قادیانی
اور اُن کے
عَقَائِد
مقدمہ
مُحَدِّثِ العصر علامہ الدہر حضرت مولانا السّید مُحَمَّد یُوسُف البنوری رحمۃ اللہ تعالیٰ
شیخ الحدیث جامعہ علوم اسلامیہ ، کراچی
تالیف
فضیلۃ الشیخ مولانا منظور احمد چنیوٹی
ترتیب و ترجمہ
الاستاذ محمد ایوب چنیوٹی
ناشر
اِدارَہ مَرکَزِیَّۃِ دَعْوَۃ وَاِرشَاد چنیوٹ
پاکستان
فہرست مضامین
تعارف از حضرت علامہ خالد محمود صاحب مانچسٹری لندن مقدمہ فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا السید محمد یوسف البنوریؒ رائے گرامی شیخ حسنین محمد مخلوف مفتی اعظم مصر (السابق) ١٠ كلمۃ المؤلف. ١٢ دعاوی مرزا . ١٣
- ١. مجدد، مہدی، مسیح اور نبی ہونے کا دعویٰ. ١٩
- ٢. صفات اللہ سے متصف بلکہ عین اللہ ہونے کا دعویٰ. ٢٠
- ٣. ھتک ائمہ مرزا . ٢٢
- ٤. توحید اور خدا کے بارے میں مرزا صاحب کے عقائد. ٢٩
- ٥. وحی، کتاب، نبوت اور ختم نبوت کے بارے میں عقائد. ٣٣
- ٦. حضرت عیسیٰ، مہدی، دجال، دابۃ الارض اور یاجوج ماجوج ٣٤
کے بارے میں مرزا صاحب کے عقائد .
- ٧. عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں اور ان پر بہتان ہائے عظیم. ٤٢
- ٨. اپنے مولد قادیان کے بارے میں مرزا صاحب کے عقائد. ٤٤
- ٩. مسجد اقصیٰ . ٤٥
- ١٠. حج اور زائرین حج کے بارے میں عقیدہ. ٤٨
- ١١. قادیانی اور انگریزی حکومت . ٤٩
- ١٢. حکومت برطانیہ کی تائید اور حمایت . ٤٦
- ١٣. حکومت برطانیہ کیلئے پچاس الماریاں . ٤٦
- ١٤. پچاس ہزار کتابیں اور رسالے . ٤٦
- ١٥. پچاس گھوڑے اور پچاس سوار . ٤٧
- ١٦. ساٹھ برس کی تحریک، اہم کام . ٤٨
- ١٧. قدیم خدمت گزار . ٤٨
- ١٨. انگریزی حکومت کا قلعہ اور تعویذ . ٤٩
- ١٩. میری اور میری جماعت کی جائے پناہ . ٥٠
- ٢٠. انگریزوں کا خود کاشتہ پودا . ٥٠
- ٢١. میرا مذہب اور اصول . ٥١
- ٢٢. قادیانی اور جہاد . ٥٢
- ٢٣. مرزا صاحب پر ایمان نہ لانے والا کافر اور جہنمی ٥٤
ہے
- ٢٤. غیر قادیانیوں سے نکاح کفر ہے . ٥٦
- ٢٥. غیر احمدیوں کے پیچھے نماز قطعاً حرام ہے . ٥٨
- ٢٦. نماز جنازہ ناجائز . ٥٩
- ٢٧. مرزائیوں سے ایک سوال . ٦٠
- ٢٨. خاتمہ (از حضرت بنوریؒ) ٦٣
- ٢٩. کتابیات ٦٦
تعارف
از مناظر اسلام حضرت علامہ خالد محمود صاحب مدظلہ
الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ اللہ خیر اما یشرکون اما بعد مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروؤں نے ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں بلکہ کچھ پہلے سے بھانپ لیا تھا کہ ایک دن آئے گا جب وہ قانونی طور پر بھی غیر مسلم قرار پا جائیں گے تحریک کو سختی سے کچل دی گئی تھی مگر قادیانی زعماء اس وقت سے ہی اس فکر میں تھے کہ اب وہ یورپین اور افریقی ممالک میں نئی راہیں تلاش کریں جہاں اسلام کے نام پر وہ الحاد پھیلا سکیں اور وہاں انہیں کوئی مانع نہ آسکے۔
اس صورت حال میں مسلمانوں کے بھی ذمہ تھا کہ وہ نئے حالات سے نمٹنے کے لئے مرزا غلام احمد اور اس کے الحاد پر انگریزی زبان میں وہ مواد مہیا کریں جس کے ذریعے ان ممالک میں قادیانیت کی صحیح تصویر دیکھی جاسکے تاکہ جونہی قادیانیوں کے قافلے ان ممالک میں اتریں وہاں کے مسلمان پہلے سے ان کے الحاد و زندقہ پر اطلاع پاچکے ہوں۔
دارالعلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء لکھنؤ کے دو نامور عالموں کی تحریریں انگریزی زبان میں منتقل ہوئیں محدث کبیر حضرت مولانا سید محمد بدر عالم رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ ابوالحسن علی ندوی کی کتابیں نزول المسیح اور القادیانیہ کے انگریزی ترجمے ان ممالک میں پھیلے یہ یورپ اور افریقہ میں قادیانیت کو بے نقاب کرنے والی پہلی آواز تھی پھر بہت سے اور علماء نے بھی اس پر قلم اٹھایا اور قادیانیت ان ممالک میں کافی حد تک اپنے اصل روپ میں سامنے آگئی مگر ان سب تحریرات کے باوجود ایک خلاء باقی تھا جس کا پُر کیا جانا ضروری تھا۔
ضرورت تھی کہ ان علماء کی تحریریں بھی انگریزی زبان میں اتریں جو قادیانیوں کے ساتھ مناظروں اور مباحثوں کا گہرا تجربہ رکھتے ہوں اور انہیں ان کی زبان میں جواب دیتے ہوں۔
قادیانیوں کی زبان ہمیشہ مناظرانہ ہوتی ہے سوا انہیں ان کی زبان میں جواب دینا ضروری ہوتا ہے محدث شہیر امام العصر الشیخ انور شاہ کشمیریؒ نے قادیانیوں کے رد میں اکفار الملحدین لکھی تو قادیانی تحریرات کا انتخاب خود نہ فرمایا بلکہ رئیس المناظرین حضرت مولانا مرتضیٰ حسن صاحب سے کرایا کیونکہ وہ مناظر کی حیثیت سے زیادہ تجربہ رکھتے تھے اور قادیانیوں سے ان کی زبان میں بات کرتے تھے۔
یورپ اور افریقہ میں اب تک وہی انگریزی لٹریچر قادیانی نظریات وعقائد سے نقاب کشائی کرتا رہا ہے جو گو نامور علماء کی تحریرات کا ترجمہ تھا لیکن اس باب میں کسی مشاق مناظر کی کاوش کا ترجمان نہ تھا رفیق مکرم مولانا المحترم شیخ منظور احمد چنیوٹی کی کوشش بہت لائق تحسین ہے کہ قادیانیوں سے مناظرات کے گہرے تجربات کی روشنی میں آپ نے مرزا غلام احمد اور اسکے بیٹوں کی تحریرات سے ایک ایسا انتخاب پیش کیا ہے جس سے قادیانی عقائد و نظریات اور ان کا مسلمانوں سے مناط اختلاف بالکل کھل کر سامنے آجاتے ہیں یہ کتابچہ اس پہلو سے بہت ممتاز ہے کہ یہ ایک مناظر اسلام کا انتخاب ہے جسکی ضرورت باقی تھی مولانا کی اس ترتیب سے وہ خلا پورا ہو گیا ہے جس کا پورا ہونا ضروری تھا۔
مولانا محترم کئی مناظروں میں میرے بھی معین رہے ہیں اور قادیانیت کو بے نقاب کرنے میں ہمیں مشترکہ طور پر یورپ اور افریقہ وغیرہ میں کئی مواقع بھی میسر آئے ہیں اسی تعلق سے اس ناچیز نے اس کتابچہ پر نظر ثانی کی ہے کہیں کہیں کچھ اضافے بھی کئے ہیں اور انگلستان میں مقیم ہونے کی حیثیت سے اسے انگریزی میں پیش کرنے کی سعی بھی کی ہے یہ رسالہ اپنے اختصار، جامعیت، اسلوب صحت نقل اور فنی گرفت میں اپنی مثال آپ ہے امام ابو بکر احمد بن الحسین البیہقیؒ دلائل النبوۃ میں ذکر کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۴
سیکون فی آخر ھذہ الامة قوم لھم مثل اجر اولھم یأمرون بالمعروف وینھون عن المنکر ویقاتلون اھل الفتن
(ترجمہ) اس امت کے آخری دور میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہیں (ان کی دینی محنتوں پر) اولین امت جیسا اجر ملے گا وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ساتھ ساتھ اہل فتن کا بھی پورا پورا مقابلہ کرتے ہوں گے
شراح حدیث نے یقاتلون کے معنی بایدیھم او بالسنتھم کے بیان کئے ہیں اور فتن سے مراد اسلام سے بغاوت اور ہر قسم کے اعتقادی فتنے ہیں سو اس حدیث میں ان مناظرین اسلام کو بھی بشارت دی گئی ہے جو اپنی زبان اور بیان سے ان ملاحدہ و زنادقہ کا پوسٹ مارٹم کر کے امت کو ان کے ظالم پنجوں سے بچاتے اور چھڑاتے ہیں۔ اس امت میں جس طرح تنزیل کتاب پر جہاد کی نوبت آتی ہے بلکہ تاویل کتاب اور مرادات باب پر بھی جہاد میں اترنا پڑتا ہے سو مبارک ہیں وہ لوگ جو ان فتنوں کے آمنے سامنے نبرد آزما ہوتے ہیں۔
قادیانیت کا پورا پس منظر سمجھنے کے لئے محدث شہیر حضرت علامہ محمد یوسف بنوری کا مقدمہ اپنے ایجاز و اختصار اور جامعیت میں اپنی مثال آپ ہے اور برصغیر پاک و ہند سے باہر قادیانیت کے خلاف پہلی آواز ہے جو ایک مناظر کے قلم سے اٹھی ہے اور یورپ اور افریقہ میں ان لوگوں کی اپنی زبانوں میں انہیں خطاب کرتی ہے مقام مسرت ہے کہ احقر اس دینی محنت میں مؤلف محترم کے ساتھ ہے ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم
علامہ خالد محمود عفا اللہ عنہ ڈائریکٹر اسلامک اکیڈمی مانچسٹر انگلینڈ
مقدّمہ
الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی خاتم النبیین سیدنا محمد وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین ۔
امت مرحومہ قرون اولیٰ سے آج تک ہمیشہ ایسے فتنوں سے دوچار ہوتی رہی ہے، جو اس کی ترقی واشاعت کی راہ میں کوہ گراں بنتے رہے۔ اگر پروردگار عالم کی رحمت شامل حال ہو کر اس کی حفاظت و بقا کا ذریعہ نہ بنتی تو آج ، ملتِ اسلامیہ کے اس عظیم الشان محل کی بنیادیں زمین بوس ہوچکی ہوتیں۔ قرون اولیٰ کے ان فتنوں میں سے خوارج ، شیعہ ، معتزلہ ، قدریہ ، کرامیہ وغیرہ جیسے فتنے خوب پھلے پھولے ، جن کے آثار آج بھی مختلف بلادِ اسلامیہ میں پائے جاتے ہیں۔ پروردگار عالم نے علمائے امت اور زعمائے ملت کو دین اور فصیلِ اسلام کی حفاظت کے لیے مقرر فرمایا ، چنانچہ دین بحالہ محفوظ رہا اور صفحاتِ دہر پر تاقیام قیامت یہ اس طرح چمکتا رہے گا کہ اس کی چمک اور چکا چوند ملحدوں اور بے دینوں کی آنکھوں کو ہمیشہ خیرہ کرتی رہے گی ۔
قرون اخیرہ کا سب سے بڑا فتنہ مرزا غلام احمد قادیانی کا ظہور ہے۔ جب برطانیہ نے ہند پر تسلط جمایا تو اسی کے ایماء ، اشارے اور اس کی سازش سے ، مشرقی پنجاب کے ایک قصبہ " قادیان " ضلع گورداس پور میں اس فتنہ کا
ظہور ہوا۔ اس نے اپنے دعاوی میں آہستہ آہستہ ترقی کی پہلے اس نے دعویٰ کیا کہ وہ مجدد ہے‘ پھر دعویٰ کیا کہ وہ غیر تشریعی نبی ہے‘ پھر دعویٰ کیا کہ وہ تشریعی نبی و رسول‘ اور اس کی وحی قرآن مجید کی مانند ہے۔ چنانچہ یہ قرآن کریم سے آیات چن کر انہیں اپنے اوپر چسپاں کرتا‘ باطنیوں اور زندیقوں کی طرح قرآنی آیات کی تشریح و تعبیر کرتا اور اپنے کلام میں بابیوں اور بہائیوں کی پیروی کرتا رہا‘ یہ حضور علیہ السلام کے معجزات کی نقلیں کیا کرتا تھا۔ اس نے اپنی مسجد کو ’مسجد اقصیٰ‘ اپنے گاؤں کو مکہ المسیح اور لاہور کو اپنا مدینہ قرار دیا۔ اپنی مسجد میں ایک مینارہ بنا کر اس کا نام مینارۃ المسیح رکھا‘ اپنے گاؤں میں ایک قبرستان بنا کر اس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا اور اعلان کیا کہ جو بھی اس میں دفن ہوگا وہ بہشتی ہوگا۔ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایسی سخت توہین کی جسے سن کر جگر پھٹتا اور کلیجہ منہ کو آتا ہے‘ حالانکہ دنیا میں ایسا کوئی نبی نہیں گزرا جس نے کسی نبی کی توہین کی ہو۔ اس جھوٹے نبی نے اپنے اوپر ایمان نہ لانے والوں سب کو کافر قرار دیا‘ اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومتِ برطانیہ زمین پر اللہ کا سایہ ہے‘ اور اپنی کتابوں میں تحریر کیا کہ میں ان کا ”خودکاشتہ پودا“ ہوں۔ اس نے لوگوں کے سامنے پُر فتن اور مبالغہ آمیز گپیں ہانکیں اور کفر و الحاد کی گہری وادیوں میں اتر گیا۔
شروع میں یہ ایک محتقر اور کمزور سا فتنہ تھا مگر آہستہ آہستہ ترقی کرتا اور نشو و نما پاتا گیا‘ چنانچہ علماء ربانیین اٹھے اور قلم و زبان اور ہر ممکن طریقہ سے اس کے استیصال اور بیخ کنی میں مشغول ہوئے۔
امام العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند ان اکابرین میں سے تھے‘ جنہوں نے اس کی تردید کا بیڑا اٹھایا۔
علامہ موصوف نے عربی و فارسی میں متعدد کتب تصنیف فرمائیں۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کو کتابیں تصنیف کرنے میں مدد دی اور اپنے دوستوں اور شاگردوں کو تالیف و تبلیغ کے ذریعہ دین کے دفاع کے لیے اکسایا۔ علامہ موصوف نے "عقیدۃ الاسلام فی حیوۃ عیسیٰ علیہ السلام" ، "تحیۃ الاسلام فی حیوۃ عیسیٰ علیہ السلام" ، "التصریح بما تواتر فی نزول المسیح" اور تفسیر آیۃ خاتم النبیین کے علاوہ "مرزائیت اور اس جیسے دوسرے الحادی فتنوں کے رَدّ کے لیے ایک مستقل کتاب اصول" میں تصنیف فرمائی جس کا نام آپ نے "اکفار الملحدین فی ضروریات الدین" رکھا۔ مختصر یہ کہ اس علاقے کے علماء کے ہاں اس گمراہ فرقے کا کفر و ضلال روز روشن کی طرح واضح ہوگیا۔
چونکہ یہ تصنیفات و احوال بلاد عربیہ کے علماء اور عوام کے سامنے نہ تھے اور پھر دین و علوم دین سے عوام الناس کا تعلق بھی خاصا کمزور ہو چکا ہے ، اس لیے ایک ایسی جامع تصنیف کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی ، جس میں ان کے ایسے تمام عقائد کی ایک ایسی قابل قدر تعداد جمع کر دی جائے ، جنہیں دیکھتے ہی ان کا بطلان واضح ہو جائے اور مزید کسی دلیل کی ضرورت نہ رہے۔ اگرچہ اس سے پہلے برادرم مبلغ اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی کی "القادیانی والقادیانیۃ" اور مولانا احسان الٰہی ظہیر کی تصنیف محاضرات کی شکل میں سامنے آچکی تھیں مگر ابھی بہت سا خلا باقی تھا، چنانچہ ہمارے عزیز ساتھی الاستاذ الشیخ منظور احمد چنیوٹی (جنہوں نے اپنے آپ کو حفاظت دین اور اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے وقف کر رکھا ہے) اس خلا کو پُر کرنے کے لیے اٹھے ، اور حفاظت و خدمت دین کے جذبہ سے "القادیانی ومعتقداتہ" (قادیانی اور ان کے عقائد) تصنیف فرما کر اس خلا کو پُر کیا اور اس کے عربی و اردو کتب
کے حوالوں سے ان کے قبیح و شنیع عقائد جمع کر دیئے گئے حالانکہ ان کا کفر اتنا واضح تھا کہ محتاج دلیل نہیں ۔
اللہ تعالیٰ ان کو (مؤلف) جزائے خیر دے، ان کے اس رسالے کے ذریعہ عربی و اسلامی ممالک کو فائدہ پہنچائے ۔ مرزائیوں کے چہرے سے مکر و فریب کے پردے کو چاک کرے اور اسے شرف قبولیت بخشے ۔ وصلی اللہ علیٰ سیدنا، سیدالعالمین وخاتم النبیین محمد و آلہ واصحابہ واتباعہ وعلماء امتہ العالمین اجمعین
کتبہ
محمد یوسف بن سید محمد زکریا البنوری الحسینی، خادم الحدیث النبوی کراچی، مغربی پاکستان بروز پیر ۱۵ جمادی الاخریٰ ۱۳۹۱ھ
رائے گرامی
شیخ حسنین محمد مخلوف (سابق) مفتی اعظم مصر
میں نے اس رسالے کا بغور مطالعہ کیا ۔ رسالہ میں مرزائیوں کے کفر و ضلال اور ان کے من گھڑت عقائد کا خوب اچھی طرح پردہ چاک کر کے، موضوع کے ساتھ مکمل انصاف کیا گیا ہے ۔ میں اس کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، تاکہ رسالہ قارئین کے قلوب و اذہان کے لیے مشعل راہ بن کر ان کو کفر و ضلال سے بچانے اور حق سے آگاہی کا وسیلہ بن سکے ۔ واللہ الموفق کتبہ ۔ ۱۲ ربیع الاول ۱۳۹۴ھ
حسنین محمد مخلوف سابق مفتی اعظم مصر و رکن کبار العلماء بالازہر و رکن مجلس تاسیسی رابطہ عالم اسلامی مکۃ المکرمہ
بسم الله الرحمن الرحيم
كلمة المؤلف
الحمد لله وحده والصلوة والسلام على من لا نبي بعده ولا امته بعد امته ولا كتاب بعد كتابه . وعلى آله وصحبه اجمعين . ومن تبعهم الى يوم الدين . اما بعد !
اوائل انیسویں صدی عیسوی یعنی ۱۸۹۰ء میں ایک نام نہاد نبی مرزا غلام احمد قادیانی ہندوستان کے صوبہ پنجاب میں ظاہر ہوا۔ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور ہر اس شخص کو جو اس کی جھوٹی نبوت پر ایمان نہ لائے ‘ کافر قرار دیا۔ انگریز گورنمنٹ نے نہ صرف یہ کہ اس کی مدد کی بلکہ دراصل اس پودہ کو اپنے ہاتھوں سے لگانے والی بھی یہی حکومت تھی۔ جیسا کہ خود مرزا صاحب نے (تبلیغ رسالت میں) اس کا اعتراف کیا ہے۔ انگریز نے اس کی پوری پوری مدد و حفاظت کی ‘ چنانچہ یہ اس کے ایک استعماری ایجنٹ اور گماشتے کے طور پر کام کرتا رہا ۔ اس نے جہاد کے منسوخ ہونے اور حکومت برطانیہ کے واجب الاطاعت ہونے کا اعلان کیا اور اپنی دعوت کو دُور دراز ممالک حتیٰ کہ مرکز اسلام اور مہبط وحی خیر الانام یعنی مکہ و مدینہ شریف تک بھی پھیلا دیا ۔ اس نے اپنی دعوت کی تبلیغ کے لیے ہندوستان میں اپنے مولد و مسکن ’’قادیان‘‘ کو مرکز ٹھہرایا ، تا آنکہ مئی ۱۹۰۸ء کو بمرض ہیضہ انتقال کر گیا
۱۹۴۷ء میں جب ہندوستان تقسیم ہوا اور پاکستان بن گیا تو انہوں نے "ربوہ" کے نام سے ایک نیا شہر بسانا شروع کیا، جو کہ پاکستان و بیرون پاکستان ان کی تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز بنے ۔
شروع دن ہی سے علماء اسلام اور دین دار طبقہ اس فتنہ سے پریشان اور خوف زدہ تھا، چنانچہ انہوں نے زبان و قلم سے اس کے خلاف جہاد کیا اور بالاتفاق مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں کو، کافر، مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا اور اس سلسلہ میں بہت سی مفید اور عمدہ کتابیں تصنیف فرمائیں ۔
ہم برادران اسلام کے سامنے اس نام نہاد نبی کے چند دعاوی :
- ۱- دعویٰ نبوت ۔ ۲- عقیدہ وفات مسیح (علیہ السلام)
- ۳- اپنی جھوٹی نبوت پر ایمان نہ لانے والوں کی تکفیر ،
- ۴- انگریزی حکومت کی تائید و حمایت ،
- ۵- فتویٰ حرمت جہاد ،
- ۶- مقدس اصطلاحات کو اپنے اوپر چسپاں کرنا ،
- ۷- انبیاء علیہم السلام کی توہین اور ان پر حتیٰ کہ خود امام الانبیاء حضور نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی فوقیت و افضلیت اور اس جیسے دوسرے خرافات پیش کر رہے ہیں ۔ حوالہ جات کتب مع قید صفحات نقل کیے گئے ہیں اور عبارات نقل کرتے ہوئے، اپنی طرف سے کسی قسم کی کوئی تشریح، توضیح، ضمیمہ نویسی یا حاشیہ آرائی نہیں کی گئی ۔ واللہ الموفق الی الحق وھو یھدی السبیل ۔
(از مؤلف)
دعاویٰ مرزا
مرزا صاحب کا مجدد، مہدی، مسیح اور نبی و رسول ہونے کا دعویٰ
( مجددیت سے نبوت، اور اس سے آگے تک )
- ۱۔ ” دل مر گئے اور گناہ بہت ہو گئے اور بے قراریاں بڑھ گئیں۔ پس اس اندھیری رات کے
وقت اور تند ہوا کی تاریکی کے وقت خدا کے رحم نے تقاضا کیا کہ آسمان سے نور نازل ہو۔ سو میں وہ نور ہوں اور وہ مجدد ہوں کہ جو خدا کے حکم سے آیا ہے اور بندہ مدد یافتہ ہوں اور وہ مہدی ہوں جس کا آنا مقرر ہو چکا ہے اور وہ مسیح ہوں جس کے آنے کا وعدہ تھا اور میں اپنے رب سے اس مقام پر نازل ہوا ہوں جس کو انسانوں میں سے کوئی نہیں جانتا ۔“
(خطبہ الہامیہ مترجم ص ۵۱ از مرزا غلام احمد مطبوعہ قادیان)
نوٹ :- مرزا صاحب اس کتاب کے بارے میں رقمطراز ہیں :-
ترجمہ :- یہی وہ کتاب ہے جس کا ایک حصہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عید پر الہام کیا گیا۔ جسے میں نے بغیر کسی تحریر و تدوین کے (محض) روح القدس کی زبان سے حاضرین پر القا کیا۔ اور کسی انسان کے بس میں نہیں کہ مجھ ایسی عبارت مرتجلا اور فی البدیہہ ادا کر سکے .... اور نہ ایسے ایسے معارف بتلا سکے (باقی اگلے صفحہ پر)
- ۲۔ "پس تم کو خوشخبری ہو کہ تمہارے پاس مسیح آیا اور قادر نے اس کو مسح کیا اور فصیح کلام
اس کو عطا کیا گیا ..... اور تم کو مبارک ہو کیونکہ مہدی موعود تمہارے پاس آ پہنچا اور اس کے پاس بہت مال و متاع ہے جو تہہ بہ تہہ رکھا ہے۔ . . . اے لوگوں میں وہ مسیح ہوں کہ جو محمدی سلسلہ میں سے ہے اور میں احمد مہدی ہوں"۔
(خطبہ الہامیہ مترجم ص۵۹ ،۶۰ مطبوعہ قادیان اور اسی طرح ص۹ پر)
- ۳۔ "اور میں وہی مسیح موعود ہوں جس کا آنا آخر زمانہ میں خدا کی طرف سے مقدر تھا اور میں
وہ منعم علیہ ہوں کہ اس کی طرف "فاتحہ" میں ان دو گروہوں کے ظہور کے وقت اشارہ تھا۔"
(خطبہ الہامیہ ص۱۹ ، قادیان)
- ۴۔ "اگر کہا جائے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بے باپ پیدا ہوئے تھے اور یہ ایک امر فوق
العادت ہے، پس شانِ مماثلت پوری نہیں ہوتی ہے اور باہم مشابہت کا ہونا ضروری ہے جو سلیم الطبع لوگوں پر پوشیدہ نہیں ہے ہم کہتے ہیں کہ انسان کا بے باپ پیدا کرنا عادت اللہ میں داخل ہے۔ . . . ہاں ہم یہ بات قبول کر سکتے
(بقیہ حاشیہ) چھوڑے ہوئے مدون دفتروں میں بھی نہ پائے گا ۔ بلکہ یہ تو ایسے حقائق ہیں جو ربّ کائنات کی طرف سے مجھے وحی کیے گئے ہیں اور یہ ایک اظہارِ تام ہے ۔ تو کیا مسیح کے بعد بھی کچھ خفا ہے اور خاتم الخلفاء کے (آجانے کے) بعد بھی کوئی بھید الٰہی پوشیدہ ہے ! تعجب انگیز یہ بات نہیں کہ تم خاتم الائمہ سے ایسے نکات سنتے ہو جو تم نے اس سے پہلے علمائے امت سے نہیں سنے بلکہ بہت زیادہ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ”مسیح موعود“ امام منتظر ۔ لوگوں کے منصف اور ”خاتم الخلفاء“ تشریف لے آئے ہیں کہ پھر ان کے بعد خدا کی طرف سے معارف لیکر کوئی ایسا شخص جو لوگوں سے کسی عالم کی طرح باتیں کرے اور نور و ظلمت کے درمیان یوں فرق واضح کرے، نہ آئے گا۔ اور میں نے اس رسالے کا نام ”خطبہ الہامیہ“ رکھا اور یہ ایک نشان ہے“۔ ترجمہ ختم (یہ کتاب عربی ، فارسی ، اردو ، تینوں زبانوں میں ہے)
(صفحہ اول کتاب ہذا)
ہیں کہ .... بغیر باپ کے پیدا ہونا قلیل الوقوع امر ہے ۔ بہ نسبت اس امر کے کہ اس کا مخالف ہے ، اور اسی امر عجیب کے مشابہ میری پیدائش ہے کہتے ہیں کہ میں توام پیدا ہوا ہوں ، اور میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی جو وہ مر گئی اور میں زندہ رہ گیا ۔ اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ واقعہ بھی نسبتاً عام پیدائش کے قاعدے سے عجیب ہے ۔
(حاشیہ خطبہ الہامیہ ص۸۸ ، مترجم مطبوعہ قادیان)
- ۵ ۔ انی انا المسیح و بالحق امشی بے شک میں ہی مسیح ہوں اور حق کے
واسیح .... ان عیسیٰ مات ساتھ چلتا ہوں اور گھومتا ہوں .... ولا یحیٰ باحیاء کم ۔ عیسیٰ مر گیا اور وہ تمہارے زندوں کی طرح نہیں ۔
(تحفۃ الندوہ ص۷) (ترجمہ از مرتب)
- ۶ ۔ منم مسیح زماں منم کلیم خُدا منم محمد و احمد کہ مجتبےٰ باشد
(تریاق القلوب ص۳)
- ۷ ۔ دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور ”پردہ“ میں نشوونما
پاتا رہا ، پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو .... مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارے کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینہ سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے .... مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا .... پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا ۔
(کشتی نوح ص۴۶ ، ۴۷) (مطبوعہ قادیان)
- ۸ ۔ قرآن شریف کی اس آیت کا بجز میرے کوئی دنیا میں مصداق نہیں پس یہ پیشگوئی
سورہ تحریم میں خاص میرے لیے ہے اور وہ آیت یہ ہے : وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِنْ رُّوحِنَا ۔
..... میرا ہی نام خدا نے براہین احمدیہ میں پہلی مریم رکھا اور بعد اس کے میری ہی نسبت یہ کہا کہ ہم نے اس مریم میں اپنی طرف سے روح پھونک دی اور پھر روح پھونکنے کے بعد مجھے ہی عیسیٰ قرار دیا۔ پس اس آیت کا میں ہی مصداق ہوں۔“
(حاشیہ حقیقۃ الوحی ص۳۳۷)
- ۹۔ ”حضرت مسیح علیہ السلام نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ
کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا۔" ٹریکٹ نمبر ۳۴ اسلامی قربانی مصنفہ قاضی یار محمد استاذ مرزا بشیر الدین محمود
- ۱۰۔ ”طاعون کے نازل ہونے سے پہلے خدا تعالیٰ نے مجھے وحی کی کہ ہماری آنکھوں
کے سامنے اور ہمارے حکم سے ایک کشتی تیار کر اور ایسے لوگوں کے لیے شفاعت پیش نہ کر جنہوں نے تمام زندگی کے لیے ظلم کرنا اپنا اصول بنا لیا ہے کیونکہ وہ تو غرق ہونے سے پہلے ہی گناہوں میں غرق ہیں۔ اور جو لوگ تیرے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتے ہیں وہ خدا کے ہاتھ میں ہاتھ دیتے ہیں، خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر ہے۔“
(خطبہ الہامیہ مترجم ص۱۷، ۱۸ - قادیان)
- ۱۱۔ "اب دیکھو خدا تعالیٰ نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح
کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لیے مدار نجات ٹھہرایا، جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔“
(حاشیہ اربعین نمبر ۴ ص۶)
وقد انبأنی ربی اننی کسفینۃ حق تعالیٰ مرا خبر داد کہ من بجهت
دخل فی البيعة فقد نجا نزد من آمد و در سلک بیعت
من الضيعة فطوبٰی لقوم من مرتبط شد او لاریب از
هم ينجون ۔ ہلاک نجات یافت
آئنہ کمالات اسلام آئنہ کمالات اسلام مترجم فارسی
ص ۲۸۶ ص ۴۹۴
( مطبوعہ قادیان )
- ۱۳۔ "اور بے شک میرے پروردگار کے نزدیک میری مثال آدم کی مثال ہے ... لاجرم
خدا نے مجھ کو آدم بنایا اور مجھ کو وہ سب چیزیں بخشیں کہ بآدم بخشیدہ بود۔"
( خطبہ الہامیہ مترجم قادیان ص۲۵۳،۲۵۴ )
- ۱۴۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ میں رسول و نبی ہوں۔"
(اخبار "بدر" ۵ مارچ ۱۹۰۸ء)
- ۱۵۔ مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت
کا مصداق ہے کہ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدٰی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلّٰہ
(اعجاز احمدی ص۷ مطبوعہ ربوہ)
- ۱۶۔ سچا خدا وہی ہے جس نے "قادیان" میں اپنا رسول بھیجا ۔
دافع البلاء ص۱۱
- ۱۷۔ انا انزلنٰہ قریبًا من ہم نے اس کو قادیان کے قریب اتارا
القادیان وبالحق انزلنٰہ ہے اور حق کے ساتھ اتارا ہے اور وبالحق نزل و کان ضرورت حقہ کے ساتھ اترا ہے اور
اس رحمانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت، پوری طرح سے تجلی فرمائی جیسا کہ آدم چھٹے دن کے آخر میں احسن الخالقین خدا کے اذن سے پیدا ہوا اور خیر الرسل کی روحانیت نے اپنے ظہور کے کمال کے لیے اور اپنے نور کے غلبہ کے لیے ایک مظہر اختیار کیا جیسا کہ خدا تعالیٰ نے کتاب مبین میں وعدہ فرمایا تھا پس میں وہی مظہر ہوں۔ پس ایمان لاؤ اور کافروں سے مت ہو اور اگر چاہتا ہے تو اس خدا تعالیٰ کے قول کو پڑھ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی آخر آیہ تک پس یہ اظہار کا وقت اور روحانیت کے ظہور کے کمال کا وقت ہے۔ اے مسلمانوں کی جماعت ۔
(خطبہ الہامیہ ص۶۶ تا ۶۸)
- ۴۲۔ اور اس عمارت میں ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی یعنی منعم علیہ، پس خدا نے ارادہ فرمایا کہ
اس پیشگوئی کو پورا کرے اور آخری اینٹ کے ساتھ بناء کو کمال تک پہنچاوے پس میں وہی اینٹ ہوں ۔
(خطبہ الہامیہ ص۱۷۶،۱۷۸)
- ۴۳۔ ؎ روئندۂ آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۱۳ آخری شعر)
نوٹ عہ :۔ احادیث شریفہ میں وارد ہے نبی پاک نے ارشاد فرمایا ' میری مثال اور انبیاء علیہم السلام کی ایک محل جیسی ہے (جسکے معمار نے) اسے بہت عمدہ تعمیر کیا مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ پس دیکھنے والوں نے اس اینٹ کی جگہ کے سوا سب مکان کے حسن تعمیر اور اس کی خوبی کی تعریف کرتے ہوئے اسے گھوم پھر کر دیکھا۔ پس میں نے وہ جگہ بند کی، میرے ساتھ وہ عمارت ختم ہوئی اور میرے ساتھ رسول ختم کئے گئے۔ اور ایک روایت میں ہے پس میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔
(بخاری ومسلم)
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمدؐ دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں ؎
( بدر قادیان ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۰۶ء)
- ۲۵ - ( اپنے آپ کو حضور علیہ السلام پر اور اپنی کلام کو ان کی پاک کلام پر فضیلت
دیتے ہوئے کہتا ہے) ؎
خسفا القمران المشرقان لتنکر
اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا، اب کیا تو انکار کرے گا۔
ترجمہ :۔ اور اس کے معجزات میں سے معجزانہ کلام بھی تھا ، اسی طرح مجھے وہ کلام دیا گیا جو سب پر غالب ہے “
( اعجاز احمدی ، ضمیمہ نزول مسیح ” ص ۷۱ شرکت اسلامیہ ربوہ
- ۲۶ - مرزا صاحب حضور علیہ السلام کے صرف تین ہزار معجزات بتاتے ہیں۔
” مثلاً کوئی شریر النفس ان تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ظہور میں آئے۔ (تحفہ گولڑویہ ص ۶۷)
- ہ -: یہ شعر مرزا صاحب کے سامنے پڑھے گئے ۔ مرزا صاحب سن کر بہت
خوش ہوئے ۔ شاباش کہی اور اسے اپنے قادیانی جریدے ”بدر“ میں شائع کیا۔
(مرتب)
معجزہ اپنے دس لاکھ سے زیادہ نشان ۔ "جس شخص (مرزا قادیانی) کے ہاتھ سے ابتک دس لاکھ سے زیادہ نشان ظاہر ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں"۔
(تذکرۃ الشہادتین ص ۴۱)
- ۴۷۔ "یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا
ہے حتیٰ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے"۔
(ڈائری مرزا محمود احمد مطبوعہ اخبار الفضل ۱۷ جولائی ۱۹۲۲ء)
- ۴۸۔ "اور میں اپنے خدا کی طرف سے تمام تر قوت و برکت و عزت کے ساتھ بھیجا
گیا ہوں اور یہ میرا قدم ایک ایسے منارہ پر ہے جو اس پر ہر ایک بلندی ختم کی گئی ہے پس خدا سے ڈرو اے جہنمیو! اور مجھے پہچانو! اور نافرمانی مت کرو اور نافرمانی پر مت مرو۔ اور زمانہ نزدیک آگیا ہے اور وہ وقت نزدیک ہے کہ ہر ایک جان اپنے کاموں سے پوچھی جائے اور بدلہ دی جائے
(خطبہ الہامیہ مترجم ص ۷۱، ۷۲)
- ۴۹۔ پس مجھے کسی دوسرے کے ساتھ قیاس مت کرو اور نہ کسی دوسرے کو میرے ساتھ، اور
اپنے تئیں شک اور شبہ کے ساتھ ہلاک مت کرو اور میں مغز ہوں جس کے ساتھ چھلکا نہیں اور روح ہوں جس کے ساتھ جسم نہیں وہ نور ہوں جس کو دشمنی اور کینہ کا دھواں چھپا نہیں سکتا ۔ اور کوئی ایسا شخص تلاش کرو جو میری مانند ہو، اور ہرگز نہیں پاؤ گے اگرچہ چراغ لے کر بھی ڈھونڈتے رہو"۔
(خطبہ الہامیہ مترجم ص ۷۳)
مرزا صاحب کا صفات اللہ سے متصف بلکہ عین اللہ ہونے کا دعویٰ
- ١- "اور مجھ کو فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے اور یہ صفت خدا تعالیٰ کی
طرف سے مجھ کو ملی ہے"۔
خطبہ الہامیہ مترجم صہ ٥٦
- ٢- " انما امرك اذا اردت شيئاً" تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ تیرے حکم
ان تقول لہ كن فيكون"۔ سے فی الفور ہو جاتی ہے ۔
- تذکرہ صہ ۵۲۵ ، ۶۵۶ ، ۸۲۶ - حقیقۃ الوحی صہ ۱۰۵
- ٣- " انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی" تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید
انجام آتھم صہ ۵۴ و تذکرہ صہ ۶۶ ، صہ ۲۰۴
- ۴- " انت منی وانا منك ظہورك تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے، تیرا ظہور
ظہوری" میرا ظہور ہے ۔
(تذکرہ صہ ۷۰۰)
- ۵- " انت منی بمنزلۃ ولدی" تو مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے ۔
(حقیقۃ الوحی صہ ۸۶) و تذکرہ صہ ۵۲۶ ، صہ ۶۳۲
طبع جدید صہ ۲۹۹
- ۶- " اسمع یا ولدی اے میرے بیٹے سن ۔
(البشریٰ جلد اول صہ ۴۹)
- ۷- " انت من مائنا وهم من فشل" "تو ہمارے 'پانی' میں سے ہے اور وہ لوگ
فشل (بزدلی) سے"۔
(انجام آتھم صہ ۵۵ - ۵۳) و تذکرہ صہ ۲۰۴
- ۸- الارض والسماء معك کما هو معی زمین و آسمان تیرے ساتھ ہے جیسا کہ وہ
میرے ساتھ ہے ۔
(انجام آتھم ص ۵۹) وتذکرہ ص ۶۵ طبع جدید
- ۹- "یا احمد یتم اسمک ولا اے احمد تیرا نام پورا ہو جائے گا قبل اس
یتم اسمی" کے جو میرا نام پورا ہو۔
(انجام آتھم ص ۵۹) وتذکرہ ص ۵۱
- ۱۰۔ یحمدک اللہ من عرشہ ۔ خدا عرش پہ تیری تعریف کرتا ہے ۔
یحمدک اللہ ویمشی الیک خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے ۔
(انجام آتھم ص ۵۸) وتذکرہ طبع جدید ص ۲۶۷
علیہ - رایتنی فی المنام عین اللہ و تیقنت انی ہو ..... و بینما انا فی ہذہ الحالۃ کنت اقول ، انا نرید نظاما جدیداً سماءً جدیدۃ و ارضا جدیدۃ فخلقت السمٰوات والارض اولاً بصورۃ اجمالیۃ لا تفریق فیہا ولا ترتیب ثم فرقتہا و رتبتہا بوضع ہو مراد الحق و کنت اجد نفسی علی خلقہا کالمقادرین ۔ ثم خلقت السماء الدنیا و قلت انا زینا السماء الدنیا بمصابیح ثم قلت الان نخلق الانسان من سلالۃ من طین ۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۶۴، ۵۶۵) وتذکرہ ص ۱۹۶ طبع جدید
علیہ ترجمہ : میں نے اپنے آپ کو خواب میں دیکھا کہ میں عین اللہ ہوں اور میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں ۔۔۔۔۔ میں اسی حالت میں تھا کہ میں اپنے
آپ سے کہنے لگا۔ ”میں ایک نظام جدید اور آسمانِ جدید اور ایک نئی زمین بنانا چاہتا ہوں“۔
پس میں نے پہلے زمین و آسمان کو اجمالی صورت میں پیدا کیا کہ جن میں نہ کوئی تفریق تھی نہ ترتیب۔ پھر میں نے ان کو جدا کیا اور ترتیب دی جیسا کہ حق کی مراد تھی۔ اور میں اپنے آپ کو ان کی تخلیق پر پوری طرح قادر پاتا تھا۔ پھر میں نے آسمانِ دنیا کو پیدا کیا اور میں نے کہا ”انا زینا السماء الدنیا“ الخ (یعنی ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے مزین کیا) پھر میں نے کہا، اب ہم انسانوں کو گوندھی ہوئی مٹی سے پیدا کرتے ہیں۔
(از مترجم)
عقائد مرزا
توحید اور خدا تعالیٰ کے بارے میں مرزا صاحب کے عقائد
- ۱۔ (قال اللہ تعالیٰ) اصلی و (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) میں نماز پڑھوں گا ،
اصوم، اسهر و انام ۔ اور روزہ رکھوں گا، جاگتا ہوں اور سوتا ہوں ۔
(البشریٰ جلد ۲ ص ۷۹، و تذکرہ ص ۴۷۹) طبع قدیم
- ۲۔ انی مع الرسول اجیب میں رسول کے ساتھ کھڑے ہو کر جواب
اخطی و اصیب انی مع دوں گا خطا کروں گا اور بھلائی کروں گا میں اپنے الرسول محیط ۔ رسول کے ساتھ محیط ہوں ۔
(البشریٰ جلد ۲ ص ۷۹، و تذکرہ طبع قدیم ص ۴۷۹)
- ۳۔ " ایک دفعہ تمثیلی طور پر مجھے خدا تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور میں نے اپنے ہاتھ سے
کئی پیشگوئیاں لکھیں ۔ جن کا مطلب یہ تھا کہ ایسے واقعات ہونے چاہئیں ۔ تب میں نے وہ کاغذ دستخط کرانے کے لیے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا اور اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تامل کے، سرخی کے قلم سے اس پر دستخط کیے اور دستخط کرنے
کے وقت قلم کو چھڑکا ، جیسا کہ جب قلم پر زیادہ سیاہی آجاتی ہے تو اسی طرح پر جھاڑ دیتے ہیں اور پھر دستخط کر دیئے اور میرے پر اسوقت نہایت رقّت کا عالم تھا اس خیال سے کہ کس قدر خدا تعالیٰ کا میرے پر فضل اور کرم ہے کہ جو کچھ میں نے چاہا، بلا توقف اللہ تعالیٰ نے اس پر دستخط کر دیئے، اور اسی وقت میری آنکھ کھل گئی اور اس وقت میاں عبداللہ سنوری مسجد کے حجرہ میں میرے پیر دبا رہا تھا کہ اس کے رُوبرو غیب سے سرخی کے قطرے میرے کُرتے اور اس کی ٹوپی پر بھی گرے اور عجیب بات یہ ہے کہ اس سرخی کے قطرے گرنے اور قلم کے جھاڑنے کا ایک ہی وقت تھا، ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہ تھا .....
میں نے یہ سارا قصّہ میاں عبداللہ کو سُنایا۔ اُس وقت میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ عبداللہ جو ایک رویت کا گواہ ہے اس پر بہت اثر ہوا اور اس نے میرا کُرتہ بطور تبرک اپنے پاس رکھ لیا، جو اب تک اس کے پاس موجود ہے ۔
حقیقۃ الوحی ص ۲۵۵ و تریاق القلوب ص ۶۲ /
- ۴۔ خاطبنی اللّٰہ بقولہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ کہہ کر خطاب کیا،
" اِسمَع یَا وِلدی " "اے میرے بیٹے سُن"
(بشریٰ جلد ۱ ص ۴۹ بحوالہ قادیانی مذہب)
- ۵۔ یا قمر یا شمس انتَ اے چاند ، اے سورج تو مجھ سے
منی و انا منک ہے اور میں تجھ سے ہوں ۔
(تذکرہ ایڈیشن ۲ ، ص ۶۲۵ و حقیقۃ الوحی ص ۷۲)
- ۶۔ آوین (خدا تیرے اندر اُتر آیا) ”میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا پس
میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں ، تو مجھ میں اور تمام مخلوق میں واسطہ
- ب ۔
(کتاب البریہ ص۵۸)
- ۷ - انا نبشرک بغلام مظہر ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں
الحق والعلیٰ، کان اللہ نزل جس کے ساتھ حق کا ظہور ہوگا گویا من السماء آسمان سے "خدا" اترے گا۔
(حقیقۃ الوحی ص۹۵) وتذکرہ طبع قدیم ص۲۸۴
- ۸ - رتینا عاج ہمارا ربّ عاجی ہے (اس کے معنے ابھی
تک معلوم نہیں ہوئے)
(تذکرہ ص۵۱)
مرزا صاحب کے وحی، کتاب، نبوت اور ختمِ نبوت
کے بارے میں عقائد !
- ۱ ۔ میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے
بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے نشان ظاہر کیے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص۶۸)
- ۲ ۔ ــــــــــــــــــــــــ خدا تعالیٰ بہر حال جب
تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے قادیان کو اس خوفناک
تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام اُمتوں کے لیے نشان ہے ۔"
( دافع البلاء ص۱۱ )
- ۳۔ 'خدا تعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کہ میں اس کی طرف سے ہوں،
اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کیے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہوسکتی ہے . . . . لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے ۔"
(چشمہ معرفت ص۳۱۷ )
- ۴۔ 'لہٰذا ضرور ہوا کہ تمہیں یقین اور محبت کے مرتبہ پر پہنچانے کے لیے خدا کے
انبیاء وقتاً فوقتاً آتے رہیں جن سے تم وہ نعمتیں پائو۔ اب کیا تم خدا کا مقابلہ کرو گے اور اس کے قدیم قانون کو توڑو گے ؟'
(لیکچر سیالکوٹ ص۲۵ )
- ۵۔ جاء نی اِیل (اٰن اِیل ھو جبرائیل) آمد نزد من جبرائیل علیہ السلام ومرا
و اَدارَ اِصْبَعَہٗ برگزید و بگردش داد انگشت خود را و اَشَارَ بِاِصْبَعِہٖ اِلَیَّ و اشارہ کرد بسوی
ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر، اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں ۔"
(حقیقۃ الوحی ص ۲۱۱)
- ۷۔ یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور
نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا ۔ پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی ۔ . . . اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ان هذا لفي الصحف الاولى صحف ابراهيم وموسى ۔ یعنی قرآنی تعلیم تورات میں بھی موجود ہے ۔
(اربعین نمبر ۴ ص ۶)
- ۸۔ و ما انا الا كالقرآن "میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں"
(تذکرہ ص ۶۷۶)
۱؎ ۔ سلطان القلم کی اردو ملاحظہ ہو !
مرزا صاحب کے حضرت عیسیٰ، مہدی، دجال اور
دابۃ الارض و یاجوج و ماجوج کے بارے میں عقائد!
- ۱۔ انی انا المسیح و بالحق امشی و اسیح ....
ان عیسیٰ مات و لا یجیٔ کاحیائکم عہ
( تحفۃ الندوہ ص۱ )
- ۲۔ اما نزول عیسیٰ من السماء فقد اثبتنا بطلانہ فی کتابنا الحمامۃ ى
خلاصتہ انا لا نجد فی القرآن شیئاً فی ھذا الباب من غیر خبر وفاتہ ۔
- ٭ مگر یہ بات کہ حضرت عیسیٰ آسمان سے نازل ہوں گے سو ہم نے اس خیال کا باطل
ہونا اپنی کتاب حمامۃ البشریٰ میں بخوبی ثابت کر دیا ہے اور خلاصہ اس کا یہ ہے کہ ہم قرآن میں بغیر وفات حضرت عیسیٰ کے اور کچھ ذکر نہیں پاتے ۔
( نور الحق حصہ اول ص۵۱ )
- ۳۔ ثم ان مسئلۃ نزول عیسیٰ نبی اللہ کانت من اختراعات النصاریٰ
و اما القرآن فتوفاہ و الحقہ بالمیتین عہ
( اعلان خطبۃ الہامیہ ص۷ )
عہ : بے شک میں ہی مسیح ہوں اور حق کے ساتھ چلتا اور گھومتا ہوں، بے شک عیسیٰ مر گیا اور وہ تمہارے زندوں کی طرح نہیں آیگا۔
عہ باقی عیسیٰ نبی اللہ کے نزول کا مسئلہ تو یہ عیسائیوں کی مخترعات اور ایجادات سے ہے قرآن نے تو اسے وفات دے کر مُردوں کے ساتھ ملا دیا ہے ۔ (از مترجم)
٭ ان عقیدة رجوع المسیح وحیاتہ کانت من نسیج النصاریٰ ومفتریاتھم، بان الذین ظنوا من المسلمین ان عیسیٰ نازل من السماء ما اتبعوا الحق بل ھم فی وادی الضلال یتیھون عہ
(اخلاق خطبہ الہامیہ ص ۷)
نوٹ:- ترجمہ عبارت ! عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی اور ان کی حیات کا عقیدہ، عیسائیوں کی عبارت آرائی اور ان کی اختراع پردازی ہے . . . مسلمانوں میں سے جو لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمانوں سے اُترنے کا گمان رکھتے ہیں، لاریب انہوں نے حق کی پیروی نہیں کی، بلکہ وہ گمراہی کی وادیوں میں سرگرداں ہیں عہ
عہ مرزائیو ! پہلی صدی ہجری سے تیرھویں صدی ہجری تک کے اَن گنت اور لاتعداد مسلمانوں کے بارے میں، جو اس عقیدہ پر مر گئے، ان عبارات کی روشنی میں آپ حضرات کا کیا فتویٰ ہے ؟ مرزا صاحب خود لکھتے ہیں : . . . یہ غلطی دراصل آج نہیں پڑی بلکہ میں جانتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تھوڑے ہی عرصہ بعد یہ غلطی پھیل گئی تھی اور کئی خواص اور اولیاء اور اہل اللہ کا یہی خیال تھا (دیکھئے رسالہ احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے) بلکہ مرزا صاحب تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ بعض ایک دو کم سمجھ صحابہؓ کو جن کی درایت ممدوح نہیں تھی . . . یہ خیال تھا کہ عیسیٰ آسمان پر زندہ ہے، جیسا کہ ابو ہریرہؓ جو غبی تھا اور درایت اچھی نہیں رکھتا تھا، تو کیا مسلمانوں کی اتنی کثیر تعداد حتیٰ کہ صحابہ کرام نے بھی حق کی پیروی نہ کی، وہ بھی گمراہی کی وادی میں تھے اور نعوذ باللہ سب کے سب جہنمی اور اہل نار تھے ؟؟
(نعوذ باللہ من ذالک الکفریات)
( دیکھئے مرزا صاحب کی کتاب
اعجاز احمدی )
- ۴۔ ان من سوء الادب ان یقال ان عیسیٰ مامات وان ھو الا شرک
عظیم یاکل الحسنات ویخالف الحصاۃ بل ھو توفی کمثل اخوانہ ومات کمثل اھل زمانہ وان عقیدۃ حیاتہ قد جاءت فی المسلمین من الملۃ النصرانیۃ ۱۳
- ٭ ترجمہ : یہ کہنا کہ عیسیٰ نہیں مرا، سوئے ادبی اور شرک عظیم ہے جو عقل و رائے کے
خلاف اور نیکیوں کو کھا جانے والی چیز ہے، بلکہ وہ اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح وفات پا گیا اور اپنے اہل زمانہ کی طرح مر گیا اور اس کی حیات کا عقیدہ مسلمانوں میں عیسائیوں سے آیا ہے ۱۳
(ترجمہ از مرتب)
س : آپ کا اپنے مسیح قادیان کے بارے میں کیا حکم ہے جن کا باون ۵۲ سال تک یہی عقیدہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر زندہ موجود ہیں اور وہ قرب قیامت نزول فرما دیں گے اور لطف یہ کہ اس عقیدہ پر قرآنی آیات سے دلائل بھی پیش کرتے رہے، پھر ایک طویل . . . . مدت کے بعد اس وحی کی بنا پر جو مسلسل بارہ برس تک آپ پر نازل ہوتی رہی انہوں نے اپنے اس پرانے عقیدے کو تبدیل کیا ۔ دیکھئے اعجاز احمدی ص ۷۱ آئینہ کمالات اسلام ص ۱۵۵ اور براہین احمدیہ ان عبارات کی روشنی میں ۔ (۱) کیا مرزا صاحب مشرک اعظم (سب سے بڑے مشرک) نہیں؟ ۲۔ پھر وہ نبی کیسے ہوئے؟ ! ۳۔ کیا کبھی نبی بھی شرک کرتے ہیں ! ؟ ۴۔ مرزائی دوستو ! کیا کبھی سوچا، اس کا کیا جواب ہے ؟ بینوا توجروا ۔ یاد رہے کہ مرزا صاحب کا پہلا عقیدہ کسی غلط فہمی یا محض تقلید کی بنا پر نہ تھا کیونکہ مرزا صاحب اس وقت مجدد تھے اور مجدد پر فہم قرآن بقول مرزا صاحب خدا تعالیٰ کی طرف سے کھولا جاتا ہے ؟
عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں اور ان پر بہتان ہائے عظیم
- ۱۔ "خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس سے پہلے مسیح سے اپنی تمام
شان میں بڑھ کر ہے . . . . مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر مسیح ابن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں، ہرگز نہ کر سکتا* اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا" :
(حقیقۃ الوحی ص ۱۴۸)
- ۲۔ یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ
عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے ۔
(کشتی نوح ص ۶۵ حاشیہ)
- ۳۔ میرے نزدیک مسیح شراب سے پرہیز رکھنے والا نہیں تھا۔
(ریویو آف ریلیجنز جلد ۱ ص ۱۳۲ سنہ ۱۹۰۲ء)
- ۴۔ یسوع اس لیے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی
کبابی ہے . . . . چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خواری کا ایک بد نتیجہ ہے۔
(ست بچن ص ۱۷۲ حاشیہ)
- ۵۔ "مجھے کئی سال سے ذیابیطس کی بیماری ہے . . . . بعض وقت سو سو دفعہ دن
میں پیشاب آتا . . . . ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے صلاح دی کہ ذیابیطس کے لیے افیون مفید ہوتی ہے ۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی، لیکن میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی
کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی ۔ نسیم دعوت ص ۶۹
- -٦ ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے، تین دادیاں اور نانیاں آپ کی
زناکار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا ، مگر شاید یہ بھی خدائی کے لیے ایک شرط ہو گی ، آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے، ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے ۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے ۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۶ حاشیہ)
- ۷ - ہاں مسیح کی دادیوں اور نانیوں کی نسبت جو اعتراض ہے اسکا جواب بھی کبھی آپ نے
سوچا ہو گا ۔ ہم تو سوچتے سوچتے تھک گئے اب تک کوئی عمدہ جواب خیال میں نہیں آیا۔ کیا ہی خوب خدا ہے جس کی دادیاں اور نانیاں اس کمال کی ہیں ۔
نورالقرآن حصہ دوم ص ۱۳
- ۸ - ایک کنجری خوب صورت ایسی قریب بیٹھی ہے گویا بغل میں ہے کبھی ہاتھ لمبا
کر کے سر پر عطر مل رہی ہے کبھی پیروں کو پکڑتی ہے اور کبھی اپنے خوشنما اور سیاہ بالوں کو پیروں پر رکھ دیتی ہے اور گود میں تماشا کر رہی ہے ۔ ۔ ۔ یسوع صاحب اس حالت میں وجد میں بیٹھے ہیں اور کوئی اعتراض کرنے لگے تو اس کو جھڑک دیتے ہیں ، اور طرفہ یہ کہ عُمر جوان اور شراب پینے کی عادت اور پھر مجرد اور ایک خوب صورت کسبی عورت سامنے پڑی ہے جسم کے ساتھ جسم لگا رہی ہے ۔ کیا یہ نیک آدمیوں کا کام ہے اور اس پر کیا دلیل کہ کسبی کے چھونے سے یسوع کی شہوت نے جنبش نہیں کی تھی ۔ افسوس کہ یسوع کو یہ بھی میسر نہیں تھا کہ اس فاسقہ پر نظر ڈالنے کے بعد اپنی کسی بیوی سے صحبت کر لیتا ۔ کم بخت زانیہ کے چھونے سے اور ناز و ادا کرنے سے کیا کچھ نفسانی جذبات پیدا ہوئے
ہوں گے اور شہوت کے جوش نے پورے طور پر کام کیا ہو گا۔ اسی وجہ سے یسوع کے منہ سے یہ بھی نہ نکلا کہ اے حرام کار عورت مجھ سے دُور رہ ۔ اور یہ بات انجیل سے ثابت ہوتی ہے کہ وہ عورت طوائف میں سے تھی اور زنا کاری میں سارے شہر میں مشہور تھی :
(نورالقرآن نمبر ۲ ص ۲۵)
- ۹۔ " مسیح کا چال چلن کیا تھا ۔ ایک کھاؤ، پیو، شرابی، نہ زاہد، نہ عابد نہ حق کا
پرستار، متکبر، خود بین خدائی کا دعویٰ کرنے والا "
(مکتوبات احمدیہ جلد نمبر ۳ ص ۲۳ تا ۲۴
مثلاً نورالقرآن حصہ دوم ص۱)
- ۱۰۔ " ہاں آپ (یسوع مسیح) کو گالیاں دینے اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی :
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵ حاشیہ)
- ۱۱۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ (یسوع مسیح) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵ حاشیہ)
- ۱۲۔ وہ (مسیح ابن مریم) ہر طرح سے عاجز ہی عاجز تھا۔ مخرج معلوم کی راہ
سے جو پلیدی اور ناپاکی کا مبرز ہے تولد پا کر مدت تک بھوک اور پیاس اور درد اور بیماری کا دکھ اٹھاتا رہا ۔
(براہینِ احمدیہ ص ۳۶۹)
حصہ چہارم
- ۱۳۔ اور (اسلام) نہ عیسائی مذہب کی طرح یہ سکھلاتا ہے کہ خدا نے انسان کی طرح ایک
عورت کے پیٹ سے جنم لیا اور نہ صرف نو ماہ تک خون حیض کھا کر ایک گنہگار
نوٹ : خط کشیدہ الفاظ مرزا صاحب نے جلی قلم سے لکھے ہیں ۔ (از مرتب)
جسم سے جو بت سوع اور تامار اور راحب جیسی حرام کار عورتوں کے خمیر سے اپنی فطرت میں امیت کا حصہ رکھتا تھا خون اور ہڈی اور گوشت کو حاصل کیا بلکہ بچپن کے زمانہ میں جو بیماریوں کی صعوبتیں ہیں جیسے خسرہ، چیچک دانتوں کی تکالیف وہ سب اٹھائیں اور بہت سا حصہ عمر کا معمولی انسانوں کی طرح کھو کر آخر موت کے قریب پہنچ کر خدائی یاد آ گئی ۔
(ست بچن ص۱۷۲)
- ۱۳ ۔ مریم کا بیٹا کسلیا کے بیٹے (رام چندر ۔ ناقل) سے کچھ زیادت نہیں رکھتا ۔
(انجام آتھم ص ۵۱)
- ۱۴ ۔ مردمی اور رجولیت انسان کی صفات محمودہ میں سے ہیں ۔ ہیجڑا ہونا کوئی اچھی
صفت نہیں جیسے بہرہ اور گونگا ہونا کسی خوبی میں داخل نہیں۔ ہاں یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفات کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے بچے اور کامل حُسنِ معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے ۔
(نور القرآن حصہ دوم ص ۱۱)
ابن مریم دجال اور یاجوج ماجوج
- ۱۵ ۔ " ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت
کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع کے گڑھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج و ماجوج کی عمیق
تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابتہ الارض کی ماہیت کما حقہ ظاہر فرمائی گئی :
(ازالہ اوہام ص ۲۸۲)
- ۱۶۔ اما الدجال فاسمعوا ابین
لکم حقیقتہ من صفاء الہامی ٭ ....
اب دجال کے متعلق سنو میں اپنے صفائے الہام سے حقیقت حال تمہارے سامنے واضح کرتا ہوں ٭
ایھا الاعزۃ ! قد کشف ان وحدۃ الدجال لیست وحدۃ شخصیۃ بل وحدۃ نوعیۃ بمعنی اتحاد الآراء فی نوع الدجالیۃ کما یدل علیہ لفظ الدجال و ان فی ھذا لاسم آیات للمتفکرین ۔ فالمراد
معززین کرام ! دجال میں جو وحدت ہے وہ وحدت شخصیہ نہیں بلکہ وحدت نوعیہ ہے جس کا مطلب نوع دجالیہ میں آراء کا متفق ہو جانا ہے جیسا کہ لفظ دجال اس پر دلالت کرتا ہے اور اس نام میں غور کرنے والوں کیلئے نشانیاں ہیں ۔ پس لفظ دجال سے مراد
٭ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تو حقائق منکشف نہ ہوئے جو سید ولد آدم اور امام الانبیاء و اعلم الناس تھے، جیسا کہ مرزا صاحب کی محولہ بالا ازالہ اوہام ص ۲۸۲ کی عبارت سے معلوم ہوا مگر حضرت مرزا صاحب پر یہ حقائق بذریعہ الہام منکشف ہوگئے ۔ سبحان اللہ
شان ہے تیری کبریائی کی
(از مرتب و مترجم)
من همم دجالية لبعضها ظهير ہیں جن میں سے بعض ، بعض کی مددگار
للبعض" ہیں" (ترجمہ از مرتب)
(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۵۴ ، ۵۵۵)
- ۱۸ - اور ہم پہلے بھی تحریر کر آئے ہیں کہ عیسائی واعظوں کا گروہ بلاشبہ دجال
معہود ہے ۔
(ازالہ اوہام ص ۲۹۴)
- ۱۹ - " از آں جملہ ایک بڑی بھاری علامت دجال کی اس کا گدھا ہے جس کے بین
الاذنین کا اندازہ ستر باع کیا گیا ہے اور ریل کی گاڑیوں کا اکثر اسی کے موافق سلسلہ طولانی ہوتا ہے اور اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ وہ دخان کے زور سے چلتی ہیں، جیسے بادل ہوا کے زور سے تیز حرکت کرتا ہے ۔ پس جبکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھلے کھلے طور پر ریل گاڑی کی طرف اشارہ فرمایا ہے چونکہ یہ عیسائی قوم کا ایجاد ہے جن کا امام و مقتدا وہی دجالی گروہ ہے اس لیے ان گاڑیوں کو دجال کا گدھا قرار دیا گیا ۔"
(ازالہ اوہام ص ۲۹۴)
- ۲۰ - و اخرجنا لهم دابة من الارض . . .
" تو ہم ایک گروہ دابۃ الارض کا زمین سے نکالیں گے، وہ گروہ متکلمین کا ہو گا جو اسلام کی حمایت میں تمام ادیان باطلہ پر حملہ کرے گا، یعنی وہ علماء ظاہر ہوں گے جن کو علم کلام اور فلسفے میں یدطولیٰ ہو گا ۔"
(ازالہ اوہام ص ۵۲۰)
- ۲۱ - گیارویں علامت دابۃ الارض کا ظہور میں آنا، یعنی ایسے واعظوں کا بکثرت ہو جانا جن میں
آسمانی نور کا ایک ذرہ بھی نہیں، اور صرف وہ زمین کے کیڑے ہیں ۔
(شہادۃ القرآن ص ۲۵)
- ۲۲ ۔ ان المراد من دابة الارض علماء السوء ۔
دابۃ الارض سے مراد علمائے سوء ہیں ۔ آئینہ البشریٰ ص۱۰
- ۲۳۔ تب میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہی طاعون ہے اور یہی وہ دابۃ الارض ہے
جس کی نسبت قرآن شریف میں وعدہ تھا ۔
(نزولِ مسیح ص ۱۳۹، ۱۴۰ ربوہ)
- ۲۴ ”اللہ جل شانہ نے اوّل، آخری زمانہ کی علامت یا جوج ماجوج کا غلبہ یعنی
روس اور انگریزوں کا تسلط بیان فرمایا“ ۔ شہادت القرآن ص۲۵
- ۲۵ ۔ اور یاجوج ماجوج کی نسبت تو فیصلہ ہو چکا ہے کہ یہ دنیا کی دو بلند اقبال قومیں
ہیں جن میں سے ایک انگریز اور دوسرے روس ہیں۔ یہ دونو قومیں بلندی سے نیچے کی طرف حملہ کر رہی ہیں یعنی اپنی خدا داد طاقتوں سے فتح یاب ہوتی جاتی ہیں۔
(ازالہ اوہام ص۵۰۹)
ع۱ ان حوالہ جات میں مرزا صاحب نے دابۃ الارض سے علماء اسلام مراد لیے ہیں ۔ (مرتب)
٭ مرزا صاحب نے اوپر لکھا کہ دابۃ الارض سے مراد علماء اسلام ہیں مگر یہاں لکھتے ہیں کہ اس سے مراد ”طاعون“ ہے ۔ سچ ہے دروغ گو را حافظہ نہ باشد ۔ بایں ہمہ مرزا صاحب دعوے دار بھی ہیں کہ یہ حقائق بذریعہ ”الہام“ مجھ پر منکشف کیے گئے اور میرے سوا ”کسی“ پر حتیٰ کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی منکشف نہ ہوئے جیسا کہ ابھی آپ نے ملاحظہ فرمایا ۔ (مرتب)
اپنے مولد قادیان کے متعلق مرزا صاحب کے عقائد !
- ۱ ۔ ؎ زمین قادیاں اب محترم ہے
( درثمین ص ۵۲ )
- ۲ ۔ تین شہروں کا نام " اعزاز " کے ساتھ " قرآن شریف " میں درج کیا گیا ہے ،
" مکہ " اور " مدینہ " اور " قادیان " ۔
( ازالہ اوہام ص ۱۴۰ )
- ۳ ۔ " قادیان تمام بستیوں کی ام ( ماں ) ہے پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے
گا وہ کاٹا جاوے گا ۔ تم ڈرو کہ تم میں سے کوئی نہ کاٹا جاوے ۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا ۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں :
( حقیقتہ الرؤیا ص ۴۵ بحوالہ مجدد پاکٹ بک ص ۳۹۱ )
- ۴ ۔ یہ مقام قادیان وہ مقام ہے جس کو خدا تعالےٰ نے تمام دنیا کے لیے " ناف "
کے طور پر بنایا ہے اور اس کو تمام جہان کے لیے " ام " قرار دیا ہے اور ہر ایک متنفس دنیا کو اسی مقدس مقام سے حاصل ہو سکتا ہے اس لیے یہ مقام " خاص " اہمیت رکھنے والا مقام ہے ۔
( خطبہ میاں محمود احمد مندرجہ الفضل ۳۰ جنوری ۱۹۲۵ء )
- ۵ ۔ " ہم مدینہ کی عزت کر کے خانہ کعبہ کی ہتک کرنے والے نہیں ہو جاتے ۔ اسی طرح
" قادیان کی عزت کر کے مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ کی توہین کرنے والے نہیں ہو سکتے ۔ خدا تعالےٰ نے ان تینوں مقامات کو مقدس کیا ۔ اور تینوں مقامات کو اپنی
تجلیات کے اظہار کے لیے چن لیا “
(تقریر میاں محمود احمد، الفضل ۳ ستمبر ۱۹۳۵ء)
- ۶۔ قادیان کیا ہے‘ خدا کے جلال اور اس کی قدرت کا چمکتا ہوا نشان ہے اور
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودہ کے مطابق خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے . . . . قادیان خدا کے مسیح کا مولد ومسکن اور مدفن ہے۔ اس بستی میں وہ مکان ہے جس میں دنیا کا نجات دہندہ دجال کا قاتل‘ صلیب کو پاش پاش کرنے والا اور اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرنے والا پیدا ہوا۔ اس میں اس نے نشو و نما پائی اور اسی جگہ اس کی زندگی گزری ۔
(الفضل ۱۳ دسمبر ۱۹۲۹ء)
- ۷۔ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ”مجھے“ بتا دیا ہے کہ ”قادیان“ کی
زمین ”بابرکت“ ہے۔ یہاں ”مکہ مکرمہ“ اور ”مدینہ منورہ“ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔
(ارشاد میاں محمود احمد۔ الفضل ۱۱ دسمبر ۱۹۳۲ء)
- ۸۔ ”خدا تعالیٰ نے قادیان کو مرکز بنایا ہے ۔ اس لیے خدا تعالیٰ کے جو برکات
اور فیوض یہاں نازل ہوتے ہیں اور کسی جگہ نہیں . . . حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جو لوگ قادیان نہیں آتے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہی رہتا ہے“
(انوار خلافت ص ۱۱۷)
(بحوالہ قادیانی مذہب)
- ۹۔ ؎ عرب نازاں ہے گر ارض حرم پر
(الفضل ۲۵ دسمبر ۱۹۳۲ء)
مسجد اقصیٰ
- ١۔ والمسجد الاقصیٰ، المسجد الذی بناہ المسیح الموعود
فی القادیان ۔
(خطبہ الہامیہ مترجم ص۲۷ حاشیہ)
- ٢۔ ”معراج میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر فرما
ہوئے تو وہ مسجد اقصیٰ یہی ہے جو قادیان میں بجانب مشرق واقع ہے جس کا نام خدا کے کلام نے مبارک رکھا ہے ۔“
(خطبہ الہامیہ ص۲۲)
- ٣۔ ”کیونکہ یہ وہ مسجد ہے جس کی نسبت اس عاجز کو الہام ہوا تھا :
و من دخلہ کان امنا “
(تبلیغ رسالت جلد ششم ص۱۵۲، ۱۵۳)
- ٭ اور مسجد اقصیٰ وہ مسجد ہے جسے مسیح موعود نے قادیان میں بنایا ۔
(مرتب)
حج
مرزائیوں کا حج کے بارے میں عقیدہ !
- ۱- ”ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے ۔ حج خدا تعالیٰ نے مومنوں کی ترقی کے لیے
مقرر کیا تھا۔ آج احمدیوں کے لیے دینی لحاظ سے تو حج مفید ہے مگر اس سے جو اصل غرض قوم کی ترقی تھی وہ انہیں حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ حج کا مقام ایسے لوگوں کے قبضہ میں ہے جو احمدیوں کو قتل کر دینا بھی جائز سمجھتے ہیں ۔ اب خدا تعالیٰ نے ”قادیان“ کو اس کام کے لیے مقرر کیا ہے ۔ ص۷ جیسا کہ حج میں رفث، فسوق اور جدال منع ہے ایسا ہی اس جلسہ میں بھی منع ہے ۔ ص۷
خطبہ جمعہ از میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ برکات خلافت ص۲۷ مجموعہ تقاریر میاں صاحب جلسہ سالانہ ۱۹۱۴ء
- ۲- ”جیسے احمدیت کے بغیر پہلا یعنی حضرت مرزا صاحب کو چھوڑ کر جو اسلام باقی رہ جاتا
ہے وہ خشک اسلام ہے ۔ اس طرح اس ظلی حج کو چھوڑ کر مکہ والا حج بھی خشک رہ جاتا ہے کیونکہ وہاں آجکل حج کے مقاصد پورے نہیں ہوتے ۔“
ص۱۰۰
- ۳۔ وہ لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں، مگر اس جگہ قادیان میں
ثواب زیادہ ہے “
(آئینہ کمالات اسلام ص ۳۵۲)
قادیانی اور انگریزی حکومت
حکومت برطانیہ کی تائید اور حمایت :
( پچاس الماریاں )
” میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید و حمایت میں گزرا ہے اور میں نے مخالفت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی تمام کتابوں کو عرب ممالک اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش یہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرنے والے ہیں، ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں “
( تریاق القلوب ص ۵۲ )
( پچاس ہزار کتابیں اور رسالے )
- ۲۔ مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی ، وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار
کے قریب کتابیں اور رسالے اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلام میں اس مضمون کے شائع کیے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئیے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں، یعنی اردو، فارسی، عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں اور یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکے اور مدینہ میں بھی بخوبی شائع کردیں اور روم کے پایۂ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا اشاعت کردی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلیظ خیالات چھوڑ دیئے جو نافہم مُلّاؤں کی تعلیم سے انکے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکتا۔"
(ستارہ قیصریہ ص۳، مرزا صاحب کی ملکہ وکٹوریہ کو چٹھی)
:پچاس گھوڑے پچاس سوار
- ۱۔ "والد مرحوم اس ملک کے معزز زمینداروں میں سے شمار کیے گئے تھے۔ گورنری
دربار میں ان کو کرسی ملتی تھی اور گورنمنٹ برطانیہ کے وہ سچے شکر گزار اور خیر خواہ تھے۔ ۱۸۵۷ء کے غدر (استعمار کے خلاف مشہور جنگ آزادی)، کے ایام میں پچاس گھوڑے انہوں نے اپنے پاس سے خرید کر اور اچھے اچھے جوان مہیا کر کے پچاس سوار بطور مدد کے سرکار کو دیئے۔"
سے وہ اس گورنمنٹ میں بہت ہر دلعزیز تھے۔ بحوالہ ازالہ اوہام برحاشیہ ص ۵۵
(ساٹھ برس کی عمر تک اہم کام)
- ۴۔ میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو تقریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں ،
اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں تاکہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں جو انکو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔
(تبلیغ رسالت جلد ۷ ، ص ۱۶)
(قدیم خدمت گزار)
- ۴۔ "اور گورنمنٹ پر پوشیدہ نہیں کہ ہم قدیم سے اس کی خدمت کرنے والے اور
اس کے ناصح اور خیر خواہوں میں سے ہیں اور ہر ایک وقت پر دلی عزم سے ہم حاضر ہوتے رہے ہیں اور میرا باپ گورنمنٹ کے نزدیک صاحب مرتبہ اور قابل تحسین تھا اور اس سرکار میں ہماری خدمات نمایاں ہیں اور میں گمان نہیں کرتا کہ یہ گورنمنٹ کبھی ان خدمات کو بھلا دے گی اور میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ ابن مرزا عطا محمد رئیس قادیان اس گورنمنٹ کے خیر خواہوں اور مخلصوں میں سے تھا اور اس کے نزدیک صاحب مرتبہ تھا اور صدر نشیں مجالس عزت سمجھا گیا تھا اور یہ گورنمنٹ خوب اس کو پہچانتی تھی اور ہم پر کبھی کوئی بدگمانی نہیں ہوئی بلکہ ہمارا اخلاص تمام لوگوں کی نظروں میں ثابت ہو گیا اور حکام پر کھل گیا اور سرکار انگریزی اپنے ان حکام سے دریافت کر لیوے جو
ہماری طرف آئے اور ہم میں رہے اور ہم نے ان کی آنکھوں کے سامنے کیسی زندگی بسر کی اور کس طرح ہم " ہر ایک خدمت میں سبقت کرنے والوں کے گروہ میں رہے "
( نور الحق حصہ اول ۲۷ ، ۲۸ )
انگریزی حکومت کا قلعہ اور تعویذ
- ۵ ۔ اور میرا عربی کتابوں کا تالیف کرنا تو انہیں عظیم الشان غرضوں کے لئے تھا اور میری
کتابیں عرب کے لوگوں کو برابر پے در پے پہنچتی رہیں، یہاں تک کہ میں نے ان میں تاثیر کے نشان پائے اور بعض عرب میرے پاس آئے، اور بعضوں نے خط و کتابت کی اور بعضوں نے بدگوئی کی اور بعض صلاحیت پر آ گئے اور موافق ہو گئے ، جیسا کہ حق کے طالبوں کا کام ہے اور میں نے ان ایجادوں میں ایک زمانہ طویل صرف کیا ہے ، یہاں تک کہ گیارہ برس انہیں اشاعتوں میں گذر گئے اور میں نے کچھ کوتاہی نہیں کی ، پس میں یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ میں ان خدمات میں یکتا ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں ان تالیفات میں یگانہ ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس گورنمنٹ کے لئے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک پناہ کے ہوں ، جو آفتوں سے بچاوے اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ خدا ایسا نہیں کہ ان کو دُکھ پہنچاوے اور تو ان میں ہو ، پس اس گورنمنٹ کی خیر خواہی اور مدد میں کوئی دوسرا شخص میری نظیر اور مثیل نہیں اور عنقریب یہ گورنمنٹ جان لے گی ، اگر مردم شناسی کا اس میں مادہ ہے ۔
( نور الحق حصہ اول ص ۳۳ ، ۳۴ )
"میری اور میری جماعت کی جائے پناہ"
- ۶۔ "خدا تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے میری اور میری جماعت کی پناہ اس
سلطنت کو بنا دیا ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے نہ یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے نہ مدینہ میں :
(تریاق القلوب ص ۳۳۲ قادیان)
"انگریزوں کا خود کاشتہ پودا"
- ۷۔ "یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس
کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جاں نثار، خاندان ثابت کر چکی اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ (برطانیہ) کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں :"
"اس خود کاشتہ پودہ" کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔
(تبلیغ رسالت جلد ۷ ص ۱۹)
"میرا مذہب اور اصول"
- ۸۔ "اب اس تمام تقریر سے جس کے ساتھ میں نے اپنی سترہ سالہ مسلسل تقریروں
سے ثبوت پیش کیے ہیں صاف ظاہر ہے کہ میں سرکار انگریزی کا با دل و جان خیر خواہ ہوں اور میں ایک شخص امن دوست ہوں اور اطاعت گورنمنٹ اور ہمدردی بندگانِ خدا کی میرا اصول ہے اور یہ وہی اصول ہے جو میرے مریدوں کی شرائطِ بیعت میں داخل ہے ۔"
(کتاب البریہ ص ۸ اشتہار واجب الاظہار)
- ۹ ۔ "سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو
حصے ہیں ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو، جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو، سو وہ سلطنت، حکومتِ برطانیہ ہے ۔"
(شہادت القرآن ص ۳)
" قادیانی اور جہاد "
- ۱ ۔ یہ دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے حضرت
موسیٰ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا ۔ ۔ ۔ اور مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا ۔"
(اربعین نمبر ۴ ص ۱۵ حاشیہ)
- ۲ ۔ آج سے ایسا جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا، خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا ۔ اب
اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا ہے اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے جس نے آج سے تیرہ سو برس
پہلے فرما دیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا ہے ۔
( خطبہ الہامیہ مترجم ص ۱۶ و تبلیغ رسالت ج ۹ ص ۴۲ )
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے ! دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نورِ خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
( ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ۲۶ )
- ۴ ۔ گورنمنٹ کا یہ اپنا فرض ہے کہ وہ اس فرقہ احمدیہ کی نسبت جو میرے زمین کے
اندرونی حالات دریافت کرے .... ہمارے امام (مرزا صاحب) نے ایک بڑا حصہ عمر کا جو بائیس برس ہیں، اس تعلیم میں گزارا ہے کہ جہاد حرام اور قطعاً حرام ہے۔ یہاں تک کہ بہت سی عربی کتابیں بھی مضمون ممانعت جہاد لکھ کر ان کو بلادِ اسلام، عرب، شام ، کابل وغیرہ میں تقسیم کیا ۔
( رسالہ ریویو آف ریلیجنز مولوی محمد علی قادیانی بابت ۱۹۰۲ء جلد ۱ ، ۲ )
- ۵ ۔ " یہ وہ فرقہ ہے جو فرقہ احمدیہ کے نام سے مشہور ہے .... یہی وہ فرقہ ہے
جو دن رات کوشش کر رہا ہے کہ مسلمانوں کے خیالات میں سے جہاد کی " بیہودہ رسم " کو مٹا دے ۔
( بیان مرزا مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ۱۹۰۲ء جلد ۱ ، ۱۲ )
یاد رہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور
پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے، ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں، اور نہ اس کی انتظار ہے، بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا اور ”قطعاً“ اس بات کو حرام جانتا ہے“
(اشتہار واجب الاظہار تریاق القلوب ص ۳۳۲)
مرزا صاحب پر ایمان نہ لانیوالے
کافر اور جہنمی
- ۱۔ تب انہیں دنوں میں آسمان سے ایک فرقہ کی بنیاد ڈالی جائے گی اور خدا اپنے منہ
سے اس فرقہ کی حمایت کے لئے ایک کرناء بجائے گا اور اس کرناء کی آواز سے ہر ایک سعید اس فرقہ کی طرف کھنچا آئے گا، بجز ان لوگوں کے جو شقی ازلی ہیں، جو دوزخ کے بھرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۸۲ ، ۸۳)
- ۲۔ ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہو گا اور تیرا
مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے“
(تذکرہ ص ۳۴۲ ، ۳۴۳)
- ۳۔ ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں
نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں“
(آئینہ صداقت از مرزا محمود ص ۳۵)
غیر قادیانیوں سے نکاح کفر ہے
- ۱۔ "جو شخص اپنی لڑکی کا رشتہ غیر احمدی لڑکے کو دیتا ہے، میرے نزدیک
وہ احمدی نہیں ...... ایسی شادی میں شریک ہونا بھی جائز نہیں"
(ڈائری میاں محمود احمد مندرجہ الفضل قادیان ۲۳ مئی ۱۹۲۱ء)
- ۲۔ غیر احمدی کی لڑکی لینے میں حرج نہیں ہے، کیونکہ اہل کتاب عورتوں سے
بھی نکاح جائز ہے ..... اپنی لڑکی غیر احمدی کو نہ دینی چاہیے، اگر ملے تو لے بے شک لو، لینے میں حرج نہیں اور دینے میں گناہ ہے :
(الفضل ۱۶ دسمبر ۱۹۲۰ء)
- ۳۔ "عیسائیوں کی عورتوں سے اور ان لوگوں کی عورتوں سے جو وید پر
ایمان رکھتے ہیں، نکاح جائز ہے"۔
(الفضل ۸ فروری ۱۹۳۰ء)
- ۴۔ "ہندو اہلِ کتاب ہیں اور سکھ بھی"
(الفضل ۱۷ جولائی ۶۱۹۲۲)
- ۵۔ خارج از احمدیت ہونے سے میری مراد ایسے امورات ہیں جن کی وجہ
سے کفر کا فتویٰ لگ سکتا .... چنانچہ غیر احمدی کو لڑکی کا رشتہ دینا بھی اسی قسم میں سے ہے :
(الفضل ۴ مئی ۱۹۲۲ء)
- ۶۔ "پانچویں بات جو اس زمانہ میں ہماری جماعت کے لیے نہایت ضروری
ہے، وہ غیر احمدی کو رشتہ نہ دینا ہے۔ جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے وہ یقیناً حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے۔ کیا کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بیدین ہے جو کسی ہندو یا کسی عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو مگر اس معاملہ میں وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دے دیتے ہو : "
(ملائکۃ اللہ ص۴۶)
" غیر احمدیوں کے پیچھے نماز قطعاً حرام ہے ! "
- ۱۔ "میرا وہی مذہب ہے جو میں ہمیشہ سے ظاہر کرتا ہوں کہ کسی غیر مبائع شخص کے پیچھے
خواہ وہ کیسا ہی ہو اور لوگ اس کی کیسی ہی تعریف کرتے ہوں نماز نہ پڑھو۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور اللہ تعالیٰ ایسا ہی چاہتا ہے۔ اگر کوئی شخص متردد یا مذبذب ہے تو وہ بھی مکذب ہی ہے، خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ اس طرح احمدی اور اس کے غیر میں تمحیص و تمیز کر دے : "
(الفضل ۲۸ اگست ۱۹۱۷ء)
- ۲۔ خدا تعالیٰ نے مجھے اطلاع دی ہے کہ تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام
ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہیے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ امامکم منکم یعنی جب مسیح نازل ہو گا تو تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم
میں سے ہوگا۔ پس تم ایسا ہی کرو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہو جائیں اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو۔
(حاشیہ اربعین نمبر ۳، ص ۳۴)
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۲ حاشیہ)
- ۳۔ 'کسی احمدی کو غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔ باہر سے لوگ اس
کے متعلق بار بار پوچھتے ہیں۔ میں کہتا ہوں تم جتنی دفعہ بھی پوچھو گے اتنی دفعہ میں یہی جواب دوں گا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں، جائز نہیں ، جائز نہیں۔"
(انوار خلافت میاں محمود احمد ص ۸۹)
مصلحتاً کسی غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھ لینے کا حکم :
" ۱۹۱۲ء میں میں سید عبدالحئی صاحب عرب مصر سے ہوتے ہوئے حج کو گیا ۔ قادیان سے میرے نانا صاحب میر ناصر نواب صاحب بھی براہ راست حج کو گئے جدہ میں ہم مل گئے ، اور مکہ مکرمہ اکٹھے گئے، پہلے ہی دن طواف کے وقت مغرب کی نماز کا وقت آگیا ۔ میں ہٹنے لگا مگر راستے رک گئے تھے ، نماز شروع ہو گئی تھی نانا صاحب جناب میر صاحب نے فرمایا حضرت خلیفۃ المسیح کا حکم ہے کہ مکہ میں ان کے پیچھے نماز پڑھ لینی چاہیے۔ اس پر میں نے نماز شروع کر دی، پھر اسی جگہ ہمیں عشا کا وقت آگیا، وہ نماز بھی ادا کی۔ گھر جا کر میں نے عبدالحئی صاحب عرب سے کہا کہ وہ نماز تو حضرت خلیفۃ المسیح کے حکم کی تھی اب آؤ خدا تعالیٰ کی نماز پڑھ لیں جو غیر احمدیوں کے پیچھے نہیں ہوتی ۔ اور ہم نے وہ دونوں نمازیں دہرائیں .... اور باوجود لوگوں کے روکنے کے برابر الگ نماز ادا کرتا رہا اور بیس دن کے قریب جو ہم وہاں رہے یا گھر پر نماز پڑھتے
رہے یا مسجد کعبہ میں الگ اپنی جماعت کرا کے .... پیچھے رہے ہوئے لوگوں کے ساتھ مل جانے سے بعض دفعہ اچھی خاصی جماعت ہو جاتی تھی ... (ہمارے قادیان واپس آنے پر) ایک صاحب حکیم محمد عمر نے یہ ذکر حضرت خلیفۃ المسیح کے پاس شروع کر دیا ۔ آپ نے فرمایا ”ہم نے ایسا کوئی فتویٰ نہیں دیا۔ ہماری یہ اجازت تو ان لوگوں کے لیے ہے جو ڈرتے ہیں اور جن کے ابتلا کا ڈر ہے وہ ایسا کر سکتے ہیں کہ اگر کسی جگہ گھر گئے ہوں تو غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھ لیں اور پھر آکر دہرا لیں ۔
(آئینہ صداقت ص۹۱‘ ۹۲)
مسلمانوں حتیٰ کہ ان کے بچوں کی بھی نماز جنازہ ناجائز
- ۔۔ اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مرجائے تو اس کا جنازہ کیونکر نہ پڑھا جائے وہ
تو مسیح موعود کا منکر نہیں؟ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندو اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا، کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذہب ہوتا ہے شریعت وہی مذہب ان کے بچہ کا قرار دیتی ہے۔ پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہی ہوا اس لیے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔
(انوار خلافت ص۹۳ میاں محمود)
- ۲۔ اگر یہ کہا جائے کہ کسی ایسی جگہ جہاں تک تبلیغ نہیں پہنچی کوئی مرا ہوا ہو اور اس
کے مر چکنے کے بعد وہاں کوئی احمدی پہنچے تو وہ جنازہ کے متعلق کیا کرے۔ اس کے متعلق یہ ہے کہ ہم تو ظاہر پر ہی نظر رکھتے ہیں چونکہ وہ ایسی حالت میں مرا ہے کہ خدا تعالیٰ کے رسول اور نبی کی پہچان اسے نصیب نہیں ہوئی، اس لیے
ہم اس کا جنازہ نہیں پڑھیں گے:
(ارشاد مرزا محمود احمد مندرجہ الفضل ۲۱ مئی ۱۹۱۵ء)
- ۳۔ "حضرت مرزا صاحب نے اپنے بیٹے فضل احمد صاحب مرحوم کا جنازہ محض
اس لیے نہیں پڑھا کہ وہ غیر احمدی تھا"۔
(اخبار الفضل ۱۵ دسمبر ۱۹۲۱ء) و (پیغام صلح ، جولائی ۱۹۲۴ء ص ۳۴
- ۴۔ غیر احمدی سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا، ان
کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی دوسرے دنیوی، دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے، سو یہ دونوں ہمارے لیے حرام قرار دیئے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے اور اگر یہ کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام کیوں کہا جاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریم نے یہود تک کو سلام کا جواب دیا ہے۔
کلمتہ الفصل مرزا بشیر احمد قادیانی، مندرجہ ریویو آف ریلیجنز
ص ۱۶۹ نمبر ۳ جلد نمبر ۱۴)
- ٭ مرزا فضل احمد صاحب حضرت مرزا صاحب کی پہلی بیوی سے تھے جو پھجے دی ماں کہلاتی تھی اور
بقول مرزا صاحب یہ نہایت فرمانبردار اور بڑی خدمت گزار عورت تھی مگر پھر بھی مرزا صاحب نے محض مسلمان ہونیکے جرم میں اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی۔ اسی طرح بانی پاکستان مسٹر محمد علی جناح جب فوت ہوئے تو سر ظفر اللہ خاں قادیانی نے انکی نماز جنازہ نہ پڑھی۔ باوجودیکہ وہ اسوقت حکومت پاکستان کے وزیر خارجہ تھے جب ان سے اسکے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے ایک مسلمان کا کافر وزیر یا ایک کافر حکومت کا مسلمان ملازم تصور کر لیں۔
مرزائیوں سے ایک سوال
مرزا صاحب وفاتِ مسیح پر اپنی تالیفات کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
تلك كتب ينظر اليها كل یہ ایسی کتابیں ہیں جنہیں ہر مسلمان پیار و مسلم بعين المحبة والمودة محبت کی نظر سے دیکھتا، ان کے و ينتفع من معارفها و معارف سے مستفیض ہوتا، مجھے قبول کرتا يقبلني ويصدق دعوتي اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے مگر الا ذرية البغايا الذين ختم کنجریوں کی اولاد، جن کے دلوں پر اللہ الله على قلوبهم فهم لا نے مہر لگا دی ہے ۔ وہ قبول نہیں يقبلون - کرتے :
(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۴۷‘ ۵۴۸)
گویا مرزا صاحب پر ایمان نہ لانے والے سب کنجریوں کی اولاد ہیں۔ مرزا صاحب کا بڑا لڑکا فضل احمد آپ پر ایمان نہیں لایا تھا اور مرزا صاحب کی زندگی میں ہی مر گیا۔ مرزا صاحب نے اس کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی، جیسا کہ ابھی آپ نے ملاحظہ فرمایا ۔
مرزائی دوستو ! اپنے نبی مرزا غلام احمد قادیانی کے فتوے کی روشنی میں ذرا سوچ کر بتاؤ کہ فضل احمد کون تھا ؟ اس کی ماں کیسی تھی اور جس حضرت کے گھر میں ایسی پاکیزہ عورت تھی وہ حضرت کیا ہوئے ؟ ماشاء اللہ کیسا مطہر خاندان ہے۔ مرزا صاحب نے تمام دنیا کے مسلمانوں کو غلیظ ترین گالیاں دیں مگر خدائے عظیم و برتر کی قدرت سے وہ تمام گالیاں خود مرزا صاحب اور ان کے خاندان کی طرف لوٹ آئیں ۔ سچ ہے .... ”آسمان کا تھوکا منہ پر“
خاتمہ
دین سے بغاوت ، ملت محمدیہ کے خلاف خروج ، کھلم کھلا ارتداد یہ افکار و آراء اور صریح کافرانہ عقائد جو ہم نے اُمت محمدیہ علی صاحبہا الف الف تحیۃ وسلام کے سامنے پیش کیے ، یہ اپنے ابطال پر خود شاہد ہیں۔ انہیں جھوٹا ثابت کرنے کے لیے کسی مستقل رد یا کسی دلیل و برہان کی ضرورت نہیں ۔ ایسی چیزیں جو تنقید و تردید کے لیے کسی عالم مخلص یا مومن صادق کے ہاں محتاج دلیل نہیں ، اتنی واضح ہیں کہ ان میں کسی بھی تاویل کا کوئی امکان نہیں ۔ اس نے اپنے اُن عقائد کی اس قدر وضاحت کی ہے کہ اس نے اپنے کفر و ارتداد میں کسی شک وشبہ اور تاویل کی گنجائش نہیں چھوڑی ، چونکہ اس کے تمام عقائد کا جمع اور اکٹھا کرنا مقصود نہ تھا اس لیے یہ چند حوالے ، مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر پیش کیے گئے ہیں ، ورنہ اس کی کتابیں تو ایسے زہریلے مواد سے بھری پڑی ہیں ، جنہیں دیکھنے سے عقل کے طوطے اڑ جاتے ہیں۔ یہ مشت بھر اسے کافر قرار دینے کے لیے کافی ہے۔
تمام کفریات دیگر اور دعاوی از قسم ، اوّل دعویٰ مہدویت و مثیل مسیح اور پھر مسیح موعود، دعویٰ وفات مسیح اور ان کے قرب قیامت نزول کا انکار، ان کی شان میں گستاخیاں اور ایسی فحش اور غلیظ گالیاں جنہیں سُن کر کلیجہ فگار اور جگر صد چاک ہوتا ہے۔ انہیں یوسف نجار کا بیٹا کہنا ، قرآن مجید پر بہتان باندھنا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس معنی میں
خاتم النبیین ہونے کا انکار کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا ، امام الانبیاء سے اپنے معجزات کے زیادہ ہونے اور تمام انبیاء سے افضل ہونے کا دعویٰ اعلان منسوخیٔ حج اور جہاد اور یہ کہ انگریزی حکومت زمین پر خدا کا سایہ ہے اور اسکا اپنا کھلا اقرار کہ قادیانیت ”انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے ۔ تمام مسلمانوں کو گالیاں کہ جو مجھ پر ایمان نہیں لاتے وہ کنجریوں کی اولاد ہیں اور اسی طرح کے جہل و الحاد و کفر و ضلال جو سابقہ صفحات میں بیان ہوئے اگر تمام کے تمام جمع کیے جائیں تو پھر آپ کا اسکے کفر کے بارے میں کیا خیال ہے ! کیا اس کافر و ملحد نے کفر و ضلال اور کھلم کھلا گمراہی کی کوئی بھی ایسی بات چھوڑی ہے جو اس نے اپنے دعاوی میں ذکر نہ کی ہو۔
بلاشبہ یہ برطانوی سیاست کا تخم ریزہ تھا جس نے ملت اسلامیہ کو متزلزل کرنا چاہا ۔ اس نے قرآن مجید کو جھٹلایا ۔ ۔ ۔ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا بنایا ، اجماع امت کو پارہ پارہ کیا اور کفر و الحاد میں اپنے اگلے پچھلے سب فتنہ پردازوں کو مات کر گیا ، لیکن صد شکر کہ اپنی امیدوں اور آرزوؤں میں ناکام و نامراد ہی رہا اور علماء امت کی زبان و قلم اور روح و بدن کی کوشش ہائے پیہم سے یہ شجرہ ملعونہ بیخ و بن سمیت اکھاڑ کر پھینک دیا گیا :
يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُوْنَ ~ هذا وصلى الله على خير خلقه سيدنا محمد خاتم النبيين وامام المتقين وسيد الاولين والاخرين وعلى آله الغر الميامين واصحابه العاملين و ايات الدين وعلى تابعيهم باحسان الى يوم الدين ۔ محمد یوسف بنوری
قادیانی
دائرہ اسلام سے خارج ھیں
”مؤتمر عالم اسلام مکہ المکرمہ کی قرارداد
قادیانیت وہ باطل مذہب ہے جو اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے اس کی اسلام دشمنی ان چیزوں سے واضح ہے ۔
- ا ـــــ مرزا غلام احمد کا دعویٰ نبوت ۔
- ب ـــــ قرآنی نصوص میں تحریف کرنا ۔
- ج ـــــ جہاد کے باطل ہونے کا فتویٰ دینا ۔
قادیانیت برطانوی استعمار کی پروردہ ہے اور اس کے زیر سایہ سرگرم عمل ہے ۔ قادیانیوں نے امت مسلمہ کے مفادات سے ہمیشہ غداری کی ہے اور استعمار اور صہیونیت سے مل کر اسلام دشمن طاقتوں سے تعاون کیا ہے اور یہ طاقتیں بنیادی اسلامی عقائد میں تحریف و تغیر اور ان کی بیخ کنی میں مختلف طریقوں سے مصروف عمل ہیں ۔
- ا ـــــ مساجد کی تعمیر جن کی کفالت اسلام دشمن طاقتیں کرتی ہیں ۔
- ب ـــــ اسکولوں ، تعلیمی اداروں اور یتیم خانوں کا کھولنا جن میں قادیانی اسلام دشمن
طاقتوں کے سرمائے سے تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور قادیانی مختلف زبانوں میں قرآن مجید کے تحریف شدہ ترجمے شائع کر رہے ہیں ، ان خطرات کے پیش نظر کانفرنس نے مندرجہ ذیل قرارداد منظور کی ہے :۔
- ۱ ـــــ تمام اسلامی تنظیموں کو چاہیئے کہ وہ قادیانی مساجد ، مدارس ، یتیم خانوں اور دوسرے
تمام مقامات میں جہاں وہ سیاسی سرگرمیوں میں مشغول ہیں ان کا محاسبہ کریں اور ان کے پھیلائے ہوئے جال سے بچنے کے لیئے عالم اسلام کے سامنے ان کو پوری طرح بے نقاب
- ۲——اس گروہ کے کافر اور خارج از اسلام ہونے کا اعلان کیا جائے۔
- ۳——مرزائیوں سے مکمل عدم تعاون اور اقتصادی، معاشرتی اور ثقافتی ہر میدان میں مکمل
بائیکاٹ کیا جائے اور ان کے کفر کے پیش نظر ان سے شادی بیاہ کرنے سے اجتناب کیا جائے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے۔
- ۴——کانفرنس تمام اسلامی ملکوں سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ مدعی نبوت مرزا غلام احمد
قادیانی کے متبعین کی ہر قسم کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے نیز ان کے لیئے اہم سرکاری عہدوں کی ملازمتیں ممنوع قرار دی جائیں۔
- ۵——قرآن مجید میں قادیانیوں کی تحریفات کی تصاویر شائع کی جائیں اور ان کے تراجم
قرآن کا شمار کر کے لوگوں کو اس سے متنبہ کیا جائے اور ان تراجم کی ترویج کا سدّ باب کیا جائے۔
- ۶——قادیانیوں سے دیگر باطل فرقوں جیسا سلوک کیا جائے۔
روزنامہ ”الندوہ“ سعودی عرب ۱۴؍ اپریل سنہ ۱۹۷۴ء
بحوالہ تحفہ قادیانیت
کتابیات
- ۱- آئینہ کمالات اسلام
- ۲- اربعین
- ۳- اسلامی قربانی
- ۴- اعجاز احمدی
- ۵- ازالہ اوہام
- ۶- الفضل ۱۷ جولائی ۱۹۲۲ء
- ۷- " ۴ جنوری ۱۹۲۵ء
- ۸- " ۴ ستمبر ۱۹۳۵ء
- ۹- " ۸ دسمبر ۱۹۳۶ء
- ۱۰- " ۲ دسمبر ۱۹۳۷ء
- ۱۱- " ۸ دسمبر ۱۹۳۲ء
- ۱۲- " ۱۸ فروری ۱۹۳۰ء
- ۱۳- " ۴ مئی ۱۹۲۲ء
- ۱۴- " ۲۵ ستمبر ۱۹۳۲ء
- ۱۵- الفضل ۲۲ مئی ۱۹۳۱ء
- ۱۶- " ۱۴ اپریل ۱۹۳۶ء
- ۱۷- البشریٰ
- ۱۸- انجام آتھم
- ۱۹- آئینہ صداقت
- ۲۰- ایک غلطی کا ازالہ
- ۲۱- الحکم ۱۰ دسمبر ۱۹۰۲ء
- ۲۲- براہین احمدیہ
- ۲۳- برکات خلافت
- ۲۴- بدر ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء
- ۲۵- پیغام صلح ۱۸ اپریل ۱۹۳۳ء
- ۲۶- تریاق القلوب
- ۲۷- تحفۃ الندوہ
- ۲۸- تحفہ گولڑویہ
- ۲۹- تحفہ قیصریہ
- ۳۰- تبلیغ رسالت
- ۳۱- تذکرہ (وحی مقدس)
- ۳۲- تذکرۃ الشہادتین
- ۳۳- چشمہ معرفت
- ۳۴- حقیقۃ الوحی
- ۳۵- حقیقۃ الرؤیا
- ۳۶- حمامۃ البشریٰ
- ۳۷- خطبہ الہامیہ
- ۳۸- دافع البلاء
- ۳۹- درثمین
- ۴۰- رسالہ ہذا بابت ۱۹۰۸ء
- ۴۱- ریویو نمبر ۶ بابت ۱۹۰۴ء
- ۴۲- " ۵ " ۱۹۲۲ء
- ۴۳- ستارہ قیصرہ
- ۴۴- شہادۃ القرآن
- ۴۵- قصیدہ اعجازیہ
- ۴۶- کشتی نوح
- ۴۷- کتاب البریہ
- ۴۸- کلمۃ الفصل
- ۴۹- گورنمنٹ انگریزی اور جہاد
- ۵۰- ملائکۃ اللہ
- ۵۱- مواہب الرحمٰن
- ۵۲- مکتوبات احمدیہ
- ۵۳- نور الحق
- ۵۴- نور القرآن
- ۵۵- نزول مسیح
- ۵۶- نسیم دعوت