف الشذی“ کے نام سے مشہور ہوئی) کے آپ نے دو نسخے تیار کئے۔ ایک حضرت شاہ صاحبؒ کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے اور ایک اپنے لئے ۔ جو نسخہ حضرت شاہ صاحبؒ کے پاس رہا۔ اس پر اپنے قلم سے کئی مقامات پر مختصر حواشی (نوٹ) تحریر کئے۔ جو بعد میں دوسرے نسخے پر بھی نقل کرلئے گئے ۔

”العرف الشذی“ کی تالیف پر حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیریؒ کس قدر خوش ہوئے اور آپ نے اسے کس قدر پسند فرمایا۔ اس امر کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ دوسرے سال حضرت شاہ صاحبؒ نے مولانا محمد چراغ صاحبؒ سے کہا کہ حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحبؒ رہا ہوکر تشریف لے آئے ہیں ۔ آپ اس سال حضرت شیخ الہندؒ کی تقریر ترمذی بھی نوٹ کریں ۔ اس حکم کی تعمیل کی خاطر آپ پھر دیوبند حاضر ہوئے۔ لیکن دوبارہ سیاسی سرگرمیوں میں مشغول ہوجانے کی وجہ سے حضرت شیخ الہندؒ اس دفعہ ترمذی شریف کی تدریس شروع نہ کرسکے ۔

خیال تھا کہ جب بھی حضرت شیخ الہندؒ سیاسی سرگرمیوں سے فارغ ہوکر ترمذی شریف پڑھانا شروع کریں گے۔ مولانا محمد چراغ صاحبؒ ان کی تقریر کو ضبط تحریر میں لانا شروع کردیں گے۔ لیکن چند ماہ بعد ہی حضرت شیخ الہندؒ اس دارالفناء کو چھوڑ کر عازم دارالبقاء ہوگئے۔ رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ واسعۃ!

حضرت شیخ الہندؒ کی رحلت کے بعد حضرت شاہ صاحبؒ نے مولانا محمد چراغ صاحبؒ سے فرمایا کہ دارالعلوم دیوبند کے کتب خانہ میں حدیث کی ایک کتاب ”مصنف عبدالرزاقؒ کا قلمی نسخہ ہے ۔ آپ یہاں رہ کر اس نسخہ کو نقل کردیں تاکہ اسے چھپوایا جاسکے۔ مولانا محمد چراغ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اگر آپ کا یہ حکم ہے تو سر آنکھوں پر۔ لیکن اگر مشورہ ہے تو میں کاتب بننے کی بجائے مدرس بننا پسند کروں گا۔ حضرت شاہ صاحبؒ اس جواب سے بہت خوش ہوئے اور آپ نے خود ہی میرٹھ سلطان التمش کی مسجد سے ملحق مدرسہ میں مدرس بنا کر بھیج دیا ۔

آپ نے وہاں ایک سال تک تدریس کی۔ بعد ازاں آپ پنجاب لوٹ آئے اور یہاں آکر آپ نے جامعہ فتحیہ (اچھرہ لاہور) پھر سید جماعت علی شاہ کے مدرسہ واقع علی پور سیداں (سیالکوٹ) پھر کچھ عرصہ کے لئے جہلم میں تدریسی فرائض سرانجام دینے کے بعد آپ ١٩٢٤ء میں گوجرانوالہ تشریف لائے۔ یہاں آپ نے مدرسہ انوارالعلوم (شیرانوالہ باغ) میں تقریباً بارہ سال تک عوام وخواص کو اپنے علم سے منور کیا اور بالآخر ١٩٣٦ء مطابق ١٣٥٤ھ میں

٩

صفحہ ١٣٦

آپ نے گوجرانوالہ میں بیرون کھیالی دروازہ مسجد ارائیاں میں مدرسہ عربیہ کی بنیاد رکھی۔ مولانا محمد چراغ صاحبؒ اب تک سینکڑوں تشنگان علم کو اپنے بہترین علم سے سیراب کر چکے تھے اور آپ کی وسعت نظر، فقاہت، کردار کی بلندی اور علم کی وسعت کی شہرت دور دور تک پھیل چکی تھی۔ مدرسہ عربیہ کی بنیاد رکھتے ہی شمع علم کے پروانے ٹوٹ ٹوٹ پڑے۔

یہاں تک کہ آبادی میں گھر جانے اور طالبان علم دین کی کثرت کی وجہ سے یہ جگہ تھوڑے عرصے بعد ہی ناکافی محسوس ہونے لگی۔ مدرسہ میں رہائش کی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے طلبہ آس پاس کی دیگر مساجد میں رہائش رکھنے پر مجبور تھے۔ چنانچہ ١٩٧٦ء میں شاہراہ عظیم (جی ٹی روڈ) گوجرانوالہ شہر سے چار میل کے فاصلے پر ١٨ کنال زمین حاصل کی گئی اور یکم اکتوبر ١٩٧٧ء کو مولانا محمد چراغ صاحبؒ کے انتہائی شفیق استاذ استاذ الاساتذہ حضرت مولانا ولی اللہ صاحبؒ (انبی شریف) نے جامعہ عربیہ جدید کا سنگ بنیاد رکھا۔

یکم اکتوبر ١٩٧٩ء میں تعلیم کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ مولانا محمد چراغ صاحبؒ کے اخلاص وایثار اور لوگوں کے ہاں معتمد علیہ ہونے پر درخشندہ و زندہ جاوید دلیل جو اب ایک عظیم اور پرشکوہ عمارت کی شکل آنکھوں کو خیرہ کر رہی ہے۔ ایک مختصر عرصہ میں پایہ تکمیل کو پہنچی ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جب تعمیر کا آغاز کیا گیا تو جامعہ کے فنڈ میں صرف ایک روپیہ تھا۔ حضرت نے توکل علی اللہ پر کام شروع کرا دیا اور توکل علی اللہ کا یہ عظیم مظہر اب کروڑوں روپیہ کی عمارت کی شکل میں اپنی شان دکھا رہا ہے۔

حضرت مولانا محمد چراغ صاحبؒ کے چند مشہور اساتذۂ کرام

١٠

احمد علی لاہوری صاحبؒ سے آپ نے ان کے لاہوریؒ کو گورمکھی زبان کی تعلیم دی۔

مشہور تلامذہ

صفحہ ١٣٧

احمد علی لاہوری صاحبؒ سے آپ نے ان کے طرز پر تفسیر قرآن پڑھی اور مولانا احمد علی صاحب لاہوریؒ کو گورمکھی زبان کی تعلیم دی۔

مشہور تلامذہ

صفحہ ١٣٨

تبلیغی سرگرمیاں

حضرت مولانا محمد چراغ صاحبؒ نے دین اسلام کی باقاعدہ تبلیغ کا آغاز تعلیم کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی کر دیا تھا۔ حضرت شاہ صاحبؒ کی ہدایت اور مشورہ پر آپ نے اس وقت کے سب سے بڑے فتنہ انکار ختم نبوت کے خلاف بھر پور کام کیا۔ اس سلسلہ میں آپ نے زبانی تقریروں پر اکتفاء نہیں کیا۔ بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی کتب اور تحریروں کا بغور مطالعہ کیا اور اس کی تحریروں میں پائے جانے والے تضادات کو جمع کیا اور رد مرزائیت کے سلسلے میں مختلف رسائل و جرائد میں مضامین لکھے۔ جن میں چند رسائل و جرائد مندرجہ ذیل ہیں:

القرآن، زمیندار، آزاد، الارشاد، العدل، شمس الاسلام۔

مضامین نویسی کے علاوہ آپ نے اس سلسلے میں بہت ہی مفید تالیف بھی کی جس کا نام آپ نے ”چراغ ہدایت“ تجویز کیا اور بحمد للہ اب پہلی بار زیور طبع سے آراستہ ہو کر قارئین کے ہاتھ میں پہنچ رہی ہے۔

اس کے علاوہ آپ نے رد مرزائیت کے سلسلے میں پاکستان کے ایک بہت بڑے علاقے پنجاب سے لے کر کشمیر کے قریہ قریہ اور گاؤں گاؤں تبلیغی جلسے کئے۔ بہت سے مرزائی مبلغوں سے مناظرے کئے اور انہیں شکست فاش سے دوچار کیا۔ اس کے علاوہ اپنے شاگردوں کی ایک خاص تیاری کی جنہوں نے رد مرزائیت کے سلسلے میں بہت نمایاں خدمات سر انجام دیں۔ ان میں سرفہرست مولانا حیات محمدؒ کا نام آتا ہے۔ جنہیں دنیا فاتح قادیان کے لقب سے جانتی ہے۔

اس دور کا ایک بہت بڑا فتنہ عیسائی مشنریوں کی شکل میں تھا جو اپنی حکومت کی مدد سے سادہ لوح لوگوں کو مختلف قسم کا لالچ اور دیگر مختلف حربے استعمال کرتے ہوئے عیسائیت کو فروغ

١٢

صفحہ ١٤٩

دے رہی تھیں۔ حضرت مولانا چراغ صاحب نے اس سلسلے میں بھی حضرت شاہ صاحب سے مشورہ کیا۔ حضرت شاہ صاحب نے اظہار الحق مؤلفہ مولانا رحمت اللہ کیرانوی، ازالۃ الشکوک اور اسی قسم کی دیگر بہت سی مفید کتب کے مطالعے کا مشورہ دیا۔ مولانا محمد چراغ صاحب نے ان کتابوں کے مطالعے کے ساتھ مختلف انجیلوں اور بائبل کا مطالعہ کیا اور عیسائیت کے رد میں انتہائی مستند اور جامع مواد جمع کیا (جو غیر مطبوعہ شکل میں موجود ہے) اس کے علاوہ مختلف رسائل میں عیسائیت کے خلاف بہترین مضامین لکھے۔

جمعیت اتحاد العلماء کا قیام

اسلام کے خلاف فتنوں کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں علماء کرام پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ان کی ادائیگی میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ان کا آپس میں انتشار تھا۔ جس کی وجہ سے وہ صلاحیتیں جو ان فتنوں کے استیصال کے لئے استعمال ہونی تھیں، آپس کے جھگڑوں میں ضائع ہورہی تھیں۔ آپ نے مختلف مکاتب فکر کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لئے مفتی سید سیاح الدین صاحب کاکاخیل اور مولانا گلزار احمد صاحب مظاہری مرحوم کے ساتھ مل کر جمعیت اتحاد العلماء کی تشکیل کی اور آپ جمعیت کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ علماء کے باہمی اختلاف کو کم کرنے اور مملکت خداداد پاکستان میں نظام اسلامی کے نفاذ کی جدوجہد میں جمعیت اتحاد العلماء کا کردار بہت مثبت اور شاندار ہے۔

حضرت مولانا محمد چراغ صاحب سیاسی میدان میں

حضرت الاستاذ مولانا محمد چراغ صاحب نے جس وقت عملی میدان میں قدم رکھا۔ اس وقت برصغیر میں تحریک خلافت کا دور دورہ تھا۔ چنانچہ آپ نے سب سے پہلے جس سیاسی جلسے سے خطاب کیا۔ وہ ضلع گجرات میں ٹنگر والی کے مقام پر ہونے والا اسی سلسلہ کا جلسہ تھا۔ جس کی صدارت مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی کی والدہ ماجدہ نے کی۔ اس طرح آپ نے تحریک خلافت میں شمولیت کے ذریعے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ اس کے بعد آپ نے جمعیت علماء ہند میں شمولیت اختیار کی اور جمعیت علماء ہند ضلع گوجرانوالہ کے صدر مقرر ہوئے۔ اس کے علاوہ آپ نے مجلس احرار اسلام میں کافی عرصہ تک کام کیا اور تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں چھ ماہ کی قید کاٹ کر سنت یوسفی کی یاد تازہ کی۔ کچھ عرصہ کے لئے آپ تبلیغی جماعت میں بھی رہے اور پھر قیام پاکستان کے بعد ١٩٤٩ء میں آپ نے جماعت اسلامی پاکستان کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کیا۔ کیونکہ آپ کی نگاہ میں جماعت اسلامی ایک ایسی جماعت تھی جو مطالبہ نفاذ نظام اسلامی اور اس

١٤

صفحہ ١٤٠

جدوجہد میں مخلص تھی اور مولانا مودودی کی سعی اور جدوجہد کا محور صرف اور صرف اسلام تھا۔

جماعت اسلامی پاکستان کے ساتھ اس تعاون پر آمادہ کرنے والے ایک خواب کا حضرت مولانا محمد چراغ صاحب اکثر تذکرہ فرماتے تھے۔ آپ فرماتے تھے کہ ایک رات میں گوجرانوالہ کے نواحی گاؤں منڈیالہ وڑائچ میں اپنے ایک شاگرد مولوی نور حسین کے ہاں مقیم تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ شاہی مسجد کی تعمیر کا کام ہے اور اکیلا مودودی کھلا پائجامہ پہنے سرخ داڑھی رکھے سر پر تغاری اٹھائے مرمت کا کام کر رہا ہے۔ ان دنوں مولانا مودودی قرارداد مقاصد کی منظوری کے لئے ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کر رہے تھے اور اس کی منظوری کے لئے فضا ہموار کر رہے تھے۔ چنانچہ آپ نے اس کی تعبیر یہی لی کہ مولانا مودودی نفاذ اسلام کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ آپ باوجود اس کے کہ مولانا مودودی سے علم و عمر میں بڑے تھے۔ مولانا کا بہت احترام کرتے۔ آپ جماعت اسلامی کے باضابطہ رکن نہیں بنے۔ لیکن نفاذ اسلام کی جدوجہد میں آپ نے جماعت اسلامی سے آخر دم تک بھر پور تعاون کیا۔ خصوصاً رفاہی کاموں میں حسب استطاعت دل کھول کر مالی و اخلاقی تعاون کیا۔

ابتلاء و آزمائش

آپ کو اپنی سیاسی زندگی میں چار دفعہ جیل جانا پڑا۔

پر مجبور کرنے کے لئے سول نافرمانی کی تحریک میں حصہ لینے پر آپ گرفتار کئے گئے اور ١٤ جون ١٩٣٠ء کو دفعہ ١٠٨ کے تحت ایک سال قید کا فیصلہ سنایا گیا۔

ڈکٹیٹر گرفتار ہوئے اور ٢٥ فروری ١٩٣٢ء کو آپ کو زیر دفعہ ١٠٨ ایک سال قید محض سنائی گئی۔ مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا احمد علی لاہوری اور مولانا حبیب الرحمن اور آپ کو اکٹھے ملتان جیل بھیج دیا گیا۔

گرفتار کیا گیا اور ایک ماہ لاہور شاہی قلعہ میں رکھا گیا۔

پر احتجاجی جلسہ کی صدارت کرنے پر پبلک سیفٹی ایکٹ پنجاب نمبر ٣ کے تحت ٣١ مئی کو ڈسٹرکٹ جیل گوجرانوالہ میں چھ ماہ کے لئے نظر بند کر دیا گیا۔

١٤

صفحہ ١٤١

اولاد

مولانا محمد چراغ صاحبؒ کے چار صاحبزادے اور دو صاحبزادیاں ہیں۔

بڑے صاحبزادے

مولانا محمد انور صاحب قاسمی حضرتؒ کی زندگی ہی میں ناظم اعلیٰ کی حیثیت سے جامعہ عربیہ کے انتظام وانصرام کی تمام خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اب حضرت مولانا محمد چراغ صاحبؒ کی وفات کے بعد جامعہ کی شوریٰ نے انہیں جامعہ عربیہ کا مہتمم منتخب کیا ہے۔ جو ان کی بہترین انتظامی صلاحیتوں کا بین اعتراف ہے۔ آپ ایک جید عالم دین ہونے کے ساتھ عالمی مبلغ اسلام بھی ہیں۔ افریقہ، یورپ اور امریکہ کے متعدد علاقوں کے آپ نے تبلیغی دورے کئے ہیں۔

دوسرے صاحبزادے جناب محمد سعید صاحب انگلینڈ میں رہائش پذیر ہیں۔ تیسرے صاحبزادے جناب مولانا محمد حنیف صاحب ایم۔اے اردو، ایم۔اے اسلامیات، فاضل عربی اور فاضل درس نظامی ہیں۔ مکتبہ چراغ اسلام لاہور کے مالک ہیں۔ حسن البناء شہید اور عبدالقادر عودہ شہید کی متعدد عربی کتب کے مترجم ہیں۔ چوتھے صاحبزادے مولانا محمد منور صاحب تسنیم بھی درس نظامی کے فاضل تھے اور بہت عمدہ کردار اور اخلاق کے مالک۔ چھوٹا بیٹا ہونے کی حیثیت سے حضرتؒ کے بہت محبوب اور پیارے تھے۔ حضرت کی رحلت (١٤ رمضان المبارک) کے ٹھیک پچیس دن بعد (١٠ شوال ١٤٠٩ھ) اسلام آباد میں، جہاں آپ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ملازم تھے۔ ایک حادثے میں خالق حقیقی سے جاملے۔ ”انا لله وانا اليه راجعون، رحمهما الله تعالى رحمة واسعة اللهم اغفرلهما وارحمهما وادخلهما في جنة الفردوس والحقهما بعبادك الصالحين“

چند الفاظ اس کتاب کے بارے میں

الحمد لله الذى بنعمته تتم الصلحت، والصلوة والسلام على رسوله قائد الغر المحجلين وخاتم الانبياء والمرسلين . اما بعد! خدائے بزرگ و برتر کا احسان عظیم ہے کہ آج یہ کتاب زیور طباعت سے آراستہ ہو رہی ہے۔ اگرچہ یہ آج سے تقریباً ساٹھ سال پہلے کی تحریر ہے اور وقت کی شدید ضرورت کے تحت اسے آج سے بہت پہلے شائع ہو جانا چاہئے تھا۔ لیکن شاید قدرت کو یہی منظور تھا کہ ایک عرصہ تک یہ خواص کی ہی دولت رہے اور عوام کے لئے اس کے عام ہونے کا یہی وقت مقرر تھا۔

١٥

صفحہ ١٤٢

مؤلف (حضرت مولانا محمد چراغ صاحب نور اللہ مرقدہ) نے مرزا قادیانی کا کوئی قول بھی بلا حوالہ نقل نہیں کیا۔ بلکہ مرزا کا کوئی قول اگر اس کی ایک سے زائد کتب میں پایا جاتا ہے تو اس کے لئے دو دو، تین تین کتابوں کے حوالے دے دیئے گئے ہیں۔ تاکہ جو کتاب بھی آسانی سے میسر ہو، اسی سے تصدیق کر لی جائے۔ چونکہ یہ حوالے آج سے ساٹھ سال سے زائد عرصہ پہلے شائع ہونے والی کتب کے تھے اس لئے ہم نے کوشش کی کہ جدید ایڈیشنز کے حوالے بھی دیئے جائیں۔ لیکن مرزا قادیانی کی ساری کتب کے تازہ ایڈیشن میسر نہ آسکے۔ کیونکہ بعض کتب کی اشاعت خود مرزائیوں کی طرف سے بند کر دی گئی ہے۔

تاہم جہاں تک میسر ہو سکا ہم نے بعد کے ایڈیشنز کے حوالے بھی دے دیئے ہیں۔ چنانچہ اس کتاب میں جہاں حوالہ کے ساتھ جدید کا لفظ آئے۔ اس سے بعد کا ایڈیشن مراد ہوگا۔ کتاب کے آخر میں ایک نقشہ کی فوٹو کاپی بھی دی جا رہی ہے۔ جس سے مرزا کی کتب کے مختلف ایڈیشنز کی تاریخ اشاعت معلوم ہو جائے گی۔ اگرچہ ہم نے پوری کوشش کی ہے کہ کتاب اغلاط سے مبرا ہو کر شائع ہو۔ لیکن اپنی کم علمی اور انسانی کمزوری کا بھی اعتراف ہے۔ اس لئے قارئین سے التماس ہے کہ غلطیوں کے لئے ہمیں ہی قصور وار ٹھہرایا جائے۔ حضرت کا لکھا ہوا اصل مسودہ دو دفعہ نقل کرایا گیا ہے۔ اس لئے ممکن ہے کہ وہ غلطی اصل مسودہ کی بجائے ناقل کی ہو۔ حضرت نے اس کتاب کو خود اشاعت کے نقطہ نظر سے ترتیب نہیں دیا۔ بلکہ متعلقہ موضوعات پر زیادہ سے زیادہ مواد جمع کیا ہے۔ اس وقت ہم کتاب میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی نہیں کر رہے۔ اس لئے بعض مقامات پر اگرچہ تکرار ہے۔ لیکن ہم نے اسے من و عن شائع کر دیا ہے۔ آئندہ ایڈیشنز کے لئے ہمیں علماء کرام اور قارئین کے مشوروں کا انتظار رہے گا تاکہ یہ کتاب ہر خاص و عام کے لئے یکساں طور پر مفید ہو۔ وباللہ ھو الموفق!

محمد عارف، مدرس جامعہ عربیہ گوجرانوالہ یکم فروری ١٩٩٠ء

مقدمہ

کتاب سے پہلے مؤلف کتاب کا تعارف ضروری ہے۔ مؤلف کتاب حضرت الاستاذ مولانا محمد چراغ صاحب نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے کچھ عرصہ بعد گوجرانوالہ میں درس و تدریس کی خدمت شروع کی۔ جو آخر تک جاری رہی۔ پہلے مدرسہ انوار العلوم جامع مسجد شیرانوالہ میں پھر مدرسہ عربیہ کے نام سے مسجد لھائیاں بیرون کھیالی گیٹ میں یہ سلسلہ تدریس جاری رہا۔

١٦

صفحہ ١٤٣

اب بعد میں یہی مدرسہ جی ٹی روڈ پر جامعہ عربیہ کے نام سے ایک مستقل اور جدید عمارت میں منتقل ہو گیا ہے۔ مؤلف موصوف محدث العصر حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ صدر مدرس دارالعلوم دیوبند کے قابل فخر شاگرد تھے جنہوں نے حضرت شاہ صاحبؒ کی ترمذی شریف پر تقریر عربی زبان میں نوٹ فرمائی۔ آپ نے جب شاہ صاحبؒ کی خدمت میں یہ پیش کی تو حضرت شاہ صاحبؒ نے دیکھ کر ان الفاظ میں خراج تحسین پیش فرمایا کہ ”مجھے افسوس ہے کہ اگر یہ علم ہوتا کہ میرے درس میں ایسے قابل شاگرد بھی ہیں تو میں اپنے درس میں اور زیادہ علمی نکات پیش کرتا۔“

چنانچہ حضرت شاہ صاحبؒ کی نظر ثانی سے استاد صاحبؒ کے جمع کردہ وہ امالی (نوٹس) العرف الشذی کے نام سے شائع ہوئے اور آج ترمذی پڑھانے والا کوئی استاذ نہیں۔ جو اس سے مستغنی ہو اور اسے مطالعہ میں نہ رکھتا ہو۔ حضرت استاذ کی علمی حیثیت کے لئے یہ جاننا کافی ہے کہ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے جب ترجمہ قرآن لکھا اور اس پر ربط آیات اور تفسیری حواشی تحریر فرمائے۔ تو جن علماء سے آپ نے اس تفسیری خدمت کی تصدیق حاصل کی۔ ان میں حضرت الاستاذ مولانا محمد چراغ کا نام بھی ایک تاریخی یاد ہے۔ رد قادیانیت کی آپ کو جنون کی حد تک لگن تھی اور یہ جذبہ بھی آپ نے اپنے عظیم استاذ حضرت مولانا سید انور شاہؒ سے لیا تھا۔ اس موقع پر حضرت شاہ صاحبؒ کا مختصر تعارف نامناسب نہ ہوگا کہ رد قادیانیت میں حضرت شاہ صاحبؒ کا بھی کچھ ذکر خیر یہاں کر دیا جائے تاکہ قارئین اندازہ کریں کہ وہ بحر عظیم کیا ہوگا؟ جس کے یہ قطرے دنیا میں سمندر بن کر نکلے اور تاریخ میں ایک مقام پاگئے۔

مسیلمۂ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی میں جن علماء نے اپنی زبان اور قلم سے اس کا ہر میدان میں مقابلہ کر کے اس کا ناطقہ بند کیا۔ ان میں سرفہرست علماء لدھیانہ حضرت مولانا عبدالعزیزؒ اور مولانا محمد لدھیانویؒ ہیں۔ جنہوں نے سب سے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر کو پہچانا اور اس کے الحاد پر کفر کا فتویٰ دیا اور علماء کو اس فتنہ کی طرف متوجہ کیا۔ مولانا محمد حسین بٹالویؒ، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ، قاضی مظہر حسینؒ کے والد مولانا کرم دین جہلمیؒ، مولانا ابراہیمؒ سیالکوٹی، مولانا عبدالحق غزنویؒ، مولانا سعد اللہ لدھیانویؒ وغیرہم یہ تمام حضرات بھی مرزا قادیانی کے ہم عصر تھے۔ جن حضرات نے مرزا کے ہر چیلنج کو قبول کرتے ہوئے اسے ہر میدان میں ذلیل و خوار کیا۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں ان علماء کو ان کے اسی جذبہ حق پر بے نقط گالیاں سنائی ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد اس فتنہ کا بطور تحریک جو مقابلہ ہوا ہے اور اب تک ہو رہا ہے۔ اس کے قائد اور بانی حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیریؒ ہیں۔

١٧

صفحہ ١٤٤

حضرت شاہ صاحبؒ کی جو عقیدت اور نسبت قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد محدث گنگوہیؒ سے تھی۔ وہ کسی صاحب علم سے مخفی نہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے انہیں جن الفاظ میں ذکر کیا ہے۔ وہ تقاضا کرتے ہیں کہ حضرت قطب الارشاد کا یہ عقیدت مند اس فتنہ کبرٰی کو قریب سے سمجھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی گالیوں کی گردان کرتے ہوئے لکھتا ہے:

”واخرهم الشيطن الاعمى والغول الاغوى يقال له رشيد الجنجوهى وهو شقى كالامروهى ومن الملعونين“ (انجام آتھم ص ٢٥٢ خزائن ج ١١ ص ايضاً) یعنی ان کے آخر میں ایک اندھا شیطان ہے اور گمراہ دیو ہے۔ جسے رشید احمد گنگوہی کہتے ہیں۔ وہ امروہی کی طرح بدبخت اور ملعون ہے۔

مرزا غلام احمد نے ١٨٩٧ء میں جن علماء کو مباہلہ کی دعوت دی تھی۔ ان میں پانچویں نمبر پر حضرت مولانا گنگوہیؒ کا نام بھی مرزا غلام احمد نے بڑے غیظ وغضب سے ذکر کیا ہے۔ حضرت شاہ صاحبؒ کو غلام احمد کی اس تلخی نے اس طرف متوجہ کیا۔ ثانیاً آپ کشمیر کے رہنے والے تھے اور غلام احمد نے یہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر تجویز کی تھی۔ اب تک اس کے پیرو سری نگر میں اس قبر کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ غلام احمد اسی خطہ کو پہلے ربوہ بتلاتا رہا۔ مرزا بشیر الدین محمود اسی تسلسل میں کشمیر کیس کا چیئرمین بنایا گیا تھا اور چوہدری ظفر اللہ خان نے اپنی وزارت خارجہ کے دور میں جس طرح مسئلہ کشمیر کو الجھایا۔ اس میں قادیانی عقیدے کے اس پس منظر کو بھی بہت دخل ہے۔

حضرت علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ اس فتنہ کے متعلق اس قدر پریشان تھے کہ بروایت استاذی المکرم حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ ، حضرت شاہ صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ چھ ماہ تک مجھے اس پریشانی کی وجہ سے نیند نہیں آئی۔ دعائیں اور استخارے کرتا رہا۔ آخر چھ ماہ کے بعد یہ تسلی دی گئی کہ یہ فتنہ ختم ہو جائے گا۔ حضرت نے اس فتنہ کے استیصال اور خاتمے کے لئے سیاسی، فکری اور علمی ہر سطح پر کام شروع کیا۔ ایک طرف راسخ العلم علماء کی ایک جماعت تیار کی جو اس فتنہ کا محاسبہ کریں، اور میدان مناظرہ میں ان کا مقابلہ کریں۔ ان میں سرفہرست مناظر اسلام حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ، محدث شہیر مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی ثم المدنیؒ، شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ اور مفتی اعظم حضرت مولانا محمد شفیعؒ جیسے جید علماء تھے۔ جنہوں نے ملک بھر میں ان کے ساتھ مناظرے کر کے ان کا ناطقہ بند کر دیا۔ دوسری طرف آپ نے مجلس احرار اسلام کی سرپرستی کی اور ان کے روح رواں خطیب الہند حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ جیسے آتش بیاں اور شعلہ نوا مقرر کی سرپرستی میں مقررین کی ایک ٹیم کو متوجہ کیا۔ جس میں خطیب اسلام قاضی

١٨

احسان احمد شجاعبادی، مجاہد ملت مولانا محمد علی جا مولانا غلام غوث ہزاروی، مفکر احرار چوہدری تاج الدین انصاری اور بے باک صحافی مقرر اور مولانا مظہر علی اظہر جیسے شعلہ بیان مقررین صاحبزادہ فیض الحسن نے ختم نبو امیر شریعت سے پائی تھی اسے وہ جماعت جو آپ کو جہاں بھی ختم نبوت پر کوئی کام ملے گا کار فرما ہو گی جو حضرت امیر شریعت کا فیض قادیانیت پر شیعہ علماء میں خوب محنت کی اور حافظ کفایت حسین جیسے شیعہ علماء کو قادیانیوں شیعہ لیڈروں سے ملنے کے لئے کہا۔ یہاں باوجود مسئلہ قادیانیت پر حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا موضوع فکر یہ تھا پنجہ استبداد سے آزاد کرانے کی جدوجہد سرحدوں کی حفاظت کے لئے بھی نکلیں اور بچانے کے لئے اپنی صلاحیتیں صرف کریں فتنہ کا جماعتی طور پر سیاسی محاسبہ شروع کر دیا مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے مجلس احرا لئے وقف کر دیا اور فرمایا کہ جو حضرات س جائیں اور فرمایا: ”ہم تو اس فتنہ کبریٰ کے استیصا تعلق نہیں ہوگا۔“ اس کے کچھ عرصہ بعد حضر کے نام سے تشکیل دی۔ جس کے دستور میں ہوگا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے پہلے امیر جالندھری مقرر ہوئے۔ حضرت شاہ صاح احسان احمد شجاع آبادی ان کی وفات کے

صفحہ ١٤٥

احسان احمد شجاعبادیؒ، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ، خطیب خوش الحان مولانا گل شیرؒ، شیر سرحد مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مفکر احرار چوہدری افضل حقؒ، ضیغم احرار شیخ حسام الدینؒ، مفکر احرار ماسٹر تاج الدین انصاریؒ اور بے باک صحافی مقرر و شاعر آغا شورش کاشمیریؒ، صاحبزادہ سید فیض الحسنؒ اور مولانا مظہر علی اظہرؒ جیسے شعلہ بیان مقررین تھے۔

صاحبزادہ فیض الحسنؒ نے ختم نبوت اور قادیانیت کے بارے میں جو تربیت حضرت امیر شریعتؒ سے پائی تھی اسے وہ جماعت چھوڑنے کے بعد بھی نہ بھولے۔ بریلوی مکتب فکر میں آپ کو جہاں بھی ختم نبوت پر کوئی کام ملے گا اس کے پیچھے حضرت صاحبزادہ فیض الحسنؒ کی وہ محنت کارفرما ہوگی جو حضرت امیر شریعتؒ کا فیض عالم تاب ہے۔ مولانا مظہر علی اظہرؒ نے ختم نبوت اور قادیانیت پر شیعہ علماء میں خوب محنت کی اور حضرت شاہ صاحبؒ کا پیغام اور پروگرام گھر گھر پہنچایا۔ حافظ کفایت حسینؒ جیسے شیعہ علماء کو قادیانیوں کے خلاف لا کھڑا کیا۔ مظفر علی شمسی کو اس موضوع پر شیعہ لیڈروں سے ملنے کے لئے کہا۔ یہاں تک کہ شیعہ جمہور مسلمانوں سے اختلافات رکھنے کے باوجود مسئلہ قادیانیت پر حضرت امیر شریعتؒ کے ساتھ ہو گئے۔ اب امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا موضوع فکر یہ تھا کہ جس طرح احرار ہندوستان کو انگریز دشمن اسلام کے پنجۂ استبداد سے آزاد کرانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ اسی طرح وہ مسلمانوں کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لئے بھی نکلیں اور امت مسلمہ کو انگریز کے اس خود کاشتہ پودے سے بچانے کے لئے اپنی صلاحیتیں صرف کریں۔ چنانچہ مجلس احرار اسلام نے قبل از تقسیم برصغیر میں اس فتنہ کا جماعتی طور پر سیاسی محاسبہ شروع کر دیا اور انگریز کے اس ملک سے چلے جانے کے بعد حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے مجلس احرار کو سیاسی سطح سے ہٹا کر ہمہ تن ختم نبوت کی خدمت کے لئے وقف کر دیا اور فرمایا کہ جو حضرات سیاسی کام کرنا چاہیں وہ دوسری سیاسی جماعتوں میں مل جائیں اور فرمایا:

”ہم تو اس فتنہ کبریٰ کے استیصال کے لئے کام کریں گے اور ملکی سیاست سے میرا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔“ اس کے کچھ عرصہ بعد حضرت امیر شریعت نے ایک مستقل جماعت تحفظ ختم نبوت کے نام سے تشکیل دی۔ جس کے دستور میں یہ شامل کیا کہ اس جماعت کو ملکی سیاست سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے پہلے امیر حضرت شاہ صاحبؒ اور ناظم اعلیٰ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ مقرر ہوئے۔ حضرت شاہ صاحبؒ کی وفات کے بعد خطیب پاکستان حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ ان کی وفات کے بعد مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ امیر منتخب

١٩

صفحہ ١٤٦

ہوئے۔ حضرت جالندھریؒ کی وفات کے بعد مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ امیر مقرر ہوئے۔ مولانا لال حسینؒ کی وفات کے بعد جماعت میں پھر تازہ خون بھرنے کی ضرورت تھی۔

حضرت مولانا شاہ صاحبؒ کے شاگردوں میں استاذی المکرم حضرت مولانا علامہ محمد یوسف بنوریؒ زندہ تھے۔ علماء عصر نے مجلس ختم نبوت کو مزید مستحکم کرنے کے لئے حضرت علامہ بنوریؒ سے گزارش کی کہ اب جماعت کو وہ سنبھالیں۔ چنانچہ مولانا لال حسین اخترؒ کے بعد محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ اس کے امیر مقرر ہوئے۔ تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء میں آپ نے ملک کی مذہبی اور سیاسی انیس جماعتوں پر مشتمل مجلس عمل تشکیل دی۔ اس کے متفقہ امیر حضرت علامہ بنوریؒ قرار پائے۔ حضرت علامہؒ نے یہ تحریک ایسے ضبط اور نظم و نسق سے چلائی کہ یہ بخیر وخوبی ساحل مراد سے جا لگی۔ اس مجلس عمل کے وہی مطالبات تھے جو ٥٣ء کی مجلس عمل کی تحریک کے تھے۔

قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا اس کا بنیادی مطالبہ تھا اور یہی نقطہ تحریک کی روح رواں تھا۔ بندہ ان دنوں حضرت بنوریؒ کے حکم سے سعودی عرب اور عرب امارات میں تحریک کے متعلق کام کر رہا تھا اور رابطہ کے جنرل سیکرٹری دارالافتاء کے رئیس شیخ عبدالعزیز بن بازؒ اور شئون دینیہ کے رئیس شیخ عبداللہ بن حمیدؒ سے رابطہ قائم کیا ہوا تھا۔ راقم الحروف نے وزیر اعظم پاکستان بھٹو کے نام مجلس عمل کے مطالبات کی تائید میں مفصل تار دلوائے۔ اسی طرح عرب امارات کے سرکردہ سرکاری شخصیات کے علاوہ پاکستانی احباب سے بھی مطالبات کے حق میں تار دلوائے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے موجودہ امیر خانقاہ سراجیہ کے جانشین خواجہ خان محمدؒ آف کندیاں شریف ہیں۔ ان کی امارت میں بھی ١٩٨٤ء میں ایک تحریک چلی۔ جس کے نتیجہ میں جنرل محمد ضیاء الحق صدر پاکستان نے ختم نبوت آرڈیننس جاری کیا۔ اس نتیجہ میں ان کی تبلیغی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی۔ ان کی مسلمانوں کو مغالطہ دینے والی اذانیں بند ہو گئیں۔ اسلامی شعائر کا استعمال ان کے لئے ممنوع قرار دیا گیا۔ یہ سب ثمرات اسی فکر و عمل کے ہیں۔ جن کی روح حضرت شاہ صاحب کشمیریؒ نے مرکز دارالعلوم دیوبند سے اپنے تلامذہ اور معتقدین میں پھونکی تھی۔

حضرت سید انور شاہ صاحبؒ نے تیسری طرف ملک کے شہسوار مفکر اور شاعر اسلام ڈاکٹر محمد اقبالؒ کو اس فتنہ کی سنگینی کی طرف متوجہ کیا۔ جنہوں نے نظم و نثر اور نظر و فکر ہر طریقہ سے پڑھے لکھے اور نچلے طبقہ کو اس فتنہ سے خبردار کیا اور انگریز کے اس دور میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ سب سے پہلے آپ نے ہی کیا تھا اور یہ وہ نکتہ ہے جو حضرت شاہ صاحبؒ نے ہی آپ کے ذہن رسا میں ڈالا تھا۔

٢٠

صفحہ ١٤٧

چوتھی طرف مولانا ظفر علی خانؒ جیسے بے باک صحافی، آتش بیان مقرر اور قادر کلام شاعر کو بھی حضرت شاہ صاحب کشمیریؒ اور حضرت شاہ صاحب بخاریؒ نے ان کے پیچھے لگا دیا تھا۔ ”الحب للہ والبغض فی اللہ “ کے تحت حضرت شاہ صاحبؒ کو مرزا قادیانی سے کس قدر نفرت ہو چکی تھی اور آپ کے لب ولہجہ سے آپ کا مرزا غلام احمد سے بغض اس قدر نمایاں تھا کہ راقم الحروف نے اپنے اساتذہ سے سنا ہے کہ مرزا قادیانی کا جب بھی ذکر کرتے تو قادیانی کذاب یا لعین یا شقی جیسی صفت کے بغیر کبھی اس کا نام نہ لیتے تھے۔ حضرت شاہ صاحبؒ کشمیری کا ذکر آ گیا ہے تو ایک دو واقعات کا ذکر خالی از فائدہ نہ ہوگا۔ جو میں نے اپنے اساتذہ سے سنے ہیں۔

میرے محبوب اور شفیق استاذ حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی ثم المدنیؒ نے دوران درس ایک مرتبہ قادیانی مناظرین کا ذکر فرمایا کہ مرزائی کم بخت دارالعلوم دیوبند کی جامع مسجد میں مناظرے کرنے کے لئے پہنچ گئے۔ غالباً ان میں عبدالرحمن مصری بھی تھا۔ جو اصلاً تو ہندی تھا مگر کچھ عرصہ مصر رہا تھا۔ ان قادیانیوں کا اصرار تھا کہ مناظرہ عربی زبان میں ہو۔ ہمارے حضرات نے فرمایا کہ عربی زبان میں کیا فائدہ ہوگا؟ عوام تو سمجھیں گے نہیں۔ جب بہت ہی اصرار بڑھا تو حضرت شاہ صاحبؒ کشمیری نے جو مسجد کے ایک کونہ میں بیٹھے یہ تمام کارروائی سن رہے تھے کہ برملا فرمایا کہ ان صاحبوں سے کہہ دو کہ ”مناظرہ عربی زبان میں ہوگا اور نظم میں ہوگا۔ تا کہ عربی پر قدرت اور علمیت کا پتہ چلے۔“ قادیانیوں نے جب شاہ صاحبؒ کی یہ بات سنی تو بھاگ گئے۔

آخری مراحل میں پہنچا تو شیخ الجامعہ حضرت مولانا محمد گھوٹویؒ اور حضرت مفتی محمد صادقؒ تمام علماء نے استدعاء کی کہ حضرت شاہ صاحبؒ کا ایک علمی بیان عدالت میں ہونا چاہئے۔ شاہ صاحب ان دنوں خونی بواسیر کے سخت مریض تھے۔ ڈاکٹروں حکیموں نے سفر سے بالکل روک دیا تھا۔ کمزوری بہت زیادہ ہو چکی تھی۔ لیکن جونہی شاہ صاحبؒ کو دعوت پہنچی۔ آپ سفر کے لئے تیار ہو گئے۔ بہاولپور سے مفتی صادق صاحبؒ خود انہیں لینے دیوبند گئے تھے۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے فرمایا کہ اگر قیامت کے روز حضور ﷺ نے یہ سوال کر لیا کہ میری ختم نبوت کا مقدمہ پیش تھا اور تجھے طلب کیا گیا اور تو نہیں گیا تو میں کیا جواب دوں گا؟

موت تو آنی ہی ہے۔ اگر اسی راستہ میں آ گئی تو اس سے بہتر اور کیا ہوگا؟ تو حکیموں کے روکنے کے باوجود آپ تشریف لے گئے۔ جج صاحب جن کا نام محمد اکبر تھا۔ وہ حضرت شاہ صاحبؒ کا بہت احترام کرتا تھا۔ آپ کو عدالت میں کرسی مہیا کی گئی اور حضرت شاہ صاحبؒ کا

٢١

صفحہ ١٤٨

آخری معرکۃ الآراء بیان ہوا اور قادیانیوں کی طرف سے اس پر جرح ہوتی رہی اور حضرت شاہ صاحب جواب دیتے رہے۔ جب حضرت شاہ صاحب کا بیان اور جرح ختم ہوئی۔ (حضرت شاہ صاحب کا بیان اور اس پر جرح کے مکمل جوابات زیور طبع سے آراستہ ہو کر پہلی مرتبہ میدان میں آ چکے ہیں) تو حضرت شاہ صاحب نے قادیانیوں کے بڑے مناظر جلال الدین شمس کا ہاتھ پکڑا اور بڑے جوش میں فرمایا کہ جلال الدین اگر اب بھی تمہیں قادیانی کے کفر میں شبہ ہے تو آؤ میں تمہیں اسے جہنم میں جلتا ہوا دکھاؤں۔

یہ سن کر اس نے جلدی سے ہاتھ چھڑا لیا اور کہنے لگا کہ اگر آپ دکھا بھی دیں تو میں کہوں گا کہ یہ استدراج یعنی کوئی شعبدہ ہے، حقیقت نہیں۔ ہمارے حضرات کہتے ہیں کہ وہ بدبخت، بدنصیب تھا۔ اگر ہاں کر لیتا تو حضرت شاہ صاحب پر اس وقت ایسی جذب کی حالت طاری تھی کہ وہ اسے کشفاً جہنم میں جلتا ہوا دیکھ رہے تھے اور دکھا بھی سکتے تھے۔

مقدمہ کی سماعت ہو جانے کے بعد جب حضرت شاہ صاحب واپس دیوبند جانے لگے تو مولانا مفتی محمد صادق اور دیگر علماء کو وصیت فرمائی کہ مقدمہ کا فیصلہ اگر تو میری زندگی میں ہو گیا تو میں سن لوں گا۔ اگر یہ فیصلہ میری وفات کے بعد ہو تو میری قبر پر آ کر سنایا جائے۔ چنانچہ حضرت کی واپسی کے بعد آپ کی جلد وفات ہو گئی اور یہ فیصلہ آپ کی وفات کے بعد ہوا اور حضرت مولانا محمد صادق حضرت شاہ صاحب کی وصیت کے مطابق خصوصی طور پر دیوبند گئے اور شاہ صاحب کی قبر پر کھڑے ہو کر یہ فیصلہ سنایا۔

الحمد للہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوا تھا۔ اس واقعہ سے آپ اندازہ لگائیں کہ حضرت شاہ صاحب کو کتنی فکر اور کتنا لگاؤ اس مسئلہ سے تھا کہ وفات کے بعد بھی جبکہ وہ عالم برزخ میں چلے گئے تھے۔ وہاں بھی آپ کو اس کا انتظار تھا۔ یہ اس وقت کے مسلمانوں کو اس فتنہ کے استیصال کی طرف متوجہ کرنے کی ایک صدا تھی جو شاہ صاحب نے وصیت کی شکل میں بلند کی۔ حضرت شاہ صاحب اس دنیا کو الوداع کہنے والے تھے۔ اس کا بھی ایک واقعہ بروایت حضرت علامہ مولانا شمس الحق صاحب افغانی سن لیں۔

حضرت علامہ افغانی بھی علامہ کشمیری کے اجلہ شاگردوں میں سے تھے۔ حضرت علامہ افغانی نے فرمایا کہ جب حضرت کشمیری کا آخری وقت آیا۔ کمزوری بہت زیادہ تھی۔ چلنے کی طاقت بالکل نہ تھی۔ فرمایا کہ مجھے دارالعلوم دیوبند کی مسجد میں پہنچائیں۔ اس وقت کاروں کا زمانہ نہ تھا۔ ایک پالکی لائی گئی۔ پالکی میں بٹھا کر حضرت شاہ صاحب کو دارالعلوم دیوبند کی مسجد میں پہنچایا گیا۔

٢٢

صفحہ ١٤٩

محراب میں حضرت کی جگہ بنائی گئی تھی۔ وہاں پر بٹھا دیا گیا۔ حضرت کی آواز ضعف کی وجہ سے انتہائی ضعیف اور دھیمی تھی۔ تمام اجلہ شاگرد حضرتؒ کے اردگرد ہمہ تن گوش بنے بیٹھے تھے۔ آپ نے صرف دو باتیں فرمائیں۔ پہلی بات تو یہ فرمائی کہ تاریخ اسلام کا میں نے جس قدر مطالعہ کیا ہے۔ اسلام میں چودہ سو سال کے اندر جس قدر فتنے پیدا ہوئے ہیں۔ قادیانی فتنہ سے بڑا خطرناک اور سنگین فتنہ کوئی بھی پیدا نہیں ہوا۔

دوسری بات یہ فرمائی کہ حضورﷺ کو جتنی خوشی اس شخص سے ہوگی جو اس کے استیصال کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دے تو رسول اللہﷺ اس کے دوسرے اعمال کی نسبت اس کے اس عمل سے زیادہ خوش ہوں گے اور پھر آخر میں جوش میں آ کر فرمایا کہ جو کوئی اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے اپنے آپ کو لگا دے گا اس کی جنت کا میں ضامن ہوں (انتہی)۔

سبحان اللہ! دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں۔ آخری وقت ہے۔ اگر فکر ہے تو اس فتنہ کی پھر آپ نے اس وقت اپنی فراست ایمانی سے دیکھ کر جو کچھ فرمایا آج واقعات اس کی کس قدر تصدیق کر رہے ہیں۔ یہ قارئین سے مخفی نہیں۔ آج یہ فتنہ زمین کے کناروں تک پہنچ گیا ہے۔ حضرت الاستاذ مؤلف ”چراغ ہدایت“ کی دعاؤں سے راقم آثم کو اس فتنہ کے تعاقب میں مشرق میں جزائر فجی تک مغرب میں گھانا سیرالیون اور گیمبیا تک جنوب میں دنیا کی آخری نوک کیپ ٹاؤن جنوبی افریقہ تک اور شمال مغرب میں یورپ تک جانے کا اتفاق ہوا۔ ختم نبوت کے ان اسفار مہمہ میں میرے ساتھ ڈاکٹر خالد محمود صاحب تھے۔ مناظروں میں ہم اکٹھے کام کرتے رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ یہ فتنہ دنیا کے ہر گوشہ میں پہنچا ہوا ہے۔ جہاں جہاں برطانوی استعمار تھا۔ وہاں وہاں اس نے اپنے خود کاشتہ پودے کے بیج پہنچائے ہیں اور برطانوی نو آبادیات میں ہر جگہ اس فتنے نے نشوونما پائی ہے۔ انگریزی حکومت کی طرح اب امریکہ جیسی سپر طاقت بھی اس فتنہ کی پشت پناہی کر رہی ہے۔

حال ہی میں امریکہ نے پاکستان کو امداد دینے کے لئے جو شرائط رکھیں۔ ان میں ایک شرط یہ تھی کہ قادیانی جماعت پر جو تم نے پابندیاں عائد کی ہیں۔ وہ مذہبی آزادی کے منافی ہیں۔ جب تک وہ واپس نہیں لیں گے امداد نہیں ہوگی۔ قادیانیوں کی اس بین الاقوامی رسائی کے باوجود ان کا کیا حال ہورہا ہے؟ یہ حضرت شاہ صاحبؒ کے اس ارشاد کے بالکل مطابق ہے۔ جو آپ نے اپنی فراست ایمانی سے اس وقت فرمایا تھا کہ انجام کار یہ فتنہ ختم ہو کر رہے گا۔ مؤلف کتاب چراغ ہدایت حضرت الاستاذ مولانا محمد چراغ صاحبؒ نے اپنے اس جلیل القدر استاذ سے اس فتنہ کے رد

٢٣

صفحہ ١٥٠

میں جو جذبہ پایا اور جو تعلیم و تربیت حاصل کی۔ آپ نے اسے رائیگاں نہیں جانے دیا۔ ہمیشہ اپنے طلبہ اور معتقدین میں اس کی روح پھونکتے رہے۔ استاذ محترم فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحبؒ بھی آپ کے شاگرد تھے۔ آپ نے حضرت شاہ صاحبؒ کی کتاب عقیدۃ الاسلام حضرت الاستاذ سے سبقاً پڑھی تھی۔ مولانا محمد حیات صاحبؒ نے ایک دفعہ میرے سامنے یہ واقعہ بیان کیا کہ ١٩٣٤ء میں جب قادیان کی سرزمین پر حضرت امیر شریعتؒ نے ختم نبوت کی تاریخی کانفرنس منعقد کی۔ تو ہم استاد شاگرد (یعنی مولانا محمد چراغ صاحبؒ اور مولانا محمد حیات صاحبؒ) دونوں کانفرنس میں شریک ہوئے اور وہاں سے مرزا قادیانی کی کتب کے دو عدد مکمل سیٹ خرید کر لائے اور مرزا قادیانی کی کتب کی ورق گردانی شروع کردی۔

حضرت مولانا محمد چراغ صاحبؒ نے گوجرانوالہ میں اپنے تدریسی فرائض کے ساتھ ساتھ اپنے قابل اور لائق شاگرد مولانا محمد حیات صاحب کو رد قادیانیت کی پوری تیاری کرائی۔ حضرت استاذ مولانا محمد حیات صاحب رد قادیانیت کی تیاری مکمل کرنے کے بعد دورہ حدیث مکمل کئے بغیر میدان مناظرہ میں نکل آئے اور قادیان کے کفر گڑھ میں مستقل طور پر مجلس احرار اسلام کے دفتر میں ڈیرہ ڈال کر بیٹھ گئے اور اس وقت تک وہیں موجود رہے۔ جب تک مرزا دجال کی ذریت وہاں پر موجود رہی۔ جب وہ لوگ پاکستان آگئے تو حضرت استاذ بھی پاکستان آگئے۔ پاکستان بن جانے کے بعد حضرت شاہ صاحبؒ بخاری نے خالص دینی جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت قائم کی اور ملتان میں اس کا مرکز قائم کیا۔ ملتان ہی میں علماء کو قادیانیت کے خلاف ٹریننگ دینے کے لئے مدرسہ تحفظ ختم نبوت بھی قائم کیا گیا۔ جس میں فارغ التحصیل علماء کو تین ماہ کا کورس کرایا جاتا تھا۔ اس مدرسہ میں پہلے استاذ مولانا محمد حیات صاحبؒ فاتح قادیان ہی مقرر ہوئے۔

حضرت مولانا محمد حیاتؒ وہاں ایک مدت تک فارغ التحصیل علماء کو تیاری کراتے رہے۔ راقم آثم نے حضرت الاستاذ سے اسی مدرسہ میں ١٩٥١ء ١٩٥٢ء میں ملتان میں تیاری کی تھی۔ بندہ ناچیز اس میدان میں جو کچھ بھی ٹوٹی پھوٹی خدمت اندرون ملک اور بیرون ملک سرانجام دے رہا ہے یا جو کچھ معلومات رکھتا ہے۔ یہ فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ کا تمام تر فیض ہے اور بالواسطہ حضرت الاستاذ مولانا محمد چراغ مؤلف کتاب چراغ ہدایت کا فیض ہے۔ حضرت موصوفؒ میرے دادا استاذ ہیں۔ حضرت مولانا محمد چراغ کا یہ فیض صرف اسی عاجز تک محدود نہیں۔ جہاں جہاں حضرت استاذ کا فیض افادہ کارفرما رہا آپ نے وہاں قادیانیت کے خلاف ایک عملی روح پھونکی۔ اس الحاد کے خلاف فکری چراغ جلائے۔ جماعت اسلامی کے حلقوں میں بھی جہاں کہیں

٢٤

صفحہ ١٥١

آپ کو قادیانیت کے خلاف کوئی کام ملے گا۔ اس کے پیچھے حضرت مولانا محمد چراغ کی علمی، عملی اور فکری قوت ملے گی۔ جو آپ نے اپنے استاذ حضرت علامہ سید انور شاہ صاحبؒ سے پائی تھی۔

مؤلف کتاب کے اس مختصر تعارف کے بعد اور کتاب چراغ ہدایت کے تعارف سے قبل مرزا قادیانی اور اس کی تحریک کا مختصر پس منظر بھی سمجھ لیجئے۔ اس سے کتاب سمجھنے میں بہت فائدہ ہوگا۔ انگریز نے ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی کے بعد جب برصغیر پر اپنا پنجہ استبداد اچھی طرح گاڑلیا۔ تو انگریز نے اپنے قبضہ کو طول دینے اور استحکام حاصل کرنے کی خاطر کئی مختلف اقدامات کئے۔ اس نے ایک کمیشن مقرر کیا۔ سر ولیم ہنٹر کمشن کی رپورٹ کے مطابق انہیں ایک ایسے آدمی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ جو مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد ختم کرے اور زبان وقلم سے جہاد کی منسوخی کا اعلان کرے اور انگریز کی اطاعت فرض قرار دینے کی خدمت سرانجام دے۔ اس خدمت کے لئے ان کی نظر انتخاب قادیان کے ایک قدیم وفادار خاندان پر پڑی۔ مرزا غلام مرتضیٰ کا بیٹا آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی تھا جس نے انگریزی اقتدار کی اس طلب پر لبیک کہی، اور اس خدمت کو سرانجام دینے کے لئے کمر بستہ ہوا۔ چنانچہ مرزا قادیانی بڑے فخر سے اس خدمت کا اپنی کتابوں میں اعتراف کرتا ہے۔ چند حوالہ جات ملاحظہ کیجئے جو ان کی اصل کتابوں سے لئے گئے ہیں۔

والد مرحوم کے قدم پر قدم مارا اور گورنمنٹ (برطانیہ) کی مخلصانہ خدمت میں بدل وجان مصروف رہا۔ پھر وہ بھی اس مسافر خانہ سے گزر گیا۔“

(اشتہار گورنمنٹ کی توجہ کے لائق بملحقہ شہادت القرآن ص٢، خزائن ج٦ ص٣٧٨)

کی عمر تک پہنچا ہوں۔ اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں۔ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں۔ جو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔“

(تبلیغ رسالت ج٧ ص١٠، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١١)

ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میری ہمیشہ

٧٨

صفحہ ١٥٢

کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے۔“

(ستارہ قیصرہ ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١١٤)

چنانچہ اس خدمت کو سرانجام دینے کے لئے اس نے تدریجاً مختلف روپ دھارے۔ پہلے پہل وہ اسلام کا خادم اور مناظر کے روپ میں قوم کے سامنے متعارف ہوا۔ پھر اس نے چودھویں صدی کے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔ کچھ عرصہ بعد اس نے مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ پھر جب زمین کچھ ہموار ہوگئی تو اب جہاد کو ختم کرنے کے لئے اس نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ کیونکہ قرآن اور حدیث نبویہ کی رو سے مسیح علیہ السلام جب دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے اور عیسائی مسلمان ہو جائیں گے تو اہل کتاب یہود سے جنگ عظیم ہوگی۔

یہودی سب کے سب مارے جائیں گے حتیٰ کہ ایک یہودی بھی روئے زمین پر زندہ باقی نہیں رہے گا اور احادیث کے مطابق اگر کوئی یہودی پہاڑ یا درخت کی اوٹ میں چھپا ہوگا۔ وہ بھی پکار کر کہے گا کہ ادھر یہودی چھپا ہے۔ اسے قتل کریں اور تمام باطل ملتیں مٹ کر ایک ملت اسلام باقی رہ جائے گی۔ ”حتیٰ تکون الملل ملۃ واحدۃ“ کا نقشہ پورے عالم میں قائم ہوگا۔ جب کوئی کافر ہی نہیں رہے گا۔ جس سے جہاد کرنے کی ضرورت ہو تو ظاہر ہے کہ اس وقت جہاد عملاً ختم ہوگا نہ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بقول قادیانی جہاد کو حرام قرار دیں گے۔

اب مرزا غلام احمد کے لئے ضروری تھا کہ مسیح موعود ہونے کے کھلے دعوے سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا عقیدہ رائج کرے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے اپنا سابقہ عقیدہ تبدیل کر کے یہ عقیدہ اختیار کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں اور وفات مسیح ثابت کرنے کے لئے اس نے متعدد کتابیں لکھیں۔ جن میں توضیح المرام، فتح اسلام اور ازالہ اوہام مشہور ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی امت مسلمہ کے اس اجتماعی عقیدہ پر صرف باون سال کی عمر تک قائم رہا۔ بلکہ اس عقیدہ پر قرآن اور حدیث سے دلائل پیش کرتا رہا اور اس کی اشاعت و تبلیغ بھی کرتا رہا۔ اس پر بقول اس کے بارہ سال مسلسل وحی کا نزول بھی ہوتا رہا۔ لیکن مرزا قادیانی اپنے

٢٦

صفحہ ١٥٣

اس عقیدے پر قائم رہا جس پر چودہ سو سال سے امت متفق چلی آتی تھی۔ پھر بارہ سال بعد اس نے اپنا پہلا عقیدہ جسے وہ رسمی عقیدہ کہتا ہے، تبدیل کیا اور وفات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ اختیار کیا اور اس میں یہاں تک آگے بڑھا کہ حیات مسیح علیہ السلام کے عقیدہ کو شرک عظیم قرار دیا۔

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٠)

جس سے نہ صرف وہ خود مشرک عظیم ٹھہرا بلکہ چودہ سو سال کی پوری امت مسلمہ کو جن میں صحابہ کرام، تابعین عظام، ائمہ مجتہدین اور اولیاء امت شامل ہیں، انہیں اور اربوں کھربوں مسلمانوں کو کافر اور مشرک بنا دیا۔ مسیح موعود نے تو آنا تھا۔ پوری دنیا کو مسلمان بنانے کے لئے سو چاہئے تھا کہ اس کے پاس اس کے لئے وسائل اور دلائل ہوتے۔ لیکن جو کچھ ہوا وہ بالکل اس کے برعکس نہ صرف یہ کہ عیسائیوں اور یہودیوں کی تعداد میں بے حد اضافہ ہوا۔ بلکہ اس کے دعوے سے قبل جو مسلمان موجود تھے یا جو اس کے بعد ہوں گے۔ حیات مسیح علیہ السلام کا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے وہ سب کے سب مشرک ہو گئے۔ اس کی پوری تفصیل آپ اس کتاب ”چراغ ہدایت“ میں بحوالہ جات کتب مرزا قادیانی ملاحظہ فرمائیں۔ اب جب انگریز کی خاطر حرمت جہاد کی ضرورت اس کے پیش نظر تھی۔ تو اس تقاضے پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا عقیدہ گھڑا اور غلام احمد نے خود مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔

پھر ضروری تھا کہ وہ ختم نبوت کے اجتماعی عقیدہ کا بھی انکار کرے۔ خود نبوت کا دعویٰ کرے۔ کیونکہ آنے والے عیسیٰ علیہ السلام کے لئے نبی اللہ کے الفاظ بھی موجود تھے۔ اس سے قبل وہ خود حضور اکرم ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کو کفر قرار دے چکا تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو ایک پہلے کے نبی تھے اور انہی کے دوبارہ آنے کی پیش گوئی تھی۔ ان کا دوبارہ آنا عقیدہ ختم نبوت سے کسی طرح متصادم نہ تھا۔ لیکن نیا مسیح موعود تجویز کرنا اور اس نئے پیدا شدہ پر مسیح موعود کا لفظ فٹ کرنا اس کا منطقی نتیجہ تھا کہ وہ اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کرے۔ چنانچہ اس نے بالصراحت مثیل مسیح بن کر نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا۔ پھر اپنے آپ کو حضرت محمد ﷺ کی بعثت ثانیہ قرار دے کر خود محمد مصطفیٰ اور احمد مجتبیٰ ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ چنانچہ وہ کہتا ہے:

بھی سیدنا خاتم النبیین ہی رہا۔ کیونکہ یہ محمد ثانی اسی محمد ﷺ کی تصویر اور اسی کا نام ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)

٢٧

صفحہ ١٥٤

اللہ اور رسول اللہ رکھا۔ مگر بروزی صورت میں میرا نفس درمیان میں نہیں ہے۔ بلکہ محمد ﷺ ہے۔ اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا۔ پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی علیہ الصلوٰۃ والسلام۔" (ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)

اور پھر اسی پر اکتفاء نہ کیا۔ بلکہ آگے چل کر خود محمد مصطفیٰ ﷺ سے افضل ہونے کا بھی دعویٰ کر دیا۔ پھر اس سے بڑھ کر خدائی صفات اور پھر عین خدا ہونے کا بھی دعویٰ کر دیا۔ کیونکہ جب مریدین و معتقدین کا ایک حلقہ قائم ہو گیا اور مرزا قادیانی کو یقین ہو گیا کہ میں جو بھی دعویٰ کروں۔ وہ اس پر ”آمنا و صدقنا“ کی تسبیح پڑھ کر ایمان لے آتے ہیں تو اس کے لئے کوئی مشکل نہ رہی تھی۔ پہلے تو اسے مسیح موعود کا دعویٰ بھی مشکل نظر آتا تھا۔ لیکن جب اس دعویٰ کو ماننے والے دستیاب ہو گئے تو پھر راستہ ہموار ہو گیا اور راستہ کی کوئی مشکل باقی نہ رہی تو پھر جلد جلد منازل طے کرتے ہوئے خدائی کی آخری منزل تک پہنچ گیا۔ اس کی تمام تر تفصیل آپ کو اسی کتاب چراغ ہدایت سے دستیاب ہو گی اور راقم کے رسالہ ”مرزا قادیانی اور اس کے عقائد“ سے بھی مل سکتی ہے۔ یہاں پر اس تفصیل کی گنجائش نہیں ہے۔

قادیانیوں اور مسلمانوں کے مابین اکثر تین موضوعات پر بحث ومباحثے اور مناظرے ہوتے چلے آتے ہیں۔

تھے۔

بعد قادیانیوں نے اس ترتیب کو بدل دیا اور اب وہ مرزا غلام احمد کے صدق وکذب پر بحث کرنے سے ہمیشہ کنی کتراتے ہیں۔ قادیانیوں کی سب سے بڑی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان میں سے دوسرے موضوع پر بحث ومباحثہ ہو اور اس میں لوگوں کو الجھایا جائے اور اس کے بعد پھر تیسرے موضوع اجرائے نبوت پر بحث کی جائے۔ پہلے موضوع مرزا قادیانی کی سیرت و کریکٹر اور اس کے صدق وکذب پر بحث کرنے کے لئے وہ ہرگز تیار نہیں ہوتے اور بقول مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر مرحوم مرزائی مناظر کے سامنے زہر کا پیالہ رکھ دیں اور اسے کہیں کہ یا تو زہر کا پیالہ پی لے یا مرزا کی سیرت و کردار پر بحث کرلے۔ تو وہ زہر کا پیالہ تو پی سکتا ہے۔ لیکن مرزا کی سیرت پر گفتگو نہیں کرے گا اور میرا ذاتی تجربہ بھی یہی ہے۔ حالانکہ کسی بھی مدعی کے دعویٰ پر بحث کرنے

٧٨

سے قبل اس کے کریکٹر کو پرکھا جاتا ہے بحثوں میں پڑنا خواہ مخواہ وقت کا ضائع الدین اور مرزا بشیر الدین محمود نے اس ک

الدین) فرماتے تھے کہ ایک شخص میر کے بعد کوئی نبی ہو سکتا ہے؟ میں نے کہا نے کہا تو پھر ہم دیکھیں گے کہ کیا وہ صا کی بات کو قبول کریں گے۔“ (سیرت الم

کے تمام دعویٰ پر ایمان لانا واجب ہو الواقع سچا ہے یا نہیں۔ اگر اس کی صدا ساتھ ہی ثابت ہو جاتی ہے۔ اگر اس وقت کو ضائع کرنا ہوتا ہے۔“ (دعوت الا

نوٹ....... مذکورہ بالا دونوں حوالوں ۔ اگر وہ ہو ہی جھوٹا تو پھر اس کے دعاوی و

اسی بناء پر ہم قادیانیوں کو کرنے کی بجائے پہلے یہ دیکھیں کہ مر ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔ لیکن مرزائی یہ ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کی سیرت و کریک

رہا دوسرا موضوع حیات و سے پہلے کوشش ہوتی ہے کہ اس موضوع سامنے نہ آسکے۔ انہوں نے مرزا قادی قادیانی خود اعتراف کرتا ہے کہ نزول م میں سے کوئی رکن ہے۔ بلکہ صد ہا پیش سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ مرزا قادی اجتہادی غلطی بعض پیش گوئیوں کے سمجھے

صفحہ ١٥٥

سے قبل اس کے کریکٹر کو پرکھا جاتا ہے۔ اگر وہ ایک سچا اور شریف انسان ہی ثابت نہ ہو تو دوسری بحثوں میں پڑنا خواہ مخواہ وقت کا ضائع کرنا ہوگا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کے ہر دو جانشینوں حکیم نور الدین اور مرزا بشیر الدین محمود نے اس کا صاف صاف خود اعتراف کیا ہے۔ ملاحظہ ہو۔

الدین) فرماتے تھے کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا مولوی صاحب! کیا نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوسکتا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ اس نے کہا اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو پھر؟ میں نے کہا تو پھر ہم دیکھیں گے کہ کیا وہ صادق اور راستباز ہے یا نہیں۔ اگر صادق ہے تو بہرحال اس کی بات کو قبول کریں گے۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٨٨، روایت نمبر ١٠٩)

کے تمام دعاوی پر ایمان لانا واجب ہو جاتا ہے۔ الغرض اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ مدعی ماموریت فی الواقع سچا ہے یا نہیں۔ اگر اس کی صداقت ثابت ہو جائے۔ تو اس کے تمام دعاوی کی صداقت بھی ساتھ ہی ثابت ہو جاتی ہے۔ اگر اس کی سچائی ہی ثابت نہ ہو تو اس کے متعلق تفصیلات میں پڑنا وقت کو ضائع کرنا ہوتا ہے۔“

(دعوت الامیر، مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود، ص ٤٩، ٥٠)

نوٹ....... مذکورہ بالا دونوں حوالوں سے ثابت ہوا کہ اصل بحث صدق و کذب پر ہونی چاہئے۔ اگر وہ ہو ہی جھوٹا تو پھر اس کے دعاوی وغیرہ پر بحث کرنا فضول ہے۔

اسی بناء پر ہم قادیانیوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ دوسری بحثوں میں الجھنے اور وقت ضائع کرنے کی بجائے پہلے یہ دیکھیں کہ مرزا قادیانی اپنی تحریرات کی روشنی میں ایک شریف انسان بھی ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔ لیکن مرزائی یہ ذلت و رسوائی برداشت کر سکتے ہیں۔ زہر کا پیالہ پی سکتے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کی سیرت و کریکٹر پر بحث کرنے کے لئے قطعا تیار نہیں ہوں گے۔

رہا دوسرا موضوع حیات مسیح کا۔ تو یہ ایک خالص علمی موضوع ہے۔ قادیانیوں کی سب سے پہلے کوشش ہوتی ہے کہ اس موضوع پر گفتگو ہو تا کہ مرزا قادیانی کی ناپاک سیرت لوگوں کے سامنے نہ آسکے۔ انہوں نے مرزا قادیانی کی صداقت کا معیار اسی مسئلہ کو بنا رکھا ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی خود اعتراف کرتا ہے کہ نزول مسیح کا عقیدہ نہ تو ہمارے ایمان کا جزو ہے۔ نہ دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہے۔ بلکہ صدہا پیش گوئیوں میں سے ایک پیش گوئی ہے۔ جس کا حقیقت اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی بھی یہ لکھتا ہے کہ یہ ایک اجتہادی غلطی ہے اور اس قسم کی اجتہادی غلطی بعض پیش گوئیوں کے سمجھنے میں بنی اسرائیل انبیاء سے بھی ہوتی آئی ہے اور اس غلطی

٢٩

صفحہ ١٥٦

پر کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں۔ بلکہ یہ غلطی تو حضورﷺ کے بعد بہت جلد پھیل گئی تھی اور بڑے بڑے اولیاء اور مقربین کا یہی عقیدہ تھا۔ حتیٰ کہ بعض صحابہؓ جیسا کہ سیدنا حضرت ابوہریرہؓ کا بھی یہی عقیدہ تھا۔ حوالہ جات ملاحظہ ہوں:

ہمارے ایمانیات کی کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیش گوئیوں میں سے یہ ایک پیش گوئی ہے۔ جس کو حقیقت اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جس زمانہ تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی۔ اس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہو گیا۔"

(ازالہ اوہام ص١٤٠، خزائن ج٣ ص١٧١)

سوائے اس کے اور کچھ فرق نہیں کہ یہ لوگ وفات مسیح کے قائل ہیں اور وہ لوگ وفات مسیح کے قائل نہیں۔ باقی سب عملی حالت مثلاً نماز، روزہ اور زکوٰۃ اور حج وہی ہیں۔ سو سمجھنا چاہئے کہ یہ بات صحیح نہیں کہ میرا دنیا میں آنا صرف حیات مسیح کی غلطی کو دور کرنے کے واسطے ہے۔ اگر مسلمانوں کے درمیان صرف یہی ایک غلطی ہوتی تو اتنے کے واسطے ضرورت نہ تھی کہ ایک شخص خاص مبعوث کیا جاتا اور الگ جماعت بنائی جاتی اور ایک بڑا شور بپا کیا جاتا۔ یہ غلطی دراصل آج نہیں پڑی۔ بلکہ میں جانتا ہوں کہ آنحضرتﷺ کے تھوڑے ہی عرصہ بعد یہ غلطی پھیل گئی تھی اور کئی خواص اور اولیاء اور اہل اللہ کا یہی خیال تھا کہ اگر یہ کوئی ایسا اہم امر ہوتا تو خدا تعالیٰ اسی زمانہ میں اس کا ازالہ کر دیتا۔"

(احمدی اور غیر احمدی میں فرق ص٤ مطبوعہ، خزائن ج٢٥ ص٢٧٦)

عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔ تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ صرف اجتہادی خطا ہے۔ جو اسرائیلی نبیوں سے بھی بعض پیش گوئیوں کے سمجھنے میں ہوتی رہی۔"

(حقیقت الوحی ص٤٠ حاشیہ، خزائن ج٢٢ ص٤٢)

جب نزول مسیح کا عقیدہ ایمان کا جز نہیں، دین کا رکن نہیں۔ حقیقت اسلام سے اس پیش گوئی کا کوئی تعلق نہیں اور محض اجتہادی غلطی ہے۔ اس جیسی غلطی (العیاذ باللہ) انبیاء علیہم السلام سے بھی ہوتی رہتی تھی۔ جس پر کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں اور یہ غلطی حضورﷺ کے زمانہ سے چلی آتی ہے۔ اربوں کھربوں مسلمان اس غلطی پر وفات پا چکے ہیں۔ بڑے بڑے اولیاء کرام، ائمہ عظام، مقربین امت حتیٰ کہ حضرت ابوہریرہؓ جیسے صحابی کا بھی یہی عقیدہ تھا اور باون سال کی عمر تک مرزا

٣٠

قادیانی کا نہ صرف یہ عقیدہ تھا بلکہ قرآن اور جاکر شرک عظیم قرار دے دیا۔ اب آپ از راہ اور گفتگو کرنے کی کیا ضرورت باقی رہی اور جب کے لئے نہیں آیا۔ بلکہ حضورﷺ کے زمانہ سے اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ کوئی اہم دیتے جب یہ غلطی پیدا ہوئی تھی۔ پھر مرزا قادیانی نہیں کہ ہم حیات و وفات مسیح پر جھگڑے اور اب قادیانیوں کو بحث مباحثہ کے لئے اور کوئی معمولی بات ہے۔ ہمیں اس پر جھگڑے اور چاہئے کہ کم از کم اپنے من گھڑت مسیح موعود کی بحث مدعی ماموریت مرزا قادیانی کی ذات انسان بھی ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔

اور جبکہ اس کے دونوں خلفاء نے چاہئے کہ واقعی وہ سچا اور راست باز ہے یا نہیں پھر دیکھئے کہ جن حضورﷺ کا ظل اور بروز ہو پیش کرنے سے قبل صفا پہاڑی پر چڑھ کر پہلے کہ اے سرداران قریش! اے میرے قبیلے وا گزاری ہے۔ میری چالیس سالہ زندگی ا وجدتمونی هل وجدتمونی صادقا نے یک زبان ہو کر کہا: ”جربناك مرارا آزما چکے ہیں۔ آپ میں سوائے سچائی کے اور مرزا قادیانی بھی اگر واقعی حضورﷺ تمام مسائل سے پہلے اس کی زندگی پیش کرنی سے بھی زیادہ گراں جانتے ہیں۔

اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی داڑھی میں تنکا۔ اگر اس کی زندگی عیوب

صفحہ ١٥٧

قادیانی کا نہ صرف یہ عقیدہ تھا بلکہ قرآن اور حدیث سے اس عقیدہ کو ثابت کرتا رہا۔ جسے بعد میں جا کر شرک عظیم قرار دے دیا۔ اب آپ از راہ انصاف خود فیصلہ فرمائیں کہ اس مسئلہ پر بحث مباحثہ اور گفتگو کرنے کی کیا ضرورت باقی رہی اور جبکہ مرزا قادیانی خود کہتا ہے کہ میں اس غلطی کی اصلاح کے لئے نہیں آیا۔ بلکہ حضورﷺ کے زمانہ سے یہ غلطی چلی آتی ہے۔

اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ کوئی اہم بات ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کی اسی وقت اصلاح فرما دیتے جب یہ غلطی پیدا ہوئی تھی۔ پھر مرزا قادیانی کا یہ ملفوظ بھی موجود ہے کہ ہماری یہ غرض ہرگز نہیں کہ ہم حیات و وفات مسیح پر جھگڑے اور مباحثے کرتے پھریں۔ یہ ایک ادنیٰ سی بات ہے۔ اب قادیانیوں کو بحث مباحثہ کے لئے اور کوئی موضوع ہی نہیں ملتا۔ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ یہ ایک معمولی بات ہے۔ ہمیں اس پر جھگڑے اور مباحثے نہیں کرنے چاہئیں تو مرزائیوں کو شرم کرنی چاہئے کہ کم از کم اپنے من گھڑت مسیح موعود کی ہدایت پر تو انہیں عمل کرنا چاہئے۔ ہاں! اصل موضوع بحث مدعی ماموریت مرزا قادیانی کی ذات ہے کہ آیا وہ اپنی تحریرات کی رو سے ایک سچا اور شریف انسان بھی ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔

اور جبکہ اس کے دونوں خلفاء نے بھی یہ فیصلہ دے دیا کہ سب سے پہلے مدعی کو دیکھنا چاہئے کہ واقعی وہ سچا اور راست باز ہے یا نہیں۔ دوسری بحثوں میں پڑنا وقت کو ضائع کرنا ہے۔ پھر دیکھئے کہ جن حضورﷺ کا ظل اور بروز ہونے کا مرزا قادیانی مدعی ہے۔ آپﷺ نے اپنا دعویٰ پیش کرنے سے قبل صفا پہاڑی پر چڑھ کر پہلے قریش کے سامنے اپنی چالیس سالہ زندگی پیش کی تھی کہ اے سرداران قریش! اے میرے قبیلے والو! میں نے چالیس سال کی زندگی تمہارے سامنے گزاری ہے۔ میری چالیس سالہ زندگی کا ایک ایک ورق تمہارے سامنے ہے۔ ”کیف وجدتمونی هل وجد تمونی صادقا او کاذبا“ ﴿کیا تم نے مجھے سچا پایا یا جھوٹا؟﴾ سب نے یک زبان ہو کر کہا: ”جربناک مرارا ما وجدنا فیک الا صدقا“ کہ ہم آپ کو بار بار آزما چکے ہیں۔ آپ میں سوائے سچائی کے اور کوئی چیز نہیں پائی۔

مرزا قادیانی بھی اگر واقعی حضورﷺ کا ظل ہے۔ تو اسے اور اس کے پیروکاروں کو بھی تمام مسائل سے پہلے اس کی زندگی پیش کرنی چاہئے۔ لیکن مرزائی اس کی زندگی پر بحث کرنا موت سے بھی زیادہ گراں جانتے ہیں۔

اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی زندگی کیسی ہے۔ اس لئے تو کہتے ہیں کہ چور کی داڑھی میں تنکا۔ اگر اس کی زندگی عیوب سے پاک صاف ہے۔ تو قادیانی اس پر بحث کیوں

٣١

صفحہ ١٥٨

نہیں کرتے؟ پھر ایک اور بات بھی قابل غور ہے۔ اگر کوئی شخص بفرض محال نبوت کو جاری بھی مان لے اور عیسیٰ علیہ السلام کو بھی قادیانیوں کی طرح فوت شدہ تسلیم کرے۔ جیسا کہ بہائی فرقہ کا عقیدہ ہے۔ لیکن مرزا قادیانی پر ایمان نہ لائے۔ اسے جھوٹا یقین کرے تو کیا قادیانی اس شخص کو جھوٹا تسلیم کریں گے؟

جبکہ وہ ان کے دونوں عقیدے تسلیم کر چکا ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ جب تک وہ مرزا قادیانی پر ایمان نہ لائے وہ مسلمان نہیں ہو سکتا اور جہنم سے نہیں بچ سکتا۔ تو معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ مانے تب بھی قادیانیوں کے نزدیک کافر اور فوت شدہ مانے تب بھی کافر ۔ نبوت کو بند مانے تو بھی کافر ۔ جاری مانے تو بھی کافر اور جہنمی ۔ جس کی واضح مثال بہائیوں کی موجود ہے۔ قادیانیوں کے نزدیک بہائی بھی اسی طرح کافر اور جہنمی ہیں۔ جس طرح ہم مسلمان ان کے نزدیک کافر اور جہنمی ہیں۔

مرزا بشیر الدین محمود کہتا ہے کہ کل مسلمان جنہوں نے حضرت مسیح موعود کی بیعت نہیں کی۔ خواہ انہوں نے ان کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ اصل موضوع بحث مرزا قادیانی کی ذات ہے۔ دوسری بحثوں میں پڑنا اور اصل موضوع سے پہلو تہی کرنا وقت کو ضائع کرنا ہے۔ امت مرزائیہ کو ہمارا چیلنج ہے کہ وہ جب چاہیں، جہاں چاہیں، مرزا قادیانی کی سیرت اور کریکٹر پر ہم سے بحث کر سکتے ہیں۔ لیکن بقول کسے:

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

قادیانی ہر ذلت برداشت کر سکتا ہے۔ بلکہ موت قبول کر سکتا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی زندگی پر بحث اور مناظرہ نہیں کر سکتا۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی اپنی تحریرات کی روشنی میں ایک سچا اور شریف انسان ثابت ہو جائے تو ہم اس کے تمام دعاوی پر آنکھیں بند کر کے ایمان لے آئیں گے اور ہم کسی دیگر موضوع پر بحث مباحثہ نہیں کریں گے۔ قارئین کرام اس نقطہ کو ہمیشہ ذہن میں رکھیں اور جب بھی کسی قادیانی سے گفتگو کا موقع ملے ۔ تو صرف اور صرف مرزا قادیانی کی سیرت پر بحث کریں۔ دوسری بحثوں میں پڑ کر وقت ضائع مت کریں۔ اگر وہ سچا ہو جائے تو ہر بات میں سچا اور اگر وہ ایک بات میں بھی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر وہ بقول اپنے کسی بات میں بھی سچا نہیں ہے۔ سب میں جھوٹا ہے اور بقول مرزا قادیانی کے: ”جو شخص ایک بات میں جھوٹا ثابت ہو جائے۔ اس کا کسی بات پر بھی اعتبار نہیں رہتا۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج٢٣ ص٢٣١)

٣٢

اس مختصر اور ضروری تمہید کے ضروری گزارشات قارئین کی خدمت مـ مطالعہ کا حاصل اور نچوڑ ہے۔ آپ نے قادیانی کی ہر بات کا توڑ اور اس کے ہر ا سے مرزا قادیانی کی جہالت اور غباوت او کی تفسیر دانی، مرزا کی اصول تفسیر دانی فـ بلاغت دانی، مرزا کی تاریخ دانی، مرزا کی ہیں کہ معمولی علم کا آدمی بھی مرزا غلام احمد

یہ کتاب منفرد مناظرانہ انداز بے حد مفید ثابت ہوگی۔ معلومات کا ایک عیسیٰ علیہ السلام تینوں مضامین کو اس میں موضوعات سے آپ کسی موضوع پر گفتگو آپ کو کسی اور کتاب کی حاجت نہیں رہے ہے۔ کتاب میں محض عبارت آرائی نہیـ صاحب فن اس پر کام کرے تو اسے کئی جلـ تعالیٰ مؤلف کی اس محنت اور عرق ریزی کـ کو ”چراغ ہدایت“ بنائیں۔ آمین!

نوٹ:....... حضرت الاستاذ نے کتاب ” ناچیز اپنے کو قطعاً اس کا مستحق نہیں سمجھتـ حضرت کی شفقت اور ذرہ نوازی ہے کہ پاکستان میں کبھی کبھی وقت نکال کر دیکھتـ وہاں جا کر نظر ثانی مکمل کی۔ مقدمہ مری مدینہ منورہ کی پاک سر زمین پر اسے پورا نافع فرمادیں۔ آمین!

صفحہ ١٥٩

اس مختصر اور ضروری تمہید کے بعد اب راقم اصل کتاب ”چراغ ہدایت“ کے متعلق چند ضروری گزارشات قارئین کی خدمت میں پیش کرتا ہے۔ یہ کتاب حضرت الاستاذ کے تنقیدی مطالعہ کا حاصل اور نچوڑ ہے۔ آپ نے ہر پہلو سے مرزا کی کتب اور تحریروں کا جائزہ لیا اور مرزا قادیانی کی ہر بات کا توڑ اور اس کے ہر دعویٰ کا رد اس کی تحریروں سے پیش کیا ہے۔ پھر خصوصیت سے مرزا قادیانی کی جہالت اور غباوت اور کور علمی پر مرزا کی قرآن دانی، مرزا کی حدیث دانی، مرزا کی تفسیر دانی، مرزا کی اصول تفسیر دانی اور اصول حدیث دانی، مرزا کی صرف و نحو دانی، مرزا کی بلاغت دانی، مرزا کی تاریخ دانی، مرزا کی حساب دانی غرضیکہ ہر فن میں اس کی ایسی اغلاط واضح کی ہیں کہ معمولی علم کا آدمی بھی مرزا غلام احمد کی پوری حقیقت سمجھ سکتا ہے۔

یہ کتاب منفرد مناظرانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ علماء، طلباء اور مناظر حضرات کے لئے یہ بے حد مفید ثابت ہوگی۔ معلومات کا ایک بیش بہا ذخیرہ ہے۔ مرزا کی سیرت ختم نبوت اور حیات عیسیٰ علیہ السلام تینوں مضامین کو اس میں حضرت الاستاذ نے اپنے خاص انداز میں لیا ہے۔ تینوں موضوعات سے آپ کسی موضوع پر گفتگو کرنا چاہیں تو آپ کو اس کتاب سے اتنا مواد ملے گا کہ آپ کو کسی اور کتاب کی حاجت نہیں رہے گی۔ اسے مرزائیت کا انسائیکلوپیڈیا کہیں تو یہ آپ کا حق ہے۔ کتاب میں محض عبارت آرائی نہیں ہے۔ بس مواد ہی مواد ہے۔ آئندہ چل کر اگر کوئی صاحب فن اس پر کام کرے تو اسے کئی جلدوں میں پھیلایا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف کی اس محنت اور عرق ریزی کو قبول فرمائیں اور بھٹکے ہوئے اور گمراہ لوگوں کے لئے اس کو ”چراغ ہدایت“ بنائیں۔ آمین!

نوٹ ...... حضرت الاستاذ نے کتاب ”چراغ ہدایت“ نظر ثانی اور مقدمہ کے لئے بھیجی تھی۔ بندۂ ناچیز اپنے کو قطعاً اس کا مستحق نہیں سمجھتا کہ اپنے فاضل استاد کی کتاب کا مقدمہ تحریر کرے۔ یہ حضرت کی شفقت اور ذرہ نوازی ہے کہ مجھ ناچیز کو حکم فرمایا حضرت کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پاکستان میں کبھی کبھی وقت نکال کر دیکھتا رہا۔ لیکن قطر کے دورہ میں رمضان میں ہمراہ لے گیا اور وہاں جا کر نظر ثانی مکمل کی۔ مقدمہ مری میں شروع ہوا۔ مسودے کے دو ورق گم ہوگئے۔ اب مدینہ منورہ کی پاک سرزمین پر اسے پورا کیا۔ الحمد للہ ! اللہ تعالیٰ کتاب کے ساتھ اس مقدمہ کو بھی نافع فرمادیں۔ آمین!

حضرت مؤلف کا ادنیٰ شاگرد سفیر ختم نبوت ...... منظور احمد چنیوٹی

٣٣

PDF 161

بسم الله الرحمن الرحیم ۔ الحمد لله رب العالمین والصلوة والسلام علی رسوله محمد الامین و خاتم النبیین!

ختم نبوت کا مسئلہ اسلامی اصول کا ایک ایسا مسئلہ تھا۔ جس پر امت مسلمہ تیرہ سو سال سے متفق چلی آئی تھی۔ لیکن نفس پرستوں اور ازلی بد بختوں نے ہمیشہ مسئلہ کی اہمیت کو کم کرنے کی ناکام کوششیں کیں۔ موجودہ زمانہ میں قادیانی دجال نے خود کو نبی منوانے کی سعی کی ہے اور اس طرح اسلام میں رخنہ اندازی کی کوشش کی اور ختم نبوت کی مہر کو توڑنا چاہا۔ مگر الحمد للہ کہ مسئلہ بفضلہ تعالیٰ ویسے کا ویسے ہی صاف رہا اور مرزا قادیانی کے اختلافات اقوال نے آپس میں ٹکرا کر بھی مرزا کو واصل جہنم کر دیا۔ اس مسئلہ پر اگر چہ علماء کرام نے ہر پہلو سے عقلاً ونقلاً بحثیں کر کے علمی مذاق کو سیر حاصل کر دیا ہے۔ لیکن ایک پہلو ابھی تشنہ تھا۔ جس پر حسب منشاء روشنی نہ ڈالی گئی تھی۔ وہ پہلو مرزا قادیانی دجال کے مسلمات کا تھا کہ مرزا قادیانی کے اقوال سے ہی الزاماً اس کا اور اس کی امت کا منہ بند کر دیا جائے۔ اس لئے بندہ کی تمام تر توجہ کا مرکز مرزا کے اقوال اور تحریرات ہی رہے گی۔ (وباللہ التوفیق)

قرآن مجید کی آیات اور نبی کریم ﷺ کی احادیث سے ختم نبوت کو ختم ثابت کرنا میرا مقصد نہیں۔ اس پر مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندی نے کافی بحث کی ہے اور ایک ضخیم رسالہ اسی موضوع پر لکھ کر امت کو بے نیاز کر دیا ہے۔ ”جزاہ الله عنی وعن سائر المسلمین “ لیکن میں بطور تبرک چند آیات اور احادیث کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔

قرآن مجید

قرآن مجید نے جہاں خدا تعالیٰ کی توحید اور قیامت کے عقیدہ کو ہمارے ایمان کا جزو لازم ٹھہرایا۔ وہاں انبیاء ورسل علیہم السلام کی نبوت ورسالت کا اقرار کرنا بھی ایک اہم جزو قرار دیا ہے اور انبیاء کرام کی نبوتوں کو ماننا اور ان پر عقیدہ رکھنا ویسے ہی اہم اور لازمی ہے۔ جس طرح خدا تعالیٰ کی توحید پر۔ لیکن قرآن مجید کو اول سے آخر تک دیکھ لیجئے۔ جہاں کہیں ہم انسانوں سے نبوت کا اقرار کرایا گیا ہو اور جس جگہ وحی کو ہمارے لئے ماننا لازمی قرار دیا گیا ہو۔ وہاں وہاں صرف پہلے انبیاء کی نبوت و وحی کا ہی ذکر ملتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبوت حاصل ہو اور پھر اس پر خدا کی وحی نازل ہو کہیں کسی جگہ پر اس کا ذکر تک نہیں۔ نہ اشارۃً نہ کنایۃً۔ حالانکہ پہلے انبیاء کی نسبت آنحضرت ﷺ کے بعد کسی فرد بشر کو نبوت عطا کرنا مقصود ہوتا تو اس کا ذکر زیادہ لازمی تھا اور اس پر تنبیہ کرنا از حد ضروری تھا۔ کیونکہ پہلے انبیاء کرام اور ان کی وحی تو گزر چکی۔ امت مرحومہ کو تو ٣٤

سابقہ پڑنا تھا۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کو قرآن مجید میں کھلے لفظوں میں آنحضرت ﷺ کے بعد کسی شخصیت کو غور فرمائیے۔

ایمان لاتے ہیں اس پر جو تجھ پر نازل پر ایمان رکھتے ہیں۔

انزل من قبل (مائده: ٥٩) " کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے ہیں

وما انزل من قبلك (نساء: ١٦٢ ایمان لاتے ہیں اس پر جو تم پر نازل کی

رسوله والکتاب الذی انزل اس کے رسول اور کتاب کو جو اس نے نازل کی گئی ہے۔ مانو!

قبلك (نساء: ٦٠) ”کیا تو آئے ہیں۔ جو تجھ پر نازل کی گئی ہے بعض ناواقف لوگ مرزا محل پیش کر دیا کرتے ہیں اور آخرۃ لیکن خود مرزا قادیانی اس جگہ آخرۃ ١٩٠٦ء ص ٥، کالم نمبر ٢، ٣، ملفوظات ج ٥ ترجمہ ”اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں

صفحہ ١٦١

سابقہ پڑنا تھا۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کی نبوتوں سے مگر ان کا نام و نشان تک نہ ہوتا۔ بلکہ ختم نبوت کو قرآن مجید میں کھلے لفظوں میں بیان فرمانا صاف اور روشن دلیل ہے اس بات کی کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی شخصیت کو نبوت یا رسالت عطاء نہ کی جائے گی۔ مندرجہ ذیل آیات پر غور فرمائیے۔

﴿ایمان لاتے ہیں اس پر جو تجھ پر نازل کی گئی ہے اور اس پر جو تجھ سے پہلے نازل ہوئی اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں۔﴾

انزل من قبل (مائدہ:٥٩)" ﴿اے اہل کتاب تم لوگ ہم سے صرف اس چیز کو ناپسند کرتے ہو کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے ہیں اور اس چیز پر جو ہم پر اور ہم سے پہلے نازل کی گئی ہے۔﴾

وما انزل من قبلك (نساء:١٦٢)" ﴿لیکن ان میں سے پختہ علم والے لوگ اور مومن لوگ ایمان لاتے ہیں اس پر جو تجھ پر نازل کی گئی ہے اور اس پر جو تجھ سے پہلے نازل کی گئی ہے۔﴾

رسوله والكتاب الذى انزل من قبل (نساء:١٣٦)" ﴿اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور کتاب کو جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور اس کتاب کو جو اس سے پہلے نازل کی گئی ہے۔ مانو﴾

قبلك (نساء:٦٠)" ﴿کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو سمجھتے ہیں کہ وہ اس پر ایمان لے آئے ہیں۔ جو تجھ پر نازل کی گئی ہے اور اس پر جو تجھ سے پہلے نازل کی گئی ہے۔﴾

١ بعض ناواقف لوگ مرزا کی نبوت منوانے کے لئے بالآخرۃ ہم یوقنون کی آیت کو بے محل پیش کر دیا کرتے ہیں اور آخرۃ سے مراد آخری نبوت یعنی مرزا کی نبوت مراد ٹھہرایا کرتے ہیں۔ لیکن خود مرزا قادیانی اس جگہ آخرۃ سے مراد قیامت سمجھتا ہے۔ (دیکھو الحکم نمبر ٢ جلد نمبر ١٠، ١٧ جنوری ١٩٠٦ء ص ٥، کالم نمبر ٢، ٣، ملفوظات ج ٨ ص ٣٠٧) اس میں مرزا قادیانی نے بالآخرۃ ہم یوقنون کا ترجمہ ”اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں“ کیا ہے اور پھر لکھتا ہے ”قیامت پر یقین رکھتا ہو ۔“

٣٥

صفحہ ١٦٢

ولتكونن من الخاسرين (زمر:٦٥)“ ﴿وحی کی گئی ہے تیری طرف اور ان لوگوں کی طرف جو تجھ سے پہلے ہوئے ہیں اور اگر تو شرک کرے گا تو تیرے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور تو خاسرین میں سے ہوگا۔﴾

(شوریٰ:٣)“ ﴿یوں ہی تیری طرف اور تجھ سے پہلوں کی طرف خدا غالب وحکیم وحی کرتا رہا ہے۔﴾

مندرجہ بالا تمام آیات میں خدا تعالیٰ نے ہمیں صرف ان کتابوں ، الہاموں اور وحیوں کی اطلاع دی ہے اور ہم نے صرف انہی انبیاء کو ماننے کا تقاضا کیا ہے جو آنحضرت ﷺ سے پہلے گزر چکے ہیں اور بعد میں کسی نبی کا ذکر نہیں فرمایا۔

یہ چند آیات لکھی گئی ہیں۔ ورنہ قرآن پاک میں اس نوعیت کی اور بھی بہت سی آیات ہیں۔ مندرجہ بالا آیات میں ”من قبل یا من قبلك “ کا صریح طور پر ذکر تھا۔ اب چند وہ آیات بھی ملاحظہ فرمائیے جن میں خدا تعالیٰ نے ماضی کے صیغہ میں انبیاء کا ذکر فرمایا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نبوت کا منصب جن لوگوں کو حاصل ہونا تھا۔ وہ ماضی میں حاصل ہو چکا اور انہی کا ماننا داخل ایمان ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسی شخصیت نہیں جس کو نبوت بخشی جائے اور اس کا ماننا ایمان کی جزو لازمی قرار دی گئی ہو۔

(بقرة:١٣٦)“ ﴿کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہم پر نازل کی گئی اور اس پر جو حضرت ابراہیم پر نازل کی گئی۔﴾

عمران:٨٤)“ ﴿کہہ دو کہ ہم نے مان لیا اللہ تعالیٰ کو اور اس کو جو ہماری طرف نازل کی گئی اور اس کو جو حضرت ابراہیم کی طرف نازل کی گئی۔﴾

الى ابراهيم واسماعيل (نساء:١٦٣)“ ﴿ہم نے وحی کی تیری طرف جیسے کہ وحی کی نوح اور اس کے بعد کے نبیوں کی طرف اور جیسے کہ ہم نے وحی کی ابراہیم اور اسماعیل کی طرف۔﴾

ان تینوں آیات میں اور ان جیسی دیگر آیات میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں گذشتہ انبیاء اور ماضی کی وحی کو منوانے کا اہتمام کیا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کی نبوت اور رسالت کو کہیں

٣٦

صفحہ ١٦٣

صراحۃً و کنایۃً یا اشارۃً ذکر تک نہیں فرمایا۔ جس سے صاف ثابت ہو گیا کہ جن جن حضرات کو خلعت نبوت و رسالت سے نوازنا مقدر تھا۔ پس وہ ہو چکے اور گزر گئے۔ اب آئندہ نبوت پر مہر لگ گئی ہے اور بعد میں نبوت کی راہ کو ابدالآباد کے لئے مسدود کر دیا گیا ہے اور اب انبیاء کے شمار میں اضافہ نہ ہو سکے گا۔

آیات مندرجہ بالا کے علاوہ ایک ایسی بھی آیت لکھ دوں جو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کی ضرورت ہی کو اٹھا دے اور وہ ایسی فلاسفی بتا دے کہ جس پر یقین کر کے ہر مومن اطمینان حاصل کرے کہ اب آئندہ کسی کو نبوت حاصل نہ ہو گی اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت ہے۔

”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي و رضيت لكم الاسلام دينا (مائده:٣) ” آج میں نے تمہارے لئے دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کیا ۔﴾

اس ارشاد خداوندی نے بتا دیا کہ دین کے تمام محاسن مکمل اور پورے ہو چکے ہیں۔ اب کسی متمم یا مکمل کی ضرورت نہیں رہی۔ ظاہر ہے جب کسی متمم یا مکمل کی ضرورت نہیں تو یقیناً آج کے بعد کسی کو نبی بنانے کی بھی کوئی حاجت نہیں۔

اس آیت کا معنی میں مرزا قادیانی کی زبان سے ہی کروا دیتا ہوں۔ مرزا نے اپنی کتاب (تحفہ گولڑویہ ص ٥١، خزائن ج ١٧ ص ١٧٤) پر لکھا ہے کہ : ”ایسا ہی آیت ”الیوم اکملت لکم دینکم “اور آیت ”ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ میں صریح نبوت کو آنحضرت ﷺ پر ختم کر چکا ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں ۔“

نیز قرآن مجید نے اشارتاً ارشاد فرمایا ہے کہ آنحضرت ﷺ تمام انبیاء کرام کے بعد تشریف فرما ہوئے ہیں۔ جتنے نبی ہو چکے ہیں۔ وہ سب کے سب آپ ﷺ سے پہلے ہی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد اب کسی کو نبوت سے نہ نوازا جائے گا۔

”واذ اخذ الله ميثاق النبيين لما آتيتكم من كتاب و حكمة ثم جاءكم رسول مصدق لما معكم لتومنن به ولتنصرنه (آل عمران:٨١) ” اور جب لیا اللہ نے اقرار نبیوں سے کہ جو کچھ میں نے تم کو دیا کتاب اور علم پھر آئے گا تمہارے پاس رسول جو تمہارے پاس والی کتاب کی تصدیق کرتا ہو تو اس پر ایمان لانا ہو گا اور اس کی امداد کرنا ہو گی۔﴾

اس جگہ یہ متعین کر دیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ تمام انبیاء کے بعد آئیں گے۔ اسی آیت کو مرزا قادیانی نے (حقیقت الوحی ص ١٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٣٢) میں نقل کر کے اس کے بعد یہ

٣٧

صفحہ ١٦٤

تحریر کیا ہے کہ اس آیت میں ”ثم جاء کم رسول“ سے مراد آنحضرت ﷺ ہی ہیں۔ قرآن مجید کو اوّل سے آخر تک پڑھئے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے سلسلہ نبوت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع کیا اور آنحضرت ﷺ پر ختم کردیا۔ خود مرزا قادیانی کے الفاظ یہ ہیں: ”سیدنا و مولانا حضرت مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کافر و کاذب جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی۔“

(دین الحق ص ١٢٧ از اشتہار ٢ اکتوبر ١٨٩١ء ص ١، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)

میں قرآن مجید کا نقشہ نبوت حضرات ناظرین کرام کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب دنیا پیدا ہوئی تو اس وقت حکم خداوندی حضرت آدم صفی اللہ کو بدیں الفاظ پہنچایا گیا۔

”قلنا اہبطوا منہا جمیعا فاما یاتینکم منی ہدی فمن تبع ہدای فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون (بقرة:٣٨)“ ﴿ہم نے کہا یہاں سے اتر جاؤ سب کے سب پھر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آوے تو جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے۔ ان لوگوں پر کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔﴾

طہٰ میں ہے کہ: ”قال اہبطا منہا جمیعاً بعضکم لبعض عدو فاما یاتینکم منی ہدی فمن تبع ہدای فلا یضل ولا یشقی“

اس مضمون کو الفاظ کی معمولی تبدیلی کے ساتھ دوسری جگہ ذکر فرمایا گیا ہے۔ جس کو آج کل مرزائی آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کو جاری ثابت کرنے کے لئے بالکل بے محل پیش کردیا کرتے ہیں۔ حالانکہ اس آیت کا تعلق حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:

”یابنی آدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی فمن اتقی واصلح فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون (اعراف:٣٥)“ ﴿اے آدم کی اولاد تمہارے پاس میرے رسول آئیں گے اور تم پر میری آیات بیان کریں گے۔ تو جو پرہیز گاری اختیار کرے گا اور اپنی اصلاح کرے گا۔ ایسے لوگوں پر کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ کوئی غم۔﴾

ان دونوں آیات میں ابتداء آفرینش کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور دونوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم اور نوع انسان کو حکم دیا ہے کہ میں حضرت آدم علیہ السلام سے نبوت کا سلسلہ شروع کرنا چاہتا ہوں اور حضرت آدم کے بعد انبیاء ورسل بکثرت ہوں گے اور لوگوں کے لئے ان ٣٨ کی اتباع کرنا ضروری ہوگا۔ اس جگہ رسل کی۔ جس سے ثابت ہوا کہ حضرت آ ہوں گے۔

بعد ازاں حضرت نوح علیہ السـ یہی اعلان ہوا کہ ان کے بعد بھی بکثرت ا

”ولقد ارسلنا نوحا و فمنہم مہتد وکثیر منہم فاسقو ﴿ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان کـ یافتہ ہیں اور بہت سے فاسق ہیں۔ پھر ان

اس آیت کریمہ میں صاف فـ کا دروازہ بند نہیں ہوگیا تھا۔ بلکہ ان کے بھی رسل کا لفظ فرمایا۔ کوئی تجدید و تعیین نـ السلام کے بعد بھی رہی اور بعینہ یہی مضمو

”ولقد آتینا موسیٰ ا ﴿یقیناً ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کـ

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے انبیاء کرام بکثرت آتے رہے جس کو اللہ تـ لئے ذکر کی گئیں کہ معلوم ہو جائے کہ اولوا

لیکن جب حضرت مسیح علیہ سامنے یہ اعلان فرمایا کہ اب میرے انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد ہوتا چلا انقلاب ہوگیا ہے۔ یعنی بجائے اس کـ اب واحد کا لفظ بَرسول کہہ کر ارشاد کیا رسولوں کے آنے کا ذکر کیا جاتا۔ طر دی اور اس کے اسم مبارک (احمد) کی اس کا مصداق میں ہوں۔

صفحہ ١٦٥

کی اتباع کرنا ضروری ہوگا۔ اس جگہ رسل کے صیغہ سے بیان فرمایا ہے کہ انبیاء کی تجدید و تعیین نہیں کی۔ جس سے ثابت ہوا کہ حضرت آدم صفی اللہ کے بعد کافی تعداد میں انبیاء کرام مبعوث ہوں گے۔

بعد ازاں حضرت نوح علیہ السلام و حضرت ابراہیم علیہ السلام کا زمانہ آیا۔ تو اس میں بھی یہی اعلان ہوا کہ ان کے بعد بھی بکثرت انبیاء ہوں گے۔

"ولقد ارسلنا نوحا وابراهيم وجعلنا فى ذريتهما النبوة والكتاب فمنهم مهتد وكثير منهم فاسقون ثم قفينا على اثارهم برسلنا (حدید:٢٦)"

﴿ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان کی اولاد میں نبوت مقرر کردی۔ کچھ ان میں سے ہدایت یافتہ ہیں اور بہت سے فاسق ہیں۔ پھر ان کے بعد ہم نے بہت سے رسول بھیجے۔﴾

اس آیت کریمہ میں صاف فرمایا کہ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم علیہم السلام پر نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوگیا تھا۔ بلکہ ان کے بعد بھی کافی تعداد میں انبیاء کرام تشریف لائے اور یہاں بھی رسل کا لفظ فرمایا۔ کوئی تجدید و تعیین نہیں فرمائی۔ علیٰ ہذا القیاس یہی سنت اللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بھی رہی اور بعینہ یہی مضمون مندرجہ ذیل آیت میں صادر ہوا۔

"ولقد آتينا موسى الكتاب وقفينا من بعده بالرسل (بقرۃ:٨٧)"

﴿یقیناً ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے بعد رسولوں کو بھیجا۔﴾

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بھی باب نبوت بند نہیں ہوا تھا اور اس کے بعد انبیاء کرام بکثرت آتے رہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بالرسل کہہ کر ارشاد فرمایا۔ صرف یہ تین آیتیں اس لئے ذکر کی گئیں کہ معلوم ہو جائے کہ اولوالعزم انبیاء کرام کے بعد سنت خداوندی کیا کچھ چلتی رہی۔

لیکن جب حضرت مسیح علیہ السلام کی باری آئی تو اس مبشر احمد نے آ کر دنیا کے سامنے یہ اعلان فرمایا کہ اب میرے بعد سلسلۂ نبوت اس کثرت اور غیر محدود نہیں جیسے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد ہوتا چلا آیا ہے۔ بلکہ ان کے زمانہ میں نبوت میں ایک نوع کا انقلاب ہو گیا ہے۔ یعنی بجائے اس کے کہ الرسل کے لفظ سے انبیاء کی آمد کو بیان کیا جاتا تھا۔ اب واحد کا لفظ برسول کہہ کر ارشاد کیا اور بجائے اس کے حسب سابق غیر محدود اور غیر معین رسولوں کے آنے کا ذکر کیا جاتا۔ طریق بیان کو بدل کر صرف ایک رسول کے آنے کی اطلاع دی اور اس کے اسم مبارک (احمد) کی بھی تعیین فرمادی کہ کوئی شقی ازلی یہ دعویٰ نہ کرنے لگے کہ اس کا مصداق میں ہوں۔

صفحہ ١٦٦

(جیسے مرزا قادیانی کی امت آج کل یہ بانگ دیا کرتی ہے کہ بشارت احمد کا مصداق مرزا قادیانی) ارشاد ہوا ہے۔

"واذ قال عیسیٰ بن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول الله الیکم مصدقا لما بین یدی من التوراة ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد (صف: ٦)" ﴿جب کہ عیسیٰ بن مریم نے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور اپنے سامنے کی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور ایک رسول کی خوشخبری دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا جس کا اسم پاک احمد ہوگا۔﴾

آنے والے نبی کریم ﷺ کا نام بتا کر تعیین بھی کر دی اور کہا کہ اب میرے بعد ایک اور صرف ایک رسول آئے گا۔ جس کا نام احمد ہوگا۔ انبیاء سابقین نے تو اپنے بعد کے زمانہ میں بصیغہ جمع کئی رسولوں کی آمد کی خوشخبری دی تھی۔ مگر حضرت مسیح علیہ السلام نے صرف ایک رسول احمد کی ہی بشارت و خوشخبری دی اور جب وہ رسول خاتم الانبیاء والمرسلین ع آمد بود فخر الاولین تشریف فرما ہوا تو خدا نے ساری دنیا کے سامنے اعلان فرما دیا کہ اب وہ رسول کریم ﷺ جس کی طرف نگاہیں لگ رہی تھیں۔ وہ تشریف فرما ہو گیا ہے۔ وہ خاتم النبیین ہے اور اس کے بعد کوئی نیا شخص نبوت کے اعزاز سے نہیں نوازا جائے گا۔ بلکہ وہ نبوت کی ایسی اینٹ ہے۔ جس کے بعد نبوت کے دروازہ کو بند فرما دیا گیا ہے۔ ارشاد ملاحظہ ہو:

"ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین (احزاب:٤٠)" ﴿محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول اور انبیاء کو ختم کرنے والے ہیں۔﴾

یعنی آنحضرت ﷺ جن کی آمد کی اطلاع حضرت مسیح علیہ السلام نے دی تھی۔ وہ آچکے اور آکر نبوت پر مہر کر دی۔ اب آپ کے بعد دنیا میں کوئی ایسی ہستی نہیں ہو گی۔ جس کو نبوت کے خطاب سے نوازا جائے اور انبیاء کرام کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ قرآن کا یہ طریق بیان نبوت کے سلسلہ کی ان کڑیوں کا اجمالی نقشہ تھا کہ جو حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہو کر حضرت محمد ﷺ پر ختم ہو گیا۔

نوٹ ...... کیونکہ مرزا قادیانی کی امت حسب مقولہ : پیراں نمی پرند، مریداں می پرانند۔" بشارت احمد کے متعلق کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس سے مراد مرزا قادیانی ہے۔ بلکہ مرزا محمود قادیانی

٤٠

صفحہ ١٦٧

نے تو یہ کہہ دیا ہے کہ : ”اس آیت کا مصداق میرے باپ کے سوا اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔“

(انوار خلافت ص ١٨، ٢١، مؤلفہ محمود احمد قادیانی)

اس لئے لگے ہاتھوں میں اس کی بھی تردید کردوں۔

امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی آمد کی خوشخبری حضرت مسیح علیہ السلام نے یقیناً بیان کی تھی۔ لیکن بقول طائفہ مرزائیہ بشارت احمد کا مصداق تو قادیانی مرزا ہے۔ تو پھر ہم پوچھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی بشارت اور کون سے قرآن مجید میں ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح نے تو صرف ایک ہی رسول ﷺ کی آمد کی اطلاع دی تھی اور وہ نبوت قادیانی سے نمودار ہوگئی۔ تو آنحضرت ﷺ کی نبوت تو خاکم بدہن بالکل معدوم ہوگئی اور پھر یہ ثابت کر دو کہ قرآن مجید میں مبشر دو رسولین ہے۔ یعنی حضرت مسیح نے فرمایا کہ میرے بعد دو رسول آئیں گے۔ ایک حضرت احمد مدنی ﷺ اور دوسرا مرزا قادیانی علیہ ماعلیہ۔ حالانکہ حضرت مسیح نے تو دو رسولوں کی خبر نہیں دی۔ نہ قرآن مجید اس کی بشارت دیتا ہے اور نہ ہی کتب جدید و قدیم۔

ہے۔ ملاحظہ ہو قول مرزا قادیانی:

(ملفوظات احمدیہ سلسلہ اشاعت لاہور ص ١٥٣، حصہ اول ۔ نیز آئینہ کمالات اسلام ص ٤٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

”پھر آپ کا ایک اور نام بھی رکھا گیا وہ احمد ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح نے اس نام کی پیش گوئی کی تھی۔ ”مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد“ یعنی میرے بعد ایک نبی آئے گا۔ جس کی بشارت دیتا ہوں اور اس کا نام احمد ہوگا۔“

(سلسلہ اشاعت لاہوری ص ١٧٧، حصہ اوّل)

”حضرت رسول کریم کا نام احمد وہ ہے جس کا ذکر حضرت مسیح نے کیا۔ ”یاتي من بعدی اسمہ احمد من بعدی“ کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نبی میرے بعد بلا فصل آئے گا۔ یعنی میرے اور اس کے درمیان اور کوئی نبی نہ ہوگا۔

ان دونوں حوالوں سے ثابت ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے خیال میں احمد رسول سے مراد احمد مدنی ﷺ ہی ہیں۔ اب باپ بیٹا آپس میں فیصلہ کریں کہ کون جھوٹا ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دوسرے حوالہ (ص ١٧٧) سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح بن مریم اور رسول احمد کے درمیان کوئی نبی نہ ہوگا تو محمود قادیانی کے خیال کے مطابق اگر احمد سے مراد مرزا

٤١

صفحہ ١٦٨

قادیانی ہے۔ تو اب حضرت مسیح علیہ السلام کے درمیان اور مرزا قادیانی کے درمیان کوئی نبی نہ ہوگا۔ نعوذ باللہ العلی العظیم! نبوت مدنی تو گویا درمیان سے معدوم ہی ہوگئی۔ ”فاعتبروا یا اولی الابصار“

آیت خاتم النبیین کے متعلق

مرزا قادیانی نے اپنی مشہور کتاب (ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١) میں لکھا ہے: ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله و خاتم النبیین“ یعنی حضرت محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔ یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔

روح المعانی (ج ٢٢ ص ٣٢) میں خاتم النبیین کا معنی آخر النبیین ہے۔ (صراح ص ٤٦٧)...... ”خاتم الشی آخره ومحمد خاتم الانبیاء بالفتح ﷺ“ (تفسیر ابن کثیر ص ٥٦٢ ج٦)...... ”فهذه الآية نص على انه لا نبى بعده“ (تفسیر ابن کثیر ص ٥٦٧ ج٦)...... ”وقد اخبر الله تعالى في كتابه ورسوله ﷺ في السنة المتواترة عنه، انه لانبی بعده والمدعى بعده ضال مضل دجال“ (تفسیر روح المعانی ج ٢٢ ص ٣٢)...... ”انقطاع حدوث وصف النبوة في احمد من الثقلين بعد تحليته عليه الصلوة والسلام بها في هذه النشأة“ (تفسیر روح المعانی ج ٢٢ ص ٣٢)...... ”وانه ﷺ خاتم النبيين بالكتاب والسنة ولاجماع. ملخصاً“ (تفسیر خازن ص ٢١٨ ج ٥)...... ”خاتم النبيين ختم به النبوة بعده“ (تفسیر مدارک ص ٤١١)...... ”خاتم النبيين آخر هم یعنى لاینبا احد بعده“ (شرح عقائد نسفیہ ص ١٠١)...... ”ثبت انه آخرالانبیاء......“

اب میں مرزائیوں کے ایک اور ڈھکوسلے کا بھی ذکر کر کے اس کی تردید کردوں۔ بعض اوقات مرزائی قادیانی کہا کرتے ہیں کہ خاتم النبیین کا معنی نبوت کو بند کرنے والا نہیں۔ بلکہ نبوت جاری کرنے والا یا انبیاء کی زینت وغیرہ مراد ہے۔ ایک تو اس لئے کہ اگر خاتم کا لفظ جمع کی طرف مضاف ہو تو اس کا معنی بند کرنے کا نہیں ہوتا۔ دوم اس لئے کہ آنحضرت ﷺ مہر لگا لگا کر نبی بھیجنے والے ہیں۔ یعنی آپ ﷺ نبی گر ہیں۔ میں ثابت کروں گا کہ کسی چیز پر مہر لگ

٤٢

جانا بند ہو جانے کے مترادف ہے۔ اگر مہر لگا کو ختم اور بند کرنے والا ہی ہوگا۔

خاتم النبیین کی اضافت

اب مرزا قادیانی کے چند وہ اقوال کے لفظ سے بند کرنے والا مراد لیا ہے۔ وہی جو آیت کا معنی بند کرنے والا نبیوں کا کیا ہے۔ در محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسو سے کسی مرد کا باپ نہیں۔ مگر رسول اللہ ہے اور خا (ملفوظات احمدیہ ص ٢١ ج١، سلسلہ اشاع

”خاتم النبیین کے بڑے معنی یہی ہیں کہ آنحضرت ﷺ پر ختم کیا...... اور نبوت ختم ہو گ قادیانی نے یہی کیا ہے کہ آپ ﷺ نبیوں پ یہ اعلیٰ معنی یہی ہے۔ ذیل میں چند ایسی عبار خاتم کو جمع کی طرف مضاف بنایا اور اس کے مع

الولد تھا۔ میرے بعد کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا۔“ یہاں مرزا قادیانی خود کو خاتم الو میرے والد کے ہاں کوئی بچہ نہیں ہوا۔ کیا اس کے بھی مرزا قادیانی کے مہر زدہ بچے پیدا ہوے

بنی اسرائیل کے نبیوں کا خاتم الانبیاء کر کے بھیج اس جگہ کیا حضرت مسیح کو بھی مہر ز حضرت مسیح بنی کا آخری نبی تھا۔

خاتم الانبیاء تھے ۔“ اس جگہ بھی آخری نبی خا حضرت مسیح علیہ السلام ہیں۔

صفحہ ١٦٩

جانا بند ہو جانے کے مترادف ہے۔ اگر مہر لگانے والا ہی معنی کیا جائے ۔ تو اس کا مطلب بھی نبوت کو ختم اور بند کرنے والا ہی ہوگا۔

خاتم النبیین کی اضافت

اب مرزا قادیانی کے چند وہ اقوال پیش خدمت ہیں۔ جن میں مرزا قادیانی نے خاتم کے لفظ سے بند کرنے والا مراد لیا ہے۔ وہی حوالہ لیجئے جس میں مرزا قادیانی نے خاتم النبیین والی آیت کا معنی بند کرنے والا نبیوں کا کیا ہے۔ دیکھو (ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج٣ ص ٤٣٦) "ما کان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين" یعنی ”محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں۔ مگر رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔“

(ملفوظات احمدیہ ص ٣١ ج١، سلسلہ اشاعت لاہور) ختم نبوت کے متعلق میں پھر لکھتا ہے کہ: ”خاتم النبیین کے بڑے معنی یہی ہیں کہ نبوت کے امور کو آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت ﷺ پر ختم کیا۔۔۔ اور نبوت ختم ہوگئی۔“ ان دونوں مقامات پر خاتم النبیین کا معنی مرزا قادیانی نے یہی کیا ہے کہ آپ ﷺ نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں اور سب معانی میں سے بڑا اعلیٰ معنی یہی ہے۔ ذیل میں چند ایسی عبارتیں حاضر خدمت ہیں۔ جن میں مرزا قادیانی نے خاتم کو جمع کی طرف مضاف بنایا اور اس کے معنی بند کرنے کے مراد لئے ہیں۔

الولد تھا۔ میرے بعد کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)

یہاں مرزا قادیانی خود کو خاتم الولد کہتا ہے اور اس کا معنی یہ کرتا ہے کہ میرے بعد میرے والد کے ہاں کوئی بچہ نہیں ہوا۔ کیا اس جگہ یہ معنی ہو سکتے ہیں کہ مرزا کے بعد ان کے والد کے بھی مرزا قادیانی کے مہر زدہ بچے پیدا ہوئے۔

بنی اسرائیل کے نبیوں کا خاتم الانبیاء کر کے بھیجا۔“

اس جگہ کیا حضرت مسیح کو بھی مہریں لگا لگا کر بھیجنے والا اور نبی گر کہو گے یا یہ کہا جائے گا کہ حضرت مسیح بنی کا آخری نبی تھا۔

خاتم الانبیاء تھے۔“ اس جگہ بھی آخری نبی ہی مراد ہو سکتا ہے۔ یعنی بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت مسیح علیہ السلام ہیں۔

٤٣

صفحہ ١٧٠

ان کے ایک نام اس کا خاتم الخلفاء ہے۔“ یعنی ایسا خلیفہ جو سب سے آخر میں آنے والا ہے۔ اس جگہ مرزا نے خاتم کو جمع کی طرف مضاف کر کے اس کی تفسیر بھی لفظ ”آخری“ کے ساتھ کی ہے۔

عیسیٰ خاتم الخلفاء السلسلة الكليميه وكان لها کاخر اللبنة وخاتم المرسلین“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام موسویہ سلسلہ کے آخری خلیفہ تھے اور آخری اینٹ تھے اور خاتم المرسلین تھے۔ کیا یہاں یہ مراد ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح اپنے بعد کے نبیوں کو مہر لگا لگا کر بھیجنے والے تھے۔ اگر اسی مطلب کو صحیح مان لیا جائے۔ پھر تو آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح دونوں ہی خاتم النبیین اور خاتم المرسلین ہوں گے۔ پھر دونوں میں فرق کیا رہا؟ پھر لطف یہ کہ لفظ خاتم مضاف بھی جمع مذکر سالم کی طرف ہے۔ اس سے ان لوگوں کا اعتراض زائل ہو جاتا ہے۔ جو مرزا کے دفاع میں یہ تکلف کیا کرتے ہیں کہ کوئی ایسی عبارت بتاؤ۔ جس میں خاتم کا لفظ جمع مذکر سالم کی طرف مضاف ہو اور وہاں معنی ختم کرنے والا اور بند کرنے والا ہو۔

اس کے علاوہ اور بھی بہت سے حوالے ہیں۔ لیکن استشہاد کے لئے یہی کافی ہیں۔ کسی چیز پر ختم اور مہر لگانا بند کرنے کے مترادف ہے۔

ذیل میں کچھ ایسی عبارتیں درج کی جارہی ہیں۔ جن میں مرزا قادیانی نے مہر لگانے کا محاورہ بند کرنے کے معنی میں کیا ہے اور ان مقامات پر مہر لگانے کا معنی ایک دفعہ بند پھر جاری کرنے کا معنی نہیں ہو سکتا۔

گئی ہے۔“

ہے۔ کیونکہ خدا کی ہمکلامی پر مہر لگ گئی ہے اور آسمانی نشانوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔“

لگا دی تھی۔“

ویسے بھی جب کسی چیز پر مہر لگ جاتی ہے۔ تو اس کا معنی بند کرنا ہی ہوا کرتا ہے۔ عام

٤٤

محاورہ بھی یہی ہے۔ بلکہ قرآن مجید بھی جگہ اور مہر لگانا ذکر کیا ہے۔ وہاں بند کرنا ہی مراد

مہر لگا دی ہے۔“ یعنی بند کر دیئے ہیں اور وہ

مونہوں پر مہر لگا دیں گے۔ یعنی ان کے منہ گے۔ ﴾

الاحادیث النبویہ

آنحضرت ﷺ نے ختم نبوت پ اور اس میں کسی آنے والے مفتری کے ل بکثرت موجود ہیں۔ لیکن میں اس وقت چن احمد قادیانی نے خود اپنی تصانیف میں تسلیم کیا ہ

حدیث اول

آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ”لا ن کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ خواہ بروزی ہو یا ظلی ہ یا غیر متبع کوئی کسی قسم کا نبی نہ ہوگا۔ اس حدی ہے اور اس کو حدیث مشہور بھی مانتا ہے اور ا کو اس میں سے مستثنیٰ نہیں کرتا۔ بلکہ ہر ایک ن اس حدیث لا نبی بعدی کو آیت خاتم النبیین ک

”لا نبی بعدی“ ایسی مشہور تھی کہ کسی کوا

تصریح ذکر ہے اور پرانے یا نئے نبی کی تفری تفریق موجود ہے اور حدیث ”لانبی بع دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی بن

صفحہ ١٧١

محاورہ بھی یہی ہے۔ بلکہ قرآن مجید بھی یہی ارشاد فرماتا ہے۔ جہاں کہیں قرآن مجید نے ختم کرنا اور مہر لگانا ذکر کیا ہے۔ وہاں بند کرنا ہی مراد لیا ہے۔

مہر لگا دی ہے۔ یعنی بند کر دیئے ہیں اور وہ حق کو سننے یا سمجھنے کے قابل نہیں رہ گئے۔﴾

مونہوں پر مہر لگا دیں گے۔ یعنی ان کے منہ بند کر دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے۔﴾

الاحادیث النبویہ

آنحضرت ﷺ نے ختم نبوت کے مسئلہ کو ہر ایک طریق اور پہلو سے واضح فرما دیا ہے اور اس میں کسی آنے والے مفتری کے لئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔ اس مضمون کی احادیث بکثرت موجود ہیں۔ لیکن میں اس وقت چند وہ احادیث پیش کرنا چاہتا ہوں۔ جس کو مرزا غلام احمد قادیانی نے خود اپنی تصانیف میں تسلیم کیا ہے۔

حدیث اوّل

آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ”لا نبی بعدی (بخاری ومسلم)“ یعنی آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ خواہ بروزی ہو یا ظلی یا عکسی یا تشریعی یا غیر تشریعی یا بالواسطہ یا بلا واسطہ یا متبع یا غیر متبع کوئی کسی قسم کا نبی نہ ہوگا۔ اس حدیث کو مرزا قادیانی نے اپنی مختلف تصانیف میں تسلیم کیا ہے اور اس کو حدیث مشہور بھی مانتا ہے اور پھر اس میں نفی عام مستغرق تسلیم کرتا ہے۔ کسی قسم کے نبی کو اس میں سے مستثنیٰ نہیں کرتا۔ بلکہ ہر ایک قسم کی نبوت کو آنحضرت ﷺ پر ختم سمجھتا ہے اور وہ خود اس حدیث لا نبی بعدی کو آیت خاتم النبیین کی تفسیر کہتا ہے۔ ملاحظہ ہو۔ مرزا کے اقوال:

”لا نبی بعدی“ ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا۔“

تصریح ذکر ہے اور پرانے یا نئے نبی کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے۔ نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے اور حدیث ”لا نبی بعدی“ میں بھی نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرات اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور

٤٥

صفحہ ١٧٢

خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے۔"

سمی نبینا ﷺ خاتم الانبیاء بغیر استثناء وفسره نبینا فی قوله لانبی بعدی ببیان واضح للطالبین لو جوزنا ظهور نبی بعد نبینا ﷺ لجوزنا انفتاح باب وحی النبوة بعد تغلیقها هذا خلف کمالا یخفی علی المسلمین و کیف یجئی نبی بعد رسولنا صلعم وقد انقطع الوحی بعد وفاته و ختم الله به النبیین“

یعنی اے مخاطب تو نہیں جانتا کہ خدائے رحیم نے ہمارے نبی ﷺ کو سب انبیاء کا خاتم ٹھہرایا اور کسی کا بھی استثناء نہیں کیا اور آنحضرت ﷺ نے اس کی تفسیر لا نبی بعدی سے کردی۔ ایسے بیان سے جو طالبین کے لئے واضح ہو۔ اب اگر ہم آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کا ظاہر ہونا جائز رکھیں تو ہم نے وحی نبوت بند کرنے کے بعد پھر کیوں جائز کر دیا اور یہ بالکل باطل ہے۔ جیسے کہ مسلمانوں پر واضح ہے آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی کیسے آسکتا ہے۔ حالانکہ آپ کی وفات کے بعد وحی بند ہوچکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کو ختم کر دیا ہے۔

بعدی وسماه تعالى خاتم الانبياء فمن این یظهره نبی بعده“

جس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاتم الانبیاء فرمایا ہے۔ پس آپ کے بعد بھلا کیسے کوئی نبی آسکتا ہے۔

حدیث دوم

آنحضرت ﷺ سے حضرت ابو ہریرہؓ نے مرفوعاً روایت کی ہے: ”خـتـم بـــــی النبیون (صحیح مسلم) “ یعنی آنحضرت ﷺ نے تشریف لا کر انبیاء کو ختم کر دیا۔ یہ بعینہ مرزا قادیانی کے لفظ بھی ہیں۔ جس کو (حملۃ البشریٰ ص٢٠، خزائن ج٧ ص٢٠٠) سے نقل کر چکا ہوں۔ جس کے الفاظ یہ ہیں: ”وقد انقطع الوحی بعد وفاته وختم الله به النبیین “ یعنی آنحضرت ﷺ پر وحی بند ہوچکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر انبیاء کرام کو ختم کر دیا ہے۔

حدیث سوم

”مثلی ومثل الانبياء من قبلى كمثل رجل بنی دارا فاکملها ٢٦

واحسنها الا موضع لبنة فكان من د اللبنة فختم بی الانبیاء (شیخان ترمذ خلاصہ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ ہے جیسے کسی شخص نے ایک مکان تیار کیا اور اس رہ گئی۔ پس جو شخص اس محل میں داخل ہوتا تو اینٹ کی کمی ہے۔ سو خداوند تعالیٰ نے میرے س یعنی آنحضرت ﷺ نبوت کی آخـ ادا کیا ہے۔ (سرمہ چشم آریہ ص١٩٨، خزائن ج٢ ہے۔ وہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔“

حدیث چہارم

ابوامامہ باہلی سے مرفوعاً مروی ہے ماجہ ص ٣٧) ” ﷺ یعنی آنحضرت ﷺ امتوں سے آخری امت ہے۔ ٭ اس کو مرزا قا (تتمہ حقیقۃ الوحی ص٣٤، خزائن ج٢ میں بھیجا۔“

(حقیقۃ الوحی ص١٤١، خزائن ج٢٢ جو خاتم الانبیاء و خیرالرسل ہے۔“

حدیث پنجم

ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ آنحضر الاولون (ابوداؤد طیالسی ص٢٠٣) ”

مرزا نے لکھا ہے: (ملفوظات احمدیہ مسلمانوں کا بچہ بچہ بھی جانتا ہے کہ آپ نبی آخـ

”اگر چہ آپ سب نبیوں کے بعد (اتمام الحجہ ص٢٠، خزائن ج٨ ص٢٨ القلوب ص٣٥٨، ٣٣٥، اشتہار واجب الاظہار ملحق آخرالزمان لکھا ہے۔

صفحہ ١٧٣

واحسنها الا موضع لبنة فكان من دخلها فنظر اليها قال ما احسنها الا موضع اللبنة فختم بي الانبياء (شيخان ترمذی) “

خلاصہ مطلب یہ ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ میرے اور انبیاء سابقین کی مثال ایسے ہے جیسے کسی شخص نے ایک مکان تیار کیا اور اس کی تحسین و تکمیل کر چکا۔ لیکن ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی۔ پس جو شخص اس محل میں داخل ہوتا تو اس کو دیکھ کر کہتا کہ یہ کیسا عمدہ مکان ہے۔ مگر ایک اینٹ کی کمی ہے۔ سو خداوند تعالیٰ نے میرے ساتھ انبیاء کو ختم فرما دیا۔“

یعنی آنحضرتﷺ نبوت کی آخری اینٹ ہیں۔ اس کو مرزا نے اپنے الفاظ میں یوں ادا کیا ہے۔ (سرمہ چشم آریہ ص ١٩٨، خزائن ج ٢ ص ٢٣٩ حاشیہ) ”اور جو دیوار نبوت کی آخری اینٹ ہے۔ وہ حضرت محمد مصطفیٰﷺ ہیں۔“

حدیث چہارم

ابوامامہ باہلی سے مرفوعاً مروی ہے: ”انا آخر الانبياء وانتم آخر الامم ( ابن ماجہ ص ٢٧)“ یعنی آنحضرتﷺ سب نبیوں میں آخری نبی ہیں اور آپ کی امت تمام امتوں سے آخری امت ہے۔ اس کو مرزا قادیانی نے یوں لکھا ہے:

(تحفہ حقیقۃ الوحی ص ٤٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٧٧) ”ہمارے نبیﷺ کو سب نبیوں کے آخر میں بھیجا۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٤١، خزائن ج ٢٢ ص ١٤٥) ”اور سب کے آخر حضرت محمدﷺ کو پیدا کیا جو خاتم الانبیاء و خیر الرسل ہے۔“

حدیث پنجم

ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا: ”فنحن الآخرون الاولون (ابوداؤد طیالسی ص ٣٠٤)“ یعنی آنحضرتﷺ آخری نبی ہیں۔

مرزا نے لکھا ہے: (ملفوظات احمدیہ حصہ اول ص ٨٢، سلسلہ اشاعت لاہور) ”چنانچہ یہ امر مسلمانوں کا بچہ بچہ بھی جانتا ہے کہ آپ نبی آخر الزمان تھے۔“ (ص ١٦٠، سلسلہ اشاعت لاہور) ”اگرچہ آپ سب نبیوں کے بعد آئے۔“

(اتمام الحجۃ ص ٢٠، خزائن ج ٨ ص ٢٩٨، نور القرآن ص ٢٢ حصہ دوم، خزائن ج ٩ ص ٤١٠، تریاق القلوب ص ٢٥٨، ٣٣٥، اشتہار واجب الاظہار ملحقہ تریاق القلوب حاشیہ ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ٥٢٢) میں بھی آخر الزمان لکھا ہے۔

٤٧

صفحہ ١٧٤

اجماع وتواتر

کیونکہ مرزا قادیانی خود تسلیم کرتا ہے کہ اجماع بھی دلیل شرعی ہے اور حجت قائمہ ہے۔ اس لئے اجماع پیش کر دینا بھی مناسب رہے گا۔ مرزا نے اپنی کتاب (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٢٣٢، خزائن ج٢١ ص ٤١٠) میں لکھا ہے کہ: ”یہ مسلم امر ہے کہ ایک صحابی کی رائے شرعی حجت نہیں ہو سکتی۔ شرعی حجت صرف اجماع صحابہ ہے۔“ (انجام آتھم ص١٤٤، خزائن ج١١ص١٤٤) پر درج ہے کہ

:”ولااخالف قومی فی اصول الاجماعیۃ“ اور میں اصول اجماعی میں اپنی قوم کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔“

(آسمانی فیصلہ ص٤، خزائن ج٤ص٣١٣) میں مرقوم ہے: ”خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور ان سب عقائد پر ایمان رکھتا ہوں ۔ جو اہل سنت والجماعت مانتے ہیں۔“

حسب معمول سب سے پہلے میں اجماع بھی وہی پیش کرتا ہوں۔ جو مرزا قادیانی کا تصدیق شدہ ہو اور ایسا اجماع ہو کہ جس اجماع میں زمین و آسمان کی ہستیاں انبیاء کرام علیہم السلام تمام امتیں اور تمام بزرگان دین اور خدا کے سب فرشتے شامل ہوں۔

(حجۃ اللہ ص٨،٧،خزائن ج١٢ص١٤٨)ملاحظہ فرمائیے۔ رقمطراز ہیں: ”خدا کے فضل اور الہام سے روح جناب رسول مقبولﷺ سے روح کل شہداء سے روح کل ابدالوں سے روح کل اولیاء سے جو زمین پر ہیں اور ان روحوں سے جو چودہ طبقوں کی خبر رکھتی ہیں۔ میں نے ان سب سے الہام اور گواہی پائی ہے کہ حضرت مرزا قادیانی کو اللہ شانہ نے بھیجا ہے۔ اس وقت یہ جو خوفناک فتنے پیدا ہوئے ۔ان کی اصلاح ایک بھاری نبی کا کام تھا۔ مگر کیونکہ رسول مقبولﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آنا تھا۔ خدا تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو جو رسول مقبول کے دستار مبارک ہیں، بھیجا۔

...... یہ میرا اشتہار سچا ہے۔ یہ لوح محفوظ کی نقل ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ اس کی مخالفت سے خدا تعالیٰ تم پر سخت ناراض ہے۔ رسول مقبول تم سے حددرجہ بیزار ہے۔“

یہ اشتہار بقول مرزا غلام احمد علیہ ماعلیہ سیالکوٹ کے ایک مجذوب فقیر کا ہے اور اس کو مرزا قادیانی نے اپنی تصدیق کی حجت پیش کر کے شائع کیا ہے۔ اس لئے اور کوئی مانے یا مجذوب کی بدخیالی کرے۔ لیکن مرزا قادیانی اور اس کی امت ملحقہ کے ہاں تو ضرور مسلم ہوگا۔

تفسیر روح المعانی میں سید آلوسیؒ فرماتے ہیں (ص ٣٩ ج ٢٢) ”کونہ خاتم النبیین مما نطقت بہ الکتاب وصدعت بہ السنة اجمعت علیہ الامة“ مطلب یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کا خاتم النبیین ہونا (جس کو سید صاحب اسی صفحہ پر

٤٨

٥

بیان فرما چکے ہیں) نصوص قرآنیہ اور بیانات آنحضرتﷺ

والا جماع فیقتل المدعی بعدہ ان أصر النبیین ہونا کتاب اللہ اور سنت نبویہ اور اجماع امت کے بعد نبوت کا مدعی بنے اور اسی دعوے پر ضد کرے

بالاجماع“ یعنی آنحضرتﷺ کے بعد جو اسلام سے خارج ہوگا۔

اقوال مرزا غلام احمد قادیانی

مرزا غلام احمد قادیانی جب کہ خود نہا اور مرزا قادیانی کی بات کا کیا اعتبار ہو سکتا ہے مرزا قادیانی کے چند اقوال بطورِ ہوں ۔ ملاحظہ فرمائیے۔

ارضكم وطنا وماوى ومولدا وما الاصفياء وفخر الانبياء وخاتم الرسل ج ٥ ص ٤٢٠)“

اس کا ماحصل مطلب یہ ہے کہ اللہ تع آنحضرتﷺ پر ختم کر دیا۔

کے امور کو آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرتﷺ )

ہے کہ آپ نبی آخر الزمان تھے۔“

٩

صفحہ ١٧٥

بیان فرما چکے ہیں) نصوص قرآنیہ اور بیانات آنحضرت ﷺ و اجماع امت مسلمہ سے ثابت ہے۔

والاجماع فیقتل المدعی بعدہ ان اصر......" مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا کتاب اللہ اور سنت نبویہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ لہٰذا جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا مدعی بنے اور اسی دعوے پر ضد کرے تو اس کو قتل کر دیا جائے۔

بالاجماع“ یعنی آنحضرت ﷺ کے بعد جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے۔ وہ بالاجماع کافر، دائرہ اسلام سے خارج ہوگا۔

اقوال مرزا غلام احمد قادیانی

مرزا غلام احمد قادیانی جب کہ خود نہایت صراحت سے ختم نبوت کا قائل ہے۔ تو پھر کسی اور مرزائی قادیانی کی بات کا کیا اعتبار ہو سکتا ہے؟

مرزا قادیانی کے چند اقوال بطور مشتے نمونہ از خروارے ہیں۔ ذیل میں درج کرتا ہوں۔ ملاحظہ فرمائیے۔

ارضکم وطناً وماویٰ ومولداً وما ادریکم من ذالک النبی مصطفیٰ سید الاصفیاء وفخر الانبیاء وخاتم الرسل (آئینہ کمالات اسلام ص ٤٢٠، خزائن ج ٥ ص ٤٢٠)“

اس کا ماحصل مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے وحی کو شروع کیا اور آنحضرت ﷺ پر ختم کر دیا۔

کے امور کو آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت ﷺ پر ختم کیا...... اور نبوت ختم ہوگئی۔“

(ملفوظات احمدیہ حصہ اول ص ٣١، سلسلہ اشاعت لاہوری)

(سرمہ چشم آریہ ص ١٩٨ حاشیہ خزائن ج٢ ص ٢٣٦)

ہے کہ آپ نبی آخر الزمان تھے۔“

٤٩

صفحہ ١٧٦

(ملفوظات احمدیہ حصہ اوّل ص ٨٢، سلسلہ اشاعت لاہوری، نور القرآن ص ٢٢ حصہ دوم، خزائن ج ٩ ص ٤١٠)

النبوة"

(حمامة البشریٰ طبع اوّل ص ٨٣، خزائن ج ٧ ص ٣٠٢)

جس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے کوئی ایسا کلمہ نہیں کہا جس میں میرے دعویٰ نبوت کی بو تک بھی ہو۔

کافرین"

(حمامة البشریٰ طبع اوّل ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

یعنی میں نے ہرگز دعویٰ نبوت نہیں کیا اور مجھے جائز ہی نہیں کہ دعویٰ نبوت کر کے اسلام سے نکل کر کافروں کی جماعت میں داخل ہو جاؤں۔ بقول مرزا قادیانی دعویٰ نبوت کرنے والا کافر ہو جاتا ہے۔

یہ ماننا پڑے گا کہ وحی نبوت کا سلسلہ جاری ہو جائے گا اور یا یہ قبول کرنا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ نے مسیح ابن مریم کو لوازم نبوت سے الگ کر کے اور محض ایک امتی بنا کر بھیجے گا اور یہ دونوں صورتیں ممتنع ہیں۔"

(ازالہ اوہام ص ٥٣٢، خزائن ج ٣ ص ٣٩٣)

تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں۔ تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی ﷺ کے بعد ہرگز نہیں آ سکتا۔"

(ازالہ اوہام ص ٥٧٧، خزائن ج ٣ ص ٤١٢)

کے ساتھ زمین پر آمد و رفت شروع ہو جائے اور ایک نئی کتاب اللہ جو مضمون میں قرآن مجید سے توارد رکھتی ہو، پیدا ہو جائے اور جو امر مستلزم محال ہو وہ محال ہوتا ہے۔"

(ازالہ اوہام ص ٥٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤١٤)

النبیین" یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں۔ مگر رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔

(ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١)

یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔

٥٠

الانبیاء فمن این یظهر نبی بعده" اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضـ خدا تعالیٰ نے آپ ﷺ کا خطاب خاتم النبـ

آسکتا۔ اس شریعت میں نبی کے قائم مقام

زندگی کے کرشمے نہ دکھا دیں تو پھر اسلام کی

رسول الله وخاتم النبیین" اور ایـ یہ کیونکر جائز ہو سکتا ہے کہ باو دوسرا نبی آ جاوے اور وحی نبوت شروع ہو

یہ صریح ثبوت ہے کہ آنحضرت ﷺ پر آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ جیسا کہ النبیین"

دروازہ بند کر دیا۔"

ایمان رکھ سکتا ہے؟ اور کیا ایسا وہ شخص جو قر الله وخاتم النبیین" کو خدا کا کلام کے بعد رسول اور نبی ہوں؟ اور غیر حقیق لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم مسلمانوں کو دھوکہ لگ جانے کا احتمال ہے

صفحہ ١٧٧

الانبیاء فمن این یظہر نبی بعدہ"

(تحفہ بغداد ص ٢٨، خزائن ج ٧ ص ٣٣)

اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہ آئے گا اور خدا تعالیٰ نے آپ ﷺ کا خطاب خاتم النبیین رکھا۔ تو پھر آپ کے بعد کیسے کوئی نبی آ سکتا ہے؟

آ سکتا۔ اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے ۔“

(شہادۃ القرآن ص ٢٨، خزائن ج ٦ ص ٣٢٤)

زندگی کے کرشمے نہ دکھاویں تو پھر اسلام کی روحانیت کا خاتمہ ہے ۔“

(شہادۃ القرآن ص ٦٠، خزائن ج ٦ ص ٣٥٤)

رسول الله وخاتم النبیین“ اور ایسا ہی یہ حدیث بھی کہ: ”لانبی بعدی“ یہ کیونکر جائز ہو سکتا ہے کہ باوجودیکہ ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ پھر کسی وقت دوسرا نبی آ جاوے اور وحی نبوت شروع ہو جائے ۔“

(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٣)

میں صریح نبوت کو آنحضرت ﷺ پر ختم کر چکا ہے اور صریح لفظوں میں فرما چکا ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں ۔ جیسا کہ فرماتا ہے: ”ولکن رسول الله و خــــاتـــم النبیین“

(تحفہ گولڑویہ ص ٥١، خزائن ج ١٧ ص ١٧٤)

دروازہ بند کر دیا۔“

(ایام الصلح ص ١٥٢، خزائن ج ١٤ ص ٤٠٠)

ایمان رکھ سکتا ہے؟ اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے۔ وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں؟ اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں۔ مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکہ لگ جانے کا احتمال ہے..... اور اصل حقیقت جس کی میں علیٰ رؤس الاشہاد گواہی

٥١

صفحہ ١٧٨

دیتا ہوں۔ یہی ہے کہ ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا نہ کوئی پرانا اور نہ کوئی نیا۔

(انجام آتھم حاشیہ ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٢٧)

مندرجہ بالا حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی خود ختم نبوت کا قائل ہے اور اس کے نزدیک آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کا آنا محال ہے اور اب آئندہ وحی نبوت یا وحی رسالت یا نزول جبرائیل بالکل ممتنع اور محال ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی تو کہتا ہے کہ کوئی پرانا نبی بھی دوبارہ نہیں آ سکتا۔ وہ تو ختم نبوت کے مسئلہ میں عام مسلمانوں کے نظریہ سے بھی زیادہ سخت معلوم ہوتا ہے اور اسی پر اکتفاء نہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی کے ایسے اقوال بھی ہیں۔ جو بالکل ضرورت نبوت کو ہی اٹھا دیتے ہیں۔ یعنی بقول مرزا قادیانی اب نبوت کی ضرورت ہی نہیں۔

یہ تو ایک عقلی اور نقلی پہلو ختم نبوت کا ہوگا۔ یعنی جب نبوت کی ضرورت ہی نہیں ہے تو پھر کسی دوسرے وقت میں یہ نظریہ تبدیل نہیں ہو سکتا۔ اب ذیل میں چند ایسے اقوال مرزا قادیانی کے بھی ملاحظہ کیجئے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اب نبوت کی ضرورت ہی نہیں۔

نبوت کی ضرورت نہیں

ہے ۔‘‘

رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ ضرورتیں نبوت کا انجن ہیں۔ ظلماتی راتیں اس نور کو کھینچتی ہیں۔ جو دنیا کو تاریکی سے نجات دے اور اس ضرورت کے موافق نبوت کا سلسلہ شروع ہوا۔ جب قرآن کریم کے زمانہ تک پہنچا تو مکمل ہو گیا۔ اب گویا سب ضرورتیں پوری ہو گئی ہیں۔ اس سے لازم آیا کہ آپ یعنی آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء تھے۔‘‘

اور بداعمالیوں میں یہ زمانہ بھی تو کم نہیں۔ پھر اس میں کوئی نبی کیوں نہیں آیا؟ تو جواب یہ ہے کہ وہ زمانہ توحید اور راست روی سے بالکل خالی ہو گیا تھا اور اس زمانہ میں چالیس کروڑ لا الہ الا اللہ کہنے والے موجود ہیں اور اس زمانہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے مجدد بھیجنے سے محروم نہیں رکھا۔“

الله القرآن مناسبا لجميع الازمنة الاتية واهلها علاجا ومداواة لما ارسل ذالك النبى العظيم الكريم لاصلاحهم ومداواتهم للدوام الى يوم القيامة فلا

٥٢

حاجة لنا الى نبى بعد محمد ﷺ مطلب یہ ہے کہ رسول ا زمانوں کے لئے اصلاح و علاج کے ذر کا مطلب ہی کیا؟ بہرحال آنحضر آپ ﷺ کے برکات تمام زمانوں کو اح

عبارات مندرجہ بالا ثابت ہی کافی ہو جایا کریں گے۔ گویا مجدد ا حاجت نہیں۔

کے لئے اور ایسی ہتک اور کسر شان ا کہ ایک رسول کو بھیج کر جس کے آ الٹ دیوے۔ حالانکہ وہ وعدہ کر گا۔“

گا اور آپ کی ہتک ہوگی۔ انتہیٰ ملخصا

ان دونوں عبارتوں سے کا آنا نبی کریم ﷺ کی ہتک اور کسر لئے باقی رہے گا۔ یہ تو نہیں کہا جا سکت توہین ہوگا اور اس کے بعد آنحضرت کھل جانے سے آنحضرت ﷺ کی حاصل ہونا آپ کی ہتک کا موجب آپ میں اور دوسرے انبیاء میں فرق اوقات قادیانی کہتے ہیں کہ: ”مرزا کر دیا تھا۔ اس لئے اس سے پہلے ک مرزا کی تحریروں سے ا بعد بھی مرزا قادیانی کے ختم نبوت ب

صفحہ ١٧٩

حاجة لنا الى نبى بعد محمد ﷺ وقد احاطت بركاته كل ازمنة"

مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور قرآن مجید اگر آنے والی تمام نسلوں اور تمام زمانوں کے لئے اصلاح وعلاج کے ذمہ دار نہیں۔ تو پھر آنحضرت ﷺ جیسی اولوالعزم ہستی کو بھیجنے کا مطلب ہی کیا؟ بہر حال آنحضرت ﷺ کے بعد ہمیں کسی بھی نبی کی حاجت نہیں۔ کیونکہ آپ ﷺ کے برکات تمام زمانوں کو احاطہ کئے ہوئے ہیں۔

عبارات مندرجہ بالا ثابت کرتی ہیں کہ نبوت کی اب ضرورت ہی نہیں رہی۔ بلکہ مجدد ہی کافی ہو جایا کریں گے۔ گویا مجدد اور ہے اور نبی اور ہے۔ ایک کی ضرورت ہے۔ دوسرے کی حاجت نہیں۔

کے لئے اور ایسی ہتک اور کسر شان اپنے نبی مقبول خاتم الانبیاء ﷺ کے لئے ہرگز روا نہیں رکھے گا کہ ایک رسول کو بھیج کر جس کے آنے کے ساتھ جبرائیل کا آنا ضروری امر ہے۔ اسلام کا تختہ ہی الٹ دیوے۔ حالانکہ وہ وعدہ کر چکا ہے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی رسول نہیں بھیجا جائے گا۔“

گا اور آپ کی ہتک ہوگی۔ انتہیٰ ملخصاً ۔“

ان دونوں عبارتوں سے ثابت ہوا کہ بزعم مرزا قادیانی آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کا آنا نبی کریم ﷺ کی ہتک اور کسر شان کا موجب ہے۔ مرزا قادیانی کا یہ نظریہ یقیناً ہمیشہ کے لئے باقی رہے گا۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ فلاں سنہ تک تو آنحضرت ﷺ کے بعد نبی کا آنا موجب توہین ہوگا اور اس کے بعد آنحضرت ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت شروع ہو جانے اور نبیوں کا پھاٹک کھل جانے سے آنحضرت ﷺ کی توہین نہیں، بلکہ عزت ہوگی اور یہ کہ آپ کی اتباع سے نبوت نہ حاصل ہونا آپ کی ہتک کا موجب بن جائے گا، اگر آپ ﷺ کی تابعداری نبوت نہ دلوائے گی تو آپ میں اور دوسرے انبیاء میں فرق ہی کیا رہ جائے گا؟ (جیسے اب قادیانی کہا کرتے ہیں) بعض اوقات قادیانی کہتے ہیں کہ: ”مرزا قادیانی نے ١٩٠٠ء یا ١٩٠١ء کے بعد ختم نبوت کے عقیدہ کو ترک کر دیا تھا۔ اس لئے اس سے پہلے کی عبارتیں قابل حجت نہ ہوں گی۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٢١)

مرزا کی تحریروں سے اس بات کے ثبوت پیش کر دینا بھی مناسب رہے گا کہ ١٩٠١ء کے بعد بھی مرزا قادیانی کے ختم نبوت کے اقوال موجود ہیں۔

٥٣

صفحہ ١٨٠

١٩٠١ء کے بعد مرزا ختم نبوت کا قائل

ہمارے نبی ﷺ کو سب نبیوں کے آخر میں بھیجا۔“

کیا جو خاتم الانبیاء اور خیر الرسل ہیں۔“ یہ دونوں کتابیں مرزا قادیانی کی آخری کتابیں ہیں اور اس وقت تالیف کی گئی تھیں۔ جب تک مرزا قادیانی اس جہاں سے جانے کو تیار تھے۔ گویا یہ ١٩٠٨ء کی تالیفات ہیں۔ کیا اب بھی یہ کہا جاسکتا ہے کہ ١٩٠١ء کے بعد مرزا قادیانی کا عقیدہ بدل گیا تھا؟

مبارکہ اشارت فرما رہے ہیں کہ نبی محدث بالقوہ ہوتا ہے اور اگر باب نبوت مسدود نہ ہوتا تو ہر ایک محدث اپنے وجود میں قوت اور استعداد نبی ہو جانے کی رکھتا تھا۔“

یہ اقتباس ١٩٠٢ء میں شائع ہونے والے ایک ماہنامے میں سے مرزا قادیانی کے اپنے مضمون سے لیا گیا ہے۔ جس سے صاف واضح ہے کہ ١٩٠٢ء میں مرزا کے خیال میں نبی کا آنا بند اور نبوت کا دروازہ بند ہے۔ البتہ محدث آسکتا ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ محدث اور نبی دونوں علیحدہ علیحدہ شخصیتیں ہیں۔

(اخبار بدر مجریہ ٩ اگست ١٩٠٦ء نمبر ٣٢ سلسلہ قدیم ج ٣، سلسلہ جدید ٢، ١٨ جمادی الآخر ١٣٢٤ھ)

(اخبار بدر مجریہ اگست ١٩٠٦ء نمبر ٣٥ سلسلہ قدیم ج ٥، سلسلہ جدید ٢، ١٠ رجب ١٣٢٤ھ)

اور اسی طرح اور بہت سے بدر کے پرچوں میں ١٩٠٦ء میں ”حضرت مسیح موعود اور آپ کی جماعت کا مذہب“ کے زیر عنوان لکھے جانے والے مضامین میں یہ شعر موجود ہے:

ہست او خیر الرسل خیر الانام
ہر نبوت را بدو شد اختتام

١٩٠٦ء میں یہ اعلان کرنا کہ مرزا قادیانی اور اس کی امت کا مذہب اور عقیدہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ پر ہر ایک قسم کی نبوت ختم ہوچکی ہے۔ خواہ نبی ظلی ہو یا بروزی، اصلی ہو یا نقلی، جعلی ہو یا حقیقی، اتباعی ہو یا غیر اتباعی بالواسطہ یا بلا واسطہ سب کے سب آنحضرت ﷺ کے آنے کے بعد بند ہو چکے ہیں۔ یہ عقیدہ قادیانی گروہ کے تمام کے تمام خرافات کا تار و پود بکھیرنے کے لئے کافی ہے۔

٥٤

صفحہ ١٨١

اب ذیل میں چند ایسے حوالہ جات سے مستفید ہونے کی کوشش کیجئے۔ جن میں مرزا قادیانی آنحضرت ﷺ کے بعد کسی قسم کے نبی کا آنا جائز نہیں سمجھتا۔ پھر تشریعی اور غیر تشریعی ظلی وبروزی، اصلی و نقلی، مجازی، بالواسطہ یا بلاواسطہ کثرت اتباع نبویہ سے مرتبہ نبوت حاصل کرنا سبھی قسم کی نبوتیں مسدود ہیں۔ کوئی نبوت بھی باقی نہیں ہے۔

الدین کے ساتھ تھا۔ دیکھو (سیرت المہدی حصہ دوم ص ١٥٤، روایت نمبر ٤٦٧) تو اس وقت مرزا قادیانی سے دریافت کیا گیا کہ تیرا عقیدہ اپنے مرتبہ اور شان کے متعلق وہی ہے جو تریاق القلوب میں ہے تو اس وقت مرزا نے اقرار کیا کہ میرا وہی عقیدہ ہے۔ تو گویا ١٩٠٤ء میں ابھی تک ختم نبوت کا قائل ہے یا اپنے منکر کو کافر نہیں سمجھتا۔"

(حقیقت الوحی ص ٢٦٦ خزائن ج ٢٢ ص ٢٧٨)

سب نبوتیں بند ہیں

بسا اوقات قادیانیوں کو جب مرزا قادیانی کی عبارتوں سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ تو اس وقت یہ بہانہ ڈھونڈا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے نبوت تشریعی کو اور مستقل نبوت کو جو بزعم مرزا اللہ تعالیٰ سے براہ راست حاصل ہوتی ہے۔ مسدود اور ختم شدہ کہا ہے۔ لیکن غیر تشریعی نبوت اور آنحضرت ﷺ کی کثرت اتباع سے حاصل ہونے والی نبوت مسدود نہیں۔ بلکہ جاری اور باقی ہے۔ میں اس حیلہ کو بھی بند کر دینا چاہتا ہوں۔ ملاحظہ ہوں اقوال مرزا۔

ختم شد برنفس پاکش ہر کمال
لا جرم شد ختم ہر پیغمبری
ہست او خیر الرسل خیر الانام
ہر نبوت را برو شد اختتام

یہی شعر اخبار بدر ١٩٠٦ء کے مختلف نمبروں میں درج کیا گیا ہے۔ جس کو پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ قادیانی مذہب کا یہ پختہ نظریہ ہے۔

یا نئے کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے اور حدیث ”لانبی بعدی “ میں بھی نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرأت اور دلیری و گستاخی ہے کہ خیالات

٥٥

صفحہ ١٨٢

رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے۔"

اس جگہ مرزا قادیانی کا صریح اور صاف اقرار ہے کہ لا نبی بعدی میں لائے استغراق کے لئے ہے۔ یعنی ہر ایک قسم کا نبی آنا بند ہے۔ اب کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا۔ کسی نبی کے آنے کو استثناء کرنا شرارت ہے۔ جس کا ارتکاب امت مرزائیہ کر رہی ہے۔

سمى نبينا ﷺ خاتم الانبياء بغير استثناء وفسره نبينا في قوله لا نبي بعدى ببيان واضح للطالبين“

اس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو تمام انبیاء کا ختم کرنے والا بنایا ہے اور آنحضرت ﷺ نے بھی خاتم النبیین کی یہی تفسیر فرمائی ہے اور کسی قسم کے نبی کی استثناء نہیں فرمائی۔ یعنی آپ کے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا۔

حقیقت النبوۃ مولفہ محمود قادیانی و ایک غلطی کا ازالہ

غلام احمد قادیانی کا بیٹا محمود قادیانی کیونکہ اپنے ابا کی نبوت کو منوانا چاہتا ہے۔ اس لئے اس نے اپنی کتاب حقیقت النبوۃ میں اس بات پر بہت زور مارا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم نہیں ہوئی اور یہ لکھا ہے کہ میرے ابا کا بھی پہلے عقیدہ ختم نبوت کا ہی تھا۔ لیکن بعد میں ١٩٠١ء یا ١٩٠١ء میں انہوں نے اس عقیدے میں تبدیلی کر دی اور تبدیلی عقیدہ کی ساری بنیاد محمود قادیانی نے اپنے ابا کی ایک چھوٹی سے کتاب ”ایک غلطی کا ازالہ“ پر رکھی ہے اور دعویٰ کیا کہ ان کے ابا نے ”ایک غلطی کا ازالہ“ میں اپنے سابقہ عقیدہ کو بدل دیا ہے۔

ملاحظہ فرمائیے (حقیقت النبوۃ ص ١٢١) ”معلوم ہوا کہ نبوت کا مسئلہ آپ (مرزا) پر ١٩٠٠ء یا ١٩٠١ء میں کھلا ہے اور چونکہ ایک غلطی کا ازالہ ١٩٠١ء میں شائع ہوا ہے۔ جس میں آپ نے اپنی نبوت کا اعلان بڑے زور سے کیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ١٩٠١ء میں آپ نے اپنے عقیدے میں تبدیلی کی ہے....... یہ ثابت ہے کہ ١٩٠١ء سے پہلے کے وہ حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے۔ منسوخ ہیں اور اس سے حجت پکڑنی غلط ہے۔“

اس تبدیلی عقیدہ پر اعتراض وارد ہوتا تھا کہ یہ تعجب کی بات ہے کہ مرزا کو خدا تعالیٰ نبی کہہ کر پکارتا رہا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی اس سے انکار کر رہا ہے اور یہ معاملہ سالہا سال تک چلتا رہا اور مرزا کو اپنی نبوت کا پتہ کئی سال بعد چلا تو محمود قادیانی نے اس کا جواب ان الفاظ میں دیا۔

٥٦

صفحہ ١٨٣

(حقیقت النبوۃ ص ١٢١، ١٢٢) ”اب ایک اعتراض رہ جاتا ہے۔ وہ یہ کہ جب یہ ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود شروع دعویٰ سے اپنے اندر نبیوں کی سب شرائط کے پائے جانے کے مدعی تھے تو پھر آپ کیوں اپنے نبی ہونے سے انکار کرتے تھے؟ اور اگر پہلے آپ انکار کرتے تھے تو بعد میں اس دعویٰ کی بناء پر پھر دعویٰ نبوت کیوں کیا؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سب اختلاف ایک نہایت چھوٹی سی بات سے پیدا ہوا ہے اور بہت سی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں کہ ان کے نتائج بہت برے نکلتے ہیں۔ اس تمام اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود دو مختلف اوقات میں نبی کی دو مختلف تعریفیں کرتے رہے ہیں۔ ١٩٠١ء سے پہلے آپ نبی کی اور تعریف کرتے تھے اور بعد میں آپ نے جب اللہ تعالیٰ کی متواتر وحی پر غور فرمایا اور قرآن مجید کو دیکھا تو اس سے نبی کی تعریف اور معلوم ہوئی۔

چونکہ جو تعریف نبی کی آپ پہلے خیال کرتے تھے۔ اس کے مطابق آپ نبی نہ بنتے تھے۔ اس لئے باوجود اس کے کہ سب شرائط نبوت آپ میں پائی جاتی تھیں۔ آپ اپنے آپ کو نبی کہنے سے پرہیز کرتے تھے اور اپنے الہامات میں جب نبی کا نام دیکھتے اس کی تاویل کر لیتے اور حقیقت سے ان کو پھیر دیتے۔ کیونکہ آپ جب اپنے نفس پر غور فرماتے تو اپنے اندر وہ باتیں نہ دیکھتے تھے۔ جن کا انبیاء علیہم السلام میں پایا جانا آپ ضروری خیال فرماتے تھے۔ لیکن بعد میں جب آپ کو الہامات میں بار بار نبی اور رسول کہا گیا اور آپ نے اپنی ساری پچھلی تیس سالہ وحی کو دیکھا۔ تو اس میں برابر ان ناموں سے آپ کو یاد کیا گیا تھا۔ پس آپ کو اپنا عقیدہ بدلنا پڑا اور قرآن کریم سے آپ نے معلوم کیا کہ نبی کی تعریف وہ نہیں جو آپ سمجھتے تھے۔ بلکہ اس کے علاوہ اور تعریف ہے اور چونکہ وہ تعریف جو قرآن مجید نبی کی کرتا ہے۔ اس کے مطابق آپ نبی ثابت ہوتے تھے۔ اس لئے آپ نے اپنی نبوت کا اعلان کیا۔“

محمود قادیانی کی کتاب حقیقت النبوۃ کا خلاصہ یہی ہے کہ (١) مرزا غلام احمد قادیانی نبی ہے (٢) اور نبوت بند نہیں، بلکہ جاری ہے۔ (٣) اور مرزا قادیانی پہلے واقعی ختم نبوت کا قائل تھا اور اپنی نبوت کا دعوے دار نہ تھا۔ (٤) اور بعد میں ختم نبوت کا قائل نہ رہا اور خود مدعی نبوت بن بیٹھا (٥) اور یہ کہ مرزا قادیانی کے تبدیلی عقیدہ کی بنیاد ”ایک غلطی کا ازالہ“ پر ہے۔ (٦) اور مرزا قادیانی کو پہلے نبی کی صحیح تعریف سالہا سال تک معلوم نہ ہوئی اور بعد میں پھر پتہ چلا کہ دراصل نبی فلاں شخص ہوتا ہے اور اس لحاظ سے میں نبی ہوں (٧) اور ١٩٠١ء سے پہلے کے مرزا قادیانی کے حوالہ جات منسوخ ہیں، قابل اعتبار نہیں۔

٥٧

صفحہ ١٨٤

میں اسی مبحث میں محمود قادیانی کی تین باتوں پر بحث کرنا چاہتا ہوں۔

عقیدہ پر دلالت کرتی ہے؟

واقفیت نہ ہو اور وہ عام لوگوں کی اتباع میں ختم نبوت کا قائل ہوتا رہا ہو اور اس نے اتنی مدت مدیدہ تک قرآن مجید کی روشنی میں کچھ نہ کہا ہو؟

کیا مرزا کے ختم نبوت کے اقوال در حقیقت منسوخ ہیں یا ہو سکتے ہیں۔

پہلی بات

محمود قادیانی کا خیال ہے کہ ”ایک غلطی کا ازالہ“ میں مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے پہلے عقیدہ سے دستبرداری کر دی اور اعلانیہ طریق سے واضح الفاظ میں اپنی نبوت کا اعلان کر دیا۔ گویا مرزا قادیانی نے اپنی سابقہ غلطی کا ازالہ کرنا چاہا۔ لیکن ایک غلطی کا ازالہ کی عبارت اس سے انکار کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا اپنی کسی سابقہ غلطی کا تدارک نہیں کرنا چاہتا۔ بلکہ اپنی امت کی غلطی کا ازالہ کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی مرزا قادیانی نے کسی عبارت میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ میں اب پرانے خیال سے دستبردار ہوتا ہوں۔ بلکہ وہ تو صاف صاف کہہ رہا ہے کہ میرا اس وقت بھی وہی عقیدہ ہے۔ جو پہلے تھا اور میری نبوت اس وقت بھی اسی قسم کی ہے۔ جس کا پہلے میں دعویٰ کرتا رہا ہوں۔ اور میں نے اس معنی سے کبھی بھی اپنی نبوت سے انکار نہیں کیا۔ یعنی مرزا قادیانی نبی کا معنی وہی سمجھتا ہے جو پہلے سمجھتا تھا اور اپنی نبوت کے متعلق بھی اس کا وہی عقیدہ ہے جو پہلے تھا۔ ملاحظہ ہو عبارت مرزا قادیانی:

(ایک غلطی کا ازالہ ملحقہ حقیقت الوحی ص ٢١١) ”ہماری جماعت میں سے بعض صاحب جو ہمارے دعوے اور دلائل سے کم واقفیت رکھتے ہیں۔ جن کو نہ بغور کتابیں دیکھنے کا اتفاق ہوا اور نہ وہ ایک معقول مدت تک صحبت میں رہ کر اپنی معلومات کی تکمیل کر سکے۔ وہ بعض حالات میں مخالفین

یہ محمد علی لاہوری اور محمود قادیانی دونوں بڑے دیندار جو کہ غور سے کتابیں دیکھنے والے ہیں اور مدت معقول انہوں نے صحبت کی ہے۔ مگر پھر باہم تیرے دعویٰ میں مختلف ہیں۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ تمہارا اپنا ابھی تک کہیں خیال ایک نقطہ پر قائم نہیں ہوا۔ ١٢منہ

٥٨

کے کسی اعتراض پر ایسا جواب دیتے ہیں حق ہونے کے ان کو ندامت اٹھانی ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اسی جواب صحیح نہیں ہے۔“

کتاب مذکور (ص ٢٦٤)

نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اس انعکاس ہو گیا تو وہ بغیر مہر توڑنے کے شخص کے دعویٰ نبوت کے جس کا نام رہا۔ کیونکہ یہ محمد ثانی اسی محمدﷺ کی رو سے مجھے نبوت اور رسالت سے ان

(ص٢٦٤) ”جس جس ج معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خ کسی جدید شریعت کے اس طور کا نب

(ص ٢٦٩) ”مطلب یہ نبی یا رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے کرتے ہیں۔ نہ نبی ہوں، نہ رسول

١؎ جیسے (حمامة البشریٰ ضمن میں جواب دیا تھا۔

٢؎ معلوم ہوا کہ ابھی تک میں بھی ہے۔

٣؎ براہین احمدیہ حصہ تشریعی بھی جاری نہیں اور مرزا اس نبوت تشریعی کا دعویٰ ہے نہ غیر تشریح

صفحہ ١٨٥

کے کسی اعتراض پر ایسا جواب دیتے ہیں کہ جو سراسر واقع کے خلاف ہوتا ہے۔ اس لئے باوجود اہل حق ہونے کے ان کو ندامت اٹھانی پڑتی ہے۔ چنانچہ چند روز ہوئے ہیں کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے۔ وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا ہے۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔“

کتاب مذکور (ص٢٦٣) ”اگر کوئی شخص اس خاتم النبیین میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اس کا نام پالیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا۔ کیونکہ وہ محمد ہے گو ظلی طور پر۔ پس باوجود اس شخص کے دعویٰ نبوت کے جس کا نام ظلی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا۔ پھر بھی سیدنا محمد خاتم النبیین ہی رہا۔ کیونکہ یہ محمد ثانی اسی محمدﷺ کی تصویر اور اسی کا نام ہے۔ سو یاد رکھنا چاہئے کہ ان معنوں کی رو سے مجھے نبوت اور رسالت سے انکار نہیں ہے۔“

(ص٢٦٤) ”جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے۔ صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔ رسول اور نبی ہوں۔ مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔

(ص٢٦٩) ”مطلب میرا یہ ہے کہ جاہل مخالف میری نسبت الزام لگاتے ہیں کہ یہ شخص نبی یا رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ مجھے ایسا کوئی دعویٰ نہیں۔ میں اس طور سے جو وہ خیال کرتے ہیں۔ نہ نبی ہوں، نہ رسول ہوں۔ ہاں میں اس طور سے نبی اور رسول ہوں۔ جس طور

١؎ جیسے (حمامۃ البشریٰ ص٨٣، خزائن ج٧ ص٣٠٢) میں خود مرزا قادیانی نے انکار محض میں جواب دیا تھا۔

٢؎ معلوم ہوا کہ ابھی تک خاتم النبیین کا معنی نبیوں کو ختم کرنے والا ہی مرزا کے خیال میں بھی ہے۔

٣؎ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٢ میں مرزا مانتا ہے کہ میری قوم کے خیال میں نبوت غیر تشریعی بھی جاری نہیں اور مرزا اس جگہ یہ کہتا ہے کہ وہ نبوت مراد نہیں جو لوگ سمجھتے ہیں۔ یعنی نہ نبوت تشریعی کا دعویٰ ہے نہ غیر تشریعی کا۔

٥٩

صفحہ ١٨٦

سے ابھی میں نے بیان کیا ہے۔ پس جو شخص میرے پر شرارت سے یہ الزام لگاتا ہے۔ جو دعویٰ نبوت اور رسالت کا کرتے ہیں۔ وہ جھوٹا اور ناپاک خیال ہے۔ مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے۔“

(ص٤٢١) کی عبارت بالکل واضح ہے کہ مرزا قادیانی خود اپنی کسی غلطی کا ازالہ کرنے کا ارادہ نہیں کرتا۔ بلکہ اپنے مریدوں کی غلطی کا ازالہ کرنا چاہتا ہے۔ (یہ دوسری بات ہے کہ خود بھی بات صاف نہیں کرتا۔ نہ اس جگہ اقرار نبوت کرتا ہے نہ انکار نبوت کرتا ہے۔ جیسے کہ صفحہ ٤٢١ اور ص ٢٦٩ کی عبارتیں نفی واثبات پر دلالت کرتی ہیں)

اور وہ کہتا ہے کہ لوگ ابھی تک میری مراد کو نہیں سمجھے اور خواہ مخواہ انکار کر دیتے ہیں کہ مرزا نے دعویٰ نبوت نہیں کیا۔ یہ ان کی اپنی جہالت اور ناواقفیت کی دلیل ہے اور خود وہ غلطی کر رہے ہیں۔ (ص٤٦٢،٤٦٣) کی عبارتیں بتلاتی ہیں کہ مرزا خود کو ظلی یا بروزی نبی سمجھتا ہے اور خود کو آنحضرت ﷺ کا بالکل عکس یا عین سمجھتا ہے۔ نعوذ باللہ تعالیٰ۔ گویا مرزا نبی ہے اور آنحضرت ﷺ کا متبع یعنی ظلی نبی یا بروزی نبی یا بالفاظ دیگر امتی نبی اور (ص ٢٦٩) سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بروزی، ظلی اور امتی نبی بننا چاہتا ہے۔ نیز یہ کہ مرزا نے اپنے سابقہ عقیدہ میں کوئی کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی۔ جس نبوت کا وہ پہلے دعویٰ کرتا تھا (ظلی، بروزی، امتی نبی) اس کا اب بھی مدعی ہے اور معنی کا اس نے اپنی کسی کتاب میں کسی تحریر میں کہیں کسی زمانہ سابقہ میں انکار نہیں کیا۔

پھر بیٹے محمود کا تبدیلی عقیدہ کا دعویٰ کرنا بالکل غلط ہوا اور تمام کی تمام عمارت محمود قادیانی کی بنی بنائی گر گئی۔ اب میں یہ بھی ثابت کر دوں کہ مرزا قادیانی آج سے پہلے بروزی نبی یا ظلی نبی یا امتی نبی کا معنی کیا کرتا رہا ہے۔ کیا اس کا معنی اصلی واقعی حقیقی ، سچا نبی کرتا رہا ہے کہ جس کا منکر کافر ہو جاتا ہے۔ جس معنی سے محمود اس کو نبی مانتا ہے یا صرف اس کا معنی محدث اور مجدد کرتا رہا ہے۔ جو ختم نبوت کے بالکل منافی نہیں اور نہ ہی مرزا نے اس کو ختم نبوت کے منافی سمجھا۔

ملاحظہ ہوں عبارات مرزا قادیانی

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٧، خزائن ج ٥ ص ٣٢٧) ”جب کسی کی حالت اس نوبت تک پہنچ جائے تو اس کا معاملہ اس عالم سے وراء الوراء ہو جاتا ہے اور ان تمام مراتبوں اور مقامات عالیہ کو ظلی طور پر پالیتا ہے۔ جو اس سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو ملے تھے اور انبیاء اور رسل کا وارث اور نائب ہو جاتا ہے۔ وہ حقیقت جو انبیاء میں معجزہ کے نام سے موسوم ہوتی ہے۔ وہ اس میں کرامت کے نام سے ظاہر ہو جاتی ہے اور وہ حقیقت جو انبیاء میں عصمت کے نام سے نامزد کی جاتی ہے۔

٦٠

اس میں محفوظیت کے نام سے پکاری جاتی ہے جاتی ہے۔ اس میں محدثیت کے پیرایہ میں ظہ شدت اور ضعف رنگ کے مختلف نام رکھے جا

(ازالہ اوہام طبع اول ص ٥٣٣،٥٣٢،

مسیح کو نبی کر کے بھی بیان کیا گیا ہے۔ اگر اس طور پر نبوت تامہ کی صفت سے متصف نہیں دوسرے لفظوں میں محدثیت کہلاتی ہے۔۔۔ ضروری ہے۔“

ان دونوں اقوال سے ثابت ہوا کہ ہے اور وہی ظلی نبی اور مجازی نبی اور بروزی ن اور اس نبوت سے موسوم نہیں ہوتا۔ جو نبوت کا نبوت کا مصداق ہے۔ ازالہ اوہام ١٨٩١ء کی ت ہے۔ چنانچہ انہی ایام کی تالیف اس سے زیا کارروائی مناظرہ عبداللہ آتھم پر مشتمل ہے۔ میرا دعویٰ نبوت کا نہیں۔ علی ہذا القیاس حمامۃ ا سے کوئی ایسی عبارت ، کوئی ایسا کلمہ بھی نہیں۔

عبارت جنگ مقدس بالفاظ مرزا: (ص ٦٧، خزائن ج ٦ ص ١٥٦) ”می پیروی کرتا ہوں اور قرآن شریف کی تعلیم کی را کوئی دعویٰ نہیں۔ یہ آپ کی غلطی ہے یا آپ الہام کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ نبی بھی ہو جائے۔ ان نشانوں کا نام کرامات ہے۔“

(حمامة البشریٰ ص ٨٣، خزائن ج ٧ ص

رائحة ادعاء النبوة۔ ”ترجمہ کا ماحصل جس میں دعویٰ نبوت کی بو تک بھی پائی جائے

(حمامة البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص

صفحہ ١٨٧

اس میں محفوظیت کے نام سے پکاری جاتی ہے اور وہی حقیقت جو انبیاء میں نبوت کے نام سے بولی جاتی ہے۔ اس میں محدثیت کے پیرایہ میں ظہور پکڑتی ہے۔ حقیقت ایک ہی ہے۔ لیکن باعث شدت اور ضعف رنگ کے مختلف نام رکھے جاتے ہیں۔“

(ازالۃ اوہام طبع اول ص ٥٣٢، ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٤٨٦) ”ہاں یہ بھی سچ ہے کہ آنے والا مسیح کو نبی کر کے بھی بیان کیا گیا ہے۔ اگر اس کو امتی کر کے بھی بیان کیا گیا...... وہ واقعی اور حقیقی طور پر نبوت تامہ کی صفت سے متصف نہیں ہوگا۔ ہاں نبوت ناقصہ اس میں پائی جائے گی۔ جو دوسرے لفظوں میں محدثیت کہلاتی ہے...... جیسا کہ محدث میں ان دونوں شانوں کا پایا جانا ضروری ہے۔“

ان دونوں اقوال سے ثابت ہوا کہ مرزا کے زعم میں محدث ہی ہے جو امتی اور نبی کہلاتا ہے اور وہی ظلی نبی اور مجازی نبی اور بروزی نبی کے نام سے مرزا کی اصطلاح میں موسوم ہوتا ہے اور اس نبوت سے موسوم نہیں ہوتا۔ جو نبوت کا صحیح معنی ہے۔ جو صحیح اور اصلی اور سچا اور حقیقی اور واقعی نبوت کا مصداق ہے۔ ازالۃ اوہام ١٨٩١ء کی تالیف ہے اور آئینہ کمالات اسلام ١٨٩٣ء کی تالیف ہے۔ چنانچہ انہی ایام کی تالیف اس سے زیادہ واضح الفاظ میں جنگ مقدس ہے جو ١٨٩٣ء کی کارروائی مناظرہ عبداللہ آتھم پر مشتمل ہے۔ جنگ مقدس میں مرزا قادیانی نے صاف لکھا ہے کہ میرا دعویٰ نبوت کا نہیں۔ علیٰ ہذا القیاس حمامة البشریٰ میں بھی یہی مرقوم ہے کہ میری عبارات میں سے کوئی ایسی عبارت، کوئی ایسا کلمہ بھی نہیں۔ جس میں نبوت کے دعویٰ کی بو تک بھی ہو۔ ملاحظہ ہو عبارت جنگ مقدس بالفاظ مرزا:

(ص ٧٦، خزائن ج ٦ ص ١٥٦) ”میں ایک مسلمان آدمی ہوں۔ جو قرآن شریف کی پیروی کرتا ہوں اور قرآن شریف کی تعلیم کی روح سے اس موعودہ نجات کا مدعی ہوں۔ میرا نبوت کا کوئی دعویٰ نہیں۔ یہ آپ کی غلطی ہے یا آپ کسی خیال سے کہہ رہے ہیں۔ کیا یہ ضروری ہے کہ جو الہام کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ نبی بھی ہو جائے۔ میں تو محمدی اور کامل طور پر اللہ ورسول کا متبع ہوں اور ان نشانوں کا نام کرامات ہے۔“

(حمامة البشریٰ ص ٨٣، خزائن ج ٧ ص ٣٠٢) ”فلا تظنن یا اخی انی قلت کلمة فیه رائحة ادعاء النبوة۔“ ترجمہ کا ماحصل یہ ہے کہ اے بھائی! میں نے کوئی ایسا کلمہ تک نہیں کہا جس میں دعویٰ نبوت کی بو تک بھی پائی جائے۔

(حمامة البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧) ”ما کان لی ان ادعی النبوة واخرج

٦١

صفحہ ١٨٨

من الاسلام والتحق بقوم كافرين “ یعنی میرے لئے جائز نہیں کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں سے جاملوں۔ یعنی مدعی النبوت مرزا قادیانی کے خیال میں دائرہ اسلام سے خارج ہے اور وہ کافر ہو جاتا ہے۔

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣١٣، فروری ١٨٩٢ء) ”امابعد! تمام مسلمانوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ اس عاجز کے رسالہ فتح اسلام وتوضیح المرام اور ازالہ اوہام میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا یا یہ کہ محدثیت جزوی نبوت ہے یا یہ کہ محدثیت نبوت ناقصہ ہے۔ یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں۔ بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں کی رو سے بیان کئے گئے ہیں۔ ورنہ حاشا وکلا مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں ہے۔

....... میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں پر یہ الفاظ شاق ہیں۔ تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں۔ کیونکہ کسی طرح مجھ کو مسلمانوں میں تفرقہ اور نفاق ڈالنا منظور نہیں ہے۔ جس حالت میں ابتداء سے میری نیت میں جس کو اللہ جل شانہ خوب جانتا ہے۔ اس لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں ہے۔ بلکہ صرف محدث مراد ہے۔“ (از حقیقت النبوۃ ص ٩١) یعنی مرزا قادیانی صرف مجازی نبی ہے، حقیقی نہیں ہے۔ جس کا معنی صرف محدث ہے۔ اس سے زائد نہیں اور محدث صرف مرزا ہی نہیں ۔ بلکہ اور بھی کئی لوگ محدث ہوئے ہیں۔ جس کو مرزا خود اپنے الفاظ میں ذکر کرتا ہے۔

(نشان آسمانی ص ٢٨، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠) ”اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا ...... ہاں محدث آئیں گے جو اللہ جل شانہ سے ہمکلام ہوتے ہیں اور نبوت تامہ کی بعض صفات ظلی طور پر اپنے اندر رکھتے ہیں اور بلحاظ بعض وجوہ شان نبوت کے رنگ سے رنگین کئے جاتے ہیں اور ان میں سے ایک میں ہوں۔“

اس مضمون سابق کو مرزا نے اپنی آخری کتاب میں بھی ذکر کیا ہے۔ یعنی یہ کہ مرزا کی نبوت مجازی نبوت ہے، حقیقی نہیں۔ جس کی طرف اشتہارات فروری ٩٢ء میں اشارہ کیا تھا۔ یعنی مجازی نبوت والا نبی ہوں۔ جو عام دوسرے محدثوں میں بھی ہوا کرتی ہے۔ دیکھو (ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٨٩) ”وسميت نبيا من الله على طريق المجاز لا على وجه

٦٢

الحقیقت“ یعنی میں صرف مجازی نبی ا علی ہذا القیاس! ”نبوت کا دعویٰ نہیں۔ بلکہ م

ضروری نوٹ

اس میں محمود قادیانی کا یہ جو اور محدثیت کا دعویٰ اپنی غلط فہمی کی بناء پر اس کا نبوت کا انکار اور محدثیت کا دعویٰ ا محمود قادیانی یا تو یہ کہے کہ م دعویٰ کیا تھا تو اس وقت خدا تعالیٰ مرزا ق کی اس غلطی پر خدا تعالیٰ عمداً خاموش رہا تھا اور خدا بھی جانتا تھا کہ وہ نبی تھا۔ مگر م دیکھوں گا کہ محمود قادیانی اور

ایک اور شبہ اور اس کا جواب

ممکن ہے کہ کوئی شخص یہ کہ اقرار کرنا نبوت کا اقرار ہی ہے۔ مگر ای مندرجہ بالا پر غور کرنا اور عبارت اشتہا مطالعہ کرنا از بس ضروری ہے۔ اس کے محدث ومجدد اور ہوتے ہیں اور انبیاء

(شہادۃ القرآن ص ٦٠، خزائن ج ٦ ص ٣٥٥

”نبی تو اس امت میں آ زندگی کے کرشمے نہ دکھلادیں پھر اسلا کے لئے نبی آئے تھے اور اب محدث آ اس قسم کی شہادۃ القرآن باقرار مرزا قادیانی حضرت موسیٰ علیہ ال بغیر کتاب کے آئے تھے۔ لیکن اس صرف آسکتے ہیں۔ اب بفرض محال اور غیر ق

صفحہ ١٨٩

الحقیقت " یعنی میں صرف مجازی نبی ہوں (محدث) حقیقی نبی نہیں ہوں۔

علیٰ ہٰذا القیاس!

(ازالہ اوہام ص ٤٢١، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠)

”نبوت کا دعویٰ نہیں۔ بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے۔ جو خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے۔“

ضروری نوٹ

اس میں محمود قادیانی کا یہ جواب نہیں چل سکے گا کہ مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کا انکار اور محدثیت کا دعویٰ اپنی غلط فہمی کی بناء پر کیا تھا۔ ورنہ وہ در حقیقت نبی تھا۔ جس کو وہ سمجھ نہ سکا۔ بلکہ اس کا نبوت کا انکار اور محدثیت کا دعویٰ خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے۔ محمود خوب غور کرے۔

محمود قادیانی یا تو یہ کہے کہ میرے ابا نے جب نبوت کا انکار کیا اور صرف محدثیت کا ہی دعویٰ کیا تھا تو اس وقت خدا تعالیٰ مرزا قادیانی کی اس حرکت سے بالکل بے خبر اور غافل تھا۔ یا اس کی اس غلطی پر خدا تعالیٰ عمداً خاموش رہا اور اس کو اس انکار نبوت سے نہ روکا۔ حالانکہ دراصل وہ نبی تھا اور خدا بھی جانتا تھا کہ وہ نبی تھا۔ مگر خدا نے اس جھوٹ سے عمداً اغماض کیا۔ والعیاذ باللہ۔

دیکھوں گا کہ محمود قادیانی اور اس کے چیلے کیا جواب دیتے ہیں؟

ایک اور شبہ اور اس کا جواب

ممکن ہے کہ کوئی شخص یہ کہہ دے کہ محدث اور نبی دراصل ایک ہی ہیں۔ گویا محدثیت کا اقرار کرنا نبوت کا اقرار ہی ہے۔ مگر ایسے شخص کو (ازالہ اوہام ص ٤٢١، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠) کی عبارت مندرجہ بالا پر غور کرنا اور عبارت اشتہارات فروری ٩٢ء کا خیال رکھنا اور عبارت نشان آسمانی کا مطالعہ کرنا از بس ضروری ہے۔ اس کے علاوہ اور بہت سی عبارتیں ہیں۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ محدث و مجدد اور ہوتے ہیں اور انبیاء غیر تشریعی ان کے علاوہ ہوتے ہیں۔ صرف ایک عبارت (شہادۃ القرآن ص ٦٠، خزائن ج ٦ ص ٣٥٥) کی پیش کرتا ہوں۔ ملاحظہ ہو:

”نبی تو اس امت میں آنے کو رہے ۔ اب اگر خلفاء نبی نہ آویں اور وقتاً فوقتاً روحانی زندگی کے کرشمے نہ دکھلاویں پھر اسلام کی روحانیت کا خاتمہ ہے ...... اس وقت تائید دین عیسوی کے لئے نبی آئے تھے اور اب محدث آتے ہیں۔“

اس قسم کی شہادۃ القرآن میں اور بہت سی عبارتیں ہیں۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ باقرار مرزا قادیانی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد تو بہت سے نبی اس کی تائید کے لئے غیر تشریعی بغیر کتاب کے آئے تھے۔ لیکن اس امت مرحومہ میں انبیاء غیر تشریعی بھی نہیں بلکہ مجددین ہی صرف آسکتے ہیں۔ اب تشریعی اور غیر تشریعی کا سوال ہی درمیان سے جاتا رہا۔

٦٣

صفحہ ١٩٠

ظلی اور بروزی نبی

جیسے کہ میں پہلے ثابت کر چکا ہوں کہ ظلی نبی اور بروزی نبی باقرار مرزا محدث ومجدد ہی ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ کوئی فوقیت نہیں رکھتا۔ بلکہ میں مرزا قادیانی کے اقرار سے ثابت کرتا ہوں کہ کوئی ظلی چیز اصل کی طرح حقیقی نہیں ہوا کرتی۔ مثلاً بقول مرزا قادیانی آنحضرتﷺ ظلی خدا ہو کر صحیح اور حقیقی اور سچے اور واقعی خدا بن جائیں گے یا محمود قادیانی کے باپ مرزا قادیانی کے اقرار سے خلفاء آنحضرتﷺ کے ظل ہوتے ہیں اور صحابہ میں بھی حضرت عمرؓ آنحضرتﷺ کے ظل ہیں تو کیا خلفاء اور حضرت عمرؓ بھی ظلی نبی ہو کر واقعی اور سچے اور صحیح اور حقیقی نبی قرار پائیں گے۔ اس کا جواب یقیناً نفی میں ہوگا۔ تو مرزا قادیانی بزعم خود اگر ظلی نبی خاکم بدہن ثابت بھی ہو جائے تو پھر بھی وہ سچا اور حقیقی اور واقعی اور صحیح نبی نہیں ہوگا۔ بلکہ محض نقلی اور مجازی نبی ہی ہوگا۔ اب مرزا قادیانی کا اقرار کہ آنحضرتﷺ ظل خدا ہیں اور خلفاء اور حضرت عمرؓ آنحضرتﷺ کے ظل ہیں۔

ذیل میں ملاحظہ ہو۔ (سرمہ چشم آریہ ص ٢٢٤ حاشیہ، خزائن ج ٢ ص ٢٧٦) ”نقطہ محمدیہ...... ایسا ہی ظلی الوہیت ہونے کی وجہ سے مرتبہ الوہیہ سے اس کو ایسی مشابہت ہے جیسے آئینہ کے عکس کو اپنی اصل سے ہوتی ہے اور امہات صفات الہیہ یعنی حیات، علم، ارادہ، قدرت، سمع، بصر، کلام مع اپنے جمیع فروع کے اتم اور اکمل طور پر اس میں (آنحضرتﷺ ، مؤلف) انعکاس پذیر ہیں۔“

(ایام الصلح ص ٣٥، خزائن ج ١٤ ص ٢٦٤) ”حضرت عمرؓ کا وجود ظلی طور پر گویا آنحضرتﷺ کا وجود ہی تھا۔“

(شہادت القرآن ص ٥٧، خزائن ج ٦ ص ٣٥٣) ”خلیفہ درحقیقت رسول کا ظل ہوتا ہے۔“

کیا اب کسی محمودی قادیانی کی ہمت ہے کہ وہ کہہ دے کہ آنحضرتﷺ خدا ہیں اور حضرت عمرؓ اور خلفاء نبی اور رسول ہیں۔ نعوذ باللہ۔

محمود قادیانی کی دوسری بات

”کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو پہلے نبی کی تعریف معلوم نہ تھی اور وہ غلط تعریف سمجھتا رہا اسی بناء پر وہ اپنی نبوت سے انکار کرتا رہا اور ختم نبوت کا قائل رہا اور بعد میں اس کو نبی کی صحیح تعریف معلوم ہوئی جو اس میں پائی جاتی تھی۔ تو دعویٰ نبوت کر دیا اور ختم نبوت کا انکار کر دیا اور سمجھ لیا کہ نبی دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک تشریعی اور دوسرا غیر تشریعی اور وہ خود غیر تشریعی نبی تھا اور پہلے اس کا خیال عوام کی اتباع میں یہ تھا کہ نبی صرف تشریعی ہوتا ہے اور غیر تشریعی نبی نہیں ہوتا۔ نیز نبی وہی ہوتا ہے جس کو براہِ راست نبوت حاصل ہو۔ بعد میں یہ سمجھا کہ آنحضرتﷺ کی اتباع کر کے آپ کے واسطہ سے بھی

٧٤

صفحہ ١٩١

نبوت حاصل ہو سکتی ہے اور اس بناء پر وہ نبی ہے تو خود کو نبی سمجھ لیا اور اپنے پرانے سالہا سال کے الہامات پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے بارہا اس کو خطابات میں نبی کر کے پکارا ہے۔ لیکن میں کہوں گا کہ یہ عذر گناہ بدتر از گناہ ہے۔ اس کے ناقابل قبول ہونے کی کئی وجوہ ہیں۔

پکارے۔ لیکن وہ سمجھتا ہی نہیں اور اسی جہالت پر سالہا سال گزر جاتے ہیں۔ کیا ایسا کوڑ مغز بھی اس قابل ہے کہ خدا تعالیٰ کے انتخاب نبوت میں کامیاب ہو سکے؟

امتحان میں کامیاب بھی ہو چکا ہے۔ مگر وہ پھر بھی اپنے منصب سے ناواقف ہے تو یقیناً وہ اپنے فرائض منصبی میں کوتاہی کرتا رہے گا۔ وہ کس قدر ناکام شخص ہو گا جس کو سالہا سال تک اپنے فرائض منصبی کا علم بھی نہیں۔ گورنمنٹ کسی شخص کو گورنر بنا کر بھیجے اور وہ ابھی تک یہ سمجھا ہی نہیں کہ میں گورنر ہوں اور گورنر کس شخص کو کہتے ہیں؟ تو وہ گورنری کے فرائض کو کیسے انجام دے گا؟ مولوی محمد علی لاہوری کے الفاظ میں نقل کر دیتا ہوں۔ ”المبعوث فی الاسلام“ یہ المبعوث فی الاسلام چھوٹا سا رسالہ ہے۔ اس کے ص ١٤ پر ہے:

”تم ایسے عہدے دار کو کیا کہو گے؟ جس کو اس کے افسروں نے ایک عہدہ پر مامور کر کے بھیجا اور وہ پندرہ سال تک یہ سمجھا ہی نہیں کہ میرا عہدہ کیا ہے۔ ایک تھانہ میں سب انسپکٹر کو بھیجا اور وہ خیال کرتا رہا کہ میں کانسٹیبل ہوں۔ کیا ایسے شخص کو مجنوں کہو گے یا کچھ اور۔“

لازمی ہیں۔ کیونکہ اگر اس کے اپنے عقائد ہی درست نہ ہوں تو وہ دوسروں کی اصلاح کیا کرے گا اور پھر خدا کے تقدس پر اعتراض ہوگا کہ ایسے برے عقائد والے کو کیوں منصب نبوت عطاء کیا گیا؟

(براہین احمدیہ ص ٦ حاشیہ، مقدمہ ص ١٠٥، خزائن ج ١ ص ٩٥)

”جب علت غائی رسالت اور پیغمبری کی عقائد حقہ اور اعمال صالحہ پر قائم کرنا ہے تو پھر اگر اس علت غائی پر نبی لوگ آپ ہی قائم نہ ہوں۔ تو ان کی کون سن سکتا ہے اور کاہے کو ان کی بات میں اثر ہوگا؟“

(ضمیمہ ص ٢٦٦، ٢٦٧)

غلطی لگی رہی۔ کیا کوئی ایسا بھی اصولی مسئلہ ہے؟ جس میں مرزا کو سالہا سال تک غلطی لگی رہی ہو

٦٥

صفحہ ١٩٢

؟ ہر مسئلہ میں یہی عذر ہوتا ہے کہ پہلے مرزا قادیانی غلطی پر جمے رہے تھے۔ مثلاً حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام پر وہ باوجود ملہم ہونے کے بارہ سال تک قائم رہے۔ حوالہ کے لئے دیکھئے۔

(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

”پھر میں قریباً بارہ سال تک جو ایک زمانہ دراز ہے، بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے۔“ (میں ثابت کر سکتا ہوں کہ بعد از ملہم ہونے کے اس مسئلہ میں بیس سال تک تقریباً بزعم خود غلطی پر رہے)

حالانکہ وفات مسیح بزعم مرزا قرآن مجید میں اس قدر واضح اور روشن طریق سے بیان کی گئی تھی کہ اس سے زیادہ ممکن نہیں۔

بالکل بے خبر اور غافل رہے کہ خدا تعالیٰ نے کھلی کھلی وحی میں بڑی شدومد سے ان کو مسیح موعود ٹھہرایا ہوا ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٧)

سے انکار کرتے رہے۔ بزعم محمود قادیانی۔

محمود قادیانی یہ تو بنیادی مسائل تھے اور اپنی پیش گوئیوں میں اور دوسرے واقعات میں تو اس قدر ٹھوکریں کھائیں کہ کیا ٹھکانہ؟ حالانکہ (اعجاز احمدی ص ٢٦، خزائن ج ١٩ ص ١٣٥) میں لکھا کہ نبی ١؎ اپنی تعلیموں اور اپنے دعویٰ میں کبھی غلطی نہیں کھا سکتا۔ تو جو شخص سالہا سال تک بنیادی مسائل میں ٹھوکریں کھا رہا ہو اس پر بعد میں کیا اعتماد ہو سکتا ہے کہ جس نظریہ کو اس نے بعد میں قائم کیا ہے۔ وہ ضرور صحیح ہی ہو کیوں نہ ہو کہ اس میں بھی ٹھوکریں ہی کھا رہا ہو۔

نبی کسی شخص کو مدعی نبوت ہو کر فرما دے کہ میری نبوت کو تسلیم کر تو وہ امتی اگر انکارِ نبوت کرے تو کافر ہو جاتا ہے۔ لیکن جس کو خدا تعالیٰ خود تقریباً بیس سال تک متواتر الہام کر رہا ہو اور فرما رہا ہو کہ تو نبی ہے لیکن وہ مدعی نبوت مسلسل سالوں پھر انکار کئے جا رہا ہو کہ میں نبی نہیں بلکہ محدث ہوں۔ تو وہ کتنا

١؎ اصل عبارت اس طرح ہے ”نبیوں اور رسولوں کو ان کے دعویٰ کے متعلق اور ان کی تعلیموں کے متعلق بہت نزدیک سے دکھایا جاتا ہے اور اس میں اس قدر تواتر ہوتا ہے جس سے کچھ شک باقی نہیں رہتا۔

(اعجاز احمدی ص ٢٦، خزائن ج ١٩ ص ١٣٥)

٦٦

صفحہ ١٩٣

بڑا کافر ہوگا۔ اسی مسئلہ کو محمد علی لاہوری نے اپنے رسالہ ”مسیح موعود اور ختم نبوت ص١٢،١٣“ کے حاشیہ میں ان الفاظ میں ذکر کیا ہے: ”یہ بات مان کر کہ ایک زمانہ میں حضرت مسیح موعود اپنی نبوت کا انکار کرتے تھے۔ حالانکہ نبی تھے۔ میاں محمود احمد صاحب حضرت صاحب کو ایک خطرناک فتوے کے ماتحت لاتے ہیں۔ جس کی طرف ان کی توجہ شاید اب تک نہیں ہوئی۔ اور وہ یہ کہ نبی کی نبوت سے انکار کفر ہے۔ پس اگر حضرت صاحب کو خدا نبی کہتا تھا اور آپ فی الواقع نبی تھے۔ مگر بایں زور سے نبوت کا انکار کرتے بلکہ مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے تھے۔ تو کیا آپ کفر کے فتویٰ کے ماتحت نہیں آتے؟ یقیناً اگر نبی اپنی نبوت سے انکار کرے تو وہ سب سے بڑھ کر کافر ہے۔ کیونکہ دوسروں کو کہنے والا تو انسان ہے۔ مگر اسے خود خدا کہتا ہے۔“

کرتا رہا تو کیا اس وقت خدا (عیاذ باللہ) بے خبر و غافل تھا یا سویا پڑا تھا یا عمداً اغماض کر رہا تھا کہ اس حکم کے صریح اور متواتر الہام کی بڑی زور سے خود ملہم خلاف ورزی کرتا رہا۔ مگر اس پر خدا تعالیٰ نے اس کو کوئی تنبیہہ نہ کی۔

روشنی میں پیش کرتا رہا۔ چنانچہ جو اقوال مرزا قادیانی نے پیش کئے ہیں۔ ان میں اکثر جگہ اور ان کے علاوہ بھی باقی اقوال میں عموماً قرآن مجید کی آیت خاتم النبیین اور الیوم اکملت لکم دینکم اور حدیث لانبی بعدی وغیرہ کو پیش کرتا رہا اور انہی کی بناء پر ختم نبوت کو منواتا رہا۔ پھر اس کے علاوہ اس مسئلہ کی بنیاد خود اپنے الہام پر بھی رکھی تھی۔

چنانچہ (ازالہ اوہام ص ٤٢١، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠) میں لکھا ہے کہ: ”نبوت کا دعویٰ نہیں، بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے۔ جو خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے۔“ جب ختم نبوت کے مسئلہ کو الہام اور قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کیا جا رہا ہے۔ تو بعد میں اس کی تردید کیسے ہو سکتی ہے؟ بقول محمود قادیانی انکار نبوت کی ساری کی ساری بنیاد مرزا قادیانی کے الہامات پر ہے۔ جن میں مرزا کو خدا تعالیٰ نے بار بار نبی کر کے پکارا ہے۔ جن کی بقول مرزا محمود قادیانی اس کا باپ پہلے تاویل کرتا رہا۔

مسئلہ تھا۔ اس لئے اس میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہو سکتا تھا۔ کیونکہ مرزا قادیانی خود لکھتا ہے کہ اصول اسلام کے مسائل اس قدر قرآن وحدیث میں واضح ہوتے ہیں کہ کسی کافر کو بھی ان میں شک و شبہ نہیں ہو سکتا۔

٦٧

صفحہ ١٩٤

ملاحظہ ہو (کرامات الصادقین ص١١، خزائن ج٧ ص٥٣) ”قرآن کریم کی وہ تعلیم جو مدار ایمان ہے۔ وہ عام فہم ہے جس کو ایک کافر بھی سمجھ سکتا ہے اور ایسی نہیں کہ کسی پڑھنے والے سے مخفی رہ سکے اور اگر وہ عام فہم نہ ہوتی تو کارخانہ تبلیغ ناقص رہ جاتا ہے۔“

کتاب مذکور (ص٢٠، خزائن ج٧ ص٦٢) ”مگر وہ باتیں جو مدار ایمان ہیں اور جن کے قبول کرنے اور جاننے سے ایک شخص مسلمان کہلا سکتا ہے۔ وہ ہر زمانہ میں برابر طور پر شائع ہوتی رہیں۔“ کیا کسی کو حق ہوگا کہ وہ یہ کہہ دے کہ مرزا محمود کے خیال کے مطابق جب تک اس کا باپ ختم نبوت کا اقرار کرتا رہا اور قرآن مجید کو پڑھتا رہا۔ بلکہ جس کو شروع سے الہام تھا الرحمن علم القرآن (براہین احمدیہ) وہ اتنے عرصے میں کیا ٹھہرا؟ کیونکہ وہ مسائل تو کسی کافر پر بھی پوشیدہ نہ رہ سکتے تھے۔ مگر مرزا ان کو نہ سمجھ سکا۔ تو مرزا کو کافر کے بعد کا کوئی مرتبہ دینا چاہئے۔

نیز مرزا خود لکھتا ہے کہ جو شخص کسی مسئلہ کی واقفیت نہ رکھتا ہو اور پھر اس مسئلہ پر رائے زنی کرے تو وہ بے وقوف اور احمق ہوگا اور جو شخص قرآن مجید میں سے دیکھنے بھالنے کے بغیر کوئی مسئلہ کہے وہ ولی اللہ نہیں ہو سکتا۔ ملاحظہ ہو

(ملفوظات احمدیہ ص١٧١ حصہ اول)

”کسی معاملہ میں رائے دینے کے لئے ضروری ہے کہ اس کا علم ہو۔ جس شخص کو علم ہی نہیں وہ رائے دینے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔ رائے زنی کرے تو کیا وہ احمق اور وہ بے وقوف نہ کہلائے گا؟ ضرور کہلائے گا بلکہ دوسرے دانش مند اس کو شرمندہ کریں گے کہ احمق جب کہ تجھے کچھ واقفیت ہی نہیں تو پھر تو رائے کس طرح دیتا ہے؟“

کتاب مذکور (ص٢٣٩) ”وہ انسان جو ولی اللہ کہلاتا ہے اور خدا جس کی زندگی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ وہ وہ ہوتا ہے۔ جس کی وہ حرکت وسکون بلا استصواب کتاب الہی نہیں ہوتی۔ وہ اپنی ہر بات اور ہر ارادہ پر کتاب اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس سے مشورہ لیتا ہے۔“

اب ہم دریافت کرتے ہیں کہ حیات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ میں اور ختم نبوت کے عقیدہ میں جب کہ مرزا بزعم خود و بزعم محمود قادیانی کی تصریحات کے خلاف کرتا رہا ہے۔ تو کیا وہ احمق و بے وقوف وغیرہ ہوا۔

نہیں سمجھتا۔ بلکہ میں جو کچھ کہتا ہوں وہ خدا کی طرف سے ہی کہتا ہوں۔ اگر الہام نہ بھی ہو تو پھر بھی جو کچھ وہ کہتا ہے۔ صحیح ہوتا ہے تو ہم محمود قادیانی کی بات کیسے مان جائیں۔ ابا کچھ کہتا ہے اور بیٹا کچھ کہتا ہے۔ یقیناً بیٹے کو ترجیح نہیں ہو سکتی۔

٦٨

مرزا خود لکھتا ہے: ”جو لوگ خدا اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی نہیں کر سکتے۔“

(حقیقت الوحی ص١٦، خزائن ج٢٢

نہایت درجہ فنافی اللہ ہونے کے اس کی زبا ہاتھ ہوتا ہے اور اگرچہ اس کو خاص طور پر الہ ہے۔ وہ اس کی طرف سے نہیں، بلکہ خدا کی میں کہتا ہوں کہ حیات مسیح اور سال تک کیوں مرزا قادیانی کا شیوہ رہا؟

شاد باش اے مر

مرزا قادیانی بزعم خود دنیا کی ام لیکن تعجب ہے کہ ہر جگہ خود رسوم عوام کا پابن ٹھوکر کھا رہا ہے۔ حیات مسیح علیہ السلام کے کہ میں نے جو کچھ لکھا تھا۔ وہ عام مسلمانوں

یہی واقعہ ”یا عیسی ان

(براہین احمدیہ ص٥٢٠ حاشیہ، خزائن ج١ ص٦٢٣

علی ہذا القیاس محمود قادیانی نے فاسدہ کا بہانہ رکھا۔ دیکھو (حقیقت النبوت ص

غیر تشریعی نہ ہوتا تھا اور یہی بات مرزا غلا کرتا رہا۔ مگر بعد میں اس کو اصلی مسئلہ معلو ہمارے مسلمانوں کی علم کلام کی کتابیں شریعت جدیدہ بھی ہوتا ہے (تشریعی نبی ہوتا ہے (نبی غیر تشریعی) بلکہ ١٩٠١ء سے

صفحہ ١٩٥

مرزا خود لکھتا ہے: ”جو لوگ خدا تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں۔ وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کر سکتے۔“

(ازالہ اوہام ص ١٩٨، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

(حقیقت الوحی ص ١٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٨) پر ملہم کے متعلق مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”بباعث نہایت درجہ فانی اللہ ہونے کے اس کی زبان ہر وقت خدا کی زبان ہوتی ہے اور اس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہوتا ہے اور اگرچہ اس کو خاص طور پر الہام نہ بھی ہو۔ تب بھی جو کچھ اس کی زبان پر جاری ہوتا ہے ۔ وہ اس کی طرف سے نہیں، بلکہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔“

میں کہتا ہوں کہ حیات مسیح اور ختم نبوت اور انکار از مسیحیت اور انکار از نبوت خود سالہا سال تک کیوں مرزا قادیانی کا شیوہ رہا؟

مرزا قادیانی بزعم خود دنیا کی اصلاح کرنے اور رسوم قبیحہ کے مٹانے کے لئے آیا تھا۔ لیکن تعجب ہے کہ ہر جگہ خود رسوم عوام کا پابند اور انہی کا شکار ہو جاتا ہے اور غلطی پر غلطی اور ٹھوکر پر ٹھوکر کھا رہا ہے۔ حیات مسیح علیہ السلام کے عقیدہ کا اثبات کیا اور پھر اس کا انکار کر کے عذر پیش کیا کہ میں نے جو کچھ لکھا تھا۔ وہ عام مسلمانوں کے عقیدہ فاسدہ کی بناء پر لکھا۔“

(اعجاز احمدی ص ٧،٦، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

یہی واقعہ ”یا عیسیٰ انی متوفیک“ میں متوفی کا معنی پوری وفات دینے والا (براہین احمدیہ ص ٥٢٠ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٢٠) میں کر کے پھر ایام الصلح میں بہانہ کیا کہ غلطی ہوگئی۔

علی ہذا القیاس محمود قادیانی نے ختم نبوت کے مسئلے میں اپنے باپ کے ذمہ پابندی رسوم فاسدہ کا بہانہ رکھا۔ دیکھو (حقیقت النبوت ص ١٢٤) وغیرہ۔

غیر تشریعی نہ ہوتا تھا اور یہی بات مرزا غلام احمد قادیانی بھی سمجھتا رہا۔ اس لئے وہ نبوت سے انکار کرتا رہا۔ مگر بعد میں اس کو اصلی مسئلہ معلوم ہوا۔ میں کہتا ہوں کہ یہ بالکل خلاف واقعہ ہے اوّل تو ہمارے مسلمانوں کی علم کلام کی کتابیں اٹھا کر دیکھو! کہ ہمارے نزدیک نبی صاحب کتاب و شریعت جدیدہ بھی ہوتا ہے (تشریعی نبی) اور غیر صاحب کتاب اور غیر صاحب شریعت جدیدہ بھی ہوتا ہے (نبی غیر تشریعی) بلکہ ١٩٠١ء سے پہلے مرزا بھی خود جانتا تھا کہ نبی کا تشریعی ہونا ہی ضروری

٦٩

صفحہ ١٩٦

نہیں ۔ بلکہ غیر تشریعی نبی بھی ہوا کرتا ہے۔ چنانچہ (براہین ص ٧ خزائن ج ٢١ ص ٤٢٤) میں لکھا:

"اگر کہو کہ صاحب شریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری تو اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔"

اس سے معلوم ہوا کہ مرزا کے نزدیک ایک تشریعی اور ایک غیر تشریعی نبی تھا اور (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٣ خزائن ج ٢١ ص ٦٧) میں لکھا ہے: "اور علاوہ اس کے اور مشکلات یہ معلوم ہوئی کہ بعض امور اس دعوت میں ایسے تھے کہ ہرگز امید نہ تھی کہ قوم اس کو قبول کر سکے اور قوم پر تو اس قدر بھی امید نہ تھی کہ وہ اس امر کو بھی تسلیم کر سکیں کہ بعد زمانہ نبوت وحی غیر تشریعی کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا۔"

اس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی خود تسلیم کرتا ہے کہ مسلمانوں کے ہاں بھی نبوت دو قسم کی تھی۔ تشریعی اور غیر تشریعی اور دونوں نبوتوں کو اہل اسلام ختم اور مسدود سمجھتے تھے۔ تو اب محمود قادیانی کا یہ بہانہ بنانا کہ مرزا کو یا مسلمانوں کو غیر تشریعی نبی کا علم نہ تھا۔ کس قدر جھوٹا ہے اور کتنا اعلانیہ کذب بیانی سے کام لیا جا رہا ہے۔

نبوت کے لئے پیش کرتا رہا اور خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے کلام کی تحریف کرتا رہا اور بیس سال تک مرزا قادیانی محرف القرآن والحدیث ٹھہرتا رہا اور بجائے اصلاح کے تحریف کا مرتکب ہوتا رہا اور اسی تحریف پر کتابوں کی کتابیں سیاہ کرتا رہا۔ مگر خدا تعالیٰ نے ملہم کو کوئی تنبیہ اور سرزنش نہ کی۔ بلکہ خدا تعالیٰ بالکل خاموش بیٹھا رہا۔ العیاذ باللہ!

در حقیقت نبی تھا۔ مگر اس نے اس سے صاف انکار کر دیا کہ میرا کوئی نبوت کا دعویٰ نہیں۔ بلکہ یہ افتراء ہے۔ تو جب اللہ تعالیٰ نے اس کو نبی بنایا تھا جیسے محمود قادیانی کہتا ہے تو خدا تعالیٰ نے مرزا کے انکار نبوت پر کوئی تنبیہ نہ کی اور اس کی اصلاح نہ کی کہ لوگ ٹھیک کہہ رہے ہیں اور تو نبی ہے۔ اے مرزا تو غلطی کر رہا ہے۔ کیونکہ ہم نے تجھ کو نبی بنایا ہوا ہے۔ تو خود کور مغز ہے۔ تجھ کو خود سمجھ نہیں آتی اور الٹا لوگوں کو ڈانٹ رہا ہے اور ان کو گالیاں دیتا ہے۔

موعود ہونے کا انکار کرتا رہا اور وہ میری غلطی تھی۔ ایسے ہی مرزا نے اعتراف کیا کہ میں پہلے حیات مسیح کا قائل تھا اور اس کو میں نے براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ لیکن یہ بھی میری غلطی تھی اور یہ بھی مانا کہ میں نے متوفیک کا معنی جو براہین احمدیہ میں کہا تھا۔ وہ بھی میرا ہی قصور تھا۔ لیکن کہیں مرزا

٧٠

صفحہ ١٩٧

قادیانی نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ میں نے ختم نبوت کو جو قرآن وحدیث سے ثابت کیا اور اس پر اوراق کے اوراق سیاہ کر دیئے ۔ وہ میری غلطی تھی؟ یقینا محمود قادیانی اس کو کہیں سے پیش نہ کر سکے گا۔ حالانکہ حیات مسیح علیہ السلام کا تو صرف براہین احمدیہ میں ہی اقرار کیا تھا۔ مگر ختم نبوت پر بہت سی کتابیں لکھی تھیں اور مدعی نبوت کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتار ہا اور ایسے شخص پر لعنت بھیجتارہا۔

تک گمراہی میں ڈالتا رہا اور ختم نبوت کے غلط مسئلہ کی اصلاح نہ کی اور مرزا کو ایسی مصیبت میں ڈال دیا کہ اب اس کے لئے رہائی کی کوئی صورت ہی نہیں۔

خداوندی جلد تر اس کا تدارک کر لیتی ہے۔ (براہین احمدیہ ص ٣٠٨، ٢٣٨ جدید طبع لاہوری) ”اگر کوئی لغزش بھی ہو جاوے تو رحمت الہیہ جلد تر ان کا (ملہمین) تدارک کر لیتی ہے۔“

اور خود مرزا قادیانی (نور الحق حصہ دوم ص ٢ بحوالہ ن ج ١ ص ٧٢ ا طبع لاہوری) میں لکھتا ہے: ”ان الله لايتركني على خطاء طرفة عين ويعصمني عن كل شين “ یعنی اللہ تعالیٰ مجھے غلطی پر ایک لمحہ تک بھی باقی نہیں رہنے دیتا اور مجھے ہر ایک غلط بات سے محفوظ رکھتا ہے۔ تو کیا اب ہم یہ کہیں کہ خدا تعالیٰ کی رحمت نے جلدی تدارک نہ کیا اور پھر قریباً بیس سال۔ کہ بعد گویا خدا نے مرزا کو متنبہ کیا تو مرزا کا عہد گویا بیس سال تک لمبا ہو گیا۔

محمود قادیانی کی تیسری بات

مرزا محمود نے کہا کہ میرے ابا کی ١٩٠١ء سے پہلے کی عبارتیں منسوخ سمجھی جائیں۔ لیکن یہ بات اس قدر لغو اور نا قابل قبول ہے کہ کیا کہوں جس کے چند وجوہ ہیں۔

کے ہاں ناسخ کے آنے تک وہی حکم تھا۔ جس کو ملہم و نبی پیش کرتا رہا۔ جیسے تحویل قبلہ وغیرہ میں پہلے تو بیت المقدس کی طرف ہی منہ کرنے کا حکم تھا اور یہ خداوندی ارشاد کے ماتحت تھا۔ پھر وہ منسوخ ہو گیا اور بیت الحرام کی طرف منہ کرنے کا حکم ہو گیا۔ مگر یہاں تو اس طرح نہیں۔ کیونکہ محمود قادیانی کے خیال میں ١٩٠١ء سے پہلے بھی مرزا نبی ہی تھا اور ختم نبوت کا مسئلہ غلط تھا۔ مگر مرزا کو اپنی غلطی کا پتہ ١٩٠١ء میں چلا تو یہ تو مرزا قادیانی کی غلط فہمی تھی اور کج فہمی اور حکم خداوندی کی خلاف ورزی تھی۔ اس کو نسخ نہیں کہا کرتے۔

٧١

صفحہ ١٩٨

تھا۔ وہ سب کا سب قرآن وحدیث اور الہامات مرزا کی روشنی میں تھا۔ جیسے کہ اس کو میں نے دوسری بات کے وجوہ میں وجہ نمبر ٧ میں بیان کر چکا ہوں۔

متعلق سب کی سب منسوخ ہیں؟ جیسے کہ اس نے مسیح موعود، حیات مسیح ، متوفیک کے معنی کے متعلق صاف اقرار کیا ہے کہ وہ میری غلطی تھی۔ جسے میں وجہ نمبر ١٤ میں بالاجمال بیان کر چکا ہوں۔

کیا تھا۔ یعنی نبوت کو ختم کرنے والا وہی معنی ”ایک غلطی کا ازالہ“ میں بھی کیا اور یہی معنی ١٩٠١ء میں بھی سمجھتا رہا۔ ملاحظہ ہو عبارت مرزا قادیانی ”ایک غلطی کا ازالہ“ ملحقہ ”حقیقت النبوۃ ص ٢٦٨“

”غرض خاتم النبیین کا لفظ ایک ایسی مہر ہے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت پر لگ گئی ہے۔ اب ممکن نہیں کہ کبھی یہ مہر ٹوٹ جائے۔“

اسی قسم کی اور بہت سی عبارتیں ”ایک غلطی کا ازالہ“ میں موجود ہیں۔ تو مرزا تو ١٩٠١ء میں بھی ختم نبوت کا قائل ہے اور آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین انہی معنوں سے مانتا ہے جو تمام اہل اسلام کرتے ہیں۔ یعنی انبیاء کو ختم کرنے والا۔

میرے ابا کی ١٩٠١ء سے پہلے کی باتیں قابل اعتبار نہیں۔ لیجئے مرزا غلام احمد کی عبارتیں اس کی ہر بات قابل حجت ہونے کے متعلق درج کرتا ہوں۔ اب فیصلہ ناظرین کے سپرد ہے کہ باپ کو جھوٹا سمجھیں یا بیٹے کو۔

(حقیقت الوحی ص ٢٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ٢٩٠) میں لکھتا ہے ”میں بغیر خدا کے بلائے بول

نہیں سکتا۔“

(نورالحق حصہ دوم ص ٢، خزائن ج ٨ ص ٢٧٨) ”ان الله لا يتركني على خطاء طرفة

عين“ یعنی اللہ تعالیٰ مجھے لمحہ بھر بھی غلطی پر نہیں رہنے دیتا۔

(مواہب الرحمٰن ص ٤، خزائن ج ١٩ ص ٢٢٠) ”كلما قلت قلت من امره وما فعلت

شيئاً من امری“ یعنی میں نے جو کچھ بھی کہا وہ سب کچھ خدا کے امر سے کہا ہے اور اپنی طرف سے کبھی کچھ نہیں کیا۔

٧٢

صفحہ ١٩٩

(نور الحق حصہ دوم ص ٦٢، خزائن ج ٨ ص ٣٣٦) "ويبعث عبدا لاعانته فيجدد دين الله بعلمه وصدقه...... ومايقول الاما علمه لسان الرحمان"

یعنی اللہ تعالیٰ کسی بندے کو دین کی اعانت کے لئے مجدد بنا کر بھیجتا ہے اور بندہ جو کچھ کہتا ہے وہ خدا کی زبان ہوتی ہے۔ حقیقت الوحی میں ملہمین صادقین کے متعلق مرزا لکھتا ہے:

"اس کی زبان ہر وقت خدا کی زبان ہوتی ہے۔۔۔۔ اگر چہ اس کو خاص طور پر الہام نہ بھی ہو تب بھی جو کچھ اس کی زبان سے جاری ہوتا ہے۔ وہ اس کی طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔"

(حمامۃ البشریٰ ص ٧٢، خزائن ج ٧ ص ٢٨٥) "اناما كتبنا في كتاب شيئا يخالف النصوص القرآنية او الحديثية وما تفوهنا به يوما من الدهر"

یعنی میں نے کسی کتاب میں کبھی کوئی چیز قرآن وحدیث کی تصریحات کے خلاف نہیں لکھی۔ لیکن محمود قادیانی کہتا ہے کہ میرے باپ نے ١٩٠١ء سے پہلے جو کچھ ختم نبوت کے متعلق لکھا وہ غلط، خلاف قرآن وحدیث تھا۔

(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٨٦) "والله يعلم انى ماقلت الاماقال الله ولم اقل كلمة قط يخالفه وما سها قلمى فى عمرى"

یعنی خدا جانتا ہے کہ میں جو کچھ کہتا ہوں وہ وہی کہتا ہوں جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے اور میں نے کبھی ایسا کلمہ تک نہیں کہا جو خلاف خدا وند تعالیٰ ہو اور مخالفت خداوندی میری قلم سے کبھی سرزد نہیں ہوئی۔

میں دریافت کرتا ہوں کہ یہ مرزا قادیانی کا حلفیہ بیان ہے۔ حالانکہ مرزا خود اقراری ہے کہ میں نے حیات مسیح کا غلط عقیدہ براہین احمدیہ میں پیش کیا تھا اور ختم نبوت کے متعلق محمود قادیانی کیا جواب دے گا؟

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢١، خزائن ج ٥ ص ٢١) "ومن تفوه بكلمة ليس له اصل صحيح فى الشرع ملهما كان او مجتهد فبه الشياطين متلاعبة"

یعنی جو شخص کہ کوئی ایسا کلمہ کہے جس کی کوئی صحیح اصل شرع میں موجود نہ ہو۔ اس شخص سے شیطان کھیلتا ہے۔ خواہ وہ ملہم ہو یا مجتہد ہو۔ میں دریافت کرتا ہوں کہ بزعم محمود قادیانی اس کے ابا نے ختم نبوت کے مسئلہ کو ذکر کیا جس کی کوئی صحیح اصل شرع میں موجود نہیں۔ کیا اب محمود کہے گا کہ اس کے باپ سے شیطان کھیل رہے ہیں۔ خواہ وہ ملہم ہو یا مجتہد؟

٧٣

صفحہ ٢٠٠

(آئینہ کمالات اسلام ص ٩٢ ، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ”اس عاجز کو اپنے ذاتی تجربہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ روح القدس کی قیومیت ہر وقت اور ہر دم اور ہر لحظہ بلا فصل ملہم کے تمام قویٰ میں کام کرتی رہتی ہے۔“ تو کیا جو کچھ ختم نبوت اور حیات مسیح میں مرزا نے لکھا تھا۔ وہ سب کچھ روح القدس کی قیومیت کے ماتحت نہ تھا؟ یہ میری تنقیحات محمود قادیانی کی حقیقت النبوت کے ان اعذار پر تھیں۔ جو اس نے اپنے ابا کی جانب سے صفائی کے رنگ میں پیش کئے ہیں۔

امت مرزائیہ کے شبہات اور ان کا جواب

اگر چہ بفضلہ تعالیٰ ہم نے قرآن مجید اور احادیث اور مرزا کے اقوال سے ختم نبوت کو ثابت کر دیا۔ لیکن محمود قادیانی کی جماعت بعض اوقات آیات کی تحریف کر کے اور ان کو بے محل چسپاں کر کے انکار ختم نبوت کے لئے پیش کر دیا کرتے ہیں اور وہ کہا کرتے ہیں کہ قرآن مجید سے تو ثابت ہوتا ہے کہ نبوت ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ ابھی تک جاری ہے۔ اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کی ان بے محل تحریفات کا بھی تار و پود بکھیر دوں اور اس پہلو میں بھی میرا مرکزی نقطہ اقوال و مسلمات مرزائیہ ہی ہوں گے۔

شبہ اولیٰ

مرزائی جس مشہور آیت کو بقاء نبوت کے لئے پیش کیا کرتے ہیں۔ وہ ”اھـــــــــــــــــــــد نا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم “ ہے ان کے استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم پنجگانہ نمازوں میں دعا مانگتے ہیں کہ اے خدا ہم کو ان لوگوں کا راستہ بتا جن پر تیرا انعام ہوا اور انعام خدا کا انبیاء وصدیقین ، صالحین پر ہوا ہے۔ (حسب آیت ”مــــــن یــــطــــع الله والرسول فاولئک مع الذین انعم الله علیہم من النبیین والصدیقین والشہداء والصالحین “) تو مطلب یہ ہوا کہ اے خدا ہمیں نبی اور صدیق اور شہید وغیرہ بنا اور خدا تعالیٰ ہماری دعائیں قبول کرتا ہے۔ تو کیوں نہ نبوت کے متعلق ہماری دعا قبول نہ فرمادے گا۔

الجواب

اولاً...... تو ہم کہتے ہیں کہ کوئی کسی کے ساتھ ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا ۔ وہ اس کا عین ہو گیا۔ مثلاً کہتے ہیں کہ فلاں شخص مع اہل و عیال آیا تو اس کا معنی یہ نہیں ہوتا کہ فلاں شخص اپنے اہل و عیال کا عین ہو گیا ہے۔ اگر مرزائیوں کے خیال کے مطابق عین ہی ہو جاتا ہے تو پھر لوگ صرف نبی ہی نہیں بلکہ خدا بھی بنیں گے۔ قرآن مجید میں ہے ”انـــی معــکم “ کیا خدا اور فرشتے متحد ہو گئے۔ ”ان الله معنا“ کیا نبی علیہ السلام اور ابو بکر صدیق اور خدا تعالیٰ تینوں ایک ہو گئے؟

٧٣

صفحہ ٢٠١

"ان الله مع الصابرين" میں کیا اللہ تعالیٰ اور صابر لوگ آپس میں متحد ہو گئے ہیں؟ تو گویا دنیا میں ہندوؤں کی طرح ہزاروں خدا ماننے پڑیں گے؟

ثانیاً ..... یہ کہ مرزا قادیانی اور اس کی امت کے خیال میں کیونکہ واؤ ترتیب کے لئے آتی ہے تو گویا جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ مرزائیوں کے خیال کے مطابق پہلے نبی ہو گا پھر صدیق ہو گا۔ پھر شہید ہو گا۔ پھر عام صالحین میں جاکر داخل ہو گا تو گویا نبی تو ہر ایک وہ شخص ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے۔ اگر چہ اس کو صدیق و شہید اور صالح کا مرتبہ ملے یا نہ ملے۔ کیونکہ مرزائی واؤ کی ترتیب پر بڑا زور مارا کرتے ہیں تو غالباً یہاں بھی اس سے انکار نہ کریں گے۔

ثالثاً ..... یہ کہ مرزا قادیانی نے جو اس آیت کا خود معنی کیا ہے اس سے تو یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اور رسول کی اطاعت کرنے والے نبی بن جائیں گے۔ بلکہ وہ تو کہتا ہے کہ آیت کی مراد یہ ہے کہ انبیاء و صدیقین و غیرہم کی صحبت میں آجاؤ۔ دیکھو

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٦ حاشیہ، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

"تم پنج وقت نمازوں میں یہ دعا پڑھا کرو "اهدنا الصراط المستقيم" ...... یعنی اے ہمارے خدا اپنے منعم علیہم بندوں کی ہمیں راہ بتا وہ کون ہیں نبی اور صدیق اور شہداء، حاصل اس دعا کا خلاصہ مطلب یہی تھا کہ ان چاروں گروہوں میں سے جس کا زمانہ تم پاؤ اس کے سایہ صحبت میں آ جاؤ۔"

(رسالہ ملحقہ آئینہ کمالات اسلام بقیہ حاشیہ ص ٥٤٦، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

رابعاً ..... یہ کہ مرزا قادیانی نے اہل مکہ کے لئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو انبیاء و رسل اور صدیقین اور شہداء اور صالحین کی صحبت نصیب کرے۔ جیسے (حمامة البشریٰ ص ٤٩، خزائن ج ٧ ص ٢٣٦) میں لکھا ہے ”نسأله ان يدخلك في ملكوته مع الانبياء والرسل و الصديقين والشهداء والصالحين“ تو کیا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مرزا دعا مانگ رہا ہے کہ اہل مکہ تمام کے تمام انبیاء اور رسول بن جاویں۔ اگر یہی مراد سمجھی جاوے تو مرزا نے گویا اہل مکہ کے لئے نبوت حاصل کرنے کی دعا کی ہے اور یقیناً اس کی دعا منظور ہوئی ہوگی۔ کیونکہ مرزا کو خدا نے الہام میں وعدہ کیا ہوا ہے کہ تیری ہر دعا قبول کروں گا۔ ”اجيب كل دعائك الا في شركائك“ تو پھر یقیناً مکہ والے لوگ نبی ہو گئے ہوں گے۔

نوٹ ..... کیونکہ گذشتہ تمہید سے ثابت ہوا کہ مرزائیوں کے خیال میں مکہ کے سب علماء نبی بن چکے ہیں اور علماء مکہ نے مرزا پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے۔ لہٰذا بالاعتراف طائفہ قادیانیہ مرزا قادیانی پر مکہ

٧٥

صفحہ ٢٠٢

مکرر کہ سب انبیاء کا فتویٰ کفر لگے گا۔ تو وہ پرلے درجے کا کافر ہوگا۔ کیونکہ یہ فتویٰ انبیاء کا فتویٰ ہوگا۔ کسی عام آدمی یا مولوی کا فتویٰ نہیں ہے۔ دیکھیں کہ اس فتویٰ پر امت مرزائیہ عمل کرتی ہے یا نہیں؟

خامساً ..... یہ کہ مرزا قادیانی شہادت القرآن (ص ٥٦، خزائن ج ٦ ص ٣٥٢) میں آیت ”اهدنا الصراط المستقيم ..... الخ!“ کے ماتحت لکھتا ہے: ”پس اس آیت سے پہلے بھی کھلے کھلے طور پر یہی ثابت ہوا ہے کہ خدا تعالیٰ اس امت کو ظلی طور پر تمام انبیاء کا وارث ٹھہراتا ہے تا کہ انبیاء کا وجود ظلی طور پر ہمیشہ باقی رہے اور دنیا ان کے وجود سے کبھی خالی نہ ہو ۔“

اس آیت سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی وہ نبی ظلی لیتا ہے جو ہمیشہ ہمیشہ دنیا میں چلے آتے ہیں۔ جن سے دنیا کبھی بھی خالی نہیں رہی (علماء مجددین) مگر امت مرزائیہ مرزا قادیانی سے پہلے آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کو تسلیم نہیں کرتی۔ سو مرزا قادیانی کا مطلب اس کی امت کے مطلب سے بالکل جدا ہے۔ اب وہ خود فیصلہ کریں کہ امت درست کہتی ہے یا ان کا متنبی؟

شبہ دوم

آیت ”وعد الله الذين امنوا منكم وعملوا الصلحت ليستخلفنهم في الارض كما استخلف الذين من قبلهم“ سے بھی امت قادیانیہ استدلال کیا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امت میں اسی قسم کے خلیفے قائم کرے گا۔ جیسے پہلی امتوں میں خلفاء تھے اور پہلی امتوں میں مثلاً آدم علیہ السلام و سلیمان علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام خلفاء خداوندی نبوت سے ممتاز تھے۔ اس لئے مشابہت تامہ کے لئے اس امت میں بھی خلفاء انبیاء ہی ہونے چاہئیں۔

الجواب

تمہارا پیرو مرشد مرزا غلام احمد قادیانی تو اس آیت میں خلفاء سے مراد انبیاء نہیں لیتا۔ وہ تو خلفاء سے مراد ایسے معنی لیتا ہے۔ جو ابو بکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ بن عفان، علی ابن ابی طالبؓ کو بھی شامل ہے اور وہ خلیفے جو امت میں ہمیشہ ہمیشہ چلے آئے ہیں۔ تمہاری طرح نہیں کہ اس سے مراد صرف نبی ہی ہو جو مرزا سے پہلے کوئی اس امت میں سے نہیں ہوا۔ دیکھو خود مرزا کی کتاب:

(شہادۃ القرآن ص ٥٧، ٥٨، خزائن ج ٦ ص ٣٥٣)

اس آیت کے ماتحت لکھتا ہے: ”کیونکہ خلیفہ درحقیقت رسول کا ظل ہوتا ہے..... پس جو شخص خلافت کو تیس برس تک مانتا ہو وہ اپنی نادانی سے خلافت کی علت غائی کو نظر انداز کرتا ہو۔“

آگے چل کر (ص ٦٠، خزائن ج ٦ ص ٣٥٥) میں ہے: ”نبی تو اس امت میں آنے کو

٧٦

صفحہ ٢٠٣

رہے ۔ اب اگر خلفاء نبی نہ آویں اور وقتاً فوقتاً روحانی زندگی کے کرشمے نہ دکھلا دیں تو پھر اسلام کی روحانیت کا خاتمہ ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارت صاف بتلا رہی ہے کہ خلفاء سے مراد نبی نہیں۔ بلکہ انبیاء کے جانشین مراد ہیں۔ جو وہ نبی نہ ہوں گے۔ کیونکہ اس امت میں اب نبی نہیں آ سکتے ۔ بلکہ انبیاء کے خلفاء آئیں گے۔

شبہ سوم

بعض اوقات امت مرزائیہ قادیانیہ آیت "ظهر الفساد في البر والبحر بما كسبت أيدى الناس “ سے ثابت کیا ہے کہ نبوت ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ آنحضرت ﷺ کے بعد بھی نبوت جاری ہے۔

الجواب

مرزا غلام احمد قادیانی نے نورالقرآن نمبر اوّل میں اسی آیت پر بحث کرتے ہوئے اسی آیت کو دیکھ بھال کر اس کی تفسیر کی۔ مگر دروازہ نبوت کو مسدود خیال کر رہا ہے۔

ملاحظہ ہو (نورالقرآن نمبر اول ص ٧٥ مع حاشیہ خزائن ج ٩ ص ٤٣٦، ٤٣٩) "ظهر الفساد في البر والبحر ...... ”قرآن کریم نے تو تمام زمین کے مر جانے کا ذکر کیا ہے اور تمام قوموں کی بری حالت کو وہ بتلاتا ہے اور صاف بتلاتا ہے کہ زمین ہر قسم کے گناہ سے مر گئی ۔“ اور (ص ٧) کے حاشیہ میں لکھتا ہے : ”اگر کوئی کہے کہ فساد اور بدعقیدگی اور بداعمالیوں میں یہ زمانہ بھی تو کم نہیں۔ پھر اس میں کوئی نبی کیوں نہیں آیا ؟ تو جواب یہ ہے کہ وہ زمانہ توحید اور راست روی سے بالکل خالی ہو گیا تھا اور اس زمانہ میں چالیس کروڑ لا الہ الا اللہ کہنے والے موجود ہیں اور اس زمانہ کو بھی خدا تعالیٰ نے مجدد کے بھیجنے سے محروم نہیں رکھا ۔“

الحاصل! مرزا قادیانی کے زیر نظر یہی کتاب ہے۔ مگر پھر مرزائی اسی آیت کے ماتحت نبوت کی عدم ضرورت کو بیان کر رہا ہے اور ختم نبوت کا قائل ہے۔ مرزائیہ قادیانیہ طائفہ اس سے نفی ختم نبوت کرنا چاہتا ہے۔ مگر ان کا پیرو مرشد ختم نبوت ثابت کر رہا ہے۔

معلوم نہیں کہ سچا کون ہوگا اور جھوٹا کون۔ ہاں یقینا ان کے متنبی کا مرتبہ ان سے اعلیٰ ہے۔ اس لئے امت کی کوئی حقیقت متنبی کے سامنے نہیں۔

شبہ چہارم ...... طائفہ قادیانیہ کیونکہ ختم نبوت کا منکر ہے۔ اس لئے قرآن مجید کی تحریف کرتے ہوئے آیت "هو الذي بعث في الأميين رسولا منهم يتلوا عليهم آياته

٧٧

صفحہ ٢٠٤

تازہ ہوا اور روشنی

دھوپ اور بارش سے

چھتری بچاتی ہے

ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة وان كانوا من قبل لفي ضلال مبين و آخرين منهم لما يلحقوابهم (الجمعة:٢، ٣) ”کو بھی ختم نبوت کی نفی کے لئے پیش کرایا کرتے ہیں۔ طریق استدلال یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ آخرین منھم کا عطف فی الامیین پر ہے۔ یعنی جیسے امیین میں ایک رسول عربی ﷺ مبعوث ہوئے تھے۔ اس طرح بعد کے لوگوں میں بھی ایک نبی قادیان میں پیدا ہوگا۔

الجواب...... تمہارا پیرومرشد تو اس آیت سے نبوت ثابت نہیں کرتا اور وہ آخرین کا عطف فی الامیین پر نہیں کرتا۔ ملاحظہ ہو مرزا قادیانی کی مشہور کتاب (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٠٨، خزائن ج ٥ ص ٢٠٨) میں اسی آیت کے ماتحت تحریر کرتا ہے: ” خدا وہ ہے جس نے امیوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا۔ جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھلاتا ہے۔ اگرچہ وہ پہلے اس سے صریح گمراہ تھے اور ایسا ہی وہ رسول جو ان کی تربیت کر رہا ہے۔ ایک دوسرے گروہ کی بھی تربیت کرے گا جو انہی میں سے ہو جاویں گے۔“

(ص٢٠٩، خزائن ج ٥ص٢٠٩) ”گویا تمام آیت معہ اپنے الفاظ مقدرہ کے یوں ہے۔

”هو الذي بعث في الاميين رسولا منهم يتلوا عليهم آياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة و يعلم آخرين منهم...... “یعنی ہمارے خالص اور قابل بندے بجز صحابہ رضی اللہ عنہم کے اور بھی ہیں۔ جن کا گروہ کثیر آخری زمانہ میں پیدا ہوگا اور جیسی نبی کریم ﷺ نے صحابہؓ کی تربیت فرمائی۔ ایسا ہی آنحضرت ﷺ اس گروہ کی بھی باطنی طور پر تربیت فرمائیں گے۔“

(حمامة البشرى ص ٤٩، خزائن ج ٧ ص ٢٤٤)

ماحصل عبارت کا یہ ہے کہ باقرار مرزا قادیانی اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آخرين منهم میں بھی کوئی نبی مبعوث ہوگا۔ بلکہ وہ آیت کا مطلب یہ بتاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جیسے پہلے لوگوں کی تعلیم وتربیت کا انتظام اپنے ذمہ رکھا تھا۔ ویسے ہی بعد کے لوگوں کی تعلیم وتربیت بھی آنحضرت ﷺ ہی فرمائیں گے۔ نہ یہ کہ کوئی نبی آئے گا جو قادیان سے پیدا ہوکر ان کا ذمہ دار ہو اور وہ ان کا نبی بنے گا۔ اور جو عبارت مرزا نے مقدر نکالی ہے۔ وہ بھی بتاتی ہے کہ وہ و آخرین کا عطف فی الامیین پر نہیں کہ اس میں بعث کا لفظ مقدر مانا جائے اور یہ ثابت کیا جائے کہ اللہ تعالی بعد کے لوگوں میں ایک رسول مبعوث کرے گا۔ نعوذ باللہ بلکہ اس کا عطف یعلمھم کی ضمیر پر کرنا چاہتا ہے۔

٧٨

شبہ پنجم...... نفی ختم نبوت کے لئے مرزا كنا معذبين حتى نبعث رسو جب عذاب بھیجتے ہیں تو پہلے رسول بھیج آرہے ہیں۔ مثلاً قحط، طاعون، زلزلہ ضرور بھیجا ہے، ورنہ ہر وہ قادیانی ہی ہوگا

الجواب...... اسی آیت کو مر ہے۔ ملاحظہ ہو!

”نیز عموماً دنیا میں مصائب ضروری ہوگا۔“

شبہ ششم تا دہم...... بعض اوقات کرتے ہیں۔

يشاء فامنوا بالله ورسله (آل

واصلح فلا خوف عليهم ولا هـ

ابدا (الاحزاب:٥٣)“

وجوہ استدلال مرزائیوں کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان سب آتے رہیں گے۔

الجواب...... اس قسم کی مسلمات پر سب کی سب کا ایک ہی کر دیا ہے۔ جواب یہ ہے کہ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد رسول آ

صفحہ ٢٠٥

شبہ پنجم...... نفی ختم نبوت کے لئے مرزائیہ قادیانیہ طائفہ اس آیت کو بھی پیش کیا کرتا ہے: ”وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا (بنی اسرائیل:١٥)“ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم جب عذاب بھیجتے ہیں تو پہلے رسول بھیج لیا کرتے ہیں۔ اس وقت کیونکہ خدا تعالیٰ کے مختلف عذاب آرہے ہیں۔ مثلاً قحط، طاعون، زلزلے وغیرہ۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت خدا نے کوئی نبی ضرور بھیجا ہے، سو وہ قادیانی ہی ہوگا۔

الجواب...... اسی آیت کو مرزا قادیانی اپنی زیر نظر رکھتے ہوئے ختم نبوت کا قائل ہو رہا ہے۔ ملاحظہ ہو!

(شہادت القرآن ص٧٥، خزائن ج٦ ص٣٥٢، ٣٥٣)

”نیز عموماً دنیا میں مصائب تو آتے ہی رہتے ہیں۔ تو کیا ہر وقت کوئی نہ کوئی نبی ماننا ضروری ہوگا۔“

شبہ ششم تا دہم...... بعض اوقات قادیانیہ طائفہ آیات ذیل سے انکار ختم نبوت کو استنباط کیا کرتے ہیں۔

يشاء فامنوا بالله ورسله (آل عمران:١٧٩)“

واصلح فلا خوف عليهم ولا هم يحزنون (الاعراف:٣٥)“

ابدا (الاحزاب:٥٣)“

وجوہ استدلال مرزائیوں کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ طول دے کر خواہ مخواہ اوراق سیاہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان سب کا ماحصل مرزائی یہ لیتے ہیں کہ رسول آنحضرت ﷺ کے بعد آتے رہیں گے۔

الجواب...... اس قسم کی سب آیات جن میں رسول یا الرسل کا لفظ آتا ہے۔ مرزائی مسلمات پر سب کی سب کا ایک ہی جواب ہے۔ اس لئے میں نے سب کی سب کو ایک جگہ ہی جمع کر دیا ہے۔ جواب یہ ہے کہ اگر بفرض محال مان لیا جائے کہ ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد رسول آیا کریں گے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ باقرار مرزا قادیانی رسول کا لفظ

٧٩

صفحہ ٢٠٦

عام ہے جو نبی کو اور محدث و مجدد ہر دو کو شامل ہے۔ دیکھو (شہادۃ القرآن ص ١٨، خزائن ج ٦ ص ٣٢٤) ”رسل سے مراد مرسل ہیں خواہ وہ رسول ہوں یا نبی ہوں یا محدث ہوں۔ چونکہ ہمارے سید و رسول ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت ﷺ کوئی نبی نہیں آسکتا۔ اس لئے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ”رسول کا لفظ عام ہے۔ جس میں رسول اور محدث اور نبی داخل ہیں۔“ (ایام الصلح ص ١٤ حاشیہ، خزائن ج ١٤ ص ٤١٩) ”رسولوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے جاتے ہوں۔ خواہ وہ نبی ہوں یا رسول یا محدث اور مجدد ہوں۔“

پس سب اس قسم کی آیات کا ایک ہی جواب کافی ہے کہ بالفرض اگر اس امت میں رسول آنے ہی ہیں اور مراد آیات سے وہی معنی محرف ہیں۔ جو تم ارادہ کرتے ہو تو ہم تسلیم کر لیں گے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد رسول آویں گے۔ یعنی مجدد و محدث آویں گے۔

شبہ یازدہم ...... کبھی کبھی آیت ”واذ اخذ الله ميثاق النبيين لما آتيتكم من كتاب وحكمة ثم جاءكم رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به ولتنصرنه (آل عمران: ٨١)“ اور آیت ”واذ اخذنا من النبيين ميثاقهم ومنك ومن نوح (احزاب:٧)“ سے بھی استدلال کیا کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سب انبیاء سے حتیٰ کہ آنحضرت ﷺ سے بھی ایک رسول کے آنے کا واقعہ پیش کرکے اس کی تصدیق کرنے کا اور اس رسول کو ماننے کا وعدہ لیا جارہا ہے۔ وہ رسول کون ہوگا۔ جو سب انبیاء اور آنحضرت ﷺ کے بعد آنے والا ہے۔ وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہی ہے۔ نعوذ باللہ!

الجواب ...... ہر دو آیات میں جس چیز کا خدا تعالیٰ سے وعدہ لے رہا ہے انبیاء وہ غیر غیر چیزیں ہیں۔ پہلی آیت میں تو ایک بہت بڑے عظیم الشان نبی کی تصدیق کا وعدہ لیا جارہا ہے۔ جو آیت بتلا رہی ہے کہ وہ نبی اعلیٰ منصب رکھتا ہوگا۔ جس کے لئے اللہ تعالیٰ انبیاء کرام سے تاکیدی طور پر اس پر ایمان لانے کا وعدہ انبیاء کرام سے لے رہا ہے اور جس کی امداد کے لئے سخت تاکید فرمائی جارہی ہے۔ وہ تو آنحضرت ﷺ ہی ہو سکتے ہیں۔

مرزا جیسے دجال کو اس میثاق و وعدہ کا مصداق ٹھہرانا جس قدر بعید از عقل و نقل ہے۔ اس قدر دنیا میں اور کوئی ظلم ہی نہیں ہو سکتا۔ پھر خود مرزا قادیانی بھی اس ”ثم جاءکم رسول“ سے مراد آنحضرت ﷺ کو سمجھتا ہے۔ ملاحظہ ہو (حقیقت الوحی ص ١٣٠، ١٣١، خزائن ج ٢٢ ص ١٣٣، ١٣٤)

٨٠

صفحہ ٢٠٧

"پس جب تمہارا پیر و مرشد اس آیت کو آنحضرت ﷺ کے حق میں سمجھتا ہے تو تمہاری کذب بیانی کو کون سن سکتا ہے۔"

شبه دوازدہم ...... کبھی کبھی مرزائی قادیانی کارخانہ افتراء سے یہ صدا آیا کرتی ہے کہ آیت "اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي (المائدہ:٣)" سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد لوگ منصب نبوت پر فائز ہوا کریں گے۔ کیونکہ جب خدا نے ہمیں نعمت تامہ دے دی ہے۔ تو سب سے اعلیٰ نعمت تو نبوت کی ہے۔ وہ ضرور ہمیں ملنی چاہئے۔

الجواب ...... اول تو اپنے گھر کی خبر لو۔ تمہارے پیرو مرشد اس آیت کو ختم نبوت کے لئے پیش کر رہے ہیں اور تم اس سے نفی ختم نبوت کو ثابت کرنا چاہتے ہو۔ معلوم نہیں الٹی سمجھ کس کی ہے۔ ملاحظہ ہو

(تحفہ گولڑویہ ص ٥١، خزائن ج ١٧ ص ١٧٤)

"اليوم اكملت لكم دينكم " اور آیت "ولكن رسول الله وخاتم النبيين" میں صریح نبوت کو آنحضرت ﷺ پر ختم کر چکا ہے۔"

ضروری تنبیہ ...... جس آیت کو طائفہ قادیانیہ نے تحریف کر کے بے محل ختم نبوت کے انکار کے لئے پیش کیا ہے۔ ان کے جو جو جوابات میں نے دیئے ہیں۔ وہ علیٰ طریق التسلیم ہیں اور اس صورت میں ہیں کہ بفرض محال اگر مان لیں کہ آیت سے مراد وہی ہے جو تم کہہ رہے ہو تو تمہارے پیرو مرشد کا یہ مطلب کبھی نہ ہوا تھا۔ کوئی شخص یہ نہ سمجھ لے کہ میں طائفہ قادیانیہ کی تحریفات کو العیاذ باللہ! صحیح مان رہا ہوں۔

احادیث جو مرزائی پیش کیا کرتے ہیں۔ وہ موضوع یا ضعیف ہوتی ہیں۔ ان سب کا ایک جواب ہے جو مرزا قادیانی لکھتا ہے: "اگر بفرض محال قرآن کریم کے مخالف ایک لاکھ حدیث بھی ہو وہ سب باطل اور جھوٹ اور کسی باطل پرست کی بناوٹ ہے۔"

(ریویو آف ریلیجنز ج ٢ بابت ماہ نومبر و دسمبر ١٩٠٣ء نمبر ١١، ١٢ ص ٤٣٩)

پس جب ہم نے ختم نبوت کو قرآن مجید سے ثابت کر دیا۔ اب اگر بالفرض کوئی حدیث اس کے خلاف وہ پیش کریں تو اس کا کیا اعتبار۔

ضروری نوٹ ...... مرزا قادیانی کی امت جتنی احادیث یا آیات وغیرہ سے ختم نبوت کا انکار ثابت کرنے کے لئے تحریفات کیا کرتے ہیں۔ ان سب سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد بہت سے نبی آیا کریں گے۔ گویا نبیوں کا ایک پھاٹک کھول دیا کرتے ہیں۔ لیکن ان کا پیر و مرشد مرزا غلام احمد قادیانی تو آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت صرف اپنے لئے ہی محفوظ رکھا کرتا

M

صفحہ ٢٠٨

ہے، اس کے عقیدہ میں تو نبوت صرف مرزا کے لئے ہی مخصوص ہے، مگر امت اس قدر فیاض واقع ہوئی ہے کہ وہ کہیں نبوت کی حد بندی ہی نہیں کرتی، اور مرزا قادیانی ہی نہیں۔ بلکہ اس کا بیٹا محمود قادیانی بھی بعض جگہ یہی لکھ گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد میرا ابا ہی نبوت سے فائز ہوا ہے۔ تو گویا خلیفہ ثانی بھی طائفہ قادیانیہ کے خلاف ہے۔

ملاحظہ ہوں اقوال مرزا قادیانی

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

”غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ایک ہی فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس کے مستحق نہیں...... اس لئے خدا تعالیٰ کی مصلحت نے ان بزرگوں کو اس نعمت کو پورے طور پر پانے سے روک دیا تھا۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہوگا۔ وہ پیش گوئی پوری ہو“۔

(ایک غلطی کا ازالہ، ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص ٢٦٨)

چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا۔ وہ میں ہوں۔ اس لئے اس بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطاء کی گئی اور اس نبوت کے مقابل اب تمام دنیا بے دست و پا ہے۔ کیونکہ نبوت پر مہر ہے اور ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا۔ سو وہ ظاہر ہوگیا۔ اب بجز اس کھڑکی کے اور کوئی کھڑکی نبوت کے چشمہ سے پانی لینے کے لئے باقی نہیں“۔

محمود قادیانی کی بھی عبارت ملاحظہ ہو۔

(حقیقت النبوۃ ص ١٢٨)

”اس لئے ہم اس امت میں صرف ایک ہی نبی کے قائل ہیں...... پس ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اس وقت تک اس امت میں کوئی اور شخص نبی نہیں گزرا“۔

الحاصل...... نبوت کے اجارہ دار باپ بیٹا تو نبوت کو صرف مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے ہی مانتے ہیں۔ لیکن ان کی امت نے نبوت کا پھاٹک ایسا کھول دیا کہ جو شخص بھی آئے۔ بیشک دعویٰ نبوت کرتا جائے۔ کیونکہ کوئی قادیان سے خصوصیت نہیں۔

تصویر کا دوسرا رخ

ممکن ہے کہ بعض لوگ یہ خیال کر بیٹھیں کہ گذشتہ اقوال سے تو یہ ثابت ہوا کہ واقعی مرزا قادیانی ختم نبوت کا قائل ہے۔ تو پھر اس کے ذمہ دعویٰ نبوت کا الزام قائم کرنا شاید ظلم ہوگا اور وہ در حقیقت مدعی نبوت نہیں۔ اس لئے میں نے چاہا کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے رکھ

٨٢

دوں کہ مرزا قادیانی بایں ہمہ مدعی نبوت بھی پیش کئے دیتا ہوں۔

سے ایک رسالت اور وحی الٰہی اور مسیح موعو اقرار کیا ہے کہ میرا دعویٰ رسالت اور وحی رہی۔

موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ۔ الحق لیظہرہ علی الدین کلہ رسولہ“ کا مصداق میں اور صرف میں بھی وہ جو آنحضرت ﷺ کا ہے۔ کیونک آنحضرت ﷺ ہیں۔

ارسلنا الی فرعون رسولاً“

بن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں ال وحی بارش کی طرح نازل ہوئی۔ تو اس ل خطاب مجھے دیا گیا“۔

اس میں مرزا قادیانی کا اقرا سمجھتا تھا۔ مگر وہ فضیلت جزوی ہی سمجھا میں نے سمجھا کہ اب مجھے حضرت مسیح پر کہ نبی کو نبی پر کلی فضیلت ہو سکتی ہے۔ مرزا قادیانی خود بھی کرتا ہے۔ تو معلوم ایک اور جگہ بھی مرزا نے خو کی ہے۔ (حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج

صفحہ ٢٠٩

دوں کہ مرزا قادیانی بایں ہمہ مدعی نبوت بھی ہے اور ضرور ہے۔ لہٰذا مختصراً اس کے بھی چند ثبوت پیش کئے دیتا ہوں۔

سے ایک رسالت اور وحی الٰہی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تھا۔“ اس میں مرزا قادیانی نے صاف اقرار کیا ہے کہ میرا دعویٰ رسالت اور وحی الٰہی کا تھا اور یہی چیز تھی۔ جو میرے لئے رکاوٹ بنی رہی۔

موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔ ”هو الذي ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين کله“ اس میں مرزا نے دعویٰ کیا ہے کہ ”هو الذي ارسل رسوله“ کا مصداق میں اور صرف میں ہی ہوں۔ اس میں صاف دعویٰ رسالت ہے اور رسالت بھی وہ جو آنحضرتﷺ کا ہے۔ کیونکہ اہل اسلام کے خیال میں اس آیت کا مصداق صرف آنحضرتﷺ ہیں۔

ارسلنا الى فرعون رسولاً“

(حقیقت الوحی ص ١٠١، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)

بن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کی جزوی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح نازل ہوئی۔ تو اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“

اس میں مرزا قادیانی کا اقرار موجود ہے کہ پہلے میں خود کو مسیح ابن مریم سے اگرچہ افضل سمجھتا تھا۔ مگر وہ فضیلت جزوی ہی سمجھا کرتا تھا۔ مگر بعد میں خدا نے مجھے اس عقیدہ سے ہٹا دیا اور میں نے سمجھا کہ اب مجھے حضرت مسیح پر کلی فضیلت حاصل ہے اور اس سے کسی شخص کو بھی انکار نہیں کہ نبی کو نبی پر کلی فضیلت ہو سکتی ہے۔ البتہ جزوی فضیلت غیر نبی کو بھی ہو سکتی ہے۔ جس کا اقرار مرزا قادیانی خود بھی کرتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نبی ہے۔

ایک اور جگہ بھی مرزا نے خود کو حضرت مسیح علیہ السلام سے افضل ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ (حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)

٨٣

صفحہ ٢١٠

”خدا نے اس امت میں مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔“ ”اس مسیح کے مقابل پر جس کا نام خدا رکھا گیا۔

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا۔ جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٧٦، خزائن ج ٢١ ص ٩٩) ”پس اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کر کے بھی قید سے بچایا گیا۔ مگر یوسف بن یعقوب قید میں ڈالا گیا۔“ اس میں ایک نبی سے اپنی فضیلت ثابت کرنا چاہتا ہے۔ جیسے پہلے عرض کیا جا چکا ہے۔ نبی سے افضل نبی ہو سکتا ہے غیر نبی نہیں ہو سکتا۔

جوئی بھی ہو تو اس شبہ کا دور ہونا بہت سہل ہے۔ کیونکہ ہر ایک نبی کی سچائی تین طریقوں سے پہچانی جاتی ہے۔“ جب مرزا نبی ہے تبھی تو وہ خدا کو انبیاء کے معیار پر صحیح ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں....... ہاں یہ نبوت تشریعی نہیں جو کتاب اللہ کو منسوخ کرے اور نئی کتاب لائے۔ ایسے دعویٰ کو تو ہم کفر سمجھتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں۔ جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ صرف اللہ کی طرف سے پیش گوئیاں کرتے تھے۔ جن سے موسوی دین کی شوکت و صداقت کا اظہار ہو۔ پس وہ نبی کہلائے۔ یہی حال اس سلسلے میں ہے....... ہم نبی ہیں اور حق کی پہچان میں کسی قسم کا اخفاء نہ کرنا چاہئے۔“

اس عبارت میں صاف اعلان کیا ہے کہ ہمارا دعویٰ نبوت و رسالت کا ہے۔ اس سے اور کیا وضاحت کی جا سکتی ہے۔ بلکہ اس سے زائد میں اب یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ مرزا صرف نبوت کا ہی مدعی نہیں۔ بلکہ تشریعی نبوت کا بھی مدعی ہے۔

٨٤

تشریعی نبوت

مرزا قادیانی کے متعلق

تشریعی نبوت کا ہے۔ مگر یہ بھی دراصل میں مدعی ہے۔ اس پر وہ اور اس کی ا اپنے مقاصد کو دنیا کے سامنے واضح مدعی نبوت تشریعی ہے۔ جس کی کئی وج

کا فرض نہیں ہوتا۔ (اگرچہ درحقیقت یہ خواہ تشریعی ہو یا غیر تشریعی) بلکہ صرف خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥) میں لکھا ہوا آنحضرتﷺ کا منکر کافر ہے۔ ک القلوب اور حقیقت الوحی اور فتاویٰ ا ”یہ نکتہ یاد رکھنے کے لا ان نبیوں کی شان ہے۔ جو خدا تع صاحب شریعت کے ماسواء جس قد ہوں اور خلعت مکالمہ الہیہ سے سرف ”کفر دو قسم پر ہے۔ آنحضرتﷺ کو خدا کا رسول نہیں باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا نے تاکید کی ہے اور نبیوں کی کتاب کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے داخل ہیں۔“ ”جو پیغمبر خداﷺ ک ایمان ہو جاتا ہے۔ انجام ایک ہی ”جبکہ اللہ تعالیٰ نے

صفحہ ٢١١

تشریعی نبوت

مرزا قادیانی کے متعلق عموماً جماعت قادیانی یہ مشہور کیا کرتی ہے کہ اس کا دعویٰ غیر تشریعی نبوت کا ہے۔ مگر یہ بھی دراصل مرزا اور اس کی بزدلی اور کمزوری ہے کہ جس بات کا وہ واقع میں مدعی ہے۔ اس پر وہ اور اس کی امت ہمیشہ پردہ پوشی کرنے کی کوشش کرتے رہے اور کبھی بھی اپنے مقاصد کو دنیا کے سامنے واضح الفاظ میں نہ رکھا۔ میں یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ مرزا قادیانی مدعی نبوت تشریعیہ ہے۔ جس کی کئی وجوہ ہیں۔

کافر نہیں ہوتا۔ (اگرچہ درحقیقت یہ بھی مرزا کی غلط بیانی ہے۔ کیونکہ ہر ایک نبی کا منکر کافر ہوتا ہے خواہ تشریعی ہو یا غیر تشریعی) بلکہ صرف تشریعی نبی کا ہی منکر کافر ہو سکتا ہے اور (حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥) میں لکھا ہوا ہے کہ میرا منکر کافر ہے اور وہ ایسے ہی کافر ہے جس طرح آنحضرت ﷺ کا منکر کافر ہے۔ یہی مرزا کا فتویٰ (فتاویٰ احمدیہ ص ٢٧٩) میں بھی مذکور ہے۔ تریاق القلوب اور حقیقت الوحی اور فتاویٰ احمدیہ کی عبارتیں ذیل میں درج ہیں۔

”یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے۔ اپنے دعویٰ سے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے۔ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت کے ماسواء جس قدر ملہم ومحدث ہیں۔ گو وہ کیسی ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“

(تریاق القلوب ص ١٣٠ حاشیہ، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)

”کفر دو قسم پر ہے۔ ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور نبیوں کی کتاب میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

”جو پیغمبر خدا ﷺ کو نہ مانے کافر ہے۔ مگر جو مہدی اور مسیح کو نہ مانے اس کا بھی سلب ایمان ہو جاتا ہے۔ انجام ایک ہی ہے۔“

(فتاویٰ احمدیہ ص ٢٧٩)

”جبکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے

٨٥

صفحہ ٢١٢

کھڑکی

دھوپ

چھتری

اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے۔“

(فتاویٰ احمدیہ ص ٢٧١)

نتیجہ ...... نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا قادیانی نے کیونکہ اپنے منکرین کو کافر کہا ہے اور اپنے منکر کو کافر کہنا صرف تشریعی نبی صاحب شریعت جدید کا ہی حق ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی تشریعی نبی صاحب شریعت جدیدہ نبی ہوا۔

ج١٧ص٤٣٥) میں لکھا ہے: ”اگر کہو کہ صاحب شریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے۔ نہ ہر ایک مفتری تو اول تو یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسواء اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔

مثلاً یہ الہام ”قل للمومنین یغضوا من ابصار ہم ویحفظوا فروجہم ذلک ازکیٰ لہم“ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں۔ تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”ان ھذا لفی الصحف الاولیٰ صحف ابراھیم وموسیٰ“ یعنی قرآنی تعلیم تورات میں بھی موجود ہے اور اگر کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء امر و نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ اگر تورات یا قرآن میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ تھی۔“

اس ساری لمبی عبارت کا ماحصل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ”لو تقول علینا بعض الاقاویل، الآیۃ“ میں مدعی نبوت کے لئے تشریعی نبوت کا دعویٰ شرط نہیں رکھا اور اگر یہی شرط ہو تو بھی میں کہوں گا کہ صاحب شریعت وہ نبی ہوتا ہے جس کی وحی میں امر و نہی ہو اور اپنی امت کے لئے وہ ایک قانون بنا دے تو اس لحاظ سے میں تشریعی نبی ہوں اور اگر کوئی یہ شرط لگا دے کہ شریعت جدیدہ ہو تو پھر آنحضرت ﷺ بھی شریعت جدیدہ لے کر نہ آئے تھے۔ کیونکہ قرآن مجید کے احکام تو صحف ابراہیم وموسیٰ میں موجود تھے۔

اس خلاصہ مطلب میں سے بالکل واضح معلوم ہو رہا ہے کہ مرزا خود کو صاحب شریعت نبی خیال کرتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو تشریعی نبی نہ مانو۔ اگر مجھے تشریعی نبی نہیں سمجھتے۔

٨٦

نبوت ہے۔ جو آنحضرت ﷺ کی نبوت ”باعتبار ظلیت کاملہ کے میں وہ آئینہ ہو ہے۔“ (اخبار الحکم نمبر ١٥ج١٠، ص١، کالم ١، ٢، اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی ﷺ

اس قسم کی بہت سے عبارتیں ”ایک غلطی کا نبوت بمع جمیع کمالات کے (نعوذ باللّٰہ آنحضرت ﷺ کی نبوت تشریعی نبوت کیونکہ بقول مرزا عکس اور اصل میں بالکل

آتھم ص٢٧، ٢٨ حاشیہ، خزائن ج١١ ص٤٧، ٤٨ یقیناً حقیقی تشریعی نبی نہ ہوگا اور مسیلمہ کذا ترمیم کی ہے۔ جہاد کی آیات واحادی ہے۔ جہاد فریضہ مسلم تھا۔ لیکن مرزا قاد دیکھو ( ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦،

اب چھوڑ دو
دین کے لئ
اب آ گیا
دین کی خا

(اربعین ص١٣ حاشیہ، خزائن ج

آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت عی بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجا موقوف کر دیا گیا۔“

اس سے معلوم ہوا کہ جہاد قادیانی کے زمانہ میں آ کر موقوف ہ

صفحہ ٢١٤

نبوت ہے۔ جو آنحضرت ﷺ کی نبوت ہے۔“ دیکھو (نزول مسیح ص ٣ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٣٨١) ”باعتبار ظلیت کاملہ کے میں وہ آئینہ ہوں۔ جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔“ (اخبار الحکم نمبر ١٥ ج ١٠، ص ٨ کالم ١، ٢، ٣٠ اپریل ١٩٠٦ء) ”میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں۔“ اور بھی اس قسم کی بہت سی عبارتیں ”ایک غلطی کا ازالہ“ میں ہیں۔ کیونکہ بقول مرزا قادیانی آنحضرت کی نبوت بمع جمیع کمالات کے (نعوذ باللہ) بالکل مرزا قادیانی میں منعکس ہے۔ اس لئے جیسے آنحضرت ﷺ کی نبوت تشریعی نبوت ہے۔ مرزا کی نبوت بھی وہی ہوگی۔ یعنی تشریعی نبوت۔ کیونکہ بقول مرزا عکس اور اصل میں بالکل اتحاد ہوتا ہے۔ مغایرت بالکل نہیں ہوتی۔

آتھم ص ٢٧، ٢٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٧، ٢٨) جو شخص ذرا بھی شریعت میں تبدیلی و ترمیم کرے گا۔ وہ یقیناً حقیقی تشریعی نبی نہ ہوگا اور مسیلمہ کذاب کا بھائی ہوگا اور مرزا قادیانی نے احکام خداوندی میں ترمیم کی ہے۔ جہاد کی آیات و احادیث ہمیشہ کے لئے قابل عمل تھیں اور جب تک دنیا میں کفر ہے۔ جہاد فریضہ مسلم تھا۔ لیکن مرزا قادیانی نے اس مسئلہ کو بالکل موقوف ومنسوخ کردیا۔ دیکھو (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آگیا مسیح جو دین کا امام ہے
دین کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے

(اربعین نمبر ٤ ص ١٤ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣) ”جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“

اس سے معلوم ہوا کہ جہاد جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں منسوخ نہ ہوا تھا۔ وہ مرزا قادیانی کے زمانہ میں آکر موقوف ہو گیا۔ تو مرزا قادیانی نے آنحضرت ﷺ کے بعد آپ کی

٨٧

صفحہ ٢١٤

شریعت میں ترمیم کردی۔ حالانکہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ جہاد قیامت تک جاری ہے۔ ایک مرزا نے اور بھی ترمیم کی ہے جس کو مرزا خود تسلیم بھی کرتا ہے۔ وہ یہ کہ مرزا کے آنے سے پہلے حیات مسیح کا قائل ہونا صرف ایک اجتہادی غلطی تھی۔ جس پر کوئی خداوندی مواخذہ نہ تھا۔ مگر مرزا کے آنے کے بعد اب کوئی حیات مسیح کا عقیدہ رکھے گا۔ تو وہ پرلے درجے کا مشرک ہوگا اور خداوندی دربار میں مجرم ٹھہرے گا۔

ملاحظہ ہوں مرزا کی دونوں عبارتیں (حقیقت الوحی ص ٣٠ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢) ”مسیح موعود کے ظہور سے پہلے اگر امت میں کسی نے یہ خیال بھی کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے تو ان پر کوئی گناہ نہیں صرف اجتہادی خطاء ہے۔“

(الاستفتاء ص ٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٠ ، ملحقہ حقیقت الوحی) ”فمن سوء الادب ان يقال ان عیسیٰ ما مات و ان ھو الا شرک عظیم “ یعنی یہ سخت بے ادبی ہے کہ وفات مسیح کا اقرار نہ کیا جاوے۔ حیات مسیح کا اعتقاد بہت بڑا شرک ہے۔

اور بہت سے ایسے مسائل ہیں۔ جن پر مرزا قادیانی نے ترمیم و نسخ کا قلم کھینچ دیا ہے۔

مرزا خاتم النبیین بننا چاہتا ہے

میں یہ بھی ثابت کر دوں کہ مرزا قادیانی خود خاتم النبیین بننا چاہتا ہے۔ کیونکہ خاتم النبیین کے دو معنی ہیں۔ ایک معنی حقیقی اور صحیح ہے۔ جو تمام اہل اسلام کے ہاں مسلم ہے۔ جو میں نے مرزا کے ازالہ اوہام سے بھی ثابت کر دیا تھا۔ یعنی آخری نبی اور نبیوں کو ختم کرنے والا یعنی آنحضرت ﷺ نے نبیوں کی تعداد کو ختم کر دیا ہے۔ اب کوئی بھی ایسا نبی نہ ہوگا جس سے انبیاء کی گزشتہ گنتی اور شمار میں اضافہ کر کے پہلے شمار میں خلل انداز ہو اور مرزا قادیانی اس کا معنی یہ کیا کرتے ہیں کہ مہریں لگا لگا کر نبی بنانے والا یعنی نبی گر۔

اب میں انشاء اللہ تعالیٰ مرزا کی عبارتوں سے ہی ثابت کروں گا کہ مرزا کے زعم میں آنحضرت ﷺ خاتم النبیین نہیں۔ خواہ مسلمانوں کے معنی کو مراد رکھیں یا مرزائیوں قادیانیوں کا معنی لیا جاوے۔ لیکن وہ خود کو ہر ایک معنی سے خاتم النبیین سمجھتا ہے۔ میرے اس دعویٰ کے بھی کئی وجوہ وثبوت ہیں۔

اپنے میں آنحضرت ﷺ کی نبوت مع کمالات سمجھتا ہے۔ جیسے کہ میں (نزول مسیح حاشیہ ص ١٣ اور اخبار الحکم ٣٠/اپریل ١٩٠٦ء) کے حوالہ سے ثابت کر چکا ہوں۔ تو جب آنحضرت کی نبوت مرزا میں بالکل

٨٨

ظاہر ہوگئی ہے تو جیسے کہ آنحضرت ﷺ سید و ہیں اور افضل الاولین و آخرین ہیں۔ تو مرزا آدم اور خاتم النبیین اور شفیع المذنبین اور افضل کہتا ہے: ”بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء (ایک غلطی کا

ایسا نہ ہوگا۔ جس کو نبوت کا خطاب دے کر مرزائیوں کے خیال میں یہ معنی آنحضرت ﷺ ورسل کی گنتی اور تعداد کو ختم کرنے والے اور انبیاء کی تعداد میں مرزا کے آنے سے اضاف مرزا ہی آخری نبی ہوا۔ مرزا ہی انبیاء کے ش مرزا آنحضرت ﷺ کے بعد آ جیسے (حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠ کا نام پانے کا صرف مرزا ہی حق دار ہے منصب حاصل کر کے آیا۔ اس کے بعد اب اسلامی معنی کے مرزا ہی پر صادق آیا۔

اب دوسرا معنی مرزائیوں آنحضرت ﷺ کو یہ کہ ان کے زعم میں خاتم نبی گر۔ یہ معنی آنحضرت ﷺ پر صادق نہیں خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) اور مرزا محمود قادیا آنحضرت ﷺ کی اتباع سے تو صرف ا ایک ہی نبی پر مہر لگائی تو آپ صرف خا خاتم النبیین (بہت سے انبیاء پر مہر لگانے وہ تو مرزا ہی ثابت ہوگا جیسے مرزا لکھتا ہے کہ جو لوگ میری اتباع کر ہے۔ تو مرزا کو تو ان کے زعم میں نبوت

صفحہ ٢١٥

ظاہر ہوگئی ہے تو جیسے کہ آنحضرتﷺ سید ولد آدم ہیں اور خاتم النبیین ہیں اور آپ شفیع المذنبین ہیں اور افضل الاولین و آخرین ہیں۔ تو مرزا قادیانی بھی خاکش بدہن مرزا بھی عیاذا باللہ سید ولد آدم اور خاتم النبیین اور شفیع المذنبین اور افضل الاولین ولآخرین سب کچھ ہوگا۔ بلکہ وہ صراحۃً کہتا ہے: ”بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں ۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص٥، خزائن ج١٨ ص٢١٢ مشمولہ حقیقت النبوۃ ص٢٦٥)

ایسا نہ ہوگا۔ جس کو نبوت کا خطاب دے کر انبیاء سابقین کی گنتی پر اضافہ کیا جاوے۔ مرزا اور مرزائیوں کے خیال میں یہ معنی آنحضرتﷺ میں نہیں پایا جاتا۔ کیونکہ آنحضرتﷺ تمام انبیاء ورسل کی گنتی اور تعداد کو ختم کرنے والے اور نبوت کو بند کرنے والے اور آخری نبی نہیں ہیں۔ بلکہ انبیاء کی تعداد میں مرزا کے آنے سے اضافہ ہوا اور اب مرزا قادیانی کے بعد کوئی نبی نہ آئے گا تو مرزا ہی آخری نبی ہوا۔ مرزا ہی انبیاء کے شمار کو ختم کرنے والا اور خاتم النبیین ہوا۔

مرزا آنحضرتﷺ کے بعد آیا اور مرزا کے بعد اب کوئی شخص نبوت کا حق دار نہیں۔ جیسے (حقیقت الوحی ص٣٩١، خزائن ج٢٢ ص٤٠٦) کی عبارت پیش کی جا چکی ہے کہ ”اس امت میں نبی کا نام پانے کا صرف مرزا ہی حق دار ہے۔“ تو گویا آنحضرتﷺ کے بعد مرزا نبی کا خطاب و منصب حاصل کر کے آیا۔ اس کے بعد اب کوئی نہیں آئے گا تو آخری نبی اور خاتم النبیین از روئے اسلامی معنی کے مرزا ہی پر صادق آیا۔

اب دوسرا معنی مرزائیوں والا لیں تو تب بھی مرزا ہی خاتم النبیین ہوگا نہ آنحضرتﷺ کیونکہ ان کے زعم میں خاتم النبیین کا معنی ہے مہر لگا لگا کر بکثرت نبی بنانے والا اور نبی گر۔ یہ معنی آنحضرتﷺ پر صادق نہیں آتا۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے قول (حقیقت الوحی ص٣٩١، خزائن ج٢٢ ص٤٠٦) اور مرزا محمود قادیانی کے قول مندرجہ (حقیقت النبوۃ ص١٣٨) کے مطابق آنحضرتﷺ کی اتباع سے تو صرف ایک ہی نبی پیدا ہوا۔ یعنی مرزا قادیانی تو آپﷺ نے ایک ہی نبی پر مہر لگائی تو آپ صرف خاتم النبی (صرف ایک نبی پر مہر لگانے والے) ٹھہرے۔ خاتم النبیین (بہت سے انبیاء پر مہر لگانے والے) تو نہ ثابت ہوئے۔

وہ تو مرزا ہی ثابت ہوگا جیسے کہ میں اربعین اور تحفہ گولڑویہ سے ثابت کروں گا جہاں مرزا لکھتا ہے کہ جولوگ میری اتباع کریں گے۔ وہ وہی نعمت پائیں گے۔ جو میں نے حاصل کی ہے۔ تو مرزا کو تو ان کے زعم میں نبوت حاصل ہوئی۔ لہٰذا اس کے مریدین میں بھی نبوت جاری

٨٩

صفحہ ٢١٦

واشنگ مشین واشنگ مشین دھوبی دھوبی چھتری چھتری

رہے گی۔ چنانچہ مرزا کا الہام بھی ہے: ”ینصرک رجال نوحی الیھم من السماء“

(حقیقت الوحی ص ٧٣، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)

یعنی تیری امداد وہ لوگ کریں گے جن کو ہم وحی سے ممتاز کریں گے۔ اس لئے مرزا کے بہت سے متبعین نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ مثلاً احمد نور کابلی مسمی نبی بخش معراجکے والا۔ اب ذیل میں اربعین اور تحفہ گولڑویہ کی عبارت نقل کرتا ہوں۔ (اربعین ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٣٣٦) ”اور میں صرف یہی دعویٰ نہیں کرتا کہ خدا تعالیٰ کی پاک وحی سے غیب کی باتیں میرے پر کھلتی ہیں اور خارق عادت امر ظاہر ہوتے ہیں۔ بلکہ یہ بھی کہتا ہوں کہ جو شخص دل کو پاک کر کے اور خدا اور اس کے رسول پر سچی محبت رکھ کر میری پیروی کرے گا وہ بھی خدا تعالیٰ سے یہ نعمت پائے گا۔“ یعنی مرزا قادیانی کے اتباع کرنے سے لوگ وہی چیز حاصل کریں گے جو مرزا کو حاصل ہے۔ یعنی ان پر غیب کی باتیں کھلیں گی اور خارق عادت امر ان سے ظاہر ہوں گے۔ یہی مرزا کے ہاں نبوت کا معنیٰ ہے۔ جیسے مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ حسب آیت: ”لا یظھر علی غیبہ احدا الا من ارتضیٰ من رسول“ خدا تعالیٰ غیب کی اطلاع صرف نبیوں کو ہی دیا کرتا ہے۔ ملاحظہ ہو (ایک غلطی کا ازالہ ص٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٨، ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص ٢٦٤) ”اور یہ بھی یاد رہے کہ نبی کے معنیٰ لغت کی رو سے یہ ہیں کہ خدا کی طرف سے اطلاع پا کر غیب کی خبر دینے والا۔ پس جہاں یہ معنیٰ صادق آئیں گے ۔ نبی کا لفظ بھی صادق آئے گا اور نبی کا رسول ہونا شرط ہے۔ کیونکہ اگر وہ رسول نہ ہو تو پھر غیب مصفیٰ کی خبر اس کو مل نہیں سکتی اور یہ آیت روکتی ہے۔ ”لا یظهر علی غیبه احدا الا من ارتضیٰ من رسول۔ الخ“ تو گویا مرزا قادیانی خاتم النبیین یعنی نبی گر ہوا۔ (تحفہ گولڑویہ ص ٨٢، خزائن ج ١٧ ص ٢٢٧، ٢٢٨) ”ثلۃ من الاولین و ثلۃ من الآخرین“ یعنی ابرار اخیار کے بڑے گروہ جن کے ساتھ بدمذاہب کی آمیزش نہیں وہ دو ہی ہیں۔ ایک پہلوں کی جماعت یعنی صحابہؓ کی جماعت ...... دوسری پچھلوں کی جماعت (یعنی مرزا قادیانی کی جماعت ۔مؤلف)...... یہی دو جماعتیں اسلام میں حقیقی طور پر منعم علیہم ہیں اور خدا تعالیٰ کا انعام ان پر یہ ہے کہ ...... اپنے ہاتھ سے ان کو ایک پاک گروہ بنایا ہے۔ ان میں سے جو لوگ خدا کا الہام پانے والے اور خدا کے خاص جذبہ سے اس کی طرف کھینچے ہوئے ہیں۔ نبیوں کے رنگ میں ہیں اور جو ...... بغیر کسی غرض کے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے ہیں۔ وہ صدیقوں کے رنگ میں ہیں اور جو لوگ ...... جزائے دن کا چشم دید مشاہدہ کر کے ٩٠

جان کو ہتھیلی پر رکھنے والے ہیں۔ وہ شہیدوں فساد سے باز رہنے والے ہیں۔ وہ صلحاء کے اس عبارت کا حاصل یہ ہوا کہ وہ مرزا کی امت ہے اور اس امت میں انبیا ہوا اور مرزائی معنیٰ کے لحاظ سے خاتم النبیین حتمیہ ....... بلکہ مرزائیوں نے خاتم النبیین آنحضرت ﷺ خاتم النبیین نہیں ٹھہر سکے النبیین ٹھہریں گے اور یہ لفظ خاتم النبیین آئے گا۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی اتباع ج ٢٢ ص ٤٠٦) (بقول محمود قادیانی (ضمیمہ حق قادیانی اور وہی ایک بروز شروع سے ام محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری ز

نیز ان کے بالمقابل حضر ان کے تابع اور خادم پیدا ہوتے اور ان قادیانی کی وہ عبارتیں جن سے حضرت (ازالہ اوہام ص ٤١٧، خزائن ج موسوی روح ان کے شاگرد یوشع کو عطا میں ہو کر اور موسوی صورت پکڑ کر وہ کام ہی تھا۔ کیونکہ اس نے موسیٰ میں ہو کر لو سے موسوی روح پا کر اس کام کو کیا تھا۔ (چشمہ مسیحی ص ٦٧ حاشیہ، خزا ہمارے سید و مولیٰ خیر الرسل وافضل الان اس امت میں عیسیٰ بن مریم کا مثیل آ اسرائیلی عیسیٰ کو کسی وقت خدا تعالیٰ دوبا

صفحہ ٢١٧

جان کو ہتھیلی پر رکھنے والے ہیں۔ وہ شہیدوں کے رنگ میں ہیں اور جو لوگ ان میں سے ہر ایک فساد سے باز رہنے والے ہیں۔ وہ صلحاء کے رنگ میں ہیں۔"

اس عبارت کا ماحصل یہ ہوا کہ دو جماعتوں میں سے ایک جماعت جو حقیقتاً ملہم ہے۔ وہ مرزا کی امت ہے اور اس امت میں انبیاء وصدیقین وشہداء وصلحاء ہوں گے تو مرزا قادیانی نبی گر ہوا اور مرزائی معنی کے لحاظ سے خاتم النبیین ہوا اور مرزا کے اتباع سے انبیاء پیدا ہوئے۔

تنبیہ...... بلکہ مرزائیوں نے خاتم النبیین کا جو معنی کیا ہے۔ اس کے معنی کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ خاتم النبیین نہیں ٹھہر سکتے۔ البتہ بزعم مرزا قادیانی حضرت موسیٰ علیہ السلام خاتم النبیین ٹھہریں گے اور یہ لفظ خاتم النبیین کا آنحضرت ﷺ سے ہٹ کر موسیٰ علیہ السلام پر صادق آئے گا۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی اتباع سے تو بقول مرزا قادیانی (حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) و بقول محمود قادیانی (ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص ١٤٨) صرف ایک ہی نبی پیدا ہوا۔ یعنی مرزا قادیانی اور وہی ایک بروز شروع سے امت محمدیہ میں مقدر تھا۔ بقول مرزا قادیانی: ”ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا۔ سو وہ ظاہر ہو گیا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١١)

لیکن ان کے بالتقابل حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی اور اتباع سے بہت سے نبی ان کے تابع اور خادم پیدا ہوئے اور ان کے کئی ایک بروز دنیا میں تشریف لائے۔ ملاحظہ ہوں مرزا قادیانی کی وہ عبارتیں جن سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اتباع سے انبیاء کا آنا ثابت ہوتا ہے۔

(ازالۂ اوہام ص ٩١٤، خزائن ج ٣ ص ٦٠٧) ”موسیٰ کی وفات کے بعد موسوی قوت اور موسوی روح ان کے شاگرد یوشع کو عطاء ہوئی اور وہ خدا تعالیٰ کے حکم اور اس کے نفخ روح سے موسیٰ میں ہو کر اور موسوی صورت پکڑ کر وہ کام بجالایا جو موسیٰ کا کام تھا۔ سو خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ موسیٰ ہی تھا۔ کیونکہ اس نے موسیٰ میں ہو کر اور موسیٰ کی پیروی میں پوری فنا اختیار کر کے اور خدا تعالیٰ سے موسوی روح پا کر اس کام کو کیا تھا۔“

(چشمہ مسیحی ص ٦٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٠ ص ٣٨١، ٣٨٢) ”یہ لوگ جو مولوی کہلاتے ہیں۔ ہمارے سید ومولیٰ خیر الرسل وافضل الانبیاء آنحضرت ﷺ کی ہتک کرتے ہیں۔ جبکہ کہتے ہیں کہ اس امت میں عیسیٰ بن مریم کا مثیل کوئی نہیں آسکتا تھا۔ اس لئے ختم نبوت کی مہر کو توڑ کر اسی اسرائیلی عیسیٰ کو کسی وقت خدا تعالیٰ دوبارہ دنیا میں لائے گا اور اس اعتقاد سے صرف ایک گناہ نہیں،

٩١

صفحہ ٢١٨

بلکہ دو گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اوّل یہ کہ ان کو یہ اعتقاد رکھنا پڑتا ہے کہ جیسا کہ ایک بندہ خدا کا عیسیٰ نام جس کو عبرانی میں یسوع کہتے ہیں۔ تیس برس تک موسیٰ رسول اللہ کی شریعت کی پیروی کر کے خدا کا مقرب بنا اور مرتبہ نبوت پایا۔ اس کے مقابل پر اگر کوئی شخص بجائے ٣٠ برس کے پچاس برس بھی آنحضرتﷺ کی پیروی کرے، تب بھی وہ مرتبہ نہیں پاسکتا۔“

(چشمہ مسیحی ص ٧٣، خزائن ج ٢٠ ص ٣٨٨ و اخبار الحکم نمبر ١٢ ج ١٠، ١٠؍ اپریل ١٩٠٦ء ص ٦ کالم نمبر ٤)

”گویا آنحضرتﷺ زندہ چراغ نہیں ہیں۔ بلکہ مردہ چراغ ہیں۔ جن کے ذریعہ سے دوسرا چراغ روشن نہیں ہوسکتا۔ وہ اقرار رکھتے ہیں کہ موسیٰ نبی زندہ چراغ تھا۔ جس کی پیروی سے صدہا نبی چراغ ہوگئے اور مسیح اس کی پیروی تیس برس تک کر کے توریت کے احکام کو بجا لاکر موسیٰ کی شریعت کا جو اپنی گردن پر لے کر نبوت کے انعام سے مشرف ہوا۔ مگر ہمارے سید ومولیٰ حضرت محمدﷺ کی پیروی کسی کو کوئی روحانی انعام عطا نہ کرسکی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٢٦٦) ”ان الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرتﷺ اس موعود کو اپنا بروز بیان فرمانا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یشوعا بروز تھا۔“

ان چاروں عبارتوں سے معلوم ہوا کہ حضرت یشوع حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بروز تھا اور ان کی اتباع سے ان میں فنا ہوکر نبوت پانے والا تھا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اتباع سے نبوت حاصل کی اور صدہا نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اتباع سے نبی ہوئے تو پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام تو خاتم النبیین ہوئے۔ یعنی اپنی مہر سے انہوں نے بہت سے نبی بنا کر دنیا میں بھیجے۔ وہ کئی نبیوں کے لئے نبوت بخشنے والے ہوئے اور کافی شمار کے نبیوں پر انہوں نے مہر کر کے نبی گر ہونے کا لقب حاصل کیا۔

لیکن آنحضرتﷺ کی مہر سے صرف ایک ہی نبی بنا یعنی مرزا قادیانی۔ تو آپ صرف خاتم النبی یعنی ایک نبی کا مہر لگانے والے ٹھہرے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام خاتم النبیین یعنی بہت سے نبیوں کو مہر لگانے والے ہوگئے۔ تو اب بزعم طائفہ قادیانیہ آنحضرتﷺ کی ہتک ہوئی۔ یا عزت؟ یا یوں کہیں کہ آنحضرتﷺ کی مہر سے ہزارہا نبی ہوئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مہر سے صرف صدہا نبی ہوئے۔ لیکن یہ مرزا غلام احمد اور محمود قادیانی کی تصریحات کے خلاف ٹھہرے گا۔

٩٢

صفحہ ٢١٩

مرزا قادیانی کی نبوت

مرزا قادیانی کی کتابیں دیکھنے سے خصوصاً ”ایک غلطی کا ازالہ“ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا کا دعویٰ یہ ہے کہ مجھے آنحضرت ﷺ اور خدا تعالیٰ کی اطاعت کر کے نبوت حاصل ہوئی ہے اور وہ کہتا ہے کہ میری نبوت وہی ہے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت تھی۔ مجھ میں اور آنحضرت ﷺ میں بالکل مغائرت نہیں۔ میں وہی محمد واحمد ہوں اور آنحضرت ﷺ کا بالکل عکس و ظل و بروز ہوں اور صدیقی کھڑکی سے میں نے نبوت حاصل کی ہے۔ اس پر ہماری چند تنقیحات ہیں۔

ابوبکر صدیقؓ کا حق تھا کہ وہ خود کو نبی کہلاتے۔ کیونکہ صدیقیت میں اصل آپ ہی ہیں۔ لیکن کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ حضرت صدیقؓ نے کبھی کوئی ظلی یا بروزی یا مجازی یا عکسی نبوت کا دعویٰ کیا ہو۔ بلکہ وہ تو سب سے اول مدعی نبوت کی سرکوبی کرنے والے تھے اور یہ بھی دنیا اسلام جانتی ہے کہ جس قدر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اللہ تعالیٰ اور آنحضرت ﷺ کی اطاعت کی ہے۔ اس قدر اور کسی بھی فرد بشر نے اطاعت نہیں کی۔ پس اگر اتباع سے نبوت حاصل ہونی ہوتی تو سب سے پہلے وہ نبوت کے حق دار تھے۔

البشریٰ ص ٨٢ خزائن ج ٧ ص ٣٠١) ”ولاشك ان التحديث موهبة مجردة لاتنال بكسب البتة كما هو شأن النبوة“ یعنی نبوت اور محدثیت دونوں وہبی چیزیں ہیں۔ کسی کسب وغیرہ سے ہرگز حاصل نہیں ہوسکتیں۔

(چشمہ مسیحی ص ٤٢ خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٨) ”صراط الذین انعمت عليهم“ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص کو یہ مرتبہ ملا۔ انعام کے طور پر ملا یعنی محض فضل سے نہ کسی عمل کا اجر ۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٣ خزائن ج ١٨ ص ٢١٠) ”یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعہ سے امور غیبیہ کھلتے ہیں۔“ ان سب عبارتوں سے معلوم ہوا کہ محدثیت اور نبوت سب وہبی امور ہیں۔ کسبی چیز نہیں کہ اطاعت اور اتباع سے حاصل ہوا کریں۔

شریعت کی پابندی کے لحاظ سے تو مرزا کا نمبر قریباً قریباً صفر ہے۔ وہ تو عموماً رسوم کا ہی پابند رہا۔ ایک تو وہ چیزیں ہیں۔ جن کو از روئے شرع ثابت کر سکتے ہیں کہ مرزا نے ان کی اتباع نہیں کی۔

٩٣

صفحہ ٢٢٠

بلکہ قرآن وحدیث کی ان میں وہ خلاف ورزی کرتا رہا۔ وہ امور تو بہت سے ہیں۔ مگر میرا مرکزی نقطہ مرزائیت کا لٹریچر ہے۔ اس لئے میں اسی نقطہ کے لحاظ سے عرض کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے کیا کیا خلاف اطاعت کیا؟ کیونکہ جو چیزیں خود مرزا کے ہاں کی ہوں گی۔ وہ زیادہ قابل قبول ٹھہریں گی۔

مرزا قادیانی خود لکھتا ہے۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠٩، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٣) ”اس زلزلہ کے بعد مجھے بار بار خیال آیا کہ میں نے بڑا گناہ کیا کہ جیسا کہ حق شائع کرنے کا تھا۔ اس پیش گوئی کو شائع نہ کیا۔“

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول
میں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگاہ میں بار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ١٢٧)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٥٩، خزائن ج ٢٢ ص ٤٩٤) ”مجھے افسوس ہے کہ میں اس کی راہ میں طاعت اور تقویٰ کا حق بجا نہیں لا سکا۔ جو میری مراد تھی اور اس کے دین کی وہ خدمت نہیں کر سکا۔ جو میری تمنا تھی۔ میں اس درد کو ساتھ لے جاؤں گا کہ جو کچھ مجھے کرنا چاہئے تھا۔ میں کر نہیں سکا ..... جب مجھے اپنے نقصان حالت کی طرف خیال آتا ہے تو مجھے اقرار کرنا پڑتا ہے کہ میں کیڑا ہوں۔ نہ آدمی اور مردہ ہوں نہ زندہ۔“

(ازالہ اوہام ص ١٥ تتمہ نور الدین کا خط ایک سائل کے جواب میں، خزائن ج ٣ ص ١٣٥) ”بخدا یہ سچ اور بالکل سچ ہے اور قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ در حقیقت مجھ میں کوئی علمی اور عملی خوبی یا ذہانت اور دانش مندی کی لیاقت نہیں اور میں کچھ بھی نہیں ۔“

(کتاب البریہ حاشیہ ص ١٥١، خزائن ج ١٣ ص ١٨٢) ”میرا والد صاحب اپنے بعض آباؤ اجداد کے دیہات کو دوبارہ لینے کے لئے انگریزی عدالتوں میں مقدمات کر رہے تھے۔ انہوں نے انہی مقدمات میں مجھے بھی لگایا اور ایک زمانہ دراز تک میں ان کاموں میں مشغول رہا۔ مجھے افسوس ہے کہ بہت سا وقت عزیز میرا ان بیہودہ جھگڑوں پر ضائع گیا۔“

١ کوئی یہ نہ کہہ دے کہ یہ قابل تاویل ہے۔ کیونکہ مرزا نے (حمامۃ البشریٰ ص ١٤ حاشیہ، خزائن ج ٧ ص ١٩٢) میں لکھا ہے کہ جملہ قسمیہ قابل تاویل و تخصیص نہیں ہوتا۔

٩٤

صفحہ ٢٢١

اس کے علاوہ مرزا قادیانی کے گناہ درج ذیل ہیں کہ ایک تو خدا تعالیٰ کی کھلی کھلی وحی اس کو سالہا سال تک مسیح موعود قرار دیتی رہی۔ لیکن وہ قریباً بارہ سال تک خدا کی کھلی کھلی وحی کی خلاف ورزی کر کے اپنے مسیح موعود ہونے سے انکار کرتا رہا۔ (اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

دوسرا یہ کہ مرزا قادیانی نے بزعم خود قرآن وحدیث والہام رد کر کے قریباً بارہ سال تک حیات مسیح کا عقیدہ رکھا جو ایک شرکیہ عقیدہ تھا۔ (اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣) حالانکہ بقول مرزا یہ شرک عظیم ہے۔ (الاستفتاء ص ٣٩ ملحقہ حقیقت الوحی ، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٠)

تیسرے یہ کہ مرزا نے خلاف تصریحات قرآنیہ اور احادیث نبویہ وخلاف اصول لغت یا عیسیٰ انی متوفیک الآیۃ کا معنیٰ براہین احمدیہ میں ”پوری نعمت دینے والا“ کیا۔ حالانکہ بزعم مرزا اس کا معنیٰ قرآن وحدیث والہام اور عقل ولغت کی روشنی میں ”مارنے والا“ تھا۔

چوتھے یہ کہ بزعم محمود قادیانی اس کا باپ قریباً بیس سال تک ختم نبوت کا قائل رہا۔ حالانکہ قرآن وحدیث سے ختم نبوت کا انکار ثابت ہو رہا تھا۔

پانچواں یہ کہ بزعم محمود قادیانی اس کا باپ قریباً بیس سال تک اپنی نبوت کا انکاری رہا۔ (ایک نبی کی نبوت کا منکر کافر ہوتا ہے)

یہ تو وہ گناہ اور جرائم ہیں۔ جو مرزائی لٹریچر میں تسلیم شدہ ہیں۔ تو پھر ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مرزا نے خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کر کے نبوت حاصل کی؟ یہ اطاعت تھی یا بالکل الٹا مخالفت کر رہا تھا؟ چنانچہ خود اس نے صاف (اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣) میں لکھ دیا: ”میں نے خدا کی کھلی کھلی وحی کی مخالفت کی تھی۔“

تو پھر کون الٹی کھوپڑی والا تسلیم کرے کہ مرزا نے اتباع واطاعت سے نبوت حاصل کی؟ سوائے اس کے کہ یہ کہا جائے کہ جس طرح کی اطاعت مخالفت کے رنگ میں تھی۔ اسی طرح نبوت بھی دجالیت کے رنگ میں تھی۔

چھٹے یہ کہ بروزی نبوت اور ظلی وعکسی نبوت کی اصطلاحیں بہت جھوٹے مدعیان نبوت کی اصطلاحیں ہیں۔ مرزا نے بھی انہی کی اتباع کی ہے۔

ساتویں یہ کہ مرزا قادیانی نے خود کو کئی ایک انبیاء کا بروز ثابت کیا ہے۔

منم مسیح زمان ومن کلیم خدا
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

٩٥

صفحہ ٢٢٢

اور کون سا نبی ہے جس کے نام پانے کا مرزا نے دعویٰ نہیں کیا۔ اب معلوم نہیں کہ ہم اس کو کس کا بروز اور ظل سمجھیں۔ تحفہ قیصریہ میں وہ خود کو مسیح کا بروز کہتا ہے۔ اسی طرح آئینہ کمالات اسلام میں بھی خود کو حضرت مسیح کا صحیح جانشین سمجھتا ہے۔ اب یا تو یہ کہیں کہ مرزا کا یہ کہنا کہ اصل بروز میں بالکل مغائرت باقی نہیں رہتی۔ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٢٦٣) یہ محض جھوٹ ہے اور یا یہ کہنا کہ میں فلاں فلاں نبی کا بروز ہوں، یہ غلط ہے۔ کیونکہ اگر آنحضرت ﷺ کی نبوت کا بروز ہے تو پھر حضرت مسیح وغیرہ کا بروز نہیں ہو سکتا ہے۔ کیونکہ تشریعی اور غیر تشریعی نبوتیں غیر غیر ہیں اور اگر حضرت مسیح کا بروز ہے اور اس میں یسوع کی روح ہے۔ تو پھر آنحضرت ﷺ کا بروز نہیں ہو سکتا۔ ہمارے نزدیک سب غلط ہے۔

(الاستفتاء ملحقہ حقیقت الوحی ص ٨٣ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٩) میں سب انبیاء کا خود کو سمی

ٹھہراتا ہے۔ ”وكذلك سمانى بجميع اسماء الانبياء من آدم الى خاتم الرسل“ (ایضاً ص ٨٣ خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٩) ”نزلت سرر من السماء ولكن سريرك وضع فوق كل سرير“

(نزول المسیح ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٠ مؤلفہ ١٩٠٢ء) ”پس چونکہ میں اس کا رسول یعنی

فرستادہ ہوں مگر بغیر کسی نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے بلکہ اسی نبی کریم خاتم الانبیاء کا نام پا کر اور اسی میں ہو کر اور اسی کا مظہر بن کر آیا ہوں ۔“

(نزول المسیح ص ٤٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٧) ”میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نام

سرور انبیاء نے نبی اللہ رکھا ہے اور اس کو سلام کہا ہے۔“

(نزول المسیح ص ٨١،٨٢، خزائن ج ١٨ ص ٤٦٠) ”جیسا کہ وحی تمام انبیاء علیہم السلام کی

حضرت آدم سے لے کر آنحضرت ﷺ تک از قبیل اضغاث واحلام وحدیث النفس نہیں ہے۔ ایسا ہی یہ وحی بھی ان شبہات سے پاک اور منزہ ہے اور اگر کہو کہ اس وحی کے ساتھ جو اس سے پہلے انبیاء کو ہوئی تھی، معجزات اور پیش گوئیاں ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ اکثر گذشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیش گوئیاں موجود ہیں۔ بلکہ بعض گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور پیش گوئیوں کو ان معجزات اور پیش گوئیوں سے کچھ نسبت ہی نہیں اور نیز ان کی پیش گوئیاں اور معجزات اس وقت محض بطور قصوں اور کہانیوں کے ہیں۔“

(نزول المسیح ص ٩١، خزائن ج ١٨ ص ٤٦٩) ”وہ مذہب مردہ ہے جس میں ہمیشہ کے لئے

یقینی وحی کا سلسلہ جاری نہیں۔ کیونکہ وہ انسانوں پر یقین کی راہ بند کرتا ہے۔“

صفحہ ٢٢٣

ایک مشہور شبہ اور اس کا ازالہ

مرزا قادیانی اور اس کی امت اپنے زعم میں اہل اسلام پر ایک بہت بڑا شبہ پیش کیا کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ اگر تمہارے خیال کے موافق حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آویں تو آنحضرت ﷺ خاتم النبیین نہیں رہ سکتے اور مرزا قادیانی کہتا ہے کہ یہ اعتراض مجھ پر بھی وارد ہوتا ہے۔ لیکن اے مسلمانو ! تم بھی اس اعتراض سے بچ نہیں سکتے۔

(ایک غلطی کا ازالہ ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص ٢٦٥) پھر اسی صفحہ پر ایک غلطی کا ازالہ میں دعویٰ کرتا ہے کہ میں کیونکہ آنحضرت ﷺ کا بروز ہوں۔ گویا وہی ہوں۔ اس لئے میرے آنے سے ختم نبوت کی مہر نہیں ٹوٹتی۔ لیکن حضرت مسیح کے آنے سے ختمیت کی مہر ٹوٹ جائے گی۔ میں چاہتا ہوں کہ آخر میں ان کے اس شبہ واہیہ کا بھی ازالہ کردوں۔

الجواب ...... پہلے میں یہ عرض کردوں کہ ہمارے ہاں خاتم النبیین کا معنی کیا ہے۔ اس کی وضاحت کے بعد کوئی شبہ باقی نہ رہے گا۔ ہم خاتم النبیین کا معنی یہ کرتے ہیں کہ نبوت کو ختم کرنے والا یعنی انبیاء کا شمار اب بند ہو گیا ہے اور کوئی ایسا نبی نہ ہوگا جس کے آنے سے انبیاء کی تعداد میں اضافہ ہو۔ آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔ یعنی انبیاء کرام کا شمار زیادہ ہوتا گیا۔ حتیٰ کہ آخری نمبر زمانہ کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ کا نمبر ٹھہرا۔ فرض کرو کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام ہو چکے تھے تو آپ ﷺ کے آنے سے پورے ایک لاکھ چوبیس ہزار کی گنتی پوری ہوگئی۔ اب آپ ﷺ نے آکر انبیاء علیہم السلام کے تعداد و شمار کو بند کر دیا۔ اگرچہ آنحضرت ﷺ کی نبوت سب سے اول تھی۔ لیکن زمانہ کے لحاظ سے ظہور آپ ﷺ کا سب سے اخیر میں ہوا۔ اب کسی شخص کو آنحضرت ﷺ کے بعد انبیاء سابقین کے علاوہ اگر منصب نبوت پر فائز کیا جائے ۔ تو پھر اس کے آنے سے یقیناً انبیاء علیہم السلام کے شمار میں اضافہ ہوگا۔ مثلاً پھر ایک لاکھ چوبیس ہزار اور ایک نبی ہو جائیں گے اور پہلے انبیاء کی جو گنتی بند ہو چکی تھی وہ بند نہ ہوگی اور اس تعداد پر زیادتی ہو جائے گی اور یہ ختم نبوت کے منافی ہوگا۔

اب اس معنی کے بعد میں عرض کروں گا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اگر آنحضرت ﷺ کے بعد دوبارہ تشریف فرما ہوں تو اس سے ختم نبوت اور خاتم النبیین کے مفہوم میں کوئی کسی قسم کا خلل واقع نہ ہوگا۔ کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کا شمار تو پہلے ہو چکا ہے۔ اب وہ دوبارہ نہیں۔ اگر بالفرض سہ بارہ بھی آجائیں یا چالیس سال نہیں بلکہ اس سے زیادہ سال بھی ان پر وحی ہوتی رہے۔

٩٧

صفحہ ٢٢٤

اس سے بڑھ کر بالفرض اگر تمام انبیاء کرام علیہم السلام سابقین بھی دوبارہ آ جائیں ۔ تو اس سے ختم نبوت اور خاتم النبیین کے مفہوم میں کسی قسم کی خرابی نہ ہوگی۔ کیونکہ ان سب انبیاء کرام علیہم السلام کا شمار پہلے ہو چکا ہے۔ اب ان کے دوبارہ آنے سے سابقہ تعداد میں کوئی اضافہ نہ ہوگا اور آخری نبی اور خاتم النبیین بھی آنحضرت ﷺ ہی رہیں گے۔ کیونکہ ظہور کے لحاظ سے اور زمانہ کے لحاظ سے آخری نمبر پر آنحضرت ﷺ کو ہی نبوت عطاء ہوئی ہے۔ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت عطاء نہ ہوگی۔ اسی مفہوم کو ہمارے علماء اہل اسلام نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔

”انقطاع حدوث وصف النبوة في احد من

(تفسیر روح المعانی ص٣٢ ج٢٢)

الثقلين بعد تحليته عليه الصلوة والسلام بها في هذه النشاة “ یعنی اس عالم ظہور میں آنحضرت ﷺ کے منصب نبوت سے ممتاز ہو چکنے کے بعد کسی نبی کو وصف نبوت سے نہ نوازا جائے گا۔

”خاتم النبيين ختم به النبوة بعده “ یعنی

(تفسیر خازن ص٢١٨ ج٥)

آنحضرت ﷺ کے بعد اب کسی کو نبوت حاصل ہو یہ نہ ہوگا۔ بلکہ نبوت ختم ہو چکی ہے۔ نہ یہ کہ پہلے انبیاء کی نبوت بھی سلب ہوگئی ہے۔

”خاتم النبيين آخر هم يعنى لاينبأ احد بعده “

(تفسیر مدارک ص٢١١)

مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اب کسی کو نئی نبوت حاصل نہ ہوگی۔ کیونکہ آپ آخری نبی ہیں۔ یعنی آپ کا نمبر زمانہ اور ظہور کے لحاظ سے سب سے آخری نمبر ہے۔ اگرچہ ذاتی طور پر آپ مرکز نبوت ہیں اور اوّل الانبیاء ہیں۔

پس حاصل جواب یہ ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام کے دوبارہ آنے سے انبیاء کرام علیہم السلام کے شمار میں کوئی فرق نہیں آیا۔ جو تعداد انبیاء کرام علیہم السلام کی پہلے تھی وہی باقی رہے گی۔ لیکن مرزا قادیانی یا مسیلمہ کذاب یا ان جیسے اور مدعیان نبوت کی نبوت کو صحیح تسلیم کرنے سے خاتم النبیین اور ختم نبوت کا مفہوم بالکل بگڑ جائے گا اور جو شمار انبیاء کرام علیہم السلام کا پہلے ہو چکا ہے۔ اس پر یقیناً اضافہ کرنا ہوگا۔ کیونکہ مرزا قادیانی اور اس کے یارانِ طریقت تمام مدعیان نبوت کا پہلے اعداد میں شمار نہیں ہوا۔ لہٰذا وہ پہلے نمبروں پر زائد ہوں گے۔ مثلاً فرض کرو کہ اگر پہلے دو لاکھ بیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام کا شمار تھا تو اب اس عدد پر ایک یا دو یا تیس چالیس کا اضافہ ہو جائے گا اور آخری نمبر پھر مرزا قادیانی کا ہوگا۔ وہی خاتم الانبیاء ٹھہرے گا۔

٩٨

صفحہ ٢٢٥

نعوذ باللہ ! اس اجمالی عرضداشت سے مرزا کے آنے سے ختم نبوت کے مفہوم کا بگڑ جانا اور حضرت مسیح کے دوبارہ آنے سے مفہوم خاتم النبیین میں کوئی فرق نہ پڑنا بالکل روز روشن کی طرح واضح ہو چکا ہے۔ فالحمدلله على ذالك!

ہاں ! ایک چیز رہ جاتی ہے کہ شاید کوئی مرزائی کہہ دے کہ صاحب مرزا قادیانی کیونکہ ایک بروزی نبی ہے اور وہ غیر مستقل نبی ہے۔ اس لئے اس کے آنے سے شمار و تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ تو یہ باطل ہے۔ کیونکہ انبیاء کی تعداد میں تشریعی اور غیر تشریعی سب شامل ہیں۔ چنانچہ باقرار مرزا قادیانی حضرت یوشع علیہ السلام یا حضرت مسیح علیہ السلام بروزی یا غیر تشریعی نبی اور دوسرے نبی کے متبع تھے۔ تو ان کے آنے سے کیا اضافہ نہیں ہوا اور ان کے آنے کو انبیاء کرام علیہم السلام کا آنا نہیں سمجھا گیا؟ یقیناً ان کو تعداد میں شمار کیا گیا اور ان کو بھی انبیاء کرام علیہم السلام کی گنتی میں داخل کیا گیا۔

چنانچہ قرآن مجید نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کے انبیاء علیہم السلام کا یوں ذکر فرمایا: ”وقفينا من بعده بالرسل (البقرہ: ٨٧)“ تو ان کو بھی انبیاء ورسل کی صف میں شمار کیا گیا تھا۔ اب دو ہی صورتیں ہیں یا تو باقرار خود بروزی انبیاء کی آمد کو انبیاء علیہم السلام کی آمد نہ سمجھو اور مذکورہ آیت کا انکار کر دو۔ یا پھر تسلیم کرو کہ مرزا قادیانی کے آنے سے انبیاء علیہم السلام کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور ایک نمبر اور بڑھ جائے گا تو آخری نبی آنحضرت ﷺ نہ رہے۔ نعوذ باللہ!

ایک اور شبہ اور اس کا ازالہ

ایک اور شبہ مرزائیوں کی طرف سے پیش ہوا کرتا ہے کہ پہلے انبیاء علیہم السلام کی شریعت کی خدمت کے لئے تو انبیاء کرام علیہم السلام تشریف لایا کرتے تھے۔ اب اس امت میں بھی اگر انبیاء علیہم السلام تشریف نہ لائیں تو آپ کی امت خیر امت اور بہترین امت نہ رہے گی۔ الجواب....... یہ بھی ایک محض دھوکہ دہی ہے۔ اول تو اس لئے کہ شہادۃ القرآن مولفہ قادیانی کو پڑھو تو اس میں مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ پہلے انبیاء کے بعد تو خدمت دین کے لئے انبیاء کرام غیر تشریعی آیا کرتے تھے۔ اب اس امت میں بوجہ ختم نبوت کے انبیاء (غیر تشریعی) تو نہیں آئیں گے۔ البتہ خلفاء آتے رہیں گے اور مجددین کا وقتاً فوقتاً دور دورہ ہوتا رہے گا تو تمہارا مرزا قادیانی ہی اس کا جواب دے چکا۔

ثانیاً یہ کہ اگر آنحضرت ﷺ کی امت میں علماء و مجددین ہی وہ فریضہ ادا کر دیں جو ڈیوٹی بنی اسرائیل کے انبیاء علیہم السلام ادا کیا کرتے تھے۔ تو آپ کی امت خیر امت ہوگی اور اس

٩٩

صفحہ ٢٢٦

میں امت مرحومہ کی افضلیت ثابت ہوگی۔ کیونکہ ادنیٰ درجہ کے لوگ اعلیٰ درجہ والے حضرات کی ڈیوٹی ادا فرمارہے ہیں۔ سو اس میں آنحضرتﷺ یا آپ کی امت کی کوئی ہتک نہیں بلکہ زیادہ عزت ہے۔

اقوال بزرگان دین کا جواب اجمالی

مرزائی لوگ بسا اوقات ملا علی قاریؒ و شیخ اکبرؒ وغیرہم کی عبارتیں پیش کیا کرتے ہیں۔ جن کا ماحصل مرزائیوں کے خیال میں یہ ہوتا ہے کہ نبوت تشریعی بند ہے اور اس کا مفہوم مخالف مرزائیوں کے زعم میں یہ ہوتا ہے کہ نبوت غیر تشریعی جاری ہے۔

جواب اس کا یہ ہے کہ بقول مرزا محمود قادیانی مسلمانوں کا عقیدہ یہ تھا کہ نبوت صرف تشریعی ہی ہوتی ہے۔ (دیکھو حقیقت النبوۃ ص ١٢٢،١٢٤) تو ہم یہ کہیں گے کہ بقول مرزا محمود قادیانی اہل اسلام کے نزدیک صرف ایک ہی نبوت تھی۔ یعنی تشریعی تو گویا کوئی نبوت جاری نہ ہوئی۔

عبارت (حقیقت النبوۃ ص ١٢٤،١٢٣،١٢٢،١٣٦) یہ ہے کہ: ”نبی کی وہ تعریف جس کی رو سے آپ اپنی نبوت سے انکار کرتے رہے ہیں۔ یہ ہے کہ نبی وہی ہوسکتا ہے جو کوئی نئی شریعت یا پچھلی شریعت کے بعض احکام منسوخ کرے یا یہ کہ اس نے بلاواسطہ نبوت پائی ہو اور کسی دوسرے نبی کا متبع نہ ہو۔ یہ تعریف عام طور پر مسلمانوں میں مسلم تھی۔“

آخری گزارش

کیونکہ میں نے شروع میں عرض کیا تھا کہ میری تمام تر توجہ مرزا قادیانی کے اقوال و تحریرات کی طرف رہے گی اور وہی میرے اس رسالہ کا مرکزی نقطہ ہوگا۔ اس لئے بہت سی جگہوں میں میں نے کسی حدیث یا آیت قرآنیہ کا اصلی اور صحیح مفہوم واضح کرنے کی طرف کم توجہ کی ہے اور بطریق تسلیم مرزا قادیانی اور اس کی امت کے مسلمات پر ہی قناعت کر کے گفتگو کرتا رہا ہوں۔ کوئی صاحب یہ نہ سمجھ لیں کہ میں نے مرزائیوں کی تحریفات پر جج کا فیصلہ صادر کر دیا ہے۔ والعیاذ باللہ !

امت مرزائیہ کے لئے

کیونکہ میں مرزا قادیانی کو مرتد کافر دائرہ اسلام سے خارج اور موجودہ زمانہ کا دجال سمجھتا ہوں۔ اس لئے میں نے کہیں بھی مرزا قادیانی کو ادب اور تعظیم کے الفاظ سے یاد نہیں کیا۔ کیونکہ آج تک آپ بھی اور اہل اسلام بھی مسیلمہ کذاب کو یا اسود عنسی کو یا ان جیسے دوسرے مدعیان نبوت کو کبھی ادب وتکریم کے لفظ سے ذکر نہیں کیا کرتے۔ کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ جناب

١٠٠

حضرت مسیلمہ کذاب صاحبؒ ہو معذور سمجھا جائے۔ البتہ تمہارے سے یاد کیا ہے نہ تعظیمی الفاظ سے اور خواہ مخواہ آپ اشتعال میں آ کر ترک نہ کر دیں۔ خیراندیش ....... مجھ

صدق و کذب مرزا قادیانی

ہوئی ہے۔ لیکن یہ غلط ہے۔ کیون البشریٰ ص ٨٢، خزائن ج ٧ ص ٣٠١) ”

البتة كما هو شان النبوة

(الاستفتاء ص ٢٢، خزائن

هذه النعمة على سبيل الم

(حقیقت الوحی ص ٦٢ ،

ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ گئی۔ الخ۔

(قریب منہ ص ٦٧ ، ب

موجب خدا تعالیٰ کی رحمانیت ۔ نیز مرزا قادیانی نے بعد از الہام بیس سال تک مبتلا ر

جبکہ مرزا خود مقر ہے کہ میری نبو الاستفتاء ص ١٦، خزائن ج ٢٢ ص ٦٣٧

(حقیقت الوحی حاشیہ

کا نام سن کر دھوکہ کھاتے ہیں پہلے زمانوں میں براہ راست نبو

صفحہ ٢٢٧

حضرت مسیلمہ کذاب صاحب یوں ارشاد فرماتے ہیں۔ اس لئے مجھے بھی اپنے عقیدہ کے لحاظ سے معذور سمجھا جائے۔ البتہ تمہارے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے اتنا ضرور کیا ہے کہ نہ تحقیری لفظ سے یاد کیا ہے نہ تعظیمی الفاظ سے۔ یہ بھی صرف اس لئے کہ آپ لوگوں کے جذبات کو ٹھیس نہ لگے اور خواہ مخواہ آپ اشتعال میں آ کر میرے رسالہ کو ہی ہاتھ سے پھینک کر ایک صحیح راستہ کے مطالعہ کو ترک نہ کردیں۔

خیر اندیش ....... محمد چراغ مدرس اول مدرسہ عربیہ گوجرانوالہ ....... ١٣ مئی ١٩٣٦ء

صدق وکذب مرزا قادیانی

ہوئی ہے۔ لیکن یہ غلط ہے۔ کیونکہ بقول مرزا نبوت کسبی نہیں ہے۔ وہ وہبی چیز ہے۔ (دیکھو حمامۃ البشریٰ ص ٨٢، خزائن ج ٧ ص ٣٠١) ”لا شك ان التحديث موهبة مجردة لاتنال بكسب البتة كما هو شان النبوة ...... الخ“ (الاستفتاء ص ٢٢، خزائن ج ٢٢ ص ٦٢٣) ”والمؤمن الكامل هو الذی رزق من هذه النعمة على سبيل الموهبة. الخ“ (حقیقۃ الوحی ص ٦٢، خزائن ج ٢٢ ص ٦٤) سو میں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پایا ہے جو مجھے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی۔ الخ۔ (قریب منہ ص ٦٧، براہین احمدیہ ص ٣٦٢، ٣٥٢ حاشیہ نمبر ١ جدید) ”وحی اللہ کے نزول کا اصل موجب خدا تعالیٰ کی رحمانیت ہے۔ کسی عامل کا عمل نہیں۔ الخ۔ نیز مرزا قادیانی نے کمال اتباع بھی کیا کیا تھا؟ بلکہ بزعم خود حیات مسیح اور ختم نبوت میں بعد از الہام بیس سال تک جہلا رہا۔ تو یہ تو الٹا راستہ اختیار کر رہا ہے نہ کہ اتباع۔

جبکہ مرزا خود مقر ہے کہ میری نبوت پہلے نبیوں والی نہیں ہے۔ تو پھر اس پر ڈھالنا بے سود ہوگا۔ (دیکھو الاستفتاء ص ١٦، خزائن ج ٢٢ ص ٦٣٧) ”ما نعنى من النبوة ما يعنى في الصحف الاولى“ (حقیقۃ الوحی حاشیہ ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤) ”بہت سے لوگ میرے دعوے میں نبی کا نام سن کر دھوکہ کھاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اس نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ جو پہلے زمانوں میں براہ راست نبیوں کو ملی ہے۔ لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں۔ الخ“

١٠١

صفحہ ٢٢٨

کرتے ہیں۔ مثلاً ”لو تقول علينا بعض الاقاويل“ یا ”لقد لبثت فيكم عمراً من قبله وغيرهما“ لیکن یہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ مرزا خود قائل ہے کہ مجھے اس معیار پر مت دیکھو۔ جس پر آنحضرت ﷺ کو دیکھتے ہو۔ کیونکہ میں متبع ہوں اور آنحضرت ﷺ متبوع ہیں۔ (دیکھو (آئینہ کمالات اسلام ص ٣٣٩، خزائن ج ٥ ص ٣٣٩ طبع اول ، خط بحوالہ خواب محمد علی خان ) ماسوا اس کے جو شخص ایک نبی متبوع علیہ السلام کا متبع ہے اور اس کے فرمودہ پر اور کتاب اللہ پر ایمان لاتا ہے۔ اس کی آزمائش انبیاء کی آزمائش کی طرح کرنا ایک قسم کی ناسمجھی ہے۔ کیونکہ انبیاء اس لئے آتے ہیں کہ ایک دین سے دوسرے دین میں داخل کریں اور ایک قبلہ سے دوسرا قبلہ مقرر کروائیں۔“

پینتیس سال (تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٩ ، خزائن ج ٢٢ ص ٤٦١) یا تئیس سال (اربعین نمبر ٣ ص ٣ ، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٧) سے دعویٰ نبوت کیا ہوا ہے اور مدعی نبوت کاذبہ حسب آیت ”لو تقول علينا بعض الاقاويل“ جلدی مار دیا جاتا ہے اور میں نہیں مارا گیا۔ تو میں سچا ہوا تو اس کا اول تو وہی جواب کہ یہ آنحضرت ﷺ کے لئے ہے تو کیسے تابع ہوکر یہ معیار پیش کرسکتا ہے۔ نیز تیرے نزدیک مفتری علی اللہ کی جو میعاد مہلت ہے، وہ بھی مختلف ہے۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤، خزائن ج ٥ ص ٥٤ طبع اول) میں بارہ برس لکھے ہیں۔ مثلاً (شہادۃ القرآن ص ٧٦، خزائن ج ٦ ص ٣٧١) اور (نشان آسمان ص ٤٣، خزائن ج ٤ ص ٣٩٧) میں دس سال اور (سراج منیر ص ٢، خزائن ج ١٢ ص ٤) میں اور (ایام الصلح ص ٤٧، خزائن ج ١٤ ص ٢٦٨) میں ٢٥ سال اور (حقیقت الوحی ص ٢٠٦ ، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٣) میں ٣٠ سال اور (تحفہ گولڑویہ ص ٢١ و اربعین نمبر ٣ ص ٣، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٧) میں ٢٣ سال۔ تو تیرے کس قول پر اعتبار کیا جائے؟ جوں جوں تیری عمر بڑھی تو بھی میعاد بڑھاتا گیا۔

تو اولاً تو یہ حکم آیت کریمہ کا عام ہی نہیں بلکہ اس کا تعلق آنحضرت ﷺ سے ہے۔ جیسے قرآن مجید سے صاف معلوم ہوتا ہے اور بائبل مقدس سے بھی تیرے ہی حوالہ سے آنحضرت ﷺ کے لئے معلوم ہوتا ہے۔ (دیکھو ضمیمہ ٣ ، ٤ اربعین ص ١٨ استثناء باب ١٨، آیت ١٨ تا ٢٠) ایک نبی میں مبعوث کروں گا ...... لیکن وہ نبی جو ایسی شرارت کرے کہ کوئی کلام میرے نام سے کہے جو کہ میں نے اسے حکم نہیں دیا کہ لوگوں کو سناتا...... وہ نبی مرجائے گا اور ثانیاً یہ کہ تیری میعاد ٢٣ سال یا ٣٠ سال یا ٣٥ سال نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ تو خود اقرار کرتا ہے کہ خدا کی وحی مجھے بڑی شد و مد

١٠٢

سے مسیح موعود بناتی رہی۔ لیکن میں اس کو نت

(دیکھو ضمیمہ نزول مسیح (اعجاز احمدی

جو ایک زمانہ دراز ہے، بالکل اس سے بے میں مسیح موعود قرار دیا ہے، الخ۔“ تو دعویٰ تو

ثالثاً مرزا نے لو تقول میں ج جاتیں۔ (دیکھو ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٢، خزائن مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور تم عرصہ گزر گیا اور وہ متواتر اس عرصہ تک دعو تحریروں سے ثابت ہوتا رہا تو یقیناً سمجھ لو کہ خاموش نہ رہا اور نہ اس دعویٰ سے دست بر

مگر مرزا قادیانی نے اپنے د ص ٨٣، خزائن ج ٢ ص ٣٠٦) ”فلا تظن النبوۃ، الخ“ اور (حمامۃ البشریٰ ص ٧٩ ، خ اخرج من الاسلام والحق بقوم ک

و (جنگ مقدس ص ٦٧، خزائن ج

غلطی ہے...... کیا یہ ضروری ہے کہ جو الہام نام معجزہ رکھنا ہی نہیں چاہتا...... بلکہ کراما سے بھی انکار کیا۔ دیکھو (ازالہ اوہام ص ١٩، خ

”اس عاجز نے جو مثیل موسیٰ بیٹھے...... میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا دے وہ سراسر مفتری اور کذاب، الخ۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٥٨)

رابعاً بقول مرزا بشیر الدین خ النبوۃ ص ١٢١) اس سے معلوم ہوا کہ نبوت غلطی کا ازالہ ١٩٠١ء میں شائع ہوا ہے۔ کیا...... آپ نے تریاق القلوب کے بع

صفحہ ٢٢٩

سے مسیح موعود بناتی رہی۔ لیکن میں اس کو نہ سمجھ سکا تو پھر تیرا دعویٰ کہاں ہو سکتا تھا؟

(دیکھو ضمیمہ نزول مسیح (اعجاز احمدی) ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣) ”پھر میں تقریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے، بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شد ومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے، الخ۔“ تو دعویٰ تو فرع علم کی ہے۔ جبکہ تجھے علم ہی نہیں تو پھر دعویٰ کیسے؟

ثالثاً مرزا نے لو تقول میں جو کہ شرائط خود بیان کی ہیں، وہ بھی اس میں نہیں پائی جاتیں۔ (دیکھو ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٥٨) ”پس اے مومنو، اگر تم ایسے شخص کو پاؤ جو مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور تم پر ثابت ہو جائے کہ وحی اللہ پانے کے دعویٰ پر ٢٣ برس کا عرصہ گزر گیا اور وہ متواتر اس عرصہ تک وحی اللہ پانے کا دعویٰ کرتا رہا اور وہ دعویٰ اس کی شائع کردہ تحریروں سے ثابت ہوتا رہا تو یقیناً سمجھ لو کہ وہ خدا کی طرف سے ہے اور اس مدت میں اخیر تک کبھی خاموش نہ رہا اور نہ اس دعویٰ سے دست بردار ہوا، الخ۔“

مگر مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ نبوت سے مدت تک انکار کیا۔ (دیکھو حمامۃ البشریٰ ص ٨٣، خزائن ج ٧ ص ٣٠٢) ”فلا تظنن یا اخی انی قلت کلمۃ فیہ رائحۃ ادعاء النبوۃ، الخ “ اور (حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧) ”ما کان لی ان ادعی النبوۃ و اخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین“ و (جنگ مقدس ص ٦٧، خزائن ج ٦ ص ١٥٦) ”میرا نبوت کا کوئی دعویٰ نہیں۔ یہ آپ کی غلطی ہے۔۔۔۔۔ کیا یہ ضروری ہے کہ جو الہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ نبی بھی ہو جائے۔ ۔۔۔ اور ان نشانوں کا نام معجزہ رکھنا ہی نہیں چاہتا۔۔۔۔ بلکہ کرامات ہے، الخ۔“ اور نیز مرزا نے مسیح موعود ہونے کے دعویٰ سے بھی انکار کیا۔ دیکھو (ازالۃ اوہام ص ١٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)

”اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کو کم فہم لوگ موعود خیال کر بیٹھے۔۔۔۔۔ میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں۔ جو شخص یہ الزام میرے پر لگا دے وہ سراسر مفتری اور کذاب، الخ۔“ تو جب تو نے انکار کیا ہے اور اپنے دعویٰ پر جما نہیں رہا تو (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٥٨) والی شرائط تجھ میں نہ پائی گئیں۔

رابعاً بقول مرزا بشیر الدین خلیفہ ثانی دعویٰ نبوت تو ١٩٠٠ء یا ١٩٠١ء کا ہے۔ (دیکھو حقیقت النبوۃ ص ١٢١) اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کا مسئلہ آپ پر ١٩٠٠ء یا ١٩٠١ء میں کھلا ہے اور چونکہ ایک غلطی کا ازالہ ١٩٠١ء میں شائع ہوا ہے۔ جس میں آپ نے اپنی نبوت کا اعلان بڑے زور سے کیا۔۔۔۔۔ آپ نے تریاق القلوب کے بعد نبوت کے متعلق عقیدہ میں تبدیلی کی ہے۔ یہ بات ثابت

١٠٣

صفحہ ٢٣٠

چھتری دھوبی ڈرم فریج

ہے کہ ١٩٠١ء سے پہلے کے وہ حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے، منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے، الخ ۔ تو اس لحاظ سے مرزا کی نبوت کو کل قریباً چھ سات سال ہوئے۔ کیونکہ مرزا ١٩٠٨ء مئی میں مر گیا اور ٦ سال نبوت کا دعویٰ تو بقول مرزا الہٰی بخش کا بھی ہے۔ کیا اس کو چھ سال دعویٰ نبوت موسویہ میں مرزا یا مرزائی صادق خیال کر لیں گے؟

دیکھو (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٤١) ”بابو الہٰی بخش نے اپنا نام موسیٰ رکھا تھا۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١١٤، خزائن ج ٢٢ ص ٥٥٠) ”اس کتاب کی تالیف سے ٦ برس بعد فوت ہو گئے، الخ۔“

تعقلون“ کو پیش کیا کرتے ہیں کہ میری پہلی زندگی دیکھو۔

اول تو یہ آیت آنحضرت ﷺ کے لئے ہے اور (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٧٥) کے مطابق مرزا اس کو اپنے لئے پیش نہیں کر سکتا۔ دوم مرزا کی ہم جبکہ پہلی زندگی کو دیکھتے ہیں تو وہ بالکل گمنامی کی زندگی ہے۔ جس سے کوئی واقف ہی نہیں تاکہ اس کو شاہد پیش کیا جاسکے۔ (دیکھو حقیقت الوحی کا تمہ ص ٢٧، ٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٤٦٠) ”مجھے کوئی بھی نہیں جانتا تھا نہ کوئی موافق تھا نہ مخالف کیونکہ میں اس زمانہ میں کچھ بھی چیز نہ تھا۔...... اس زمانہ میں میں درحقیقت اس مردہ کی طرح تھا۔ جو قبر میں صد ہا سال سے مدفون ہو اور کوئی نہ جانتا ہو کہ یہ کس کی قبر ہے، الخ۔“ (نزول مسیح ص ١٤٠، خزائن ج ١٨ ص ٥١٨) ”بلکہ میرے روشناس بھی صرف چند آدمی ہی نکلیں گے۔“ (روایت گواہ نمبر ١٩ پیش گوئی) تو ایسی زندگی کو کون پیش کر سکتا ہے اور بعض اوقات مرزائی کہا کرتے ہیں کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے مرزا کی تعریف کی تھی۔

(ازالہ اوہام ص ٢٩٣، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩)

تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ پوری واقفیت سے نہیں لکھا گیا تھا۔ جیسے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی خود اپنی (اشاعت السنۃ ج نمبر ٥ ص ٨) میں تحریر فرما رہے ہیں۔

”جھوٹ بولنا اور دھوکہ دینا آپ کا ایسا وصف لازم بن گیا ہے۔ گویا وہ آپ کی سرشت کا ایک جز ہے۔ زمانہ تالیف براہین احمدیہ کے پہلے آپ کی سوانح عمری کا میں تفصیلی علم نہیں رکھتا۔ مگر زمانہ تصنیف براہین سے جو جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا آپ نے اختیار کیا، الخ۔“

اور (آئینہ کمالات اسلام ص ٣١ اطبع اول، خزائن ج ٥ ص ٣١١، ٣١٢) میں بھی مولوی محمد حسین بٹالوی کا قول نقل کیا ہے کہ ”زمانہ تالیف براہین احمدیہ کے پہلے آپ کی سوانح عمری کا میں تفصیلی علم

١٠٤

نہیں رکھتا تھا۔ مگر زمانہ تالیف براہین احمدیہ ہے۔...... علی الخصوص ١٨٩٠ء سے جب سے آ آپ کا یہی حال رہا ہوگا، الخ۔“

یا جیسے مرزا نے چراغ دین جمونی دے دی تھی۔ بعد میں اس کو جلانے کا حکم دیا۔ نے سرسری طور پر کچھ حصہ اس کا سنا تھا اور قادیا نے اجازت دی تھی کہ اس کے چھپنے میں کچھ م دعویٰ جو کہ اس کے حاشیہ میں تھے، اس کو میں ن اور محض نیک ظنی سے ان کو چھپنے کے لئے اجاز ”اس کی تحریروں سے ہمیں پوری ایسی تحریروں کو چاک کرنا چاہئے، الخ۔“

ایسے ہی ڈاکٹر عبدالحکیم کے متعلق تھی۔ جس کا نام تفاسیر القرآن بالقرآن ۔ ”نہایت عمدہ ہے شیریں بیان ہے۔ نکات قرآ کرنے والی ہے، الخ۔“

پھر دوسری جگہ لکھا: ”ڈاکٹر عبدالحکی وہ اس کا اہل نہیں ہے۔ اس کی تفسیر میں ایک ہے۔ تو ایسے ہی مولوی محمد حسین بٹالوی نے برا علاوہ ازیں جو لوگ مرزا کے پاس ہیں۔ (دیکھو تتمہ حقیقت الوحی ص ١٥٢، ١٥٣، خزائن ایڈیٹر کے مرزا قادیان کے حق میں جو الفاظ ہیں ”نفس پرست ہے، فاسق ہے، ہے۔...... کم بخت کمانے سے عار رکھنے والا، مکا والا ہے۔ مرزا کی جماعت کے لوگ بدچلن بد بہ پہلو ایک ہی قصبہ میں ان کے ساتھ رہ کر ان ہوا کہ یہ شخص در حقیقت مکار، خودغرض، عشرت

صفحہ ٢٣١

نہیں رکھتا تھا۔ مگر زمانہ تالیف براہین احمدیہ سے جو جھوٹ بولنا دھوکہ دینا آپ نے اختیار کیا ہے...... علی الخصوص ١٨٩٠ء سے جب سے آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ مشتہر کیا ہے...... آپ کا یہی حال رہا ہوگا، الخ ۔“

یا جیسے مرزا نے چراغ دین جمونی کی کتاب کا بعض حصہ سن کر اس کی طبع کی اجازت دے دی تھی۔ بعد میں اس کو جلانے کا حکم دیا۔ (دیکھو دافع البلاء ص ١٩، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٩) ”اور میں نے سرسری طور پر کچھ حصہ اس کا سنا تھا اور قابل اعتراض حصہ ابھی سنا نہیں گیا تھا۔ اس لئے میں نے اجازت دی تھی کہ اس کے چھپنے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ مگر افسوس کہ خطرناک لفظ اور بے ہودہ دعویٰ جو کہ اس کے حاشیہ میں تھے، اس کو میں کثرت لوگوں اور دوسرے خیالات کی وجہ سے سن نہ سکا اور محض نیک ظنی سے ان کو چھپنے کے لئے اجازت دی گئی“......

(ص ٢٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٢)

”اس کی تحریروں سے ہمیں پوری واقفیت نہیں تھی۔ اس لئے اجازت طبع دی تھی۔ اب ایسی تحریروں کی چاک کرنا چاہئے، الخ ۔“

ایسے ہی ڈاکٹر عبدالحکیم کے متعلق (دیکھو محکمہ ص ٦٠) ڈاکٹر عبدالحکیم نے ایک تفسیر لکھی تھی۔ جس کا نام تھا تفسیر القرآن بالقرآن۔ مرزا نے اس کی نسبت پہلے اپنی یہ رائے شائع کی

”نہایت عمدہ ہے شیریں بیان ہے۔ نکات قرآنی خوب بیان کئے ہیں۔ دل سے نکلی اور دلوں پر اثر کرنے والی ہے، الخ ۔“

پھر دوسری جگہ لکھا: ”ڈاکٹر عبدالحکیم کا تقویٰ صحیح ہوتا تو کبھی تفسیر لکھنے کا نام نہ لیتا۔ کیونکہ وہ اس کا اہل نہیں ہے۔ اس کی تفسیر میں ایک ذرہ روحانیت نہیں اور نہ ہی ظاہری علم کا کچھ حصہ ہے۔ تو ایسے ہی مولوی محمد حسین بٹالوی نے براہین احمدیہ کو دیکھا ہوگا اور تنقید کر دی ہوگی۔

علاوہ ازیں جولوگ مرزا کے پاس رہے وہ اس کے حق میں بہت بڑی گواہی دیتے ہیں۔ (دیکھو تتمہ حقیقت الوحی ص ١٥٢،١٥٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٩٠، ٥٩١) میں رسالہ شحنہ چک کے مہتمم و ایڈیٹر کے مرزا قادیان کے حق میں جو الفاظ ہیں، وہ دیکھو۔

”نفس پرست ہے، فاسق ہے، فاجر ہے...... بد اخلاق شہرت کا خواہاں، شکم پرور ہے۔..... کم بخت کمانے سے عار رکھنے والا، مکر و فریب اور جھوٹ میں مشاق ...... اور جھوٹ بولنے والا ہے۔ مرزا کی جماعت کے لوگ بد چلن بدمعاش ہیں...... کہ ہم نے پندرہ سال تک متواتر پہلو بہ پہلو ایک ہی قصبہ میں ان کے ساتھ رہ کر ان کے حال پر غور کیا۔ تو اتنی غور کے بعد ہمیں یہی معلوم ہوا کہ یہ شخص در حقیقت مکار، خود غرض، عشرت پسند، بد زبان وغیرہ وغیرہ ہے۔

١٠٥

صفحہ ٢٣٢

ریل گاڑی چارپائی چھتری

اور جب اس خول کی زندگی کے بعد اس کا پبلک سے سابقہ پڑا۔ تو حال یہ ہے کہ دھوکہ بازیوں میں مرزا لگا ہوا ہے۔ ایک ہی واقعہ پیش کرتے ہیں کہ براہین احمدیہ کے پچاس حصے شائع کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ مگر صرف پانچ حصے شائع کر کے کہا کہ پانچ اور پچاس میں کیا فرق ہے۔ صرف ایک نقطہ کا لہذا پچاس والا وعدہ پانچ میں پورا ہو گیا۔ (دیکھو دیباچہ حصہ پنجم براہین ص ٧، خزائن ج ٢١ ص ٩) ”پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔“

تین سو دلائل کا وعدہ کیا کہ براہین میں ذکر کروں گا۔ مگر صرف دو قسم کی دلیلوں پر اکتفاء کر دیا۔ (دیکھو براہین احمدیہ ص ب، خزائن ج ١ ص ٦٢) ”اور کتاب موصوف میں تین سو مضبوط اور محکم عقلی دلیل سے صداقت اسلام کو فی الحقیقت آفتاب سے بھی زیادہ روشن دکھلایا گیا۔“

(دیباچہ حصہ پنجم ص ٥، خزائن ج ٢١ ص ٦) ”میں نے پہلے ارادہ کیا تھا کہ اثبات حقیقت اسلام کے لئے تین سو دلیل براہین احمدیہ میں لکھوں۔ لیکن جب میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ دو قسم کے دلائل ہزار ہا نشانوں کے قائم مقام ہیں۔“

اور لطف یہ کہ قیمتیں لوگوں سے براہین کی پیشگی وصول کر لی تھیں۔ مگر ٢٣ سال تک اس کو شائع نہ کیا۔ (دیکھو دیباچہ حصہ پنجم ص ١، خزائن ج ٢١ ص ٢) ”پھر تخمینہ ٢٣ سال تک اس کتاب کا چھپنا ملتوی رہا...... اور بہت سے لوگ جو اس کتاب کے خریدار تھے۔ اس کتاب کی تکمیل سے پہلے ہی دنیا سے گزر گئے ۔

اور لوگ قیمتوں کا مطالبہ کرتے تھے اور مولوی نور الدین نے لکھا بھی کہ میں لوگوں کی قیمتیں واپس کر دوں۔ مگر اس کو بھی واپسی کی اجازت نہ دی۔ (دیکھو فتح اسلام ص ٦١، خزائن ج ٣ ص ٣٦) ”اگر خریدار براہین کے توقف طبع کتاب سے مضطرب ہوں تو مجھے اجازت فرمائیے کہ یہ ادنی خدمت بجالاؤں کہ ان کی تمام قیمت ادا کردہ اپنے پاس سے واپس کر دوں۔“

حالانکہ پیشگی قیمتیں لینے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ مصارف طبع ٩ ہزار روپیہ تھا اور مرزا کی جائیداد دس ہزار کم از کم تھی۔ (دیکھو براہین احمدیہ ص ج، خزائن ج ١ ص ١٠، ٢٢) ”کتاب براہین احمدیہ کی تیاری پر ٩ ہزار روپیہ خرچ آنا تھا۔“

(براہین احمدیہ ص ٢٥، خزائن ج ١ ص ٢٨) ”میں مشتہر ایسے مجیب کو بلا عذر و حیلے اپنی جائیداد قیمتی دس ہزار روپیہ پر قبضہ و دخل دے دوں گا۔“

اور براہین سے غرض بھی تجارت نہ تھی۔ دیکھو (براہین احمدیہ ص و، خزائن ج ١ ص ٦٩) ”یہ کچھ تجارت کا معاملہ نہیں اور مؤلف کو بجز تا تو پھر یہ سب بددیانتی نہیں اور کے بعد کی زندگی بھی ہمارے سامنے ہے عبدالحکیم، محمدی بیگم وعبداللہ آتھم وغیرہ سے کی زندگی ہے، جس کو "لقد لبثت فيكم عم ٦....... نیز مرزا خود کہتا ہے کہ اگر میری اختلافات ہوتے۔ (دیکھو حقیقت الوحی ص ٢٦

"لوكان من عندغير الله

اب اس معیار پر ہم مرزا کو اختلافات موجود ہیں۔ بلکہ خود مرزا کا دعویٰ الوحی ص ١٤٨، ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢، ١٥٣) کیوں پیدا ہو گیا سو اس بات کو توجہ کر کے میں نے یہ لکھا تھا۔.... اس تناقض کا بھی یہی اور (ضمیمہ نزول مسیح ص ٨، خزائن کتاب میں جمع ہوتا اور میرا اس وقت مسیح تناقض باتوں کو براہین میں جمع کر دیا ۔"

(ایام الصلح ص ٤١، خزائن ج ١٤

لکھا۔ ان الہامات کی منشاء سے جو براہین اور مرزا کا خود فتویٰ جو مناقض خزائن ج ١٠ ص ١٤١) "پرلے درجے کا جاہل اطلاع نہ رکھے۔"

(ست بچن ص ٣٠، خزائن ج ١٠

کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر میں ہاں ملا دیتا ہو، اس کا کلام بے شک تن

(ست بچن ص ٣١، خزائن ج ١٠

نکل سکتیں کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان

١٠٦

صفحہ ٢٣٣

کچھ تجارت کا معاملہ نہیں اور مؤلف کو بجز تائید دین کے کسی کے مال سے کچھ غرض نہیں۔“

تو پھر یہ سب بددیانتی نہیں اور لوگوں کے مالوں پر ڈاکہ ڈالنا نہیں تو اور کیا ہے۔ اس کے بعد کی زندگی بھی ہمارے سامنے ہے کہ سلطان محمود مولوی ثناء اللہ ومولوی محمد حسین وڈاکٹر عبدالحکیم ومحمدی بیگم وعبداللہ آتھم وغیرہ سے مقابلہ کر کے خود مرزا ذلیل اور ناکام رہا۔ یہ ساری مرزا کی زندگی ہے جس کو ”لقد لبثت فیکم عمرا“ کر کے پیش کرنا چاہتا ہے۔

٦...... نیز مرزا خود کہتا ہے کہ اگر میری باتیں اللہ کی طرف سے نہ ہوتیں تو ان میں تناقضات و اختلافات ہوتے۔ (دیکھو حقیقت الوحی ص ١٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)

”لوكان من عندغير الله لوجدتم فيه اختلافا كثيرا“

اب اس معیار پر ہم مرزا کو پرکھتے ہیں کہ اس کے کلام میں ہزاروں تناقضات و اختلافات موجود ہیں۔ بلکہ خود مرزا کا دعویٰ ہے کہ میرے کلام میں تناقض موجود ہیں۔ (دیکھو حقیقت الوحی ص ١٤٨، ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢، ١٥٣) ”رہی یہ بات کہ ایسا کیوں لکھا گیا اور کلام میں یہ تناقض کیوں پیدا ہو گیا سو اس بات کو توجہ کر کے سمجھ لو کہ یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہین احمدیہ میں میں نے یہ لکھا تھا...... اس تناقض کا بھی یہی سبب تھا، الخ۔“

اور (ضمیمہ نزول مسیح ص ٨، خزائن ج ١٩ ص ١١٤) ”ان دونوں تناقض مضمونوں کا ایک ہی کتاب میں جمع ہونا اور میرا اس وقت مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہ کرنا...... اس لئے میں نے ان تناقض باتوں کو براہین میں جمع کر دیا۔“

(ایام الصلح ص ٤١، خزائن ج ١٤ ص ٢٧٧) ”میرا اپنا عقیدہ جو میں نے براہین احمدیہ میں لکھا۔ ان الہامات کی منشاء سے جو براہین احمدیہ میں درج ہیں۔ صریح نقیض پڑا ہوا ہے۔“

اور مرزا کا خود فتویٰ جو متناقض الکلام کے حق میں ہے۔ ملاحظہ کرلو (حاشیۃ ست بچن ص ٢٩، خزائن ج ١٠ ص ١٤١) ”پرلے درجے کا جاہل جو اپنے کلام میں متناقض بیانوں کو جمع کرے اور اس پر اطلاع نہ رکھے۔“

(ست بچن ص ٣٠، خزائن ج ١٠ ص ١٤٢) ”کسی سچے اور عقل مند اور صاف دل انسان کی کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل یا مجنون یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو، اس کا کلام بے شک متناقض ہو جاتا ہے۔“

(ست بچن ص ٣١، خزائن ج ١٠ ص ١٤٣) ”ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“

١٠٧

صفحہ ٢٣٤

چھتری

دھوبی

(براہین ص ٣٨٥) ’’بلکہ سراسیمہ اور مخبوط الحواس آدمی کی طرح ایسی تقریر بے بنیاد اور تناقض کی ہے، الخ۔ و (ضمیمہ حصہ پنجم ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥) ’’اور جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٧٥ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ١٤٩، ١٤٠) ’’قل لوکان الامر من عند غیر الله لوجدتم فيه اختلافا كثيراً‘‘

(حقیقت الوحی ص ١٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٩١) ’’اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص ٨٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً) ’’تلك كلم متهافتة متناقضة لا ينطق بها الا الذى ضلت حواسه وغرب عقله وقياسه وترك طريق المهتدين‘‘

اب اس کے بعد ہمیں تناقضات پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ خود اس کے اقرار سے تناقض ثابت ہے اور اس کے فتاویٰ بھی ایسے شخص کے لئے اس کے کلام میں موجود ہیں۔

عقائد درست نہ تھے۔ (دیکھو براہین احمدیہ ص ١٠٥، خزائن ج ١ ص ٩٥) ’’جب علت غائی رسالت اور پیغمبری کی عقائد حقہ اور اعمال صالحہ پر قائم کرنا ہے تو پھر اگر اس علت غائی پر نبی لوگ آپ ہی قائم نہ ہوں تو ان کی کون سن سکتا ہے؟ اور کاہے کو ان کی بات میں اثر ہوگا۔‘‘

(ص ١٠٦، خزائن ج ١ ص ٩٦) ’’پس جب تک ایک نفس کو ہر قسم کی نالائق باتوں سے تنزہ تام حاصل نہ ہو جائے۔ تب تک وہ نفس قابلیت فیضان وحی کی پیدا نہیں کرتا اور اگر تنزہ تام کی شرط نہ ہوتی اور قابل اور غیر قابل یکساں ہوتا تو سارا جہاں نبی ہو جاتا۔‘‘

(ص ٣٠٤، خزائن ج ١ ص ٣٥٣) ’’وہ ایسے لوگ ہوتے ہیں۔ جن کے سچے اور پاک عقائد ہوں اور جو سچے مذہب پر ثابت اور مستقیم ہوں۔‘‘

(ص ٢٤٧ حاشیہ نمبر ٣، خزائن ج ١ ص ٥٤٣) ’’ازاں جملہ ایک عصمت بھی ہے۔ جس کو حفظ الٰہی سے تعبیر کیا جاتا ہے...... اور اگر کوئی لغزش بھی ہو جائے تو رحمت الٰہیہ جلد تر ان کا تدارک کر لیتی ہے۔‘‘ لیکن مرزا قادیانی مدتوں تک حیات مسیح جیسے مسئلہ میں مبتلا رہا۔ جس کو وہ شرک عظیم اور کفر تک پہنچاتا ہے۔ (دیکھو ضمیمہ مسیح ص ٧، خزائن ج ٩ ص ١١٣) ’’پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے۔ بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے

١٠٨

تب وہ وقت آ گیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھ

و (حقیقت الوحی ص ٣٣٨ حاشیہ، خزا میں اپنا عقیدہ یہی ظاہر کر دیا کہ عیسیٰ آسمان س خزائن ج ٢٢ ص ٦٠٢) ’’پس تم سمجھ سکتے ہو کہ م تعالیٰ نے روشن نشانوں اور کھلے کھلے الہامو شرک و کفر ہے۔‘‘

(دیکھو الاستفتاء ص ٢٤، ٢٥، خزائن ج ٢ عيسى بعد موته فما معنى فلما توفی بعد ايمانكم ‘‘اور (الاستفتاء ص ٣٩، خزائن ج عيسى ما مات وان هو الا شرك عظيم

(ازالہ اوہام ص ٩٩٦، ٤٧٨) ’’لیکن طبعی اور فلسفہ سے بھی مخالف اور نیز ہمارے یافتہ لوگوں میں ہرگز پھیلانہیں سکتے۔‘‘ تو اس م

براہین احمدیہ ص ٧، خزائن ج ١ ص ١٩) ’’تمام نفوس تعلیم اور تادیب فرما کر اپنے فیوض قدیمہ کا نش استاذ ہیں۔ (دیکھو حقیقت الوحی ص ٢٣٤، خزائن ج سبقاً سبقاً پڑھی تھیں، الخ۔‘‘

و (براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ ص ٤٤٨ میں ہنوز تحصیل علم میں مشغول تھا۔‘‘

(براہین احمدیہ ص ٥٢٠ حاشیہ در حاشیہ نمب صاحب کہ جو کسی زمانہ میں اس عاجز کے ہم مکت

و (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٥، خزائن ونبذة من رسائل الصرف والنح من كتب الطب....... وكذالك لم يتف والفقه الا كطل من الوبل‘‘

صفحہ ٢٣٥

تب وہ وقت آ گیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٣٨ حاشیہ ، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥١) ”جیسا کہ میں نے براہین احمدیہ میں اپنا عقیدہ یہی ظاہر کر دیا کہ عیسیٰ آسمان سے آنے والا ہے۔“ و ( تتمہ حقیقت الوحی ص ١٦٢، ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ٦٠٢) ”پس تم سمجھ سکتے ہو کہ میں نے پہلے اعتقاد کو نہیں چھوڑا تھا۔ جب تک خدا تعالیٰ نے روشن نشانوں اور کھلے کھلے الہاموں کے ساتھ نہیں چھڑایا اور یہ حیات مسیح کا عقیدہ شرک وکفر ہے۔“

(دیکھو الاستفتاء ص ٢٤، ٢٥ ، خزائن ج ٢٢ ص ٦٤٥) ”اتجدون فی کتاب اللہ نزول عیسیٰ بعد موتہ فما معنی فلما توفیتنی یاذوی الحصاۃ أتكفرون بکتاب اللہ بعد ایمانکم “ اور (الاستفتاء ص ٣٩ ، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٠) ”فمن سوء الادب ان یقال ان عیسیٰ مامات وان ھو الا شرک عظیم “

(ازالہ اوہام ص ٦٦٩، ٣٧٨) ”لیکن ہم ایسی تعلیمات کو (حیات مسیح) جو عقل اور تجربہ اور طبعی اور فلسفہ سے بکلی مخالف اور نیز ہمارے نبی ﷺ کی طرف سے ثابت نہیں ہو سکتی ...... تعلیم یافتہ لوگوں میں ہرگز پھیلا نہیں سکتے ۔“ تو اس مسئلہ میں مرزا کا عقیدہ درست نہ رہا۔

براہین احمدیہ ص ٧، خزائن ج ١ ص ١٦) ”تمام نفوس قدسیہ انبیاء کو بغیر کسی استاد اور اتالیق کے آپ ہی تعلیم اور تادیب فرما کر اپنے فیوض قدیمہ کا نشان ظاہر فرمایا ۔“ بخلاف اس کے مرزا قادیانی کے کئی استاذ ہیں ۔ (دیکھو حقیقت الوحی ص ٢٣٣ ، خزائن ج ٢٢ ص ٢٤٥) ”چونکہ میں نے یونانی طبابت کی کتابیں سبقاً سبقاً پڑھی تھیں، الخ۔“

(براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ ص ٢٤٨، خزائن ج ١ ص ٢٧٥) ”یہ ضعیف اپنی عمر کے پہلے حصہ میں ہنوز تحصیل علم میں مشغول تھا۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٢٠ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣، خزائن ج ١ ص ٦٢١) ”مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی صاحب کہ جو کسی زمانہ میں اس عاجز کے ہم مکتب بھی تھے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ”قرأت قلیلاً من الفارسیۃ ونبذۃ من رسائل الصرف والنحو و عدۃ من العلوم تعمیقیۃ وشیئاً یسیراً من کتب الطب...... وکذالک لم یتفق لی التوغل فی علم الحدیث والاصول والفقہ الا کطل من الوبل “

١٠٩

صفحہ ٢٣٦

عریانی فحاشی رہبر رہزن

(شہادۃ القرآن کا اشتہار ملحقہ پولیٹیکل پیشن گوئی کا جواب ص ٧، خزائن ج ٦ ص ٣٨٤) ”جبکہ ہم قطبی و شرح ملا پڑھتے تھے۔ ہمارے ہم مکتب اس زمانہ سے آج تک ہم میں ان میں خط و کتابت جاری ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٨٧٨، خزائن ج ٣ ص ٥٧٩) ”میرے استاد مولوی فضل احمد۔“

(دافع البلاء ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٣) ”میرے استاد ایک بزرگ شیعہ تھے۔ ان کا مقولہ تھا کہ وباء کا علاج فقط تولا و تبرا ہی ہے۔“

اس کے علاوہ مرزا کی سوانح عمریوں میں اس کے اساتذہ کے لکھے ہوئے ہیں۔ تو گویا کم از کم مرزا کے استاد مولوی فضل احمد، میاں فضل الہی، گل علی شیعہ، مرزا غلام مرتضی والد مرزا قادیانی ہوئے۔ تو اس کے مقرر کردہ قانون کے موافق بھی وہ پیغمبر نہ ہوا۔

ص ١١٠، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٣) ”اس زلزلہ کے بعد مجھے بار بار خیال آیا کہ میں نے بڑا گناہ کیا کہ جیسا کہ حق شائع کرنے کا تھا۔ اس پیش گوئی کو شائع نہ کیا۔“

اور مرزا کا خود اقرار ہے کہ گناہ گار آدمی خدا کا نبی نہیں ہو سکتا۔ (دیکھو براہین احمدیہ ص ١٧٦، خزائن ج ١ ص ١٩٠ حاشیہ نمبر ١١) ”اس خود غرضی کے جوش سے انہوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ اس سے فقط نبیوں کی توہین نہیں ہوتی۔ بلکہ خدا کی قدوسیت پر حرف آتا ہے۔ کیونکہ جس نے نعوذ باللہ ناپاکوں سے ربط ارتباط اور میل ملاپ رکھا، وہ آپ بھی کاہے کا پاک ہوا؟

(براہین احمدیہ ص ١٠٦، خزائن ج ١ ص ٩٦) ”اور جب تنزہ تام شرط ہے تو پھر نبیوں کو اعلیٰ درجہ کا پاک یقین کرنا چاہئے کہ جس سے زیادہ تر پاکی نوع انسان کے لئے متصور نہیں۔“

تو اس قاعدہ مقررہ سے کیونکہ مرزا گناہ گار ہے۔ اس میں تنزہ تام نہیں۔ اس لئے وہ نبی نہیں ہو سکتا۔

ے اگر کوئی کہے کہ آنحضرت ﷺ اور انبیاء کے لئے بھی استغفار یا ذنوب سے توبہ کا حکم ہوا ہے تو وہ بھی عیاذاً باللہ گناہ گار ہوئے تو اس کا جواب مرزا کے کلام میں ہے۔ (دیکھو نور القرآن ص ١٩، خزائن ج ٩ ص ٣٥٥) ”استغفار کی تعلیم جو نبیوں کو دی جاتی ہے۔ اس کو عام لوگوں کے گناہ میں داخل کرنا عین حماقت ہے۔ بلکہ دوسرے لفظوں میں یہ لفظ اپنی نیستی اور تذلل اور کمزوری کا اقرار اور مدد طلب کرنے کا متواضعانہ طریق ہے۔“

١١٠

جزئیات میں غلطی کھا سکتا ہے۔ (دیکھو ضمیمہ نزو بات یہ ہے کہ جس یقین کو نبی کے دل میں اس آفتاب کی طرح چمک اٹھتے ہیں اور اس قو ہے۔...... پس ایسا ہی نبیوں اور رسولوں کو ان ب نزدیک سے دکھایا جاتا ہے اور اس میں اس قو بعض جزوی امور جو اہم مقاصد میں سے نہیں کچھ تواتر نہیں ہوتا۔ اس لئے کبھی ان کی تشخیص

لیکن اس کے برخلاف مرزا قاد (وفات مسیح) میں بارہ سال تک پتہ نہ چلا۔ قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے۔ با سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور اس رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آگیا

ورنہ میرے مخالف بتلا دیں کہ می بارہ برس تک یہ دعویٰ کیوں نہ کیا اور کیوں براہی

اس معیار کے لحاظ سے بھی مرزا ق سب سے پہلے اصولی (وفات مسیح) تعلیم کے تھے کہ ان میں احتمال غلطی ہوتا۔

مباہلات کئے ہیں اور ان میں وہ غالب رہا۔ نے شرائط مقرر کئے ہیں۔ وہ شرائط تو اس س مباہلہ کی صداقت کے لئے پیش کرے۔ ملاح

”میں بھی یہ شرط کرتا ہوں کہ میر جب تمام وہ لوگ جو مباہلہ کے میدان میں بال بلا میں گرفتار ہو جاویں۔ اگر ایک بھی باقی رہ ہوں یا دو ہزار...... میرے مباہلہ میں یہ شرط

صفحہ ٢٣٧

جزئیات میں غلطی کھا سکتا ہے۔ (دیکھو ضمیمہ نزول مسیح (اعجاز احمدی) ص ٢٦، خزائن ج ١٩ ص ١٣٥) ”اصل بات یہ ہے کہ جس یقین کو نبی کے دل میں اس کی نبوت کے بارے میں بٹھایا جاتا ہے۔ وہ دلائل تو آفتاب کی طرح چمک اٹھتے ہیں اور اس قدر تواتر سے جمع ہوتے ہیں کہ وہ امر بدیہی ہو جاتا ہے۔...... پس ایسا ہی نبیوں اور رسولوں کو ان کے دعویٰ کے متعلق اور ان کی تعلیموں کے متعلق بہت نزدیک سے دکھایا جاتا ہے اور اس میں اس قدر تواتر ہوتا ہے۔ جس میں کچھ شک باقی نہیں رہتا۔ بعض جزوی امور جو اہم مقاصد میں سے نہیں ہوتے۔ ان کو نظر کشفی دور سے دیکھتی ہے۔ ان میں کچھ تواتر نہیں ہوتا۔ اس لئے کبھی ان کی تشخیص میں دھوکہ بھی کھا لیتی ہے، الخ۔“

لیکن اس کے برخلاف مرزا قادیانی کو اپنے دعویٰ میں اور اپنی سب سے پہلی تعلیم (وفات مسیح) میں بارہ سال تک پتہ نہ چلا۔ (دیکھو ضمیمہ نزول المسیح ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣) ”پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے۔ بالکل اس سے بے خبر و غافل رہا کہ خدا نے مجھے شد و مد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور اس میں حضرت مسیح کی آمد ثانی کے اس رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے، الخ۔“

ورنہ میرے مخالف بتلا دیں کہ میں باوجودیکہ براہین احمدیہ میں مسیح موعود بنایا گیا تھا۔ بارہ برس تک یہ دعویٰ کیوں نہ کیا اور کیوں براہین میں خدا کی وحی کے مخالف لکھ دیا، الخ۔“

اس معیار کے لحاظ سے بھی مرزا کاذب ہوا۔ کیونکہ اس کو اپنے دعویٰ کے متعلق اور اپنی سب سے پہلے اصولی (وفات مسیح) تعلیم کے متعلق اتنی دیر تک بے خبر رہا۔ یہ کوئی جزوی امور نہ تھے کہ ان میں احتمال غلطی ہوتا۔

مباہلات کئے ہیں اور ان میں وہ غالب رہا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مرزا کے مباہلات میں جو اس نے شرائط مقرر کئے ہیں۔ وہ شرائط تو اس کے کسی مباہلہ میں نہیں پائے جاتے تاکہ وہ اپنے کسی مباہلہ کی صداقت کے لئے پیش کرے۔ ملاحظہ ہو (شرائط مباہلہ انجام آتھم ص ٤٧، خزائن ج ١١ص ٤٧) ”میں بھی یہ شرط کرتا ہوں کہ میری دعا کا اثر صرف اسی صورت میں سمجھا جائے گا کہ جب تمام وہ لوگ جو مباہلہ کے میدان میں بالمقابل آویں۔ ایک سال تک ان بلاؤں میں سے کسی بلا میں گرفتار ہو جاویں۔ اگر ایک بھی باقی رہا تو میں اپنے تئیں کاذب سمجھوں گا۔ اگرچہ وہ ہزار ہوں یا دو ہزار...... میرے مباہلہ میں یہ شرط بھی ہے کہ اشخاص مندرجہ ذیل میں سے کم سے کم دس

١١١

صفحہ ٢٢٨

آدمی حاضر ہوں ۔ اس سے کم نہ ہوں ، الخ ۔“

(ضمیر انجام آتھم ص ٣٣ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣١٧) ”مگر یہ شرط ضروری ہے کہ جو الہامات میں نے رسالہ انجام آتھم ص ٥١ سے ٦٢ تک لکھے ہیں ۔ وہ کل الہامات اپنے اشتہار مباہلہ میں لکھے اور محض حوالہ نہ دے بلکہ کل الہامات صفحات مذکورہ کے نقل اشتہار میں درج کرے، الخ ۔“

اور (ضمیر انجام آتھم ص ٣٥، خزائن ج ١١ ص ٣١٩) میں ہے: ”یہ بھی یادرہے کہ اس مسنون طریقہ مباہلہ میں یہی ہے کہ جولوگ ایسے مدعی کے ساتھ مباہلہ کریں ۔ جو مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ رکھتا ہو اور اس کو کاذب اور کافر ٹھہراویں۔ وہ جماعت مباہلین کی ہو صرف ایک دو آدمی نہ ہوں۔“

اور (ضمیر انجام آتھم ص ٣٩، خزائن ج ١١ ص ٣٢٠) میں ہے: ”اور اگر کوئی ایسا نہ کرے اور پھر کسی دوسرے وقت میں مباہلہ کی درخواست بھیجے، تو ایسی درخواست منظور نہیں کی جائے گی۔“

اب ہم دیکھتے ہیں کہ آیا ان شرائط کا لحاظ مرزا قادیانی کے مباہلات میں ہے۔ ہرگز نہیں۔ ذیل میں میں ان لوگوں کے نام لکھتا ہوں جن کو مرزا نے (انجام آتھم ص ٦٩ تا ٧٢) درج کئے ہیں اور پھر ان میں وہ شرائط نہیں پائے جاتے اور ان کو حقیقت الوحی اور تتمہ حقیقت الوحی میں اپنے مباہلات کا شکار خیال کرکے اپنی صداقت ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ جب کہ تیرے مقرر کردہ شرائط پر مباہلہ ہی نہیں ہوتا تو پھر تیرا یہ کہنا کہ میرے مباہلہ سے مرے، کیسی بددیانتی ہوگی؟

مولوی نذیر حسین دہلوی (تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٢ خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٤) مولوی عبدالحمید دہلوی (تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٣، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٥) مولوی رشید احمد گنگوہیؒ (حقیقت الوحی ص ٣٠٠، خزائن ج ٢٢ ص ٣١٣، وتتمہ حقیقت الوحی ص ٢٣، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٤) مولوی عبدالعزیز لدھیانوی (تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٣، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٤) مولوی محمد لدھیانوی (تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٤، تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٦، ٤٤٨) سعداللہ نو مسلم لدھیانہ (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٥، ١٧، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٦، ٤٣٨) مولوی غلام رسول امرتسری عرف رسل بابا (تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٣، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٤) مولوی غلام دستگیر قصوری (حقیقت الوحی ص ٢٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٩، تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٤)

علاوہ ازیں جب کہ مرزا خود اقرار کرتا ہے کہ انجام آتھم کے مندرج لوگوں میں سے کوئی مباہلہ کے لئے نہیں آیا۔ تو پھر ان کو اپنے مباہلہ کے شکار خیال کرنا کسی قدر بددیانتی ہے۔ (دیکھو حقیقت الوحی ص ٣٠٠، خزائن ج ٢٢ ص ٣١٣) ”نشان ١٤٠ میں نے اپنے رسالہ انجام آتھم میں

١١٢

بہت سے مخالف مولویوں کا نام لے کر مباہلہ رسالہ مذکورہ میں یہ لکھا تھا کہ اگر کوئی ان میں سے کوئی اندھا ہو جائے اور کوئی مفلوج اور ک پھر اگر چہ تمام مخالف مولوی مرد میدان بن دیتے رہے اور تکذیب کرتے رہے، الخ ۔ اب مباہلہ کو معیار صداقت ٹھہرا

اب الہام کے معنی صاف ظاہر نتیجے نہیں پہچانتا تھا۔ اس میں کوئی صرف گر نہیں جانتا۔

جئت شيئا فريا ما كان ابوك ام میں تاویل کرکے قالوا کو مقدر نکالنا چاہتا ہے پس یہ خدا کا الہام مرزا کو ہوا تو كذبا الآية “ سے نتیجہ خود واضح ہے۔ خود م (نشان آسمانی ص ٢، خزائن ج ٤ ص تعالیٰ کے سامنے افتراؤں سے نڈر ہیں تو ظاہر ہے۔

خطاء ہو جائے تو رحمت الہٰی جلد تر اس کا ت نمبر ٣، خزائن ج ١ ص ٥٣٦) ”ازاں جملہ ایک ہے ...... اگر کوئی لغزش بھی ہو جائے تو رحمۃ اور خود مرزا نے (نورالحق ص يتركنى على خطاء طرفة عين ایسے مسئلہ میں جو اس کا سب سے اولین مسئلہ

صفحہ ٢٣٩

بہت سے مخالف مولویوں کا نام لے کر مباہلہ کی طرف ان کو بلایا تھا اور (ص ٦٦، خزائن ج ١١ ص ٦٦) رسالہ مذکورہ میں یہ لکھا تھا کہ اگر کوئی ان میں سے کوئی مباہلہ کرے۔ تو میں دعا کروں گا کہ ان میں سے کوئی اندھا ہو جائے اور کوئی مفلوج اور کوئی دیوانہ اور کسی کی موت سانپ کے کاٹنے سے ہو...... پھر اگر چہ تمام مخالف مولوی مرد میدان بن کر مباہلہ کے لئے حاضر نہ ہوئے۔ مگر پس پشت گالیاں دیتے رہے اور تکذیب کرتے رہے،الخ۔“

اب مباہلہ کو معیار صداقت پیش کرنا کس قدر دجل وفریب ہوگا؟

١٢...... نیز مرزا کہتا ہے کہ مجھے خدا کا الہام ہوا ہے: ”یا نبی اللہ کنت لا اعرفک“

(الاستفتاء ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٣)

اب الہام کے معنی صاف ظاہر ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا کے نبی (مرزا) میں تجھے نہیں پہچانتا تھا۔ اس میں کوئی صرف عن الظاہر کی دلیل نہیں۔ لہٰذا مرزا ایسا نبی ہوا جس کو خدا بھی نہیں جانتا۔

١٣...... نیز مرزا کو الہام ہوا کہ تو جھوٹا مفتری ہے۔ (دیکھو کشتی نوح ص ٤٨، خزائن ج ١٩ ص ٥١) ”لقد جئت شیئا فریا ما کان ابوک امرأ سوء وما کانت امک بغیا“ لیکن مرزا اس الہام میں تاویل کرکے قالوا کو مقدر نکالنا چاہتا ہے۔ لیکن اس تقدیر کا کوئی قرینہ و قاعدہ بھی ہونا چاہئے۔

پس یہ خدا کا الہام مرزا کو ہوا تو مفتری ہے: ”ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا الآیة“ سے نتیجہ خود واضح ہے۔ خود مرزا کا فتویٰ مفتری کے متعلق یہ موجود ہے۔ (نشان آسمانی ص ٢، خزائن ج ٤ ص ٣٦٢) ”اگر ہم بے باک اور کذاب ہو جائیں اور خدا تعالیٰ کے سامنے افتراؤں سے نہ ڈریں تو ہزار ہا درجے ہم سے کتے اور سور اچھے ہیں ۔“ اب نتیجہ ظاہر ہے۔

١٤...... نیز مرزا کا یہ اقرار ہے کہ ملہمین کے عقائد صحیح اور درست ہوتے ہیں۔ اگر ان سے کوئی خطاء ہو جائے تو رحمت الٰہی جلد تر اس کا تدارک کر لیتی ہے۔ (براہین احمدیہ ص ٤٣٢ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣، خزائن ج ١ ص ٥٤٦) ”ازاں جملہ ایک عصمت بھی ہے۔ جس کو حفظ الٰہی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔...... اگر کوئی لغزش بھی ہو جائے تو رحمت الٰہیہ جلد تر ان کا تدارک کر لیتی ہے۔“

اور خود مرزا نے (نور الحق ص ٢، خزائن ج ٨ ص ٢٧٢) میں لکھا ہے کہ: ”ان اللہ لا یترکنی علی خطاء طرفة عین و یعصمنی عن کل شین“ لیکن بایں ہمہ مرزا ایک ایسے مسئلہ میں جو اس کا سب سے اولین مسئلہ تھا اور جس غرض کے لئے وہ دنیا میں آیا۔

١١٣

صفحہ ٢٤٠

(ضمیمہ حصہ پنجم ص ١٥١، ١٩٨) و (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٧٥، ٤٣٩ طبع اول و ایام الصلح ص ٣٩، ٤١ جدید) اور مسئلہ حیات مسیح ہی عیسائیت کا ستون تھا۔ (ص ٣٦، ٤١ طبع اوّل آئینہ کمالات اسلام) اور مرزا آیا بھی کسرِ صلیب کے لئے ہے۔

(ضرورت الامام ص ٢٥، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥)

اسی مسئلہ میں بارہ سال تک مبتلاء غلطی رہا۔ تو ایسے کوڑھ مغز نبی کو دنیا کس کام میں لائے گی اور ایسے ہی مرزا بشیر الدین خلیفہ ثانی کے قول مذکور فی

(حقیقت النبوۃ ص ١٢١)

(ضمیمہ نزول مسیح ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣) مرزا قادیانی ختم نبوت کے مسئلہ میں ١٩٠١ء یا ١٩٠٠ء تک غلطی پر رہے۔

یہ ہے۔

(حمامة البشریٰ ص ٤٩، خزائن ج ٧ ص ٢٣٣ و اربعین ص ٥ نمبر ٤) "و ان الانبیاء لا ینقلون من هذه الدنیا الی دار الآخرة الا بعد تکمیل رسالات قد ارسلوا لتبلیغها، الخ"

(ازالۃ الاوہام ص ١١٧، ٣٠٨) "لیکن زیرک لوگ اس کو خوب جانتے ہیں کہ ایسے مامور من اللہ کی صداقت کا اس سے بڑھ کر اور کوئی ثبوت ممکن نہیں کہ جس خدمت کے لئے اس کا دعویٰ ہے کہ اس کو بجا لانے کے لئے میں بھیجا گیا ہوں۔ اگر وہ خدمت کو ایسی طرزِ پسندیدہ اور طریق برگزیدہ سے ادا کر دیوے۔ جو دوسرے اس کے شریک نہ ہو سکیں تو یقیناً سمجھا جائے گا کہ وہ اپنے دعویٰ میں سچا تھا۔"

اسی معیار پر ہم مرزا قادیانی کو دیکھتے ہیں وہ کہتا ہے کہ میں نے اپنے سپرد کردہ کام کو پورا نہیں کیا۔ (دیکھو تتمہ حقیقت الوحی ص ٥٩، خزائن ج ٢٢ ص ٤٩٣) "مجھے افسوس ہے کہ میں اس کی راہ میں وہ طاعت و تقویٰ کا حق بجا نہیں لا سکا جو میری مراد تھی اور اس کے دین کی وہ خدمت نہیں کر سکا جو میری تمنا تھی۔ میں اس درد کو ساتھ لے جاؤں گا کہ جو کچھ کرنا چاہئے تھا میں کر نہیں سکا...... مجھے اپنے نقصان حالت کی طرف خیال آتا ہے تو مجھے اقرار کرنا پڑتا ہے کہ میں کیڑا ہوں نہ آدمی اور مردہ ہوں نہ زندہ۔"

تو معلوم ہوا کہ مرزا اپنی خدمت سپرد کردہ کو پورا کر کے نہیں گیا۔ نیز مرزا خود اپنے لئے تحریر کرتا ہے کہ میری صداقت اس سے معلوم کر لو کہ جس کام کے لئے میں آیا ہوں وہ پورا ہوا یا نہ؟ اگر وہ غرض پوری نہ ہو تو خواہ میرے کروڑ نشان و معجزات ہوں کوئی ان پر اعتبار نہیں۔" (دیکھو اخبار

١١٤

صفحہ ٢٤١

چوری شدہ چھتری

٣٣٩، ٣٤٠ ملحق اول و ایام الصلح ص ٣٩، ٣٩، ٤٠، طبع اول آئینہ کمالات الام ص ٢٥، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥) مغز نبی کو دنیا کس کام میں لائے (حقیقت النبوۃ ص ١٢١) ختم نبوت کے مسئلہ میں ١٩٠١ء یا ادہام ص ١٠٧٩) میں لکھی ہے۔ وہ ں کے لئے وہ بھیجے گئے ہیں۔ ”وان الانبیاء لا ینقلون قد ارسلو التبلیغها، الخ“ ب جانتے ہیں کہ ایسے مامور من دمت کے لئے اس کا دعویٰ ہے کو ایسی طرز پسندیدہ اور طریق تو یقیناً سمجھا جائے گا کہ وہ اپنے لے میں نے اپنے سپرد کردہ کام کو مجھے افسوس ہے کہ میں اس کی راہ کے دین کی وہ خدمت نہیں کر سکا بنے تھا میں کر نہیں سکا...... مجھے ہے کہ میں کیڑا ہوں نہ آدمی اور نہیں گیا۔ نیز مرزا خود اپنے لئے لئے میں آیا ہوں وہ پورا ہوا یا نہ؟ ما ان پر اعتبار نہیں۔“ (دیکھو اخبار

بدر نمبر ٢٨، ج ٢، ١٩ جولائی ١٩٠٦ء ص ٤ کالم ٢ (زیر عنوان، حضرت مسیح موعود کا ایک تازہ خط بنام قاضی نذیر حسین صاحب ایڈیٹر اخبار قنقل)

مگر باوجود ان تمام علامتوں کے طالب حق کے لئے میں یہ بات پیش کرتا ہوں کہ میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں۔ یہ ہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کروں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے؟ وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی؟ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود و مہدی معہود کو کرنا چاہئے تھا۔ تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔ والسلام فقط غلام احمد ۔“

اب اسی معیار مقرر کردہ مرزا پر اس کو ہم جانچتے ہیں کہ کسر صلیب سے مراد کیا۔ ادلہ توحید کو واضح کرنے ادلہ تثلیث کو باطل کرنا ہے یا عیسائیوں کی تعداد کو کم کر کے مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے اور مراد شق اول ہے تو اس میں مرزا خود جھوٹا ہے۔ کیونکہ ادلہ تثلیث کو قرآن مجید نے پہلے ہی باطل کر کے توحید کی ادلہ کو واضح کر دیا اور بائبل یا عقلی رنگ سے ادلہ تثلیث کو توڑنے کا نہایت بہترین کام مولانا رحمت اللہ مہاجر مکی نے اپنی تصانیف میں کر دیا ہے۔ مرزا کی تردید عیسائیت تو ان کے عشر عشیر کے برابر ہی نہیں۔ علاوہ ازیں مرزا خود انہیں کا خوشہ چین ہے اور اگر مراد شق دوم ہو تو مرزا کے اقوال سے ہی عیسائیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے نہ کہ کمی۔ (دیکھو حوالہ جات ذیل براہین احمدیہ ص ٥ جدید (غرض ضروری بحالت مجبوری، خزائن ج ١ ص ٦٧) ” کلکتہ میں جو پادری ہیکر صاحب نے اندازہ کرسٹان شدہ آدمیوں کا بیان کیا ہے۔ اس سے ایک نہایت قابل افسوس خبر ظاہر ہوتی ہے۔ پادری صاحب فرماتے ہیں جو پچاس سال سے پہلے تمام ہندوستان میں کرسٹان شدہ لوگوں کی تعداد صرف ستائیس ہزار تھی۔ اب پچاس سال میں یہ کارروائی ہوئی جو ستائیس ہزار سے پانچ لاکھ تک شمار عیسائیوں کا پہنچ گیا۔

تو براہین کی تصنیف کے وقت کی تعداد تو لحاظ میں رکھئے اور اس کے بعد کی تعداد ملاحظہ ہو۔ (نزول مسیح ص ٢٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٠٧) ”کیونکہ انیس لاکھ تو مرتد عیسائی پنجاب اور ہندوستان میں ظاہر ہو گیا۔“ (ملفوظات احمدیہ ص ٤٢٥) ”اسی ملک ہندوستان میں ٢٩ لاکھ انسان مرتد ہوا، عیسائی ہو گیا، الخ ۔“ (ریویو آف ریلیجنز نومبر و دسمبر ١٩٠٣ء) اب خیال فرمایا جائے کہ جوں جوں مرزا نے دنیا میں کام کیا۔ عیسائیوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔ اب مردم شماری ١٩٣٠ء میں تو عیسائیوں کی

١١٥

صفحہ ٢٤٢

تیری پناہ صدیوں کی پکار

تعداد ہندوستان میں…… تک پہنچ گئی ہے۔ یہ کسرصلیب ہوایا تقویت صلیب ہوئی؟

اظلم ممن افترى على الله“ اور بقول مرزا مفتری علی اللہ سوروں اور کتوں سے بھی بدتر ہے۔

(نشان آسمان ص٢، خزائن ج٤ص٣٦٢)

اب ذیل میں چند ایک مرزا کے افتراء ذکر کئے جاتے ہیں۔

کمال تصریح سے بیان کیا گیا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم اس امت میں اس طرح پیدا ہوگا کہ پہلے کوئی فرد اس امت کا مریم بنایا جائے گا اور پھر بعد اس کے اس مریم میں عیسیٰ کی روح پھونک دی جائے گی۔ پس وہ مریمیت کے رحم میں ایک مدت تک پرورش پا کر عیسیٰ کی روحانیت میں تولد پائے گا اور اس طرح پر وہ عیسیٰ ابن مریم کہلائے گا۔ یہ وہ خبر محمدؐ ابن مریم کے بارے میں ہے۔ جو سورہ تحریم میں اس زمانہ سے تیرہ سو برس پہلے بیان کی گئی ہے۔ حالانکہ سورہ تحریم میں یہ کوئی پیش گوئی نہیں۔ یہ مرزا خود توڑ مروڑ کر اس آیت کو اپنے مطلب کے لئے بنا رہا ہے اور توڑ مروڑ کرنے والے کے حق میں خود مرزا کا فتویٰ ملاحظہ ہو۔

(چشمہ معرفت ص ١٩٥، خزائن ج٢٣ص٢٠٤) ”یونہی کسی آیت کا سر پیر کاٹ کر اپنے مطلب کے موافق بنا کر پیش کر دینا۔ یہ تو ان لوگوں کا کام ہے جو سخت شریر اور بدمعاش اور غنڈے کہلاتے ہیں۔ اس آیت کو کسی نے پیش گوئی نہیں سمجھا۔ کوئی مفسر ومحدث اس طرف نہیں گیا۔ حالانکہ قرآن مجید کے عام محاورات کے خلاف معنی کرنا الحاد و زندقہ ہے۔“

(نزول مسیح ص٤٠، خزائن ج١٨ص٤١٨) ”سو قرآن کے برخلاف اس کے اور معنی کرنا یہی تحریف اور الحاد اور دجل ہے۔“

نیز اگر یہ پیش گوئی صریحہ تھی تو پیش گوئی تو ایسی ہونی چاہئے۔ جس کو دوسری دنیا بھی سمجھ سکے نہ وہ کہ اس کو تیرہ سو سال کے بعد آکر مرزا نے ہی سمجھا ہو۔ ملاحظہ ہو۔

گوئی کے بیان کرنے سے کوئی غرض بھی ہوتی ہے۔ پیش گوئیاں اللہ تعالیٰ اس لئے بیان فرماتا ہے کہ انہیں پورا ہوتے دیکھ کر لوگوں کے ایمان میں ترقی ہو۔ لیکن اس قسم کی پیش گوئیاں جو مصنف کتاب پیش کرتے ہیں۔ ایسا فائدہ نہیں دے سکتیں۔ کیونکہ ان کے پورا ہونے کو ان لوگوں نے تو سمجھا ہی نہیں۔ جن کی آنکھوں کے سامنے وہ پوری ہوئیں اور اب ایک ہزار یا تیرہ سو سال بعد ایک ١١٦

شخص کی سمجھ میں یہ بات آئی جو واقعات سے لئے ہے۔ اسے معاویہؓ پر لگا دیا کیونکہ آپ م حضرت معاویہؓ اس آیت کے واقعی مصداق چو جانچتے ہیں تو بالکل تحریف قرآن ہے۔

کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کو خدا بناتے اس مضمون کو کون سی آیت میں بتا نہیں۔

کر دیا تھا اور اصلاح مخلوق میں تمام نبیوں سے

یہ کس آیت سے ثابت ہے کیا یہ خد

چکا ہے۔ بصراحت و بہ آواز بلند ظاہر کر رہا ہے میں بمعہ پیش گوئی ضرور موجود ہے”انا انزل قرآن اور حدیث میں ہے؟ مگر پیش گوئی کا م مضمون یاد رہے۔

اب چند نمونے افتراء علی الرسول ب

حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان لفظ ہے، بالکل غلط ہے۔

مسیح موعود چھٹے ہزار میں پیدا ہوگا۔“ کون سی ہے؟ یہ افتراء علی الرسول ہے۔

صدی کا مجدد ہوگا۔ کون سی احادیث صحیحہ میں آی

صفحہ ٢٤٣

شخص کی سمجھ میں یہ بات آئی جو واقعات سے بھی بالکل بے خبر ہے۔ جو آیت ظالموں کی سزا کے لئے ہے۔ اسے معاویہ پر لگا دیا کیونکہ آپ معاویہ کو اچھا نہیں سمجھتے۔ لیکن کیا ان کو یقین ہے کہ حضرت معاویہ اس آیت کے واقعی مصداق ہیں، الخ۔‘‘ اسی معیار پر ہم سورہ تحریم کی پیش گوئی کو جانچتے ہیں تو بالکل تحریف قرآن ہے۔

کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کو خدا بنانے کے موجد پہلے آریہ ورت کے برہمن ہی ہیں۔ اس مضمون کو کون سی آیت میں نہایت صفائی سے بیان کیا گیا ہے۔ کیا یہ تحریف علی اللہ نہیں۔

کر دیا تھا اور اصلاح مخلوق میں تمام نبیوں سے یہ ان کا گرا ہوا نمبر تھا۔“

(براہین حصہ پنجم ص ٣٧، ٣٨، خزائن ج ٢١ص ٤٨)

یہ کس آیت سے ثابت ہے کیا یہ خدا پر افتراء نہیں ہے۔

چکا ہے۔ بصراحت و بہ آواز بلند ظاہر کر رہا ہے کہ قادیان کا نام قرآن شریف میں یا حدیث نبویہ میں بمعہ پیش گوئی ضرور موجود ہے ’انا انزلناہ قریبا من القادیان‘ یہ پیش گوئی کہاں قرآن اور حدیث میں ہے؟ مگر پیش گوئی کا معیار ریویو آف ریلیجنز ماہ اکتوبر ١٩٠٤ء کا بیان کردہ مضمون یاد رہے۔

اب چند نمونے افتراء علی الرسول کے ملاحظہ ہوں۔

حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔ کہاں صحیح مسلم میں آسمان لفظ ہے، بالکل غلط ہے۔

مسیح موعود چھٹے ہزار میں پیدا ہوگا۔“ کون سی احادیث صحیحہ میں چھٹے ہزار میں مسیح کی پیدائش لکھی ہے؟ یہ افتراء علی الرسول ہے۔

صدی کا مجدد ہوگا۔ کون سی احادیث صحیحہ میں آیا ہے۔ یہ بھی افتراء علی الرسول ہے۔

١١٧

صفحہ ٢٤٤

لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی کہ ہذا خلیفۃ اللہ المہدی۔ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے۔ جو ایسی کتاب میں درج ہے۔ جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے، الخ۔ کہاں بخاری میں یہ حدیث ہے؟ یہ بھی افتراء ہے۔

گوئیوں کی صداقت ہے اور عام مرزائی بھی اس کو پیش کیا کرتے ہیں۔ اس لئے ہم اسی معیار کو سامنے رکھتے ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ بعض پیش گوئیاں تو کنجروں کی بھی صادق ہو جاتی ہے۔ (دیکھو حقیقت الوحی ص ٣٢١، خزائن ج ٢٢ ص ٣٣٥) اور ممکن ہے کہ ایک خواب سچا ہو اور پھر بھی شیطان کی طرف سے ہو اور ممکن ہے کہ ایک الہام سچا ہو اور پھر بھی وہ شیطان کی طرف سے ہو۔

(حقیقت الوحی ص ٢، خزائن ج ٢٢ ص ٥) ”بعض فاسق اور فاجر اور زانی اور ظالم اور غیر متدین اور چور اور حرام خور اور خدا کے احکام کے مخالف چلنے والے بھی ایسے دیکھے گئے ہیں کہ ان کو بھی کبھی کبھی سچی خوابیں آتی ہیں...... انہوں نے ہمارے روبرو بعض خوابیں بیان کیں اور وہ سچی نکلیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٢) ”اس تمام تقریر سے ہمارا مدعی یہ ہے کہ کسی شخص کا محض سچی خوابوں کا دیکھنا یا بعض سچے الہامات کا مشاہدہ کرنا یہ امر اس کے کسی کمال پر دلیل نہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٠، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢) ”ان کو بعض سچی خوابیں آ جاتی ہیں اور سچے کشف ظاہر ہوتے ہیں۔ جن میں کوئی مقبولیت اور محبوبیت کے آثار ظاہر نہیں ہوتے، الخ۔“

اب حوالہ جات پیش ہوتے ہیں۔ جن میں مرزا نے لکھا ہے کہ میری صداقت کی دلیل میری پیش گوئیاں ہیں۔

محک امتحان نہیں ہوسکتا۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٣، خزائن ج ٥ ص ٦٥١، سراج منیر ص ١٣ خزائن ج ١٢ ص ١٥، تریاق القلوب ص ٣٨٢، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٢)

(آریہ دھرم ص ٤٢، خزائن ج ١٠ ص ٤٨)

١١٨

امید جاتی رہی۔ تو اگر میں نے بحوالہ حقیقت وہ تمام پیش گوئیاں پوری ہو جیسا کہ نبیوں کی پیش گوئیاں تھیں، تو

دلیل میں مرزا کی وہ چند

من الاحسان وبشر نی بم ربی“ اس کو مولوی نور دین خلیفہ

رؤیای وارجوان یجعلہا رب

(ضمیر تحفہ گولڑویہ ص ٨، قریب حالانکہ مرزا کو ذیل کی ب ذیابیطس۔ (حقیقت ال ضمیمہ اربعین ص ٤، نزول المسیح ص ٤١)

”دماغی کمزوری، دورہ (حقیقت الوحی ص ٩

”کثرت پیشاب سوب

”درد گردہ“ (جس سے

درد سر۔ دوران سر،

معدوم۔

صفحہ ٢٤٥

امید جاتی رہی۔ تو اگر میں نے بحوالہ انبیاء علیہم السلام کی پیش گوئیوں سے یہ ثابت نہ کر دیا کہ در حقیقت وہ تمام پیش گوئیاں پوری ہو گئی ہیں یا بعض انتظار کے لائق ہیں اور وہ اسی رنگ کی ہیں۔ جیسا کہ نبیوں کی پیش گوئیاں تھیں ، تو بلاشبہ میں ہر ایک مجلس میں جھوٹا ٹھہروں گا ۔“

(اربعین نمبر ٢ ص ٣، خزائن ج ١٧ ص ٣٤٩)

ذیل میں مرزا کی وہ چند ایک پیش گوئیاں پیش کی جاتی ہیں جو پوری نہیں ہوئیں:

من الاحسان وبشرنی بخامس فی حین من الاحیان و ھذہ کلھا آیات من ربی “

(مواہب الرحمٰن ص ١٣٩، خزائن ج ١٩ ص ٣٦٠)

اس کو مولوی نور دین تسلیم کرتا ہے کہ پانچواں بچہ پیدا نہیں ہوا۔

(دیکھو ریویو آف ریلیجنز ج ٧ نمبر ٦،٧ ماہ جون و جولائی ١٩٠٨ء ص ٢٧٦)

رؤیای و ارجو ان یجعلھا ربی حقاً “

(حجة الاسلام ص ١٥، قریب منہ سراج منیر ص ٢٩، ٨٠ حاشیہ)

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٨، قریب منہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٣٠ حاشیہ، اربعین نمبر ٣ ص ٤٧)

حالانکہ مرزا کو ذیل کی بیماریاں تھیں۔

ذیابیطس۔ (حقیقت الوحی ص ٣٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ٣١٩، ص ٣٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣٧٧،

ضمیمہ اربعین ص ٤، نزول المسیح ص ٤١)

”دماغی کمزوری ، دورانِ سر۔“

(حقیقت الوحی ص ٣١٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣٣١، حقیقت الوحی ص ٣٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣٧٦)

”کثرت پیشاب سو سو بار دن میں۔“ (ضمیمہ اربعین نمبر ٣ ص ٤، نزول المسیح ص ٢٣٥)

”درد گردہ“ (جس سے مرگ کا خطرہ ہوتا ہے)

(حقیقت الوحی ص ٣٤٥، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٨)

دردِ سر۔ دورانِ سر، تشنج قلب، دل و دماغ اور جسم نہایت کمزور...... حالتِ مردی معدوم۔ (ضمیمہ اربعین نمبر ٣ ص ٤، نزول المسیح ص ٢٠٩، خزائن ج ١٨ ص ٥٨٧)

١١٩

صفحہ ٢٤٦

ایک دفعہ قولنج زحیری سے سخت بیمار ہوا۔

(حقیقۃ الوحی ص ٢٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٤٦)

فالج جس سے نصف حصہ اسفل بے حس ہو گیا۔

(حقیقۃ الوحی ص ٢٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٤٥)

(برکات الدعاء ص ٣، سراج منیر ص ١٥، نزول مسیح ص ١٧٨)

”مولوی ثناء اللہ قادیان میں پیش گوئیوں کی پڑتال کے لئے نہیں آئے گا۔“

(ضمیمہ نزول مسیح ص ٣٧، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨)

حالانکہ مولوی ثناء اللہ آیا۔ (مواہب الرحمٰن ص ١٠٩)

و تبصرہ، مرزا عبدالحکیم کی پیش گوئی کے مطابق مر گیا چشمہ معرفت)

(اربعین نمبر ٢ ص ٢٨ حاشیہ ص ١٥، تحفہ گولڑویہ ص ١٠٢ تا ١٠٣)

(بقیہ حاشیہ انجام آتھم ص ٣٢، خزائن ج ١١ ص ٣٢)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣،٥٤ حاشیہ)

(جنگ مقدس ص ١٨٩ حاشیہ، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢)

گے۔ عالم کباب وغیرہ) (حقیقۃ الوحی ص ١٠٠، حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٣، ریویو آف ریلیجنز نمبر ٧ ج ٥، ٩)

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً، شہادۃ القرآن ص ٨١، خزائن ج ٦ ص ٣٧٦)

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

المختار“

(نور الحق ص ١٠، خزائن ج ٨ ص ١٩٧)

١٢٠

الہام کم از کم ٧٤، ٧٥ سال کا تھا۔“

(حقیقۃ الوحی

حالانکہ وہ آخر تک مرزا کے خ

الہام ہے، ”اجیب کل دعائک الا شرکاء میں سے ہے۔ اس لئے اس کے م نہیں ہوتی۔ تو ہم کہتے ہیں کہ سرسید کے ن

خیال کر کے جب توجہ کی جائے کہ اس با

لیکھرام کے متعلق اسی نوعی شیطانی ہوا۔

نیز مرزا چونکہ جھوٹ بولا کر سکتا۔ ملاحظہ ہوں پہلے اس کے اپنے اقوا

باتوں میں بھی اعتبار نہیں رہتا۔“

صفحہ ٢٤٧

الہام کم از کم ٧٤، ٧٥ سال کا تھا۔“

(حقیقت الوحی ص ٩٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠، استفتاء ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٢)

(تمہ حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٣٩)

حالانکہ وہ آخر تک مرزا کے خلاف رہا۔

(ریویو آف ریلیجنز و تذکرہ)

الہام ہے، ”اجیب کل دعائک الا فی شرکائک “ اس قاعدہ سے احمد بیگ کیونکہ مرزا کے شرکاء میں سے ہے۔ اس لئے اس کے حق میں کوئی دعا وغیرہ قبول نہ ہوگی۔ اگر کہو کہ پیش گوئی دعا نہیں ہوتی۔ تو ہم کہتے ہیں کہ سرسید کے حق میں پیش گوئی ہے۔ جس کو مرزا دعا مستجاب کہتا ہے۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٢، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٠)

خیال کر کے جب توجہ کی جائے کہ اس کے حق میں برا یا اچھا الہام ہو، تو وہ الہام شیطانی ہوتا ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٦٢٨، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩)

لیکھرام کے متعلق اسی نوعیت کا الہام تھا۔ دیکھو (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٣٥) لہٰذا وہ شیطانی ہوا۔

(لیکھرام پشاوری کی نسبت پیش گوئی ص ٢ جدید)

نیز مرزا چونکہ جھوٹ بولا کرتا ہے۔ اس لئے بھی وہ سچا نبی یا انسان یا مسیح یا مجدد نہیں ہو سکتا۔ ملاحظہ ہوں پہلے اس کے اپنے اقوال کہ جھوٹے کی کیا حالت ہوتی ہے؟

(حاشیہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٥٦)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ٣٤٣)

باتوں میں بھی اعتبار نہیں رہتا۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)

(آریہ دھرم ص ٤٢، خزائن ج ١٠ ص ٤٨)

١٢١

صفحہ ٢٤٨

(ملفوظات احمدیہ ص ١٨١ سلسلہ اشاعت لاہوری)

آدمیوں کا کام ہے۔“

(آریہ دھرم ص ٧١، خزائن ج ١٠ ص ١٣)

ہیں اور جھوٹ اور دجالی طریقہ سے دنیا میں فساد اور پھوٹ ڈالتے ہیں۔“

(نزول مسیح ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٦)

ذیل میں اس کے جھوٹ ملاحظہ ہوں

اول تو وہ صریح قرآن اور حدیث پر افتراء ہیں جو پہلے گزر چکے ہیں۔

کے طاعون آئی۔“ (حقیقت الوحی ص ٤٥، خزائن ج ٢٢ ص ٤٨، کشتئ نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥ ایضاً)

قرآن مجید میں ’الا ماشاء ربك‘ نہیں ہے۔“ حالانکہ اسی صورت میں موجود ہے۔

غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں، وہ نبی کہلاتا ہے۔“ (حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) بحوالہ مکتوبات مجدد الف ثانی، حالانکہ اس میں نبی کا لفظ نہیں بلکہ محدث کا لفظ ہے۔

گی ۔ ہذا خلیفۃ اللہ المہدی۔“ (شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧) حالانکہ بخاری میں کہیں ذکر نہیں۔

(ازالہ اوہام ص ٨١، خزائن ج ٣ ص ١٤٢)

حالانکہ مسلم میں آسمان کا لفظ نہیں۔

الصلح ص ١٤٠، خزائن ج ١٤ ص ٣٨٥، ملفوظات احمدیہ ص ١٢ سلسلہ اشاعت لاہوری) میں دو ہزار لکھا ہے۔ لیکن انجیل میں کہیں نہیں۔

١٢٢

سال زندہ رہے ۔“ (مسیح ہندوستان...

علی جهنم زمان لیس فیه... کہ یہ کس جگہ ہے۔

مشت خاك گر نه بخشم ...

موعود کا آنا اجماعی عقیدہ ہے۔“

خزائن ج ١١ ص ایضاً و ضمیمہ براہین احمد... ہے۔ دیکھو

حالانکہ کئی سلف کے ...

ہو۔ ہمیشہ وہاں مارنے اور قبض ... غلط ہے اور جھوٹ ۔

ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے گیار...

انی متوفيك “ میں چارو... ”تقدیم و تاخیر“

بالکل غلط ، جھوٹ...

صفحہ ٢٤٩

سال زندہ رہے۔" (مسیح ہندوستان میں ص٥٣، خزائن ج١٥ ص٥٥) غلط تہمت ہے۔

على جهنم زمان ليس فيها احد و نسيم الصبا تحرك أبوابها" غلط ہے، حوالہ دو کہ یہ کس جگہ ہے۔

مشت خاك گر نه بخشم چه کنم“

موعود کا آنا اجماعی عقیدہ ہے۔“ کوئی اجماعی عقیدہ نہیں۔

خزائن ج١١ ص ایضاً ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص١٣٣ جدید، خزائن ج٢١ ص٢٩٠) حالانکہ رجوع کا لفظ موجود ہے۔ دیکھو

(عقيدة الاسلام اور التصريح بما تواتر فى نزول المسيح)

(انجام آتھم ص١٤٨، خزائن ج١١ ص١٤٨)

حالانکہ کئی سلف کے کلام میں ہے۔ مثلاً فقہ اکبر میں امام ابو حنیفہ کا قول موجود ہے۔

ہو۔ ہمیشہ وہاں مارنے اور قبض کرنے کے معنی ہوتے ہیں۔“ (تحفہ گولڑویہ ص٥١، خزائن ج١٧ ص١٦١) غلط ہے اور جھوٹ۔

ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے گیارہ لڑکے ہوئے اور سب فوت ہو گئے۔“ غلط ہے، جھوٹ ہے۔

انى متوفيك" میں چاروں مواعید بالترتیب وقوع میں آئے۔“ حالانکہ ابن عباسؓ کا قول ہے ”تقديم و تاخير“

(ایام الصلح ص٤٨، خزائن ج١٤ ص٢٨٠)

بالکل غلط، جھوٹ ہے۔

١٢٣

صفحہ ٢٥٠

(ایام الصلح ص ١٤٨، خزائن ج ١٤ص ٣٩٥)

جھوٹ ہے کیونکہ یہ حنفیوں کی کتاب نہیں، شافعیہ کی ہے۔

ہوئی ہے۔“ (ایام الصلح ص ١٤٣، خزائن ج ١٤ص ٣٨٨) بالکل غلط، کس محدث نے اس کو اول درجہ کی صحیح مانا ہے؟

غلط، ستمبر ٣٠ دن کا ہوتا ہے (طبع ثانی میں ٣٠ ستمبر ہے)

چوتھا مہینہ ہے۔“ بالکل جھوٹ! اسلامی سال محرم سے شروع ہوتا ہے ١؎

حالانکہ یہ غلط کہتا ہے، اس سے پہلے (ازالہ اوہام ص ١٨٥، خزائن ج ٣ ص ١٨٩) میں لکھ چکا ہے کہ ”اگر یہ عاجز مسیح موعود نہیں تو پھر آپ لوگ مسیح موعود کو آسمان سے اتار کر دکھلادیں۔“ نیز (ص ٧٧٩، خزائن ج ٣ ص ٥١٨) میں بھی اپنے آپ کو مسیح موعود مانتا ہے۔ لہٰذا (ص ١٦٠، خزائن ج ٨ ص ١٦٩) والا قول یقیناً جھوٹ ہے۔

قلت کلمة فیه رائحة ادعاء النبوة“ حالانکہ اس کے کئی ایک ایسے کلمات اور دعاوی ہیں۔ حمامۃ البشریٰ ١٣١١ھ کی تصنیف ہے اور مرزا خود (اربعین ص ٧٦، خزائن ج ١٧ص ٤٣١) میں لکھتا ہے کہ ”میرے دعویٰ نبوت کو ٢٣ سال سے زیادہ ہوچکے ہیں۔“٢؎

مرزا کے وہ جھوٹ جو اس نے حلفاً کہہ کر غلط بیانی کی ہے

حالانکہ مرزا خود لکھتا ہے کہ ”جھوٹی قسم کھانا لعنتی کا کام ہے۔“

(نزول المسیح ص ٢٣٧، خزائن ج ١٨ ص ٥٥٥ پیش گوئی نمبر ٤١ ضمیمہ دعوت ص ٨٤، خزائن ج ١٩ص ٤٥٤)

١؎ تریاق القلوب کے حاشیہ میں اس کی تاویل کی گئی ہے جو بالکل غیر معقول اور غلط ہے۔ محمد عارف۔

٢؎ وفات مرزا ١٣٢٦ھ

صفحہ ٢٥١

”خدا کا نام لے کر جھوٹ بولنا سخت بدذاتی ہے۔“

(تریاق القلوب ص٦،خزائن ج١٥ص١٤٠)

ہے ۔ کوئی ثابت نہیں کرسکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے یا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہے۔“ یہ بالکل غلط ہے۔ مرزا کے کئی استاذ ہوئے ہیں۔ مولوی فضل احمد، مولوی فضل الٰہی، مرزا غلام مرتضیٰ، گل علی شاہ وغیرہ۔ خود معراج دین عمر نے مرزا کی سوانح عمری (ص٦٣) میں اس کے کئی ایک استاذ قرآن مجید وغیرہ کے لکھے ہیں اور مرزا بشیر الدین خلیفہ ثانی نے بھی مرزا کی سوانح عمری (ص١٠،١١) میں یونہی لکھا ہے کہ اس نے فلاں فلاں سے پڑھا ہے۔ خود مرزا کے قلم سے ہے۔

(ریویو آف ریلیجنز ج ٦ ص ٢٢٠ ماخوذ از کتاب البریہ)

وانی نازل فی منزلہ ولکنی واخفیتہ......وتوقفت فی الاظهار عشر سنین“

(آئینہ کمالات اسلام ص٥٥١، خزائن ج٥ص ایضاً) اس میں دو جھوٹ قسمیہ ثابت ہوتے ہیں۔

ج١٩ص١١٣) میں خود لکھتا ہے کہ:” مجھے اس امر کی کوئی خبر نہ تھی کہ میں ہی مسیح موعود ہوں۔“

(ضمیمہ نزول مسیح ص٧، خزائن ج١٩ص١١٣) میں بارہ سال لکھتا ہے۔ یہ دو جھوٹ ہوئے۔

مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام

مسئلہ نزول وصعود وحیات مسیح علیہ السلام کی پوزیشن مرزا کی نظر میں

عموماً مرزائی جماعت سب سے اول مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام لے آنا چاہتی ہے۔ لیکن دیکھتے ہیں کہ یہ مسئلہ مرزا کی نظر میں کوئی اصولی مسئلہ نہیں۔ دیکھو

(ازالۃ اوہام ص١٤٠،خزائن ج٣ص١٧١)

”اول تو یہ جاننا چاہئے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہماری ایمانیات کی کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیش گوئیوں میں

١٢٥

صفحہ ٢٥٢

سے ایک پیش گوئی ہے۔ جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ جس زمانہ تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی، اس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہو گیا۔“

نیز ملاحظہ فرمائیے (اخبار بدر ٢٠؍دسمبر ١٩٠٦ء ص ٧ کالم ١) ”حیات و وفات مسیح کا مسئلہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو اسلام میں داخل ہونے کے لئے شرط ہو۔ جبکہ یہ مسئلہ اسلام کی جزو نہیں، الخ ۔“

اب مرزا یا مرزائی جماعت کا یہ کہنا اصل الاصول ہمارے نزاعات کا مسئلہ حیات و نزول مسیح علیہ السلام ہے یا یہ مرزا کے صدق و کذب کی اصل مدار ہے۔ جیسے مرزا بھی کہتا ہے۔ (انجام آتھم ص ١٣٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً، آئینہ کمالات اسلام ص ٢٧٥، ضمیمہ حصہ پنجم ص ٢٠٠، خزائن ج ٢١ ص ٣٧٢) بالکل غلط ہوا۔ کیونکہ مرزا کا دعویٰ تو مسیح موعود ہونے کا موجود ہوتے ہوئے پھر مرزا کہہ رہا ہے کہ اس مسئلہ کو اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ تو پھر مدار دعویٰ مسیحیت حیات و نزول پر کیوں ہوئی؟ مرزا کا دعویٰ مسیحیت (ازالہ اوہام ص ٧٢١، خزائن ج ٣ ص ٤٨٨) وغیرہ میں مصرح موجود ہے۔

پس ثابت ہوا کہ مسیح موعود ہونے کی مدار حیات و نزول و وفات مسیح علیہ السلام پر نہیں۔ نزول مسیح علیہ السلام وصعود وحیات مسیح علیہ السلام آپس میں متلازم ہیں۔ جیسے مرزا نے (حمامة البشریٰ ص ٣٢، خزائن ج ٧ ص ٢١٦) میں کہا: ”و ما عرفوا ان النزول فرع الصعود “ اور (ازالہ اوہام ص ٤٧٠، خزائن ج ٣ ص ٣٥١) میں کہا کہ ”واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ کی قبر میں ان کا آخری زمانہ میں دفن ہونا یہ اس بات کی فرع ہے کہ پہلے ان کا اس جسم خاکی کے ساتھ زندہ اٹھایا جانا ثابت ہو، الخ۔ پس اب ثابت ہوا کہ نزول وصعود و حیات مسیح علیہ السلام سب متلازم ہیں۔ ایک کے ثبوت سے دوسرے کا ثبوت خود ہو جائے گا۔

لفظ ”توفی“ پر مرزا کے اصول سے نظر

مرزا اور مرزائی یہ کہا کرتے ہیں کہ ”توفی“ کا فاعل جب اللہ تعالیٰ ہو اور مفعول بہ ذی روح ہو تو اس کا معنی سوا ممات دینے اور قبض روح کے اور کچھ نہیں۔ (ازالہ ص ٩١٨، ٢٤٦، خزائن ج ٣ ص ٦٠٣، ٢٢٤، وغیرہ وتحفہ گولڑویہ ص ٤٥، خزائن ج ١٧ ص ١٦٢) لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا باوجود ملہم ہو چکنے کے براہین احمدیہ میں متوفی کا موت دینے کا معنی نہیں کرتا۔ (دیکھو براہین احمدیہ ص ٥٢٠، خزائن ج ١

١٢٦

ص ٦٤٠) ”اني متوفيك و رافعك اٹھاؤں گا۔ الخ ) و ( مکتوبات ص ٦٧، ٦٨) ایک کا متعین کرنا صریح شرارت ہے۔ ( عقل ونقل قرآن وحدیث وغیرہ کچھ بھی نہ

علاوہ ازیں مرزا قرآن مجید يتوفى الانفس حين موتها الآیة “ (دیکھو ازالہ اوہام ص ٣٣٧، خزائن قرآن شریف میں آیا ہے۔

اس سے پہلا قاعدہ کلیہ تو غلط تیسری جگہ بھی مان لے کہ ”یا عیسی سلانا یا نعمت پوری دینا ہی مراد ہے اور بہ آیات میں ایسے معنی کر جاتا ہے جو تیری دوسرے مقامات کثیرہ کے معنی تو اس جگہ مراد ”آية اذ الرسل اقتت“ میں مجاز

اور یاد رہے کہ کلام اللہ میں اطلاق پاتا ہے۔ ...... اور ”آیة اذ الرسل مرزا نے اسی طرح الناس سے مراد ”آیت الناس “ اور آیت ”وكنتم خير ا گولڑویہ ص ٣٣) اور ”الساعة “ کا معنی خزائن ج ١٩ ص ١٢٩) میں ”وانه لعلم ل

١؎ (سراج منیر حاشیہ ص ٢٠، خ کیا۔ دیکھو اس کی عبارت براہین احمدیہ سے شائع ہو چکا ہے۔ اس کے اس وق تسلی ہوا تھا جب کہ یہودان کے مصلو کوشش کر رہے ہیں اور الہام کے یہ مع

صفحہ ٢٥٣

ص٦٢٠) ”انی متوفیک و رافعک الی......“ (میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ الخ) و (مکتوبات ص٦٧، ٦٨)”پوری نعمت دینا یا مارنا اور دونوں معنوں میں سے کسی ایک کا متعین کرنا صریح شرارت ہے۔ (نورالقرآن ص٤٤، خزائن ج٩ ص٤٤) کیا اس وقت نحو لغت، عقل و نقل قرآن وحدیث وغیرہ کچھ بھی زیر نظر نہ تھا کہ توفی کا معنی پوری نعمت دینے کا کر دیا۔

علاوہ ازیں مرزا قرآن مجید میں دو جگہ تسلیم کرتا ہے کہ مراد موت نہیں۔ ”الآیۃ اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت و آیۃ ھو الذی یتوفاکم باللیل الآیۃ“ (دیکھو ازالہ اوہام ص٣٣٧، خزائن ج٣ ص٢٧٢) اور نیند کے محل پر توفی کا لفظ صرف دو جگہ قرآن شریف میں آیا ہے۔

اس سے پہلا قاعدہ کلیہ تو غلط ہو گیا اور جب دو جگہ مرزا مانتا ہے کہ موت مراد نہیں تو پھر تیسری جگہ بھی مان لے کہ ”یا عیسی انی متوفیک الآیۃ“ میں بھی وہ موت مراد نہیں۔ بلکہ سلانا یا نعمت پوری دینا ہی مراد ہے اور بطور تسلیم قول مرزا ہم یہ کہتے ہیں کہ جیسے تو خود بعض اوقات آیات میں ایسے معنی کر جاتا ہے جو تیرے نزدیک صرف ایک جگہ ہی وہ معنی مراد ہوتے ہیں اور دوسرے مقامات کثیرہ کے معنی تو اس جگہ ترک کر دیا کرتا ہے۔ دیکھو کہ مرزا نے ”الرسل“ سے مراد ”آیۃ اذا الرسل اقتت“ میں مجازی رسول اور پھر جمع سے مراد مفرد لیا ہے۔

(شہادۃ القرآن ص٤٣، خزائن ج٦ ص٣١٩)

اور یاد رہے کہ کلام اللہ میں رسل کا لفظ واحد پر بھی اطلاق پاتا ہے اور غیر رسول پر بھی اطلاق پاتا ہے...... اور ”آیۃ اذا الرسل اقتت“ میں الف لام عہد خارجی پر دلالت کرتا ہے اور مرزا نے اسی طرح الناس سے مراد ”آیۃ لخلق السموات والارض اکبر من خلق الناس“ اور آیت ”وکنتم خیر امۃ اخرجت للناس“ میں دجال معہود لیا ہے۔ (دیکھو تحفہ گولڑویہ ص٣٣) اور ”الساعۃ“ کا معنی قرآن مجید میں عموماً قیامت ہے۔ لیکن (ضمیمہ نزول مسیح ص٢١، خزائن ج١٩ ص١٤٩) میں ”وانہ لعلم للساعۃ“ میں ”ساعۃ“ سے مراد قیامت نہیں ہے۔

١۔ (سراج منیر حاشیہ ص٢٠، خزائن ج١٢ ص٢٢) میں بھی متوفی کا معنی مرزا نے موت نہیں کیا۔ دیکھو اس کی عبارت براہین احمدیہ کا وہ الہام یعنی ”یا عیسی انی متوفیک“ جو سترہ برس سے شائع ہو چکا ہے۔ اس کے اس وقت خوب معنی کھلے۔ یعنی یہ الہام حضرت عیسیٰ کو اس وقت بطور تسلی ہوا تھا جب کہ یہود ان کے مصلوب کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اس جگہ بجائے یہود کے ہنود کوشش کر رہے ہیں اور الہام کے یہ معنی ہیں کہ میں تجھے ایسی ذلیل اور لعنتی موتوں سے بچاؤں گا۔

١٢٧

صفحہ ٢٥٤

حالانکہ قرآن مجید کے باقی مقامات میں الناس سے مراد دجال معہود یا الرسل سے مراد مفرد رسول مجازی نہیں لیا کرتا۔ تو اگر تیرے خیال میں توفی کا معنی اور مقامات کثیرہ میں وفات کا ہی ہے تو پھر بھی بعض جگہ میں جو موت مراد نہیں تو اسی دو جگہ پر ”متوفیک“ کو حمل کر لیں گے۔ جیسے تو نے الناس اور الرسل میں کیا ہے اور پھر بفرض محال اگر تیرے خیال میں توفی کا حقیقی معنی موت ہی ہے تو پھر بھی تیرا خود اقرار ہے کہ ہر لفظ کا معنی حقیقت پر پورا نہیں کیا کرتے اور نہ ہی لغت پر حمل کیا جاتا ہے۔ بلکہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اصطلاح علماء میں اس کے کیا معنی ہیں؟ (دیکھو کمالات اسلام ص ١٧٤) ماسوا اس کے ہم ان کتب لغت کو جو صد ہا برس قرآن کریم کے بعد اپنے زمانہ کے محاورات کے موافق تیار ہوئی ہیں۔ قرآن مجید کا حکم نہیں ٹھہرا سکتے۔ (اتمام الحجہ ص ٤، خزائن ج ٨ ص ٢٧٦) ”ولـوجـاز صـرف الفاظ تحكما من المعانى المرادة المتواترة لا رتفع الامان عـن اللغـة والشرع با لكلية وفسدت العقائد كلها ونزلت آفات على الملة والدين“

(براہین احمدیہ ص ٢٢٢،٢٢١ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٢٤٥، ٢٤٦)

پس اگر ہر لفظ کا لغت ہی سے فیصلہ کرنا چاہئے تو اس حالت میں اسلام بھی الہام کی طرح مولوی صاحب کے نزدیک صرف صلح یا سوچنے کا نام ہوگا اور دوسرے معانی سب ناجائز اور غیر صحیح ٹھہریں گے۔ نعوذ باللہ من زلۃ الفکر ...... اور علماء کو اس بات سے چارہ اور گریز گاہ نہیں کہ اس علم کے استفادہ و افادہ کی غرض سے بعض الفاظ کے معانی اپنے عرف میں اپنے مطلب کے موافق مقرر کر لیں۔

(براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ ص ٢٢٠، خزائن ج ١ ص ٢٤٣) کیونکہ لفظ الہام جو اکثر جگہ عام طور پر وحی کے معنوں پر اطلاق پاتا ہے۔ وہ باعتبار لغوی معنی کے اطلاق نہیں پاتا۔ بلکہ اطلاق اس کا باعتبار عرف علماء اسلام ہے۔ پس اسی قاعدہ کے موافق ہم بھی کہتے ہیں کہ بالفرض اگر توفی کا معنی موت ہی ہے تو دیکھنا کہ علماء اور مفسرین و محدثین نے اس کے معنی متواتر اس جگہ کیا مراد لئے ہیں۔ وہ یا نیند ہے یا پورا کرنے کے ہیں۔ دیکھو کتب تفسیر الاستدلال اصح فی حیات المسیح ماسٹر پیر بخش لاہوری مرحوم کی۔

مرزا کا اقرار ہے کہ مروجہ مصطلحہ الفاظ کے خلاف قرآن مجید کی تفسیر کرنا الحاد ہے۔ (دیکھو ازالہ ص ٣٦٧، ٣٦٨، خزائن ج ٣ ص ٢٥٠) پس جو شخص الحاد کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اس کے لئے سیدھی راہ یہی ہے کہ قرآن شریف کے معنی اس کے مروجہ اور مصطلحہ الفاظ سے کرے ورنہ تفسیر بالرائے ہوگی۔ اس قاعدہ کے لحاظ سے بھی ہم کہتے ہیں کہ قرآن مجید کے توفی کے معنی مروجہ و

١٢٨

مصطلحہ ارباب تفسیر و حدیث کے نزدیک یہی صحابہ و تابعین و تبع تابعین نے معنی کئے خود اقراری ہے کہ یہ وفات مسیح یا نزول تو ہوا۔ حتی کہ آنحضرت ﷺ کو بھی اگر معلوم آنحضرت ﷺ پر ابن مریم علیہ السلام ہونا ہی ظاہر فرمائی گئی ہو ...... تو کچھ تعجب کی بات

”فتوجهت عنايته اليه النزول فى اصل مفهومه حق اراد اخفائه...... فصدف وجه الجسمانية...... وبقى هذا الخبر قرن حتى جاء زماننا هذا فكشف النزول روحانى لاجسمانى“

تو پھر یقیناً صحابہ کرامؓ اور اس مسیح سے مراد جسمانی نزول ہی سمجھا ہوگا ص ٢١٦) مرزا خود تسلیم کرتا ہے کہ وہ مروجہ پہلے کسی کی موت ثابت ہو جائے اور اس معنی موت ہوگا۔ (دیکھو ضمیمہ حصہ پنجم حاشیہ تاج العروس میں لکھا ہے۔

”توفی المیت استيفاء اعوامه فى الدنيا“ یعنی مرنے والے اور مہینے اور برس پورے کئے جائیں۔

اب اس قول مرزا سے مطابقت کرلیں، تب تک توفی کے لفظ سے اس دال نہ ہوگی۔ کیونکہ وہ تو زندہ کی توفی بتاتے سے کہتے ہیں کہ اگر ابن عباسؓ نے تو روایت صحیح بھی ہو اور آیۃ میں تقدیم و تاخیر

صفحہ ٢٥٥

مصطلحہ ارباب تفسیر و حدیث کے نزدیک کیا ہیں۔ یہی کہ اس سے وفات مسیح نہ ثابت کی جائے۔ یہی صحابہ و تابعین و تبع تابعین نے معنی کئے ہیں اور ان کا خیال نزول مسیح بجسمہ کا تھا۔ جس کا مرزا خود اقراری ہے کہ یہ وفات مسیح یا نزول مسیح روحانی کا مسئلہ کسی کو معلوم نہ تھا۔ صرف مجھے ہی معلوم ہوا۔ حتیٰ کہ آنحضرت ﷺ کو بھی اگر معلوم نہ ہو تو کوئی بعید نہیں۔ (دیکھو ازالۃ الاوہام ص١٨٨، خزائن ج٣ص١٩٢) اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم علیہ السلام اور دجال کی حقیقت کاملہ ۔۔۔۔۔ اور دابۃ الارض کی ماہیت کما ہی ظاہر فرمائی گئی ہو..... تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٥٨، خزائن ج٥ ص ایضاً)

”فتوجهت عنايته لتعليمى وتفهيمى والهمت وعلمت من لدنه ان النزول فى اصل مفهومه حق ولكن مافهم المسلمون حقيقته لان الله تعالى اراد اخفائه....... فصرف وجوههم عن الحقيقة الروحانية الى الخيالات الجسمانية...... وبقى هذا الخبر مكتوما مستورا كالحب فى السنبلة قرنا بعد قرن حتى جاء زماننا هذا فكشف الله الحقيقة علينا فاخبر نى ربى ان النزول روحانى لا جسمانى“

تو پھر یقیناً صحابہ کرامؓ اور اس کے بعد کے علماء وسلف نے اور آنحضرت ﷺ نے نزول مسیح سے مراد جسمانی نزول ہی سمجھا ہوگا اور نزول فرع صعود ہے۔ (حمامۃ البشریٰ ص ٣٤، خزائن ج ٧ ص٢٢١) مرزا خود تسلیم کرتا ہے کہ مردہ کی توفی سے مراد موت ہوتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے کسی کی موت ثابت ہو جائے اور اس کو مردہ ثابت کر دیں تو اس پر متوفی کا لفظ وارد ہوگا اس کا معنی موت ہوگا۔ (دیکھو ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم حاشیہ ص٢٠٥، خزائن ج٢١ ص٣٧٧) اسی بناء پر لسان العرب اور تاج العروس میں لکھا ہے۔

”توفى الميت استيفاء مدته التي وفيت له وعدد ايامه وشهوره و اعوامه فى الدنيا “ یعنی مرنے والے کی توفی سے مراد یہ ہے کہ اس کی طبعی زندگی کے تمام دن اور مہینے اور برس پورے کئے جائیں۔

اب اس قول مرزا سے مطلب صاف ظاہر ہے۔ لہٰذا جب تک پہلے مسیح کو مردہ ثابت نہ کرلیں۔ تب تک توفی کے لفظ سے استدلال کرنا بالکل غلط ہوگا اور متوفیک کی آیت وفات مسیح پر دال نہ ہوگی۔ کیونکہ وہ تو زندہ کی توفی ہے نہ کہ مردہ کی اور تمام امت کے تسلیم کرنے کے بعد ہم مرزا سے کہتے ہیں کہ اگر ابن عباسؓ نے توفی کا معنی موت ہی کیا ہے اور متوفیک بمعنی ممیتک ہے اور وہ روایت صحیح بھی ہو اور آیۃ میں تقدیم و تاخیر بھی نہ مانی جاوے (حالانکہ یہ سب غیر مسلم امور ہیں) تو

١٢٩

صفحہ ٢٥٦

بھی اماتۃ کا معنی مرزا کے نزدیک نیند کا بھی آتا ہے تو ابن عباس بھی اماتت سے مراد نیند ہی لیتے ہوں گے۔ کیونکہ بعض علماء کا یہ بھی خیال ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام پر نیند وارد کر کے ان کو آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔ مرزا کا اقرار کہ اماتت بمعنی نیند آتا ہے۔ (ازالہ اوہام ص٩٤٤، خزائن ج٣ ص٦٢٢، ٦٢١) میں موجود ہے۔

مرزا نے یہ بھی کہا ہے کہ قرآن مجید کے وہی معانی معتبر ہوں گے جس کی شہادت دوسرے قرآنی مقامات دیتے ہوں اور جس کی تائید احادیث صحیحہ مرفوعہ سے بھی ہو۔ (دیکھو آریہ دھرم ص ٥٨، خزائن ج١٠ ص٦٠ ملخص) مگر یاد رہے کہ کسی قرآنی آیت کے معنی ہمارے نزدیک وہی معتبر اور صحیح ہیں جن پر قرآن کے دوسرے مقامات بھی شہادت دیتے ہوں۔ کیونکہ قرآن کی بعض آیات بعض کی تفسیر ہیں۔۔۔۔۔ یہ بھی شرط ہے کہ کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل بھی اس کی مفسر ہو۔

اب ہم کہتے ہیں کہ جب کہ قرآنی آیات سے اور تواتر احادیث سے حیات مسیح علیہ السلام ثابت ہو تو پھر ”توفی“ کے لفظ پر بے جا مرزا کا زور دینا بالکل غلط ہوگا۔ رہی آیات تو کئی آیات حیات مسیح علیہ السلام میں پیش کی جاتی ہیں۔ مثلاً ”وانه لعلم للساعۃ وآیۃ وان من أهل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ الآیۃ“ وغیرہ اور احادیث کو اگر دیکھنا ہو تو التصریح بما تواتر فی نزول المسیح مؤلفہ مولوی محمد شفیع کو دیکھ لو اور اس میں جو اوصاف آنے والے عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے بیان کئے گئے ہیں۔ قریباً ایک سو ہوں گے۔ ان سب کے نصوص وظواہر کو ترک کر کے مرزا کے مجازات واستعارات و کنایات پر چلنا کہاں تک ممکن ہوگا۔ حالانکہ خود مرزا تسلیم کرتا ہے کہ نصوص کو اپنے ظاہر پر رہنے دینا چاہئے۔ دیکھو (ازالہ اوہام ص٥٤٠، خزائن ج٣ ص٣٩٠) کیونکہ یہ مسلم ہے کہ ”النصوص یحمل علی ظواہرہا، الخ“

قد خلت من قبلہ الرسل کی آیت

مرزا اور مرزائی لوگ بہت زور سے یہ پیش کیا کرتے ہیں کہ آیت ”قد خلت من قبلہ الرسل “ سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے سب انبیاء فوت ہو چکے ہیں اور اس آیت میں الف لام استغراق کے لئے ہے اور لفظ خلت موت پر دلالت کرتا ہے۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ اس آیت کا معنی جو مرزا نے جنگ مقدس میں کیا ہے ۔ اس سے تو وفات انبیاء کا کوئی اشارہ بھی معلوم نہیں ہوتا۔ دیکھو (جنگ مقدس ص٦٧، خزائن ج٦ ص٨٩) ”قد خلت من قبلہ الرسل۔۔۔۔۔“ اس سے پہلے بھی رسول ہی آتے رہے ہیں۔ رہا یہ مسئلہ کہ اس میں الرسل پر جو الف لام ہے، وہ استغراق کے لئے ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو دلیل پیش کرو کہ استغراق

١٤٠

صفحہ ٢٥٧

ہی مراد ہے اور پھر استغراق بھی حقیقی ہی ہو گیا ”وقفينا من بعده بالرسل“ میں الف لام استغراق ہے؟ اور نیز ”اذا الرسل اقتت“ میں کیا الرسل پر الف لام مرزا کے نزدیک استغراقی ہی ہے؟ حالانکہ شہادت القرآن میں ”اذا الرسل اقتت“ میں مرزا تسلیم کرتا ہے کہ الف لام استغراقی نہیں، عہد خارجی ہے اور نیز یہ کہ مراد اس سے جمع بھی نہیں ہے۔ دیکھو ( شہادت القرآن ص ٢٣، خزائن ج ٦ ص ٣٦٩) ”واذا الرسل اقتت“ اور جب رسول وقت مقررہ پر لائے جائیں گے۔ یہ اشارہ درحقیقت مسیح موعود کے آنے کی طرف ہے اور اس بات کا بیان مقصود ہے کہ وہ عین وقت پر آئے گا اور یاد رہے کہ کلام اللہ میں رسل کا لفظ واحد پر بھی اطلاق پاتا ہے اور غیر رسول پر بھی اطلاق پاتا ہے...... اور ”اذا الرسل اقتت“ میں الف لام عہد خارجی پر دلالت کرتا ہے۔

اسی طرح مرزا الف لام کو تخصیص کے لئے تعلیم الاسلام یعنی اسلامی اصول کی فلاسفی میں تسلیم کرتا ہے۔ دیکھو کتاب مذکور (ص ٢٢، خزائن ج ١٠ ص ٣٥٤، ٣٥٥) اور پھر احسان کے بارے میں اور بھی ضروری ہدایتیں قرآن شریف میں ہیں اور سب کو الف لام کے ساتھ جو خاص کرنے کے لئے آتا ہے، استعمال فرما کر موقع محل کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے ”یا ایہا الذین آمنوا انفقوا من طیبات،الخ“

پس ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ ”قد خلت من قبله الرسل“ میں الف لام استغراقی نہیں ہے۔ نیز مرزا خود تسلیم کرتا ہے کہ ہر جگہ استغراق حقیقی ہی مراد نہیں ہوتا۔ بلکہ دیکھنا ہوتا ہے کہ متکلم کی مراد کس قدر استغراق کرنا ہے۔ اس کے موافق استغراق ہوگا۔ دیکھو (ایک عیسائی کے تین سوالوں کے جواب ص ٩) معترض کا یہ گمان کہ اس آیت میں ”لا نافیہ جنس“ معجزات کی نفی پر دلالت کرتا ہے، جس سے کل معجزات کی نفی لازم آتی ہے۔ محض صرف دعوائے ناواقفیت کی وجہ سے ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ نفی کا اثر اسی حد تک محدود ہوتا ہے جو متکلم کے ارادہ میں متعین ہوتی ہے۔ خواہ وہ ارادہ تصریحاً بیان کیا گیا ہو یا اشارۃً الخ۔

(ص١١) ایسا ”لا نافیہ“ کبھی عربوں کے خواب میں بھی نہیں آیا ہوگا۔

(ص١٢) اب جاننا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں جو معترض نے بصورت اعتراض پیش کی ہے، صرف تخویف کے نشانوں کا ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ آیت ”وما نرسل بالآیات الا تخویفاً“ سے ظاہر ہو رہا ہے۔ کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کے کل نشانوں کو قہری نشانوں میں ہی محصور سمجھ کر اس آیت کے یہ معنی کئے جائیں کہ ہم تمام نشانوں کو محض تخویف کی غرض سے ہی بھیجا کرتے ہیں اور کوئی دوسری غرض نہیں ہوتی، تو یہ معنی ”ببداہت“ باطل ہیں، الخ۔

١٣١

صفحہ ٢٥٨

اس سے بھی اب ثابت ہو گیا کہ ہر جگہ استغراق حقیقی ہی مراد نہیں ہوا کرتا۔ تو ہم بھی کہتے ہیں کہ بفرض الاستغراق یہاں استغراق حقیقی نہیں ہے، کیونکہ دوسری آیات اور احادیث جو مسیح علیہ السلام کی آمد کی ہیں، وہ اس کو مخصص کر دیتی ہیں۔ اس کے متعلق انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ مستقل بحث کی جائے گی کہ ہر جگہ عموم واستغراق حقیقی ہی مراد نہیں ہوا کرتا۔ اس پر قرآن واقوال مرزا بطور استشہاد پیش کروں گا۔ بفضلہ تعالیٰ انشاء اللہ!

اجماع صحابہ بر وفات مسیح

مرزا اور مرزائی لوگ اس پر بہت زور دیا کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے جب آنحضرت ﷺ کی وفات کے وقت خطبہ دیا تھا تو اس وقت اس بات پر صحابہ کا اجماع ہو گیا تھا کہ آنحضرت ﷺ اور تمام انبیاء فوت ہو چکے ہیں۔ (حقیقت الوحی ص ٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣٦، استفتاء ص ٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٥، تحفہ گولڑویہ ص ٤٢ خزائن ج ١٧ ص ٩٢)

الآیۃ“ ہے۔ جس سے وفات انبیاء علیہم السلام ثابت نہیں ہوتی۔ جس پر پہلے بحث ہو چکی ہے۔ نیز اگر یہ ثابت کرتی ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام فوت ہو چکے ہیں۔ تو پھر مرزا جو خود کو نبی ٹھہراتا ہے، وہ بھی اس آیت کے معنی سے اسی وقت جب کہ یہ آیت نازل ہوئی، فوت شدہ ماننا پڑے گا۔ ورنہ استغراق نہیں ہوگا۔

(ازالۃ اوہام ص ٣٦٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥١) اے حضرات مولوی صاحبان جبکہ عام طور پر قرآن شریف سے مسیح کی وفات ثابت ہوتی ہے اور ابتداء سے آج تک بعض اقوال صحابہؓ اور مفسرین بھی اس کو مانتے ہی چلے آئے ہیں۔ تو اب آپ لوگ ناحق کی ضد کیوں کرتے ہیں، الخ۔

و (ازالۃ اوہام ص ٥٧٦، خزائن ج ٣ ص ٥٠٨) انہی تفسیروں میں بعض اقوال کے مخالف بعض دوسرے اقوال بھی لکھے ہیں۔ مثلاً اگر کسی کا یہ مذہب لکھا ہے کہ مسیح بن مریم علیہما السلام جسد عنصری کے ساتھ زندہ ہی اٹھایا گیا، تو ساتھ ہی اس کے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ بعض کا یہ بھی مذہب ہے کہ مسیح فوت ہو گیا ہے۔ بلکہ ثقات صحابہ کی روایت سے فوت ہو جانے کے قول کو ترجیح دی ہے۔ جیسے کہ ابن عباس کا یہی مذہب بیان کیا گیا ہے، الخ۔

(ازالۃ اوہام ص ٤٥٩، خزائن ج ٣ ص ٣٤٥) اور یہ اعتراض کہ تیرہ سو برس کے بعد یہ بات تمہیں کو معلوم ہوئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ درحقیقت یہ قول نیا تو نہیں پہلے راوی اس کے تو ابن

١٤٢

صفحہ ٢٥٩

عباسؓ ہی تھے۔ لیکن اب خدا تعالیٰ نے اس عاجز پر اس قول کی حقیقت ظاہر کر دی اور دوسرے اقوال کا بطلان ثابت کر دیا، الخ۔ اب اجماع صحابہ کہاں رہا؟

اجماع کرنے والوں کے بیانات اور شہادت قلمبند نہ ہوں۔ دیکھو (ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥) صحابہؓ کا ہرگز اس پر اجماع نہیں، بھلا اگر ہے تو کم سے کم تین سو یا چار سو صحابہؓ کا نام لیجئے۔ جو اس بارہ میں اپنی شہادت ادا کر گئے ہوں۔ ورنہ ایک یا دو آدمی کے بیان کا نام اجماع رکھنا سخت بددیانتی ہے۔

اب ہم مرزا سے دریافت کرتے ہیں کہ تمہارے پاس کتنے صحابہؓ کی شہادت اور بیان ہے جو وفات مسیح کے قائل ہیں۔ کوئی ایک ہی صحابی ہو جس نے یہ کہا ہو کہ حضرت مسیحؑ فوت ہو چکے ہیں۔ صرف ایک ابن عباسؓ کے قول ”متوفیک ممیتک“ کو ہی پیش کیا کرتے ہیں۔ حالانکہ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت مسیح وفات پا گئے ہیں۔ بلکہ یہ کہ وہ وفات پائیں گے۔ اس پر ہم مستقل بحث انشاء اللہ کریں گے اور رہا یہ کہ ابوبکرؓ صدیق کا قول خطبہ میں کہ ”قد خلت من قبلہ الرسل“ پیش کرنا اس پر ہم بحث کر چکے ہیں کہ اس آیت میں کوئی وفات کی دلیل نہیں اور پھر ابوبکرؓ یا دوسرے صحابہؓ نے بھی وفات مسیح کو نہ صراحتاً ذکر کیا نہ اشارۃً اور ہم تو انشاء اللہ چند ایک صحابہؓ کے صریح بیان حیات مسیح علیہ السلام کے متعلق بھی بیان کر سکتے ہیں۔

قائل تھے۔ لیکن مرزا کا ساتھ ہی یہ بھی دعویٰ ہے کہ پھر حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت عمرؓ اس سے رجوع کر گئے۔ ہم مرزا سے رجوع کی نقل دریافت کرتے ہیں کہ کہاں حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت عمرؓ نے رجوع کیا؟ ابوہریرہؓ کا حیات مسیح کا قائل ہونا۔ دیکھو (حقیقت الوحی ص ٤٣، ٤٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥، ٤٦) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہؓ اس غلط عقیدے میں مبتلا تھے کہ گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے...... بعض کم تدبر والے صحابی جن کی درایت اچھی نہیں تھی (جیسے ابوہریرہؓ) وہ اپنی غلط فہمی سے عیسیٰ موعود کے آنے کی پیش گوئی پہ نظر ڈال کر یہ خیال کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی آ جائیں گے۔ جیسا کہ ابتداء میں ابوہریرہؓ کو بھی یہی دھوکہ لگا ہوا تھا اور اکثر باتوں میں ابوہریرہؓ بوجہ اپنی سادگی اور کمی درایت کے ایسے دھوکوں میں پڑ جایا کرتا تھا...... ایسے الٹے معنے کرتا تھا، الخ۔

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٢٠، خزائن ج ٢١ ص ٢٨٥) بعض نادان صحابی جن کو درایت سے کوئی حصہ

١٣٣

صفحہ ٢٦٠

نہ تھا۔ وہ بھی اس عقیدہ سے بے خبر تھے کہ کل انبیاء فوت ہو چکے ہیں۔

اور حضرت عمر بن خطاب کا حیات مسیح کا قائل ہونا (وہ حضرت عمرؓ جو بقول مرزا ظل محمد ﷺ ہیں، (ایام الصلح ص ٣٥، خزائن ج ١٤ ص ٢٦٥، خطبہ الہامیہ ص ١٤٩، ١٣٩ جدید) میں ہے اور جس قدر صریح قول حضرت عمرؓ یا حضرت ابو ہریرہؓ کے حیات مسیح میں باعتراف مرزا ہیں۔ ویسا رجوع ان کا یا کسی صحابیؓ کا اقرار وفات مسیح تو مرزا دکھاوے، ورنہ محض دھوکہ دہی کے طور پر دعویٰ اجماع بر وفات کرتا پھرتا ہے۔

ہوتا ہے۔ دیکھو (اتمام الحجۃ ص ١٧، خزائن ج ٨ ص ٢٩٥) اجماع کے توڑنے کے لئے ایک فرد کا باہر رہنا بھی کافی ہوتا ہے۔ تو بقول مرزا جب بعض صحابہؓ حیات مسیح کے قائل ہیں، تو پھر اجماع کیسا ہوا۔

وقت یہ مسئلہ کھلا اور جب کہ تیرے اقرار سے یہ صحابہؓ کو بالتفصیل مسئلہ معلوم ہی نہ تھا اور تیرا ہی اقرار ہے کہ اجماع ایسی چیز پر ہوتا ہے۔ جس کی تفصیلات و جزئیات معلوم ہوں تو پھر اجماع صحابہؓ چہ معنی دارد! مرزا کا اقرار کہ پہلے کسی کو یہ مسئلہ معلوم نہ ہوا۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٥٢، ٥٥٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً) میں ہے: ”وعلمت من لدنہ ان النزول فی اصل مفہومہ حق ولکن مافہم المسلمون حقیقتہ لان اللہ تعالیٰ اراد اخفاءہ فغلب قضاءہ ومکرہ ابتلاءہ علی الافہام فصرف وجوہہم عن الحقیقۃ الروحانیۃ الی الخیالات الجسمانیۃ فکانوا بہا من القانعین وبقی ہذا الخبر مکتوماً مستوراً کالحب فی السنبلۃ قرنا بعد قرن حتی جاء زماننا واغترب الاسلام......فکشف اللہ الحقیقۃ علینا، الخ“

(تحفہ بغداد ص ٧، خزائن ج ٧ ص ٩، ٨) ”ماکان ایمان الاخیار من الصحابۃ و التابعین بنزول المسیح علیہ السلام الا اجمالياً وکانوا یومنون بالنزول اجمالاً“

(حمامۃ البشریٰ ص ١٨، خزائن ج ٧ ص ١٩٨) ”واما السلف الصالح فما تکلموا فی ہذہ المسئلۃ تفصیلاً بل آمنوا مجملا بان المسیح عیسیٰ بن مریم قد توفی“

(ازالہ اوہام ص ٥٥٢، خزائن ج ٣ ص ٣٩٧) ”اگر انکشاف تام ان کو نصیب ہوتا تو وہ بحوالہ قرآن کریم و احادیث صحیحہ ضرور لکھتے کہ آنے والا مسیح بن مریم علیہما السلام دراصل وہی مسیح بن مریم

١٣٤

صفحہ ٢٦١

رسول اللہ ہے۔ جس پر انجیل نازل ہوئی تھی۔ جو اسرائیلی نبی تھا، بلکہ انہوں نے اس مقام کی تصریح میں دم نہیں مارا اور اصل حقیقت کو بحوالہ خدا کر کے گزر گئے۔ جیسا کہ صلحاء کی سیرت ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ زمانہ آ گیا جو خدا تعالیٰ نے وہ اصل حقیقت اپنے ایک بندہ پر کھول دی ۔‘‘ اسی طرح (ازالہ اوہام ص ٦٥٠، خزائن ج ٣ ص ٤٥١) میں بھی ہے اور یہ مرزا کا اقرار کہ بغیر تفصیل و کشف تام کے اجماع نہیں ہو سکتا۔ دیکھو (ازالہ اوہام ص ٥٥١، خزائن ج ٣ ص ٣٩٧) حضرات اجماع کا لفظ پیش گویوں کے متعلق ہرگز نہیں ہو سکتا۔ قبل از ظہور ایک نبی کی اجتہادی تاویل میں بھی غلطی ممکن ہے۔ لیکن یہ لوگ نہیں مانتے اور یہ بھی نہیں جانتے کہ اجماع کی بناء یقین اور انکشاف کلی پر ہوا کرتی ہے۔ لیکن سلف وخلف کے ہاتھ میں جن کی طرف اجماع کا دعویٰ منسوب کیا جاتا ہے، نہ یقین کلی تھا نہ انکشاف تام، الخ ۔

(ازالہ اوہام ص ٤٢٧، خزائن ج ٣ ص ٣٢٦) ہم لکھ چکے ہیں کہ اجماع کو پیش گوئیوں سے کچھ علاقہ نہیں۔ اجماع ان امور پر ہوتا ہے جن کی حقیقت بخوبی سمجھی گئی اور دیکھی گئی اور دریافت کی گئی اور شارع علیہ السلام نے اس کے تمام جزئیات سمجھا دیئے، سکھلا دیئے، دکھا دیئے، الخ ۔

اب حاصل یہ ہوا کہ جب کہ صحابہ کو وفات مسیح یا نزول مسیح کا پورا تفصیلی علم ہی نہ تھا۔ تو وہ اجماع کیسے کر سکتے تھے اور تیرے نزدیک تو آنحضرت ﷺ کو بھی اگر پورا علم نہ ہو تو کوئی تعجب کی چیز نہیں۔ (ازالہ اوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣) حالانکہ تیرا ہی خود اقرار ہے کہ ملہم سے زیادہ اور کوئی الہام کو نہیں سمجھ سکتا۔ ( تحفہ حقیقت الوحی ص ٢٧، خزائن ج ٢٢ ص ٤٢٨) ملہم سے زیادہ کوئی الہام کا معنی نہیں سمجھ سکتا اور نہ کسی کا حق ہے جو اس کے مخالف کہے۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٥٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ”ماکان لامۃ ان تسبق الانبیاء فی فہمھا“ تو پھر تجھ پر زیادہ کشف کیوں ہو گیا اور آنحضرت ﷺ پر کشف نہ ہوا اور تیرا علم کیوں اعلیٰ ہو گیا اور آنحضرت ﷺ سے اسبق کیوں ہو گیا۔

(اخبار الحکم نمبر ١٢ ج ١٢ ص ٧ کالم نمبر ٣، مورخہ ١٤؍ فروری ١٩٠٨ء) دہلی میں سخت مخالفت ہوئی۔ آخر میں نے کہا کہ ١٣٠٠ برس وہ نسخہ (حیات مسیح) آزمایا۔ اس کا نتیجہ دیکھا کہ کئی مرتد ہو گئے۔ اب یہ نسخہ (وفات مسیح) آزما دیکھو۔ (ملفوظات) معلوم ہوا کہ یہ عقیدہ خود مرزا کا استخراج کردہ ہے۔

معنوں ”توفی“ بمعنی موت، پر اجماع نہ ہوتا تو کیوں آنحضرت ﷺ کے زمانے سے آج تک

١٣٥

صفحہ ٢٦٣

جو تیرہ سو برس گزر گئے۔ یہ معنی تفسیروں میں درج ہوتے چلے آئے؟ سو ان معنوں کا مسلسل طور پر درج ہوتے چلے آنا صریح اس بات پر دلیل ہے کہ صحابہؓ کے وقت سے آج تک ان معنوں پر اجماع چلا آیا ہے۔

تو بعینہ ہم بھی اسی دلیل سے اجماع برحیات استدلال کرتے ہیں کہ توفی کا معنی وفات نہ کرنے والے تیرے ہی اقرار سے زیادہ ناقلین ہیں اور واقع میں بھی ایک جماعت عظیمہ ہے۔ لہذا یہ اسی دلیل سے بہت بڑا اجماع ہوا۔

”ہم کو محض جبر اور تحکم کی راہ سے یہ سنایا جاتا ہے کہ اسی بات (یعنی حیات مسیح) پر تمام امت کا اجماع ہے۔ لیکن جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ سلف وخلف کا تو کسی ایک بات پر بھی اتفاق ہی نہیں تو ہم کیونکر قبول کرلیں کہ ہاں اجماع ہی ہے۔

ہم مرزا سے دریافت کرتے ہیں کہ جب سلف وخلف کا کسی ایک بات پر بھی اتفاق نہیں تو وفات مسیح پر اجماع پیش کرنا کیا معنی رکھتا ہے اور حیات مسیح پر اجماع نقل کرنے والے حافظ الدنیا حافظ ابن حجر عسقلانیؒ ہیں۔ دیکھو (تلخیص الحبیر ص ٣١٩، ٣٦٠) ”اما رفع عیسیٰ علیه السلام فاتفق اصحاب الاخبار و التفسیر علی انه رفع ببدنه حیا و انما اختلفوا هل مات قبل ان یرفع او نام فرفع،الخ“ اور بھی کئی ناقلین اجماع ہیں کما سیأتی اور مرزا اجماع کے ناقلین کو کس قدر برے الفاظ سے یاد کرتا ہے۔ دیکھو (اتمام الحجۃ ص ٥، خزائن ج ٨ ص ٢٧٨) ”واما قول بعض الناس من الحمقی ان الاجماع قد انعقد علی رفع عیسیٰ الی السمٰوت العلی بحیاته الجسمانی لا بحیاته الروحانی، فاعلم ان هذا القول فاسد، الخ “ حالانکہ حافظ ابن حجر دنیا کا مشہور حافظ و محدث مانا ہوا ہے اور امت مرزائیہ کے اقرار سے یہ مجدد وقت ہے۔ دیکھو (عسل مصفیٰ ص ١٦) آٹھویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں۔

اور مجدد وقت کا قول معتبر ہوا کرتا ہے۔

الہامات سے معلوم ہوا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ مسئلہ قرآن وحدیث کا نہیں، مرزا کے الہام کا مسئلہ ہے۔ اسی لئے اس نے براہین احمدیہ میں حیات مسیح کا اقرار قرآن مجید کی آیت ”هو الذی ارسل رسوله بالهدی و دین الحق لیظهره علی الدین کله “ کی تفسیر کرتے ہوئے

١٤٧

لکھا ہے اور پھر اس نے ازالہ میں کہا کہ میرا ہ دیکھو (ازالہ اوہام ص ١٩٨، خزائن ج ٣ ص ١٩٦) یہ بیح اس سرسری پیروی کی وجہ سے ہے جو فہم کو قبل از آ لحاظ سے لازم ہے۔ کیونکہ جو لوگ خدا تعالیٰ سے اور نیز (توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ چاہتے ہیں کہ بائبل اور ہماری احادیث اور اخبا کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ دو ہے۔ دوسرے مسیح بن مریم علیہما السلام جن کو عیسیٰ اور انجیل کے حوالہ سے بھی مرزا م ص ٣٨) اور منجملہ انجیلی شہادتوں کے جو ہم کو مل وقت انسان کے بیٹے کا نشان آسمان پر ظاہر ہو اور انسان کے بیٹے کو بڑی قدرت وجلال کے

حاصل یہ ہوا کہ قرآن وحدیث جسمانی کے قائل ہیں۔ لہٰذا اب کوئی آیت یا اب ذیل میں وہ حوالہ جات لک نے اپنے الہام کی بناء پر وفات مسیح کا قول کی (اتمام الحجۃ ص ٣، خزائن ج ٨ ص ٢٧٥ ان المسیح عیسیٰ بن مریم قد مات (حمامتہ البشریٰ ص ١٣، خزائن ج ٧ و عدم نزوله و قیامى مقامه الا وبعد مكاشفات صريحة بينة، الا (ازالہ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ اترنے اور دوبارہ دنیا میں آنے کے انتظا میرے پر کھول دیا ہے، یہ ہے کہ الخ۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٦،

صفحہ ٢٦٣

لکھا ہے اور پھر اس نے ازالہ میں کہا کہ میرا عقیدہ حیات مسیح کا احادیث نبویہ کے ماتحت تھا۔ دیکھو (ازالہ اوہام ص ١٩٨، خزائن ج ٣ ص ١٩٦) یہ بیان جو براہین احمدیہ میں درج ہو چکا ہے۔ صرف اس سرسری پیروی کی وجہ سے ہے جو فہم کو قبل از انکشاف اصل حقیقت اپنے نبی کے آثار مرویہ کے لحاظ سے لازم ہے۔ کیونکہ جو لوگ خدا تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں وہ بغیر بلائے نہیں بولتے ، الخ۔

اور نیز (توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢) اب پہلے ہم صفائی بیان کے لئے یہ لکھنا چاہتے ہیں کہ بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اس وجود عصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح بن مریم علیہما السلام جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔

اور انجیل کے حوالہ سے بھی مرزا مانتا ہے۔ دیکھو (مسیح ہندوستان میں ص ٣٦ ، خزائن ج ١٥ ص ٣٨) اور منجملہ انجیلی شہادتوں کے جو ہم کو ملی ہیں۔ انجیل متی کی مندرجہ ذیل آیت ہے اور اس وقت انسان کے بیٹے کا نشان آسمان پر ظاہر ہوگا اور اس وقت زمین کی ساری قومیں چھاتی پیٹیں گی اور انسان کے بیٹے کو بڑی قدرت وجلال کے ساتھ آسمانوں کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے۔

دیکھو (متی باب ٢٤ آیت ٣٠)

حاصل یہ ہوا کہ قرآن و حدیث و بائبل سب مسیح کے حیات ونزول جسمانی و رفع جسمانی کے قائل ہیں۔ لہٰذا اب کوئی آیت یا حدیث یا بائبل پیش کرنا بے سود ہوگا۔

اب ذیل میں وہ حوالہ جات نقل ہوتے ہیں۔ جن میں مرزا نے اقرار کیا ہے کہ میں نے اپنے الہام کی بناء پر وفات مسیح کا قول کہا ہے۔

(اتمام الحجۃ ص ٢٣، خزائن ج ٨ ص ٢٧٥) ”وكان من مفاتح تعليمه وعطايا تفهيمه ان المسيح عيسى بن مريم قد مات بموته الطبعی“

(حمامة البشریٰ ص ١٤، خزائن ج ٧ ص ١٩١) ”ووالله ما قلت قولا في وفات المسيح و عدم نزوله و قیامی مقامه الا بعد الالهام المتواتر المتتابع النازل كا لوابل وبعد مكاشفات صريحة بينة، الخ“

(ازالہ اوہام ص ٣٢، خزائن ج ٣ ص ١٢١) میرا بیان مسیح موعود کی نسبت جس کے آسمان سے اترنے اور دوبارہ دنیا میں آنے کی خبر دی جاتی ہے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے میرے پر کھول دیا ہے، یہ ہے کہ الخ۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٤٠٦ ، ٤٠٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ”قد اخبرنی من سر نزول

١٣٧

صفحہ ٢٦٤

المسیح و عمی علیکم وكان هذا فتنة من الله تعالیٰ، الخ“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٤٠٤، ٤٠٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ”أن نزول المسیح كان امراً غیبیّا فالله ابداہ غیبہ کیف ماشاء“

(ضمیمہ نزول مسیح ص ٦، خزائن ج ١١ ص ١١٤، ١١٣) ”اے نادانو! اپنی عاقبت کیوں خراب کرتے ہو۔ اس اقرار میں کہاں لکھا ہے کہ یہ خدا کی وحی سے بیان کرتا ہوں اور مجھے کب اس بات کا دعویٰ ہے کہ میں عالم الغیب ہوں۔ جب تک مجھے خدا نے اس طرف توجہ نہ دی اور بار بار نہ سمجھایا کہ تو مسیح موعود ہے اور عیسیٰ فوت ہو گیا ہے۔ تب تک میں اسی عقیدہ پر قائم تھا جو تم لوگوں کا عقیدہ ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٦٢، ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ٦٠٦) ”پس تم سمجھ سکتے ہو کہ میں نے پہلے اعتقاد کو نہیں چھوڑا تھا۔ جب تک خدا نے روشن نشانوں اور کھلے کھلے الہاموں کے ساتھ نہیں چھڑایا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ١٢، خزائن ج ٥ ص ٤١) ”فبہ الشیاطین متلاعبة “مرزا یہ تسلیم کرتا ہے کہ نزول مسیح علیہ السلام تواتر احادیث سے ثابت ہے۔ (ایام الصلح ص ٤٨، خزائن ج ١٤ ص ٢٧٩) ”کیونکہ یہ حدیثیں ایسے تواتر کی حد کو پہنچ گئی ہیں کہ عند العقل ان کا کذب محال ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٥٥٧، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠، شہادت القرآن ص ٢، خزائن ج ٦ ص ٢٩٨) ”یہ پیش گوئی بخاری اور مسلم اور ترمذی وغیرہ کتب حدیث میں اس کثرت سے پائی جاتی ہے۔ جو ایک منصف مزاج کی تسلی کے لئے کافی ہے اور بالضرورۃ اس قدر مشترک پر ایمان لانا پڑتا ہے کہ ایک مسیح موعود آنے والا ہے۔“

اقوال صحابہؓ بر حیات مسیح علیہ السلام

و اقوال اجماعیہ بر حیات مسیح علیہ السلام

علی انہ رفع ببدنہ حیّا و انما اختلفوا هل مات قبل ان یرفع او نام، الخ“

اجمعت الامۃ علیٰ ماتضمنہ الحدیث المتواتر من ان عیسیٰ فی السماء حی وانہ ینزل فی اخر الزمان“

١٣٨

صفحہ ٢٦٥

” ولااخالف قومى فى الاصول الاجتماعية ومثله “

(دفعہ فی ایام الصلح ص ٨٧، خزائن ج١٤ ص ٤٣٤)

باقی اقوال صحابہؓ یہ ہیں۔حضرت ابو ہریرہؓ (حقیقت الوحی ص ١٣٠، خزائن ج٢٢ ص ١٣٦، ضمیمہ حصہ پنجم ص ١٢٠، خزائن ج٢١ ص ٢٨٥) اور حضرت عمرؓ کا قول (خطبہ الہامیہ ص ١٤٩، خزائن ج١٦ ص ١٢٩) میں ہے۔

(اشتہار بدر ٢٠؍ دسمبر ١٩٠٦ء ص ٧کالم نمبر ٢، ٣)

اور حضرت ابن عباسؓ کی روایت ” متوفيك مميتك “جو بخاری میں ہے۔ وہ صحیح الاسناد نہیں۔ دیکھو (کلمۃ اللہ فی حیات روح اللہ ص ٣٩) نیز جس میں وہ معنی موت والا کرتے ہیں۔ اس میں وہ تقدیم و تاخیر بھی مانتے ہیں۔ دیکھو (در منثور ص ٣٦، ج٢) ”عن ابن عباسؓ فى قوله تعالیٰ انى متوفيك و رافعك الى يعنى رافعك ثم متوفيك فى آخر الزمان “

یہ تعجب ہے کہ مرزا مسلمانوں کے اجماع کو تو نہیں مانتا، لیکن سکھوں کے اجماع کو (ست بچن ص ١٦١، خزائن ج ١٠ ص ٢٨٥) و یہودیوں کے اجماع کو تسلیم کر لیا کرتا ہے۔دیکھو

(جنگ مقدس ص ٨٩، خزائن ج ٦ ص ١٨٠)

١٣٩

صفحہ ٢٦٦

اور ایسے ہی تفسیر عباسی میں بھی ہے: ”فیہ تقدیم و تاخیر“ علاوہ ازاں ابن عباس کا مذہب جو کتب احادیث و تفسیر میں ہے۔ وہ صاف رفع جسمانی کا ہے۔ دیکھو

(روح المعانی ص١٥٨، ج٣)

نزول مسیح من السماء بقول ازالہ اوہام ص٨١، خزائن ج٣ ص١٣٢، تحفہ گولڑویہ ص١١٣، خزائن ج١٧ ص٢٢١، ٢٠٣، حج الکرامہ) میں ابن واطیل وغیرہ سے روایت لکھی ہے کہ ”مسیح عصر کے وقت آسمان پر سے نازل ہوگا۔ ۔۔۔۔۔۔ پس ابن واطیل کا اصل قول جو سرچشمہ نبوت سے لیا گیا ہے۔“

حیات مسیح علیہ السلام ونزول وصعود پر مرزا اور اس کی جماعت کے خدشات

قدرت کی حد وبست کرنا بے ایمانی ہے اور وہ اپنا قانون اپنے خاص بندوں کے لئے بدل دیا کرتا ہے۔ دیکھو (چشمہ معرفت ص٢١٢، خزائن ج٢٣ ص٢٢٠) ”یہ خیال نہایت بے ادبی اور بے ایمانی ہے کہ وہ خدا جس کے اسرار وراء الوراء ہیں اور جس کی قدرتیں اس کی ذات کی طرح ناپیدا کنار ہیں۔ اس کے عجائبات قدرت کو کسی حد تک محدود کر دیا جائے ۔“ (قریب منہ سرمہ چشم آریہ ص٤٣، ٤٧، خزائن ج٢ ص٩٣، ٩٢، برکات الدعاء ص٢٨، خزائن ج٦ ص٣٢، ازالہ ص٤٣، کشتی نوح ص١٩، خزائن ج١٩ ص٢٠، براہین ضمیمہ حصہ پنجم ص الف، خزائن ج٢١ ص٣١١ شہادۃ القرآن ص٥٠، خزائن ج٦ ص٣٤٦، سراج منیر ص٢٦، خزائن ج١٢ ص٣١) ایسے ہی سرمہ چشم آریہ وغیرہ میں قانون قدرت کی بحث موجود ہے۔

(چشمہ معرفت ص٩٦، خزائن ج٢٣ ص١٠٤) بلکہ اس کی قدرتیں غیر محدود ہیں اور اس کے عجائب کام ناپیدا کنار ہیں اور وہ اپنے خاص بندوں کے لئے اپنا قانون ہی بدل لیتا ہے۔ مگر وہ بدلنا بھی اس کے قانون میں ہی داخل ہے۔ (مثلاً قریباً منہ حقیقت الوحی ص٥٠، ٤٩، خزائن ج٢٢ ص٥١، ٥٢)

اترنا ناممکن ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مرزا خود تسلیم کرتا ہے کہ آسمان پر بجسم عنصری جانا ناممکن نہیں، بلکہ ممکن ہے۔ دیکھو (چشمہ معرفت ص٢١٩، خزائن ج٢٣ ص٢٢٧، ٢٢٨) ”ہماری طرف سے یہ جواب ہی کافی ہے کہ اول تو خدا تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ انسان مع جسم عنصری آسمان پر چڑھ جائے۔“

(حقیقت الوحی ص١١٥ حاشیہ، خزائن ج٢٢ ص١١٨) ”اگر خدا کا کلام قرآن شریف مانع نہ ہوتا تو فقط یہی نبی (آنحضرت ﷺ) تھا جس کی نسبت ہم کہہ سکتے تھے کہ وہ اب تک مع جسم عنصری زندہ آسمان پر موجود ہے ۔“ (قریب منہ حاشیہ ایک عیسائی کے ٣ سوالوں کا جواب ص١٢) اور نیز جب کہ

صفحہ ٢٦٧

مرزا کا خود اقرار ہے کہ میں ایسی نصوص شرعیہ کو بھی تسلیم کرتا ہوں جو ہماری عقل میں نہ آسکیں۔ تو پھر کیوں حیات و نزول و صعود مسیح پر خدشات وارد ہوں۔ دیکھو (آئینہ کمالات اسلام ص ٢١، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ”و آمنا بمعانی ارادها الله و الرسول الكريم وان لم نعلمها ولم

(مثلہ نور الحق ص ٥، خزائن ج ٨ ص ٧)

يكشف علينا حقيقتها من الله العليم“ (تحفہ بغداد ص ٢٩، خزائن ج ٧ ص ٣٥) اور نیز مرزا خود تسلیم کرتا ہے کہ انبیاء کی تعلیم کا بہت سا حصہ فوق العقل ١؎ ہوتا ہے۔ دیکھو (شہادۃ القرآن ص ٥٣، خزائن ج ٦ ص ٣٤٩) انبیاء کی تعلیم اور حکیموں کی تعلیم میں بصورت فرض کرنے صحت ہر دو تعلیم کے ما بہ الامتیاز کیا ہے تو بجز اس کے اور کوئی مابہ الامتیاز قرار نہیں دے سکتا کہ انبیاء کی تعلیم کا بہت سا حصہ فوق العقل ہے۔

اور پھر تعجب یہ کہ بابا نانک کے چولہ کا آسمان پر سے اترنا تو مرزا کے نزدیک تسلیم ہو سکتا ہے اور اس کو آگ نہیں جلاتی۔ لیکن حضرت مسیح کے جانے یا آنے سے کرۂ زمہریر و یا کرۂ ناریہ مانع ہے۔ دیکھو (ست بچن ص ٣٧، خزائن ج ١٠ ص ١٥٧) بعض لوگ انگد کی جنم ساکھی کے اس بیان پر تعجب کریں گے کہ یہ چولہ آسمان پر سے نازل ہوا ہے اور خدا نے اس کو اپنے ہاتھ سے لکھا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ کی بے انتہاء قدرتوں پر نظر کر کے کچھ تعجب کی بات نہیں۔ کیونکہ اس کی قدرتوں کی کسی نے حد بست نہیں کی۔

بابا نانک کا مرکر جی اٹھنا تو بعید از عقل نہیں اور ناممکن نہیں۔ مگر حضرت مسیح سے ہی کچھ دشمنی ہے کہ ان کا جی اٹھنا ناممکن ہے۔ دیکھو (ست بچن ص ١١٢، خزائن ج ١٠ ص ٢٣٦) ایسے مؤرخوں کو سوچنا چاہئے کہ یہ عجیب قصہ باوا صاحب کی وفات کا اور پھر ان کی نعش گم ہونے کا حضرت مسیح کے قصہ سے بہت ملتا ہے۔ کیونکہ یہی واقعہ وہاں بھی پیش آیا اور حضرت مسیح کی نعش کے چورایا جانے کا اب تک یہودیوں کو شبہ چلا آتا ہے۔ چنانچہ (انجیل متی باب ٢٧ آیت ٦٤)...... غرض جب اسی الزام کے نیچے عیسائی صاحبوں کا عقیدہ یہی ہے تو پھر بابا نانک صاحب کے قصہ پر یہ اعتراض بے جا ہے۔ بالخصوص جب باوا صاحب کے گرنتھ میں اس قسم کے شعر بھی پائے جاتے ہیں کہ جو لوگ خدا کی محبت سے مرے ہوئے ہوں۔ وہ پھر بھی زندہ ہو جایا کرتے ہیں۔ تو ایسے شعر ان کے اس واقعہ کے اور بھی مؤید ٹھہرتے ہیں۔

١؎ معراج جسمانی آنحضرت ﷺ کا باجماع صحابہؓ باقرار مرزا (ازالۃ اوہام ص ٢٨٩، خزائن

(ضمیمہ حصہ پنجم ص ٢٣٢، خزائن ج ٢١ ص ٤١٠)

ج ٣ ص ٢٤٧) اور اجماع صحابہؓ حجت شرعیہ ہے۔

١٤١

صفحہ ٢٦٨

(ست بچن ص ١٦١ ، خزائن ج ١٠ ص ٢٨٥) دنیا میں بھتیرے ایسے گزرے ہیں کہ جن کی قوم یا معتقدوں کا یہی اعتقاد تھا کہ ان کی نعش گم ہو کر وہ مع جسم بہشت میں پہنچ گئی ہے۔ تو کیا عیسائی قبول کر لیں گے کہ فی الحقیقت ایسا ہی ہوا ہوگا۔ مثلاً دور نہ جاؤ، بابانانک صاحب کے واقعات پر ہی نظر ڈالو کہ ٧ لاکھ سکھ صاحبوں کا اسی پر اتفاق ہے کہ درحقیقت وہ مرنے کے بعد مع اپنے جسم کے بہشت میں پہنچ گئے اور نہ صرف اتفاق بلکہ ان کی معتبر کتابوں میں جو اسی زمانہ میں تالیف ہوئیں یہی لکھا ہے ...... اگر عیسائی صاحبان کچھ انصاف سے کام لینا چاہیں تو جلد سمجھ سکتے ہیں کہ سکھ صاحبوں کے دلائل بابانانک صاحب کی نعش گم ہونے اور مع جسم بہشت میں جانے کے بارے میں عیسائیوں کی مزخرفات کی نسبت بہت ہی قوی اور قابل توجہ ہیں۔

(براہین احمدیہ ص ٤٣٤، خزائن ج ١ ص ٥١٨، ٥١٩) انبیاء سے جو عجائبات اس قسم کے ظاہر ہوئے ہیں کہ کسی نے سانپ بنا کر دکھلا دیا اور کسی نے مردہ کو زندہ کر کے دکھلا دیا۔ اس قسم کی دستبازیوں سے منزہ ہیں جو شعبدہ باز لوگ کیا کرتے ہیں، الخ۔

علاوہ ازیں جس مرزا نے خود اقرار کر لیا ہو کہ واقعی مردہ مرنے کے بعد زندہ ہو سکتا ہے۔ وہ حضرت مسیح کی زندگی بعد از موت پہ کیوں معترض ہے۔ دیکھو (سراج منیر ص ٢٤، خزائن ج ١٢ ص ٢٨) اگر لیکھرام رجوع کرتا زیادہ نہیں تو اتنا ہی کرتا کہ وہ بدزبانیوں سے باز آ جاتا تو مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس کے لئے دعا کرتا اور میں امید رکھتا تھا کہ اگر وہ ٹکڑے ٹکڑے بھی کیا جاتا تب بھی وہ زندہ ہو جاتا۔ وہ خدا جس کو میں جانتا ہوں اس سے کوئی بات انہونی نہیں۔

(ازالہ اوہام ص ٣٦٥، خزائن ج ٣ ص ٢٨٧) خدا تعالیٰ کے کرشمہ قدرت نے ایک لمحہ کے لئے عزیر کو زندہ کر کے دکھلا دیا۔ علاوہ ازیں ہم اس موت حقیقی یا احیاء حقیقی کے قائل نہیں۔ جس کو مرزا محال سمجھتا ہے۔ بلکہ اس کے تو ہم قیامت کے دن میں بھی قائل نہیں۔ دیکھو

(احیاء حقیقی کا معنی مرزا کا حمامۃ البشریٰ ص ٥٢،٥١، خزائن ج ٧ ص ٢٤٧، ٢٤٨)

"وأعنى من الرجوع الحقيقى رجوع الموتى الى الدنيا بجميع شهواتها ولوازمها و مع كسب الاعمال من خير وشر مع استحقاق الاجر على ما كسبوا و مع ذالك اعنى من الرجوع الحقيقى لحوق الموتى بالذين فارقوهم من الآباء والا بناء والا خوان والازواج و العشيرة الذين هم موجو دون فى الدنيا وكذلك رجوعهم الى اموالهم التى كانوا اقترفوها و مساكنهم التى كانوا بنوها وزروعهم كانوا زرعوها وخزائنهم التى كانوا جمعوها ثم

١٤٢

صفحہ ٢٦٩

من شرائط الرجوع الحقيقى ان يعيشوا فى الدنيا كما كانوا يعيشون من قبل ويتزوجوا ان كانوا الى النكاح محتاجين......واما احياء الموتى من دون هذه اللوازم التى ذكرناها او اماته الاحياء لساعة واحدة ثم احياء هم من غير توقف كما نجد بيانه فى قصص القرآن الكريم فهو امر آخر وسر من اسرار الله تعالى ولا توجد فيه آثار الحيات الحقيقى ولا علامات الموت الحقيقى بل هو من آيات الله تعالى و اعجازات بعض انبياءه نومن به وان لم نعلم حقيقته، الخ“

ترجمہ....... اور رجوع حقیقی سے میری مراد یہ ہے کہ مردے اپنی تمام خواہشات ولوازمات سمیت واپس لوٹ آئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اچھے اور برے اعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور اپنے کئے پر اجر کے مستحق ہوں۔ اس کے ساتھ رجوع حقیقی سے میری مراد یہ ہے کہ وہ اپنے ان آباؤ اجداد، بیٹوں، بھائیوں، بیویوں اور افراد قبیلہ سے آ ملیں۔ جن سے وہ الگ ہو کر گئے تھے اور جو (اس وقت) دنیا میں موجود ہیں۔ اسی طرح وہ اپنے ان مالوں کی طرف واپس ہوں ۔ جو انہوں نے کمائے تھے۔ ان مکانات کی طرف واپس آ جائیں۔ جنہیں انہوں نے تعمیر کیا تھا اور اپنے ان کھیتوں کی طرف پلٹ آئیں جنہیں انہوں نے کاشت کیا تھا۔ ان خزانوں کی طرف لوٹ آئیں جنہیں انہوں نے جمع کیا تھا۔ رجوع حقیقی سے مراد یہ بھی ہے کہ دنیا میں پھر وہ اسی طرح رہیں جس طرح پہلے رہتے تھے اور اگر وہ شادی کے پھر محتاج ہوں تو شادی کریں....... جہاں تک مردوں کے ان لوازمات کے بغیر زندہ کئے جانے کا تعلق ہے، جن کا ذکر ہم نے کیا ہے۔ یا زندوں کو ایک گھڑی کے لئے موت دینا اور پھر کسی توقف کے بغیر انہیں دوبارہ زندہ کر دینا....... جیسا کہ قرآن کریم کے قصوں میں ہم اس کا ذکر پاتے ہیں۔ تو یہ ایک دوسری بات ہے اور یہ اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ اس صورت میں نہ اس (مردہ) میں حقیقی زندگی کے آثار پائے جاتے ہیں اور نہ اس (زندہ) میں حقیقی موت کی علامات بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہوتی ہے اور بعض انبیاء کے معجزے۔ اگر چہ ان کی حقیقت کا ہمیں علم نہیں۔ لیکن پھر بھی ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں۔

زندہ رہ کر عمر نہیں پاتا۔

جواب یہ ہے کہ انبیاء سابقین علیہم السلام کی لمبی لمبی عمریں ہوئی تھیں۔ حضرت نوح علیہ

١٤٣

صفحہ ٢٧١

السلام کی عمر بنص قرآن پچاس سال کم ایک ہزار یعنی (٩٥٠) سال تھی اور باقرار مرزا حضرت لبیدؓ کی عمر ڈیڑھ سو سال تھی۔ دیکھو (نور الحق ص ١٢٧، خزائن ج ٨ ص ١٦٨) ”صاحب القصيدة الرابعة من السبع المعلقة وكان من نبغاء الزمان و في البلاغة امام الاقران وزاد عمر على مائة و خمسين،الخ“

ترجمہ ...... سبع معلقات میں سے چوتھے قصیدہ والا (شاعر) ہے اور وہ اپنے زمانہ کے سر بر آوردہ لوگوں میں تھا اور بلاغت میں سب کا امام تھا اور اس کی عمر ١٥٠ سال سے زیادہ ہوئی۔

اور مرزا کے نزدیک ایک شخص کی عمر تین سو سال تھی۔ دیکھو (سرمہ چشم آریہ ص ٥٠، خزائن ج ٢ ص ٩٨) جیسے مشاہدہ سے ثابت ہوا ہے کہ بعض نے حال کے زمانہ میں تین سو برس سے زیادہ عمر پائی ہے۔

جواب ...... مرزا کا اقرار ہے کہ آدمی کئی لاکھ برس تک سویا رہے تو ہو سکتا ہے۔ دیکھو (ملفوظات احمد ص ١٠٥، ڈائری مرزا قادیانی ١٨٩٧ء، ١٨٩٨ء مرتب منظور الٰہی) اور ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ سو برس چھوڑ کر کوئی دولاکھ برس سویا رہے۔ جیسے یہ شخص دولاکھ سال تک سویا رہے تو بغیر کھانے پینے کے جیتا رہے گا۔ اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کو خیال کرے۔ دوسرا یہ کہ مرزا کا اقرار ہے کہ بعض اوقات مومن کا کھانا پانی خدا ہوتا ہے۔ تو اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی خیال کرلو۔ دیکھو (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٧، خزائن ج ٢١ ص ٢١٦) اس درجہ پر مومن کی روٹی خدا ہوتا ہے جس کے کھانے پر اس کی زندگی موقوف ہوتی ہے اور مومن کا پانی بھی خدا ہوتا ہے۔ جس کے پینے سے وہ موت سے بچ جاتا ہے۔

گزریں گے۔

جواب ...... جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ نے نہ جلایا تھا۔ دیکھو (حقیقت الوحی ص ٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢) اور ان سے خدا کے وہ معاملات ہوتے ہیں جو دوسروں سے وہ ہرگز نہیں کرتا۔ جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام چونکہ صادق اور خدا کا وفادار بندہ تھا، اس لئے ہر ابتلاء کے وقت خدا نے اس کی مدد کی۔ جبکہ وہ ظلم سے آگ میں ڈالا گیا۔ خدا نے آگ کو اس کے لئے سرد کر دیا اور ایسے ہی بابا نانک کو خدا نے آگ سے بچا لیا تھا۔

(ست بچن ص ٤٣، خزائن ج ١٠ ص ١٦٢)

١٤٣٤

اسی کا تو تھا
کہ نانک بچا جس
بچا آگ سے اور
اسی کے اثر سے نـ

اب حضرت مسیح علیہ السلام سے کیوں ضد ہـ

تابعین ہے۔ (حقیقت الوحی حاشیہ ص ٥٩، خزائن ج ٢٢ مسلمانوں کے فرقوں کا یہ مذہب ہو گیا کہ گویا حضرت پر زندہ چلے گئے۔

جواب ...... اس اجماع کا مفصل جواب پہلے ہو چکا ہـ اختلاف اقوال ہو، اس پر دعویٰ اجماع نہیں ہو سکتا سلف و خلف کا کسی بات پر اجماع ہوتا تو تفسیروں کے (دیکھو ازالہ ص ٥٥٥، خزائن ج ٣ ص ٤٧٠ ہی نہیں۔

تو مرزا کا خود اقرار ہے کہ وفات مسیح خزائن ج ٣ ص ٣٥١) ابتداء سے آج تک بعض اقوا آئے ہیں تو اب دعویٰ اجماع کس قدر دھوکہ دہی ہـ

قبری “ کے مطابق تو مطلب یہ ہوا کہ آنحضرت دفن کرنا کس قدر آنحضرت ﷺ کی توہین ہوگی؟

جواب ...... اولاً تم نے حدیث کے سمجھنے میں غلطی مراد ہے۔ کیونکہ اس کو قبر رافع فرمایا گیا ہے۔ فـ کی تاویلیں کرتا ہے۔ لہٰذا اس حدیث کی صحت ص ١٥، خزائن ج ٩ ص ١٦) یہی بھید ہے کہ آنخضـ ہو گا یعنی وہ میں ہی ہوں۔

صفحہ ٢٧١
اسی کا تو تھا معجزانہ اثر
کہ نانک بچا جس سے وقت خطر
بچا آگ سے اور بچا آب سے
اسی کے اثر سے نہ اسباب سے

اب حضرت مسیح علیہ السلام سے کیوں ضد و کد ہے۔

......٦ مرزا یا مرزائی جماعت کہا کرتے ہیں کہ وفات مسیح پہ اجماع صحابہؓ و تابعین و تبع تابعین ہے۔ (حقیقت الوحی حاشیہ ص ٥٩، خزائن ج ٢٢ ص ٦١) افسوس کہ قرونِ ثلثہ کے بعد بعض مسلمانوں کے فرقوں کا یہ مذہب ہو گیا کہ گویا حضرت مسیح علیہ السلام صلیب سے محفوظ رہ کر آسمان پر زندہ چلے گئے۔

جواب ...... اس اجماع کا مفصل جواب پہلے ہو چکا ہے۔ نیز مرزا کا خود اقرار ہے کہ جس بات میں اختلاف اقوال ہو، اس پر دعویٰ اجماع نہیں ہو سکتا۔ (ازالہ اوہام ص ٥٣٨، خزائن ج ٣ ص ٣٨٩) اور سلف و خلف کا کسی بات پر اجماع ہوتا تو تفسیروں کے لکھنے والے متفرق قولوں کو نہ لکھتے۔ (دیکھئے ازالہ ص ٧٥٥، خزائن ج ٣ ص ٥٠٧) اور سلف و خلف کا تو کسی ایک بات پر اتفاق ہی نہیں۔

تو مرزا کا خود اقرار ہے کہ وفات مسیح کے قائل بعض صحابہؓ تھے۔ (ازالہ اوہام ص ٤٢٩، خزائن ج ٣ ص ٣٥١) ابتداء سے آج تک بعض اقوالِ صحابہؓ اور مفسرین بھی اس کو مانتے ہی چلے آئے ہیں تو اب دعویٰ اجماع کس قدر دھوکہ دہی ہوگی۔

......٧ بسا اوقات مرزا اور اس کی جماعت کہا کرتی ہے کہ حدیث ”یدفن معی فی قبري“ کے مطابق تو مطلب یہ ہوا کہ آنحضرتﷺ کے روضہ کو اکھاڑ کر حضرت مسیح علیہ السلام کو دفن کرنا کس قدر آنحضرتﷺ کی توہین ہوگی؟

جواب ...... اولاً تم نے حدیث کے سمجھنے میں غلطی کی ہے۔ آنحضرتﷺ کے روضہ میں دفن ہونا مراد ہے۔ کیونکہ اس کو قبر رابع فرمایا گیا ہے۔ نیز اس حدیث کو تو مرزا خود بھی تسلیم کرتا ہے۔ گو اس کی تاویلیں کرتا ہے۔ لہٰذا اس حدیث کی صحت تو مرزا کے نزدیک بھی مسلم ہوگی۔ دیکھو (کشتی نوح ص ١٥، خزائن ج ١٩ ص ١٦) یہی بھید ہے کہ آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن ہو گا یعنی وہ میں ہی ہوں۔

١٤٥

صفحہ ٢٧٢

(حقیقت الوحی ص ٣١٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٦) اور یہ پیش گوئی کہ مسیح موعود بعد وفات کے آنحضرت ﷺ کی قبر میں داخل ہوگا۔ اس کے یہ معنی کرنا کہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کی قبر کھودی جائے گی۔ یہ جسمانی خیال کے لوگوں کی غلطیاں ہیں۔ جو گستاخی اور بے ادبی سے بھری ہوئی ہیں۔ بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ مسیح موعود مقام قرب میں آنحضرت ﷺ سے اس قدر ہوگا کہ موت کے بعد وہ اس رتبہ کو پائے گا کہ آنحضرت ﷺ کے قرب کا رتبہ اس کو ملے گا۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٩ حاشیہ طبع اول، خزائن ج ٥ ص ٥٧٨، ٥٧٩) "واما دفن المسيح في قبر رسول الله ﷺ كما جاء في هذا الحديث فهذا سر مكتوم....... وحقيقته ان الله تعالى قد جعل قبر نبيه مقرونا بالجنة...... وقد جرت عادة الله انه يدنى قبر رسول الله ﷺ من المومن المتوفى كما يدنى الجنة رزقا منه، الخ"

ترجمہ ....... اور جہاں تک ”مسیح“ کے رسول اللہ ﷺ کی قبر میں دفن ہونے کا تعلق ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔.... تو یہ ایک پوشیدہ راز ہے ..... اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی قبر کو جنت سے ملا دیا ہے ...... اور اللہ کی عادت یہ واقع ہوئی ہے کہ وہ اپنے فضل سے رسول اللہ ﷺ کی قبر کو فوت ہونے والے مومن کے ایسا قریب کر دیتا ہے۔ جس طرح جنت کو قریب کر دیتا ہے۔

علاوہ ازیں ہم یہ کہتے ہیں کہ دفن فی القبر سے مراد دفن فی المقبرہ ہے۔ جیسے مرزا نے ایسی حالت کو دفن فی قبر النبی ﷺ سے ہی تعبیر کیا ہے۔ (دیکھو نزول مسیح ص ٤٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٥) پھر عجیب تر بات یہ ہے کہ حسین کو یہ شرف نصیب بھی نہیں ہوا کہ وہ موت کے بعد آنحضرت ﷺ کی قبر کے قریب دفن کیا جاتا۔ مگر ابو بکر و عمر جن کو حضرات شیعہ کافر کہتے ہیں۔ بلکہ تمام کافروں سے بدتر سمجھتے ہیں۔ ان کو یہ رتبہ ملا کہ آنحضرت ﷺ سے ایسے ملحق ہو کر دفن کئے گئے کہ گویا ایک ہی قبر ہے۔

علیہ السلام کا مسئلہ عقل کے خلاف ہے۔

جواب ....... مرزا خود تسلیم کرتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کا بہت سا حصہ فوق العقل ہوا کرتا ہے۔

(شہادۃ القرآن ص ٥٣، خزائن ج ٦ ص ٣٤٩) انبیاء علیہم السلام کی تعلیم اور حکیموں کی تعلیم میں بصورت فرض کرنے صحت ہر دو تعلیم کے مابہ الامتیاز کیا ہے تو بجز اس کے اور کوئی مابہ الامتیاز قرار نہیں دے سکتا کہ انبیاء کی تعلیم کا بہت سا حصہ فوق العقل ہے۔

١٤٦

اور نیز مرزا خود اقرا تسلیم کرتا ہوں۔ (آئینہ کمالات اسل الرسول الكريم و ان لم نف

السلام دوبارہ آویں تو وہ آ کر ا کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں

جواب ....... اولاً یہ کہ مرزا کے شریعت کے تابع تھے اور اسی ۔ ج ١ ص ٥٩٤) مسیح ایک کامل اور مق (نور الحق ص ٥٠، ٦٨ آخرین و ان هو الا خا المواضع حتى اقبل على تو اگر اب آنحضر آنحضرت ﷺ کے خاتم بننے انکار نہیں کرتے۔ ثانیاً باعتراف ہیں تو پھر کیوں وہ استنکاف کر کہ حضرت مسیح بن مریم اس ا لوگ تو ستر برس تک مشکل سے برس گزر گئے اور اب تک مرے اور اسی (مکتوبات ا ملی ، وہ بوجہ تابعداری حضرت مح اور پھر باقرار مر آنحضرت ﷺ کی امت میں قرآن شریف سے ثابت ہے

صفحہ ٢٧٣

اور نیز مرزا خود اقرار کرتا ہے کہ جس مسئلہ کی حقیقت مجھے معلوم نہ ہو۔ میں اس کو بھی تسلیم کرتا ہوں۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ٢١، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ” و آمنا بمعانی ارادها الله و الرسول الكريم و ان لم نعلمها ولم يكشف علينا حقيقتها من الله العليم“

(محصلہ نور الحق ص ٥، خزائن ج ٨ ص ٧، تحفہ بغداد ص ٢٩، خزائن ج ٧ ص ٣٥)

السلام دوبارہ آویں تو وہ آکر امت محمدیہ میں داخل ہو کر نبوت کی ہتک کریں گے کہ ایک نبی ہو کر آنحضرت ﷺ کی امت میں شمار ہو۔

جواب...... اولاً یہ کہ مرزا کے نزدیک حضرت مسیح علیہ السلام آگے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے تابع تھے اور اسی کے خدمت گزار تھے۔ دیکھو (براہین احمدیہ ص ٥٠٠ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٩٤) مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی یعنی موسیٰ علیہ السلام کا تابع اور خادم دین تھا۔ (نور الحق ص ٥٠، ٦٨ جدید، خزائن ج ٨ ص ٦٨) ”ان عیسیٰ الا نبي الله كانبیاء آخرين و ان هو الا خادم شريعة النبى المعصوم الذى حرم الله عليه المراضع حتى اقبل على ثدى امه، الخ“ (ضمیمہ جنگ مقدس ص ١٥٢، ١٥٣ جدید) تو اگر اب آنحضرت ﷺ کی شریعت کا متبع اور خادم ہو گیا، تو پھر کیوں ہتک ہو گئی۔ کیا آنحضرت ﷺ کے خاتم بننے سے وہ انکار کرتے ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اتباع سے انکار نہیں کرتے۔ ثانیاً باعتراف مرزا جب کہ حضرت مسیح علیہ السلام پہلے ہی امت محمدیہ میں شمار ہیں تو پھر کیوں وہ استنکاف کریں گے۔ دیکھو (ازالہ اوہام ص ٦٣٣، خزائن ج ٣ ص ٤٣٦) یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح بن مریم اس امت کے شمار میں ہی آگئے ہیں۔ پھر اتنا فرق کیونکر ممکن ہے کہ اور لوگ تو ستر برس تک مشکل سے پہنچیں اور ان کا یہ حال ہو کہ دو ہزار کے قریب ان کی زندگی کے برس گزر گئے اور اب تک مرنے نہیں آئے۔

اور اسی (مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ١٣، ١٢) میں ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو جو کچھ بزرگی ملی، وہ بوجہ تابعداری حضرت محمد ﷺ کے ملی۔

اور پھر باقرار مرزا صرف حضرت مسیح ہی نہیں بلکہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل ہیں۔ دیکھو (ضمیمہ حصہ پنجم ص ١٣٣، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٠) یوں تو قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل ہے۔ جیسا کہ اللہ

١٤٧

صفحہ ٢٧٤

تعالیٰ فرماتا ہے: ”لتومنن بہ ولتنصرنہ“ پس اس طرح تمام انبیاء علیہم السلام آنحضرت ﷺ کی امت ہوئے۔

میں تدافع اور تخالف معلوم نہیں ہوتا۔ ثانیاً اگر تجھ کو تخالف معلوم ہوتا ہے تو تو نے خود اقرار کر لیا ہے کہ آیات و احادیث اور پیش گوئیوں کے تناقض کو بحوالہ خدا کرو۔ دیکھو (ازالہ اوہام ص ٢٩٧، خزائن ج ٣ ص ٢٥٢) پس جب کہ ہم نے اس ضد کو ہی چھوڑ دیا ہے اور اپنے مولیٰ کی ہدایت کے موافق تمام متشابہات میں جن کا سمجھنا عقل پر مشتبہ رہتا ہے۔ یہی اصول مقرر کر رکھا کہ ان پر اجمالی طور پر ایمان لاویں اور ان کی اصل حقیقت بحوالہ خدا کریں۔ تو پھر اعتراض کے لئے کوئی بنیاد پیدا نہیں ہو سکتی۔ (ازالہ اوہام ص ٢١٥، خزائن ج ٣ ص ٢٠٧) درحقیقت ان روایات میں کسی قسم کا اختلاف یا تناقض نہیں سمجھنا چاہئے اور اس بات کا علم بحوالہ خدا کرنا چاہئے کہ ان چالیس دن یا چالیس برس سے کیا مراد ہے۔

(مسئلہ ازالہ ص ٢٣٣، خزائن ج ٣ ص ٢١٧)

اور (ازالہ اوہام ص ٢٩٥، خزائن ج ٣ ص ٢٥١) میں ہے قرآن شریف میں ہمیں صاف تاکید فرمائی گئی ہے کہ آیات متشابہات جن کا سمجھنا عقل پر مشتبہ ہے..... بلکہ اس پر ایمان لانا چاہئے اور اس کی اصل حقیقت کو حوالہ خدا کر دینا چاہئے۔

اور (ازالہ اوہام ص ٤٠٧، خزائن ج ٣ ص ٣١١) اور کیا یہ تعلیم بآواز بلند نہیں بتلا رہی کہ پیش گوئیوں پر اجمالی طور پر ایمان لاؤ اور ان کی اصل حقیقت حوالہ بخدا کرو امت محمدیہ میں تفرقہ مت ڈالو اور تقویٰ کا طریق اختیار کرلو۔

اور (ایام الصلح ص ٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٢٦١) اور وہ حصہ جو سمجھ میں نہیں آتا اس میں سنت صالحین کے طور پر استعارات اور مجازات قرار دیتا ہے اور اس طرح تناقض کو درمیان سے اٹھا کر صفائی اور اخلاص کے ساتھ ایمان لے آتا ہے، الخ۔

پس ان حوالہ جات کے مطابق مرزا کو اگر تدافع معلوم ہو تو اس کو حوالہ خدا کرے۔

علیہ السلام دنیا میں دوبارہ آئیں گے تو ان کو اپنی امت کے بگڑنے کا علم ہو جائے گا۔ تو پھر قیامت میں ان کا یہ کہنا کہ مجھے کوئی امت کا علم نہیں سوائے آیت ”کنت انت الرقیب علیہم“ دروغ بے فروغ ہوگا۔

(حقیقت الوحی ص ٤١ ملخصاً، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣، مواہب الرحمٰن ص ٧٣، خزائن ج ١٩ ص ٢٩٢)

١٤٨

صفحہ ٢٧٥

تو اس کا جواب اولاً تو یہ ہے کہ باقرار مرزا یہ سوال قیامت میں حضرت مسیح علیہ السلام سے نہیں ہوگا۔ یہ سوال ان سے اس کے نزدیک ماضی میں ہو چکا ہے۔ دیکھو (ازالہ اوہام ص ٦٠٢، خزائن ج ٣ ص ٤٢٥) اور ظاہر ہے کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اول اذ موجود ہے۔ جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا قصہ تھا نہ استقبال کا، الخ۔

ثانیاً یہ کہ مرزا اگر اس کو قیامت کے دن کا واقعہ ہی تسلیم کرے جیسا کہ ازالہ اوہام کے خلاف اس نے (حقیقت الوحی ص ١٣٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٣، حصہ پنجم ص ٤٠، خزائن ج ٢١ ص ٥١، چشمہ معرفت ص ٢٢٠، خزائن ج ٢٣ ص ٢٢٩) میں تسلیم کیا ہے تو پھر ہم کہتے ہیں کہ مرزا کے نزدیک ان کو اپنی امت کی خرابی کا علم ہو چکا ہے۔ دیکھو (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٦٨ حاشیہ، خزائن ج ٥ ص ایضاً) خدا تعالیٰ نے اس عیسائی فتنہ کے وقت میں یہ فتنہ حضرت مسیح کو دکھایا۔ یعنی ان کو آسمان پر اس فتنہ کی اطلاع دے دی کہ تیری قوم اور تیری امت نے اس طوفان کو برپا کیا ہے۔ تب وہ اپنی قوم کی خرابی کو کمال فساد پر دیکھ کر نزول کے لئے بے قرار ہوا، الخ۔

اب جو اعتراض مرزا مسلمانوں پر کرتا ہے کہ قیامت کے دن حضرت مسیح کا یہ قول دروغ بے فروغ ہوگا۔ وہی اعتراض خود اس پر وارد ہوگا۔

میں اختلاف بیان کیا گیا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح موعود وہ مسیح ناصری نہیں۔ بلکہ اس کا مثیل ہوگا۔

(ازالہ اوہام ص ٩٠٠، ٩٠١، خزائن ج ٣ ص ٥٩٢)

اس کا جواب اولاً تو یہ ہے کہ تیرے نزدیک مثیل اور اصیل تو بالکل تمام چیزوں میں ایک ہوتے ہیں۔ دیکھو (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٧٦، خزائن ج ٥ ص ایضاً) "قد استمرت سنتہ انہ یرسل بعض الاولیاء علیٰ قدم بعض الانبیاء فمن بعث علیٰ قدم نبی یسمیٰ فی الملاء الاعلیٰ باسم ذالک النبی الامین و ینزل الله علیہ سرروحہ و حقیقۃ جوہرہ وصفاء سیرتہ وشان شمائلہ ویوحد جوہرہ بجوہرہ وطبیعتہ بطبیعتہ واسمہ باسمہ ویجعل اراداتہ فی ارادتہ وتو جہاتہ فی توجہاتہ و اغراضہ فی اغراضہ و یجعلہما کالمرايا المتقابلۃ فی الانارۃ والاستنارۃ کانہما شئ واحد"

١٤٩

صفحہ ٢٧٦

ترجمہ...... قدیم سے یہ سنت جاری ہے کہ وہ (اللہ تعالیٰ) بعض اولیاء کو بعض انبیاء کے بعد بھیجتا ہے۔ پس جو (ولی) کسی نبی کے بعد بھیجا جاتا ہے۔ ملاء اعلیٰ میں اس کا نام اسی نبی کے نام پر رکھا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر اس کی روح کا بھید، اس کے جوہر کی حقیقت اور اس کی سیرت کی صفائی اور اس کے شمائل کی شان نازل کرتا ہے اور اس کے جوہر کو اس کے جوہر، اس کی طبیعت کو اس کی طبیعت اور اس کے نام کو اس کے نام کے ساتھ ایک کر دیتا ہے اور اس کے ارادے کو اس کے ارادے، اس کی توجہات کو اس کی توجہات اور اس کی اغراض کو اس کی اغراض میں منعکس کر دیتا ہے اور ان دونوں کو اس طرح کر دیتا ہے۔ جس طرح آمنے سامنے آئینے ہوں کہ وہ ایک دوسرے سے روشنی لیتے بھی ہیں اور دیتے بھی۔ گویا وہ دونوں ایک ہی چیز ہیں۔

اور ثانیاً یہ کہ در حقیقت حلیوں میں کوئی فرق ہی نہیں۔ دیکھو کتاب حلیہ مسیح مؤلفہ بابو حبیب اللہ امرتسری۔ ثالثاً یہ کہ تیرا خود اقرار ہے کہ اختلاف کا علم بحوالہ خدا کرو۔ دیکھو (ازالہ اوہام ص ٤٠٧، خزائن ج ٣ ص ٣١١) کہ پیش گوئیوں پر اجمالی طور پر ایمان لاؤ اور ان کی اصل حقیقت بحوالہ خدا کرو۔

جائیں اور حضرت مسیح آسمان پر ہوں تو یہ ہر پہلو سے آنحضرت ﷺ کی توہین ہے۔

(تحفہ گولڑویہ ص ٧٠ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٢٠٥)

جواب یہ ہے کہ مرزا خود ہی (تریاق القلوب ص ٦، خزائن ج ١٥ ص ١٣٩) میں کہتا ہے ورنہ جسمانی وجود کے ساتھ ایک لمبی عمر پانا اگر فرض بھی کر لیں اور فرض کے طور پر مان بھی لیں کہ ایسی عمر کسی کو دی گئی ہے۔ تو کچھ بھی جائے فخر نہیں مصر کی بعض پرانی عمارتیں ہزار ہا برس سے چلی آتی ہیں اور بابل کے کھنڈرات اب تک موجود ہیں۔ جن میں الو بولتے ہیں اور اس ملک میں اجودھیا اور بندرابن بھی پرانے زمانے کی آبادیاں ہیں اور اٹلی اور یونان میں بھی ایسی قدیم عمارتیں پائی جاتی ہیں تو کیا اس جسمانی طور پر لمبی عمر پانے سے یہ تمام چیزیں اس جلال اور بزرگی سے حصہ لے سکتی ہیں۔ جو روحانی زندگی کی وجہ سے خدا کے مقدس لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔ اب اس بات کا فیصلہ ہو گیا کہ اس روحانی زندگی کا ثبوت صرف ہمارے نبی علیہ السلام کی ذات بابرکات میں پایا جاتا ہے۔ خدا کی ہزاروں رحمتیں اس کو شامل حال رہیں۔ افسوس کہ عیسائیوں کو کبھی بھی یہ خیال نہیں آیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روحانی زندگی ثابت کریں اور صرف اس لمبی عمر پر خوش نہ ہوں۔ جس میں اینٹ اور پتھر بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ بے سود ہے وہ زندگی جو نفع رساں نہیں اور لا حاصل

١٥٠

صفحہ ٢٧٧

ہے ۔ وہ بقاء جس میں فیض نہیں ۔

(شحنہ حق ص ٥٠، خزائن ج ٢ ص ٣٩٢) پھر ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ بجز ذاتی کمالات کے جس قدر خارجی بزرگیاں ہیں۔ خواہ وہ کبر سن ہو یا کثرت دولت یا حصول حکومت یا شرف قومیت وغیرہ وغیرہ۔ وہ سب ہیچ ہیں اور صرف انہی کے لحاظ سے بزرگی کا دم مارنا گدھوں کا کام ہے نہ کہ انسانوں کا ، الخ ۔

اب فیصلہ صاف ظاہر ہے کہ (تحفہ گولڑویہ ص ٧٠ ، خزائن ج ١٧ ص ٢٠٥) میں جو مرزا نے طویل عمر کو باعث توہین آنحضرت ﷺ و باعث بزرگی حضرت مسیح لکھا ہے، وہ گدھوں کا کام کر رہا ہے۔

مزید برآں یہ کہ جب کہ طول عمر ایک فضیلت جزوی ہی زیادہ سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ مطابق (شحنہ حق ص ٥٠، خزائن ج ٢ ص ٣٩١) تو پھر مرزا کا خود اقرار ہے کہ غیر نبی کو بھی نبی پر فضیلت جزوی ہو سکتی ہے۔ چہ جائیکہ نبی کو نبی پر فضیلت جزوی ہو۔ دیکھو (تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٨١) اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے۔ کیونکہ یہ ایک جزوی فضیلت ہے۔ جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔

(حمامة البشریٰ ص ٧٨، خزائن ج ٧ ص ٢٩٥) ”وقد اتفق علماء الاسلام انه قد يوجد فضيلة جزئية في غير نبي لا توجد في نبي“

(حقیقۃ الوحی ص ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣)

مسیح آسمان پر ہوں اس میں تو آنحضرت ﷺ کی توہین ہے۔

جواب یہ ہے کہ کسی کا اونچی جگہ پر ہونا اس کی افضلیت کی دلیل کہاں ہے۔ کیا اس سے ملائکۃ اللہ انبیاء علیہم السلام سے افضل ہوں گے؟ بطور تسلیم یہ تو ایک جزوی فضیلت ہوگی اور باقرار مرزا جزوی فضیلت تو غیر نبی کو بھی نبی پر ہو سکتی ہے۔ تو گویا ایک نبی کو دوسرے نبی پر فضیلت جزوی ہو تو اس میں کیا استحالہ لازم آگیا۔

ہتک ہوگی۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہتک نہیں۔ کیونکہ جب مرزا خود کو مسیح علیہ السلام سے اس لئے افضل قرار دیتا ہے کہ وہ مسیح علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کا متبع ہے جو آنحضرت ﷺ سے مفضول

١٥١

صفحہ ٢٧٨

ہے ۔ تو میرا متبوع آنحضرت ﷺ ہیں۔ وہ افضل ہے تو مسیح محمدی بھی موسوی سے افضل ہوا۔ دیکھو

(دافع البلاء ص ١٣، ١٥ و غیره ، ملحقات، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٢، ٢٣٤)

اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ وہی مسیح اگر آنحضرت ﷺ کی اتباع کرے گا تو اس کی افضلیت ثابت ہوگی نہ مفضولیت نیز آگے وہ موسیٰ کا متبع تھا۔ اب آنحضرت ﷺ کا متبع ہوگا۔ علاوہ ازیں تیرے قول سے مسیح امتی تو پہلے ہی بن چکا ہے۔ دیکھو

(ازالہ اوہام)

بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل ہیں۔

(ضمیمہ ثمرۃ الحق ص ١٤٣، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٠)

معنی ہے کہ اب نیا نبی کوئی نہیں ہوگا۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ پہلے انبیاء علیہم السلام کی نبوت بھی سلب ہو گئی۔ جیسے کوئی کالج بند ہو جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ پہلے کے پاس شدہ طلباء کا منصب و علم سلب ہو گیا۔ بلکہ بندش آئندہ کے لئے ہوتی ہے۔

مرزا کا یہ دعویٰ کہ آیت یا عیسیٰ انی متوفیک میں

مواعید اربع بالترتیب واقع ہوئے ہیں

اولاً تو آیت میں کوئی ایسا لفظ نہیں جس سے ترتیب ثابت ہوتی ہو۔ واؤ مطلق جمع کے لئے ہوتی ہے نہ کہ ترتیب کے لئے اور مرزا کا خیال ہے کہ ترتیب مواعید اربعہ میں تقدیم و تاخیر کرنا تحریف کلام اللہ ہے۔ دیکھو

(حمامتہ البشریٰ ص ١٧، خزائن ج ٧ ص ١٩٦)

"والاية بزعمهم كانت فى الاصل على هذه الصورة يا عيسى انى رافعك الى و مطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة ثم منزلك من السماء ثم متوفيك فانظر كيف يبدلون كلام الله و يحرفون الكلم عن مواضعه،الخ"

اور ایسے ہی (ازالہ اوہام ص ٩١٤، خزائن ج ٣ ص ٦٠٧، ٦٠٨) میں ہے۔ یہودیوں کی طرز پر "يحرفون الكلم عن مواضعه" کی عادت ہے۔ ..... اور کلام الٰہی کی تحریف و تبدیل پر کمر باندھ لی ہے۔ وہ نہایت تکلف سے خدا تعالیٰ کے ان چار ترتیب وار فقروں میں سے دو فقروں کی ترتیب طبعی سے منکر ہو بیٹھے۔

اب ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مرزا کے اقوال کے مطابق بھی مواعید اربعہ میں ترتیب باقی نہیں رہتی ۔ لہذا وہ بھی محرف قرآن ہوگا۔

١٥٢

یہود کے ہاتھوں سے واقعہ صلیبی میں عيسى انى متوفيك“ جو ستر ہیں۔ یعنی یہ الہام حضرت عیسیٰ کو اس کوشش کر رہے تھے اور اس جگہ بجا تھے ایسی ذلیل اور لعنتی موتوں سے غرض اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حض اس میں ایک باریک اش منصوبے جو قتل کے کئے جاویں گے ظاہر ہونا ضروری ہے۔ سو اسی الہام ہے اور وہ یہ ہے میں اپنی چمکار دکھلا (یہ رافعک الیٰ کی تفسیر دنیا میں ایک نذیر آیا ۔ کی سازشوں کا وقت وہ ہوگا کہ جب اب اس سے ظاہر ہو گیا اگر موت مراد ہے۔ جیسے مرزا کہتا حضرت مسیح کو تقریباً ٣٣ سال کی ع اُس وقت حضرت مسیح کو پیش آیا تھا اور وفات آپ کی ؟ خزائن ج ١٤ ص ٣٨٨) حضرت عیسیٰ حدیث کو اول درجہ کی صحیح مانا ہے اب یہ ثابت ہوا کہ عمر میں تو رفع روحانی پہلے او توفی میں بھی ترتیب بدل گئی ا

صفحہ ٢٧٩

یہود کے ہاتھوں سے واقعہ صلیبی میں بچایا گیا۔ دیکھو (سراج منیر ص ٢٠ حاشیہ، خزائن ج ١٢ ص ٢٤) ”يا عیسیٰ انی متوفیک“ جو سترہ برس سے شائع ہو چکا ہے۔ اس کے اس وقت خوب معنی کھلے ہیں۔ یعنی یہ الہام حضرت عیسیٰ کو اس وقت بطور تسلی ہوا تھا۔ جب کہ یہود ان کے مصلوب کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اس جگہ بجائے یہود ہنود کوشش کر رہے ہیں اور الہام کے یہ معنی ہیں کہ میں تجھے ایسی ذلیل اور لعنتی موتوں سے بچاؤں گا۔ (سراج منیر ص ٤٧، ٤٨، خزائن ج ١٢ ص ٤٤) میں ہے غرض اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کو ایسے اضطراب کے زمانہ میں تسلی دی...... اس میں ایک باریک اشارہ ہے کہ اس عاجز کو بھی ایسا واقعہ پیش آئے گا...... یعنی ایسے منصوبے جو قتل کے کئے جاویں گے وہ کب اور کس وقت میں ہوں گے اور کن امور کا اس سے پہلے ظاہر ہونا ضروری ہے۔ سو اسی الہام کے بعد میں جو الہام ہے۔ اس میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا۔ (یہ رافعک الی کی تفسیر ہے)

دنیا میں ایک نذیر آیا...... اس الہام میں اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فرما دیا کہ قتل کی سازشوں کا وقت وہ ہو گا کہ جب ایک چمک دار نشان حملہ کی صورت پر ظاہر ہو گا، الخ۔

اب اس سے ظاہر ہو گیا کہ واقعہ صلیبی سے بچانا اسی کا نام رفع روحانی ہے اور توفی کا معنی اگر موت مراد ہے۔ جیسے مرزا کہتا ہے تو پھر توفی کا وعدہ قریباً ٨٧ سال بعد کو ہوا۔ کیونکہ واقعہ صلیبی حضرت مسیح کو تقریباً ٣٣ سال کی عمر میں پیش آیا۔ (تحفہ گولڑویہ ص ١٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٣١١) واقعہ صلیب اُس وقت حضرت مسیح کو پیش آیا تھا جب آپ کی عمر صرف تینتیس برس اور چھ مہینے کی تھی۔

اور وفات آپ کی بقول مرزا ایک سو بیس برس کی عمر میں ہوئی۔ (ایام الصلح ص ١٤٣، خزائن ج ١٤ ص ٣٨٨) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر ایک سو بیس برس کی ہوئی تھی۔ محدثین نے اس حدیث کو اوّل درجہ کی صحیح مانا ہے۔

اب یہ ثابت ہوا کہ وفات تو ہوئی ١٢٠ سال کی عمر میں اور رفع روحانی ہوا، ٣٣ برس کی عمر میں تو رفع روحانی پہلے ہوا اور وفات اس کے بہت مدت بعد قریباً ٨٧ سال کے بعد تو رفع اور توفی میں بھی ترتیب بدل گئی اور تحریف قرآن ہوئی۔

١٥٣

صفحہ ٢٨١

تفسیر ہے۔ تطہیر کا وعدہ آنحضرتﷺ کی بعثت سے ہوا یا خود مرزا سے معرض ظہور میں آیا۔ لیکن چوتھا وعدہ ”وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا“ اس سے پہلے ہو چکا ہے۔ کیونکہ چوتھے وعدہ کا مفہوم ہے کہ تیرے ماننے والوں کو تیرے منکروں پر غلبہ دوں گا اور وہ تو آنحضرتﷺ سے پہلے قسطنطین اوّل کے زمانہ سے پورا ہو گیا ہے۔ اب اس کی دلیل کہ تطہیر کا وعدہ آنحضرتﷺ سے پورا ہوا۔

دیکھو (حمامۃ البشریٰ ص ٥٦، خزائن ج ٧ ص ٢٥٨) ”وهكذا وعد مطهرك من الذين كفروا وقع وتم ببعث النبي ﷺ الخ“

اور اس کا حوالہ تطہیر کا وعدہ مرزا کے آنے سے پورا ہوا۔ (مسیح ہندوستان میں ص ٥٢، خزائن ج ١٥ ص ٥٤) اور مطہرک کی پیش گوئی میں یہ ارشاد ہے کہ ایک زمانہ وہ آتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان الزاموں سے حضرت مسیح کو پاک کرے گا اور یہی وہ زمانہ ہے، الخ۔

اور اس کا حوالہ کہ چوتھا وعدہ سلطنت کا ہے۔ دیکھو (تحفہ گولڑویہ ص ٨٤، خزائن ج ١٧ ص ٢٤١) ”وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة“ یعنی اے عیسیٰ میں تیرے حقیقی تابعین کو جو مسلمان ہیں اور ادعائی تابعین کو جو عیسائی ہیں۔ ادعائی طور پر قیامت تک ان لوگوں پر غالب رکھوں گا جو تیرے دشمن اور منکر اور مکذب ہیں۔ (ملخص ص ٢١٣) پس ثابت ہوا کہ چوتھا وعدہ آنحضرتﷺ سے یا مرزا سے قبل ہو چکا ہے اور تیسرا وعدہ آنحضرتﷺ یا مرزا کے زمانہ میں پورا ہوا۔ پس ان دونوں میں بھی ترتیب باقی نہ رہی۔

نیز مرزا خود کہتا ہے کہ اگر وعدہ رفع پورا ہو چکا ہے تو وعدہ وفات بھی بلا توقف پورا ہونا چاہئے۔ دیکھو (آئینہ کمالات اسلام ص ٤٠، خزائن ج ٥ ص ٤٦) ماسوا اس کے یہ بھی سوچنے کے لائق ہے کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ کہ میں ایسا کرنے کو ہوں، خود یہ الفاظ دلالت کرتے ہیں کہ وہ وعدہ (وفات) جلد پورا ہونے والا ہے اور اس میں کوئی توقف نہیں نہ یہ کہ رفع کا وعدہ تو اسی وقت پورا ہو جائے ۔ لیکن وفات دینے کا وعدہ ابھی تک جو دو ہزار برس گزر گئے ہیں، پورا ہونے میں نہ آوے۔

اب ہم کہتے ہیں کہ جب ترتیب ضروری ہے تو رفع مسیح تو واقعہ صلیبی پر ہوا کہ خدا نے لعنتی اور ذلیل موت سے بچا لیا تو وعدہ وفات رفع روحانی سے پہلے ہونا ضروری ہے۔ تو ثابت ہوا کہ حضرت مسیح واقعہ صلیبی پر تو ضرور فوت ہوئے ہوں گے۔ بلکہ اس سے قبل مرے ہوں گے۔ تو واقعہ صلیبی کے وقت سے پہلے مر گئے ہیں تو صلیب مردے کو دی گئی ہوگی اور پھر صلیب کے وقت

١٥٤

وہ ضرور مرے ہوئے ہوں گے۔ کیونکہ توفی کا وعدہ اس کہ حضرت مسیح صلیب کے وقت مردہ تھے اور وہ یقیناً م خود کہتا ہے کہ اگر حضرت مسیح واقعہ صلیبی پر مرے ہوئے لعنتی ثابت ہوں گے۔ دیکھو (ایام الصلح ص ١١١، ١١٢، خزائن کی رو سے جس شخص کو صلیب کے ذریعے قتل کیا جا خدانخواستہ اگر واقعہ صلیبی وقوع میں آجاتا تو حضرت م طرح ان کی نبوت درست نہ ٹھہر سکتی۔

اب نتیجہ یہ ہوا کہ واقعہ صلیبی پر جب کہ ر ہوئی ہوگی۔ کیونکہ ترتیب ضروری ہے تو پھر وہ لعنتی موت بھی شک پڑ گیا ہوگا۔

مزید برآں یہ کہ مرزا کو خود (براہین ا حاشیہ) میں یہی الہام ”یا عیسیٰ انی متوفیک دریافت طلب یہ امر ہے کہ تیرے چاروں وعدوں میں اپنا الہام آیا تو اس میں اب متوفیک کا معنی پوری نعمت موت نہ ثابت ہو جائے۔

تیرے اپنے اس الہام میں بھی یقیناً توفی ا روحانی تیرے زعم میں لیکھرام کے قتل کے وقت ہوا ج اور خدا نے تجھ کو اس سے بری کر کے تیرا رفع روحانی کیا

دیکھو (سراج منیر ص ٤٢، خزائن ج ١٢ ص ٤٥) وفات کا وعدہ تو ابھی پورا ہی نہ ہوا تھا اور رفع روحانی وعدوں میں بھی یقیناً ترتیب مفقود ہے۔ کیونکہ رفع تو پ اور وفات بہت سال بعد میں جا کر ہوئی۔ پس اس لحاظ تحریف کرنے والا ثابت ہو گیا۔

خبطِ عشواء

مرزا قادیانی وفات مسیح میں عجیب خبط عش

١٥٥

صفحہ ٢٨١

وہ ضرور مرے ہوئے ہوں گے۔ کیونکہ توفی کا وعدہ اس سے پہلے پورا ہونا ہے تو اب تو ثابت ہوا کہ حضرت مسیح صلیب کے وقت مردہ تھے اور وہ یقیناً لعنتی اور ذلیل موت سے مرے۔ کیونکہ مرزا خود کہتا ہے کہ اگر حضرت مسیح واقعہ صلیبی پر مرے ہوئے ہوں تو ان کی نبوت جھوٹی ٹھہرے گی اور وہ لعنتی ثابت ہوں گے۔ دیکھو (ایام الصلح ص ١١١، ١١٢، خزائن ج ١٤ ص ٢٣٨، ٢٣٩) یہودیوں کے مذہب کی رو سے جس شخص کو صلیب کے ذریعے قتل کیا جائے۔ خدا کی لعنت اس پر پڑتی ہے۔..... خدانخواستہ اگر واقعہ صلیبی وقوع میں آ جاتا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایک ایسا داغ ہوتا کہ کسی طرح ان کی نبوت درست نہ ٹھہر سکتی۔

اب نتیجہ یہ ہوا کہ واقعہ صلیبی پر جب کہ رفع روحانی ہوا تو اس سے پہلے وفات ثابت ہوئی ہوگی۔ کیونکہ ترتیب ضروری ہے تو پھر وہ لعنتی موت سے مرے ہوں گے اور ان کی نبوت میں بھی شک پڑ گیا ہوگا۔

مزید برآں یہ کہ مرزا کو خود (براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٥٥٧، خزائن ج ١ ص ٦٦٤ حاشیہ) میں یہی الہام ”یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی“ الخ کا ہوا ہے۔ اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ تیرے چاروں وعدوں میں بھی ترتیب ضروری ہے یا نہیں اور پھر جب اپنا الہام آیا تو اس میں اب متوفیک کا معنی پوری نعمت دینے والا کیوں کر لیا۔ اس لئے کہ کہیں اپنی موت نہ ثابت ہو جائے۔

تیرے اپنے اس الہام میں بھی یقیناً توفی اور رفع میں ترتیب باقی نہیں۔ کیونکہ تبرئہ اور رفع روحانی تیرے زعم میں لیکھرام کے قتل کے وقت ہوا جب کہ ہنود نے تجھ پر اس کے قتل کا الزام لگایا اور خدا نے تجھ کو اس سے بری کر کے تیرا رفع روحانی کیا۔

دیکھو (سراج منیر ص ٤١، خزائن ج ١٢ ص ٤١ ملخص) کہ یہ تفسیر رافعک الی کی ہے۔ تو تیرا وفات کا وعدہ تو ابھی پورا ہی نہ ہوا تھا اور رفع روحانی کا وعدہ پورا ہو گیا۔ تو تیرے اپنے دونوں وعدوں میں بھی یقیناً ترتیب مفقود ہے۔ کیونکہ رفع تو قتل لیکھرام کے جرم سے برأت کے وقت ہوا اور وفات بہت سال بعد میں جا کر ہوئی۔ پس اس لحاظ سے مرزا بھی قرآن مجید اور اپنے الہامات کا تحریف کرنے والا ثابت ہو گیا۔

خبط عشواء

مرزا قادیانی وفات مسیح میں عجیب خبط عشواء سے کام لیتا ہے۔ کبھی کہتا ہے کہ حضرت

١٥٥

صفحہ ٢٨٢

مسیح زندہ آسمان پر موجود ہیں۔ (براہین احمدیہ ص ٤٥٨، ٤٦٥، ٤٩٨، ٥٠٥ جدید، خزائن ج ٢١ ص ٣٥) اور کبھی کہتا ہے کہ وہ صلیب پر چڑھ کر مر گئے تھے۔ (ص ٤١، ایک عیسائی کے تین سوالوں کا جواب) اور کبھی کہتا ہے کہ وہ صلیب سے محفوظ رہ کر بعد میں مرے تھے۔ (حقیقت الوحی ص ١٠١) اور ان کی قبر گلیل میں بتاتا ہے۔ (ازالہ اوہام ص ٣٥٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٢) اور کبھی یروشلم میں بتاتا ہے۔ (اتمام الحجۃ ص ١٨، ١٩، ٢٥ جدید، خزائن ج ٨ ص ٢٩٩ حاشیہ) اور کبھی سری نگر کشمیر میں بتاتا ہے۔ (حقیقت الوحی ص ١٠١، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢) اور ان کی عمر بھی کبھی ایک سو بیس بتاتا ہے۔ (ایام الصلح ص ١٤٢، خزائن ج ١٤ ص ٢٨٨) کبھی ایک سو تیس (١٣٠) کبھی ایک سو پچیس (١٢٥)۔ دیکھو (مسیح ہندوستان میں ص ٥٣، خزائن ج ١٥ ص ٥٥، تریاق القلوب ص ٣٠٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٣) اور حضرت مسیح ...... آخری عمر میں ایک سو پچیس برس کی عمر میں وفات پائے۔

"آیۃ وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ" کی تفسیر میں مرزا نے عجیب عجیب مطلب بیان کئے ہیں۔ (حقیقت الوحی ص ١٣٤، ١٣٥، خزائن ج ٢٢ ص ٧٤، ٧٥ براہین حصہ پنجم ضمیمہ ص ٢٣٣، ٢٣٤ جدید، خزائن ج ٢١ ص ٤٠٩) اور ضمیر بہ کا مرجع آنحضرت ﷺ یا عیسیٰ علیہ السلام کو مانا ہے۔ دیکھو (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٢١، ضمیمہ حصہ پنجم ص ٢٣٢، ٢٣٣، ٢٣٤ جدید) اور قبل موتہ کا مرجع حضرت عیسیٰ کو بھی تسلیم کیا ہے۔ (ازالہ اوہام ص ٣٦٩، خزائن ج ٣ ص ٢٩٠) میں لکھا ہے کہ یہ معنی صحیح اور ضروری التسلیم ہیں۔ اور (ص ١٠٣٥) میں ہے کہ واللہ یہ صداقت مجھے خدا سے معلوم ہوئی۔

جبکہ یہ آیت آخری زمانہ کے لئے ہے کہ مسیح موعود پر اہل کتاب ایمان لاویں۔ دیکھو (حقیقت الوحی ص ١٠٤، ١٦١) اور قبل موتہ کی ضمیر کا مرجع از روئے الہام حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔

(ازالہ اوہام ص ٣٧٩ تا ٣٨٥ طبع اول، خزائن ج ٣ ص ٢٩٨ و ص ١٠٢٨، ١٠٣٢ طبع لاہوری)

براہین احمدیہ اور مرزا کا عقیدہ حیات مسیح علیہ السلام

مرزا کا یہ عقیدہ یعنی حیات مسیح اور صعود مسیح اور نزول مسیح کا تھا۔ کیونکہ یہ تینوں امور آپس میں متلازم ہیں۔ لہٰذا ایک کے ثبوت سے دوسرے کا ثبوت خود بخود ہو جاوے گا۔ (حمامۃ البشریٰ ص ٤٢، خزائن ج ٧ ص ٢١٦) "اما عرفوا ان النزول فرع الصعود" ایسے ہی مرزا (ازالہ اوہام ص ٢٦٣، ٢٦٤، خزائن ج ٣ ص ٢٣٣، ٢٣٤) میں کہتا ہے کہ حضرت مسیح کا قبر میں دفن ہونا اس امر کی فرع ہے کہ وہ پہلے آسمان سے نازل ہوں۔ لہٰذا یہ تینوں امور آپس میں اصل و فرع متلازمین کا حکم رکھتے ہیں۔ اس کا ثبوت کہ پہلے مرزا حیات ونزول مسیح کا عقیدہ رکھتا تھا۔ دیکھو ١٥٦

صفحہ ٢٨٣

(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، خزائن ج ١ص ٥٩٣) ”هو الذی ارسل رسوله بالهدی و دین الحق لیظهره علی الدین کله“ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ اور دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح دوبارہ اس دنیا میں تشریف لاویں گے۔ تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا۔ (اشتہار ص ٥٠٥، خزائن ج ١ص ٦٠١) وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال لاوے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کر دیں گے اور کج اور نادرست کا نام ونشان نہ رہے گا اور جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست و نابود کر دے گا اور یہ زمانہ اس زمانہ کے لئے بطور ارہاص کے ہے اور مرزا کہتا ہے کہ میں اس عقیدہ پر مدت تک جما رہا۔ دیکھو (ضمیمہ نزول مسیح ص ٧، خزائن ج ١٩ص ١١٣) پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے۔ بالکل اس سے بے خبر رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے۔ تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے۔ (ایام الصلح ص ١٤١، ١٤٢، خزائن ج ١٤ص ٢٧١ تا ٢٧٢ ملخص) میں نے براہین احمدیہ میں یہ بھی اعتقاد ظاہر کیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پھر واپس آئیں گے۔

(حمامة البشریٰ ص ١٤، ١٥ جدید، خزائن ج ٧ ص ١١٩) ”بل كنت خلت ان المسيح نازل من السماء كما هو مركوز فی مدارک القوم و لكنی كنت اقول فی نفسی تعجبا ان الله لم سمانی عیسی بن مریم فی الهامه المتواتر المتتابع “ (حقیقت الوحی ص ١٤٩، خزائن ج ٢٢ص ١٥٣) اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر سے نازل ہوں گے۔

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٦٢، ١٦٣، خزائن ج ٢٢ص ٦٠٢) پس تم سمجھ سکتے ہو کہ میں نے پہلے اعتقاد کو نہیں چھوڑا تھا۔ جب تک خدا نے روشن نشانوں اور کھلے کھلے الہاموں کے ساتھ نہیں چھڑوایا۔ (حصہ پنجم ص ٥٩٤، ٥٩٥، ٥٩٦ حاشیہ، خزائن ج ١ص ٥٩٥) بلکہ میں تمہاری طرح بشریت کے محدود علم کی وجہ سے یہی اعتقاد رکھتا تھا کہ عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوگا۔ معلوم ہوا کہ براہین

١٥٧

صفحہ ٢٨٤

احمدیہ میں مرزا کا حیات مسیح کا عقیدہ تھا اور پھر وہ تھا بھی قرآن مجید کی آیت کی تفسیر کے ماتحت اور (ازالہ اوہام ص ١٤٩، خزائن ج ٣ ص ١٧١) میں تسلیم کرتا ہے کہ میں نے احادیث نبویہ کے ماتحت حیات مسیح کا عقیدہ لکھا تھا اور (ازالہ اوہام ص ٨٥٩، خزائن ج ٣ ص ٥٧٤) میں تسلیم کرتا ہے کہ بائبل اور احادیث کی رو سے حضرت مسیح کا آسمان پر جانا خیال کیا گیا ہے اور کتاب (مسیح ہندوستان میں ص ٣٦، خزائن ج ١٥ ص ٣٨) میں لکھا کہ (انجیل متی باب ٢٤ آیت ٣٠) سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح آسمان سے نازل ہوں گے۔ پس قرآن اور حدیث و بائبل و انجیل سے تو حیات مسیح ثابت ہوئی اور وفات مسیح کا دعویٰ مرزا کے اپنے الہام سے ہوا۔

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ٦٠٢) تو پھر قرآن وحدیث و بائبل کو وفات مسیح میں استدلالاً پیش کرنا یقینا دھوکہ دینا ہوگا۔

براہین احمدیہ کے عقیدے کو پھر مرزا نے ترک کر کے قرآن وحدیث کا خلاف کر کے پھر کہنا شروع کر دیا کہ میں نے جو کچھ براہین میں لکھا تھا وہ ایک رسمی عقیدہ تھا۔ میں دوسرے مسلمانوں کے پیچھے لگ کر وہ کہہ بیٹھا تھا۔ لیکن اس کا عذر مردود ہے۔ کیونکہ وہ کہتا ہے کہ جو حکم ہو کر آیا کرتا ہے وہ تمہارے رسمی عقائد کی پابندی نہیں کیا کرتا۔ دیکھو (نزول مسیح ص ٣٤، ٣٥، خزائن ج ١٨ ص ٤١٢) ماسوا اس کے جبکہ مسیح موعود کا نام حکم ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اسلام کے بہتر (٧٢) فرقوں میں فیصلہ کرے اور بعض خیالات کا رد کرے اور بعض کی تصدیق کرے۔ یہ کیونکر ہو سکے کہ جو حکم کہلاتا ہے وہ تمہارا سب رطب و یابس کا ذخیرہ مان لے اور پھر اس کے وجود سے فائدہ کیا ہوا اور کس لئے اس کا نام حکم رکھا گیا، الخ۔

(قریب منہ تحفہ گولڑویہ ص ٧٠، ٤٤ قدیم، خزائن ج ١٧ ص ١٥٤، ضمیمہ حصہ پنجم ص ٤٠٤، خزائن ج ٢١ ص ٣٧٧) اور کبھی یہ کہتا کرتا ہے کہ میں نے براہین میں جو عقیدہ لکھا تھا وہ الہام سے نہیں لکھا تھا۔ دیکھو (ضمیمہ نزول مسیح ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ١١٢) اے نادانو! اپنی عاقبت کیوں خراب کرتے ہو۔ اس اقرار میں کہا لکھا ہے کہ یہ خدا کی وحی سے بیان کرتا ہوں اور مجھے کب اس بات کا دعویٰ ہے کہ میں عالم الغیب ہوں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ تیرے ہی اقرار سے براہین کو تو نے ملہم و مامور ہو کر لکھا ہے اور پھر تو نے براہین کی اس قدر توثیق کی ہے کہ کسی دوسری کتاب کی تصدیق و توثیق نہیں کی اور تیرا خود دعویٰ ہے کہ ملہم کی اجتہادی غلطی بھی وحی کے ماتحت ہوتی ہے اور اس کو وحی کی غلطی سمجھنا چاہئے اور ١٥٨

تیرا خود اقرار ہے کہ ہم الہام والوں کی ہر بات تو پھر یہ معاذیر اور بہانے کیا معنی رکھتے ہیں ہیں۔

(اشتہار ملحقہ سرمہ چشم آریہ، خزائن ج ٢ ص ٣٩ مؤلف نے ملہم و مامور ہو کر بغرض اصلاح ذ کا اشتہار ہے، الخ۔

اور خود براہین احمدیہ میں سے احمدیہ ص ٢٢٥ جدید حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص پندرہ ہندو اور مسلمان لوگوں کے ہوں گے اس الہام سے خبر دی گئی۔

و (ص ٥٢٠ جدید حاشیہ در حاشیہ ١٨٦٨ء یا ١٨٦٩ء میں بھی ایک عجیب الہام اور (آئینہ کمالات اسلام ص ١٠٩، خ میں جب میں مامور کیا گیا۔ تو مجھے یہ الہام ہ اس کے علاوہ براہین میں مرز اس کے ملہم ہونے کی دلیل ہے اور پھر مختلف سراج منیر وغیرہ میں حوالہ دیا کرتا ہے کہ میر اور کیا ثبوت ہو کہ براہین کے وقت مرزا ملہم

جات یہ ہیں۔ (براہین احمدیہ ص ١٣٦، خزائن مہمات دینیہ کے تحریر کرنے میں ناقص البی پر مشتمل ہیں اور وہ تمام حقائق عالیہ کہ ج مکتوب اور مرقوم ہیں اور یہ ایسا فائدہ ہے جائے گا اور کسی مغوی یا بہکانے والے کے اور ہدایت کرنے کے لئے ایک کامل استا

صفحہ ٢٨٥

تیرا خود اقرار ہے کہ ہم الہام والوں کی ہر بات معتبر ہوتی ہے۔ خواہ الہام سے کہیں یا بغیر الہام کے تو پھر یہ معاذیر اور بہانے کیا معنی رکھتے ہیں۔ اب ذیل میں ہم ہر ایک بات کا حوالہ پیش کرتے ہیں۔

(اشتہار ملحقہ سرمہ چشم آریہ، خزائن ج٢ ص٢٦٩) کتاب براہین احمدیہ جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مؤلف نے ملہم و مامور ہو کر بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کیا ہے۔ جس کے ساتھ دس ہزار روپیہ کا اشتہار ہے، الخ۔

(مثلاً اشتہار ملحقہ آئینہ کمالات اسلام، خزائن ج٥ ص٦٥٧)

اور خود براہین احمدیہ میں سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا اس وقت ملہم تھا۔ دیکھو (براہین احمدیہ ص٢٢٥ جدید حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج١ ص٢٤٩) یہ الہام جب اس خاکسار کو ہوا تو قریب دس یا پندرہ ہندو اور مسلمان لوگ اس کے گواہ ہیں کہ جو قادیان میں اب تک موجود ہیں۔ جن کو اسی وقت اس الہام سے خبر دی گئی۔ و (ص٥٢٠ جدید حاشیہ در حاشیہ نمبر٣، خزائن ج١ ص٦٢١) اور اس برکت کے بارہ میں ١٨٦٨ء یا ١٨٦٩ء میں بھی ایک عجیب الہام اردو میں ہوا۔ جس کو اس جگہ لکھنا مناسب ہے، الخ۔ اور (آئینہ کمالات اسلام ص١٠٩، خزائن ج٥ ص١٠٩) میں ہے کہ مجھ کو یاد ہے کہ ابتداء وقت میں جب میں مامور کیا گیا۔ تو مجھے یہ الہام ہوا کہ جو براہین احمدیہ کے (ص٢٣٨) میں مندرج ہے۔ اس کے علاوہ براہین میں مرزا نے اپنے بہت سے الہام درج کئے ہیں جو اس وقت اس کے ملہم ہونے کی دلیل ہے اور پھر مختلف کتب میں (مثلاً حقیقت الوحی ص٢٠٠، خزائن ج٢٢ ص٢٠٠) سراج منیر وغیرہ میں حوالہ دیا کرتا ہے کہ میرا یہ الہام براہین میں مندرج ہے۔ پس اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہو کہ براہین کے وقت مرزا ملہم تھا۔

جات یہ ہیں۔ (براہین احمدیہ ص١٣٦، خزائن ج١ ص١٢٨) اور اس کتاب میں یہ فائدہ ہے کہ یہ کتاب مہمات دینیہ کے تحریر کرنے میں ناقص البیان نہیں۔ بلکہ وہ تمام صداقتیں کہ جن پر اصول علم دین مشتمل ہیں اور وہ تمام حقائق عالیہ کہ جن کی ہیئت اجتماعی کا نام اسلام ہے۔ وہ سب اس میں مکتوب اور مرقوم ہیں اور یہ ایسا فائدہ ہے کہ جس سے پڑھنے والوں کو ضروریات دین پر احاطہ ہو جائے گا اور کسی مغوی یا بہکانے والے کے پنجے میں نہیں آئیں گے۔ بلکہ دوسروں کو وعظ و نصیحت اور ہدایت کرنے کے لئے ایک کامل استاذ اور ایک عیار رہبر بن جائیں گے۔

١٥٩

صفحہ ٢٨٦

(ص ١٢٧، خزائن ج ١ ص ١٣٠) پانچواں اس کتاب میں یہ فائدہ ہے کہ اس کو پڑھنے سے حقائق اور معارف کلام ربانی کے معلوم ہو جائیں گے......اور وہ تمام کامل صداقتیں جو اس میں دکھائی گئی ہیں۔ وہ سب آیات بینات قرآن شریف سے لی گئی ہیں......پس حقیقت میں یہ کتاب قرآن شریف کے دقائق اور حقائق اور اس کے اسرار عالیہ اور اس کے علوم حکمیہ اور اس کو اعلیٰ فلسفہ ظاہر کرنے کے لئے ایک عالی بیان تفسیر ہے، الخ۔

(ص ٢٤٨، خزائن ج ١ ص ٢٧٥) میں ہے۔ جناب خاتم الانبیاء ﷺ کو خواب میں دیکھا اور اس وقت اس عاجز کے ہاتھ میں ایک دینی کتاب تھی جو خود اس عاجز کی تالیف معلوم ہوتی تھی۔ آنحضرت ﷺ نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی میں پوچھا کہ تو نے اس کتاب کا کیا نام رکھا ہے۔ خاکسار نے عرض کیا کہ اس کا نام میں نے قطبی رکھا ہے۔ جس نام کی تعبیر اب اشتہاری کتاب کی تالیف ہونے پر یہ کھلی کہ وہ ایسی کتاب ہے کہ جو قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہو جس کے کامل استحکام کو پیش کر کے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا گیا ہے۔

براہین کا آخری صفحہ ٹائیٹل پیج بعنوان نام اور ہماری کتاب، سو اب اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہراً و باطناً حضرت رب العالمین ہے اور مرزا نے دس ہزار انعامی کتاب اسی کو کہا ہے اور کوئی ایسے اوصاف کی جامع کتاب نہیں کہ وہ دس ہزار انعامی بھی ہو اور وہ کتاب اللہ کی تفسیر بھی ہو اور اس پر آنحضرت ﷺ کا ریویو بھی اور اس کے طبع کا ظاہری و باطنی مہتمم خدا تعالیٰ ہو۔

بلکہ وحی کی غلطی (گویا عیاذاً باللہ خدا کی غلطی) ہوتی ہے۔ دیکھو (آئینہ کمالات اسلام ص ١١٤، خزائن ج ٥ ص ١١٤) اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اجتہادی غلطی بھی وحی کی روشنی سے دور نہیں تھی.......سو ہم اس اجتہادی غلطی کو بھی وحی سے علیحدہ نہیں سمجھتے۔ (ص ٣٥٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً) چونکہ ہر ایک بات جو اس کے منہ سے نکلتی ہے، وحی ہے۔ اس لئے جب اس کے اجتہاد میں غلطی ہو گئی تو وحی کی غلطی کہلائے گی نہ اجتہاد کی غلطی، الخ۔

دیکھو (حقیقت الوحی ص ١٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٨) علیٰ ہٰذا القیاس اس کے (ملہم) دل کو قوت فراست عطاء کی جاتی ہے اور بہت سی باتیں اس کے دل میں پڑ جاتی ہیں اور وہ صحیح ہوتی ہیں۔ علیٰ ہٰذا القیاس شیطان اس پر تصرف کرنے سے محروم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس میں شیطان کا کوئی حصہ نہیں رہتا اور

١٦٠

یہ باعث نہایت درجہ فانی اللہ ہونے کے اس کی نما خدا کا ہاتھ ہوتا ہے اور اگرچہ اس کو خاص طور پر الہ ہوتا ہے۔ وہ اس کی طرف سے نہیں، بلکہ خدا ک بکلی جل جاتی ہے۔

(حمامتہ البشریٰ ٹائٹل پیج ص الف، خزائن

يحبهم و يحبونه...... و يحفظهم مـ ص ١٧٠) ”فانهم يؤتون علما و فهما من ا مزلة “

(حمامتہ البشریٰ ص ٤٩، خزائن ج ٧ ص

و المعارف من هذا النبى الرسول ا التدبر فيه و استنباط دقائقه وقوم تبارك وتعالى فهم الحكماء و المحدثو

(حمامتہ البشریٰ ص ٧١، خزائن ج ٧ ص

تقبلنى واحسن الى وربانى و اعطا نور قذف فى قلبى فعرفت من القرآ

(حمامتہ البشریٰ ص ٧٢، خزائن ج ٧ ص

النصوص القرآنية والحديثية وما تو

(مواہب الرحمٰن ص ٤، خزائن ج ١٩ ص

شيئا من امرى“

(براہین احمدیہ ص ٢٠٨، حاشیہ ٢٣٨، ج

ان (ملہمین) کا تدارک کر لیتی ہے“۔

(براہین احمدیہ ص ٢٤٠، خزائن ج ١ ص

اور سچے ہونے چاہئیں۔

(نور الحق ج ٢ ص ٤١، خزائن ج ٨ ص

دين الله بعلمه وصدقه...... وما يقول

صفحہ ٢٨٧

باعث نہایت درجہ فانی اللہ ہونے کے اس کی زبان ہر وقت خدا کی زبان ہوتی ہے اور اس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہوتا ہے اور اگر چہ اس کو خاص طور پر الہام بھی نہ ہو۔ تب بھی جو کچھ اس کی زبان پر جاری ہوتا ہے۔ وہ اس کی طرف سے نہیں، بلکہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ کیونکہ نفسانی ہستی اس کی بالکلی جل جاتی ہے۔

(حمامة البشریٰ ٹائٹل پیج ص الف، خزائن ج٧ ص١٦٧، ١٦٨) ”ان اولیاء الله قوم یحبهم و یحبونه...... و یحفظهم من مقامات مزلة الاقدام“ (ص ب، خزائن ج٧ ص١٦٧) ”فانهم یؤتون علما و فهما من لدن ربهم......ویعصمهم ید الرب من کل مزلة “

(حمامة البشریٰ ص٤٩، خزائن ج٧ ص٢٤٤) ”والذین کثر علیهم فیضان العلوم و المعارف من هذا النبی الرسول الامی فمنهم قوم توجهوا الی کتاب الله و التدبر فیه و استنباط دقائقه وقوم آخرون کانت همتهم اخذ العلوم من الله تبارک وتعالیٰ فهم الحکماء و المحدثون اهل الحكمة الربانية، الخ“

(حمامة البشریٰ ص٧١، خزائن ج٧ ص٢٨٤، ٢٨٥) ”والذی نفسی بیدہ انه نظر الی فقبلنی واحسن الی وربانی و اعطانی من لدنه فهما وعقلا مستقیما وکم من نور قذف فی قلبی فعرفت من القرآن مالا یعرف غیری“

(حمامة البشریٰ ص٧٢، خزائن ج٧ ص٢٨٥) ”انا ماکتبنا فی کتاب شیئا یخالف النصوص القرآنية والحديثية وما تفوهنا به يوما من الدهر“

(مواہب الرحمٰن ص٦٣، خزائن ج١٩ ص٢٢١) ”وکلما قلت قلت عن امرہ وما فعلت شیئا من امری“

(براہین احمدیہ ص٤٠٨، حاشیہ ١١ جدید) ”اگر کوئی لغزش بھی ہو جائے تو رحمت الٰہیہ جلد تر ان (ملہمین) کا تدارک کر لیتی ہے۔“

(براہین احمدیہ ص٣٢٠، خزائن ج١ ص٣٨٠ ملخص) انبیاء و رسل اور ملہمین کے عقائد صاف اور سچے ہونے چاہئیں۔

(نور الحق ج٢ ص٤، خزائن ج٨ ص٢٣٦) ”ویبعث الله عبدا لاعانته فیجدد دین الله بعلمه وصدقه......وما یقول الا ما علمه لسان الرحمٰن“

١٦١

صفحہ ٢٨٨

(نور الحق ج١ ص ٧٤، خزائن ج ٨ ص ١١٧) "ان اللہ لا یترکنی علی خطاء طرفة عین و یعصمنی من کل مین“ (حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٤) ”میں بغیر خدا کے بلائے بول نہیں سکتا۔“ (حقیقت الوحی ص ٢٣، ٥١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٥) ”اس کا (ملہم) ہاتھ خدا کا ہاتھ اس کا منہ خدا کا منہ ہوتا ہے۔“ (حقیقت الوحی ص ١٢٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٢٧) ”مگر خدا کی وحی میں غلطی نہیں ہوتی۔ ہاں اس کے سمجھنے میں اگر احکام شریعت کے متعلق نہ ہو، کسی نبی سے غلطی ہو سکتی ہے۔“ کیا یہ ممات وحیات مسیح کا مسئلہ حکم شرعی نہ تھا؟ (حمامة البشریٰ ص ٩، خزائن ج ٧ ص ١٨٦) ”والله يعلم اني ماقلت الا ماقال الله ولم اقل كلمة قط يخالفه وما سها قلمی فی عمری“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٣٥٤ طبع اول، خزائن ج ٥ ص ٥٤٣) ”اس عاجز کو اپنے ذاتی تجربہ سے یہ معلوم ہے کہ روح القدس کی قدومیت ہر وقت اور ہر دم اور ہر لحظہ بلا فصل ملہم کے تمام قویٰ میں کام کرتی رہتی ہے۔“ الحاصل...... اب مرزا کا کوئی عذر باقی نہ رہا کہ میں نے براہین میں غلطی سے جو لکھ دیا، لکھ دیا اور اگر مرزا یا مرزائی لوگ یہ کہیں کہ یہ بات اور تعلیم مرزا کو بعد میں حاصل ہوئی ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مرزا خود لکھتا ہے کہ میں نے براہین کو سالہا سال کے مطالعہ کے بعد لکھا ہے اور اس کو جو کچھ ملا ہے وہ مادر کے شکم سے ہی ملا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ مبداء ولادت سے ہی ہے۔ دیکھو (براہین احمدیہ ص ٦٤ خزائن ج ١ ص ٦٤) (عرض ضروری، بحالت مجبوری) اور کچھ ضرور نہ تھا جو ہم سالہا سال اپنی جان کو محنت شدید میں ڈال کر اور اپنی عمر کا ایک حصہ خرچ کر کے پھر آخر کار ایسا کام کرتے جو محض تحصیل حاصل تھا۔ (ص٩٠، ٩١، خزائن ج ١ ص ٧٨، ٨٠) میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس کتاب کی تالیف سے پہلے ایک بڑی تحقیقات کی گئی اور ہر ایک مذہب کی کتاب دریافت اور امانت اور تدبر سے دیکھی گئی اور فرقان مجید اور ان کتابوں کا باہم مقابلہ بھی کیا گیا۔

بخواندم زہر گوشے دفترے بدیدم زہر قوم دانش ورے
ہم از کودکی سوئے ایں تاختم دریں شغل خود را بینداختم
جوانی ہمہ اندریں باختم دل از غیر ایں کار پرداختم

(ص ٩٥ مقدمہ، خزائن ج ١ ص ٨٥) ١٦٢

٩ (حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص بنعمة ربك فحدث“ اپنی نسبت بیان ک داخل کر کے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش ۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧ طبع اول، خ حین ولدت وحين كنت ضريع المتعلمين، الخ“ اور پھر مرزا کے علوم کی ہیں۔ (نور الحق ص ١١ تا ١٢ جدید) ”وعلمنی من الذين خلوا من قبلى“ (حقیقت الوحی ص ٣٠٨، خزائن ج ٢٢ ص کے غیبی سہارے ہیں۔ جن پر ان کی اتمام حجت ....... ”ایک وہی علم متعلق عقل اور نقل ۔ کو عطا ء کیا جائے گا۔“ (ا تو پھر اب کیا عذر کیا جا سکتا ہے عقیدہ لکھ دیا تھا اور پھر لطف یہ کہ مرزا کو قرآن (حصہ پنجم ص ٥٢، ٥١ جدید خزائن ج ٢١ ص ٦٥ ، ٦٦) کتاب ہے جو ١٨٨٠ء یعنی ١٢٩٧ھ میں چھپ کچھ خفیف سی غنودگی ہو کر یہ وحی ہوئی یا احمد بہ نے تجھے قرآن سکھلایا یعنی اس کے حقیقی معنو اب قرآن مجید کے حقیقی معنوں پر حیات مسیح کو لکھا۔ سوائے اس کے کہ مسلمانو نہ کرے۔ لیکن اپنے دل کی تمنائیں ابھی پوشی پھر علاوہ ازیں جبکہ تیرے نزدی (ضرورت الامام ص ٢٥، ٢٦ جدید، خزائن ج ١٣ ص (آئینہ کمالات اسلام ص ١٤ طبع اول، خزائن ج ٥ ص کی باعث تھی۔ کیوں غلطی میں بارہ سال تک

صفحہ ٢٨٩

(حقیقۃ الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠) ”اب میں بموجب آیت کریمہ ’واما بنعمۃ ربک فحدث‘ اپنی نسبت بیان کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس تیسرے درجہ میں داخل کر کے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش سے نہیں، بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطاء کی گئی ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧ طبع اول، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧) ”کان اللہ معی اول امری حین ولدت وحین کنت ضریعا عند ظئری وحین کنت اقرء فی المتعلمین، الخ“ اور پھر مرزا کے علوم کسبی بھی نہیں کہ بعد میں حاصل کئے گئے ہوں۔ بلکہ وہبی ہیں۔ (نور الحق ص ١١ جز ١ جدید) ”وعلمنی من لدنہ وتولانی وفتح علی ابواب علوم الذین خلوا من قبلی“

(حقیقۃ الوحی ص ٣٠٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢١) ”اور دو فرشتوں سے مراد اس کے لئے دو قسم کے غیبی سہارے ہیں۔ جن پر ان کی اتمام حجت موقوف ہے۔“

کو عطاء کیا جائے گا۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٤٢٧، خزائن ج ٣ ص ٣٩٤، ٣٩٥ ملخص)

تو پھر اب کیا عذر کیا جا سکتا ہے کہ میں نے براہین میں غلطی کی تھی اور حیات مسیح کا عقیدہ لکھ دیا تھا اور پھر لطف یہ کہ مرزا کو قرآن مجید کا علم بھی خاص خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا۔ دیکھو (حصہ پنجم ص ٥١، ٥٢ جدید خزائن ج ١ ص ٦٥، ٦٦) واضح ہو کہ براہین احمدیہ میری تالیف میں سے وہ کتاب ہے جو ١٨٨٠ء یعنی ١٢٩٧ھ میں چھپ کر شائع ہوئی تھی...... مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ خفیف سی غنودگی ہو کر یہ وحی ہوئی یا احمد بارك اللہ فیک الرحمان علم القرآن جس نے تجھے قرآن سکھلایا یعنی اس کے حقیقی معنوں پر تجھے اطلاع دی۔

اب قرآن مجید کے حقیقی معنوں پر بھی خدا سے اطلاع دی گئی تھی۔ پھر براہین میں کیوں حیات مسیح کو لکھا۔ سوائے اس کے کہ مسلمانوں کو اس وقت دھوکہ دینا منظور تھا کہ کوئی میری مخالفت نہ کرے۔ لیکن اپنے دل کی تمنائیں ابھی پوشیدہ رکھی ہوئی تھیں۔

پھر علاوہ ازیں جبکہ تیرے نزدیک تیرا دنیا میں آنا ہی کسر صلیب کے لئے ہے۔ (ضرورت الامام ص ٢٥، ٢٦ جدید، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٦ ملخص) اور عیسائیت کا بڑا ستون حیات مسیح ہے۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ٤١ طبع اول، خزائن ج ٥ ص ٤١) تو پھر اپنی علت غائی میں جو تیرے مبعوث ہونے کی باعث تھی۔ کیوں غلطی میں بارہ سال تک بعد ملہم ہونے کے مبتلا رہا۔ (ضمیمہ نزول المسیح ص ٧، خزائن

١٦٣

صفحہ ٢٩٠

ج ١٩ ص ١١٣) حالانکہ نبی اپنی تعلیم میں (ضمیمہ نزول مسیح ص ٢٦، خزائن ج ١٩ ص ١٤٥، قدیم تمہ حقیقت الوحی ص ١٣٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٣) اور احکام شرعیہ میں کبھی غلطی نہیں کھا سکتا۔ حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔

(ضرورۃ الامام ص ٢٤، ٢٥، ٢٦، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٤، ٤٩٥ ملخص) ”سو وہ حکم میں ہوں میں روحانی طور پر کسر صلیب کے لئے اور نیز اختلافات کے دور کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ ان ہی دونوں امروں نے تقاضا کیا کہ میں بھیجا جاؤں۔“

(مثلاً اخبار بدر ١٩ جولائی ١٩٠٦ء ص ٤ کالم نمبر ٢، مکتوبات احمدیہ ص ٣٩٥ جدید)

(آئینہ کمالات اسلام ص ٤١، خزائن ج ٥ ص ایضاً) عقائد باطلہ کی رو سے حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا بنانے کے لئے گویا عیسائی مذہب کا یہی ایک ستون ہے۔

(ضمیمہ نزول مسیح ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

(تمہ حقیقت الوحی ص ١٣٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٣) مگر خدا کی وحی میں غلطی نہیں ہوتی۔ ہاں اس کے سمجھنے میں اگر احکام شریعت کے متعلق نہ ہو، کسی نبی سے غلطی ہو سکتی ہے۔ پس اب مرزا کے پاس براہین احمدیہ میں جو حیات مسیح کا قول کر چکا ہے۔ اس سے رہائی کی کوئی صورت نہیں رہی۔

یہ تو مرزا کے لئے پہلا دور تھا اور اسی دور میں مرزا کے نزدیک حیات مسیح یا وفات مسیح کوئی قابل قدر چیز نہ تھی اور اس کی نظر میں یہ ایک فرعی مسئلہ تھا اور نزول مسیح پیش گویوں میں سے ایک پیش گوئی تھی جس کو اسلام کی حقیقت سے کوئی تعلق نہ تھا اور اس سے اسلام کا کچھ نقصان و نفع نہ تھا۔ مگر بعد میں جو اس مسئلہ نے پوزیشن اختیار کی۔ اس کو ہم آگے بیان کریں گے۔ ابھی پہلے دور کی پوزیشن کے حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔

(ازالہ اوہام ص ١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١) مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں، جو ہماری ایمانیات کی کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیش گوئیوں میں سے ایک پیش گوئی ہے، الخ۔

مثلاً (چشمہ معرفت ص ١٨٠، خزائن ج ٢٣ ص ١٨٩) ہم میں اور ہمارے مخالف مسلمانوں میں صرف نزاع لفظی ہے، الخ۔ (حقیقت الوحی ص ٣٨١، خزائن ج ٢٢ ص ٣٩٢) اور کہا کہ تم لوگ مسجد میں نماز نہ پڑھا کرو۔ مسجد کو بھرشٹ کر دیا ہے۔ پھر فروعی مسائل کا جو احمدیوں اور غیر احمدیوں میں مختلف فیہ ہیں، ذکر چھیڑ کر میرے ساتھ مجادلہ شروع کر دیا۔

(گورنمنٹ کی توجہ کے لائق ص ٥، خزائن ج ٦ ص ٣٨٢ ملحقہ شہادۃ القرآن) ایک شخص ساکن

٢٩١

بٹالہ ضلع گورداسپور نے جو اپنے تئیں مولوی ابوسعید رائے کے سبب سے جو بعض جزئی مسائل میں وہ ا اور (ازالہ اوہام ص ٣٦١، خزائن ج ٣ ص ہے۔ حالانکہ وہ حیات مسیح کے ہی قائل تھے اور پھر مرزا کو کافر وملحد و (ص ٦٢٨، خزائن ج ٣ ص ٤٣٨) ص ٤٣٣، ٤٣٤) ہی خیال کرتا تھا۔ ملاحظہ ہوں حوال

اب بھی ہمارے مخالف الرائے مولوی صاحبان سے مباہلہ کے لئے نہیں بلاتے۔ کیونکہ اگر اختلا ہوتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ مسلمانوں پر عذاب نازل

(ازالہ ص ٥٩٥، خزائن ج ٣ ص ٤٢١) ا ہے کہ طریق تصفیہ یہ ٹھہرایا جائے کہ تمام مسلمان کیا متصوفین ان ادنیٰ ادنیٰ اختلافات کی وجہ سے کرنا شروع کر دیں۔

(ص ٦٦٠، خزائن ج ٣ ص ٤٥٨) اگ مسلمانوں کے ساتھ جزوی اختلافات کی وجہ خزائن ج ٣ ص ٤٣٤، ٤٣٣) میاں عبدالحق نے مر سمجھ سکتا کہ ایسے اختلافی مسائل میں جن کی وجہ جائز ہے اور پھر وہ خود رقمطراز ہے کہ مرزا سے قابل گرفت نہ تھی۔ دیکھو (حقیقت الوحی ص ٤ پہلے اگر اس امت میں سے کسی نے یہ خیال ہ کوئی گناہ نہیں۔ صرف اجتہادی خطاء ہے۔

(مثلاً الاستفتاء ص ٣٩، خزائ

بلکہ یہ مسئلہ ایسا تھا کہ جس کا پورا ا اوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣، حمامۃ البشریٰ اجماع کو توڑنے کی وجہ سے سادس میں ذکر کی

١٦٤

صفحہ ٢٩١

بٹالہ ضلع گورداسپور نے جو اپنے تئیں مولوی ابوسعید محمد حسین کر کے مشہور کرتا ہے۔ اس اختلاف رائے کے سبب سے جو بعض جزئی مسائل میں وہ اس عاجز کے ساتھ رکھتا ہے، الخ۔

اور (ازالہ اوہام ص٤٦١، خزائن ج٣ ص٣٤٧) میں دوسرے مسلمانوں کو مسلمان ہی سمجھتا ہے۔ حالانکہ وہ حیات مسیح کے ہی قائل تھے اور پھر میاں عبدالحق اور مولوی محی الدین کو باوجودیکہ وہ مرزا کو کافر و ملحد و (ص٦٢٨، خزائن ج٣ ص٤٣٨) جہنمی کہتے تھے۔ مسلمان (ص٦٣٧، خزائن ج٣ ص٤٤٣، ٤٤٤) ہی خیال کرتا تھا۔ ملاحظہ ہوں حوالہ جات (ص٤٦١، خزائن ج٣ ص٣٤٦، ٣٤٧) اگر اب بھی ہمارے مخالف الرائے مولوی صاحبان ماننے میں نہیں آتے تو ہم انہیں قطعی ہونے کی وجہ سے مباہلہ کے لئے نہیں بلاتے۔ کیونکہ اگر اختلافات باہمی کی وجہ سے مسلمانوں کا باہم مباہلہ جائز ہوتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ مسلمانوں پر عذاب نازل ہونا شروع ہو جائے۔

(ازالہ ص٥٩٥، خزائن ج٣ ص٤٢١) اب کیا یہ انسانیت ہے یا ہمدردی اور رحم میں داخل ہے کہ طریق تصفیہ یہ ٹھہرایا جائے کہ تمام مسلمان کیا آئمہ اربعہ کے پیرو اور کیا محدثین کے پیرو اور کیا متصوفین ان ادنیٰ ادنیٰ اختلافات کی وجہ سے مباہلہ کے میدان میں آ کر ایک دوسرے پر لعنت کرنا شروع کر دیں۔

(ص٦٦٠، خزائن ج٣ ص٤٥٦) اگر اب بھی تمہیں شک ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ مسلمانوں کے ساتھ جزوی اختلافات کی وجہ سے تعنت بازی صدیقوں کا کام نہیں۔ (ص٦٣٧، خزائن ج٣ ص٤٤٣، ٤٤٤) میاں عبدالحق نے مباہلہ کی درخواست بھی کی تھی۔ لیکن اب تک میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایسے اختلافی مسائل میں جن کی وجہ سے کوئی فریق کافر یا ظالم نہیں ٹھہر سکتا۔ کیونکہ مباہلہ جائز ہے اور پھر وہ خود رقمطراز ہے کہ مرزا سے پہلے یہ حیات مسیح کا عقیدہ ایک اجتہادی غلطی تھی، جو قابل گرفت نہ تھی۔ دیکھو (حقیقت الوحی ص٤٠ حاشیہ، خزائن ج٢٢ ص٤٢) اور مسیح موعود کے ظہور سے پہلے اگر اس امت میں سے کسی نے یہ خیال بھی کیا کہ حضرت مسیح دوبارہ دنیا میں آئیں گے تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔ صرف اجتہادی خطاء ہے۔

(تتمۃ الاستفتاء ص٣٩، خزائن ج١٢ ص٢٦٠، لیکچر سیالکوٹ ص٢٠، خزائن ج٢٠ ص٢١٨) بلکہ یہ مسئلہ ایسا تھا کہ جس کا پورا علم صحابہؓ کو اور آنحضرتﷺ کو بھی نہ تھا۔ دیکھو (ازالہ اوہام ص٦٩١، خزائن ج٣ ص٤٧٣، حمامۃ البشریٰ ص١٨، خزائن ج٧ ص١٩٧) ان تمام حوالہ جات کو پہلے اجماع کو توڑنے کی وجہ سے سادس میں ذکر کیا جا چکا ہے۔

١٦٥

صفحہ ٢٩٢

اب اس مسئلہ کے دورخانی کی پوزیشن مرزا کی نظر میں ملاحظہ ہو۔

(ضمیمہ حصہ پنجم ص١٥٢، انجام آتھم ص ١٣٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

زیادہ وضاحت ممکن نہیں۔

مجتہد دال نہیں۔ ایسے مسئلہ کے قائلین محرفین پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔

کے لئے اس جو کو گوارہ نہیں کر سکتا، الخ۔

(بدر ٢٠ ستمبر ١٩٠٦ء ص ٧ کالم نمبر ٢، بقیہ منہ ص ٨ کالم نمبر ٢)

١٦٦

صفحہ ٢٩٣

ان تمام دعاوی کے حوالہ جات کو میں ذیل میں بالترتیب انشاء اللہ تعالیٰ ذکر کروں گا۔

(ایام الصلح ص ٣٩، خزائن ج ١٤ ص ٢٦٩)

"فان بحث الوفات والحيات مقدم في هذه المناظرات"

(انجام آتھم ص ١٣٢، ١٣٣، خزائن ج ١١ ص ٣١٣، مثلاً آئینہ کمالات اسلام ص ٣٣٩، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

درحقیقت ایک فرع ہے۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٣٩، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

ترجمہ...... یہ کہنا تو سوء ادب ہے کہ عیسیٰ فوت نہیں ہوئے۔ یہ تو شرک عظیم ہے۔

(الاستفتاء ص ٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٠)

بیان کرچکا ہے، الخ۔

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٦)

يكون من البيان و الشرح والا يضاح والتصريح اكثر من هذا" ترجمہ...... دیکھئے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں عیسیٰ کی وفات کو کس طرح واضح بیان کردیا۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی بیان، شرح، توضیح یا تصریح ہوسکتی ہے؟

(حمامة البشرى ص ٢٢، خزائن ج ٧ ص ٢٠٢)

اليقينية"

(حمامة البشرى حاشیہ متعلقہ ص ٥٦، خزائن ج ٧ ص ٢٥٤)

ترجمہ...... جان لیجئے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات قطعی اور یقینی نصوص سے ثابت ہے۔

مدت تک زندہ رہنے اور پھر دوبارہ اترنے کی جو دی گئی ہے۔ اس کے ہر ایک پہلو سے ہمارے نبی ﷺ کی توہین ہوتی ہے۔

(حاشیہ گولڑویہ ص ١١٢)

طرف اٹھا لیا۔ بلکہ اس کے جسم عنصری کو بھی ساتھ ہی اٹھا لیا۔ یہ کیسا جہالت سے بھرا ہوا خیال

١٦٧

صفحہ ٢٩٤

ہے۔ جو صریح اور بدیہی طور پر نصوص بینہ قرآن کریم کے مخالف ہے، الخ ۔

(ازالۃ اوہام ص ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٣٩٢)

مخالف ہے۔

الله من تلقاء نفسه و يحرفه عن موضعه من غير سند من الله و رسوله اليست لعنة الله على المحرفين ولوكانو على الحق فلم لا يأتون ببرهان على هذا التحريف من آيت او حديث او قول صحابی او رأی امام مجتهد...... واما السلف الصالح فما تکلمو فی هذه المسئلة تفصيلاً بل آمنو مجملاً بان المسيح عيسٰی بن مریم قد توفی، الخ“ (حمامة البشریٰ ص ١٨، خزائن ج ٧ ص ١٩٨،١٩٧) ترجمہ...... کسی مسلمان کے لئے یہ کس طرح جائز ہے کہ وہ اس طرح کی بات کرے یا اپنی طرف سے اللہ کے کلام میں کوئی تبدیلی کرے اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بغیر کسی سند کے اسے اپنے محل سے پھیر دے۔ کیا ایسے تحریف کرنے والوں پر...... اللہ کی لعنت نہیں ہے اور اگر یہ لوگ حق پر ہیں۔ تو اس تحریف پر کسی آیت ، حدیث ، قول صحابی یا کسی امام مجتہد کی رائے سے دلیل کیوں نہیں لاتے۔...... اور جہاں تک سلف صالح کا تعلق ہے تو انہوں نے اس مسئلہ کے بارے میں کوئی تفصیلی کلام نہیں کیا۔ بلکہ وہ اجمالاً اس پر ایمان لائے کہ مسیح عیسیٰ بن مریم فوت ہو چکے ہیں۔

موت پر ، الخ ۔

(حقیقت الوحی ص ٣٥، خزائن ج ٢٢ ص ٣٧)

عیسیٰ علیہ السلام صلیب سے محفوظ رہ کر آسمان پر زندہ چلے گئے اور اب تک وہیں زندہ مع جسم عنصری بیٹھے ہیں۔ ان پر موت نہیں آئی ، الخ ۔

(حقیقت الوحی حاشیہ ص ٥٩، خزائن ج ٢٢ ص ٦١)

قرآنیہ سے بالکل مخالف ہے۔

(ازالۃ اوہام ص ٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٤٩)

الفرقان“

(الاستفتاء ص ٢٠ خزائن ج ٢٢ ص ٦٢٢ ، تحفہ گولڑویہ ص ٥١، خزائن ج ١٧ ص ١٧٣)

١٦٨

صفحہ ٢٩٥

ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ صرف بیہودہ اور بے اصل اور متناقض روایات پر اس کی بنیاد معلوم ہوتی ہے۔

(ازالۃ اوہام ص ٢٦٨، خزائن ج ٣ ص ٢٣٥)

...... تعلیم یافتہ لوگوں میں ہرگز پھیلا نہیں سکتے۔

(ازالۃ اوہام ص ٢٦٨، خزائن ج ٣ ص ٢٣٥)

خاکی کے ساتھ کرہ زمہریریہ تک پہنچ سکے۔

(ازالۃ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)

گا۔ نہایت لغو اور بے اصل بات ہے۔

(ازالۃ اوہام ص ٣٠٢، ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)

محمد چراغ) اگر الحاد و تحریف نہیں تو اور کیا ہے؟

(ازالۃ اوہام ص ٣٤٥، خزائن ج ٣ ص ٢٧٧ بقرینہ حمامۃ البشریٰ ص ١٨، خزائن ج ٧ ص ١٩٧)

قبضہ میں کر لیوے۔

(ازالۃ اوہام ص ٥٣٨، خزائن ج ٣ ص ٣٩١)

(بدر ٢٠ دسمبر ١٩٠٦ء ص ٧ کالم ٢ بقرینہ مندرجہ ریویو آف نومبر و دسمبر ١٩٠٣ء ص ٤٢٣)

اب فیصلہ دنیا کے سامنے ہے کہ ان اکیس نمبر میں جو عبارات مرزا کی ہم نے نقل کی ہیں۔ کیا مرزا اپنے لئے بھی یہ سب ثابت کرے گا۔ کیونکہ خود بھی بارہ سال تک ملہم ہوچکنے کے باوجود اس غلط عقیدہ میں بزعمہ مبتلا رہا۔ بلکہ اپنی عمر میں باون سال تک اس میں مبتلا رہا۔ کیونکہ چالیس کی عمر میں وہ ملہم ہوا تھا اور بارہ سال بعد بھی یہی عقیدہ رہا۔ تو کیا اب مرزا تسلیم کرتا ہے کہ ٥٢ سال تک میں ان سب باتوں اور القابات کا مستحق ہوں۔

مرزا قادیانی کا خیال ہے کہ مسئلہ حیات ونزول مسیح پہلے کسی کو معلوم نہ تھا

کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی

١١٩

صفحہ ٢٩٦

نمونہ کے طور پر منکشف نہ ہوئی ہو ..... تو کچھ تعجب کی بات نہیں، الخ ۔

نمبر ٨ بابت ماہ اگست ١٩٠٤ء ص ٢٨١) یہ امر بھی ناممکن نہیں کہ مسیح کو اپنی آمد ثانی کے معنی سمجھنے میں غلطی لگی ہو اور بجائے روحانی آمد سمجھنے کے اس نے جسمانی آمد اس سے سمجھ لی ہو، الخ۔

ج٥ ص ایضاً) ”يا اخوان هذا هو الامر الذي اخفاه الله عن اعين القرون الاولى“ (تحفہ بغداد ص ٧، خزائن ج ٧ ص ٩، ٨) ”ما كان ايمان الاخيار من الصحابة و التابعين بنزول المسيح عليه السلام الا اجماليا وكانوا يومنون بالنزول اجمالاً، الخ“

(حمامة البشرى ص ٨٣، خزائن ج ٧ ص ٢٩٢) ”واما السلف الصالح فما تكلموا في هذه المسئلة تفصيلاً بل آمنوا اجمالاً بان المسيح عيسى بن مريم توفى، الخ“

(ازالہ اوہام ص ١٦٦، ٣٠٤، ١١٦، ٤٦٨)

٥٥٢،٥٥٣) ”وعلمت من لدنه ان النزول في اصل مفهومه حق ولكن ما فهم المسلمون حقيقته لان الله اراد اخفاءه فغلب قضائه ومكره ابتلاء على الافهام فصرف وجوههم عن الحقيقة الروحانية الى الخيالات الجسمانية فكانوا بها من القانعين وبقى هذا الخبر مكتوما مستوراً كالحب في السنبلة قرنا بعد قرن حتى جاء زماننا هذا ..... فكشف الله الحقيقة علينا، الخ“

ص ایضاً) ”فكشف الله الحقيقة علينا، الخ“ (ازالہ اوہام ص ٤٦٨، ١١٦) یہاں تک کہ وہ زمانہ آگیا جو خدا تعالیٰ نے وہ اصل حقیقت اپنے ایک بندہ پر کھول دی، الخ۔

(مسئلہ ازالہ اوہام ص ٦٥٠، خزائن ج ٣ ص ٤٥١، اربعین نمبر ٣، ٤ ضمیمہ، ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٠)

کمالات اسلام ص ٤٣٩، ٥٥٢ طبع اول و اخبار الحکم ص ٦ ج ١٠ ص ٣ کالم ٣ بابت ٧؍ فروری ١٩٠٦ء) مگر باوجود اس قدر آشکارا ہونے کے خدا تعالیٰ نے اس کو مخفی کر لیا اور آنے والے موعود کے لئے اس کو مخفی رکھا۔

١٧٠

عموماً ہر جگہ استغراق حقیقی مراد نہیں

استغراق حقیقی مراد ہو

مرزا عموماً ایسی آیات و احادیث حضرت مسیح علیہ السلام سے تعلق نہیں۔ قاعدہ مسلمہ ہے کہ عمومات واردہ میں تخصیص عامہ پیش کرتے ہیں۔ جن میں استغراق کرتی ہیں۔ بلکہ مرزا کے بھی خود ایسے اقوال کلیہ بیان کیا ہے۔ لیکن وہاں اس کی مراد

الآیۃ (پ ١٧، حج، پ ٢٧، مومن)“

(پ ١٨، مومنون)“

(پ ١، بقرۃ)“

ايديهم اذاهم يقنطون (پ ٢١، روم)

(پ ٣٠، بلد)“

اقوال مرزا

صفحہ ٢٩٧

عموماً ہر جگہ استغراق حقیقی مراد نہیں ہوا کرتا تا کہ قد خلت من قبلہ الرسل میں

استغراق حقیقی مراد ہو

مرزا عموماً ایسی آیات و احادیث سے استدلال کیا کرتا ہے۔ جن کو خصوصی طور پر حضرت مسیح علیہ السلام سے تعلق نہیں۔ بلکہ وہ عمومی حالات و واقعات ہوا کرتے ہیں اور یہ عموماً قاعدہ مسلمہ ہے کہ عمومات واردہ میں تخصیصات ہوا ہی کرتی ہیں۔ ہم ذیل میں چند ایک آیات عامہ پیش کرتے ہیں۔ جن میں استغراق حقیقی مراد نہیں۔ لیکن وہ عمومی حالات و واقعات کو بیان کرتی ہیں۔ بلکہ مرزا کے بھی خود ایسے اقوال پیش کرتے ہیں۔ جن کو اس نے بطور استغراق یا بطور کلیہ بیان کیا ہے۔ لیکن وہاں اس کی مراد بھی عموم کلی و استغراق حقیقی نہیں ہے۔

الآية (پ١٧،حج، پ٢٤مومن)“

(پ١٨ مومنون)“

(پ١، بقرة)“

ايديهم اذاهم يقنطون (پ٢١، روم)“

(پ٣٠، بلد)“

اقوال مرزا

١٧١

صفحہ ٢٩٨

قبض الروح“ (حمامة البشریٰ ص ٦٣، خزائن ج ٧ ص ٢٦٩) و (ازالہ اوہام ص ١٠٢٥، ١٢٠٧) یہاں کل استغراقی نہیں۔ کیونکہ دو جگہ توفی سے مراد نیند بھی ہے۔ دیکھو

(حمامة البشریٰ ص ٥٨، خزائن ج ٧ ص ٢٦١، ازالہ اوہام ص ٣٣٦، خزائن ج ٣ ص ٢٧١)

یہاں بھی کل استغراقی نہیں بدلیل قولہ فی (حمامة البشریٰ ص ٢٤، ٩٩ جدید، خزائن ج ٧ ص ٢٠٥) کہ بعض احادیث غیر احاد ہیں۔

فاعتزل كلها“ (حمامة البشریٰ ص ٩٠، خزائن ج ٧ ص ٢٦٥) یہاں بھی استغراق یقیناً مراد نہیں ہے۔ بدلیل قولہ فی (آئینہ کمالات اسلام ص ٣٣٨) ”ان في بعض الاحاديث دخن قليل من التناقض“

اقوال بزرگان دین در ختم نبوت

حوالہ جات از مولوی ابوالوفاء صاحب شاہجہان پوریؒ

مولوی عبدالحئی لکھنویؒ۔ (دافع الوسواس ص ٢١) فی ابن عباس بطبع علوی لکھنوی تالیف ١٢ رمضان ١٢٩٠ھ اور یہ نصوص قطعیہ سے مثل نص ”ولكن رسول الله و خاتم النبيين ولا نبی بعدى ولو كان بعدى نبى لكان عمر و غير ذالك“ ثابت ہے کہ کوئی نبی کسی مقام پر بعد عصر آنحضرت ﷺ کے مبعوث نہیں ہوا اور نہ ہوگا۔

(اخير نمبر ١ ص ٢١)”وثبت انه ينزل الى الارض فى آخر الزمان ويحكم بشريعته النبى ﷺ فوجب حمل النفى على انشاء النبوة لكل احد من الناس لا على نفى وجود نبى كان قد نبى قبل ذلك“ (زجر الناس ص ٨٤ تالیف ذیقعدہ ١٢٩٢ھ)

”وثبت في مقره انه خاتم الانبياء على الاطلاق والاستغراق“ (ص ٨٤) ”لكن ختم نبينا ﷺ حقيقى بالنسبة الى جميع أنبياء جميع الطبقات بمعنى انه لم يعط بعده النبوة لاحد في طبقة“

مولانا عبدالرحمن جامیؒ (رسالہ عقائد جامی ص ١٥)

خاتم الانبیاء و الرسل است دیگراں ہم چو جزو او چوں کل است

(از رسالہ ہدیۃ المہدیین ص ١٠٦)

واز پئے او رسول دیگر نیست بعد ازاں ہیچ کس پیمبر نیست

١٧٢

صفحہ ٢٩٩
چوں در آخر زماں بقول رسول کند از آسماں مسیح نزول
پیرو دین و شرع او باشد تابع اصل و فرع او باشد
دین ہماں دین شرع او داند ہمہ کس را بدین او خواند

خواجہ معین الدین چشتی (دیوان خواجہ معین الدین چشتی طبع نولکشور لکھنؤ ص ٤٧)

مرا ز دیدہ و دل ہر زماں درود و سلام نثار روضۂ پر نور صدر و بدر عالم
چہ مظہر یست کہ مبعوث شد بہر اول و آخر بظاہر است موخر بباطن است مقدم

مولانا محمد طاہر سندھی صاحب (مجمع البحار ج اول ص ٤٣٠) ”و الخاتم و الخاتم من اسماء ہ ﷺ ش بالفتح اسم ای آخرہم“

(مجمع البحار ج دوم ص ٤٠٤) ”وفی اسماء ہ ﷺ العاقب وهو آخر الانبياء“

(مجمع البحار ج سوم ص ٥٤) عنوان مصطفی خاتم او خاتماً۔ ”المبتداء بهذا يتم والخاتم لهم كقول النبی ﷺ كنت اول النبيين فى الخلق و آخرهم فى البعث“

(مجمع البحار ج اول ص ٢٥٤) ”تحت قوله الرؤيا جزء من اجزاء النبوة لا حرج فی الاخذ بظاهره فان اجزاء النبوة لا يكون نبوة فلا ينا فى حينئذٍ ذهاب النبوة، الخ“

حضرت مرزا مظہر جان جاناں (مقامات مظہری ص ٨٨) ”ہیچ کمال غیر از نبوت بالا صالت ختم نگردیدہ و در مبداء فیاض بخل و دریغ ممکن نیست۔“

(از مقدمہ بہاول پور بیان شمس)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

(کنز العمال ص ٢٣ ج ٨) ”عن عائشة عن النبى ﷺ انه قال لا يبقى بعده من النبوة شى الا المبشرات قالوا يا رسول الله وما المبشرات قال الرؤيا الصالحة يراها المسلم او ترى له“

بروایت احمد والخطیب وا بیہقی فی شعب الایمان۔

(کنز العمال ص ٨٠٢٣) ”وعن عائشة عن النبى ﷺ انا خاتم الانبياء و مسجدى خاتم مساجد الانبياء“

١٧٣

صفحہ ٣٠٠

بروايات دیلمی۔ بزار ۔ ابن نجار ”قولوا خاتم النّبيين ولا تقولوا لا نبي بعده .....“

(تکملہ مجمع البحار ص ٨٥)

وهذا ناظر الى نزول عيسى

حضرت علیؓ

”عن علیؓ قال وجعت وجعا فاتيت

(کنز العمال از ختم نبوت حصہ دوم ص ٣٣)

النبى ﷺ فاقامنى فى مقامه وقام يصلى والقى على طرف ثوبه ثم قال برئت يا ابن ابى طالب فلا بأس عليك ما سألت بالله لى شيئا الا سألت لك مثله ولا سألت الله شيئا الا اعطانيه غير انه قيل لى لا نبى بعدى فقمت كانى ما اشتكيت“

امام حسن بن علیؓ

”و خاتم النّبيين قال ختم الله

(در منثور ج خامس ص ٢٠٤، از ختم نبوت حصہ دوم)

النّبيين بمحمد ﷺ وكان آخر من بعث“

ملا علی قاریؒ

”دعوى النبوة بعد نبينا ﷺ كفر

(شرح فقہ اکبر لعلی القاری ص ٢٠٢)

بالاجماع“

”وانما الكلام على فرض وقوع التقدم“

(موضوعات لعلی القاری ص ٥٨)

”ولو عاش وبلغ اربعين وصار نبيا لزم ان لا

(موضوعات کبیر ص ٥٨ مجتبائی)

يكون نبينا ﷺ خاتم النّبيين“

”فالمعنى انه لا يحدث بعده نبى لانه

(مرقاة شرح مشکوۃ ص ٥٦٢ ج ٥ مصری)

خاتم النّبيين السابقين و فيه ايماء الى انه لوكان بعده نبى لكان عليا وهو لا ينا فى ماورد فى حق عمرؓ صريحا لان الحكم فرضى وتقديرى فكانه قال لو تصور نبى بعدى لكان جماعة من اصحابى انبياء ولكن لا نبى بعدى و هذا معنى قوله ﷺ لو عاش ابراهيم لكان نبيا“

امام غزالیؒ

”قال الغزالىّ فى كتابه الاقتصاد ان الامة فهمت من

(تفسیر سراج منیر)

١٧٤

صفحہ ٣٠١

هذا اللفظ ومن قرائن احواله ﷺ انه افهم عدم نبى بعده ابداً و عدم رسول بعده ابداً وانه ليس فيه تاويل ولا تخصيص وقال ان من اوله بتخصيص النبيين باولى العزم من الرسل و نحو هذا فكلامه من انواع الهذيان لا يمنع الحكم بتكفيره لانه مكذب بهذا النص الذى اجمعت الامة على انه غير موول ولا مخصوص“

شیخ عبدالقادر جیلانیؒ

(غنیۃ الطالبین ص ١٨٣) ”ويعتقد اهل الاسلام قاطبة ان محمد بن عبدالله بن عبدالمطلب بن هاشم رسول الله و سيد المرسلين وخاتم النبيين“

(اليواقيت ص ٣٥ ج ٢ مبحث نمبر ٣٥) ”قد كان الشيخ عبدالقادر الجيلى يقول اوتى الانبياء اسم النبوة واوتينا اللقب اى حجر علينا اسم النبى مع ان الحق تعالى يخبرنا فى سرائرنا بمعانى كلامه و كلام رسول الله ﷺ“

امام ابوحنیفہؒ، ابو یوسفؒ، فقہاء حنفیہ کا عقیدہ

(عقیدہ طحاوی ص ١٤) ”كل دعوة بعد نبوته ﷺ بغى وهوى“

محی الدین بن العربی

(فتوحات مکیہ ص ٣٨ ج ٣ باب السوال ١٣) ”وادعاء نبوة قد انقطعت بلفظ استغراق“

(فتوحات مکیہ ص ١٤٠ ج ٣ باب ٣٠٣ سوال نمبر ١٣) ”فالنبوة اختصاص من الله...... وقد اغلق ذلك الباب و ختم برسول الله ﷺ والولاية مكتسبة الى يوم القيامة “ ”فصوص الحكم فص حكمة فردية فى كلمة محمدية لانه اكمل موجود فى هذا النوع الانسانى ولهذا بدء به الامر وختم به فكان نبيا و آدم بين الماء والطين ثم كان بنشأته العنصرية خاتم النبيين “ ”فصوص الحكم فص حكمة قدرية فى كلمة عزيرية از تاويل المحكم فى المتشابه “ (فصوص الحكم ص ٢٢٨ لکھنؤ ) ”واما نبوة التشريع والرسالة فمنقطعه وفى محمد ﷺ قد انقطعت فلا نبى بعده مشرعا ولا مشرعا له ولا رسول وهو المشرع“

ترجمہ ...... از حکیم محمد حسین رئیس امروہہ صاحب تفسیر غایۃ البرہان وكواکب دريه وغيره (تاويل محكم

١٧٥

صفحہ ٣٠٢

ص ٣٤٨) ”ولیکن نبوت تشریعی و رسالت پس منقطع شد ودر حضرت ﷺ منقطع شد ونیست نبی بعد آنحضرت ﷺ شرع کنده که رسول باشد یا برائے او شرع کرده باشد که نبی باشد بر شریعت رسول دیگر ونه رسول که او مشرع باشد۔“

شیخ عبدالوہاب شعرانی

(الیواقیت والجواہر مبحث نمبر ٣٥، ج ٢ ص ٣٤) ”اعلم ان الاجماع قد انعقد علی انه ﷺ خاتم المرسلین كما انه خاتم النبيين“

(الیواقیت ج ٢ ص ٣٤) ”فما بقى للاولياء اليوم بعد ارتفاع النبوة الا التعريفات“ (انكشاف بدل) ”وانسد باب الاوامر الالهية والنواهی فمن ادعاها بعد محمد ﷺ فمدع شريعة اوحى بها اليه سواء وافق شرعنا او خالف فان كان مكلفا ضربنا عنقه والا ضربنا عنه صفحا “ (الیواقیت ج ٢ ص ٣٤ نبوت کی بحث) ”قال وهذا باب اغلق بعد محمد ﷺ فلا يفتح لاحد الى يوم القيامة“

شاہ ولی اللہ

ترجمہ قرآن مجید کا تشریحی نوٹ زیر آیت خاتم النبیین۔ یعنی بعد از وے هیچ پیغمبر نباشد

(تفہیمات الہیہ تفہیم نمبر ٥٣ ص ١٣٧ مدینہ پریس) ”وختم به النبيون اى لا يوجد من يامره الله بالتشريع على الناس“ (شریعت، بیان کردن، منتہی الادب)

(تفہیمات الہیہ تفہیم نمبر ١٥٣ ج ٢ ص ١٣٧) ”وصار خاتم هذه الدورة فلذلك لا يمكن ان يوجد بعده نبی صلوة الله عليه وسلامه“

شاہ عبدالقادر صاحب دہلویؒ

موضح القرآن آیت خاتم النبیین کا تفسیری نوٹ ”اور پیغمبروں پر مہر ہے، اس کے بعد کوئی پیغمبر نہیں۔“

شیخ عبدالحق دہلویؒ

(مدارج النبوۃ ج اول باب نمبر ٥ فصل در خصائص آنحضرت ﷺ مطبع ناصری ص ١٤١) و ازاں جمله است که وی ﷺ خاتم الانبیاء والمرسلین است و بعدازوی هيچ پیغمبری نخواهد بود قرآن مجید بداں ناطق است و در حدیث آمده، الخ۔

١٧٦

صفحہ ٣٠٣

حضرت مجدد الف ثانیؒ

(مکتوبات امام ربانی دفتر سوم حصہ نمبر ٨، مکتوب نمبر ١٧) ”اول انبیاء حضرت آدم ہست علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والتسلیمات والتحیات وآخر ایشاں وخاتم نبوت شاں حضرت محمد رسول اللّٰہ ھست علیہ وعلیہم الصلوٰۃ والتسلیمات“

جلال الدین رومیؒ

(مثنوی دفتر نمبر ٦ ص ٦ مجیدی کانپوری)

بہر ایں خاتم شدہ او کہ بجود مثل او نی بود و نی خواهد بود
چونکہ در صنعت بروستا دوست نے تو گوئی ختم صنعت برتو است

مولانا محمد قاسم نانوتویؒ

(مناظرہ عجیبہ ص ١٠) ”سو اگر اطلاق وعموم ہے تب تو ثبوت خاتمیت زمانی ظاہر ہے۔ ورنہ تسلیم لزوم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے۔ ادھر تصریحات نبویؐ مثل ’اَنتَ منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی او کما قال‘ جو بظاہر بطرز مذکور اسی لفظ خاتم النبیین سے ماخوذ ہے۔ اس باب میں کافی کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے۔ پھر اس پر اجماع بھی منعقد ہوگیا۔ گو الفاظ مذکور بسند متواتر منقول نہ ہوں۔ سو یہ عدم تواتر الفاظ باوجود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہوگا۔ جیسا تواتر اعداد رکعات فرائض و وتر وغیرہ باوجودیکہ الفاظ احادیث مشعر تعداد رکعات متواتر نہیں۔ جب اس کا منکر کافر ہے۔ ایسا ہی ان کا منکر بھی کافر ہوگا اور خاتمیت بھی بوجہ احسن ثابت ہوتی ہے اور خاتمیت زمانی بھی ہاتھ سے نہیں جاتی۔

(الاشباہ والنظائر کتاب الردہ ص ٢٩٦) ”اذا لم یعرف محمد ﷺ آخر الانبیاء فلیس بمسلم لانہ من ضروریات الدین“

مرزا کی علمی قابلیت

امر اول: مرزا کا علمیت و عصمت کا دعویٰ

مقابلہ پر اس قدر الہام کی ضرورت نہیں جس قدر علمی قوت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ شریعت پر ہر

١٧٧

صفحہ ٣٠٤

ایک قسم کے اعتراض کرنے والے ہوتے ہیں۔ طبابت کی رو سے بھی ہیئت کی رو سے بھی طبیعی کے رو سے بھی جغرافیہ کے رو سے بھی، الخ۔"

عين ويعصمني عن كل شين"

شيئا عن امرى"

امر دوم: مرزا کے اغلاط علم حساب

اس عورت کا (یعنی محترمہ محمدی بیگم ) نکاح سے چوتھے مہینے مطابق پیش گوئی فوت ہو گیا۔ یعنی نکاح ٧/اپریل ١٨٩٢ء کو ہوا اور وہ ٣١/ستمبر ١٨٩٢ء کو بمقام ہوشیار پور فوت ہو گیا۔"

میعاد میں مر گیا۔"

اس لڑکی کا دوسری جگہ نکاح ہو گیا اور ٣١/ستمبر ١٨٩٢ء کو یہ پیش گوئی پوری ہوئی۔"

ہے ۔ جو ٣١/ستمبر ١٨٩٢ء کو پوری ہوگئی۔"

منظور الٰہی مرزائی نے یہی غلطی کی۔ دیکھو (البشریٰ ص ١١ ج ٢) "٧/اپریل ١٨٩٢ء کو اس لڑکی کا دوسری جگہ نکاح ہو گیا اور ٣١/ستمبر ١٨٩٢ء کو احمد بیگ ہوشیار پور میں فوت ہو گیا۔"

فضل الٰہی مرزائی نے یہی ٹھوکر کھائی۔ دیکھو (الحکم نمبر ١٨ ج ١٠ کالم بابت ٢٤ مئی ١٩٠٦ء) "مرزا احمد بیگ ٣١/ستمبر ١٨٩٢ء کو ٹھیک چوتھے مہینے بعد نکاح کے جو ٧/اپریل ١٨٩٢ء کو ہوا تھا مر گیا۔"

باتیں کیں اور پھر اس کے بعد ١٤/جون ١٨٩٩ء کو وہ پیدا ہوا اور جیسا کہ وہ چوتھا لڑکا تھا۔ اسی مناسبت کے لحاظ سے اس نے اسلامی مہینوں میں سے چوتھا مہینہ لیا۔ یعنی ماہ صفر اور ہفتے کے دنوں میں سے چوتھا دن لیا۔ یعنی چہار شنبہ ..... پایا۔"

١٧٨

پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔

علم جغرافیہ

ضلع گورداسپور پنجاب میں ہے۔ جو لاہور سے

علم تاریخ

(یعنی آنحضرت ﷺ) گھر میں گیارہ لڑکے پ

کے پاس ایک نوکر چائے کی پیالی لایا۔ جب پڑی۔"

ص ٣٣٢، اربعین ص ٥٤، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٤) میں

امام بخاریؒ ہیں۔ جن کا نام محمد بن اسماعیل ہو

(ازالۃ اوہام ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ صاحب اپنی صحیح بخاری میں ۔

کتاب ہے۔" (حالانکہ ابن حجر شافعی المذہب

علم الصرف

ومعناه ملكان تحت القدم وهـ بالحلم بكثرة الاستعمال ونظائر

صفحہ ٣٠٥

پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔

علم جغرافیہ

ضلع گورداسپور پنجاب میں ہے۔ جو لاہور سے گوشہ مغرب اور جنوب میں واقع ہے۔“

علم تاریخ

(یعنی آنحضرت ﷺ) گھر میں گیارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہو گئے تھے۔“

کے پاس ایک نوکر چائے کی پیالی لایا۔ جب قریب آیا تو غفلت سے وہ پیالی آپ کے سر پر گر پڑی۔“

ص ٣٤٢، اربعین ص ٤، ٥ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٤) میں پادری فنڈ کو فنڈل کر کے لکھا ہے۔

امام بخاریؒ ہیں۔ جن کا نام محمد بن اسماعیل بخاریؒ ہے)“

(ازالۃ اوہام ص ٢٧٣، خزائن ج ٣ ص ٢٣٩) ”ہمارے امام المحدثین حضرت اسماعیل صاحب اپنی صحیح بخاری میں ۔

کتاب ہے۔“ (حالانکہ ابن حجر شافعی المذہب ہیں)

علم الصرف

ومعناه مکان تحت القدم وحاذی الفوق جهة ثم بدل الطاء بالتاء والیاء بالحاء بکثرة الاستعمال ونظائره کثيرة“۔

١٧٩

صفحہ ٣٠٦

افتعال کے باب پر ہے اور یہ باب تکلف کے لئے آتا ہے۔“

(سلسلہ ملفوظات احمدیہ ص ٢٥١ حصہ اوّل)

علم النحو

لفظ میں جہاں خدا فاعل اور انسان مفعول بہ ہو۔ ہمیشہ اس جگہ توفی کے معنی مارنے اور روح قبض کرنے کے آتے ہیں۔“

علم معانی

مرتب ہے۔ پہلے وفات کا وعدہ ہے پھر رفع کا پھر تطہیر کا پھر یہ کہ خداوند تعالیٰ ان کے متبعین کو ہر ایک پہلو سے غلبہ بخش کر مخالفوں کو قیامت تک ذلیل کرتا رہے گا۔“

اس آیت کریمہ میں لف نشر نہیں بلکہ عطف نسق ہے۔ یعنی چند چیزوں کو ایک ہی حکم میں شامل کرنا۔ لف نشر تو دو گروپوں میں ہوتا ہے کہ پہلے ایک گروپ کے افراد کا ذکر ہو۔ پھر ان افراد سے متعلقہ باتوں کا ذکر دوسرے گروپ میں ہو۔ مثلاً موسیٰ عیسیٰ اور محمد اللہ کی طرف سے تورات انجیل اور قرآن لائے۔

علم الفقہ

ہے، تو اسلامی اصطلاح میں اس کا نام خلع ہے۔“

عدالتی طلاق نہیں۔ بلکہ زوجین کی رضامندی سے مہر کی واپسی کے بدلے علیحدگی کا نام خلع ہے۔

یہ الہام ”قل للمومنين يغضوا من ابصارهم ويحفظوا فروجهم ذلك ازكى لهم “

یہ براہین احمدیہ میں درج ہے۔ امر بھی ہے اور نہی بھی ۔“ اس میں نہی کہاں ہے؟

علم اصول حدیث

پیش گوئی پوری ہو جائے تو گو وہ حدیث موضوع ہی ہو، پوری ہونے کے بعد وہ صحیح تسلیم ہوگی۔“

١٨٠

صفحہ ٣٠٧

صرف قابل اعتماد راویوں کے متصل سلسلہ سے ثابت ہونے والی حدیث ہی کو صحیح کہا جاتا ہے۔ جو پہلے ہی موضوع (من گھڑت) ہو اس کی صحت کا کیا سوال ہے؟

علم الحدیث

السماء“ کنز العمال میں ابن عباسؓ کی مرفوع روایت میں ہے’ینزل اخی عیسیٰ بن مریم من السماء حكماً عدلاً، الخ“

اس حدیث کو مرزا نے (حمامۃ البشریٰ ص ٨٨، ٨٩، خزائن ج ٧ ص ٣١١، ٣١٤) میں دو دفعہ نقل کیا۔ مگر من السماء کا لفظ کاٹ دیا گیا۔

چہ دلاور است دُزدے کہ بکف چراغ دارد

اور از خود مرزا نے (ازالہ اوہام ص ٨١، خزائن ج ٣ ص ١٤٢) میں لکھا ہے: ”صحیح مسلم کی حدیث میں یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“ اور (تحفہ گولڑویہ ص ١١٤، خزائن ج ١٧ ص ٢٨٤) ”حجج الکرامۃ میں ابن وابتیل وغیرہ سے روایت لکھی ہے کہ مسیح عصر کے وقت آسمان پر سے نازل ہوگا۔ ابن وابتیل کا اصل قول جو سرچشمہ نبوت سے لیا گیا ہے۔“

یعنی دو مسلمین اور پھر فرمایا علی مشرب الحسن ۔“

تھی۔ محدثین نے اس حدیث کو اول درجہ کی صحیح مانا ہے اور کوئی جرح نہیں کیا گیا۔“

ص ٢٩٠) میں مرزا نے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے رجوع کا لفظ احادیث نبویہ میں نہیں آیا۔ جس کا معنی دوبارہ آنے کے ہیں۔ حالانکہ رجوع عیسیٰ کی احادیث ہیں۔ مثلاً حضرت شیخ الحدیث علامہ سید انور شاہ صاحب مرحوم کے عقیدۃ الاسلام میں مروی ہے اور اس کے علاوہ مرزا کا بھی قول ہے (الحکم نمبر ٢٩، ٢ فروری ١٩٠٨ء ص ٣ کالم نمبر ٢ ج ١٢) ”جیسا کہ حدیثوں میں صریح طور پر وارد ہو چکا ہے کہ جب مسیح دوبارہ دنیا میں آئے گا تو تمام دینی جنگوں کا خاتمہ کر دے گا۔“ اور (براہین احمدیہ ص ٤٩٨، خزائن ج ١ ص ٥٩٣، ٥٠٥، خزائن ج ١ ص ٦٠١) میں بھی مرزا آیات قرآنیہ سے حضرت مسیح کا دوبارہ دنیا میں آنا ثابت کرتا ہے۔

١٨١

صفحہ ٣٠٨

علم التفسیر

.......١ (تحفہ گولڑویہ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ١٢٠، ایام الصلح ص ٦٢، خزائن ج ١٤ ص ٢٩٦) ’الناس‘ کا لفظ

بمعنی دجال معہود بھی آتا ہے۔۔۔۔۔ پھر اور معنی کرنا معصیت ہے۔ چنانچہ قرآن شریف کے ایک اور مقام میں الناس کے معنی دجال ہی لکھا ہے اور وہ یہ ہے ’لخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس“

.......٢ (ست بچن ص ١٤٠، خزائن ج ١٠ ص ٢٦٤) ”لم یلد کا لفظ جس کے یہ معنی ہیں کہ خدا کسی کا بیٹا

نہیں۔ کسی کا جنایا ہوا نہیں۔“

علم القرآن

.......١ (حقیقت الوحی ص ١٨٩ مع حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٦) ”وعید کی پیش گوئیوں میں منسوخی کا

سلسلہ اس کی طرف سے جاری ہے۔ یہاں تک کہ جو جہنم میں ہمیشہ رہنے کا وعید قرآن شریف میں کافروں کے لئے ہے۔ وہاں بھی یہ آیت موجود ہے: ”الاماشاء ربك ان ربك فعال لما یرید“ یعنی کافر ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ لیکن اگر تیرا رب چاہے کیونکہ جو کچھ وہ چاہتا ہے، اس کے کرنے پر وہ قادر ہے۔ لیکن بہشتیوں کے لئے ایسا نہیں فرمایا، کیونکہ وہ وعدہ ہے وعید نہیں۔“ اور (حاشیہ ص ١٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٦) میں ہے ”قرآن شریف میں کفار اور مشرکین کی سزا کے لئے بار بار ابدی جہنم کا ذکر ہے اور بار بار فرمایا ہے: ”خلدین فیھا ابدا“ اور پھر باوجود اس کے قرآن شریف میں دوزخیوں کے حق میں ”الا ماشاء ربك“ بھی موجود ہے۔“

.......٢ (تریاق القلوب ص ٦٦، خزائن ج ١٥ ص ٣٧٧) ”ان قوموں میں سے ہو جو اسلام میں

دوسری قوموں کی خادم اور نیچی قومیں سمجھی جاتی ہیں۔ جیسے حجام، موچی، تیلی، ڈوم، الخ۔“ خلاف قرآن مجید ”وجعلناکم شعوبا وقبائل لتعارفوا ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم“

علم اللغت

.......١ (نسیم دعوت ص ٢٣، خزائن ج ١٩ ص ٣٨٧) ”عربی میں آدمی کو انسان کہتے ہیں۔ یعنی جس

میں دو انس ہیں، ایک انس خدا کی اور ایک انس بنی نوع کی۔“

.......٢ (تعلیم اسلامی یعنی اسلامی اصول کی فلاسفی ص ٢٠، خزائن ج ١٠ ص ٣٣٨) ”خنزیر کا لفظ خنز اور ار

سے مرکب ہے۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ میں اس کو فاسد اور خراب دیکھتا ہوں۔“

.......٣ (اسلامی اصول کی فلاسفی ص ٦٢، خزائن ج ١٠ ص ٤٠٣) ”برزخ عربی لفظ ہے، جو مرکب ہے

١٨٢

زخ اور بر سے، جس کے یہ معنی ہیں کہ بُرے

.......٤ (اسلامی اصول کی فلاسفی ص ١١

یعنی زنا اور جہل سے اور زنا لغت عرب م یہ ہیں کہ پہاڑ پر چڑھ گیا۔“

.......٥ (ملفوظات احمدیہ ص ٢١٧ حصہ

یہ لفظ شہد سے بھی نکلا ہے۔۔۔۔۔ وہ شہد کی

.......٦ (ملفوظات احمدیہ ص ٧٥ اول

کے پر ہو جاتا ہے۔“

.......٧ (حاشیہ متعلقہ ص ١٦٤ استفت

اس سے صاف نکلتا ہے کہ یوسف پر ا

.......٨ (حاشیہ متعلقہ ص ١٦٤ استفت

واقعہ پر دلالت کرتا ہے اور وہ یہ کہ جو اور مریم وطن سے دور ہونے کو کہتے ہی

علم العقائد

.......١ (تریاق القلوب ص ١٥، ١٦

جن پر خدا کا رحم اور فضل ہوتا ہے اور وہ جو دوسروں کی اصلاح کے لئے ما لیطاع“

.......٢ (سرمہ چشم آریہ ص ١٨٣ خ

مذکورہ بالا سے خدا تعالیٰ کا اپنی مثل الٰہی صرف ان چیزوں کی طرف رج نہ ہوں۔ بیشک یہ بات توضیح اور ہے۔ اس چیز کو اگر چاہے تو پیدا بھی کے کرنے پر وہ قادر ہو۔ ان سب ہی اس کی قدرت اس طرف رج صفت حیات ازلی وابدی کے منا

صفحہ ٣٠٩

برزخ اور پرے، جس کے یہ معنی ہیں کہ طریق کسب اعمال ختم ہو گیا۔“

یعنی زنا اور جبل سے اور زنا لغت عرب میں اوپر چڑھنے کو کہتے ہیں اور جبل پہاڑ کو اس کے ترکیبی معنی یہ ہیں کہ پہاڑ پر چڑھ گیا۔“

یہ لفظ شہد سے بھی نکلا ہے....... وہ شہد کی طرح ایک شیرینی اور حلاوت پاتے ہیں۔“

کے پر ہو جانا ہے۔“

اس سے صاف نکلتا ہے کہ یوسف پر اسف یعنی اندوہ کیا گیا اس کا نام یوسف ہوا۔“

واقعہ پر دلالت کرتا ہے اور وہ یہ کہ جب مریم کا لڑکا عیسیٰ پیدا ہوا تو وہ اپنے اہل وعیال سے دور تھی اور مریم وطن سے دور ہونے کو کہتے ہیں۔“

علم العقائد

جن پر خدا کا رحم اور فضل ہوتا ہے اور خدا ان کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ وہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو دوسروں کی اصلاح کے لئے مامور نہیں ہوئے۔ ”وما ارسلنا من رسول الا لیطاع“

(ازالۃ الاوہام ص١٤١، خزائن ج٣ ص٤٠٧)

مذکورہ بالا سے خدا تعالیٰ کا اپنی مثل بنانے پر قادر ہونا لازم آتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قدرت الٰہی صرف ان چیزوں کی طرف رجوع کرتی ہے۔ جو اس کی صفات ازلیہ ابدیہ کے منافی اور مخالف نہ ہوں۔ بیشک یہ بات تو صحیح اور ہر طرح سے مدلل اور معقول ہے کہ جس چیز کا علم خدا تعالیٰ کو کامل ہے۔ اس چیز کو اگر چاہے تو پیدا بھی کر سکتا ہے۔ لیکن یہ بات ہرگز صحیح اور ضروری نہیں کہ جن باتوں کے کرنے پر وہ قادر ہو۔ ان سب باتوں کو بلالحاظ اپنی صفات کمالیہ کے کر کے بھی دکھا دے....... ایسا ہی اس کی قدرت اس طرف رجوع نہیں کرتی کہ وہ اپنے تئیں ہلاک کرے۔ کیونکہ یہ فعل اس کی صفت حیات ازلی وابدی کے منافی ہے۔ پس اس طرح سے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اپنے جیسا خدا بھی

١٨٣

صفحہ ٣١٠

نہیں بناتا۔ کیونکہ اس کی صفت احدیت اور بے مثل و مانند ہونے کی جو ازلی وابدی طور پر اس میں پائی جاتی ہے۔ اس طرف توجہ کرنے سے اس کو روکتی ہے۔ پس ذرا آنکھ کھول کر سمجھ لینا چاہئے کہ ایک کام کرنے سے عاجز ہونا اور بات ہے۔ لیکن باوجود قدرت کے بلحاظ صفات کمالیہ امر منافی صفات کی طرف توجہ نہ کرنا یہ اور بات ہے۔“

سے مخلوق کا وجود نوعی طور پر قدیم ماننا پڑتا ہے۔ نہ شخصی طور پر یعنی مخلوق کی نوع قدیم سے چلی آتی ہے۔ ایک نوع کے بعد دوسری نوع خدا پیدا کرتا چلا آتا ہے۔ سو اس طرح ہم ایمان رکھتے ہیں اور یہی قرآن شریف نے ہمیں سکھایا ہے...... اور خدا تعالیٰ کی قدیم صفات پر نظر کر کے مخلوق کے لئے قدامت شخصی ضروری نہیں“ (خلاف اس کے ملفوظات احمدیہ حصہ اول ص ١٣٢) ”نوعی قدم کا میں ہرگز ہرگز قائل نہیں ہوں۔“

دعویٰ کا انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے۔ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم ومحدث ہیں۔ گو وہ کیسے ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں، ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“

القرآن الكريم الا تقرا فى القرآن ما قال الله تعالى عزوجل فلاتكن فى مرية من لقائه وانت تعلم ان هذه الآية نزلت فى موسىٰ فهى دليل صريح على حيات موسىٰ عليه السلام لانه لقى رسول الله ﷺ والاموات لا يلاقون الاحياء ولا تجد هذه الآيات فى شان عيسىٰ عليه السلام نعم جاء ذكر وفاته فى مقامات شتى فتدبر“

اشار الله فى كتابه الى حياته و فرض علينا ان نؤمن بانه حى فى السماء ولم يمت وليس من الميتين واما نزول عيسىٰ من السماء فقد اثبتنا بطلانه فى كتابنا الهامة وخلاصته انا لا نجد فى القرآن شيئا فى هذا الباب من غير خبر وفاته الذى نجدها فى مقامات كثيرة من الفرقان الحميد.“

١٨٤

علم اصول اسلام در مساوات

قوموں کی خادم اور نیچی قومیں سمجھی جاتی جولاہے، الخ۔“

علم منطق

قضیہ ضروریہ مطلقہ سے قضیہ دائمہ مطلقہ قضیہ ضروریہ مطلقہ سے اسی واسطے اخص آ

مرتبہ وہ اعلیٰ شان کا مرتبہ ہے کہ اگر یقینی تمام سلسلہ بگڑ جاتا ہے۔“ (ازالہ اوہام ص استقراء بھی ادلّہ یقینیہ میں سے ہے، مدد ملی ہے اور کسی طریق سے مدد نہیں ملی۔

پتہ لگا لیں جیسے کہ ہم نے ایک جگہ دعویٰ

علم فلسفہ

اصطلاحات اہل اللہ میں نفسی نقطہ انتہا عقل اول کے نام سے یہی موسوم کیا گیا

رو سے جس کے مسائل مشہور و محسوس ذرات جسم بدلتے رہتے ہیں جو اس و

علم مناظرہ

میں درج ہو یعنی تین تحریریں ہماری طر منصفوں کی مفصل رائے درج ہو۔“

صفحہ ٣١١

علم اصول اسلام در مساوات

قوموں کی خادم اور نیچی قومیں سمجھی جاتی ہیں۔ جیسے حجام، موچی، تیلی، ڈوم، میراسی، سقاء، قصائی، جولاہے، الخ۔“

علم منطق

قضیہ ضروریہ مطلقہ سے قضیہ دائمہ مطلقہ کو اخص مطلق قرار دیا گیا ہے۔..... پس یہ جو دائمہ مطلقہ ہے قضیہ ضروریہ مطلقہ سے اسی واسطے اخص سمجھا جاتا ہے۔“

مرتبہ وہ اعلیٰ شان کا مرتبہ ہے کہ اگر یقینی اور قطعی مرتبہ سے اس کو نظر انداز کر دیا جائے تو دین اور دنیا کا تمام سلسلہ بگڑ جاتا ہے۔“ (ازالہ اوہام طبع اول ص ٨٨٨، خزائن ج ٣ ص ٥٨٤) ”اور کچھ شک نہیں کہ استقراء بھی ادلۂ یقینیہ میں سے ہے، بلکہ جس قدر حقائق کے ثابت کرنے کے لئے استقراء سے مدد ملی ہے اور کسی طریق سے مدد نہیں ملی۔“

پتہ لگا لیں جیسے کہ ہم نے ایک جگہ دھواں دیکھا تو اس سے ہم نے آگ کا پتہ لگا لیا۔“

علم فلسفہ

اصطلاحات اہل اللہ میں نفسی نقطہ احمد مجتبیٰ و محمد مصطفیٰ نام رکھتے ہیں اور فلاسفہ کی اصطلاحات میں عقل اول کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔“

رو سے جس کے مسائل مشہورہ محسوسہ ہیں۔ ہمیشہ جسم معرض تحلیل و تبدیل میں ہے۔ ہر آن و سیکنڈ ذرات جسم بدلتے رہتے ہیں جو اس وقت ہیں وہ ایک منٹ کے بعد نہیں۔“

علم مناظرہ

میں درج ہو یعنی تین تحریریں ہماری طرف سے اور تین ہی آپ کی طرف سے ہوں اور ان پر دونوں منصفوں کی مفصل رائے درج ہو۔“

١٨٥

صفحہ ٣١٢

ہیں۔ پھر پنڈت صاحب برعایت شرائط جو چاہیں گے، جواب دیں گے۔ پھر ان کا جواب الجواب ہماری طرف سے گزارش ہوگا اور بحث ختم ہو جائے گی۔“

مسلمانوں کی مردم شماری

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٢٦ حاشیہ، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ”بیس کروڑ مسلمان دنیا میں مان رہے ہیں۔“ (ضمیمہ چشمہ معرفت ص ٩ طبع ١٩٠٨ء) ”آج کم سے کم بیس کروڑ ہر طبقہ کے مسلمان آپ کی غلامی میں کمر بستہ کھڑے ہیں۔“ (پیغام الصلح ص ٣٤، خزائن ج ٢٣ ص ٤٦١) ”بیس کروڑ انسانوں کا مجھ درگاہ پر سر جھکا رکھا ہے۔“ (نور القرآن ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ٩ ص ٣٣٩) ”اس زمانہ میں چالیس کروڑ لا الہ الا اللہ کہنے والے موجود ہیں۔“ (تحفہ گولڑویہ طبع ١٩٠٢ء ص ٦٧، خزائن ج ١٧ ص ٢٠٠) ”نوے کروڑ مسلمان مختلف دیار و بلاد ہیں۔“ (ست بچن طبع ١٨٩٥ء ص ١٧، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٦) ”انگریزوں نے سرسری مردم شماری میں بیس کروڑ لکھی تھی۔ مگر جدید تحقیقات کی رو سے معلوم ہوا ہے کہ دراصل مسلمان روئے زمین پر چورانوے کروڑ ہیں۔“ (ملفوظات احمدیہ حصہ اول ص ١٥٩ سلسلہ اشاعت لاہوری) اور ٩٩ کروڑ مسلمان اس کے خادم موجود ہیں۔“

جھوٹے آدمی کے متعلق مرزا کا فتویٰ

”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔“

”تکلف سے جھوٹ بولنا گوہ کھانا ہے۔“

”میرے نزدیک جھوٹا ثابت ہونے کی ذلت ہزاروں موتوں سے بدتر ہے۔“

”جھوٹ جو اس پاخانہ سے بھی بڑھ کر بدبو رکھتا ہے۔“

”غلط بیانی اور بہتان طرازی راست بازوں کا کام نہیں، بلکہ نہایت شریر اور بدذات آدمیوں کا کام ہے۔“

”اگر کوئی شخص ایک بات میں جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر اس کی بات کا اعتبار نہیں رہتا۔“

١٨٦

عدالت میں مرزا کا جھوٹ

جس کے لئے ہادیہ یا ذلت کا وعدہ تھا۔ بحث کرنے والا تھا یا معاون یا حامی یا سر

(انوار الاسلام ص ١٧، ١٨، خزائن ......)

باقی رفیق بھی جو فریق بحث کے لفظ میں اور ان سب نے میعاد کے اندر اپنی کلارک اور ایسا ہی اس کے دوسرے تما

(کتاب البریہ ص ٢٣٤، ٢٣٥، ......)

یہ پیش گوئی نہ تھی اور نہ وہ اس پیش گوئی سے ظاہر ہے فریق اور شخص کے ایک ڈاکٹر کلارک صاحب کی بابت کی۔“

(کتاب البریہ ص ٢٧٣، خزائن ......)

کلارک صاحب مرجائیں گے۔...... واسطے کی تھی۔ کل متعلقین مباحثہ کی با

عمر مسیح علیہ السلام میں مرزا کا

(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، خزائن ......)

ثابت کیا ہے از روئے آیات قرآن

(اتمام الحجۃ ص ١٦ حاشیہ، خزائن ......)

حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیس برس تک جیتا رہا۔“ (١٨٩٤ء)

(تحفہ گولڑویہ ص ١١٨ جدید ......)

السلام نے ایک سو بیس برس عمر پا ص ٥٥) ”احادیث میں معتبر روای عمر ایک سو پچیس برس کی ہوئی او السلام میں دو ایسی باتیں جمع ہوئی

صفحہ ٣١٣

عدالت میں مرزا کا جھوٹ

جس کے لئے ہاویہ یا ذلت کا وعدہ تھا۔ ایک گروہ مراد ہے جو اس بحث سے تعلق رکھتا تھا۔ خواہ وہ بحث کرنے والا تھا یا معاون یا حامی یا سرگروہ تھا۔‘‘

(انوار الاسلام ص٧، ٨، خزائن ج٩ ص٨) ’’یہ تو مسٹر عبداللہ آتھم کا حال ہوا، مگر اس کے باقی رفیق بھی جو فریق بحث کے لفظ میں داخل تھے...... ان میں سے کوئی بھی اثر ہاویہ سے خالی نہ رہا اور ان سب نے میعاد کے اندر اپنی اپنی حالت کے موافق ہاویہ کا مزہ دیکھ لیا...... ڈاکٹر مارٹن کلارک اور ایسا ہی اس کے دوسرے تمام دوستوں اور عزیزوں اور ماتحتوں کو سخت صدمہ پہنچایا۔‘‘

(کتاب البریہ ص٢٣٤، ٢٣٥، خزائن ج١٣ ص٢٧٩، ٢٨٠) ’’ڈاکٹر کلارک صاحب کی بابت یہ پیش گوئی نہ تھی اور نہ وہ اس پیش گوئی میں شامل تھا۔ فریق سے مراد آتھم ہی ہے۔ جیسا کہ عبارت سے ظاہر ہے فریق اور شخص کے ایک ہی معنی ہیں...... میں نے کوئی پیش گوئی نہ اشارۃً اور نہ کنایتاً ڈاکٹر کلارک صاحب کی بابت کی۔‘‘

(کتاب البریہ ص١٧٣، خزائن ج١٣ ص٢٠٦) ’’ہم نے کبھی پیش گوئی نہیں کی کہ ڈاکٹر کلارک صاحب مر جائیں گے...... عبداللہ آتھم صاحب کی درخواست پر پیش گوئی صرف اس کے واسطے کی تھی۔ کل متعلقین مباحثہ کی بابت پیش گوئی نہ تھی۔‘‘ یہ بیان اگست ١٨٩٧ء کا ہے۔

عمر مسیح علیہ السلام میں مرزا کا خبط

(براہین احمدیہ ص٤٩٨، ٥٠٥، خزائن ج١ ص٥٩٣ تا ٦٠١) میں عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ ثابت کیا ہے از روئے آیات قرآنیہ۔

(اتمام الحجۃ ص١٦ حاشیہ، خزائن ج٨ ص٢٩٣) ’’طبرانی اور مستدرک میں عائشہ صدیقہؓ سے یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات کی بیماری میں فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام ایک سو بیس برس تک جیتا رہا۔‘‘ (١٨٩٣ء کی تصنیف)

(تحفہ گولڑویہ ص١١٨ جدید، خزائن ج١٧ ص٢٦٥) ’’حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے ایک سو بیس برس عمر پائی۔‘‘ (١٩٠٢ء کی تصنیف) (مسیح ہندوستان میں ص٥٣، خزائن ج١٥ ص٥٥) ’’احادیث میں معتبر روایتوں سے ثابت ہے کہ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا کہ حضرت مسیح کی عمر ایک سو پچیس برس کی ہوئی اور اس بات کو اسلام کے تمام فرقے مانتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام میں دو ایسی باتیں جمع ہوئی تھیں کہ کسی نبی میں وہ دونوں جمع نہیں ہوئیں۔‘‘

١٨٧

صفحہ ٣١٤

(حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست ملحقہ تریاق القلوب ص ش، خزائن ج ١٥ ص ٤٩٩) میں بھی ایک سو پچیس برس ہی لکھی ہے۔ (١٩٠٢ء)

(ایک عیسائی کے تین سوالوں کا جواب ص ٤٢، خزائن ج ٤ ص ٤٧٤) ”سچ یہی ہے کہ مسیح بغیر اپنی مرضی ناگہانی طور پر پکڑا گیا...... اس سے بوضاحت ثابت ہوتا ہے کہ مسیح زندہ رہتا اور کچھ اور دن دنیا میں قیام کرنا چاہتا تھا اور اس کی روح نہایت بے قراری سے تڑپ رہی تھی کہ کسی طرح اس کی جان بچ جائے۔ لیکن بلا مرضی اس کے یہ سفر اس کو پیش آ گیا۔“ یہ واقعہ صلیبی ہے۔ جس وقت حضرت مسیح کی عمر ٣٣ برس تھی۔ جیسے (تحفہ گولڑویہ ص ١٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٣١١) میں ہے۔

(اتمام الحجۃ ص ١٧، خزائن ج ٨ ص ٢٩٤) ”اور امام مالکؒ نے کہا ہے کہ عیسیٰ مر گیا اور وہ تینتیس برس کا تھا جب فوت ہوا۔ اب دیکھو امام مالکؒ کس شان اور مرتبہ کے امام اور خیر القرون کے زمانے کا اور کروڑہا آدمی اس کے پیرو ہیں۔ جب ان کا یہی مذہب ہوا تو گویا یہ کہنا چاہئے کہ کروڑہا عالم اور متقی اور اہل ولایت جو سچے پیرو حضرت امام صاحب کے تھے۔ ان کا یہی مذہب تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔“

(تحفۃ الندوہ ص ١٠، خزائن ج ١٩ ص ١٠٤، ١٠٣) ”سب کے بعد جو آج ہمیں خبر ملی یہ تو ایک ایسی خبر ہے کہ آج اس نے مسلمانوں کے لئے عید کا دن چڑھا دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ حال میں بمقام یروشلم پطرس حواری کا دستخطی ایک کاغذ پرانی عبرانی میں لکھا ہوا دستیاب ہوا۔ جس کو کتاب کشتی نوح کے ساتھ شامل کیا گیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح صلیب کے واقعہ سے تخمیناً پچاس برس بعد اسی زمین پر فوت ہو گئے تھے...... یہ فیصلہ ہو گیا ہے کہ وہ پطرس کی تحریر ہے...... اور واقعہ صلیب کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر تقریباً ٣٣ سال...... تھی...... اور اس خط کے متعلق اکابر علماء مذہب عیسوی نے بہت تحقیقات کر کے یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ صحیح ہے...... اور ہمارے نزدیک اس کاغذ کی صحت پر اور قوی دلیل ہے۔“

(اخبار الحکم نمبر ٣٥ ج ٩ ص ٥ کالم ٢۔ ١٠ اکتوبر ١٩٠٥ء) ”اور اس پر سوال کرتے ہیں کہ جبکہ وہ ٨٧ سال تک زندہ رہے تو ان کی قوم نے ترقی کیوں نہ کی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اسی کا جواب دینا ہمارے ذمے نہیں۔“ (١٩٠٥ء)

حیات مسیح علیہ السلام میں مرزا کا خبط عشواء

١٨٨

صفحہ ٣١٥

قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات قرآن مجید کی دو آیتوں سے ثابت کرتا ہے۔ اس قول کے لحاظ سے مرزا از روئے قرآن مجید حیات مسیح کا قائل ٹھہرا۔

کرتا ہے۔ گویا حضرت مسیح بزعم مرزائیہ صلیبی واقعہ میں فوت ہو کر راندہ درگاہ الہی ٹھہرے اور ملعون ہوئے۔ عیاذ باللہ۔ قول ملاحظہ ہو:

(ایک عیسائی کے تین سوالوں کا جواب ص ٤٣، خزائن ج ٤ ص ٤٧٣) ”بلکہ سچ یہی ہے کہ مسیح بغیر اپنی مرضی کے ناگہانی طور پر پکڑا گیا...... اس سے بوضاحت ثابت ہوتا ہے کہ مسیح زندہ رہنا اور کچھ اور دن دنیا میں قیام کرنا چاہتا ہے اور اس کی روح نہایت بے قراری سے تڑپ رہی تھی کہ کس طرح اس کی جان بچ جائے۔ لیکن بلا مرضی اس کے یہ سفر اس کو پیش آگیا۔“

(اتمام الحجہ ص ١٧، خزائن ج ٨ ص ٢٩٢) ”دیکھو کتاب مجمع بحار الانوار جلد اول ص ٤٨٦ جو اس حکما کے لفظ کی شرح لکھتا ہے۔ ”ینزل (ای ینزل عیسیٰ) حكما اى حاكما بهذه الشريعة لا نبيا والاکثر ان عيسىٰ لم يمت وقال مالك مات وهو ابن ثلث و ثلثین سنة“ یعنی حضرت عیسیٰ ایسی حالت میں نازل ہوگا جو اس شریعت کے مطابق حکم کرے گا۔ نہ نبی ہوگا اور اکثر کا قول یہ ہے کہ عیسیٰ نہیں مرا اور امام مالکؒ نے کہا ہے کہ عیسیٰ مر گیا اور وہ تینتیس برس کا تھا۔ جب فوت ہوا۔“

تو گویا واقعہ صلیبی میں ہی لعنتی موت سے مر گیا۔ (عیاذ باللہ)

تیسرا قول یہ ہے کہ واقعہ صلیبی پر فوت نہیں ہوئے۔ بلکہ وہاں سے کشمیر چلے گئے اور وہیں فوت ہوئے، وہیں ان کی قبر ہے۔ یہ آج کل مرزائیوں کا مشہور قول ہے جیسے (حقیقت الوحی ص ١٠١ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٤) میں ہے۔ ”مگر خدا کا کلام قرآن شریف گواہی دیتا ہے کہ وہ مر گیا اور اس کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”واویناهما الی ربوة ذات قرار و معین“ یعنی ہم نے عیسیٰ اور اس کی ماں کو یہودیوں کے ہاتھ سے بچا کر ایک ایسے پہاڑ پر پہنچا دیا جو آرام اور خوش حالی کی جگہ ہے۔“

مرزا کی عربی کی فحش اغلاط

(براہین احمدیہ ص ١٥٨، ٢٦٤، خزائن ج ١ ص ١٤٧ تا ١٧٥) ”گو کسی بشر کا کلام کیسا ہی صاف اور شستہ ہو۔ مگر اس کی نسبت یہ کہنا جائز نہیں ہوسکتا کہ فی الواقع تالیف اس کی انسانی طاقتوں سے باہر ہے۔...... پس یہ خیال تو سراسر سودائیوں اور مخبوط الحواسوں کا ہے کہ پہلے ایک چیز کو اپنے منہ سے

١٨٩

صفحہ ٣١٦

قوی بشریہ کی بنائی ہوئی مان لیں اور پھر آپ ہی بڑبڑائیں کہ اب قوی اس چیز کی مثل بنانے سے قاصر اور عاجز ہیں۔۔۔۔۔ علاوہ اس کے آج تک کسی انسان نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میرے کلمات اور مصنوعات خدا کے کلمات اور مصنوعات کی طرح بے مثل و مانند ہیں۔ اگر کوئی نادان مغرور ایسا دعویٰ کرتا تو ہزاروں اس سے بہتر تالیفیں کرنے والے اور اس کے منہ میں ذلت کی خاک بھرنے والے پیدا ہو جاتے۔“

خلاف اس کے اقوال مرزا

(ضرورۃ الامام ص ٢٥، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٦)

”خدا نے مجھے چار نشان دیئے ہیں۔ (١) میں قرآن شریف کے معجزے کے ظل پر عربی بلاغت وفصاحت کا نشان دیا گیا ہوں کوئی نہیں جو اس کا مقابلہ کر سکے۔“

ایسے ہی (حقیقت الوحی ص ٢٤٤، خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٥، ایام الصلح ص ١٥٨، خزائن ج ١٤ ص ٤٠٦، الاستفتاء ص ٩ ملحقہ حقیقت الوحی ص، خزائن ج ٢٢ ص ٦٢٩، ایام الصلح ص ٧٢، خزائن ج ١٤ ص ٤٤١) نیز ایک آدمی کی عربی کے متعلق (ضرورۃ الامام ص ٢٨، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٩) میں لکھتا ہے: ”مگر میں کیا کہوں اور کیا لکھوں۔ معافی مانگ کر کہتا ہوں کہ جس وقت میں نے آپ کے الہامات لکھے ہوئے سنے تھے۔ ان میں بعض جگہ صرفی اور نحوی غلطیاں تھیں۔“

(نزول المسیح ص ٥٦، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٤)

”اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت کبھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں کیونکہ جب میں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں۔ تو محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے۔“

اب مرزا کی چالیس کے قریب ادبی اغلاط عربی میں ثابت کی جاتی ہیں

”کلام افصحت من لدن رب کریم“

”فبشرنی ربی بموتہ فی سنۃ سنۃ ان فی ذلک لایات للطالبین“ (حجۃ اللہ ص ٣٩) میں بھی سنۃ سنۃ ہی ہے۔ صح لفظ ”ست سنین“ ہے (اس میں دو اغلاط ہوئیں۔)

”وانی واللہ اومن باللہ ورسولہ واومن بانہ خاتم النبیین“ صح لفظ ”اومن“ ہے۔

”فلا تظنن یا اخی انی قلت کلمۃ فیہ

١٩٠

صفحہ ٣١٧

رائحۃ ادعاء النبوۃ“ صحیح لفظ ”فیھا“ ہے۔ کیونکہ کلمہ مؤنث ہے۔

صحیح فی الشرع“ صحیح لفظ ”لیس لھا“ ہے۔ کیونکہ کلمہ مؤنث ہے۔

ساحل بحر الروم بینھا وبین بیروت ثلثون اکواسا“ اکواس جمع کوس کی بتانا چاہتا ہے۔ حالانکہ کوس عربی لفظ نہیں ہے کہ اس کی جمع اکواس ہو۔

دلیل علیہ“ ہے۔

”فاسالوہ عن سر، الخ ۔“

کی جمع کوالج ہو۔

ومتاعا لا یبور“ اصل عبارت صحیح یوں ہے ”جعلہم مناھل لاتغور و امتعۃ لاتبور“

قلبا متقلبا مع الحق ولسانا متجلیا بالصدق وجنانا خالیا من الحقد والغل“ صحیح ”قلوبا متقبلۃ والسنۃ متجلیۃ وجنانا خالیۃ“ ہے۔

سیدنا وحجۃ صدق مولانا“ صحیح ”براہین وحجج“ ہے۔

السماء“ صحیح ”سالت رب الارض والسماء عنھما“ ہے۔

صحیح ”ما سرنی“ کیونکہ مسرت خود متعدی ہوتا ہے اور پھر سروری بھی حسن نہیں۔

صحیح ”سر اھل الصلاح“ کیونکہ مسرت خود متعدی ہے۔

١٩١

صفحہ ٣٦٨

علی......وارحم علیہم“ صحیح ”ارحم الذین وارحمہم“ کیونکہ رحم کا صلہ علی نہیں آتا اور ”اولئك سیرحمھم اللہ الآیۃ“

بن مرزا غلام مرتضیٰ ومیرزا غلام مرتضیٰ بن میرزا عطاء محمد بن میرزا گل محمد،الخ“ صحیح غلام احمد بن غلام مرتضیٰ بن عطاء محمد بن گل محمد، الخ ہے۔

و اسم ابی غلام مرتضیٰ و اسم ابیه عطاء محمد وکان عطا محمد بن گل محمد وگل محمد بن فیض محمد و فیض محمد بن محمد قائم الخ“ صحیح عبارت یوں تھی ۔ ”ان اسمی غلام احمد بن غلام مرتضیٰ بن عطاء محمد بن گل محمد بن فیض محمد الخ“

کے ساتھ بطور ضمیمہ شامل ہے صحیح نام یوں تھا ”ماللفرق بین آدم والمسیح الموعود“

الافترا“ صحیح تھا ”بتلك الافتراء“

”سروا“ ہے۔

بطاوی“

صبیانی واولادی لحفادی باعینی وقطعت ایدی وارجلی“ صحیح ”بعینی ویدی ورجلی بصیغہ تثنیہ“ ہے۔ کیونکہ ہر انسان میں دو ہاتھ، دو پاؤں، دو آنکھیں ہوتی ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی اور لفظ حرامزادہ

گالیاں دینا مرزا کے نزدیک کس قدر بری چیز ہے:

١٩٢

کوئی شریر گالی دے، تو مومن کو لازم ہے آئے گی۔“

نہیں...... گالی کے مقابل پر گالی دو۔ کیون جائیں گے۔“

نہیں۔“

کی مثل کر رہا ہو اور ناخدا ترسی سے ہمیش کرتے۔

”انك لعلی خلق عظیم“ کا ہو۔

کمزوریوں اور غلطیوں کی اصلاح کے

اب جو مرزا نے صرف حرامزاد

وہ اس بات میں سچا اور حلال زادہ ہے تھا

نہیں ۔“

نہیں ۔“

رکھتے ۔“

صفحہ ٣١٩

کوئی شریر گالی دے، تو مومن کو لازم ہے کہ اعراض کرے، نہیں تو وہی کتا پن کی مثال صادق آئے گی۔“

نہیں۔۔۔ گالی کے مقابل پر گالی دو۔ کیونکہ اگر تم نے یہی راہیں اختیار کیں تو تمہارے دل سخت ہو جائیں گے۔“

نہیں۔“

کی مشق کر رہا ہو اور ناخدا ترسی سے ہمیں آزار دے رہا ہو۔ ہم پھر بھی اس کے حق میں دعا ہی کرتے۔

”انك لعلى خلق عظيم“ کا ہو۔

کمزوریوں اور غلطیوں کی اصلاح کے لئے دنیا میں بھیجا گیا ہوں۔“

اب جو مرزا نے صرف حرامزادہ کی گالی مخالفین کو سنائی ہے، وہی ملاحظہ ہو

وہ اس بات میں سچا اور حلال زادہ ہے تو عبداللہ آتھم کو اس حلف پر آمادہ کرے۔“

نہیں۔“

نہیں۔“

رکھتے۔“

١٩٣

PDF 321

اور کون ولد الحرام بننے پر راضی ہوتا ہے۔“

استہزاء یہ حرامزادی کا کام ہے۔“

حرامزدگی ہے۔“

جھوٹے الزام لگاتے ہیں۔“

ہمارے سامنے آ جائے۔“

حرام زادی کا کام ہے۔ کوئی حلال زادہ ایسی جرأت نہیں کر سکتا۔“

بولنے سے شرماتے ہیں۔ مگر اس آریہ میں اس قدر بھی شرم باقی نہیں رہی۔“

سے جہاد کرنا) ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔“

(انجام آتھم ص ٢٨٢، خزائن ج ١١ ص ٢٨٢)

آذیتنی خُبثاً فلستَ بصادق
ان لم تمت بالخزی یا ابن بغاء

ترجمہ ...... تو نے مجھے خبث سے ایذا دی ہے۔ پس اے کنجری کے بیٹے ، اگر تو رسوائی سے نہ مرے تو میں سچا نہ ہوں گا۔“

ابن بغاء کا لفظ ۔“

(اے بازاری عورت کے بیٹے) کہا ہے۔

١٩٤

میں لکھتا ہے ”جب ہم ١٨٥٧ء کی سوا ڈالتے ہیں ...... ان لوگوں نے چوروں شروع کیا۔“

صاحب جو شخص متقی اور حلال زادہ ہو لگاتا ۔“

وليس من ذرية البغايا ونسل ترجمہ ...... جو حلال زادہ ہے اور باز ایک کام تو ضرور کرے گا۔“

ويصدق دعوتي الاذرية البغ ترجمہ ...... ہر ایک مسلمان مجھے ما کنجروں کی اولاد ہیں۔

مرزا کی جھوٹی قسمیں

کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے

خزائن ج ٥ ص ایضاً، ملحقہ آئینہ کمالات صول و الفقه الا كطل من

(كتاب البرية ص ١٣٩

میں چھ سات سال کا تھا۔ ایک شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے

میں آنے سے روک نہیں سکتے ۔

صفحہ ٣٢١

میں لکھتا ہے ”جب ہم ١٨٥٧ء کی سوانح کو دیکھتے ہیں اور اس زمانہ کے مولویوں کے فتوؤں پر نظر ڈالتے ہیں...... ان لوگوں نے چوروں، قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کیا۔“

صاحب جو شخص متقی اور حلال زادہ ہو تو اول وہ جرات کر کے اپنے بھائی پر بے تحقیق ...... الزام نہیں لگاتا۔“

وليس من ذرية البغايا ونسل الدجال فيفعل امرا من امرین۔“ ترجمہ ...... جو حلال زادہ ہے اور بازاری عورتوں اور دجال کی اولاد نہیں، دونوں کاموں میں سے ایک کام تو ضرور کرے گا۔“

ويصدق دعوتي الا ذرية البغايا۔“ ترجمہ ...... ہر ایک مسلمان مجھے مانتا ہے اور میرے دعوے کو سچا مانتا ہے سوا ان لوگوں کے جو کنجروں کی اولاد ہیں۔

مرزا کی جھوٹی قسمیں

کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی شخص سے قرآن، حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے۔“ حالانکہ خود اس نے قرآن و حدیث وغیرہ لوگوں سے پڑھی ہے۔ دیکھو (التبلیغ ص ٥٤٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً ملحقہ آئینہ کمالات اسلام) ”لم يتفق لى التوغل في علم الحديث والا صول و الفقه الا كطل من الوبل۔“

(کتاب البریہ ص ١٤٩ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ١٨٠) ”میری تعلیم اس طرح یہ ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا۔ ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں۔“

میں آنے سے روک نہیں سکتے۔ ہم نے خود اس سے تیرا عقد باندھ دیا ہے۔ میری باتوں کو کوئی بدلا

١٩٥

صفحہ ٣٢٢

نہیں سکتا۔“ (یہ الہام عربی میں ہے جو محمدی بیگم منکوحہ آسمانی کے متعلق ہے۔ اصل الہام عربی میں تھا)

......٣ (آسمانی فیصلہ ص٣، خزائن ج٤ ص٣١٤) ”میں نے اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر پیغام پہنچایا کہ میری کسی تحریر یا تقریر میں کوئی ایسا امر نہیں ہے۔ جو نعوذ باللہ عقیدۂ اسلام کے مخالف ہو۔“

حالانکہ خود اس نے (براہین احمدیہ ص٤٩٨، خزائن ج١ ص٥٩٣) میں حیات مسیح کا عقیدہ درج کیا۔ جو مرزائیوں کے اور مرزا کے خیال میں شرک عظیم ہے۔ نیز مرزا محمود نے (حقیقت النبوۃ) میں لکھا ہے کہ مرزا ١٩٠٠ء تک تو ختم نبوت کا قائل تھا۔ وہ اس کی عبارتیں منسوخ ہیں تو بزعم محمود اس کا باپ ختم نبوت کا سالہا سال تک مطیع رہا۔ جو مرزائیوں کے نزدیک بالکل اسلام کے خلاف ہے۔

......٤ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٥١، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ”واللہ قد کنت اعلم من ایام مدیدۃ اننی جعلت المسیح بن مریم واننی نازل منزلتہ ولکن اخفیتہ...... و توقفت فی الاظہار عشر سنین ۔“ حالانکہ خود مرزا نے اعجاز احمدی (ضمیمہ نزول مسیح ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٤) ” میں لکھا ہے کہ براہین احمدیہ کی تالیف کے بعد بارہ سال تک مجھے بالکل خبر نہ ہوئی کہ میں مسیح موعود بنایا گیا ہوں۔ بلکہ میں حیات مسیح کا قائل رہا اس سے ثابت ہوا کہ آئینہ کی عبارت جھوٹ ہے۔

......٥ (حمامۃ البشریٰ ص ٩، خزائن ج ٧ ص ١٨٦) ”واللہ یعلم اننی ماقلت الا ما قال اللہ تعالیٰ ولم اقل کلمۃ قط یخالفھا وما سھا قلمی فی عمری“ حالانکہ مرزا اور اس کی امت کے خیال میں حیات مسیح کا عقیدہ خلاف نصوص قرآنیہ و حدیثیہ جس کو مرزا نے (براہین احمدیہ ص ٤٥٨، ٤٦٢) میں آیات قرآنیہ سے ثابت کیا اور بقول محمود اس نے سالہا سال تک اپنی کتابوں میں ختم نبوت کے مسئلہ کی اشاعت کی۔ جو بزعم مرزائیت نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے خلاف ہے۔

......٦ (اعجاز احمدی ص ٣٠، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠) ”ہم اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں۔ بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔“ حالانکہ اس کے خلاف (انجام آتھم ص ٦٥، خزائن ج ١١ ص ٦٥) میں لکھا ہے کہ میرے دعوے کی بنیاد حدیث پر ہی ہے۔ لہٰذا اعجاز احمدی (ضمیمہ نزول مسیح) کی قسم جھوٹی ثابت ہوئی۔

جواب تاویلات

کہ (حمامۃ البشریٰ ص ١٤ حاشیہ، خزائن ج ٧ ص ١٩٢) ”میں خود مرزا نے لکھا ہے کہ جملہ قسمیہ

١٩٦

صفحہ ٣٢٣

میں کوئی تاویل و تخصیص کی گنجائش نہیں ہوا کرتی۔“ (شحنہ حق ص ٤٦، خزائن ج ٢ ص ٣٨٦) ”وہ کنجر جو ولد الزنا کہلاتے ہیں۔ وہ بھی جھوٹ بولنے سے شرماتے ہیں۔ مگر اس آریہ میں اس قدر بھی شرم باقی نہ رہی۔“

آنحضرت ﷺ کی توہین مرزا کی زبانی

لاہور والوں نے اس کتاب کی ضبطی کے لئے ایک میموریل حکومت کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ کیا تو مرزا قادیانی نے اس تحریک کی مخالفت کی۔ جس کا ذکر (حقیقت الوحی ص ٢٧٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٨٨، ایام الصلح ص ٧٦ حاشیہ، خزائن ج ١٤ ص ٣١٠) میں مفصل مذکور ہے۔

نبی ﷺ کی تمام استغفار اسی بناء پر ہے کہ آپ ﷺ بہت ڈرتے تھے کہ جو خدمت مجھے سپرد کی گئی ہے۔ یعنی تبلیغ کی خدمت اور خدا کی راہ میں جانفشانی کی خدمت اس کو جیسا اس کا حق تھا، میں ادا نہیں کر سکا۔“

حالانکہ نبی کی صداقت کی دلیل بقول مرزا یہ ہے کہ وہ اپنے مشن کو کامیابی سے سرانجام دے۔ دیکھو (ازالہ اوہام ص ٤٤٨، خزائن ج ٣ ص ٣٤٨) ”ان (انبیاء) کو موت نہیں دیتا جب تک وہ کام پورا نہ ہو جائے۔ جس کے لئے وہ بھیجے گئے ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٥٣، خزائن ج ٣ ص ٣٩٨) ”مامور من اللہ کی صداقت کا اس سے بڑھ کر اور کوئی ثبوت ممکن نہیں کہ جس خدمت کے لئے اس کا دعویٰ ہے کہ اس کے بجالانے کے لئے میں بھیجا گیا ہوں ۔ اگر وہ اس خدمت کو ایسی طرز پسندیدہ اور طریق برگزیدہ سے ادا کر دیوے۔“

نتیجہ یہ ٹھہرا کہ بقول مرزا آنحضرت ﷺ کی نبوت ہی معاذ اللہ مخدوش ہو گئی۔ کیونکہ جو صداقت کا معیار بزعم مرزا تھا وہ آنحضرت ﷺ میں نہیں پایا جاتا۔ جیسا کہ اس نے براہین احمدیہ حصہ پنجم میں لکھا۔

ج ٣ ص ٢٠٧) ”جب آنحضرت ﷺ کی بیویوں نے آپ کے روبرو ہاتھ ناپنے شروع کئے تھے۔ تو آپ کو اس غلطی پر متنبہ نہیں کیا گیا۔ یہاں تک کہ آپ فوت ہو گئے۔“

ایسے ہی (ازالہ ص ٢٠١، خزائن ج ٣ ص ٢٠٧) میں بھی یہی مرزا نے لکھا ہے ”جس سے ثابت ہوا کہ اس پیش گوئی کی اصل حقیقت آنحضرت ﷺ کو بھی معلوم نہیں تھی۔“

١٩٧

صفحہ ٣٢٤

حالانکہ مرزا خود لکھتا ہے کہ انبیاء کو غلطی پر باقی نہیں رکھا جاتا۔ (ضمیمہ نزول مسیح ص ٢٣، خزائن ج ١٩ ص ١٣١، ١٤٤) ”کیونکہ انبیاء غلطی پر قائم نہیں رکھے جاتے۔“

(حاشیہ حصہ پنجم براہین احمدیہ ص ١١٥، خزائن ج ٢١ ص ٢٨٠) ”مگر وہ (انبیاء) ہمیشہ اس غلطی پر قائم نہیں رکھے جاسکتے۔“ (حاشیہ حصہ پنجم براہین احمدیہ ص ٨٩، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٠) ”اگر کوئی لغزش بھی ہو جائے تو رحمت خداوندی جلد ان کا تدارک کر لیتی ہے۔“

نتیجہ یہ ہوا کہ آنحضرت ﷺ کا مغالطہ میں رہنا بقول مرزا ان کی نبوت کو مخدوش کرتا ہے (عیاذ باللہ) کیونکہ نبی کی غلطی تو باقی نہیں رکھی جاتی۔“

لہ خسف القمر المنیر وان لی
غسا القمران المشرقان انکر

تصدیق کرتے تھے۔ اس کے لئے یہ ضروری نہیں ہوتا تھا کہ وہ تصدیق وحی کی رو سے ہو...... چنانچہ کئی دفعہ یہ اتفاق ہوا ہو گا کہ آنحضرت ﷺ نے کسی مخبر کی خبر کو سچ سمجھا اور بعد ازاں وہ خبر غلط نکلی۔“

تو گویا آنحضرت ﷺ کی تصدیق کا اعتبار نہیں حالانکہ خود مرزا لکھتا ہے کہ انبیاء کی شان یہ ہوتی ہے: ”وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحی یوحى۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٨)

”باعث فناء فی اللہ ہونے کے اس کی زبان (یعنی ملہم کی زبان۔ ناقل) ہر وقت خدا کی زبان ہوتی ہے۔... اگرچہ اس کو خاص طور پر الہام نہ بھی ہو۔ تب بھی جو کچھ اس کی زبان پر جاری ہوتا ہے۔ وہ اس کی طرف سے نہیں۔ بلکہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔“

ص ١٥٣) ”مثلاً کوئی شریر النفس ان تین ہزار معجزات کا بھی ذکر نہ کرے جو ہمارے نبی ﷺ سے ظہور میں آئے۔“ (چشمہ ایک عیسائی کے تین سوالوں کا جواب ص ١٩، خزائن ج ١٥ ص ٢٣٥) ”مگر اپنے معجزات ونشانات کی تعداد دس لاکھ سے زائد جو بالکل کھلے کھلے اور اعلیٰ درجہ کے خارق عادت ہیں، بتلاتا ہے۔“

١٩٨

(حصہ پنجم براہین ص ٥٦، اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں۔ جو درجہ پر خارق عادت ہیں۔..... اور کیا جائے تب بھی یہ نشان جو ظاہر

ص ٤٧٤) ”اگر آنحضرت ﷺ پر کے موہوم منکشف نہ ہوئی اور نہ دو ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الہی نے تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔“

گویا مرزا اپنے آپ کے متعلق یہ کہتا ہے کہ آپ ﷺ

کے لئے ایک ایسی ذلیل جگہ تجو نجاست کی جگہ تھی۔“ مگر اپنی جا۔

(رسالہ الوصیۃ ص ١٥، خ جگہ ہوگی۔ ایک فرشتہ میں نے د مجھے کہا کہ تیری قبر کی جگہ ہے۔ اور اس کی مٹی چاندی کی تھی۔ تب آنحضرت ﷺ کی

پانچویں ہزار میں اجمالی صفات بلکہ اس کے کمالات کے معراج میں یعنی اس وقت پوری طرح ز

(ص ١٨١، خزائن ج ١ کے آخر میں یعنی ان دنوں میں افروز تھے۔ ناقل) کے اقوی الم

صفحہ ٣٢٥

(حصہ پنجم براہین ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢) ”ان چند سطروں میں جو پیش گوئیاں ہیں۔ وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں۔ جو دس لاکھ سے زائد ہوں گے اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے جو اول درجہ پر خارق عادت ہیں...... اور بہت ہی سخت گیری اور زیادہ سے زیادہ احتیاط سے بھی ان کا شمار کیا جائے تب بھی یہ نشان جو ظاہر ہوئے ، دس لاکھ سے زائد ہوں گے۔“

ص ٤٧٢) ”اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج و ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کما ہی ظاہر کی گئی ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔“

گویا مرزا اپنے آپ کو اب ان سب امور کا حقیقی عالم اور واقف سمجھتا ہے اور آپ ﷺ کے متعلق یہ کہتا ہے کہ آپ ﷺ کو ان اشیاء کے حقائق نہ معلوم ہوئے ہوں۔ نعوذ باللہ!

کے لئے ایک ایسی ذلیل جگہ تجویز کی جو نہایت متعفن اور تنگ و تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی۔“ مگر اپنی جائے قبر کے متعلق مرزا یہ لکھتا ہے:

(رسالہ الوصیۃ ص ١٥، خزائن ج ٢٠ ص ٣١٦) ”اور مجھے ایک جگہ دکھائی گئی کہ یہ تیری قبر کی جگہ ہوگی۔ ایک فرشتہ میں نے دیکھا کہ وہ زمین کو ناپ رہا تھا۔ تب ایک مقام پر اس نے پہنچ کر مجھے کہا کہ تیری قبر کی جگہ ہے۔ پھر ایک جگہ مجھے ایک قبر دکھلائی گئی کہ وہ چاندی سے زیادہ چمکتی تھی اور اس کی مٹی چاندی کی تھی۔ تب مجھے کہا گیا کہ یہ تیری قبر ہے۔“

آنحضرت ﷺ کی جگہ اور مرزا کی جگہ کا موازنہ کرو عیاذا باللہ!

پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقی کا انتہا نہ تھا۔ بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی۔“

(ص ١٨١، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٢) ”بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بنسبت ان سالوں (جب آنحضرت بذات شریف دنیا میں رونق افروز تھے۔ ناقل) کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے۔“

١٩٩

صفحہ ٣٢٦

(ص١٨٤، خزائن ج١١ ص٢٧٥) ”اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا کہ انجام کار آخر زمانہ (یعنی مرزا کا زمانہ ) میں بدر ہو جائے۔ ہلال اور بدر کی نسبت مرزا کی زبانی ذیل میں درج ہے (ملفوظات احمدیہ ص١٥٧ حصہ اول سلسلہ اشاعت لاہوری) ”چونکہ آنحضرت ﷺ کے وجود باجود سے انبیاء علیہم السلام کو ایسی نسبت ہے جیسی کہ ہلال کو بدر سے ہوتی ہے۔ ہلال کا وجود ایک تاریکی میں ہوتا ہے۔“

(ص١٩٢ خطبہ الہامیہ، خزائن ج١٦ ص٢٨٧) ”اس زمانہ میں اسلام بدر کامل کی طرح ہو جائے گا۔“

(ص١٩٣ خطبہ الہامیہ، خزائن ج١٦ ص٢٨٨) ”اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانہ میں گزر گیا اور دوسری فتح باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے۔“

(ص١٩٨ خطبہ الہامیہ، خزائن ج١٦ ص٢٩٤) ”اسلام ہلال کی مانند مسجد حرام سے ظاہر ہوا (آنحضرت ﷺ کے زمانہ مبارک میں ) پھر مسجد اقصیٰ تک پہنچا ۔ (قادیان میں ) بدر کامل ہو گیا۔“

(انجام آتھم ص٧٧، خزائن ج١١ ص ایضاً)

”گویا تمام دنیا میں کسی فرد بشر کو وہ کچھ نصیب نہ ہوا جو مرزا کو عطا ہوا۔ عیاذ باللہ!“

کے (ص١٦٢) میں اول المومنین کا معنی مرزا نے یہ لکھا ہے: ”میں اول المسلمین ہوں۔ یعنی دنیا کی ابتداء اور اس کی اخیر تک میرے جیسا اور کوئی کامل نہیں۔ جو ایسا اعلیٰ درجہ کا فانی اللہ ہو۔“

گیا۔“ (حقیقت الوحی ص٨٩، خزائن ج٢٢ ص٩٢، الاستفتاء ص٨٣، خزائن ج٢٢ ص٧٠٩، اربعین نمبر٣ ص٣٧، خزائن ج١٧ ص٤٢٨)

موسیٰ ہیں اور بقول مرزا مثیل اپنے اصل سے مفضول ہوتا ہے۔ دیکھو (نور الحق ص٧٩،٨٠، خزائن ج٨ ص١٠٥، ١٠٦) ”ومن العلوم ان الفضل للمتقدم لالذی جاء بعده کا لمتضاہین.“

٢٠٠

”فان اظہار الدین الحجج القاطعۃ العظمیٰ و ک ان دینہ لایظہر بظہور تا الحق ولا یعطی تقویٰ ا والمہدی المعہود واما الازم بل یکثر الفسق والغوای المرسلون السابقون و الودود بما سبق منہ ان ال المسیح الموعود ولذالک اس

فرشتہ جبرائیل ظاہر ہوا تو آپ نے خدیجہ کے پاس ڈرتے ڈرتے آ کی نسبت بڑا اندیشہ ہوا ہے کہ کوئی

(نزول مسیح ص١١٢، خزائن

ہے کہ جو الہامات ایسے کمزور اور ض ہیں یا شیطان کی طرف سے وہ در سے اور گمراہ ہے وہ شخص جو ان پر اِ ماخوذ ہے۔ شیطان اس سے بازی

مرزا قادیانی کی صحیح انسانی

مرزا صحیح انسان نہیں بوجوہ

کرم خا ہوں بش

کلام میں تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں

صفحہ ٣٢٧

”فان اظهار الدين على اديان اخرى لا يتحقق الا بالبينة الكبرى و الحجج القاطعة العظمى و كثرة اهل الصلاح والتقوى......وكان الله قد قدر ان دينه لا يظهر بظهور تام على الاديان كلها ولا يرزق اكثر القلوب دلائل الحق ولا يعطى تقوى الباطن لاكثرها الا فى زمان المسيح الموعود والمهدى المعهود واما الازمنة التى هى قبله فلا تعم فيها التقوى ولا الدراية بل يكثر الفسق والغواية ......فان هذا البعث بعث ما راه الاولون ولا المرسلون السابقون ولا النبيون اجمعون......وكان ذلك تقديراً من الله الودود بما سبق منه ان الغلبة التامة والصلاح الاكبر الاعم يختص بزمان المسيح الموعود ولذالك استمهل الشيطان الى هذا الزمان المسعود.“

فرشتہ جبرائیل ظاہر ہوا تو آپ نے فی الفور یقین نہ کیا کہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔ بلکہ حضرت خدیجہ کے پاس ڈرتے ڈرتے آئے اور فرمایا ”انی خشیت علی نفسی“ یعنی مجھے اپنے نفس کی نسبت بڑا اندیشہ ہوا ہے کہ کوئی شیطانی مکر نہ ہو۔“

(نزول مسیح ص ١١٢، خزائن ج ١٨ ص ٤٩٢) ”اس جگہ یہ نکتہ خوب توجہ سے یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جو الہامات ایسے کمزور اور ضعیف الاثر ہوں۔ جو فہم پر مشتبہ رہتے ہیں کہ خدا کی طرف سے ہیں یا شیطان کی طرف سے وہ درحقیقت شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں یا شیطان کی آمیزش سے اور گمراہ ہے وہ شخص جو ان پر بھروسہ کرتا ہے اور بد بخت ہے وہ شخص جو اس خطرناک ابتلاء میں ماخوذ ہے۔ شیطان اس سے بازی کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کو ہلاک کر دے۔“

مرزا قادیانی کی صحیح انسانیت پر بحث

مرزا صحیح انسان نہیں بوجوہ ذیل

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(براہین احمدیہ پنجم ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ١٢٧)

کلام میں تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل اور مجنوں یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں

٢٠١

صفحہ ٣٢٨

ہاں ملا دیتا ہو۔ اس کا کلام بیشک متناقض ہو جاتا ہے۔“

(ست بچن ص ٣١، خزائن ج ١٠ ص ١٤٣) ”ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریقہ سے انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“

(انجام آتھم ص ٨٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً) ”تلك كلم متهافتة متناقضة لا ينطق بها الا الذى ضلت حواسه و غرب عقله وقياسه وترك طريق المهتدين.“

اور مرزا کا اقرار ہے کہ میرے کلام میں تناقض ہے۔ لہذا پہلے تمام القاب کا خود مستحق ٹھہرا۔ (اعجاز احمدی ص ٨، خزائن ج ١٩ ص ١١٤) ”(میں نے) ان دو متناقض باتوں کو براہین میں جمع کر دیا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٤٨، ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢، ١٥٣) ”رہی یہ بات کہ ایسا کیوں لکھا گیا اور کلام میں تناقض کیوں پیدا ہو گیا ؟ سو اس بات کو توجہ کر کے سمجھ لو کہ یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہین احمدیہ میں میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا۔ مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنے والا مسیح میں ہوں۔ اس تناقض کا سبب بھی یہی تھا۔“

(ایام الصلح ص ١٤١، خزائن ج ١٤ ص ٣٧١، ٣٧٢) ”اس جگہ یاد رہے کہ میں نے براہین احمدیہ میں غلطی سے توفی کے معنی ایک جگہ پورا دینے کے کئے ہیں۔ جس کو بعض مولوی صاحبان بطور اعتراض پیش کیا کرتے ہیں۔ مگر یہ امر جائے اعتراض نہیں میں مانتا ہوں وہ میری غلطی ہے...... باوجود ان الہامی تصریحات کے ان الہامات کے منشاء پر اطلاع نہ پاسکا...... میرا اپنا عقیدہ جو میں نے براہین احمدیہ میں لکھا ان الہامات کی منشاء سے جو براہین احمدیہ میں درج ہیں، صریح نقیض پڑا ہوا ہے۔“

......(تحفہ گولڑویہ کا ضمیمہ ص ١٣ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٥٦) ”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔“

(انجام آتھم کا ضمیمہ ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ٣٤٣) ”تکلف سے جھوٹ بولنا گوہ کھانا ہے۔“

(آریہ دھرم ص ١١، خزائن ج ١٠ ص ١١٣) ”غلط بیانی اور بہتان طرازی راست بازوں کا کام نہیں، بلکہ نہایت شریر اور بدذات آدمی کا کام ہے۔“

مرزا نے سینکڑوں جھوٹ بکے۔ سرعدالت کے جھوٹ ہی سن لو۔

مخالف کے لفظ سے جس کے لئے ہاویہ یا ذلت کا وعدہ تھا۔ ایک گروہ مراد ہے جو اس بحث سے تعلق

٢٠٢

رکھتا ہے۔ خواہ خود بحث کرنے والا تھا یا معـ

(ص ٧، ٨، خزائن ج ٩ ص ٨) ” بھی جو فریق بحث کے لفظ میں داخل تھے سب نے میعاد کے اندر اپنی اپنی حالت ویسے ہی اس کے دوسرے تمام دوستوں ا اور (کتاب البریہ میں جو ١٨٩٧ بیان بعد تالیف انوار الاسلام کے کتاب البریہ مـ کہ ڈاکٹر کلارک صاحب مرجائیں گے اس کے واسطے کی تھی کل متعلقین مباحثہ کـ

(کتاب البریہ ص ٢٤، ٢٣٥، خـ پیش گوئی نہ تھی اور نہ وہ اس پیش گوئی مـ ظاہر ہے فریق اور شخص کے ایک ہی معـ کلارک صاحب کی بابت کی۔“

میرے مریدوں کی تعداد آٹھ ہزار ہے اس وقت اپنے مریدوں کی تعداد صر میں طاعون ہی نازل ہوگئی۔ ملاحظہ ہو

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٦، خـ چار سو آدمی ہوں گے۔ اب آٹھ ہزا

(ضرورة الامام ص ٢٣، خزائـ کرتا رہا ...... اور اس امر کی ہمیشہ کوشـ حسب فہرست منسلکہ ہذا ٣١٨ آدمی ہـ

(ضرورة الاسلام ص ٢٤، خـ صاحب تحصیلدار پرگنہ بٹالہ قابل ذکـ صحیفہ کو آئینہ کی طرح حکام بالا دست یہ بیان جو داخل عدالـ

صفحہ ٣٢٩

رکھتا ہے۔ خواہ خود بحث کرنے والا تھا یا معاون یا حامی یا سرکردہ تھا۔“

(ص ٧، ٨، خزائن ج ٩ ص ٨) ”یہ تو مسٹر عبداللہ آتھم کا حال ہوا۔ مگر اس کے باقی رفیق بھی جو فریق بحث کے لفظ میں داخل تھے...... ان میں سے کوئی بھی اثر ہاویہ سے خالی نہ رہا اور ان سب نے میعاد کے اندر اپنی اپنی حالت کے موافق ہاویہ کا مزہ چکھ لیا...... ڈاکٹر مارٹن کلارک اور ویسے ہی اس کے دوسرے تمام دوستوں اور عزیزوں اور ماتحتوں کو سخت صدمہ پہنچایا۔“

اور (کتاب البریہ میں جو ١٨٩٧ء میں بیان عدالت میں دیا۔ بالکل اس کی ضد ہے اور ہے بھی وہ بیان بعد تالیف انوار الاسلام کے کتاب البریہ ص ٢٤، خزائن ج ١٣ص ٢٠٦) ”ہم نے کبھی پیش گوئی نہیں کی کہ ڈاکٹر کلارک صاحب مر جائیں گے...... عبداللہ آتھم صاحب کی درخواست پر پیش گوئی صرف اس کے واسطے کی تھی کل متعلقین مباحثہ کی بابت پیش گوئی نہ تھی۔“

(کتاب البریہ ص ٢٣٤، ٢٣٥، خزائن ج ١٣ص ٢٧٩، ٢٨٠) ”ڈاکٹر کلارک صاحب کی بابت یہ پیش گوئی نہ تھی اور نہ وہ اس پیش گوئی میں شامل تھا۔ فریق سے مراد آتھم ہے جیسا کہ عبارت سے ظاہر ہے فریق اور شخص کے ایک ہی معنی ہیں ...... میں نے کوئی پیش گوئی نہ اشارہ کیا نہ کنایہ، ڈاکٹر کلارک صاحب کی بابت کی۔“

میرے مریدوں کی تعداد آٹھ ہزار سے زائد ہے اور جب اٹمپٹ کیس کا مقدمہ ١٨٩٨ء میں دائر ہوا تو اس وقت اپنے مریدوں کی تعداد صرف ٣١٨ تسلیم کی۔ گویا ایک سال بعد تمام کے تمام مریدوں میں طاعون ہی نازل ہوگئی۔ ملاحظہ ہوں حوالہ جات۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٦، خزائن ج ١١ ص ٣١٠) ”مباہلہ سے پہلے میرے ساتھ شاید تین یا چار سو آدمی ہوں گے۔ اب آٹھ ہزار سے کچھ زیادہ وہ لوگ ہیں جو اس راہ میں جانفشاں ہیں۔“

(ضرورۃ الامام ص ٢٤، خزائن ج ١٣ ص ٥١٣) ”مرزا غلام احمد ابتدائی ایام میں خود ملازمت کرتا رہا...... اور اس امر کی ہمیشہ کوشش کرتا رہا کہ وہ ایک مذہبی سرگروہ مانا جائے ...... اس فرقہ میں حسب فہرست منسلکہ ہذا ٣١٨ آدمی ہیں۔“

(ضرورۃ الاسلام ص ٤٢، خزائن ج ١٣ص ٥١٤) ”اس جگہ محنت اور تفتیش منشی تاج الدین صاحب تحصیلدار پرگنہ بٹالہ قابل ذکر ہیں۔ جنہوں نے انصاف اور احقاق حق مقصود رکھ کر واقعات صحیحہ کو آئینہ کی طرح حکام بالا دست کو دکھا دیا۔“

یہ بیان جو داخل عدالت ہوا۔ وہ ایک تحصیلدار کا بیان تھا جس کی تصدیق ص ٧٢ میں

٢٠٣

صفحہ ٣٣٠

خود مرزا نے بھی کر دی۔

لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آوے گی کہ ہذا خلیفۃ اللہ المہدی اور سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور کس مرتبہ کی ہے۔ جو اس کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد اللہ ہے۔“ یہ بھی صاف جھوٹ ہے۔ کہیں بخاری شریف میں یہ روایت نہیں۔

میں لکھا ہے...... جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ مخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں، وہ نبی کہلاتا ہے۔“ یہ بھی جھوٹ ہے۔ کیونکہ مجدد صاحبؒ نے کہیں نبی نہیں لکھا۔ بلکہ ”محدث“ لکھا ہے۔ جس کو مرزا نے آج سے قبل (براہین احمدیہ ص ٥٤٦ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٥٢، تحفہ بغداد ص ٢١، خزائن ج ٧ ص ٢٨، ازالۃ اوہام ص ٩١٠، خزائن ج ٣ ص ٦٠٠) میں نقل کیا ہے اور وہاں صاف لفظ ”محدث “ ہے۔

راست بازوں پر بے ثبوت تہمت لگاتا ہے۔“ (مثلہ قریب منہ پیغام صلح ص ٢١، ٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٣٥٤، ٣٥٣، ضمیمہ چشمہ معرفت ص ١٨، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٩) مرزا نے خود راستبازوں پر بے ثبوت تہمتیں لگائیں۔

حضرت مریم علیہا السلام پر (کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨) ”اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ یہ سب مجبوریاں تھیں، جو پیش آگئیں۔“

(زندہ نبی ص ٣٠، ٣١) ”ایک اور خطرناک معاملہ ہے جس کا جواب عیسائیوں کے پاس ہرگز نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ مریم کی ماں نے عہد کیا تھا کہ وہ بیت المقدس کی خدمت کرے گی اور تارکہ رہے گی نکاح نہ کرے گی اور خود مریم نے بھی یہ عہد کیا تھا کہ میں ہیکل کی خدمت کروں گی۔ باوجود اس عہد کے پھر وہ کیا بلا اور آفت آپڑی کہ یہ عہد توڑا گیا اور نکاح کیا گیا...... دوم جب عیسائیوں کے نزدیک کثرت ازواج زنا کاری ہے تو وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں...... سوم جب کہ حمل ہو چکا تھا، تو پھر حمل میں نکاح کیوں کیا گیا...... اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ مریم کو ہیکل میں پیٹ ہو گیا تھا...... چار پانچ مہینے کے بعد جب پیٹ بڑھا تو پردہ نہ رہ سکا تو پھر رہا نہ گیا، تو

٢٠٢

صفحہ ٣٣٦

ہیکل کے بزرگوں کو بخوبی معلوم ہو گیا کہ مریم حاملہ ہے اور انہیں فکر پیدا ہوئی اور جیسا کہ دیکھا جاتا ہے کہ اگر کسی شریف خاندان کی کوئی لڑکی حاملہ ہو جائے تو جھٹ پٹ اس کا نکاح کر دیتے ہیں تاکہ ناک نہ کٹ جائے۔"

حضرت مسیح علیہ السلام پر بے ثبوت تہمت لگائی۔

(کشتی نوح ص ٧٢ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ٧١) ”مسیح علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧۔٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) ”یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا۔ یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

مرزا نے خود اقرار کیا ہے کہ میں نے حضرت حسینؓ اور حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں زبان درازی کی ہے۔ دیکھو

(اعجاز احمدی ص ٣٩، خزائن ج ١٩ ص ١٤٩)

”میں نے اس قصیدہ میں جو امام حسینؓ کی نسبت لکھا ہے یا عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت بیان کیا ہے۔ یہ انسانی کارروائی نہیں خبیث ہے وہ انسان جو اپنے نفس سے کاملین اور راست بازوں پر زبان درازی کرتا ہے۔“

حضرت داؤد علیہ السلام پر تہمت لگائی۔

(ست بچن ص ١٧٢، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٦) ”اور ایک خاکی یسوع صاحب کی جدہ ایک فاحشہ عورت دادی بھی تھی۔ بنت سبع کے نام سے موسوم ہے۔ یہ وہی پاک دامن تھی جس نے داؤد علیہ السلام کے ساتھ زنا کیا تھا۔ دیکھو (صموئیل ٢ ب ١١) (یہ حوالہ بھی غلط ہے صموئیل ٢ باب ١١ آیت ٢) میں یہ واقعہ نہیں۔ بلکہ آیت (٤، ٥) میں ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام وموسیٰ والمسیح علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام پر سرقہ کی تہمت لگائی۔ خود مسمریزم کو بھی سحر کہتا ہے۔

(ازالۃ الاوہام

ص ٦،٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١١٥،١١٦) ”اور یہ بات بھی قطعی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام باذن و حکم الٰہی مسمریزم کے عمل کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے۔۔۔۔۔۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خداتعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم علیہ السلام سے کم نہ رہتا۔“

٢٠٥

صفحہ ٣٣٢

(ازالہ اوہام ص ٧٤٧، ٧٤٨، خزائن ج ٣ ص ٥٠٣، ٥٠٤) ”پھر وہ ایک اور وہم پیش کرتے کہ قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض مردے زندہ ہو گئے۔ جیسے وہ مردہ جس کا خون بنی اسرائیل نے چھپا دیا تھا۔ جس کا ذکر اس آیت میں ہے”وإذ قتلتم نفسا فادر أتم فيها والله مخرج ما كنتم تكتمون“

اس کا جواب یہ ہے کہ...... یہ طریق علم عمل الترب مسمریزم کا ایک شعبہ تھا۔ جس کے بعض خواص میں سے یہ بھی ہے کہ جمادات یا مردہ حیوانات میں ایک حرکت مشابہ بحرکت حیوانات پیدا ہو کر اس سے بعض مشتبہ اور مجہول امور کا پتہ لگ سکتا ہے۔“

اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزہ کو بے وقعت کیا جا رہا ہے۔ (ازالہ اوہام ص ٧٥٣، خزائن ج ٣ ص ٥٠٦) ”اور یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم میں چار پرندوں کا ذکر لکھا ہے کہ ان کو اجزاء متفرقہ یعنی جدا جدا کر کے چار پہاڑیوں پر چھوڑا گیا تھا اور پھر وہ بلانے سے آگئے تھے۔ یہ بھی عمل الترب کی طرف اشارہ ہے۔“

یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے معجزہ کو بے حقیقت ثابت کرنے کی کوشش ہے اور آنحضرت ﷺ پر یہ تہمت لگائی کہ آپ مدۃ العمر غلطی میں مبتلا رہے۔

(ازالہ اوہام ص ٣٠٠، ٣٠١، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧) ”جب آنحضرت ﷺ کی بیبیوں نے آپ کے منہ پر ہاتھ مارنے شروع کئے تھے تو آپ کو اس غلطی پر تنبیہ نہیں کیا گیا۔ یہاں تک کہ آپ فوت ہو گئے۔“

نیز آنحضرت ﷺ پر یہ تہمت لگائی کہ آپ کی پہلی وحی ہی شیطانی تھی۔

اگر کوئی جواب دے کہ مرزا کی ان باتوں کی بنیاد بائبل مقدس پر ہے تو ہم کہتے ہیں کہ مرزا کے نزدیک اناجیل کا ذرہ بھر بھی اعتبار نہیں۔ یہی تو دلیل ہے کہ یہ سب باتیں بے ثبوت بہتان ہیں۔ دیکھو

(تریاق القلوب ص ٨، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢) ”یہ چاروں انجیلیں جو یونانی سے ترجمہ ہو کر اس ملک میں پھیلائی جاتی ہیں کہ ایک ذرہ قابل اعتبار نہیں۔“

نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا نے کیونکر مقدسین پر بے ثبوت اتہامات لگائے ہیں۔ اس لئے وہ (آریہ دھرم ص ٥٥) کے تمام القاب کا مستحق ٹھہرا۔

٢٠٦

کوئی شریر گالی دے تو مومن کو لازم ہے کہ آئے گی۔“

مرزا کی گالیوں کی فہرست اس قد لہٰذا اگرچہ بالفرض مرزا نے جو صادق آئے گی۔

(الاستفتاء ص ٣٦ ملحقہ حقیقت الوحی ومن سير اللئام.“

مرزا کا خود اعتراف ہے کہ میں (التبلیغ ص ٥٥١، ملحقہ آئینہ کمالات من أيام مديدة انني جعلت ا اخفيته..... وتوقفت في الاظهار ع

جواب

اگر کوئی اس میں تاویل کرے خزائن ج ٧ ص ١٩١) میں مرزا نے لکھا ہے کہ م

(حمامة البشریٰ ص ١٢ حاشیہ، خزائن محمول على الظاهر لا تاوی ذكر القسم “

ہے اور پھر کہتا ہے کہ یہ خدا کی وحی ہے جو ع بندروں سے بدتر ہوتا ہے۔“

مرزا خود اس دفعہ کا مجرم ہے کہ اس الہام کو موکد بالقسم ذکر کیا۔ دیکھو (آئینہ هو قل ای و ربی انه لحق و ما انتم اسی طرح براہین احمدیہ کے ص دیکھو (سرمہ چشم آریہ ص ٢٢، خزائن ج ٢ ص ٦٨

صفحہ ٣٣٣

کوئی شریر گالی دے تو مومن کو لازم ہے کہ اعراض کرے۔ نہیں تو وہی کت پن کی مثال صادق آئے گی۔"

مرزا کی گالیوں کی فہرست اس قدر مشہور ہے کہ محتاج بیان نہیں۔ لہٰذا اگرچہ بالفرض مرزا نے جواباً ہی گالیاں دی ہوں تو بھی اس پر کت پن کی مثال صادق آئے گی۔

(الاستفتاء ص ٣٦ ملحقہ حقیقت الوحی ، خزائن ج ٢٢ ص ٦٥٧) "الاخفاء معصية عندی

ومن سير اللئام."

مرزا کا خود اعتراف ہے کہ میں نے اخفاء کیا۔ جس میں قسم سے تاکید ہے۔

(التبلیغ ص ٥٥١، ملحقہ آئینہ کمالات اسلام، خزائن ج ٥ ص ایضاً) "ووالله قد كنت أعلم

من أيام مديدة اننى جعلت المسيح بن مريم وانى نازل منزلته ولكنى اخفيته...... وتوقفت في الاظهار عشر سنين."

جواب

اگر کوئی اس میں تاویل کرے تو اس کی گنجائش نہیں۔ کیونکہ (حمامة البشریٰ ص ١٢ حاشیہ، خزائن ج ٧ ص ١٩٢) میں مرزا نے لکھا ہے کہ جملہ قسمیہ میں تاویل و استثناء نہیں ہو سکتا۔ دیکھو

(حمامة البشریٰ ص ١٤ حاشیہ خزائن ج ٧ ص ١٩٢) "والقسم يدل على ان الخبر

محمول على الظاهر لا تاويل فيه ولا استثناء والا فاى فائدة كانت في ذكر القسم"

ہے اور پھر کہتا ہے کہ یہ خدا کی وحی ہے جو مجھ کو ہوئی ہے۔ ایسا بدذات انسان تو کتوں اور سوروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے۔"

مرزا خود اس دفعہ کا مجرم ہے کہ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ محمدی بیگم کا نکاح مجھ سے ہوگا اور اس الہام کو موکد بالقسم ذکر کیا۔ دیکھو (آسمانی فیصلہ ص ٤٠، خزائن ج ٤ ص ٣٥٠) "يسألونك احق هو قل ای و ربی انه لحق وما انتم بمعجزين زوجناكها لا مبدل لكلماتي."

اسی طرح براہین احمدیہ کے متعلق لکھتا ہے کہ میں نے ملہم و مامور ہو کر اس کتاب کو لکھا۔ دیکھو (سرمہ چشم آریہ ص ٢٢ خزائن ج ٢ ص ٢٢٨) اور اسی براہین احمدیہ میں حیات مسیح علیہ السلام کو دیکھ

٢٠٧

صفحہ ٣٣٤

آیات قرآنی سے ثابت کیا ہے۔ (براہین ص ٤٩٠، ٥٠٥، خزائن ج١ ص ٦٠١) جس مسئلہ کو مرزائی بیان کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ ظنی ہے۔ جس کو مرزا نے ملہم وما مور ہو کر براہین احمدیہ میں لکھا۔ مرزا کے باقی الہامات کو بھی اسی قبیلہ سے سمجھتے ہیں۔ لہٰذا مرزا بقول خود بذاتہ کذاب اور مردود اور ملحدوں سے بدتر ہوا۔

جھوٹ بولنے والا بدتر اور شریر گنڈہ ہے۔

(نشان آسمانی ص ١٢، خزائن ج ٤ ص ٣٦٢)

”اگر ہم ناپاک اور کذاب ہو جائیں اور خدا تعالیٰ کے سامنے افتراؤں سے نہ ڈریں تو پھر ہم سے کتے اور سؤر اچھے ہیں ۔“

”یونہی کسی آیت کا سر پیر کاٹ کر اور اپنے

(چشمہ معرفت ص ٢٨٥، خزائن ج ٢٣ ص ٢٩٦)

مطلب کے موافق بنا کر پیش کر دینا یہ تو ان لوگوں کا کام ہے جو سخت شریر اور بدمعاش اور گنڈے کہلاتے ہیں۔“

مرزا نے یہ سب کچھ کیا جھوٹ بولا جیسے ہم نمبر ٣ میں بیان کر آئے ہیں اور آیات میں بھی اپنے مطلب نکالنے کے لئے توڑ مروڑ کی دیکھو کہ مرزائیوں کے نزدیک حیات مسیح بالکل غلط ہے۔ لیکن مرزا نے اس کو (براہین احمدیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣، براہین احمدیہ ص ٥٠٥، خزائن ج ١ ص ٦٠١) میں آیات قرآنیہ سے ثابت کیا۔ نیز مرزا اپنی تصانیف میں قرآنی آیات اور احادیث سے ختم نبوت کو ثابت کیا۔ جس کے متعلق مرزا کا بیٹا بشیر محمود حقیقت النبوۃ میں لکھتا ہے کہ میرے ابا نے یہ تبدیلی کی اور ان تمام عبارتوں کو جو مرزا قادیانی نے ختم نبوت کے لئے لکھی ہیں اور ١٩٠٠ء سے پہلے کی ہیں، منسوخ سمجھو۔

”معلوم ہوا کہ نبوت کا مسئلہ آپ (مرزا) پر ١٩٠٠ء یا ١٩٠١ء میں

(حقیقت النبوۃ ص ١٢١)

کھلا ہے اور چونکہ ”ایک غلطی کا ازالہ“ ١٩٠١ء میں شائع ہوا ہے۔ جس میں آپ نے اپنی نبوت کا اعلان بڑے زور سے کیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ١٩٠١ء اپنے عقیدہ میں تبدیلی کی ہے۔ یہ بات ثابت ہے کہ ١٩٠١ء سے پہلے کے وہ حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔“

نیز مرزا نے کشتی نوح میں توڑ مروڑ کر اپنا مطلب نکالا۔ دیکھو (کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠) اور اسی واقعہ کو حصہ چہارم میں بطور پیش گوئی کمال تصریح سے بیان کیا گیا ہے کہ عیسیٰ بن مریم اس امت میں اس طرح پیدا ہوگا کہ پہلے کوئی فرد اس امت کا مریم بنایا جائے گا اور پھر بعد

٢٠٨

صفحہ ٣٣٥

اس کے اس مریم میں عیسیٰ کی روح پھونک دی جائے گی۔ پس وہ مریمیت کے رحم میں ایک مدت تک پرورش پا کر عیسیٰ کی روحانیت میں تولد پائے گا اور اس پر وہ عیسیٰ بن مریم کہلائے گا۔“

کس قدر قرآن مجید میں تحریف کی جا رہی ہے۔ سورہ تحریم میں اس مضمون کا ذکر ہی نہیں۔ وہ تو گذشتہ مریم وابن مریم کا ذکر ہے۔ اس امت کا اس میں نام و نشان نہیں اور قرآن مجید کی غلط تفسیریں کر کے اپنی مطلب براری مرزا نے کی۔ مثلاً (تحفہ گولڑویہ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ١٤٠) ”کنتم خیر امة اخرجت للناس “ قرآن شریف میں الناس کا لفظ بمعنی دجال معہود بھی آتا ہے اور جس جگہ ان معنوں کو قرینہ قویہ متعین کرے تو پھر اور معنی کرنے معصیت ہے۔ چنانچہ قرآن شریف کے ایک اور مقام میں الناس کے معنی دجال بھی لکھا ہے اور وہ یہ ہے ’لخلق السمٰوت و الارض اکبر من خلق الناس “ (دراصل لفظ رجال ہوگا جس کو خوش فہم نے دجال خیال کر لیا)

(نسیم دعوت ص ٥٢، خزائن ج ١٩ ص ٤١٨) میں ’رب العالمین، الرحمٰن، الرحیم مٰلك یوم الدین “ کی تفسیر آکاش، سورج، قمر، زمین کیا ہے۔ یا ظہر الفساد فی البر والبحر کی تفسیر (پیغام صلح ص ٣٤، ٣٥، خزائن ج ٢٣ ص ٣٦٢، ٣٦٣، زندہ نبی ص ١٢) میں دو تفسیریں کیں۔ جو آپس میں متضاد ہیں اور یہی دونوں تحریف قرآن کی مثال نہیں اور بھی بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں۔

النفس بننا ہے۔ جیسے (براہین احمدیہ ص ١٠١، خزائن ج ١ ص ٩٠، ٩١) میں ہے:

”اور اس میں ایسا کوئی لفظ نہیں کہ جس میں کسی بزرگ یا پیشوا کسی فرقہ کی کسر شان لازم آئے اور خود ہم ایسے الفاظ کو صراحتاً یا کنایۃً اختیار کرنا خبط عظیم سمجھتے ہیں اور مرتکب ایسے امر کو پرلے درجہ کا شریر النفس خیال کرتے ہیں۔“

مرزا نے سب فرقوں کے بزرگوں کی شان میں ہتک آمیز الفاظ استعمال کئے ہیں۔ جیسے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت الیسع علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت مسیح علیہ السلام اور آنحضرت ﷺ کی شان میں ہتک آمیز عبارات پیش ہو چکی ہیں۔

نیز مرزا نے صحابہ کرامؓ کی بھی توہین کی ہے۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم کا ضمیمہ ص ١٢٠، خزائن ج ٢١ ص ٢٨٥) ”بعض نادان صحابی جن کو درایت سے کچھ حصہ نہ تھا۔ وہ بھی اس عقیدے سے بے خبر تھے کہ کل انبیاء فوت ہو چکے ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٢٦، ١٢٧) ”بعض ایک دو کم سمجھ صحابہ گو جن کی درایت

٢٠٩

صفحہ ٣٣٦

عمدہ نہیں تھی۔...... جیسا کہ ابو ہریرہ جو غبی تھا اور درائت اچھی طرح نہیں رکھتا تھا۔“

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٤٣، ٤٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٦)

شیطان اور لعنتی کا کام ہے۔“ (حقیقت الوحی ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٨) مرزا نے خدا پر جھوٹ بولا

(آسمانی فیصلہ ص ٣، ٹائٹل پیج ، خزائن ج ٤ ص ٣٤٢)

”ويسألونک احق ھو قل ای وربی انه لحق وما انتم بمعجزین زوجناکها لامبدل لکلماتی۔“ اگر یہ سچا الہام ہے تو پھر الہام جو موکد بالقسم ہے۔ پورا کیوں نہ ہوا اور محمدی بیگم سے نکاح کیوں نہ ہوا۔ اس میں تاویل کی گنجائش نہیں۔ بقاعدہ کلیہ

(حمامة البشریٰ ص ١٤ حاشیہ، خزائن ج ٧ ص ١٩٢)

مرزا قادیانی کی تبدیلی عقائد وغیرہ سب کی علت غائیہ پولیٹیکل غرض کی وجہ

سے انگریزی حکومت کی چاپلوسی تھی

ص ٢٥، خزائن ج ١٤ ص ٢١٠) ”اگر چہ عیسائی عقیدوں کے لحاظ سے حضرت مسیح کا دوبارہ آنا پولیٹیکل مصالح سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ مگر جس طور سے حال کے اسلامی مولویوں نے حضرت عیسیٰ کا آسمان سے اترنا اور مہدی کے ساتھ اتفاق کر کے جہادی لڑائی کرنا غلط طور پر اپنے اعتقاد میں داخل کر لیا ہے۔ یہ عقیدہ نہ صرف جھوٹ ہے۔ بلکہ خطرناک بھی ہے اور جو کچھ حال میں حضرت عیسیٰ کے ہندوستان میں آنے اور کشمیر میں وفات پانے کا مجھے ثبوت ملا ہے۔ وہ ان خطرناک خیالات کو دانش مندوں کے دلوں سے بکلی مٹا دیتا ہے۔“

(اشتہار گورنمنٹ کی توجہ کے لائق ص ٣، ٤، خزائن ج ٢١ ص ٣٨٠، ٣٨١ ملحقہ شہادة القرآن)

”بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں؟ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا سوال ہے۔ کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے۔ اس سے جہاد کرنا کیسا ہے؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کو بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں۔ یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں اور دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو...... سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔...... سو اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا

٢١٠

اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں

(ازالہ اوہام ص ٤٢٢، ٤٢٣ حاشیہ، خ

دیکھتے ہیں اور اس زمانہ کے مولویوں کے فتوؤں دی تھیں کہ انگریزوں کو قتل کر دینا چاہئے۔ تو تھے؟ کیسے ان کے فتوے تھے؟ جن میں نہ رحم چوروں اور قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی رکھا۔“

(اربعین ص ١ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص

امن عامہ اور اغراض گورنمنٹ کے خلاف ہو

(حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاج

تریاق القلوب) ”اب میں اپنی گورنمنٹ محسنہ سالہ میری خدمت ہے۔ جس کی نظیر برٹش ہاں میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں نے بھی کیا کرتا ہوں اور ایسا ہی پادریوں کے میں اس بات کا بھی اقراری ہوں کہ جبکہ بعض اور حد اعتدال سے بڑھ گئی...... تو مجھے ایسی پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر جو اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو۔ تب میں نے نیت سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے ملک میں کوئی بے امنی پیدا نہ ہو...... سو مجھے ہے حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں

صفحہ ٣٣٧

اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٤، ٢٧٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٤٩٠) ”جب ہم ١٨٥٧ء کی سوانح کو دیکھتے ہیں اور اس زمانہ کے مولویوں کے فتوؤں پر نظر ڈالتے ہیں۔ جنہوں نے عام طور پر مہریں لگا دی تھیں کہ انگریزوں کو قتل کر دینا چاہئے۔ تو ہم بحر ندامت میں ڈوب جاتے ہیں کہ کیسے مولوی تھے؟ کیسے ان کے فتوے تھے؟ جن میں نہ رحم تھا، نہ عقل تھی، نہ اخلاق، نہ انصاف۔ ان لوگوں نے چوروں اور قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کیا اور اس کا نام جہاد رکھا۔“

(اربعین ص ١ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٣٤٣) ”پس ہر ایک پیش گوئی سے اجتناب رہے گا جو امن عامہ اور اغراض گورنمنٹ کے خلاف ہو۔“

(حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست ص ب، ج، خزائن ج ١٥ ص ٣٨٩ تا ٣٩١، ملحقہ تریاق القلوب)

”اب میں اپنی گورنمنٹ محسنہ کی خدمت میں جرأت سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہ بست سالہ میری خدمت ہے۔ جس کی نظیر برٹش انڈیا میں ایک بھی اسلامی خاندان پیش نہیں کرسکتا...... ہاں میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں نیک نیتی سے دوسرے مذاہب کے لوگوں سے مباحثات بھی کیا کرتا ہوں اور ایسا ہی پادریوں کے مقابل پر بھی مباحثات کی کتابیں شائع کرتا رہا ہوں اور میں اس بات کا بھی اقراری ہوں کہ جبکہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہوگئی اور حد اعتدال سے بڑھ گئی...... تو مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے۔ ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو۔ تب میں نے ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنی صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کے دبا دینے کے لئے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے تاکہ سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بے امنی پیدا نہ ہو...... سو مجھے پادریوں کے مقابل میں جو کچھ وقوع میں آیا ہے۔ یہی ہے حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا ہے اور دعوے سے کہتا ہوں کہ میں تمام

٢١١

صفحہ ٣٣٨

مسلمانوں میں سے اول درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اولیٰ درجہ پر بنا دیا ہے۔...... تیسرے خدا تعالیٰ کے الہام نے۔“

(اشتہار المنار ص ٢، ملحقہ خطبہ الہامیہ)

”اس جگہ بارہا بے اختیار دل میں یہ بھی خیال گزرتا ہے کہ جس گورنمنٹ کی اطاعت اور خدمت گزاری کی نیت سے ہم نے کئی کتابیں مخالفت جہاد اور گورنمنٹ کی اطاعت میں لکھ کر دنیا میں شائع کیں اور کافر وغیرہ اپنے نام رکھوائے۔ اس گورنمنٹ کو اب تک معلوم نہیں کہ ہم دن رات کیا خدمت کررہے ہیں۔“

(اخبار الحکم نمبر ١٢ ج ١٢، ١٤؍ فروری ١٩٠٨ء ص ٧ کالم نمبر ١ عنوان (ملفوظات احمدیہ) از بدر)

”اوّل خویشاں بعدہ درویشاں کے مطابق ہمارا فرض ہے کہ پہلے اپنی قوم کی اصلاح کریں۔ جب مسلمانوں میں ہی ہزاروں گند ہوں تو دوسروں کو کیا کہا جاسکتا ہے؟ جہاد جہاد پکارتے ہیں۔ میں کہتا ہوں اگر ہمیں جہاد کا حکم ہوتا تو سب سے پہلے انہی سے جہاد کیا جانا چاہئے تھا۔ یہ عادۃ اللہ ہے کہ جس قوم کے اندر کتاب اللہ ہو، پہلے اسے درست کیا جاتا ہے پھر دوسری قوموں کی طرف توجہ ہوتی ہے۔“

مرزا کے الہامات میں اغلاط ہیں

سرور کی خاصیت رکھتا ہے۔...... اور اس کی عبارت فصیح اور غلطی سے پاک ہوتی ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٦٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٧٥) (پہلا الہام ہی غلط ہے)

ہے: ”مگر میں کیا کہوں اور کیا لکھوں معانی مانگ کر کہتا ہوں کہ جس وقت میں نے آپ کے الہامات لکھے ہوئے سنے تھے تو ان میں بعض جگہ صرفی اور نحوی غلطیاں تھیں۔“

نسبت دیکھتا ہوں۔ کیونکہ جب میں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے۔“

٢١٢

وحی کے لئے اول شرط یہ ہے کہ ا رہے۔...... شیطان گنگا ہے۔ اپنی زبا کثیر المقدار باتوں پر قادر نہیں ہو سکت ہے۔...... اور نہ وہ بہت دیر تک چل والے یہ قوت نہیں پاتے۔ وہ بن شیطانی خواب یا الہام میں کوئی تمیز الہام میں جیسے کہ قرآن شریف م اپنے ساتھ رکھتی ہے۔ اول یہ کہ ا میں اس قسم کے غیب ہوتے ہیں آ گے اور فلاں شخص جس نے صدق کے لئے فلاں فلاں نشان دکھا ئی مندرجہ بالا معیار پر م

دوسرا حصہ

من لدن رب کریم“

البشریٰ ص ٤٤، ٢) ”السماء وا

ما يرضيك “ اس کا معنی خود سے وہ چیز اتارنے والا ہے جو

عليهم “ ( صحیح لہم ہے ۔

عدتم عدنا “ ( صحیح جئتكم )

صفحہ ٣٣٩

وحی کے لئے اول شرط یہ ہے کہ انسان محض خدا کا ہو جائے اور شیطان کا کوئی حصہ اس میں نہ رہے۔......شیطان گونگا ہے۔ اپنی زبان میں فصاحت اور روانی نہیں رکھتا اور کتے کی طرح وہ فصیح اور کثیرالمقدار باتوں پر قادر نہیں ہو سکتا۔ صرف ایک بدبودار پیرایہ میں فقرہ در فقرہ دل میں ڈال دیتا ہے۔......اور نہ وہ بہت دیر تک چل سکتا ہے۔ گویا جلدی تھک جاتا ہے۔......شیطان سے الہام پانے والے یہ قوت نہیں پاتے۔ وہ بزدل ہوتے ہیں۔ کیونکہ شیطان بزدل ہے۔......یہ سوال کہ آیا شیطانی خواب یا الہام میں کوئی غیبی خبر ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شیطانی خواب یا الہام میں جیسے کہ قرآن شریف میں ظاہر ہوتا ہے۔ کبھی خبر غیب تو ہو سکتی ہے۔ مگر وہ تین علامتیں اپنے ساتھ رکھتی ہے۔ اول یہ کہ وہ غیب کوئی اقتداری غیب نہیں ہوتا۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں اس قسم کے غیب ہوتے ہیں کہ فلاں شخص جو شرارت سے باز نہیں آیا۔ ہم اس کو ہلاک کر دیں گے اور فلاں شخص جس نے صدق دکھلایا ہم اس کو ایسی ایسی عزت دیں گے اور ہم اپنے نبی کی تائید کے لئے فلاں فلاں نشان دکھائیں گے ۔"

مندرجہ بالا معیار پر مرزا کے الہامات ہم دیکھتے ہیں۔

دوسرا حصہ

من لدن رب كريم"

البشریٰ ص٤٦، ٢) "السماء والارض معك كماهو معى"

مايرضيك" اس کا معنی خود مرزا کرتا ہے۔ ”تیرے رب نے فرمایا ہے کہ وہ تیرے لئے آسمان سے وہ چیز اتارنے والا ہے جو تجھے خوش کرے گی۔"

عليهم" (صحیح لہم) ہے۔

عدتم عدنا" (صحیح یرحمکم) ہے۔

٢١٣

صفحہ ٣٤٠

موسٰی ”قال فی المنجد ص٢٠٠، ترحم عليه قال رحمه الله“

ايها الكافرون“

حال“ امشاکم کا معنی مرزا نے ”متقیہ“ کیا ہے۔

الخنزير“ الله تعالیٰ آنحضرت ﷺ سے تو خطاب بصیغہ مفرد کرے۔ لیکن مرزا کو تعظیماً بصیغہ جمع (المنجد تکذب علیہ زعم انہ کاذب)

الاهو وان يردك بخير فلا راد لفضله“

وعملوالصالحات“ (مستثنیٰ منہ ندارد)

نہیں)

اعادۂ جار)

مختلف“

مونث ہے منہا چاہئے۔ ”المنجد اخرج الشی ابرزہ“

ثقیلہ کا موقع کیا ہے؟) ٢١٤

کام ظاہر ہوگا۔ ”المنجد تاتی الامر

آنکھیں اچھی ہوگئیں) ”المنجد النظر“

نسقاً“ (ثقیلہ کا کیا مقام ہے)

خبر“ ”المنجد رشن رش ينحد و منها الماء“

بايعنى ربى“ (میرے رب تو م المنجد“

في البلاد الا الذين علوا م استكبار“

فباى الآء ربكما تكذبان“ (ا

غاسق)

دوسرے معنی پسند نہیں۔ یہی لفظ ( کیا ”یہ معنی قائم نہیں رہیں گے۔“

صفحہ ٣٤١

کام ظاہر ہوگا۔“ ”المنجد تاتى الامر تهيأ وتسهل“

آنکھیں اچھی ہوگئیں) ”المنجد برقه زينه برق عينيه و بعينيه وسعها واحد النظر“

نسفاً“ (ثقیلہ کا کیا مقام ہے)

خبر“ ”المنجد رشن رشنا تطفل الرش والرشن الفرضة اى الثلمة التي ينحد و منها الماء“

بايعنى ربی“ (میرے رب تو میری بیعت قبول کر۔ ”وبايعه عقد البيع وعاهده المنجد“

في الداد الا الذين علوا باستكبار“ (البشریٰ ص ٧٣،٢) ”الا الذين علوا من استكبار“

فبای آلاء ربكما تكذبان“ (صحیح ترتیب شمس و قمر بتقدیم شمس ہوتی ہے۔)

غاسق)

دوسرے معنی پسند نہیں۔ یہی لفظ (حقیقت الوحی ص ٣٨٠، خزائن ج ٢٢ ص ٣٩٤) میں ہے۔ وہاں ترجمہ کیا ”یہ معنی قائم نہیں رہیں گے۔“

٢١٥

صفحہ ٣٤٢

”رحمت الٰہی جو تجھ پر ہے، اس کی کیفیت یہ ہے کہ وہ عرش سے لے کر فرش تک ہے۔“

حتى يخرج“ (اس کی ترکیب کیا ہے اور نیز دوحہ کو پہلے مونث کیا پھر مذکر؟)

عمرك“ (اما کے بعد نون نہیں آیا)

پشاور۔“

فرعها فی السماء“

اشارہ مذکورہ بالا)

سنین ہے)۔

ليس هناك الماء“

مرزا قادیانی کی اصلاحی خدمات

پنجاب میں جب مرزا مدعی اصلاح ہو کر نمودار ہوا۔ اس میں بہت سی غیر شرعی رسوم موجود تھیں۔ جن کو مرزا رد تو کیا کرتا، خود ان میں مبتلا نظر آتا ہے۔ دیکھو:

تھے۔ مرزا نے اس میں کیا اصلاح کی؟ ذیل میں درج ہے:

(سیرۃ المہدی ص ٥٣، ج ٢) ”ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم کا نکاح حضرت صاحب نے نواب محمد علی خان صاحب کے ساتھ کیا تو مہر پچپن ہزار مقرر کیا...... ہماری ہمشیرہ امۃ الحفیظ بیگم کا نکاح خان محمد عبداللہ خان صاحب کے ساتھ ١٥٠٠٠ مقرر کیا گیا۔“

٢١٦

صفحہ ٣٤٣

جول رکھتے تھے۔ مرزا نے بھی یہی وتیرہ اختیار کیا نامحرموں سے شہتوت وغیرہ کھائے۔ ان کو باغ میں لے گیا۔ (سیرۃ المہدی ص ٢،١١٧) آج صبح حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت ام المومنین کے ساتھ سیر کے لئے اپنے باغ کو تشریف لے گئے۔ تمہاری بیوی بھی ساتھ چلی گئی اور میری بیوی اور بعض مستورات بھی ساتھ تھیں۔ باغ میں جا کر حضرت مسیح موعود نے کچھ شہتوت منگوائے۔ جس پر بعض عورتیں حضرت کے لئے شہتوت لانے کے واسطے گئیں اور تمہاری بیوی بھی گئی۔ مگر اور عورتیں تو یونہی درخت پر سے شہتوت جھاڑ کر لے آئیں۔ مگر تمہاری بیوی باغ کے ایک طرف جا کر اور (ص ١١٨) خود شہتوت کے درخت پر چڑھ کر اچھے اچھے شہتوت اپنے ہاتھ سے توڑ کر لائی، الخ (اس کے بعد اس عورت کو بچہ کی خوشخبری دی ) دیکھو (ص ٢،١٦٠) پر بھی ثبوت ملاحظہ ہو۔

جواب سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ کے مقدمہ میں جو سیشن جج جی۔ ڈی کھوسلہ کا فیصلہ لکھا ہوا ہے۔ اس کو ملاحظہ کیا جائے۔

(مقدمہ بخاری ص ١٣، فیصلہ ٦؍جون ١٩٣٥ء) ”معلوم ہوتا ہے کہ مرزا ایک ٹانک استعمال کیا کرتا تھا۔ جس کا نام پلومر کی شراب تھا اور ایک موقع پر اس نے اپنے ایک دوست کو لکھا کہ وہ پلومر کی شراب لاہور سے خرید کر اسے بھیج دے۔ دوسرے چند ایک خطوط میں یاقوتی کا ذکر ہے۔ موجودہ مرزا (مرزا بشیر الدین محمود) نے خود اعتراف کیا ہے کہ اس کے باپ نے پلومر کی شراب ایک دفعہ بطور دوائی استعمال کی تھی۔“

نے بھی اس کی رواجی پیروی کی اور قرآن مجید کی مقرر کردہ وراثت پر عمل نہ کیا۔ جیسے کہ (سیرۃ المہدی ص ٢٢، ١٣٧ حصہ اول) میں بھی ایک متبنی کا ذکر ہے۔ نقل بیان بشیر احمد مشمولہ مسل عدالت دیوانی اجلاس مرزا عبدالرب صاحب سینئر سب جج گورداسپور نمبر مقدمہ نمبر ٣٨ تاریخ مرجوعہ ٢؍جون ١٩٣١ء تاریخ فیصلہ ١٤؍نومبر ١٩٣٣ء نام موضع قادیان تحصیل بٹالہ۔ مرزا اعظم بیگ ولد مرزا اکرم بیگ قوم مغل چوغطہ ساکن قادیان مغلاں بنام مرزا اکرم بیگ ولد مرزا افضل بیگ قوم مغل چوغطہ ساکن قادیان بیان بشیر احمد پسر غلام احمد۔ مرزا غلام حسین ہمارے رشتہ داروں سے تھے۔ وہ مفقود الخبر ١٨٧٠ء اور ١٨٨٠ء کے درمیان ہو گئے۔

ان کا رہائش کا پتہ نہ رہا۔ اس کی جائیداد ان کی بیوہ مسماۃ امام بی بی کے نام چڑھی۔ امام بی بی کے بھائیوں نے چاہا کہ وہ جائیداد ان کے پسروں کے نام منتقل ہو جائے۔ یہ واقعہ

٢١٧

PDF 345

(ص ٢٣٠ آئینہ کمالات اسلام جو ١٨٩٣ء میں چھپی ہے) اس کے مصنف میرے والد بزرگوار ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے۔ جب ہمارا خاندان شریعت کا پابند حقوق وراثت میں نہیں تھا اور ہبہ کی جوازیت میرے والد صاحب کی رضامندی پر پابند تھی۔ کیونکہ شریعت کے مطابق نہیں ہے۔

مکرر جرح واقعہ یہ ہے کہ مرزا سلطان احمد کو میرے تایا نے متبنیٰ نہیں بنایا تھا۔ مگر تایا کی وفات کے بعد ہماری تائی صاحبہ نے والد صاحب کو کہا کہ جو ان کی جائیداد تایا کی ہے۔ ان کا انتقال سلطان احمد کے نام کرا دیں۔ کیونکہ وارث مابعد ہوگا۔ اس وقت میرے والد صاحب کے دو لڑکے تھے۔ مرزا فضل احمد اور مرزا سلطان احمد۔ مرزا فضل احمد جب فوت ہو گئے اور والد صاحب زندہ تھے۔ مرزا سلطان احمد کی والدہ پہلے مر چکی تھیں۔ ہمارے والد نے ہماری والدہ کو کہا کہ سلطان احمد نے پہلے سے ١/٢ حصہ پا لیا ہے۔ اب جائیداد اس کے بچوں کو ملے گی۔ اس کے پیشتر کئی سال پیشتر (ص ١١٨، ١٣٧) میں ذکر سیرۃ المہدی میں ہوا ہے اور (ص ١٦، ٢٦) میں بھی ذکر متبنیٰ کا ہے۔ اس کے لئے (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٣٠) بھی دیکھ لینا چاہئے۔ (نیز قادیان کی واجب العرض میں مرزا کا رواج کی پابندی کا بیان موجود ہے)

حرمتی کرتے۔ مرزا بھی اس میں کچھ کم نہ تھا۔ دیکھو (اخبار الحکم نمبر ٤ ج ١٠ کالم ١، ٢، ٤، سائل کا خط) ”ابھی کسی حالیہ اخبار وکیل امرتسر میں یہ خبر پڑھی کہ مرزا صاحب نے بزمانہ قیام امرتسر باوجود رمضان کے اثناء لیکچر میں چائے نوشی شروع کی اور جب اعتراض کیا گیا تو آپ لوگوں کی طرف سے یہ عذر پیش ہوا کہ...... یہ خیال نہ کیجئے گا کہ میں مجادلہ کرنا چاہتا ہوں۔ حاشا وکلا...... یہی سبب ہے کہ میرے بہت سے دوست مجھ کو مرزائی احمدی، قادیانی وغیرہ ناموں سے یاد کرتے ہیں۔“

مصداق بناتے۔ مرزا بھی اس چاپلوسی میں کسی سے پیچھے نہ رہا۔ بلکہ یہ لوگ تو زبانی کہتے مرزا نے اپنی تحریروں میں لکھ دیا۔ دیکھو (ضرورۃ الامام ص ٢٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٣) ”اطیعوا الله واطیعوا الرسول واولی الامر منکم“

اولی الامر سے مراد جسمانی طور پر بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزمان ہے اور جسمانی طور پر جو شخص ہمارے مقاصد کا مخالف نہ ہو اور اس سے مذہبی فائدہ ہمیں حاصل ہو سکے۔ وہ ہم میں سے ہے۔ اس لئے میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں۔“

٢١٨

کرتے۔ مرزا بھی اسی مرض کا شکا کے رواج کے مطابق حیات مسیح کا محمود لکھتا ہے کہ میرا ابا جو ختم نبوت دیکھو (اعجاز احمدی ص ٦) ”کہتے ہیں السلام کے آنے کا اقرار موجود ہے کہاں لکھا ہے کہ یہ خدا کی وحی ہ الغیب ہوں۔ جب تک خدا نے م عیسیٰ فوت ہو گیا ہے۔ تب تک میں

(ضمیمہ ایام صلح ص ١

(حقیقت النبوۃ مولفہ م

نبوت سے انکار کرتے رہے ہیں شریعت کے بعض احکام منسوخ ا متبع نہ ہو۔ یہ تعریف عام طور پر م

دیتے۔ مرزا نے بھی اپنی بہو کو ا کوشش نہیں کرتی۔ دیکھو (سیرۃ ا جب محمدی بیگم کی شادی دوسری سخت مخالفت کی اور خلاف کوش خود کوشش کر کے لڑکی کی شادی فضل احمد دونوں کو الگ الگ خ

اب ان کے ساتھ نہیں ہوسکتیں۔ لہٰذا اب تم اپنا قطع تعلق کرنا ہوگا اور اگر ان صورت میں تم کو عاق کرتا ہو تائی صاحبہ کے بہت احسانا

صفحہ ٣٤٥

کرتے۔ مرزا بھی اسی مرض کا شکار ہوا۔ مثلاً حیات مسیح کے مسئلہ میں خود لکھتا ہے کہ میں تم لوگوں کے رواج کے مطابق حیات مسیح کا سالہا سال تک قائل رہا اور ختم نبوت کے مسئلہ میں مرزا کا بیٹا محمود لکھتا ہے کہ میرا ابا جو ختم نبوت کا قائل رہا تو وہ لوگوں کے رواج کے مطابق اس کا پابند رہا۔ دیکھو (اعجاز احمدی ص ٦) ”کہتے ہیں کہ مسیح موعود کا دعویٰ کرنے سے پہلے براہین احمدیہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا اقرار موجود ہے۔ اے نادانو! اپنی عاقبت کیوں خراب کرتے ہو۔ اس اقرار میں کہاں لکھا ہے کہ یہ خدا کی وحی سے بیان کرتا ہوں اور مجھے کب اس امر کا دعویٰ ہے کہ میں عالم الغیب ہوں۔ جب تک خدا نے مجھے اس طرف توجہ نہ دی اور بار بار نہ سمجھایا کہ تو مسیح موعود ہے اور عیسیٰ فوت ہوگیا ہے۔ تب تک میں اسی عقیدہ پر قائم تھا جو تم لوگوں کا عقیدہ ہے۔“

(مثلاً ایام الصلح ص ١٤١، خزائن ج ١٤ ص ٣٧١، ٣٧٢، حقیقت الوحی ص ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣)

(حقیقت النبوۃ مؤلفہ مرزا محمود ص ١٢٢، ١٢٣) ”نبی کی وہ تعریف جس کی رو سے آپ اپنی نبوت سے انکار کرتے رہے ہیں۔ یہ ہے کہ نبی وہی ہوسکتا ہے جو کوئی نئی شریعت لائے یا پچھلی شریعت کے بعض احکام منسوخ کرے یا یہ کہ اس نے بلاواسطہ نبوت پائی ہو اور کسی دوسرے نبی کا متبع نہ ہو۔ یہ تعریف عام طور پر مسلمانوں میں مسلم تھی۔“

دیتے۔ مرزا نے بھی اپنی بہو کو اس لئے طلاق دلوائی کہ وہ مرزا کے لئے محمدی بیگم کے عقد کرانے کی کوشش نہیں کرتی۔ دیکھو (سیرۃ المہدی ص ٢٨، ٢٩، روایت نمبر ٣٧) ”بیان کیا مجھے والدہ صاحبہ نے کہ جب محمدی بیگم کی شادی دوسری جگہ ہوگئی اور قادیان کے تمام رشتہ داروں نے حضرت صاحب کی سخت مخالفت کی اور خلاف کوشش کرتے رہے اور سب نے احمد بیگ والد محمدی بیگم کا ساتھ دیا اور خود کوشش کر کے لڑکی کی شادی دوسری جگہ کرادی تو حضرت صاحب نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد دونوں کو الگ الگ خط لکھا۔ ان سب لوگوں نے میری مخالفت کی ہے۔

اب ان کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں رہا اور ان کے ساتھ اب ہماری قبریں بھی اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔ لہٰذا اب تم اپنا آخری فیصلہ کردو۔ اگر تم نے میرے ساتھ تعلق رکھنا ہے تو پھر ان سے قطع تعلق کرنا ہوگا اور اگر ان سے تعلق رکھنا ہے تو میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں رہ سکتا۔ میں اس صورت میں تم کو عاق کرتا ہوں۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ مرزا سلطان احمد کا جواب آیا کہ مجھ پر تائی صاحبہ کے بہت احسانات ہیں۔ ان سے قطع تعلق نہیں کرسکتا۔ مگر فضل احمد نے لکھا کہ میرا

٢١٩

صفحہ ٣٤٦

تو آپ کے ساتھ ہی تعلق ہے ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ حضرت صاحب نے مرزا فضل احمد کو جواب دیا کہ اگر یہ درست ہے تو اپنی بیوی بنت مرزا علی شیر کو ( جو سخت مخالف تھی اور مرزا احمد بیگ کی بھانجی تھی ) طلاق دے دو۔“

(عشق مجازی قادیانی کی بوسہ بازی مولفہ حافظ محمد دین کلانوری ص ٣، ٥)

منہ پر برقعہ پایا اس نے اپنا حسن چھپایا مرزا صاحب دوجیاں تائیں ایہ فرمان سنایا
تسیں سبھے اٹھ جاؤ ایتھوں رہن دیواستائیں سنیا حکم گیاں اٹھ سبھے رہ گئی اوہ اتھائیں
عاشق تے معشوقہ دوویں جس دم ہوئے اکلے عاشق دا دل اڈدا جاندا صبر قرار نہ پلے
کر کے وعظ نصیحت اس نوں اندر دام پھسایا آخر گھنڈ اٹھایا اس نے صاف حسن چمکایا
مرزے تائیں اوہ رخ اس دا جس دم نظریں آیا ہو قربان گیا یکباری سب کچھ دلوں بھلایا
نال شتابی اس دے تائیں سینے اٹھ لگایا اوپر اس رخسارے اس دے ڈاڈھا چک لگایا

یہ مرزا کا واقعہ اس کی ایک مریدہ سے ہے جو اسی دن بمع خاوند اس سے تائب ہو گئی۔

میں میرے نزدیک ایک احسن انتظام ہے اور وہ یہ ہے کہ جس قدر سود کا روپیہ آوے۔ آپ اپنے کام میں اس کو خرچ نہ کریں۔ بلکہ اس کو الگ جمع کرتے جائیں اور جب سود دینا پڑے۔ اسی روپیہ میں سے دے دیں اور اگر آپ کے خیال میں کچھ زیادہ روپیہ ہو جائے تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں ہے کہ وہ روپیہ کسی ایسے دینی کام میں صرف ہو جس میں کسی شخص کا ذاتی خرچ نہ ہو۔ بلکہ صرف اس سے اشاعت دینی ہو۔“

(اشاعت السنۃ ج ٥) میں مرزا پر وکیلانہ بہت سے اعتراض کئے ہیں۔ جن کا جواب مرزا نے آئینہ کمالات اسلام میں دیا ہے۔ مولوی صاحب کے اعتراض کو مرزا نے یوں ٹالا کہ اللہ تعالیٰ مجرموں کے مال کا خود مالک بن جاتا ہے اور پھر خود یا اپنے مرسل نبی کے ذریعے اس کے مال کو ہلاک کروا دیتا ہے۔ جس میں مرزا نے اس امر کا انکار نہیں کیا کہ میں نے روپیہ زنا کا منگایا نہیں۔ بلکہ اس کی تاویل کے درپے ہوا اور غلط طریقے سے اس کے جواز کی صورت نکالی اور دیگر انبیاء پر بھی حملے کر دیئے۔ ملاحظہ ہوں مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کی عبارت، مع عبارات مرزا (آئینہ کمالات اسلام، اشاعت السنۃ جلد نمبر ٥ ص ٢٥) ”سوال ہشتم ایسا شخص اگر اکثر جھوٹ بھی بولتا ہو لوگوں کے مال

٢٢٠

صفحہ ٣٤٧

ناجائز ذریعہ سے لیتا ہو۔ ناجائز مال اجرت زنا وغیرہ کام میں لاتا ہو۔ ظلم، ایذا رسانی، بے رحمی ، بد خلقی و بدگوئی پر مصر ہو تو پھر بھی وہ اگر اس کی کوئی پیش گوئی سچی نکل آوے اس سچی پیش گوئی میں ملہم ،محدث ، مجدد اور خدا کا مخاطب ہو سکتا ہے؟‘‘

(اشاعت السنہ ج ١٥ ص ٣٧) ”سوال چہل و چہارم میاں اللہ دیا ساکن انبالہ سے آپ نے اپنے سابق ملازم فتح خان کی معرفت دو سو روپیہ یا کم و بیش منگایا اور وہ کیسا روپیہ تھا اور وہ کس کام میں آپ نے صرف کیا؟

اس کا جواب مرزا نے آئینہ کمالات اسلام میں دیا۔ جس میں زنا کا روپیہ آنے کا انکار نہیں کیا۔ بلکہ اس کے جواز کی ایک غلط توجیہ کی۔ دیکھو (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٧٨، ٢٧٩ لاہوری) ”یاد رہے کہ اکثر ایسے اسرار دقیقہ بصورت اقوال یا افعال انبیاء سے ظہور میں آتے رہے ہیں کہ جو نادانوں کی نظر میں سخت بے ہودہ اور شرمناک کام ہیں۔“

کتاب مذکور (آئینہ ص ٦٠١، خزائن ج ٥ ص ایضاً) میں ہے: ”اصل حقیقت یہ ہے کہ تمام حقوق پر خدا تعالیٰ کا حق غالب ہے اور ہر ایک جسم اور روح اور مال اسی کا ملک ہے۔ پھر جب انسان نافرمان ہو جاتا ہے تو اس کی ملک اصلی مالک کی طرف عود کرتی ہے۔ پھر اس مالک حقیقی کو اختیار ہوتا ہے کہ چاہے تو بلا توسط رسل ان نافرمانوں کے مالوں کو تلف کردے۔۔۔۔۔ اور یا کسی رسول کے واسطے سے یہ بجلی قہری نازل فرمادے۔“ اس کو مولوی محمد حسین صاحب نے اپنی (اشاعت السنہ ج ١٥ ص ١٩٤، ١٩٥) میں ذکر کیا ہے۔

”اس تصریح سے قادیانی نے یہ جتایا ہے کہ اللہ دیا نامی تائب طوائف کا مال قادیانی نے لیا ہے۔ وہ بھی اسی قسم کا تھا جو بظاہر نادانوں کی نظر میں ناجائز اور برا تھا۔ مگر درحقیقت اس میں دقیق سر (بھید) تھا۔ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے عطر مذکور کو استعمال کرنے میں سر تھا۔“

اس کو روکتا۔ اسی لئے امر بالمعروف ونہی عن المنکر نہ کر سکا۔ دیکھو (اشاعت السنہ ج ١٥ ص ٣٧) ”کیا آپ کے ایک خاص مرید اور بڑے معاون نے خاص آپ کے مکان پر شراب نہیں پی؟ اور آپ نے اس پر مطلع ہو کر اس عذر سے کہ وہ مہمان ہے۔ اس لئے اس کی دل آزردگی نہیں کی جاسکتی، ترک خفگی و نہی عن المنکر نہیں کی؟“

(١٣) مرزا نامحرم عورتوں سے چاپی کراتا تھا

(الحکم نمبر ١٣ ج ١١، ١٠ اپریل ١٩٠٧ء ص ١٣ کالم نمبر ٣) ”سوال حضرت اقدس غیر عورتوں سے

٢٤١

صفحہ ٣٤٨

ہاتھ پاؤں کیوں دباتے ہیں؟ جواب...... وہ نبی معصوم ہیں ان سے مس کرنا اور اختلاط منع نہیں۔ بلکہ موجب رحمت و برکات ہے اور یہ لوگ احکام حجاب سے مستثنیٰ ہیں۔“

اخبار الفضل میں ایک مرزائی لکھتا ہے کہ مسیح موعود گاہے گاہے زنا کر لیا کرتے ”بحسب القطب قد یزنی“ ”مگر میاں محمود، الخ۔

(تتمہ سیرۃ المہدی ص ٢١٣ حصہ سوم ، روایت نمبر ٧٨٦) ”ایک زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں میں اور اہلیہ بابو شاہ دین رات کو پہرہ دیتی تھیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا ہوا تھا کہ اگر میں سوتے میں کوئی بات کروں تو مجھے جگا دینا۔ ایک دن کا واقعہ ہے کہ میں نے آپ کی زبان پر کوئی الفاظ جاری ہوتے سنا اور آپ کو جگا دیا۔ اس وقت رات کے بارہ بجے تھے۔ ان ایام میں عام طور پر پہرہ پر مائی بھجو ٹھیانی اہلیہ منشی محمد دین گوجرانوالہ اور اہلیہ بابوشاہ دین ہوتی تھیں۔“

(ص ٢٧٢، ٢٧٣ حصہ سوم، روایت نمبر ٩١٠) ”ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے مجھے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھے میری لڑکی زینب نے بیان کیا کہ میں تین ماہ کے قریب حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں رہی ہوں۔ گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اور اسی طرح کی خدمت کرتی تھی۔ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ نصف رات یا اس سے زیادہ مجھے پنکھا ہلاتے گزر جاتی تھی۔ مجھ کو اس اثناء میں کسی قسم کی تکان و تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ خوشی سے دل بھر جاتا تھا۔ دو دفعہ ایسا موقعہ آیا کہ عشاء کی نماز سے لے کر صبح کی اذان تک مجھے ساری رات خدمت کا موقع ملا۔ پھر بھی اسی حالت میں نہ نیند نہ غنودگی نہ تکان معلوم ہوئی۔ بلکہ خوشی اور سرور پیدا ہوتا تھا ...... حضور نے فرمایا کہ زینب اس قدر خدمت کرتی ہے کہ ہمیں اس سے شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ آپ کئی دفعہ اپنا تبرک مجھے دیا کرتے تھے۔“

(ص ٢٦٠ سوم، روایت نمبر ٧٨٠) ”حضرت صاحب کے ہاں ایک بوڑھی ملازمہ مسماۃ بانو تھی۔ وہ ایک رات کو جبکہ خوب سردی پڑ رہی تھی۔ حضور کو دبانے بیٹھی۔ چونکہ وہ لحاف کے اوپر سے دباتی تھی ۔ اس لئے اسے یہ پتہ نہ لگا کہ جس چیز کو میں دبا رہی ہوں وہ حضور کی ٹانگیں نہیں ہیں، پلنگ کی پٹی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت نے فرمایا کہ بھانو آج تو بڑی سردی ہے۔ بھانو کہنے لگی: ”ہاں جی تدے تے تہاڈیاں لتاں لکڑی وانگر ہویاں ہویاں ایں۔“

(الفضل ٢٠؍ مارچ ١٩٢٨ء ج ١٥ شمارہ نمبر ٧٤ ص ٧ کالم ٤) ”حضور کو مرحومہ (عائشہ) کی

٢٢٢

صفحہ ٣٤٩

خدمت حضور کے پاؤں دبانے کی بہت پسند تھی ...... (کالم نمبر ٣) ” مرحومہ پندرہ برس کی تھی جب قادیان آئی ۔“ (کالم نمبر ١) ” لیکن اگر اس جگہ اس کا نکاح ہو تو یہ فائدہ ہے کہ یہ شرط کی جائے گی کہ غلام محمد ( زوج عائشہ ) اسی جگہ رہے۔ اس طرح ایسا آدمی کسی وقت کام آ سکتا ہے۔ آئندہ جو آپ کی مرضی ہو۔ مرزا غلام احمد بقلم خود۔“

(١٤) مرزا قادیان کا شرک کی اشاعت کرنا

”انت منی بمنزلة ولدی“

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

”انت منی بمنزلة اولادی“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)

”اسمع ولدی“

(البشریٰ ج ٢ ص ٤٩)

”کان الله نزل من السماء“

(حقیقت الوحی ص ٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٩٩)

مرزا کی گالیاں

پہلا حصہ۔ گالی دینے کے متعلق مرزا کا خیال

لازم ہے کہ اعراض کرے۔ نہیں تو وہی کت پن کی مثال صادق آئے گی۔“

سے کام لینا چاہئے۔“

کیا ہونا چاہئے “) میں مرزا نے ایک مضمون سپرد قلم کیا ہے۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ مصلح پہلے خود اپنی اصلاح کرے اور بدزبانی سے بچا کرے۔

نہیں۔..... گالی کے مقابل پر گالی دو۔ کیونکہ اگر تم نے یہی راہیں اختیار کیں ، تو تمہارے دل سخت ہو جائیں گے۔“

دیتا ہے۔“

ہے۔“

٢٢٣

صفحہ ٣٥٠

اس کو گالیوں اور بدزبانی کی عادت تھی۔ ملاحظہ ہو مرزا کی عبارت ”اول تو وہ پاک زبان ایسے تھے کہ ادنیٰ رنج سے اپنے مخالفین کو کتا، بلا اور سور کہہ دیا کرتے تھے۔“ (جیسے مرزا کی حالت ہے)

اور اس لئے آپ کے اخلاق اچھے نہ تھے۔ ملاحظہ ہو (ازالہ اوہام ص ١١، ١٠، خزائن ج ٣ ص ١٠٨، ١٠٧ حاشیہ، زندہ نبی ص ٢٣ تا ٢٦) میں بھی ایسے ہی قریباً قریباً لکھا ہے۔

خزائن ج ٥ ص ایضاً) ”گالیاں سن کر دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو۔“ (آئینہ کمالات اسلام ضمیمہ اخبار ریاض ہند امرتسر ملحقہ آئینہ کمالات اسلام ص ٢، خزائن ج ٥ ص ٦٤٦) ”اگر کوئی بدظنی کی راہ سے کیسی ہی بدگوئی و بدزبانی کی مشق کر رہا ہے اور ناخدا ترسی سے ہمیں آزار دے رہا ہے۔ ہم پھر بھی اس کے حق میں دعا ہی کرتے ہیں۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ”رب ارحم على الذين يلعنون علی۔“

لعلى خلق عظیم کا ہو۔“ (اربعین نمبر ١ ص ٢، خزائن ج ١٧ ص ٣٤٣) ”میں اخلاقی و اعتقادی و ایمانی کمزوریوں اور غلطیوں کی اصلاح کے لئے دنیا میں بھیجا گیا ہوں۔“

مہربان۔“

دوسرا حصہ، مرزا کی گالیاں

مرزا کی گالیاں اس قدر کثیر اور واضح ہیں کہ ان کے ثبوت کے لئے حوالہ جات پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ مگر مشتے نمونہ از خروارے پیش کر دیتا ہوں۔ تمام گالیاں مرزا دے دلا کر پھر دعویٰ کرتا ہے کہ (آئینہ کمالات اسلام ص ٤٩، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ”وما قلنا فیکم الا شیئا قلیلا وسدلنا علی کثیر من مخازیکم“

(ص ٨٦ تا ٨٨) میں دیکھ لو۔

٢٢٤

٣...... (براہین حصہ پنجم کا ضمیمہ

ہے۔“

٤...... (نور الحق ج ٢ ص ٥٨)

التسويل زورا كالحرامي

٥...... (نور الحق ج ٢ ص ٦٢)

٦...... (نور الحق ج ١ ص ١٢٣)

وليس من ذرية البغايا وم

٧...... (نور الحق ج ٢ ص ٦٠)

٨...... (حمامة البشریٰ ص ٨٦

اسلام) عادات السباع والم

٩...... (خطبہ الہامیہ ص ٥٥)

بعض بھیڑیوں کی طرح اور سور

١٠...... (حمامة البشریٰ ص ٥)

١١...... (حمامة البشریٰ ص ٦)

١٢...... (ضمیمہ انجام آتھم ص

١٣...... (اربعین نمبر ٣ ص ٢٢)

جیسا کہ ایک نالی اور بدرو گندی

١٤...... (مواہب الرحمن ص

١٥...... (آئینہ کمالات اسلا

الخ۔“

١٦...... (آئینہ کمالات اسلا

نجاست خورانسان۔“

١٧...... (آئینہ کمالات اسلا

آتے۔“

١٨...... (آئینہ کمالات اسلا

انسان۔“

صفحہ ٣٥١

ہے۔“

التسويل زورا كالحرامي.“

وليس من ذرية البغايا ونسل الدجال فيفعل امراً الخ“

اسلام) عادات ”السباع والكلاب والخنازير“

بعض بھیڑیوں کی طرح اور سوروں کی طرح اور بعض سانپ کی طرح۔“

جیسا کہ ایک نالی اور بدر رو گندی کیچڑ سے بھر جاتی ہیں یا جیسا کہ سنڈاس پاخانہ سے۔“

الخ۔“

نجاست خور انسان۔“

آتے۔“

انسان۔“

٢٢٥

صفحہ ٣٥٢

ابولہب۔“

والحمق و ترك الحياء والسخافة والضلالة.“

اور خبث نفس سے۔“

رئیس المتکبرین ہیں۔“

مولوی ..... اس زمانہ کے ننگ اسلام مولویو ..... اس قدر دلیری اور بددیانتی ۔“

الثعالب.“

ہے یا بے وقوفی ۔“

ويصدق دعوتى الا ذرية البغايا.“

کوئی ہے روباہ کوئی خنزیر اور کوئی ہے مار۔“

کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“

ہے۔“

ہے”صولهم كالكلاب، و يمزقوا اذياله كالكلاب.“

سانسیوں سے بھی گندہ زبانی میں بڑھ کر ہے۔“

٢٢٦

ہیں ۔ وہ بھی جھوٹ بولتے شرماتے

ہر کہ مر
و ہرکہ ن

مرزا کے چھوٹے چھوٹے ا

اپنی زبان میں فصاحت اور روانی نہیں ہو سکتا۔ صرف ایک بدبودار تک چل سکتا ہے۔ گویا جلدی تھک

(اسی معیار پر مرزا کے مندرجہ ذیل

(البشریٰ ص ١١، ) ”بالفعل

(البشریٰ ص ٥١، ) بکتریا

(البشریٰ ص ٥٣، ١ ) ”

شنبہ ہے مبارک دوشنبہ۔ (البشر

(البشریٰ ص ١٥٦، ) ”محمدیستان عض اصلہا ثابت وفرعہا فی السماء۔ (ا

(البشریٰ ص ٢٤١ ) ”كلب يموت

ص ٢٥٠ ) ”غم۔ غم۔ غم۔

صفحہ ٣٥٣

ہیں ۔ وہ بھی جھوٹ بولتے شرماتے ہیں۔ مگر اس آریہ میں اس قدر بھی شرم باقی نہ رہی۔“

ہر کہ مرامی پذیرد فرشتہ است نہ انسان
و ہر کہ سرے پیچد ابلیس است نہ آدمی

مرزا کے چھوٹے چھوٹے الہامات حصہ اوّل

اپنی زبان میں فصاحت اور روانی نہیں رکھتا اور گنگے کی طرح وہ فصیح اور کثیر المقدار باتوں پر قادر نہیں ہو سکتا۔ صرف ایک بدبودار پیرایہ میں فقرہ در فقرہ دل میں ڈال دیتا ہے۔..... اور نہ وہ بہت دیر تک چل سکتا ہے۔ گویا جلدی تھک جاتا ہے الخ۔“

(اسی معیار پر مرزا کے مندرجہ ذیل الہام دیکھو) حصہ ثانی (البشریٰ ص ١١، ١) ”بالفعل نہیں۔“ (البشریٰ ص ٤٢، ١) ”ڈگری ہو گئی ہے مسلمان ہے۔“ (البشریٰ ص ٥١، ١، مکتوبات احمدیہ ص ٢٨، ١) ”پریشین ۔عمر براطوس۔ با پلاطوس۔“ (البشریٰ ص ٥٣، ١) ”بکر و ثیب۔“ (البشریٰ ص ٥٤، ١) ”محمود۔“ (البشریٰ ص ٥٥، ١) ”دو شنبہ ہے مبارک دوشنبہ۔“ (البشریٰ ص ٥٥، ١) ”یہودا اسکریوطی۔“ (البشریٰ ص ٥٦، ١) ”بلیتہ مالیہ۔“ (البشریٰ ص ٥٦، ١) ”تہید ستان عشرت را۔“ (البشریٰ ص ٦٢، مکتوبات احمدیہ ص ١١٠، ١) ”سچا ارادت مند اصلہا ثابت وفرعہا فی السماء۔“ (البشریٰ ص ٦٧) ”نازل من السماء منزل من السماء “ (البشریٰ ص ٤٦، ٢) ”كلب يموت على كلب.“ (البشریٰ ص ٤٦، ٢) ”تم پاس ہو گئے ہو۔“ (البشریٰ ص ٥٠، ٢) ”غثَم۔ غثَم۔ غثَم دفع الیہ من مالہ دفعتہ.“

٢٢٧

صفحہ ٣٥٤

(البشریٰ ص ٢٥١) ”اسہیل البدری“۔ (البشریٰ ص ٢٥٣) ”مسیغفر“۔ (البشریٰ ص ٢٥٦) ”بے ہوشی پھر غشی پھر موت“۔ (البشریٰ ص ٢٦٥) ”بعد۔اا۔انشاء اللہ“ (البشریٰ ص ٢٦٥) ”لاہور میں ہمارے پاک ممبر موجود ہیں۔ ان کو اطلاع دی جائے۔ تکلیف مٹی کے ہیں وسوسہ نہیں رہے گا۔ مگر مٹی رہے گی۔ سلسلہ قبول الہامات میں سب سے کچا مولوی ہے۔ سب لوگ ننگے ہو جائیں گے۔ انا للہ ذوالمنن انی مع الرسول اقوم۔“ (البشریٰ ص ٢٦٦) ” والموت اذا عسعس“۔ (البشریٰ ص ٢٦٨) ”سلطان القلم“۔ (البشریٰ ص ٢٦٩، ج ٢) ”سال دیگر را کہ می داند حساب۔ تاکجا رفت آنکہ باما بود یار۔“ (البشریٰ ص ٢٦٩) ”محمد“ (البشریٰ ج ٢ ص ٧٠) اس کتے کا آخری دم ہے۔ (البشریٰ ج ٢ ص ٧١) ”افسوس صد افسوس ، نتیجہ خلاف مراد ہوا یا نکلا۔“ (البشریٰ ص ٢٧٥) ”تسیع، تسیع، تسیع“۔ (البشریٰ ص ٢٧٧) ”بقیۃ الطاعون“۔

(البشریٰ ص ٢٧٧) ”عود صحت“۔ (البشریٰ ص ٢٧٨) ”اصبر سفرنح یا مرزا۔“ (البشریٰ ص ٢٧٨) ”لا یموت احد من رجالکم۔“ (البشریٰ ص ٢٧٩) ”اے ازلی ابدی خدا ٹیڈیوں کو پکڑ کے آ۔“ (البشریٰ ص ٢٨٠) ”جس کا تھا اس کے پاس آ گیا ۔“ (البشریٰ ص ٢٨٠) ”طاعون کا دروازہ کھولا گیا ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ٨٢) ”آثار صحت“۔ (البشریٰ ج ٢ ص ٨٢) ”مجموعہ فتوحات ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ٨٢) ”بلا نازل یا حادث یا ....“ (البشریٰ ج ٢ ص ٨٤) ”فیر مین“۔ (البشریٰ ج ٢ ص ٨٤) ”نزول در قادیان انی انا الرحمن حل غضبہ علی الارض۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ٨٧) ”تقدیر مبرم ہے اور ہلاکت مقدر۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ٨٨) ”بستر عیش“۔ (البشریٰ ج ٢ ص ٨٨) ”رسول اللہ پناہ گزین ہوئے قلعہ ہند میں۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ٨٩) ”ضرور کامیابی ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ٩٠) ”زندگی کے فیشن سے دور جا پڑے ہیں ۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ٩١) ”طاعون تو گئی مگر بخار رہ گیا ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ٩١) ”دخت کرام“۔ (البشریٰ ج ٢ ص ٩١) ”ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ٩١) ”شوخ و شنگ لڑکا پیدا ہوگا ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ٩٣) ”ہماری قسمت آتوار ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ٩٣) ایک چونکا دینے والی خبر۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ٩٤) ”خاکسار پیپرمنٹ ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ٩٤) ”موتا موتی لگ رہی ہے ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ٩٥) ”میں سوتے سوتے جہنم میں پڑ گیا۔ (یعنی مرزا قادیانی جہنم میں گر گیا۔ ناقل ۔)“ (البشریٰ ج ٢ ص ٩٤) ”شکار مرگ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ٩٧) ”زمین تہہ و بالا کردی ۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ٩٧) ”لنگر اٹھا دو ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ٩٩) ”مصر صحت۔“ (البشریٰ ج ٢

٢٢٨

ص ٩٩) ”محمد مصلح“۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٠) ص ١٠٠) ”کفن میں لپیٹا گیا“۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٢) ”آبِ زندگی“۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٣) ”زندگیوں کا خاتمہ“۔ (البشریٰ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٥) ”تین بکرے ذب ٹوکرے“۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٦) ”٢٥ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٧) ”ایک (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٧) ”کرنسی نوٹ“۔ بریت۔ واذ کففت بنی اسرائیل“۔ میری بیوی یکا یک مرگئی۔ (مرزا کی باتیں پوری کردیں“۔ (البشریٰ ج ٢ ص داروغہ بنا۔) (البشریٰ ج ٢ ص ١١١) ”آ (البشریٰ ج ٢ ص ١١٢) ”کلید تا ہوں کشتیاں“۔ (البشریٰ ج ٢ ص (البشریٰ ج ٢ ص ١١٩) ”موت تیراں ما (یعنی مرزا کا بیڑہ غرق ہو گیا۔ ناقل گا“۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٢٨، ١٢٥) ”لا شرم ہے“۔ (شاید وہ محمد علی مرزائی ص ١٢٩) ”بلائے دمشق سرک سری یہ دوگھر ہی مرگئے“۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٣٠) تحائف کثیرۃ“۔ (البشریٰ ج ٢ ص ص ١٣٢) ”غلام احمد کی جے“۔ ( قبول ہو گئی ٩ دن میں بخار ٹو ج ٢ ص ١٣٤) ”خدا خوش ہو ج ٢ ص ١٣٧، ١٣٨) ”ستائیس کو ایک

صفحہ ٣٥٥

ص ٩٩) ”محمد مفلح ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٠) ”بامراد۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٠) ”رد بلا۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٠) ”کفن میں لپیٹا گیا۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٠)”دو شہتیر ٹوٹ گئے۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٢)”آب زندگی ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠١)”رہا گوسفندان عالی جناب۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٣) ”زندگیوں کا خاتمہ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٤) ”کمبل میں لپیٹ کر بیچ قبر میں رکھ دو۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٥)”تین بکرے ذبح کئے جائیں گے۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٦)”ورڈ اینڈ ٹو گرلس ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٦) ”٢٥ فروری کے بعد جانا ہوگا۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٧) ”ایک دانہ کس کس نے کھانا۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٧)”سلام ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٧)”کرنسی نوٹ ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٧) ”عورت کی چال۔ ایلی ایلی لماسبقتانی بریت۔ واذ کففت بنی اسرائیل ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٧) ”بشیر الدولہ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٨)” میری بیوی یکا یک مر گئی۔ (مرزا کی بیوی مرگئی)“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٨)”خدا نے تیری ساری باتیں پوری کر دیں۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١١٠) ”رب سلطنی علی النار “ (یعنی مرزا کو جہنم کا داروغہ بنا۔) (البشریٰ ج ٢ ص ١١٢) ”آسمان سے دودھ اترا ہے، محفوظ رکھو۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١١٤) ”کیسا کی طاقت کا نسخہ ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١١٤) ”کشتیاں چلتی ہیں تاہوں کشتیاں ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١١٩)”خیر۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١١٧) ”ایک دم رخصت ہوا۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١١٩)”موت تیراں ماہ حال کو۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٢١) ”کمترین کا بیڑا غرق ہو گیا۔“ (یعنی مرزا کا بیڑہ غرق ہو گیا۔ ناقل) (البشریٰ ج ٢ ص ١٢٤) ”ایک ہفتہ تک ایک بھی باقی نہ رہے گا۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٢٨، ١٣٥) ”لائف آف چین۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٢٦) ”لاہور میں ایک بے شرم ہے۔“ (شاید وہ محمد علی مرزائی ہوگا۔ ناقل) (البشریٰ ج ٢ ص ١٢٩)”راز کھل گیا۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٢٩)”بلائے دمشق سرک سری ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٢٩) ”احمد غزنوی ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٣٠)” یہ دوکھر ہی مر گئے ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٣٠)”پوری ہو گئی۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٣٠) ”قریب عصر۔ یاتیک تحائف کثیرۃ ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٣١) ”بدی کا بدلہ بدی ہے۔ اس کو پلیگ ہو گئی۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٣٢)”غلام احمد کی جے ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٣٢) ”ایسوسی ایشن ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٣٤)” قبول ہو گئی ٩ دن میں بخار ٹوٹ گیا۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٣٣)”خدا خوش ہوا۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٣٤) ” خدا خوش ہو گیا۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٣٧) ”بلاء ناگہانی۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٣٧، ١٣٨)”ستائیس کو ایک واقعہ ۔“

٢٢٩

صفحہ ٣٥٦

(البشریٰ ج ٢ ص ١٤٨) ”واللہ ، واللہ سدھا ہو یا اولا۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٤٠) ”ماتم کدہ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٤٠) ”کبھی معدے کے خلل سے ورم ہو جاتی ہے۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٤٠) ”بیمار بہت ہی چیخیں مارتا ہے۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٤١) ”سرنگ۔“

مرزا کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا ہے یا نہ

مرزا پر اس دعوے کے متعلق پانچ دور گزرے ہیں۔

عیسیٰ انی متوفیک اس جگہ عیسیٰ کے نام سے بھی یہی عاجز مراد ہے۔“

اس سے معلوم ہوا کہ براہین کی تصنیف کے وقت مرزا مسیح موعود تھا۔

ہے۔ بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے۔“

اس سے معلوم ہوا کہ مرزا براہین کے بعد بارہ برس تک اس مسیحیت کا ہرگز مدعی نہ تھا۔“

عاجز بھیجا گیا۔ تاکہ صلیبی اعتقاد کو پاش پاش کر دیا جائے۔ سو میں صلیب کے توڑنے اور خنزیروں کو قتل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ میں آسمان سے اترا ہوں۔“

اس سے معلوم ہوا کہ فتح اسلام میں مرزا مدعی مسیحیت ہے۔ (ازالہ اوہام ص ١٣٩، خزائن ج ٣ ص ١٧١) ”ہم نے جو رسالہ فتح اسلام اور توضیح مرام میں اس اپنے کشفی والہامی امر کو شائع کیا ہے کہ مسیح موعود سے مراد یہی عاجز ہے۔ میں نے سنا ہے کہ بعض ہمارے علماء اس پر بہت افروختہ ہوئے ہیں۔“

یہ بھی واضح ہے۔

صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہو کر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیل مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔“

اس سے ثابت ہوا کہ (ازالہ اوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢) تک مرزا کا دعویٰ مثیل موعود کا تھا۔ مسیح موعود کا دعویٰ نہ تھا اور ازالہ اوہام، فتح اسلام و توضیح مرام کے بعد کی تصنیف ہے۔

٢٣٠

صفحہ ٣٥٧

اور احادیث صحیحہ کے رو سے ضروری طور پر قرار پا چکا تھا۔ وہ تو اپنے وقت پر اپنے نشانوں کے ساتھ آ گیا اور آج وہ وعدہ پورا ہو گیا ۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ١٥٥، خزائن ج ٣ ص ١٧٩) ’’اگر یہ عاجز مسیح موعود نہیں تو پھر آپ لوگ مسیح موعود کو آسمان سے اتار کر دکھلا دیں ۔‘‘

یہ عجیب ہے کہ (ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢) سے پہلے کا ہے گویا ازالہ اوہام میں ہی (ص ١٥٥، خزائن ج ٣ ص ١٧٩) میں اپنی مسیحیت کا اقرار ہے اور (ص ١٩٠) میں پھر انکار اور (ص ٤١٤، خزائن ج ٣ ص ٣١٥) میں پھر اقرار ہے۔ عجیب خبط الحواسی ہے۔

مرزا میں مسیح موعود کی علامات موجود نہیں

مرزا نے خود جو علامات حضرت مسیح موعود کے لئے تجویز کی ہیں۔ ان سے مرزا خود عاری ہے۔

بھی کفر و دجل سے باز آ کر طواف بیت اللہ کرے گا۔ کیونکہ بموجب حدیث صحیح کے وہی وقت مسیح موعود کے حج کا ہوگا...... آخر ایک گروہ دجال کا ایمان لا کر حج کرے گا۔ سو دجال کو ایمان اور حج کے خیال پیدا ہوں گے۔ وہی دن ہمارے حج کے بھی ہوں گے۔‘‘

مرزا تسلیم کرتا ہے کہ از روئے حدیث صحیح مسیح موعود کا حج کرنا ضروری ہے۔ لیکن مرزا نے مرتے دم تک بالکل حج نہ کیا۔ اس لئے اس میں یہ علامت نہ پائی گئی۔

جمعا...... تب ہم تمام فرقوں کو ایک ہی مذہب پر جمع کر دیں گے...... اور ایسے زمانہ میں صور پھونک کر تمام فرقوں کو دین اسلام پر جمع کیا جائے گا...... اور ایک آسمانی مصلح آئے گا۔ در حقیقت اسی مصلح کا نام مسیح موعود ہوگا۔‘‘

اس میں مرزا نے تسلیم کیا کہ مسیح موعود کی علامت از روئے قرآن یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں صرف ایک ہی مذہب اسلام باقی رہ جائے گا۔ یہ علامت مرزا میں موجود نہیں۔

(اعجاز المسیح ص ٨٣، خزائن ج ١٨ ص ٨٥) ’’وقد اتی زمان تھلك فیہ الاباطیل ولا یبقی الزور والظلام وتفنی الملل کلھا الا الاسلام۔‘‘

(چشمہ معرفت ص ٦٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٣ ص ٧٥) ’’ونفخ فی الصور فجمعناھم جمعاً‘‘ یعنی ہم آخری زمانہ میں ہر قوم کو آزادی دیں گے تا کہ اپنے مذہب کی خوبی دوسری قوم

٢٣١

صفحہ ٣٥٨

کے سامنے پیش کرے۔...... ایک مدت تک ایسا ہوتا رہے گا۔ پھر قرآن میں ایک آواز پھونک دی جائے گی۔ تب ہم تمام قوموں کو ایک قوم بنا دیں گے اور ایک ہی مذہب پر جمع کر دیں گے ۔‘‘ ان تینوں عبارتوں سے ثابت ہوا کہ مسیح موعود کی علامت ہلاک النسل مرزا میں مفقود ہے۔

”ماالفرق فی آدم والمسیح الموعود ص د“ (ملحقہ خطبہ الہامیہ، خزائن ج١٦ص٣٢٢) ”ویضع اللہ الحرب وتقع الامنۃ علی الارض وتنزل السکینۃ والصلح فی جذور القلوب۔“

مگر مرزا کی پیش گوئی کا یہ اثر ہوا کہ ریل کی تیاری شروع ہوکر رہ گئی۔ (اربعین نمبر٤ص٢٧ حاشیہ، خزائن ج١٧ص٤٢٤) ”ابھی مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے لوگوں کے لئے ایک بھاری نشان ظاہر ہوا ہے۔...... حدیث ”یترک القلاص فلا یسعی علیہا“ اس کی گواہ ہے۔ پس یہ کس قدر بھاری پیش گوئی ہے جو مسیح کے زمانہ کے لئے اور مسیح موعود کے ظہور کے لئے بطور علامت تھی۔ ریل کی تیاری سے پوری ہوگئی۔“ (تتمہ تحفہ گولڑویہ کا ضمیمہ ص١٢، تحفہ گولڑویہ ص١٠، خزائن ج١٧ص٢٦٢، تحفہ گولڑویہ ص١٣٥، خزائن ج١٧ص٢٤٧) ”مرزا کی پیش گوئی کے وقت پہلے ہندوستان سے ریل کے لئے چندہ جمع ہو رہا تھا اور اس کی تیاری تھی۔ مگر مرزا کی پیش گوئی کا اثر یہ ہوا کہ وہ وہیں رک گئی اور آج تک تیار نہ ہوسکی۔ چندہ کی فراہمی کا ذکر خود مرزا نے کیا ہے۔ دیکھو

(الحکم نمبر ٢٧ج١٢ص٤کالم نمبر٣، ٢٦؍جنوری ١٩٠٨ء)

شاگرد ہوں گے۔ (ایام الصلح ص٤٧، خزائن ج١٤ص٣٩٤) ”ہمارے نبیﷺ نے اور نبیوں کی طرح ظاہری علم کسی استاد سے نہیں پڑھا تھا۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام مکتبوں میں بیٹھے تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایک یہودی استاد سے تمام تورات پڑھی تھی...... سو آنے والے کا نام مہدی رکھا گیا۔ سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا ہی سے حاصل کرے گا اور قرآن اور حدیث میں وہ کسی کا شاگرد نہ ہوگا۔...... سو میں حلفاً کہتا ہوں کہ میرا حال یہی ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہو۔“

٢٣٢

صفحہ ٣٥٩

حالانکہ مرزا کے بہت سے استاد ہیں۔ دیکھو عبارات ذیل:

(کتاب البریہ ص ١٤٩ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ١٨٠، ریویو آف ریلیجنز) ”میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خوان معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کی کتابیں مجھے پڑھائیں۔“

(التبلیغ ص ٥٤٥ ملحقہ آئینہ کمالات اسلام، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ”لم يتفق لي التوغل في علم الحديث والاصول والفقه الا كطل من الوبل۔“

نیز مرزا کا استاذ گل علی شیعہ بھی تھا۔ (دافع البلاء ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٣) اور اس کا استاذ طب اس کا باپ غلام مرتضیٰ بھی تھا۔ (حقیقۃ الوحی) اور اسی طرح سوانح عمری مرزا قادیانی مولفہ معراج دین مرزائی، میں بھی اس کے استاذ تسلیم شدہ ہیں۔ گویا اس کے استاذ گل علی شیعہ، غلام مرتضیٰ، فضل الٰہی، فضل احمد ہیں۔

نمبر ٢٩ ج ٢ ص ٢ کالم ٢، ١٩ جولائی ١٩٠٦ء) ”باوجود ان تمام علامتوں کے طالب حق کے لئے میں یہ بات پیش کرتا ہوں کہ میرا کام جس کام کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوا ہوں۔ یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت و عظمت اور شان کو دنیا پر ظاہر کر دوں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی مجھ سے ظاہر نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے۔ وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی؟ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود مہدی معہود کو کرنا چاہئے تھا۔ تو پھر میں سچا ہوں۔ اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“

غلبۂ عیسائیت اور غلبۂ اسلام کا مفہوم بھی سن لو۔ (اخبار بدر نمبر ١٥ ج ٢ ص ٨ کالم نمبر ٢، ٢٠/ ستمبر ١٩٠٦ء) ”میں یقیناً کہہ سکتا ہوں اور یہ بات بالکل صحیح بات ہے کہ ہر طبقہ کے مسلمان عیسائی ہو چکے ہیں اور ایک لاکھ سے بھی ان کی تعداد زیادہ ہوگئی۔“

(اخبار بدر مذکور ص ٩ کالم ١) ”اب جبکہ عیسائی مذہب کا غلبہ ہو گیا اور ہر طبقہ کے مسلمان اس گروہ میں داخل ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ اسلام کو اپنے وعدہ کے مطابق غالب کرے۔“

ان دونوں عبارتوں سے معلوم ہوا کہ عیسائیت کا غلبہ یہ ہے کہ لوگ عیسائی ہو رہے ہیں۔ اب اس کے خلاف اسلام کا غلبہ یہ ہوگا کہ عیسائی مسلمان ہو جائیں۔ لیکن مرزا کی زندگی کے

٢٢٣٣

صفحہ ٣٦٠

ایام میں عیسائیت کی تعداد دن بدن اضافہ میں رہی تھی۔ دیکھو ذیل کی عبارت:

(براہین احمدیہ ص ٥ ، خزائن ج ١ ص ٦٨، ٦٩) ”ابھی کلکتہ میں جو پادری بیکر صاحب نے

اندازہ کرسٹان شدہ آدمیوں کا بیان کیا ہے۔ اس سے ایک نہایت قابل افسوس بات ظاہر ہوتی ہے۔ پادری صاحب فرماتے ہیں جو پچاس سال پہلے تمام ہندوستان میں کرسٹان شدہ لوگوں کی تعداد صرف ستائیس ہزار تھی۔ اس پچاس سال میں یہ کارروائی ہوئی جو ستائیس ہزار سے پانچ لاکھ تک شمار عیسائیوں کا پہنچ گیا ہے۔“

(ملفوظات احمدیہ ص ٢٧٤ ج ١) ”دیکھو اس قدر جو لوگ عیسائی ہو گئے ہیں۔ جن کی تعداد

تین لاکھ تک پہنچی ہے۔ میں نے ایک بشپ کے لیکچر کا خلاصہ پڑھا تھا۔ اس نے بیان کیا کہ ہم بیس لاکھ عیسائی کر چکے ہیں۔“

(ملفوظات احمدیہ ص ٢٦٥ ج ١، ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ نومبر و دسمبر ١٩٠٣ء

نمبر ٣٢٥) ”٢٩ لاکھ لوگ عیسائی ہو کر مرتد ہو گئے ہیں۔“

کفر مرزا قادیانی

مرزا قادیانی خود اپنی تحریروں سے بھی کافر ٹھہرتا ہے اور اس کے علاوہ جن سے ہم اس کو کافر کہتے ہیں۔ وہ اور بھی ہیں۔

خدا تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ جیسا کہ آدم علیہ السلام کا دانہ کھانا اگر تحقیر کی راہ سے انکار کیا جائے تو یہ موجب کفر وسلب ایمان ہے۔“

(ملفوظات احمدیہ ص ١٨٣ ج ١) ”میرا یہی مذہب ہے انبیاء علیہم السلام کی مدح کے خلاف

زبان چلانا میرے نزدیک کفر ہے۔“

مرزا قادیانی اس جرم کا مرتکب ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ وعیسیٰ والیسع وابراہیم علیہم السلام وآنحضرت ﷺ پر اتہامات لگائے ہیں اور تمام انبیاء کی توہین کی ہے۔ دیکھو کتاب ہذا۔

حاشیہ در حاشیہ نمبر ١، خزائن ج ١ ص ٢٧١) ”جس حالت میں اکثر جاہلوں نے گذشتہ اولیاء وصالحین پر صدہا

اس قسم کی تہمتیں لگا رکھی ہیں کہ گویا انہوں نے آپ کو یہ فرمائش کی تھی کہ ہم کو خدا کا شریک ٹھہراؤ اور ہم سے مرادیں مانگو اور ہم کو خدا کی طرح قادر اور متصرف فی الکائنات سمجھو۔ تو اس صورت میں اگر کوئی نیا مصلح ایسی تعریفوں سے عزت یاب نہ ہو کہ جو تعریفیں ان کو اپنے پیروں کی نسبت ذہن نشین ہیں۔ تب تک وعظ اس کا اور پند اس مصلح جدید کا بہت ہی کم مؤثر ہوگا۔“

٢٣٤

صفحہ ٣٦١

یعنی جو شرکیہ عقائد جاہلوں نے اپنے پیروں کے لئے ذہن نشین کر رکھے ہیں۔ ان کو خدا کی طرف سے مرزا کے لئے ثابت کیا جانا چاہئے۔ ورنہ اس کے وعظ کا اثر نہیں ہوتا۔

مرزا نے خود لکھا ہے کہ مدعی نبوت دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ پھر مرزا خود مدعی نبوت ہے جیسا کہ ہم ثابت کریں گے۔ (حمامة البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧) ”فماکان لی ان ادعی النبوة واخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین۔“ (آسمانی فیصلہ ص ٤، خزائن ج ٤ ص ٣١٤) ”ان سب عقائد پر ایمان رکھتا ہوں جو اہل سنت والجماعت مانتے ہیں اور کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا قائل ہوں اور قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا ہوں اور میں مدعی نبوت کا نہیں۔ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“

اب مرزا کے ادعاء نبوت کے ثبوت ملاحظہ کیجئے۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٤ حاشیہ، خزائن ج ٢١ ص ٦٨) ”میری دعوت کے مشکلات میں سے ایک رسالت اور وحی الٰہی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تھا۔“ (ایام الصلح ص ٨٥ حاشیہ، خزائن ج ١٤ ص ٣٢١) ”اصل بات یہ ہے کہ مسیحیت یا نبوت کا دعویٰ کرنے والا اگر درحقیقت سچا ہے تو یہ امر ضروری ہے کہ اس کا فہم اور درائت اور لوگوں سے بڑھ کر ہے۔“

(حقیقت النبوة ص ٢٧٢ ضمیمہ نمبر ٣) ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں ...... ہم نبی ہیں اور حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ کرنا چاہئے۔“ (حقیقت الوحی ص ١٠١، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥) ” انا ارسلنا الیکم رسولا شاهدا علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولا۔“

یہ مرزا کو الہام ہوا ہے۔ اس میں وہی رسالت مذکور ہے جو محمدی رسالت و نبوت ہے۔ مثلہ (انجام آتھم ص ٥١، خزائن ج ١١ ص ایضاً) (حقیقت الوحی ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣) ”اوائل میں میرا بھی یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح بن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی تو اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) ”اس مسیح کے مقابل پر جس کا نام خدا رکھا گیا۔ خدا نے اس امت میں مسیح موعود بھیجا۔ جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“

تمام عبارات سے مرزا کی نبوت ثابت ہوتی ہے۔

٢٣٥

صفحہ ٣٦٢

الوحی ص ١٦٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٧٠ حاشیہ) ”جس پر خدا تعالیٰ کا فضل ہو وہ اپنی نہایت محویت کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی توحید کے قائم مقام ہو جاتا ہے اور رنگ دوئی اس سے جاتا رہتا ہے۔“

ص ٤٥٢) ”انت منی بمنزلۃ اولادی ...... اور خدا تیرا متولی اور تیرا پروردہ ہے۔ اس لئے خاص طور پر پدری مشابہت درمیان ہے۔“

سال تھا۔ (الاستفتاء ص ٣٩ ملحقہ حقیقت الوحی، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٠) ”فمن سوء الادب ان یقال ان عیسٰی ما مات ان ھو الا شرک عظیم۔“

مرزا قادیانی اسی عقیدہ پر سالہا سال تک جما رہا۔ حالانکہ وہ ملہم و مامور ہو چکا تھا۔ (اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣) ”پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے۔ بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔“

یا الوہیت وغیرہ ماننا خواہ یہ امور بعطاء الٰہی واذن خداوندی سے ہی ہوں، موجب کفر ہوگی۔

(ازالہ اوہام ص ٢٩٧، ٢٩٨، خزائن ج ٣ ص ٢٥١، ٢٥٢) ”یہ معنی کرنا کہ گویا اللہ تعالیٰ نے اپنے ارادہ اور اذن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صفات خالقیت میں شریک کر رکھا تھا۔ صریح الحاد اور سخت بے ایمانی ہے۔ کیونکہ اگر خدا تعالیٰ اپنی صفات خاصہ الوہیت بھی دوسروں کو دے سکتا ہے تو اس سے اس کی خدائی باطل ہوتی ہے اور موحد صاحب کا یہ عذر کہ ہم ایسا اعتقاد تو نہیں رکھتے کہ اپنی ذاتی طاقت سے حضرت عیسیٰ خالق طیور تھے۔ بلکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ یہ طاقت خدا تعالیٰ نے اپنے اذن وارادہ سے ان کو دے رکھی تھی ..... یہ سراسر مشرکانہ باتیں ہیں اور کفر سے بدتر....“

(ازالہ ص ٢٩٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٢) ”کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کسی بشر کو اپنے اذن و ارادہ سے خالقیت کی صفت عطاء کر سکتا ہے۔ تو پھر وہ اسی طرح کسی کو اذن اور ارادہ سے اپنی طرح عالم الغیب بھی بنا سکتا ہے اور اس کو ایسی قوت بھی بخش سکتا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرح ہر جگہ حاضر و ناظر ہو۔“

(ملفوظات احمدیہ ص ٣١١ ج ١) ”ایسا تجویز یا اعتقاد رکھنا کہ بجز خدا تعالیٰ کے کوئی اور بھی حاضر و ناظر ہے ..... صریح کلمہ کفر ہے۔

٢٣٦

صفحہ ٣٦٣

مرزا خدا کو حاضر و ناظر مانتا ہے۔ (سرمہ چشم آریہ ص ١٨٨ بحوالہ ہدی) ”بعض کامل اکابر نے اپنے وجود کو ایک وقت اور ایک آن میں مختلف ملکوں اور مکانوں میں دکھلایا ہے باذن اللہ۔“

حوالہ (ازالۃ الاوہام مذکورہ ص ١٤٦، خزائن ج ٣ ص ٢٦١ حاشیہ)

مرزا قادیانی نے آنحضرت ﷺ کے لئے صفات الوہیت تسلیم کی ہیں۔ دیکھو (سرمہ چشم آریہ ص ١٨٦، خزائن ج ٢ ص ٢٣٥) ”رفع بعضهم درجات! اس جگہ صاحب درجات رفیعہ سے ہمارے نبی کریم ﷺ مراد ہیں۔ جن کو ظلی طور پر انتہائی درجہ کے کمالات جو کمالات الوہیت کے افعال و آثار ہیں، بخشے گئے ہیں۔“

(مذکورہ ص ١٨٨ حاشیہ، خزائن ج ٢ ص ٢٣٦) ”مخلوقات میں سے صرف ایک ہی شخص مرتبہ کاملہ خلافت تامہ حقہ کا جو ظل مرتبہ الوہیت ہے، حامل ہو سکتا ہے۔“ (ص ١٩٦ حاشیہ، خزائن ج ٢ ص ٢٤٧) ”اس جگہ واضح رہے کہ اس انتہائی کمال کے وجود باوجود کہ خدا تعالیٰ کی کتابوں میں مظہر اتم الوہیت قرار دیا گیا ہے۔ (ص ٢٠٤ حاشیہ، خزائن ج ٢ ص ٢٥١) ”یہ وجود باوجود (آنحضرت ﷺ۔ ناقل) جو خیر مجسم ہے۔ مقربین کی تین قسموں میں سے اعلیٰ و اکمل ہے جو الوہیت کا مظہر اتم کہلاتا ہے۔“ (ص ٢١٣ حاشیہ، خزائن ج ٢ ص ٢٦١، ٢٦٢) ”اس قسم ثالث میں تمام صفات الٰہیہ صاحب قرب کے وجود میں بہ تمام تر صفائی منعکس ہو جاتی ہیں۔“

(ص ٢٢٣، خزائن ج ٢ ص ٢٧٠) ”ایسا ہی ظل الوہیت ہونے کی وجہ سے مرتبہ الوہیہ سے اس کو ایسی مشابہت ہے۔ جیسے آئینہ کے عکس کو اپنی اصل سے ہوتی ہے اور امہات صفات الٰہیہ یعنی حیوۃ، علم، ارادہ، قدرت، سمع و بصر، کلام مع اپنے جمیع فروع کے اتم واکمل طور پر اس میں انعکاس پذیر ہیں۔“ (ص ٢٢٥ حاشیہ، خزائن ج ٢ ص ٢٧٣) ”اسی وجہ سے تمثیلی بیان میں ظلی طور پر خدائے قادر ذوالجلال سے آنحضرت ﷺ کو آسمانی کتابوں میں تشبیہ دی گئی ہے۔ جو ابن کے لئے بجائے اب ہے۔“ (ص ٢٢٦، خزائن ج ٢ ص ٢٧٤) ”اور جو تشبیہات قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کو ظلی طور پر خداوند قادر مطلق سے دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہی آیت ہے۔۔۔“ (ص ٢٢٨، خزائن ج ٢ ص ٢٧٦ حاشیہ) ”قُل یا عبادی الذین اسرفوا على انفسکم لا تقنطوا من رحمة الله ان الله یغفر الذنوب جمیعاً“ یعنی ان کو کہہ دے کہ اے میرے بندو! الخ۔

(ص ٢٣٥ حاشیہ، خزائن ج ٢ ص ٢٨٤) ”خداوند سے مراد ظلی طور پر آنحضرت ﷺ ہیں۔ کیونکہ وہ مظہر اتم الوہیت ہیں اور درجہ سوم قرب پر ہیں۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨

٢٤٧

صفحہ ٣٦٤

ص ٤١٤) ”بروزی تصویر پوری نہیں ہو سکتی۔ جب تک کہ یہ تصویر ہر ایک پہلو سے اپنے اصل کے کمال اپنے اندر نہ رکھتی ہو..... وجود بروزی اپنے اصل کی پوری تصویر ہوتی ہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ ظلی خدا پوری تصویر خدا کی ہوگی۔ عیاذ باللہ!

ج٣ ص ٢٥١) محولہ بالا مرزا نے غیر خدا کے لئے علم غیب کامل تسلیم کیا ہے۔ دیکھو (حقیقت الوحی ص ٢٣٦ ، خزائن ج ٢٢ ص ٢٥٠،٢٤٩) ”لا يظهر على غيبه احداً الا من ارتضى من رسول یعنی غیب کا ایسا دروازہ کسی پر کھولنا کہ گویا وہ غیب پر غالب اور غیب اس کے قبضہ میں ہے۔ یہ تصرف علم غیب میں بجز خدا کے برگزیدہ رسولوں کے اور کسی کو نہیں دیا جاتا کہ کیا باعتبار کیفیت، کیا باعتبار کمیت غیب کے دروازے اس پر کھولے جاتے ہیں۔“

(ضرورۃ الامام ص ١٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٣) ”امام الزمان کی الہامی پیش گوئیاں اظہار علی الغیب کا رتبہ رکھتی ہیں۔ یعنی غیب کو ہر ایک پہلو سے اپنے قبضہ میں کر لیتی ہیں۔ جیسا کہ چابک سوار گھوڑی کو قبضہ میں کرتا ہے۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٦٧، خزائن ج ٢١ ص ٨٦) ”خدا تعالیٰ اپنے کلام عزیز میں فرماتا ہے کہ ہر ایک مومن پر غیب کامل کے امور ظاہر نہیں کئے جاتے۔ بلکہ محض ان بندوں پر جو اصطفاء اور اجتباء کا درجہ رکھتے ہیں، ظاہر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے ”لا يظهر على غيبه احدا الا من ارتضى من رسول“ یعنی اللہ تعالیٰ غیب پر کسی کو غالب نہیں ہونے دیتا۔ مگر ان لوگوں کو جو رسول اور اس کی درگاہ کے پسندیدہ ہیں۔“

(ایام الصلح ص ٧١، خزائن ج ١٤ ص ٣١٩ حاشیہ) ”قرآن شریف میں ہے ” لا يظهر على غيبه احدا الا من ارتضى من رسول“ یعنی کامل طور پر غیب کا بیان کرنا صرف رسولوں کا کام ہے۔ دوسرے کو یہ مرتبہ عطاء نہیں ہوتا۔ رسول سے مراد وہ لوگ ہیں۔ جو اللہ کی طرف سے بھیجے جاتے ہیں۔ خواہ وہ نبی ہوں یا رسول یا محدث یا مجدد ہوں۔“

(چشمہ معرفت ص ١٦٠، خزائن ج ٢٣ ص ١٦٨) ”پس خدا تعالیٰ کی صفات قدیمہ کے لحاظ سے مخلوق کا وجود نوعی طور پر قدیم ماننا پڑتا ہے۔ نہ شخصی طور پر یعنی مخلوق کی نوع قدیم سے چلی آتی ہے۔ ایک نوع کے بعد دوسری نوع خدا تعالیٰ پیدا کرتا چلا آیا ہے۔ سو اسی طرح ہم ایمان رکھتے ہیں اور یہی قرآن شریف نے ہمیں سکھایا ہے....... خدا تعالیٰ کی قدیم صفات پر نظر کر کے مخلوق کے ٢٣٨

لئے قدامت نوعی ضروری ہے۔ مگر قدامت شخ

دیکھو (ملفوظات احمدیہ ص ٣٣٩ ج ١) ”لیکن وہ ذمہ دار ہوتا ہے۔ وہ وہ ہوتا ہے جس کی وہ تر ہر بات وارادہ پر کتاب اللہ کی طرف رجوع آ لیکن مرزا نے حیات مسیح کا اعتق ہوئے کتاب اللہ سے کیوں نہ استصواب کیا ص ٧) حالانکہ تیرے قول سے قرآن مجید کی (ملفوظات احمدیہ ص ٢٣٨ ج ١) ”ح ہیں۔“ نیز مرزا بشیر محمود کے خیال میں جب ثابت کرتا رہا تھا تو کیوں نہ کتاب اللہ سے

اور دجال ہے۔ (نزول مسیح ص ٤٠ ، خزائن ج ١٨ علماء اور متکلمین قرار دیتا ہے۔ دیکھو (شہادۃ دابۃ الارض کا ظہور میں آنا یعنی ایسے واعظو (ازالہ اوہام ص ٥٠٢، خزائن ج ٣ ص جانور نہیں۔ بلکہ بقول حضرت علیؓ آدمی کا نا ایک ایسا طائفہ انسانوں کا مراد ہے جو آسما گا۔

توہین کی ہے۔ اس لئے مرزا مومن نہ رہا، ج ١٥ ص ٤٩١) ”مسلمان سے یہ ہرگز نہیں ہ تو ایک مسلمان اس کے عوض حضرت عیسیٰ دودھ کے ساتھ ہی یہ اثر پہنچایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے محبت رکھنے ہی

صفحہ ٣٦٥

لئے قدامت نوعی ضروری ہے۔ مگر قدامت شخصی ضروری نہیں۔“

(ص٢٦٣،٢٦٤،٢٧٠،٢٧٢،خزائن ج ٢٣ص٢٧٢،٢٦٢)

دیکھو (ملفوظات احمدیہ ص ٣٣٩ ج١) ”لیکن وہ انسان جو اللہ کا ولی کہلاتا ہے اور خدا جس کی زندگی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ وہ وہ ہوتا ہے جس کی وہ حرکت و سکون بلا استصواب کتاب الٰہی نہیں ہوتی وہ اپنی ہر بات و ارادہ پر کتاب اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس سے مشورہ لیتا ہے۔“

لیکن مرزا نے حیات مسیح کا اعتقاد (براہین احمدیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣) میں رکھتے ہوئے کتاب اللہ سے کیوں نہ استصواب کیا اور کیوں رسمی عقیدہ پر بارہ برس تک جما رہا (اعجاز احمدی ص ٧) حالانکہ تیرے قول سے قرآن مجید کی تیس آیات خصوصی طور پر وفات مسیح پر دال ہیں۔

(ملفوظات احمدیہ ص ٢٣٨ ج١) ”تیس آیات مخصوصاً مسیح علیہ السلام کی وفات پر گواہ ہیں۔“ نیز مرزا بشیر محمود کے خیال میں جب اس کا باپ غلام احمد قادیانی ختم نبوت کو قرآن سے ثابت کرتا رہا تھا تو کیوں نہ کتاب اللہ سے استصواب کر لیا؟

اور دجل ہے۔ (نزول مسیح ص ٤٠، خزائن ج ١٨ ص ٤١٨) مرزا خود اس جرم کا مرتکب ہے۔ وہ اس کا معنی علماء اور متکلمین قرار دیتا ہے۔ دیکھو (شہادۃ القرآن ص ٢٥، خزائن ج ٦ ص ٣٢١) ”گیارھویں علامت دابۃ الارض کا ظہور میں آنا یعنی ایسے واعظوں کا بکثرت ہو جانا جن میں آسمانی نور ذرہ بھی نہیں۔“

(ازالۃ اوہام ص ٥٠٢، خزائن ج ٣ ص ٣٦٩، ٣٧٠) ”دابۃ الارض“ سے مراد کوئی لا یعقل جانور نہیں۔ بلکہ بقول حضرت علیؓ آدمی کا نام ہی دابۃ الارض ہے۔ اس جگہ دابۃ الارض سے مراد ایک ایسا طائفہ انسانوں کا مراد ہے جو آسمانی روح اپنے اندر نہیں رکھے ....... وہ گروہ متکلمین کا ہو گا۔

(مقدمہ حمامۃ البشریٰ ص ٨٦، خزائن ج ٧ ص ٣٠٨)

توہین کی ہے۔ اس لئے مرزا مومن نہ رہا، بلکہ کافر ہو گیا۔ (ضمیمہ نمبر ٣ ص ٤، ملحقہ تریاق القلوب، خزائن ج ١٥ ص ٤٩١) ”مسلمان سے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اگر کوئی پادری ہمارے نبی کریم ﷺ کو گالی دے تو ایک مسلمان اس کے عوض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دے۔ کیونکہ مسلمانوں کے دلوں میں دودھ کے ساتھ ہی یہ اثر پہنچایا گیا ہے کہ وہ جیسے نبی کریم ﷺ سے محبت رکھتے ہیں۔ ویسا ہی وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں۔“

٢٣٩

صفحہ ٣٦٦

اس کا ثبوت کہ مرزا قادیانی نے حضرت مسیح کے حق میں سخت بدزبانی کی ہے۔ دیکھو کتاب ہذا نیز (ص١٤١) تحت مضمون مرزا نے حضرت مسیح کو گالیاں دیں اور اس کے جوابات کی تردید۔

(تکذیب قرآن مجید سے آدمی کافر ہو جاتا ہے)

(اعجاز احمدی ص١٩، خزائن ج١٩ ص١١٧)

”آپ لوگ خدا تعالیٰ کو اس طرح پر جھوٹا قرار دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ تو کہتا ہے کہ واقع صلیب کے بعد عیسیٰ علیہ السلام اور اس کی ماں کو ہم نے ایک ٹیلہ پر جگہ دی۔ جس میں صاف پانی بہتا تھا۔۔۔ یعنی خطہ کشمیر۔“

مرزا نے آپ کی قبر کو کبھی گلیل میں تسلیم کیا۔

(ازالۃ اوہام ص٤٧٣، خزائن ج٣ ص٣٥٣)

اور کبھی یروشلم میں ان کو دفن کرایا۔ دیکھو

(کتاب ہذا ص٤٧٢، خزائن ج٣ ص٣٥٣)

(حقیقت الوحی ص١٧٩، خزائن ج٢٢ ص١٨٥)

”کافر کا لفظ مومن کے مقابل پر ہے اور کفر دو قسم ہے۔ (اول) ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ (دوم) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔۔۔ اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“

(فتاویٰ احمدیہ ص١٩٦)

”جو پیغمبر ﷺ کو نہ مانے وہ کافر ہے۔ مگر جو مہدی اور مسیح کو نہ مانے اس کا بھی سلب ایمان ہو جاتا ہے انجامِ کار ایک ہی ہے۔“

مرزا نے اپنی مسیحیت کا انکار سالہا سال تک کیا۔ حالانکہ خدا تعالیٰ کی کھلی کھلی وحی اس کو مسیح موعود ٹھہرا رہی تھی۔ دیکھو

(اعجاز احمدی ص٧، خزائن ج١٩ ص١١٣)

اعجاز احمدی کی عبارت ملاحظہ ہو: ”براہین میں میرا نام عیسیٰ رکھا گیا تھا اور مجھے خاتم الخلفاء ٹھہرایا گیا تھا اور میری نسبت کہا گیا تھا کہ تو ہی کسر صلیب کرے گا اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے: هُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّهٖ تاہم یہ الہام جو براہین میں کھلے کھلے طور پر درج تھا۔ خدا کی حکمت عملی نے میری نظر سے پوشیدہ رکھا اور اسی وجہ سے باوجودیکہ ہمیں براہین میں صاف اور روشن طور پر مسیح موعود ٹھہرایا گیا تھا۔ مگر پھر بھی میں نے بوجہ

٢٤٠

صفحہ ٣٦٧

اس ذہول کے جو میرے دل پر ڈالا گیا۔ حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کا عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ پس میری کمال سادگی اور ذہول پر یہ دلیل ہے کہ وحی الٰہی مندرجہ براہین احمدیہ تو مجھے مسیح موعود بناتی تھی۔ مگر میں نے اس رسمی عقیدہ کو براہین میں لکھ دیا۔ میں خود تعجب کرتا ہوں کہ میں نے باوجود کھلی کھلی وحی کے جو براہین احمدیہ میں مجھے مسیح موعود بناتی تھی۔ کیونکر اس کتاب میں یہ رسمی عقیدہ لکھ دیا۔ پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے۔ بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت مسیح کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔"

اس میں صاف ظاہر ہے کہ مرزا کو خدا کی بالکل واضح اور کھلی کھلی ہر ممکن طریق سے اس کو مسیح موعود بتاتی رہی۔ لیکن مرزا اس کا بارہ سال تک منکر رہا۔ پس وہ بموجب (حقیقت الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥) کافر ہوا۔

نیز مرزا نے اپنی مسیحیت کا انکار ازالہ اوہام میں بھی کیا ہے۔ حالانکہ اسی ازالہ اوہام میں پہلے صفحات میں اپنی مسیحیت کا اقرار کر چکا تھا۔ لہٰذا وہ پکا مرتد ہوا۔ ملاحظہ ہوں ازالہ اوہام کی عبارات۔

(ازالہ اوہام ص ١٣٩، خزائن ج ٣ ص ١٧١) "ہم نے جو رسالہ فتح اسلام و توضیح مرام میں اس اپنے کشفی والہامی امر کو شائع کیا ہے کہ مسیح موعود سے مراد یہی عاجز ہے۔ میں نے سنا ہے کہ بعض ہمارے علماء اس پر بہت افروختہ ہوتے ہیں۔"

(ازالہ اوہام ص ١٨٥، خزائن ج ٣ ص ١٨٩) "ہاں تیرھویں صدی کے اختتام پر مسیح موعود کا آنا ایک اجماعی عقیدہ معلوم ہوتا ہے۔ سو اگر یہ عاجز مسیح موعود نہیں تو پھر آپ لوگ مسیح موعود کو آسمان سے اتار کر دکھلا دیں۔"

ان دونوں عبارتوں میں مرزا اپنی مسیحیت کا اقراری ہے اور اس کے بعد کے صفحات میں اس سے انکاری ہے۔ دیکھو (ازالہ اوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢) "اے برادران دین و علماء شرع متین آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہو کر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیل مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔"

اس عبارت سے صاف معلوم ہوا کہ مرزا خود کو مثیل موعود مانتا ہے نہ کہ مسیح موعود اور باقرار مرزا ہزاروں مثیل آسکتے ہیں۔

٢٤١

صفحہ ٣٦٨

جب خود نبی ہی اپنی نبوت سے انکار کرے تو وہ پرلے درجہ کا کافر ہوگا۔ اسی کو محمد علی لاہوری مرزائی نے ان الفاظ میں ادا کیا ہے۔

(مسیح موعود و ختم نبوت ص١٢،١٣ حاشیہ) ”میاں محمود احمد صاحب حضرت صاحب کو ایک خطرناک فتوئی کے ماتحت لاتے ہیں ...... وہ یہ کہ نبی کی نبوت سے انکار کفر ہے۔ پس اگر حضرت صاحب کو خدا نبی کہتا تھا اور آپ فی الواقع نبی ہی تھے۔ مگر بایں ہمہ زور سے نبوت کا انکار کرتے، بلکہ مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے تھے۔ تو کیا آپ کفر کے فتویٰ کے ماتحت نہیں آئے؟ یقیناً اگر نبی اپنی نبوت سے انکار کرے تو وہ سب سے بڑھ کر کافر ہے۔ کیونکہ دوسروں کو کہنے والا تو انسان ہے۔ مگر اسے خود خدا کہتا ہے۔“ اور مرزا قادیانی نے اپنی نبوت سے انکار کر دیا۔

(ازالہ اوہام ص٥٣٣، خزائن ج٣ ص٣٨٦) ”نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خدا کے الہام کے موافق کیا گیا ہے۔“

(جنگ مقدس ص٦٧، خزائن ج٦ ص١٥٦) ”میرا نبوت کا کوئی دعویٰ نہیں، یہ آپ کی غلطی ہے یا آپ کسی خیال سے کہہ رہے ہیں۔ کیا یہ ضروری ہے کہ جو الہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ نبی بھی ہو جائے۔ میں تو محمدی اور کامل طور پر اللہ و رسول کا متبع ہوں اور ان نشانوں کا نام معجزہ رکھنا نہیں چاہتا۔ بلکہ ہمارے مذہب کے رو سے ان نشانوں کا نام کرامت ہے۔“

مرزا قادیانی نے حضرت مسیح کو گالیاں دیں

اور اس کے جواب کی تردید، پہلا حصہ

اول تو ہم ثابت کریں گے کہ واقعی مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں بدزبانی کی ہے۔

(براہین احمدیہ ص٣٦٨، خزائن ج١ ص٤٣٠ حاشیہ) ”بلکہ ایک ضعیفہ عاجزہ کے پیٹ سے تولد پا کر (بقول عیسائیوں) وہ ذلت اور رسوائی اور ناتوانی اور خواری عمر بھر دیکھی کہ جو انسانوں میں سے وہ انسان دیکھتے ہیں کہ جو بدقسمت اور بے نصیب کہلاتے ہیں اور پھر مدت تک ظلمت خانہ رحم میں قید رہ کر اور اس ناپاک راہ سے کہ جو پیشاب کی بدرو ہے، پیدا ہو کر ہر قسم کی آلودہ حالت کو اپنے اوپر وارد کر لیا اور بشری آلودگیوں اور نقصانوں میں سے کوئی ایسی آلودگی باقی نہ رہی جس سے وہ بیٹا باپ کا بدنام کنندہ ملوث نہ ہوا....... (ص٣٦٩، خزائن ج١ ص٤٣١ حاشیہ)...... مخرج معلوم کی راہ سے جو پلیدی اور ناپاکی کی مبرز ہے، تولد پا کر مدت تک بھوک اور پیاس اور بیماری کا دکھ اٹھاتا رہا۔“

٢٣٢

صفحہ ٣٦٩

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩) ”ہاں آپ کو گالیاں دینے اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آ جاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی حرکات جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) ”آپ کا کنجروں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہے کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری (کسبی) کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

(کشتی نوح ص ٦٥ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ٧١ حاشیہ) ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“

(اخبار بدر ٧ نومبر ١٩٠٢ء ص ١٠) ”یحییٰ جو نشہ نہیں پیتے تھے۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت بھی منع تھی۔ مسیح نے مرشد کی تقلید کیوں نہ کی؟“ اور مرزا شراب کو ام الخبائث کہتا ہے۔

(ملفوظات احمدیہ ص ٣٢٤ ج ١)

(نور القرآن ص ٤٦، ٤٧ ، خزائن ج ٩ ص ٤٣٨) ”مگر آپ کے یسوع صاحب کی نسبت کیا کہیں اور کیا لکھیں اور کب تک ان کے حال پر روویں۔ کیا یہ مناسب تھا کہ وہ ایک زانیہ عورت کو یہ موقع دیتا کہ وہ عین جوانی اور حسن کی حالت میں ننگے سر اس سے مل بیٹھتی اور نہایت ناز و نخرہ سے اس کے پاؤں پر اپنے بال ملتی اور حرام کاری کے عطر سے اس کے سر پر مالش کرتی اور اگر یسوع کا دل بدخیالات سے پاک ہوتا تو وہ ایک کسبی عورت کو نزدیک آنے سے ضرور منع کرتا۔ مگر ایسے لوگ جن کو حرام کار عورتوں کے چھونے سے مزہ آتا ہے۔ وہ ایسے نفسانی موقع پر کسی ناصح کی نصیحت بھی نہیں سنا کرتے۔ دیکھو یسوع کو ایک غیرت مند بزرگ نے نصیحت کے ارادہ سے روکنا چاہا کہ

٢٤٣

صفحہ ٣٧٠

ایسی حرکت کرنا مناسب نہیں۔ مگر یسوع نے اس کے چہرہ کی ترش روئی سے سمجھ لیا کہ میری اس حرکت سے یہ شخص بیزار ہے۔ تو رندوں کی طرح اعتراض کو باتوں میں ٹال دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ کنجری بڑی اخلاص مند ہے۔۔۔۔۔ بھلا جو شخص ہر وقت شراب سے سرمست رہتا ہے اور کنجریوں سے میل جول رکھتا ہے۔۔۔۔۔ (ص٤٧، خزائن ج٩ ص٤٣٩)..... مگر کون عقلمند اور پرہیز گار ایسے شخص کو پاک باطن سمجھے گا جو جوان عورتوں کے چھونے سے پرہیز نہیں کرتا۔ ایک کنجری خوبصورت ایسی قریب بیٹھی ہے۔ گویا بغل میں ہے۔ کبھی ہاتھ لمبا کر کے سر پر عطر مل رہی ہے۔ کبھی پیروں کو پکڑتی ہے اور کبھی اپنے خوش نما اور سیاہ بالوں کو پیروں پر رکھ دیتی ہے اور گود میں تماشا کر رہی ہے۔۔۔۔۔ اور طرفہ یہ کہ عمر جوان اور شراب پینے کی عادت اور پھر مجرد۔"

(دافع البلاء ص٣، خزائن ج١٨ ص٢١٨ حاشیہ) "مگر یحیٰ نبی کو اس پر فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں یا سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔"

دوسرا حصہ

یہ کہ مرزا اور مرزائی لوگ ان گالیوں کے جواب یہ دیا کرتے تھے کہ یہ الزاما گالیاں دی گئی ہیں۔ یعنی بطور تسلیم یا کبھی یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ جوابا گالیاں دی گئی ہیں۔ کیونکہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کو گالیاں دیں تو ہم نے جوابا یہ دشنام طرازی کی ہے۔

اور کبھی یہ عذر پیش کیا کرتے ہیں کہ یہ مسیح علیہ السلام کو گالیاں نہیں۔ بلکہ ایک فرضی یسوع کو گالیاں دی گئی ہیں۔ جس کا دعویٰ الوہیت کا تھا۔ (نورالقرآن نمبر ٢، خزائن ج٩ ص٣٧٥) تاکہ میں سچ سچ ثابت کروں گا کہ یہ سب جوابات عذر گناہ بدتر از گناہ کا مصداق ہیں۔ بوجوہ ذیل:

(دعوت حق ص٨، ملحقہ تحفہ حقیقت الوحی، خزائن ج٢٢ ص٦٢٠) "قسم دیتا ہوں جو آپ لوگ اپنے زعم میں حضرت یسوع مسیح ابن مریم سے رکھتے ہیں۔ (توضیح المرام ص٣، خزائن ج٣ ص٥٢) " مسیح بن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔"

(ایام الصلح ص١٦، خزائن ج١٤ ص٣٥٣، تحفہ قیصریہ ص٢٠ تا ٢٢، خزائن ج١٢ ص٢٧٢ تا ٢٧٤)

٢٤٤

الذين يدعون من دون الله فـ (اخبار الحکم نمبر ١٨ ج ٨ ص٢ جو کچھ اشتہار کے لکھنے والوں اور ا ہمارے نبی کریم ﷺ کی نسبت مال لائے ہیں اور مجھے لوگوں کا دغاباز کہ نسبت سور اور کتے اور مردار خوار اور نام رکھا ہے۔ ان تمام دکھ دینے وال صبر نہ کرو تو پھر تم میں اور دوسرے لو اور بزرگوں کی نسبت ہرگز سختی کے ل پاک کو گالیاں نہ دیں۔" بالکل یہی عبارت (نس احمدیہ ص ١٠٢، ١٠٣، خزائن ج١ ص٢٩٠

نام سے پکاریں۔ خواہ عیسیٰ مسیح عل لاہوری مرزائی اس غلام احمد قادی احمد کو گالیاں دے جو قادیانی مکر مسلمانوں کے عیسائیوں کے بز اس صورت میں حق بجانب ہوں

گالیاں دی تھیں۔ تو اس کے جو القلوب) تو مرزا اس کو بھی رو کر تا (نسیم دعوت ص ٢، خزائن ج ١٩ ص٣ (تبلیغ رسالت جلد عیسائی کی بدزبانی کے مقابل سخت الفاظ کہہ دیتے ہیں۔" (چشمہ معرفت کا ضمیم

صفحہ ٣٧١

الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدواً بغیر علم“ کے خلاف ہے۔ (اخبار الحکم نمبر ١٨ ج ٨ ص ٤ کالم نمبر ١، ٢١ مئی ١٩٠٤ء) ”میں اپنی جماعت کو نصیحتاً کہتا ہوں کہ جو کچھ اشتہار کے لکھنے والوں اور ان کی جماعت نے محض دل دکھانے اور توہین کی نیت سے ہمارے نبی کریم ﷺ کی نسبت مال خور اور ٹھگ اور کاذب اور نمک حرام کے الفاظ کو استعمال میں لائے ہیں اور مجھے لوگوں کا دغا بازی سے مال کھانے والا قرار دیا ہے اور یا جو خود میری جماعت کی نسبت سور اور کتے اور مردار خور اور گدھے اور بندر وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے ہیں اور ملیچھ ان کا نام رکھا ہے۔ ان تمام دکھ دینے والے الفاظ پر وہ صبر کریں...... اگر تم ان گالیوں اور بد زبانیوں پر صبر نہ کرو تو پھر تم میں اور دوسرے لوگوں میں کیا فرق ہوگا...... تمہیں چاہئے کہ آریوں کے رشیوں اور بزرگوں کی نسبت ہرگز سختی کے الفاظ استعمال نہ کرو تاکہ وہ بھی خدائے قدوس اور اس کے رسول پاک کو گالیاں نہ دیں۔“

بالکل یہی عبارت (نسیم دعوت ص ٢، خزائن ج ١٩ ص ٣٦٤) میں بھی ہے۔ (قریب منہ براہین احمدیہ ص ١٠٢، ١٠٣، خزائن ج ١ ص ٩٠، ٩٢ ملخص ، تحفہ قیصریہ ص ٦ تا ٨، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٨ تا ٢٦٠ ملخص)

نام سے پکاریں۔ خواہ عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے نام سے بہرحال شخصیت تو واحد ہے۔ مثلاً اگر کوئی لاہوری مرزائی اس غلام احمد قادیانی کو گالیاں دے جو مدعی نبوت ہوا ہے یا قادیانی مرزائی اس غلام احمد کو گالیاں دے جو قادیانی منکر دعویٰ نبوت ہے یا مسلمان اس مرزا کو گالیاں دیں جس نے مسلمانوں کے عیسائیوں کے بزرگوں کو برا بھلا کہا ہے جو خود کو رودر گوپال وغیرہ سمجھتا ہے تو کیا وہ اس صورت میں حق بجانب ہوں گے؟ اور کہا جائے گا کہ یہ فرضی نام تھا۔

گالیاں دی تھیں۔ تو اس کے جواب میں ہم لوگوں نے حضرت مسیح کو گالیاں دیں۔ (ضمیمہ نمبر ٣ تریاق القلوب) تو مرزا اس کو بھی رد کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جواباً بھی گالیاں نہ دو جیسے نمبر ٢ میں اخبار الحکم اور (نسیم دعوت ص ٢، خزائن ج ١٩ ص ٣٦٤) کا حوالہ نقل کیا جا چکا ہے۔

(تبلیغ رسالت جلد ١٠ ص ١٠٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٤٤) ”بعض جاہل مسلمان کسی عیسائی کی بدزبانی کے مقابل پر جو آنحضرت ﷺ کی شان میں کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ کی نسبت سخت الفاظ کہہ دیتے ہیں۔“

(چشمہ معرفت کا ضمیمہ ص ١٨، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٩) ”کسی جماعت کے دل میں یہ بھی خیال

٢٣٥

PDF 373

آوے کہ مسلمان بھی مباحثہ کے وقت نا مناسب الفاظ دوسری قوموں کے بزرگوں کی نسبت استعمال کرتے ہیں۔ پس یاد رہے کہ وہ قرآنی تعلیم سے باہر چلے جاتے ہیں اور بسا اوقات ان کی بدتہذیبی کا موجب وہی لوگ ہو جاتے ہیں۔ جو آنحضرت ﷺ کو گالیاں نکالتے ہیں ...... بہر حال جاہلوں کے مقابل پر صبر کرنا بہتر ہے۔ کیونکہ کسی نبی کی اشارہ سے بھی تحقیر کرنا سخت معصیت ہے اور موجب نزول غضب الٰہی۔“ (ضمیمہ نمبر ٣ ص ج، ملحقہ تریاق القلوب، خزائن ج ١٥ ص ٤٩١) ”مسلمانوں سے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اگر کوئی پادری ہمارے نبی ﷺ کو گالی دے تو ایک مسلمان اس کے عوض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دے۔ کیونکہ مسلمانوں کے دلوں میں دودھ کے ساتھ ہی یہ اثر پہنچایا گیا ہے کہ وہ جیسے کہ اپنے نبی ﷺ سے محبت رکھتے ہیں ایسا وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں۔“

گوئی سے کام لیا ہے۔ مگر گورنمنٹ کی پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے دیکھو (ضمیمہ نمبر ٣ ص ج، ملحقہ تریاق القلوب، خزائن ج ١٥ ص ٤٩١) ”سو مجھے پادریوں کے مقابل پر جو کچھ وقوع میں آیا ہے، یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا ہے۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٢) ”بالآخر ہم لکھتے ہیں کہ ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی، انہوں نے ناحق ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔“ (اعجاز احمدی ص ٣٨، خزائن ج ١٩ ص ١٤٩) ”میں نے اس قصیدہ میں جو امام حسینؓ کی نسبت لکھا ہے یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت بیان کیا ہے۔ یہ انسانی کارروائی نہیں۔ خبیث ہے وہ انسان جو اپنے نفس سے کاملوں اور راست بازوں پر زبان دراز کرتا ہے۔“

پیشوا ہیں اور کسی کے پیشوا کو گالیاں دینا قرآنی تعلیم کے خلاف ہے۔“ حسب عبارت (نسیم دعوت ص ٢، اخبار الحکم نمبر ١٨، ج ٨ ص ٤، کالم نمبر ١، تبلیغ رسالت ص ١٠٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٤٤، چشمہ معرفت کا ضمیمہ ص ١٨، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٩) ”نیز اس پر آخر عیسائیوں کو غصہ آیا اور انہوں نے اس غصہ کے جواب میں آنحضرت ﷺ پر طعن و تشنیع کی اور برے الفاظ استعمال کئے تو ان برے الفاظ کے استعمال و طعن و تشنیع کا ذمہ دار کون ہے؟ اور درحقیقت یہ گالیاں کس نے نکلوائیں؟ اس کا ذمہ دار خود مرزا ہے۔ کیونکہ وہ کہتا ہے کہ اگر کسی کے بزرگ کو کوئی گالی دے اور وہ اس کے جواب میں اس

٢٤٦

کے بزرگ پر زبان درازی کرے معرفت کی عبارت کا فقرہ) ”اور بسا آنحضرت ﷺ کو گالیاں نکالنے کا (پیغام صلح ص ٢٧، خزائن الفاظ سے یاد کر کے آنحضرت ﷺ طرف منسوب کی جائیں گی۔ جوا

تو گویا سب گالیاں آ

تو اس کے جواب میں ہم کہیں ۔ زیادہ توقیر کے الفاظ استعمال ک کرتے ہیں۔ دیکھو (چشمہ مسیحی ص ٥٧، بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو خدا تع میں خدا تعالیٰ ان سے ایسے کلما خدا کی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ تو اب ہم بھی کیا مر زا کی امت بن گئے یہ بات نہیں ہوگی؟

نکتہ چینی نہیں ہو سکتی ۔ دیکھو ( نہیں لگا کہ ویدوں کے رشی بکو کی زندگی سوانح کیا تھی اور ان ہمیں اب تک ان کے وجود ثب جو واقع میں موجود تھے۔ کیونک نیز مرزا نے لکھا ۔ چلن پر اعتراضات کئے ہیں

صفحہ ٣٧٤

کے بزرگ پر زبان درازی کرے تو اس کا ذمہ دار وہ پہلا شخص ہوگا۔ ملاحظہ ہو (ضمیمہ ص ١٨ چشمہ معرفت کی عبارت کا فقرہ) ’’اور بسا اوقات ان کی بدتہذیبی کا موجب وہی لوگ ہو جاتے ہیں جو آنحضرت ﷺ کو گالیاں نکالتے ہیں۔‘‘

(پیغام صلح ص ٢٧، خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٥) ’’ایسی مہذب قوم کی کتاب اور رشیوں کو برے الفاظ سے یاد کر کے آنحضرت ﷺ کو گالیاں دلوائیں۔ ایسی گالیاں تو درحقیقت انہی لوگوں کی طرف منسوب کی جائیں گی۔ جو اس حرکت کے مرتکب ہوں گے۔‘‘

(قریب منہ پیغام صلح ص ٢١، ٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٢) ’’

تو گویا سب گالیاں آنحضرت ﷺ کو مرزا نے ہی دلوائیں۔ (عیاذ باللہ!)

تو اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ تو خود کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے حق میں ان الفاظ سے زیادہ توقیر کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ جن سے عیسائی لوگ حضرت مسیح کی الوہیت ثابت کیا کرتے ہیں۔ دیکھو

(چشمہ مسیحی ص ٥٧، خزائن ج ٢٠ ص ٣٧٥ از الحکم نمبر ١١ ج ١٠ ص ٨، ٣١ مارچ ١٩٠٦ء) ’’اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو خدا تعالیٰ سے محبت ذاتیہ کا تعلق ہوتا ہے۔ بسا اوقات استعارہ کے رنگ میں خدا تعالیٰ ان سے ایسے کلمات ان کی نسبت کہلا دیتا ہے کہ نادان لوگ ان کے ان کلموں سے خدائی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ میری نسبت مسیح سے بھی زیادہ وہ کلمات فرمائے گئے ہیں۔‘‘

تو اب ہم بھی کیا مرزا کو گالیاں دیں۔ جس نے خدائی دعویٰ کیا ہے اور کیا اس پر مرزائی امت آگ بگولہ تو نہیں ہوگی؟

نکتہ چینی نہیں ہو سکتی۔ دیکھو (نورالقرآن نمبر ٢ ص ٥، خزائن ج ٩ ص ٣٩٨) ’’ہمیں تو اب تک یہی پتہ نہیں لگا کہ ویدوں کے رشی کچھ وجود بھی رکھتے تھے یا نہیں اور کہاں تھے کس شہر میں رہتے تھے اور ان کی زندگی سوانح کیا تھی اور ان کی لائف کا سلسلہ کس طور کا تھا پھر ہم کیونکر ان کی نکتہ چینی کر سکتے ہیں ہمیں اب تک ان کے وجود میں ہی شک ہے۔ تو یقیناً مرزا کی نکتہ چینی اسی مسیح علیہ السلام پر ہوگی۔ جو واقع میں موجود تھے۔ کیونکہ فرضی شخصیت پر کسی کے نکتہ چینی کرنے کا مطلب ہی کیا ہے؟

نیز مرزا نے لکھا ہے کہ خبیث یہودیوں نے حضرت مسیح کی پیش گوئیوں اور ان کے چال چلن پر اعتراضات کئے ہیں۔ تو گویا اگر مرزا نے بھی آپ کی پیش گوئیوں پر اور آپ کے اخلاق پر

٢٤٧

صفحہ ٣٧٤

اعتراضات کئے تو وہ بھی خبیث یہودیوں کا ہی تتبع ہوا۔

(حقیقۃ الوحی کا تتمہ ص ١٠١، خزائن ج ٢٢ ص ٥٤٤) ”کئی خبیث النفس لوگوں نے ان برگزیدوں پر جو صاحب تزکیہ نفس تھے۔ ناپاک تہمتیں لگائی ہیں....... یہودی لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر طرح طرح کی تہمتیں لگاتے ہیں۔ چنانچہ تھوڑی مدت ہوئی ہے کہ میں نے ایک یہودی کی کتاب دیکھی جس میں نہ صرف ناپاک اعتراض تھا کہ نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ناجائز طور پر ہے۔ بلکہ آپ کے چال چلن پر بھی نہایت گندے اعتراضات کئے تھے اور جو آپ کی خدمت میں بعض عورتیں رہتی تھیں۔ بہت برے پیرایہ میں ان کا ذکر کیا ہے۔ پس جب کہ پلید طبع دشمنوں نے ایسے پاک فطرت اور مقدس لوگوں کو شہوت پرست لوگ قرار دیا۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨٦) ”یہودی اب تک کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کی ایک پیش گوئی بھی پوری نہیں ہوئی۔“ یہی اتہامات حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر مرزا نے قائم کئے ہیں۔ جیسے کہ ہم شروع مضمون میں پہلے حصہ مضمون میں مرزائی عبارتیں (دافع البلاء ضمیمہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٤١٨) کے بعد (کشتی نوح ص ٦٥، خزائن ج ١٩ ص ٧١، ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ تا ٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩ تا ٢٩٢) سے پیش کر چکے ہیں اور مرزا نے آپ کی پیش گوئیوں پر بھی اعتراضات کئے ہیں۔ دیکھو!

(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١) ”ہائے کس کے سامنے یہ فریاد کی جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کرے۔“

تو ثابت ہوا کہ مرزا بھی یہودی خبیث النفس ہی ہے بلکہ یہودیوں سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ یہودی تو حضرت عیسیٰ کو نبی نہیں سمجھتے اور یہ زبانی طور پر نبی تسلیم کر کے پھر ان پر اتہامات لگاتا ہے

ص ٤ تا ٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩ تا ٢٩٢) میں بقول خود فرضی یسوع پر کئے ہیں۔ وہی اعتراضات اس نے (کشتی نوح ص ٦٥ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ٧١، دافع البلاء ضمیمہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٤١٨) میں بعینہ شراب خوری اور بداخلاقی حضرت مسیح علیہ السلام پر وارد کئے ہیں اور پھر ان اعتراضات کو دافع البلاء میں ازروئے قرآن مجید صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی ہے تو یہ عذر کہ اس یسوع مسیح کا ذکر

٢٤٨

صفحہ ٣٧٥

قرآن مجید میں نہیں۔ یہ بھی غلط ٹھہرا کیونکہ اس مسیح کو اس نے قرآن مجید والا مسیح تسلیم کر کے پھر لکھا کہ ان کو قرآن مجید نے حضور نہیں فرمایا۔

١١...... فرضی یسوع کا جواب دینا اس لئے بھی عذر لنگ ہے کہ اس نے اپنی بعض کتابوں میں تو حضرت مسیح علیہ السلام یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے الفاظ سے حضور کو تعبیر کیا ہے نہ کہ یسوع کے نام سے مثلاً (کشتی نوح ص ٦٥ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ٧١، دافع البلاء تنبیہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢١٨ حاشیہ، ازالۃ اوہام ص ٩، خزائن ج ٣ ص ١٠٧ حاشیہ) ”اس جگہ حضرت مسیح کی تہذیب اور اخلاقی حالت پر ایک سخت اعتراض وارد ہوتا ہے۔“

(زندہ نبی ص ٧) ”اور ایسے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ناکام رہے۔“ (ص ٢٣) ”اور اصل بات یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جس قسم کا موقع ملا ہے مسیح کو نہیں ملا۔ یہ ان کی بدقسمتی ہے۔“

(ص ٢٤) ”مسیح کے اخلاق کا نمونہ اسی قسم کا ہے...... لیکن جب یہ موقع ہی ان کو نہیں ملا، تو پھر انہیں اخلاق کا نمونہ ٹھہرانا صریح بے حیائی ہے۔“

(ص ٢٦) ”طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دینے کی تعلیم دینے والے معلم کی عملی حالت میں اس خلق کا ہمیں کوئی پتہ نہیں لگتا۔ دوسروں کو کہتا ہے کہ گالی نہ دو مگر یہودیوں کے مقدس فریسیوں اور فقیہوں کو حرام کار اور سانپ کے بچے آپ ہی کہتا ہے۔ یہودیوں میں بالمقابل اخلاق پائے جاتے ہیں۔ وہ اسے نیک استاد کہہ کر پکارتے ہیں اور یہ ان کو حرام کار کہتے ہیں۔“

نوٹ...... بالکل یہی نمونہ اخلاقی خود مرزا میں ہے کہ لوگوں کو گالیوں سے منع کرتا ہے اور خود اس قدر گالیوں کے انبار لگاتا ہے کہ مولویوں کو چھوڑتا ہے نہ سلف کو نہ انبیاء کو نہ حضرت مسیح علیہ السلام کو۔ دیکھو

(کتاب ہذا ص ٢٢٠)

مرزا کی نظر میں دوسرے مسلمان کافر ہیں یا مومن

مرزا کے نزدیک دوسرے مسلمان داخل اسلام ہیں

(ایام الصلح ص ٨٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٤) ”یاد رہے کہ ہم میں اور ان لوگوں میں بجز ایک مسئلہ کے اور کوئی مخالفت نہیں یعنی یہ کہ یہ لوگ نصوص صریحہ قرآن اور حدیث کو چھوڑ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے قائل ہیں اور ہم بموجب نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ متذکرہ بالا کے اور اجماع آئمہ اہل بصارت کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔“

(آسمانی فیصلہ ص ٤، خزائن ج ٤ ص ٣١٣) ”ان سب عقائد پر ایمان رکھتا ہوں جو اہل سنت و الجماعت مانتے ہیں اور کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا قائل ہوں اور قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز

٢٤٩

صفحہ ٣٧٦

پڑھتا ہوں اور میں مدعی نبوت کا نہیں۔ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“

(چشمہ معرفت ص ١٨٠، خزائن ج ٢٣ ص ١٨٩) ”ہم میں اور ہمارے مخالف مسلمانوں میں صرف نزاع لفظی ہے۔“ (حقیقت الوحی ص ٣٨١، خزائن ج ٢٢ ص ٣٩٦) ”پھر فروعی مسائل کا جو احمدیوں اور غیر احمدیوں میں مختلف فیہ ہیں۔ ذکر چھیڑ کر میرے ساتھ مجادلہ شروع کر دیا۔“

(گورنمنٹ کی توجہ کے لائق ص ٥ ملحقہ شہادت القرآن، خزائن ج ٦ ص ٣٨٢) ”میں نے سنا ہے کہ ایک شخص ساکن بٹالہ ضلع گورداسپور نے جو اپنے تئیں مولوی ابوسعید محمد حسین کر کے مشہور کرتا ہے۔ اس اختلاف رائے کے سبب سے جو بعض جزوی مسائل ہیں۔ وہ اس عاجز کے ساتھ رکھتا ہے۔..... گورنمنٹ کو بدظن کرنے کے لئے لکھتا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٣٧، خزائن ج ٣ ص ٤٤٤، ٤٤٣) ”میاں عبدالحق نے مباہلہ کی بھی درخواست کی تھی۔ لیکن اب تک میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایسے اختلافی مسائل ہیں۔ جن کی وجہ سے کوئی فریق کافر یا ظالم نہیں ٹھہر سکتا۔ کیونکر مباہلہ جائز ہے۔..... کیونکہ میں اپنے مخالفوں کو کاذب تو نہیں سمجھتا، بلکہ موّول مخطی سمجھتا ہوں“

مولوی عبدالحق صاحب حالانکہ مرزا کو کافر جہنمی بھی کہہ چکے تھے۔ لیکن پھر بھی مرزا ان کو کافر نہیں سمجھتا (اس سے لاہوری مرزائیوں کو شرمندہ ہونا چاہئے جو یہ کہا کرتے ہیں کہ ہم مکفرین مرزا کو کافر سمجھتے ہیں)، دیکھو مرزا کی عبارت:

(ازالہ اوہام ص ٦٢٨، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩) ”میاں عبدالحق صاحب غزنوی اور مولوی محی الدین لکھوکے والے اس عاجز کے حق میں لکھتے ہیں کہ ہمیں الہام ہوا ہے کہ یہ شخص جہنمی ہے۔ چنانچہ عبدالحق صاحب کے الہام میں صریح سیصلی نارا ذات لہب موجود ہے اور مولوی محی الدین صاحب کو یہ الہام ہوا ہے کہ یہ شخص ایسا ملحد اور کافر ہے۔“

(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢) ”ابتداء سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعویٰ کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہو سکتا۔“

مرزا کے نزدیک دوسرے اہل اسلام دائرہ اسلام سے خارج ہیں

(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ......) ”کفر دو قسم ہے (اوّل) ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ (دوم) دوسرے یہ کفر کہ وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا...... اور اگر غور سے دیکھا جائے تو دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“ (مثلاً حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧، فتاویٰ احمدیہ ص ٢٧١) ”جبکہ خدا تعالیٰ نے

٢٥٠

مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص مسلمان نہیں ہے۔“

(فتاویٰ احمدیہ ص ٢٧٩)

مانے اس کا بھی سلب ایمان ہو جا نہیں، بلکہ خدا تعالیٰ اور اس کے ر

مرزا قادیانی کے غلط حوال

حصہ اوّل جھوٹے پر فتوٰ

جائے تو پھر اس کی کسی بات کا

ہزاروں موتوں سے بدتر ہے۔“

نہیں، بلکہ نہایت شریر اور بدف

ج ٧، ص ٤٠٧) ”جھوٹ بولنا

اور افتراء کے ساتھ ہو۔“

حصہ دوم

اب مرزا کے ا

میں لکھا ہے...... جس شخص اس پر ظاہر کئے جائیں، وہ یہ بالکل جھوٹ

صفحہ ٣٧٧

مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچتی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے۔“

(فتاویٰ احمدیہ ص٢٧٩) ”جو پیغمبر خدا ﷺ کو نہ مانے وہ کافر ہے۔ مگر جو مہدی اور مسیح کو نہ مانے اس کا بھی سلب ایمان ہو جاتا ہے۔ انجام ایک ہی ہے......(ص٢٨٠)...... میرا انکار میرا انکار نہیں، بلکہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا انکار ہے۔“

مرزا قادیانی کے غلط حوالہ جات اور تحریفات

حصہ اوّل جھوٹے پر فتویٰ مرزا

جائے تو پھر اس کی کسی بات کا اعتبار نہیں رہتا۔“

ہزاروں موتوں سے بدتر ہے۔“

نہیں، بلکہ نہایت شریر اور بدذات آدمیوں کا کام ہے۔“

ج ١٧ ص ٤٠٧) ”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔“

اور افتراء کے ساتھ ہو۔“

حصہ دوم

اب مرزا کے افتراءات اور تحریفات ملاحظہ ہوں۔

میں لکھا ہے......جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں، وہ نبی کہلاتا ہے۔“

یہ بالکل جھوٹ ہے اور عمداً غلط بیانی کی گئی ہے۔ کیونکہ اس میں ’نبی‘ کا لفظ نہیں، بلکہ

٢٥١

صفحہ ٣٧٨

انہوں نے تو لکھا ہے کہ وہ ”محدث“ کہلاتا ہے۔ حالانکہ خود مرزا نے اسی حوالہ کو تین جگہ اس سے پہلے درج کیا اور وہاں محدث ہی لکھا ہے۔ دیکھو (براہین احمدیہ ص ٥٣٦ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٥٤) ”امام ربانی صاحب اپنی مکتوبات کی جلد ثانی میں مکتوب پنجاہ و یکم میں ہے۔ اس میں صاف لکھتا ہے کہ غیر نبی بھی مکالمات و مخاطبات حضرت احدیت سے مشرف ہو جاتا ہے اور ایسا شخص محدث کے نام سے موسوم ہے۔“

(محصلہ ازالہ اوہام ص ٩١٥، خزائن ج ٣ ص ٦٠٠، تحفہ بغداد ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ٧ ص ٢٨) ”پس معلوم ہوا کہ مرزا نے بحلف عمداً جھوٹ سے کام لیا ہے۔“

آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“ یہ بھی بالکل کذب ہے۔ مسلم میں تو آسمان کا لفظ ہے ہی نہیں اور اگر ہے تو پھر مرزا اور اس کی امت کے انکار کا کیا معنی کہ کسی صحیح حدیث میں از آسمان کا لفظ نہیں آیا۔

آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں یہ لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی کہ ”ھذا خلیفۃ اللہ المھدی “ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے۔ جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔“

(کس قدر صاف اور غلط بیانی ہے، بخاری میں یہ کہیں نہیں)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے احادیث میں رجوع کا لفظ نہیں آیا۔“

یہ کس قدر غلط بیانی ہے۔ کیونکہ احادیث صحیحہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے رجوع کا لفظ آیا ہے۔ جس کو حضرت علامہ سید انور شاہ صاحبؒ نے اپنی کتاب (عقیدۃ الاسلام ص ٦٨) میں ثابت کیا ہے۔ بلکہ خود مرزا نے تسلیم کیا ہے۔ دیکھو (الحکم ٢٠ فروری ١٩٠٨ء نمبر ٩، ج ١٢ کالم ٣ ص ٣) ”جیسا کہ حدیثوں میں صحیح طور پر وارد ہو چکا ہے کہ جب مسیح دوبارہ دنیا میں آئے گا، تو تمام دینی جنگوں کا خاتمہ کر دے گا۔“

السماء “ حالانکہ احادیث صحیحہ میں ”من السماء“ کا لفظ موجود ہے۔ جیسے کہ ابن عباسؓ کی روایت میں کنز العمال میں ہے اور اس حدیث کو مرزا نے (حمامۃ البشریٰ ص ٨٨ تا ٨٩، خزائن ج ٧ ص ٣١٤،

٢٥٢

صفحہ ٣٧٩

٣٤٢) میں دو دفعہ ذکر کیا۔ لیکن اپنی عادت کے موافق اس میں تحریف کر کے ”من السماء“ کا لفظ دونوں جگہ سے کاٹ دیا۔

نیز مرزا نے صحیح مسلم میں خود آسمان کا لفظ تسلیم کیا ہے۔ جیسا کہ اسی مضمون میں کتاب ہذا میں ازالۃ الاوہام کی عبارت درج ہو چکی ہے۔ علاوہ ازاں مرزا نے ”ابن صیاد“ کی روایت سے بھی آسمان کا لفظ مانا ہے۔ دیکھو

(تحفہ گولڑویہ ص ١١٣، خزائن ج ١٧ ص ٢٨١)

حدیث لکھی ہے ”این مشت خاک را گر نہ بخشم چہ کنم۔“ یہ بالکل جھوٹ ہے، کیا فارسی میں بھی کوئی حدیثیں ہیں۔

”خدا کی رحمت ہے کہ وعید کی پیش گویوں میں منسوخی کا سلسلہ اس کی طرف سے جاری ہے۔ یہاں تک کہ جو جہنم میں ہمیشہ رہنے کا وعید قرآن شریف میں کافروں کے لئے ہے۔ وہاں بھی یہ آیت موجود ہے۔ ”الا ماشاء ربک ان ربک فعال لما یرید۔“ یعنی کافر ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ لیکن اگر تیرا رب چاہے۔ کیونکہ وہ جو کچھ چاہتا ہے۔ اس کے کرنے پر قادر ہے۔ لیکن بہشتیوں کے لئے ایسا نہیں فرمایا۔ کیونکہ وہ وعدہ ہے، وعید نہیں۔“

حاشیہ میں یہ لکھا کہ ”قرآن مجید میں کفار اور مشرکین کی سزا کے لئے بار بار ابدی جہنم کا ذکر ہے اور بار بار فرمایا ہے ”خالدین فیہا ابداً“ اور پھر باوجود اس کے قرآن مجید میں دوزخیوں کے حق میں ”الا ماشاء ربک“ بھی موجود ہے۔“

اس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ آیت میں جملہ استثنائیہ ”الا ماشاء ربک“ دوزخیوں کے حق میں ہے۔ مگر بہشتیوں کے حق میں نہیں۔ کیونکہ وعدہ اور وعید میں فرق ہے۔ یہ کس قدر جرأت سے کذب بیانی کی جاتی ہے۔ کیونکہ پارہ نمبر ١٢ میں بہشتیوں اور دوزخیوں دونوں کے حق میں ”الا ماشاء ربک“ وہیں موجود ہے۔ گویا جو آیت سامنے پڑی ہے۔ اس کا بھی انکار کر دیا۔ اب اس کذاب پر کوئی کیا اعتبار کرے۔

مرزا کی نظر میں انبیاء کرام علیہم السلام

زبانی طور پر مرزا انبیاء علیہم السلام کا مداح بننا چاہتا ہے۔ جیسے وہ کہتا ہے (براہین احمدیہ

ص ١٦ خزائن ج ١ ص ٢٣)

٢٥٣

صفحہ ٣٨٠
ما ہمہ پیغمبر انرا چاکریم
ہمچو خاک اوفتادہ بروے

لیکن در پردہ وہ انبیاء کی سخت توہین کا مرتکب ہوتا ہے۔

پہلا حصہ

طعنہ بر پاکان بود
خود کنی ثابت کہ ہستی فاجری

کمال تہذیب اور غایت آداب سے تصنیف کی گئی ہے اور اس میں کوئی ایسا لفظ نہیں جس میں کسی بزرگ یا پیشوا کسی فرقہ کی کسر شان لازم آوے اور خود ہم ایسے الفاظ کو صراحتاً یا کنایتاً اختیار کرنا خبث عظیم سمجھتے ہیں اور مرتکب ایسے امر کو پرلے درجے کا شریرالنفس خیال کرتے ہیں۔“

جو مقدس اور راست بازوں پر بے ثبوت تہمت لگاتا ہے....... ہم سوچتے ہیں کہ کیوں خدا تعالیٰ کے مقدس پیارے بندوں پر ایسے حرام زادے جو سفلہ طبع دشمن ہیں، جھوٹے الزام لگاتے ہیں۔“

خدا تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ جیسا کہ آدم علیہ السلام کا دانہ کھانا اگر تحقیر کی راہ سے ان کا ذکر کیا جائے تو یہ موجب کفر اور سلب ایمان ہے۔ کیونکہ وہ مقبول ہیں۔“

دوسرا حصہ کہ مرزا نے کیا انبیاء کو سمجھا؟

(ازالہ اوہام ص ٦٢٨، خزائن ج ٣ص ٤٣٩) ”جب انسان اپنے نفس اور خیال کو دخل دے کر کسی بات

کے انکشاف کے لئے بطور استخارہ واستخار وغیرہ کے توجہ کرتا ہے۔ خاص کر اس حالت میں کہ جب اس کے دل میں یہ تمنا مخفی ہوتی ہے کہ میری مرضی کے موافق کسی کی نسبت کوئی برا یا بھلا کلمہ بطور الہام مجھے معلوم ہو جائے تو شیطان اس وقت اس کی آرزو میں دخل دیتا ہے اور کوئی کلمہ اس کی زبان پر جاری ہو جاتا ہے اور دراصل وہ شیطانی کلمہ ہوتا ہے۔ یہ دخل کبھی انبیاء اور رسولوں کی وحی میں بھی ہو جاتا ہے....... جس حالت میں قرآن کریم کی رو سے الہام اور وحی میں دخل شیطانی ممکن

٢٥٤

صفحہ ٣٨١

ہے اور پہلی کتابیں تورات اور انجیل اس وحی کی مصدق ہیں۔“

(مسئلہ ضرورۃ الامام ص١٧، خزائن ج١٣ص٤٨٧ تا ٤٨٩)

(ضرورۃ الامام ص١٧، خزائن ج١٣ص٤٨٨) ”پس جو شخص شیطانی الہام کا منکر ہے۔ وہ انبیاء علیہم السلام کی تمام تعلیموں کا انکاری ہے اور نبوت کے تمام سلسلہ کا منکر ہے۔ بائبل میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ چار سو نبی کو شیطانی الہام ہوا تھا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص٥٩٧، خزائن ج٥ص٥٩٧) ”یاد رہے کہ اکثر ایسے اسرار دقیقہ بصورت اقوال یا افعال انبیاء علیہم السلام سے ظہور میں آتے رہے ہیں کہ جو نادانوں کی نظر میں سخت بیہودہ اور شرمناک کام ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مصریوں کے برتن اور پارچات مانگ کر لے جانا اور پھر اپنے صرف میں لانا اور حضرت مسیح کا کسی فاحشہ کے گھر چلے جانا اور اس کا عطر پیش کردہ جو حلال وجہ سے نہیں تھا، استعمال کرنا اور اس کے لگانے سے روک نہ دینا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تین مرتبہ ایسے طور پر کلام کرنا جو بظاہر دروغ گوئی میں داخل تھا۔“

(ضمیمہ تریاق القلوب ص١٢٤، ١٢٧، خزائن ج١٥ص٤٤٠، ٤٤٤، اربعین ص٢١ نمبر٤، ٣٢ نمبر٢)

(تریاق القلوب ص٦٥، ٦٦، خزائن ج١٥ص٢٧٦، ٢٧٧)

اولیاء اللہ اور رسول اور نبی جن پر خدا کا رحم اور فضل ہوتا ہے اور خدا ان کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ وہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔

نہیں ہوتا کہ وہ کسی ایسے عالی خاندان سے اور عالی قوم سے ہوں۔ جو علو نسب اور شرافت اور نجابت اور امارت اور ریاست کا خاندان ہو۔ بلکہ آیت کریمہ ”ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم“ صرف ان کی تقویٰ دیکھی جاتی ہے۔ گو وہ دراصل چوہڑوں میں سے ہوں یا چماروں میں سے۔ یا مثلاً کوئی ان میں سے ذات کا کنجر ہو۔ جس نے اپنے پیشہ سے توبہ کر لی ہو یا ان قوموں میں سے ہو جو اسلام میں دوسری قوموں کی خادم اور نیچی قومیں سمجھی جاتی ہیں۔ جیسے حجام، موچی، تیلی، ڈوم، سقا، قصائی، جولاہے، کنجڑے، تنبولی، دھوبی، مچھیرے، بھڑبھونجے، نانبائی وغیرہ یا مثلاً ایسا شخص کہ جو اس کی ولادت میں ہی شک ہو کہ آیا حلال کا ہے یا حرام کا ہے...... (ص٦٧، خزائن ج١٥ص٢٧٩، ٢٨٠)...... لیکن ایک دوسری قسم کے ولی ہیں۔ جو رسول یا نبی یا محدث کہلاتے ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی

٢٥٥

صفحہ ٣٨٢

طرف سے ایک منصب حکومت اور قضا لے کر آتے ہیں۔۔۔۔ مثلاً ایک شخص قوم کا چوہڑہ یعنی بھنگی ہے اور ایک گاؤں کے شریف مسلمانوں کی تیس چالیس سال سے خدمت کرتا ہے اور وہ وقت ان کے گھروں کی گندی نالیوں کو صاف کرنے آتا ہے اور ان کے پاخانوں کی نجاست اٹھاتا ہے اور ایک دو دفعہ چوری میں بھی پکڑا گیا ہے اور چند دفعہ زنا میں بھی گرفتار ہو کر اس کی رسوائی ہو چکی ہے اور چند سال جیل خانہ میں قید بھی رہ چکا ہے اور چند دفعہ ایسے برے کاموں میں گاؤں کے نمبردار وں نے اس کو جوتے بھی مارے ہیں اور اس کی ماں اور دادیاں اور نانیاں ہمیشہ سے ایسے ہی نجس کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مردار کھاتے اور گوہ اٹھاتے ہیں۔ اب خدا تعالیٰ کی قدرت یہ خیال کر کے ممکن تو ہے کہ وہ اپنے کاموں سے تائب ہو کر مسلمان ہو جائے اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایسا فضل ہو کہ وہ رسول اور نبی بھی بن جائے۔“

(٤) انبیاء کا نعوذ باللہ زانی ہونا

(ست بچن ص ١٦٨، خزائن ج١٠ص ٢٩٦) ”اور ایک نانی یسوع صاحب کی جو رشتہ سے دادی بھی تھی۔ بنت سبع کے نام سے موسوم ہے۔ یہ وہی پاک دامن تھی جس نے داؤد کے ساتھ زنا کیا تھا۔ دیکھو (سموئیل ١١-٢)

وعید کی پیش گوئیاں ٹل سکتی ہیں اور ہمیشہ ٹلتی رہتی ہیں۔“ (حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٦) ”یہ ہے ہمارا خدا جو اپنی پیش گوئیوں کے بدلانے پر بھی قادر ہے۔“ (حقیقت الوحی ص ١٣٣، خزائن ج٢٢ص ٥٧١) ”کیسے نادان لوگ ہیں۔ جن کا یہ مذہب ہے کہ خدا اپنے ارادوں کو بدل نہیں سکتا اور وعید یعنی عذاب کی پیش گوئی کو ٹال نہیں سکتا۔ مگر ہمارا یہ مذہب ہے کہ وہ ٹال سکتا ہے اور ہمیشہ ٹالتا رہتا ہے اور ٹالتا رہے گا۔“

(٦) انبیاء علیہم السلام پر ناکامی اور شرمندہ ہونے کی تہمت لگانا

(حقیقت الوحی ص ١٥٣ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٧) ”وہی موسیٰ ہے جس کو ایک بادیہ نشین شخص کے علوم روحانیہ کے سامنے شرمندہ ہونا پڑا۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩، خزائن ج ٢١ ص ١٩) ” موسیٰ بھی بدگمانیوں سے شرمندہ ہو گیا۔ قرآن میں خضر نے جو کیا تھا پڑھو ذرا۔“ اور حضرت ادریس علیہ السلام کے متعلق لکھتا ہے (ازالہ اوہام ص ٣٨٨، خزائن ج ٣ ص ٣٠٠) ”اور ایک ناکام نبی کی نسبت اس نے فرمایا ”ورفعناہ مکانا علیا۔“

٢٥٦

(٧) انبیاء علیہم السلام کی بدل

دافع البلاء کی عبارت دکھ

جس کا خلاصہ مطلب السلام اور حضرت آدم علیہ السلام کے خضر علیہ السلام پر باز پرس کرنے والے متعلق گفتگو کرنے والے ملائکہ اع ٹھہرے گا۔ (عیاذا باللہ!)

(ما الفرق

”ان الله خلق ا من الانس والجان كما يفعل من الجنان ورد الحکم الحرب والهوان و ان الـ المسيح الموعود ليجعل الـ

(ص ١ حاشیہ خزائن ج

الحرب الشديد مرتين بـ آخر الزمان....... واخر الغالبين ولما جاء وعد يقتل هذا الدجال بحربـ الله الى هذا الفتح العـ قال انك من المنظرين وقت المسيح الامام.“

ان عبارات سے

صفحہ ٣٨٣

(٧) انبیاء علیہم السلام کی بداخلاقی نعوذ باللہ

دافع البلاء کی عبارت دیکھو۔ کتاب ہذا میں حضرت مسیح کو بداخلاق ثابت کیا۔

(تریاق القلوب ص ١٣٣ تا ١١٧ حاشیہ، خزائن ج ١٥ ص ٤٤٢،٤٤١)

جس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ بعض اوقات کوتاہ بین اور شریر شخص حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت آدم علیہ السلام کے کاموں پر اعتراض کرتے ہیں۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام پر باز پرس کرنے والے حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق گفتگو کرنے والے ملائکۃ اللہ تھے۔ تو اس کی گذشتہ گالی کوتاہ بین شریر شخص کا اب مورد کون ٹھہرے گا۔ (عیاذ باللہ!)

(الفرق فی آدم والمسیح الموعود ص ت حاشیہ ملحقہ خطبہ الہامیہ، خزائن ج ١٦ ص ٣١١)

”ان اللہ خلق آدم و جعلہ سیدا وحکما وامیرا علی کل ذی روح من الانس و الجان کما یفھم من آیۃ اسجدوا لآدم ثم اذلہ الشیطان و اخرجہ من الجنان ورد الحکومۃ الی ھذا الثعبان و مس آدم ذلۃ و خزی فی ھذہ الحرب والھوان و ان الحرب سجال وللاتقیاء آمال عند الرحمان فخلق المسیح الموعود لیجعل الھزیمۃ علی الشیطان فی آخر الزمان۔“

(ص ١ حاشیہ، خزائن ج ١٦ ص ٣٠٧)”وکان اللہ قد قدر من الازل ان تقع الحرب الشدید مرتین بین الشیطان والانسان مرۃ فی اول الزمان ومرۃ فی آخر الزمان....... واخرج آدم من الجنۃ ونال ابلیس مراد ما شاء وکان من الغالبین ولما جاء وعد الآخرۃ اراد اللہ ان یرد الکرۃ علی ابلیس و فوجہ و یقتل ھذا الدجال بحربۃ منہ فخلق المسیح الموعود الذی ھو آدم و قد اشار اللہ الی ھذا الفتح العظیم و قتل الدجال القدیم الذی ھو الشیطان فی قولہ قال انک من المنظرین یعنی لا یقع امر استیصالک التام....... الا فی آخر الزمن وقت المسیح الامام۔“

ان عبارات سے ثابت ہوا کہ یہ شیطان پہلے کسی نبی کے وقت مغلوب نہیں ہوا۔ حتیٰ کہ

٢٥٧

PDF 385

آپ ﷺ کے وقت بھی مغلوب نہیں۔ بلکہ یہ شرف صرف مرزا کے لئے مقدر تھا۔ (عیاذا باللہ)

مرزا خود کو خاتم النبیین ہونے کا دعویدار ہے

اہل اسلام کے نزدیک خاتم النبیین کا معنی نبوت کو بند کرنے والا ہے۔ یعنی اب آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا جس سے انبیاء کی تعداد میں اضافہ ہو اور مرزائیوں کے نزدیک خاتم النبیین کا مفہوم یہ ہے کہ مہر لگا لگا کر نبی بنانے والا یعنی نبی گر۔ دونوں معنوں سے مرزا خود کو خاتم النبیین سمجھتا ہے۔

اہل اسلام کے معنی سے تو مرزا ہی آخری نبی ٹھہرے گا اور اس کے آنے سے انبیاء کی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔ لیکن مرزائیوں کے معنی سے بھی مرزا ہی خاتم النبیین یعنی نبی گر ہے۔ جس کی چند وجوہ ہیں۔

یعنی عکس تام سمجھتا ہے۔ دیکھو (خطبہ الہامیہ ص ٧١، خزائن ج ١٦ ص) ”من فرق بینی و بین المصطفی فما عرفنی و مارای۔“

(اخبار الحکم نمبر ٥ ج ١٠ ص ٨ کالم ٢،١) ”جب میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں۔ تو پھر کون سا الگ انسان ہوا۔ جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔“ (کالم نمبر ٣) ”پس جیسا کہ ظلی طور پر اس کا نام لے گا۔ اس کا خلق لے گا۔ اس کا علم لے گا۔ ایسا ہی اس کا نبی لقب بھی لے گا۔ کیونکہ بروزی تصویر پوری نہیں ہو سکتی۔ جب تک کہ یہ تصویر ہر ایک پہلو سے اپنی اصل کے کمال اپنے اندر نہ رکھتی ہو۔ پس چونکہ نبوت بھی نبی میں ایک کمال ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ تصویر بروزی میں وہ کمال بھی نمودار ہو۔ تمام نبی اس بات کو مانتے چلے آئے ہیں کہ وجود بروزی اپنی اصل کی پوری تصویر ہوتی ہے۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢) میں بعینہ یہی عبارت ہے۔

کی پاک وحی سے غیب کی باتیں میرے پر کھلتی ہیں اور خارق عادت امر ظاہر ہوتے ہیں۔ بلکہ یہ بھی کہتا ہوں کہ جو شخص دل کو پاک کر کے اور خدا اور اس کے رسول پر سچی محبت رکھ کر میری پیروی کرے گا۔ وہ بھی خدا تعالیٰ سے یہ نعمت پائے گا۔“ یعنی مرزا کے متبعین بھی نبوت حاصل کر لیں گے۔ چنانچہ کئی ایک نے دعویٰ کیا۔

٢٥٨

آیت و آخرین منہم پر گفتگو کرتا ہوا ابرار و اخیار کے بڑے گروہ جن کے جماعت یعنی صحابہؓ کی جماعت جو ز بوجہ تربیت روحانی ﷺ کے جیسا میں ہیں۔ دو جماعتیں اسلام م ہے۔ ...... اپنے ہاتھ سے ان کو پاک خدا کے خاص جذبہ سے اس کی طر صدیقوں کے رنگ میں ہیں اور لوگ ان میں سے ...... وہ صلحاء

اس سے صاف معلو صدیقین، شہداء، صالحین پس مر

بعد کوئی نبی نہ آوے۔ اس لحا ج ٢٢ ص ٤٠٦) ”غرض اس حصہ مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعم مخصوص کیا گیا۔“

مرزا اور پردہ تشریعی نبوت

نے ذکر کیا ہے۔ بحوالہ ایک غل ہے۔ اس لئے مرزا کی نبوت

کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ا سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے

صفحہ ٣٨٥

آیت و آخرین منھم پر گفتگو کرتا ہوا کہتا ہے کہ ”ثلة من الاولین وثلة من الآخرین“ یعنی ابرار واخیار کے بڑے گروہ جن کے ساتھ بد مذاہب کی آمیزش نہیں۔ وہ دو ہی ہیں ایک پہلوں کی جماعت یعنی صحابہؓ کی جماعت جو زیر تربیت آنحضرتﷺ ہے۔ دوسرے پچھلوں کی جماعت جو بوجہ تربیت روحانی آپﷺ کے جیسا کہ آیت و آخرین منھم سے سمجھا جاتا ہے۔ صحابہ کے رنگ میں ہیں۔ دو جماعتیں اسلام میں حقیقی طور پر منعم علیہم ہیں اور خدا تعالیٰ کا ان پر انعام یہ ہے...... اپنے ہاتھ سے ان کو پاک گروہ بنایا ہے۔ ان میں سے جو لوگ خدا کا الہام پانے والے اور خدا کے خاص جذبہ سے اس کی طرف کھینچے ہوئے ہیں۔ نبیوں کے رنگ میں ہیں اور جو لوگ...... وہ صدیقوں کے رنگ میں ہیں اور جو لوگ ان میں سے...... وہ شہیدوں کے رنگ میں ہیں اور جو لوگ ان میں سے...... وہ صلحاء کے رنگ میں ہیں۔“

اس سے صاف معلوم ہوا کہ مرزا کی امت میں بھی چار قسم کے لوگ ہوں گے۔ انبیاء، صدیقین، شہداء، صالحین پس مرزا نبی گر ہوا۔

بعد کوئی نبی نہ آوے۔ اس لحاظ سے بھی مرزا خود کو آخری نبی سمجھتا ہے۔ دیکھو (ص٣٩١، خزائن ج٢٢ص٤٠٦) ”غرض اس حصہ کثیرہ وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔“

مرزا در پردہ تشریعی نبوت کا دعویدار ہے

نے ذکر کیا ہے۔ بحوالہ ایک غلطی کا ازالہ و اخبار الحکم ونزول مسیح تو آپ کی نبوت کیونکہ تشریعی نبوت ہے۔ اس لئے مرزا کی نبوت بھی عیاذا باللہ ! تشریعی ہوئی۔

کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری تو اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے...... ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی

٢٥٩

صفحہ ٣٨٦

امت کے لئے قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ یعنی میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی...... اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں۔ تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”ان هذا لفی الصحف الاولىٰ صحف ابراهيم و موسیٰ“ یعنی قرآنی تعلیم تورات میں بھی موجود ہے۔“

اس سے ثابت ہوا کہ مرزا خود کو صاحب شریعت سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ شریعت جدیدہ ہونی ضروری نہیں۔ کیونکہ جدیدہ شریعت تو آنحضرت ﷺ کی بھی نہیں۔

انکار کرے، نہ کہ ہر ایک نبی کا منکر۔

مقدمہ اولیٰ کا اثبات

(فتاویٰ احمدیہ ص٢٧٩) جو پیغمبر خدا ﷺ کو نہ مانے وہ کافر ہے۔ مگر جو مہدی اور مسیح کو نہ مانے اس کا بھی سلب ایمان ہو جاتا ہے۔ انجام ایک ہی ہے۔ (حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج٢٢ ص١٨٥) ”کفر دو قسم پر ہے۔ (اول) ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اگر غور سے دیکھا جائے تو دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“ (ملخصاً ص١٦٣، خزائن ج٢٢ ص١٦٧)

(فتاویٰ احمدیہ ص٢٧١) ”جبکہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں ہے۔“

مقدمہ ثانیہ کا اثبات

(تریاق القلوب حاشیہ ص١٣٠، خزائن ج١٥ ص٤٣٢ حاشیہ) ”یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعوے کا انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب الشریعت کے ماسواء جس قدر ملہم اور محدث ہیں۔ گو وہ کیسے ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلوت مکالمہ الہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“ نتیجہ ظاہر ہے۔

”الجهاد ماض الى يوم القيامة“ یعنی جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔

٢٦٠

اب چھوڑ دو
دین کے لئے
اب آگیا
دین کی تمام

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص٣٠، خزائن ج

هذا الاوان ومنع ان يحارب لله ص ١٧) ”آج سے دین کے لئے لڑنا حرا

(اربعین نمبر٤ ص١١٣، خزائن ج

آہستہ آہستہ کم کرتا گیا۔ حضرت موسیٰ ع نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بوڑھ وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔

کا عقیدہ صرف اجتہادی غلطی تھی۔ لیکن

مقدمہ اولیٰ

(حقیقت الوحی ص ٣٠ حاشیہ

میں سے کسی نے یہ خیال بھی نہ کیا کہ نہیں، صرف اجتہادی خطاء ہے۔“

مقدمہ ثانیہ

(الاستفتاء ص ٣٩ ملحقہ حقیق

ان عيسى مامات ان هوالا ش

من السحت مهر البغی“ دیکھو

گے؟ جو آتے ہی لوگوں کو قتل کر

صفحہ ٣٨٧
اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آگیا مسیح جو دین کا امام ہے
دین کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٣٠، خزائن ج ١٧ ص ٨٢) ”فلا جل ذلك بدل الله حكمه فی هذا الاوان ومنع ان يحارب للدين۔“ (اشتہار چندہ منارۃ المسیح ص ت ملحقہ الہامیہ، خزائن ج ١٦ ص ١٧) ”آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣) ”جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں اس قدر شدت تھی...... پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کرنا حرام کیا گیا...... پھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“

کا عقیدہ صرف اجتہادی غلطی تھی۔ لیکن اب وہ شرک عظیم ہو گیا۔

مقدمہ اولیٰ

(حقیقت الوحی ص ٣٠ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢) ”مسیح موعود کے ظہور سے پہلے اگر امت میں سے کسی نے یہ خیال بھی نہ کیا کہ حضرت عیسیٰ دوبارہ دنیا میں آ جائیں گے، تو ان پر کوئی گناہ نہیں، صرف اجتہادی خطاء ہے۔“

مقدمہ ثانیہ

(الاستفتاء ص ٣٩ ملحقہ حقیقت الوحی، خزائن ج ٢٢ ص ٦٢٠) ”فمن سوء الادب ان يقال ان عيسىٰ مامات ان هوالا شرك عظيم۔“

من السحت مهر البغى“ دیکھو کتاب ہذا......

گے؟ جو آتے ہی سؤروں کو قتل کرنا شروع کر دیں گے۔ یہاں تک کہ کسی اہل کتاب سے بھی جزیہ

٢٦١

صفحہ ٣٨٨

قبول نہیں کریں گے اور آیت ”حتی یعطواالجزیۃ عن یدوھم صاغرون“ کو بھی منسوخ کر دیں گے۔ یہ دین اسلام کے کیسے حامی ہوں گے کہ آتے ہی قرآن کی ان آیتوں کو بھی منسوخ کر دیں گے۔ جو آنحضرت ﷺ کے وقت میں بھی منسوخ نہیں ہوئیں اور اس قدر انقلاب سے بھی ختم نبوت میں حرج نہیں آئے گا۔“

اس سے مرزا ثابت کرتا ہے کہ اگر حضرت مسیح اور مہدی علیہما السلام آکر جزیہ قبول نہ کریں گے اور وضع الجزیۃ کی حدیث پر عمل کریں گے تو یہ آیت منسوخ ہو جائے گی۔ گویا ترمیم و تنسیخ ہو گئی۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ مرزا نے نہ تو انگریزوں سے جہاد کیا اور نہ جزیہ وصول کیا تو اس کے عمل نے زیادہ ترمیم وتنسیخ کر دی۔ لہذا اس نے شریعت جدیدہ قائم کی۔ اس کے علاوہ اور بہت سے مسائل ہیں جو مرزا نے نئے نکالے ہیں۔ مثلاً سود کو حلال کر دیا جس کا حکم تھا: ”واحل اللہ البیع وحرم الربوا“ یعنی اللہ تعالیٰ نے خرید و فروخت کو حلال کیا اور سود کو حرام ٹھہرایا۔ دیکھو

(سیرت المہدی ص١١٢،١١٣ ج٢)

لاہوری پارٹی کے لئے

لاہوری مرزا کہا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ اس نے اپنے منکرین کو کافر کہا ہے۔ اس لئے ان دونوں باتوں کی تردید ضروری ہوئی۔

اول دعویٰ نبوت

سکتی۔ ہاں بزعم مرزا فضیلت جزوی ہو سکتی ہے۔ جیسے (حمامۃ البشریٰ ص٧٧، خزائن ج٧ ص٢٩٣) میں لکھا ہے:”فکم من کمال یوجد في الانبیاء بالاصالۃ ویحصل لنا افضل منہ و اولی بالطریق الظلی“

(ص٧٨، خزائن ج٧ ص٢٩٥) ”وقد اتفق علماء الاسلام انہ قد یوجد فی غیر نبي مالا یوجد في نبي“

لیکن مرزا نے اپنے لئے کلی فضیلت ثابت کی ہے۔ دیکھو (دافع البلاء ص١٣، خزائن ج١٨ ص٢٣٣) ”اس مسیح کے مقابل پر جس کا نام خدا رکھا گیا تھا۔ خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا۔ جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔“

٢٦٢

صفحہ ٣٨٩

(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤) ”میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ مسیح بن مریم آخری خلیفہ موسیٰ علیہ السلام کا ہے اور میں آخری خلیفہ اس نبی کا ہوں۔ جو خیر الرسل ہے۔ اس لئے خدا نے چاہا کہ مجھے اس سے کم نہ رکھے۔۔۔۔ پس خدا دکھاتا ہے کہ اس رسول کے ادنیٰ خادم اسرائیلی مسیح بن مریم سے بڑھ کر ہیں ۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٧٦، خزائن ج ٢١ ص ٩٩) ”پس اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے۔“

عبارت (اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) ”یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے؟ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“

رسالت کو مؤکد بالقسم کیا ہے اور (حمامۃ البشریٰ ص ١٤ حاشیہ، خزائن ج ٧ ص ١٩٢) میں لکھا ہے کہ جملہ قسمیہ میں کوئی گنجائش تاویل نہیں۔ اس لئے مرسل کا حقیقی معنی ہی مراد ہوگا۔ (انجام آتھم ص ١٥١، خزائن ج ١١ ص ایضاً) ”میں بھی دعویٰ رسالت ہے۔

ایک رسالت اور وحی الٰہی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تھا ۔“

ہیں کسی امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ کرنا چاہئے ۔“

نیز مرزا نے (تریاق القلوب ص ١٣٠ حاشیہ، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢) میں لکھا ہے کہ صاحب الشریعۃ نبی کا منکر ہی کافر ہوتا ہے۔ دیکھو عبارت ”یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ سے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے۔ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں ۔“

اور مرزا خود اپنے منکرین کو کافر کہتا ہے۔ لہٰذا وہ نبی ہی نہیں بلکہ تشریعی نبی بھی

٢٦٣

صفحہ ٣٩٠

ہوا۔ دیکھو عبارات اکفار منکرین۔ (فتاویٰ احمدیہ ص ٢٧٩) ”جو پیغمبر خدا ﷺ کو نہ مانے وہ کافر ہے۔ مگر جو مہدی اور مسیح کو نہ مانے اس کا بھی سلب ایمان ہو جاتا ہے، انجام ایک ہی ہے۔“

(فتاویٰ احمدیہ ص ٢٧١) ”جبکہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے۔“ (حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥) ”کفر دو قسم کا ہے۔ ایک کفر یہ کہ ایک شخص اسلام سے انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا دوسرے یہ کفر کہ وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا...... اگر غور کیا جائے تو دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“

(مثلہ حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

ہے۔

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٨، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧) ”پس یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو...... تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں۔ بکلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔

میری افضلیت کا مسیح پر ظاہر ہوتا تھا تو اس کو جزوی فضیلت سمجھتا تھا۔ مگر بعد میں میں نے اپنا عقیدہ تبدیل کر لیا تو بعد میں فضیلت کلی کا قائل ہو گیا اور نبوت کا دعویدار بن گیا۔

دیکھو (حقیقت الوحی ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣) ”اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح بن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے خدا کا بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا۔ تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو اللہ تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی تو اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“

افضلیت مرزا از جمیع الانبیاء

(انجام آتھم ص ٧٧، خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں مرزا کا قول ہے: ”واعطانی مالم یعط احدا من العالمین۔“ نکرہ حیز نفی میں مفید استغراق ہے۔

٢٦٤

صفحہ ٣٩١

(انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً، حقیقت الوحی ص ١٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٩) میں مرزا کا الہام ہے ”باقی قمر الانبیاء۔“ یعنی مرزا تمام انبیاء کا چاند ٹھہرا۔

(الاستفتاء ص ٨٣ ملحقہ حقیقت الوحی ، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٩، حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢) ”آسمان سے کئی تخت اترے۔ مگر سب سے اونچا تیرا تخت بچھایا گیا۔“ (حقیقت الوحی ص ٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٩٩) میں الہام ہے ”سمک اللہ“ یعنی خدا تعالیٰ مرزا کی تسبیحیں پڑھتا ہے۔

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤) ”بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبی ﷺ کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ١١٠، خزائن ج ٥ ص ٦٠) میں مرزا کو الہام ہوا ہے ”اول المومنین“ اور اس کا معنی (آئینہ کمالات اسلام ص ١٦٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً) میں یہ کیا ہے: ”میں اول المسلمین ہوں۔ یعنی دنیا کی ابتداء سے اس کے آخیر تک میرے جیسا کوئی اور انسان نہیں ہوا ہے۔ ایسا اعلیٰ درجہ کا فانی اللہ ہے۔“

(اربعین نمبر ٢ ص ٧، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٣) میں مرزا کا الہام ہے: ”انی فضلتک علی العالمین۔“ گویا سب سے افضل مرزا ہوا۔

بھی ہو۔ تو اس کا دور کرنا بہت سہل ہے۔ کیونکہ ہر ایک نبی کی سچائی تین طریقوں سے پہچانی جاتی ہے۔“ معلوم ہوا کہ مرزا نبی ہے تبھی تو خود کو معیارِ نبوت پر لاتا ہے۔

مباہلہ کرنے سے انکار کرتا رہا اور کہتا کہ میرے مخالف دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہیں۔ حالانکہ مولوی عبدالحق اس کو پہلے جہنمی اور کافر بھی کہہ چکا تھا۔ (ازالہ اوہام ص ١١٥٧ جدید) مگر پھر بھی مباہلہ نہ کرنا اور حالانکہ اس وقت (ازالہ ص ١٣٩، ١٨٥، ٤٦٤، ٤٦٥ طبع اوّل، خزائن ج ٣ ص ١٧١، ١٨٩، ٣١٥، ٤٥٩) میں دعویٰ مسیحیت بھی موجود تھا۔ مگر اس وقت مباہلات سے انکار کرنا پھر اس کے بعد مباہلات کا پھاٹک کھول دینا اس امر کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ اب وہ مسیحیت سے گزر کر نبوت تک پہنچ گیا ہے اور اپنے مخالفین کو اب کافر سمجھتا ہے۔

ملاحظہ ہوں عبارات (ازالہ اوہام و انکار از مباہلات ص ٦٣٧، خزائن ج ٣ ص ٤٣٣، ٤٣٤)

٢٦٥

صفحہ ٣٩٢

”ناظرین پر واضح رہے کہ میاں عبدالحق نے مباہلہ کی بھی درخواست کی تھی لیکن اب تک میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایسے اختلافی مسائل میں جن کی وجہ سے کوئی فریق کافر یا ظالم نہیں ٹھہر سکتا، کیونکر مباہلہ جائز ہے۔۔۔۔۔ اب اگر میاں عبدالحق اپنے فہم کی وجہ سے مجھے کاذب خیال کرتے ہیں لیکن میں انہیں کاذب نہیں کہتا۔ بلکہ مخطی جانتا ہوں اور مخطی مسلمان پر لعنت جائز نہیں۔۔۔۔۔۔ اگر میں لعنت اللہ علی الکاذبین کہوں تو یہ صحیح نہیں۔ کیونکہ میں اپنے مخالفین کو کاذب نہیں سمجھتا، بلکہ متاول مخطی سمجھتا ہوں ۔“

(ازالۃ اوہام ص ٦٦٠، خزائن ج ٣ ص ٤٥٦) ”اگر اب بھی تمہیں شک ہو تو تمہیں معلوم ہو کہ مسلمانوں کے ساتھ جزئی اختلافات کی وجہ سے لعنت بازی صدیقوں کا کام نہیں۔“

مولوی عبدالحق صاحب ومولوی محی الدین صاحب کا مرزا کو کافر کہنا مذکور صفحات سے پہلے کے صفحات میں ہے۔ دیکھو (ازالۃ اوہام ص ٦٢٧، ٦٢٨ طبع اول، خزائن ج ٣ ص ٤٣٨) ”میاں عبدالحق صاحب غزنوی اور مولوی محی الدین صاحب لکھوکے والے اس عاجز کے حق میں لکھتے ہیں کہ ہمیں الہام ہوا ہے کہ یہ شخص جہنمی ہے۔ چنانچہ عبدالحق صاحب کے الہام میں تو صریح سیمائے النار ذات لہب موجود ہے اور محی الدین صاحب کو یہ الہام ہوا ہے کہ یہ شخص ملحد اور کافر ہے کہ ہرگز ہدایت پذیر نہیں ہوگا۔“

مباہلہ کے انکار سے قبل اسی ازالہ میں دعویٰ مسیحیت کی عبارات ملاحظہ ہوں ۔ (ازالہ اوہام ص ١٤٩، ١٥٠ طبع اول، خزائن ج ٣ ص ١٧١) ”ہم نے جو رسالہ فتح اسلام و توضیح مرام میں اس اپنے کشفی اور الہامی امر کو شائع کیا ہے کہ مسیح موعود سے مراد یہی عاجز ہے۔ میں نے سنا ہے کہ بعض ہمارے علماء اس پر بہت برافروختہ ہوئے ہیں ۔“ (ازالہ ص ١٨٥ طبع اول، خزائن ج ٣ ص ١٨٩) ”اگر یہ عاجز مسیح موعود نہیں تو پھر آپ لوگ مسیح موعود کو آسمان سے اتار کر دکھلا دیں۔“

(ازالہ ص ٤١٤) ”پس واضح ہو کہ وہ مسیح موعود جس کا آنا انجیل اور احادیث صحیحہ کی رو سے ضروری طور پر قرار پا چکا تھا۔ وہ تو اپنے وقت پر اپنے نشانوں کے ساتھ آ گیا۔“ (ازالۃ اوہام ص ٦٦٥ طبع اول، خزائن ج ٣ ص ٤٥٩) ”مسیح موعود ہونے کا ثبوت“ یہ عنوان جلی حروف میں ہے۔

پس نتیجہ یہ ہوا کہ اب مرزا کا عقیدہ وہ نہیں رہا کہ وہ صرف مسیح موعود ہے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ نبی ہے اور اس کے مخالفین کافر ہیں اور لعنت اللہ کے مستحق ہیں ۔

ان کو مرزا نے مرتد کہہ کر پکارا ہے۔ (مرتد وہی ہوتا ہے جو کسی نبی کو مان کر پھر اس سے برگشتہ ہو جائے)

٢٦٦

صفحہ ٣٩٣

(حقیقت الوحی ص ٦٩، خزائن ج ٢٢ ص ٧٢) "عبدالحکیم خان نامی ایک شخص جو اسسٹنٹ سرجن پٹالہ ہے۔ جو بیعت توڑ کر مرتد ہو گیا ہے۔"

ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢، اخبار الحکم نمبر ١٥ ج ١٠ ص ٨ کالم ١،٢) "بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں۔" (اخبار مذکور کالم نمبر ٣) "پس جیسا کہ ظلی طور پر اس کا نام لے گا۔ اس کا خلق لے گا اس کا علم لے گا۔ ایسا ہی اس کا نبی لقب بھی لے گا۔ کیونکہ بروزی تصویر پوری نہیں ہو سکتی جب تک کہ یہ تصویر ہر ایک پہلو سے اپنے اصل کے کمال اپنے اندر نہ رکھتی ہو۔ پس چونکہ نبوت بھی نبی میں ایک کمال ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ تصویر بروزی میں وہ کمال بھی نمودار ہو۔"

جب آنحضرت ﷺ کی کامل نبوت مرزا میں (عیاذ باللہ) منعکس ہوئی تو وہ نبی ہوا۔

مرزا میں تبدیلی ہوئی یا مسلمانوں میں

پہلے پہل مرزا میں اور مسلمانوں میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ اس جگہ اب ہم نے دیکھنا ہے کہ مرزا میں تبدیلی ہوئی یا مسلمانوں کے سابقہ عقائد میں تغیر آ گیا۔ اگر مسلمانوں کے عقائد متبدل ہو گئے تو واقعی مسلمان قابل گرفت ہیں اور اگر مرزا کے عقائد میں بعد میں تبدیلی ہو گئی تو یقیناً پھر مرزا مجرم ہے۔ ذیل میں یہ ثابت ہو گا کہ مرزا میں ہی تبدیلی عقائد ہوئی۔

مسلمانوں اور مرزا میں بڑا اختلاف مسائل ذیل میں ہے اور شروع شروع میں جبکہ مرزا ملہم و مامور ہو چکا تھا۔ اس کے عقائد مسلمانوں والے ہی تھے۔ اس کے ملہم و مامور ہونے کے وقت یہ عقائد تھے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ مرزا براہین احمدیہ کے وقت ملہم و مامور تھا۔ (سرمہ چشم آریہ ص ٣، اشتہار تک اخبار و اشتہار، خزائن ج ٢ ص ٤٦٩) "کتاب براہین احمدیہ جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملہم و مامور ہو کر بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کیا ہے۔ جس کے ساتھ دس ہزار روپے کا اشتہار ہے۔"

نیز حقیقت الوحی میں مرزا نے لکھا ہے کہ میں براہین احمدیہ سے بھی قبل آٹھ سال ملہم ہو چکا تھا اور (براہین احمدیہ ص ٢٨١، خزائن ج ١ ص ٢٦٥، ٢٦٦) سے ثابت ہے کہ مرزا براہین احمدیہ کے زمانہ میں ملہم تھا اور اس کو علم القرآن بھی تھا۔"

(ص ١٩٢، خزائن ج ٩، ص ٢١٠)

٢٦٧

صفحہ ٣٩٤

بڑے بڑے اختلافی مسائل یہ ہیں

گا۔

مرزا کے بھی پہلے یہی عقائد تھے۔ بعد میں اس میں تبدیلی ہوئی۔ دیکھو حوالہ جات ذیل:

سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ کیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“

(ص ٥٠٥، خزائن ج ١ ص ٦٠١ ، ٦٠٢) ”یہ آیت اس مقام پر حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے ...... وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کر دیں گے۔“

ختم شد برنفس پاکش ہر کمال
لاجرم شد ختم ہر پیغمبری

٢٦٨

صفحہ ٣٩٥
اول احمد آخرشاں احمد است
اے خنک آں کس کہ بیند آخری

(براہین احمدیہ ص١٩، خزائن ج١ ص٢٠)

نیز مرزا کا مشہور شعر جو بدر اخبار ١٩٠٦ء کے پرچوں میں بھی ہے اور وہ شعر (سراج منیر ص ج، خزائن ج ١٢ ص٩٥) میں بھی لکھا ہوا ہے:

ہست او خیر الرسل خیر الانام
ہر نبوت را برو شد اختتام

ورافعك الى وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفرو ...... میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔“ (مثلہ مکتوبات احمدیہ ص ٢٧ ، ٦٨ ج١، تریاق القلوب ص ١٤٢ حاشیہ) ” یہ وعدہ جو اس آیت شریفہ میں مندرج ہے۔ یہ حضرت مسیح کی موت طبعی کا وعدہ ہے اور اس میں حضرت مسیح کو بشارت دی گئی ہے ...... ایک لمبی عمر جو انسان کے لئے قانون قدرت میں داخل ہے اس کا وعدہ دیا۔“

لمبی عمر ایک لاکھ سال ملفوظات احمدیہ

(سراج منیر ص ٢١ حاشیہ) ”براہین احمدیہ کا وہ الہام یعنی یا عیسیٰ انی متوفیک ...... جو سترہ برس سے شائع ہو چکا ہے۔ اس کے اس وقت خوب معنی کھلے یعنی یہ الہام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس وقت بطور تسلی ہوا تھا۔ جبکہ یہود ان کے مصلوب کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اس جگہ بجائے یہود و ہنود کوشش کر رہے ہیں اور الہام کے یہ معنی ہیں کہ میں تجھے ایسی ذلیل اور لعنتی موت سے بچا لوں گا۔“

ص٥٩٣، ٦٠١) ”میں خود حضرت مسیح علیہ السلام کو دوبارہ آنا تسلیم کیا ہے۔ لہٰذا وہی مسیح موعود ہوئے۔ دوم مرزا کا اقرار ہے۔

(ازالہ اوہام ص ١٩٠ طبع اول، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)

سیاست بھی ہوگی۔ جیسے حوالہ نمبر ١ میں (براہین احمدیہ ص٤٩٩، ٥٠٥، خزائن ج١ ص٥٩٣، ٦٠١) سے

٢٦٩

صفحہ ٣٩٦

ثابت کیا جاچکا ہے۔ بعد میں مرزا نے کہا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا اس طرح آنا جس طرح اہل اسلام مانتے ہیں۔ انگریزی پولیٹیکل غرض کے خلاف ہے۔ دیکھو

(کشف الغطاء ص ٢٥، خزائن ج ١٤ص ٢١٠)

ہیں۔ پہلے مرزا بھی خود کو انبیاء کا چاکر اور خاک در انبیاء خیال کرتا تھا۔

جن میں انبیاء کرام خصوصاً حضورﷺ فداہ ابی وامی پر مرزا کے ناجائز بہتانات ثابت کئے گئے ہیں۔

کہتا تھا۔ اس بات کی تفصیل دونوں پہلوؤں سے کتاب ہذا...... میں دیکھو۔

سنت والجماعت کے ہیں۔ میں ان کا مخالف نہیں۔ دیکھو......

(آسمانی فیصلہ ص ٤، خزائن ج ٤ص ٣١٤) ”ان سب عقائد پر ایمان رکھتا ہوں جو اہل سنت والجماعت مانتے ہیں اور کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا قائل ہوں اور قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا ہوں اور میں مدعی نبوت کا نہیں۔ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں ۔“

بعد میں مدعی نبوت بن گیا۔ اس کے لئے دیکھو (براہین احمدیہ ص ٥٣ حاشیہ، خزائن ج ١ص ٦٨، اعجاز احمدی ص ٧، حقیقت الوحی ص ١٠١، خزائن ج ٢٢ص ١٠٤، انجام آتھم ص ٥١، خزائن ج ١١ص ایضاً، حقیقت الوحی ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ٢٢ص ١٥٣، دافع البلاء ص ١٢، ضمیمہ نمبر ٣ حقیقت النبوۃ ص ٢٧٢، خزائن ج ٢٢ص ١٠٢ حاشیہ ) وغیرہ وغیرہ۔

قتل مرتد

(تحفۃ الندوہ، مولفہ احمد قادیانی ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١٩ص ١٠١) ”اسلام کی سلطنت میں ثبوت دینے میں یہ کافی نہیں کہ ایسا شخص جو مدعی نبوت تھا۔ مسلمانوں کے قبرستان میں نہ دفن کیا گیا اور نہ اس کا جنازہ پڑھا گیا۔ بلکہ کافی ثبوت کیلئے یہ ثابت کرنا بھی ہوگا کہ وہ قتل کیا گیا کیونکہ وہ مرتد تھا۔

٢٧٠

PDF 398

اَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

قادیانی تحریک

اسلام کے خلاف ایک سازش

حضرت مولانا قاری حضرت گل بنوں

صفحہ ٣٩٨

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

انتساب

ان خلفائے راشدین، سلاطین اسلام، مجاہدین ملت، شمع رسالت کے پروانوں کے نام جنہوں نے خاتم الانبیاء سید الانام محمد ﷺ کے بعد اپنے مختلف ادوار میں مدعیان نبوت، غدارانِ ملت، باغیانِ اسلام اور مرتدین کے ایمان ربا فتنہ کو بسیفِ اسلام ختم کیا۔

مقدمہ

”الحمد لله وحده والصلوٰة والسلام على من لا نبي بعده“

دستور یہ چلا آ رہا ہے کہ جب بھی کبھی کسی فتنہ نے سر اٹھایا تو یکا یک اپنا اصلی چہرہ دکھانے کی بجائے خوشنما اور دلفریب راہ اختیار کر کے سادہ لوح عوام الناس کو ضلالت و گمراہی میں مبتلا کرنے کی ناپاک کوشش کی۔ اگر آغاز ہی میں اصلی روپ ظاہر کر دیا جائے تو کوئی بھی انسان اس کے فریب میں نہ آسکے۔ بغض صحابہؓ کی وباء سے متاثر کرنے کی غرض سے حب اہل بیت کا نعرہ بلند کیا گیا اور سنت رسولؐ سے منحرف کرنے کے لئے اہل قرآن کا علم کھڑا کیا گیا۔ اسی طرح مرزائیت کا فتنہ جب برپا کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تو اس کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے ابتداء میں آریوں اور عیسائیوں سے مناظرے کئے۔ تاکہ مسلمانوں کو باور کرایا جاسکے کہ مرزا قادیانی اسلام کے جانثار سپاہی اور مخلص ورکر ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی تہہ میں برٹش (برطانیہ) کی غلامی کارفرما تھی۔

برادران ملت، واسلامیان پاکستان، یہ حقیقت کبرٰی جزو ایمان بنالیں کہ عظمت اسلام اور سطوتِ خدادادِ پاکستان کا تحفظ دوام اور بقاء استحکام لاریب، وحدت، مرکزیت اور اتحاد جمعیت پر ہی مبنی اور موقوف ہے۔ پس جو فرقہ اس ملی بنیان مرصوص کے خلاف شگاف انداز قدم اٹھائے گا۔ یقیناً وہ غدار ملک وملت اور باغی اسلام ہے۔ خواہ مغربی امپیریل ازم یعنی برطانوی سامراج کی معنوی اولاد اور خود کاشتۂ نبوت ہی کیوں نہ ہو۔ بقول نباض مشرق نقاش پاکستان:

ہے زندہ فقط وحدتِ افکار سے ملت
وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد

٢

صفحہ ٣٩٩

چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ انگریز ملعون نے اسلام مقدس سے صلیبی جنگوں کا انتقام لینے کے لئے علاوہ دیگر اسلام کش حربوں کے اپنی مخصوص اغراض و مصالح کی بناء پر سرزمین پنجاب سے نبوت باطلہ کو بھی کھڑا کیا۔ تاکہ اس انشقاق و تفریق سے ملت اسلامیہ کی اساس و بنیاد، نظم و اتحاد پاش پاش ہو کر رہ جائے۔ بقول ترجمانی حقیقت:

تفریق ملل حکمت افرنگ کا مقصود
اسلام کا مقصود فقط ملت آدم

تاریخ اسلام کی ارتداد سوز روشنی میں یقین کامل تھا کہ قیام پاکستان کے بعد برطانیہ کا یہ مبعوث کردہ قادیانی فتنہ ختم ہو جائے گا۔ لیکن کس قدر دل خراش ہے یہ حقیقت....... کہ آج جب مسلمانان پاکستان ملکی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں اور ان کی تمام تر توجہات کا مرکز دفاع پاکستان کی جانب منعطف ہے۔ قادیانی امت نہایت شاطرانہ طریق پر اپنی مخصوص تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہے اور امت محمدیہ کو نبوت حقہ سے منحرف بنا کر نبوت باطلہ کی طرف دعوت دے رہی ہے۔ دراصل قادیانی مرتد غلط فہمی اور فریب نفس میں مبتلا ہیں۔ چونکہ ہماری چشم پوشی یا خاموشی محض نزاکت حالات کے ماتحت تھی، ورنہ قادیانی امت کی اس طائفہ بندی، خلافت سازی اور منصوبہ بازی کے پردہ میں جو تخریب وطن، اسلام کش اور باغیانہ کاروائیاں ہیں۔ ہم ان سے ناواقف نہیں ہیں۔

حضرات! یہ کوئی افسانہ سرائی نہیں، بلکہ آئینہ حقیقت ہے کہ قادیانی تحریک سو فیصد پر خطر سیاسی تحریک ہے۔ اجرائے نبوت، وفات مسیح، صداقت مرزا وغیرہ پر اہل اسلام سے چھیڑ چھاڑ اور مناظرہ بازی محض ایک ڈھونگ اور قادیانی امت کی دجالیت ہے۔ مقصود دراصل دجال سابقہ کی طرح لباس مذہب میں سیاسی تفوق اور ریاست سازی کی ہوس جوش زن ہے۔ یہ الحاد آمیز مسائل محض اس لئے گھڑے گئے تاکہ اہل اسلام حصول مقصد تک ان دجل نما مسائل میں الجھے رہیں۔ بقول شخصے؎

دل چاہتا ہے چھیڑ کے ہوں ان سے ہم کلام
کچھ تو لگے گی دیر سوال و جواب میں

ارباب حکومت بگوش ہوش سن لیں کہ قادیانی امت کے ان باغیانہ عزائم کی وجہ سے ملت اسلامیہ کے قلوب میں غیر معمولی تشویش و اضطراب ہے لہٰذا حکومت اسلامیہ پاکستان کا ملی

٣

صفحہ ٤٠٠

فرض ہے کہ وہ اس ارتدادی فتنہ کے قیامت بننے سے پیشتر ہی اس کا سدباب کرے۔ ورنہ چشم پوشی کی صورت میں اس کے اثرات و نتائج ملک وملت کے لئے یقیناً خطرناک ثابت ہوں گے۔ آہ! کس قدر تعجب انگیز اور صداقت سوز ہے یہ المناک حادثہ کہ آج سلطنت اسلامیہ میں باغیان ختم نبوت اور غداران ملک و ملت بڑے بڑے جلیل اور ممتاز کلیدی عہدہ جات پر نہ صرف براجمان ہیں۔ بلکہ سرکاری اثر و رعب کی آڑ میں نبوت باطلہ کی نشر و اشاعت اور تبلیغ ارتداد بھی ساتھ کر رہے ہیں ۔ افسوس ......

”زاغوں کے تصرف میں ہیں عقابوں کا نشیمن“ حالانکہ ملت بیضا کی تاریخ مقدس اس امر پر شاہد ہے کہ کسی مملکت اسلامیہ میں کوئی مدعی کذاب اپنی نبوت کاذبہ کو فروغ نہیں دے سکا۔ مگر آج ......

ایں رسم و راہ تازہ حرمان عہد است
عنقا بہ روزگار کسے نامہ بر نہ بود

خداوندان حکومت یہ امر واقع ہے کہ قادیانی امت کی ....... روز روشن میں ایمان ربا اور اسلام کش تخریبی سرگرمیاں اور آقائے دوجہاں ﷺ کی نبوت صادقہ کے مقابلہ میں نبوت باطلہ کی شورش و یورش دیکھ کر ملت اسلامیہ کا پیمانہ صبر اور ساغر ضبط ایک مواج سمندر کی طرح چھلک رہا ہے اور ملت نہایت بے تابی سے اپنی اسلامی حکومت کی طرف دیکھ رہی ہے۔ چونکہ مسلمان خاتم الانبیاء کی نبوت اور رسالت کی توہین و تنقیص بسر مو بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ مسلمان کا یہ ایمان ہے:

جب تک نہ کٹ مروں میں شہ یثرب کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

لیکن آئین و قانون کی لچک اور نرم روی ملاحظہ ہو کہ ملت اسلامیہ جب محض ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کی خاطر جذبہ عقیدت کے ماتحت قادیانی مرتدین کے جارحانہ اقدام کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتی ہے۔ یا ان باغیان نبوت کی ریشہ دوانیوں کی روک تھام کے لئے کوئی مدافعانہ قدم اٹھاتی ہے۔ تو عذرات لنگ کی آڑ لے کر ملت پر ستم آفرین اور سنگین سختیاں روا رکھی جاتی ہیں اور نبوت باطلہ جو دراصل فتنہ و فساد اور غدر و بغاوت کا منبع و سرچشمہ ہے۔ اس کی صحیفہ آسمانی کی طرح پاسبانی و حفاظت کی جاتی ہے۔ اس کو کہتے ہیں خون انصاف:

میری نگاہ شوق پر اس درجہ سختیاں
ان کی نگاہ شوخ پر کچھ بھی سزا نہیں

٤

صفحہ ٤٠١

پس سابقہ سلاطین اسلام کی طرح تحفظ ختم نبوت اور بقائے پاکستان کے لئے قادیانی فتنے کا بھی کلی استیصال کرنا اور مرکزی کابینہ اور حکومت کی مشینری سے ان غداران ازل کا اخراج از بس لازمی اور ضروری ہے اور اپنی غفلت شعار حکومت کو ہمارا یہی آخری مخلصانہ مشورہ ہے۔ ورنہ بصورت چشم پوشی:

نئے گل کھلیں گے تیری انجمن میں
اگر رنگ یاران محفل یہی ہے

اے اراکین حکومت! آپ نور فراست اور چشم بصیرت سے تاریخ اسلامیہ کا مطالعہ فرمائیں تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ مسیلمہ کذاب سے لے کر مرزا قادیانی دجال تک جس قدر بھی مختلف اوقات میں مختلف مقامات پر جھوٹی نبوت اور رسالت مسیحیت و مہدویت وغیرہ مدعیان کذاب و دجال، ضال و مضل فتان و مفسد اور زندیق و مرتد پیدا ہوئے ہیں۔ ان سے مسلمانان عالم کو کس قدر ملکی و ملی نقصان پہنچا ہے۔ دور نہ جائیے فتنہ بہائیت کو ہی دیکھ لیجئے۔ جس نے آج سے قریباً ایک صدی قبل سرزمین ایران میں دعویٰ رسالت و مسیحیت اور مہدویت کی آڑ میں خوف ناک طریق پر ایک فتنہ عظیم برپا کیا تھا۔ جس کا بالآخر ایران کی اسلامی حکومت نے بزور شمشیر قلع قمع کیا اور باقی ماندہ اس فرقہ کے افراد بشکل روپوشی غیر ممالک میں بھاگ گئے۔ دراصل اختتام نبوت حقہ کے بعد اس قسم کے تمام نبوت خیز اور تقدس آمیز تحریکوں کا مقصد حیات اپنا سیاسی تفوق و عروج اور عالم اسلام کی قومی و ملی شان و شوکت کا تنزل و خروج ہوتا ہے۔ اگر خدانخواستہ بر وقت ان تحریکات باطلہ کا انسداد نہ کیا جائے تو بعد میں بغاوت نما اور قیامت نما نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیسا کہ مفکر اسلام علامہ اقبالؒ تاریخ اسلام کا ایک ورق پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’کہ جب ہم اس زمانے کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں۔ تو ہم کو یہ کم و بیش ایک سیاسی بے چینی کا زمانہ نظر آتا ہے۔ آٹھویں صدی کے نصف آخیر میں اس سیاسی انقلاب کے باوجود جس نے سلطنت امیہ (١٣٩ھ) کو الٹ دیا تھا اور بھی واقعات ظہور پذیر ہوئے ہیں۔ جیسے زنادقہ ایرانی ملحدین کی بغاوت وغیرہ خراسان کا نقاب پوش پیغمبر ان لوگوں نے عوام کی زود اعتقادی سے فائدہ اٹھا کر اپنے سیاسی منصوبوں کو مذہبی تصورات کے بھیس میں پیش کیا۔‘‘

(فلسفہ عجم ص ١٤٧)

اور اب جس طرح قادیانی امت کر رہی ہے۔ پھر کس قدر مقام عبرت ہے کہ ہمارے اراکین حکومت کی قادیانی تحریک سے غیر مدبرانہ چشم پوشی دیکھ کر امت مرزائیہ اور اس کے زر خرید

٥

صفحہ ٤٠٢

ضمير فروش ایجنٹ عوام کو فریب دینے کے لئے منافقانہ نقاب میں طول طویل اتحاد نما مضامین مکالات لکھ رہے ہیں کہ صاحب از روئے سیاست اس دور جمہوریت میں فراخ دلی اتحاد اور رواداری کی ضرورت ہے لہٰذا فرقہ احمدیہ بھی اعضائے ملت کا اخیر ایک مخصوص عضو ہے۔ مراد یہ ہے کہ تبلیغ ارتداد کی مدافعت نہ کرو اور نبوت باطلہ پر ایمان لے آؤ۔ حالانکہ رواداری اسلام کا صحیح مفہوم صرف یہ ہے کہ حدود شرعیہ معینہ کے اندر غیر مسلموں اور ذمی کافروں کے ساتھ رواداری رکھو اور ان کے جائز حقوق کی حفاظت و نگہداشت کرو۔ لیکن مرتدین اور مدعیان نبوت باطلہ کے متعلق قانون اسلام میں مطلقاً کوئی رواداری اور رعایت نہیں ہے اور نہ ہی مسیلمہ کذاب سے لے کر بہاء اللہ ایرانی تک تاریخ اسلام میں ایسی خانہ ساز رواداری کی کوئی نظیر ملتی ہے۔ میں قادیانی امت یا منافقین ملت یا مرتدین سے نہیں۔ بلکہ مدبرین حکومت اور مخلصین مملکت سے ایک تلخ نوا، لیکن مبنی بر حقیقت سوال کرتا ہوں کہ کیا عدل و انصاف اور رواداری اسی چیز کا نام ہے کہ بغیر اثبات جرم اور قومی خدمت گاروں اور شمع آزادی و حریت کے پروانوں کو نہایت ظالمانہ طریقہ پر قید و بند میں محبوس رکھا جائے اور تقریر تحریر کی آزادی چھین لی جائے اور غداران ملک و ملت اور باغیان ختم نبوت کو آزاد چھوڑا جائے۔ افسوس!

برادران اسلام! اگر اس فتنہ کو ابھی سے نہ روکا گیا۔ جیسا کہ حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا: ”کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریک نے مسلمانوں کے ملی استحکام کو بہت نقصان پہنچایا ہے اور آئندہ پہنچائے گی۔ اگر اس کا استیصال نہ کیا گیا ۔“ (ملفوظات اقبال ص ٢٩٧) تو کچھ بعید نہیں کہ آئندہ حکومت ان کے ہاتھ میں ہو۔ اس لئے ابھی سے ہم سب مسلمانوں کو اس فتنہ کے خلاف متحد ہو جانا چاہئے تا کہ ان کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر ہونے سے روکا جائے اور ان کے گرو نے مقدسین اسلام کی شان میں جو گستاخیاں کی ہیں۔ ان کا مزہ چکھائیں۔ ملاحظہ ہوں ان کے گرو کی گستاخیاں جو کہ پیغمبروں تک کو نہیں چھوڑا۔

توہین انبیاء علیہم السلام

قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن...... پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں ۔ وہ نہیں مانتے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)

٦

صفحہ ٤٠٣

نوٹ...... مفہوم عبارت بالکل واضح ہے کہ میری نبوت سے ہزاروں نبی ہو سکتے ہیں اور میری نبوت کا منکر شیطان ہے۔ اب ملت اسلامیہ مع ارباب حکومت جواب دیں کہ آپ مرزا قادیانی کی نبوت باطلہ کے مصدق ہیں یا مکذب، بصورت مکذب کون ہو؟

بخدا میں اپنی وحی کو مثل قرآن منزہ اور کلام مجید سمجھتا ہوں۔ اگرچہ لاکھوں انبیاء ہوئے ہیں۔ لیکن میں عرفان میں کسی سے کم نہیں ہوں۔ جو یقین عیسیٰ کو انجیل پر، موسیٰ کو تورات پر، آنحضرت کو قرآن پر تھا۔ وہی یقین مجھے اپنی وحی پر ہے۔ جو کوئی اس کو جھوٹ کہے۔ وہ لعین ہے۔“

(نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ص٤٧٧ حاشیہ)

سچا خدا

(دافع البلاء ص١١، خزائن ج١٨ص٢٣١)

ہمارا دعویٰ

(اخبار بدر ج ٧ نمبر ٩ ص٢، ٥؍مارچ ١٩٠٨ء قادیان، ملفوظات ج١٠ ص١٢٧)

تخت گاہ رسول

کے رسول کا تخت گاہ ہے اور تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔“ (دافع البلاء ص١٠، خزائن ج١٨ص٢٣٠)

نوٹ...... اب دیکھو کہ ان مندرجہ بالا حوالہ جات خمسہ میں کس طرح مرزا قادیانی نے توہین انبیاء وحی شیطان کو مثل قرآن، دعویٰ نبوت اور رسالت پر دجل آمیز تحدی، سرزمین الحاد خیز قادیان کو تخت گاہ رسول قرار دیا۔ پھر خدا کے سچا ہونے کا معیار بھی کیا خوب پیش کیا ہے۔ شرم و حیاء قصہ پارینہ بنے ہیں۔ اشرار و باطل نے عجیب جال بنے ہیں۔ اب آپ کو اسی کذاب، دجال کی ایک عبارت پیش کر رہا ہوں۔ جس میں انہوں نے جدالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی توہین کی ہے، ملاحظہ ہو:

”خدا نے میرا نام ابراہیم رکھا ہے۔ جیسا کہ فرمایا ہے ’سلام علٰی ابراہیم صافیناہ ونجیناہ من الغم، واتخذوا من مقام ابراہیم مصلیٰ‘ یعنی سلام ہے

٧

صفحہ ٤٠٤

ابراہیم پر یعنی اس عاجز پر، ہم نے اس سے خالص دوستی کی اور ہر ایک غم سے اس کو نجات دے دی اور تم جو پیروی کرتے ہو۔ تم اپنی نماز گاہ ابراہیم کے قدموں کی جگہ بناؤ۔ یعنی کامل پیروی کرو۔ تاکہ نجات پاؤ۔‘‘

یہ قرآن مجید کی آیت ہے اور اس مقام میں اس کے یہ معنی ہیں کہ یہ ابراہیم جو بھیجا گیا۔ تم اپنی عبادتوں اور عقیدوں کو اس طرز پر بجالاؤ اور ہر ایک امر میں اس کے نمونے پر اپنے تئیں بناؤ...... یہ آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے۔ تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا۔ (آخر زمانہ میں کسی ایسے جعلی ابراہیم پیدا ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔ کذاب دجال قادیان کا یہ سراسر افترا علیٰ القرآن ہے ) اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا۔ جو اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٦٨،٦٩)

نوٹ ...... یادرہے کہ یہ چند آیات جو قرآن شریف کے مختلف مقامات پر واقع ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شان حنیف میں نازل ہوئی ہیں۔ مگر قادیانی محرف کی گستاخانہ جسارت دیکھئے جو یہودیا نہ سنت کے ماتحت لفظی اور معنوی تحریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ان آیات کا نزول مجھ پر ہوا ہے اور میں ابراہیم ہوں۔ افسوس کہ تمام عمر تو نمرودانِ برطانیہ کی مدح سرائی ، اطاعت شعاری، کاسہ لیسی اور کفش برداری میں تمام ہوئی اور اس پر تحدی یہ ہے کہ میں ابراہیم ہوں۔ اب وہی فرقہ نجات پائے گا۔ جو میرا پیرو ہوگا۔

بادۂ عصیاں سے دامن تر بتر ہے شیخ کا
پھر بھی دعویٰ ہے کہ اصلاح دو عالم ہم سے ہے

نباض فطرت و ترجمان حقیقت علامہ اقبالؒ نے لاریب اسی قسم کے صداقت پوش و ایمان فروش خناس کی ترجمانی کرتے ہوئے بطور حکایت یہ فرمایا تھا:

پسر را گفت پیرے خرقہ بازے
ترا ایں نکتہ باید حرز جاں کرد
بہ نمرودان ایں دور آشنا باش
زفیض شان براہیمی تواں کرد

١؎ یعنی اس خانہ ساز قادیانی ابراہیم کے عقائد باطلہ اختیار کر لو اور مرتد ہو جاؤ۔ نعوذ باللہ! (گل)

٨

صفحہ ٤٠٥

یعنی مردودان خداوندی اور غداران ازلی اگر فرعونان وقت اور نمرودان دور حاضرہ کے ساتھ راہ و رسم اور خصوصی تعلقات قائم رکھیں اور ان کے تابع فرمان اور مطیع حکم ہو جائیں۔ تو ان کو بیشک ایسا سراب نما اور نار افزا مقام ابراہیمی حاصل ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ دشمن حریت ابلیسی تسلط و اقتدار یعنی فرنگی کی لادینی سیاست اور نمرودی حکومت میں آسمان لندن سے قادیانی غدار کو حاصل ہوا ہے۔ پناہ خدا!

حضرات! یہ ہے وہ دین و مذہب اور مقدس دھرم جس کا قادیانی امت آج سر زمین پاکستان اور بیرونی ممالک میں پرچار کر رہی ہے کہ قادیانی خانہ ساز ابراہیم پر ایمان لاؤ اور اس میں مخلصی و نجات ہے اور یہی حق کا دیوتا ہے۔

سید المتقین امام الانبیاء الاولین والآخرین ﷺ کی توہین

ہے جن کو محمدؐ کی مساوات کا دعویٰ
مژدہ جہنم کی وعید ان کو سنادو

برادران اسلام! اب آپ کے سامنے گستاخ ازلی مرزا قادیانی اور اس کی بے ادب مرتد امت کے عقائد باطلہ کا وہ دل خراش و جگر پاش باب پیش کیا جاتا ہے جو کہ سید الکونین محبوب رب المشرقین، قائد المرسلین، خاتم النبیین محمد مصطفیٰ ﷺ کی توہین و تنقیص اور گستاخیوں سے بھرا ہوا ہے۔

ترجمان حقیقت علامہ اقبالؒ کی شہادت

شان نبوت میں قادیانی امت کی گستاخیوں کے متعلق حقیقت نما شہادت حضرت علامہ کا تحریری بیان فرمایا کہ ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس وقت بیزار ہوا جب ایک نئی نبوت، بانی اسلام کی نبوت سے اعلیٰ تر نبوت کا دعویٰ کیا گیا اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا۔ بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی۔ جب میں نے تحریک کے ایک رکن کو اپنے کانوں سے آنحضرت ﷺ کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا۔ ”درخت جڑ سے نہیں پھل سے پہچانا جاتا ہے۔“

(حرف اقبال ص ١٣٢)

١؎ ملاحظہ فرمادیں قادیانی کذاب کی کتاب ”ازالۂ اوہام“ وغیرہ جس میں اس نے اپنے آپ کو برطانیہ کا سچا شکر گزار خود ثابت کیا ہے۔

٩

صفحہ ٤٠٦

مندرجہ بالا بیان میں قادیانی امت کے متعلق، عاشق رسول علامہ اقبالؒ نے جو کچھ فرمایا ہے۔ بالکل حقیقت اور مبنی بر صداقت ہے۔ حضرات! اب ذیل میں صرف چند حوالہ جات ملاحظہ فرماویں۔

منصب محمدیت پر غاصبانہ حملہ ...... میں محمد رسول اللہ ہوں

لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں ...... چنانچہ میری نسبت یہ وحی اللہ ہے ”محمد رسول اللہ“ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧، ٢٠٦)

(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)

”اور احمد مختار ہوں۔“

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

نوٹ...... آپ نے دیکھا کہ قادیانی فتنہ کس جرأت و جسارت اور بے باکی سے اعلانِ بغاوت کر رہا ہے کہ محمد رسول اللہ، محمد مجتبیٰ اور احمد مختار میں ہوں۔ نعوذ باللہ منہا۔ حالانکہ یہ محمد رسول اللہ کی آیت صرف حضرت محمد عربی ﷺ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔

(الفتح: ٢٩)

یہ تو تھا مرزا قادیانی کا باغیانہ دعویٰ کہ میں محمد رسول اللہ ہوں۔ اب ذیل میں قادیانی امت کا ایمان ملاحظہ فرماویں تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ قادیانی امت حضور علیہ السلام کو قطعاً محمد رسول اللہ نہیں مانتی۔ بلکہ مرزا قادیانی کو مانتی ہے۔

مدح حضرت مسیح موعود ...... محمد مصطفیٰ تو ہے

مسیح مجتبیٰ تو ہے محمد مصطفیٰ تو ہے
بیاں ہو شان تیری کیا حبیب کبریا تو ہے
کلیم اللہ بننے کا شرف حاصل ہوا تجھ کو
خدا بولے نہ کیوں تجھ سے کہ محبوب خدا تو ہے
اندھیرا چھا رہا تھا سب اجالا کر دیا جس نے
وہی بدر الدجیٰ تو ہے وہی شمس الضحیٰ تو ہے

(گلدستہ عرفان ص ١ مطبوعہ قادیان دسمبر ١٩٣٤ء، مؤلفہ مرزا بشیر احمد، پسر مرزا قادیانی)

١٠

خود محمد رسول اللہ ہی ہیں

ماننا ضروری ہے تو پھر مرزا قادیا تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبی رسول اللہ ہے۔ جو دوبارہ دنیا می اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آ

کلمہ طیبہ میں قادیانی محمد

(مرزا) کی زیادتی ہو گئی ہے لہذا رسول اللہ“ کا کلمہ باطل نہی

نوٹ...... آپ نے دیکھا اقرار واعتراف اور دعویٰ ہے کلمہ کے لئے الفاظ جدید کی کلمہ کے لئے الفاظ جدید کا ت کی طرح ثابت ہو گیا کہ قاد مراد یقیناً قادیانی محمد یعنی مر اس کے تصور ایمان اور یقین خاتم الانبیاء حضرت محمد عربی سے مراد صرف محمد عربی ہی یہی مراد ہے۔ پس قادیانی

اے اللہ تعالیٰ کی (گل)

صفحہ ١٠٧

خود محمد رسول اللہ ہی ہیں

ماننا ضروری ہے تو پھر مرزا قادیانی کا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا پس مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے۔ جو دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا پھر ضرورت پیش آتی۔“

(کلمۃ الفصل ص ١٥٨، ١٥٧ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

کلمہ طیبہ میں قادیانی محمد

(مرزا) کی زیادتی ہوگئی ہے لہٰذا مسیح موعود کے آنے سے نعوذ باللہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا۔ بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ١٥٨، مؤلفہ مرزا بشیر احمد پسر مرزا قادیانی)

نوٹ...... آپ نے دیکھا کہ کن غیر مبہم اور الم نشرح الفاظ میں قادیانی امت کا صاف صاف اقرار و اعتراف اور دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی خود محمد رسول اللہ ہی ہے۔ اس لئے ہمیں اپنے جدید کلمہ کے لئے الفاظ جدید کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اگر مرزاجی خود محمد رسول اللہ نہ ہوتے تو پھر کلمہ کے لئے الفاظ جدید کا سوال پیدا ہو سکتا تھا۔ پس قادیانی امت کے عقائد باطلہ سے روز روشن کی طرح ثابت ہو گیا کہ قادیانی جب کلمہ پڑھتے ہیں تو اس کے تصور و خیال اور ذہن میں محمد یہ سے مراد یقیناً قادیانی محمد یعنی مرزا آنجہانی ہی ہوتا ہے اور لیکن جب امت محمدیہ کلمہ طیبہ پڑھتی ہے۔ تو اس کے تصور ایمان اور یقین وجدانی میں لاریب اسم محمد سے مراد صرف اور صرف بلا شرکت غیرے خاتم الانبیاء حضرت محمد عربی ﷺ کی ذات مقدسہ مقصود ہوتی ہے۔ اس لئے کہ کلمہ طیبہ میں اسم محمد سے مراد صرف محمد عربی ہی کی ذات مخصوص مراد ہے اور آیت محمد رسول اللہ میں خداوند عالم کی بھی یہی مراد ہے۔ پس قادیانی کذاب اور اس کی مرتد امت کا یہ دعویٰ سراسر لچر اور باطل ہے۔ اور:

(گل)

١١

صفحہ ٤٠٨
باطل دوئی پسند ہے حق لاشریک ہے
شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول

واضح ہو کہ قانون خداوندی اور آئین نبوی کے ماتحت جمیع اہل اسلام کا بالاتفاق یہی عقیدہ اور ایمان ہے کہ جس طرح خداوند قدوس عزاسمہ، و جل مجدہ، اپنی الوہیت اور ربوبیت اور معبودیت میں وحدہ لاشریک ہے۔ اسی طرح محمد مکی و مدنی علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی نبوت اور رسالت و محمّدیت میں تاقیامت وحدہ لاشریک ہیں۔ پس جس طرح شرک فی التوحید ناقابل معافی جرم ہے۔ اسی طرح شرک فی النبوت بھی ناقابل معافی جرم ہے۔ کما قال رسول اللہ ﷺ:

”یایھا الناس ان ربکم واحد ونبیکم واحد لانبی بعدی“

(کنز العمال) ﴿اے میری امت کے لوگو! تمہارا خدا ایک ہے۔ اسی طرح تمہارا نبی ﷺ بھی ایک ہی ہے۔ میرے بعد کوئی اور نبی پیدا نہیں ہوگا۔﴾ لیکن قادیانی عقیدہ ملاحظہ ہو۔

وہ آفتاب چمکتا تھا جو مدینے میں
ہے جلوہ ریز وہ اب قادیان کے سینے میں

(اخبار فاروق قادیان ج ٢٥ نمبر ٢٥، ٢١؍اپریل ١٩٤٠ء)

خدا نے اسے محمد رسول اللہ فرمایا ہے

نبی تھے۔ تو اس بعثت میں بھی نبی ہیں۔ اگر محمد رسول اللہ کے انکار سے پہلے انسان کافر ہوجاتا تھا۔ تو اب بھی آپ کے انکار سے انسان ضرور بالضرور کافر ہوجائے گا۔ ہم (احمدیوں) نے مرزا کو بحیثیت مرزا نہیں مانا۔ بلکہ اس لئے کہ خدا نے اسے محمد رسول اللہ فرمایا ہے۔ ہم پر اللہ کا بڑا فضل ہے کیونکہ ہم اگر ساری جائدادیں سارے اموال اور جانیں قربان کردیتے تو بھی صحابہ کرام میں شامل نہ ہو سکتے۔ یہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ غوث، قطب، ولی جتنے بزرگ امت محمدیہ میں گزرے ہیں۔ ان کا ایمان صحابی کے ایمان کے برابر نہیں ہو سکتا اور اس مرتبہ کو نہیں پاسکتے جو صحابہ عظامؓ نے پایا۔ کیونکہ انہوں نے محمد رسول اللہ کا چہرہ دیکھا۔ مگر اللہ نے ہمیں محمد رسول اللہ کا چہرہ

١؎ فی الواقع مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہے، خداوند تعالیٰ اہل اسلام کو اس مقدس مبارک عقیدہ پر قائم وثابت قدم رکھے اور دورِ حاضرہ کے بناسپتی پیغمبروں اور الحاد پسند صحابیوں سے محفوظ رکھے۔ آمین!

١٢

مبارک دکھا کر اس کی صحبت سے مستفی (تقریر مفتی اعظم

اصول احمدیت

مخاطب کرتا ہے۔ حضرت مسیح موعود عین محمد ماننے کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔“

مرزا قادیانی کا انکار کفر ہے

مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نبی کر بعثت میں آپ کا انکار کفر ہو۔ مگر و کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور ا

قادیان میں محمد

سید الانبیاء سے ہر شخص ب

سے بھی کوئی شخص بڑا درجہ حاصل بھی بند نہیں کیا۔ ہم یہ کہتے ہیں

ایک کو بڑھانے میں کو

١؎ دیکھو اس باغی نہیں شروع ہی سے میرا یہی ا

صفحہ ٤٠٩

مبارک دکھا کر اس کی صحبت سے مستفاد کر کے صحابہ کرام کے گروہ میں شامل کر دیا ۔"

(تقریر مفتی اعظم قادیانی جماعت مولوی سرور شاہ مندرجہ الفضل ٢٧ / دسمبر ١٩١٣ء ص ٧)

اصول احمدیت

......٦ "خدائے تعالیٰ اپنی پاک وحی میں مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو محمد رسول اللہ کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔ حضرت مسیح موعود کا آنا بعینہ محمد رسول اللہ کا دوبارہ آنا ہے۔ حضرت مسیح موعود کو عین محمد ماننے کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے اور یہی وہ بات ہے جو احمدیت کی اصل اصول کہی جاسکتی ہے۔"

(الفضل ١٧ / اگست ١٩١٥ء ص ٧)

مرزا قادیانی کا انکار کفر ہے

......٧ "اگر نبی کا انکار کفر ہے ۔ تو مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا انکار بھی کفر ہونا چاہئے اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نبی کریم ﷺ کا منکر بھی کافر نہیں۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں آپ کا انکار کفر ہو۔ مگر دوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیح موعود آنحضرت ﷺ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے ۔ آپ کا انکار کفر نہ ہو ۔"

(کلمۃ الفصل ص ٨٣)

قادیان میں محمد

......٨ "قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد ﷺ کو اتارا ہے۔"

(کلمۃ الفصل ص ٢٠)

سید الانبیاء سے ہر شخص بڑھ سکتا ہے

......٩ ابن کذاب مرزا محمود کا باغیانہ اعلان...... "اگر کوئی شخص مجھ سے پوچھے کہ کیا محمد ﷺ سے بھی کوئی شخص بڑا درجہ حاصل کر سکتا ہے۔ تو میں کہا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام کا دروازہ بھی بند نہیں کیا۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر محمد ﷺ سے کوئی شخص بڑھنا چاہے تو بڑھ سکتا ہے۔"

(خطبہ مرزا محمود مندرجہ الفضل ١٦ / جون ١٩٢٣ء ص ٨)

ایک کو بڑھانے میں کوئی خوبی نہیں

......١٠ "یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔-

لے دیکھو اس باغی رسالت مرزا محمود کے قول باطل میں فی البداہت استمرار موجود ہے۔ یعنی شروع ہی سے میرا یہی شیطانی عقیدہ ہے اور میں یہ برملا کہتا رہتا ہوں۔

- ١٣

صفحہ ١٤

حتی کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔ اگر روحانی ترقی کی تمام راہیں ہم پر بند ہیں تو اسلام کا کچھ بھی فائدہ نہیں اور پھر اس میں کوئی خوبی نہیں کہ ایک کو بڑھا دیا جائے اور دوسروں کو بڑھنے نہ دیا جائے۔“

(بیان مرزا محمود مندرجہ الفضل ٧/ جولائی ١٩٢٢ء ص ٥)

نوٹ...... عبارت اردو میں ہے اور مفہوم بالکل واضح ہے۔

مرزا محمود کا یہ تحریمانہ دعویٰ قابل غور ہے کہ یہ بالکل صحیح بات ہے یعنی اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شخص فخر الانبیاء سے بڑھ سکتا ہے اور یہ کوئی خوبی نہیں کہ ایک کو بڑھا دیا جائے اور دوسروں کو بڑھنے نہ دیا جائے۔ اس کذاب ابن کذاب اور بدباطن و روسیاہ کی ایک سے مراد فی الحقیقت سراج الانبیاء، سید العارفین، سید ولد آدم، قائد المرسلین محمد عربی ﷺ ہی ہیں۔ جس کی مدح و ثناء کا خود خالق اکبر مداح و ثناء خوان ہے۔ مثلاً دیکھو سورۃ البقر تفسیر شرح شفا جلد اول۔ سورۃ حجرات۔ سورۃ یوسف۔ سورۃ زخرف۔ سورۃ حجر۔ جس سے شان محمدیت کا مقام ارفع ثابت ہوتا ہے۔ سچ ہے:

شہ لولاک کے قدموں کو چوما ہے بلندی نے
نہیں ہے عقل کل کو بھی مجال پرزنی جس جا

لہٰذا قرآن اور حدیث مقدس کی روشنی میں تمام امت محمدیہ کا یہی عقیدہ و ایمان ہے کہ

رخ مصطفیٰ ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ
نہ ہماری بزم خیال میں، نہ دکان آئینہ ساز میں

لعین قادیانی گستاخ و مردود کا یہ جملہ کہ دوسروں کو بڑھنے نہ دیا جائے، سے مراد مرزا آنجہانی خلیفہ ثانی محمود قادیانی مراد ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی کا اپنا بھی یہی دعویٰ تھا۔ جیسا کہ سابقہ پیش کردہ خرافات سے ثابت ہو چکا ہے۔ اب قادیانی خناس کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ہرزہ سرائی ملاحظہ فرماویں۔ جس میں اس خناس بدقماش زمانہ نے یہودیانہ سنت کو ادا کیا ہے۔

توہین حضرت عیسیٰ علیہ السلام

حضرت مسیح بدزبان تھے

تلوار چلائی کہ کسی نبی کے کلام میں ایسے سخت اور آزاردہ الفاظ نہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ١٥، خزائن ج ٣ ص ١١٠)

گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک دیں۔“

حضرت عیسیٰ علیہ السلام شرابی

وجہ سے۔“

مسیح علیہ السلام کا خاندان

ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں۔ آپ کا آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔

حضرت مسیح کی پیشین گوئیاں

گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔“ خدا کو ایسے قصے مانع تھے

ہوئی بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ س رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے س

پہلے مسیح سے بڑھ کر

صفحہ ٤١١

٢....... ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔ بدزبانی میں اس قدر بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولدالحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں دیں۔“

(چشمہ مسیحی ص ١١، خزائن ج ٢٠ ص ٣٣٦)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام شرابی تھے

٣....... ”عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“

(کشتی نوح ص ١٥ خزائن ج ١٩ ص ٧١)

٤....... ”میرے نزدیک مسیح شراب سے پرہیز رکھنے والا نہیں تھا۔“

(ریویو جلد اول نمبر ٣ ص ١٣٢، مارچ ١٩٠٢ء قادیان)

مسیح علیہ السلام کا خاندان

٥....... ”یسوع کے ہاتھ میں سوا مکر وفریب کے اور کچھ نہیں تھا۔ پھر افسوس کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں۔ آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

حضرت مسیح کی پیشین گوئیاں

٦....... ”ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشین گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔“

(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١)

خدا کو ایسے قصے مانع تھے

٧....... ”مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوئی بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

(دافع البلا ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)

پہلے مسیح سے بڑھ کر

٨....... ”آج تم میں ایک ہے، جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے...... عیسائی مشنریوں نے عیسیٰ بن

١٥

صفحہ ٤١٤

مریم کو خدا بنایا...... اس لئے اس مسیح کے مقابل پر جس کا نام خدا رکھا گیا۔ خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا۔ جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔"

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

یاد رہے کہ عیسیٰ ابن مریم، مسیح، یسوع ایک ہی فرد کے نام ہیں۔ جیسے کہ مرزا قادیانی کو خود بھی اعتراف ہے۔ ملاحظہ ہو ”مسیح ابن مریم کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“

(توضیح مرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)

اس کا ذکر ہی چھوڑ دو

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

”یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں اور اگر تجربہ کی رو سے خدا کی تائید مسیح بن مریم سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔“

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

نوٹ...... فاش زمانہ مرزا قادیانی نے جس یہود یانہ سیرت و کردار کا ثبوت دیتے ہوئے نبی اللہ ”وجيها في الدنيا والاخرة“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر دل خراش اور سوقیانہ حملے کئے ہیں۔ ان کا مندرجہ بالا عبارات میں قدرے نمونہ پیش کیا گیا ہے۔ چنانچہ آپ نے دیکھا کہ کس ابلیسانہ جسارت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نعوذ باللہ سخت زبان، بدلسان و دشنام طراز شراب نوش، فریبی، بے کار، زنا زادہ، دروغ گو اور عیاش و بد چلن قرار دیا ہے ...... صد حیف!

یاد رہے کہ یہ فحش مغلظات اور سراپا توہین آمیز عبارتیں ایسی ہیں کہ جن کی کوئی دجل و فریب سے باطل سے باطل تاویل و توجیہہ بھی نہیں ہو سکتی۔ چونکہ ان میں قادیانی کذاب نے خود اپنا مذہب و عقیدہ بیان کیا ہے۔ جیسا کہ لکھا ہے کہ میرے نزدیک مسیح شراب سے پرہیز رکھنے والا نہیں اور نیز یہ کہ اس وجہ سے خدا نے مسیح کا نام حصور نہیں رکھا۔ کیونکہ خدا کو ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔ یعنی بقول مرزا قادیانی حضرت مسیح عند اللہ بھی نعوذ باللہ ایسے ہی تھے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔

١٦

حالانکہ خداوند قد تطہیر اور علوشان کو بیان فرما نا مسعود اور قادیانی مردود اور مسکت جواب موجود ہے ایسے ہی تھے کہ جن کا نام خا اصل میں حضر تیار کیا گیا تا کہ میری خانہ خدا گنجے کو نا قادیانی محرف و مرتد ، کلا کوشش کرتا۔ یہاں تک ا اور رسول ﷺ حضرت عی طیبہ میں بیان فرماتے ہ مرتدین و شیاطین ہی کا ک ”أنا خير منه“ یعنی

افسوس کہ آ ہے۔ مگر مقدسین و مطہر خدا غیرت ایمانی اب ذرا قا برا کہنے والا خود کتنا پار قادیانی مسیح کی ا

صفحہ ٤١٣

حالانکہ خداوند قدوس نے قرآن مقدس میں جابجا حضرت مسیح علیہ السلام کی تقدیس اور تطہیر اور علوشان کو بیان فرمایا ہے اور آپ کے بے شمار معجزات کا تذکرہ فرمایا ہے کہ جن کے اندر نامسعود اور قادیانی مردود کے جملہ لچر اور انسانیت سوز اعتراضات و الزامات کا کافی و شافی اور مسکت جواب موجود ہے۔ باقی رہا نامِ مصور تو کیا نعوذ باللہ وہ تمام انبیاء علیہم السلام بھی بقولِ شما ایسے ہی تھے کہ جن کا نام خدا نے مصور نہیں رکھا۔ شرم، شرم، شرم۔

اصل میں حضرت مسیح علیہ السلام کی یہ توہین وتنقیص کا تمام دجالی ڈرامہ محض اس لئے تیار کیا گیا تا کہ میری خانہ ساز دکان مسیحیت چمک اٹھے۔

خدا گنجے کو ناخن نہ دے۔ حفاظتِ قرآن کے متعلق اگر وعدہ خداوندی نہ ہوتا۔ تو قادیانی محرف و مرتد ، کلام پاک سے حضرت مسیح علیہ السلام کا نام تک بھی نکال دینے کی ناپاک کوشش کرتا۔ یہاں تک تو کہہ دیا کہ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ غور فرماویں۔ اب جبکہ خداوندِ کریم اور رسول ﷺ حضرت مسیح کا نہ صرف ذکر ہی کرتے ہیں۔ بلکہ مسیح علیہ السلام کے محاسن واوصاف طیبہ میں بیان فرماتے ہیں تو اہلِ ایمان ان کا ذکر کیوں چھوڑ دیں۔ ایسی بغاوت وحکم عدولی تو مرتدین وشیاطین ہی کا کام ہے۔ مرزا قادیانی نے ابلیس لعین کی تقلید واتباع میں اسی لئے تو کہا کہ ”انا خیر منہ“ یعنی میں اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہوں: نعم ماقال!

گفت شیطان من ز آدم بہترم
تا قیامت گشت ملعون لاجرم

افسوس کہ آج ہر فاسق و فاجر اور غدار ملت کی معصیت آلود زندگی کے لئے قانون تحفظ ہے۔ مگر مقدسین ومطہرین کی حیاتِ معصومہ کے تحفظ کے لئے کوئی آئین وقانون نہیں ہے۔

خدا غیرت ایمانی عطا کرے۔

اب ذرا قادیانی مسیح کی اخلاقی حالت ملاحظہ فرماویں تاکہ معلوم ہو جائے کہ دوسروں کو برا کہنے والا خود کتنا پارسا ہے۔

قادیانی مسیح کی اخلاقی حالت

اوروں پہ معترض تھے لیکن جو آنکھ کھولی
اپنے ہی دل کو ہم نے گنجِ عیوب پایا

١٧

صفحہ ٤١٤

حضرات! مرزا قادیانی نے تہذیب و شرافت اور ضابطہ اخلاق سے باہر ہو کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات وصفات کے متعلق جو گوہر فشانی کی ہے۔ سطور بالا میں آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ مرزا قادیانی نے یہ درحقیقت یہودیت کی وکالت کرتے ہوئے کلمۃ اللہ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی اللہ پر حقیر و ذلیل اور رکیک حملے کئے ہیں۔ چونکہ قادیانی تحریک باطنی طور پر دراصل بقول واقف فتن ترجمان حقیقت علامہ اقبال ”یہودیت کا ہی بہروپ ہے۔“ (دیکھو حرف اقبال ص ٢٢) مگر ہم مرزا قادیانی کے متعلق مخالفین کے اقوال و بیانات پیش نہیں کریں گے۔ بلکہ مسیح کذاب کی اپنی خود نوشت تہذیب کا نمونہ پیش کریں گے:

تا سیاہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد

لہٰذا ذیل میں قادیانی مسیحیت و نبوت کا بطور آئینہ اخلاق ملاحظہ ہو۔

میں کیڑا ہوں نہ آدمی

کیڑا ہوں نہ آدمی۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٥٩، خزائن ج ٢٢ ص ٤٩٣)

بشر کی جائے نفرت

کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(براہین احمدیہ ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ١٢٧)

میں نامرد ہوں

انتشار) بکلی جاتا رہتا ہے۔ جب میں نے نئی شادی کی تھی تو مدت تک مجھے یقین رہا کہ میں نامرد ہوں۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٢ ص ١٤ او ٢١)

١٨

(سیرت المہد

غیر محرم عورتوں سے

غیر محرم عورتوں سے ہاتھ پاؤں دبوانا موجب رحمت و برکات ہے۔“ (الفضل نمبر ٨٠، ص ٢٤، ١٧ اکتوبر ، ١٨ اپریل ١٩٠٧ء

قادیانی نبوت

ظفر اللہ پیرس جا کر بالکل ننگی عورتوں نے خود دیکھا ہے اور اس سے معلومات

(ذکر

شراب نوشی

منگوانا اور مرزا جی کی شراب نوشی کے

زنا کی سزا

اپنے زانی کو مارے۔“

معلوم شد!

صفحہ ٤١٥

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ١٣٣، روایت نمبر ١٥٠، خصائص کبریٰ جلد اول ص ٧٠)

غیر محرم عورتوں سے اختلاط ...... قادیانی امت کا فتویٰ

غیر محرم عورتوں سے ہاتھ پاؤں دبوانا اور ان سے اختلاط و مس کرنا منع نہیں ہے۔ بلکہ کار ثواب اور موجب رحمت و برکات ہے۔" (الفضل ٢٠؍ مارچ ١٩٢٨ء ص ٦ قادیان، دیکھو سیرۃ المہدی حصہ سوم، روایت نمبر ٧٨٠ ص ٢٤٢، الحکم ٧؍ اپریل ١٩٠٧ء)

قادیانی نبوت و خلافت اور امت ایک مقام پر

(رقص و عریانی اور تھیٹر)

ظفر اللہ پیرس جا کر بالکل ننگی عورتوں کا ناچ دیکھتے رہے۔ مرزا قادیانی کا فتویٰ ہے تھیٹر وغیرہ ہم نے خود دیکھا ہے اور اس سے معلومات حاصل ہوتے ہیں۔"

(ذکر حبیب ص ١٨، الفضل قادیان ج ٣١ نمبر ٩٠ ص ٥، ٢٨؍ جنوری ١٩٣٣ء)

شراب نوشی

منگوانا اور مرزا جی کی شراب نوشی کے متعلق عدالت میں مرزا محمود کا اعتراف......"

(دیکھو خطوط امام بنام غلام ص ٥ اور مسٹر کھوسلہ کا فیصلہ یعنی مقدمہ ستاری)

زنا کی سزا

اپنے زانی کو مارے۔"

(قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ ص ٩٩، فصل پندرھویں)

اے چہ خوش یہ زنا کی سزا ہے یا کفش محبوب کی دلفریب حرکات، شریعت قادیان کی حقیقت معلوم شد!

١٩

صفحہ ٤١٦

قادیانی پیغمبر کا فتویٰ

(ذکر حبیب ص ٤٧ مرتبہ مفتی محمد صادق قادیان)

نوٹ...... واضح رہے کہ یہ پیش کردہ دو حوالہ جات ہم نے صرف قادیانی امت کی مصدقہ کتب و تحریرات سے ہی پیش کئے۔ اگر ضرورت پیش آئی تو پھر ہم مرزا قادیانی اور مرزا محمود دوسرے بڑے قادیانیوں کی اخلاقی حالت، پرائیویٹ زندگی اور چال چلن کے متعلق ان کے سابقہ مریدین و معتقدین وغیرہ کے مبنی بر حقائق بیانات بھی منظر عام پر لائیں گے۔ (انشاء اللہ)

قادیانی مسیح کی تہذیب و شرافت

ذیل میں ہم قادیانی مسیح کی قدرے تہذیب و شرافت کا مختصر نمونہ پیش کرتے ہیں۔ ذرا اس الہامی کلام اور گفتار شیریں کو ملاحظہ فرمادیں اور داد دیں۔

بدکار عورتوں کی اولاد

اور بدکار عورتوں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔"

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

نوٹ...... لفظ بغایا بغاء بغیاء کے معنی مرزا قادیانی نے اپنی کتب (انجام آتھم ص ٢٨٢، خزائن ج ١١ ص ٢٨٢، نور الحق حصہ اول ص ١٢٣، خزائن ج ٨ ص ١٦٣، فریاد درد ص ٧٨، خزائن ج ١٣ ص ٣٥١، خطبہ الہامیہ ص ١٧، خزائن ج ١٦ ص ٤٩) میں نسل بد کاران، زناکار، خراب عورتوں کی نسل، زن بدکار، زنان بازاری کے ہی کئے ہیں یاد رہے۔

میرا مخالف

(نزول المسیح ص ٤،

خزائن ج ١٨ ص ٣٨٢، تذکرہ ص ٣٤٦ طبع سوم، تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٢٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥، ضمیمہ

تحفہ گولڑویہ ص ٣١، خزائن ج ١٧ ص......)

(حقیقت الوحی ص ٢٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٥)

٢٠

صفحہ ٤١٧

جنگلوں کے خنزیر

گئیں۔“

(نجم الہدیٰ ص١٠، خزائن ج١٤ ص٥٣)

حرام زادہ کی نشانیاں

شوق ہے۔ حرام زادہ کی یہی نشانی ہے۔“

(انوار الاسلام ص٣٠، خزائن ج٩ ص٣١)

رحم پر مہر

تک تیرے گھر اولاد نہ ہوگی۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص١٣، خزائن ج٢٢ ص٤٤٤)

نوٹ...... ”جس طرح تمہاری ماں کے رحم پر مہر لگی تھی۔“

(دیکھو اپنی کتاب تریاق القلوب ص١٥٦، خزائن ج١٥ ص٤٧٩)

شرم تم کو مگر نہیں آتی

حضرات! یہ ہے قادیانی نبوت وخلافت کی تہذیب وشرافت، تقدس و پارسائی، خوش کلامی وشیریں بیانی اور اخلاقی حالت کا مختصر مرقع۔ بقول حضرت علامہ اقبالؒ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ آپ اسی سے اندازہ لگائیں کہ قادیانی فحاشی بدزبانی و بدلسانی اور بدتہذیبی میں نہ صرف سباب اعظم اور مجدد سب وشتم ہی تھا۔ بلکہ

اے قادیاں اے قادیاں اے دشمنِ اسلامیاں
اے فتنہ آخر زماں
پیشہ تیرا ایمان ہے، گالی تیری پہچان ہے
جنس نفاق وکفر سے چمکی تیری دکان ہے

(از حضرت مولانا ظفر علی خانؒ)

ملت اسلامیہ سے ایک اہم سوال

اے کہ نشناسی خفی راز جلی ہشیار باش
اے گرفتار ابوبکرؓ و علیؓ ہشیار باش

(اقبال)

٤١

صفحہ ٤١٨

برادران ملت! ان مختصر اوراق میں قادیانی امت کے عقائد باطلہ کا مختصر نقشہ آپ نے یقیناً ملاحظہ کر لیا ہوگا۔ ہر چند مندرجہ بالا صفحات میں اس ”حزب مرتدہ“ کے زندیقانہ خیالات اور ملحدانہ نظریات کی صرف ایک جھلک ہی پیش کی گئی ہے۔ ورنہ اس امت کذاب نے اصول دین، انبیاء صادقین ، کلام رب العالمین، صحابہ کرام ، اہل بیت عظام ، جمہور اہل اسلام اور شعائر اللہ یعنی مکہ معظمہ، مدینہ منورہ اور دیگر مقامات مقدسہ کی جو توہین و تنقیص اور تضحیک و تذلیل کی ہے۔ احاطہ تحریر اور بیان گفت و شنید سے باہر ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا امت محمدیہ اور مرزائیہ میں اختلاف کی نعوذ باللہ وہی نوعیت ہے جو فرق اسلامیہ یعنی سنی، شیعہ، حنفی ، وہابی ، دیوبندی، بریلوی وغیرہ میں اختلاف کی نوعیت ہے؟ کیا قادیانی امت اور ملت اسلامیہ کے مابین انتخاب خلافت خلیفہ بلافصل تفضیل علیٰ یا تقلید، عدم تقلید اور فقہی فروعات و جزئیات یا بعض رسومات کی لفظی نزاع کے مسائل کا کوئی اختلاف ہے۔ نہیں ہرگز نہیں اور ہرگز نہیں۔

بلکہ ملت اسلامیہ اور ملت مرزائیہ کے درمیان ...... حق و باطل، صدق و کذب، اسلام و ارتداد، ایمان و زندقہ، توحید و شرک، نبوت حقہ و نبوت باطلہ کا اصولی و بنیادی اختلاف ہے جو اہل اسلام اور اہل ارتداد کے مابین بعد المشرقین اور سد سکندری کی مانند حائل ۔ چنانچہ یہ وہ حقیقت کبریٰ ہے کہ جس کو خود ملت ارتداد کے بانی مرزا قادیانی اور اس کی تمام مرتد امت نے تسلیم کیا ہے۔ ملاحظہ ہو۔

بلکلی ترک

پڑے گا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٨ حاشیہ ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)

کل مسلمان کافر

انہوں نے مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر ہیں۔“

(آئینہ صداقت ص ٣٥)

نماز جائز نہیں

کہ تم جتنی دفعہ بھی پوچھو گے، اتنی دفعہ میں یہی جواب دوں گا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز

٢٢

صفحہ ٤١٩

نہیں، جائز نہیں، جائز نہیں۔“

(انوار خلافت ص ٨٩، مصنف ابن کذاب مرزا بشیر الدین محمود)

نماز جنازہ مت پڑھو

ہوا۔ اس لئے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔“

(انوار خلافت ص ٩٣)

مقام حج اور اصل غرض

تھا۔ آج احمدیوں کے لئے دینی لحاظ سے تو حج مفید ہے۔ مگر اس سے جو اصل غرض یعنی قوم کی ترقی تھی۔ وہ انہیں حاصل نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ حج کا مقام ایسے لوگوں کے قبضہ میں ہے۔ جو احمدیوں کو قتل کر دینا بھی جائز سمجھتے ہیں۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کام (حج) کے لئے مقرر کیا ہے۔“

(برکات خلافت ص ٥، از مرزا محمود)

ایک احمدی اور دس ہزار مسلمان

ہونے سے برا ہے۔“

(بیان مرزا محمود الفضل ١٩؍اپریل ١٩٣٩ء)

ہر بات میں اختلاف

اور ان کا خدا اور ہے اور ہمارا اور ہمارا حج اور ہے اور ان کا اور، اور اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔“

(بیان مرزا محمود الفضل ٢١؍اگست ١٩١٧ء)

ہر رسول کا منکر کافر ہے

ہوتا ہے۔ اپنے منکروں کو کافر قرار دیا ہے۔ بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ جس شخص پر میرے دعویٰ کے متعلق اتمام حجت نہیں ہوا۔ ایسے شخص کو بھی ہم کافر قرار دیں گے۔“

(کتاب مسئلہ جنازہ کی حقیقت ص ٢٢٠، مؤلفہ بشیر احمد بن کذاب)

١؎ اے اللہ تعالیٰ شاہ فیصل کو ہدایت دیں کہ وہ اپنے پیشرو کے مطابق قادیانیوں کا داخلہ حرمین شریفین میں بند کر دیں۔ کیونکہ قادیانی حج کے لئے نہیں۔ بلکہ جاسوسی کے لئے جاتے ہیں۔

٢٣

صفحہ ٤٢٠

نبوت مرزا کا منکر پکا کافر ہے

کو نہیں مانتا۔ یا محمد ﷺ کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزا) کو نہیں مانتا۔ وہ پکا کافر ہے۔"

(کلمۃ الفصل ص ١١٠ بحوالہ ابن کذاب قادیانی)

حضرات! اہل اسلام کے متعلق مرزا قادیانی اور اس کے خانہ ساز امت کے خیالات و نظریات اور فتاویٰ آپ نے ملاحظہ فرمائے۔ یہ صرف چند حوالہ جات بطور نمونہ از خرمن باطل پیش کئے گئے ہیں۔ آپ انہیں سمجھ لیں کہ امت محمدیہ اور امت مرزائیہ میں کیا اختلاف ہے اور اس بعد المشرقین اختلاف کی اصل نوعیت کیا ہے۔

قادیانی امت کے انہی عقائد باطلہ کی وجہ سے حکومت مصر کے شہرہ آفاق دنیائے عرب کے واجب الاحترام شیخ الاسلام مفتی اعظم السید محمد حسنین مخلوف زاد مجدہم نے فراست خداداد کے ماتحت فتویٰ صادر فرمایا تھا کہ قادیانی امت لاریب کافر و مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور نیز یہ کہ مبلغ مرزائیت سر ظفر اللہ خان قادیانی کا مملکت اسلامیہ کے عہدہ وزارت پر متمکن رہنا ملک و ملت کے لئے سخت ترین مضر اور نقصان دہ ہے۔

دیکھو دنیائے عرب اور پاکستان کے اسلامی اخبارات۔ دیگر عرض ہے کہ سیدی حضرت مفتی مصر زاد شرفہم کے فتویٰ ہی پر موقوف نہیں ہے۔ بلکہ بلا اختلاف تمام دنیائے اسلام اور ممالک اسلامیہ، قادیانی امت کو کافر و مرتد اور دائرہ اسلام سے بکلی خارج سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ ان کے قول و فعل سے ثابت ہے اور یہ حقیقت ثابتہ ہے کہ جس کو خود مرزا قادیانی نے تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا وہ بیان مصدقہ ذیل میں ملاحظہ ہو۔

تمام ممالک اسلامیہ کا اجتماعی فیصلہ

سے گورنمنٹ (برطانیہ) کے مقابل پر ایسی ایسی حرکتیں ظاہر کرتے ہیں کہ جن سے بغاوت کی بو آتی ہے...... اس لئے میں اپنی جماعت کے لوگوں کو نہایت تاکید سے نصیحت کرتا ہوں کہ میری اس تعلیم کو...... خوب یاد رکھیں۔ جو قریباً ٢٦ سال سے تقریری اور تحریری طور پر ان کے

؎١ افسوس کہ آج بھی پاکستان میں بڑے بڑے عہدوں پر قادیانی ہیں۔٢٤

صفحہ ٤٢١

ذہن نشین کراتا آیا ہوں۔ یعنی یہ کہ اس گورنمنٹ انگریزی کی پوری اطاعت کریں ١؎۔ کیونکہ وہ ہماری محسن گورنمنٹ ہے۔

ان کی ظل حمایت میں ہمارا فرقہ احمدیہ چند سال میں لاکھوں تک پہنچ گیا ہے اور اس گورنمنٹ کا احسان ہے کہ اس کے زیر سایہ ہم ظالموں کے پنجہ سے محفوظ ہیں۔ خدا تعالیٰ کی مصلحت نے اس گورنمنٹ کو اس بات کے لئے چن لیا ہے تاکہ یہ فرقہ احمدیہ اس کے زیر سایہ...... ہو کر ترقی کرے۔ کیا تم یہ خیال کر سکتے ہو کہ تم سلطان روم کی عملداری میں رہ کر یا مکہ اور مدینہ ہی٢؎ میں اپنا گھر بنا کر شریر لوگوں کے حملوں سے بچ سکتے ہو۔ نہیں ہرگز نہیں بلکہ ایک ہفتہ میں ہی تم تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کئے جاؤ گے۔ تم سن چکے ہو کہ کس طرح صاحبزادہ عبداللطیف جو ریاست کابل کے ایک نامور رئیس تھے...... وہ جب میری جماعت میں داخل ہوئے تو محض اسی قصور سے کہ میری تعلیم کے موافق جہاد کے مخالف ہو گئے تھے۔

امیر حبیب اللہ خان نے نہایت بے رحمی سے ان کو سنگسار کرا دیا۔ پس کیا تمہیں کچھ توقع ہے کہ تمہیں اسلامی سلاطین کے ماتحت کوئی خوشحالی میسر آئے گی۔ بلکہ تم تمام اسلامی علماء کے فتوؤں کی رو سے واجب القتل ٹھہر چکے ہو...... سو یاد رکھو کہ ایسا شخص میری جماعت میں داخل نہیں رہ سکتا۔ جو اس گورنمنٹ کے مقابلہ پر کوئی باغیانہ خیال دل میں رکھے...... یہ تو سوچو کہ اگر تم اس گورنمنٹ کے سایہ سے باہر نکل جاؤ۔ تو پھر تمہارا ٹھکانہ کہاں ہے۔ ایسی سلطنت کا بھلا نام تو لو جو تمہیں اپنی پناہ میں لے لے گی۔ ہر ایک اسلامی سلطنت تمہارے قتل کرنے کے لئے دانت پیس رہی ہے۔ کیونکہ ان کی نگاہ میں تم کافر اور مرتد ٹھہر چکے ہو۔ سو تم اس خداداد نعمت کی قدر کرو اور تم یقیناً سمجھ لو کہ سلطنت انگریزی تمہاری بھلائی کے لئے ہی اس ملک میں قائم کی ہے٣؎۔

اور اگر اس سلطنت پر کوئی آفت آئے تو وہ آفت تمہیں بھی نابود کر دے گی۔ یہ مسلمان لوگ جو اس فرقہ احمدیہ کے مخالف ہیں۔ تم ان کے علماء کے فتوے سن چکے ہو۔ یعنی یہ کہ تم ان کے نزدیک واجب القتل ہو اور ان کی آنکھ میں ایک کتا بھی رحم کے لائق ہے۔ مگر تم نہیں ہو۔ تمام

١؎ ایک طرف یہ کہ انگریز دجال ہیں اور دوسری طرف یہ کہ ان کی مکمل اطاعت کی جائے۔ کیا قتلِ دجال اسی کا نام ہے؟ (گل)

٢؎ لاریب ممالک اسلامیہ خصوصاً مرکز اسلام میں مدعیانِ نبوت باطلہ نہیں رہ سکتے۔

٣؎ الحمدللہ کہ برطانوی سامراج کی لعنت تو ختم ہوئی۔ مگر اس کا خود کاشتہ پودا ابھی باقی ہے۔ جو عنقریب نابود ہوگا۔ انشاء اللہ!

٢٥

صفحہ ٤٢٢

پنجاب اور ہندوستان کے فتویٰ بلکہ تمام ممالک اسلامیہ کے فتوے تمہاری نسبت یہ ہیں کہ تم واجب القتل ہو......سو یہی انگریز ہیں جن کو لوگ کافر کہتے ہیں ۔ جو تمہیں ان خونخوار دشمنوں سے بچاتے ہیں اور ان کی تلوار کے خوف سے تم قتل کئے جانے سے بچے ہوئے ہو۔ ذرا کسی اور سلطنت کے زیر سایہ رہ کر دیکھ لو کہ تم سے کیا سلوک کیا جاتا ہے۔

سو انگریزی سلطنت تمہارے لئے ایک برکت ہے......اور تمہارے مخالف جو مسلمان ہیں ۔ ہزار ہا درجہ ان سے انگریز بہتر ہیں ۔ کیونکہ وہ تمہیں واجب القتل نہیں سمجھتے ......ظاہر ہے کہ انگریز کس انصاف اور عدل کے ساتھ ہم سے پیش آتے ہیں اور یاد رکھو کہ اسلام میں جو جہاد کا مسئلہ ہے۔ میری نگاہ میں اس سے بدتر اسلام کو بدنام کرنے والا اور کوئی مسئلہ نہیں۔ جس دین کی تعلیم عمدہ ہے......ایسے دین کو جہاد کی کیا ضرورت ہے؟“

(بیان مرزا قادیانی ٧؍ مئی ١٩٠٧ء تبلیغ رسالت ج ١ ص ١٢٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٢ تا ٥٨٤)

مسلمان مدت سے

ٹکڑے ٹکڑے کر کے معدوم کر دیتے۔“ (ایام الصلح ص ٢٦، خزائن ج ١٤ ص ٢٥٥، حمامۃ البشریٰ ص ٤١، خزائن ج ٧ ص ٢٣١، نور الحق حصہ اول ص ٤١، خزائن ج ٨ ص ٦)

نوٹ...... مرزا قادیانی کا مندرجہ بالا مصدقہ بیان کسی مزید تشریح کا محتاج نہیں ہے۔ مرزا قادیانی نے اس بیان میں جہاں اپنی خانہ ساز مرتد امت کو اطاعت برطانیہ اور تنسیخ جہاد کی بشارت و تلقین کی ہے۔ وہاں امت مرزائیہ اور قادیانی تحریک سے متعلق تمام ممالک اسلامیہ اور عالم اسلام کے ارتداد سوز نظریہ کو بھی پیش کیا ہے۔

چنانچہ قادیانی کذاب نے بالکل غیر مبہم اور واشگاف الفاظ میں اس حقیقت باطن شکن کو تسلیم کیا ہے کہ بلا اختلاف بالاتفاق اور بالا جماع جملہ مسلمانان عالم مرزائیوں کو مرتد اور واجب القتل سمجھتے ہیں اور نیز یہ کہ قادیانی امت اپنے اس واضح ارتداد کی وجہ سے کسی بھی اسلامی حکومت کے زیر سایہ اور پناہ میں نہیں رہ سکتی۔ جیسا کہ بیان مذکور میں برسبیل اظہار حقیقت مرزا قادیانی نے اپنی امت کو خطاب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

”کیا تم یہ خیال کر سکتے ہو کہ تم سلطان روم کی عملداری میں رہ کر یا مکہ اور مدینہ میں اپنا گھر بنا کر شریر لوگوں یعنی مسلمانوں کے حملوں سے بچ سکتے ہو۔ نہیں ہرگز نہیں ۔ بلکہ ایک ہفتہ میں ہی تم تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کئے جاؤ گے...... ایسی سلطنت کا بھلا نام تو لو۔ جو تمہیں اپنی پناہ میں

٢٦

صفحہ ٤٢٣

لے لے گی۔ ہر ایک اسلامی سلطنت تمہارے قتل کرنے کے لئے دانت پیس رہی ہے…… تمام پنجاب و ہندوستان بلکہ تمام ممالک اسلامیہ کے فتوے تمہاری نسبت یہ ہیں کہ تم واجب القتل ہو۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٨٢،٥٨٣)

پس یہ ہے قادیانی مرتدین کے متعلق تمام اسلامی دنیا کی رائے اب اس کے بعد کسی مرزائی نواز ، مفاد پرست، فریب خوردہ، کور چشم ، نا عاقبت اندیش شخص کا محض اپنے دنیوی اغراض و مفادات اور ناپائدار اقتدار کے پیش نظر یہ کہنا کہ قادیانی امت کے خلاف موجودہ ہنگامہ آرائی اور شورش صرف مخصوص جماعت یا چند افراد ملت کی برپا کردہ ہے۔ سراسر خلاف حقیقت ہے۔ جس کی ملت اسلامیہ کے سامنے کوئی قدر و قیمت اور وقعت نہیں ہے۔ چونکہ قادیانی تحریک کی سرکوبی و بیخ کنی پر تمام ملت اسلامیہ کا کلی اتفاق و اجماع ہو چکا ہے اور مسلمانان پاکستان کا موجودہ ایام میں یہی پرزور متفقہ مطالبہ ہے۔ پس اب اس فتنہ العالمین کے استیصال سے محض موہوم خطرات کے پیش نظر مسامحت و چشم پوشی اور تساہل و سہل انگاری کرنا ایک لمحہ کے لئے بھی جرم عظیم ہے:

رفتم کہ خار از پا کشم محمل نہاں شد از نظر
یک لمحہ غافل بودم و صد سالہ راہم دور شد

برادران اسلام! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ کس طرح مرزا قادیانی اور اس کی امت نے ہمیں کافر، جہنمی، جنگلوں کے خنزیر، ہماری عورتوں کو کتیوں سے بدتر کہا ہے اور کس طرح اس امت مرتد نے توہین انبیاء علیہم السلام اور خاص کر رسول اللہ عربی ﷺ کی توہین کی ہے۔ حالانکہ یہ ایک سیاسی تحریک ہے۔ جو کہ مذہب کی آڑ لے کر مسلمانوں کی وحدت ملی کو نقصان پہنچانے میں دن رات مصروف ہے۔ جیسا کہ مرزا بشیر الدین محمود نے ١١؍نومبر ١٩٥١ء سالانہ کانفرنس (ربوہ) میں کہا تھا کہ ”وہ وقت آنے والا ہے کہ جب یہ لوگ (مسلمان) مجرموں کی حیثیت میں ہمارے سامنے پیش ہوں گے۔“ اور (الفضل ١٦؍ جنوری ١٩٥٢ء) کو مرزا بشیر الدین نے دوسرا اعلان کیا تھا کہ:

”١٩٥٢ء کو گزرنے نہ دیجئے۔ جب تک احمدیت کا رعب دشمن اس حد تک محسوس نہ کرلے کہ اب احمدیت مٹائی نہیں جاسکتی اور وہ مجبور ہو کر احمدیت کی آغوش میں آ گرے۔“ کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرزا بشیر الدین محمود پاکستان میں مرزائیوں کا سیاسی اقتدار چاہتے ہیں لہٰذا ان کا یہ کہنا ایک دھوکہ ہے کہ احمدیت سیاسی نظریہ نہیں۔ کیا جو لوگ محض اپنے مذہب کی اشاعت ہی کرنا چاہیں، اور سیاسی اقتدار کے خواہاں نہ ہوں۔ وہ اس قسم کی باتیں کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔

اب جبکہ آپ کو معلوم ہو گیا ہے کہ مرزائی مسلمانوں کو ختم کرنے اور ان سے اقتدار

٢٧

صفحہ ٤٢٤

چھین لینے کے درپے ہیں۔ تو آپ حضرات کا فرض ہے کہ آپ اس تحریک کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جائیں اور ان کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ! اللہ اور رسول عربی ﷺ ہمارے ساتھ ہیں۔

تبلیغی نشریات اور مالی مشکلات ...... ایک مخلصانہ اپیل

برادران ملت! یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کوئی کام دینی ہو یا دنیوی، بغیر باہمی معاونت اور ظاہری وسائل و اسباب کے نہیں چل سکتا۔ حتیٰ کہ ایک مقام پر مجسمہ توکل نبوت صادقہ کو بھی بطور قومی خطاب یہ کہنا پڑا: ”من انصاری الی اللہ“ پھر مجھ ایسا انسان جو فی الحقیقت علمی اور عملی اور ظاہری اور باطنی خامیوں کا ایک مجسمہ ہے۔ اس وادی پرخار میں کیا حقیقت رکھتا ہے۔ لاریب مجھے اپنی تمام تر کمزوری و بے بضاعتی کا کلی اقرار و اعتراف ہے۔

برادران محترم! میرا پختہ ارادہ تھا کہ میں کتاب ہٰذا میں ملت اسلامیہ کے سامنے باغیان نبوت، دشمنان رسالت، غداران ملک و ملت، مردودان ازلی، جواسیس برطانیہ یعنی مرتدین قادیان کی ملکی و ملی نمایاں غداریوں کا ایک مکمل و جامع مرقع پیش کروں اور قادیانی تحریک کے متعلق حیرت انگیز اور عبرت آموز حقائق اور جدید انکشافات منظر عام پر لاؤں۔ مگر افسوس کہ انقلاب ایام کی بدولت مالی مشکلات کی وجہ سے میں اس باب میں بالکل مجبور و بے بس ہو کر رہ گیا۔

اگر بزرگان دین، مخلصین ملت اور تبلیغ اسلام کا جذبہ رکھنے والے حضرات اس مرحلہ میں میرے ساتھ مالی تعاون کریں تو یقیناً تبلیغ کا کام جاری رکھ سکوں گا۔ علاوہ ازیں تعاون خصوصی کی ایک یہ بھی نتیجہ خیز صورت ہے کہ اس طبع شدہ کتابچہ کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کی جائے۔ تعاون و اشاعت ہم خرما و ہم ثواب۔

قادیانی امت کے نفاق آمیز، زہر آلود، ارتداد نما اور ایمان ربا لٹریچر کے اثرات بد کو زائل کرنے کے لئے اس کتاب کی بکثرت اشاعت ہونی چاہئے۔ اس باب میں احباب ملت سے میری مخلصانہ اپیل ہے: خصوصاً اہل استطاعت حضرات اس کتاب کو خرید کر عوام، مسلمان اور قادیانی امت میں مفت تقسیم فرماویں۔

چونکہ موجودہ پرخطر ایام میں قادیانی تحریک کی تردید و مدافعت کے لئے ایسے اسلامی لٹریچر کی نشر و اشاعت یقیناً ایک تبلیغی جہاد ہے۔ خداوند عالم جذبہ تبلیغ کی توفیق عطا کرے۔ آمین!

قاری حضرت گل عفی عنہ، خطیب جامع مسجد حق نواز خان بنوں شہر

٢٨

PDF 426

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

تحفہ نعمانی

لفرقۃ القادیانی

حضرت مولانا عبدالرحمٰن فیصل آباد

صفحہ ٤٢٦

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عرض ناشر

چونکہ مولانا محمد قاسم صاحب مرحوم بانی دارالعلوم دیوبند کے پیروکار اور خدام ہی آج سے ہی نہیں، بلکہ جب سے مرزائیت کا پودا پیدا ہوا اسی وقت سے مرزائیت کی بیخ کنی اور قلع قمع کے لئے سرگرم عمل رہے، اور میدان مقابلہ میں مردانہ وار اترے، اور خوب مقابلہ کیا، اور کیوں نہ ہو جب کہ مرزائیت شجرۂ خبیثہ برطانیہ کی ہی ایک شاخ ہے۔ تو لامحالہ جو شیر نیستان شاہنشاہیت برطانیہ کے مقابلہ میں میدان جہاد میں ہمیشہ برسر پیکار رہے۔ انہوں نے ہی سگان برطانیہ سے بھی مقابلہ کرنا تھا لہٰذا مرزائی لوگوں کو بنام جماعت اہل السنت والجماعت قاسم العلوم والخیرات حضرت مولانا محمد قاسمؒ بانی دارالعلوم دیوبند کے ساتھ ایک خاص قسم کی عداوت و دشمنی پیدا ہو گئی اور حضرت مولانا مرحوم کی بلند پایہ تصنیف تحذیر الناس جس میں ختم نبوت کو پورے دلائل قاطعہ سے ثابت کیا گیا تھا۔ اس کی بعض عبارتوں کی قطع و برید کر کے اس بات کے ثابت کرنے کی ناکام سعی کی کہ حضرت مولانا قاسمؒ کی عبارت سے نبوت کا اجراء ثابت ہوتا ہے۔ (معاذ اللہ)

یہ ایک بہتان عظیم حضرت کی عبارت پر لگایا۔ جیسا کہ اس فرقۂ ضالہ کا وطیرہ ہے کہ حدیث نبوی و اقوال بزرگان دین کو قطع و برید کر کے اپنا خبیث مطلب ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور اب چونکہ تحریک ختم نبوت زوروں پر ہے تو انہوں نے اس عبارت کو اچھالنا شروع کیا۔

خصوصاً فضائے لائل پور میں تو خوب ہی اچھالا۔ بنا بریں عبارت کا صحیح مطلب آسان عبارت میں مولانا محمد منظور صاحب نعمانی کی تصانیف میں متفرق موجود تھا۔ مناسب معلوم ہوا کہ اس کو یکجا کر کے شائع کیا جائے تاکہ عوام اس فرقۂ ضالہ خبیثہ کے مغالطہ سے بچیں اور اس کا نام بھی مولانا ہی کی طرف منسوب کیا گیا۔

٢

صفحہ ٤٢٧

بسم الله الرحمن الرحيم ، نحمد الله رب العلمين والصلوٰۃ علیٰ نبیہ خاتم النبیین امابعد!

حضرت ابوالدرداءؓ سے روایت ہے کہ ”لایفقہ الرجل کل الفقہ حتی یجعل للقران وجوہا“ ﴿آدمی اس وقت تک کامل فقیہ نہیں جب تک کہ قرآن پاک کے لئے متعدد توجیہات نہ نکالے۔﴾ ﴿نیز ”فی الاتقان ان المراد ان یری اللفظ الواحد یحتمل معانی متعددۃ فیحملہ علیہا اذا کانت متضادۃ ولا یقتصر بہ علی معنی واحد“ ﴿ایک لفظ کو متعدد معانی کا متحمل دیکھے اور پھر وہ سب معانی اس سے مراد لے اور کسی ایک ہی معنی پر حصر نہ کرے بشرطیکہ وہ معانی آپس میں متضاد نہ ہوں۔﴾

اس کے بعد میں مناسب سمجھتا ہوں کہ رفع خلجان کے لئے ان تینوں فقروں کا صحیح مطلب بھی عرض کر دوں۔ جن کو توڑ جوڑ کر مخالفین نے ایک کفریہ مضمون بنایا ہے۔ لیکن اس کے لئے ضرورت ہے کہ پہلے اختصار کے ساتھ لفظ خاتم النبیین کی تفسیر کے متعلق مولانا نانوتویؒ کا مسلک واضح کر دیا جائے۔

بطور تمہید میں یہ بتلا دینا چاہتا ہوں کہ رسول خدا ﷺ کے لئے نفس الامر میں دو قسم کی خاتمیت ثابت ہے۔ ایک زمانی جس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ آپ سب سے آخری نبی ہیں۔ دوسری خاتمیت ذاتی جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ وصف نبوت کے ساتھ بالذات موصوف ہیں اور دوسرے انبیاء علیہم السلام بالعرض جس طرح کہ آفتاب روشنی کے ساتھ باذن خدا بلا کسی دوسرے واسطے کے موصوف ہے اور دوسرے ستارے اس کے واسطے سے روشن ہیں۔ ایسے ہی حق تعالیٰ نے حضور ﷺ کو براہ راست نبوت عطاء فرمائی اور دوسرے انبیاء علیہم السلام کو حضور سراپا نور کے واسطے سے اور ایسی خاتمیت کا نام ہماری اصطلاح میں خاتمیت ذاتیہ ہے۔ بہر حال مولانا نانوتویؒ کی تحقیق یہ ہے کہ قرآن عزیز میں جو آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا گیا ہے۔ اس سے آپ کے لئے دونوں قسم کی خاتمیت ثابت ہوتی ہے۔ ذاتی بھی اور زمانی بھی اور عوام اس سے محض ایک قسم کی خاتمیت مراد لیتے ہیں۔ یعنی صرف زمانی۔

پس تفسیر خاتم النبیین کے متعلق حضرت مولانا محمد قاسمؒ کے مسلک کا خلاصہ صرف اسی

٣

صفحہ ٤٢٨

قدر ہے جس کا حاصل بس یہی ہے کہ رسول اللہﷺ خاتم زمانی بھی ہیں اور خاتم ذاتی بھی اور یہ دونوں قسم کی خاتمیت آپ کے لئے قرآن کریم کے اسی لفظ خاتم النبیین سے نکلتی ہے۔

خاتمیت زمانی کے معنی یہ ہیں کہ حضورﷺ سب سے اخیر زمانہ میں تمام انبیاء علیہم السلام کے بعد مبعوث ہوئے اور اب آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی بھی مبعوث نہیں ہوگا اور خاتمیت ذاتی کے معنی یہ ہیں کہ نبوت ورسالت کے تمام کمالات ومراتب حضور بابرکاتﷺ پر ختم ہیں اور نبوت چونکہ کمالات علمیہ میں سے ہے۔ اس لئے خاتم النبیین کے یہ معنی ہوں گے کہ جو علم کسی بشر کے لئے ممکن ہے۔ وہ آپ پر ختم ہو گیا۔

تو حضور پر نورﷺ دونوں اعتبار سے خاتم النبیین ہیں۔ زمانے کے اعتبار سے بھی آپ خاتم ہیں اور مراتب نبوت وکمالات رسالت کے اعتبار سے بھی آپ خاتم ہیں۔ حضورﷺ کی خاتمیت فقط زمانی نہیں۔ بلکہ زمانی اور ذاتی دونوں قسم کی خاتمیت حضورﷺ کو حاصل ہے۔ اس لئے کمال مدح جب ہی ہوگی کہ جب دونوں قسم کی خاتمیت آپ پر ثابت ہو۔ بس یہ ہے حاصل حضرت مولانا کی اس بلند پایہ تحقیق کا۔

اب مخالفین کی طرف سے تحذیر الناس کی تین عبارتوں پر جو اعتراض کئے گئے ہیں۔ ان کے جوابات نمبر وار سوال اور جواب کی شکل میں ناظرین کرام کی خدمت میں عرض کئے جاتے ہیں۔

سوال نمبر ١....... تمہارے مولوی قاسم صاحب نانوتویؒ (تحذیر الناس ص٣) پر لکھا ہے کہ حضورﷺ کو خاتم بایں معنی لینا کہ آپ کا زمانہ سب انبیاء علیہم السلام کے بعد ہے۔ یہ عوام کا خیال ہے تو عوام سے مراد نا سمجھ لوگ ہوئے۔ اس لئے اس عبارت کا صاف و صریح مطلب ہوا کہ خاتم النبیین کے معنی سمجھنا کہ حضورﷺ سب سے پچھلے نبی ہیں۔ یہ نا سمجھ لوگوں کا خیال ہے۔ سمجھ دار لوگوں کے نزدیک یہ معنی غلط ہیں۔

جواب ....... تحذیر الناس محولہ بالا ملاحظہ ہو: بعد حمد وصلوٰۃ قبل عرض جواب یہ گزارش ہے کہ اوّل معنی خاتم النبیین معلوم ہونے چاہئیں تاکہ فہم جواب میں کچھ دقت نہ ہو۔ سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہﷺ کا خاتم ہونا بایں

٤

صفحہ ٤٢٩

معنی ہے کہ آپ ﷺ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد ہے اور آپ سب سے آخری نبی ہیں۔ مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخر زمانی میں کوئی فضیلت نہیں۔ پھر مقام مدح میں ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ فرمانا کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے۔ انتہی

مولانا مرحوم کی غرض حصر کو عوام کا خیال قرار دینا ہے۔ یعنی عوام کا یہ خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ فقط بایں معنی خاتم النبیین ہیں کہ آپ سب سے آخری نبی ہیں اور انبیاء اور راسخین فی العلم معنی خاتم النبیین کو خاتمیت زمانی میں ہی منحصر نہیں سمجھتے بلکہ دونوں قسم کی خاتمیت آپ ﷺ کے لئے ثابت کرتے ہیں۔ جس سے آپ ﷺ کی فضیلت دوبالا ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو تحذیر الناس صفحہ ٣ مولانا تحریر فرماتے ہیں: ”بلکہ بنائے خاتمیت اور بات پر ہے جس سے تاخر زمانی اور سد باب مذکور خود بخود لازم آ جاتا ہے اور فضیلت نبوی دوبالا ہو جاتی ہے۔ انتہی“

اس عبارت سے صاف معلوم ہوا کہ حضرت مولانا خاتمیت زمانی کو بھی خاتمیت ذاتی ضمن میں ثابت فرماتے ہیں اور درحقیقت خاتمیت زمانی کو خاتمیت ذاتی قرار دے کر خاتمیت زمانی کو مدلل اور مستحکم کرنا چاہتے ہیں اور عوام سے انبیاء اور راسخین فی العلم دونوں گروہوں کو مستثنیٰ کرکے ایک تیسرے گروہ کو مراد لیتے ہیں۔

چنانچہ مکتوبات حصہ اول کے مکتوب نمبر ٤٤ پر اس طرح تحریر فرماتے ہیں:

”جز انبیاء کرام علیہم السلام یا راسخان فی العلم ہمہ عوام اند“

یعنی باب تفسیر میں سوائے انبیاء علیہم السلام اور راسخین فی العلم کے سب عوام ہیں۔

ان دونوں عبارتوں میں غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ صرف خاتمیت زمانی مراد لینا آیت تفسیر میں عام علماء کی رائے ہے۔ نہ کہ ناسمجھوں کی اور خاتمیت ذاتی زمانی دونوں مراد لینا راسخین فی العلم کی رائے ہے۔ جس سے مقام مدح کے مناسب نبوی فضیلت دوچند ثابت ہوتی ہے۔

سوال نمبر ٢....... مولوی محمد قاسم نانوتوی (تحذیر الناس ص ١٣) پر لکھتے ہیں، اگر حضور ﷺ کے زمانہ میں بالفرض کوئی نبی آ جائے تو ختم نبوت میں کوئی خلل لازم نہیں آتا اور حضور ﷺ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے۔

اس عبارت کا صاف وصریح مطلب یہ ہوا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں

٥

صفحہ ٤٣٠

بھی کوئی نبی مبعوث ہو جاتا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاتم النبیین ہونے میں کچھ فرق نہ آتا۔ مسئلہ ختم نبوت کا صاف اور صریح انکار ہے۔

جواب....... (تحذیر الناس ص ١٣) کی عبارت ملاحظہ ہو: ”عرض پرداز ہوں کہ اطلاق خاتم اس بات کو مقتضی ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ نبوت آپ ﷺ پر ختم ہوتا ہے۔ جیسے انبیاء گزشتہ کا وصف نبوت میں حسب تقریر مسطور اس لفظ سے آپ ﷺ کی طرف محتاج ہونا ثابت ہوتا ہے اور آپ (ﷺ) کا اس وصف میں کسی کی طرف محتاج نہ ہونا اس میں انبیاء گزشتہ ہوں یا کوئی اور، اسی طرح اگر فرض کیجئے کہ آپ کے زمانہ میں بھی اس زمین میں یا کسی اور زمین میں یا آسمان میں کوئی نبی ہو۔ تو وہ بھی اس وصف نبوت میں آپ ہی کا محتاج ہوگا اور اس کا سلسلہ نبوت بہر طور آپ ہی پر ختم ہوگا انتہیٰ۔“

سو اس عبارت میں ناظرین غور کریں۔ ان پر یہ بات صاف واضح ہو جائے گی کہ اس صفحہ کی عبارت میں خاتمیت زمانی کا ذکر ہی نہیں۔ بلکہ خاتمیت ذاتی کا ذکر ہے اور بیشک زمانہ نبوی میں کسی نبی کے ہونے سے اس میں کوئی خلل نہیں آتا۔ کیونکہ یہاں خاتمیت زمانی کا تو کوئی ذکر ہی نہیں۔ بلکہ علت اور دلیل کا ذکر ہے۔ جس کو خاتمیت ذاتی کہیے سو مولانا نے اس آیت کی تفسیر کی ہے:

”واذ اخذ الله ميثاق النبيين لما اتيتكم من كتاب وحكمة ثم جاء كم رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به ولتنصرنه“ ﴿یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں سے وعدہ لیا کہ میں تم کو کتاب و دانش عطا کروں گا پھر تمہارے پاس ایک عظیم الشان پیغمبر آئے گا۔ جو تمہارے پاس والے علوم کی تصدیق کرے گا۔ تو تم اس پر ایمان لاؤ گے اور اس کے حامی و مددگار بنو گے۔﴾

تو اس آیت سے صاف معلوم ہوا کہ اگر حضور ﷺ کے زمانہ میں کوئی نبی آ جائے تو وہ آپ ﷺ ہی کا حامی اور مددگار ہوگا۔ یہ آپ پر ایمان لانا اور آپ کی مدد کرنا جو نص قرآنی سے ثابت ہے۔ اس کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ نبی آپ کے زمانہ ہی میں آئیں۔ لیکن وہ آپ ﷺ کے محتاج اور تابع اور امتی ہو کر آئیں گے۔ اسی کی تائید حدیث ترمذی میں ہے:

٦

صفحہ ٤٤١

"لوکان موسیٰ حیا ماوسعہ الااتباعی" "اگر آج موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو وہ پھر بھی میری تابع داری کرتے۔"

اس کی مثال یوں سمجھ لیجئے (بلا تشبیہ) کہ جیسے کہ ایک ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے ہوتے ہوئے دوسرا ڈپٹی کمشنر بعہدہ ڈپٹی کمشنری تو نہیں آسکتا۔ لیکن اس عہدہ سے معزول ہوکر اس ضلع کا شہری باشندہ بن سکتا ہے۔ اس سے وہاں کے موجودہ مقررہ ڈپٹی کمشنر کے اختیارات و حکومت میں کوئی خلل نہیں آسکتا۔ بلکہ اس کے اختیارات بدستور باقی رہیں گے۔ یوں ہی بلا تشبیہ سمجھئے کہ حضور ﷺ کے زمانہ میں اگر کوئی دوسرا نبی آجائے۔ تو آپ ﷺ کے منصب خاتمیت اور شان نبوت میں کوئی خلل نہیں آسکتا۔ کیونکہ وہ آپ ہی کا تابع ہوگا۔ یہ خلاصہ ہے مولانا کی عبارت کا۔

سوال نمبر ٣...... مولوی محمد قاسم صاحب (تحذیر الناس ص ٢٤) پر لکھتے ہیں اگر بالفرض حضور ﷺ کے بعد بھی کوئی نبی آجائے تو خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ یہ عبارت ببانگ دہل پکار کر ختم نبوت کا انکار کر رہی ہے اور مولوی محمد قاسم نے ختم نبوت کی عمارت کو اپنی اس عبارت سے بالکل مسمار کر دیا ہے۔

جواب...... اصلی عبارت (تحذیر الناس ص ٢٤) ملاحظہ ہو:

"ہاں اگر خاتمیت بمعنی اتصاف ذاتی بوصف نبوت لی جائے۔ جیسے اس ہیچمدان نے عرض کیا ہے۔ تو پھر سوا رسول اللہ ﷺ کے کسی کو افراد مقصود بالخلق میں سے مماثل نبوی نہیں کہہ سکتے۔ بلکہ اس صورت میں فقط انبیاء کے افراد خارجی ہی پر آپ ﷺ کی افضلیت ثابت نہیں ہوگی۔ افراد مقدرہ پر آپ کی افضلیت ثابت ہوجائے گی۔ بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔" انتہی

تو اس کا جواب بھی یہی ہے کہ ایک تو حضرت مولانا صاحب نے خاتمیت ذاتی کا ذکر فرماتے ہوئے یہ تحریر فرمایا کہ اگر حضور ﷺ کے بعد بھی کوئی نبی آجائے تو خاتمیت ذاتی میں کوئی فرق نہ آئے گا۔ یہاں بھی خاتمیت زمانی کا ذکر تک نہیں۔ جس کی تفسیر جواب نمبر ٢ میں گزر چکی ہے۔ نیز مولانا نے لفظ "اگر" اور "بالفرض" فرما کر حضور ﷺ کے بعد کسی نبی کا آنا محال قرار دیا

٧

صفحہ ٤٣٢

ہے۔ یہ لفظ بالفرض خود اس کے محال ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ بات محال ہے۔ کسی طرح ممکن نہیں۔ لیکن اگر بفرض محال تھوڑی دیر کے لئے اس محال کو بھی تسلیم کر لیا جائے تب بھی حضور ﷺ کی خاتمیت ذاتی اور آپ ﷺ کی افضلیت اور سیادت میں کوئی فرق نہیں آتا۔

یہ ایسا ہے جیسے حضور ﷺ کا یہ فرمانا ”لو کان بعدی نبیا لکان عمر“ ﴿یعنی اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمرؓ ہوتا﴾ تو ظاہر ہے کہ حضور کریم ﷺ کا مقصد یہ نہیں کہ آپ ﷺ کے بعد نبی کا آنا ممکن ہے۔ بلکہ یہ بتلانا مقصود ہے کہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ بفرض محال اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا۔ اس ارشاد سے حضور ﷺ کی خاتمیت اور حضرت عمرؓ کی فضیلت ثابت کرنا مقصود ہے۔

یہ ایسا سمجھو جیسے کوئی کہے کہ اگر ایک چاند نہیں ۔ بلکہ ہزار چاند ہوں تب بھی ان سب کا نور آفتاب ہی سے مستفاد ہوگا۔ تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حقیقتاً ہزاروں چاند ہیں۔ بلکہ مقصود آفتاب کی فضیلت ثابت کرنا ہے کہ آفتاب تمام انوار اور شعاعوں کا ایسا خاتم اور منتہیٰ ہے کہ اگر بالفرض ہزار چاند بھی ہوں تو ان کا نور بھی اسی آفتاب سے حاصل ہوگا۔ اس ”بالفرض ہزار چاند“ کا جملہ کہنے سے آفتاب کی فضیلت دوبالا ہو جائے گی کہ آفتاب فقط اس موجودہ قمر سے افضل نہیں۔ بلکہ اگر جنس قمر کے اور بھی ہزاروں افراد فرض کر لئے جائیں تب بھی آفتاب ان سب سے افضل اور بہتر ہوگا۔

اسی طرح مولانا کا مقصود یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی فضیلت اور برتری تمام افراد نبوت پر ثابت اور مستحکم ہے۔ خواہ وہ افراد ذہنی ہوں یا خارجی محقق ہوں یا مقدر ممکن ہوں یا محال فرضی ہوں یا فی نفس الامری اور یہ کہ حضور پرنور ﷺ سلسلۂ نبوت کے علی الاطلاق خاتم ہیں۔ زماناً بھی اور ذاتاً بھی۔ مولانا نے کہیں بھی یہ نہیں فرمایا کہ حضور ﷺ کے بعد کسی نبی کا آنا شرعاً جائز ہے۔ بلکہ مولانا یہی فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے بعد کسی نبی کا وجود شرعاً تسلیم کرنا صریح کفر ہے۔ چنانچہ اس مضمون کے لئے مولانا کی چند عبارتیں ملاحظہ ہوں۔

٨

PDF 434

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

ترجمہ: میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں

ختم نبوت

پر

ایک نظر

جناب پروفیسر ایم۔ جے آغا خان

صفحہ ٤٣٤

بسم اللہ الرحمن الرحیم

لفظ نبی کی تشریح

نزولِ قرآن سے پہلے فلسطین کے شہر یروشلم میں ہیکل سلیمانی میں یہودیوں کے مندرجہ ذیل خاص منصب دار ہوتے تھے۔

واقعات کی خبریں دیتا اور معرفت اسرار کا مدعی ہوتا تھا۔ نیز پجاریوں کی طرح جانوروں کو قربان گاہ میں پیش کرتا تھا۔

کرتا تھا۔

باخبر کرتا تھا۔ چنانچہ تورات میں نبی کا یہی تصور دیا گیا ہے۔ جو نباء مادہ سے ہے۔

خدا کے متعلق خبر دینے والا۔

معنی بلند ہونا اور نبی کے معنی ہیں۔ بلند مقام پر کھڑا ہونے والا۔

قرآن کریم نے نبوت کا یہی تصور پیش کیا ہے کہ نبی ایک ایسے بلند مقام پر کھڑا ہوتا ہے۔ جہاں سے اسے محسوس اور غیر محسوس دنیا کا مشاہدہ کرا دیا جاتا ہے۔ یعنی وہ ایک طرف تو بذریعہ وحی کائنات کے بنیادی حقائق کا مشاہدہ کرتا ہے اور دوسری طرف ان حقائق کو دنیائے محسوسات تک پہنچاتا اور انہیں انسان کی تمدنی زندگی پر منطبق کرتا ہے لہٰذا قرآن آنے کے بعد یہودی تصورات کے برعکس نبی کا لفظ صاحب وحی کے لئے مختص ہو گیا۔ جو پہلے نہیں تھا۔

٢

صفحہ ٤٣٥

مقام نبوت

خدا کا نبی وحی الٰہی کے ذریعے علم کے جس بلند مقام پر کھڑے ہو کر حقائق کا مشاہدہ کرتا ہے۔ وہی مقام نبوت ہے اور جب وہ اس علم وحی کو لے کر انسانوں کی دنیا کی طرف آتا ہے تا کہ ان حقائق کو لوگوں تک پہنچائے اور عملاً متشکل کر کے دکھائے۔ تو وحی کا یہ دوسروں تک پہنچانا منصب رسالت کہلاتا ہے۔

دی تھی۔ (٢٥/٥٧) گویا نبوت اور رسالت ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں۔ اس لئے انبیاء کرام کو کہیں نبی کہا گیا ہے۔ (٤٠:١٩، ١:٦٥) اور کہیں رسول (٢٩:٤٨) اور کہیں رسولا نبیا (٥٤:١٩) یعنی ایک پیغمبر (رسول) جسے نبوت عطا کی گئی تھی۔

خاصہ نبوت

١٠٥)“

٢٧)“

٣

صفحہ ٤٣٦

کے سامنے آتی ہے اور ان کی غلط روش زندگی کے خلاف اعلان حق کرتی ہے۔ لیکن ایک قائم نبوت کے تحت بروزی نبوت کا تصور ہی باطل ہے۔ کیونکہ یہ تو قائم نبوت کی نفی کرتی ہے لہٰذا ظلی یا بروزی نبوت کی اصطلاح حال کے کسی خود غرض اور گمراہ انسان کی ایجاد تو ہو سکتی ہے۔ لیکن حضرت نوح سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک بلکہ ١٤٠٠ سال بعد تک اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

ختم نبوت

(سورہ احزاب: ٤٠) میں حق تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر ختم نبوت کا اعلان کیا:۔ ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (الاحزاب:٤٠)“ کیونکہ اس دور میں دین الٰہی بذریعہ قرآن مکمل ہو چکا تھا۔ ”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دينا (المائدہ:٣)“ تکمیل ہمیشہ نامکمل شے کی ہوتی ہے اور تکمیل کے بعد ترقی رک جاتی ہے۔

وعدلا، لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم (الانعام: ١١٤، ١١٥)“ یعنی اللہ وہی عظیم الشان ذات ہے۔ جس نے تمہاری طرف ایک مفصل کتاب نازل فرمائی ہے اور اس میں اللہ کا کلام (نوع انسانی کے لئے ضابطہ حیات) صدق وعدل کے ساتھ پورا ہو چکا ہے۔ اس کے احکام کو اب کوئی بدل نہیں سکتا۔ کیونکہ یہ انسانی ضروریات کے لئے ہر دور کے عین مطابق ہیں اور ان کا نازل کرنے والا اللہ ہر بات کو سننے والا اور ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

ہو گئے۔ یا ان میں تحریف یا ترمیم و تنسیخ ہو گئی اور انسانیت معیار حق سے محروم ہو گئی۔ اس لئے قرآن کو جمع کرنے۔ اس کو پڑھنے (١٧:٧٥) اور اس کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری خود خدا نے لے رکھی ہے۔ ”انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون (الحجر:٩)“

اور نہ باہر سے اندر داخل ہو سکتی ہے۔

٤

صفحہ ٤٣٧

ہے۔ لیکن ”بما انزل من بعدک“ کہیں ایک جگہ بھی مذکور نہیں۔ (٢:٤، ٣:٨٣، ٢:١٨٣، ٤:١٨٤، ٦٥:٤٦، ٣:٤٥، ٥:٤٦، ٤٠:٢٥، ٣:٤٨، ٢٥:٣١، ١٧:١٦، ١٧:١٧، ٣:١٦١، ٣:٦٠، ٤:١٦٤، ٤٥:٤٢، ٤:٤٤، ٤:٤٤) یہ قرآن کسی قوم یا فرقے کے لئے یا کسی خاص دور کے لئے مخصوص نہیں۔ بلکہ ساری خدائی کے لئے اور قیامت تک کے لئے ضابطہ حیات ہے۔ (١٠:٥٧)

٦١:٦) لیکن حضرت محمد رسول ﷺ تمام انسانیت کے لئے مبعوث ہوئے۔

(٣:١٢١، ٧:١٥٨، ٤:١٠، ٤:٢٩)

یہاں الناس سے مراد ہر وہ انسان ہے جس تک قرآن پہنچے۔ خواہ وہ کسی دور کا ہو۔ اللہ تعالیٰ کی محمد ﷺ کو مع دین حق قرآن بھیجنے کی غرض یہ تھی کہ گذشتہ انبیاء کے قائم کردہ ادیان کو مٹا کر خود غرض اور نفس پرست مذہبی پیشواؤں اور مشائخ نے جو اس دنیا میں خود ساختہ اور باطل مذاہب دین کے نام پر جاری کر رکھے تھے۔ دین اسلام کو مسلمانوں کے ایک اجتماعی نظام کے ذریعے بتدریج ان سب پر غالب کرے۔ خواہ مشرکین کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ (توبہ: ٣٣، صف: ٩، ٦١) کیونکہ انہوں نے مفاد خویش کی خاطر دین فروشی کی دکانیں سجا رکھی تھیں۔

نام کا ایک عظیم الشان رسول آنے والا ہے۔ (٧:١٥٧، ٦١:٦) لیکن قرآن مجید میں آئندہ کسی رسول کے آنے کی بشارت نہیں۔

کے لئے روپیہ ذریعہ بنتا ہے اور کوٹھے پر چڑھنے کے لئے سیڑھی اور دریا پار کرنے کے لئے کشتی ذریعہ بنتی ہے۔ اسی طرح نبی کے لئے صاحب وحی ہونا ضروری شرط ہے۔ جس طرح یہ ناممکن ہے کہ سورج نکلے اور اس کے ساتھ روشنی نہ ہو۔ اسی طرح یہ بھی ناممکن ہے کہ دنیا میں ایک نبی انسانوں کی فلاح و اصلاح کے لئے آئے اور اس کے ساتھ وحی الٰہی اور جبرائیل نہ ہو۔

٥

صفحہ ٤٣٨

قیامت تک کے لئے ذکر للعالمین ہے۔

(٢:٧،٨٧:٣٨،٩٢:٦)

اسی طرح بیت اللہ قیامت تک کے لئے ہدی للعالمین ہے۔

(آل عمران: ٩٦)

اسی طرح قرآن کی حقانیت کے لئے ہے کہ: ”لاریب فیہ (البقرۃ: ٢)“

اسی طرح نبوت کے متعلق حضورﷺ نے فرمایا: ”لانبی بعدی“

وحی اور الہام کا فرق

لغوی طور پر وحی کے معنی وہ لطیف اشارہ ہے۔ جس سے قلب نبی پر کوئی بات ڈالی جاتی ہے۔

(٩٧:٢)

اس وحی کا ذریعہ جبرائیل امین ہے جو قوانین خداوندی اور احکام الٰہی کو خدا کے خاص مرد بندے (نبی) پر اتارتا ہے۔ جو پہلے خود اس وحی پر ایمان لاتا ہے اور پھر لوگوں کو پہنچاتا ہے۔

(٧:٢١،١٠٩:١٢،٤٢:١٦،٤٥:٢١)

وحی کی دو قسمیں ہیں

جاتا ہے۔ تاکہ وہ زندگی بھر اپنی فطرت کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔ ان کا کوئی استاد، ہادی یا رہبر نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ صاحب اختیار و ارادہ نہیں۔

پہنچتی ہے۔ کیونکہ عورت پر براہ راست وحی نہیں ہوتی اور مرد ہی عوام تک پہنچاتا ہے تاکہ وہ اس وحی کے قوانین کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں۔ اس کا نام عبادت ہے۔

چونکہ انسان صاحب اختیار و ارادہ پیدا کیا گیا ہے۔ (٤٠:٤١) اس لئے اس کی کوئی فطرت نہیں۔ وہ اپنی مرضی کے مطابق روش بدلتا رہتا ہے۔ کبھی وہ اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے انسانی درجہ سے بھی گر جاتا ہے اور کبھی وہ اشرف المخلوقات ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔

(١٩:٤٦،١٣٣:٦)

صفحہ ٤٣٩

اس لئے اس کو سلامتی کی راہ پر چلانے کے لئے وحی کی ہدایت کی ضرورت رہی ہے اور قیامت تک رہے گی۔ اسی غرض کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید نازل فرمایا تا کہ انسان اپنے سرکش جذبات اور باغیانہ خیالات کو لگام دے سکے۔ کیونکہ ہر شے خدا کے سامنے جھکتی ہے۔ مگر انسان نہیں جھکتا۔

(٤٩:١٦)

کرتے ہیں۔ ان سے ہمیں کسی قسم کا دھوکہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن پاس بیٹھنے والے دس دوستوں میں سے کسی کے متعلق بھی ہم نہیں کہہ سکتے کہ ان میں سے چور، ڈاکو، فریب کار، دھوکہ باز، بداندیش، بے وفا اور دشمن کون ہے۔ کیونکہ ان میں سے ہر ایک کے ذہنی تخیل کے تبدیل ہونے کا ہر وقت اور عمر بھر امکان ہے۔ اس لئے لازم ہے کہ ہم کسی انسان کی ظاہری صورت، اس کے زہد و پرہیز گاری، اس کے وعظ وتلقین، اس کی لچھے دار تقریروں اور خوشامدانہ باتوں میں آکر اس کی عظمت و شرافت کا اعتبار نہ کریں۔ بلکہ اس کی عملی زندگی حسن معاملہ اور ملی خدمات کے پیش نظر اس کی عزت و توقیر کریں۔

کیونکہ یہ انسان کی فکری اور ذہنی ارتقاء کی وجدانی کیفیات ہیں۔ کسی انسان کا خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ذریعہ صرف وحی ہے۔ جو کسی نبی کی فکری کاوشوں کا نتیجہ، یا ریاضتوں کا صلہ نہیں ہوتا۔

ہوتا کہ اس پر وحی نازل ہونے والی ہے۔ لیکن ایک فکرمند اور تردد کرنے والے انسان کو تو ہر لمحہ اپنے فکری نتائج کے ظہور کی امید ہوتی ہے۔

پہنچاتا ہے۔ لیکن الہام کی کیفیت کو ایک ملہم دوسرے انسان تک نہیں پہنچا سکتا۔

انسان کو کیا حیوان، چرند، پرند سب کو ہو سکتا ہے۔

٧

صفحہ ٤٤٠

ظنی ، غیر یقینی اور غلط بھی ہو سکتا ہے۔

ر....... وحی میں بنیادی تصور خارجی کائنات کے متعلق ہوتا ہے۔ لیکن الہام میں صرف واردات قلبی کا عمل دخل ہوتا ہے۔

س ...... آج تک کسی نبی نے یہ اعلان نہیں کیا کہ مجھے الہام ہوا ہے۔ بلکہ وہ ہمیشہ وحی الٰہی کے نزول کی خبر دیتے رہے ہیں۔ (٥٠:٦،١٠٧:٦،١١٧:٤،١٠٩:١٢)

ص ...... ختم نبوت کے بعد اب کوئی شخص وحی نہیں پاسکتا لہذا کشف والہام وغیرہ کے خود ساختہ ذریعے سے خدا سے براہ راست علم پانے کا عقیدہ ختم نبوت کے عقیدے کا برہم زن ہے اور وہ بڑا ہی ظالم ہے۔ جو یہ کہے کہ مجھ پر وحی آئی ۔ حالانکہ اس کو وحی کچھ نہیں آئی ۔ (٩٣:٦)

نبی کے خصائص

(٣٧:١٣،٤٨:٢١،٢٥:٥٧،١٧٧:٣٧،٢٦٣:٢)

النبیین پر الکتاب پوری اتری جو قرآن مجید کی شکل میں ہمارے سامنے ہے اور لوح محفوظ میں موجود ہے۔

پھیلانے کے لئے۔

ہے۔ (٤١:٦٩)

٨

حکم الٰہی کے پیچھے رو

(٥:٥٨،٧:٢١،٧١

قیامت تک کے لئے

صرف وحی کی پیرو

(کتاب) لے کر نہیں بگاڑ سکیں گے

اس کو پرکھ سکیں۔

بشیر ونذیر آتا ہے

تلقین کرے۔ ا

صفحہ ٤٤١

حکم الٰہی کے پیچھے رہتا ہے۔ (٤٩:١)

(٧:٥٩، ٧:٦٥، ٧:٧٣، ٧:٨٥، ١٠:٤٧، ١٦:٣٦) لیکن حضرت محمدﷺ ساری انسانیت کے لئے اور قیامت تک کے لئے نبی مبعوث ہوئے ہیں۔ (٧:١٥٨، ٤:٧٩، ٣٤:٢٨، ٣٣:٤٠)

صرف وحی کی پیروی کرتا ہے۔ (١٠:١٥)

(١٢٥:١٦)

(کتاب) لے کر آچکا ہوں۔ مان لو تو تمہارا بھلا ہے اور نہ مانو گے تو تم خدا کا اس کائنات میں کچھ نہیں بگاڑ سکو گے۔ (١٧٠:٤)

اس کو پرکھ سکیں۔

بشیر ونذیر آتا ہے تاکہ وہ:

تلقین کرے۔ اجتماعی نظام کے ذریعے انسانی فلاح و بہبود کے لئے کوشاں رہنے والوں اور اپنی

٩

صفحہ ٤٤٤

بھر پور کوششیں اپنی مفاد پرستی کی بجائے دوسروں کی بھلائی میں صرف کرنے والوں کو ان کی خوش اعمالیوں کے اچھے نتائج کی خوش خبری دے اور

اپنے گھر بھرنے والوں، مفاد پرستوں، معاشرے میں معاشی اور ذہنی ناہمواریاں پیدا کرنے والوں، رزق کے سرچشموں پر سانپ بن کر بیٹھنے والوں اور دوسروں کی کمائی پر پلنے والوں کو ان کی بدکرداریوں کے تباہ کن نتائج سے آگاہ کرے۔

(٦٨:١٠،٣:١١،٢:١١١،١٧:١١١،٦:١٠٠،٤٨:١١،٧:٥)

جاہل لوگوں کے معتقدات کا سہارا لے کر نبی بننے کی کوشش کرتا ہے۔

(٤٤:٣٢،٨٦:٣٨،٢٠:٣٦،٤٦:٣٤،٥١:١١،٢٩:١١،٧٣:١٠،٩١:٦)

نہیں پیدا کیا جاتا۔ پس کوئی شخص اگر ان میں سے ایک بات میں بھی جھوٹا ثابت ہو جائے تو دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔

نبی کی ضرورت

قرآن حکیم میں انبیاء کی بعثت کی ضرورت مندرجہ ذیل حالات میں پیش آئی۔

١٠

صفحہ ٤٤٣

چنانچہ

آج دنیا میں کئی مذاہب جاری ہیں۔ لیکن کسی قوم کے پاس (خواہ وہ نئی ہو یا پرانی) آسمانی صحیفہ اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں۔ ہاں صرف مسلمان ایک ایسی قوم ہے جس کے پاس وحی الٰہی کتابی صورت میں بغیر کسی ترمیم و تنسیخ کے اپنی اصلی حالت میں موجود ہے جو معیار حق ہے اور جس کے اصول پر وہ اپنے اعمال کو پرکھ سکتے ہیں۔

لہٰذا جب تک یہ کتاب اللہ دنیا میں موجود ہے۔ نہ نزول وحی کا امکان ہے اور نہ نبی آنے کی ضرورت ہے۔ جب قرآن دنیا سے مٹ جائے گا تو لازماً وحی کے لئے نئے نبی کی ضرورت ہوگی۔

فریضہ رسالت

چونکہ نبوت حضرت محمد ﷺ پر ختم ہوگئی ۔ (٤٠:٣٣) اور جس قدر وحی کی ضرورت تھی۔ وہ قرآن میں محفوظ کر دی گئی ہے۔ اب کوئی انسان خدا کی طرف سے وحی نہیں پاسکتا۔ لیکن فریضہ رسالت (تبلیغ اور اقامت دین) امت کے سپرد ہے۔ جو کتاب اللہ کی وارث ہے۔ (١٦٩:٧)

اب اس وحی کو عملی طور پر منتقل کر کے امامت دین کرنا اور دین حق کے اصولوں کی غیر علاقوں میں تبلیغ کرنا امت محمدیہ کا فریضہ ہے۔ جو اپنے ملی مرکز کے اجتماعی نظام کے ذریعے اس فرض کی ادائیگی کے لئے رسول اللہ کی جانشین ہے لہٰذا قرآنی احکام اور قوانین کا اتباع کرتے ہوئے امت محمدیہ جب بھی چاہے خلافت علیٰ منہاج رسالت قائم کر کے قیامت تک اس فریضہ کو اللہ کی خوشنودی کے لئے ادا کر سکتی ہے۔

ارشادات نبویؐ

وحی کی روشنی میں ختم نبوت کے متعلق حضور اکرم ﷺ کے ارشادات گرامی یہ ہیں۔

رسول بعدی ولا نبی (ترمذی)" کہ بیشک رسالت اور نبوت منقطع ہوچکی ہے، پس نہ

١١

صفحہ ٤٤٤

میرے بعد نہ کوئی رسول ہو گا نہ نبی۔

تمام رسول ختم کر دیئے گئے۔ (مشکوۃ)

آخری امت ہیں۔ (بیہقی)

ہوگی اور اگر وہ میرا زمانہ پاتے تو میری اتباع کے بغیر ان کو چارہ نہ ہوتا۔ (دارمی، مشکوۃ، کنز العمال)

الخطاب ہوتا۔

انبیاء سے پہلے آدم آئے اور سب کے آخر میں محمد۔

(کنز العمال ج١٤)

کوئی نبی نہیں آئے گا اور تم آخری امت ہو۔ قیامت کو تم سے میری نسبت ہی سوال کیا جائے گا۔

(مسند احمد ج ٢)

خبردار! ختم نبوت (٤٠:٣٣) کی تشریح رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کون کر سکتا ہے؟ حضور ﷺ کا ارشاد تو بجائے خود ہمارے لئے ایک سند اور حجت ہے لہٰذا حضور ﷺ کے مقابلے میں بعد میں آنے والا کوئی شخص یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ قرآن کریم کا کوئی ایسا مفہوم پیش کرے جو حضور ﷺ نے بیان نہیں فرمایا اور

ہے۔ والسلام علی من اتبع الہدیٰ!

پروفیسر ایم جے آغا خان ایم۔اے ٥؍ جولائی ١٩٦٠ء

PDF 446

رے آنے سے قصر نبوت مکمل ہوا اور مجھ پر

یں ۔ (داری، مشکوۃ) ت کے بعد کوئی امت ہوگی۔ یعنی مسلمان

آجائے تو اس کی پیروی گمراہی کا موجب کو چارہ نہ ہوتا۔ (داری، مشکوۃ، کنز العمال) میرے بعد کوئی نبی آنے والا ہوتا تو عمرؓ بن

فرمایا: ”اے ابوذر! یاد رکھ کہ دنیا میں سب

(کنز العمال ج ٣)

’اے لوگو! خبردار رہنا۔ اب میرے بعد سے میری نسبت ہی سوال کیا جائے گا۔

(مسند احمد ج ٢)

اللہ ﷺ سے بڑھ کر کون کر سکتا ہے؟ سنت ہے لہٰذا حضور ﷺ کے مقابلے میں کریم کا کوئی ایسا مفہوم پیش کرے جو

کہ کا دعویٰ کرے۔ وہ دجال اور کذاب

پروفیسر ایم جے آغا خان ایم۔ اے ٥/ جولائی ١٩٦٠ء

خاتم النبيين لا نبي بعدي

مسجد النبوی الشریف مدینہ منورہ کی محراب نبوی ۔

چار سو بیس نبی

یعنی

مرزا قادیانی کی فریب کاریاں

جناب مہر عبدالرحیم جوہر جہلمی

صفحہ ٤٤٦

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سنت اللہ اور آیت اللہ میں فرق

مرزائیوں کی طرف سے یہ ایک مایہ ناز اعتراض ہے کہ مسیح علیہ السلام کا جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا سنت اللہ کے خلاف ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عادت نہیں ہے کہ کبھی کسی کو اس جسم کے ساتھ آسمان پر لے گیا ہو۔

(عسل مصفےٰ حصہ اول ص ٥٠٥، ٥٠٦)

اس مرزائی مصنف نے لکھا ہے کہ: ”ولن تجد لسنة الله تبديلا (پ ٢٢، سورة الفاطر، رکوع : ٥)“ یعنی اے رسول تمہیں معلوم رہے کہ سنت اللہ میں ہرگز تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ پس جو قانون اللہ نے دیگر بنی آدم کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ وہی مسیح کے لئے ہے۔ کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ جو سنت دیگر انبیاء ورسل و عامۃ الناس کے لئے جاری وساری ہو۔ اس سے مسیح علیہ السلام مستثنیٰ سمجھے جائیں۔ (عسل مصفےٰ حصہ اول ص ٤٨٩) اس اعتراض میں مسیح علیہ السلام کے بن باپ پیدا ہونے کا جواب بھی آ جاتا ہے۔ (مؤلف)

الزامی جواب ....... حکیم خدا بخش مرزائی اس کتاب (عسل مصفےٰ حصہ اول ص ٤٩٥) پر اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ یہی عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو برخلاف سنت اللہ کے خارق عادت طور پر بغیر باپ پیدا ہوئے ہیں۔ پس میں پوچھتا ہوں کہ جو قانون اللہ تعالیٰ نے دیگر بنی آدم کی پیدائش کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ کیا وہی قانون مسیح کی پیدائش کے لئے ہے؟ کیا وجہ ہے کہ جو سنت دیگر انبیاء ورسل و عامۃ الناس کی پیدائش کے لئے جاری وساری ہے۔ اس سے مسیح علیہ السلام مستثنیٰ رکھے گئے ہیں؟

تحقیقی جواب ....... معلوم ہوا کہ کسی قاعدہ کو سنت اللہ یا خدا کا قاعدہ قرار دینے کے ٢ طریقے ہیں۔ ایک عقلی اور دوسرا نقلی۔

٢

دے لیں۔ اسے علم منطق میں

پائیں اور اسے قاعدہ قرار د

استقرائے تام ....... جو ناقص مفید ظن ہوتا ہے۔ کیونکہ تمام جز علم میں نہیں آئیں۔ اس قرارداد کو قاعدہ کہنا درس قاعدہ سنت اللہ نہ رہا۔

اب سوال ی اس کے رسول ﷺ نے وہ سب جزئیات کو دیکھ کے اسرار کو اور اس کے پر نظر رکھنے والا بیشک ک اور رسول ﷺ نے ہر گ اس کے عجائبات قدرو ہم کو ”وَمَ اس کے سوا کوئی نہیں مگر ظاہر کی صحیح تفسیر ناکامی مراد ہے۔ سو نہ ہوگی۔ اس بات ہ

صفحہ ٤٤٧

دے لیں۔ اسے علم منطق میں استقراء کہتے ہیں۔ اس کی دو قسمیں ہیں۔ تام اور ناقص۔

پائیں اور اسے قاعدہ قرار دے دیں۔

استقرائے تام ....... جو عقلاً سب جزئیات کا حصر کرے مفید یقین ہوتا ہے اور استقراء سے ناقص مفید ظن ہوتا ہے۔

(مستفاد از ملا مبین بحث استقراء ص ٢٤٩ ج ٢)

کیونکہ تمام جزئیات کا حصر نہیں ہوا اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعض دیگر جزئیات جو ہمارے علم میں نہیں آئیں۔ اس نظام وقاعدہ کے ماتحت نہ ہوں۔ جو ہم نے سمجھ رکھا ہے۔ پس اس قرار داد کو قاعدہ کہنا درست نہیں۔ کیونکہ قاعدہ وہ ہے جو جمیع جزئیات پر منطبق ہو لہٰذا ہمارا سمجھا ہوا قاعدہ سنت اللہ نہ رہا۔

اب سوال یہ ہے کہ جس امر کو ہم نے سنت اللہ قرار دیا ہے آیا اس کے متعلق خدا نے یا اس کے رسول ﷺ نے کہا ہے کہ یہ سنت اللہ ہے۔ یا جو قاعدہ ہم نے اپنے استقراء سے بنایا ہے۔ وہ سب جزئیات کو دیکھ بھال کر بنایا ہے اور ہم اس کی مخلوقات کا احاطہ کر چکے ہیں اور اس کی قدرت کے اسرار کو اور اس کے نظام کو کامل طور پر سمجھ چکے ہیں۔ قرآن وحدیث کا واقف اور نظام قدرت پر نظر رکھنے والا بیشک گردن جھکا دے گا اور تسلیم کرے گا کہ ان قواعد کو جو ہم نے بنائے ہیں۔ خدا اور رسول ﷺ نے ہرگز سنت اللہ نہیں کہا اور ہمارا استقراء بالکل ناقص ہے۔ کیونکہ مخلوقات الٰہی اور اس کے عجائبات قدرت انسانی کے احاطہ علم سے باہر ہیں۔

ہم کو وما یعلم جنود ربک الا هو (المدثر: ٣١) ”یعنی تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا“ اور وما اوتیتم من العلم الا قلیلا (بنی اسرائیل: ٨٥) ”اس کی دیگر نظائر کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ ان آیات میں سنت اللہ سے انبیاء کی نصرت اور ان کے دشمنوں کی ناکامی مراد ہے۔ سو اس امر کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری یہ قدیمی روش ہے کہ اس میں تبدیلی نہ ہوگی۔ اس بات کے سمجھنے کے لئے آسان طریق یہ ہے کہ آیات جہاں جہاں قرآن مجید میں وارد

٣

صفحہ ٤٤٨

ہوئی ہیں۔ طالب مشتاق ان مواقع کو نکال کر ماقبل و مابعد پر نظر کرے تو ساتھ ہی انبیاء علیہ السلام کی نصرت اور ان کے دشمنوں کی ناکامی اور ان پر خدا کی مار و پھٹکار کا ذکر موجود ہوگا۔

پس قاعدہ نظم و ارتباط قرآن حکیم اسکو مجبور کر دے گا کہ وہ تسلیم کرے کہ اس جگہ سنت اللہ سے مراد پیغمبروں کی نصرت اور ان کے دشمنوں کی تعذیب و خذلان ہے۔ چنانچہ وہ سب مواضع علی الترتیب تحریر خدمت ہیں۔ فیصلہ ناظرین کے فہم رسا پر چھوڑتا ہوں۔

(از کتاب شہادت القرآن حصہ اول ص ٣٥،٣٤،٣٣، مصنفہ مولانا ابراہیم سیالکوٹی)

:٧٧،٧٦)“ اس میں صاف مذکور ہے کہ کفار مکہ حضور نبی کریم ﷺ کو مکہ شریف سے نکالنا چاہتے تھے۔ اس نے آپ کی تسلی فرمائی کہ اگر آپ کو نکالیں گے تو خود بھی نہ رہیں گے۔ کیونکہ انتقام انبیاء از اعداء ہماری سنت قدیمہ ہے اور یہ کبھی محول نہ ہوگی۔

اس آیت کے ذیل میں تفسیر کبیر میں کہا ہے یعنی ”ان کل قوم اخرجوا نبيهم سنت الله ان يهلك الله “یعنی خدا کی اس سے یہ مراد ہے کہ جس کسی قوم نے اپنے نبی کو نکالا۔ ان کے متعلق سنت یہی ہے کہ ان کو بس ہلاک ہی کر دیوے۔ (دجال قادیانی کے چیلے حضرت مسیح کے رفع اور بن باپ پیدائش پر ”ولن تجد لسنة الله تبديلا (الاحزاب:٦٢)“ چسپاں کر رہے ہیں۔(مؤلف)

قلوبهم......لسنة الله تبديلا“

لوگوں کے بارے میں خدا کی سنت ہے کہ مکذبین کو عذاب کرے۔

خلت من قبل ولن تجد لسنة الله تبديلا“

٤

صفحہ ٤٤٩

آیت اللہ

خوب یاد رکھو کہ عادات الہیہ جو بنی آدم سے تعلق رکھتے ہیں، دو ہیں۔

کھوئے جاتے ہیں اور اس درجہ میں جب کوئی انسان پہنچ جاتا ہے۔ تو اس سے خرق عادت کا ظہور ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ جب کوئی کام بتوسط اسباب خاص فرماتا ہے۔ تو اس کا نام شریعت الہیہ میں آیت اللہ ہے۔ جس کو معجزہ اور کرامت وغیرہ ناموں سے موسوم کرتے ہیں۔ سنت اللہ اور آیت اللہ میں عموم خصوص مطلق کی نسبت ہے۔

قرآن کریم میں جہاں کہیں آیت کا لفظ کسی امر کے متعلق آیا ہے۔ تو اس سے امور خارق عادت مراد ہے۔ اس کو سنت اللہ کہنا غلط ہے۔

(از کتاب حنفیہ پاکٹ حصہ اول ص ٩٤،٩٣)

حضرت موسیٰ کا معجزہ

خدا کی قدرت کے نشان

چار سو بیس نبی کے مرید کہا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح کا رفع جسمانی سنت اللہ کے خلاف ہے۔ ذیل میں چند ایسے واقعات نادرہ ہدیہ ناظرین ہیں۔ جو سنت اللہ کے سراسر خلاف ہیں اور ان کو مرزا قادیانی اور اس کے مریدوں نے صحیح تسلیم کیا ہے اور اپنی کتب اور اخبارات میں تحریر کیا ہے۔

٥

صفحہ ٤٥٠

اس کے لئے سرد کر دیا۔“

(حقیقت الوحی ص ٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢)

اور زندہ نکلا اور آخر قوم نے اس کو قبول کیا۔“

(مسیح ہندوستان میں ١٤، خزائن ج ١٥ ص ١٧)

(براہین احمدیہ ص ٤٣٤، خزائن ج ١ ص ٥١٨)

طاقتیں ہیں اور نیچری جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا (مسیح) باپ تھا۔ وہ بڑی غلطی پر ہیں۔“

(اخبار الحکم ٢٤؍ جون ١٩٠١ء)

لڑکے نے پیٹ میں دو مرتبہ باتیں کی ہیں۔“

(تریاق القلوب ص ٤١، خزائن ج ١٥ ص ٢١٧)

چاند دو ٹکڑے ہو گیا

ہو گیا...... جس کا آسمان تک اثر چلا گیا۔“

(چشمہ معرفت ص ٧١، ٧٢، خزائن ج ٢٣ ص ٤١١)

بعض نادر الوجود عورتیں

کہ ان کی منی دونوں طور قوت فاعلی اور انفعالی رکھتی ہے اور کسی سخت تحریک خیال شہوت سے جنبش میں آکر خود بخود حمل ٹھہرنے کا موجب ہو جائے۔“

(سرمہ چشم آریہ ص ٤٨، خزائن ج ٢ ص ٩٦)

دیا۔“

(سرمہ چشم آریہ ص ٥١، خزائن ج ٢ ص ٩٩)

تھا۔ کیونکہ اس کی ماں مر گئی تھی۔“

(سرمہ چشم آریہ ص ٥١، خزائن ج ٢ ص ٩٩)

(سرمہ چشم آریہ ص ٥١، خزائن ج ٢ ص ٩٩)

٦

خدا اپنا قانون بھی با ”یہ سچ ہے ک کس کو انکار ہے۔ مگر آ اس کی عمیق در عمیق اور اور اس کے عجائب کام مگر وہ بدلنا بھی اس کے

داڑھی والی عورت

فٹ پائے گئے۔ ایک ایک عورت کی کم

مونچھیں تھیں۔“

ہوتے ہی داڑھی تھی

دانتوں والی مر

لڑیاں دانتوں کی

مرد کے پیٹ

صفحہ ٤٥١

خدا اپنا قانون بھی بدل لیتا ہے

”یہ سچ ہے کہ جیسا خدا غیر متبدل ہے۔ اس کی صفات بھی غیر متبدل ہیں۔ اس سے کس کو انکار ہے۔ مگر آج تک اس کے کاموں کی حد بست کس نے کی ہے اور کون کہہ سکتا ہے کہ وہ اس کی عمیق و دقیق اور بے حد قدرتوں کی انتہاء تک پہنچ گیا ہے۔ بلکہ اس کی قدرتیں غیر محدود ہیں اور اس کے عجائب کام نا پیدا کنار ہیں اور اپنے خاص بندوں کے لئے اپنا قانون بھی بدل لیتا ہے۔ مگر وہ بدلنا بھی اس کے قانون میں داخل ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٩٦، خزائن ج ٢٣ ص ١٠٤)

داڑھی والی عورت

فٹ پائے گئے۔ ایک عورت اونس کی داڑھی کے بال ساڑھے آٹھ فٹ ناپے گئے۔“

(صداقت مریہ ص ٩٩)

ایک عورت کی کمر تک ڈاڑھی

مونچھیں تھیں۔“

(صداقت مریہ ص ٩٨)

ہوتے ہی داڑھی تھی۔“

(الفضل ٦؍ نومبر ١٩١٨ء)

(الفضل ٢٥؍ اپریل ١٩٢٥ء)

دانتوں والی مرغی

لڑیاں دانتوں کی ہیں۔“

(بدر قادیان ٢٣؍ مئی ١٩١٢ء ص ٤)

مرد کے پیٹ میں توام بچے

(فاروق ٧؍ اکتوبر ١٩٢٩ء)

٧

صفحہ ٤٥٢

نو برس کی لڑکی کو لڑکا پیدا ہوا

١٧....... ”ڈاکٹر واہ صاحب کا ایک چشم دید قصہ۔ انہوں نے ایک ایسی عورت کو جنایا جس کو ایک برس کی عمر میں حیض آنے لگا تھا اور آٹھویں برس حاملہ ہوئی اور آٹھ برس دس مہینہ کی عمر میں لڑکا پیدا ہوا۔“

سولہ سیر وزنی بچہ

١٨....... ”دہلی ٩؍ ستمبر۔ کل زنانہ ہسپتال میں ایک عورت کے ١٦ سیر وزنی بچہ پیدا ہوا۔ جو عورت کا چار جگہ سے پیٹ چاک کر کے نکالا گیا۔ بچہ اور اس کی ماں دونوں مر گئے۔“

(الفضل ١٧؍ ستمبر ١٩٢٨ء)

دودھ دینے والا مرد

١٩....... ”اس کے علاوہ میں نے جموں میں ایک آدمی ایسا دیکھا تھا جس کے پستانوں سے عورتوں کی طرح دودھ نکلتا تھا۔“

(فاروق ج ١٨ نمبر ١٩، ٢١؍ اگست ١٩٣٣ء)

ناظرین کرام! قرآن شریف کی طرف اور مخلوقات میں بنظر غورو تامل و تدبر کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ امور نادرہ کے علاوہ ایسے ایسے نمونے ہمارے سامنے پیش ہوتے ہیں۔ جن کو دیکھ کر اس کے حضور میں سر بسجود ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ کسی متعین طریق پیدائش کو ہم قانون قدرت کی محدود تعریفی دائرے میں محیط نہیں کر سکتے۔ ہم کیا اور ہمارا علم کیا۔ جبکہ وہ ذات خود وہم و گمان سے بالاتر ہے۔ تو اس کی قدرت بھی انسانی سمجھ کے دائرہ قیاس و گمان و وہم سے بالاتر ہے۔ قانون الٰہی پر انسانی علم احاطہ نہیں کر سکتا۔

چنانچہ ”چار سو بیس نبی“ یعنی مرزا قادیانی نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے۔ مبارک ہیں وہ حضرات جو مرزا قادیانی پر تین حرف بھیج کر آقائے نامدار ﷺ کی غلامی کو دونوں جہانوں کی شاہی پر ترجیح دیتے ہیں۔ آخر میں التجاء ہے کہ ناظرین کرام انجمن تحفظ ختم نبوت قائم کر کے اس فرقہ ضالہ (منکرین ختم نبوت) کو مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت وغیرہ قرار دیئے جانے کی سعی فرما کر ثواب دارین حاصل فرمائیں: وما علینا الا البلاغ!

٨

PDF 454

خاتم النبیین لا نبی بعدی

مجموعہ کفریات

مرزا غلام احمد قادیانی

واحکام مرتبہ قرآن رحمانی و ربانی

جناب سید محمود احمد پوری

صفحہ ٤٥٤

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مرزاغلام احمد قادیانی کے کفریات

مرزاغلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور عیسیٰ ابن مریم علیہا السلام سے بڑھ کر ہوں جو کوئی مجھ پر ایمان نہیں لائے گے، وہ کافر ہے۔ خدا میری نسبت کہتا ہے کہ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ تو میرے واسطے ایسا ہے جیسا کہ میری اولاد۔ جس سے تو راضی اس سے میں راضی ۔ اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔ خدا عرش سے تیری حمد کرتا ہے۔ خدا نے مجھ کو قادیان میں اپنا سچا رسول بنا کر بھیجا ہے اور خدا نے مجھ کو کرشن بھی کہا ہے۔ معجزہ کوئی شے نہیں۔ مسمریزم اور شعبدہ بازی ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ”عیسیٰ علیہ السلام یوسف نجار کے بیٹے تھے۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤ تا ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے : ”حضرت یسوع مسیح شریر، چور، مکار، شیطان کے پیچھے چلنے والا ، جھوٹا وغیرہ اور اسی جگہ لکھا ہے: ”آپ کی تین دادیاں، نانیاں زنا کار تھیں۔“

مرزا کا دعوے نبوت

محبت کرتے ہو تو میری تابعداری کرو۔ یہ مرزا نے (براہین احمدیہ ص ٢٣٩، خزائن ج ١ ص ٢٦٦) پر لکھا ہے۔

”مرسل یزدانی و مامور رحمانی حضرت جناب مرزاغلام احمد قادیانی ۔“

آدم صفی اللہ کہا اور مثیل نوح کہا۔ مثیل یوسف کہا۔ پھر مثیل داؤد کہا۔ پھر مثیل موسیٰ کہا۔ پھر مثیل ابراہیم پھر بار بار احمد کے خطاب سے مجھے پکارا۔“

جس کا آنا انجیل اور احادیث صحیحہ کی رو سے ضروری طور پر قرار پا چکا تھا۔ وہ تو اپنے وقت پر اپنے نشانوں کے ساتھ آ گیا اور آج وہ وعدہ پورا ہو گیا۔ جو خدا تعالیٰ کی مقدس پیشین گوئیوں میں پہلے کیا گیا تھا۔“

صفحہ ٤٥٥

اس لئے اس عاجز کا نام آدم بھی رکھا اور مسیح بھی۔“

میں اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا اور نبی بھی۔“

اجمالی معنوں کی رو سے ایک ہی ہیں۔ اس کی طرف اشارہ ہے: ”مبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد“

ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ “ درحقیقت اسی مسیح ابن مریم کے زمانہ سے متعلق ہے۔“

ہے۔ کیونکہ اول تو ایسا دعویٰ اس عاجز سے پہلے کبھی کسی نے نہیں کیا اور اس عاجز کا یہ دعویٰ دس برس سے شائع ہورہا ہے۔“

امام مہدی، مسیح موعود مرزا غلام احمد علیہ السلام۔“

محبت رکھتے ہو تو میرے پیچھے ہو لو تو خدا بھی تم سے محبت کرے۔“

جائے گا۔ قبل اس کے جو میرا نام پورا ہو۔“

ہے۔“

بندہ کو رات میں سیر کرائی۔“

للعالمین “ تجھ کو تمام جہاں کی رحمت کے واسطے بھیجا۔“

٣

صفحہ ٤٥٦

المفسدین“ یعنی تجھ کو قوم مفسدین کی طرف رسول کر کے بھیجا۔

کلمات توہین انبیاء علیہم السلام

ہاتھ سے زندہ ہونے والے مر گئے۔ جو شخص میرے ہاتھ سے جام پیئے گا۔ ہرگز نہ مرے گا۔“

گوئیاں غلط نکلیں۔ اس قدر سچ نہیں نکلیں ۔“

بنا کر ان میں پھونک مار کر اڑانا) حضرت سلیمان علیہ السلام کے معجزہ کی طرح عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دنوں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیال جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے ہیں۔ دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔“

الٰہی عمل الترب (مسمریزم) میں کمال رکھتا تھا۔“

کے طریق کا نام عمل الترب رکھا ہے۔ جس میں حضرت مسیح بھی کسی درجہ تک مشق رکھتے تھے۔ یہ الہامی نام ہے۔“

تھا۔ وہ ہم نے معلوم کر لیا۔“

نکلیں۔“

کے الہام و وحی بھی غلط نکلی تھیں۔“

کہ حضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے ہو منکشف نہ ہوئی۔“

٤

صفحہ ٤٥٧

قتل کا ذکر گائے کا علم مسمریزم تھا ۔"

.......١١

(ازالہ ص ٧٥٢، خزائن ج ٣ ص ٥٠٦) میں مرزانے لکھا: "حضرت ابراہیم علیہ السلام کا چار پرندوں کے معجزے کا ذکر جو قرآن مجید میں ہے ۔ وہ بھی ان کا مسمریزم کا عمل تھا۔"

.......١٢

(انجام ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٤١) میں مرزا نے لکھا: "مریم کا بیٹا کھلونیا کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا۔"

مرزا کی ملامت قرآن پر

.......١

(ازالہ ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ١١٦) میں مرزا نے لکھا ہے کہ: ”اس (قرآن شریف) نے ولید بن مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں، استعمال کی ہیں۔"

.......٢

(ازالہ ص ٤٢٣ تا ٥٢٣، خزائن ج ٣ ص ٥٠٣، ٥٠٦ مفہوم) میں مرزا نے لکھا: "قرآن مجید میں جو معجزات ہیں۔ وہ سب مسمریزم ہیں۔"

.......٣

(کلمۃ الفصل ص ١١٦، ١٦٣ ملخص) میں مرزا نے لکھا: "ایک شخص مرزا کو جھوٹا بھی نہیں کہتا اور منکر بھی نہیں۔ دل سے بھی سچا جانتا ہے۔ اگر بیعت نہیں کرتا، وہ کافر ہے۔"

مرزا کا خدائی دعویٰ قابل توجہ

.......١

(کتاب البریہ ص ٧٨، ٧٩، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣، ١٠٥) میں مرزا نے لکھا کہ: "میں نے دیکھا کہ میں خدا ہوں اور یقین کیا کہ خدا ہوں۔ پھر میں نے زمین و آسمان بنائے ۔ انسان بنائے اور ان کی خلق جوتاور تھا۔"

.......٢

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) میں مرزا نے لکھا ہے: ”خدا نے کہا کہ: ”انت منی بمنزلۃ ولدی" یعنی تو میرے بیٹے کی مانند ہے۔"

.......٣

(اخبار الحکم قادیان مطبوعہ ٢٤ فروری ١٩٠٥ء) میں مرزا قادیانی نے لکھا کہ: "انما امرك اذا اردت شيئا ان تقول له كن فيكون“ یعنی اب تیرا یہ مرتبہ ہے کہ جس چیز کا تو ارادہ کرے، صرف اس قدر کہے، ہو جا، ہو جائے گی۔

مرزا کا خدا سے دستخط کرانے کا دعویٰ

.......١

(حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧) میں مرزا نے لکھا کہ: "میں نے خدا کو مجسم دیکھا اور ان کے دستخط پیشین گوئیوں پر کرائے اور سرخی کے چھینٹے میرے کرتہ پر پڑے۔"

٥

صفحہ ٤٥٨

فتوائے علماء

ان الفاظ مذکورہ بالا کے کہنے کی وجہ سے تمام پنجاب، ہندوستان، افغانستان وعرب وعجم کے علماء نے مرزا کے اوپر کفر و مرتد ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔ بلکہ سب عام و خاص کے دلوں میں جو اس کے کفریات کو دیکھیں یا سنیں وہ فرعون، ہامان، شداد، نمرود، شیطان سے بھی بدتر معلوم ہوتا ہے اور حقیقت میں بھی بدتر ہے اور جو شخص اس کا مرید ہے۔ اس پر بھی کفر و مرتد ہونے کا فتویٰ دیا ہے اور جو شخص بعد معلوم ہونے ان الفاظ کے اس کو کافر نہ کہے۔ یا اس کے کفر میں شک کرے۔ اس پر بھی کفر کا فتویٰ دیا ہے۔

اس لئے کہ قطعی کافر کو کافر نہ کہنا یا اس کے کفر میں شک کرنا (چنانچہ فرعون کہ اللہ تعالیٰ جل وعلا وشانہ نے اس کو کافر کہا ہے) اللہ تعالیٰ کی تکذیب ہے اور سب علماء نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ اگر ایسے شخص کے نکاح میں مسلمان عورت ہو، تو اس کا نکاح فسخ ہے اور اس کی اولاد ولدالزنا ہے۔ اس کی عورت مسلمہ کا دوسرے شخص کے ساتھ بلا عدت نکاح کرنا جائز ہے۔ ایسے شخص کو بعد موت کے غسل دینا یا اس کا جنازہ پڑھنا اور کفن دینا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں۔ بلکہ ایک کپڑے کے پارچہ میں لپیٹ کر کسی اور جگہ گڑھے میں گاڑ دینا چاہئے۔ اگر کوئی اس کا قریبی خویش مرجائے۔ تو یہ اس کے میراث سے محروم ہے۔ کیونکہ یہی تمام مرتد لوگوں کے احکام ہیں۔

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مرزا اہل قبلہ، اہل قرآن ہے۔ اس لئے مسلمان ہے۔

جواب یہ کہ ہاں بلاشک سب اہل قبلہ، اہل قرآن، چنانچہ اہل ہوا، روافض، خوارج، معتزلہ سب مسلمان ہیں۔ بشرطیکہ وہ حد کفر کو نہ پہنچیں۔ اگر اس کا کوئی قول یا فعل ایسا ہو جو حد کفر کو پہنچے تو اس کے اہل قبلہ اور اہل قرآن ہونے کا دعویٰ شریعت محمدی میں باتفاق کل ادیان و کل اہل ایمان جھوٹا اور باطل ہو چکا اور وہ کافر ہوا۔ پس جبکہ مرزا نے بموجب اذکار بالا خدائی اور رسالت کا دعویٰ کیا۔ قرآن اور انبیاء علیہم السلام کی تکذیب کی۔ تو وہ کافر سے بدتر کافر ہے۔ علماء نے اس کے معتقد موجودہ کفر کا اظہار کیا ہے نہ کہ انہوں نے از طرف خود اس کو کافر کہا ہے۔ بلکہ جو متقدم کافر گزرے ہیں۔ مثلاً فرعون، ہامان، نمرود، شداد اور شیطان کسی نے بھی ایسے شدید کفریات نہیں کہے اور نہ کسی نبی نے ایسے مراتب کا دعویٰ کیا ہے۔

دیگر جواب یہ ہے کہ مرزا نے جو رسالت کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ خدا نے مجھ کو قادیان میں اپنا سچا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ تو اس صورت میں اس کا اہل قبلہ ہونا اپنی رسالت کی رو

صفحہ ٤٥٩

سے ہے۔ نہ کہ محمد عربی ﷺ کی رسالت کی رو سے۔

اس نے جو قرآن کی تکذیب کی ہے اور کہا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کسی نبی پر زمین پر نہیں اترا۔ تو اس صورت میں مرزا کا اہل قرآن ہونا اپنے الہامات کی رو سے ہے۔ نہ کہ محمد عربی ﷺ کے قرآن کی رو سے۔ کیونکہ ان کے قرآن کو تو جبرائیل علیہ السلام زمین پر اتر کر ان کے پاس لایا ہے۔

مرزا نے جو خدائی کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ: ”میں نے دیکھا کہ میں خدا ہوں اور یقین کیا کہ خدا ہوں۔ پھر میں نے زمین آسمان بنائے اور انسان بنائے اور ان کے خلق پر قادر تھا۔“ تو جب مرزا خود خدا ہوا اور خالق زمین و آسمان ہوا اور خالق انسان ہوا۔ تو مرزائیان یعنی اس کے مریدین خود اس کے بندگان اور مخلوق ہو چکے۔ تو ایسی صورت میں مرزائیوں کا اہل قبلہ و اہل قرآن ہونا اللہ تعالیٰ رب العالمین کے لئے کہاں رہا۔

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مرزا نے خدائی کا دعویٰ کسی بیہوشی کی حالت میں کیا ہوگا۔ اس کو قیامت میں گرفت نہ ہوگی۔ چنانچہ حسین بن منصور اور فرید الدین عطار اور سرمد نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا۔

جواب یہ کہ کفر دو قسم کا ہے۔ ایک کفر عند اللہ ہے کہ بروز قیامت اس کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے اور دوسرا کفر عند الشرع ہے کہ اسی دنیا میں اس کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ چونکہ افراد ثلاثہ عند الشرع کافر تھے۔ اس لئے علماء نے ہر ایک کو اپنے اپنے زمانہ میں قتل کیا ہے۔ کیونکہ شرع ظاہر کو دیکھتی ہے۔

دیگر جواب یہ کہ مراتب دو ہیں ایک مرتبہ ولایت، دوم مرتبہ نبوت و رسالت۔ ولی جب مقام حیرت تجلی فعلی، اسماء وصفات میں پہنچے۔ تو از روئے مرتبہ ولایت بعضوں کے منہ سے ایسی ایسی باتیں نکلتی ہیں۔ تاہم شریعت محمدی اس کو کافر کہتی ہے۔ مرزا نے تو رسالت کا دعویٰ کیا ہے اور رسول احکام آسمانی کی تبلیغ کے لئے بھیجا ہوا ہوتا ہے۔ اس لئے ایسی باتیں اگر وہ کہے تو رسالت سے خارج ہوتا ہے۔ حضرت بابا آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک کسی نبی یا رسول نے خدائی کا دعویٰ نہیں کیا۔

سبحان اللہ! جب مرزا نے ہزار ہا بار اپنی جان کو اپنی زبان سے ایمان و اسلام سے نکال کر کفر و شرک قطعی میں داخل کیا ہے۔ تو اس کے تابعان ضائع الایمان اپنے فوائد و دفع ضرر کے لئے کس راستہ سے اس کو مسلم ٹھہراتے ہیں۔ کیا ایسے ایسے کفریات بکنے والا آدمی بھی مسلمان رہ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اور کون سا امر ہے۔ جس کے ساتھ مسلم مرتد ہوتا ہے۔ مرزا کسی حالت میں مسلمان نہیں رہ سکتا۔

٧

صفحہ ٤٦٠

علاوہ ازیں اول ذکر ہو چکا ہے کہ مرزا نے کہا یہ کہ خدا نے مجھ کو کرشن بھی کہا ہے اور کرشن ہندوؤں کا گرو اور پیر ہوتا ہے اور کافر ہوتا ہے۔ کیا آدمی ایک حالت میں ہم کافر ہم مومن ہم نبی ہم کرشن ہو سکتا ہے۔

علمائے زمانہ یہ فتویٰ بموجب احکام قرآن مجید صاف طور پر بیان کرتے ہیں۔ اس لئے اگر کوئی وکیل گمراہ شیطان کے پیچھے چلنے والا انفساخ نکاح مرزائی و مسلمہ کے متعلق فریقین کو اپنے فوائد دنیاوی متاع قلیل زود فانی کے لئے کج راستہ بتائے۔ یا کوئی حاکم یہ عذر اٹھائے کہ مرزائیوں کے کفر کے بارہ میں ہم علماء کا فتویٰ نہیں مانتے۔ کیونکہ یہ حسدی لوگ ہیں۔ خواہ مخواہ بلا وجہ ایک فرقہ دوسرے کو کافر کہتا ہے۔

جواب یہ کہ ہاں بلاشک بعض چودھویں صدی والے علماء حسد، انانیت، خود بینی کی وجہ سے بلاوجہ و دلیل محکم اپنی رائے اور نفسانیت سے ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں۔ میں خود ایسے علماء کا فتویٰ نہیں مانتا۔ لیکن اس وقت جمہور علمائے زمانہ نے جو مرزائیوں پر کفر اور مرتد ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔ یہ بموجب احکام قرآن شریف صاف طور پر نکال کر بیان کیا ہے۔ کیونکہ کفر و اسلام کا قرآن مجید مبارک میں واضح طور پر ذکر ہے۔ جو شخص قرآن کریم کی آیات کے بموجب کافر ہو۔ اُس کو کافر نہ کہنا اللہ تعالیٰ کی تکذیب ہے۔

چنانچہ فرعون کہ اس نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے قرآن کریم میں اس کو کافر ذکر کیا ہے۔ پس جو شخص اس کو کافر نہ کہے اور نہ سمجھے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی تکذیب ہے۔ قطعی کفر ہے اور قبطیاں فرعون کے تابعین کو بھی اس کی متابعت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے کافر ذکر کیا ہے۔ تو جو شخص قبطیوں کو کافر نہ سمجھے۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی تکذیب ہے۔ قطعی کفر ہے۔ فرعون اور قبطیان کا کفر مرزا اور مرزائیان کے کفر کے لئے علماء کے پاس پختہ دلیل اور نظیر ہے۔ باقی آج کل حکام اور وکیلان کے نزدیک قانونی احکام سے زیادہ تر مرغوب اور معمول ہیں۔

”متیٰ نصر الله الا ان نصر الله قریب“

من کیم کہ گویم کہ ایں کن یا آں کن تو بادشاہ ہر دو جہانی، ہرچہ خواہی آں کن۔ لیکن ”واصبر کما صبر اولی العزم ولاتکن کصاحب الحوت اصبر واذکر عبدنا داؤد“ عمل مے توانم کرد۔ غیرت را اختیار کن۔ قہر را در پیش گیر۔ مرتدان و مخالفت کنان قرآن را در دارین بعذاب شدید مبتلا کن!

٨

PDF 462

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

صلی اللہ علیہ وعلی آلہ واصحابہ وبارک وسلم

احمدیہ

(اسلامی محاکمہ)

جناب پروفیسر سید محمود علی کپور تھلوی

صفحہ ٤٦٢

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دیباچہ

غالباً گزشتہ ماہ نومبر (١٩٣٥ء) میں مولانا محمد علی صاحب ایم۔ اے امام جماعت احمدیہ لاہور نے ایک مختصر رسالہ ”ہمارے عقائد اور ہمارا کام“ کے نام سے شائع کیا اور اس کا ایک نسخہ میرے نام بھی ارسال فرمایا۔ رسالہ میں اس مضمون پر زور دیا گیا تھا کہ احمدی مذہب کا لاہوری فرقہ اپنے تمام عقائد اور اصول کے لحاظ سے مسلمان ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کی نسبت کوئی ایسا خیال نہیں رکھتا۔ جو ضروریات مذہب اسلام کے خلاف ہو اور نیز یہ فرقہ ہندوستان اور بیرون ہند تمام دنیا میں اسلام کی تبلیغ اور اشاعت بھی ایسی کوشش سے اور ایسے صرف کثیر کے ساتھ کر رہا ہے۔ جس کی نظیر مسلمانوں کی کسی جماعت میں نظر نہیں آتی۔

مسلمان محض تعصب اور عناد سے اس فرقہ کو بغیر کسی دلیل کے کافر کہتے اور اس کے عظیم الشان کام کو جو وہ خدمت اسلام میں بجا لارہے ہیں، نقصان پہنچا رہے ہیں۔ حالانکہ انصاف کی رو سے ان کا فرض ہے کہ وہ ہمارے ساتھ شامل ہوں اور اس کام میں جو حقیقت میں ان کا اپنا فرض ہے۔ ہمارے ساتھ شریک ہو کر دنیا و آخرت کی سرخروئی حاصل کریں۔

مضمون کو نہایت زور سے ادا کیا گیا تھا اور دلائل کو شاندار الفاظ سے دلکش بنایا گیا تھا اور چونکہ سب مسلمانوں کے لئے صلاء عام تھا۔ اس لئے میں نے بھی اپنی استطاعت کے مطابق اس میں غور کیا اور جو کچھ سمجھ میں آیا لکھا اور مولانا موصوف کی خدمت میں جواب کی امید پر پیش کیا۔ جواب ملتا اور میں دوبارہ غور کرتا۔ تو معلوم نہیں کس نتیجہ پر پہنچتا۔ مگر اب چونکہ انتظار مزید کے بعد جواب سے یاس ہوئی تو جیسا کہ مولانا موصوف کو لکھ چکا ہوں اور اپنے خیالات کو جزئی ترمیم کے بعد شائع کرتا ہوں اور اصحاب غور و فکر سے ملتجی ہوتا ہوں کہ نظر تامل سے ملاحظہ فرمائیں اور باہمی مبادلہ خیالات کے لئے آمادہ ہوں کہ صحیح نتیجہ پر پہنچنے کی یہی ایک صورت ہے۔

محمود علی ....... ریٹائرڈ پروفیسر راندھیر کالج کپور تھلہ ، ستمبر ١٩٣٦ء

٢

صفحہ ٤٦٤

اسلامی محاکمہ

میں مذہب احمدی سے ایک حد تک شناسا ہوں۔ مجھے مرزا قادیانی سے گفتگو کرنے کا اتفاق ہوا۔ مولوی عبدالکریم سیالکوٹی اور مولوی محمد احسن امروہوی سے تبادلہ خیالات کا موقع ملا ہے۔ مرزا قادیانی کی چند تصانیف اور مولوی محمد احسن کی ایک تصنیف دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا ہے۔ مرزا قادیانی کے بعد اس مذہب کے دو فرقوں میں منقسم ہونے سے بھی واقف ہوں اور اس کام کی خبر بھی سنتا رہا ہوں جو مرزا قادیانی کی زیست میں اور ان کے بعد ان کے خلفاء اور بالخصوص خواجہ کمال الدین اور آپ کے ہاتھ سے سرانجام پاتا رہا ہے۔

اس لئے اس رسالہ نے آپ کے خیالات کو ایک متین اور خوشنما شکل میں پیش نظر لانے کا کام تو دیا مگر بفضلہ تعالیٰ میری معلومات میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔ میں اب تک وہی سمجھتا ہوں جو پہلے سمجھتا تھا کہ فرقہ قادیانی کے خیالات اور اعمال ہربرٹ سپنسر کی اصطلاح میں Knowable (قابل فہمید ہیں) اور فرقہ لاہوری کا تمام تار و پود Unknowable (نا قابل فہمید) قادیانی مرزا غلام احمد کو علانیہ نبی مانتے ہیں۔ جس کے ساتھ مرزا قادیانی کے اور ان کے تمام عقائد و اعمال بالکل منطبق ہیں۔

بیشک اگر کوئی نبی ہو تو اس پر جس بانگ دہل کے ساتھ اس پیغام کا پہنچانا فرض ہے۔ جو اسے خدا کی طرف سے سپرد کیا گیا ہو۔ اسی بانگ دہل سے اس پر اپنے دعویٰ رسالت کو پہنچانا اور لوگوں کو اس کے ماننے کی دعوت دینا بھی فرض ہے اور یہ اعلان کرنا بھی فرض ہے کہ جو شخص اس کی رسالت کا منکر ہوگا۔ وہ عذاب اخروی میں مبتلا ہوگا اور دنیا میں بھی اس پر عذاب آئے گا اور اس پر ایمان لانے والوں کا فرض ہے کہ منکرین کے ساتھ عبادت میں شریک نہ ہوں۔ نماز جنازہ میں شریک نہ ہوں۔ ان سے رشتہ مناکحہ نہ کریں۔ حتیٰ کہ اپنے قبرستان بھی علیحدہ کرلیں تاکہ قبرستان میں جاکر جو دعا سب کے لئے مانگی جاتی ہے اس کا حصہ منکرین تک نہ پہنچے۔

اس طرز عمل پر قادیانی فرقہ پوری استقامت کے ساتھ گامزن ہے اور بیشک اگر مرزا قادیانی نبی ہوں تو قادیانیوں کا یہ طرز عمل بالکل صحیح ہوگا۔ مگر لاہوری فرقہ مرزا قادیانی کو مجدد اور محدث مانتا ہے اور یہ بھی مانتا ہے کہ ہر صدی پر مجدد آتا رہا ہے اور نیز مرزا قادیانی واجب الاطاعت تھے۔ حالانکہ امت محمدیہ ایسے ایک شخص سے بھی واقف نہیں۔ جس کو آنحضرت ﷺ کے بعد سب کے لئے واجب الاطاعت مانا گیا ہو اور جس نے اپنی اطاعت کے لئے مرزا قادیانی کی طرح بانگ دہل اعلان کیا ہو اور جس کی اطاعت نہ کرنے سے طاعون یا کوئی اور عذاب آیا ہو۔

٣

صفحہ ٤٦٤

مسلمانوں کا ایک فرقہ چار آئمہ مجتہدین کی اطاعت کرتا ہے مگر وہ سب ایک صدی کے اندر گزر چکے ہیں۔ ان سب کو صدی کے سر پر آنے والا مجدد نہیں کہہ سکتے۔ نہ ان میں سے کسی نے اپنی اطاعت کے واجب ہونے کا اعلان کیا ہے۔ نہ ان کو ماننے والے انہیں ان معنوں میں واجب الاطاعت مانتے ہیں کہ ان میں سے کسی کی اطاعت نہ کرنے سے عذاب آتا ہے۔ بلکہ اگر ابوحنیفہؒ کا مقلد کسی ایک مسئلہ میں ان کی اطاعت نہ کرے اور شافعیؒ یا مالکؒ کے مذہب پر فتویٰ دے یا عمل کرے اور شافعیؒ کا مقلد شافعیؒ کی تقلید چھوڑ کر حنفی ہو جائے۔ تو ایسی حالت میں کوئی مسلمان نہ کافر ہوتا ہے نہ گنہگار اور نہ مستحق عذاب۔ بلکہ اگر کوئی شخص ان آئمہ کے نام سے بھی واقف نہ ہو اور محمد رسول اللہ ﷺ کو نبی مانتا ہو۔ تو اس کے اسلام میں اس وجہ سے کوئی نقص پیدا نہیں ہوتا۔

محدث کے نام سے اسلام میں سینکڑوں اشخاص مشہور ہوئے ہیں۔ مگر نہ ان میں سے کسی نے اپنے تئیں واجب الاطاعت کہا۔ نہ کسی نے انہیں واجب الاطاعت مانا۔ مجدد کے نام سے شہرت پانے والے صرف ایک سرہندی بزرگوار ہیں۔ انہوں نے اپنے مکتوبات میں اگر اپنے تئیں مجدد کہا ہو اور اپنی اطاعت کی طرف بلایا ہو۔ تو یہ ان کا ذاتی فعل ہوگا۔ ورنہ ان کے وقت میں ان کی مخالفت کرنے والے موجود رہے ہیں۔ ان کے بعد ان کے حلقہ ارادت سے باہر کروڑوں مسلمان ہیں اور کسی ایک نقشبندی پیر کی طرف سے بھی دعویٰ نہیں ہوا کہ مجدد صاحب کی اطاعت سے باہر رہنے والے یا ان سے اختلاف رکھنے والے مستحق عذاب ہیں۔

چونکہ اولی الامر کے معنی علماء ربانی کئے گئے ہیں اور فی الحقیقت چونکہ علماء ربانی احکام خدا اور رسول خدا کو عوام الناس سے بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ ہر مسئلہ کو ان کے خیالات اور اقوال کی روشنی میں دیکھنا بلکہ عامی کو ان کی تفسیر و تشریح کی تقلید کرنا بہتر اور اولیٰ تر ہے۔ مگر خاص انہیں بزرگوں کے اندر جن کو بالاتفاق علماء ربانی کہا جاتا ہے۔ احکام قرآن وحدیث کی تشریح میں باہم دگر ہزاروں اختلاف ہیں۔ اس لئے نہ ان سب کی اطاعت کرنا ممکن اور نہ ان میں سے کسی ایک کو سب سے زیادہ صائب الرائے قرار دے کر اسے اپنی تمام تر توجہات کا قبلہ بنانا جائز ہے اور یہ مسئلہ جناب کو معلوم ہوگا کہ تقلید جائز بھی ہو تو صرف فروع میں جائز ہے۔ اصول مذہب کو اپنی تحقیق سے مانے تو آدمی سچا مسلمان ہوتا ہے۔

پس ہوشمند اور دانا مسلمان کے لئے یہی صحیح طریق کار ہے کہ جہاں تک ہو سکے خود احکام خدا اور رسول ﷺ کو سمجھے اور جس جگہ اپنی ذہانت کام نہ دے۔ وہاں علماء ربانی کی تشریحات میں سے جو زیادہ قرین قیاس سمجھے۔ اس پر کار بند ہو اور ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے اور جو پارہ تیرہ

٤

صفحہ ٤٦٥

بزرگوار مرزا قادیانی سے پہلے مجدد ہوئے ہوں گے اور جو سینکڑوں پاکیزہ روحیں محدث کے رتبہ تک پہنچی ہوں گی۔ ان کا مرزا قادیانی کی طرح بلند آہنگی سے اپنی ماموریت کا اعلان کرنا اور منکرین اطاعت سے مباہلہ اور مناقشہ اور مجادلہ کا دنگل جمانا اور ان کو دنیا اور آخرت کے عذاب سے ڈرانا ایک طرف، ان میں سے کسی ایک نے اپنی مجددیت، محدثیت اور وجوب اطاعت کی طرف اشارہ بھی نہیں کیا۔

پس یہ سب بزرگوار اگر ایک ہی منصب پر فائز ہیں۔ تو ان میں سے تعداد کثیر کا طرز عمل ایک طرف ہے اور تنہا مرزا قادیانی کا طریق کار ایک طرف، اور ضرور ان میں سے ایک غلط ہے۔ تعداد کثیر کے طرز عمل کو غلط ماننے میں ایک تو ان کی تعداد حارج ہوتی ہے کہ خدا کا حکم پاتے ہوئے ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا سینکڑوں بشر نافرمان ہوتے گئے۔ یہ قرین قیاس نہیں اور دوسرے اگر وہ سب نافرمان ہو گئے ہوں گے تو اپنے منصب سے معزول بھی ہو گئے ہوں گے اور پیشین گوئی غلط ثابت ہوئی۔

کیونکہ اس کے رو سے ہر صدی میں کم از کم ایک شخص کا اس منصب پر متصرف رہنا ضروری ہے اور پیشین گوئی کو غلط مانیں تو وہ مسند ہی چاک ہو جاتی ہے۔ جس پر مرزا قادیانی کو بٹھانا مقصود ہے۔ ان سب حالات کی وجہ سے بزرگان سلف کے طرز عمل کو صحیح مانیں تو لامحالہ مرزا قادیانی کے طریق پر نظر جمتی ہے کہ اسے انوکھی بات سمجھتے ہوئے کیا خیال قائم کریں۔ مگر غیروں کو خیال قائم کرنے سے کیا سروکار۔ ان کے ماننے والوں کو دیکھو۔ وہ سب بالاتفاق بشمول فرقہ قادیانی و لاہوری، مرزا قادیانی کی ہر ادا کو صحیح اور امر ربانی کے مطابق مانتے ہیں۔ جس سے ثابت ہوا کہ وہ سب مرزا قادیانی کو حقیقت میں منصب مجددیت اور محدثیت سے بالاتر جانتے ہیں۔

پس میں نے کیا غلطی کی یہ دعویٰ کرنے میں کہ فرقہ لاہوری کا صرف مجدد اور محدث ماننا اور ان کے تمام طرز عمل کو صحیح جاننا نا قابل فہمید ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ مجددیت و محدثیت سے بالاتر منصب قرآن وحدیث کی رو سے صرف منصب رسالت ہے۔ پس جناب امام صاحب آپ کیوں مسلمانوں سے ناراض ہوتے ہیں۔ جبکہ وہ آپ کے فرقہ کو معترف رسالت مرزا کہتے ہیں۔

اور صرف یہی نہیں بلکہ مرزا قادیانی اپنے تئیں جناب حسین علیہ السلام کی ذات سے ایک طرف جناب مسیح علیہ السلام سے بھی افضل سمجھتے ہیں۔ پس اگر مرزا قادیانی کے اس دعوے کو درست مانا جائے تو وہ صرف پیغمبر نہیں۔ بلکہ بہت بڑے اولوالعزم پیغمبر ثابت ہوتے ہیں۔ ورنہ

٥

صفحہ ٤٦٦

مجدد پیغمبر کے برابر بھی نہیں ہو سکتا۔ چہ جائیکہ اس سے افضل ہو۔ ایک وضعی حدیث میں علماء امت کو انبیاء بنی اسرائیل کی مانند کہا گیا ہے۔ مگر اس بھلے مانس نے بھی رسول مقبول ﷺ پر تہمت تراشتے ہوئے علماء امت کو صرف انبیاء کی مماثلت تک پہنچایا ہے۔ افضل کہنے کی جرأت نہیں کر سکا۔ رسول سے افضل خاص رسول ہی ہو سکتا ہے۔ خدا فرماتا ہے: ”تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض (البقرۃ:٢٥٣)“ ﴿یہ انبیاء انہی میں سے ہم نے بعض کو بعض سے بہتر بنایا ہے۔﴾ یہاں مبتدأ کے بعد خبر کو جملہ کی شکل دی گئی ہے۔ جو حسب قواعد فصاحت تخصیص کا فائدہ دیتی ہے۔ جیسے ”انا سعیت فی حاجتك“ (میں نے ہی تمہاری ضرورت کے وقت کوشش کی ہے) اور معنی یہ ہوتے ہیں کہ ان مرسلین ہی کو ہم نے ایک دوسرے سے افضل بنایا ہے۔ غیر کو مرسلین سے افضل نہیں بنایا۔

اور دیکھئے فرقہ لاہوری مرزا قادیانی کو ظلی اور بروزی نبی مانتا ہے اور ان پر پیغام الٰہی نازل ہونے کا اعتراف کرتا ہے اور کیوں نہ کرے جبکہ مرزا قادیانی نے اگر کبھی ”من نيستم رسول و نیاوردہ ام کتاب“ جیسے فقرے بھی چست کئے ہیں۔ تو بار بار اپنے تئیں ظلی نبی، بروزی نبی اور ان قیدوں سے الگ رہ کر مطلق نبی بنایا ہے اور خدا کا کلام جو ان پر نازل ہوا ہے۔ کثرت سے شائع کیا ہے۔ یہ منصب جسے ظلی اور بروزی نبی کہتے ہیں۔ قرآن وحدیث میں اس کا اشارہ بھی نہیں ہے اور کسی مجدد اور محدث نے یہ اصطلاح اختراع نہیں کی اور یہ اصطلاح ہے بھی غلط۔ خدا کا ظل ہو سکتا ہے۔ نبی کا ظل نہیں ہو سکتا۔ خدا سب کا خالق ہے۔ وہ موجود ہے۔ تو اس کی مخلوق بھی موجود ہے۔ جیسے دیوار موجود ہے تو اس کا سایہ بھی موجود ہے۔ اس لحاظ سے ہر چیز ظل اللہ ہے اور بادشاہ کو ظل اللہ کہنے کی لم حدیث میں نہیں قرآن میں ملتی ہے۔ جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا ہے: ”ربى الذى يحيى ويميت (البقرہ:٢٥٨)“ ﴿میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔﴾

اور بادشاہ نے جواب دیا: ”أنا أحيي وأميت“ (میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں ۔) اس کا یہ جواب اسے معبود ثابت نہیں کر سکتا تھا۔ اس لحاظ سے غلط تھا۔

مگر اس لحاظ سے صحیح تھا کہ ایک قاتل جس کی نسبت خدا کا حکم ہے کہ مار دیا جائے۔ وہ رہا کر سکتا ہے اور ایک بے گناہ کو جس کی نسبت حکم ہے کہ مارا نہ جائے قتل کر سکتا ہے۔ رضاء خداوندی کے خلاف اتنا اختیار زندگی اور موت اسے بھی حاصل ہے۔ پس وہ خدا نہیں تو خدا کا سایہ ضرور ہے اور اس جواب میں یہی قوت تھی۔ جس کو دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس بحث کو طول نہیں دیا

صفحہ ٤٦٧

کہ خدا کا ظل سمجھ کر اسے اپنی سرکشی پر اصرار کرنے کا موقع مل سکتا تھا۔ آپ نے فوراً دوسری دلیل پیش کردی اور ”ان الله یاتی بالشمس (البقرہ:٢٥٨)“ (خدا آفتاب کو مشرق سے نکالتا ہے) کہہ کر بولنے کا موقع باقی نہ چھوڑا اور یہی ظلیت ہے جس کی بناء پر اولیٰ الامر سے حکام وقت بھی مراد لئے جاتے ہیں اور ان کی اطاعت کی ضرورت اس لئے سمجھی جاتی ہے کہ خدا نے فرمایا ہے: ”لا تلقوا بایدیکم الی التهلکة (البقرۃ:١٩٥)“ ﴿اپنے تئیں خود ہلاکت میں نہ ڈالو۔﴾ یعنی حکام وقت کی اطاعت نہ کریں تو وہ خدائی اختیارات کا سایہ ڈال کر ہلاک کر سکتے ہیں۔ مگر نبی کی حقیقت اس کے خلاف ہے۔ نبی کی تعریف قرآن نے صرف یہ کی ہے: ”انما انا بشر یوحی الی (الکہف:١١٠)“ ﴿میں صرف انسان ہوں جس پر وحی کی گئی۔﴾ اس میں بشر جنس اور یوحی الیٰ فصل ہے۔ جو تمام انسانوں کو نبی سے علیحدہ کرتی ہے۔ یہ وحی جس پر نازل ہو۔ وہ حقیقی معنوں میں نبی ہے اور جس پر نازل نہ ہو۔ وہ نبی اور نبی کا ظل کچھ بھی نہیں۔

کیونکہ وہ ایسی ہدایت نہیں دے سکتا جو خدا نے خاص اس کی وساطت سے نازل کی ہو اور نبی کی بتائی ہوئی ہدایت ایک گنہگار بلکہ ایک کافر کی وساطت سے بھی دوسروں تک پہنچ سکتی ہے۔ آنحضرت ﷺ کی دی ہوئی ہدایت کا چرچا ابو جہل اور ابولہب بھی کرتے تھے اور ان کی اطلاع سے بہت لوگوں کو میلان پیدا ہوا اور وہ ایمان لائے۔ تو کیا ابو جہل اور ابولہب بھی ظلی نبی تھے؟

غرض خدا کی تمام صفات کمال وجود، قوت ارادہ، سمع و بصر وغیرہ اس کی مخلوق کے اندر ناقص شکل میں موجود ہیں اور سب مخلوق خدا کا سایہ اور اس کی ذات کا جلوہ ہے۔ مگر نبی کی حقیقت ذاتی میں جو صفت داخل ہے۔ یعنی صاحب وحی ہونا وہ کسی اور انسان میں موجود نہیں اور اس لئے نبی کا سایہ کوئی نہیں۔ پس جو شخص مرزا قادیانی کو ظلی نبی مانتا ہے اور آپ پر خدا کا پیغام نازل ہونے کا یقین رکھتا ہے۔ وہ آپ کو حقیقی معنوں میں نبی مانتا ہے۔ ظلی اور بروزی وغیرہ وغیرہ غیر شرعی اور خود ساختہ اصطلاحوں سے اس حقیقت پر پردہ نہیں پڑ سکتا۔

١؎ احمدی مرزا قادیانی پر وحی نازل ہونے کا یقین رکھتے ہیں اور انہیں مستقل نبی ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ تو مغالطہ یہ دیا کرتے ہیں کہ خدا کا کلام صرف انبیاء سے مخصوص نہیں۔ وہ اپنے مخلص بندوں سے خوشنودی کا اظہار کرتا ہے تو ان پر بھی اپنا کلام نازل فرماتا ہے۔ جسے الہام کہتے ہیں اور غرض یہ ہوتی ہے کہ بندہ کو اس اعزاز کی اطلاع دے جو اس نے خدا کے دربار میں اپنے تقویٰ وطہارت سے حاصل کیا۔ اس مغالطہ کو دیکھ کر عوام دھوکہ کھاتے ہیں اور جب خدا کی ہم کلامی کو ممکن مان لیتے ہیں اور مرزا قادیانی کے الہام کو عقیدت کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٧

صفحہ ٤٦٨

بلکہ بروزی کا لفظ ایسے مکروہ خیال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جو ایک مسلمان کے دل میں داخل ہی نہیں ہوسکتا۔ یہ ہندوستانی خیال ہے اور وہ بھی خدا کی نسبت کہ وہ اپنے برگزیدہ بندوں کے اندر داخل ہوتا اور ان میں خدائی صورت پیدا کر دیتا ہے۔ ہندو ایسے شخص کو ایشور کا اوتار کہتے ہیں۔ اس کا ترجمہ کرنے کے لئے ادھر والوں نے حلول یا ظہور کا لفظ استعمال کیا ہے اور کہتے ہیں کہ بقول ان کے فلاں شخص خدا کا مظہر ہے یا خدا نے اس میں حلول کیا ہے۔

مسلمانوں نے کبھی اس خیال کو قابل اعتنا نہیں سمجھا۔ صرف ان کے علم میں ہے کہ ہندو ایسا عقیدہ رکھتے ہیں۔ احمدی مجلس میں اس علم سے کام لینے کا جذبہ پیدا ہوا تو گمان ہوتا ہے کہ

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) تو ”یأتی قمر الانبیاء“ (تذکرہ ص ٢٠٧، طبع ٣) ”انت منی بمنزلة ولدی“ (تذکرہ ص ٥٢٦، طبع ٣) ﴿تم نبیوں کے چاند ہو اور تم میرے بیٹے کے برابر ہو۔﴾ اور ایسے ایسے الہاموں کو دیکھ کر مرزا قادیانی کی ہر گونہ عظمت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ مگر حقیقت کو دیکھنے والے جانتے ہیں کہ انسان کے اندر کلام کی قوت پیدا کرنے کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے دلی خیال کو دوسرے کے دل میں داخل کرنے سے عاجز ہے اور صرف اپنی آواز کسی کان تک پہنچا سکتا ہے۔ مگر خدا عاجز نہیں قادر مطلق ہے۔ انسان کا دل اس کے قبضہ میں ہے۔ وہ کسی بندہ سے خوشنود ہوتا ہے تو اپنی خوشنودی کا ایقان اس کے دل میں پیدا کر سکتا ہے۔ ایسے بندہ کا دل اطمینان کی دولت سے معمور ہوتا ہے۔ وہ تقویٰ و طہارت کی پابندی میں لذت محسوس کرتا ہے اور خود بخود یقین کر لیتا ہے کہ خدا مجھ پر مہربان ہے۔

بندہ کو اس وقت کان سے سننے کی ضرورت نہیں تو خدا کو کلام کرنے کی ضرورت کیا۔ بلکہ اس سے بڑھ کر خدا کو اس سے کوئی کام لینا مقصود ہوتا تو دل میں اس کا پختہ ارادہ پیدا کر دیتا ہے۔ کسی حقیقت کو اس پر منکشف کرنا ہوتا ہے تو دماغ کو خود بخود سمجھ لینے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ یہی الہام کی حقیقت ہے۔ اس سے زیادہ نہیں۔ اس لئے بڑے بڑے مصنفین اپنی تحریر میں کوئی عجیب نکتہ بیان کرتے ہیں تو لکھا کرتے ہیں: ”ھذا ما الھمنی ربی“ ﴿اس نکتہ کا الہام خدا کی طرف سے ہے۔﴾

البتہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام پر اپنا کلام نازل فرمایا ہے کہ وہ دوسروں کو سنائیں اور خدا کے احکام ان کے دل تک پہنچائیں کہ دوسروں کے دل پر انبیاء کا بھی قبضہ نہیں۔ یہ فریضہ انبیاء سے مخصوص ہے۔ خدا سے ہم کلام ہونا بھی انہی کا امتیازی خاصہ ہے۔ اوروں کو اس کی ضرورت نہیں اور خدائے حکیم حکمت سے خالی اور بے ضرورت عمل کرنے سے بالاتر ہے۔

٨

صفحہ ٤٦٩

انہوں نے حلول اور ظہور کے لفظوں کو عمداً ہاتھ نہیں لگایا اور ان کی بجائے ان کا ہم معنی بروز کا لفظ ایجاد کیا ہے اور دوسری جدت یہ کی ہے کہ خدا کی بجائے حلول کرنے والا نبی کو قرار دیا ہے۔ گویا نبی کسی شخص میں ظہور کرتا ہے تو اس کو نبوت کی صفات عطا کرتا ہے۔ وہ خیال غلط تھا کہ خدا حلول کرتا ہے تو یہ خیال غلط در غلط ہے کہ نبی کسی میں بروز کرتا ہو۔ خدا تو پھر بھی قادر مطلق ہے اور وہ جس شان میں چاہے ظہور کر سکتا ہے۔ ناپاک اور عاجز مخلوق میں اس کا داخل ہونا قدوسیت اور اس کی عظمت وجلال کے بیشک خلاف ہے۔ مگر اس کے احاطہ قدرت میں داخل ہے۔

لیکن مادی ہستی جو بشریت کی حدود سے باہر نہیں کی گئی۔ کیونکر ایسی قدرت کا مالک بن سکتی ہے کہ دنیا کو چھوڑنے کے تیرہ سو سال بعد کسی اور کے وجود میں در آئے اور اس کو نبی بنادے۔ اگر بالفرض ایسا ہو سکتا ہو جب بھی یہ خیال کوئی ہندو شاید قبول کر سکے۔ مسلمان کے ذہن میں یہ مسئلہ داخل بھی کیا جائے تو اس کی عقل فعال فوراً اگل دیتی ہے اور شاید یہی وجہ ہوگی جو ظہور اور حلول کا لفظ استعمال نہیں کیا کہ مسلمان اسے سنتے ہی نفور ہوجاتے۔ بروزی نبی کی اصطلاح پیدا کی تاکہ اس کی حقیقت کو سمجھنے اور اصلیت تک پہنچنے کے بغیر بعض جلد باز اپنا نام ماننے والوں کی فہرست میں درج کروالیں۔ خدارا کوئی احمدی بتائے کہ بروزی نبی کے معنی اس کے سوا کیا ہو سکتے ہیں۔

کیا جناب رسول خدا ﷺ کے مرزا قادیانی کے اندر بروز کرنے میں اور تناسخ میں کوئی فرق ہو سکتا ہے؟ پس جناب امام صاحب احمدیوں میں سے خواہ کوئی شخص مرزا قادیانی کو حقیقی معنوں میں نبی کہے۔ خواہ کوئی ظلی اور بروزی کی قید لگائے اور خواہ کوئی نبی کا لفظ استعمال نہ کرے۔ جب وہ سب مرزا قادیانی کو مامور من اللہ کہتے ہیں۔ ان پر کلام خدا نازل ہونے کے معترف ہیں۔ ان کی اطاعت کو فرض سمجھتے ہیں اور ان کے منکرین کو عذاب کا مستحق جانتے ہیں۔ یعنی نبی کی ہر شان اور ہر صفت کو مرزا قادیانی کے اندر موجود مانتے ہیں۔ تو محض لفظی اختلاف سے ان کے اس عقیدہ متحدہ میں کیا فرق آسکتا ہے اور اس عقیدہ پر متحد ہونے کی وجہ سے اگر مسلمان تمام احمدی جماعت کو اپنے سے علیحدہ سمجھتے ہیں۔ تو اس میں کیا غلطی ہے؟

بیشک احمدی قرآن کو اور رسول عرب علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مانتے ہیں۔ مگر اسی طرح مسلمان بھی انجیل پر اور جناب مسیح علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہیں اور اسی طرح مسیحی تورات پر اور جناب موسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہیں اور موسیٰ علیہ السلام سے پہلے جو سلسلہ انبیاء علیہم السلام کا مانا ہوا ہے اور جو صحیفے ان بزرگواروں پر نازل ہوئے ہیں۔ ان سب کو یہ تمام جماعتیں مانتی ہیں اور باوجود اس کے یہودی، عیسائی اور مسلمان ایک دوسرے سے جدا ہیں۔ یہودی سلسلہ انبیاء کو مانتے

٩

صفحہ ٤٧٠

ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر آ کر ٹھہر گئے۔ عیسائیوں نے ان کو مانتے ہوئے ایک اور نبی یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا اقرار کیا تو یہودی نہ رہے اور ان کا دعویٰ نہیں ہے کہ ہم تورات اور موسیٰ علیہ السلام کو مانتے ہیں تو ہمیں یہودی سمجھا جائے۔

مسلمانوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے بعد جناب محمد عربی ﷺ کی نبوت کا اعتراف کیا اور عیسائیوں سے جدا ہو گئے۔ وہ بھی نہیں کہتے کہ ہم کو انجیل اور عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھنے کی وجہ سے عیسائی سمجھا جائے۔ تو جب احمدیوں نے بھی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد ایک اور شخص اسی شان اور اختیار کا مان لیا تو خواہ اس کا نام مجدد رکھیں یا نبی کہیں یا ظل نبی۔ وہ مسلمانوں سے الگ کیوں نہ ہوئے اور قرآن ورسول عرب علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مان کر وہ کیونکر مسلمانوں میں شامل رہ سکتے ہیں؟ جبکہ اسی دلیل سے مسلمان عیسائیوں میں اور عیسائی یہودیوں میں شامل نہیں رہ سکتے۔

سلسلہ انبیاء میں جب کبھی اسی قسم کی صفات اور کمالات رکھنے والے شخص کا اضافہ ہوتا رہا ہے۔ تو نیا فرقہ پہلے فرقہ سے جدا سمجھا گیا ہے اور خود جدید فرقہ نے اپنے تئیں پہلے فرقہ کے ساتھ چسپاں کئے جانے پر زور نہیں دیا۔ تو احمدی انہی حالات کو پیدا کرنے اور اسی شان کے ایک شخص کو سلسلہ میں ایزاد کرنے کے بعد کیوں مسلمانوں کی طرف للچائی ہوئی نظر سے دیکھ رہے ہیں؟

اگر مسلمان ان کو اپنی جماعت سے علیحدہ سمجھتے ہیں تو ان کو بھی اپنے ہادی کے کمالات پر بھروسہ کرنا اس کی ہدایات پر قانع ہونا اور مسلمانوں سے بے پروا ہو جانا چاہئے۔ بیشک جناب مرزا قادیانی نے شریعت اسلام کی اکثر ہدایات کو اپنی جماعت کے لئے واجب العمل ٹھہرایا ہے۔ مگر یہی حکم مسلمانوں کو انبیاء سلف کی نسبت دیا گیا ہے اور سورۂ انعام میں اکثر برگزیدہ انبیاء کا نام لے کر فرمایا ہے: ”اولئک الذین هدی الله فبهدا هم اقتده (الانعام:٩٠)“ ﴿ان انبیاء کو خدا نے ہدایت دی، تم ان کی ہدایت کا اتباع کرو۔﴾ اور یہ جو مرزا قادیانی اپنے تئیں جناب محمد ﷺ کا متبع کہتے ہیں۔ اس سے بھی مرزا قادیانی منصب نبوت سے معزول نہیں ہو سکتے۔ قرآن نے خود محمد رسول اللہ ﷺ کو جناب ابراہیم علیہ السلام کی ملت کا متبع بتایا ہے۔ ”قل بل نتبع ملة ابراهيم حنيفا“ ﴿اے نبی کہہ دو کہ ہم ابراہیم حنیف کی اطاعت کرتے ہیں۔﴾ اور باوجود اس کے ہمارے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام سید المرسلین اور امام الانبیاء ہیں۔

اگر کہو کہ مرزا قادیانی نے کوئی شریعت پیش نہیں کی اور وہ مستقل نبی ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے۔ تو یہ بھی غلط ہے۔ مسیح علیہ السلام مستقل نبی اور جداگانہ مذہب لانے والے ہیں۔ مگر اپنی

١٠

صفحہ ٤٧٤

شریعت کا صرف یہی حکم سناتے ہیں کہ: ”مصدقا لما بین یدی من التوراة ولا حل لکم بعض الذی حرم علیکم (آل عمران:٥٠)“ ﴿تصدیق کرتا ہوں توراۃ کی جو مجھ سے پہلے نازل ہوئی اور کوئی چیز جو تم پر حرام تھی حلال کرنے کے لئے آیا ہوں۔﴾ یعنی توراۃ کی ہدایت کو مانتے ہیں اور صرف بعض محرمات کو حلال کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہی کام مرزا قادیانی نے کیا ہے۔ وہ شریعت اسلام کی ہدایت کو مانتے ہیں۔ مگر اسلام کی رو سے کفار کا نرغہ ہو تو مسلمانوں کو آرام سے بیٹھنا حرام اور تلوار لے کر سینہ سپر ہونا فرض تھا۔ مرزا قادیانی نے جہاد کو منسوخ کیا اور جہاد کے وقت اپنی جماعت پر آرام سے بیٹھے رہنا حلال کر دیا۔ حالانکہ جہاد کے احکام قرآن کے بہت بڑے حصے کو گھیرے ہوئے ہیں۔ تو مستقل نبی اور جداگانہ مذہب کے مقتداء کیوں نہ ہوئے۔ اگر کہو کہ جہاد کا حکم شریعت اسلام میں مرزا قادیانی کے آنے تک مؤقت تھا۔ تو ایسی توقیت سے کوئی شریعت خالی نہیں۔ سب احکام آئندہ نبی کے آنے تک مؤقت ہیں اور سب آنے والے انبیاء کی پیشین گوئیاں ہو چکی ہیں۔ اسلامی لٹریچر کی حفاظت بہت ہوئی ہے۔ کچی پکی تمام روایات حامی اور منکر کو مل جاتی ہیں۔ مذاہب سلف میں یہ اہتمام نہیں ہوا پھر بھی مختصر تذکرے موجود ہیں۔

اور یہ حق ہے کہ اگر مذہب حق تحریف اور کج فہمی سے خالی ہو تو نوحی و ابراہیمی ، موسائی و عیسائی و محمدی سب کا مذہب ایک ہے۔ مگر ہر امت کے مسلک میں خود خدا نے تھوڑا تھوڑا تفاوت رکھا ہے۔ ارشاد ہے: ”لكل جعلنا منكم شرعة ومنهاجا ولو شاء الله لجعلكم امة واحدة (المائده:٤٨)“ ﴿ہم نے تم سب کے لئے الگ شریعت اور طریقہ بنایا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بناتا۔﴾ اور یہی تھوڑا تفاوت مرزا قادیانی کے مسلک میں ہے۔ اس لئے یہ بھی جداگانہ امت ہوئی مسلمان نہ ہوئی۔

بدقسمتی سے مرور زمانہ کے ساتھ مسلمانوں کو اقوال رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صحت میں کئی طرح کے شکوک پیدا ہو گئے ہیں۔ بعض نے ان کو یک لخت ترک کر دیا ہے۔ احمدیوں کو اس سے عبرت لینی چاہئے اور جو شقاق و نفاق اور افتراق ان میں ابھی سے پیدا ہو گیا ہے۔ اسے دور کرنا چاہئے۔ ابھی تک خود مرزا قادیانی کو دیکھنے والے کثرت سے موجود ہیں اور تصانیف کے علاوہ مرزا قادیانی کے اقوال اس وقت کے الحکم وغیرہ میں بتفصیل شائع ہوتے رہے ہیں اور لوگوں کے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ ان پر کار بند ہونا چاہئے۔ ایک موقعہ پر آپ مسلمانوں کے ساتھ رشتہ ناطہ کرنے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع کر رہے تھے۔ تو کسی نے پوچھا کہ اگر امام آپ

١١

صفحہ ٤٧٢

کی ذات سے ناواقف ہو اور آپ کے کفر و اسلام کی نسبت کوئی خیال نہ رکھتا ہو تو اس کا اقتداء جائز ہے یا نہیں۔

آپ نے کہا: ”اسے ہماری نسبت واقف کرو اور پوچھو کہ وہ ہمیں مانتا ہے یا نہیں؟ اگر مانے تو اقتداء کرو ورنہ نہیں۔“ پھر فرمایا کہ ”خدا ایک علیحدہ جماعت بنانا چاہتا ہے۔ تم لوگ اس کے حکم کے خلاف اغیار میں شامل رہنے کی کوشش کیوں کرتے ہو؟ (اوکما قال)

مجھے مرزا قادیانی کے خاص الفاظ مستحضر نہیں رہے۔ مگر میں نے خود یہ واقعہ الحکم اخبار میں پڑھا ہے۔ اس کا مفہوم یہی تھا۔ پس جب مرزا قادیانی خود اپنی جماعت کو مسلمانوں سے علیحدہ کرتے ہیں۔ تو احمدی اپنے تئیں مسلمانوں میں شامل رکھنے پر فخر کیوں کرتے ہیں۔ کوئی مسلمان اپنے تئیں عیسائی نہیں کہتا اور مسیح علیہ السلام اور ان کی کتاب کو ماننے کے باوجود عیسائی ہونے کا فخر نہیں کرتا۔ تو احمدیوں میں اس غیرت کا فقدان کیوں ہے؟ مسلمانوں کا نام مسلم خود خدا نے رکھا ہے۔ ”هُوَ سَمّٰكُمُ الْمُسْلِمِينَ (الحج: ٧٨)“ ”ہم نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے۔“ اور اپنی جماعت کا نام احمدی خود مرزا قادیانی نے رکھا ہے اور وہ بھی خدا کی طرف سے مامور ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ پس جب عیسائی اور مسلمان ایک نہیں ہو سکتے تو مسلمان اور احمدی دو کیوں نہ ہوئے؟

مسلمان حضرت محمد ﷺ کی غلامی میں آکر اپنے تئیں آنحضرت ﷺ کی ذات عالی سے وابستہ کرنے میں اپنی سعادت سمجھتے ہیں اور تمام انبیاء سلف علیہم السلام پر ایمان رکھنے کے باوجود محمد عربی علیہ الصلوٰۃ السلام کی امت میں داخل ہونا اپنا طغراء امتیاز جانتے ہیں۔ احمدی جماعت ان سب کے بعد ایک اور آقا کا دامن پکڑتی ہے۔ اسے مامور من اللہ سمجھتی ہے۔ اس پر وحی ربانی نازل ہونا مانتی ہے۔ اس کی آمد پر شریعت محمدیہ کے بعض مسائل (جہاد وغیرہ) کی تنسیخ کی قائل ہے۔ اپنے رہنماء کو مسیح علیہ السلام سے افضل مانتی ہے۔ بلکہ فضیلت معراج جو مسلمانوں کے نزدیک محمد عربی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو تمام انبیاء علیہم السلام سے ممتاز کرتی ہے۔ بقول مرزا قادیانی اس کا احمدیوں کے مقتداء کو ذاتی تجربہ ہے۔

غرض نبوت کی کوئی اعلیٰ سے اعلیٰ فضیلت کوئی شان کوئی امتیاز ایسا نہیں ہے۔ جو احمدیوں کے مقتداء میں نہ مانا گیا ہو۔ مگر باوجود اس کے وہ اپنے تئیں اپنے مقتداء کی ذات خاص سے وابستہ کرنے میں شرم محسوس کرتے ہیں اور اپنے رہنماء کا حکم پاتے ہوئے اپنے تئیں مسلمانوں سے علیحدہ جماعت قرار نہیں دیتے تو کیا احمدیوں کے اور بالخصوص لاہوری فرقہ کے ان متضاد

١٢

صفحہ ٤٧٣

خیالات کا سبب یہ تو نہیں کہ جن بلند دعاوی پر وہ ایمان لا چکے ہیں۔ دل میں اپنے رہنماء کو ان کا اہل نہیں پاتے۔ اس لئے اپنے رہنماء کی مرضی کے خلاف اپنے تئیں علیحدہ جماعت شمار نہیں کرتے۔ بیعت کرنے کی شرم دامن گیر ہے۔ اس سے انکار نہیں کر سکتے۔ مگر للچاتے ہیں کہ کسی طرح اسلامی جماعت سے چمٹے رہیں اور امت مرزائیہ میں نہیں بلکہ امت محمدی میں شمار ہوں یا شاید پولیٹکل حقوق کا خیال ہے جو مسلمانوں کی جماعت میں شریک رہ کر گورنمنٹ سے حاصل کر سکتے ہیں اور علیحدہ ہو جائیں تو اقلیت کی وجہ سے ان سے محروم رہتے ہیں۔

اگر ایسا ہے تو اس کا علاج یہی ہے کہ یا تو جرات اخلاقی سے کام لے کر اپنی تمام غلط فہمیوں کو خیر باد کہیں اور براہ راست مسلمان ہونے کا اعلان کریں۔ اسلام کا دروازہ ان سب کو اپنی مہمانی میں لینے کے لئے کشادہ ہے۔ یا اگر اپنے رہنماء کے زمرہ میں رہنے سے کسی طرح کی برکات اور خیرات سے متمتع ہونے کا اعتراف کرتے ہیں تو پولیٹکل حقوق کے حقیر اور ناپائیدار فائدہ کا لالچ نہ کریں۔ گورنمنٹ مہربان ہے۔

اپنی اقلیت کے لئے کسی طرح کے امتیازات منوالیں اور دلیر ہو کر اپنی صف علیحدہ قائم کریں۔ یہی دو راستے ہیں جن میں سے کسی کو اختیار کرنے کے بغیر ان کے دل کی بے قراری دور نہیں ہو سکتی۔ بحالت موجودہ وہ دونوں فرقے مسلمانوں سے علیحدہ ضرور ہیں اور اس صف میں ایستادہ ہونے کا استحقاق خود اپنی رضامندی سے ضائع کر چکے ہیں۔ تعلقات کو ترک کرنے کا رشتہ، مناکحت کو توڑنے کا، نماز جماعت سے علیحدہ رہنے کا اور نماز جنازہ میں شریک نہ ہونے کا حکم ان کے رہنماء کی طرف سے مل چکا ہے۔ جدید پیغمبر اور اس کے جدید احکام ہمیشہ جدید مذہب پیدا کرنے کا باعث ہوئے ہیں۔ یہی سنت اب جاری ہے۔ لاہوری فرقہ بعض شرائط کے ساتھ مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھنے کو جائز سمجھتا ہے۔

مگر ایک تو یہ ان کی خود ساختہ شریعت ہے۔ اسلامی شریعت کی رو سے جواز امامت کے لئے ان شرائط کی پابندی ضروری نہیں۔ دوسرے اس بارہ میں وہ اپنے رہنماء کے حکم ناطق سے سرتابی کرتے ہیں اور جب ان کا اپنے مقتداء سے یہ سلوک ہے۔ تو غیروں کو ان سے وفاداری کی توقع کب ہو سکتی ہے؟

رہا یہ کہ مسلمان احمدیوں کو کافر کہتے ہیں۔ مگر دیکھو تو سہی غیریت کو ظاہر کرنے کے لئے زبان کا اور محاورہ ہی کیا ہے۔ اس لفظ سے گھبراتے ہندو بھی ہیں۔ مگر کافر۔ ملیچھ اور بے دین کے لفظوں کو چھوڑتا کوئی نہیں۔ خلیفہ قادیانی مسلمانوں کو اصل میں کافر اور پولیٹکل مسلمان کہتے ہیں۔

١٣

صفحہ ٤٧٤

اس لئے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ حقوق میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ مسلمان یہ درد سر مول نہیں لیتے اور صریح کافر کہتے ہیں۔ یہ چھیڑ خوانی اور دل لگی ہمیشہ ہوتی رہے گی۔ بند نہیں ہو سکتی۔ بلکہ آدمی جتنا چڑے اتنا ہی لوگوں کو چڑانے میں مزہ آتا ہے۔

مگر یہ عقائد کا بڑا تفاوت اور اس پر اس قدر افتراق اور علیحدگی کا مترتب ہونا اسی صورت میں ہے کہ احمدی ختم نبوت کا انکار اور مامور من اللہ کے آتے رہنے پر اصرار کرتے ہیں۔ اگر کبھی یہ مسئلہ صاف ہو جائے اور خاتم النبیین کا آفتاب تشکیک و تاویل کی گھٹا سے باہر آجائے تو پھر ظلی اور بروزی کا جھگڑا ایک طرف مرزا قادیانی کے طرز عمل کو دیکھ کر مجددیت اور محدثیت بھی ہوا ہو جائے گا۔ مجددین سلف رضوان اللہ علیہم اجمعین نے تجدید مذہب اور اصلاح امت کا کام ایسی خاموشی سے کیا ہے کہ ان کا نام بھی کسی کو معلوم نہ ہو سکے۔ اپنی فضیلت اور برتری کا دعویٰ اور دعویٰ کا اعلان کہاں۔ مرزا قادیانی اس ٹائپ کے بالکل خلاف ہیں تو مجدد کیونکر ہو سکتے ہیں۔

مرزا قادیانی کے طرز عمل سے جو نتیجہ پیدا ہوتا ہے۔ اسے امت محمدیہ کی اصلاح بھی نہیں کہہ سکتے۔ پہلے پہلے مذہب اسلام کی تائید میں آنجناب نے براہین احمدیہ تصنیف کرنے کا ارادہ کیا تھا جو تکمیل کو پہنچتی تو شاید اسلام کی خدمت ہوتی۔ مگر ایک تو اس کی دو ابتدائی جلدوں کو دیکھ کر ہوشیار مسلمان بھانپ گئے تھے کہ مرزا قادیانی کیا بننے والے ہیں اور انہی دنوں میں مولوی غلام دستگیر قصوری نے ایک اشتہار نکالا تھا۔

جس کی پیشین گوئیاں مرزا قادیانی کے آئندہ دعاوی سے بالکل صحیح ثابت ہوئیں۔ دوسرے باوجود بہت بڑی تحدی کے وہ کتاب مکمل نہ ہوسکی اور آئندہ مرزا قادیانی کی تمام عمر اپنے دعاوی کو منوانے میں صرف ہوگئی۔ کہتے ہیں کہ آئینہ کمالات اسلام میں براہین احمدیہ کی ضرورت پوری کردی گئی ہے۔ مگر یہ کتاب اس تحدی کے مطابق کہاں جس کا اعلان براہین احمدیہ کی پوری جلد میں ختم ہوا تھا اور جس کے مقابلہ پر انعام دینے کے لئے دس ہزار کی جائیداد رجسٹری کی گئی تھی اور دوسرے اسلام کی تائید میں کوئی کوشش ہوئی بھی ہو تو اسے اس عظیم الشان لٹریچر سے کوئی نسبت نہیں جو مرزا قادیانی نے تمام عمر کے اندر اپنے خاص دعاوی کی تائید میں تیار کیا ہے۔

اب رہا اغیار کو کشش کرنا۔ اس لحاظ سے بھی اگر آنجناب پیغمبر ہوں تو انہیں کامیاب پیغمبر نہیں کہہ سکتے۔ بیشک انہوں نے اپنی زیست کے اندر کئی ہزار نفوس کو اپنے مینار کے نیچے مجتمع دیکھ لیا۔ مگر باستثناء دس پانچ کے وہ سب پہلے بھی مسلمان تھے اور مرزا قادیانی جب بھی بہشتی مینار کے سایہ میں آنے کے بغیر بہشتی تھے اور وہ کروڑ ہا مسلمان جو مرزا قادیانی کی آمد سے پہلے اپنے

اپنے عقائد اور اعمال کے لحاظ سے قادیانی کو نہ ماننے کی وجہ سے ناری ا مدارج کے مطابق جنتی ہوتے اور ط وحید ہے۔ کوئی اصلاح بھی نہیں ہو سکی محمد عربی علیہ الصلوٰۃ والس کی تلقین کی تو جن عیسائیوں نے اس اقرار توحید اور وہی موحدین کی عباد سے پہلے ناجی تھے اور بعد میں معذر چاہئے یا اصلاح ؟

یہ مانا کہ مرزا قادیانی ا عذاب گا۔ مگر ایک تو مرزا قادیانی کی خلود فی النار کو تسلیم نہیں فرماتے۔ د جو مرزا قادیانی نے قرآن کی کئی آ کرنے والا خدا بھی اس کو منظور فر ہے۔ اثر اشیا کی طاقت رفتار کے ب تک کوئی مخالف قوت اس کی مز عادت ایک بار پیدا ہو جائے۔ وہ مخالف قوت کا انتظار کرتی ہے۔

پس اگر کسی کے دل گیا ہے۔ تو عذاب کی آگ سے ہے۔ لیکن اگر کفر و شرک نے قلب ہو سکتا ہے۔ نہ ایمان کی تجلی اثر وہاں تاریکی کے اندر ابدالاباد ت سنت اللہ کے اندر نظر نہیں آتی تاریکی دور ہو اور نور ایمان حاص عن طبق (الانشقاق:١٩)

صفحہ ٤٧٥

اپنے عقائد اور اعمال کے لحاظ سے نجات کے مستحق اور رضوان الہی کے حصہ دار تھے۔ ایک مرزا قادیانی کو نہ ماننے کی وجہ سے ناری اور مستحق عذاب ہو گئے اور آپ نہ آتے تو وہ بدستور اپنے اپنے مدارج کے مطابق جنتی ہوتے اور طرفہ تر یہ ہے کہ توحید کے بارے میں جو تجدید مذہب کا مقصد وحید ہے۔ کوئی اصلاح بھی نہیں ہوسکی۔

محمد عربی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آسمانی باپ کی بجائے رب العالمین اور لم یلد ولم یولد کی تلقین کی تو جن عیسائیوں نے اس عقیدہ کو نہ مانا ان کا راندہ درگاہ ہونا حق بجانب تھا۔ یہاں وہی اقرار توحید اور وہی موحدین کی عبادت قائم رہی اور باوجود اس کے موحدین مرزا قادیانی کے آنے سے پہلے ناجی تھے اور بعد میں معذب ہو گئے۔ اس لحاظ سے آپ کی آمد کو امت محمدیہ کی بربادی کہنا چاہئے یا اصلاح؟

یہ مانا کہ مرزا قادیانی اپنے منکرین کو ایک حد تک عذاب کا مستحق فرماتے ہیں نہ کہ دائمی عذاب کا۔ مگر ایک تو مرزا قادیانی کا ایسا دعویٰ مسلمانوں کے علاوہ تمام کفار عالم کے لئے ہے اور وہ خلود فی النار کو تسلیم نہیں فرماتے۔ یہ بھی ہم جیسے گنہگاروں کے لئے ایک دل خوش کن خط تنسیخ ہے۔ جو مرزا قادیانی نے قرآن کی کئی آیتوں پر اپنے پیغمبرانہ اختیار سے کھینچا ہے۔ کاش قرآن کو نازل کرنے والا خدا بھی اس کو منظور فرمالیتا۔ مگر افسوس کہ قانون قدرت اس کے خلاف شہادت دیتا ہے۔ انرشیا کی طاقت رفتار کے بعد سکون اور سکون کے بعد رفتار کبھی پیدا ہونے نہیں دیتی۔ جب تک کوئی مخالف قوت اس کی مزاحمت نہ کرے۔ بلکہ ایک چیز کی حالت اور ہر ایک انسان کی جو عادت ایک بار پیدا ہو جائے۔ وہ ہمیشہ ترقی کرتی رہتی ہے اور بدلنے کے لئے ویسی ہی زبردست مخالف قوت کا انتظار کرتی ہے۔

پس اگر کسی کے دل میں ایمان کا سونا موجود ہے اور معصیت کا زنگ اس پر غالب آ گیا ہے۔ تو عذاب کی آگ سے جل کر زنگ کا دور ہونا اور خالص سونے کا دوبارہ قیمت پانا ممکن ہے۔ لیکن اگر کفر و شرک نے قلب کو بالکل تاریک کر دیا ہے۔ تو موت کے بعد نہ توبہ کا سوہان کارگر ہوسکتا ہے۔ نہ ایمان کی تجلی اڑ سکتی ہے۔ کیونکہ دار آخرت دارالعمل نہیں۔ دارالمکافات ہے۔ وہاں تاریکی کے اندر ابدالاباد تک ترقی پانے اور عذاب میں گرفتار رہنے کے سوائے کوئی صورت سنت اللہ کے اندر نظر نہیں آتی اور کافر وہاں جا کر کوئی عمل نہیں کر سکتا۔ جس سے اس کے دل کی تاریکی دور ہو اور نور ایمان حاصل کر کے جلوہ ضیاء ربانی کا مستحق بنے۔ وہاں ”لتركبن طبقا عن طبق (الانشقاق:١٩)“ (تم درجہ بدرجہ چڑھتے جاؤ گے) اور ”سنستدرجهم من

١٥

صفحہ ٤٧٦

حيث لا يعلمون (القلم:٤٤) ”ہم ان کو بتدریج اس عذاب تک لے جائیں گے جو انہیں معلوم نہیں۔“ کا حکم ہی قانون قدرت کے مطابق ہے۔

مگر خیر میرا اصل مطلب یہ تھا کہ کسی قدر عذاب ایک تو مرزا قادیانی کے نزدیک سب کے لئے عام سزا ہے اور وہی مسلمانوں کو مرزا قادیانی کا انکار کرنے کی وجہ سے ملے گی اور دوسرے اگر مسلمانوں کو مرزا قادیانی کا انکار کرنے کے بعد دیگر کفار کی نسبت عذاب کم دیا جائے گا۔ مگر دیا ضرور جائے گا۔ جب بھی اگر مرزا قادیانی تشریف نہ لاتے تو مسلمان اپنے گناہوں پر عذاب پاتے مگر اس عذاب سے جو مرزا قادیانی کے انکار سے مترتب ہوا ضرور محفوظ رہتے۔

پس جہاں مرزا قادیانی سے پہلے دنیا کے تمام مسلمان اس خاص عذاب سے محفوظ تھے۔ وہاں مرزا قادیانی کی آمد پر چالیس کروڑ میں سے چند ہزار یا چند لاکھ بچ سکیں گے۔ باقی سب معذب ہوں گے۔ پس آپ کی آمد امت محمدیہ کے لئے خوش قسمتی کیا ہوئی، سخت بدقسمتی کیوں نہ ہوئی؟

رہا وہ کام جو مرزا قادیانی کے بعد آپ نے اور خواجہ کمال الدین صاحب نے ممالک غیر میں جاری کیا ہے۔ اس کی کمیت اور کیفیت مجھے معلوم نہیں۔ البتہ ایک بار یاد پڑتا ہے۔ میں نے کمال الدین کی زبان سے سنا تھا کہ یورپ میں احمدی اور غیر احمدی کا مناقشہ پیدا کرنا مناسب نہیں۔ وہاں صرف اسلام کی دعوت دی جاتی ہے۔ اگر ایسا ہے اور اگر اس کام پر وہ تمام اعتراض غلط ہیں۔ جو اخباروں میں وقتاً فوقتاً نکلتے رہتے ہیں۔ تو بیشک آپ کے کام کو اسلامی کام سمجھنے کے سوا چارہ نہیں۔ مگر ایک تو میں یہاں دیکھتا ہوں کہ احمدی جماعت کا کوئی فرد کسی مجلس میں شریک ہو اور وہ سب کیسے ہی ضروری کام میں یا کیسی ہی مصیبت کو مندفع کرنے میں مصروف ہوں۔ احمدی بہادر احمدیت کو پیش کرتا اور بحث کا دروازہ کھول دیتا ہے۔

میں احمدیوں کو معیوب نہیں سمجھتا۔ مجبور جانتا ہوں اور بیشک انسان کو اپنے مسلک کی تبلیغ کا ایسا ہی شغف ہونا چاہئے۔ آریہ بھی یہی وصف رکھتے ہیں اور مسلمانوں میں سے شیعہ اور اہل حدیث بھی کسی قدر اس وصف سے متصف ہیں۔ کاش تمام مسلمانوں کو اپنے گھر کی ایسی معلومات اور ان کو پھیلانے کا ذوق ہوتا۔ مجھے صرف یہ تعجب ہے کہ احمدی حضرات وقت کی ضرورت کو بھی نہیں دیکھتے اور بعض اوقات بحث میں وہ کام خراب کر دیتے ہیں۔ جس کے لئے جمع ہوں۔ ان کی اس عادت کو دیکھتے ہوئے میں حیران ہوں کہ یورپ میں کام کرنے والوں کی احمدی فطرت کیونکر بدل جاتی ہوگی اور وہاں احمدی سے صرف مسلمان کیونکر رہ جاتے ہوں گے اور اگر

١٦

بالغرض ایسا ہونا بھی ہو تو احمدی مسل مطابق یہ دلیل ضرور پیش کرتے ہو خدا سے ہمکلامی کا شرف پانے وال پر وہ بظاہر اسلام کی خوبی کا اظہار کر

مگر حقیقت میں جو ہرا نقاب کرنے سے اسلام کے اندر لاحقہ کا ناسخ بنتا ہے۔ اس کے علم ۔ طرف سے جس اسلام کو وہاں پ کواکب کو بے نور کرنے کی صلاحی ہو اور اگر اس کا دروازہ ہمیشہ بلا و کیوں ہو۔ وحی والہام اسلام سے ہوتا رہے گا۔

یعنی منزل مقصود تک دینوں میں اسلامی دین میں اور کا اختیار رکھتے ہیں۔ وہ کیوں ک اٹھائیں۔ یا کیوں کسی آنے والی جاری نہ رکھیں۔ اسلام کا تفوق ا ہو سکتی ہے کہ اسلام نے وحی والہا ایسے مکمل طریق سے پورا کر دیا ہ اس پر اضافہ کرنا ممکن نہ ہو اور اس کے زمانے میں اس وقت کے ا ہڈیوں اور پتھروں پر نقش کرنے شوق پیدا کرنے سے اور طبع وا حفاظت ایسی ہوئی ہو کہ ابدالآبا نازل فرمانے اور اس کی حفا نبوت کے الفاظ میں ظاہر فرمائی

صفحہ ٤٧٧

بالفرض ایسا ہوتا بھی ہو تو احمدی مبلغین اسلام کی صداقت ثابت کرتے ہوئے اپنے مسلک کے مطابق یہ دلیل ضرور پیش کرتے ہوں گے کہ امت محمدیہ میں وحی الہام کی فضیلت رکھنے والے اور خدا سے ہمکلامی کا شرف پانے والے ہمیشہ آتے رہتے ہیں اور اب تک آ رہے ہیں اور اس طرح پر وہ بظاہر اسلام کی خوبی کا اظہار کرتے ہوں گے۔ مگر حقیقت میں جو برتری اور فوقیت ختم نبوت کے مسئلہ کو روشن اور اس کی حقیقت کو بے نقاب کرنے سے اسلام کے اندر ثابت ہو سکتی ہے اور جس کمال کی وجہ سے وہ تمام ادیان سابقہ و لاحقہ کا ناسخ بنتا ہے۔ اس کے علم سے اپنے زیر اثر رہنے والوں کو محروم رکھتے ہوں گے۔ احمدیوں کی طرف سے جس اسلام کو وہاں پیش کیا جاتا ہوگا۔ وہ آفتاب کی طرح ضیاء پاش ہو کر تمام نجوم و کواکب کو بے نور کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہوگا۔ کیونکہ اگر وحی کا نازل ہونا کسی غرض پر موقوف نہ ہو اور اگر اس کا دروازہ ہمیشہ بلاوجہ کشادہ رہتا ہو تو انسان کو صرف اسلام پر انحصار رکھنے کی ضرورت کیوں ہو۔ وحی والہام اسلام سے پہلے بھی نازل ہوتا رہا ہے اور بعد میں بھی نازل ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔

یعنی منزل مقصود تک پہنچانے والی ٹرینیں ہمیشہ چلتی رہی ہیں اور چلتی رہیں گی۔ تو پہلی ٹرینوں میں اسلامی ٹرین میں اور آئندہ آنے والی ٹرینوں میں سے ہر ایک میں مسافر سوار ہونے کا اختیار رکھتے ہیں۔ وہ کیوں کسی اور ٹرین کا ٹکٹ واپس کریں اور نیا ٹکٹ خریدنے کی زحمت اٹھائیں۔ یا کیوں کسی آنے والی ٹرین کا انتظار کریں اور موجودہ وقت میں اطمینان سے اپنا کاروبار جاری نہ رکھیں۔ اسلام کا تفوق اور اسلام کے سوا سب طرف سے مایوس ہونے کی صورت جبھی پیدا ہو سکتی ہے کہ اسلام نے وحی والہام کے مدعا کو جو ہمیشہ نقص سے کمال کی طرف ترقی کرتا رہا ہے۔ ایسے مکمل طریق سے پورا کر دیا ہو کہ اس سے پہلے کبھی ایسی تکمیل کی صورت نظر نہ آئی ہو اور آئندہ اس پر اضافہ کرنا ممکن نہ ہو اور اس مدعا خاص کی نسبت جو ہدایت نامہ نازل فرمایا گیا ہے۔ جہالت کے زمانے میں اس وقت کے انسانوں کے بے نظیر قوت حافظہ سے، کاغذ کی کمیابی کے زمانے میں ہڈیوں اور پتھروں پر نقش کرنے سے، فراوانی سامان کتابت کے زمانے میں ہر کہ و مہ کے اندر تحریر کا شوق پیدا کرنے سے اور طبع و اشاعت کی ایجاد ہونے پر اس کے ذخیروں کا انبار لگانے سے اس کی حفاظت ایسی ہوئی ہو کہ ابدالآباد تک اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ نہ رہا ہو۔ ایسے مدعا خاص کو نازل فرمانے اور اس کی حفاظت کا ایسا اہتمام کرنے میں اسلامی تفوق کا راز مضمر ہے اور اسی ختم نبوت کے الفاظ میں ظاہر فرمایا گیا ہے۔

١٧

صفحہ ٤٧٨

یعنی جو عظیم الشان کام صدیوں کے اندر بتدریج ترقی کرتا آیا تھا۔ اس کی تمامیت پر ”الیوم اکملت لکم دینکم (المائدہ:٣)“ ﴿آج تمہارا دین ہم نے مکمل کردیا۔﴾ کی مہر ثبت ہوگئی اور ”انا لہ لحافظون (الحجر:٩)“ ﴿ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔﴾ کے وعدہ نے اضاعت کا اندیشہ دور کیا۔ آئندہ کوئی جدید ہدایت نازل کرنے کی ضرورت نہ رہی۔ حضور علیہ السلام خاتم النبیین قرار پائے۔ اب بے وجہ وحی کا نزول نہ ہوگا۔ اس کا سب سے اعتراف کروایا گیا: ”ربنا ماخلقت ھذا باطلا (آل عمران:١٩١)“ ﴿اے رب تو نے یہ بے فائدہ نہیں پیدا کیا۔﴾ اور سب کو تنبیہ کی گئی کہ خالق کا کوئی فعل عبث نہیں۔ ”افحسبتم انما خلقنا کم عبثا (المومنون:١١٥)“ ﴿کیا تم سمجھتے ہو کہ ہم نے تم کو بے فائدہ بنایا۔﴾

وحی والہام ہمیشہ نازل ہوتا رہا ہے اور اس نے ہمیشہ توحید ربانی سے آشنا کرنے کا کام دیا ہے۔ مگر قواء عقلیہ کی خامی و پختگی، تدبر و تفکر کی صلاحیت اور بروقت کی زبان اور محاورہ کے اندر مطالب کو کماحقہ ظاہر کرنے کی قابلیت میں جس قدر تفاوت رہا ہے۔ اسی قدر مسئلہ توحید کو ذہن نشین کرنے اور معرفت ربانی تک پہنچنے میں نقص یا کمال کا ظہور ہوا ہے۔ ابتداء میں بہت زیادہ نقص باقی رہا اور پھر بتدریج اس میں کمی ہوتی گئی۔ وقت اور ہر زمانے کی وحی محفوظ نہیں رہی۔ مگر اس کو اخذ کرنے کے بعد توحید کے سمجھنے میں جو غلط فہمیاں ہوتی رہی ہیں۔ ان میں سے اکثر اوراق زمانہ پر ثبت ہیں۔ ابتداء میں کسی خوشنما درخت یا کسی عجیب جانور کو دکھا کر بتایا گیا کہ خدا ان میں سے زیادہ باجمال اور اس سے زیادہ تعجب انگیز قدرت رکھنے والا ہے اور ان درختوں اور جانوروں میں اس کی قدرت کاملہ کا ظہور ہے۔ اس تبلیغ نے قرب خداوندی کا شوق پیدا کیا۔

مگر نادانی نے یہ اثر دکھایا کہ کچھ عرصہ کے بعد گائے اور بندر جیسے جانوروں اور پیپل اور تلسی جیسے درختوں کی بطور ایک معبود کے پرستش ہونے لگی۔ آئندہ انسانی ہوش و حواس نے ترقی کی اور پیش پا افتادہ چیزوں سے نظر آگے جانے لگی تو قدرت خداوندی کو ہوا، پانی اور آگ جیسی زبردست طاقتوں سے تشبیہ دی گئی۔ جس نے عناصر پرستی کا دروازہ کھولا۔ اسی طرح جس قدر دور کی چیزوں تک اور غیر محسوس قوتوں تک رسائی ہوتی گئی۔ ان سے سامان ترغیب پیدا کیا گیا اور ہدایت کی طرف بلایا گیا اور انسان خدا کی تلاش میں اجرام سماوی کی طرف اور بارش اور دولت

١٨

صفحہ ٤٧٩

وغیرہ کے دیوتاؤں اور دیویوں کی طرف جھکتا رہا۔ آخر میں صاف اور صریح الفاظ کے اندر وحی کا نزول ہونے لگا تو جب بھی جناب مسیح علیہ السلام کے محاورہ میں خدا کے لئے ہمارے آسمانی باپ کا لفظ استعمال کیا گیا اور لوگوں نے پدرانہ تعلق کا ذکر سن کر جناب مسیح علیہ السلام کو خدا کا بیٹا سمجھ لیا۔

غرض ہر وحی کے بعد انسان نے ذات خداوندی کو سمجھنے کی کوشش کی ہے تو اس کے لئے کسی نہ کسی طرح کی جسمانی شکل اور جسمانی اوصاف مان لئے ہیں۔ یہ صرف اسلامی وحی کا خاصہ ہے کہ اس نے ذات وصفات خداوندی کے ذکر میں کبھی اور کہیں ایسا کوئی لفظ استعمال نہیں کیا۔ جس سے آئندہ غلط فہمی کا ظہور اور کسی محسوس یا غیر محسوس مخلوق کو معبود سمجھنے کا امکان ہو۔ بلکہ اس نے ”لیس کمثله شی (الشوری:١١)“ ﴿اس کی مثال بھی کوئی نہیں﴾ ”سبحان الله عما یصفون (الصف:١٥٩)“ ﴿وہ لوگوں کی ہر طرح کی توصیف سے بالاتر ہے﴾ اور ”لا یحیطون به علما (طہ:١١٠)“ ﴿اس کو کسی کا علم گھیر نہیں سکتا۔﴾ جیسے صاف اور صریح الفاظ میں سمجھایا گیا کہ خدا ہر طرح کے ناقص اور ناپائیدار اوصاف سے مبرا اور انسانی فہم وقیاس میں درآنے سے بالاتر ہے اور اسے رب العالمین (سب کو پالنے والا) کہہ کر پدرانہ شفقت ورحم کا تصور قائم رکھا ہے اور پسری تعلق کا اندیشہ پیدا نہیں ہونے دیا۔ یہی وہ غایت معرفت ہے۔ جس تک انسان پہنچ سکتا ہے کہ بجائے خدا کو سمجھنے کے یہ سمجھا جائے کہ اسے کوئی سمجھ نہیں سکتا۔ اس سے آگے نہ انسانی فہم ترقی کر سکتا ہے اور نہ اس کو ترقی دینے کے لئے کسی وحی والہام کی ضرورت۔

اب انسان تمام ادیان سابقہ کو چھوڑ کر ہی اس معراج کمال تک پہنچ سکتا ہے اور اسلام کے بعد آئندہ کے لئے ہر قسم کے انتظار اور امید سے یکسو ہو کر اطمینان کے ساتھ اسلام پر قائم رہ سکتا ہے اور اسلام کا یہی وصف ہے جس کی وجہ سے تمام دنیا میں اسلام کی منادی کرنے اور کافۃ الناس کو اس کی طرف دعوت دینے کی ضرورت ہے۔ احمدی مبلغین اسلام کے اس وصف سے آشنا نہیں ہیں اور انہیں تعلیم ہی ایسی دی جاتی ہے کہ وہ ہمیشہ مفتری کو ملہم من اللہ سمجھنے کے لئے تیار ہیں۔ وہ اسلام کے ایسے مخصوص اوصاف اور کمالات کو کب پیش کر سکتے ہیں۔ جن سے انسان اسلام کی آغوش میں آنے پر مجبور ہو۔ جب وحی والہام کا دروازہ ہمیشہ کے لئے مفتوح ہے تو محمد

.١٩

صفحہ ٤٨٠

رسول اللہ ﷺ پر ایمان لا کر سخت عبادت اور ناگوار ایثار کا پابند ہونے کی بجائے آدمی ایک بھنگڑ کے نعرہ مستانہ کو وحی سمجھ کر ریش و بروت کی صفائی کو مغز عبادت اور آوارگی و بے لگامی کو کمال معرفت کیوں نہ قرار دے۔ تحریک احمدیہ نے ختم نبوت کو اڑا کر اسلام کو تبلیغی مذہب ہونے کے قابل نہیں چھوڑا۔ ہر شخص آزاد ہے اور کوئی کسی کا اتباع کرنے پر مجبور نہیں ہو سکتا۔ تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی۔

حضرت محمد ﷺ کے بعد مرزا قادیانی تشریف لائے تو قرآن میں بار بار خلود فی النار (آگ میں ہمیشہ جلنا) کا ذکر دیکھ کر جس خوف و دہشت سے جان ہوا ہو رہی تھی اس سے نجات ملی۔ دوسرے اپنی جان کو خدا کے راہ میں قربان کرنے کا جو ہوش ربا فریضہ گردن پر سوار تھا۔ اس سے آزاد ہو گئے تو کیوں نہ افتخار کریں۔ شاید کوئی اور ملہم پیدا ہو اور حج اور زکوۃ سے بھی سبکدوش کر دے۔ یا بعض مناہی محرمات کی اجازت دے۔ جب یہ سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ احکام پر خط تنسیخ کھینچ سکتا ہے۔ تو کبھی نہ کبھی اب سے زیادہ آسانی پیدا ہونے کا بھی احتمال ہے۔ کیا یورپ میں یہی تبلیغ ہوتی ہوگی۔ جس کے لئے مسلمانوں سے مدد طلب کی جاتی ہے؟

مگر نہیں، یادرکھئے تبلیغ اسلام کی ایک طرف احمدیہ کی تبلیغ کبھی نہیں ہو سکتی۔ جب تک یہ ثابت نہ کیا جائے کہ جو انوار و برکات اس تحریک کے اتباع پر مرتب ہوتے ہیں۔ وہ نہ کبھی پہلے حاصل ہوئے اور نہ اس تحریک میں داخل ہونے کے بغیر حاصل ہو سکتے ہیں۔ یعنی جس ہدایت کی طرف بلایا جاتا ہے۔ وہ مکمل ہے۔ بے نظیر ہے۔ آخری ہے اور رائل روڈ ہے۔ جب تک نبوت ختم نہیں ہوئی۔ جس قدر انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوتے رہے ہیں۔ سب خاص اقوام کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ ایک قوم کے سوا دوسرے قوم سے ان کا سروکار نہ تھا۔ اس لئے ایک وقت میں کئی کئی پیغمبر مبعوث ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جن کا حنیف ہونا انہیں متبوع خلائق بناتا ہے۔ ان کے زمانے میں بھی سدومیوں کی طرف حضرت لوط علیہ السلام مبعوث کئے گئے۔

کافۃ الناس کے لئے نبی جبھی مبعوث ہو سکتا ہے کہ اس کی شریعت مکمل ہو اور اس کے بعد وحی والہام منقطع کر دیا جائے۔ یہی ہوتا تھا اور ہو چکا۔ اب کسی مجدد، کسی محدث اور کسی نبی پر وحی والہام کے منقطع سلسلہ کو جاری نہ سمجھو۔

٢٠

صفحہ ٤٨١

نیز فرمائیے کہ اگر یورپ والوں کو صرف مسلمان بنایا جاتا ہے اور احمدیت سے آگاہ نہیں کیا جاتا تو آپ کے عقیدہ میں مرزا قادیانی پر ایمان نہ لانے سے آدمی کے اسلام میں جو نقص رہتا ہے آپ وہاں کے مسلمانوں میں اس کا دفعیہ کیونکر کرتے ہیں اور وہاں کے جو لوگ اسی حالت میں مرجاتے ہیں اور مرزا قادیانی سے واقف نہیں ہوتے۔ ان کے ”کسی قدر عذاب“ میں مبتلا رہنے کا کیا تدارک ہوتا ہے اور اگر آپ کے نزدیک صرف اسلام سے شناسا ہو کر وہ نجات کے مستحق ہوجاتے ہیں تو پھر ہندوستان کے مسلمانوں کا کیا قصور ہے۔ جو آپ انہیں مرزا قادیانی سے شناسا کرنے اور انہیں ”کسی قدر عذاب“ کا مستحق بنانے کی سر بکف کوشش کر رہے ہیں۔ جو رحم آپ کا اہل یورپ کے حال پر مبذول ہے۔ خدارا اس رحم سے ہندوستان کے غریب مسلمانوں کو محفوظ فرمائیں۔

یورپ والے تثلیث کے قائل یا دہریہ ہوتے ہوئے آپ کے ایسے رحم کے مستحق ہیں تو ہندوستان والے حضرت محمد ﷺ کا کلمہ پڑھتے اور توحید پر قائم رہتے ہوئے کیوں مستحق نہیں کہ ان تک مرزا قادیانی کا نام اور کام نہ پہنچایا جائے اور اس لاعلمی کو ان کے جنتی ہونے کا باعث بنایا جائے۔ یہ درخواست صرف اسی صورت میں ہے جبکہ آپ یورپ میں احمدیت کی تبلیغ نہ کرتے ہوں۔ لیکن اگر وہاں والوں سے بھی ہندوستان جیسا سلوک ہوتا ہے تو پھر آپ اسلامی خدمت کوئی نہیں کرتے۔ اپنے مذہب کا کام کرتے ہیں جو آپ کو مبارک رہے

آپ نے امام الزمان کے مسئلہ کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ یعنی آپ مرزا قادیانی کو امام زماں مانتے ہیں اور ان کی اطاعت کو فرض گردانتے ہیں۔ میرا خیال بھی ملاحظہ کیجئے۔ جناب رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد خلفاء راشدین کو آپ ضرور امام الزمان سمجھتے ہوں گے اور ان کے امام بننے کا طریق بھی آپ کو معلوم ہے۔ ان کو امت نے اپنے اتفاق سے انتخاب کیا اور وہ بغیر اپنی خواہش اور کوشش کے امام بنے۔ پس امام بننے اور بنانے کا صحیح طریق یہی ہے اور انہی کو آدمی نہ پہچانے تو جاہلیت کی موت مرتا ہے۔ ماموریت کا دعویٰ کرنا، اطاعت کی طرف بلانا اور منکرین کو عذاب سے ڈرانا پیغمبر کا خاصہ ہے۔ امام کا کام نہیں۔

مرزا قادیانی نے کوئی انوکھی بات نہیں کہی تھی۔ جس شکل سے ہمیشہ نبی آتے رہے ہیں۔ اسی شکل میں انہوں نے اپنے تئیں پیش کیا۔ آپ نے اور آپ کے فرقہ نے انہیں انوکھی چیز بنا دیا اور دنیا کا عجیب الخلقت انسان بنا کر پیش کیا۔ یعنی آپ کے نزدیک وہ معمولی امام ہیں۔

٢١

صفحہ ٤٨٢

معمولی مجتہد ہیں۔ معمولی محدث ہیں اور باوجود اس کے وہ اپنی شان میں ان میں سے کسی کے ساتھ کوئی مشابہت نہیں رکھتے تو آپ کی فلاسفی سمجھے کون؟

اس امامت کو دیکھئے، خلفاء راشدین کے بعد اس کا کیا حشر ہوا۔ یہی نا کہ بدقسمتی سے امت نے اس فریضہ کو فراموش کر دیا اور مروان جیسے مکار، عبدالملک جیسے جابر اور یزید جیسے ظالم حکام جو فریب کے زور سے، زر کے زور سے اور تلوار کے زور سے حکومت پر متصرف ہوتے رہے۔ آرام طلب اور غافل رعیت انہیں امام کا لقب دے کر اطاعت کرتی رہی اور امام کو صحیح معنوں میں قائم کرنے کی فرضیت عقائد کی کتابوں میں لکھی رہ گئی اور اس وقت سے لے کر آج تک امام کوئی نہیں ہوا۔

ہم سب اپنے فرض سے غافل رہنے کی وجہ سے گنہگار ہیں۔ مگر جب امام زمان کوئی موجود نہیں تو اس کو نہ پہچاننے کے مجرم نہیں ہیں۔ مرزا قادیانی اس شکل سے امام نہیں بنائے گئے تو آپ انہیں امام الزمان کیونکر فرض کر سکتے ہیں۔

یہ ہیں میرے وہ تمام خیالات جو آپ کا رسالہ ”ہمارے عقائد اور ہمارا کام“ دیکھ کر میرے دل میں پیدا ہوئے۔ انہیں پیش کرنے کی جرات کرتا ہوں اور آخر میں گزارش کرنے سے باز نہیں رہ سکتا کہ آپ اپنے عقائد اور اپنے کام کو اگر اس رنگ میں پیش کرتے کہ ایک جدید مسلک کے پیرو ہو کر آپ نے کیا پایا اور اسے کہاں تک پھیلایا تو کسی کو اس کی نسبت اظہار خیال کی ضرورت نہ تھی۔ ہر شخص کو کوئی مسلک پیدا کرنے کا یا اختیار کرنے کا اور اس کو رواج دینے کا حق حاصل ہے۔ ہمارے دل میں خیالات کا طوفان اس لئے اٹھتا ہے کہ آپ صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں اور باعث ترک ملاقات جو ہم سمجھتے ہیں۔ اسے مانتے نہیں اور جو خود بتاتے ہیں، سمجھاتے نہیں۔ یعنی آپ اپنے تئیں مسلمان کہہ کر ہم سے معانقہ کرتے ہیں اور اپنی رفتار قیامت کو جاری رکھتے ہوئے بہت جلد آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں اور ہم کہتے رہ جاتے ہیں کہ:

دیدار مے نمائی و پرہیز مے کنی
بازار خویش و آتش ما تیز مے کنی

اس کا جواب اگر عنایت ہوا تو نہایت شوق سے دیکھوں گا اور عجب نہیں جو دونوں یک جا شائع ہوں یا انتظار کے بعد یہی تحریر پریس میں جائے۔ فقط!

٣٢

PDF 484

خاتم النبیین لا نبی بعدی

سید آخر الزماں شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وسلم

مرزا کا چہرہ

اپنے آئینہ میں

حضرت مولانا مشتاق احمد ہوتوی

صفحہ ٤٨٤

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمدلله وحده والصلوٰة والسلام على من لانبى بعده

وجہ تالیف

چونکہ مرزائیوں کا گمراہ فرقہ اپنے باطل مذہب اور گندے عقیدے کی تبلیغ میں سرگرم ہے۔ اس لئے یہ مختصر سا رسالہ آپ کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔ جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کے اعمال و کردار، سب وشتم ، سفید و سیاہ جھوٹ، رنگین و مرصع گالیاں وغیرہ خود مرزا قادیانی کی ہی کتابوں سے نقل کر کے اس لئے جمع کی ہیں کہ وہ سادہ لوح انسان جو مرزائیوں کی چکنی چپڑی باتوں میں آ کر حقیقی مذہب اسلام سے روگرداں ہو کر کافر بننے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ ان کو اس گروہ ضال و مضل کی تمام فریب کاریوں سے آگاہ کیا جائے تا کہ کوئی مسلمان ان کے مکر وفریب کے جال میں نہ پھنسے۔ نیز مسیلمہ کذاب ثانی کی حقیقت اور اس کی تہذیب و اخلاق کی تصویر اس طرح عریاں ہو جائے کہ ہر آدمی یہ محسوس کرے کہ ایسا شخص مجدد، مسیح، نبی اور مصلح تو کیا شرافت و انسانیت کا حامل بھی نہیں ہو سکتا اور یہ رسالہ انشاء اللہ سلیم الطبع اور سعادت مند آدمی کو راہ راست پر لانے کا موجب بنے گا۔ پہلے مرزا قادیانی کی رنگین اور مرصع گالیاں جس سے اس کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ ان سے مشتے از خروار بطور نمونہ بالکل صحیح حوالہ جات سے نقل کرتا ہوں۔ ملاحظہ فرمائیں۔

مرزا قادیانی کی تہذیب ...... تصویر کا پہلا رخ

(کشتی نوح ص ١١، خزائن ج ١٩ ص ١٠)

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٥، خزائن ج ٢١ ص ١٢٧)

(ست بچن ص ٢١، خزائن ج ١٠ ص ١٤٣)

بدتر ہر ایک بد سے وہ ہے جو بدزبان ہے
جس دل میں یہ نجاست بیت الخلاء یہی ہے

(درثمین ص ١٢١)

٢

اب مرزا کی رنگین تصویر کا دوسرا رخ......

سب شیاطین الانس ہیں۔“

ہیں۔ وہ نہ صرف دروغ گو ک

علماء کو گالیاں

جانوروں میں سے سب س لوگ ہیں۔۔۔۔۔ اے مزدور خ

نطفہ بد گو ہے اور خبیث او رکھا ہے۔۔۔۔۔ تیرا نفس ایک ...... (انجام آتھم کی نسل ۔“ اور اس کے قادیانی کی اخلاقی تصویر

صفحہ ٤٨٥

اب مرزا کی رنگین گالیاں سنیں۔

تصویر کا دوسرا رخ ...... پیروں کو گالیاں

سب شیاطین الانس ہیں۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٧، ١٨، خزائن ج ١١ ص ٣٠٢)

ہیں ۔ وہ نہ صرف دروغ گو بلکہ سخت دروغ گو ہیں۔"

(نزول المسیح ص ٦٦ ، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٤)

(حاشیہ نزول المسیح ص ٧٨، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٨)

علماء کو گالیاں

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٤٢)

(انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١)

جانوروں میں سے سب سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے۔ مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں ..... اے مردار خور مولویو اور گندی روحو ...... اے اندھیرے کے کیڑو۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

(اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٦٩)

نطفہ بدگو ہے اور خبیث اور مفسد جھوٹ کو طبع کرنے والا منحوس ہے۔ جس کا نام جاہلوں نے سعد اللہ رکھا ہے ..... تیرا نفس ایک خبیث گھوڑا ہے۔ اے حرامی لڑکے۔"

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤، ١٥، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٦)

(انجام آتھم ص ٢٨٢، خزائن ج ١١ ص ٢٨٢) پر کہا "اے نسل بدکاراں یعنی اے بدکار عورتوں کی نسل۔" اور اس کے علاوہ بھی بے شمار کتابیں رنگین اور مغلظ گالیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ جو مرزا قادیانی کی اخلاقی تصویر کو برہنہ اور بے نقاب کر دیتی ہیں اور سنئے۔

٣

صفحہ ٤٨٦

عوام کو گالیاں

مرزا قادیانی کہتے ہیں:

ان العدیٰ صارو خنازیر الفلا نساءهم من دونهن الاکلب

یعنی دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ کر ہیں۔‘‘

(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

معارفها ويقبلنی ويصدق دعوتی الا ذرية البغايا“ یعنی میری کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے سوائے بدکار عورتوں کی اولاد کے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧)

دیکھا یہ ہے مرزا قادیانی کی تعلیم اور اس کی تہذیب:

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

بس ہم یہی کہتے ہیں کہ ان رنگین و مرصع گالیوں کے لائق مرزا قادیانی ہیں لہذا ہم ان کا ثواب مرزا قادیانی کی روح کو بخشتے ہیں۔

لطیفہ

مرزا قادیانی کا بڑا لڑکا فضل احمد مرزا قادیانی پر ایمان نہیں لایا اور مرزا قادیانی کی زندگی میں فوت ہو گیا تو اس کا آپ خود فیصلہ کریں کہ وہ کیا بنا اور اس کی والدہ کیا بنی؟

مرزائی عذر

مرزائی یہ عذر کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے جوابی طور پر گالیاں دیں اور یہ سخت کلامی ہے گالیاں نہیں ہیں۔

جواب ...... یہ عذر بالکل غلط ہے کیونکہ مرزا قادیانی خود کہتے ہیں ”میں نے جوابی طور پر کسی کو گالی نہیں دی ۔“

(مواہب الرحمن ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ٢٣٦)

خواہ مخواہ اس کی بد زبانی کو چھپانے کے لئے تاویلیں کرتے ہیں اور اگر یہ گالیاں نہیں ہیں تو ہم مرزائی امت کو یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ سب ذریۃ البغایا خنازیر الفلاء اور کلاب ہیں۔ کوئی

٤

تکلیف تو نہیں ہوگی اور ہونی بھی تعلیم دی تھی کہ:

گالیاں کبر ک تم نہ چھوڑ

انبیاء علیہم السلام کی توہین

گالیاں دیتا ہے۔“

لیکن اس کے باوج توہین کی ہے اس کو کوئی حلیم سے

حضرت عیسیٰ علیہ السلام

مرزا قادیانی لکھ بدزبانی میں اس قدر بڑھ گئے یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں

بھی نہایت پاک ومطہر ہے خون سے آپ کا وجود ظہور پ سے میلان اور صحبت بھی شای ایسا انسان کس چال چلن کا آ

ہے اور خراب چال چلن ۔“

صفحہ ٤٨٧

تکلیف تو نہیں ہوگی اور ہونی بھی نہیں چاہئے۔ بلکہ وہ ہم کو دعائیں دیں کیونکہ مرزا قادیانی نے یہ تعلیم دی تھی کہ:

گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو
کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار
تم نہ گھبراؤ اگر وہ گالیاں دیں ہر گھڑی
چھوڑ دو ان کو کہ چھپوائیں وہ ایسے اشتہار

(دُرثمین ص ٨٥)

انبیاء علیہم السلام کی توہین..... تصویر کا پہلا رُخ

(چشمہ معرفت ص ١٨، خزائن ج ٢٣ ص ٣٩٠)

گالیاں دیتا ہے۔“

(البلاغ المبین ص ١٩، ملفوظات ج ١٠ ص ٤٦٩)

لیکن اس کے باوجود مرزا قادیانی نے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر دریدہ دہنی اور ان کی توہین کی ہے اس کو کوئی حلیم سے حلیم شخص بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ دیکھئے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین..... تصویر کا دوسرا رخ

مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔ بدزبانی میں اس قدر بڑھ گئے تھے کہ یہودی بزرگوں کو ولدالحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں دیں اور برے برے نام رکھے۔“

(چشمہ مسیحی ص ١١، خزائن ج ٢٠ ص ٣٤٦)

بھی نہایت پاک و مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھی۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چال چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

ہے اور خراب چال چلن۔“

(ست بچن ص ١٧٢ حاشیہ، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٦)

٥

صفحہ ٤٨٨

بیں، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔‘‘

(مکتوبات احمدیہ ج١ص٢٣،٢٤)

رسول، اس درماندہ انسان کی پیش گوئیاں کیا تھیں۔ صرف یہی کہ زلزلے آئیں گے۔ قحط پڑیں گے۔ پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا نام پیش گوئی رکھا۔‘‘

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص٤، خزائن ج١١ ص٢٨٨)

بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے اپنی حرام کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا۔ یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔‘‘

(دافع البلاء آخری ص، خزائن ج١٨ ص٤٢)

سمجھتے تھے۔ جن کا آسیب خیال کرتے تھے۔ ہاں آپ کو گالیاں دینی اور بدزبانی کی عادت تھی...... یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص٥ حاشیہ، خزائن ج١١ ص٢٨٩)

ابن مریم مر چکا حق کی قسم
داخل جنت ہوا اے محترم
ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(تتمہ حقیقت الوحی ص٣٩، خزائن ج٢٢ ص٤٨٣)

(حاشیہ ست بچن ص٧٠، خزائن ج١٠ ص٢٩٥)

تذکرہ کر بیٹھا تو استاد نے اس کو عاق کر دیا۔ یہ بات پوشیدہ نہیں کہ کس طرح وہ مسیح ابن مریم

٦

صفحہ ٤٨٩

نوجوان عورتوں سے ملتا تھا اور کس طرح ایک بازاری عورت سے عطر بنواتا تھا۔“

(الحکم ٢١ فروری ١٩٠٦)

دیکھا اپنی جھوٹی اور انگریزی نبوت کی اشاعت میں کس قدر جرأت اور بے باکی سے ایک جلیل القدر پیغمبر کی توہین کی ہے۔

آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

عذر لنگ

مرزا قادیانی اور اس کی امت اپنے جرم کی پردہ پوشی کے لئے یہ عذر کرتے ہیں کہ یسوع کی توہین کی ہے عیسیٰ کی نہیں۔ کیونکہ عیسیٰ اور یسوع دو آدمی تھے۔

جواب ....... مرزا قادیانی اور اس کی امت نے یسوع کی توہین کا اقرار کیا ہے۔ اب اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کی توہین سے انکار کرنا بالکل غلط اور ناقابل تسلیم ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے بیانات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عیسیٰ ، یسوع ، مسیح تینوں ایک ہی آدمی کے نام تھے۔ مذکورہ بالا عبارات میں بھی مسیح اور عیسیٰ ابن مریم کی تصریح ہے۔ ان کے علاوہ اور عبارتیں بھی ملاحظہ فرمائیے۔

کے ساتھ آسمان پر جانا متصور کیا جاتا ہے۔ وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے ۔ دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں ۔“

(چشمہ مسیحی ص ٤٦، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٦)

یعنی عیسیٰ ابن مریم ہے ۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٢٠، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٩)

ہیں ۔ تیس برس تک موسیٰ رسول اللہ کی پیروی کر کے خدا کا مقرب بنا۔“

(چشمہ مسیحی ص ١٧ حاشیہ ، خزائن ج ٢٠ ص ٣٨١)

بہنیں تھے۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی ۔“

(کشتی نوح ص ١٦ حاشیہ ، خزائن ج ١٩ ص ١٨)

اس عبارت میں حضرت مریم علیہا السلام کی بھی توہین ہے ۔ کیونکہ قرآن مجید کی تصریح ”ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل آدم “ کے ہوتے ہوئے عیسیٰ کا باپ اور حضرت مریم کا

٧

صفحہ ٤٩٠

خاوند ثابت کیا ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی بے شمار شہادتیں موجود ہیں۔ جو صاف بتا رہی ہیں کہ یسوع، مسیح اور عیسیٰ ایک ہی آدمی کے نام تھے۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کی توہین سے انکار کرنا ایسا ہے جیسے کہا جائے کہ سورج نکلا ہے۔ آفتاب نہیں نکلا۔

عذر ثانی

مرزائی یہ بھی عذر کرتے ہیں کہ یہ سخت کلامی عیسائیوں سے الزامی اور جوابی طور پر کی گئی ہے۔

جواب...... یہ بھی ایک حیلہ ہے جو مرزا قادیانی کی زبان درازی اور جرم چھپانے کے لئے تراشا گیا ہے اور سراسر غلط ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے تصریح کی ہے کہ "میں نے جوابی طور پر گالی نہیں دی۔" (مواہب الرحمن ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ٢٣٦) اور تعلیم یہ تھی کہ: "بدی کا جواب بدی کے ساتھ مت دو، نہ قول سے نہ فعل سے۔" (نسیم دعوت ص ٢، خزائن ج ١٩ ص ٣٦٥) "اور کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو۔" (کشتی نوح ص ١١، خزائن ج ١٩ ص ١١) تو اپنی تعلیم کے خلاف کر رہے ہیں؟ نہیں، ان کا عقیدہ بھی تھا، لکھتے ہیں:

بنا کر اور ان میں پھونک مار کر سچ مچ کا پرندہ بنا دیتا تھا۔ بلکہ صرف عمل الترب (مسمریزم) تھا۔"

(ازالہ اوہام ص ٣٢٢ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)

آگے (ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣) کے حاشیہ پر لکھتے ہیں: "یہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا۔ اور وہ مٹی درحقیقت ایک مٹی ہی رہتی تھی۔ جیسے سامری کا گوسالہ۔"

آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا...... اگر آپ سے کوئی معجزہ ظاہر بھی ہوا ہو تو آپ کا معجزہ نہیں تھا۔ بلکہ اس تالاب کا معجزہ تھا۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

امت میں مسیح موعود بھیجا۔ جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔" (حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢) اور پھر لطف یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنی بدزبانی، فحش کلامی اور توہین آمیز کلمات کو خدا کی طرف سے وحی اور الہام بنا رہے ہیں۔ کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ جو کچھ میں کہتا ہوں۔ وہ منجانب اللہ ہوتا ہے اور میری ہر بات وحی الٰہی ہوتی ہے۔ لکھتے ہیں:

٨

نہیں سمجھتے۔"

دے رہا ہے۔"

ان حوالہ جات سے معلو معاذ اللہ خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی ج

صحابہؓ کی توہین

امام حسینؓ کی توہین

کہتے ہیں: "اے شیعہ قو سے سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں سے ا

کربلا ایست سیر ہر آنم
یعنی کربلا ہر وقت میری

انبیاء علیہم السلام کی توہین

لکھتے ہیں کہ: "بعض کتا معجزات اور پیش گوئیوں سے کچھ نسب

اس قدر نشان دکھلائے کہ اگر وہ ہزا

صفحہ ٤٩١

(پیغام صلح ص ٦٣، خزائن ج٢٣ ص٤٨٥)

نہیں سمجھتے۔“

(ازالۃ الاوہام ص ١٩٨، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

دے رہا ہے۔“

(نزول المسیح ص ٥٦، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٤)

ان حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کی فحش کلامی، رنگین و مغلظ گالیاں وغیرہ، معاذ اللہ خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی ہیں۔

صحابہؓ کی توہین

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٢٠، خزائن ج٢١ ص٢٨٥)

(اعجاز احمدی ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٢٧)

امام حسینؑ کی توہین

کہتے ہیں: ”اے شیعہ قوم! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں سے ایک ہے جو حسین سے بڑھ کر ہے۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

کربلا یست سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم

یعنی کربلا ہر وقت میری سیر گاہ ہے اور سو حسین میری گریبان میں ہیں۔

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

انبیاء علیہم السلام کی توہین

لکھتے ہیں کہ: ”بعض گزشتہ انبیاء کے معجزات اور پیش گوئیوں کو ان (مرزا قادیانی) کے معجزات اور پیش گوئیوں سے کچھ نسبت نہیں۔“

(نزول المسیح ص ٨٦، خزائن ج ١٨ ص ٤٦٠)

اس قدر نشان دکھلائے کہ اگر وہ ہزار نبی پر تقسیم کئے جائیں۔ تو ان کی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی

٩

صفحہ ٤٩٢

ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)

حضرت نوح علیہ السلام کی توہین

”اور خدا تعالیٰ میرے لئے اس قدر نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر وہ نوح کے زمانہ میں دو نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥)

آنحضرت ﷺ کی توہین

لکھتے ہیں: ”آنحضرت ﷺ کے معجزات تین ہزار ہوئے۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) اور اپنے معجزات کی تعداد لکھتے ہیں: ”میری سچائی کی گواہی کے لئے تین لاکھ سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کئے اور آسمان پر کسوف خسوف رمضان میں ہوا۔“

(حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠)

بلکہ یہ کہا کہ: ”میرے نشان دس لاکھ سے زائد ہیں۔“ (براہین احمدیہ ج ٥ ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢) بلکہ اس سے بھی زیادہ ساٹھ لاکھ بتائی ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٠٧)

دعویٰ کی تصدیق کے لئے سورج اور چاند دونوں کو پیش کر رہے ہیں:

”له خسف القمر المنیر وان لی غسا القمران المشرقان اتنکر“

یعنی آنحضرت ﷺ کے لئے روشن چاند کو گرہن لگا اور میرے لئے سورج اور چاند دونوں بے نور ہو گئے۔ کیا تو انکار کرتا ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

گویا مرزا قادیانی شرف و بزرگی میں آنحضرت ﷺ سے کئی گنا زیادہ تھے۔ یہ کتنی توہین ہے۔ یہیں پر بس نہیں بلکہ خدا پر بھی زبان درازی کرتے ہوئے گستاخانہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔

خدا تعالیٰ کی توہین

”تمام مسلمانوں کا بالاتفاق عقیدہ ہے کہ وحی رسالت بتمامیت منقطع ہے۔“

(ازالۃ اوہام ج ٢ ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢)

لیکن مرزا قادیانی اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ ”کیا کوئی عقلمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ اس زمانہ میں خدا سنتا تو ہے۔ مگر بولتا نہیں۔ پھر اس کے بعد سوال ہوگا کہ کیوں نہیں بولتا کیا زبان پر کوئی مرض لاحق ہو گئی ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٤٤، خزائن ج ٢١ ص ٣١٦)

١٠

صفحہ ٤٩٣

اب آپ خود فیصلہ کریں کہ مرزا قادیانی اپنے ان اقوال کی رو سے کیا ٹھہرے؟ جو تصویر کے پہلے رخ میں مذکور ہیں۔

کذبات مرزا ..... تصویر کا ایک رخ

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٥٦)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٦ ، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٩)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ٣٤٣)

(شحنہ حق ص ٦٠، خزائن ج ٢ ص ٣٨٦)

اعتبار نہیں رہتا ۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)

مرزا کا پہلا جھوٹ ..... تصویر کا دوسرا رخ

کہتے ہیں : ”اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی کہ : ”هذا خليفة الله المهدی“ اب ذرا سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی حدیث ہے۔ جو اس کتاب میں درج ہے جو ”اصح الکتب بعد کتاب الله ہے۔ (شهادة القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)“ یہ حدیث بخاری شریف میں ہرگز نہیں۔ بالکل جھوٹ ہے۔ اگر ہے تو ہمیں دکھائیں اور انعام لیں۔

دوسرا جھوٹ

”انبیاء گذشتہ کے کشوف نے اس بات پر مہر لگا دی ہے کہ وہ (مسیح موعود) چودھویں صدی کے سر پر ہوگا نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا۔ (اربعین نمبر ٢ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٣٧١) یہ سفید جھوٹ ہے کسی نبی نے نہیں کہا کہ پنجاب میں اور چودھویں صدی کے سر پر مسیح موعود ہوگا۔

تیسرا جھوٹ

”احادیث صحیحہ پکار پکار کر کہتی ہیں کہ تیرھویں صدی کے بعد ظہور مسیح ہوگا۔“ (آئینہ

١١

صفحہ ٤٩٤

کمالات اسلام ص ٣٣٠، خزائن ج ٥ ص ٣٣٠) یہ کسی حدیث میں نہیں آیا۔ آنحضرتﷺ پر افتراء ہی صرف اپنی دیسی مسیحیت کے لئے زمین ہموار کی جارہی ہے۔

اکٹھے چار جھوٹ

"یہ بھی یادرہے کہ قرآن مجید میں بلکہ تورات کے بعض صحیفوں میں یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ بلکہ مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں یہ خبر دی ہے اور ممکن ہے کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔" حاشیہ پر لکھتے ہیں: "مسیح موعود کے وقت طاعون کا پڑنا بائبل کی ذیل کی کتابوں میں موجود ہے۔ (زکریا ب ١٤ آیت نمبر ١٢، انجیل متی ب ٢٤ آیت ٧، ٨، مکاشفات یوحنا ب ٢٢ آیت نمبر ٨)"

(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)

اس عبارت میں دو بڑے بڑے سفید جھوٹ ہیں۔ ایک قرآن اور دوسرا انجیل پر۔ قرآن مجید کی کسی آیت اور کسی لفظ کا یہ ترجمہ نہیں ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پھوٹ پڑے گی۔ اس لئے یہ سراسر جھوٹ ہے اور قرآن پاک پر افتراء ہے۔ دوسرے انجیل متی ب ٢٤ آیت نمبر ٨ میں بھی یہ نہیں۔ بلکہ وہاں تو اس کے برعکس لکھا ہے کہ "بہت سے جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے۔" آگے اسی صفحہ پر آیت نمبر ٢٤ میں لکھا ہے: "کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرلیں۔"

ہاں انجیل کی یہ آیت تو مرزا قادیانی پر خوب صادق آتی ہے۔ نیز یہ الفاظ نہ کتاب زکریا باب ١٤ آیت ١٢ میں ہیں اور نہ مکاشفات یوحنا ب ٢٢ آیت نمبر ٨ میں ہیں۔ تو دو جھوٹ یہ نکلے۔ "فلعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین"

غیر محرم عورتوں سے اختلاط ...... تصویر کا ایک رخ

عورتوں کو چھونا جائز نہیں

مرزا قادیانی کے لڑکے مرزا بشیر احمد قادیانی لکھتے ہیں کہ: "ایک دفعہ ڈاکٹر اسمعیل خان صاحب نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) سے عرض کیا کہ میرے ساتھ شفا خانہ میں ایک انگریز لیڈی کام کرتی ہے اور وہ ایک بوڑھی عورت ہے۔ کبھی کبھی میرے ساتھ مصافحہ بھی کرتی ہے۔ اس کا کیا حکم ہے؟ حضرت (مرزا قادیانی) نے فرمایا: "یہ تو جائز نہیں۔ آپ کو عذر کردینا چاہئے تھا کہ ہمارے مذہب میں یہ جائز نہیں۔"

(سیرت المہدی ص ٧٦ ج ٢، بروایت نمبر ٤٠١)

١٢

صفحہ ٤٩٥

تصویر کا دوسرا رخ...... دوشیزہ لڑکی سے پاؤں دبوانا

”حضور (مرزا قادیانی) کو مرحومہ کی خدمت حضور کے پاؤں دبانے کی بہت پسند تھی۔“ (الفضل ٢٠ مارچ ١٩٢٨ء) ”مرحومہ کا نام عائشہ تھا۔ جو کنواری دوشیزہ تھی۔ چودہ سال کی عمر میں مرزا قادیانی کی خدمت میں بھیجی گئی۔“

(حوالہ مذکورہ)

بھانو کا لطیفہ

”ڈاکٹر اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ام المومنین (مرزا کی بیوی) نے ایک دن سنایا کہ حضرت (مرزا قادیانی) کے ہاں ایک بوڑھی ملازمہ مسماۃ بھانو تھی۔ وہ ایک رات جبکہ خوب سردی پڑ رہی تھی۔ حضور کو دبانے بیٹھی۔ چونکہ وہ لحاف کے اوپر سے دباتی تھی۔ اس لئے اسے یہ پتہ نہ لگا کہ جس چیز کو وہ دبا رہی ہے۔ وہ حضور کی ٹانگیں نہیں ہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت مرزا قادیانی نے فرمایا بھانو آج بڑی سردی ہے۔ بھانو کہنے لگی ”ہاں جی تدے تاں تہاڈی لتاں لکڑی وانگو ہوئیاں نیں۔“ یعنی جی ہاں جبھی تو آج آپ کی ٹانگیں لکڑی کی طرح سخت ہو رہی ہیں۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢١٠ نمبر ٢٨٠، سیرت المہدی سوم ص ٢٧٤)

علامت مسیح موعود ...... تصویر کا ایک رخ، مسیح موعود حج کرے گا

”آنحضرت ﷺ نے آنے والے مسیح موعود کو امتی ٹھہرایا اور خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا۔“ (ازالہ اوہام ص ١٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣١٢) اسکی تائید کے لئے (ایام الصلح ص ١٦٩، خزائن ج ١٤ ص ٣٨٧) پر مسلم شریف کی اس حدیث کا حوالہ دیا ہے۔ جس میں یہ آتا ہے کہ مسیح موجود حج کرے گا۔

تصویر کا دوسرا رخ...... مرزا قادیانی نے حج نہیں کیا

ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ: ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے کوئی حج نہیں کیا اور اعتکاف نہیں کیا۔ تسبیح نہیں رکھی...... وظائف نہیں پڑھتے تھے۔“

(سیرت المہدی ج ٣ ص ١١٩ روایت نمبر ٦٧٢)

مرزائیوں کا حج

مرزا قادیانی کہتے ہیں: ”ہمارا سالانہ جلسہ ایک قسم کا ظلی حج ہے۔“

(الفضل یکم دسمبر ١٩٣٢ء)

”اس جگہ ظلی حج سے ثواب زیادہ ہے۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٣٥٢، خزائن ج ٥ ص ٣٥٢)

١٤

صفحہ ٤٩٦

نبی معصوم ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ تصویر کا پہلا رخ

”نبی کی عصمت ایک اجماعی عقیدہ ہے۔ نبی کے لئے معصوم ہونا ضروری ہے۔“

(سیرت المہدی ص ١١٥، ج ٣ روایت نمبر ٦٢٣)

”ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضور (مرزا قادیانی) فرماتے تھے کہ انبیاء کے لئے عصمت ہے، وہ ہمیشہ گناہ سے پاک ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔ انبیاء گناہ سے معصوم ہوتے ہیں۔“

تصویر کا دوسرا رخ ۔۔۔۔۔۔ مرزا قادیانی معصوم نہیں

اوّل تو مرزا قادیانی کے اعمال و کردار اور اقوال کو دیکھیں۔ پھر اس کا اقرار بھی سنیں، کہتے ہیں: ”لیکن افسوس ہے کہ بطالوی صاحب (مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی) نے یہ نہ سمجھا کہ نہ مجھے اور نہ کسی اور انسان کو بعد انبیاء کے معصوم ہونے کا دعویٰ ہے۔“

(کرامات الصادقین ص ٥، خزائن ج ٧ ص ٤٧)

مضحکہ خیز الہامات ۔۔۔۔۔۔ مرزا قادیانی کو حیض اور بچہ

مرزا قادیانی اپنا الہام بیان کرتے ہیں کہ: ”بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے اور یا کسی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ اب تجھ میں وہ حیض نہیں بلکہ بچہ ہو گیا ہے جو بمنزلہ اطفال کے ہے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢، تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)

مرزا قادیانی کو حمل

مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”میرا نام مریم رکھا گیا اور عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں حاملہ ٹھہرایا گیا۔ آخر کئی ماہ بعد جو دس مہینہ سے زیادہ نہیں، مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“

(کشتی نوح ص ٤٦، ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

لطیفہ

یہ عجیب بات ہے کہ خود ہی مریم اور پھر عیسیٰ ابن مریم بن گئے۔ تو اپنے میں سے آپ ہی نکل آئے۔

مرزا قادیانی کے انگریزی الہامات

(تذکرہ طبع سوم ص ٥٨٣)

A Word and two girls.

(تذکرہ طبع سوم ص ٦٣)

١٤

صفحہ ٤٩٧

ایک پہیلی

مرزا قادیانی اپنے متعلق کہتے ہیں:

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر جائے نفرت اور انسانوں کی عار ہوں

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ١٢٧)

آپ خوب سوچ کر بتائیں کہ وہ کیا چیز ہے؟

سچے نبی اور سچے مرزائی کی پہچان

مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ کے پچاس حصے لکھنے کا اعلان کیا اور بہت تعریف کی کہ اس میں صداقت اسلام (مرزائیت) پر تین سو سے زائد دلائل ہوں گے اور لوگوں سے پہلے ہی پچاس حصوں کی رقم وصول کر لی۔ لیکن چار حصے لکھنے کے بعد ٢٣ برس تک خاموش رہے اور کوئی حصہ نہ لکھا تو ہر طرف سے لوگوں نے لعن طعن شروع کر دی۔ پھر پانچواں حصہ لکھا اور کہا کہ: ”یہ وہی براہین احمدیہ ہے جس کے پہلے چار حصے طبع ہو چکے ہیں۔ بعد اس کے ہر ایک صفحہ پر براہین احمدیہ کا حصہ پنجم لکھا گیا ہے۔ پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا۔ مگر پچاس سے پانچ پر اکتفاء کیا گیا۔ کیونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٧، خزائن ج ٢١ ص ٩)

تصویر کا دوسرا رخ...... انگریزی حکومت کی اطاعت

١٥

صفحہ ٤٩٨

حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

٢...... ”میں تمام مسلمانوں میں سے اول درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔“

(تریاق القلوب ص ٢٦٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٦١)

٣...... ”کہتے ہیں کہ ابر رحمت کی طرح خدا ہمارے لئے انگریزی سلطنت کو دور سے لایا..... اور ہم اور ہماری ذریت (اولاد) پر یہ فرض ہے کہ اس گورنمنٹ برطانیہ کے ہمیشہ شکر گزار رہیں۔ انگریزی سلطنت میں تین گاؤں تعلق داری اور ملکیت قادیاں کا حصہ جدی والد مرحوم کو ملے جو اب تک ہیں...... والد صاحب مرحوم اس ملک کے ممتاز زمینداروں میں سے شمار کئے جاتے تھے۔ گورنری دربار میں ان کو کرسی ملتی تھی اور گورنمنٹ برطانیہ کے وہ سچے شکر گزار اور خیر خواہ تھے۔ ١٨٥٧ء کے غدر کے ایام میں پچاس گھوڑے انہوں نے سرکار کو دیئے۔“ (ازالہ اوہام ص ١٣٤، خزائن ج ٣ ص ١٦٦)

یہ عجیب بات ہے کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میں امام مہدی ہوں اور عیسائیت کو ختم کرنے آیا ہوں اور پھر انگریزی عیسائی حکومت کے زیر سایہ اپنی نبوت چلاتے ہیں اور اسی کے مطیع اور خیر خواہ ہیں اور اسی حکومت کے لئے دعا کرتے ہیں۔

ملازمت

”مرزا قادیانی چار سال انگریزی حکومت کی ملازمت کرتے رہے اور پھر خفیہ ملازم ہو گئے۔“ (سیرت المہدی ص ٤٣ حصہ اول، بروایت نمبر ٤٩) (ایام ملازمت ١٨٦٤ تا ١٨٦٨ء)

اب مرزا قادیانی کی حقیقت واضح ہو جانے کے بعد سوچیں اور اندازہ لگائیں کہ ایسا شخص نبی، مجدد یا مسیح موعود وغیرہ ہو سکتا ہے؟ لیکن پھر بھی مرزا قادیانی کی بناسپتی نبوت اور دیسی مسیحیت پر وہی لوگ ایمان لائیں گے۔ جو عقل اور دانش سے محروم ہیں اور جن کی ذہنیت خدا تعالیٰ نے مسخ کر دی ہے اور ”ختم الله علی قلوبهم وعلى سمعهم“ کی وجہ سے غور و فکر کی تمام قوتیں سلب ہو گئی ہیں۔ وما علینا الا البلاغ!

ہمارا حق تھا دکھانا، بتانا سمجھانا
خدا کے بس میں ہے صراط مستقیم کی ہدایت

مشتاق احمد غفرلہ

١٦

PDF 500

مرکزیہ

مرکزی دفتر

مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ملتان

فرنگی سیاست کے

برگ و بار

حضرت مولانا عبدالحق رحیم یار خان

صفحہ ٥٠٠

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

پیش لفظ

فرنگی سیاست کے برگ وبار کے زیر عنوان مولانا عبدالحق نے اس مختصر مگر جامع کتابچہ میں نہایت اختصار کے ساتھ ہندوستان میں انگریز کی عملی سیاست کا خاکہ اس کے معاونین کی ہمدردانہ تحریروں کی شکل میں پیش کیا ہے۔ مسلمانان پاکستان خوش نصیب و بافخر ہیں کہ انہوں نے فرنگی کی غلامی سے آزادی حاصل کر لی ہے اور تاج برطانیہ کو سات سمندر پار پھینک دیا ہے۔ دراصل ہماری آزادی کا صرف یہی معنی و مفہوم فرنگی کے بھاری بھرکم جسم کو سمندر پار دھکیلنا ہی نہیں بلکہ فرنگی کے ان معاونین کا قلع قمع بھی کرنا ہے جو کہ نہ صرف فرنگی کے زبردست حامی و معاون تھے۔ بلکہ آج پاکستان کے ٢٣ سالہ قیام کے بعد اس کی بہترین یادگار بھی ہیں۔ ہماری بدقسمتی کی یہ انتہاء ہے کہ وہی فرنگی نواز افراد حکومت کی کلیدی اسامیوں پر متمکن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے بعد ذہنی طور پر فرنگی تہذیب سے نجات نہیں پاسکے۔ ہندوستان میں فرنگی حکومت کا واحد ستون مرزا غلام احمد قادیانی تھا۔ جیسا کہ اس کتابچہ سے صاف عیاں ہے مکمل اور ذہنی آزادی کے لئے قادیانی کے مقلدین کا محاسبہ نہایت ضروری ہے۔

منہاج سابق ڈیوڈ منہاس ....... ٢٠؍ مارچ ١٩٧٠ء

تمہید

مذہبی الفت ومودت انسانی فطرت وسرشت کے خمیر میں روزِ اوّل ہی سے خداوندِ قدوس کی طرف سے اس طرح ودیعت رکھی گئی ہے کہ بسا اوقات انسان اس جذبہ قویہ کی قوتِ موثرہ کے تاثر کی بناء پر ایثار نفس کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ فرنگی درندے جوع الارض کے جذبہ حریصہ وبہیمیہ کی تسکین کے لئے جس وقت سر زمین ہندوستان میں تجار کے بھیس میں وارد ہو کر تاج دار بن گئے۔ تو انہوں نے اپنے اقتدار کو استحکام اور ابدی دوام بخشنے کے لئے انسانی فطرت کے اسی جذبہ

٢

صفحہ ٥٠١

پر اپنی رسوائے عالم سیاست ”لڑاؤ اور حکومت کرو“ کی تاسیس و بنیاد رکھی اور پوری عیاری و مکاری سے ملک وملت کے غداروں اور وطن فروشوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے اپنی سیاسی اغراض مشومہ کی برآری کے لئے مذہبی لبادہ میں مسلمانوں کی وحدت ملی کو پارہ پارہ کرنے کے لئے اختلافی مباحث برپا کئے۔ اس تشتت و افتراق سے مسلمانوں کی مرکزی وحدت مضمحل ہو گئی۔

فرنگی سامراج کے خلاف ١٨٥٧ء میں استخلاص وطن کے لئے جب فرزندان حریت نے مسلح تحریک چلائی تو فرنگی آقاؤں کو اس حقیقت کا شدت سے احساس ہوا کہ قوم مسلم جب تک جذبہ جہاد سے سرشار ہے۔ اس وقت تک ہمارے اقتدار کا تسلط اور استحکام ناممکن ہے۔ اس لئے انہوں نے جذبہ جہاد کو مسلمانوں کے قلب سے محو کرنے کے لئے اپنے قدیم وفادار مرزا غلام احمد قادیانی علیہ ماعلیہ کو ممانعت جہاد کی اشاعت و تبلیغ کے لئے منصب نبوت سے سرفراز کر کے مسلمانوں کے کرب و اضطراب میں مبتلا کر دیا۔ مذہبی حمیت کے تحت مسلمانوں نے اسلام کے مرکزی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اس فرقہ ضالہ کے عقائد کی تردید کے لئے کمر بستہ ہوئے تو انگریزی سرکار نے اپنے اس خود کاشتہ شجر ممنوعہ کا ہر ممکن صورت میں تحفظ کر کے مسلمانوں کے قلوب کو مجروح کیا۔

ہم اپنے اس دعوٰی کے ثبوت کے لئے مرزا کی خود تصنیف شدہ کتب سے وہ تحریریں پیش کرتے ہیں کہ جن میں ممانعت جہاد اور فرنگی سرکار کی مدحت سرائی کی ہے:

لذالك نشكر هذه الحكومة لا سبيل المداهنة بل على طريق الشكر والمنة لله انا اوينا تحت ظلها امنا لا يرجى من حكومة الاسلام فى هذا الايام ولذالك لا يجوز عندنا ان نرفع السيف عليها وهو حرام على جميع المسلمين ولا نفسد فى الارض لانهم احسنوا الينا بانواع

٣

صفحہ ٥٠٢

ترجمہ ...... اگر حکومت برطانیہ کی تلوار میری حفاظت کے لئے نہ ہوتیں تو مجھے تم لوگوں سے اس طرح کی تکالیف پہنچتیں کہ جس طرح عیسیٰ علیہ السلام کو کفار سے پہنچتی تھیں۔ اس بناء پر ہم حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ خوشامد کے طریق پر نہیں بلکہ سرکار کے شکریہ کی بناء پر۔ خدا کی قسم ہم اس حکومت کے زیر سایہ اس طرح امن سے ہیں کہ حکومت اسلامیہ سے بھی ان دنوں اس طرح امن کی امید نہیں۔ ان متنوع احسانات کی بناء پر ہمارے لئے جائز نہیں کہ اس حکومت کے خلاف جہاد کے لئے تلوار بلند کی جائے اور ان سے جنگ کرنا اور ان کے خلاف بغاوت قائم کرنا مسلمانوں پر حرام ہے۔ اس لئے کہ اس حکومت کے ہم پر کئی احسانات ہیں۔ احسان کا بدلہ احسان ہوتا ہے۔“

(ضمیمہ حقیقت الوحی الاستفتاء ص ٥٦، خزائن ج ٢٢ ص ٦٨٠)

کتاب اللہ علینا ان نکون من الشاکرین。“

ترجمہ ...... ”اللہ کی کتاب نے ہمارے اوپر لازم کیا ہے کہ ہم اس حکومت کے شکر گزار رہیں۔ اس لئے کہ ہم نے اس حکومت کو احسان کرنے والا پایا ہے۔“

(ضمیمہ حقیقت الوحی الاستفتاء ص ٥٧، خزائن ج ٢٢ ص ٦٨١)

اردو اور انگریزی میں شائع کر رہا ہوں۔ جن میں بار بار یہ لکھا گیا ہے کہ مسلمانوں کا فرض ہے جس کے ترک سے وہ خدا تعالیٰ کے گنہگار ہیں کہ اس گورنمنٹ کے سچے خیر خواہ اور دلی جان نثار ہو جائیں اور جہاد اور خونی مہدی کے انتظار وغیرہ بیہودہ خیالات سے جو قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہو سکتے، دست بردار ہو جائیں اور اگر وہ اس غلطی کو چھوڑنا نہیں چاہتے تو کم سے کم یہ ان کا فرض ہے کہ اس گورنمنٹ کے ناشکر گزار نہ بنیں اور نمک حرامی کر کے گنہگار نہ ٹھہریں۔“

(تریاق القلوب ضمیمہ ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٨، ٤٨٩)

٤

صفحہ ٥٠٣

مکہ میں گزارا ہو سکتا ہے اور نہ قسطنطنیہ میں۔ تو پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم اس کے برخلاف کوئی خیال اپنے دل میں رکھیں۔"

(ملفوظات احمدیہ ص ٣٦ ج ١)

شام میں، نہ ایران میں، نہ کابل میں۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے میں دعا کرتا ہوں۔"

(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٦٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٧٠)

کام انصاف اور عدل گستری ہو گا۔ سو حدیثوں سے صریح اور کھلے طور پر انگریزی سلطنت کی تعریف ثابت ہوتی ہے۔“

(تریاق القلوب ص ٩، خزائن ج ١٥ ص ١٤٥)

میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

خدمت ہے۔ جس کی نظیر برٹش انڈیا میں ایک بھی اسلامی خاندان پیش نہیں کر سکتا۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ اس قدر لمبے زمانہ تک کہ جو ٢٠ برس کا زمانہ ہے۔ بلکہ ایسے شخص کا کام ہے جس کے دل میں اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی ہے۔“

(ضمیمہ تریاق القلوب ص ب، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٩)

مندرجہ بالا اقتباسات سے یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ نبوت کاذبہ کی پرورش برطانوی سامراج نے کی اور اس نبوت کی تبلیغ صرف یہ تھی کہ حکومت برطانیہ کے خلاف مسلمانوں کے قلوب میں جو نفرت اور حقارت مرکوز تھی۔ اس کو ختم کیا جائے۔ مرزائی امت کے نزدیک آج تک کوئی شخص مرزا قادیانی کی نبوت کا اقرار نہ کرے۔ اس وقت تک وہ اسلامی حصار میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اگر چہ اس کو مرزا کے وجود نامسعود کا علم بھی نہ ہو۔ چنانچہ مرزا بشیر تحریر کرتا ہے:

٥

صفحہ ٥٠٤

حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

(آئینہ صداقت ص ٣٥)

یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ تو میں اسے ضرور کہوں گا تو جھوٹا ہے، کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آ سکتے ہیں اور ضرور آ سکتے ہیں۔“

(انوار خلافت ص ٦٥)

ہے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ٢٢٨)

کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔“

(انوار خلافت ص ٩٠)

ان اقتباسات سے معلوم ہوا کہ قادیانی خلفاء مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں اور مرزا قادیانی کی نبوت کاذبہ کی تصدیق کو ایمان کے لئے جزو لاینفک سمجھتے ہیں اور حضور ﷺ کی ختم نبوت کے صراحۃً منکر ہیں۔ ان وجوہ کی بناء پر مسلمان اس امت ضالہ کو مسلمانوں سے علیحدہ مستقل امت قرار دیتے ہیں۔

مرزائی امت کے چابکدست مبلغ سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دہی کے لئے کہتے ہیں کہ ہم حضور ﷺ کو بھی پیغمبر حق سمجھتے ہیں۔ اس لئے ہم بھی مسلمانوں کا ایک فرقہ ہیں۔ جواباً ہم کہتے ہیں کہ جس طرح مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی تسلیم کرتے ہوئے عیسائیت کا فرقہ نہیں بن سکتے۔ اسی طرح مرزائی حضور ﷺ کو بھی صرف نبی تسلیم کرنے سے مسلمانوں کا فرقہ نہیں بن سکتے۔ ان براہین وشواہد سے ثابت ہوا کہ مرزائی مسلمانوں کا فرقہ نہیں بلکہ ایک مستقل امت ہے جس کی بنیاد فرنگی سامراج کے استحکام کے لئے رکھی گئی تھی۔ اس لئے ارباب اقتدار کا فرض ہے کہ وہ اسلامی آئین نافذ کرتے وقت مرزائیوں کو مسلمانوں میں شمار نہ کرے۔ بلکہ اسے علیحدہ قرار دے۔

PDF 506

نت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے ام سے خارج ہے۔“

(آئینہ صداقت ص ٣٥)

وار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم میں اسے ضرور کہوں گا تو جھوٹا ہے، کذاب

(انوار خلافت ص ٦٥)

آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا

(حقیقت النبوۃ ص ٢٢٨)

نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ ہیں۔“

(انوار خلافت ص ٩٠)

مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے کے لئے جو دلائل رکھتے ہیں اور حضور ﷺ مسلمان اس امت ضالہ کو مسلمانوں سے

مسلمانوں کو دھوکہ دہی کے لئے کہتے ہم بھی مسلمانوں کا ایک فرقہ ہیں۔ جواباً کو نبی تسلیم کرتے ہوئے عیسائیت کا فرقہ نبی تسلیم کرنے سے مسلمانوں کا فرقہ کوئی مسلمانوں کا فرقہ نہیں بلکہ ایک مستقل رکھی گئی تھی۔ اس لئے ارباب اقتدار کا کو مسلمانوں میں شمار نہ کرنے۔ بلکہ اسے

خاتم النبیین لا نبی بعدی

چیستان مرزا

حضرت مولانا محمد مطیع الحق

صفحہ ٥٠٦

بسم الله الرحمن الرحيم

”باسمه سبحانه وتعالیٰ“

الحمدلله وحده والصلوة والسلام علی من لانبی بعده

حضرات! سیدنا آدم علیہ السلام سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء کرام علیہم السلام کا یہ عقیدہ قرآن عزیز اور احادیث مقدسہ سے بتواتر ثابت ہے۔ حضور ﷺ اللہ کے آخری نبی اور حضور ﷺ کی امت سب سے آخری امت ہے۔ انہی کثیر آیات کریمہ اور احادیث نبویہ کی بناء پر پونے چودہ سو سال سے دنیا کے ہر ایک مسلمان کا یہ غیر متزلزل ایمان اور پختہ عقیدہ چلا آ رہا ہے اور انشاء اللہ قیامت تک رہے گا کہ رسالت محمدی ﷺ اور امت محمدی دنیا کی اصلاح و نجات کے لئے آخری اور بالکل آخری سہارا ہے اور اس عقیدہ محکم پر دنیا کے مسلمان بفضلہ تعالیٰ اسی وثوق کے ساتھ ایمان رکھتے ہیں۔ جس طرح حضور اقدس وانور ﷺ کی نبوت و رسالت پر اور حضور اقدس و انور ﷺ کے آخری نبی ہونے کے منکر کو بعینہ اسی طرح مرتد بے ایمان اور دائرہ اسلام سے خارج جانتے ہیں جس طرح خود منکر نبوت و رسالت کو مسلمان اپنی زندگی کا مقصد وحید اور حیات فانی کی سب سے بڑی کامیابی محض حضور ﷺ کی غلامی میں جینا اسی غلامی میں مرنا اور قیامت کے روز غلامان آقائے کریم ﷺ کی جماعت میں اٹھنا سمجھتا ہے (اللھم ارزقنا) اور قرآن عزیز کی بے شمار آیات بینات اور احادیث مقدسہ کی بناء پر یہ یقین بحمد اللہ اس قدر پختہ اتنا راسخ اور اس درجہ مضبوط ہے کہ حضور ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت کو کاذب ودجال سمجھ لیتا ہے اور اس کی صداقت پر کوئی دلیل طلب کرنا بھی اپنے ایمان کی کمزوری سمجھتا ہے۔ یہ رسالہ محض اس لئے پیش کیا جا رہا ہے کہ مرزا قادیانی کے یہ ارشادات پڑھ کر مسلمان خود فیصلہ کر سکیں کہ حضور اقدس ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والے کس چیز کے مستحق ہیں اور ان کے دماغی توازن کا پارہ کون سی ڈگری پر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اس رسالہ میں صرف ”ارشادات عالیہ“ کو ہی من وعن نقل کر دیا ہے۔ اپنی طرف سے کوئی خاص تنقید و تبصرہ نہیں کیا گیا۔

احقر محمد شفیع السحر عفی عنہ ...... (ناظم جمعیت علماء اسلام بنوں)

٢

تدریجی ترقی ....... مر

محدث ہونے کا دعویٰ

”میں محدث ہوں۔“

مجدد ہونے کا دعویٰ

رسید مژدہ ز
کہ او مجدد این

ترجمہ ...... مجھے غیب سے خوشخبری ملی کہ میں

مہدی ہونے کا دعویٰ

”میں مہدی ہوں۔“

مسیح موعود ہونے کا دعویٰ

”پس واضح ہو کہ وہ مسیح موعود قرار پا چکا تھا۔ وہ تو اپنے وقت پر اپنے ق خدائے تعالیٰ کی مقدس پیشین گوئیوں میں

نبی بنے

”چونکہ مسیح میں اور آدم میں مر بھی۔“

”خدا تعالیٰ نے براہین میں ا

رسول ہوئے

”احمد اور عیسیٰ اپنے اجمالی مع

”مبشراً برسول یأتی من بعدہ ا

”سچا خدا وہی ہے جس نے

صفحہ ٥٠٧

تدریجی ترقی ...... مرزا قادیانی کے دعاویٰ کا سیلاب

محدث ہونے کا دعویٰ

”میں محدث ہوں۔“

(حمامة البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

مجدد ہونے کا دعویٰ

رسید مژدہ زغیبم کہ من ہماں مردم
کہ او مجدد ایں دیں و رہنماء باشد

(درثمین فارسی ص ١٣٦)

ترجمہ ...... مجھے غیب سے خوشخبری ملی کہ میں وہ مرد ہوں کہ دین کا مجدد اور رہنماء ہوں۔

مہدی ہونے کا دعویٰ

”میں مہدی ہوں۔“

(معیار الاخیار ص ١١، مجموعہ اشتہارات ص ٢٧٨ ج ٣)

مسیح موعود ہونے کا دعویٰ

”پس واضح ہو کہ وہ مسیح موعود جس کا آنا انجیل اور احادیث صحیحہ کی رو سے ضروری طور پر قرار پا چکا تھا۔ وہ تو اپنے وقت پر اپنے نشانوں کے ساتھ آ گیا اور آج وہ وعدہ پورا ہو گیا۔ جو خدائے تعالیٰ کی مقدس پیشین گوئیوں میں پہلے سے کیا گیا تھا۔

(ازالۃ اوہام ص ٤٧٣، ٤٧٤، خزائن ج ٣ ص ٣٦٥)

نبی بنے

”چونکہ مسیح میں اور آدم میں مماثلت ہے۔ اس لئے اس عاجز کا نام بھی آدم رکھا اور مسیح بھی۔“

(ازالہ ص ٢٥٦، خزائن ج ٣ ص ٢٣٣)

”خدا تعالیٰ نے براہین میں اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا ہے اور نبی بھی۔“

(ازالہ ص ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٣٨٦)

رسول ہوئے

”احمد اور عیسیٰ اپنے اجمالی معنوں کے رو سے ایک ہی ہیں۔ اسی کی طرف یہ اشارہ ہے ”مبشراً برسول یأتی من بعدہ اسمہ احمد“

(ازالہ ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٢)

”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

(دافع البلاء ص ١١، خزائن

٣

صفحہ ٥٠٨

ج ٨ ص ٢٤٦) ”قادیان اللہ کے رسول کا تخت گاہ ہے۔“

(ملخصاً دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)

خدایا خیر ...... سرکاری دارالخلافہ

”خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں۔ میں آدم ہوں۔ میں شیث ہوں۔ میں نوح ہوں۔ ابراہیم ہوں۔ اسحاق ہوں۔ اسماعیل ہوں۔ میں یعقوب ہوں۔ میں یوسف ہوں۔ میں موسیٰ ہوں۔ میں داؤد ہوں۔ میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نام کا میں مظہر اتم ہوں۔ یعنی ظلی طور پر میں محمد اور احمد ہوں۔“

(حاشیہ حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

سب کچھ ہی ہیں

”دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہ دیا گیا۔ سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے میں آدم ہوں۔ میں نوح ہوں۔ میں ابراہیم ہوں۔ میں اسحاق ہوں۔ میں یعقوب ہوں۔ میں اسماعیل ہوں۔ میں موسیٰ ہوں۔ میں داؤد ہوں۔ میں عیسیٰ ابن مریم ہوں۔ میں محمد ہوں۔ سو ضرور ہے کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں پائی جائے اور ہر ایک نبی کی ایک صفت کا میرے ذریعہ ظہور ہو۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)

سبحان اللہ

میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میرے بے شمار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)

ہمہ اوست

”وہ خلیطہ جس میں (معاذ اللہ ) سارے نبی پڑے ہیں۔

آدم نیز احمد مختار
در برم جامه ہمہ ابرار
آنچہ داداست ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام

ترجمہ ...... میں آدم بھی ہوں اور احمد مختار بھی۔ میں نے تمام نبی کو دیا گیا میں اصلاً)

٤

ہر نبی کو جو پیالہ عطا فرمایا۔ ان تمام سب کے برابر انبیاء من

سب کا بروز

زندہ ہر ترجمہ ...... میری آمد کی وجہ سے

سب کا مرکب

روضہ میرے

”اس زمانہ میں خدا ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے

حضور اقدس ﷺ کا بروز

”خدا نے مجھے آدم مجھ کو خاتم النبیین اور سیدالمرسلین عین ذات والاصفات ”آنحضرت ﷺ ہمدردی خلائق میں اس کے ما جائے کہ گویا اس کا (یعنی مرزا

صفحہ ٥٠٩

ہر نبی کو جو پیالہ عطا فرمایا۔ ان تمام پیالوں کا مجموعہ مجھے دے دیا۔

سب کے برابر

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے ۔
من بعرفان نہ کمترم زکسے

(درثمین فارسی ص ١٧١)

سب کا بروز

زندہ شد ہر نبی زآمدنم
ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم

(درثمین فارسی ص ١٧٣)

ترجمہ..... میری آمد کی وجہ سے ہر نبی زندہ ہو گیا۔ ہر رسول میرے دامن میں چھپا ہوا ہے۔

سب کا مرکب

دورۂ آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تک
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار

(درثمین ص ٨٤، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١٤، خزائن ج ٢١ ص ١٤٤)

”اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر راست باز اور مقدس نبی گزر چکے ہیں۔ ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں۔ ”سو وہ میں ہوں۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٠، خزائن ج ٢١ ص ١١٨)

حضور اقدس ﷺ کا بروز

”خدا نے مجھے آدم بنایا اور مجھ کو وہ سب چیزیں بخش دیں جو ابوالبشر آدم کو دی تھیں اور مجھ کو خاتم النبیین اور سید المرسلین کا بروز بنایا۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٦٧، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٤)

عین ذات والاصفات (معاذاللہ تعالیٰ من ھذہ الھفوات)

”آنحضرت ﷺ کی روحانیت کے لئے ایسے شخص کو منتخب کیا جو خلق اور خو اور ہمت اور ہمدردی خلائق میں اس کے مشابہ تھا اور مجازی طور پر اپنا نام احمد اور محمد اس کو عطاء کیا تا کہ یہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا (یعنی مرزا کا) ظہور بعینہ آنحضرت ﷺ کا ظہور تھا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٠١، خزائن ج ١٧ ص ٢٦٣)

٥

صفحہ ٥١٠

جب ان کا ظہور معاذ اللہ عین حضور اقدس ﷺ کا ظہور ہوا تو جو شخص امت مرزائیہ میں داخل ہو وہ کس درجہ کا ہوگا؟ ملاحظہ ہو۔

(معاذ اللہ ) صحابہ کا درجہ

”خدا نے مجھ مرزا پر اس رسول کا فیض اتارا اور اس کو پورا کیا اور مکمل کیا اور میری طرف اس رسول کا لطف وجود پھیرا۔ یہاں تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہو گیا۔ پس اب جو کوئی میری جماعت میں داخل ہوگا (مرزائی بن جائے گا) وہ میرے سردار سید المرسلین کے صحابہ میں داخل ہو جائے گا۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٧١ خزائن ج ٢١ ص ٢٥٨،٢٥٩)

(نعوذ باللہ ) ”میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکرؓ کے درجہ پر ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکرؓ تو کیا، وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨)

حضور اقدس ﷺ کے جملہ خطابات اپنے لئے

(انجام آتھم ص ٧٨ خزائن ج ١١ ص ٧٨)

ترجمہ...... اے مرزا ! ہم نے تجھے تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔

(حقیقت الوحی ص ١٠٧ خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)

ترجمہ...... اے مرزا! بیشک تو رسولوں میں سے ہے سیدھی راہ پر۔

اے تمام مسلمانان عالم صحابی اس خوش نصیب مرد مومن کو کہتے ہیں کہ جس کو حضور ﷺ کی اس حیات دنیاوی میں زیارت کی سعادت نصیب ہوئی ہو۔ حضور انور ﷺ کی رحلت کے بعد صحابیت کا درجہ ختم ہو چکا۔ کوئی فرد خواہ کتنا ہی عابد، زاہد، متقی، پرہیزگار، مجاہد، غازی کیوں نہ ہو جائے ، صحابیت کے درجہ بلند تک نہیں پہنچ سکتا۔ مگر مرزا قادیانی کا کلمہ جس نے بھی پڑھ لیا، خواہ ان کو دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو۔ صرف جماعت میں داخل ہو جائے۔ وہ صحابی کا درجہ پالے گا۔ نعوذ باللہ من ھذہ الخرافات!

الکونین ﷺ کے لئے۔ مرزا جی کا دعویٰ ہے کہ اب وہ مجھ پر نازل ہوئی ہیں۔ ان کا مصداق اب میں ہوں (نعوذ باللہ العلی العظیم) معلوم ہوتا ہے کہ مرزا جی کے خدا کے پاس اور الفاظ و خطابات باقی نہ رہے تھے۔ جو دوبارہ پرانے ہی پیش کر دیئے۔

٦

رسولا" ترجمہ...... اے لوگو! ہ ہے۔ جیسا کہ فرعون کی طر

ترجمہ...... ہم نے احم جھوٹا شریر کہا۔

اور نام رکھا ہے۔ جو پہل پانے والا محمد )"

ترجمہ...... پاک ہے "داعی قرآن شریف میں د

ترجمہ...... اے مرز

ترجمہ...... اے لوگ سب سے بڑھ "اشرا ترجمہ...... اے مر تمام کا

صفحہ ٥١١

رسولا“

(حقیقت الوحی ص١٠١،خزائن ج٢٢ص١٠٥)

ترجمہ ...... اے لوگو! ہم نے تمہاری طرف تمہارے اوپر گواہ بنا کر ایسا ہی رسول (مرزا) بھیجا ہے۔ جیسا کہ فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔

(اربعین نمبر ٣ ص٣٣،خزائن ج١٧ص٤٣٣)

ترجمہ ...... ہم نے احمد (مرزا) کو ایک بستی کی طرف بھیجا۔ پس انہوں نے روگردانی کی اور اس کو جھوٹا شریر کہا۔

اور نام رکھا ہے۔ جو پہلے کبھی سنا بھی نہ تھا۔ تھوڑی سی غنودگی ہوئی اور یہ الہام ہوا: ”محمد مفلح (فلاح پانے والا محمد)“

(البشریٰ جلد دوم ص٩٩،تذکرہ طبع سوم ص٥٥٧)

(ضمیمہ حقیقت الوحی للاستفتاء ص٨١،خزائن ج٢٢ص٧٠٧)

ترجمہ ...... پاک ہے وہ ذات جس نے رات کو اپنے بندے کو سیر کرائی (معراج ہوئی)

”داعی الی اللّٰہ وسراجا منیر“ یہ دو نام اور دو خطاب خاص آنحضرت ﷺ کو قرآن شریف میں دیئے گئے۔ پھر وہی دونوں خطاب الہام میں مجھے دیئے گئے ۔“

(اربعین نمبر ٢ ص٥،خزائن ج١٧ص٣٥٠)

(حقیقت الوحی ص٩٩،خزائن ج٢٢ص١٠٢)

ترجمہ ...... اے مرزا! اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا ۔“

(البشریٰ جلد دوم ص٥٦،تذکرہ طبع سوم ص٣٠٢)

ترجمہ ...... اے لوگو! اللہ کی طرف سے میں تم سب کی طرف رسول بن کر آیا ہوں ۔

سب سے بڑھ کر

”اثرک اللّٰه علی کل شئی“

(حقیقت الوحی ص٨٣،خزائن ج٢٢ص٧٠٩)

ترجمہ ...... اے مرزا! اللہ نے تجھے ہر ایک چیز پر ترجیح دی ہے۔ (افضل واعلیٰ بنایا) تمام کائنات سے تمام انبیاء علیہم السلام سے کعبہ مکرمہ عرشِ اعظم ۔ قرآن عزیز الغرض ۔

٧

صفحہ ٥١٢

تمام مخلوقات سے افضل واعلیٰ۔ ”لعنت اللہ علی الدجالین۔“

سب سے اونچا تخت

”آسمان سے کئی تخت اترے۔ پر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)

علم میں افضل

”حضرت رسول خدا ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ موجود نہ ہونے کسی نمونے کے موبمو منکشف نہ ہوئی۔“

(ازالۃ اوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)

معجزات میں افضل

”نبی کریم ﷺ کے معجزات کی تعداد تین ہزار لکھی ہے۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) ”اپنے معجزات کی تعداد دس لاکھ بتائی ہے۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢، تذکرہ الشہادتین ص ٤١، خزائن ج ٢٠ ص ٤٣) ”خدا نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں، اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر تقسیم کئے جائیں۔ تو ان کی نبوت بھی ان سے ثابت ہو سکتی ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)

محمدؐ پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمدؐ دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(اخبار بدر ج ٢ ص ٢٥، مطبوعہ ١٩٠٦ء)

سب سے اونچا

”أن قدمى على منارة ختم عليه كل رفعة“

(خطبہ الہامیہ ص ٣٥، خزائن ج ١٦ ص ٧٠)

ترجمہ...... میرا قدم اس بلندی پر ہے جہاں کل بلندیاں ختم ہو چکی ہیں۔

سب سے اعلیٰ

”آتانی لم یوت احد من العالمین“ (حقیقت الوحی ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠) ترجمہ...... خدا نے مجھے وہ کچھ بخشا جو مخلوقات میں سے کسی کو نہیں بخشا۔

٨

یہ دیکھو

”غلبہ کاملہ (دین اسلا مسیح موعود (مرزا) کے زمانے میں

کیا بات ہے؟

”آنحضرت ﷺ مگر مرزا کے وقت میں چودھوی

لعنۃ اللہ

”اس نبی (ﷺ) سورج دونوں کا۔ اب کیا توالی نقل کفر کفر نباشد، خدا خدا کا سب سے بڑا نا

”انت اسم ترجمہ ....... اے مرزا تو معاذ اللہ ثم م

مرزا خدا کی توحید

”انت منی بم ترجمہ ....... اے مرزا! تو میر مسلمان کا ایمان طرح صفات میں بھی اس کا اور بے نظیر ہے۔

اے بے نام مرزا کا

صفحہ ٥١٤

یہ دیکھو

”غلبہ کاملہ (دین اسلام) کا آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ظہور میں نہیں آیا۔ یہ غلبہ مسیح موعود (مرزا) کے زمانے میں ظہور میں آئے گا۔“

(ملخصاً بلفظہ ص ٨٢ ملحقہ چشمہ معرفت، خزائن ج ٢٣ ص ٩١)

کیا بات ہے؟

”آنحضرت ﷺ کے وقت میں دین کی حالت پہلی شب کے چاند کی طرح تھی۔ مگر مرزا کے وقت میں چودھویں کے چاند جیسی ہو گی۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٧٨، خزائن ج ١٦ ص ٢٩٤)

لعنۃ اللہ

”اس نبی (ﷺ) کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا۔ میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا؟“

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

نقل کفر کفر نباشد، خدا جل وعلا شانہ کی شان میں گستاخیاں ...... خدا بننے لگے

خدا کا سب سے بڑا نام

”أنت اسمی الاعلیٰ“

(البشریٰ ج دوم ص ٢١٠، تذکرہ طبع سوم ص ٣٩٢)

ترجمہ ...... اے مرزا تو میرا سب سے بڑا نام ہے۔

معاذ اللہ خدائے قدوس کا سب سے بڑا نام گویا ”غلام احمد“ ہے۔

مرزا خدا کی توحید

”أنت منی بمنزلة توحیدی و تفریدی“

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

ترجمہ ...... اے مرزا! تو میرے نزدیک میری توحید و تفرید کے ہے۔

مسلمان کا ایمان ہے کہ خدا قدوس جس طرح اپنی ذات میں واحد ولاشریک ہے۔ اسی طرح صفات میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں۔ خدائے قدوس کی توحید و تفرید بھی لاثانی، بے مثل اور بے نظیر ہے۔

یہ تمام مرزا جی کو ”وحی“ کے ذریعہ بتایا گیا۔ ان کے قول کے مطابق (معاذ اللہ تعالیٰ)

٩

صفحہ ٥١٤

یہ منہ اور مسور کی دال

”يحمدك الله من عرشه يحمدك الله ويمشى اليك“

(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥)

ترجمہ ...... خدا عرش پر سے (اے مرزا) تیری حمد کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔

معاذ اللہ خدا کا بیٹا

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

ترجمہ ...... اے مرزا! تو میرے نزدیک میرے بیٹے کی مانند ہے۔

(البشریٰ ج دوم ص ٦٥ ، تذکرہ طبع سوم ص ٤٩٩)

ترجمہ ...... اے مرزا! تو مجھ سے میری اولاد کی مانند ہے۔

معلوم ہوا کہ مرزا جی کا خدا بہت بال بچے دار ہے۔ کیونکہ اولاد ولد کی جمع ہے۔ جس کے معنی بہت سے بیٹے۔ مسلمانوں کا خدا تو ”لم يلد ولم يولد“ ہے۔ بیوی بچوں سے پاک ہے۔ خدا مرزا جی کا معاذ اللہ ایک جوڑ ہے

(دافع البلاء ص ٧ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)

ترجمہ ...... تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے۔

لا حول ولا قوۃ

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٤ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣)

ترجمہ ...... تو میرے پانی سے ہے اور دوسرے خشکی سے۔

لیجئے ! معاملہ پورا

”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بعینہ اللہ ہوں۔ میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں اور نہ میرا ارادہ باقی رہا اور نہ خطرہ (میری نفسانی خواہشات بالکل ختم ہوگئیں۔ سراپا خدا بن گیا ۔ ) اسی حال میں میں نے کہا کہ ہم ایک نیا نظام، نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ پس میں نے پہلے آسمان اور زمین اجمالی شکل میں بنائے۔ جن میں کوئی تفریق اور ترتیب نہ تھی۔ پھر میں نے ان میں جدائی کر دی اور ترتیب دی اور میں نے اپنے آپ کو اس وقت ایسا پاتا تھا کہ میں ایسا کرنے پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا ”انا زينا السماء الدنيا بمصابيح“ (ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے سجایا ) (سورہ ملک ، پارہ ٢٩) پھر میں نے کہا ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پس میں نے آدم کو بنایا اور ہم نے انسان کو بہترین صورت پر پیدا کیا اور اس طرح میں خالق

١٠

صفحہ ٥١٥

ہو گیا۔

(ترجمہ از آئینہ کمالات ص ٥٦٥،٥٦٤ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

زمین و آسمان کی حکمرانی

"الارض والسماء معک کما ھو معی"

(حقیقۃ الوحی ص ٧٥، خزائن ج ٢٢ ص ٧٨)

ترجمہ...... زمین و آسمان تیرے ایسے ہی تابع ہیں۔ جیسے میرے تابع ہیں۔

خدا سے بڑھ گئے

"یتم اسمک ولا یتم اسمی"

(اربعین نمبر ٢ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٣)

سب کچھ تیرا

"کل لک ولامرک"

(البشریٰ ج دوم ص ١٢٧، تذکرہ طبع سوم ص ٧٠٦)

ترجمہ...... سب کچھ تیرے لئے اور تیرے حکم کے لئے ہے۔

بیٹا خدا بن رہا ہے (معاذ اللہ)

"مظہر الاوّل والآخر مظہر الحق والعلا کان اللہ نزل من السماء"

(البشریٰ ج دوم ص ٢٣، تذکرہ طبع سوم ص ١٣٩)

ترجمہ...... اول و آخر کا مظہر ہوگا حق اور غلبہ کا مظہر ہوگا۔ گویا آسمان سے خدا اترے گا۔

خدا کے دستخط

"ایک دفعہ تمثیلی طور پر مجھے خدا تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور میں نے اپنے ہاتھ سے کئی پیشین گوئیاں لکھیں۔ جن کا مطلب یہ تھا کہ ایسے واقعات ہونے چاہئیں۔ تب میں نے وہ کاغذ دستخط کرانے کے لئے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا اور اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تامل کے سرخی کی قلم سے اس پر دستخط کئے اور دستخط کرتے وقت قلم کو چھڑکا۔ جیسا کہ جب قلم پر زیادہ سیاہی آجاتی ہے تو اسی طرح پر جھاڑ دیتے ہیں اور پھر دستخط کر دیئے ..... اس وقت میاں عبداللہ سنوری مسجد کے حجرے میں میرے پیر دبا رہا تھا کہ اس کے روبرو غیب سے سرخی کے قطرے میرے کرتے اور اس کی ٹوپی پر بھی گرے اور عجیب بات یہ ہے کہ اس سرخی کے قطرے گرنے اور قلم جھاڑنے کا ایک ہی وقت تھا۔ ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہ تھا۔"

(حقیقۃ الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)

راز داں دیکھو

"سرک سری"

(البشریٰ ج دوم ص ١٢٩، تذکرہ طبع سوم ص ٩٤، ٢٣٦، ٢٧٩)

ترجمہ...... اے مرزا! تیرا بھید میرا بھید ہے۔

١١

صفحہ ٥١٦

من تو شدم

"ظهورك ظهوری"

(البشریٰ ج دوم ص ١٢٦، تذکرہ طبع سوم ص ٧٠٤)

ترجمہ ...... اے مرزا! تیرا ظہور میرا ظاہر ہونا ہے۔

کیا کہنے

"اعطیت صفة الافناء والاحياء"

(خطبہ الہامیہ ص ٢١، خزائن ج ١٦ ص ٥٦)

ترجمہ ...... مجھ کو فنا کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے۔

کیوں نہ ہو

"انما امرك اذا اردت شيئا ان تقول له كن فيكون"

(البشریٰ ج دوم ص ٩٤، تذکرہ طبع سوم ص ٢٠٤)

ترجمہ ...... (اے مرزا) تیرا ہی وہ حکم ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے تو تو اس سے کہہ دیتا ہے ہوجا، پس وہ ہوجاتی ہے۔

افسوس ...... اور تو خیر کچھ ہو یا نہ ہو۔ مگر مرزا قادیانی آسمانی نکاح تو باوجود آپ کی انتہائی کوشش کے ہو نہ سکا۔ ترستے ہی چلے گئے۔

سونے والا خدا

"اصلی واصوم واسهر وانام"

(البشریٰ ج دوم ص ٧٩، تذکرہ طبع سوم ص ٤٦٠)

ترجمہ ...... مرزا قادیانی کو الہام ہوا کہ ان کا خدا کہتا ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں، روزہ رکھتا ہوں، جاگتا ہوں اور سوتا ہوں۔

مسلمانوں کا خدا جو رب العالمین ہے۔ اس کی شان ہے ”لا تاخذه سنة ولا نوم“ اس کو نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند اور نہ وہ نماز پڑھتا ہے۔ بلکہ وہ سب کا معبود ہے۔ خود کس کی عبادت کرے؟ اور معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کا خدا کھاؤ بھی تھا۔ اسی لئے تو روزہ رکھتا ہے۔ مسلمانوں کا خدا جب کھاتا نہیں تو روزہ کیا رکھے۔ ”وهو يطعم ولا يطعم“

ان کا خدا غلطی بھی کرلیتا ہے

"انی مع الاسباب اتيتك بغتة انى مع الرسول اجيب و اخطی و اصیب"

(تذکرہ طبع سوم ص ٤٦١)

ترجمہ ...... میں اچانک اسباب سمیت تیرے پاس آجاؤں گا۔ میں رسول کے ساتھ ہو کر جواب

١٢

صفحہ ٥١٧

دیتا غلطی کرتا ہوں اور صحیح کرتا ہوں۔

مرزائیوں کی کھلی چھٹی

"اعملوا ما شئتم انی غفرت لکم"

(البدر ج ٣ ص ١٦، ١٧، ١٨، تذکرہ ص ٥١١، طبع سوم)

ترجمہ ...... اے مرزائیو جو تمہارا دل چاہے کرتے رہو۔ میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔

اب ذرا اور الہامات عالیہ سنئے ! ماشاء اللہ مرزا جی کیا کچھ نہیں ہیں

(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨)

(البشریٰ ج اول ص ٥٦، تذکرہ طبع سوم ص ٣٨١)

(البشریٰ ج دوم ص ١١٦، تذکرہ طبع سوم ص ٦٦٠)

(البشریٰ ج اول ص ٥٦، تذکرہ طبع سوم ص ٣٨١)

(البشریٰ ج دوم ص ١١٨، تذکرہ طبع سوم ص ٦٧٦)

(البشریٰ ج اول ص ٤٨، تذکرہ طبع سوم ص ٣٦)

(البشریٰ ج ١ ص ٤٨، الحکم ج ١١ ص ١٢، تذکرہ طبع سوم ص ٥٣٦)

(البشریٰ ج ٢ ص ٧٣، تذکرہ طبع سوم ص ٤٣٤)

(البشریٰ ج دوم ص ٨٤، تذکرہ طبع سوم ص ٤٨٤)

عورت بن رہے ہیں

رنگ میں حاملہ ٹھہرایا گیا۔ آخر کئی مہینے کے بعد جو (مدت حمل) دس مہینے سے زیادہ نہیں۔ مجھے مریم

اب دیکھئے ذرا سمجھئے! اور اس چیستان کو بوجھئے، مرزا غلام احمد قادیانی مرد تھے۔ پھر ان کو عورت بننا پڑا اور بجائے غلام احمد کے ”مریم“ نام رکھا گیا۔ پھر ان میں روح پھونکی گئی۔ یہ حاملہ ہوئے یا ہوئیں۔ حمل کی پوری پوری مدت گزاری، پھر بچہ جنا۔ اس بچے کا نام عیسیٰ رکھا گیا اور پھر یہ جننے والی ماں خود بچہ بن گئی اور اس طرح سے مرزا غلام احمد قادیانی عیسیٰ ابن مریم ہوگئے۔ سبحان اللہ کیا منطق ہے۔

١٣

صفحہ ٥١٨

سے عیسیٰ بنایا گیا۔ بس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“ (کشتی نوح ص ٤٦، ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠) ابتدائی پانچ نام تو کافروں کے ہوئے ہیں اور حجر اسود کے معنی کالا پتھر۔ پھر آپ مریم بھی ہیں تو کوئی آپ کو کیا کہے۔ کافر کہے، پتھر کہے یا عورت کہے۔ ان معنوں کو حل کرنا آسان نہیں۔

قرآن عزیز کا انکار اور بے ادبی

گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں، استعمال کی ہیں۔“

(ازالہ ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ١١٦)

(ازالہ ص ٧٢٣ تا ٧٥٣، خزائن ج ٣ ص ٥٠٣ تا ٥٠٦ مفہوم)

کرتے، مٹی سے پرندے بناتے، کوڑھی اور اندھے کو اچھا کرتے، وہ سب از قسم شعبدہ بازی و عمل مسمریزم تھے۔ میں (قادیانی) اس عمل کو مکروہ و قابل نفرت نہ جانتا تو ان کاموں میں ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“

(ازالہ ص ٣٠٢، ٣٠٥، ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)

سلیمان علیہ السلام کے معجزے کی طرح عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے ان دنوں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے ہے۔ دراصل بے سود اور عوام کالانعام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔“

(ازالہ ص ٣٠٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)

مسمریزم کا عمل تھا۔“

(ازالہ ص ٧٠٣، خزائن ج ٣ ص ٥٠٦)

واضح ہو کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے یہ تمام معجزات قرآن مجید سے ثابت ہیں۔

سب کتب سماویہ اور احادیث کا انکار

”(نعوذ باللہ) حضرت رسول خدا کے الہام و وحی غلط نکلی تھیں۔“

(ازالہ ص ٦٨٨، خزائن ج ٣ ص ٤٧١)

معراج شریف کا انکار

”نیا اور پرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو محال بات کہہ رہا ہے کہ انسان اپنے اس خاکی جسم کے کرہ زمہریر تک بھی پہنچے۔ پس اس جسم کا کرہ آفتاب و مہتاب تک پہنچنا کس قدر لغو خیال

١٤

صفحہ ٥١٩

ہے:۔"

(ازالہ ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)

"یہ معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔"

(ازالہ ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)

استغفر اللہ

"میں سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مر گئے۔ جو شخص میرے ہاتھ سے جام پیئے گا، ہرگز نہ مرے گا۔"

(ازالہ اوہام ص ٢، خزائن ج ٣ ص ١٠٤)

نعوذ باللہ

"حضرت موسیٰ کی پیش گوئیاں بھی اس صورت پر ظہور پذیر نہیں ہوئیں۔ جس صورت پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے دل سے امید باندھی تھی۔ غایت مافی الباب یہ ہے کہ حضرت مسیح کی پیش گوئیاں زیادہ غلط نکلیں۔"

(ازالہ ص ٨، خزائن ج ٣ ص ١٠٦)

لاحول ولا قوۃ

"چار سو نبیوں کی پیش گوئی غلط نکلی۔"

(ازالہ ص ٦٢٩، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩)

لعنت اللہ

"جو پہلے اماموں کو معلوم نہیں ہوا تھا، وہ ہم نے معلوم کر لیا۔"

(ازالہ اوہام ص ٦٧٨، خزائن ج ٣ ص ٤٦٦)

عقائد اسلامیہ کا انکار

"میرے اس دعوے کی بنیاد حدیث نہیں، بلکہ قرآن اور وحی ہے، جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر وہ حدیثیں پیش کر سکتے ہیں۔ جو قرآن شریف کے مطابق اور میری حدیث کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔" (اعجاز احمدی ص ٢٩ تا ٣١، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)

صحیح احادیث مبارکہ کا انکار

"امام مہدی کا آنا بالکل صحیح نہیں۔"

(ازالہ ص ٣٥٧، خزائن ج ٣ ص ٣٣٤)

"پایہ ثبوت تک پہنچ گیا ہے کہ مسیح دجال جس کے آنے کی انتظار تھی، یہی پادریوں کا گروہ ہے۔"

(ازالہ ص ٣٩٥، خزائن ج ٣ ص ٣٦٦)

مرزائیوں کا خر دجال

"وہ گدھا دجال کا اپنا بنایا ہوا ہوگا۔ پھر اگر وہ ریل نہیں تو اور کیا ہے؟" (ازالہ ص ٦٨٦، خزائن ج ٣ ص ٤٧٠) "دابۃ الارض وہ علماء و واعظین ہیں جو آسمانی قوت اپنے میں نہیں رکھتے۔

١٥

صفحہ ٥٢٠

آخری زمانے میں ان کی کثرت ہوگی۔“ (ازالہ اوہام ص ٥١٠، خزائن ج ٣ ص ٣٧٤) ”دجال سے مراد قحط عظیم و شدید ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ٥١٣، خزائن ج ٣ ص ٣٧٥) ”مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا، یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی آفتاب سے منور کئے جائیں گے اور ان کو اسلام سے حصہ ملے گا۔“

(ازالہ ص ٥١٥، خزائن ج ٣ ص ٣٧٦)

مرزائی یاجوج ماجوج

”یاجوج ماجوج سے دو قومیں انگریز اور روس مراد ہیں اور کچھ نہیں۔“

(ازالہ ص ٥٠٢، خزائن ج ٣ ص ٣٦٩)

بہت بڑی گستاخی

”ایک دفعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر آئے تھے (یعنی پیدا ہوئے) تو اس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ کئی کروڑ مشرک دنیا میں ہو گئے۔ دوبارہ آ کر کیا بنا لیں گے کہ لوگ ان کے آنے کے خواہشمند ہیں۔“

(اخبار بدر مورخہ ٩ مئی ١٩٠٧ء ص ٥)

حضور اقدس و اصدق ﷺ نے قیامت کے علامات کبریٰ حسب ذیل فرمائی ہیں۔ جن پر تمام مسلمانوں کا ایمان ہے۔

ہیں اور ہیں حقیقت میں جھوٹے، تو یہ علامات جو سچے مسیح علیہ السلام کے وقت ظاہر ہوں گی۔ جب ان کے زمانے میں ظاہر نہ ہوئیں تو دیکھئے سب کی کس طرح تاویل کر رہے ہیں؟

عذاب قبر کا انکار

”کسی قبر میں سانپ یا بچھو دکھاؤ۔“

(ازالہ ص ٣١٥، خزائن ج ٣ ص ٢٦٦)

سیاہ جھوٹ نہیں تو دکھاؤ کہاں لکھا ہے

ہے اور اس شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا ہے۔ جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ١٣، ١٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٢)

١٦

صفحہ ٥٢١

جھوٹ نمبر ٢...... ”اور یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔“

(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)

جھوٹ نمبر ٣...... ”قرآن شریف میں ”انا انزلنہ قریبا من القادیان“

(ازالہ اوہام ص ٧٦، ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٣٥، ١٤٠)

جھوٹ نمبر ٤...... ”اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔“

(تحفہ الندوہ ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٩٨)

جھوٹ نمبر ٥...... ”اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج ہے۔ مکہ، مدینہ اور قادیان۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)

جھوٹ نمبر ٦...... ”بات یہ ہے کہ جیسا مجدد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے۔ لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں۔ وہ نبی کہلاتا ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

یہ ایک صریح دجل خیانت اور جھوٹ ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی سرہندی رضی اللہ عنہ کے (مکتوبات شریف جلد اول ص ٩٩) کے اصل الفاظ یہ ہیں: ”ولما كثر هذا القسم من الكلام مع واحد منهم سمي محدثا “ یعنی جب ان میں سے اس قسم کا کلام کسی ایک شخص کے ساتھ کثرت سے ہو تو اس کا نام محدث رکھا جاتا ہے۔

مرزا قادیانی کا فیصلہ

سچا فیصلہ...... ”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٥٦)

”جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں کوئی کام نہیں۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٩)

”غلط بیانی اور بہتان طرازی نہایت شریر اور بدذات آدمیوں کا کام ہے۔“

(آریہ دھرم ص ٧٤، خزائن ج ١٠ ص ٤٣)

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور مرزا قادیانی ...... قادیانی جھوٹ کے آئینے میں

”اے عیسائی مشنریو! ”ربنا المسيح “ مت کہو۔ دیکھو آج تم میں ایک شخص ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

صفحہ ٥٢٢

”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا ہے۔ جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)

”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں، ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھا سکتا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)

”مثیل موسیٰ، موسیٰ سے بڑھ کر اور مثیل ابن مریم، مریم سے بڑھ کر۔“

(کشتی نوح ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٤)

”پھر جبکہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارنامہ کی وجہ سے افضل قرار دیا تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩)

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجا است تا بنہد پای منبرم

(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

”مسیح کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو شرابی، نہ زاہد نہ عابد، نہ حق کا پرستار۔ متکبر، خود بیں، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ١ ص ١٨٩ جدید)

قرآن شریف کی مخالفت

”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں زنا کار عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

قرآن عزیز میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے خاندان کی مدحت و تعریف کی گئی ہے۔

لعنت اللہ علی الکاذبین

”آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہے کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر

١٨

صفحہ ٥٢٤

اپنے ناپاک ہاتھ لگائے اور زنا کاری کی کمائی کا عطر اس کے سر پر ملے ...... سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چال چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

سخت بے ادبی

”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“

(کشتی نوح ص ٦٥ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ٧١)

شاہزادہ کائنات سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور مرزا

”اے قوم شیعہ ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک (یعنی مرزا) ہے، جو حسین سے بڑھ کر ہے۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

کربلائیست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

ترجمہ ...... میری ہر گھڑی کی سیر کربلا ہے۔ سینکڑوں حسین میری جیب میں پڑے ہوئے ہیں۔

شتان مابینی و بین حسینکم
فانی اوید کل آن بالنصر
واما حسین فاذکروا دشت کربلا
الی ہذا الایام یبکون فانظروا

(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

ترجمہ ...... مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کرلو۔ آج تک روئے ہو پس دیکھ لو (ان کو معاذ اللہ ) خدا کی مدد نہیں پہنچی اور شہید ہو گئے۔ مجھے ہر وقت مدد مل رہی ہے۔ پس سوچ لو کون افضل ہوا۔ ”لعنت اللہ علی الکاذبین!

انی قتیل الحب لکن حسینکم
قتیل لعدی فالفرق اجلی واظہر

(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

١٩

صفحہ ٥٢٤

ترجمہ ...... میں کشتہ محبت ہوں اور تمہارے حسین کو دشمنوں نے قتل کیا۔ پس (ہم دونوں کا) فرق واضح اور روشن ہے۔ مگر یہ نہ بتایا کہ کس کی محبت کا کشتہ ہے؟ پنی والی کا ......

از کوزہ ہماں تراود کہ دروست

نبوت قادیان کی فصاحت و بلاغت

”اے بدذات فرقہ مولویوں ! تم کب تک حق کو چھپاؤ گے۔ کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا۔ وہی عوام کالانعام کو بھی پلا دیا۔“ (انجام آتھم حاشیہ ص ٢١ ، خزائن ج ١١ ص ٢١) ہائے افسوس میرا مرید بننے سے مولویو! تم نے کیوں روک دیا۔ ہمارے دعوے پر آسمان نے گواہی دی۔ مگر اس زمانے کے ظالم مولوی اس سے بھی منکر ہیں۔ خاص کر رئیس الدجالین ”عبدالحق غزنوی“ اور اس کا تمام گروہ علیہم لعن اللہ الف الف مرۃ “

(انجام آتھم ضمیمہ ص ٤٦ خزائن ج ١١ ص ٣٣١)

”نامعلوم کہ یہ جاہل اور وحشی فرقہ اب تک کیوں شرم و حیاء سے کام نہیں لیتا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٤٢)

”ان میری کتابوں کو ہر مسلمان محبت سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے۔ مگر رنڈیوں (کنچریوں) کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر کر دی ہے مجھے قبول نہیں کرتے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

”میرے مخالف جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ کر ہیں۔“

(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

خلاصہ ...... ” جو میری تصدیق و تائید نہیں کرے گا۔ تو صاف سمجھا جائے کہ کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلالی زادہ نہیں۔“

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)

”خدا نے مجھے ہزارہا نشانات دیئے ہیں۔ لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں ۔ وہ نہیں مانتے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)

”غیر احمدی ہندو اور عیسائیوں کی طرح کافر ہیں۔“

(ملائکۃ اللہ ، مولفہ بشیر الدین ص ٤٦)

”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں۔“

(آئینہ صداقت ، مولفہ مرزا بشیر الدین ص ٣٥)

PDF 526

س نے قتل کیا۔ پس (ہم دونوں کا) فرق ؟ پٹی والی کا...... کہ دروبست ت و بلاغت کو چھپاؤ گے۔ کب وہ وقت آئے گا کہ تم س کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا۔ خزائن ج ١١ ص ٢١) ہائے افسوس میرا مرید پر آسمان نے گواہی دی۔ مگر اس زمانے جاہلین ”عبدالحق غزنوی“ اور اس کا تمام

(انجام آتھم ضمیمہ ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٢٧)

میں شرم و حیاء سے کام نہیں لیتا۔“

ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)

بخشتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ ا کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر کر

(اسلام ص ٥٤٧، ٥٤٨، خزائن ج ٣ ص ایضاً)

اور میں کتیوں سے بڑھ کر ہیں۔“

(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

سمجھا جائے کہ کہ اس کو ولد الحرام بننے کا

(انوارالاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)

لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے

چشمہ معرفت ص ٢١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٢٢٦)

ہا۔“ (ملائکۃ اللہ، مولفہ بشیر الدین ص ٤٦) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم

(آئینہ صداقت، مولفہ مرزا بشیر الدین ص ٣٥)

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ وصحبہ وسلم الیٰ یوم الدین

چودھویں صدی کا دجال کون؟

بجواب

چودھویں کا چاند

حضرت مولانا علم دین حافظ آباد

صفحہ ٥٢٦

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مرزا قادیانی کے دس جھوٹ

مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”جھوٹ بولنا مرتد، نہایت شریر اور بدذات آدمیوں کا کام ہے۔“

(آریہ دھرم ص ١١، خزائن ج ١٠ ص ١٣)

(تقریروں کا مجموعہ ص ٣٦)

(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)

(کشتی نوح ص ٧٣ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ٧١)

(ازالہ اوہام ص ٤٤، خزائن ج ٣ ص ١٢٥)

(نزول المسیح ص ١٨، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٦)

(شہادت القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)

ہوگا کہ عورتوں کو بھی الہام شروع ہو جائے گا اور نابالغ بچے نبوت کریں گے اور عوام الناس روح القدس سے بولیں گے۔“

(ضرورت الامام ص ٥، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٥)

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٤٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

جائے گا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١١، خزائن ج ١١ ص ٢٩٧)

(کشتی نوح ص ٨، خزائن ج ١٩ ص ٨)

٢

مبلغ ١٠٠ روپیہ سکو کہو: ”لعنت الله علی

میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہرا لہٰذا اس رسالہ اگلے اوراق میں آئے گا۔

”الحمد لله میرے سامنے ایک رسالہ مصنف رسالہ نے یہ شعر لکھی چاہیے کہ

ان کا یہ لکھنا کہ ہے۔ کیونکہ کوئی شخص بدر ہے۔ ہاں اگر بدر کامل کو ہوتا ہے کہ مصنف رسالہ فرماتے ہیں کہ ”آسمان پر

لیکن دنیا کو زبان قال سے یہ نہیں کہا نتیجہ نکالتے ہیں کہ چاند

صفحہ ٥٢٧

مبلغ ١٠٠ روپیہ انعام اس شخص کو دیا جائے گا۔ جو یہ باتیں سچی ثابت کر دے۔ اگر نہ کر سکو تو کہو: ”لعنت الله علی الکذبین ...... وکونوا مع الصدقین“

میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔“

لہٰذا اس رسالہ کا نام چودھویں صدی کا دجال رکھا گیا۔ کیونکہ چودھویں صدی کا ذکر اگلے اوراق میں آئے گا۔ ناظرین اس کو غور سے پڑھیں۔

”بسم الله الرحمن الرحیم“

”الحمد لله وحده والصلوٰة والسلام على من لانبي بعده“ اس وقت میرے سامنے ایک رسالہ بنام ”بدر کامل یعنی چودھویں صدی کا چاند“ ہے۔ جس کے شروع میں مصنف رسالہ نے یہ شعر لکھا ہے:

چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا
کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا

ان کا یہ لکھنا کہ میں بدر یعنی چودھویں صدی کا چاند دیکھ کر بے کل ہو گیا۔ بالکل بے معنی ہے۔ کیونکہ کوئی شخص بدر کامل کو دیکھ کر بے کل نہیں ہوتا اور نہ اس میں کوئی بے کل ہونے کی بات ہے۔ ہاں اگر بدر کامل کو گرہن لگ جائے تو ضرور انسان اس کو دیکھ کر بے کل ہو جاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مصنف رسالہ کی نظر سے مرزا قادیانی کی عبارت مندرجہ ذیل گزری ہوگی۔ جس میں فرماتے ہیں کہ ”آسمان پر چاند نے میرے لئے گواہی دی۔“

(خطبہ الہامیہ ص ٥٤، خزائن ج ١٦ ص ٦١ ملخص)

لیکن دنیا گواہ ہے کہ چاند نے مرزا قادیانی کی پیدائش سے لے کر موت تک کسی شخص کو زبان قال سے یہ نہیں کہا کہ مرزا قادیانی سچے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی ١٣١١ ہجری کے گرہن سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ چاند نے میرے دعویٰ کے بعد میری صداقت کی گواہی دی۔ غالباً مصنف رسالہ

٣

صفحہ ٥٢٨

کا بھی اسی طرف اشارہ ہوگا۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ چاند کی گواہی آپ کے خلاف ہے۔ کیونکہ مرزا صاحب کے دعوے کے بعد چاند نے بے نور ہو کر بزبان حال یہ گواہی دی کہ جس طرح میں اس وقت بے نور اور سیاہ ہو گیا ہوں۔ اسی طرح جو شخص مدعی مجددیت ومہدویت و مسیحیت و نبوت ہے وہ بھی نور سے خالی ہے۔ جو شخص اس کے پاس جائے گا۔ وہ بھی نور ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ ایسی گواہی سن کر بے ساختہ منہ سے نکل جاتا ہے:

چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا
کیونکہ کچھ کچھ تھا نشان اس میں جمال یار کا

اس کے بعد مصنف رسالہ نے ابوداؤد کی حدیث نقل کی ہے کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آتے رہیں گے اور مرزا قادیانی اس صدی کے مجدد ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو ان تمام مجددین نے جو تیرہ صدیوں میں گزرے ہیں۔ سب کے سب مرزا قادیانی کو کافر، بے ایمان اور اسلام سے خارج سمجھتے تھے اور مرزا قادیانی ان کو مشرک اور بے دین کہتے ہیں۔

مانتا ہے) فرماتے ہیں ”واما رفع عیسی فاتفق اصحاب الاخبار والتفسیر علی انه رفع ببدنه حیا“

(تلخیص الحبیر ج ٢ ص ٢٦٩)

کہ تمام محدثین (جن میں امام شافعی اور احمد بن حنبل دوسری صدی کے مجدد بھی شامل ہیں) اور مفسرین (علامہ ابن کثیر اور علامہ فخرالدین رازی اور علامہ سیوطی وغیرہ بھی شامل ہیں۔ جو آٹھویں اور نویں صدی کے مجدد ہیں) کا متفقہ فیصلہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسم عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھالئے گئے ہیں۔

لکن اذا نزل امنوا به اجمعون“ (فتح الباری ج ٦ ص ٣٥٧) خدا کی قسم حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب تک زندہ ہیں اور جب وہ آسمان سے اتریں گے تو سب لوگ ان پر ایمان لے آئیں گے۔

٤

المسلمین“ (فتاویٰ ابن حجر ) ہے، وہ کافر ہے۔

نمبر ٨ لکھ دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں : نازل ہوں گے۔

دسویں صدی کے مجدد فرماتے ہیں ہے۔ ساتھ اجماع سلف اور خلف مجددین ، محدثین ، مفسرین رضوان قادیانی بقول مجددین کافر اور بـ مرزا صاحب مشرک ہوئے۔ کیو نے سابقہ تمام مجددین کی مخالفت کی

ہم علی الاعلان کہتے ہـ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گـ انعام ان کو دیا جائے گا۔

اس کے بعد مصنف جواباً عرض ہے کہ ایک طرف سر گالیاں مرزا قادیانی کی گالیوں ا ضمیمہ انجام آتھم ملاحظہ فرماویں قادیانی کی تمام گالیاں حروف تہـ اہل اسلام مجددین ، مفسرین ، محـ میں بھی کہتے ہوں گے:

صفحہ ٥٢٩

المسلمین" (فتاویٰ ابن حجر) کہ جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی پر وحی آتی ہے، وہ کافر ہے۔

نمبر ١٠ لکھ دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں "ینزل عیسیٰ من السماء" کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔

(مرقات ص ١٦١ ج ٥)

دسویں صدی کے مجدد فرماتے ہیں کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرے، وہ کافر ہے۔ ساتھ اجماع سلف اور خلف کے یعنی صحابہ کرام سے لے کر تمام تابعین تبع تابعین، مجتہدین، مجددین، محدثین، مفسرین رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مدعی نبوت کو کافر قرار دیا ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی بقول مجددین کافر اور بے ایمان ہوئے اور تمام مجددین بوجہ عقیدہ حیات عیسیٰ کے بقول مرزا صاحب مشرک ہوئے۔ پس مرزا صاحب کے کذاب ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ انہوں نے سابقہ تمام مجددین کی مخالفت کی ہے۔ ایک بھی ان کا ہم خیال نظر نہیں آتا۔

ہم علی الاعلان کہتے ہیں کہ اگر مصنف رسالہ سابقین مجددین سے یہ ثابت کردے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں اور نبی ﷺ کے بعد نیا نبی آسکتا ہے۔ تو یک صد روپیہ انعام ان کو دیا جائے گا۔

اس کے بعد مصنف لکھتا ہے کہ علماء اسلام نے مرزا قادیانی کو بہت گالیاں دی ہیں۔ جواباً عرض ہے کہ ایک طرف مرزا قادیانی کی گالیاں رکھی جائیں۔ تو دوسری طرف تمام علماء کی گالیاں مرزا قادیانی کی گالیوں کا عشر عشیر بھی نہیں ہوسکتا۔ اگر مرزا قادیانی کی بدزبانی دیکھنی ہو تو ضمیمہ انجام آتھم ملاحظہ فرماویں یا عصائے موسیٰ دیکھنے کی تکلیف گوارہ کریں۔ جس میں مرزا قادیانی کی تمام گالیاں حروف تہجی کے حساب سے جمع کی گئی ہیں۔ مرزا صاحب کی قلم نے تو تمام اہل اسلام مجددین، مفسرین، صحابہ کرام بلکہ انبیاء کرام کے جگر کو بھی چاک کر ڈالا۔ جو اپنی قبروں میں بھی کہتے ہوں گے:

٥

صفحہ ٥٣٠
جھوٹا ہے تو اے جلاد کیوں خنجر بکف ہے
زبان تیری اترتی ہے چھری بن کر کلیجے میں

رسالہ میں قابلِ جواب باتیں تو اس قدر نہیں، جن کا جواب دیا گیا۔ اب ہم مرزا صاحب یا بقول چوہدری اکبر علی صاحب بدر کامل اور چودھویں کے چاند کی حقیقت بذریعہ انجیل و احادیث نبوی آشکار کرتے ہیں۔

حضرت مسیح کے ارشادات

سیاتون باسمی قائلین انا ھو المسیح ویضلون کثیرین ”کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے۔

(متی ٢٤:٥)

حضرت مسیح نے اس آیت میں جھوٹے مسیح کی آمد (جو کہے گا کہ میں مسیح ہوں) کا زمانہ بھی بتا دیا ہے کہ میرے اتنے سال بعد آئے گا۔ سنئے! ”کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اس کے عدد بحساب ابجد ١٨٨٢ ہیں اور مرزا قادیانی نے بھی ١٨٨٢ء میں اپنے آپ کو مسیح قرار دیا۔“

(لوقا ٢١:٨)

مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”وہ مسیح میں ہی ہوں۔“

(ازالہ ص ٤٦٩، خزائن ج ٣ ص ٣٤٦)

(متی ٢٤:٦)

مرزا قادیانی کے وقت لڑائیاں ہوتی رہیں۔

(لوقا ٢١:١١)

مرزا قادیانی کے وقت سخت کال تھا۔ اور ١٨٩٧ء اور ١٨٩٨ء میں طاعون پڑی۔ لیکن مریدوں نے کچھ پرواہ نہ کی۔

(متی ٢٤:٧)

چنانچہ مرزا قادیانی کے وقت ٤ اپریل ١٩٠٥ء کو سخت زلزلہ آیا۔ اس کے بعد ٦ فروری ١٩٠٦ء میں بھی زلزلہ آیا۔ (افسوس کہ مرزائیوں نے اس وقت بھی عبرت حاصل نہ کی)

٦

صفحہ ٥٣١

(متی ٢٤:١١)

چنانچہ مرزا قادیانی کے بعد کئی جھوٹے نبی اٹھے۔ جیسا کہ (١) احمد نور کابلی قادیان میں ۔ (٢) عبداللطیف گنا چور میں ۔ (٣) محبوب عالم گوجرانوالہ میں ۔ (٤) رجل لمسمی عبداللہ چیچہ وطنی میں ۔ (٥) غلام حیدر جہلم میں ۔ (٦) نبی بخش معراج کے ضلع سیالکوٹ میں ۔ (٧) ایم ایم فضل چنگا منکیال تحصیل گوجر خان میں۔

دکھائیں گے۔“

(متی ٢٤:٢٤)

ہیں ۔آج کے دن تک شمار کیا جائے تو وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہوں گے۔“

(حقیقت الوحی ص ٤٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٨)

(حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠)

(براہین احمدیہ پنجم ص ٥٨، خزائن ج ٢١ ص ٧٥)

ثابت ہو سکتی ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)

گویا مرزا قادیانی بقول خود ہزار نبی سے افضل ہے۔

(نصرت الحق ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢)

اور کر رہا ہے۔“ (حقیقت النبوت ص ١٣٧) گویا مرنے سے دو دن پہلے دس لاکھ کے ہزار ہا ہو گئے۔

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤)

(مرقس ١٣:٢٢)

٧

صفحہ ٥٣٢

چنانچہ مرزا قادیانی نے بڑے بڑے لوگ ایم۔اے، بی۔اے وغیرہ گمراہ کر لئے۔

(متی ٢٤:١٠)

چنانچہ مرزا قادیانی کے وقت سے سب لوگوں میں دشمنی اور عداوت ہے۔ حتی کہ مرزا قادیانی کے ماننے والے لاہوری اور قادیانی آپس میں عداوت رکھتے ہیں۔ دیکھو ( النبوۃ فی الاسلام اور حقیقت النبوۃ )

تو یقین نہ کرنا۔ کیونکہ ١٨٨٢ء میں جھوٹا مسیح آئے گا اور کہے گا کہ وہ میں ہی ہوں۔“

(متی ٢٤:٢٣،٢٤، لوقا ٢١:٨، متی ٢٤:٥)

اللہ تعالیٰ اور رسول خدا ﷺ کے ارشادات

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح نے حواریوں کو فرمایا کہ میں تم کو ایک رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا اور نام ان کا احمد ہو گا ۔ﷺ

مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”من بعدی“ کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نبی میرے بعد بلا فصل آئے گا۔ یعنی میرے اور ان کے درمیان اور کوئی نبی نہیں ہوگا۔“

(ڈائری ١٩٠١ء ص ٥)

(مشکوٰۃ)

کہ آیت بالا میں جس نبی کے آنے کی بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی ہے۔ اس کا مصداق میں ہوں۔

کون ہوگا جو کہے گا کہ وہ احمد جس کی بشارت حضرت مسیح نے دی تھی۔ اس کا مصداق مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔

چنانچہ خلیفہ صاحب فرماتے ہیں کہ ”اسمہ احمد“ کے مصداق محمد ﷺ نہیں ہیں۔ کیونکہ ان کا نام احمد نہ تھا۔ بلکہ اس آیت کے مصداق مرزا غلام احمد ہیں۔ جنہوں نے کہا کہ تم احمدی کہلاؤ۔“

(الفضل ١٨؍ اپریل ١٩١٤ء)

٨

غرض کوئی بھی ہو ہو یا خلیفہ نے ۔ اللہ تعالیٰ کے

عقیدہ کہ ”اسمه احمد میں داخل ہو جاؤ اور کہو کہ ”ام

ہدایت نہیں کرتا۔

رسول مدنی کے اسلام کی رو

ہرگز نہ مٹے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ

والے ناخوش ہی ہوں۔

کله “وہی اللہ تعالیٰ اس ر مدنی کو ہدایت قرآن پاک ادیان باطلہ پر غالب کردے

احمد کی پیش گوئی میں غلام جس اسلام کو پھیلانے کا رات ایک کر دیا۔ تا۔ بعد مشکل اہل است المشرکون کے مصداق

صفحہ ٥٣٣

ایم۔اے، بی۔اے وغیرہ گمراہ کر لئے۔ ں گے۔“

(متی ١٠:٢٤)

لوں میں دشمنی اور عداوت ہے۔ حتیٰ کہ مرزا میں عداوت رکھتے ہیں۔ دیکھو (النبویۃ فی یاں ہے یا وہاں ہے (یعنی قادیاں ہے) کہے گا کہ وہ میں ہی ہوں ۔“

(متی ٢٤:٢٣، لوقا ٨:٢١، متی ٥:٢٤)

اُسمه احمد“ (سورہ صف) حواریوں کو فرمایا کہ میں تم کو ایک رسول کی ہو گا۔ کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نبی میرے بعد بلا نہیں ہوگا۔“

(ڈائری ١٩٠١ء ص ٥)

ی بن مریم “

(مشکوٰۃ)

ت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی ہے۔ کذب“ (صف) اور اس سے بڑا ظالم اور نے دی تھی۔ اس کا مصداق مرزا غلام احمد احمد “ کے مصداق محمدﷺ نہیں ہیں۔ رزا غلام احمد ہیں۔ جنہوں نے کہا کہ تم

(الفضل ١٨؍اپریل ١٩١٤ء)

غرض کوئی بھی ہو۔ خواہ مرزا قادیانی نے خود اپنے آپ کو اس آیت کا مصداق قرار دیا ہو یا خلیفہ نے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ مفتری علی اللہ اور کذاب ہے۔

عقیدہ کہ ’اسمه احمد “ کا مصداق غلام احمد قادیانی ہے، سراسر کفر ہے۔ اس کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو جاؤ اور کہو کہ ’اسمه احمد “ کا مصداق محمدﷺ مدنی ہے۔

ہدایت نہیں کرتا۔

رسول مدنی کے اسلام کی روشنی مٹ جائے اور غلام قادیانی کے مذہب کا عروج ہو جائے۔

ہرگز نہ مٹے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ اس کا بول بالا کرے گا۔

والے ناخوش ہی ہوں۔

کلہ “ وہی اللہ تعالیٰ اس دین کا بول بالا کرے گا۔ جس نے ”اسمه احمد “ کے مصداق رسول مدنی کو ہدایت قرآن پاک اور دین حق یعنی اسلام دے کر اس لئے بھیجا ہے کہ وہ اس دین اسلام کو ادیان باطلہ پر غالب کر دے، چنانچہ کر دیا اور اسلام تمام دنیا میں پھیل رہا ہے اور پھیلتا رہے گا۔

احمد کی پیش گوئی میں غلام قادیانی کو شریک کرنے والے) ناخوش ہی ہوں۔ جس کا بین ثبوت یہ ہے کہ جس اسلام کو پھیلانے کے لئے رسول مدنی ﷺ نے دن رات ایک کر دیا۔ بعد مشکل اہل اسلام کی المشرکون کے مصداقوں نے اور

صفحہ ٥٣٤

اہل اسلام کا کفر قادیانیہ صرف اس وجہ سے کہ ”اسمہ احمد“ کا مصداق کیوں رسول مدنی کو قرار دیتے ہیں۔ لہٰذا ہمارا فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو کافر سمجھیں۔“

حالات مرزائے قادیانی برسول مدنی کی زبانی

امت کو ہر نماز میں یہ دعا پڑھنے کو ارشاد فرمایا کہ خداوند! ہم مسیح دجال (جس کی خبر ہر نبی نے اور خصوصاً مسیح نے دی تھی کہ وہ آکر ١٨٨٢ء میں کہے گا کہ میں ہی مسیح ہوں) کے فتنہ سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

امت کو مسیح دجال کے فتنہ سے ڈرایا۔

(ابن ماجہ ص ٣٠٧)

ہوں۔ جس طرح نوح نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔

(بخاری ومسلم ومشکٰوۃ)

میں اس کے نام پر آیا ہوں۔ لہٰذا میں بھی نبی ہوں۔ ”وانا آخر الانبیاء“ اور حالانکہ میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ جو کہے کہ میں مسیح اور نبی ہوں، تم سمجھ لو کہ یہ دجالوں میں سے ایک دجال ہے۔

کے بندو! میری امت کے لوگو! تم ثابت قدم رہنا اور اس کے ”انا نبی“ کہنے پر اعتبار نہ کرنا۔ کیونکہ میرے بعد کوئی نبی ہو ہی نہیں سکتا۔

(ابن ماجہ ص ٣٠٧)

مشکٰوۃ) یعنی وہ دجال خراسانی ہوگا۔ مرزا قادیانی کے آباؤ اجداد خراسان سے ہی نکلے تھے۔ دیکھو (سوانح مسیح موعود ص ٩)

کی طرف سے ظاہر ہوگا۔

(مسلم ، مشکٰوۃ)

یہ یقیناً دن بـ

سنائیں گے۔ چنانچہ مرزائی

آدمی جو پہلے ”اسمہ احمـ اس مسیح دجال کو قرار دیں گـ

اس کے ساتھ مل جائیں گـ

المدينة“ اور فرمایا کہ اور اس کا اثر و غلبہ مکہ اور مد چنانچہ مرزائی

الحقیقت دوزخ ہے اور اس

فيردون عليه قوله اور ایک دوسری قوم کے پـ دیں گے اور کہیں گے رکھنے اور تحریف کـ

صفحہ ٥٣٥

٥ سمہ احمد“ کا مصداق کیوں رسول مدنی کو یوں کو کافر سمجھیں۔“ ان زبانی ة المسيح الدجال“ رسول خدا ﷺ نے اپنی خداوندا ہم مسیح دجال (جس کی خبر ہر نبی نے اور کہے گا کہ میں ہی مسیح ہوں) کے فتنہ سے تیری پناہ ذر امته الدجال“ نیز فرمایا کہ ہر نبی نے اپنی

(ابن ماجہ ص ٣٠٧)

نوح قومه“ میں بھی تم کو اس کے فتنہ سے ڈراتا

(بخاری و مسلم و مشکوٰۃ)

کہ میں نبی ہوں۔ کیونکہ مسیح ابن مریم نبی تھا اور ”وانا اخر الانبياء“ اور حالانکہ میں آخری میں مسیح اور نبی ہوں۔ تم سمجھ لو کہ یہ دجالوں میں

افیقول انا نبی لا نبی بعدی “ اے اللہ اور اس کے ”انا نبی“ کہنے پر اعتبار نہ کرنا۔

(ابن ماجہ ص ٣٠٧)

دجالا ”يقال لها خراسان“ (ترمذی سے ہی نکلے تھے۔ دیکھو (سوانح مسیح موعود ص ١١) یق ”رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ مسیح دجال مشرق

(مسلم و مشکوٰۃ)

یہ قادیان مدینہ سے مشرق کی طرف ہے۔ جس کا آپ نے ارشاد فرمایا۔

سے آئیں گے۔ چنانچہ ٤؍اپریل ١٩٠٥ء و ٤؍فروری ١٩٠٦ء میں اور اس کے بعد کئی زلزلے آئے ہیں۔

آدمی جو پہلے ”اسمہ احمد“ کا مصداق مجھ کو قرار دیتے تھے اس کے ساتھ مل کر اس کا مصداق اس مسیح دجال کو قرار دیں گے۔

(مشکوٰۃ)

اس کے ساتھ مل جائیں گے۔

(ترمذی و مشکوٰۃ)

(کنز العمال ص ٣٠٢ ج ٧)

المدينة “ اور فرمایا کہ مسیح دجال کا اثر دور دور ملکوں میں پھیل جائے گا۔ لیکن مکہ اور مدینہ اس کے پہنچ اور اس کا اثر وہاں تک اور مدینہ میں نہیں جاسکے گا۔

(کنز العمال ج ٧ ص ٢٩٩)

چنانچہ مرزا قادیانی کو حج بیت اللہ اور مدینہ کی زیارت نصیب نہ ہوئی۔

الحقیقت دوزخ ہے اور ایک دوزخ یعنی اپنے مخالفوں کو جہنمی قرار دے گا۔ (بخاری و مشکوٰۃ ص ٤٧٣)

فيردون عليه قوله “ پھر وہ مسیح دجال ایک قوم کے سامنے دعویٰ پیش کرے گا۔ وہ مان لیں گے اور ایک دوسری قوم کے سامنے وہ دعویٰ مسیحیت پیش کرے گا۔ لوگ اس کا دعویٰ اس کے منہ پر مار دیں گے اور کہیں گے کہ آپ تیس دجالوں میں سے ایک دجال ہیں۔ آپ اپنا دعویٰ اپنے پاس رکھئے اور تشریف لے جائیے۔

(مسلم و مشکوٰۃ)

١١

صفحہ ٥٣٦

الذی انذرنا رسول اللہ ﷺ ام لا “ پھر مسلمانوں میں سے ایک شخص زبردست مناظر اس کے مقابلہ کے لئے اس کے گاؤں (قادیان) میں جائے گا اور کہے گا کہ میں اس سے مناظرہ کر کے دیکھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ وہی مسیح دجال ہے۔ جس سے ہم کو رسول ﷺ نے ڈرایا ہے یا کوئی اور ہے۔ پھر وہ واپس آ کر لوگوں میں اس کی دجالیت کا اعلان کرے گا۔

(کنز العمال)

چنانچہ مولوی ثناء اللہ صاحب قادیان گئے اور مقابلہ کے لئے بلایا اور وہ حضرت سامنے نہ آئے۔ آخر انہوں نے واپس آ کر ان کی بطالت کا اعلان کر دیا اور فرمایا:

رسول قادیانی کی رسالت
بطالت ہے بطالت ہے بطالت

لکنا لنصحبه ناکل من طعامه “ بہت سے مولوی یا ملازمت پیشہ لوگ اس کے ساتھ مل جائیں گے اور دل میں کہیں گے کہ ہم جانتے ہیں کہ مدعی نبوت کافر ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہم خیال ہونے سے ہمیں تنخواہ مل جاتی ہے۔

(کنز العمال ج ٧ ص ٢٠٩٢)

کے دعوٰی نبوت کی نہ صرف تصدیق کریں گے۔ بلکہ دوسرے لوگوں سے مناظرہ بھی کریں گے۔

(کنز العمال ج ٧ ص ٢٠٧١)

جو کہے گا کہ میں مسیح ہوں اور دعوٰی نبوت کرے گا۔

(بخاری ومسلم، ابن ماجہ وغیرہ)

سے آج تک میرے لئے خبریں دی ہیں۔

(تذکرۃ شہادتین ص ٦٢ خزائن ج ٢٠ ص ٣٤)

زبان پر وعدہ ہوا ۔“

(فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٥١)

چھوڑ دو نا حق جھگڑا مرنے والا مر گیا
اپنے دعوٰی کو وہ بندہ آپ جھوٹا کر گیا

١٢

PDF 538

احتساب قادیانیت ایک تحریک

یکجا کرنے کا آغاز کیا۔

ہے۔ مزید کام جاری ہے۔

ہوئے۔

ہیں۔

کے فضل سے ہوگا۔

رابطہ کے لیے

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 061-4783486

www.amtkn.com, www.laulak.info, www.khatm-e-nubuwwat.info, www.khatm-e-nubuwwat.com, ameer@khatm-e-nubuwwat.com