محافظ ناموس رسالت · مفتی محمد حنیف قریشی قادری
Muhafiz Namoos-e-Risalat · Gazi Mumtaz Qadri
PDF 1

بسم اللہ الرحمن الرحیم

غازی اسلام کے حالات زندگی، مقتول گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے پس منظر اور غازی صاحب کے اقدام قتل سے لے کر عدالتی فیصلے تک کے حالات و واقعات کی مکمل روئیداد

محافظ ناموس رسالت

غازی ممتاز حسین قادری

سلمہ اللہ تعالیٰ اور شباب اسلامی پاکستان

از قلم

مناظر اسلام مفتی محمد حنیف قریشی قادری سربراہ شباب اسلامی پاکستان

بحسن اہتمام

الحاج صوفی راجہ علی اکبر تبسم بانی غوری ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی اسلام آباد

ناشر: شباب اسلامی پاکستان

Rs 400

PDF 2

كل الحقوق محفوظة

نام کتاب محافظ ناموس رسالت غازی ممتاز حسین قادری مؤلف: مناظر اسلام مفتی محمد حنیف قریشی قادری حسب ارشاد: صاحبزادہ سید حبیب الحق شاہ کاظمی جامعہ آمنہ ضیاء البنات اسلام آباد پروف ریڈنگ: محمد کامران عباسی متعلم جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کمپوزنگ: ضیاء العلوم کمپوزنگ سنٹر سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی کمپیوٹر گرافکس: قاضی محمد یعقوب چشتی طبع اوّل: جنوری 2012ء تعداد: 2000

ناشر: شباب اسلامی پاکستان

www.shababeislami.com

ملنے کے پتے

0344-5029829 0315-5029829

فہرست م

عنوانات صفحات

انتساب 9 اظہار تشکر 10 شباب اسلامی کا پیغام 11 ابتدائیہ 15 پیش لفظ 20 شہادت یا مکروہ موت 25 ممتاز حسین قادری کی زندگی پر ایک نظر 36 بچپن کا ایک واقعہ 37 ملک ممتاز حسین قادری کون ہے؟ 42 ممتاز حسین قادری اور شباب اسلامی 47 تحفظ ناموس رسالت کانفرنس اور غازی صاحب کا جذبہ وفاداری 51 ممتاز حسین قادری کا عدالت میں اعترافی بیان 53 میرا جذبہ عشق دو خطابات کے باعث بیدار ہوا 56 گورنر قتل ہوتا ہے 61 گورنر کا جنازہ۔۔۔ انتہاء پسندوں کیلئے تازیانہ عبرت 63 ممتاز قادری کے خلاف کاٹی جانیوالی FIR کا متن 65 غازی صاحب کی عدالت میں پہلی پیشی 67 عدالت میں دوسری پیشی 68 پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ اور غازی اسلام کی استقامت 69 ملک ممتاز حسین قادری کا مضبوط ایمان 71 ممتاز حسین قادری کی حمایتی تحریک کا منظم آغاز، شباب اسلامی کی پہلی ریلی 71

صفحہ 3

ات غازی ممتاز حسین قادری تی محمد حنیف قریشی قادری سید حبیب الحق شاہ کاظمی جامعہ آمنہ ضیاء البنات اسلام آباد عمران عباسی متعلم جامعہ رضویہ ضیاء العلوم نی فورم کمپوزنگ سنٹر سٹیلائٹ ٹاؤن محمد یعقوب چشتی راولپنڈی 2011 20 شباب اسلامی پاکستان www.shababef

غازی ممتاز قادری روڈ (کڑی روڈ) ڈھوک علی اکبر راولپنڈی 0315-5029829 0344-5029829 اقبال روڈ راولپنڈی 051-5536111 ٹن روڈ راولپنڈی 051-5558320 محلہ سیٹھ ٹاؤن راولپنڈی حسن ٹاؤن کاکول روڈ ایبٹ آباد سٹی ہزارہ ڈویژن سپلائی بازار ایبٹ آباد ہزارہ لاہور کراچی فیصل آباد نیشنل روڈ لاہور والعلوم الحنفیہ کھنہ روڈ راولپنڈی

فہرست مضامین

عنوانات صفحات عنوانات صفحات انتساب 9 کیا ممتاز حسین قادری ہیرو ہے؟ 76 اظہار تشکر 10 میرے بیٹے کا تعلق دہشت گردوں سے نہیں شباب اسلامی کا پیغام 11 ملک بشیر صاحب 78 ابتدائیہ 15 پیر سید حسین الدین شاہ غازی صاحب کے گھر 79 پیش لفظ 20 غازی کی اہلیہ کے جذبات 81 شہادت یا مکروہ موت 25 غازی صاحب کے اعترافی بیان کے باعث پروپیگنڈہ 82 ممتاز حسین قادری کی زندگی پر ایک نظر 36 قادری صاحب کے حق میں مظاہرے شروع 83 بچپن کا ایک واقعہ 37 مقتول گورنر کے لئے محافل ایصال ثواب 84 ملک ممتاز حسین قادری کون ہے؟ 42 عاشق رسول کی۔۔۔ حمایت ہی حمایت 85 ممتاز حسین قادری اور شباب اسلامی 47 عدالت میں تیسری اور چوتھی پیشی 86 تحفظ ناموس رسالت کانفرنس اور غازی صاحب کیس کی سماعت اڈیالہ جیل منتقل 86 کا جذبہ وفاداری 51 سیکولر انتہا پسندوں کا غصہ 87 ممتاز حسین قادری کا عدالت میں اعترافی بیان 53 عام مسلمان اور ریموٹوں والے 88 میرا جذبہ عشق دو خطابات کے باعث بیدار ہوا 56 سیکولر انتہا پسندوں کا مشغلہ 91 گورنر قتل ہوتا ہے 61 جاوید چوہدری لبرل انتہا پسند نہ بنیں 92 گورنر کا جنازہ۔۔۔ انتہاء پسندوں کیلئے تازیانہ عبرت 63 کیا ہم ذی تاثیر کے باعث سلمان تاثیر کو غسل دیا جا سکتا ہے 100 ممتاز قادری کے خلاف کاٹی جانیوالی FIR کا متن 65 جیل میں عاشق رسول کی برکتوں کا ظہور 101 غازی صاحب کی عدالت میں پہلی پیشی 67 سربراہ سنی تحریک کی راولپنڈی آمد 101 عدالت میں دوسری پیشی 68 پروپیگنڈہ اور اس کا جواب 102 پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ اور غازی اسلام کی استقامت 69 گورنر کا قتل۔۔۔ درد کہاں کہاں تک پہنچا 103 ملک ممتاز حسین قادری کا مضبوط ایمان 71 ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے 104 ممتاز حسین قادری کی حمایتی تحریک کا منظم آغاز، غازی صاحب کے وکلاء کی نامزدگی 106 شباب اسلامی کی پہلی ریلی 71

صفحہ 4

فہرست مضامین فہر

عنوانات صفحات عنوانات صفحات عنوانات صفحا شباب اسلامی کا غازی صاحب کے حق میں بڑا مظاہرہ 108 غازی صاحب کا خط 142 عدالت میں 17ویں پیشی 173 مصلح اُمت پیر حسین الدین شاہ صاحب کے جذبات 110 جشن عید میلاد النبی اور ممتاز حسین قادری 144 عدالت میں 18ویں، 19ویں پیشی 174 پوپ کی ہرزہ سرائی کے خلاف مظاہرے 111 ممتاز حسین قادری صاحب کے گھر محفل ذکر مصطفیٰ 151 عدالت میں 20ویں پیشی 176 انصار عباسی ایک غیرتمند صحافی اور غیور پاکستانی 112 عشق کا امتحان 152 عدالت میں 21ویں، 22ویں، 23ویں پیشی 177 دفعہ 109 کے تحت باضابطہ شامل کرنے کا فیصلہ 116 غازی صاحب کا محبت نامہ 153 عدالت میں 24ویں پیشی 178 علماء ومشائخ کانفرنس۔۔ علماء کو تقسیم کرنیکی سازش 120 غازی صاحب کی نویں پیشی 154 عدالت میں 25ویں پیشی 180 ممتاز حسین قادری صاحب کی سروس بک کا معائنہ 122 غازی صاحب کی دسویں پیشی 156 عدالت میں 26ویں، 27ویں پیشی 181 کیس کمزور کرنے کی سازش 123 سب جلنے تیرے نام 157 دنیا تمہاری ہے عقبیٰ پر راج ہمارا ہوگا 184 تحفظ ناموس رسالت محاذ کی لاہور میں ریلی 124 یہود و ہنود کی آنکھ کا کانٹا۔۔۔ پاکستان 159 سلمان تاثیر کے بیٹے کا اغواء 185 غوثِ اعظم کا لاڈلا۔۔۔ ممتاز حسین قادری 124 افواج پاکستان زندہ باد 159 عدالت میں 28ویں پیشی 186 لاہور سے غلامان مصطفیٰ کی غازی ہاؤس حاضری 126 ہاں میں ایک کٹر پاکستانی ہوں 160 ستائیسویں شب رمضان یوم دعا 187 جیل میں اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت 126 یہودی اور عیسائی ہمارے دوست کبھی نہیں ہو سکتے 162 جیل میں ہو تو کیا۔۔۔ عید ملیں گے 187 وارنٹ گرفتاری کے حصول کی کوشش۔۔ عبوری ضمانت 127 امریکی دہشت گرد رہا اور عاشق رسول 163 عدالت میں 29ویں پیشی 189 پوپ کے خلاف بڑا مظاہرہ 128 عدالت میں 11ویں پیشی 164 عدالت میں 30ویں پیشی 190 عدالتی حکم پر شامل تفتیش 130 عدالت میں 12ویں پیشی 165 عدالت کی طرف سے پوچھے گئے دس سوالات کے جوابات عدالت میں۔۔ غازی صاحب کی پانچویں پیشی اور عدالت میں 13ویں پیشی 166 غازی صاحب کا تحریری بیان FIR-265 متعدّد آیات عبوری ضمانت میں توسیع 132 شباب اسلامی کنونشن 167 اور درجنوں احادیث، اجماع امت اور فقہ سے استدلال سازش ناکام مقدمے سے فارغ 134 عدالت میں 14ویں، 15ویں پیشی 168 کہ میرا اقدام قتل قرآن وسنت کے مطابق درست تھا غازی صاحب کی چھٹی پیشی اور شرف ملاقات 136 ممتاز قادری سرکار کا منظور نظر ہے 169 گستاخ کا ماورائے عدالت قتل۔۔۔ جائز ہے 190 غازی صاحب کی ساتویں پیشی 138 داتا کی نگری میں بھی تیرے چرچے 170 غازی ممتاز قادری کی حمایت جاری آٹھویں پیشی، فرد جرم عائد، اعتراف اقدام 139 غازی صاحب کی علالت ، غلامانِ مصطفیٰ میں تشویش کی لہر 171 عدالت میں 31ویں پیشی عجیب اظہار محبت۔۔۔ ویلنٹائن ڈے ٹو قادری 141 عدالت میں 16ویں پیشی 172 عدالت میں نعت خوانی 4

صفحہ 5

مضامین فہرست مضامین

عنوانات صفحات عنوانات صفحات عنوانات صفحات قادری صاحب کا خط 142 عدالت میں 17ویں پیشی 173 گھر کو لگ گئی آگ گھر کے چراغ سے 226 جشن عید میلاد النبی اور ممتاز حسین قادری 144 عدالت میں 18ویں، 19ویں پیشی 174 ۔۔۔ قلم کچھ اور لکھتا ہے کی فہرست ۔۔۔ ممتاز حسین قادری صاحب کے گھر محفل ذکر مصطفیٰ 151 عدالت میں 20ویں پیشی 176 "قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے" ڈاکٹر عشق کا امتحان 152 عدالت میں 21ویں، 22ویں، 23ویں پیشی 177 طاہر القادری کا رد 228 قادری صاحب کا محبت نامہ 153 عدالت میں 24ویں پیشی 178 ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا ARY نیوز کا انٹرویو 232 قادری صاحب کی نویں پیشی 154 عدالت میں 25ویں پیشی 180 مرتد مباح الدم ہوتا ہے اور اس کے قتل پر نہ قصاص ہے قادری صاحب کی دسویں پیشی 156 عدالت میں 26ویں، 27ویں پیشی 181 اور نہ ہی دیت 234 سب جلسے تیرے نام 157 دنیا تمہاری ہے عقبیٰ پر راج ہمارا ہوگا 184 حضرت عمر ؓ نے منافق کو ماورائے عدالت قتل یہود و ہنود کی آنکھ کا کانٹا ۔۔۔ پاکستان 159 سلمان تاثیر کے بیٹے کا اغواء 185 کیا اللہ نے بری قرار دیا 235 افواج پاکستان زندہ باد 159 عدالت میں 28ویں پیشی 186 گستاخ کے قتل پر قاتل کو سزا نہیں، انعام ملتا ہے 237 دل میں ایک کٹر پاکستانی ہوں 160 ستائیسویں شب رمضان یوم دعا 187 گستاخ کو توبہ کا موقع نہ دو گے حضرت عمر فاروق ؓ یہودی اور عیسائی ہمارے دوست کبھی نہیں ہو سکتے 162 جیل میں ہو تو کیا۔۔۔ عید ملیں گے 187 کا صحابہ کرام سے عہد 240 امریکی دہشت گرد پادری اور عاشق رسول 163 عدالت میں 29ویں پیشی 189 گستاخ یہودی عورت کا قتل اور ڈاکٹر صاحب کی عدالت میں 11ویں پیشی 164 عدالت میں 30ویں پیشی 190 تحریر و تقریر میں تضاد 241 عدالت میں 12ویں پیشی 165 عدالت کی طرف سے پوچھے گئے دس سوالات کے جوابات 191 گستاخ رسول مباح الدم ہوتا ہے پھر اسے قتل پر قصاص کیسا؟ 243 عدالت میں 13ویں پیشی 166 غازی صاحب کا تحریری بیان F5-265 متعدد آیات صحابی کی منت، ماورائے عدالت قتل، خون رائیگاں 244 شباب اسلامی کنونشن 167 اور درجنوں احادیث، اجماع امت اور فقہ سے استدلال عاشق رسول کی فرزانگی اور نبوی فیصلہ خون رائیگاں ہے 246 عدالت میں 14ویں، 15ویں پیشی 168 کہ میرا اقدام قتل قرآن وسنت کے مطابق درست تھا 195 ملعونہ عورت کا قتل اور نبوی فیصلہ، خون رائیگاں ہے 247 ممتاز قادری سرکار کا منظور نظر ہے 169 گستاخ کا ماورائے عدالت قتل ۔۔۔ جائز ہے 220 اللہ کی جماعت کے کارکن 248 داتا کی نگری میں بھی تیرے چرچے 170 غازی ممتاز قادری کی حمایت جاری 222 عشرہ مبشرہ میں سے ایک صحابیؓ نے اپنے باپ کو قتل کر ڈالا 249 قادری صاحب کی علالت، طالبان مصطفیٰ میں تشویش کی لہر 171 عدالت میں 31ویں پیشی 223 ڈاکٹر صاحب کی قلم اور زبان کے واضح تضادات 250 عدالت میں 16ویں پیشی 172 عدالت میں نعت خوانی 225 سلمان رشدی کے قتل پر خمینی کا فتویٰ اور ڈاکٹر کی تائید 251

صفحہ 6

فہرست مضامین

عنوانات صفحات

شاتم کے فتوے کی تائید اور اہل سنت کے فتاویٰ کی مخالفت۔۔۔آخر کیوں؟ 251

گستاخ کا ماورائے عدالت قتل اور حضرت عمر فاروق ؓ کا اظہار خوشی 252

قانون کا احترام ضروری ہے تاہم۔۔۔ 255

غیرت مند چیف جسٹس اور جذبہ وفاداری رسول ﷺ 255

چیلنج۔۔۔ قرآن وسنت اور فقہ سے اپنا موقف ثابت کرو 257

گستاخ رسول کے قتل پر قاتل کو کوئی سزا نہیں 258

(فقہ اسلامی سے دلائل) فقہ حنفی سے دلائل۔ 258

ممتاز حسین قادری پر گورنر کی حفاظت لازم نہ تھی 261

فقہ شافعی سے دلائل 263

فقہ حنبلی سے دلائل 264

فقہ مالکی سے دلائل 265

فقہ جعفریہ وامامیہ میں بھی مرتد مباح الدم ہے 266

کیا ہر صحابی ؓ از خود عدالت کا اختیار رکھتا ہے 267

کیا گورنر سلمان تاثیر کافر و مرتد نہیں تھا 269

سلمان تاثیر کیوں کافر ہے؟ 270

گورنر کے میڈیا کو دیئے گئے گستاخانہ انٹرویوز 271

عاصیہ مسیح کیس پر ایک نظر 274

گورنر کے کفر و ارتداد کا باعث یہ ہے کہ!!! 276

گورنر کی رضا بالکفر کس طرح ثابت ہوئی 277

گستاخی کے مرتکب کو بچانا بھی گستاخی ہے 279

عنوانات صفحات

گورنر کے کفر پر ناقابل تردید شاہد (جو گستاخ کی سزا کو کم کرنے کا اعلان کرے وہ کافر) 280

گورنر کا کفر یوں بھی ثابت ہوتا ہے۔۔۔کفر و ارتداد پر واضح دلیل 281

گستاخ رسول کی سزا میں کوئی کمی نہیں کر سکتا 283

گورنر کو کفر سے بچانے کی سعی لاحاصل 284

گستاخوں کا دفاع ادارہ منہاج القرآن کا فیض یا۔۔۔ 286

توہین رسالت کس طرح ثابت ہوتی ہے؟ 287

توہین رسالت میں نیت لازمی نہیں بلکہ محض طرز عمل سے بھی گستاخی ثابت ہو جاتی ہے 289

ڈاکٹر صاحب کی کتاب سے اقتباسات نیت وارادہ معتبر نہیں 290

گورنر کے کفر کی دوسری وجہ، قرآن وسنت کا استہزاء 291

بظاہر گستاخی بھی گستاخی ہے ڈاکٹر صاحب کی کتاب سے اقتباسات 292

توہین رسالت کے اثبات کیلئے نیت وارادے کی کوئی حیثیت نہیں فیصلہ کن اقتباس 294

موہم تحقیر لفظ سے گستاخی کے اثبات پر حیدری فیصلہ 295

گورنر کے کلام میں احتمال کی تاویل باطل ہے۔ 296

تاویلات باطلہ کا سہارا از خود باطل ہے 297

اگر کوئی شخص مرزائیوں کو کافر نہ مانے تو۔۔۔ 298

گورنر کی حمایت میں کی گئی تمام تاویلیں بے کار ہیں 299

فہرست

عنوانات صفحات

تقریر و تحریر میں کھلا تضاد 301

دیانت کا خون 302

گورنر کے کفر و ارتداد کی تیسری وجہ، استخفاف شریعت 303

گورنر کے کفر کی چوتھی وجہ۔۔۔قادیانیوں کی حمایت 305

گورنر کے کفر کی پانچویں وجہ۔۔۔قرآن کی تنقیص 306

گورنر کے کفر کی چھٹی وجہ، علماء کی توہین 308

شدید ترین علمی خیانت 309

خلاف واقع کا دعوے۔۔۔کیا یہ علماء کی شان ہے؟ 311

علمائے حق پر ڈاکٹر صاحب کا غصہ 313

عاشق رسول جہنمی اور کافر و مرتد جنتی؟ 314

ممتاز حسین قادری کا اقدام درست ہے یا غلط 315

ممتاز قادری قانون شکن ہے؟ 316

اگر یہ جرم ہے تو۔۔۔۔۔۔شریک جرم تم بھی ہو 318

ماورائے عدالت قتل پر ڈاکٹر صاحب نے خود اشتعال دلایا 319

اس سوال کا آپ کے پاس کیا جواب ہے؟ 321

دوغازی۔۔۔۔دو فتوے 322

فتویٰ پروف۔۔۔یا۔۔۔رحمت پروف 324

ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی 325

کیا یہودی اور عیسائی کافر نہیں ہیں؟ 325

’’وکیل کا کفر نص میں رضا بالکفر‘‘ 331

حرف آخر 332

غیر شرعی عدالتی فیصلہ 333

صفحہ 7

مضامین فہرست مضامین

عنوانات صفحات عنوانات صفحات عنوانات صفحات

گورنر کے کفر پر ناقابل تردید شاہد تقریر و تحریر میں کھلا تضاد 301 غیر شرعی عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاج شروع 337 (جو گستاخ کی سزا کو کم کرنے کا اعلان کرے وہ کافر) 280 دیانت کا خون 302 چیف جسٹس کا سوموٹو ایکشن 338 گورنر کا کفر دلائل سے بھی ثابت ہوتا ہے۔۔۔۔ کفر و ارتداد گورنر کے کفر و ارتداد کی تیسری وجہ، استخفاف شریعت 303 17 اکتوبر کی ملک گیر تاریخی ہڑتال 340 کی شرعی دلیل 281 گورنر کے کفر کی چوتھی وجہ۔۔۔ قادیانیوں کی حمایت 305 شباب اسلامی کے احتجاجی مظاہرے 342 گستاخ رسول کی سزا میں کوئی کمی نہیں کر سکتا 283 گورنر کے کفر کی پانچویں وجہ۔۔۔ قرآن کی تنقیص 306 اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی 346 گورنر کو کفر سے بچانے کی سعی لاحاصل 284 گورنر کے کفر کی چھٹی وجہ، علماء کی توہین 308 4 جنوری یوم ممتاز حسین قادری 349 گستاخوں کا دفاع ادارہ منہاج القرآن کا فیض یا۔۔۔ 286 شدید ترین علمی خیانت 309 ممتاز حسین قادری کانفرنسز 351 توہین رسالت کس طرح ثابت ہوتی ہے؟ 287 خلاف واقع کا دعوے۔۔۔۔ کیا یہ علماء کی شان ہے؟ 311 ممتاز حسین قادری کے نام پر مساجد 355 توہین رسالت میں نیت لازمی نہیں بلکہ محض طرز عمل علمائے حق پر ڈاکٹر صاحب کا غصہ 313 ممتاز حسین قادری اور وکلاء 356 سے بھی گستاخی ثابت ہو جاتی ہے 289 عاشق رسول جہنمی اور کافر و مرتد جنتی؟ 314 عدالتی فیصلے کے بعد وکلاء کا ردعمل 362 ڈاکٹر صاحب کی کتاب سے اقتباسات نیت ممتاز حسین قادری کا اقدام درست ہے یا غلط 315 غازی ممتاز حسین قادری اور جامعہ رضویہ ضیاء العلوم 364 شرط نہیں 290 ممتاز قادری قانون شکن ہے؟ 316 غازی ممتاز حسین قادری اور میڈیا 369 گورنر کے کفر کی دوسری وجہ، قرآن وسنت کا استہزاء 291 اگر یہ جرم ہے تو۔۔۔۔۔۔ شریک جرم تم بھی ہو 318 میڈیا میں باکردار لوگ 373 کیا عام گستاخی بھی گستاخی ہے ڈاکٹر صاحب کی ماورائے عدالت قتل پر ڈاکٹر صاحب نے خود اشتعال دلایا 319 غازی ممتاز حسین قادری اور علمائے کرام 379 کتاب سے اقتباسات 292 اس سوال کا آپ کے پاس کیا جواب ہے؟ 321 غازی ممتاز حسین قادری اور جرائد اہل سنت 386 توہین رسالت کے اثبات کیلئے نیت وارادے کی کوئی دوغلا پن۔۔۔۔ دو فتوے 322 غازی ممتاز حسین قادری کے حمایتی مشائخ 387 ضرورت نہیں فیصلہ کن اقتباس 294 فتویٰ پروف۔۔۔ یا۔۔۔ رحمت پروف 324 غازی ممتاز حسین قادری اور تاجی کھوکھر 390 شرعی نقطہ نظر سے گستاخی کے اثبات پر حیدری فیصلہ 295 ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی 325 غازی ممتاز حسین قادری اور رویائے صالحہ 394 گورنر کے کلام میں احتمال کی تاویل باطل ہے۔ 296 کیا یہودی اور عیسائی کافر نہیں ہیں؟ 325 غازی ممتاز حسین قادری صدیق اکبر کے روپ میں 395 جہالت باطلہ کا سہارا از خود باطل ہے 297 ”ویکیلیکس کانفرنس میں رضا بالکفر“ 331 غازی ممتاز حسین قادری کے محلے میں حضور ﷺ کی آمد 397 کوئی شخص مرتدین کو کافر نہ مانے تو۔۔۔ 298 حرف آخر 332 نبی پاک ﷺ کی طرف سے غازی ممتاز حسین قادری کیلئے تحفے 398 اپنی جماعت میں کی گئی تمام تاویلیں بے کار ہیں 299 غیر شرعی عدالتی فیصلہ 333 غازی ممتاز حسین قادری داتا صاحب کے حوالے 400

صفحہ 8

فہرست مضامین

عنوانات صفحات عنوانات صفحات غازی ممتاز قادری خلفائے راشدین کے ہمراہ کرامت 401 اہم گواہیاں 434 تیری سانسوں میں برکت ہے 402 عدالتی فیصلہ 460 غازی ممتاز حسین قادری اور شعراء 403 اخبارات ورسائل کے مفید مضامین وکالم 471 عاشقوں کی بزم میں ممتاز تو ممتاز ہے 403 سلمان تاثیر کا قتل یا شہادت۔۔۔ آفتاب کبیر 472 ممتاز قادری کے نام ۔۔۔ طاہر قیوم طاہر 405 مصلحتوں سے بے نیاز عشق۔۔ انیلہ محمود 475 غازی ممتاز قادری کی پکار 406 قانون ناموس رسالت۔۔۔ عرفان صدیقی 478 جو نہیں سرکار کا وہ کب ممتاز ہے۔۔ طارق سلطانپوری 407 فاشسٹ اب بس بھی کردیں۔۔ نوید مسعود ہاشمی 481 عاشقان مصطفیٰ کا منفرد انداز ہے۔۔ امتیاز حسین کاظمی 408 سلمان تاثیر کا قتل لمحہ فکریہ۔۔ رشید احمد انگوی 485 منقبت ممتاز حسین قادری۔۔ امتیاز حسین کاظمی 409 گورنر پنجاب کا قتل ۔۔۔ حافظ ادریس 487 عہد حاضر کا علم الدین ۔۔۔ سعید بدر 410 یہ معاملے ہیں نازک۔۔ عرفان صدیقی 490 میرے مولا میرے ممتاز غازی کو رہا کر 414 قانون توہین رسالت کے غلط استعمال کی سزا 493 میرا یار قادری۔۔ اشرف آصف جلالی 416 معاملہ سلمان تاثیر کے قتل کا۔۔۔ عنایت اللہ کوہانی 499 ممتاز حسین غازی۔۔ انیس مقصود 417 سینٹر ہمایوں مندوخیل اور گورنر تاثیر ۔ نوید مسعود ہاشمی 502 آقا کا ثناء خوان ہے ممتاز قادری۔۔ عبدالحمید مدنی 418 عاشق صادق ممتاز قادری اور عدالت ۔ نوید مسعود ہاشمی 504 رشک تجھ پہ ہے ممتاز قادری۔۔ اسلم ساگر 419 غازی ممتاز قادری، ریمنڈ ڈیوس اور شرعی استثناء 508 ناموس رسالت کیلئے جان ہے حاضر 420 اللہ کا شیر غازی ممتاز قادری۔۔ عمران بلوچ 511 ناموس رسالت ﷺ 422 قانون توہین رسالت پر اعتراضات کیوں۔۔ 514 مارا گیا اچھا ہوا۔ 423 کروں تیرے نام پے جاں فدا۔ سید ریاض حسین شاہ 520 زندہ رہے نہ دہر میں گستاخ کوئی 424 غازی صاحب کے خطوط کا عکس 542 مکمل عدالتی کاروائی کا خلاصہ 425 چارج 432 عبوری ضمانت 433

انتساب

کشتہ عشق رسول ﷺ غازی صاحب کی زندگی کے عشر سیکنڈوں کے نام جن میں امت کے سر سے بوجھ اتا ممتاز حسین قادری تیرے

صفحہ 9

ت مضامین

عنوانات صفحات اہم گواہیاں 434 صادق فیصلہ 460 اخبارات و رسائل کے مفید مضامین وکالم 471 سلمان تاثیر کا قتل یا شہادت۔۔۔ آفتاب کبیر 472 مصلحتوں سے بے نیاز عشق۔۔ انیلہ محمود 475 قانون ناموس رسالت۔۔۔ عرفان صدیقی 478 خدارا اب بس بھی کر دیں۔۔ نوید مسعود ہاشمی 481 سلمان تاثیر کا قتل لمحہ فکریہ۔۔ رشید احمد انگوی 485 گورنر پنجاب کا قتل۔۔۔ حافظ ادریس 487 یہ معاملے ہیں نازک۔۔ عرفان صدیقی 490 قانون توہین رسالت کے غلط استعمال کی سزا 493 معاملہ سلمان تاثیر کے قتل کا۔۔۔ عنایت اللہ کوہانی 499 سینٹر ہمایوں مندوخیل اور گورنر تاثیر ۔ نوید مسعود ہاشمی 502 عاشق صادق ممتاز قادری اور عدالت ۔ نوید مسعود ہاشمی 504 غازی ممتاز قادری ، ریمنڈ ڈیوس اور شرعی استثناء 508 اللہ کا شیر غازی ممتاز قادری۔۔ عمران بلوچ 511 قانون توہین رسالت پر اعتراضات کیوں۔۔ 514 کروں تیرے نام پے جاں فدا۔ سید ریاض حسین شاہ 520 غازی صاحب کے خطوط کا عکس 542

﴿انتساب﴾

کشتۂ عشق رسول ﷺ غازی اسلام ملک ممتاز حسین قادری صاحب کی زندگی کے عشق و مستی میں ڈوبے، ان تین سیکنڈوں کے نام جن میں اس عاشق صادق نے پوری امت کے سر سے بوجھ اتار دیا۔

ممتاز حسین قادری تیرے جذبہ عشق و محبت کو سلام !

صفحہ 10

﴿اظہارِ تشکر﴾

راقم ان تمام علماء کرام، مشائخ عظام اور غلامانِ مصطفیٰ کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہے کہ جنہوں نے غازی ممتاز حسین قادری صاحب کے ساتھ والہانہ محبت کا اظہار کیا ہے اور جن حضرات نے اس کتاب کی تکمیل کے سلسلے میں تعاون کیا۔

بالخصوص عزت مآب الحاج راجہ علی اکبر صاحب اور محترم چوہدری عبدالرحمٰن صاحب بانیانِ غوری ٹاؤن اسلام آباد کا ممنون ہوں جنہوں نے کتاب کی طباعت کے سلسلے میں خصوصی تعاون فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام حضرات کو دنیا اور آخرت کی بھلائیاں نصیب فرمائے۔

صفحہ 11

﴿شباب اسلامی کا پیغام﴾

اس کائنات، ہست و بود کے اندر خالق کائنات اللہ ﷻ پر ایمان لانے کے بعد اس کی معرفت اور خشیت اور عشق و اطاعت اور وجہ وجود عالم جان کائنات ﷺ سے لامحدود محبت و الفت اور آپ کا بے انتہا ادب و احترام ہر مسلمان پر فرض ہے۔ کلمہ پڑھ لینے کے بعد جب تک کوئی مسلمان اپنی عقیدتوں کا مرکز اور چاہتوں کا محور امام الانبیاء ﷺ کی ذات والا صفات کو نہیں بنا لیتا اس کا ایمان کامل نہیں ہو سکتا۔ ایک کامل مومن ہمیشہ اپنے نبی کا وفادار رہتا ہے اسکے دل کی دھڑکنیں ذات محبوب خدا ﷺ کے طواف پر مامور رہتی ہیں۔ یہی شناخت قرون اولیٰ کے صحابہ کرامؓ کی ذوات قدسیہ سے لے کر صبح قیامت تک بندہ مومن کی ہے۔ اس سے ذرہ برابر روگردانی ایک مسلمان کو احسن تقویم کے اوج ثریا سے اٹھا کر اسفل السافلین کی ذلت آمیز پستیوں میں پھینک دیتی ہے۔ یہ جذبہ وفاداری رسول کا تقاضا ہی تھا کہ جب بھی کسی بد باطن شاتم رسول گستاخ نے بارگاہ محبوب ناز میں توہین و تنقیص کی ادنیٰ سی جسارت کی تو کوئی نہ کوئی دیوانہ مصطفیٰ ﷺ اٹھا اور ”لبیک یا رسول اللہ“ کا نعرہ لگا کر اس پر برق اجل بن کر گرا اور اسے حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا اور دنیا پر واضح کر دیا کہ

غلامان محمد ﷺ جان دینے سے نہیں ڈرتے
یہ سر کٹ جائے یا رہ جائے کچھ پرواہ نہیں کرتے

گرامی مرتبت قارئین! ذرا صحابہ کرامؓ کی زندگیوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو ہر ایک جذبہ وفاداری رسول سے سرشار ناموس رسول ﷺ پر قربان ہونے کیلئے بے تاب دکھائی دیتا ہے۔ مقام عشق میں ان کا کوئی ثانی ہے اور نہ ادب و تعظیم میں ان کا کوئی ہم پلہ ۔

حضرت عباس ؓ سے سوال کرنے والا پوچھتا ہے کہ آپ بڑے ہیں یا اللہ کے رسول ﷺ؟ پوچھنے والے کا منشاء عمر کے متعلق جاننا تھا مگر نبی کریم ﷺ کے چچا ہونے کے باوجود مقام ادب کا نظارہ کیجئے۔ حضرت عباسؓ جواب دیتے ہیں کہ ”بڑے تو ہر لحاظ سے حضور ہی ہیں مگر عمر کچھ دن میری زیادہ ہے۔“

صفحہ 12

صلح حدیبیہ میں مولائے کائنات علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ صلح نامہ میں حضور علیہ السلام کے اسم گرامی کے ساتھ رسول اللہ کے الفاظ لکھتے ہیں کافروں نے اعتراض کیا سرکار نے مٹانے کا خود حکم ارشاد فرمایا مگر مولائے کائنات سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے بصد ادب واحترام مٹانے سے معذرت کر لی۔ ایک سچا مسلمان ادب رسالت اور مقام نبوت کے حوالے سے کتنا حسّاس ہوتا ہے اس کا اندازہ مذکورہ دو مثالوں سے آپ بحسن وخوبی لگا سکتے ہیں۔

اے میرے نبی ﷺ کے غلامو! وفاداری رسول ، ادب وتعظیم مصطفیٰ اور تحفظ ناموس رسالت کا درس ہمیں قرآن وسنت سے ملتا ہے اور اس کی عملی تفسیر صحابہ کرامؓ اور غلامان مصطفیٰ کے روشن کارناموں میں دکھائی دیتی ہے۔ خود نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدینؓ کے عہد مبارکہ کے بیسیوں واقعات تاریخ کے اوراق پر پھیلے ہوئے ہیں کہ صحابہ کرامؓ کا قدسی صفت گروہ کس طرح اپنی جان پر کھیل کر عزت وناموس جان کائنات ﷺ کا تحفظ کرتا رہا۔

یہ معرکہ حق وباطل ہر دور میں جاری رہا جب بھی کسی گستاخ نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا تو کسی نہ کسی عاشق نے اسے کیفر کردار تک پہنچا دیا۔ ذرا تھوڑی دیر کے لئے برصغیر کی تاریخ میں ہی جھانک کر دیکھ لیں۔

جب راجپال نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا تو ملت اسلامیہ کا شیر غازی علم الدینؒ اس پر جھپٹا اور اسے چیر پھاڑ کر رکھ دیا۔۔۔ رام گوپال نے جان کائنات ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی تو غازی مرید حسینؒ نے اسے راہی ملک نار بنا ڈالا۔۔۔ سوامی شردھانند نے ہذیان بکا تو غازی عبدالرشیدؒ نے اسے واصل جہنم کر دیا۔ نتھو رام نے دریدہ دہنی کی تو غازی عبدالقیومؒ نے اسے ابو جہل وابولہب کے پاس پہنچا دیا۔ کھیم چند گنبد خضریٰ کی طرف ناپاک منہ کر کے بھونکا تو غازی منظور حسینؒ نے اس جہنمی کتے کو اس کے دیس روانہ کر دیا۔ جب ڈنمارک ، جرمنی ، فرانس ، ناروے کے لعینوں نے توہین آمیز خاکے شائع کر کے کروڑ ہا مسلمانوں کے دلوں پر خنجر چلایا تو غازی اسلام ، عاشق رسول ﷺ عامر چیمہ شہیدؒ نے ایک ملعون ایڈیٹر کی شہ رگ پر وار کر کے مضبوط حصاروں کے اندر پناہ گزین ساری دنیا کے شاتمین رسول کو یہ پیغام دیا کہ غلامان محمد ﷺ ابھی

یکم اکتوبر 2011 مری روڈ پر احتجاجی مظاہرہ

قاری صاحب کے والد ، ملک وزیر اعوان ، حاجی محمد سلیم

بزم ارشاد اور شباب اسلامی کی ریلی میں اہل علاقہ ریلی میں شرکت کیلئے رواں دواں

4 جنوری 2012 شباب اسلامی کے کارکنان غازی صاحب کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے جاتے ہوئے

صفحہ 13

زندہ ہیں ۔ اور جب ماضی قریب میں ایک ملعونہ گستاخ رسول عاصیہ مسیح نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا اور اس ملعونہ کا ساتھ دیتے ہوئے ایوان اقتدار کے باسی گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے جب اس کی حمایت کا اعلان کیا اور قرآن وسنت کے خلاف دریدہ دہنی کا ارتکاب کیا تو عاشق رسول ملک ممتاز حسین قادری نے اسے واصل جہنم کرتے ہوئے گویا یہ اعلان کر دیا کہ:

بتلادو یہ گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے
آقا پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے

اے میری ملت کے نوجوانو!

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے تفکرات کی باگیں اپنے اسلاف کے راستوں کی طرف موڑیں ۔ ان شہیدان ناموس رسالت اور اسیران زلف محمد ﷺ کے جذبہ وفاداری سے رہنمائی حاصل کریں ۔ کیونکہ آج سارا عالم کفر یکجا ویکجان ہوکر اسلام کی صداقت اور بانی اسلام کی عظمت پر حملہ آور ہو رہا ہے ۔ آج پھر شہیدان ناموس مصطفیٰ ﷺ کی روحیں تمہیں آواز دے رہی ہیں کہ اپنے اندر سوز صدیقؓ ، غیرت فاروقؓ ، تدبر عثمانؓ ، جرأت حیدرؓ ، جذبہ حسینؓ پیدا کر کے باطل سے ٹکرا جاؤ ۔ اور ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا ڈالو ۔

آج مسلم امہ میں اتفاق واتحاد نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی ۔ اسلام چھپن سے زائد دیسوں میں ہونے کے باوجود پردیسی ہے ۔ مسلمان حکمران یہود و ہنود کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں ۔ آخر یہ ابلہ فریبی کب تک چلے گی؟ تم اپنے رب اور اپنے نبی ﷺ کو روز حشر کیا جواب دو گے ۔؟ ذرا تخیلات کی وادیوں میں جھانک کر دیکھو تو گنبد خضریٰ سے آواز سنائی دے گی ۔

اے میرا حکم پڑھنے والو ۔۔۔۔ میری عزت و ناموس پر مر مٹنے کا دعویٰ کرنے والو ۔۔۔۔ اپنے آپ کو عزت فاروقؓ ”للکار حیدرؓ“ ”جرأت خالدؓ“ جذبہ حسینؓ کا وارث کہنے والو ۔۔۔ تمہاری غیرت کو کیا ہو گیا؟ ۔ تمہارے سینے میں شعلہ بداماں آتش عشق سرد کیوں پڑ گئی؟ تم نے حالات کی نزاکت سے سمجھوتہ کیوں کر لیا؟ کربلا کے تپتے صحرا میں میری آلؓ کی طرف سے دیا جانے والا سبق فراموش کیوں کر ڈالا؟ اٹھو اور اللہ کا نام لے کر ۔

صفحہ 14

” لبیک یا رسول اللہ “ کا نعرہ لگا کر میرے دشمنوں سے ٹکرا جاؤ اور ان کے وجود ناسور کو نیست و نابود کرو۔

اے میرے نبی ﷺ کا حکم پڑھنے والو !

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نوجوانوں کو درس عشق رسول ﷺ اور جذبہ وفاداری سے بہرہ ور کریں۔ اپنے سینوں میں عشق رسول ﷺ کی وہ چنگاری پیدا کریں جو وقت آنے پر کسی بھی گستاخ رسول کیلئے شعلہ جوالہ بن کر اسے راکھ کا ڈھیر بنا ڈالے۔

شباب اسلامی پاکستان اس کی امین بن کر میدان عمل میں اتر چکی ہے وہ آپ کو تعلق باللہ ، وفاداری رسول ﷺ محبت اہل بیت اطہارؓ ، عقیدت صحابہ کبارؓ ، دامان اولیاءؒ سے وابستگی ، شعائر اسلام کے احترام ، عقائد اسلامیہ کے تحفظ ، اصلاح فکر و عمل کا روشن خیال درس دیتی ہے کہ ۔۔۔۔ آؤ !!!

قلب اور سکون ذہن نصیب ہوتا ہے۔

شباب اسلامی پاکستان کا تمہارے نام یہی پیغام ہے۔

پھر سب میں اجاگر کرو فاروقؓ سا جذبہ سرکار کے گستاخ کو سولی پہ چڑھا دو
تم مرد مجاہد ہو دشمنِ دیں کے ناپاک عزائم کو تہہ خاک ملا دو
صفحہ 15

ابتدائیہ

بسم الله الرحمن الرحيم

یہ قانون قدرت ہے کہ خلاق عالم جل ذکرہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل و کرم کیلئے چن لیتا ہے۔ جس نازک وقت میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کے کندھوں پر حرمت رسول کی حفاظت کی ذمہ داری آن پڑی تو اللہ تعالی نے پوری قوم میں سے ایک شخص حضرت غازی ملک ممتاز حسین قادری صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کو چن لیا اور انہوں نے چند ’سیکنڈز‘ میں پوری قوم کے سر سے ’بوجھ‘ اتار دیا۔ تقبل اللہ تعالیٰ عملہ وجزاہ احسن الجزاء

اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ غازی اسلام کے دل میں اس جذبہء کی بیداری کے پیچھے شباب اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام 31 دسمبر 2010ء کو صادق آباد مسلم ٹاؤن راولپنڈی میں منعقد ہونے والی ”تحفظ ناموس رسالت و مقام اہل بیت کانفرنس“ میں کئے گئے دو خطابات تھے۔ جن میں ایک خطاب مناظر اسلام علامہ مفتی محمد حنیف قریشی صاحب اور دوسرا راقم کا تھا۔ ان دو خطابات میں جذبہ وفاداری رسول ، ادب مقام رسالت، عشق رسول وتعظیم اہل بیت کرام پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔

ہر چند کہ راقم کی غازی اسلام ملک ممتاز حسین قادری صاحب کے ساتھ شناسائی اس واقعہ سے قبل نہ تھی چونکہ غازی صاحب کی رہائش مفتی محمد حنیف قریشی صاحب کے قریبی محلے میں ہے اور بقول غازی صاحب وہ اکثر جمعۃ المبارک کی نماز انہی کی مسجد میں ادا کرتے اور ان کے پُرجوش، ایمان افروز اور وجد آفریں خطابات عرصہ 12 سال سے سنتے آرہے تھے۔

غازی صاحب کے اقدام کے بعد راولپنڈی اسلام آباد میں سب سے پہلے راقم کے مرشد کریم استاذ گرامی حضرت مصلح امت قبلہء عالم پیر سید حسین الدین شاہ صاحب بانی و مہتمم جامعہ رضویہ ضیاء العلوم راولپنڈی اور قریشی صاحب نے غازی صاحب کے اس عاشقانہ اقدام کی حمایت میں آواز بلند کی اور ہزاروں افراد پرمشتمل ”ریلیاں“ غازی صاحب کی حمایت میں نکالی

صفحہ 16

گئیں۔ غازی صاحب کے دفعہ 164 کے بیان کے بعد راقم اور مناظر اسلام علامہ مفتی محمد حنیف قریشی صاحب کو بھی اس مقدمے میں غازی صاحب کے خلاف کاٹی جانے والی FIR میں زیر دفعہ 109 شامل کر لیا گیا۔ جس کی سزا ملکی قانون کے مطابق ”سزائے موت“ ہے اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اسی دفعہ ”109“ یعنی اعانت قتل کے تحت پھانسی دی گئی ۔ اور یوں پوری قوم میں سے اللہ تعالیٰ نے غازی صاحب کی معیت میں ہم دو بندوں کو چن لیا۔

زہے بخت تیری نسبت نے ہمیں ممتاز کیا

قادری صاحب کے اس عاشقانہ عمل کو پوری دنیا کے مسلمانوں نے قدر کی نگاہ سے دیکھا جہاں مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے عاشقان مصطفیٰ نے غازی صاحب کے اس اقدام کو سراہا وہیں کچھ ”اہل قلم“ نے بھی اپنی تحریروں کے ذریعے غازی صاحب کو خراج تحسین پیش کیا۔

چونکہ قریشی صاحب اول دن سے گورنر قتل کیس میں غازی صاحب کے ساتھ ہیں اور آج تک کی عدالتی کاروائی اور دیگر معاملات کو عام لوگوں کی بنسبت زیادہ بہتر انداز سے جانتے ہیں۔ پیشی پر راولپنڈی عدالت میں کبھی اڈیالہ جیل کے باہر اور پھر ہائی کورٹ اسلام آباد کے باہر ہمیشہ حاضر ہوتے رہے۔ لہٰذا میں نے قبلہ قریشی صاحب کو مشورہ دیا کہ آپ اس تحریک کے ہراول دستے کے امیر ہیں اور جس دیدہ دلیری سے غازی صاحب کے ساتھ عزم و جرأت اور استقلال کا کوہ گراں بن کر کھڑے ہیں یہ آپ کا ہی خاصہ ہے۔ آپ غازی صاحب کی ہر پیشی پر تمام تر مصلحتوں اور مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کر حاضر ہوتے رہے اور اس کیس کے حوالے سے ایک ایک بات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ لہٰذا آپ کو چاہیے کہ آپ ان تمام تاریخی معلومات اور حقائق کو قلمبند فرمائیں تاکہ بعد میں آنے والوں کے لئے غازی صاحب کے جذبۂ عشق رسول کے پیغام کو محفوظ کیا جاسکے۔ مزید برآں قبلہ استاذنا الکریم کا ارشاد اور جگر گوشۂ مصلح امت ، وکیل غازیٔ ناموس رسالت حضرت علامہ صاحبزادہ سید حبیب الحق شاہ صاحب ضیائی کاظمی کا اصرار کارگر ثابت ہوا اور قریشی صاحب نے قلم اٹھایا اور ان تاریخی واقعات کو قلم کے جال میں قید کرکے آپ کے سامنے رکھ دیا ہے بقول شاعر

جس کی بھی تمنا
ہم نے تو دل

چونکہ غازی صاحب کی شخصیت شہید کی طرح ایک تاریخ ساز شخصیت کتاب کو اس طرح مرتب کیا جائے تاکہ سے کچھ لکھنا چاہے تو اسے کسی پہلو سے غازی صاحب کے کیس کے حوالے سے بھی کسی بات کو چھپانے کی کوشش نہیں کی ہو رہی ہو۔ حتی کہ انہوں نے دیانت دارا ہے کہ جن کے ساتھ ان کا مسلکی نے ممتاز حسین قادری صاحب کی حمایت تحسین کر دیا گیا۔

کتاب میں گورنر قتل کیس اور بعض اہم خبروں کے تراشے بھی شائع آرائی کے الزام بد سے بھی بچا جاسکے۔

ہمارے ذہن پر
جو ہم محسوس کر

چونکہ ابتداء انہوں نے تمام کے اعتبار سے درج ہوئیں بایں وجہ کی اس کے بعد عمومی تذکرہ ہے۔

صفحہ 17

کے سامنے رکھ دیا ہے بقول شاعر

جس کی بھی تمنا ہے وہ اس سے روشنی پالے
ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ لیا

چونکہ غازی صاحب کی شخصیت حضرت غازی علم الدین شہیدؒ، حضرت غازی مرید حسین شہیدؒ کی طرح ایک تاریخ ساز شخصیت ہے لہذا قریشی صاحب نے پوری کوشش کی ہے کہ اس کتاب کو اس طرح مرتب کیا جائے تاکہ آئندہ آنے والا مؤرخ اگر غازی صاحب کے حوالے سے کچھ لکھنا چاہے تو اسے کسی پہلو سے تشنگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہی بات ہے کہ انہوں نے غازی صاحب کے کیس کے حوالے سے خدا اور اس کے رسول ﷺ کو حاضر و ناظر جان کر ذرا برابر بھی کسی بات کو چھپانے کی کوشش نہیں کی الا یہ کہ کوئی بات غازی صاحب کے کیس پر غلط اثر انداز ہو رہی ہو۔ حتیٰ کہ انہوں نے دیانت داری سے اس کتاب میں ان لوگوں کی کاوشوں کا ذکر بھی کیا ہے کہ جن کے ساتھ ان کا مسلکی ۔۔۔۔ فکری ۔۔۔۔ نظریاتی اختلاف ہے لیکن چونکہ انہوں نے ممتاز حسین قادری صاحب کی حمایت میں کام کیا ہے بدیں وجہ ان کی کوششوں کا تذکرہ بالفاظ تحسین کر دیا گیا۔

کتاب میں گورنر قتل کیس اور غازی ممتاز حسین قادری صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کے متعلق بعض اہم خبروں کے تراشے بھی شائع کئے جا رہے ہیں تاکہ قارئین کی تشفی ہو جائے اور مبالغہ آرائی کے الزام بد سے بھی بچا جاسکے۔ قریشی صاحب کا نقطہ نظر یہ ہے ۔

ہمارے ذہن پہ چھائے نہیں ہیں حرص کے سائے
جو ہم محسوس کرتے ہیں وہی تحریر کرتے ہیں

چونکہ ابتداءً انہوں نے تمام معلومات کو اپنی ”ڈائری“ میں لکھا تھا اور وہ تمام باتیں تاریخ کے اعتبار سے درج ہوئیں بایں وجہ کیس کا فیصلہ ہونے تک کی کاروائی تاریخ کے اعتبار سے ہے اس کے بعد عمومی تذکرہ ہے۔ ``` بعد عمومی تذکرہ

صفحہ 18

اس کتاب کی ترتیب میں گو کہ عنوانات کا انتخاب اور جملوں کا چناؤ متاثر کن نہیں ہے تاہم یہ معلومات ایک نیک جذبے کے تحت شائع کی جارہی ہیں۔ اگر معلومات کے حوالہ سے کوئی کمی رہ گئی ہو یا جملوں اور عبارت میں کوئی سقم نظر آئے تو قارئین سے گذارش ہے کہ وہ انہیں کو ضرور مطلع فرمائیں تا کہ اگلے ایڈیشن میں اس کی اصلاح کی جاسکے۔

غازی ممتاز حسین قادری صاحب کے اقدام اور بعد ازاں عدالتی فیصلے کے بعد بہت سے لوگوں نے اس حوالے سے بڑے اہم اور معلوماتی مضامین لکھے ہیں قارئین کی معلومات میں اضافے کی غرض سے ان میں سے چند اہم اور مؤثر کالم ، مضامین کو شامل کتاب کر دیا گیا ہے ۔ قارئین سے گذارش ہے کہ قریشی صاحب کے اس عمل کو کتاب کا حجم بڑھانے کی تدبیر نہ سمجھا جائے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ممتاز حسین قادری صاحب پر اتنا کچھ لکھا گیا ہے کہ اگر اس کو شائع کیا جائے تو اس کیلئے کئی جلدیں درکار ہوں گی۔ مگر

کافی ہے انجمن کو جگانے کے واسطے
یہ داستاں جو قصۂ مختصر میں ہے

قانون تحفظ ناموس رسالت اور غازی صاحب کی حمایت میں پورے ملک کے غلامانِ مصطفیٰ نے آواز بلند کی ۔ قریشی صاحب نے اپنی معلومات کے مطابق ان کی کوششوں کا ذکر کیا ہے تاہم بے شمار ایسے حضرات ہوں گے جن کی کاوشیں اور محنتیں ان کے علم میں نہیں آسکیں اگر وہ حضرات آئندہ ایڈیشن میں اپنی کاوشوں ، کوششوں کا تذکرہ شائع کروانا پسند کرتے ہوں تو تحریری طور پر انہیں آگاہ فرمائیں۔ مجھے امید واثق ہے کہ قریشی صاحب اس سلسلے میں بے اعتنائی نہیں برتیں گے۔ میں اپنے الفاظ کا اختتام اپنے ہی لکھے ہوئے ان نعتیہ اشعار پر کرتا ہوں جو شباب اسلامی پاکستان کے ہر کارکن کے دل کی صدا ۔۔۔ عشق و مستی کی بہار ۔۔۔۔ جذبوں کا بانکپن ۔۔۔ ۔۔۔ اور نسبتوں کے ماتھے کا جھومر ہیں۔

دل الفت سرکار سر آپ کی عظم قرآن بتاتا منصب تو یہ حسنی جس جگہ اتاری وہ خاک بھی بلکہ یہ راز بتاتی تقدیس محمد غازی نے بتایا یہ راستہ سرکار عشاق کے ہاتھوں سرکار کے گستا جو ان کے غلا توقیر تیری اور

صفحہ 19
دل الفت سرکار بسانے کے لئے ہے
سر آپ کی عظمت پہ کٹانے کے لئے ہے
قرآن بتاتا ہے جسے درجہء محمود
منصب تو یہ حسنین کے نانے کے لئے ہے
جس جگہ اتارے کبھی نعلین نبی نے
وہ خاک بھی پلکوں پہ سجانے کے لئے ہے
یہ راز بتاتی ہے ہمیں آیۂ تطہیر
تقدیس محمد کے گھرانے کے لئے ہے
غازی نے بتایا ہے ہمیں اپنے عمل سے
یہ راستہ سرکار کو پانے کے لئے ہے
عشاق کے ہاتھوں میں جو شمشیر و سناں ہے
سرکار کے گستاخ مٹانے کے لئے ہے
جو ان کے غلاموں میں تیرا نام ہے سید
توقیر تیری اور بڑھانے کے لئے ہے

خاکپائے مہر علی خادم ابوالخیر سید امتیاز حسین شاہ کاظمی ضیائی مدرس جامعہ رضویہ ضیاء العلوم راولپنڈی

صفحہ 20

﴿ پیش لفظ ﴾

بسم اللہ الرحمن الرحیم

4 جنوری 2010ء پاکستان کی تاریخ کا ایک نا قابل فراموش دن ہے اس دن غلامانِ محمد ﷺ کے سر فخر سے بلند ہو گئے۔ سیکولر انتہاء پسند اور گستاخ عناصر ہمیشہ کیلئے سرنگوں ہو گئے کیونکہ آج ایک عاشق رسول نے اپنے نبی ﷺ پر اپنی جان کو نچھاور کر دیا تھا۔ گورنر پنجاب جو کہ پاک دھرتی پر گستاخوں کا نمائندہ اور حمایتی بن کر اُبھرا تھا اپنے کئے پر انجام کو پہنچا۔

کشتہ عشق رسول ﷺ ، مجاہد اسلام ملک ممتاز حسین قادری نے 4 جنوری 2010ء دن دیہاڑے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو اپنی سرکاری رائفل SMG سے برسٹ مار کر کوہسار مارکیٹ اسلام آباد میں قتل کر دیا اور قتل کرنے کے بعد ہتھیار پھینک کر خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ سلمان تاثیر کے قتل کے بعد 500 سے زائد مفتیان شرع متین نے فتویٰ جاری کیا کہ مقتول گورنر کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے اور اس کی نماز جنازہ میں کوئی ایک عالم دین اور کوئی ایک بھی مذہبی شخصیت شریک نہ ہوئی۔ ایک طرف ملک ممتاز حسین قادری کو غازی اسلام، شیر اسلام کے القاب دیئے گئے تو دوسری طرف میڈیا پر سیکولر انتہا پسندوں کی لابیاں متحرک ہو گئیں اور سلمان تاثیر کو شہید قرار دیتے ہوئے یہ واویلا مچانا شروع کیا کہ آخر گورنر سلمان تاثیر کا جرم کیا تھا کہ اسے قتل کر دیا گیا؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ سلمان تاثیر نے اپنے قتل کا سامان خود کیا۔ اس نے انتہائی نازک دینی معاملے پر اپنی زبان کو لگام نہ دی جس کی پاداش میں اپنے ہی سرکاری محافظ کے ہاتھوں انجام کو پہنچا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سلمان تاثیر کا جرم کیا تھا؟؟ گورنر مقتول کے جرم کی روئیداد کچھ اس طرح ہے کہ 14 جون 2009ء کو ضلع ننکانہ صاحب شہر سے 16 کلومیٹر دور ایک اٹانوالی نامی گاؤں چک نمبر 3 میں عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والی ایک ملعونہ عاصیہ مسیح نے قرآن مجید اور نبی پاک ﷺ کی شان اقدس میں نہایت ہی دل آزار کلمات کہے اور نازیبا گفتگو کی۔ گاؤں کی مسلمان آبادی میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں نے قانونی راستہ اختیار کرتے

صفحہ 21

ہوئے ملعونہ کے خلاف پرچہ درج کروانے کے لئے تھانے کا رخ کیا۔ وفاقی اقلیتی وزیر شہباز بھٹی کی مداخلت کے باعث پرچہ بروقت درج نہ ہوسکا۔ وفاقی وزیر کی مداخلت کے خلاف لوگ احتجاج پر اُترے اور بالآخر 19 جون 2009ء کو عاصیہ مسیح کے خلاف دفعہ 295C کے تحت پرچہ ایف آئی آر نمبر 326/09 درج ہوگیا۔ ملزمہ کو گرفتار کر لیا گیا اور اس کیس کی تفتیش ایک انتہائی نیک نام پولیس آفیسر جناب سید محمد امین ایس پی شیخوپورہ کے سپرد کی گئی۔ چنانچہ ایس پی شیخوپورہ نے تفتیش کا آغاز کیا۔ اپنے طور پر گواہوں کو بلایا ان کے بیان ریکارڈ کئے اور 26 جون 2009ء کو دفعہ 161 کے تحت عاصیہ مسیح کا بیان ریکارڈ کیا اور انتہائی جانفشانی اور شفاف طریقے سے 3 ماہ میں تفتیش مکمل کرتے ہوئے عاصیہ مسیح کو واقعی ملزمہ قرار دیا اور چالان مکمل کرتے ہوئے 14 ستمبر 2009ء کو عدالت کے سپرد کیا۔ اور اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ”عاصیہ مسیح نے واقعی حضور اکرم ﷺ اور قرآن مجید کی شان میں گستاخانہ باتیں کی ہیں اور ملزمہ نے دورانِ تفتیش ان تمام الزامات کو نہ صرف تسلیم کیا ہے بلکہ اپنے کئے کی معافی بھی طلب کر رہی ہے“۔ اس مقدمہ کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب جناب محمد نوید اقبال کی عدالت میں ہوئی ملزمہ کی طرف سے سات وکلاء نے کیس کی پیروی کی جن میں اکثریت اقلیتی وکلاء کی تھی۔ ایرک جون ایڈوکیٹ جسٹس گل ایڈوکیٹ، طاہر گل صادق ایڈوکیٹ، چوہدری ناصر انجم ایڈوکیٹ، رائے اجمل ایڈوکیٹ کے علاوہ ایڈوکیٹ سپریم کورٹ منظور قادر بھی ملعونہ کی طرف سے عدالت میں پیش ہوئے ان وکلاء کے ناموں اور تعداد کو دیکھ کر یہ بات بالکل عیاں ہے کہ ملزمہ کو اپنی صفائی پیش کرنے کے متعلق کسی پریشانی اور وکلاء کی عدم دستیابی کا کوئی سامنا نہ کرنا پڑا۔ استغاثہ کی طرف سے جناب میاں ذوالفقار علی ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ استغاثہ کی طرف سے 7 گواہان نے عدالت میں بیانات قلم بند کروائے۔ تقریباً ڈیڑھ سال شفاف طریقے سے کیس کی سماعت ہوتی رہی اور بالآخر 8 نومبر 2010ء کو ایڈیشنل سیشن جج جناب محمد نوید اقبال نے اس مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزمہ عاصیہ مسیح کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295C کے تحت سزائے موت

صفحہ 22

سنائی اور ایک لاکھ جرمانہ کی سزا بھی دی۔ اور اپنے فیصلہ میں لکھا کہ :

”یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس گاؤں میں عیسائی حضرات کی ایک کثیر تعداد مسلمانوں کے ساتھ کئی نسلوں سے آباد ہے ماضی میں اس علاقے میں اس قسم کا کبھی بھی کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ مسلمان اور عیسائی دونوں ہی ایک دوسرے کے مذہبی جذبات اور اعتقادات کے سلسلے میں برداشت اور رواداری کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں اگر توہین رسالت کا اس قسم کا کوئی واقعہ پہلے کبھی اس گاؤں میں پیش آتا تو یقیناً فوجداری مقدمات اور مذہبی جھگڑے اس علاقے میں پہلے بھی ہوتے۔ لہذا اس مرتبہ یقیناً توہین رسالت کا ارتکاب ہوا ہے جس کے باعث مقدمہ درج ہوا اور لوگ اس پر جمع ہو گئے اور یہ معاملہ اس قصبے اور اردگرد میں موضوع بحث بن گیا۔ یہاں یہ ذکر کرنا بھی مناسب ہوگا کہ نہ تو ملزمہ نے اپنی صفائی میں کوئی شکایت پیش کی اور نہ ہی اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو 340/2 کے تحت غلط ثابت کیا۔ مندرجہ بالا بحث کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ استغاثہ نے اس مقدمہ کو کسی شک وشبہ سے بالاتر ثابت کر دیا ہے۔ تمام استغاثہ گواہان نے استغاثہ کے موقف کی متفقہ اور مدلل انداز میں تائید وتصدیق کی ہے استغاثہ گواہان اور ملزمہ کے بزرگوں یا ان کے خاندانوں میں کسی دشمنی کا وجود نہیں پایا جاسکا لہذا ملزمہ خاتون کو ناجائز طور پر اس مقدمہ میں ملوث کئے جانے کا قطعاً کوئی امکان نہیں ، ملزمہ کو اس مقدمہ میں رعایت دیئے جانے کا بھی کوئی جواز موجود نہیں لہذا میں ملزمہ عاصیہ بی بی زوجہ عاشق کو زیر دفعہ 295C تعزیرات پاکستان سزائے موت کی سزا کی مجرمہ ٹھہراتا ہوں۔ عدالتی فیصلے کے بعد عاصیہ مسیح کے شوہر سابق فوجی ”عاشق مسیح“ نے جج کے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔

سیشن جج کے اس فیصلہ کے خلاف عیسائیوں کے پوپ بینی ڈکٹ سے لے کر نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کے تنخواہ داروں تک گستاخوں کے سر پرست میدان میں نکل آئے اور ایک آزاد ملک کی آزاد عدالت کے فیصلے کی مذمت اور احتجاج شروع کر دیا۔ پوپ نے نہ صرف عاصیہ کی رہائی کے لئے چرچ میں دعا کروائی بلکہ صدر پاکستان آصف علی زرداری سے اس کی سزا معاف

صفحہ 23

کرنے کی بھی اپیل کی اور ساتھ ہی ساتھ مطالبہ کیا کہ پاکستان سے توہین رسالت کے قانون کو فوری طور پر ختم کر دیا جائے۔ عیسائیوں اور اقلیتی نمائندوں کا احتجاج تو قابل فہم بات تھی تاہم پورے ملک میں اس وقت تشویش کی لہر دوڑی جب پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے آئینی سربراہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر پوپ کے بیان کے بعد 20 نومبر 2010ء کو اپنے ہی ملک کی آزاد عدالت سے مجرمہ قرار دی جانے والی عاصیہ مسیح سے اظہار ہمدردی کرنے اور اس خاتون سے ملنے کے لئے اپنے اہل خانہ این جی اوز کے نمائندوں اور میڈیا کے ہمراہ ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ پہنچے اور سپریڈنٹ کے آفس میں ملعونہ عاصیہ کو بلا کر اس سے اظہار ہمدردی کیا اور اسے ہر طرح کے حکومتی تعاون کا یقین دلایا۔

ملعونہ عاصیہ کو اپنے ساتھ بٹھا کر پریس کانفرنس کی اور ملعونہ عاصیہ کو مظلومہ الحال، بے بس اور قابل رحم قرار دیا اور سیشن جج کی طرف سے دی جانے والی سزا کو ظالمانہ قرار دیا اور سب سے بڑھ کر ظلم یہ کیا کہ قرآن وسنت کی صراحت سے بنے ہوئے قانون توہین رسالت کو امتیازی، غیر انسانی اور کالا قانون قرار دیا اور ہرزہ سرائی کی کہ اس قانون کو ہر حالت میں ختم ہونا چاہئے۔ بعد ازاں میڈیا کی موجودگی میں ملعونہ عاصیہ سے ایک ٹائپ شدہ درخواست پر دستخط کروائے اور کہا کہ یہ وہ درخواست ہے کہ جس کے ذریعے میں بطور گورنر صدر زرداری سے آپ کی سزا کی معافی کرواؤں گا اور بعد ازاں یہ انٹرویو دیا کہ میں پہلا گورنر ہوں جو اس طرح کے لوگوں کی حمایت کیلئے نکلا ہوں۔

یاد رہے کہ عاصیہ ملعونہ صرف ملزمہ نہ تھی بلکہ آزاد اور مجاز عدالت نے شفاف کیس چلنے کے بعد اسے مجرمہ قرار دیا تھا۔ گورنر پنجاب نے توہین رسالت کی مجرمہ کو بہن قرار دیا اور اس سے ہمدردی کی اور بداہتاً ثابت ہوتا ہے کہ گستاخ رسول کی حمایت کرنا بھی گستاخی اور توہین رسالت کے زمرے میں آتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کے بنائے ہوئے قانون کو کالا قانون کہنا بھی کفر ہے۔ شاید لزوم والتزام کا فرق سمجھنے والا سلمان تاثیر کے اس فعل کو لزوم کفر قرار دے مجھے تسلیم ہے کہ یہاں لزوم کفر ہے لیکن سلمان تاثیر نے اس کا التزام ایک مرتبہ نہیں بیسیوں

صفحہ 24

مرتبہ کیا۔ علماء اور عوام کے احتجاج کو جوتے کی نوک پر رکھنے کا اعلان کیا اور مختلف ٹی وی شوز اور پروگرام میں انتہائی کبر ونخوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بار بار اس بات کو دھرایا کہ وہ اس قانون تحفظ ناموس رسالت کو ختم کریں گے اور تحفظ ناموس رسالت کے قانون کو ظالمانہ قانون ایک دفعہ نہیں کہا بلکہ کئی دفعہ مختلف ٹی وی پروگرامز پر اپنی اس خباثت کو دھرایا۔ ( گورنر کی گستاخانہ گفتگو کی وڈیوز ہمارے پاس محفوظ ہیں ) پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا ایسے میں صدر پاکستان کا فرض بنتا تھا کہ وہ گورنر کو آرٹیکل 295C کے قانون کے خلاف ہرزہ سرائی کی وجہ سے اپنے عہدے سے فارغ کر دیتے یا اسے لگام دیتے اور صدر کی جرات نہیں تھی تو چیف جسٹس آف پاکستان ہی گورنر کی اس ہرزہ سرائی پر سوموٹو ایکشن لے لیتے اور کم از کم گورنر کے اس طرز تکلم و انداز عمل کو خلاف قانون ہی کہہ دیتے۔ چینی، پٹرول کی قیمت میں اضافے کو مفاد عامہ کے خلاف سمجھنے پر سوموٹو ایکشن لینے والے چیف جسٹس صاحب کا کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری اور آئین پاکستان کی مخالفت کے باوجود کوئی ایکشن نہ لینا خود آپ جناب کے انداز فکر پر سوالیہ نشان چھوڑتا ہے؟ کیا پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ میں مفاد عامہ کا نقصان زیادہ تھا یا توہین رسالت کے قانون کے حوالے سے ہرزہ سرائی کے باعث کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری پر۔ کیا جناب چیف جسٹس کو معلوم نہیں کہ پاکستانی مسلمان چینی اور پٹرول کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے لیکن رسول ﷺ کی ناموس وحرمت کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

یہ بات سو فیصدی ہے کہ عاصیہ کیس کے تناظر میں گورنر پنجاب اپنے گستاخانہ ریمارکس اور طرز عمل کی وجہ سے شریعت اسلامیہ کے باغی اور پاکستانی قوم کے مجرم تھے اس مجرم کو قانون کے کٹہرے میں ہونا چاہئے تھا لیکن ۔۔۔؟

ایک ہی راستہ بچتا تھا کہ شریعت کے باغی اور قوم کے مجرم کو غلامان رسول و محافظین ناموس رسالت از خود کیفر کردار تک پہنچائیں جو ان کا چودہ صدیوں سے وطیرہ آ رہا ہے۔ چنانچہ 4 جنوری 2011ء بروز منگل کو گستاخ رسول ملعونہ عاصیہ کے ہمدرد، قانون شریعت کے خلاف ہرزہ سرائی

صفحہ 25

کرنے والے بدزبان گورنر پنجاب کو ایک عاشق رسول نے 27 گولیاں مار کر کیفر کردار تک پہنچا دیا۔ اور یوں پوری قوم کے سر سے بوجھ اُتار دیا۔ گورنر تاثیر کا جرم ، نبی علیہ السلام کی اہانت اور قرآن وسنت کی توہین تھا جس کی اُسے سزا مل گئی۔

شہادت یا موت

گورنر کے قتل پر ایک طرف تو ملک بھر میں مٹھائیاں تقسیم ہو رہی تھیں تو دوسری طرف میڈیا میں گورنر کے قتل کو ظلم ، بربریت ، انتہاء پسندی ، شدت پسندی اور ”شہادت“ کے الفاظ سے تعبیر کیا جارہا تھا۔ گورنر کا قتل ”موت“ ہے یا ”شہادت“ اس کا فیصلہ قطعاً مشکل نہیں۔ اس کی درج ذیل چند وجوہات ہیں۔

تھی لہٰذا گورنر نے ایک گستاخ رسول کی حمایت کر کے بذات خود توہین کا ارتکاب کیا اور اپنے آخری وقت تک گستاخ رسول کی حمایت کو ”انسانی ہمدردی“ کا نام دیتے ہوئے اس پر ڈٹے رہے اور یوں توہین رسالت کرنے کے جرم میں گورنر عاصیہ ملعونہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے۔

ٹوئیٹر پر اپنے پیغام میں تاثیر نے لکھا کہ ”مجھ پر توہین رسالت قانون کے سلسلے میں دائیں بازو کی قوتوں کے سامنے جھکنے کیلئے شدید دباؤ ہے، تاہم اگر میں اس موقف پر آخری شخص بھی رہ گیا تب بھی ایسا نہیں کروں گا۔۔۔۔۔۔ میں ایسے لوگوں کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں۔“

( روزنامہ جنگ 5 جنوری 2011ء )

کا اجماع ہے۔ تعزیرات پاکستان میں قرآن وسنت کے احکام کے مطابق گستاخ رسول کی سزا موت مقرر کی گئی ہے اور قانونی اصطلاح میں اس شق کا نمبر 295.C ہے اسی کو عرف میں قانون تحفظ ناموس رسالت سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ گورنر نے عاصیہ ملعونہ کو بغل میں بٹھائے ہوئے

صفحہ 26

قرآن وحدیث سے ثابت شدہ اس قانون (295.C) کو ”کالا قانون“ کہتے ہوئے قرآن و حدیث کے حکم کی کھلی خلاف ورزی اور توہین کی تھی۔

کرتے ہوئے توبہ واستغفار کا کہا تو اس نے سفاکانہ انداز میں علماء کے اس فیصلے کو نعوذ باللہ جوتے کی نوک پر رکھنے کا اعلان کیا۔ یوں گورنر نے علماء دین کی توہین کرتے ہوئے ایک اور گستاخی کا ارتکاب کیا۔

پائے گئے قادیانیوں کی تعزیت اور ان کے لئے نام نہاد دعائے مغفرت بھی کی تھی۔ اس پر تمام مکاتب فکر کے علماء کا اجماع ہے کہ جو شخص کسی بھی قادیانی کو مسلمان سمجھے یا کسی بھی قادیانی کو مسلمان سمجھتے ہوئے اس کے لئے مغفرت طلب کرے وہ خود دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ گورنر نے صرف تعزیت ودعائے مغفرت پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ اس کی بیٹی کے بقول اس کا باپ آئین کی اس شق کا بھی مخالف تھا جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے۔

(روزنامہ جنگ 11 جنوری 2011ء)

اس کے علاوہ پچھلے سال بھی گورنر کی طرف سے قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی مخالفت، قادیانیوں کی کھلی حمایت اور گستاخ رسول کی یاد میں منائی جانے والی بسنت کو تہوار کا نام دیتے ہوئے کئی بیانات منظر عام پر آئے ہیں لیکن سر دست پہلے بیان کئے گئے تین، چار امور پر ہی غور کر لیا جائے تو گورنر کے قتل کو موت یا شہادت کہنے کی حقیقت سمجھ میں آجاتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی شان میں نعوذ باللہ کھلی گالیاں بکنے والی عورت کو عدالتی کاروائی میں قصور وار ثابت ہونے کے باوجود بے قصور کہنا اور اس کی گستاخیوں کی وکالت کرنا ، قرآن وسنت سے ثابت شدہ گستاخ رسول کی سزا ”موت“ کا مذاق اڑانا، علماء کرام کو جوتے کی نوک پر رکھنے کا کہنا اور قادیانیوں / مرزائیوں کو مسلمان سمجھنے والا اگر گستاخ نہیں تو پھر گستاخ کس مخلوق اور کس عقیدے کے لوگوں کا نام ہے؟؟

صفحہ 27

گورنر نے نہ صرف توہین رسالت کا ارتکاب کیا بلکہ قرآن و سنت کی توہین اور مخالفت کر کے اپنے عہدے کے حلف کو بھی تار تار کیا ہے۔ ہر گورنر اپنے حلف میں اقرار کرتا ہے کہ ”میں اللہ کو حاضر و ناظر جان کر یہ عہد کرتا ہوں کہ دو قومی نظریے، اسلام کی سربلندی، پاکستان کے دفاع اور ترقی پر کار بند رہوں گا اور قرآن و سنت کے احکامات پر عمل کروں گا۔“

قرآن و سنت کے واضح احکامات تو گستاخ رسول کو سزائے موت اور قادیانیوں کو غیر مسلم و مرتد قرار دیتے ہیں لیکن گورنر کے نزدیک نہ تو گستاخ رسول کے سزا موت ہے اور نہ ہی مرزائی / قادیانی کافر، اب گورنر کے حمایتی ہی فیصلہ کریں کہ کیا گورنر اپنے عہدے کے حلف کا لحاظ رکھا اور اس پر عمل کیا ہے؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر گورنر ہاؤس کے طواف کی خاطر تاثیر کی طرح اپنا ایمان کیوں داؤ پر لگا رہے ہیں؟

اگر شاتمین رسالت کی حمایت کا گناہ عظیم اور بوجھ تاثیر کی گردن پر نہ ہوتا تو اس کے جنازہ و تدفین کا اتنا عبرتناک والم ناک منظر کبھی نہیں ہونا تھا۔ علماء کرام کی مسلسل گذارشات کا اگر وہ مذاق نہ اڑاتے اور اپنی ضد پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہ کرتے ہوئے سنجیدگی سے اپنے بیانات پر غور کرتے تو شاید انہیں توبہ کی توفیق ہو جاتی۔ افسوس کہ تاثیر اپنے والد محمد دین (ایم ڈی) تاثیر کی فکر کے باغی تھے اور یہ بغاوت اس حد تک آگے بڑھ گئی تھی کہ جس میں انہوں نے واپسی کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔

ہوئے جو ہم مر کے رسوا ، ہوئے کیوں نہ غرق دریا
نہ کہیں جنازہ اٹھتا ، نہ کہیں مزار ہوتا

سلمان تاثیر کی گستاخیوں کے سبب 500 علماء اہل سنت کا متفقہ فتویٰ جاری ہوا کہ گستاخ رسول کا حمایتی بھی گستاخ ہے۔ کوئی مسلمان اس کی نماز جنازہ نہ پڑھے اور نہ ہی پڑھانے کی کوشش کرے۔

چنانچہ اگلے دن وہ منظر بھی سامنے آیا کہ پیپلز پارٹی نے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا کہ کوئی نہ کوئی نامور عالم دین اپنے دین کا سودا کرتے ہوئے تاثیر کا جنازہ پڑھائے لیکن جب ہر طرف

صفحہ 28

سے منہ کی کھانی پڑی تو اپنا ہی کوئی جیالا کام آیا۔ پڑھانے والا کوئی بھی تھا اتنا با کمال تھا کہ نہ جنازہ پڑھنے والے کو اندازہ ہوا اور نہ ہی پڑھانے والے کو لیکن 40 سیکنڈ میں یہ کام تو تمام کر ہی دیا گیا۔ تین صفیں امام سے بھی آگے کھڑی ہو کر اقتداء کر رہی تھیں۔ بہر کیف جس شخص نے عمر بھر دین کے ساتھ مذاق کیا ہو دنیا سے اس کی روانگی قطعاً اس سے مختلف نہیں ہوتی۔

جو شخص جتنا ذمہ دار ہو یا جتنے بڑے عہدے پر فائز ہو اسے اتنی ہی محتاط گفتگو کرنی چاہئیے لیکن پاکستانی سیاست دان اکثر اس پر کم ہی عمل کرتے ہیں خصوصاً مذہبی معاملات میں۔ ناموس رسالت یا حرمت رسول ﷺ اسلام بلکہ تمام مذاہب کی اساس و بنیاد ہے۔ حکمرانوں کو دستور پاکستان کی عزت، بانی پاکستان کی عزت، قومی پرچم کی عزت، صدر کی عزت، وزیر اعظم کی عزت تو راسخ ہوتی ہے مگر مسلمان کہلوانے کے باوجود نبی کریم ﷺ کا مقام و مرتبہ اور عظمت نہ جانے کیوں بھول جاتی ہے؟؟

وزیر داخلہ عبدالرحمن ملک کا کہنا ہے کہ اگر توہین رسالت کا مرتکب شخص میرے سامنے آئے تو میں بھی اسے گولی مار دوں گا وزیر داخلہ کی اس بات کو معیار بنایا جائے تو غازی ممتاز قادری نے بھی یہی کیا تھا۔ 500 علماء کے فتوے کے مطابق گستاخ کا حمایتی بھی گستاخ ہے۔ گورنر نے عاصیہ کی حمایت کی تو وہ بھی گستاخ ہی کہلائے، اب جس وقت غازی ممتاز قادری کے سامنے گستاخ تاثیر آیا تو انہوں نے عبدالرحمن ملک کے کہنے کے مطابق اسے گولیاں مار دیں۔ اگر بالفرض محال غازی نے غلط کیا ہے تو حکمرانوں کو سب سے پہلے اپنا وزیر داخلہ بدلنا چاہئیے جو خود اس عمل کی حمایت کر رہا ہے۔

حکومت، ملکی و غیر ملکی میڈیا، دین بیزار این جی اوز اور ”دانش ور“ طبقے نے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہوئے غازی ممتاز قادری کے خلاف بھی بھر پور منفی پروپیگنڈہ کیا لیکن اللہ رب العزت کی تدبیریں بھی خفیہ ہوتی ۔ غازی ممتاز قادری کے مخالفین پر سب سے پہلا زناٹے دار تھپڑ تو خود

صفحہ 29

تھانہ کوہسار کے غیور پولیس اہلکاروں نے اس وقت رسید کیا جب وہ گورنر کے قتل کے فوری بعد غازی صاحب کو اپنی حراست میں تھانے لے گئے اور وہاں غازی صاحب سے وجد کی حالت میں نعت رسول مقبول ﷺ ”یا رسول اللہ ﷺ تیرے چاہنے والوں کی خیر“ سن رہے تھے۔ کسی غیرت مند پولیس اہلکار نے غازی صاحب کی پڑھی گئی اس نعت شریف کا موبائل ویڈیو کلپ بنا کر Youtube پر اپ لوڈ کر کے پوری امت مسلمہ کو پیغام دے دیا کہ اس محکمے میں بھی غازی کے دیوانے موجود ہیں۔

حکومتی ایوانوں میں دیگر پولیس والوں کے اس ردعمل پر ابھی سوگ منایا جا رہا تھا کہ وکلاء سے انہیں ایک اور شدید دھچکا لگا۔ پاکستانی معاشرے میں وکلاء کے طبقے کو مہذب ، تعلیم یافتہ اور روشن خیال تصور کیا جاتا ہے۔ اس ”روشن خیال“ طبقے نے اسلامی غیرت کی ایسی روشنی دکھائی کہ حکمران اور پورا عالمی میڈیا ورطۂ حیرت میں مبتلا ہو گیا ہے۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں جب غازی صاحب کو لایا گیا تو وکلاء نے منوں پھول غازی صاحب پر نچھاور کئے اور پورا احاطۂ عدالت نعرہائے تکبیر و رسالت اور ”لے گیا بازی ممتاز غازی“ ”غازی تیرے جانثار بے شمار بے شمار“ کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا۔ وکلاء نے غازی صاحب کے چہرے پر پولیس کی طرف سے ڈالے گئے کپڑے کو اتار پھینکا اور فرط عقیدت سے اس محافظ رسالت کو چومتے رہے۔

دنیا جانتی ہے کہ وکلاء سے اگر کسی کیس کے متعلق مشورہ بھی طلب کیا جائے تو وہ فیس کے بغیر خالی مشورہ بھی نہیں دیتے ، کیس لڑنا تو بہت دُور کی بات ہے ۔ مگر غازی ممتاز کی جرأت و بہادری اور ایمانی غیرت و حمیت پہ قربان کہ پہلے دن ہی ایک دو یا تین نہیں تقریباً تین سو وکلاء نے غازی صاحب کا کیس لڑنے کے لئے خود کو رضا کارانہ پیش کر دیا جب کہ ان میں کئی وکلاء ایک کیس کی لاکھوں روپے فیس لیتے ہیں۔ بعد میں پشاور بار سے تین سو اور ملک کے دیگر حصوں سے بھی کئی وکلاء نے اپنی خدمات پیش کر دیں ۔ غازی صاحب کا وکالت نامہ پُر کرتے ہوئے جو ایمانی جذبات کے مظاہرہ دیکھنے کو ملے تاریخ ان کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کے

صفحہ 30

سچے عاشق غازی ممتاز قادری کی وکالت کرنے کیلئے وکلاء میں جھگڑا بھی ہوا کہ کہیں ان میں سے کسی کا نام وکالت نامے میں شامل ہونے سے رہ نہ جائے۔ ہر وکیل کا یہی جذبہ تھا کہ وکالت نامے پر دستخط غازی صاحب کے دفاع کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کے ضامن بھی ہوں گے۔ اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ دہشت گردی کی عدالت کے جج کی طرف سے کئے گئے فیصلے کے خلاف جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا تو نیشنل اور انٹرنیشنل دانش وروں کو زور دار جھٹکا اس وقت لگا جب تین ریٹائرڈ جسٹس حضرات نے رضا کارانہ طور پر غازی صاحب کا کیس لڑنے کی حامی بھر لی بالخصوص حال ہی میں ریٹائرڈ ہونے والے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب خواجہ شریف صاحب کیس لینے کے باعث سیکولر انتہا پسند سخت حیران و پریشان ہیں اس لئے کہ خواجہ شریف صاحب نے ابتدائی بیان میں یہ بات کہی تھی کہ میں اپنی سعادت سمجھ کر ممتاز حسین قادری صاحب کے کیس کی وکالت کرنا چاہتا ہوں۔ اور بعد ازاں انہوں نے اپنے دفتر میں غازی صاحب کے دستخط شدہ وکالت نامے کی فوٹو کاپی فریم کروا کے لگائی اور اپنے اہل خانہ کو وصیت کی کہ جب میں مروں تو اس تحریر کو میرے کفن کے اندر رکھنا تاکہ اللہ رب العزت کے سامنے کہہ سکوں ”الہی تیرے محبوب ﷺ کے عاشق اور اس کی حرمت کے محافظ کا وکیل ہوں“

غازی صاحب کو اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تو وہاں بھی محافظ ناموس رسالت غازی ممتاز قادری کا اس انداز میں استقبال ہوا کہ ”تاثیری ٹولہ“ سر پیٹ کر رہ گیا۔ غازی صاحب جب جیل میں داخل ہوئے تو جیل میں 6 ہزار قیدیوں اور عملے نے ”غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے“ کے نعروں میں استقبال کیا۔ عملے کے کچھ افراد نے غازی صاحب کے گلے میں ہار پہنائے اور غازی اسلام کی آمد کی وجہ سے خلاف ضابطہ تمام قیدیوں نے عصر کے قریب اپنی بیرکوں میں واپس جانے کی بجائے غازی ممتاز قادری کی امامت میں نماز عصر ادا کرنے کا اصرار کیا اور جیل کے ایک پولیس اہلکار کے مطابق غازی صاحب کے جیل جانے کے بعد سینکڑوں قیدیوں نے توبہ کی اور پنجگانہ نماز شروع کر دی۔

صفحہ 31

غلامی رسول ﷺ کے یہ تو وہ ادنیٰ مظاہر ہیں جنہیں انسانی آنکھ دیکھ سکتی ہے، حقیقی سرور و مستی تو غازی صاحب ہی کو معلوم ہوگی کہ آقا کریم ﷺ جن کی ناموس کی حفاظت کے لئے غازی ممتاز قادری نے جان کی بازی لگائی ہے وہ کس کس طرح انعامات و اکرام سے نواز رہے ہیں۔ غازی اسلام کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو ان سے انتہائی مسرور کن خوشبو آ رہی تھی جسے میرے علاوہ وہاں موجود دیگر افراد نے بھی محسوس کیا۔

آزادی اظہار کا مکروہ نعرہ بلند کرنیوالوں نے جب ویب سائٹ "فیس بک" پر آقا کریم ﷺ کے دیوانوں اور غازی ممتاز قادری کے حمایتیوں کے پیج اور پیغامات دیکھے تو انہیں آزادی اظہار رائے کا نعرہ بھول گیا اور انہوں نے 5 جنوری کو پہلی ہی فرصت میں غازی صاحب کی حمایت میں بنائے گئے تمام صفحات کو ہٹا دیا تھا۔ فیس بک انتظامیہ اس وقت حواس باختہ ہوئی جب غازی ممتاز قادری کے چاہنے والوں نے فیس بک پر ایک پیج بنام غازی ممتاز قادری بنایا جس کے ارکان کی تعداد چند گھنٹوں میں 2000 تک پہنچ گئی جبکہ گورنر کے حمایتیوں نے بھی ایک پیج بنایا جس پر اتنے ہی وقت میں صرف 70 افراد نے اپنی حمایت ظاہر کی۔

غازی صاحب کی حمایت دیکھ کر مغربی میڈیا کی بوکھلاہٹ کا اندازہ اُن کی اس رپورٹ سے ہو سکتا ہے کہ "پڑھے لکھے اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والے پاکستانیوں کی جانب سے سلمان تاثیر کے قتل پر خوشی کے اظہار سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں مذہب کے اثرات بہت گہرے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی کس قدر قدامت پسند ہیں۔"

پاکستانی حکمرانوں نے گمراہ میڈیا کو مزید گمراہی کی طرف دھکیلتے ہوئے حکم جاری کیا کہ غازی ممتاز قادری کی حمایت میں کوئی خبر میڈیا میں جاری نہ کی جائے اور نہ اپنے پروگرام میں ایسے کسی شخص کو بطور مہمان مدعو کیا جائے جو غازی صاحب کو بطور ہیرو پیش کرے البتہ گورنر کی حمایت میں مہمانوں کو مدعو کر کے ممتاز قادری کے فعل کی مذمت کروائی جائے۔

صفحہ 32

حکومت، میڈیا، نام نہاد روشن خیالوں اور دانش وروں کے پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دینا ہر محب اسلام خصوصاً علماء کرام کی ذمہ داری ہے۔ انہیں اس حوالے سے عوام کے دماغ میں اٹھنے والے ہر سوال کا دوٹوک، جامع اور بروقت جواب دینا ہوگا وگرنہ توہین رسالت اور گستاخ رسول کی حمایت میں بہت سے ناسمجھ اپنی ناسمجھی میں ایمان جیسی عظیم دولت سے محروم ہو جائیں گے اور انہیں اس کا علم بھی نہ ہوگا لہٰذا دینی معاملات کے حوالے سے علماء کرام کو اپنا قائدانہ کردار بروقت ادا کرنا ہوگا۔ نیز علماء کرام کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ بنیادی عقائد اسلامیہ کے حوالے سے ماننے اور نہ ماننے کی صورت میں صرف دو ہی راستے ہیں۔ ماننے والا اسلام کی راہ پر اور نہ ماننے والا کفر کی راہ پر ہوگا۔ ان دونوں کے درمیان کا راستہ نفاق کا ہے جو کفر سے بھی بدتر ہے۔ آج کل اسی نفاق کے راستے کو روشن خیال اور دانش ور طبقہ اعتدال اور معتدل مزاجی سے تعبیر کرتا ہے۔

گستاخ رسول کی امت مسلمہ میں کوئی رو رعایت نہیں ہے۔ امت مسلمہ میں سب سے نرم مزاج، رقیق القلب ہستی سیدنا صدیق اکبر ؓ کی ہے لیکن اس کے باوجود ناموس رسالت کے تحفظ کے سلسلے میں آپ اس قدر حساس ترین طبیعت کے مالک تھے کہ خلافت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد سب سے پہلا باقاعدہ فرمان جو آپ نے جاری کیا وہ گستاخ رسول مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کا تھا۔

نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں ملعونہ عاصیہ نے صریح گستاخی کی تو پاکستان کے عدالتی نظام کے تحت جرم ثابت ہونے پر اسے ”موت“ کی سزا سنائی گئی۔ اس سزائے موت پر ایک طے شدہ سازش کے تحت قادیانی اور عیسائی کٹھ پتلیوں نے میڈیا کے ذریعے اس انداز میں احتجاج کیا کہ عاصیہ ملعونہ کا کیس پس منظر میں چلا گیا اور آئین پاکستان میں تحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے بنائے گئے قانون کے خلاف ہرزہ سرائی شروع ہوگئی۔

قادیانی اور عیسائی ایجنٹوں نے اپنے گماشتوں کے ذریعے ایک خالص دینی و علمی مسئلے کو

صفحہ 33

”چوراہے“ کا موضوع بنا دیا۔ اس مسئلہ میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں کہ ناموس رسالت دین اسلام کا انتہائی حساس اور نازک ترین موضوع ہے لیکن گورنر کے قتل کے بعد پرنٹ والیکٹرانک میڈیا میں ناموس رسالت کے حساس ترین موضوع پر اس طرح زور آزمائی کی گئی کہ دانستہ وغیر دانستہ طور پر پروگرام کرنے اور سننے والے بھی بسا اوقات توہین کے مرتکب ہوتے رہے۔

پاکستان میں میڈیا کی آزادی ”آوارگی“ کی حد تک بڑھ چکی ہے۔ مغرب میں ہولو کاسٹ سمیت کئی عنوانات پر میڈیا کو پابند بنایا جاتا ہے کہ وہ ان حساس موضوعات کو زیر بحث نہیں لاسکتے لیکن مغربی میڈیا کی نقالی میں مدہوش ومست پاکستانی میڈیا اس ”حد“ کی پابندی کیوں نہیں کرتا کہ ”حساس ترین“ موضوعات کو زیر بحث نہ لایا جائے۔

پاکستان میں ٹی وی چینلز کی بہتات اور ان کے آپسی مقابلے کی وجہ سے ہی قانون تحفظ ناموس رسالت اس وقت میڈیا کا ”ہاٹ ایشو“ بن گیا اور ہر چینل اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے ہر ماجھے ساجھے کو ”دینی اسکالر“ کے رُوپ میں پیش کرتا رہا۔ کہیں ہر پاؤں میں فٹ آجانے والے دبئی بھاگے ہوئے معروف منکر حدیث کو ”عالم اسلام کے نامور اسکالر“ کے طور پر پیش کیا جا تا رہا اور کہیں بنیادی دینی تعلیم سے کوسوں دُور پارلیمنٹیرینز اور اسلام دشمن این جی اوز کے نمائندوں کو دانش وروں کے طور پر پیش کیا جاتا رہا جو دانش ور کم اور ”دانش خر“ زیادہ ہیں۔

ان دانش خروں کی نظر میں اسلام کے نام پر بننے والے ملک ”پاکستان“ میں اس وقت سب کے حقوق ہیں لیکن خود اسلام اور بانی اسلام کا کوئی حق نہیں۔ اس ملک میں ایک گناہگار امتی کی عزت کے تحفظ کے لئے تو ”ہتک عزت“ کا قانون موجود ہے اور اس پر کسی کو اعتراض نہیں لیکن اس کے نبی بلکہ نبی الانبیاء ﷺ کی عزت و ناموس کے لئے قانون موجود ہونے پر اعتراض کیوں ہے؟ اس ملک میں انسانوں کے بنائے گئے قانون یعنی دستور پاکستان یا آئین پاکستان کو تو ایک مقدس کتاب کے طور پر مانا جاتا ہے لیکن حقیقی کتاب مقدس یعنی قرآن کریم کی آئے روز توہین

صفحہ 34

کیوں کی جاتی ہے؟

گورنر کے قتل کو میڈیا اینکرز اور کالم نگار انتہائی عجیب و غریب انداز میں پیش کر کے پوری قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ ہر طرح کی قیل و قال سے قطع نظر کرتے ہوئے ہمیں تاثیر کے ان اقدامات اور کھلی گستاخیوں کو مدنظر رکھنا ہوگا جو اس نے مرنے سے پہلے اپنائیں اور آخر وقت تک ان پر ڈٹا رہا۔ تاثیر کی بیٹی کا کہنا ہے کہ ”ان کے والد نے ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم کے حوالے سے جو کچھ سوچا تھا وہ ان کی زندگی میں ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا۔ ان کے والد آئین کی اس شق کے مخالف تھے جس میں احمدیوں (قادیانیوں) کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔“

(روزنامہ جنگ 11 جنوری 2011ء)

یاد رہے! رسول اللہ ﷺ کا مقام و مرتبہ اور عزت و ناموس کسی میر، ناجی، ایاز، عرفان، نثار، شفقت یا امیر کے دفاع کی قطعاً محتاج نہیں۔ ان سب کو دنیاوی عزتیں نبی کریم ﷺ کے نعلین پاک کو لگنے والی دھول کے صدقے میں ملی ہیں۔ مقام نبوت تو ہے ہی اتنا حساس ترین کہ پل بھر میں عمر بھر کا سرمایہ چھن جاتا ہے اور خبر بھی نہیں ہوتی۔

ملک ممتاز حسین قادری صاحب اس وقت پابند سلاسل ہیں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ان کے خلاف کیس چلا۔ یکم اکتوبر 2011ء کو حکومتی و عالمی دباؤ کے تحت ملک ممتاز حسین قادری کو سزائے موت سنا دی گئی۔

اس غیر شرعی سزا کے سنائے جانے کے بعد پورے ملک میں ہونے والے احتجاج اور بالخصوص 7 اکتوبر کی ملک گیر ہڑتال نے حکمرانوں، سیکولر انتہا پسندوں اور ان کے بیرونی آقاؤں کی آنکھیں اچھی طرح کھول دی ہیں۔ پوری قوم نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان عاشقان مصطفیٰ کی سرزمین ہے۔ غازی صاحب کے خلاف آنے والے عدالتی فیصلے کے بعد ہونے والے احتجاج پر آنکھیں بند کر کے میڈیا نے ایک مرتبہ پھر اپنا ”ایجنڈا“ عیاں کر دیا ہے۔ اور عدالتی فیصلہ سننے کے بعد ممتاز حسین قادری کا مسکرانا، الحمدللہ پڑھنا، خوشی میں مٹھائی بانٹنا اور اپنے

صفحہ 35

”جیل“ میں محفل میلاد کا انعقاد کرنا جذبوں کی صداقت، ایمان کی حرارت اور ایقان کی پختگی کی بین دلیل اور آقائے نامدار سے بے پناہ محبت اور عقیدت کا مظہر ہے۔ 4 جنوری 2012ء کو ملک بھر میں عاشقان مصطفیٰ نے ”یوم غازی اسلام و یوم تحفظ ناموس رسالت“ منا کر اس بات کا پتہ دے دیا ہے کہ حیات جاودانی اور سرمدی تابندگی ہمیشہ کے لئے مصطفیٰ والوں کا مقدر بن چکی ہے۔

”ورفعنا لک ذکر“ کے ارشاد خداوندی میں جہاں رسول اللہ ﷺ کا ذکر بلند کرنے کی ضمانت اللہ تعالیٰ نے دی ہے وہاں شارحین کے بقول غلامان مصطفیٰ ﷺ کا بھی ذکر بلند ہوتا رہے گا۔ تبھی تو تمام طوفانوں اور تھپیڑوں کے باوجود صحابہ کرام ؓ کے مقدس قافلے کے بعد حضرت امام اعظم، حضرت غوث اعظم، حضرت امام ربانی، حضرت امام فضل حق خیر آبادی، امام اہل سنت اعلیٰ حضرت، غازی علم الدین شہید، غازی احمد شیر خان نیازی، غازی عامر چیمہ شہید اور غازی ملک ممتاز حسین قادری وغیرہ کا ذکر ہر آن کہیں نہ کہیں دنیا میں جاری ہے اور ان شاء اللہ تا قیامت جاری رہے گا۔

مخالفین لاکھ کوشش کریں، کالم لکھیں، احتجاج کریں، مظاہرے کریں، میڈیا پروپیگنڈہ کریں حتیٰ کہ اپنی پیدائش کا عمل بھی بار بار دہرا کر پہلے سے زیادہ پھرتی اور چالاکی سے آسمان کے ان ستاروں پر تھوکنے کی کوشش کریں تو اُن کا اپنا منہ ہی پراگندہ ہوگا اور یہ ستارے ”سراجاً منیراً“ والے آقا ﷺ کے ارد گرد یونہی چمکتے دمکتے رہیں گے۔

آخر میں ایک سیدھی سادھی، مختصر اور دو ٹوک سی بات یہ ہے کہ جو شخص تاثیر کو حق پر، اس کی موت کو شہادت یا اس کے قتل کو ظلم قرار دیتا ہے وہ اللہ رب العزت کے حضور دونوں ہاتھ بلند کر کے گڑ گڑا کر دعا مانگے کہ یا اللہ! میرا خاتمہ بھی سلمان تاثیر کے ساتھ فرما اور کل قیامت کے دن مجھے بھی اس کے ساتھ رکھ۔۔۔۔ اگر اس کی زبان لڑکھڑا جائے اور دل ڈگمگا جائے تو پھر یہ دعا کرے ۔۔۔۔۔ یا اللہ! میرا خاتمہ غازی ممتاز قادری کے ساتھ فرما اور کل قیامت کے روز قادری ہی کی معیت میں میرا معاملہ فرما۔ اسی کے ساتھ مجھے رکھ۔ اسی دعا سے آپ کو حق اور باطل کا پتہ چل جائے گا اور اپنے دل کی آواز بھی معلوم ہو جائے گی۔

مفتی محمد حنیف قریشی سربراہ شباب اسلامی پاکستان

صفحہ 36

﴿ ملک ممتاز حسین قادری صاحب کی زندگی پر ایک نظر ﴾

ملک ممتاز حسین قادری یکم جنوری 1985 کو پیدا ہوئے۔ آپ نسباً قطب شاہی اعوان ہیں اور اعوان حضرات حضرت علی المرتضیٰ شیر خدا کے بیٹے حضرت محمد بن حنفیہ کی اولاد سے ہیں۔ ملک ممتاز صاحب کے والد گرامی کا نام ملک بشیر اعوان ہے۔ اور دادا کا نام ملک خان محمد ہے۔ ملک بشیر صاحب کی عمر اس وقت تقریباً 60 سال ہے۔ آپ کا آبائی علاقہ باغ بھٹیاں ہے باغ بھٹیاں موجودہ اسلام آباد میں آب پارہ کے قریب کا علاقہ تھا۔ تقریباً 50 سال قبل 84 گاؤں اور دیہات کے لوگوں کو اسلام آباد کی تعمیر کی غرض سے ان علاقوں سے بیدخل کیا گیا۔ غازی ممتاز حسین قادری کے والد گرامی اسلام آباد سے پہلے پہل راولپنڈی کے علاقے ”چاہ سلطان“ میں آباد ہوئے اور اپنا مکان خریدا۔ 1973ء میں وہاں سے مکان فروخت کیا اور صادق آباد کے علاقے مسلم ٹاؤن میں 7 مرلے کا ایک مکان خریدا اور اس وقت سے لے کر آج تک اسی مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ غازی صاحب کی پیدائش اسی مکان میں ہوئی۔ ملک بشیر صاحب نے پوری زندگی رزق حلال کما کر اپنی اولاد کو کھلایا۔ محنت مزدوری آپ کا پیشہ ہے۔ 7 سال سی ڈی اے میں واٹر سپلائی کے شعبہ میں سروس کی اور پھر نوکری چھوڑ کر بیرون ملک ”بحرین“ تشریف لے گئے۔ وہاں 8 سال تک محنت مزدوری کی۔ اسی دوران چوٹ لگی جس کے باعث آپ کو واپس پاکستان آنا پڑا۔ اور پھر ادھر ہی محنت مزدوری شروع کر دی۔ ممتاز قادری صاحب کے علاوہ 5 بھائی اور 5 بہنیں ہیں اور ان سب میں سے ممتاز قادری صاحب سب سے چھوٹے ہیں اور آپ کا گیارھواں نمبر ہے۔ آپ کی ایک بہن کا انتقال ہو چکا ہے اور آپ کے تمام بہن بھائی شادی شدہ ہیں۔ آپ کے بھائی دلپذیر اعوان، سفیر اعوان، عابد اعوان، عامر سجاد اعوان، فضل رزاق اعوان ہیں اور تمام بھائی اپنے بچوں کے ہمراہ اسی سات مرلہ مکان جسے دو منزلہ بنادیا گیا ہے، میں رہائش پذیر ہیں۔

غازی صاحب کے والد گرامی ملک بشیر اعوان صاحب انتہائی نیک سیرت اور باکردار شخص ہیں۔ غازی صاحب کی ولادت سے دو سال پہلے کا ایک واقعہ انہوں نے بیان کیا کہ میرا

صفحہ 37

معمول تھا کہ میں رات پچھلے پہر اٹھ کر تہجد کی نماز ادا کرتا تھا اور اس مقصد کے لئے ہمارے گھر کا ایک کونہ مختص تھا جہاں مصلیٰ بچھا ہوتا تھا اور گھر میں جس کسی کو نماز ادا کرنی ہوتی وہ اسی جگہ پر نماز ادا کرتا۔ ایک رات میں بیدار ہوا اور نماز کے لئے مذکورہ گوشے میں پہنچا تو دیکھا ایک نورانی شخصیت اس مصلے پر نماز ادا کر رہی ہے جو کہ سفید لباس میں ملبوس ہیں میں انہیں دیکھنے لگا انہوں نے نماز مکمل کی اور چپکے سے دروازے سے نکلنے لگے پھر اچانک واپس مڑے اور مجھے فرمایا ”اس گھر کے جنوبی کونے میں ایک اللہ کا ولی پیدا ہوگا جو پوری دنیا میں اسلام کی عزت کا پرچم بلند کرے گا اور تمہارا نام روشن کرے گا“۔ یہ کہتے ہوئے وہ دروازے سے نکل گئے۔ یہ بات راز بن کر میرے دل میں قید ہو گئی اس واقعے کے دو سال بعد گھر کے جنوبی کونے میں ممتاز قادری کی ولادت ہوئی۔ اس کے بعد میں اس بات کو بھول گیا تا آنکہ 4 جنوری 2011ء کو جب گورنر پنجاب سلمان تاثیر قتل ہوا اور سارے معاملات سامنے آئے تو مجھے وہ بھولا بسرا واقعہ یاد آیا کہ جس شخص کے متعلق اس بندہ خدا نے خبر دی تھی وہ تو ممتاز قادری نکلا۔ قادری صاحب کے بچپن کے حوالے سے ایک اور ناقابل یقین بات جو خاندان میں تقریباً سب لوگوں کو معلوم ہے کہ چار سال کی عمر میں قادری صاحب گھر کی چھت پر بنی 9 انچ چوڑی اور پانچ فٹ اونچی دیوار پر رات کے وقت آنکھیں بند کر کے چلا کرتے تھے۔ اچانک گھر سے نکلتے اور چھت پر چڑھ جاتے اور دیوار پر آنکھیں بند کر کے چلتے تھے سب لوگ خوف زدہ ہو جاتے کہ یہ ابھی گرے گا لیکن کبھی بھی دیوار سے گرنے کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ غازی صاحب نے میٹرک تک تعلیم اپنے گھر کے قریب پرائیوٹ انگلش میڈیم سکول ”عائشہ لاثانی پبلک سکول“ مسلم ٹاؤن میں حاصل کی۔ اس کے بعد سویڈش کالج کمرشل مارکیٹ میں الیکٹرونکس کا ڈپلومہ کیا پھر اسی دوران 2002ء میں پولیس میں بھرتی ہو گئے۔ آپ کی بھرتی پنجاب کانسٹیبلری میں ہوئی جس کا ہیڈ آفس روات اسلام آباد میں ہے۔ آپ کو پیٹی نمبر 6990 دیا گیا۔ ٹریننگ کے بعد آپ کو 2005ء میں کچھ عرصہ کیلئے ”سپیشل برانچ“ میں ٹرانسفر کر دیا گیا۔

آپ جسمانی اور ذہنی طور پر انتہائی مضبوط شخصیت ہیں اور نشانہ بازی میں بھی اپنے بیچ

صفحہ 38

کے لڑکوں میں سبقت رکھتے تھے اس خصوصیت کے باعث، 2007-08 میں آپ کو ایلیٹ فورس میں شامل کر لیا گیا۔ ایلیٹ سکول لاہور میں سپیشل کمانڈو کورس کیا۔ 27 دسمبر 2008ء میں اپنے ماموں کے گھر اٹھال بہارہ کہو اسلام آباد سے شادی کی اور یہ وہ دن تھا کہ اس دن محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ دہشت گردی کے واقعہ میں جاں بحق ہوگئی تھیں۔ احتجاج کے باعث غازی صاحب کی بارات لے جانے میں کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

غازی صاحب بچپن سے ہی غیر معمولی شخصیت کے مالک ہیں، سکول میں کبھی لڑائی جھگڑا نہ کیا اور محلے میں بھی کبھی کسی سے جھگڑا نہ ہوا۔ میٹرک کے امتحان کے بعد دعوت اسلامی کے امیر جناب حضرت الیاس قادری مدظلہ العالی کے دست حق پرست پر بذریعہ خط بیعت کی اس کے بعد ہر سال ملتان شریف، دعوت اسلامی کے سالانہ اجتماع میں پابندی سے شرکت کی۔ جناب امیر اہل سنت کے ہاتھ پر بیعت کے بعد آپ نے سر پر سبز عمامہ سجانا شروع کیا اور اکثر لوگوں کو نیکی کی دعوت دیتے رہتے تھے۔ بقول غازی صاحب کے غازی صاحب انہی دنوں سے راقم کے دروس میں شرکت کرتے اور جمعہ آمنہ مسجد میں اکثر ادا فرمایا کرتے تھے۔

غازی صاحب کے دعوت اسلامی کے ساتھ منسلک ہونے کے بعد گھر کا ماحول بھی بالکل بدل گیا۔ یہی وجہ ہے کہ غازی صاحب کی شادی کے موقع پر بھر پور محفل نعت منعقد ہوئی اور اس میں خصوصی نعت خواں محمد کلیم عطاری صاحب نے ہدیہ عقیدت بحضور سرور کونین ﷺ پیش کیا۔ غازی صاحب ڈیوٹی بڑی جانفشانی سے کرتے رہے اور جب کبھی موقع ملتا مذہبی کتابوں کا مطالعہ کرتے یا پھر گھر میں نعت خوانی کرتے۔ گھر میں محفل میلاد پابندی سے منعقد کرتے رہے اور دائیں بائیں منعقدہ محافل میں بڑی دلچسپی سے شرکت کرتے تھے۔

غازی صاحب عام نمازیں، عباسیہ مسجد مسلم ٹاؤن یا المسلم مسجد مسلم ٹاؤن میں باجماعت ادا فرمایا کرتے تھے اور ان کے بھائیوں کے بقول نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے ”سیدہ آمنہ مسجد“

صفحہ 39

ڈھوک علی اکبر (راقم کی مسجد ) ان کی ترجیح ہوتی تھی اور اپنے ساتھ کئی اور لوگوں کو بھی آمنہ مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی دعوت دیتے اور راقم کے خطابات سننے کا مشورہ دیتے تھے۔ آپ نبی علیہ السلام کی محبت میں اکثر نعت خوانی کرتے رہتے تھے۔ آپ کو اکثر شعراء بالخصوص امام اہل سنت امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا اکثر نعتیہ کلام یاد ہے۔

غازی صاحب انتہائی خوش اخلاق اور نیک سیرت شخص ہیں آپ کے محلے سے معلومات حاصل کرنے کے بعد ان کی شخصیت کا یہ پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ محلے کی بوڑھی خواتین بازار سے سودا سلف منگوانے کے لئے اکثر غازی صاحب کو پیسے دے دیتیں اور آپ بلا چوں و چراں سودا سلف خرید کر لے آتے اور جب کبھی کوئی بوڑھا شخص یا محلے کی عمر رسیدہ خواتین بازار سے سامان لے کر آ رہی ہوتیں تو آپ ان کا سامان اٹھا کر گھر پہنچا دیتے۔ غازی صاحب کے محلے میں کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ محلے سے باہر ایک خالی پلاٹ ہے جہاں پر کوڑا کرکٹ پھینکا جاتا ہے اور کمیٹی کی گاڑی وہاں سے اٹھا کر لے جاتی ہے۔ بعض بوڑھی خواتین کو اس سلسلے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس پر غازی صاحب نے انہیں یہ کہہ رکھا تھا کہ وہ اپنے گھر کے باہر اپنے گھر کا کوڑا رکھ دیا کریں میں اسے پھینک آیا کروں گا۔ چنانچہ آپ صبح صبح ڈیوٹی پر جاتے ہوئے محلے کے ان کمزور اور ضعیف حضرات کی مدد کرتے ہوئے گھر کے باہر رکھا گیا کوڑا کرکٹ اٹھا کر لے جاتے۔

دعوت اسلامی کے ماحول سے وابستگی کے بعد خصوصی طور پر غازی صاحب کی طبعیت میں عجز و انکساری، خلوص و ایمانداری کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھر گیا۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ جو آپ کی فیملی میں مشہور ہے اس طرح ہے کہ ایک دن چند نوجوان غازی صاحب کے پاس آئے اور پانچ ہزار روپے بطور قرض طلب کئے۔ غازی صاحب کے پاس تین ہزار روپے تھے آپ نے دو ہزار روپے اپنے بڑے بھائی دلپذیر اعوان صاحب سے ادھار لے کر ان نوجوانوں کو دیے ۔ نوجوان پیسے لے کر چلے گئے اور تھوڑا ہٹ کر آپس میں ہنس ہنس کر کہنے لگے یار یہ تو بڑا سیدھا سا

صفحہ 40

بندہ ہے اس کو پیسے واپس نہیں کریں گے۔ ان کی اس بات کو غازی صاحب کے بھائی نے سن لیا۔ لیکن اس کا تذکرہ ممتاز صاحب سے نہیں کیا۔ جب رقم کی واپسی کا وقت آیا تو ان نوجوانوں نے قادری صاحب کو پیسے واپس کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ہم نے رقم واپس کر دی تھی۔ چنانچہ غازی صاحب ان سے جھگڑا کرنے کے بجائے کہا کہ کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ نے رقم مجھے واپس کر دی ہے؟ کہنے لگے کہ ہاں بالکل واپس کر دی ہے۔ آپ نے کہا کہ اچھا اگر یاد آ جائے تو تو پھر یہ رقم مجھے واپس کر دینا۔ آپ نے اپنے بھائی دلپذیر صاحب کو دو ہزار روپے اگلے ہی روز واپس کر دیے تھے۔ چنانچہ دلپذیر صاحب نے ان نوجوانوں والا معاملہ دیکھ کر غازی صاحب سے کہا کہ میرے دو ہزار روپے واپس کریں۔ غازی صاحب نے جواب دیا کہ بھائی جان میں نے آپ کو وہ رقم واپس کر دی تھی اور یہ کہ وہ دو نئے ہزار ہزار کے نوٹ تھے۔ دلپذیر صاحب نے کہا کہ بھائی آپ نے رقم واپس نہیں کی تو جواب میں غازی صاحب کہنے لگے کہ اچھا اگر آپ کو یقین ہے کہ میں نے پیسے واپس نہیں کئے تو پھر میں آپ کو ابھی دے دیتا ہوں۔ اس پر دلپذیر صاحب نے غازی صاحب کو نوجوانوں والا واقعہ بھی بتایا کہ انہوں نے پیسے دبانے کا منصوبہ پہلے ہی سے تیار کیا ہوا تھا اور میں آپ کو آزما رہا تھا۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ واقعی لوگ آپ کے پیسے کھانے لگ گئے ہیں۔ اس پر غازی صاحب نے جواب دیا کہ بھائی جان مجھے معلوم ہے کہ ان نوجوانوں نے وہ رقم مجھے واپس نہیں کی تھی اور میں نے آپ کو بھی حقیقت میں پیسے واپس کر دیے تھے۔ لیکن ایک تو میں انہیں شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا اور پیسوں کی خاطر ان سے لڑنا نہیں چاہتا تھا اور دوسری بات یہ ہے کہ میں نے کبھی بھی کسی کا حق نہیں کھایا لہٰذا مجھے یقین ہے کہ میرے حلال کے پیسے کوئی نہیں کھا سکتا۔ چنانچہ چند دن گزرے کہ ان نوجوانوں نے معافی مانگتے ہوئے غازی صاحب کو رقم واپس کر دی۔

غازی صاحب کا مسلک ، مسلک عشق و محبت ہے آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ مسلمانوں

صفحہ 41

کو آپس میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر نہیں لڑنا چاہیئے بلکہ متحد ہو کر آقا حضور ﷺ کے دشمنوں سے نمٹنا چاہیئے ۔ آپ کا یہ ملفوظ بھی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھ سے پوچھے کہ ممتاز قادری مانگ تو کیا مانگتا ہے تو میں عرض کر دوں گا کہ یا اللہ تو اپنے نبی کے سارے اُمتیوں کو اپنے نبی ﷺ کا عشق عطا فرما دے۔ اس لئے کہ جب سرکار ﷺ سے محبت ہو تو پھر انسان برائی سے رُک جاتا ہے اور اسے گناہ کرتے ہوئے خود ہی شرم محسوس ہوتی ہے ۔ غازی صاحب اکثر درود شریف پڑھتے رہتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ نبی پاک ﷺ کے بارے میں ہمیں بحثوں میں نہیں اُلجھنا چاہیئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جوش و جذبات میں ایسا لفظ منہ سے نکل جائے کہ سارا معاملہ ہی بگڑ جائے ۔ کاش ہم لوگ بحثوں کے بجائے اتنی دیر نبی پاک ﷺ پر درود پڑھ لیا کریں یا ان کی سنت پر عمل کر لیں ۔ یا کسی دوسرے کو اس کی ترغیب دے دیں ۔ آپ پر جذبہء محبت مصطفوی کا اتنا غلبہ تھا کہ فارغ وقت میں نعت رسول مقبول ہی سنتے رہتے تھے ۔

غازی صاحب کے رشتہ دار اسلام آباد اور راولپنڈی میں مختلف علاقوں میں آباد ہیں ۔ 2010ء کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو پیارا سا بیٹا عطا کیا جس کا نام آپ نے ”محمد علی عطاری“ رکھا ہے ۔

ملک ممتاز حسین قادری صاحب کی زندگی پر مختلف ملکی و غیر ملکی چینلز نے ڈاکومنٹری تیار کی اور مختلف اخبارات نے ان کی زندگی کے حوالے سے فیچر شائع کئے ۔ روز نامہ ایکسپریس نے بھی آپ کے تعارف کے حوالے سے ایک فیچر شائع کیا ہے ۔ دلچسپی کیلئے اسے ملاحظہ فرمائیں ۔

☆☆☆

صفحہ 42

ملک ممتاز حسین قادری کون ہے؟

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے ملزم کی زندگی پر ایک نظر

احمد لطیف

آمنہ مسجد ٹرانسفارمر چوک صادق آباد سلمان تاثیر کے قتل کے بعد ہونے والے جمعہ کے اجتماع میں قاری حنیف قریشی کی طرف سے جب یہ کہا گیا کہ ’’کون کون ملک ممتاز قادری کے والد گرامی کو سلام کرنے جائے گا تو لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا جلوس ان کے ساتھ ملک ممتاز قادری کے گھر کی طرف چل پڑا، جن لوگوں نے وہ منظر دیکھا ہے وہ کسی اور ہی دنیا میں پہنچ گئے۔ میں بھی اس جلوس میں موجود تھا، پھول نچھاور کئے گئے تقریریں کی گئیں، گل دستے پیش کئے گئے اور ملک ممتاز قادری کے والد ملک بشیر کو لوگوں نے کندھوں پر اٹھالیا۔ ملک ممتاز قادری مسلسل اس بات کا اظہار کر رہا ہے کہ اس نے ناموس رسالت کے قانون کو کالا قانون کہنے پر گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کیا، حوالات میں وہ نعتیں پڑھتا رہا، قادری پر تشدد کی بات جھوٹ نکلی، تفتیش کرنیوالوں کا کہنا ہے کہ وہ کچھ چھپا نہیں رہا۔ اسلئے اس پر تشدد کا جواز نہیں ہے۔

سلمان تاثیر کو غسل نہ دینے اور جنازہ نہ پڑھانے کی باتیں اور اس کے ساتھ ساتھ شہید اور جاں بحق ہونے کی بحث نے پاکستانی سماج کے اس پہلو پر غور کرنے پر مجبور کیا کہ لوگوں کی کتنی بڑی تعداد اس انداز میں سوچتی ہے۔ ممتاز قادری کٹر مذہبی آدمی نہیں تھا اور اس کے گھر والے بھی کھلے ڈلے عام سے مسلمان ہیں اس کے چچا اور دوسرے بھائی بھی دنیا دار ہیں۔ جو باتیں لوگوں نے بتائیں ان کے مطابق اس گھرانے کے کچھ افراد بٹیر بازی اور کتے لڑانے کے شوق میں بھی مبتلا رہے ہیں۔ ممتاز قادری کی شادی پر بھی گھر کے ایک کونے میں محفل نعت ہو رہی تھی تو دوسری طرف ناچ گانا ہو رہا تھا۔ [ 1 ] قادری کے دو بھائی پی ٹی سی ایل میں ملازم ہیں ایک محکمہ تعلیم میں اور ایک مزدوری کرتا ہے۔

[ 1 ] یہ بات بالکل غلط ہے ممتاز حسین قادری صاحب کی شادی میں صرف محفل نعت ہی سجائی گئی تھی۔

صفحہ 43

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی آدمی کی نفسیات اور طبعی رجحان کا جائزہ لینے کیلئے اس کے خاندان کے طور اطوار جاننا ضروری ہوتے ہیں اور اس کے پرکھوں میں جس طرح کے لوگ تھے وہ عادتیں دوسری اور تیسری نسل میں در آتی ہیں۔ اس حوالے سے ہونے والی ملاقاتوں سے جو باتیں کھل کر سامنے آئیں وہ دلچسپی سے خالی نہیں ہیں اب تک ہونے والی گرفتاریوں اور فون ریکارڈ کے ساتھ ساتھ ایجنسیوں کے کرنل یوسف کالونی کے ارد گرد ڈیرے ڈالنے کے بعد جو باتیں سامنے آئیں وہ ایک اور طرح کی کہانی سناتی ہیں۔ صادق آباد کے ٹرانسفارمر چوک میں آمنہ مسجد ہے۔ اس میں قاری حنیف قریشی جمعہ پڑھاتے ہیں۔ ان کی تقریر عشق رسول میں ڈوبی ہوتی ہے وہ مولانا خان قادری کے شاگرد ہیں اور جس گلی میں ممتاز قادری کا گھر ہے اس میں بھی مکتبہ امام ابو حنیفہ موجود ہے ۔ جو خان قادری، زیب حسن اور جاوید اختر کی نگرانی میں چلتا ہے گلی کے کونے پر سنی بریلوی مسلک کی مسجد ہے۔ بریلوی مسلک کے لوگ پیروں، فقیروں کو مانتے ہیں۔ محفل سماع اور نعت کا اہتمام کرتے ہیں، تشدد ان کی سرشت میں شامل نہیں اور ”سواد اعظم“ ہونے کے مدعی بھی ہیں۔

بہر حال مولانا الیاس قادری عطاری کے پیروکار پہلے ہری پگڑیوں اور پھر کتھئی پگڑیوں کے حوالے سے پہچانے گئے ، یہ لوگ خوش الحانی سے نعت خوانی کرتے ہیں۔ جس گلی میں ملک ممتاز قادری کا گھر ہے اس کے ساتھ ہی ایک دربار ہے۔ وہاں بھی ذکر کی محفل ہوتی ہے۔ یہ کرنل یوسف کی قبر ہے اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا دارالعلوم ہے یہ علاقہ مولانا خان قادری اور قاری حنیف قریشی کے زیر اثر ہے۔ اور قاری حنیف قریشی کا تعلق سیاسی اعتبار سے پیپلز پارٹی کے ساتھ بتایا جاتا ہے۔ [ 1 ] اس علاقہ کی مرکزی حیثیت ہے ہر طرف سے سڑکیں صادق آباد آتی ہیں۔

چاروں طرف سے لوگ جمعہ کے اجتماعات اور نعت کی محفلوں میں شرکت کیلئے اس طرف آتے ہیں اس علاقے کا تعلق کری روڈ ڈھوک کالا خان اور دوسری طرف مری روڈ ٹیپو روڈ سے ہوتا ہوا چک لالہ کینٹ اور جھنڈا چیچی سے ملتا ہے۔ گویا کمرشل مارکیٹ، اسلام آباد ایکسپریس وے،

[ 1 ] صحافی احمد لطیف صاحب کی اس بارے میں معلومات درست نہیں ہیں میں خالصتاً مذہبی آدمی ہوں اور میرا تعلق کسی بھی سیاسی پارٹی سے نہیں ہے۔

صفحہ 44

ائیر پورٹ چوک، کمیٹی چوک کے لوگ صادق آباد میں ہونے والی محفلوں میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ وہ ماحول ہے جس میں ملک ممتاز قادری پروان چڑھا۔ اس نے اپنے بیٹے کا نام بھی محمد علی عطاری قادری رکھا ہے۔ اس نے اپنی شادی پر بھی نعت کی محفل کرائی اور اپنے ایک دوست کی شادی میں جو کلر سیداں میں ہوئی تھی وہاں بھی وہ اپنے ساتھی نعت خواں لے کر گیا تھا۔ وہ خود بھی نعت خوانی کرتا ہے اس کی ظاہری وضع بھی ایک مذہبی آدمی کی سی ہے۔ اس کی زندگی پر نظر دوڑائی جائے تو کچھ اسی طرح کی شکل سامنے آتی ہے۔

اتھال، بہارہ کہو کی سمیرا بی بی سے اس نے 2009 کے اختتام میں شادی کی ، اٹھال اس کے نانا کا گاؤں ہے۔ اس کا کوئی سگا ماموں نہیں ہے۔ اس کی والدہ کی دو اور بہنیں تھیں، نفیس احمد ملک ممتاز قادری کے سسر اور رشتے کے ماموں ہیں۔ وقوعہ سے دو روز قبل پنڈی میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے ممتاز قادری فکرمند تھا اور اس نے گاؤں فون کر کے لکڑیوں کی بابت دریافت کیا تھا۔ ملک ممتاز قادری کا اپنا آبائی گاؤں پتن باغ ہے جو آب پارہ کے گردنواح میں موجود دیہات میں سے ایک ہے۔ پڑیاں، پٹاناں باغ، اوجڑی خورد سوہان اور دوسری طرف راول ڈیم میں آجانے والے گاؤں اور ان کے قرب وجوار کے لوگوں کے نزدیک اس گھرانے کے ایک بزرگ دادن خان کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، ان کا مزار آج بھی کھڈا مارکیٹ کے ساتھ، سی ڈی اے کی عمارت کے عقب میں مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق کے گھر کے بالکل سامنے موجود ہے۔ یہ علاقہ 1958 تک آباد تھا اور اس گھرانے کے لوگ یہاں آباد تھے اس سے پہلے بابا دادن خان اس گاؤں کے معروف اور خدا ترس بزرگ تھے۔ سید پور گاؤں کی طرف جانے والے لوگ اسی راستے سے گذرا کرتے تھے اور دادن خان کسی مسافر کو کھانا کھائے بغیر نہیں جانے دیتے تھے۔ اسلام آباد بنا تو اس علاقے کے لوگوں کو بورے والا میں زمینیں ملیں اور دادن خان کے تین بیٹوں میں سے ایک بورے والا اور دو صادق آباد میں رہنے لگے۔ بابا دادن خان ملک ممتاز قادری کے پڑدادا ہیں۔ اٹھال، بہارہ کہو ممتاز قادری کا سسرال اور اس کے نانا کا گاؤں ہے۔

اتھال کے لوگ راجپوت برادری سے تعلق سمیرا بی بی کی طرف سے ملک جس میں اس نے کہا، میرے شوہر کے ہوگا وہ بھی اللہ کے حکم سے ہوگا۔ میرے میں کیسے ناخوش رہ سکتی ہوں۔ مجھے اپنے وہ غلط نہیں کہتے۔ اپنے بیان میں سمیرا ب میڈیا کے سامنے نہیں آسکتی۔ میری شا پھوپھی زاد ہیں، میں نے آٹھویں جما قادری اچھے شوہر ہی نہیں نیک دل ان دوران لیڈی پولیس اہلکاروں نے ہ کی تلاشی لی گئی، لیڈی پولیس اہلکار ہونے والی گفتگو اور اس کی ترجیحات میں نے انہیں بتا دیا۔

ملک بشیر کے پانچ بیٹے او ایک بہن ہے۔ اتھال بہارہ کہو اس کا سے ہمدردی رکھتے ہیں اس کی شاد حوالہ بھی اس گاؤں کے لوگوں کو اس ممتاز قادری کو اٹھال بہارہ کہو کا بتا یا پارہ، ستارہ مارکیٹ اور شکر پڑیاں کا ع کہا جاتا ہے۔ اوجڑی کلاں اور خو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہ

صفحہ 45

اٹھال کے لوگ راج پوت برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور ممتاز قادری کا تعلق اعوان ملک برادری سے ہے۔

سمیرا بی بی کی طرف سے ملک عامر کی وساطت سے ایک بیان اخبارات کو جاری کیا گیا۔ جس میں اس نے کہا، میرے شوہر کے ہاتھوں جو کچھ ہوا اس میں اللہ کی مرضی تھی اور جو کچھ آئندہ ہو گا وہ بھی اللہ کے حکم سے ہو گا۔ میرے شوہر نے جو کیا اس پر ہر انسان خوش دکھائی دیتا ہے تو پھر میں کیسے ناخوش رہ سکتی ہوں۔ مجھے اپنے رب پر یقین ہے، اگر لوگ کہتے ہیں کہ میں خوش ہوں تو وہ غلط نہیں کہتے۔ اپنے بیان میں سمیرا بی بی نے کہا کہ چونکہ میں پردہ دار خاتون ہوں اس لئے خود میڈیا کے سامنے نہیں آسکتی۔ میری شادی ملک ممتاز قادری سے بچپن میں ہی طے تھی، وہ میرے پھوپھی زاد ہیں، میں نے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور میری شادی ہو گئی۔ ملک ممتاز قادری اچھے شوہر ہی نہیں نیک دل انسان بھی ہیں۔ جب انہیں پولیس نے گرفتار کر لیا تو اس دوران لیڈی پولیس اہل کاروں نے ہمارے گھر آکر مجھ سے بھی تفتیش کی تھی۔ ہمارے پورے گھر کی تلاشی لی گئی، لیڈی پولیس اہل کاروں نے مجھ سے میرے اور قادری کے تعلقات، آپس میں ہونے والی گفتگو اور اس کی ترجیحات کے حوالے سے بات چیت کی تھی اس حوالے سے جو سچ تھا میں نے انہیں بتا دیا۔

ملک بشیر کے پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں، ملک ممتاز کا نمبر نواں ہے اس سے چھوٹی ایک بہن ہے۔ اٹھال بہارہ کہو اس کا ننھیال ہے اور نواسہ ہونے کے ناتے اس گاؤں کے لوگ اس سے ہمدردی رکھتے ہیں اس کی شادی بھی اٹھال میں ہوئی ایک بہن بھی اس گاؤں کی بہو بنی ، یہ حوالہ بھی اس گاؤں کے لوگوں کو اس کیس میں دلچسپی لینے پر مجبور کرتا ہے۔ اسی لئے پہلے پہل ملک ممتاز قادری کو اٹھال بہارہ کہو کا بتایا گیا، حالانکہ اس کے آباؤ اجداد کا تعلق پتن باغ سے تھا، آب پارہ ، ستارہ مارکیٹ اور شکر پڑیاں کا علاقہ باغوں پر مشتمل تھا اور آج بھی اس علاقے کو گارڈن ایونیو کہا جاتا ہے۔ اوجڑی کلاں اور خورد یہاں کا قدیمی گاؤں ہے۔ سوہان اور ڈھوک کالا خان بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب 1958ء میں اسلام آباد کی تعمیر کے حوالے سے

صفحہ 46

باتیں ہونے لگیں تو اس علاقے کے لوگ جلوس نکالا کرتے تھے ۔ ایک بات جو حکومت کی طرف سے سامنے آئی تھی وہ ان لوگوں کو روزی روزگار کے مواقع فراہم کرنا تھا ۔ جنرل ایوب نے اشارہ کر کے بتایا کہ مارگلہ سے پار میرا گاؤں ہے جب شہر آباد ہو جائے گا تو آپ رشک کریں گے اور ایسا ہی ہوا، یہاں کے لوگ اس طرف نہ آئے اور مری کے لوگ آب پارہ اور دوسری مارکیٹوں پر راج کرتے ہیں ، بہر حال ملک دادن خان کے حوالے سے جو باتیں زبان زد عام ہیں وہ بھی دلچسپی کا باعث ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی قبر کو جب ہٹانے کی کوشش کی گئی تو بلڈوزر کا چین ٹوٹ گیا، پھر کوشش کی گئی تو بلڈوزر کا پھل ڈرائیور کو لگ گیا۔ پھر اس قبر کو یہیں رہنے دیا گیا، یہ بھی پتا چلا ہے کہ ملک دادن خان خدا ترس بزرگ تھے اور ہر آئے گئے کو کھانا کھلائے بغیر جانے نہیں دیتے تھے، ایک بار ایک انگریز بھی اس طرف آئے اور ان کی بیوی نے کہا گھر میں تو ٹینڈے پکے ہیں۔ کیا مرغی ذبح کروالوں تو اس پر دادن خان نے اپنی بیوی کو ڈانٹا اور کہا دادن کے گھر جو پکے گا وہی کھانا غریب اور امیر ایک ساتھ بیٹھ کر کھائیں گے ۔ گویا ملک دادن خان کھری طبیعت کے مالک تھے اور یہ رجحان ان کی اگلی نسلوں تک آیا۔

یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملک ممتاز قادری 2009 کے وسط تک ایک عام آدمی تھا ، اس کے مذہبی رجحانات کے بارے میں جو باتیں سامنے آئی ہیں، ان میں کوئی صداقت نہیں [1] رپورٹ دبا لینے کی باتیں اور سی آئی ڈی کی طرف سے اس کو کٹر مذہبی بنانے کی تصدیق بھی نہیں ہوئی۔ کراچی کی کسی لڑکی کے عشق میں مبتلا ہونے کا تذکرہ بھی ملتا ہے اور بے وفائی کا دکھ اٹھانے کے بعد اس حوالے سے اس کی شخصیت سامنے آئی۔ [2]

اسی دوران اس کی شادی کر دی گئی۔ 1985ء کے بعد جو دور اس نے صادق آباد کے علاقہ کرنل یوسف کالونی میں گزارا وہ عام لڑکوں کی طرح کا ہے

(16 جنوری 2011ء سنڈے ایکسپریس ، مضمون احمد لطیف)

[1] یہ غلط ہے غازی صاحب سکول لائف سے ہی مذہبی رجحان رکھنے والے شخص تھے۔ [2] یہ بھی خالصتاً جھوٹ اور بالکل خلاف تحقیق بات ہے اور اس طرح کی باتیں اس پروپیگنڈے کا حصہ ہیں کہ جس کے تحت یہ ثابت کرنا تھا کہ قادری صاحب نے یہ اقدام ”برین واشنگ“ کے بعد کیا وگرنہ وہ تو اسلام سے دور آدمی تھا۔

صفحہ 47

ممتاز حسین قادری اور شباب اسلامی پاکستان

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہود و نصاریٰ مسلمانوں کو ستانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور انہیں اس بات کا بہت حد تک ادراک ہے کہ مسلمان اپنے نبی ﷺ سے جان سے بڑھ کر محبت کرتے ہیں لہٰذا انہیں ستانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ معاذ اللہ ان کے نبی ﷺ کی توہین کرو اور پوری دنیا کے مسلمانوں کی دل آزاری کا مزہ لو۔

پاکستان ایک اسلامی نظریاتی سلطنت ہے اور اس کی بنیاد میں نظریہ اسلام کی برکات شامل ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو ”اسلام کا قلعہ“ قرار دیا گیا ہے پاکستان ہمیشہ سے اسلام دشمن قوتوں کی نظر میں کھٹکتا آ رہا ہے اس لئے کہ سلطنت مدینہ کے بعد پاکستان ہی وہ واحد سلطنت ہے کہ جو خالصتاً اسلام کے نام پر قائم ہوئی ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ سرزمین پاکستان ہی وہ واحد اسلامی ریاست ہے کہ جو پوری دنیا کے پسے ہوئے مسلمانوں کے ارمانوں کا مرکز اور ان کی امیدوں کا سہارا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی مسلمان ہی وہ واحد قوم ہے کہ جن کا دل پوری دنیا کے مسلمانوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ بوسنیا ہو یا امریکہ، صومالیہ ہو یا افریقہ، کشمیر ہو یا افغانستان، انڈیا ہو یا سوڈان پوری دنیا میں جہاں بھی مسلمانوں پر ظلم و ستم روا رکھا جائے، پاکستانی مسلمان اس کے خلاف آواز بلند کرتا ہے، پاکستانی مسلمانوں کا یہی وہ جذبہ ایمانی ہے جس سے پورا عالم کفر لرزاں ہے۔ چنانچہ عالم کفر نے باہم اشتراک سے اس قوم کے دلوں سے اس جذبہ ایمانی کو ختم کرنے کیلئے ایک عرصہ سے مہم شروع کر رکھی ہے اور اسی قوم کے میر جعفروں اور میر صادقوں کے ذریعے سے اپنے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ ایک طرف تو بے دین این جی اوز کے ذریعے اربوں ڈالر خرچ کئے جا رہے ہیں اور دوسری طرف غیر ملکی قیام اور دولت کی لالچ سے ملک کے اشرافیہ طبقہ کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جس کا اظہار آئے روز ہوتا رہتا ہے۔

دنیائے کفر اس حقیقت سے واقف ہے کہ پاکستانی مسلمانوں کا یہ جذبہ ایمانی ان کی

صفحہ 48

رسول اللہ ﷺ سے محبت کے باعث قائم ہے لہٰذا آئے دن ایسی حرکات کی جارہی ہیں کہ جن کے ذریعے سے مسلمانوں کا یہ جذبہ کمزور ہو جائے۔ گستاخانہ خاکے ہوں یا توہین قرآن ، پوپ کی دریدہ دہنی ہو یا رشدی لعین جیسے ملعونوں کی ہرزہ سرائی یہ سب اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

پاکستان میں علماء و عاشقان رسول دانشوروں ، وکلاء و سیاسی زعماء کی کوششوں سے انسداد توہین رسالت قانون کو آئین پاکستان کا حصہ بنایا گیا جس کے مطابق کوئی بھی شخص جو اللہ تعالیٰ کے کسی بھی نبی علیہ السلام کی گستاخی کا اشارۃً ، کنایۃً ، تقریراً تحریراً مرتکب پایا گیا اس کی سزا ”موت“ ہے۔ بلاشبہ یہ قانون بڑی بحث و تمحیص کے بعد قرآن و سنت کے واضح ارشادات کو سامنے رکھ کر بنایا گیا اور اس میں کسی اسلامی مکتبہ فکر کے فرد کو کبھی اعتراض نہیں ہوا۔

بلاشبہ یہ قانون گستاخان رسول کے سر پر لٹکتی ہوئی تلوار ہے جس کے باعث وہ اپنے کئی مقاصد حاصل کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔ لہٰذا عالمی سطح پر اس قانون کے خلاف سب سے زیادہ واویلا کیا گیا۔ کبھی تو اس قانون کو اقلیتوں کی حق تلفی قرار دیا گیا اور کبھی اس کے غلط استعمال کا بہانہ بنا کر انسانی حقوق کی نام نہاد این جی اوز نے اغیار کی نمک حلالی کرتے ہوئے ہرزہ سرائی کی۔

عالمی حالات کے تناظر میں پاکستان اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گذر رہا ہے افواج پاکستان کئی محاذوں پر قربانیوں کی نئی تاریخ رقم کر رہی ہیں اور الحمد للہ بیشتر محاذوں پر کامیاب ہو رہی ہیں اور ان شاء اللہ جلد ہی اپنے دفاع وطن کے مقاصد کو حاصل کرلیں گی۔ کرپشن کے بے تاج دس نمبریے بادشاہ ملکی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں اور ملکی معیشت تباہی کے کنارے پر پہنچ چکی ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں تک کو ادا کرنے کے لئے بیرونی آقاؤں کے سامنے کشکول پھیلایا جارہا ہے۔ ایسے میں یہود و نصاریٰ اپنی اسلام دشمنی کے منصوبے کی تکمیل کے لئے آئے روز اپنے ”ملازمین“ کو نئی نئی ہدایات دے رہے ہیں۔ لہٰذا جو کچھ کسی کافر ایجنٹ نے کرنا تھا وہی کام ملکی سیاست کے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے کروایا جارہا ہے۔

صفحہ 49

اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر 10 نومبر 2010ء کو ضلع ننکانہ کے عاصیہ مسیح کے توہین رسالت کے کیس کے فیصلے کو بنیاد بنا کر انسداد توہین رسالت کے قانون کے خلاف آواز بلند کروائی گئی۔ آزاد عدالتوں کے قانونی تقاضوں کے پورا کرنے کے باوجود عدالت عالیہ کے فیصلے کا مذاق اُڑایا گیا اور اسی پر بس نہ کیا گیا بلکہ قرآن وسنت کی واضح نصوص سے بننے والے انسداد توہین رسالت قانون کو ہی ”کالا قانون“ قرار دے دیا گیا اور یہ کام کسی یہودی یا عیسائی نے نہیں کیا بلکہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے آئینی سربراہ گورنر سلمان تاثیر سے کام کروایا گیا۔ منظم سازش کے تحت اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی تنخواہوں پر کام کرنے والے لبرل انتہا پسندوں نے کرپٹ میڈیا کی مدد سے طوفان بدتمیزی بپا کر دیا۔ کہیں تو قادیانیت نواز ”مبشر“ بن کر میدان میں آئے اور کہیں جوئے کے اڈے چلانے والے جواریوں نے کنکر بازی، شروع کر دی امیر جیسے لبرل انتہا پسند کسی سے پیچھے کیوں رہتے انہوں نے اپنے ”بزرگوں“ کو خوب خوش کیا اور شیری رحمان نے یہ دوڑ جیتنے اور ”نمبر“ بنانے کی خاطر حد ہی کراس کر ڈالی اور اس قانون کے خلاف اسمبلی میں بل پیش کر دیا۔ ایسے میں ملک واضح طور پر دو طبقوں میں بٹ گیا ایک ”لبرل انتہاء پسند“ کہ جن کا سکون ہی اسلامی اقدار کا مذاق اڑانے میں ہے اور دوسرے ”اسلام پسند“۔

اس حساس مذہبی اور ایمانی مسئلے پر فطری ردعمل سامنے آیا اور پوری قوم بلا امتیاز مسلک و جماعت سڑکوں پر نکل آئی اور گلی گلی، محلے محلے احتجاج شروع ہو گیا۔ کئی کئی لاکھ افراد کا احتجاجی مظاہرہ ہوا لیکن اس کے باوجود صدر پاکستان اور وزیر اعظم سمیت کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی کیوں کہ ان میں سے کوئی بھی شخص امریکہ بہادر اور اپنے یہودی آقاؤں کو ناراض کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا۔

قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر لگیں کہ معمولی اخباری خبر پر سوموٹو ایکشن لینے والے چیف جسٹس صاحب یقیناً لاکھوں افراد کے احتجاج پہ ضرور ”سوموٹو ایکشن“ لیں گے لیکن یہ آرزو کروڑوں لوگوں کے دلوں تک ہی محدود رہی۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایکشن لینے والے جرأت مند

PDF 50

چیف جسٹس نجانے کس مجبوری کے تحت خاموش رہے ۔ ایسے میں میڈیا پر آنے والے بے دین اینکروں نے طوفان بدتمیزی بپا کئے رکھا اور یک طرفہ ٹریفک چلاتے ہوئے اپنے من پسند افراد کو چینلز پر بٹھا کر اسلامی اقدار کا خوب مذاق اڑایا گیا ۔ ایسے میں علماء دین کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہوا اور پورے ملک میں جمعہ کے خطبات کا موضوع ہی ”تحفظ ناموس رسالت“ بن گیا۔

اپنی اپنی بساط کے مطابق علماء نے قرآن وسنت سے اس حقیقت کا بیان کیا کہ گستاخ رسول کی سزا صرف اور صرف ”موت“ ہے اور اقلیت اور گستاخ میں فرق ہے ہر گستاخ اقلیت میں سے نہیں اور ہر اقلیتی شخص گستاخ نہیں اور انسداد توہین رسالت کا قانون اقلیتوں کے خلاف نہیں گستاخوں کے خلاف ہے۔ اپنی اسی مذہبی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے شباب اسلامی پاکستان کے مرکزی قائدین نے مرکزی سرپرست اعلیٰ جناب سید حبیب الحق شاہ کاظمی کی صدارت میں ایک اہم اجلاس جامعہ رضویہ ضیاءالعلوم راولپنڈی میں منعقد کیا۔ جس میں راقم محمد حنیف قریشی ، سید امتیاز حسین شاہ کاظمی ، سید وضاحت حسین شاہ کاظمی ، شاہنواز احمد ضیائی ، میر ظہیر احمد قادری سمیت دیگر مرکزی رہنماؤں نے یہ متفقہ فیصلہ کیا کہ پورے ملک میں بالعموم اور راولپنڈی اسلام آباد میں بالخصوص ”ناموس رسالت کانفرنسز“ کا خصوصی اہتمام کیا جائے اور شباب اسلامی کی پورے ملک میں موجود تمام یونٹس کو سرکلر جاری کیا جائے کہ وہ اپنے ہاں بھر پور طریقے سے کانفرنسز کا اہتمام کریں تاکہ مسلمانان وطن کی صحیح انداز میں رہنمائی کی جاسکے۔ چنانچہ اعلان کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں کانفرنسوں کا اہتمام شروع ہو گیا اور کئی ایک جلسوں میں راقم نے شرکت کی ۔

راولپنڈی شہر میں کانفرنسوں کے حوالے سے شہر کو پانچ حصوں میں تقسیم کر کے پانچ بڑی کانفرنسز کا اعلان ہوا۔ جس کے مطابق حلقہ ڈھوک کالا خان ، حلقہ مسلم ٹاؤن حلقہ پیرودھائی ، حلقہ سیٹلائٹ ٹاؤن اور حلقہ چوہڑ (کینٹ ایریا) میں کانفرنسز کا انعقاد کیا جانا قرار پایا۔

پہلی تحفظ ناموس رسالت کانفرنس

شباب اسلامی مہریہ یونٹ ڈھوک کالا خان کے زیر اہتمام پہلی کانفرنس مورخہ

24-12-2010 کو مرکزی سرپرست صدارت منعقد ہوئی۔

اس کانفرنس میں شدید سردی نے قانون ناموس رسالت کی اہمیت پر حسین شاہ صاحب کاظمی نے ”شان مصـ اور ملکی صورت حال کے مطابق جذبہ وتـ لوگوں کو پیغام دیا۔ میڈیا کے گمراہ کن پـ لوگوں کے ستائے ہوئے عاشقان مصطـ گریبان چاک ہوئے اور غلامی رسول دل بھی حاضر جان بھی حاضر اور ”گستاـ نعروں نے ماحول کو کچھ ایسا گرمایا کہ تھـ ہزاروں لوگوں نے عہد کیا کہ قانون دیں گے۔ اس کانفرنس میں علامہ میر علامہ نزاکت تبسم ، علامہ نیاز مین ، علامـ مولانا کامران ضیائی، مولانا منیر حیدر،

غازی اسلام کا جذبہ بیدار ہو

طے شدہ پروگرام کے مطابـ دوسری ”تحفظ ناموس رسالت کانفرنـ سٹریٹ (اب غازی سٹریٹ ) اقمـ کانفرنس کے اشتہار پورے شہر مـ

صفحہ 51

24-12-2010 کو مرکزی سرپرست اعلیٰ جناب صاحبزادہ سید حبیب الحق شاہ کاظمی کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔

اس کانفرنس میں شدید سردی کے باوجود ہزاروں افراد شریک ہوئے مرکزی سرپرست اعلیٰ نے قانون ناموس رسالت کی اہمیت پر بے مثال خطاب فرمایا تنظیم کے مرکزی رہنما علامہ سید امتیاز حسین شاہ صاحب کاظمی نے ”شانِ صحابہؓ“ پر گفتگو فرمائی اور راقم نے عظمت مصطفیٰ ﷺ پر گفتگو کی اور ملکی صورت حال کے مطابق جذبہ وفاداری رسول ﷺ کی عملی بیداری کے تنظیمی مشن کے مطابق لوگوں کو پیغام دیا۔ میڈیا کے گمراہ کن پروپیگنڈے اور گورنر سلمان تاثیر اور شیری رحمان جیسے سیکولر لوگوں کے ستائے ہوئے عاشقان مصطفیٰ کا وہ جذبہ ناقابل بیان ہے۔ شدت جذبات محبت میں کئی گریبان چاک ہوئے اور غلامی رسول ﷺ میں موت بھی قبول ہے۔ آقا تیرے ناموس کی خاطر، دل بھی حاضر جان بھی حاضر اور ”گستاخ رسول کی ایک ہی سزا، سر تن سے جدا“ کے فلک شگاف نعروں نے ماحول کو کچھ ایسا گرمایا کہ راقم سمیت سٹیج پر موجود درجنوں علماء بھی خود پر قابو نہ رکھ سکے۔ ہزاروں لوگوں نے عہد کیا کہ قانون انسداد توہین رسالت کے دفاع کیلئے جان تک کی بازی لگا دیں گے۔ اس کانفرنس میں علامہ میر ظہیر احمد قادری، علامہ میر اشتیاق قادری، علامہ یوسف چشتی، علامہ نزاکت تبسم ، علامہ نیاز مبین، علامہ کبیر احمد، علامہ محمود تبسم، علامہ سید وضاحت حسین شاہ کاظمی، مولانا کامران ضیائی، مولانا منیر حیدری اور درجنوں علماء نے شرکت کی۔

غازی اسلام کا جذبہ بیدار ہوتا ہے

طے شدہ پروگرام کے مطابق شباب اسلامی پاکستان کے مسلم ٹاؤن یونٹ کے زیر اہتمام دوسری ”تحفظ ناموس رسالت کانفرنس“ 31 دسمبر 2010ء بروز جمعۃ المبارک بعد نماز مغرب مسلم سٹریٹ ( اب غازی سٹریٹ ) اظہر اقبال ستی صاحب کے خالی وسیع پلاٹ میں ہونا قرار پائی۔ کانفرنس کے اشتہار پورے شہر میں چسپاں کئے گئے خطابات کے لئے علامہ سردار احمد حسن

صفحہ 52

سعیدی مدرس جامعہ رضویہ ضیاء العلوم، علامہ سید امتیاز حسین شاہ کاظمی مرکزی رہنما شباب اسلامی پاکستان اور راقم کا نام مشتہر ہوا۔ حسب ضابطہ قاری تنویر احمد صدیقی (یونٹ نگران Sip) نے پروگرام شروع کروایا۔ یہ پروگرام غازی ملک ممتاز قادری کے گھر سے چند گز کے فاصلے پر منعقد ہو رہا تھا۔ حسب توقع ممتاز قادری صاحب بھی اس محفل میں شریک ہوئے اور آغاز محفل میں ”سب سے اولیٰ واعلیٰ ہمارا نبی“ نعت شریف پیش کی بعد نماز عشاء علامہ شاہنواز احمد ضیائی، میر ظہیر احمد قادری، سید امتیاز حسین شاہ کاظمی اور راقم کانفرنس میں پہنچے اس وقت تک پنڈال کھچا کھچ بھر چکا تھا۔ خطابات کا سلسلہ شروع ہوا سب سے پہلے علامہ شاہنواز احمد ضیائی نے عظمت مصطفیٰ ﷺ کے موضوع پر شاندار خطاب فرمایا۔ بعد ازاں علامہ میر ظہیر احمد قادری نے سامعین کو گرمایا ان کے بعد خطیب السادات سید امتیاز حسین شاہ صاحب نے مختصر مگر انتہائی پُر اثر خطاب فرمایا آپ نے ”شباب اسلامی کے مشن“ پر گفتگو کی اور واقعات حدیث و تاریخ کو کچھ اس درد سے بیان فرمایا کہ پورے اجتماع پر سکتہ طاری ہو گیا اور شدید ترین سردی کے باوجود عاشقان مصطفیٰ کے سینے جذبہ حب مصطفیٰ ﷺ سے گرم ہوئے۔

بقول ملک ممتاز حسین قادری کہ وہ بھی شاہ صاحب کے اس خطاب کو سُن رہے تھے۔ شاہ صاحب کے خطاب سے پہلے کانفرنس کے آرگنائزر مولانا تنویر حسین صدیقی نگران شباب اسلامی مسلم ٹاؤن یونٹ کے کہنے پر ممتاز قادری گھر تشریف لے گئے اور مقررین کے لئے چائے کا بندوبست کیا گیس کی لوڈ شیڈنگ کے باعث چائے کوئلوں پر پکا کر لائے۔

سید امتیاز حسین شاہ صاحب کے خطاب کے بعد فقیر راقم کو گفتگو کا موقع ملا اور راقم نے بھی اپنی ہمت و بساط کے مطابق لوگوں کو عشق مصطفیٰ کا درس دیا۔

بلاشبہ محفل میں ایک موقع پر عجیب سی کیفیت طاری ہوئی اور عاشقان مصطفیٰ پر سابقہ کانفرنس کی طرح عشق مصطفیٰ کے جذبے نے ایسا اثر کیا کہ شدت محبت میں لوگ زار و قطار رونے

صفحہ 53

لگ گئے۔ آخر ہم خطیب لوگ بھی سینے میں دل رکھتے ہیں لوگوں کے جذبہ محبت کا مجھ پر بھی عجیب اثر ہوا کہ میں بھی شدت جذبات سے بے قابو ہوگیا۔ اور میرا عمامہ سر سے گر گیا اور مائیک بھی گر گیا۔

شباب اسلامی پاکستان کا مشن ہی نوجوانوں کے دلوں میں جذبہ وفاداری رسول کی بیداری ہے اور شباب اسلامی کی قیادت کی حتی الامکان کوشش ہوتی ہے کہ اپنے اس مشن میں خلوص کو شامل رکھا جائے غالباً یہ اسی چیز کی برکت ہے کہ بہت تھوڑے سے عرصے میں ہمارا یہ پیغام ملک کے کونے کونے میں پہنچ چکا ہے اور ہزاروں نوجوان ہمارے ساتھ بے پناہ خلوص سے چل رہے ہیں۔

اس منعقدہ ناموس رسالت کانفرنس میں انسداد توہین رسالت قانون کی اہمیت وافادیت بھی بیان کی گئی محفل کی سی ڈیز دیکھنے پر پتہ چلا کہ ممتاز قادری صاحب نے آخر میں سٹیج پر کھڑے ہو کر سلام مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام کا نذرانہ پیش کیا۔

شباب اسلامی کی اس کانفرنس کا ممتاز قادری صاحب پر کیا اثر ہوا یہ خود اُن سے پوچھتے ہیں چنانچہ غازی ممتاز قادری نے مجسٹریٹ کی عدالت میں جو دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کروایا وہ بلفظہ ملاحظہ فرمائیں۔

ملک ممتاز حسین قادری صاحب کا اعترافی بیان

کاروائی قلمبندی بیان زیر دفعہ 164 ازاں ملک محمد ممتاز قادری

کانسٹیبل نمبر 6990 مقدمہ نمبر 06 مورخہ 4/1/2011 جرم 302/109 ت پ 7ATA تھانہ کوہسار ۔ ولد ملک محمد بشیر ساکن مکان نمبر 501-BV مسلم ٹاؤن راولپنڈی ۔

10/1/2011 مقدمہ عنوان بالا میں انسپکٹر حاکم علی خان تھانہ کوہسار SHO نے جناب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد کو درخواست برائے قلمبندی بھجوائی ہے ۔ ملک محمد ممتاز قادری کانسٹیبل نمبر 6990 پنجاب پولیس بھی حاضر ہے ۔

صفحہ 54

اب تمام افراد بشمول پولیس افسران و اہلکاران کو کمرہ عدالت سے باہر بھجوا دیا گیا ہے۔ اب کمرہ عدالت میں میرے روبرو / ساتھ صرف ملک محمد ممتاز قادری کانسٹیبل نمبر 6990 موجود ہے۔ اب اس کو بتایا گیا ہے کہ وہ اس وقت مجسٹریٹ درجہ اول / AC اسلام آباد کی عدالت میں موجود ہے اور وہ یہاں پر بالکل آزاد و خود مختار ہے لہٰذا وہ ہر قسم کے دباؤ خوف سے بالا تر اور آزاد ہے۔ مزید اس کو بتایا گیا ہے کہ وہ یہاں پر کسی قسم کے دباؤ یا ترغیب کے تحت بیان دینے کے لئے نہیں لایا گیا ہے۔ تو اب اس کو بتایا جا رہا ہے کہ ایسا ہرگز نہ ہے۔ اگر وہ اپنی مرضی سے کوئی بیان دینا چاہے تو وہ ایسا کر سکتا ہے اور صرف اس صورت میں اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا کیونکہ یہ بیان صرف اس کی مرضی سے ہی قلمبند ہو سکتا ہے کسی دباؤ خوف یا ترغیب کے بغیر کیونکہ اس پر واضح ہونا چاہئے کہ قلمبند کیا گیا بیان اس کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔ لہٰذا وہ کوئی بیان دینے کا پابند نہ ہے وہ ان سب باتوں اور مضمرات کو مدنظر رکھ کر کرے اور اس سلسلے میں اطمینان کرنا چاہیے کہ اس کو واپس پولیس کی تحویل میں نہ بھیجا جائے گا۔ اس لئے پولیس کے پاس دوران حراست اگر بیان دینے کیلئے کوئی دباؤ یا خوف و ہراس کا حربہ استعمال کیا گیا ہے تو وہ اس سے آزاد ہو کر اب خود فیصلہ کرے کیونکہ اب اس کو دوبارہ پولیس تحویل میں نہ جانا ہے۔

دستخط ونشان انگوٹھا ممتاز قادری صاحب دستخط و مہر جج صاحب

اس سلسلے میں ملک محمد ممتاز قادری کو بتایا گیا ہے اور ابتدائی طور پر اس کو سوچنے کیلئے دو گھنٹے کا وقت میں نے اپنے کمرہ عدالت سے ملحق کمرہ میں بٹھا کر دیا جہاں ان دو گھنٹوں کے دوران کوئی بھی اس سے ہرگز نہ مل سکا اور نہ ہی کسی نے اس سے رابطہ کیا اور نہ ہی کسی کو رابطہ کرنے کی اجازت دی گئی۔ اب دو گھنٹے کا وقت گزر چکا ہے۔ کمرہ عدالت سے تمام افراد کو باہر بھجوا دیا گیا ہے۔ اور ملک ممتاز قادری سے پوچھا گیا کہ اسے سوچنے کا وقت مزید درکار ہے یا نہیں۔ تو اس نے کہا کہ میں بیان قلمبند کروانا چاہتا ہوں اور مجھے مزید سوچنے کا وقت نہیں چاہیے۔ تاہم مزید تسلی کے لئے اس سے کچھ سوالات و جوابات کئے جاتے ہیں۔

دستخط ونشان انگوٹھا ممتاز قادری صاحب دستخط و مہر جج صاحب

سوال: کیا آپ کو علم ہے کہ یہ عد جواب: جی ہاں۔ سوال: آپ کو تعلیم و عمر کیا ہے۔ جواب: میٹرک اور عمر 26 سال۔ سوال: کیا آپ اس وقت اپنے جواب: جی ہاں۔ سوال: آپ کا یہ بیان کسی بھی عد استعمال ہو سکتا ہے۔ جواب: جی ہاں سوال: کیا آپ یہ بیان کسی دبا جواب: جی نہیں۔ سوال: آپ بیان زیر دفع 164 جواب: تاکہ حق و سچ بیان کر سکوں سوال: کیا مزید سوچنے کا وقت جواب: جی نہیں۔ سن کر درست تسلیم کیا گیا۔ دستخط ونشان انگوٹھا ممتاز مندرجہ بالا استفسارات ۔ اپنی آزاد مرضی سے اور بغیر کسی دباؤ

صفحہ 55

سوال: کیا آپ کو علم ہے کہ یہ عدالت مجسٹریٹ یا AC کی ہے؟ جواب: جی ہاں۔ سوال: آپ کی تعلیم و عمر کیا ہے۔ جواب: میٹرک اور عمر 26 سال ہے۔ سوال: کیا آپ اس وقت اپنے مکمل ہوش وحواس میں موجود ہیں؟ جواب: جی ہاں۔ سوال: آپ کا یہ بیان کسی بھی عدالت میں بطور ثبوت آپ کے خلاف شہادت کے طور پر استعمال ہوسکتا ہے۔ جواب: جی ہاں سوال: کیا آپ یہ بیان کسی دباؤ / خوف / دھمکی / لالچ کے زیر اثر دینا چاہتے ہیں۔ جواب: جی نہیں۔ سوال: آپ بیان زیر دفعہ 164 کیوں دینا چاہتے ہیں؟ جواب: تاکہ حق و سچ بیان کر سکوں ۔ سوال: کیا مزید سوچنے کا وقت درکار ہے۔ جواب: جی نہیں۔

سن کر درست تسلیم کیا گیا۔

دستخط و نشان انگوٹھا ممتاز قادری صاحب دستخط و مہر جج صاحب

مندرجہ بالا استفسارات سے عدالت کو اطمینان اور تسلی ہوگئی ہے کہ ملک محمد ممتاز قادری اپنی آزاد مرضی سے اور بغیر کسی دباؤ / خوف / دھمکی اور لالچ کے بیان قلمبند کروانا چاہتا ہے اور بیان

صفحہ 56

زیر دفع 164 قلمبند کیا جاتا ہے۔

دستخط و نشان انگوٹھا ممتاز قادری صاحب دستخط و مہر جج صاحب

10/1/2011 بیان ازاں ملک محمد ممتاز قادری ولد ملک محمد بشیر قوم اعوان کانسٹیبل نمبر 6990 مقدمہ نمبر 06 مورخہ 4/1/2011 بجرم 302/109 ت پ 7ATA تھانہ کوہسار اسلام آباد سکنہ مکان نمبر 501-BV مسلم ٹاؤن راولپنڈی۔

﴿بیان برحلف﴾

میں مورخہ 1/1/1985 کو راولپنڈی (صادق آباد) میں پیدا ہوا۔ میں میٹرک پاس ہوں اور پولیس میں (پنجاب کانسٹیبلری روات) 2002ء میں بھرتی ہوا۔ اس کے بعد مختلف جگہوں پر ڈیوٹی کی 2005ء میں کچھ دنوں کیلئے سپیشل برانچ میں رہا اس کے بعد 8-2007 میں ایلیٹ سکول لاہور میں کورس کیا۔ اس کے بعد مختلف جگہوں پر سیکیورٹی ڈیوٹی بشمول VIP سیکیورٹی سرانجام دی۔

31-12-2010 کو تحفظ ناموس رسالت اور شان اہل بیت کانفرنس کے عنوان کے تحت میرے گھر کے پاس مسلم ٹاؤن میں اجتماع ہوا اس اجتماع کا پس منظر ملک میں جاری قانون ناموس رسالت میں مجوزہ ترمیم اور بعض افراد جن میں بالخصوص صدر آصف علی زرداری اور گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی طرف سے مجوزہ ترمیم و بیانات وطرزعمل تھا۔ میرا تعلق ویسے بھی دعوت اسلامی نامی تنظیم سے ہے جو کہ تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تنظیم تحریک ہے جس کے سربراہ مولانا الیاس عطار قادری صاحب ہیں۔

31-12-2010 کو ہونے والے جلسے میں انتہائی پُر اثر اور جذباتی تقاریر عشق رسول پر کی گئیں بالخصوص سید امتیاز حسین شاہ کاظمی اور علامہ محمد حنیف قریشی قادری کی تقریر جذبات اور عشق رسول ﷺ میں ڈوب کر انتہائی۔

صفحہ 57

بیان کے دوران مفتی محمد حنیف قریشی قادری صاحب عشق رسول میں آپے سے باہر ہو گئے اور اُن کا عمامہ گر گیا ، بال بکھر گئے اور مائیک گر گیا اور اجتماع پر رقت آمیز مناظر چھا گئے اور سب رونے لگ گئے ۔ میں بھی جذبات اور عشق رسول میں رونے لگا۔ غازی علم دین شہید اور حضرت بلال ؓ کے عشق رسول کے واقعات بیان کئے تو عشق رسول کو سن کر اور شدت جذبات سے میرا دل بھی رو پڑا ۔ میں نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو واجب القتل جانتے ہوئے عشق رسول کے جذبات کو دل میں بیدار ہوتے ہوئے محسوس کر لیا ۔ اُسی وقت ارادہ کیا کہ سلمان تاثیر کو ضرور گستاخی شان رسول کی وجہ سے قتل کروں گا کیونکہ اس نے ناموس رسالت کے قانون کو کالا قانون کہا تھا اور گستاخ رسول عاصیہ بی بی کی حمایت و معاونت کر رہا تھا ۔ گورنر سلمان تاثیر کے ساتھ میں اس سے قبل تقریباً 5/4 مرتبہ ESCORT ڈیوٹی کر چکا ہوں ۔

1-1-11 اور 11-1-2 کو میری ڈیوٹی DHQ راولپنڈی پر لگی تھی ۔ 11-1-3 کو CPO آفس راولپنڈی پر ڈیوٹی کی 4/1/11 کو صبح آفس (ایلیٹ ) پہنچا اور چٹھہ یعنی ڈیوٹی آرڈر دیکھے تو میری ڈیوٹی 6th Road پر لگی ہوئی تھی جبکہ میرے کچھ ساتھیوں کی ڈیوٹی گورنر پنجاب کے ساتھ اسلام آباد میں لگی ہوئی تھی ۔ میرے دل میں فوراً خیال آیا کہ آج موقع مل سکتا ہے ۔ میں نے اسی وقت محرر سے بات کی کہ مجھے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے ساتھ Escort Duty کے ساتھ بھیج دو تاکہ اسلام آباد گھوم پھر آؤں ۔ محرر عمر فاروق نے میری بات مان لی چونکہ جن ملازمین کی گورنر پنجاب کے ساتھ ڈیوٹی لگی تھی ان میں دو لیٹ ہو گئے تھے ۔ ویسے بھی میں پہلے گورنر کے ساتھ ڈیوٹی کرتا رہا تھا اور دیگر VIP ڈیوٹی جیسے CM پنجاب کے ساتھ ڈیوٹی کرنے جاتا رہتا تھا۔ ڈیوٹی میں نام آنے کے بعد میں نے ایلیٹ کی کوت سے SMG حاصل کی بمع دو عدد میگزین جن میں ہر ایک میں 30 گولیاں تھیں ۔ جب باقی لوگ اسلحہ لینے میں مصروف تھے اور گاڑی ڈیزل کیلئے گئی ہوئی تھی تو موقع دیکھ کر چیمبر لوڈ کر لیا ۔ پھر راستے میں اسلام آباد آتے ہوئے میں نے ایک چٹ لکھ کر اپنے پرس میں ڈالی جس پر ”گستاخ رسول کی سزا موت ہے اے

صفحہ 58

کاش اللہ اور رسول ﷺ مجھے اس مقصد کیلئے قبول کر لیں آمین‘‘ تحریر کیا۔ پونے 10 بجے صبح ہم گورنر کے گھر F-6/3 میں پہنچے اور پہلے سے موجود شفٹ کو بدلی کیا۔ پھر تقریباً آدھے پونے گھنٹے بعد گورنر اپنی گاڑی میں بیٹھ کر مختلف جگہوں پر گئے جن میں قمر زماں کائرہ سے بھی ملے اس دوران بھی خیال آیا کہ اس کو مار دوں۔ ویسے مجھے کچھ کنفرم نہیں تھا کہ کس سے ملنے گیا ہے۔ مگر میں اس وقت اسلئے نہیں مار سکا کہ مجھے معلوم نہ تھا کہ گورنر کس گاڑی میں کس جگہ موجود ہے اور گاڑیاں بلٹ پروف بھی ہوتی ہیں۔ لہذا موقع کا انتظار کرنا بہتر سمجھا۔ اس دوران گن کو میں نے سیفٹی لاک پر رکھا۔ تاکہ کوئی حادثاتی فائر نہ ہو۔

دوپہر کو تقریباً 3:30 بجے واپس گورنر کے گھر F-6/3 پہنچنے کے بعد ہم اپنی Escort گاڑی میں ہوا بھروانے کیلئے قریبی پٹرول پمپ پر پہنچ گئے۔ واپسی پر ندیم آصف ASI نے گاڑی کو کوہسار مارکیٹ آنے کا پیغام دیا اور ہم کوہسار مارکیٹ آگئے۔

کوہسار مارکیٹ پہنچ کر گورنر کے نکلنے کا انتظار کرنے لگے جب گورنر اپنے دوست کے ساتھ نکلا تو تقریباً 4 بج چکے تھے میں نے دل میں سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ موقع دیا ہے۔ سب ایلیٹ کے لڑکے گاڑیوں میں بیٹھ کر الرٹ ہو گئے میں آہستہ آہستہ گورنر کے اپریٹر ندیم آصف جو کہ گورنر کے کافی قریب الرٹ کھڑا تھا کی طرف بڑھا اور دل میں سوچا کہ ایسا نہ ہو کہ یہ مجھے دیکھ لے اور کہے کہ تم گاڑی میں باقی گارڈ کے ساتھ بیٹھ جاؤ اور ڈیوٹی کرو ادھر کیا کر رہے ہو۔ یہ بھی خدشہ تھا کہ کہیں میری گاڑی میں موجود ڈرائیور اور لڑکے مجھے آتے دیکھ کر واپس آنے کیلئے آواز نہ دے دیں مگر پھر دل میں سوچا کہ اللہ تعالیٰ مدد کرے گا۔ لہذا میں بالکل قریب پہنچ گیا تو ندیم آصف نے مجھے دیکھا تھا مگر اس وقت سب کا دھیان گورنر کی طرف تھا اور گورنر بالکل قریب آچکا تھا۔ میں نے بھی ساتھ چلنا شروع کر دیا مزید یہ کہ جب گورنر سڑک پر آیا تو میرا اور اس کا فاصلہ زیادہ سے زیادہ 4-5 فٹ تھا۔ اور میں بالکل اس کی پشت پر تھا۔ خیال آیا کہ اس کے سامنے سے جا کر مار دوں پھر سوچا کہ تمام گارڈ مجھ پر حملہ آور ہو جائیں گے مرنے کا تو خوف نہ تھا مگر خدشہ تھا کہ نشانہ ٹھیک نہ لگے

صفحہ 59

اور کہیں وہ بچ نہ جائے۔ لہذا فوراً فیصلہ کیا کہ اس کو پیچھے سے ہی ماروں گا کیونکہ SMG پہلے سے ہی برسٹ پر تھی لہذا میں نے ٹریگر دبا دیا۔ اور پورا برسٹ تین سے چار سیکنڈ میں گورنر پر فائر کر دیا۔ اس کے بعد سناٹا چھا گیا۔ اور ندیم آصف ASI نے مجھ پر اپنا ریوالور/پسٹل تان لیا۔ اور باقی گارڈ بھی میرے ارد گرد کھڑے ہو گئے۔ میں نے اپنی گن ہوا میں کھڑی کر دی اور اپریٹر ندیم آصف ASI سے کہا کہ رائفل لے لو اور میں بھاگ نہیں رہا، فائر مت کرو۔ میری تم لوگوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ اتنے میں باقی ایلیٹ کے جوانوں نے مجھے زمین پر لٹا دیا اور ایک نے میرے پیٹ پر پاؤں رکھ دیا اور باقیوں نے میرے تسمے نکال کر ہاتھ پاؤں باندھ دیے۔ اور الٹا باندھ کر لٹا دیا۔ اور بعد میں مجھے اسلام آباد پولیس کے حوالہ کر دیا۔ میں یہ بھی بتانا چاہوں گا کہ اسلام آباد پولیس نے میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا ہے اور کوئی بے عزتی یا تشدد نہ کیا ہے۔ میں نے جو کچھ بھی کیا اپنے جذبے کے تحت کیا اور اس بارے میں نہ تو کوئی ہمراز بنایا اور نہ ہی کوئی اور شامل ہے۔

میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پاک ﷺ میری قربانی کو قبول فرمائیں۔ مجھے کوئی افسوس نہ ہے بلکہ میں بہت خوش ہوں کہ اب گستاخان رسول پاک کافی عرصہ اپنے مذموم عزائم سے باز رہیں گے۔

میری نظر میں سلمان تاثیر گستاخ رسول تھا اور واجب القتل تھا۔ میری معمول کی ڈیوٹی میں میں نے ایسے لوگوں کے ساتھ بھی ڈیوٹی کی ہے جن پر توہین رسالت کے الزامات ومقدمات تھے مگر میں نے یہ سوچا کہ کیا پتا کہ یہ الزام غلط ہو۔ اور ان میں سے کچھ کو روزہ کی حالت میں دیکھا اور اپنے آپ کو روزہ دار کہتے ہوئے پایا۔ اس لئے کبھی بھی ان کو قتل کرنا درست نہ سمجھا۔ ویسے بھی جب تک کسی اہم شخصیت جو کہ گستاخ ہو کو اگر نہ مارا جائے تو مسئلہ کا حل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے سلمان تاثیر کو قتل کر کے میں نے اپنا فرض پورا کیا ہے۔ زندگی اور موت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور موت تو ایک دن ویسے بھی آنی ہے تو پھر ناموس رسالت پر جان قربان ہو جائے تو کیا کہنا۔ سن کر پڑھ کر درست تسلیم کیا۔

دستخط ونشان انگوٹھا ممتاز قادری صاحب دستخط ومہر جج صاحب

صفحہ 60

سرٹیفکیٹ: 10/1/11 ....... تصدیق کی جاتی ہے کہ بیان بالا ملک محمد ممتاز قادری بمقدمہ نمبر 06/11 مورخہ 4/1/2011 بجرم 302/109 ت پ 7ATA تھانہ کوہسار اسلام آباد بغیر کسی دباؤ / خوف اور لالچ / دھمکی کے زیر دفعہ 164 بطور ملزم قلمبند کر دیا ہے۔ بیان لکھنے سے قبل بیان کنندہ کو باور کر دیا گیا ہے۔ کہ از روئے قانون کے وہ بیان دینے کا پابند نہ ہے اور بیان کسی بھی عدالت میں بطور ثبوت / شہادت استعمال ہو سکتا ہے۔ مختلف استفسارات سے اطمینان کیا گیا ہے۔ کہ مذکورہ نے بیان بلا جبر و اکراہ اپنی آزاد مرضی سے دیا ہے۔ بیان علیحدگی میں تحریر کیا گیا ہے۔ تحریر کرنے سے قبل سوچنے کا مناسب وقت دیا گیا ہے۔ جس طرح بیان کنندہ نے بیان قلمبند کروایا۔ لفظ بہ لفظ تحریر ہوا۔ لکھنے کے بعد بیان کنندہ کو پڑھ کر سنایا گیا جس نے سن کر درست تسلیم کیا اور اپنے دستخط اور نشان انگوٹھا ثبت کر دیا۔ بیان کنندہ کی شناخت حاکم خان انسپکٹر SHO تھانہ کوہسار نے کی ہے۔ جملہ کاروائی 13 صفحات پر مشتمل ہے۔ جو میری دستخطی ہے۔ اور مہر عدالت ثبت ہے۔

بیان کی تصدیق اور نقل ایک عدد تفتیشی حاکم خان کے حوالے کی گئی۔ اصل ہذا بخدمت جناب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد مرسل ہوئی۔

دستخط و مہر جج صاحب

صفحہ 61

گورنر قتل ہوتا ہے

4 جنوری 2011ء میں (راقم محمد حنیف قریشی) اپنے گھر میں موجود تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی اور تنظیمی دوستوں نے خبر دی کہ گورنر کو اس کے سرکاری محافظ نے قتل کر دیا ہے۔ گورنر کے قتل کی وجہ معلوم نہ ہوسکی لیکن ساتھ ہی خبر بریک کی گئی کہ گورنر کو ٹھکانے لگانے والے محافظ کا نام ملک ممتاز حسین قادری ہے اور ممتاز قادری نے بتایا ہے کہ اس نے گورنر کو توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون کہنے کی وجہ سے گستاخ رسول سمجھ کر قتل کیا ہے۔

یہ سن کر راقم کی کیفیت بھی وہی ہوئی کہ جو کروڑوں مسلمانوں کی ہوئی تھوڑی دیر بعد سڑکوں پر مٹھائیاں بانٹی جانے لگیں اور کچھ نوجوانوں نے سڑک پر نعرہ بازی بھی کی ”گستاخ رسول کی ایک ہی سزا، سر تن سے جدا ...... سر تن سے جدا“

ہر شخص کو اشتیاق تھا کہ وہ جانے کہ ملک ممتاز قادری کون ہے۔ میں بھی اسی اشتیاق میں تھا کہ کچھ دوستوں نے خبر دی کہ ممتاز حسین قادری مسلم ٹاؤن کا رہائشی ہے اور جس جگہ ہماری 31 دسمبر کی کانفرنس ہوئی ہے اس کا گھر اس کے پاس ہے۔ اس کے بعد میں آستانہ عالیہ عید گاہ شریف اہم میٹنگ کے سلسلے چلا گیا۔ میٹنگ کے بعد روزنامہ اوصاف کے رپورٹر گلزار خان صاحب کا فون آیا کہ یہاں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ممتاز حسین قادری نماز جمعہ آپ کی مسجد میں ادا کرتا ہے اور آپ کے خطابات بڑے شوق سے سنتا ہے اور یہ کہ 31 دسمبر کی کانفرنس میں وہ شریک تھا اور غالباً اس نے اس اقدام کا فیصلہ شباب اسلامی کی منعقدہ اسی کانفرنس میں کیا تھا۔ کیونکہ وہ آپ کے خطاب کے دوران جذباتی نعرے لگاتا رہا۔ میں نے گلزار خان صاحب کو جواب دیا کہ بھائی گورنر کو قتل کرنے کا فیصلہ قادری صاحب کا ذاتی تھا انہوں نے اس سلسلے میں نہ تو مجھ سے کبھی ملاقات کی اور نہ ہی مجھ سے مل کر کوئی منصوبہ بنایا اگر میرے خطاب کی وجہ سے ان کا جذبہ محبت بیدار ہوا ہے تو میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں تاہم میں نے ممتاز حسین قادری صاحب کو گورنر کے قتل کا

صفحہ 62

نہیں کہا۔ گورنر کو ملک ممتاز حسین قادری نے اپنی سرکاری رائفل سے برسٹ مار کر قتل کیا۔ گورنر تاثیر اپنے ایک وقاص نامی دوست کے ساتھ اسلام آباد کے ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کے بعد باہر نکلا تو قادری صاحب نے اسے چار فٹ کے فاصلے پر برسٹ مارا جو اس کے سینے اور گردن میں لگا اور گورنر کی زبان کو اُڑاتا ہوا دوسری طرف سے نکل گیا۔ گورنر کو قتل کرنے کے بعد ممتاز قادری زمین پر لیٹ گئے اور گورنر کے ساتھ موجود پولیس عملہ کے سامنے سرنڈر کیا اور گن پھینک دی۔ پولیس نے قادری صاحب کو گرفتار کر کے اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں پہنچا دیا۔ گورنر کے قتل کی خبر پوری دنیا میں بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کی گئی۔ قادری صاحب کی گرفتاری کے تھوڑے ٹائم کے بعد رات تقریباً 7 بجے کے قریب قادری صاحب کے اہل خانہ کو اسلام آباد پولیس اور خفیہ اداروں کے لوگ تفتیش کی غرض سے اسلام آباد لے گئے اور ان کے گھر کے باہر پولیس کا پہرہ لگا دیا گیا۔

اس دوران علاقے کے تنظیمی ساتھی اور دیگر شہری بڑی تعداد میں غازی صاحب کے گھر کے باہر جمع ہوگئے اور رات گئے تک درود و سلام اور محفل نعت جاری رہی قادری صاحب کے والد اور پانچ بھائیوں کو پولیس اپنے ساتھ لے گئی۔ غازی صاحب کے اہل خانہ کو دو دن تک تھانہ کوہسار میں رکھا گیا تاہم اس دوران تفتیشی اداروں نے ان کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں کی اور انہوں نے بھی ان کے ساتھ تعاون کیا۔ ادھر غازی صاحب کے گھر کی خواتین سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔ جن میں سب سے زیادہ سوالات ان کی اہلیہ سے پوچھے گئے، تفتیشی اداروں کی ٹیموں نے بڑی باریکی کے ساتھ قادری صاحب کے رہائشی کمرے کی تلاشی بھی لی تاہم وہاں سے نعت کی کیسٹوں ، نماز ، روزہ کے مسائل کی کتابوں کے علاوہ کچھ بھی نہ مل سکا۔

تفتیش کے لئے غازی صاحب کے اہل خانہ سمیت دیگر درجنوں لوگوں کو بھی گرفتار کیا گیا جن میں عام لوگوں کے علاوہ متعدد ایلیٹ فورس کے اہلکار اور پولیس کے ملازمین بھی شامل تھے۔

صفحہ 63

یادرہے کہ گورنر قتل کیس میں ایک سو سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کی گئی تاہم کسی کی گرفتاری نہیں ڈالی گئی اور ان تمام افراد کو بعد ازاں چھوڑ دیا گیا ان میں سے بعض افراد کے 164 کے بیان بھی مجسٹریٹ کے سامنے کروائے گئے اور انہیں استغاثہ کی طرف سے مقدمہ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

گورنر کی نماز جنازہ ۔۔۔ لبرل، سیکولر انتہا پسندوں کیلیے تازیانہ عبرت

مقتول گورنر کی نماز جنازہ 5 جنوری دن ایک بجے گورنر ہاؤس لاہور میں پڑھانے کا اعلان کیا گیا۔ 5 جنوری کے قومی اخبارات نے گورنر کے قتل کی خبر شہ سرخیوں میں شائع کی سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کی طرف سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا لیکن تمام لوگوں نے گورنر کو اپنے قتل کا خود ذمہ دار قرار دیا۔

اخبارات کے مطابق ملک ممتاز حسین قادری 2002ء میں پولیس میں بھرتی ہوا۔ گورنر کو پانچ فٹ کے فاصلے سے کلاشنکوف کا برسٹ مارا 27 گولیاں جسم میں لگیں، ممتاز حسین قادری نے کہا کہ انہیں اپنے اس فعل پر ہرگز ندامت نہیں ہے۔

روزنامہ جنگ راولپنڈی 5 جنوری 2011 میں یہ خبر شائع ہوئی کہ جماعت اہل سنت پاکستان کے علامہ سید ریاض حسین شاہ صاحب، مفتی مصطفیٰ اشرف رضوی صاحب، علامہ شاہ تراب الحق قادری صاحب، مفتی ضمیر احمد ساجد صاحب، علامہ مظہر سعید شاہ کاظمی صاحب، مولانا مفتی غلام سرور ہزاروی صاحب سمیت، پانچصد سے زائد مفتیان عظام نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گورنر کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کریں اس لئے کہ گورنر گستاخ رسول ملعونہ عاصیہ کی حمایت کر کے اور انسداد توہین رسالت کے قانون کو کالا اور ظالمانہ قانون قرار دے کر کافر ہو چکا ہے۔

مسلک اہل سنت کے علاوہ مسلک دیوبند کے جید علماء نے جماعت اہل سنت کے فتوے کی تائید کی چنانچہ خطیب بادشاہی مسجد لاہور، خطیب مسجد داتا دربار، خطیب مسجد گورنر ہاؤس سمیت

صفحہ 64

تمام مسالک کے علماء نے گورنر کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا۔ گورنر کی نماز جنازہ، مقررہ وقت سے دو گھنٹہ تاخیر سے ادا کی گئی اس کی یہ وجہ سامنے آئی کہ گورنر پنجاب کی نماز جنازہ پڑھانے کے لئے کسی جید عالم دین کا بندوبست نہ ہوسکا۔ یہاں تک کہ گورنر ہاؤس مسجد کے سرکاری خطیب جناب قاری محمد اسماعیل صاحب نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ نوکری چھوڑ سکتا ہوں مگر گورنر کی نماز جنازہ نہیں پڑھاؤں گا۔ چنانچہ عین موقع پر پیپلز پارٹی کے ایک باریش کارکن کے نام کے ساتھ ”علامہ“ اور ”چشتی“ کا سابقہ اور لاحقہ لگا کر گورنر کے حمایتیوں نے اپنی خفت کو مٹایا اور افضل نامی کارکن نے نماز جنازہ پڑھائی۔ نماز جنازہ کا منظر جو ٹی وی چینلز نے دکھایا وہ کچھ اس طرح تھا کہ امام صاحب کے آگے ٹی وی چینلز کے مائک اور تین صفیں تھیں اور گورنر کا جنازہ دور پیچھے پڑھا تھا۔ جنازے کے بعد گورنر کی لاش کو شہداء کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ آرمی کے شہداء کے قبرستان کا انتخاب اس لئے کیا گیا کہ اعلیٰ حکام کو اندیشہ تھا کہ کسی اور جگہ پر گورنر کو دفن کرنے سے لوگ اس کی لاش کو نکال کر باہر پھینک دیں گے۔ آرمی کے شہداء کے قبرستان میں چونکہ سیکورٹی ہوتی ہے اس لئے اس کی لاش کو وہاں دفن کیا گیا۔

جنازے کے بعد پورے ملک میں کسی بھی جگہ کسی بھی مسجد میں گورنر کے لئے دعائے مغفرت نہ کی گئی البتہ عیسائی برادری کی طرف سے گورنر کے ایصالِ ثواب کے لئے چرچوں میں شمعیں جلائی گئیں اور عیسائی پادریوں نے ”دعائے مغفرت“ کی۔ بعد ازاں گورنر کے رشتہ داروں کی طرف سے گورنر ہاؤس میں رسم قل کی محفل کروائی گئی جس میں چند ایک لوگوں کے سوا کوئی شریک نہ ہوا محفل میں خصوصی خطاب حضرت ”علامہ مفتی“ ڈاکٹر بابر اعوان صاحب نے کیا۔ میڈیا نے اس محفل کو لائیو ٹیلی کاسٹ کیا۔ محفل میں قاری محمد یونس نامی شخص نے نقابت کے فرائض سرانجام دیئے اور معروف نعت خواں اختر حسین قریشی نے نعت پڑھی اور گورنر کے ایصال ثواب کیلئے دعائے مغفرت کروائی۔ چنانچہ علماء نے گستاخِ گورنر کے لئے مغفرت کی دعا کرنے والوں پر شرعی فتویٰ صادر کیا جس کے بعد مذکورہ نقیبِ محفل اور نعت خوان نے جامعہ رسولیہ شیرازیہ لاہور

صفحہ 65

میں ڈاکٹر راغب نعیمی، ڈاکٹر اشرف جلالی ، مولانا رضائے مصطفیٰ اور دیگر علماء کی موجودگی اور گواہی میں توبہ کرتے ہوئے تجدید ایمان کیا۔ دونوں مذکورہ حضرات نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا فعل غلط تھا اور ہم تو ثناخوان مصطفیٰ ہیں گستاخان مصطفیٰ کی صفوں میں کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں اس لئے ہم نے توبہ کی اور تجدید ایمان کیا اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے۔ گورنر کے قتل پر سیکولر، لبرل انتہا پسندوں کے ہاں خوب کہرام مچا، تاہم غازی کے ایک وار نے امریکہ تک گستاخان رسول کو واضح پیغام دے دیا اور امریکی ایوانوں میں بھی غازی صاحب کے وار کی ٹیسیں محسوس ہوئیں۔

سیکولر لبرل انتہا پسندوں کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے اور اگلے دن کے اخبارات میں شیری رحمن نے دعویٰ کیا کہ وہ عاشق رسول ہے اور وہ توہین رسالت قانون کی مخالف نہیں ہے۔

ادھر تھانہ کوہسار میں سلمان تاثیر کے بیٹے شہر یار تاثیر کی مدعیت میں مقدمہ کی FIR درج ہوئی۔ جس کا نمبر 6 ہے۔

FIR کا متن

ابتدائی اطلاعی رپورٹ نسبت جرم قابل دست اندازی پولیس رپورٹ شدہ زیر دفعہ 154 مجموعہ ضابطہ فوجداری تھانہ کوہسار ضلع اسلام آباد مورخہ 4/1/2011، ساڑھے چار بجے استغاثہ مرتبہ ومرسلہ حاکم خان HC 5110 تھانہ کوہسار اسلام آباد بر تحریری درخواست ازاں شہر یار تاثیر ولد سلمان تاثیر مکان نمبر 18 گلی نمبر 3 سیکٹر F.8 اسلام آباد جرم 7ATA - PPC302/109 کوہسار مارکیٹ پارکنگ سیکٹر F-6/3 بفاصلہ 2 کلومیٹر بجانب شمال مشرق از تھانہ حسب آمد استغاثہ مقدمہ درج رجسٹر ہوا۔ ............................................................

صفحہ 66

بخدمت جناب ایس ایچ او صاحب تھانہ کوہسار اسلام آباد میں شہریار علی تاثیر ولد سلمان تاثیر ہوں مجھے اطلاع موصول ہوئی کہ مورخہ 4 جنوری 2011ء تقریباً 4:15 بجے سہ پہر میرے والد سلمان تاثیر گورنر پنجاب جب ایک ریسٹورنٹ واقع کوہسار مارکیٹ اسلام آباد سے کھانا کھا کر باہر نکل کر جا رہے تھے تو ان کے ایک سرکاری محافظ ملک محمد ممتاز قادری ایلیٹ فورس نے ان پر اپنے سرکاری اسلحہ سے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جس کے نتیجے میں وہ شدید مضروب ہو گئے ان کو عملہ پولیس اور ملازمین نے پولی کلینک اسلام آباد پہنچایا جہاں پر ڈاکٹروں نے ان کی وفات کی تصدیق کر دی وجہ عناد یہ ہے کہ میرے والد کا اہم قومی امور پر مخصوص نقطہ نظر تھا جس کی وجہ سے مختلف مذہبی اور سیاسی گروہ ان کے خلاف شدید مخاصمانہ پروپیگنڈہ کر رہے تھے اور ان کو قتل کی دھمکیاں بھی دی جا رہی تھیں میرے والد کو ملزم مذکورہ بالا نے سیاسی اور مذہبی گروہوں کے ایماء انگیخت معاونت اور سازش سے بہیمانہ طور پر قتل کر دیا ہے۔ دعویدار ہوں کاروائی کی جائے۔

درخواست گزار شہریار علی تاثیر ولد سلمان تاثیر 4/1/2011۔

کاروائی پولیس سائل نے تحریری درخواست بر موقع اس وقت پیش کی جب میں بمع محمد ارشد ASI، قمر زمان SI، صفدر حسین ASI تنویر احمد ASI، و دیگر ملازمان اطلاع وقوعہ پا کر بر موقع پہنچے نعش ازاں مقتول سلمان تاثیر کا فرد صورت حال مرتب کر کے بعد تکمیل کاروائی ضابطہ زیر حفاظت زیر نگرانی محمد ارشد SI، محمد زمان SI برائے پوسٹ مارٹم پولی کلینک ہسپتال بھجوائی جا رہی ہے ۔ تحریر مضمون درخواست و حالات واقعات سے سر دست صورت جرم 302/109 ت پ 7ATA پائی جا کر تحریری درخواست بشکل استغاثہ بغرض اندراج مقدمہ بدست کانسٹیبل عبدالرحیم 6147 ارسال تھانہ ہے۔ مقدمہ درج کر کے نمبر مقدمہ سے آگاہی بخشی جاوے میں موقع پر مصروف تفتیش ہوں ۔ دستخط بحروف انگریزی حاکم خان انسپکٹر SHO تھانہ کوہسار اسلام آباد از موقع کوہسار مارکیٹ سیکٹر 6/3 بوقت 5/10 بجے شام مورخہ 4/01/2011 از تھانہ ۔ حسب آمد استغاثہ رپورٹ ابتدائی اطلاعی بجرم

مذکورہ مرتب ہوئی۔ بعد تکمیل ریکا سپیشل رپورٹ مرسل ہوں گی اصل نقل فرسندہ SHO صاحب بم

غازی ممتاز حسین قادری کی عدالت

اسلام آباد پولیس نے ممتاز حسین مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا عدالت اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دیا۔

غازی صاحب کو اسلام آباد ع جس سے کفر کے باطل ایوانوں میں مزید ہم سمجھے تھے کہ ہم نے پاکستانی معاشرے ہوئی ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ غازی صاحب مصطفیٰ وکلاء نے غازی صاحب کی بح پھولوں سے سرخ ہوگئی۔ ان کے گلے ہاتھوں پر اٹھا لیا اور اس دوران غازی ص رسول اللہ بلند کیا۔ وکلاء کی طرف سے دیں لیکن شاید اب بھی وہ اسے انتہا پسند رسالت کی آگ کی تڑپ کیا ہے۔ وکلاء ممتاز حسین قادری کو عدالت میں پیش کیا ڈالے گئے ٹوپ کو اتار کر پھینک دیا۔

صفحہ 67

مذکورہ مرتب ہوئی۔ بعد تکمیل ریکارڈ نقول FIR جا بجا مجاز افسران کو بذریعہ سپیشل رپورٹ مرسل ہوں گی اصل استغاثہ مع نقل FIR بدست آرندہ کانسٹیبل عقب فرسندہ SHO صاحب بمراد تفتیش ارسال ہے۔

افتخار علی (ASI) محرر تھانہ کوہسار 14-01-2011 اسلام آباد

غازی ممتاز حسین قادری کی عدالت میں پہلی پیشی

اسلام آباد پولیس نے ممتاز حسین قادری صاحب کو حسب ضابطہ و قانون اسلام آباد مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا عدالت نے غازی صاحب کو ایک دن کے راہداری ریمانڈ پر اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دیا۔

غازی صاحب کو اسلام آباد عدالت میں پیش کرنے پر دنیا نے ایک عجیب منظر دیکھا جس سے کفر کے باطل ایوانوں میں مزید زلزلے بپا ہو گئے اور امریکہ سے بیان آنے لگ گئے کہ ہم سمجھے تھے کہ ہم نے پاکستانی معاشرے سے اسلامی جذبہ کو کم کر دیا ہے جبکہ ہمیں بڑی مایوسی ہوئی ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ غازی صاحب کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو اس دوران عاشقان مصطفیٰ وکلاء نے غازی صاحب کی بکتر بند گاڑی پر اتنی گل پاشی کی کہ گاڑی گلاب کے سرخ پھولوں سے سرخ ہو گئی۔ ان کے گلے میں ہار ڈالے گئے اور تین سو سے زائد وکلاء نے انہیں ہاتھوں پر اٹھا لیا اور اس دوران غازی صاحب نے بکتر بند گاڑی سے باہر نکل کر ”نعرۂ رسالت“ یا رسول اللہ بلند کیا۔ وکلاء کی طرف سے غازی صاحب کے اس استقبال نے کفر کی آنکھیں کھول دیں لیکن شاید اب بھی وہ اسے انتہا پسندی کہیں گے لیکن ان سے گلہ ہی کیا ہے انہیں کیا معلوم عشق رسالت کی آگ کی تڑپ کیا ہے۔ وکلاء نے درود و سلام کے ورد اور جذباتی نعروں کی گونج میں ممتاز حسین قادری کو عدالت میں پیش کیا اس دوران وکلاء نے ان کے سر پر پولیس کی طرف سے ڈالے گئے ٹوپ کو اتار کر پھینک دیا۔

صفحہ 68

عدالت میں دوسری پیشی

بروز جمعرات 6 جنوری غازی صاحب کو راولپنڈی دہشت گردی عدالت نمبر 11 کے جج محمد اکرم اعوان کی عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔ اسلام آباد کچہری میں وکلاء کے رویے کے باعث چیف کمشنر اسلام آباد نے دہشت گردی کے جج محمد اکرم اعوان کی عدالت کو ایک دن کے لئے اسلام آباد طلب کیا۔ راولپنڈی بار کے وکلاء جن کی قیادت بار کے صدر جناب ملک وحید انجم کر رہے تھے نے کمشنر کے اس مطالبے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور متعلقہ جج کو متنبہ کیا کہ وہ اس غیر قانونی اقدام کے اٹھانے سے گریز کریں چنانچہ وکلاء کے دباؤ پر عدالت کے جج نے اسلام آباد جانے سے انکار کر دیا۔ اسلام آباد پولیس و انتظامیہ نے مجبوراً غازی صاحب کو شام 4 بجے راولپنڈی میں محمد اکرم اعوان صاحب کی عدالت میں پیش کر دیا۔ میڈیا نے عوام کو گمراہ کرنے کے لئے متضاد خبریں نشر کیں تاکہ لوگ راولپنڈی میں عدالت کے باہر جمع نہ ہوسکیں۔ اس کے باوجود عاشقان مصطفیٰ کا جم غفیر عدالت کے باہر جمع ہو گیا۔ پولیس کی طرف سے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ بحمدہ تعالیٰ غازی صاحب کی اس پیشی پر شباب اسلامی کے سینکڑوں کارکن موجود تھے۔ مرکزی سرپرست اعلیٰ جناب صاحبزادہ سید حبیب الحق شاہ کاظمی ،مرکزی رہنما سید وضاحت حسین شاہ اور راقم فقیر دن 11 بجے سے لے کر شام 5 بجے تک شباب اسلامی کے کارکنان کے ہمراہ موجود رہے۔ اس پیشی کے موقع پر جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کے طلباء کی ایک بڑی تعداد بھی موجود رہی اور دیگر شہریوں کے علاوہ سنی تحریک کے کارکنان بھی طاہر اقبال چشتی صاحب کی قیادت میں موجود رہے۔

سارا دن کارکنان ، غازی تیرے جان نثار ، بے شمار بے شمار ۔۔۔ آقا تیرے نام کی خاطر ، دل بھی حاضر جان بھی حاضر ۔۔۔سیدی مرشدی ، یا نبی یا نبی ۔۔ کے نعرے لگاتے رہے۔

غازی صاحب کو شام 4 بجے جب عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ منظر دیدنی تھا۔ سینکڑوں

وکلاء نے پولیس کی بکتر بند گاڑی کو گھیر لیا ڈالے گئے سیاہ کپڑے کے ٹوپ کو وکلا ہو، سلام ہو‘ کے نعرے لگاتے انہیں عدالت میں لے جایا گیا۔

غازی صاحب کی طرف سے سے غازی صاحب سے الگ کرنے صاحب کو وکلاء کے ساتھ علیحدگی میں نے شکایت کی کہ انہیں دو دنوں سے بھی لگائے گئے ہیں اور بری طرح صاحب کے میڈیکل چیک اپ کا میں پیش کیا جائے اور میڈیکل رپورٹ کی اثر اندازی کے باعث، وفاقی پو

عدالت میں اسلام آباد پو عدالت کے جج محمد اکرم اعوان نے صاحب کو اسلام آباد پولیس کے حوالے

پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ اور

پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ بتلایا کہ انہوں نے گورنر کو کسی ذاتی توہین رسالت کے بارے میں اس باعث قتل کیا ہے۔

صفحہ 69

وکلاء نے پولیس کی بکتر بند گاڑی کو گھیر لیا اور غازی صاحب کو گاڑی سے نکالا گیا ان کے سر پر ڈالے گئے سیاہ کپڑے کے ٹوپ کو وکلاء نے زبردستی اتار پھینکا اور ’’غازی تیری جرأت کو، سلام ہو، سلام ہو‘‘ کے نعرے لگاتے انہیں چومتے اور گل پاشی کرتے ہوئے غازی صاحب کو کمرہ عدالت میں لے جایا گیا۔

غازی صاحب کی طرف سے ملک وحید انجم اور دیگر وکلاء پیش ہوئے وکلاء نے عدالت سے غازی صاحب سے الگ کمرے میں ملاقات کیلئے وقت مانگا چنانچہ عدالت نے غازی صاحب کو وکلاء کے ساتھ علیحدگی میں بیٹھنے کے لئے اجازت دے دی، اس دوران غازی صاحب نے شکایت کی کہ انہیں دو دنوں سے بھوکا پیاسا رکھا گیا ہے اور سونے نہیں دیا گیا اور بجلی کے جھٹکے بھی لگائے گئے ہیں اور بری طرح تشدد بھی کیا گیا ہے۔ وکلاء کی درخواست پر عدالت نے غازی صاحب کے میڈیکل چیک اپ کا آرڈر کیا اور حکم دیا کہ غازی صاحب کو راولپنڈی کی کسی ہسپتال میں پیش کیا جائے اور میڈیکل رپورٹ پیش کی جائے۔ وکلاء نے وفاقی ہسپتالوں پر وفاقی حکومت کی اثر اندازی کے باعث، وفاقی ہسپتالوں میں میڈیکل کروانے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

عدالت میں اسلام آباد پولیس نے دس دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس پر عدالت کے جج محمد اکرم اعوان نے پانچ دن کا جسمانی ریمانڈ دے دیا۔ شام پانچ بجے غازی صاحب کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ اور غازی اسلام کی استقامت

پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ کے دوران تفتیش اپنے ابتدائی بیان میں غازی صاحب نے بتلایا کہ انہوں نے گورنر کو کسی ذاتی رنجش یا دشمنی کی بناء پر قتل نہیں کیا بلکہ صرف اور صرف قانون توہین رسالت کے بارے میں اس کی ہرزہ سرائی اور ایک ملعونہ کی بے جا حمایت کرنے کے باعث قتل کیا ہے۔

صفحہ 70

دوران تفتیش جب غازی صاحب سے ان کے کمسن دو ماہ بچے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا اس کا اللہ نگہبان ہے ناموس رسالت پر ایک کیا سو بچے بھی قربان ہو سکتے ہیں میں نے اپنی جان کی صورت میں اپنی قربانی پیش کی اللہ اور اس کا رسول ﷺ میری اس قربانی کو قبول فرمالیں۔

پانچ روزہ ریمانڈ کے دوران ملک ممتاز حسین قادری عزم و ہمت کا پہاڑ ثابت ہوئے ۔ مرکز میں چونکہ پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور ممتاز حسین قادری صاحب کا تعلق پنجاب پولیس سے تھا اور صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت تھی اور ان ایام میں ان دو پارٹیوں میں سیاسی کشمکش جاری تھی اور بالخصوص گورنر تاثیر اور میاں برادران کی آپس میں سخت چپقلش چل رہی تھی اس باعث وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کو دباؤ میں لانے کے لئے گورنر کے قتل کو ”سیاسی قتل“ قرار دیا اور اس قتل کی کڑیاں میاں برادران اور گورنر کی باہمی چپقلش کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی اس سلسلے میں ممتاز حسین قادری صاحب پر بے پناہ تشدد کیا گیا تا کہ وہ کسی طرح شہباز شریف یا کسی پنجاب کے حکومتی عہدیدار کو نامزد کر دیں کہ جس کے ایماء / انگیخت پر انہوں نے گورنر کو قتل کیا ہے لیکن پانچ روزہ ریمانڈ کے باوجود ممتاز حسین قادری اپنے موقف پر ڈٹے رہے کہ میں نے ہی گورنر کو قتل کیا ہے اور اس قتل کے پیچھے کسی اور آدمی یا تنظیم و پارٹی کا منصوبہ یا ہاتھ نہیں ہے۔ اس پانچ روزہ ریمانڈ کے دوران غازی صاحب کی ایک وڈیو (youtub) پر اپ لوڈ کی گئی جس میں غازی صاحب کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے ہیں اور وہ پولیس کسٹڈی میں تھانہ کوہسار میں نعت شریف پڑھ رہے ہیں ۔ ”یا رسول اللہ تیرے چاہنے والوں کی خیر“ یہ وڈیو اس قدر مقبول ہوئی کہ اس وقت تک لاکھوں لوگ اس کو دیکھ چکے ہیں ۔ اسی پانچ روزہ ریمانڈ کے دوران ملک ممتاز حسین قادری صاحب نے دفعہ 164 کا بیان مجسٹریٹ محمد علی رندھاوا کے سامنے ریکارڈ کروایا جسے آپ گذشتہ صفحات میں ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ اس دوران عجیب مضحکہ خیز بات سامنے آئی کہ پیپلز پارٹی کے وزراء بابر اعوان اور فوزیہ وہاب نے گورنر کے قتل کو سیاسی قتل قرار دے دیا اور میڈیا پر پروپیگنڈہ

صفحہ 71

شروع کر دیا کہ اس قتل کے پیچھے پنجاب حکومت اور بالخصوص شریف برادران کا ہاتھ ہے دراصل پیپلز پارٹی کے رہنما اس قتل کو مذہبی رنگ دینے سے کترا رہے تھے کیونکہ اس طرح ان کی پارٹی پر گستاخی رسول کا لیبل لگ رہا تھا اور لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ رہی تھی کہ جب پیپلز پارٹی کے رہنما توہین رسالت کے جرم میں مارے جا رہے ہیں تو عام لوگوں کا کیا حال ہو گا اس وجہ سے پیپلز پارٹی کے مرکزی لوگ اس قتل کو سیاسی رنگ دے رہے تھے لیکن ان کی یہ چال کامیاب نہ ہو سکی پیپلز پارٹی کو جو داغ لگنا تھا سو وہ لگ چکا اور ان کے نامہ اعمال میں ایک ”گستاخ رسول“ کے حامی شخص کا نام لکھا جا چکا تھا۔

غازی ممتاز حسین قادری کا مضبوط ایمان

غازی ملک ممتاز حسین قادری کے ایمان کی مضبوطی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اسی کیس میں جب راقم انوسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہوا تو اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے آبدیدہ ہو کر اس بات کا اظہار کیا کہ ہم نے جتنا مضبوط ایمان ملک ممتاز حسین قادری کا دیکھا ہے اتنا مضبوط ایمان کبھی کسی کا نہیں دیکھا۔ اس لئے کہ اسے لاکھ ڈرایا دھمکایا گیا اسے بیوی ، بچوں کے بارے میں جذباتی کیا گیا، اسے بوڑھے باپ کی فکر دلائی گئی اور اسے اپنے اعترافی بیان سے مکر جانے پر اُکسایا گیا لیکن غازی ممتاز اپنے موقف پر ڈٹا رہا اور یہی کہتا رہا کہ ایک کیا حضور ﷺ کے نام پر تو لاکھوں جانیں قربان ہو جائیں پھر بھی کم ہیں۔ گورنر کو میں نے ہی مارا ہے اور اس لئے مارا ہے کہ اس نے گستاخی کی تھی۔

ممتاز حسین قادری کی حمایتی تحریک کا منظم آغاز

بروز جمعرات 6 جنوری 2011ء شام مرکزی قائدین شباب اسلامی پاکستان کا اجلاس ہوا جس میں باہم اتفاق سے یہ طے پایا کہ کل جمعۃ المبارک 7 جنوری کو بعد نماز جمعۃ المبارک مرکز شباب اسلامی، مرکزی مسجد سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا سے غازی ممتاز حسین قادری کے اہل خانہ

صفحہ 72

سے ہمدردی کے اظہار کیلئے ”گلدستہ بردار“ ریلی کا انعقاد کیا جائے گا۔ تمام قائدین اس میں شرکت کریں گے۔ چنانچہ اس سلسلے میں ”شباب اسلامی“ کے کارکنوں اور عوام کو ریلی میں شرکت کیلئے SMS کے ذریعے سے اطلاع کی گئی۔ میڈیا کو بھی اطلاع دی گئی اور قریب کی مساجد میں اعلانات ہوئے۔ جامع مسجد سیدہ آمنہ میں جمعۃ المبارک کی نماز میں ہزاروں لوگ شریک ہوئے اور تین منزلہ مسجد کے بھرنے کے بعد مین گری روڈ (ممتاز حسین قادری روڈ) بلاک ہوگئی اور روڈ پر صفیں بچھائی گئیں۔ راقم نے ممتاز حسین قادری صاحب کے کئے گئے اقدام کو قرآن وسنت کی روشنی میں درست ثابت کیا اور لوگوں کو باور کروایا کہ ممتاز حسین قادری کوئی عام شخص نہیں بلکہ ”غازی اسلام“ ہے۔ اور گورنر کی خباثت کو لوگوں کے سامنے ایک مرتبہ پھر آشکارا کیا۔ لوگوں سے غازی صاحب کے گھر جانے کی بابت جب پوچھا گیا تو فرطِ جذبات میں عاشقان مصطفیٰ کے نعروں سے مسجد دیر تک گونجتی رہی چنانچہ بعد از نمازِ جمعۃ المبارک ہزاروں غلامان مصطفیٰ ہاتھوں میں پھول اٹھائے راقم کی قیادت میں دیوانہ وار غازی ملک ممتاز حسین قادری کے گھر کی طرف چل پڑے۔ دائیں بائیں کی مساجد سے بھی لوگ آئمہ مساجد کی زیر قیادت جوق در جوق پہنچے۔ تاحد نگاہ انسانی سر ہی سر نظر آ رہے تھے۔ تعداد کا صحیح اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ البتہ قومی اخبارات، bbc اور دیگر غیر ملکی چینلز نے تعداد ہزاروں میں بیان کی۔

غلامان مصطفیٰ درود و سلام کا ورد کرتے ، غازی تیرے جاں نثار ، بے شمار بے شمار ...... جرأت و بہادری ، ممتاز حسین قادری ......... آقا تیرے نام کی خاطر ، دل بھی حاضر جان بھی حاضر ...... ہم تیرے دیوانے ، یا نبی یا نبی کے نعرے لگاتے ہوئے غازی ہاؤس پہنچے تو پہلے پہل غازی برادران اور ان کے والد گرامی ملک بشیر صاحب اس غیر متوقع جلوس کی آمد پر حیرت زدہ ہو گئے تاہم جس وقت غازی ممتاز کے دیوانوں نے غازی صاحب کی حمایت کے نعرے بلند کئے تو غازی برادران اور ان کے والد گرامی کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے۔ عاشقان مصطفیٰ اپنی عقیدتوں کا اظہار کرتے ہوئے دیوانہ وار ”غازی ہاؤس“ کی دیواروں کو ہاتھ لگا لگا کر چومنے

صفحہ 73

لگے۔ لوگوں کی محبت کا وہ منظر ناقابل بیان ہے کہ جب ہزاروں افراد غازی صاحب کی گلی کے درودیوار کو چوم کر دیوانہ وار گریہ کر رہے تھے۔ اسی دوران غازی صاحب کے والد گرامی جناب ملک بشیر صاحب عوام کے سامنے تشریف لائے جس وقت غازی صاحب کے والد گرامی سامنے آئے تو لوگوں نے انہیں ہاتھوں پر اٹھا لیا اور دیوانہ وار ”اللہ اللہ“ کا ورد شروع کر دیا۔

ملکی اور غیر ملکی میڈیا بڑی تعداد میں موجود تھا۔ غازی صاحب کے محلے داروں کے مطابق انہوں نے اپنی پوری زندگی اس علاقے میں اتنا بڑا عوامی اجتماع نہیں دیکھا تھا۔ ہزاروں لوگوں نے پھولوں کے گلدستے، ہار اور محبت کے آنسوؤں کے گجرے پیش کئے غازی صاحب کا کمرہ پھولوں اور تحائف سے بھر گیا۔ ریلی میں محبان کی کتنی تعداد نے شرکت کی تھی دیکھنے والے لوگ اسے ”یوٹیوب“ پر Uploded ویڈیو دیکھ کر اس کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ غازی ممتاز حسین قادری کی حمایت میں نکلنے والی یہ سب سے پہلی ریلی تھی اور الحمد للہ اس کی سعادت ”شباب اسلامی پاکستان“ کو حاصل ہوئی۔ یاد رہے کہ گورنر کے قتل کے بعد غازی صاحب کے گھر اور محلے میں پولیس اور دیگر اداروں کے کریک ڈاؤن کے باعث عجیب خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا اور کوئی شخص اس سلسلے میں بات کرنے کو بھی تیار نہ تھا ایسے حالات میں شباب اسلامی کے ہزاروں کارکنان اور دیگر محبان مصطفیٰ کے یوں دیوانہ وار غازی صاحب کی حمایت میں سڑکوں پر نکلنے کے باعث غازی صاحب کی حمایت کی تحریک کو ایک نیا رنگ اور نئی جہت ملی۔

شباب اسلامی کی پہلی حمایتی ریلی اگلے کئی روز تک نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا کا موضوع بحث بنی رہی۔

قومی اخبارات میں اس حمایتی ریلی پر بیشتر کالم لکھے گئے پاکستان کے مشہور اخبار ایکسپریس کے کالم نگار جاوید چوہدری صحافتی حلقوں کی بڑی مقتدر شخصیت سمجھی جاتی ہے اور بلاشبہ ان کے کالم ”زیرو پوائنٹ“ کو لاکھوں لوگ پڑھتے ہیں۔ شباب اسلامی کی ریلی کا انداز اس بات

صفحہ 74

سے لگائیے کہ جاوید چوہدری جیسے کالم نگار نے اس ریلی کو تین مرتبہ اپنے کالم میں ڈسکس کیا ہے۔

بروز جمعرات 13 جنوری کو شباب اسلامی پاکستان اسی ریلی کی بابت جاوید چوہدری اپنے کالم زیرو پوائنٹ میں رقم طراز ہیں:

’’میں اس ضمن میں پچھلے جمعے 7 جنوری کی مثال دوں گا اس دن پچیس ہزار نوجوان ، جوان اور علماء کرام ممتاز قادری کے گھر کے سامنے جمع ہوئے ان لوگوں نے ممتاز حسین قادری کے گھر پر پھول کی پتیاں بھی نچھاور کیں اور اس کے والد کو کندھوں پر بھی اٹھایا اور اس کے حق میں نعرے بھی لگائے۔‘‘

بروز اتوار 16 جنوری کے کالم میں کچھ اس طرح اظہار خیال کیا ہے

’’ہم لوگ سلمان تاثیر کے قتل پر اتنے پریشان نہیں جتنی پریشانی ہمیں ممتاز قادری کے استقبال پر ہوئی ہم وکلاء کو ہار پہنانے ، اس پر پھول کی پتیاں برسانے اور اس کے گھر کے سامنے 25 ہزار لوگوں کے اجتماع پر زیادہ پریشان ہیں۔ یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ یہ ملک واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوتا جا رہا ہے۔‘‘

جاوید چوہدری صحافتی حلقوں میں بڑی معلوماتی شخصیت سمجھی جاتی ہے مجھے نہیں معلوم کہ چوہدری صاحب نے ریلی کے شرکاء کی 25 ہزار تعداد کن ذرائع سے لکھی ہے۔ تاہم اس سے اتنا ثابت ہوا کہ بلاشبہ شباب اسلامی کی اس ریلی نے کئی حلقوں میں ہنگامہ ضرور بپا کیا ہے۔

اس ریلی کی ویڈیو کو تنظیمی دوستوں نے اسی روز رات کو ’یوٹیوب‘ پر اپ لوڈ کر دیا لوگوں کی طرف سے غازی صاحب کی پذیرائی کا عالم دیکھئے کہ صرف دو دنوں میں اس ویڈیو کے صرف ایک لنک کو ہزاروں لوگوں نے دیکھا اور اب یہ ویڈیو درجنوں لنکس سے ’یوٹیوب‘ پر موجود ہے۔

غازی صاحب کے گھر کے باہر راقم اور دیگر علماء نے خطاب کیئے۔ علاقے کے سابقہ

صفحہ 75

MPA فیاض الحسن چوہان نے اپنے خطاب میں کہا کہ گورنر نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی تو اللہ نے اس کی زبان کو ہی مٹا دیا اور اب اگر شیری رحمن نے توبہ نہ کی تو اس کا حال بھی گورنر والا ہی ہوگا۔ علامہ عزیز الدین کوکب صاحب نے اپنے خطاب میں غازی صاحب کو خراج تحسین پیش کیا۔

راقم نے اپنے خطاب میں اس بات کا اعلان کیا کہ وہ انگریزوں اور ہندؤں کا زمانہ تھا کہ جب غازی علم الدینؒ ، غازی عبدالقیومؒ ، غازی مرید حسینؒ اور دیگر غازیانِ اسلام شہید ہوگئے اب یہ سرزمین پاکستان ہے یہاں 98 فیصد مسلمان بستے ہیں۔ یہاں اللہ اور اس کے رسول کی شریعت کا قانون ہی سٹیٹ لاء ہے لہٰذا اب یہاں کسی غازی کو شہید نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اور ان شاء اللہ ہمارا ملک ممتاز ’غازی‘ ہی رہے گا۔ میں نے میڈیا کے ذریعے حکومت کو خبردار کیا کہ غازی صاحب پر تشدد بند کرو وگرنہ اسلام آباد یہاں سے دور نہیں ہے ہزاروں عاشقان مصطفیٰ غازی کو چھڑانے نکل کھڑے ہوئے تو تمہیں ان کا سنبھالنا مشکل ہوگا۔

اس پر ہزاروں لوگوں نے دیوانہ وار نعرے بلند کئے کہ ہم ابھی تیار ہیں آپ کال دیں ہم ابھی اسلام آباد کا رُخ کرتے ہیں۔ اس پر میں نے کہا کہ الحمد للہ شباب اسلامی محبِ وطن تنظیم ہے اور ہم ہر حال میں قانون کا احترام کریں گے اور ہمیں یقین ہے کہ ہماری عدالتیں صحیح فیصلہ کریں گی۔ دعا کے بعد کارکنان شباب اسلامی اور دیگر عاشقان مصطفیٰ پرامن منتشر ہوگئے۔

بعد ازاں کئی میڈیا چینلز نے راقم کا انٹرویو کیا سب سے زیادہ دلچسپی غیر ملکی میڈیا نے دکھائی۔ AFP کے نمائندے نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا آپ کا تعلق صوفیاء کے پُر امن مسلک سے نہیں ہے؟ اور کیا آپ لوگ خود کش دھماکوں کے خلاف نہ تھے ۔؟

میں نے اسے جواب دیا کہ ہاں ہم صوفیاء کے پُر امن مسلک سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ ہمارے اکابرین نے خود کش دھماکوں کے خلاف سب سے پہلے فتویٰ

صفحہ 76

دیا تھا۔ لیکن یاد رکھیں کہ ممتاز حسین قادری کی کاروائی کسی طور پر بھی دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتی۔ قادری صاحب کا اقدام گورنر کے ناموس رسالت کے قانون کے خلاف ہرزہ سرائی کے ری ایکشن کے طور پر تھا۔ اور جبکہ گورنر کو اس سے پہلے درجنوں علماء گستاخ قرار دے چکے تھے تو ایسے میں قادری صاحب کا اسے قتل کر دینا ”قتل ناحق“ نہیں ہے بلکہ گورنر کی گستاخی کا صلہ ہے۔ جبکہ خود کش حملوں کو کسی بھی عالم دین نے پاکستان میں جائز قرار نہیں دیا اور دوسرا خود کش حملوں میں سراسر قتل ناحق ہے اور اس کے پیچھے پاکستان دشمن عناصر کا ہاتھ ہے جبکہ قادری صاحب کا اقدام خالصتاً ان کا ذاتی فعل تھا اور اس کے پیچھے صرف اور صرف ان کا جذبہ حب رسول تھا۔ اس کا دوسرا سوال یہ تھا کہ:

کیا آپ ممتاز قادری کو ہیرو سمجھتے ہیں؟

میں نے اسے جواب دیا کہ ہم مسلمان لوگوں کی محبت اور نفرت کا معیار ذات مصطفیٰ ﷺ ہے۔ جو شخص نبی پاک ﷺ سے محبت کرنے والا ہے وہ ہماری آنکھوں کا تارا بن جاتا ہے اور جو شخص نبی علیہ السلام کا مخالف ہو ہم اسے اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ غازی صاحب کا اقدام اصالتاً ان کے عشق رسول ﷺ کی دلیل ہے لہٰذا ایک میں کیا کروڑوں مسلمان اسے اپنا ”ہیرو“ سمجھتے ہیں۔

اس نے اگلا سوال یہ کیا کہ کیا آپ شیری رحمان کو بھی قتل کروا دیں گے۔ تو میں نے اس کا جواب دیا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ گورنر کو بھی کوئی ہم نے قتل نہیں کروایا یہ اللہ کی تدبیر ہے جس نے اسے سزا دلوائی ہے اور غازی کے دل میں جذبہ محبت کو بیدار کیا ہے۔ رہ گئی بات شیری رحمان کی تو شیری رحمن نے میرے خیال میں اس قانون کو کالا قانون قرار نہیں دیا بلکہ اس نے صرف اسمبلی میں بل پیش کیا ہے۔ اب اس بل میں کیا ہے یہ بات میرے علم میں نہیں تاہم میں اس وقت شیری رحمن کو واجب القتل نہیں سمجھتا۔ اور مجھے یقین ہے کہ آئندہ کسی کی جرأت نہیں کہ وہ پاکستان میں شریعت مطہرہ کا مذاق اُڑائے یا کبھی ناموس رسالت کے قانون کے خلاف ہرزہ سرائی کرے میں

صفحہ 77

سمجھتا ہوں کہ جو بھی شخص اس قانون سے یا شریعت سے ٹکرائے گا وہ خود تباہ و برباد ہو جائے گا۔ اور اگر شیری رحمن اپنا بل واپس لے لیتی ہے اور اپنے کئے پر نادم ہو کر اللہ سے معافی مانگتی ہے تو اس سے ہماری کوئی دشمنی یا مخاصمت نہیں ہے۔

اس نے اگلا سوال کیا کہ آپ اس قتل کو کس طرح جائز کہتے ہیں اور قاتل کی حمایت کرتے ہیں اگر ممتاز قادری گورنر کو گستاخ سمجھتا تو اسے قانون کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے تھا۔

میں نے اس پر جواب دیا کہ ہاں ہم سب کو قانون کا احترام کرنا چاہیے دراصل خرابیاں اس وقت جنم لیتی ہیں کہ جس وقت ہم لوگ خود قانون کو توڑتے ہیں۔

گورنر صاحب نے آئین پاکستان کی توہین کی ، اس کو ظالم قانون کہا تو دراصل یہ پوری قوم کی توہین تھی۔ پارلیمنٹ کی توہین تھی پھر عاصیہ ملعونہ کو عدالتی فیصلے کے باوجود معافی دلوانے کا اعلان کر کے اس نے پورے عدالتی نظام کو گالی دی تھی تو جس وقت بڑے صاحب نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا تو رد عمل کے طور پر ان کے ماتحت کانسٹیبل نے بھی ملکی قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ لہٰذا گورنر صاحب اپنے قتل کے خود ذمہ دار ہیں۔ آپ دیکھیں قانونی طور پر کوئی شخص رات کے وقت کسی کے گھر میں بلا اجازت داخل نہیں ہو سکتا اب اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں داخل ہو گیا اور گھر والے نے اسے ڈاکو سمجھ کر قتل کر دیا تو اب بتائیں کہ اس میں آپ قاتل کی حمایت کریں گے یا اس ڈاکو کی؟ قاتل کو چاہیے تو تھا کہ وہ اس کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دے لیکن حالات کے پیش نظر اگر اس نے اسے قتل کر ڈالا تو ایسی صورت میں وہ شخص اپنے قتل کا خود ذمہ دار ہوگا۔

اس نے اگلا سوال کیا کہ آپ شباب اسلامی کے سربراہ ہیں آپ کی تنظیم قادری صاحب کا ساتھ دے گی؟

میں نے اس کا جواب دیا کہ آج ہم ان کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کرنے آئے ہیں قادری صاحب کا کیس عدالت میں ہے ان شاء اللہ ہم قادری صاحب کی قانونی و اخلاقی مدد جاری

صفحہ 78

رکھیں گے۔ تا آنکہ غازی صاحب رہا ہو کر گھر نہیں آ جاتے۔ بعد ازاں غیر ملکی میڈیا نے میری وساطت سے غازی صاحب کے والد گرامی کا انٹرویو لیا۔ غازی صاحب کے والد ملک بشیر صاحب سے پوچھا گیا کہ آپ ممتاز قادری کے اس فعل پر کیا کہتے ہیں۔

ملک بشیر صاحب نے فرمایا: پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے محنت مزدوری کر کے اپنی اولاد کو حلال کھلایا ہے، میرا تعلق کسی دہشت گرد تنظیم سے نہیں اور نہ ہی میرے گھر میں کوئی بیٹا کسی بھی کالعدم تنظیم سے تعلق رکھتا ہے۔ میرے بیٹے ممتاز کا اقدام خالصتاً اس کا ذاتی فعل تھا اور ہم پورے گھر والے اس سے لاعلم تھے حتیٰ کہ اس نے اپنی بیوی تک کو اپنے اس منصوبے سے آگاہ نہیں کیا۔ ہم لوگ گھر میں تھے اور میرے دوسرے بیٹے اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے کہ ٹیلی ویژن پر خبر نشر ہوئی کہ گورنر کو قتل کر دیا گیا ہے ساتھ ہی اعلان ہوا کہ گورنر کے محافظ نے اسے قتل کیا ہے جس کا نام ممتاز قادری ہے۔ اس پر ہم لوگ چونک پڑے لیکن یقین نہیں آ رہا تھا کیونکہ میرے بیٹے نے تو کبھی پرندہ بھی نہیں مارا تھا وہ گورنر کو کیونکر قتل کر سکتا تھا لیکن جب ملک ممتاز حسین قادری نام کے ساتھ اس کی تصویر آئی اور ساتھ ہی اس کا بیان کہ میں نے گورنر کو کسی ذاتی پرخاش یا رنجش کی بناء پر قتل نہیں کیا بلکہ میں نے اسے ناموس رسالت کے قانون کو ”کالا“ کہنے اور گستاخ رسول ملعونہ عاصیہ کی حمایت کرنے پر قتل کیا ہے تو پھر ہمیں یقین آیا۔ ٹیلی ویژن پر خبر نشر ہونے کے تقریباً دو تین گھنٹے بعد تفتیشی اداروں کے لوگ اور اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس کے اہلکار بڑی تعداد میں ہمارے گھر آئے اور ہم سب لوگوں کو گاڑیوں میں بٹھا کر اسلام آباد لے گئے۔

سوال: انہوں نے آپ سے کیا پوچھا؟

جواب: یہی کہ ممتاز قادری نے گورنر کو قتل کرنے کے حوالے سے تم سے کوئی بات کی ہے یا نہیں۔

ہم نے سچی بات بتائی کہ اس نے اس سلسلے میں ہم سے کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی کوئی مشورہ لیا۔

سوال: اگر آپ کے بیٹے کو سزا ہو جائے تو آپ کو کیسا لگے گا؟

جواب: دیکھئے بھائی میرے بیٹے نے جو کچھ کیا یہ اللہ کی تقدیر سے ہوا آئندہ جو کچھ ہو گا وہ بھی

صفحہ 79

اللہ کی رضا اور مرضی سے ہوگا ایک مسلمان ہونے کے ناطے سے میں یہی کہوں گا کہ جو اللہ کو منظور ہوگا اسی پر ہم سب راضی ہیں۔ لیکن ایک بات ہے کہ میرے بیٹے نے اپنے نبی پاک ﷺ کیلئے یہ قدم اٹھایا ہے ان کی ناموس کی خاطر یہ سارا کام کیا ہے میں تو ایک کم پڑھا لکھا آدمی ہوں لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ حضور پاک ﷺ کی ناموس پر میں باقی سارے بیٹوں کو بھی قربان کر سکتا ہوں۔ میں آپ میڈیا والوں سے کہوں گا کہ خدا کیلئے آپ میرے بیٹے کے اس اقدام کو سیاسی مسئلہ نہ بنائیں اور نہ ہی ہمیں کسی دہشت گرد تنظیم سے جوڑیں ہم سیدھے سادھے سُنی مسلمان ہیں اور میرا بیٹا بھی سیدھا سادہ مسلمان تھا وہ ہر ہفتے نبی پاک ﷺ کا میلاد کرتا تھا اور گھر میں ہمیشہ نعتیں پڑھتا رہتا تھا۔

الحمد للہ شباب اسلامی پاکستان کی ریلی نے پورے ملک میں عاشقانِ مصطفیٰ کو حوصلہ دیا۔ تمام مذہبی جماعتوں کی طرف سے ممتاز قادری کے اقدام کو سراہا گیا اس کے بعد عام لوگ بھی سامنے آئے اور پورے راولپنڈی شہر میں گلی گلی ...... ممتاز قادری، تیری جرأت کو سلام .......... جرأت و بہادری، ممتاز حسین قادری، کے بینرز آویزاں ہو گئے۔ بقیہ جماعتوں میں سے جماعت اسلامی کے رہنما سید رضا احمد شاہ نے سب سے زیادہ بینرز آویزاں کروائے۔

مصلح امت پیر سید حسین الدین شاہ صاحب

یہ بات سچی ہے کہ شباب اسلامی پاکستان کے قائدین اور کارکنان کو یہ جذبہ دینے والی شخصیت مصلح امت پیر سید حسین الدین شاہ صاحب کی ہے۔ اور مصلح امت کی وہ شخصیت ہے کہ 1953 کی تحریک ختم نبوت سے لے کر آج تک احیائے دین و شریعت کی جتنی تحریکیں چلی ہیں حضرت قبلہ شاہ صاحب کا ان میں نمایاں کردار رہا ہے۔

8 جنوری 2011ء بروز ہفتہ تنظیم المدارس اہل سنت کے سرپرست اعلیٰ سید السادات مصلح امت پیر سید حسین الدین شاہ صاحب، فقیر راقم اور علماء کا وفد بوقت عصر کی نماز کے بعد غازی صاحب کے گھر ان کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیلئے پہنچا۔ میں نے قبلہ شاہ صاحب سے عرض کی

صفحہ 80

کہ حضور آپ اس طرح کھل کر کیوں سامنے آ رہے ہیں تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ بیٹا اس وقت لوگ اور بالخصوص علماء کچھ سہمے ہوئے ہیں۔ میں بوڑھا شخص میدان میں اس لئے اترا ہوں تا کہ دیگر لوگوں کو بھی حوصلہ ملے اور وہ تمام لوگ کھل کر غازی ناموس رسالت ملک ممتاز حسین قادری کی حمایت میں کھڑے ہو جائیں۔

قبلہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب نے غازی صاحب کے والد گرامی کو ہدیہ تبریک پیش کیا اور ان کے بھائیوں کے ساتھ وقت گزارا اور ہر قسم کے تعاون اور سرپرستی کا یقین دلایا اور فرمایا میں اور میرے شاگرد و متعلقین آپ لوگوں کے ساتھ دل کی گہرائیوں سے ہمدردی کرتے ہیں۔ قبلہ شاہ صاحب نے غازی صاحب کے ننھے بیٹے محمد علی عطاری کو گود میں اٹھایا اور پیار کیا اس دوران تمام حاضرین اشکبار ہو گئے۔ قبلہ شاہ صاحب کا سن کر اہل محلہ کی بڑی تعداد غازی ہاؤس کے باہر جمع ہو گئی اور اس دوران پولیس کی نفری اور میڈیا کے ارکان بھی بڑی تعداد میں پہنچ گئے۔ قبلہ شاہ صاحب غازی ہاؤس سے باہر تشریف لائے تو نعرہ تکبیر و نعرہ رسالت سے پورا محلہ گونج اٹھا۔ اہل علاقہ غازی برادران کو بڑی رشک بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ کہ کیسی کیسی شخصیات ان کے گھر میں تشریف لا رہی ہیں۔ حالانکہ یہ وہ ہستیاں ہیں کہ ہزاروں لوگ ان کی جوتیاں اٹھانے کو ترستے ہیں۔ ادھر اسی دن غازی صاحب کے وکیل ملک وحید انجم صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی نے غازی صاحب کی قانونی امداد کے لئے چوہدری عزیز، فیصل بٹ، ثناء اللہ زاہد اور بشارت اللہ خان پر مشتمل وکلاء کا عارضی پینل تشکیل دیا۔

وکلاء کی طرف سے 5 جنوری کو عدالت میں پیشی کے موقع پر ممتاز قادری کو ہار پہنانے اور گل پاشی کرنے کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی قیادت اور مسلم لیگ نون کے رہنماؤں میں سیاسی جنگ شروع ہو گئی۔ پیپلز پارٹی کے بعض وزراء نے بیان دیا کہ قادری صاحب کے گلے میں ہار ڈالنے والے وکلاء کا تعلق مسلم لیگ نون سے ہے اور انہوں نے گورنر کے ساتھ سیاسی اختلافات کے باعث اس کے قتل کا اقدام کرنے والے شخص کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے ہیں۔ اس

صفحہ 81

کے جواب میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی طرف سے بیان بازی کی گئی کہ خود بابر اعوان کے چیمبر سے تعلق رکھنے والے وکلاء بھی ہار ڈالنے والوں میں شامل ہیں۔ حالانکہ حقیقت حال یہ تھی کہ یہاں سیاسی مسئلہ نہیں تھا بلکہ ہر شخص اپنے جذبہ ایمانی کے تحت غازی صاحب سے محبت کا اظہار کر رہا تھا۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ اسلام آباد بار کے صدر سید واجد علی گیلانی جو کہ پیپلز پارٹی کے وزیر ڈاکٹر بابر اعوان کے دست راست سمجھے جاتے ہیں، نے بطور بار کے صدر کے اعلان کیا کہ اسلام آباد بار کا کوئی وکیل سلمان تاثیر کا مقدمہ نہیں لڑے گا۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وکلاء کی طرف سے کیا گیا اقدام خالصتاً جذبہ ایمانی کے تحت تھا۔ اور اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ اس تحریک میں مرکزی کردار غلامان مصطفیٰ و عاشقان مصطفیٰ وکلاء نے ادا کیا ہے۔ اور وکلاء کے اس طرز عمل نے امریکہ بہادر تک کو ہلا کر رکھ دیا ہے کہ پاکستانی صحیح معنوں میں آج بھی جذبہ عشق محمدی سے لبریز ہیں اور عشق محمدؐ کا کسی ایک طبقہ کو ہی دعویٰ نہیں بلکہ یہ ہر مومن کی میراث ہے۔

غازی صاحب کی اہلیہ کے جذبات

جب گھریلو ذرائع سے غازی صاحب کی اہلیہ محترمہ سے غازی ممتاز حسین قادری کے اقدام اور بعد ازاں ان کی گرفتاری کی بابت رابطہ کیا گیا تو انہوں نے میڈیا کو اپنا بیان دیا کہ اس سے قبل جو کچھ ہوا اس میں اللہ کی مرضی شامل تھی آگے جو کچھ ہو گا اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی ہی شامل ہو گی میں دیکھ رہی ہوں جب میرے خاوند کے اقدام سے سارے خوش ہیں تو پھر میں کیونکر خفا ہو سکتی ہوں۔ انہوں نے غازی صاحب کے بڑے بھائی عامر صاحب کے توسط سے میڈیا تک اپنا یہ پیغام پہنچایا۔ ملک عامر صاحب نے میڈیا کو بتایا کہ ان کی بھابھی نے بتایا ہے کہ لیڈیز پولیس نے بڑی دیر تک ممتاز صاحب کے بارے میں سوالات کئے ہیں۔ ان کی مصروفیت جاننے کی کوشش کی اور یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا کبھی ممتاز صاحب نے گورنر کو قتل کرنے کے حوالے سے کوئی گفتگو تو نہیں کی۔ ان کے زیر استعمال اشیاء کی بابت بھی سوالات کئے گئے۔ ممتاز صاحب کی اہلیہ نے مزید کہا کہ جب مجھے واقعہ کا پتہ چلا تو میں بھی پریشان ہوئی مگر جب میرے سسر اور ممتاز

صفحہ 82

قادری کے دیگر بہن بھائی خوش ہیں تو میں بھی خوش ہوں۔ ملنے کے لئے آنے والی ہر خاتون مجھے بڑی محبت سے ملتی ہے۔ میرا بہت احترام کیا جاتا ہے، میرے بیٹے کو ہر کوئی پیار کر رہا ہے میں خدا کا شکر ادا کرتی ہوں اللہ جس حال میں بھی رکھے ہم اس میں خوش اور مطمئن ہیں۔ اللہ کی جو مرضی ہے وہی ہماری مرضی ہے۔

(روزنامہ اوصاف راولپنڈی 9 جنوری 2011ء)

غازی صاحب کے اعترافی بیان کے باعث پروپیگنڈہ

چونکہ دوران تفتیش غازی صاحب نے شباب اسلامی کے زیر اہتمام ہونے والی 31 دسمبر کی ناموس رسالت کانفرنس میں اپنے جذبہ وفاداری رسول کی بیداری کا اعتراف کر لیا تھا اور یہ بیان دے دیا تھا کہ میرے اندر عشق مصطفیٰ کا یہ جذبہ مفتی حنیف قریشی اور سید امتیاز حسین شاہ صاحب کی گفتگو سُن کر بیدار ہوا ہے۔ چنانچہ غازی صاحب کا یہ بیان سامنے آنے کے بعد میڈیا نے کھل کر اس سارے واقعے کا ذمہ دار 31 دسمبر کی کانفرنس اور ہمارے خطابات کو ٹھہرانا شروع کر دیا۔ دراصل میڈیا غازی صاحب سے ان کا ”اعزاز“ چھیننا چاہتا تھا اور یہ کردار میڈیا کے وہ نام نہاد صحافی ادا کر رہے تھے کہ جنہیں ”نوکری پکی“ کرنے کا یہ موقع ملا تھا۔ چنانچہ مختلف چینلز اور اخبارات میں یہ پروپیگنڈہ شروع ہو گیا کہ اس کیس میں مفتی حنیف قریشی اور سید امتیاز حسین شاہ کو بھی دفعہ 109 میں شامل کیا جائے۔ دراصل گستاخوں کے حامیوں اور لبرل انتہاء پسندوں کو اصل تکلیف 7 جنوری والی ہزاروں افراد کی ریلی سے تھی۔ اور وہ اس کیس میں شباب اسلامی کی مرکزی قیادت کو شامل کر کے اس حمایتی تحریک کو دبانا چاہتے تھے۔ تاہم سچائی چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے۔

31 دسمبر کی کانفرنس کے پروپیگنڈے کے بعد راقم نے کانفرنس کی وڈیو سی ڈی یونیک ساؤنڈ سسٹم ہارون چوک سے منگوائی تا کہ دیکھا جائے کہ اس کانفرنس میں وہ کونسی بات ہوئی کہ جس کی بناء پر میڈیا نے پروپیگنڈہ شروع کیا ہوا ہے۔ وڈیو دیکھنے کے بعد یہ بات ظاہر ہوئی کہ

صفحہ 83

کانفرنس میں کسی مقرر نے سلمان تاثیر کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ مطلقا عشق رسول ﷺ اور جذبہ وفاداری رسول ﷺ پر گفتگو کی گئی تھی اور اسلامی تاریخ کے وہ واقعات بیان کئے گئے تھے جن میں غازیان اسلام نے نبی پاک ﷺ کے گستاخوں کو ٹھکانے لگا دیا تھا۔ تحقیقاتی اداروں کو اس وڈیو کی بڑی تلاش تھی۔ چنانچہ تھانہ کوہسار کی ٹیم ساؤنڈ سسٹم مالکان کے پاس پہنچی اور وڈیو طلب کی جسے بعد ازاں ASI تنویر کے حوالے کر دیا گیا۔ چنانچہ اس پروپیگنڈہ کے جواب میں راقم نے مختلف اخبارات میں بیانات جاری کئے ۔ جن میں حکومت کو یہ باور کروایا گیا کہ اس کے ان اوچھے ہتھکنڈوں سے شباب اسلامی اور دیگر غلامان مصطفیٰ کو غازی صاحب کی حمایت سے باز نہیں رکھا جاسکتا اور یہ کہ حکومت کو یہ حرکتیں مہنگی پڑیں گی۔ ہم میں سے کسی بھی شخص نے گورنر کو قتل کروانے کا منصوبہ نہیں بنایا بلکہ یہ سب کچھ گورنر کا کیا دھرا ہے اور وہ اپنے قتل کا خود ذمہ دار ہے۔

قادری صاحب کے حق میں مظاہرے شروع

9جنوری بروز اتوار کو راولپنڈی میں سنی تحریک اور شباب اسلامی نے مری روڈ پر ممتاز قادری کے حق میں ان کی تصویریں اٹھا کر بھر پور ریلی نکالی اس ریلی میں شباب اسلامی کی طرف سے مرکزی رہنما صاحبزادہ سید وجاہت حسین شاہ کاظمی نے کارکنوں کی قیادت کی اور خطاب بھی کیا۔ اس ریلی میں سنی تحریک کی طرف سے علامہ غفران محمود سیالوی نے پرجوش خطاب کرتے ہوئے غازی اسلام کو خراج تحسین پیش کیا اور گورنر قتل کیس میں مجھے اور سید امتیاز حسین شاہ کو پھنسانے کی کوشش اور ہراساں کرنے کے اقدام کی سخت مذمت کی۔ اور انتظامیہ کو خبردار کیا کہ عشق رسول کا درس دینا اگر جرم قرار دیا جارہا ہے تو پھر ہم سب مجرم ہیں لہٰذا اگر مفتی حنیف قریشی اور سید امتیاز حسین شاہ صاحب کو اس مقدمے میں بے جا پھنسانے کی کوشش کی گئی تو حالات کی خرابی کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔ اسی دن شباب اسلامی پاکستان شنکیاری ضلع مانسہرہ کی طرف سے ممتاز قادری صاحب کے حق میں عظیم الشان ریلی شباب اسلامی ہزارہ کے مرکزی رہنما محمد سردار چشتی صاحب کی قیادت میں نکالی گئی۔

(خبریں 10 جنوری 2011ء)

صفحہ 84

اسی دن گوجرانوالہ، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، اوکاڑہ، بھکر، میانوالی، پسرور، خوشاب، جہلم، سرگودھا، اٹک سمیت ملک بھر میں غازی صاحب کی رہائی کے لئے مظاہرے کئے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ اس سلسلے میں سب سے بڑا مظاہرہ ”تحریک ناموس رسالت“ کے زیر اہتمام کراچی میں کیا گیا جس میں دس لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ یہ مظاہرہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر زبیر، مولانا فضل الرحمٰن (جمعیت علماء اسلام) سید منور حسن (جماعت اسلامی) کی قیادت میں کیا گیا اس مظاہرے میں شیری رحمٰن، عاصمہ ملعونہ کے پتلے جلائے گئے۔ سید منور حسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ گورنر نے عاصیہ کی حمایت کر کے توہین رسالت کی ہے، مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اگر حکمران گورنر کا مقدمہ لڑ سکتے ہیں تو پھر ہم بھی ممتاز قادری کے دفاع کیلئے تیار ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کو خبردار کیا کہ اس کیس میں خواہ مخواہ علماء اور مدارس کو نہ پھنسایا جائے وگرنہ اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

(قومی اخبارات، 10 جنوری، خبریں، نوائے وقت، اوصاف، راولپنڈی)

مقتول گورنر کے لئے محافل ایصال ثواب

قارئین! مالک کائنات نے اپنے نبی کے غداروں کے لئے دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی کا وعدہ کر رکھا ہے الاشیاء یرجع الی الاصل پہنچی خاک وہاں جہاں کا خمیر تھا مقولہ کے مصداق گستاخ رسول عیسائی عورت کے حمایتی گورنر کی حمایت کی آواز بھی عیسائی کلیساؤں اور چرچوں سے ہی بلند ہوئی اور عیسائی برادری نے آج ہی کے دن ملک بھر کے چرچوں اور کلیسوں میں مقتول گورنر کے لئے دعائیہ تقریبات کا انعقاد کیا اور پیپلز پارٹی کے اقلیتی وزیر شہباز بھٹی نے اسلام آباد کے گرجا گھر میں مقتول گورنر کی تصویر کے سامنے شمع جلا کر انہیں ”ایصال ثواب“ کیا۔

واہ رے قسمت! ملک کی لاکھوں مساجد میں ممتاز قادری صاحب کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا تھا اور کلیسوں، مندروں اور گوردواروں میں مقتول گورنر کو ایصال ثواب کیا جا رہا تھا اور گورنر کی آخرت کے سکون کیلئے ”موم بتیاں“ روشن کی جارہی تھیں۔

چلو کوئی تو دعا کر رہا تھا۔

(اوصاف 10 جنوری اسلام آباد)

صفحہ 85

عاشق رسول کی ............ حمایت ہی حمایت

ادھر لاہور میں سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ فضل کریم کی صدارت میں ہونے والی تحفظ ناموس رسالت کانفرنس میں قادری صاحب کی حمایت میں مظاہرے کرنے کا اعلان ہوا اور 19 جنوری کو لاہور سے راولپنڈی ”غازی ہاؤس“ کی حاضری کا بھی اعلان ہوا۔ کانفرنس میں اعلان کیا گیا کہ غازی ممتاز حسین قادری کو غازی علم الدین شہید ایوارڈ دیا جائے گا۔ اسی کانفرنس میں اعلان ہوا کہ اگر ناموس رسالت کے قانون کو چھیڑا گیا اور اس قانون پر نظر ثانی کرنے والی کمیٹی کو ختم نہ کیا گیا تو پھر سول نافرمانی کی تحریک چلائی جائے گی اس کانفرنس میں قادری صاحب کے حق میں قرارداد پاس کی گئی۔

اسی دن اسلام آباد میں جماعت اہل سنت پاکستان کی طرف سے ممتاز قادری کی حمایت کا اعلان ہوا اس بات کا اعلان ادارہ تعلیمات اسلامیہ کے سالانہ اجتماع کے موقع پر پیر سید ریاض حسین شاہ صاحب نے فرمایا۔ اسی دن گوجر خان، اٹک کے علماء نے قادری صاحب سے ہمدردی کا اظہار کیا اور ان کے اس اقدام کو خراج تحسین پیش کیا۔

(اوصاف 10 جنوری راولپنڈی)

آج کے روز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک وفد نے مولانا عزیز الرحمن ہزاروی کی قیادت میں ملک ممتاز قادری کے بھائیوں اور والد گرامی سے ملاقات کی اور ہر قسم کی حمایت کا یقین دلایا ۔ یاد رہے کہ غازی صاحب کی حمایت کے حوالے سے دیوبندی ہونے کے باوجود عزیز الرحمن صاحب نے بڑی گرمجوشی کا مظاہرہ کیا۔

اسی دن جے یو پی کے طاہر رشید تنولی ، نور المصطفیٰ نورانی اور زبیر کیانی نے قادری صاحب کے اہل خانہ کو تعاون کا یقین دلایا۔

اسی دن وفاقی وزیر قمر الزمان کائرہ نے قادری صاحب کی عوامی حمایت کو دیکھ کر جل بھن

صفحہ 86

کہ یہ بیان داغا کہ گورنر کے قاتل کو ہیرو بنا کر پیش کرنا نا مناسب رویہ ہے۔

آخر آنجناب سے کوئی پوچھے کہ ایک ایسا شخص کہ جس نے قرآن وسنت کے قانون کو کالا قرار دے دیا اور اپنے انجام کو پہنچ گیا ایسے شخص کو خراج تحسین پیش کرنا اور ptv پر اسے شہید قرار دینا اور اس کی یاد میں اسمبلی میں خاموشی اختیار کرنا، آخر کون سا مناسب رویہ ہے۔

عدالت میں غازی صاحب کی تیسری اور چوتھی پیشی

10 جنوری 2011ء کو ملک ممتاز حسین قادری کو اسلام آباد جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان کا اعترافی بیان (164) حاصل کیا گیا اعترافی بیان میں غازی صاحب نے گورنر کے قتل کرنے کا اعتراف کیا اور واضح کہا کہ میں نے گورنر کو ذاتی رنجش کی بنا پر قتل نہیں کیا بلکہ اس کی گستاخی کے باعث اسے واصل جہنم کیا ہے۔ (غازی صاحب کا اعترافی بیان پہلے نقل ہو چکا ہے) غازی صاحب کو پانچ روز کے لئے جسمانی ریمانڈ پر اسلام آباد پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔ 11 جنوری کو آپ کو دہشت گردی کی عدالت کے جج ملک اکرم اعوان کی عدالت میں پیش کیا جانا تھا تاہم انتظامیہ نے 11 جنوری کو عوام کی طرف سے کسی بھی دباؤ سے بچنے کیلئے 10 جنوری کو ہی غازی صاحب کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر دیا اور پولیس کی طرف سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ ہماری تفتیش مکمل ہو چکی ہے لہٰذا ہم نے ملزم کو ایک دن قبل ہی عدالت میں پیش کر دیا ہے۔ پولیس کی طرف سے غازی صاحب کی میڈیکل رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ عدالت نے غازی صاحب کو جیل بھیجنے کے احکامات جاری کئے اور مقدمے کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی کر دی۔

سماعت کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کی درخواست

اسلام آباد عدالت میں پیشی کے موقع پر وکلاء اور راولپنڈی میں عدالت میں پیشی کے موقع پر عوام و وکلاء کے جوش اور جذبے کو دیکھتے ہوئے آئی جی اسلام آباد سید کلیم امام نے چیف کمشنر اسلام آباد طارق پیرزادہ کو خط لکھا جس میں یہ سفارش کی گئی کہ تاثیر قتل کیس کی سماعت کے

صفحہ 87

سلسلے میں اڈیالہ جیل میں عدالتی کاروائی کا بندوبست کیا جائے کیونکہ قادری صاحب کی پیشی کے موقع پر عوامی رش اور عاشقان مصطفیٰ کے مظاہروں کے باعث سیکورٹی خدشات ہیں لہٰذا عدالت کو جیل میں منتقل کر دیا جائے۔ چنانچہ چیف کمشنر اسلام آباد طارق پیرزادہ نے حسب ضابطہ بتاریخ 14 جنوری عدالت سے اس سماعت کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے بتاریخ 17 جنوری منظور کرلیا اور غازی صاحب کے کیس کی سماعت اڈیالہ جیل منتقل ہوگئی۔

غازی صاحب کے اعترافی بیان کے بعد تمام میڈیا چینلز پر ہمارے بارے میں خبریں آنے لگیں اور میڈیا پر اینکرز یہ پروپیگنڈہ کرنے لگے کہ دفعہ 109 میں دونوں علماء کو گرفتار کیا جانا چاہئے جبکہ اس دوران میں اور سید امتیاز حسین شاہ جامعہ رضویہ میں موجود تھے اور طلباء کو اسباق پڑھانے کے ساتھ ساتھ دیگر مصروفیات کو بھی جاری رکھے ہوئے تھے۔ ہمارے گھر یا ہمارے مدرسے پر کسی قسم کا کوئی چھاپہ وغیرہ نہ مارا گیا۔ تاہم ایجنسیوں نے میری مسجد اور گھر کے باہر ڈیرے ڈالے رکھے تاکہ ماورائے قانون ہمیں اٹھایا جاسکے۔ اس سلسلے میں ہمارا موقف یہ تھا کہ ہم قانونی طور پر باقاعدہ گرفتاری دینے کو تیار ہیں۔ ادھر اقلیتی وزیر شہباز بھٹی نے بیان دیا کہ اس کیس میں تفتیش کے لئے علماء کو گرفتار کرلیا جائے۔ صاحبزادہ ابوالخیر زبیر صاحب نے وفاقی وزیر کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی وزیر ملک میں جاری حالات میں کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش نہ کریں وگرنہ عوام کا غیظ و غضب ان کیلئے نقصان دہ ہوگا۔ ادھر اسی دن روم کے پوپ، بینی ڈکٹ نے حکومت پاکستان سے ناموس رسالت کا قانون ختم کرنے اور عاصیہ ملعونہ کو رہا کرنے کا مطالبہ کردیا۔ تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے حضرات نے پوپ کے خلاف مذمتی بیانات دیئے۔ اور سنی اتحاد کونسل نے 14 جنوری کو پوپ کے بیان کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کردیا۔

سیکولر انتہا پسندوں کا غصہ

دن گزرنے کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے ممتاز قادری کی حمایت میں اضافہ ہوتا رہا بے دین اور سیکولر انتہا پسندوں کا غصہ بھی انتہاء پر پہنچ گیا سب سے زیادہ تکلیف روزنامہ ایکسپریس کے کالم

صفحہ 88

نگار ”اطہر عباس“ کو ہوئی جس نے صحافت میں ذاتی جذبات کو شامل کر کے اس کے حسین چہرے کو بے رونق کیا اور اضطرابی حالت میں ان کے قلم نے وہ زہر افشانی کی کہ عوام کو ان کی دماغی کیفیت پر بھی شک ہونے لگا۔

میں بطور نمونہ روزنامہ ایکسپریس کے مشہور کالم نگار اطہر عباس کے بغض وعناد کے زہر اور یہودیوں عیسائیوں اور دشمنان اسلام کی حمایت کا ”نور“ بکھیرتے کالموں میں سے ایک کالم آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ ذرا اس شخص کا لہجہ، الفاظ کا چناؤ دیکھیں اور پھر فیصلہ کریں کہ یہ لوگ صحافت کے محترم پیشے پر کس قدر بد نما داغ ہیں۔

عام مسلمان اور ”روبوٹوں والے“

کچھ عرصہ پہلے سائنسدان اور اس کے بنائے روبوٹ کی کہانی امریکہ میں لکھی گئی تھی۔ اب بھارت میں اسی موضوع پر ایک فلم بنی ہے۔ بھارتی فلم میں سائنسدان کا تیار کردہ روبوٹ اسی کی محبوبہ کے عشق میں مبتلا ہو جاتا ہے اور معاملہ اس حد تک بگڑ جاتا ہے کہ روبوٹ سائنس دان کو قتل کی دھمکی دے دیتا ہے۔ جواب میں سائنسدان اس کے دماغ سے چپ نکال کر اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے اور اسے کچرا بازار میں پھینک آتا ہے، یہاں ایک جرائم پیشہ سائنسدان اس کے ٹکڑے جمع کر کے اس میں اچھائی کے بجائے برائی کی چپ لگا دیتا ہے۔ روبوٹ اپنے نئے خالق کو قتل کر کے اپنا گینگ بنا لیتا ہے اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کر دیتا ہے۔ آخر میں پہلا سائنسدان اسے قابو کر کے اچھائی والی چپ لگا دیتا ہے اور وہ روبوٹ عدالت میں پیش ہو کر رضا کارانہ طور پر اپنا خاتمہ کروا دیتا ہے۔

لوہے کے روبوٹ اور گوشت پوست کے روبوٹ میں بہت فرق ہے۔ دوسرے لفظوں میں جب انسان برین واشنگ کے ذریعے روبوٹ بنائے جاتے ہیں تو یہ جلد یا بدیر من مانی پر اتر آتے ہیں۔۔۔۔۔۔

انسانی روبوٹس کی ایک نسل ہمارے بعض علماء نے مدرسوں اور مساجد میں بھی پروان چڑھائی۔ امریکی جریدے ٹائم کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ روبوٹس فوج، پولیس اور

صفحہ 89

دوسرے سرکاری اداروں میں بھی چھپے ہوئے ہیں اور حکم ملنے پر اپنے فرائض ادا کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے میڈیا میں بھی ایسے روبوٹس کی کوئی کمی نہیں۔ سلمان تاثیر کی شہادت کے لئے انہی میڈیا روبوٹس نے فضا تیار کی اور ایک آمر کے تیار کئے ہوئے قانون میں کچھ نقائص کی نشاندہی پر سلمان تاثیر مرحوم پر گستاخی کی تہمت لگا دی۔ جس روبوٹ نے اپنے فرائض سے غداری کر کے انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا اس نے اپنی آنکھوں سے کچھ دیکھا نہ سنا تھا۔ ایک کالعدم تنظیم کی مسجد میں مولوی صاحب کا خطبہ سنا تھا۔ خفیہ ملاقاتوں میں کچھ ضمانتیں حاصل کیں۔ بڑے ساز باز کر کے گورنر کے سیکیورٹی سکواڈ میں شامل ہوا اور دھوکے سے انہیں شہید کر دیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا روبوٹ ہے جسے ”غازی“ بنانے کے لئے مولانا فضل الرحمن، سید منور حسن اور دوسرے مذہبی لیڈر رسول اکرم ﷺ کی امت کو گمراہ کر کے اگلے روز کراچی کی سڑکوں پر لائے اور اپنی تقریروں میں یہ فیصلہ سنا دیا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کی مخالفت توہین رسالت ہے۔ فتویٰ اور حلوہ ہمارے مولویوں کا حق ہے۔۔۔۔۔۔

عام مسلمانوں کی سمجھ سے باہر ہے کہ ایک امت میں سے یہ دیوبندی مسلمان، بریلوی مسلمان، وہابی مسلمان، شیعہ مسلمان اور دوسرے چھوٹے چھوٹے فرقے اور گروہ کونسی اتھارٹی کے تحت قائم ہوئے۔۔۔۔۔۔ آجکل ان سب نے مل کر ضیاء الحق کے ایک قانون کو تحفظ ناموس رسالت کا درجہ دے رکھا ہے، جس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اس قانون کی آڑ لیکر بڑی آسانی سے یعنی صرف ایک ایف آئی آر لکھوا کر مخالف مسلک کے مسلمان کو توہین رسالت کا مجرم قرار دے کر قید کروا لیتے یا پھانسی کے تختے پر پہنچا سکتے ہیں۔

کیا یہ سب کچھ اسی اختیار کا نتیجہ تھا جو فرقہ پرست مولویوں کو سلمان تاثیر کو گستاخ رسول قرار دینے اور ان کا خون ناحق کروانے کا حق دیتا ہے۔ یہ عام نہتے مسلمانوں اور مسلح فرقہ پرستوں کی لڑائی ہے۔ جس میں ہر اس پاکستانی کو جس کی شناخت مسلمان ہے۔ میدان میں نکلنا ہوگا۔۔۔۔۔۔

مجھے یقین ہے سلمان تاثیر کی شہادت رائیگاں نہیں جائے گی۔ قاتلوں کے یہ بے رحم

صفحہ 90

لیڈر اپنے ہی روبوٹوں کے ہاتھوں کیفر کردار کو پہنچیں گے اور جب اللہ کی بارگاہ میں مقتول اور ان کے یہ قاتل اکٹھے حاضر ہوں گے تو رسول پاک ﷺ کی شفاعت سلمان تاثیر کو ملے گی۔

(روزنامہ ایکسپریس 11 جنوری 2011ء کالم نگار ، عباس اطہر )

قارئین! مجھے اس بے لگامے کالم نگار کو کچھ نہیں کہنا صرف اتنا بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے ملک کے اسی طرح کے کردار ہوتے ہیں جو سلمان تاثیر، سلمان رشدی، تسلیم نسرین، نیری جونز جیسے کرداروں کی تخلیق کرتے ہیں اور جب ان میں سے کوئی اپنے کئے پر انجام کو پہنچ جاتا ہے تو پھر یہی وہ لوگ ہوتے ہیں کہ جو انہیں بڑی آسانی سے ”شہید“ بنا دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں یہ بھی المیہ ہے کہ یہاں پولیس مقابلے یا ڈکیتی میں مارے جانے والے اور بے گناہ انسانوں کے قتل کے بدلے سزائے موت پانے والوں کو بھی بڑی آسانی سے شہادت کا سرٹیفکیٹ مل جاتا ہے۔ شنید ہے کہ کراچی میں ایک مشہور ڈکیت جو کچھ عرصہ قبل پولیس مقابلہ مارا گیا تھا اس کی قبر پر ”تختی“ لگا دی گئی ہے جس پر لکھا گیا ہے ”شہید غربت“ متعلقہ لوگوں سے جب اس بات کا استفسار کیا گیا تو انہوں نے یہ دلیل دی کہ یہ ڈکیت امیر لوگوں کو لوٹ کر علاقے کے سینکڑوں غریبوں کے پیٹ پالتا تھا اور اس نے کئی غریب بچیوں کی شادیاں بھی کرائی ہیں وہ اس نیک مشن پر تھا کہ پولیس کی گولی کا نشانہ بن گیا۔ لہٰذا اسے شہید غربت کا لقب دیا گیا ہے۔ ”غریبوں کے ساتھ“ اور ”یتیم بچیوں کی شادیاں“ یہ ایسے الفاظ ہیں کہ جن میں کافی ”کشش“ ہے تاہم اہل عقل و دانش یہ بات سمجھتے ہیں کہ کسی برائی پر نیکی کا مینار تعمیر نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح کے خود ساختہ شہید خیر سے پیپلز پارٹی کے پاس کافی تعداد میں موجود ہیں اور اس طرح کی بڑی پارٹیوں کو بڑے سستے شہید بنانے کے لئے کسی ناجی یا عباس کو صرف ایک کالم لکھنا پڑتا ہے۔ بس سلمان تاثیر کو شہید قرار دینے والوں کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ غور کریں! کالم میں کس طریقے سے گورنر کی گستاخی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے اور کس طرح ایک ملعون کو شہید قرار دیا گیا ہے۔ ایک عاشق رسول کو روبوٹ قرار دیا گیا اور اپنی معلومات کا مأخذ ”ٹائم کی رپورٹ“ کو بنایا گیا جو کہ ایک امریکی جریدہ ہے۔ کالعدم

صفحہ 91

تنظیم کی مسجد ۔۔۔۔۔ ضمانتیں حاصل کیں۔۔۔۔۔۔۔ سڑکوں پر گمراہ لوگ نکلے۔۔۔۔۔۔۔ ناموس رسالت کا قانون ضیاء الحق کا بنایا ہوا قانون ہے۔۔۔۔۔ آڑ لے کر کسی کے خلاف ایف آئی آر لکھوا لیتے ہیں ۔۔۔۔۔ ان جملوں پر غور کریں اور پھر علماء کی توہین کا انداز نگارش دیکھیں۔۔۔۔۔ یہ ہیں ہمارے ملک کے مہذب صحافی۔۔۔

سیکولر انتہا پسندوں کا مشغلہ

مذہبی معاملات میں مداخلت یہ سیکولر انتہا پسندوں کا پرانا مشغلہ ہے۔ ایسے لوگوں سے متاثر ہو کر یا نہ جانے کسی اور مجبوری کی بنا پر عام لبرل لوگ بھی ان کے پروپیگنڈے کا شکار ہو کر اسی طرح کی بولیاں بولنے لگتے ہیں۔ اس کی مثال میں یوں دینا چاہوں گا کہ جاوید چوہدری صحافتی حلقوں میں مقتدر شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور وہ اکثر ایسے موضوعات پر لکھتے ہیں کہ جو قوم کے دل کی آواز ہوتی ہے۔ نہ جانے کیوں غازی صاحب کے معاملے میں چودھری صاحب نے اعتدال کا دامن چھوڑ دیا۔ اور اپنے کالموں میں ایسے جملے بھی استعمال کر ڈالے کہ جن میں سراسر مذہبی طبقے کی دل آزاری ہوئی۔

چنانچہ انہوں نے 27 جنوری 2011ء کے کالم بعنوان ”تین سیکنڈ کا فاصلہ“ لکھا۔ جس میں انہوں نے ممتاز حسین قادری صاحب کے 164 کے اعترافی بیان کو سامنے رکھتے ہوئے علماء و خطباء کو خوب تختہ مشق بنایا اور ممتاز حسین قادری کے جذبہ عشق رسول کے تحت کئے گئے کام کو راقم کے خطاب کا کمال بتایا اور اس کو برین واشنگ کا ایک سٹائل قرار دیا۔

جاوید چوہدری صاحب کا کالم چھپنے کے بعد اندرون و بیرون ملک سے مجھے بے شمار فون ، ایس ایم ایس اور ای میلز موصول ہوئے۔ جن میں دوستوں نے یہ مطالبہ کیا کہ جاوید چوہدری صاحب کے کالم کا بھر پور جواب دیا جائے۔ چنانچہ ہماری طرف سے شباب اسلامی کے مرکزی رہنما میر ظہیر احمد قادری صاحب نے میری مشاورت و معاونت سے جاوید چوہدری صاحب کے

صفحہ 92

کالم کا جواب لکھا جسے اندرون و بیرون ملک بہت پذیرائی ملی۔ جناب قادری صاحب کا کالم ملاحظہ فرمائیں ۔

﴿ جاوید چوہدری صاحب !...... لبرل انتہا پسند نہ بنیں ﴾

جاوید احمد چوہدری پاکستان کے نامور کالم نگار ہیں، یہ عوامی حلقوں میں اعتدال پسندی کے حوالے سے خاصے مشہور ہیں، ان کے کالموں اور شوز میں سیاسی، عوامی، سماجی اور اخلاقی مسائل کو زیر بحث لایا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے انہیں تحریر کا ملکہ بھی عطا کر رکھا ہے اور قوت بیان بھی باکمال ہے۔ میں بذات خود ان کا فین ہوں اور ان کے کالم اور شوز بڑے شوق سے پڑھتا اور دیکھتا ہوں لیکن میری طرح دوسرے ہزاروں لوگ نہ جانے کیوں محسوس کر رہے ہیں کہ گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے بعد چوہدری صاحب کی اعتدال پسندی کا چہرہ کچھ گہنا سا گیا ہے اور کچھ دنوں سے چوہدری صاحب کافی ڈانواں ڈول نظر آتے ہیں، کبھی تو اسلامی تاریخی واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے ان سے لبرل ازم کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں اور کبھی عوامی آواز کو محسوس کرتے ہوئے اپنے آپ کو ایک کٹر مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں بہر حال میں ابھی تک انہیں ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہی سمجھتا ہوں۔

چوہدری صاحب نے 27 جنوری 2011ء کے کالم بعنوان ”تین سیکنڈ کا فاصلہ“ میں ممتاز قادری کے اعترافی بیان کا سہارا لیتے ہوئے علمائے دین کو خوب تختہ مشق بنایا، ان پر ”الذم بما یشبہ المدح“ کی اصطلاح صادق آتی ہے کہ انہوں نے علمائے دین کی خوبی کے بیان کے ساتھ ساتھ ان کو ہدف تنقید بھی بنا ڈالا۔ چوہدری صاحب نے اس کالم میں ممتاز قادری کے اعترافی بیان ”میرا تعلق دعوت اسلامی کے ساتھ ہے، یہ تبلیغ اور قرآن وسنت کی غیر سیاسی تنظیم ہے، اس کے سربراہ مولانا الیاس قادری ہیں، 31 دسمبر 2010ء کو میرے گھر کے سامنے مسلم ٹاؤن میں ایک تنظیم نے تحفظ ناموسِ رسالت اور شانِ اہل بیت کے عنوان سے ایک اجتماع کیا، اس اجتماع میں سید امتیاز حسین شاہ کاظمی اور علامہ مفتی محمد حنیف قریشی صاحب نے عشق رسول اور شانِ رسول پر انتہائی پُر اثر اور جذباتی تقریریں کیں، ان دونوں حضرات کی

صفحہ 93

تقریریں جذبات اور عشق رسول میں ڈوبی ہوئی تھیں، علامہ حنیف قریشی اپنے بیان کے دوران اس قدر جذبات میں آگئے کہ ان کا عمامہ ان کے سر سے گر گیا، ان کے بال بکھر گئے اور ان کا مائیک گر گیا، ان کے اس بیان اور ان کی حالت سے اجتماع پر رقت طاری ہو گئی اور تمام حاضرین عشق رسول میں دھاڑیں مار کر رونے لگے، انہوں نے جب غازی علم الدین شہید اور حضرت بلال ؓ کے عشق کی بات کی تو جذبات کی شدت سے میرا دل بھی رو پڑا اور میں نے اسی وقت وہاں بیٹھے بیٹھے فیصلہ کیا کہ میں گورنر سلمان تاثیر کو شان رسالت میں گستاخی پر ضرور قتل کروں گا کیونکہ اس نے ناموس رسالت کے قانون کو ”کالا قانون“ بھی قرار دیا ہے اور یہ گستاخ رسول عاصیہ بی بی کی حمایت بھی کر رہا ہے“ پر موصوف کچھ یوں اظہار خیال فرماتے ہیں ”ہمارے علماء کرام اور خطیبوں کو اللہ تعالیٰ نے بیان کی طلسماتی خوبی سے نواز رکھا ہے، یہ لوگ اپنے الفاظ کے ذریعے لوگوں کے اندر اتنا جوش بھر دیتے ہیں کہ سرکاری ملازم سرکاری رائفل سے ڈیوٹی کے دوران گورنر کو قتل کر دیتے ہیں“ جناب چوہدری صاحب علماء حق کی تو ڈیوٹی ہی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت اور عشق کا درس دیں اور یقینا آپ کو اس سے انکار نہیں ہوگا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا عشق ہی مومن کا سرمایہ حیات ہے۔ کاش کہ آپ گورنر کے قتل کا بوجھ علماء کے جوش خطابت کے سر ڈالنے سے پہلے اس قتل کے اصل محرک کو سامنے لاتے کہ وہ کون سے حالات تھے جن کے باعث ایک غریب پولیس کمانڈو اپنی بیوی بچے، اپنی نوکری حتیٰ کہ اپنی جان سے بھی بے پرواہ ہو کر انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہوا۔ جس وقت ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر لبرل، سیکولر انتہا پسند گھنٹوں قرآن و حدیث کا مذاق اڑائیں، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی شریعت کے بنائے ہوئے قانون کو کالا قانون قرار دیا جائے، پاکستان کی محترم عدالت کی سزا یافتہ گستاخ رسول کی حمایت پر تقریر و تحریر کے ذریعے سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کا خون کیا جائے، لاکھوں لوگوں کے احتجاج اور علماء کے فتووں کو ”جوتے کی نوک پر رکھا جائے“ اور گورنری کا عہدہ بذات خود گورنر کا اس طرح قانونی محافظ بن جائے کہ اس کے خلاف کسی قسم کی قانونی کاروائی کی اجازت نہ دیتا ہو، ملک بھر کے جید علماء گورنر کو خارج از اسلام قرار دے چکے ہوں

صفحہ 94

چینی اور پٹرول کی قیمتوں پر سوموٹو ایکشن لینے والا چیف جسٹس قانون کی دھجیاں اڑائے جانے پر بھی خاموش بیٹھا ہو۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز گورنر کے خلاف چیخ رہے ہوں، وال چاکنگ کے ذریعے پورے ملک میں سلمان تاثیر کو واجب القتل قرار دے دیا گیا ہو، اس کے قاتل کے لئے دو، دو کروڑ روپے کے انعام کا اعلان ہو چکا ہو، گلی کوچوں میں بینرز آویزاں ہوں کہ سلمان تاثیر گستاخ رسول ہے اور صدر اور وزیر اعظم جن کی ڈیوٹی تھی کہ وہ حالات کے تقاضے کے مطابق قوم کو مطمئن کرتے وہ بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے چپ کا روزہ رکھ کر بیٹھ چکے ہوں تو ان حالات میں ایک ایسا شخص کہ جس کی زندگی غلامی رسول ﷺ میں گزر رہی ہو، دن رات نعتیں پڑھنے والا ہو، وہ گورنر کو گستاخ رسول سمجھ کر قتل کر دے تو اس میں علماء کے جوش خطابت پر بھلا کیا اعتراض، چوہدری صاحب کو اپنا کچھ عرصہ قبل ”سرخ بن مانس“ کے نام سے لکھا کالم یاد ہوگا جس میں انہوں نے گورنر سلمان تاثیر کو سرخ بن مانس قرار دیا تھا۔ غالباً اس کی وجہ اس وقت ان کی پاکستان مسلم لیگ ن سے قربت تھی جو ان کی تحریر و تقریر کے ذریعے سے اکثر محسوس کی جاسکتی ہے۔

چوہدری صاحب آپ نے مذکورہ کالم میں مزید لکھا ”سلمان تاثیر کے بیانات کے خلاف کسی بڑے عالم یا علماء کے پینل نے فتویٰ نہیں دیا، انہیں کسی نے کافر قرار دیا تھا اور نہ ہی واجب القتل ڈکلیئر کیا تھا“۔ میں اس کے جواب میں عرض کروں، چوہدری صاحب آپ صحافتی حلقوں میں بڑی معلوماتی شخصیت سمجھے جاتے ہیں لیکن نہ جانے آپ کی نظر سے سلمان تاثیر کے ناموس رسالت کے قانون کو کالا قانون قرار دینے کے اقدام کے بعد مختلف مسالک کے جید علماء کے ان کے خلاف فتوے کیوں پوشیدہ رہے حالانکہ 23 نومبر 2010ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت کا متفقہ اعلامیہ جاری ہوا جس میں یہ کہا گیا کہ گستاخ رسول عاصیہ مسیح کو معافی دلوانے والا مسلمان نہیں رہا۔ اسی طرح 23 نومبر کو عالمی تنظیم اہل سنت کے پیر افضل قادری اور دیگر مفتیان عظام کے پینل نے فتویٰ دیا کہ سلمان تاثیر ناموس رسالت کو کالا قانون قرار دے کر مسلمان نہیں رہا اور اس کا نکاح فاسد ہوگیا ہے۔ 24 نومبر 2010ء کے اخبارات میں تحریک حرمت رسول کے راہنما قاری شیخ یعقوب، قومی امن کمیٹی کے رکن مولانا شفیق

رضا قادری، مفتی مصطفیٰ اشرف رضـ آصف رضا قادری، مولانا مفتی مـ حسین سمیت بہت سے علماء دین نـ 7 دسمبر 2010ء کے اخبارات میـ سلمان تاثیر گستاخ رسول ہے۔ امـ میر، مولانا فضل الرحمٰن، مولانا منـ علامہ مظہر سعید کاظمی (یہ حامد سعید شاہ، علامہ شاہ تراب الحق قادری، فتویٰ دیا کہ سلمان تاثیر توہین رسالـ 500 سے زائد مفتیوں نے جس میـ سلمان تاثیر کی نماز جنازہ نہ پڑھـ داتا صاحب کے خطیبوں نے گـ صاحب یہ سارے حقائق میڈیا مـ تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے ہـ عالم دین نظر نہیں آیا؟ اور سوال یـ سہی لیکن کیا خلاف شریعت بھی ہـ حنیف قریشی اور علامہ امتیاز حسـ تو مذکورہ مفتیان عظام و علماء کرام نـ والے میڈیا کے بارے میں آپـ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ عـ میں تو یہ سمجھتا ہوں ایک صحافی جـ پر گہری نظر رکھتا ہے لیکن جب وـ کے ساتھ انصاف نہیں رہتا۔ تـ سے تختہ مشق بنانے میں کسی جـ پسندوں، فاحشوں اور سیکولـ

صفحہ 95

رضا قادری، مفتی مصطفیٰ اشرف رضوی، مولانا مفتی سلیم اللہ خان، مفتی نعیم اختر، مفتی آصف رضا قادری، مولانا مفتی صفدر علی کاظمی، مفتی محمد خان قادری اور مفتی الطاف حسین سمیت بہت سے علماء دین نے فتویٰ دیا تھا کہ سلمان تاثیر کافر ہو چکا ہے۔

7 دسمبر 2010ء کے اخبارات میں ملی مجلس شرعیہ کے مفتیان عظام نے فتویٰ دیا کہ سلمان تاثیر گستاخ رسول ہے۔ اس کے علاوہ سلمان تاثیر کے قتل کے بعد علامہ ساجد میر، مولانا فضل الرحمن، مولانا منور حسن، پیر عزیز الرحمن ہزاروی، علامہ ابوالخیر زبیر، علامہ مظہر سعید کاظمی (یہ حامد سعید کاظمی کے بڑے بھائی ہیں) علامہ سید ریاض حسین شاہ، علامہ شاہ تراب الحق قادری، مفتی غلام سرور ہزاروی اور مفتی ضمیر احمد ساجد نے فتویٰ دیا کہ سلمان تاثیر توہین رسالت کا مرتکب ہوا ہے اور اس کے بعد پاکستان کے 500 سے زائد مفتیوں نے جس میں ہر مسلک کے علماء شامل تھے نے یہ فتویٰ دیا کہ سلمان تاثیر کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے اور خود گورنر ہاؤس، بادشاہی مسجد اور داتا صاحب کے خطیبوں نے گورنر کا جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا۔ چوہدری صاحب یہ سارے حقائق میڈیا کی ہیڈ لائنز بنتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود آپ تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے ہیں...... آخر کیوں؟ کیا ان علماء میں آپ کو کوئی بڑا عالم دین نظر نہیں آیا؟ اور سوال یہ بھی ہے کہ ایک گستاخ رسول کو قتل کرنا خلاف قانون سہی لیکن کیا خلاف شریعت بھی ہے؟ اور عشق رسول پر گفتگو کرنے کے باعث علامہ حنیف قریشی اور علامہ امتیاز حسین شاہ کاظمی کے خلاف مقدمات قائم کئے جا رہے ہیں تو مذکورہ مفتیان عظام و علماء کرام اور بالخصوص اس اشتعال انگیزی کو پروان چڑھانے والے میڈیا کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ نے علماء کو دبے لفظوں میں تنقید کا نشانہ کیوں بنایا، میں تو یہ سمجھتا ہوں ایک صحافی معاشرے کی آنکھ ہوتا ہے، وہ چھوٹے سے چھوٹے مسئلے پر گہری نظر رکھتا ہے لیکن جب صحافی کے ذاتی جذبات تحریر پر غالب آجائیں تو تحریر کے ساتھ انصاف نہیں رہتا۔ مجھے بڑی خوشی ہوتی اگر آپ نے علماء دین کو جس انداز سے تختہ مشق بنانے میں کسی تامل سے کام نہیں لیا تو اس کے ساتھ ساتھ آپ لبرل انتہا پسندوں، فاشسٹوں اور سیکولرازم کا پرچار کرنے والوں پر بھی کھل کر تنقید کرتے۔

صفحہ 96

مجھے نہیں معلوم آپ کس خاص مجبوری کے تحت اپنی روایتی اعتدال پسندی کو پشت ڈال کر مذہبی حلقوں کے خلاف لکھنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ آپ نے علماء دین کو مفید مشورہ دیتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ وہ کرپشن، ملاوٹ، قتل و غارت گری، پالوشن اور رشوت خوری کے خلاف جوش خطابت فرمائیں تو جناب والا عرض ہے کہ علماء دین اپنی بساط اور ہمت کے مطابق اپنے فرائض منصبی کو بخوبی انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ خطیب چاہے جس بھی مسلک سے ہو اس کے پاس صرف مسجد کا ہی پلیٹ فارم ہے، جہاں زیادہ سے زیادہ چار، پانچ ہزار لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے اور وہ بھی جمعہ یا عیدین کے موقع پر۔ جبکہ آپ جیسے لوگ جن کے پاس میڈیا کا پلیٹ فارم ہے ان کی آواز روزانہ لاکھوں لوگ سن اور دیکھ رہے ہوتے ہیں، سوال تو یہ ہے کہ آپ لوگوں کی روزانہ کی چیخ و پکار کے بعد آخر معاشرے سے کرپشن اور رشوت ستانی اور دیگر معاشرتی برائیاں کس حد تک کم ہوئی ہیں؟ آپ نے علماء کرام کے جوش خطابت کے طلسم کا اعتراف کیا ہے تو اگر واقعی آپ معاشرے سے برائیوں کے خاتمے کو پسند کرتے ہیں تو آپ سے سوال ہے کہ آپ علامہ حنیف قریشی اور ان جیسے دیگر علماء کرام کو میڈیا کا پلیٹ فارم کس حد تک فراہم کر رہے ہیں کہ جس کے ذریعے سے ان کی آواز اور ان کی خطابت کا اثر کرپشن کے ”بادشاہوں“ تک پہنچ سکے یقیناً آپ کو تسلیم ہوگا کہ قریشی صاحب اور ان جیسے دیگر خطباء کی مسجد کے لاؤڈ سپیکروں کی آواز معاشرتی برائیوں کی ”آماجگاہوں“ تک نہیں پہنچ سکتی کیونکہ لاؤڈ اسپیکر کا استعمال اذان اور عربی خطبے کے علاوہ ممنوع قرار دیا جا چکا ہے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ انتہائی حساس مذہبی معاملات پر بھی میڈیا انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نام نہاد این جی اوز کی نمائندہ سیکولر خواتین اور کچھ کاسہ لیس ”مولویوں“ کو ہی لب کشائی کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اندریں حالات علماء کو ہی تنقید کے لئے متعین کرنا یقیناً آپ کی سیکولر سوچ کی طرفداری کا عکاس ہے۔ چوہدری صاحب ہم انتظار کریں گے کہ آپ کرپشن، رشوت ستانی، بے حیائی، ملاوٹ اور دیگر معاشرتی برائیوں کے بادشاہوں تک علماء کرام کی آواز پہنچانے کے لئے کب علماء کو اپنے چینل پر مدعو کریں گے۔ اگر ایک تقریر سے ”ممتاز قادری“ پیدا ہوتے ہیں تو سوچ لیں کہ جب لاکھوں

صفحہ 97

لوگ قرآن وسنت کی صحیح آواز کو سنیں گے تو پھر کتنے ”قادری“ پیدا ہوں گے۔ خدارا ممتاز قادریوں کی پیداوار کو روکنے کی تلقین کرنے کی بجائے آپ ان لبرل، سیکولر انتہا پسندوں سے بھی مخاطب ہو جائیں کہ آپ گستاخ پیدا نہ کریں تو مزید ممتاز قادری بھی سامنے نہیں آئیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ میڈیا کے جارحانہ رویوں کے خلاف بھی صدا بلند کریں کہ جنہیں ملعونہ عاصیہ کی حمایت میں نکلنے والی پچاس افراد کی ریلی ”روم“ میں تو نظر آ جاتی ہے اور اس کی تصویر فرنٹ پیج پر چھاپی جاتی ہے جبکہ اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی اور ملک کے جاگتے شہر کراچی اور پاکستان کے دل لاہور میں لاکھوں لوگوں کا ممتاز قادری اور ناموس رسالت کے حق میں ”ریلہ“ نظر نہیں آتا۔ جناب والا، اس طرح کے رویے بھی ممتاز قادریوں کی تخلیق کا باعث بنتے ہیں۔ خدارا ہماری طرف سے لبرل انتہا پسندوں سے کہہ دیں کہ جس ملک میں اسلام سے اتنا سا تعلق رکھنے والے شخص کہ جس کو ”سورۂ اخلاص“ بھی مکمل یاد نہیں کا جذبہ حب رسول یہ ہے کہ وہ کسی گستاخ رسول کو قانون کے حوالے کی بجائے خود گولی مارنے کا اعلان کر رہا ہے تو وہاں عشق مصطفیٰ ﷺ میں ڈوبے ہوئے لوگوں کا جذبہ حب رسول کیا ہوگا ......!! اندریں حالات اگر ممتاز قادری رائفل لے کر تین سیکنڈ میں گورنر کو گستاخ رسول سمجھتے ہوئے قتل کر دے تو اس میں بے چارے جوشیلے خطیبوں کا کیا قصور ہے۔ جناب من! آپ کا متانت و وقار انگیز چہرہ اور اعتدال سے بھر پور الفاظ آپ کی پہچان اور خصوصیت ہیں اور ہم ان ہی سے پیار کرتے ہیں۔ مہربانی فرما کر آپ اعتدال پسند ہی رہیں، لبرل سیکولر انتہا پسند نہ بنیں۔

(روزنامہ ایکسپریس 2 فروری 2011ء)

یہاں جاوید احمد چوہدری صاحب کی صحافتی دیانتداری کو داد دینا پڑتی ہے کہ ان کا کالم چھپنے کے بعد راقم نے ان سے فون پر بات کی اور جوابی کالم کا اظہار کیا تو چوہدری صاحب نے بڑی خوشی سے کہا کہ میں آپ کے جواب کو ضرور اپنے کالم میں جگہ دوں گا۔ اگرچہ انہوں نے کالم میں سے کافی سارے جملوں کی کاٹ چھانٹ بھی کی تاہم جواب کے مرکزی خیال کو اپنے کالم میں شائع کیا ۔ چونکہ اطہر عباس صاحب ایکسپریس کے ایڈیٹوریل پیج کے انچارج ہیں لہٰذا جب

PDF 98

میر ظہیر قادری صاحب کا تحریر کردہ جواب ان تک پہنچا تو چونکہ اس کو جاوید احمد چوہدری نے اپنے کالم میں شامل کیا ہوا تھا لہٰذا اطہر عباس صاحب اس سلسلے میں اور تو کچھ نہ کر سکے لیکن اسی دن اپنی طرف سے ایک کالم تحریر کیا جس میں ان کی انتہاء پسندی بام عروج پر نظر آتی ہے۔

قارئین! یوں لگتا ہے کہ پورے میڈیا پر ہی سیکولر انتہا پسندوں کا قبضہ ہے۔ ملاحظہ فرمائیں ایک اور صاحب طاہر سرور میر لکھتے ہیں:

اسی لمحے ذہن میں خیال آیا کہ وزیر موصوف کو میڈیا کی مردانگی اور بہادری کا نقشہ کھینچتے ہوئے یہ بھی فرمانا چاہئیے کہ یہی وہ بہادر میڈیا ہے جو اپنی طاقت اظہار کے بل بوتے پر گورنر سلمان تاثیر کو نعوذ باللہ توہین رسالت کا ”مجرم“ قرار دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا۔ گذشتہ دنوں بھی رحمان ملک نے اپنے ایک بیان میں فرمایا تھا کہ ” پاکستان میں کوئی شخص بھی توہین رسالت کے قبیح جرم کا ارتکاب نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی شخص ایسا کرے گا تو وہ خود سب سے پہلے اسے گولی مار دیں گے۔“ ۔۔۔۔۔۔ اے کاش! وزیر موصوف گورنر سلمان تاثیر شہید اور ان کے قاتل ملک ممتاز قادری کے مابین فرق کو بیان کرنا بھی فرض خیال کریں۔۔۔۔ سلمان تاثیر، پروفیسر ایم ڈی تاثیر کے بیٹے تھے۔ آپ کا تعلق اس خاندان سے تھا جو نسل در نسل سچے عاشق رسول تھے۔ گورنر سلمان تاثیر اپنے قول وفعل میں ایک کھلے ڈلے انسان تھے۔ سلمان تاثیر ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کے زمانہ میں بنائے گئے توہین رسالت کے قانون کو فول پروف بنانے کی بات کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔ حیرت ناک امر یہ ہے کہ 295 سی کے تحت توہین رسالت کے جرم میں درج کرائے گئے مقدمات میں مختلف عدالتوں نے 80 سے زائد ملزمان کو جرم ثابت نہ ہونے پر رہا کر دیا مگر اس کے بعد ان افراد کے خلاف توہین رسالت کا جھوٹا الزام عائد کرنے پر مقدمہ درج نہیں کیا گیا جنہوں نے جھوٹے الزامات لگائے تھے۔

غور فرمائیں! یہ صاحب کس طرح دیدہ دلیری سے حقائق کا چہرہ مسخ کر رہے ہیں۔ سلمان تاثیر نے قانون کو فول پروف بنانے کی بات کی ہوتی تو پھر پورے ملک کی کروڑوں عوام سڑکوں پر کیوں نکلتی؟

حقیقت یہ ہے کہ سلمان تاثیر نے صرف قانو سے نہ تو کبھی رجوع کیا اور نہ ہی کبھی اس کی تو کے جرم پر پردہ تو نہیں ڈالا جا سکتا اور پھر یہ آئے اگر کوئی خود ہی بدبختی کا مظاہرہ کرے تو

ان صاحب سے کوئی پوچھے کہ روز دفعہ 324۔ دفعہ 307 اور دیگر بہت سار انتقام کی خاطر سینکڑوں جھوٹے پرچے درج مطابق پاکستانی جیلوں میں اکثریت بے گنا ہے کہ کئی لوگوں کو دفعہ 302 کے تحت سزا ہـ واسطہ نہ تھا۔ اور بعض لوگ تو قتل والے د افسروں کے مک مکا اور کمزور عدالتی نظام طرح کے کالم نویسوں کو معاشرے میں ان آتا اور گورنر تاثیر صاحب اس طرح کے گئے یا پھر کتنے لوگوں کو انہوں نے صدر گناہوں کو پرچوں میں پھنسایا جاتا ہے، جھوٹا پرچہ درج کروانے والوں کے خلا طبقہ وہاں شور کیوں نہیں مچاتا، آخر سب کـ سب کی ہمدردیاں صرف گستاخوں سے کے خلاف لکھنے میں آخر کیا حکمت ہے و کو بھی سزائے موت نہیں ہوئی۔

نذیر ناجی صاحب روزنامہ جـ

صفحہ 99

حقیقت یہ ہے کہ سلمان تاثیر نے صرف قانون شریعت کو کالا قانون قرار دیا تھا اور اپنے اس جملے سے نہ تو کبھی رجوع کیا اور نہ ہی کبھی اس کی تردید کی اور پھر باپ کے عاشق رسول ہونے سے بیٹے کے جرم پر پردہ تو نہیں ڈالا جاسکتا اور پھر یہ بھی کہ علماء کسی کو کھینچ کھچا کر فتوے کی زد میں لے کر نہیں آئے اگر کوئی خود ہی بدبختی کا مظاہرہ کرے تو اس میں بیچارے مفتیان عظام کا کیا قصور۔

ان صاحب سے کوئی پوچھے کہ روزانہ ملک میں سینکڑوں لوگ دفعہ 302۔ دفعہ 109۔ دفعہ 324۔ دفعہ 307 اور دیگر بہت سارے دفعات کی بھینٹ چڑھتے ہیں اور لوگ اپنے ذاتی انتقام کی خاطر سینکڑوں جھوٹے پرچے درج کرواتے ہیں اور ایک انٹرنیشنل تنظیم کے سروے کے مطابق پاکستانی جیلوں میں اکثریت بے گناہ قیدیوں کی ہے۔ اور راقم کے مشاہدے میں یہ بات ہے کہ کئی لوگوں کو دفعہ 302 کے تحت سزائے موت ہوچکی ہے حالانکہ ان کا اس قتل سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ اور بعض لوگ تو قتل والے دن اس شہر میں موجود ہی نہ تھے اس کے باوجود تفتیشی افسروں کے مک مکا اور کمزور عدالتی نظام کے باعث ان غریبوں کو سزائے موت ہوگئی تو آخر اس طرح کے کالم نویسوں کو معاشرے میں ان بے گناہوں کے ہمدردی پر کالم لکھنے کا خیال کیوں نہیں آتا اور گورنر تاثیر صاحب اس طرح کے کتنے بے گناہوں کے ساتھ ہمدردی کے لئے ان کے گھر گئے یا پھر کتنے لوگوں کو انہوں نے صدر سے معاف کروانے کا وعدہ کیا؟ اور روزانہ درجنوں بے گناہوں کو پرچوں میں پھنسایا جاتا ہے بے شمار لوگوں کو عدالتیں بری کردیتی ہیں پھر ان کے خلاف جھوٹا پرچہ درج کروانے والوں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں ہوتی اور گورنر سمیت یہ بکاؤ سیکولر طبقہ وہاں شور کیوں نہیں مچاتا، آخر سب کی نظریں صرف توہین رسالت کے قانون پر ہی کیوں؟ اور سب کی ہمدردیاں صرف گستاخوں سے ہی کیوں؟ باقی تمام دفعات کو چھوڑ کر صرف 295-C ہی کے خلاف لکھنے میں آخر کیا حکمت ہے حالانکہ آن دی ریکارڈ آج تک 295-C کے تحت کسی شخص کو بھی سزائے موت نہیں ہوئی۔

نذیر ناجی صاحب روزنامہ جنگ کے کالم نگار ہیں آں جناب اکثر اپنی سیکولر سوچ اپنے

صفحہ 100

کالموں میں ظاہر کرتے رہتے ہیں تاہم ممتاز قادری صاحب کے اقدام کے بعد ناجی صاحب نے وہ پھرتیاں دکھائیں کہ یقیناً انہیں امریکہ سے سپیشل داد ملی ہوگی اور امداد کا ملنا بھی خارج از امکان نہیں۔ ناجی صاحب نے اپنے ترکش سے ہر وہ زہر آلود تیر چلایا جس نے آداب و شرافت کی تمام حدود کو کراس کر دیا۔ ناجی صاحب کے سیکولر ازم کے پرچار اور دینی سوچ رکھنے والوں کے خلاف ان کی ہرزہ سرائیوں سے اسلامیان پاکستان اچھی طرح واقف ہیں۔ آں جناب کو پاکستان کے آئین میں موجود امتناع قادیانیت آرڈیننس سے بھی کافی ”تکلیف“ رہتی ہے اور کئی دفعہ اس کے خلاف بھی لکھ چکے اور وہ نام نہاد مولویوں کی آڑ لے کر کئی دفعہ وہ تحریک ختم نبوت اور اس کے سلسلے میں پاس ہونے والے قانون کے خلاف بھی ہرزہ سرائی کر چکے ہیں جس میں قادیانیوں کو کافر قرار دیا گیا ہے۔

تاہم گورنر قتل کے بعد تو آنجناب نے اہلیان اسلام کے خلاف خوب بھڑاس نکالی انہوں نے تو جیسے قسم ہی کھا لی تھی کہ میں نے ضرور ہی مذہبی طبقے کو تختہ مشق بنانا ہے۔

یونہی گورنر کے کئی حمایتی سیکولر انتہا پسندوں نے سلمان تاثیر کو اس کے والد محمد دین تاثیر کی شخصیت کے باعث ”شیلٹر“ فراہم کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ انہیں کون سمجھائے کہ مومنوں کے گھر کافروں کا پیدا ہونا تقدیر الہی کے فیصلے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کے گھر میں کافر بیٹا، ابوجہل کے گھر میں حضرت عکرمہؓ صحابی رسول اور حضرت معاویہؓ کے گھر میں یزید پلید کا جنم لینا ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔ یہ بات تسلیم سہی کہ سلمان تاثیر کا خاندان بڑا علمی و ادبی تھا، اس کے والد عاشق رسول تھے لیکن اس کے باوجود کیا باپ دادا کی عظمتوں کے باعث کسی کی توہین کے جرم پر پردہ ڈالا جاسکتا ہے؟ اس کی گستاخی اور ہرزہ سرائی سے صرف نظر کیا جاسکتا ہے؟ جب ایک نبی علیہ السلام کے بیٹے اور صحابی ؓ کے بیٹے کو اگر چھوٹ نہیں تو کسی اور کو کیسے ہو سکتی ہے؟

روزنامہ ایکسپریس اور ایکسپریس نیوز اور دنیا نیوز نے تو گویا ممتاز حسین قادری صاحب

صفحہ 101

کی مخالفت کا ٹھیکہ لے رکھا تھا۔ لہٰذا آئے روز روزنامہ ایکسپریس کے کالم نگار بڑھ چڑھ کر دل آزار کالم لکھتے رہے اور ایکسپریس نیوز کے آخرت سے بے فکر اینکرز نے وہ سلسلہ گفتگو شروع کیا کہ الامان والحفیظ۔ میں تو یہ سوچتا ہوں کہ کلمہ طیبہ پڑھنے والا شخص آخر کچھ تو خیال کرتا ہے کہ ایک طرف اس کے نبی ﷺ کی ناموس کا مسئلہ ہے اور ایک طرف اس کی دنیا داری مگر یہاں معاملے سمجھ سے بالا تر ہیں۔

قارئین! سیکولر انتہا پسندوں کی بات کرتے کرتے ہم کافی دور نکل آئے اب ہم پھر اپنے موضوع کی طرف چلتے ہیں۔

جیل میں عاشق رسول کی برکتوں کا ظہور

10 جنوری کو جب ملک ممتاز حسین قادری کو اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تو جیل کا نقشہ ہی بدل گیا۔ صبح سے قیدی باوضو لائنوں میں کھڑے ہو کر غازی اسلام کا انتظار کرنے لگے۔ جب قادری صاحب کو جیل میں لے جایا گیا حیرانی کی انتہا نہ رہی کہ جیل کے اندر ان پر گل پاشی کی گئی اور ان کے جذبہ ایمانی کے باعث بے شمار نمازیوں نے نماز شروع کر دی۔ جیل میں ممتاز قادری صاحب کو الگ بیرک اور الگ کمرے میں رکھا گیا۔ وقت کے فرعونوں نے جیل میں ان پر تشدد کروایا اور قانون کے مطابق انہیں حاصل ہونے والی تمام سہولتیں بھی چھین لی گئیں۔

جیل میں ان پر تشدد کی خبریں آنے پر پورے ملک میں اضطراب اور غصے کی لہر دوڑ گئی۔ بڑے معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جیل میں کئی ایک لاعلاج مرض کے مریض قیدیوں کو غازی صاحب نے پانی دم کر کے دیا اور وہ شفایاب ہو چکے ہیں۔

سربراہ سنی تحریک کی راولپنڈی آمد

11 جنوری بروز منگل 2011ء سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری راولپنڈی

صفحہ 102

جامعہ رضویہ ضیاء العلوم میں تشریف لائے اور سنی تحریک راولپنڈی اور پنجاب کے مرکزی رہنما شاداب رضا قادری، مولانا غفران محمود سیالوی، مولانا لیاقت علی گجراتی، قاری وسیم عباسی، مولانا عطاء الرحمن دھنیال، طاہر اقبال چشتی وغیرہ اظہار یکجہتی کے لئے ممتاز قادری صاحب کے گھر حاضر ہوئے۔ ضیاء العلوم میں ثروت بھائی نے راقم اور سید امتیاز حسین شاہ سے میٹنگ کی اور حوصلہ افزائی بھی کی۔ بعد ازاں سنی تحریک کا وفد غازی صاحب کے گھر پہنچا اور اہل خانہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ اسی دن غازی صاحب کے کیس کے سلسلے میں وکلاء ضیاء العلوم تشریف لائے اور آئندہ کیلئے غازی صاحب کو قانونی معاونت فراہم کرنے کیلئے لائحہ عمل تیار کرنے کی خاطر قبلہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب سے مشاورت کی۔

دوسری طرف اسی روز ممتاز قادری صاحب کے کیس کو دہشت گردی کی عدالت نمبر 1 سے عدالت نمبر 2 میں جج اخلاق حسین کے پاس منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ محمد اکرم اعوان کی عدالت سے غازی صاحب کا کیس راجہ اخلاق حسین کی عدالت میں منتقل ہو گیا۔

غازی صاحب کے اقدام کے عینی گواہان ان کے ساتھی پولیس ملازمین تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آج بھی ہر پولیس ملازم غازی صاحب کے اس اقدام پر ان کا مداح ہے۔ حکومت کو اندیشہ تھا کہ کہیں موقع کے گواہان گواہی سے ہی نہ پھر جائیں لہٰذا ایلیٹ فورس کے انسپکٹر سمیت چار اہلکاروں کو بطور عینی شاہد عدالت میں پیش کر کے 164 کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے۔

پروپیگنڈہ اور اس کا جواب

میرے 31 دسمبر کے بیان اور جلسے کی وڈیو کا معاملہ میڈیا پر شدت سے اچھلنے لگا۔ میری طرف سے اسی دن اخبارات کو بیان جاری کیا گیا جسے اگلے دن تقریباً تمام اخبارات نے نمایاں کوریج کے ساتھ شائع کیا۔ بیان یہ تھا:

شباب اسلامی پاکستان کے سربراہ مفتی محمد حنیف قریشی نے کہا ہے کہ 31 دسمبر کو مسلم

صفحہ 103

ٹاؤن میں ہونے والی ناموس رسالت کانفرنس میں ملک ممتاز حسین قادری سمیت متعدد لوگوں نے سرکار دو عالم ﷺ کی بارگاہ میں ہدیہ عقیدت پیش کیا۔ اس کانفرنس میں ہزاروں افراد نے خطاب سنا مقررین میں سے کسی نے گورنر سمیت کسی شخص کو قتل کرنے کی ترغیب نہیں دی میرے خلاف منفی پروپیگنڈا اور مجھے ہراساں کرنے کے غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہتھکنڈے 7 جنوری بروز جمعہ المبارک کو ممتاز حسین قادری کے حق میں نکالی جانے والی اظہار یکجہتی ریلی کے بعد حکمرانوں کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہیں وہ شباب اسلامی ہزارہ ڈویژن کے عہدیداران سید ضیاء حسین شاہ ، زرداد احمد چشتی ، مفتی نذیر احمد قریشی اور دیگر افراد کے وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں مقدمات سے گھبرانے والا نہیں ۔ گورنر نے ملعونہ عاصیہ کی رہائی کی بات کر کے اور ناموس رسالت کے قانون کو ”کالا قانون“ قرار دے کر مسلمانوں کو اشتعال دلایا جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے انہوں نے واضح کیا کہ ہم غازی ممتاز قادری اور اس کے اہلخانہ کی اخلاقی اور قانونی مدد جاری رکھیں گے ۔

( روزنامہ جنگ راولپنڈی 12 جنوری 2011ء )

راقم اور سید امتیاز حسین شاہ کے خلاف جاری پروپیگنڈے کا مقصد صرف اور صرف یہ تھا کہ دوسرے لوگ بھی ڈر جائیں اور اس تحریک کے فرنٹ کے لوگ بھی پیچھے ہٹ جائیں ۔

12 جنوری کو مرکزی قائدین شباب اسلامی پاکستان کی طرف سے اس بات کا اعلان ہوا کہ ہم کسی صورت میں بھی ممتاز قادری کی حمایت سے پیچھے نہ ہٹیں گے ۔ لہٰذا فیصلہ کیا گیا کہ 14 جنوری کو آمنہ مسجد مرکز شباب اسلامی سے ممتاز حسین قادری کی حمایت میں ریلی نکالی جائے ۔

گورنر کا قتل ۔۔۔۔ درد کہاں تک پہنچا

یہ حقیقت ہے کہ سلمان تاثیر پاکستان میں امریکی مفادات کا ایجنٹ تھا اور اس ایجنٹ کے قتل ہونے پر سب سے زیادہ درد کی ٹیسیں بھی وہیں محسوس کی گئیں ۔ چنانچہ 12 جنوری کے قومی اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ امریکی اخبار ”نیویارک ٹائمز“ نے لکھا ہے کہ :

صفحہ 104

گورنر کے قتل پر پاکستانی معاشرہ تقسیم نظر آتا ہے جبکہ اب تعلیم یافتہ طبقے میں بھی مذہبی رجحان فروغ پانے لگا ہے۔ قاتل کی حمایت میں شروع کی گئی مہم جوئی نے جہاں حکومت کو پریشان اور گورنر کے حامیوں اور دوستوں کو مایوس کر دیا وہیں اس عمل پر مبصرین بھی حیران ہیں جو یہ توقع کر رہے تھے کہ اس قتل کے بعد حکومت کی طرف سے سخت قانونی کاروائی عمل میں آئے گی تاہم اس کے برعکس قاتل پر پھولوں کی بارش کی گئی اور وکلاء بھی اس کے دفاع کے لئے سرگرم ہوئے گزشتہ روز اخبار کی رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج پر اربوں ڈالر خرچ کرنے والا واشنگٹن پاکستانی معاشرے میں مذہبی قدامت پسندی کو نظر انداز کر گیا۔ کچھ عرصہ قبل جمہوریت کی طاقت سمجھا جانے والا وکلاء کا طبقہ گورنر کے قاتل پر پھول برساتا نظر آیا جن میں زیادہ تر نوجوان وکلاء تھے جنہیں کبھی جمہوریت کی طاقت کے طور پر دیکھا گیا۔ اس صورت حال سے کئی لوگ حیران ہیں۔ امریکی اخبار کے مطابق حالیہ دنوں میں گورنر کے قاتل کی حمایت میں نعرے لگاتے ہجوم نے قاتل کے عمل کی تعریف کی جس نے گورنر کو 26 گولیاں ماریں، ناموس رسالت کے نام پر کیا گیا قتل جرأت کا عمل گردانا جا رہا ہے۔

(روزنامہ پاکستان، اوصاف، خبریں 12 جنوری 2011ء)

ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے

سیاستدان چاہے کسی بھی پارٹی سے ہو وہ ایک ہی تھیلی کا چٹہ بٹہ ہوتا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی اکثریت اور پنجاب کی سیاست پر میاں برادران کا زیادہ اثر و رسوخ ہے۔ میاں شریف صاحب کے صاحبزادوں نے پنجاب اسمبلی میں گورنر کے قتل کی مذمتی قرارداد کو منظور کروایا۔ یہ یقیناً میاں شریف صاحب مرحوم کی روح کو تڑپانے کا اقدام تھا۔ تاہم ایک بات تو کھل کر سامنے آئی کہ سیاست میں بہت کچھ کرنا پڑتا ہے تب جا کر کہیں ”منزل“ ملتی ہے۔ قومی یا صوبائی اسمبلی کا ممبر اپنے حلقے کی عوام کا نمائندہ ہوتا ہے اور اصولی طور پر اسے اپنے حلقے کی عوام کی آواز اسمبلی میں اٹھانی ہوتی ہے تاہم افسوس ہمارے ملک میں اس اصول کی یکسر خلاف ورزی ہوتی

صفحہ 105

ہے۔ یہاں عوامی اور قومی مفادات اور جذبات کے برعکس ذاتی اور انفرادی معاملات کو ترجیح دی جاتی ہے جس کے باعث لوگوں کو جمہوریت کے نام سے ہی وحشت ہونے لگتی ہے۔

اُدھر جماعت اہل سنت پاکستان کے ناظم اعلیٰ سید ریاض حسین شاہ صاحب اور دیگر علماء اہل سنت نے پنجاب اسمبلی میں سلمان تاثیر کے حق میں قرارداد کی منظوری پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے بیان دیا کہ پاکستانیوں کا ہیرو سلمان تاثیر نہیں بلکہ ممتاز قادری ہے۔ اور اسمبلی میں گورنر کے حق میں قرارداد کی منظوری عاشقان رسول کے جذبات کا خون ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممتاز قادری کی حمایت میں ملک بھر میں، قادری حمایت تحریک چلائی جائے گی۔

پورے ملک میں غازی صاحب کی حمایت کا سلسلہ جاری رہا اور حسب معمول بے شمار مذہبی سیاسی شخصیات کی طرف سے قومی اخبارات کے ذریعے عاشق رسول کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فریدہ بہن جی نے اپنے بیان میں کہا کہ سترہ کروڑ پاکستانی عوام ممتاز قادری کو سلام پیش کرتی ہے گورنر نے قانون ناموس رسالت کے خلاف ہرزہ سرائی کر کے اپنے قتل کا سبب خود پیش کیا ہے۔

(اساس 13 جنوری)

اسی روز شباب اسلامی پاکستان کے مختلف یونٹس کی طرف سے ممتاز قادری کی حمایت بڑھانے کے سلسلے میں پورے شہر میں دوکانوں پر ان کی وردی میں ملبوس تصویر والے پورٹریٹ تقسیم کئے گئے اور لوگوں نے بڑے شوق سے انہیں اپنی دکانوں پر سجایا۔

اسی روز ممتاز قادری کے کزن اور دیگر چار اہلکاروں کو وی آئی پی ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا اور یہ الزام لگایا گیا کہ یہ مذہبی رجحانات رکھنے والے لوگ ہیں۔

ان عقل کے اندھوں کو کون سمجھائے کہ ان مذہبی رجحانات رکھنے والے اہلکاروں کو ڈیوٹی سے ہٹانے کے بجائے ان سیکولر انتہا پسندوں کو ہی لگام دے دی جائے کہ وہ دین کے معاملے میں ہرزہ سرائی نہ کیا کریں۔

صفحہ 106

غازی صاحب کے وکلاء کی نامزدگی

13 جنوری 2011ء بروز جمعرات کو غازی ممتاز حسین قادری کے والد گرامی اور ان کے بھائی دلپذیر اعوان، جامعہ رضویہ ضیاء العلوم میں تشریف لائے اور قبلہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب سے ملاقات کی اور غازی صاحب کی قانونی مدد کے حوالے سے آپ کو مکمل اختیار دے دیا کہ آپ جس شخص کو مرضی آئے غازی صاحب کا وکیل مقرر کریں۔

قبلہ شاہ صاحب نے انہیں مکمل تعاون کی یقین دھانی کرائی اس سلسلے میں اگلے ہی روز شاہ صاحب نے اپنے بیٹے پیر سید حبیب الحق شاہ کاظمی جو کہ شباب اسلامی کے مرکزی سرپرست اعلیٰ ہیں اور آپ ایڈووکیٹ بھی ہیں کو ایک وفد کی صورت میں وکلاء کے ساتھ مشاورت کے لئے روانہ کیا۔ اس وفد میں قبلہ شاہ صاحب کے مرید خاص راجہ ظہور احمد صاحب اور رانا شہزاد صاحب کے علاوہ طارق دھمیال ایڈووکیٹ بھی تھے۔ اس مشاورت کے بعد یہ طے ہوا کہ غازی صاحب کی وکالت کے لئے راولپنڈی کے فوجداری مقدمات کے مشہور وکیل سردار اسحاق صاحب کی خدمات حاصل کی جائیں تاہم اس دوران یہ بات سامنے آئی کہ سردار اسحاق صاحب کو گورنمنٹ کی طرف سے گورنر کی طرف سے کیس لڑنے پر دو کروڑ روپے کی آفر کی گئی ہے لیکن سردار صاحب نے گورنر کا کیس لڑنے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ اسی روز جناب راجہ طارق دھمیال صاحب کی قیادت میں وفد نے سردار صاحب سے غازی صاحب کا کیس لڑنے کی درخواست کی جس پر کسی مجبوری کے تحت سردار صاحب نے معذرت کر لی۔ یوں سردار صاحب ایک سچے عاشق رسول ہونے کے باوجود اس عظیم سعادت سے محروم رہے۔

بعد ازاں مذکورہ کمیٹی کا اجلاس ایک مرتبہ پھر جامعہ رضویہ ضیاء العلوم میں ہوا اس اجلاس میں غازی برادران نے بھی شرکت کی باہم مشاورت سے طے ہوا کہ سردار اسحاق صاحب کی معذرت کے بعد راولپنڈی کے دوسرے بڑے مشہور وکیل جناب ملک رفیق صاحب سے بات چیت کی جائے۔

صفحہ 107

چنانچہ سید حبیب الحق شاہ صاحب کاظمی کی قیادت میں وکلاء جناب راجہ شجاع الرحمن، راجہ طارق دھمیال ، اور ادارہ ضیاء العلوم کے متعلقین مولانا اسحاق ظفر ، راجہ ظہور احمد ، رانا شہزاد ، سید جاوید احمد شاہ پرمشتمل وفد نے ملک رفیق صاحب سے ملاقات کی اور غازی صاحب کے مقدمے کی پیروی کی درخواست کی جسے ملک صاحب نے بڑی خوشی سے قبول کر لیا۔

بعد ازاں یہ طے پایا کہ ملک رفیق صاحب مقدمے میں مرکزی وکیل ہوں گے اور ان کے ساتھ راجہ شجاع الرحمن ایڈووکیٹ ، راجہ طارق دھمیال ایڈووکیٹ اور سید حبیب الحق شاہ کاظمی بطور معاون ایڈووکیٹ اور اسلامی سکالر معاونت کریں گے ۔ ملک رفیق صاحب نے قبلہ سید حبیب الحق شاہ صاحب کو کیس کی تیاری کے حوالے سے بہت ساری ہدایات دیں اور اپنی ضروریات بتائیں جن کا حصول انتہائی مشکل کام تھا۔

جس میں گذشتہ کئی ماہ کے اخبارات کا مکمل ریکارڈ، سلمان تاثیر کے مختلف انٹرویوز کی وڈیوز اس سلسلے میں کئے گئے عدالتی فیصلے ،مختلف مذہبی شخصیات کی طرف سے گورنر کے خلاف دیئے گئے بیانات کا مکمل ریکارڈ ،سیاسی شخصیات کی طرف سے دیئے گئے بیانات ،سلیمان تاثیر کی طرف سے دیئے گئے بیانات کا ریکارڈ، قرآن وسنت کی روشنی میں ناموسِ رسالت قانون پر دلائل ،گورنر کے قتل کے بعد علماء کی طرف سے گورنر کے خلاف بیانات کا ریکارڈ ،عاصیہ مسیح کیس کی مکمل فائل ، یہ چیزیں شاید ایک پروفیشنل آدمی کے لئے آسان ہوں لیکن عام مذہبی لوگوں کے لئے یہ کام آسان نہیں ہوتا۔

چنانچہ اخبارات کی فراہمی کے سلسلے میں اخبار فروش یونین کے جنرل سیکرٹری جناب محمد عقیل عباسی صاحب اور ایک صحافی ظہور اعوان صاحب اور عثمان صدیقی صاحب نے تعاون کیا اللہ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔

گورنر کے انٹرویوز اور دیگر مکمل ڈیٹا کے حصول کیلئے سید جاوید احمد شاہ صاحب متعلم جامعہ رضویہ ضیاء العلوم نے محنت کی اللہ تعالیٰ انہیں بھی اجر نصیب فرمائے۔

صفحہ 108

شباب اسلامی پاکستان کا غازی صاحب کے حق میں بڑا مظاہرہ

تحقیقاتی اداروں کی طرف سے راقم اور سید امتیاز حسین شاہ صاحب کو ماورائے قانون گرفتاری کی کوششیں جاری رہیں انتظامیہ کو خبردار کرنے اور غازی صاحب کی حمایت کو مزید بڑھانے کی خاطر 14 جنوری کو ریلی کے انعقاد کا اعلان کر دیا گیا تھا چنانچہ

14 جنوری بروز جمعۃ المبارک مرکزی سرپرست اعلیٰ کی طرف سے مجھے اور سید امتیاز حسین شاہ صاحب کو حکم ہوا کہ ہم جمعۃ المبارک جامعہ رضویہ ضیاء العلوم میں ادا کریں ۔ پروگرام کے مطابق مرکز شباب اسلامی آمنہ مسجد میں جمعۃ المبارک کا خطاب تنظیم کے مرکزی سرپرست اعلیٰ اور مرکزی رہنما سید وضاحت حسین شاہ کاظمی نے کرنا تھا کارکنوں کی بہت بڑی تعداد نے نماز جمعہ آمنہ مسجد میں ادا کی سید وضاحت حسین شاہ صاحب نے بڑا جوشیلا خطاب کیا اور حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر شباب اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنماؤں مفتی محمد حنیف قریشی اور سید امتیاز حسین شاہ کاظمی کو ماورائے قانون گرفتار کیا گیا تو حالات کی سنگینی کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔

مرکزی سرپرست اعلیٰ نے اپنے خطاب میں ناموس رسالت کے قانون پر مدلل گفتگو فرمائی اور دوٹوک اعلان کیا کہ ہم ممتاز حسین قادری کے حمایتی ہیں اور اس حمایت سے انچ برابر بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

بعد نماز جمعۃ المبارک ریلی کا آغاز ہوا نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا کی بڑی تعداد نے ریلی کو کور کیا۔ ہزاروں غلامان رسول ہاتھوں میں شباب اسلامی کے جھنڈے اور غازی ممتاز قادری کی تصاویر اٹھائے ، غازی تیری جرأت کو سلام ہو سلام ہو ۔۔۔۔۔ غازی تیری ہمت کو، سلام ہو سلام ہو ۔۔۔۔۔ غازی تیرا قافلہ ، رواں دواں ، رواں دواں ۔ ۔ ۔ غازی تیرا قافلہ، رکا نہیں تھما نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ لبیک لبیک ،یا خدا، یا رسول اللہ کے نعرے لگاتے ہوئے مرکزی سرپرست اعلیٰ اور مرکزی رہنماؤں سید وضاحت حسین شاہ کاظمی ،علامہ شاہنواز احمد ضیائی ، مولانا خان محمد قادری ، علامہ

صفحہ 109

میر ظہیر احمد قادری، چوہدری امتیاز احمد، حافظ علامہ نزاکت تبسم، راجہ شجاع الرحمن ایڈوکیٹ، راجہ طارق دھمیال ایڈوکیٹ، چوہدری اعجاز احمد، علامہ منظور احمد صدیقی صاحب، مولانا سید ابرار حسین شاہ اور دیگر علماء کرام اور زعمائے ملت کی قیادت میں صادق آباد چوک کی طرف بڑھنے لگے۔ ہزاروں کارکنان اور دیگر عوام نے بے مثال نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ ٹرانسفارمر چوک میں پہنچ کر مولانا خان محمد قادری صاحب، مولانا سید ابرار حسین شاہ صاحب، اور سید وضاحت حسین شاہ نے خطابات کئے، علامہ خان محمد قادری صاحب کے خطاب نے لوگوں کو گرما دیا۔ طارق دھمیال صاحب نے انگلش میں خطاب کیا اور انٹرنیشنل کمیونٹی کو بھر پور پیغام دیا۔ اسی دن ”تحریک ناموس رسالت“ کی طرف سے بھی صادق آباد میں پوپ بینی ڈکٹ کے خلاف اور قانون ناموس رسالت کی حمایت میں مظاہرے کا اعلان کیا گیا تھا چنانچہ مشترکہ کاز کو سامنے رکھتے ہوئے ہزاروں افراد کی ریلی ”تحریک ناموس رسالت“ کی ریلی کے ساتھ مل گئی۔ تحریک ناموس رسالت مختلف مسالک کے علماء اور مختلف مذہبی، سیاسی، جماعتوں کو ملا کر قائم کی گئی اور اس کے قیام کا مقصد ناموس رسالت کے حوالے سے گورنمنٹ کو ٹف ٹائم دینا تھا اس کی صدارت صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر زبیر صاحب کو دی گئی تھی۔

سٹیج سے سیدی و مرشدی یا نبی یا نبی ۔۔۔۔ لبیک لبیک، یا رسول یا رسول اور غازی صاحب کی حمایت میں بھر پور نعرے بلند کئے گئے۔ مشترکہ سٹیج پر تحریک ناموس رسالت کے رہنماؤں نے خطابات کئے جن میں غازی صاحب کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا گیا۔ تحریک ناموس رسالت کے رہنماؤں نے راقم اور سید امتیاز حسین شاہ صاحب کی حمایت میں بھی خطابات کئے جن میں حکومت کو باور کروایا گیا کہ وہ ہوش کے ناخن لے۔ اور علماء کو دھمکانا بند کر دے، اس وقت پورا ملک ناموس رسالت قانون کی حمایت میں کھڑا ہے۔ اور اگر حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو عوام کا یہ سمندر انہیں عہدوں سمیت بہا کر لے جائے گا۔

شرکائے ریلی میں اچانک اس وقت ہلچل مچ گئی کہ جب اچانک سٹیج پر مصلح امت پیر

صفحہ 110

سید حسین الدین شاہ صاحب جلوہ گر ہوئے ۔ اللہ اللہ کا ذکر شروع ہوا اور نعرہ تکبیر ونعرہ رسالت اور دیگر جوشیلے نعروں سے عجیب سماں بندھ گیا۔ حضور مصلح امت کے ساتھ تنظیم علماء ضیاء العلوم کے مرکزی نگران جناب سید انعام الحق شاہ صاحب ضیائی بھی شریک ہوئے ۔ قبلہ سید انعام الحق شاہ صاحب ضیائی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ اللہ کے نبی کا فیصلہ ہے کہ جو جس سے محبت کرتا ہے اسی کے ساتھ ہوگا ۔ سلمان تاثیر کو عاصیہ مسیح کے ساتھ محبت تھی اسے اس کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور ممتاز قادری کو آقائے دو جہاں رحمت عالم ، جانِ کائنات سے محبت ہے اس کو حضور ﷺ اپنے دامنِ کرم میں پناہ دیں گے ۔ اب فیصلہ آپ لوگوں کے ہاتھ میں ہے کہ آپ گورنر کی حمایت کرتے ہیں یا غازی ممتاز کی ۔

سب سے آخر میں حضور مصلح امت شیخ الحدیث والتفسیر پیر سید حسین الدین شاہ صاحب جب خطاب کے لئے تشریف لائے تو جذبات کے اظہار کی اس کیفیت کا بیان نہیں کیا جاسکتا قبلہ شیخ الحدیث والتفسیر نے اس شعر سے اپنی گفتگو کا آغاز فرمایا ۔

مسلمانو ! ذرا میداں میں نکلنا سیکھو
دشمن دین محمد کو کچلنا سیکھو

اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ:

میرے بھائیو ، میرے دوستو ! انہیں جذبات کو سلامت رکھو یہ علماء اور یہ بوڑھا آپ کے ساتھ ہوگا میں بڑھاپے میں ہوں اور علماء کی موجودگی میں کہتا ہوں جوانو اٹھو ہم بوڑھے آپ کے ساتھ ہیں فکر نہ کریں اللہ کا فضل ہے عمر میں بڑھاپا ہے ایمان میں جوانی اور ترقی ہے اور میں مجاہد ناموسِ رسالت محترم غازی ملت ممتاز حسین قادری کی عظمت و جرات کو سلام پیش کرتا ہوں میں اس کی قادری نسبت کو سلام پیش کرتا ہوں میں اس کے کردار کو سلام پیش کرتا ہوں اس نے ہم سب کی طرف سے کفارہ ادا کردیا ہے ہم حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ ہوش کے ناخن لے آج روم کے پاپ کی طرف

صفحہ 111

سے دشنام درازی ہورہی ہے امریکی پادری کی طرف سے ہرزہ سرائی ہورہی اور ساتھ ساتھ سلمان تاثیر کی فیملی کی طرف سے گستاخانہ بیانات جاری ہورہے ہیں حکومت ان چیزوں کی رکاوٹ کا بندوبست کرے اور آپ لوگ بھی بیدار رہیں۔ ہم اللہ کے توکل اور بھروسہ پر کہتے ہیں کہ ہم کسی شخص کو ذرا برابر بھی انسداد توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کی اجازت نہیں دیں گے۔ جو لوگ یہ کہتے تھے کہ سلمان تاثیر نے 295C کے خاتمے کی بات نہیں کی بلکہ اسے غلط استعمال کی بات کی تھی ان کا کہنا یوں غلط ثابت ہوا کہ گورنر کی بیٹی نے ان سب کے منہ پر جوتا مارا ہے اس نے اپنے حالیہ انٹرویو میں اقرار کیا ہے کہ میرا والد نہ صرف توہین رسالت ایکٹ کے خلاف تھا اور اسے ختم کرنا چاہتا تھا بلکہ تمام مسلمانوں کے متفقہ نظریے اور اس گورنر کی پارٹی اور قائد ذوالفقار علی بھٹو کے دور کا بنا ہوا قانون کہ جو ہمارا ایمان بھی ہے کہ جس میں مرزائیوں کو کافر اور اقلیت قرار دے دیا گیا تھا وہ اسے بھی ختم کرنا چاہتا تھا۔ اب بتاؤ جو مرزائیوں کا یار ہے وہ غدار ہے یا نہیں ہے۔ بات جذبے اور اخلاص کی ہے دیکھیں میں بدگمانی نہیں کرتا ہمارے وزیر داخلہ رحمٰن ملک کو سورۃ اخلاص یاد ہو یا نہ ہو اس نے بھی کہہ دیا ہے کہ اگر کوئی میرے سامنے بھی توہین کرے گا میں اسے گولی مار دوں گا۔ اگر وزیر داخلہ کا یہ جذبہ ہے تو عام مومنوں کا جذبہ کیا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ آپ کے اس جذبہ محبت کو سلامت رکھے۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمارے ساتھ قادری صاحب کے والد گرامی بھی موجود ہیں اور ان کے بھائی بھی موجود ہیں اللہ تعالیٰ ایسے بیٹے ہر ایک کو عطا کرے۔ میں دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ آپ تمام کو اجر جزیل عطا فرمائے۔ اور میڈیا کے لوگوں کو بھی نوازے جو ہمارے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور اُن حواس باختہ میڈیا اراکین کو ہدایت دے جنہیں روم میں 50 عورتوں کی ریلی نظر آجاتی ہے اور کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کی ان کے ہاں کوئی اہمیت نہیں۔ اللہ ہم سب کو اخلاص عطا فرمائے۔

پوپ کی ہرزہ سرائی کے خلاف مظاہرے

پوپ بینی ڈکٹ نے قانون انسداد توہین رسالت کے خلاف ہرزہ سرائی کی تھی اور اس کو ختم کرنے کا

صفحہ 112

مطالبہ کیا تھا۔ پوپ کی ہرزہ سرائی کے خلاف اور ممتاز قادری کی حمایت میں ملک بھر میں مظاہرے کئے گئے 15 جنوری کی اخباری خبر کے مطابق لاہور....... آزاد کشمیر....... کوئٹہ....... سکھر....... میاں چنوں....... فیصل آباد....... چناب نگر....... ساہیوال....... قصور....... شکر گڑھ....... منڈی بہاؤ الدین ....... کراچی....... حیدر آباد، مانسہرہ، سمیت پورے ملک کے بڑے چھوٹے شہروں میں مختلف مذہبی و سیاسی تنظیموں کی طرف سے مظاہرے کئے گئے۔ سنی اتحاد کونسل....... شباب اسلامی....... تنظیم علماء ضیاء العلوم....... جماعت اسلامی....... سنی تحریک....... تحریک ختم نبوت....... جمعیت علماء پاکستان....... جے یو آئی....... سمیت مختلف تنظیموں نے ملک بھر میں قادری صاحب کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی جلد رہائی کا مطالبہ پیش کیا۔

شباب اسلامی ہزارہ ڈویژن کی طرف سے بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ ایبٹ آباد فوارہ چوک میں کیا گیا جس کی قیادت مفتی نذیر احمد قریشی، سید ضیاء حسین شاہ، محمد زرداد چشتی، علامہ نذیر احمد سیفی، علامہ سید نثار حسین شاہ، علامہ ظہیر جاوید قریشی نے کی۔ شباب اسلامی کے کارکنوں نے دو گھنٹے شاہراہ ریشم کو بلاک کئے رکھا اس کے علاوہ اسی روز شباب اسلامی مظفر آباد، بھیرہ آزاد کشمیر، شباب اسلامی بہاولپور، شباب اسلامی لاہور، شباب اسلامی بہارہ کہو اسلام آباد یونٹ کی جانب سے بھی مختلف مقامات پر ریلیوں کا اہتمام ہوا۔ ان تمام مظاہروں میں قادری صاحب کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور شباب اسلامی کے مرکزی قائدین کو ہراساں کرنے اور ان کی گرفتاری کی کوششوں اور پوپ کی ہرزہ سرائی کی بھی مذمت کی گئی۔

غیرت بڑی چیز ہے جہان تگ و دو میں

14 جنوری جمعۃ المبارک کے دن لاکھوں لوگوں کے سڑکوں پر آنے اور غازی کی حمایت اور پوپ کی مذمت کے باعث امریکی ایوانوں تک اثر ہوا چنانچہ امریکی کانگریس کے چار ارکان نے ہیلری کلنٹن کو خط لکھا کہ ممتاز قادری کی حمایت کرنے والے صحافی، علماء اور وکلاء کو امریکہ کا ویزہ جاری نہ کیا جائے۔ اس کے ردعمل میں علماء اور دیگر لوگوں کی طرف سے بیان جاری ہوئے کہ

ہماری نظر میں امریکہ کے بجائے ”گنبد خض ویزوں پر لعنت بھیجتے ہیں۔ صحافیوں کی طرف سے بھی اس کا ردعمل سا تبصرہ کیا ان کا بروز پیر 24 جنوری کا کالم پ اور کامل ایمان والے صحافی نے کیا جواب دی

”ایک انگریزی اخبار کے مطابق ام کچھ سیاسی و مذہبی رہنماؤں، صحافی لگائی جائے کیونکہ ان کا سلمان تاثی گزشتہ ہفتے چھپنے والی اس خبر کو پڑ کے ذریعے مشورہ دیا کہ اگر یہ خبر ص تاثیر کے قتل کی حمایت نہیں کی اور ن صحافی دوست کو جواب لکھا کہ جہاں ت ly give it a damn اس خبر کی ساکھ کے حوالے سے م ہیں کہ یہ خبر شاید اخبار یا حکومت ک بھی نہیں سکتا کہ میں امریکیوں کو قتل پر کیا کہا اور جو کہا اس کا کیا م اور آج بھی میں اپنے ایک ایک ل بعد کہا اور لکھا۔ میں اس عمل کو ا ہوں کہ میں کسی دوسرے ملک ا رائے پر وضاحتیں دیتا پھروں اور نہیں بلکہ ایک دینی اور مذہبی مع اپنے مذموم مقاصد کے لئے است کے قانون میں مغربی طاقتوں ک

صفحہ 113

ہماری نظریں امریکہ کے بجائے ”گنبد خضریٰ“ پر لگی ہیں۔ ایمان کے بدلے ملنے والے امریکی ویزوں پر لعنت بھیجتے ہیں۔

صحافیوں کی طرف سے بھی اس کا ردعمل سامنے آیا، روزنامہ جنگ کے مشہور کالم نگار نے اس پر کیا تبصرہ کیا ان کا بروز پیر 24 جنوری کا کالم بعنوان ”کس سے منصفی چاہیں“ پڑھئیے ایک غیرت مند اور کامل ایمان والے صحافی نے کیا جواب دیا محترم جناب انصار عباسی صاحب لکھتے ہیں۔

”ایک انگریزی اخبار کے مطابق امریکی حکومت جائزہ لے رہی ہے کہ پاکستان کے کچھ سیاسی ومذہبی رہنماؤں، صحافیوں اور کئی علمائے کرام پر امریکن ویزے کی پابندی لگائی جائے کیونکہ ان کا سلمان تاثیر کے قتل پر ردعمل امریکہ کی خواہش کے مطابق نہ تھا گذشتہ ہفتے چھپنے والی اس خبر کو پڑھ کر ایک صحافی دوست نے مجھے ایک موبائل پیغام کے ذریعے مشورہ دیا کہ اگر یہ خبر صحیح ہے تو ہمیں یہ واضح کرنا چاہئیے کہ ہم نے سلمان تاثیر کے قتل کی حمایت نہیں کی اور نہ ہی اس اقدام کو سراہا۔ میں نے فوری طور پر اپنے صحافی دوست کو جواب لکھا کہ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے مجھے اس کی کوئی پروا نہیں۔ As for as I am concerned a simply give it a damin اس خبر کی ساکھ کے حوالے سے سوال اٹھائے جارہے ہیں اور یہ بھی اشارے مل رہے ہیں کہ یہ خبر شاید اخبار یا حکومت کی خواہش ہے مگر میں ذاتی طور پر ایک لمحہ کیلئے یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ میں امریکیوں کو وضاحت پیش کروں گا کہ میں نے سلمان تاثیر کے قتل پر کیا کہا اور جو کہا اس کا کیا مقصد ہے۔ مجھے امریکی ویزے سے کوئی سروکار نہیں اور آج بھی میں اپنے ایک ایک لفظ پر قائم ہوں جو میں نے سلمان تاثیر کے قتل کے بعد کہا اور لکھا۔ میں اس عمل کو اپنے لئے بے عزتی اور بے غیرتی کے مترادف سمجھتا ہوں کہ میں کسی دوسرے ملک اور خاص طور پر امریکی ویزا کے حصول کیلئے اپنی کسی رائے پر وضاحتیں دیتا پھروں اور خاص طور پر ایک ایسے مسئلہ پر جو محض ایک قتل کا واقعہ نہیں بلکہ ایک دینی اور مذہبی معاملہ بن کر ابھر چکا ہے اور جس کو امریکہ سمیت مغرب اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے تاکہ پاکستان میں ناموس رسالت کے قانون میں مغربی طاقتوں کی مرضی ومنشاء کے مطابق ترامیم کی جاسکیں۔ میں

صفحہ 114

امریکی ومغربی ممالک کے ویزوں ڈالروں اور ان کی طرف سے دیئے جانے والے ایوارڈز کے بدلے اپنے ایمان کا سودا نہیں کر سکتا۔ میری اپنے اللہ سے ہمیشہ یہ دعا ہے کہ وہ مجھے اسلام کی زندگی اور ایمان کی موت نصیب کرے اور یقینا اسلام کی زندگی وہ نہیں جو ہمیں امریکہ سکھانا چاہتا ہے۔ ہر مسلمان ہر نماز کی ہر رکعت میں اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم پر چلنے کی دعا کرتا ہے نہ کہ ان کے رستے پر جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا (یہودی) اور جو سیدھے رستے سے بھٹک گئے (نصاریٰ)۔ ہم مسلمانوں میں بہت سے اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ مغرب و امریکہ جو کر رہے ہیں وہ ہماری بہتری اور مسلمانوں سے محبت کے لئے ہے مگر میں اپنے رب کی اس بات کو کیسے جھٹلا سکتا ہوں کہ یہود و نصاریٰ اور کافر مسلمانوں کے کبھی دوست نہیں ہو سکتے اور یہ کہ ان اسلام دشمنوں کی زبان میں جو بغض اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کو ماننے والوں کے خلاف ہے وہ اس سے کہیں کم ہے جو ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے۔ ہم مسلمانوں کو تو اس وقت ان حالات کا سامنا ہے جس کا اشارہ میرے پیارے نبی ﷺ نے چودہ سو سال قبل دے دیا تھا۔ حدیث میں آتا ہے آپ ﷺ نے اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم سے فرمایا کہ میری امت پر ایک وقت آنے والا ہے جب غیر مسلم باقی غیر مسلم اقوام کو اس طرح بلائیں گے جس طرح لوگ ایک دوسرے کو دستر خوان پر کھانے کے لئے بلاتے ہیں اور مسلمانوں کو چن چن کر کھائیں گے۔ صحابہ حیران ہو کر عرض کرتے ہیں یا رسول ﷺ کیا ہم تعداد میں اتنے تھوڑے ہو جائیں گے۔ فرمایا نہیں تم سمندر کی جھاگ کی طرح ہو گے لیکن تمہارے اندر ”وھن“ کی بیماری آجائے گی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا یا رسول اللہ ”وھن“ کیا ہے جواب میں ارشاد فرمایا دنیا سے محبت اور موت کا ڈر۔

آج مسلمانوں کو چن چن کر مارا جا رہا ہے اور مارنے والوں کی سربراہی امریکا کر رہا ہے کیا یہ سچ نہیں کہ عراق اور افغانستان میں امریکا نے 20 لاکھ سے زیادہ معصوم مسلمان بچوں، عورتوں، بوڑھوں اور دوسرے معصوموں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے اور اب اس قتل و غارت کا شکار پاکستان کے قبائلی علاقہ میں رہنے والے ہمارے مسلمان بھائی اور بچے ہیں۔ کیا کوئی مسلمان طاغوتی قوتوں کو خوش کرنے کے لئے

صفحہ 115

اپنے دین کو بیچنے کے لئے تیار ہو سکتا ہے ۔ کیا ایک مسلمان صحافی کو یہ کہنے کا حق حاصل نہیں کہ امریکہ ریاستی دہشتگردی کر رہا ہے اور اپنے مذموم مقاصد کے لئے مسلمانوں کو مار رہا ہے ۔ میں اپنے اللہ کا حشر کے روز کیسے سامنا کر سکتا ہوں اگر میں امریکہ کی خوشنودی کیلئے عراق و افغانستان میں جہاد کرنے والوں کو دہشتگرد کہنا شروع کر دوں ۔ میں اپنے پیارے نبی ﷺ کی شفاعت کا کیسے حق دار ہو سکتا ہوں اگر میں رسول پاک ﷺ کی حرمت کے سوال پر قرآن وحدیث کے ان واضح اصولوں سے نظریں چرا لوں جن کے مطابق حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کی سزا موت (قتل) ہے میں اپنی دنیا بنانے کے لئے اور امریکی ویزا اور گرین کارڈ کے حصول کی خاطر سلمان تاثیر کے قتل کو اسلام دشمن قوتوں کی خواہش پر قانون ناموس رسالت تبدیل کرنے کے لئے کیسے استعمال کر سکتا ہوں ۔ سلمان تاثیر کے قتل کا مسئلہ اس وقت عدالت کے سامنے ہے مگر کون نہیں جانتا کہ پوپ ہو یا یورپی یونین اور امریکہ اپنی مرضی کی تبدیلیاں لانے کیلئے استعمال کر رہے ہیں ۔ اس مسئلہ سے قطع نظر اللہ کا شکر ہے کہ مجھے کبھی امریکہ جانے کی خواہش ہوئی اور نہ زندگی میں کسی ایمبیسی میں قطار میں کھڑے ہو کر ویزا لینے کی ضرورت محسوس ہوئی اگر کسی نے عزت کے ساتھ بلایا تو اگر مناسب سمجھا تو چلے گئے ورنہ انکار کر دیا ۔ 2008ء میں ایک امریکی ادارے نے مجھے ایک ماہ کے لئے امریکا کے دورہ کی دعوت بھیجی ۔ ویزا اور ٹکٹ بھی دے دیا ۔ مگر میں نے امریکا کے دورہ سے انکار کر دیا کیونکہ ان دنوں امریکی ڈرون حملوں کے علاوہ امریکی کمانڈوز نے پاکستان کے قبائلی علاقہ میں پہلا گراؤنڈ آپریشن کیا اور معصوم بچوں اور خواتین کو شہید کر دیا ۔ میں نے احتجاجاً امریکا جانے سے انکار کر دیا اور لکھ کر اپنے امریکی میزبانوں کو یہ بھیجا کہ آپ کا اصل چہرہ بے حس قاتلوں والا ہے ۔ اس سے قبل 2003ء میں مجھے امریکا جانے کا موقع ملا ۔ جس روز میں امریکا پہنچا مجھے ائیر پورٹ پر تقریباً دو ڈھائی گھنٹے روکا گیا ہوٹل آمد پر اپنی کہانی لکھ کر اپنے اخبار د ی نیوز کو بھجوانے لگا تو مجھے امریکا کے محکمہ خارجہ کی ایک میزبان خاتون نے کہا کہ میں ایسا کچھ نہیں لکھ سکتا کیونکہ اس سے ان کے پورے پروگرام پر برا اثر پڑ سکتا ہے ۔ اس پر میں نے محکمہ خارجہ کی میزبان خاتون کو کہا کہ امریکی آئین کی آزادی رائے سے

صفحہ 116

متعلق پہلی ترمیم (First Amendment) پر فخر کرنے والا امریکا ایک پاکستانی صحافی کو اپنی روداد لکھنے سے کیسے روک سکتا ہے۔ میں نے اس خاتون کو صاف صاف انداز میں کہہ دیا کہ میں ہر حالت میں اپنے اخبار کیلئے لکھوں گا چاہے مجھے اس پروگرام سے ڈراپ کر دیا جائے اور واپس پاکستان جانا پڑے۔ اس پر اس خاتون کے پاس کوئی جواب نہ تھا اور میں پورے دورے کے دوران امریکہ کے Double Standards اور مسلمانوں سے امتیازی سلوک پر لکھتا رہا۔ ہم صحافیوں کے پاس بندوق ہے اور نہ ایٹم بم، ہم تو صرف اپنے مشاہدے، معلومات اور تجزیات کی بنیاد پر لکھتے ہیں اور بولتے ہیں۔ کوئی اگر یہ کہے کہ ہم وہ سچ بولیں جو امریکا بہادر کی مرضی و منشاء کے مطابق ہو تو اللہ ایسا دن کم از کم میری زندگی میں نہ لائے۔

(روزنامہ جنگ راولپنڈی بروز پیر 24 جنوری 2011ء)

قارئین! گورنر قتل کیس کے دوران بہت سارے شرفاء بے نقاب ہوئے ہیں کہ جن کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ اور انہی شرفاء میں بے شمار صحافی بھی ہیں۔ مگر انصار عباسی صاحب صحافتی حلقوں میں ایک ایسا انسان سامنے آیا ہے جس نے اپنے کالموں اور ٹی وی پروگرامز کے ذریعے نبی کریم ﷺ کی غلامی کا صحیح حق ادا کیا ہے۔ ہم لوگ کسی کو اور تو کچھ نہیں دے سکتے لیکن انصار عباسی جیسے غلامان محمد ﷺ کیلئے اپنے رب کے حضور دعا میں کنجوسی نہیں کرتے اور اتنا ہی کہتے ہیں کہ ان جیسے محب وطن اور غیور عاشقوں کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ ثابت قدم رکھے، اللہ تعالیٰ انصار عباسی جیسے لوگوں کا اقبال بلند فرمائے جو دین متین کے عظیم سپاہی ہیں۔

دفعہ 109 کے تحت باضابطہ شامل کرنے کا فیصلہ

گورنر کے حمایتیوں اور سیکولر انتہا پسندوں نے ملک میں ممتاز حسین قادری کی حمایت کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لئے باضابطہ طور پر راقم اور سید امتیاز حسین شاہ کو دفعہ 109 کے تحت شامل کرنے اور گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ علماء اور عوام ڈر کر قادری صاحب کی حمایت کے عمل کو ترک کر دیں۔ اس فیصلے کی خبر کی اشاعت کے بعد اگلے دن لاہور، گڑھی حبیب

صفحہ 117

اللہ ، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں شباب اسلامی کے کارکنان نے احتجاجی مظاہرے کئے ۔ اور حکومت کو خبر دار کیا کہ اگر قائدین شباب اسلامی کو گورنر قتل کیس میں پھنسایا گیا تو پھر ملک میں امن نہیں رہے گا۔

دوسری طرف اسی روز مختلف قومی اخبارات میں مختلف مذہبی و سیاسی تنظیموں اور سیاسی شخصیات کی طرف سے حکومت کی طرف سے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جانے کی مذمت کی گئی ۔ بزم نعیمیہ پاکستان سنی تحریک، سنی اتحاد کونسل اور دیگر مذہبی و سیاسی تنظیموں نے حکومت کو باور کروایا کہ مفتی حنیف قریشی اور سید امتیاز شاہ کی ، ماورائے قانون گرفتاری مہنگی پڑے گی۔

ادھر جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کی طرف سے 21 جنوری بروز جمعۃ المبارک پوپ کی ہرزہ سرائی کے خلاف اور ممتاز حسین قادری کے حق میں احتجاجی ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا گیا صاحبزادہ + فضل کریم صاحب کی اپیل پر قبلہ شاہ صاحب نے ریلی سنی اتحاد کونسل کے نام سے کرنے کی منظوری دے ڈالی ۔

راقم اور سید امتیاز حسین شاہ صاحب کے خلاف پروپیگنڈہ تیز ہوا تو راقم سے مختلف قومی اخبارات نے اپنا موقف دریافت کیا چنانچہ ، روزنامہ نوائے وقت ، روزنامہ اوصاف ، روزنامہ جناح ، روزنامہ جنگ اور دیگر اخبارات میں ہماری طرف سے یوں وضاحت کی گئی:

شباب اسلامی پاکستان کے سربراہ مفتی محمد حنیف قریشی نے کہا ہے کہ تحفظ ناموس رسالت کا قانون ملک کی بقاء کا ضامن ہے گورنر سلمان تاثیر نے قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے ناموس رسالت ایکٹ کو کالا قانون قرار دیا تھا جس کے ردعمل کے طور پر ممتاز قادری نے جذبہ ایمانی میں آکر یہ اقدام اٹھایا اسے مشتعل کیا گیا تھا اگر گورنر پنجاب ایسا بیان نہ دیتے تو ممتاز قادری ایسا ہرگز نہ کرتا اب معاملہ عدالت میں ہے دیکھتے ہیں اس مقدمے کا وہ کیا فیصلہ سناتی ہے ممتاز قادری کے اہل وعیال کا خیال رکھا جائے گا۔ میں نے گورنر کو واجب القتل قرار نہیں دیا اور نہ ہی ایسا کوئی بیان دیا ۔ 21 نومبر

صفحہ 118

23 نومبر اور 4 دسمبر کو علمائے کرام کی طرف سے گورنر کے خلاف فتوے آئے جس میں انہوں نے سلمان تاثیر کو کافر قرار دیا تھا میرے 31 دسمبر کے جس جلسے کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے وہ ممتاز قادری کے گھر کے قریب ہوا تھا اور اس میں ممتاز قادری نے نعت پڑھی تھی اس کے علاوہ میری اس سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی اس جلسے میں میں نے گورنر پنجاب کو قتل کرنے کی کوئی بات کی میں نے صرف تحفظ ناموس رسالت کے قانون کے حق میں بات کی مجھے صرف ہراساں کیا جارہا ہے پولیس کے کسی آفیسر نے مجھ سے ملاقات نہیں کی تاہم جلسے کی وڈیو تفتیشی اداروں کے حوالے کر دی گئی ہے۔ اگر میرے خلاف بیس مقدمات بھی قائم کر دیے جائیں تو میں یہی کہوں گا کہ توہین رسالت کی سزا صرف اور صرف موت ہے۔ قانون توہین رسالت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ قانون ختم کر دیا جائے تو پھر جو آدمی گستاخی رسول کا مرتکب ہو گا عاشقان مصطفیٰ اسے اپنے ہاتھ سے کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں مفتی حنیف قریشی نے کہا کہ اس تحفظ ناموس رسالت قانون کے غلط استعمال کا بہانہ بنا کر گستاخوں کے ساتھ نرمی برتنے کے لئے اس قانون میں تبدیلی کی کوشش کی جارہی ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ تحفظ ناموس رسالت کا قانون ملکی بقاء کا ضامن ہے اور گورنر سلمان تاثیر نے اسے کالا قانون کہہ کر اشتعال انگیزی پیدا کی اس کے نتیجے میں ممتاز قادری نے مشتعل ہو کر اور جذبہ ایمانی میں آکر اسے قتل کر دیا۔ ایک بات طے ہے کہ توہین رسالت کی سزا صرف اور صرف موت ہے۔ مفتی حنیف قریشی نے کہا کہ میرا بیان ریکارڈ پر موجود ہے میں نے اس میں گورنر پنجاب کو واجب القتل قرار نہیں دیا۔ میرے بیان سے اگر ممتاز قادری متاثر ہوئے ہیں تو میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں جس میری زبان میں اتنا اثر رکھا ہے۔ میں نے گورنر کو قتل کرنے کے حوالے سے کوئی فتویٰ نہیں دیا البتہ میں نے علماء کے بیانات کے حوالے دیئے ہیں۔ ممتاز قادری کی گرفتاری کے بعد ان کے گھر والوں اور بچے کا ہر لحاظ سے خیال رکھا جائے گا اور مقدمے کی پیروی کے لئے بھی تعاون کریں گے اور ممتاز قادری کی حمایت جاری رکھیں گے کیونکہ اس قتل کے حوالے سے حقیقت معلوم کرنا تو عدالتوں کا کام ہے۔ ہماری نظر میں ممتاز قادری عاشق رسول ہے اس لئے ہم

ہر موقع پر ممتاز قادری کا ساتھ دیں گے کو ممتاز حسین قادری کے حق میں نکا اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے خ شامل مقدمہ کیا جارہا ہے تو پھر م گاڑی پر بٹھا کر اسلام آباد لے ج کیوں نہیں بنایا جارہا ہے۔

صفحہ 119

ہر موقع پر ممتاز قادری کا ساتھ دیں گے۔ ہمارے خلاف پروپیگنڈہ دراصل 7 جنوری کو ممتاز حسین قادری کے حق میں نکالی جانے والی ریلی کے باعث کیا جارہا ہے۔ ہم اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹیں گے چاہے اس کے لئے ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے خطاب کے باعث ہمیں دفعہ 109 کے تحت شامل مقدمہ کیا جارہا ہے تو پھر ممتاز قادری کے ہاتھ میں بندوق پکڑانے اور گاڑی پر بٹھا کر اسلام آباد لے جانے والی پنجاب پولیس کے خلاف یہ مقدمہ کیوں نہیں بنایا جارہا ہے۔

(10 جنوری 2011ء روزنامہ جناح)

☆☆☆

صفحہ 120

﴾علماء و مشائخ کانفرنس ۔۔۔۔ علماء کو تقسیم کرنے کی سازش﴿

پورے ملک میں بچہ بچہ غازی صاحب کی حمایت میں کھڑا ہو گیا اس بات کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ تحریک صوبہ ہزارہ کا جلسہ بابا حیدر زمان کی قیادت میں مانسہرہ میں 16 جنوری کو ہوا ہزاروں افراد اس میں شریک ہوئے اس جلسے میں صوبہ ہزارہ کے مطالبے کے ساتھ ساتھ ممتاز قادری کی حمایت کا بھی اعلان ہوا۔ ملک بھر میں جاری ناموس رسالت کے قانون کے حق میں مظاہرے اور غازی صاحب کی حمایت کی تحریک نے حکمرانوں کی آنکھیں کھول دیں۔ اس دباؤ کو کم کرنے اور حکومتی زور پر علماء کے مابین تفریق پیدا کرنے کے لئے وزیر اعظم نے ”علماء و مشائخ کانفرنس“ کا اعلان کیا۔

قبلہ مصلح امت پیر سید حسین الدین شاہ صاحب نے وزارت مذہبی امور کی طرف سے بلائی گئی علماء و مشائخ کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں اس توقع کا اظہار کیا کہ قابل احترام علماء و مشائخ کے کسی قول و فعل سے ایسا تاثر پیدا نہیں ہو گا جس کا سہارا لے کر ممتاز حسین قادری کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ خدانخواستہ اگر ایسا ہوا تو اللہ تعالیٰ اور جان ایمان، شافع محشر ﷺ کے حضور شرمندگی ہو گی اور امت مسلمہ کی نگاہوں میں بھی مشکوک ٹھہریں گے امید ہے علماء اپنے وقار کا خیال رکھیں گے۔ علماء و مشائخ کو چاہئے کہ اس مسئلہ کو زیر بحث لائیں کہ جس شخص کی ناموس کو اتنا تحفظ حاصل ہو کہ اس کی حرکت پر نہ تو مقدمہ درج کرایا جا سکتا ہو نہ ہی اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکتا ہو تو کیا ایسے شخص کو تحفظ ناموس رسالت کے قانون کو ”کالا قانون“ کہنے کی شرعاً اجازت ہے؟ ایسے شخص کے لئے کیا حکم ہے؟ ایسے شخص کو قانون کی گرفت میں کیسے لایا جا سکتا ہے۔ کیا کسی شخص کو اتنا مقدس یا معصوم بنایا جا سکتا ہے؟ کیا اس سسٹم کو بدلنے کی ضرورت نہیں علماء و مشائخ اس پر بھی بحث کریں کہ مجاہد ناموس رسالت ممتاز حسین قادری کے ایمانی فیصلہ اور استقامت پسندانہ اعتراف کہ ”میں نے مذہبی فریضہ سمجھ کر قدم اٹھایا ہے تاکہ مجھے رسول اللہ ﷺ اپنی غلامی میں قبول فرمالیں یہ میرے ایمان نے خود فیصلہ کیا ہے کوئی دوسرا اس

میں شریک نہیں ہے“ کے باوجود سیاسی م اور علماء کرام کو ہراساں کرنا، انہیں مقدم مولانا سید حسین الدین شاہ صاحب نے منشیات کی برآمدگی اور پولیس مقابلے میں عدالتی فیصلہ کے بغیر جیلوں میں بند نہیں طرف توجہ کیوں نہیں دے رہے؟ صر کمیٹیاں تشکیل دینا کیوں اور کس کو خوش ک

قبلہ شاہ صاحب کے کانفرنس م کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا سع پر آنے کا شوق تھا، شاہ صاحب کی اپیل سے وضاحتیں طلب کیں۔ چنانچہ وزیر کوئی ترمیم نہ ہو گی اور نہ ہی اس سلسلے بعد عاشقان مصطفیٰ کچھ پرسکون ہوئے کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی کے خاتمے

قبلہ شاہ صاحب کے کانفرن کے علماء نے وزارت مذہبی امور کے دیوبندیوں کی طرف سے پیر عزیز ہی ممتاز حسین قادری کے اقدام کی حوالے سے قبلہ پیر سید حسین الدین دیوبندی علماء نے بھی انہی خدشات حکومت ناموس رسالت قانون میں تر

صفحہ 121

میں شریک نہیں ہے“ کے باوجود سیاسی مخالفوں پہ دباؤ بڑھانے کیلئے اسے سیاسی قتل یا سازش کہنا اور علماء کرام کو ہراساں کرنا، انہیں مقدمہ میں پھنسانے کی کوشش کرنا کیا اسلامی رواداری ہے؟ مولانا سید حسین الدین شاہ صاحب نے کہا کہ آئے دن قتل، چوری، ڈکیتی، اغواء ناجائز اسلحہ، منشیات کی برآمدگی اور پولیس مقابلے جیسے الزام لگا کر بے گناہوں کو سزائیں نہیں دی جارہی ہیں؟ عدالتی فیصلہ کے بغیر جیلوں میں بند نہیں رکھا جا رہا؟ مغرب زدہ روشن خیال اس کی اصلاح کی طرف توجہ کیوں نہیں دے رہے؟ صرف تحفظ ناموس رسالت کے قانون پر بحث کرنا اس کیلئے کمیٹیاں تشکیل دینا کیوں اور کس کو خوش کرنے کیلئے ہے؟

(نوائے وقت اسلام آباد 17 جنوری)

قبلہ شاہ صاحب کے کانفرنس میں انکار کے بعد راولپنڈی اسلام آباد کے تمام سنی علماء نے کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا سوائے ان علماء کے کہ جن کی کوئی سیاسی مجبوری تھی یا ٹیلی ویژن پر آنے کا شوق تھا، شاہ صاحب کی اپیل پر علماء و مشائخ کانفرنس میں علماء نے کھل کھلا کر وزیراعظم سے وضاحتیں طلب کیں۔ چنانچہ وزیراعظم نے اعلان کیا کہ ناموس رسالت قانون میں کسی قسم کی کوئی ترمیم نہ ہوگی اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ وزیراعظم کے اس اعلان کے بعد عاشقان مصطفیٰ کچھ پرسکون ہوئے تاہم علماء نے اس اعلان کو وقتی قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ صدر کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی کے خاتمے کا واضح اعلان نہ ہونے تک احتجاج جاری رہیگا۔

قبلہ شاہ صاحب کے کانفرنس میں انکار کرنے کے بعد اگلے روز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے علماء نے وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا دیوبندیوں کی طرف سے پیر عزیز الرحمٰن ہزاروی، وہ شخصیت ہیں کہ جنہوں نے پہلے دن سے ہی ممتاز حسین قادری کے اقدام کی کھلی حمایت کی ہے۔ علماء و مشائخ کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے قبلہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب نے جن خدشات کا اظہار پہلے ہی کر دیا تھا۔ دیوبندی علماء نے بھی انہی خدشات کے پیش نظر اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کیا اور کہا کہ حکومت ناموس رسالت قانون میں ترمیم کرنے کے لئے راستہ ہموار کرنا چاہتی ہے اور یہ اس مہم کی

صفحہ 122

ایک کڑی ہے۔ (ایکسپریس 18 جنوری)

ادھر اسی روز جہلم میں مرکزی سنی علماء کونسل کے رہنما قاری ذکاء اللہ سعیدی سید خلیل شاہ صاحب اور شباب اسلامی جہلم کے صدر حافظ عبد الباسط صاحب کی قیادت میں غازی صاحب کی حمایت میں ریلی نکالی گئی جس میں جماعت اہل سنت پاکستان اور شباب اسلامی پاکستان جہلم کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی بھر پور شرکت کی۔ (نوائے وقت 17 جنوری 2011ء)

﴿ ممتاز حسین قادری صاحب کی سروس بک کا معائنہ ﴾

اسی روز ممتاز قادری کی سروس بک کا معائنہ کیا گیا جس کے مطابق : سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر قتل کیس کی پنجاب پولیس کی سطح کی تفتیش میں کئی پہلوؤں کا احاطہ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ۔ سابق گورنر کے قتل میں گرفتار ایلیٹ فورس کے کانسٹیبل ممتاز قادری کے سروس ریکارڈ کا ایکسرے کیا جا رہا ہے ۔ جس میں ان ذمے دار افسران نے عملے کے اہلکاروں کے رول کی بھی چھان پھٹک کی جا رہی ہے جو مختلف مراحل میں ممتاز قادری کی سروس میں اس کے ریکارڈ چیک کرتے رہے ۔ کانسٹیبل ممتاز قادری بیج نمبر c/699 دس اپریل 2008ء کو ڈائریکٹر مانیٹرنگ احتشام انور کے دستخطوں سے ضلع پولیس سے ایلیٹ فورس میں ٹرانسفر کیا گیا ۔ 28 اپریل 2008ء کو بٹالین نمبر 98 میں تعینات کیا گیا اور ایلیٹ کے اہلکار کے طور پر ممتاز قادری کی خدمات ضلع پولیس راولپنڈی کو 30 اپریل کو باضابطہ طور پر فراہم کی گئیں ۔ پنجاب پولیس کی سطح کی تفتیش میں اس پہلو کو سامنے رکھا جا رہا ہے کہ سابق ایس ایس پی سپیشل برانچ ناصر خان درانی نے اپنے دستخطوں سے 5 اگست 2004ء کو ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں سپیشل برانچ میں کام کرنے والے گیارہ اہلکاروں کو جو پنجاب کانسٹیبلری سے سپیشل برانچ میں آئے تھے ان کو مختلف مذہبی تنظیموں کی بناء پر واپس بھجوانے کا حکم جاری کیا گیا ان گیارہ اہلکاروں میں ممتاز قادری کا نام فہرست میں گیارہویں نمبر پر تھا ۔ محکمانہ انکوائری میں اس بات کو مد نظر رکھا جا رہا ہے کہ سپیشل برانچ

صفحہ 123

راولپنڈی کے سابق سربراہ کے اس نوٹیفکیشن کے بعد ممتاز حسین قادری کا چناؤ ایلیٹ فورس میں ہوا تو کیا اس وقت وہ رپورٹ کس طرح سے دیکھی گئی تھی۔ گورنر کے قتل کے بعد پنجاب پولیس اس پہلو کو باریک بینی سے دیکھ رہی ہے کہ کانسٹیبل کس سطح پر چیک کیا گیا تھا۔ اب پنجاب پولیس نے ایلیٹ فورس میں کام کرنے والے کو ضلع پولیس افسر کی نگرانی سے نکال کر ایس ایس پی ہیڈ کوارٹر کی نگرانی میں دینے کا بھی نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

(نوائے وقت 17 جنوری 2011ء)

کیس کمزور کرنے کی سازش

17 جنوری 2011ء ملک ممتاز قادری کے خلاف گورنر کو قتل کرنے کے باعث ان کے خلاف قتل عمد کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اسلام آباد کے ملک ظفر اعوان ایڈووکیٹ نے آئین کی دفعہ 199 کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں ایس ایچ او تھانہ کوہسار کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سلمان تاثیر کے قتل کو قتل ناحق قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کا اطلاق صرف قتل ناحق کی صورت میں ہوتا ہے درخواست میں استدعا کی گئی کہ مسؤل علیہ کو طلب کر کے دریافت کیا جائے کہ ممتاز قادری کے خلاف ایف آئی آر کس آئینی و قانونی اختیار کے تحت درج کی گئی ہے۔

بظاہر یہ درخواست ممتاز قادری صاحب کی حمایت ظاہر کرتی ہے لیکن درحقیقت یہ غازی صاحب کے کیس کو کمزور کرنے کی سازش تھی۔ ہائی کورٹ کے وکیل ملک ظفر اعوان ایڈووکیٹ نے غازی صاحب کے اہل خانہ کی اجازت کے بغیر اور غازی صاحب کے وکلاء کی مشاورت سے بالا تر ہو کر یہ درخواست دائر کی جس کا انہیں ہرگز اخلاقی حق نہ تھا۔ بعد ازاں عدالت نے فیصلہ دیا کہ ممتاز حسین قادری نے قانون کو ہاتھ میں لیا ہے لہٰذا اس کے خلاف کیا جانے والا مقدمہ ملکی قانون کے مطابق ہے۔ اس کے بعد ملک ظفر اعوان کی طرف سے انٹرا کورٹ میں اپیل کی گئی جس پر 25 جنوری کو ظفر اعوان ایڈووکیٹ کی جانب سے انٹرا کورٹ میں دی جانے والی درخواست پر

صفحہ 124

فیصلہ محفوظ ہو گیا اور دوران سماعت چیف جسٹس اقبال حمید الرحمن اور جسٹس ریاض احمد خان پر مشتمل بنچ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بے شک گستاخ رسول کی سزا موت ہے تاہم کسی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ بعدازاں اسی پر فیصلہ بھی کر دیا گیا۔

تحفظ ناموس رسالت محاذ کی لاہور میں ریلی

ادھر اسی روز لاہور میں تحفظ ناموس رسالت محاذ کے زیر اہتمام ایک بڑی ریلی داتا دربار سے گورنر ہاؤس تک نکالی گئی ۔ ریلی کی قیادت ڈاکٹر راغب نعیمی، علامہ خادم حسین رضوی، علامہ رضاء المصطفیٰ نقشبندی، علامہ محمد علی نقشبندی، ڈاکٹر اشرف آصف جلالی اور دیگر علماء نے کی۔ اس ریلی میں شباب اسلامی لاہور کے کارکنان حافظ سعید صاحب، سید اسد شاہ صاحب کی قیادت میں شریک ہوئے ۔ اس ریلی میں علامہ محمد علی نقشبندی نے راقم اور سید امتیاز حسین شاہ صاحب کو مذکورہ مقدمے میں پھنسانے کی کوششوں کے خلاف قرارداد پیش کی اور حکومت کو خبردار کیا کہ اگر مفتی حنیف قریشی اور سید امتیاز حسین شاہ کاظمی کو گرفتار کیا گیا تو پھر پورے ملک میں حکومت کے خلاف دمادم مست قلندر ہو گا۔ اس ریلی میں علامہ رضاء المصطفیٰ نقشبندی اور ڈاکٹر اشرف آصف جلالی صاحب نے لوگوں کو خوب گرمایا اس ریلی میں انتہائی قابل قدر جذباتی اور مخلص عالم دین علامہ خادم حسین رضوی اپنی معذوری کے باوجود شریک ہوئے ۔

یاد رہے علامہ خادم حسین رضوی کی شخصیت علماء میں تعارف کی محتاج نہیں ہے آپ غازی صاحب کی حمایتی تحریک میں انتہائی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس اعتبار سے اکثر آپ سے بذریعہ فون تبادلہ معلومات ہوتا رہتا ہے۔

غوث اعظم کا لاڈلا ۔۔۔۔۔ ممتاز حسین قادری

جناب علامہ خادم رضوی نے بتاریخ 20 فروری فون پر بات کرتے ہوئے راقم کو ایک خوش کن خبر سنائی آپ نے سنایا کہ میں جسٹس ریٹائرڈ نذیر اختر صاحب کی کوٹھی پر محفل میلاد میں

صفحہ 125

شریک تھا۔ محفل میں ریٹائرڈ ججز حضرات، وکلاء اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے حضرات نے خراج عقیدت پیش کیا تو محفل پر رقت انگیز اثرات چھا گئے میرے خطاب کے بعد جسٹس ریٹائرڈ نذیر اختر صاحب نے خطاب فرمایا اور اپنے خطاب میں انہوں نے راولپنڈی کے اپنے کسی ریٹائرڈ کرنل صاحب کا تذکرہ کیا کہ گورنر کے قتل سے چند دن پہلے انہوں نے ایک خواب دیکھا کہ وہ ایک جگہ پر موجود ہیں اور وہاں بڑی گہما گہمی ہے یہ کہتے ہیں کہ میں پوچھتا ہوں کہ یہ گہما گہمی کیسی ہے تو جواب ملتا ہے کہ ابھی ابھی محبوب سبحانی حضرت سیدی شیخ عبدالقادر جیلانی کی آمد ہو رہی ہے۔ کیا دیکھتا ہوں اتنے میں آں حضرت تشریف لا رہے ہیں اور جیسے جیسے قریب ہو رہے ہیں۔ نور میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جب قریب آئے ہیں تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان کے کندھوں پر ایک بچہ سوار ہے اور جیسے ہی وہ قریب آئے کیا دیکھتا ہوں کہ وہ بچہ، بچہ نہ رہا بلکہ پورا جوان ہو گیا اس کے بعد میں بیدار ہو گیا اور اس کو محض ایک خواب سمجھا۔ چند دنوں بعد گورنر قتل ہو گیا اگلے دن اخبارات میں غازی ممتاز قادری صاحب کی تصویر چھپی تو میں حیران رہ گیا کہ یہ تو وہی شخص ہے کہ جسے غوث الثقلین نے اپنے کندھوں پر سوار کر رکھا تھا اور جو بچے سے جوان ہوتا مجھے نظر آیا تھا۔

علامہ خادم حسین رضوی تحریک فدایان ختم نبوت کے سرپرست بھی ہیں اور آپ کے زیر سایہ ایک کثیر الاشاعت ماہنامہ ”العاقب“ بھی نکلتا ہے۔ علامہ رضوی صاحب تو گویا غازی صاحب کے دیوانے ہیں۔ آپ اپنی ہر تقریر اور ہر درس میں غازی صاحب کو بھر پور خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ لاہور اور اس کے مضافات اور قریبی اضلاع میں علامہ خادم رضوی صاحب ان چند علماء کے سرخیل ہیں کہ جو غازی صاحب کی حمایتی تحریک کو قریہ قریہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس مرد قلندر کو لمبی زندگی عطا فرمائے اور ان کے اس جذبہ محبت کو سلامت رکھے۔

اسی روز سیکورٹی خدشات کی بناء پر قادری صاحب کیس کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا

صفحہ 126

نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

لاہور سے غلامان مصطفیٰ کی ’غازی ہاؤس‘ حاضری

19 جنوری 2011ء لاہور کے جید علماء کرام جناب علامہ خادم حسین رضوی امیر تحریک فدایان ختم نبوت ، ڈاکٹر اشرف آصف جلالی صاحب جامعہ جلالیہ رضویہ ، پیر قاضی محمود احمد دربار عالیہ اعوان شریف گجرات ، مولانا رضائے مصطفیٰ صاحب ، مولانا غلام عباس فیضی ، مولانا محمد علی نقشبندی اور دیگر علماء کی قیادت میں مدارس کے طلباء علماء اور دیگر افراد کی ایک ریلی غازی صاحب سے اظہار یکجہتی کے لئے لاہور سے غازی ہاؤس پہنچی۔ ریلی کا استقبال ممتاز قادری روڈ (گری روڈ) پر مقامی علماء مولانا عزیز الدین کوکب صاحب ، مفتی سعید احمد ، قاری اشفاق احمد صابری ، مولانا ظفر اقبال جلالی ، قاری شفیق قادری ، مولانا سید عنایت الحق شاہ و دیگر نے کیا۔ ریلی میں سینکڑوں افراد شریک تھے۔ ریلی کے غازی سٹریٹ میں پہنچنے پر شباب اسلامی مسلم ٹاؤن یونٹ کے کارکنان نے غازی صاحب کے مہمانوں کا شاندار استقبال کیا۔ ریلی پر گل پاشی کی گئی اور کارکنان شباب اسلامی نے علماء کرام اور غازی صاحب کے حق میں نعرے بازی کی۔ ریلی غازی صاحب کے گھر کے باہر پہنچ کر جلسے کی شکل اختیار کر گئی۔

شرکاء ریلی سے جناب ڈاکٹر اشرف آصف جلالی صاحب نے خطاب کیا غازی صاحب کے والد گرامی ملک بشیر صاحب کو سٹیج پر بلوا کر ان کی ہار پوشی کی گئی اور غازی صاحب کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

جیل میں اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت

19 جنوری 2011ء قادری صاحب کے اہل خانہ کی طرف سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی کہ ہمیں غازی صاحب سے ملاقات کی اجازت دی جائے جو کہ ہمارا قانونی حق ہے۔ عدالت نے درخواست پر کاروائی کرتے ہوئے اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ اور سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ

سے جواب طلب کر لیا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ چونکہ قادری صاحب کا تعلق کالعدم تنظیم اس پر غازی صاحب کے وکلاء نے عدالت ہونے کے ثبوت پیش کئے جائیں اور اس پر عدالت نے فیصلہ دیا کہ غازی ملاقات کروائی جائے۔

وارنٹ گرفتاری کے حصول کی

اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کو گرفتار کیا جائے جن کی تقریر سے ت سامنے آیا کہ اگر مفتی حنیف قریشی اور کے نتائج حکومت کیلئے اچھے نہ ہوں میں جج محمد اکرم اعوان کو درخواست قریشی اور امتیاز حسین کاظمی کی گرفتاری نے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی عدالت نے پھر مسترد کر دیا اور یہ مو حاصل ہے لہذا مزید کسی وارنٹ کی سید امتیاز حسین شاہ صاحب جامعہ دوسری طرف وکلاء اور دیگر دوستوں سے عبوری ضمانت کروائی جائے چ ایڈوکیٹ اور سید حبیب الحق شاہ ا ضمانت کی درخواست دائر کی جسے

صفحہ 127

سے جواب طلب کر لیا۔ جیل سپریڈنٹ نے 21 جنوری عدالت میں پیش ہو کر یہ عذر پیش کیا کہ چونکہ قادری صاحب کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے لہٰذا ان سے کسی کی ملاقات نہیں کروائی جاسکتی۔ اس پر غازی صاحب کے وکلاء نے عدالت کے روبرو ثبوت طلب کئے کہ دعوت اسلامی کے کالعدم ہونے کے ثبوت پیش کئے جائیں اور یہ کہ دعوت اسلامی تو دنیا کی سب سے پُر امن جماعت ہے اس پر عدالت نے فیصلہ دیا کہ غازی صاحب سے ان کے بیوی بچے بھائیوں بہنوں اور والد کی ملاقات کروائی جائے۔

وارنٹ گرفتاری کے حصول کی کوشش اور عبوری ضمانت

اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں مسلسل ہمارے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا کہ ان علماء کو گرفتار کیا جائے جن کی تقریر سے قادری صاحب متاثر ہوئے۔ دوسری طرف شدید عوامی ردعمل سامنے آیا کہ اگر مفتی حنیف قریشی اور سید امتیاز حسین شاہ کاظمی کو خلاف قانون گرفتار کیا گیا تو اس کے نتائج حکومت کیلئے اچھے نہ ہوں گے۔ چنانچہ اسلام آباد پولیس نے دہشت گردی کی عدالت میں جج محمد اکرم اعوان کو درخواست کی کہ ہمیں وارنٹ گرفتاری جاری کئے جائیں تاکہ مفتی حنیف قریشی اور امتیاز حسین کاظمی کی گرفتاری عمل میں لائی جاسکے اور قتل کی تفتیش کو مکمل کیا جائے۔ عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ اگلے دن دوبارہ استدعا کی گئی جسے عدالت نے پھر مسترد کر دیا اور یہ موقف اپنایا کہ قتل کی تفتیش کے سلسلے میں پولیس کو پہلے ہی حق حاصل ہے لہٰذا مزید کسی وارنٹ کا جاری کرنا ملک میں جاری انتشار کو مزید ہوا دینا ہے۔ راقم اور سید امتیاز حسین شاہ صاحب جامعہ رضویہ ضیاء العلوم میں پابندی سے اسباق میں حاضر رہے۔ دوسری طرف وکلاء اور دیگر دوستوں نے مشورہ دیا کہ قانونی طور پر تحفظ حاصل کیا جائے اور عدالت سے عبوری ضمانت کروائی جائے چنانچہ 19 جنوری کو راجہ شجاع الرحمن ایڈووکیٹ طارق دھمیال ایڈووکیٹ اور سید حبیب الحق شاہ (مرکزی سرپرست اعلیٰ) کی وکالت میں ہم دونوں نے عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی جسے جج صاحب نے منظور کر لیا اور دو لاکھ روپے کی مالیت کے مچلکے جمع

صفحہ 128

کروانے کا حکم ہوا اور ضمانت 25 جنوری تک منظور کی گئی ۔

21 جنوری صبح کو مچلکے جمع کروائے گئے ۔ چوہدری ندیم احمد ، راجہ پرویز ستی ، چوہدری محسن علی ، قاری محمد یونس قریشی ، حافظ عبدالرؤف قریشی ، شبیر احمد گولڑوی سمیت کئی افراد اپنی پراپرٹی کی ”رجسٹریاں“ اور ”فرد“ لے کر عدالت کے باہر پہنچ گئے تاہم راقم کی طرف سے چوہدری امتیاز احمد صاحب رہنما مسلم لیگ ن راولپنڈی اور سید امتیاز شاہ کی طرف سے چوہدری محمد اسحاق صاحب ، خازن مسجد کمیٹی سیدہ آمنہ آف ڈھوک علی اکبر نے ضمانتی مچلکے جمع کروائے ۔ عدالت نے ہماری عبوری ضمانت کی درخواست قبول کرتے ہوئے ہمیں حکم دیا کہ ہم از خود تھانہ کوہسار میں انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہوں ۔

21 جنوری راقم نے جمعۃ المبارک کا خطبہ سیدہ آمنہ مسجد میں دیا اور مصلح امت پیر سید حسین الدین شاہ صاحب کے حکم پر نماز جمعہ جامع مسجد سبزی منڈی میں ادا کی ۔

پوپ کے خلاف اور قادری صاحب کے حق میں بڑا مظاہرہ

21 جنوری بروز جمعۃ المبارک کو پورے ملک میں جمعۃ المبارک کی نماز کے بعد پوپ کے خلاف اور قادری صاحب کے حق میں مظاہرے ہوئے راولپنڈی میں تنظیم علماء ضیاء العلوم کے زیر اہتمام ”تحفظ ناموس رسالت“ ریلی کا اہتمام کیا گیا ریلی کا آغاز جامع مسجد سبزی منڈی سے ہوا اور کمیٹی چوک میں آکر جلسہ عام کی صورت میں اس کا اختتام ہوا ۔ ریلی کی قیادت صاحبزادہ فضل کریم (ایم این اے) اور استاذ الاساتذہ شیخ الحدیث پیر سید حسین الدین شاہ صاحب ، پیر سید انعام الحق شاہ ضیائی ، صاحبزادہ سید حبیب الحق شاہ ، مولانا حافظ محمد اسحاق ظفر ، مولانا خان محمد قادری ، مولانا عبد الحمید ضیائی ، مفتی سلیمان رضوی ، قاری محمد منور خان نے فرمائی ۔ مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے ریلی میں شرکت کی ۔ شہر کے مختلف حصوں سے تنظیم علماء ضیاء العلوم اور دیگر عشاق کے قافلے شریک ہوئے ۔ شباب اسلامی پاکستان کا مرکزی قافلہ

صفحہ 129

مرکز شباب اسلامی آمنہ مسجد سے گاڑیوں میں سوار ہو کر ریلی میں شریک ہوا۔ اور پیرودھائی یونٹ کا قافلہ مرکزی رہنما علامہ شاہنواز احمد ضیائی کی قیادت میں ریلی کی صورت میں مرکزی ریلی میں شریک ہوا۔ ریلی میں ہزاروں عاشقان مصطفیٰ لبیک ، لبیک یا رسول اللہ ۔۔۔۔۔ آقا تیرے نام کی خاطر ، دل بھی حاضر جان بھی حاضر ......... غلامی رسول میں ، موت بھی قبول ہے ......... غازی تیرے جان نثار ، بے شمار بے شمار ....... کے نعرے لگا رہے تھے ۔ ریلی میں سیکورٹی کی ڈیوٹی بزم ارشاد کے رضا کاروں اور شباب اسلامی کے کارکنوں نے سرانجام دی ۔ ہزاروں افراد کمیٹی چوک میں جمع ہو گئے۔ راقم کو حضور قبلہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب کی طرف سے حکم تھا کہ جمعہ کی نماز جامع مسجد سبزی منڈی میں ادا کرنی ہے ۔ چنانچہ راقم نے اپنی مسجد میں جمعہ کا خطاب کیا اور نماز کی ادائیگی سبزی منڈی مسجد میں کی ۔

کمیٹی چوک میں تنظیم علماء ضیاء العلوم کی طرف سے بہت بڑا سٹیج نصب کیا گیا تھا پورا سٹیج علماء کرام اور دیگر شخصیات سے بھرا ہوا تھا ۔ وقت کی تنگی کے باعث شیخ الحدیث والتفسیر حضرت قبلہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب نے اعلان فرمایا کہ وقت تنگ ہے ۔ لہذا اجتماع سے صرف غازی صاحب کے وکیل راجہ طارق دھمیال ایڈوکیٹ اور صاحبزادہ فضل کریم صاحب ایم این اے ہی خطاب فرمائیں گے ۔ راجہ طارق دھمیال صاحب نے اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ پوری راولپنڈی بار سے کوئی وکیل بھی گورنر سلمان تاثیر کا کیس نہیں لڑے گا۔

صاحبزادہ فضل کریم صاحب نے اپنے خطاب میں دہشتگردی کی مذمت کی اور ملعون پوپ کے بیان پر حکومت کی معنی خیز خاموشی کو ہدف تنقید بنایا اور اعلان کیا کہ غازی ممتاز قادری کی قانونی اور اخلاقی مدد جاری رکھیں گے ۔ صاحبزادہ فضل کریم صاحب نے اپنے خطاب میں حکومت کو خبردار کیا کہ اگر مفتی حنیف قریشی اور سید امتیاز حسین شاہ سمیت اگر کسی عالم دین کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کاروائی کی گئی تو حکومت کے لئے خود کو سنبھالنا مشکل ہوگا ۔ انہوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ اسمبلی کے فلور پر دوٹوک اعلان کریں کہ ناموس رسالت کے قانون میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

صفحہ 130

عدالتی حکم پر شامل تفتیش

22 جنوری بروز ہفتہ راقم اور علامہ سید امتیاز حسین شاہ صاحب تھانہ کوہسار میں عدالتی حکم پر شامل تفتیش ہونے کے لئے پہنچے۔ ہمارے ساتھ ہمارے دیرینہ دوست چوہدری امتیاز احمد صاحب ناظم UC 24 راولپنڈی، چوہدری سلیم صاحب، شبیر احمد گولڑوی بھی تھانہ کوہسار پہنچے۔ ابتداءً ان تینوں حضرات کو اندر جانے کی اجازت نہ ملی، بعد ازاں سید واجد حسین شاہ گیلانی ایڈوکیٹ صدر اسلام آباد بار کے ساتھ چوہدری امتیاز احمد صاحب کو اندر تھانے میں بلا لیا گیا۔

تفتیش کنندگان میں ابتداءً تھانہ کوہسار کے ایس ایچ او حاکم خان صاحب اور ASI ارشد صاحب تھے۔ ہم نے اپنا موقف بیان حلفی کی صورت میں ان کے پاس جمع کروایا۔ تاہم انہوں نے اپنی تفتیش مکمل کرنے کی خاطر بے شمار سوالات کئے جن کے جوابات ہم نے مبنی بر حقائق دیئے۔ ایس ایچ او کی تفتیش کے بعد اے ایس پی ہارون جوئیہ صاحب نے دیگر تفتیشی اداروں کے افراد کی موجودگی میں تفتیش کی۔

تفتیش کاروں کا سب سے زیادہ زور اس بات پر تھا کہ 31 دسمبر کی کانفرنس کہ جس میں قادری صاحب نے نعت پڑھی تھی وہاں کیا تقریر ہوئی تھی۔ راقم نے بتایا کہ کانفرنس کے دوران خطباء میں سے کسی بھی خطیب نے گورنر تاثیر کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا۔ وہاں پر عشق رسول پر مبنی خطابات ہوئے تھے۔ اور اس بات کو قرآن وسنت کی روشنی میں بیان کیا گیا تھا کہ گستاخ رسول کی سزا صرف اور صرف موت ہے۔ اور یہ بھی کہ گورنر کو قتل کرنے کا اقدام قادری صاحب کا ذاتی فعل ہے کہ جس میں کسی دوسرے شخص کی کوئی مشاورت و معاونت شامل نہیں ہے۔

ہم سے سوال ہوا کہ کیا آپ ممتاز قادری کی حمایت کرتے ہیں یا مخالفت تو راقم نے بتایا کہ ہم ممتاز قادری کی حمایت اور قانونی و اخلاقی مدد تادم زیست کرتے رہیں گے۔ راقم سے ممتاز قادری صاحب کی بابت سوال ہوا کہ کیا آپ انہیں جانتے ہیں اور کیا آپ نے کبھی ان سے تنہائی

صفحہ 131

میں ملاقات کی ہے۔ اس کے جواب میں راقم نے ٹیم کو بتایا کہ میں ایک مسجد کا امام اور خطیب ہوں میرے پاس ہزاروں لوگ آتے ہیں میں ان میں سے بہت سے چہروں کو تو پہچانتا ہوں جبکہ مجھے ان کا نام اور تعارف معلوم نہیں ہوتا۔ اسی طرح میں ممتاز حسین قادری صاحب کو چہرے سے تو جانتا ہوں گا کہ انہوں نے میرے خطابات سنے ہوں گے تاہم نام سے میں اس طرح کہ یہ ممتاز قادری صاحب ہیں، انہیں 4 جنوری سے قبل نہیں جانتا تھا اور میری ان سے کبھی بھی علیحدگی میں ملاقات نہیں ہوئی۔ البتہ اخبارات اور ان کے گھر والوں کے ذریعے پتہ چلا ہے کہ وہ میرے فین ہیں اور میرے خطابات شوق سے سنتے ہیں۔

وہیں تھانے میں موجود کچھ اہل کاروں نے راقم کو واضح کیا کہ مولانا صاحب آپ اگر قادری صاحب کی حمایت میں ریلیاں نہ نکالتے اور نکل کر سامنے نہ آتے تو آپ کو کسی طور پر بھی شامل مقدمہ نہ کیا جاتا یہ سب کچھ قادری کی حمایت کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ میں نے انہیں جواب دیا کہ اگر یہی معاملہ ہے تو پھر ان شاء اللہ قادری صاحب کی حمایت جاری رہے گی۔

ہم سے اگلا سوال یہ ہوا کہ کیا قادری صاحب نے درست عمل کیا ہے یا غلط؟ تو راقم نے جواب دیا کہ شرعاً قادری صاحب نے درست عمل کیا ہے اگرچہ انہوں نے شدت جذبات میں قانون کو ہاتھ میں لیا ہے لیکن ان کا قانون کو ہاتھ میں لینا گورنر کے عمل کے ردعمل کے طور پر تھا اسلئے کہ جب گورنر نے قانون کو ہاتھ میں لیا تو ماتحت نے بھی قانون کو ہاتھ میں لے لیا۔ تفتیشی ٹیموں نے ہم سے اچھے ماحول میں تقریباً پانچ گھنٹے تفتیش کی۔ دوران تفتیش جلسے کی وڈیو کا معاملہ بھی آیا کہ یہ وڈیو آپ نے ساؤنڈ سسٹم والوں سے کیوں لی تھی؟ میں نے جواب دیا کہ جب میڈیا پر ہمارے خلاف شور مچ رہا تھا تو ہم نے وڈیو منگوائی تھی کہ دیکھیں تو سہی اس میں وہ کون سی بات ہے جو قانوناً ہمارے خلاف جاتی ہے۔ جب ہم نے وڈیو کو دیکھا تو اس میں ہمیں کوئی ایسی بات نظر نہیں آئی جس پر ہم نے وہ وڈیو تفتیشی اداروں کے حوالے کر دی تھی۔

صفحہ 132

ہم لوگوں نے تفتیشی ٹیم سے بھر پور تعاون کیا لیکن غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے والے نام نہاد صحافیوں نے اس کو عجیب رنگ دیا پاکستان کے مشہور اخبار کے ایک رپورٹر عامر میر نے اس سلسلہ میں رپورٹ شائع کی کہ مفتی محمد حنیف قریشی اور سید امتیاز حسین شاہ تفتیشی اداروں کے سامنے پیش نہیں ہوئے اور نہ ہی انہوں نے تفتیشی اداروں سے کوئی تعاون کیا ہے اور ساتھ ہی یہ شوشہ چھوڑا کہ ان علماء نے اپنے اپنے خطابات میں گورنر کو واجب القتل قرار دیا تھا اور یہ کہ ان لوگوں نے ابھی تک جلسے کی ویڈیو تفتیشی اداروں کو فراہم نہیں کی ہے۔

(جنگ 24 جنوری)

تفتیش ختم کرنے کے بعد ہماری تواضع چائے سے کی گئی اس دوران قادری صاحب کے تھانے میں گزرے دنوں کا ذکر آیا تو ایک پولیس آفیسر کی آنکھیں چھلک پڑیں اور اس نے کہا کہ جتنا مضبوط ایمان قادری صاحب کا ہے اتنا مضبوط ایمان ہم نے پوری زندگی کسی شخص کا نہیں دیکھا۔ انہیں اپنا اعترافی بیان بدلنے کیلئے لاکھ ڈرایا گیا ، لالچ دیا گیا چند ماہ کے بچے کی یاد لائی گئی۔ لیکن انہوں نے ایک ہی لفظ زبان پر رکھا کہ میں نے گورنر کو قتل کیا ہے اور کسی کے کہنے پر نہیں بلکہ اپنے جذبہء ایمانی کے تحت اس کو ٹھکانے لگایا ہے کیونکہ اس نے ناموس رسالت کے قانون کو کالا قانون کہا تھا اور ایک ملعونہ کی حمایت کی تھی۔ ان کے تھانے میں گزرنے والے ایام کے حوالے سے اور بھی باتیں سامنے آئیں جن کے باعث قادری صاحب سے محبت کا جذبہ اور بھی مضبوط ہو گیا۔

غازی صاحب کی عدالت میں پانچویں پیشی

24 جنوری غازی صاحب کی پیشی کی تاریخ مقرر تھی۔ کمشنر اسلام آباد کی اپیل پر ان کے کیس کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ۔ اس تاریخ کی پیشی پر استغاثہ کی طرف سے وکیل کے عدالت میں حاضر نہ ہونے کے باعث سماعت کو یکم فروری تک ملتوی کر دیا گیا۔

عبوری ضمانت میں توسیع

25 جنوری تک ہماری عبوری ضمانت منظور ہوئی تھی لہٰذا 25 جنوری صبح 9 بجے راقم اور سید امتیاز حسین شاہ صاحب دہشت گردی عدالت کے جج محمد اکرم اعوان کی عدالت میں پہنچے

صفحہ 133

سینکڑوں کارکنان شباب اسلامی اور اہل محبت عدالت کے باہر موجود تھے اس دوران غازی صاحب اور ہمارے حق میں خوب نعرہ بازی کی گئی۔ ہماری طرف سے راجہ شجاع الرحمن ایڈوکیٹ، راجہ طارق دھمیال، سید حبیب الحق شاہ صاحب راجہ فخر ایڈوکیٹ آف علی پور اور تقریباً دو درجن کے قریب اور وکلاء بھی پیش ہوئے۔ استغاثہ کی طرف سے ایس ایچ او تھانہ کوہسار حاکم خان اور ان کے ساتھ دیگر اہلکار عدالت میں حاضر ہوئے۔ مقتول گورنر کی طرف سے کوئی وکیل پیش نہ ہوا۔ عدالت کے جج ملک اکرم اعوان نے ہمارا کیس عدالت نمبر 2 کے جج راجہ اخلاق حسین کی عدالت میں ٹرانسفر کر دیا۔ عدالت نمبر 2 کے جج راجہ اخلاق حسین صاحب نے اسی دن گیارہ بجے کا ٹائم دیا اور حکم دیا کہ سرکاری وکیل کو پیش کیا جائے۔ سرکاری وکیل 11 بجے بھی پیش نہ ہوا جس کے باعث عدالت نے ہماری ضمانت میں یکم فروری 2011ء تک توسیع کر دی اور حکم دیا کہ اگلی پیشی پر سرکاری وکیل کو پیش کیا جائے۔

اسی دن جب عدالت میں ریکارڈ پیش کیا گیا تو قادری صاحب کا اعترافی بیان 164 پہلی دفعہ سامنے آیا جسے اگلے دن قومی اخبارات نے تفصیل سے شائع کیا۔

پیشی پر کارکنان بزم ارشاد، طلباء مدارس اہل سنت کے علاوہ، علامہ سید رضاء المصطفیٰ شاہ بخاری آف مری، جنرل سیکرٹری جماعت اہل سنت راولپنڈی، علامہ محمد آصف قریشی آف مری بیروٹ، نور المصطفیٰ نورانی، Jup، میر ظہیر احمد قادری، علامہ شاہنواز احمد ضیائی، علامہ منظور احمد صدیقی، مولانا غلام محمد چشتی صدر جماعت اہلسنت راولپنڈی، قاری محمد یونس قریشی، مولانا نزاکت تبسم، علامہ ہارون عباس ضیائی تنظیم علماء ضیاء العلوم، حافظ عبدالرؤف قریشی، مولانا کامران عباس، وقاص احمد ضیائی سمیت دیگر علمائے کرام موجود تھے۔

ہماری ضمانت کی توسیع ہوئی تو پولیس نے بھی اپنے طور پر ہمیں پھنسانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیئے سب سے پہلے یونیک ساؤنڈ سسٹم کے مالک واجد حسین اور ساؤنڈ

صفحہ 134

آپریٹر چوہدری ارشد گولڑوی کو شامل تفتیش کیا اور دو دن تھانے میں رکھا۔ بعد ازاں چوہدری ارشد گولڑوی کا دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کروایا گیا اور ہر ممکن کوشش کی گئی کہ ساؤنڈ اپریٹر ہمارے خلاف کسی طرح گواہی دے دے لیکن ان کی یہ کوشش اللہ کے فضل وکرم کے باعث ناکام ہو گئی۔

بعد ازاں 31 دسمبر کی کانفرنس کے ”وڈیو میکر“ طالب حسین سیفی اور ساؤنڈ اپریٹرز راجہ واجد حسین، چوہدری ارشد کو دوبارہ شامل تفتیش کیا گیا لیکن حاصل صفر رہا۔

اگلے دن راقم کو گورنمنٹ پنجاب کی جانب سے مہیا کئے گئے سیکورٹی گارڈ پولیس کانسٹیبل امتیاز علی آف گوجر خان کو بھی بلا کر شامل تفتیش کیا گیا۔ تاہم نصرت خداوندی ہمارے ساتھ رہی اور سچ غالب رہا۔ یاد رہے کہ ممتاز قادری کیس میں 120 سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

ہماری ضمانت میں یکم فروری تک توسیع کی گئی تھی اس توسیع کے دوران ہمارے وکلاء نے بھی بحث کیلئے مختلف پہلوؤں سے بھر پور تیاری کی۔ سید واجد حسین گیلانی ایڈوکیٹ صدر اسلام آباد بار کے ساتھ راقم کے دیرینہ تعلقات ہیں بالخصوص میرے کزن قاری یونس قریشی صاحب کے سید صاحب کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں۔ چنانچہ قاری یونس قریشی صاحب کی خواہش و مشاورت پر راقم نے سید واجد حسین گیلانی صاحب کو پیشی پر عدالت میں تیاری کے ساتھ حاضری کی گذارش کی جسے انہوں نے خوش دلی سے قبول کیا۔

سازش ناکام۔۔۔۔ مقدمے سے فارغ

یکم فروری کو راقم اور سید امتیاز حسین شاہ دہشت گردی کی عدالت نمبر 2 کے جج راجہ اخلاق حسین صاحب کی عدالت میں پیش ہوئے۔ ہماری طرف سے سید حبیب الحق شاہ صاحب، سید واجد حسین گیلانی، راجہ شجاع الرحمٰن، راجہ طارق دھمیال اور ان کے ساتھ تقریباً تین درجن کے قریب وکلاء عدالت میں پیش ہوئے۔ جن میں ملک فخر ایڈوکیٹ بھی شامل ہیں۔ (باقی وکلاء جذبہء حب مصطفیٰ کے تحت حاضر ہوئے تھے ان کے اسماء سے بندہ واقف نہیں اللہ تعالیٰ ان کی سعی

صفحہ 135

کو قبول فرمائے)۔

استغاثہ کی جانب سے ڈی ایس پی لیگل الیاس ہاشمی، ایس ایچ او حاکم خان اور دیگر پولیس اہلکار عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالتی کاروائی شروع ہوئی تو عدالت نے استفسار کیا کہ سرکاری وکیل کہاں ہے۔

اس کے جواب میں ڈی ایس پی لیگل نے جواب دیا کہ سرکاری وکیل سیف الملوک کو مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم وہ سیکورٹی تھریٹ کی وجہ سے عدالت حاضر نہیں ہو سکتے۔ عدالت نے اس پر دو گھنٹے کا ٹائم دیا کہ وکیل کو پیش کیا جائے۔ گیارہ بجے جب ہم لوگ دوبارہ عدالت میں پہنچے تو سرکاری وکیل حاضر نہ تھا۔ ڈی ایس پی لیگل نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ یہاں پر وکیل کیلئے سیکورٹی کا مسئلہ ہے اس لئے وکیل حاضر نہیں ہو سکتا۔ البتہ آج یکم فروری ممتاز قادری صاحب کی پیشی بھی ہے اور اسکی سماعت جیل میں ہوگی۔ لہٰذا سرکاری وکیل سیف الملوک جیل میں حاضر ہوں گے۔ البتہ ان دونوں حضرات مفتی محمد حنیف قریشی اور سید امتیاز حسین شاہ کے خلاف ہمیں ابھی تک کوئی ثبوت نہیں ملے کہ جن کے تحت ان کو مقدمے میں دفعہ 109 کے تحت شامل کیا جا سکے۔ لہٰذا ہماری طرف سے یہ دونوں حضرات کلیئر قرار دیئے جاتے ہیں۔

یکم فروری کو غازی صاحب کی پیشی کی تاریخ بھی تھی اور ان کے کیس کی سماعت اڈیالہ جیل منتقل کر دی گئی تھی۔ عدالت نے احتیاط کا پہلو اختیار کیا پولیس کی طرف سے ہمیں کلیئر قرار دیئے جانے کے باوجود ہمارے کیس کی سماعت کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا۔ کیس کی سماعت کی اڈیالہ جیل منتقلی میں ہماری خواہش بھی شامل تھی۔ ہماری خواہش تھی کہ ہمارے کیس کی سماعت ایک بجے اڈیالہ جیل میں ہو جائے تاکہ اسی بہانے غازی صاحب سے ملاقات نصیب ہو سکے۔ میں نے وکلاء سے گذارش کی کہ اس سماعت کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیں تو آپ کا احسان مند ہوں گا۔ چنانچہ جج صاحب نے کہا کہ دن ایک بجے کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو گی۔ اس پر میری خوشی کی انتہاء نہ

صفحہ 136

رہی دہشت گردی کی عدالت کے باہر سینکڑوں کارکنان شباب اسلامی کارکنان بزم ارشاد جامعہ رضویہ ضیاء العلوم اور کثیر تعداد میں شہری، غازی صاحب اور ہمارے حق میں نعرے بازی کرتے رہے۔ جیسے ہی عدالت نے سماعت کو اڈیالہ جیل منتقل کیا تمام لوگ اڈیالہ جیل روانہ ہو گئے۔ جیل میں پہنچ کر ضابطے کی کاروائی کے بعد ہمیں جیل میں موجود کمرہ عدالت میں پہنچایا گیا۔

غازی صاحب چھٹی پیشی اور راقم کا شرف ملاقات

عدالت نے ہمارے کیس کی سماعت کو اڈیالہ جیل منتقل کیا۔ آج کی تاریخ میں غازی صاحب کی پیشی بھی تھی لہٰذا جب ہم لوگ اڈیالہ جیل میں کمرہ عدالت میں پہنچے وہیں پر غازی ناموس رسالت جناب ملک ممتاز قادری صاحب سے میری ملاقات ہوئی۔ عدالتی کاروائی شروع ہونے میں تھوڑی سی تاخیر تھی اس لئے ہمیں عدالتی کمرے کے ساتھ ایک کمرے میں بٹھایا گیا۔ وہ لمحہ میرے لئے انتہائی خوش کن تھا جب میں غازی صاحب کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ہماری ملاقات ہوئی جس میں، میں نے ان کا حال دریافت کیا تو اس شخص کو عزم و ہمت کا پہاڑ پایا۔

میں نے مزید کریدا تو غازی صاحب نے کرم نوازیوں کی بابت مجھے بتایا کہ 29 تاریخ کو مجھے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی کی زیارت نصیب ہوئی ہے اور وہ اس طرح کہ آغاز میں وہ امام احمد رضا ہوتے ہیں اور کچھ دیر کے بعد وہ قبلہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب کی صورت میں بدل جاتے ہیں۔ اس پر میں نے مزید کریدا تو غازی صاحب نے اشارہً بتایا کہ گذشتہ جمعے کے دن وہ کرم نوازی مجھ پر ہوئی ہے کہ جس کے بعد اگر ساری دنیا مجھے غلط کہے تو بھی میں ماننے کو تیار نہیں ہوں اس لئے کہ اگر میں نے کچھ غلط کیا ہوتا تو آقائے دو جہاں کی طرف سے مجھ پر اتنی کرم نوازی کبھی نہ ہوتی۔

اس کے بعد ہم نے فرمائش کی کہ ہمیں وہ نعت سنائیں جو آپ نے تھانہ کوہسار میں پڑھی تھی۔ چنانچہ غازی صاحب نے مسکراتے ہوئے بڑی محبت کے ساتھ پڑھنا شروع کر دیا۔

یا رسول اللہ تیرے
خسروی اچھی لگی
ہم فقیروں کو
دور تھے تو زندگی
ان کے کوچے میں
مہر و ماہ کی روشنی
ہم کو کوئے
تیری خاطر سانپ
عاشقوں کو ان

ہم لوگ وہاں سوائے محبت کے تھے اسلئے کہ جیل کے اندر جانے سے پہلے رویے کے متعلق سوال کیا تو جواب میں

اس دوران عدالت کی طرف طرف سے غازی صاحب کے وکیل سید حبیب الحق شاہ صاحب، سید واجد سے وکیل سیف الملوک نہ پیش ہوا۔

چنانچہ ڈی ایس پی لیگل نے ضمانت واپس لے لی اور عدالت نے حسین شاہ کاظمی کی ضرورت پڑے تو

پولیس نے ہمیں کلیئر قرار دے

صفحہ 137
یارسول اللہ تیرے چاہنے والوں کی خیر
خسروی اچھی لگی نہ سروری اچھی لگی
ہم فقیروں کو مدینے کی گلی اچھی لگی
دور تھے تو زندگی بے رنگ تھی بے کیف تھی
ان کے کوچے میں گئے تو زندگی اچھی لگی
مہر و ماہ کی روشن مانا کہ اچھی ہے مگر
ہم کو کوئے مصطفیٰ کی روشنی اچھی لگی
تیری خاطر سانپ سے ڈسوا لیا صدیق نے
عاشقوں کو ان کی طرز عاشقی اچھی لگی

ہم لوگ وہاں سوائے محبت کے آنسوؤں کے غازی صاحب کو کوئی اور تحفہ نہیں پیش کر سکتے تھے اسلئے کہ جیل کے اندر جانے سے پہلے ہم سے سب کچھ جمع کر لیا گیا تھا۔ ہم نے جیل حکام کے رویے کے متعلق سوال کیا تو جواب میں غازی صاحب نے مثبت رائے کا اظہار کیا۔

اس دوران عدالت کی طرف سے کمرہ عدالت میں طلب کر لیا گیا ہم وہاں پہنچے تو ہمارے طرف سے غازی صاحب کے وکیل ملک رفیق صاحب، راجہ شجاع الرحمٰن، راجہ طارق دھمیال، سید حبیب الحق شاہ صاحب، سید واجد حسین گیلانی عدالت میں پیش ہوئے۔ جبکہ استغاثہ کی طرف سے وکیل سیف الملوک نہ پیش ہوا۔

چنانچہ ڈی ایس پی لیگل نے اپنے سابقہ مؤقف کو پھر دھرایا جس پر ہمارے وکلاء نے ضمانت واپس لے لی اور عدالت نے فیصلہ دیا کہ اگر اس کیس میں مفتی حنیف قریشی اور سید امتیاز حسین شاہ کاظمی کی ضرورت پڑے تو عدالت کی اجازت کے بغیر انہیں گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔

پولیس نے ہمیں کلیئر قرار دے دیا۔ اور اس سلسلے میں حضرت علامہ مفتی منیب الرحمٰن

صفحہ 138

صاحب چیئرمین رؤیت ہلال کمیٹی اور صاحبزادہ فضل کریم صاحب MNA نے بھر پور کوششیں کیں۔ اللہ تعالیٰ ہر دو حضرات کو اجر عطا فرمائے۔

دوسری طرف ممتاز قادری صاحب پر آج کی تاریخ میں فرد جرم عائد کئے جانے کا امکان تھا تاہم چالان مکمل نہ ہونے کے باعث چار فروری تک اس کاروائی کو مؤخر کر دیا گیا۔ کیونکہ چالان میں استغاثہ کے چالیس گواہوں کی فہرست پیش کی گئی جن میں 36 گواہوں کے بیان چالان کے ساتھ لف تھے جبکہ چار گواہوں کے بیان شامل نہ تھے۔ اس پر عدالت نے کاروائی کو چودہ فروری تک مؤخر کر کے عدالت کو ختم کر دیا۔ ادھر کمرہ عدالت میں ہی غازی صاحب نے راقم کو اپنی انگوٹھی اتار کر عنایت فرمائی اس تحفے پر ملنے والی خوشی کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ الحمد للہ یہ تحفہ راقم کے لئے حرز جاں سے کم نہیں ہے۔ کمرہ عدالت سے باہر نکلتے ہوئے ہم آخری مرتبہ غازی صاحب سے ملے اور ہمیں واپس جیل سے باہر بھیج دیا گیا۔ جیل کے باہر سینکڑوں افراد ہمارے منتظر تھے۔ میڈیا بھی بڑی تعداد میں موجود تھا۔ کارکنان اور دیگر شہریوں نے ہمیں کندھوں پر اٹھا لیا اور اس موقع پر غازی صاحب اور ہمارے حق میں بھر پور نعرہ بازی کی گئی بعد ازاں لوگوں کا یہ قافلہ ریلی کی صورت میں واپس جامعہ رضویہ ضیاء العلوم آیا جہاں مشفق و مہربان مصلح امت حضرت پیر سید حسین الدین شاہ صاحب نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کافی مقدار میں مٹھائی منگوائی اور جامعہ کے طلباء اور لوگوں میں تقسیم کروائی۔ پورے ملک سے علماء کرام اور دیگر غلامان مصطفیٰ کے فون آنے لگے اور تمام دوستوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اسی رات راقم غازی صاحب کے گھر گیا اور اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا اور آئندہ کیلئے لائحہ عمل طے کیا گیا۔

غازی صاحب کی ساتویں پیشی

4 فروری غازی صاحب کی پیشی کی تاریخ مقرر ہوئی تو آج کی تاریخ میں عدالت کی طرف سے غازی صاحب پر "فرد جرم" عائد کئے جانے کا امکان تھا تاہم گورنر کے وکیل کے حاضر

صفحہ 139

نہ ہونے کے باعث سماعت کو 14 فروری تک ملتوی کر دیا گیا۔

مجلس علماء نظامیہ کی ریلی

اُدھر لاہور میں بتاریخ 7 فروری مجلس علماء نظامیہ کے زیر اہتمام غازی صاحب کی حمایت میں انتہائی شاندار ریلی کا اہتمام کیا گیا جس کی قیادت مرکزی بزم علوم وفنون جامعہ نظامیہ رضویہ کے جلیل القدر اساتذہ مولانا عبدالستار سعیدی، مولانا خادم حسین رضوی، مولانا طاہر تبسم، ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، مفتی تنویر القادری، مولانا احمد رضا سیالوی، مولانا غلام فرید ہزاروی نے فرمائی، ریلی جامعہ نظامیہ اندرون لوہاری گیٹ سے شروع ہوکر بھاٹی چوک سے گذرتی ہوئی ناصر باغ اور پھر gpo چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔

آٹھویں پیشی، فرد جرم عائد۔ غازی صاحب کا اعتراف اقدام

14 فروری 2011ء بروز سوموار غازی صاحب کی عدالت میں پیشی کی تاریخ تھی حسب معمول کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی۔ 14 فروری صبح سے ہی عاشقان رسول، غازی صاحب کی حمایت کے اظہار کے لئے اڈیالہ جیل پہنچنا شروع ہوگئے۔ شباب اسلامی پاکستان کی مختلف یونٹس کے کارکنان اپنے ذمہ داران کی قیادت میں اڈیالہ جیل پہنچنا شروع ہوئے۔ سب سے پہلے چراہ اسلام آباد یونٹ کے کارکنان نگران یونٹ کی قیادت میں پہنچے ان کی سرپرستی قاری عمران رضوی کر رہے تھے۔ دریں اثناء شباب اسلامی کلر سیداں کا قافلہ محمد آصف بھٹی کی قیادت میں اڈیالہ جیل پہنچا اس قافلے کی سرپرستی مولانا کلیم صاحب، چوہدری ازرم صاحب کر رہے تھے۔ شباب اسلامی پیر ودھائی یونٹ کا قافلہ قاری عبدالجلیل ضیائی کی قیادت میں اڈیالہ پہنچا، شباب اسلامی پاکستان (مرکز) کا قافلہ راجہ وقاص ستی کی قیادت میں پہنچا، شباب اسلامی پاکستان ڈھوک کالا خان یونٹ کے ساتھی اپنے نگران محمد حسین بھائی کی قیادت میں پہنچے، مرکزی لوگوں کی طرف سے راقم حسب معمول حاضر ہوا۔ مرکزی سرپرست اعلیٰ سید حبیب الحق شاہ کاظمی بیرون ملک دورہ

صفحہ 140

پر ہونے کی وجہ سے اسی پیشی پر حاضر نہ ہو سکے۔ بزم ارشاد جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کا بڑا قافلہ تنظیم کے صدر محمد کامران عباسی کی قیادت میں اڈیالہ جیل پہنچا تنظیم علماء ضیاء العلوم کی نمائندگی محمد ہارون عباس ضیائی، قاری منور خان نے کی دیگر تنظیمات میں سنی تحریک راولپنڈی کے کارکنان طاہر اقبال چشتی کی قیادت میں پہنچے۔ پہلی دفعہ جماعت اسلامی کی طرف سے نمائندگی کی گئی اور سید رضا علی شاہ اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ پہنچے مذہبی تنظیمات کے علاوہ بڑی تعداد میں عام شہری بھی مرد مجاہد کے ساتھ ہمدردی کے اظہار کے لئے اڈیالہ پہنچے دن 11 بجے قادری صاحب کے وکلاء ملک رفیق ایڈووکیٹ، راجہ شجاع الرحمن ایڈووکیٹ، طارق دھمیال ایڈووکیٹ اڈیالہ جیل پہنچے عاشقان مصطفیٰ کے پاس غازی صاحب کی تصاویر اور بینرز اٹھائے ہوئے تھے بزم ارشاد کے دوستوں نے بڑی تعداد میں غازی صاحب کی تصاویر لوگوں میں تقسیم کیں۔ جنہیں حاصل کر کے لوگ دیوانہ وار چومنے لگے اور کچھ ڈرائیورز نے بھی تصاویر حاصل کر کے انہیں گاڑیوں کے فرنٹ پر سجایا۔ جیل کے باہر حاضرین نے درود و سلام، پھر نعت اور غازی صاحب کے حق میں نعرہ بازی کی۔ آج کی پیشی میں غازی صاحب پر فرد جرم عائد کئے جانے کا امکان ہونے کی وجہ سے لوگوں میں جوش و جذبہ عروج پر تھا۔ میڈیا بھی بڑی تعداد میں موجود تھا اور کسی بھی قسم کی صورت حال سے نمٹنے کے لئے پنجاب پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا تھا۔ لوگوں کے رش کے باعث ٹریفک جام ہو گئی جس کے باعث جج صاحب تاخیر سے اڈیالہ جیل عدالت میں پہنچے غازی صاحب کے تمام بھائی اور دیگر عزیز بھی حاضر ہوئے۔ ادھر 12:30 پر سماعت شروع ہوئی۔

جب سماعت شروع ہوئی تو استغاثہ کی طرف سے پہلی مرتبہ سیف الملوک نامی وکیل پیش ہوا۔ اور اس کے ساتھ سلمان تاثیر کی ایک رشتہ دار وکیل لڑکی بھی پیش ہوئی۔ کاروائی شروع ہوئی تو جج نے غازی صاحب پر قتل عمد کی فرد جرم عائد کی جس کے جواب میں غازی صاحب نے کہا کہ "میں نے قتل عمد و ناحق نہیں کیا بلکہ میں نے قرآن و سنت کی روشنی میں مرتد کو اس کی گستاخی کا صلہ دیا ہے۔"

صفحہ 141

اس پر جج نے سماعت اگلی پیشی پر ملتوی کر دی اور اگلی تاریخ 26 فروری مقرر ہوئی جس میں استغاثہ کو گواہان پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔ آج نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا بڑی تعداد میں جمع ہوا تھا۔ میڈیا کو یہ امید تھی کہ قادری صاحب فرد جرم عائد کئے جانے پر اقدام قتل سے انکار کریں گے اور یوں ایک پروپیگنڈہ کا موقع ہاتھ آجائے گا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کا موقع میسر آئیگا کہ دیکھو قادری اپنے موقف سے پھر گیا ہے۔ تاہم جب قادری صاحب کی طرف سے نہ صرف اقدام قتل کا اقرار ہوا بلکہ گورنر کو مرتد سمجھ کر قتل کرنے کا اقرار ہوا تو میڈیا کے یہ ارمان سینے میں ہی دبے رہ گئے۔

عجیب اظہار محبت

14 فروری کو ویلنٹائن ڈے کی بدعت بھی ہمارے ملک میں آہستہ آہستہ مشہور ہو رہی ہے اور بے لگام و بے دین میڈیا اس کی بڑی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے۔ اڈیالہ جیل کے باہر لوگوں کی توجہ کا مرکز بننے والے اصغر مال کالج اور سلطانہ فاؤنڈیشن کالج کے عاشق طلباء تھے جن کے ہاتھوں میں سرخ پھول اور سرخ کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر (ہیپی ویلنٹائن ڈے ) لکھا ہوا تھا۔ یہ طلباء خاموشی سے آکر لائن بنا کر کھڑے ہوگئے ان میں ایک کا نام ارسلان تھا جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کیوں آئے اور یہ پھول اور کارڈز کس کے لئے لے کر آئے ہیں تو طلباء نے جواب دیا کہ آج ویلنٹائن ڈے ہے اور اس دن عاشق اپنے محبوب سے ملتے ہیں اور اسے پھول اور کارڈز کا تحفہ پیش کرتے ہیں ہم بھی عاشق ہیں اور اپنے محبوب کو ملنے اور تحفہ دینے آئے ہیں۔

ان سے پوچھا گیا کہ آپ کا محبوب کون ہے تو سب نے جواب دیا کہ ممتاز قادری۔ اس پر انٹرنیشنل میڈیا کے صحافیوں کی حیرت دیدنی تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ وہ تو قاتل ہے تو طلباء نے جواب دیا آپ جو مرضی کہیں عاشق کو محبوب کا عیب ہو تو بھی نظر نہیں آتا یہاں تو ہمارے محبوب نے جرم کیا ہی نہیں ہے۔ پاکستانی میڈیا کے ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ اس ویلنٹائن ڈے کو جائز سمجھتے ہیں تو محمد حسین نامی طالب علم نے جواب دیا کہ یہ اگرچہ غیر شرعی فعل ہے اور اسلام میں ایک دن کی محبت کا تصور نہیں بلکہ اسلام تو سراپا امن ومحبت کا درس دیتا ہے لیکن چونکہ میڈیا

صفحہ 142

اس دن کو ہائی لائٹ کرتا ہے تو ہم بھی اس لئے یہ پھول لے کر آئے ہیں۔ طلباء کی طرف سے ان کے اظہار محبت کی یہ خبر اور تصاویر اگلے دن پوری دنیا کے اخبارات میں چھپیں۔

اسی رات ایک نجی ٹی وی چینل نے طلباء کے اس عمل پر باقاعدہ پورا پروگرام کیا۔ دراصل عالم کفر اور ان کے ایجنٹ دنیا کو یہ باور کروا رہے تھے کہ ممتاز قادری کی حمایت چند مذہبی انتہا پسند ہی کر رہے ہیں چنانچہ کالجز کے طلباء کی طرف سے یہ انوکھا اظہار محبت ان سے ہضم نہیں ہو رہا تھا۔ طلباء نے اپنے پھول اور کارڈز جیل انتظامیہ کے دو آفیسرز کے حوالے کئے اور جیل حکام نے یہ وعدہ کیا کہ ان کے تحائف غازی صاحب کو پہنچا دیئے جائیں گے۔

غازی صاحب کے وکلاء نے پیشی سے فارغ ہو کر میڈیا کو کاروائی سے مطلع کیا۔ پوری پیشی کے دوران غلامان مصطفیٰ اپنی محبت و جذبات کے اظہار میں بلند آواز میں نعرے لگاتے رہے۔

غازی صاحب کا خط

15 فروری بعد نماز عصر کلیام اعوان تحصیل گوجر خان سے ایک قافلہ میرے ایک دیرینہ دوست جناب ملک خالد محمود صاحب کی قیادت میں آمنہ مسجد پہنچا اور راقم کو غازی صاحب کے گھر ساتھ جانے کو کہا اس قافلے میں ملک انس مقصود علوی بھی تھے، ملک انس مقصود صاحب اپنے طور پر شاعری بھی کرتے رہتے ہیں انہوں نے غازی صاحب سے محبت کا اظہار کیا اور ان کی شان میں ایک نظم لکھی اور اس نظم کے قد آدم جتنے پورٹریٹ بنائے جن پر غازی صاحب کی تصویر بھی تھی اور اس پورٹریٹ کے چھوٹے سائز میں ہزاروں کارڈ پرنٹ کروا کر تقسیم کئے۔

راقم قافلے کے ہمراہ غازی صاحب کے گھر گیا اور وہاں پر ملک انس صاحب نے ایک خوبصورت پورٹریٹ غازی صاحب کے برادران کو پیش کیا اور سادہ پرنٹڈ کارڈ بھی پیش کئے۔ اس ملاقات میں غازی صاحب کے بڑے بھائی جناب ملک محمد تاثیر قادری صاحب نے ان تمام حضرات کی موجودگی میں مجھے غازی صاحب کی طرف سے بھیجا گیا خط دیا جو کہ 14 فروری پیشی

کے موقع پر انہوں نے اپنے وکیل جناب راجہ راقم نے وہ خط وصول کیا اور اسے چومتے ہوئے سے بھیجا گیا یہ خط نہ جانے کس کیفیت میں لکھا عجب سی کیفیت طاری رہی۔ خط کا مضمون یہ

الحمدللہ رب العالمین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیط الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الع

مکرمی و محترمی جناب خطیب اہل س مسلک حق اہل سنت و جماعت محافظ ناموس تعالیٰ علیہم اجمعین ۔ سربراہ شباب اسلامی صاحب دامت برکاتہم العالیہ، سید امتیاز حسی صاحب اور تمام علمائے حق اہل سنت و غلامان مصطفیٰ و عاشقان رسول کے بعد عرض کے کرم سے بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں اور رب کے صدقے آپ سب کو اپنے حفظ و امان شیاطین کے شر سے محفوظ فرمائے۔ آمین

ہم کو اللہ اور نبی سے پیارے
امہات المؤمنین و چار
غوث کے دامن میں جو بھی آیا
مرحبا آقا کی آمد مر
مصطفیٰ اس روز آئے اس
صفحہ 143

کے موقع پر انہوں نے اپنے وکیل جناب راجہ شجاع الرحمن صاحب کے ہاتھ میری طرف بھیجا تھا۔ راقم نے وہ خط وصول کیا اور اسے چومتے ہوئے اپنے جیب میں ڈال لیا۔ عاشق رسول کی طرف سے بھیجا گیا یہ خط نہ جانے کس کیفیت میں لکھا گیا کہ اس کے باعث اگلے دو دنوں تک مجھ پر ایک عجب سی کیفیت طاری رہی۔ خط کا مضمون یہ ہے۔

الحمدللہ رب العالمین، والسلام علیٰ سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ وعلیٰ الک واصحابک یا حبیب اللہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الحمد للہ علیٰ کل حال

مکرمی ومحترمی جناب خطیب اہل سنت، عاشق ماہِ رسالت، مجاہد ملت، مناظرِ اسلام، عالمِ مسلک حق اہل سنت و جماعت محافظ ناموسِ رسالت واہلبیت اطہار وصحابہ واولیاء اللہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔ سربراہ شبابِ اسلامی پاکستان، الحاج مفتی علامہ محمد حنیف قریشی قادری صاحب دامت برکاتہم العالیہ، سید امتیاز حسین شاہ صاحب کاظمی، وقبلہء عالم سید حسین الدین شاہ صاحب اور تمام علمائے حق اہل سنت و جماعت اور تمام اراکین شباب اسلامی پاکستان، تمام غلامانِ مصطفیٰ وعاشقانِ رسول کے بعد عرض ہے کہ میں اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول ﷺ کے کرم سے بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ عزوجل اپنے پیارے حبیب پاک ﷺ کے صدقے آپ سب کو اپنے حفظ وامان میں رکھے اور دشمنوں کی دشمنی اور حاسدین کے حسد اور شیاطین کے شر سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔

ہم کو اللہ اور نبی سے پیار ہے ان شاء اللہ اپنا بیڑا پار ہے
اُمہات المؤمنین و چار یار سب صحابہ سے ہمیں تو پیار ہے
غوث کے دامن میں جو بھی آگیا دو جہاں میں اس کا بیڑا پار ہے
مرحبا آقا کی آمد مرحبا ہم کو اس نعرے سے بے حد پیار ہے
مصطفیٰ اس روز آئے اس لئے عید میلاد النبی سے پیار ہے
صفحہ 144

آپ سب کو ماہ میلاد شریف اور عیدوں کی بھی عید یعنی عید میلاد النبی ﷺ بہت بہت مبارک ہو۔

نثار تیری چہل پہل پر ہزاروں عیدیں ربیع الاوّل
سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں
سوہنڑا آیا تے سج گئے نے گلیاں بازار
تیری جب کہ دید ہوگی تبھی میری عید ہوگی
میرے خواب میں تم آنا مدنی مدینے والے
یارسول اللہ تیرے چاہنے والوں کی خیر
سب غلاموں کا بھلا ہو سب کریں طیبہ کی سیر
آفتوں کا رخ بدل دے اور بلائیں ان سے پھیر
ڈال دی قلب میں عظمت مصطفیٰ
سیدی اعلیٰ حضرت پہ لاکھوں سلام
اس خطیب اہل سنت (حنیف قریشی قادری) پہ لاکھوں سلام

☆☆☆

اسی دن ممتاز حسین قادری صاحب کے چاہنے والوں اور شباب اسلامی کے کارکنان کی طرف سے پورے شہر میں غازی صاحب کے بڑے بڑے پورٹریٹ نصب کئے گئے جن پر میلاد پاک کے حوالے سے غازی صاحب کو مبارکباد پیش کی گئی تھی۔

جشن عید میلاد النبی اور ممتاز حسین قادری

16 فروری 2011ء میرے آقا ﷺ کی ولادت کا دن تھا پورے ملک میں عاشقان رسول نے آقا کی ولادت کی خوشیوں کا اظہار کیا لیکن اس دفعہ میلاد پاک کے جلسوں اور جلوسوں کا

صفحہ 145

الگ ہی نظارہ تھا۔ پوری قوم ہلکی پھلکی تھی تمام عاشقان رسول کے سروں کا بوجھ غازی صاحب نے اتار دیا تھا۔

اللہ رے یہ مقبولیت ! پورے ملک میں میلاد پاک کے جلوسوں میں غازی صاحب کی عظمت کے بینرز ، ان کے پورٹریٹ ، ان کے نام کی نظمیں ان کے نام کے نعرے۔ ہر جلوس ہی غازی صاحب کی حمایت کا جلوس نظر آنے لگا ۔ راولپنڈی میں بیشتر مقامات پر شباب اسلامی کے نوجوانوں نے میلاد پاک کا جلوس نکالا اور باہتمام اس جلوس کو غازی صاحب کے نام کیا۔

شباب اسلامی پاکستان کی طرف سے پورے ملک میں میلاد کے جلوسوں میں خصوصی طور پر عاشق رسول ملک ممتاز حسین قادری کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

راولپنڈی اسلام آباد میں چوہڑ، کمرشل مارکیٹ، راجہ بازار، ہمک ماڈل ٹاؤن، بہارہ کہو، کراچی کمپنی، صادق آباد کے علاوہ مختلف مقامات پر میلاد شریف کے جلوس کے شرکاء کو خوش آمدید کہنے اور میلاد کمیٹیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے استقبالیہ کیمپ قائم کئے گئے ۔ اور ان کیمپوں میں خصوصی طور پر غازی صاحب کے پورٹریٹ نصب تھے اور غازی صاحب کو خراج عقیدت پیش کرنے کا اہتمام کیا گیا۔ میلاد کمیٹیوں کو انعام میں جہاں ٹرافیاں تحفے میں دی گئیں وہیں غازی صاحب کا خوبصورت فوٹو فریم بھی پیش کیا گیا ۔ راولپنڈی میں بزم ارشاد جامعہ رضویہ ضیاء العلوم اور شباب اسلامی کا بہت بڑا میلاد جلوس سیٹلائٹ ٹاؤن میں نکالا گیا ۔ اس جلوس میں بھی جگہ جگہ غازی صاحب کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

12 ربیع الاوّل شریف کا دن راقم کا بہت مصروف ترین دن ہوتا ہے اس دفعہ بھی 12 ربیع الاوّل کے پروگرام شیڈول کے مطابق راقم نے سلطان پور حسن ابدال، ایبٹ آباد، گڑھی حبیب اللہ، اور پھر ایبٹ آباد کے میلاد کے جلوسوں اور پروگراموں میں شرکت کرنا تھی ۔ شباب اسلامی ہزارہ ڈویژن کے ساتھیوں کے اصرار پر اس دفعہ میرے ساتھ غازی صاحب کے

صفحہ 146

(کزن) جناب ملک تاثیر صاحب ہزارہ میلاد شریف کے پروگراموں میں شریک ہوئے۔ صبح 9 بجے سلطان پور حسن ابدال میں استاد گرامی جناب قبلہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب کے آبائی گاؤں میں میلاد شریف کے جلوس اور بعد ازاں جلسے میں خطاب کی سعادت میسر آئی اس پروگرام میں جناب تاثیر ملک نے تمام عاشقان رسول کا شکریہ ادا کیا۔ اور غازی صاحب کی طرف سے اہلیان اسلام کو میلاد شریف کی خوشیوں کا پیغام پہنچایا۔ دن ایک بجے ہم لوگ ایبٹ آباد میلاد شریف کے پروگرام میں پہنچے ایبٹ آباد میں میلاد شریف کا جلوس دربار عالیہ نقشبندیہ میرا مندروچھ نواں شہر سے پیر صاحب آف طوڑی شریف کی قیادت میں شروع ہوا تھا اور آج تک جاری ہے۔ اس دفعہ بھی ہزاروں عاشقان مصطفیٰ، صاحبزادہ سید شاہ محمد کمال کاظمی، صاحبزادہ سید شاہ احمد کمال کاظمی، صاحبزادہ سید شاہ حامد کمال کاظمی کی قیادت میں دربار عالیہ سے روانہ ہوئے۔ راقم کو سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت سید غلام مصطفیٰ شاہ صاحب کاظمی کی ارادت کا شرف حاصل ہے اور ابتداء راقم کی تربیت آن حضرت ہی کے زیر سایہ ہوئی ہے۔ شباب اسلامی کے قیام کے بعد ایبٹ آباد کے مرکزی جلوس میں شباب اسلامی کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے عرصہ 10 سال سے جلوس میں مرکزی خطاب راقم ہی کا ہوتا ہے۔ علاقہ پگھیاں، پھلکوٹر، کاکول اور دیگر مضافات سے شباب اسلامی کے قافلے اس جلوس میں شریک ہوتے ہیں اور 2007ء میں ایبٹ آباد، حسن ٹاؤن میں مرکز شباب اسلامی ”دارالعلوم جامعہ مہریہ ضیاء العلوم“ کے قیام کے بعد اب شباب اسلامی کا ایک بہت بڑا قافلہ یہاں سے بھی اس جلوس میں شریک ہوتا ہے۔ جلوس مین بازار ایبٹ آباد پہنچ کر جلسہ عام کی شکل اختیار کرتا ہے اور یہاں علمائے کرام اور دیگر شخصیات کے خطابات ہوتے ہیں۔

امسال جلوس کے بعد جیسے جلسہ شروع ہوا بارش شروع ہو گئی تاہم ہزاروں کے اجتماع سے ایک شخص بھی اپنی جگہ سے نہیں اٹھا اور لوگ برستی بارش میں بیٹھ کر علماء کے ارشادات عالیہ سے مستفید ہوتے رہے۔ راقم جس وقت سٹیج پر پہنچا اور عاشقانِ مصطفیٰ کو غازی صاحب کے بھائی ملک تاثیر کی آمد کا علم ہوا تو عاشقانِ مصطفیٰ کی محبتوں کے اظہار کا وہ منظر دیدنی تھا۔ شباب اسلامی

صفحہ 147

پاکستان کی طرف سے خصوصی طور پر شرکائے جلوس میں غازی صاحب کی تصاویر والے پلے کارڈ تقسیم کئے گئے تھے جنہیں لوگوں نے اپنے سینوں اور ماتھوں پر باندھ رکھا تھا۔ پورا شہر غازی تیری جرأت کو سلام ہو سلام ہو ۔ جیوے جیوے غازی جیوے ...... کے نعروں سے گونج اٹھا۔ تاجر یونین ایبٹ آباد کے صدر جناب نصیر خان جدون خطاب فرمارہے تھے انہوں نے اپنے خطاب کے دوران انتہائی شاندار انداز میں غازی صاحب کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ غازی کروڑوں مسلمانوں کی آنکھوں کا تارا ہے۔

صاحبزادگانِ دربار عالیہ نواں شہر اور دیگر علماء کی طرف سے ملک تاثیر صاحب کی ہار پوشی کی گئی ”لبیک یا رسول اللہ“ کا ترانہ پیش کیا گیا اور ملک تاثیر صاحب کو خیالات کے اظہار کا موقع دیا گیا انہوں نے کہا۔

میرے پیارے مسلمان بھائیو! میرے بھائی غازی ممتاز قادری نے جو کچھ کیا وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا اور خوشنودی کے لئے تھا ان کے اس کارنامے سے کم از کم اتنا ضرور ہے کہ آئندہ کسی گستاخ کو اتنی جرأت نہ ہوگی کہ وہ ہمارے نبی پاک ﷺ کے بارے میں زبان درازی کر سکے میں ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں اور ہم لوگ کبھی اس طرح کے سٹیجوں پر نہیں بولے یہ تو نبی پاک ﷺ کی رحمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اتنی عزت عطا فرمائی ۔ میں آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں تا کہ ایک تو جو آپ لوگ ہمارے بھائی اور خاندان سے اظہار ہمدردی کرتے رہے اس پر آپ کا شکریہ ادا کیا جا سکے اور دوسرا اس امید پر کہ آپ لوگ آئندہ بھی اخلاقی تعاون جاری رکھیں گے۔ ملک تاثیر کے خطاب کے بعد راقم نے قلت وقت اور شدت موسم کے باعث مختصر خطاب کیا اور اپنے خطاب میں اتحاد و اتفاق و یگانگت کا درس دیا اور گستاخ رسول کی شرعی سزا کے بارے میں چند منٹ گفتگو ہوئی اور اسی تناظر میں جناب ملک ممتاز قادری صاحب کو خراج عقیدت پیش کیا اور لوگوں سے عہد لیا کہ وہ اور زیادہ شدت کے ساتھ غازی صاحب کی حمایت جاری رکھیں گے۔ ایبٹ آباد میں رات کے وقت بڑا جلسہ ہوتا ہے اسلئے میں نے اعلان کیا کہ تفصیلی خطاب ان شاء اللہ رات کو ہو گا۔

صفحہ 148

ہمارا قافلہ گڑھی حبیب اللہ کے لئے روانہ ہوا دن 3 بجے ہم لوگ گڑھی حبیب اللہ پہنچے۔ گڑھی حبیب اللہ میں میلاد شریف کا جلوس شروع کرنے کا اعزاز شباب اسلامی کو حاصل ہے۔ یہاں کے انتظام و انصرام اور دیگر مسلکی معاملات کو الحمد للہ شباب اسلامی ہی کے کارکن کنٹرول کرتے ہیں۔ شباب اسلامی ہزارہ کے رہنما سید ضیاء حسین شاہ نے ہمارا استقبال کیا جس وقت ہم لوگ سٹیج پر پہنچے تو کیا تھا عوام کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا پنڈال میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی جس کے باعث تا حد نگاہ دوکانوں کی چھتوں پر اور بچے بجلی کے کھمبوں اور درختوں پر انسانی سر ہی نظر آ رہے تھے۔ الحمد للہ ہر سال راقم کے پاکستان میں موجود ہونے کی صورت میں آخری خطاب فقیر ہی کا ہوتا ہے جو کہ بعد نماز ظہر شروع ہوتا ہے۔ ہر سال ہزاروں عاشقان مصطفیٰ، گڑھی حبیب اللہ کے اس جلسے اور جلوس میں شریک ہوتے ہیں۔ اس سال سے قبل تقریباً ہر دفعہ پروگرام کے انعقاد میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا رہا۔ تاہم شباب اسلامی کے کارکنوں نے ہمیشہ عزم و ہمت سے مشکلات کا سامنا کیا اس سال پہلی دفعہ ضلعی و مقامی انتظامیہ نے بھر پور تعاون کیا اور دیگر مسالک کے علماء نے بھی پروگرام کے انعقاد میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہ ڈالی۔

اس سال بھی ہمیشہ کی طرح یونین کونسل بوئی سے ایک بڑا جلوس مرکزی رہنما شباب اسلامی پاکستان جناب سید وضاحت حسین شاہ کاظمی صاحب کی قیادت میں گڑھی حبیب اللہ شریک ہوا۔ سید وضاحت حسین شاہ کے والد گرامی حضرت قبلہ سید غلام مرتضیٰ شاہ صاحب مشہور ولی اللہ ، حضرت سید تقی شاہ سرکار رحمہ اللہ کی اولاد میں سے ہیں اور انتہائی کامل شخصیت ہیں۔ ان علاقوں میں ہزاروں لوگ آپ سے ارادت رکھتے ہیں۔ ہر سال حضرت سید غلام مرتضیٰ شاہ صاحب کی قیادت میں بڑا جلوس گڑھی حبیب اللہ پروگرام میں شریک ہوتا تھا۔ تاہم اس سال اس جلوس کی قیادت سید وضاحت حسین شاہ صاحب اور سید طاہر حسین شاہ صاحب نے فرمائی۔ شباب اسلامی سرلہ خرد کہنڈورہ ، گلی میراں، دلولہ کے جلوس اپنے مقامی قائدین کی قیادت میں مرکزی پروگرام میں شریک ہوئے۔ امسال کا اجتماع بلاشبہ گڑھی حبیب اللہ کی تاریخ کا بڑا مذہبی اجتماع تھا۔ اس اجتماع میں بالاکوٹ ، تلٹہ، کرنول ، مظفر آباد، شہید گلی ، برار کوٹ، لوہارگلی اور حتیٰ کہ دور

صفحہ 149

دراز کے علاقوں سے ہزاروں عاشقان مصطفیٰ شریک ہوئے۔ پورا پنڈال اور پورا شہر شباب اسلامی کے پرچموں سے مزین تھا۔ اور ہر طرف غازی صاحب کے پورٹریٹ نصب تھے۔ جیسے ہی راقم اور ملک تاثیر صاحب سٹیج پر پہنچے ہزاروں افراد کا وہ ولولہ انگیز استقبال شاید زندگی بھر نہ بھلایا جا سکے۔

غازی تیری جرأت کو سلام ہو، سلام ہو۔۔۔۔جیوے جیوے، غازی جیوے۔۔۔۔ہم دیوانے تیرے، ملک ممتاز۔۔۔۔مستانے تیرے۔۔۔۔ملک ممتاز۔۔۔کے نعرے تقریباً کئی منٹ تک جاری رہے۔ کارکنوں نے راقم کا استقبال بھی اس طرح کیا جس طرح کارکنان کو اپنے قائدین کا استقبال کرنا چاہئے۔ شباب اسلامی ہزارہ ڈویژن کے اکثر مرکزی رہنما سٹیج پر موجود تھے ۔ ملک تاثیر صاحب کو دعوت خطاب دی گئی تو پھر کیا تھا بیشمار کارکن فرط جذبات میں جیوے جیوے ، غازی جیوے۔۔۔۔ کے نعرے لگاتے ہوئے رقص کناں ہو گئے۔ ملک تاثیر صاحب نے اپنے خطاب میں کہا۔ میرے پیارے بھائیو! میں شباب اسلامی پاکستان کے ان پرعزم جوانوں کے ان جذبات کو دیکھ کر خود بھی آبدیدہ ہو گیا ہوں۔ میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں آپ کے اس جذبہ محبت کو سلام کر سکوں ۔ میرے بھائیو! شباب اسلامی پاکستان کا غازی ممتاز کے جذبہ ایمانی کو ابھارنے میں بڑا کردار ہے اس لئے کہ 31 دسمبر 2010ء کا ایک جلسہ ہی تھا ہمارے گھر کے پاس جو کہ شباب اسلامی کے نوجوانوں نے منعقد کیا تھا اور اس جلسے میں مولانا حنیف قریشی صاحب کی عشق رسول میں ڈوبی ہوئی تقریر سے میرا بھائی متاثر ہوا اور بعدازاں اس نے گستاخ رسول کو واصل جہنم کر دیا۔ پورے ملک میں تمام مسلمانوں اور بالخصوص شباب اسلامی پاکستان کے نوجوانوں نے جس طرح ہماری حمایت اور ملک ممتاز حسین صاحب کا ساتھ دیا ہے ۔ میں اس پر آپ تمام لوگوں کا بے حد شکر گزار ہوں اور ہمارے خاندان کا بچہ بچہ مولانا حنیف قریشی ، علمائے اہلِ سنت اور تمام عاشقان رسول اور عامۃ المسلمین کے لئے ہر وقت دعا گو رہے گا۔ میں اتنے بڑے اجتماع کے سامنے آج زندگی میں پہلی دفعہ سٹیج پر کھڑا ہوا ہوں اور یہ سب عزتیں اللہ کے رسول ﷺ کے صدقے سے ہیں۔

بعدازاں راقم نے خطاب کیا شباب اسلامی پاکستان کے مشن پر گفتگو ہوئی اور بعد ازاں

صفحہ 150

ہزاروں عاشقان مصطفیٰ کے دل کی دھڑکن غازی ممتاز حسین قادری کی عظمت کو سلام پیش کیا گیا۔ اور راقم نے کارکنان شباب اسلامی کو اتحاد و اتفاق اور باہمی محبت و یگانگت کا درس دیا۔ اور نئی یونٹ سازی کے ذمہ داران سے حلف وفاداری لیا گیا۔

اس رات ایبٹ آباد مین بازار میں منعقد ہونے والا جلسہ موسم کی شدت کے پیش نظر جلال بابا آڈیٹوریم میں منعقد کیا گیا ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ اور یہاں پر بھی لوگوں نے غازی صاحب کے بھائی کو بے پناہ پذیرائی دی اور غازی صاحب کی حمایت میں خطابات ہوئے۔

اس دن غازی صاحب کے دوسرے بڑے بھائی ولید یراعوان صاحب لاہور میں میلاد شریف کے پروگرام میں شریک ہوئے اس پروگرام میں بھی ہزاروں افراد شریک ہوئے پروگرام میں ڈاکٹر اشرف آصف جلالی صاحب نے خطاب کیا اور غازی صاحب کو دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کیا۔

لاہور اور مضافات میں غازی صاحب کی حمایتی تحریک میں چند علماء نے نمایاں کردار ادا کیا ہے اور کر رہے ہیں ان میں ڈاکٹر صاحب بلا شبہ سر فہرست ہیں علامہ خادم حسین رضوی علامہ محمد علی نقشبندی علامہ رضائے مصطفیٰ یہ علماء میں وہ شخصیات ہیں جنہوں نے غازی صاحب کی حمایتی تحریک میں بھر پور کردار ادا کیا ہے۔ علامہ خادم حسین رضوی صاحب نے اپنے زیر اہتمام شائع ہونے والے ’’العاقب‘‘ میں غازی صاحب کے حوالے سے خصوصی نمبر شائع کیا ہے۔ اگرچہ غازی صاحب کی ذات سے وابستہ بہت ساری معلومات اس نمبر میں شامل نہیں کی جاسکیں ہیں تاہم مولانا کا یہ عمل لائق تحسین ہے۔ اور مولانا، غازی صاحب کے معاملے میں بہت مخلص ہیں۔

ادھر آج ہی کے دن شام کے وقت جیو نیوز ، نے ایک رپورٹ نشر کی جس میں بتایا گیا کہ غازی صاحب کی حمایت پورے ملک میں انتہائی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور پورے ملک میں میلاد شریف کے جلسے اور جلوسوں میں کھل کر ان کی حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔ شباب اسلامی پاکستان کی طرف سے ہر سٹیج پر غازی صاحب کی کھلم کھلا حمایت کے باعث نیشنل انٹرنیشنل میڈیا نے

صفحہ 151

راقم کی طرف بہت توجہ دی۔ بروز جمعۃ المبارک 18 فروری سپین کے ایک اخبار کے ایک صحافی اور روزنامہ ڈان کے رپورٹر محمد مدثر راقم کے پاس آئے اور اس کیس اور ناموس رسالت قانون کے حوالے سے سوالات کئے میں نے ان لوگوں کو حقائق سے آگاہ کیا۔

ممتاز حسین قادری کے گھر محفل میلاد

23 فروری غازی صاحب کے بھائیوں کی طرف سے اپنے گھر کے باہر محفل میلاد کا اہتمام کیا گیا یہ وہی محفل ہے کہ جو غازی صاحب کی قیادت میں ہر سال منعقد ہوا کرتی تھی تاہم اہل محلہ کے کہنے کے مطابق اس محفل میں کبھی بھی سو دو سو سے زائد افراد شریک نہ ہوئے تھے لیکن جب ممتاز حسین قادری ایک پولیس والے سے غازی بن گئے تو اس کے بعد ان کے برادران کی طرف سے پندرہ روز قبل راقم سے محفل میں گفتگو کا وقت مانگا گیا اشتہارات اور اخبارات کے ذریعے تشہیر کی گئی۔ شباب اسلامی پاکستان کی مقامی تنظیموں کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی کہ وہ بھر پور شرکت کریں۔ ادریس قریشی کی قیادت میں کارکنان شباب اسلامی ، غازی برادران، چوہدری منیر احمد عرف ماکھا اور پنجتن پاک میلاد کمیٹی کے اراکین نے ایک روز قبل پوری گلی کو دلہن کی طرح سجایا۔ 23 فروری بعد نماز مغرب پاک محفل کا آغاز ہوا تلاوت کلام پاک کی سعادت قاری اعظم نورانی نے حاصل کی اور ثناء خوانان مصطفیٰ کلیم عطاری، شہباز مدنی، ایوب صابر آف سیالکوٹ، نے نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔

نماز عشاء تک ہزاروں عاشقان مصطفیٰ غازی صاحب کے مکان کے قریب پہنچ چکے تھے۔ مین گلی اس کے متصل گلیاں اور دکانوں اور مکانوں کی چھتیں عاشقان مصطفیٰ سے بھر چکی تھیں۔ محفل میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض قاری تنویر صاحب نگران شباب اسلامی مسلم ٹاؤن یونٹ اور جناب واجد حسین نقشبندی نے ادا کئے ۔ راجہ شجاع الرحمٰن ایڈوکیٹ اور راجہ طارق دھمیال صاحبان خصوصی طور پر شریک محفل ہوئے۔

راقم اپنے تنظیمی ساتھیوں کے ہمراہ رات 9 بجے سٹیج پر پہنچا عاشقان مصطفیٰ نے بے پناہ

صفحہ 152

محبت کا اظہار کیا ۔ ہزاروں غلامانِ مصطفیٰ جیوے جیوے غازی جیوے اور دوسرے محبت بھرے نعرے لگا رہے تھے ۔ غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے ...... غازی تیرا ایک اشارہ ...... حاضر حاضر لہو ہمارا ۔۔۔۔۔۔ کے فلک شگاف نعرے لگ رہے تھے۔

عشق کا امتحان

پہلے پڑھتے اور سنتے تھے کہ عشق امتحان لیتا ہے لیکن آج اس محفل میں اس کا عملی نمونہ دیکھنے کو ملا ۔ ہزاروں عاشقان مصطفیٰ جب غازی صاحب پر جان نثارنے کے نعرے بلند کر رہے تھے اسی اثناء قدرت کی طرف سے امتحان کا آغاز ہوا اور شدید بارش شروع ہوگئی ۔ میں نے عاشقان مصطفیٰ سے مخاطب ہو کر سوال کیا کہ آپ میں سے غازی ممتاز قادری صاحب سے کون کون پیار کرتا ہے ہر طرف سے فلک شگاف نعرے بلند ہوئے ۔ میں نے اگلا سوال پوچھا کہ آپ غازی صاحب سے کتنا پیار کرتے ہیں ؟ جواب آیا جان سے زیادہ ۔ میں نے کہا اب میں دیکھتا ہوں کہ آپ لوگ بارش کے قطروں کو برداشت کرتے ہیں یا نہیں ۔ تمام لوگوں نے بلند آواز سے جواب دیا ہم میں سے کوئی بھی یہاں سے نہیں جائے گا۔

بارش مزید تیز ہوگئی اس دوران فیاض الحسن چوہان صاحب سابق ایم پی اے نے خطاب کیا ان کے بعد طارق دھمیال ایڈوکیٹ نے خطاب کیا اور ان کے بعد راقم نے ”انا اعطینک الکوثر“ کے ضمن میں گفتگو کی ۔ اس شدید ترین بارش کے دوران راقم نے تقریباً ایک گھنٹہ خطاب کیا ۔ تاہم ایک بھی شخص اپنی جگہ سے نہ اُٹھا اس دوران گلیاں بارش کے پانی سے بھر گئیں تاہم عاشقان مصطفیٰ نے امتحان میں کامیابی حاصل کر لی تھی ۔ بے شمار سیاسی لوگ اور میڈیا کے ارکان بھی محفل میں موجود تھے اور لوگوں کے اس جذبہ وفاداری پر حیران ہو رہے تھے راقم نے خطاب کے آخر میں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے غازی صاحب کے مکان والی گلی جس کا نام ”المسلم سٹریٹ“ تھا اس کو تبدیل کر کے ”غازی سٹریٹ“ رکھا ۔ اور گری روڈ جو کہ اس علاقے کا مین روڈ ہے اس کا نام گری روڈ سے تبدیل کر کے ”ممتاز قادری روڈ“ رکھا۔

صفحہ 153

غازی صاحب کا محبت نامہ

24 فروری غازی برادران اور ان کے والد گرامی ملاقات کے لئے اڈیالہ جیل گئے ۔ غازی صاحب کے بھائی جناب دلپذیر اعوان صاحب نے مجھے فون پر بتایا کہ غازی صاحب نے آپ کے لئے تحفہ بھیجا ہے۔ 25 فروری جمعۃ المبارک کے خطاب میں راقم نے ایک مرتبہ پھر گری روڈ کا نام ممتاز قادری روڈ رکھنے کے حوالے سے اہل علاقہ سے قرارداد پاس کروائی ۔ جسے بھر پور طریقے سے منظور کر لیا گیا ۔

اسی دن شباب اسلامی کی طرف سے ’’غازی سٹریٹ‘‘ کا بڑا بورڈ گلی میں نصب کیا گیا۔ بعد نماز جمعہ دلپذیر اعوان صاحب نے مجھے غازی صاحب کا تحفہ دیا جو ایک خط کی صورت میں تھا عاشق رسول کا خط دیکھ کر دلی خوشی محسوس ہوئی ۔ اس خط میں خاص بات یہ تھی کہ غازی صاحب نے آج سے بارہ سال پہلے کے ایک دور کی طرف میری توجہ دلائی تھی یہ وہ ایام تھے کہ جب راقم بڑی محنت سے علاقے کی مساجد میں درس قرآن کیا کرتا تھا۔ غازی صاحب ان دروس میں شریک ہوتے تھے۔ لیکن ظاہر ہے اس وقت ان کا تعارف اس حوالے سے بالکل نہ تھا۔ غازی صاحب کی طرف سے بھیجے گئے خط کا مضمون یہ ہے۔

مکہ مدینہ بقیع

لا اله الا الله محمد رسول الله صلی الله علیک والہ واصحابہ وسلم الصلوۃ والسلام علیک یا رسول الله وعلی الک واصحابک یا حبیب الله

یہ ذکر وہ ہے کہ جس کا ذمہ لیا ہے خود خالق جہاں نے
ہم آج ہیں کل یہاں نہ ہوں گے مگر یہ محفل سجی رہے گی ( ان شاء اللہ )

بعد از حمد و صلوٰۃ لائق صد عزت و تکریم حضرت علامہ مولانا مفتی محمد حنیف قریشی قادری صاحب دامت برکاتہم العالیہ ، پیر طریقت رہبر شریعت، عاشق ماہ رسالت ، باعث خیر و برکت محافظ ناموس رسالت پرتوِ اعلیٰ حضرت علامہ مولانا پیر سید حسین الدین شاہ صاحب ، تمام علمائے حق اہل سنت و جماعت تمام ثناء خوانان مصطفیٰ، تمام غلامان رسول !

صفحہ 154

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ( الحمدللہ علی کل حال ) مفتی حنیف قریشی قادری صاحب ، میرے جیتے جی میرے خوابوں کی تعبیر کو سچ کر دکھانے پر یعنی ( میرے گھر کے سامنے محفل میلاد شریف کا انعقاد کرنے اور پرتوئے اعلیٰ حضرت پیر سید حسین الدین شاہ صاحب کی زیر صدارت عاشقان رسول کو پیارے آقا ﷺ کی محبت اور عشق کے جام پلانے پر میں دل سے آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، (جزاک اللہ خیرا واحسن الجزا فی الدنیا والآخرۃ) مفتی صاحب دل خوش کر دیا آپ نے میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں ۔ اللہ عزوجل آپ کو درازی عمر بالخیر عطا فرمائے ، صحت وتندرستی اور دونوں جہاں کی بھلائیاں عطا فرمائے آپ کے علم وعمل ، ایمان ، عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم جان ، اولاد گھر بار ، محبین اور عشاق میں برکتیں عطا فرما کر ، دشمنوں کی دشمنی حاسدین کے حسد ، شیاطین کے شر سے محفوظ فرما کر دونوں جہاں کی بھلائیاں و خوبیاں عطا فرما کر آپ جیسے علماء کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھ کر تمام عوام اہل سنت کو آپ کے علم و عشق سے مستفیض فرمائے اور اللہ وعزوجل اور اس کا پیارا حبیب ﷺ راضی ہو جائیں ۔ ( آمین بجاہ النبی الامین ﷺ )

ہم کو اللہ اور نبی سے پیار ہے ان شاء اللہ اپنا بیڑا پار ہے

اگر کوئی غلطی ہو گئی ہو تو براہ کرم معاف کیجئے گا اللہ ساری امت کی بخشش فرمائے ۔ ( آمین ) ( والسلام ، محمد ممتاز قادری عطاری ) ( فی امان اللہ )

یاد دہانی : مفتی صاحب جامع مسجد غوثیہ ڈھوک پٹواں ، ( عبدالقدوس ہزاروی صاحب والی ) میں جب مغرب کی نماز کے بعد آپ درس قرآن شریف وحدیث پاک کے ذریعے گستاخوں کا رد فرماتے تھے تو یہ فقیر انکل قمر حسین صدیقی اور وحید خالد بھائی وغیرہ کے ساتھ عشق رسول کے جام پینے اور عقیدے و ایمان کی مضبوطی کیلئے حاضر ہوا کرتا تھا ۔ (الحمد للہ ) ( یا رسول اللہ تیرے چاہنے والوں کی خیر )

غازی صاحب کی عدالت میں 9 ویں پیشی

26 فروری 2011ء غازی صاحب کی پیشی کا دن تھا ۔ آج کی پیشی پر حسب معمول کارکنان شباب اسلامی ، کارکنان بزم ارشاد جامعہ رضویہ ضیاء العلوم اور دیگر کثیر تعداد میں عاشقان رسول شریک ہوئے ۔ چند روز قبل جراحی سٹاپ اڈیالہ روڈ پر نمبردار فیض محمد صاحب کے گھر میں

صفحہ 155

محفل میلاد شریف میں راقم کو شرکت کا موقع ملا تھا جس میں عاشقان رسول کی بہت بڑی تعداد شریک تھی اس محفل میں راقم نے لوگوں کو غازی صاحب کی پیشیوں پر شرکت کی ترغیب دی تھی۔ غالباً اس کا اثر تھا کہ اڈیالہ گورکھپور اور دیگر مضافات سے کثیر تعداد میں غلامان رسول پیشی پر حاضر ہوئے۔ مختلف کالجز کے طلباء کی بھی اچھی تعداد شریک ہوئی۔ مقامی علماء مولانا طاہر چشتی صاحب، مولانا پروفیسر عبدالمنان چشتی ، مولانا رفیق انجم بھی شریک ہوئے۔ آج کی پیشی پر گوجرانوالہ سے بزرگ عالم دین جناب مولانا محمد حنیف چشتی راہوالی بطور خاص شریک ہوئے۔ راولپنڈی کے ایک تاجر حنیف میمن صاحب نے بڑی تعداد میں غازی صاحب کی پیشیوں میں شرکت کی ترغیب کے اشتہار شائع کئے۔ سینکڑوں غلامان مصطفیٰ دن 10 بجے سے ایک بجے تک درود و سلام، قصیدہ بردہ شریف اور غازی صاحب کی رہائی کے حق میں نعرے بلند کرتے رہے۔

چوہدری مظہر صاحب آف اڈیالہ روڈ اپنے برادران کے ہمراہ پیشی پر حاضر ہوئے اور ٹھیکیدار خالد خان خٹک صاحب آف مسلم ٹاؤن دوستوں کے ہمراہ شریک ہوئے۔ آج کی پیشی کے موقع پر کمرہ عدالت میں دلپذیر اعوان صاحب اور ان کے والد گرامی کو بھی جیل کے اندر سماعت کے موقع پر موجودگی کی اجازت دے دی گئی۔ آج عدالت میں موقع کے تین گواہوں کو بلایا گیا تھا ان سرکاری گواہان میں ڈاکٹر ارشد پولی کلینک اسلام آباد اور تھانہ کوہسار کے دو اہلکار اے ایس آئی افتخار اور کانسٹیبل عبدالرحیم کی شہادتیں قلمبند کی گئیں۔ ڈاکٹر ارشد نے پوسٹ مارٹم کے حوالے سے بیان دیا کہ سلمان تاثیر کے جسم پر 36 زخم آئے تھے اور معدہ جگر اور پھیپھڑے ریزہ ریزہ ہو جانے سے موقع پر موت واقع ہو گئی تھی۔ پولیس کانسٹیبل عبدالرحیم نے اپنے بیان میں بتایا کہ اس نے ایف آئی آر 5 بجکر 25 منٹ پر تھانہ میں ایس ایچ او کو پہنچائی تھی۔ اس پر جرح کرتے ہوئے غازی صاحب کے وکلاء نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد نے اسی رات کو اسلام آباد میں لائیو پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ورثاء کی طرف سے ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی اس کے علاوہ وکلاء صفائی نے بھر پور جرح کی۔ مقتول گورنر کی طرف سے اس کا وکیل سیف الملوک حاضر ہوا۔

گواہوں پر جرح کے مکمل ہونے کے بعد راجہ اخلاق حسین جج دہشتگردی عدالت نے

صفحہ 156

کاروائی 5 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے واقع کے مزید گواہوں کو طلب کر لیا۔ سماعت کے دوران جیل کے باہر غلامان مصطفیٰ غازی صاحب کے حق میں نعرے بازی کرتے رہے اور سرکاری وکیل کے خلاف آج بطور خاص ایک نعرہ بلند ہوا۔ گستاخ کا وکیل بھی، گستاخ ہے گستاخ ہے۔

غازی صاحب کی عدالت میں دسویں پیشی

5 مارچ 2011ء غازی صاحب کی پیشی کی تاریخ تھی حسب معمول راقم تنظیمی ساتھیوں کے ہمراہ جیل کے باہر بر وقت پہنچا۔ اس پیشی کے موقع پر نمبردار محمد فیض آف جراحی، ذیشان فیض، مولانا محمد طاہر ، پروفیسر عبد المنان چشتی ، مولانا رفیق انجم ، مولانا سیفی ، مولانا حنیف عباسی ، مولانا جاوید اپنے کثیر دوستوں کے ہمراہ پیشی پر جلوسوں کی صورت میں جراحی ، کورکھپور اور مضافات سے پہنچے اور جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کے طلبہ سمیت سینکڑوں افراد غازی صاحب کی عظمت کو سلام کرتے رہے۔

شرم کرو حیا کرو، غازی کو رہا کرو۔۔۔۔۔ غازی تیرے جاں نثار ، بے شمار بے شمار۔۔۔ ۔۔ جیوے جیوے ، غازی جیوے کے نعرے لگتے رہے ۔ پنجاب پولیس کی طرف سے اس دفعہ بہت سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے تھے۔ اور درجنوں پولیس اہلکار کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کیلئے موجود تھے۔ اس موقع پر ایس ایچ او تھانہ صدر اور پولیس چوکی انچارج نے راقم ، علامہ طاہر صاحب کو چوکی کے اندر بلایا اور پیشی کے موقع پر تعاون کی درخواست کی۔

ہم نے انہیں باور کروایا کہ ہم لوگ انتہائی پر امن ہیں اور ہم غازی صاحب سے اظہار محبت کے لئے آتے ہیں۔ ہمارا اس کے علاوہ کوئی اور ایجنڈا نہیں ہے۔

اس پیشی کے موقع پر اڈیالہ روڈ پر وال چاکنگ دیکھنے کو ملی جس میں غازی صاحب کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا اور یہ چاکنگ SIP کے ساتھیوں نے کی تھی۔ اس دفعہ راجہ ساجد محمود صاحب آف صادق آباد نے غازی صاحب کی تصاویر والے بڑے بڑے بینرز بنوائے اور انہیں اڈیالہ روڈ پر کھمبوں کے ساتھ آویزاں کیا گیا۔ اس پیشی کے موقع پر بھی وقوعہ کے دو گواہوں کو طلب

صفحہ 157

کیا گیا تھا عدالت میں ڈارفٹ میں خرم شہزاد اور سب انسپکٹر گلفراز بطور سرکاری گواہ پیش ہوئے۔

عدالت کے جج راجہ اخلاق حسین نے مختصر سماعت کے بعد عدالت کی کاروائی کو ختم کر دیا۔ اور آئندہ پیشی کی تاریخ 26 مارچ مقرر کی گئی۔ اس پیشی پر غازی صاحب کے وکلاء میں سے جناب ملک رفیق صاحب پیش ہوئے دیگر وکلاء میں سے مرکزی سرپرست اعلیٰ جناب سید حبیب الحق شاہ صاحب کو جیل جانے سے روک دیا گیا۔ جس پر راجہ طارق دھمیال صاحب نے احتجاج کیا تاہم جج صاحب کو شکایت کی گئی تو انہوں نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے باز پرس کی جس پر سپرنٹنڈنٹ کی طرف سے آئندہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ کیا گیا۔

سب جلسے تیرے نام!

ادھر شباب اسلامی پاکستان کے مرکزی قائدین کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ملک بھر میں شباب اسلامی اور ان کے ہم ذہن لوگوں کی طرف سے منعقد کئے جانے والے میلاد شریف اور گیارہویں شریف کے جلسوں میں شان مصطفیٰ کے بیان کے ساتھ ساتھ غازی اسلام ملک ممتاز قادری کے حق میں گفتگو کی جائے اور ہر جلسے میں انہیں بھر پور خراج عقیدت پیش کیا جائے۔ چنانچہ فقیر راقم نے ملک بھر میں جہاں تک ممکن ہو سکا اہل سنت کے مقررین اور مشہور علماء سے رابطہ کیا اور اس سلسلے کو بڑھانے کی اپیل کی۔ راقم نے گورنر کے قتل کے دوسرے دن سے ہی اس سلسلے کا آغاز کر دیا تھا اور الحمد للہ تادم تحریر غازی صاحب کی حمایت کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ 4 جنوری کے بعد راقم کے شاید ہی کوئی خطاب ہوا کہ جس میں عاشق رسول کو خراج عقیدت پیش نہ کیا گیا ہو۔ ویسے تو اللہ کے فضل و کرم سے راقم نے ربیع الاوّل 2011ء میں ایک مہینے میں چھوٹے بڑے 85 جلسوں سے خطاب کیا تاہم ان میں جو بڑے بڑے اجتماعات ہوئے ان میں گوجر خان مسجد صدیق اکبر، بوہڑ بازار راولپنڈی، ایبٹ آباد مین چوک، گڑھی حبیب اللہ مین بازار، غریب آباد راولپنڈی، درھوالہ اسلام آباد، ڈھیڈہ گجرات ، اڈیالہ روڈ راولپنڈی، غازی ہاؤس راولپنڈی، چک مرزا کلر سیداں، بہارہ کہو اسلام آباد، بھون کہوٹہ، گجرات کوٹلہ ، پنڈ دادنخان، جہلم شہر، چکوال

صفحہ 158

چک خوشی، موہن ہری پور، کراچی کمپنی اسلام آباد، پیہونٹ اسلام آباد، سہوٹ کلر سیداں، ٹکڑیالی راولپنڈی، سہالہ اسلام آباد، فتح جنگ اٹک، ڈھوک کشمیراں راولپنڈی، سیالکوٹ شہر، شکریال راولپنڈی، کے بڑے بڑے تنظیمی اور غیر تنظیمی جلسے اور کانفرنسیں قابل ذکر ہیں۔ ان تمام پروگرامز میں غازی صاحب کو بھر پور خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

9 مارچ لودھراں کے مقام پر عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد کیا گیا اس کانفرنس میں شباب اسلامی بہاولپور اور شباب اسلامی ملتان کے کارکنان نے بھر پور شرکت کی اس جلسے میں راقم نے جیسے ہی غازی صاحب کا نام لیا پورا اجتماع غازی صاحب کے حمایتی نعروں سے گونج اٹھا، غور کرنے کی بات تو یہ ہے کہ ایک پولیس کانسٹیبل کے لئے سینکڑوں میل دور اتنا زیادہ حمایتی جذبہ کس طرح ممکن ہے؟ یقینی طور پر غازی ممتاز کے اقدام کا خلوص اور اس کا نبی پاک سے لگاؤ اور عشق کا اظہار ہی پورے ملک میں ان کی حمایت کا ذریعہ ہے۔

اگلے روز شباب اسلامی ملتان کے زیر اہتمام ملتان شہر میں کانفرنس کا انعقاد ہوا اور اس کانفرنس کے جذبات بھی لودھراں کانفرنس سے مختلف نہ تھے یہ دن گزر کر رات کو جھنگ کے قصبہ بڑھوآنہ میں بہت بڑی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا اس میں بھی عشاق مصطفیٰ کثیر تعداد میں شریک ہوئے اور نبی پاک کی محبت کے اظہار کے ساتھ ساتھ اس جلسے میں بھی غازی صاحب کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

14 مارچ 2011ء شباب اسلامی پاکستان ضلع جہلم کی طرف سے اکرم شہید پارک شاندار چوک، جہلم شہر میں ذکر مصطفیٰ کانفرنس کا اہتمام کیا گیا راقم اور مرکزی رہنما علامہ سید امتیاز حسین کاظمی صاحب کو مدعو کیا گیا تھا۔ اس کانفرنس میں بھی غازی صاحب کی حمایتی تحریک کو بڑھانے کے لئے پر زور خطابات کئے گئے۔ تنظیمی پالیسی کے مطابق ان شاء اللہ یہ سلسلہ جاری ہے اور جاری رہے گا۔

راقم کی طرح تنظیم کے دیگر مرکزی قائدین کے خطابات میں بھی غازی صاحب کی

حمایت جاری رہی مرکزی سرپرست ا سید امتیاز حسین شاہ کاظمی، سید وجاہت صاحب، علامہ میر ظہیر احمد قادری، سید حسین شاہ سمیت دیگر تنظیمی عہدیداران حقیقی امر تو یہ ہے کہ غازی صاحب کی مح پذیرائی ملی۔

یہود و نصاریٰ کی آنکھ کا کانٹا۔

پاکستان اسلام کا قلعہ اور پہل پاکستان کو آزادی کے بعد سے مخلص ق اسے ہمیشہ کے لئے خاموش کروا دیا گی

یہود و ہنود اس بات سے گھ قیادت کا حق ادا کر سکتا ہے لہذا وہ کسی میں فتنہ و فساد کا کوئی موقع ہاتھ سے ن استعمال کئے جاتے ہیں مگر ۔۔۔۔۔

ہاں! الحمد للہ یہ ارض پاک ہزاروں اولیاء کی روحانی قوتوں کا م اسے اُجاڑنے کے لئے بڑھے گا ٹوٹ شخص اُٹھے، ذلیل و رسوا ہوگا۔۔۔۔

افواج پاکستان زندہ باد

راقم کا بچپن سے شوق تھ

صفحہ 159

حمایت جاری رہی مرکزی سرپرست اعلیٰ سید حبیب الحق شاہ ضیائی اور مرکزی رہنماؤں میں سید امتیاز حسین شاہ کاظمی ، سید وضاحت حسین شاہ ، علامہ شاہنواز احمد ضیائی ، مفتی نذیر احمد قریشی صاحب ، علامہ میر ظہیر احمد قادری ، سید وقاص حسین شاہ صاحب ، علامہ ظہیر جاوید قریشی ، سید نثار حسین شاہ سمیت دیگر تنظیمی عہدیداران نے غازی صاحب کی حمایت میں یہ سلسلہ جاری رکھا ۔ حقیقی امر تو یہ ہے کہ غازی صاحب کی بھر پور اور کھلم کھلا حمایت کرنے پر لوگوں کی طرف سے بھر پور پذیرائی ملی ۔

یہود و نصاریٰ کی آنکھ کا کانٹا۔۔۔۔پاکستان

پاکستان اسلام کا قلعہ اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے دل کا چین ہے مگر افسوس کہ سرزمین پاکستان کو آزادی کے بعد سے مخلص قیادت نصیب نہ ہوسکی اگر کسی نے خلوص کا مظاہرہ کیا بھی تو اسے ہمیشہ کے لئے خاموش کروادیا گیا ۔

یہود و ہنود اس بات سے مکمل آگاہ ہیں کہ پاکستان ہی وہ ملک ہے جو اسلامی دنیا کی قیادت کا حق ادا کرسکتا ہے لہذا وہ کسی صورت بھی مستحکم پاکستان کو گوارا نہیں کرسکتے اور وہ ارضِ پاک میں فتنہ و فساد کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ ملک کو غیر منظم کرنے کی خاطر اربوں ڈالر استعمال کئے جاتے ہیں مگر۔۔۔۔یہ پاکستان ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں ۔

ہاں ! الحمد للہ یہ ارضِ پاک گنبدِ خضریٰ کے مکیں کا تحفہ ہے، یہ نبی پاک ﷺ کی عطا ہے یہ ہزاروں اولیاء کی روحانی قوتوں کا مظہر ہے۔ اور ان شاء اللہ یہ وطن سدا سلامت رہے گا ، جو ہاتھ اسے اُجاڑنے کے لئے بڑھے گا ٹوٹ جائے گا۔۔۔۔ جو آنکھ اُٹھے گی ، بہہ جائے گی۔۔۔۔ جو شخص اٹھے ، ذلیل و رسوا ہوگا۔۔۔۔۔ اس سلسلے میں مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں ۔

افواج پاکستان زندہ باد

راقم کا بچپن سے شوق تھا کہ پاک فوج کو جوائن کرے اور ملک دشمنوں کے خلاف

صفحہ 160

برسر پیکار ہو جائے!

مگر! جو اللہ کو منظور ہو وہی ہوتا ہے۔

الحمد للہ! آج ہم بندوق اٹھا کر سرحد پر کھڑے ہو کر ملک کی حفاظت تو نہیں کر سکتے لیکن شاید میں سمجھتا ہوں کہ ”تعمیر اذہان“ کا قلعہ فتح کرنا یہ سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔ اور الحمد للہ! یہ کام ہم لوگ کر رہے ہیں۔ راقم یہ لکھتے ہوئے ذرا نہیں جھجکتا کہ۔۔۔۔ پاکستان ہمارا عشق ہے۔۔۔۔ پاکستان ہمارا جنون ہے۔۔۔۔ پاکستان ہماری روح ہے۔۔۔۔ پاکستان ہی ہماری دھڑکنیں ہے ۔۔۔۔ اللہ کی قسم! اس کے بغیر ہم تباہ ہیں ہم کچھ بھی نہیں، ہم ویران ہیں۔

ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو

شباب اسلامی پاکستان کے منشور کو اگر سمجھا جائے تو وہ دو نکات میں سمٹ جاتا ہے۔

الحمد للہ! ہم اس بات کا برملا اعلان کر سکتے ہیں کہ شباب اسلامی کا ایک ایک کارکن ان دونوں جذبوں سے اس طرح سرشار ہے کہ وہ ذات مصطفیٰ کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے کسی گستاخ کی جان لے بھی سکتا ہے (اگر قانونی طور پر اسے سزا نہ دی جاسکے) اور اس مقصد کیلئے جان دے بھی سکتا ہے اور دفاع وطن کی خاطر جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کروانے پر بھی مسرور و شاداں ہوگا۔

قارئین! مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ میں حضور اکرم کی ذات اور پاکستان کے حوالے سے جذباتی ہوں۔

نظریہ پاکستان میری رگ رگ میں رچا بسا ہے اور شاید ایسا اس لئے ہے کہ میں نے جس مرکز علمی میں تعلیم حاصل کی ہے اس درسگاہ کے مہتمم جناب قبلہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب ایک کٹر پاکستانی ہیں۔ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جذبۂ حب الوطنی اس درسگاہ میں دیا جاتا ہے اتنا فوج کے کسی ادارے میں بھی نہ دیا جاتا ہوگا۔ اس لئے کہ میں نے قبلہ شاہ صاحب کی

صفحہ 161

آنکھوں کو کئی مرتبہ ملکی حالات کی سنگینی کے وقت چھلکتا دیکھا ہے۔ اور ان کی زباں پر ایک ہی لفظ ہوتا ہے پاکستان کا کیا بنے گا۔ میں نے شاہ صاحب کی معیت میں ساؤتھ افریقہ کے تبلیغی سفر کئے ہیں وہاں ہزاروں لوگ شاہ صاحب کی ارادت سے منسلک ہیں۔ ساؤتھ افریکن مسلمانوں میں سے ایک بھائی جناب شمس الدین صاحب وہاں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ آج سے 15 سال پہلے جو لوگ بزنس کے حوالے سے پاکستان کا سفر کرتے تھے آج خارجہ پالیسیوں کی کمزوری اور سفارت خانے کی نا اہلی کے باعث وہ لوگ انڈیا جا رہے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ جامعہ رضویہ ضیاء العلوم میں صرف ڈربن شہر کے پچاس کے قریب طلباء تعلیم حاصل کر رہے تھے اور یہی وہ لوگ ہیں کہ جو وہاں ہماری اصل سفارت کاری کرتے ہیں لیکن افسوس ! جنرل مشرف کی پالیسیوں کے باعث وہ ہزاروں طلباء جو پاکستان کے مختلف مدارس میں پڑھائی کر رہے تھے وہ آج انڈیا کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں اور وہاں انڈین سوچ کا دفاع کر رہے ہیں۔ ہمارے پالیسی سازوں کو اس بارے میں درست فیصلے کرنے ہوں گے۔ شمس الدین بھائی سے میں نے اس تناظر میں ایک سوال پوچھا کیونکہ وہ بزنس کے سلسلے میں ہر مہینے دو مہینے بعد انڈیا آتے جاتے ہیں کہ بتائیے Who is best India or Pakistan تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر پالیسیوں اور بزنس پوائنٹ آف ویو سے دیکھیں تو انڈیا از بیسٹ لیکن اپنے دل سے پوچھیں اپنے ایمان سے پوچھیں تو پاکستان از بیسٹ اور اللہ اس کو ہمیشہ سلامت رکھے۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ پاکستان کے لئے اتنے جذباتی کیوں ہیں تو انہوں نے جواب دیا۔

نبی پاک کے بعد ہم اپنے پیر و مرشد حضرت پیر سید حسین الدین شاہ صاحب سے پیار کرتے ہیں۔ اور مدینے کے بعد ہمارے دل میں پاکستان رہتا ہے۔ اس لئے کہ ہمارے شیخ یہاں ساؤتھ افریقہ میں بھی محافل کے اختتام پر رو رو کر پاکستان کے لئے دعائیں مانگتے ہیں اس لئے ہمیں بھی پاکستان سے پیار ہے۔ ان کی یہ بات سن کر میری آنکھیں پُر نم ہو گئیں اور جذبہ حب الوطنی میں مزید اضافہ ہوا۔ اور اس حقیقت کا میں نے مشاہدہ بھی کیا کہ ہر محفل کے اختتام پر شاہ صاحب ملک

صفحہ 162

کے لئے ضرور دعا فرماتے تھے۔ اور آپ کی آواز سے صاف پتہ چلتا تھا کہ پاکستان کا نام آنے پر ان کے جذبات میں کتنی شدت ہے۔

یہودی اور عیسائی ہمارے دوست کبھی نہیں ہو سکتے

یہ قرآنی حقیقت ہے کہ یہودی اور عیسائی کبھی مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے جب ہم مسلمان ہیں تو ہمیں قرآن کے اس دوٹوک فیصلے کو ماننا پڑے گا لیکن افسوس کہ ہمارے اکثریتی خود غرض اور سیکولر انتہا پسند قرآن کے اس فیصلے کو ماننے کو تیار نہیں اور وہ اپنی محبتوں اور چاہتوں کا مرکز ان ہی لوگوں کو بنانا چاہتے ہیں۔ بالخصوص حکمران طبقہ کے لئے تو یہودی اور عیسائی ریاستیں ”قبلے“ کی حیثیت رکھتی ہیں جو کھلم کھلا یہودیت وعیسائیت کے فروغ کے لئے کام کر رہی ہیں ان ریاستوں میں سب سے اول نمبر امریکہ ہے۔

امریکہ ! یہ وہ مگر مچھ ہے جس نے نہ جانے کتنی قوموں کے عروج کو ہڑپ کیا ہے۔

ظلم وجبر، کمینگی و خباثت، وحشت و ظلمت کا دوسرا نام امریکہ ہے۔ امریکہ سمیت پوری دنیا کا کافر پاکستان کی فوج کے ”سپاہی“ سے ڈرتا ہے کہ جو ہر وقت جذبہ شہادت سے سرشار رہتا ہے۔ میں نے ”جنرل“ کا لفظ نہیں لکھا اس لئے کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کچھ جرنیلوں نے قوم کو ڈرا دیا ہے۔ لیکن راقم اب بھی یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے ہزاروں کرپٹ سیاستدان پاک فوج کے ”بوٹوں“ پر قربان۔

پاک فوج ! اب بھی ملک کا واحد ادارہ ہے جو منظم ہے اور کم از کم یہ حقیقت ہے کہ یہ لوگ پاکستان کے مخلص ہیں اور اس وقت ملک کو توڑنے کے حوالے سے جو کردار سیاست دان ادا کر رہے ہیں۔ ان کے اور ملک خریدنے والی قوتوں کے درمیان واحد ڈھال پاک فوج ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ فوج میں بھی بعض بڑے عہدے والے ! امریکہ اور یہود و ہنود کی بولیاں بولنے لگے ہیں۔ اگر اس میں کوئی حکمت ہے تو درست وگرنہ یہی کہیں گے۔ اے وطن تو سلامت رہے۔

صفحہ 163

امریکی دہشت گرد رہا اور عاشق رسول ۔۔۔۔۔

امریکہ اپنی پالیسیوں کو پاکستان میں کامیاب بنانے کے لئے سب سے پہلے ”ڈالرز“ استعمال کرتا ہے اگر ڈالرز سے کام بن گیا تو فبھا وگرنہ ”دہشت“ اہم ہتھیار ہے۔ اس پالیسی پر عمل پیرا ہو کر لاہور میں ایک امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس نے دو نہتے پاکستانیوں کو دن دیہاڑے قتل کر دیا۔ بعد ازاں اسی دہشت گرد کو بچانے کیلئے امریکی سفارت خانے کی گاڑی آئی تو اس نے ایک اور شخص کو کچل کر ہلاک کر ڈالا۔

امریکی جاسوس کو لوگوں نے موقع سے گرفتار کروا دیا۔ بعد ازاں امریکہ کی طرف سے واویلا کیا گیا کہ ریمنڈ ڈیوس ایک سفارت کار ہے اور سفارت کار کو سفارتی استثناء حاصل ہوتا ہے۔ امریکہ نے ریمنڈ ڈیوس کو سفارت کار ظاہر کرنے کی خاطر بڑے پاپڑ بیلے تاہم بوجوہ میڈیا نے ریمنڈ کا چہرہ بے نقاب کر دیا کہ وہ ایک دہشت گرد اور جاسوس ہے۔ معاملہ عدالت میں گیا بعد ازاں مارچ 2011ء کو عدالت کے سامنے مقتولین کے ورثاء کو پیش کیا گیا اور انتظامیہ کے دباؤ میں آکر ورثاء نے دیت کی ادائیگی پر صلح کر لی حکمران ایک دفعہ پھر امریکہ بہادر کے آگے جھک گئے اور ملکی حمیت کا سودا کر دیا گیا۔ ریمنڈ یوس کیس میں بڑی پھرتیاں دکھائی گئیں۔ ایک ہی دن میں ایڈیشنل سیشن جج نے صلح نامہ وصول کیا اور بعد ازاں سیشن جج نے پورے کیس کو ایک ہی دن میں نمٹا دیا جس سے ”آزاد عدلیہ“ کا چہرہ بے نقاب ہو گیا۔

107 کے مقدمہ میں صلح صفائی کے لئے تاریخ پر تاریخ دینے والی عدالتوں نے اتنے بڑے کیس کو مکمل طور پر ایک ہی دن میں نمٹا دیا اور ملک کی جاسوسی جیسے گھناؤنے جرم کو ذکر تک نہ کیا گیا۔ غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر سات ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔

ملک میں رہنے والا ہر شہری اس پر یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ کیا یہاں کے شہریوں کو بھی ایسا ہی انصاف میسر آتا ہے؟ سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر کئی کئی مہینے عدالتوں کے چکر لگوانے والی عدالتوں کو اتنی توفیق بھی نہ ہوئی کہ اتنے بڑے مقدمے کے لئے وہ ایک ”تاریخ“ ہی دے

صفحہ 164

دیتیں۔ تاہم یہ سب کچھ پوری قوم نے بالآخر دیکھا۔

اس بدمعاشی کے خلاف پورے ملک میں مظاہرے ہوئے۔ شباب اسلامی پاکستان کی طرف سے اس سلسلے میں مرکز شباب اسلامی سے لے کر چاندنی چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں کارکنان کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور راقم سمیت مرکزی قائدین نے شرکت کی۔ شباب اسلامی نے ایک ہی نعرے کو پورے ملک میں عام کرتے ہوئے کہا کہ اگر تین پاکستانیوں کا قاتل ایک امریکی جاسوس رہا ہو سکتا ہے تو عاشق رسول ممتاز قادری کیوں نہیں پہلی بات تو یہ ہے کہ غازی نے ایک مرتد کو ٹھکانے لگایا تھا اور شرعاً مرتد کے قتل پر نہ قصاص ہے اور نہ دیت تاہم اگر پیسے ہی ضروری ہیں تو پوری قوم مل کر بیس کے بجائے پچاس کروڑ دینے کو تیار ہے۔ لہذا فوراً غازی کی رہائی کا اعلان کیا جائے۔

اور دوسرا یہ بھی کہ جب ایک قاتل کو بچانے کے لئے اسلامی قانون کا سہارا لیا جا سکتا ہے تو پھر ملک میں اسلامی نظام کیوں نہیں نافذ کیا جا سکتا لہذا غازی ممتاز قادری کے کیس میں بھی شرعی قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ شباب اسلامی نے فوج سے اپیل کی کہ خدارا ملک بچانے کے لئے ان کرپٹ اور غدار حکمرانوں سے جان چھڑائیں۔

غازی صاحب کی عدالت میں 11 ویں پیشی

26 مارچ 2011ء بروز ہفتہ غازی صاحب کی پیشی کی تاریخ مقرر تھی حسب معمول صبح 10 بجے راقم اپنے تنظیمی ساتھیوں کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے باہر پہنچا۔ اس پیشی پر شباب اسلامی ڈھوک چوہدریاں ، شباب اسلامی پنڈوڑیاں اسلام آباد ، شباب اسلامی پاکستان علی پور کے تنظیمی ساتھی خصوصی طور پر شریک ہوئے۔

شباب اسلامی پاکستان ڈھوک چوہدریاں کا قافلہ سید وقاص حسین شاہ اور چوہدری ذوالفقار SIP علی پور یونٹ کا قافلہ سید ساجد حسین شاہ ، سید انجم شاہ ، SIP پنڈوڑیاں کا قافلہ عبدالحمید اور محمد ہارون اور SIP مرکز کا قافلہ حافظ نعیم اللہ گلٹیکی قیادت میں اڈیالہ جیل کے باہر پہنچا۔ دوسری یونٹس کے تنظیمی ساتھی انفرادی طو قاضی سعید الرحمن مہر علی شاہ ٹاؤن ، مولانا قار منظور احمد صدیقی ، تنظیم علماء ضیاء العلوم، منیر و عباسی ، سید شجاعت شاہ کے علاوہ دیگر علماء کرا

عام شہریوں کی بھی کافی تعداد موجو نعرہ بازی کی گئی قاضی سعید الرحمن صاحب اسی پیشی کے موقع پر پہلی مرتبہ مولانا قاضی سع

سنی تحریک کے کارکنان قاری طاہ قیادت میں شریک ہوئے اور طلباء جامعہ ر کامران عباسی ، وقاص ضیائی ، ہارون عبا اڈیالہ جیل کے باہر پہنچے۔ مقامی افراد کی کے علاوہ مقامی علمائے کرام بھی کافی تعدا

غازی صاحب کے وکلاء ملک دھمیال ، سید حبیب الحق شاہ صاحب استغاثہ کی طرف سے گواہ محرر عمر فاروق کی گئی بعد ازاں عدالتی کاروائی کو 2 اپر

عدالت میں 12 ویں پیشی

2 اپریل کو حسب معمول راقم و شباب اسلامی کے کارکنان اور دیگر علا کے کارکنان دن 10 بجے اڈیالہ جیل پ جانی تھی۔ تاہم جج صاحب عدالت نھی

صفحہ 165

پہنچا۔ دوسری یونٹس کے تنظیمی ساتھی انفرادی طور پر شریک ہوئے۔ آج کی پیشی کے موقع پر مولانا قاضی سعید الرحمن مہر علی شاہ ٹاؤن، مولانا قاری رفیق انجم اڈیالہ، مولانا قاری جاوید اقبال، مولانا منظور احمد صدیقی، تنظیم علماء ضیاء العلوم، منیر ولید بریلوی، سید ساجد حسین کاظمی، مولانا نور الامین عباسی، سید شجاعت شاہ کے علاوہ دیگر علماء کرام شریک ہوئے۔

عام شہریوں کی بھی کافی تعداد موجود تھی حسب سابق آج بھی غازی صاحب کے حق میں نعرہ بازی کی گئی قاضی سعید الرحمن صاحب میرے ہم سبق اور ایک عظیم عالم دین کے بیٹے ہیں۔ اسی پیشی کے موقع پر پہلی مرتبہ مولانا قاضی سعید الرحمن نے خطاب بھی کیا۔

سنی تحریک کے کارکنان قاری طاہر اقبال چشتی صاحب، اور مولانا لیاقت علی گجراتی کی قیادت میں شریک ہوئے اور طلباء جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کی نمائندہ تنظیم بزم ارشاد کے کارکنان کامران عباسی، وقاص ضیائی، ہارون عباسی، محمد اویس قریشی، مہتاب احمد ماگرے کی قیادت میں اڈیالہ جیل کے باہر پہنچے۔ مقامی افراد کی کافی تعداد بھی وہاں موجود تھی۔ نمبردار فیض، ذیشان فیض کے علاوہ مقامی علمائے کرام بھی کافی تعداد میں شریک ہوئے۔

غازی صاحب کے وکلاء ملک رفیق صاحب، راجہ شجاع الرحمن صاحب، راجہ طارق دھمیال، سید حبیب الحق شاہ صاحب کاظمی بروقت عدالت میں پہنچے۔ آج کی پیشی کے موقع استغاثہ کی طرف سے گواہ محرر عمر فاروق پیش ہوا۔ غازی کے وکلاء کی طرف سے اس پر بھر پور جرح کی گئی بعد ازاں عدالتی کاروائی کو 2 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے ختم کر دیا گیا۔

عدالت میں 12 ویں پیشی

2 اپریل کو حسب معمول راقم، سید حبیب الحق شاہ صاحب، غازی صاحب کے دیگر وکلاء ، شباب اسلامی کے کارکنان اور دیگر علماء، علامہ لیاقت گجراتی، مولانا عبدالمنان چشتی اور سنی تحریک کے کارکنان دن 10 بجے اڈیالہ جیل کے باہر پہنچے۔ آج عدالت میں تین مزید گواہوں پر جرح کی جانی تھی۔ تاہم جج صاحب عدالت تشریف نہ لائے کیونکہ گورنر مقتول کے وکیل سیف الملوک نے

صفحہ 166

درخواست دی تھی کہ وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے 19 اپریل کی تاریخ دیتے ہوئے کاروائی معطل کر دی۔ اس پیشی پر بھی حسب معمول غازی صاحب کے والد گرامی ، برادر دلپذیر اعوان صاحب، تاثیر اعوان ، فیاض الحسن چوہان بھی شریک ہوئے۔

عدالت میں 13 ویں پیشی

9 اپریل 2011ء غازی صاحب کی پیشی کی تاریخ تھی حسب معمول عاشقان مصطفیٰ اڈیالہ جیل کے باہر پہنچے غازی صاحب کے وکلاء ملک رفیق صاحب ، سید حبیب الحق شاہ صاحب ، راجہ شجاع الرحمن اور راجہ طارق دھمیال بروقت پہنچے۔ راقم حسب معمول تنظیمی ساتھیوں کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے باہر پہنچا آج کی پیشی پر مقامی علماء کرام ، پروفیسر عبدالمنان چشتی ، قاری جاوید اقبال ، مولا نا رفیق انجم سمیت بڑی تعداد میں مقامی لوگ بھی شریک ہوئے ۔سنی تحریک کا قافلہ محمد لیاقت علی گجراتی اور قاری طاہر اقبال چشتی ملک عبدالرؤف صاحب کی قیادت میں پہنچا جبکہ طلباء جامعہ رضویہ ضیاء العلوم مولا نا ہارون عباس، محمد فہیم اعوان اور وقاص خان ضیائی کی قیادت میں اڈیالہ جیل پہنچے حسب معمول لوگوں نے غازی صاحب سے محبت کا اظہار کیا۔

آج کی سماعت کے دوران گورنر مقتول کی طرف سے اس کا وکیل سیف الملوک پیش ہوا اور اس کے ساتھ گورنر تاثیر کی سالی عائشہ بھی موجود تھی ۔ آج کی کاروائی میں دو گواہان محمد علی رندھاوا مجسٹریٹ اسلام آباد اور سلمان تاثیر کے رشتہ دار سلمان غنی کو پیش کیا گیا ۔سلمان غنی نے مختصر بیان میں بتایا کہ وہ سلمان تاثیر کے رشتہ دار ہیں اور انہوں نے سلمان تاثیر کی لاش کو لاہور سے آکر شناخت کیا تھا۔

غازی صاحب کے وکلاء کی طرف سے استدعا کی گئی تھی کہ غازی صاحب کو جیل میں قلم کاغذ کی سہولت پہنچائی جائے کیونکہ وہ اس کیس کے بارے میں اپنا صفائی کا بیان خود تحریر کرنا چاہتے ہیں۔ اس پیشی پر محمد علی رندھاوا پر غازی صاحب کے وکلاء نے جرح نہ کی بلکہ اسے آئندہ پیشی پر طلب کیا عدالت نے یہ استدعا منظور کرتے ہوئے کاروائی کو 23 اپریل تک ملتوی کر دیا۔ اس

پیشی کے موقع پر غازی صاحب کے شریک ہوئے۔

شباب اسلامی کا کنونشن

10 اپریل 2011ء بیداری ملت کنونشن کا انعقاد کیا گیا عہدیداران شریک ہوئے ۔ کوئٹ ڈاکٹر حمزہ مصطفائی، مفتی ضمیر احمد حبیب الحق شاہ صاحب نے کنون فخر الزمان عادل کے علاوہ کثیر تع دادیں پاس کی گئیں ۔ جن میں ساتھیوں کو بطور رول ماڈل ممتاز صاحب کو بھر پور خراج عقیدت غازی صاحب کی حمایت جاری

17 اپریل 2011ء کیا گیا۔ کانفرنس میں ملک بھر ہوئے۔ پنجاب حکومت نے کا قائدین سمیت سینکڑوں کارکنوں نے کانفرنس کی اجازت دے ڈ

سنی کانفرنس میں مقرر پیش کیا گیا اور متفقہ قرارداد کے دین علامہ ابو داؤد محمد صادق صا

صفحہ 167

پیشی کے موقع پر غازی صاحب کے برادران اور فیاض الحسن چوہان، نمبردار فیض محمد اور دیگر زعماء بھی شریک ہوئے۔

شباب اسلامی کا کنونشن

10 اپریل 2011ء شباب اسلامی پاکستان کی طرف سے پریس کلب لیاقت باغ میں، بیداری ملت کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔ کنونشن میں ملک بھر سے صوبائی وضلعی اور ڈویژن اور یونٹس کے عہدیداران شریک ہوئے۔ کنونشن میں جنرل حمید گل صاحب نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور ڈاکٹر حمزہ مصطفائی ، مفتی ضمیر احمد ساجد بطور خصوصی سکالر شریک ہوئے اور جگر گوشہ شیخ الحدیث سید حبیب الحق شاہ صاحب نے کنونشن کی صدارت کی محمد زبیر کیانی ، ادارہ منہاج القرآن کے جناب فخر الزمان عادل کے علاوہ کثیر تعداد میں سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی کنونشن میں سات قرار دادیں پاس کی گئیں۔ جن میں ایک غازی صاحب کی رہائی کی قرار داد بھی تھی کنونشن میں تنظیمی ساتھیوں کو بطور رول ماڈل ممتاز قادری کی شخصیت سمجھائی گئی۔ اور کنونشن میں ممتاز حسین قادری صاحب کو بھر پور خراج عقیدت پیش کیا گیا اور کارکنوں کے درمیان تجدید عہد کیا گیا کہ ان شاء اللہ غازی صاحب کی حمایت جاری رہے گی۔

17 اپریل 2011ء لاہور میں سنی اتحاد کونسل کے زیر اہتمام سنی کانفرنس کا انعقاد کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں ملک بھر سے سنی تنظیمات کے ہزاروں افراد مینار پاکستان کے سائے تلے جمع ہوئے ۔ پنجاب حکومت نے کانفرنس کے انعقاد میں بہت سارے روڑے اٹکائے اور مرکزی قائدین سمیت سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔ تا ہم بعد ازاں عوامی دباؤ کے تحت حکومت پنجاب نے کانفرنس کی اجازت دے ڈالی۔

سنی کانفرنس میں مقررین کی طرف سے غازی صاحب کو زبردست خراج عقیدت و تحسین پیش کیا گیا اور متفقہ قرارداد کے ذریعے غازی صاحب کی رہائی کا پر زور مطالبہ کیا گیا ۔ مشہور عالم دین علامہ ابوداؤد محمد صادق صاحب کے فرزند جناب مولانا محمد داؤد صاحب نے مشہور زمانہ کلام

صفحہ 168
یا رسول اللہ تیرے چاہنے والوں کی خیر

پڑھا تو پوری کانفرنس پر ایک نورانی کیفیت طاری ہوگئی اور پورا پنڈال غازی تیری جرات کو سلام ہو، سلام ہو، تیرے عشق کو سلام ہو سلام ہو۔۔ کے نعروں سے گونج اٹھا۔

شباب اسلامی پاکستان اور بزم ارشاد جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کا قافلہ کانفرنس میں شریک ہوا۔ اس کانفرنس کے دوران علامہ محمد خادم حسین رضوی صاحب کے ساتھ ملاقات کا موقع ملا۔ مولانا کی ملی اور مذہبی تڑپ کا جذبہ لائق تقلید اور لائق تحسین ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا کے اس جذبے کو سلامت رکھے۔

عدالت میں 14 ویں پیشی

23 اپریل 2011ء غازی صاحب کی تاریخ پیشی مقرر تھی حسب معمول آج بھی بہت سے افراد 10 بجے اڈیالہ جیل کے باہر جمع ہوئے تاہم عدالت کے جج راجہ اخلاق حسین کے چھٹی پر ہونے کی وجہ سے اگلی تاریخ دے دی گئی۔ اور پیشی کی تاریخ تیس اپریل مقرر کی گئی۔ یاد رہے آج کی پیشی پر اسلام آباد کے مجسٹریٹ محمد علی رندھاوا پر جرح کی جانا تھی کہ جس نے غازی صاحب سے 164 کا بیان لیا تھا۔ حسب معمول تنظیمی کارکنان بروقت اڈیالہ جیل کے باہر پہنچے تاہم بیشمار لوگ راستے سے ہی گھروں کو لوٹ گئے۔ تاہم سب سے اہم بات یہ تھی کہ آج پیشی کے موقع پر دیوبندی علماء بھی پہلی دفعہ اڈیالہ جیل کے باہر پہنچے تھے اور لاہور سے ایک قافلہ اڈیالہ جیل کے باہر پہنچا تھا۔ اتنے دور سے محض پیشی پر حاضر ہونا غازی صاحب سے بے پناہ محبت کا اظہار تھا۔

عدالت میں 15 ویں پیشی

30 اپریل غازی صاحب کی پیشی کی تاریخ مقرر ہوئی آج کی پیشی میں بھی حسب معمول کارکنان شباب اسلامی پاکستان بروقت اڈیالہ جیل کے باہر پہنچے۔ جیل کے باہر گورکھپور سے تعلق رکھنے والے ایک عاشق رسول جناب محمد الطاف حسین صاحب نے حاضرین کی سہولت اور دھوپ

صفحہ 169

سے بچنے کے لئے ٹینٹس اور پانی کی سبیل کا بندوبست کیا ہوا تھا۔ آج کی پیشی پر دیوبند مسلک سے تعلق رکھنے والے علماء، مفتی عبدالرؤف صاحب امیر تحریک ختم نبوت اسلام آباد ،مولانا عبدالوحید قاسمی صاحب ، جنرل سیکرٹری تحریک ختم نبوت ، مفتی فیاض الدین ،علامہ قاسم توحیدی ، قاضی ہارون الرشید ، مولانا عمر علی حقانی ، متحدہ سنی کونسل کے ٹائٹل سے شریک ہوئے ان کی قیادت پیر عزیز الرحمن صاحب کے بیٹے اویس عزیز صاحب نے کی ۔

آج کی پیشی کے موقع پر فیاض الحسن چوہان ،سنی تحریک کے طاہر اقبال چشتی ،مولانا پروفیسر عبدالمنان چشتی مولانا منیر دلپذیر حیدری کے علاوہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے کثیر افراد نے شرکت کی ۔ آج کی پیشی کے موقع پر عدالت میں مجسٹریٹ محمد علی رندھاوا کو بلایا گیا جنہوں نے غازی صاحب کا 164 کا بیان ریکارڈ کیا تھا۔ مجسٹریٹ محمد علی رندھاوا نے یہ گواہی دی کہ مذکورہ 164 کا بیان غازی صاحب ہی کا بیان ہے اور میں نے بلا جبر و اکراہ قانون کے مطابق ان سے وہ بیان لیا ہے ۔ غازی صاحب کے وکلاء ملک رفیق صاحب ،شجاع الرحمن راجہ ، راجہ طارق دھمیال اور سید حبیب الحق شاہ صاحب نے عدالت سے استدعا کی کہ مجسٹریٹ کے بیان پر جرح اگلی پیشی پر کی جائے گی چنانچہ عدالتی کاروائی کو 14 مئی تک ملتوی کر دیا گیا۔

ممتاز حسین قادری سرکار ﷺ کا منظور نظر ہے

30 اپریل کی پیشی کے موقع پر راقم کی ملاقات پیشی پر آتے ہوئے دیوبند عالم اویس عزیز صاحب سے ہوئی تو انہوں نے اپنے والد عزیز الرحمن صاحب کے حوالے سے ایک خواب سنایا کہ میرے والد صاحب نے بتایا کہ ان کے ایک جاننے والے نے انہیں خواب سنایا کہ کچھ دن ہوئے انہیں خواب میں رسول اکرم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی خواب میں سرکار مدینہ ﷺ میری طرف اشارہ کر کے فرماتے ہیں کہ پاکستان کے علماء کو کیا ہوا ہے کہ وہ میرے ممتاز قادری کی حمایت نہیں کر رہے ۔ میں اس خواب کے بارے میں کوئی مزید تبصرہ نہیں کرنا چاہتا صرف علماء کرام بالخصوص اپنے ہم مسلک سنی علماء سے گذارش کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارا دعویٰ تو عشق مصطفیٰ ﷺ کا ہے۔

صفحہ 170

غازی ممتاز قادری صاحب نے جو کچھ کیا کیا اپنی ذات کے لئے کیا یا کہ حضور ﷺ کی ناموس کی حفاظت کے لئے؟ جب یقیناً اس نے ناموسِ مصطفیٰ کے لئے ہی سب کچھ کیا ہے تو پھر کیا بات ہے کہ لوگ کھلم کھلا اس عاشق رسول کی حمایت کرنے سے گھبراتے ہیں۔ کہیں ہمارا یہ اندازِ عمل ”غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے“ کے دلنشیں نعرے کے ساتھ مذاق تو نہیں؟

داتا کی نگری میں بھی تیرے چرچے

ممتاز حسین قادری کی محبت میں راولپنڈی کے بعد سب سے پہلے لاہور کے علماء میدانِ عمل میں اُترے۔ لاہور سے جناب شیخ الحدیث خادم حسین رضوی نے راقم سے کانفرنس کے لئے وقت طلب فرمایا لہٰذا 30 اپریل راقم بذریعہ ہوائی جہاز لاہور روانہ ہوا۔ آج کی کانفرنس کا انعقاد تحریک فدایان ختم نبوت لاہور نے کیا تھا۔ یادرہے کہ تحریک فدایانِ ختم نبوت کے سرپرست مجاہد اسلام جناب مولانا خادم حسین رضوی ہیں۔ مولانا کی اس تحریک میں کوششوں کی بابت گذشتہ صفحات میں مختصر تذکرہ ہوچکا ہے۔ تاہم ان کی کوششوں کا صحیح ادراک لاہور کانفرنس میں جاکر ہی ہوا۔

کانفرنس مولانا ہی کی مسجد میں منعقد ہوئی جس میں مولانا نمازِ جمعہ کی امامت فرماتے ہیں کانفرنس میں شیخ الحدیث مولانا عبد الستار سعیدی، مولانا رضائے مصطفیٰ ، مولانا محمد علی نقشبندی، مولانا طاہر تبسم صاحب سمیت کثیر تعداد میں جید علماء کرام نے شرکت کی اور بالخصوص جامعہ نظامیہ رضویہ کے کثیر طلباء و علماء اس کانفرنس میں شریک ہوئے۔ کانفرنس کیا تھی ممتاز قادری کے عاشقوں اور رسولِ اکرم کے دیوانوں کا ایک عظیم اجتماع تھا جس میں جذبوں کا بانکپن اور خلوص کا انوکھا انداز تھا۔

کانفرنس میں ممتاز حسین قادری کو نظماً نثراً خوب خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی رہائی کیلئے قراردادیں پاس کی گئیں اور ان کی رہائی کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کا تہیہ کیا گیا۔ کانفرنس میں شریک ہو کر محسوس ہوا کہ مولانا نے اپنے متعلقین کے دلوں میں غازی صاحب کی محبت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ کانفرنس کے دوران ۔۔۔ لے گیا بازی ، لے گیا بازی ۔۔ ممتاز غازی

صفحہ 171

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے﴾

ممتاز غازی۔۔۔ کے نعرے گونجتے رہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا کو ان کاوشوں پر اجر عطا فرمائے۔

لاہور میں اس کانفرنس کے دوران پروفیسر محمد حبیب اللہ ایڈووکیٹ صاحب کے ساتھ راقم کی ملاقات ہوئی۔ یہ بھی ان ہزاروں وکلاء میں سے ایک ہیں کہ جو غازی صاحب کی محبت کا دم بھرتے ہیں اور اپنی محبتوں کا اظہار کرتے ہیں موصوف کی کوششوں سے لاہور ہائی کورٹ بار کی طرف سے غازی صاحب کی حمایت میں بینرز اور سٹیکرز چھپوائے گئے اور لاہور شہر بالخصوص ہائی کورٹ ایریا میں لگائے گئے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں بھی اجر عطا فرمائے۔

آج ہی کی رات ”ادارہ صراطِ مستقیم“ لاہور کی طرف سے عقیدہ توحید سیمینار کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس سیمینار میں بھی مولانا ڈاکٹر اشرف آصف جلالی صاحب نے ممتاز قادری صاحب کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

غازی صاحب کی علالت۔۔۔غلامان مصطفیٰؐ میں تشویش کی لہر

بروز جمعرات 5 مئی غازی صاحب کی فیملی حسب معمول غازی صاحب سے ملاقات کی غرض سے اڈیالہ جیل پہنچی یاد رہے کہ عدالت نے غازی صاحب کے وکلاء کی طرف سے دی جانے والی ایک درخواست کے بعد غازی صاحب کے خونی رشتہ داروں کو ہر دوسری جمعرات کو ملاقات کی اجازت دی تھی۔ غازی صاحب کے بھائی جناب دلپذیر اعوان صاحب، والد گرامی ملک بشیر اعوان، بھائی ملک سفیر صاحب اور دیگر اہل خانہ نے ملاقات کی، اڈیالہ جیل سے واپسی پر غازی صاحب کے بڑے بھائی جناب ملک دلپذیر اعوان نے مجھے فون پر بتایا کہ غازی صاحب کی طبیعت خراب ہے اور جیل میں انہیں ڈاکٹر کی سہولت نہیں پہنچائی گئی۔ راقم نے تمام اخبارات اور چینلز کو فون کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا جس پر خبر تمام ٹی وی چینلز نے یہ خبر بریکنگ نیوز کے طور پر بریک کی۔ پورے ملک میں اضطراب کی کیفیت اور تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ چنانچہ راقم کی اپیل پر اگلے دن پورے ملک میں علمائے کرام نے جمعۃ المبارک کے خطبات میں حکومت کے اس طرزِ عمل کی شدید مذمت کی اور اخبارات میں مذمتی بیانات جاری کئے گئے۔ اور روز نامہ نوائے وقت نے

صفحہ 172

اُس پر اداریہ لکھا۔ اور حکومت کو باور کروایا کہ ممتاز قادری صاحب کروڑوں مسلمانوں کی امانت ہیں اور حکومت ہوش کے ناخن لے اور ممتاز قادری صاحب کا جیل میں ہر طرح سے خیال رکھا جائے۔

لاہور میں غلامان مصطفیٰ نے داتا دربار کے باہر جناب مولانا رضائے مصطفیٰ صاحب، مولانا محمد علی نقشبندی صاحب، مولانا خادم حسین رضوی صاحب اور دیگر علمائے کرام کی قیادت میں دھرنا دیا اور حکومت کو باور کرایا گیا کہ اگر اس نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو اسے یہ معاملہ مہنگا پڑے گا۔

عدالت میں 16 ویں پیشی

14 مئی 2011ء غازی صاحب کی پیشی کی تاریخ تھی گذشتہ پیشی پر اسلام آباد کے مجسٹریٹ محمد علی رندھاوا نے پیش ہو کر یہ گواہی دی تھی کہ میں نے اسلام آباد کچہری میں غازی صاحب سے 164 کا بیان ریکارڈ کیا تھا جس میں انہوں نے سلمان تاثیر کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ عدالت نے جرح کے لئے 14 مئی کی تاریخ مقرر کی تھی چنانچہ 14 مئی حسب معمول غازی صاحب کے وکلاء اور دیگر غلامان مصطفیٰ صبح 9 بجے اڈیالہ جیل کے باہر پہنچے۔ آج کی پیشی پر دیوبندی حضرات کی طرف سے بھی علماء گذشتہ پیشی کی طرح حاضر ہوئے جن میں مولوی عبدالوحید قاسمی، مفتی محمد اویس عزیز سرفہرست ہیں اور اہل سنت کی طرف سے راقم الحروف کے ساتھ مولانا عبدالمنان چشتی، مولانا جاوید اقبال، مولانا لیاقت حسین گجراتی، مولانا شفاقت حسین، طلباء جامعہ رضویہ ضیاء العلوم اور کارکنان شباب اسلامی پاکستان غازی صاحب کے والد گرامی اور دیگر غلامان مصطفیٰ کی بڑی تعداد حاضر ہوئی۔ حسب معمول غازی صاحب کی حمایت میں نعرے بازی اور سیدی مرشدی، یا نبی یا نبی ۔۔۔ کی صدائیں بلند ہوئیں۔ حسب معمول احتجاجی مظاہرہ ہوا اور بعد ازاں علمائے کرام کے خطابات اور نعت خوانی ہوئی، غازی صاحب کے وکلاء نے بتایا کہ دہشت گردی کی عدالت کے جج راجہ اخلاق حسین کو تبدیل کر دیا گیا ہے اور ان کی جگہ نئے جج نے چارج سنبھالا ہے۔ لہذا آج کی پیشی پر کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوئی اور اگلی تاریخ 21 مئی دے دی گئی۔ غازی صاحب کی صحت کے حوالے سے تمام لوگ کافی پریشان تھے لہذا طے ہوا کہ غازی

صاحب کے برادران اور ان کے والد گرامی جنہ تمام مظاہرین اڈیالہ جیل کے مین گیٹ پر جمع ہو

جیل سپرنٹنڈنٹ نے ابتداءً لیت ولعل کہ اگر غازی صاحب سے علماء کرام یا ان سے کہ ایک منصوبے کے تحت غازی صاحب تھوڑی دیر کے لئے بند ہو گیا اور تمام گیٹ برانچ کے انسپکٹر صوفی محمد بشیر سیالوی کو آگاہ ہے ہمارا مطالبہ خلاف قانون نہیں ہے۔ ہما یہاں سے قطعاً نہ جائیں گے تاہم بعد از صاحب کے اہل خانہ کو مختصر ملاقات کا وق بھائی دلپذیر اعوان صاحب نے بتایا کہ انتظامیہ کی طرف سے اب ان کا مناسب کہ غازی صاحب کی صحت پہلے سے کافی

عدالت میں 17 ویں پیشی

21 مئی کی پیشی پر بھی حسبِ اور مولانا لیاقت حسین گجراتی، مولانا علاوہ سنی تحریک، بزم ارشاد اور شباب ا سید عظمت حسین شاہ فاضل جامعہ رضویہ سید شبیر حسین شاہ صاحب گیلانی صد کثیر تعداد میں نبی پاک کے عاشق ط

صفحہ 173

صاحب کے برادران اور ان کے والد گرامی جیل میں غازی صاحب سے ملاقات کریں گے۔ لہٰذا تمام مظاہرین اڈیالہ جیل کے مین گیٹ پر جمع ہو گئے ۔

جیل سپرنٹنڈنٹ نے ابتداءً لیت ولعل سے کام لیا جس پر ہماری طرف سے اسے بتایا گیا کہ اگر غازی صاحب سے علماء کرام یا ان کے اہل خانہ کی ملاقات نہیں کروائی گئی تو ہم سمجھیں گے کہ ایک منصوبے کے تحت غازی صاحب کے خلاف کاروائی کی جا رہی ہے۔ اس پر اڈیالہ روڈ تھوڑی دیر کے لئے بند ہو گیا اور تمام گیٹ بند کر دیئے گئے اس پر راقم نے ڈیوٹی پر کھڑے سپیشل برانچ کے انسپکٹر صوفی محمد بشیر سیالوی کو آگاہ کیا کہ جیل انتظامیہ جان بوجھ کر حالات خراب کر رہی ہے ہمارا مطالبہ خلاف قانون نہیں ہے۔ جب تک ہمیں غازی صاحب کی صحت کی خبر نہ پہنچے گی ہم یہاں سے قطعاً نہ جائیں گے تاہم بعد ازاں جیل اور انتظامیہ کی طرف سے ملک ممتاز قادری صاحب کے اہل خانہ کو مختصر ملاقات کا وقت دے دیا گیا۔ ملاقات کے بعد غازی صاحب کے بھائی دلپذیر اعوان صاحب نے بتایا کہ الحمد للہ غازی صاحب کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور جیل انتظامیہ کی طرف سے اب ان کا مناسب خیال رکھا جا رہا ہے اس پر تمام عاشقان مصطفیٰ کو تسلی ہوئی کہ غازی صاحب کی صحت پہلے سے کافی بہتر ہے۔

عدالت میں 17 ویں پیشی

21 مئی کی پیشی پر بھی حسب معمول غلامان مصطفیٰ اڈیالہ جیل کے باہر حاضر ہوئے راقم اور مولانا لیاقت حسین گجراتی ، مولانا جاوید اقبال ، مولانا کامران ضیائی ، وقاص خان ضیائی کے علاوہ سنی تحریک ، بزم ارشاد اور شباب اسلامی کے کارکنان ، حافظ نعیم اللہ ، حافظ سعید آف موہری ، سید عظمت حسین شاہ فاضل جامعہ رضویہ ، ذیشان فیض کے علاوہ فیاض الحسن چوہان اور غازی برادران سید شبیر حسین شاہ صاحب گیلانی صدر جماعت اہل سنت اسلام آباد، مولانا صداقت رضوی کے علاوہ کثیر تعداد میں نبی پاک کے عاشق حاضر ہوئے حسب معمول نعت خوانی و خطابات وغیرہ ہوئے۔

صفحہ 174

تاہم نئے جج کی تعیناتی نہ ہوسکی جس کے باعث عدالتی کاروائی کو 28 مئی تک ملتوی کر دیا گیا ۔

عدالت میں 18ویں پیشی

28 مئی نئے ولولوں جوش اور عاشقانہ جذبوں کے ساتھ گرمی کے باوجود سینکڑوں غلامان مصطفیٰ اڈیالہ جیل کے باہر موجود رہے ۔ آج کی پیشی پر مجسٹریٹ محمد علی رندھاوا کی گواہی پر جرح ہونا تھی لیکن نئے جج کی تعیناتی نہ ہو سکنے کے باعث عدالتی کاروائی کو 4 جون تک معطل کر دیا گیا ۔ آج کی پیشی پر غازی برادران کے علاوہ فیاض الحسن چوہان ، ملک عبد الرؤف ، طاہر اقبال چشتی ، مولانا کامران عباسی ، مولانا منیر دلپذیر دوسری طرف کارکنان بزم ارشاد ، کارکنان شباب اسلامی ، کارکنان سنی تحریک ، سید شبیر حسین شاہ صاحب گیلانی ، مولانا عدالت رضوی کے علاوہ مقامی طور پر کافی حضرات نے شرکت کی ۔ جیل کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور علماء کرام اور دیگر مقررین نے حکومت کو خبردار کیا کہ جج کی تعیناتی نہ ہو سکنے کے باوجود مختصر دورانیئے کی تاریخ دینا دراصل غلامان مصطفیٰ کو تھکانے کی ایک سازش ہے لیکن حکومت سن لے اگر دس سال بھی پیشیاں ہوتی رہیں تو غلامان مصطفیٰ ان شاء اللہ ایسا ہی جذبہ محبت برقرار رکھیں گے ۔ تمام حاضرین نے عہد کیا کہ گرمی ہو یا سردی غازی صاحب کی پیشی پر بھر پور حاضری ہوتی رہے گی ۔

عدالت میں 19 ویں پیشی

4 جون بروز ہفتہ حسب معمول سینکڑوں غلامان مصطفیٰ اپنے وقت پر اڈیالہ جیل کے باہر پہنچ گئے ، سخت گرمی اور چلچلاتی دھوپ کے باوجود نبی پاک کے دیوانوں کا جذبہ سلامت تھا۔ راقم الحروف ، مولانا سید شبیر حسین شاہ گیلانی آف کہوٹہ روڈ ، مولانا عدالت رضوی ، مولانا منظور احمد صدیقی ، کارکنان بزم ارشاد ، مولانا ہارون عباسی صدر بزم ارشاد ، کارکنان شباب اسلامی پاکستان ، اویس قریشی ، حافظ نعیم اللہ ، بابا صوفی محمد اشرف سیفی صاحب کی قیادت میں اڈیالہ جیل کے باہر پہنچے ۔ (یاد رہے صوفی محمد اشرف سیفی صاحب ایک ٹیکسی ڈرائیور ہیں تاہم ان میں جذبہ وفاداری رسول کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ۔ غازی صاحب کے کیس کے پہلے دن سے لے کر تادم تحریر صوفی صاحب کسی پیشی پر بھی غیر حاضر نہیں

صفحہ 175

ہوئے۔ ہر پیشی، کانفرنس اور جلسے میں اپنے ساتھ اور لوگوں کو بھی لے کر جانا اپنا معمول بنا رکھا ہے۔ فجزاہ اللہ )

فیاض الحسن چوہان، غازی برادران، مولانا نورالامین، مولانا عبدالوحید قاسمی دیوبندی، مولوی ضیاء الحق حقانی دیوبندی، نمبردار فیض آف اڈیالہ روڈ ، مولانا عبدالمنان چشتی ، مولانا طاہر اقبال چشتی، مولانا لیاقت حسین گجراتی ، مولانا شوکت علی عطاری، ملک عبدالرؤف آف سنی تحریک مولانا مہتاب احمد ماگرے، مولانا جاوید اقبال، مولانا منیر دلپذیر حیدری، سید ساجد شاہ کاظمی، مولانا سید عظمت حسین بخاری، ہارون عباس ضیائی، مولانا نزاکت تبسم ، مولانا کامران عباسی ضیائی ، مولانا وقاص علی خان ضیائی، سید شجاعت حسین شاہ کاظمی، مولانا سید آفتاب حسین شاہ کے علاوہ سینکڑوں افراد نے اڈیالہ جیل کے باہر غازی صاحب کی رہائی کے لئے مظاہرہ کیا۔ سید شبیر حسین شاہ صاحب حسب معمول اپنے درجنوں ساتھیوں سمیت سب سے پہلے اڈیالہ جیل کے باہر پہنچے۔ جیل کے باہر حسب معمول ٹینٹ لگائے گئے دریاں بچھائی گئیں۔ اور مظاہرین کے لئے ٹھنڈے پانی اور مشروبات کی سبیلیں بھی لگائی گئیں۔ آج کی پیشی پر بھی محمد علی رندھاوا مجسٹریٹ کے بیان پر جرح کی جانی تھی تاہم نئے جج کی تعیناتی نہ ہو سکنے کے باعث عدالتی کاروائی کو 11 جون تک ملتوی کر دیا گیا ۔ راقم الحروف نے 9 جون 2011ء کو حضور مصلح امت حضرت قبلہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب کی معیت میں ساؤتھ افریقہ دورے پر نکلنا تھا۔ جس کے باعث اس عاجز نے راولپنڈی اسلام آباد کی SIP یونٹس کے نگرانوں کا اجلاس بلایا اور طے پایا کہ راقم کی عدم موجودگی میں بھی غازی صاحب کی پیشیوں پر حاضری کا سلسلہ بھر پور طریقے سے جاری رہے گا۔ چنانچہ میں نے راولپنڈی اسلام آباد کے اپنے ہم ذہن علماء سے اس سلسلے میں رابطہ کیا اور آئندہ پیشیوں پر بھر پور شرکت کی اپیل کی۔ مولانا کامران عباسی، مولانا وقاص علی خان کو میڈیا انفارمیشن کے حوالے سے تنظیمی ڈیوٹی لگائی گئی۔ مولانا کامران عباسی نے اس ڈیوٹی کو بڑے احسن انداز سے نبھایا اور ہر پیشی کی کاروائی کو قلمبند کرتے رہے۔ میرے ساؤتھ افریقہ جانے کے بعد علماء کرام کی طرف سے سب سے زیادہ تعاون مولانا سید شبیر حسین شاہ صاحب گیلانی صدر جماعت اہل سنت رورل ایریا اسلام آباد کی طرف سے رہا وہ ہر پیشی پر اسلام آباد کے مضافاتی

صفحہ 176

علاقوں سے جماعت اہل سنت کے کارکنان کے ہمراہ بھر پور شرکت کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔

معزز قارئین یہاں تک غازی صاحب کے کیس کی مکمل کاروائی راقم نے خود دیکھ کر لکھی ہے اور الحمد للہ آج تک کسی پیشی میں غیر حاضری نہیں ہوئی راقم نے ایک ماہ کیلئے جنوبی افریقہ کے سفر پر جانا تھا جس کے باعث ایک ماہ کی پیشیوں کی کاروائی مولانا کامران عباسی کے اعتماد پر مکمل جا رہی ہے گو کہ مجھے اعتراف ہے کہ میں پیشیوں میں حاضر ہونے والے تمام لوگوں کا نام ذکر نہیں کر سکا بلکہ عین ممکن ہے بڑی بڑی شخصیات بھی اور علمائے کرام بھی میری سُستی کی وجہ سے رہ گئے ہوں اور میں نے عامۃ المسلمین کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی اتنی تعداد میں آنے والوں کا علیحدہ علیحدہ تذکرہ ہو سکتا ہے۔ پھر بھی میں نے کوشش کی ہے کہ جتنا ہو سکے زیادہ سے زیادہ شخصیات کو تاریخ کا حصہ بنایا جائے اور ان کی کاوشوں اور کوششوں کا تذکرہ کیا جائے۔

عدالت میں 20ویں پیشی

11 جون 2011ء آج غازی صاحب کی پیشی کی تاریخ تھی حسب معمول شمع رسالت کے پروانوں نے پیشی پر حاضری دی مولانا سید شبیر حسین شاہ صاحب گیلانی، مولانا وقاص ضیائی کارکنان بزم ارشاد اور کارکنان شباب اسلامی ، کارکنان سنی تحریک اپنے اپنے ذمہ داران کی قیادت میں اڈیالہ جیل کے باہر پہنچے۔ مولانا نصیر احمد ضیائی، مولانا سرفراز صدیقی، حافظ سید کونین حیدر، حافظ احمد رضا صدیقی، حافظ مہتاب احمد ماگرے، مولانا نور الامین، مولانا ہارون عباسی صدر بزم ارشاد ، مولانا عدالت رضوی ، رفاقت شاہ، فیاض الحسن چوہان ، غازی برادران ، غازی صاحب کے والد گرامی ، حافظ نعیم اللہ خان، شبیر احمد گولڑوی، سید شوکت شاہ، چوہدری امتیاز احمد رہنما مسلم لیگ (ن) راولپنڈی محمد حسن حنیف صاحب کے علاوہ دیگر کثیر تعداد میں علمائے کرام اور اہم سماجی شخصیات نے پیشی میں شرکت کی۔ غازی صاحب کے وکیل راجہ شجاع الرحمٰن اور سید حبیب الحق شاہ صاحب بھی حاضر ہوئے۔ حسب معمول جیل کے باہر احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں

صفحہ 177

غازی صاحب کی حمایت میں خوب نعرہ بازی کی گئی اور رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ نئے جج کی تعیناتی نہ ہو سکنے کے باعث عدالتی کاروائی کو 18 جون تک ملتوی کر دیا گیا۔

عدالت میں 21 ویں پیشی

18 جون غازی صاحب کی پیشی کی تاریخ مقرر تھی چنانچہ حسب معمول علمائے کرام ، سیاسی و سماجی شخصیات سینکڑوں عاشقان رسول نے غازی صاحب کی پیشی پر عدالت کے باہر جمع ہو کر اپنی بیداری کا ثبوت دیا۔ سید شبیر حسین شاہ گیلانی ، مولانا سید عظمت حسین شاہ گیلانی ، مولانا عنایت رضوی ، طلباء جامعہ رضویہ ضیاء العلوم ، کارکنان شباب اسلامی ، فیاض الحسن چوہان ، مولانا لیاقت علی گجراتی ، غازی برادران ، مولانا ہارون عباس ، مولانا وقاص خان ضیائی ، مولانا کامران عباسی کے علاوہ کئی ایک علمائے کرام اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔ احتجاجی مظاہرہ ہوا ، محفل میلاد جیل کے باہر منعقد ہوئی جس میں علمائے کرام کے خطابات ہوئے اور جج کی عدم تعیناتی کے باعث عدالتی کاروائی کو 25 جون تک ملتوی کر دیا گیا۔

عدالت میں 22 ویں پیشی

25 جون 2011ء آج کی تاریخ پیشی پر زیادہ تر پچھلی پیشی پر آنے والے علماء کرام اور دیگر حضرات حاضر ہوئے ، غازی صاحب کی رہائی کیلئے مظاہرہ کیا گیا۔ آج کی پیشی پر مقامی افراد کی آمد زیادہ رہی۔ جج کی تعیناتی نہ ہونے کے باعث عدالتی کاروائی آگے نہ بڑھ سکی اور کاروائی کو 2 جولائی تک ملتوی کر دیا گیا۔

عدالت میں 23 ویں پیشی

2 جولائی 2011ء غازی صاحب کی پیشی پر بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی، مختلف تنظیمات کے عہدیداران اور کارکنان نے بھر پور قوت کا مظاہرہ کیا۔ اہلسنت کے علماء کی طرف سے سید شبیر حسین شاہ صاحب گیلانی ، کارکنان بزم ارشاد جامعہ رضویہ ضیاء العلوم ، کارکنان سنی

صفحہ 178

تحریک، کارکنان شباب اسلامی پاکستان کے علاوہ علامہ نزاکت تبسم، مولانا عدالت رضوی، مولانا حافظ اکرام آف گوجر خان، قاری طیب صاحب آف گوجر خان، مولانا لیاقت علی گجراتی سنی تحریک، مولانا نعیم اللہ خان، مولانا ہارون عباس، کامران عباسی، مولانا وقاص خان ضیائی، چوہدری سہیل احمد نقشبندی ناظم اعلیٰ جماعت اہل سنت فیڈرل ایریا اسلام آباد کے علاوہ عاشقان مصطفیٰ کی حاضری ہوئی۔ پہلی مرتبہ مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی صاحب دیوبندی، کی بھی آمد ہوئی، قاری عبدالوحید قاسمی، دارالعلوم جامعہ فریدیہ اسلام آباد سے حافظ محمد رضوان، رؤف اکبر صاحب، امیر تنظیم اسلامی راولپنڈی، مولانا اشتیاق حسین، راجہ عدالت حسین و دیگر کارکنان تنظیم اسلامی، ضلع بھکر سے ملک مدثر صاحب، محمد سفیان صاحب اپنے ساتھیوں کے ساتھ شریک ہوئے مردان، صوبہ سرحد سے مولانا ملک غلام مرتضیٰ، حافظ محمد سلیم جامعہ تعلیم الاسلام چھوٹا لاہور ضلع صوابی اور دیگر علمائے کرام اور عاشقان مصطفیٰ نے غازی صاحب کی رہائی کے سلسلے میں جیل کے باہر مظاہرے میں شرکت کی۔ غلامان رسول کی طرف سے محفل نعت منعقد ہوئی اور بعد ازاں علمائے کرام کے خطابات ہوئے۔ ملک رفیق صاحب ایڈوکیٹ، سید حبیب الحق شاہ صاحب راجہ شجاع الرحمن صاحب بروقت جیل میں پہنچے۔

عدالت میں 24 ویں پیشی

9 جولائی بروز ہفتہ غازی صاحب کی تاریخ پیشی تھی۔ راقم ایک ماہ کیلئے ساؤتھ افریقہ کے دورے پر تھا۔ واپسی کے بعد یہ پہلی پیشی تھی۔ اس پیشی میں لاہور سے غلامان مصطفیٰ کا ایک قافلہ شرکت کیلئے صبح 9 بجے اڈیالہ جیل کے باہر پہنچا۔ قافلے کی قیادت تحریک فدایان نبوت کے سرپرست اعلیٰ شیخ الحدیث خادم حسین رضوی، جناب ڈاکٹر اشرف آصف جلالی، مولانا محمد علی نقشبندی، مولانا رضائے مصطفیٰ، مولانا داؤد رضوی گوجرانوالہ نے کی۔ قافلے میں اکثریت علماء کی تھی غازی صاحب سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے غلامان مصطفیٰ اڈیالہ جیل کے باہر قافلے کی صورت میں پہنچے۔ شباب اسلامی پاکستان کے کارکنان و عہدیداران کے علاوہ قاری اشفاق صابری، قاری شبیر چشتی، حافظ سعید نقشبندی، مولانا رفاقت جلالی، مولانا نور الامین، حافظ

صفحہ 179

منیر دلپذیر حیدری ، مہتاب احمد ماگرے ، سید ساجد حسین شاہ کاظمی ، سید جعفر حسین شاہ ، محمد عاصم عباس ہزاروی ، مولانا لیاقت علی رضوی ، نمبر دار فیض اور بڑی تعداد میں غلامان رسول نے شرکت کی۔ دیوبندی علماء کی طرف سے عبدالوحید قاسمی صاحب ، قاضی مشتاق صاحب اور دیگر چند علماء نے شرکت کی لاہور کا قافلہ ادارہ صراط مستقیم ، ناموس رسالت محاذ ، تحریک فدایان ختم نبوت کے قائدین اور کارکنان پر مشتمل تھا۔

جیل کے باہر غلامان رسول کی طرف سے دھوپ سے بچنے کے لئے ٹینٹ لگائے گئے تھے اور حاضرین کیلئے ٹھنڈے پانی اور مشروبات کا بندوبست کیا گیا تھا۔ لاہور سے آنے والے قافلے کے شرکاء نے غازی صاحب سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی اس سلسلے میں علمائے کرام اڈیالہ جیل چوکی میں پہنچے چوکی انچارج سید ضامن عباس شاہ نے علماء کا اکرام کیا۔ علمائے کرام کے مطالبہ پر چوکی انچارج نے علماء کو آگاہ کیا کہ غازی صاحب سے صرف خونی رشتہ دار ہی ملاقات کر سکتے ہیں کیونکہ یہ ہائی پروفائل کیس کے ملزم ہیں اور ان کے حوالے سے سپیشل نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ اس دوران غازی صاحب کے وکیل جناب راجہ شجاع الرحمٰن صاحب تشریف لائے اور انہوں نے علماء کرام کو قانونی حوالے سے مطمئن کیا۔ بعد ازاں جیل کے باہر غازی صاحب کی رہائی کیلئے بھر پور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور بعد ازاں جلسہ کا انعقاد ہوا۔ دوستوں کی طرف سے سپیکر کا بندوبست کیا گیا تھا۔ چونکہ شباب اسلامی پاکستان یہاں میزبان کی حیثیت رکھتی تھی بایں وجہ شباب اسلامی پاکستان کی طرف سے راقم نے میزبانی کا حق ادا کرتے ہوئے لاہور سے آنے والے عظیم القدر مہمانوں کا استقبال کیا اور انہیں اظہار خیال کے لئے اجتماع کے سامنے مدعو کیا۔ لاہور سے آئے ہوئے قافلے میں مولانا خادم حسین رضوی صاحب کے ساتھ تشریف لائے ہوئے نعت خوان جناب ہارون صاحب نے جب نعتیہ کلام پڑھا تو پورے اجتماع پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ آنکھوں سے آنسو چھلکنے لگے اس نعت کا شعر

بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے
آقا پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
صفحہ 180

پڑھا تو حاضرین اور علماء کا جذبہ دیدنی تھا چنانچہ اس شعر کو تقریباً 15 مرتبہ دھرایا گیا بعد ازاں علمائے کرام کے خطابات ہوئے ۔ مولانا محمد علی نقشبندی، ناموس رسالت محاذ مولانا رضائے مصطفیٰ نقشبندی اور بعد ازاں ڈاکٹر اشرف آصف جلالی صاحب نے خطاب کیا ۔ ڈاکٹر جلالی صاحب نے اپنی گفتگو میں غازی اسلام کی شان کو بیان کیا اور ناموسِ رسالت کے حوالے سے گفتگو فرمائی ۔

عدالت میں 25 ویں پیشی

16 جولائی غازی صاحب کی پیشی کا دن تھا حسب معمول غلامانِ مصطفیٰ اڈیالہ جیل کے باہر بروقت پہنچے آج کی پیشی میں غازی برادران کے علاوہ طلباء جامعہ رضویہ ضیاء العلوم، کارکنانِ شباب اسلامی مولانا منظور احمد صدیقی، مولانا وقاص ضیائی، مولانا کامران عباسی، فیاض الحسن چوہان، مولانا اسلم ضیائی آف اسلام آباد، مولانا سید وسیم شاہ آف بہارہ کہو، مولانا منیر دلپذیر حیدری، ہارون عباسی، سید ساجد حسین شاہ، حافظ نعیم اللہ خان، مولانا لیاقت کشمیری، حافظ قیصر قریشی، محمد زبیر قریشی کے علاوہ لاہور سے فدایان ختم نبوت کے کارکنان پیشی پر حاضر ہوئے ۔ حسب معمول جیل کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ سخت گرمی کے باوجود چلچلاتی دھوپ میں مظاہرہ جذبوں کے بانکپن کی دلیل ہے۔

آج عدالتی کاروائی میں جج کے چھٹی پر ہونے کے باعث کوئی پیش رفت نہ ہوسکی ۔ حسب معمول جیل کے باہر احتجاجی کیمپ لگایا گیا اور ٹھنڈے پانی کی سبیل لگائی گئی ۔ محفلِ نعت کا انعقاد کیا گیا ۔ بہارہ کہو اسلام آباد سے سید وسیم حسین شاہ صاحب کے ساتھ تشریف لائے ہوئے ننھے ثنا خوان جمال نواز نے اپنی سریلی آواز میں نعت رسول مقبول پیش کی اور غازی ممتاز حسین قادری کے حضور نذرانہ محبت پیش کیا تو پوری محفل پر رقت طاری ہوگئی ۔ غازی ممتاز قادری صاحب کے بھانجے ننھے قمر نے بھی سرکار کی ثناء خوانی کی ۔ علمائے کرام مولانا اسلم ضیائی اسلام آباد مولانا منظور احمد صدیقی کنوینئر تنظیم علماء ضیاء العلوم ڈھوک علی اکبر زون، فیاض الحسن چوہان اور راقم نے خطاب کیا اور تمام غلامانِ مصطفیٰ نے رسول کی رہائی کے حوالے سے کوششیں تیز وکلاء راجہ شجاع الرحمٰن، سید حبیب الحق شاہ پیشی کی اگلی تاریخ 23 جولائی مقرر ہوئی ۔

عدالت میں 26 ویں پیشی

23 جولائی حسب معمول اڈیال کے علاوہ فیاض الحسن چوہان مقامی علماء محمد زبیر قریشی، محمد ادریس قریشی، محمد اویس عباسی، کارکنان شباب اسلامی پاکستا حسن، حافظ مہتاب احمد ماگرے اور دیگر رفیق احمد، راجہ شجاع الرحمٰن اور سید حبیب سے پراسیکیوٹر سیف الملوک پیش ہو بعد ازاں عدالتی کاروائی 30 جولائی تک

عدالت میں 27 ویں پیشی

30 جولائی 2011ء غازی آمد آمد تھی اس حوالے سے آج کی تاری

انسدادِ دہشت گردی کی عدال سے ASI تنویر احمد بطور گواہ پیش ہو حاکم و دیگر جائے وقوعہ پر پہنچے اور گو اور پھر ملزم ممتاز قادری کے ہمراہ تھان

صفحہ 181

نے خطاب کیا اور تمام غلامان مصطفیٰ نے غازی صاحب سے محبت کا اظہار کیا اور تادم اخیر عاشق رسول کی رہائی کے حوالے سے کوششیں جاری رکھنے کا تہیہ کیا گیا۔ دن 1 بجے غازی صاحب کے وکلاء راجہ شجاع الرحمٰن ،سید حبیب الحق شاہ کاظمی تشریف لائے اور مختصر عدالتی کارروائی بیان کی۔ پیشی کی اگلی تاریخ 23 جولائی مقرر ہوئی۔

عدالت میں 26 ویں پیشی

23 جولائی حسب معمول اڈیالہ جیل کے باہر غلامان مصطفیٰ حاضر ہوئے ، غازی برادران کے علاوہ فیاض الحسن چوہان مقامی علمائے کرام ، مولانا منظور احمد صدیقی ، حافظ منیر دلپذیر حیدری ، محمد زبیر قریشی ، محمد ادریس قریشی ، محمد اویس قریشی ، مولانا حافظ نعیم اللہ خان ، محمد عامر حیدری ، محمد عاصم عباسی ، کارکنان شباب اسلامی پاکستان ، سید وسیم حسن شاہ آف بہارہ کہو ،ملک ذیشان آف ڈھوک حسو ، حافظ مہتاب احمد ماگرے اور دیگر غلامان مصطفیٰ نے شرکت کی۔ غازی صاحب کے وکلاء ملک رفیق احمد ، راجہ شجاع الرحمٰن اور سید حبیب الحق شاہ صاحب پیش ہوئے اور مقتول گورنر کی طرف سے پراسیکیوٹر سیف الملوک پیش ہوئے۔ آج کی پیشی میں گواہ انسپکٹر عامر خان پر جرح کی گئی۔ بعد ازاں عدالتی کارروائی 30 جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔

عدالت میں 27 ویں پیشی

30 جولائی 2011ء غازی صاحب کی پیشی کی تاریخ تھی 2 دن بعد رمضان المبارک کی آمد آمد تھی اس حوالے سے آج کی تاریخ پیشی پر غلامان مصطفیٰ کی کثیر تعداد نے حاضری دی۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 2 کے جج پرویز علی شاہ کے رو برو استغاثہ کی طرف سے ASI تنویر احمد بطور گواہ پیش ہوئے اور گواہی دی کے فائرنگ کی اطلاع ملنے پر میں اور انسپکٹر حاکم و دیگر جائے وقوعہ پر پہنچے اور گولیوں کے خول ، خون اور مقتول گورنر کی گاڑی کو قبضے میں لیا۔ اور پھر ملزم ممتاز قادری کے ہمراہ تھانے پہنچے۔ بعد ازاں پھر ہسپتال میں مقتول گورنر کے ایکسرے

صفحہ 182

حاصل کر کے تھانے پہنچائے غازی صاحب کے وکلاء نے گواہ پر جرح کی اور عدالتی کاروائی کو 27 اگست 2011ء تک ملتوی کر دیا گیا۔

غازی صاحب کے وکلاء اور ان کے بھائیوں کے ذریعے پتہ چلا کہ عدالتی کاروائی کے دوران ممتاز قادری صاحب لا تعلق سے نظر آئے اور تسبیح پر درود شریف کا ورد کرتے رہے۔ غازی صاحب کے وکلاء سید حبیب الحق شاہ صاحب اور راجہ شجاع الرحمن نے بتایا کہ ممتاز قادری صاحب کے چہرے پر نور کی ایسی کیفیت ہے کہ ان کے چہرے پر دیکھا نہیں جاتا۔ ادھر اڈیالہ جیل کے باہر سخت ترین دھوپ اور گرمی کے باوجود سینکڑوں غلامان رسول حاضر ہوئے جیل کے باہر حسب معمول بھر پور محفل کی گئی اور مظاہرہ کیا گیا۔

شباب اسلامی، سنی تحریک، بزم ارشاد، تنظیم علماء ضیاء العلوم کے قافلے اپنے اپنے قائدین کی قیادت میں اڈیالہ جیل پہنچے بزم محمدیہ سیفیہ کا قافلہ حضرت پیر ڈاکٹر سرفراز سیفی کی ہدایت پر نثار سیفی صاحب کی قیادت میں اور جامعہ جلالیہ رضویہ کا قافلہ مولانا محمد اسلم جلالی مولانا رفاقت جلالی کی قیادت میں اڈیالہ جیل پہنچا۔

شباب اسلامی پاکستان کے مختلف یونٹوں سے تعلق رکھنے والے کارکنان پیشی میں حاضر ہوئے۔ ڈھوک علی اکبر سے اویس قریشی، حافظ نعیم اللہ، سید کونین شاہ، محمد صدام، صوفی محمد اشرف سیفی اسلام آباد چراہ سے چن زیب، محمد ارسلان، قاری رضوی، بہارہ کہو سے سید وسیم حسین شاہ، ڈھوک چوہدریاں سے سید وقاص حسین شاہ، سید مہتاب شاہ، سید ساجد شاہ، سید شجاعت شاہ، پنڈوڑیاں سے محمد ہارون عبدالحمید کی قیادت میں قافلے اڈیالہ جیل کے باہر پہنچے۔ بزم محمدیہ سیفیہ کا قافلہ ڈاکٹر سرفراز سیفی کی ہدایت پر نثار سیفی صاحب کی قیادت میں پہنچا۔ تنظیم علماء ضیاء العلوم کا قافلہ مولانا نزاکت تبسم، مولانا ہارون عباسی، کامران عباسی، منیر دلپذیر حیدری، حافظ نور الامین، محمد ثاقب، حافظ عدیل، محمد زبیر قریشی، حافظ منیب کی قیادت میں پہنچا۔ بزم ارشاد جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کا قافلہ مولانا وقاص ضیائی کی قیادت میں پہنچا۔ اسلام آباد سے جامعہ جلالیہ رضویہ کا قافلہ

صفحہ 183

مولانا اسلم جلالی ، مولانا رفاقت جلالی کی قیادت میں پہنچا۔

اس کے علاوہ سنی تحریک کا قافلہ عبدالرؤف ملک صاحب کی قیادت میں پہنچا اسلام آباد سے مولانا اسلم ضیائی ، مولانا سید طارق حسین شاہ فاضل جامعہ رضویہ ضیاء العلوم، مولانا بشارت، مولانا منظور احمد صدیقی، فیاض الحسن چوہان اور دیگر علمائے کرام پیشی میں حاضر ہوئے ۔ کلر سیداں سے بھائی محمد آصف صاحب کی قیادت میں شباب اسلامی کے کارکنان نے شرکت کی۔ جس وقت غازی صاحب کے وکلاء اور جج صاحب جیل کے دروازے پر پہنچے تو شرکاء نے بھر پور نعرہ بازی کی ۔ جیوے جیوے قادری ، جیوے ۔۔۔۔۔ غازی تیرے جان نثار، بے شمار بے شمار ۔۔۔۔ شرم کرو حیا کرو ، غازی کو رہا کرو ۔۔۔ کے نعروں نے اڈیالہ جیل کے درو دیوار کو ہلا کر رکھ دیا۔ بعد ازاں جیل کے باہر محفل میلاد کا انعقاد کیا گیا بہارہ کہو سے تشریف لائے ہوئے ثنا خوان نے ایک مرتبہ پھر محفل پر رقت طاری کر دی اور بعد ازاں غازی صاحب کے بھانجے قمر نے جب غازی صاحب کی شان میں نظم پیش کی تو ہر آنکھ اشکبار ہو گئی ۔ محبت رسول سے حاضرین زار و قطار رونے لگ گئے ۔ علمائے کرام نے اپنے اپنے خطابات میں قانون ناموس رسالت پر روشنی ڈالی ۔ جناب جہانگیر نقشبندی ، مولانا رفاقت جلالی ، مولانا محمد اسلم جلالی ، فیاض الحسن چوہان اور راقم نے خطاب کیا ۔ ادھر غازی صاحب کی طرف سے ان کے وکلاء نے جج کے سامنے درخواست پیش کی غازی صاحب پورا رمضان کا مہینہ اعتکاف بیٹھنا چاہتے ہیں اور عید کے دن اپنے والد کی قدم بوسی کے خواہش مند ہیں ۔ لہذا عید کے دن ان کے اہل خانہ کو ملاقات کی خصوصی اجازت دی جائے ۔

غازی صاحب کی طرف سے ان کے وکیل جناب سید حبیب الحق شاہ صاحب نے پیشی پر حاضر ہونے والے غلامان رسول کی طرف غازی صاحب کا سلام پہنچایا اور رمضان کی آمد کی ایڈوانس مبارکباد پیش کی ۔ اور پیغام دیا کہ گستاخان رسول نبی پاک کی توہین سے باز آجائیں وگرنہ ہر گلی سے ایک ممتاز قادری نکلے گا اور آقا کی ناموس کی حفاظت کرے گا ۔ عدالت نے انسپکٹر محمد حاکم خان کو 27 اگست کو گواہی کیلئے طلب کرتے ہوئے عدالتی کاروائی کو ملتوی کر دیا۔ کو ملتوی کر دیا۔

صفحہ 184
دنیا تمہاری ہے۔۔۔۔۔ عقبیٰ پہ راج ہمارا ہوگا۔۔۔

14 اگست کو اسلام آباد میں جشن آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی تقریب کے دوران صدر پاکستان آصف علی زرداری کی طرف سے حسب روایت مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ساتھ تعلق رکھنے والی شخصیات کیلئے ”میڈلز“ کا اعلان ہوا۔ پوری قوم اس وقت ورطہ حیرت میں ڈوب گئی جب مقتول ملعون گورنر سلمان تاثیر کے لئے بھی میڈل کا اعلان کیا گیا، کچھ صحافی حضرات نے اس سلسلے میں راقم سے رابطہ کیا۔ راقم نے اخبارات میں صدر پاکستان کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات کے خون کے مترادف قرار دیا اور بھر پور مطالبہ کیا کہ غازی اسلام جناب ملک ممتاز قادری صاحب کیلئے ستارہ جرات کا اعلان کیا جائے اصل حقدار تو وہ ہیں۔ نیز صدر پاکستان ایک مرتبہ پھر بحث کا دروازہ نہ بھی کھولیں تو بہتر ہوگا۔

قارئین! کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات سے کھیلنے والے، قرآن وسنت کی توہین کرتے ہوئے ارتداد کا ارتکاب کرنے والے، لاکھوں علماء کو جوتی کی نوک پر رکھنے والے گستاخان رسول کے حمایتی، خنزیر کا گوشت شوق سے کھانے والے، نماز و روزہ سے دور بھاگنے والے، قرآن کو الٹا پڑھنے والے ایک ملعون شخص کو قومی ایوارڈ اور میڈل کے لئے منتخب کرنا کیا قائد اعظم کے پاکستان میں بسنے والے کروڑوں غیرت مند پاکستانیوں کے جذبات کا خون نہیں ہے؟

کیا یہ تحریک آزادی کے لاکھوں شہداء کی روحوں سے غداری نہیں ہے۔۔۔۔۔۔؟

بہر حال خیال رہے کہ یہ دنیا مکافات کی جاء ہے۔ امام حسین علیہ السلام سے ٹکرانے والا یزید بھی تو آخر وقت کا بادشاہ تھا لیکن تاریخ گواہ ہے کہ آج یزید کا نام بطور ”گالی“ استعمال ہوتا ہے اور حسینؑ ہر قلب مومن میں زندہ و جاوید ہے۔ کیا ہوا جو پیپلز پارٹی نے حکومتی نشے میں ایک گستاخ شخص کے لئے میڈل کا اعلان کیا ہے۔ گورنر کو میڈل تو دیا جاسکتا ہے مگر کیا مسلمانوں کے دلوں میں اسے زندہ بھی کیا جاسکتا ہے؟ یہ حقیقت ہے کہ ممتاز قادری کروڑوں پاکستانیوں کے دل کی

دھڑکنوں میں بستا ہے۔ ان کی آنکھ کا تارا ایک گستاخ اور کروڑوں مسلمانوں کے ارباب اقتدار اور ان کی جماعت پیپلز حضرات کی سوچ کا قبلہ کون سا ہے۔

سلمان تاثیر کے بیٹے کا اغواء

26 اگست بروز جمعہ دن 10 بجے سلمان مبینہ طور پر 4 افراد تھے جو کہ شہباز تاثیر پنجاب کی طرف سے خصوصی طور پر دی راقم جمعۃ الوداع کی تیاری کے سلسلے اہلکاروں نے اپنے ایک اعلیٰ آفیسر کا پیغام بات سمجھ کر کہا ٹھیک ہے مل لیتا ہوں دوران ملاقات انہوں نے بتایا کہ شہباز ہے مجھے اس سے قبل شہباز تاثیر کے کی ملاقات سے پونے چار بجے قادری CID آفیسر نے بتایا کہ چونکہ ممتاز آپ اس سلسلے میں بالکل فرنٹ پر نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ تو فقط اللہ کی حمایت کر رہے ہیں اور ہمارا لوگ تو عدالتوں کا احترام کر رہے ہیں تاہم ہم لوگ شہباز تاثیر کے اغوا کی حمایت کرنے والوں کے طر

صفحہ 185

دھڑکنوں میں بستا ہے۔ ان کی آنکھ کا تارا ہے اور سلمان تاثیر کے نام سے ہی لوگوں کو نفرت ہے۔ ایک گستاخ اور کروڑوں مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے والے شخص کیلئے میڈل کے اعلان نے ارباب اقتدار اور ان کی جماعت پیپلز پارٹی کی اصلیت عوام کے سامنے ظاہر کر دی ہے کہ ان حضرات کی سوچ کا قبلہ کون سا ہے۔

سلمان تاثیر کے بیٹے کا اغواء

26 اگست بروز جمعہ دن 10 بجے سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کو اغواء کر لیا گیا۔ اغواء کنندگان مبینہ طور پر 4 افراد تھے جو کہ شہباز تاثیر کو اس کی گاڑی سے نکال کر لے گئے۔ شہباز تاثیر کو حکومت پنجاب کی طرف سے خصوصی طور پر 13 اہلکار دیئے گئے تھے۔ اغواء کے وقت وہ اکیلا جا رہا تھا۔ راقم جمعۃ الوداع کی تیاری کے سلسلے میں مصروف تھا بعد نماز جمعہ المبارک CID برانچ کے اہلکاروں نے اپنے ایک اعلیٰ آفیسر کا پیغام دیا کہ وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں میں نے عام معمول کی بات سمجھ کر کہا ٹھیک ہے مل لیتا ہوں ۔ CID کے اعلیٰ آفیسر کے دفتر میں 4 بجے دن ملاقات ہوئی دوران ملاقات انہوں نے بتایا کہ شہباز تاثیر اغواء ہو چکا ہے اور آپ کو اس سلسلے میں زحمت دی گئی ہے مجھے اس سے قبل شہباز تاثیر کے اغواء کا علم نہ تھا اس لئے کہ میں جمعۃ المبارک کی نماز اور نمازیوں کی ملاقات سے پونے چار بجے فارغ ہوا اور دوسرا جمعہ کی مصروفیات کے باعث میرا فون بند تھا۔ CID آفیسر نے بتایا کہ چونکہ ممتاز قادری صاحب کا براہِ راست تاثیر فیملی سے کیس چل رہا ہے اور آپ اس سلسلے میں بالکل فرنٹ پر ہیں لہٰذا تحقیقاتی ادارے آپ سے تفتیش کرنا چاہتے ہیں میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ تو فقط اللہ اور اس کے رسول کی محبت اور رضا کی خاطر ممتاز قادری صاحب کی حمایت کر رہے ہیں اور ہمارا سلمان تاثیر کی فیملی کے ساتھ ذاتی کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ہم لوگ تو عدالتوں کا احترام کر رہے ہیں اس لئے تو کیس کی بھر پور انداز سے پیروی کر رہے ہیں۔ تاہم ہم لوگ شہباز تاثیر کے اغواء کی مذمت کرتے ہیں بظاہر یہ اغواء ممتاز قادری صاحب اور ان کی حمایت کرنے والوں کے خلاف ایک سازش ہو سکتی ہے اور آئندہ آنے والے دنوں میں

صفحہ 186

حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔ CID برانچ سے شام کو میں واپس آیا اور اس سلسلے میں دوبارہ رات کو بلایا گیا اسی وجہ سے میں مری بروری میں ختم قرآن مجید کے جلسے میں شرکت نہ کرسکا۔

عدالت میں 28 ویں پیشی

27 اگست 2011ء غازی صاحب کی پیشی کی تاریخ تھی۔ آج استغاثہ کی طرف سے آخری گواہ نے پیش ہونا تھا اس سلسلے میں آج آخری گواہ ملک حاکم خان انسپکٹر SHO تھانہ کوہسار کو پیش کیا گیا۔ حاکم خان انسپکٹر نے عدالت میں حاضر ہو کر یہ گواہی پیش کی کہ میں ممتاز حسین قادری کا تفتیشی افسر تھا اور میری تفتیش میں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ سلمان تاثیر کو ممتاز حسین قادری نے اس لئے قتل کیا تھا کہ اس نے ناموس رسالت کے قانون کو ”کالا قانون“ کہا تھا۔ اور یہ کہ ممتاز قادری کا اس سلسلے میں کیا جانے والا اقدام اس کا ذاتی فعل تھا اس کے اس کام میں کوئی تنظیم یا فرد ملوث نہیں تھا۔ اور یہ کہ ممتاز حسین قادری نے گورنر کے ساتھ ڈیوٹی از خود نہیں لگوائی اور نہ ہی اس طرح کوئی بھی شخص ڈیوٹی لگوا سکتا ہے۔

گواہ پر جرح مکمل ہونے کے بعد استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ اب مزید کوئی گواہ پیش نہیں کریں گے کیونکہ اس سے پہلے ہی 14 گواہ پیش کئے جا چکے ہیں اور ہم مزید گواہان پیش کرنے سے دستبردار ہوتے ہیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت 10 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے۔ اگلی پیشی پر ممتاز قادری کو دفعہ 342 کے تحت بیان ریکارڈ کروانے کا حکم دیا۔

راقم شہباز تاثیر کے اغواء کے معاملے کے باعث اس پیشی پر حاضر نہ ہوسکا کیونکہ تفتیشی اداروں نے اس دن تفتیش کے لئے طلب کیا تھا۔ معلومات کے مطابق پیشی پر مولانا اسلم ضیائی، فیاض الحسن چوہان، غازی برادران اور دیگر عاشقان رسول نے شرکت کی۔

شہباز تاثیر کے اغواء کے سلسلے میں تفتیشی اداروں نے ممتاز حسین قادری صاحب سے بھی تفتیش کی چنانچہ غازی صاحب کی طرف سے ان کے بھائیوں کی وساطت سے اخبارات میں

صفحہ 187

مذمتی بیان شائع ہوا اور انہوں نے شہباز تاثیر کے اغواء کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میں کوئی کریمنل ریکارڈ یافتہ نہیں ہوں بلکہ میرا اقدام خالصتاً نبی کریم کی محبت کے باعث تھا۔ اور شہباز تاثیر یا سلمان تاثیر کی فیملی کے کسی اور فرد سے ہماری کوئی دشمنی نہیں ہے۔

اڈیالہ جیل کے باہر پہلی دفعہ تحریک انصاف کے چند عہدیداران نے بھی شرکت کی۔

ستائیسویں شب رمضان ”یوم دعا“

27 اگست بمطابق 26 رمضان رات پورے ملک میں جشن نزول قرآن کی محافل کا انعقاد ہوا جامع مسجد سیدہ آمنہ گری روڈ میں سالانہ پروگرام ہوتا ہے۔ شب بیداری کا اہتمام ہوتا ہے اور بوقت سحر خصوصی دعا پر محفل کا اختتام ہوتا ہے امسال بھی حسب معمول ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ رش کا یہ عالم تھا کہ مین گری روڈ رات 11 بجے ہی بلاک ہو گیا اور رات ایک بجے تک یہ اجتماع محلے کے مکانوں کی چھتوں تک پھیل گیا، ہزاروں افراد نے خصوصی دعا میں ملک ممتاز حسین قادری کی رہائی کی دعائیں کیں اور راقم نے پورے ملک میں جہاں تک رابطہ ہو سکا لوگوں سے غازی صاحب کی رہائی کی دعا کی اپیل کی تھی۔

اسی طرح کی دعا کی اپیل ”جمعۃ الوداع“ کے موقع پر کی گئی تھی اور الحمد للہ جمعۃ الوداع کے موقع پر خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ راقم نے جمعۃ الوداع کے موقع پر اعلان کیا کہ ان شاء اللہ ہم لوگ عید الفطر کی نماز کی ادائیگی کے بعد اڈیالہ جیل جائیں گے جہاں غازی صاحب سے اظہار محبت ہوگا اور جس جس شخص نے اپنی طرف سے عید کارڈ روانہ کرنا ہو وہ جمع کروا دے۔

اڈیالہ جیل کے باہر عید ملن اجتماع

31 اگست بروز بدھ یکم شوال المکرم عید الفطر کا دن تھا صبح 8 بجے نماز عید کی ادائیگی ہوئی اور میں نے عید کے اجتماع میں اعلان کیا کہ جس جس عاشق رسول نے اڈیالہ جانا ہو وہ تیار رہے۔

صفحہ 188

نماز عید کی ادائیگی کے بعد شباب اسلامی پاکستان کے نوجوانوں اور دیگر غلامان مصطفیٰ کا قافلہ ہاتھوں میں پھول ، عید کارڈ ، غازی صاحب کے پورٹریٹ ، مٹھائیاں اور شباب اسلامی اور غازی صاحب کی تصاویر سے مزین جھنڈے اٹھا کر اڈیالہ جیل روانہ ہوا۔

حافظ نعیم اللہ ، راجہ وقاص ، اویس قریشی ، صوفی اشرف سیفی ، سید کونین حیدر اور دیگر تنظیمی ساتھیوں نے قیادت کی ۔ ادھر دوسری طرف غازی برادران اور فیاض الحسن چوہان کی معیت میں بھی غلامان مصطفیٰ کا ایک قافلہ اڈیالہ جیل روانہ ہوا۔ چکری روڈ سے مولانا مقصود صابری صاحب کی قیادت میں قائم 'انجمن سید کونین' کے نوجوانوں کا قافلہ اڈیالہ جیل روانہ ہوا اس کے علاوہ اور علاقوں سے بھی غلامان مصطفیٰ اڈیالہ جیل پہنچنے لگے۔

سخت گرمی اور دھوپ کے باوجود کافی دیر تک عاشقان مصطفیٰ جیل کے باہر ہاتھوں میں عید کارڈ اور فروٹ، پھولوں کی ٹوکریاں تھامے ۔ نعرے بازی کرتے رہے اور مبارکباد مبارکباد عید کی مبارکباد ۔۔۔ مبارک ہو مبارک ہو ۔ غازی عید مبارک ہو۔ کے نعرے بھی بلند ہوتے رہے۔

حاجی محمد حنیف میمن ، ذیشان فیض ، فیاض الحسن چوہان ، غازی برادران ، ملک بشیر صاحب کے علاوہ دیگر کئی علماء اور سینکڑوں غلامان مصطفیٰ نے شرکت کی۔

اڈیالہ چوکی کے انچارج سید کاظم عباس اور تھانہ صدر بیرونی کے ایس ایچ او نے جیل حکام سے رابطہ کیا کہ بڑی تعداد میں شہری ہاتھوں میں سامان لے کر کھڑے ہیں ۔ لہٰذا عید کارڈ اور سامان وصول کیا جائے ۔ جیل حکام نے گیٹ نمبر 3 پر سامان وصول کرنے پر رضا مندی ظاہر کی گیٹ نمبر 3 پر اسسٹنٹ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل سے راقم ، فیاض الحسن چوہان اور دلپذیر اعوان صاحب نے اپیل کی کہ غازی صاحب کے والد گرامی کو چند منٹ ملاقات کا موقع دیا جائے اور عید کارڈ اور سامان غازی صاحب تک پہنچایا جائے ۔ اسسٹنٹ صاحب نے سپرنٹنڈنٹ جیل سے رابطہ کرنے کا کہا۔ چنانچہ فیاض الحسن چوہان ، دلپذیر اعوان صاحبان نے سپرنٹنڈنٹ سے ملاقات

صفحہ 189

کی اور غازی صاحب کی خواہش کے مطابق ان کے والد گرامی سے ملاقات کی اپیل کی جس پر سپرنٹنڈنٹ جیل نے معذوری ظاہر کی اور تمام سامان غازی صاحب تک پہنچانے کا وعدہ کیا چنانچہ سینکڑوں عید کارڈ ، فروٹ کی ٹوکریاں، گل دستے اور دیگر تحائف غازی صاحب کے لئے جیل میں روانہ کر دیئے گئے ۔

تنظیمی دوستوں نے جیل میں غازی صاحب کی ”عید ملن“ کی تصاویر اور جیل کے باہر حاضری کی تصاویر کو اسی دن فیس بک پر شائع کر دیں ۔ پورے ملک کے غلامان مصطفیٰ کی طرف سے انتہائی خوشی کا اظہار کیا گیا۔ اخبارات کی تعطیلات کے باعث اڈیالہ جیل کے باہر غلامان مصطفیٰ کی حاضری کی خبریں اور تصاویر قومی اخبارات میں 3 دن بعد شائع ہوئیں ۔

عدالت میں 29 ویں پیشی

10 ستمبر بروز ہفتہ حسب معمول غلامان مصطفیٰ اڈیالہ جیل کے باہر جمع ہوئے غازی صاحب کے وکلاء ان کے اہل خانہ کے علاوہ مولانا اسلم ضیائی صدر جماعت اہلسنت اسلام آباد، مولانا نزاکت تبسم ، مولانا لیاقت علی گجراتی ، مولانا اشفاق صابری ، مولانا قاسم رضوی آف چونترہ ، مولانا شوکت عطاری ، مولانا سراج الدین ، مولانا نواز صاحب جماعت اسلامی کے رہنما، رانا جاوید احمد تحریک ختم نبوت کے مولانا وحید قاسمی ، مولانا طاہر قریشی ، محمد آفتاب راقم الحروف اور فیاض الحسن چوہان مشہور سماجی شخصیت چوہدری منظور احمد آف ترلائی اراکین شباب اسلامی پاکستان ، سید کونین حیدر شاہ ، دعوت اسلامی کے طارق عطاری آف مسلم ٹاؤن ، محمد اشرف سیفی ، محمد سلطان اعوان آف خوشاب کے علاوہ دیگر علمائے کرام غلامان مصطفیٰ نے شرکت کی حسب معمول محفل نعت خوانی منعقد ہوئی ۔ فیاض الحسن چوہان صاحب کی طرف سے غازی صاحب کی رہائی کے حوالے سے پیشیوں میں شرکت کی دعوت کے حوالے سے ترغیبی پمفلٹ نما خط شائع کیا گیا۔ جس میں علماء سے کھل کر غازی صاحب کی حمایت میں کام کرنے کی اپیل کی گئی ۔

صفحہ 190

آج کی عدالتی کاروائی میں عدالت کی طرف سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت غازی صاحب کو 10 سوالات دیئے گئے تھے جن کا جواب انہوں نے اگلی پیشی 17 ستمبر پر عدالت میں جمع کروانا تھا۔

عدالت میں 30 ویں پیشی

17 ستمبر 2011ء بروز ہفتہ غازی صاحب کی پیشی پر کثیر تعداد میں غلامان خیرالوریٰ نے شرکت کی اسلام آباد سے پہلی مرتبہ مولانا محمد اقبال نعیمی صاحب، مولانا اعجاز چوراہی صاحب، مولانا طالب حسین اعوان، حافظ ادریس، غلام عبادت صاحبان شریک ہوئے ۔ ان کے علاوہ مولانا اسلم ضیائی، مولانا نزاکت تبسم، مولانا حافظ وقار احمد ضیائی، مولانا لیاقت گجراتی، مولانا اشفاق صابری، مولانا شوکت عطاری، مولانا صوفی اشرف سیفی، محمد اسلم، حافظ مہتاب احمد ماگرے، صوفی محمد زاہد نے بروقت شرکت کی۔ شباب اسلامی کے تنظیمی ساتھیوں کا قافلہ راقم کی قیادت میں اڈیالہ جیل پہنچا۔ دیوبندی علماء کی طرف سے شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف اسلام آباد، مفتی عبدالسلام اسلام آباد، مولانا عبد الوحید قاسمی نے شرکت کی ۔ جماعت اسلامی کے رضوان احمد اور تحریک انصاف کے فیاض الحسن چوہان صاحب شریک ہوئے ۔ بڑی تعداد میں عام شہریوں نے شرکت کی ۔ حسب معمول پیشی میں شرکت کرنے والوں کی سہولت کیلئے ٹینٹ وغیرہ لگائے گئے تھے۔ حسب معمول جیل کے باہر غازی صاحب کی رہائی کیلئے مظاہرہ کیا گیا، محفل نعت ہوئی، اور مولانا نزاکت تبسم، مولانا سلم ضیائی، مولانا عبدالرؤف دیوبندی، فیاض الحسن چوہان اور راقم الحروف نے حاضرین کے دلوں کو خطاب کے ذریعے گرمایا۔ غازی صاحب کے وکلاء، راجہ شجاع الرحمن، ملک رفیق، اور سید حبیب الحق شاہ صاحبان بھی بروقت عدالت میں پہنچے۔

آج کی عدالتی کاروائی میں عدالت کی طرف سے غازی صاحب سے پوچھے گئے 10 سوالات کے جوابات جمع کروائے گئے ۔ سوالات و جوابات انگلش میں ہیں ان کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

صفحہ 191

٭ سیکشن 342 کے تحت پوچھے گئے سوالات و جوابات ٭

سوال نمبر 1: کیا آپ نے استغاثہ/مدعی کے بیان و ثبوت سمجھے اور آپ کی موجودگی میں قلمبند ہوئے؟

جواب: جی ہاں

سوال نمبر 2: یہ ایک ثبوت ہے کہ آپ نے اپنی ڈیوٹی 4 جنوری 2011ء کو سازشی طریقہ کار کے ذریعے لگوائی تاکہ آپ سوچی سمجھی سازش کے تحت مقتول گورنر کا قتل عمد کر سکیں۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟

جواب: یہ غلط ہے۔ پہلے سے منصوبہ بندی کے ساتھ سازشی ڈیوٹی والا اقدام مستند گواہ حاکم خان سے غلط ثابت ہوا کیونکہ نہ تو اس دن کی سیکورٹی انسپکٹر نے اہلکاروں کو چیک کیا اور نہ ہی فہرست جاری کی گئی چونکہ میں ایلیٹ فورس راولپنڈی کا اہلکار تھا اس لئے اس دن میں عام معمول کی ڈیوٹی پر تھا۔

سوال نمبر 3: یہ بھی ثابت ہوا کہ آپ نے 4 جنوری 2011ء کو شام 4 بجے جبکہ آپ گورنر کی زندگی کی حفاظت کیلئے متعین تھے کوہسار مارکیٹ اسلام آباد کے نواح میں جبکہ مقتول ہوٹل سے باہر آ رہا تھا اور گھر کی طرف رواں تھا تو پیدل چلتے ہوئے آپ نے سوچی سمجھی سازش / منصوبہ کے تحت اپنی ڈیوٹی کے خلاف اس پر اچانک فائر کھول دیا اپنی گن SMG رائفل کے ساتھ اور گورنر کا قتل عمد کیا؟ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟

جواب: بعد والا حصہ کہ اچانک فائر کھول دیا صحیح ہے لیکن پچھلا حصہ غلط ہے۔ اس کا جواب بعد کے کسی سوال کے جواب میں آپ کو مل جائے گا۔

سوال نمبر 4: یہ بھی ثابت ہے کہ فائرنگ کے بعد آپ جذبات سے باہر ہو گئے اور آپ کو باقی دستہ کے عملہ نے گرفتار کر لیا اور یہ کہ آپ سے SMG گن اور اس کے ساتھ دو میگزین ایک خالی اور دوسرا لوڈڈ جس میں 28 گولیاں تھیں برآمد ہوا تو آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟

جواب: میں نے خود ہی ہاتھ اوپر کر لئے تھے اور اس کے بعد انچارج کے حکم پر میں نے رائفل

صفحہ 192

اس کو دی اور خود جھک گیا۔

سوال نمبر 5 : یہ بھی ثابت ہوا کہ انویسٹی گیشن آفیسر نے جگہ سے 28 گولیوں کے کھوکھے اکٹھے کئے اور ان کو یاداشت کے لئے رکھ لیا آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟

جواب : اس علم سے قاصر ہوں چونکہ میں تحویل میں لے لیا گیا تھا اور فوراً بعد مجھ کو پولیس سٹیشن لے جایا گیا تھا۔

سوال نمبر 6 : یہ بھی ثابت ہوا کہ گن آپ سے برآمد ہوئی اور اس کے ساتھ 28 کھوکھے جائے وقوعہ سے اکٹھے کئے گئے جو کہ فرانزک لیبارٹری بھیجے گئے جہاں سے مثبت نتائج وصول ہوئے۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟

جواب : میں اس سوال کا جواب پچھلے دو سوالوں کے جوابات میں واضح کر چکا ہوں۔

سوال نمبر 7 : یہ بھی ثابت ہوا کہ آپ نے از خود رضامندانہ طور پر بیان اقبال جرم دیا جو کہ سیکشن 164/c پاکستان کریمنل پروسیجر کورٹ کے تحت آپ نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ گورنر سلیمان تاثیر کے ہولناک قتل کے آپ ذمہ دار ہیں جو کہ مستند گواہ نمبر 9 محمد علی اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد نے ریکارڈ کیا۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟

جواب : یہ غلط ہے جس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ جن حالات میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مجھ کو گرفت (Bound) رکھنے کے لئے وہ ایک برائے نام بیان لیا گیا اور مجھ کو حلف لینے پر مجبور کیا گیا۔ اس کے علاوہ یہ بیان قابل اندراج نہیں اور میں اس سے مکمل طور پر بری الذمہ ہوں۔

سوال نمبر 8 : کیوں یہ کیس آپ کے خلاف ہے اور کیوں مستند گواہان نے آپ کے خلاف بیانات دیے؟

جواب : سلمان تاثیر اس وقت صوبہ پنجاب کا حاضر گورنر تھا اور وہ وفاقی حکومت پاکستان کا نمائندہ تھا، اس طرح گورنر کے عہدہ پر ہوتے ہوئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نمائندہ حیثیت پر

صفحہ 193

اس نے عوامی / بین الاقوامی طور پر یہ ظاہر کیا کہ وہ ایک سزا یافتہ مجرمہ بنام عاصیہ بی بی کا ہمدرد ہے جس کو عدالت کی طرف سے سزائے موت اس لئے ملی تھی کہ اس نے حضور کے نام کی توہین کی تھی اور براہ راست بارگاہ حضور ﷺ میں توہین آمیز الفاظ بکے۔ یہاں اس امر کی ضرورت نہیں کہ جو فیصلہ اس کو سنایا گیا وہ ابھی تک اپیل میں ہے اور فیصلہ ٹرائل کورٹ (تفتیشی عدالت) میں بھیج دیا گیا ہے۔ بہرحال سلمان تاثیر نے بہت گستاخانہ / ہتک آمیز طریقہ کار سے لاہور کی جیل کا دورہ کیا اور ایک دربار کا انتظام کیا تا کہ وہ صرف اپنی طرف سے اس مجرمہ کی معافی کی درخواست صدر سے منظور کروائے یہ کوئی عام بات نہیں تھی کہ سلمان تاثیر نے اپنے 2010-12-23 کے انٹرویو میں توہین رسالت کے قانون کو ”کالا قانون“ قرار دے کر اس کو ایک آدمی کا بنایا ہوا قانون ٹھہرایا اور اس کو چیلنج کیا اور تنقید کا نشانہ بنایا جو کہ براہ راست حضور ﷺ کے مبارک نام اور ان کے اس مبارک اقدام کی توہین تھی جو کہ قرآن اور سنت کی ہدایت کی روشنی میں صحیح ہے اس کے متعلقہ روزنامہ ایکسپریس ٹرائی بیون (Daily Express Tribune) تاریخ 5 دسمبر 2010ء (حصہ واضح کیا گیا A to A) اور روزنامہ ایکسپریس (اردو) تاریخ 23 نومبر 2010ء واضح حصہ B to B صفحہ 8 اور واضح حصہ C to C صفحہ 5 اس ضمن میں قابل بیان ہیں۔ یہ بھی قابل غور ہے کہ اس نے ان تمام باتوں / بیانات کی تردید بھی کبھی نہیں کی۔ یہ صورت حال واضح کرتی ہے کہ سلمان تاثیر خود ہی اس جرم کا ذمہ دار ٹھہرا بذریعہ زیر دفعہ C-295 پاکستان پینل کوڈ یہ کہ اس کی سزائے موت یا عمر قید ٹھہری باوجود اس کے اس جرم کے اس کے خلاف قانون کے مطابق سلوک نہیں کیا گیا۔ یقیناً وہ صدر آصف علی زرداری کا کارندہ (نائب) اور امریکہ کا غلام تھا۔ یوں قدرت نے اپنا راستہ بنانا تھا اور انصاف ہو کر رہا۔ اور یہ سبق تمام ہی ”مرتدین“ کے لئے ہے کہ وہ آخر کار اس انجام سے دوچار ہوں گے۔

میں استغاثہ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا وہ ”سب وشتم“ توہین رسالت اور ”ارتداد“ انکار دین کی وجہ سے خود کو دوہرے قتل کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتا؟ ایسا اقدام جو کہ ”شاتم رسول“ اور ”ارتداد“

صفحہ 194

پریشانی افکار کی انتہا کو چھوتے ہیں یہاں استغاثہ ثابت کرے کہ کیا شاتم مرتد نہیں ہوتا اور مرتد واجب القتل نہیں ہے۔ سلمان تاثیر کی ذاتی زندگی سے ثابت ہے کہ اپنی ابتدائی زندگی سے ہی وہ ’ملحد‘ تھا اور اس نے تین شادیاں کیں اور یہ کہ اس کی ایک بیوی ”سکھ“ تھی اور اس نے یہ شادی پوشیدہ طریقہ سے نیودھلی انڈیا میں کی تھی۔ اور اس کے اس بندھن سے اس کا بیٹا آتِش تاثیر بھی ہے اور جوان ہونے پر اس نے لندن میں صحافت کا شعبہ اپنایا اور ایک دو دفعہ پاکستان میں اپنے باپ سے ملنے بھی آیا اور اس نے ایک کتاب بھی لکھی بعنوان ”تاریخ سے اجنبی“ (Stranges to history) جو کہ ایک لندن کے اشاعتی ادارے ( MC Cellans Stewart of London) نے اشاعت کی۔ صفحہ 21 اور 22 پر لکھتا ہے کہ ”میرا باپ سلمان تاثیر روز شراب پیتا ہے اس نے کبھی روزہ نہ رکھا اور نہ کبھی نماز پڑھی یہاں تک کہ خنزیر کھاتا تھا ایک دفعہ اس نے کہا جب وہ جیل میں تھا تو مجھے قرآن مجید دیا گیا پڑھنے کیلئے میں نے بہت دفعہ اس کو آخر سے شروع کی طرف پڑھا لیکن مجھے اس میں کچھ نظر نہ آیا اور میں نے محسوس کیا کہ اس میں میرے کام کا کچھ نہیں ہے۔

اس کا طرز زندگی ، ایمان اور غیر مذہب عورت کے ساتھ رہنا اس کے مستقل زنا کی زندگی کی عکاسی کرتے ہیں (اسلامی شادی کے ضمن میں) اور اس کے کردار اور زندگی کے باقی معاملات کی کھلی نشاندہی بھی ہے۔

ایک پُرکیف (ایمان وایقان) والے دن میں نے بطور ممبر ایلیٹ فورس جو کہ اس وقت کے گورنر سلمان تاثیر کے حفاظتی دستہ پر تھا کہ کوہسار مارکیٹ میں گورنر سلمان تاثیر اور ایک شخص کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد اپنی گاڑی کی طرف آرہا تھا میں نے ساتھ والی مسجد میں رفع حاجت کیا اور وضو کیا جب میں واپس آیا تو میرا سامنا سلمان تاثیر سے ہوا اور مجھے اس سے بات کرنے کا موقع ملا کہ آپ کا بیان توہین رسالت کے قانون کے خلاف وہ ”کالا قانون“ ہے اگر ایسا ہے تو یہ آپ کو اس عہدہ سے ہٹاتا ہے۔ اس پر وہ ایک دم چلایا اور بولا صرف یہی نہیں کہ یہ کالا قانون ہے بلکہ میرے نزدیک یہ ایک بکواس ہے۔ م پریشانی اور اچانک جذبات میں میں نے فا کوئی ندامت نہیں اور میں نے یہ تحفظ ناموس دی اور میرے جذبات کو ابھارا دی میں ا فرما ئیں جو کہ زیر دفعہ 265F آف پاکستان

سوال نمبر 9: آپ اپنا دفاع کر جواب : ضروری نہیں کہ میں سوال نمبر 10: کیا آپ اپنے دفا جواب : جناب میں نے کا

غازی صاحب کا تحریری

اس کے علاوہ آج کی پیشی میں ممتاز 265-F/5 کے تحت ان کا بیان عدالت بالخصوص سید حبیب الحق شاہ صاحب کی بیان یہ ہے۔ (طوالت سے بچنے کے حذف کیا جا رہا ہے۔ چند ایک حوالہ جات بیان : اللہ رب العزت نے مجھے ایک جس میں اللہ عزوجل اور اس کے نبی حض اور میں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسو لا یؤمن احدکم حتی اکون اح

صفحہ 195

بلکہ میرے نزدیک یہ ایک بکواس ہے۔ مسلمان ہوتے ہوئے میں بے قابو ہو گیا اور اس انتہائی پریشانی اور اچانک جذبات میں میں نے ٹرائگر دبایا اور وہ بالکل میرے سامنے گر پڑا۔ مجھے اس پر کوئی ندامت نہیں اور میں نے یہ تحفظ ناموس رسالت میں کیا۔ سلمان تاثیر نے مجھے بہت پریشانی دی اور میرے جذبات کو اُبھارا لہٰذا میں اس کے قتل کا حقدار تھا میرے دیئے ہوئے بیان کو ملاحظہ فرمائیں جو کہ زیر دفعہ 265F 5 پاکستان پینل کوڈ کے تحت ہے۔

سوال نمبر 9: آپ اپنا دفاع کریں گے اور گواہی کے کٹہرے میں آئیں گے؟ جواب: ضروری نہیں کہ متعلقہ مواد میرے نزدیک کافی ہے۔

سوال نمبر 10: کیا آپ اپنے دفاع میں کچھ اور کہنا چاہتے ہیں۔ جواب: جناب میں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔

﴿ غازی صاحب کا تحریری بیان زیر دفعہ 265(F)(5) ﴾

اس کے علاوہ آج کی پیشی میں ممتاز قادری صاحب کی طرف سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 265-F/5 کے تحت ان کا بیان عدالت میں جمع کروایا گیا۔ غازی صاحب کا بیان ان کے وکلاء بالخصوص سید حبیب الحق شاہ صاحب کی معاونت سے تیار ہوا عدالت میں جمع کروایا جانے والا بیان یہ ہے۔ (طوالت سے بچنے کے لئے اس بیان میں موجود عربی عبارات اور ان کی تخریج کو حذف کیا جارہا ہے۔ چند ایک حوالہ جات پر اکتفا کیا جارہا ہے۔)

بیان: اللہ رب العزت نے مجھے ایک مسلمان گھرانے میں پیدا فرمایا اور ایسا ماحول عطا فرمایا جس میں اللہ عزوجل اور اس کے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعلیمات سے آگاہی نصیب ہوتی رہی اور میں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں جان لیا کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت عین ایمان ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ لا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتّٰى اَكُوْنَ اَحَبَّ اِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهٖ وَوَلَدِهٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ

صفحہ 196

تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے والد اس کے بیٹے اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔

(بخاری ، کتاب الایمان ، ج 1 ، ص 7)

حضرت عبداللہ بن ہشام سے روایت ہے: ہم رسول اللہ کے ساتھ تھے اور انہوں نے حضرت عمر ؓ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ سے عرض کی ، آپ مجھے اپنی جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا نہیں ! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ۔ یہاں تک کہ میں تمہیں اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ۔ حضرت عمر ؓ نے آپ سے عرض کی اللہ کی قسم ابھی آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں ۔ رسول اللہ نے فرمایا اب تمہارا ایمان مکمل ہو گیا۔

(بخاری ، کتاب الایمان والنذور ، ج 2 ، ص 981)

اس کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی درج ذیل آیات نے میری رہنمائی اس طرف بھی کی کہ رسول اللہ کی توہین کرنے والا کافر و مرتد ہو کر واجب القتل ہو جاتا ہے ۔

آیت کریمہ 1: وَاِنْ نَّكَثُوْا اَيْمَانَهُمْ مِّنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ اِنَّهُمْ لَا اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ O

(التوبۃ آیت 12)

ترجمہ : اور اگر عہد کر کے اپنی قسمیں توڑیں اور تمہارے دین پر طعن کریں تو کفر کے سرغنوں کو قتل کرو بے شک ان کی قسمیں کچھ نہیں اس امید پر کہ شاید وہ باز آئیں ۔

سرغنے قرار دے کر ان کو قتل کرنے کا حکم ہے تو جو شخص صاحب دین ، نبی اکرم ﷺ پر طعنہ زنی کرے اور ان کا گستاخ ہو جن کی وجہ سے دین ہے تو اسے کس طرح درگزر کیا جاسکتا ہے ۔

آیت کریمہ ۔2 : جن لوگوں نے رسول اللہ کو شہر بدر کرنے کی بات کی ان کے بارے میں اللہ رب العزت فرماتا ہے ۔

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْا اَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ اَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ O قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ

صفحہ 197

بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ o وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ وَيَتُوبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ يَّشَاءُ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ o

( التوبہ آیت 13,14,15)

ترجمہ : کیا اس قوم سے نہ لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں اور رسول کے نکالنے کا ارادہ کیا حالانکہ انہیں کی طرف سے پہل ہوئی ہے۔ کیا ان سے ڈرتے ہو تو اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔ ان سے لڑو اللہ انہیں عذاب دے گا تمہارے ہاتھوں اور انہیں رسوا کرے گا اور تمہیں ان پر مدد دے گا اور ایمان والوں کا جی ٹھنڈا کرے گا اور ان کے دلوں کی گھٹن دور فرمائے گا اور اللہ جس کی چاہے توبہ قبول فرمائے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔

ہے تو اللہ ایمان والوں، نبی کریم کے غلاموں ، شمع مصطفی کے پروانوں کو ان کے ساتھ قتال کی ترغیب فرما رہا ہے اور اگر ایسے ملعون لوگ ظاہری طاقت و رسوخ کے حامل بھی ہوں تو اس چیز سے ڈرنا نہیں کیونکہ اس عمل میں مدد خدا تمہارے ساتھ ہے۔

دلوائے گا اور ذلت و رسوائی ہی اس کا مقدر بنے گی۔

آیت کریمہ ۔ 3 : اِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِيْنَ يُحَارِبُونَ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ يُّقَتَّلُوا اَوْ يُصَلَّبُوا اَوْ تُقَطَّعَ اَيْدِيْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ o

( المائدۃ آیت 33)

اور وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور ملک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ چن چن کر قتل کئے جائیں یا سولی دیئے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور (یعنی ملک بدر یا قید ) کر دیئے جائیں یہ دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کیلئے بڑا عذاب

فسادی ہے جس کی وجہ سے وہ (بِلا تخصیص مذہب ) اس آیت کے عموم میں داخل ہے اور ہر وہ شخص

صفحہ 198

جو اس کے حکم میں داخل ہے سزا کا مستحق ہے ۔

آیت کریمہ ۔ 4 : رسول اللہ کی آواز پر کسی دوسرے کا اپنی آواز کو بلند کرنا بھی جرم ہے ، دیکھنے میں تو شاید معمولی نظر آتا ہو مگر عنداللہ اتنا بڑا جرم ہے کہ رب تعالیٰ تنبیہ فرما رہا ہے کہ اس کے اعمال برباد ہو جائیں گے اور اسے احساس تک نہ ہو گا اور یہ جرم ساری زندگی کے اعمال صالحہ کو مٹا دے گا ۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ O

(الحجرات آیت 2)

ترجمہ : اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو نبی علیہ السلام کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو ۔

٭ عبادات و معاملات کی کوتاہی جرم تو ہے مگر یہ جرم نیک عملوں کو نقصان نہیں پہنچاتا وہ اپنی جگہ باقی رہتے ہیں ، مگر وہ جرم جس کے ذریعے شان مصطفیٰ میں کمی آتی ہو وہ تمام اعمال کو اکارت کر دیتا ہے اور عمل تب ہی اکارت ہوتے ہیں جب جرم شدید نوعیت کا ہو جس کے ذریعے ایمان ختم ہو کر انسان کافر ہو جاتا ہو ۔

جیسا کہ رب کریم کا ارشاد ہے ۔

وَمَنْ يَرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ O

(البقرۃ آیت 217)

ترجمہ : اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے پھر کافر ہو کر مرے تو ان لوگوں کے عمل اکارت گئے دنیا میں اور آخرت میں اور وہ دوزخ والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ہے ۔

آیت کریمہ ۔ 5: لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِوَاذًا فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ O

(النور آیت 63)

ترجمہ : رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے بیشک اللہ

جانتا ہے جو تم میں چپکے نکل جاتے ہیں کسی کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا ان پر ع

٭ تاجدار عرب و عجم سے جب م بھی ممانعت ہے جو آپ کی شان کے خلا معظم القاب سے نرم آواز کے ساتھ متواض اللہ کہنا چاہئے ۔ اور وہ بے ادب جو رسول ا میں مبتلا نہ ہونے کی تنبیہ فرما رہا ہے اور فت

وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى

ترجمہ : اور انہیں قتل ک

آیت کریمہ ۔6: يَا أَيُّهَا الَّذِي وَاسْمَعُوا وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيم

اے ایمان والو ! (نبی اکرم صلی اللہ علیہ و کرو بلکہ (ادب سے ) انْظُرْنَا (ہمار سنتے رہا کرو ، اور کافروں کیلئے دردناک ع

شہاب الدین محمود آلوسی نے روح المعانی حضرت ابن عباس سے روایت ہے ۔ کہ یہودی چھپ کر رسول اللہ کیلئے ی جب صحابہ نے یہ لفظ سن کر اعلانیہ استعما پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا ی

ایک اور روایت میں آتا ہے ۔

حضرت سعد بن عبادہ رض لعنت ہو اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں

صفحہ 199

جانتا ہے جو تم میں چپکے نکل جاتے ہیں کسی چیز کی آڑ لے کر تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا ان پر دردناک عذاب پڑے۔

بھی ممانعت ہے جو آپ کی شان کے خلاف ہو بلکہ ادب و تکریم اور توقیر و تعظیم کے ساتھ آپ کے معظم القاب سے نرم آواز کے ساتھ متواضعانہ و منکسرانہ لہجہ میں یا حبیب اللہ ، یا نبی اللہ ، یا رسول اللہ کہنا چاہیئے ۔ اور وہ بے ادب جو رسول اللہ کے حکم کے خلاف کام کرتے ہیں ان کو رب قدیر فتنہ میں مبتلا نہ ہونے کی تنبیہ فرما رہا ہے اور فتنہ پروروں کیلئے جیسا کہ رب تعالیٰ کا حکم ہے

وَقَاتِلُوهُمْ حَتّٰى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ (البقرة 193)

ترجمہ : اور انہیں قتل کرو یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے۔

آیت کریمہ۔ 6: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ o (البقرة آيت 104)

اے ایمان والو ! (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے) رَاعِنَا مت کہا کرو بلکہ (ادب سے) انْظُرْنَا (ہماری طرف نظر کرم فرمائیے) کہا کرو اور (ان کا ارشاد) بغور سنتے رہا کرو ، اور کافروں کیلئے دردناک عذاب ہے۔

شہاب الدین محمود آلوسی نے روح المعانی میں اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھا

حضرت ابن عباس سے روایت ہے۔

کہ یہودی چھپ کر رسول اللہ کیلئے یہ لفظ بولا کرتے تھے اور ان کی زبان میں یہ قبیح گالی تھی اور جب صحابہ نے یہ لفظ سن کر اعلانیہ استعمال کرنا شروع کر دیا۔ تو (یہودی) آپس میں ہنستے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ تفسیر الآلوسی ۔ (ج 1، ص 348) مکتبہ حقانیہ ملتان

ایک اور روایت میں آتا ہے۔

حضرت سعد بن عبادہ ؓ نے جب ان سے سنا تو کہا اے اللہ کے دشمنوں تم پر اللہ کی لعنت ہو اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر میں نے تم میں سے کسی شخص کو رسول اللہ

صفحہ 200

کے لئے یہ لفظ بولتے ہوئے سنا تو اس کی گردن مار دوں گا (قتل کردوں گا)

تفسیر الآلوسی - (ج 1 ص 348) مکتبہ حقانیہ ملتان

آیت کریمہ ۔ 7 : إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ

وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا

(الاحزاب آیت 57)

ترجمہ: بیشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ نے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

کی صورت میں ہوگی اور دنیا کی لعنت اس عذاب کی صورت میں ہوگی اسی صورت میں تین آیات کے بعد ہی قرآن کریم کا حکم ہے۔

ترجمہ: ملعون جہاں کہیں ملیں، پکڑے جائیں اور چن چن کر قتل کر دیئے جائیں۔ اللہ کا یہی دستور چلا آتا ہے ان سے پہلے لوگوں میں بھی اور تم اللہ کا دستور ہرگز بدلتا نہ پاؤ گے۔

(الاحزاب آیت 61، 62)

گا اور دوسری آیت میں یہ بھی بیان ہے کہ یہ سزا صرف اس امت کے گستاخوں کیلئے ہی نہیں ہے بلکہ پہلی امتوں کے گستاخوں کے لئے بھی رب کا یہی قانون و دستور تھا۔

صاحب ایمان کو نہیں دیا جائے گا۔

درج ذیل آیات میں عذاب مھین کا ذکر ہے۔

جہاں بھی عذاب مھین کا ذکر ہے کافروں کیلئے ہے، ایمان والوں کے لئے نہیں ہے۔

صفحہ 201

اگر کوئی اہل ایمان دانستہ اذیت رسول کا ارتکاب کرتا ہے تو مسلمان نہیں رہتا کافر ہو جاتا ہے اور ذلت کے عذاب کا مستحق ہو جاتا ہے۔

آیت کریمہ 8 : فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا O (النساء آیت 65)

تو اے نبی تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان ہی نہیں ہوں گے جب تک کہ اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنالیں پھر جو کچھ تم حکم فرمادو اپنے دلوں میں اس سے کوئی حرج محسوس نہ کریں۔

کرے اور آپ کے فیصلے پر دل میں میل لائے تو وہ ایمان والوں میں سے نہیں رہتا چہ جائیکہ توہین کا مرتکب ہو۔

تفسیر ابن کثیر، تفسیر جلالین، تفسیر درالمنثور اور دیگر معتبر تفاسیر میں اس آیت کا شان نزول کچھ یوں بیان کیا گیا ہے۔

بارگاہ میں اپنا مقدمہ پیش کیا تو حضور نے حقدار کے حق میں فیصلہ فرمایا جس کے خلاف فیصلہ کیا گیا تھا کہنے لگا میں اس پر راضی نہیں ہوں۔ اس کے ساتھی نے کہا تو کیا چاہتا ہے؟ کہنے لگا میں چاہتا ہوں کہ ابوبکر کے پاس جائیں دونوں صدیق اکبر کے پاس گئے جس کے حق میں فیصلہ ہوا تھا صدیق اکبر سے کہنے لگا کہ ہم نے حضور کی بارگاہ میں مقدمہ پیش کیا تھا حضور نے میرے حق میں فیصلہ فرما دیا تھا صدیق اکبر ؓ کہنے لگے بس تمہارا فیصلہ وہی ہے جو حضور نے فرمایا ہے۔ جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا پھر انکار کرنے لگا اور کہنے لگا عمر فاروق ؓ کے پاس جاتے ہیں فاروق اعظم ؓ کے پاس آکر اس شخص نے کہا جس کے حق میں فیصلہ ہوا تھا کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں اپنا مقدمہ پیش کیا، حضور نے میرے حق میں فیصلہ فرمایا یہ راضی نہیں تھا پھر صدیق اکبر ؓ کے پاس گئے انہوں نے کہا تمہارا وہی فیصلہ ہے جو حضور نے فرمایا ہے یہ پھر بھی راضی نہ ہوا (اور آپ کے پاس آ گیا) حضرت عمر ؓ نے (جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا اس سے) پوچھا کیا معاملہ اسی طرح

صفحہ 202

ہے؟ کہنے لگا ہاں! اسی طرح ہے۔ عمر ؓ گھر میں داخل ہوئے نکلے تو تلوار ہاتھ میں سونتی ہوئی تھی انہوں نے اسکے سر کو تن سے جدا کر دیا جو فیصلے پر راضی نہیں تھا اس پر اللہ نے مذکورہ آیت نازل فرمادی۔

(تفسیر درالمنثور ج2ص181،المكتبة الاسلاميه والمكتبة الجعفريه بطهران)

آیت کریمہ 9 جن لوگوں نے رسول اللہ کو مذاق کا نشانہ بنایا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

ترجمہ: منافق ڈرتے ہیں کہ ان پر کوئی سورۃ ایسی اترے جو ان کے دلوں کی چھپی بتا دے تم فرماؤ ہنسے جاؤ اللہ کو ضرور ظاہر کرنا ہے جس کا تمہیں ڈر ہے اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے تم فرماؤ کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اسکے رسول سے ہنستے ہو، معذرت نہ کرو تم کافر ہو چکے ہو ،مسلمان ہوکر۔ اگر ہم تم میں سے کسی کو معاف کریں تو اوروں کو عذاب دیں گے اسلئے کہ وہ مجرم تھے۔

(التوبۃ آیت 66،64)

ساتھ استہزاء کیا وہ اس جرم پر کافر قرار دے دیئے گئے ہیں اور ان مجرموں کے لئے عذاب کی تنبیہ موجود ہے اور اگر استہزاء سے مومن کافر ہو جاتا ہے تو سب و شتم سے تو بطریق اولیٰ کافر ہوگا۔

آیت کریمہ۔ 10 : اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَادُّوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗٓ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ o کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ ط اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ o

(مجادلۃ آیت 21،20)

ترجمہ: بیشک وہ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ سب سے زیادہ ذلیلوں میں ہیں اللہ لکھ چکا ہے کہ ضرور میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے بیشک اللہ قوت والا عزت والا ہے۔

(الانفال آیت 12،13،14)

ترجمہ: تو ان کی گردنوں سے اوپر مارو (قتل کرو) اور ان کی ایک ایک پور (جوڑ) پر ضرب لگاؤ یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کرے تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے (تو اب اس عذاب کو) چکھو اور بیشک کافروں کے لئے آگ کا عذاب ہے۔

کرنے کا واضح حکم موجود ہے۔

انہی آیات کی تائید و تشریح درج

واحدا من اصحابی فاجلدوہ

ترجمہ: حضرت علی ؓ سے مروی ہے۔ نبیوں میں سے کسی بھی نبی کو گالی دی اس اسے کوڑے مارو۔

الكتاب الرياض

ترجمہ: جس نے کسی بھی نبی کو گالی دی اس کو مارو۔

میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول ہوئی اور کفار قریش کو آپ کے خلاف ابھارتا مدینہ میں مسلمان اور مشرک اکٹھے رہے کو اذیت دیا کرتے تھے۔ سنن ابی داود ابو

کعب بن اشرف کا کام تمام کرنے کے ہے محمد بن مسلمہ کھڑے ہوئے اور عرض دوں آپ نے فرمایا ہاں محمد بن مسلمہ عرض سامنے کچھ (تعریضی کلمات) کہہ سکوں پاس آئے اور کہا یہ صاحب (نبی) ان

صفحہ 203

کرنے کا واضح حکم موجود ہے۔

انہی آیات کی تائید و تشریح درج ذیل احادیث مبارکہ سے بھی ہوتی ہے۔

واحدا مِنْ أصْحَابِی فَاجْلِدُوہ ترجمہ: حضرت علی ؓ سے مروی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس کسی نے بھی نبیوں میں سے کسی بھی نبی کو گالی دی اس کو قتل کرو اور جس کسی نے میرے کسی صحابی ؓ کو گالی دی اسے کوڑے مارو۔

الكتاب الرياض النضرة فی مناقب العشرة .المؤلف المحب الطبری (ج1 ص20)

ترجمہ: جس نے کسی بھی نبی کو گالی دی اس کو قتل کرو اور جس نے کسی میرے ایک صحابی کو گالی دی اس کو مارو۔

(الشفا بتعریف حقوق المصطفی )

میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول ہوئی تھی ،کہ کعب بن اشرف نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہجو کرتا تھا اور کفار قریش کو آپ کے خلاف ابھارتا تھا، نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام جس وقت مدینہ میں آئے تو مدینہ میں مسلمان اور مشرک اکٹھے رہتے تھے مشرک بتوں کی عبادت کرتے ، یہود و مشرک نبی کریم کو اذیت دیا کرتے تھے۔ سنن ابی داود المؤلف : ابو داود سلیمان بن الاشعث السجستانی (ج 1 ص 66)

کعب بن اشرف کا کام تمام کرنے کے لئے کون ہے کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی ہے محمد بن مسلمہ کھڑے ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ کیا آپ کو پسند ہے کہ میں ہی اسے قتل کر دوں آپ نے فرمایا ہاں محمد بن مسلمہ عرض کرنے لگے یا رسول اللہ مجھے اجازت دیں کہ میں اس کے سامنے کچھ (تعریضی کلمات ) کہہ سکوں حضور نے فرمایا ہاں کرو محمد بن مسلمہ کعب بن اشرف کے پاس آئے اور کہا یہ صاحب (نبی ) ہم سے صدقہ طلب کر رہے ہیں ۔اس شخص نے ہم سے صدقہ

صفحہ 204

لیا اور ہمیں تنگ کر دیا میں تیرے پاس آیا ہوں کچھ مال طلب کرنے کیلئے کعب بن اشرف کہنے لگا اللہ کی قسم تم اور بھی تنگ ہو گے محمد بن مسلمہ نے کہا بس ہم ان کی اتباع کر چکے ہیں اب ہمیں پسند نہیں کہ انکو چھوڑ دیں۔ حتیٰ کہ ہمیں معلوم ہو جائے کہ ان کا انجام کیا ہوگا ہم یہ چاہتے ہیں کہ تو ہمیں ایک دو وسق (کھجوریں) قرض دے کعب بن اشرف کہنے لگا ٹھیک ہے لیکن میرے پاس کوئی چیز رہن رکھو۔ محمد بن مسلمہ نے کہا تو اپنے پاس کیا چیز رہن رکھنا چاہتا ہے۔ کعب بن اشرف کہنے لگا اپنی عورتیں میرے پاس رہن رکھ لو۔ محمد بن مسلمہ کہنے لگے ہم کیسے تیرے پاس عورتیں رہن رکھ لیں کیونکہ تو سارے عرب میں خوبصورت شخص ہے اس پر کعب بن اشرف کہنے لگا میرے پاس اپنے بیٹے رہن رکھ لو محمد بن مسلمہ کہنے لگے ہم اپنے بیٹوں کو کس طرح رہن رکھ سکتے ہیں کہ ہماری اولادوں کو لوگ یہ گالی دیں گے کہ تو ایک وسق یا دو وسق کھجوروں کے بدلے رہن رکھا گیا تھا۔ یہ ہمارے لئے شرمندگی ہے۔ بلکہ ہم تمہارے پاس اسلحہ رہن رکھتے ہیں اور محمد بن مسلمہ نے وعدہ کیا کہ اس کے پاس رات کے وقت آئیں گے اور ان کے ساتھ کعب کا رضاعی بھائی ابو نائلہ ہوگا۔ کعب نے انہیں قلعے میں بلایا کعب بن اشرف ان کے پاس آنے لگا تو اس کی بیوی نے ان سے پوچھا کہ اس وقت تو کہاں جا رہا ہے تو کہنے لگا محمد بن مسلمہ اور میرا رضاعی بھائی ابو نائلہ آئے ہیں ان کے پاس جا رہا ہوں بیوی کہنے لگی ان کی آواز ایسی ہے جیسا کہ اس سے خون ٹپک رہا ہو (جیسے قاتل کی آواز ہوتی ہے) کعب بن اشرف کہنے لگا کہ یہ میرا بھائی محمد بن مسلمہ اور رضاعی بھائی ابو نائلہ ہیں اور سخی کو رات کے وقت کسی کام کے لئے بلایا جائے تو حاضر ہو جاتا ہے۔ محمد بن مسلمہ دو آدمیوں کے ساتھ کعب بن اشرف کے پاس گئے تھے انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ جب وہ آجائے تو میں اس سے پکڑوں گا کہ میں تمہارے بالوں کی خوشبو سونگھنا چاہتا ہوں جب میں خوشبو سونگھوں گا تو اسے سر سے پکڑ لوں گا تو تم اسے قتل کر دینا۔ ان کے پاس جب کعب بن اشرف آیا محمد بن مسلمہ کہنے لگے کہ آج کی خوشبو کی طرح میں نے اچھی خوشبو نہیں دیکھی اس پر کعب کہنے لگا کہ میرے نکاح میں وہ عورت ہے جو عرب میں سب سے زیادہ خوشبو کو پسند کرنے والی ہے۔ عمرو کہنے لگا (محمد بن مسلمہ کا ساتھی) تو مجھے اجازت دیتا ہے کہ میں تیرے سر کو سونگھوں؟ کعب کہنے لگا ہاں

صفحہ 205

عمرو نے سونگھا پھر اپنے ساتھیوں کو سونگھوایا پھر کہنے لگا تو پھر مجھے سونگھنے کی اجازت دیتا ہے؟ کعب نے کہا ہاں اس مرتبہ اس کے سر کے بالوں سے پکڑ لیا اور اپنے دوستوں سے کہا اسے مارو انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر نبی کریم کے پاس آئے اور ان کو اس واقعہ کی خبر دی۔

صحیح بخاری المؤلف : محمد بن إسماعيل أبو عبدالله البخاري ( ج 2 ص 576

کعب بن اشرف کے قتل کے بعد یہودیوں کا ایک گروہ رسول اللہ کی بارگاہ میں اس کے قتل کے خلاف وفد کی صورت میں حاضر ہوا۔ اس واقعہ کی تفصیل میں علامہ واقدی بیان کرتے ہیں۔

پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہمارے سردار کو رات کے وقت بغیر کسی جرم اور واقعہ کے دھوکے کے ساتھ قتل کر دیا گیا ہے تو حضور نے فرمایا اسے دھوکے کے ساتھ اور بلا جرم قتل نہیں کیا گیا بلکہ اس نے شعروں کے ساتھ ہماری ہجو کی ہے جو بھی اس طرح کرے گا اس کے لئے تلوار ہے۔ اس کے بعد ان کو بلا کر رملہ بنت حارث کے گھر میں معاہدہ لکھا اس پر یہود سخت خوف زدہ ہوئے اور کعب بن اشرف کے قتل کے دن سے ان کو ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔

المغازی ( ج 1 / ص 72) دار الكتب العلمية بیروت

بائیں جانب دیکھا انصار کے دو کم سن بچے کھڑے ہیں میں نے تمنا کی کاش میں ان سے مضبوط لوگوں کے درمیان ہوتا ان میں سے ایک نے مجھے اشارہ کر کے پوچھا کہ اے چچا کیا آپ ابو جہل کو جانتے ہیں میں نے کہا ہاں آپ کا کیا کام ہے کہنے لگا مجھے خبر پہنچی ہے وہ رسول اللہ کو گالیاں دیتا ہے۔ اللہ کی قسم اگر میں اسے دیکھ لوں تو اس وقت تک اس سے جدا نہیں ہوں گا جب تک ہم میں سے کسی ایک کا کام تمام نہ ہو جائے۔ عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں مجھے بڑا تعجب ہوا پھر مجھے دوسرے لڑکے نے بھی اسی طرح کی بات کہی میں نے ابو جہل کی طرف دیکھا جو لوگوں کے درمیان پھر رہا تھا۔ ان لڑکوں سے کہا یہ ہے وہ شخص جس کا تم مجھ سے سوال کرتے تھے وہ دونوں لڑکے اس کی طرف جلدی سے دوڑے اور اپنی تلواروں سے اسے قتل کر دیا پھر حضور ﷺ کے پاس آکر حضور ﷺ کو اس کی خبر دی حضور ﷺ نے فرمایا تم دونوں میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے ہر ایک نے

صفحہ 206

کہا میں نے اسے قتل کیا ہے حضور ﷺ نے فرمایا تم نے اپنی تلواریں صاف کردیں ہیں عرض کرنے لگے نہیں حضور ﷺ نے ان کی تلواروں کو دیکھا اور فرمایا کہ تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے۔

(صحیح بخاری ، ج 1 ص 444)

جائے حضرت خالد ؓ نے کہا میں ۔ حضور ﷺ نے انہیں بھیجا اور انہوں نے اس شخص کو قتل کر دیا۔

(الشفا بتعريف حقوق المصطفى ، ج 2 ص 195)

حضور ﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا کون ہے جو میری اس دشمن کیلئے کفایت کر جائے حضرت خالد بن ولید ؓ گئے اور اسے قتل کر دیا۔

مصنف عبد الرزاق ، المؤلف : أبو بكر عبد الرزاق بن همام الصنعاني ( ج 5 ص 307)

کیلئے کون ہے حضرت زبیر نے عرض کیا اور حضرت زبیر نے اسے قتل کیا تو حضور ﷺ نے اس گستاخ مقتول کا ساز و سامان حضرت زبیر کو ہی عطا فرمایا ۔

مصنف عبد الرزاق ، المؤلف : أبو بكر عبد الرزاق بن همام الصنعاني ( ج 5 ص 307)

بن حارث عقبہ بن ابی معیط ان کے بارے میں حضور ﷺ نے قتل کا حکم دیا ۔ اسی طرح کفار کی ایک جماعت کے قتل کا فتح مکہ سے پہلے اور بعد میں وعدہ لیا گیا ۔ ان کو قتل کیا گیا ہاں جو پکڑے جانے سے پہلے پہلے اسلام لے آئے بچ گئے ۔

الشفا بتعريف حقوق المصطفى ، المؤلف : العلامة القاضي أبو الفضل عياض ( ج 2 ص 195)

گالی دی تھی آپ نے اسکے بارے میں اشارہ کیا عبدالرحمن بن یزید صنعانی (گورنر عدن) کی طرف کہ اس کو قتل کیا جائے پس اس کو قتل کردیا گیا۔

مصنف عبد الرزاق ، المؤلف : أبو بكر عبد الرزاق بن همام الصنعاني ( ج 5 ص 307)

عقبہ بن ابی معیط کا قید میں قتل کا حکم دیا ، جب نضر کے قتل کا حکم ہوا تو مقداد بن اسود کہنے لگے

صفحہ 207

یا رسول اللہ یہ میرا قیدی ہے حضور نے فرمایا یہ کتاب اللہ اور اللہ کے رسول کے بارے میں جو کچھ ( بُرا بھلا ) کہتا تھا تو جانتا ہے بیان کرتے ہیں کہ یہ آپ نے دو یا تین مرتبہ کہا پس رسول اللہ نے فرمایا اے اللہ مقداد کو اپنے فضل سے غنی کر دے۔ اور حضرت مقدادؓ بئر کے معاملے میں آزمائش میں مبتلا ہو گئے تھے۔

مراسیل ابی داود، (ج1 ص393)

جہنم ہے۔

- (صحیح مسلم (ج1ص7) قدیمی کتب خانہ)

ؓ کو اس کے قتل کیلئے بھیجا

الشفا بتعریف حقوق المصطفى ،المؤلف :العلامة القاضی أبو الفضل عياض اليحصبى (ج2ص195)

طرف سے ایک قوم کی طرف آیا اور کہا کہ رسول اللہ نے مجھے یہاں پر امیر بنا کر بھیجا ہے کہ میں تم میں اپنی رائے کے مطابق اس ، اس طرح فیصلہ کروں اور اس نے ایک عورت کے ساتھ زمانہ جاہلیت میں منگنی کی تھی لیکن اس کے ساتھ اس عورت کی شادی سے انہوں نے انکار کر دیا تھا۔ پس وہ گیا یہاں تک کہ اس عورت کے پاس چلا گیا۔ اس قوم نے رسول اللہ کے پاس ایک شخص کو بھیجا۔ رسول اللہ نے فرمایا اللہ کا دشمن جھوٹ بولتا ہے پھر آپ نے دو آدمیوں کو بھیجا اور ان سے کہا اگر تمہیں وہ زندہ ملے تو اس کی گردن مار دینا (قتل کر دینا) اور میرا نہیں خیال کہ تم اسے زندہ پاؤ گے اگر تمہیں مردہ ملے تو اسے جلا ڈالنا جب وہ شخص گیا تو اس حال میں پایا کہ اسے کسی چیز نے ڈسا تھا جس کی وجہ سے وہ مر چکا تھا پس اسے جلا ڈالا۔ اس پر رسول اللہ نے فرمایا جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔

مشكل الآثار للطحاوی المؤلف،ابوجعفراحمد بن محمد سلمة(ج1 ص165)

میں نے اپنے باپ کو آپ کے بارے میں نازیبا کلمات کہتے ہوئے سنا تو اسے قتل کر دیا۔ حضور پر یہ بات (باپ کا قتل کرنا) کچھ شاق نہ گزری۔

اسد الغابة المؤلف قال الشيخ عز الدين أبو الحسن على بن محمد (ج 4، ص 287)

صفحہ 208

بتائی) میں نے اس کو سنا یہ آپ کو گالیاں دیتا تھا۔ اور آپ نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار نہیں فرمایا۔

(المجموع المؤلف محی الدین النووی (ج19 ص295)

عیب نکالتی اور نبی علیہ السلام کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتی اور گستاخانہ اشعار (حضور کے خلاف) کہے۔ جب حضرت عمیر بن عدی ؓ کو اس کے اشعار اور لوگوں کو بھڑکانے کی بابت پتہ چلا تو آپ نے یہ منت مانی کہ اے اللہ میں یہ منت مانتا ہوں کہ اگر رسول اللہ (بخیریت) مدینہ طیبہ لوٹ آئے تو میں اس کو ضرور قتل کروں گا۔ رسول اللہ ان دنوں بدر میں تھے۔ پس جب رسول اللہ (بخیریت) بدر سے واپس لوٹ آئے تو عمیر بن عدی اس عورت کے گھر ایک رات اس حال میں داخل ہوئے کہ اس عورت کے بچے اس کے اردگرد سورہے تھے اور ان میں سے ایک بچہ اس کا دودھ پی رہا تھا۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے ٹٹول کر محسوس کیا تو بچے کو اس کے سینے پر دودھ پیتے پایا اور اس بچے کو اس سے الگ کیا اور اپنی تلوار اس کی چھاتی میں اس طرح دبائی کہ وہ اس کی کمر سے جا نکلی۔ پھر وہاں سے واپس نکلے یہاں تک کہ صبح کی نماز حضور کے ساتھ مدینہ طیبہ میں ادا کی پس جب حضور نماز سے فارغ ہوئے اور حضرت عمیر ؓ کی طرف آپ نے دیکھا تو پوچھا کہ کیا تو نے بنت مروان کو مار ڈالا ہے۔ آپ نے جواب دیا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ایسا ہی ہے۔ (میں نے اسے مار ڈالا ہے) حضرت عمیر ؓ ڈر گئے کہ اس قتل پر نبی کریم باز پُرس کریں گے۔ چنانچہ عرض کی یا رسول اللہ کیا اس قتل کی وجہ سے مجھ پر کوئی شے (سزا) ہے۔ نبی کریم نے ارشاد فرمایا اس کے معاملے میں تو دو بکریوں کے سینگ بھی نہیں ٹکرائیں گے (یعنی کوئی باز پُرس نہیں ہوگی) وہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ الفاظ (دو بکریوں کے سینگ بھی نہیں ٹکرائیں گے) پہلی دفعہ رسول اللہ سے سنے حضرت عمیر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کی طرف توجہ فرمائی اور ارشاد فرمایا اگر تم پسند کرتے ہو کہ ایسے شخص کی طرف دیکھو کہ جس نے پیٹھ پیچھے اللہ اور اس کے رسول کی مدد کی ہے تو عمیر بن عدی کو دیکھ لو یہ سن کر حضرت عمر فاروق ؓ بولے اس اندھے کو دیکھو جو اللہ کی اطاع اندھا نہ کہو بلکہ یہی تو بصارت والا ہے رہے تھے تو اس کے بیٹوں کو لوگوں کے مدینہ طیبہ سے واپس لوٹا دیکھ کر ان کے تو آپ نے فرمایا ہاں۔ آؤ مجھے پکڑ لو ا میری جان ہے جو کچھ اس نے کہا تھا (ج اپنی اس تلوار سے قتل کروں گا۔ خود مر جا کہ جس دن اسلام کی حقانیت ظاہر ہو گئی مغازی

دیتی تھی وہ بندہ اس کو منع کرتا وہ نہ رکتی میں جب بُرائی کے کلمات کہنے لگی تو ا ڈالا اور اسے قتل کر دیا۔ اس کے پاؤں کے سامنے یہ واقعہ ذکر کیا گیا تو حضور شخص کو جس نے یہ قتل کیا جس پر میرا کو چیرتا ہوا اور لرزہ براندام حضور لونڈی کا مالک ہوں۔ یہ آپ کو گالیاں رکتی اُسے جھڑکتا باز نہ آتی۔ اور اس تھی گذشتہ رات جب اس نے آپ اس کو اسکے پیٹ پر رکھ کر دبایا اور ا ہو جاؤ اس (گستاخہ) کا خون رائیگا

بارے میں نازیبا کلمات کہتی ایک م

صفحہ 209

بولے اس اندھے کو دیکھو جو اللہ کی اطاعت میں کتنا مستعد ہے پس نبی اکرم نے ارشاد فرمایا اس کو اندھا نہ کہو بلکہ یہی تو بصارت والا ہے۔ جب حضرت عمیر ؓ رسول اللہ سے اٹھ کر واپس لوٹ رہے تھے تو اس کے بیٹوں کو لوگوں کے ساتھ اسے دفن کرتا پایا۔ پس وہ لوگ حضرت عمیر ؓ کو مدینہ طیبہ سے واپس لوٹتا دیکھ کر ان کے پاس آگئے اور پوچھا : اے عمیر کیا تم نے اس کو قتل کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا ہاں۔ آؤ مجھے پکڑ لو اور مجھے نہ چھوڑنا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جو کچھ اس نے کہا تھا (جو گستاخی کی تھی) اگر تم سارے بھی وہی بات کہو تو میں تمہیں اپنی اس تلوار سے قتل کروں گا۔ خود مر جاؤں گا یا تم سب کو مار ڈالوں گا۔ راوی کہتے ہیں یہ وہ دن تھا کہ جس دن اسلام کی حقانیت ظاہر ہوگئی۔

مغازی المؤلف: الواقدی ۔ (ج 1/ ص 161) دار الکتب العلمیة بیروت

دیتی تھی وہ بندہ اس کو منع کرتا وہ نہ رکتی اسے جھڑکتا لیکن وہ نہ مانتی ایک رات وہ حضور کے بارے میں جب بُرائی کے کلمات کہنے لگی تو اس اندھے نے تلوار لی ، اس کے پیٹ میں رکھی اور اس پر زور ڈالا اور اسے قتل کر دیا۔ اس کے پاؤں میں بچہ گرا اور خون آلود ہو گیا۔ پس جب صبح کے وقت حضور کے سامنے یہ واقعہ ذکر کیا گیا تو حضور نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ میں اللہ کی قسم دیتا ہوں اس شخص کو جس نے یہ قتل کیا جس پر میرا کوئی حق ہے وہ کھڑا ہو جائے چنانچہ وہ اندھا کھڑا ہوا اور لوگوں کو چیرتا ہوا اور لرزہ براندام حضور ﷺ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا۔ اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں اس لونڈی کا مالک ہوں۔ یہ آپ کو گالیاں دیا کرتی اور بُرے کلمات سے یاد کرتی تھی میں اُسے روکتا نہ رکتی اُسے جھڑکتا باز نہ آتی ۔ اور اس سے موتیوں کی مانند میرے دو بچے ہیں اور یہ میری رفیقہ حیات تھی گذشتہ رات جب اس نے آپ کو گالیاں دینا اور بُرا بھلا کہنا شروع کیا تو میں نے تلوار اٹھائی اس کو اسکے پیٹ پر رکھ کر دبایا اور اسے قتل کر دیا۔ پس اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم گواہ ہو جاؤ اس (گستاخہ) کا خون رائیگاں چلا گیا ہے۔ (سنن ابی داود (ج 2 / ص 243) ایچ ایم سعید کمپنی)

بارے میں نازیبا کلمات کہتی ایک مسلمان نے اس کا گلہ گھونٹ کر اسے مار دیا تو حضور اکرم ﷺ نے

صفحہ 210

اس کا خون رائیگاں قرار دیا۔

سنن ابی داود (ج 2 / ص 243) ایچ ایم سعید کمپنی

سال تھی جب رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو یہ اپنے اشعار میں رسول اللہ ﷺ کی دشمنی پر لوگوں کو ابھارتا تھا جس پر رسول اللہ ﷺ کے حکم پر سالم بن عمیر ؓ نے اس کو قتل کرنے کی نذر مانی اور تلاش کر کے قتل کر دیا۔

طبقات ابن سعد ، المؤلف: محمد بن سعد بن منيع (ج 3/ ص 480) دار صادر بیروت

پس رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون رائیگاں قرار دیا۔ فتح مکہ کے دن وہ ایک گھر میں تھا تو اس گھر والوں نے اسے گھر میں چھپا دیا۔ پھر حضرت علی ؓ کو اس کے بارے میں پوچھتا پایا تو ان کو جواب دیا گیا کہ وہ دیہات کی طرف نکل گیا ہے۔ حویرث کو اس کی خبر دی گئی کہ اسے تلاش کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ حضرت علی ؓ دروازے کے پیچھے کھڑے ہو گئے پس جیسے ہی حویرث اس نیت سے نکلا کہ وہ کسی دوسرے گھر میں جا کر چھپ جائے تو حضرت علی ؓ نے اس کو پکڑ لیا اور اس کی گردن مار دی (قتل کر دیا)

مغازی ، المؤلف: الواقدی -(ج 2/ ص 181) دار الكتب العلمية بيروت

اپنے سر پر خود پہنا ہوا تھا آپ نے جب خود اتارا ایک آدمی آ کر عرض کرنے لگا یا رسول اللہ ابن خطل خانہ کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا ہے حضور نے فرمایا اسے قتل کر دو۔ ابو داؤد کہتے ہیں ابن خطل کا نام عبداللہ تھا اسے ابو برزہ اسلمی نے قتل کیا تھا۔

صحیح بخاری (ج 1 ص 227) قدیمی کتب خانہ

ترجمہ: نبی کریم نے ابن خطل کی ان دو لونڈیوں کو جو رسول اللہ کے ہجو (گستاخی) میں گایا کرتی تھیں قتل کرنے کا حکم دیا۔

سنن کبرى بيهقى المؤلف: احمد بن الحسين بن علی (ج 9 ص 121) دار الفکر بیروت

صفحہ 211

عرض کی یا رسول اللہ انس بن زنیم آپ کی ہجو (گستاخی) کرتا ہے۔ پس نبی کریم نے اسکے خون کو رائیگاں قرار دیا۔

اُسد الغابۃ -(ج 2 / ص 349) داراحیاء التراث عربی بیروت

کو اذیت دیتے اور قریش کے شعراء، ابن زبعری اور ھبیرہ بن ابی وہب بچ گئے تھے کیونکہ وہ بھاگ گئے تھے۔

سیرۃ ابن ہشام -(ج 2 / ص 501) مصطفی البابی بیروت

کی طرف جاتے تو وہ حضور کے حوالے سے ان کو اذیت دیتی اور حضور کو گالیاں دیتی ایک دن یہ تلوار لے کر آئے اور اس کو قتل کر دیا اس کے بیٹے کھڑے ہوئے اور چیخنے لگے اور کہنے لگے ہمیں پتہ ہے کہ اس کو کس نے قتل کیا ہے ہماری ماں مار ڈالی گئی جبکہ یہاں ایسے اور لوگ بھی ہیں کہ جن کے ماں باپ مشرک ہیں۔ جب حضرت عمیر ؓ کو خطرہ لاحق ہوا کہ وہ اپنی ماں کے بدلے کسی اور (بے گناہ) کو (قاتل سمجھ کر) قتل کر دیں گے تو وہ نبی کے پاس حاضر ہوئے اور انہیں اس قتل کی خبر دی پس سرکار نے پوچھا کیا تو نے اپنی بہن کو مار ڈالا؟ آپ نے عرض کی جی ہاں، سرکار نے پھر پوچھا کہ کیوں؟ عرض کی اس لئے کہ وہ آپ کے معاملے میں مجھے اذیت دیتی تھی (آپ کی گستاخی کرتی تھی) پس نبی علیہ السلام نے اس کے بیٹوں کو بلا بھیجا اور ان سے اس کے قاتل کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے حضرت عمیر ؓ کے علاوہ کسی اور کا نام لیا تو رسول اللہ نے انہیں اس قتل کے بارے میں بتایا اور اس کا خون ضائع قرار دیا۔ مقتولہ کے بیٹوں نے جب یہ سنا تو کہنے لگے ہم نے سنا اور اطاعت کی۔

المعجم الکبیر -(ج 17 / ص 64) المکتبۃ التوعیۃ الاسلامیۃ

لئے انصار کے چند افراد کو بھیجا اور عبداللہ بن عتیک کو ان کا امیر مقرر کیا ابو رافع حضور کو اذیت دیتا اور آپ کے خلاف دشمنوں کی مدد کرتا اس وقت وہ حجاز میں ایک قلعہ میں تھا حضور کے بھیجے ہوئے بندے جب اس کے پاس گئے تو سورج غروب ہو گیا تھا اور لوگ آرام کر رہے تھے عبداللہ بن

صفحہ 212

عتیک نے اپنے ساتھیوں سے کہا تم یہی پر بیٹھے رہو میں جا کر قلعہ کے دربان سے کچھ نرمی کے ساتھ گفتگو کرتا ہوں شاید کہ میں قلعہ میں داخل ہو جاؤں جب وہ دروازے کے قریب ہوئے تو اپنی چادر اوڑھ کر اس طرح بیٹھ گئے جس طرح بندہ قضائے حاجت کے لئے بیٹھتا ہے لوگ قلعہ میں داخل ہوئے تو دربان نے آواز لگائی کہ او اللہ کے بندے اگر تو قلعہ میں داخل ہونا چاہتا ہے تو جلدی آ اور داخل ہو ۔ میں دروازہ بند کرنے لگا ہوں عبداللہ بن عتیک کہتے ہیں کہ میں قلعہ میں داخل ہوا تو کنارے پر کھڑا ہو گیا لوگوں کے داخل ہونے کے بعد دربان نے جب دروازہ بند کیا تو چابیاں ایک میخ کے ساتھ لٹکا دیں میں نے اٹھ کر چابیاں لیں اور دروازہ کھول دیا ابورافع کے پاس اوپر والی منزل میں لوگ قصہ کہانیاں بیان کیا کرتے تھے پھر جب قصہ سنانے والے اس کے پاس سے چلے گئے تو میں دروازوں سے داخل ہونے لگا اور داخل ہو کر دروازے کو اندر کی جانب سے بند کر دیتا تا کہ جب اسے قتل کروں تو کوئی باہر سے مجھ تک پہنچ نہ سکے ۔ جب میں ابورافع کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہ اپنے گھر والوں کے درمیان میں اندھیرے کمرے میں لیٹا ہوا تھا مجھے معلوم نہیں تھا کہ ان میں ابورافع کون سا ہے تو میں نے آواز لگائی او ابورافع کہنے لگا کون ہے میں نے آواز والی سمت میں تلوار ماری اس نے چیخ ماری میں گھر سے نکل گیا تھوڑا دور جا کر میں رُکا پھر ابورافع کے پاس آیا اور کہنے لگا او ابورافع یہ آواز کیسی ہے کہنے لگا او تیری ماں کے لئے ہلاکت ہو کوئی بندہ گھر میں مجھے تلوار مار گیا ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں میں نے اسے پھر تلوار کے ساتھ مارا لیکن وہ قتل نہ ہوا۔ میں نے اس کے پیٹ میں تلوار کی نوک رکھ کر زور دیا حتی کہ اس کی پشت سے جا نکلی میں سمجھ گیا اب میں نے اسے قتل کر دیا ہے میں دروازے ایک ایک کر کے کھولتا گیا یہاں تک کہ میں سیڑھی تک پہنچا تو میں سمجھا کہ میں زمین پر پہنچ گیا ہوں میں نے چاندنی رات میں پاؤں رکھا گر پڑا اور میری پنڈلی ٹوٹ گئی میں نے اپنی پگڑی کے ساتھ اسے باندھا اور میں چل پڑا پھر جا کر قلعے کے دروازے کے قریب بیٹھ گیا اور دل میں سوچا کہ رات کو میں لوٹ کر نہیں جاؤں گا تا آنکہ اچھی طرح معلوم ہو جائے کہ میں نے اسے قتل کیا ہے یا نہیں پس جب صبح ہوئی تو موت کی خبر دینے والے نے بلند آواز سے کہا کہ ابورافع حجاز کا تاجر مر گیا ہے عبداللہ کہتے ہیں کہ جب میں نے اس کی

صفحہ 213

موت کا یہ اعلان سنا تو میں اپنے ساتھیوں کے پاس چلا گیا اور ان سے کہا کہ اللہ نے نجات دے دی کہ ابو رافع کو ہلاک کر دیا پھر ہم حضور کے پاس گئے ان سے سارا واقعہ بیان کیا حضور نے فرمایا اپنا پاؤں آگے کرو میں نے پاؤں آگے کیا حضور نے اپنا ہاتھ پھیرا تو میرا پاؤں ایسے ہو گیا جیسے کبھی اسے کوئی شکایت ہوئی ہی نہ ہو۔

صحیح بخارى، المؤلف : محمد بن إسماعيل البخارى، (ج 2 ، ص 577)

ان احادیث کے علاوہ نبی علیہ السلام کے خلفائے راشدین کا بھی گستاخ رسول کے معاملے میں طریقہ کار یہی رہا ہے۔

حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا فیصلہ

ایک مرتدہ عورت کو لایا گیا ۔ جس نے نبی علیہ السلام کی توہین میں گایا تھا آپ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا اور اس کے دانت توڑ دیئے ہیں ۔ یہ بات حضرت ابوبکر صدیق ؓ تک پہنچی تو آپ نے مہاجر بن امیہ ؓ سے فرمایا اگر تو اس عورت کے بارے میں فیصلہ نہ کر دیتا تو البتہ میں اسے قتل کرنے کا حکم دیتا کیونکہ انبیاء علیہم السلام کی حدود اور لوگوں کی طرح نہیں ہیں ۔

الشفا بتعریف حقوق المصطفی (ج2 ص 195)

ابو بکر صدیق ؓ ایک شخص پر غصہ ہوئے تو اس شخص نے آپ کو جواب دیا حضرت ابو برزہ فرماتے ہیں میں نے کہا یا خلیفہ رسول مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اڑا دوں تو آپ نے فرمایا بیٹھ جا یہ رسول اللہ کے علاوہ کسی اور کیلئے نہیں ہے۔

الشفا بتعریف حقوق المصطفی المؤلف العلامة القاضی أبو الفضل عیاض الیحصبی (ج2 ص 196)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فیصلہ:

أحدا من الأنبياء فاقتلوه

حضرت مجاہد ؒ سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا تھا جس نے

صفحہ 214

نبی علیہ السلام کو گالی دی تھی تو آپ نے اسے قتل کر دیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ اور انبیاء کرام میں سے کسی نبی کو بُرا کہے اسے قتل کر دو۔ (الصارم المسلول لابن تیمیہ (ج 1/ ص 209)

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فیصلہ:

حضرت امام نووی کعب بن اشرف کے حوالے سے لکھتے ہیں۔

وروى أن رجلا قال فى مجلس على :ما قتل كعب بن الاشرف إلا غدرا، فأمر على بضرب عنقه.

ترجمہ: روایت کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے حضرت علی ؓ کی مجلس میں کہا کہ کعب بن اشرف (گستاخی کی بنا پر جس کو رسول نے قتل کروایا) دھوکہ سے قتل کیا گیا ہے۔ تو حضرت علی ؓ نے ایسا کہنے پر اس شخص کی گردن مارنے کا حکم دیا۔

تفسیر القرطبی (ج 8/ ص 82)

﴾اجماعِ اُمّت﴿

کی توہین کرنے والا کافر ہے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی وعید جاری ہے اور اُمت کے نزدیک اُس کا حکم قتل ہے۔ جو اُس کے کفر اور عذاب میں شک کرے کافر ہے۔

(الشفاء ج 2 ص 216، 215، نسیم الریاض شرح الشفاء ج 4 ص 338.

قَتْلِهِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًا (الشفاء ج 2 ص 216، فتح القدير شرح هدايه ج 4 ص 407، الصارم المسلول ص 4)

ترجمہ: امام ابو سلیمان الخطابی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا جب مسلمان کہلانے والا نبی ﷺ کے سب (گالی) کا مرتکب ہو تو میرے علم میں کوئی ایسا مسلمان نہیں جس نے اس کے قتل میں اختلاف کیا ہو۔

ترجمہ: اور امت کا اجماع ہے کہ مسلمان کہلا کر حضور ﷺ کی شان میں سب اور تنقیص کرنے والا قتل کیا جائے گا۔

(الشفاء جلد 2 ص 211)

سب کرے، قتل کیا جائے گا۔ ان ہی میں سے مالک بن انس، لیث، احمد، اسحاق رحمۃ اللہ علیہم ہیں،

صفحہ 215

اور یہی امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب ہے۔ قاضی عیاض نے فرمایا: حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے قول کا یہی مقتضیٰ ہے۔ (پھر فرماتے ہیں) اور ان ائمہ کے نزدیک اس کی توبہ بھی قبول نہ کی جائے گی۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ان کے شاگردوں امام ثوری رحمۃ اللہ علیہ کوفہ کے دوسرے علماء اور امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ کا قول بھی اسی طرح ہے۔ ان کے نزدیک یہ ردّت ہے۔

(الشفاء ج 2 ص 215)

حضور کی ذاتِ مقدسہ ، آپ کے نسب یا دین یا آپ کی کسی خصلت کی طرف کسی نقص کی نسبت کی یا آپ پر طعنہ زنی کی یا جس نے بطریقِ سب اہانت یا تحقیر شانِ مبارک یا ذاتِ مقدسہ کی طرف کسی عیب کو منسوب کرنے کے لئے حضور ﷺ کو کسی چیز سے تشبیہ دی وہ حضور کو صراحۃً گالی دینے والا ہے ، اسے قتل کر دیا جائے ۔ ہم اس حکم میں قطعاً کوئی استثناء نہیں کرتے ، نہ ہم اس میں کوئی شک کرتے ہیں ۔ خواہ صراحۃً توہین ہو یا اشارۃً کنایۃً ۔ اور یہ سب علماء اُمّت اور اہل فتویٰ کا اجماع ہے۔ عہدِ صحابہ ؓ سے لے کر آج تک ۔

(الشفاء جلد 2 ص 214، الصارم المسلول ص 525 طبع بیروت)

الْمَنْقُوْلُ عَنِ الْاَئِمَّۃِ الْاَرْبَعَۃِ ترجمہ: خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم کو گالی دینے والے کے کفر اور اس کے مستحقِ قتل ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ چاروں آئمہ (امام ابو حنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی ، امام احمد بن حنبل ) سے یہی منقول ہے۔

(فتاویٰ شامی حنفی ج 3 ص 321 ، ونحوہ الصارم المسلول للسبکی ص 4)

یُقْتَلُ حَدًّا عِنْدَنَا

(فتح القدیر امام ابن ہمام حنفی ج 4 ص 407)

ترجمہ: جو شخص رسول اللہ سے اپنے دل میں بغض رکھے وہ مرتد ہے ۔ آپ کو گالی دینے والا تو بطریق اولیٰ مستحقِ گردن زدنی ہے ۔ پھر ( مخفی نہ رہے کہ ) یہ قتل ہمارے نزدیک بطورِ حد ہوگا

صفحہ 216

و بانت منه زَوْجَتُه ترجمہ: جو مسلمان رسول اللہ کو سب کرے یا تکذیب کرے یا عیب لگائے یا آپ کی تنقیص شان کا (کسی اور طرح سے) مرتکب ہو اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اور اس کی زوجہ اس کے نکاح سے نکل گئی۔

(کتاب الخراج امام ابو یوسف ص 182، فتاویٰ شامی ج 3 ص 319)

کوئی حضور کے بال مبارک کو ”شعر“ کے بجائے (بصیغہ تصغیر) ”شُعَیر“ کہہ دے تو وہ کافر ہو جائے گا، اور امام ابوحفص الکبیر (حنفی) سے منقول ہے کہ اگر کسی نے حضور کے کسی ایک بال مبارک کی طرف بھی عیب منسوب کیا تو وہ کافر ہو جائے گا اور امام محمد نے ”مبسوط“ میں فرمایا کہ نبی کو گالی دینا کفر ہے۔

(فتاویٰ قاضی خان ج 4 ص 882 طبع نولکشور)

و ایذاء رسانی کا قصد کیا اور وہ مسلمان کہلاتا ہے، وہ مرتد مستحق قتل ہے۔

( احکام القران للجصاص ج 3 ص 106)

﴿ فقہ حنفی ﴾

كل مسلم ارتد فتوبته مقبولة الا الكافر بسب نبى من الانبياء فانه يقتل حدا ولا تقبل توبته مطلقا

ترجمہ: جو مسلمان مرتد ہو اس کی توبہ قبول کی جائے گی سوائے اس کافر و مرتد کے جو انبیاء علیہم السلام میں سے کسی بھی نبی کو گالی دے تو اسے حداً قتل کیا جائیگا اور مطلقاً اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔

(ردالمحتار 4: 231)

امام ابن الہمام حنفی فرماتے ہیں ۔

ترجمہ: میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ ذمی نے اگر نبی اکرم کو گالی دی یا غیر مناسب چیز اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف منسوب کی جو کہ ان کے عقائد سے خارج ہے جیسے اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف بیٹے کی نسبت حالانکہ وہ اس سے پاک ہے۔ جب وہ ایسی چیزوں کا اظہار کرے گا تو اسے

صفحہ 217

قتل کیا جائے گا اور اس کا عہد ٹوٹ جائے گا۔

فتح القدیر 303:5

فقیہ شام علامہ ابن عابدین شامی گستاخ رسول کی سزا کے بارے میں بحث کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

ترجمہ: خلاصہ کلام یہ ہے کہ نبی اکرم کو گالی دینے والے کے کفر اور اس کے مستحق قتل ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں چاروں ائمہ (امام اعظم ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ علیہم) سے یہی منقول ہے۔

(ردالمحتار 238:4)

﴿فقہ مالکی﴾

كافرا ولا يستتاب

ترجمہ: جس شخص نے حضور اکرم کو گالی دی یا آپ کی طرف عیب منسوب کیا یا آپ کی شان اقدس میں تنقیص و تحقیر کا ارتکاب کیا چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر اسے قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ بھی قبول نہیں ہوگی۔

امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ہارون الرشید نے بارگاہ رسالت میں گستاخی و بے ادبی اور طعن و تشنیع کرنے والے شخص کی سزا کے متعلق پوچھا اور یہ بتایا کہ بعض فقہاء نے اس شخص کو کوڑے مارنے کا فتویٰ دیا ہے یہ سنتے ہی آپ کے چہرے پر غیض و غضب کے آثار نمایاں ہو گئے اور غضبناک ہو کر فرمانے لگے۔

يا امير المؤمنين ما بقاء الامة بعد شتم نبيها من شتم الانبياء قتل ومن شتم اصحاب النبى يُجلد

ترجمہ: اے امیر المؤمنین امت مسلمہ کی بقا اور سلامتی (زندہ رہنے کا) کیا جواز حضور نبی اکرم کو گالی دینے کے بعد باقی رہ جاتا ہے پس جس نے انبیاء علیہم السلام کو گالی دی اس کو قتل کر دیا جائے گا اور جس نے اصحاب رسول کو گالی دی اس کو کوڑے مارے جائیں۔

صفحہ 218

فقیہ اندلس علامہ قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ تعالیٰ نے گستاخ رسول کی سزائے موت پر کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ میں مستقل ابواب تحریر فرما کر اجماع امت بیان فرمایا ہے وهذا كله اجماع من العلماء وائمة الفتوى من لدن الصحابة رضى الله عليهم اجمعين الى هلم جراً ترجمہ: صحابہ کرام کے دور سے لے کر آج تک علماء اور ائمہ فتویٰ کے مابین اس بات پر اجماع ہے کہ شاتم رسول مستحق قتل ہے۔

﴿فقہ حنبلی﴾

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔

ہر وہ شخص جو حضور اکرم کو سب وشتم کرے یا آپ کی تنقیص و تحقیر کرے خواہ مسلمان ہو یا کافر اس پر سزائے قتل لازم ہے۔ الصارم المسلول مؤلف ابن تیمیہ 525)

علامہ ابن تیمیہ حنبلی جنہوں نے گستاخ رسول کی سزائے موت پر مستقل کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول میں امام احمد بن حنبل کے مذہب کو واضح فرمایا ہے۔ وہ بھی اس پر اجماع صحابہ ذکر کرتے ہیں۔

ترجمہ:۔ مذکورہ مسئلہ پر اجماع صحابہ کا ثبوت یہ ہے کہ یہی بات ( گستاخ رسول واجب القتل ہے ) ان کے بہت سے فیصلوں سے ثابت ہے۔ مزید برآں ایسی چیزیں مشہور ہو جاتی تھیں لیکن اس کے باوجود کسی صحابی نے بھی اس کا انکار نہیں کیا۔ یہ ان کے اجماع پر بین دلیل ہے۔

( الصارم المسلول 200)

﴿فقہ شافعی﴾

امام ابوبکر فارسی شافعی نے بھی حضور کی گستاخی کرنے والے کو بطور حد قتل کرنے کا اجماع امت بیان کیا ہے ۔

ترجمہ: امام ابوبکر فارسی جو اصحاب شافعی میں سے ہیں انہوں نے امت مسلمہ کا اجماع بیان کیا ہے

صفحہ 219

کہ جس شخص نے نبی اکرم ﷺ کو گالی دی اس کی سزا حداً قتل ہے جیسے صحابہ کرام ؓ کو کسی نے گالی دی تو اس کی سزا کوڑے لگانا ہے یہ اجماع قرون اولیٰ کے صحابہ و تابعین کے اجماع پر محمول ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ حضور ﷺ کو گالی دینے والا مسلمان ہے تو اس کے وجوب قتل پر اجماع ہے۔

(الصارم المسلول مؤلف ابن تیمیہ 3)

امام تقی الدین علی السبکی شافعی (متوفی 754 ہجری) نے بھی گستاخ رسول کی سزائے موت پر مستقل کتاب السیف المسلول علی من سب الرسول تحریر فرمائی اور اس میں اجماع امت بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں ۔

ترجمہ : تمام اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ حضور کی گستاخی کرنے والے کو قتل کرنا لازم ہے اور ان میں امام مالک ، امام ابو اللیث اور امام احمد ، امام اسحاق بھی شامل ہیں اور امام شافعی کا مذہب بھی یہی ہے۔

السیف المسلول علی من سب الرسول ترجمہ از مفتی محمد خان قادری (ص 65)

فقہ جعفریہ و امامیہ

فقہاء امامیہ کا اس ایک قول پر اجماع ہے کہ جو شخص نعوذ باللہ رسول اعظم کو گالی دے سننے والے پر اس کا قتل واجب ہے اگر اسے اپنی جان کے نقصان کا یا اہل ایمان میں سے کسی کی جان کے نقصان کا خوف نہ ہو۔

فقہ الامام جعفر الصادق مؤلف محمد جواد مغنیہ (ج6 ص288)

حضرت امام صادق علیہ السلام سے اسکے بارے میں پوچھا گیا آپ نے فرمایا اسے ادنیٰ قتل کریگا اور ادنیٰ ۔۔ وہ ہے جو سنے امام (قاضی) کے پاس لے جانے سے پہلے۔

فقہ الامام جعفر الصادق مؤلف محمد جواد مغنیہ (ج6 ص 289) دارالعلم للملایین بیروت

ایک شخص نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا آپ کیا فرماتے ہیں کہ نبی کو گالی دے تو اسے قتل کر دیا جائے گا اگر تمہیں اپنی جان پر خوف نہ ہو تو اسے قتل کر دو۔

فقہ الامام جعفر الصادق مؤلف محمد جواد مغنیہ (ج6 ص 289) دارالعلم للملایین بیروت

صفحہ 220

﴿ماورائے عدالت قتل (فقہ الاسلامی)﴾

(جو شخص شرعاً واجب القتل و مباح الدم ہو یعنی اس کو قتل کرنا ضروری ہو اور اس کا خون مباح ہو اس کو اگر کوئی شخص قضائے قاضی سے پہلے ہی قتل کر دے تو قاتل پر کوئی قصاص یا دیت لازم نہیں آئے گی، کیونکہ قصاص یا دیت آدمی کی عزت و حرمت کی وجہ سے لازم ہوتے ہیں جب مرتد یا واجب القتل کی کوئی عزت و حرمت ہی نہیں تو اس کو قتل کرنے کی وجہ سے کوئی قصاص یا دیت لازم نہیں آئے گی، اس مسئلہ میں چاروں مذاہب کے چاروں فقہائے کرام، یعنی ائمہ اربعہ، امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک، امام محمد بن ادریس شافعی، امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالیٰ کا اجماع و اتفاق ہے)

ماورائے عدالت قتل فقہ اسلامی: ائمہ اربعہ، امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام محمد بن ادریس شافعی، امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالیٰ یعنی فقہ حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی میں یہ شرعی حکم ہے کہ اگر ایسا شخص جس کا قتل شرعاً مباح ہو یعنی اس کی سزا ”سزائے موت“ ہو جیسے مرتد، اس کو اگر کوئی آدمی ماورائے عدالت قتل کر ڈالے یعنی قاضی و جج کے حکم کے بغیر قتل کر ڈالے تو اس پر قصاص نہیں یعنی اسے سزائے موت شرعاً نہیں دی جا سکتی۔

☆ وَمَنْ قَتَلَ حَلَالَ الدَّمِ لَا شَيْءَ عَلَيْهِ كَمَنْ قَتَلَ مُرْتَدًّا

(المَبْسُوط 121/6)

جس شخص نے حلال الدم (جس کو قتل کرنا جائز ہو) کو قتل کیا اس پر کوئی شے نہیں (کوئی سزا نہیں) جیسا کہ کوئی شخص مرتد کو قتل کر دے۔

☆ لَوْ قَتَلَ الْمُسْلِمُ مُرْتَدًّا لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ شَيْءٌ

(اَلْأُمّ 66/6 اَلْفِقْهُ الشَّافِعِی)

اگر کوئی مسلمان کسی مرتد کو قتل کر دے تو اس قاتل پر کوئی الزام نہیں۔

جس شخص نے مرتد کو اس کے توبہ کرنے سے پہلے پہلے قتل کر دیا یا زخمی کر دیا اس کے بعد وہ مرتد اسلام لے آیا پھر اس زخم کی وجہ سے مر گیا، تو قاتل پر یا زخمی کرنے والے پر نہ قصاص لازم ہے اور نہ ہی دیت۔

(مُخْتَصَرُ الْمُزَنِی 275/1 الفقه الشافعی)

(حربی، مرتد اور شادی شدہ زانی کو قتل کرنے کی وجہ سے قاتل سے قصاص لینا واجب

صفحہ 221

نہیں ہوگا اگرچہ قاتل ذمی ہی ہو، یہی مختار مذہب ہے اور ہمارے اصحاب کا فتویٰ بھی اسی پر ہے، ) اور ”رعایہ“ میں ہے اور اسی کی اتباع ”فروع“ کتاب میں کی گئی ہے کہ ذمی کے قتل میں بھی یہی احتمال ہے اور ہمارے بعض اصحاب نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ”ترغیب“ میں اس بات کے بارے میں کہا ہے کہ حدیں ہمارے لئے ہیں اور امام نائب ہے (جریان حد کے لئے) اس بات کو ”فروع“ کتاب میں بھی نقل کیا ہے۔

مذہب حنبلی کے مطابق: اس پر دیت بھی نہیں ہے اور اتفاق ظاہر کیا ہے اسی بات پر ”محرر“ وجیز ”فروع“ اور ان کے علاوہ دیگر کتب میں۔

فائدہ: فروع میں کہا ہے ہر وہ شخص جس نے مرتد کو قتل یا شادی شدہ زانی کو قتل کیا اگرچہ اس کے توبہ کرنے سے قبل کیا پس اس کا خون رائیگاں جائیگا۔ اگرچہ توبہ کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔ اگر اس نے بظاہر اسلام قبول کیا پس اس کا حکم اسلام طاری (مجبورا اسلام قبول کرنے والا) کی طرح ہوگا۔

(الانصاف 462/3 باب شروط القصاص الفقه الحنبلی)

پس قصاص واجب نہیں ہوگا حربی کے قتل کے ساتھ۔ ہم اس میں اختلاف نہیں جانتے اور حربی کے قتل کرنے سے نہ تو دیت واجب ہے اور نہ کفارہ کیونکہ یہ مباح الدم علی الاطلاق (یعنی مطلقاً اس کا قتل کرنا جائز ہے) اس لئے کہ اس کی مشابہت خنزیر کے ساتھ ہے۔ اور اس لئے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے قتل کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان: (مشرکین کو جہاں جیسے پاؤ قتل کرو) برابر ہے کہ قتل کرنے والا مسلمان ہو یا ذمی ہو، اور اسی طرح مرتد کا حکم ہے کہ اس کو قتل کرنے کی وجہ سے قاتل پر کوئی قصاص، دیت یا کفارہ واجب نہیں ہوگا اگرچہ ذمی ہی نے اسے کیوں نہ قتل کیا ہو۔

(الشرح الکبیر 51/9 باب شروط القصاص الفقه الحنبلی)

ترجمہ: (قصاص اور دیت کیلئے دوسری شرط یہ ہے کہ مقتول معصوم ہو بایں طور کہ وہ مھدر الدم نہ ہو یعنی ایسا نہ ہو کہ اس کے قتل کی وجہ سے کسی پر کوئی قصاص یا دیت لازم نہ آئے اور اس کا خون ضائع ہو) پس قاتل حربی، مرتد یا شادی شدہ زانی پر نہ کفارہ ہے نہ دیت ہے (کیونکہ یہ مھدر الدم ہیں) اگرچہ اس کی مثل عدم معصیت میں ہے بایں طور کہ قتل کیا حربی نے حربی کو یا مرتد کو یا مرتد کو یا زانی

صفحہ 222

محصن کو یا اس کے برعکس معاملہ ہو۔ واسطے اس صفت کے پائے جانے کے جو اس کے دم کو مباح کرنے والی ہے اور قاتل تعزیر کیا جائے گا اس لئے کہ وہ ولی الامر کے پاس معاملہ لے کر نہیں گیا۔

( منارالسبیل 218/2 باب شروط القصاص فی النفس /الفقه الحنبلی )

ترجمہ: ( قصاص اور دیت کے لیے دوسری شرط یہ ہے کہ مقتول معصوم الدم ہو اگر مقتول معصوم الدم نہ ہو تو اس کے قاتل پر قصاص یا دیت واجب نہیں ہوگی جیسے حربی اور مرتد کو قتل کرنے والے پر کوئی قصاص یا دیت واجب نہیں ہوگی ) اگر مقتول معصوم ہو پس نہ تو قصاص واجب ہوگا نہ دیت اور نہ ہی کفارہ۔ حربی کے قتل کرنے کے ساتھ اور نہ ہی مرتد کے قتل سے۔

( الاقناع 173/4 باب شروط القصاص /الفقه الحنبلی )

﴾ اختتام بیان ﴿

گورنر کے وکیل کی طرف سے غازی صاحب کے بیان پر کوئی جرح اور اعتراض نہ کیا گیا ۔ چنانچہ عدالت نے غازی صاحب کے بیان کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کا حکم جاری کرتے ہوئے کاروائی کو 24 ستمبر تک ملتوی کر دیا۔ چنانچہ 24 ستمبر کو وکلاء کی بحث کی تاریخ مقرر ہوئی۔

غازی ممتاز حسین قادری کی حمایت جاری

18 ستمبر 2011ء جماعت محبان آل واصحاب رسول کی طرف سے مانسہرہ شہر میں عظیم الشان سنی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ شباب اسلامی نے بھر پور شرکت کی۔ حضرت قبلہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب، پیر سید ریاض حسین شاہ صاحب مرکزی ناظم اعلیٰ جماعت اہل سنت، صاحبزادہ فضل کریم صاحب MNA چیئرمین سنی اتحاد کونسل، پیر نقیب الرحمٰن صاحب آستانہ عالیہ عید گاہ شریف، مفتی اقبال چشتی صاحب راقم اور درجنوں آستانوں کے سجادہ نشینوں اور بیسیوں علمائے کرام اور ہزاروں عاشقان رسول نے کانفرنس میں شرکت کی ، کانفرنس میں ممتاز حسین قادری صاحب کی رہائی کی قرارداد کو متفقہ اور پر جوش طریقہ سے منظور کیا گیا۔

23 ستمبر بروز جمعۃ المبارک ، سنی تحریک ، پیر امین الحسنات شاہ صاحب آف بھیرہ شریف

اور دیگر اہل سنت کے اکابرین کی طر اپیل کی گئی۔ لاہور، کراچی، اسلام آبا میں ATI کی طرف سے مظاہرہ کیا

شیخوپورہ میں انجمن کارو مختلف سنی تنظیموں کی طرف سے م صاحب کو باعزت رہا کیا جائے۔ اجتماعی شرکت کا اعلان ہوا۔

عدالت میں 31 پیشی

24 ستمبر کی پیشی پر غلاما بڑا قافلہ راقم کی قیادت میں اڈیال نے ، مری، کلرسیداں، گوجرانوالہ کی قیادت زاہد حبیب صاحب آف الرحمٰن دھنیال ، طاہر اقبال چشتی ،

آج کی پیشی پر علمائے ک اقبال نعیمی ، مولانا اسلم ضیائی ، مو عطاری ، مولانا عبادت اعوان ، شریف بوئی ایبٹ آباد سے صا خان ) مفتی فرقان عباس قادریہ فاضل جامعہ نظامیہ، مولانا نوید چ بزم ارشاد کا قافلہ مولانا ہارون ب اڈیالہ جیل کے باہر پہنچا۔ تنظیم ال

صفحہ 223

اور دیگر اہل سنت کے اکابرین کی طرف سے ممتاز حسین قادری صاحب کی رہائی کیلئے مظاہروں کی اپیل کی گئی۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد سمیت ملک کے کئی شہروں میں مظاہرے ہوئے۔ اسلام آباد میں ATI کی طرف سے مظاہرہ کیا گیا۔

شیخوپورہ میں انجمن کاروان اسلام کے زیر اہتمام مظاہرہ کیا گیا، باقی شہروں میں بھی مختلف سنی تنظیموں کی طرف سے مظاہرے کئے گئے۔ اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ غازی صاحب کو باعزت رہا کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ سنی تحریک کی طرف سے 24 ستمبر کی پیشی پر اجتماعی شرکت کا اعلان ہوا۔

عدالت میں 31 پیشی

24 ستمبر کی پیشی پر غلامان مصطفیٰ نے بھر پور انداز سے شرکت کی، شباب اسلامی کا ایک بڑا قافلہ راقم کی قیادت میں اڈیالہ جیل پہنچا۔ اعلان کے مطابق سنی تحریک کے سینکڑوں کارکنان نے، مری، کلرسیداں، گوجرانوالہ، راولپنڈی، اسلام آباد اور دیگر شہروں سے بھی شرکت کی۔ قافلے کی قیادت زاہد حبیب صاحب آف گوجرانوالہ، علامہ غفران محمود سیالوی، مفتی لیاقت رضوی، عطاء الرحمن دھنیال، طاہر اقبال چشتی، مولانا احسان الہی قریشی اور مولانا وسیم قادری نے کی۔

آج کی پیشی پر علمائے کرام کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی، اسلام آباد سے مولانا اقبال نعیمی، مولانا اسلم ضیائی، مولانا ضیاء الحسن ضیائی، مولانا طالب حسین اعوان، قاری محمد اعجاز عطاری، مولانا عبادت اعوان، قاری عبدالعزیز صاحب پیشی میں شریک ہوئے۔ آستانہ عالیہ بھنگی شریف بوئی ایبٹ آباد سے صاحبزادہ سید طاہر حسین شاہ کاظمی، مولانا عبدالغفور چشتی (ڈی آئی خان ) مفتی فرقان عباس قادری (رہنما ادارہ صراط مستقیم ) اپنے ساتھیوں صاحبزادہ حامد مصطفیٰ فاضل جامعہ نظامیہ، مولانا نوید چشتی، علامہ قربان علی سمیت لاہور سے شریک ہوئے اس کے علاوہ بزم ارشاد کا قافلہ مولانا ہارون عباسی ضیائی، کامران عباسی، سید آفتاب حسین شاہ کی قیادت میں اڈیالہ جیل کے باہر پہنچا۔ تنظیم علماء ضیاء العلوم کا قافلہ مولانا وقاص ضیائی کی قیادت میں پہنچا۔

صفحہ 224

مولانا عزیز الدین کوکب صاحب اور قاری علی اکبر نعیمی صاحبان بھی آج پہلی دفعہ غازی صاحب کی پیشی میں حاضر ہوئے ، مولانا قاسم رضوی ، حافظ اشفاق صابری ، قاری حافظ بلال رضوی ، قاری بشیر اعوان ، مولانا فاروق چشتی مصریال ، مولانا یعقوب چشتی چوہڑ چوک ، مولانا فخر زمان چشتی ، مولانا مقصود احمد چشتی سہام ، مولانا امانت علی حیدری ، مولانا رب نواز فاروقی ، مولانا سفیر احمد ضیائی ، مولانا اسحاق چشتی ، مولانا سعادت علی ضیائی ، مولانا سید وسیم شاہ بہارہ کہو ، مولانا قاری رستم اسلام آباد کے علاوہ درجنوں دیوبندی علماء کا قافلہ پیر عزیز الرحمن نقشبندی ، مولانا عبدالوحید قاسمی ، مولانا ابراہیم ، قاری حفیظ الرحمن کی قیادت میں اڈیالہ جیل کے باہر پہنچا۔

تنظیم اسلامی راولپنڈی کینٹ کے ناظم اشتیاق حسین اپنے ساتھیوں کے ہمراہ شریک ہوئے۔ کاروان اسلام تنظیم کے مرکزی صدر ارشد حسین گوندل مرکزی جنرل سیکرٹری ، مولانا الیاس تبسم ، مرکزی نائب صدر عبدالرزاق ورکر اور سید زاہد حسین شاہ جوائنٹ سیکرٹری بھی خصوصی طور پر شیخوپورہ سے پیشی میں شرکت کے لئے اڈیالہ جیل پہنچے۔

کاروان اسلام کی طرف سے پورے ملک میں غازی صاحب کی حمایت میں اشتہارات اور پمفلٹ تقسیم کئے گئے ۔ جن میں غازی صاحب کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ادھر لاہور میں محمود الحسن بٹ ، محمد عمران قادری ، محمد عرفان توگیروی نامی نوجوانوں نے ”انجمن محبان غازیان اسلام“ نامی تنظیم کی بنیاد رکھی اور پورے لاہور سمیت مختلف شہروں میں ”کیا یہ اسلامی ملک ہے“ کے عنوان سے ایک موثر اشتہار شائع کیا گیا جس میں غازی صاحب کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

حسب معمول جیل کے باہر غازی صاحب کی حمایت میں مظاہرہ کیا گیا۔ آج چونکہ سنی تحریک کی طرف سے خصوصی شرکت کا اعلان تھا لہٰذا عام لوگوں کی بنسبت ان کے کارکنان کی تعداد زیادہ تھی۔ یاد رہے پورے ملک میں شباب اسلامی کے ساتھ سنی تنظیمات میں سے سنی تحریک نے غازی اسلام ممتاز حسین قادری صاحب کی حمایت کے سلسلے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ جیل کے باہر نعت خوانی ہوئی اور سنی تحریک ، بزم ارشاد ، شباب اسلامی اور دیگر تنظیموں کے قائدین اور رہنماؤں نے مظاہرین سے خطاب کیا اپنے اپنے خطابات میں حکومت کو باور کروایا گیا کہ وہ

صفحہ 225

عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہ کرے۔

ادھر آج کی عدالتی کاروائی میں غازی صاحب کے وکلاء ملک رفیق صاحب راجہ شجاع الرحمن ، راجہ طارق دھمیال اور سید حبیب الحق شاہ صاحب بروقت عدالت میں پہنچے ۔ غازی صاحب کے وکیل ملک رفیق صاحب نے کیس کی آخری بحث کی اور یہ ثابت کیا کہ سلمان تاثیر اپنے اقوال وافعال کے باعث مرتد ہو چکا تھا اور ”واجب القتل“ تھا حکومت وقت کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس کے خلاف قانونی کاروائی کرتی چنانچہ حکومت کی طرف سے کاروائی نہ ہونے کے باعث ملک ممتاز حسین قادری نے اپنا فرض ادا کیا اور جذبہ عشق رسالت میں ڈوب کر گورنر کو قتل کیا ۔ چونکہ گورنر غیر معصوم الدم تھا لہذا اسے قتل کرنے کے باعث قانونی طور پر ممتاز حسین قادری سے قصاص نہیں لیا جا سکتا کیونکہ اس اقدام پر قتل عمد کا اطلاق صادق نہیں آتا لہذا 302A کے تحت غازی ممتاز حسین قادری کو سزائے موت نہیں دی جاسکتی ۔ ملک رفیق صاحب کے دلائل کے دوران جب غازی صاحب کے عشق رسول اور محبت کے جذبات اور حضور کی رحمۃ للعالمینی کا ذکر ہوا تو عدالت میں موجود وکلاء اور دیگر لوگ اشکبار ہو گئے ۔ عدالت نے گورنر کے وکیل کو اگلی پیشی پر اپنے دلائل بقیہ تحریراً مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت کو یکم اکتوبر تک ملتوی کر دیا ۔

غازی صاحب کے وکیل صاحبزادہ سید حبیب الحق شاہ صاحب نے راقم کو بتایا کہ پیشی کے بعد لائبریری کے کمرے میں وکلاء نے غازی صاحب سے نعت رسول سنانے کی درخواست کی گئی تو غازی صاحب نے دو نعتیں

۱۔ یا رسول اللہ تیرے چاہنے والوں کی خیر
سب غلاموں کا بھلا ہو سب کریں طیبہ کی سیر
۲۔ خود کو مٹا دیں گے ہم جاں لٹا دیں گے
ناموسِ آقا پر ہم سر کٹا دیں گے

سنائی تو پولیس سیکیورٹی اہلکاروں اور وکلاء سمیت تمام لوگ اشکبار ہو گئے ۔

بروز منگل 27 ستمبر 2011ء اخبارات کے ذریعے معلوم ہوا کہ گورنر کے وکیل نے اپنا

صفحہ 226

بیان عدالت میں جمع کروا دیا ہے۔ تاہم اگلے روز کی اخبارات نے جج کی طرف سے اس بات کی تردید کر دی اور جج کی طرف سے وضاحت سامنے آئی کہ گورنر کے وکیل کا بیان یکم اکتوبر کی پیشی پر ہی وصول کیا جائے گا اور اسی روز وکلاء کی حتمی بحث بھی ہوگی۔ تاہم یہ سیاسی شعبدہ بازوں کی چال تھی اور غازی صاحب کے وکلاء نے چونکہ یکم اکتوبر کو عدالت میں درخواست دینی تھی کہ غازی صاحب کے خلاف لگایا جانے والا دہشت گردی کا دفعہ 7ATA درست نہیں ہے۔ لہٰذا اسے ختم کر دیا جائے چونکہ حکومت کی طرف سے دباؤ کے تحت یہ فیصلہ کروایا جا رہا تھا اس لئے جج نے مذکورہ وضاحت کی تا کہ غازی صاحب کے وکلاء درخواست جمع نہ کروا سکیں۔

گھر کو لگ گئی آگ گھر کے چراغ سے

’عالمی امن‘ کے داعی مصنف تصانیف کثیرہ روز اوّل سے اہل سنت و جماعت کے حلقوں میں متنازع ترین شخصیت ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے پچھلے سال لندن میں مذاہب عالم کے سرکردہ ہزاروں افراد پر مشتمل ایک کانفرنس کا انعقاد کیا اس کانفرنس میں ہندوؤں کے بھجن اور عیسائیوں کے مذہبی گیت کے ساتھ قصیدہ بردہ شریف اور اللہ اللہ کا ذکر ہوا۔ رام اور رحیم کے فرق کو مٹانے کے دعویدار جناب ڈاکٹر صاحب کی یہ کانفرنس بھی ایک متنازع حیثیت اختیار کر گئی۔ راقم شروع سے ہی امکانی حد تک اختلاف کے خاتمے کے لئے تاویل کی راہ اختیار کرنے کا قائل ہے البتہ جہاں تاویل کی راہ ہی بند کر دی جائے تو وہاں مداہنت کو جرم عظیم سمجھتا ہے۔ راقم ڈاکٹر صاحب کی متنازع شخصیت کے باوجود عالم دین ہونے کے ناطے سے ان کی عزت کرتا رہا اور کسی بھی موقع پر اپنے سامنے ان کی غیبت کو بھی گوارا نہ کیا۔

تاہم نہ جانے وہ کون سی وجوہات تھیں کہ ڈاکٹر صاحب نے عین عدالتی فیصلے سے 4 دن پہلے ARY چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ممتاز حسین قادری قاتل ہے اور اس کو قاتل کی سزا دینی چاہیئے اور سلمان تاثیر کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ اس نے کسی قسم کی کوئی گستاخی نہیں کی اور اگر بالفرض گستاخی کی بھی ہو اور ثابت بھی ہو جائے تو بھی اس کو قتل کرنے والے کی سزا موت ہے۔ کاش ڈاکٹر صاحب اپنا یہ موقف سلمان تاثیر کے قتل کے دوسرے دن اس وقت سامنے لاتے کہ جب پورے پاکستان سے ایک بھی عالم دین اس کا جنازہ پڑھانے کو تیار نہ ہوا۔ ڈاکٹر صاحب اس

صفحہ 227

وقت مداہنت ترک فرماتے اور اپنی یونیورسٹی کے طلباء اور شیوخ الحدیث کو حکم فرماتے کہ میں دلیر آدمی ہوں اور حق بات سے ذرا بھی نہیں ڈرتا لہٰذا آپ لوگ نماز جنازہ میں شرکت بھی کریں اور امامت بھی فرمائیں۔ 9 ماہ تک آخر ڈاکٹر صاحب نے حق گوئی کی ہمت کیوں نہ کی اور اپنا شرعی حق کیوں نہ ادا کیا۔ اس سے قبل منہاج القرآن سے وابستہ ہزاروں لوگ باقی عاشقان رسول کے ساتھ مل کر ممتاز حسین قادری کی حمایت میں ریلیاں نکالتے رہے اور سلمان تاثیر کو گستاخ اور ممتاز حسین قادری کو غازی علم الدین قرار دیتے رہے۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کی طرف سے آنے والے بیان کے بعد ملک بھر میں پریشانی کی کیفیت طاری ہو گئی کیونکہ ساری زندگی ”عشق رسول“ اور غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے کا درس دینے والی شخصیت گستاخوں کی حمایت میں کیونکر بولنے لگی۔ راقم سمیت دیگر لوگوں کا گمان یہ تھا کہ شاید یہ جملے ڈاکٹر صاحب کی سبقت لسانی ہوں۔ اور توجہ دلانے کے بعد وہ اپنے اس بیان سے رجوع کریں گے۔ اس سلسلے میں راقم نے لاہور ادارہ منہاج القرآن کے مرکز سے رابطہ کیا جہاں سے یہی جواب ملا کہ ڈاکٹر صاحب عنقریب وضاحت کریں گے۔ تاہم عذر گناہ بدتر از گناہ کے مصداق ڈاکٹر صاحب نے ممتاز قادری کی مخالفت اور سلمان تاثیر کی حمایت میں دو نشستوں میں تقریباً 12 گھنٹے کا خطاب کیا اور مسائل حل کرنے کے بجائے ان کو مزید اُلجھا دیا۔ اپنے خطابات میں ڈاکٹر صاحب نے نہ صرف یہ کہ اپنی سابقہ تحریروں کا کھلے عام رد کیا بلکہ ناموس رسالت کے حوالے سے کئی ایک مقامات پر صاف محسوس ہوا کہ ان کی زبان لڑکھڑا رہی ہے۔ اپنی گفتگو کے دوران ڈاکٹر صاحب نے علماء کرام کو خوب مغلظات سے نوازا، انہیں جاہل، ہٹ دھرم اور ابن الوقت قرار دیا۔ اس پر پورے ملک کے علماء کی طرف سے شدید رد عمل ظاہر ہوا اور علماء نے بھی اپنی اپنی بساط کے مطابق ڈاکٹر صاحب کے غیر شرعی بیان کا رد کیا۔ بہت سارے منہاجین نے ڈاکٹر صاحب کو الوداع کہا اور بہت سارے خاموشی کا ”روزہ“ رکھ چکے۔ تاہم کچھ حضرات نے غالباً کلمہ ہی ڈاکٹر صاحب کا پڑھا ہوا ہے۔ بایں طور انہوں نے ڈاکٹر صاحب کی بے جا حمایت کرتے ہوئے ملعونہ آسیہ مسیح تک کا دفاع کرنا شروع کر دیا۔

30 ستمبر بروز جمعۃ المبارک اسلام آباد آبپارہ چوک سے روزنامہ الشرق کے ایڈیٹر جناب عمران بلوچ صاحب نے مغربی میڈیا کی طرف سے نبی پاک کے گستاخانہ خاکے شائع

صفحہ 228

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

کرنے کے 6 سال مکمل ہونے پر احتجاجی کیمپ لگایا جس میں بڑے بڑے صحافی ، مختلف مذہبی تنظیموں کے قائدین ، علمائے کرام ، ٹریڈ یونینز کے صدور اور کثیر عاشقان رسول نے شرکت کی راقم شباب اسلامی کے کارکنوں کے ہمراہ بعد نماز جمعۃ المبارک کیمپ میں پہنچا۔ نجی ٹی وی کے مشہور پروگرام ”بولتا پاکستان“ کے منہاس صاحب اور دیگر صحافی حضرات کے خطاب کے بعد راقم کو خطاب کا موقع ملا۔ راقم نے ناموس رسالت کے تحفظ کے سلسلے میں عمران بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور بعد ازاں صحافی حضرات کی توجہ ان اسٹیکرز کی طرف مبذول کروائی کہ جو اسٹیکرز یہودیوں اور قادیانیوں کی ایماء پر ناموس رسالت کے قانون اور ممتاز حسین قادری کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہے ہیں آپ ان کا محاسبہ کریں اور ان شاء اللہ اپنی صفوں میں موجود نام نہاد ڈاکٹروں ، علماء اور نام نہاد سکالروں کا محاسبہ ہم کریں گے۔ اور جو کچھ ایک شہرت پسند ڈاکٹر نے ممتاز حسین قادری صاحب کے حوالے سے ہرزہ سرائی کی ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ میرے ان جملوں کے بعد تحریک منہاج القرآن کے چند نوجوان اپنی جگہ کھڑے ہو گئے اور احتجاجاً آوازیں بلند کرنا شروع کر دیں۔ ان کے اس رویے کی بعد ازاں تقریباً تمام ہی مقررین حضرات نے مذمت کی بلکہ اخبار فروش یونین کے جنرل سیکرٹری ٹکا خان نے انتہائی پر اثر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ میں حیران ہوں کہ یہ کون سا عشق رسول ہے کہ نبی پاک ﷺ کی ناموس اور ایک عاشق رسول کے خلاف بات ہوئی تو منہاج القرآن کے یہ دوست بالکل خاموش رہے اور اب چیں چیں کرنے لگ گئے ہیں۔ کیا مولوی کی ناموس نبی ﷺ کی ناموس سے بڑھ گئی ہے؟ اس سوال کا جواب ان حضرات کے پاس کچھ نہ تھا۔

چونکہ راقم ممتاز حسین قادری کی حمایتی تحریک کے بانیوں میں سے ہے لہٰذا راقم نے ڈاکٹر صاحب کے متبعین اور عامۃ الناس کو تصویر کا صحیح رخ دکھانے کی خاطر تقریباً ڈیڑھ سو صفحات پر مشتمل ایک رسالہ تحریر کیا جسکا نام ہے ”قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے“ چونکہ اس رسالے میں ممتاز حسین قادری کے اقدام کا دفاع اور سلمان تاثیر کے ارتداد کو ثابت کیا گیا لہٰذا فائدے کی خاطر اس رسالے کو اس کتاب کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ اور دوسرا تا کہ لوگ ڈاکٹر صاحب کا حقیقی چہرہ بھی پہچان سکیں۔ تاہم اس میں موجود پیش لفظ اور عربی عبارات کو کتاب کا حجم کم کرنے کی خاطر حذف کیا جا رہا ہے۔ دلچسپی رکھنے والے حضرات راقم کا لکھا ہوا مذکورہ کتابچہ ملک بھر میں موجود اہل سنت کے مکتبوں سے حاصل کر سکتے ہیں۔

صفحہ 229

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

٭ عاشق رسول ملک ممتاز حسین قادری کے عاشقانہ اقدام

٭ گستاخ رسول کے قاتل کی سزا

٭ مقتول گورنر سلمان تاثیر کے کفر و ارتداد کے دفاع

٭ توہین رسالت کس طرح ثابت ہوتی ہے؟

کی بابت ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریر و تقریر

میں واضح تضادات اور ان کا علمی رد

قلم کچھ اور لکھتا ہے

زباں کچھ اور کہتی ہے

از قلم

مناظر اسلام

مفتی محمد حنیف قریشی قادری

سربراہ شباب اسلامی پاکستان

ناشر : شباب اسلامی پاکستان

صفحہ 230

قلم کچھ اور لکھتا ہے، زباں کچھ اور کہتی ہے 230 قلم کچھ اور لکھتا ہے، زباں کچھ اور کہتی ہے

الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین

اما بعد !

یہ حقیقت ہے کہ مومن اپنی جان سے بڑھ کر سید عالم ﷺ سے محبت کرتا ہے۔ اور اس کی یہ محبت تمام اغراض مادیہ سے پاک ہوتی ہے۔ ادنیٰ سے ادنیٰ صاحب ایمان شخص اپنے محبوب کریم ﷺ کی ذرہ برابر بے ادبی و گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔ شریعت اسلامیہ نے توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والوں کیلئے صرف اور صرف ”موت“ کی سزا رکھی ہے۔ اور یہ وہ سزا ہے کہ جسے دنیا کی کوئی طاقت نہ ختم کر سکتی ہے اور نہ اس میں کمی لا سکتی ہے۔ پاکستان اسلامی نظریاتی سلطنت ہے اور اس کی بنیاد اس نظریے پر رکھی گئی کہ ایک الگ خطۂ زمین میں مسلمان اپنے خدا اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات پر آزادی کے ساتھ عمل پیرا ہو سکیں گے۔ اسلام کے نام پر حاصل کی گئی اس اسلامی نظریاتی سلطنت کے قانون میں ایک شق 295C ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی شخص جو اللہ کے کسی بھی نبی علیہ السلام کی توہین کا ارتکاب ، صراحتاً، کنایۃً ، تحریراً، تقریراً یا کسی بھی طریقے سے کرے گا اس کی سزا صرف اور صرف موت ہے۔ اور یہ قانون کسی انسان یا کسی عدالت کا بنایا ہوا نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا بنایا ہوا قانون ہے۔ گویا اس کی مخالفت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی شریعت کی مخالفت ہے اور شریعت اسلامیہ کی مخالفت کفر ہے۔ سابق مقتول گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے یہود و نصاریٰ اور قادیانی لابیوں کی ایماء پر آئین پاکستان میں موجود اس شق کو ختم کروانے کے لئے سیاسی حلقوں میں کام کا آغاز کیا۔ گورنر کے اس مشن پر بیرونی ڈالروں پے پلنے والے بعض میڈیا عناصر نے بھی اس کا بھر پور ساتھ دیا۔ اور یوں وطن عزیز میں %98 لوگوں کی رائے کے خلاف قانون کی اس شق میں اولاً تبدیلیوں اور ثانیاً بالکل خاتمے کیلئے بحثوں کا آغاز ہو گیا۔ منصوبے کے تحت ایک عیسائی عورت نے نبی آخر زماں ﷺ کی شان میں انتہائی غلیظ گالیاں بکیں اور اللہ کی لاریب کتاب قرآن مجید کی توہین کر ڈالی ۔ مقدمہ عدالت میں چلا ، گواہوں کی گواہی اور شفاف تفتیش کے بعد ملعونہ کو سزائے موت سنائی گئی ۔ اندرونی و بیرونی

قلم کچھ اور لکھتا ہے، زباں کچھ اور کہتی ہے

لادین عناصر نے اس کیس کی آڑ لے پاکستان میں ان عناصر کی سرپرستی و قیا اور اس کے رسول ﷺ کے قانون کو ”و ساتھ ہی توہین رسالت کی مرتکب ملعونہ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے سائ روپے کے خلاف ملک بھر کے علماء دھرمی کے باعث اس کے خلاف کفر مقدمہ درج کرنے کی درخواست د ہونے کی شق نے گورنر کو تحفظ فراہم لادین عناصر نے اپنی ہرزہ سرائیوں چوراہوں کا موضوع بنا دیا۔ اس طر کامیاب ترین ہڑتال کی گئی۔ ملک لادین عناصر کے خلاف جلسے جلوس گورنر کی گستاخانہ ہرزہ سرائی پر مشتع الدین شہید رحمہ اللہ کی یاد کو تازہ کر حکمران جماعت کا مرکزی آدمی ہو ہوا بلکہ سندھ سمیت ملک بھر میں گورن مٹھائیاں بانٹی گئیں۔ ممتاز حسین قاد گورنر کو مرتد اور واجب القتل سمجھ حمایت کر کے توہین کا ارتکاب کیا ۔ ارتداد کا مرتکب ہوا ہے۔ اور گورنر ک

صفحہ 231

﴿قلم کچھ لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

لادین عناصر نے اس کیس کی آڑ لے کر قانون توہین رسالت کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا۔ پاکستان میں ان عناصر کی سرپرستی و قیادت مقتول گورنر نے سنبھالی اور ہرزہ سرائی کرتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے قانون کو ”کالا قانون“ خلاف انسانیت اور ظالمانہ قانون قرار دیا۔ اور ساتھ ہی توہین رسالت کی مرتکبہ ملعونہ عاصیہ مسیح کو دی جانے والی سزا کو ظالمانہ قرار دیتے اور اس کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ساتھ ہی اس کی معافی کا اعلان بھی کر دیا۔ گورنر کے اس گستاخانہ رویے کے خلاف ملک بھر کے علماء نے اولاً اسے توبہ کرنے کا مشورہ دیا اور بعد ازاں اس کی ہٹ دھرمی کے باعث اس کے خلاف کفر و ارتداد کا فتویٰ صادر کیا اور اس کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی۔ ملکی قانون میں گورنر کے خلاف مقدمے کے اندراج نہ ہونے کی شق نے گورنر کو تحفظ فراہم کیا اور یوں گورنر کو قانون کے حوالے نہ کیا جا سکا۔ گورنر اور لادین عناصر نے اپنی ہرزہ سرائیوں میں اضافہ کرتے ہوئے قانون توہین رسالت کو چوکوں چوراہوں کا موضوع بنا دیا۔ اس طرز عمل کے خلاف 31 دسمبر 2010ء کو پورے ملک کے اندر کامیاب ترین ہڑتال کی گئی۔ ملک بھر میں توہین رسالت کے قانون کے حق میں اور گورنر اور دیگر لادین عناصر کے خلاف جلسے جلوس بھی جاری رہے۔ چنانچہ علماء کے فتووں، قانون کی عاجزی اور گورنر کی گستاخانہ ہرزہ سرائی پر مشتعل ہو کر ایک عاشق رسول ملک ممتاز حسین قادری نے غازی علم الدین شہید رحمہ اللہ کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے اسلام آباد میں گورنر پنجاب کو واصل جہنم کر دیا۔ حکمران جماعت کا مرکزی آدمی ہونے کے باوجود پورے ملک میں خلاف توقع ذرا بھی احتجاج نہ ہوا بلکہ سندھ سمیت ملک بھر میں گورنر کے واصل جہنم ہونے کی خوشی میں سڑکوں پر رقص ہوا اور منوں مٹھائیاں بانٹی گئیں۔ ممتاز حسین قادری نے عدالت میں اقبالی بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس نے گورنر کو مرتد اور واجب القتل سمجھتے ہوئے اس لئے قتل کیا ہے کہ اس نے ایک ملعونہ عورت کی حمایت کر کے توہین کا ارتکاب کیا ہے اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے قانون کی توہین کر کے کفر و ارتداد کا مرتکب ہوا ہے۔ اور گورنر کو اس لئے قتل کیا ہے تاکہ آئندہ کوئی بھی بڑے عہدے

صفحہ 232

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

پر فائز شخص کی ہمت نہ ہو سکے کہ وہ شریعت یا صاحب شریعت کے خلاف ہرزہ سرائی کر سکے۔ چنانچہ ممتاز حسین قادری ملک میں کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن اور ہیرو قرار پایا۔ جس کی عملی تصویر اس وقت نظر آئی جب ملک بھر کے ہزاروں وکلاء نے اس کے وکالت نامے پر دستخط کئے اور مفت مقدمہ لڑنے کا اعلان کیا۔ راولپنڈی اسلام آباد کی بار ایسوسی ایشنز نے اعلان کیا کہ کوئی بھی وکیل مقتول گورنر کا مقدمہ نہیں لڑے گا۔ دوسرے لفظوں میں ممتاز حسین قادری کا نام تحفظ ناموس رسالت کا ”استعارہ“ بن گیا۔ ملک بھر میں ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے شخص نے ممتاز حسین قادری کے اقدام کی حمایت کی۔ کیس عدالت میں چلا تو ہر پیشی پر غلامانِ مصطفیٰؐ نے عدالتوں کے باہر جمع ہو کر غازی ممتاز حسین قادری سے اپنی عقیدتوں کا اظہار کیا۔ کیس کا فیصلہ ہونے سے صرف ایک ہفتہ قبل ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب نے 25 ستمبر بروز اتوار ARY ٹی وی پر انٹرویو دیتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا:

کو قاتل ہونے کی حیثیت سے سزا ( موت ) دینی چاہیئے۔

اگر یہ ثابت ہو جائے تو پھر بھی کسی سویلین یا فرد کو قتل کرنے کی اجازت نہیں اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر (قتل) کرے گا تو اس کی سزا موت ہے۔

پائی جاتی۔

ڈاکٹر صاحب کی یہ سٹیٹمنٹ خلافِ توقع اور خلافِ شریعت تھی۔ ان کے اس انٹرویو سے کروڑوں مسلمانوں، جن میں علماء بھی ہیں اور مشائخ بھی اور عوام کی بھی دل آزاری ہوئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے سینکڑوں چاہنے والے اور ان کے دیرینہ کارکنان اور منہاج القرآن کے وہ

صفحہ 233

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

عہدیداران جنہوں نے دیگر مذہبی تنظیمات اور عاشقان مصطفیٰ کے شانہ بشانہ ممتاز حسین قادری کی حمایتی ریلیوں اور جلوسوں میں شرکت کی انہوں نے ادارہ ”منہاج القرآن“ سے اپنا رشتہ ناطہ توڑنے کا اعلان کیا جبکہ آپ کے ہزاروں چاہنے والے مخمصے کا شکار ہوئے کیونکہ ایک طرف ان کے سامنے ممتاز حسین قادری کی صورت میں ایسی شخصیت تھی جس کے جذبہ عشق نبی ﷺ کا انکار سورج کی موجودگی میں دن کے وجود کے انکار کے مترادف تھا اور ان کے سامنے ملک بھر کے جید علمائے کرام کے فتوے اور سلمان تاثیر کے بکواسات تھے اور گستاخ رسول کو قتل کرنے کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب کی تحریریں اور تقریریں تھیں اور دوسری طرف ساری زندگی عشق رسول کے درس کا دعویٰ کرنے والی شخصیت تھی جس کا اعلان تھا کہ منہاج القرآن کے قیام کا مقصد اور اساسی جذبہ ہی عشق رسول اور حفاظت ناموس رسالت ہے۔ ایسے شخص کی زبان سے خلاف توقع ایک صریح مرتد و کافر کی حمایت، ایک مجاہد و عاشق رسول کی مخالفت اور اپنی تحریر و تقریر کے خلاف دی گئی سٹیٹمنٹ کے باعث پورے ملک میں ڈاکٹر صاحب کے محبین طبقوں میں صف ماتم بچھ گئی اور دیگر عاشقان رسول کو بھی گہرا صدمہ اٹھانا پڑا کہ اس طرح کی سٹیٹمنٹ تو آج تک کسی سیکولر انتہا پسند کو بھی دینے کی جرأت نہ ہوئی تھی آخر ڈاکٹر صاحب نے یہ سب کچھ کیوں اور کیسے کہہ ڈالا؟

راقم سمیت ہزاروں لوگوں کو یہ غالب گمان تھا کہ ڈاکٹر صاحب اپنی غلطی سے رجوع کریں گے کیونکہ انسان سے غلطی کا ہونا ممکن ہے اور پورے ملک میں چھائی ہوئی پریشانی کی کیفیت ختم ہو جائے گی۔ چنانچہ ادارہ منہاج القرآن کے ذمہ داران سے رابطہ کیا گیا جہاں سے جواب ملا کہ ڈاکٹر صاحب اس سلسلے میں وضاحت فرمائیں گے۔ چنانچہ کچھ دنوں بعد ڈاکٹر صاحب کی طرف سے کئی گھنٹوں پر مشتمل خطاب کیا گیا جس میں انتہائی غیر ضروری مباحث کو چھیڑا گیا اپنی سراسر غلطی کو تسلیم کرنے کے بجائے عذر گناہ بدتر از گناہ کرتے ہوئے خود ناموس رسالت کے قانون 295C میں ہی تشکیک کا بیج بو دیا گیا۔ چونکہ راقم عاشق رسول جناب ملک ممتاز حسین قادری کے حمایتیوں میں صف اوّل میں کھڑا ہے اور الحمد للہ اس ”تحریک“ کے مرکزی لوگوں میں

صفحہ 234

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

شامل ہے بایں وجہ ممتاز حسین قادری صاحب کے چاہنے والوں کی قلبی تسلی اور ڈاکٹر صاحب کے پیروکاروں کو تصویر کا حقیقی رخ دکھانے کی خاطر راقم چند صفحات پیش کر رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے انٹرویو کو بغور سنا جائے تو قرآن وسنت کی روشنی میں ڈاکٹر صاحب کی تینوں باتیں سراسر غلط ہیں۔

میں جانا انتہائی ضروری ہوتا ہے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلوں کو اگر سامنے رکھا جائے تو بعض اوقات قاتل کو سزا کے بجائے انعام واکرام دیا جاتا ہے۔

قرآن وسنت اور تاریخ فقہ اسلامی کی روشنی میں یہ بات دین کے ایک ادنیٰ سے طالب پر بھی عیاں ہے کہ ”مباح الدم“ کے ماورائے عدالت قتل کے باعث قاتل پر نہ قصاص ہے اور نہ ہی دیت بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلوں کے مطابق مقتول کا خون رائیگاں چلا جاتا ہے۔ اس پر بے شمار دلائل ہیں جن میں سے چند ایک ڈاکٹر صاحب نے اپنی ”کتاب تحفظ ناموس رسالت “میں بھی ذکر کئے ہیں۔ بغیر کسی حاشیہ آرائی کے من وعن نقل کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ واضح فرمائیں کہ آپ کا وہ موقف جو آپ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے وہ درست ہے یا جو آپ نے انٹرویو دیا ہے وہ درست ہے؟ سبقت لسانی، نقص فہم ہوتا رہتا ہے لیکن اہل ایمان و صاحب تقویٰ لوگوں کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ اپنی غلطی سے رجوع کر کے عنداللہ ماجور ہوتے ہیں اور امت کو فتنے سے بچاتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں:

”ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

” أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُواْ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُواْ إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُواْ أَن يَكْفُرُواْ بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلاَلاً بَعِيداً “ (النساء 60)

کیا آپ نے ان (منافقوں) کو نہیں دیکھا جو (اپنے منہ سے تو) دعویٰ کرتے ہیں کہ

صفحہ 235

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے، زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

وہ ایمان لائے اس پر جو آپ ﷺ پر اتارا گیا (یعنی قرآن پر اور ان کتب سماوی پر) جو آپ سے پہلے اتاری گئیں (لیکن) چاہتے ہیں اپنا قضیہ شیطان کی طرف (ایک شریر آدمی کعب بن اشرف کی طرف) لے جائیں حالانکہ انہیں حکم دیا جا چکا ہے اس کی بات نہ مانیں۔

اکثر مفسرین نے اس آیۂ کریمہ کی تفسیر میں ایک یہودی اور ایک بشیر نامی منافق کے درمیان جھگڑے کو بیان کیا ہے۔ یہودی نے کہا ہم اپنے اس معاملے کو حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں لے کر چلتے ہیں منافق نے اس سے انکار کیا ، کعب بن اشرف کے پاس جانے کے لئے کہا بایں سبب حضور اکرم ﷺ حق پر مبنی فیصلہ کرتے ، کوئی دنیوی غرض و لالچ پیش نظر نہ رکھتے جبکہ کعب بن اشرف بہت بڑا راشی تھا اس معاملے میں منافق جھوٹا جبکہ یہودی حق پر تھا سو اس نے تحاکم الی الرسول پر اصرار کیا تو منافق مجبوراً بادل نخواستہ یہودی کے ساتھ چل پڑا دونوں بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں حاضر ہوئے دونوں کے بیانات سن کر حضور سرور کائنات ﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ باہر نکلتے ہی منافق نے یہودی سے کہا کہ میں اس فیصلے سے راضی نہیں ہوں۔۔۔۔ چلو حضرت عمر فاروق ؓ سے فیصلہ کروائیں دونوں حضرت عمر فاروق کی خدمت میں حاضر ہوئے یہودی نے حضرت عمر فاروق ؓ کو ساری صورت حال سے آگاہ کیا کہ نبی کریم ﷺ میرے حق میں فیصلہ دے چکے ہیں مگر یہ فیصلے پر راضی نہیں حضرت عمر ؓ نے Question of Fact حقیقت حال جاننے کے لئے تصدیق کے لئے منافق سے پوچھا، ”أهكذا“ کیا واقعی حضور اکرم ﷺ فیصلہ فرما چکے ہیں۔ اس نے کہا نعم تسلیم کیا ہاں ایسا ہو چکا ہے۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے دونوں سے فرمایا:

"رويد کما حتى اخرج اليکما فدخل عمر البيت واخذ السيف واشتمل عليه ثم خرج فضرب عنق المنافق حتى برد"

(تفسير مظهری 154/2 ، تفسير کشاف 525/1)

یہیں ٹھہرے رہو یہاں تک کہ میں تمہاری طرف نکل آؤں حضرت عمر ؓ گھر تشریف لے گئے تلوار اٹھائی چادر اوڑھی پھر باہر نکلے، اس منافق کی گردن اڑا دی

صفحہ 236

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا: " هكذا اقضى بين من لم يرض بقضاء الله و قضاء رسوله "

(تفسیر مظهری 154/2)

میں اس طرح فیصلہ کرتا ہوں اس شخص کے بارے میں جو اللہ اور اسکے رسول اللہ ﷺ کے فیصلے سے راضی نہ ہو۔

یہ خبر پھیل گئی حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں پہنچی کہا گیا ، حضرت عمر فاروق ؓ نے ایک کلمہ گو مسلمان کو ناحق قتل کر دیا ہے اس موقع پر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ما كنت اظن عمر يجترئ على قتل مومن

(تفسیر کشاف 525/1)

میں گمان نہیں کرتا کہ عمر کسی مومن کے قتل کا اقدام کرے۔ حضرت عمر فاروق ؓ کے اقدام قتل کو درست قرار دیتے ہوئے اور قتل مسلم سے آپ کو بری قرار دیتے ہوئے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ ” فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجاً مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيماً “

(النساء 65)

پس (اے حبیب ﷺ آپ کے پروردگار کی قسم یہ لوگ مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپس کے ہر اختلاف میں آپ کو ( دل و جان سے ) حکم نہ بنائیں پھر جو فیصلہ آپ کر دیں اس سے کسی بھی طرح دل گیر نہ ہوں، اسے دل سے بخوشی قبول کریں۔

گویا جو حضور نبی کریم ﷺ کے فیصلے کو آخری قطعی وحتمی نہیں سمجھتا اسے دل و جان سے تسلیم نہیں کرتا وہ سرے سے ایمان دار ہی نہیں ہے اور اسے آپ ﷺ کی بے ادبی و گستاخی توہین وتنقیص اور حکم نہ ماننے کی صورت میں قتل کرنا ایک مومن کو قتل کرنا نہیں بلکہ ایک گستاخ رسول اور مرتد کو قتل کرنا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب بشیر منافق کے قرابت دار اور ورثاء بارگاہِ نبوت ﷺ میں حاضر ہوئے خون بہا کا مطالبہ کرتے ہوئے حلفاً کہنے لگے، ہم تو حضرت عمر فاروق ؓ

صفحہ 237

یہ قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

کے پاس بھلائی و احسان کے ارادے سے گئے تھے کہ وہ دونوں کے مابین صلح کرادیں جبکہ شان رسالتمآب میں گستاخی بایں صورت کہ آپ کے فیصلے سے انحراف و تمرد اور عدم تسلیم وانکار کا تو سرے سے ہمارا ارادہ اور نیت ہی نہ تھی سو ہمیں ہمارے مقتول کا خون بہا دیا جائے۔

باری تعالیٰ نے ان لوگوں کی نفسیات وصفات سے آگاہ کرتے ہوئے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا۔

أُولٰئِكَ الَّذِيْنَ يَعْلَمُ اللَّهُ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ

یہ وہ (منافق وفاسد ) لوگ ہیں کہ اللہ ان کے دلوں کی باتوں کو خوب جانتا ہے پس آپ ان سے اپنا رخ پھیر لیں۔

(النساء 63)

قاضی ثناء اللہ پانی پتی ”تفسیر مظہری“ میں مذکورہ آیہ کریمہ کی تفسیر یوں بیان کرتے ہیں:

” فاعرض عنهم اى عن قبول اعتذارهم او عن اجابتهم في مطالبة دم المقتول فان دمه هدر “

(تفسیر مظہری 156/2)

آپ ان کے عذر کو قبول کرنے یا مقتول کے خون کے مطالبے کا جواب دینے سے انکار کر دیں اسلئے کہ اس کا خون رائیگاں وضائع گیا۔

حضرت عمر فاروق ؓ کے اس اقدام قتل کو درست قرار دیتے ہوئے اور اس پر شہادت و گواہی کیلئے حضرت جبرئیل امین بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں حاضر ہوئے عرض کی ” ان عمر فرق بين الحق و الباطل“ (تفسیر مظہری، 154/2 ) یقیناً حضرت عمر نے حق و باطل کے درمیان فرق کر دیا ہے۔

اس پر خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہوئے حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت عمر کو وہ تاریخی و بے مثال لقب عطا کیا جو آپ کی وجہ پہچان بن گیا۔

” فقال النبى لعمر انت الفاروق “

( تفسیر کبیر )

حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اے عمر آج سے تم فاروق ( حق و باطل میں بڑا فرق کرنے والا ) ہوگئے۔

صفحہ 238

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

یہاں دو باتیں قابلِ توجہ ہیں ایک حضور نبی کریم ﷺ کے حکم سے کسی کافر و غیر مسلم کا انکار و اختلاف بایں صورت کہ وہ آپ کی نبوت و رسالت پر سرے سے ایمان نہ رکھتا ہے اور نہ آپ کے عطا کردہ احکام وسنن کو واجب التعمیل جانتا ہے۔ اپنے جملہ معاملات میں حکم و فیصل بھی تسلیم نہیں کرتا اب اگر ان عقائد کی بنا پر آپ کی بارگاہ اقدس میں حاضر نہیں ہوتا تو اس کا یہ عمل گستاخی و بے ادبی شمار نہ ہوگا بایں وجہ وہ شروع ہی سے گمراہی وضلالت اور کفر پر قائم ہے۔ اسکا یہ اقدام اختلاف وانکار تو ہو سکتا ہے گستاخی نہیں۔

اس کے برعکس دوسری صورت، کوئی اپنے جملہ معاملات ونزاعات میں حضور سرور کائنات کو حکم و فیصل تسلیم کرے۔ آپ کے فیصلے کو قطعی وحتمی جانے حتیٰ کہ اس کا کوئی معاملہ بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں پیش ہو وہ حاضر خدمت ہو۔ بارگاہِ نبوت سے صادر شدہ فیصلے کو اپنے مفادات کے خلاف پائے، فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر دے تو اس شخص کا یہ عمل اختلاف ہی نہیں بلکہ گستاخی و بے ادبی اور عدمِ ایمان کا آئینہ دار ہے اس طرزِ عمل سے جہاں وہ فیصلہ رسول اللہ ﷺ کی عظمت وصحت کا انکار کر رہا ہے وہاں شانِ رسالت مآب ﷺ میں بے ادبی و اہانت کا مرتکب بھی ہو رہا ہے اور تحاکم الی الرسول کی بجائے تحاکم الی الطاغوت کی طرف پناہ لے رہا ہے۔ جو صراحتاً گمراہی وضلالت اور بے ادبی و گستاخی ہے۔ اور از روئے شرع اس کے جرم کے مرتکب کا خون رائیگاں جائے گا۔ قصاص ودیت کی صورت میں خون بہا بھی نہیں دیا جائے گا۔

ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے اس شخص کو توبہ کا موقع دیئے اور نیت پوچھے بغیر بلا تاخیر قتل کر دیا سرے سے توبہ کا موقع ہی نہیں دیا، قرآن حکیم نے آپ کے اس اقدام کے صائب ہونے کی تائید کر دی اور حضور نبی کریم ﷺ نے بھی حضرت عمر فاروق کی نافذ کردہ بغیر توبہ کے وجوبی سزائے موت کو نہ صرف بحال رکھا بلکہ مقتول کے خون کو بھی باطل قرار دے دیا۔

(تحفظ ناموس رسالت صفحہ 264 تا 269)

صفحہ 239

﴿قلم ہو جو لکھتا ہے زباں بکواس بکتی ہے﴾

غور فرمائیں! حضرت عمر فاروق ؓ نے کلمہ گو کو نبی کریم ﷺ کی اجازت کے بغیر (ماورائے عدالت) قتل کر دیا۔ اور اس از خود نوٹس لینے سے پہلے نہ تو اس شخص کے خلاف کوئی فتویٰ تھا اور نہ حکم خدا و مصطفیٰ ﷺ حضرت عمر فاروق ؓ نے اپنی دانست کے مطابق اس کے اس فیصلہ نہ ماننے کے عمل کو ”گستاخی رسول“ پر محمول کیا اور از خود اسے قتل کر دیا۔ حالانکہ بظاہر اس نے نبی کریم ﷺ کے خلاف سب و شتم نہ کیا تھا لیکن چونکہ اس کے طرز عمل سے گستاخی موہوم تھی اس لئے حضرت عمر فاروق ؓ نے اسے ٹھکانے لگا دیا۔ حضرت عمر فاروق ؓ کے اس ماورائے عدالت قتل پر اللہ نے ان کی تائید میں قرآن اتارا اور اس گستاخ رسول منافق کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا گیا۔

نبی کریم ﷺ نے اس قتل پر ”قاتل“ کو سزا نہیں سنائی بلکہ حضور اکرم ﷺ خوش ہوئے اور انعاماً آپ کو ”فاروق“ کا لقب عطا فرمایا۔ اور دوسرا اس شخص نے زبان سے نبی کریم ﷺ کی توہین نہ کی تھی۔ نہ سب و شتم کیا اور نہ ہی کوئی اور توہین پر مشتمل جملہ بولا۔ صرف اس کا طرز عمل گستاخانہ تھا اس لئے حضرت عمر ؓ نے اسے گستاخی رسول پر محمول کرتے ہوئے اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔

نبی کریم ﷺ کا بحکم الٰہی حضرت عمر فاروق ؓ سے ماورائے عدالت قتل کے بعد کا سلوک یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ جب کوئی مومن شخص جذبہ حب مصطفیٰ میں کسی گستاخ رسول کو ماورائے عدالت بھی قتل کر ڈالے تو اس قتل کرنے والے کو سزائے موت نہیں ملے گی۔ اور کسی گستاخ کو ٹھکانے لگانے سے اسلام روکتا نہیں بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ نیز اگر کسی کے فعل و کردار سے گستاخی موہوم ہوتی ہو تو ایسا شخص بھی واجب القتل ہوتا ہے۔

اب ڈاکٹر صاحب انٹرویو میں فرمودہ جملوں کو ایک بار پھر پڑھیں وہ کہتے ہیں۔

”اگر بالفرض اس نے کوئی جملہ ایسا بولا جو گستاخی رسول پر منتج ہوتا ہے اگر یہ ثابت ہو جائے تو پھر بھی کسی سویلین یا فرد کو قتل کرنے کی اجازت نہیں اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا اگر وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر (قتل) کرے گا تو اس کی سزا موت ہے۔“

اور دوبارہ ڈاکٹر صاحب کی کتاب سے لئے گئے طویل اقتباس کو پڑھیں تو

صفحہ 240

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

”تضاد“ صاف ظاہر ہے۔

قلم ان کا زبان ان کی مگر پھر بھی تعجب ہے
قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

ڈاکٹر صاحب نے دانستہ یا نادانستہ تحفظ ناموس رسالت کے کاز کو نقصان پہنچایا ہے۔۔۔۔۔۔ گستاخِ رسول کی گستاخی ثابت ہونے کے بعد یہ کہنا کہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا اور اس قتل کرنے والے کو سزائے موت دی جائے گی یہ صراحتاً قرآن وسنت کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ نبی کریم ﷺ کے صحابہ کی مبارک زندگیاں ہمارے سامنے ہیں، انہوں نے خود پر لازم کر رکھا تھا کہ جیسے بھی حالات ہوں کوئی گستاخ زندہ نہ رہنا چاہیئے چنانچہ ڈاکٹر صاحب کی کتاب کے اس پہرے پر بھی غور کریں لکھتے ہیں:

حضرت عمر فاروق ؓ کا یہ ارشاد اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ تحقیق وتفتیش اور کسی خارجی قرینہ کے بعد اگر یہ امر تحقق ہوجائے کہ کوئی شخص حضور نبی کریم ﷺ کے متعلق بے ادبی و گستاخی، تنقیص وتحقیر اور توہین واستخفاف کا نہ صرف عقیدہ رکھتا ہے بلکہ گاہے بگاہے اس کا ارتکاب بھی کرتا ہے تو ایسے شخص کو بغیر توبہ کا موقع دیئے اس کا سر قلم کردیا جائے گا۔

حضرت عمر فاروق ؓ نے مہاجرین وانصار سے اس بات پر حلف لیا کہ جس شخص میں حضور اکرم ﷺ کی بیان کردہ علامات پاؤ اور تم پر یہ چیز علی وجہ الیقین متحقق بھی ہوجائے کہ یہ شخص اہانتِ رسول کا مرتکب ہوا ہے تو ایسے گستاخ کو توبہ کا موقع دیئے بغیر ان کی گردن تن سے اُڑا دو۔

(تحفظ ناموس رسالت 271 از ڈاکٹر محمد طاہر القادری)

حضرت عمر فاروق ؓ وہ عادل شخص ہیں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں ”قانون“ کا احترام کروانا آپ کا معمول تھا لیکن ناموس رسالت کے معاملہ میں وہ کس قدر سخت گیر ہیں کہ لوگوں پر یہ پابندی نہیں لگا رہے کہ اگر کسی شخص نے گستاخی کر ڈالی تو اسے میری عدالت میں پیش کرنا، گواہیاں لی جائیں گی، تزکیۃ الشہود کے عمل کے بعد میں خود ہی اس کی سزا کا فیصلہ کروں گا بلکہ آپ حلف

صفحہ 241

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

لے رہے ہیں کہ جب کسی شخص پر ثابت ہو جائے کہ اس شخص نے واقعتاً گستاخی رسول کا ارتکاب کیا ہے تو ایسے شخص کو بغیر موقع دیئے اور عدالت میں گھسیٹے اس کو موقع پر قتل کر ڈالنا۔

ڈاکٹر صاحب خود غور فرمائیں کہ! کیا کسی گستاخ کو ماورائے عدالت قتل کرنے کی اسلام اجازت دیتا ہے یا نہیں۔۔۔۔؟

نبی کریم ﷺ کے صحابہ عشق و محبت، ادب و توقیر مصطفیٰ ﷺ کے پیکر تھے ان کی زندگی کا معمول تھا کہ وہ کسی گستاخ کو زندہ نہیں چھوڑتے تھے عدالت (نبی علیہ السلام) کی اجازت کے بغیر کئی صحابہ کرام نے اپنے آقا ﷺ کے ناموس کے حملہ آوروں کو ماورائے عدالت قتل کیا، مقدمات بارگاہ رسالت میں پیش ہوئے دیکھتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ کی عدالت سے ماورائے عدالت قتل کے ان مقدمات کا کیا فیصلہ ہوا۔

گستاخ یہودی عورت کا قتل، نبوی فیصلہ اور تحریر و تقریر کا واضح تضاد!

حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ ان يهودية كانت تشتم النبي و تقع فيه فخنقها رجل حتى ماتت فابطل رسول الله دمها “

(مشکوۃ 308)

ایک یہودیہ حضور اکرم ﷺ کی بے ادبی و گستاخی اور آپ ﷺ کی شان میں توہین و تنقیص کا ارتکاب کرتی تھی، اس کی اس گستاخی کے باعث ایک صحابی ؓ نے اس عورت کا گلا گھونٹ کر اس کو قتل کر ڈالا (اس کا مقدمہ حضور ﷺ کی بارگاہ میں پہنچا) تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون رائیگاں قرار دیا۔

اس حدیث اور واقعہ کی بابت ڈاکٹر صاحب کی وضاحت ملاحظہ فرمائیں اور غور کریں کہ ڈاکٹر صاحب کے ”ویمبلے کانفرنس“ سے قبل اور بعد کی فکر اور تحریر و تقریر میں کتنا واضح فرق ہے۔ چنانچہ موصوف رقمطراز ہیں:

صفحہ 242

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

آقائے دو جہاں کی بے ادبی و گستاخی ، اہانت و تنقیص کا مرتکب خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم اس کا خون رائیگاں جائے گا۔ اس بے ادب و گستاخ کے قاتل پر قصاص و دیت اور تعزیر کچھ بھی نہ ہوگا کیونکہ وہ حداً مارا جا رہا ہے۔ یہ بات مسلمہ ہے جو حد الٰہی کے قیام سے مارا گیا اس کے خون پر قصاص و دیت کچھ بھی لازم نہیں ۔ اس کا خون باطل و رائیگاں جائے گا۔

(تحفظ ناموس رسالت ص 242)

اگلے صفحے پر واقعات حدیث کہ جن میں گستاخوں کو قتل کیا گیا تھا اس پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’ غرضیکہ پہلے دونوں کیسوں Cases میں آقائے دو جہاں ﷺ نے اسلامی ریاست کے حاکم وقت Head of The State کے کچھ افراد کو مامور کر کے اپنے گستاخوں کو قتل کروایا جبکہ آخری دو کیسوں میں صحابہ کرام نے گستاخان رسول کو قتل کیا۔ معاملہ ہر کیس میں حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا۔ آپ نے مقتولوں کی گستاخی و اہانت کے سبب ان کے خون باطل قرار دیئے یعنی ان کے قتل پر کسی قسم کا قصاص و دیت نہ لی جائیگی۔ ان کا خون رائیگاں و بے سود تصور کیا جائیگا۔‘‘

(تحفظ ناموس رسالت ص 243)

غور فرمائیں! جب گستاخ رسول کے قاتل پر قصاص و دیت اور تعزیر کچھ بھی نہیں اور اس کا خون رائیگاں اور باطل ہے اور ماورائے عدالت قتل پر رسول اللہ ﷺ کچھ مواخذہ نہیں فرماتے تو پھر یہ کہنا کہ اسلام ایسے قتل کی اجازت نہیں دیتا اور گستاخ رسول کے قاتل کو سزائے موت ہونی چاہیئے کس قدر خطرناک اور حیران کن سٹیٹمنٹ ہے نیز تقریر و تحریر میں تضاد روز روشن کی طرح ظاہر ہے۔

یونہی ڈاکٹر صاحب نے اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر گستاخ رسول کو مباح الدم قرار دیا ہے اور دین کا مبتدی طالب علم بھی اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ جو شخص مباح الدم ہو اس کے قاتل پر کوئی سزا نہیں۔ چنانچہ جناب موصوف لکھتے ہیں :

’’ جب انسان کا خون و مال محفوظ رہتا ہے وہ اس وقت تک مباح الدم نہیں ہوتا ، مگر جوں ہی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بے ادبی و گستاخی اور مخالفت و مخاصمت کا کوئی

صفحہ 243

«قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے»

اقدام کرتا ہے تو مباح الدم ہو جاتا ہے اور اپنی جان و مال اور خون کے بارے میں عدم تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے اور عجیب قسم کے خوف و وحشت میں مبتلا ہوتا ہے اس کا یہ خوف اس کو طبقہء اذلین میں شامل کر دیتا ہے پھر وہ معصوم الدم نہیں رہتا بلکہ اس کا قتل کرنا واجب ہو جاتا ہے جان و مال کی محافظت کا عہد و پیماں گستاخی و اہانت رسول ﷺ کی وجہ سے اٹھ جاتا ہے۔

(تحفظ ناموس رسالت ص 137)

غور کریں جب گستاخ کو قتل کرنا واجب ہے تو اس کے قاتل پر سزا کیسی؟؟؟

نیز ایک مقام پر رقمطراز ہیں:

جب اللہ جل شانہ، نے دنیا و آخرت میں (گستاخ رسول ﷺ ) پر لعنت فرمائی تو یہ ایسے ہی ہے جیسے صفحہء ہستی سے اسے مٹانا اور قتل کرنا ہے پس یہ بات معلوم ہوئی کہ ( شاتم رسول) مباح الدم ہے۔

(تحفظ ناموس رسالت 154)

ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:

”جو بھی کوئی فرد بشر آقائے دو جہاں ﷺ کی بارگاہ میں ایذاء و تکلیف سب و شتم، گستاخی و اہانت کا ارتکاب کرے، مباح الدم ہو جائے گا۔“

(تحفظ ناموس رسالت ص 238)

یونہی آپ لکھتے ہیں:

آقائے دو جہاں ﷺ نے اہل ایمان کو اپنے ان گستاخوں کا خون مباح قرار دیتے ہوئے بڑا واضح و صریح حکم ارشاد فرمایا: ”وہ جہاں کہیں بھی ملیں) انہیں قتل کر دو اگرچہ (وہ اپنی جان کی حفاظت کیلئے) کعبہ شریف کے پردوں سے ہی چمٹے ہوئے پاؤ۔“

(تحفظ ناموس رسالت ص 245)

جب گستاخ رسول مباح الدم ہے اور معصوم الدم نہیں ہے تو پھر غیر معصوم الدم کے قتل پر قصاص کا مطالبہ چہ معنی دارد؟ حقیقت یہ ہے کہ پروفیسر صاحب کی تحریر و تقریر میں تضاد ہے اور یہ اسی صورت میں دور ہو سکتا ہے کہ جب تحریر و تقریر میں سے کسی ایک کو غلط قرار دیا جائے۔

صفحہ 244

(قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے)

منت بھی مانی تو کیسی:

ترجمہ: عصماء بنت مروان خطمی نبی علیہ السلام کو ایذاء دیتی تھی ( گستاخی کرتی تھی ) اور اسلام میں عیب نکالتی اور نبی علیہ السلام کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتی اور (مذکورہ گستاخانہ ) اشعار (حضور ﷺ کے خلاف ) کہے ۔ جب حضرت عمیر بن عدی ؓ کو اس کے اشعار اور لوگوں کو بھڑکانے کی بابت پتہ چلا تو آپ نے یہ منت مانی کہ اے اللہ میں یہ منت مانتا ہوں کہ اگر رسول اللہ ﷺ (بخیریت ) مدینہ طیبہ لوٹ آئے تو میں اس کو ضرور قتل کروں گا ۔ رسول اللہ ﷺ ان دنوں بدر میں تھے ۔ پس جب رسول اللہ ﷺ ( بخیریت ) بدر سے واپس لوٹ آئے تو عمیر بن عدی اس عورت کے گھر ایک رات اس حال میں داخل ہوئے کہ اس عورت کے بچے اس کے ارد گرد سورہے تھے اور ان میں سے ایک بچہ اس کا دودھ پی رہا تھا ۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے ٹٹول کر محسوس کیا تو بچے کو اس کے سینے پر دودھ پیتے پایا اور اس بچے کو اس سے الگ کیا اور اپنی تلوار اس کی چھاتی میں اس طرح دبائی کہ وہ اس کی کمر سے جا نکلی ۔ پھر وہاں سے واپس نکلے یہاں تک کہ صبح کی نماز حضور ﷺ کے ساتھ مدینہ طیبہ میں ادا کی پس جب حضور ﷺ نماز سے فارغ ہوئے اور حضرت عمیر ؓ کی طرف آپ نے دیکھا تو پوچھا کہ کیا تو نے بنت مروان کو مار ڈالا ہے ۔ آپ نے جواب دیا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ایسا ہی ہے ۔ ( میں نے اسے مار ڈالا ہے ) حضرت عمیر ؓ ڈر گئے کہ اس قتل پر نبی کریم ﷺ باز پُرس فرمائیں گے ۔ چنانچہ عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا اس قتل کی وجہ سے مجھ پر کوئی شے ( سزا ) ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کے معاملے میں تو دو بکریوں کے سینگ بھی نہیں ٹکرائیں گے (یعنی کوئی باز پُرس نہیں ہوگی ) راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ الفاظ (دو بکریوں کے سینگ بھی نہیں ٹکرائیں گے ) پہلی دفعہ رسول اللہ ﷺ سے سنے ۔ حضرت عمیر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کی طرف توجہ فرمائی اور ارشاد فرمایا اگر تم پسند کرتے ہو کہ ایسے شخص کی طرف دیکھو کہ جس نے پیٹھ پیچھے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مدد کی ہے تو عمیر بن عدی کو دیکھ لو۔ یہ سن کر حضرت عمر فاروق ؓ بولے اس اندھے کو دیکھو جو اللہ کی اطاعت میں کتنا متشدد ہے پس نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کو

(قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے)

اندھا نہ کہو بلکہ یہی تو بصارت والا ہے۔ لوٹ رہے تھے تو اس مقتولہ کے بیٹوں کو عمیر ؓ کو مدینہ طیبہ سے واپس لوٹتا دیکھ قتل کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا ہاں، اُس قدرت میں میری جان ہے جو کچھ اس تو میں تمہیں اپنی اس تلوار سے قتل کروں یہ وہ دن تھا کہ جس دن اسلام کی حقانیت

الكتاب :مغازی

طرزِ استدلال : "خشى عمير"

حضرت عمیر ؓ ڈر گئے کہ کے الفاظ پر غور فرمائیں، ماورائے حضور اکرم ﷺ اس قتل پر باز پُرس فرم دلیل ہے کہ اس عورت کو قتل کرنے قبل واضح کوئی حکم یا اجازت نہ لی ڈرنے کا کیا مطلب؟ اور یہ سوال کہ هل على فى ذالك شى يا رسول رسول اللہ ﷺ کا واضح ہمارے موقف کی بھر پور تائید کرتا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مددگار البصیر‘‘ کہ اے عمر اندھا نہ کہ قتل کی تائید کی جارہی ہے اور ال محسوس کر سکتے ہیں۔ فہو منبط

صفحہ 245

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

اندھا نہ کہو بلکہ یہی تو بصارت والا ہے۔ جب حضرت عمیر ؓ رسول اللہ ﷺ سے اٹھ کر واپس لوٹ رہے تھے تو اس مقتولہ کے بیٹوں کو لوگوں کے ساتھ اسے دفن کرتے پایا۔ پس وہ لوگ حضرت عمیر ؓ کو مدینہ طیبہ سے واپس لوٹتا دیکھ کر ان کے پاس آ گئے اور پوچھا: اے عمیر کیا تم نے اس کو قتل کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا ہاں، آؤ مجھے پکڑ لو اور مجھے نہ چھوڑنا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جو کچھ اس نے کہا تھا (جو گستاخی کی تھی ) اگر تم سارے بھی وہی بات کہو تو میں تمہیں اپنی اس تلوار سے قتل کروں گا خود مرجاؤں گا یا تم سب کو مار ڈالوں گا۔ راوی کہتے ہیں یہ وہ دن تھا کہ جس دن اسلام کی حقانیت ظاہر ہوئی۔

الكتاب :مغازي ،المؤلف:الواقدی ،(ج 1/ ص 161) دارالکتب العلمية بيروت

طرز استدلال: ”خشی عمیر ان یکون افتئات علی النبی بقتلها “

حضرت عمیر ؓ ڈر گئے کہ حضور اکرم ﷺ اس عورت کے قتل پر باز پرس فرمائیں گے۔ کے الفاظ پر غور فرمائیں، ماورائے عدالت ملعونہ کو قتل کرنے پر حضرت عمیر ؓ ڈر گئے تھے کہ حضور اکرم ﷺ اس قتل پر باز پرس فرمائیں گے۔ حضرت عمیر ؓ کا اس طرح ڈرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس عورت کو قتل کرنے کے سلسلے میں عدالت (نبی کریم ﷺ) کی طرف سے اس سے قبل واضح کوئی حکم یا اجازت نہ لی گئی تھی اگر پہلے سے اجازت حاصل ہوتی یا کوئی حکم ہوتا تو پھر ڈرنے کا کیا مطلب؟ اور یہ سوال کرنے کا کیا مقصد کہ

هل علی في ذالك شي یا رسول الله یا رسول اللہ کیا اس عورت کے قتل کرنے پر مجھ پر کوئی سزا ہے؟

رسول اللہ ﷺ کا واضح فیصلہ کہ اس قتل پر دو بکریوں کے سینگ تک نہ ٹکرائیں گے ۔ ہمارے مؤقف کی بھر پور تائید کرتا ہے۔ اور پھر حضور ﷺ کا حضرت عمیر بن عدی ؓ کو پیٹھ پیچھے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مددگار قرار دینا اور عمر فاروق ؓ کو ” لا تقل الاعمى ولكنه البصير “ کہ اے عمر اندھا نہ کہو یہ آنکھوں والا ہے“ کے جملوں سے واضح ہورہا ہے کہ صراحتاً اس قتل کی تائید کی جارہی ہے اور ان جملوں میں محبت و چاہت کی کس قدر گہرائی ہے یہ اہل محبت ہی محسوس کر سکتے ہیں۔ فیومئذ ظهر الاسلام کا جملہ قابل غور بھی ہے اور ہمارا مؤید بھی۔

صفحہ 246

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

معلوم ہوا کسی گستاخ ، ملعون کو ماورائے عدالت قتل کرنے کی اسلام ممانعت نہیں کرتا بلکہ اس طرح کے قتل کے بعد اسلام کی حقانیت ظاہر ہوتی ہے اور اسلام کا غلبہ ظاہر ہوتا ہے۔ اور ایسا شخص اللہ کے دین کا باغی نہیں مددگار ہوتا ہے اور کائنات کی سب سے بڑی عدالت سے اسے سزا نہیں ملتی بلکہ ایسا عاشق جزاء کا مستحق ٹھہرتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کی سٹیٹمنٹ پر ایک دفعہ پھر نظر ڈالیں اور غور کریں کہ یہ صاحب دینی معاملات اور بالخصوص ناموسِ رسالت کے معاملے میں کس قدر بے احتیاطی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ اور ان کے متعلقین ومتوسلین جو مرزا قادیانی کے متعلقین کے خلاف تحریر وتقریر میں اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ جب مرزا قادیانی کا جھوٹ اس کی تحریروں سے ظاہر ہے اس کے اباطیل کے ظاہر ہونے کے باوجود آخر مرزا قادیانی کا انکار کیوں نہیں کر دیتے؟ ان حضرات پر مجھے بھی اسی طرح کی حیرت ہے کہ آپ بھی آخر کلمہ تو ہمارے رسول اللہ ﷺ کا پڑھتے ہیں کسی عالم دین یا پیر کا تو نہیں پھر ناموسِ رسالت کے معاملے میں مداھنت اور خاموشی کا راز ...........؟

ایک اور عاشق کی ادائے فرزانگی اور سید عالم ﷺ کا فیصلہ

ترجمہ: حضرت سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک نابینا صحابی ؓ کی ام ولد ( لونڈی ) تھی جو حضور ﷺ کو گالی دیتی تھی وہ صحابی ؓ اس کو منع فرماتے وہ نہ رُکتی اسے جھڑکتے لیکن وہ نہ مانتی ایک رات وہ حضور ﷺ کے بارے میں جب بُرائی کے کلمات کہنے لگی تو اس نابینا صحابی ؓ نے تلوار لی، اس کے پیٹ میں رکھی اور اس پر زور ڈالا اور اسے قتل کر دیا۔ اس کے پاؤں میں بچہ گرا اور خون آلود ہو گیا۔ پس جب صبح کے وقت حضور ﷺ کے سامنے یہ واقعہ ذکر کیا گیا تو حضور ﷺ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ میں اللہ کی قسم دیتا ہوں اس شخص کو جس نے یہ کام کیا ہے جس پر میرا کوئی حق ہے وہ کھڑا ہو جائے چنانچہ وہ نابینا صحابی ؓ کھڑے ہو گئے اور لوگوں کو چیرتے ہوئے اور لرزہ براندام حضور ﷺ کے سامنے آ کر بیٹھ گئے اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں اس لونڈی کا مالک ہوں۔ یہ آپ کو گالیاں دیا کرتی اور بُرے کلمات سے یاد کرتی تھی میں

صفحہ 247

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

اُسے روکتا نہ رکتی اُسے جھڑکتا باز نہ آتی ۔ اور اس سے موتیوں کی مانند میرے دو بچے ہیں اور یہ میری رفیقہ حیات تھی گذشتہ رات جب اس نے آپ کو گالیاں دینا اور بُرا بھلا کہنا شروع کیا تو میں نے تلوار اٹھائی اس کو اس کے پیٹ پر رکھ کر دبایا اور اسے قتل کر دیا۔ پس اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم گواہ ہو جاؤ اس (گستاخہ) کا خون رائیگاں چلا گیا ہے۔

الكتاب : سنن ابی داود (ج 2 / ص 243) ایچ ایم سعید کمپنی

یہاں پر بھی عشق و محبت کا اظہار کرنے والا حضور ﷺ کا عاشق ظاہری بصارت سے محروم ہے۔ اور بغیر عدالت کی اجازت کے گستاخہ کو ٹھکانے لگا رہا ہے اور رحمت عالم ﷺ کا اشهدوا ان دمها هدر تم گواہ رہو اس کا خون رائیگاں چلا گیا۔ کے جملے ارشاد فرما کر گستاخان رسول کے خون کو رائیگاں قرار دے کر قانونِ شریعت کی بناء فرما رہے ہیں کہ گستاخان رسول کو قتل کرنے والا ” سزائے موت“ کا مستحق نہیں بلکہ ایسا شخص انعام کا حقدار ہے۔

ڈاکٹر صاحب سے گذارش ہے کہ کیا حدیث پاک کے واضح ارشاد اور سید عالم ﷺ کے فیصلے کے باوجود بھی آپ کا موقف تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ اور کیا واضح طور پر آپ کا مؤقف سنتِ مصطفیٰ کے خلاف نہیں ہے؟

ایک ملعونہ عورت کا قتل اور سید الرسل ﷺ کا مبارک فیصلہ

ترجمہ: حضرت عمیر بن امیہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کی ایک مشرکہ بہن تھی جب وہ نبی علیہ السلام کی طرف جاتے تو وہ حضور ﷺ کے حوالے سے ان کو اذیت دیتی اور حضور ﷺ کو گالیاں دیتی ایک دن یہ تلوار لے کر آئے اور اس کو قتل کر دیا اس کے بیٹے کھڑے ہوئے اور چیخنے لگے اور کہنے لگے ہمیں پتہ ہے کہ اس کو کس نے قتل کیا ہے ہماری ماں مار ڈالی گئی جبکہ یہاں ایسے اور لوگ بھی ہیں کہ جن کے ماں باپ مشرک ہیں۔ جب حضرت عمیر ؓ کو خطرہ لاحق ہوا کہ وہ اپنی ماں کے بدلے کسی اور (بے گناہ) کو (قاتل سمجھ کر) قتل کر دیں گے تو وہ نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور انہیں اس قتل کی خبر دی پس سرکار ﷺ نے پوچھا کیا تو نے اپنی بہن کو مار ڈالا؟ آپ نے

صفحہ 248

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

عرض کی جی ہاں، سرکار ﷺ نے پھر پوچھا کہ کیوں؟ عرض کی اس لئے کہ وہ آپ کے معاملے میں مجھے اذیت دیتی تھی (آپ کی گستاخی کرتی تھی) پس نبی علیہ السلام نے اس کے بیٹوں کو بلا بھیجا اور ان سے ان کی ماں کے قاتل کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے حضرت عمیر ؓ کے علاوہ کسی اور کا نام لیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس قتل کے بارے میں بتایا اور اس مقتولہ کا خون ضائع قرار دیا۔ مقتولہ کے بیٹوں نے جب یہ سنا تو کہنے لگے ہم نے سنا اور اطاعت کی۔

(المعجم الکبیر ، ج 17 / ص 64)

اس حدیث میں بھی واضح موجود ہے کہ حضور کے غلام حضرت عمیر بن امیہ ؓ نے اپنی سگی بہن کو ماورائے عدالت قتل کیا تو حضور اکرم ﷺ نے قاتل کے قتل کو غیر اسلامی قرار دے کر اسے سزائے موت نہیں سنائی بلکہ سید عالم نے اس ملعونہ کا خون رائیگاں قرار دے دیا۔

معلوم ہوا کہ جو شخص کسی محقق گستاخ کو ٹھکانے لگا دے اس پر اسے شرعاً کوئی سزا نہیں دی جاسکتی نہ قصاص نہ دیت اور نہ ہی تعزیر بلکہ مقتول ملعون کا خون رائیگاں چلا جائے گا۔ اور دوسرا اس حدیث پاک سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر کسی مرتد و گستاخ کے ورثاء ایماندار لوگ ہیں تو جب ان پر یہ بات عیاں ہو جائے کہ ان کے رشتہ دار مقتول کا قتل اس کی گستاخی کے باعث ہی کیا گیا ہے تو ایسی صورت میں انہیں چاہئے کہ اس نبوی فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کریں اور قاتل مجاہد کے خلاف کیس کرنے اور اسے سزائے موت دلوانے کے بجائے سمعنا واطعنا کہتے ہوئے کیس سے دست بردار ہو جائیں یہ ان کے اور ملک وقوم کے بھلے میں ہے۔

اللہ کی جماعت کے کارکن

گستاخان رسول کو ٹھکانے لگانے والوں کو اللہ تعالیٰ اپنی جماعت کا کارکن قرار دیتا ہے چنانچہ سورۃ مجادلہ کی آخری آیت میں ارشاد ہوتا ہے۔

ترجمہ: تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں کہ وہ ایسے لوگوں سے محبت کرتے پھریں کہ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ ہوں یا بیٹے یا بھائی یا قریبی رشتہ دار۔ یہی لوگ ہیں کہ جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان لکھ دیا اور

صفحہ 249

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

ان کی مدد فرمائی ہے اپنی طرف کی روح کے ساتھ ۔ اور وہ ان کو داخل کرے گا باغات میں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ۔ یہی تو اللہ کی جماعت کے لوگ ہیں آگاہ رہو کہ اللہ کی جماعت کامیاب ہے۔ (المجادلہ 22)

اس آیت کا شان نزول مفسرین کرام نے یہ بیان کیا ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے نبی کریم ﷺ کی مخالفت کرنے والے اپنے قریبی رشتہ داروں کو قتل کر دیا تھا۔ جن میں حضرت مصعب بن عمیر ؓ نے اپنے سگے بھائی عبداللہ بن عمیر کو قتل کیا ، حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ؓ جو کہ عشرہ مبشرہ میں ہیں ، نے اپنے والد جراح کو قتل کیا۔ اسد الغابہ ، جلد 4 ، میں ہے کہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ ۔ ۔ ۔ ۔

" انی سمعت ابی یقول فیک قبیحاً فقتلته "

یا رسول اللہ میں نے اپنے باپ کو سنا کہ وہ آپ کے بارے میں برا بول رہا تھا (گستاخی کر رہا تھا) تو میں نے اسے قتل کر دیا۔ چنانچہ جب سرکار ﷺ نے یہ سنا تو آپ ﷺ نے مواخذہ نہیں فرمایا کہ اے صحابی تم عشرہ مبشرہ میں سے ہو تمہیں والد کی عظمت کا علم نہیں ؟ والد کو تو اف کہنا بھی ناجائز ہے بلکہ حضور ﷺ نے اپنے باپ کو ماورائے عدالت قتل کرنے والے صحابی پر کوئی گرفت نہ فرمائی بلکہ فلم یشق ذالک علیہ سرکار مدینہ ﷺ پر یہ بات ذرا بھی شاق نہ گزری ۔ امام نووی نے یہی روایت اپنی کتاب المجموع میں ذکر فرمائی ہے وہاں حدیث کے الفاظ ہیں و لم ینکرہ علیہ حضور ﷺ نے اپنے اس صحابی پر کوئی نکیر نہ فرمائی (یعنی خون کو رائیگاں قرار دیا) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے لوگوں کو حزب اللہ ، اللہ کی جماعت قرار دیا گیا ۔

ڈاکٹر صاحب خود غور فرمالیں جنہیں وہ قاتل اور سزائے موت کے مستحق قرار دے رہے ہیں اللہ انہیں اپنی جماعت کے کارکن قرار دے رہا ہے چنانچہ اللہ کی جماعت سے ٹکر اچھی بات نہیں ہوتی ۔

صفحہ 250

﴿ قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے ﴾

قلم اور زبان کے واضح تضادات:

اپنے انٹرویو میں تو ڈاکٹر صاحب ارشاد فرماتے ہیں کہ:

اسلام کسی سویلین یا فرد کو قتل کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے کر گستاخ کو قتل کر ڈالے۔۔۔۔

جبکہ اپنی کتاب میں اسکے بالکل برعکس کچھ یوں رقمطراز ہیں:

توہین و گستاخی رسول جرم عظیم ہے جس کی سزا دنیا میں صرف اور صرف قتل ہی ہے حضور سرور کائنات نے بذات خود اپنے گستاخوں کے قتل کا اہل ایمان کو حکم دیا کہ یہ جب اور جہاں تمہیں مل جائیں ان کا قصہ تمام کر دو۔ بے ادبی و گستاخی رسول پر انہیں ابدی نیند سلا کر واصل جہنم کر دو۔

(تحفظ ناموس رسالت 256)

غور فرمائیں! ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ حضور ﷺ نے تمام اہل ایمان کو حکم دے رکھا ہے کہ گستاخ جہاں اور جب ملے اسے قتل کر دو۔ تو جب کوئی مومن کسی گستاخ کو نبی ﷺ کے حکم پر قتل کرے گا تو اسکا یہ فعل غیر اسلامی کیسے کہلائے گا؟ یہ تو عین اسلام ہے کیونکہ وہ نبی ﷺ کے حکم کو بجا لا رہا ہے پھر نبی ﷺ کے حکم کو بجا لانے والا سزائے موت کا مستحق کیوں کر؟ چنانچہ ڈاکٹر صاحب ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:

جو شخص تعظیم رسول سے منحرف ہو کر کسی دوسری روش و طریق پر چلے تو امت پر لازم ہے کہ ایسے گستاخ و بد بخت کو صفحہ ہستی سے مٹا دے یہاں تک کہ اس کا نام و نشان باقی نہ رہے۔ یہ حرماں نصیب گستاخی و بے ادبی کے عمل کے باعث کل دین کی بنیاد اور عمارت منہدم کرنے کی سعی لاحاصل کر رہا ہے اس جرم عظیم کے ارتکاب کی وجہ سے مستحق عتاب اور اس لائق ہے کہ اس کی گردن تن سے جدا کر دی جائے اور پھر ہمیشہ کیلئے اسے دوزخ کا ایندھن بنا دیا جائے۔

(تحفظ ناموس رسالت 44)

موصوف واضح طور پر گستاخ کو ٹھکانے لگانے کیلئے پوری امت کی ذمہ داری بیان فرما رہے ہیں کیا یہ واضح طور پر گستاخ کو ماورائے عدالت قتل کرنے کا اشتعال نہیں ہے؟

صفحہ 251

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

سلمان رشدی کے قتل کا فتویٰ اور موقف کی وضاحت:

سلمان رشدی نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ کی توہین کا ارتکاب کیا تو اہل مغرب نے اسے بچانے کے لئے اسے اپنے ہاں پناہ دے ڈالی اس پر ایران کے شیعہ رہنما خمینی صاحب نے اس کے قتل کا فتویٰ دیا اور اس کے سر کی قیمت 30 لاکھ ڈالر مقرر کی۔ اس قتل کے فتوے کی تائید ڈاکٹر صاحب کچھ یوں فرماتے ہیں:

”ہر مسلمان اس دریدہ دھن کے قتل کے درپے ہے اور رہے گا اور ہم اس کے قتل کے فتوے کے حامی ہیں اور مرتے دم تک رہیں گے ہمارے نزدیک جو کوئی بھی سرور کون و مکان کی عزت وحرمت کے خلاف زبان درازی کرے وہ واجب القتل ہی ہے۔ مختصر یہ کہ وہ امت جس کی غیرت وحمیت نے اپنے نبی کی شان اقدس میں گستاخی و بے ادبی، توہین وتحقیر اور استخفاف وتنقیص کے مرتکب گستاخ کا زندہ رہنا گوارا کر لیا اللہ کی عزت کی قسم خدا کی غیرت اس امت کا حمیت وغیرت اور عزت کے ساتھ جینا گوارا نہیں کرے گی۔

(تحفظ ناموس رسالت ص 361)

جناب والا: جب کسی گستاخ کو ماورائے عدالت قتل کی اسلام میں اجازت ہی نہیں ہے تو پھر ہر مسلمان کے قتل کر ڈالنے کے فتوے کی حمایت کا کیا مطلب؟ کیا آپ نے ایک غیر اسلامی فتوے کی حمایت کر ڈالی تھی؟ کیا آپ کی اس تحریر سے قانون کو ہاتھ میں لے کر ماورائے عدالت گستاخ کو قتل کرنے کی تحریض نہیں دلائی گئی؟ اگر نہیں تو پھر کیا صاف ظاہر نہیں کہ آپ کی انٹرویو میں دی گئی موجودہ سٹیٹمنٹ غیر اسلامی ہے۔ اور پھر ڈاکٹر صاحب سے دست بستہ عرض ہے کہ خمینی صاحب کے فتوے کی تائید اور ہزاروں علمائے اہل سنت کے فتوے کی مخالفت کا باعث کیا ہے؟ سلمان رشدی بھی مرتد تھا اور سلمان تاثیر بھی اپنے قول و کردار کے باعث مرتد ہو چکا تھا۔ رشدی کو ”مغرب“ نے شلٹر فراہم کر رکھا تھا اور گورنر کو اس کے گورنری کے عہدے اور انگریزی قانون نے۔ البتہ خمینی صاحب اور علمائے اہل سنت کے فتوے میں ”ڈالروں“ کا فرق ضرور ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ نبی علیہ السلام کے صحابہ کی تربیت ہی یہی تھی کہ گستاخ رسول کو جینے کا

PDF 252

(قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے)

موقع نہیں ملنا چاہیئے ۔ ماورائے عدالت ہو یا بحکم عدالت ، اس کا خاتمہ ضروری ہے چنانچہ اس حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے موصوف اپنی اسی کتاب میں دوسرے مقام پر رقمطراز ہیں:

جو شخص تنقیص و اہانت پر مشتمل الفاظ عمداً حضور ﷺ کی شان اقدس میں استعمال کرتا ہے تو وہ اس فعل کے باعث کافر ہو جاتا ہے اور سزائے موت کا مستحق ۔

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے ۔

" قال المومنون بعد هذه الايت من سمعتموه يقولها فاضربوه عنقه "

صحابہ کرام نے اس آیت کریمہ ( لا تقولوا راعنا ) کے نازل ہونے کے بعد یہ کہا کہ جس کسی کو حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی و اہانت کا یہ کلمہ کہتے ہوئے سنو تو اس کی گردن اڑا دو ۔ گویا صحابہ کرام نے اس آیت مقدسہ کے نزول کے بعد یہ عقیدہ راسخ کر لیا کہ کوئی فرد بشر حضور نبی کریم ﷺ کی اہانت پر مشتمل کوئی کلمہ زبان سے نکالے تو اسے قتل کر دیا جائے کیونکہ ایسا بے ادب و گستاخ اس سرزمین پر مزید جینے کا کوئی حق نہیں رکھتا ہے ۔

(تحفظ ناموس رسالت ص 105)

جب کسی کو ماورائے عدالت ٹھکانے لگانے کی اسلام اجازت نہیں دیتا تو پھر صحابہ کرام کے عہد کرنے کا کیا مطلب؟ معلوم ہوا گستاخ رسول کو ماورائے عدالت بھی قتل کرنا غیر اسلامی طرز عمل نہیں ہے بلکہ سنت صحابہ کرام ہے ۔ یہ بات بجا ہے کہ ہمارے ملکی قانون میں توہین رسالت کی سزا ”موت“ موجود ہے ۔ لہٰذا ہمیں ایسے گستاخ شخص کو عدالت کے حوالے کرنا چاہیئے لیکن یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا صحابہ کرام کے دور میں گستاخ کی سزائے موت کا قانون موجود نہ تھا ؟ پھر ایسے لوگوں کو از خود قتل کرنے کے متعلق عہد کرنے کا کیا معنی ؟

ماورائے عدالت قتل اور حضرت عمر فاروق ؓ کا فیصلہ

اگر تاریخ اسلامی کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ جب کبھی بھی کسی گستاخ نے نبی علیہ السلام کی توہین کرتے ہوئے سر اٹھایا عاشقان مصطفیٰ نے اس کا کام تمام کر دیا ۔ اگر ایسے گستاخ کو اسلامی سلطنت کی عدالت میں پیش کیا گیا تو عدالت نے اس کا سر قلم کروایا

(قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے)

اور اگر کسی عاشق رسول نے ایسے گستاخ ہو گئی کہ اس قتل کا محرک صرف اور صرف کبھی بھی سزائے موت نہیں دی بلکہ اس ماورائے عدالت قتل اور اس پر عدالت

" امام شہاب الدین محمد بن چند بچے یتیمی لکڑیوں سے کھیل رہے تھا ۔ دوران کھیل اچانک گیند اس پا گیند مانگنے لگے تو اس نے گیند دینے سألتک بحق محمد الا و گیند ہمیں واپس کر دو ۔

اس ملعون نے گیند دینے کے میں گستاخی کا مرتکب ہوا۔ یہ سنتے ہی پادری پر چڑھ دوڑے اور اس کو مار ملعون مر نہ گیا ۔ یہ مقدمہ عدالت میں بڑی فتوحات اور قلعوں کے ملنے پـ کہ آپ خوش ہوئے ۔ ( آپ نے بلکہ ) آپ نے فرمایا ۔ الان عز آپ مقدمہ لے کر حاضر ہونے والـ

" ان اطفالاً صغاراً شتم نبی بیشک چھوٹے بچے تھے ان کے ساتـ انہیں اس پادری پر غصہ آگیا اور انـ

صفحہ 253

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

اور اگر کسی عاشق رسول نے ایسے گستاخ کو ماورائے عدالت قتل کر دیا اور عدالت پر یہ بات واضح ہو گئی کہ اس قتل کا محرک صرف اور صرف توہین رسالت ہے تو اسلامی عدالت نے ایسے مجاہدوں کو کبھی بھی سزائے موت نہیں دی بلکہ ان کے اس اقدام کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اسی طرح کے ایک ماورائے عدالت قتل اور اس پر عدالت اسلامیہ کے فیصلے کو ملاحظہ فرمائیں:

”امام شہاب الدین محمد بن احمد الابشھی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ بحرین میں چند بچے ٹیڑھی لکڑیوں سے کھیل رہے تھے اور بحرین کے پادریوں کا سردار ( اسقف ) بھی بیٹھا ہوا تھا۔ دوران کھیل اچانک گیند اس کے سینے پر جالگی تو اس نے گیند اپنے پاس رکھ لی بچے اس سے گیند مانگنے لگے تو اس نے گیند دینے سے انکار کر دیا۔ بچوں میں سے ایک بچے نے اسے کہا۔ سألتك بحق محمد الا رددتها علينا. تمہیں آقا کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا واسطہ گیند ہمیں واپس کر دو۔

اس ملعون نے گیند دینے سے انکار کر دیا اور ساتھ ہی رسول اکرم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کا مرتکب ہوا۔ یہ سنتے ہی بچے اپنی کھیلنے والی لکڑیاں (ہاکی کے مشابہ ) اٹھا کر اس ملعون پادری پر چڑھ دوڑے اور اس کو مارنا شروع کر دیا اور اس وقت تک اسے نہ چھوڑا جب تک کہ وہ ملعون مر نہ گیا۔ یہ مقدمہ عدالت فاروقی میں پیش کیا گیا تو یہ کیس سن کر حضرت عمر فاروق ؓ بڑی بڑی فتوحات اور غنیمتوں کے ملنے پر اتنے خوش کبھی نہ ہوئے جتنا اس پادری کے مارے جانے کا سن کر آپ خوش ہوئے۔ ( آپ نے اس ماورائے عدالت قتل پر قاتلوں کو سزائے موت نہ سنائی بلکہ ) آپ نے فرمایا۔ الان عز الاسلام ۔ یعنی آج اسلام غالب آ گیا ،معزز ہو گیا ،اسکے بعد آپ مقدمہ لے کر حاضر ہونے والے عیسائیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا۔

” ان اطفالاً صغاراً شتم نبيهم فغضبوله وانتصروا واهدر دم الاسقف“ بیشک چھوٹے بچے تھے ان کے سامنے ان کے نبی علیہ السلام کے متعلق گندی زبان استعمال کی گئی تو انہیں اس پادری پر غصہ آ گیا اور انہوں نے اپنے نبی علیہ السلام سے وفاداری کا ثبوت دے دیا۔

صفحہ 254

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

چنانچہ حضرت عمر فاروق ؓ نے اس پادری کا خون رائیگاں قرار دے دیا۔‘‘

(المستطرف فی کل فن مستظرف صفحہ 530 باب 75)

یہاں فاروقی فیصلہ آفتابِ نیم روز کی طرح واضح پیغام دے رہا ہے کہ جب کسی گستاخ رسول کی گستاخی ظاہر ہو جائے تو اسلام ایسے شخص کو قتل کرنے سے منع نہیں کرتا بلکہ اس طرح کے قتل سے اسلام کی عظمت کا ظہور ہوتا ہے۔ اور گستاخ رسول کے قاتل کو سزائے موت نہیں ہے۔

بچوں پر حد نہیں لگائی جا سکتی پھر !!!

یہاں یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ حضرت فاروق اعظم ؓ نے ان بچوں کو اس لئے سزا نہیں دی کہ بچوں پر حد کا نفاذ نہیں ہوسکتا جواباً عرض ہے کہ اس روایت میں سے ’’الآن عز الاسلام‘‘ کا جملہ ہمارا مستدل ہے اور اس جملے سے قبل حضرت فاروق اعظم ؓ کا بے بہا خوش ہونا اور بعد ازاں پادری کے خون کو رائیگاں قرار دینا ہمارے مؤقف پر دلیل ہے اگر ماورائے عدالت کسی گستاخ کو قتل کرنا ناپسندیدہ امر ہوتا تو حضرت عمر فاروق ؓ خوش ہونے کے بجائے ان بچوں پر غصہ کرتے اور مقتول کے ورثاء کے لئے دیت کی ادائیگی کا حکم دیتے۔ اور آنحضرت ﷺ ان بچوں کے اس عمل کو نبی علیہ السلام کی نصرت اور وفاداری ہرگز قرار نہ دیتے۔

صحابی رسول ﷺ کا جذبہ محبت

علامہ ابن تیمیہ نے ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے عرض کی گئی کہ فلاں راہب رسول اللہ ﷺ کی شان میں توہین کرتا ہے تو آپ ؓ نے فرمایا کہ اگر میں اس کو سنتا تو ضرور قتل کر دیتا علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں:

وعلی ھذا یحمل قول ابن عمر ؓ فی الراھب الذی قیل لہ انہ یسب النبی فقال لو سمعتہ لقتلتہ

(الصارم المسلول ص 162)

حضرت عبداللہ بن عمر کا ایک گستاخ رسول راہب کے بارے میں یہ کہنا اور اپنے عزم کا اظہار کرنا کہ اگر میں اس کو توہین کرتے سنتا تو ضرور اس کو قتل کر دیتا اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی شخص کسی

صفحہ 255

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

گستاخ کو ماورائے عدالت قتل کر ڈالے تو یہ خلاف شریعت نہیں ہے اور اسلام اس کی اجازت دیتا ہے اگر اسلام اس بات کی اجازت نہ دیتا ہوتا تو ایک صحابی رسول ﷺ اس طرح کی خلاف شریعت بات پر کبھی عزم کا اظہار نہ فرماتے۔

قانون کا احترام ضروری ہے تاہم !!!

فی الحقیقت اسلام کی روح تو یہی ہے کہ گستاخ رسول و مرتد کو موقع پر ہی ٹھکانے لگا دیا جائے البتہ اگر کوئی شخص اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے گستاخ کو عدالت میں لے جائے اور اسے یقین ہو کہ عدالت اس گستاخ کو قرار واقعی سزا دے گی تو ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ اس گستاخ کو عدالت کے حوالے کرے تا کہ عدالت اپنا کام کرے تاہم اگر کوئی شخص جذبات عشق سے مغلوب ہو کر ملعون گستاخ کو موقع پر قتل کر ڈالے تو اس گستاخ کو ٹھکانے لگانے والے مجاہد پر شرعاً نہ کوئی حد ہے اور نہ ہی دیت و قید۔

پاکستان کے آئین میں دفعہ 295-C موجود ہے جس کا مطلب ہے کہ توہین رسالت کی سزا صرف اور صرف موت ہے اگر کسی شخص کے سامنے کوئی شخص گستاخی رسول کا ارتکاب کرتا ہے تو چونکہ ہمارے ملک میں قانونی طور پر ایسے شخص کے لئے سزائے موت مقرر ہے اور قانون کا احترام ہر شہری کی ذمہ داری ہے لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اس شخص کو عدالت کے سپرد کر دیا جائے تاہم مخصوص حالات میں اگر کوئی عاشق رسول اپنے جذبات پر قابو نہ رکھتے ہوئے ایسے شخص کو قتل ہی کر دیتا ہے اور یہ ثابت بھی ہو جاتا ہے کہ یہ قتل واقعتاً گستاخی کے باعث ہوا ہے تو اسلامی نقطۂ نگاہ سے اس گستاخ رسول کے قتل کے بدلے میں اس مجاہد پر کوئی قصاص ہے اور نہ ہی دیت و تعزیر۔ البتہ اگر تحقیق و تفتیش سے یہ بات ثابت ہو جائے کہ قاتل نے یہ قتل توہین رسالت کے بجائے کسی اور مقصد یا دشمنی کے تحت کیا ہے تو بلاشبہ ایسے قاتل کو سزا دی جائے گی۔

غیرت مند چیف جسٹس اور جذبہ وفاداری رسول ﷺ

یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ جب قانون، عدالتیں اور حکومتیں اپنے فرائض منصبی

صفحہ 256

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

میں سستی کا مظاہرہ کرتی ہیں تو ایسی صورت میں بعض اوقات عاشقان مصطفیٰ گستاخان رسول کو اپنے ہاتھوں سے سزائیں دینا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں تا کہ کہیں یہ ملعون حیلے بہانے بنا کر عدالت سے چھوٹ نہ جائیں یا پھر بے دین حکمران اپنے وضعی ،غیر اسلامی قوانین کی آڑ میں ایسے ملعونوں کو معاف نہ کر دیں۔

امام شمس الدین محمد بن احمد الذہبی متوفی 748 ھ نے اسی طرح کے ایک عاشق رسول کا واقعہ اپنی مشہور تصنیف ”سیر اعلام النبلاء“ میں ذکر کیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ: منصور ابو طاہر اسماعیل بن قائم کی اچھائیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے امام محمد بن ابی المنظور انصاری کو نہروان کا قاضی مقرر کیا امام محمد بن ابی المنظور کبار محدثین میں سے تھے ان کی ملاقات حضرت اسماعیل قاضی اور حضرت حارث بن ابی اسامہ سے ثابت ہے امام محمد بن ابی المنظور کو عہدہ قضاء قبول کرنے کی پیشکش ہوئی تو آپ نے عہدہ قضاء قبول کرنے کیلئے دو شرائط عائد کیں ۔ ”ان لا اخذ رزقاً و لا ارکب دابة“ میں ماہانہ وظیفہ، تنخواہ نہ لوں گا اور حکومتی سواری پر سوار نہ ہوں گا۔ حاکم وقت نے رعایہ کے مفاد کے پیش نظر دونوں شرائط قبول کرتے ہوئے انہیں عہدہ قضاء پر فائز کر دیا۔ آپ کی عدالت میں ایک یہودی کو لایا گیا جس نے نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی تھی۔ قاضی صاحب نے اس یہودی کو منہ کے بل گرایا اور اتنا مارا کہ وہ واصل جہنم ہوگا۔ قاضی صاحب نے اس کو از خود مارنے کی یہ وجہ بتائی کہ اگر میں اس کے قتل کا حکم صادر کر دیتا تو مجھے ڈر تھا کہ حکومت اس فیصلے پر عمل درآمد کرنے کے بجائے اس گستاخ کو کہیں رہا نہ کر دے۔

(سیر اعلام النبلاء جلد 10 صفحہ 396 طبع بیروت)

ایک جلیل القدر محدث وقاضی اس خطرے کے پیش نظر کہ کہیں یہ گستاخ رسول چھوٹ نہ جائے گواہوں پر جرح اور باقی قانونی تقاضے پورے کرنے سے پہلے اسے اپنے ہاتھوں سے قتل کرنا مناسب سمجھتے ہیں حالانکہ قاضی و چیف جسٹس کا کام محض فیصلہ کرنا ہے اس پر عملدرآمد کروانا ” انتظامیہ“ کی ذمہ داری ہے۔ تمام قانونی تقاضے پورے کرنے سے قبل از خود ایک چیف جسٹس کا ایک گستاخ کو قتل کرنا کیا ”قانون شکنی“ کہلائے گا یا پھر ۔ ۔ ۔ ۔ جذبہ وفاداری رسول ؟

صفحہ 257

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے﴾

چیلنج:

ڈاکٹر صاحب اور ان کے متبعین مقلد ہیں یا غیر مقلد؟ اگر غیر مقلد ہیں تو غیر مقلدین کا دعویٰ ہے کہ وہ ڈائریکٹ رسول اللہ ﷺ کی حدیث پر عمل کرتے ہیں۔ لہٰذا ڈاکٹر صاحب اپنے مؤقف پر کوئی ایک حدیث مبارکہ ایسی پیش فرمائیں کہ جہاں کسی عاشق نے گستاخ و مرتد کو ماورائے عدالت قتل کیا ہو تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے خلاف فیصلہ صادر فرماتے ہوئے اس مجاہد کو سزائے موت دی ہو یا دیت کا فیصلہ صادر فرمایا ہو یا کوئی ایسی روایت پیش فرمائیں کہ جس میں خلفائے راشدین میں سے کسی خلیفہ راشد نے کسی مرتد و گستاخ کو قتل کرنے والے مجاہد کے خلاف وہ فیصلہ دیا ہو جو ڈاکٹر صاحب نے اپنے انٹرویو میں موقف پیش کیا ہے۔ اور اگر ڈاکٹر صاحب مقلد ہیں تو پھر ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک امام کا مختار مذہب ذکر فرمائیں کہ جس نے کہا ہو کہ کسی ثابت شدہ گستاخ رسول و مرتد کو ماورائے عدالت قتل کرنے پر سزائے موت یا دیت لازم آتی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ڈاکٹر صاحب اپنے خلاف شریعت موقف سے رجوع کریں اور اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کریں۔ اور وہ اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ وہ امت میں افتراق اور انتشار کا باعث بنے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ائمہ اربعہ کے علاوہ فقہ جعفریہ کے ہاں بھی مرتد و گستاخ کو ماورائے عدالت قتل کرنے والے کی سزا نہیں ہے اگر جناب کا میلان طبعی فقہ جعفریہ کی طرف ہے تو اس حقیقت کو بھی کسی طور پر نظر انداز نہ فرمائیں کہ ”فقہ جعفریہ“ میں تو گستاخ رسول کے حوالے سے اور بھی زیادہ سخت موقف اپنایا گیا ہے۔

جب کہ اللہ اور اسکے رسول اور رسول اللہ ﷺ کے خلفاء کے بے شمار فیصلے (جن میں سے چند ایک مذکور ہوئے) موجود ہیں کہ جہاں رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہ کرام نے گستاخان رسول کو ماورائے عدالت قتل کرنے والوں کو انعام و اکرام سے نوازا ان کی حوصلہ افزائی فرمائی اور مقتولین کے خون کو رائیگاں قرار دیا قاتل پر قصاص و دیت کچھ بھی لاگو نہ کیا۔

صفحہ 258

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

مصطفائی فیصلہ ”کافر کے بدلے مومن قتل نہ ہوگا“

بخاری، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے مختلف اسناد کے ساتھ حدیث پاک کو ذکر کیا ہے اور یہ مرفوع حدیث ہے نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: ”لا يقتل مومن بکافر“ کسی مومن کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ یعنی اگر کسی مومن نے کسی عام وجہ سے بھی کسی کافر کو قتل کر ڈالا ( جبکہ وہ ذمی نہ ہو ) تو اسکے بدلے میں قصاصاً اس مومن شخص کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ غور کریں ! جب عام کافر کے قاتل پر قصاص نہیں ہے تو مرتد جو کہ کافر سے بھی بدتر ہے اور پھر ایسا مرتد کہ جس نے مومنوں کے نبی ﷺ کی توہین کی ہو اور اس توہین کے باعث کسی عاشق نے اپنے نبی پاک ﷺ کی ناموس کی خاطر اس کو قتل کر ڈالا ہو تو اس مجاہد پر قصاص کس طرح لازم آسکتا ہے؟

گستاخ رسول ، مرتد کے قتل پر قاتل ( مجاہد ) کو سزائے موت نہیں۔

﴿ فقہ اسلامی سے دلائل ﴾

جو شخص مرتد ، گستاخ ہو جائے وہ مباح الدم ہو جاتا ہے ایسے شخص کو اگر کوئی شخص قضائے قاضی، عدالتی فیصلے سے پہلے ہی از خود قتل کر ڈالے تو قاتل پر کوئی قصاص یا دیت نہیں ہے کیونکہ قصاص یا دیت آدمی کی عزت وحرمت کی وجہ سے لازم آتے ہیں جب مرتد، واجب القتل کی کوئی عزت و حرمت نہیں تو اس کو قتل کرنے کی وجہ سے کوئی قصاص یا دیت بھی لازم نہ آئے گی۔ (یعنی اس قاتل کو سزائے موت نہیں دی جاسکتی )

اس مسئلہ پر ائمہ اربعہ کا اجماع واتفاق ہے۔ چنانچہ فقہائے اربعہ کے موقف پر چند حوالہ جات پیش کئے جاتے ہیں۔ جن میں اختصار کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔

﴿ فقہ حنفی ﴾

حوالہ 1: شمس الائمہ امام ابو بکر محمد بن احمد بن ابی سہل السرخسی فقہ حنفی میں بڑے مرتبے اور مقام کے حامل بزرگ ہیں آپ اس مسئلہ میں رقم طراز ہیں:

صفحہ 259

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے﴾

" و من قتل حلال الدم لا شئ عليه كمن قتل مرتدا " جس شخص نے حلال الدم کو قتل کیا اس پر کوئی سزا نہیں جیسا کہ کوئی شخص مرتد کو قتل کر ڈالے۔

( المبسوط 121/6 )

ایک اور مقام پر امام مذکور لکھتے ہیں : والجناية الى المرتد هدر لان اعتبار الجناية عليه لعصمة نفسه وقد انعدمت العصمة بردته فكانت الجناية عليه هدرا

( المبسوط 212/4 )

مرتد پر جنایت باطل ہے کیونکہ جنایت کا اعتبار جان کی عصمت کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس کی عصمت اسکے ارتداد کی وجہ سے معدوم ہو گئی ۔ پس اس پر جنایت باطل ہے ۔ ثابت ہوا مرتد مباح الدم ہے اور جو حلال الدم کو قتل کر ڈالے اس پر کوئی سزا نہیں ہے ۔

حوالہ 2: فقہ حنفی کی مشہور کتاب ” قدوری “ میں امام احمد بن محمد قدوری فرماتے ہیں : فان قتله قاتل قبل عرض الاسلام عليه كره له ذالك ولا شئ على القاتل

( قدوری شریف ص 301 )

اگر مرتد کو کسی نے اسلام پیش کرنے سے پہلے ہی قتل کر دیا تو اگر چہ ایسا کرنا مکروہ ہے تاہم قاتل پر کوئی سزا نہیں ہے ۔

حوالہ 3: ھدایہ شریف باب احکام المرتدین میں حضرت شیخ الاسلام برہان الدین ابوالحسن علی بن ابو بکر المرغینانی متوفی 593 فرماتے ہیں : فان قتله قاتل قبل عرض الاسلام عليه كره ولا شيء على القاتل ومعنى الكراهية ههنا ترك المستحب

( هدايه شريف ج 1 ص 600 )

یعنی اگر کسی شخص نے مرتد کو قتل کر دیا اس پر اسلام پیش کرنے سے پہلے تو اگر چہ ایسا کرنا مکروہ ہے تاہم قاتل پر کوئی سزا نہیں ہے ( نہ قصاص نہ دیت ) کیونکہ اس کے کفر نے اس کے قتل کو مباح کر ڈالا ہے۔ یہاں کراہیت سے مراد ترک مستحب ہے۔ (نہ کہ تحریمی )

غور فرمائیں : یہاں عام مرتد کا حکم بیان ہوا ہے تو جب ارتداد عامہ کے مرتکب کو قتل کرنے والے پر

صفحہ 260

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

کوئی سزا نہیں ہے تو ارتداد خاصہ جو نبی ﷺ کی گستاخی کر کے کی گئی ہو اس کے قاتل پر تو بطریق اولیٰ کوئی سزا نہیں ہو سکتی۔

فان قتله قاتل قبل عرض الاسلام عليه او قطع عضوا منه كره له ذالك ولا شئ على القاتل و القاطع لان الكفر مبيح و كل جناية على المرتد هدر و معنى الكراهة ههنا ترك المستحب فهى كراهة تنزيهة

( فتح القدير 36-5)

پس اگر کسی شخص نے مرتد کو اسلام پیش کرنے سے پہلے قتل کر ڈالا یا اس کا کوئی عضو کاٹ دیا اگر چہ اس کے لئے ایسا کرنا مکروہ ہے تاہم قاتل اور عضو کاٹنے والے پر کوئی سزا نہیں ہے اس لئے کہ کفر خون کو مباح کرنے والا ہے اور مرتد پر ہر قسم کی جنایت باطل ہے اور مکروہ سے مراد اس جگہ مکروہ تنزیہی ہے۔

المشہور ”ملک العلماء“ متوفی 587ھ فرماتے ہیں:

اذا جرح مسلماً ثم ارتد المجروح فمات وهو مرتد انه يهدر دمه لان الجرح السابق انقلب قتلا بالسراية وقد تبدل المحل حكما بالردة

(بدائع الصنائع فى ترتيب الشرائع 348/16)

جب کسی نے کسی مسلمان کو زخمی کیا پھر وہ زخمی مسلمان مرتد ہو گیا اور اسی حالت ارتداد میں وہ مر گیا تو اس کا خون ضائع ہو گیا۔ اس لئے کہ پہلا زخم قتل بن گیا۔ اب سرایت کرنے اور مجروح کے مرتد ہونے کی وجہ سے اس کا حکم بدل گیا۔

ان مسلما لو جرح مسلما فارتد المجروح والعياذ بالله ثم مات من الجرح سقط القصاص

( تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق 273/7)

صفحہ 261

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے﴾

اگر کسی مسلمان نے مسلمان کو زخمی کر دیا پھر وہ زخمی مسلمان معاذ اللہ مرتد ہو گیا اور اسی زخم کے باعث مر گیا تو قاتل سے قصاص ساقط ہو جائیگا ۔ ( سزائے موت نہیں دی جائیگی )

حوالہ 8: شیخ الاسلام ابوبکر بن علی حداد یمنی مرتد کے قتل پر قصاص اور دیت نہ ہونے کی بابت ارشاد فرماتے ہیں:

لان القتل مستحق علیہ بکفرہ والکفر مبیح الدم

( الجوہرہ النیرہ 358/2)

( مرتد کی دیت اور قصاص اس لئے نہیں ) کیونکہ وہ اپنے کفر کے باعث قتل کا مستحق ہو چکا ہے اور کفر خون کو حلال کرنے والا ہے۔

حوالہ 9: امام حسن بن منصور بن محمود اوزجندی اس سلسلے میں رقمطراز ہیں:

وردة الرجل تبطل عصمة نفسہ حتی لو قتلہ قاتل بغیر اذن امر القاضی عمدا او خطا او بغیر امر السلطان او تلف عضوا من اعضائہ لا شئ علیہ

( فتاوی قاضی خان 118/5)

کسی آدمی کا مرتد ہونا اس کی جان کی عصمت و حفاظت کو باطل کر دیتا ہے اگر اس مرتد کو کسی قاتل نے قاضی کی اجازت کے بغیر جان بوجھ کر یا غلطی سے یا سلطان کی اجازت کے بغیر قتل کر ڈالا یا اس کے اعضاء میں کسی عضو کو کاٹ ضائع کر دیا تو اس شخص پر کوئی سزا نہیں ہے۔

تنبیہ: گورنر پنجاب مرتد ہو چکا تھا امام اوزجندی کی وضاحت سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ کسی شخص کا ارتداد اس کی جان کی حفاظت و عصمت کو باطل کر دیتا ہے لہٰذا یہ کہنا کہ ممتاز حسین قادری پر گورنر کی حفاظت کرنا لازم تھا یہ بات شرعاً غلط ہے ۔ کسی مومن پر مرتد کی حفاظت ضروری نہیں بلکہ اس کو ٹھکانے لگانا ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ ممتاز حسین نے سرکارِ دوعالم ﷺ کی نوکری کا حق ادا کر دیا اور حلال الدم شخص کو اس کے کئے کی سزا دے ڈالی ۔

حوالہ 10: امام ابوبکر احمد بن علی رازی الجصاص اس سلسلے میں فرماتے ہیں:

کذالک لو قتل مرتدا لم یجب القود

( احکام القرآن 174/1)

اسی طرح اگر کسی مومن نے مرتد کو قتل کر ڈالا تو قصاص واجب نہ ہوگا۔

صفحہ 262

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

ایک دوسرے مقام پر امام موصوف فرماتے ہیں: فقال ابو حنيفة و ابويوسف و محمد و زفر فى الاصل لا يقتل المرتد حتى يستتاب و من قتل مرتداً قبل ان يستتاب فلا ضمان عليه

( احکام القرآن 358/2)

امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف اور امام محمد اور امام زفر رحمہم اللہ نے فرمایا کہ اصل میں مرتد کو توبہ طلب کرنے سے پہلے قتل نہیں کیا جاتا اور اگر کسی شخص نے مرتد کو توبہ طلب کرنے سے پہلے بھی قتل کر ڈالا تو اس پر کوئی تاوان نہیں۔

حوالہ 11 تا 14: فتاویٰ ہندیہ میں ہے: وان قتله قاتل قبل عرض الاسلام او قطع عضوا منه كره ذلك كراهة التنزيه هكذا في فتح القدير فلا ضمان عليه

( فتاوی ہندیہ 354/2)

اگر مرتد کو کسی قاتل نے اسلام پیش کرنے سے پہلے قتل کر ڈالا یا اس کا کوئی عضو کاٹ ڈالا تو ایسا کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔ فتح القدیر میں ایسا ہی ہے پس اس قاتل پر کوئی تاوان نہیں کسی مرتد کے قاتل پر کوئی قصاص ، دیت لازم نہیں ہے اسی طرح کی عبارات بحرالرائق میں علامہ زین الدین بن ابراہیم المعروف بابن نجیم ، کنز الدقائق میں امام حافظ الدین عبداللہ بن احمد نسفی ، فتاوی تاتارخانیہ میں علامہ عالم بن علاء دہلوی ، نے بھی ذکر کی ہیں بلکہ درمختار میں علامہ حصکفی نے تو یہاں تک فرمایا ہے:

لا قود بقتل مسلم مسلماً ظنه مشرکا بین الصفين لما مر انه من الخطاء بل عليه كفارة و دية قالوا هذا اذا اختلطوا فان كان فى صف المشركين لا يجب شئ لسقوط عصمته

( درمختار مع ردالمحتار 172/10)

اگر کسی مسلمان نے کسی مسلمان کو مشرک سمجھ کر قتل کر ڈالا بایں طور کہ وہ دونوں لشکروں ( اسلامی اور کفار ) کے درمیان کھڑا تھا تو اس قتل کے باعث اس قاتل پر قصاص نہیں بلکہ کفارہ و دیت ہے اور اگر وہ مسلمان کفار کی صف میں کھڑا تھا تو ایسی حالت میں قاتل پر کوئی شئی لازم نہیں کیونکہ اس کے خون کی عصمت ساقط ہو گئی۔

صفحہ 263
﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

غور فرمائیں: اگر کسی مسلمان کو کافر سمجھ کر کسی مسلمان نے قتل کر ڈالا تو اس پر قصاص لازم نہیں تو اگر کسی گستاخ کی گستاخی ثابت ہونے کے بعد کسی شخص نے اس مرتد کو قتل کر ڈالا تو اس کو سزائے موت کیسے ہو سکتی ہے؟

حوالہ 15: یونہی امام شمس الدین محمد خراسانی قہستانی فرماتے ہیں:

(وقتله) ای المرتد (قبل العرض) ای عرض الاسلام علیہ (ترک ندب) کما مر (بلا ضمان) ودية علی القاتل لان الارتداد یبیح القتل

(جامع الرموز 583/2)

مرتد پر اسلام پیش کرنے سے پہلے اسے قتل کرنا ترک مستحب ہے جیسا کہ گذر چکا ہے اس مرتد کے قاتل پر تاوان ہے اور نہ دیت کیونکہ ارتداد مرتد کے قتل کو مباح کر دیتا ہے۔

﴿فقہ شافعی﴾

حوالہ 16: فقہ شافعی میں بھی یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ اگر کوئی مومن شخص کسی مرتد کو قتل کر ڈالے تو اس قاتل پر شرعاً کوئی سزا نہیں ہے نہ قصاص نہ دیت اور نہ ہی قید۔

چنانچہ فقہ شافعی کی مشہور کتاب ”مختصر المزنی“ میں ہے:

ومن قتل مرتدا قبل ان استتاب او جرحہ فاسلم ثم مات من الجرح فلاقود ولا دیت

(مختصر المزنی 275/1)

جس شخص نے مرتد کو اس کے توبہ کرنے سے پہلے پہلے قتل کر دیا یا زخمی کر دیا کہ وہ مرتد اسلام لے آیا پھر اس زخم کی وجہ سے مر گیا تو قاتل یا زخمی کرنے والے پر نہ قصاص ہے اور نہ ہی دیت۔

حوالہ 17: فقہ شافعی کی مشہور کتاب ”الام“ میں ہے:

” لو قتل المسلم مرتدا لم یکن علیہ شیء “

(کتاب الام 66/6)

اگر کوئی مسلمان کسی مرتد کو قتل کر ڈالے اس قاتل پر کوئی سزا نہیں ہے۔

حوالہ 18: علامہ ماوردی ”حاوی الکبیر“ میں فرماتے ہیں:

قال الشافعیؒ ومن قتل مرتداً قبل ان یستتاب او جرحہ فاسلم ثم مات عن

صفحہ 264

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

الجرح فلا قود ولا دية

( الحاوی الکبیر 355/13 )

امام شافعی ؒ نے فرمایا ہے کہ جس کسی شخص نے کسی مرتد کو توبہ طلب کرنے سے پہلے قتل کر ڈالا یا اس کو زخمی کیا پھر وہ مسلمان ہو گیا پھر وہ اسی زخم کی وجہ سے مر گیا تو اس مرتد کو قتل کرنے والے پر نہ قصاص ہے اور نہ ہی دیت۔

حوالہ 19: علامہ نووی رقمطراز ہیں:

قلنا فيمن قتل مرتداً بغير اذن الامام انه يصير مستوفياً لقتل الردة وان اساء فى الافتيات على الامام

( المجموع شرح المهذب للنووى 434/18 )

ہم نے کہا اس شخص کے بارے میں کہ جس نے امام کی اجازت کے بغیر مرتد کو قتل کیا اس لئے کہ وہ ارتداد کے قتل کو پورا کرنے والا ہے گو کہ اس نے امام کے فیصلے سے پہل کر ڈالی (یعنی ایسے شخص پر نہ قصاص ہے اور نہ ہی دیت )

﴿ فقہ حنبلی ﴾

فقہ حنفی اور شافعی کی طرح فقہ حنبلی میں بھی کسی مرتد و گستاخ کو قتل کرنے والے مومن پر کوئی قصاص و دیت نہیں ہے۔

حوالہ 20: فقہ حنبلی کی مشہور کتاب میں ہے۔

لايجب القصاص بقتل حربى ولا مرتد ولا زان محصن وان كان القاتل ذمياً وهو المذهب وعليه الاصحاب

( الانصاف باب شرط القصاص 462/3 )

یعنی کسی حربی ، مرتد ، اور شادی شدہ زانی کے قتل کرنے کی وجہ سے قاتل پر قصاص لازم نہیں ہے اگرچہ قاتل ذمی ہی کیوں نہ ہو یہی فقہ حنبلی کا مختار مذہب ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔

حوالہ 21-22: اسی طرح ایک اور مقام پر ہے:

فكل من قتل مرتداً او زانياً محصناً ولو قبل توبته عند حاكم ، والمراد قبل التوبة وقاله صاحب الرعایه فهدر

( الانصاف 251/15 )

صفحہ 265

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

ہر وہ شخص جس نے کسی مرتد یا شادی شدہ زانی کو قتل کیا اگرچہ وہ حاکم کے سامنے توبہ سے پہلے ہی کا ہو تو صاحب الرعایہ نے کہا ہے کہ اس کا خون رائیگاں چلا جائے گا۔ اسی طرح کی عبارت الفروع لابن المفلح جلد 10 ص 425 پر بھی ہے۔

حوالہ 23: فقہ حنبلی کی ایک مشہور کتاب ”شرح کبیر“ میں ہے۔ و كذالك المرتد لا يجب بقتله قصاص ولا دية ولا كفارة وان قتله ذمى

( الشرح الكبير باب شروط القصاص 51/9)

یعنی مرتد کا حکم بھی یہی ہے کہ اس کو قتل کرنے کے باعث قاتل پر نہ قصاص ہے اور نہ دیت اور نہ کفارہ۔ اگرچہ اس کو کوئی ذمی ہی کیوں نہ قتل کرڈالے۔

حوالہ 24: اسی طرح ”منار السبیل“ میں ہے۔ الثانى عصمة المقتول بان لا يكون مهدر الدم فلا كفارة ولا دية على قاتل حربى او مرتد او زان محصن

( منارالسبيل 218/2)

یعنی قصاص اور دیت لازم آنے کی دوسری شرط یہ ہے کہ مقتول مہدر الدم نہ ہو یعنی خون رائیگاں کیا ہوا نہ ہو پس حربی، مرتد اور شادی شدہ زانی کے قاتل پر نہ تو قصاص ہے اور نہ ہی کفارہ۔

﴿فقہ مالکی﴾

باقی فقہاء کی طرح فقہ مالکی میں بھی کسی مرتد کے ماورائے عدالت قتل کرنے پر قاتل پر نہ قصاص ہے اور نہ ہی دیت۔

حوالہ 25: چنانچہ فقہ مالکی کی مشہور کتاب منح الجلیل میں ہے: ليس على من قتل مرتدا من مسلم او ذمى عمدا قصاص من الشبهة کسی بھی مسلمان اور ذمی کہ جس نے کسی مرتد کو عمداً قتل کیا اس پر شبہ کی وجہ سے قصاص نہیں ہے۔

( منح الجليل شرح مختصر الخليل ج 19 ص 379)

صفحہ 266

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

﴿فقہ جعفریہ وامامیہ﴾

فقہاء اربعہ کی طرح فقہ جعفریہ وامامیہ کے نزدیک بھی مرتد و گستاخ کے قاتل پر قضائے قاضی سے قبل یا بعد کوئی قصاص ودیت نہیں بلکہ فقہ جعفریہ کے نزدیک تو اگر کسی شخص کے سامنے کوئی شخص نعوذ باللہ گستاخی کرتا ہے تو اس کو موقع پر قتل کرنا واجب ہے۔

حوالہ 26: چنانچہ فقہ جعفریہ کی معتمد کتاب میں ہے:

أجمع الفقهاء الامامية قولاً واحداً على ان من سب الرسول الأعظم (ص) نعوذ بالله يجب على من يقتله ما لم يخف الضرر على نفسه ، أو غيره من أهل الايمان

فقہاء امامیہ کا اس ایک ہی قول پر اجماع ہے کہ جو شخص نعوذ باللہ رسول اعظم ﷺ کو گالی دے سننے والے پر اس کا قتل واجب ہے اگر اسے اپنی جان کے نقصان کا یا اہل ایمان میں سے کسی کی جان کے نقصان کا خوف نہ ہو۔ فقہ الامام جعفر الصادق مؤلف محمد جواد مغنیا (ج6 ص288)

حوالہ 27: فقد سئل الامام الصادق (ع) عن ذلك ؟ قال: يقتله الأدنى الأدنى.. أى ممن سمعه قبل ان يُرفع الى الامام .

حضرت امام صادق علیہ السلام سے گستاخ کے قتل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا اسے ادنیٰ قتل کرے گا حاکم وقت کے پاس لے جانے سے پہلے اور ادنیٰ ۔۔ وہ ہے جو اس سے توہین کے کلمات سنے۔ فقہ الامام جعفر الصادق مؤلف محمد جواد مغنیا (ج6 ص289)

حوالہ 28: وقال رجل للامام أبى جعفر الصادق (ع): أرأيت لو ان رجلاً سب النبى (ص) ، أيقتل ؟ فقال له: ان لم تخف على نفسك فاقتله

ایک شخص نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا آپ کیا فرماتے ہیں کہ کوئی شخص نبی ﷺ کو گالی دے ڈالے تو کیا اسے قتل کر دیا جائے گا؟ تو آپ نے اسے جواب دیا اگر تمہیں اپنی جان پر خوف نہ ہو تو اسے فوراً قتل کر دو۔ فقہ الامام جعفر الصادق مؤلف محمد جواد مغنیا (ج6 ص289)

صفحہ 267

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے﴾

فقہ اسلامی کے چاروں فقہاء اور فقہ جعفریہ سے بھی جب ثابت ہو چکا کہ کسی مرتد کو قتل کرنے والے پر کوئی قصاص و سزا نہیں ہے اور یہاں تک کہ اگر اس مرتد کو کوئی ذمی قتل کر ڈالے تو اس پر بھی شرعاً کوئی سزا نہیں ہے جب ذمی پر شرعاً سزا نہیں ہے تو پھر کسی مرتد و گستاخ کو اگر کوئی عاشق رسول جذبہ وفاداری رسول میں ٹھکانے لگا ڈالے تو اس پر سزا کیسے لاگو ہو سکتی ہے۔ چنانچہ ثابت ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کی سٹیٹمنٹ فقہائے کرام کے بھی خلاف ہے۔

لطیفہ : ڈاکٹر صاحب کے متعدد بیانات سننے کو ملے ہیں کہ جہاں آپ فقہاء اربعہ کے اقوال ذکر کر کے کہتے ہیں کہ فقہاء اربعہ کا موقف تو یہ ہے تاہم میرا موقف اس معاملے میں یہ ہے۔۔۔۔ گویا ڈاکٹر صاحب خود کو درجہ اجتہاد پر فائز شخصیت سمجھتے ہیں اور اپنے خطبوں میں زور دے دے کر اور لفظوں کو دبا دبا کر بولتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس مسئلے میں میں یہ کہتا ہوں ۔ گویا حضرت کے انداز بیان سے زیر بحث مسئلہ میں بھی ہم یہی سمجھ سکتے ہیں کہ زیر بحث مسئلہ فقہ حنفی ، فقہ شافعی ، فقہ مالکی و حنبلی کے خلاف سہی مگر ”فقہ طاہریہ“ کے مطابق درست ہے۔

لہٰذا یہ مسئلہ روز روشن کی طرح عیاں ہوا کہ انٹرویو دیتے وقت ڈاکٹر صاحب کی زبان بری طرح لڑکھڑائی اور انہوں نے سراسر خلاف شریعت سٹیٹمنٹ دی ہے جس سے رجوع اور اللہ سے معافی مانگنے کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔

کیا ہر صحابی از خود عدالت کا اختیار رکھتا ہے؟

ڈاکٹر صاحب کے ایک شاگرد کے سامنے جب بات رکھی کہ آخر صحابہ کرام نے ماورائے عدالت گستاخوں کو قتل کیا تو ان پر قصاص ، دیت و کفارہ کچھ لازم نہ کیا گیا بلکہ مقتول ملعون کا خون رائیگاں قرار دیا گیا تو ڈاکٹر صاحب کی یہ سٹیٹمنٹ کیسے درست ہو سکتی ہے؟ عذر گناہ بدتر از گناہ کے مصداق آنجناب نے یہ جواب دیا کہ : ہر صحابی ؓ اپنے اندر حاکم کا درجہ رکھتا ہے اور ہیڈ آف سٹیٹ اور عدالت کا درجہ رکھتا ہے۔ لہٰذا صحابی ؓ تو کسی کو قتل کر سکتا ہے البتہ صحابی ؓ کے علاوہ کوئی ایسا نہیں کر سکتا اس جواب کی فنی حیثیت تو اہل علم کے سامنے عیاں ہے۔ تاہم عوام کی تشفی کے

صفحہ 268

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

لئے آنجناب سے عرض ہے کہ نبی علیہ السلام کی موجودگی میں ”حاکم“ ”عدالت“ اور ہیڈ آف سٹیٹ کون تھا؟ خود نبی علیہ السلام یا صحابی ؓ ؟ اگر ہر صحابی اپنے اندر حاکم کا درجہ رکھتا ہے تو پھر مختلف واقعات میں مقتولین کے ورثاء کا نبی علیہ السلام کے دربار میں حاضر ہو کر قصاص اور دیت طلب کرنے کا اور رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ان کے خون کو باطل قرار دینے کا کیا مطلب؟ جب ہر صحابی ؓ خود حاکم اور ہیڈ آف سٹیٹ ہے تو پھر حضور ﷺ اور خلفائے راشدین کے دور میں ”عدالت“ کے قیام کا کیا فائدہ؟ حالانکہ صحابہ کرام کا آپس میں یا کسی یہودی عیسائی کے ساتھ بھی پانی کی نالی یا معمولی لین دین کا معاملہ بھی ہوتا تو اس کا فیصلہ ”عدالت“ میں ہی ہوتا۔ ریاست مدینہ کے بنیادی ڈھانچے کے قیام کے بعد کیا حضور ﷺ کے دور میں یا خلفائے راشدین کے دور میں ماورائے عدالت از خود کبھی بھی کسی صحابی ؓ نے از خود کسی شرابی کو کوڑے مارے۔۔؟ کیا کبھی کسی قذف کے مجرم کو ماورائے عدالت حد ماری گئی۔۔؟

کیا کبھی بھی کسی صحابی ؓ نے ماورائے عدالت کسی چور کے ہاتھ کاٹے۔۔؟ کیا کبھی کسی صحابی ؓ نے قصاصاً کسی شخص کی ماورائے عدالت انگلی تک کاٹی۔۔؟ کیا کبھی کسی صحابی ؓ نے کسی زانی کو از خود کوڑے لگائے۔۔۔؟ اگر ہر صحابی حاکم کا درجہ رکھتا ہے اور ہیڈ آف سٹیٹ ہے تو پھر مذکورہ معاملات کو عدالت کے سپرد کیوں کیا جاتا رہا۔۔۔؟ ہر صحابی ؓ خود ہی فیصلہ کر لیتا۔ جب ہر صحابی ؓ حاکم وقت اور ہیڈ آف سٹیٹ نہیں ہے تو پھر از خود ثابت ہو جاتا ہے کہ گستاخان رسول کو صحابہ کرام یا تابعین عظام نے ماورائے عدالت فقط جذبات عشق رسالت میں ہی قتل کیا ہے۔ جب وجہ قتل عدالت (نبی علیہ السلام اور خلفائے راشدین) پر واضح ہو گئی کہ قتل کا محرک توہین رسالت کا جرم تھا تو عدالت کی طرف سے ماورائے عدالت قتل پر مقتول کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا گیا۔ اگر بالفرض صحابہ ؓ کے بعد کسی گستاخ رسول کو ماورائے عدالت ٹھکانے لگانا شرعاً درست نہیں اور قاتل کی سزا موت مقرر ہے تو پھر مرتد اور گستاخ کے قصاص ودیت کے معاملے پر فقہائے اربعہ کے اجماع کا کیا مطلب۔۔؟

اور پھر ڈاکٹر صاحب کی کتاب کا یہ پہرہ دوبارہ پڑھیں وہ لکھتے ہیں:

صفحہ 269

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

غرضیکہ پہلے دونوں کیسوں CASES میں آقائے دو جہاں نے اسلامی ریاست کے حاکم ہیڈ آف دی سٹیٹ کی حیثیت سے کچھ افراد کو معمور کر کے اپنے گستاخوں کو قتل کروایا جب کہ آخری دو کیسوں میں صحابہ کرام نے گستاخان رسول کو قتل کیا معاملہ ہر کیس میں حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا آپ نے مقتولوں کی گستاخی و اہانت کے سبب ان کے خون کو باطل قرار دیا۔

(تحفظ ناموس رسالت ص 243)

اگر ہر صحابی ؓ اپنے اندر حاکم کا درجہ رکھتا ہے تو پھر کیسز کو حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں لے جانے کا کیا معنی۔۔؟ اور پھر جب رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں کیسز لے جائے گئے تو اس وقت صحابی ؓ کی حیثیت کیا تھی اور وہ کس حیثیت سے کیس لے کر عدالت میں پہنچے؟ میری ڈاکٹر صاحب کے شاگردوں سے گذارش ہے کہ وہ ڈاکٹر صاحب کی خلافِ شریعت باتوں کا جواب دیتے ہوئے بالکل دین کا حلیہ ہی نہ بگاڑیں کیونکہ یہ سراسر ”پرویزی“ سٹائل ہے۔

کیا سلمان تاثیر کافر و مرتد نہیں؟؟؟

سٹیٹمنٹ گستاخی رسول اور اہانت کی تعریف میں نہیں آتی۔“

آنجناب کا یہ بیان بھی خلافِ حقیقت اور انگلی کے پیچھے سورج کو چھپانا ہے ہماری دیانت دارانہ تحقیق اور تفتیش سے یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ ڈاکٹر صاحب اور سلمان تاثیر فیملی کے دیرینہ مراسم ہیں بلکہ سلمان تاثیر کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کی بڑے عرصے سے دوستی چلی آ رہی ہے۔ اس سلسلے میں لاہور میں رہنے والے اور منہاج القرآن کے پرانے ممبرز حضرات کو ذرا بھی انکار نہیں ہے سلمان تاثیر اور ڈاکٹر صاحب میں قدرِ مشترک ”میاں برادران“ کی مخالفت تھی اس نقطے نے ایک انتہا پسند سیکولر اور ”شیخ الاسلام“ کو دوستی کی مضبوط رسی میں باندھ دیا۔

جتھے دل لگ جاوے اوتھے عیب نظر نہ آوندا

کا مصداق ڈاکٹر صاحب کو سلمان تاثیر کے اندر توہین قرآن و سنت اور توہین رسالت

صفحہ 270

270 ﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾ جیسا کھلا عیب نظر نہ آیا حالانکہ گزشتہ سطور میں پڑھا جا چکا ہے کہ جہاں ذات مصطفیٰ ﷺ کا معاملہ پیش آجائے وہاں ایمان والے دوستی تو دور کی بات اپنے سگے ماں باپ ، بھائی ، بیٹے ، بہن کو بھی خاطر میں نہیں لاتے ۔

سلمان تاثیر سے علماء اور مسند درس و ارشاد پر بیٹھے ہوئے اہل اللہ کو ذاتی طور پر کیا دشمنی ہو سکتی ہے تاہم وہ جس مسند پر بیٹھے ہوتے ہیں وہاں مداہنت ، مصلحت کوشی اور چشم پوشی کے حیلے نہیں چلتے۔ حقیقت یہ ہے کہ سلمان تاثیر اپنے قول وفعل، گفتار و کردار کے باعث کافر و مرتد ہو چکا تھا اور اسکی توہین اور گستاخی ”بادی النظر“ میں عیاں تھی ۔ راقم نے تفتیش وتحقیق نہ ہونے کے باعث ممتاز قادری کے عاشقانہ اقدام سے قبل گورنر کیخلاف کوئی فتویٰ ارتداد نہ دیا تھا تاہم بعد ازاں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز ، اس کے گستاخانہ طرز عمل اور اسکی اولاد کے اسکے نظریات کے بارے میں انکشافات کو بڑی باریک بینی اور گہری تحقیق سے دیکھنے کے بعد اس بات میں ذرا برابر بھی شک نہیں رہتا کہ گورنر اہانت رسول و اہانت شریعت کا مرتکب ہو کر کافر و مرتد ہو چکا تھا اور ارتداد کے بعد اس وقت اس کا جرم مزید شدید ہو گیا کہ جب اس نے اس جرم سے آگاہ کرنے والے علماء کو بھی جوتے کی نوک پر رکھنے کا اعلان کیا ۔ اس سلسلے میں ممکن ہے ڈاکٹر صاحب تک گورنر کے ان تمام بیانات اور انٹرویوز کی رپورٹ نہ پہنچی ہو ۔

بہر حال ڈاکٹر صاحب کا ہزاروں علماء کے نقطہ نظر کے خلاف بغیر تحقیق مزید کے سلمان تاثیر کے کفر کا دفاع کرنا خود نا قابل برداشت اور انتہائی حیران کن ہے ۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ ساری زندگی عشق رسول کے دعویدار شخص کا ایسے گستاخ کی حمایت کرنا انتہائی حیرت ناک عمل ہے۔

سلمان تاثیر کیوں کافر ہے؟

راقم کے نزدیک سلمان تاثیر کے کفر و ارتداد کی پہلی وجہ اس کی ایک گستاخہ ملعونہ عورت کی بے جا حمایت ہے ملعونہ عاصیہ مسیح محض توہین رسالت کی ملزمہ نہ تھی بلکہ ایک اعلیٰ پولیس آفیسر (SSP) کی تفتیش کے بعد اس کا چالان عدالت میں پیش کیا گیا جس میں پولیس آفیسر نے

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾ جانفشانی سے تفتیش کی اور ملعونہ نے پولیس اسے صفائی پیش کرنے کا پورا موقع دیا گیا جن میں اس کے ہم مذہب وکلاء کی اک عدالت کی معاونت کی۔ پوری تحقیق کے دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی۔ جج ک جرم بھی کیا تھا۔ عدالت کی طرف سے سز اور قانون توہین رسالت کے خلاف ہرا کا مطالبہ کیا اور ملعونہ کی فوری رہائی کا بھ ملعونہ کو ہائی کورٹ میں اپیل کا حق د کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔

گورنر کا گستاخانہ کردار

عاصیہ مسیح کو مجاز عدالت کی ط اور میڈیا کے ہمراہ جیل جا پہنچا اور اس سے نکال کر جیل سپریڈنٹ کے کمرے درخواست پر انگوٹھے کا نشان لگوایا اور میں عاصیہ مسیح سے ملنے کے اسے وہ سزا سنا دی گئی جو میں آصف زرداری کو اپیل درج صدر صاحب انسانیت کے میں یہ بھی کہتا چلوں کہ قائم طرح کی ظالم سزا؟ ہمارے جو اس کو سزا سنا دی گئی ہے

صفحہ 271

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے﴾

جانفشانی سے تفتیش کی اور ملعونہ نے پولیس آفیسر کے سامنے اعتراف جرم کیا بعد ازاں عدالت میں اسے صفائی پیش کرنے کا پورا موقع دیا گیا اس کی طرف سے سات وکلاء نے مقدمے کی پیروی کی جن میں اس کے ہم مذہب وکلاء کی اکثریت تھی اور استغاثہ کی طرف سے صرف دو وکلاء نے عدالت کی معاونت کی۔ پوری تحقیق کے بعد عدالت نے عاصیہ مسیح کو توہین رسالت کی مرتکبہ قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی۔ جج کے بقول اس عورت نے چیمبر میں جج کے سامنے اعتراف جرم بھی کیا تھا۔ عدالت کی طرف سے سزا دیئے جانے کے بعد ملعونہ کے حق میں پوپ نے بیان دیا اور قانون توہین رسالت کے خلاف ہرزہ سرائی کی اور انسداد توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور ملعونہ کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔ عدالت کی طرف سے سزا دیئے جانے کے بعد ملعونہ کو ہائی کورٹ میں اپیل کا حق دیا گیا جس کا فائدہ اٹھا کر اس کے خاوند عاشق مسیح نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔

گورنر کا گستاخانہ کردار

عاصیہ مسیح کو مجاز عدالت کی طرف سے ملنے والی سزا کے بعد مقتول گورنر پنجاب اپنی فیملی اور میڈیا کے ہمراہ جیل جا پہنچا اور اپنے اختیارات کو ناجائز استعمال کرتے ہوئے ملعونہ کو لاک اپ سے نکال کر جیل سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں کرسی پر اپنے ساتھ بٹھایا اور اپنی طرف سے لکھی ہوئی درخواست پر انگوٹھے کا نشان لگوایا اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا:

میں عاصیہ مسیح سے ملنے کے لئے یہاں آیا ہوں۔ یہ ڈیڑھ سال یہاں رہی ہے اور اسے وہ سزا سنا دی گئی جو میں سمجھتا ہوں ایک بڑی سخت اور ظالم سزا ہے۔ اور اس نے آصف زرداری کو اپیل درج کی ہے کہ اس کی سزا معاف کی جائے اور ان شاء اللہ صدر صاحب انسانیت کے تقاضوں کے مطابق ان کی سزا کو معاف کریں گے۔ اور میں یہ بھی کہتا چلوں کہ قائد اعظم کے پاکستان میں ایسا قانون نہیں ہو سکتا تھا اور اس طرح کی ظالم سزا؟ ہمارے مذہب میں بھی اقلیتوں کا تحفظ ہے ۔۔۔۔ اور اس لئے جو اس کو سزا سنا دی گئی ہے میں سمجھتا ہوں یہ انسانیت کے خلاف ہے اور بے بس

صفحہ 272

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے﴾

غریب عیسائی عورت۔۔۔ کی یہ سزا معاف کر دی جائے گی۔

سوال: کیا آپ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ پاکستان میں عدلیہ غلط فیصلے کر رہی ہے؟ جواب: دیکھیں عدلیہ کے فیصلوں پر جانا نہیں چاہتا، یہ ایک جج کا فیصلہ ہے اور ان کی convection برقرار رہے گی لیکن ہم سزا معاف کر رہے ہیں۔۔۔۔ میں عدلیہ کی کاروائیوں میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا میں انسانیت کے تحت ان کی سزا معاف کرواؤں گا۔۔۔ ہم کورٹ کی کاروائیوں میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے صدر صاحب کو حق دیا گیا ہے کہ معاف کر دیں۔ (اس انٹرویو کو (Youtub) پر دیکھا اور سنا جاسکتا ہے۔

گورنر کے اس انٹرویو سے درج ذیل باتیں حاصل ہوئیں۔

اور سزا انسانیت کے خلاف ہے۔

اس کانفرنس کے چند دن بعد BBC ورلڈ نیوز اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ عاصیہ کی سزا کو میں معاف کرواؤں گا اور ایسا جلد از جلد ہوگا اور یہ بھی کہ جن علماء نے گورنر کے اس عمل پر گرفت کی تھی انہیں جاہل کہا اور کہا کہ ان کے فتوؤں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

دراصل سلمان تاثیر پاکستان میں اس لابی کا سرغنہ تھا جو ملک سے انسداد توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ چنانچہ 19 ستمبر 2009ء کو اس نے ایک بیان اخبارات کو دیا کہ : ناموس رسالت کے قانون کو جلد ختم کر دیا جائے گا اور میں اپنے موقف پر قائم ہوں۔ (روزنامہ جناح 19 ستمبر ) اور پھر بعد ازاں ایک ٹی وی پروگرام میں اس بات کو دھرایا کہ اس قانون میں ترمیم ہونی چاہئے۔ عاصیہ مسیح کی سزا کے بعد ڈان نیوز کے پروگرام REPORTER میں ارشد شریف کو انٹرویو دیتے ہوئے گورنر نے ان خیالات کا اظہار کیا: دیکھیں عاصیہ بی بی کا

صفحہ 273

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

کیس ۔۔۔۔۔ مجھے بڑا افسوس آیا ہے اس بات پر کہ ایک غریب و بے بس عورت ہے اس کو اس طرح ظالم قانون کے تحت انہوں نے ڈیڑھ سال جیل میں رکھا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ خدا کا قانون نہیں ہے یہ انسان کا قانون ہے اور اگر بندہ اس قانون کے خلاف ہو اور اگر تبدیلی چاہے تو وہ یہ نہیں کہتا کہ یہ جرم ٹھیک ہے۔۔۔ میں کہتا ہوں اس قانون میں نا انصافیت ہے۔۔۔۔ عاصیہ مسیح بے حد غریب لوگ ہیں ان کا گھر اجڑ گیا ہے۔۔۔۔ میں تو حیران ہوں یہ کتنے سخت لوگ ہیں اور ان لوگوں میں نہ تو رحم ہے اور نہ انصاف اور یہ اس بے چاری کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں پتہ نہیں کیا بتانا چاہتے ہیں دنیا کو کہ ہم لوگ بہت ہی ظالم ہیں تو مجھے بڑا افسوس ہوا اور میں نے بالکل اس کی حمایت کی ہے کہ میں گیا تھا شیخوپورہ جیل میں اور یہ پہلی دفعہ ہوا ہے شاید پاکستان کی تاریخ میں کہ گورنر اس طرح گیا کسی کے لئے ، کسی کے حق میں ۔۔۔ (پھر مذہبی جماعتوں کے احتجاج کی بابت کہا) یہ تو ہر ایک کے خلاف فتوے دیتے پھرتے ہیں انہوں نے بسنت کے خلاف بھی فتوے دیئے ہیں۔۔۔۔ یہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں میں انہیں جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں اور کبھی کہتے ہیں کہ میں واجب القتل ہوں اور مجھے کافر کہہ رہے ہیں۔۔ میں ان لوگوں کی باتیں نہ سنتا ہوں اور نہ ہی میں انہیں کچھ سمجھتا ہوں۔۔۔ دیکھیں جب میں نے آواز اٹھائی ہے تو پہلی دفعہ اس توہین رسالت کے قانون کے خلاف لوگوں نے بیان بھی دیئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں یہ پارٹی ایشو نہیں یہ انسانیت کا ایشو ہے۔ یہ قانون خدا کا قانون نہیں ہے اور ہر قانون میں آپ تبدیلیاں لاسکتے ہیں۔ اگر آپ آٹھویں ترمیم لا سکتے ہیں تو آپ اس میں بھی Chaging لا سکتے ہیں۔۔۔ یہ جو لاء ہے اور جو اس کے اثرات ہیں ایسے ماحول میں اس کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔

گورنر کے انٹرویو کے طویل اقتباس سے جو باتیں عیاں ہوئیں۔

اس قانون میں نا انصافیت ہے۔

صفحہ 274

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

اور یہ حمایت انسانیت کی خدمت ہے۔

یعنی وہ اپنے کفریات سے بے خبر نہ تھا اور علماء اسے کفریات سے آگاہ کرنے کا حق ادا کر چکے تھے۔ اور گورنر نے انہیں جوتے کی نوک پر رکھنے کا اعلان کیا اس کے علاوہ گورنر نے یکم نومبر 2010ء کو مذکورہ قانون انسداد توہین رسالت کو ”کالا قانون“ قرار دیا۔ اور ساتھ ہی اس قانون کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔

علاوہ ازیں گورنر نے CNN کو انٹرویو دیا اور اس انٹرویو میں واضح اور دوٹوک کہا کہ اس قانون سے ”سزائے موت“ کی سزا ختم کرواؤں گا اور مزید کہا کہ اگر ہائی کورٹ نے ملعونہ کو معاف کر دیا تو ٹھیک ہے وگرنہ ہم خود اس کی سزا کو معاف کر دیں گے اور صدر پاکستان جو کہ لبرل آدمی ہیں وہ اس سزا کو معاف کر دیں گے۔ (یہ انٹرویو youtube پر سنا اور دیکھا جاسکتا ہے)

یونہی لاہور JC یونیورسٹی کے طلباء کے سامنے کامران شاہد کے ساتھ شو میں جب گورنر سے سوال ہوا کہ آپ کہتے ہیں کہ ناموس رسالت کا قانون انسانوں کا بنایا ہوا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔ انا کفیناک المستہزئین تو اس کے جواب میں گورنر نے استہزاءً کہا کہ جب گستاخوں کے لئے اللہ کافی ہے تو پھر آپ کو قانون بنانے کی کیا ضرورت ہے۔

(watch on youtube)

عاصیہ مسیح کیس

ذیل باتیں سامنے آتی ہیں۔

14-6-2009 کو عاصیہ مسیح نے ذاتی معاملات میں مشتعل ہو کر نبی علیہ السلام اور قرآن پاک کو

صفحہ 275

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

صریح سب و شتم کیا۔ اور ایسی گالیاں بکیں کہ جن کے الفاظ پڑھ کر دماغ چکرا جاتا ہے۔

اندراج سے قبل SSP نے مکمل چھان بین اور تفتیش کی جس میں گاؤں کے لوگوں نے بھی اس کو مجرمہ قرار دیا اور بعد ازاں مجرمہ نے SSP کے سامنے اعتراف جرم بھی کیا اور کہا کہ میں نے نبی علیہ السلام کو گالیاں تو دی ہیں تاہم میں آپ سے معافی مانگتی ہوں اس پر 19-6-2009 ایف آئی آر نمبر 326/2009 درج ہوئی۔ FIR کے اندراج کے بعد مقدمہ کا چالان کسی کانسٹیبل یا حوالدار یا تھانیدار نے نہیں بلکہ SSP لیول کے آفیسر نے مکمل تحقیق و تفتیش کے بعد عدالت کے روبرو پیش کیا تھا۔

ایڈووکیٹ، جسٹن گل ایڈووکیٹ، طاہر گل صادق ایڈووکیٹ، چوہدری ناصر انجم ایڈووکیٹ، رائے اجمل ایڈووکیٹ سمیت سات وکلاء پیش ہوئے جن میں سپریم کورٹ کے وکیل منظور قادر ایڈووکیٹ بھی شامل تھے جبکہ استغاثہ کی طرف سے جناب میاں ذوالفقار علی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

پوپ، وفاقی وزیر شہباز بھٹی سمیت پوری عیسائی برادری۔

کئے کا اعتراف کیا اور جج کے سامنے معافی مانگی۔

اس کے بعد عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ 8-11-10 کو ان لفظوں میں سنایا:

’’یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس گاؤں میں عیسائی حضرات کی ایک کثیر تعداد مسلمانوں کے ساتھ کئی نسلوں سے آباد ہے ماضی میں اس علاقے میں اس قسم کا کبھی بھی کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ مسلمان اور عیسائی دونوں ہی ایک دوسرے کے مذہبی

صفحہ 276

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

جذبات اور اعتقادات کے سلسلے میں برداشت اور رواداری کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں اگر توہین رسالت کا اس قسم کا کوئی واقعہ پہلے کبھی اس گاؤں میں پیش آتا تو یقیناً فوجداری مقدمات اور مذہبی جھگڑے اس علاقے میں پہلے بھی ہوتے۔ لہذا اس مرتبہ یقیناً توہین رسالت کا ارتکاب ہوا ہے جس کے باعث مقدمہ درج ہوا اور لوگ اس پر جمع ہو گئے اور یہ معاملہ اس قصبے اور اردگرد میں موضوع بحث بن گیا۔ یہاں یہ ذکر کرنا بھی مناسب ہوگا کہ نہ تو ملزمہ نے اپنی صفائی میں کوئی شکایت پیش کی اور نہ ہی اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو 340/2 کے تحت غلط ثابت کیا ۔ مندرجہ بالا بحث کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ استغاثہ نے اس مقدمہ کو کسی شک وشبہ سے بالاتر ثابت کر دیا ہے۔ تمام استغاثہ گواہان نے استغاثہ کے مؤقف کی متفقہ اور مدلل انداز میں تائید وتصدیق کی ہے استغاثہ گواہان اور ملزمہ کے بزرگوں یا ان کے خاندانوں میں کسی دشمنی کا وجود نہیں پایا جا سکا لہذا ملزمہ خاتون کو ناجائز طور پر اس مقدمہ میں ملوث کئے جانے کا قطعاً کوئی امکان نہیں ملزمہ کو اس مقدمہ میں رعایت دیئے جانے کا بھی کوئی جواز موجود نہیں لہٰذا میں ملزمہ عاصیہ بی بی زوجہ عاشق کو زیر دفعہ 295C تعزیرات پاکستان سزائے موت کی سزا کی مجرمہ ٹھہراتا ہوں ۔‘‘

نیز اسی طویل فیصلے میں جج نے ملعونہ کا SSP کے سامنے اعتراف جرم کا تذکرہ بھی کیا ہے

گورنر کے کفر و ارتداد کا باعث یہ ہے کہ !!!

عدالت کی طرف سے مکمل قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد جو عورت صریح توہین رسالت کی مرتکبہ قرار پائی وہ شرعاً واجب القتل ٹھہری۔ واجب القتل اور ملعونہ عورت کی حمایت کرتے ہوئے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا لاہور سے سفر کر کے شیخوپورہ جیل پہنچنا ، اپنے ساتھ فیملی اور میڈیا کی فوج کو لے کر جانا اور پھر جیل کے لاک اپ سے نکال کر اس ملعونہ کو کرسی پر ساتھ بٹھانا ، اس ملعونہ کو غریب و بے بس ، مظلومہ ، بے چاری ، لاچار ، قرار دیتے ہوئے کہنا کہ ”میں اس کا حمایتی ہوں اور اس حمایت پر فخر کرتا کہ میں پہلا شخص ہوں جو اس طرح کے لوگوں کی حمایت میں جیل پہنچا ہوں ۔ قرآن و سنت و اجماع امت سے بنے ہوئے قانون انسداد توہین رسالت کو

صفحہ 277

(قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے)

ظالمانہ، کالا ، انسانیت کے خلاف قرار دینا، اس میں ترمیم اور اس کو ختم کرنے کا عہد کرنا، اس ملعونہ کی معافی کا اعلان کرنا یقیناً، یقیناً رضا بالکفر، تبجیل کفر توہین قرآن وسنت واہانت رسول ہوتے ہوئے گورنر کے کفر وارتداد کی صریح دلیل ہے۔

رضا بالکفر، تبجیل کفر اور اہانت رسول کے کفر ہونے میں ڈاکٹر صاحب اور ان کے متبعین کو شک نہیں ہے کیونکہ وہ اپنی کتاب میں جگہ جگہ لکھ چکے ہیں کہ رضا بالکفر بھی کفر ہے اور اس گورنر کے کفر کے رضا پر مذکورہ قرائن و شواہد ہی نہیں بلکہ ”میں اس کا حمایتی ہوں“ کی صراحت بھی موجود ہے۔ جب ایک شخص توہین رسالت کی مجرمہ کو اس کے کئے پر دی گئی سزا کے معاملے میں بانگ دہل کہتا ہے کہ میں اس کا حمایتی ہوں اور ضرور بالضرور اسکو اس دی گئی سزا سے بچاؤں گا اگر چہ ہائی کورٹ بھی اس کو سزائے موت کیوں نہ سنا دے۔ ایک گستاخ عورت کی علی الاعلان حمایت کرنا گورنر کے کفر وارتداد کو بداھتاً ثابت کرتا ہے بایں طور ایسے شخص کے کافر و مرتد ہونے میں آخر کیا شک رہ جاتا ہے؟

رضا بالکفر کس طرح ثابت ہوئی؟

اگر چہ گورنر کے ملعونہ کی حمایت کے قول اور کردار سے اس کی رضا بالکفر بداھتاً ثابت ہوئی ہے تاہم پھر بھی اگر یہ سوال کیا جائے کہ گورنر کے ملعونہ عاصیہ کے پاس جانے سے ”رضا بالکفر“ کس طرح ثابت ہوتی ہے؟ تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ سلمان تاثیر کے جملے ”میں اس کا حمایتی ہوں“ کی صراحت ہی اس کی رضا کو ثابت کرنے کیلئے کافی ہے۔ تاہم قرآن مجید کی سورۃ النساء کی آیت نمبر 140 پر غور فرمائیں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ إِنَّ اللَّهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعاً

اور بے شک اللہ تم پر کتاب (قرآن) میں اتار چکا کہ جب تم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے سنو کہ ان

صفحہ 278

﴿ قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے ﴾

کا انکار کیا جاتا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے تو ان ( مذاق اڑانے والے ) لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک کہ وہ اور باتوں میں مشغول نہ ہو جائیں ۔ ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو گے ۔ بیشک اللہ تعالیٰ کافروں اور منافقوں کو جہنم میں اکٹھا کرنے والا ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں امام قرطبی رقمطراز ہیں :

ترجمہ: اہل معاصی سے جب کوئی برائی ظاہر ہو رہی ہو تو ان سے دور ہونے کے وجوب پر یہ آیت دلیل ہے اس لئے کہ کسی شخص کا اہل معاصی کے ارتکاب گناہ کے بعد اس سے دور نہ ہونا یقیناً اس کے فعل سے راضی ہونا ہے اور کفر پر راضی ہونا کفر ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان " انکم اذاً مثلهم " کہ تم بھی ان جیسے ہو جاؤ گے۔ پس ہر وہ شخص جو معصیت کی مجلس میں بیٹھا اور ان اہل معصیت پر نکیر نہ کی تو گناہ کی پکڑ میں دونوں برابر ہیں ۔

( الجامع لاحکام القرآن لقرطبی جلد 1 ص 419)

امام فخر الدین رازی اس ضمن میں یوں رقمطراز ہیں :

ترجمہ: اہل علم فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کفر پر راضی ہو وہ کافر ہو جائے گا ۔ جو کسی برائی کو دیکھتے ہوئے اس پر راضی رہے اور اہل معصیت کے ساتھ مل بیٹھے چاہے وہ گناہ کرے یا نہ کرے وہ گناہ میں ایسا ہی شامل و شریک ہوگا جیسے اس نے خود وہ گناہ کیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں آیت میں کلمہ 'مثل' ارشاد فرمایا ہے۔

( تفسیر کبیر جلد 2 زیر آیت مذکور )

علامہ حافظ ابن کثیر اس سلسلے میں لکھتے ہیں :

ترجمہ: یعنی اس نہی ( اہل کفر و معصیت کے ساتھ نہ بیٹھو ) کے پہنچنے کے بعد تم نے اس کا ارتکاب کیا یعنی ان کے ساتھ بیٹھے اور اس جگہ بیٹھنے پر راضی ہوئے کہ جس جگہ اللہ تعالیٰ کی آیات کیساتھ کفر کیا جاتا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور ان آیتوں کی تنقیص کی جاتی ہے۔ پس تحقیق تم بھی انکے کام میں برابر کے شریک ہو گے پس اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم انکے گناہوں میں ان کے ساتھ کے شریک ہو جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ (حضور اکرم ﷺ نے فرمایا )

﴿ قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے ﴾

جو بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایما

دور ہو۔

اسی طرح علامہ جمال الدین قاسمی ا

ترجمہ: یعنی جب تم اللہ کی آیات نہ گے تو یہ تمہارا ان کے ساتھ بیٹھنا اللہ کے ساتھ تمہاری رضا کی دلیل ہے ہو گے۔ پس تمہارا ان کے ساتھ بی آیت کے ضمن میں (دیگر تفاسیر می

آیت اور اس کی تفسیر سے م

جب اہل معصیت و کفر کی بیٹھے رہنا اور ان کا انکار نہ کرنا اور رضا بالکفر کی دلیل ہے اور بکنے اور مجرمہ ثابت ہونے کے بعد شیخوپورہ جیل میں جا کر گستاخہ کو پ سے بچانے کے اعلان کرنا اور اپنے کہ ہاں میں اس کا حمایتی ہوں " اہانت رسول ہے لہذا گورنر اہانت ر جرم میں شراکت داری خود توہین وا گستاخی کے مرتکب کو بچان

گزشتہ بحث میں یہ بات عیا

صفحہ 279

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

جو بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھنے والا ہے وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب کا دور ہو۔

(تفسیر ابن کثیر 567/2)

اسی طرح علامہ جمال الدین قاسمی ارقام فرما ہیں:

ترجمہ: یعنی جب تم اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرنے اور ان کا مذاق اڑانے والوں کے ساتھ بیٹھو گے تو یہ تمہارا ان کے ساتھ بیٹھنا اللہ کی آیات کے ساتھ کفر اور ان کا مذاق اڑانے والوں کے کفر کے ساتھ تمہاری رضا کی دلیل ہے۔ پس تم بھی کفر اور عذاب کے حاصل کرنے میں ان کے مثل ہو گے۔ پس تمہارا ان کے ساتھ یہاں جمع ہونا تمہارے جہنم میں اکٹھا ہونے کا سبب ہوگا۔ اس آیت کے ضمن میں (دیگر تفاسیر میں بھی اسی طرح کا مضمون موجود ہے)

(تفسیر محاسن التاویل ج 2 ص 210)

آیت اور اس کی تفسیر سے مدعا پر استدلال:

جب اہل معصیت و کفر کی مجلس میں ان کی معصیت و کفر و استھزاء بالآیات کو سن کر بیٹھے رہنا اور ان کا انکار نہ کرنا اور حسب طاقت نہ روکنا اور نہ ہی ان کا رد کرنا بلکہ وہیں بیٹھے رہنا رضا بالکفر کی دلیل ہے اور ایسی حرکت سے بندہ کافر ہو جاتا ہے تو ایک گستاخ ملعونہ کے کفر بکنے اور مجرمہ ثابت ہونے کے بعد اس کی حمایت کرتے ہوئے گھر سے پروٹوکول کے ساتھ نکلنا اور شیخوپورہ جیل میں جا کر گستاخہ کو پہلو میں بٹھا کر اس کی حمایت میں پریس کانفرنس کرنا اور اسے سزا سے بچانے کا اعلان کرنا اور اپنے اس کئے پر ندامت و شرمندگی اور رجوع کے بجائے فخر کرنا اور کہنا کہ ہاں میں اس کا حمایتی ہوں ”یہ رضا بالکفر“ کی بین دلیل کیونکر نہ ہے؟ اور چونکہ ملعونہ کا جرم اہانتِ رسول ہے لہٰذا گورنر اہانتِ رسول کے جرم میں برابر کا شریک ہے اور اہانتِ رسول کے جرم میں شراکت داری خود توہین واہانتِ رسول ہے اور یہی سلمان تاثیر کا ”کفر و ارتداد“ ہے۔

گستاخی کے مرتکب کو بچانا گستاخی ہے:

گذشتہ بحث میں یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ کسی کی گستاخی اور کفریات کو سن کر اس کا رد نہ کرنا

صفحہ 280

(قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے)

اور وہاں بیٹھے رہنا برابر کی شراکت داری ہے تو ایسے ملعون شخص کو بچانا کیسا ہوگا؟

اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب کے استاد گرامی غزالی زماں حضرت سید احمد سعید کاظمی کی کتاب کا اقتباس ملاحظہ ہو آپ رقمطراز ہیں ۔

وہ لوگ جو نبی کریم ﷺ کی توہین صریح کی تاویل کر کے اسکے مرتکب کو کفر سے بچانا چاہیں بالکل اسی مثل کے مستحق ہیں جیسا کہ خود توہین رسالت کرنے والا مستوجب حد ہے۔

(توہین رسول کی سزا قتل صفحہ 11)

غور فرمائیں! جو شخص تاویل کر کے اسے کفر سے بچائے وہ واجب القتل ہے تو جو شخص کسی گستاخ رسول کو گواہوں کے تزکیہ اور تفتیش کے بعد کئے گئے جج کے فیصلے کے بعد گستاخ ثابت ہونے پر اسے ملنے والی سزا سے بچانا چاہے وہ اس گستاخی کے زمرے میں کیونکر نہ آئے گا ؟

عاصیہ ملعونہ بلا شک و شبہ صریح توہین کی مرتکب ہوئی تھی اور واجب القتل تھی ، گورنر نے ایسی ملعونہ سے نفرت وحقارت کے بجائے اس کی گستاخی کی اولاً تاویل نہیں کی بلکہ عدالت کے فیصلے کو درست کہتے ہوئے اس کی سزا کو معاف کرنے کا اعلان کیا اور پھر بعد ازاں یہ باطل تاویل پیش کی کہ ملعونہ کو اپنی صفائی پیش کرنے کیلئے لائق وکلاء کی معاونت حاصل نہ ہوسکی ۔ ڈاکٹر صاحب کے استاد گرامی اور غزالی زماں کی تحریر کے مطابق باطل تاویل کے باعث گورنر بھی واجب القتل ٹھہرا اور واجب القتل مباح الدم ہوتا ہے۔

لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری !!!

کسی گستاخ رسول کو دی جانے والی سزا سے بچانے کا اعلان کرنا ہی اعلان کرنے والے کے کافر ہونے کی دلیل ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب کا اقتباس ”قولِ فیصل“ کی حیثیت سے پیش خدمت ہے ۔ آپ لکھتے ہیں:

کوئی فرد بشر سرور کائنات ﷺ کی اہانت و گستاخی کا ارتکاب کرے ، اس فعل کا کسی بھی امتی یا اسلامی ریاست کو پتہ چل جائے اور وہ بغیر قیام حد کے اسے معاف کر

صفحہ 281

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

دے تو یہ حسن خلق ہرگز نہ ہوگا بلکہ از روئے شرع یہ عمل بے حمیتی اور بے غیرتی متصور ہوگا کیونکہ نبی کریم ﷺ کی عزّ و حرمت، عظمت و تقدس اور ادب و احترام کی محافظت و پاسبانی امت مسلمہ کی دینی و ایمانی ذمہ داری میں شامل ہے۔ علاوہ ازیں حضور نبی کریم ﷺ نے اگر کسی کو بذات خود معاف فرما بھی دیا تو یہ آپ کے حقوق میں سے ایک حق ہے۔ اسے معاف کرنے کا آپ ﷺ کو بذات خود تو اختیار حاصل ہے لیکن ایک امتی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ کوئی گستاخ و بے ادب حضور ﷺ کی اہانت و تنقیص کرے تو امتی حضور ﷺ کے حق خاص میں از خود تصرف کرتے ہوئے اسے معاف کرتا پھرے اور اس سے درگزر کرے امت کے لئے یہ کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے بلکہ ایسا کرنے سے اس کا اپنا ایمان بھی ضائع ہو جائے گا۔

(تحفظ ناموس رسالت ص 199)

ڈاکٹر صاحب کی اپنی تحریر سے ثابت ہوا کہ جو کوئی شخص کسی گستاخ کی سزا کو معاف کرے اس کا ایمان ضائع ہو جاتا ہے۔ اس تحریر کے اقتباس کے بعد کیا گورنر کے کفر و ارتداد میں ذرا برابر بھی شک رہتا ہے کہ جو واضح کہہ رہا ہے کہ اگر ہائی کورٹ بھی سزا دے ڈالے تب بھی ملعونہ عاصیہ کو معاف کر دیں گے؟ اگر انصاف و دیانت سے اس اقتباس کو پڑھا جائے تو نہیں سمجھا جا سکتا کہ اس معاملے میں کوئی شک یا تردد باقی رہے گا۔ ملعونہ عاصیہ کی سزا کی معافی کا اعلان گورنر نے درجنوں بار کیا۔ مختلف سیمینارز میں، انٹرویوز میں اور مختلف شوز میں واضح اور دوٹوک کہا کہ میں اس کی سزا کو معاف کرواؤں گا اس کے علاوہ گورنر نے کئی مقامات پر یہ بھی کہا کہ ناموس رسالت کے قانون میں سے ”سزائے موت“ کی سزا کو ختم کرواؤں گا۔

گورنر کا کفر یوں بھی ثابت ہوتا ہے :

گستاخ رسول کی سزا صرف اور صرف موت ہے اور یہ سزا بطور حد شرعی کے ہے جسے کوئی شخص نہ گھٹا سکتا ہے اور نہ ہی ختم کروا سکتا ہے اگر کوئی اس کو گھٹانا یا ختم کرنا چاہے تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ اس سوال کا جواب ڈاکٹر صاحب کی کتاب سے لیتے ہیں چنانچہ موصوف اس سلسلے میں لکھتے ہیں:

صفحہ 282

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

”قرآن وسنت نے توہین رسالت مآب کے مجرم کی سزا صرف اور صرف موت مقرر کی ہے جو بصورت حد نافذ العمل ہے نہ کہ بصورت تعزیر، فقہائے کرام نے تواتر کے ساتھ حدِ سزائے قتل کی نہ صرف تصریح وتوثیق کی ہے بلکہ اہانت رسالت مآب کے مرتکب مجرم پر حدِ سزائے موت کے نفاذ کے فتاویٰ بھی صادر کئے ہیں سو یہ ایسی سزا ہے جس میں کسی بھی طبقے، ریاست، حاکم اور کسی بھی سطح کے فرد کو یہ حق حاصل ہی نہیں کہ وہ اس میں معمولی سی بھی کمی بیشی کر سکے کیونکہ حد من جانب اللہ مقرر ہوتی ہے اور اس میں تبدیلی وترمیم کا حق بھی اللہ ہی کو حاصل ہے یہی حد کی تعریف ہے الحد عقوبة لله تعالیٰ ( البحر الرائق ) حد اللہ رب العزت کی مقرر کردہ سزا ہے۔ اس بناء پر ساری امت مسلمہ مل کر بھی کسی بڑی سے بڑی ظاہری وسماجی، معاشرتی وسیاسی اور نام نہاد انسانی واخلاقی حکمت ومصلحت کو پیش نظر رکھ کر بھی اس کی سزا میں معمولی سی تخفیف و ترمیم نہیں کر سکتی۔ یہ اللہ اور اس کے رسول مکرم ﷺ کی طرف سے دائمی بنیادوں پر مقرر کردہ ہے۔ سو اب کسی بھی فرد، طبقے، مقننہ عدالت اور ریاست ومملکت کو اس میں کمی وبیشی کا اختیار نہیں اور نہ ہی اس کے دائرہ کار اور تصرف میں ہے کہ وہ اہانت رسول کے مرتکب کی سزا زیادہ سے زیادہ دو سال قید مقرر کرے۔ ایسا کرنا قرآن وسنت کی بیان کردہ سزائے موت کی نہ صرف صریحاً خلاف ورزی ہے بلکہ بغاوت وروگردانی بھی ہے جو صریح کفر ہے۔

(تحفظ ناموس رسالت ص 26)

ڈاکٹر صاحب کی اس تحریر سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گیا کہ جو شخص ناموس رسالت کے قانون سے سزائے موت کو ختم کرنا چاہے وہ ”کافر“ ہے۔ اب ڈاکٹر صاحب اور ان کے پیروکار گورنر کے CNN کو دیے گئے انٹرویو کے کلپ کو غور سے سنیں جس میں وہ واضح طور پر کہہ رہا ہے کہ میں اس قانون میں سے ”سزائے موت“ کو ختم کرواؤں گا۔ اس کے بعد فیصلہ کریں کہ علمائے کرام نے گورنر پر کفر وارتداد کا فتویٰ درست دیا تھا یا کہ غلط؟ جب کہ ڈاکٹر صاحب واضح طور پر لکھ رہے ہیں کہ ایسا شخص کھلا کافر ہے۔

صفحہ 283

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے﴾

گستاخ رسول کی سزا میں کوئی شخص تخفیف یا کمی نہیں کر سکتا:

گستاخ رسول کی سزا موت ہے اور یہ سزا اسے حداً دی جائے گی جرم ثابت ہونے کے بعد اس سزا کو نہ کوئی عدالت معاف کرواسکتی ہے اور نہ ہی حاکم وقت یا کوئی گورنر ، اگر کوئی شخص اس سزا کو معاف کروانا چاہے تو اس کے کفر کا قول ڈاکٹر صاحب کی تحریر سے آپ پڑھ چکے ہیں ذیل میں چند اقتباسات موصوف ہی کی کتاب سے پیش کئے جاتے ہیں کہ جہاں واضح طور پر موجود ہے کہ اس سزا میں کمی نہیں ہوسکتی۔

اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب کی یہ تحریر قابل توجہ ہے آپ لکھتے ہیں:

یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ شریعت اسلامی میں گستاخ رسول کی سزا کتاب وسنت کی رو سے حداً قتل ہے۔ ہر گز تعزیر نہیں ، بطور حد ہی ” من جانب اللہ“ نافذ العمل ہے اور تا قیام قیامت رہے گی یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مقرر کردہ ہے۔ بنا بریں اس میں کسی قسم کی کمی و بیشی ، ترمیم و تخفیف کا حق کسی بھی ریاست حاکم وقت اور عدالت و مقننہ کو حاصل نہیں اور نہ ہی اپیل وغیرہ۔

(تحفظ ناموس رسالت 349)

ایک دوسرے مقام پر موصوف رقمطراز ہیں:

”یہ بات ذہن نشین رہے حضور ﷺ کو بذات خود یہ اختیار حاصل تھا کہ آپ اپنی شان میں اہانت و تنقیص کرنے اور اذیت و تکلیف دینے والوں کو معاف کر دیں جبکہ امت کو یہ حق اور اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ آقائے دو جہاں ﷺ کی شان اقدس میں بے ادبی وگستاخی اور ہرزہ سرائی کرنے والے کو معاف کرے۔ حق رسول ﷺ میں تصرف کی امت میں سربراہ مملکت سے لے کر عام فرد کو بھی کلیتاً اجازت نہیں ہے خود حضور ﷺ کی حیات مقدسہ میں وہ لمحات بھی آئے جب آپ نے بحکم الٰہی اپنے گستاخوں کے قتل عام کا حکم دیا۔ نتیجتاً انہیں صفحۂ ہستی سے نیست و نابود کر دیا گیا ۔

(تحفظ ناموس رسالت ص 215)

نیز آنجناب لکھتے ہیں:

” جب رسول اللہ ﷺ کی اذیت و اہانت کی بات ہوگی تو اس صورت میں اہانت و

صفحہ 284

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

گستاخی اور اذیت رسول ﷺ کا فعل انسان کو گناہ کبیرہ میں نہیں بلکہ دائرہ کفر میں لے جائے گا نتیجتاً کافر ہونے کے ساتھ مباح الدم اور واجب القتل ہو جائے گا ، اس سزا میں کوئی بڑی سے بڑی عدالت عالیہ اور اسلامی حکومت و ریاست سوئی کی نوک کے برابر بھی کمی و تخفیف نہیں کر سکتی بایں وجہ کہ یہ سزا بطور حد ہے۔

(تحفظ ناموس رسالت ص 173)

معلوم ہوا کہ توہین رسالت کی سزائے موت میں نہ کوئی صدر کمی لا سکتا ہے نہ گورنر اور نہ ہی کوئی عدالت ۔ راقم کا جناب سے انتہائی دکھے دل کے ساتھ سوال ہے کہ جب کسی فرد بشر کو گستاخ کی سزا میں تخفیف و ترمیم کا حق حاصل نہیں تو پھر سیکولر اور لبرل انتہا پسند طبقے کی طرف سے مہینوں پر محیط ناموس رسالت کے قانون کے خلاف میڈیا ٹرائل پر ڈاکٹر صاحب کی خاموشی کا آخر کیا راز ہے؟ گورنر اور اس کی معیت میں متحرک لابی پوری قوت کے ساتھ اس قانون کے خلاف زبان درازی کرتی رہی اور اس قانون سے سزائے موت کے خاتمے اور بعد ازاں عمر قید کے خاتمے کیلئے بل تک اسمبلی میں پیش کر دیئے گئے ۔ جناب موصوف آخر کس انتظار میں تھے؟ کیا جناب کی ڈیوٹی تین عدالتی فیصلے سے چند روز قبل صرف عاشق رسول کے خلاف ہی سٹیٹمنٹ تک محدود تھی؟ کیا یہی ناموس رسالت کی خدمت ہے؟

کاش ڈاکٹر صاحب!!! آپ کبھی گورنر کے کفریات کے خلاف بھی بولے ہوتے۔

کاش!!! آپ ناموس رسالت کے قانون کے خلاف اٹھائے جانے والے طوفان بدتمیزی کا سامنا بھی کرتے اور سیکولر اور لبرل انتہا پسندوں کو اسلام کے خلاف اٹھائے جانے والے قبیح اعتراضات کا جواب بھی دیتے تو مجھے یہ دکھے دل سے نہ کہنا پڑتا۔

کچھ باغباں ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے

گورنر کو کفر سے بچانے کی سعی لاحاصل :

ڈاکٹر صاحب نے سلمان تاثیر کو اس کے اس کفر صریح اور اہانت رسول کے جرم سے

صفحہ 285

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

بچاتے ہوئے یہاں تک کہہ ڈالا کہ اگر گورنر نے ملعونہ کی حمایت بھی کی ہے تو بھی ہم اس کو کافر نہیں کہہ سکتے اس لئے کہ عورت کی حد کے معاملے میں فقہی اختلاف ہے اور امام صاحب کے نزدیک عورت کو قتل نہیں کیا جاسکتا تو چونکہ سلمان تاثیر اس کو موت سے بچانا چاہتا ہے لہٰذا اس احتمال کے پیش نظر ہم اسکے کفر کا حکم نہیں لگائیں گے ۔

اس سلسلے میں عرض ہے کہ سلمان تاثیر نے گستاخ رسول کی سزا میں کوئی فقہی اختلاف نہیں کیا اور سزائے موت یا عمر قید کی بات نہیں کی کہ اس کو اس کا فائدہ دیا جائے بلکہ اس نے اپنے کئی انٹرویوز میں کہا ہے کہ ہم عاصیہ کو معاف کروائیں گے ۔ اگر چہ ہائی کورٹ سے بھی اسے سزا ہو جائے تب بھی ہم اس کی سزا کو معاف کروائیں گے۔ (CNN کا انٹرویو YouTube پر دیکھیں)

حقیقت یہ ہے کہ سلمان تاثیر کی دیرینہ دوستی نے ڈاکٹر صاحب کی آنکھوں کے سامنے وہ ”عینک“ چڑھا دی ہے جس کے پیچھے جناب کو گورنر کے عیب نظر نہیں آتے وگرنہ صرف توہین رسالت کی مجرمہ کی حمایت کے اعلان سے ہی کئی وجوہات کی بناء پر کفر لازم آتا ہے۔ اور جناب کا امام صاحب کے حوالے سے عورت کی سزا کی بات کرنا دراصل توہین رسالت کے قانون میں ”تشکیک“ کا بیج بونے کے مترادف ہے ۔ اور پھر موصوف نے عوام کو یہ تو بتا دیا کہ کس درجے کا عالم دین کسی پر کفر کا حکم صادر کر سکتا ہے تاہم حضرت یہ بتانا بھول گئے کہ کس درجے کا مفتی اور عالم دین کسی کے کفر کا دفاع کرتے ہوئے اس کو کفر سے بچا سکتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب یہ واویلا تو کر رہے ہیں کہ علماء کو کفر کا فتویٰ دینے کی بابت قیامت کے دن جواب دینا پڑے گا لیکن وہ خود بھول گئے کہ ان کو ایک کافر و گستاخ کا دفاع کرنے کا بھی حساب دینا پڑے گا ۔ اگر قیامت کے دن رسول ﷺ نے ان سے اتنا پوچھ لیا کہ تو نے میرے گستاخ اور ملعونہ عاصیہ کے وکیل کی وکالت کیوں کی ہے۔ ۔۔۔؟ تو جناب ڈاکٹر صاحب آپ کے پاس اس کا کیا جواب ہوگا؟ اور پھر پورے پاکستان کے جید علماء کرام اور مفتیان عظام جن میں تمام مسالک کے لوگ شامل ہیں، کی نظر میں تو سلمان تاثیر کا قول و کردار کفر و ارتداد ہے جبکہ صرف اکیلے آپ کو گورنر میں ایمان و ایقان کی بہاریں نظر آتی ہیں ۔

خداوندا ایں چہ بوالعجبی است
صفحہ 286

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

گستاخوں کا دفاع، ادارہ منہاج القرآن کا فیض یا ۔۔۔

ڈاکٹر صاحب کے ایک شاگرد نے راولپنڈی میں ملعون گورنر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سلمان تاثیر کا مطلب تو یہ تھا کہ عاصیہ ملعونہ کیس کا فیصلہ درست نہیں ہوا اور وہ گستاخی رسول کی مرتکب نہیں ہوئی تھی لہٰذا گورنر نے ایسی عورت کی حمایت کی ہے جسے وہ مظلومہ سمجھ رہا تھا نہ کہ گستاخ رسول کی۔

جواباً عرض ہے کہ سلمان تاثیر کے انٹرویوز کو دوبارہ سنیں اس نے کئی بار کہا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کو غلط نہیں سمجھتا عدلیہ کی بات نہیں کرتا۔ جج کے فیصلے کو غلط نہیں کہتا بلکہ اس فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے وہ اپنے اور صدر کے اختیار کے تحت، اس ملعونہ کی سزا کو معاف کروا رہا ہے۔ جب وہ عدالت کے فیصلے کو غلط نہیں کہہ رہا بلکہ قانون انسداد توہین رسالت کے خلاف بھڑاس نکال رہا ہے تو اس کیلئے یہ تاویل کیسی۔ اور پھر عجیب نرالی منطق ہے کہ وہ اسے ”گستاخ رسول نہیں سمجھ رہا تھا“ جب مقامی آبادی کے سینکڑوں لوگ گواہیاں دے رہے ہیں کہ اس نے گستاخی کی ۔۔۔ SSP تفتیش میں لکھ رہا ہے کہ اس نے اس کے سامنے اعترافِ جرم کیا۔۔۔ تزکیۃ الشہود کے بعد جج کہہ رہا ہے کہ شک وشبہ سے بالا تر ہو کر فیصلہ دیا جاتا ہے کہ وہ گستاخ رسول ہے۔۔۔ تو کیا ان حقائق کے مقابلے میں خلاف حقیقت گورنر کا محض ”مظلوم سمجھنا“ اسے اس ملعونہ کے شریکِ جرم ہونے سے بچا سکتا ہے؟ جبکہ گورنر کو خود بھی عدالت کے فیصلے کا انکار نہیں اور اگر محض ”سمجھنے“ سے گورنر کے جرم پر پردہ ڈالا جا رہا ہے تو پھر سوچ کا یہی معیار اور استدلال کا یہی منہج ممتاز قادری کے لئے کیوں نہیں؟ گورنر نے تو محض اپنے زعمِ باطل سے عاصیہ کو مظلومہ سمجھا ہوگا جبکہ اس کے پاس اس کے مظلومہ ہونے پر کوئی خارجی دلیل بھی موجود نہ تھی جبکہ گورنر کے بقول کہ اس نے عاصیہ کے کیس کی فائل پڑھی ہے اگر فائل پڑھی ہے تو کیس کی پہلی چیز FIR ہوتی ہے FIR میں صراحتاً لکھا ہے کہ اس ملعونہ نے نبی پاک ﷺ کو صریح گالیاں بکی ہیں اور کیس کی فائل میں گواہوں کی شہادتیں ہیں جن پر ملعونہ کے وکلاء کی مکمل جرح ہے تو اتنی وضاحت کے بعد بھی جب

صفحہ 287

قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے

زعم باطل سے کسی کنفرم گستاخ کو ”مظلومہ“ سمجھ لیا گیا تو منہاج القرآن کے قائدین و متعلقین ایسے ”کنفیوز مائنڈ“ کی حمایت کرتے نہیں شرماتے تو ۔۔۔ جناب عالی!!! غازی ممتاز حسین قادری نے صرف اپنے طور پر سلمان تاثیر کو گستاخ رسول سمجھا نہیں تھا بلکہ اس کے سامنے اس کی خلاف شریعت حرکات تھیں ۔۔۔ سینکڑوں علماء کے اس کے خلاف کفر و ارتداد کے فتوے تھے۔۔۔ 31 دسمبر کے دن پورے ملک میں کروڑوں لوگوں کا احتجاج ۔۔۔۔ اور کامیاب ہڑتال تھی۔۔۔۔ ۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس کے گورنری کے عہدے کے باعث ”قانون کی عاجزی“ بھی ممتاز قادری کے سامنے تھی۔ ایسے میں اس نے ایک واقعی ملعون کو اگر گستاخ سمجھ کر قتل کر دیا تو منہاج القرآن کے قائدین اور متعلقین وہی ”سمجھنے“ کا فائدہ ممتاز حسین قادری کو دینے پر تیار کیوں نہیں ہیں؟ نبی علیہ السلام کے عاشقوں کے مقابلے میں گستاخوں کی محبت !!! کیا یہی منہاج القرآن کا فیض ہے یا ۔۔۔۔۔!!!!

توہین رسالت کس طرح ثابت ہوتی ہے ؟؟

ڈاکٹر صاحب اور ان کے متبعین توہین رسالت کے حوالے سے عوام کو ”لفظوں“ کے ہیر ۔ پھیر میں الجھا رہے ہیں کہ کون کون سے لفظوں سے گستاخی ثابت ہوتی ہے اور کون سے لفظوں سے نہیں ، کہاں نیت معتبر ہوگی اور کہاں نہیں ۔ چنانچہ وہ سلمان تاثیر کے کفر کے ناکام دفاع میں اپنی گذشتہ تحریروں کا ردّ پر ردّ کئے جا رہے ہیں اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب کی اپنی ہی کتاب کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔ آپ لکھتے ہیں:

امام مسجد کا قتل : عبس و تولی سورت کا شان نزول مفسرین کرام نے بیان کیا ہے کہ حضور ﷺ رؤساء قریش کو دعوت پہنچانے میں مشغول تھے۔ کاملاً ان ہی کی طرف متوجہ تھے۔ اچانک نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ بارگاہِ رسالت مآب میں حاضر ہوئے۔ یہ اولین مہاجرین میں سے تھے۔ عموماً حاضر خدمت ہوتے رہتے ۔ تعلیماتِ دین حاصل کرتے ، مسائل دریافت کرتے ، حسب معمول آج بھی آتے ہی سوالات کئے آدابِ مجلس کا خیال نہ رکھ سکے آگے بڑھ کر حضور نبی کریم ﷺ ۔

صفحہ 288

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے کو اپنی طرف متوجہ و راغب کرنا چاہا۔ آپ اس وقت چونکہ ایک اہم امر دینی میں مشغول و مصروف تھے سو متوجہ نہ ہوئے سلسلہ کلام جاری رکھا دوران گفتگو خلل اندازی پر چہرہ اقدس پر کچھ رنج وملال کی کیفیت ظاہر ہوئی اس پر باری تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں جن میں آنحضرت ﷺ کو اس امر کی تلقین کی گئی، وہ ناسمجھ تھا اس کی دلجوئی بھی تو مقصود تھی ایسے آثار چہرہ اقدس پر ظاہر نہیں ہونے چاہیں تا کہ ایسا مخلص جانثار صحابی آپ کی شفقت و دلجوئی سے محروم نہ ہو۔ اب ظاہرًا اس آیت کریمہ میں ”عتاب“ تنبیہ کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ اس خصوصیت کی وجہ سے ایک منافق کا یہ معمول تھا وہ ہر نماز میں یہی سورت پڑھتا دل میں یہ کیفیت مراد لیتا کہ یہ وہ سورت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو تنبیہ فرمائی ہے۔ یہاں تک کہ

روى ان عمر بن الخطاب بلغه ان بعض المنافقين يؤم قومه فلا يقراء فيهم الا سورة عبس فارسل اليه فضرب عنقه “

(تفسیر روح البیان 331/10)

یہ بات سیدنا عمر فاروق ؓ تک پہنچی کہ منافقین میں سے ایک شخص اپنی قوم کی امامت کراتا ہے وہ ہر باجماعت نماز میں ”سورۂ عبس وتولیٰ“ پڑھتا ہے آپ نے اسے بلا بھیجا (بغیر مزید تحقیق کے) اس کا سر قلم کروا دیا۔

یہ قابل توجہ ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ پر اس شخص کے عمل سے یہ بات از خود متحقق ہوگئی اور آپ کو یقین کامل حاصل ہوگیا کہ اس سورت کو مداومت و ہمیشگی سے پڑھنے کا سبب و علت در پردہ بے ادبی و گستاخی رسول ہے۔ علاوہ ازیں کچھ اور علامات بھی گستاخان رسول کی آپ کے پیش نظر تھیں اس کے ساتھ ہی حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ اس کے بغض و عناد، حقد وکینہ کی تعینات بھی اس کے گستاخ رسول ہونے پر واضح دلالت کر رہی تھیں۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ اس شخص نے زبان سے قولاً یا فعلاً، اشارۃً یا کنایۃً کسی بھی صورت میں شانِ رسالت مآب میں تنقیص و تحقیر پر مشتمل کوئی کلمہ زبان سے آپ کے سامنے نہیں کہا بلکہ محض اس کے عمل اور مستقل معمول سے امر واقع آپ پر متحقق ہوا کہ اسکے دل میں گستاخی رسول پنہاں ہے۔ یا یہ ان لوگوں میں

صفحہ 289

289 قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

سے ہے جن کا اشارہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے سو کسی مزید تحقیق و تفتیش اور صفائی کا موقع دیئے بغیر کہ کس نیت سے تم پڑھتے ہو کس سے نہیں ، نیت کے اعتبارات کو ترک کرتے ہوئے تفصیلات میں جائے بغیر بے ادبی و گستاخی رسول کے جرم پر اس کا سر قلم کر دیا۔

( تحفظ ناموس رسالت ص 263 )

ڈاکٹر صاحب کی تصنیف سے لئے گئے اس اقتباس سے ثابت ہوا کہ توہین رسالت کے ثابت کرنے کے لئے محض کسی کا طرز عمل ہی کافی ہوتا ہے اور نیت ، الفاظ کا اعتبار بھی نہیں کیا جاتا۔ اگر محض طرز عمل سے توہین رسالت ثابت ہو جاتی ہے اور گستاخی رسول کا جرم متحقق ہو جاتا ہے تو پھر جس شخص کا عمل و کردار، قول و کلام صراحتاً توہین پر مبنی ہو اور بادی النظر میں جس کی گستاخی عیاں ہو، جس شخص پر علماء ربانیین کی اکثریت توہین رسالت کا فتویٰ صادر کرے اور وہ شخص رجوع کرنے کے بجائے علماء کی توہین کرتے ہوئے انہیں جوتے کی نوک پر رکھے تو ایسا شخص گستاخ و کافر کیوں نہیں ہے؟ ایسے شخص کو علمائے ربانیین کے فتاویٰ کی روشنی میں ایک عاشق رسول قتل کر ڈالے تو بتائیے کہ اس عاشق رسول کا یہ عمل قابل مواخذہ جرم کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ اور پھر لوگوں کو اس بحث میں الجھانا کہ کن الفاظ سے گستاخی ثابت ہوتی ہے اور کن الفاظ سے نہیں ہوتی کیا یہ دجل نہیں؟ جبکہ ڈاکٹر صاحب کی تحریر سے واضح ہو رہا ہے کہ کسی شخص کی کیفیت یا خبث باطنی سے اگر متحقق ہو جائے کہ یہ تنقیص رسالت کا ارتکاب کر رہا ہے جبکہ اس شخص نے زبان سے قولاً یا فعلاً اشارۃً یا کنایۃً کسی بھی صورت میں شانِ رسالت میں تنقیص و تحقیر پر مشتمل کوئی کلمہ زبان سے آپ کے سامنے نہیں بھی کہا ہو تو ایسا شخص گستاخ رسول اور لائق گردن زدنی ہے۔ تو جب بغیر لفظ بولے کسی کی گستاخی ثابت ہو سکتی ہے تو جو شخص قرآن و سنت کا مذاق اڑائے ایک ملعونہ و گستاخہ عورت سے ہمدردی کرتے ہوئے اس کی سزا کو معاف کرنے کا اعلان کرے اور اپنے اسی عمل کے درست ہونے پر اڑ جائے اور اللہ اور اس کے رسول کے فیصلوں کو ظالمانہ قرار دے ڈالے تو ایسے شخص کی گستاخی کیونکر متحقق نہیں ہو سکتی اور ایسے شخص کو مرتد قرار دینے میں سوائے ڈاکٹر صاحب کی ”دیرینہ دوستی“ کے اور کیا چیز حائل ہو سکتی ہے؟

صفحہ 290

(قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے)

یونہی جناب کا یہ موقف بھی ملاحظہ فرمائیں:

”حضور نبی کریم ﷺ اور جملہ انبیاء کرام کی تعظیم و تکریم اور ان کے ادب کے جملہ پہلوؤں کو پیش نظر رکھتے ہوئے گفتگو و خطاب کرنا فرض ہے اور جس کلمہ میں ترک ادب کا شائبہ ہو وہ زبان پر لانا ممنوع و حرام ہے اگرچہ توہین و تنقیص کی نیت و ارادہ بھی نہ ہو ۔“

(تحفظ ناموس رسالت ص 103)

نیز لکھتے ہیں:

”آیہ کریمہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ ہر وہ شخص جو اہانت رسول کا دانستہ یا غیر دانستہ عمداً یا غیر عمداً، ارادے سے یا بغیر ارادہ کے، نیت سے یا بغیر نیت کے غرضیکہ کسی بھی صورت میں ارتکاب کرے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو کر کافر ہو جائے گا۔“

(تحفظ ناموس رسالت ص 215)

یونہی آنجناب نسیم الریاض شرح الشفاء کے حوالے سے لکھتے ہیں:

” المدار في الحكم بالكفر على الظواهر ولا نظر للمقصود والنيات ولا نظر لقرائن حاله “ (نسیم الریاض شرح الشفاء 426:4)

”توہین رسالتمآب ﷺ پر حکم کفر کا مدار ظاہری الفاظ پر ہے۔ توہین کرنے والے کے ارادہ و نیت اور اس کے قرائن حال کو نہیں دیکھا جائیگا۔

ایک دوسری جگہ آپ رقمطراز ہیں: تنقیص و تحقیر رسالت مآب خواہ عمداً ہو خواہ سہواً بقصداً ہو یا غیر ارادی طور پر اس کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دینے سے دین و ایمان کی بقاء ہے کیونکہ دین و ایمان کی اساس و بنیاد تقدس و عظمت رسالت مآب پر استوار ہوئی ہے۔ (تحفظ ناموس رسالت 98)

جب گستاخی کے اثبات کیلئے نیت، غیر نیت، ارادے، غیر ارادے، عمد، غیر عمد صراحت، غیر صراحت، قرائن حال، سہو، قصد وغیرہ کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ حکم کفر کا مدار ظاہر پر ہے تو اس کے بعد محض ایک ملعون کو بچانے کیلئے گھنٹوں، نیت، غیر نیت، صراحت اور غیر صراحت پر بحث کرنا ۔۔۔۔۔ آخر کیا کہلائے گا؟

صفحہ 291

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

گورنر تاثیر کے کفر کی دوسری وجہ:

گورنر کا قانون انسداد توہین رسالت کو کالا قانون ، ظالمانہ اور خلاف انسانیت قرار دینا اس قانون کی تحقیر اور استہزاء ہے اور تحقیر واستہزاء ہونا بداہتاً ثابت ہے۔ اس لئے کسی بھی ملک کے قانون کو کالا قانون قرار دینا اس ملک کے آئین کا مذاق اڑانا ہے۔ اور اگر کوئی شخص کسی ملکی قانون کو کالا قرار دے ڈالے تو اس کو تعزیر کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

چونکہ قانون انسداد توہین رسالت کتاب وسنت کے عین مطابق اور کتاب وسنت کی صراحت سے بننے والا قانون ہے اور اس پر پوری امت مسلمہ متفق ہے کہ گستاخ رسول کی سزاء موت ہے اس قانون کی تحقیر قرآن وسنت کی تحقیر وتنقیص ہے۔ قانون توہین رسالت کے تحت دی جانے والی سزاء شرعی سزاء ہے اور اسے ظالمانہ یا خلاف انسانیت قرار دینا یہ صراحتاً قرآن وسنت کی توہین ہے اور شریعت مطہرہ کی توہین کرنا اور اس کا مذاق اڑانا کفر ہے۔

شرح عقائد میں ہے: والاستهانة بها كفر والاستهزاء على الشريعة كفر لان ذالك من امارات التكذيب

(شرح عقائد 168)

یعنی شریعت کی توہین کرنا و اس کے ساتھ مذاق اڑانا کفر ہے اسلئے کہ ایسا کرنا شریعت کو جھٹلانا ہے۔

حضور ﷺ کی پسند کو ناپسند کرنے والا کافر ہے:

اس میں آئمہ اربعہ اور علمائے ملت اور کسی مومن کو شک نہیں ہو سکتا کہ جو شخص نبی علیہ السلام کی کسی پسند کو استخفافاً ناپسند قرار دے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے نبی کریم ﷺ کو کدو شریف پسند تھے۔ خلیفہ ہارون الرشید کے ساتھ حضرت قاضی ابو یوسف دستر خوان پر کھانا تناول فرما رہے تھے کہ اسی دوران بیان کیا گیا کہ حضور اکرم ﷺ کدو کو پسند فرماتے تھے۔ یہ بات سننے کے بعد درباریوں میں سے کسی شخص نے کہا ”میں کدو پسند نہیں کرتا“ امام ابو یوسف نے ہارون الرشید سے کہا اس شخص نے کفر کا ارتکاب کیا ہے پس اگر یہ توبہ کر کے دوبارہ کلمہ شریف پڑھ لے تو

صفحہ 292

(قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے)

بہتر وگرنہ اس کو قتل کردوں گا اس شخص نے توبہ کی اور معافی مانگی تو قتل ہونے سے بچ گیا۔

( تحفظ ناموس رسالت ص 292)

اگر سرکاری ایک پسند کو محض ناپسند کرنے کے باعث فقہاء ایسے شخص کو کافر قرار دیتے ہیں تو ایسا شخص جو نبی علیہ السلام کے قانون کو صرف ناپسند ہی نہ کرے بلکہ اسے ظالمانہ ، خلافِ انسانیت اور کالا قانون قرار دے ایسا شخص مسلمان کیسے رہ سکتا ہے؟ یونہی علمائے کرام نے یہ تصریح بھی فرمائی ہے کہ اگر کوئی شخص نبی علیہ السلام کے بال مبارک کو تصغیر کے صیغے کے ساتھ شعیر کہے وہ بھی کافر ہے۔ یونہی اگر کوئی شخص حضور ﷺ کی چادر مبارک یا آستین مبارک کو میلا کہہ ڈالے تو وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

( تحفظ ناموس رسالت ص 285)

غور فرمائیں! چادر کو میلا کہنا اگر کفر ہے تو رسول اللہ ﷺ کے پسندیدہ قانون آپ کے مبارک فیصلوں اور قرآن وسنت کے صریح قانون کو ”کالا قانون“ کہنے والا کافر کیونکر نہ ہوگا۔

ایہام گستاخی بھی گستاخی ہے یا نہیں؟

ڈاکٹر صاحب گورنر کے مذکورہ قبیح کلمات میں ”احتمال“ کی تاویل کرتے ہوئے گورنر کو کفر سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اگر ڈاکٹر صاحب گورنر کے جملوں کو احتمال اہانت پر محمول کریں تو بھی عرض ہے کہ گورنر کے جملوں سے ”ایہام اہانت“ ثابت ہو رہا ہے اور یہ اصول علم کلام سے شغف رکھنے والے عام سے طالب علم کے بھی پیش نظر ہے کہ ”ایہام کفر، کفر ہوتا ہے“ اور گورنر کے بیانات میں ”صراحت“ کے ساتھ ساتھ ”ایہام“ گستاخی بھی موجود ہے۔ اور جب کسی شخص کے قول وکردار سے گستاخی کا ایہام بھی آجائے تو ایسا شخص گستاخ کہلاتا ہے اور اس کی یہ حرکت صریح گستاخی کہلاتی ہے۔ وہاں کسی نیت، ارادے اور دانستہ ، غیر دانستہ کی تاویل بھی نہیں ہو سکتی۔

چنانچہ اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب ہی کی کتاب کا ایک اقتباس مسئلہ سمجھنے کے لئے کافی ہے آنجناب اس سلسلے میں رقمطراز ہیں:

صفحہ 293

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

”وہ لفظ جو ذو معنی ”موہم تحقیر“ ہو یعنی گستاخی رسالت مآب پر دلالت کرے اسے حضور ﷺ کی شان میں استعمال کرنا صریح توہین و گستاخی ہے اگرچہ صراحتاً اس سے اہانت و تنقیص رسالت مآب کا کوئی وہم بھی پیدا نہ ہو بلکہ محض ذہن میں معمولی سا شائبہ ہی پیدا ہو تو ایسے لفظ کا استعمال مطلقاً جائز نہیں ہے۔ اس میں یہ ضروری نہیں وہ لفظ لغت عرب میں بغرض توہین و تنقیص کے وضع کیا گیا ہے اور نہ ہی یہ بات ضروری ہے کہ وہ لفظ اگر کثیر المعانی ہے تو اس کے سب کے سب معانی توہین و اہانت اور تنقیص و تحقیر پر دلالت کرتے ہوں بلکہ اس کے کچھ معانی و مطالب اچھے بھی ہوں اس کے باوجود ایسے کثیر المعانی لفظ کو حضور کی شان اقدس میں بولنے، لکھنے سے قرآن حکیم نے سختی سے منع کر دیا ہے۔ اس حقیقت سے آگاہی کے بعد بھی کوئی فرد بشر اس کا ارتکاب کرے تو اس کا عمل شان رسالت میں گستاخی و اہانت کے مترادف ہے۔

(تحفظ ناموس رسالت ص 95,96)

یونہی موصوف ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:

”غرضیکہ اسلامی ریاست کا قانون و ضابطہ اہانت رسالت مآب ﷺ کے خاتمے کے لئے اتنی صریح عبارت پر مشتمل ہونا چاہیئے کہ اس میں محض کسی کو یہ کہہ کر بچ جانے کی گنجائش اور موقع نہ ملے کہ جو لفظ میں نے بولا ہے اس میں صراحتاً حضور ﷺ کی گستاخی ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس میں فقط احتمال و شائبہ ہے جبکہ میرا گستاخی و اہانت کا ارادہ نہیں تھا کسی کا یہ جواب ہرگز قبول نہ ہوگا اور وہ اہانت و گستاخی رسول ﷺ کا ارتکاب کرنیوالے بدطینت افراد میں ہی متصور ہوگا۔

(تحفظ ناموس رسالت ص 104)

دوسرے مقام پر ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں:

”غرضیکہ محض بطور وہم کے بھی جس میں تحقیر اور توہین کا پہلو پایا جائے تو ایسا لفظ شان رسالت مآب میں بولنے والا شخص کافر ہو جاتا اگر چہ وہ اس لفظ کے استعمال سے اہانت و توہین اور تنقیص و تحقیر کی نیت بھی نہ رکھتا ہو“

(تحفظ ناموس رسالت ص 97)

ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:

”جو الفاظ موہم تحقیر بحضور سرور کائنات ہوں اگرچہ ان کے کہنے والے نے نیت

صفحہ 294

(قلم کچھ اور لکھتا ہے، زباں کچھ اور کہتی ہے)

حقارت بھی نہ کی ہو مگر پھر بھی ان کے کہنے سے کافر ہو جائے گا۔

(تحفظ ناموس رسالت ص 280)

ایک دوسری جگہ آپ رقمطراز ہیں: تنقیص و تحقیر رسالت مآب خواہ عمداً ہو خواہ سہواً، قصداً ہو یا غیر ارادی طور پر اس کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دینے سے دین و ایمان کی بقاء ہے کیونکہ دین و ایمان کی اساس و بنیاد تقدس وعظمت رسالت مآب پر استوار ہوئی ہے۔ (تحفظ ناموس رسالت 98)

فیصلہ کن تحریر:

اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب کی طرف سے فیصلہ کن اصول یہ بیان کیا گیا آپ لکھتے ہیں: ”ہمارے نزدیک حضور نبی اکرم ﷺ کی ادنیٰ سی گستاخی و بے ادبی ، توہین وتنقیص، تحقیر و استخفاف خواہ بالواسطہ ہو یا بلاواسطہ ، بالفاظ صریح ہو یا باندازِ اشارہ و کنایہ ، ارادی ہو یا غیر ارادی ، بنیت تحقیر ہو یا بغیر نیت تحقیر ، گستاخی کی نیت سے ہو یا بغیر گستاخی کے حتیٰ کہ وہ محض گستاخی پر دلالت کرے یا وہم گستاخی کا شائبہ ہی یوں پیدا کرے کہ جس سے اہانت و گستاخی رسالتمآب کا دروازہ کھلتا ہو تو ان سب صورتوں میں گستاخی رسول کا ارتکاب کرنے والا کافر و مرتد اور واجب القتل ہے۔“

(تحفظ ناموس رسالت ص 349)

دعوتِ فکر ڈاکٹر صاحب کی کتاب کے ان اقتباسات سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہو رہا ہے کہ نبی علیہ السلام کی توہین کے اثبات کے لئے کسی خاص لفظ ، ارادے ، نیت کی ضرورت نہیں بلکہ بغیر نیت و ارادے اور خاص لفظ کے اگر محض کسی کے کلام سے گستاخی کا شائبہ اور وہم ہی پایا جائے تو بھی ایسا شخص کافر و گستاخ ہو جاتا ہے۔ اپنی اس واضح تحریر کے بعد ڈاکٹر صاحب کا لوگوں کو لفظوں اور نیت وارادے کے چکر میں پھنسانا سراسر اپنی تحریر کا رد، تحریر و تقریر میں کھلا تضاد اور تحفظ ناموس رسالت کے عظیم مشن کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے اصول کہ ” موہوم تحقیر لفظ سے بھی صریح گستاخی ثابت ہوتی ہے“۔ کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے جب محض موہوم تحقیر لفظ سے صریح گستاخی ثابت ہو جاتی ہے تو ظالمانہ ، خلافِ انسانیت ، کالا قانون ،

صفحہ 295

(قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے) کے صریح گستاخانہ لفظوں سے گورنر کی گستاخی کیوں ثابت نہیں ہوگی ؟

موہم تحقیر لفظ سے گستاخی کے اثبات پر حیدری فیصلہ

گستاخ رسول کعب بن اشرف یہودی کو حضرت محمد بن مسلمہ ؓ نے اس کی گستاخی کے باعث حضور ﷺ کی اجازت سے جنگی چال چلتے ہوئے رات کے وقت قتل کیا جیسا کہ صحاح میں یہ واقعہ موجود ہے اس کے بعد حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی بارگاہ میں ایک شخص نے کہا ما قتل کعب بن الاشرف الا غدرا فامر علی بضرب عنقه یعنی کعب بن اشرف کو تو دھوکے سے قتل کیا گیا ہے تو حضرت علی المرتضیٰ ؓ نے ایسا کہنے والے شخص کی گردن مارنے کا حکم دے دیا۔

( تفسیر قرطبی 82/8 )

غور فرمائیں : اس شخص نے دھوکے کی اضافت ڈائریکٹ رسول اللہ ﷺ کی طرف کرتے ہوئے معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ کو دھوکہ باز نہیں کہا، چونکہ وہ قتل حضور ﷺ کی ایماء اور حضور ﷺ کی اجازت سے ہوا اور صحابی ؓ نے جنگی چال چلتے ہوئے گستاخ کو قتل کیا تو چونکہ ”دھوکہ“ یہ ایک عیب ہے اور اس کی اضافت بالواسطہ حضور اکرم ﷺ کی طرف ہوئی اور اس میں گستاخی کا ”ایہام“ تھا لہٰذا حضرت علی المرتضیٰ ؓ نے اس بات کو توہین رسالت پر محمول کرتے ہوئے اسے قتل کر دیا۔

جہاں ایک جنگی چال کو دھوکہ کہنے کے باعث گستاخی ثابت ہو جاتی ہے تو جب گستاخ رسول کی سزا کا موت ہونا قطعاً ثابت ہے اور نبی علیہ السلام اور صحابہ کرام کی پوری زندگی میں اس سزائے موت کے قانون پر عملدرآمد ہوتا رہا تو اب خدا اور اسکے رسول ﷺ کی مقرر کردہ سزا کو ظالمانہ اور خلاف انسانیت کہنا کیا نبی اکرم ﷺ کی توہین قرار نہیں پائیگا ؟

اگر مذکورہ واقعہ میں ”ایہام“ کے بجائے اس شخص کے کلام کو ”احتمال“ پر محمول کریں اور کہیں کہ اس شخص کے جملوں میں احتمال بھی تو نکالا جاسکتا تھا کہ اس نے جنگی چال کو دھوکہ کہا ہے یا فعل صحابی ؓ کو دھوکہ کہا ہے اسکے باوجود حضرت علی ؓ نے نہ اس سے نیت پوچھی اور نہ ہی احتمال کو

صفحہ 296

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

سامنے رکھا، تو ایسا کیونکر کیا گیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے چونکہ اس شخص کی اس بات کہ ما قتل کعب ابن اشرف الا غدراً میں ایہام گستاخی تھا لہٰذا آپ ﷺ نے ”احتمال“ کو ترک فرما کر ”ایہام“ پر فیصلہ دے دیا۔

گورنر کے کلام میں احتمال کی تاویل باطل ہے۔

سلمان تاثیر نے ایک بار نہیں بار بار قانون توہین رسالت کو ، ظالمانہ ، خلاف انسانیت قرار دیا۔ اب اس میں ضیاء الحق یا نواز شریف کے قانون کی تاویل کرنا ” ثم ازدادوا کفرا “ کا مصداق ہے۔ اور توجیہ القول بما لا یرضی بہ القائل کے مترادف ہے۔ لہٰذا کسی صورت بھی گورنر کے ان جملوں کو ”احتمال“ پر محمول کرتے ہوئے تاویل نہیں کریں گے کیونکہ اس طرح تو ہر گستاخ کوئی نہ کوئی تاویل پیش کر دے گا اور یوں گستاخی کا دروازہ ہی کھل جائے گا۔

اس سلسلے میں بات کو سمجھنے کیلئے پروفیسر موصوف کی کتاب کا یہ اقتباس کافی مفید ہو گا۔ چنانچہ آنجناب نسیم الریاض شرح الشفاء کے حوالے سے لکھتے ہیں:

” المدار فی الحکم بالکفر علی الظواہر ولا نظر للمقصود والنیات ولا نظر لقرائن حالہ “ (نسیم الریاض شرح الشفاء 426:4)

” توہین رسالت مآب ﷺ پر حکم کفر کا مدار ظاہری الفاظ پر ہے۔ توہین کرنے والے کے ارادہ و نیت اور اس کے قرائن حال کو نہیں دیکھا جائیگا۔

وجہ یہ ہے کہ اگر یہ طریق کار اختیار کیا جائے تو پھر توہین رسالت مآب ﷺ کا دروازہ کبھی بھی بند نہیں ہو سکتا۔ یہ رعایت مل جانے پر ہر گستاخ یہ کہہ کر بری الذمہ ہو جائے گا کہ میں نے گستاخی و اہانت رسول ﷺ کا کوئی ارادہ نہیں کیا اور نہ ہی میری ایسی نیت تھی۔ غرضیکہ گستاخی رسول ﷺ کے انسداد کے لئے اور اسے کلیتاً ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ توہین صریح میں کسی بھی گستاخ رسول ﷺ کی نیت اور ارادے و قصد کا اعتبار نہ کیا جائے اور ایسا کلام جو مفہوم توہین میں صریح و واضح ہو اس میں کسی مخفی غرض کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے تاویل و توجیہہ کرنا ہرگز جائز نہیں۔ بایں وجہ کہ لفظ صریح میں تاویل قبول ہوتی ہی نہیں۔ اس نکتے کو امام حبیب بن ربیع رحمہ اللہ نے یوں واضح کیا

صفحہ 297

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

ہے۔ لان ادعاء التاویل فی لفظ صراح لا یقبل لفظ صریح میں تاویل کا دعویٰ قبول نہیں لیا جائے گا۔

(الشفاء 217:2)

کسی بھی کلام کا توہین صریح پر دال ہونا عرف و محاورے پر منحصر ہے ، عرف عام میں کوئی لفظ برے معنی میں استعمال ہوتا ہو تو اب اس کی لغوی تحقیق کر کے اسے اچھے معنی میں ثابت کرنے کی کوئی تاویل و توجیہہ ، لغو و بے فائدہ ہوگی۔ اسے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ مختصر یہ کہ ہر وہ کلام جس سے عرف و محاورے میں توہین کے معانی سمجھے جاتے ہیں وہ توہین ہی قرار پائے گی خواہ اس میں ہزارہا تاویلات ہی کیوں نہ کی جائیں سب بے سود ہوں گی کیونکہ عرف اور محاورے کی صریح زبان کو تاویل و توجیہہ کے قالب میں ڈھالنا سرے سے معتبر ہی نہیں۔

(تحفظ ناموس رسالت ص 292)

جب کسی شخص کے جملوں کا بے ادبی اور گستاخی پر محمول ہونا عرف اور محاورے پر ہے اور ارادہ و نیت اور قرائن حال کی بھی کوئی حیثیت نہیں اور کلام کے مفہوم توہین میں تاویل و توجیہہ کی بھی کوئی گنجائش نہیں تو سلمان تاثیر کی گفتگو اور اس کے کردار سے عرفاً ہی تو توہین اور گستاخی سمجھا گیا تھا۔ اسی باعث کروڑوں لوگ 31 دسمبر 2010ء کو ہڑتال اور احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔۔۔۔ علماء نے اس کیخلاف بیانات دیے۔۔۔۔۔ بعد ازاں اس پکے کفر و ارتداد کا فتویٰ دیا۔۔۔۔ اور عرف و محاورے میں اس کی گستاخی اتنی عیاں تھی کہ اس کے مرنے پر عام لوگوں نے سڑکوں پر بھنگڑے ڈالے۔۔۔ مٹھائیاں بانٹیں۔۔۔۔ خوشی کی ریلیاں نکالیں۔ لہٰذا ڈاکٹر صاحب کا گورنر کے بولے گئے لفظوں کو ”اچھے معنی“ کی تاویل و توجیہہ کے قالب میں ڈھالنا اپنی تحریک کی روشنی میں کب معتبر ہو سکتا ہے؟

گورنر کے قانون توہین رسالت کو ظالمانہ ، خلاف انسانیت اور کالا قانون کہنے کے بعد اس کو بچانے کے لئے تاویلات باطلہ کا سہارا از خود باطل ہے۔ اس کو ایک مثال سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ مثلاً ایک شخص کسی کاغذ پر محمد رسول اللہ ﷺ یا انگریزی میں اس کا ترجمہ لکھتا ہے اگر اس لکھے ہوئے کو پڑھ کر ایک شخص یہ کہہ دے کہ میں اسے نہیں مانتا۔۔۔ یہ لکھا ہوا میرے جوتے کی نوک پر۔۔۔ یا کہتا ہے کہ یہ۔۔۔ BLACK Wording ہے تو ایسا شخص یقیناً کافر ہو جائے

صفحہ 298

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

گا۔ اب اس شخص کی یہ تاویل کہ میں نے اس تحریر کو تو اس لئے اسے بُرا کہا تھا کہ وہ زید نے لکھا تھا اور زید کی تحریر تھی۔ کیا قابلِ قبول ہوگی؟ جب یقیناً نہیں تو !!! پھر توہین رسالت کا قانون قرآن و سنت کا حکم ہے۔ اس قانون کے تحت دی جانے والی سزائیں منشاء الٰہی ومنشاء رسالت ہے۔ بیشک یہ ضیاء الحق نے لکھایا نواز شریف نے ، اس کی توہین اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی شریعت کی توہین ہے اور ”ضیاء الحق کے قانون“ یا ”نواز شریف کے قانون“ کی تاویل یہاں کسی صورت میں بھی قابلِ قبول نہیں ہوگی۔

اگر ڈاکٹر صاحب کو ہماری بات سے اتفاق نہ ہو تو پھر میرا ان سے ایک سوال ہے کہ پاکستان کے آئین میں موجود ہے کہ ”نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کا منکر کافر ہے“ اور مرزائی و قادیانی اور ہر وہ شخص جو کسی بھی معنی کے لحاظ سے حضور ﷺ کے بعد کسی کے لئے نبوت کو ثابت کرے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ پاکستان کے آئین میں اس شق کا اضافہ 1974ء میں بھٹو دورِ حکومت میں ہوا جبکہ حقیقت میں یہ قرآن وسنت کا فیصلہ ہے۔ اور اس پر پوری امتِ مسلمہ کا اجماع ہے۔

اب ایک شخص آئین کی اس شق کے بارے میں کہے کہ میں اسے نہیں مانتا یہ ظالمانہ شق ہے۔ یہ بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے اور میں اس خلافِ انسانیت شق کو اسلئے تسلیم نہیں کرتا کہ یہ بھٹو کا بنایا ہوا قانون ہے تو کیا اس کی یہ تاویل ڈاکٹر صاحب اور ان کے متبعین کو قابلِ قبول ہے؟ حالانکہ آن دی ریکارڈ ڈاکٹر صاحب کے خطابات ہمارے پاس موجود ہیں جن میں وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ جو شخص حضور کی ختم نبوت کے منکر کو کافر نہ مانے وہ خود کافر ہے اور اس طرح کے جملے ”منہاج القرآن“ سے شائع ہونے والے کئی ایک رسائل میں بھی موجود ہیں۔ جس طرح ”ختم نبوت کا منکر کافر ہے“ قرآن وسنت کا قانون ہے گو کہ بھٹو دور میں آئین پاکستان کا حصہ بنا اسی طرح ”گستاخ رسول کی سزاء موت ہے“ یہ بھی قرآن وسنت کا قانون ہے اگرچہ ضیاء الحق دور اور بعد ازاں نواز شریف دور میں آئین پاکستان کا حصہ بنا۔ جس طرح ختم نبوت کے قانون کے خلاف بات قرآن وسنت کے خلاف بات ہے اسی طرح اس قانون کا مذاق اڑانا بھی قرآن وسنت

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

کے قوانین کا مذاق اڑانا ہے اور ایسا کرنا کفر ہے

گورنر کی حمایت میں کی گئی تحریر

شریعت مصطفیٰ ﷺ کے قانون کو شریعت کی توہین بنتی ہے کسی بھی توہین آمیز قانون کے خلاف بولا جائے یا پھر خود صا بچانے کیلئے کوئی تاویل نہیں چل سکتی بلکہ و چنانچہ اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب کی گف اس ساری بحث کا خلاصہ کلام یہ دین کی نسبت توہین آمیز کلمات کے نے یہ الفاظ بدنیتی کے ارادے سے جواب کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی ﷺ کی اہانت و تنقیص کی اور وہ توہین کا وہم شائبہ پایا جاتا تھا تو ا واجب القتل ہونے کا ائمہ وفقہا دانستہ طور پر گستاخی واہانت رسو نے واجب القتل ہونے کی سزا آنجناب کی کتاب کے اس وضاحتیں اور تاویلیں بے سود ہو جاتی ہیں کی توہین کے ساتھ ساتھ شعائر دین و ہے نیز ذرا سی گستاخی کا وہم ہی بندے صریح نہ بھی ہوں اور بولنے والے کی ن گئے ہوں دانستہ یا غیر دانستہ بہر حال

صفحہ 299

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے﴾

کے قوانین کا مذاق اڑانا ہے اور ایسا کرنا کفر و ارتداد ہے۔

گورنر کی حمایت میں کی گئی تمام تاویلیں بیکار و بے سود ہیں

شریعت مصطفیٰ ﷺ کے قانون کو کالا ، ظالمانہ ، خلاف انسانیت کہنا یہ دراصل صاحب شریعت کی توہین بنتی ہے کسی بھی توہین آمیز لفظ کے بولے جانے کے بعد چاہے وہ شریعت کے قانون کے خلاف بولا جائے یا پھر خود صاحب شریعت کے خلاف بندہ گستاخ ٹھہرتا ہے اور اسے بچانے کیلئے کوئی تاویل نہیں چل سکتی بلکہ وہ واجب القتل ہو جاتا ہے۔

چنانچہ اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب کی کتاب کا ایک اور حوالہ پیش خدمت ہے، آپ لکھتے ہیں

اس ساری بحث کا خلاصہ کلام یہ ہوا جب کسی بھی فرد نے شانِ رسالت مآب اور شعائر دین کی نسبت توہین آمیز کلمات کہے اور یہ مذموم فعل کرنے کے بعد یہ کہہ دے کہ میں نے یہ الفاظ بدنیتی کے ارادے سے نہیں کہے بلکہ یہ اتفاقاً صادر ہو گئے ہیں تو اس کے جواب کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی اس لئے کہ اگر کسی نے بغیر ارادے کے بھی حضور ﷺ کی اہانت و تنقیص کی اور وہ اگرچہ صراحتاً نہ تھی بلکہ اجمالاً تھی اور اس میں تحقیر و توہین کا وہم شائبہ پایا جاتا تھا تو اس ذرا سی گستاخی و بے ادبی پر بھی اس کے کافر اور واجب القتل ہونے کا ائمہ و فقہاء نے فتویٰ دیا ہے ۔ غرضیکہ کوئی بھی فرد دانستہ یا غیر دانستہ طور پر گستاخی و اہانت رسول کے جرم کا ارتکاب کرے تو اس کے لئے شریعت نے واجب القتل ہونے کی سزا مقرر کی ہے ۔

(تحفظ ناموس رسالت ص 108)

آنجناب کی کتاب کے اس اقتباس سے ان کی سلمان تاثیر کے حق میں کی گئی تمام وضاحتیں اور تاویلیں بے سود ہو جاتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی اس تحریر سے ثابت ہوا کہ نبی علیہ السلام کی توہین کے ساتھ ساتھ شعائر دین و شریعت اسلامیہ کی توہین سے بھی بندہ واجب القتل ہو جاتا ہے نیز ذرا سی گستاخی کا وہم ہی بندے کو گستاخ ڈکلیئر کرنے کیلئے کافی ہے اور اگرچہ گستاخی کے لفظ صریح نہ بھی ہوں اور بولنے والے کی نیت گستاخی کی نہ بھی ہو بلکہ محض اتفاقیہ بے ادبی کے لفظ نکل گئے ہوں دانستہ یا غیر دانستہ بہرحال بندہ واجب القتل ہو جاتا ہے ۔ جہاں اتفاقیہ نبی علیہ السلام یا

صفحہ 300

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

شریعت کے خلاف توہین آمیز جملے کہہ دیئے جائیں وہاں گستاخی ثابت ہو جاتی ہے تو جہاں ایک آدمی علی الاعلان بار بار گستاخی کے جملے بولتا ہے اور اس کے اس کلام پر اسے متنبہ بھی کیا جاتا ہے اس کے باوجود وہ باز نہیں آتا بلکہ بار بار ”التزام“ کرتا ہے تو ایسے شخص کے مرتد ہونے میں آخر کیا شک رہ جاتا ہے؟ اور پھر ڈاکٹر صاحب خدا کا خوف کریں ظالمانہ قانون، کالا قانون، خلاف انسانیت سزا، اس دور میں اس طرح کا قانون نہیں چل سکتا کے جملے بولنا کیا یہ کھلم کھلا شریعت کی توہین نہیں ہے؟

اور پھر جب موصوف خود لکھ رہے ہیں کہ توہین آمیز جملے کہنے کے بعد کسی شخص کا یہ کہنا کہ میں نے یہ الفاظ بد نیتی کے ارادے سے نہیں کہے بلکہ یہ اتفاقاً صادر ہو گئے ہیں تو اس کے اس عذر کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی، تو پھر گورنر کے JC یونیورسٹی لاہور میں پیش کئے گئے عذرِ گناہ کو کس طرح قبول کیا جا سکتا ہے؟ جبکہ اسی عذرِ گناہ کو ڈاکٹر صاحب نے گورنر کے بچاؤ کی دلیل بنایا ہے اور پھر یہ بات بھی علم میں ہونی چاہئے کہ JC یونیورسٹی میں کیا گیا ”شو“ گورنر کے قتل ہونے کے بعد ایکسپریس نیوز چینل پر ”آن ائیر“ کیا گیا تھا۔ لہٰذا بصورت تسلیم بھی گورنر کے فتویٰ ارتداد پر علماء کی بے احتیاطی کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اس مسئلے کو بالکل واضح کرنے کیلئے ڈاکٹر صاحب کی کتاب کا یہ پیرہ بھی لائق توجہ ہے آپ لکھتے ہیں:

یہ بات متحقق ہو گئی کہ ایسا لفظ جو کسی طبقے کے ہاں صحیح اور درست معنی رکھتا ہو مگر دوسرے طبقے کے ہاں تنقیص و تحقیر اور تضحیک و اہانت کے معنی میں استعمال ہو تو اسے شانِ رسالت مآب ﷺ کے حق میں استعمال کرنا نہ صرف بے ادبی و گستاخی ہے بلکہ کلیتاً اس کا استعمال ہی حرام ہے اور اس کا ارتکاب کفر و گمراہی کا باعث ہے۔

(تحفظ ناموسِ رسالت ص 102)

ایسا کلمہ جس کا ایک معنی توہین کا ہو اس کا بولنا توہین کے زمرے میں آتا ہے تو جس لفظ کی ”وضع“ ہی تحقیر و تنقیص کے لئے ہو اس کا بولنا توہین کیوں نہیں ہوگا؟

صفحہ 301

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے، زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

تقریر و تحریر میں کھلا تضاد:

ڈاکٹر صاحب اپنے جوابی خطاب میں اس موضوع پر کہ کون سے لفظوں سے گستاخی ثابت ہوتی ہے اور کون سے لفظوں سے نہیں ہوتی پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

کسی لفظ میں کسی سمت بھی اگر احتمال آجائے ،قول ظاہر میں تب بھی حکم کفر رفع ہو جاتا ہے اور قصد و نیت میں احتمال ہو جائے تب بھی حکم کفر رفع ہو جاتا ہے۔ کفر اور گستاخی تب بنتی ہے جب کفریہ قول بھی صریح اور قطعی ہو اور قصد اور ارادہ بھی کفر پر صریح اور قطعی ہو ۔ ۔ ۔ ۔ شریعت کا حکم قولِ ظاہر پر ہے نیت میں بیشک اسکے کوئی اور شئے ہو ۔۔۔۔ اور کلام میں صراحت ہو اور دلالت میں قطعیت ہو ۔۔۔ اور غیر کفر کا احتمال نہ ہو، نہ کلام ظاہر میں، نہ نیت میں غیر کفر کا احتمال ہو (تب گستاخی بنتی ہے)

(وضاحتی خطاب)

قارئین! گذشتہ صفحات میں آپ نے ڈاکٹر صاحب کے ”دعویٰ مجددیت“ سے پہلے کا نظریہ ملاحظہ فرمالیا ہے کہ آنجناب کے ہاں محض، اشارۃً، کنایۃً، اتفاقیہ، بلانیت توہین محض توہین کے وہم و شائبہ والا لفظ بھی شان حضور ﷺ میں بولا جائے تو بھی گستاخی ثابت ہو جاتی ہے اب آپ نے ڈاکٹر صاحب کے ”دعویٰ مجددیت“ ”بین المذاہب کانفرنس“ کے بعد کا نظریہ ملاحظہ فرمالیا، روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جناب کا نظریہ و عقیدہ بالکل بدل چکا ہے۔

گذشتہ صفحات میں آپ ڈاکٹر صاحب کی تصنیف کے اقتباسات ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ قول اور تحریر میں کھلا تضاد ہے۔ اور یہ تضاد کسی سیاسی لین دین یا کسی اور دنیاوی معاملے میں نہیں ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ کی ناموس کے معاملے میں ہے، آپ کی حرمت کے معاملے میں ہے، ایمان اور کفر کے معاملے میں ہے۔ ہم یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کی حرمت و ناموس کے معاملے میں آخر یہ کھلا تضاد کیوں؟ آپ کی تحریر کو درست سمجھا جائے یا تقریر کو؟ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اور پھر حیرت ہے کہ ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ جہاں لفظ صریح اور قطعی ہو وہاں نیت و ارادے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی اور موصوف بھی اپنی کتاب میں جگہ

صفحہ 302

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

جگہ لکھ چکے ہیں کہ جہاں صراحت ہو وہاں کسی نیت وارادے کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔ تو اب یہ اصول وضع کرنا۔۔۔کہ لفظ صریح اور قطعی ہو اور ارادہ ونیت بھی کفر پر صریح و قطعی ہو تب گستاخی ثابت ہوتی ہے۔۔۔کیا مضحکہ خیز نہیں ہے؟ لفظ صریح تو ہوتا ہی وہ ہے جہاں مفہوم ظاہر ہو اور کسی نیت یا ارادے کی حاجت نہ ہو۔۔۔۔ اس واضح تضاد کو ہم کیا نام دیں؟۔۔مسئلہ ناموس رسالت میں ٹھوکر ۔۔۔یا۔۔؟

دیانت کا خون

ڈاکٹر صاحب نے گورنر کا دفاع کرتے کرتے دیانت کا خون کیا ہے اور صرف ایک ملعون شخص کا دفاع کرتے کرتے جناب نے اپنے مقام ومنصب سے اتنا تنزل کیا ہے کہ اس کو اگر حقیقی نام دیا جائے تو ”منہاجین“ کی دل آزاری ہوگی ، جو کہ میرا مقصود نہیں ہے۔

آنجناب نے سلمان تاثیر کے انٹرویو کے الفاظ کو ذکر کرتے ہوئے انتہا درجے کی خیانت کی ہے حالانکہ وہ اپنے خطاب کے ابتداء میں یہ اعلان کر چکے تھے کہ میں سلمان تاثیر کے انٹرویوز اور اس کی سٹیٹمنٹ کو دیانت داری سے پڑھوں گا اگر ایسا نہ کروں تو جہنم کا کتا ہو جاؤں ۔ لیکن افسوس کہ جب گورنر کے انٹرویوز اور سٹیٹمنٹس کو آپ نے اپنے خطاب کے دوران پڑھا تو صرف اس کی وہ باتیں پیش کیں کہ جن میں اس کا بچاؤ آسکتا تھا۔ اس کی صریح گستاخی کی باتیں اور گستاخانہ انداز یکسر چھوڑ دیا گیا اور پھر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے کہا کہ ”اس کے تمام انٹرویوز میں صرف اس طرح کی باتیں ہیں اس کے سوا اور کچھ بھی نہیں ۔“ میں تو سوچ رہا ہوں کہ خداوندا ۔۔۔۔!!! اگر ”بزرگوں“ کی بے احتیاطی کا یہ حال ہے تو پھر ”چھوٹوں“ کا کیا حال ہوگا۔ ایمان و کفر کے معاملات اور حضور ﷺ کی ناموس وحرمت کے معاملے پر یہ طرز فکر وعمل۔۔۔۔۔۔؟ آخر میں اسے کیا نام دوں۔۔۔۔؟

خداوندا تیرے سادہ لوح بندے کدھر جائیں ۔
صفحہ 303

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

گورنر کے کفر و ارتداد کی تیسری وجہ

گورنر کے کفر و ارتداد کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ گورنر کے بیانات کو پڑھنے اور اس کے انٹرویوز کو سننے کے بعد ایک ادنیٰ سا شخص بھی سمجھ سکتا ہے کہ اس نے بار بار شریعت کا ”استخفاف “ کیا ہے چنانچہ شیخوپورہ جیل میں پریس کانفرنس میں گورنر نے بار بار کہا:

(ملک میں) اس کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔

اپنے ایک انٹرویو میں گورنر نے کہا: دیکھیں یہ جو قانون (توہین رسالت) ہے تو دیکھیں ہم یورپی کمیونٹی کے آگے درخواست کر رہے ہیں۔۔۔۔ اور وہ لوگ انسانی حقوق کو بھی دیکھتے ہیں ۔۔۔ پھر ہم 2014ء میں کمپلیٹ ممبر شپ کیلئے اور اکنامک انٹری کے لئے (یورپی مارکیٹ میں جا رہے ہیں) اس قانون کے باعث وہ لوگ نظر ثانی کر رہے ہیں۔ لہٰذا اس طرح کے قوانین پاکستان کیلئے اچھے ثابت نہیں ہوں گے۔

وقت ہم لوگ یورپی مارکیٹ میں انٹری کی کوشش کر رہے ہیں جو ہماری ٹیکسٹائل کی انٹری ہے ابھی 30 تاریخ کو ہماری WTO کی میٹنگ ہے وہاں بھی اس (قانون) کا اثر پڑے گا۔ اس کے علاوہ ۔۔۔۔ گورنر کے CNN، مرزائی چینل، ایکسپریس، نیوز، جیو نیوز، سما نیوز، CNBC اور دیگر مغربی ذرائع ابلاغ کو دیئے گئے انٹرویوز کو بغور سنیں۔ گورنر نے جگہ جگہ کہا ہے کہ اس طرح کے قوانین نہیں چلیں گے۔

گورنر کے اس طرح کے جملوں سے واضح طور پر ثابت ہو رہا ہے کہ قرآن وسنت کے قوانین موجودہ دور میں ترقی کی راہ میں حائل ہیں اور ان قوانین کے ہوتے ہوئے زندگی گزارنا مشکل ہے اور گورنر اپنی گفتگو سے اسلامی قوانین کو عالمی، وضعی قوانین کے مقابلے میں ناقص قرار دے رہا ہے۔ اور یہ سراسر ”استخفاف شریعت“ ہے اور استخفاف شریعت کے کفر ہونے میں بھلا کس عقلمند کو

صفحہ 304

(قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے)

کلام ہو سکتا ہے امام آلوسی رحمہ اللہ سورۃ مجادلہ کی آیت نمبر 4 کے تحت بادشاہوں اور ارباب اقتدار کے اپنے بنائے ہوئے ایسے قوانین جو شریعت اسلامیہ کے قوانین سے ٹکرا جائیں کو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت قرار دیتے ہوئے شرعی قوانین کے مقابلے میں وضعی قوانین کی حیثیت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

لا شک فی کفر من یستحسن القانون و یفضله علی الشرع ویقول : هو اوفق بالحکمة واصلح للامة ويتميز غیظا ويتقصف غضبا اذا قیل له فی امر : امر الشرع فیه کذا کما شاهدنا ذالک فی بعض من خذلهم الله

(روح المعانی جلد 28 زیر آیت مذکور)

اس شخص کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے جو اس (وضعی) قانون کو شریعت کے مقابلے میں افضل اور مستحسن قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قانون زیادہ حکیمانہ اور لوگوں کیلئے زیادہ مناسب و موزوں ہے اور جب کسی معاملہ میں اسکو کہا جائے کہ شریعت کا حکم تو اس بارے میں یہ ہے تو اس پر وہ غصے میں بھڑک اٹھتا ہے جیسا کہ ہم نے بعض لوگوں کو دیکھا ہے کہ جن پر اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے۔

یہ شریعت مطہرہ کا مسلمہ قانون ہے کہ اگر کوئی شخص نبی علیہ السلام کی سنت مطہرہ کی بابت استخفاف کا کلمہ کہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

امام ابن نجیم فتاویٰ بزازیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں :

”وفی البزازية قيل قلم الاظفار سنة فقال لا افعل وان كان سنة کفر “

(فتح الغفار ص 253)

فتاویٰ بزازیہ میں ہے ایک شخص سے کہا گیا کہ ناخن کاٹنا سنت ہے تو اس نے کہا کہ میں نہیں کاٹوں گا اگرچہ یہ سنت ہے تو ایسا کہنے والا شخص کافر ہو جائے گا۔

غور فرمائیں! سنت کا کہہ کر یہ کہنا کہ میں ایسا نہ کروں گا یہ سنت کا استخفاف ہے لہٰذا ایسا بندہ کافر ہو جائے گا تو جو شخص صراحتاً کہے کہ آج کے دور میں اس طرح کا قانون نہیں چلے گا تو یہ استخفاف شریعت اور کفر کیوں نہیں ہے؟

صفحہ 305

﴾قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے﴿

مشہور کتاب ”محیط برھانی“ میں علامہ امام محمود بن احمد بن عمر برہان الدین فرماتے ہیں: ”رجل قال لآخر كلما كان ياكل رسول الله كان يلحس اصابعه الثلاث ، فقال ذالك الرجل (نعوذ بالله) ایں بے ادبی است ، فهذا كفر رجل قال لآخر احلق رأسك وقلم اظفارك فان هذا سنة رسول الله فقال ذالك الرجل لا افعل في سنة معروفة و ثبوتها بالتواتر كالسواك وغيره “

(المحيط البرهاني 408/7)

ایک آدمی نے دوسرے سے کہا کہ جب رسول اللہ ﷺ کھانا تناول فرمایا کرتے تھے تو اپنی تینوں مبارک انگلیوں کو چاٹ لیا کرتے تھے اس پر اس شخص نے کہا (نعوذ باللہ ) یہ خلاف تہذیب ہے تو یہ اس شخص کا کفر ہے۔ اسی طرح ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ اپنا سر منڈوایا کر یا ناخن کٹوایا کر کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے اور اس پر دوسرے شخص نے کہا اگرچہ یہ سنت ہو میں یہ کام نہیں کروں گا تو یہ بھی کفر ہے اسلئے کہ اس نے یہ بات سنت مطہرہ کے انکار و ردّ کے طور پر کہی اسی طرح سرکار دو عالم ﷺ کی تمام سنتوں میں ہے خصوصاً جو معروف سنتیں ہیں اور جن کا ثبوت تواتر سے ہے جیسے مسواک وغیرہ۔

اسی طرح کی بے شمار فقہی عبارات پیش کی جاسکتی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر سنت کا استخفاف ہو یا اس کا سنت جانتے ہوئے انکار و ردّ تو یہ کفر ہے۔ تو یاد رہے کہ ناموس رسالت کا قانون قرآن و سنت کا قانون ہے اس کا ردّ و استخفاف کفر کیوں نہ ہوگا؟

گورنر کے کفر کی چوتھی وجہ

اس کے علاوہ سلمان تاثیر کے کفر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والی آئینی شق کے بھی خلاف تھا: اور مختلف مقامات پر گورنر کے انٹرویوز اور مصروفیات پر غور و فکر کیا جائے تو وہ قادیانیوں کو مسلمان سمجھتا تھا۔ چنانچہ لاہور میں قادیانیوں کے مذہبی سینٹر پر دہشت گردی کا حملہ ہوا تو گورنر نے 28-5-10 کو احمدیوں سے ان کے سینٹر میں جا کر تعزیت کی۔ اس دوران پاکستان میں قادیانیوں کے سربراہ نے گورنر سے کہا: کہ یہ جو پرسوں کا واقعہ ہوا

صفحہ 306

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

ہے یہ اس نفرت کی مہم کا نتیجہ ہے جو مہم 74 سے ہمارے خلاف جاری ہے۔ آپ پی پی کے اہم رکن ہیں اس وقت pp کی حکومت ہے اس لئے جو غلطیاں پیچھے ہو چکی ہیں ان کو دور کرنے کے لئے بھی آپ کو سٹپس اٹھانے چاہیں۔ گورنر نے انہیں یقین دلاتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی باتیں سن چکا ہوں اور میں نے نوٹ کر لی ہیں۔ آخر میں سنٹر سے باہر نکلتے ہوئے سلمان تاثیر نے پوچھا کہ 74 کی مہم سے آپ کی کیا مراد ہے؟ تو قادیانی رہنما نے کہا کہ اس سے ہماری مراد سیکنڈ امینڈمنٹ اور توہین رسالت کے قوانین ہیں اور 74 کی ترمیم یہ چیزیں جب تک ختم نہ ہوں گی تب تک یہ سلسلہ ختم نہ ہوگا۔

اس کے بعد سماء TV کو انٹرویو دیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ قادیانیوں کو کافر قرار دینے والا قانون بھی انسانی قانون ہے خدا کا قانون نہیں ہے اس میں بھی اگر اسمبلی چاہے تو ترمیم ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں سلمان تاثیر نے اپنی کتاب BHATTO A POLITICAL BIOGRAPHY میں قادیانیوں کیلئے A QUASI ISLAMIC SECT شبہ الفرق الاسلامی کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یعنی ایک اسلامی فرقہ اور اس پر مستزاد یہ کہ گورنر کی بیٹی نے انڈیا کے ٹی وی چینل ND TV کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میرے والد احمدیوں کو کافر قرار دینے والی قانونی شق کے بھی خلاف تھے۔

ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ ختم نبوت کا منکر کافر ہے اور یہ بات 1974ء میں پاکستان کے آئین کا حصہ بنی جس کے مطابق احمدیوں ، قادیانیوں کو کافر قرار دیا گیا۔ اس قانونی شق میں ترمیم یا اس کے ساتھ اختلاف سے مراد ختم نبوت کے منکروں کے کفر کا انکار ہے اور خود ڈاکٹر صاحب اور ان کے متبعین بھی اس سلسلے میں تسلیم کرتے ہیں کہ ختم نبوت کے منکر کے کفر کا انکار از خود کفر ہے اور اس بات پر قادری صاحب کے درجنوں بیانات ہمارے پاس موجود ہیں۔

سلمان تاثیر کے کفر کی پانچویں وجہ:

سلمان تاثیر کے کفر پر ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس کے بیٹے آتش تاثیر نے اپنے باپ کے

صفحہ 307

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے، زبان کچھ اور کہتی ہے﴾

کیئر یکٹر کو اپنی کتاب ”STRANGER TO HISTORY“ کے صفحہ نمبر 21 اور 22 پر ان لفظوں میں بیان کیا ہے۔

MY Father who drank scotch every evening, never fasted or Praryed even ate pork and once said , it was only when i was in Jail and all they gave me to read was Quran and read it back to front several times. That i realized there was nothing in it for me.

ترجمہ: میرا والد ہر شام شراب پیتا ہے، اس نے روزہ کبھی نہیں رکھا تھا اور نہ ہی کبھی نماز پڑھی یہاں تک کہ خنزیر کھاتا تھا ایک دن اس نے کہا ایک دفعہ جب وہ جیل میں تھا تو انہوں نے مجھے قرآن مجید پڑھنے کے لئے دیا میں نے بہت دفعہ اس کو آخر سے شروع کی طرف پڑھا لیکن مجھے اس میں کچھ نظر نہ آیا اور اس نے محسوس کیا کہ اس میں میرے کام کی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔

اگر گورنر کے بارے میں اسکے اپنے ہی بیٹے کی گواہی تسلیم کر لی جائے تو یہ باتیں کہ ”قرآن میں میرے لئے کچھ نہیں ہے“ قرآن پاک کا استخفاف اور توہین ہے اور اسکی یہ باتیں کفریہ ہیں۔

گو کہ ڈاکٹر صاحب کے لئے گورنر کی یہ باتیں بھی گرانی کا باعث نہ ہوں گی پھر بھی ہم جناب کو بتا رہے ہیں کہ غور فرمائیں آنجناب کیسے شخص کی حمایت پر کمر بستہ ہیں اور وہ تحریک جس کی بنیاد عشق رسول کے نعرے پر رکھی گئی تھی آج اس کے اسکالرز اور متعلقین ملک کے طول وعرض میں سلمان تاثیر کا دفاع کر رہے ہیں اور درس ”عرفان القرآن“ کی نشستیں گستاخوں کی حمایت میں سجائی جا رہی ہیں اور گورنر کے دفاع کے ضمن میں منہاج القرآن کے فضلاء دبے لفظوں میں ملعونہ عاصیہ کی حمایت بھی کر رہے ہیں اور فقہ حنفی کے راجح اور مرجوح قول اور ڈاکٹر صاحب کے لفظوں کے ہیر پھیر کے معاملے میں قاضی عیاض مالکی کی عبارات کے غلط مفاہیم کو بیان کرتے ہوئے عوام کے ذہنوں میں قانون انسداد توہین رسالت 295C کے خلاف بھی شکوک و شبہات کے بیج بو رہے ہیں۔۔۔۔ کیا یہی درس عشق رسول ہے؟

صفحہ 308

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

گورنر کے کفر کی چھٹی وجہ

مقتول گورنر سلمان تاثیر نے اس کی غیر شرعی حرکتوں سے اسے آگاہ کرنے والے علماء کی کھلی توہین کی اور کہا کہ میں انہیں جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں اس سلسلے میں عرض ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے گورنر کو بچانے کی خاطر انتہائی علمی خیانتوں سے بھی اجتناب نہیں کیا اور کئی کھلے ” اکاذیب“ بھی ان کے نامہ اعمال کا حصہ بنے اگر موصوف راجح اور مرجوح اور محکم و خفی و مشکل کے فرق کو ترک فرما کر صرف ظاہر عبارات پر زور دے دے کر 12 گھنٹے صرف کر سکتے ہیں تو آنجناب سے گذارش ہے کہ آپ ان عبارات پر بھی ذرا نظر ڈالیں یہ کیا کہہ رہی ہیں۔ چنانچہ علامہ ملا علی قاری رحمہ اللہ الباری فرماتے ہیں:

من قال للعالم عويلم او لعلوى عليوى (بالتصغير) قاصدا به الاستخفاف کفر جس شخص نے عالم دین کی توہین کرتے ہوئے عویلم تصغیر کے صیغے کے ساتھ کہا یا علوی کو علیوی کہا تو اس نے کفر کیا۔

(منح الروض ص 47 طبع کراچی از ملا علی قاری رحمہ اللہ)

یونہی مجمع الانہر فی شرح ملتقی الابحر میں ہے:

من قال للعالم عويلم او لعلوى عليوى قاصدا به الاستخفاف کفر جس شخص نے عالم دین کی توہین کرتے ہوئے عویلم تصغیر کے صیغے کے ساتھ کہا یا علوی کو علیوی کہا تو اس نے کفر کیا۔

(مجمع الانہر فی شرح ملتقی الابحر ج4 ص420)

الدرر السنیۃ میں ہے: قول القائل فُقَیہ او عويلم او مطيويع ونحو ذلک فاذا کان قصد القائل الهزل او الاستهزاء بالفقه أو العلم أو الطاعة فهذا کفر أيضاً ينقل عن الملة فيستتاب فان تاب والا قتل مرتداً کسی کہنے والے کا فقیہ عالم اور عبادت گزار کے لئے تصغیر کے صیغے کے ساتھ، فُقَیہ یا عويلم یا مطيويع اور اسی طرح کے لفظ بولنا اگر قائل کا ارادہ ہزل واستہزاء کا ہو فقہ کے ساتھ یا علم کے ساتھ یا اطاعت کے ساتھ تو ایسا کہنا بھی کفر ہے۔ ایسا کہنے والا ملت اسلامیہ سے خارج ہو جاتا

صفحہ 309

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے، زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

ہے پس اس سے توبہ طلب کی جائے گی اگر اس نے توبہ کی تو درست وگرنہ مرتد مارا جائے گا۔

غور فرمائیں! جب ایک عالم دین کی دینی معاملے کے باعث توہین کرتے ہوئے تصغیر کا صیغہ بولنا توہین ہے تو لاکھوں علماء کو محض اس لئے جوتے کی نوک پر رکھنا کہ انہوں نے قرآن وسنت کی بات کی یہ کفر کیوں نہ ہوگا؟

شدید ترین علمی خیانت

ڈاکٹر صاحب کی اپنے انٹرویو کی وضاحت کے لئے کی گئی گفتگو میں کئی مقامات پر واضح تضادات بھی ہیں اور متعدد مقامات پر ان کی شدید علمی خیانتیں بھی۔ ممکن ہے کہ اس میں ڈاکٹر صاحب کی عدم توجہ بھی شامل ہو تاہم ظاہری حالات بتا رہے ہیں کہ موصوف نے اپنے مقصد کی خاطر جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔ چنانچہ آپ نے اپنے مطلب کی عبارات تو پڑھ ڈالیں مگر جو عبارات آپ کے مقصد کے خلاف تھیں یا جس عبارت میں ان کی پوری تقریر کا جواب تھا اس عبارت کو درمیان سے ترک فرما دیا۔

ایک جگہ حضرت نے شفاء شریف کی عبارت پڑھی۔

ان یاتی من الکلام بمجمل یلفظ من القول بمشکل یمکن حملہ علی النبی وعلی غیرہ او یتردد فی المراد به من سلامته منا لمکروہ او شرہ فھھنا مترد النظر وحیرۃ العبد ومظنة اختلاف المجتھدین ووقفة استبراء المقلدین لیھلک من ھلک عن بینة ویحی من حی عن بینة

یعنی اگر کوئی شخص کوئی مجمل کلام کرے یا کوئی مشکل لفظ بولے کہ اسکے کلام کو ایک وقت میں نبی علیہ السلام یا کسی اور پر محمول کرنا ممکن ہو یا اس کلام کی مراد میں تردد ہو یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں پر مجتہدین متردد ہو جاتے ہیں اور اس جگہ پر مجتہدین کا اختلاف ہوتا ہے اور ان مجتہدین کے مقلدین کیلئے توقف کرنا لازم ہے تا کہ جس شخص کو قتل کیا جائے وہ دلیل کی بنیاد پر قتل ہو اور جسے زندہ چھوڑا جائے وہ بھی کسی دلیل کی بنیاد پر زندہ رہے۔

صفحہ 310

(قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے)

اس کے متصل بعد کی عبارت کو ڈاکٹر صاحب ترک فرما گئے:

فمنهم من غلب حرمة النبي وحمى حمى عرضه فجسر على القتل ومنهم من عظم حرمة الدم ودر الحد بالشبهة لاحتمال القول وقتل المؤمن من الموبقات

(شفاء شريف طبع بيروت جلد 2 ص 223)

پس ان مجتہدین میں سے بعض وہ ہیں جو نبی علیہ السلام کی ناموس وحرمت کو غالب کرتے ہیں اور آپ کی عزت و ناموس کی حفاظت کرتے ہیں تو وہ ایسے ( نبی علیہ السلام پر ذومعنی لفظ بولنے والے ) کے قتل کا اقدام کرتے ہیں اور بعض وہ ہیں جو انسانی خون کی حرمت کی تعظیم کرتے ہیں وہ قتل کا اقدام نہیں کرتے اور حد کو شبہ اور قائل کے قول کے احتمال کے باعث ساقط کر دیتے ہیں اور اس وجہ سے بھی کہ مومن کا قتل مہلکات میں سے ہے۔

ڈاکٹر صاحب کی پوری تقریر ان کی اپنی کتاب تحفظ ناموس رسالت اور ان کے وفاقی شرعی عدالت میں پیش کئے گئے مقالے کا صریح رد ہے جبکہ ان کی ابتدائی تقریر کا جواب اس متروکہ عبارت میں موجود ہے ”یعنی وہ لوگ کہ جن پر حرمت رسول اور ناموس رسالت کی حفاظت کا جذبہ غالب ہے وہ حضور ﷺ کے خلاف بولے گئے کسی ذومعنی لفظ کی تاویلوں کے چکر میں نہیں پڑتے بلکہ ان کے نزدیک یہ تاویلیں فاسد ہیں اور ایسا شخص جو نبی علیہ السلام کی شان میں ایسا ذو معنی لفظ بولے کہ جس سے بے ادبی و گستاخی مفہوم ہوتی ہو تو وہ قتل کر دیا جائے گا۔ جناب کے جذبات بھی ”وکلاء کانفرنس“ سے قبل انہی لوگوں میں سے تھے تب ہی تو آپ نے عدالت میں جمع کروائے ہوئے مقالے میں کہا تھا:

کہ گستاخ رسول کے ارادے یا نیت کو دیکھے بغیر اسے موقع پر ہی قتل کر دیا جائے گا۔

(ناموس رسالت اور قانون توہین رسالت 165، از اسماعیل قریشی)

کیا ڈاکٹر صاحب اور ان کے متبعین میں سے کوئی شخص یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ آنجناب نے مذکورہ عبارت شفاء کو کیوں ترک فرمایا ؟؟؟

صفحہ 311

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے﴾

بنانے کے دعوے ۔۔۔ کیا یہ علماء کی شان ہے؟

ڈاکٹر صاحب نے اپنی گفتگو میں بار بار یہ کہا کہ پاکستان میں موجود قانون 295C صرف اور صرف میں نے بنایا ہے اور میری کوششوں سے بنا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے صرف اور صرف کا حصر کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس قانون کے بنانے میں کسی اور فرد کا کردار یا حصہ نہیں۔ جبکہ ڈاکٹر صاحب کا یہ دعویٰ بالکل خلاف واقع ہے۔ اگر جناب کی جگہ کوئی اور شخص ہوتا تو اس کے اس طرح کے دعوے کو بہت بڑی کذب بیانی قرار دیا جاتا۔ لیکن چونکہ میرا مقصود کسی کی دل آزاری نہیں ہے اس لئے میں نے ’’خلاف واقع‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اگر سو دو سو سال پرانا کوئی قصہ ہوتا تو جناب کا ’’خلاف واقع کا دعویٰ‘‘ شاید چل جاتا لیکن معاملہ یہ ہے کہ ابھی وہ لوگ اکثریت سے زندہ موجود ہیں کہ جنہوں نے اس قانون کو بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور پھر سب سے بڑی بات یہ کہ قومی اسمبلی اور عدالت کا ریکارڈ بھی موجود ہے جس کی موجودگی میں خلاف واقع کا دعویٰ محض بے سود ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس شق کو مختلف مراحل میں قانون کا حصہ بنانے کی خاطر متعدد لوگوں کے نام بولتے ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق قومی اسمبلی میں توہین رسالت کا بل آپا نثار فاطمہ MNA نے پیش کیا۔ اور اس بل کو مشہور وکیل جناب محمد اسماعیل قریشی صاحب نے محنت شاقہ سے تیار کیا تھا۔ قریشی صاحب نے وفاقی شرعی عدالت میں اولاً پٹیشن دائر کی اور بعد ازاں قومی اسمبلی میں بل پاس ہونے کے بعد اس میں عمر قید کی سزا کو حذف کروایا تب گستاخ رسول کی سزا صرف اور صرف سزائے موت کا قانون آئین پاکستان کا حصہ بنا۔ اسماعیل قریشی صاحب کو بہت سے وکلاء وعلماء کا تعاون حاصل تھا ان متعدد علماء میں سے مفتی محمد حسین نعیمی ، مفتی غلام سرور قادری ، مولانا عبدالستار خان نیازی ، پیر سید اعجاز شاہ ، مولانا فضل ہادی ، مولانا سبحان محمود ، مولانا سعید الدین شیرکوٹی ، مولانا عبدالفلاح ، مولانا متین ہاشمی اور سب سے بڑھ کر پیر کرم شاہ صاحب الازہری اور جسٹس شجاعت علی قادری جیسے لوگوں کا کردار بھی رہا ہے اور ان کے علاوہ وفاقی شرعی عدالت میں دیگر علماء کرام کے ساتھ ڈاکٹر صاحب نے بھی ضرور دلائل پیش کئے ہیں تاہم آپ کا یہ کہنا کہ صرف اور

صفحہ 312

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

صرف یہ قانون میں نے منظور کروایا ہے انتہائی مضحکہ خیز ہے۔

یونہی ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ہے کہ علماء میری ناموس رسالت کے موضوع پر لکھی گئی کتاب ہی سے مواد بیان کرتے ہیں اور اردو میں اتنی جامع کتاب صرف میری ہی ہے۔ اس سلسلے میں عرض ہے کہ جناب کی کتاب پہلی بار 2002ء میں منصۂ شہود پر آئی ہے جبکہ اس سے 8 سال قبل ناموس رسالت کے قانون پر 458 صفحات پر مشتمل کتاب ”ناموس رسول اور قانون توہین رسالت“ 1994ء میں چھپ چکی تھی اور اس کتاب کے مصنف محترم اسماعیل قریشی صاحب ہیں اور اس کتاب میں ناموس رسالت کے قانون کی تیاری اور دیگر مراحل پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے اور دونوں کتابوں کے تقابل سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے بہت سارا مواد مذکورہ کتاب سے اخذ کیا ہے جسے اپنے الفاظ کے قالب میں ڈھال کر اپنی کتاب کا حصہ بنایا۔ دیانتداری سے اگر دیکھا جائے تو محترم اسماعیل قریشی صاحب کی کتاب ڈاکٹر صاحب کی کتاب سے کہیں بڑھ کر مفید ہے اور اس کے مصنف نے صحیح معنوں میں محنت کی ہے اور کسی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا ہے۔ اسکے علاوہ اس مسئلے پر اس سے قبل بھی اردو زبان میں بے شمار جرائد و رسائل لکھے گئے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پروفیسر صاحب کی ماخذ کتاب ”الصارم المسلول“ کا اردو ترجمہ بھی بڑے عرصے سے مارکیٹ میں آچکا ہے لہٰذا یہ کہنا کہ اردو زبان میں سب سے پہلے میرا کام ہوا اپنی بڑائی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ نہ جانے ڈاکٹر صاحب اپنی بڑائی کیلئے خلاف واقع باتوں کا سہارا کیوں لیتے ہیں؟ میرا اس رسالہ کے تحریر کا مقصد محض ناموس رسالت اور ممتاز حسین قادری کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب کی توجہ مبذول کروانا تھا۔ نہ کہ ڈاکٹر صاحب کے اباطیل و اکاذیب کو ظاہر کرنا یہ چند باتیں تو بطور نمونہ ذکر کی گئی ہیں۔ وگرنہ ایسی بیسیوں باتیں اور تضادات ڈاکٹر کی دوغلی گفتگو سے سامنے آئے ہیں اور ان کی تصانیف میں موجود ہیں کہ جن کے بیان سے کئی جلدیں معرض وجود میں آسکتی ہیں۔ طوالت سے بچتے ہوئے ان تمام چیزوں کو ترک کیا جارہا ہے۔

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

علمائے حق پر ڈاکٹر صاحب کا غصہ

ڈاکٹر صاحب نے اپنی گفتگو لالچی اور نہ جانے کن کن مغلظات عبارات پڑھتے ہوئے شدید اعرابی غل ہے تو کہیں فاعل کو مجرور بنا دیا۔ کہیں بالکل حذف فرمادیا۔ اور کہیں ترجمہ

اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحب اردو ترجموں میں شدید نوعیت کی غلط سا طالب علم بھی حیران رہ جاتا ہے رہا ہے تاہم ان تمام چیزوں کو ”م منہاج القرآن“ کے فضلاء مشتمل ہو سے قبل یہ سوچ لینا چاہیے کہ تین شریعت اپیلٹ کا علماء نے رد شرو دعوت دی تو جواباً منہاج القرآن کرنے والے علماء کو ریسرچ کے ہے کہ ہمیں اعتراف ہے کہ ہمار آتے ہوں تاہم ان فضلاء سے گز ذخیرہ انگریزی میں ہے؟

امام غزالی و رازی و آل محدث دہلوی و خواجہ گولڑوی رحمہم فقہ ، اصول فقہ ، اصول حدیث ، او

صفحہ 313

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے، زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

علماءِ حق پر ڈاکٹر صاحب کا غصہ

ڈاکٹر صاحب نے اپنی گفتگو میں علماء کرام کو خوب تختہ مشق بنایا ہے علماء کو جاہل خود غرض، لالچی اور نہ جانے کن کن مغالطات سے نوازا ہے تاہم ڈاکٹر صاحب نے گفتگو میں جگہ جگہ عربی عبارات پڑھتے ہوئے شدید اعرابی غلطیاں کی ہیں کہیں مرفوع کو منصوب اور منصوب کو مرفوع پڑھا ہے تو کہیں فاعل کو مجرور بنا دیا۔ کہیں اعراب کو بالکل ترک فرما دیا تو کہیں پورے پورے جملے کو بالکل حذف فرما دیا۔ اور کہیں ترجمہ میں قواعد کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحب کی تصانیف میں بھی بے شمار مقامات پر عربی عبارات کے اردو ترجموں میں شدید نوعیت کی غلطیاں ہیں اور کئی مقامات پر تو ایسی فحش غلطیاں ہیں کہ ایک ادنیٰ سا طالب علم بھی حیران رہ جاتا ہے۔ کہیں مصدر کو مبالغہ کا صیغہ تو کہیں اسم اشارہ کو اسم ضمیر قرار دیا جا رہا ہے تاہم ان تمام چیزوں کو ”مسامحات“ کے بجائے اگر ہم جہالت پر محمول کریں تو یقیناً ” منہاج القرآن“ کے فضلاء مشتعل ہوں گے۔ تاہم اتنا عرض ہے کہ کسی کی طرف ایک انگلی اٹھانے سے قبل یہ سوچ لینا چاہیئے کہ تین انگلیوں کا رخ اپنی طرف ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی خلاف شریعت سٹیٹمنٹ کا علماء نے رد شروع کیا اور ایک بزرگ عالم دین نے ڈاکٹر صاحب کو مناظرے کی دعوت دی تو جواباً منہاج القرآن کے فضلاء نے اخبارات میں یہ خبر لگوائی کہ ڈاکٹر صاحب کو چیلنج کرنے والے علماء کو ریسرچ کے سپیلنگ تک نہیں آتے وہ مناظرہ کیا کریں گے۔ اس سلسلے میں عرض ہے کہ ہمیں اعتراف ہے کہ ہمارے کئی علماء کی انگریزی کمزور ہے اور ممکن ہے کہ انہیں ”سپیلنگ“ نہ آتے ہوں تاہم ان فضلاء سے گذارش ہے کہ جناب والا! بتلائیے کہ علوم اسلامیہ کا کتنے فیصدی ذخیرہ انگریزی میں ہے؟

امام غزالی و رازی و آلوسی کو کس قدر انگریزی زبان پر عبور حاصل تھا؟ مجدد الف ثانی و محدث دہلوی و خواجہ گولڑوی رحمہم اللہ تعالیٰ کو کس قدر انگریزی پر مہارت حاصل تھی؟ حدیث، تفسیر، فقہ، اصول فقہ، اصول حدیث، اصول تفسیر، منطق، فلسفہ، مناظرہ و کلام اور تاریخ کی کون کون سی

PDF 314

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے کتابیں ہیں کہ جنہیں سمجھنے کے لئے انگریزی زبان کی ضرورت پڑتی ہیں؟ جناب والا ! انگریزی سیکھنا اچھی بات ہے لیکن قرآن وسنت کے سمجھنے کا دارومدار عربی زبان پر عبور حاصل کرنے پر ہے اگر انہی عزت مآب فضلاء سے سوال کیا جائے کہ آپ کو صرف، نحو، فلسفہ ، بلاغت ، کلام ومناظرہ ،منطق اصول حدیث واصول فقہ واصول تفسیر پر کس قدر عبور حاصل ہے؟ آپ میں سے کتنے فیصدی فضلاء ہیں جنہیں قطبی، مطول، سلم، شرح ابن عقیل ، شرح جامی، قاضی مبارک، حمداللہ، حسامی شرح عقائد وغیرہ درسی کتب کی چند فصلیں حل کرنے کا ملکہ حاصل ہے؟

جن فضلاء کو شىء المطلق اور مطلق الشی اور بشرط لاشی اور لا بشرط الشی کا فرق معلوم نہ ہو ان کا اس طرح علماء کے خلاف رویہ مناسب نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی نجی زندگی کے مختلف پہلوؤں اور آپ کی علمی، تحقیقی کمزوریوں پر ناقابل تردید شواہد بھی لوگوں کے پاس موجود ہیں اگر علمی، تحقیقی باتوں سے ہٹ کر اس طرح کے طعن وتشنیع تک معاملہ پہنچ گیا تو سمجھا جاسکتا ہے کہ نقصان کس طرف زیادہ ہے۔۔۔۔؟

عاشق رسول جہنمی اور گستاخ رسول جنتی؟

ڈاکٹر صاحب موصوف نے اپنے انٹرویو میں غازی ممتاز حسین قادری کو ’’قاتل‘‘ قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا مطالبہ کیا۔ دین کا ادنیٰ سا طالب علم بھی جانتا ہے کہ ’’سزائے موت‘‘ اس قاتل کو ہوسکتی ہے جو کسی مسلمان کو عمداً، ظلماً قتل کرڈالے اور جو شخص کسی مسلمان کو ظلماً قتل کر ڈالے قرآن پاک اس کی سزا بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے۔

وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِداً فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَاباً عَظِيماًO

(النساء 93)

جس کسی شخص نے مومن کو جان بوجھ کر قتل کر ڈالا اس کی سزا جہنم ہے جہاں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب ہے اور اس کی اس پر لعنت ہے اور اس نے اس (قاتل) کے لئے بہت

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے جب م کرنے والا ثابت کرتے ہوئے اس مظلوماً قتل ہونا از خود ثابت ہوا ۔اور

ڈاکٹر صاحب نے جب م سے ثابت ہوا کہ ممتاز حسین قادری آئیں دعا کرتے ہیں

اس سلسلے میں راقم ڈاکٹر سلمان تاثیر ایک ملعونہ کا حمایتی اور کے نزدیک ممتاز حسین قادری قاتل ہم مل کر یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ڈاکٹر صاحب اور ان کے متبعین کو

اگر ڈاکٹر صاحب اور ان کہ خدارا..... قبر اور حشر میں قرب خیال تو دل میں پیدا کر لیں۔

ممتاز حسین قادری کا اقدام

ڈاکٹر صاحب نے عاشق رسول م تاہم جناب کی اپنی کتاب کا یہ اق آپ لکھتے ہیں:

صفحہ 315

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے جب ممتاز حسین قادری کیلئے سزائے موت تجویز کی تو ساتھ ہی اس کو ظلماً قتل کرنے والا ثابت کرتے ہوئے اس کو جہنمی اور لعنتی ثابت کر دیا جب قاتل ظالم ثابت ہو گیا تو مقتول کا مظلوماً قتل ہونا از خود ثابت ہوا۔ اور حدیث مبارکہ ہے ۔ من قتل دون ماله فهو شهيد

( سنن الکبریٰ النسائی ، مسند بزار ، سنن ابن ماجہ )

ڈاکٹر صاحب نے جب سلمان تاثیر کو مظلوم اور ممتاز حسین قادری کو قاتل کہا تو ان کی سٹیٹمنٹ سے ثابت ہوا کہ ممتاز حسین قادری جہنمی ہے اور سلمان تاثیر شہید ہے۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)

آئیں دعا کرتے ہیں

اس سلسلے میں راقم ڈاکٹر صاحب اور تمام منہاجین سے التماس کرتا ہے کہ ہماری نظر میں سلمان تاثیر ایک ملعونہ کا حمایتی اور گستاخ و مرتد شخص تھا۔ آپ کی نظر میں وہ ”شہید“ ہے۔ جبکہ آپ کے نزدیک ممتاز حسین قادری قاتل اور جہنمی ہے اور ہمارے نزدیک عاشق رسول ۔ آئیں آپ اور ہم مل کر یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ قیامت کے دن ہمیں ممتاز حسین قادری کی معیت عطا فرما اور ڈاکٹر صاحب اور ان کے متبعین کو سلمان تاثیر ”شہید“ اور عاصیہ مسیح ”مظلومہ“ کا ساتھ عطا فرما۔

اگر ڈاکٹر صاحب اور ان کے متبعین اس دعا پر آمین نہ کہہ سکیں تو پھر اتنا ہی عرض کرنا ہے کہ خدارا ...... قبر اور حشر میں قرب رسول ہی بڑی دولت ہے ۔ کم از کم بارگاہ رسالت کی پیشی کا خیال تو دل میں بیدار کرلیں۔

ممتاز حسین قادری کا اقدام درست ہے یا غلط

ڈاکٹر صاحب نے عاشق رسول ممتاز حسین قادری کو قاتل قرار دیتے ہوئے قانون شکن قرار دیا ہے۔ تاہم جناب کی اپنی کتاب کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں تو ممتاز قادری کی حیثیت معلوم ہو جائے گی ۔ آپ لکھتے ہیں:

صفحہ 316

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

اسلامی ریاست میں کسی کی جان و مال عزت و عصمت کی محافظت و پاسبانی اللہ کی رحمت میں شمار ہوتی ہے۔ ناحق کسی کی جان تلف نہیں کی جاتی اور کسی کا معصوم الدم ہونا بھی اللہ کی رحمت کے باعث ہوتا ہے جبکہ اس کے برعکس کسی کی جان و مال عزت و آبرو کی محافظت کی ذمہ داری کا رفع ہو جانا بہت بڑی ذلت و رسوائی ہے حتیٰ کہ یہ حکم آجائے کہ جہاں اور جب ملیں انہیں چن چن کر قتل کر دیا جائے یہاں تک کہ ان کا نام و نشان بھی صفحہ ہستی سے مٹ جائے بسبب اس کے کہ انہوں نے بارگاہ رسالت کے آداب کو نہ صرف پامال کیا ہے بلکہ بے ادبی و گستاخی اور اہانت و تنقیص رسالت کا ارتکاب بھی کیا ہے یوں منافق و کافر ہوئے۔ ان کی جان اور مال کے تحفظ کی ان کے حوالے سے اسلامی ریاست کی ذمہ داری بھی ختم ہوئی معصوم الدم ہونے کے شرف سے محروم ہو کر مباح الدم ہوئے لہٰذا انہیں تلاش کیا جائے۔ جہاں اور جس جگہ ملیں انہیں اس طرح قتل کیا جائے کہ حق قتل کے تمام تقاضے ادا ہو جائیں دوسروں کے لئے یہ عمل نشان عبرت بن جائے حتیٰ کہ اسلامی ریاست میں اس جرم اور رویے کا کلیتا خاتمہ ہو جائے۔

(تحفظ ناموس رسالت ص 193)

جب سلمان تاثیر نے اپنے قول و کردار سے ارتداد کا ارتکاب کیا تو ریاست کا شہری ہونے کے اعتبار سے جو اسے تحفظ حاصل تھا وہ ختم ہو گیا۔ کیونکہ وہ مباح الدم ہو چکا تھا۔ لہٰذا اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں عاشق رسول ممتاز حسین قادری کو جیسے ہی موقع ملا اس نے ”حق قتل“ کے تمام تقاضے پورے کئے اور سلمان تاثیر دوسروں کے لئے عبرت کا نشان بن گیا۔ اس پہرے کو بار بار پڑھا جائے اور پھر فیصلہ کیا جائے کہ ممتاز حسین قادری نے درست عمل کیا تھا یا غلط؟

ممتاز حسین قادری پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے حالانکہ اس سے پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ ممتاز حسین قادری نے اول دن سے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ اس نے سلمان تاثیر کو اس کے ارتداد کے باعث قتل کیا ہے اور اپنے اس بیان پر تاحال وہ قائم ہے۔ جب سینکڑوں علماء کے فتاویٰ اور میڈیا کے ذریعے سے ایک عاشق رسول پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ یہ شخص گستاخ ہے تو اس نے اس کو ٹھکانے لگا دیا۔ پھر بھی آنجناب کی

صفحہ 317

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے﴾

کتاب کا یہ پیرہ قابل غور ہے موصوف لکھتے ہیں:

آج دنیا کے تمام ممالک کے آئین ودساتیر میں یہ بات رقم ہے کہ جو شخص کسی سلطنت و ریاست اور اس کے دستور واقتدار اعلیٰ سے بغاوت کا ارتکاب کرے وہ سزائے موت کا مستحق ہے تعزیرات پاکستان میں یہ بات درج ہے۔ کوئی بھی شخص جو پاکستان کے خلاف جنگ و بغاوت کرے یا جنگ کرنے کی کوشش کرے یا جنگ کرنے میں مدد و اعانت کرے تو ایسا شخص سزائے موت کا مستحق ہوگا۔ یہ اس لئے تا کہ ریاست وسلطنت کا تقدس واحترام اور عظمت و حرمت ہر شئی سے بلند و فائق رہے کوئی بھی فرد اس کی شان وشوکت اور عزت و حرمت کو پامال کرنے کی جرات نہ کر سکے۔

غرضیکہ انسان کے اپنے وضع کردہ قانون و دستور اور اپنے ہاتھ سے تراشیدہ وتخلیق کردہ ریاست وسلطنت کا احترام و تقدس اس قدر بلند و اونچا ہے کہ اس ریاست کے اقتدار اعلیٰ کے خلاف کسی فرد کا اقدام بغاوت سزائے موت کو مستوجب ٹھہراتا ہے۔ جبکہ وہ ذات جو وجہ تخلیق کائنات ہے جو فخر عالم انس و جن ہے، جس کے طفیل بشریت کو شعور وفروغ ملا اور جس کے نقوش پا پر چل کر انسانیت اپنی معراج کو پہنچی ہم ایسی ذات کی عزت وحرمت ادب و احترام اور عظمت ورفعت پر کروڑوں ریاستوں اور آئین کی حرمت و تقدس کو قربان کرتے ہیں۔ آئین و ریاست کا باغی تو واجب القتل ہو جبکہ تاجدار کائنات سرور دوجہاں کی عزت و ناموس پر حملہ کرنے والا واجب القتل نہ ہو آخر کیوں؟

(تحفظ ناموس رسالت ص 357)

اب جبکہ ڈاکٹر صاحب کے اپنے جملوں سے یہ بات واضح ہو چکی کہ اگر حضور ﷺ کی حرمت و ناموس کی حفاظت میں کسی ملک کا دستور و قانون آڑے آجائے تو ایسے میں سرکار ﷺ کی حرمت و ناموس کی حفاظت لازمی ہے اور حضور ﷺ کی ناموس وحرمت پر کروڑوں ریاستوں کے قانون و آئین کی حرمت قربان ہو تو پھر بھی کم ہے۔ اب ممتاز حسین قادری اور گورنر کے معاملے پر ایک دفعہ پھر غور کریں تو یہ بات عیاں ہوگی کہ گورنر اپنے قول و کردار کے باعث مرتد ہو چکا تھا اور

صفحہ 318

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے﴾

ساتھ ہی وہ واجب القتل ہو چکا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی تحریروں کی روشنی میں ناموسِ رسالت کی حفاظت گستاخ و مرتد کے قتل میں ہے۔ جب ممتاز حسین قادری نے دیکھا کہ ملک کا قانون حرمتِ رسول کی حفاظت میں آڑے آ رہا ہے اور گورنر کے خلاف FIR تک نہیں ہو سکتی تو ممتاز حسین قادری نے ڈاکٹر صاحب کے کہے کے مطابق ملک کے وضعی قانون کو حرمتِ رسول کی حفاظت پر قربان کر دیا اب ایسے میں ڈاکٹر صاحب کا ممتاز حسین قادری کو قانون ہاتھ میں لینے کا الزام دینا اور ان کے لئے سزائے موت تجویز کرنا کیا تحریر و تقریر کا کھلا تضاد نہیں ہے؟

اگر یہ جرم ہے تو ۔۔۔ شریک تم بھی ہو !!!

ڈاکٹر صاحب اپنی گفتگو میں تو امن کے پیغمبر اور داعی بنے ہوئے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنی مذکورہ کتاب میں جگہ جگہ ایسے جملے تحریر کئے ہیں کہ کتاب پڑھنے والا واضح محسوس کرتا ہے کہ گستاخ رسول اگر سامنے آئے تو اسے فوراً ہی قتل کر دیا جائے اور اسے زندہ چھوڑنا بے غیرتی ہے۔ نیز جگہ جگہ ڈاکٹر صاحب نے عامۃ المسلمین کو شدید اشتعال دلا دیا ہے کہ وہ از خود گستاخ کو قتل کر دیں بطور نمونہ چند مقامات سے اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔ مثلاً ایک جگہ لکھتے ہیں:

شان رسالت مآب میں بے ادبی و گستاخی کے بعد امت مسلمہ کے زندہ رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا امت کی غیرت و حمیت کا تقاضہ یہ ہے کہ جوں ہی گستاخی و بے ادبی رسول کا فتنہ سر اٹھائے توں ہی اسے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اس طرح ختم کر دے کہ آئندہ اس کی پرورش و فروغ پانے کے جملہ امکانات اور صورتیں کلیتاً معدوم ہو جائیں۔

(تحفظ ناموس رسالت 301)

تن من دھن کی بازی لگا دو

دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:

مختصر یہ کہ وہ امت جس کی غیرت و حمیت نے اپنے نبی ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی و بے ادبی توہین و تحقیر اور استخفاف و تنقیص کے مرتکب گستاخ کا زندہ رہنا گوارا کر لیا

صفحہ 319

قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے

اللہ کی عزت کی قسم ، خدا کی غیرت اس امت کو حمیت و غیرت اور عزت کے ساتھ جینا گوارا نہیں کرے گی۔ ایسی امت کو ذلیل و رسوا کر دیا جائے گا کہ عزت و غیرت اور حمیت و وقار کے ساتھ جینا اس بات پر منحصر ہے کہ وہ اپنے نبی ﷺ کی عزت و حرمت ، عظمت و تقدس اور ادب و احترام پر نہ صرف مر مٹے بلکہ اپنے تن من دھن کی بازی لگا کر اپنے ایمان کی بقاء اور تحفظ کا سامان بھی کرے۔

(تحفظ ناموس رسالت ص 361)

گستاخ کو قتل کرنا واجب

ڈاکٹر صاحب ایک اور مقام پر لکھتے ہیں :

انہیں منافقین کو اس چیز کا خدشہ تھا کہ اگر انہوں نے اپنے دلوں میں پوشیدہ اہانت و گستاخی رسول ﷺ کو ظاہر کیا تو وہ قتل کر دیئے جائیں گے پس (اس سے یہ بات معلوم ہوئی) ہر مخالف و گستاخ رسول کو قتل کرنا واجب ہے۔

(تحفظ ناموس رسالت ص 246)

گستاخوں کے قتل عام کا حکم

موصوف اپنی کتاب میں ”گستاخوں کے قتل عام کا حکم“ کا عنوان قائم کر کے لکھتے ہیں:

” پھٹکارے ہوئے جہاں پائے جائیں پکڑے جائیں اور جان سے ذلت کی موت مارے جائیں۔

یعنی یہ وہ بدکردار و بدسیرت لوگ ہیں جو میرے محبوب ﷺ کو اذیت دیتے ہیں۔ اس جرم و تقصیر کی وجہ سے اللہ کے فضل و کرم ، لطف و عنایت اور رحمت سے محروم کر دیئے گئے ہیں۔ ہر طرف سے دھتکارے ہوئے اور راندہ درگاہ ہیں کیونکہ یہ اہانت و گستاخی رسول ﷺ پر اصرار کرتے ہیں۔ سو ایسے حرماں نصیبوں کے لئے روئے کائنات پر ٹھہرنے کی کوئی جگہ نہیں اس لئے اے امت مصطفویٰ ﷺ کے افراد تم انہیں جہاں اور جس وقت بھی پاؤ وہیں ان کا سر تن سے جدا کر دو اور انہیں چن چن کر قتل کر دو۔

(تحفظ ناموس رسالت ص 191,192)

یونہی موصوف گستاخوں کے قتل پر امت کو ابھارتے ہوئے رقمطراز ہیں:

صفحہ 320

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

کوئی فردوبشر سرور کائنات حضور نبی کریم ﷺ کی اہانت و گستاخی کا ارتکاب کرے، اس فعل کا کسی بھی امتی یا اسلامی ریاست کو پتہ چل جائے اور وہ بغیر قیام حد کے اسے معاف کر دے تو یہ حسن خلق ہرگز نہ ہوگا بلکہ از روئے شرع یہ عمل بے حمیتی اور بے غیرتی متصور ہوگا کیونکہ نبی کریم ﷺ کی عزت و حرمت، عظمت و تقدس اور ادب و احترام کی محافظت و پاسبانی امت مسلمہ کی دینی و ایمانی ذمہ داری میں شامل ہے۔ علاوہ ازیں حضور نبی کریم ﷺ نے اگر کسی کو بذات خود معاف فرما بھی دیا تو یہ آپ ﷺ کے حقوق میں سے ایک حق ہے۔ اسے معاف کرنے کا آپ ﷺ کو بذات خود تو اختیار حاصل ہے لیکن ایک امتی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ کوئی گستاخ و بے ادب حضور ﷺ کی اہانت و تنقیص کرے تو امتی حضور ﷺ کے حق خاص میں از خود تصرف کرتے ہوئے اسے معاف کرتا پھرے اور اس سے درگزر کرے، امت کے لئے یہ کسی بھی صورت میں جائز ہی نہیں ہے بلکہ ایسا کرنے سے اس کا اپنا ایمان بھی ضائع ہو جائے گا۔

(تحفظ ناموس رسالت ص 199)

نیز ایک اور مقام پر یوں لکھتے ہیں:

گستاخ رسول دنیا و آخرت میں مستحق سزا ہوگا اس کی توبہ ومعافی کی قبولیت کا سرے سے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لہٰذا اسے بغیر موقع و مہلت دیئے قتل کر دیا جائے گا۔

(تحفظ ناموس رسالت 213)

ایک اور مقام پر علامہ اسماعیل حقی کے حوالے سے لکھتے ہیں:

مذہب مختار یہی ہے مسلمانوں میں سے جس شخص سے حضور ﷺ کی شان اقدس میں جان بوجھ کر عمداً کوئی ایسا کلمہ صادر ہو جائے جو اہانت و استخفاف اور تحقیر پر دلالت کرتا ہو تو ایسے شخص کو اس گستاخی کے ارتکاب پر قتل کرنا (امت مسلمہ پر) واجب ہے۔

(تحفظ ناموس رسالت ص 246)

اس پہرے میں ’امت مسلمہ پر‘ کا بریکٹ قادری صاحب کا لگایا ہوا ہے اور قابل غور ہے۔

چن چن کر قتل کرو:

صفحہ 321

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے﴾

یونہی ایک دوسرے مقام پر رقمطراز ہیں:

اب عصر حاضر میں بھی شانِ رسالت مآب ﷺ کی بے ادبی و گستاخی اور اہانت و تنقیص میں جو افراد بھی مرتکب ہوں انہیں چن چن کر قتل کرنا، صفحہ ہستی سے ان کا نام و نشان کا صفایا کرنا یہ اسی سنتِ الہیہ کا تسلسل ہے۔ (تحفظ ناموسِ رسالت ص 194)

غور فرمائیں: کیا مذکورہ جملوں میں کسی بھی مسلمان کو حضور کی ناموس کی حفاظت کے حوالے سے گستاخ کو قتل کرنے کی واضح تحریض نہیں دی گئی؟ اب ڈاکٹر صاحب اپنے انٹرویو اور خطاب والا نظریہ عام کرنا چاہتے تو پھر جناب سے گذارش ہے کہ اپنی کتاب پر پابندی لگائیں اور اس کے مندرجات سے رجوع کا اعلان کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ آپ میری یہ کتاب نہ پڑھا کریں کیونکہ ”میرا نظریہ ناموسِ رسالت کے حوالے سے بدل گیا ہے“ اور اگر ایسا نہیں کرتے تو پھر اپنے خطاب میں اور انٹرویو میں عاشق رسول کے خلاف کی گئی ہرزہ سرائی اور گستاخ و مرتد کی حمایت کرنے پر اللہ کے حضور معافی کے طلب گار ہوں۔

یہ چار دن میں کیوں مزاج دوستاں بدل گیا
زمین وہی فلک وہی مگر سماں بدل گیا

اس سوال کا کیا جواب ہے آپ کے پاس؟

اب اگر ڈاکٹر صاحب اور ان کے متبعین سے ایک سوال کیا جائے کہ اگر ممتاز حسین قادری سے کوئی پوچھے کہ آپ نے قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے گورنر کو کیوں قتل کیا ہے اور اس کے جواب میں قادری صاحب یہ کہہ دیں کہ میں نے ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی کتاب تحفظِ ناموسِ رسالت کا مطالعہ کیا تھا جس میں جگہ جگہ گستاخ کو قتل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ کہیں لکھا ہے۔۔۔ اس کا سر تن سے جدا کر دو!!! تو کہیں لکھا ہے۔۔۔ اس کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالو۔ کہیں لکھا ہے کہ جینے کا راز اسی میں ہے۔۔۔ تو کہیں لکھا ہے کہ کروڑوں قانون حضور ﷺ کی ناموس پر قربان۔!!! اور پھر پوری کتاب میں کہیں نہیں لکھا گیا کہ ”گستاخ کو قانون کے حوالے کرو“ لہٰذا جب علماء کے فتوے سے ثابت مجھ پر آشکار ہوا کہ سلمان تاثیر گستاخ و مرتد ہے تو میں نے ڈاکٹر صاحب کی دی ہوئی

صفحہ 322

قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے

تعلیمات کے عین مطابق ”غیرت وحمیت“ کا مظاہرہ کر ڈالا اور گستاخ کو ٹھکانے لگا دیا۔۔۔ تو جناب والا۔!!! آپ کے پاس اس سوال کا کیا جواب ہوگا۔۔۔؟

دو غازی، دو فتوے:

ڈاکٹر صاحب نے اپنی گفتگو میں ممتاز حسین قادری کو قاتل اور اس کا ساتھ دینے والے علماء و مشائخ اور کروڑوں مسلمانوں کو ”بیرونی ایجنڈے“ کی تکمیل پر مامور بیان کیا ہے۔ جن حضرات نے ڈاکٹر صاحب کی گفتگو سنی ہے وہ جانتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کو گورنر صاحب کے مرنے کا کس قدر رنج ہے اور انہوں نے علماء و مشائخ پر کس طرح غصہ نکالا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کے اس انداز کے بعد ایک حوالہ کافی مفید رہے گا۔ 1929ء میں غازی علم الدین شہید نے جس وقت ملعون راجپال کو کیفر کردار تک پہنچایا تھا تو اس وقت مرزا قادیانی کے بیٹے بشیر الدین قادیانی نے غازی علم الدین شہید کے اقدام کی کھل کر مخالفت کی تھی، قادیانیوں کے اخبار الفضل قادیان نے مرزا بشیر الدین کی سٹیٹمنٹ کو ان الفاظ میں شائع کیا تھا:

”اس قوم کا جس کے جوشیلے آدمی قتل کرتے ہیں، خواہ انبیاء کی توہین کی وجہ سے ہی وہ ایسا کریں، فرض ہے کہ پورے زور کے ساتھ ایسے لوگوں کو دبائے اور ان سے اظہار برأت کرے۔ انبیاء کی عزت کی حفاظت قانون شکنی کے ذریعے نہیں ہو سکتی۔ وہ نبی ہی کیا نبی ہے جس کی عزت بچانے کیلئے خون سے ہاتھ رنگنے پڑیں جس کے بچانے کیلئے اپنا دین تباہ کرنا پڑے۔ یہ سمجھنا کہ محمد رسول اللہ کی عزت کے لئے قتل کرنا جائز ہے سخت نادانی ہے۔۔۔۔ وہ لوگ (غازی علم الدین شہید وغیرہ ) جو قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں وہ بھی مجرم ہیں اور اپنی قوم کے دشمن ہیں اور جو ان کی پیٹھ ٹھونکتا ہے وہ بھی قوم کا دشمن ہے۔

میرے نزدیک تو اگر یہی شخص (راجپال کا) قاتل ہے جو گرفتار ہوا تو اس کا سب سے بڑا خیر خواہ وہی ہو سکتا ہے جو اس کے پاس جائے اور اسے سمجھائے کہ دنیاوی سزا تو تمہیں اب ملے گی ہی لیکن قبل اس کے کہ وہ ملے تمہیں چاہئے کہ خدا سے صلح کر لو اس

صفحہ 323

قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے

کی خیر خواہی اس میں ہے کہ اسے بتایا جائے کہ ( غازی علم الدین شہید ) تم سے غلطی ہوئی ہے ۔“

(اخبار الفضل قادیاں جلد 16، شمارہ 82 صفحہ 8،7 ، 19 اپریل 1929ء بحوالہ العاقب لاھور)

قارئین! غور فرمائیں ڈاکٹر صاحب اور مرزا بشیر الدین کے غازیانِ اسلام کے متعلق ریمارکس میں کتنی مماثلت پائی جاتی ہے۔ اس مماثلت کی وجہ تو خود ڈاکٹر صاحب اور ان کے متبعین ہی بتا سکتے ہیں۔

ایک طرف مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر الدین، غازی اسلام غازی علم الدین شہید کے اقدام کو ” قانون شکنی“ کہہ رہا تھا تو دوسری طرف قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ جیسا وکیل اور قانون دان غازی علم الدین شہید رحمۃ اللہ علیہ کی مفت وکالت کیلئے خود کو پیش کر رہا تھا اور اس وکالت کو اپنی اُخروی نجات کا ذریعہ سمجھ رہا تھا۔

عجیب اتفاق ہے ممتاز حسین قادری نے مردود گورنر کو واصلِ جہنم کیا تو ڈاکٹر صاحب بھی غازی ممتاز قادری کے اس عاشقانہ اقدام کو ” قانون شکنی“ کہہ رہے ہیں تو دوسری طرف ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس خواجہ شریف صاحب ، جسٹس نذیر احمد غازی ، جسٹس میاں نذیر اختر جیسے قانون دان غازی ممتاز حسین قادری کی مفت وکالت کے لئے سامنے آئے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ وکالت نامے پر دیگر ہزاروں وکلاء کے دستخط بھی موجود ہیں۔ جسٹس خواجہ شریف صاحب کے ایک قریبی عزیز کے مطابق خواجہ صاحب نے اپنے دفتر میں ممتاز حسین قادری صاحب کے دستخطوں والی تحریر کو فریم کر کے لگایا ہوا ہے اور انہوں نے بیٹے کو وصیت کی ہے کہ اگر میں مر جاؤں تو ممتاز حسین قادری کا وکالت نامہ میرے کفن میں رکھنا تا کہ اگر اللہ تعالیٰ پوچھے کہ خواجہ شریف کیا لے کر آئے ہو تو عرض کر دوں اے اللہ تیرے محبوب ﷺ کے عاشق کا وکیل ہوں ۔ ۔۔۔ شاید اسی باعث میری بخشش ہو جائے۔

ڈاکٹر صاحب! ملک کے معروضی و قانونی معاملات آپ کینیڈا یا UK میں بیٹھ کر زیادہ

صفحہ 324

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

سمجھتے ہیں یا خواجہ شریف اور دیگر قانونی ماہرین ۔۔؟ ممتاز حسین قادری کی حمایت کرنے والے ہزاروں علماء ومشائخ مفتیان شرع متین ، محدثین ، مفسرین ، محققین ، وکلاء ، دانشور اور کروڑوں مسلمان صحیح راستے پر ہیں یا اس عاشق رسول کی مخالفت کرنیوالے پوری امت سے الگ تھلگ اکیلے ڈاکٹر صاحب اور ان کے متبعین؟

جناب والا! آپ ممتاز حسین قادری کو ”قاتل“ سمجھتے ہیں جبکہ ممتاز حسین قادری راقم سمیت کروڑوں مسلمانوں کی عقیدتوں کا مرکز بن چکا ہے اور آج ہر زباں پر ایک نعرہ جاری ہے۔

جرأت و بہادری ...... ممتاز حسین قادری

تاہم یہ غور کرنا چاہیے کہ آخر کچھ تو ہے کہ ایک پولیس کانسٹیبل کروڑوں لوگوں کی آنکھوں کا تارا کیسے بن گیا؟ کیا اللہ تعالیٰ ایک قاتل کو اتنی مقبولیت عطا فرما رہا ہے کہ جس کا نام لیتے ہی لوگوں کی آنکھیں فرط جذبات سے چھلک پڑتی ہیں؟

فتویٰ پروف یا ۔۔۔۔۔ رحمت پروف

ڈاکٹر صاحب کی عادت ہے کہ وہ اپنے موقف پر ضعیف سے ضعیف تر قول یا روایت کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ ان کے سننے والے اس کو ”محکمات وقطعیات“ کا درجہ دے کر حجت قویہ قرار دیتے ہیں۔ اور ڈاکٹر صاحب اس سلسلے میں علمی خیانتوں سے بھی اجتناب نہیں فرماتے جیسا کہ ان کی تحریروں اور تقریروں میں بے شمار مقامات پر صاف ظاہر ہے اور اگر ان خیانتوں کے اظہار کی دعوت دی گئی تو الحمد للہ اس سلسلے میں بھی مسودہ تیار ہے تاہم یقین ہے کہ حضرت اس سلسلے میں کبھی بھی مطالبہ نہیں کریں گے کیونکہ جہاں انہیں اس طرح کے معاملات کا سامنا کرنا پڑے وہ فوراً اپنے ماننے والوں کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیتے ہیں کہ یہ علماء مجھ سے ”جیلس“ ہیں اور میں ”فتویٰ پروف“ ہوں۔ اس سلسلے میں اتنا ہی عرض ہے کہ بزرگوں کے اس قول پر توجہ ہونی چاہیے کہ ”تیرا سب سے پیارا دوست وہ ہے جو تجھے تیری غلطیوں سے آگاہ کرے“ شرعی معاملے میں غلطی سے آگاہ ہوکر اس کی اصلاح کرنا اللہ کی توفیق ہی سے ممکن ہے اور علماء کی طرف سے آگاہی کیلئے دیئے گئے فتاویٰ اللہ کی

صفحہ 325

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

رحمت کا ایک انداز ہے ڈاکٹر صاحب اگر اس سلسلے میں ”رحمت پروف“ ہیں تو اس میں علماء کسی سے کیونکر ”جیلس“ ہو سکتے ہیں اس لئے کہ حسد اور ’رشک‘ تو کسی کی اچھائیوں پر ہوتا ہے۔

ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی :

ڈاکٹر صاحب میری آپ سے کوئی ذاتی پرخاش نہ کبھی تھی اور نہ ہی اب ہے اور نہ ہم آپ سے سرزد ہونے والی غیر شرعی حرکات سے خوش ہیں کہ چلو آپ کی مخالفت کا موقع تو ملا۔ ہمیں تو از حد رنج ہے کہ حضور ﷺ کا ایک امتی اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کے باعث حضور ﷺ کی قربت سے دور جا رہا ہے۔ اس لئے آپ اس تحریر کو اپنی مخالفت ہرگز ہرگز نہ سمجھئے اور امانت کے طور پر میرے پاس کچھ لوگوں کی آپ کی بابت دیکھی گئی خوابیں ہیں جن میں آپ کو انتہائی سختی کی حالت میں دیکھا گیا ہے میں ان کا تفصیلی ذکر یہاں مناسب نہیں سمجھتا تاہم رابطہ کرنے پر ان لوگوں سے آپ کا رابطہ کروایا جا سکتا ہے۔ خدارا آپ اپنی اداؤں پر خود ہی غور فرمائیں۔

نیز میں آپ کی توجہ چند انتہائی اہم معاملات کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ آپ کے بعض مقامات کے قول و کردار سے آپ کا معاملہ ”لزوم“ تک پہنچ چکا ہے۔ خدارا ”التزام“ سے پہلے پہلے اس کا تدارک کیجئے وگرنہ بعد میں اگر علماء کرام کی طرف سے حق شرعی ادا کیا گیا تو آپ اور آپ کے متبعین اس کو ”جیلس پن“ پر ہی محمول کریں گے اور امت مزید افتراق کا شکار ہوگی۔

کیا یہودی اور عیسائی کافر نہیں ہیں۔۔۔۔؟؟؟

جناب پروفیسر صاحب: آپ نے منہاج القرآن میں عیسائیوں اور پادریوں کے ایک کرسمس ڈے کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص تمام انبیاء ، قیامت ، جنت ، دوزخ اور تمام چیزوں کو ماننے کے باوجود اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یا ان کی تعلیمات کو نہ مانے وہ کافر ہے۔

اور پھر فرمایا کہ دنیا میں دو طرح کی تقسیم ہے۔ Belivers اور Non Belivers

صفحہ 326

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

نان بلیورز کفار کو کہتے ہیں اور بلیورز مومنین کو کہتے ہیں اور اہل کتاب یہودی اور عیسائی اور مسلمان یہ بلیورز ہیں۔ مومنین ہیں اور آسمانی کتابوں اور آخرت پر ایمان نہ لانے والے کفار ہیں۔

پھر آپ نے عیسائیوں سے فرمایا کہ یہ منہاج القرآن کی مسجد ابدالآباد تک آپ کی عبادت کے لئے کھلی ہے۔ آپ کا جب بھی دل کرے آپ یہاں آ کر اپنی عبادت کر سکتے ہیں۔

جناب والا! حیرت ہے کہ جو شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے احکام اور پیغام کو نہ مانے وہ تو کافر ہے جبکہ جو شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے امام، تمام نبیوں کے سردار خاتم النبیین ﷺ کی نبوت و رسالت ان کی تعلیمات اور دین کو نہ مانے وہ کافر کیوں نہیں؟؟؟ اور پھر آپ نے صراحتاً یہودیوں اور عیسائیوں کے کفر کا انکار کیا ہے کہ یہ کافر نہیں ہیں بلکہ مومنین ہیں۔ آپ کا یہ کہنا قرآن کے محکمات کے خلاف ہے اور نص قطعی کا انکار ہے۔ قرآن مجید میں بے شمار مقامات پر صراحتاً یہودیوں عیسائیوں کو کافر قرار دیا گیا ہے آپ چونکہ ”مفسر قرآن“ ہیں لہٰذا یقیناً آپ کی نظروں سے وہ مقامات پوشیدہ نہ ہوں گے تاہم صرف آپ کی توجہ کے لئے چند آیات پیش کی جا رہی ہیں جن آیات سے آپ کا انکار لازم آ رہا ہے۔ اور ثابت ہو رہا ہے کہ یہودی اور عیسائی یقیناً کافر ہیں۔

الْبَيِّنَةُ O

( البينۃ آیت 1 )

ترجمہ: کتابی کافر اور مشرک اپنا دین چھوڑنے کو نہ تھے جب تک انکے پاس روشن دلیل نہ آئے

اس آیت کریمہ میں واضح طور پر اہل کتاب، یہود و نصاریٰ کو مشرکین کے ساتھ کافر قرار دیا گیا ہے۔ اگر یہاں پر مِنْ اهل الكتاب میں من کو تبعیضیہ بنا کر تاویل کی کوشش کی جائے تو یہ بھی غلط ہوگا اسلئے کہ مفسرین کرام نے یہاں پر ”مِنْ“ کو تبعیضیہ نہیں بلکہ ”بیانیہ“ قرار دیا ہے اور مفسرین کرام نے اس کی وضاحت بھی فرما دی ہے۔

چنانچہ امام رازی فرماتے ہیں:

” ان الكفار من الفريقين اهل الكتاب وعبدة الاوثان “

بیشک کفار کے دو گروہ ہیں اہل کتاب اور بتوں کے پجاری

صفحہ 327

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے﴾

اس کے بعد رقمطراز ہیں:

ترجمہ: کفار کی دو جنسیں ہیں ان میں سے ایک ’’اہلِ کتاب‘‘ ہیں جیسے کہ یہود و نصاریٰ کے مختلف فرقے اور یہ کافر قرار دیئے گئے اپنے دین میں نئی چیزیں شامل کرنے کے باعث اور اپنے اقوال عزیر اللہ کا بیٹا ہیں مسیح اللہ کا بیٹا ہے اور اللہ کی کتابوں اور اس کے دین میں تحریف کے باعث اور دوسری جنس کفار کی ’’مشرکین‘‘ ہیں کہ جو کسی کتاب کی طرف منسوب نہ تھے پس اللہ تعالیٰ نے (آیت مذکورہ میں) دونوں جنسوں کا ذکر اجمالی طور پر الذین کفروا کے جملے سے فرمایا اور فوراً بعد اس کی تفصیل من اہل الکتاب والمشرکین کے جملے سے فرمائی۔

(تفسیر کبیر جلد 31 ص 40 طبع بیروت)

اس کے بعد امام رازی علیہ الرحمۃ من اہل الکتاب میں موجود ’’من‘‘ کے کلمہ پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

كلمة من ههنا ليست للتبعيض بل للتبيين كقوله فاجتنبوا الرجس من الاوثان اس جگہ پر کلمہ ’’من‘‘ تبعیض کیلئے نہیں بلکہ ’’تبیین‘‘ کیلئے ہے جس طرح فاجتنبوا الرجس من الاوثان میں کلمہ من تبیین کے لئے ہے۔

(تفسیر کبیر جلد 31 ص 40 طبع بیروت)

(تفسیر جلالین زیر آیت مذکور)

آگے وضاحت فرمائی کہ تمام اہل کتاب یہودی اور عیسائی کافر ہیں۔

(حاشیہ شیخ زادہ علی البیضاوی ص 682)

پر کافر کا اطلاق کیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے حق سے عدول کیا ہے حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہہ کر اور تثلیث کا عقیدہ رکھتے ہوئے اور یہودیوں کے اللہ کی توحید سے عدول کرنے کے سبب

(حاشیہ قونوی از ناصر الدین عبدالله عمر الشیرازی ص 375/10)

صفحہ 328

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے﴾

الرومی حنفی متوفی 880 جو لکھتے ہیں: كان الكفار من فريقى اهل الكتاب وعبدة الاصنام

( ابن التمجید علی البیضاوی 375/10 طبع بیروت )

کفار کی دو قسمیں ہیں اہل کتاب کے دونوں فرقے یہودی اور عیسائی اور بتوں کو پوجنے والے۔

” كان الكفار من الفريقين اهل الكتاب و عبدة الاصنام “

( تفسیر کشاف 782 ، طبع بیروت )

یعنی کفار کی دو قسمیں ہیں اہل کتاب کے دونوں فرقے یہودی، عیسائی اور بتوں کو پوجنے والے۔

ترجمہ :من اهل الکتاب میں من تبیین کیلئے ہے تبعیض کے لئے نہیں ہے تاکہ بعض مشرکین کا کافر نہ ہونا لازم نہ آئے اور یہ اس لئے ہے کہ کفار کی دو جنسیں ہیں ایک اہل کتاب جیسے کہ یہود و نصاریٰ کے فرقے اور دوسرے مشرکین ، اور مشرکین وہ لوگ ہیں کہ جن کی نسبت کسی آسمانی کتاب کی طرف نہیں کی گئی پس اللہ تعالیٰ نے الذین کفروا کے جملے میں دونوں جنسوں کا ذکر اجمالاً فرما دیا۔

( تفسیر روح البیان جلد 12 ص 487 )

بیشک کفار کی دو قسمیں ہیں ان میں سے پہلی اہل کتاب ہیں اور ان کے کفر کا سبب وہ ہے جو انہوں نے اپنے دین میں اپنی طرف سے بڑھا دیا۔ ان میں سے یہودیوں کے کفر کا سبب ان کا عزیر ابن اللہ کہنا اور اللہ تعالیٰ کو اس کی مخلوق سے تشبیہ دینا اور عیسائیوں کے کفر کا سبب ان کا مسیح ابن اللہ کہنا اور ثالث ثلاثہ اور اس کے علاوہ دیگر کفریات بکنا اور کفار کی دوسری قسم مشرکین ہیں بتوں کو پوجنے والے۔

( تفسیر خازن جلد 4 ص 292 طبع بیروت )

اس کے علاوہ بیشمار تفاسیر میں موجود ہے کہ یہاں پر من بیانیہ ہے۔ علاوہ ازیں امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہودی اور عیسائی کفار ہیں۔ اس اجماع پر علماء ومفسرین کے سینکڑوں اقوال نقل کئے

صفحہ 329

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

جاسکتے ہیں جنہیں طوالت کے خوف سے ترک کیا جارہا ہے۔

آیت نمبر 2: إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أُولَئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ O

( البینۃ آیت 6)

بیشک جتنے کافر ہیں کتابی اور مشرک سب جہنم کی آگ میں ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے وہی تمام مخلوق میں بدترین۔

اس آیت میں بھی اہل کتاب اور مشرکین کو کافر قرار دیا گیا ہے اور ڈاکٹر صاحب کے ترجمہ عرفان القرآن میں بنیادی غلطی کی گئی ہے کہ ان مقامات پر ترجمہ کرتے ہوئے من تبعیضیہ کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ جبکہ یہاں من ”بیانیہ“ ہے۔ مفسرین کرام نے من تبعیضیہ کے ترجمے کی خرابی کو وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔

آیت نمبر 3: مَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلَا الْمُشْرِكِينَ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْكُم مِّنْ خَيْرٍ مِّن رَّبِّكُمْ O

( البقرة آیت 105)

وہ لوگ جو اہل کتاب میں سے کافر ہو گئے اور مشرکین یہ پسند نہیں کرتے ہیں کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی بھلائی اترے۔

آیت نمبر 4: وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّن بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّاراً O

( البقرة آیت 109)

بہت سے اہل کتاب کی یہ خواہش ہے تمہارے ایمان لے آنے کے بعد پھر تمہیں کفر کی طرف لوٹا دیں۔

آیت نمبر 5: هُوَ الَّذِي أَخْرَجَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِن دِيَارِهِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ O

( الحشر آیت 2)

وہی ہے جس نے اُن کافر کتابیوں کو (یعنی بنونضیر کو) پہلی جلاوطنی میں گھروں سے (جمع کر کے مدینہ سے شام کی طرف) نکال دیا۔

اس آیت میں یہودیوں کو کافر کہا گیا ہے اگر یہ بلیورز ہیں اور مومنین ہیں تو انہیں کافر

صفحہ 330

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

کہنے کا کیا مطلب؟

آیت نمبر 6: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نَافَقُوا يَقُولُونَ لِإِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَئِنْ أُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ (الحشر آیت 11)

کیا آپ نے منافقوں کو نہیں دیکھا جو اپنے اُن بھائیوں، کافر کتابیوں سے کہتے ہیں کہ اگر تم (یہاں سے) نکالے گئے تو ہم بھی ضرور تمہارے ساتھ ہی نکل چلیں گے۔

اس کے علاوہ سورۃ مائدہ آیت 6 ، سورۃ بقرہ رکوع نمبر 10 ، رکوع نمبر 11 کے علاوہ قرآن کی درجنوں آیات میں واضح موجود ہے کہ اہل کتاب کفار ہیں۔ اور ڈاکٹر صاحب کی اپنی کئی تصانیف میں بھی واضح طور پر یہودیوں اور عیسائیوں (اہل کتاب) کو کفار لکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس حقیقت سے یقیناً بے خبر نہ ہوں گے دنیا میں کوئی بھی عیسائی ایسا نہیں کہ جس کا ”تثلیث“ یا ”عیسیٰ ابن اللہ“ کا عقیدہ نہ ہو۔

چنانچہ علامہ عیاض مالکی رحمۃ اللہ تعالیٰ شفاء شریف میں رقمطراز ہیں:

”ہر وہ مقولہ جس میں اللہ کی ربوبیت یا وحدانیت کی صراحتاً نفی ہو یا کسی غیر اللہ کی پرستش یا اللہ کے ساتھ کسی غیر کی عبادت میں شمولیت ہو تو وہ کفر ہوگا جیسے دھریوں کے اقوال اور تمام فرقے جو دو خداؤں کو مانتے ہیں۔ مثلاً دیصانیہ اور مانویہ وغیرہ صائبین اور عیسائی اور مجوسی (کافر) ہیں“۔

(شفاء شریف جلد 2 ص 1066 طبع بیروت)

اس کے علاوہ دنیا میں کوئی ایک بھی یہودی ایسا نہیں جو کہ نبی علیہ السلام کی نبوت کا انکار نہ کرتا ہو۔ لہٰذا ان کا کافر ہونا ”قطعی“ ہے۔

لہٰذا جناب سے گذارش ہے کہ آپ کی گفتگو سے قرآن کریم کی واضح نصوص کا انکار لازم آتا ہے جس سے ”کفر فقہی“ کا تحقق جبکہ ”کفر کلامی“ کا لزوم ہے۔

اس کے علاوہ آپ کا اہل کتاب کو مسلمانوں کے ساتھ مومنین میں شمار کرنا یہ اجماع امت کے بھی خلاف ہے۔ لہٰذا جناب سے گذارش ہے کہ اگر آپ نے اپنے اس کلام سے تقریراً و تحریراً

صفحہ 331

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

توبہ فرمائی ہو تو علماء کو آگاہ فرمائیں اور اگر توبہ نہ کی ہو تو اپنے اس کلام سے توبہ فرمائیں وگرنہ معاملہ ”لزوم“ سے ”التزام“ کی جانب چلا جائے گا اور آپ کے ساتھ ہزاروں دیگر لوگوں کے ایمان کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔ خدارا اپنے اور اپنے متعلقین کے ایمان کی فکر فرمائیں۔

رضا بالکفر بھی کفر ہوتی ہے

دوسری بات یہ کہ آپ نے ”ویمبلے لندن“ میں کانفرنس کا اہتمام کیا جس میں آپ نے مختلف مذاہب کے لوگوں کو بُلا کر سٹیج پر بٹھایا۔ آپ کی طرف سے اسلامی پیغام کو عام کرنے کے مختلف مذاہب کے لوگوں کو بلانا اور ان کے سامنے اسلام کے پیغام امن کو عام کرنے کیلئے آپ کے اس عمل پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ آپ کی نیت کے مطابق اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اجر عطا فرمائے گا۔ تاہم اس کانفرنس کے دوران آپ کی طرف سے ایک ایسا کام سامنے آیا جس کی ہر چند کوئی ضرورت نہ تھی آپ نے مختلف مذاہب کے لوگوں کو سٹیج پر کھڑا کیا اور ان کے سامنے اللہ کا ذکر اور قصیدہ بردہ شریف پڑھا گیا اور آپ نے ان تمام مذاہب باطلہ سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماؤں کو کہا۔۔۔۔۔ کہ آپ اپنے خدا کو اپنے نظریے اور عقیدے اور رواج کے مطابق پکاریں جو آپ کے مذہب میں خدا ہے۔

چنانچہ ان مذہبی رہنماؤں میں سے ہندوؤں کے مذہبی رہنما نے ہر ہری رام، کرشنا۔۔ کہا اور عیسائیوں کے رہنما نے حضرت عیسیٰ کو گارڈ فادر کہا اور اس کے علاوہ سکھوں، بدھ مت اور دیگر ادیان باطلہ کے مذہبی رہنماؤں نے سٹیج پر کفریہ کلمات کو ادا کیا۔ یقیناً آپ کے علم میں ہے کہ مذکورہ مذاہب باطلہ کا عقیدہ شرکیہ ہے اور کرشنا یا دیگر اصنام کو خدا سمجھ کر پکارنا شرک شرعاً جس مقام پر کفر کا کلام ہو رہا ہو اس مجلس سے اٹھ کر چلے جانا یا اس کلام معصیت پر ان کا رد کرنا لازم اور ضروری ہوتا ہے۔ بصورت دیگر اس مجلس میں بیٹھے رہنا رضا بالکفر اور رضا بالمعصیت قرار پاتی ہے۔ جیسا کہ گذشتہ صفحات میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔

ڈاکٹر صاحب!!! آپ اس محفل کے بانی تھے آپ نے بجائے ان کے کفریہ کلام کے رد

صفحہ 332

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے﴾

کرنے کے ان کے ہاتھوں میں مائک پکڑایا اور ان تمام مذہبی رہنماؤں نے وہ کفریات آپ کے پکڑائے ہوئے مائیک پر ادا کئے اور ان کلمات کفر کو سُن کر ان پر استغفر اللہ یا توبہ کرنے کے بجائے سامعین کی طرف سے تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا گیا اور آپ کی طرف سے اس فعل کو امن عالم کی طرف پیش رفت قرار دیا گیا۔

آپ کے اس فعل سے صراحتاً ”رضا بالکفر“ ثابت ہو رہی ہے جس سے کفر کلامی کا لزوم متحقق ہے اور اس فعل شنیع پر آپ کیلئے توبہ کرنا لازم ہے۔ بصورت دیگر کفر کا ”التزام“ یقینی ہے۔

حرف آخر

جناب ڈاکٹر صاحب آپ اس حقیقت کا ادراک کریں کہ آپ نے اپنے غیر ذمہ دارانہ بیانات کے ذریعے سے ایک زبردست افتراق و انتشار کو جنم دیا ہے اور آپ اور آپ کے متعلقین کی طرف سے انتہائی غیر ذمہ دارانہ روش کے باعث یہ انتشار کسی بڑے طوفان کی جانب بڑھتا جا رہا ہے۔ خدارا آپ تو امن عالم کے داعی ہیں۔ جب گھر میں امن نہیں ہو گا تو عالم میں امن کیونکر ہو سکتا ہے۔ لہذا جناب سے گذارش ہے کہ علمائے کرام کو کوسنے اور انہیں غربت، کم علمی کے طعنے دینے کے بجائے ”بندہ نہ دیکھ بندے کی بات سن“ کے اصول پر عملدرآمد کرتے ہوئے اپنے متنازعہ نظریے سے رجوع فرمائیں یا پھر اپنے قول و کردار کی ایسی وضاحت اور تشریح فرمائیں جو شرعاً قابل قبول ہو سکے۔

آپ کا خیر اندیش مفتی محمد حنیف قریشی قادری سربراہ شباب اسلامی پاکستان

ڈاکٹر طاہر القادری مد بڑے جاندار طریقے سے کیا اس رسول سیمینار ”ادارہ صراط مستقیم 6 گھنٹوں پر محیط تفصیلی خطاب گیا اور ان کی طرف سے گزرتے گئے اعتراضات کا بھر پور جواب جرائد نے ڈاکٹر طاہر القادری منعقدہ ایک سیمینار میں ادارہ علماء ڈاکٹر طاہر القادری سے ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے ہے۔ لیکن ظاہر ہے ان کا جھ 31 ویں پیشی ۔۔۔ یکم اکتوبر بروز قبلہ پیر سید معین الدین صاحب کی پیشی پر بھر پور اور اسلام آباد کے علماء و فض ایک بہت بڑی قیادت حضرت پیر سید یونس کے قافلے اپنے ا شباب اسلامی چاندنی چوک میں مرکزی

صفحہ 333

ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی اس غیر شرعی سٹیٹمنٹ کا رد ملک بھر کے علماء ومشائخ نے بڑے جاندار طریقے سے کیا اس سلسلے میں لاہور میں 26 اکتوبر 2011ء ایک عظیم الشان ”عشق رسول سیمینار“ ادارہ صراطِ مستقیم کے تحت منعقد کیا گیا۔ جس میں ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے 6 گھنٹوں پر محیط تفصیلی خطاب فرمایا جس میں ڈاکٹر طاہر القادری کی علمی کمزوریوں سے پردہ اٹھایا گیا اور ان کی طرف سے گورنر تاثیر کی حمایت اور ملک ممتاز حسین قادری کی مخالفت میں اٹھائے گئے اعتراضات کا بھر پور جواب دیا گیا۔ اس کے علاوہ ملک بھر سے شائع ہونے والے رسائل و جرائد نے ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا علمی حوالے سے رد کیا۔ اس کے ردعمل کے طور پر لاہور میں منعقدہ ایک سیمینار میں ادارہ منہاج القرآن کے مرکزی ناظم اعلیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علماء ڈاکٹر طاہر القادری سے حسد کرتے ہیں جس کے باعث ان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ناموس رسالت کے مسئلہ میں ڈاکٹر صاحب نے سخت ٹھوکر کھائی ہے۔ لیکن ظاہر ہے ان کا عیب ”منہاج“ کی عینک اتار کر ہی نظر آ سکتا ہے۔

31 ویں پیشی ۔۔۔۔۔ غیر شرعی عدالتی فیصلہ

یکم اکتوبر بروز ہفتہ جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کے مہتمم اور اس کیس کے روحِ رواں جناب قبلہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب نے یکم اکتوبر کو تنظیم علماء ضیاء العلوم ، بزمِ ارشاد کو غازی صاحب کی پیشی پر بھر پور شرکت کا حکم ارشاد فرمایا چنانچہ تنظیم علماء ضیاء العلوم سے وابستہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے علماء وفضلاء شرکت کیلئے تیار ہوئے۔

ایک بہت بڑی ریلی جامعہ رضویہ ضیاء العلوم سے اڈیالہ جیل کی طرف روانہ ہوئی جس کی قیادت حضرت پیر سید حسین الدین شاہ صاحب نے بنفسِ نفیس فرمائی ، تنظیم علماء ضیاء العلوم کی مختلف یونٹس کے قافلے اپنے اپنے علاقوں سے اڈیالہ جیل کی طرف روانہ ہوئے۔

شباب اسلامی پاکستان کا سینکڑوں افراد پر مشتمل قافلہ آمنہ مسجد سے صبح روانہ ہوا اور چاندنی چوک میں مرکزی ریلی کے ساتھ شامل ہو گیا۔ ہزاروں افراد پر مشتمل یہ قافلہ اڈیالہ جیل کی

صفحہ 334

﴿قلم کچھ اور لکھتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے﴾

طرف روانہ تھا۔ غازی تیرے جاں نثار، بے شمار بے شمار ۔ ۔ ۔ ۔ غازی تیری جرات کو ،سلام ہو سلام ہو ۔ ۔ ۔ ۔ جوانیاں لٹائیں گے، غازی کو بچائیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ کے نعروں سے پورا راولپنڈی شہر گونج اٹھا۔

ہمارا قافلہ اڈیالہ روڈ پر جراحی سٹاپ کے قریب تھا کہ یہ خبر سننے کو ملی کہ جج نے غازی صاحب کے وکلاء کے جانے سے پہلے ہی ممتاز قادری صاحب کو دو مرتبہ سزائے موت اور دولاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنا دی ہے۔

شدت غم سے خود پر قابو پانا مشکل ہورہا تھا تاہم قافلہ اڈیالہ جیل پہنچا تو وہاں پر بھی مختلف مسالک سے سینکڑوں غلامان مصطفیٰ غم کی تصویر بنے ہوئے تھے۔

اڈیالہ جیل کے باہر پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا تھا پورے اڈیالہ روڈ پر انسانی سر ہی سر نظر آرہے تھے۔ لوگوں کے جذبات کا یہ عالم تھا کہ متعدد عاشقان مصطفیٰ شدت غم میں نڈھال ہو کر بے ہوش ہوگئے اور بے شمار آنکھیں پُر نم تھیں راولپنڈی اسلام آباد کے سینکڑوں علماء کرام حاضر تھے اسلام آباد سے مولانا سید امتیاز حسین شاہ، مولانا محمد اقبال نعیمی، مولانا محمد اسلم ضیائی ، مولانا خورشید احمد ملک، مولانا نذیر احمد کھوکھر ، مولانا محمد معروف نقشبندی، مولانا محمد اعجاز چوراہی، مولانا عبدالعزیز قادری، مولانا غلام محمد علی شاہ، مولانا قاری اللہ یار چشتی، مولانا دوست محمد اپنے اپنے قافلوں کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے باہر پہنچے۔ مولانا سید شبیر حسین گیلانی، سید عظمت حسین شاہ گیلانی، مولانا لیاقت گجراتی، مولانا طاہر اقبال چشتی ، مولانا اشفاق صابری ، مولانا عبدالحمید نبیئی ، مولانا عزیز الدین کوکب، مولانا صدیق احمد ملک، مولانا ندیم اقبال ضیائی، مولانا قاضی محمد یعقوب چشتی ، مولانا عبدالناصر لطیف، مولانا خواجہ وقار احمد، مولانا میر ظہیر احمد القادری، مولانا میر اشتیاق، مولانا سفیر احمد ضیائی، مولانا سید وقاص حسین شاہ، مولانا کامران قریشی، مولانا مقصود احمد صابری، مولانا ثناء اللہ قادری، قاری اعجاز عطاری ، مولانا بشیر قادری ، مولانا عطاء الرحمن دھیال، مولانا وسیم قادری، مولانا سید وسیم شاہ بہارہ کہو، مولانا اسحاق چشتی علی آباد، مولانا کامران

صفحہ 335

قلم کچھ اور لکھتا ہے زبان کچھ اور کہتی ہے

عباسی، مولانا نذیر احمد قریشی ایبٹ آباد، مولانا ظہیر جاوید قریشی، سید بشارت حسین شاہ، مسعود الرحمٰن شاہ، ایبٹ آباد سے شباب اسلامی کے قافلے کے ساتھ شریک ہوئے۔

مظفر آباد سے حضرت صاحبزادہ سلیم چشتی صاحب چیرمین علماء و مشائخ کونسل آزاد کشمیر کی قیادت میں قافلہ پہنچا، پیر افضل قادری صاحب گجرات سے خصوصی طور پر تشریف لائے جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کے سینکڑوں طلباء اور ادارہ کے متعلقین قبلہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب کی قیادت میں اڈیالہ جیل کے باہر پہنچے۔ دیوبندی علماء میں سے مولانا عبدالوحید قاسمی، پیر عزیز الرحمٰن ہزاروی، مولانا عبدالشکور نقشبندی، مولانا محمد طیب اور دیگر علماء بھی جیل کے باہر موجود تھے۔ سنی تحریک، بزم سیفیہ محمدیہ اور دیگر سنی تنظیموں کے کارکنان و عہدیداران اڈیالہ جیل کے باہر پیشی میں شریک ہوئے۔ عوام اگلے لائحہ عمل کے انتظار میں تھی۔ چنانچہ راقم نے قبلہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب سید انعام الحق شاہ صاحب، عبدالحمید ضیائی صاحب، طاہر اقبال چشتی اور دیگر حضرات سے مشاورت کی اور طے پایا کہ غازی صاحب کے بھائی وکلاء اندر جیل میں جائیں گے اور غازی صاحب سے ملاقات کریں گے۔ چنانچہ راجہ شجاع الرحمٰن صاحب، راجہ طارق دھمیال سید حبیب الحق شاہ، ملک بشیر اعوان صاحب، ملک ولید پراچہ، سفیر اعوان اور دیگر برادران جیل میں ملاقات کیلئے روانہ ہوئے۔

ہزاروں افراد کے اس جم غفیر سے نذیر احمد قریشی، سید امتیاز حسین شاہ کاظمی، ناموس رسالت لائرز ونگ کے صدر عبدالرحیم راؤ نے پُر جوش و ایمان افروز خطاب کیا۔ بعد ازاں باہم مشاورت سے طے پایا کہ شہر میں جا کر احتجاج کیا جائے گا۔ چنانچہ آخری خطاب پیر افضل قادری صاحب نے فرمایا اور لوگوں کو واپس راولپنڈی شہر میں پہنچنے کی ہدایت کی۔ چنانچہ ہزاروں افراد پر مشتمل یہ قافلہ واپس راولپنڈی کیلئے روانہ ہوا۔ اور ممتاز حسین قادری صاحب کو دی جانے والی غیر شرعی سزا کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا۔

سب سے پہلے مظاہرین نے کچہری چوک میں ٹائر جلائے اور روڈ بلاک کر دیا اور اس

صفحہ 336

ظالمانہ فیصلے کے خلاف بھر پور نعرہ بازی کی اور ممتاز حسین قادری کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ کچہری چوک کے بعد مظاہرین نے مری روڈ کو بلاک کر دیا اور ہزاروں مظاہرین لیاقت چوک میں پریس کلب کے باہر جمع ہو گئے۔ سالار قافلہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب، پیر افضل قادری صاحب اور دیگر علماء کرام نے دھرنا دیا مظاہرین سے غازی صاحب کے وکیل راجہ شجاع الرحمٰن، سید حبیب الحق شاہ راقم الحروف، سید امتیاز حسین شاہ، پیر افضل قادری اور پیر سید حسین الدین شاہ نے خطاب کیا۔ علماء نے اپنے اپنے خطاب میں اس فیصلے کو قرآن وسنت کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اپنے خطاب میں قبلہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب نے جمعۃ المبارک 7 اکتوبر کو اس فیصلے کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا اور ساتھ ہی الیکٹرانک میڈیا کی منافقت پر میڈیا کی مذمت کی اور ممتاز حسین قادری کیس میں نوائے وقت، وقت ٹی وی، اور روزنامہ اوصاف کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ کئی گھنٹے تک مری روڈ بلاک رہا۔ شباب اسلامی، سنی تحریک کے کارکنوں نے جگہ جگہ سڑک پر ٹائر جلا کر سڑک بلاک کر دی۔ اسی اثناء میں کچھ لوگوں نے لیاقت روڈ پر واقع بے نظیر بھٹو کی جائے شہادت پر توڑ پھوڑ کی اور بازار کی دکانوں کو زبردستی بند کروا دیا۔ مری روڈ پر بھی جگہ جگہ توڑ پھوڑ کر دی گئی۔ ادھر شباب اسلامی پاکستان کے کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے فیض آباد ہائی وے کو بلاک کر دیا۔ مقدمے کی خبر نشر ہونے کے ساتھ ہی پورے ملک میں غلامان مصطفیٰ سڑکوں پر نکل آئے۔ لاہور، کراچی، گوجرانوالہ، گجرات، ہزارہ ڈویژن، سیالکوٹ، جہلم سمیت پورے ملک میں بھر پور احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ شباب اسلامی ایبٹ آباد نے احتجاج کرتے ہوئے مختلف مقامات سے سڑکوں کو بلاک کر دیا ٹائر جلائے گئے۔ مانسہرہ، ہری پور، گڑھی حبیب اللہ، بالاکوٹ، شنکیاری اوگی کے مقامات پر رات تک احتجاجی سلسلہ جاری رہا۔ لاہور میں ناموس رسالت محاذ، ادارہ صراط مستقیم، تحریک فدایان ختم نبوت اور مدارس اہل سنت کے ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ سب سے بڑا احتجاج داتا صاحب کے مزار کے سامنے ہوا۔ مظاہرین نے مال روڈ اور دیگر مقامات پر سڑکوں کو بلاک کر دیا اور زبردست احتجاج

صفحہ 337

کیا۔ جج کی طرف سے انتہائی عجلت میں اور غیر اسلامی طرز سے دیئے گئے فیصلے نے کروڑوں غلامان مصطفیٰ کے دلوں کو توڑ کر رکھ دیا۔

جامعہ رضویہ ضیاء العلوم میں رات کے وقت اجلاس ہوا جس میں آئندہ احتجاجی پروگرام کو ترتیب دیا گیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ احتجاجی سلسلہ جاری رکھا جائے تاہم اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے احتجاج پر امن رکھا جائے، توڑ پھوڑ کرنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جائے اور انتظامیہ سے بھر پور تعاون کیا جائے۔

بے نظیر بھٹو کی جائے شہادت کی توڑ پھوڑ پر پیپلز پارٹی کی ضلعی تنظیم کی طرف سے FIR درج کروائی گئی اور رات کو راقم نے ان کے نمائندوں کے ہمراہ اس واقع کی مذمت کی اور انہیں باور کروایا گیا کہ توڑ پھوڑ کرنے والے عناصر کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔

غیر شرعی عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاج شروع

جج کی طرف سے ممتاز حسین قادری کو دی جانے والی غیر شرعی سزا کے خلاف ملک بھر میں شدید ترین احتجاج شروع ہو گیا۔ لاہور میں مجلس عمل علمائے نظامیہ، نعیمیہ ایسوسی ایشن، ادارہ صراط مستقیم، بزم مشتاقان رسول، سنی تحریک، تحریک فدایان ختم نبوت اور مدارس اہل سنت کے طلباء نے دوسرے روز 2 اکتوبر کو بھی منظم احتجاج کیا۔ راولپنڈی میں سنی تحریک، شباب اسلامی، بزم ارشاد کے مظاہرے جاری رہے۔ شباب اسلامی اور بزم ارشاد کے کارکنان نے مری روڈ کو احتجاجاً بلاک کر دیا اور سنی تحریک کے کارکنان نے پریس کلب کے باہر زبردست مظاہرہ کیا۔ اسلام آباد میں جامعہ غوثیہ رضویہ کے پرنسپل ظفر اقبال جلالی کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ پریس کلب سے پارلیمنٹ ہاؤس تک کیا گیا۔ جہلم میں شاندار چوک پر احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں شباب اسلامی اور دیگر سنی تنظیمات نے شرکت کی۔ کراچی میں جماعت اہل سنت کے زیر اہتمام مظاہرہ ہوا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور چورنگی نمائش پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا۔ اٹک میں مثالی

صفحہ 338

مظاہرہ کیا گیا اس احتجاجی مظاہرے میں جمعیت علمائے پاکستان، مرکزی جماعت اہل سنت، سنی تحریک، ATI نے شرکت کی۔ احتجاجی ریلی فوارہ چوک سے مدنی چوک، کشمیر چوک اور ستارہ چوک سے ہوتی ہوئی پھر فوارہ چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔ آستانہ عالیہ دریائے رحمت شریف کے صاحبزادہ حافظ سعید احمد نے اس کی قیادت کی۔

راولپنڈی میں آستانہ عالیہ عیدگاہ شریف پر علماء ومشائخ کا اجلاس ہوا۔ جس کی صدارت سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ فضل کریم صاحب نے کی اور اجلاس میں 17 اکتوبر کو ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دے دی گئی اور راولپنڈی میں پیر سید حسین الدین شاہ صاحب کی ہڑتال کی کال کی حمایت کی گئی۔ کلرسیداں، ہزارہ، حیدرآباد سمیت ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

چیف جسٹس کا سوموٹو ایکشن

اخبارات میں خبر چھپی کہ عدالتی فیصلے کے بعد ممتاز حسین قادری کو جیل کے اندر ’ڈیتھ سیل‘ میں منتقل کر دیا گیا ہے اس خبر پر چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری نے سوموٹو ایکشن لیا کیونکہ قانونی طور پر ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ہی ڈیتھ سیل میں منتقلی کی جاسکتی ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس صغیر احمد قادری صاحب نے ہنگامی طور پر اڈیالہ جیل کا دورہ کیا اور ممتاز قادری صاحب کے حالات دریافت کئے اور چیف جسٹس کو رپورٹ پیش کی کہ یہ صرف اخباری خبر ہے قادری صاحب کو ڈیتھ سیل میں منتقل نہیں کیا گیا۔

تیسرے دن بھی مظاہرے جاری

عدالتی فیصلے کے خلاف تیسرے دن بھی ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے جاری رہے۔ لاہور میں مظاہرین پر پولیس کی طرف سے شدید ترین تشدد کیا گیا، اور 10 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ مظاہرہ تحفظ ناموس رسالت محاذ کے زیر اہتمام ہوا تھا۔ تحفظ ناموس رسالت محاذ کے زیر اہتمام لاہور میں سب سے زیادہ منظم مظاہرے کئے گئے۔ یکم محرم الحرام تک ہر بدھ کے روز بھر پور مظاہرہ

صفحہ 339

ہوتا رہا اور ممتاز حسین قادری کی رہائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا۔ راولپنڈی میں بزم ارشاد کے کارکنان نے مری روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور گھنٹوں ٹریفک بلاک رہی، کمرشل مارکیٹ سمیت دیگر قریبی تجارتی مراکز بند ہو گئے۔

راولپنڈی میں بار کے وکلاء نے کچہری چوک میں عدالتی فیصلے کے خلاف مظاہرہ کیا اور بار کے وکلاء نے عدالتوں کا احتجاجاً بائیکاٹ کر دیا۔ اس طرح اسلام آباد کے وکلاء نے ہائی کورٹ اور ضلعی عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کر دیا۔ راولپنڈی کے وکلاء نے جج پرویز علی شاہ کی عدالت کے باہر زبردست مظاہرہ کیا اور عدالت میں گھسنے کی کوشش کی جس پر عدالت کے شیشے ٹوٹ گئے اور جج اپنے چیمبر میں محصور ہو گیا۔

راولپنڈی بار کی طرف سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ عدالت کے جج کو تین دن کے اندر اندر راولپنڈی کچہری سے ٹرانسفر کیا جائے ورنہ تمام تر حالات کی ذمہ داری اعلیٰ عدلیہ پر ہوگی۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے بار کی قرارداد کا احترام کرتے ہوئے جج پرویز علی کو لاہور ٹرانسفر کر دیا۔ اسلام آباد میں ناموس رسالت لائرز فورم کے زیر اہتمام وکلاء نے راؤ عبدالرحیم کی قیادت میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور ممتاز حسین قادری کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

سنی اتحاد کونسل کے زیر اہتمام 500 سے زائد مفتیوں نے عدالت کے فیصلے کو غیر شرعی قرار دیا۔ کلر سیداں، پسرور، مری اور دیگر شہروں میں مظاہرے ہوئے۔

اُدھر جامعہ رضویہ ضیاء العلوم میں شباب اسلامی پاکستان، بزم ارشاد، تنظیم علماء ضیاء العلوم اور دیگر تنظیمات کا اجلاس ہوا جس میں احتجاج کو جاری رکھنے اور 17 اکتوبر کی ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لئے لائحہ عمل طے کیا گیا۔ اس سلسلے میں راقم نے مختلف تاجر تنظیموں سے ملاقات کی جس پر تاجر تنظیموں کی طرف سے حوصلہ افزاء جوابات دیئے گئے۔

صفحہ 340

٭ عدالتی فیصلے کے خلاف 7 اکتوبر 2011ء کی ملک گیر تاریخی ہڑتال ٭

جناب ملک ممتاز حسین قادری کو دی جانے والی غیر شرعی سزا کے خلاف مصلح امت پیر سید حسین الدین شاہ صاحب نے جمعۃ المبارک 7 اکتوبر 2011ء کو راولپنڈی میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا اور بعد ازاں سنی اتحاد کونسل کی طرف سے ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان ہوا۔

یہود و ہنود کے ایجنٹوں اور سیکولر انتہا پسندوں نے ہڑتال کے اعلان کو مضحکہ خیز کہا اور بعض ٹی وی اینکرز کو اس پر ہنستے اور اس کا مذاق اڑاتے ہوئے سنا گیا جو یہ باور کروا رہے تھے کہ اس دن لوگ باہر نہ نکلیں گے۔ اس میں شک نہیں کہ ممتاز قادری مقبول بارگاہ مصطفی ﷺ شخص ہے۔ لہٰذا لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت کا ڈیرے ڈالنا فطری عمل ہے۔

ہڑتال کے اعلان کے بعد راولپنڈی میں بالخصوص اور ملک بھر میں بالعموم شباب اسلامی کے تنظیمی ساتھیوں اور راقم نے تاجر تنظیموں سے رابطے کئے۔ راقم نے جتنی بھی تاجر تنظیموں سے رابطے کئے ان تمام نے انتہائی مثبت ردعمل کا اظہار کیا۔ راولپنڈی میں ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لئے ۔ جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کے طلباء و فضلاء متعلقین نے اہم کردار ادا کیا اس کے علاوہ سنی تحریک اور دیگر سنی تنظیمات نے بھر پور کوششیں کیں۔

بدھ 5 اکتوبر کو لاہور میں 40 سے زائد دینی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ جن میں جماعت اسلامی، جمعیت علمائے پاکستان، جماعۃ الدعوہ، جمعیت اہلحدیث، جمعیت علمائے اسلام اور دیگر تنظیموں کے قائدین نے شرکت کی۔ ان تمام دینی جماعتوں کے مشترکہ پلیٹ فارم تحریک تحفظ ناموس رسالت سے 7 اکتوبر کی ہڑتال اور احتجاج کی حمایت کا اعلان ہوا۔ اور ممتاز قادری کے خلاف دئے گئے فیصلے کو قرآن وسنت کے منافی قرار دیا گیا۔

شباب اسلامی کی طرف سے ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لئے قومی اخبارات میں اشتہارات کا عطیہ دیا گیا۔ ملک بھر کے آستانوں ، مدارس دینیہ اور تاجر تنظیموں کی طرف سے ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا گیا۔

صفحہ 341

7 اکتوبر بروز جمعۃ المبارک کو ملک بھر میں وہ تاریخی ہڑتال کی گئی جس سے حکمرانوں سمیت دنیا بھر کے لادینوں کی آنکھیں کھل گئیں۔ کامیاب ترین ہڑتال کی مثال ملک کی تاریخ میں خال خال ملتی ہے۔ تاہم سب سے اہم بات یہ تھی کہ یہ ہڑتال مکمل پُر امن تھی نہ کسی کی دکان جلی اور نہ کوئی آدمی زخمی ہوا۔ ملک بھر کے عوام نے ممتاز قادری کے حق میں ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ دے دیا اور سیکولر انتہا پسندوں کو باور کروا دیا کہ یہ ملک مدنی سرکار ﷺ کے دیوانوں کا ہے۔ یہاں کسی گستاخ کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ پورے ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر اور قصبوں تک وہ احتجاج ہوا کہ جس کی مثالیں نہیں ملتیں۔

سب سے پُر امن اور بھر پور احتجاج بلاشبہ راولپنڈی میں کیا گیا۔ صبح 8 بجے ہی فیض آباد کے مقام پر کالج اور سکول کے طلباء نے اسلام آباد جانے والے راستوں کو گاڑیاں کھڑی کر کے بلاک کر دیا اور شام 5 بجے تک روڈ بند رکھا۔ تمام لوگوں کو اس وقت خوشگوار حیرت ہوئی جب اسلام آباد یونیورسٹی کی طالبات کو لے کر جانے والی بس فیض آباد کے مقام پر پہنچی تو یونیورسٹی کی طالبات نے بس سے نیچے اتر کر بس کو سڑک کے درمیان کھڑا کروایا اور بس کی چابی نکال لی اور آدھا گھنٹہ سے زائد یہ تمام طالبات ممتاز حسین قادری کی تصاویر کو چومتی رہیں اور اسکے حق میں نعرہ بازی ہوتی رہی۔

پورا دن تمام بازار مکمل بند رہے۔ تاہم کچھ سیاسی شعبدہ بازوں کی منافقت بھی سامنے آئی۔ راولپنڈی میں مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے مرکزی انجمن تاجران کے صدر شاہد غفور پراچہ نے تاجروں کے مطالبہ کے باوجود ہڑتال کا باضابطہ سرکلر جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلم لیگ ن نے دو دن بعد لوڈشیڈنگ کے خلاف ہڑتال کی کال دے رکھی تھی اسلئے انہوں نے سرکلر جاری نہ کیا کہ کہیں ہماری ہڑتال ناکام نہ ہو جائے۔ اللہ کا کرنا پورے شہر نے یہ منظر دیکھا کہ ان کی یہ ہڑتال اور احتجاج بری طرح ناکام ہوا۔ مرکزی انجمن تاجران کے سرکلر جاری نہ کرنے کے باوجود تمام شہر کا بند ہونا یقیناً ممتاز حسین قادری سے لوگوں کی بے پناہ محبت کا ثبوت ہے۔

صفحہ 342

ہڑتال کے دوران ہر قسم کے امن و امان کو قائم رکھنے کی خاطر راولپنڈی انتظامیہ کا ہنگامی اجلاس کمشنر راولپنڈی زاہد سعید کی صدارت میں شام 6 بجے کمشنر آفس میں ہوا۔ جس میں سنی تنظیمات کی طرف سے راقم الحروف، سنی تحریک کینٹ کے صدر محمد طاہر اقبال چشتی اور حبیب اللہ زہری صاحب شریک ہوئے۔

انتظامیہ کی طرف سے سی پی او، آر پی او، سپیشل برانچ، CID برانچ، SP راول ٹاؤن، SP پوٹھوار ٹاؤن، SP صدر سمیت ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی۔ راقم نے انتظامیہ کو باور کروایا کہ ہمارا احتجاج اور ہڑتال مکمل پُرامن ہوگی اور اس میں کسی قسم کا کوئی تشدد سامنے نہیں آئے گا۔

﴿ شباب اسلامی کے احتجاجی مظاہرے ﴾

راولپنڈی میں شباب اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام بعد نماز جمعہ المبارک چار مقامات پر احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ شباب اسلامی پنڈوڑہ یونٹ کے کارکنان نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے۔ RJP روڈ کو بلاک کر دیا اور سڑک پر ٹائر جلائے۔ SIP چکلالہ یونٹ کا احتجاجی مظاہرہ مولانا حنیف ضیائی کی قیادت میں ہوا۔ اور ائیر پورٹ روڈ کو احتجاجاً بند کر دیا گیا۔ شباب اسلامی ڈھوک چوہدریاں کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کار چوک میں ہوا۔ جس کی قیادت سید وقاص حسین شاہ کاظمی نے کی۔ راولپنڈی اسلام آباد کا سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ مرکز شباب اسلامی آمنہ مسجد سے شروع ہوا۔ اس ریلی کی قیادت راقم الحروف، مولانا عزیز الدین کوکب، چوہدری امتیاز احمد، مولانا قاری منظور احمد صدیقی، مولانا رب نواز فاروقی، مولانا سمیع الدین، تاجر رہنما، طارق حسن، مولانا احسان الٰہی قریشی اور دیگر علمائے کرام نے کی۔ ہزاروں مظاہرین ممتاز حسین قادری کے حق میں اور حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے اسلام آباد ہائی وے پر پہنچے تو دائیں بائیں کی مساجد سے نکلنے والی چھوٹی ریلیاں بھی مرکزی ریلی میں شریک ہوگئیں۔ ہزاروں افراد مارچ کرتے ہوئے۔ فیض آباد کے مقام پر پہنچے اسلام آباد انتظامیہ نے اسلام آباد کو جانے والے تمام راستے بلاک کر دیئے اور اسلام آباد مکمل سیل کر دیا گیا۔ ادھر جمعیت علمائے اہل سنت حلقہ علی

صفحہ 343

پور کی ریلی ہزاروں افراد پر مشتمل مارچ کرتی ہوئے راول ڈیم چوک میں پہنچی۔ فیض آباد میں پہنچ کر قائدین کے خطابات ہوئے اور اس موقع پر پیر سید حسین الدین شاہ صاحب، صاحبزادہ سید حبیب الحق شاہ ضیائی، راقم الحروف، مولانا عزیز الدین کوکب، مولانا علی اکبر نعیمی، مولانا ہاشم قدیری نے خطابات کئے اور حکومت کو خبردار کیا گیا کہ اوچھے اور غیر شرعی ہتھکنڈوں سے غلامان مصطفیٰ کو دبایا نہیں جا سکتا۔ بلاشبہ ممتاز حسین قادری صاحب کی حمایت میں نکالی جانے والی یہ ریلی ہزاروں افراد پر مشتمل تھی اور اس ریلی نے ایک بھر پور واضح پیغام ایوان اقتدار میں پہنچا دیا تھا۔

راولپنڈی میں سنی تحریک کے زیر اہتمام سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ پشاور روڈ پر کیا گیا جس کی قیادت علامہ غفران محمود سیالوی، قاری طاہر اقبال چشتی نے کی اس مظاہرے میں بھی ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ پیرودھائی راولپنڈی کے مقام پر ایک بہت بڑا مظاہرہ مقامی علماء کی قیادت میں کیا گیا۔ جماعت اسلامی کے زیر اہتمام مظاہرہ پریس کلب کے باہر کیا گیا جس کی قیادت سید رضاء احمد شاہ نے کی۔ اور تحریک ناموس رسالت اور دیوبندی علماء کی طرف سے بڑا احتجاجی مظاہرہ 22 نمبر چونگی پر کیا گیا جس کی قیادت مولانا عزیز الرحمن ہزاروی نے کی۔

جماعت اہل سنت کینٹ کے زیر اہتمام کلمہ چوک کے مقام پر ریلی نکالی گئی جس کی قیادت مولانا غلام محمد چشتی صاحب نے کی۔ اس کے علاوہ شہر کے مختلف علاقوں، ڈھوک رتہ، راجہ بازار، چوہڑ چوک، صدر کامران مارکیٹ اور دیگر مقامات پر مظاہرے ہوئے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ احتجاجاً سڑکوں پر ٹائر جلائے گئے اور پورا شہر گویا احتجاج گاہ بنا ہوا تھا۔ ہر مسجد اور ہر گلی محلے سے نکل کر لوگوں نے احتجاجی آواز کو بلند کر کے بتلا دیا کہ غلامان مصطفیٰ ابھی زندہ ہیں۔

راولپنڈی کے علاوہ اس کی تحصیلوں میں بھی بھر پور احتجاج کیا گیا۔ مری میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی اور نماز جمعہ کے بعد جماعت اہل سنت کے زیر انتظام سید رضاء المصطفیٰ بخاری، امجد ارباب عباسی، مولانا شفیق ہاشمی، اکمل نواز کی قیادت میں مال روڈ پر ریلی نکالی گئی اور ٹائر جلا کر احتجاج کیا گیا۔

صفحہ 344

تحصیل کلرسیداں میں بھی تمام قصبوں اور دیہاتوں تک احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ کلر سیداں شہر میں شباب اسلامی کے کارکنان اور علمائے کرام نے عبدالحمید سیالوی، محمد شفیق صاحب اور دیگر کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ کہوٹہ میں بڑا مظاہرہ علامہ سید زبیر شاہ صاحب کی قیادت میں ہوا۔ روات کے مقام پر ہزاروں افراد نے لاہور ہائی وے کو کئی گھنٹے بند رکھا اور بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ جس کی قیادت علامہ شبیر حسین شاہ گیلانی نے کی۔ ٹیکسلا میں احاطہ کامرہ، گڑھی، ڈھیری، سالا گاہ، گڑھی افغاناں اور دیگر مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے جن کی قیادت مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے کی۔ گوجرخان میں احتجاجی مظاہرہ کی قیادت مفتی مختار علی رضوی نے کی اس کے علاوہ، مندرہ، دولتالہ، اڈیالہ اور دیگر مقامات پر مظاہرے ہوئے۔

چکوال میں سنی تحریک، ATI، سنی اتحاد کونسل، جمعیت علماء پاکستان اور دیگر مذہبی جماعتوں کی طرف سے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ سب سے بڑا مظاہرہ پیر سید ریاض الحسن شاہ صاحب کی قیادت میں ہوا۔ جہلم میں جماعت اہل سنت، جمعیت علمائے پاکستان، شباب اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتوں کی طرف سے شہر میں بڑی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت تنظیمات کے قائدین نے کی۔ جنڈ اٹک میں احتجاجی ریلی پیر سعادت علی شاہ، داؤد مصطفائی، پیر احسن شاہ گیلانی کی قیادت میں نکالی گئی۔ جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔

اسلام آباد میں آبپارہ چوک کے مقام پر بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ تنظیم علماء ضیاء العلوم، جماعت اسلامی، JUP، جمعیت اہل حدیث اور دیگر تنظیمات کے زیر اہتمام مشترکہ طور پر ہوا جس کی قیادت سابقہ MNA میاں اسلم، حامد رضا بھٹی، مولانا عبدالعزیز حنیف، سید امتیاز حسین کاظمی نے کی۔ اس سے قبل لال مسجد سے آبپارہ چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت مولانا عبدالمجید ہزاروی، مولانا شریف ہزاروی، مولانا عامر صدیق، مولانا عبدالرؤف نے کی۔ اس کے علاوہ لاہور میں ہزاروں افراد نے احتجاج کیا۔ لاہور میں مکمل شٹر ڈاؤن رہا اور بعد نماز جمعۃ المبارک شہر کے مختلف مقامات پر ریلیاں ہوئیں اور بھر پور احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ناموس رسالت محاذ، انجمن فدایان ختم نبوت، سنی تحریک، JUP اور دیگر جماعتوں نے بھر پور احتجاج کیا۔

صفحہ 345

سب سے بڑا مظاہرہ مولانا خادم حسین رضوی ، علمائے نظامیہ ، مولانا محمد علی نقشبندی ، مولانا رضائے مصطفیٰ اور دیگر علماء کی قیادت میں ہوا۔

کراچی میں بھی بھر پور احتجاج اور ہڑتال ہوئی۔ اس ہڑتال کو ناکام بنانے کیلئے انتظامیہ نے سنی تحریک کے مرکزی رہنماؤں مبین قادری ، شکیل قادری اور شاہد غوری کو گرفتار کر لیا۔ اس کے باوجود کراچی میں بھی بھر پور احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔

آزاد کشمیر کے تمام شہروں میں بھر پور احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مظفر آباد ، راولاکوٹ ، ہٹیاں بالا ، ونجیرہ ، بلوچ ، ارجہ ، ہجیرہ ، باغ ، کھوئی رٹہ ، منڈھول سمیت تمام بڑے بڑے شہروں اور قصبوں میں مولانا سلیم چشتی ، مولانا فردوس نعیمی ، شباب اسلامی اور دیگر مذہبی تنظیموں کے قائدین کے زیر قیادت مظاہرے ہوئے اور ہڑتال کی گئی۔ ہجیرہ میں مولانا محمد حیات خان اور شباب اسلامی کے مقامی رہنماؤں کی قیادت میں مظاہرے ہوئے۔

ایبٹ آباد میں سب سے بڑا مظاہرہ شباب اسلامی اور دیگر مذہبی تنظیموں کی طرف سے مشترکہ پلیٹ فارم پر کیا گیا جس کی قیادت پیر سید شاہ محمد کمال کاظمی ، مفتی نذیر احمد قریشی ، محمد اسد بکنوتر ، سید نثار حسین شاہ اور دیگر علماء و مشائخ نے کی۔ مانسہرہ میں بھی شباب اسلامی اور دیگر مذہبی تنظیموں کے زیر اہتمام کامیاب ہڑتال اور بھر پور احتجاجی مظاہرہ صاحبزادہ تنویر ، مولانا حبیب المالک اور دیگر علماء کی قیادت میں ہوا۔ گڑھی حبیب اللہ میں شباب اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی جس کی قیادت سید ضیاء حسین شاہ ، عتیق الرحمن بھائی اور مقامی علماء نے کی۔ اوگی میں بھی شباب اسلامی پاکستان کے کارکنان اور دیگر عاشقان مصطفیٰ نے بھر پور احتجاجی مظاہرے کئے جس کی قیادت سید مبارک شاہ صاحب نے کی۔ شنکیاری میں زرداد چشتی کی قیادت میں شباب اسلامی نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ہری پور میں شباب اسلامی پاکستان کے ضلعی نگران تنویر احمد ملنگی بادشاہ کی زیر قیادت ہزاروں افراد پر مشتمل احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

سیالکوٹ میں مولانا خاور حسین نقشبندی ، پیر کرامت علی شاہ ، صاحبزادہ حامد رضا صاحب

صفحہ 346

سید شجاعت علی شاہ، مولانا خادم حسین خورشید، مفتی خادمی صاحب کی قیادت میں ریلی نکالی گئی۔ حضرو ....... حسن ابدال ....... ٹیکسلا ....... حیدرآباد ....... گوجرانوالہ ....... گجرات ....... مردان سوات ....... کرک ....... صوابی ....... ڈیرہ اسماعیل خان ....... بہاولپور ....... ملتان ....... لودھراں خانیوال ....... دینہ ....... حافظ آباد ....... ناروال ....... شکرگڑھ ....... قصور ....... وزیر آباد ....... پشاور نوشہرہ ....... چارسدہ ....... سمیت سندھ ....... بلوچستان اور سرحد کے دیگر شہروں میں بھی ممتاز حسین قادری کو دی جانے والی سزا کے خلاف ہڑتال کی گئی اور احتجاج کیا گیا۔

٭ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی ٭

یکم اکتوبر 2011ء کو دہشت گردی کی عدالت میں غازی صاحب کو سزائے موت سناتے ہوئے سات دن کے اندر ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا اختیار دیا۔ عدالتی فیصلے کے بعد غازی صاحب نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں جلد از جلد آقا حضور ﷺ کی بارگاہ میں پہنچنا چاہتا ہوں لہٰذا ہائی کورٹ میں اپیل نہیں کروں گا۔ غازی صاحب کے اہل خانہ نے بھی غازی صاحب کی رضا کو اپنی رضا کہہ دیا۔ تاہم قبلہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب نے اپنے جگر گوشہ جناب سید حبیب الحق شاہ صاحب اور راجہ شجاع الرحمٰن اور دلپذیر اعوان 5 اکتوبر 2011ء کو اڈیالہ جیل غازی صاحب سے ملاقات کی غرض سے پہنچے اور قبلہ سید حسین الدین شاہ صاحب کا پیغام بھیجا کہ دہشت گردی کی عدالت کے جج کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کی اجازت دی جائے۔ چنانچہ غازی صاحب نے قبلہ شاہ صاحب کے پیغام پر ہائی کورٹ میں لوئر کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کی اجازت دے دی۔ بتاریخ 6 اکتوبر 2011ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ملک رفیق احمد ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی کے صدر ملک جواد خالد، ڈسٹرکٹ بار اسلام آباد کے صدر ہارون الرشید، ڈسٹرکٹ بار کے جوائنٹ سیکرٹری یاسر محمود، سید حبیب الحق شاہ صاحب، راجہ شجاع الرحمٰن، راجہ طارق دھمیال اور دیگر وکلاء نے اپیل دائر کرتے ہوئے یہ موقف پیش کیا کہ ممتاز قادری صاحب پر دہشت گردی کے دفعہ 7ATA کا سرے سے

صفحہ 347

اطلاق ہی نہیں ہوتا تھا چہ جائیکہ اس دفعہ کے تحت انہیں سزائے موت دی جاتی۔ علاوہ ازیں ان کا عمل 302A اور 302B میں فال نہیں کرتا بلکہ ان کا یہ عمل 302C میں فال کرتا ہے جس کی سزا زیادہ سے زیادہ 14 سال ہے۔

علاوہ ازیں اس کیس میں اسلامی دفعات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ چنانچہ عدالت نے دلائل کے لئے 11 اکتوبر کی تاریخ دیتے ہوئے کیس کی فائل کو وصول کرلیا۔ آج کی پیشی پر عدالت کے اندر وکلاء نے غازی صاحب کے حق میں نعرہ بازی کی اور عدالت کے باہر شباب اسلامی پاکستان کے کارکنان راقم کی قیادت میں پہنچے اور اسلام آباد کے علماء مولانا اقبال نعیمی، مولانا اسلم ضیائی کارکنان سنی تحریک، کارکنان بزم ارشاد نے عدالت کے باہر غازی صاحب کے حق میں نعرہ بازی کی اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔

11 اکتوبر کی ہائی کورٹ کی پیشی پر حاضری کے لئے لاہور سے وکلاء کا ایک وفد جناب جسٹس نذیر غازی، جسٹس میاں نذیر اختر کی قیادت میں بتاریخ 10 اکتوبر راولپنڈی میں پہنچا۔ اس وفد کے ہمراہ جناب مولانا مفتی خان محمد قادری، مولانا خلیل الرحمٰن قادری بھی تشریف لائے۔ وکلاء کے اعزاز میں مادر علمی جامعہ رضویہ ضیاء العلوم میں قبلہ شاہ صاحب کی طرف سے عشائیہ دیا گیا۔ اس عشائیہ میں غازی صاحب کے والد ملک بشیر اعوان، غازی برادران اور راولپنڈی اسلام آباد کے غازی صاحب سے محبت کرنے والے زعماء نے شرکت کی۔ وکلاء رات دیر تک کیس کے سلسلے میں مشاورت کرتے رہے۔

11 اکتوبر صبح 9 بجے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر ہزاروں افراد جمع ہوئے جن میں علماء، مشائخ، طلباء، وکلاء اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے غلامانِ مصطفیٰ تھے۔ ہائی کورٹ کے باہر سب سے پہلے شباب اسلامی ایبٹ آباد کا قافلہ حضرت قبلہ پیر سید شاہ محمد کمال کاظمی، صاحبزادہ سید شاہ حامد کمال کاظمی، صاحبزادہ سید شاہ احمد کمال کاظمی، صاحبزادہ سید نقیب اللہ شاہ الحسینی اور مفتی نذیر احمد قریشی کی قیادت میں پہنچا۔ اس قافلے میں کارکنان شباب اسلامی،

صفحہ 348

مولانا ظہیر جاوید قریشی، سید نثار حسین شاہ، سید بشارت حسین شاہ اور دیگر علمائے کرام شامل تھے۔ تنظیم علمائے ضیاء العلوم کا قافلہ حضرت قبلہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب کی قیادت میں ہائی کورٹ کے باہر پہنچا جس میں کثیر تعداد میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے علماء شامل تھے۔ مولانا ملک خورشید، مولانا اقبال نعیمی، مولانا ضمیر احمد ساجد، مولانا معروف احمد نقشبندی، مولانا اسلم ضیائی، مولانا سید امتیاز حسین شاہ، مولانا ندیم اقبال اعوان، مولانا شاہد منصور نورانی، طاہر اقبال چشتی، مولانا لیاقت علی گجراتی، علامہ وسیم عباسی، علامہ عزیز الدین کوکب، مولانا حیدر علوی، مولانا نزاکت تبسم، مولانا ظفر اقبال جلالی اور دیگر علماء نے اپنے متعلقین کے ہمراہ اس پیشی میں شرکت کی۔ مرکز شباب اسلامی سے شباب اسلامی کا قافلہ راقم کی قیادت میں ہائی کورٹ پہنچا۔ کلر سیداں سے دھمیال یونٹ کا قافلہ ملک شفیق صاحب، آصف صاحب کی قیادت میں پہنچا۔ آج کی پیشی میں جماعۃ الدعوۃ پاکستان کے قاری شیخ یعقوب صاحب، عالمی تنظیم اہل سنت کے پیر افضل قادری صاحب، جمعیت علمائے پاکستان کے قاری زوار بہادر صاحب، جماعت اسلامی اسلام آباد کے امیر، جمعیت علمائے اسلام، عالمی تحفظ ختم نبوت فورم کے عبد الوحید قاسمی، قاری طیب، دیوبندی علماء کی طرف سے شیخ الحدیث عبد الرؤف، مولانا عزیز الرحمن ہزاروی نے شرکت کی اور خطاب بھی فرمائے۔

لاہور سے تشریف لائے ہوئے غازی صاحب کے وکلاء جسٹس میاں نذیر اختر، جسٹس نذیر احمد غازی نے پر جوش خطاب سے حاضرین کے دلوں کو گرمایا۔ علمائے کرام نے خطابات کئے اور تمام مسالک کے علماء کی طرف سے متفقہ طور پر غازی صاحب کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ جلد از جلد ممتاز حسین قادری کو رہا کرے۔ عدالت میں غازی صاحب کی طرف سے جسٹس خواجہ شریف، جسٹس نذیر احمد غازی، جسٹس میاں نذیر اختر کی قیادت میں سینکڑوں وکلاء پیش ہوئے جن میں ناموس رسالت لائرز فورم کے عبد الرحیم راؤ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ شریک ہوئے۔ جسٹس خواجہ شریف صاحب نے عدالت کے سامنے دلائل پیش کئے اور کہا کہ ان کے موکل کو اپیل کرنے کا حق حاصل ہے اور عدالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی اپیل سماعت کے لئے منظور کرے۔ انہوں نے فاضل عدالت سے استدعا کی چونکہ یہ مقدمہ مذہبی

صفحہ 349

معاملے پر ہے لہٰذا علماء کو بھی عدالت کی کاروائی دیکھنے کی اجازت دی جائے ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اقبال حمید الرحمٰن اور جسٹس انور خان کاسی پر مشتمل بنچ نے درخواست کو سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے دہشت گردی کی عدالت کی طرف سے دی جانے والی سزا کو معطل کر دیا۔ اور علماء کرام کو اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے دلیل دی کہ اگر علماء کو اجازت دی گئی تو پھر عام شہریوں کو بھی اجازت دینی پڑے گی ۔ عدالت نے کیس ”بک“ کی تیاری کا آرڈر کرتے ہوئے کاروائی کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا۔ کیس ابھی تک ہائی کورٹ میں ہے اور تاریخ کا انتظار ہو رہا ہے ۔

4 جنوری یوم ممتاز حسین قادری و یوم تحفظ ناموس رسالت

4 جنوری غازی اسلام ملک ممتاز حسین قادری کے لئے عاشقانہ اقدام کا دن ہے ۔ یہ وہ دن ہے جسے ہمیشہ تک کے لئے ممتاز حسین قادری اور تحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔ 4 جنوری 2012ء بروز بدھ عاشقان مصطفیٰ نے یوم ممتاز حسین قادری اور یوم تحفظ ناموس رسالت کے طور پر منایا۔ شباب اسلامی پاکستان ، سنی تحریک ، ادارہ صراط مستقیم ، تحفظ ناموس رسالت محاذ ، بزم ارشاد اور دیگر تنظیمات نے ممتاز حسین قادری کے حق میں ریلیاں نکالیں۔

شباب اسلامی پاکستان راولپنڈی کی طرف سے 4 جنوری دن 2 بجے مرکزی دفتر سے غازی صاحب سے یکجہتی کی ریلی نکالی گئی ۔ ہزاروں افراد پر مشتمل ریلی نے غازی ہاؤس پر جا کر اہل خانہ کو گلدستے پیش کئے اور وہاں کانفرنس کی گئی ۔ ریلی کی قیادت راقم الحروف ، مولانا منظور احمد صدیقی نے کی ، فیاض الحسن چوہان ، علامہ لیاقت علی گجراتی ، قاری اشفاق صابری ، مولانا نزاکت تبسم ، مولانا رب نواز فاروقی ، مولانا احسان الٰہی قریشی ، مولانا منیر دلپذیر حیدری ، مولانا سید آفتاب حسین شاہ سمیت دیگر علماء کرام نے شرکت و خطاب کیا۔

آج کے دن خوشی کی ریلی نکالنے کی بابت راقم سے سوال ہوا اور پوچھا گیا کہ آج کا دن

صفحہ 350

منانے کی کیا تک بنتی ہے ۔ راقم نے جواب دیا کہ اس سلسلے میں نبوی تعلیمات ہمارے سامنے ہیں ۔ دس محرم الحرام کو فرعون کا لشکر غرق دریا ہوا اور قوم موسیٰ کو اس بد بخت کافر سے نجات ملی ، قرآن نے اس دن کو خصوصی طور پر یاد کروایا ہے اور نبی علیہ السلام نے 10 محرم الحرام اور 11 محرم الحرام کو دو روزے رکھنے کا حکم دیا ۔ یہ نبوی سنت ہمارے لئے مشعل راہ ہے کہ جس دن قوم کو کسی بد بخت گستاخ وملعون سے نجات ملتی ہے وہ دن اہم ہو جاتا ہے ۔ 4 جنوری کی شام ممتاز حسین قادری کے اقدام سے پوری پاکستانی قوم کے سر سے بوجھ اتر گیا تھا جس کی ہر مسلمان کو خوشی ہے ۔ ریلی کے اختتام پر SIP کالج یونٹ کے کارکنوں نے آتش بازی کی ،سٹیج پر جب ننھے محمد علی عطاری کو لایا گیا تو اس وقت عوام کا جوش وخروش دیدنی تھا ۔ غازی صاحب کے والد گرامی نے اختتامی دعا کروائی ۔سنی تحریک لیڈیز ونگ کی طرف سے اسلام آباد آبپارہ میں مظاہرہ کیا گیا ۔ جس میں غازی صاحب کی اہلیہ سمیرا غازی نے خصوصی شرکت کی اور ننھے محمد علی عطاری کو بھی سبز عمامہ سجا کر خصوصی طور پر لایا گیا ۔

اسلام آباد پریس کلب سے لے کر کوہسار مارکیٹ تک جامعہ جلالیہ اسلام آباد کے مہتمم ڈاکٹر ظفر اقبال جلالی کی قیادت میں ریلی نکالی گئی ۔ ریلی اسلام آباد کوہسار مارکیٹ میں غازی کے جائے اقدام پر پہنچی اور ایک دفعہ پھر تمام گستاخان نبوت وشریعت کو پیغام دے دیا گیا کہ ممتاز حسین قادری کے جانثار ابھی زندہ بھی ہیں اور حوصلہ مند بھی ہیں ۔

لاہور میں یوم تحفظ ناموس رسالت کو بڑے شاندار طریقے سے منایا گیا ، ادارہ صراط مستقیم سنی تحریک ، تحریک فدایان ختم نبوت ، تحفظ ناموس رسالت محاذ کے زیر اہتمام عظیم الشان ریلی نکالی گئی جس کا اختتام داتا دربار کے قریب ہوا ۔ ریلی کی قیادت ڈاکٹر اشرف آصف جلالی ، مولانا خادم حسین رضوی ، مولانا رضائے مصطفیٰ ، مولانا محمد علی نقشبندی ، جناب مجاہد عبدالرسول نے کی ۔

کراچی سمیت ملک کے دیگر شہروں میں بھی غازی ممتاز قادری سے اظہار یکجہتی کیا گیا اور انکے کئے گئے عمل پر ان کو خراج تحسین پیش کیا گیا ۔ آج کے دن کی مناسبت سے ’ روزنامہ اوصاف ‘

صفحہ 351

ایک مرتبہ پھر بازی لے گیا ، روزنامہ اوصاف میں ممتاز حسین قادری صاحب کے حوالے سے خصوصی رنگین ایڈیشن شائع کیا گیا جسے عوام کی طرف سے بڑا پسند کیا گیا ۔ دوسری طرف لاہور میں سلمان تاثیر سابقہ گورنر اور پیپلز پارٹی کے رہنما کے ایصالِ ثواب کیلئے چند موم بتیوں کو آگ لگائی گئی اور گنے ہوئے 18,20 آدمیوں نے شہر یار تاثیر کی قیادت میں موم بتیوں کو آگ لگانے کی ”مذہبی رسم“ کو پورا کیا ۔

الیکٹرانک میڈیا نے ایک مرتبہ پھر تمام اخلاقی حدود کو کراس کیا ، چند جلائی گئی شمعیں دکھائیں گئیں لیکن ہزاروں افراد کی ریلیاں اور لاکھوں لوگوں کا اظہار محبت دکھانے کی توفیق نہ ہوئی ۔

ممتاز حسین قادری کانفرنسز

عدالتی غیر شرعی فیصلہ آنے کے بعد ملک بھر میں شدید ترین پر امن احتجاج کیا گیا۔ اس کے بعد ملک بھر میں ممتاز حسین قادری کانفرنسز کا آغاز ہوا ۔ سب سے پہلی کانفرنس 14 اکتوبر کو جامعہ سراج العلوم وارڈ 16 گوجر خان میں جماعت اہل سنت تحصیل گوجر خان کے زیر اہتمام منعقد کی گئی ۔ جس میں مولانا غلام محمد چشتی ، مولانا عثمان غنی ، مولانا ظہور چشتی ، مولانا رضاء المصطفیٰ بخاری نے خطاب کیا ۔ مولانا عثمان غنی نے بھر پور طریقے سے غازی صاحب کو خراج عقیدت پیش کیا ۔

22 اکتوبر 2011ء بروز ہفتہ کوہ نور ملز راولپنڈی نصیر آباد کے علاقے میں غازی اسلام کانفرنس منعقد کی گئی جس کی صدارت پیر سید حسین الدین شاہ صاحب نے فرمائی اور خصوصی خطاب کیلئے راقم کو مدعو کیا گیا ۔ اس کے علاوہ مولانا ملک خورشید احمد قادری ، مولانا مفتی ضمیر احمد ساجد ، مولانا مفتی محمد اقبال نعیمی ، مولانا ندیم اقبال اعوان اور دیگر علماء کرام نے خطابات فرمائے ۔ اس کانفرنس کا انعقاد تنظیم علماء ضیاء العلوم اور شباب اسلامی نے کیا تھا ۔

24 اکتوبر ترنول اسلام آباد میں سنی تحریک کے زیر اہتمام ”غازی اسلام کانفرنس“ کا انعقاد ہوا ۔ جس کی صدارت شاداب رضا قادری نے کی اور خطاب زاہد حبیب قادری ، غفران محمود

صفحہ 352

سیالوی، مفتی لیاقت علی رضوی نے کیا۔

جمعۃ المبارک 28 اکتوبر شباب اسلامی پاکستان آریہ محلہ یونٹ کے زیر اہتمام ”غازی اسلام کانفرنس“ کا انعقاد ہوا۔ جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی اس کانفرنس میں خصوصی خطاب راقم اور مولانا قاری عنایت الرحمن صاحب کا تھا جبکہ اس کی صدارت جگر گوشہ شیخ الحدیث ڈاکٹر محمد عبداللہ صاحب نے کی۔

26 اکتوبر جامع مسجد یارسول اللہ گلشن راوی مون مارکیٹ لاہور میں عظیم الشان ”عشق رسول سیمنار“ ہوا جس میں ڈاکٹر اشرف آصف جلالی ، مولانا خادم حسین رضوی ، مولانا محمد علی نقشبندی کے خطابات ہوئے۔ اس سیمینار میں ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے 6 گھنٹے پر محیط مفصل خطاب کیا جس میں ممتاز حسین قادری کے عمل کو قرآن وسنت کی روشنی میں درست ثابت کیا گیا۔

29 اکتوبر بروز ہفتہ غوری ٹاؤن اسلام آباد میں تاجی کھوکھر ، مفتی لیاقت علی رضوی ، قاری اشفاق صابری کے زیر اہتمام کانفرنس کا انعقاد ہوا جس کی صدارت مصلح امت پیر سید حسین الدین شاہ صاحب نے فرمائی اور ڈاکٹر اشرف آصف جلالی ، علامہ عزیز الدین کوکب ، تاجی کھوکھر ، فیاض الحسن چوہان اور دیگر علماء نے خطاب کیا۔

30 اکتوبر بروز اتوار جماعت اہل سنت پاکستان ، رورل ایریا اسلام آباد کے زیر اہتمام عظیم الشان ممتاز حسین قادری کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ جس میں حضرت علامہ سید ریاض حسین شاہ ، پیر سید حسین الدین شاہ ، سید شبیر حسین شاہ گیلانی ، مفتی محمد اقبال چشتی ، ملک بشیر اعوان نے خطاب کیا۔

9 جنوری جوہر ٹاؤن لاہور میں تحفظ ناموس رسالت محاذ کے زیر اہتمام غازی اسلام کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں کثیر تعداد میں عاشقان مصطفیٰ نے شرکت کی راقم کا خصوصی خطاب تھا۔ اور مولانا رضائے مصطفیٰ ، مولانا محمد علی نقشبندی اور دیگر مشائخ و علماء نے شرکت کی ۔

31 اکتوبر بروز سوموار G7-2 اسلام آباد میں ممتاز حسین قادری کانفرنس کا انعقاد ہوا ۔ جس کی صدارت قبلہ شاہ صاحب نے فرمائی اور مولانا عبد الغنی نقشبندی ، قاری عبید ستی ، مولانا ضمیر

صفحہ 353

احمد ساجد اور راقم کا خطاب ہوا۔

2 نومبر 2011ء بروز بدھ جھنگ میں سیٹلائٹ ٹاؤن کے مقام پر ممتاز حسین قادری کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور اس عظیم الشان کانفرنس میں خصوصی خطاب کیلئے راقم کو مدعو کیا گیا۔

13 نومبر بروز اتوار شباب اسلامی شکر گڑھ کے زیر اہتمام ممتاز حسین قادری کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ راقم الحروف کے علاوہ دیگر جید علمائے کرام کا خطاب ہوا اور غازی اسلام کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

15 نومبر بروز منگل جامعہ رسولیہ شیرازیہ لاہور کے زیر اہتمام کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں شیخ الحدیث مولانا خادم حسین رضوی، مولانا محمد علی نقشبندی اور راقم کا خطاب ہوا۔ جبکہ ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے مکہ شریف سے ٹیلی فونک خطاب کیا۔

16 نومبر شباب اسلامی پاکستان بھائی لوڈن یونٹ جہلم کے زیر اہتمام کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں راقم الحروف اور نسیم عطاری کا خطاب ہوا۔

20 نومبر بروز اتوار ملتان میں ممتاز حسین قادری کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں راقم کو خصوصی خطاب کے لئے مدعو کیا گیا۔

15 دسمبر 2011ء بروز جمعرات ”ممتاز حسین قادری لورز“ ڈھوک حسو راولپنڈی کے زیر اہتمام ممتاز حسین قادری کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں مولانا حبیب الازہری، مہتاب احمد ماگرے، قاری شعاع الدین اور راقم کا خطاب ہوا۔

9 جنوری جوہر ٹاؤن لاہور میں تحفظ ناموس رسالت محاذ کے زیر اہتمام غازیان اسلام کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں کثیر تعداد میں عاشقان مصطفیٰ نے شرکت کی راقم کا خصوصی خطاب تھا۔ اور مولانا رضائے مصطفیٰ، مولانا محمد علی نقشبندی اور دیگر مشائخ وعلماء نے شرکت کی۔ اسی تاریخ سنی تحریک لاہور کے زیر اہتمام شیزان فیکٹری بند روڈ لاہور میں عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ جس میں مجاہد عبد الرسول صاحب اور راقم کا خطاب ہوا۔

یہ وہ کانفرنسز ہیں جن کے احوال راقم نے خود ملاحظہ کئے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر

صفحہ 354

میں دستار فضیلت کا جلسہ ہو یا میلاد کا یا محرم الحرام کا ، ذکر اہل بیت کا پروگرام ہو یا گیارہویں شریف کا ، چہلم ہو یا محفل نعت ۔ ہر جلسہ ممتاز حسین قادری کانفرنس ہی نظر آتا ہے کیونکہ جس جلسے میں غازی اسلام کے حضور خراج عقیدت پیش نہ کیا جائے عوام اس خطاب کو پسند ہی نہیں کرتے ۔

3 دسمبر کو کراچی میں ماڈل کالونی ، جامعہ قمر الاسلام سلیمانیہ ، ملیر اور دیگر مقامات پر راقم نے کانفرنسز سے خطاب کیا عنوان تو شاید اور تھا لیکن سب سے زیادہ تذکرہ ممتاز حسین قادری صاحب کا ہی ہوا۔

28 جنوری 2012ء کو تنظیمات اہل سنت ، شباب اسلامی پاکستان ، سنی تحریک ، بزم ارشاد اور ادارہ صراط مستقیم کے زیر اہتمام ممتاز حسین قادری صاحب کے کارنامہ جرأت کا سال پورا ہونے پر ایک عظیم الشان "ممتاز حسین قادری کانفرنس" کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کانفرنس ہمک ماڈل ٹاؤن اسلام آباد میں جامعہ آمنہ ضیاء البنات کے احاطے میں قبلہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب کی سرپرستی میں منعقد ہو رہی ہے ۔ اس کانفرنس میں سربراہ سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ فضل کریم ، جماعت اہل سنت پاکستان کے علامہ سید ریاض حسین شاہ صاحب ، سربراہ سنی تحریک ثروت اعجاز قادری ، سربراہ تنظیم اہل سنت پیر محمد افضل قادری ، سربراہ ادارہ صراط مستقیم کے اشرف آصف جلالی ، پیر محمد نقیب الرحمٰن صاحب عید گاہ شریف ، پیر سید شاہ محمد کمال کاظمی چورہ شریف ایبٹ آباد ، سائیں شعبان فرید کلیامی ، مولانا خادم حسین رضوی لاہور ، امتیاز علی کھوکھر (تاجی کھوکھر )، ملک بشیر اعوان ، چوہدری فضل الرحمن ، فضل ایسوسی ایٹس ، راقم الحروف اور دیگر علماء ومشائخ اور زعمائے ملت کو مدعو کیا گیا ہے ۔

11 اکتوبر 2011ء کو انجمن طلباء اسلام کے زیر اہتمام انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی میں ایک ریفرنڈم کروایا گیا جس میں 2190 طلباء نے ووٹ ڈالا ۔ ان میں سے ممتاز حسین قادری کے حق میں 2037 ووٹ یعنی کل ووٹ کا %93 ممتاز قادری کے خلاف 132 ووٹ یعنی کل ووٹ کا %6 اور 21 طلباء نے لاعلمی کا اظہار کیا ۔ اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ممتاز قادری اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان نسل میں بھی کتنا مقبول ہے۔

صفحہ 355

﴿ ”ممتاز حسین قادری“ کے نام پر مساجد کا قیام ﴾

لوگوں کے دلوں میں کسی شخص کا پیار اور اس کی مقبولیت عامہ یہ صرف اور صرف فضل الٰہی سے ہی ممکن ہے ایک ادنیٰ سرکاری ملازم صرف رسول اللہ ﷺ سے عشق ومحبت اور وفاداری کے باعث کروڑوں لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بن گیا۔

اس عاشق رسول کے ساتھ صرف مذہبی طبقہ ہی محبت نہیں کر رہا بلکہ عام دنیا دار لوگ بھی اس شخص سے محبت کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس کی ایک جھلک یوں بھی نظر آتی ہے کہ ملک میں مساجد کا قیام ممتاز حسین قادری کے نام سے عمل میں لایا جا رہا ہے۔

سب سے پہلے اس نام کی مسجد کا سنگ بنیاد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رکھا گیا ”غوری ٹاؤن“ اسلام آباد میں ایک بہت بڑا رہائشی منصوبہ ہے اس کے بانی جناب الحاج راجہ علی اکبر اور چوہدری عبدالرحمٰن صاحب ہیں۔ الحاج راجہ علی اکبر صوفی منش اور دین دوست آدمی ہیں۔ اور پابند صوم وصلوٰۃ اور سنت مطہرہ کے مطابق زندگی گزارنے والی شخصیت ہیں۔ یونہی چوہدری عبدالرحمٰن صاحب بھی دین دوستی میں مشہور ہیں بایں وجہ انہوں نے ایک بہت بڑا ماڈل دارالعلوم اپنے آبائی علاقے میں قائم کر رکھا ہے۔

غوری ٹاؤن کے سب سے مہنگے علاقے فیز VIP غوری میں ایک قیمتی قطعہ اراضی ان دونوں حضرات نے وقف کیا ہے جس پر ”جامع مسجد ممتاز حسین قادری“ کا سنگ بنیاد حضرت شیخ الحدیث پیر سید حسین الدین شاہ صاحب ملک بشیر اعوان صاحب نے 29 اکتوبر کو رکھا ہے۔

اراضی مسجد کے لئے وقف کیا اور 13 نومبر 2011ء کو اس قطعہ اراضی پر جامع مسجد ممتاز حسین قادری کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اس تقریب میں معززین شہر کے علاوہ علامہ

صفحہ 356

سید وقاص حسین شاہ، کثیر علماء کرام اور راقم نے شرکت کی۔

صاحب ، امجد قریشی کے زیر اہتمام تقریب ہوئی اور جامع مسجد ممتاز حسین قادری کا سنگ بنیاد رکھا گیا اس تقریب کے مہمان خصوصی مولانا عبد الرحمن سیالوی تھے ۔ اس موقع پر علاقے کے مرکزی روڈ کو بھی ”ممتاز حسین قادری روڈ“ کا نام دیا گیا۔

الغرض ملک کے طول و عرض میں لوگوں کی طرف عاشق رسول ملک ممتاز حسین قادری سے والہانہ عشق و محبت کا اظہار جاری ہے۔

﴿ملک ممتاز حسین قادری صاحب اور وکلاء﴾

عدلیہ کسی بھی ملک کا بڑا ستون ہوتا ہے اور وکلاء عدلیہ کے لئے بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ دنیا کے بڑے بڑے انقلابات کے پیچھے وکلاء کا بڑا کردار رہا ہے دور کیوں جائیں بانی پاکستان ہی کو لے لیں آپ بھی ایک وکیل ہی تھے ۔ اور آپ کی محنتوں اور کاوشوں کا ثمر آج سلطنت خداداد پاکستان کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ اور ماضی قریب میں پاکستان کی تاریخ کے بدترین ڈکٹیٹر جنرل مشرف نے جس وقت ملک کو تباہی کے کنارے لا کھڑا کیا تو اس کے خلاف مضبوطی سے کھڑی ہونے والی طاقت کا نام وکلاء ہی تھا۔

وکلاء نے آمریت کے خاتمے میں بنیادی کردار ادا کیا جس کے باعث آمر آج جلاوطنوں کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور ملک میں نام نہاد ہی سہی لیکن جمہوریت تو موجود ہے۔ وکلاء کو معاشرے کا سلجھا ہوا روشن خیال اور پڑھا لکھا طبقہ شمار کیا جاتا ہے۔ جمہوریت کی بحالی میں بنیادی کردار ادا کرنے کے بعد پاکستانی معاشرے میں وکلاء کی عزت کو چار چاند لگ گئے ۔ 4 جنوری 2011ء کے غازی ممتاز حسین قادری کے جرأت مندانہ اقدام کے فوراً بعد عوامی ردعمل اس وقت سامنے آیا جب لوگ دیوانہ وار نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل کھڑے ہوئے اور بعض شہروں میں منوں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور مبارکبادوں اور قادری صاحب کو خراج عقیدت پیش کرنے

صفحہ 357

کے SMS کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ تاہم یہ ساری باتیں معمول کے مطابق تھیں اس لئے کہ پاکستانی مسلمانوں کا جذبہ وفاداری رسول ضرب المثل ہے۔ پوری دنیا میں پاکستانی قوم اسلامی اقدار کے حوالے سے انتہائی جذباتی شمار کی جاتی ہے۔ غازی صاحب کے ایک وار نے پوری دنیا کے گستاخوں اور کافروں کو واضح پیغام دے دیا تھا کہ نبی عربی ﷺ کے متوالے ابھی تک زندہ ہیں۔ تاہم یہود و ہنود کے زیر اثر اور تنخواہ دار میڈیا نے اپنی مرضی کے اینکرز کو ٹی وی شوز میں بلا کر غازی صاحب کو جنونی، انتہا پسند قاتل کہنا شروع کر دیا اور ملک کے انتہائی اقلیتی، سیکولر طبقے نے یہ تاثر دینا شروع کر دیا کہ قوم ہمارے ساتھ ہے اور گورنر کا قتل ایک جنونی کا کام ہے۔

4 جنوری رات کو پاکستان کے ایک مشہور نجی ٹی وی چینل جیو TV پر بھی حسب منصوبہ مشہور ٹی وی اینکر کہ جن کے بارے میں محب وطن حلقہ کا تاثر یہ ہے کہ آنجناب CIA کے لئے کام کرتے ہیں، حامد میر صاحب نے چند مہمانوں کو پروگرام میں مدعو کیا جن میں ایک شخصیت وفاقی وزیر جناب وقاص اکرم صاحب کی بھی تھی وقاص اکرم صاحب جھنگ کے قومی اسمبلی کے حلقہ سے دوسری دفعہ منتخب ہو کر اسمبلی میں پہنچے ہیں۔ شیخ وقاص اکرم نے دونوں دفعہ کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہوں کو شکست دی ہے بایں وجہ کالعدم تنظیموں کے لوگوں کی شیخ صاحب کے ساتھ کافی پرخاش رہتی ہے اور وقاص اکرم صاحب بھی مختلف سیمینارز، پروگراموں میں نام نہاد اسلام پسندوں اور پاکستان دشمن طالبان ظالمان جیسے درندوں کی خبر لیتے رہتے ہیں۔ حامد میر صاحب نے بھی اپنے چینل کے ذریعے نام نہاد طالبان کے خلاف ”بوجوہ“ بھر پور کام کیا تھا اور وقاص اکرم کو اللہ تعالیٰ نے بولنے کا بھی ایک بہترین ملکہ عطا فرمایا ہے۔ بایں وجہ وقاص اکرم صاحب کو پروگرام میں مدعو کیا گیا اور ان کے ساتھ دوسرے مہمانوں میں سیکولر ذہنیت کے لوگ بٹھائے گئے۔ پروگرام شروع ہوتے ہی میزبان نے نپے تلے مگر انتہائی زہریلے جملے استعمال کئے ان کے بعد ایک مہمان کو بولنے کی دعوت دی گئی تو انہوں نے بھی دل کی بھڑاس نکالی تاہم جب وقاص اکرم صاحب کا نمبر آیا تو انہوں نے غلامی رسول ﷺ کا حق ادا کر دیا اور میزبان کو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر آپ میرے سامنے توہین رسالت کا اقدام کریں گے تو میں آپ کو بھی گولی مار دوں گا۔ اور ممتاز قادری نے جو

صفحہ 358

کچھ کیا وہ عشق مصطفیٰ میں کیا اور دیکھ لینا ممتاز قادری لوگوں میں ہیرو بن کر ابھرے گا۔ شیخ وقاص اکرم صاحب کی گفتگو کے بعد واضح محسوس کیا جا رہا تھا کہ میزبان سمیت شرکاء کی بولی بدل چکی ہے۔ راقم کی ملاقات شیخ وقاص اکرم صاحب سے ہوئی تو انہوں نے اشارے سے بتایا کہ دراصل اس پروگرام کا مقصد کچھ اور تھا اور میں نے وہاں رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔ ان لوگوں کا یہی مقصد تھا کہ چونکہ میں نام نہاد مولویوں کے خلاف بولتا رہتا ہوں تو شاید میں ایک سیکولر آدمی ہوں گا حالانکہ حضور ﷺ کی محبت ہی مومن کی میراث ہے۔

آمد بر سر مطلب! گورنر قتل کے چند گھنٹوں بعد وقاص اکرم صاحب کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ تیر بہدف ثابت ہوئے اور ممتاز قادری پوری قوم کا ہیرو تھا اور ہیرو بن کر ابھرا اور ان شاء اللہ ہیرو ہی رہے گا۔

اس کی پہلی جھلک:

5 جنوری کو اسلام آباد کچہری میں اس وقت دیکھنے کو ملی کہ جب غازی صاحب کو اسلام آباد کچہری عدالت میں جج کے سامنے پیش کرنے کے لئے لایا گیا بظاہر ایک ”قاتل“ کی پیشی تھی مگر عجیب منظر تھا سینکڑوں وکلاء نے غازی صاحب کی گاڑی کو گلاب کے سرخ پھولوں کی منوں پتیوں سے سُرخ کر دیا۔ غازی صاحب کے سر پر ڈالے گئے سیاہ ٹوپ، جو خطرناک ملزموں کی علامت ہوتی ہے کو اتار کر پھینک دیا۔ اور غازی صاحب کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے گئے۔ پورا احاطہ عدالت ، سیدی مرشدی ، یا نبی یا نبی ۔۔۔۔ دیکھو دیکھو کون آیا ، شیر آیا شیر آیا ۔ ۔ ۔ ۔ غازی تیری جرأت کو ، سلام ہو سلام ہو ۔۔۔۔ جرأت بہادری ممتاز حسین قادری کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا۔ وکلاء غازی صاحب کا ماتھا چومتے رہے اور کچھ وکلاء غازی صاحب کو لانے والی بکتر بند گاڑی کو ہاتھ لگا لگا چومتے رہے۔ جن وکلاء نے غازی صاحب سے ہاتھ مس کیا تھا دوسرے وکلاء ان کے ہاتھ چومتے رہے اور کچھ وکلاء ان پولیس والوں کے ہاتھ چومتے رہے جنہوں نے غازی صاحب کی ہتھکڑیاں پکڑ رکھی تھیں۔ یہ کیا تھا، جذبات کا تلاطم تھا۔۔۔۔۔

صفحہ 359

عاشق رسول سے محبت کا اظہار تھا۔۔۔۔۔ وہ وکلاء کہ جنہیں روشن خیالی کی علامت سمجھا جاتا ہے ان کے اس عاشقانہ رویے نے پوری دنیا کے ”طوطوں“ کو ہلا کر رکھ دیا۔ پاکستان میں بسنے والے لبرل و سیکولر انتہا پسندوں کی زبانیں گنگ ہوگئیں اور امریکہ کی وزیر خارجہ کا بیان آیا کہ ممتاز قادری کے اقدام اور اس کے بعد قوم کی طرف سے اس کی پذیرائی اور بالخصوص وکلاء کے روشن خیال طبقے کی طرف سے قاتل کی حمایت نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا ہے اور یہ بات ظاہر ہو چکی ہے کہ پاکستانی معاشرے میں مذہب کی جڑیں مضبوط ہیں۔

جی ہاں! ان امریکیوں کو کون سمجھائے کہ بے غیرت حکمرانوں کی کاسہ لیسیاں۔۔۔۔ تنخواہ دار میڈیا اینکرز، کالم نگاروں اور این جی اوز کی منافقانہ رپورٹیں پاکستانی قوم کے جذبات نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستانی قوم اپنے دین اسلام اور اپنے نبی ﷺ کی ذات سے اپنی جان سے بھی زیادہ پیار کرتی ہے اور وکلاء کا یہ عمل اس کی ایک جھلک ہے !!!

اسلام آباد مجسٹریٹ کی عدالت نے غازی صاحب کو ایک دن کے راہداری ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ اُدھر اسلام آباد بار کے وکلاء نے غازی صاحب کے مفت مقدمہ لڑنے کا اعلان کر دیا اور بار کے صدر جناب سید واجد علی گیلانی صاحب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اسلام آباد بار کا کوئی وکیل سلمان تاثیر کے مقدمے میں اس کی طرف سے کیس نہیں لڑے گا۔ جبکہ غازی صاحب کو مفت قانونی امداد مہیا کی جائے گی یہاں مزے کی بات یہ ہے کہ سید واجد گیلانی کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے اور وفاقی وزیر قانون بابر اعوان صاحب کے قریبی دوستوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ تاہم گیلانی صاحب نے پارٹی اور دوستی سے ہٹ کر غلامی رسول کا حق ادا کیا۔ اسلام آباد بار کے تین سو سے زائد وکلاء نے غازی صاحب کا مفت مقدمہ لڑنے کیلئے وکالت نامے پر دستخط کئے ۔ اگر یہ کہا جائے کہ صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر زبیر صاحب اور شیخ وقاص اکرم صاحب کے بعد ممتاز قادری صاحب کی حمایت میں اُٹھنے والی آواز وکلاء کی تھی تو بے جا نہ ہوگا۔ 6 جنوری کو غازی صاحب کو راولپنڈی میں دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔

صفحہ 360

صبح 9 بجے ہی سے راولپنڈی بار کے سینکڑوں عاشقان رسول وکلاء دہشت گردی کی عدالت کے باہر پہنچ گئے۔ راولپنڈی بار کے صدر جناب ملک وحید انجم صاحب کو تمام وکلاء نے نمائندگی دی اور غازی صاحب کی طرف سے عدالت میں انہیں وکیل مقرر کیا گیا۔ راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کی طرف سے بھی غازی صاحب کا مفت مقدمہ لڑنے کا اعلان ہوا اور ساتھ یہ اعلان بھی کیا گیا کہ راولپنڈی بار کا کوئی وکیل گورنر تاثیر کی وکالت نہیں کرے گا اور جو وکیل ایسا کرے گا اس کی رکنیت ختم کر دی جائے گی۔ اسلام آباد میں وکلاء کی طرف سے سامنے آنے والے غیر متوقع رویے کے باعث انتظامیہ کو انتہائی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ غازی صاحب کو دن دس بجے عدالت میں پیش کیا جانا تھا اُدھر میڈیا پر خبریں چلائی گئیں کہ انہیں عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔ بعد ازاں عدالت کو اسلام آباد میں طلب کرنے کے احکامات جاری ہوئے جج صاحب کی طرف سے انکار کے بعد انتہائی سخت سیکیورٹی میں ممتاز قادری صاحب کو راولپنڈی میں دہشت گردی کی عدالت میں شام 4 بجے پیش کیا گیا۔ دن دس بجے سے لے کر شام 5 بجے تک سینکڑوں وکلاء نعتیں پڑھتے، درود و سلام کا ورد کرتے، نعرے لگاتے، تقریریں کرتے غازی صاحب کی آمد کا انتظار کرتے رہے۔ جب غازی صاحب کو عدالت میں پیشی کے لئے لایا گیا تو راقم کی آنکھوں نے جو منظر دیکھا اس پر آنکھیں چھلکے بغیر نہ رہ سکیں۔ اسلام آباد کچہری والا منظر آج راولپنڈی کچہری میں نظر آرہا تھا۔ درجنوں وکلاء جذبہ محبت رسول میں غازی صاحب کو دیکھ دیکھ کر رو رہے تھے۔ دیوانہ وار نعرے بازی کی جارہی تھی۔ غازی تیرے جانثار، بے شمار بے شمار ----- جیوے جیوے، غازی جیوے ----- جرأت و بہادری، ممتاز حسین قادری، کے نعروں نے ماحول کچھ ایسا گرمایا کہ راقم نے ڈیوٹی پر کھڑے بعض پولیس اہلکاروں کی آنکھوں کو بھی پُرنم دیکھا حتیٰ کہ ایک ایس ایچ او پر تو ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ وہ بھی لگائے جانے والے نعروں کا دیوانہ وار جواب دینے لگ گیا۔

طارق دھمیال ایڈووکیٹ، احمد مصطفیٰ ترازی، بشارت اللہ ایڈووکیٹ، راجہ شجاع الرحمٰن، ملک وحید انجم سمیت سینکڑوں وکلاء نے غلامی رسول کا حق ادا کیا۔

صفحہ 361

ادھر ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز کی طرف سے متفقہ اعلانات ہوئے کہ کوئی بھی وکیل گورنر کی طرف سے وکالت نہیں کرے گا اور پشاور بار ایسوسی ایشن کے ڈھائی سو وکلاء نے قادری صاحب کا مفت مقدمہ لڑنے کیلئے وکالت نامے پر دستخط کئے۔ راقم کی معلومات اور ریکارڈ کے مطابق ملک بھر سے تقریباً 3600 کے قریب وکلاء نے غازی صاحب کے وکالت نامے پر دستخط کئے۔ ہر وکیل کا یہی کہنا تھا کہ ہم اس لئے دستخط کر رہے ہیں تا کہ ہمارا بھی غازی صاحب کے وکیلوں کی فہرست میں نام آجائے۔ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان وکیل جناب عبدالرحیم راؤ صاحب نے نوجوان وکلاء پر مشتمل ”ناموسِ رسالت لائرز ونگ“ قائم کیا اور تقریباً ہر پیشی پر اڈیالہ جیل حاضر ہوتے رہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے ملک کے مختلف شہروں میں بار ایسوسی ایشنز سے رابطہ کر کے غازی صاحب کے وکالت نامے پر دستخط کروائے۔

ہزاروں وکلاء کی طرف سے مفت مقدمہ لڑنے کی پیشکش کے بعد غازی صاحب کے لواحقین اور ہمارے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو چکا تھا کہ مستقل طور پر مقدمہ کس کے حوالے کیا جائے۔ چنانچہ یہ قرعہ جناب سردار اسحاق صاحب کے نام نکلا لیکن شاید یہ سعادت ان کے نصیب میں نہ تھی۔ سردار صاحب نے اپنی کسی مجبوری کی بناء پر مقدمہ لڑنے سے معذرت کر لی۔ چنانچہ یہ سعادت انتہائی احترام کے لائق جناب ملک محمد رفیق صاحب کے حصے میں آئی۔ ملک رفیق صاحب ایک انتہائی لائق وکیل ہی نہیں بلکہ انتہائی نفیس، ہمدرد اور قابل قدر انسان بھی ہیں۔ ملک رفیق صاحب کے ساتھ عاشق رسول جناب راجہ شجاع الرحمن ایڈووکیٹ، راجہ طارق دھمیال ایڈووکیٹ، اور سید حبیب الحق شاہ صاحب ایڈووکیٹ نے غازی صاحب کے کیس کی پیروی کی۔ اللہ تعالیٰ نے جن وکلاء کو غازی اسلام کی حمایت اور خدمت کی سعادت عطا فرمائی ہے راقم ان تمام کو دل کی گہرائیوں سے ہدیہ عقیدت پیش کرتا ہے۔

راقم کی معلومات کے مطابق اور راجہ شجاع الرحمن صاحب اس سے قبل توہین رسالت کے دو کیسوں کی مفت پیروی کر رہے تھے جن میں ایک مشہور مقدمہ ہیکٹر ہلیم پادری کا کیس ہے۔ اور

صفحہ 362

اس کیس پر اب فیصلہ محفوظ ہو چکا ہے۔ اس ملعون شخص نے نبی پاک ﷺ کے خلاف بکواسات لکھ کر راولپنڈی کے طاہر اقبال چشتی صاحب کے موبائل پر SMS کیا تھا اور دوسرا مقدمہ اصغر کذاب کا ہے جس نے دعویٰ نبوت کیا تھا یہ کیس بھی ابھی تک چل رہا ہے۔ راجہ شجاع الرحمٰن انتہائی مخلص اور عاشق رسول شخص ہیں یکم اکتوبر کو عدالت کی طرف سے آنے والے غیر شرعی فیصلے کے بعد جب مظاہرین سے خطاب کے لئے راجہ شجاع الرحمٰن کو مدعو کیا گیا تو ان کے اس ولولہ انگیز خطاب کو سن کر ہر آنکھ اشک بار ہو گئی تھی۔

عدالتی فیصلے کے بعد وکلاء کا ردعمل

دہشت گردی کی عدالت کی طرف سے غازی صاحب کے خلاف وکلاء کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، لاہور، پنڈ دادن خان فاٹا سمیت ملک کے مختلف شہروں میں وکلاء نے اس غیر شرعی عدالتی فیصلے کے خلاف عدالتوں کا بائیکاٹ کر دیا، اور مظاہرے کئے گئے اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور 3 اکتوبر 2011ء کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا۔ راولپنڈی کے غیور اور محبان مصطفیٰ نے احتجاج کرتے ہوئے دہشت گردی کی عدالت کے جج پرویز شاہ کی عدالت کا محاصرہ کر لیا۔ اور اس دوران عدالت کے شیشے ٹوٹ گئے اور عدالتیں بند ہو گئیں، بعد ازاں راولپنڈی بار کی طرف سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردی کی عدالت کے جج پرویز شاہ کو راولپنڈی سے تین دن کے اندر ٹرانسفر کر دیا جائے وگرنہ تمام حالات کی ذمہ داری حکومت پر ہو گی۔ چنانچہ وکلاء کے مطالبے پر جج کا تبادلہ لاہور میں کر دیا گیا۔ الغرض وکلاء نے صحیح معنوں میں محبت رسالت کا اظہار کیا اور ایک مرتبہ پھر سیکولر اور بے دین قوتوں کے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کیا۔ دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے بعد لاہور جامعہ اسلامیہ میں اجلاس ہوا جس کی صدارت مفتی خان محمد قادری صاحب نے فرمائی۔ اس اجلاس میں لاہور کے سینئر وکلاء اور ریٹائرڈ جسٹس صاحبان کو مدعو کیا گیا تھا۔ جس کا مقصد

صفحہ 363

غازی صاحب کے کیس کے متعلق مشاورت کرنا تھا۔ اس مشاورت کے بعد جناب خان محمد قادری صاحب نے راولپنڈی میں قبلہ سید حسین الدین شاہ صاحب اور دیگر ذمہ داران سے رابطہ کیا اور لاہور سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ جسٹس صاحبان جناب میاں نذیر اختر، جناب نذیر احمد غازی کے نام پیش کئے کہ یہ حضرات ہائی کورٹ میں ممتاز قادری صاحب کے کیس کی پیروی کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں ان حضرات نے تیاری بھی کر رکھی ہے چنانچہ قبلہ شاہ صاحب نے باہم مشاورت کے بعد ان حضرات کو بھی اس سعادت میں شریک ہونے کی دعوت پیش فرما دی۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ میں غازی صاحب کی طرف سے دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تو اس کیس کو جناب جسٹس نذیر احمد غازی اور جسٹس میاں نذیر اختر صاحب نے تیار کیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیصلے کو چیلنج کرنے کے دوران سیکولر انتہا پسندوں کو ایک اور حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب لاہور ہائی کورٹ سے حال ہی میں ریٹائرڈ ہونے والے چیف جسٹس جناب خواجہ شریف صاحب نے ممتاز حسین قادری کی وکالت کی حامی بھر لی اور پیغام بھیجا کہ میں یہ کام اپنی سعادت سمجھ کر کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ وکلاء کے پینل میں جسٹس ریٹائرڈ خواجہ شریف صاحب کو شامل کر لیا گیا۔ جسٹس صاحب ہر جمعرات باقاعدگی سے داتا صاحب حاضری دیتے ہیں اور لاہور کے ایک بڑے عالم دین کے بقول خواجہ صاحب نے غازی صاحب کے دستخط شدہ وکالت نامے کی فوٹو کاپی کروا کر اپنے دفتر میں فریم لگوایا ہوا ہے اور اپنے اہل خانہ کو وصیت کی ہے کہ غازی صاحب کے دستخط شدہ وکالت نامے کو ان کے کفن میں رکھا جائے تاکہ قبر میں اگر سوال ہو کہ خواجہ شریف کیا لے کر آئے ہو تو کہہ دوں کہ اے مالک ! میرے پاس عجز و ناتوانی کے سوا کچھ بھی نہیں۔۔ ۔۔ بے بضاعتی ہے ۔۔۔۔ مگر دیکھ تیرے محبوب کے عاشق کا وکالت نامہ میرے پاس ہے !!!

غازی صاحب کا کیس اب ہائی کورٹ میں ہے وکلاء اپنی طرف سے بھر پور محنت کر رہے ہیں اور جو وکلاء غازی صاحب کی پیشیوں پر اور عدالت میں حاضر نہ بھی ہو سکے۔ وہ بھی غازی صاحب سے ہمدردی رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان تمام وکلاء کو اپنی بارگاہ سے اجر جزیل عطا فرمائے۔

صفحہ 364

غازی ممتاز حسین قادری اور مادر علمی جامعہ رضویہ ضیاء العلوم

جامعہ رضویہ ضیاء العلوم شمالی پنجاب، صوبہ سرحد، آزاد کشمیر اور ہزارہ ڈویژن میں بلاشبہ اہل سنت کی سب سے بڑی اور معیاری دینی درسگاہ ہے جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کی ضیاء پاشیاں پوری دنیا میں پھیل چکی ہیں۔ اور اس مرکز علمی کی خدمت دین کے پچاس سال مکمل ہونے کو ہیں۔ راقم اور سید امتیاز حسین شاہ سمیت ہزاروں حفاظ، قراء اور علمائے کرام نے اسی مادر علمی سے اکتساب فیض کیا ہے۔ جامعہ کے فضلاء دنیا کے کونے کونے میں دین متین کی خدمتوں میں مصروف ہیں اور اندرون اور بیرون ملک سینکڑوں مراکز و مدارس جامعہ کی ذیلی شاخوں کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

تاریخ کا ریکارڈ گواہ ہے کہ اپنے قیام کے بعد سے یہ دارالعلوم پاکستان میں اُٹھنے والی بڑی بڑی مذہبی تحریکوں کا مرکز رہا ہے۔ جامعہ رضویہ ضیاء العلوم براہ راست سیاست میں انوالو نہیں ہوتا ۔ 1973ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران جامعہ رضویہ ضیاء العلوم بیس کیمپ کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ اسمبلی میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے پر بحث چل رہی تھی تو علماء کو مذہبی کتابیں اور دلائل اسی مرکز سے مہیا ہو رہے تھے ۔ اسلام آباد میں سلمان رشدی ملعون کے خلاف جب کل جماعتی احتجاجی مظاہرہ ہوا تو اس وقت مظاہرین پر پولیس کی طرف سے اندھا دھند فائرنگ کی گئی چنانچہ اس مظاہرے میں ضیاء العلوم کے ایک ہونہار طالب علم حافظ نوید عالم نے شہادت کا درجہ پایا۔ جس دن حافظ صاحب شہید ہوئے اس سے دو دن قبل سے ان کی زبان پر یہ شعر جاری رہا۔

مسلمانو! ذرا میدان میں نکلنا سیکھو دشمنان دین محمد کو کچلنا سیکھو

الغرض پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی اسلام اور بانی اسلام کے خلاف کوئی حرکت ہوتی ہے اس کے خلاف پہلی آواز اسی مرکز علمی سے اٹھتی ہے۔ یا رسول اللہ ریلی ہو، تحفظ قرآن ریلی ہو یا تحفظ بغداد و کربلا ریلی، تحفظ ناموس رسالت ریلی ہو یا عظمت مصطفیٰ ریلی، اہلیان راولپنڈی اس حقیقت سے اچھی طرح باخبر ہیں کہ پر امن اور بھر پور ریلیاں جامعہ رضویہ ضیاء العلوم ہی کا خاصہ

صفحہ 365

ہے۔ پوپ بینی ڈکٹ کی حالیہ ہرزہ سرائی اور تحفظ ناموس رسالت کے قانون 295C کے حوالے سے ملک میں پیدا ہونے والی صورتحال میں بھی سب سے مؤثر آواز جامعہ رضویہ ضیاء العلوم سے ہی بلند ہوئی۔ اور راولپنڈی میں ہونے والی تحفظ ناموس رسالت ریلی نے حکمرانوں کی آنکھیں کھول دیں۔ جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ یہ یہاں نظریہ پاکستان کی سخت حمایت اور جذبہ حب الوطنی کی عمدہ تربیت ہوتی ہے۔ چار جنوری کو جب غازی ملت نے کفر کے ایوانوں میں زلزلہ بپا کیا تو راولپنڈی اور اسلام آباد کے عوام اور علماء میں پولیس کی پکڑ دھکڑ اور میڈیا کے پروپیگنڈے کے باعث سخت خوف و ہراس پھیل گیا کوئی شخص اس سلسلے میں گفتگو بھی نہیں کر رہا تھا۔ اس سلسلے میں آن دی ریکارڈ سب سے پہلے جس بڑی مذہبی شخصیت کی طرف سے ممتاز قادری کی حمایت اور ان کے اہل خانہ کی کفالت کا اعلان کیا گیا وہ شخصیت ضیاء العلوم کے مہتمم مصلح امت حضرت قبلہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب کی ہے۔ شاہ صاحب کے اس اعلان نے ان کے ہزاروں شاگردوں کو بالخصوص اور دیگر علماء اور عوام کو بالعموم حوصلہ دیا۔ راقم کی طرف سے، شباب اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام نکالی جانے والی سب سے پہلی ریلی کے پیچھے بھی اس مادر علمی کا فیض تھا۔ جناب قبلہ شاہ صاحب کے ان جملوں کہ ”ممتاز قادری نے ناموس رسالت کی خاطر جان مال، نوکری، اولاد داؤ پر لگا دی اور نہ گھبرایا تو ہم اس کے اس عاشقانہ اقدام پر اس کی حمایت کرتے ہوئے کیوں گھبرائیں“ نے ہم جیسے بے شمار لوگوں کے جذبات کو روح بخشی۔

قبلہ شاہ صاحب نے دوسرے دن ہی ممتاز قادری صاحب کے گھر پہنچنے کی کوشش کی مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے غازی صاحب کا گھر سیل کر رکھا تھا جس کے باعث کامیابی ممکن نہ ہو سکی البتہ تیسرے دن غازی صاحب کے گھر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے غازی صاحب کے گھر پہنچ کر ان کے بچے کو پیار کیا، اہل خانہ کو حوصلہ دیا اور اپنے اور اپنے متعلقین کی طرف سے بھر پور حمایت اور تعاون کا یقین دلایا۔ شاہ صاحب کے اعلان کے بعد بے شمار لوگوں نے غازی صاحب کے اہل خانہ کی کفالت کا اعلان کیا تا ہم ان کا یہ اعلان اخبارات کی خبروں تک ہی محدود

صفحہ 366

رہا۔ جبکہ شاہ صاحب باقاعدگی کے ساتھ اپنے وعدہ کو پورا فرما رہے ہیں اور غازی صاحب کے بیٹے کی کفالت کی ذمہ داری پوری فرما رہے ہیں۔ قبلہ شاہ صاحب کے اعلان کے بعد جامعہ رضویہ ضیاء العلوم تو غازی صاحب کے اس سارے کیس کے حوالے سے مرکزی حیثیت اختیار کر گیا قبلہ حضور شاہ صاحب کے شاگرد و متعلقین پورے ملک میں کھل کر غازی صاحب کی حمایت میں کھڑے ہو گئے جامعہ کے طلباء کے جذبات محبت تو گویا شعلہ جوالہ بن گئے۔ دن ہو یا رات جہاں بھی غازی صاحب کی حمایت میں ریلی ہو یا کوئی پروگرام جامعہ کے طلباء نے بھر پور جذبہ محبت کا اظہار کیا۔ چونکہ راقم اور قبلہ امتیاز حسین شاہ صاحب ہم دونوں دارالعلوم کے خادم تدریس ہیں اور ہم دونوں کو غازی صاحب کے ساتھ دفعہ 109 کے تحت اس کیس میں شامل کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے بھی ضیاء العلوم کو اس کیس میں اہم حیثیت حاصل ہوئی۔

شاہ صاحب کے حمایتی اعلان اور غازی صاحب کے اعزاء واقارب سے رابطے کے بعد غازی صاحب کے والد گرامی اور برادران جامعہ رضویہ ضیاء العلوم تشریف لائے اور غازی صاحب کے کیس کے حوالے سے اور دیگر تحریک کے حوالے سے مکمل اختیار جامعہ کے بانی قبلہ مصلح امت سید حسین الدین شاہ صاحب کے سپرد کیا اور میڈیا کے ذریعے تمام لوگوں تک یہ پیغام پہنچا دیا کہ اس کیس کے سلسلے میں جو فیصلہ بھی کریں گے وہ شاہ صاحب ہی کریں گے۔ چنانچہ وکلاء کی نامزدگی سے لے کر کیس کی تیاری اور پیشیوں پر حاضری ، فیصلے کے بعد بھر پور احتجاج ، ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لئے وکلاء کا چننا اور اس کیس کے دیگر تمام مراحل میں جامعہ ہی کا بنیادی کردار رہا ہے ۔ یادرہے غازی صاحب کے کیس کے سلسلے میں تمام اخراجات قبلہ شاہ صاحب ہی برداشت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں کچھ لوگوں نے جھوٹی شہرت کی خاطر بکاؤ رپورٹروں کے ذریعے اخبارات میں خبریں بھی لگوا رکھی ہیں جو مضحکہ خیز ہی نہیں بالکل جھوٹ بھی ہیں ۔

جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کے طلبہ کی نمائندہ تنظیم ”بزم ارشاد“ نے غازی صاحب کی حمایت

صفحہ 367

کے حوالے سے بے پناہ محنت کی ہے ابتداء غازی صاحب کے ہزاروں پوسٹر ، پورٹریٹ بنوا کر پورے شہر میں تقسیم کئے گئے اور اس کے علاوہ ہر پیشی پر بزم ارشاد کا قافلہ اڈیالہ جیل کے باہر پابندی سے شریک ہوتا رہا ہے۔ اور علماء کرام اور عوام اہل سنت کو غازی صاحب کی حمایت میں بیدار رکھنے کے لئے بزم ارشاد کی طرف سے وقتاً فوقتاً قبلہ شاہ صاحب کی ہدایات بصورت خط و مراسلہ بڑی محنت کے ساتھ پہنچایا جاتا رہا۔ اور فیصلے کے بعد احتجاج اور اسلام آباد ہائی کورٹ پیشیوں پر بھی جامعہ کے طلباء و فضلاء کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اور غازی صاحب کے وکلاء میں قبلہ شاہ صاحب کے فرزند جلیل جناب سید حبیب الحق شاہ صاحب بھی ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ راقم کو قبلہ شاہ صاحب سے متعلق ہوئے بیس سال کا عرصہ ہو چکا ہے ہم نے اس پورے عرصہ میں شاہ صاحب کو اتنا جذباتی کبھی نہیں دیکھا کہ جتنا وہ ممتاز قادری صاحب کے حوالے سے جذباتی ہیں۔ آپ اکثر فرمایا کرتے ہیں کہ ہم میں سے ہر شخص کو عشق مصطفیٰ کا دعویٰ ہے لیکن کیا معلوم ہم میں سے کون سچا ہے اور کون جھوٹا تاہم ممتاز قادری کے عشق رسالت کے جذبے میں کوئی جھوٹ اور کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے۔ قادری صاحب کے اعترافی بیان کے بعد اس پر ڈٹ جانے نے بھی شاہ صاحب کو بہت متاثر کیا ہے اور قادری صاحب کے اعترافی بیان کہ ’اللہ اور اس کا رسول ﷺ میری یہ قربانی قبول فرمالیں‘ بیان کرتے ہوئے راقم نے شاہ صاحب کی آنکھوں میں متعدد مرتبہ آنسو دیکھے ہیں۔ شاہ صاحب نے کئی ایک مقام پر فرمایا کہ ہمیں ممتاز قادری سے محبت ہی نہیں عقیدت بھی ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 6 جنوری کو جب غازی صاحب کو پنڈی عدالت میں پیش کیا جانے لگا تھا تو قبلہ شاہ صاحب نے طلباء کو غازی صاحب کے استقبال کے لئے جانے کی نہ صرف اجازت دی بلکہ اپنی جیب سے پیسے بھی دیئے کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں یہ پیسے لو اور میری طرف سے گلاب کے پھولوں کی پتیاں اس مرد مجاہد پر پھینک کر اس کا استقبال کرنا۔ قبلہ شاہ صاحب ، صاحب نظر و کمال ہیں ، ہم اندھوں کے مقابلے میں آپ غازی صاحب کے مرتبہ و مقام کو بہتر طریقے سے جانتے ہیں، اور یہ آپ کی محبت ہی تھی کہ عاشق رسول جناب قادری ۔

صفحہ 368

صاحب کے کیس اور حمایت کی اس سعادت میں ہمیشہ کی طرح جامعہ رضویہ ضیاء العلوم ہی کا چناؤ ہوا ہے اور یہ سب کچھ قبلہ شاہ صاحب کے خلوص کی بدولت ہے۔ قبلہ شاہ صاحب اس پیرانہ سالی میں بڑے بڑے پروگرامز میں صحت اور مصروفیت کے باعث تشریف نہیں لے جاسکتے ۔ ممتاز قادری سے آپ کی محبت دیکھیں کہ اس کی پیشیوں پر اور فیصلے والے دن اڈیالہ جیل کے باہر اور بعد ازاں مری روڈ پر احتجاج میں تمام لوگوں کے ساتھ رہے۔ بعد ازاں ہائی کورٹ اسلام آباد میں پیشیوں پر اپنے تلامذہ اور مریدین کی ہمراہی میں شامل و شریک ہو کر شاہ صاحب نے یہ بتا دیا کہ اگر عمر میں بڑھاپا ہے تو کیا ہوا ہمارا عشق جوان ہے ، ہمارے جذبات جوان ہیں ۔ دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے بعد اس غیر شرعی فیصلے اور سزا کے خلاف راولپنڈی میں شاہ صاحب نے 7 اکتوبر کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا ، راولپنڈی کی تاریخی ہڑتال نے حکمرانوں کی آنکھیں کھول دیں ۔ اس غیر شرعی فیصلے کے خلاف سب سے زیادہ پُر امن و پُر اثر احتجاج جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کے پلیٹ فارم سے کیا گیا عدالتی فیصلے کے بعد قبلہ شاہ صاحب کی طرف سے راولپنڈی میں 7 اکتوبر کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی گئی ۔ جس پر اہلیان راولپنڈی نے بھر پور غیرت ایمانی کا مظاہرہ کیا اور پورا شہر سارا دن بند رہا۔ جامعہ کے فضلاء اور متعلقین نے پورے شہر کے گلی کوچوں میں نماز جمعہ کے بعد ریلیوں کا انعقاد کیا راولپنڈی شہر کا شاید ہی کوئی علاقہ اور مرکزی مسجد ہو کہ جہاں سے ممتاز حسین قادری کی حمایت اور اسے دی جانے والی غیر شرعی سزا کے خلاف ریلی نہ نکلی ہو۔

جامعہ رضویہ کے مطب میں بنتی ہیں ایسی دوائیں
چھڑکیں جہاں ہوں دور وہاں سے گمراہی کی وبائیں
ختم ہوں بدعت کے جرثوم
مرکز دین و فنون و علوم
جامعہ رضویہ موسوم ہے یہ بنام ضیاء العلوم

اللہ تعالیٰ مادرِ علمی جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کو صبح قیامت تک فیض بار بنائے ۔

صفحہ 369

﴿ ممتاز حسین قادری اور میڈیا ﴾

میڈیا کی آزادی قوموں اور معاشروں کی آزادی قرار پاتی ہے اور موجودہ دور میں پوری دنیا کے سیاسی منظر نامے پر میڈیا ہی کی حکمرانی ہے، کسی چھوٹی سی خبر کو پہاڑ اور اہم ترین خبر کو رائی کا دانہ بنانا، ہیرو کو زیرو اور زیرو کو ہیرو بنانا میڈیا کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں ملکی سلامتی و ترقی قومی عزت و وقار ملکی میڈیا کی ترجیحات میں شامل ہوتا ہے وہاں کا میڈیا ہر ایسی خبر کو دبا دیتا ہے کہ جس سے ملکی سلامتی خطرے میں پڑسکتی ہو۔ یہ عالمی حقیقت ہے کہ اس وقت پوری دنیا کے میڈیا پر یہودیوں کا قبضہ ہے۔ پیارے وطن پاکستان کی یہ بدقسمتی ہے کہ ساٹھ سالوں سے اسے مخلص قیادت نصیب نہیں ہوسکی۔ آج اشرافیہ طبقے کے ایمان کا حصہ یہ سوچ بن چکی ہے کہ ”امریکی ساتھیوں کے بغیر اقتدار کی سیڑھیاں چڑھنا محال ہے۔“

بدقسمتی سے ارباب اقتدار کی طرح پاکستان کو مخلص اور پابند نظریہ میڈیا بھی نہیں مل سکا اور جنرل مشرف نے جہاں دہشت گردی کی لعنت کا طوق قوم کے گلے میں ڈالا وہیں قوم کے گلے میں ایک اس سے بڑا طوق ڈالا جس کا نام ہے ”ہر طرح سے آزاد میڈیا“ آج پاکستان میں میڈیا کی آزادی، آوارگی کی حدوں کو بھی کراس کر رہی ہے۔ شرفاء کی پگڑیاں اچھالنا، چھوٹی چھوٹی بات پر لوگوں کو بلیک میل کرنا، جھوٹ سچ کی بھر پور آمیزش سے سنسنی پھیلانا اور قوم کو مایوسی کے گہرے گڑھے میں دھکیلنا پاکستانی میڈیا کا محبوب مشغلہ ہے۔ پاکستان میں بے شمار نیوز چینلز کو گورنمنٹ کی طرف سے لائسنس جاری کئے گئے ہیں لیکن افسوس کہ پاکستان میں کوئی ایسی اتھارٹی قائم نہ کی گئی کہ جو یہ چیک کرے کہ ان چینلز کو مالی سپورٹ کہاں سے مل رہی ہے۔ راقم کی تحقیق اور تفتیش یہ ہے کہ پاکستان کے اکثر نیوز چینلز کو کروڑوں روپے یہودیوں اور قادیانیوں کی طرف سے مل رہے ہیں جنہیں ”شیئرز“ کا نام دیا گیا ہے اور اس رقم کے بدلے میں اپنے من پسند اینکرز اور سکالرز کو ایک ہدف دے کر چینلز پر بٹھایا جاتا ہے۔ اور اگر کسی چینل کی طرف سے تعاون نہ ہو تو اس کی ”امداد“ بند کردی جاتی ہے۔ ڈالروں اور پونڈوں کی چمک نے اینکرز کو ایسا اندھا کر رکھا ہے کہ وہ

صفحہ 370

شرافت کی حدوں کو کراس کرتے ذرا دیر نہیں لگاتے۔ جیسے پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ پاکستان میں قانون تحفظ ناموس رسالت گستاخوں کے سر پر لٹکتی ہوئی تلوار ہے یہود و نصاریٰ کا محبوب مشغلہ مسلمانوں کی دل آزاری ہے اور وہ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ مسلمان اپنے نبی پاک ﷺ سے اپنی جانوں سے زیادہ پیار کرتے ہیں اور اگر ان کی ذات کو توہین کا نشانہ بنایا جائے تو پوری دنیا کا مسلمان تلملا اٹھتا ہے با ایں وجہ آئے روز مغربی ممالک میں آزادی اظہار کے نام پر نبی پاک ﷺ کی توہین کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار کی خواہش ہے کہ پاکستان میں بھی اسی طرح کی ”آزادی اظہار“ ہو لیکن اس آزادی اظہار کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ انسداد توہین رسالت کا قانون ہے۔ یہودی رقم پر پلنے والے سیکولر انتہا پسند، میڈیا اینکرز نے اسی لئے ملک کے اندر غیر ضروری طور اس قانون کے حوالے سے بحث شروع کی تاکہ اس قانون کو ختم کرنے کیلئے عوامی رائے کو ہموار کیا جاسکے۔ اس سلسلے میں مشہور نجی چینلز پر منکر حدیث ”ڈاکٹر جاوید غامدی“ جیسے لوگوں کو بہت بڑے اسلامی سکالر کے طور پر پیش کیا گیا کہ جس نے کئی ایک مواقع پر قرآن و سنت کی صراحت کا سرے سے انکار کردیا۔ اس طرح طاہر محمود اشرفی جیسے ایک بکاؤ ملا کو آج کل بعض چینلز بہت اٹھا رہے ہیں کیونکہ اس نے سلمان تاثیر کو شہید قرار دیا تھا۔ وگرنہ حقیقت یہ ہے کہ بہت سارے لوگ جنہیں اشرفی صاحب کی خلوتیں ملی ہیں وہ ان کے کردار سے اچھی طرح واقف ہیں۔ گورنر سلمان تاثیر نے توہین رسالت کے قانون کے حوالے سے جو باتیں میڈیا پر کی ہیں یہ اس کی اپنی باتیں نہیں یہ وہی سبق تھا جو انہیں باہر سے یاد کروایا گیا تھا۔

گورنر کی ان باتوں کو ”ہائی لائٹ“ کر کے میڈیا نے پہلے ملک میں ہیجان بپا کیا کروڑوں لوگ سڑکوں پر نکلے، احتجاج ہوئے مگر میڈیا پر زہر اگلا جاتا رہا۔ بعد ازاں جب رب کائنات نے اپنی تدبیر ظاہر فرمائی تو یہی میڈیا تھا جس نے مقتول گورنر کو ”شہید“ اور غازی ممتاز قادری کو ”جنونی قاتل“ قرار دے دیا۔

گورنر کے واصل جہنم ہونے کے بعد چند درجن لوگوں نے ایک دو مقامات پر گورنر کے قتل

صفحہ 371

پر احتجاج کیا اور یہ تمام لوگ تقریباً اقلیتی برادری سے تعلق رکھتے تھے حیرت کی بات تو یہ ہے کہ سب سے بڑے صوبے کا گورنر اور ایک حکمران پارٹی کا جیالا دن دیہاڑے ہلاک ہوتا ہے تو اس پر احتجاج شدید ترین ہونا چاہیئے تھا لیکن یہ حقیقت ہے پاکستان میں اکثریتی لوگ مسلمان پہلے اور سیاسی بعد میں ہیں لہذا ہر شخص کو اپنی عاقبت کی فکر تھی اور سلمان تاثیر کا فعل بھی اس قدر بھیانک تھا کہ کسی شخص نے احتجاج کرنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔ میڈیا کی دوغلی پالیسی یا منافقت دیکھئے کہ گورنر کے قتل پر چند ”چوہڑوں“ نے احتجاج کیا تو لائیو کوریج دی گئی اور لاہور میں گورنر کے جنازے پر چند سو افراد کی شرکت ہوئی تو اسے ہزاروں کا اجتماع قرار دیا گیا اور دو گھنٹے تک لائیو کوریج دی جاتی رہی اور دوسری طرف پورے ملک میں سڑکوں پر مٹھائیاں تقسیم ہوئیں، خوشی کی ریلیاں نکالی گئیں، کروڑوں افراد نے ممتاز حسین قادری کے اقدام کی نہ صرف حمایت کی بلکہ اسے قوم کا ہیرو قرار دیا، اپنے بچوں کے نام اس کے نام پر رکھے ، اس کے نام پر مساجد کا قیام عمل میں لایا گیا۔ کراچی میں 10 لاکھ افراد کا ریلہ نکلا اور لاہور، کوئٹہ ، سیالکوٹ، پشاور، ملتان، فیصل آباد، سکھر ، حیدر آباد، ایبٹ آباد، مانسہرہ، آزاد کشمیر اور راولپنڈی سمیت ملک کے طول وعرض میں لاکھوں افراد کی ریلیاں نکالی گئیں تو میڈیا پر اس کا ہلکا سا ”ٹیکر“ بھی نہ چلایا گیا ۔ ادھر روم میں آسیہ مسیح کی رہائی کے لئے گئے ہوئے 50 افراد نے ریلی نکالی تو میڈیا نے اسے ہیڈ لائنز میں رکھا اور ممتاز قادری کی رہائی کے حوالے سے پورے ملک میں مظاہرے کئے گئے اور ہر پیشی پر اڈیالہ جیل کے باہر بھر پور مظاہرہ ہوتا رہا۔ اور عدالتی فیصلے کے بعد راولپنڈی شہر گھنٹوں بند رہا، پورے ملک میں مظاہرے ہوئے، سڑکیں بلاک ہوئیں ، ٹائر جلے ، 7 اکتوبر کی ملک گیر ہڑتال ہوئی ، دارالحکومت مظاہروں کے باعث سیل ہو گیا ، راولپنڈی شہر کی سڑکیں سارا دن بلاک رہیں ، لاہور، سیالکوٹ، اور پنجاب ، سرحد، بلوچستان اور سندھ کے تمام شہروں میں لاکھوں افراد نے جج کی طرف سے دی گئی غیر اسلامی سزا کے خلاف مظاہرے کئے، ممتاز حسین قادری کے حق میں اور بعد ازاں اس کی سزا کے خلاف ملک بھر میں ہزاروں افراد پر مشتمل کانفرنسز ہوئیں ۔ مگر الیکٹرانک میڈیا نے ہلکی سی

صفحہ 372

خبر دینا بھی گوارا نہیں کیا۔ راقم کی چند چینلز کے رپورٹروں سے بات ہوئی کہ آخر آپ لوگ یہ صحافت کے رنگ میں بدمعاشی کو فروغ کیوں دے رہے ہیں اور ممتاز قادری کی حمایت میں خبریں کیوں نشر نہیں کرتے تو ان کا کہنا تھا کہ جناب ہم تو ملازم لوگ ہیں ہم بھر پور رپورٹنگ کرتے ہیں اور وڈیو بناتے ہیں۔ مالکان اور انوسٹرز حضرات کی طرف سے خبر ”کل“ (KILL) کر دی جاتی ہے اس میں ہمارا کیا قصور ہے۔ الغرض ممتاز قادری صاحب کے حوالے سے میڈیا کا کردار انتہائی مایوس کن، منافقانہ اور گمراہ کن رہا ہے۔ مجھے یاد ہے جن دنوں پولیس ہمیں تفتیش کے لئے اٹھانا چاہتی تھی تاہم عوامی دباؤ کے تحت ایسا کرنا ان کے لئے مشکل ہو رہا تھا تو بعض چینلز سنسنی پھیلانے میں مشغول تھے کبھی خبر آ رہی تھی کہ حنیف قریشی گرفتار، نامعلوم مقام پر منتقل، پولیس دیگر حمایتیوں کو تلاش کرنے میں مصروف، اور یہ سب خبریں میں گھر بیٹھ کر دیکھ اور سن رہا تھا۔ ان چینلز کا مقصد یہ تھا کہ لوگ ممتاز قادری کی حمایت کرنے سے باز آ جائیں۔ اس سلسلے میں راقم نے جب ان چینلز سے رابطہ کیا تو وہاں کے ذمہ دار آئیں بائیں شائیں کرنے لگ گئے۔ مجھے سچی بات کرنے میں کوئی خوف نہیں ہے۔ میڈیا کے چینلز میں سب سے زیادہ مایوس کن اور گمراہ کن کردار دنیا نیوز، ایکسپریس نیوز، CNBC، جیو نیوز، کا تھا ان میں سے بھی دنیا نیوز، ایکسپریس نیوز اور آج نیوز سب سے زیادہ نمک حلالی کر رہا تھا اور اس چینل کے ڈاکٹر معید پیرزادہ، نسیم زہرہ سمیت اینکرز نے تو اس سلسلے میں تمام اخلاقی حدود کو کراس کر دیا تھا۔ چینلز پر ہمارے خلاف پروپیگنڈہ ہو رہا تھا تو ایکسپریس چینل کے مشہور پروگرام ”کل تک“ کے میزبان جناب جاوید چوہدری صاحب نے مجھ سے رابطہ کیا کہ ممتاز قادری سے آپ کا کیا تعلق ہے اور کیا گورنر کو آپ نے قتل کروایا؟ آپ اس سلسلے میں اپنی طرف سے وضاحت کریں۔ میں آپ کو رات 10 بجے اپنے پروگرام ”کل تک“ میں Live لوں گا۔ شام 4 بجے رابطہ ہوا پھر 6 بجے تیار رہنے کو کہا گیا۔ اچانک 7 بجے کے قریب چوہدری صاحب کا مجھے فون آیا اور مجھ سے معذرت کر لی گئی۔ چوہدری صاحب نے انکشاف کیا کہ آج ہم لوگ اس ٹاپک پر کوئی بات کریں گے ہی نہیں بلکہ ہم لوگ دیگر سیاسی ایشوز پر بات

صفحہ 373

کریں گے اور یہ بھی کہ آج کے بعد یہ موضوع ڈسکس ہی نہیں کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا چوہدری صاحب خیر تو ہے پورے ملک میں سب سے ”ہاٹ ایشو“ ہی آج کل یہی ہے اور کروڑوں لوگ صرف اس بارے میں سننا چاہتے ہیں۔ چوہدری صاحب نے جواب دیا کہ مالکان کی طرف سے ایسا ہی کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس پر میں نے پوچھا چوہدری صاحب پھر آپ کے وقار اور حیثیت کا کیا رہ گیا اور ساتھ ہی میں نے یہ سوچ کر فون بند کر دیا کہ بے چارے چوہدری صاحب کا اس میں کیا قصور مالک مالک ہوتا ہے اور ملازم ملازم۔

یکم اکتوبر کو عدالت کی طرف سے دی جانے والی غیر شرعی سزا کے خلاف پورے پاکستان میں شدید ترین احتجاج ہوا۔ میڈیا نے اس احتجاج کو بالکل کوریج نہیں دی۔ بعد ازاں 7 اکتوبر کی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کو بھی میڈیا نے ہضم کر لیا۔ 7 اکتوبر کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران کچھ نوجوان نعرہ بازی کرتے ہوئے بچیوں کے سکول کے باہر سے گزرے تو ایکسپریس نیوز نے اس کے خلاف پورے ایک گھنٹے کا پروگرام نشر کر دیا کہ تعلیم میں رکاوٹ ڈالی گئی ۔ اس کا الزام بھی جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کے طلباء پر ہی لگا کہ انہوں نے نعرہ بازی کی ہے اور سکول میں توڑ پھوڑ کی ہے لیکن اس وقت ان لوگوں کو شدید خفت اور ندامت کا سامنا کرنا پڑا جب مقامی ایم پی اے، مقامی ایس ایچ او اور خود سکول کی پرنسپل نے اس واقعہ کا سرے سے ہی انکار کر دیا۔

(باکردار لوگ) قارئین کرام ! اور شعبوں کی طرح میڈیا میں بھی تمام لوگ بکاؤ خائن اور گمراہ کن نہیں ہیں۔ اس شعبے میں بھی مخلص لوگ موجود ہیں گو کہ کم ہی سہی مگر اس شعبے میں بھی محب وطن، پابند نظریہ اور خدمت اسلام کا جذبہ رکھنے والے لوگ موجود ہیں کسی شخص کی ذات سے ہمیں کوئی سروکار نہیں اس کے کاز کو سامنے رکھ کر بات کریں تو میڈیا سے منسلک لوگوں میں ایک شخصیت جناب عبد المجید نظامی کی ہے عبد المجید نظامی صاحب نظریہ پاکستان کے سخت حمایتی اور اسلام پسند شخصیت ہیں ان کے زیر ادارت چلنے والا نیوز چینل ”وقت“ ٹی وی، نوائے وقت اور دی نیشن اخبار مکمل نظریاتی اخبار ہیں۔ اور پورے ملک میں نظریاتی لوگ انہیں پسند کرتے ہیں۔ نظامی صاحب

صفحہ 374

سے میرا کوئی ذاتی راہ و رسم نہیں ہے کہ میں انہیں خراج تحسین پیش کر رہا ہوں بلکہ یہ حقیقت ہے دور نہ جائیے ملک میں امریکی ڈرون حملوں کی بات ہو یا ممبئی حملے واقعات ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کا معاملہ ہو یا ایبٹ آباد، اسامہ آپریشن، پی این ایس مہران دہشت گردی کا معاملہ ہو یا دیگر قومی ایشوز عبدالمجید نظامی صاحب اور ان کے زیر نظامت اداروں نے ڈٹ کر ملک وقوم کی خاطر درست موقف اپنایا ہے ۔ ایبٹ آپریشن ہی کو لے لیجئے بعض چینلز نے تو یہود و ہنود کا حق نمک خواری ادا کرتے ہوئے پاک فوج اور آئی ایس آئی جیسے پاکستان کی بقا کے ضامن اداروں کے خلاف زہر اگلتے ہوئے گالیاں تک دے ڈالیں تاہم اس دوران وقت ٹی وی اور چند ایک دوسرے چینلز اور اخبارات نے محب وطن ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ گورنر قتل کیس کے حوالے سے بھی وقت ٹی وی وہ واحد چینل ہے کہ جس نے کھلم کھلا رپورٹنگ کی ہے گو کہ حکومتی اداروں ”پیمرا“ وغیرہ کی طرف سے جرمانوں کا سامنا بھی کرنا پڑا تاہم دوسرے چینلز کے مقابلے میں میں سمجھتا ہوں کہ وقت ٹی وی نے اس ایشو پر قوم کی آواز اور دکھ کو سمجھا۔ جب وقت ٹی وی نے قادری صاحب کے حوالے سے درست رپورٹنگ شروع کی تو وقت کے فرعونوں کو یہ بات ناگوار گذری چنانچہ اسلام آباد کے اکثریتی علاقوں میں وقت ٹی وی کی نشریات کو کیبلز سے ختم کر دیا گیا اور بعض مقامات پر اس کے سگنلز کو خراب کر دیا گیا ۔ راولپنڈی میں بھی بعض علاقوں میں وقت ٹی وی کی نشریات کو جب کیبلز سے بند کیا گیا اور راقم کے نوٹس میں یہ بات آئی تو الحمد للہ تنظیمی دوستوں کی کاوش سے چند گھنٹوں کے اندر وقت ٹی وی کی نشریات کو بحال کروا دیا گیا ۔ اس سلسلے میں راقم نے کیبل آپریٹرز حضرات کو دوٹوک انداز سے باور کروا دیا تھا کہ اگر وقت ٹی وی اور دیگر نظریاتی چینلز کی نشریات نہیں دی جائیں گی تو پھر یہودیوں کے پیسے پر چلنے والے زہریلے چینلز کے زہریلے پروپیگنڈے بھی ہمیں منظور نہیں ہیں ۔ الحمد للہ اس کا بہت اچھا نتیجہ نکلا اور اس کے بعد کم از کم راولپنڈی میں اس طرح کی کوئی حرکت نہ کی گئی ۔ غازی صاحب کی سزا کے فیصلے کے بعد پورے ملک میں ہونے والے احتجاج کو بھر پور طریقے سے صرف وقت ٹی وی نے ہی کوریج دی۔

صفحہ 375

تاہم ہمیں وقت ٹی وی سے یہ گلہ ضرور ہے کہ انہوں نے انسداد توہین رسالت کے قانون کے دفاع کے حوالے سے مؤثر ”پروگرامنگ“ ترتیب نہیں دی اور نہ ہی زہریلے پروپیگنڈے کا جواب دینے کیلئے مضبوط اسلامی سکالرز کو اپنے چینل پر مدعو کیا۔ بوجوہ انہوں نے ”ڈگ مگاؤ“ پالیسی ہی اپنائے رکھی اور دوسرا ملک ممتاز حسین قادری کے کیس کے حوالے سے ابتداء جو طریقہ کار شروع کیا تھا وہ آج کل نہ ہونے کے برابر ہے قادری صاحب کی پیشی کے موقع پر آج بھی سینکڑوں مظاہرین ہر دفعہ بھر پور مظاہرہ کرتے ہیں اور وقت نیوز چینل پر صرف ایک آدھ دفعہ ٹکر ہی چلا دیا جاتا ہے۔ بہرحال مجموعی اعتبار سے وقت ٹی وی اور نوائے وقت نے مثبت کردار ادا کیا اس پر راقم مجید نظامی صاحب کو ہدیہ تحسین پیش کرتا ہے۔ جناب عبدالمجید نظامی صاحب کو اس سلسلے میں بڑی مقتدر شخصیات کی طرف سے خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ چنانچہ قبلہ سید حسین الدین شاہ صاحب کے حکم پر راقم نے جناب نظامی صاحب کو فون کیا اور ان کے کردار اور عمل کو خراج تحسین پیش کیا اور قبلہ شاہ صاحب کی طرف سے مبارکباد کا پیغام پہنچایا، عبدالمجید نظامی ایک قلندرانہ طبیعت کے مالک شخص ہیں ان کی سب سے بڑی خوبی تحفظ ناموس رسالت اور نظریہ پاکستان سے ان کا قلبی لگاؤ ہے۔ ملک میں جو کام حکومتوں کے کرنے کا تھا، نظریہ پاکستان کے تحفظ کا بیڑہ اس شخص نے اٹھا رکھا ہے۔ نظامی صاحب کو راقم اس تحریر کے ذریعے پیغام دیتا ہے کہ شباب اسلامی پاکستان کی بنیاد بھی انہی نقاط پر رکھی گئی ہے ناموس رسالت اور نظریہ پاکستان کے تحفظ کیلئے شباب اسلامی پاکستان کے ہزاروں کارکنان اور ہمارے لاکھوں وابستگان نظامی صاحب کے ساتھ ہیں۔ وقت ٹی وی کے علاوہ اے آر وائی نیوز نے قدرے بہتر رپورٹنگ کی اس پر وہ بھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ گورنر قتل کیس اور توہین رسالت قانون پر بحث کے حوالے سے قوم نے میڈیا کا اصل اور بھیانک چہرہ دیکھا اور بے شمار پردہ نشینوں کے مکروہ چہرے بھی عوام کے سامنے آگئے۔ حق و باطل کے درمیان ”چوراہے“ میں حیران و پریشان کھڑے حسن نثار کو بھی دیکھ لیا اور انتہائی بدبودار گفتگو کے حامل نصرت جاوید کی اہل چرچ و کلیسا کی نصرتیں بھی دیکھ لیں اور ناجی اور عاصمہ شیرازی جیسے لوگوں کے زہریلے پروپیگنڈے بھی پڑھ اور سن لئے ایاز امیر اچھے بھلے

صفحہ 376

پڑھے لکھے اور سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والے انسان نے نہ جانے کن مفادات یا مجبوریوں کے باعث اس قانون کے خلاف لکھا بہر حال یہ دنیا ”دارالعمل“ ہے اور ہم میں سے ہر شخص نے ایک وقت مقررہ تک یہاں رہنا ہے اور بالآخر سب نے اللہ کریم کی بارگاہ میں ہی جوابدہ ہونا ہے۔ لہٰذا ان تمام لوگوں سے گذارش ہے کہ آپ کے نام مسلمانوں والے ہیں اگر واقعتاً آپ مسلمان ہیں تو مسلمان کیسا ہی کیوں نہ ہو وہ آخرت سے بہر حال ڈرتا ہے۔

الیکٹرانک میڈیا کے بعد معاشرے میں پرنٹ میڈیا کا بھی بڑا کردار ہے پاکستان میں بیشتر اخبارات ایسے ہیں کہ جن کے مالکان نے مشرف دور میں یا بعد میں نیوز چینلز شروع کئے بایں وجہ ان اخبارات اور ان کے چینلز کی پالیسی ایک ہی جیسی ہوتی ہے۔

تاہم پرنٹ میڈیا میں ناموس رسالت کے قانون اور بعد ازاں گورنر قتل کیس کے حوالے سے جن اخبارات نے اسلامی نظریاتی کردار ادا کیا ان میں ”نوائے وقت“ کے ساتھ ساتھ ”روزنامہ اوصاف“ بھی سرفہرست ہے۔ روزنامہ اوصاف نے بڑے تھوڑے سے عرصے میں مذہبی اور نظریاتی لوگوں کی بھر پور توجہ حاصل کی ہے۔ روزنامہ اوصاف کے ایڈیٹر جناب مہتاب خان صاحب مری کے ایک نظریاتی اور مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور بارہا کی ملاقات سے ان کی شخصیت کا یہ پہلو کھل کر سامنے آیا ہے کہ وہ اسلام پسند اور مذہبی لوگوں کو دوست رکھنے والے شخص ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علماء اور مذہبی حضرات کا طبقہ اوصاف کو اپنا اخبار سمجھتا ہے۔ مہتاب خان صاحب اسلام کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں اور اس کا اظہار ان کے اخبار کے اشاعتی مضامین سے ہوتا رہتا ہے۔ ملک ممتاز قادری صاحب کروڑوں مسلمانوں کی آنکھوں کا تارا ہے اور اس حقیقت کو روزنامہ اوصاف نے خوب سمجھا اور اس حوالے سے لوگوں کی خواہش کا احترام کیا۔ گورنر قتل کے بعد سے لے کر آج تک روزنامہ اوصاف ایسا اخبار ہے کہ جس نے کھلم کھلا اسلام کی حمایت میں لکھا اور ممتاز قادری صاحب کے حوالے سے درست رپورٹنگ کی۔ روزنامہ اوصاف راولپنڈی کے بیورو چیف جناب وحید مراد خٹک صاحب اور گلزار خان صاحب (رپورٹر) سے ان

صفحہ 377

کے دفتر میں ملاقات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ہمارے باس (مہتاب خان صاحب) نے ہمیں یہ حکم دیا ہوا ہے کہ قادری صاحب کے حوالے سے ہر قسم کی مثبت رپورٹنگ کرتے ہوئے بھر پور کوریج دی جائے بایں وجہ غازی صاحب کی ہر پیشی پر احتجاج اور عدالتی کاروائی کی خبر روزنامہ اوصاف کے فرنٹ پیج پر شائع کی جاتی رہی۔

عدالتی فیصلے کے بعد ہونے والے احتجاج کی سب سے نمایاں اور بھر پور کوریج روزنامہ اوصاف نے ہی دی ہے۔ بلکہ عدالتی فیصلے کے دوسرے دن روزنامہ اوصاف نے ممتاز قادری صاحب کے حوالے سے خصوصی ایڈیشن شائع کیا، اس کے بعد 14 اکتوبر کو روزنامہ اوصاف نے راقم کا انٹرویو رنگین ایڈیشن میں شائع کیا راقم نے اس انٹرویو میں سلمان تاثیر کے ارتداد اور ممتاز قادری صاحب کے خلاف کئے گئے عدالتی فیصلے غیر شرعی ہونے پر دلائل دیئے تھے۔ اس کے بعد 21 اکتوبر کو غازی علم الدین سے غازی ممتاز قادری تک، کے ٹائٹل سے ایک رنگین ایڈیشن شائع کیا گیا۔ ممتاز قادری صاحب سے لوگوں کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تینوں ایڈیشنز کے دن راولپنڈی سے روزنامہ اوصاف ناپید ہو گیا تھا۔ 14 اکتوبر کے ایڈیشن کی ہزاروں کاپیاں کروا کر لوگ تقسیم کرتے رہے اور راقم کی مسجد کے باہر ”اوصاف“ کے حصول کے لئے لوگوں کو باہم تلخ کلامی کرتے پایا گیا۔

یونہی 4 جنوری کو یوم تحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے روزنامہ اوصاف ایک مرتبہ پھر بازی لے گیا اور تحفظ ناموس رسالت اور ممتاز حسین قادری صاحب کے حوالے سے رنگین ایڈیشن شائع کیا۔

روزنامہ اوصاف کے کالم نگار بھی ہدیہ تحسین کے لائق ہیں۔ بالخصوص نوید مسعود ہاشمی صاحب نے چند بڑے جاندار کالم لکھے ہیں جن میں سے چند آپ آنے والے صفحات میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ یونہی دیگر چند کالم نگاروں نے نبی کریم ﷺ کی غلامی کا صحیح معنوں میں حق ادا کیا ہے ان میں اگر انصار عباسی صاحب کا نام نہ لیا جائے تو یقیناً یہ زیادتی کے مترادف ہے۔

صفحہ 378

انصار عباسی ایک انتہائی غیرت مند، محب وطن اور نڈر صحافی ہیں اور اس ایشو پر انہوں نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ وہ سچے غلام رسول بھی ہیں۔ بذریعہ فون راقم نے انصار عباسی صاحب کو ہدیہ تبریک پیش کیا تھا۔ یہاں پر بھی انہیں ہدیہ تبریک پیش کیا جاتا ہے۔ عباسی صاحب کے انسداد توہین رسالت کے قانون اور ممتاز قادری صاحب کی حمایت میں کالم لکھنے کے بعد ایک دوست نے بتایا کہ انہوں نے خواب میں اس شخص کو ایک خاص مقام پر دیکھا ہے۔ یہ تو دنیا ہے یقیناً رسول اللہ ﷺ کی حمایت میں لکھا جانے والا ایک ایک لفظ قیامت کے دن اعمال کے اضافے اور رب کی رحمت کے انعام کا باعث بنے گا۔ کالم نگاروں اور صحافیوں میں ایک نام عمران بلوچ صاحب کا بھی ہے۔ عمران بلوچ ایک نوجوان نڈر اور بے باک صحافی ہے۔ پہلے دن سے ہی یہ شخص غازی صاحب کی حمایت میں کھڑا ہے۔ عمران بلوچ صحیح معنوں میں عاشق رسول انسان ہے اس کا اندازہ راقم کو 30 ستمبر کو اسلام آباد آبپارہ چوک میں ہوا۔ عمران بلوچ کچھ عرصہ سے 30 ستمبر کو شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں کے خلاف یوم احتجاج مناتے ہیں اور ناموس رسالت کانفرنس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ 30 ستمبر کی کانفرنس کے دوران عمران بلوچ نے غازی صاحب کی حمایت اور سلمان تاثیر کی مذمت میں انتہائی جذباتی گفتگو کی تھی، عمران بلوچ روزنامہ الشرق کے ایڈیٹر تھے۔ اس باعث روزنامہ الشرق نے بھی قادری صاحب کے حوالہ سے بھر پور کوریج دی ، یکم اکتوبر کو عدالت کی طرف سے کئے گئے غیر شرعی فیصلے کے خلاف عمران بلوچ صاحب نے ”ضرب قلندر“ کے عنوان سے ایک کالم ”خدا کا شیر“ لکھا جس میں غازی صاحب کو بھر پور خراج تحسین پیش کیا چنانچہ سیکولر طبقے کو اس ضرب قلندرانہ نے اتنا تڑپایا کہ اخبار کے مالک راشد ملک کو دباؤ دیا گیا۔ ملک صاحب کاروباری شخصیت ہیں لہٰذا انہوں نے اپنے ”بزنس“ کی خاطر عمران بلوچ صاحب کو آئندہ ایسا نہ لکھنے کا حکم سنایا جسے ”بلوچ“ صاحب نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ وہ نوکری تو چھوڑ سکتے ہیں تاہم ممتاز قادری کی حمایت ترک نہیں کی جاسکتی۔ اس بے باک اور نڈر صحافی نے اگلے دن روزنامہ الشرق کو خیر آباد کہہ دیا۔ چنانچہ نئے آنے والے ایڈیٹر صاحب اس

صفحہ 379

قدر ڈر گئے کہ انہوں نے 7 اکتوبر کے اتنے بڑے احتجاج اور ہڑتال کی خبر تک لگانے کی زحمت نہ فرمائی جس پر راقم نے ان سے فون پر رابطہ کیا اور ان کی طرف سے سوائے ”معذرت“ کے اور کیا ہوسکتا تھا۔

یونہی قومی اخبارات میں سے روزنامہ اوصاف کے شانہ بشانہ روزنامہ اذکار نے بھی غازی صاحب کی حمایت کرنے والوں کو بھر پور کوریج دی اور کئی ایام تک علماء کے فورم وغیرہ بھی لگائے جاتے رہے۔ نیز اخبار میں چھپنے والے کالموں نے بھی عوامی توجہ حاصل کی۔

اخبارات میں سے روزنامہ خبریں، جناح، اساس، اُمت کراچی وغیرہ نے بھی خبروں کی اشاعت کے حوالے سے صحافتی اقدار کا ثبوت دیا اللہ تعالیٰ ان تمام نمائندگان اور ذمہ داران کو اپنے حبیب ﷺ کے صدقے اپنے دریائے رحمت سے مستفیض فرمائے۔

﴿ ملک ممتاز حسین قادری صاحب اور علمائے کرام ﴾

معاشرے کی تعمیر میں علمائے کرام کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ عامۃ المسلمین کی صحیح دینی رہنمائی علمائے کرام کا مذہبی فریضہ ہے۔ پاکستان دنیا کا واحد ایسا اسلامی ملک ہے جہاں سب سے زیادہ مذہبی آزادی ہے۔ ہر مسلک، ہر مذہب اور ہر فرقے کے افراد کو یہاں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے اسکے باوجود یہاں مذہبی رواداری بے شمار ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ انسداد توہین رسالت کے قانون کے حوالے سے جب سیکولر عناصر نے اپنی نمک حلالی کرنی چاہی تو تمام مسالک کے علماء نے اپنا بھر پور کردار ادا کیا اس سلسلے میں 31 دسمبر کی ملک کی کامیاب ترین ہڑتال اور بعد ازاں راولپنڈی، لاہور، کراچی، کوئٹہ، پشاور میں لاکھوں افراد کی تاریخی ریلیاں اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ اپنے نبی ﷺ کی ناموس کی حفاظت کے حوالے سے علماء کرام زندہ و بیدار ہیں اور عامۃ المسلمین کی صحیح رہنمائی کرسکتے ہیں۔ انسداد توہین رسالت کے قانون کے حوالے سے ساری بحثیں اس وقت دم توڑ گئیں جب اک دیوانے نے ”حق غلامی“ ادا کردیا۔

صفحہ 380

ممتاز قادری صاحب کے اس عاشقانہ اقدام کی حمایت میں سب سے مضبوط آواز چند ہی گھنٹوں کے اندر ایک مشہور عالم دین جناب ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر زبیر صاحب کی سنائی دی۔ ان سے ٹی وی اینکر نے گورنر کے قتل کے حوالے سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے اور مجھ جیسے کروڑوں لوگوں کو گورنر کے قتل پر ذرا بھی افسوس نہیں ہوا اور گورنر نے اپنے قتل کے اسباب خود پیدا کئے اور ممتاز قادری نے درست اقدام کیا۔ اور یہی ڈاکٹر صاحب کچھ ایام کے بعد غازی صاحب کے گھر اظہار ہمدردی کے لئے تشریف لائے تو راقم نے خود ان کی آنکھوں کو فرط جذبات سے چھلکتے دیکھا ہے۔ مختلف مسالک کے علماء کا کسی ایک نقطہ نظر پر اکٹھا ہونا بہت کم ہوتا ہے اگر سنی علماء کسی بات پر متفق ہیں تو شیعہ علماء کو اعتراض اور شیعہ علماء کسی بات پر متفق ہیں تو سنی اور وہابی علماء کو ان سے اختلاف ہوگا تاہم ناموس رسالت کے مسئلے پر تمام مسالک علماء کا نقطہ نظر بالکل ایک جیسا تھا کہ اس قانون کو ملک سے کسی صورت میں ختم نہ ہونے دیں گے اور یہ کہ ممتاز قادری نے درست اقدام کیا، گو کہ بلاشبہ ممتاز قادری صاحب کا تعلق اہل سنت کے مکتبہ فکر سے ہے اور کچھ ایجنٹوں نے مسلکی تعصب پھیلانے کی بھی کوشش کی اور چند ایک جوشیلے لوگ اس کا شکار بھی ہوئے تاہم دشمن کا یہ وار بھی ناکام ہو گیا اور تمام مسالک کے علماء نے ممتاز قادری صاحب سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس سلسلے میں اڈیالہ جیل کے باہر کی پیشیاں، اور عدالتی فیصلے کے بعد پورے ملک میں تمام مسالک کے لاکھوں لوگوں کا احتجاج اور کامیاب ہڑتال اور متفقہ طور پر عدالتی فیصلے کی مذمت اس کا بین ثبوت ہے۔ تاہم حکومتی عہدوں پر براجمان چند علماء کا کردار بڑا تکلیف دہ تھا کہ جو مصلحتوں کا شکار ہو گئے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر بے دھڑک فتوے لگانے والے مفتیان عظام امریکہ اور یورپ کے ویزوں کے چکر میں ممتاز قادری صاحب کی حمایت میں دو لفظ بھی نہ بول سکے۔ تاہم انتہائی خراج عقیدت کے لئے لائق ہیں وہ علماء جنہوں نے پہلے ہی دن قوم کی صحیح رہنمائی فرمائی اور فتویٰ جاری کیا کہ سلمان تاثیر مرتد ہے اور اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی جانی چاہیے۔ ان علماء کے سالار قافلہ حضرت قبلہ پیر سید ریاض حسین شاہ صاحب، پیر سید مظہر سعید کاظمی ہیں کہ جن کی معیت

میں 500 مفتیوں اور علماء علماء کی یکجہتی اور ایک آواز خوشیوں کا اظہار کیا۔ میڈیا زور لگا دیا تاہم یہ حقیقت ہے مختلف چینلز نے کچھ نام نہاد تاہم نتیجہ صفر رہا۔ پورے ملک ہے، ظاہر ہے ان حمایت کنند کاوشوں سے راقم مطلع ہو سکا راولپنڈی سے پیر سید سید ریاض حسین شاہ صاحب چشتی ، قاری طاہر اقبال حیدر علوی، مولانا غلام محمد صوفی ساجد علی قادری، مولا نقشبندی، مولانا سفیر ضیا مولانا محمد اشفاق صابری قریشی، مولانا شاہنواز احمد مولانا ثناء اللہ قادری، مولا مری سے مولانا سید محمد ادریس، مولانا آصف اسلام آباد سے مولا سید ساجد حسین شاہ گیلا

صفحہ 381

میں 500 مفتیوں اور علماء نے بالاتفاق فتویٰ جاری کیا کہ گورنر کی نماز جنازہ ادا نہیں کی جائے گی۔ علماء کی یکجہتی اور ایک آواز ہی کا اثر تھا کہ پورے ملک کے کروڑوں عوام نے گورنر کے مرنے پر خوشیوں کا اظہار کیا۔ میڈیا نے ہر چند علماء کے اس متفقہ نظریے کو توڑنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا تاہم یہ حقیقت ہے کہ مذہبی حوالے سے منبر سے اٹھنے والی آواز زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ مختلف چینلز نے کچھ نام نہاد علماء کو چینلز پر مدعو بھی کر لیا اور انہوں نے اپنی عاقبت خراب بھی کر ڈالی تاہم نتیجہ صفر رہا۔ پورے ملک میں بلا تفریق مسلک علماء کرام نے ممتاز قادری کے اقدام کی تحسین کی ہے، ظاہر ہے ان حمایت کنندگان کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ تاہم مختلف شہروں میں علماء و مشائخ کی کاوشوں سے راقم مطلع ہو سکا اور جنہوں نے اس سلسلے میں بڑھ چڑھ کر کردار ادا کیا ان میں سے

راولپنڈی سے پیر سید حسین الدین شاہ صاحب وتلامذہ فاضلین جامعہ رضویہ ضیاء العلوم ، علامہ سید ریاض حسین شاہ صاحب ، مولانا لیاقت علی گجراتی ، قاری منظور احمد صدیقی ، پروفیسر عبدالمنان چشتی ، قاری طاہر اقبال چشتی ، مولانا غفران محمود سیالوی ، مولانا سید عظمت حسین گیلانی ، مولانا حیدر علوی ، مولانا غلام محمد چشتی ، مولانا اکبر حمیدی ، مولانا سمیع الدین کاشر ، مولانا سید واجد علی شاہ ، صوفی ساجد علی قادری ، مولانا اعجاز الحق حقانی ، مولانا نزاکت تبسم ، مولانا شوکت عطاری ، مولانا اسلم نقشبندی ، مولانا سفیر ضیائی ، مولانا عبدالحمید ضیائی ، مولانا شبیر چشتی ، مولانا خان محمد قادری ، مولانا محمد اشفاق صابری ، علامہ عزیز الدین کوکب ، مولانا سید ابرار حسین شاہ ، مولانا احسان الہی قریشی ، مولانا شاہنواز احمد ضیائی ، مولانا محمد اسحاق ظفر ، قاری محمد منور خان ، مولانا مقصود صابری ، مولانا ثناء اللہ قادری ، مولانا عثمان غنی ، مولانا ظہور الہی چشتی ، قاری عزیز الحق نقشبندی

مری سے مولانا سید رضاء المصطفیٰ شاہ ، مولانا عبدالرحمن سیالوی ، مولانا شفیق ہاشمی ، حاجی محمد ادریس ، مولانا آصف محمود قریشی ، مولانا نصیر عباسی

اسلام آباد سے مولانا مفتی محمد اقبال نعیمی ، پیر خورشید احمد ملک ضیائی ، مولانا محمد اسلم ضیائی ، مولانا سید ساجد حسین شاہ گیلانی (علی پور) مولانا ڈاکٹر ظفر اقبال جلالی ، مولانا محمد اسلم جلالی وتلامذہ ،

صفحہ 382

مولانا سید شبیر حسین شاہ گیلانی ، مولانا میر اشتیاق قادری ، مولانا میر ظہیر احمد قادری ، مولانا سید انجم حسین شاہ ، مولانا عدالت رضوی ، مولانا عزیز الرحمن نقشبندی ، (دیوبندی ) مفتی اویس عزیز ( دیوبندی ) مولانا ذاکر نقشبندی ، مولانا عبد الوحید قاسمی ( دیوبندی )، مولانا ضیاء الحسن ضیائی ، مولانا رفاقت جلالی ، مولانا مفتی خطیب مصطفائی ، قاری عبید ستی ، مولانا عبد الغنی نقشبندی ، چیئرمین میلاد کمیٹی سید محمد علی واسطی ، قاری جاوید ، قاری اقتدار حسین چشتی ، قاری محمد سلیم چشتی ، مولانا قاری اعجاز رسول چشتی ، پروفیسر عبد المجید مغل

سیالکوٹ سے قاری خاور حسین نقشبندی ، سید علی رضا شاہ ، صاحبزادہ حامد رضا سابق وزیر مذہبی امور آزاد کشمیر ، قاری امتیاز اکبر ، شیخ الحدیث غلام حیدر خادمی ، حافظ نیاز احمد الازہری ، مولانا عبدالحمید چشتی ، مولانا قاری خضر حیات ، ڈاکٹر خادم حسین خورشید ، قاری توقیر الحسن باجوہ ، مولانا تنویر الحسن مصطفائی ۔ قاری خالد محمود نقشبندی ، مولانا ضیاء الحق ( ڈسکہ )

گوجرانوالہ سے مولانا داؤد رضوی ، مولانا حنیف چشتی راہوالی ، مولانا زاہد حبیب قادری ، مولانا سید زین العابدین شاہ ، قاری محمد امین چشتی ، پروفیسر حافظ سعید چشتی ، حافظ محمد اشرف رضا راہوالی ، صاحبزادہ شبیر حسین چشتی ، نذیر احمد چشتی ، مولانا عبدالعزیز چشتی

گجرات سے مفتی اشرف القادری ، سید زاہد صدیق شاہ ، صاحبزادہ غلام بشیر نقشبندی ، صاحبزادہ عثمان افضل قادری ، قاری خالد الحسن طاہر ۔

لاہور سے شیخ الحدیث علامہ خادم حسین رضوی ، ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی ، مولانا محمد علی نقشبندی مولانا رضائے مصطفیٰ ، مولانا مفتی خان محمد قادری ، مولانا خلیل الرحمن قادری ، شیخ الحدیث مولانا عبد الستار سعیدی اور آپ کے تلامذہ (فاضلین جامعہ نظامیہ لاہور ) ڈاکٹر راغب نعیمی و تلامذہ (فاضلین جامعہ نعیمیہ ) ، پیر اطہر القادری ، مفتی حسیب قادری ، مفتی عبدالعلیم ، مفتی محمد اقبال چشتی

کراچی سے سید عظمت علی شاہ ہمدانی ، مفتی شاہ حسین گردیزی ، علامہ غلام دستگیر افغانی ، مولانا عمیر محمود صدیقی ، مولانا سید مظفر حسین شاہ ، مولانا نوید احمد عباسی ، صاحبزادہ ریحان امجد نعمانی ،

صفحہ 383

علامہ عبدالعزیز سیالوی ، قاضی احمد نورانی ، مولانا جہانگیر صدیقی ، علامہ غلام غوث بغدادی ، مفتی آصف عبداللہ قادری ، مولانا بشیر فاروقی ، سید جیلان شاہ ، مولانا قاسم جلالی ، ڈاکٹر صحبت خان کوہاٹی ، صوفی محمد حسین لاکھانی ، مولانا سید اطہر علی شاہ ہمدانی ، قاری خلیل الرحمن قادری (سنی تحریک) مولانا خلیل الرحمن چشتی ، علامہ سید شاہ تراب الحق قادری ، مولانا غلام شبیر (بلدیہ ٹاؤن) مولانا ناصر خان قادری ترابی ، مولانا اکرم سعیدی ، مولانا سلیم عباس نقشبندی ، مولانا اسد رضا ، مفتی زرولی خان (دیوبندی)

ہری پور سے مولانا آغا عبدالرحمن ،سید نزاکت حسین شاہ ،مولانا حافظ سجاد بانڈی سیڑاں ،مولانا مفتی غلام سرور ہزاروی ، قاری محمد اشتیاق ، مولانا محمد حنیف جدون ، قاری محمد افضل قادری ۔مولانا محمد بخش ہزاروی ، مولانا قاضی محبوب کبریا۔

ایبٹ آباد سے مفتی نذیر احمد قریشی ، مولانا ظہیر جاوید قریشی ، مولانا عبدالبصیر ہزاروی ، مولانا محمد اعظم صاحب ، مولانا سید عارف حسین شاہ ، مولانا سید نثار حسین شاہ ، مولانا کامران قریشی ککمنگ ، مولانا بشیر القادری،

مانسہرہ سے مولانا حبیب المالک ، مولانا قدرت اللہ قادری ، مولانا فاروق سعیدی ، مفتی کفایت اللہ (دیوبندی)

مردان سے ڈاکٹر عبدالناصر لطیف ، قاری عبدالہادی ظہیر ، مولانا فیاض (JUP) حافظ شاہ روم ، مولانا عبدالرشید جلالہ ، مفتی عبدالوکیل

آزاد کشمیر سے مفتی محمد حیات خان ، مولانا صاحبزادہ سلیم چشتی ( مظفر آباد ) ، مولانا فردوس نعیمی ( باغ ) ، مولانا روئیل احمد عباسی خطیب سہیلی سرکار (مظفر آباد ) مولانا محمد زبیر نقشبندی کھڑی شریف ، مذہبی سکالر عتیق الرحمن کیانی ، قاری ضیاء المصطفیٰ منور ، مولانا حمید الدین برکتی ، مولانا سید نذیر حسین شاہ گیلانی ، مولانا الطاف حسین سیفی ، (مظفر آباد ) مولانا محمود حسین شائق

اٹک سے مولانا غلام محمد صدیقی ، قاضی امجد حسین ، شہزاد حسین چشتی ، سید تبسم شاہ بخاری ، مولانا مقصود

صفحہ 384

اعوان ، مولانا عبدالقادر چشتی (فتح جنگ) مولانا بشیر چشتی ، صاحبزادہ رضاء المصطفیٰ (پنڈیگھیب)

حیدرآباد سے ڈاکٹر ذاکر صدیقی ، مولانا قاری سلمان سروبہ ،

جہلم سے مولانا ذکاء اللہ سعیدی ، مولانا عرفان القادری ، قاری حافظ عبدالباسط ، سید خلیل شاہ کاظمی ، صوفی اسلم نقشبندی ، مولانا اکرم صدیقی ۔

چکوال سے سید ریاض الحسن شاہ ۔

گوجر خان سے مفتی مختار علی رضوی ، صوفی جہانگیر نقشبندی ، خلیفہ صوفی ضمیر ، حافظ محمد اکرام ، مولانا ظہور حسین چشتی ، مولانا شبیر عثمانی ، مولانا عابد چشتی جبر ، قاری نواز چشتی پڑھانہ

سرگودھا سے پیر امین الحسنات صاحب و تلامذہ (دارالعلوم بھیرہ ) مفتی محمد شیر خان ، مولانا اسلم رضوی بھیرہ شریف ، مولانا محمد انور قریشی ، مولانا بشیر کرم (پنڈ دادنخان )

ملتان سے مولانا فاروق خان سعیدی ، مولانا سعید احمد فاروقی ، قاری خادم حسین سعیدی کے اسمائے گرامی سرفہرست ہیں ۔ اپنے اپنے طور پر جن جن علماء نے کردار ادا کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ ان کی کاوشوں سے باخبر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ علمائے حقہ کا سایہ امت پر سلامت رکھے ۔ بعض علماء کرام نے غازی صاحب کے حوالے سے تحریری کام بھی کیا ہے جن میں ابوحمزہ مفتی ظفر جبار صاحب آف لاہور نے ایک کتاب ترتیب دی ہے جس کا نام ہے ”پروانہ شمع رسالت ملک ممتاز حسین قادری“ اس میں انہوں نے قومی اخبارات میں چھپنے والی خبروں کے ذریعے سے ممتاز قادری صاحب کے اقدام پر روشنی ڈالی ہے اور آپ نے اس سلسلے میں اخباری خبروں پر ہی بھروسہ کیا ہے اور اس حوالے سے لکھے جانے والے کالم اور مضامین کو کتاب میں شامل کیا ہے مولنا کا یہ کام بھی لائق تحسین ہے ۔ کراچی کے ایک عالم دین سید ناصر عبداللہ نے غازی صاحب پر ایک رسالہ ”عاشق رسول“ شائع کیا اس میں مولانا نے اخبارات کی رپورٹنگ کو ہی اپنا ماخذ بنایا ہے ۔

کراچی کے مفتی عمیر محمود صدیقی صاحب نے ایک استفتاء پورے ملک کے علماء کی خدمت میں روانہ کیا جس میں سلمان تاثیر کے ارتداد و کفر کی بابت سوالات درج تھے اور ممتاز قادری کے اقدام

صفحہ 385

کے شرعی حیثیت کے متعلق علماء کی آراء طلب کی گئی تھیں۔ تاہم افسوس کہ اس استفتاء پر علماء کی طرف سے دلچسپی کا اظہار نہ کیا گیا بعد ازاں عدالتی فیصلے کے بعد مفتی خان محمد قادری صاحب (لاہور) اور خلیل الرحمٰن قادری ایڈیٹر سوئے حجاز نے اسی استفتاء کی روشنی میں ایک استفتاء مرتب کیا اور اس کا جواب لکھ کر پورے ملک کے علماء و مشائخ سے تصدیقات حاصل کیں اور دیگر تمام مسالک کے علماء نے بھی ان کے فتوے کی تائید و حمایت کی۔ فتویٰ میں زور دار دلائل سے ثابت کیا گیا کہ گورنر اپنے قول و کردار کے باعث مرتد ہو چکا تھا اور ممتاز قادری نے جو کیا وہ جذبہ ایمانی کے تحت کیا۔ مفتی خان محمد قادری نے جامعہ اسلامیہ لاہور میں مختلف مسالک کے علماء کی میٹنگ بھی منعقد کی جس میں تمام مسالک کے علماء نے اجتماعی طور پر ممتاز حسین قادری کی رہائی کے سلسلے میں کوششوں کا تہیہ کیا۔

علامہ سید ریاض حسین شاہ صاحب کی قیادت میں 500 مفتیان اہل سنت نے فتویٰ جاری کیا تھا کہ مقتول گورنر کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے کیونکہ وہ مرتد مرا ہے۔ اس فتوے کے اوپر روزنامہ جنگ میں ایک کالم لکھا گیا علماء کنفیوژن دور کریں۔ اس کے جواب میں علامہ سید ریاض حسین شاہ صاحب نے ایک رسالہ لکھا جس کا نام ہے۔ ”کروں تیرے نام پے جان فدا“ اس رسالے کا انگلش سمیت کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔

ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی طرف سے دی جانے والی سٹیٹمنٹ کے رد میں مفتی عمیر محمود صدیقی صاحب نے ملک کے مشہور جرائد میں مضامین لکھے جن کو علماء کی طرف سے تحسین کی نگاہ سے دیکھا گیا اللہ تعالیٰ صدیقی صاحب کا یہ نذرانہ قبول فرمائے۔

گورنر مقتول کے ارتداد اور ممتاز حسین قادری کے عاشقانہ اقدام کے متعلق ایک فتویٰ ڈاکٹر اشرف آصف جلالی صاحب نے بھی مرتب کیا جس میں ممتاز حسین قادری کے اقدام کی قرآن و سنت کی روشنی میں حمایت کی گئی جبکہ سلمان تاثیر کو کافر و مرتد قرار دیا گیا۔ اس فتوے کی تصدیق بھی ملک بھر کے علماء و مشائخ نے کی۔

صفحہ 386

﴿ ممتاز حسین قادری اور جرائد اہل سنت ﴾

یہ حقیقت ہے کہ ملک کے تمام غیرت مند اور محبان رسول نے ممتاز حسین قادری سے اپنی محبتوں کا اظہار کیا چاہے ان کا تعلق کسی بھی شعبہء زندگی سے ہو۔ اور لوگوں کے شانہ بشانہ ملک میں شائع ہونے والے جرائد نے بھی غازی صاحب کو خراج عقیدت پیش کیا۔ ایک غیر ملکی ویب سائٹ کی ریسرچ کے مطابق پوری دنیا کے پانچ ہزار سے زائد اخبارات ، رسائل میں ممتاز حسین قادری صاحب کے حوالے سے قلم اٹھایا گیا ہے۔ پاکستان میں چھپنے والے نوے فیصد مذہبی جرائد و رسائل نے ممتاز حسین قادری کی نہ صرف حمایت کی بلکہ قانون ناموس رسالت اور ممتاز قادری کے حق میں کھل کر لکھا۔

کراچی ، لاہور ، پشاور ، فیصل آباد ، گجرانوالہ ، راولپنڈی اور دیگر شہروں سے شائع ہونے والے سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے رسائل و جرائد نے بڑھ چڑھ کر ممتاز قادری کی حمایت میں مضامین شائع کئے ان میں ماہنامہ ”العاقب“ اور ”سوئے حجاز“ لاہور سرفہرست ہیں۔ ماہنامہ العاقب تحریک فدایان ختم نبوت کے زیر انتظام شائع ہوتا ہے اور اس کی سرپرستی حضرت شیخ الحدیث مولانا خادم حسین رضوی فرما رہے ہیں۔ ماہنامہ ”العاقب“ کا ہر شمارہ گویا ممتاز قادری کی حمایت میں ہی شائع ہو رہا ہے۔ ماہنامہ سوئے حجاز حضرت مولانا خان محمد قادری صاحب کی زیر سرپرستی اور مولانا خلیل الرحمن قادری کی زیر ادارت شائع ہوتا ہے۔ ماہنامہ سوئے حجاز نے بھی ممتاز قادری کی کھلم کھلا حمایت میں کردار ادا کیا ہے۔ ماہنامہ ”رضائے مصطفیٰ“ گجرانوالہ جو کہ نباض قوم جناب مولانا ابو داؤد صادق صاحب کی زیر سرپرستی شائع ہوتا ہے اس ماہنامہ نے بھی غازی کی حمایت میں بڑھ چڑھ کر لکھا ہے۔ ماہنامہ تحفظ کراچی جو کہ جناب شہزاد ترابی کی ادارت میں شائع ہوتا ہے نے ممتاز حسین قادری صاحب کے حوالے سے مارچ 2011ء میں خصوصی ایڈیشن شائع کیا۔ ماہنامہ ”ضیاءِ حرم“ بھیرہ شریف اہل سنت کے حلقوں میں بہت زیادہ پڑھا جانے والا ماہنامہ ہے۔ جو کہ دارالعلوم محمدیہ بھیرہ شریف کے پیر امین الحسنات شاہ صاحب کی سرپرستی میں

صفحہ 387

کام کر رہا ہے ۔ شروع دن سے ممتاز قادری کی حمایت میں لکھ رہا ہے ۔ اس کے علاوہ ماہنامہ ’’سبب‘‘ کراچی ، ماہنامہ ’’نوائے اہلسنت‘‘ اسلام آباد، ماہنامہ ’’اہلسنت‘‘ ماہنامہ ’’آواز اہلسنت‘‘ گجرات، ماہنامہ ’’الحقیقہ‘‘ شکر گڑھ ، ماہنامہ ’’النظامیہ‘‘ لاہور، ماہنامہ ’’افق‘‘ کراچی ، ماہنامہ ’’البر‘‘ لاہور، ماہنامہ ’’المقصود‘‘ کراچی ، ماہنامہ ’’الفقہ الاسلامی‘‘ کراچی، ماہنامہ ’’دلیل راہ‘‘ لاہور، ماہنامہ ’’انوار لاثانی‘‘ علی پور سیالکوٹ ، ماہنامہ عرفات اور دیگر رسائل و جرائد نے ممتاز حسین قادری کی حمایت میں مضامین شائع کئے ۔ یہ تمام جرائد اور اس کے علاوہ دیگر جریدے تبریک کے مستحق ہیں ۔ جنہوں نے غیرت ایمانی کا مظاہرہ کیا ۔ اللہ تعالیٰ ان تمام علماء کو اجر جزیل عطا فرمائے ۔

دیوبندی ، اہل حدیث حضرات کے بہت سے جرائد و رسائل نے بھی غازی صاحب کی حمایت میں لکھا ہے ان میں ہفت روزہ ضرب مومن، سہ ماہی ندائے ختم نبوت کوٹلی آزاد کشمیر، ماہنامہ ’’القاسم‘‘ پشاور ، ماہنامہ الفاروق کراچی ، ماہنامہ بینات کراچی ، ماہنامہ لولاک ملتان ، ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان ، ماہنامہ صدائے ختم نبوت لاہور ، ماہنامہ الحسن لاہور ، ماہنامہ انوار حرمین لاہور ، ماہنامہ الابلاغ کراچی ، ماہنامہ المحدث قابل ذکر ہیں ۔

﴿ ممتاز حسین قادری کی حمایت میں نکلنے والے غیرت مند مشائخ ﴾

زندگی کے ہر طبقہ فکر کی طرح مشائخ عظام نے بھی علماء کرام کے شانہ بشانہ ممتاز حسین قادری کی حمایت میں کردار ادا کیا ہے اور کر رہے ہیں ۔ بعض ’’سرکاری پیر‘‘ اس سعادت سے محروم رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں بھی تحفظ ناموس رسالت کی اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے ۔ یوں تو بے شمار مشائخ اور آستانے ہیں کہ جنہوں نے ممتاز حسین قادری کی حمایت میں آواز بلند کی ہے ۔ تاہم جن جن مشائخ اور آستانوں سے راقم کو آگاہی ہو سکی ان میں مشاہیر بزرگ اور آستانے درج ذیل ہیں ۔

صفحہ 388

کاظمی، آستانہ عالیہ میرا مندروچھ شریف نواں شہر ایبٹ آباد۔

عالیہ عید گاہ شریف راولپنڈی

مرشد آباد شریف پشاور

شریف گوجر خان

سید طاہر حسین شاہ، صاحبزادہ سید مخدوم حسین شاہ آستانہ عالیہ پٹنگی شریف بوئی ایبٹ آباد

سیداں شریف نارووال

صفحہ 389
صفحہ 390

ممتاز حسین قادری اور تاجی کھوکھر

امتیاز علی کھوکھر المعروف تاجی کھوکھر کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں، تاجی کھوکھر ایک سماجی اور سیاسی شخصیت کا نام ہے۔ سابق سپیکر قومی اسمبلی و وفاقی وزیر حاجی نواز کھوکھر اور سابقہ ضلعی نائب ناظم افضل کھوکھر کے بھائی اور وزیر اعظم کے مشیر مصطفیٰ نواز کھوکھر کے سگے چچا ہیں۔ تاجی کھوکھر صدر پاکستان آصف علی زرداری کے قریبی دوست ہیں اور ان کی شخصیت افسانوی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک طرف تو ان کے ڈیرے پر ہر وقت غریب ، دکھیا اور بے سہارا لوگوں کا تانتا لگا رہتا ہے تو دوسری طرف ”دشمن داری“ میں بھی ان کا کوئی مثیل نہیں۔

ایک طرف دینی مدارس کی سرپرستی اور مساجد کا قیام بڑھ چڑھ کر عمل میں لایا جاتا ہے تو دوسری طرف سیاسی موشگافیوں اور گتھیوں کو سلجھانے اور جوڑ توڑ میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں ۔ تاجی کھوکھر کی دوستی اور دشمنی کا ایک اصول مقرر ہے۔ ”قبر تک دوستی قبر تک دشمنی“ تاجی کھوکھر سے راقم کا تعلق اور باضابطہ رابطہ ممتاز حسین قادری کے اقدام عاشقی کے بعد اس وقت ہوا جب تاجی کھوکھر صاحب نے ایک نجی محفل میں ممتاز حسین قادری کے اقدام کی نہ صرف تعریف کی بلکہ اس کے ساتھ محبت کا اظہار بھی کیا۔ بعد ازاں راقم کا کھوکھر صاحب سے رابطہ ہوا جس کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ممتاز حسین قادری کی رہائی کے لئے گورنر کے اہل خانہ کو پانچ کروڑ روپے دینے کو تیار ہیں۔ اس بات کا اعلان انہوں نے راقم کے ساتھ اپنے ڈیرے پر پریس کانفرنس میں کیا۔

بعد ازاں کھوکھر صاحب کی طرف سے شہر کے مختلف مقامات پر ممتاز حسین قادری کی

صفحہ 391

رہائی کے لئے بینرز بھی آویزاں کئے گئے ۔

تاجی کھوکھر کے بھتیجے مصطفیٰ نواز کھوکھر وزیر اعظم گیلانی کے مشیر ہیں اور ان کا بھی پیپلز پارٹی سے قریبی تعلق ہے اس کے باوجود ان کا ممتاز حسین قادری کی حمایت میں کھڑا ہونا بہت سارے لوگوں کیلئے حیرت کا باعث بنا۔ بہر حال دل اللہ کے قبضہ و اختیار میں ہے وہ جدھر چاہے ادھر پھیر دیتا ہے ۔ تاجی کھوکھر صاحب کی غازی صاحب سے محبت کا اظہار اس طرح سے بھی دیکھنے کو ملا کہ ان کی سرپرستی میں کام کرنے والی ھاؤسنگ سوسائٹیوں میں سے ”غوری ٹاؤن“ کے وی آئی پی سیکٹر میں ایک قطعہ اراضی جس کو راجہ علی اکبر صاحب اور چوہدری عبدالرحمٰن صاحب نے وقف کیا تھا اس پر مسجد کی تعمیر کا افتتاح ہونے لگا ۔ ٹاؤن کے آرگنائزرز کی طرف سے کھوکھر صاحب کو اختیار سونپے گئے ۔ ایک نشست میں مسجد کے نام کے حوالے سے تذکرہ چھڑا قاری محمد اشفاق صابری صاحب نے کہا کہ اس مسجد کا نام کھوکھر صاحب کے والد گرامی مرحوم کے نام پر رکھا جائے لیکن کھوکھر صاحب نے کہا کہ میرا دل کہتا ہے کہ اس مسجد کا نام عاشق رسول ممتاز حسین قادری کے نام پر رکھا جائے ۔ چنانچہ بتاریخ 29 اکتوبر 2011ء غوری ٹاؤن میں جامع مسجد ممتاز حسین قادری کا افتتاح کیا گیا جس میں راولپنڈی ، اسلام آباد کے سو سے زائد علماء کرام نے شرکت کی ۔ حضرت مصلح امت سید حسین الدین شاہ صاحب اور غازی صاحب کے والد گرامی جناب ملک بشیر اعوان کے دستِ مبارک سے مسجد کا افتتاح ہوا ۔ افتتاحی تقریب میں غازی برادران کے علاوہ سینکڑوں افراد شریک ہوئے ۔ تقریب سے ڈاکٹر آصف جلالی ، مولانا عزیز الدین کوکب ، فیاض الحسن چوہان ، راقم الحروف ، سید امتیاز حسین شاہ کاظمی ، قاری علی اکبر نعیمی ، جناب تاجی کھوکھر اور دیگر نے خطاب کیا ۔

یونہی کھوکھر صاحب ممتاز حسین قادری صاحب کی رہائی کے سلسلے میں کوششوں میں مصروف ہیں اور سچی بات یہی ہے کہ مجھ سمیت دیگر سینکڑوں لوگوں نے تاجی کھوکھر صاحب سے اسی رشتے کے باعث تعلق کو قائم کیا ہے ۔

صفحہ 392

تعجب انگیز بات تو یہ ہے کہ ایک طرف ساری زندگی ”عشق مصطفی“ کا درس دینے والی شخصیت ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی ہے اور دوسری طرف تاجی کھوکھر ایسی شخصیت ہے کہ جو نہ مفتی ہے اور نہ ہی پیر نہ مجدد ہے اور نہ ہی ”عشق مصطفی“ کا سفیر بلکہ ایک دنیا دار شخص ہے لیکن ممتاز حسین قادری کے معاملے میں پیپلز پارٹی سے قرابتوں کے باوجود بڑھ چڑھ کر آواز بلند کرنا سوائے توفیق الہی کے ممکن نہیں۔ اور ڈاکٹر صاحب کا ایک عاشق رسول کی مخالفت اور گستاخ رسول کی حمایت کرنا سوائے شقاوت من جانب اللہ کے کچھ نہیں۔ ایک تقریب میں راقم نے اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا تھا کہ ”وہ ملاں اور نام نہاد ”شیخ“ کہ جنہوں نے علم رکھنے کے باوجود ممتاز حسین قادری جیسے عاشق و مجاہد اسلام کی مخالفت کا گناہ اپنے سر لیا ہے۔ انہوں نے ہزاروں کتابیں ہی کیوں نہ لکھی ہوں۔ میں انہیں دنیا دار، شتہ دار، قاتل اور ایک سخت گیر شخصیت تاجی کھوکھر کے قدموں پے قربان کروں۔

اس بیان کی وڈیو (YOUTUBE) پر اپ لوڈ کی گئی تو منہاج القرآن سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے اس کا ابتدائی حصہ کاٹ کر ایک وڈیو تیار کی کہ جس میں یہ الفاظ سمجھ آ رہے تھے کہ ”میں ہزاروں کتابوں کو تاجی کھوکھر کی جوتیوں پر قربان کروں۔“ پورے ملک میں واویلا کیا گیا کہ دیکھو حنیف قریشی نے توہین کا ارتکاب کیا ہے۔ کیونکہ کتابوں میں تو اللہ اور اس کے رسول کا نام بھی ہوتا ہے۔ اور طاہر القادری صاحب کی تصانیف میں ترجمہ قرآن بنام عرفان القرآن بھی ہے۔ راقم کو لاہور سے ایک مخلص ساتھی سید اسد حسین شاہ صاحب نے فون پر آگاہ کیا کہ آپ کی ایک وڈیو میں اس طرح کے الفاظ ہیں جو کہ نیٹ پر اپ لوڈ کی گئی ہے۔ لیکن جب راقم نے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ یہاں پر یہودیانہ تحریف کی گئی ہے۔ راقم اس تحریر کے ذریعے تمام منہاجین سے گذارش کرتا ہے کہ میرا ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے کوئی ذاتی اختلاف نہ تھا اور نہ ہی کوئی ذاتی پرخاش ہے۔ میں نے تو ہمیشہ باہم اتفاق و اتحاد اور صلح کی آواز بلند کی ہے۔ لیکن جب ڈاکٹر صاحب نے ناموس رسالت کے مفہوم پر ٹھوکر کھائی ہے تو اس وقت مثبت طریقے سے علمی طور پر رد کرنا میرا شرعی اور

صفحہ 393

اخلاقی فریضہ بنتا تھا۔ آج بھی اگر ڈاکٹر صاحب اپنے موقف سے رجوع فرما لیتے ہیں اور اپنی غیر شرعی حرکات سے توبہ کر لیتے ہیں تو ہمارا ان سے کوئی اختلاف نہیں بلکہ راقم ان کی دست بوسی کو تیار ہے۔ لیکن اتنا یاد رکھیں کہ عشق رسول کے دعوے ۔۔۔۔۔ اور گستاخوں کی حمایت بھی ۔۔۔۔ ۔۔ یہ اندازِ فکر لفظ منہاج القرآن سے میل نہیں کھاتا۔

علاوہ ازیں یہ بھی عرض کرنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب عالمی امن کے داعی ہیں جبکہ آپ کے زیر اثر منہاجین پر اس کا کوئی اثر نظر نہیں آتا۔ علماء پر شدت پسندی کا الزام دھرنے والے ”روشن خیال“ منہاجین اپنے اس رویے پر بھی ذرا غور کریں کہ 18 دسمبر 2011ء کو لیاقت باغ راولپنڈی میں منعقدہ بیداری شعور ریلی کے دوران کچھ نوجوانوں نے ممتاز حسین قادری کی حمایت میں نعرے بلند کئے اس کے علاوہ انہوں نے کسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔ منہاج القرآن کے امن کے داعی کارکنوں نے ان نوجوانوں پر بری طرح تشدد کیا جس سے یہ نوجوان زخمی ہو گئے اور بعد ازاں انہیں گرفتار کروا دیا گیا۔ منہاجینز سے گذارش ہے کہ جرأت و بہادری، ممتاز حسین قادری کے نعرے سے آپ کو کیا تکلیف پہنچی۔ اور آپ کے بیداری شعور میں کونسی رکاوٹ پیدا ہوئی۔ کیا آپ کا یہ اندازِ عمل شدت پسندی کے زُمرے میں نہیں آتا؟ اگر محافل اہل سنت میں طاہر القادری صاحب کو مجدد رواں صدی، شیخ الاسلام، دین حق کا ولی کہنے والوں اور منہاج القرآن کے اشتہار، بینرز لگانے اور منہاج القرآن کے جلسوں اور پروگراموں کا اعلان کروانے والوں کے ساتھ بھی اسی طرح کا سلوک کر دیا جائے تو آپ اس بارے میں کیا کہیں گے۔۔۔۔۔۔؟

ڈاکٹر طاہر القادری صاحب اور منہاج القرآن کے دیگر قائدین کا اس بارے میں کیا خیال ہے۔۔؟ کیا ان کے کارکنان کا یہ اندازِ فکر منہاج القرآن کی سوچ ہے یا۔۔۔۔

☆☆☆

صفحہ 394

﴿ ملک ممتاز حسین قادری اور رؤیائے صالحہ ﴾

خواب کی تعبیر کا حقیقت پر اثر انداز ہونا ایک واضح حقیقت ہے خواب کے ذریعے اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں پر مستقبل کے حالات کو منکشف فرما دیتا ہے۔ رؤیاء صالحہ سچے خواب کی فضیلت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔

الرؤياء الصالحه جزء من ستة و اربعين جزءً من النبوة (بخاری و مسلم.)

سچا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے، اچھا خواب بارگاہ رب العزت کی طرف سے اپنے مومنین بندوں کی طرف بشارت ہوتی ہے تاکہ بندہ مومن کا ظن پختہ ہو جائے اور وہ راسخ الاعتقاد ہو جائے۔ یہ بشارت منجانب اللہ شکر واحسان کا باعث ہوتی ہے۔ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ جس شخص نے خواب میں نبی مکرم ﷺ کو دیکھا اس نے واقعتاً سرکار ﷺ ہی کی زیارت کی کیونکہ شیطان خواب میں نبی مکرم ﷺ کی صورت میں ظاہر نہیں ہو سکتا۔

علماء کرام نے صراحت فرمائی ہے کہ کوئی شخص خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت کرے اور آپ اسے کوئی حکم ارشاد فرمائیں یا کوئی اور شخص خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت کرے اور حضور اس شخص کے ذریعے اپنے کسی غلام کے بارے میں کوئی حکم ارشاد فرمائیں دونوں کی اہمیت برابر ہے۔

غازی اسلام ملک ممتاز حسین قادری صاحب کے عشق رسول میں کسی بھی شخص کو شک وشبہ نہیں ہے۔ غازی صاحب کے متعلق بہت سارے لوگوں نے بے شمار رؤیائے صالحہ دیکھے ہیں کبھی کہیں تو آپ کو بہترین حالت میں دیکھا گیا ہے اور کہیں آپ کے حوالے سے مقدس ہستیوں کے ارشادات سُنے گئے ہیں۔ ایسے چند ایک خواب یہاں بیان کئے جاتے ہیں بلکہ ضمناً بعض رویائے صالحہ گذشتہ صفحات میں بھی رقم ہو چکے ہیں۔

نیک خاتون ہیں انہوں نے یہ خواب خود راقم کے سامنے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ ایک کھلا

صفحہ 395

میدان ہے اتنے میں ایک نورانی شخصیت تشریف لاتی ہیں اور آواز آتی ہے کہ یہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ میں آپ کے چہرے کو دیکھتی ہوں جو کہ انتہائی نورانی ہے۔ نبی پاک ﷺ اپنا ہاتھ آسمان کی جانب اٹھاتے ہیں تو اوپر سے ایک نور کا ٹکڑا بادل کی طرح ٹوٹ کر نیچے گر رہا ہے تو آپ اسے پکڑ لیتے ہیں اور تین مرتبہ فرماتے ہیں فتح کامیابی، فتح کامیابی، فتح کامیابی۔ وہی ٹکڑا اٹھا کر سرکار ﷺ آگے آگے چلتے ہیں اور میں آپ کے پیچھے پیچھے چلنا شروع کر دیتی ہوں آگے میدان میں ایک شخصیت کو دیکھا کہ وہ بیٹھے ہوئے ہیں اور حضور ﷺ کے الفاظ فتح کامیابی سن کر وہ سجدے میں گر جاتے ہیں۔ میرے کانوں میں آواز آتی ہے یہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں۔ میں ان کے پاس بیٹھ جاتی ہوں اور سوچتی ہوں کہ دیکھوں گی کہ یہ کیسے ہیں اور کتنے خوبصورت ہیں۔ چنانچہ وہ سجدے سے سر اٹھاتے ہیں تو میں انہیں دیکھ کر دل ہی دل میں کہتی ہوں کہ ماشاء اللہ یہ بھی خوبصورت ہیں میں نے ان کی صورت مبارک کو ذہن میں اچھی طرح بٹھا لیا آپ کے سر پر اونچی سی سیاہ ٹوپی ہے چنانچہ نبی پاک ﷺ ان سے مخاطب ہو کر ارشاد فرماتے ہیں میرے صدیق یہ گینتی پکڑو اور وہ دیکھو پہاڑ، آپ ﷺ پہاڑوں کی طرف اشارہ فرماتے ہیں میں اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ بھی ان پہاڑوں کو دیکھتے ہیں وہ بہت اونچے اونچے ہیں سرکار فرماتے ہیں ابوبکر اس گینتی سے ان پہاڑوں کو کھودو اور ہموار کرتے جاؤ۔ ان کی چوٹی پر اوپر ایک کافر کھڑا ہے اسے گراؤ کہ وہ مرجائے تو پھر ہماری مکمل کامیابی و فتح ہو گی۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ گینتی ہاتھ میں لے کر پہاڑوں کو کھودنا شروع کر دیتے ہیں یہاں تک کہ ان کی چوٹی نیچے گرتی ہے اور اس چوٹی پر کھڑا ایک لحیم شحیم شخص منہ کے بل گرتا ہے اور وہ مر جاتا ہے۔ میں اس گرنے والے کو دیکھتی ہوں اس کی شکل نہیں دیکھ سکتی کیونکہ وہ اوندھے منہ گرا ہے تاہم اس کے گہرے نیلے کلر کے کپڑے ہیں جن میں وہ ملبوس ہے۔ پھر آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ لو مکمل فتح و کامیابی ہو گئی ۔ اس پر میں بیدار ہو گئی۔ میں نے یہ خواب اپنی بڑی بہن کو سنایا جو کہ ایک انتہائی نیک خاتون ہے تو انہوں نے مجھے فرمایا کہ عنقریب کچھ ہونے لگا ہے۔ چنانچہ کچھ دنوں کے بعد محلے کی میرے پاس قرآن پاک پڑھنے والی

صفحہ 396

عورتوں نے مجھے بتایا کہ پنجاب کا گورنر مارا گیا ہے اور اسے ایک پولیس والے نے مارا ہے۔ یہ سن کر مجھے بڑا عجیب سا لگا کیونکہ اس سلسلے میں میں نے ایک اور خواب بھی دیکھا تھا بہر حال میں اپنے کام میں مشغول رہی ایک دن میں اپنے گھر کی چھت پر کپڑے ڈالنے کیلئے گئی تو میری نظر میرے گھر کے سامنے ایک مکان کی دیوار پر پڑی جس پر ایک بڑی تصویر لگی ہوئی تھی۔ میرے ہاتھ سے کپڑے گر گئے اور میں انتہائی پریشان ہو گئی کیونکہ تصویر میں وہی صورت تھی کہ جسے میں نے خواب میں حضرت ابو بکر صدیق کے روپ میں دیکھا تھا۔ جن کے ہاتھ میں رسول اللہ ﷺ نے گینتی پکڑائی تھی اور ابو بکر نام لے کر پکارا تھا۔ میں یہ دیکھ کر رونے لگ گئی اور اپنے بیٹے راشد فاروق کو بلا کر میں نے پوچھا کہ یہ کس کی تصویر ہے تو اس نے جواب دیا کہ یہ گورنر پنجاب کو اس کی گستاخی کی وجہ سے قتل کرنے والے ممتاز حسین قادری کی تصویر ہے۔ راقم نے یہ خواب حفصہ بی بی کے محلے کی خواتین کی وساطت سے سنا تھا۔ جس میں گینتی کی جگہ تلوار کا ذکر تھا۔ راقم نے اس خواب کو اپنے خطابات میں بھی بیان کیا حفصہ بی بی نے جب میرے خطاب کی سی ڈی کہیں سنی تو انہوں نے اپنے منہ بولے بیٹے کہ جنہیں انہوں نے بچپن سے پالا ہے مولانا حفیظ الرحمن صاحب خطیب المبارک مسجد محلہ امر پورہ راولپنڈی کی وساطت سے مجھ سے رابطہ کیا اور بتایا کہ جو خواب آپ نے بیان کیا ہے وہ درست نہیں ہے چنانچہ راقم کی درخواست پر محترمہ مذکورہ مولانا حفیظ الرحمن صاحب کے ساتھ جامعہ رضویہ ضیاء العلوم میں تشریف لائیں اور راقم کے سامنے اس خواب کو بیان کیا راقم نے لفظ بلفظ اس کو تحریر کیا اور ان کی اجازت سے آڈیو ریکارڈنگ بھی کر لی اس بات کی تصدیق مولانا حفیظ الرحمن صاحب سے بھی کروائی جا سکتی ہے ۔ ان کا رابطہ نمبر 0333-5571660 ہے۔ محترمہ حفصہ بی بی کی نظر بالکل کمزور ہو چکی تھی۔ چنانچہ خواب میں نبی کریم ﷺ نے کرم نوازی فرمائی تو اب ان کی نظر ماشاء اللہ بالکل درست ہو چکی ہے۔

ازاں انہوں نے غازی برادران کے سامنے اور دیگر علاقے کی خواتین اور حضرات کے سامنے

صفحہ 397

بیان کیا ہے۔ اور راقم سے ملاقات پر آپ نے بیان کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا کیا دیکھتی ہوں کہ حاجی چوک (یہ غازی صاحب کے گھر کے قریب ایک چھوٹا سا چوک ہے ) میں بہت سارے لوگ کھڑے ہیں اور اوپر آسمان کی طرف نظریں جمائے کسی کو دیکھ رہے ہیں میں بھی اس ہجوم میں کھڑی ہوگئی اچانک کیا دیکھا کہ ایک گاڑی فضا سے اتر کر مشرق کی طرف کھڑی ہوگئی گاڑی بڑی خوبصورت تھی اور یوں لگتا تھا جیسے سیکیورٹی سکواڈ کی گاڑی ہو اتنے میں فضا سے ایک اور گاڑی اتری اور مغرب کی جانب کھڑی ہوگئی پھر تیسری گاڑی اتری اور جنوب اور چوتھی گاڑی شمال کی طرف کھڑی ہوگئی اتنے میں لوگ پھر فضاء کی طرف نظریں جما کر کھڑے ہوگئے میں نے بھی دیکھنا شروع کر دیا اچانک ایک انتہائی خوبصورت اور پہلی گاڑیوں سے بڑی گاڑی آسمان سے اتری اور ان چاروں گاڑیوں کے درمیان آکر کھڑی ہوگئی ، میں دوڑتی ہوئی اس گاڑی تک پہنچی اور اس کا دروازہ کھولنے کیلئے ہینڈل پر ہاتھ ڈالا کہ ایک آدمی نے مجھے دھکیلتے ہوئے پیچھے ہٹا دیا اور کہنے لگا تمہیں معلوم ہے کہ گاڑی میں کون ہے پوچھتی ہوں کہ مجھے کیوں پیچھے دھکیلا ہے کون ہے اس گاڑی میں ؟ تو اس شخص نے جواب دیا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی سواری ہے ۔ اور اس میں وہ تشریف لائے ہیں میں پوچھتی ہوں اس علاقے میں آپ کیوں تشریف لائے ہیں تو اس شخص نے جواب دیا کہ اس علاقے میں ایک بڑا معاملہ ہونے والا ہے سرکار ﷺ اس کیلئے تشریف لائے ہیں ۔ بس اس کے بعد میں بیدار ہوگئی اور انتظار کرتی رہی کہ یہاں اس علاقے میں کون سا واقعہ ہونے والا ہے تا آنکہ سلمان تاثیر قتل ہوگیا۔ اور اس کو ممتاز قادری نے قتل کیا جو اسی محلے کا رہنے والا تھا۔

تشریف لاتے ہیں ان کا نام محمد زاہد ولد مکھن خان ہے اور وہ نئی آبادی کریم آباد راجہ ٹاؤن شکریال راولپنڈی کے رہنے والے ہیں ان کا شناختی کارڈ نمبر 37405-0715386-9 ہے اور ان کا فون نمبر 0300-5102129 ہے انہوں نے مجھے اڈیالہ جیل کے باہر غازی صاحب کی پیشی کے موقع پر اپنا خواب سنایا کہ میں نے کل رات خواب دیکھا ہے کیا دیکھتا ہوں کہ میں حضور غوث الثقلین ؒ کے دربار شریف پر حاضری کیلئے جا رہا ہوں۔ میں جب ان کے مزار پر

صفحہ 398

انوار پر پہنچتا ہوں تو ان کے مزار کی سنہری جالیاں ہیں اور وہاں ان جالیوں پر نورانی اور سنہری الفاظ سے لکھا ہے ”ممتاز قادری تیری عظمت کو سلام۔“ -

نے 12 اگست رات کو دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ میں کیا دیکھتا ہوں کہ ممتاز حسین قادری گھر میں آتے ہیں اور میری حالت کچھ نیم خوابی کی سی تھی۔ گھر میں پورے سکواڈ کے ساتھ آتے ہیں اور ہاتھ اوپر کر کے کھڑے ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میری پہنچ چوتھے آسمان تک ہے اور چوتھے آسمان تک کسی گستاخ کو نہیں چھوڑوں گا اتنے میں ایک مولوی صاحب آتے ہیں اور غازی صاحب سے کہتے ہیں۔ حضرت تشریف لائیں ہم نے آپ کیلئے اور آپ کے مہمانوں کے لئے کھانے کا اہتمام کیا ہے یہ دیکھیں دیگیں تیار ہیں۔ غازی صاحب وہاں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ اپنا کام کریں میں نے اپنا کام کرنا ہے پھر میرے ہاتھ چومے اور عرض کی ابا جان میں جلدی میں ہوں میں نے دو جگہ اور بھی جانا ہے۔

حنیف میمن سے ملاقات ہوئی۔ میمن صاحب بنیادی طور پر کراچی کے رہائشی ہیں اور عرصہ 35 سال سے کاروبار کے سلسلے میں یہیں کے رہائشی ہو چکے ہیں۔ ابتدائی پیشیوں پر میمن صاحب نے کافی جوش جذبہ دکھایا تھا اور دوست احباب کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے باہر شریک بھی ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے مجھے کراچی کے ایک مشہور اور سلسلہ قادریہ کے انتہائی نیک بزرگ سید شہزاد علی شاہ صاحب کے ایک خواب کی بابت بتایا کہ انہیں غازی صاحب کے متعلق ایک بہت پیارا خواب نظر آیا اور یہ خواب مجھے ان کے ایک مرید نے سنایا ہے۔ میں نے میمن صاحب کا سنایا ہوا خواب اپنی کتاب میں تحریر کر دیا بعد ازاں میں نے میمن صاحب سے تصدیق کے لئے دوبارہ رابطہ کیا تو انہوں نے بڑی خوشی سے مجھے بتایا کہ میرا اُن خواب دیکھنے والے بزرگوں سے خود رابطہ ہو چکا ہے اور یہ کہ میں ان سے اجازت لے کر آپ کو ان کا فون نمبر دے دوں گا، آپ ان سے ڈائریکٹ پورا خواب سماعت کریں چنانچہ میمن صاحب نے قبلہ شاہ صاحب سے اجازت لے کر مجھے ان کا فون نمبر مرحمت فرمایا جس پر میں نے قبلہ سے رابطہ کیا اور اس خواب کی حقیقت کی بابت پوچھا تو آپ

صفحہ 399

نے مجھے اس طرح کے دو خواب سنائے جنہیں میں نے لفظ بلفظ لکھ لیا۔

اُن میں سے پہلا خواب یہ ہے۔ قبلہ شاہ صاحب نے بیان فرمایا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سبز وادی ہے اور یہ وادی میدانی علاقے کی محسوس ہوتی ہے، اس میں ایک چھوٹی سی کچی سڑک ہے اور میں اس وادی میں ایک درخت کے نیچے بیٹھا ہوا ہوں دور سے کچھ ہستیاں تشریف لاتی نظر آرہی ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ یہ کون لوگ آرہے ہیں تو ایک شخص جو مجھے یاد نہیں کون تھا وہ کہتا ہے کہ یہ بزرگ لگتے ہیں اور ہیں بھی بہت سارے اور بڑے نورانی بزرگ ہیں۔ میں بھاگ کر اُن کے قریب پہنچ جاتا ہوں۔ ان میں سے ہر شخص بڑا صاحب جمال نظر آتا ہے ، ان میں سے ایک بزرگ ہیں جو دراز قد، چوڑا سینہ ، مضبوط جسم، مضبوط ہاتھ اور جسمانی ساخت کے لحاظ سے بڑے لگتے ہیں وہ اس قافلے کے سردار لگتے ہیں اور آگے آگے چل رہے ہیں۔ میں نے جا کر ان سے باادب مصافحہ کیا ، ان بزرگوں کی پہلے بھی زیارت کی تھی یہ جناب حضرت عمر فاروق ؓ تھے، میں پھر بھی پوچھتا ہوں کہ یہ کون بزرگ ہیں تو جواب ملتا ہے کہ یہ حضرت سیدنا فاروق اعظم ؓ ہیں۔ ایسے میں دوبارہ جناب کے قریب جاتا ہوں اور ان کی دست بوسی کرتا ہوں ، ان کے ہاتھ میں انتہائی خوبصورت اور انتہائی شاندار پیکنگ میں کچھ تحائف ہیں اور یہ تحائف انتہائی خوبصورت لگتے ہیں۔ میں عرض کرتا ہوں کہ حضور میرا گھر قریب ہے، میرے گھر تشریف لائیں، آپ فرماتے ہیں ہم جلدی میں ہیں۔ میں عرض کرتا ہوں حضور کہاں کا ارادہ ہے، آپ فرماتے ہیں یہ تحائف ہیں جو ملک ممتاز حسین قادری کے لئے لے کر جا رہے ہیں۔ میرے دل میں آتا ہے میں بھی کوئی تحفہ پیش کروں چنانچہ میں عرض کرتا ہوں حضور میں بھی کوئی تحفہ پیش کر دوں ، آپ فرماتے ہیں جیسے تیری مرضی اور یہ تحفے تو بڑی بارگاہ یعنی بارگاہِ رسالت مآب ﷺ سے بھیجے گئے ہیں۔ پھر میں جناب مولیٰ فاروق اعظم ؓ سے لپٹ کر روتا ہوں اور انتہائی بے قرار ہوتا ہوں ، وہ مجھ سے پیار کرتے ہیں اور مجھے دلاسہ دیتے ہیں تو مجھے سکون مل جاتا ہے اور پھر فرماتے ہیں مجھے بڑی جلدی ہے میں جاتا ہوں، میں اُن سے ملتے ملتے دل میں کہہ رہا ہوں ممتاز قادری کو میرا سلام، ممتاز قادری کو میرا سلام۔

یہ خواب جو مجھ تک پہلے پہنچا تھا اس میں حضرت عمر فاروق اعظم ؓ کی جگہ حضرت عثمان

صفحہ 400

غنی ؒ کا اسمِ گرامی تھا۔ میں نے اس خواب کو کئی ایک محافل میں اس طرح بیان کیا تھا اور جن لوگوں نے مجھ سے یہ خواب پہلے سُن رکھا ہے شاید وہ اس جگہ دوسرے الفاظ سے پڑھ کر پریشان ہوں تاہم الفاظ کی درستگی فرمالی جائے کیونکہ یہ الفاظ خود صاحبِ خواب سے میں نے سنے ہیں۔

ہے میں فجر کی نماز کے بعد وظائف کر کے سوتا ہوں اور جمعرات کے دن میرا وظیفہ صرف درودِ تاج شریف ہوتا ہے۔ پہلے خواب کے کچھ عرصہ بعد جمعرات کے دن میں درودِ شریف پڑھ رہا تھا ،پڑھتے پڑھتے نیند کا غلبہ ہوا اور میں سو گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک انتہائی خوبصورت اونچا منبر نصب ہے اور اس پر ایک چھوٹے قد کے کمزور جسم مگر انتہائی خوبصورت اور با رعب و نورانی بزرگ جن کے سر پر بہت بڑا عمامہ باندھا ہوا ہے۔ جلوہ گر ہیں۔ منبر کے سامنے حضور داتا گنج بخش علی ہجویری رحمہ اللہ لاہوری کھڑے ہیں اور دائیں بائیں اور بھی بزرگ کھڑے ہیں جن میں تاجدارِ گولڑہ حضرت قبلہ پیر سید مہر علی شاہ رحمہ اللہ اور کراچی کے حضرت ڈاکٹر محمد مسعود احمد رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں، وہ بھی اس منبر کے سامنے کھڑے ہیں، اتنے میں حضرت داتا علی ہجویری منبر پر بزرگوں کی خدمت میں ایک درخواست پیش فرماتے ہیں اور وہ داتا صاحب سے لے کر پڑھتے ہیں۔ میں ڈاکٹر مسعود احمد صاحب سے پوچھتا ہوں کہ یہ منبر پر نورانی شخصیت کون ہیں اور یہ درخواست کا کیا معاملہ ہے، ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں یہ منبر پر حضرت شہنشاہِ ولایت حضرت مولا علی پاک کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم ہیں اور داتا صاحب نے ان کی خدمت میں درخواست پیش کی ہے کہ وہ بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عرض کریں کہ ملک ممتاز حسین قادری چونکہ میرے زیر انتظام علاقے میں ہے لہٰذا اس کو میرے سپرد فرما دیں۔ حضرت مولا علی ؑ اس درخواست کو پڑھتے ہیں ، مسکراتے ہیں اور فرماتے ہیں ممتاز حسین قادری آپ ہی کے سپرد ہو گا میں یہ درخواست بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں پیش کردوں گا۔

قارئین قبلہ شاہ صاحب کی طرف سے فون نمبر دینے کی اجازت نہیں ہے تاہم حنیف میمن صاحب کا فون نمبر یہ ہے 0300-9560946۔

نے بتایا اس دفعہ کی ملاقات ضیاء العلوم گیا، وہاں قبلہ فرمایا قادری صاحب مجھے نے اور نعت سنائی پھر فرمایا

میں بطور مہمان مدعو کیا۔ میں سکالر آغا مظہر حسین مشہدی اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بعد جامعہ امجدیہ کراچی کے رات کو خواب دیکھا ہے کہ صورت اور سفید گھوڑے پر ہوں کہ یہ کون ہستیاں ہیں احترام کے ساتھ ان کی زیا ہے۔ میں اس پر بیٹھے ہوئے کرتا ہوں تو وہ ملک ممتاز رخصت ہو جاتے ہیں۔ اس

کرامت : موضع

ملک کی طرح غازی صاحب روڈ پر سینیٹر شاہدہ لطیف ایک بڑی تصویر اس کوٹھی وقت اس تصویر پر رنگ، پوچھ گچھ شروع ہو گئی کہ

صفحہ 401

نے بتایا اس دفعہ کی ملاقات پر مجھے غازی صاحب نے خواب سنایا کہ میں خواب میں جامعہ رضویہ ضیاء العلوم گیا، وہاں قبلہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب کی دست بوسی کی، شاہ صاحب نے ارشاد فرمایا قادری صاحب مجھے نعت سنائیں، میں نے نعت سنائی، آپ نے پھر فرمایا اور سنائیں میں نے اور نعت سنائی پھر فرمایا اور سناؤ میں انہیں نعت سنا ہی رہا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔

میں بطور مہمان مدعو کیا۔ میرے ساتھ وفاق المدارس کے جنرل سیکرٹری حنیف جالندھری اور شیعہ سکالر آغا مظہر حسین مشہدی کو بھی مدعو کیا گیا۔ دورانِ گفتگو راقم نے بلا خوف و خطر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے منصب و شان کا دفاع کیا اور گستاخان صحابہ کا کھل کر رد کیا۔ دو دن بعد جامعہ امجدیہ کراچی کے ایک طالب علم کا مجھے فون آیا اور اس نے خواب بیان کیا کہ میں نے رات کو خواب دیکھا ہے کہ ایک جگہ پر آپ (حنیف قریشی) کھڑے ہیں اور وہیں چار انتہائی خوب صورت اور سفید گھوڑے ہیں اور ان پر انتہائی نورانی ہستیاں تشریف فرما ہیں۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ یہ کون ہستیاں ہیں ۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ خلفائے راشدین ہیں ۔ میں انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ ان کی زیارت کرتا ہوں اتنے میں ایک پانچواں گھوڑا اسی طرح کا وہاں موجود ہوتا ہے۔ میں اس پر بیٹھے ہوئے شخص کو دیکھتا ہوں وہ بھی انتہائی خوبصورت نظر آتا ہے۔ جب میں غور کرتا ہوں تو وہ ملک ممتاز حسین قادری ہوتے ہیں ۔ چنانچہ یہ پانچوں حضرات اکٹھے وہاں سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور میں بیدار ہو گیا۔

کرامت : موضع اٹھال غازی صاحب کا سسرالی گاؤں ہے اور وہاں کے مسلمان بھی پورے ملک کی طرح غازی صاحب سے محبت کرنے والے ہیں، اٹھال گاؤں میں داخل ہونے سے پہلے روڈ پر سینیٹر شاہدہ لطیف کی کوٹھی ہے، کچھ عاشقوں نے غازی صاحب کی پینا فلیکس کی بنی ہوئی ایک بڑی تصویر اس کوٹھی کی دیوار پر آویزاں کردی، کچھ دنوں کے بعد کسی بدبخت نے رات کے وقت اس تصویر پر رنگ، سیاہی پھیر دی۔ صبح جب اہل علاقہ نے دیکھا تو پورا گاؤں اکٹھا ہو گیا، اور پوچھ گچھ شروع ہوگئی کہ یہ مکروہ فعل کس نے کیا ہے۔ اتنے میں گاؤں کے نوجوان بچے اور بوڑھے،

صفحہ 402

خواتین بھی جمع ہو گئے ، نوبت نعرے بازی تک پہنچ گئی اور کچھ جذباتی جوانوں نے غصے میں فائرنگ کردی۔ گہما گہمی جاری تھی کہ اچانک کہیں سے بادل نمودار ہوا اور زور دار بارش شروع ہوگئی، صرف پانچ منٹ کے اندر لوگوں کے دیکھتے ہی دیکھتے بارش نے غازی صاحب کی تصویر کو بالکل صاف کر دیا ۔ حیران کن امر یہ تھا کہ اس پورے علاقے میں بارش صرف اسی چوک اور کوٹھی کے ارد گرد چند سو فٹ کے ایریا میں ہوئی باقی پورے گاؤں میں کہیں بھی بارش نہ ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ میرے حبیب ﷺ کے عاشق کی تصویر پر ظاہری طور پر بھی کوئی سیاہی مل دے ۔ وہاں کے معززین نے غازی صاحب کے گھر آکر اس بات کی تصدیق کی اور ان کے بھائیوں کو مبارکباد دی۔ برائے تصدیق وہاں کے رہائشی راجہ جبار صاحب ، راجہ غفار صاحب چن زیب اور راجہ محمد اسحاق ، مرتضیٰ ولد عبد القیوم ، شریز ولد عبد القیوم اور موقع پر موجود بیسیوں مرد و خواتین سے اس کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔

تیرے سانسوں میں برکت بسی ہے

ممتاز حسین قادری صاحب کے اڈیالہ جیل جانے سے جیل میں بڑی رونقیں لگی ہوئی ہیں ۔ اڈیالہ جیل سے رہا ہو کر آنے والے ایک قیدی جس کا تعلق چوترہ سے ہے اس نے بیان کیا ہے کہ جیل میں بعض قیدیوں کی ڈیوٹی غازی صاحب کے سیل میں لگتی ہے چنانچہ ہمارے علاقے کا ایک قیدی کینسر کے مرض کا مریض ہو گیا تو جب اس کی ڈیوٹی غازی صاحب کے سیل میں لگی تو اس نے غازی صاحب سے پانی دم کروا کر پیا تو اللہ تعالیٰ نے غازی صاحب کی برکت سے اس کو شفاء عطا فرمادی ۔

صفحہ 403

ملک ممتاز حسین قادری اور شعراء

ممتاز حسین قادری کے اقدام کی حمایت جہاں علماء، مشائخ کرام نے کی وہیں ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے غازی صاحب کو خراج عقیدت پیش کیا۔ ذیل میں ان لوگوں کا کلام پیش کیا جارہا ہے جنہوں نے غازی صاحب کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کیا ، یہ وہ چند لوگ ہیں جن کا کلام راقم کو آج تک میسر آسکا وگرنہ ملک میں نہ جانے کتنے عشاق ہوں گے جنہوں نے مجاہد اسلام کے حضور خراج عقیدت پیش۔ میری ایسے تمام لوگوں سے گذارش ہے وہ اپنا اپنا کلام راقم تک پہنچا دیں تاکہ آئندہ ایڈیشن میں اسے بھی شامل اشاعت کر دیا جائے۔

غازی ممتاز حسین قادری صاحب نے تھانہ کوہسار میں عشق و مستی میں ڈوب کر ایک کلام ”یا رسول اللہ تیرے چاہنے والوں کی خیر“ پڑھا جس کی بابت لکھا جا چکا ہے کہ وہ کلام ملک میں بہت زیادہ مقبول ہوا اسی کلام کی طرز پر طاہر قیوم طاہر صاحب آف مظفر آباد آزاد کشمیر نے نذرانہ پیش کیا ہے۔

عاشقوں کی بزم میں ممتاز تو ممتاز ہے

ہر زباں پہ ہر طرف یہ ایک ہی آواز ہے عاشقوں کی بزم میں ممتاز تو ممتاز ہے
الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ الصلوۃ والسلام علیک یاحبیب اللہ
یارسول اللہ تیرے چاہنے والوں کی خیر
ہے دُعا یہ مولا رکھنا خاص تُو اُس پہ کرم جس جواں نے رکھ لیا ہے سب غلاموں کا بھرم
بندگی کو فخر اس پر عاشقی کو ناز ہے عاشقوں کی بزم میں ممتاز تو ممتاز ہے
ہر زباں پہ ہر طرف یہ ایک ہی آواز ہے
خوش ہوئے اقبال، رومی، جامی اور احمد رضا کر دیا پیدا دلوں میں تُو نے عشق مصطفیٰ
روح عامر اور غازی کو بھی تجھ پہ ناز ہے عاشقوں کی بزم میں ممتاز تو ممتاز ہے
صفحہ 404
ہر زباں پہ ہر طرف یہ ایک ہی آواز ہے
دل میں جو رکھے گا اُلفت ہوگا وہ ان کے قریب صدیوں میں تجھ جیسے جاکے ہوں گے پیدا خوش نصیب
تُو نے پالیں رفعتیں واہ کیا تیری پرواز ہے عاشقوں کی بزم میں ممتاز تُو ممتاز ہے
ہر زباں پہ ہر طرف یہ ایک ہی آواز ہے
تیری جرأت، عظمتوں کو اہل ملت کا سلام ہو مبارک تجھ کو غازی تُو نے جو پایا مقام
تا ابد رتبے پہ تیرے سب جہاں کو ناز ہے عاشقوں کی بزم میں ممتاز تُو ممتاز ہے
ہر زباں پہ ہر طرف یہ ایک ہی آواز ہے
ہوش مندی کا تقاضا ہوش سے سب کام لیں بے ادب تنقید کرنیوالے اتنا جان لیں
عاشقان مصطفیٰ کا یہ بھی اک انداز ہے عاشقوں کی بزم میں ممتاز تُو ممتاز ہے
ہر زباں پہ ہر طرف یہ ایک ہی آواز ہے
لوگ کرتے رہ گئے جلسے اور احتجاج خوش نصیبی کا سجا ہے تیرے سر پہ اک تاج
جرم تیرا وہ کہ جس پہ عارفوں کو ناز ہے عاشقوں کی بزم میں ممتاز تُو ممتاز ہے
ہر زباں پہ ہر طرف یہ ایک ہی آواز ہے
عقل سے پردہ جہالت نے اُٹھایا ہی نہیں اہل منطق کی سمجھ میں معاملہ آیا نہیں
اہل اُلفت جانتے ہیں یہ بڑا اعزاز ہے عاشقوں کی بزم میں ممتاز تُو ممتاز ہے
ہر زباں پہ ہر طرف یہ ایک ہی آواز ہے
ہو نہ قربانی تو کوئی داستان سجتی نہیں عشق احمد ﷺ کے بنا کوئی بات بنتی نہیں
جان لے طاہر یہی تو زندگی کا راز ہے عاشقوں کی بزم میں ممتاز تُو ممتاز ہے

طاہر قیوم طاہر مظفر آباد آزاد کشمیر

صفحہ 405

ممتاز قادری کے نام (طاہر قیوم طاہر)

دیارِ عشق میں پیدا مقام تُو نے کیا
نبی کے عشق کو لوگوں میں عام تُو نے کیا
جو کام کر سکی نہ خلقت خدا مل کر
اکیلے خود ہی وہ ممتاز کام تُو نے کیا
بہت سے تشنہ کھڑے منتظر رہے لیکن
رسولِ پاک کی الفت کا جام تُو نے پیا
پڑھی جو نعتِ نبیؐ تو نے اک اسیری میں
ثناء خوانوں کا اونچا مقام تُو نے کیا
تجھے زمانے سے طاہر نہ کیوں جُدا لکھے
نہ کر سکا جو کوئی بھی وہ کام تو نے کیا

☆☆☆☆☆☆

توحید و رسالت کی خوشبو ہر سُو پھیلا کے دَم لیں گے
ہم فکرِ مدینہ کا پرچم ہر سُو لہرا کے دَم لیں گے
یہاں قاتل بیٹھیں محلوں میں اور غازی تڑپیں جیلوں میں
ہم جبر کے ظالم ہاتھوں سے غازی کو چھڑا کے دَم لیں گے

ڈاکٹر اشرف آصف جلالی

صفحہ 406

غازی ممتاز قادری کی پکار

خود کو تیری یادوں کا غلام کر دیا
تیری خاطر خود کو فنا کر دیا
اور ثبوت کیا دوں میں اپنی محبت کا
اس سینے میں اک دل تھا جو تیرے نام کر دیا
ستائیس گولیوں کا برسٹ کر کے
گورنر تاثیر کو تمام کر دیا
شیری ہو یا عبدالرحمن ، عاصمہ ہو یا غامدی
اچھی طرح سن لو یہ تحفہ تمام گستاخوں کے نام کر دیا

پوری قوم پہ احسان کر گیا

کیا کارنامہ دیکھو اک نوجوان کر گیا
تازہ ہمارے دل میں وہ ایماں کر گیا
واصل جہنم کر دیا شیطاں کی تاثیر کو
قادری تو پوری قوم پہ احسان کر گیا
عشق نبی ﷺ پہ وار دی لذت جہان کی
اگلے جہاں کا کیسا تو سامان کر گیا
گردن پہ ہر گستاخ کی شمشیر ہے مسلم
وقتِ روانگی تو یہ اعلان کر گیا
تیرے عمل سے حوصلہ کتنوں کو ہے ملا
ہم مصلحت پسندوں پہ تو احساں کر گیا
صفحہ 407

﴿ گل ہائے تحسین ﴾ محمد عبدالقیوم طارق سلطانپوری

بخدمت مجاہد اسلام غازی ملت محترم المقام ملک ممتاز حسین قادری حفظہ اللہ

(ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند)

جو نہیں سرکار کا عاشق وہ کب ممتاز ہے
جسکے دل میں اُنکا ہے عشق و ادب ، ممتاز ہے
اس سے پہلے وہ برائے نام ہی ممتاز تھا
کر گیا اِک امتیازی کام ، اب ممتاز ہے
آج لاکھوں عاشقانِ مصطفیٰ اُس کے ساتھ
کیا انوکھا محترم ہے ، کیا عجب ممتاز ہے
وقت کا مغرور حاکم تھا جو گستاخِ حضور ﷺ
اس کو پہنچایا جہنم میں وہ تب ممتاز ہے
اس دلیرانہ عمل سے اُس نے ثابت کر دیا
وہ نجیب الاصل ہے اُس کا نسب ممتاز ہے
جیل جنت ہے محمد کے فدائی کے لئے
اُسکا دن بے مثل دن ہے اُسکی شب ممتاز ہے
حاکمانِ وقت کیا معصوم کو دیں گے سزا
قادری ممتاز ازل کے دن کا جب ممتاز ہے
علم دین ، عبدالرشید و عامر و عبدالقیوم
ہر فدا کارِ شہِ اعلیٰ نسب ممتاز ہے
جاں نثارانِ محمد کی نہیں اِس میں کمی
خطہء پاک ایسے شیروں کے سبب ممتاز ہے
شیفتہ ہے جو حبیبِ حق کا بندۂ عظیم ہے
جو ہے عبدِ مصطفیٰ وہ عبدِ رب ممتاز ہے
سرفروشوں میں نمایاں ہیں محمد کے شہید
انبیاء میں جیسے سلطانِ عرب ممتاز ہے
وہ نہیں جو عاشقانِ احمدِ مختار ہیں
اُن کے جو گستاخ ہیں وہ موت کے حقدار ہیں
عاشقانِ مصطفیٰ کا خوشنما انجام ہے
اُن کا جو گستاخ ہے اُس کا بُرا انجام ہے

☆☆☆

صفحہ 408

منقبت غازی اسلام ملک ممتاز حسین قادری صاحب سلمہ، اللہ تعالیٰ

مولانا سید امتیاز حسین شاہ کاظمی

عاشقان مصطفیٰ کا منفرد انداز ہے
ان غلامان نبی میں تو بڑا ممتاز ہے
جان دینے سے نہیں ڈرتا تو اے شیر نبی
تیری یہ جرأت مدینے والے کا اعجاز ہے
جان و دل سے ہوگئے تم اپنے آقا پر نثار
کربلا والوں کو تیری اس وفا پر ناز ہے
اس زمیں پر نہ رہے ، گستاخ اب باقی کوئی
میرے غازی تیرے دل کی بس یہی آواز ہے
یہ پیام عشق دیتے ہی رہے تم جیل میں
جان اُن پر وار دو یہ ہی فلاح کا راز ہے
تیری آمد پر میدان حشر میں بولے حضور
دیکھ لو اس کی وفا ،یہ ہی میرا ممتاز ہے
غازی علم الدین اور ممتاز احمد قادری
اُمت احمد کو سَیّد ،دونوں پر ہی ناز ہے

☆☆☆

صفحہ 409

منقبت عاشق رسول ممتاز احمد قادری تقبل اللہ تعالیٰ عملہ

مولانا سید امتیاز حسین شاہ کاظمی

فخر عُشّاق نبی ممتاز احمد قادری
خادم غوث جلی ، ممتاز احمد قادری
عشق احمد سے میرا سینہ منور ہو گیا
داستاں تیری سنی ، ممتاز احمد قادری
تو ہے وہ عاشق پیارے مصطفیٰ کی ذات پر
وار دی ہے زندگی ، ممتاز احمد قادری
غازی اسلام تیری جرات ایمان سے
ہم نے پائی روشنی ، ممتاز احمد قادری
تیری اس جرات نے پھر اسلام کو بخشا وقار
تو ہے اک مرد جری ، ممتاز احمد قادری
جلسہء شانِ نبی وہ جوش تقریر ”حنیف“
نعت بھی تو نے پڑھی ممتاز احمد قادری
ہاتھ میں ہے ہتھکڑی ، لب پر نبی کی نعت ہے
کیسی ہے دیوانگی ، ممتاز احمد قادری
کیا ہے درجہ ان پہ مر مٹنے کا سید دیکھ لے
بول اٹھی ہے ہر کلی ممتاز احمد قادری
صفحہ 410

عہد حاضر کا غازی علم الدین

﴿ملک ممتاز حسین قادری﴾

سعید بدر

مرحبا اے مرد حق ! اے صاحب صدق و صفا
آن واحد میں یہ کیسا معرکہ سر کر لیا
لاج رکھ لی قادری نے ہم غریبوں کی ہے آج
لرزہ براندام واشنگٹن میں لیکن سامراج
دین حق کا قادری نے نام روشن کر دیا
جذبہء مہر و اطاعت ہے دلوں میں بھر دیا
ہوگیا ہے شامل اہل وفا ممتاز آج
کر دیا اہل محبت کا سر سرفراز آج
دین و دنیا میں ہوا ممتاز مرد قادری
سرور دیں سے وفا کی جس نے بازی جیت لی
سر خوش و سرسبز ہے ” اہل محبت “ کا سفر
جاں فزا و روح پرور ، سر بلند و مفتخر
آپ کو صدہا مبارک ! مرحبا ! صد مرحبا !
عاشقان مصطفیٰ کا بول بالا کر دیا
یہ چمن مدت سے تھا مایوسیوں سے ہمکنار
چھا گئے تھے وسوسوں کے ابر ناپیدا کنار
صفحہ 411
ارتداد و کفر کے عامل تھے ہر جا سر بلند
تھے پریشاں حال لیکن اہل عشق و درد مند
مارے مارے پھر رہے تھے اہل حق ہر چار سو
جبر و استبداد کا سکہ رواں تھا کو بکو
لوٹ کا بازار تھا سرگرم ہر جا صبح و شام
لوٹتے تھے شہر کے والی رعایا کو مدام
حفظ جان و مال کا تھا مٹ گیا نام و نشاں
دندناتے پھر رہے تھے چور اور ڈاکو یہاں
غربت و افلاس کا چھایا تھا طوفان بلا
ایک نان جو کا متلاشی تھا ہر چھوٹا بڑا
عیش و عشرت میں تھے ڈوبے اہل ثروت سر بسر
وہ غریبوں کے مصائب سے رہے تھے بے خبر
بڑھ گئی تھی ”راج پالوں“ کی مسلسل سرکشی
بے بسی تھی اہل مسلم کی و لیکن دیدنی
بوستان عشق میں پھر آگئی یکدم بہار
چہچہانے لگ گئے ہیں طوطی و دراج و سار
دل کشا و جاں فزا نغمے ہیں پھیلے چار سو
نغمہ زن ہیں بلبلیں سب ، نغمہ ہائے الا ھو
کھل اٹھے ہیں پھول ، کلیاں نو بنو اور جا بجا
موتیا ، ریحان و سوسن ، لالہ و گل ، دل کشا
صفحہ 412
ہے مشام جاں معطر اور چمن مہکا ہوا
ایسے میں ” پُر جوش بندہ “ جوش میں تھا آگیا
”کارنامہ“ مرد حُر نے آج کیسا کر دیا ؟
ایک ” گستاخ نبی “ دوزخ کا ایندھن بن گیا
آن واحد میں ہوا ممتاز مرد دل فگار
ایک معمولی ملازم ، ایک ادنیٰ اہل کار
وقت کا فرماں روا ، مغرور و سرکش ، بے یقیں
دیں سے بیگانہ ، گستاخ نبی آخریں
لوگ حیراں تھے کہ چڑیا نے کیا ” چیتا “ شکار
اور میداں میں رہا ڈٹ کر کھڑا ، مردانہ وار
اس کے چہرے سے نمایاں تھی ”سکینت“ سر بسر
اس کی پیشانی سے ظاہر تھا کہ تھا وہ مفتخر
” عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام“
کس قدر نکلا وہ عاشق ، تیز قسمت ، تیز گام
عام سا اک بندہ ، ”محبت کا سفر“ طے کر گیا
” خدمت سرکار “ میں آخر وہ سر کے بل گیا
رب کعبہ نے بلندی کا اسے بخشا ہے تاج
انگلیاں دانتوں میں ڈالے دیکھتا ہے سامراج
اس کے گھر کو قوم نے پھولوں سے آخر بھر دیا
سرور دیں کے لئے ہے جس نے اپنا سر دیا
صفحہ 413
آج پھر ترکھان کا بیٹا ہے بازی لے گیا
عشق احمد کا ہمیں پیغام بے شک دے گیا
بدر مل سکتے ہیں اس رستے میں وہ بھی آج راج
اور ” دل مسلم “ پہ کر سکتے ہیں وہ بھی آج راج
یہ وہ رستہ ہے جو لے جاتا ہے ”شہر پاک“ میں
بات آسکتی نہیں یہ جہل کے ادراک میں
یہ وہ ” رستہ “ ہے جو لے جاتا ہے جنت میں ہمیں
شرط اتنی ہے کہ عشق مصطفیٰ میں کٹ مریں
آج بھی زندہ و تاباں ، راہ علم الدین ہے
کیا نمایاں اور درخشاں ، راہ علم الدین ہے
سن لیں ” گستاخ رسالت “ آج بھی زندہ ہیں ہم
ہیں صداقت کے امیں ، ہیں زندہ و تابندہ ہم
بدر ! کر اخلاص سے رب علیٰ سے یہ دعا
اے اللہ ! مجھ کو چلا راہ شہیدان وفا

☆☆☆

صفحہ 414

میرے مولا میرے ممتاز غازی کو رہا کر

(راقم مفتی محمد حنیف قریشی)

اے میرے ملجا میرے ماویٰ خالقِ بحر وبر
اے کریم و رحیم داتا ! رازق جن و بشر
کرم ہم پر بجاہ خیر الوریٰ کر
میرے مولی میرے ممتاز غازی کو رہا کر
تو نے بخشا تھا اسے ذوقِ جنون وعشقِ احمد نبی
اسی باعث سر اس کے دستار محبت تھی سجی
ہم بے نواؤں کو بھی عشق احمد تو عطا کر
میرے مولا ! میرے ممتاز غازی کو رہا کر
بے ادب ہے گستاخ ہے یہ مردود و لعین
کر لیا اس بات کا غازی نے جب پورا یقین
پھر کر دیا حق کو ادا ” ٹرائیگر“ کو دبا کر
میرے مولا میرے ممتاز غازی کو رہا کر
لاڈلا تیرے غوث وداتا کا ہے میرا قادری
سب عاشقوں پر رکھتا ہے بے شک برتری
کر دیا ثابت اس نے جاں اپنی لٹا کر
میرے مولا ! میرے ممتاز غازی کو رہا کر
صفحہ 415
کرتے ہیں اعلان ہم اس کے ہیں حمایتی
چشتی ہوں یا قادری چاہتے ہیں اس کو سبھی
یہ کرم ہم پر بجاہ سید الوریٰ ﷺ کر
میرے مولا ! میرے ممتاز غازی کو رہا کر
میں ہوں عاشق خیر الوری میرے عشق میں کوئی کمی نہیں
یہ ہے گستاخ و بے حیا اور کوئی دشمنی نہیں
اسی باعث جا رہا ہے یہ جاں اپنی گنوا کر
میرے مولا میرے ممتاز غازی کو رہا کر
کھاتا ہے لحم پلید رہتا ہے نشہ شراب میں
لکھ گیا ”آتش تاثیر“ سب کچھ اپنی کتاب میں
اے وکیل مردک ! کچھ تو بھی تو حیا کر
میرے مولا ! میرے غازی کو رہا کر

☆☆☆

صفحہ 416

میرا یار قادری ڈاکٹر اشرف آصف جلالی

ہر عاشق رسول کا دلدار قادری
اب بن گیا ہے عشق کا معیار قادری
عہد رواں کا قول و اقرار قادری
فیض رضا سے پیکر کردار قادری
صدیوں میں نور جائے گا اس شیر مرد کا
اب بن گیا ہے نور کا مینار قادری
جو روکتا ہے اکبار نام لینے سے
ہم کہہ رہے ہیں بار بار قادری
ہم توڑیں گے جیل کی دیوار آپ ہی
خود بن گیا ہے جذبوں کا سالار قادری
میں کہہ رہا ہوں حاکموں سے خوب جان لو
اب ہر گلی میں دیکھو گے تیار قادری
جس دن سے وہ گستاخ پر تلوار بن گیا
اس دن سے بن گیا ہے میرا یار قادری
☆☆☆☆☆

دعا

الٰہی یہ پُر اثر میری دعا کر
بجاہِ مصطفیٰ ﷺ خیر الوریٰ کر
خداوندا دعا میری یہی ہے
میرے ممتاز غازی کو رہا کر
صفحہ 417

ممتاز حسین غازی

ملک انیس مقصود علوی

خدا و مصطفیٰ مولا علیؓ ہو گئے تجھ پہ راضی
اے ممتاز حسین غازی ممتاز حسین غازی
جھوم و چوم کر موت کو گلے لگا لیا تو نے
عاشق رسولؐ کو اور کیا سزا دیں گے قاضی
جان کو اپنی رکھ دیا پیارے نبیؐ کے قدموں میں
پھر سبقت لے گئے حق اور وفا کی یہ بازی
اپنے آقاؐ کو جان سے عزیز رکھنا اے غیور امتی
یاد علم دین شہیدؒ کی ہو گئی پھر تازی
پھنسانا چاہا، جھکانا چاہا، حنیف قریشی و امتیاز کاظمی کو
سُرخرو ہوئے یہ دونوں حضورؐ کی ہے یہ بندہ نوازی
خدا آباد رکھے تا حشر جماعت اہل سنت کو
یہی دعا مانگ گئے مولانا عبدالستار خان نیازیؒ
انیس ہو گئے قربان ناموس رسالت پر عامر چیمہ
ارے گستاخ بھول نہ جانا بس یہ ہے ہمارا ماضی

ملک انیس مقصود علوی گوجرخان، کلیام اعوان

صفحہ 418

آقا کا ثنا خوان ہے ممتاز قادری

عبدالحمید مدنی

ملت کا نگہبان ہے ممتاز قادری
اہل وطن کی شان ہے ممتاز قادری
عشق رسول پاک سے روشن ہے جس کی فکر
وہ صاحب ایمان ہے ممتاز قادری
مہکی ہے جن کی سوچ درود و سلام سے
آقا کا ثنا خوان ہے ممتاز قادری
گستاخ رسول کو ٹھکانے لگا دیا
دین کا پاسبان ہے ممتاز قادری
نگاہ سرور کونین کا چنیدہ ہے تو
عظمتوں کا نشان ہے ممتاز قادری

☆☆☆

صفحہ 419

رشک تجھ پر ہے ممتاز قادری

اسلم ساگر اسلام آباد

وہ کام کر گیا ہے تو ممتاز قادری
لگتا ہے علم الدین کا ہمزاد قادری
کچھ اس طرح دیا گیا نواز قادری
جاتا ہے روز دید کو حجاز قادری
اک داستان کا کر گیا آغاز قادری
تو کر گیا ہے اونچی وہ پرواز قادری
چھیڑا ہے تو نے موت کا وہ ساز قادری
تجھ پر سبھی عشاق کو ہے ناز قادری
رب کو پسند آیا یہ انداز قادری
آیا نہ ایسے کام سے وہ باز قادری
پایا ہے جو کہ پنہاں تھا اک راز قادری
عشق نبیؐ کا بالیقین غماز قادری
ناموس مصطفیٰ کا ہے شہباز قادری
بخشا ہے تجھ کو آقا نے اعزاز قادری
جھومر بنا ہے ماتھے کا جانباز قادری
تو کر گیا ہے ایسی تگ و تاز قادری
برسوں کرے گا تجھ پر جہاں ناز قادری
تحریک اہلسنت کا دمساز قادری
تجھ کو کیا خدا نے سرافراز قادری
تو سر فروش اور ہے جانباز قادری
کھولی ہے وہ بھی آنکھ جو نہ تھی باز قادری
تیرے لئے ہے جنت کا در باز قادری
ساگر کو رشک تجھ پر ہے ممتاز قادری
صفحہ 420

ناموس رسالت ﷺ کیلئے جان ہے حاضر

(سید عارف محمود مہجور رضوی)

اولاد کا دولت کا ہر اک مان ہے حاضر جینے کا بہم ہر کوئی سامان ہے حاضر
جو شان میسر ہے وہ ہر شان ہے حاضر حق نے جو کیا ہم پہ وہ احسان ہے حاضر
ناموس رسالت کے لئے جان ہے حاضر
ناموس رسالت کی حفاظت ہے عبادت ناموس رسالت کی وکالت ہے عبادت
ناموس رسالت کی اشاعت ہے عبادت اس کام کو ہر صاحب ایمان ہے حاضر
ناموس رسالت کے لئے جان ہے حاضر
ناموس رسالت کے تحفظ کا یہ قانون ترمیم نہیں اس میں روا، بدلے نہ مضمون
کب کوئی ہے اس باب میں جو ٹھہرا ہو ماذون منکر کے لئے موت کا سامان ہے حاضر
ناموس رسالت کے لئے جان ہے حاضر
ناموس رسالت سے کرے جو بھی بغاوت بدگوئے نبوت کی کرے جو بھی اعانت
مومن کیلئے اس سے مناسب ہے عداوت سرکوبی شاتم کو مسلمان ہے حاضر
ناموس رسالت کے لئے جان ہے حاضر
ناموس رسالت پہ کریں بات لفنگے آداب سے بے بہرہ، جہاں بھر کے تلنگے
کپڑے جو پہن کر بھی نظر آتے ہیں ننگے ان سب کے لئے دُرّہ ایمان ہے حاضر
ناموس رسالت کے لئے جان ہے حاضر
گستاخ نبوت کو نہیں ہوگی معافی اس جرم کی ہوسکتی نہیں کوئی تلافی
مر کر بھی سزا پائے گا وہ کافی و شافی جو کوئی بھی اس قسم کا شیطان ہے حاضر
ناموس رسالت کے لئے جان ہے حاضر
صفحہ 421
توہین رسالت کی سزا قتل بھلی ہے ملعون کرے اس پہ فقط رائے زنی ہے
اس ضمن میں کب چھوٹ کسی کو بھی ملی ہے چاہو جو حوالہ تو یہ قرآن ہے حاضر
ناموس رسالت کے لئے جان ہے حاضر
توہین عدالت کا جنہیں پاس بہت ہے توہین مقننہ کا بھی احساس بہت ہے
ایمان کا لاحق جنہیں افلاس بہت ہے اُن سب کے لئے شرم کا سامان ہے حاضر
ناموس رسالت کے لئے جان ہے حاضر
سلمان بے رشدی ہو کہ تاثیر سے خالی بدگوئے نبوت ہو کہ بدگویوں کا والی
گستاخوں کا جو کوئی بنے حامی موالی ایسوں کیلئے پھر کوئی ترکھان [1] ہے حاضر
ناموس رسالت کے لئے جان ہے حاضر
ہو عاصمہ بے پیر کہ شیطان کی چیلی ملّت کے مقاصد سے نظر جنہوں نے پھیری
اغیار کی پروردہ یہ تیری ہیں نہ میری اسلام ہے ان جیسوں کے بطلان کو حاضر
ناموس رسالت کے لئے جان ہے حاضر
ممتاز ہوئے دہر میں عشاقِ نبی ﷺ حق دار ہوئے حق سے وہ اعزاز جلی کے
مہجور ، سزاوار ہیں ہر ایک خوشی کے ان ہی کیلئے خلد کا پیمان ہے حاضر
ناموس رسالت کے لئے جان ہے حاضر

(بشکریہ العاقب لاہور)

[1] غازی علم الدین شہید

صفحہ 422

ناموس رسالت ﷺ

(ضیاء محمد ضیاء پسرور)

ہے شاہد آج بھی تاریخ اس زندہ حقیقت پر
کہ آنچ آنے نہیں دیتے غلام آقا کی عزت پر
ہوا ہرزہ سرا جب بھی کوئی شانِ رسالت میں
گیا بچ کر نہ زندہ پھر وہ اپنی اس جسارت پر
دیے ہر دور میں عشاق نے جانوں کے نذرانے
کیا سب کچھ تصدق اپنا ناموسِ رسالت پر
اگرچہ راستہ روکا گیا دار و رسن سے اُن کا
مگر چلتے رہے اہل وفا راہِ عزیمت پر
کٹا دیتے ہیں سر اپنے ، لٹا دیتے ہیں گھر اپنے
خدا رحمت کرے اُن عاشقانِ پاک طینت پر
ہے شرطِ اوّلِ ایماں ، محبت سرورِ دیں کی
تحفظ فرض ہے ناموسِ پیغمبر کا امت پر
سلام اُس پر کہ جس کے نام لیوا ہر زمانے میں
بڑھا دیتے ہیں ٹکڑا سر فروشی کے فسانے میں

☆☆☆

صفحہ 423

اس کی تھی یہی سزا مارا گیا اچھا ہوا

پروفیسر بابر حسین بابر

با خدا اچھا ہوا ، مارا گیا اچھا ہوا
بد زبان تھا بے حیاء ، مارا گیا اچھا ہوا
موت ہے بس موت ، توہین رسالت کی سزا
اُس کو تھا اس پر گلہ ، مارا گیا اچھا ہوا
کر رہا تھا بے ادب ، گستاخ عورت کا دفاع
اس طرح کا بے وفا ، مارا گیا اچھا ہوا
میرے آقا سب کو دیتے ہیں محبت کا سبق
نفرتوں میں مبتلا ، مارا گیا اچھا ہوا
مذہب اسلام میں ہے وسعت قلب و نظر
تنگ نظر تھا با خدا ، مارا گیا اچھا ہوا
اس کے مرنے کی خبر جس نے سنی وہ خوش ہوا
ہر مسلمان نے کہا مارا گیا اچھا ہوا
کیوں کریں بابر مذمت اس کے مرنے کی بھلا؟
اس کی تھی یہی سزا ، مارا گیا اچھا ہوا
صفحہ 424

زندہ نہ رہے دہر میں گستاخ کوئی بھی

یہ جان ہے یہ جان ہے یہ جان ہے قربان ناموس رسالت ﷺ پہ ہے مرنا ہی ایمان
نا قابل تسکین ہے توہین رسالت برداشت نہ ہو پائے گا اسلام کا بطلان
جو عقل کے اس کو پس پشت ہی ڈالو تقلید کرو اس کی جو فرمائے ہے وجدان
ناموس رسالت ﷺ پہ کوئی دوسری رائے؟ نا قابل تسلیم ہے اس قسم کا رجحان
ناموس رسالت ﷺ ہے نہیں عام کوئی بات اس بات سے وابستہ مسلماں کا ہے ایماں
کس کام کی ہیں اسکی عبادات و ریاضات حاصل نہ جسے عشق محمد ﷺ کا ہو عرفاں
نذرانۂ جاں لے کے ہتھیلی پہ ہیں پھرتے اللہ نے بخشی ہے جنہیں قوت ایمان
تخلیق ہوئے جن کیلئے دونوں جہاں ہیں آؤ کہ کریں اُن ﷺ پہ ہر اک چیز کو قربان
اے پاک نبی ﷺ! آپ کی ناموس سے بڑھ کر دو جگ میں نہیں کوئی بھی توقیر کا سامان
معمور نہیں یاد سے جو اُن کی وہ دل کیا؟ پُرنم جو نہیں ذکر پہ وہ آنکھ ہے ویران
محبوب ہے ہر وصف فقط آپ ﷺ کے دم سے ہر ایک فضیلت ہے فقط آپ ﷺ کا فیضان
ہیں آپ ﷺ کے کردار کی عکاس احادیث ہے آپ ﷺ کے اوصاف کے غماز یہ قرآن
کہتا ہے بصد آہ یہ غیرت کا تقاضا کب ہوگا تو سرگرم عمل مرد مسلماں
آؤ کہ ہے اب وقت کریں پورے وہ سارے باندھے تھے جو ہم سب نے خداوند سے پیمان
زندہ نہ رہے دہر میں گستاخ کوئی بھی یہ شمع رسالت ﷺ کے ہو پروانوں کا اعلان
سرکار ﷺ کی نسبت سے غلامی کا شرف ہی ہر ایک مسلمان کی بخشش کا ہے فرمان
سرکار ﷺ کی ناموس کی حرمت کا تحفظ مہجور ہے زیست کا تازیست ہی عنوان

مہجور رضوی

ابتداء سے آج تک

ملک ممتاز حسین قادری گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو اپنی کارانہ طور پر حوالہ پولیس کر دیا، آباد پولیس تھانہ کوہسار کے حوالے شہر یار تاثیر کی مدعیت میں FIR

گیا جہاں سے ایک

خصوصی عدالت کے جج ملک محمد ریمانڈ کا مطالبہ کیا گیا جس پر تک اسلام آباد پولیس کے حوالے قبل ہی ممتاز حسین قادری کو دفعہ 164 کا بیان لیا گیا اور اعوان کی عدالت میں پیش کیا پر اڈیالہ جیل منتقل ہونے کا وجوہات کی بناء پر ممتاز حسین قادری

کروائی ، 22 جنو

صفحہ 425

﴿ابتداء سے آج تک ۔۔۔ مکمل عدالتی کاروائی کا خلاصہ﴾

ملک ممتاز حسین قادری صاحب نے 4 جنوری شام 4 بجے اسلام آباد کوہسار مارکیٹ میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو اپنی سرکاری رائفل SMG کا برسٹ مار کر قتل کر دیا اور خود کو رضا کارانہ طور پر حوالہ پولیس کر دیا ایلیٹ فورس کے جوانوں نے ممتاز حسین قادری کو گرفتار کر کے اسلام آباد پولیس تھانہ کوہسار کے حوالے کر دیا۔ جہاں ممتاز حسین قادری کے خلاف سلمان تاثیر کے بیٹے شہریار تاثیر کی مدعیت میں FIR نمبر 2011-6 درج کی گئی۔

گیا جہاں سے ایک دن کا راہداری ریمانڈ حاصل کیا گیا۔

خصوصی عدالت کے جج ملک محمد اکرم اعوان کے سامنے پیش کیا گیا پولیس کی طرف سے 10 روزہ ریمانڈ کا مطالبہ کیا گیا جس پر عدالت نے 6 دن کا ریمانڈ دیتے ہوئے ممتاز قادری کو 11 جنوری تک اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس نے بوجوہ ریمانڈ کی مدت ختم ہونے سے ایک دن قبل ہی ممتاز حسین قادری کو AC اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی عدالت میں پیش کیا، جہاں اس سے دفعہ 164 کا بیان لیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ممتاز حسین قادری کو 10 جنوری ہی کو دوبارہ محمد اکرم اعوان کی عدالت میں پیش کیا گیا جس پر عدالت نے قادری صاحب کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل ہونے کا آرڈر جاری کیا۔ کمشنر اسلام آباد کی خصوصی درخواست پر سیکورٹی وجوہات کی بناء پر ممتاز حسین قادری کے کیس کا ٹرائل اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

کروائی، 22 جنوری کو مچلکے جمع کروائے اور 25 جنوری کی تاریخ پیشی مقرر ہوئی۔

صفحہ 426

سے کیس کو راجہ اخلاق احمد کی عدالت میں ٹرانسفر کر دیا گیا، اور راجہ اخلاق احمد نے یکم فروری کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے کاروائی کو معطل کر دیا۔

ہوئے جہاں ضمانت میں یکم فروری تک توسیع کر دی گئی۔

پیش ہوئے جہاں استغاثہ کی طرف سے وکیل کے پیش نہ ہونے کے باعث سماعت کو اسی دن 11 بجے تک اڈیالہ جیل تک ملتوی کر دیا۔

پیشی اڈیالہ جیل کے اندر ہوئی، جہاں اسلام آباد پولیس کی طرف سے عذر پیش کرنے کے بعد عدالت نے راقم اور سید امتیاز حسین شاہ کاظمی صاحب کو اس کیس سے کلئیر کر دیا اس بناء پر عبوری ضمانت کو واپس کر لیا گیا۔ چنانچہ آج کی پیشی پر عدالت میں مقدمے کا ریکارڈ پیش کیا گیا۔ ریکارڈ میں 40 گواہوں کے نام شامل کئے گئے تھے ان میں سے SI انور شاہ، عبدالوحید کانسٹیبل، طلعت محمود کانسٹیبل ، چوہدری ارشد ولد چوہدری محمد رشید ساؤنڈ اپریٹر یونیک ساؤنڈ سسٹم ڈھوک علی اکبر نے دفعہ 164 کے تحت اسلام آباد میں مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کروائے تھے۔ لیگل ڈی ایس پی اور کیس کے تفتیشی حاکم خان نے عدالت سے درخواست کی کہ چونکہ ابھی تک عدالت سے 164 کے بیانات فراہم نہیں کئے گئے اور ان کے حصول کیلئے سیشن جج اسلام آباد کی عدالت میں درخواست گذاری گئی ہے۔ لہٰذا ہمیں وقت دیا جائے تاکہ ہم ریکارڈ کو مکمل کر کے عدالت میں پیش کر سکیں۔ چنانچہ عدالت نے 4 فروری کی تاریخ دیتے ہوئے سماعت کو ملتوی کر دیا۔

دی گئی کہ غازی صاحب کے اہل خانہ کی غازی صاحب سے ملاقات کروائی جائے جو کہ ان کا

صفحہ 427

قانونی حق ہے چنانچہ عدالت نے 26 جنوری کو سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو عدالت میں طلب کیا۔ 26 جنوری کو جیل سپرنٹنڈنٹ کی طرف سے جواب داخل کیا گیا کہ ملزم ممتاز حسین قادری کا تعلق چونکہ کالعدم دعوت اسلامی سے ہے اس لئے ملاقات نہیں کروائی جا سکتی اس پر وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ دعوت اسلامی امن و محبت کا پیغام دینے والے غیر سیاسی اور غیر متشدد تنظیم ہے اور یہ کہ یہ کالعدم نہیں ہے ۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے حکم جاری کیا کہ ہر 15 دنوں بعد ممتاز حسین قادری سے ان کے والدین، بیوی، بچے اور دیگر خونی رشتہ داروں کی ملاقات کروائی جائے۔

کر مذکورہ بالا پولیس ملازمین اور دیگر گواہان کے 164 کے سیل شدہ بیانات کو ممتاز حسین قادری کے وکلاء، ملک رفیق احمد، راجہ شجاع الرحمن، سید حبیب الحق شاہ کاظمی و دیگر کی موجودگی میں عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے کاروائی کو 14 فروری تک ملتوی کر دیا۔

پیش کی گئی کہ ممتاز حسین قادری کو چونکہ جیل میں الگ سیل میں رکھا گیا ہے اور انہیں جیل میں چہل قدمی ، اخبار، کتب، نماز جمعہ وغیرہ پڑھنے کی اجازت نہ ہے ۔ لہذا قانون کے مطابق غازی صاحب کو یہ سہولتیں فراہم کی جائیں ۔ چنانچہ 10 فروری کو جیل حکام کی طرف سے جواب جمع کروایا گیا جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ ممتاز قادری کو الگ سیل میں ان کی اپنی حفاظت کے پیش نظر رکھا گیا ہے چنانچہ عدالت نے اخبار روزنامہ نوائے وقت، اوصاف، اچھی غذا فراہم کرنے اور جیل قوانین کے مطابق سلوک کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست کو نمٹا دیا۔

میں ملک ممتاز حسین قادری نے کہا کہ میں نے قتل ناحق نہیں کیا بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں سلمان تاثیر کے ارتداد و کفر کی سزا دی ہے۔ اسی طرح دفعہ 7ATA دہشت گردی کے تحت بھی فرد

صفحہ 428

جرم عائد کی گئی۔ اور استغاثہ کو عینی گواہان پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے عدالت نے کاروائی کو 26 فروری تک ملتوی کر دیا۔

صفدر حسین ASI نے عدالت میں حاضر ہو کر شہادتیں قلمبند کروائیں۔ عدالت نے استغاثہ کو اگلی پیشی پر مزید گواہوں کو پیش کرنے کا آرڈر دے کر عدالتی کاروائی کو 5 مارچ تک ملتوی کر دیا گیا۔

میں اپنی اپنی گواہیاں ریکارڈ کروائیں۔ عدالت نے استغاثہ کے مزید گواہوں کو گواہی کیلئے طلب کرتے ہوئے کاروائی کو 26 مارچ تک ملتوی کر دیا۔

پیش ہو کر اپنی گواہی پیش کی۔

وکیل سیف الملوک نے رخصت کی درخواست پیش کی تھی۔

کو عدالت میں طلب کیا گیا تھا۔ تاہم صرف سلمان غنی نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔ مزید گواہوں پر جرح وغیرہ نہ کی گئی۔ عدالتی کاروائی کو 23 اپریل تک ملتوی کر دیا گیا۔

ملتوی کر دیا گیا۔

صفحہ 429

صاحب سے ملاقات کی خاطر دی جانے والی ایک درخواست پر کئے گئے عدالتی فیصلے کے خلاف جیل حکام نے ایک اعتراض پیش کیا جس میں یہ بیان کیا گیا کہ غازی صاحب سے ان کے صرف خونی رشتہ دار ہی مل سکتے ہیں اور خونی رشتہ داروں میں صرف ماں ، باپ ، بھائی ، بہنیں ، بچے اور بیوی شامل ہیں اس کے علاوہ دیگر رشتہ داروں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اس کے علاوہ آج کی پیشی میں AC اسلام آباد پر جرح کی جانی تھی جس کے لئے وہ تیار نہ تھے ۔ جس کے باعث عدالتی کاروائی کو 14 مئی تک ملتوی کر دیا گیا ۔ اس کے ساتھ جناب راجہ اخلاق حسین کا تبادلہ کر دیا گیا ۔ نئے جج کی تعیناتی نہ ہو سکنے کے باعث

کی پیشیوں پر عدالتی کاروائی میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی ۔

کے تحت بیان لینے والے مجسٹریٹ محمد علی رندھاوا پر جرح کی گئی اور عدالتی کاروائی کو 2 جولائی تک ملتوی کر دیا گیا ۔

حاضر ہو کر گواہی دی اور وکلاء کی طرف سے اس پر جرح کی گئی ۔

اور غازی صاحب کے وکلاء کی طرف سے اس پر جرح کی گئی ۔

ملتوی کر دی گئی ۔

صفحہ 430

اور اس پر وکلاء کی طرف سے جرح کی گئی۔

پیش کی جبکہ عدالتی کاروائی کو 27 اگست تک ملتوی کر دیا گیا۔

میں حاضر ہو کر اپنی گواہی پیش کی جس پر وکلاء نے جرح کی۔ مقتول گورنر کے وکیل سیف الملوک نے اس کے ساتھ ہی عدالت کے سامنے درخواست پیش کی استغاثہ کی طرف سے ان 14 گواہان ہی کی گواہی کافی سمجھی جا رہی ہے اور مزید گواہوں کو پیش نہیں کیا جا رہا۔ لہٰذا عدالت نے ممتاز حسین قادری صاحب کو اگلی پیشی پر دفعہ 342 کے تحت اپنا بیان عدالت میں جمع کروانے کا آرڈر کرتے ہوئے کاروائی کو 10 ستمبر تک ملتوی کر دیا۔

342 کے تحت اپنا بیان عدالت میں جمع کروایا گیا جس میں انہوں نے سلمان تاثیر کو قتل کرنے کی وجوہات پر روشنی ڈالی۔ (یہ بیان تفصیلاً اس کتاب میں مذکور ہے)

کے تحت عدالت کی طرف سے پوچھے گئے 10 سوالات کے جوابات جمع کروائے گئے۔ (تفصیلات گزر چکی ہیں)

جس میں یہ ثابت کیا گیا کہ سلمان تاثیر اپنے اقوال و افعال کے باعث مرتد ہو چکا تھا اور واجب القتل بھی۔ حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس کے خلاف کاروائی عمل میں لاتی حکومت کے کاروائی نہ کرنے کے باعث ممتاز حسین قادری نے جذبہ عشق

صفحہ 431

رسالت میں ڈوب کر اسے قتل کر دیا۔ اور یہ کہ جو شخص واجب القتل ہو اس کو ماورائے عدالت قتل کرنے سے قاتل کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔ اس پر قرون اولیٰ کے اسلامی عدالتوں کے بے شمار فیصلے موجود ہیں ۔ عدالت نے استغاثہ کے وکیل کو یکم اکتوبر کی پیشی پر اپنے دلائل تقریباً تحریراً مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت کو یکم اکتوبر تک ملتوی کر دیا۔

جس کی خبر اخبارات کے ذریعے سے شائع ہوئی ۔ تاہم عدالت نے اس بات کا انکار کر دیا۔

حالانکہ ابھی وکلاء کی آخری بحث بھی باقی تھی ۔

دی جانے والی سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی ۔ عدالت نے سماعت کو 11 اکتوبر تک ملتوی کر دیا۔

کاروائی کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا ۔ کیس ابھی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے ۔

(مقدمے میں پیش ہونے والے اہم گواہوں کی گواہیاں اور دیگر تفصیلات ترتیب وار آگے موجود ہیں)

PDF 432

﴿ چارج ﴾

ایف آئی ار نمبر 6 تاریخ ۔ 4 جنوری 2011ء زیر دفعہ 302, 109 پاکستان پینل کوڈ 7 اینٹی ٹیررازم ایکٹ (خلاف دہشت گردی) 1997ء پولیس سٹیشن کوہسار اسلام آباد

میں راجہ اخلاق حسین جج اینٹی ٹیررازم کورٹ راولپنڈی ڈویژن اور اسلام آباد وفاقی ایریا آپ مجرم قرار دیتے ہوئے آپ پر جرم عائد کرتا ہوں۔

کہ آپ ملک محمد ممتاز قادری ابن محمد بشیر ذات اعوان سکونتی مکان نمبر BV/501 مسلم ٹاؤن راولپنڈی

نے 4 جنوری 2011ء کو اپنی ملازمت کے دوران بحیثیت ممبر پاکستان ایلیٹ فورس جبکہ آپ سلمان تاثیر اس وقت کے گورنر پنجاب کے حفاظتی دستہ میں تعینات تھے شام 4:15 جب گورنر سلمان تاثیر کوہسار مارکیٹ کے ایریا میں کھانا کھانے کے بعد باہر آیا جبکہ اسکے ساتھ اس کا ساتھی شیخ وقاص بھی تھا تو آپ نے اشتعال علماء اور مذہبی گروپوں کی وجہ سے کہ وہ حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہوا ہے اور واجب القتل ہے اس پر اپنی سرکاری smg رائفل کے ذریعے فائر کئے اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مر گیا۔ اس طرح آپ نے قتل عمد کا جرم کیا جو کہ زیر دفعہ (a) سیکشن 7 اینٹی ٹیررازم ایکٹ 1997 کے تحت قابل سزا ہے آپ پر دفعہ 302 اور 109 پاکستان پینل کوڈ کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

مقدمہ نمبر 06

1: محمد حنیف قریشی ولد عبدالرحمن 2: سید امتیاز حسین شاہ کاظمی ولد (1) سرکار (2) شہریار علی نام درخواست ضمانت قبل از گرفتاری مقدمہ مندرجہ عنوان آئندہ پیشی مورخہ 25/01/11

ملزمان بالا نے مچلکہ ضمانت گرفتار نہ کریں۔ تاریخ مقررہ پر کروا کر پیش عدالت کریں۔

ملزمان بالا کو ہدایت کی

صفحہ 433

عبوری ضمانت

ملک محمد اکرم اعوان جج انسداد دہشت گردی عدالت نمبر 1 راولپنڈی مقدمہ نمبر 06 مورخہ 04/01/11 تھانہ کوہسار اسلام آباد بجرم: 7ATA PPC 302/109 1: محمد حنیف قریشی ولد عبدالرحمن ساکن آمنہ مسجد گری روڈ ڈھوک علی اکبر راولپنڈی 2: سید امتیاز حسین شاہ کاظمی ولد سید عبدالصمد شاہ جامعہ رضویہ ضیاء العلوم راولپنڈی بنام (۱) سرکار (۲) شہریار علی تاثیر درخواست ضمانت قبل از گرفتاری SHO تھانہ کوہسار

مقدمہ مندرجہ عنوان بالا میں درخواست بالا زیر سماعت عدالت ھذا ہے۔ جس میں آئندہ پیشی مورخہ 25/01/11 مقرر ہے۔

ملزمان بالا نے مچلکہ ضمانت داخل عدالت کر دیا ہے۔ ملزمان بالا کو تاریخ مقررہ تک گرفتار نہ کریں۔ تاریخ مقررہ پر ریکارڈ مقدمہ بالمعیت مستغیث مقدمہ برائے پیروی درخواست بالا کروا کر پیش عدالت کریں۔

ملزمان بالا کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ شامل تفتیش مقدمہ ہوں۔

صفحہ 434

﴿اہم گواہیاں﴾

ڈاکٹر محمد ارشد سرجن ایمرجنسی میڈیکل آفیسر وفاقی ہسپتال پولی کلینک اسلام آباد بذریعہ حلف مستغیث گواہ نمبر 1 4 جنوری 2011ء کو میں نے اور میرے ساتھ موجود ڈاکٹرز اسلم شاہ، ڈاکٹر آشوک کمار اور ڈاکٹر محمد فرخ کمال نے سلمان تاثیر گورنر پنجاب ولد محمد دین تاثیر رہائشی گورنر ہاؤس پنجاب لاہور کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا۔ لاش محمد ارشد (ایس آئی) پولیس سٹیشن کوہسار کی طرف سے لائی گئی اور لاش کی شناخت سلمان غنی ولد ملک امجد حسین اور ارشاد گل ولد محمد گل نے کی۔ پوسٹ مارٹم شام سات بج کر پچیس منٹ پر شروع ہوا اور آٹھ بج کر پچاس منٹ پر مکمل ہوا۔ پولیس کی معلومات کے مطابق موت گولیوں کے کندھوں پر لگنے والے زخموں سے واقع ہوئی۔

نتائج کے مطابق مرحوم کی لاش کا قد اور جسامت عمر کے ساتھ اچھی اور مناسب تھی ، گولیوں کے شدید چھید یا سوراخ جسم کے اوپر کندھے کمر اور کولہے پر ہوئے۔ مقتول کی لاش ٹی شرٹ، پینٹ اور انڈروئیر میں تھی، کپڑوں پر سوراخ کے نشانات سے زخموں کا پتہ چلتا تھا اور یہ خون آلود کپڑے تھے۔

﴿پوسٹ مارٹم رپورٹ﴾

بیرونی زخم:

موجود تھے جو مختلف شکل اور سائز کے تھے۔

اور ہڈی زخم کے اندر دکھائی دے رہی تھی جس زخم کی پیمائش 7 سینٹی میٹر X 6 سینٹی میٹر تھی۔

صفحہ 435

سے تھی، اس پر کسی طرح کے جلنے یا کالا ہونے یا کجلایا ٹیٹؤ نما زخم ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

x 1.5 سینٹی میٹر ہے۔ اس پر کسی طرح کا کالا ہونے، جلنے یا کجلایا ٹیٹؤ نما زخم ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

x 1 سینٹی میٹر بنتی ہے۔ اس پر درج بالا کوئی نشان نہیں تھا۔

سر پستان کو چیرتی گئی جس کی پیمائش 1 سینٹی میٹر x 3 سینٹی میٹر بنتا ہے۔

بنتی ہے۔

میٹر بنتی ہے۔

میٹر x 5 سینٹی میٹر بنتی ہے۔

میٹر x 1.2 سینٹی میٹر بنتا ہے۔

.5 سینٹی میٹر x 05 سینٹی میٹر بنتی ہے۔

رہی تھی جبکہ زخم کی پیمائش 3 سینٹی میٹر x 1 سینٹی میٹر تھی۔

صفحہ 436

10.5 سینٹی میٹر تھی۔ جس کے اندر سے رگ باہر آ گئی تھی۔

کے اندر سے ہڈی باقاعدہ باہر آرہی تھی۔

پیمائش 5 سینٹی میٹر تھی۔

پیمائش 1.5 سینٹی میٹر تھی۔

میٹر پیمائش کا تھا۔

بنتی ہے۔ جن میں موجود ٹشو باہر کی طرف لٹک رہا تھا۔

1.5 سینٹی میٹر کے تھے۔

پیمائش کیا گیا۔

صفحہ 437

اندرونی معائنہ

چھاتی کی دیوار، پسلیاں اور کندھے کی ہڈیاں (ٹوٹ گئی ہیں) زخمی ہوگئیں ہیں زخموں کی وجہ سے، پشت میں گولیاں لگنے کی وجہ سے پھیپھڑے (دایاں اور بایاں) مکمل تباہ ہوچکے ہیں۔ معدہ کی دیوار بھی تباہ ہوگئی ہے، معدہ، لبلبہ، جگر اور نظام ہضم مکمل تباہ ہوگئے، جبکہ چھوٹی اور بڑی آنت بھی جگہ جگہ سے زخمی ہے۔ نظام اخراج جس میں مثانہ اور اعضائے تناسل کے عضو مکمل زخمی ہوگئے تھے۔

رائے: ہمارے تجزیہ / رائے کے مطابق موت کی وجہ بہت زیادہ زخم جو کہ دونوں پھیپھڑوں، جگر، معدہ، چھوٹی بڑی آنت اور نظام اخراج پر ہوئے تھے ان کی وجہ سے واقع ہوئی۔ اور ان تمام ناقابل علاج زخموں کی وجہ گولیوں کی بوچھاڑ بنی اور ایک عام طبعی موت کے لئے اتنی زیادہ گولیاں کافی تھیں۔ ایکسرے کھوپڑی، چھاتی وغیرہ، اعضاء کا فیڈرل گورنمنٹ پبلک ہسپتال لاش کے پوسٹ مارٹم سے پہلے کئے گئے۔ گولیوں کے چھرے جو کہ جسم سے نکلے وہ یاداشت کے ساتھ پولیس کو دے دیے گئے۔ البتہ چھاتی میں موجود کچھ چھرے/ گولیوں کے حصہ جات نہیں نکالے جاسکے۔ گولیوں کے لگنے اور موت کا وقت بہت قریب تھا۔

استغاثہ گواہ نمبر 2 افتخار علی (اے ایس آئی) پولیس سٹیشن کوہسار اسلام آباد

بذریعہ حلف

4 جنوری 2011ء کو میں پولیس سٹیشن کوہسار میں تعینات تھا کہ مجھے ایک درخواست ملی جو کہ (ایس ایچ او) نے بھیجی تھی سپاہی عبدالرحیم کے ذریعے جس میں کیس کے اندراج کیلئے درخواست تھی جس پر میں نے ایک باقاعدہ ایف آئی آر نمبر 06 بجرم 302 ت پ تحریر کی جس کی بابت درخواست EX.PB اور ایف آئی آر EX.PB/1 درج ہے۔

اسی دن میں نے تین لفافے / پارسل وصول کئے جن میں خون آلود روئی، دوسرا پارسل

صفحہ 438

خالی کھوکھے اور تیسرے پارسل میں smg رائفل تھی جو کہ میں نے مالخانہ میں داخل کر دیے۔ 7 جنوری 2011ء کو میں محکمانہ سرٹیفکیٹ کے بعد یہ تمام پارسل کیمیائی معائنہ کے لئے بھجوا دیئے۔ اور بعد ازاں یہ معائنہ کے بعد مجھ کو واپس بھیج دیئے گئے۔ میں نے بہر حال مندرجہ درخواست کی تحریر کو چیک نہ کیا کہ یہ تحریر کس نے لکھی۔ اور نہ ہی تحریر کنندہ کے دستخط کے نیچے تاریخ رقم کی گئی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ تحریر کا مواد اردو میں جبکہ دستخط انگلش میں تحریر کئے گئے تھے۔ میں نے یہ بھی معلوم نہیں کیا کہ درخواست کنندہ کو کن لوگوں نے بتایا اور نہ ہی میں نے تحریر کے مواد کو کم کیا۔ ابتدائی طور پر میں نے تمام مواد FIR میں درج کیا اور یہ بالکل غلط ہے کہ FIR اگلے دن درج کی گئی وقوعہ کے۔ میں آئی جی پی کے بیان کے بارے میں بھی نہیں جانتا کہ پوسٹ مارٹم قانونی ورثاء کی موجودگی میں کیا گیا اور ورثاء کی موجودگی میں FIR کی گئی مجھے اس بارے میں بھی علم نہیں کہ درج بالا بیان آئی جی پی نے میڈیا کے سامنے 8 بجے شام وقوعہ کے دن دیا۔

مستند گواہ نمبر 3 : عبدالرحیم سپاہی موجودہ پولیس سٹیشن کوہسار اسلام آباد میں تعینات

بذریعہ حلف

4 جنوری 2011ء کو ایس ایچ او پولیس سٹیشن کوہسار نے مجھے ایک درخواست دی۔ جائے وقوعہ پر اور میں نے وہ پولیس سٹیشن میں جا کر محرر کو دے دی جس پر اس نے باضابطہ ایف آئی آر درج کی۔

محرر نے FIR درج کرنے کے بعد درخواست اور FIR کی کاپی مجھے واپس دی جو کہ میں نے جائے وقوعہ پر ایس ایچ او کو واپس لا کر دی۔ جہاں میں ایس ایچ او صاحب کے ساتھ تھا باقی ملازمین بھی تھے مجھے نہیں معلوم کہ ایس ایچ او کو واقعہ کے بارے میں کس نے بتایا لیکن مجھے ایس ایچ او نے ہی واقعہ کی خبر دی۔ میں نہیں جانتا کہ ایس ایچ او نے روزنامچہ میں اپنے معائنہ جائے وقوعہ پر جانے کا اندراج کیا کہ نہیں اور نہ ہی میں یہ جانتا ہوں کہ آیا ہم لوگ تھانے سے کس وقت جائے وقوعہ کیلئے چلے اور روزنامچہ میں کیا وقت درج ہوا لیکن تقریباً 4 بج کر 15 منٹ پر ہم

صفحہ 439

جائے وقوعہ پر پہنچے ۔ جب ہم وہاں پہنچے تو بہت سارے لوگ جائے وقوعہ پر جمع تھے ۔ درخواست میری موجودگی میں ہی ایس ایچ او کو ریکارڈ کرائی گئی میں نہیں جانتا کہ آیا زبانی رپورٹ ایس ایچ او نے تیار کی لیکن بہر حال کوئی شخص ایس ایچ او کے پاس نہیں آیا کہ جس نے رپورٹ لکھنے کا اعتراف کیا ہو۔ میں نے تھانے کے روزنامچہ میں بھی جا کر درخواست کا اندراج نہیں کیا ۔ یہ صحیح ہے کہ جب میں واپس آیا تو FIR کی کاپی اور درخواست کے ساتھ تو ایس ایچ او صاحب (PIMS) جا چکے تھے اور میں نے بغیر کوئی دوسری رپورٹ اپنی طرف سے لکھے وہ دونوں درخواست اور FIR کی کاپی لے کر (PIMS) چلا گیا اور وہاں یہ دونوں چیزیں اس کو (sho) کو دے دیں یہ تقریباً 5 بج کر 30 یا 25 منٹ تھے شام کے ۔ یہ بالکل غلط ہے کہ میں نے اس سلسلے میں رپورٹ میں اپنی طرف سے کچھ شامل کیا۔ اس میں تقریباً مجھے 1 گھنٹہ لگا کہ میں جائے وقوعہ سے تھانے گیا اور وہاں سے ہسپتال آیا ، مجھے اس بات کا بھی علم نہیں کہ FIR کے اندراج کا وقت 5:25 لکھا گیا۔ اور نہ ہی پولیس کی تفتیش کے دوران مجھ سے کوئی سوال کیا گیا اس حوالہ سے ۔

مستغیث گواہ نمبر 4 صفدر حسین (اے ایس آئی) پولیس سٹیشن کوہسار اسلام آباد

بذریعہ حلف

رات 6 بجے 7 جنوری 2011، محرر پولیس سٹیشن کوہسار نے مجھے پارسل (لفافے) دیئے جس میں ایک خون آلود روئی دوسرا 28 خالی کھوکھے اور تیسرا ایس ایم جی رائفل کا تھا۔ ایک لفافہ میں نے کیمیائی معائنہ کار کو دیا جبکہ دو لفافہ جات میں نے (FSI) لیبارٹری میں جمع کرائے ۔ یہ جمع کرانے کے بعد میں نے سرٹیفکیٹ محرر کو لا کر دیا۔

مستغیث گواہ نمبر 5 محمد گل فراز (ایس آئی) پولیس سٹیشن کوہسار اسلام آباد

بذریعہ حلف

5 جنوری 2011ء کو میں (PIMS) میں گیا بحکم ایس ایچ او پوسٹ مارٹم کی رپورٹ لینے

صفحہ 440

کے واسطے جہاں سے میں نے مقتول کی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ وصول کی جس میں 17 ایکسرے ایک پارسل (لفافہ) جس میں جسم سے نکلی ہوئی گولی تھی اور پھٹے ہوئے کپڑے جن میں کالی پینٹ، کالی شرٹ اور کالے ہی رنگ کا انڈرویئر تھا جو کہ میں نے ہسپتال کے CMO سے وصول کر کے SHO کو دے دیا۔ ایس ایچ او (SHO) انوسٹی گیشن آفیسر نے ایک یاداشت لیٹر بنایا اور اس نے میرے بیانات ریکارڈ کئے۔

مستغیث گواہ نمبر 7 نائب محرر عمر فاروق سپاہی موجودہ گن مین آر پی او ہاؤس راولپنڈی

بذریعہ حلف

3 جنوری 2011ء کو سلمان تاثیر کے دورہ کے بارے میں معلومات سیکورٹی آفس میں پہنچیں۔ گورنر تاثیر 12 بجے دن لاہور سے موٹروے کے ذریعے چلا میں جبکہ نائب محرر کے عہدہ پر ڈیوٹی کر رہا تھا ایلیٹ فورس میں راولپنڈی 4 جنوری 2011ء صبح کے وقت میں نے دو پولیس کے دستے گورنر کی رہائش پر بھیجے جو کہ F6/3 اسلام آباد میں ہے۔ ہم چونکہ پہلے ہی افرادی قوت / فورس سے محروم تھے اس لئے پہلے ہم کو وی آئی پی کی ڈیوٹی کی تکمیل کے لئے افراد پورے کرنے تھے۔ قادری ایک دوسری ڈیوٹی پر تھا اور وہ اس ڈیوٹی پر معمور نہیں تھا جو کہ گورنر کی سیکیورٹی کیلئے تھی۔ قادری نے آ کر کہا کہ اس کو گورنر کی ڈیوٹی پر لگایا جائے اور یوں وہ اسلام آباد کی سیر کر آئے۔ مجھے گورنر کا پیغام 3 جنوری 2011ء کو ملا، ڈیوٹی روسٹر (متعین افراد) 4 جنوری کو نہیں بنایا گیا کیونکہ ڈیوٹی روسٹر 3 جنوری رات 12 بجے بنایا گیا تھا اور گورنر کے پروگرام کا پتہ دن 12 بجے محرر کو آیا لہذا یہ پروگرام روسٹر میں درج نہ ہو سکا اور یوں 4 جنوری کے پروگرام کا روسٹر میں اندراج نہ ہو پایا۔ ملزم ممتاز قادری میرے پاس آیا صبح تقریباً 6:30 بجے اور مجھے درخواست کی کہ مجھے گورنر کی حفاظت پر تعینات کیا جائے۔ اس کی درخواست پر میں نے اس کو گورنر کی ڈیوٹی پر متعین کیا۔ بحیثیت نائب محرر میں ڈیوٹی کی تعیناتی تبدیل کرنے کا مجاز ہوں اور اس کے مطابق میں نے ممتاز قادری کی درخواست پر یہ تبدیلی کی۔ خرم شہزاد جو کہ ایلیٹ فورس کا محرر تھا اس دن ڈیوٹی پر تھا

صفحہ 441

لیکن بچے کی بیماری کی وجہ سے ڈیوٹی پر دیر سے آیا۔ ہم نہیں درج کرتے کہ آیا ہم نے کسی ملازم کی ڈیوٹی تبدیل کی ہے کہ نہیں۔ میرے علم میں آیا کہ خرم شہزاد ( محرر ) بیٹے کی بیماری کی وجہ سے دیر سے آئے گا۔ اس لئے جب کوئی شخص ڈیوٹی پر بروقت نہیں آتا تو محرر کو بتاتا ہے تا کہ وہ روز نامچہ میں اس کو درج کرے۔ اور افسران بالا کو بھی اس کی خبر دی جاتی ہے۔ بہر حال یہ میرے علم میں نہیں آیا خرم شہزاد ( محرر ) نے اس ضمن میں کوئی درخواست بھیجی یا زبانی افسران بالا کو خبر دی۔ میرا بیان زیر دفعہ 161 کریمنل پروسیجر کورٹ 5 جنوری 2011ء کو ریکارڈ کیا گیا۔ اور محرر خرم شہزاد دفتر میں تقریباً صبح 8 بجے پہنچا میں نے یہ بیان ریکارڈ کروایا کہ میں اختیارات رکھتا ہوں کہ کسی بھی ملازم کی ڈیوٹی کو تبدیل کرلوں اور یہ میں نے کیا کہ ممتاز قادری کو گورنر کی رہائش گاہ پر حفاظتی دستہ میں بھیجا کیونکہ دو ملازمین کی کمی تھی ( یہ پولیس کے یاداشتی بیان کے ساتھ تضاد رکھتا ہے ) گورنر کے ساتھ ڈیوٹی بہت زیادہ حساس اور اعلیٰ اہم نوعیت کی ہے۔ صرف کوٹ محرر ہی دستہ کے افراد کو اسلحہ فراہم کرتا ہے۔ اور یہی ممتاز قادری نے بھی کیا۔ ایلیٹ فورس کے اندر ڈمی ( بناوٹی ) اسلحہ کا کوئی تصور نہیں ہے لہٰذا سب کے پاس مکمل کارآمد ہتھیار ہوتے ہیں۔ عام طور پر حفاظتی لاک آن ہوتا ہے لیکن گولیاں چیمبر میں نہیں ہوتیں۔ ہتھیار کو چلانے کے لئے مجھے نہیں معلوم کہ آیا جو ہتھیار ممتاز قادری کو دیا گیا وہ خود کار ( آٹومیٹک ) تھا کہ کسی اور طرح کا لیکن ہر ملازم کی جتنی گولیاں اور ہتھیار کی قسم ہو وہ روزنامچہ میں درج ہوتی ہیں۔ میں نے اس روزنامچہ کی کوئی کاپی انوسٹی گیشن آفیسر کو نہیں دی جبکہ اپنا بیان زیر دفعہ 161 کریمنل پروسیجر کورٹ کے ریکارڈ کروایا۔ میں نے ہتھیار کا نمبر ریکارڈ نہیں کروایا جو کہ ممتاز قادری کو جاری کیا گیا۔ میں نے اپنے جذبات / تاثرات جج کے ساتھ ریکارڈ کروائے کہ میں کبھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ ایک حفاظتی اہلکار قاتل میں تبدیل ہو جائے گا اور یہ کہ ملزم نے پولیس فورس کے نام پر دھبا لگوایا اور اس کو اس کے مطابق سزا ملنی چاہیئے اور یہ کہ میں اسی عزم اور دماغی فکر کے تحت اب بھی ایلیٹ فورس میں کام کر رہا ہوں اور اب میں درج بالا واقعہ کے بعد نائب محرر بھی نہیں ہوں اور یہ بھی سچ نہیں ہے کہ میں نے پولیس کے دباؤ یا

صفحہ 442

نوکری کی لالچ اور یا پھر کسی اور وجہ سے میں غلط بیان انوسٹی گیشن آفیسر کے کہنے پر دیا ہو۔

یہ بھی غلط ہے کہ سیکورٹی دستہ صرف پنجاب میں ہی ڈیوٹی کرسکتا ہے، یہ بھی غلط ہے کہ جب وی وی آئی پی (VVIP) کسی اور ضلع یا حدود میں داخل ہوں جہاں پنجاب کی حدود ختم ہو جاتی ہو وہاں متعلقہ ضلع یا حدود کی سیکورٹی ہی VVIP حفاظت کا کام سر انجام دے سکتی ہے۔ یہ بھی غلط ہے کہ میں نے وقوعہ کے دن اپنے اختیارات و حدود سے بالا ملازمین کو اسلام آباد میں تعینات کیا، یہ صحیح ہے کہ میں اس واقعہ میں ملزم کو کسی طرح سے اشتعال دلانے پر دعویٰ نہیں رکھتا۔

مستغیث گواہ نمبر 8 سلمان غنی ولد ملک امجد حسین رہائش گالف روڈ لاہور

بذریعہ حلف

4 جنوری 2011ء میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (Pims) پہنچا اور وہاں سلمان تاثیر کی لاش کی شناخت کی اور لاش میں نے انوسٹی گیشن آفیسر سے وصول کی اور اس نے وہیں پر میرا بیان ریکارڈ کیا اور میں نے بذریعہ دستخط لاش وصول کی۔

مستغیث گواہ نمبر 9 چوہدری محمد علی، اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد سٹی، اسلام آباد

بذریعہ حلف

پارسل (لفافہ) کھولا گیا جس میں کہ ملزم کا بیان تھا اور اس طرح کے بیان کی درخواست بھی دی گئی تھی زیر دفعہ 164 کریمنل پروسیجر کورٹ آف پاکستان 10 جنوری 2011ء کو مجھے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے حکم دیا کہ ملزم ممتاز قادری کی زیر دفعہ 164 کریمنل پروسیجر کورٹ بیان ریکارڈ کروایا جائے جو کہ درخواست اور بیان دونوں یاداشت میں درج ہیں۔

ملزم میرے پاس بذریعہ حاکم خان ایس ایچ او (SHO) پولیس سٹیشن کوہسار لایا گیا اور اسی افسر کے ذریعہ اس کی شناخت کروائی گئی۔ اس کے بعد میں نے اس کی ہتھکڑیاں اتروا کر تمام

صفحہ 443

پولیس افسران کو کورٹ روم سے باہر بھیج دیا۔ ملزم کو دو گھنٹے دیئے گئے کہ وہ اپنے جرم پر سوچے اور اپنے آپ کو مجتمع کرے۔ اس کے بعد تسلی کر لینے کے بعد کہ وہ بیان خواہش کے مطابق اور خود رضا کارانہ طور پر دے رہا ہے میں نے اس کو کچھ خاص سوالات کئے اور اس نے مجھ کو ان کے جوابات بھی دیئے۔ ان سوالات کی تفصیل یاداشت میں درج ہے۔ تسلی کے بعد میں نے سند جاری کی کہ جو کہ یاداشت میں درج ہے۔ اس کے بعد میں ملزم کے بیانات کی طرف بڑھا اس کے بیانات میرے ہاتھ میں ہیں جو کہ میں نے دستخط کئے اور ملزم کو پڑھوائے اور اس نے اقرار کیا کہ یہ درست ہے۔ اس کے بعد میں نے سند جاری کی جو کہ یاداشت میں ہے جس پر میرے دستخط اور کورٹ کی مہر ثبت ہے۔

درج بالا بیانات 13 صفحات پر مشتمل ہیں۔ صفحہ نمبر 10,9,8,7,6,5,4,3,2 اور 11 پر ملزم کے انگوٹھے کے نشانات بھی موجود ہیں۔

محمد علی اسسٹنٹ کمشنر شہر اسلام آباد۔ دوبارہ بلوایا گیا یقین دہانی کروائی گئی

بذریعہ حلف

جیسا کہ مجھے یاد ہے کہ میں نے پہلے بھی اقراری بیان محرر کا ریکارڈ کیا ہے مختلف کیسز کے دوران میں قانون کی دفعہ 164 کریمنل پروسیجر کورٹ کی ہدایات کے مطابق ہیں۔ مجرمان سے مختلف نوعیت کے سوال کئے ہیں اس میں کوئی شک نہیں یہ اس طرح کے سوالات کا قانون میں وجود نہیں ہے لیکن یہ اپنی طرف سے اطمینان کے لئے اس طرح کے سوالات مجرمان کے سامنے اٹھائے ہیں، جو کہ میں دفعہ 164 کریمنل پروسیجر کورٹ کے تحت سمجھتا ہوں۔ اور اس کے مطابق ہی میں نے اقراری بیان لکھنے سے پہلے سوالات ترتیب دیے ہیں۔

اس اقراری بیان کو میں نے سیل بند پیکٹ میں کورٹ کے سیشن کیلئے محفوظ کر دیا تا کہ اس میں سیکورٹی رہے۔ یہ متعلقہ پیکٹ چیف افسر کے سامنے کورٹ میں کھولا گیا، اس کے اوپر ابھی تک

صفحہ 444

میرے دستخط اور کورٹ کی مہر ثبت ہے ۔ مجھے بہر حال یاد نہیں کہ میں نے اس کی کوئی سند کی کاپی جاری کی ہو، بتاریخ 11 جنوری 2011ء تک۔ اور اس طرح کی بات رضا کارانہ طور پر ممکن نہیں کہ یہ بیان وکیل صفائی کے پاس موجود ہو۔ ان بیانات پر میری دستخط مہر ثبت نہیں ہیں۔

یہ درست ہے کہ میں نے خود ہی بیانات کی کاپی انوسٹی گیشن آفیسر کو بھجوائی اور میری تائید اس میں شامل تھی۔ یہ بھی درست ہے کہ مندرجہ بیانات میں میں نے یہ وضاحت نہیں کہ آیا یہ بیانات کی کاپی میری ہی تائید یافتہ / دستخط شدہ ہے جو کہ انوسٹی گیشن آفیسر کے پاس گئی ہے۔ یہ بھی غلط ہے کہ میں نے تاریخ جو کہ بیانات کے ریکارڈ کرنے والی ہے یا پھر جو کہ تاریخ بیانات کی کاپی دینے والی تھی اس میں کسی قسم کا کوئی ردو بدل کیا۔ میں نے بیان ریکارڈ کیا 10 جنوری 2011 کو اور 11 جنوری کو دستخط کے ساتھ نمونہ اور کاپی دونوں کے ساتھ جمع کروا دیا۔ میں ہمیشہ بیانات بذریعہ حلف ہی لیتا ہوں اپنی قانونی سروس کے دوران۔ دوران حلف میں لفظ حلفاً / بذریعہ حلف استعمال کرتا ہوں۔ مجرم/ملزم کے بیانات کو ریکارڈ کرتے ہوئے ۔ اگر حلف لینا مقصود نہ ہو تو میں واضح کر دیتا ہوں کہ بغیر حلف کے یہ کہ میں نے بیانات موجودہ ملزم کی وضاحت کے مطابق قلمبند کئے۔ میں نے اس کے بیانات حلف کے اوپر لئے۔ یہ غلط ہے کہ ریکارڈ بیان غیر قانونی عمل کا نتیجہ ہیں ۔ یہ درست ہے کہ دوران ریکارڈنگ بیانات زیر دفعہ 164 کریمنل پروسیجر کورٹ بیان دینے والا آگاہ کیا جاتا ہے کہ نہ تو وہ یہ بیان دینے کا پابند ہے اور اگر دیتا ہے تو یہ بیانات اس کے خلاف بھی جاسکتے ہیں۔ میں نے ملزم سے یہ نہیں پوچھا کہ آیا وہ کسی کے دباؤ میں آکر یہ بیان دے رہا ہے یا اس کے نتیجہ میں وہ اقبال کر رہا ہے۔

بالکل 4 جنوری 2011ء اس کی تحویل کے بعد سے 10 جنوری 2011ء بیان قلمبند کروانے تک وہ مسلسل پولیس کی تحویل ہی میں رہا ہے میرے خیال میں یہ صحیح نہیں ہے کہ ملزم کو جیل بھیج کر دوبارہ اس کو بیان قلمبند کروانے کے لئے بلوایا جائے یہ بھی میرے علم میں نہیں کہ ملزم زیر دفعہ 340 کے تحت بذریعہ حلف بیان ریکارڈ کروانے کا پابند ہے۔ یہ بھی غلط ہے کہ میں جان

پوچھ کر قانونی حدود کی ف نے حقیقت میں پہلے س مستند گواہ نمبر 10 118 کیولری گراؤنڈ

4 جنوری 11 آر کٹوائی جو کہ ریکارڈ ک

واقعہ والے د میرے قیام گاہ سے م فون/لینڈ لائن اور موب صحیح وقت نہیں بتا سکتا میں۔ پتہ چلنے کے بع میں نے بیان ریکارڈ ک کیا۔ یہ کسی پولیس آف ہیڈ آفیسر (SHO) آگے بڑھانا فقط میر

میں مقتول کی آخری شادی سے سوتیلا بھائی ہے اور زندہ ہے اور وہ مسلما

صفحہ 445

بوجھ کر قانونی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملزم کا بیان قلمبند کروایا۔ یہ بھی غلط ہے کہ میں نے حقیقت میں پہلے سے لکھا گیا بیان جو کہ ایس پی ہارون جوئیہ نے مجھے دیا اسی کو آگے بھیج دیا۔

مستغیث گواہ نمبر 10 شہر یار تاثیر ولد سلمان تاثیر عمر 25 سال ذات کشمیری پیشہ کاروبار رہائشی 118 کیولری گراؤنڈ گلی نمبر 3 لاہور کینٹ

”بذریعہ حلف“

4 جنوری 2011ء میں نے تحریری درخواست جمع کروائی جس کے اوپر بعد میں ایف آئی آر کٹوائی جو کہ ریکارڈ ہے۔

واقعہ والے دن میں اسلام آباد میں قیام پذیر تھا اور واقعہ کے بعد میں جائے وقوعہ پر گیا۔ میرے قیام گاہ سے جائے وقوعہ 150 سے 200 میٹر کے فاصلہ پر ہے۔ میرے پاس گھر کا فون ، لینڈ لائن اور موبائل فون کی سہولت موجود ہے۔ فوراً بعد ہی واقعہ کے مجھے پتہ چل گیا لیکن میں صحیح وقت نہیں بتا سکتا۔ میں نے فون موصول کیا اور ساتھ ہی ٹی وی پر دیکھا اس واقعہ کے بارے میں ۔ پتہ چلنے کے بعد میں سیدھا اس جائے وقوعہ پر گیا جہاں پولیس سے ملاقات ہوئی اور اس کو میں نے بیان ریکارڈ کروایا۔ یہ صحیح ہے کہ پہلے بیان پر میرے دستخط ہیں لیکن یہ میں نے نہیں تحریر کیا۔ یہ کسی پولیس آفیسر کی تحریر تھی اور میں اس پولیس آفیسر کو نہیں جانتا۔ یہی بیان میں نے سٹیشن ہیڈ آفیسر (SHO) کو کیس کی رجسٹریشن کیلئے دیا تھا۔ شکایت درج کروانا اور اس کے بعد کیس آگے بڑھانا فقط میرا ہی کام تھا۔ یہ بالکل غلط ہے کہ میں نے غلط اور جھوٹا بیان دیا۔

میں مقتول کی آخری شادی میں سے تھا اور ہم تین حقیقی بھائی اور تین ہی بہنیں ہیں۔ مقتول کی آخری شادی سے میری پہلی ماں سے اس کے اور بھی بچے ہیں۔ میری دو سوتیلی بہنیں اور ایک سوتیلا بھائی ہے اور ہم دو حقیقی بھائی اور ایک بہن ہیں مقتول کی آخری شادی سے۔ میری حقیقی ماں زندہ ہے اور وہ مسلمان ہے۔

صفحہ 446

میری سوتیلی ماں طلاق یافتہ ہے پچھلے 28 برس سے۔ میں نہیں سمجھتا کہ میری سوتیلی ماں نے میرے باپ کو مرتد سمجھا۔ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں یہ مقتول پاکستان چھوڑ کر انڈیا چلا گیا تھا۔ یہ کہنا بھی غلط ہے کہ میرے باپ نے ایک سکھ عورت سے شادی کی سال 82-1980 میں۔ میں آتش تاثیر کو نہیں جانتا پر میں نے اس کا نام سنا ہے۔ یہ بالکل صحیح ہے کہ آتش تاثیر نے کتاب ”تاریخ کیلئے اجنبی“ Stranger to history کے نام سے کتاب تحریر کی ہے۔ میں نے چونکہ کتاب پڑھی نہیں ہے اس لئے نہیں جانتا کہ اس مصنف / آتش تاثیر نے اپنے آپ کو سکھ خاتون کا بیٹا قرار دیا ہے۔ میرے علم میں یہ بات اخبار کے ذریعہ سے آئی ہے میں نہیں جانتا کہ یہ پریس میں شائع ہوا کہ آتش تاثیر کی پیدائش سلمان تاثیر کی سکھ عورت سے شادی کے ذریعہ ہوئی۔ میں نہیں جانتا کہ وفات سے فوراً پہلے آتش تاثیر پاکستان میں کراچی آیا اور وہاں میرے باپ / مقتول سے ملا اور پھر وہ لاہور آیا اور ہمارے ساتھ قیام پذیر ہوا۔ میں نہیں جانتا کہ انہی دونوں میں وہ لاہور میں یوسف صلاح الدین کی حویلی میں بھی قیام پذیر ہوا۔ میں نہیں جانتا کہ آتش تاثیر نے مقتول کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ مجھے اس بات کا بھی علم نہیں کہ میرے باپ نے کبھی اس دعوے کی تردید کی ہو۔ میں نے اپنے باپ کے بارے میں کبھی نہیں سنا کہ وہ زانی، شرابی، بے نمازی، غیر مختون اور خنزیر کھانے والا تھا۔ یہ صحیح ہے کہ مسلمان نہ تو شراب پیتا ہے اور نہ ہی خنزیر کھاتا ہے۔ یہ بالکل غلط ہے کہ ضیاء کے دور میں جیل میں سلمان تاثیر کو قرآن مجید دیا گیا اور اس نے یہ کہہ کر اس کتاب میں میرے لئے کوئی کام کی چیز نہیں لوٹا دیا تھا۔

ڈاکٹر محمد دین تاثیر میرا دادا تھا اور دادا کے بعد ہم نے تاثیر کا لفظ خاندانی نام کے طور پر رکھنا شروع کر دیا۔ جب میرا باپ گورنر بنا تو اس کے بعد مجھے آتش تاثیر کی کتاب کا علم ہوا۔ میں نے کوشش نہیں کی کہ آتش تاثیر سے ملوں یا اس کو جانوں میں نہیں جانتا کہ اور کون سے گھرانے تاثیر کے ہیں اور وہ پاکستان میں کہاں رہتے ہیں اور نہ ہی آتش تاثیر کے اس دعوے کے بعد میں نے کبھی اس کی کوئی تردید کی۔ میں نہیں جانتا کہ اسلامی قانون کے مطابق لڑکے کو لڑکی کے ڈبل

حصہ دیا جاتا ہے اور یہ کہ میں تو بیٹا ہونے کی وجہ سے اس کے رہا ہوں۔ یہ بھی غلط ہے کہ وقو کے بعد مقتول کی لاش پر پہنچا اور

مستند گواہ نمبر 11 ندیم ا

میں ڈیوٹی پچھلے 13 سیکورٹی فراہم کروں کسی بھی 2011ء تقریباً 3 بجے یا 3 کوہسار مارکیٹ کی طرف آیا آیا گھر کیلئے۔ گارڈ ملزم ممتاز سرکاری گن / رائفل سے مقتول میں نے تب فوراً اپنا پستول ن اس کے جواب میں اس نے میں نے اپنا حکم کرتے ہوئے اور انسپکٹر عامر ایلیٹ فورس پولی کلینک ہاسپٹل کی طرف میں تفتیش میں شامل کار نہیں

یہ بالکل صحیح ہے کہ سرکاری معاملات کی ادائ

صفحہ 447

حصہ دیا جاتا ہے اور یہ کہ میں آتش تاثیر کو اپنے باپ کے قانونی وارث یا کسی بھی طرح مرحوم کے بیٹا ہونے کی وجہ سے اس کے جائیداد اور باقی اثاثہ جات سے محروم کرنے کے لئے میں بیان دے رہا ہوں۔ یہ بھی غلط ہے کہ وقوعہ کے وقت میں اسلام آباد نہیں تھا۔ یہ بھی غلط ہے کہ میں کفن و دفن کے بعد مقتول کی لاش پر پہنچا اور بیان غلط درج کروایا۔

مستند گواہ نمبر 11 ندیم آصف (اے ایس آئی) گن مین برائے گورنر پنجاب پنڈی ریجن

بذریعہ حلف

میں ڈیوٹی پچھلے 13 یا 14 سال سے انجام دے رہا ہوں۔ یہ میری ڈیوٹی ہے کہ میں سیکورٹی فراہم کروں کسی بھی (وی آئی پی) یا گورنمنٹ کے بڑے نمائندے کو۔ 4 جنوری 2011ء تقریباً 3 بجے یا 3 بجکر 15 منٹ پر مقتول نے اپنا گھر چھوڑا کھانا کھانے کے لئے کوہسار مارکیٹ کی طرف آیا۔ کھانا کھانے کے بعد (بقاء اعتراض وکیل صفائی) وہ ہوٹل سے باہر آیا گھر کیلئے۔ گارڈ ملزم ممتاز قادری اس کے گارڈز کا ہی ایک فرد تھا۔ اچانک ہی اس نے اپنی سرکاری گن / رائفل سے مقتول کے اوپر فائرنگ شروع کر دی۔ یہ کاروائی کچھ سیکنڈز جاری رہی۔ میں نے تب فوراً اپنا پستول نکال کر ملزم کی طرف تان لیا اور اس کو ہاتھ اوپر کرنے کے لئے کہا۔ اس کے جواب میں اس نے کہا کہ اس کی میرے ساتھ کوئی دشمنی نہیں کہ میں اس کو گولی ماروں۔ میں نے اپنا حکم کرتے ہوئے اس کو رائفل پھینک دینے کو کہا۔ تب میں نے اس کو تحویل میں لے لیا اور انسپکٹر عامر ایلیٹ فورس کے حوالہ کیا۔ ہم نے مقتول کو زخمی حالت میں پولیس کی گاڑی میں پولی کلینک ہاسپٹل کی طرف روانہ کر دیا۔ ڈی آئی جی بنیامین نے بیان ریکارڈ کروایا۔ اس کے بعد میں تفتیش میں شامل کار نہیں ہوں۔

یہ بالکل صحیح ہے کہ گورنمنٹ نمائندوں کا مین آفس لاہور میں ہے اور مقتول یہاں پر سرکاری معاملات کی ادائیگی کے لئے آیا تھا اور میں اس کے ساتھ لاہور سے نہیں آیا تھا۔

صفحہ 448

رضا کارانہ طور پر میں اس کی ڈیوٹی کے لئے آیا تھا راولپنڈی کے ایریا سے ۔ 4 جنوری 2011ء کو میں نے اپنی ڈیوٹی اس کے ساتھ اس کے گھر سے 18B گلی نمبر 3 اسلام آباد سے شروع کی ۔ میں پنجاب پولیس کا ملازم ہوں ۔ میں باخبر ہوا باقی ملازمین کے ذریعہ بابت مقتول کے دورہ کے ۔ پنڈی ریجن کے حدود میں ایس ایس پی سیکورٹی راولپنڈی سیکورٹی برانچ کا ہیڈ ہے ۔ بہر حال میں نہیں جانتا تھا کہ ایس ایس پی یاسین فاروق اس وقت سیکورٹی برانچ کا ہیڈ تھا ۔ گورنر کے ساتھ ڈیوٹی انتہائی اہم ڈیوٹی شمار کی جاتی ہے ۔

۔۔۔۔ اس مقصد کے لئے پہلے اس سے ایک تیار شدہ منصوبہ / شیڈول تمام متعلقہ آفیسرز کو تقسیم کیا جاتا ہے اس سیکورٹی پلان میں مقتول کے بارے میں درج تھا کہ وہ اس وقت لاہور سے اسلام آباد پہنچے گا اور اسی طرح اس پر وقت اور تاریخ بھی درج تھی ۔ اس پروگرام کے مطابق مقتول نے اسلام آباد موٹروے سے آنا تھا ۔ راولپنڈی کی سیکورٹی فورس نے مقتول کو موٹروے ٹول پلازہ سے ملنا تھا ۔ ہم تمام سیکورٹی ملازمین پولیس لائن کے ذریعے راولپنڈی ٹول پلازہ پہنچے اگرچہ اسلام آباد کی حدود کے لئے علیحدہ سیکورٹی انتظامات کئے گئے لیکن مقتول کے اس دورہ کے لئے کوئی انتظام نہ کیا گیا ۔ میں پولیس لائن پر 2 بجے پہنچا ٹول پلازہ پر پہنچنے کے لئے میں مقررہ وقت ٹول پلازہ پر پہنچنے کا نہیں بتا سکتا ۔ یہ صحیح ہے کہ پولیس لائن سے ٹول پلازہ تک گاڑیوں کی لمبی قطاریں ہوتی ہیں اور درمیانی فاصلہ پولیس لائن سے ٹول پلازہ 32 کلو میٹر ہے ۔ تقریباً 4:45 پر مقتول ٹول پلازہ پہنچا اور ٹول پلازہ سے کوہسار مارکیٹ تک آدھ گھنٹہ لگتا ہے وی آئی پی کے ساتھ نہ کہ 1 گھنٹہ جیسا کہ بیان کیا گیا ہے ۔ میں راولپنڈی سکواڈ کا انچارج نہیں تھا غالباً امجد محمود انچارج تھا اور تمام شیڈول جس میں آنے جانے کے اوقات درج تھے اس کے پاس تھے ۔ مکمل تفصیلات سیکورٹی پر تعینات آفیسر جو کہ (وی آئی پی) کے ساتھ ہوتا ہے تمام سیکورٹی پلان میں درج ہوتا ہے یا ساتھ ساتھ کرتا رہتا ہے ۔ سیکورٹی افسر تمام تعینات ملازمین افراد کی چھان بین کرتا ہے ۔ اور سب اچھے (O.K) کی رپورٹ کے ساتھ ملازمین کو تعینات کرتا ہے ۔ وقت اور کیفیت

صفحہ 449

کام اور ملازمین کی تعداد لازماً پوری کرنی ہوتی ہے۔

5:15 شام 3 جنوری 2011ء ہم کوہسار مارکیٹ پہنچے مقتول کیساتھ 3 جنوری 2011 مقتول نے قمر زمان کائرہ سے ملاقات کیلئے جانا تھا شیڈول کے مطابق لیکن اس نے اس کو کینسل / منسوخ کر دیا۔ اور بہر حال وہ اپنے دوست کیساتھ کھانے کیلئے چلا گیا۔ رات تقریباً 2 بجے 4 جنوری 2011ء (رات) تک میں اپنی ڈیوٹی پر مستعد تھا اور ملزم 3 جنوری 2011ء تک سیکورٹی افراد میں شامل نہ تھا۔ بہر حال اس نے سیکورٹی افراد کو 4 جنوری 2011ء کو جوائن کیا۔

میں اور امجد محمود 4 جنوری 2011ء تک سیکورٹی ڈیوٹی پر موجود رہے۔ میں نہیں جانتا کہ افراد جو (وی وی آئی پی) ڈیوٹی پر ہوتے ہیں ان کو سیکورٹی انجینئرز (Angenyres) کی طرف سے چھان بین کیا جاتا ہے کہ نہیں۔ میں نے کوئی زبانی یا تحریری اعتراض نہیں اٹھایا ملزم کی تعیناتی کے خلاف۔ ملزم پہلے بھی وی وی آئی پی ڈیوٹی انجام دیتا رہتا تھا۔ یہ میری ڈیوٹی نہیں ہے کہ میں ہتھیار اور اسلحہ گولہ بارود سیکورٹی افراد کی چیک کروں۔ گولہ بارود ڈیوٹی کے دورانیہ اور وی وی آئی پی کی اہمیت کے مطابق دیا جاتا ہے۔ میرے علم میں نہیں کہ مقتول رات جب کھانا کھا کر آیا تو لڑکھڑا رہا تھا۔ رضا کارانہ طور پر اس نے خود ہی اپنی گاڑی چلائی۔ تمام دوران ڈیوٹی کی باتیں پوشیدہ حرکات اور کام وی وی آئی پی کے سیکورٹی افراد کی نظر میں ہی ہوتے ہیں۔ میرے علم میں نہیں کہ کب کوئی متنازع بیان مقتول نے دیا جیسا کہ یہ اشاعت ہوا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ رات کے دیر کے وقت ہوا ہو۔ یہ غلط ہے کہ مقتول رنگ رلیاں یا پھر ہم جنس پرستوں کے ساتھ موج مستی میں مشغول تھا رات گئے تک۔

5 پولیس کی گاڑیاں بمع سیکورٹی کے افراد وہاں پر موجود تھیں مقتول کی سیکورٹی کیلئے خونی دن شام 3:15 مقتول ریسٹورنٹ میں گیا اور 45 منٹ کے بعد باہر آیا۔ ریسٹورنٹ کوہسار مارکیٹ کے کاروباری مرکز میں واقع ہے۔ یہ میرے علم میں نہیں کہ جب مقتول باہر آیا تو میں نے

صفحہ 450

وائرلیس پیغام تمام ملازمین کو دیا۔ بہر حال مقتول نے کوئی پیغام نہیں دیا کہ تمام ملازم چوکس رہیں یا نہ جبکہ وہ ہوٹل میں جا رہا تھا۔ تمام ملازمین بشمول خاص برانچ کے تمام لوگ ہتھیار سے نہیں تھے۔ کام کے دوران کوئی بھی ملازم انچارج کی اجازت سے واش روم یا ہلکا پھلکا ادھر اُدھر گھومنے کی اجازت لے سکتا ہے۔

میں جانتا تھا کہ ایک عیسائی عورت آسیہ بی بی کو سزائے موت عدالت کی طرف سنائی جا چکی تھی بوجہ توہین رسالت کے۔ بہر حال یہ میرے علم میں نہیں تھا کہ مقتول بھی اس سے ملنے کوٹ لکھپت جیل لاہور گیا تھا اور وہاں اس کی رحم کی اپیل وصول کی تھی میڈیا کی موجودگی میں۔ جس میں اس کی بیٹی اور ایک اور خاتون شامل تھیں اور وہاں پر اس نے کہا تھا کہ توہین رسالت کا قانون ”کالا قانون“ ہے۔

یہ صحیح ہے کہ مقتول اور ملزم کا آمنا سامنا ہوا لیکن یہ غلط ہے کہ مقتول کو دیکھ کر ملزم نے یہ کہا کہ معزز گورنر آپ نے توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون قرار دیا باوجود اس کے کہ آپ ان کے امتی ہیں۔ یہ بھی غلط ہے کہ مقتول نے ان الفاظ کے ساتھ اس کو ملزم کو جواب دیا کہ یہ صرف ”کالا قانون“ ہی نہیں بلکہ بکواس ہے۔ یہ غلط ہے کہ ان الفاظ کی ادائیگی سن کر ملزم نے اپنے اختیار کو کھو دیا اور بحیثیت مسلمان جذبات کا اظہار کر دیا اور فائرنگ شروع کر دی۔ میں نے قرآن و حدیث پڑھے ہیں میرے علم میں نہیں کہ حضور ﷺ کے دور میں یا اس کے بعد خلفاء راشدین کے دور میں کبھی کسی نے توہین رسالت کی ہو اور اس کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہو۔ 5 جنوری 2011ء کو میرا بیان مجسٹریٹ نے ریکارڈ کیا جو کہ زیر دفعہ 164 کریمنل پروسیجر کوڈ ہوا میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ بیان بحیثیت گواہ یا مجرم ریکارڈ کیا گیا۔ یہ صحیح ہے کہ مجھے دو گھنٹے دئیے گئے تھے۔ بیان ریکارڈ کروانے سے پہلے۔ اس کے بعد 15 یا 16 سوال میرے سے پوچھے گئے مجھے نہیں معلوم کہ جس طریقہ کار سے مجھ سے سوال کئے گئے آیا مجرم سے بھی اسی طرح کئے گئے کہ نہیں۔ ممتاز حسین قادری میرے سامنے کراس / بحث مباحثہ کے لئے نہیں بلوایا گیا میں دو بار مجسٹریٹ

صفحہ 451

کے سامنے گیا اور میرا اقبال ضرورت تھا اور دوسرے بیان میں مجھے بیانات پولیس کی طرف سے لکھے لکھائے ملے تھے تاکہ میرے پہلے والا بیان ختم کروایا جاسکے۔ یہ غلط ہے کہ میں اپنے آپ کو بچانے کے لئے غلط بیان دے رہا ہوں۔ یہ بھی غلط ہے کہ مقتول بذات خود اپنی موت کا ذمہ دار تھا بدست ملزم جو کہ عدالت میں موجود ہے۔

مستغیث گواہ نمبر 12 محمد عامر خان انسپکٹر موجودہ تعینات ایس ایچ او پولیس سٹیشن مخدوم رشید، ملتان

بذریعہ حلف

وقوعہ کے دن میں پولیس لائن راولپنڈی میں روٹین ڈیوٹی پر معین تھا میں گاڑی پر سکواڈ کی ڈیوٹی کے لئے 4 جنوری 2011ء کو تقریباً 4:15 شام کوہسار مارکیٹ کے علاقہ میں تعینات تھا کہ مقتول ہوٹل سے باہر آیا۔ ہم اس کو اس کے گھر رہائش کی طرف لے کر جا رہے تھے کہ جب ملزم موجودہ عدالت کے سامنے موجود نے اپنی سرکاری گن کے ساتھ فائرنگ شروع کر دی تھی۔ ملزم کو جگہ پر اسی وقت تحویل میں لے لیا گیا اور اس کو ہتھیار سے محروم کیا گیا۔ مقتول زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اس حادثہ نے رنجیدہ کیا۔ میں ملزم کو پولیس سٹیشن کوہسار لے کر گیا۔ جہاں پر میں نے ملزم کے ساتھ سرکاری گن / رائفل، دو میگزین ایک خالی دوسرا بھرا ہوا، 28 گولیوں سمیت ایس ایچ او کوہسار سٹیشن کی تحویل میں دیا۔ ایس ایچ او نے تمام چیزیں تحویل میں لے کر یادداشت کے لئے محفوظ کر لیں۔ جس کو میں نے اور تنویر (اے ایس آئی) نے دستخط کر کے سند کیا۔ اس کے بعد ملزم کی ذاتی تحویل سے (1) بٹوا کالا رنگ (2) آئی ڈی کارڈ (3) نوکری کارڈ (4) اے ٹی ایم (5) نوکیا موبائل 6030 (6) نوکیا موبائل J-5000 (7) تین سمیں (8) چار گولیاں (9) ایک گھڑی (10) کیش 275 روپے (11) شناختی کارڈ کی دو کاپیاں (12) دو یونیفارم تصویریں (13) تین تصاویر بغیر یونیفارم (14) ایک نیلی ڈوری (15) ہیڈ فون (16) پرچی جو کہ یادداشت کے لئے محفوظ کر لی گئیں ہیں۔ یہ تمام چیزیں بھی میں نے اور تنویر (اے ایس آئی) نے دستخط سے سند کروائی ہیں۔ میرا بیان انوسٹی گیشن آفیسر نے ریکارڈ کیا۔

صفحہ 452

جب مقتول ریسٹورنٹ پہنچا تو میں وہاں پر نہیں تھا میری رخصتی / جانے کا ٹائم کا وقت روزنامچہ میں درج ہے پولیس لائن تھانہ میں ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ انچارج سیکورٹی آفیسر خود ہی روزنامچہ میں ملازمین کی رخصتی کا وقت درج کرے ۔ مجھے یاد نہیں کہ آیا میں نے روزنامچہ میں جانے کا وقت خود ہی درج کیا کہ نہیں ۔

یہ درست ہے کہ جب میں نے وہاں / جائے حادثہ پر ڈیوٹی جوائن کی تو مقتول ہوٹل میں ہی موجود تھا۔ میں مقتول کے ساتھ ڈیوٹی پر ہی رہا کیونکہ بوقت 3 جنوری 2011ء کے بعد سے میں حفاظتی حصار میں نہیں تھا کوہسار ہوٹل کے باہر ۔ 70 یا 80 قدم چلنے کے بعد یہ واقعہ رونما ہوا۔ میرے علم کے مطابق مقتول اپنے گھر سے ریسٹورنٹ تک پیدل ہی چل کر آیا تھا۔ اور میں نے وہ تصاویر نہیں دیکھیں کہ جب مقتول جائے وقوعہ کی طرف چل رہا تھا اس بدقسمت دن۔ میرے خیال میں یہ غلط ہے کہ مقتول اپنی گاڑی کی طرف جا رہا تھا کہ اس پر فائرنگ ہوئی۔ جب اس نے گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھنا چاہا اس وقت اس پر فائرنگ ہوئی۔ اس دن ہم اس کو پیدل اور گاڑی پر دونوں طرح سے سیکورٹی فراہم کرنے کے ذمہ دار تھے۔ میرے ذہن میں نہیں کہ آیا کتنے لوگ گاڑی پر موجود تھے اور کتنے پیدل زمین پر کھڑے سیکورٹی فراہم کر رہے تھے۔ بہرحال تمام افراد ہتھیار سے لیس تھے۔ آیا گاڑی میں بیٹھے تھے یا پیدل تھے نہ ہی میں نے اس طرح کی کوئی لسٹ بنائی تھی کہ اتنے لوگ / یہ لوگ پیدل حصار بنائیں گے اور باقی گاڑی میں موجود رہیں گے۔ نہ ہی میں نے ہتھیار چیک کئے کہ آیا سیکورٹی افراد کے ہتھیار میں گولیاں میگزین میں موجود ہیں یا کہ چیمبر میں ۔ رضا کارانہ طور پر ہتھیار میں نے اس دن صبح چیک کئے تھے ۔ یہ غلط ہے کہ میں نے رضا کارانہ طور پر صبح چیک نہیں کئے تھے۔ (وی وی آئی پی) کے ساتھ ہمارے سیکورٹی افراد کی جگہ کا پہلے سے تعین ہوتا ہے اور ملزم بھی مقتول کیلئے پیدل سیکورٹی ڈیوٹی پر متعین تھا۔ وی آئی پی کا ہر کام سیکورٹی افراد کو نہیں بتایا جاتا کہ اس کا کیا پروگرام / مقصد / قصد ہے اس لئے اس / مقتول کا ہوٹل سے پیدل آنا بھی ہمارے علم میں تھا کیونکہ وہاں پر حصار میں بہت زیادہ سیکورٹی تھی اس لئے روڈ

کے کنارے سیکورٹی کی سیکورٹی تعینات کروں نہ ہی یہ میری ڈیوٹی تھی ۔ طرف سے لا پرواہی برتی من گھڑت بیان مجھ سے ہے کہ مجھے زیر دست رکھے حفاظتی دستے کی ٹیمیں / حصار میں سے کسی میں نہ تھا بتا سکتا۔ بہر حال میں مقتول بھی دوسرے حصار میں Feet کے فاصلہ پر تھا۔ پہلے ہوا اور نہ ہی مقتول کہ ملٹری سیکرٹری (لیفٹیننٹ ہیں دورہ پر ۔ میں پولیس میں سیکورٹی ڈیوٹی پر ہی معمور (وی وی آئی پی) پروگرام وی یا اخبار ) کے ذریعہ اعلان شدہ ۔ میرے سیکورٹی کو آگاہ کرتا ہے 3 جنوری 11

صفحہ 453

کے کنارے سیکورٹی کی ضرورت نہیں تھی اور یہ میری ذمہ داری بھی نہیں تھی کہ روڈ کے کنارے سیکورٹی تعینات کروں۔ نہ ہی میں نے پولیس کو روڈ کنارے ڈیوٹی کے لئے لائن پر کھڑا کیا تھا اور نہ ہی یہ میری ڈیوٹی تھی۔ یہ بالکل غلط ہے کہ میں اس معاملے میں تحویل میں لیا گیا کہ میں نے اپنی طرف سے لاپرواہی برتی یا یہ کہ میری سیکورٹی ڈیوٹی کی ناکامی تھی۔ یہ بھی غلط ہے کہ استغاثہ نے من گھڑت بیان مجھ سے ریکارڈ کروایا اپنے حق میں اس لئے میں تحویل میں نہ لیا گیا۔ یہ بھی غلط ہے کہ مجھے زیر دست رکھنے کیلئے زیر دفعہ 164 کریمنل پروسیجر کورٹ بیان ریکارڈ کروایا گیا۔ اور حفاظتی دستہ کی تہیں/حصار تھے۔ ایک یونیفارم میں جبکہ ایک بغیر یونیفارم کے میں ان دونوں حصار میں سے کسی میں نہ تھا بلکہ ان حصار کے قریب تھا میں اپنے اور مقتول کے درمیان فاصلہ نہیں بتا سکتا۔ بہرحال میں مقتول کے بائیں جانب موجود تھا اور میرے پاس 9 ایم ایم پستول تھا۔ ملزم بھی دوسرے حصار میں موجود تھا اور مقتول کے بائیں جانب موجود تھا۔ ملزم مقتول سے چند فٹ / Feet کے فاصلہ پر تھا۔ میں آلہ قتل کی لمبائی نہیں جانتا نہ ہی کوئی سائرن وغیرہ حادثہ/واقعہ سے پہلے ہوا اور نہ ہی مقتول اور ملزم کے مابین کوئی بات یا مذاکرات ہی ہوئے۔ یہ میرے علم میں نہیں کہ ملٹری سیکرٹری (لیفٹینٹ کرنل) اور اے ڈی سی (کیپٹن) کبھی وی وی آئی پی کے ساتھ ہوتے ہیں دورہ پر۔

میں پولیس میں اے ایس آئی بھرتی ہوا تھا اور اپنے دورانیہ ایس آئی اور اے ایس آئی میں سیکورٹی ڈیوٹی پر ہی معمور رہا ہوں (وی وی آئی پی) کے ساتھ۔ میرے علم میں نہیں کہ طے شدہ (وی وی آئی پی) پروگرام پوشیدہ رکھا جاتا ہے اور واضح پروگرام اعلان شدہ ہوتا ہے۔ (ریڈیو، ٹی وی یا اخبار) کے ذریعہ۔ میرے علم میں نہیں کہ آخری دن مقتول کا کونسا پروگرام پوشیدہ تھا اور کونسا اعلان شدہ۔ میرے علم میں نہیں کہ پوشیدہ پروگرام اے ڈی سی تیار کرتا ہے اور متعلقہ کوارٹر / سیکورٹی کو آگاہ کرتا ہے۔

3 جنوری 2011ء کو میں نے مقتول کی سیکورٹی ڈیوٹی جوائن کی اور میں آخری دن تک

صفحہ 454

مسلسل مقتول کے ساتھ ہی رہا ہوں۔ میں حقیقی ٹائم اپنی ڈیوٹی کے خاتمہ کا نہیں جانتا بہر حال ملزم نے 4 جنوری 2011ء کو مقتول کی سیکورٹی ڈیوٹی جوائن کی تھی۔ میں نہیں جانتا کہ پہلے والا سیکورٹی ممبر تبدیل کر کے ملزم کی ڈیوٹی کیوں لگائی گئی تھی۔

میں اپنے ملازم ساتھیوں کے ساتھ ملزم کو قابو کرنے میں کامیاب ہوا وقوعہ کے فوراً بعد ۔ میں یاد نہیں کر رہا کہ ملزم نے پکڑنے کے بعد یہ کہا ہو کہ ”میں اپنے آپ کو حوالہ کرتا ہوں اور میری آپ سے کوئی دشمنی نہیں ہے“ یہ صحیح ہے کہ میرے کہنے پر اس نے اپنے آپ ہتھیار پھینک دیا یہ بھی صحیح ہے کہ میرے تحویل میں لئے جانے پر اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ میں نے ملزم سے نہیں پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا۔ یہ غلط ہے کہ وقوعہ سے پہلے ملزم نے مقتول سے اس طرح بات کی۔۔۔

میں نہیں جانتا کہ صدر پاکستان اور مقتول دونوں نے اس کو ”کالا قانون“ قرار دیا میں انگلش نہیں پڑھ سکتا اور نہ ہی میں 23 نومبر 2010 کی اخبار پڑھی ایکسپریس ٹربیون اسلام آباد ۔ مجھے معلوم نہیں کہ اس میں کیا شائع ہوا تھا۔ میں نے عاصیہ بی بی کے بارے میں پڑھا تھا کہ اس نے نبی کریم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز رویہ اپنایا اور اس کیلئے اس کو سزا ہوئی۔ یہ میں نہیں جانتا کہ اسکی معافی کی اپیل معزز کورٹ میں داخل کرائی گئی۔ میں مقتول کے رات کے پوشیدہ کاموں کے بارے میں نہیں جانتا۔ میں اپنا اور ملزم کا درست فاصلہ وقوعہ کے وقت کا نہیں بتا سکتا۔ یہ غلط ہے کہ مقتول نے ایسی زبان استعمال کی جس میں حضور ﷺ کی شان میں کوئی گستاخی ہوئی ہو۔

مستند گواہ نمبر 13 بیان تنویر احمد (اے ایس آئی) پولیس سٹیشن سیکرٹریٹ اسلام آباد

بذریعہ حلف

4 جنوری 2011ء کو میں پولیس سٹیشن کوہسار تعینات تھا۔ میں اس کیس کی تفتیش کے ساتھ منسلک رہا، اس دن میں حاکم خان جو کہ (ایس ایچ او) کے ساتھ جائے وقوعہ پر گیا جس نے

میری موجودگی میں خون آلود مٹی جس کی تصدیق میں نے اور دو SMG گن کے کھوکے بھی جمع گواہ نے اس کی تصدیق کی۔ اس یاداشت کیلئے میری اور اسی سابقہ

اسی دن انسپکٹر عامر خاں گیشن آفیسر کو دی جو کہ میری اور میگزین خالی جبکہ دوسرا 28 گول قبضہ سے مختلف چیزیں برآمد کی گ گواہ نے تصدیق کیا۔

5 جنوری 2011ء کو محمد گلفراز (ایس آئی) کی طرف میں نے اور گلفراز (ایس آئی) 62 تصاویر جائے وقوعہ کی مارکیٹ کے نام سے مشہور ہے کے جنوبی سائیڈ کی طرف اور بالکل بلڈنگ کے ساتھ شمالا یہ سڑک بھی شمالا جنوبا واقع 14 دکانوں کا رخ جنوبی نکلا ۔ میں نے اپنے دورہ آرام سے دیکھا جاسکتا ہے۔

صفحہ 455

میری موجودگی میں خون آلود مٹی کے ذرات جمع کئے اور ان کو یاداشت کیلئے بند تھیلی میں پیک کیا جس کی تصدیق میں نے اور دوسرے مستند گواہ نے کی ۔ اس نے جائے وقوعہ سے 28 خالی SMG گن کے کھوکے بھی جمع کئے اور ان کو یاداشت کیلئے تھیلی میں بند کیا اور میں نے اور مستند گواہ نے اس کی تصدیق کی۔ اس کے بعد وہاں سے ہنڈا پھر بالینو دو گاڑیاں بھی قبضہ میں کیں اور یاداشت کیلئے میری اور اسی سابقہ مستند گواہ کی تصدیق بھی کروائی۔

اسی دن انسپکٹر عامر خان نے ملزم کی گن بشمول میگزین 28 گولیوں سمیت حاکم انویسٹی گیشن آفیسر کو دی جو کہ میری اور سابقہ گواہ کی تصدیق کے بعد یاداشت کے لئے محفوظ کر لی گئی ایک میگزین خالی جبکہ دوسرا 28 گولیوں کے ساتھ بھرا ہوا تھا۔ اسی دن ملزم کی تلاشی لی گئی اور اس کے قبضہ سے مختلف چیزیں برآمد کی گئیں جو کہ یاداشت کیلئے محفوظ کی گئیں جس کو میں نے اور سابقہ مستند گواہ نے تصدیق کیا۔

5 جنوری 2011ء کو مقتول کے پھٹے ہوئے کپڑے پینٹ، شرٹ، انڈرویئر خون آلود محمد گلفراز (ایس آئی) کی طرف سے حاکم خان انویسٹی گیشن آفیسر کو دیے گئے جس کی تصدیق میں نے اور گلفراز (ایس آئی) نے کی۔ 7 جنوری 2011ء محمد ارشاد (ایس آئی) ریسکیو 15 نے 62 تصاویر جائے وقوعہ کی حاکم خان کو دیں جو اس نے تحویل میں لے لیں۔ جائے وقوعہ کوہسار مارکیٹ کے نام سے مشہور ہے جہاں پارکنگ ایریا بلڈنگ کے سامنے موجود ہے۔ کوہسار مارکیٹ کے جنوبی سائیڈ کی طرف اور اس مارکیٹ کے مغرب میں فٹ پاتھ ( پیدل چلنے کی جگہ ) ہے جو کہ بالکل بلڈنگ کے ساتھ شمالاً جنوباً واقع ہے۔ اس فٹ پاتھ اور مارکیٹ کے درمیان سڑک واقع ہے یہ سڑک بھی شمالاً جنوباً واقع ہے۔ یہ بالا ذکر پارکنگ ایریا گاہکوں کی گاڑیوں کے لئے مختص ہے۔ 14 دکانوں کا رخ جنوبی سمت ہے۔ میں اس ہوٹل میں داخل نہیں ہوا جہاں سے مقتول کھانا کھا کے نکلا۔ میں نے اپنے دورہ میں کوہسار مارکیٹ کی سیدھی طرف کا معائنہ کیا ہوٹل ”ٹیبل ٹاک“ کو آرام سے دیکھا جا سکتا ہے۔

صفحہ 456

وقوعہ کے 15 سے 20 منٹ بعد میں وہاں پہنچ گیا میری موجودگی میں انویسٹی گیشن آفیسر نے نہ تو ہوٹل کے عملہ سے تفتیش کی، البتہ جو لوگ وہاں کھڑے تھے ان سے پوچھا کہ وہ اس معاملہ کے بارے میں بتائیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ کوہسار مارکیٹ اور مقتول کی رہائش حدود کوہسار تھانہ میں موجود ہیں۔ (وی وی آئی پی) اہم شخصیات کے دورہ کا تھانہ کو مطلع کیا جاتا ہے اور لوکل تھانہ شیڈول کے مطابق سڑک پر ملازمین کو تعینات کر دیتی ہے۔ یہ میرے علم میں نہیں کہ آیا اس دن کوئی روٹ مقتول کے گھر سے کوہسار مارکیٹ تک لگایا گیا تھا کہ نہیں۔ یہ واقع پولیس سٹیشن کوہسار کی لاپرواہی کی وجہ سے نہیں ہوا۔ وہاں پر بہت ساری گاڑیاں پارک تھیں جن میں دو سکوائڈ کی گاڑیاں بھی تھیں جائے وقوعہ کے قریب جب میں وہاں پر پہنچا۔ سکواڈ کی گاڑیاں مقتول کے حفاظتی دستہ کی تھیں۔

مستند گواہ نمبر 14 حاکم خان انسپکٹر موجودہ سیکرٹریٹ پولیس سٹیشن ایس ایچ او (SHO) اسلام آباد

بذریعہ حلف

4 جنوری 2011ء کو میں بحیثیت ایس ایچ او پولیس سٹیشن کوہسار تعینات تھا جب میں نے اس واقعہ کے بارے میں سنا اور میں جائے وقوعہ پر پہنچا جو کہ کوہسار مارکیٹ میں ہوا۔ جہاں پہنچ کر مجھے اطلاع ملی کہ گورنر سلیمان تاثیر پر فائرنگ ہوئی اور اس کی میت پولی کلینک اسلام آباد میں اس کے ملازمین کی طرف سے لیجائی گئی ہے۔ میں نے جائے وقوعہ کا زبانی / نظری خاکہ بنایا اور راشد ایس آئی (SI) محمد زمان ایس آئی (SI) اور صفدر اے ایس آئی (ASI) کو ہسپتال کی طرف روانہ کیا اور میں نے وہیں کھڑے تحقیقات / تفتیش کی جس پر وہیں جائے وقوعہ سے ہی درخواست موصول ہوئی اور اس درخواست پر بعد میں تحریری درخواست کے ذریعہ کیس درج کیا گیا میں نے اسی پر دستخط کئے اور اسکو پولیس سٹیشن بھجوا دیا بذریعہ عبدالرحیم سپاہی تا کہ کیس درج ہو سکے۔

میں نے جائے وقوعہ سے 28 خالی کھوکھے اکھٹے کئے اور ان کو یاداشت کے لئے محفوظ کر

صفحہ 457

لیا۔ میں نے وہاں سے خون آلود مٹی بھی لی اور اس کو پارسل میں بند کر دیا اور یاداشت کے لئے رکھ لیا۔ مجھے یہ بھی پتہ چلا کہ پولیس کے افراد ملزم کو تھانے لے گئے ہیں۔ میں وہاں سے ہسپتال گیا تو میت وہاں سے پمز (PIMS) ہسپتال پوسٹ مارٹم (AUTOPSY) کیلئے بھجوادی گئی تھی۔ جہاں سے پھر میں پمز (PIMS) گیا جہاں پر میت کا پوسٹ مارٹم ہو چکا تھا۔ میں نے میت عثمان غنی کے حوالے کی اور فرد شناخت بنایا۔ وہاں سے پھر میں پولیس سٹیشن آیا۔ میرے وہاں آنے پر مجھے خبر ملی کہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ اسی دوران عامر انسپکٹر نے ملزم حوالے کیا اور اس کے ساتھ آلہ قتل بھی اور دو میگزین ایک خالی اور دوسرا بھرا ہوا اور 28 گولیاں۔ میں نے ان تمام اشیاء کو یاداشت کے لئے محفوظ کیا۔ دریں اثناء میں نے ملزم سے تفتیش کی اور اس کے بیان کا پہلا ورژن / پہلی دفعہ ریکارڈ کیا۔ اگلے دن ملزم کا جسمانی ریمانڈ طلب کیا۔ میں نے (JIT) جوائنٹ انوسٹی گیشن کی موجودگی میں تحقیقات کیں ملزم اپنے پہلے بیان پر ہی قائم رہا۔ ملزم کے کہنے پر میں نے اس کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے بھی ریکارڈ کروایا۔ تب میں نے اس کو جوڈیشل / حوالات میں دے دیا۔ میں نے متعلقہ وقوعہ اور متعلقہ وقت کے گواہان سے بیانات ریکارڈ کئے اور سب کو محفوظ کر لیا۔ میں نے اپنی تحقیقات مکمل کیں اور ملزم کے حالات پیش کر دیئے۔ میں نے آلہ قتل، خالی کھوکھے اور خون آلود کپڑے لیبارٹری میں بھجوا دیئے میں نے لیبارٹری سے جو رپورٹ وصول کی وہ بھی چالان فائل کیساتھ بھیج دی ہے۔

میں نے مقتول کے سرکاری پچھلے تمام دوروں کا ریکارڈ اکتوبر سے دسمبر 2010 تک چیک کروایا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اب تک وہ اسلام آباد کے کتنے دورے کر چکا ہے۔ وی وی آئی پی (VVIP) کیلئے دو طرح کی سیکورٹی ہوتی ہے ایک روٹ سیکورٹی دوسری پائلٹ سیکورٹی۔ یہ غلط ہے کہ روٹ سیکورٹی مہیا کرنا صرف علاقہ کی پولیس کا کام ہے جہاں وی وی آئی پی (VVIP) وزٹ کر رہا ہو۔ بہر حال میں نے چیک کیا کہ حتمی دن روٹ سیکورٹی مقتول کو فراہم نہیں کی گئی تھی۔ رضا کارانہ سیکورٹی ڈویژن اس طرح کی سیکورٹی بہم پہنچانے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ میرے پولیس

صفحہ 458

سٹیشن سے مقتول کے لئے کوئی بھی مرد سیکورٹی کے لئے نہیں بھیجا گیا میں نے ایس پی راولپنڈی سے تعینات تمام ملازم برائے پائلٹ سیکورٹی کے افراد کا ریکارڈ حاصل کیا۔ یہ صحیح ہے کہ راولپنڈی پولیس کی طرف سے مقتول کو سیکورٹی فراہم کی گئی۔ جس کا ریکارڈ حاصل کیا۔ یہ صحیح ہے کہ راولپنڈی پولیس کی طرف سے مقتول کو سیکورٹی فراہم کی گئی جس کا ان کے پاس ہینڈ آؤٹ/ روز نامچہ بھی تیار تھا۔ میں نے اس کی کاپی نہیں لی البتہ اس پر تمام ملازمین کے نام اور عہدے درج تھے تبدیلی کی صورت میں سیکورٹی انسپکٹر قانونی پابند ہے کہ وہ سیکورٹی انسپکٹر (ایس پی) سے اجازت لے اس کے بعد روز نامچہ میں تبدیلی کرے۔ میں نہیں جانتا کہ آیا روز نامچہ میں تبدیلی ہوئی کہ نہیں۔ جو ہتھیار سیکورٹی افراد کو دیئے جاتے ہیں جو کہ وی وی آئی پی کے ڈیوٹی پر ہوتے ہیں ان میں ایک ہمیشہ فائرنگ پوزیشن میں جبکہ دوسرا محفوظ رکھا جاتا ہے۔ ان افراد کی طرف سے سیکورٹی پولیس لائن سے بھجوائی گئی عام متعلقہ معلومات افراد کے نام عہدے، ہتھیار، وقت رخصتی وغیرہ تمام روز نامچہ میں درج ہیں۔ اس ضمن میں میں نے کچھ کاغذات پولیس لائن سے لئے ہیں لیکن اس وقت ان کی تفصیل کہ آیا وہ تبدیل شدہ ہیں یا کچھ کاغذات کی تخصیص ہیں بتانا مشکل ہے۔ تمام کاغذات گواہی حیثیت کی حامل ہیں اور چالان فائل کے ساتھ نتھی ہیں۔ مجھے یاد نہیں کہ آیا میں نے ان میں سے تمام نتھی کیے ہیں یا کچھ۔ ملزم پہلی دفعہ ریمانڈ پر ذاتی گاڑی میں لایا گیا تھا کورٹ میں اور اس طرح کی گاڑی میں پیچھے بیٹھے ہوئے باہر کی تمام دنیا سے اس کا رابطہ ممکن نہیں تھا۔ مجھے یاد نہیں کہ آیا بیان ریکارڈ کروانے والے دن ملزم کو زیر دفعہ 164 کریمنل پروسیجر کورٹ کے تحت واپس اسی بلٹ پروف گاڑی میں لایا گیا کہ نہیں۔ یہ غلط ہے کہ پہلے دن سے ہی حوالات میں اس کو ذہنی اذیت اور تکلیف میں رکھا گیا ہے۔ ملزم نے اپنی دفعہ 164 کی سٹیٹمنٹ (بیان) میں وہ حالات و واقعات بیان کر دیئے تھے جس کی وجہ سے اس کو مقتول کو مارنا پڑا یا جو اس واقعہ کے رونما کا پیش خیمہ تھے۔ یہ بالکل صحیح ہے کہ باوجود اس کے کہ اس نے اپنی رضا مندی ظاہر کی ہم نے ملزم کو تحویل میں رکھا کہ معلوم کر سکیں کہ آیا وہ کسی سے متاثر ہوا یا نہیں۔ یہ بالکل صحیح ہے کہ وہ ملزم کا ذاتی

صفحہ 459

اور انفرادی فعل تھا۔

جائے وقوعہ ایک کمرشل جگہ ہے یہ واقعہ اچانک رونما ہوا اور میں نے وہاں کے دوکانداروں کو اس میں شامل نہیں کیا اور نہ ہی ان سے تفتیش کی اور نہ ہی زبانی پوچھ گچھ کی کیونکہ ایک بہت اہم حادثہ تھا اس لئے ہم نے تمام پہلوؤں سے اس کی چھان بین کرنی تھی اس لئے ہم نے ملزم سے پہلے دن بیانات ریکارڈ نہیں کروائے۔ زیر دفعہ 164 کریمنل پروسیجر کورٹ اس کے بیان کے دن میرے نزدیک ملزم کا یہ کام مذہبی طور پر متاثر ہونے کی وجہ سے تھا۔ یہ بھی صحیح ہے کہ مقتول آسیہ بی بی کو سزائے موت سنائے جانیوالے توہین رسالت کے قانون کو ”کالا قانون“ قرار دے چکا تھا۔ اور اس کا یہی انفرادی کام ملزم کے لئے اس واقعہ کا باعث بنا۔ مجھے نہیں معلوم کہ آیا اس / مقتول کے خلاف کوئی کیس درج ہوا توہین رسالت کا یا نہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ آسیہ بی بی نے ہتک آمیز گفتگو حضور پاک ﷺ کے بارے میں استعمال کی اور اس کی وجہ سے ہی اس کو سزائے موت سنائی گئی ۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ آسیہ بی بی کا کیس معزز عدالت میں جمع ہے شنوائی کے لئے میں نے خبروں سے سنا کہ مقتول ملزمہ آسیہ بی بی سے جیل جا کر ملا اور اس کو یقین دلایا کہ وہ صدر سے اس کی رہائی کی اپیل کرے گا۔ یہ صحیح نہیں ہے کہ میں نے میڈیا سے سنا کہ مقتول نے توہین رسالت کے قانون کو ”کالا قانون“ کہا۔ یہ غلط کہ میں نے ایک معصوم شخص پر غلط تفتیش کر کے رپورٹ بنا کر کورٹ کے سامنے پیش کیا۔ یہ بھی غلط ہے کہ میں سیاسی دباؤ کے زیر اثر تفتیش کی اور اعلیٰ حکام کا دباؤ مجھ پر تھا۔

صفحہ 460

﴿عدالتی فیصلہ﴾

ریاست بر خلاف ملک ممتاز حسین قادری ولد محمد بشیر ذات اعوان رہائشی گھر نمبر 501/BV گلی نمبر 5 مسلم ٹاؤن راولپنڈی ایف آئی آر نمبر 6 تاریخ 4 جنوری 2011ء زیر دفعہ 109,302 پاکستان پینل کوڈ و 7 (PPC) اینٹی ٹیررازم ایکٹ (انسداد دہشت گردی) 1997ء پولیس سٹیشن کوہسار اسلام آباد

فیصلہ

درخواست کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔ 4 جنوری 2011ء کو جب سلمان تاثیر اس وقت کا گورنر کوہسار مارکیٹ سے اپنے گھر کی طرف واپسی پر تھا جہاں پر موجود ملزم ملک ممتاز حسین قادری جو کہ مقدمے کا سامنا (مدعی علیہ) کر رہا ہے۔ ایلیٹ فورس کا رکن ہونے کے ناطے اس کو گورنر کی حفاظت پر معمور کیا گیا باقی ارکان کے ساتھ یہ کہ اس نے فائر کھول دیے اپنے سرکاری اسلحہ کے ساتھ اور اس کو (گورنر) کو ہلاک کر دیا۔ اس کے پیچھے جو محرک کارفرما تھے وہ اس کا (گورنر) قومی ایشوز پر ایک خاص مؤقف تھا جبکہ سیاسی اور مذہبی گروپ اس کے خلاف تشہیر (پروپیگنڈہ) کر رہے تھے جو کہ اس کو شدید نتائج کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ اور یہ کہ ان کے اکسانے اور بھڑکانے پر اس نے (قادری) اس کو (گورنر) کو قتل کیا۔

کاپیاں ملزم کو بھیج دی گئیں۔ اس طرح 14 فروری 2011ء کو باضابطہ کیس زیر دفعہ 109,302 پاکستان پینل کوڈ بمطابق سیکشن 7 (الف) انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء درج کیا گیا جس کے نتیجے میں ملزم نے درج ذیل جواب درج کیا۔

”میں نے سلمان تاثیر اس وقت کے گورنر (مرتد) کا قرآن وسنت کے برخلاف قتل نہیں کیا۔“

صفحہ 461

پوسٹ مارٹم (autopsy) کی۔ رپورٹ کے مطابق مرحوم کے جسم پر 28 زخم پائے گئے۔ جبکہ افتخار علی (اے ایس آئی) مستغیث گواہ نمبر (2) نے ایف آئی آر میں درج کیا ہے جو کہ اس کو سپاہی عبدالرحیم کے ذریعہ سے ایس ایچ او نے دی تھی۔ یہ کہ اس نے (اے ایس آئی) اسی دن تین لفافے (پارسل) جن میں خون سے لتھڑی روئی ۔ صفدر (اے ایس آئی) کو دیئے بتاریخ 2011-1-7 ، یہ کہ مستغیث گواہ نمبر (3) عبدالرحیم نے درخواست 6147/C ایس ایچ او کوہسار سے لے کر مستغیث گواہ افتخار علی کو رجسٹریشن کے لئے دی یہ کہ رجسٹرڈ درخواست کی کاپی اور ایف آئی آر اس نے متعلقہ ایس ایچ او کو دے دی۔ اے ایس آئی صفدر مستغیث گواہ نمبر (4) نے یہ تمام پارسل مستغیث گواہ نمبر (2) اے ایس آئی افتخار علی سے وصول پائے اور متعلقہ آفیسرز کے دفاتر میں پہنچا دیئے مستغیث گواہ نمبر (5) ایس آئی محمد گلفراز نے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ 2011-1-5 کو کمپلیکس سے وصول پائی جس کے ساتھ تین ایکسرے اور نکلی ہوئی گولیاں اور پھٹے ہوئے کپڑے اس نے ایس ایچ او (SHO) کے حوالے کر دیئے۔ جس نے تمام چیزیں محفوظ کر لیں جن میں مرحوم کی پینٹ، شرٹ، انڈر ویئر شامل ہیں۔ مستغیث گواہ نمبر (6) خرم شہزاد ڈرافٹ مین (نقشہ نویسی) نے جگہ کا نقشہ تفتیش آفیسر کے حکم پر بنایا اور رف (عارضی) پیمائش کی وقوعہ کی۔ اور اس کی کاپی اس نے انویسٹی گیشن آفیسر کو دی بتاریخ 2011-1-9 مستغیث گواہ نمبر (7) عمر فاروق 4382/c جو کہ راولپنڈی ایلیٹ فورس میں نائب محرر کے طور پر تعینات تھا جبکہ (مقتول) مرحوم کے دورہ کی خبر سیکورٹی برانچ کو 2011-1-3 کو دی گئی۔ اس (عمر فاروق) نے مزید کہا کہ ایلیٹ فورس کی کمی کی وجہ سے ملزم (قادری) جو کہ ایک دوسری ڈیوٹی پر معمور تھا اس (ملزم) کو اس کے اصرار پر مرحوم (مقتول) کی ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا۔ مستغیث گواہ نمبر (8) سلیمان غنی نے رسید کے ساتھ مرحوم کی لاش کی پہچان کی اور اس کو انویسٹی گیشن آفیسر سے وصول پایا۔ مستغیث گواہ نمبر (9) چوہدری محمد علی نے ملزم کے بیان کو ریکارڈ کیا زیر دفعہ 164 کرمنل کورٹ آف پاکستان بتاریخ 2011-1-10 اور

صفحہ 462

یہ کہ اس کے بیان کی ریکارڈنگ کی درخواست مدعی کی طرف سے کی گئی ۔ جبکہ ملزم پر اس کے بیان کے خلاف سوالات PG/5 پر جبکہ یادھانی کیلئے بیانات و حوالات PG/2 اور سرٹیفکیٹ کیلئے PG/3 کئے گئے ۔ شہریار تاثیر جو کہ مستند گواہ نمبر (۱۰) ہے اس کیس کا درخواستی (مدعی ) ہے ۔ جس نے درخواست دائر کی ۔ ندیم آصف (اے ایس آئی ) مستند گواہ نمبر (۱۱) جو کہ چشم دید گواہ ہے وقوعہ کا بیان دیا ہے ۔ مدعی کے حق میں مستند گواہ نمبر (۱۲) بھی ایک چشم دید گواہ ہے کیس کا ۔ بیان دیا ہے کہ ملزم کو وہاں پر گرفتار کیا گیا اور اس سے ہتھیار لے لیا گیا ۔ اور یہ کہ اس نے ملزم کو پولیس سٹیشن کوہسار میں پہنچایا جہاں پر وہ دو میگزین ایک خالی اور دوسرا لوڈڈ 28 بلٹ کے ساتھ ایس ایچ او پولیس اسٹیشن کوہسار نے وصول پایا ۔ اور ایس ایچ او نے رائفل ، میگزین اس گواہ اور تنویر اے ایس آئی کی موجودگی میں وصول پائیں ۔ یہ کہ ملزم کی تلاشی لی گئی جس کے قبضہ میں سے بٹوا پایا (۱) شناختی کارڈ (۲) سروس کارڈ (۳) اے ٹی ایم کارڈ (۴) نوکیا موبائل 6030 (۵) نوکیا موبائل 5000-J (۶) تین سمیں (۷) چار بھری ہوئی گولیاں (۸) ایک ہاتھ والی گھڑی (۹) کیش 275 روپے (۱۰) فوٹو کاپیاں دو شناختی کارڈ کی (۱۱) دو تصاویر یونیفارم والی (۱۲) تین تصاویر ملزم کی عام لباس میں (۱۳) ایک ربن (۱۴) ہیڈ فونز (۱۵) پرچی قبضہ میں لی گئی اور یادھانی کے لئے محفوظ کی گئی ہیں ۔ جن کو مستند گواہ (۱۳) تنویر احمد اے ایس آئی نے خون کے دھبوں والی کاٹن جائے وقوعہ سے 2011-11-4 کو محفوظ کی ۔ یہ کہ وہ 28 خالی کھوکھے SMG رائفل کے بھی وصول کئے ۔ جبکہ ہٹ ہونے والی ہونڈا، بالینو بھی یادھانی ( پیشی) کیلئے وصول کی گئی ۔ مزید یہ کہ محمد امیر خان انسپکٹر نے اسی دن ملزم کو انویسٹی گیشن آفیسر کے حوالہ کیا بشمول گن دو میگزین اور 28 بلٹس کے جن کو حاکم خان نے محفوظ کیا اور ملزم کی پرسنل ( ذاتی ) اشیاء میں سے بٹوا اور پرچی کو بھی محفوظ کیا ۔ بیان کے مطابق مرحوم کے پہنے ہوئے کپڑے ، پینٹ شرٹ ، انڈرویئر محمد گلفراز کی طرف سے دیئے گئے حاکم خان کو جس نے ان کو محفوظ کر لیا گواہان کی موجودگی میں ۔ 2011-1-7 کو محمد ارشاد جو کہ ایس آئی ہے ریسکیو 15 کا اس نے 62 تصاویر

صفحہ 463

حاکم خان کو بھیجے جن کو اس نے محفوظ کر لیا۔ حاکم خان جو کہ انویسٹی گیشن آفیسر ہے اسی کیس کا وہ تفتیش کے لئے وقوعہ پر گیا اور زبانی نقشہ تیار کیا۔ وہاں سے اس نے ارشد (ایس آئی) محمد زمان (ایس آئی) اور صفدر (اے ایس آئی) کو ہسپتال بھیجا۔ اس نے شکایت موصول کی مدعی سے اور اس کے اوپر عمل کرتے ہوئے اس کو عبدالرحیم کے ذریعے تھانے بھیجا کیس کی رجسٹریشن کیلئے اس نے 28 خالی کھوکھے وقوعہ سے پائے اور ان کو ضرورت کیلئے محفوظ کیا۔ اس نے خون کے دھبے والی مٹی بھی وقوعہ سے لی اور اس کو سیل پارسل میں بھیج دیا۔ وہ وہاں سے ہسپتال گیا جہاں مرحوم کی نعش پہلے ہی بھیج دی گئی ۔ اس نے لاش عثمان غنی کو دی اور فرد شناخت تیار کیا۔ وہاں سے وہ پولیس سٹیشن گیا جہاں پر اس کو خبر ہوئی کہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ اس دوران عامر انسپکٹر نے ملزم کو I-O کے حوالہ کیا جو کہ اس نے یادھانی کے لئے محفوظ کیا وہاں اس نے اس کا پہلا بیان قلمبند کیا۔

اگلے دن اس نے ملزم کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا اور اس نے تفتیش جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی موجودگی میں کی۔ ملزم نے اپنا بیان زیر دفعہ 164 کریمینل پروسیجر کوڈ تحت ریکارڈ کروایا۔ ساتھ ہی بیان ریکارڈ کیا مجسٹریٹ نے اور ملزم کو جیل بھیج دیا گیا۔ یہ کہ مستند گواہان سے یاداشت مزید کیلئے تصدیق کرائی گئی اس نے آلہ قتل، کارٹریج ، کھوکھے متعلقہ لیبارٹریز کو بھیج دیئے۔ اور ساتھ خون کے دھبے والی مٹی کی اس نے رپورٹ وصول کی جو کہ اس نے چالان فائل کے ساتھ نتھی کر دی اور یوں اس نے تفتیش مکمل کی۔

27-8-2011ء کیمیکل ایگزامینر (طبی معائنہ کار ) سرالوجسٹ کی رپورٹ اور FSL کی رپورٹ اسی دن اس نے گواہان امجد محمود (اے ایس آئی) عبدالوحید (سپاہی) طلعت محمود (سپاہی) خادم حسین شاہ محمد عمران (سپاہی) نوید خان (سپاہی) آفتاب حسین شاہ (ہیڈ کانسٹیبل) فرحت لطیف (سپاہی) سید انور شاہ (ایس آئی) سعید محمود (سپاہی) افتخار حسین (سپاہی) محمد عارف (سپاہی) ارشاد گل (سپاہی) محمد باقر ، عارف محمود، عامر ، عبداللہ محمد ارشد (ایس آئی) محمد زمان (ایس آئی)

صفحہ 464

محمد ایاز (سپاہی) ڈاکٹر شاہد، ڈاکٹر فرخ کمال، ڈاکٹر اسلم شاہ، ڈاکٹر اشوک، وقار حیدر، محمد جمیل، کامران چیمہ مجسٹریٹ، فرید الدین (اے سی) عمران (سپاہی) محمد ارشد چوہدری ولد عبدالرشید غیر ضروری ثابت ہوئے اور مدعی کا دعویٰ ختم کر دیا گیا۔

نے مرحوم سلمان تاثیر کو مارنے سے انکار نہ کرتے ہوئے جواب دیا کہ سلمان تاثیر نے اپنے آپ کو خاتون آسیہ کا ہمدرد ثابت کیا جو کہ قابل مذمت قیدی ہے توہین رسالت کے قانون کے تحت مقتول نے توہین کے قانون کو ”کالا قانون“ قرار دے کر خود ہی اس اقدام کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ مزید یہ کہ دوران ڈیوٹی وہ (ملزم) آمنے سامنے ہوا مرحوم کے تو اس کو موقع ملا کہ وہ مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ اس سے مخاطب ہوا۔ ”آپ بحیثیت گورنر اگر توہین رسالت کو کالا قانون کہتے ہیں تو آپ گورنر کے عہدے کے قابل نہیں ہیں۔“ اس پر وہ چلایا اور بولا ”نہ صرف یہ کالا قانون ہے بلکہ یہ میرے نزدیک بکواس ہے۔“

بحیثیت مسلمان اس کا اپنے پر قابو نہ رہا اور انتہائی گہرے اور اچانک اشتعال میں اس نے ٹریگر دبا دیا۔ اس نے اپنا تحریری بیان زیر دفعہ 265 F ضابطہ کریمنل پروسیجر کورٹ ریکارڈ کروایا۔

اس نے اخباری حوالہ جات دیے اور کتاب بعنوان (سٹرینجر ہسٹری) تاریخ کیلئے اجنبی کا حوالہ دیا۔ تاہم وہ کٹہرے میں داخل نہیں ہوا زیر دفعہ 340(2) کریمینل پروسیجر کورٹ کے۔

کیس کو قانون پی ایل ڈی 2002 ایس سی (شریعت اپیلٹ بنچ) کے تحت ۔

عمر فاروق محرر ایلیٹ فورس اس قابل نہ تھا کہ وہ ایک غیر حاضر ملازم کی جگہ دوسرے ملازم کو تعینات

کرے اور یہ اس غیر حاضر ملازم کو تعینات کر سکتا ہے ا ہی عدالت کے سامنے پیش تھا اور مدعی اس کا دفاع نہ قضائے حاجت وغیرہ کیلیے کوئی قصاص نہیں ہے۔ یہ جواب نے صورت حال کو مراسم کا حامل تھا جس نے کہ مقتول مکمل طور پر ”س لازمی طور پر پاکستان پینل ساتھ توہین رسالت کے اپنے خیالات کو غلط قرار د

1997 P Cr. L J 263 - 1375, SCMR

مستغیثہ گواہ نمبر (1 حفاظت پر معمور تھا اس ن اس کی سرکاری گن کے نمبر (۱۲) محمد امیر خان (انویسٹی گیشن آفیسر )

صفحہ 465

کرے اور یہ اس غیر حاضر ملازم کا نام نہیں دیا گیا۔ یہ کہ حاکم خان نے اقرار کیا کہ انسپکٹر ہی صرف ملازم کو تعینات کر سکتا ہے وہ بھی اجازت کے بعد۔ اور متبادل اشخاص کو نہ تو گواہ بنایا جا سکتا ہے نہ ہی عدالت کے سامنے پیش کئے جاسکتے ہیں گواہ نمبر (۱۴) حاکم خان نے اقرار کیا اقدام انفرادی تھا اور مدعی اس کا دفاع نہ کر سکے کہ اقدام سے پہلے اور بعد کیا ہوا۔ اور یہ کہ دوران ڈیوٹی ملازم قضائے حاجت وغیرہ کیلئے جاسکتے ہیں۔ اور یہ کہ ”خون ناحق“ یا ”معصوم الدم“ نہیں تھا کہ اس کا کوئی قصاص نہیں ہے۔ یہ کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں ملزم کا اقدام صحیح تھا کہ مرحوم کا سوال پر جواب نے صورت حال کو مزید بدترین بنا دیا۔ یہ کہ مرحوم شرابی ، خنزیر خور، پرانا سکھ عورتوں سے مراسم کا حامل تھا جس سے اس کا ایک بیٹا بھی تھا یہ کہ مرحوم ملزم کے جواب کے بعد مرتد ہو چکا تھا یہ کہ مقتول مکمل طور پر ”سب و شتم“ میں مستغرق رہتا۔ ان حالات و واقعات میں مقتول ضروری یا لازمی طور پر پاکستان پینل کوڈ کے کلاز (C) کے تحت برتاؤ کیا جاتا۔ اور یہ کہ اس کے تسلسل کے ساتھ توہین رسالت کے خلاف ریمارکس آئے۔ اور یہ کہ نہ تو اس نے کبھی کوئی تردید کی اور نہ ہی اپنے خیالات کو غلط قرار دیا۔ اس نے پی ایل ڈی کا سہارا لیا جو کہ 1995Q، 1996SC، 263Q، 1997pc,lj، 92 SCMR، 1993، LHR714، 83,2007 - 1375, SCMR

مستند گواہ نمبر (۱۱) ندیم آصف (اے ایس آئی) ایک اور سیکورٹی پرسنل جو کہ اس مقتول کی حفاظت پر معمور تھا اس کا بیان ہے کہ ملزم نے 2011-1-4 کو اچانک فائر کھول دیا کہ مقتول پر اس کی سرکاری گن کے ساتھ اور یہ سارا معاملہ سیکنڈز میں ختم ہو گیا ۔ ایسا ہی بیان مستند گواہ نمبر (۱۲) محمد امیر خان انسپکٹر کی طرف ریکارڈ کیا گیا بذریعہ حاکم خان گواہ نمبر (۱۴) انسپکٹر (انویسٹی گیشن آفیسر )

صفحہ 466

ان تمام گواہان کی موجودگی وکیل دفاع کی طرف کوئی نقطہ اعتراض کے بغیر مان لی گئی۔

وہ قدرتی گواہ ہیں اور فائل میں یہ بھی درج نہیں کہ آیا وہ ملزم کے خلاف کوئی عداوت یا دشمنی رکھتے ہیں۔

یہ گواہان بہت طویل بحث کا حصہ رہے لیکن وکیل دفاع / صفائی اپنے حق میں کچھ نہ حاصل کر سکا۔ یہاں تک کہ ان کے بیانات میں وقوعہ کے مطابق ذرا سا بھی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ جائے وقوعہ یا اوقات وقوعہ کے حوالہ سے۔

اس وقت گورنر تھا۔ اس وقت کہ جب اس کے اوپر الزام آیا اس نے (Plea) لی یا موقف اختیار کیا کہ اس نے ایک مرتد کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق قتل کیا ہے۔ یہ موقف بہر حال بعد میں متعلقہ حوالہ سے دیکھا جائے گا۔

کے ذریعہ اس نے مقتول پر فائر کی جو زخموں کی تاب نہ لا سکا۔ یہ رائفل انویسٹی گیشن آفیسر نے اپنے قبضہ میں کر لی اور یاداشت کے طور پر تصدیق کروائی۔ گواہ (۱۲) محمد امیر خان اور گواہ نمبر (۱۳) تنویر ASI نے اپنے قبضہ میں کر لی اور یاداشت کے طور پر تصدیق کروائی۔ گواہ نمبر (۱۲) محمد امیر خان اور گواہ نمبر (۱۳) سے تصدیق کے بعد رائفل اور کھوکھے میچنگ اور تقابل کیلئے لیبارٹری میں بھیجے گئے ۔ FSL لیبارٹری کے مطابق یہ تمام خالی گولیاں ملزم کی رائفل سے فائر ہوئی تھیں۔

طبی ثبوت

معائنہ کیا۔ اس کو پتہ چلا 28 گولیوں کے نشان مقتول کے جسم پر موجود ہیں جس پر اس نے اپنی رپورٹ مرتب کی ۔ باوجود موقعہ دینے کے ملزم نے اس گواہ نمبر (۱) کے

صفحہ 467

معائنہ کے خلاف کوئی دوسرا معائنہ نہیں کروایا۔ گولیاں لگنے کا وقت اور جگہ بھی وہی بیان کی گئی جو کہ چشم دید گواہ نے بیان کی جیسا کہ طبی ثبوت مدعی کا چشم دید گواہان کے عین مطابق ہے۔

بیانات ملزم زیر دفعہ 164 کریمنل پروسیجر کورٹ

مدعی/استغاثہ کی درخواست پر ملزم کا اقبالی بیان ریکارڈ کیا۔

بہر حال یہ بیان حلفیہ ریکارڈ کیا گیا جو کہ قانون کی نظر میں قابل قبول نہیں ہے اس کو کوئی ثبوتی حیثیت حاصل نہیں اور نہ ہی اس بیان کو ملزم کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ملزم نے اس کے خلاف اپنے رائے بدلی جو کہ کریمنل کورٹ کے سیکشن زیر دفعہ 342 ہے اور ملزم نے یہ نقطہ اٹھایا کہ یہ والی STATMENT یا بیان تالیف کیا گیا ہے اور یہ کہ وہ حلفاً اس طرح کے اقبالی بیان دینے کیلئے تیار نہیں۔ اسلئے قانونی کیس جس کے اوپر مدعی انحصار کرتا تھا پی ایل ڈی 2007 سپریم کورٹ 202 کا حالات و واقعات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی قانونی حیثیت۔

لیبارٹری کی رپورٹ

تصدیق کے بعد جس کو کیمیکل ایگزامینر کو بھیج دیا گیا۔ جس نے رپورٹ مرتب کی کہ مٹی خون کے دھبوں سے آلودہ تھی۔ جس کی بنیاد معلوم کرنے کے لئے اس کو (Serologist) کے پاس بھیجا گیا جس نے رپورٹ مرتب کی کہ ذرات انسانی خون سے ہی آلودہ تھے۔ ان حالات میں تمام ضروری روابط کہانی یا واقعہ کے استغاثہ یا مدعی کی طرف سے دستیاب ہیں۔ استغاثہ کا موقف بھی صحیح ربط اور تسلسل کے ساتھ ہے اور کوئی حصہ ضائع یا عدم دستیاب نہیں۔

صفحہ 468

اچانک اور بدترین اشتعال

لاہور جیل میں سزا یافتہ قیدی کے ساتھ ملاقات کیلئے بھی گیا بیانات اخباروں میں بھی شائع ہوئے ۔ بہر حال کاغذات / پریس کٹنگ جو کہ ملزم کی طرف سے پیش کی گئی ان میں آخری بیانات نومبر 2010ء میں شائع ہوئے جبکہ واقعہ 4 جنوری 2011ء میں ہو رہا ہے ۔ مطلب اس کیلئے ملزم کو کوئی اچانک اشتعال نہیں آیا ۔ مزید یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ کوئی مقتول کے دفاع کا کیس نہیں بلکہ ماضی میں توہین رسالت کے خلاف بیان ملزم کی موجودگی میں اس میں اچانک اشتعال کا عنصر شامل نہیں ۔

موقع ملا کہ وہ مقتول کے سامنے سوال رکھ سکے ۔ بہر حال استغاثہ کی طرف سے دیے گئے سکیل (جگہ کا نقشہ) بتاتا ہے کہ ملزم مقتول سے آٹھ (8) فٹ کے فاصلہ پر تھا بوقت وقوعہ مطلب کہ وہاں پر کوئی موقع نہ تھا ملزم کیلئے کہ مقتول سے سوال کر سکے پھر کیونکر وہ توہین کے قانون کے متعلق بات کرتا۔

موقع مل گیا تب بھی اس کو اس اچانک اشتعال کا فائدہ نہیں دیا جا سکتا کہ استغاثہ / مدعی کی طرف سے یہ مؤقف اپنایا جائے گا کہ یہ تو ملزم ہی تھا جس نے اشتعال کی خاطر اس سے سوال کئے ۔

مقتول نے کوئی ایک لفظ بھی ادا نہ کیا اس سے پہلے کہ واقعہ رونما ہوا ملزم کی موجودگی میں ۔

اعلیٰ عدالت میں کیس داخل ہوا۔ 2011ء - SCMR 613 کہ شدید اور اچانک اشتعال کا فائدہ تب دیا جا سکتا ہے جب کہ ملزم کی طرف سے اس کی پہل نہ کی جائے ۔

صفحہ 469

توہین رسالت

اور صرف نبی پاک خود ہی اس کو معاف کر سکتے ہیں۔ لیکن بہر حال اس مرحلہ پر دو سوال اٹھتے ہیں۔

مرتد قرار دیں یا لادین یا غیر مسلم مزید براں افراد کو اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اس طرح کے افراد کو سزا دیں کیونکہ اس طرح کے کام یا شخص طوائف الملوکی یا خرابی کی طرف معاملات لے جائیں گے اور ساتھ ہی ساتھ معاشرے میں بے چینی اور لا قانونیت کی فضا قائم ہو گی اس لئے وکیل صفائی / دفاع کا اس ضمن میں مؤقف ملزم کے حق میں مددگار ثابت نہ ہوئے۔

انسداد دہشت گردی کی شرائط کی طرف رجوع

نے (ملزم) مقتول کو دن دیہاڑے ایک عوامی جگہ پر ملک کے دارالحکومت میں قتل کیا جس سے اس نے عام پبلک کو خوفزدہ یا ہراساں کیا اور پورے عوام الناس میں اس نے دہشت کی لہر پیدا کر دی اور اس کام نے عوام کے اندر دکھ اور عدم تحفظ کی کیفیت کو پیدا کیا۔ جیسا کہ سیکشن (۷) برائے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء ان حالات اور حقائق کی طرف رجوع کرتا ہے۔

بالاتر ثابت کیا اور یہ کہ مستغیث گواہان مواد کے حوالہ سے متضاد نہیں ہیں ۔ یوں مدعی / استغاثہ کی کہانی مکمل منظم اور ربط میں ہے تمام منسلک / متعلقہ ذرائع بہم ہیں

صفحہ 470

جبکہ وکیل صفائی / دفاع کا مؤقف ثابت نہ ہوا ملزم کا اقدام دہشت گردی کی حدود میں شامل ہے۔ میں ملزم ممتاز حسین قادری کو مجرم قرار دیتا ہوں زیر دفعہ 302A پاکستان پینل کوڈ اور دہشت گردی کی دفعہ 7ATA کے تحت

تحت سلمان تاثیر کا قتل کیا وہ خود ایک منظم ادارہ کا رکن تھا اور اس سے امید تھی کہ وہ مقتول کی جان کی حفاظت کرے گا نہ کہ اس کی جان لے گا۔ اس لئے میں مجرم کو سزائے موت سناتا ہوں زیر دفعہ (b)302 پی پی سی ۔ جبکہ مجرم کے اوپر جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے مبلغ ایک لاکھ روپے جو کہ مقتول کے وارثوں کو زیر دفعہ (A) 544 کریمنل پروسیجر کوڈ (Cr.pc) ادا کرنے کا حکم دیتی ہے ۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں مجرم مزید چھ ماہ کی قید بامشقت برداشت کرے گا۔

جاتی ہے ۔ جبکہ اس کے اوپر ایک لاکھ جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے ۔ زیر دفعہ 7 ATA اور عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں مجرم چھ ماہ کی قید بامشقت سنائی جاتی ہے۔ مجرم کو موت تک لٹکایا جائے اور ساری سزا پے بہ پے / ساتھ ساتھ ہے اور مجرم کی سزا اعلیٰ عدلیہ کی تصدیق کے ساتھ ہے ۔ قتل کا ریفرنس احوالہ اعلیٰ عدلیہ کو بھیجا جائے اور اسکی کاپیاں استغاثہ اور مجرم دونوں کو بغیر قیمت کے دی جائیں۔ مجرم اپنی اپیل (7) سات دن کے اندر کر سکتا ہے ۔ آلہ قتل بحق سرکار ضبط کیا جائے اور باقی کیس کے حوالہ جات قانونی شرائط کیساتھ اپیل کی مدت ختم ہونے کے بعد ضائع کرنے کا حکم صادر کرتی ہے۔

بحکم عدالت اڈیالہ جیل راولپنڈی

صفحہ 471

معزز قارئین! گورنر تاثیر کے قتل کے بعد قومی اخبارات و رسائل میں مختلف حضرات کی طرف سے قانون ناموس رسالت، گورنر تاثیر کے قتل اور ممتاز حسین قادری کی بابت کالم، مضامین لکھے گئے، ان میں سے چنیدہ کالمز ومضامین کو آپ کے ذوق مطالعہ کیلئے بلا تبصرہ شائع کیا جارہا ہے تاکہ آپ پر اس کیس اور ناموس رسالت کے قانون کے حوالے سے نئی راہیں آشکار ہو سکیں۔ ہر کالم نگار اور مضمون نگار کا اپنا نقطہ نظر ہے۔ راقم کا اس کی تحریر سے سو فیصد متفق ہونا ضروری نہیں۔ صرف عمومی فائدے کی خاطر ان مضامین کو شامل کتاب کیا جا رہا ہے۔

صفحہ 472

٭ 1 ٭ سلمان تاثیر کا قتل یا شہادت؟

آفتاب کبیر

ہم سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے کہ اچانک کسی نے ہماری توجہ بریکنگ نیوز کی طرف دلائی۔ جو کہ کوہسار مارکیٹ اسلام آباد میں سلمان تاثیر پر فائرنگ کے واقعے کے متعلق تھی۔ ابھی اس خبر کو چند منٹ ہی گزرے تھے کہ تمام چینل نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔ گورنر پنجاب کو جس شخص نے قتل کیا تھا ان کا تعلق گورنر پنجاب کے سیکیورٹی سٹاف سے تھا۔ ان کا نام ملک ممتاز قادری ہے۔ بعد میں خود کو پولیس کے حوالے کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ چونکہ گورنر پنجاب نے توہین رسالت کو ”کالا قانون“ کہا تھا اس وجہ سے میں نے اسے قتل کر دیا ہے۔

اس واقعے کی تھوڑی دیر کے بعد عبدالرحمٰن ملک نے گورنر پنجاب کی ہلاکت کو شہادت کہا۔ اس کے بعد کئی وزراء بھی یہی کہتے ہوئے سنے گئے اور میڈیا بھی سلمان تاثیر کو ”شہید“ کہہ رہا تھا۔ ہر اک نے بہ امر مجبوری اپنی وفاداری حکومت کے ساتھ ظاہر کرنی تھی۔ اگر شہادت سے بڑا درجہ بھی ہوتا ہے تو یقیناً وہ بھی اسے دے دیتے۔ کسی نے اسے بھٹو کا قتل کہا، کسی نے پیپلز پارٹی کا قتل کہا اور کسی نے سیاسی قتل کہا، الغرض جس کے منہ میں جو آیا اس نے اسے کہہ دیا۔۔۔۔۔۔ ۔۔ چاہے وہ سیاسی اداکار تھے یا میڈیا کے کردار تھے۔

سارے کا سارا میڈیا، نامور اینکرز اور نام نہاد سیاستدان جو سیاسی بصیرت سے تو بے بہرہ ہیں ہی، شریعت کی الف بے سے بھی واقف نہیں ہیں اور بولتے اس طرح ہیں جیسے وقت کے بہت بڑے امام یا وقت کے مجدد ہیں۔ یہ لوگ مختلف پروگراموں میں ایسا ہی تاثر دے رہے تھے اور یہ ثابت کرنے میں بضد دکھائی دیتے تھے کہ یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے، ٹارگٹ کلنگ ہے، انتہاء پسندی ہے۔ وہ مصر نظر آ رہے تھے کہ ثابت کریں کہ ملک ممتاز قادری نے قانون اپنے ہاتھ میں لیا ہے۔

کسی نے اتنی زحمت گوارہ نہیں کی کہ قتل کے اس واقعے کو سیاق و سباق کے ساتھ دیکھنے کی

صفحہ 473

کوشش کرتا۔ سلمان تاثیر نے قانون تحفظ ناموس رسالت کے متعلق کس دیدہ دلیری کے ساتھ اپنے ریمارکس دیئے تھے۔ سلمان تاثیر نے کہا تھا کہ توہین رسالت انسان کا بنایا ہوا قانون ہے، اس میں تبدیلی ممکن ہے، اور یہ ”کالا قانون“ ہے۔ کیا سلمان تاثیر کا توہین آمیز لہجہ اور الفاظ قابل مذمت نہیں تھے؟ یہ اصل وجوہات کسی کو نظر نہیں آرہی تھیں۔ کیا توہین رسالت کا قانون انسان کا بنایا ہوا ہے؟ ہر نام نہاد مبصر اس واقعے کو دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے ساتھ جوڑ رہا تھا۔

ایک نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ حکومت کا کام ہے کہ ایسے عناصر کا سر کچل دے۔ اس طرح سے تجزیہ کرنا شاید ان کی مجبوری ہوگی کیوں کہ جو جتنا بڑا اور نامور ہو جاتا ہے وہ ہر مسئلے پر کھل کر بات تو کر سکتا ہے لیکن توہین رسالت کے معاملے پر ان کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ جب بھی ناموس رسالت کی بات آتی ہے ان کی زبانیں اور ان کے فہم و ادراک ان کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں، انہیں مصلحت پسندی یاد آ جاتی ہے جو جتنی بڑی مسند پر بیٹھا ہے وہ اتنا ہی بڑا مصلحت پسند ہو گیا ہے۔

کئی حلقے حکومت کو قانون تحفظ ناموس رسالت کو چھیڑنے سے منع کر رہے تھے اور کر رہے ہیں لیکن لگتا یہی ہے کہ حکومت پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا گورنر توہین رسالت کی نظر ہو جانے کے بعد بھی نہیں سمجھ رہی ہے۔ تو پھر عین ممکن ہے کہ موجودہ حکومت بھی اسی قانون کی نظر ہو جائے۔ اگر خسرو پرویز ہلاک ہو سکتا ہے اور اس کی سلطنت و حکومت جا سکتی ہے تو یہ بھی عین ممکن ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت بھی ختم ہو جائے !!!

اللہ کا رسول ﷺ کوئی مذاق تو نہیں ہے کہ جس کا جب دل چاہے، جہاں دل چاہے وہ زبان درازی شروع کر دے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ ہر صدی کا کوئی نہ کوئی فتنہ ہوتا ہے اور یہ اس صدی کا فتنہ عظیم ہے۔ اس فتنے سے نمٹنے کے لئے ہم مسلمان قانون سازی نہیں کریں گے تو کیا غیر مسلم کریں گے......؟

مسلم ہو یا غیر مسلم اسے شان رسالت کے متعلق بات کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے کہ اگر یہ

صفحہ 474

قانون ختم کردیں تو اللہ کا رسول ﷺ نعوذ باللہ مذاق بن جائے گا۔ ہر کوئی روشن خیالی کی آڑ میں آقا کریم ﷺ کی ذات پاک کو نشانہ بنانا شروع کر دے گا۔ مشرکین تو یہی چاہتے ہیں اور وہ آئے روز اس طرح کا اظہار کبھی فلم بنا کے، کبھی کارٹون کی صورت میں، کبھی فیس بک پر مقابلہ منعقد کروا کے کرتے رہتے ہیں۔ پھر مسلم ملکوں میں بھی یہ روایت چل نکلے گی، ان آنے والے حالات میں سب سے زیادہ روشن خیال وہ ہوگا جو اللہ کے حبیب ﷺ پر سب سے زیادہ گستاخی کرے گا۔ (نعوذ باللہ) اور یوں اسے ”آزادی رائے“ کہا جائے گا۔

ایسے قانون کی اجازت نہیں دی جاسکتی جس سے توہین رسالت کی راہ نکلتی ہو۔ اس طرح کے قوانین سے معاشرے کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ جو خبیث ذہن گندی سوچ رکھتے ہیں، ان کی ناپاک زبانیں بند ہو جاتی ہیں۔ جو شان رسالت ﷺ میں گستاخی کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں وہ بولتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ اگر یہ خوف و ڈر معاشرے سے ختم ہو جائے یا ختم کر دیا جائے تو جس کا جب دل چاہے گا نام نہاد آزادی رائے (توہین رسالت) کا اظہار شروع کردے گا۔ لیکن خبردار! کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اللہ کے حبیب ﷺ کی شان میں گستاخی کرے۔ چاہے وہ کوئی بھی ہے یا اس کا کوئی بھی مقام و مرتبہ ہے۔

میڈیا اور حکومت جس طرح ملک ممتاز قادری کو قاتل، ظالم، قانون ہاتھ میں لینے والا، جنونی، انتہاء پسند اور مجرم کے طور پر پیش کر رہی ہے اسی طرح سلمان تاثیر کو شہید، مظلوم اور بے قصور قرار دے رہی ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر ہمیں غازی علم دین، عامر عبدالرحمن چیمہ کو بھی قاتل انتہاء پسند اور مجرم کہنا پڑے گا۔ جب کہ دوسری طرف راج پال، جرمنی کے ایک توہین رسالت کے مرتکب اخبار کے ایڈیٹر کو مظلوم، شہید اور بے قصور کہنا ہوگا۔

جو اٹھائے انگلی ناموس شہ ابرار ﷺ پر
لعنت ایسی بے لگام آزادی اظہار پر
پھر بھی ناموس رسالت پر نہ آنے دیں گے آنچ
گو ہمیں لٹکا دیا جائے صلیب و دار پر

☆☆☆

صفحہ 475

﴿2﴾ مصلحتوں سے بے نیاز عشق

انیلہ محمود

2010ء تو رخصت ہوا مگر گذرے برس میں کوئی خاص خوش کن واقعات ریکارڈ نہیں کئے گئے۔ ہر لمحہ ہر دن لہو رلا دینے والے واقعات کے ساتھ رونما ہوتا رہا کبھی آفات سماوی، کبھی خودکش دھماکے، کبھی ڈرون حملے، کبھی مہنگائی بم، کبھی بے روزگاری کے ستم، کبھی بجلی گیس کا زیرو بم، کبھی سیاست دانوں کی ایک دوسرے پر نظر کرم، غرض یہ کہ گذشتہ برس ہمیں کوئی خوشگوار یادیں دے کر رخصت نہیں ہوا بلکہ جاتے جاتے گئے برس کی تلخیاں، کڑواہٹیں اور رنجشیں بھی ہماری جھولی میں ڈال گیا یہ سوچے بنا کہ ہم چھید شدہ جھولی کے ساتھ ان کا بوجھ سہار بھی پائیں گے یا نہیں اور یوں 2011ء کا سورج بھی خون کے چھینٹوں کے ساتھ گذشتہ برس کی روایت دہراتا ہوا طلوع ہوا۔ سال نو کے چوتھے دن اسلام آباد میں رونما ہونے والے واقعے نے عوام کو مزید ذہنی خلفشار میں مبتلا کر دیا۔ پھر مایوسی کے بادل اذہان پر چھا گئے۔ سیاسی ماحول میں بھی الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ عوام واضح طور پر دو گروپوں میں تقسیم ہو گئے۔

4 جنوری 2011ء کو گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ان کے اپنے ہی سیکورٹی گارڈ نے اسلام آباد میں قتل کر دیا۔ قاتل موقع سے فرار نہ ہوا بلکہ اس نے خود کو گرفتاری کے لئے پیش کر دیا۔ اس نے کہا کہ میں تین دن سے اس بات پر عمل کرنا چاہ رہا تھا اس کی وجہ اس نے یہ بتائی کہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر شان رسول ﷺ میں گستاخی کے مرتکب ہوئے تھے انہوں نے توہین رسالت کے قانون 295-C کو ”کالا قانون“ کہا تھا جس کا اسے (قاتل کو) بہت رنج تھا اس کے جذبات بہت مشتعل تھے وہ سمجھتا تھا کہ کوئی اور یہ کام نہ کر جائے اسلئے اس نے خود گورنر پنجاب کو قتل کر دیا اور اسے اپنے اس اقدام پر کوئی شرمندگی اور ندامت نہیں بلکہ وہ اس عمل کو اپنے لئے قابل فخر سمجھتا ہے۔

صفحہ 476

گذشتہ دنوں گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے توہین رسالت کی مرتکب خاتون عاصیہ مسیح سے ملاقات کی تھی اور اسے کہا کہ وہ صدر آصف زرداری سے اس کی سزا معاف کرنے کی سفارش کریں گے۔ انہوں نے توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون کہا اور عدالتی قانون کو بھی نہ ماننے کا بیان جاری کیا۔ عاصیہ مسیح کو عدالت سے باقاعدہ توہین رسالت کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ جس کے بعد سلمان تاثیر نے اس خاتون سے ہمدردی کرتے ہوئے کئی بیانات جاری کئے جس پر مذہبی وعوامی حلقوں میں سخت غصہ اور اشتعال پھیل گیا۔

پاکستانی قوم جتنی بھی گراوٹ کا شکار ہو جائے مگر اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ ہر پاکستانی مسلمان ناموس رسالت اور حب رسول ﷺ کے حوالے سے حساس ہوتا ہے اور اس کے دل میں ہر وقت رسول ﷺ سے محبت کے جذبات غالب رہتے ہیں۔ وہ اپنے پیارے محبوب خدا نبی ﷺ کی شان میں کوئی گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔

نبی پاک ﷺ سے محبت کے عملی اظہار کے لئے ہر دور میں کوئی نہ کوئی نبی ﷺ کا شیدا نبی ﷺ کی حرمت پر بخوشی جان قربان کرتا رہا۔ غازی علم الدین ؒ کا واقعہ ہماری سنہری تاریخ کا حصہ بن چکا ہے اور ہر بچہ جوان، بوڑھا ان کی محبت کی مثالیں پیش کرتا ہے۔ جنہوں نے ایک ہندو راج گوپال کو گستاخی رسول کا مرتکب ہونے پر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ جس کی پاداش میں انہیں پھانسی پر چڑھا دیا گیا اور وہ تختہ دار پر بھی مطمئن اور اپنے اقدام پر شاد نظر آتے رہے۔ اسی طرح چند برس قبل جرمنی میں زیر تعلیم ایک پاکستانی طالبعلم عامر چیمہ جس کا تعلق راولپنڈی سے تھا اپنے نبی پاک ﷺ کی حرمت پر قربان ہو گیا۔ اس نے ایک ایسے شخص پر قاتلانہ حملہ کیا تھا جو رسول پاک ﷺ کے گستاخانہ خاکے بنا کر توہین رسالت کا مرتکب ہوا تھا۔ اگرچہ اس حملے میں وہ گستاخ تو بچ گیا مگر عامر چیمہ کو پر اسرار انداز میں قتل کر دیا گیا۔ جب شہید عامر چیمہ کی میت پاکستان پہنچی تو ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس کے اہل خانہ کو شہادت کی مبارکباد دینے کے لئے اس کے گھر پہنچ گئے اور آج بھی ملک بھر کے عوام عامر چیمہ شہید سے

صفحہ 477

عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔

حالیہ واقعے کا جہاں تک تعلق ہے تو بہت سے حلقوں نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیانات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا تھا۔ ٹی وی اور اخبارات پر مباحث کا طویل سلسلہ چلتا رہا تھا۔ لوگوں کی رائے میں عاصیہ مسیح کو عدالت میں اپیل کا حق حاصل ہے۔ اگر وہ بے گناہ ہوئی تو بری کر دی جائے گی وگرنہ سزا برقرار رہے گی۔ اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔ کیونکہ کچھ حساس اور نازک معاملات ایسے ہوتے ہیں جن پر ذرہ برابر بھی غیر ذمہ داری مذہبی جذبات مشتعل کرنے اور انارکی کا باعث بن جاتی ہے۔ ہوا بھی یوں ہی۔ عاصیہ مسیح کو باقاعدہ ثبوتوں کی بناء پر سزا سنائی گئی تھی اس علاقہ کے امام مسجد کے مطابق اس نے گواہوں سے قرآن پاک پر حلف لے کر تصدیق کی تھی کہ عاصیہ مسیح توہین کی مرتکب ہوئی تھی۔ ہر ذی شعور شخص جانتا ہے کہ کوئی بھی مسلمان اتنا بڑا اور سنگین الزام کسی ذاتی رنجش اور مفاد کی بنا پر نہیں لگا سکتا کیونکہ ایک مسلمان مکافات عمل اور خدا کے انصاف سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے۔

اس واقعے کے بعد ملک میں واضح طور پر دو گروپ تشکیل پا چکے ہیں۔ جن میں سے ایک حلقہ قاتل ملک ممتاز قادری کو حق پر اور دوسرا مقتول گورنر سلمان تاثیر کے قتل کو ناحق قرار دے رہا ہے۔ میڈیا پر دوبارہ سے بحث کا سلسلہ آغاز ہو گیا ہے۔ شاتم رسول اور عاشق رسول کی تشریحات اور توجیہات پیش کی جارہی ہیں۔ انسانی خون کو پوری انسانیت کا خون قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف مذہبی حلقوں کی طرف سے ممتاز قادری کو سراہا جا رہا ہے۔ اسے ہیرو قرار دیا جا رہا ہے عدالت پیشی پر پھولوں کے ہار اور پتیوں سے سواگت کیا جا رہا ہے۔ وکلاء منہ چوم رہے ہیں۔ اور مفت مقدمہ لڑنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ کچھ سیاسی رہنما اس قتل کو سیاسی قتل قرار دے کر سیاسی حریفوں کو گھیرنے کی کوشش میں ہیں۔ ادھر رحمٰن ملک بھی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اگر ان کے سامنے بھی کوئی گستاخی رسول کرے گا تو وہ اسے اپنے ہاتھوں سے گولی مار دیں گے۔ مغربی حلقوں کی طرف سے بھی مذمت کی جارہی ہے۔ نہ جانے ابہام

صفحہ 478

کہاں ہے جو مسائل کو بڑھا رہا ہے۔

حق اور ناحق کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا مگر اتنا ضرور ہے کہ ہمیں بحیثیت مسلمان اور بحیثیت قوم اپنے اندر برداشت، صبر وتحمل اور رواداری کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔ گولی اور گالی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ مقتدر حلقوں کو بھی نازک معاملات پر بیان دیتے ہوئے مذہبی وعوامی جذبات کو ملحوظ رکھنا چاہئے عشق تو یوں بھی مصلحتوں سے بے نیاز ہوتا ہے اور اگر بات رسول پاک ﷺ سے محبت اور عشق کی آجائے تو پھر اس کے مقابلے میں زندگی جیسی نعمت بھی بے مول ہو جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنے تمام معاملات میں مغربی رائے کو اہمیت نہیں دینی چاہئے بلکہ ہمیں اپنے ملکی حالات اور مذہبی جذبات کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔

(روزنامہ اوصاف بروز جمعۃ المبارک 7 جنوری 2011ء ، کالم نگار انیلہ محمود)

3 ٭ قانون ناموس رسالت ۔۔۔ حقائق اور پروپیگنڈہ

(عرفان صدیقی)

کہا جاتا ہے کہ ناموس رسالت کا قانون جنرل ضیاء الحق نے بنایا۔ یہ بھی پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ یہ قانون اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لئے بنایا گیا تھا۔ اس قانون کے متعلق کئی اور شکوک و شبہات بھی پیدا کئے جارہے ہیں ۔ اس تناظر میں اس حوالے سے محترم محمد اسماعیل قریشی جنہوں نے ایک طویل جدوجہد اور قانونی جنگ کے بعد اس قانون کو موجودہ شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا ، کتاب ”ناموس رسول‘ اور قانون توہین رسالت“ سے کچھ اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں جو اس سلسلے میں پیدا ہونے والے شکوک کو دور کرنے میں مدد دیں گے۔

اسلام دشمن قوتوں نے پاکستان کی اسلامی ریاست کو ختم کرنے کے لئے سازشوں کا جال سارے ملک میں بچھا دیا۔ زرخرید ایجنٹوں کے ذریعہ یہاں کے نوجوانوں کو دین سے برگشتہ کرنے کیلئے لادینی لٹریچر بھی پھیلانا شروع کر دیا گیا۔ اس سلسلے میں ایک کمیونسٹ ایم (مشتاق) راج کا ذکر ضروری ہے۔ جس کی اشتعال انگیزی قانون توہین رسالت اور اس

صفحہ 479

کتاب کی تصنیف کا باعث بنی۔ اس کی خدمات روس کی حکومت نے حاصل کی ہوئی تھیں۔ ایم راج نامی ایک کٹر کمیونسٹ ایڈووکیٹ نے 1983ء Heavenly Communism (آفاقی اشتمالیت) ایک کتاب لکھی جو ملک کے تعلیم یافتہ طبقہ میں مفت تقسیم کی گئی ۔۔۔۔۔۔ میں نے کتاب پڑھنا شروع کی ۔ جیسے جیسے کتاب پڑھتا گیا، میری قوت برداشت جواب دیتی چلی گئی ۔ مجھ پر غم وغصہ کی جو کیفیت طاری ہوئی وہ ناقابل بیان ہے ۔ اس کتاب میں نہ صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ساتھ تمسخر کیا گیا بلکہ مذاہب اور ادیان کا بھی مذاق اڑایا گیا تھا۔ دینی پیشواؤں کو ’مذہبی شیطان‘ کہا گیا ، انبیائے کرام علیہم السلام پر نہایت گھٹیا اور سوقیانہ حملے کئے گئے اور انتہا یہ کہ حضور ختمی مرتبت ﷺ کی شان میں بھی گستاخی کی جسارت کی گئی ۔ میں نے نہایت صبر وضبط سے کام لیتے ہوئے ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کا اجلاس طلب کیا ۔۔۔۔۔۔ سب علماء کا متفقہ فتویٰ تھا کہ شاتم رسول واجب القتل ہے ۔ لہٰذا حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس ناپاک کتاب کو فوری طور پر ضبط کرے اور بغیر کسی تاخیر کے توہین رسالت کا قانون بنا کر اسے نافذ العمل کر دیا جائے تاکہ آئندہ کسی بھی بدبخت کو اہانت رسول کی جرأت نہ ہو سکے ۔۔۔۔۔۔ پاکستان کے قومی اخبارات نے بھی اس کی تائید کی اور اس کی حمایت میں اداریئے لکھے بالآخر اسلامی نظریاتی کونسل نے اسلامیان پاکستان کے اس مطالبہ کا نوٹس لیا اور جناب شیخ غیاث محمد ، سابق اٹارنی جنرل کی تحریک پر حکومت سے سفارش کی کہ توہین رسالت اور ارتداد کی سزا ، سزائے موت مقرر کی جائے ۔ اس کے باوجود حکومت وقت (ضیاء حکومت) نے اس نازک مسئلہ کو مستحق توجہ نہ سمجھا۔ لہٰذا راقم الحروف نے فیڈرل شریعت کورٹ میں اس وقت کے صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق اور تمام صوبوں کے گورنرز کے خلاف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 203 کے تحت 1984 میں اپنے ساتھ تمام مکاتب فکر کے علماء سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سابق جج صاحبان ، سابق وزرائے قانون ، سابق اٹارنی جنرل ، ایڈوکیٹ جنرل صدر لاہور ہائی کورٹ

صفحہ 480

بار اور دیگر بار کونسلوں کے صدر صاحبان اور نمائندہ شہریوں کو شامل کر کے شریعت پٹیشن نمبر 1984L/Aء دائر کی۔ مقدمہ کی سماعت کا آغاز راقم الحروف کی بحث سے شروع ہوا۔ عدالت نے عوام الناس کے نام نوٹس جاری کر دیئے۔ کمرہ عدالت اور اس کے باہر ہر روز عوام کا ہجوم اس مقدمہ کی کاروائی کی سماعت کے لئے موجود ہوتا۔ اس مقدمہ کی سماعت کے دوران عجیب وغریب واقعات پیش آئے۔ جن میں دو بڑے دلچسپ اور قابل ذکر ہیں۔ اس پٹیشن میں سابق جج لاہور ہائیکورٹ جناب جسٹس چوہدری محمد صدیق بحیثیت مدعی ہمارے ساتھ شامل تھے۔ جبکہ حکومت کی طرف سے ان کے صاحبزادے جناب جسٹس خلیل الرحمن رمدے، جو اس وقت جسٹس رمدے ایڈوکیٹ جنرل تھے پیش ہوئے میں نے عدالت کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ اس تاریخی مقدمہ میں باپ، بیٹا ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ لائق بیٹے نے شریعت پٹیشن کی مکمل طور پر حمایت کی اور تمام صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرلز نے بھی اس پٹیشن کی تائید میں دلائل پیش کئے اور عدالت سے درخواست کی کہ اس درخواست شریعت کو منظور کرلیا جائے۔ ڈاکٹر سید ریاض الحسن گیلانی ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جو حکومت پاکستان کی جانب سے پیش ہوئے ہمارے اس موقف سے اتفاق کیا کہ شاتم رسول واجب القتل ہے۔ لیکن یہ قانونی اعتراض اٹھایا کہ فیڈرل شریعت کورٹ کو اس کی سماعت کا اختیار نہیں۔۔۔۔۔۔ بہر حال فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد وفاقی شرعی عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ اسی اثناء میں ایک اور سنگین واقعہ رونما ہوا۔ جولائی 1984ء میں ایک خاتون ایڈووکیٹ جن کے شوہر ایک بڑے صنعت کار اور سرمایہ دار قادیانی ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمنار میں تقریر کرتے ہوئے۔ معلم انسانیت حضور ختمی مرتبت ﷺ کی شان میں کچھ ایسے نازیبا الفاظ استعمال کئے جو سامعین اور امت مسلمہ دل آزاری کا باعث تھے جس پر سیمنار میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ جب یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس نے اپنے خصوصی اجلاس میں پاکستان کے تمام سر برآوردہ علماء اور

صفحہ 481

وکلاء کی جانب سے اس کی پرزور مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر شاتم رسول کے بارے میں سزائے موت کا قانون منظور کرے اور فیڈرل شریعت کورٹ سے بھی درخواست کی گئی کہ وہ شریعت پٹیشن پر اپنا فیصلہ صادر کرے۔ اسلامی جذبے سے سرشار خاتون مرحومہ آپا نثار فاطمہ نے اس قابل اعتراض تقریر کا قومی اسمبلی میں سختی سے نوٹس لیا اور راقم الحروف کے مشورہ سے قومی اسمبلی میں تعزیرات پاکستان میں ایک مزید دفعہ c-295 کا بل پیش کیا ، جس کی رو سے شاتم رسول کی سزا ،’’سزائے موت‘‘ تجویز کی گئی ۔ مسلمانوں کے متفقہ مطالبہ کے پیش نظر کسی کو اس کی مخالفت کی جرأت نہ ہوسکی ، البتہ وزیر قانون اقبال احمد خان کی طرف سے اس بل میں ترمیم کر دی گئی کہ شاتم رسول کی سزا، سزائے موت یا عمر قید ہوگی ۔ اس طرح دفعہ C-295 کا تعزیرات پاکستان میں اضافہ کر دیا گیا ۔ لیکن اس سے راقم الحروف ، مرحومہ آپا نثار فاطمہ علمائے کرام ، وکلاء اور مسلمان عوام مطمئن نہیں تھے اس لئے دوبارہ فیڈرل شریعت کورٹ میں C-295 کو راقم نے مسلم ماہرین قانون کی تنظیم کی جانب سے اس بناء پر چیلنج کر دیا کہ توہین رسالت کی سزا بطور حد سزائے موت مقرر ہے اور حد کی سزا میں کمی یا اضافہ کرنے کا اختیار کسی کو بھی نہیں اور یہ ناقابل معافی جرم ہے ۔ اس مقدمہ کی باقاعدہ سماعت یکم اپریل 1987ء کو شروع ہوئی ، جس میں تمام مکاتب فکر کے علماء کو بھی معاونت کی دعوت دی گئی ۔

٭ 4 ٭

فاشسٹ اب بس بھی کر دیں ؟

نوید مسعود ہاشمی

اس سارے فساد کی ابتداء اس وقت شروع ہوئی جب پوپ بینڈکٹ کے توہین رسالت کی سزا یافتہ مجرمہ کے حق میں بیان آنے کے بعد مقتول گورنر تاثیر اس سے ملنے شیخوپورہ جیل جا پہنچے۔

صفحہ 482

۔۔۔۔۔ اور انہوں نے جیل میں توہین رسالت کی مجرمہ عاصیہ مسیح کو بے گناہ قرار دے کر عدالت اور قانون کا نہ صرف یہ کہ مذاق اڑایا بلکہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے بنائے جانے والے قانون توہین رسالت کو بھی نعوذ باللہ ”کالا قانون“ قرار دے ڈالا ...... پھر بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔ بلکہ غیرملکی سرمائے کے بل بوتے پر چلنے والی این جی او کے نمائندوں نے بعض نجی چینلز کے ٹاک شوز میں آکر قانون توہین رسالت کے خلاف ایسے ایسے جاہلانہ تبصرے کئے ۔۔۔۔۔ کہ جس کی وجہ سے پاکستان کے مسلمانوں کے جذبات میں شدید اشتعال پیدا ہونا شروع ہوگیا ۔۔۔۔۔ سوال یہ ہے کہ 9 کروڑ سے زائد مسلمانوں کے صوبے کے آئینی سربراہ کو یہ حق کس نے دیا تھا کہ وہ عدالتی طور پر سزا یافتہ گستاخ رسول سے غیر قانونی انداز میں ملاقات کرے ۔۔۔۔۔ سب سے پہلے قانون کو پاؤں تلے انہوں نے روندا کہ ٹی وی سٹوڈیوز میں بیٹھ کر یہ جھوٹ بولتے رہے کہ قرآن میں کہیں گستاخ رسول کے قتل کا حکم موجود نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ گورنر پنجاب کے قتل کے بعد بعض مخصوص نجی چینلز کے اینکر پرسنز جس طرح سے پاکستان کے مذہبی طبقوں کے خلاف کمپین شروع کئے ہوئے ہیں اس کا لا محالہ نتیجہ فساد کے علاوہ اور کیا برآمد ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔ اس وقت تک ملک بھر کے تقریباً آٹھ سو علماء کرام کا گورنر سلمان تاثیر کے جنازہ نہ پڑھنے کے بارے میں فتویٰ سامنے آ چکا ہے ۔۔۔۔۔ ایک نجی چینل پر ایک لبرل فاشسٹ سے جب اس فتوے کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے آگ اگلتے لہجے میں کہا کہ ”ان سارے مولویوں کو الٹا لٹکا دینا چاہئے“ ۔۔۔۔۔ اس نجی چینل سے نشر ہونے والے پروگرام کی ہوسٹ نے جھوٹ بولتے ہوئے قانون توہین رسالت پر چوہدری شجاعت حسین اور گورنر سلمان تاثیر کے موقف کو یکساں قرار دیا ۔۔۔۔۔ حالانکہ یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ چوہدری شجاعت حسین قانون توہین رسالت میں کسی قسم کی ترمیم یا تبدیلی کے قطعاً حق میں نہیں جب کہ گورنر سلمان تاثیر نعوذ باللہ اس قانون کو میڈیا کے سامنے ”کالا قانون“ قرار دیتے تھے ۔۔۔۔۔۔ اس

صفحہ 483

طرح مذہبی طبقوں کے خلاف دل کھول کر منافرانہ تبصرے نشر کئے گئے ۔۔۔۔۔ ایک دوسرے ٹی وی چینل پر ہوسٹ نے تو تمام حدود کو کراس کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتوں کو مین سٹریم سے نکال دینا چاہئے ۔۔۔۔۔ میں اس سے قبل بھی متعدد بار لکھ چکا ہوں کہ بعض ٹی وی اینکرز اور این جی اوز کے نمائندے قانون توہین رسالت پر گمراہ کن تبصرے کرتے رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اس کی وجہ سے پورے ملک کے مسلمانوں میں سخت بے چینی کی سی کیفیت پیدا ہورہی ہے۔۔۔۔۔ اور آج ایک دفعہ پھر میں یہ بات لکھ رہا ہوں کہ اگر پاکستان کے مسلمان لبرل اور سیکولر لادینیت کو لعنت قرار دیتے ہیں ۔۔۔۔۔ اگر پاکستان کے مسلمان ۔۔۔۔۔ اپنی زندگی شرعی اصولوں کے مطابق گذارنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔ اگر پاکستان کے مسلمان اپنے پیغمبر رسول ﷺ سے غیر مشروط اور لامحدود محبت رکھتے ہیں تو کسی لبرل فاشسٹ یا سیکولر انتہا پسند کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اپنی پوزیشن کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹی وی سٹوڈیوز میں بیٹھ کر اقلیت کے ملحدانہ نظریات کو اکثریت پر ٹھونسنے کی کوشش کرے ۔۔۔۔۔ مذہب اسلام اور رسول اکرم ﷺ سے محبت ہر پاکستانی مسلمان کے خون میں پارہ بن کر دوڑتی ہے ۔۔۔۔۔ پاکستان کے حکمران نجی چینلز کے اینکرز اور این جی اوز کے نمائندوں کو مذہب اسلام یا آقا و مولیٰ ﷺ کی عزت و عظمت کے مسئلے پر یہ بات ہر قیمت پر پیش نظر رکھنی چاہیے کہ وہ ایک نظریاتی اسلامی ملک پاکستان میں حکومت یا اپنا کاروبار کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ اگر وہ اپنے ڈالر اور پاؤنڈ کھرے کرنے کے لئے مذہب اسلام اور اس سے جڑی ہوئی پاکباز شخصیت کے بارے میں ہر منہ میں آئی بات بکتے رہیں گے ۔۔۔۔۔ تو پھر اس کے ردعمل میں فتنہ و فساد ہی جنم لے گا ۔۔۔۔۔ یہ عجیب تماشا ہے کہ گورنر پنجاب کے قتل کو بنیاد بنا کر لبرل فاشزم سے وابستہ اینکرز اور تجزیہ نگار اپنے جامے سے مکمل باہر ہوتے چلے جارہے ہیں اور ان کے اس طرز عمل سے پاکستان میں مزید نفرتیں جنم لے رہی ہیں۔ پہلی مرتبہ ہوا کہ تمام مسالک کے آٹھ سو علماء کرام نے یہ فتویٰ جاری کیا کہ گورنر سلمان

صفحہ 484

تاثیر کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے اور نہ اس کی ہلاکت پر افسوس کیا جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر بادشاہی مسجد ، گورنر ہاؤس کی مسجد اور داتا دربار کی مسجد کے ائمہ حضرات سے جنازہ پڑھانے کی درخواست کی گئی تو انہوں نے بھی سلمان تاثیر کی نماز جنازہ پڑھانے سے یکسر انکار کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باقی رہ گئی بات گورنر کو سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کرنے کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو یہی حکومت تھی کہ جس نے لبرل انتہا پسندوں کے قائد رسوائے زمانہ پرویز مشرف کو گارڈ آف آنر دے کر باہر روانہ کیا تھا۔۔۔ کسی شخص کی سچائی کے لئے نہ تو گارڈ آف آنر اور نہ ہی سرکاری اعزاز کوئی دلیل بن سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں کے دلوں میں کس کی محبت ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور آج کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ پاکستان کے مسلمان گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ملک ممتاز قادری کو عاشق رسول غازی علم دین شہید سے تشبیہ دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بدھ کے دن جب ممتاز قادری کو پہلی مرتبہ عدالت میں پیش کیا گیا تو مسلمان وکلاء اور عوام نے اس پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور آیا آیا شیر آیا کے نعرے بلند کئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راولپنڈی کے جید بزرگ عالم دین حضرت پیر سید حسین الدین شاہ صاحب نے اس کے بچوں کی کفالت اپنے ذمہ لے لی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پورے ملک میں دیوبندی ہوں، بریلوی ہوں ، اہل حدیث ہوں یا شیعہ ہوں سب اسے ہیرو قرار دے رہے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے لئے درود پاک کی محفلیں سجائی جارہی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ امریکی پٹاری کے لبرل فاشسٹوں کو چاہیے کہ وہ نجی چینلز کے سٹوڈیوز میں بیٹھ کر جاہلانہ تبصروں کے ذریعے پاکستان میں مزید نفرتیں پیدا کرنے کی بجائے یہ بات تسلیم کر لیں کہ پاکستان محمد عربی ﷺ کے دیوانوں ، مستانوں اور عاشقوں کا ملک ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس میں غیروں کا ایجنڈا کبھی چل ہی نہیں سکتا۔

( کالم نگار نوید مسعود ہاشمی ، روزنامہ اوصاف اسلام آباد 11 جنوری 2011ء )

☆☆☆

صفحہ 485

٭5٭ سلمان تاثیر کا قتل۔۔۔۔ لمحہ فکریہ

پروفیسر رشید احمد انگوی

گذشتہ کئی دنوں تک ہمارا الیکٹرانک میڈیا جس نوعیت کے مذاکرات میں مصروف رہا ان کا ایک موضوع تھا ”ملک میں مذہبی جنونیوں کی سرگرمیاں“ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ”مذہبی جنونی“ سے زیادہ ”مغربی جنونی“ برسرعمل ہیں۔ خصوصاً غیر ملکی این جی اوز کے جھنڈے تلے مرد و خواتین ورکروں کے بیانات ہمارے مؤقف کی تائید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا قتل اہم موضوع ہے۔ موصوف کی زندگی کے آخری چند ہفتوں پر نگاہ ڈالیں تو جو ہوا اس کا خدشہ خود ان کی اپنی زبان سے بھی سنا جا سکتا ہے مگر کیا کہیں کہ گورنری کے منصب پر بیٹھا فرد اپنی افتاد طبع سے ایسا طرز عمل اختیار کئے رہا جو کسی طرح مستحسن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ خصوصاً قانون کی بالادستی کے حوالے سے اس کا نادرست ہونا ان کے کانوں تک پہنچتا رہا مگر اسے قابل توجہ نہ سمجھا گیا۔ گذشتہ برسوں میں الزام تھا کہ داڑھی پگڑی والوں نے سوات جیسے علاقوں میں قانون کی رٹ کو نہیں تسلیم کیا مگر یہی عمل گورنری جیسے طبقوں کا حامل فرد اختیار کئے رہا اور اسے بالا دست طبقوں نے باز رہنے کا اشارہ تک نہ دیا۔ موصوف نے اس معاملہ کو بھی ” مکالمات تاثیر و ثنا“ سے بڑھ کر قابل غور نہ جانا۔ ”اسلام برداشت کا سبق سکھاتا ہے“ کا ورد کرنے والے بھول گئے کہ اسلام عقل کا راستہ اختیار کرنے کا بھی درس دیتا ہے۔

ایک المیہ جو واضح ہو کر سامنے آیا وہ یہ ہے کہ قوم مساوات اور یکجہتی کی دولت سے محروم ہو گئی ہے۔ معاشرے کو امیر وغریب ، اردو و انگلش میڈیم ، مذہبی وسیکولر وغیرہ گروہوں میں اس طرح تقسیم کر دیا گیا ہے کہ قومی اتحاد و اتفاق تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ ایسے میں گورنر تاثیر کے ہمنوا دھڑلے سے کہتے ہیں کہ توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کر کے کونسا جرم کیا جا رہا ہے۔ آزادی رائے پر پابندی کیوں لگاتے ہو۔ جبکہ وہ اس بات کو سامنے نہیں لاتے کہ آج بلیک واٹر سے لے کر غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنے والی این جی اوز تک کتنی طاقتیں ہمارے

صفحہ 486

معاشرے کو اپنی بنیادوں سے کاٹ ڈالنے کے لئے شب و روز کام کر رہی ہیں۔ کیا یہ قابل غور نہیں ہے کہ وہی انگریز جس نے ہماری آزادیاں چھینیں اس کا وزیر خارجہ کہتا ہے کہ تاثیر کے قتل نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسی طرح کی خبر ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کو بہت دکھ پہنچا۔ وہ جو مسلمان ملکوں عراق و افغانستان میں مسلمانوں کے قتل عام کے سوا کوئی کارنامہ انجام نہیں دے رہے ان کے لئے گورنر تاثیر کی ذات اتنی محبوب کیوں بن گئی۔ سوال یہ ہے کہ ٹی وی کے پینل ڈسکشن کے شریک لوگ جو توہین رسالت قانون بحال رکھنے والوں کے خلاف تند و تیز گفتگو کرتے ہیں انہوں نے ڈرون حملوں کے نتیجے میں سینکڑوں بیگناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کی ہلاکت کے خلاف کتنی آواز بلند کی ہے۔

گورنر پنجاب کو شہید کہنا جائز ہے یا نہیں یہ انتہائی سنجیدہ موضوع ہے۔ ”شہید“ خالص اسلامی اصطلاح ہے جو دین اسلام کی سر بلندی کے لئے دشمن سے لڑتے ہوئے جان قربان کرنے والے مجاہد اسلام کے لئے استعمال کی جاتی ہے مگر اسے بڑے اہتمام کے ساتھ گورنر تاثیر کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ بہتر ہوگا کہ یہ طرز عمل ترک کیا جائے۔ ہمارے ہاں جاگیرداروں وڈیروں کی سیاست میں ”شہید“ کے عنوان کو اپنے اقتدار کے لئے بطور حربہ استعمال کرنے کا رواج بن چکا ہے مگر حالیہ مسئلہ میں یہ جسارت بذات خود آنے والے وقتوں کے لئے ایک فتنہ کی بنیاد بن سکتی ہے۔ اپنے طرز عمل کے نتیجے میں گورنر تاثیر جاں بحق ہوئے ہیں تو سرکاری بیانات انہیں درجہ شہادت پر فائز کرنے پر کیوں تل جاتے ہیں۔ حالانکہ اس واقعہ پر قوم کے احساسات اس سے یکسر مختلف ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ریاست کے گورنری جیسے غیر متنازعہ منصب پر فائز سلمان تاثیر کا رویہ مستقلاً کیسا رہا۔ ایک قومی منصب کو پارٹی بازی کی بھینٹ چڑھانے کو قابل تعریف اور قابل رشک کارنامہ کیوں کر قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ گورنر کی تقرری کا اختیار صدر کو ہے مگر اس کی کارکردگی کا نظارہ کر کے رائے قائم کرنا تو عوام الناس ہی کی ذمہ داری ہے۔ افسوس کہ آئینی مسندیں آدھی ریاستی اور آدھی پارٹی کی بن کر رہ جائیں تو اس کے نفسیاتی و فطری اثرات و نتائج قوم کو بھگتنے پڑتے ہیں اور یہی کچھ ہورہا ہے۔

(روزنامہ خبریں 22 جنوری 2011ء کالم نگار پروفیسر رشید احمد انگوی)

صفحہ 487

٭6٭

گورنر پنجاب کا قتل

حافظ محمد ادریس

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو اپنے ہی حفاظتی گارڈ ملک ممتاز قادری نے گولیوں سے چھلنی کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ سرزمین راولپنڈی و اسلام آباد تاریخی لحاظ سے حکمرانوں کیلئے بھاری ہے۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان، لیاقت باغ میں شہید کر دیے گئے۔ پھر ایک دوسرے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کو بھی اڈیالہ جیل میں پھانسی ہو گئی۔ ان کے بعد ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو جو دو مرتبہ وزیراعظم رہ چکی تھیں۔ لیاقت باغ ہی میں گولیوں کا نشانہ بن گئی۔ نہ تو لیاقت علی خان کے سفاک قاتل منظر عام پر آئے اور نہ ہی بے نظیر بھٹو کے ظالم قاتلوں کا اب تک کوئی سراغ ملا ہے۔ البتہ گورنر صاحب کے قاتل نے بڑے اطمینان کے ساتھ اپنے عمل کا اعتراف کیا ہے۔

چار بجے اچانک میڈیا پر خبریں آنے لگیں کہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو کوہسار مارکیٹ اسلام آباد کے قریب موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔ بہرحال ان کا قاتل معلوم بھی ہے اور اس نے اعتراف بھی کیا ہے کہ اس نے یہ کام خوب سوچ سمجھ کر بقائمی ہوش و حواس کیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ کسی انسانی جان کا قتل قابل افسوس امر ہے تاہم اس قتل کے محرکات و وجوہات کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔ ہمارے نزدیک قانون کی موجودگی میں کسی شخص کو قانون سے ماورا عمل کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ گورنر سلمان تاثیر نے گستاخ رسول عاصیہ مسیح کی سزا پر اپنے اختیارات کا جو ناجائز استعمال کیا وہ دنیا کے ہر قانون کے مطابق انتہائی غیر مطلوب اور ناپسندیدہ عمل ہے۔ یہ قانون کو ہاتھ میں لینے بلکہ اس کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف ہے۔ کسی مجرم کو اس کا جرم ثابت ہونے پر کوئی مجاز عدالت سزا دیتی ہے تو اس کے خلاف اپیل کرنے کا حق قانون کی حد اور عدالتی دائرہ کار ہی میں استعمال میں لایا جاسکتا ہے کوئی صاحب اقتدار عدالتی فیصلوں پر وہ ردِ عمل ظاہر کرنے لگے جو گورنر صاحب نے کیا تھا

صفحہ 488

تو اس سے قانون کی عمل داری کا خاتمہ عدلیہ کے وجود اور ساکھ کی نفی اور انارکی کا راستہ کھلتا ہے اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ گورنر صاحب نے قانون تحفظ ناموس رسالت کو ”کالا قانون“ قرار دیا تھا۔

اس بارے میں کوئی دو آراء نہیں ہوسکتیں کہ یہ الفاظ ہر مسلمان کے دل کو چھلنی کرنے کے مترادف ہیں۔ انہی مجروح جذبات کے تحت ان کے گارڈ نے ردعمل میں قانون کو ہاتھ میں لے لیا اور قتل کا ارتکاب کر بیٹھا۔ یہ درست ہے کہ قاتل کو اپنے عمل پر کوئی افسوس نہیں اور صاحبزادہ ابوالخیر زبیر کی بات بھی درست ہے کہ اس قتل پر عمومی طور پر لوگوں کو کوئی افسوس نہیں ہوا۔ قانون کو ہاتھ میں لینے کا عمل درست طرز عمل نہیں اور اس کو جواز فراہم کرنا خطرناک نتائج عواقب کا حامل ہوسکتا ہے مگر ایک مسلمان معاشرے میں آقائے دو جہاں کی عزت و ناموس کے خلاف کوئی بات ہرگز قابل برداشت نہیں ہے۔ یہ وہ مقام ہے کہ جہاں محبت و عقیدت اور جذبہء ایمانی ہر چیز سے ماوراء ہو جاتا ہے۔ ملک ممتاز اب قومی ہیرو کا درجہ اختیار کر گیا ہے اور یہ تو پوری قوم نے دیکھ لیا ہے کہ سرکاری علماء تک نے گورنر کا جنازہ پڑھانے سے معذرت کر لی۔ پیپلز پارٹی اپنے کلچر اور منشور کے لحاظ سے سیکولر جماعت ہے۔ اس کی ایک ایم این اے شیری رحمان نے اس قانون میں ترمیم کیلئے جو مسودہ پیش کیا ہے وہ بھی خاصا ایذا رساں ہے۔ حکمرانوں کے ایسے طرز عمل کے بعد عوام الناس کا اشتعال میں آجانا ناقابل فہم نہیں۔

سلمان تاثیر کے والد ایم ڈی تاثیر ایک شاعر اور ادیب تھے۔ اپنی سوچ کے لحاظ سے وہ ترقی پسند تھے اور ترقی پسند ادیبوں شاعروں کی انجمن کے بانیوں میں سے تھے۔ سلمان تاثیر کی والدہ عیسائیت سے مسلمان ہوئی تھیں۔ انہوں نے اپنا نام بلقیس رکھا تھا جب کہ ان کی چھوٹی ہمشیرہ ایلس مشہور شاعر فیض احمد فیض سے بیاہی گئیں اور انہوں نے اپنا نام تبدیل نہیں کیا تھا۔ ایم ڈی تاثیر ترقی پسند ہونے کے باوجود تحفظ ناموس رسالت کے بارے میں بالکل یکسو تھے ۔ غازی علم الدین شہید کی شہادت پر اس وقت کے تمام مسلم اکابر بشمول قائد اعظم اور علامہ

صفحہ 489

محمد اقبال بہت غمگین ہوئے تھے۔ ان سب نے غازی علم الدین شہید کو زبردست خراج تحسین پیش کیا تھا۔ غازی علم الدین شہید کو میانوالی جیل میں پھانسی دی گئی تو ان کی تجہیز و تکفین کیلئے لاہور میں جو کمیٹی تشکیل دی گئی اس کے روح رواں سلمان تاثیر کے والد ایم ڈی تاثیر تھے۔ انہوں نے غازی علم الدین شہید کے لئے ایک نہایت خوب صورت گہوارہ تیار کروایا۔ اسی میں ان کا جسد مبارک عقیدت مندوں کے ہاتھوں اور کندھوں پر ان کی لحد تک پہنچایا گیا تھا۔

سلمان تاثیر کے خیالات ڈھکے چھپے نہیں تھے۔ ان کے قاتل کے تفصیلی حالات اور خیالات تو معلوم نہیں ہو سکے تاہم وقوعہ کے وقت اس کے چہرے پر طمانیت اور اس کی زبان پر جو کلمات تھے اس سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایمانی حرارت اور عشق رسالت مآب میں غازی علم الدین شہید کا ثانی و مثیل ہے۔ اب تفتیش اور عدالتی کاروائی کے مرحلے جو بھی راستہ اختیار کریں گے اس کا انتظار کرنا چاہیئے اور قتل پر شور مچانے والی این جی اوز اور غیر ملکی طاقتوں کو اسلام پر حملے کرنے کی بجائے خود اپنا جائزہ لینا چاہیے۔ ایک مسلمان معاشرے کی ہیئت ترکیبی کو سمجھنا ضروری ہے۔ رسالت مآب ﷺ سے عقیدت و محبت ایمان کا لازمی جزو ہے اور ان کی ذات اور اس سے متعلق قوانین کو گستاخانہ الفاظ کا ہدف بنانا انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔

اس موقع پر یہ امر بھی پیش نظر رکھنا چاہیئے کہ گستاخی رسول کی سزا اسلامی معاشروں میں روز اول سے قتل ہی ہے۔ تاریخ اسلامی کے عظیم ہیرو صلاح الدین ایوبی نے زندگی بھر کبھی کسی جنگی قیدی کو ذرا برابر بھی سزا نہیں دی تھی۔ وہ ایسا رحیم و شفیق تھا کہ دشمنوں کے لئے بھی اس کے دل میں نرمی و گداز تھا۔ اس نے یورپ کے ایک شہزادے راجر کو اپنی تلوار سے قتل کیا تھا کیونکہ اس نے نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی۔ غازی صلاح الدین ایوبی نے فرمایا تھا کہ: ’’اگر میں نے اسے اپنی تلوار سے موت کے گھاٹ نہ اتارا تو اپنے آقا کو روز محشر کیا منہ دکھاؤں گا؟‘‘

(روزنامہ اوصاف 11 جنوری 2011ء ، کالم نگار ، حافظ محمد ادریس)

صفحہ 490

٭ 7 ٭ یہ معاملے ہیں نازک

عرفان صدیقی

اس کم نصیب بستی میں یہ تو قابل فہم ہے کہ لمحہ بہ لمحہ گہری اور وسیع خلیج کے ایک طرف کچھ خوش پوش مردو زن سلمان تاثیر کی قتل گاہ پر موم بتیاں روشن کر رہے ہوں اور دوسرے طرف عوام کا ایک بڑا ہجوم ممتاز قادری کی رہائش گاہ کے باہر زندہ باد کے نعرے لگا رہا ہولیکن کیا کوئی پاکستانی تصور بھی کر سکتا تھا کہ پیپلز پارٹی اس انتہائی حساس معاملے کو سیاست بازی اور بازاری چوپالوں کا سطحی سا موضوع بنا کر اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالا دینے کی طفلانہ تماشا گری میں لگ جائے گی؟

سلمان تاثیر کا قتل کئی پہلوؤں سے اہم ہے ، پہلی بات یہ کہ ناموس رسالت کے نام پر یہ پاکستانی تاریخ کا پہلا بڑا قتل ہے۔ دوسرے بات یہ کہ قاتل ڈھکا چھپا نہیں رہا کہ قیاس کے گھوڑے دوڑائے جائیں اس کا سراغ لگانے کے لئے اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں ماری جائیں۔ تیسری بات یہ کہ قاتل نے فائرنگ کے فوراً بعد آلہ قتل زمین پر رکھا اور خود کو گرفتاری کے لئے پیش کر دیا۔ چوتھی بات یہ کہ اس نے لگی لپٹی رکھے بغیر نہ صرف اعتراف قتل کر لیا بلکہ اس کی واضح متعین وجہ بھی بیان کر دی۔ پانچویں بات یہ کہ اس نے قتل کو کلیتاً اپنی ذمہ داری قرار دیا اور کہا کہ کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں ۔ ان تمام پہلوؤں کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ ایک نہایت ہی واضح اور شفاف مقدمہ ہے۔ کم از کم اس امر میں تو رتی بھر شک وشبہ نہیں کہ قاتل کون ہے۔ بادی النظر میں قتل کا جذبہ محرک بھی موجود ہے جس نے ممتاز قادری کو مشتعل کر دیا۔ اس نکتے کی تحقیق وتفتیش بہرحال ہونی چاہیئے کہ کیا کچھ اور لوگ بھی سازش میں شریک تھے؟ یہ پہلو بھی پیش نظر رہنا چاہیئے کہ سلمان تاثیر ایک صوبے کے گورنر تھے۔ ان کا تعلق وفاق میں برسر اقتدار سیاسی جماعت سے تھا۔ ان کا قتل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی اس مارکیٹ میں ہوا جس کے چاروں طرف وفاقی بیورو کریسی کے بنگلے ہیں۔ یہ مقام ایوان صدر سے ایک

صفحہ 491

کلومیٹر دور بھی نہیں اور اس کا شمار حساس ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔ گورنر صاحب کی اسلام آباد آمد کی اطلاع تمام متعلقہ وفاقی اداروں کو چوبیس گھنٹے قبل دی جا چکی تھی۔ گورنر کے ملٹری سیکرٹری نے تحریری طور پر اسلام آباد پولیس کو بھی آگاہ کر دیا تھا۔ گورنر صاحب کوہسار مارکیٹ پہلے سے طے شدہ کسی تقریب میں شرکت کے لئے نہیں گئے ۔ انہیں اپنے ہمراہ لے جانے والے دوست اور خود گورنر صاحب کے سوا شاید ہی کسی کو علم ہو کہ وہ کسی خاص ریسٹورینٹ میں کھانا کھانے جا رہے ہیں۔ تصویروں میں ان کی سرکاری بلٹ پروف گاڑی کہیں نظر نہیں آئی۔ وہ اپنے دوست (؟) کی عام گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ روز و شب ملنے والی دھمکیوں کے باوجود انہوں نے بلٹ پروف جیکٹ بھی نہیں پہن رکھی تھی۔

یہ تھے وہ حالات جن میں یہ افسوسناک قتل ہوا۔ سیکیورٹی کے حوالے سے تمام سوالات اس لئے بے معنی ہو جاتے ہیں کہ قاتل ناکافی یا ناقص سیکیورٹی کے سبب حصار توڑ کر گورنر تک نہیں پہنچا، وہ خود اولین حفاظتی حصار کا فرد تھا۔ قاتل ومقتول کے درمیان کوئی حائل نہ تھا۔ یہ سوال یقینا اہم ہے کہ جب ممتاز قادری کو وی آئی پی ڈیوٹی کے لئے نا اہل قرار دیا جا چکا تھا تو وہ گذشتہ پانچ برس سے بدستور اہم شخصیات کے حفاظتی دستوں میں کیسے شامل رہا؟ ایسا نہیں کہ اسے اچانک کسی کونے کھدرے سے اٹھا اور جھاڑ پونچھ کر بطور خاص گورنر تاثیر کی ڈیوٹی پر لگا دیا گیا ہو۔ دسمبر میں میاں نواز شریف مظفر آباد کے جلسہ عام سے خطاب کرنے گئے تو حفاظتی دستے میں ممتاز قادری بھی شامل تھا۔ یہ بھی یاد رکھئے کہ وقوعہ اسلام آباد میں ہوا اس لئے مقتول کے بیٹے شہر یار تاثیر نے اپنی آزادانہ مرضی سے تھانہ کوہسار میں ایف آئی آر درج کرائی۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی رہنمائی میں اسلام آباد کے باصلاحیت افسروں کی ایک ٹیم تشکیل پائی جس میں آئی ایس آئی اور آئی بی کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

اس سب کچھ کے باوجود قتل کے فوراً بعد پیپلز پارٹی کے زعما نے اسے سیاسی رنگ دے دیا اور توپوں کے رُخ پنجاب کی طرف موڑ دیئے۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے مطلع اٹھایا۔ ”گورنر پنجاب کی

صفحہ 492

موت، حراستی قتل ہے اور دنیا جانتی ہے کہ قاتل کون ہے۔“ مرکزی سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب نے گرہ لگائی۔ ”سلمان تاثیر کا قتل کسی مذہبی جنونی کا کام نہیں، یہ ایک سیاسی قتل ہے جس میں پنجاب انتظامیہ ملوث ہے۔“ وزیر اطلاعات قمرالزماں کائرہ نے تان اٹھائی ۔ ”سلمان تاثیر کے قتل کے کئی سیاسی محرکات ہیں۔ پنجاب حکومت کی ذمہ داری تھی کہ انہیں سیکیورٹی فراہم کرتی ۔“ آخر کار صدر آصف زرداری نے اسے جمہوریت کے خلاف سازش قرار دے کر مہر توثیق ثبت کر دی۔

یہ صورت حال کسی طور لائق تحسین نہیں۔ پیپلز پارٹی لبرل اور روشن خیال ہونے کی دعویدار ہے ۔ بہت سے لوگوں کی توقع تھی کہ وہ کسی مسئلے کی سنگینی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھے گی اور کسی طرح کی آلائش کو اثر انداز نہ ہونے دے گی مجھے ڈاکٹر بابر اعوان سے توقع تھی کہ وہ ناموس رسالت کے نام پر قتل کی اس واردات کو صحیح تناظر میں دیکھیں گے اور اپنی پارٹی کو راست راہوں پر رکھیں گے۔ گورنر تاثیر کے ”کالا قانون“ والے بیان کے بعد پیپلز پارٹی کی صفوں سے واحد توانا بیان ڈاکٹر بابر اعوان ہی کا آیا جس میں انہوں نے واضح کیا کہ کوئی اس قانون کے خلاف کسی حرکت کی جرات نہیں کر سکتا۔ بابر اعوان 1974ء کی تحریک ختم نبوت کے وقت میانوالی جیل بھی دیکھ آئے۔ باخبر حلقے جانتے ہیں کہ گورنر تاثیر کے بیان کے منافی ردعمل پر بابر اعوان کو خود اپنی جماعت کے اندر سے کس طرح کی تنقید کا نشانہ بننا پڑا۔ خاص طور پر روشن خیال خواتین نے ان کا جینا دوبھر کر دیا۔ انہیں اشارۃ بھی اس قتل کا رُخ معاملے کی حقیقی نوعیت سے ہٹا کر کسی سیاسی مفاد کی طرف نہیں موڑنا چاہیے تھا۔

حراستی قتل مرتضیٰ بھٹو کا ہوا تھا جو اپنی بہن کی وزارت عظمیٰ کے دور میں، اپنے آبائی گھر کے عین سامنے پولیس کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔ پندرہ برس ہونے کو آئے ۔ کسی نے جاننے کی کوشش نہ کی کہ بھٹو کے بیٹے کے قاتل کون تھے؟ حراستی قتل تو محترمہ بے نظیر بھٹو کا تھا جو محافظوں کے نرغے میں تھیں۔ جن کے جانثار گاڑی کے اندر بھی تھے اور باہر بھی۔ خود ڈاکٹر بابر اعوان اور

صفحہ 493

رحمان ملک چند قدم دور دوسری گاڑی میں تھے ۔ چوتھا سال جا رہا ہے لیکن بی بی کے قاتل سات پردوں میں چھپے ہیں ۔ ان کے نامزد کردہ ملزموں کی طرف کسی کو میلی آنکھ سے دیکھنے کا حوصلہ نہیں ۔ بھٹو کی بیٹی کا خون لاوارثوں کی بے مایہ جوئے خون میں جذب ہو چکا ہے ۔ اپنے ’’شہدا‘‘ کے لہو کے حوالے سے پیپلز پارٹی کا تاریخی ریکارڈ نہایت ہی افسوسناک ہے اس روایت میں ایک اور اضافہ ہونے جا رہا ہے ۔

پیپلز پارٹی معاملے کے تمام پہلوؤں سے اچھی طرح باخبر ہے ۔ اسے چاہئے کہ سلمان تاثیر کے قتل کو درست تناظر میں دیکھے ۔ اس کے محرکات کو سنجیدگی سے لے ۔ معاشرے میں تلوار کی تیز دھار جیسی نئی خلیج پر غور کرے ۔ دوسری سیاسی جماعتوں سے رابطہ کرے ۔ علماء سے مل بیٹھے ۔ فتنہ و فساد کے سرچشموں کو بند کرنے کی تدبیر کرے اس واقعے نے سوسائٹی کو دیوار جاں تک ہلا کے رکھ دی ہے ۔ اگر پیپلز پارٹی بھی معاملے کی حقیقی نوعیت سے آنکھیں چار نہ کر سکی اور کسی مصلحت کے سبب اس قتل کا رُخ سیاست کی طرف موڑ کر سرکس لگانے میں جتی رہی تو ایسی قیامت بپا ہو گی جو کسی کے تھامے نہ تھمے گی ۔ خدارا اس قتل کو درست تناظر میں دیکھئے ۔ درست نتائج پر پہنچئے اور درست فیصلے کیجئے ۔ اللہ سے ڈریں اور اس طرح کے نازک معاملات کو سیاسی دکان کی رونق نہ بنائیں ۔

(روزنامہ اساس 10 جنوری 2011ء ، کالم نگار عرفان صدیقی )

☆☆☆

8 قانون توہین رسالت کے غلط استعمال کی سزا!

اظہر صدیق ایڈوکیٹ

از خدا خواہیم توفیق ادب
بے ادب محروم ماند از لطف رب

۔۔۔۔۔۔آج کل توہین رسالت کے قانون کو غلط استعمال کرنے کے حوالے سے

صفحہ 494

توضیح پیش کی جاتی رہی جس میں سیکولر لابی اور بیرونی امداد کے سہارے چلنے والی این جی اوز اور انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے والے بعض ادارے نہ صرف خصوصی توجہ لیتے ہیں بلکہ منظم انداز میں سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے ملک کو تصادم کی طرف دھکیلنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

دین اسلام ایک مکمل دین ہے اور خدائے واحد لاشریک نے واضح طور پر قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ دوسروں کے مذہب کے بارے مت تنقید کرو کیونکہ ”اور تم ان کو برا نہ کہو جن کی یہ اللہ کے سوا پرستش کرتے ہیں کہ یہ از راہ عداوت اپنی نادانی سے اللہ کو برا کہنے لگیں۔“ (الانعام ٦ آیت ۱۰۸) میں آگے چلنے سے قبل اپنے مضمون ”بین الاقوامی سازشیں اور ناموس رسالت“ کی بڑے پرجوش انداز میں دفاع کر چکا ہوں آج بتاتا چلوں کہ توہین رسالت کا قانون غلط استعمال کرنے کی سزا آج بھی موجود ہے مگر شاید ہمارے علماء یا قانون دان سمجھا نہیں پا رہے۔ راقم کوشش کرے گا کہ اس تصویر کا بھی صحیح رُخ پیش کر سکے۔

تعزیرات پاکستان 1860ء ایک مکمل قانون ہے جس میں ہر جرم کی سزا متعین کی ہے اور کوئی جھوٹ اور دھوکہ دہی یا قانون کو غلط استعمال کرتا ہے اس کا مکینزم بھی موجود ہے۔ ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ (سیکشن C-295) بھی تعزیرات پاکستان کا حصہ ہے۔ یہ کوئی علیحدہ سپیشل قانون نہیں ہے جس طرح (302) کا مقدمہ جھوٹا اندراج کرانے کی سزا متعین ہے اسی طرح (C-295) کے غلط استعمال کا نظام بھی وہی ہے۔ زیر نظر آج میں اس بارے میں قارئین کو تفصیلاً بتانا چاہتا ہوں ،گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ علماء کرام وکلاء برادری اپنی قابل عزت صحافتی برادری کو اور عدلیہ پر ذمہ داری ہے کہ ہم بجائے لڑنے جھگڑنے یا جلسے جلوس کرنے کی بجائے دلائل کے ساتھ اپنا مقدمہ پیش کریں۔ میرا مقصد جلسے جلوس روکنا نہیں ہے وہ ہمارا حق ہے اگر آج کوئی ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم کی کوئی کوشش کرتا ہے۔ جہاں اس کیلئے عذاب عظیم ہے وہاں دنیاوی طور پر ہمیں اس کا ہر سطح پر مقابلہ کرنا چاہئیے

صفحہ 495

اور میں ان تمام لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو اس سلسلے میں کوششیں کر رہے ہیں۔ زیر نظر کاوش ان اقدامات کی توثیق ہے تعزیرات پاکستان کے غلط قوانین پر چلنے سے قبل بتاتا چلوں قرآن مجید میں سورۃ مائدہ کی آیت (۳۳) میں واضح طور پر اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جو شخص بغاوت کرتا ہے کی سزا کا تعین موجود ہے۔

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لئے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کئے جائیں، یا سولی پر چڑھائے جائیں، یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں یا جلاوطن کر دیئے جائیں۔

سورۃ مجادلہ میں بھی اس طرف اشارہ کیا گیا چنانچہ فرمایا: (۵۸:۵) جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کئے گئے تھے اور ہم نے صاف اور کھلی آیتیں نازل کر دی ہیں جو نہیں مانتے ان کو ذلت کا عذاب ہوگا۔ گویا الٰہی قانون میں توہین رسالت کی سزا بنی اسرائیل کے لئے عیسائی مذہب کے پیروکاروں کے لئے اور امت محمدیہ کے لئے یکساں طور پر مجرم کا قتل کیا جاتا ہے۔

میں واپس اپنے مضمون پر آتا ہوں اندراج مقدمہ کے لئے ضابطہ فوجداری 1898ء کے (سیکشن 154) کے ذریعے کسی بھی جرم جو قابل دست اندازی پولیس ہو تو مقدمے کا اندراج کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی بھی درخواست جھوٹی دے تو دفعہ 182 ت پ کے تحت اس کو 6 ماہ تک سزا ہو سکتی ہے یا تین ہزار روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ اس دفعہ کا استعمال جہاں ہر جھوٹی درخواست دینے پر ہوتا ہے وہیں جھوٹی گواہی پر بھی ہوتا ہے۔ میں اس سے آگے چلتا ہوں اگر اندراج مقدمہ کے بعد مقدمے کا چالان عدالت میں چلا جائے اور وہ (سیکشن 191) تعزیرات پاکستان کے تحت بیان کیا گیا ہے کہ جھوٹی شہادت کیا ہے تو اس دفعہ کے تحت ”جو کوئی کسی حلف یا قانون کے صریح حکم سے سچ بیان دینے کا پابند ہوتے ہوئے یا

صفحہ 496

کسی موضوع پر بیان دینے کا پابند ہوتے ہوئے کوئی ایسا بیان دے جو جھوٹا ہو اور جسے یا وہ جانتا ہو یا باور کرتا ہو کہ جھوٹا ہے یا اسے سچا باور نہ کرتا ہو تو اس کا جھوٹی شہادت دینا کہا جائے گا۔“ اس سیکشن میں وضاحت اور تمثیلات بھی بیان کی گئی ہیں۔

جھوٹی شہادت کی سزا کا (سیکشن 193) میں تعین ہے اور وہ سات برس تک ہو سکتی ہے اسی طرح وہ جرمانے کا مستوجب بھی ہوگا۔ سنگین جرم میں سزایابی دلانے کی نیت سے جھوٹی شہادت دینا یا گھڑنا (دفعہ 194 ت پ) کے زمرے میں آتا ہے۔ ”جو کوئی اس نیت سے جھوٹی گواہی دے یا گھڑے کہ اس سے وہ کسی شخص کو ایسے جرم میں سزایاب کرانے کا باعث ہو گا یا علم رکھتے ہوئے کہ اس سے اس کے باعث ہونے کا احتمال ہوگا جو کسی قانون رائج الوقت کے مطابق سنگین ہے تو اس کو عمر قید یا قید سخت کی سزا دی جائے گی جس کی میعاد دس برس تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔“

یہاں یہ بات اہم ہے کہ سزائے موت کے سیکشن یعنی Capital Punishment کے لئے سیکشن 194 ت پ میں مزید بیان کیا گیا ہے۔ اور اگر کوئی بے گناہ شخص اس جھوٹی گواہی کے سبب سے سزایاب ہو کر پھانسی پا جائے تو اس شخص کو جس نے ایسی جھوٹی گواہی دی ہو یا تو سزائے موت دی جائے گی یا وہ سزا جو اس دفعہ میں پہلے بیان ہوئی ہے۔“

کیا ہم اب بھی سمجھتے ہیں کہ توہین رسالت کا غلط استعمال کرنے والا بچ جاتا ہے۔ نہیں ہرگز نہیں مگر ہوتا یہ ہے کہ ہم بیرونی آقاؤں کے ایجنڈے کو اپنے طریقہ کار سے لے کر چلنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ شخص بطور اقلیت جب اسے بیرونی ایجنسیاں ایک ہیرو کے طور پر پیش کرتی ہیں تو وہاں تضاد شروع ہوتا ہے۔ جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں ایک طرف اس بچ جانے والے شخص کو اپنے ممالک میں پناہ دے کر ہیرو بنا دیا جاتا ہے۔ تو دوسری طرف معاشرے میں ایک ہوا پھیلتی ہے یا جس سے ہم شہ دیتے ہیں کہ توبہ نعوذ باللہ آپ توہین رسالت کریں۔ آپ کو باہر کا ویزہ مل جائیگا اور آپ بیرون ملک ہیرو بن جائیں

صفحہ 497

گے، یہ نازک مسئلہ ہے۔ ہمیں ایسے معاملات کو شہرت دینے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ یہ نازک مسئلہ مذہبی جذبات کو ہوا نہ دے سکے۔ ہاں اگر خود قانون میں ایسی کوئی خامی، خلا یا ابہام ہے، جو غلط استعمال کا ذریعہ بن سکتا ہے تو ہماری رائے میں ایسی ہر خامی کو دور کیا جانا چاہیے اور ممکنہ غلط استعمال کے خلاف ہر ممکن تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔ یہ ایسا معاملہ نہیں ہے کہ جو باہمی گفت و شنید سے حل نہ کیا جاسکتا ہو ہمیں صرف مقام رسالت ﷺ کا تحفظ مطلوب ہے۔ بے گناہ لوگوں کو توہین رسالت کے نام پر سزا دلوانا تو خود توہین رسالت کے زمرے میں آسکتا ہے۔ لیکن اگر قانون کا غلط استعمال کسی فرد یا پولیس کے غلط کردار کی وجہ سے ہے تو اس کا علاج قانون کی منسوخی نہیں ہے۔ اس وجہ سے تو ہر قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ قیام امن کے، انسداد دہشت گردی کے، لوٹ گھسوٹ اور بدعنوانیوں کی روک تھام کے قوانین حکومتیں بے دردی کے ساتھ اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لئے استعمال کر رہی ہیں، کیا اس وجہ سے ان سب کو منسوخ کر دیا جائے؟ قتل کے قانون کے تحت پولیس اور بااثر لوگ بے گناہوں کو پھنساتے ہیں ان کو لوٹا جاتا ہے، بعض پھانسی پر بھی چڑھ جاتے ہیں، کیا ان کو بھی منسوخ کر دیا جائے؟ کوئی بھی معقول آدمی یہ بات نہیں کہے گا۔ ذاتی عناد کی بنا پر بھی ملک میں بے شمار مقدمات کھڑے کئے جاتے ہیں اس ظلم کا کوئی خصوصی تعلق اقلیتی فرقوں سے نہیں۔

اپنا مضمون ختم کرنے سے قبل یہ بتاتا چلوں کہ ہمارے ہاں چند مفکر حضرات اور جدید مذہب کے پیروکار ایک توضیح بیان کرتے ہیں کہ رحمت العالمین نے تو گالیاں سن کر، پتھر کھا کر، دعا دی، اب ان کو گالی دینے والے کو موت کی سزا دی جائے؟

ایسے لوگ رحمت کے مفہوم سے آگاہ نہیں، رحمت کا تقاضا جہاں عفو و درگزر ہے وہاں انصاف بھی ہے۔ رحمت للعالمین ﷺ نے واقعہ افک میں قذف کے مرتکبین کو کوڑے لگوائے، زنا کے مجرموں کو سنگسار کرایا، مسلح لشکر لے کر نکلے جس نے بدر کے میدان میں سرداران قریش کو تہ تیغ کر دیا، فتح مکہ کے دن جب ہر جانی دشمن کو معافی مرحمت فرما دی گئی، چھ مرتدین اور شاتمین

صفحہ 498

رسول کے قتل کا حکم صادر ہوا۔ آپ یہ نہ کرتے تو فساد مچتا، اور زیادہ ظلم برپا ہوتا۔

آپ ﷺ نے کوئی حکم اپنی ذات کی خاطر نہیں دیا۔ دین اور ملت کے تحفظ کی خاطر دیا۔ جب رسالت ہی ایمان کی، دین کی، بنیاد ہے، اس کی زندگی کی ضمانت ہے تو توہین رسالت کے مجرم کو سزا عین رحمت کا تقاضا تھا۔ اسی لئے یوم قیامت کو...... جس دن نیکو کاروں کو انعام سے نوازا جائے گا مگر بدکار جہنم جھونکے جائیں گے....... اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت، رحمانیت اور رحیمیت کا دن قرار دیا ہے۔ (الفاتحہ، الانعام)

شان رسالت ﷺ میں گستاخی کے مرتکب فرد کے لئے موت کی سزا کے قانون کی تائید اور حمایت کچھ فقہاء، علماء، ملاؤں اور جنونیوں ہی کا ”جرم“ نہیں ہے۔ بلکہ وہ اچھے اچھے مغربی تعلیم یافتہ مسلمان حضرات، جنہوں نے روح اسلام کو ضائع نہ کیا اور مقام محمدی ﷺ سے آگاہ رہے، کسی بھی مداہنت کے بغیر اس مذہبی جنون کے جرم میں شریک رہے۔

راقم اپنا زیر نظر مضمون ختم کرنے سے قبل دین کے اختلاف کے بارے میں بھی کچھ وضاحت کرنا چاہتا ہے۔ اختلاف کے بارے میں شریعت اسلامیہ کا واضح اور دوٹوک موقف ہے کہ حضور ﷺ کے وہ ارشادات و فرمودات جن کا تعلق کار نبوت اور احکام شرعیہ کے ساتھ ہے ان سے اختلاف کرنا نہ صرف ناجائز بلکہ کفر ہے اس لئے ان امور میں اختلاف کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ارشاد فرمایا:

اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول ﷺ کسی کام کا فیصلہ فرما دے تو پھر ان کا اپنے معاملے میں کچھ اختیار باقی رہ جائے اور جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی تو وہ صریح گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (الاحزاب ۳۳۔ آیت ۳۶) یعنی جب اللہ اور اس کا رسول ﷺ کسی معاملے میں فیصلہ فرما دیں تو پھر کسی مومن کو احکام شرعیہ میں اپنی ذاتی رائے و خیال کے اظہار اور اختلاف کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

صفحہ 499
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اس محمد سے اجالا کر دے
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

(روزنامہ جناح اسلام آباد 25 جنوری 2011ء ، کالم نگار محمد اظہر صدیق ایڈوکیٹ

☆ ☆ ☆

﴿9﴾ معاملہ سلمان تاثیر کے قتل کا

عنایت اللہ گوھانی

چار جنوری کی شام کو گورنر سلمان تاثیر کی کوہسار مارکیٹ اسلام آباد میں اپنے ہی ایک گارڈ ایلیٹ فورس کے اہلکار ممتاز قادری کے ہاتھوں قتل ثابت کرتا ہے کہ کوئی لاکھ سیکورٹی رکھیں ، بلٹ پروف گاڑیوں میں چلیں پھریں یا پروٹوکول کے کئی گاڑیاں ، اس کے آگے پیچھے ہوں لیکن جب موت کا وقت آتا ہے تو کوئی خواہ کتنا ہی طاقت ور اور محفوظ کیوں نہ ہو اجل اور روح قبض کرنے والے فرشتے کو کوئی روک نہیں سکتا ۔ قرآن کا واضح فرمان ہے کہ جب کسی کا وقت پورا ہو جاتا ہے تو اس میں ایک سیکنڈ آگے پیچھے کی گنجائش نہیں ہوتی ۔ سلمان تاثیر کا وقت بھی جب پورا ہوا تو اس شخص نے ہی اسے گولیوں سے چھلنی کیا جو اسے فرشتہ اجل سے دور رکھنے کی خاطر ڈیوٹی پر مامور تھا ۔ کاش ہم موت کو ایک واضح اور کھلی حقیقت مان لیتے ۔ اس موت کو جس سے دنیا بھر میں کوئی ذی شعور انکار کی جرات نہیں کر سکتا ۔

سلمان تاثیر کا قتل دوسرے قتلوں کی نسبت مختلف اس لئے ہے کہ ایک طرف ان کی بیوی اور یتیم بچے خون کے آنسو رلا رہے ہیں مگر دوسری طرف اس کے قاتل کو ہیرو قرار دے کر پھولوں کے ہار پہنائے جا رہے ہیں اور ملک کے سینکڑوں ہزاروں چوٹی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ وکیل ان کا مفت مقدمہ لڑنے کا کھلم کھلا اعلان کر رہے ہیں ۔ یہاں تک کہ اس کی رہائی کے لئے باقاعدہ

صفحہ 500

جلسے وجلوسوں کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے اور ان گنت لوگ موم بتیاں روشن کر کے اس کے گھر تک جلوسوں کی شکل میں جا رہے ہیں۔ آخر سلمان تاثیر کو کیا پڑی تھی کہ وہ یہود و ہنود اور مغرب کے ٹکڑوں پر پلنے والے این جی اوز کو خوش کرنے کیلئے ایسے بیان پر بیان داغ رہے تھے کہ اس ملک کے اٹھارہ کروڑ اسلام پر مر مٹنے والے لوگ اس سے ناراض ہو گئے۔ ناراض بھی ایسے کہ اس کی جان کے لالے پڑ گئے۔ شیری رحمن و دیگر صاحبان اقتدار اور نام نہاد روشن خیالوں کو اس واقعے سے سبق لینا چاہیے اور آئندہ ایسے بیانات داغنے سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہیئے ۔ مسلمان کتنے کمزور درجے کا مسلمان کیوں نہ ہو ۔ وہ نماز بھی کم پڑھے گا اور روزے کا بھی باقاعدہ اہتمام نہیں کرے گا لیکن جب معاملہ مذہب اسلام، قرآن اور پیغمبر ﷺ کا آئے گا تو یہ کمزور مسلمان دین اسلام اور بانی اسلام کی حفاظت کے لئے سب سے اگلی صفوں میں ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ اپنی جان کو بھی نچھاور کرنے کو دنیا اور آخرت کی کامیابی تصور کرے گا۔ اہل مغرب اور نام نہاد روشن خیالوں کو سمجھنا چاہیئے کہ آپ لاکھ اسلام، مسلمانوں اور ان کے مذہب اور پیغمبر ﷺ کے خلاف سازشیں کریں ان کی تضحیک کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں لیکن جب بھی اسلام کو موقع ملے گا وہ آپ کی تدبیر، ہر سازش کا ایسا مقابلہ کریں گے اور آپ کو ایسی عبرت ناک سزا دیں گے کہ رہتی دنیا کے لئے مثال قائم ہوگی۔

سلمان تاثیر نے محض اتنا ہی کہا تھا کہ انسداد توہین رسالت کا قانون کالا قانون ، بلیک لاء ہے ۔ وہ گستاخ رسول عاصیہ مسیح کی رہائی کے لئے بھی سرگرم عمل تھا ، جسے ماتحت عدالت نے توہین رسالت کے الزام میں سزائے موت سنائی ہے۔ سزا دینا اور معاف کرنا عدالت کا کام ہونا چاہیئے لیکن اس ملک خداداد پاکستان میں صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ کوئی کتنا بڑا جرم کیوں نہ کریں ، اسے عدالت عالیہ کی طرف سے دی گئی سزا کی معافی کا اختیار حاصل ہے۔ گورنر پنجاب بھی صدر پر عاصیہ مسیح کی سزا معاف کرنے کے لئے مسلسل دباؤ ڈال رہا تھا۔ ظاہر ہے اس ملک کے حکمرانوں کو عیسائیوں اور یہودیوں کی خوشی کی فکر پڑی ہوئی ہے مسلمان بھاڑ

صفحہ 501

میں جائے انہیں اس کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ لیکن یاد رہے جب تک وہ اپنے ہم وطنوں اور فدائین اسلام کو راضی نہیں کریں گے تب بھی ان کی خیر نہیں ہوگی کہ یہ ملک مسلمانوں کا ہے۔ یہودیوں اور عیسائیوں کا نہیں۔ ہاں اگر یہ طبقہ اہل مغرب کی بجائے اہل اسلام اور اپنے ہم وطنوں کو خوش رکھنے کی کوشش کریں گے تو ان کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکے گا کہ اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام ان پر اپنی جان بھی نچھاور کریں گے۔

سلمان تاثیر اس ملک کے اکیلے ”روشن خیال“ نہیں تھے بلکہ اس سے قبل اے این پی کے حاجی عدیل نے کہا تھا، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے اسلامی کا لفظ ختم کیا جائے۔ اس شخص نے یہ بھی کھل کے میڈیا کے سامنے کہا تھا کہ راجا داہر اس کا ہیرو ہے محمد بن قاسم نہیں۔ ظاہر ہے ایسے اسلام دشمن بیانات مفت میں نہیں دیئے جاتے۔ اس کے پیچھے ایک بڑا ایجنڈا اور مقصد کارفرما ہوتا ہے۔ یہود و ہنود اور نصاریٰ اور مشرکین کو خوش کر کے ان سے مراعات، وزارتیں اور اقتدار طلب کیا جاتا ہے۔ اہل مغرب کو تو ایسے نامناسب بیانات سے خوش کیا جائے گا لیکن جب اپنے ہی ہم وطن اور اسلام پر مر مٹنے والے لوگ ناراض ہوں گے تو پھر کیا ہوگا؟ وہی جو سلمان تاثیر کے ساتھ ہوا۔ جو اپنے ہی گارڈ کے گولیوں کا نشانہ بنے۔ یہ قاتل اب ان گنت مسلمانوں کا ہیرو ہے۔ صرف مدرسوں میں پڑھنے والے طلباء اور میری طرح ان پڑھ لوگوں کا نہیں بلکہ اس ملک کے اس اعلیٰ مغربی تعلیم یافتہ ہزاروں وکلاء کا بھی جو ان پر ہر پیشی میں منوں پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہیں اور انہیں ہار پہنا کر ان کے مفت کیس لڑنے کا اعلان کرتے ہیں۔ ہاں اگر توہین رسالت کی ملزمہ عاصیہ مسیح کی سزا معاف کرنے کا اختیار صدر کو حاصل ہے تو ناموسِ رسالت پر مر مٹنے والے ممتاز قادری کی سزا بھی صدر زرداری معاف فرمائیں۔ یہی بہتر ہے ورنہ آنے والا وقت اس مقدمے کی اہمیت ثابت کرے گا اور اسلام پر مر مٹنے والے لوگ اس مقدمے میں حد سے زیادہ دلچسپی ظاہر کریں گے۔

(روزنامہ اوصاف 21 جنوری 2011ء ، کالم نگار عنایت اللہ گوھانی)

☆☆☆

صفحہ 502

٭ 10 ٭

سینیٹر ہمایوں مندوخیل اور گورنر سلمان تاثیر!

نوید مسعود ہاشمی

پیر کے دن سینٹ کے اجلاس میں سینیٹر ہمایوں مندوخیل نے تحریک استحقاق پیش کرتے ہوئے ایک خبر ایوان میں پڑھ کر سنائی اور بتایا کہ اس خبر میں جو الفاظ ان سے منسوب کئے گئے ہیں وہ انہوں نے کہے ایک این جی او کی ”ماروی سرمد“ ایسا تاثر دے رہی ہیں جیسے میں سلمان تاثیر کو ”شہید“ سمجھتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ سینیٹر ہمایوں مندوخیل نے اپنے موبائل پر آئے ہوئے ماروی سرمد کے پیغامات اور اپنے جوابات پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ وہ سلمان تاثیر کو شہید کہتی اور سمجھتی ہیں۔۔ جبکہ میں ایسا نہیں سمجھتا۔۔۔۔۔ انہوں نے اصرار کیا کہ ماروی سرمد کو استحقاق کمیٹی میں طلب کر کے جواب لیا جائے ۔۔۔۔۔ گورنر سلمان تاثیر اپنی تمام تر نیک اور بد اعمالیوں کے ساتھ قبر کے پاتال میں گم ہو چکے ہیں۔۔۔۔ تقریبا تمام مسالک کے اکابر علماء کرام اور پاکستان کے مسلمانوں کی اکثریت سینیٹر مندوخیل کی طرح سابق گورنر سلمان تاثیر کے بارے ایک ہی رائے رکھتے ہیں۔۔۔ بہت سے قارئین نے مجھے ٹیلی فون کر کے کم از کم دو سے تین ٹی وی چینلز سے نشر کئے جانے والے بعض ٹاک شوز پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا۔۔۔۔

قارئین کا کہنا تھا کہ ایک نجی چینل کی خاتون اینکر پرسن مسلسل علماء کرام اور مذہبی جماعتوں کے خلاف یکطرفہ پروپیگنڈا کر کے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ جیسے ” قانون توہین رسالت کے حق میں نکلنے والی ناموس رسالت ریلیوں میں عوام کو اکسایا جاتا ہے۔۔۔۔ بھڑکایا جاتا ہے یا کسی اقلیت کے خلاف اشتعال دلایا جاتا ہے۔۔۔۔۔ اس خاتون اینکر کو سلمان تاثیر کا جنازہ نہ پڑھانے کا فتویٰ جاری کرنے والے سینکڑوں علما اور اس فتوے کو تسلیم کرنے والے لاکھوں علماء پر بھی شدید اعتراض ہے۔۔۔۔ وہ خاتون اینکر پرسن اپنی ”دنیا“ بنانے کے لئے مذہب اور اہل مذہب کے بارے میں نت نئے سوالات سے لیس ہو کر چند لوگوں کی عدالت لگا کر بیٹھ جاتی ہیں۔۔۔۔۔ اور پھر ایک ایک سے پوچھتی ہیں کہ اس کے

صفحہ 503

نزدیک ممتاز قادری نے گورنر سلمان تاثیر کو قتل کر کے اچھا عمل کیا یا برا۔۔۔۔۔ممتاز قادری نے قانون ہاتھ میں لے کر برا کیا یا اچھا؟ اگر اس عدالت نما ٹاک شو میں بیٹھا ہوا کوئی کمزور سا مولوی یہ کہہ دے کہ بی بی سلمان تاثیر نے شیخو پورہ جیل میں جا کر ایک گستاخ رسول عاصیہ مسیح کو بے گناہ قرار دے کر عدالت کا جو مذاق اڑایا تھا وہ قانونی تھا یا غیر قانونی؟ پھر اس خاتون اینکر کے چہرے کے بدلتے ہوئے رنگ دیکھنے والے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ اس خاتون اینکر پرسن اور اس کی طرح اس کے دیگر مٹھی بھر سیکولر ”پیادوں“ کے مطابق سلمان تاثیر نے اگر شیخو پورہ جیل میں ایک گستاخ رسول آسیہ مسیح کو ساتھ لے کر عدالت کا جو مذاق اڑایا تھا۔۔۔۔ قانون توہین رسالت کو نعوذ باللہ اس نے جو کالا قانون قرار دیا تھا۔۔۔۔ وہ سب درست تھا۔ ۔۔۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ گورنر تھا۔۔۔۔ ماشاء اللہ روشن خیال بھی تھا۔۔۔۔۔ اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ ماڈریٹ بھی تھا۔۔۔۔۔ اگر گورنر سلمان تاثیر کی غیر قانونی حرکتوں کو این جی اوز مارکہ مٹھی بھر گروہ ان کا حق اور اظہار رائے کی آزادی قرار دیتا رہے گا تو پھر پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں اور لاکھوں علماء کرام کو ممتاز قادری کو ہیرو قرار دینے سے دنیا کی کونسی طاقت روک سکتی ہے؟ این جی اوز کی مادر پدر آزاد عورتیں جب روشن خیالی کے نام پر چوکوں، چوراہوں اور کلبوں میں اقلیتوں کے لوگوں کو ساتھ ملا کر تمام مسالک کے علماء کرام کے خلاف بازاری لب و لہجہ اختیار کریں گی۔۔۔۔ جب اکثریتی مسلمان مملکت کے اندر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کیلئے دولت اور میڈیا کی طاقت کے نشے میں مبتلا ہو کر ”تاریک خیالوں“ کا مٹھی بھر گروہ نت نئے انداز میں پروپیگنڈا کرتا رہے گا تو پھر جواب میں انہیں نہ تو کوئی گلاب کے پھول پیش کر کے دے گا اور نہ ہی ان کے لئے آب زم زم سے دھلی ہوئی زبان استعمال کرے گا۔۔۔۔ ان این جی اوز مارکہ لبرل اور سیکولر دانش فروشوں کی منافقت کی انتہا ملاحظہ کیجئے کہ گورنر سلمان تاثیر کے قاتل غازی ممتاز قادری کے لئے تو دن رات پریس کانفرنسوں، اخباری بیانوں، ٹی وی چینلز پر اور مظاہروں میں مطالبے کئے جارہے ہیں کہ اسے

صفحہ 504

پھانسی دی جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن لاہور کے قرطبہ چوک میں امریکیوں کے ہاتھوں تین پاکستانیوں کے قتل پر ان کی زبانیں گنگ ہو چکی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بلکہ یہ دانش فروش یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ ” میڈیا خواہ مخواہ لاہور کے واقعے کو ایشو بنا رہا ہے“ ممتاز قادری کے خلاف مظاہرے کرنے والی این جی اوز لاہور کے قرطبہ چوک میں تین پاکستانیوں کے حق میں امریکہ کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لئے کیوں تیار نہیں ہیں؟ کیا سلمان تاثیر کا خون ان تین بے گناہ پاکستانیوں سے زیادہ قیمتی ہے؟ سینیٹر مندوخیل نے سینٹ کے اجلاس میں گورنر سلمان تاثیر کے متعلق جو کچھ کہا این جی اوز مارکہ گروہ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟

٭ 11 ٭ عاشق صادق ممتاز قادری اور عدالت

نوید مسعود هاشمی

لحم خنزیر کھانے اور ام الخبائث پینے والے لادینی کل پرزے کیا جانیں کہ محبت رسول ﷺ میں جان لٹانے کا مزہ کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ ۔ اس مزے کو پانے کے لئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو عشق کے سمندر میں ڈبکی لگانا پڑتی ہے۔

پروانے کا حال اس محفل میں ، قابلِ رشک ہے اے اہل نظر
اک شب میں ہی یہ پیدا ہوا ، عاشق بھی ہوا اور مر بھی گیا

غازی ممتاز قادری کو دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر 2 کے جج پرویز علی شاہ نے دو مرتبہ سزائے موت سنا کر ۔ ۔ ۔ ۔ عدالتوں کی روایت کو زندہ رکھا ۔ ۔ ۔ ۔ جبکہ قادری نے فیصلہ سننے کے بعد یہ نعرہ لگا کر کہ ” ناموس رسالت “ پر ہزاروں زندگیاں قربان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ میرے عمل کو قبول کرے۔ عاشقوں کی تاریخ کو زندہ رکھا ۔ ۔ ۔ ۔ عدالت سے یہ فیصلہ آنے کے بعد ۔ ۔ ۔ ۔ یقیناً نام نہاد سول سوسائٹی، ڈالر زدہ حقوق حیوانات کی این جی اوز ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لبرل اور سیکولر” ڈالرنیوں “ کے دل ٹھنڈے ہوئے ہوں گے۔ لیکن وہ خاطر جمع رکھیں ...... آئندہ بھی اگر اس پاک سرزمین پر کسی نے سلمان تاثیر بن کر آمنہ

صفحہ 505

کے لال ﷺ کی عزت و ناموس پر بھونکنے والے کی طرفداری ...... یا قانون ناموس رسالت کے خلاف بدزبانی کی کوشش کی ...... تو مسلمانوں کی صفوں میں سے کوئی نہ کوئی ۔۔۔۔۔ غازی ممتاز قادری ضرور نکلے گا ، باقی رہ گئی بات ہتھکڑی اور بیڑی کی تو ۔۔۔۔۔

زنجیر جنوں کا تحفہ ہے زنجیر سے کیا گھبرانا ہے
ہم ہاتھ بڑھائے بیٹھے ہیں ...... پہناؤ جسے پہنانا ہے

کاش کہ اعلیٰ عدلیہ ۔۔۔ جیل میں جا کر ثابت شدہ گستاخ رسول ملعونہ عاصیہ مسیح سے اظہار یکجہتی کرنے پر ۔۔۔ سلمان تاثیر کو انصاف کے کٹہرے میں ۔۔۔ کھڑا کر دیتی اے کاش کہ ۔۔۔ جس وقت سلمان تاثیر ۔۔۔۔ قانون توہین رسالت کو نعوذ باللہ کالا قانون قرار دے کر ۔۔۔۔ دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے دلوں پر ۔۔۔۔ چھریاں چلا رہا تھا ۔۔۔۔ عدالت اس وقت جاگ جاتی ...... تو ممکن ہے کہ ممتاز قادری کو قانون ہاتھ میں نہ لینا پڑتا ۔۔۔ ۔۔ ممتاز قادری اس ملک کے آئین اور قانون کا ۔۔۔۔ احترام کرنے والا ہی تھا ۔۔۔۔ تبھی تو کارنامہ سرانجام دینے کے بعد ۔۔۔۔ اس نے بھاگنے کی بجائے ۔۔۔۔ گرفتاری کو ترجیح دی اور عدالت میں بھی ۔۔۔ جھوٹ بولنے کی بجائے ۔۔۔۔ سچائی کے دامن کو تھامے رکھا۔ لیکن جس پرویز مشرف نے دو مرتبہ اس ملک کے آئین کو پامال کیا ۔۔۔۔ جامعہ حفصہ اور لال مسجد میں ہزاروں بچیوں کو زندہ جلایا ۔۔۔۔ میڈیا اور عدلیہ کو زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کی ۔۔۔۔ ان عدالتوں نے اس پرویز مشرف ۔۔۔۔ اور اس کے حواری ٹولے کا کیا بگاڑ لیا ؟ عشاق رسول قانون اور عدالتوں کا احترام کرتے چلے آ رہے ہیں ۔۔۔۔ وہ عدالتیں فرنگی سامراج کی ہوں ۔۔۔۔ امریکہ کی ہوں یا پاکستان کی ۔۔۔۔ جب بھی عدالتوں کا مذاق اڑایا گیا ۔۔۔۔ یا عدالتوں کے فیصلوں کو ردی کی ٹوکری کی نذر کیا گیا ۔۔۔۔ وہ لبرل اور سیکولر ڈکٹیٹروں کی طرف سے کیا گیا ۔

’دہشت گردی کی عدالت کا واسطہ شائد اپنی زندگی میں ایسے کسی پہلے ’’مجرم‘‘ سے پڑا ہوگا۔

صفحہ 506

۔۔۔ کہ جس نے پھانسی کی سزا کا فیصلہ سن کر ۔۔۔۔۔ یہ کہا ہو کہ ”الحمدللہ ۔۔۔۔۔ اللہ میرا عمل قبول فرمائے“ اب بھی اگر لادینی عناصر یہ الزامات عائد کریں کہ ۔۔۔۔۔۔ مذہبی لوگ قانون نہیں مانتے ، آئین نہیں مانتے ۔۔۔۔ تو ایسے لادینی ٹولے کو ۔۔۔۔ اپنا دماغی علاج کروانا چاہیئے ۔

میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ کون سا اینکر پرسن ، صحافی ، دانشور ، این جی اوز کا نمائندہ اور سول سوسائٹی کا ہرکارہ ۔۔۔۔ امریکہ کے علاوہ اور کس کس کے اشارے پر ۔۔۔۔۔ گستاخان رسول کی حمایت میں جو منہ میں آئے بولے چلا جاتا ہے ۔۔۔۔ لیکن میں اتنا ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ اگر امریکہ ، برطانیہ ، بھارت اور اسرائیل کو راضی کرنے کے لئے کوئی شیطان ۔۔۔۔ نبی معظم ﷺ کی عزت و ناموس پر حملہ آور ہونے کی کوشش کرے گا ۔۔۔۔ تو پہلی ذمہ داری ۔۔ ۔۔ قانون اور عدالتوں کی ہے کہ اس شیطان کو ۔۔۔۔ نمونہ عبرت بنا ڈالیں ۔۔۔۔ لیکن جب عدالتیں اور قانون ، غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو پھر کوئی نہ کوئی دیوانہ اور مستانہ اپنے پاک نبی ﷺ کی محبت میں ہمیشہ کے لئے امر ہونے کے لئے ۔۔۔۔ میدان عمل میں کود پڑتا ہے ۔۔۔۔۔ میں نے اپنے کالم کے آغاز میں لکھا تھا کہ عدالت کے جج نے ۔۔۔۔ پھانسی کی سزا دے کر اپنی روایت پر آنچ نہ آنے دی ۔۔۔۔ اور ممتاز قادری نے فیصلہ سن کر ۔۔۔۔ مزید ہزاروں زندگیاں ۔۔۔۔ ناموس رسالت پر قربان کرنے کا عزم کر کے ۔۔۔۔ عاشقوں کی تاریخ کو زندہ کر دیا ..... دونوں کو اپنی ، اپنی روایتیں زندہ رکھنا مبارک ہو ۔۔۔۔ غیرت و حمیت اور عشق و مستی سے عاری گمراہوں کا ٹولا ۔ فیصلہ سننے کے بعد ۔۔۔۔ ممتاز قادری کی استقامت اور ثابت قدمی دیکھ کر .... ممکن ہے کہ اس کی ”جذباتیت“ پر محمول کر لے ۔ لیکن ”خداوند امریکہ“ کے ان گمراہ بندوں کو کوئی بتائے کہ نبی ﷺ کی عزت و حرمت پہ مرنا عین ایماں ہے۔

ڈراتا ہے ہمیں دار و رسن سے کیوں ارے ناداں
نبی ﷺ کے عشق میں سولی پہ چڑھنا عین ایماں ہے

برصغیر کی تاریخ گستاخا جانے والے ..... غازی غازی عبدالقیوم رحمہ اللّٰہ شہید ، غازی عبداللہ شہیـ شہید ، غازی حاجی محمد اسحاق شہید ، غازی علم یہ سارے ناموس رسالـ ۔۔ خود پھانسی کے پھنـ غازی ممتاز قادری ا ۔ جا پہنچا کہ ۔۔۔۔ آ مرا تو وہ سلیمان تاثیـ بھی کوئی ..... مولوی جس کا وارث ”والی زیارت ہوتی ہو ۔ زندہ جاوید ہو جایا کر تسلیم خم کر دیا ہے۔ سمندر میں کود پڑنے ۔۔۔۔ عاشق صادق

صفحہ 507

برصغیر کی تاریخ گستاخان رسول کو جہنم رسید کر کے ہنستے، مسکراتے ہوئے...... سولی پر چڑھ جانے والے...... غازیوں اور مجاہدوں سے بھری پڑی ہے...... غازی علم دین شہید رحمہ اللہ غازی عبدالقیوم رحمہ اللہ غازی مرید حسین شہید رحمہ اللہ غازی میاں شہید غازی عبدالرشید شہید، غازی عبداللہ شہید، غازی محمد صدیق شہید، غازی بابو معراج دین شہید، غازی امیر احمد شہید، غازی حاجی محمد مالک شہید، غازی عبدالمنان شہید، غازی منظور حسین شہید، غازی محمد اسحاق شہید، غازی عبدالرحمن چیمہ شہید، غازی احمد دین شہید غازی زاہد حسین شہید۔۔۔۔۔۔ یہ سارے ناموس رسالت کے وہ پروانے تھے کہ جو گستاخان رسول کو جہنم واصل کر کے۔۔۔ ۔۔خود پھانسی کے پھندے پر جھول گئے۔۔۔۔۔۔ مگر عشق مصطفیٰ پر حرف نہ آنے دیا۔۔۔۔ غازی ممتاز قادری انہی پاکباز ہستیوں کے نقش پا پر چل کر۔۔۔۔ اس اعلیٰ مقام تک۔۔۔۔ ۔جا پہنچا کہ۔۔۔۔ آج اسے ”موت“ بھی ”حیات“ نظر آ رہی ہے۔

مرا تو وہ سلیمان تاثیر تھا کہ جس کا جنازہ پڑھانے کے لئے۔۔۔۔ چراغ لیکر ڈھونڈنے سے بھی کوئی...... مولوی نہیں مل رہا تھا۔۔۔۔۔ مرا تو وہ کتا ہے جس کا والی وارث کوئی نہ ہو۔۔۔۔۔۔ جس کا وارث ”والی دو جہاں ﷺ“ ہو جس کو خوابوں کے اندر۔۔۔۔ بار بار محسن عالم ﷺ کی زیارت ہوتی ہو۔۔۔۔ وہ مرا نہیں کرتے۔۔۔ بلکہ پھانسی پر چڑھ کر...... قیامت تک کیلئے زندہ جاوید ہو جایا کرتے ہیں۔۔۔ غازی ممتاز قادری نے عدالت کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا ہے۔۔۔ یقیناً عدالتوں کو اختیار ہے کہ وہ جو چاہیں فیصلے کریں۔۔۔ مگر عشق کے سمندر میں کود پڑنے والے عاشق رسول بھی اپنے عاشقانہ فیصلوں کے ہی پابند ہوا کرتے ہیں ۔۔۔۔ عاشق صادق اور عدالتوں کا یہ چولی دامن کا ساتھ۔۔۔۔ قیامت تک یونہی رہے گا۔

کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے
ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر پہ زمانہ ہے

(14 اکتوبر 2011ء اوصاف)

صفحہ 508

٭ 12 ۔ غازی ممتاز قادری، ریمنڈ ڈیوس، شرعی اور سفارتی استثنیٰ

اگر چار پاکستانیوں کے قاتل امریکی دہشت گرد جاسوس ریمنڈ ڈیوس کو جعلی سفارتی استثنیٰ کا مستحق قرار دینے کے لئے فوزیہ وہاب اور امریکی پٹاری کے دیگر دانش فروش میدان عمل میں کود سکتے ہیں تو پھر گورنر سلمان تاثیر کے قاتل غازی ممتاز قادری کو قرآن وسنت کی روشنی میں حقیقی استثنیٰ مہیا کیوں نہیں کیا جاسکتا۔۔۔۔۔کیونکہ ممتاز قادری نے 14 فروری کو عدالت میں یہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ ”گورنر سلمان تاثیر گستاخ رسول تھا اور قرآن وسنت کی روشنی میں عین مطابق میں نے اس کے ساتھ سلوک کیا جو کہ ناحق نہیں ہے“۔۔۔۔

۔۔پاکستان میں بسنے والے چاروں مسالک کے جید علماء کرام اور مفتیان عظام کا ایک بورڈ مقرر کیا جائے جو بورڈ مقتول سلمان تاثیر کے بیانات کا بھی قرآن وسنت کی روشنی میں جائزہ لے کر اس بات کا متفقہ اعلان کرے کہ آیا غازی ممتاز قادری کو قرآن وسنت کی روشنی میں استثنیٰ حاصل ہے کہ نہیں؟ میں اس بحث کو کبھی نہ چھیڑتا۔۔۔۔۔اگر (ر) جسٹس طارق محمود امریکی دہشت گرد ریمنڈ ڈیوس اور غازی ممتاز قادری کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنے کی کوشش نہ کرتے۔۔۔۔۔غازی ممتاز قادری کے معاملے پر ”رول آف لاء۔۔۔۔رول آف لاء“ کی دہائیاں دینے والے لبرل فاشسٹوں کی امریکی ریمنڈ ڈیوس کے مسئلے پر گگھی کیوں بندھ جاتی ہے ۔۔۔؟ رول آف لا کے چیمپئن جناب (ر) جسٹس طارق محمود قوم کو بتائیں کہ وہ گورنر سلمان تاثیر کے چالیسویں پر تو دعا کرنے جا پہنچے۔۔۔لیکن امریکی ریمنڈ ڈیوس کی گولیوں کا نشانہ بننے والے لاہور کے شہیدوں کے گھر میں وہ تادم تحریر تعزیت کیلئے کیوں نہ گئے؟ کیا رول آف لاء صرف سلمان تاثیر کے مقدمے کیلئے ہی مختص ہے اور دہشت گرد امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر ان کا مخصوص رول آف لاء دمے کا مریض بن جاتا ہے۔

۔۔۔پاکستان اعتدال پسند مسلمانوں کا ملک ہے ۔۔۔۔ جس طرح پاکستان پر مذہبی انتہا پسندوں کو قبضے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ایسے ہی پاکستان پر لبرل اور سیکولر فاشسٹوں کے

قبضے کو بھی قبول نہیں کیا جاسکتا کہتی ہیں کہ ”ریمنڈ ڈیوس کئی لاکھ پاکستانی امریکہ میں امریکہ سے آتی ہیں۔۔۔سا رات امریکہ سے آنے وا ہوئے تقریباً اسی قسم کی با پریس کانفرنس کا حوالہ بھی د ڈیوس کے استثنیٰ کے حوالے وفاقی وزیر اطلاعات فردوس ایوان صدر کے ترجمان ۔ پیپلز پارٹی سے نکال دیا جا مقام مرتبہ اور دنیاوی اثرو سے ہے۔۔۔اگر پیپلز انہیں اپنی حیثیت کا بخوبی چھڑائی جاسکتی کہ فوزیہ و

۔۔امریکی صدر اوبامہ پ کلنٹن یا سینیٹر جان کیری کڑ کڑا رہی ہیں۔۔۔ کر اس بات کو بغور نوٹ رول آف لاء کو پاؤں ت پاکستانیوں کے قاتل ام

صفحہ 509

قبضے کو بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔ پیر کے دن کراچی میں پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات کہتی ہیں کہ ”ریمنڈ ڈیوس پر کیوں بحث ہو رہی ہے اس کے پاس سفارتی ویزا ہے۔۔۔۔ کئی لاکھ پاکستانی امریکہ میں مقیم ہیں۔۔۔۔ اور اسی فیصد بیرون ممالک سے آنے والی رقوم امریکہ سے آتی ہیں۔۔۔۔ امریکہ پاکستانی مصنوعات کی سب سے بڑی منڈی ہے، منگل کی رات امریکہ سے آنے والے سینیٹر جان کیری نے بھی لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تقریباً اسی قسم کی باتیں کیں۔۔۔۔ بلکہ جان کیری نے اپنی گفتگو میں فوزیہ وہاب کی پریس کانفرنس کا حوالہ بھی دیا۔۔۔۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فوزیہ وہاب نے کراچی میں ریمنڈ ڈیوس کے استثنیٰ کے حوالے سے جو گفتگو کی۔۔۔۔ ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر اور وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اسے فوزیہ کی ذاتی گفتگو قرار دے دیا۔۔۔۔ کیا ایوان صدر کے ترجمان نے پاکستان کے عوام کو بیوقوف سمجھ رکھا ہے۔۔۔۔ فوزیہ وہاب کو اگر پیپلز پارٹی سے نکال دیا جائے تو ان کی ذاتی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔۔۔ فوزیہ وہاب کو جو بھی مقام مرتبہ اور دنیاوی اثر ورسوخ حاصل ہے۔۔۔۔ وہ صرف اور صرف پیپلز پارٹی ہی کی وجہ سے ہے۔۔۔ اگر پیپلز پارٹی کے قائدین آج فوزیہ وہاب کو پارٹی سے نکال کر باہر کریں تو انہیں اپنی حیثیت کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔۔۔۔ اس لئے صرف یہ کہہ کر اپنی جان نہیں چھڑائی جا سکتی کہ فوزیہ نے کراچی میں جو پریس کانفرنس کی ، وہ ان کی ذاتی حیثیت میں تھی۔۔ ۔۔ امریکی صدر اوباما ، پاکستان میں موجود امریکی سفارت خانے ، امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن یا سینیٹر جان کیری کا کیا ماتم کریں یہاں تو اپنی مرغیاں ہی ان کے ڈربوں میں جا کر کڑکڑا رہی ہیں۔۔۔ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام اپنی آنکھوں اور کانوں کی کھڑکیاں کھول کر اس بات کو بغور نوٹ کرلیں کہ پاکستان میں بسنے والا وہ کونسا مٹھی بھر گروہ ہے کہ جو سرعام رول آف لاء کو پاؤں تلے روندتا چلا آرہا ہے۔۔۔۔ وہ کونسا مٹھی بھر گروہ ہے کہ جو تین معصوم پاکستانیوں کے قاتل امریکی دہشت گرد ریمنڈ ڈیوس کو رہا کروا کر امریکہ روانہ کرنا چاہتا ہے۔

صفحہ 510

۔۔ اسے معصوم پاکستانیوں کے مقابلے میں امریکی قاتل کی زیادہ فکر ہے۔۔۔۔وہ کون ہے کہ جو عدالتوں اور قانون کا مذاق اڑاتا ہے۔۔۔۔مگر پھر بھی پاکستان کا قانون اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔۔۔۔فوزیہ وہاب سے کوئی پوچھے کہ اگر دس لاکھ پاکستانی امریکہ میں مقیم ہیں۔۔۔ ۔ اگر اسی فیصد رقوم امریکہ ہمیں دیتا ہے۔۔۔۔اگر امریکہ ہماری مصنوعات کو منڈی مہیا کرتا ہے تو کیا اس کے اجر میں امریکی دہشت گردوں کو معصوم پاکستانیوں کو چوکوں اور چوراہوں پر قتل کرنے کی اجازت دے دی جائے۔۔۔۔لاہور کے قرطبہ چوک میں ریمنڈ ڈیوس کی گولیوں کا نشانہ بن کر منوں مٹی تلے جا سونے والے فہیم اور فیضان کا خون بھی اسی طرح قیمتی ہے کہ جس طرح ایوان صدر، ایوان وزیراعظم یا گورنر ہاؤس کے مکینوں کا ہوتا ہے۔۔۔۔اگر امریکہ نے پاکستان کو اسی فیصد رقوم مہیا کی ہیں تو وہ حکمرانوں کے اللے تللوں پر زیادہ خرچ ہوئی ہوگی۔۔۔۔اگر دس لاکھ پاکستانی امریکہ میں مقیم ہیں تو وہ وہاں پر محنت و مشقت اور امریکیوں کی غلامی کر کے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔۔۔۔امریکہ میں مقیم ان دس لاکھ پاکستانیوں کا فہیم، فیضان یا عبدالرحمن کی ماؤں کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔۔۔۔اگر کوئی پاکستانی امریکہ میں کسی امریکی کا قتل کرے تو اسے امریکہ کے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہئے۔۔۔۔ریمنڈ ڈیوس جیسے امریکی دہشت گرد کو سفارتی استثنیٰ کے شلٹر میں ریلیف فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کرنے والے مکروہ کردار یاد رکھیں کہ کسی ویانا کنونشن نے کسی بھی سفارت کار کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ ” گلاک“ پسٹل اٹھائے جعلی نام کے ساتھ پاکستان کے حساس مقامات کی تصویریں بناتا پھرے۔۔۔۔اور پھر بھرے چوک میں پاکستانیوں کو گولیوں سے بھون ڈالے۔۔۔۔اگر فوزیہ وہاب یا امریکی پٹاری کے دیگر انتہا پسند اپنے امریکی آقاؤں کی خوشنودی کے لئے ایسے دہشت گرد کی وکالت سے باز نہ آئیں گے۔۔۔۔تو پھر پاکستان میں رول آف لا کی چتا جل کر اس کی راکھ ہواؤں میں بکھر جائے گی۔۔۔۔

غازی ممتاز قادری ایک سچا عاشق رسول ہے۔۔۔۔جس نے کمرہ عدالت میں جا کر بھی اپنے

صفحہ 511

لئے کسی سے رحم کی بھیک نہیں مانگی۔۔۔۔کسی سے شرعی استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کیا۔۔۔۔اپنے کئے ہوئے عمل پر نہ شرمندگی اور نہ ندامت کا اظہار کیا۔۔۔۔بلکہ وہ عدالت اور قانون کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا ہے۔۔۔۔اس کے والدین اور اس کے کروڑوں چاہنے والے رول آف لا کے عین مطابق اپنے ”ہیرو“ کی قسمت کا عدالتی فیصلہ سننے کے منتظر ہیں۔۔۔۔جبکہ ریمنڈ ڈیوس ایک ظالم کافر اور بدنام زمانہ دہشت گرد بلیک واٹر کا ایجنٹ اور امریکی جاسوس ہے ۔۔۔۔ایک سچے عاشق رسول کا ایک یہودی دہشت گرد سے موازنہ کرنے والے سیکولر پیادے اگر اپنی اس جنونی روش سے باز نہ آئے تو پھر انہیں بھی غازی ممتاز قادری کے کروڑوں چاہنے والوں سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ وہ ان کے لئے اچھے جذبات کا مظاہرہ کریں گے۔۔۔۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی عوام امریکی دہشت گرد ریمنڈ ڈیوس۔۔۔ ۔اور اس کے پاکستانی وکیلوں اور ہمنواؤں کے خلاف متحد ہو کر یکجان ہو جائے۔۔۔۔جس دن پاکستان میں بسنے والے بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث شیعہ یا دیگر سیاسی جماعتوں سے وابستہ عوام نے اپنے فرقوں اور سیاسی جماعتوں کے مفادات سے بالاتر ہو کر متحد ہو کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔۔پھر کسی ریمنڈ ڈیوس کو کسی پاکستانی کا خون بہا کر سفارتی استثنیٰ حاصل کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔

﴿13﴾ ضرب قلندر۔۔۔۔اللہ کا شیر غازی ممتاز قادری

سردار عمران بلوچ

غازی ممتاز حسین قادری کے بارے میں میرا موقف سلمان تاثیر کے قتل کے بعد سے اب تک ایک ہی ہے، اپنے موقف اور عدالتی کاروائی کی سزا پر تبصرے سے پہلے عدالت اور عدالتی کاروائی کا ایک خوبصورت واقعہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ پرانے وقتوں کی بات ہے کہ عرب کی ایک ریاست میں ایک بہت ہی سخت ایماندار قاضی رہتا تھا۔ جو اپنے عدل و انصاف کے باعث شہرہ رکھتا تھا۔ اس علاقے میں ایک عادی چور رہتا تھا ایک دن وہ چور

صفحہ 512

چوری کی نیت سے ایک گھر میں روشن دان کے ذریعے داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا کہ روشن دان کے ٹوٹنے کے باعث چور زمین پر گر کر ہمیشہ کے لئے معذور ہو گیا، کچھ عرصے بعد چور نے قاضی کی عدالت میں ایک مقدمہ اس گھر کے مالک کے خلاف کر دیا اور موقف اختیار کیا کہ میں پیشہ ور چور تھا اور چوری کی نیت سے ہی گھر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا لیکن روشن دان صحیح نہ ہونے کے باعث ٹوٹ گیا اور میں ہمیشہ کے لئے معذور ہو گیا، لہٰذا مجھے انصاف دلایا جائے اور مالک مکان کو سزا دی جائے ، جس پر مالک مکان نے قاضی وقت کے سامنے پوری ایمانداری سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنی جان بچانے کے لئے چور کے الزام کو بے بنیاد قرار نہیں دے سکتا کیونکہ چوری کی کوشش میں یہ ہمیشہ کے لئے معذور ہو گیا ہے اور یہ اس کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے لیکن روشن دان کے ٹوٹنے میں میری کوئی غفلت یا غیر ذمہ داری کا عنصر شامل نہیں ہے کیونکہ میں نے مکان کی تعمیر میں کوئی بھی کوتاہی نہیں برتی لیکن روشن دان کا ٹوٹنا ثابت کرتا ہے کہ کہیں پر کوتاہی برتی گئی ہے لہٰذا مالک مکان نے عدالت کو بتایا کہ روشن دان بنانے والے کاریگر (بڑھئی) کو بلایا جائے اور اس سے پوچھا جائے کہ اس نے روشن دان بنانے میں کیوں غفلت برتی اور ناقص روشن دان بنایا جس کے باعث ایک انسان ہمیشہ کے لئے معذور ہو گیا، قاضی وقت کے حکم پر متعلقہ کاریگر (بڑھئی) کو عدالت میں طلب کیا گیا، بڑھئی نے قاضی وقت کو بتایا کہ میں نے روشن دان بالکل ٹھیک بنایا ،لکڑی اور لوہا بھی اعلیٰ قسم کا استعمال کیا تاہم جس مستری نے دیوار بنائی اس نے روشن دان کا فریم غلط لگایا جس کے باعث یہ روشن دان ٹوٹا ہے، قاضی کے حکم پر اس مستری کو بھی عدالت میں طلب کر لیا گیا مستری نے روشن دان اور اپنی بنائی گئی دیوار کو دیکھ کر اپنی غلطی تسلیم کر لی اور قاضی وقت کو بتایا کہ قاضی صاحب یہ غلطی مجھ سے اس لئے سرزد ہوئی کہ جس دن میں یہ دیوار بنا رہا تھا اس دن اس علاقے کی ایک بدنام زمانہ عورت وہاں آئی اس نے مجھے باتوں میں الجھایا اور رقم بھی ہتھیا لی اور مجھ سے یہ غلطی سرزد ہو گئی جس پر قاضی نے اس متعلقہ عورت کو عدالت میں طلب

صفحہ 513

کیا اور وجہ طلبی بتائی گئی ، جس پر عورت نے اشک بار آنکھوں سے قاضی وقت کو بتایا کہ اس کی ان فحش حرکتوں اور برے کردار کی اصل وجہ اس کا خاوند ہے جو خود شرابی اور ایک برا انسان ہے اور ان کاموں کے لئے اس کو مجبور کرتا ہے جب اس عورت کے خاوند کو عدالت میں بلایا گیا تو یہ وہی چور نکلا جس نے یہ کیس قاضی کی عدالت میں دائر کیا تھا۔ الغرض اپنے ساتھ ہونے والے سانحے کا وہ خود ہی ذمہ دار نکلا، قارئین میرا موقف بالکل واضح ہے کہ اللہ کے شیر ملک ممتاز حسین قادری کا مقدمہ عرب کے اس قاضی کی عدالت میں ہوتا تو چور کی طرح اپنے قتل کے ذمہ دار سلمان تاثیر قرار پاتا۔ اب بات کرتے ہیں کہ میں ملک ممتاز حسین قادری کو اللہ کا شیر کیوں کہہ رہا ہوں جب سلمان تاثیر کا قتل ہوا تو میں نے بطور صحافی اس سارے معاملے کی چھان بین خود کی میں ملک ممتاز قادری کے گھر گیا اس کے والدین، بھائیوں اور اس کے ایک ماہ کے معصوم بچے کو دیکھا اس کے گھر میں وہ سینکڑوں نعتوں کی آڈیو کیسٹ دیکھیں جن کی ریکارڈنگ وہ رات سونے سے قبل اپنی آواز میں ریکارڈ کیا کرتے تھے۔ ملک ممتاز حسین قادری کے کمرے میں آویزاں روضہ رسول ﷺ کے پوسٹرز دیکھے، یوٹیوب سے دوران ڈیوٹی محفل نعت میں نعت رسول مقبول ﷺ پڑھتے دیکھا، راولپنڈی سی سی پی او آفس میں سابقہ ریکارڈ دیکھا، سلمان تاثیر کے قتل کے بعد اپنے موقف پر ڈٹے رہتے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ اس انسان نے اپنے نبی کریم ﷺ کی محبت میں یہ اقدام اٹھایا تو میرے نزدیک یہی وہ انسان ہے جس کو ’’اللہ کے شیر‘‘ کا لقب دیا جاسکتا ہے اور اس کے بعد اگر اس کو اللہ کا شیر نہ کہا جائے تو یہ منافقت ہوگی۔ جہاں تک بات سزائے موت کی ہے تو ہر وہ شخص جس کے اندر ایمان کی رتی موجود ہے اس کی یہ خواہش ہوگی کہ وہ غازی علم الدین شہید کی طرح نبی کریم ﷺ کی محبت میں جان بھی قربان کرنے سے دریغ نہ کرے کیونکہ نبی کریم ﷺ کی محبت میں فنا ہی اصل میں بقا ہے۔ لیکن بطور صحافی میرا تجزیہ ہے کہ پاکستان میں ممتاز قادری کو سزا ہو ہی نہیں سکتی۔

ضرب قلندر ۔ سردار عمران بلوچ

صفحہ 514

٭ 14 ٭ قانون توہین رسالت پر اعتراضات کیوں؟

اسلام دشمن اور متعصبین بالخصوص عیسائی مشنریاں اکثر یہ اعتراض کرتی رہتی ہیں کہ پیغمبر اسلام علیہ التحیۃ والسلام جب رحمۃ للعالمین ہیں تو پھر انہوں ﷺ نے اپنے مخالفین کو تہ تیغ کیوں کرایا؟

حقیقت یہ ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی ذات اور اپنے نفس کے لئے کبھی بھی کسی سے انتقام نہیں لیا، جس کی شہادت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے دی ہے اور خود تاریخ کا ایک ایک حرف اس پر گواہ ہے۔ شعب ابی طالب، بطحا کی وادیاں، طائف کی چٹانیں اور یثرب کے پہاڑ، سب آج بھی گواہی دے رہے ہیں کہ ہمارے آقا ومولا ﷺ نے اپنے جانی دشمنوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا۔ طائف میں بے سرو سامانی کی حالت میں جب آپ ﷺ پر پتھر برسائے گئے اور آپ سر سے پاؤں تک لہولہان ہو گئے۔ اس کے باوجود آپ ﷺ نے کفار کے لئے عذاب الہی اور قہر خداوندی کو دعوت نہیں دی بلکہ ان کے حق میں ان کی ہدایت کے لئے دعا فرمائی۔

فتح مکہ کے موقع پر اسی شہر میں جہاں اہل مکہ نے ظلم وستم کی انتہاء کر دی تھی۔ موت کی گھاٹی میں آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو محصور کر دیا تھا۔ تمام قبائل عرب نے ہم صلاح ہو کر (نعوذ باللہ ) آپ کو شہید کرنے کے لئے آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا تھا اور آپ کو ایسی اذیتیں پہنچائی تھیں جو کسی پیغمبر کو نہیں دی گئیں۔ مگر جب آپ ﷺ ہزاروں جانثارانِ نبوت کے لشکر جرار کو لئے ہوئے فاتحانہ شان کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے اور آپ کے خونخوار دشمن سر نیچے کئے آپ کے سامنے منتظر مکافات کھڑے تھے۔ اس وقت آپ ﷺ نے ” لاتثریب علیکم الیوم “ (آج کے دن تم سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی ) کہتے ہوئے معافی کا اعلان فرمایا اور اپنے بدترین دشمن ابوسفیان کے گھر کو دارالامان قرار دیا۔ آپ کے چہیتے اور محبوب چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ چبانے والی ہندہ اور انہیں وحشیانہ طور پر قتل کرنے والے وحشی اور ان دشمنوں کو بھی جو آپ کے خون کے پیاسے تھے اس وقت معاف فرمایا جبکہ آپ تمام اہل مکہ سے انتقام لینے کی پوری طاقت اور قدرت

صفحہ 515

رکھتے تھے۔

حضرت انس ؓ کی روایت کے مطابق آپ ﷺ نے اس یہودی عورت کو بھی معاف فرمایا جس نے ایک بھنی ہوئی بکری سے آپ کی تواضع کی تھی لیکن پہلے لقمہ ہی نے آپ ﷺ کو بتلا دیا تھا کہ میں زہر آلود ہوں اور آپ ﷺ کے استفسار پر اس عورت نے اقرار جرم کرتے ہوئے بتلایا تھا کہ میں نے یہ اہتمام اس لئے کیا تھا کہ اگر آپ ﷺ سچے نبی ہیں تو زہر آپ پر اثر انداز نہیں ہوگا اور اگر آپ بادشاہ ہیں تو ہماری قوم کو آپ ﷺ سے نجات مل جائے گی ۔ ایسی جاں دشمن یہودیہ کو بھی آپ کے عفو کریمانہ کے دامن میں پناہ ملی۔

یہ ہے آپ کی شان رحمۃ للعالمینی کی ایک ادنیٰ سی جھلک ۔ اسی وصف رحمۃ للعالمینی کی جھلک ان ہستیوں میں بھی صاف نظر آتی ہے جو آپ کے زیر تربیت رہی ہیں ۔ آپ کے عم زاد حضرت علی ؓ نے جب ایک شہ زور دشمن اسلام پہلوان کو زیر کر لیا اور ان کا خنجر آب دار اس کی رگ گردن پر تھا اور اس نے اس خیال سے حضرت علی ؓ کے منہ پر تھوک دیا کہ فوراً ہی اسے اس عالم جانکنی سے نجات مل جائے گی ، مگر سیدنا علی ؓ نے مشتعل ہو کر اس کا سر کاٹنے کی بجائے اسی وقت اسے اپنی گرفت سے آزاد کر دیا اور دریافت پر بتلایا کہ پہلے تو وہ رضائے الٰہی کی خاطر در پے قتل تھے مگر تھوکنے کے بعد جب خواہش نفس نے انہیں فوری آمادہ قتل کیا تو انہوں نے اس کے قتل سے ہاتھ اٹھا لیا۔

حضور ﷺ تو اس دنیا میں انسان کو انسان کی اور ہر قسم کی غلامی سے آزاد کر کے خالق کی بندگی و اطاعت قائم کرنے کے لئے تشریف لائے تھے ۔ اس لئے جو شیاطین آپ کو ہدف طعن و تشنیع اور نشانہ تضحیک بنا کر آپ ﷺ کے عالمگیر انقلاب کی راہ میں سنگ گراں بنے ہوئے تھے انہیں ہٹانا ضروری تھا کیونکہ اس کے بغیر انسانیت پیغمبر اسلام کے بے کراں فیوض و برکات سے محروم رہ جاتی ۔ انسان ، انسان کا غلام بن کر رہ جاتا بلکہ شجر ، حجر کی پرستش کر کے ہمیشہ کے لئے شرف

صفحہ 516

انسانیت کھو بیٹھتا اور تسخیر کائنات کی جانب اس کا قدم کبھی نہ اٹھتا۔ اس لئے آپ کے بعد یہ ذمہ داری آپ کی امت کے سپرد ہوئی کہ وہ شیاطین سے براہ راست نمٹ لے۔

آپ ﷺ کی توہین وتنقیص دراصل شہنشاہ ارض وسماوات کی جناب میں گستاخی اور اس قانون فطرت کے خلاف بغاوت ہے جو اللہ کے فرستادہ آخری پیغمبر ﷺ اس دنیا میں برپا کرنے آئے تھے۔ اس لئے ان گستاخان رسالت کو جو سزا دی گئی وہ عین شریعت الہی کے مطابق ہے جس کو یہ امت قائم کئے ہوئے ہے اور تاقیامت یہ قائم رہے گی۔واللہ المستعان۔

بین الاقوامی اداروں کی جانب سے توہین رسالت کے قانون کے بارے میں استفسارات ہورہے ہیں۔ چنانچہ اس اہم مسئلہ پر مسلم ماہرین قانون سے بھی معاونت طلب کی گئی اور دریافت کیا گیا تھا کہ برطانیہ اور امریکہ میں توہین مسیح (Blasphemy) سے متعلق کیا قوانین ہیں؟ اس کے علاوہ حقوق انسانی کے بعض نام نہاد اداروں کی جانب سے بھی اعتراضات آنے شروع ہوگئے تھے جن میں میری ذات کو بھی ہدف تنقید بنایا جارہا تھا کیونکہ میں نے مسلم ماہرین کی تنظیم کی جانب سے یہ مسئلہ وفاقی شرعی عدالت میں اٹھایا تھا جہاں سے توہین رسالت کی سزا بطور حد ”سزائے موت“ مقرر ہوئی۔ پھر حکومت پاکستان کے سپریم کورٹ سے اپیل سے دستبردار ہونے کے بعد توہین رسالت کا قانون پاکستان میں نافذ العمل ہوگیا، جس پر فادر روفن، طارق سی قیصر (سابق ایم این اے) اور ان کے بعض ہم مذہب مسیحی لیڈروں نے ناخوشگوار ردعمل کا اظہار کیا اور اس قانون کو سال 1993ء کے انتخابات میں الیکشن ایشو بھی بنایا گیا اور یہ اعتراض بھی کیا گیا کہ یہ قانون بنیادی حقوق کے خلاف ہے اور بعض نے یہ بھی کہا کہ اس قانون کی وجہ سے اقلیتوں کے سر پر ننگی تلوار لٹک رہی ہے۔

یہ سارے اندیشے، خدشات اور اعتراضات سراسر بے بنیاد ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ اسلامی قوانین اور قانون توہین رسالت سے کم علمی ہے جو لاعلمی اور جہالت سے بھی زیادہ

صفحہ 517

خطرناک چیز ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ توہین رسالت کے جرم کی سزا صرف پیغمبر اسلام کی توہین پر نہیں، بلکہ ہر پیغمبر اور رسول (جن میں سارے انبیائے بنی اسرائیل علیہم السلام اور حضرت مسیح علیہ السلام بھی شامل ہیں) کی توہین اور تنقیص کی بھی وہی سزا مقرر ہے جو شاتم رسول کریم ﷺ کی ہے۔ اہل کتاب کو یقیناً اس بات کا علم ہوگا کہ بائبل میں نہ صرف رسولوں کی شان میں گستاخی کی سزا سزائے موت ہے بلکہ نائبین رسول ﷺ کے گستاخوں کو بھی واجب القتل قرار دیا گیا ہے۔

(کتاب استثناء باب: 12:17)

مجھے نہیں معلوم کہ پیروان مسیح اس صریح حکم کا کس طرح انکار کر سکتے ہیں اگر اپنی کتاب مقدس پر ایمان کا اعتقاد ہے!

اسلامی قانون تعزیر میں کسی جرم کی جتنی سنگین سزا مقرر ہے، اسی قدر کڑی شرائط بھی اس کے ثبوت کے لئے درکار ہیں۔ چنانچہ حد کی سزا میں شہادت کا معیار عام شہادت کے معیار سے بہت زیادہ سخت اور غیر معمولی ہے۔ حدود کی سزا کے لئے ایسے گواہوں کی شہادت قابل قبول ہوتی ہے جو گناہ کبیرہ سے اجتناب کرتے ہوں۔ صادق القول اور عادل ہوں اور مزید برآں تزکیۃ الشہود کے معیار پر بھی پورا اترتے ہوں۔ حد کی سزا کا ایک بنیادی رکن ملزم کی نیت، ارادہ اور قصد ہے۔ ایسی تحریر یا تقریر جو انبیاء کرام علیہم السلام یا نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی نیت سے قصدًا ہو تو اسے قابل مواخذہ جرم قرار دیا جائے گا ارادہ اور نیت کا مصدر بھی حضور نبی کریم ﷺ کی وہ مشہور حدیث ہے جس میں فرمایا گیا۔ ”انما الاعمال بالنیات“ بلاشبہ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ نیت کے بغیر اسلامی قانون میں کوئی جرم مستوجب سزا نہیں ہے۔ صاحبان علم و دانش سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ شریعت اسلامی کی وجہ سے ”نیت“ اور ”ارادے“ کو دنیائے قانون میں سب سے پہلے اسلام ہی نے روشناس کرایا اور اسے موجودہ قانون جرم و سزا کے لئے بنیادی شرط قرار دیا گیا ورنہ رومن لاء (Roman law) میں ایسی کوئی شرط موجود نہیں تھی۔ اٹھارویں صدی سے قبل برٹش قوانین کے قانون تعزیر میں بھی اس کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ اس

صفحہ 518

سلسلے میں انگلستان کی بعض عدالتوں نے بڑے دلچسپ فیصلے صادر کئے ہیں۔ یہاں برسبیل تذکرہ صرف ایک فیصلہ کا حوالہ دوں گا۔ ایک شخص درخت سے گر کر مر گیا تو اس ”قاتل درخت“ کو سزائے موت سنائی گئی اور اس کا تنا کاٹ کر اس سزا پر عمل درآمد ہوا۔

اس کے علاوہ ”شک“ کا فائدہ بھی اسلامی قانون کی رو سے ملزم کو پہنچتا ہے۔ اس کا ماخذ بھی وہ حدیث مبارکہ ہے جس میں حکم دیا گیا ہے۔ ” ادرؤ الحدود بالشبهات “ حدود کی سزاؤں کو شبہات کی بنا پر ختم کیا جائے۔ اس قانون کے نفاذ ہونے کے بعد سے آج تک کسی ایک شخص کو پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ نے قانون توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت نہیں دی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ قانون توہین رسالت ان تمام لوگوں کی زندگی کے تحفظ کی ضمانت ہے جن کے خلاف فرد جرم ثابت نہ ہو ورنہ سلطنت مغلیہ کے سقوط کے بعد 1860ء میں جب برٹش گورنمنٹ نے ہندوستان میں قانون توہین رسالت کو منسوخ کیا تو اسکے بعد مسلمان سرفروشوں نے اس قانون کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور گستاخان رسول کو قتل کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچاتے رہے۔

یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ جس وقت ہندوستان میں توہین رسالت کا اسلامی قانون منسوخ کیا گیا اس وقت انگلستان میں قانون توہین مسیح (Blasphemy) ملک کے قانون عام (Common law) کے طور پر رائج تھا اور آج بھی وہاں کے کامن لاء کا حصہ ہے اور انگلستان کے مجموعہ قوانین (Statutory Book) میں شامل ہے۔ قانون توہین رسالت کے پاکستان میں نافذ ہو جانے کے بعد اب اس کی سزا کا معاملہ افراد کے ہاتھوں کی بجائے عدالتوں کے دائرہ اختیار میں آ گیا، جو تمام حقائق اور شہادتوں کا بغور جائزہ لے کر جرم ثابت ہونے کے بعد ہی کسی ملزم کو مستوجب سزا قرار دے گی۔ اگر جرم توہین رسالت کی سزا حد کے لئے اسلام کے معیار شہادت کے مطابق مطلوب گواہ موجود یا دستیاب نہ ہوں تو سزائے حد موقوف ہو جائے گی۔ لیکن وہاں اسلام کا قانون تعزیر حرکت میں آئے گا کیونکہ جہاں حد کی شرائط پوری نہ ہوں وہاں اسلامی اصول قانون کی رو سے ملزم کو نہیں بلکہ مجرم کو تعزیری سزا دی جائے گی۔

صفحہ 519

اس اصول قانون کا ماخذ بھی وہ حدیث مبارکہ ہے جس میں فرمایا گیا۔ " ان اللہ لیزع بالسلطان ما لا یزع بالقرآن " حق سبحانہ و تعالیٰ ہیئت مقتدرہ کے ذریعہ ان چیزوں کا سد باب کرتے ہیں جن کا سد باب قرآن کے ذریعہ نہیں کیا جاتا۔ یہاں ہیئت مقتدرہ سے مراد احکام الٰہی نافذ کرنے والا ادارہ ہے جس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ کی زمین میں فساد اور بگاڑ کو پھیلنے سے روکے۔

مسیحی برادری کو تو قانون توہین رسالت کا خوش دلی سے خیر مقدم کرنا چاہیے تھا کیونکہ اس قانون کی رو سے سیدنا مسیح اور دیگر انبیائے علیہم السلام جنہیں عیسائی اور مسلمان سب ہی اپنا پیغمبر برحق مانتے ہیں، کی شان میں گستاخی اور اہانت قابل تعزیر جرم بن گیا ہے اور ان کی اہانت اور توہین کی وہی سزا مقرر ہے جو خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی جناب میں گستاخی کی سزا ہے۔ مسلمان ان تمام پیغمبران کرام علیہم السلام کا اسی طرح احترام کرتے ہیں جیسا کہ یہودی اور عیسائی اپنے پیغمبروں کا احترام کرتے ہیں اسلئے وہ ان کے بارے میں کسی قسم کی گستاخی کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ ان پیغمبروں کے علاوہ اسلام کے احکام کے مطابق مسلمانوں کو دیگر مذاہب کے پیشواؤں کے خلاف بھی اہانت کی اجازت نہیں اور نہ ہی انہوں نے آج تک ایسی شرارت کی ہے۔

یہودی فلم ساز مارٹن اسکورسس کی انتہائی شرمناک فلم ”مسیح کی آخری ترغیب جنسی“ (The Last Temptation Of Christ) جو سال 1988ء میں لندن کے سینما گھروں میں دکھلائی جا رہی تھی، اس میں معاذ اللہ حضرت مسیح کو ایک آبرو باختہ طوائف کے ساتھ سرگرم دکھلایا گیا تھا۔ میں ان دنوں لندن میں مقیم تھا۔ ہماری دینی حمیت اسے ہرگز برداشت نہ کر سکی چنانچہ ہماری اپیل پر کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صرف عیسائیوں ہی کے نہیں بلکہ مسلمانوں کے بھی واجب الاحترام پیغمبر ہیں، اس فلم کی نمائش بند ہونی چاہیے۔ اس کے بعد لندن میں مسلمانوں نے خاموش احتجاجی مظاہرے کئے جس پر بالآخر وہ فلم فلاپ ہوگئی۔

صفحہ 520

مسیحی برادری اور اقلیتی فرقوں کے رہنماؤں اور ان کے پیروکاروں کی نیت پر ہمیں شبہ نہیں ۔ جب وہ ہمارے پیغمبر کی توہین اور گستاخی نہیں کریں گے تو پھر انہیں ڈر اور خوف کس بات کا ہے؟ کیا قانون بلاوجہ ان کے خلاف حرکت میں آجائے گا یا پھر پاکستان کی عدلیہ ان بے گناہ لوگوں کو جو توہین رسالت کے مجرم نہیں پھانسی کی سزا سنائے گی یا کیا وہ پاکستان میں پیغمبر اسلام علیہ السلام کے خلاف گستاخی اور توہین کے لئے کھلا لائسنس طلب کر رہے ہیں؟ ان میں جب کوئی بات بھی قرین قیاس نہیں تو پھر اس کی منسوخی کے مطالبہ کا آخر کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟

اسماعیل قریشی

﴿15﴾ کروں تیرے نام پے جاں فدا

سید ریاض حسین شاہ جنرل سیکرٹری جماعت اہل سنت پاکستان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

روز نامہ جنگ کی ایک اشاعت میں ایک مضمون نظر سے گذرا۔ علماء کنفیوژن دور کریں۔ مضمون نگار کے اسلوب سے خلوص اور مذہبی متانت محسوس ہورہی تھی لوگوں کے ذہن میں سلمان تاثیر کے قتل سے کئی ایک سوال پیدا ہو گئے ۔ جماعت اہل سنت پاکستان کے ’دارالافتاء‘ سے صادر ہونے والے فتویٰ نے ملت اسلامیہ کی مذہبی سوچوں کو ایک رخ دیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ دینی مطالعہ نہ ہونے کی وجہ سے شکوک ذہن میں بے چینی پیدا کرنے لگے وگرنہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں جانی گئی ہے کہ افراد کی موت کوئی معنی نہیں رکھتی ایمان اور عقیدے کی حیات قومی زندگی کا محور ہوا کرتا ہے ، چونکہ فی نفسہ مسئلہ کا تعلق قانون، فقہ ، عدالت اور اسلامی تاریخ کے ساتھ ہے اس لئے اسلامی قانون کے اصل مراجع کے بغیر صورت حال پوری طرح واضح نہیں کی جاسکتی۔

رسول زمین پر اللہ کے نائب ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اوامر نواہی کا نفاذ نبی اور رسول ہی کرتے ہیں ۔ رسولوں کی تعظیم اور تکریم دراصل اللہ تعالیٰ ہی کی تعظیم اور تکریم ہوتی ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں کہ رسولوں کی تکریم لازم کی گئی بلکہ رسولوں سے منسوب جملہ اشیاء کی تعظیم بھی ضروری

صفحہ 521

قرار دی گئی ہے۔ قرآن مجید نے صاف طور پر کہا

فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ أُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَO

(الاعراف 157)

ترجمہ: سو جو ان پر ایمان لایا اور ان ﷺ کی خوب تعظیم کی اور ان کی مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو ان کے ساتھ نازل ہوا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

حضور ﷺ کی بارگاہ میں آوازوں کو بلند کرنے سے منع کر دیا گیا۔ مزید یہ کہ رسول رحمت ﷺ کو عامیانہ انداز سے مخاطب کرنے کو حرام قرار دیا گیا ہے اور وہ لوگ جو اس تادیب کے باوجود باز نہ آئے ان کے اعمال اکارت چلے جانے کی خبر سنائی گئی

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لا تَشْعُرُونَO

(الحجرات آیت 2)

ترجمہ: اے ایمان والو! اپنی آوازوں کو نبی ﷺ کی آواز سے اونچا نہ ہونے دو اور ان کے سامنے اونچے نہ بولو جیسے تم ایک دوسرے کے ساتھ بلند آواز میں بولتے ہو ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں پتا بھی نہ چل سکے۔

ایسے الفاظ جن کے استعمال سے کوئی دوسرا شخص فائدہ اٹھا کر گستاخی کر سکتا ہے ان جائز الفاظ کا استعمال بھی ممنوع قرار دے دیا گیا۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ

(البقرة آیت 104)

ترجمہ: اے ایمان والو ”راعنا“ مت کہو، کہنا ہی ہو کچھ تو عرض کرو ”نظر میں رکھیے ہمیں“ اور سنا کرو اور منکرین کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایمان کی ایک علامت یہ بیان فرمائی کہ مومن ایسے لوگوں سے قلبی روابط اور تعلقات رکھنے کو جائز نہیں سمجھتے جو حضور ﷺ کے گستاخ ہوں اور ان کی مخالفت ہوں۔ ان کی مخالفت کرتے ہوں۔

صفحہ 522

سورۃ مجادلہ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَوْ كَانُوْا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِيْرَتَهُمْ اُولٰئِكَ كَتَبَ فِىْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ وَاَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ اُولٰئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ اَلَا اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ

(المجادلة آیت 22)

ترجمہ: آپ نہیں پائیں گے کوئی قوم جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ پیار کریں ایسے لوگوں سے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمن ہوں اگرچہ وہ لوگ ان کے آباؤ اجداد یا آل اولاد یا بھائی برادر یا کنبے قبیلے سے ہوں، اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان کو راسخ کر دیا ہے اور اپنی خصوصی توجہ سے ان کی مدد فرمائی ہے اور اللہ انہیں باغات میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں رواں دواں ہوں گی وہ ہمیشہ انہی میں رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی، یہی لوگ اللہ کی جماعت ہیں سنتا ہے تو جو اللہ کی جماعت ہے وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں۔

کتاب اللہ نے شاتمین رسول اور مخالفین انبیاء کو ذلیل ترین مخلوق قرار دیا۔

ارشاد باری ہے۔ اِنَّ الَّذِيْنَ يُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ اُولٰئِكَ فِى الْاَذَلِّيْنَo

(المجادلة 20)

ترجمہ: وہ لوگ جو رسول اللہ ﷺ کو دکھ اور ایذاء دیتے ہیں ان کے بارے میں قرآن مجید نے فرمایا:

اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَاباً مُّهِيْناً

(الاحزاب 57)

ترجمہ: بیشک وہ لوگ جو اللہ اور اسکے رسول ﷺ کو ایذاء پہنچاتے ہیں اللہ بھی انہیں دنیا اور آخرت میں اپنی رحمت سے دور کر دیتا ہے اور اس نے ایسے لوگوں کیلئے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔

اس آیت کی تشریح میں جمہور مفسرین نے یہ بات نقل کی ہے۔

مدینہ میں کچھ اوباش، آوارہ صفت، بد مزاج اور منافقین شاتمین حضور کے گھر والوں کے

صفحہ 523

لئے تشبیب بکتے ۔ گھرانہ رسول کی توہین کرتے ، افواہیں پھیلاتے ، دکھ دینے والی باتیں کرتے ۔ قرآن حکیم نے انہیں ملعون کہا اور صاف واشگاف اعلان کر دیا ۔ یہ دھتکارے ہوئے ملعون لوگ جہاں ملیں گرفتار کر لئے جائیں اور انہیں قتل کر دیا جائے ۔ اس گینگ کا سرغنہ کعب بن اشرف تھا۔ حضور ﷺ نے مسجد نبوی میں اعلان فرمایا کہ تم میں سے کوئی ہے جو مجھے کعب بن اشرف کے بارے میں سکون دے محمد بن مسلمہ نے اجازت چاہی کہ اسے شیشہ میں اتارنے کے لئے مجھے کچھ کمزور باتیں کرنے کی بھی اجازت دی جائے ۔ بارگاہِ نبوت سے اجازت ملی اب اگلا ماجرا بخاری کی روایت کردہ حدیث میں تفصیلاً ملاحظہ ہو۔ امام بخاری نے اپنی جامع کی دوسری جلد میں صفحہ پانچ سو چھہتر پر یہ حدیث بیان کی۔

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا

کعب بن اشرف کا ذمہ کون لیتا ہے اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا دی ہے۔

محمد بن مسلمہ کھڑے ہوئے اور عرض کی آپ پسند فرماتے ہیں کہ میں اسے قتل کر دوں؟ آپ نے فرمایا : ”جی ہاں“ محمد بن مسلمہ نے کہا پھر آپ مجھے اجازت مرحمت فرما دیں کہ میں اسے کچھ تعریضی کلمات کہہ سکوں ۔ رسول اللہ ﷺ نے اجازت مرحمت فرمادی محمد بن مسلمہ کعب بن اشرف کے پاس گئے اور کہا یہ محمد ﷺ ہم سے صدقہ طلب کر رہے ہیں انہوں نے ہمیں تنگ کر رکھا ہے میں تجھ سے مقرر میعاد پر سودا کرنے آیا ہوں ۔ کعب بن اشرف نے کہا آپ لوگ محمد ﷺ سے ضرور کبیدہ ہوں گے ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ہم نے ان کی اطاعت کی ہے لیکن اب چاہتے ہیں کہ چھوڑ دیں دیکھتے ہیں ان کی دعوت کا انجام کیا ہوتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ تو ایک یا دو وسق پر سودا ادھار دے۔ کعب بن اشرف نے کہا کہ دے دوں گا لیکن اس شرط پر کہ تم اپنی عورتیں میرے پاس رہن رکھ دو جواباً کہا گیا کہ عورتیں تمہارے پاس کس طرح رہن رکھی جاسکتی ہیں فتنہ کا ڈر ہے اس لئے کہ تو عربوں میں حسین شخص ہے ، پھر کعب بن اشرف نے کہا کہ بیٹے رہن رکھ دو کہا گیا کہ تو اگر انہیں گالی دے گا تو یہ چیز باعث عار ہو گی لیکن اگر تم قبول کرو تو ہم اسلحہ رہن رکھ سکتے ہیں اس طرح سودا مکمل کرنے کے لئے محمد بن مسلمہ نے کعب کو رات کے وقت بلا لیا ۔ جب وہ قلعہ سے اتر کر ان

صفحہ 524

کے پاس آیا تو محمد بن مسلمہ اور کعب کے رضاعی بھائی ابو نائلہ نے اسے ٹھکانے لگا دیا۔ کعب بن اشرف کا قتل حضور ﷺ کی گستاخی کی سزا تھی (تلخیص)

گستاخ رسول کی سزا پر امام بخاری کی روایت کردہ ایک دوسری حدیث ملاحظہ ہو۔ اس حدیث کو حضرت براء بن عازب نے روایت کیا۔

حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے (کچھ حضرات کو ) جو انصار تھے ابو رافع یہودی کی طرف بھیجا ان لوگوں کا قائد حضرت عبداللہ بن عتیک کو بنایا یہ ابو رافع نبی علیہ السلام کو ایذا دیتا تھا اور آپ کے خلاف لوگوں کی مدد کیا کرتا تھا وہ سرزمین حجاز کے اپنے ایک قلعے میں رہتا تھا، جب وہ گروہ قلعہ کے قریب گیا تو سورج غروب ہو چکا تھا اور لوگ اپنے ٹھکانوں پر واپس آرہے تھے۔ اب عبداللہ ؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا تم حضرات اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ میں چلتا ہوں۔ دربان کو نرم کرنے کی کوشش کروں گا شائد میں اس طرح قلعے میں داخل ہو جاؤں۔ وہ آگے بڑھتے گئے یہاں تک کہ دروازے کے قریب پہنچ گئے پھر انہوں نے چادر لپیٹ لی گویا وہ رفع حاجت کر رہے ہیں، لوگ قلعے میں داخل ہوگئے۔ دربان نے پکارا اے اللہ کے بندے! تو اندر داخل ہو کیونکہ میں دروازہ بند کرنا چاہتا ہوں، اب میں ( عبداللہ بن عتیک ) اندر چلا گیا، میں چھپ گیا جب سب لوگ اندر آگئے تو اس ( دربان ) نے دروازہ بند کر دیا پھر اس نے چابیاں اندر ایک میخ پر لٹکا دیں وہ اپنے ایک بالا خانے میں تھا جب اس کے پاس سے قصہ گو چلے گئے اب میں اوپر چڑھا میں جو دروازہ بھی کھولتا اندر سے اسے بند کر کے آگے بڑھتا تھا تا کہ اگر لوگوں کو پتہ بھی چل جائے تو مجھ تک نہ پہنچ پائیں تا کہ میں اسے قتل کر سکوں میں اب اس تک پہنچ گیا وہ ایک تاریک گھر (کمرہ) میں اپنے اہل خانہ کے درمیان سورہا تھا مجھے پتہ نہ چل رہا تھا کہ وہ کس حصے میں ہے، میں نے پکارا اے ابو رافع! اس نے کہا یہ کون ہے؟ میں آواز کی طرف لپکا اور اسے تلوار کی ایک ضرب لگائی مجھ پر دہشت طاری تھی یہ ضرب کافی نہیں تھی، وہ چلایا میں کمرے سے نکل گیا میں کچھ فاصلے پر رک گیا پھر اندر داخل ہو کر کہا اے ابو رافع! یہ آواز کیا تھی وہ بولا تیری ماں مرے (اس نے اب اسے کوئی اپنا محافظ سمجھا ہوگا) ابھی ایک شخص نے کمرے میں مجھے تلوار ماری ہے، فرماتے ہیں

صفحہ 525

پھر میں نے اسے شدید زخم بھری تلوار ماری مگر وہ تاحال مرا نہیں تھا پھر میں نے تلوار کا کنارا اس کے پیٹ میں اتار دیا تلوار پشت کی طرف سے نکل گئی مجھے یقین ہو گیا کہ وہ مر گیا ہے۔ میں ایک ایک دروازہ کھول کر باہر نکل کر ایک سیڑھی سے اترا میں نے سمجھا کہ زمین پر پہنچ گیا ہوں مگر میں چاندنی رات میں گر پڑا تھا میری پنڈلی ٹوٹ گئی میں نے پگڑی سے اسے باندھ دیا پھر چل کر میں گیٹ پر آکر بیٹھ گیا اور اپنے طور پر کہا کہ میں رات کو باہر نہیں نکلوں گا جب تک مجھے پتہ نہ چل جائے کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے، جب (سحری کو ) مرغ چلایا تو موت کی خبر دینے والا قلعے کی دیوار پر آیا اور کہا میں اہل حجاز کے تاجر ابورافع کی موت کی خبر دے رہا ہوں۔ اب میں اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہا نجات ہو گئی اللہ تعالیٰ نے ابورافع کو مار دیا۔ اب میں سید کل علیہ السلام کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا سارا واقعہ آپ کو سنایا آپ نے فرمایا پاؤں پھیلا دے میں نے اپنا پاؤں پھیلا دیا آپ نے اس پر (ہاتھ مبارک ) پھیرا ایسا معلوم ہوا کہ اسے کبھی کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔

ابن اخطل نبی کریم ﷺ کی ہجو کرتا تھا اور اس کی دولونڈیاں بھی حضور ﷺ کی گستاخی کرتی تھیں فتح مکہ کے بعد جب وہ غلاف کعبہ میں چھپا ہوا تھا۔

رسول کریم ﷺ نے فرمایا اسے قتل کر دو کیوں نہ یہ کعبے کے پردے میں پناہ لئے ہو۔

ایک شخص بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میرا باپ آپ کی گستاخی کیا کرتا تھا میں نے اسے قتل کر دیا۔ یہ بات آپ پر گراں نہ گزری اور اس طرح اس کا خون ھدر رہا یہ روایت ابن قانع کی ہے۔

ہارون الرشید نے حضرت امام مالک سے مسئلہ پوچھا گستاخ رسول کی سزا کیا کوڑے سے مارنا کافی نہیں اس پر حضرت امام نے فرمایا:

گستاخ رسول گستاخی کے بعد بھی زندہ رہے تو پھر امت کو زندہ رہنے کا حق نہیں، رسول اللہ ﷺ کے گستاخ کو فی الفور گرفتار کر کے قتل کر دیا جائے۔

صفحہ 526

ردالمختار میں امام محمد بن سحنون کی روایت ہے۔

تمام علماء کا اس پر اجماع ہے حضور ﷺ کو گالی دینے والا آپ کی شان میں کمی کرنے والا کافر ہے اور تمام امت کے نزدیک وہ واجب القتل ہے۔ (رد المختار جلد سوئم 400)

حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے صاحبزادے حضرت محمد ؓ کے دور میں ایک امام جس کا نام عبداللہ بن نواحہ تھا قرآن کی آیات کا مذاق اڑایا اور مفاہیم کے ردو بدل سے یہ الفاظ کہے۔

”قسم ہے آٹا پیسنے والی عورتوں کی جو اچھی طرح گوندھتی ہیں پھر روٹی پکاتی ہیں پھر ثرید بناتی ہیں پھر خوب لقمے لیتی ہیں۔“

اس پر حضرت نے اسے قتل کا حکم سنایا اور لمحہ بھر بھی تاخیر نہ فرمائی۔

( مصنف ابن ابی شیبه باب ارتداد )

حضرت عمر بن عبدالعزیز کے تاریخی الفاظ ملاحظہ ہوں۔

”جو شخص حضور ﷺ کی بارگاہ میں گستاخی کرے اس کا خون حلال اور مباح ہے۔“

اس جملے کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس کے لئے عدالتی کاروائی ہو تو فبہا ورنہ پورا معاشرہ سستی اور کوتاہی پر مجرم ہوگا۔ ان ہی خیالات کا اظہار بارہا پنجاب ہائی کورٹ کے معزز جج میاں نذیر اختر فرما چکے ہیں۔

اب سنیے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ نے ایک موقع پر شاتمین دین و رسول کو قتل کرنے کے بعد جلا دینے کا حکم صادر فرمایا یہ روایت بھی بخاری کی ہے۔

حضرت امام حسین ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں میرے والد گرامی کہتے تھے

حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو کسی نبی کو سب کرے اسے قتل کر دو اور جو کسی صحابی کو برا بھلا کہے اسے کوڑے مارو۔

صفحہ 527

الاشباہ والنظائر میں ہے:

”کافر اگر توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول کر لی جائے لیکن اس کافر کی توبہ قبول نہیں جو نبی کریم ﷺ کے حضور گستاخیاں کرتا ہے۔“

نسائی شریف کی حدیث ہے کہ ایک شخص نے ابوبکر صدیق ؓ کو سب کیا آپ کے ایک عقیدت مند نے اجازت چاہی کہ اسے قتل کر دیا جائے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ یہ حق صرف حضرت محمد ﷺ کا ہے کہ انہیں بکواس کرنے والے کو قتل کر دیا جائے۔

( نسائی جلد دوم ص 170)

ابن ماجہ نے روایت کیا کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ایک مرتد کو قتل کی سزا دی اس پر فتح القدیر کا مؤلف لکھتا ہے کہ جو شخص حضور ﷺ کے خلاف غلیظ زبان استعمال کرے اس کی گردن اڑا دی جائے۔

(ابن ماجہ جلد 2 ص 182 بحوالہ طبرانی)

محدث عبدالرزاق روایت فرماتے ہیں۔

”خالد بن ولید ؓ نے کچھ مرتدوں کو آگ میں جلا دیا۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کی اے ابوبکر ؓ آپ نے خالد ؓ کو کھلا چھوڑ دیا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا میں اللہ کی تلوار کو نیام میں نہیں ڈال سکتا۔“

(مصنف جلد پنجم، حدیث 9412)

سنن ابی داؤد کی حدیث ہے:۔

حضرت عکرمہ روایت کرتے ہیں کہ یہ بات ہمیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتائی ایک اندھے کی ام ولد تھی وہ حضور ﷺ کو گالیاں بکتی تھی اور اسلام کے خلاف اعتراض کرتی تھی وہ نابینا شخص اس کو روکتا لیکن وہ باز نہ آتی۔ ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود اپنے ہفوات سے باز نہ آئی۔ ایک رات وہ حضور ﷺ کو سب و شتم کرنے لگی تو نابینا صحابی اٹھے اور خنجر لیا اس کے پیٹ میں اتار دیا اور اس عورت کو قتل کر دیا۔ صبح صبح یہ واقعہ رحمت عالم کو سنایا گیا۔ آپ ﷺ فرمانے لگے سن لو اس

صفحہ 528

نے ایسا کیا ہے اس پر میرا حق ہے وہ کھڑا ہو جائے۔ وہ شخص لڑکھڑاتے ہوئے آگے بڑھا اور حضور ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا اور تسلیم کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں اس عورت کا قاتل ہوں یہ آپ کو گالیاں دیا کرتی تھی اور اسلام پر اعتراض کیا کرتی تھی پس میں نے گذشتہ رات خنجر سے اسے قتل کر دیا حالانکہ میرے اس سے موتیوں جیسے دو بیٹے تھے۔

حضور ﷺ نے فرمایا:

”سنو! سنو! تم سب گواہ ہو کہ اس کا خون ھدر (رائیگاں) ہے“۔ (تلخیص)

اس حدیث میں غور و فکر کیلئے کافی مواد موجود ہے کہ اس عاشق رسول نے ماورائے عدالت اس عورت کو قتل کیا لیکن حضور ﷺ نے اس کے خون کو ھدر قرار دیا۔

حضور انور ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو شہر نور میں ایک بوڑھا جس کی عمر ایک سو بیس سال تھی اور نام اس کا ابو عفک تھا انتہائی دشمنی کا اظہار کرتا لوگوں کو وہ حضور ﷺ کے خلاف بھڑکاتا، نظمیں لکھتا جن میں اپنی بد باطنی کا اظہار کرتا۔

جب حارث بن سوید کو موت کی سزا سنائی گئی تو اس ملعون نے ایک نظم لکھی جس میں حضور ﷺ کو گالیاں بکیں۔ حضور ﷺ نے جب اسکی گستاخیاں سنیں تو فرمایا

”تم میں سے کون ہے جو اس غلیظ اور بد کردار آدمی کو ختم کر دے“

سالم بن عمیر نے اپنی خدمات پیش وہ ابو عفک کے پاس گیا دراں حالاں کہ وہ سو رہا تھا۔ سالم نے اس کے جگر میں تلوار زور سے کھبو دی۔ ابو عفک چیخا اور آنجہانی ہو گیا۔

(سیر ابن ہشام ، جلد دوم ، ص 868)

حویرث بن نقیض رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتا ایک بار حضرت عباس ؓ مکہ سے مدینہ جارہے تھے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا مدینہ جانے کے لئے ان کے ساتھ تھیں۔ ظالم حویرث نے سواری کو اس طرح ایڑھ لگائی کہ دونوں شہزادیاں سواری سے

صفحہ 529

ہو گئیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے موت کی سزا سنائی ۔ فتح مکہ کے موقع پر حویرث نے خود کو ایک مکان میں بند کردیا ۔ حضرت علی ؓ نے اسے تلاش کر لیا اور اپنے آقا ﷺ کے حکم پر اسے قتل کردیا

بخاری شریف کی روایت ہے معاویہ بن مغیرہ نامی ایک گستاخ کو رسول اللہ ﷺ نے گرفتار کروالیا اور فرمایا :

”ایک سچا مسلمان ایک ہی سانپ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا“

اے معاویہ بن مغیرہ ! تم اب کسی صورت میں بھی واپس نہیں جا سکتے ۔

پھر فرمایا : اے زبیر ! اے عاصم اس کا سر قلم کر دو ۔“

فتاویٰ بزازیہ میں ہے اور یہ حنفی فقہ کی معروف کتاب ہے ۔

جب کوئی شخص حضور ﷺ یا انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی توہین کرے اس کی شرعی سزا قتل ہے اور اس کی توبہ یقینا قبول نہیں ہوگی ۔

فتاویٰ قاضی خان میں ہے کہ حضور ﷺ کے ساتھ منسوب کسی چیز میں عیب نکالنے والا شخص کافر اور واجب القتل ہوگا ۔ جیسے کسی شخص نے حضور ﷺ کے بال مبارک کے بارے میں تصغیر کا صیغہ استعمال کرکے تنقیص کی ۔

علامہ جصاص رازی لکھتے ہیں :

مسلمانوں میں کوئی اختلاف نہیں کہ اپنے آپ کو مسلمان کہنے والا جو شخص حضور ﷺ کی ذات پاک کے خلاف بے ادبی کی جسارت کرے وہ مرتد ہے اور قتل کا مستحق ہے ۔ ( احکام القرآن )

عالمگیری میں ہے کہ جو شخص کہے حضور ﷺ کی چادر یا بدن میلا کچیلا ہے اور اس قول سے مقصود عیب لگانا ہو اس شخص کو قتل کر دیا جائے گا ۔

علامہ خفاجی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں اگر کسی شخص نے کسی شخص کے علم کو حضور ﷺ کے علم سے زیادہ جانا اس نے توہین کی اس لئے وہ واجب القتل ٹھہرا ۔

صفحہ 530

قاضی عیاض فرماتے ہیں: وبلغ المهاجر بن ابی امیة امير اليمن الأبی بکر رضی اللہ عنه ان امرأة هناك في الردة غنت بسب النبی ﷺ فقطع يدها ونزع ثنيتها ، فقال لو لا ما فعلت لامرتک بقتلها.

” یمن کے گورنر مہاجر بن امیہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اطلاع دی وہاں ایک عورت مرتد ہوگئی اس نے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی والا گیت گایا ۔ گورنر نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا اور سامنے والے دو دانت توڑ دیے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا آپ نے فرمایا اگر تو فیصلہ کر کے عمل نہ کر چکا ہوتا تو میں اس عورت کے قتل کرنے کا حکم صادر کرتا اس لئے کہ نبیوں کے گستاخ قابل معافی نہیں ہوتے۔“

( شفاء جلد دوم 222)

حضور ﷺ کے گستاخ کی سزا یہی ہے کہ وہ واجب القتل ہے ۔ اس کی توبہ قبول نہیں چاروں مسالک یہی ہیں۔

علامہ زین الدین ابن نجیم البحر الرائق میں ارشاد فرماتے ہیں حضور ﷺ کو سب وشتم کرنے والے کی سزا قتل ہے اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی ۔

علامہ خطابی فرماتے ہیں امت اس بات پر مجتمع ہے کہ کسی بھی نبی کی بے ادبی کفر ہے اور شاتم واجب القتل ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اس حقیقت سے کسی نے انکار کیا ہو۔

مبسوط میں امام سرخسی فرماتے ہیں نبیوں کو گالی دینے والے کو قتل کیا جائے گا اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں ہوگا۔

امام سیوطی نے الخصائص الکبریٰ میں سفیان ہذلی کے بارے میں یہ روایت لکھی کہ حضور ﷺ نے اس گستاخ کی نشاندہی خود فرمائی اور کہا کہ اس وقت وہ وادیٰ نخلہ یا وادیٰ عرنہ میں ہے۔ تم جاؤ اور اسے قتل کرو۔ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن انیس کو اپنا عصا مبارک بطور انعام عطا فرمایا۔

( خصائص الكبرى سیوطی جلد اوّل ص 325)

صفحہ 531

حضور ﷺ نے اپنے ایک گستاخ کو قتل کرنے والے کو یہ انعام عطا فرمایا تمہیں کوئی فتنہ ضرر نہیں دے سکے گا۔

بیہقی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا حضور ﷺ کے خلاف بکنے والے کی سزا یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے گا۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کا فیصلہ قبول نہ کرنے والے منافق کی گردن اڑا دی۔

نصوص قرآن اور احادیث مبینہ کی روشنی میں قاضی عیاض شفا شریف میں لکھتے ہیں۔ وہ سب لوگ جو نبی ﷺ کی گستاخی کریں، سب و شتم کریں، عیب لگائیں یا آپ کی ذات، نسب مبارک، آپ کے دین یا آپ کی کسی عادت میں نقص نکالیں، تعریضیں کریں یا بطور سب آپ کو کسی سے تشبیہ دیں، شان میں کمی کریں یا آپ کی ذات اقدس میں اعتراض کریں یہ سب باتیں سب و شتم ہیں ان کے مرتکب کو قتل کیا جائے گا۔ (شفا شریف۔ جلد دوم ص 217)

ابن حاتم طلیطلی اندلسی نے ایک مناظرہ میں از راہ احتقار حضور ﷺ کو علی المرتضیٰ ؓ کا سسر کہہ کر آپ کے زہد کو احتیاج کی بنا پر مجبوری قرار دیا تو اندلس کے تمام فقہاء نے اسے سولی پر لٹکانے کی سزا کا فتویٰ دیا۔

جسٹس میاں نذیر اختر اپنے ایک مقالے میں گراں قدر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

”یہ مسلمہ قانون ہے کہ توہین رسالت کی سزا موت ہے۔ عہد نبوی اور دور صحابہ میں بہت سے مجرموں کو اس جرم کی سزا دی گئی۔ برطانوی اور مغلیہ دور میں بھی توہین رسالت کے مرتکب افراد کو موت کی سزا دی گئی اور کبھی حکومتی سطح پر قانون پر عمل نہ ہو سکا تو مسلمان غازی علم الدین کی پیروی کرتے ہوئے خود ہی توہین رسالت کے مرتکب افراد کو سزا دیتے رہے گویا اس قانون پر امت متفق ہے اس میں کوئی ابہام نہیں ہے۔“ (تقریر ایوان اقبال منی سیکرٹریٹ)

صفحہ 532

جسٹس میاں نذیر اختر کے یہ الفاظ مزید غور و فکر کا تقاضا کرتے ہیں ۔

یہ قانون چودہ صدیوں سے مسلمانوں کے قلوب پر نقش ہے اگر سزا ختم کی گئی تو فرق یہ پڑے گا کہ غازی علم الدین کی طرح عشاق سزائیں خود نافذ کر لیں گے ۔

سرکار کی عظمت ہے ہمیں سب سے مقدم
پیغام یہ کفار کو سب مل کے سنائیں
جو کوئی بھی مجرم ہے توہین رسالت کا
عبرت کی اسے تصویر بنائیں
زندہ ہیں ابھی عالم اسلام کی مائیں

اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی سے ایک موقع پر کسی نے سوال کیا کہ حضور ﷺ کی طرف ایک مقرر نے تکبر کی نسبت کی اس پر آپ نے جواب دیا یہ صریح کفر ہے ۔ ایسے شخص کا ایمان جاتا رہا ۔ اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل گئی ۔ مسلمانوں کا اس سے سلام کلام حرام ، اس کے پاس بیٹھنا حرام ، بیمار پڑے تو اسے پوچھنا حرام ، مر جائے تو اس کے جنازے پر جانا حرام ، اسے غسل و کفن دینا حرام ، مرنے کے بعد اسے کوئی ثواب پہنچانا حرام بلکہ اس کے کفر پر مطلع ہو کر جو اسے مسلمان سمجھتا رہا اور اس کے ساتھ مسلمانوں کا سا معاملہ کرے بلکہ اس کے کفر میں شک بھی کرے تو وہ کافر ہو جائے گا ۔

(فتاویٰ رضویہ جلد 14 ص 464)

تاریخ بغداد میں یہ روایت موجود ہے :

حضور ﷺ نے فرمایا میرے صحابہ کو گالی مت دو اس لئے کہ آخر زماں ایک ایسی قوم پیدا ہوگی جو میرے صحابہ کو گالی دے گی اگر وہ بیمار ہو جائیں تو بیمار پرسی نہ کرنا اور اگر وہ مر جائیں تو ان پر نماز جنازہ نہ پڑھنا ۔ ان سے نکاح کے رشتے نہ قائم کرنا ۔ انہیں وراثت میں حصہ نہ دینا اور انہیں سلام بھی نہ دینا اور اس کے لئے دعائے رحمت بھی نہ کرنا ۔

(تاریخ بغداد جلد 8 ص 139)

صفحہ 533

اس حدیث سے حضور ﷺ کی توہین کرنے والے کے لئے نرم دل رکھنے والے کا حکم آپ خود معلوم کر سکتے ہیں۔

اب میں چاہوں گا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کی طرف آؤں لیکن قبل اس کے کہ اس پر تشریحاتی گفتگو کی جائے اس پر دی گئی ایک توضیح ملاحظہ ہو۔

..The text of 295-C PPC which provides for the death penalty or life imprisonment for blasphemy. In 1992, by order of the Federal Shariat Court, 295-C PPC was amended to make death the only possible penalty for blasphemy. The National Assembly did not amend the PPC or appeal the decision of the Court in the time allowed by the decision. By order of the Court, failure to amend or appeal the decision in the allowance for the life imprisonment to be deemed struck. While the wording has not changed, death is now the mandatory penalty

مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C توہین رسالت پر عمر قید یا سزائے موت دیتی ہے۔ 1992 میں وفاقی شرعی عدالت کے حکم کے ذریعے 295-C توہین رسالت کی سزا کے طور پر صرف موت ہی کو ممکنہ سزا بنانے کی ترمیم کر دی گئی۔ قومی اسمبلی نے عدالت کی جانب سے مقررہ میعاد میں نہ تو قانون میں ترمیم کی اور نہ ہی عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کی گئی۔ عدالتی حکم کے مطابق دیئے گئے وقت میں ترمیم یا اپیل نہ کرنے کی صورت میں نتیجہ عمر قید کی سزا خود بخود کالعدم متصور ہو گی با وجود یکہ عبارت میں تبدیلی نہیں کی گئی۔ اب موت ہی لازمی سزا ہے۔

( مجموعہ تعزیرات پاکستان توضیحی نوٹ 295-C )

اس وضاحت کے بعد یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو گئی کہ یہ قانون انسانی ذہن کی پیداوار نہیں اور خیرات میں بھی نہیں دیا گیا۔ اس قانون کے عقب میں اسلامی تحریکات کے اربوں جذبے، قربانیاں اور شہادتیں موجود ہیں جنکے نتیجے میں قرآن و سنت کا نفوذ شرعی عدالت کے

صفحہ 534

ذریعے عمل میں آیا ہے اور آئینی سطح پر اس کی توثیق کی گئی ۔ اب یہ بات بخوبی سمجھ لینی چاہیے کہ توہین رسالت کی سزا قتل صرف آئین پاکستان کی تجویز نہیں بلکہ یہ کتاب وسنت کا سپریم لاء جس کا انکار کفر ہے۔ اسے کالا قانون کہنا رسالت مآب ﷺ کی توہین ہے۔ اسے دقیانوسیت سے تعبیر کرنا جہالت ہے۔ اسے بدلنے کی کوشش احکام رسالت سے بغاوت ہے اور اسے غیر موزوں، غیر صحیح اور نامناسب کہنا مغرب پرستی ہے۔ وہ شخص جو خواہ مخواہ اس میں کیڑے نکالے گا وہ ریاست کا دشمن اور شرعی عدالت کی توہین کا مجرم ٹھہرے گا ۔ اس پر دینی حلقے اگر جذباتی ہیں تو وہ C-295 کے الفاظ کیلئے نہیں، قرآن وحدیث کے سینکڑوں شواہد پر جان چھڑکنے کیلئے تیار ہیں اور یہ باتیں اگر کسی کو پسند نہیں تو اس کا کیا کیا جاسکتا ہے۔

یہ بات درست ہے کہ سوچنا، سمجھنا اور فیصلہ کرنا انسان کا حق ہے مگر سچائی کو قبول کرنا اس کا فرض ہے۔ مغربی استعمار کی سوچوں کا رُخ اپنا ہے لیکن مسلمان اپنی مدنی سوچوں اور افکار کو کسی کی غلامی کی بھینٹ نہیں چڑھا سکتے اور یہ بھی صحیح ہے کہ انسان کو ایسا نہیں ہونا چاہیے جو جان و جسم، مال و اسباب اور انسانی وقار کو خواہشات کا نشانہ بنائے لیکن وقار و احترام کے محور انبیاء اور مرسلین کی عزت اور ناموس کو نشانہ بنانے کی وحشت کی اجازت بھی نہیں دی جاسکتی۔ روشن خیالات کے نام پر انسانی زندگی کے سمندر میں حضور ﷺ ہی نہیں تمام انبیاء کے ناموس کو مقدس جاننے والی چھوٹی مچھلیاں بڑے وحشی ناگوں کی خوراک نہیں بن سکتیں۔

پروفیسر لاسکی کا کہنا ہے آزادی اس فضا کا نام جسے حقوق پیدا کرتے ہیں ۔ اس حوالے سے ممالک کے اندر دو قسم کے قوانین اس وقت رائج ہیں ۔ ”پبلک لاء“ جس کی پابندی سے طاقتور عناصر فرد کی آزادی میں مداخلت سے باز رہتے ہیں دوسرا ”پرائیویٹ لاء“ جس کی رو سے ریاست کے باشندے ایک دوسرے کی آزادی میں مداخلت نہیں کرتے اسلامی ریاست کا قانونی مزاج یہی ہے لیکن اسلام اٹل قانون ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور حضور ﷺ کی ذات پر بحث نہیں کی جاسکتی اللہ تعالیٰ کا منزہ عن العیوب ہونا اور حضور ﷺ نہ صرف آپ بلکہ تمام انبیاء

صفحہ 535

معصوم عن الخطاء ہونا تسلیم کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی نقص وعیب کی طرف بڑھے تو اس کا یہ اقدام اس کے اسلام کی چادر کو پھاڑ دیتا ہے۔ اگر کسی معاشرے میں کوئی شخص حضور ﷺ کی توہین کرتا ہے تو پورا معاشرہ ایک دوراہے پر کھڑا ہوتا ہے یا وہ اسلام، اسلام کی اعلیٰ اقدار، روشن تاریخ فقہاء کے عدالتی فیصلے، عصمت انبیاء اور اپنے ایمان کے ساتھ چلنا اختیار کرے یا وہ اپنے اسلام سے دستکش ہو جائے دوسری صورت ناممکن، قطعی مشکل، از بس دشوار ہے۔ یہ ہے وہ وجہ کہ اسلامی معاشرے میں گستاخ رسول، رسول کے دامن پر حملہ کر کے عزت نہیں پاسکتا۔ اس گھناؤنے فعل کے ارتکاب کے بعد اس کا جنازہ پڑھنا، اس سے تعلق رکھنا چہ معنی دارد، گل سڑ جانے والا عضو بدن بھی جسم سے جدا کر دینا ناگزیر ہوتا ہے۔

مغرب کے روشن خیال لوگوں کی خدمت میں بھی ہم گذارش کریں گے کہ وہ تورات اور انجیل ہی کا مطالعہ کرلیں۔ کتاب مقدس ص 118 احبار باب 24 آیت۔ 10 تا 17 میں لکھا ہے۔

”یہ واقعہ ہے کہ دبری کی بیٹی سلومیت کے بیٹے نے پاک نام پر کفر بکا اور لعنت کی اسے حوالات میں ڈال دیا گیا تاکہ اللہ فیصلہ فرمائے اب موسیٰ کی طرف سے حکم ملا اس لعنت کرنے والے کو لشکر گاہ کے باہر نکال کر لے جا اور جتنوں نے اسے لعنت کرتے سنا وہ سب اپنے اپنے ہاتھ اس کے سر پر رکھیں اور ساری جماعت اسے سنگسار کردے۔“

سلاطین باب اکیس میں ہے۔

”اللہ اور بادشاہ کی توہین کرنے والے کی سزا سزائے موت ہے۔ دو آدمیوں کو اس مجرم کے سامنے کرو کہ وہ اس کے خلاف گواہی دیں تو نے خدا پر اور بادشاہ پر لعنت کی ہے پھر اسے باہر لے جا کر سنگسار کرو تا کہ وہ مرجائے۔“

بات اصل میں یہ ہے کہ کسی جرم پر مجرم کو سزا دینا اس لئے ضروری سمجھا جاتا ہے کہ یہ عمل اس شخص کی سوزش قلبی کا علاج ہو جس پر جرم کے ارتکاب سے زیادتی کی گئی ہے۔ جدید قوانین نے

صفحہ 536

بھی اپنی توجہ اس طرف پھیری ہے کہ وہ جرم جو اجتماعی ناموس کو مجروح کرنے والے ہوں ان کی سزا کڑی رکھی جائے تا کہ معاشرتی بگاڑ کا کلیتہ ازالہ ہو جائے ۔ وہ شخص جو توہین رسالت کرتا ہے وہ دراصل رسول کو ماننے والے ہر غلام رسول کے گھر میں داخل ہو کر گویا ڈکیتی کا ارتکاب کرتا ہے ۔ وہ مفسد فی الارض ہوتا ہے اور یقیناً اس کی سزا قتل ہوتی ہے۔

پاکستان ایک آزاد مملکت ہے ۔ اس کے آئین میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کی بات کی گئی ہے۔ یہ آزاد ریاست آئینی قدروں کے سائے میں پرسکون آگے بڑھ رہی تھی کہ ایک شیری رحمن نامی عورت نے C-295 کے خلاف ترمیمی بل پیش کر کے معاشرتی پرامن اور پرسکون فضا کو درہم برہم کر دیا ۔ بحیثیت رکن اسمبلی ان کو اندازہ کرنا چاہئے تھا کہ ملک میں بسنے والے کروڑوں لوگ جس ہستی پر ایمان رکھتے ہیں اور انہیں آزاد شہری کی حیثیت سے تمام حقوق حاصل ہیں ان کے دل پر کیا گذری ہوگی ۔ جلتی پر تیل سلمان تاثیر نامی ایک شخص کا سیاہ کردار ثابت ہوا ۔ عدالت میں حضور ﷺ کی توہین کرنے والی آسیہ نامی ایک عورت کو آزادی دلوانے کے لئے تاثیر نے جس سیاہ کرتوت کا ارتکاب کیا ۔ اپنی بیٹی اور بیوی کی معیت میں پاکستان کا عدالتی سسٹم تباہ کر کے ایک گستاخ رسول کا محسن بنا۔ نہ صرف محسن بنا بلکہ توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون قرار دیا اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اپنی موت سے تین چار دن پہلے جو انٹرویو دیا اس میں اصرار ، ڈھٹائی اور ضد کے ساتھ ایک بار پھر توہین رسالت پر تاریخی اعتبار سے جو فیصلے کتاب وسنت کی روشنی میں ہوئے اور مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی ان کا مذاق اڑایا ۔ شرعی عدالت کے فیصلے کو ناموزوں ، غیر صحیح اور کالا قرار دیا۔ اس پر حملہ کر کے قتل کرنے والے ممتاز حسین قادری کا بیان ہے کہ صرف اتنا ہی نہیں یہ شخص اپنی عمومی زندگی میں بھی اسلام کا مذاق اڑاتا رہتا تھا ۔ اسلام کا ایک عام طالب علم اگر تھوڑی دیر کے لئے سلمان تاثیر کی گورنری کا غلاف اتار دے اور غور وفکر کرے تو بات کو واضح کرنے کے لئے میں اسے کربلا لے جاؤں گا۔ اور اس ماحول میں انسانی ضمیر سے فتویٰ لینا چاہوں گا کہ ایک ایسا شخص ہو جس نے ہندو عورت کے پیٹ سے بچے پیدا کئے ہوں ۔ اس کا لخت جگر لکھتا ہو کہ میرا ابا

صفحہ 537

سور کا گوشت حلال سمجھ کر کھاتا ہے اور اس کی بیٹی کہتی ہو کہ میرا والد نہ صرف یہ کہ ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم چاہتا تھا بلکہ وہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیے جانے والی قانون کی شق کا بھی مخالف تھا اور وہ شراب بھی جائز سمجھ کر پیتا ہو اور دھت رہتا ہو اور اسے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کہنے میں شرم محسوس نہ ہوتی اور وہ مسلمان کا نکاح مشرکہ عورت سے جائز سمجھتا ہو اور نہ صرف جائز سمجھتا ہو بلکہ اس نے تجربہ عملی طور پر نبھایا ہو وہ توہین رسالت کے جرم پر قتل کی سزا دینے کے شرعی قوانین کو کالا اور سیاہ قرار دیتا ہو نہ صرف یہ بلکہ ایک مجرمہ شاتمہ بدکردار عورت کو رہائی دلوانے کی اپنی سی کوشش بھی کی ہو۔ جو قرآن حکیم ”الٹا“ پڑھنے کا دلدادہ ہو اور کتاب انقلاب قرآن حکیم کے بارے میں یہ کہتا ہو کہ ”میرے لئے قرآن میں کچھ بھی نہیں“ اب میں پوچھنا چاہوں گا کہ آپ اگر کربلا میں حسین رضی اللہ عنہ کے پرچم تلے کھڑے ہو جائیں تو کھلے عام یہ ساری صفات رکھنے والا یزید ہی ہو سکتا ہے۔ سلمان تاثیر کے بارے میں جو کچھ اس کے بیٹے نے لکھا اور جو کچھ انہوں نے خود بیان کیا وہ کافی ہے۔ ایسے عالم میں یہ کیسے ممکن تھا کہ پاکستان میں یزید کی شناخت غیر ممکن رہتی۔ تاثیر کے متعلق اس کے بیٹے آتش تاثیر کی گواہی ملاحظہ ہو:

" My father, who drank Scotch every evening never fasted or prayed, even ate pork, and once said, ' It was only when I was in jail and all they gave me to read was the Koran-and I read it back to front several times that I realised there was nothing in it for me"

(Stranger to History page#21,22)

میرا خیال ہے علمائے اہل سنت کا فتویٰ پورے تدبر تاریخی مطالعہ عمیق تجزیے اور آئینی دائرے میں رہ کر دیا گیا ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ علمائے اہل سنت کو سلمان تاثیر کے خلاف سخت فتویٰ دینے کی بجائے 295-C کے تحت مقدمہ درج کروانا چاہئے تھا۔ یہ مشکل اپنی جگہ کہ کسی منصب پر فائز شخصیت کے خلاف مقدمہ دائر کرنا پاکستان میں کتنا مشکل اور کتنے مالی وسائل کا تقاضا کرتا ہے لیکن چلئے اس کو تھوڑی دیر کے لئے کوتاہی سمجھ لیا جائے تو بھی سپریم کورٹ جو اللہ کے فضل سے اتنی زیرک اور چابکدست ہے کہ اشیائے خوردونوش کے نرخ میں اضافہ ہو جائے تو سوموٹو ایکشن

صفحہ 538

لے لیتی ہے تعجب ہے کہ گستاخ رسول کے صریح اقدامات کے باوجود نہ عدالت نے سوموٹو ایکشن لیا اور نہ وزارت قانون نے خود مقدمہ درج کروایا۔ حالانکہ آئینی دفعات کے تحفظ کی ذمہ داری تو حکومت کی ہوتی ہے۔ اگر یہ ضروری ہے کہ فتویٰ دینے والے، مسجدوں میں جلسے کرنے والے، سڑکوں پر ریلیاں نکالنے والے لاکھوں کو شامل تفتیش کیا جائے تو کیا ضروری نہیں کہ صدر، وزیراعظم ، شیری رحمٰن، وزارتوں، اسمبلیوں اور عدالتوں میں بیٹھے ہوئے تمام افراد شامل تفتیش کر لئے جائیں کہ گستاخ گورنر چلو اس پر تھوڑی دیر کے لئے تسلیم کر لیتے ہیں کہ گستاخی کا محض الزام تھا مقدمہ قائم کرنے میں کیوں سستی کی گئی۔۔۔۔۔۔ جہاں تک ممتاز حسین قادری کا تعلق ہے اس کے ساتھ ہمارے تعلق کی بنیاد محض دین اسلام کا رشتہ ہے۔ دنیوی اعتبار سے تو ممتاز حسین قادری ہماری نسبت گورنر سے زیادہ قریب تھا۔ جیسے روشنی کو مٹھی میں بند نہیں کیا جاسکتا ایمان کو زنجیریں نہیں پہنائی جاسکتیں۔ ممتاز حسین قادری نے جو کچھ کیا اس پر ہم اگر جذباتی نہ بھی ہوں تو رحمان ملک نے جو کہا کہ میرے سامنے بھی اگر کوئی حضور ﷺ کی گستاخی کرے میں بھی اسے گولی مار دوں گا۔ تو جناب ! رحمان ملک صاحب کا تو ممتاز حسین قادری سے کوئی تعلق نہیں۔ کچہریوں میں ممتاز حسین قادری کو چومنے والے سینکڑوں وکلا، علمائے اہل سنت کے فتوے پر تو اسے چوم نہیں رہے۔ بات صرف اتنی ہے خود بخود مختلف اقدامات کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

”باقی رہا نماز جنازہ پڑھنا اس معاملے میں جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں جنازے مسلمانوں پڑھے جاتے ہیں، جنازے اللہ کو ماننے والوں کے پڑھے جاتے ہیں، جنازے رسول معظم ﷺ کو رسول جان کر ان کی عزت کرنے والوں کے پڑھے جاتے ہیں جنازے اسلام پر دل و جان سے یقین رکھنے والوں کے پڑھے جاتے ہیں بلاشبہ گناہ گار لوگوں کو بھی جنازوں کے بغیر پھینک نہیں دیا جاتا لیکن وہ اپنی سرکشیوں پر ڈٹے نہیں اللہ کے آگے توبہ کرتے رہتے ہیں۔

نماز جنازہ تو دعا ہے، مومن کا اعزاز ہے مسلمان کے لئے تقریب وداع ہے جس میں اللہ کی کبریائی کا اظہار ہوتا ہے اور امام کے سامنے پڑی مسلمان کی میت کی آبرو ہوتی ہے کہ مسلمان اسے دعائے مغفرت سے الوداع کرتے ہیں ۔ جنازے کی نماز میں حضور ﷺ پر درود و سلام پڑھا

صفحہ 539

جاتا ہے۔ درود و سلام تو عاشقوں کا وظیفہ محبت ہے۔ قرآن حکیم میں درود والی آیت کے معاً بعد حضور ﷺ کو دکھ دینے والوں کو لعنتی کہا گیا ہے۔ سو اصحاب لعنت پر نماز جنازہ کی خوشبوئیں کیسے چھڑکی جاسکتی ہیں۔ اے کاش! جتنے سلمان تاثیر کے چاہنے والے ان کی نماز جنازہ کے لئے تڑپ رہے ہیں وہ خود بھی اس وقت کو یاد رکھ لیتے ۔ تاثیر نے تو پنجاب یونیورسٹی میں توہین رسالت کے قانون پر اظہار ضد کرتے ہوئے ایک طالب علم جس نے آیت پڑھی تھی انا کفیناک المستہزئین ”مذاق کرنے والوں کے لئے ہم کافی ہیں ۔“ بڑے تکبر سے کہہ دیا تھا کہ میں مانتا ہوں وہی کافی ہے۔ ہمیں قانون توہین بنانے کی کیا ضرورت ہے پھر اللہ نے تاثیر کو بتا دیا کہ وہ کافی ہے۔

ایک بات ضروری سمجھتا ہوں کہ علماء کو منظور ہو گا عدالت ممتاز حسین قادری کو بیل آؤٹ کر کے سلیمان تاثیر کے گستاخانہ لفظوں کا جائزہ لے کہ وہ توہین رسالت بنتی ہے یا نہیں ۔ اگر سلیمان تاثیر مجرم ثابت ہو جائے تو جنہوں نے نماز جنازہ پڑھی ۔ وہ سب توبہ کریں کہ گستاخ رسول کے ساتھ یہ عقیدت کیسی؟ اور یہ بھی کہ ممتاز حسین قادری کو بری کر دیا جائے یقیناً عدالتوں کے جج جانتے ہیں کہ حضور ﷺ کی پسند کدو کے مقابلے میں کدو کو پسند نہ کرنے والے کو امام ابو یوسف نے کافر اور مرتد قرار دیا تھا۔ علماء کے نزدیک سلیمان تاثیر کا مجرم ہونا بھی مسلمہ ہے۔

یہ بھی کہہ دوں کہ فتویٰ تلوار نہیں، لڑائی نہیں، جھگڑا نہیں کسی کی حقوق تلفی نہیں یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے صادر ہونے والے احکام اور ہدایات کی ترسیل کا دوسرا نام ہے۔ فتویٰ نسل انسانی کو الوہی ہدایات کے معاملے میں احتیاط سکھانے کا منہاجِ قویم ہے۔ فتویٰ کتاب و سنت کو معیارِ زندگی قرار دینے کی جرأت ہے۔ صاحب فتویٰ دراصل عظمتوں کے ہمالیہ پر فائز ہوتا ہے اس کے لئے مشکل ہوتا ہے کہ وہ رسول ﷺ کے مقام محمود کو چھوڑ کر قعر مذلت میں جاگرے۔ فتویٰ چھری نہیں ، چاقو نہیں ، بندوق نہیں اور دھماکہ خیز مواد بھی نہیں لیکن علم و دانش اور عقل و بصیرت روایت و درایت اور آیات و احادیث کے تاریخی ریکارڈ کے ساتھ حق و حقیقت سے ملحق رہنے کا نام فتویٰ ہے ۔ جماعت اہل سنت پاکستان کے پانچ سو مفتیان کرام صرف عدد بیانی ہے وگرنہ ہزاروں

صفحہ 540

ائمہ اور مفتیان دین رسول کریم ﷺ کے گستاخ کے بارے میں نرمی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ رہ گئے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے بعض طبقے تو ان سب کا معاملہ ہم اللہ پر چھوڑتے ہیں اور قارئین کو رسول کریم ﷺ کے ناموس کے معاملے میں اللہ یاد کرانے کے لئے قرآن کریم کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

اللہ کی کتاب میں ایک سورت سورۂ لہب نام کی بھی اتری ہے جو ہمیں سکھاتی ہے کہ وہ رشتہ داریاں اور تعلق جن میں ایمان وعقیدہ نہ ہو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی مردان خدا ہمیشہ منحرف، جبار اور سرکش لوگوں کی بدتمیزیوں کے خلاف برسر پیکار رہتے ہیں کیوں نہ وہ لوگ ان کے رشتہ دار ہی ہوں۔ سورۂ لہب اعلان کرتی ہے۔ ابولہب کے ہاتھ توڑ دیئے گئے ہیں۔ کفر، گستاخی اور بدی دریا کی جھاگ کی طرح ابھرتے ہیں لیکن ان کا منطقی انجام قعر مذلت ہوتا ہے۔ قرآن کریم کا یہ حصہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ گستاخوں کے ساتھ مداہنت برتنے کی تمام رسیاں کاٹ دی گئی ہیں۔

سورۂ لہب گستاخ رسول کے لئے ایک سنگین تعزیر بھی ہے اور عشق رسول رکھنے والوں کے لئے درود وسلام کا ایک آہنگ بھی، آؤ سورۂ لہب پڑھ کر اس بات کا اظہار کریں کہ حضور ﷺ کی بارگاہ میں کی جانے والی تمام گستاخیاں، بے باکیاں اور بدتمیزیاں قعر مذلت میں پٹخ دی گئی ہیں۔ اب ہم قرآن مجید کا یہ اعلان سمع وطاعت کے جذبے سے سنتے ہیں کیوں نہ کوئی ملت فروش، چشم پوش اور شیدائے ناؤ نوش اس کو برا جانے۔

تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ O مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ O سَيَصْلَى نَاراً ذَاتَ لَهَبٍ O وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ O فِي جِيْدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍ O

ابولہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہو جائیں اور وہ ہلاک ہو ہی گیا۔ اسے اس کا مال کچھ کام نہ آیا اور نہ ہی وہ جو اس نے کمایا وہ جلد ہی اس آگ میں جا ملے گا جس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اس کی وہ بیوی بھی جو لکڑیوں کا گٹھا اٹھانے والی ہے۔ اس کے گلے میں کھجور کی چھال کی رسی ہے۔

صفحہ 541

اے میرے اللہ!

تو نے جیسے ابولہب کی گستاخیوں کی وجہ سے بھڑکتی آگ میں جھونکا آج بھی ہر رشدی ملعون کے لئے آگ کے شعلے بھڑکا وہ قوم جو تیرے نبی ﷺ کے خاکے بنا کر تیری قدرت کا مذاق اڑائے۔

اس پر آگ برسا شعلے بپا کر
انہیں دوزخ کا ایندھن بنا...... یا
عشاق کے بازوؤں میں توانائی پیدا کر کہ
وہ گندی قوم کا احتساب خود کر سکیں
ہمارے رب ! تو نے ام جمیل کی گندی گردن میں رسے ڈالے
تیرے جلال کا تجھے عظیم واسطہ
ہر تسلیمہ نسرین کی گردن میں بٹے ہوئے رسے ڈال
مسلمانوں کو شعور عطا فرما
کہ وہ سمجھیں...... وہ جانیں......
ان کا عقیدہ ہو...... محکم ایمان مضبوط نظریہ
نا قابل شکست تصدیق
آبروئے ما ز نام مصطفیٰ است

سید ریاض حسین شاہ

☆☆☆

صفحہ 542

غازی صاحب کے خط کا عکس

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الحمد للہ سلام الی جناب پاکستان میں اسلام اور

غازی صاحب کے یاد دہانی حال میں ورنہ اور قید کی کہ اللہ تندرست اور حاسدوں کی

صفحہ 543

غازی صاحب کے خط کا عکس

یاد دہانی:۔ محبی عنایت ! جناب حافظ سید محمد یوسف (امیر تحریک ختم النبوۃ) ہزاروی مجاہد یہ عالی جناب غازی صاحب کے خط کے بعد اپنے درس قرآن شریف و حدیث پاک کو ذرا وقفہ دے کر رو رو فرماتے تھے کہ یہ تحریر پڑھ کر دل خوش ہو گیا اور جو تمنا تھی کہ سچا عاشق رسول مل جائے وہ پوری ہوگئی اور مجھ خاک نشین کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھے۔ (ادارہ)

کہہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت اور عشق کے جام پلائے ۔ پس میں دل سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں (جَزَاکَ اللّٰهُ خَیْرًا اَحْسَنَ الْجَزَاءِ فِی الدَّارَیْنِ) میرا دل خوش کر دیا آپ نے ۔ میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں ۔ اللہ عزوجل آپ کو دونوں جہاں میں صوری و معنوی تندرستی اور دونوں جہاں کی بھلائیاں عطا فرمائے ۔ آپ کے اہل و عیال احباب مشن رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مجاہدین اور اولاد کو نیک مشن اور اشاعت میں برکتیں عطا فرمائے ۔ حاسدوں کی حاسدی سے اور شیاطین انس و جن سے محفوظ رکھے دونوں جہاں کی بھلائیاں و خوبیاں عطا فرمائے ۔ آپ کا رسالہ ملا ۔ میرے سرور کو بالا کر دیا ۔ آپ کے رسالہ نے ۔ اپنے کو آپ کے عشق میں مستغرق پایا ہے اور اللہ اور اُس کا پیارا حبیب صلہ فرمائیں ۔ (آمین یارب العٰلمین بحرمتِ سید المرسلین ﷺ) فقط از خادم دین محمد بخش ہم کو اللہ تعالیٰ سچا عاشق رسول عرف نمازی بنائے ۔ (آمین) محلہ سجاد آباد ۔ غازی آباد ۔ انڈیا (مورخہ ۲۴؍ جون ۱۹۹۲ء بروز بدھ بوقت ۱۰ بجے دن)

صفحہ 544

روزنامہ آج پشاور

میرے جذبات مجروح ہوئے، خود کو قانون کے حوالے کرتا ہوں، ممتاز قادری

میں نے کسی اور کو نقصان نہیں پہنچایا، اعترافی بیان

بیٹے کی درخواست پر ایف آئی آر درج

اسلام آباد (خصوصی نامہ نگار) تھانہ کوہسار پولیس نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کا مقدمہ ان کے بیٹے کی مدعیت میں درج کر لیا ہے

پوسٹ مارٹم مکمل

JANG RAWALPINDI

روزنامہ جنگ راولپنڈی

یا اللہ

اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف سکس کوہسار مارکیٹ میں ایلیٹ فورس کے اہلکار کی فائرنگ، موقع پر ہی دم توڑ گئے، محافظ گرفتار، اعتراف جرم

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو سرکاری محافظ نے قتل کر دیا

پوسٹ مارٹم میں 27 گولیاں لگنے کی تصدیق، محافظ نے خود کو قانون کے حوالے کر دیا، گورنر کی میت لاہور روانہ کر دی گئی، صدر، وزیراعظم کی شدید مذمت، پنجاب میں 3 روزہ سوگ کا اعلان

DAILY NAWA-I-WAQT RAWALPINDI ISLAMABAD

نوائے وقت

وہ شخص گستاخ رسول تھا اس لئے واجب القتل بھی تھا

قتل کرنے والے ایلیٹ فورس کے اہلکار ممتاز قادری کا بیان

’’سب لوگ دیکھ لیں میں نے گورنر کے گارڈز سمیت کسی کو نقصان نہیں پہنچایا‘‘

ملک ممتاز قادری کی پیشی کے موقع پر پولیس اسے کچہریوں میں لا رہی ہے (تصویر: نوائے وقت)

ہم ممتاز قادری اور اس کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں، حضورؐ کی شان میں گستاخی کوئی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا، مفتی منیب و دیگر

گورنر سلمان کے بیانات واقعہ کا سبب ہیں، ممتاز نے دینی حمیت کا ثبوت دیا: علماء

راولپنڈی (نیوز رپورٹر) تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کے صدر مفتی منیب الرحمن، ناظم اعلیٰ مفتی غلام محمد سیالوی، اور دیگر نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم کی کوئی گنجائش نہیں اور نہ ہی قوم اسے گوارا کرے گی، انہوں نے کہا کہ سلمان تاثیر کے توہین آمیز بیانات اس واقعہ کا سبب بنے (بقیہ نمبر 53)

صفحہ 545

محافظ نے قتل کر دیا

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو اس کے اپنے ہی گارڈ نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا

یہ شخص گستاخ رسول تھا اسی لئے واجب القتل بھی تھا

اس کے علاوہ میں نے گورنر کے گارڈز سمیت کسی کو نقصان نہیں پہنچایا

سلمان تاثیر کو مارنے کا ارادہ میں نے چند دن قبل کیا تھا جب اس نے ناموس رسالت قانون کو کالا قانون قرار دیا تھا اور اس میں ترمیم کی حمایت کی تھی (قاتل کا بیان)

راولپنڈی : پولیس ممتاز قادری کو لے جارہی ہے (تصویر : نوائے وقت)

عوام کا جوش و خروش، ممتاز قادری کے

حق میں نعرے بازی، نوجوان آبدیدہ ہو گئے

ضمانت میں کرا سکتا، مفتی حنیف قریشی کی پیش کش

ممتاز قادری نے دینی حمیت کا ثبوت دیا، علماء

ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے جان دینے والے ممتاز قادری کے عمل کو (باقی صفحہ 6 بقیہ نمبر 53)

راولپنڈی (خصوصی رپورٹر) ممتاز قادری کو ہر پیشی پر گلاب کے پھولوں سے لاد دیں گے، وکلاء

ممتاز قادری کی طرف سے جسٹس (ر) نذیر اختر، خواجہ شریف، سلیمان تاثیر کے قاتل کے دفاع کے لئے پیش ہوں گے، یہ کسی کا بیٹا نہیں ہم سب کا بیٹا ہے، وکلاء (باقی صفحہ 6 بقیہ نمبر 38)

روزنامہ خبریں اسلام آباد راولپنڈی Daily KHABRAIN

ممتاز قادری کا چہرہ نورانی، بہیمانہ تشدد

کا کوئی نشان نہیں، مسکراتا ہوا چہرہ

چہرہ ڈھانپ کر ممتاز قادری کو پیش کیا گیا وکلاء ایوان عدل میں کی گئی پیشی ، آئندہ ہر پیشی پر رسول اللہ ﷺ کے اس عاشق کے لئے ہم بے

تاب ہو کر عدالت میں پیش ہوں گے۔ 109 شامل ، ریمانڈ پر لینے کا ڈرامہ، ہیرو کی طرح اسے وصول کرنے کا ڈرامہ، مجرمانہ ریکارڈ پر، زہر قاتل کو وصول

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) ممتاز قادری کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ گزشتہ روز راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا اور 5 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ ممتاز قادری کو انتہائی سخت سکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ (باقی صفحہ 6 بقیہ نمبر 39)

ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کو قتل کر کے

عاشق رسول ﷺ ہونے کا ثبوت دیا ہے

ملک بھر سے مبارکباد کے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے

اسلام آباد : ممتاز حسین قادری کو عدالت پیش کیا جارہا ہے

ملک بھر کی مساجد میں ممتاز قادری کی

سلامتی اور درازی عمر کے لئے دعائیں

پنجاب بھر کے وکلاء کا ممتاز قادری کے حق میں

آج مکمل ہڑتال کا اعلان، مقدمہ فری لڑیں گے

حسن ابدال : پولیس نے ممتاز قادری کو رپورٹرز کے پاس لانے سے گریز کیا

اگر کوئی میرے سامنے گستاخ رسول کو قتل کرتا تو اس کے ہاتھ چوم لیتا، مفتی حنیف قریشی

غازی علم الدین شہید کے بعد ممتاز قادری نے تاریخ رقم کر دی، ناموس رسالت کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے

صفحہ 546

روزنامہ جنگ بانی: میر خلیل الرحمن جلد 53 منگل 7 صفر المظفر 1432ھ ۔ 11 جنوری 2011ء 28 پوہ 2067 ب

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر ایک میں پیش کر کے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا جو کہ 8 جنوری کو مکمل ہونا تھا مگر پولیس نے ایک روز قبل ہی ملزم کو عدالت میں پیش کر کے جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوانے کی استدعا کر دی۔ گزشتہ روز بھی اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری نے ایس پی سٹی کی قیادت میں ملزم کو بکتر بند گاڑی میں بٹھا کر عدالت میں پیش کیا اور فوراً ہی جوڈیشل ریمانڈ کا حکم ہونے پر اڈیالہ جیل لے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے جب 8 جنوری کو ملزم کو عدالت میں پیش کیا تھا تو اس وقت جس طرح سے سینکڑوں وکلاء اور شہریوں نے ممتاز قادری کا استقبال کرتے ہوئے نعرے بازی اور گل پاشی کی تھی اسلام آباد پولیس نے اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے جسمانی ریمانڈ ختم ہونے سے ایک روز قبل ہی ملزم کو عدالت میں پیش کر کے جیل بھجوا دیا کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ممتاز قادری کو پیر کو دوبارہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر ایف ایٹ مرکز عدالت میں پیش کیا جاتا تو یقینا صورتحال زیادہ گھمبیر ہو سکتی تھی اور ممتاز قادری کے حامیوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آسکتا تھا۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ راولپنڈی پولیس نے پیر کی رات گئے تک ممتاز قادری کے مزید حامیوں کو حراست میں لے لیا ہے، اس سلسلے میں پیر کی رات گئے تک راولپنڈی میں چھاپوں کا سلسلہ جاری رہا تاہم پولیس نے اس حوالے سے کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ذرائع کے مطابق راولپنڈی پولیس نے رات گئے چھاپے مار کر ان افراد کو حراست میں لیا ہے جو ممتاز قادری کے حق میں وال چاکنگ کے حوالے سے سرگرم تھے۔ ادھر راولپنڈی پولیس کی بھاری نفری نے پیر کی رات گئے اڈیالہ جیل کے گرد و نواح میں گشت جاری رکھا جبکہ جیل کے اردگرد سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ ایک اور ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ممتاز قادری کے حق میں نکلنے والی ریلیوں اور مظاہروں میں حصہ لینے والے افراد کی بھی پولیس نے ویڈیوز تیار کر لی ہیں اور ان کی گرفتاری کے لئے بھی چھاپوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے جبکہ اس سلسلے میں ایک فہرست بھی تیار کر لی گئی ہے۔

بقیہ: مفتی حنیف قریشی 15 قریشی کے ایک بیان سے متاثر ہو کر کیا ہے جس میں انہوں نے قرآن پاک کی چند آیات پڑھ کر سناتے ہوئے کہا تھا کہ سلمان تاثیر توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون کہنے کے باعث واجب القتل ہیں، ملزم کے بقول اسے یقین دلایا گیا تھا کہ جو کوئی سلمان تاثیر کو قتل کرے گا سیدھا جنت میں جائے گا، تاہم اہم بات یہ ہے کہ پولیس نے ابھی تک مفتی حنیف قریشی کو گرفتار نہیں کیا اور اس سلسلے میں پولیس شش و پنج کا شکار ہے اور وہ یہ سوچ رہی ہے کہ آیا وقوعہ کی جگہ مفتی حنیف قریشی کی موجودگی کے بغیر محض ان کے بیان پر مفتی حنیف قریشی کو گرفتار کر لیا جائے، جبکہ پولیس حکام کے ایک حصے کا ماننا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا جانا چاہئے مگر دوسرے حصے کا ماننا ہے کہ ان کی گرفتاری سے ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑیں گے اور صورتحال قابو سے باہر ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مفتی حنیف قریشی روپوش ہو گئے ہیں اور پولیس ان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مار رہی ہے۔ دوسری جانب ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق مفتی حنیف قریشی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تاہم پولیس میں باخبر ذرائع کے مطابق حنیف قریشی اپنی مرضی سے روپوش ہوئے ہیں اور پولیس کے حلقوں میں یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ ان کی گرفتاری فرقہ پرستی کے پھیلاؤ اور پنجاب حکومت کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی تحریک کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی لئے پولیس اس معاملے پر پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہے جبکہ ایک اور ذریعہ کا کہنا ہے کہ مفتی حنیف قریشی کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے تاہم اس بات کو صیغہ راز میں رکھا جارہا ہے تاکہ ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کو روکا جاسکے، اس بارے میں جب ایک اعلیٰ پولیس افسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس کی تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا۔

پولیس مفتی حنیف قریشی کو گرفتار کرنے سے متعلق کشمکش کا شکار

ممتاز قادری (مجرم) نے ان کے بیانات سے متاثر ہو کر سلمان تاثیر کو قتل کیا، پولیس صرف بیانات کی روشنی میں انہیں گرفتار کرنے پر شش و پنج میں مبتلا ہے، ذرائع

راولپنڈی (کرا ئم رپورٹر) ممتاز قادری کو سلمان تاثیر کے قتل پر اکسانے کے الزام میں مفتی حنیف قریشی کو گرفتار کرنے کے حوالے سے پولیس شش و پنج کا شکار ہو گئی ہے، ذرائع نے بتایا ہے کہ پولیس نے مفتی حنیف قریشی کا نام ممتاز قادری کے بیان کی روشنی میں مقدمے میں درج کیا ہے تاہم باقی صفحہ 5 بقیہ 15

صفحہ 547

28

سلمان تاثیر قتل کیس

راولپنڈی (خصوصی نامہ نگار) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر II کے جج رانا نثار احمد کی عدالت میں گزشتہ روز گورنر پنجاب سلمان تاثیر قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ پنجاب پولیس کے ایلیٹ فورس کے اہلکار اور وقوعہ کے عینی شاہد کانسٹیبل محمد طارق اور ہیڈ کانسٹیبل محمد نعیم نے گواہی دی کہ اس سے قبل سلمان تاثیر کی سیکورٹی انچارج، تحفظ ناموس رسالت پر ایک توہین آمیز بیان کی تردید کی ہے۔ ایک گواہ مجسٹریٹ نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ مجسٹریٹ شیخ السلام آباد کو نکال دی گئی ہے۔ گواہوں پر جرح آج بھی جاری رہے گی۔ راولپنڈی کے تھانہ کوہسار پولیس نے مجرم ممتاز حسین قادری کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوا دیا۔ پولیس نے 9 دسمبر کو ملزم کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کر کے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا جو کہ 14 جنوری کو ختم ہو رہا تھا مگر پولیس نے ایک روز قبل ہی ملزم کو عدالت میں پیش کر کے جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوانے کی استدعا کر دی۔ گزشتہ روز بھی اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری نے ایس پی سٹی کی قیادت میں ملزم کو بکتر بند گاڑی میں بٹھا کر عدالت میں پیش کیا اور بعد ازاں اسے سخت سیکورٹی میں اڈیالہ جیل لے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے جب ملزم کو عدالت میں پیش کیا تھا تو اس وقت بھی پیشی کے لئے آنے والے شہریوں کی ایک بڑی تعداد عدالت کے باہر موجود تھی اور جوں ہی ملزم کی پیشی کی اطلاع باہر پہنچی تو اس موقع پر موجود لوگوں نے ملزم کے حق میں نعرے بازی کی اور پھول نچھاور کئے۔ دریں اثنا ممتاز قادری کے حق میں وکلاء کی بڑی تعداد پیش ہوئی جن میں سابق جج خواجہ محمد شریف بھی شامل تھے اور انہوں نے ملزم کی ضمانت کی اپیل دائر کی جس پر 6 مارچ کو سماعت ہو گی۔ دوسری جانب ممتاز قادری کے حق میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام راولپنڈی اور دیگر شہروں میں مظاہرے جاری ہیں جن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ممتاز قادری کو رہا کیا جائے اور ان کے خلاف قائم کئے گئے مقدمات ختم کئے جائیں

ایبٹ آباد میں شباب اسلامی کے کارکنوں کا احتجاجی مظاہرہ

سے متعلق کشمکش کا شکار

حکومت نے کہا ہے کہ ہم اس مسئلے پر غور کر رہے ہیں کہ ہم اس مسئلے پر اسلامی کے رہنما مفتی حنیف باقی صفحہ 9 نمبر 15

صفحہ 548

خبریں

(41)

گورنر پنجاب سمیت کسی شخص کے قتل کی ترغیب نہیں دی : حنیف قریشی

ممتاز قادری اظہار یکجہتی ریلی کی کامیابی کے بعد یہ حکمرانوں کی بوکھلاہٹ

ہم غازی ممتاز قادری اور اس کے اہل خانہ کی اخلاقی و قانونی امداد جاری رکھیں گے

راولپنڈی (خبریں رپورٹر) شباب اسلامی پاکستان کے میں ملک ممتاز قادری سمیت متعدد نوجوانوں نے مرکزی ناظم اعلیٰ محمد حنیف قریشی نے کہا کہ 31 دسمبر کو سرکار دوعالم کی بارگاہ میں ہدیہ عقیدت پیش کیا اس لیاقت باغ میں ہونے والی ناموس رسالت کانفرنس باقی صفحہ 5 بقیہ نمبر 18

گورنر قتل پر پاکستانی معاشرہ دو حصوں میں تقسیم نظر آتا ہے: نیو یارک ٹائمز

دانشوروں کی خاموشی ، اگر خلیج اور بڑھی تو بہت بڑی قیامت برپا ہوگی، تبصرہ و رپورٹ

جمہوریت کی طاقت شمار ہونے والا وکلاء طبقہ قاتل پر پھول برساتا نظر آیا، امریکی اخبار

اسلام آباد (ٹی این آئی) امریکی اخبار نیویارک معاشرہ تقسیم نظر آتا ہے امریکی اخبار کے مطابق حالیہ ٹائمز کے مطابق گورنر پنجاب کے قتل پر پاکستانی باقی صفحہ 5 بقیہ نمبر 32

بقیہ نمبر 18 // محمد حنیف قریشی کانفرنس میں ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب سمیت کسی شخص کو قتل کرنے کی ترغیب نہیں دی ہم نے مغربی ثقافت کے دلدادہ طبقے کے ناپاک اور غیر اخلاقی اور غیر قانونی ایجنڈے کو ناکام بنایا اور آئندہ بھی ان کو ملک کے آئین اور قانون کے مطابق جواب دیا جائے گا۔ ریلی کی کامیابی کے بعد حکمرانوں کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے کہ شباب اسلامی کے عہدیداران کے گھروں پر چھاپے ، مبین شاہ، مفتی تنویر احمد قریشی اور پیر سید احمد چشتی پر مشتمل وفد سے گفتگو کر رہے تھے مفتی محمد حنیف قریشی نے کہا کہ میں مقدمات سے گھبرانے والا نہیں، تحفظ ناموس رسالت کیلئے تو ہماری جان بھی حاضر ہے حکمران ہوش کے ناخن لیں اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگیں گورنر نے خود توہین رسالت کی بات کر کے اور ناموس رسالت ایکٹ کو کالا قانون کہہ کر مسلمانوں کو اشتعال دلایا جسکا نتیجہ سب کے سامنے ہے مفتی محمد حنیف قریشی نے کہا کہ ہم غازی ممتاز قادری اور اسکے اہلخانہ کی قانونی اور اخلاقی امداد جاری رکھیں گے۔ اور اسکے مقدمہ کی پیروی کیلئے بڑے سے بڑے وکیل کی خدمات حاصل کریں گے۔

بقیہ نمبر 32 // نیویارک ٹائمز دنوں میں گورنر پنجاب کے قاتل کی حمایت میں ہونے والے مظاہرے حقائق کے برعکس نئی تحریک کی اس لہر کو ظاہر کر رہے ہیں۔ ناموس رسالت کے نام پر کسی بھی شخص کو مارنے کا کس کو اختیار ہے؟ قاتل کی حمایت میں شہر میں کئی ریلیاں نکالی گئیں، جبکہ مذہبی جماعتوں نے کئی مذہبی دانشوروں کو ہراساں کیا ہے اس لئے احتجاجی حلقوں اور جلوسوں کا پتہ نہیں چلتا، کبھی سمجھا جاتا ہے جس طرح سمجھ رہے تھے کہ اس قسم کی سیاست کو فروغ دینا، قاتلوں پر عدالتوں میں پیشی پر گلاب کی بارش کی گئی اور وکلاء جن کے دفاع کے لئے سرگرم ہیں اور وکلاء کے موقف نے پاکستانی معاشرہ اور جمہوری پسندوں کو بے قدر و بے قیمت کیا ہے اور یہ ترقی پسند سوچ رکھنے والی شخصیات کیلئے ایک لمحہ فکریہ بھی ہے اور یہ بڑی غلط فہمی ہے اور تذبذب پیدا کیا گیا ہے، کہ دانشور طبقہ کی خاموشی اور ترقی پسندوں کے درمیان خلیج یا فاصلہ اور بڑھی تو بڑی قیامت برپا ہو گی ، معاشرے میں خوف و ہراس کی فضا میں مزید اضافہ ہو گا، ان سے نمٹنے کے لئے باہمی تفریق اور فرقہ واریت کو ہوا نہ دی جائے ، معاشرے میں فسادات پسند عناصر سے چھٹکارا پایا جائے ۔

نوائے وقت غصے کا اظہار کیا توہین رسالت قانون میں ترمیم کی مخالفت

صفحہ 549

نوائے وقت

نوائے وقت

میرے خلاف پروپیگنڈہ حکمرانوں کی

ایماء پر کیا گیا ہے: حنیف قریشی

راولپنڈی (سٹاف رپورٹر) شباب اسلامی پاکستان کے مرکزی صدر محمد حنیف قریشی نے کہا ہے کہ میں نے کسی کو قتل کرنے کا فتویٰ نہیں دیا۔ (باقی صفحہ 6 بقیہ نمبر 41)

41 بقیہ: حنیف قریشی نہیں دی۔ میرے خلاف حکمرانوں کی بوکھلاہٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم غازی ممتاز قادری اور دیگر صدہا نوجوانوں کو جنہیں تحفظ ناموس رسالت کے لیے مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان کی قانونی امداد جاری رکھیں گے۔

ترغیب نہیں دی: حنیف قریشی

میرے خلاف حکمرانوں کی بوکھلاہٹ اخلاقی و قانونی امداد جاری رکھیں گے غازی ممتاز قادری سمیت متعدد نوجوانوں نے عوام کی بارگاہ میں یہ حقیقت پیش کیا اس (باقی صفحہ 5 بقیہ نمبر 18)

18 محمد حنیف قریشی

راولپنڈی (نوائے وقت رپورٹ) شباب اسلامی کے مرکزی صدر محمد حنیف قریشی نے کہا ہے کہ ہم نے کسی کو قتل کرنے کی ترغیب نہیں دی میرے خلاف حکمرانوں کی جانب سے پروپیگنڈہ حکمرانوں کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے ہم غازی ممتاز قادری اور دیگر صدہا ایسے نوجوانوں کو جنہیں تحفظ ناموس رسالت کے لیے مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان کی قانونی امداد جاری رکھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا حکومت اور پولیس مسلسل پروپیگنڈہ کر رہے تھے کہ ہم نے حکومتی شخصیات کے قتل کے فتاویٰ جاری کیے ہیں ناموس رسالت کیلئے تو ہماری جان بھی حاضر ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے کوئی ایسی بات نہیں کہی اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے حکمران اپنے جرائم کا ملبہ عوام پر ڈالنا چاہتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے کسی کی جان لینے کا فتویٰ نہیں دیا تاہم ناموس رسالت کیلیے ہم کٹ مرنے کو تیار ہیں اور اس سلسلے میں ہم غازی ممتاز قادری اور ان جیسے صدہا نوجوانوں جو اس وقت جیلوں میں ہیں کی قانونی امداد جاری رکھیں گے۔

صفحہ 550

اوصاف AUSAF

صفحہ 551

روزنامہ اوصاف

AUSAF

صفحہ 552

راولپنڈی / اسلام آباد

نوائے وقت

جمعہ 7 جنوری 2011ء

اس مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے ایک ٹی وی چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ شخص دہشت گردوں اور دوسری طرف طالبان کا ایجنٹ رہا ہے اور پھر آگے چل کر اس نے کہا کہ ایک طرف سے سیکورٹی کے خلاف نعرے لگائے جس میں انہوں نے مسلح افواج کا ذکر کیا جس پر ہمیں دکھ ہوا اور ہم نے 31 دسمبر کو اسے بے نقاب کرنے کا فیصلہ کیا“

یہ کیا جا رہا ہے؟ توہین رسالت کے مجرم کی سرپرستی کی جا رہی ہے اور اس کی منتیں، ترلے کئے جا رہے ہیں کہ آپ اس سے دستبردار ہو جائیں میری اس سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی اس جلسے میں میں نے کوئی خطاب کیا، میں نے کوئی بات نہیں کی صرف تحفظ ناموس رسالت کے قانون کے حق میں بات کی مجھے صرف یہ بات کہنے دیجئے کہ یہ شخص جو کبھی مظہر کے نام سے ساتھ تھا کبھی جی اور کبھی اس حوالے سے مجھے یہ بات کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی میں تو یہ عرض کر رہا تھا کہ جو میں نے ابھی تھوڑی دیر قبل یہ بات کی گورنر پنجاب کے حوالے سے ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ”جناح“ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ اگر میری ایک تقریر سے کوئی قتل کیا گیا ہے تو جنہوں نے دس سال کے عرصے میں ہاتھ میں بندوق تھمائی تھی وہ بھی اس میں برابر کے شریک ہیں، ان کا قصور کوئی نہیں ہے، تو بہرحال ہمیں اپنی ملکی ناموس اور رسالت کے قانون کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ قانون ختم کیا گیا تو پھر تو یہی سمجھ لیں کہ اس کا مرتکب ہر ایک صحافی کے جواب میں مفتی حنیف قریشی نے کہا کہ اس تحفظ ناموس رسالت قانون کے غلط استعمال کا بہانہ بنا کر عیسائیوں کے ساتھ مل کر نئے نئے اس قانون میں تبدیلی کی کوشش کی جا رہی ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ تحفظ ناموس رسالت کا قانون ملکی بقاء کا ضامن ہے اور اگر ہر مسلمان کی غیرت جاگے گی تو اشتعال انگیزی پیدا ہوگی اس کے نتیجے میں ممتاز قادری مشتعل ہوئے اور انہوں نے جذبات میں آکر گورنر پنجاب کو قتل کر دیا شیری رحمان کے بیان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ شیری رحمان کا موقف یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کے جنازے پڑھنے کے حوالے سے تبدیلی چاہتی ہیں اس قانون کی مخالفت نہیں ہیں جس کی انہوں نے وضاحت بھی کر دی ہے لیکن ایک تو طے ہے کہ توہین رسالت کی سزا صرف اور صرف موت ہے۔ مفتی حنیف قریشی نے کہا کہ میرے خلاف بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں میں نے کبھی گورنر پنجاب کو واجب القتل قرار نہیں دیا میرے بیان میں سے اگر ممتاز قادری نے اشتعال لیا تو یہ اللہ کی طرف سے تھا میں کچھ نہیں کہہ سکتا میں نے گورنر کو قتل کرنے کے حوالے سے کبھی کوئی فتویٰ نہیں دیا البتہ میں نے علمائے دیوبند اور بریلوی کے عقیدے ممتاز قادری کی گرفتاری کے حوالے سے ضرور بات کی تھی اور میں نے خیال رکھا جائے گا کہ علمائے اہلسنت کی پیروی کروں یہ بھی کہا کہ انہوں نے اس سلسلے میں گورنر پنجاب کو خط

توہین رسالت کے مجرم کی سرپرستی کی جارہی ہے، مفتی حنیف

گورنر پنجاب کے قتل کا کوئی فتویٰ نہیں دیا، ”جناح“ سے انٹرویو

راولپنڈی (سٹاف رپورٹر) معروف عالم دین مفتی حنیف قریشی نے کہا ہے کہ میں نے کسی کو گورنر پنجاب کو قتل کرنے کا نہیں کہا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ”جناح“ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر میری ایک تقریر سے کوئی قتل کیا گیا ہے تو جنہوں نے دس سال کے عرصے میں ہاتھ میں بندوق تھمائی تھی وہ بھی اس میں برابر کے شریک ہیں ان کا قصور کوئی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کی کوشش کی جارہی ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ تحفظ ناموس رسالت کا قانون ملکی بقاء کا ضامن ہے اور اگر ہر مسلمان کی غیرت جاگے گی تو اشتعال انگیزی پیدا ہوگی اس کے نتیجے میں ممتاز قادری مشتعل ہوئے اور انہوں نے جذبات میں آکر گورنر پنجاب کو قتل کر دیا شیری رحمن کے بیان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ شیری رحمن کا موقف یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کے جنازے پڑھنے کے حوالے سے تبدیلی چاہتی ہیں اس قانون کی مخالفت نہیں ہیں جس کی انہوں نے وضاحت بھی کر دی ہے لیکن ایک تو طے ہے کہ توہین رسالت کی سزا صرف اور صرف موت ہے مفتی حنیف قریشی نے کہا کہ میرے خلاف بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں میں نے کبھی گورنر پنجاب کو واجب القتل قرار نہیں دیا میرے بیان میں سے اگر ممتاز قادری نے اشتعال لیا تو یہ اللہ کی طرف سے تھا میں کچھ نہیں کہہ سکتا میں نے گورنر کو قتل کرنے کے حوالے سے کبھی کوئی فتویٰ نہیں دیا البتہ میں نے علمائے دیوبند اور بریلوی کے عقیدے ممتاز قادری کی گرفتاری کے حوالے سے ضرور بات کی تھی اور میں نے خیال رکھا کہ علمائے اہلسنت کی پیروی کروں انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت

روزنامہ

جناح

اسلام آباد ، لاہور

PDF 553

سنی تحریک کی گرفتاری کی کوششوں کی مذمت

... قابل مذمت اقدام ہوگا علامہ حیدر علوی

راولپنڈی (نوائے وقت رپورٹ) سنی تحریک کے ... علامہ حیدر علوی نے کہا ہے کہ شعیب ... قریشی ایک مقبول رہنما ... جو قوم کو امن و امان کا پیغام دیتے ہیں ان کے ... گرفتاری کی مذموم کوششوں کی مذمت (صفحہ 6 بقیہ 12)

12 حیدر علوی

الشرق

CITY NEWS

خبریں

PDF 554

ممتاز قادری کی سزائے اپیل کے فیصلے تک عمل درآمد

روزنامہ نوائے وقت

لاہور، راولپنڈی، ملتان، کراچی

ناموس رسالتؐ کے نام پر ہر قسم کی قربانیاں دی جائیں گی

چناب نگر میں اجتماع

عقیدہ ختم نبوتؐ کا تحفظ ہر مسلمان کا اولین فرض ہے: مقررین

آج بھی کانفرنس جاری رہے گی

چناب نگر (نامہ نگار) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام 24 ویں سالانہ دو روزہ ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد ختم نبوت چناب نگر میں شروع ہو گئی کانفرنس میں ملک بھر سے جید علماء کرام اور مشائخ عظام نے شرکت کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ناموس رسالتؐ کے نام پر ہر قسم کی قربانیاں دی جائیں گی اور عقیدہ ختم نبوتؐ کا تحفظ ہر مسلمان کا اولین فرض ہے انہوں نے کہا کہ قادیانی اسلام اور ملک دشمن سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور وہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے یہود و ہنود کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں کا نوٹس لیا جائے اور انہیں آئین کا پابند بنایا جائے کانفرنس آج بھی جاری رہے گی اور اختتامی دعا کے بعد شرکاء اپنے علاقوں کو روانہ ہو جائیں گے۔

عقیدہ ختم نبوتؐ اسلام کی اساس ہے: مقررین

قادیانیوں نے ہمیشہ ملک دشمن قوتوں کا ساتھ دیا ہے

لاہور (خصوصی رپورٹر) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چناب نگر میں دو روزہ سالانہ ختم نبوت کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوتؐ اسلام کی اساس ہے اور ہم کسی کو اس میں نقب نہیں لگانے دیں گے قادیانیوں نے ہمیشہ ملک دشمن قوتوں کا ساتھ دیا ہے حکومت ان کی سرگرمیوں پر پابندی لگائے مقررین نے کہا کہ ناموس رسالتؐ پر ہم اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں اور کسی گستاخ رسولؐ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

صفحہ 555

سردار عبدالقیوم خاں ، مولانا شاہ احمد نورانی ، پروفیسر غفور احمد ، چوہدری ظہور الہی ، مولانا ظفر احمد انصاری ، اور دیگر رہنما شکرانے کی دعا مانگ رہے ہیں

روزنامہ "نوائے وقت" راولپنڈی

(۸ ستمبر ۱۹۷۴ء)

قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار

قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر آئینی ترمیم منظور کر لی

لاہوری گروپ بھی اقلیت میں شامل ، صدر نے بل کی توثیق کر دی

روزنامہ "جنگ" کراچی (۸ ستمبر ۱۹۷۴ء)

قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر تاریخی آئینی ترمیم منظور کر لی

قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار

لاہوری گروپ بھی غیر مسلم اقلیتوں میں شامل

روزنامہ

مشرق

پشاور

قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا

قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر تاریخی آئینی ترمیم منظور کر لی

صفحہ 556

ممتاز قادری کی حمایت

میں ریلیاں نکالیں گے

انجمن طلباء اسلام

روزنامہ اوصاف اسلام آباد پیر 24 جنوری 2011ء 19 صفر المظفر 1432ھ

حنیف قریشی کا اخبار میں

بیان سے لا تعلقی

غازی کے ساتھ ہیں

گورنر قتل کے بارے میں بیان دیا تو ہم خود کو حنیف قریشی

کی جماعت سے الگ کر لیں گے، ممتاز قادری کا پیغام

راولپنڈی (خصوصی نامہ نگار) شباب اسلامی کے مرکزی امیر مفتی حنیف قریشی کی طرف سے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کی مذمت اور ممتاز قادری سے لاتعلقی کے اظہار پر ممتاز قادری

نے کہا ہے کہ اگر حنیف قریشی نے گورنر تاثیر کے بارے میں بیان دیا ہے تو ہم خود کو حنیف قریشی کی جماعت سے الگ کر لیں گے۔ انہوں نے یہ بات اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لئے آنے

والے اپنے رشتہ داروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ دریں اثناء اہل سنت و جماعت کے مختلف حلقوں نے مفتی حنیف قریشی کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

غازی ممتاز قادری عاشقان مصطفیٰ کا ہیرو ہے، ہم اس کی حمایت جاری رکھیں گے

مفتی حنیف قریشی

غازی ممتاز قادری عاشقان مصطفیٰ

کا ہیرو ہے: ٹی ایس او

راولپنڈی (سٹاف رپورٹر) انجمن طلباء اسلام راولپنڈی کے ناظم... نے کہا ہے کہ غازی ممتاز قادری عاشقان مصطفیٰ کا ہیرو ہے...

غازی ممتاز قادری

ممتاز قادری سچا عاشق رسولؐ، اخلاقی

حمایت جاری رکھیں گے : حنیف قریشی

جہلم، چکوال (بیورو رپورٹ + نمائندہ اوصاف) شباب اسلامی کے سربراہ اور گورنر سلیمان تاثیر قتل باقی صفحہ 5 بقیہ نمبر 35 کیس کے مقدمہ میں بری ہونیوالے مفتی حنیف قریشی نے کہا ہے کہ ممتاز قادری سچا عاشق رسول ہے، اسکی پرامن اور اخلاقی حمایت جاری رہے گی حکومت وقت نے مجھے بھی اس مقدمہ میں شامل کرنے کی کوشش کی لیکن اللہ کے فضل سے اس

مقدمہ سے بری ہو گیا ہوں ان خیالات کا اظہار تحصیل سوہاوہ کے علاقہ ڈوملی میں آمد کے موقع پر انہوں نے ڈسٹرکٹ جہلم پریس کلب کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عشق مصطفیٰ مومن کی میراث ہے اس ملک میں غلامان رسول رہتے ہیں لیکن بد قسمتی سے حکومتی عہدوں پر لبرل سوچ رکھنے والی شخصیات کا قبضہ ہے جو اسلامی قوانین میں تبدیلی یا ترمیم کے خواب دیکھ رہے ہیں اگر اسلامی نکتہ نظر یا قوانین کو چھیڑا گیا تو یقینی طور پر پاکستان میں انقلاب آسکتا ہے۔ اگر چند لبرل سوچ رکھنے والی حکومتی شخصیات نے ذرا سی بے احتیاطی سے کام لیا تو وہ سیاسی لاشیں ثابت ہوں گی

نوائے وقت

راولپنڈی / اسلام آباد 24 جنوری 2011ء

مفتی حنیف قریشی...

میں بیان...

غازی کے...

راولپنڈی... شباب... مفتی... کی...

صفحہ 557

اور ممتاز حنیف قریشی

اور ضیاء اللہ شاہ سے طویل تفتیش

تفتیش میں مزید 7 روز کی مہلت

(باقی صفحہ 6 بقیہ نمبر 27)

ممتاز قادری نے جو کیا

عشق رسولؐ میں کیا‘ ملک والیو!

(راولپنڈی (سپیشل رپورٹر) گورنر پنجاب کے قتل کیس میں گرفتار ایلیٹ فورس کے جوان ممتاز قادری کے حمائتیوں، محلہ داروں نے پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے

باقی صفحہ 6 بقیہ نمبر 25

حنیف قریشی کی ممتاز قادری

کے اہل خانہ سے ملاقات

(راولپنڈی (سپیشل رپورٹر) گورنر پنجاب کے قتل کیس میں شامل تفتیش ہونے والے شباب اسلامی کے سرپرست اعلیٰ حنیف قریشی نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ رات گئے

باقی صفحہ 6 بقیہ نمبر 26

قاری حنیف قریشی اور ضیاء اللہ شاہ بخاری سے طویل تفتیش

اہل خانہ، تھانہ پولیس اور انسداد دہشت گردی عدالت کی طرف سے مزید تین روز کی مہلت

ان پر 5 گھنٹوں کی تھرڈ ڈگری... حنیف قریشی کو ہتھکڑیوں کے ہار پہنائے گئے

(راولپنڈی (سپیشل رپورٹر) انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت نمبر 2 کے جج راجہ اخلاق حسین گورنر پنجاب قتل کیس میں نامزد ملزم ممتاز قادری پر چالان مکمل نہ ہونے کے باعث فرد جرم عائد نہ کر سکے

باقی صفحہ 6 بقیہ نمبر 22

غازی ممتاز قادری عاشقان مصطفیٰؐ

کا ہیرو ہے‘ فیاض چوہان

(راولپنڈی (سپیشل رپورٹر) غازی ممتاز حسین قادری صرف پاکستان کی عوام کا نہیں بلکہ پوری دنیا میں بستے وا لے مسلمانوں اور عاشقان مصطفیٰ ﷺ کا ہیرو ہے یہ

باقی صفحہ 6 بقیہ نمبر 23

عقائد سے ہٹایا گیا اور ان خیالات کا اظہار ”محفل سوہاوہ“ کے خلفاء کی جہلم میں آمد کے موقع پر انہوں نے ڈسٹرکٹ جہلم پریس کلب کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عشق مصطفیٰ مومن کی میراث ہے اس ملک میں نظام رسولؐ مانگتے ہیں لیکن بد قسمتی سے حکومتی عہدوں پر براجمان سیکولر سوچ رکھنے والی شخصیات کا قبضہ ہے جو اسلامی قوانین میں تبدیلی یا ترمیم کے خواب دیکھ رہے ہیں اگر اسلامی نکتہ نظر یا قوانین کو چھیڑا گیا تو یقینی طور پر پاکستان میں انقلاب آسکتا ہے اگر چند لبرل سوچ رکھنے والی حکومتی شخصیات نے ذرا سی بے احتیاطی سے کام لیا تو وہ سیاسی لاشیں ہی ثابت ہونگی

نوائے وقت

راولپنڈی اسلام آباد ، لاہور ، ملتان ، کراچی جمعرات 3 صفر 1432ھ 6 جنوری 2011ء مسلسل اشاعت کے 70 سال

پنجاب کے گورنر کا قتل اور ....

محمد اطہر اعوان

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے واقعہ نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ کسی بھی شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے اور کسی کی جان لے لے۔ اس واقعہ سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں عدم برداشت کا رجحان کس حد تک بڑھ چکا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس واقعہ کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرائے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔

توہین رسالت کی سزا

مولانا عبد المالک

توہین رسالت ایک ایسا جرم ہے جس کی سزا اسلام میں موت ہے۔ اس مسئلہ پر پوری امت مسلمہ متفق ہے۔ کسی بھی شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرے۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ واجب القتل ہے۔ قانون ناموس رسالت میں کسی بھی قسم کی ترمیم ناقابل قبول ہے۔

عشق رسولؐ اور ہم

امیر حمزہ

عشق رسول ﷺ ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی جزو ہے۔ اس کے بغیر ایمان کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عشق رسول ﷺ کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم کیں۔ آج ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم سچے عاشق رسول ﷺ ہیں تو ہمیں اپنی زندگیوں کو سنت رسول ﷺ کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔

چوپال

طارق اسماعیل ساگر

پاکستان اس وقت نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ اندرونی اور بیرونی خطرات نے ملک کو گھیرا ہوا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم متحد ہو کر ان چیلنجز کا مقابلہ کرے۔ سیاستدانوں کو بھی چاہیے کہ وہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک و قوم کی بہتری کے لیے کام کریں۔

صفحہ 558

روزنامہ نوائے وقت

منگل 12 دسمبر 1989ء / 12 جمادی الاول 1410ھ

مسلمانوں میں تفریق نہیں چاہتا ان میں اتفاق ہی کو مرزائی عالم قرار دیا گیا

بقول خلیفہ قادیانی نئے عقائد اور باتیں پیدا کی گئی ہیں ، ان سے اختلافات کے باعث

قادیانیوں کا 97 واں سالانہ جلسہ آج ربوہ میں شروع ہو گا، ملک بھر سے قادیانیوں کی آمد

ربوہ 12 دسمبر 1989ء احمدیوں کا جلسہ

بقیہ : خلیفہ ربوہ 19 کیونکہ ہم مسلمانوں میں تفریق نہیں چاہتے ان میں اتفاق ہی کو مرزا کی تعلیم قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر کفر کے فتوے لگائے جا رہے ہیں اور ہمارے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے لیکن ہم ان باتوں سے گھبرانے والے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی جماعت کی مخالفت کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ سلسلہ طویل عرصہ سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کو اپنے عقائد پر قائم رہنا چاہئے اور کسی کی مخالفت سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے۔ مرزا طاہر احمد نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ امن و امان کی بات کی ہے اور ہم کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے حق میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ قادیانیوں کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کا نوٹس لے اور اس سلسلہ میں ضروری کارروائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم پر حملے کئے گئے تو ہم بھی ان کا بھرپور جواب دیں گے۔ دریں اثناء قادیانی جماعت کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ اس سالانہ کنونشن میں ملک بھر سے قادیانیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ہے۔

ربوہ (نمائندہ نوائے وقت) قادیانیوں کا 97 واں سالانہ جلسہ آج ربوہ میں شروع ہو رہا ہے جس میں شرکت کے لئے ملک بھر سے قادیانیوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ جلسہ کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں اور حفاظتی انتظامات بھی سخت کر دیئے گئے ہیں۔ قادیانیوں کے سالانہ جلسہ کے موقع پر مجلس احرار اسلام اور دیگر مذہبی جماعتوں نے بھی اپنے جلسوں کا اعلان کیا ہے جس کی وجہ سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے امن و امان برقرار رکھنے کے لئے پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی ہے اور دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ دریں اثناء مجلس احرار اسلام کے رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قادیانیوں کے جلسہ پر پابندی لگائے اور ان کی سرگرمیوں کو روکے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر قادیانیوں کا جلسہ منعقد ہوا تو حالات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔

صفحہ 559

غازی ممتاز حسین قادری

قادری کو مرکزی ملزم قرار دیدیا گیا

انسداد دہشت گردی عدالت میں چالان پیش کر دیا گیا، قادری کے خلاف مقدمہ کی سماعت یکم فروری تک ملتوی

سلمان تاثیر کے قتل میں کسی اور کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، چالان

راولپنڈی (نمائندہ جنگ / مانیٹرنگ ڈیسک) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر 2 کے (صفحہ 9 بقیہ 25) جج راجہ اخلاق حسین نے اڈیالہ جیل میں سابق گورنر سلمان تاثیر کے قتل کیس کی سماعت شروع کر دی ہے پولیس نے جمعہ کی شام انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر 2 میں سلمان تاثیر قتل کیس کا نامکمل چالان پیش کر دیا تھا جس کے بعد خصوصی عدالت نمبر 2 کے جج نے مقدمہ کی سماعت یکم فروری تک کے لیے ملتوی کر دی۔ اس نامکمل چالان میں پولیس کی جانب سے شہادت رکھی گئی ہے۔ سی پی او راولپنڈی فخر سلطان نے دوران چالان کی نقول دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایلیٹ فورس کے اہلکار ممتاز حسین قادری کو مرکزی مجرم قرار دیا گیا ہے۔ عدالت میں پیش کیے گئے نامکمل چالان میں 40 گواہوں کی فہرست بھی شامل ہے جن میں مقتول کے اہل خانہ کے بیانات بھی شامل ہیں۔ چالان میں کہا گیا ہے کہ ممتاز قادری نے اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے اور سلمان تاثیر کے قتل میں کسی اور کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ دریں اثناء پولیس نے ممتاز قادری کے خلاف مقدمہ کا عبوری چالان انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کر دیا ہے جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت یکم فروری تک ملتوی کر دی ہے۔

حمایت کرنے والوں کیخلاف بھی کارروائی ہو گی

لاہور ( کرائم رپورٹر سے ) پولیس نے ممتاز قادری کی حمایت کرنے والے افراد کی فہرستیں تیار کرنا شروع کر دی ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اس سلسلے میں پولیس کی سپیشل برانچ کے علاوہ دیگر خفیہ ایجنسیوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان افراد کی فہرستیں تیار کریں جو کھلم کھلا یا خفیہ طور پر ممتاز قادری کی حمایت کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی جو کسی بھی صورت میں ممتاز قادری کی حمایت کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے اس سلسلے میں متعدد افراد کی فہرستیں تیار کر لی ہیں جن کے خلاف جلد کارروائی شروع کر دی جائے گی۔

پاکستان

غازی کو ہیرو بنانے سے روکنے کیلئے حکومتی مشینری متحرک

ناموس رسالت پر پہرہ دیتے رہیں گے ، تحفظ کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائیگا ، ممتاز قادری کا جیل میں وکلاء سے گفتگو

قادری کی رہائی کیلئے مہم چلانے کا فیصلہ ، راولپنڈی بار کا ہنگامی اجلاس ، قرارداد مذمت منظور ، آج ہڑتال ہو گی

راولپنڈی (نمائندہ پاکستان) غازی ممتاز قادری نے کہا ہے کہ ناموس رسالت پر پہرہ دیتے رہیں گے اور اس کے تحفظ کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں ملاقات کرنیوالے وکلاء کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفد میں راولپنڈی بار کے صدر توفیق آصف ، طارق محمود اور دیگر شامل تھے۔ وکلاء کے وفد نے غازی ممتاز قادری کو یقین دلایا کہ ان کی رہائی کیلئے ہر ممکن قانونی جنگ لڑی جائے گی اور اس سلسلے میں ملک بھر کے وکلاء ان کی پشت پر ہیں۔

راولپنڈی (نمائندہ پاکستان) راولپنڈی بار ایسوسی ایشن نے غازی ممتاز قادری کی حمایت میں اور ان کی رہائی کیلئے مہم چلانے کا اعلان کرتے ہوئے آج (پیر) کو مکمل ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ اس بات کا فیصلہ راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے ہنگامی اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت صدر بار توفیق آصف نے کی۔ اجلاس میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی جس میں گورنر پنجاب کے ناموس رسالت قانون کے حوالے سے بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ غازی ممتاز قادری کو فوری رہا کیا جائے۔

راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے) ممتاز قادری کی گرفتاری اور انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت سے جسمانی ریمانڈ کے بعد اسے گزشتہ روز اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا جہاں اسے سخت سکیورٹی میں رکھا گیا ہے ذرائع کے مطابق غازی ممتاز قادری کو جیل کی اس کوٹھری میں رکھا گیا ہے جہاں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو رکھا گیا تھا۔ ممتاز قادری کو جس کوٹھری میں رکھا گیا ہے وہاں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور کسی کو بھی اس سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ممتاز قادری کو آج دوبارہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے جہاں پولیس اس کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے ممتاز قادری سے تفتیش مکمل کر لی ہے اور اس کے خلاف مقدمہ کا چالان بھی تیار کر لیا گیا ہے جسے آج عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

تحریک تحفظ ناموس رسالت کو ناکام بنانے کیلیے علما کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

حکومت نے 295C کے تحت مقدمات درج کرانے والے وکلاء اور علما کرام کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے، 16 لاکھ افراد کے نام لسٹوں میں شامل، گرفتاریاں شروع

دہشت گردی ایکٹ کے تحت ملک بھر میں کارروائی کی جائے گی، تحفظ ناموس رسالت قانون کے معاملے پر ہم آہنگی پیدا کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے، حکومتی منصوبہ بندی کو ناکام بنائیں گے، علماء کا ردعمل

اسلام آباد (نیٹ نیوز) حکومت نے ناموس رسالت قانون کو بچانے کے لئے سرگرم علماء کرام کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے اور ان کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لئے ایک جامع حکمت عملی طے کی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں خفیہ اداروں نے ایک رپورٹ حکومت کو پیش کر دی ہے جس میں ناموس رسالت کے قانون کی حمایت کرنے والے علماء کرام اور دیگر افراد کی فہرستیں تیار کی گئی ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ اس رپورٹ کی روشنی میں حکومت نے علماء کرام کے خلاف کارروائی کی منظوری دے دی ہے اور اس سلسلے میں ملک بھر کی صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ ناموس رسالت کے قانون کی حمایت کرنے والے علماء کرام کے خلاف کارروائی کریں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس سلسلے میں ایک جامع منصوبہ بندی تیار کی ہے جس کے تحت علماء کرام کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کیے

جائیں گے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت کی جانب سے ناموس رسالت قانون کی حمایت کرنے والے علماء کرام کے خلاف (بقیہ صفحہ 9 نمبر 37)

صفحہ 560

روزنامہ نوائے وقت لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، ملتان، کراچی سے بیک وقت شائع ہوتا ہے راولپنڈی اسلام آباد پیر 9 ربیع الاول 1432ھ 14 فروری 2011ء

غازی ممتاز قادری کی جیل میں پہلی محفل میلادؐ

اللہ اکبر، یا رسول اللہ ﷺ کے نعرے، ممتاز قادری نے نعت کی سعادت حاصل کی

”میں اس دن کا انتظار کر رہا تھا مجھے آج یقین ہو گیا ہے کہ میرے لئے یہ ایک نئی صبح کا آغاز ہے“ غازی ممتاز

نظام الدین اولیاءؒ، داتا علی ہجویریؒ، اور دوسرے اولیاء کرام کے مزارات پر بھی حاضری دوں گا، گفتگو

راولپنڈی (خصوصی نامہ نگار) اڈیالہ جیل میں اسیر ممتاز قادری نے گزشتہ روز جیل میں محفل میلاد کا انعقاد کیا جس میں جیل عملہ کے علاوہ دیگر قیدیوں نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر محفل میلاد میں شریک افراد نے اللہ اکبر اور یا رسول اللہ ﷺ کے نعرے لگائے۔ ممتاز قادری نے خود بھی نعت کی سعادت حاصل کی۔ اس موقع پر ممتاز قادری نے کہا کہ میں اس دن کا انتظار کر رہا تھا مجھے آج یقین ہو گیا ہے کہ میرے لئے یہ ایک نئی صبح کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام الدین اولیاءؒ، داتا علی ہجویریؒ، اور دوسرے اولیاء کرام کے مزارات پر بھی حاضری دوں گا۔

راولپنڈی: اڈیالہ جیل کے باہر لوگ غازی ممتاز قادری کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے کھڑے ہیں

روزنامہ ”اوصاف“ اسلام آباد 14 فروری 2011ء

غازی ممتاز قادری کی جیل میں محفل میلاد

راولپنڈی (نمائندہ خصوصی) اڈیالہ جیل میں اسیر غازی ممتاز قادری نے گزشتہ روز جیل میں محفل میلاد کا انعقاد کیا جس میں جیل عملہ کے علاوہ دیگر قیدیوں نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر محفل میلاد میں شریک افراد نے اللہ اکبر اور یا رسول اللہ ﷺ کے نعرے لگائے۔ ممتاز قادری نے خود بھی نعت کی سعادت حاصل کی۔ اس موقع پر ممتاز قادری نے کہا کہ میں اس دن

کا انتظار کر رہا تھا مجھے آج یقین ہو گیا ہے کہ میرے لئے یہ ایک نئی صبح کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام الدین اولیاءؒ، داتا علی ہجویریؒ، اور دوسرے اولیاء کرام کے مزارات پر بھی حاضری دوں گا۔

PDF 561

لَبَّيْكَ يَا رَسُوْلَ الله

نام نبی ﷺ پے مٹنے والے کل بھی تھے اور آج بھی ہیں

محافظ ناموس رسالت

سلمہ اللہ تعالیٰ

غازی ممتاز حسین قادری

از قلم

مناظر اسلام مفتی محمد حنیف قریشی قادری

ناشر

شباب اسلامی پاکستان