قادیانی اور اُن کے عقائد · مولانا منظور احمد چنیوٹی
Qadiani or in kay Aqaid · Idarah Dawat-o-Irshad
PDF 1

قادیانی

اور اُن کے

عَقَائِد

مقدمہ

مُحَدِّثِ العصر علامہ الدہر حضرت مولانا السّید مُحَمَّد یُوسُف البنوری رحمۃ اللہ تعالیٰ

شیخ الحدیث جامعہ علوم اسلامیہ ، کراچی

تالیف

فضیلۃ الشیخ مولانا منظور احمد چنیوٹی

ترتیب و ترجمہ

الاستاذ محمد ایوب چنیوٹی

ناشر

اِدارَہ مَرکَزِیَّۃِ دَعْوَۃ وَاِرشَاد چنیوٹ

پاکستان

PDF 2

فہرست مضامین

تعارف از حضرت علامہ خالد محمود صاحب مانچسٹری لندن مقدمہ فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا السید محمد یوسف البنوریؒ رائے گرامی شیخ حسنین محمد مخلوف مفتی اعظم مصر (السابق) ١٠ كلمۃ المؤلف. ١٢ دعاوی مرزا . ١٣

کے بارے میں مرزا صاحب کے عقائد .

ہے

PDF 3

تعارف

از مناظر اسلام حضرت علامہ خالد محمود صاحب مدظلہ

الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ اللہ خیر اما یشرکون اما بعد مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروؤں نے ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں بلکہ کچھ پہلے سے بھانپ لیا تھا کہ ایک دن آئے گا جب وہ قانونی طور پر بھی غیر مسلم قرار پا جائیں گے تحریک کو سختی سے کچل دی گئی تھی مگر قادیانی زعماء اس وقت سے ہی اس فکر میں تھے کہ اب وہ یورپین اور افریقی ممالک میں نئی راہیں تلاش کریں جہاں اسلام کے نام پر وہ الحاد پھیلا سکیں اور وہاں انہیں کوئی مانع نہ آسکے۔

اس صورت حال میں مسلمانوں کے بھی ذمہ تھا کہ وہ نئے حالات سے نمٹنے کے لئے مرزا غلام احمد اور اس کے الحاد پر انگریزی زبان میں وہ مواد مہیا کریں جس کے ذریعے ان ممالک میں قادیانیت کی صحیح تصویر دیکھی جاسکے تاکہ جونہی قادیانیوں کے قافلے ان ممالک میں اتریں وہاں کے مسلمان پہلے سے ان کے الحاد و زندقہ پر اطلاع پاچکے ہوں۔

دارالعلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء لکھنؤ کے دو نامور عالموں کی تحریریں انگریزی زبان میں منتقل ہوئیں محدث کبیر حضرت مولانا سید محمد بدر عالم رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ ابوالحسن علی ندوی کی کتابیں نزول المسیح اور القادیانیہ کے انگریزی ترجمے ان ممالک میں پھیلے یہ یورپ اور افریقہ میں قادیانیت کو بے نقاب کرنے والی پہلی آواز تھی پھر بہت سے اور علماء نے بھی اس پر قلم اٹھایا اور قادیانیت ان ممالک میں کافی حد تک اپنے اصل روپ میں سامنے آگئی مگر ان سب تحریرات کے باوجود ایک خلاء باقی تھا جس کا پُر کیا جانا ضروری تھا۔

ضرورت تھی کہ ان علماء کی تحریریں بھی انگریزی زبان میں اتریں جو قادیانیوں کے ساتھ مناظروں اور مباحثوں کا گہرا تجربہ رکھتے ہوں اور انہیں ان کی زبان میں جواب دیتے ہوں۔

صفحہ ۴

قادیانیوں کی زبان ہمیشہ مناظرانہ ہوتی ہے سوا انہیں ان کی زبان میں جواب دینا ضروری ہوتا ہے محدث شہیر امام العصر الشیخ انور شاہ کشمیریؒ نے قادیانیوں کے رد میں اکفار الملحدین لکھی تو قادیانی تحریرات کا انتخاب خود نہ فرمایا بلکہ رئیس المناظرین حضرت مولانا مرتضیٰ حسن صاحب سے کرایا کیونکہ وہ مناظر کی حیثیت سے زیادہ تجربہ رکھتے تھے اور قادیانیوں سے ان کی زبان میں بات کرتے تھے۔

یورپ اور افریقہ میں اب تک وہی انگریزی لٹریچر قادیانی نظریات وعقائد سے نقاب کشائی کرتا رہا ہے جو گو نامور علماء کی تحریرات کا ترجمہ تھا لیکن اس باب میں کسی مشاق مناظر کی کاوش کا ترجمان نہ تھا رفیق مکرم مولانا المحترم شیخ منظور احمد چنیوٹی کی کوشش بہت لائق تحسین ہے کہ قادیانیوں سے مناظرات کے گہرے تجربات کی روشنی میں آپ نے مرزا غلام احمد اور اسکے بیٹوں کی تحریرات سے ایک ایسا انتخاب پیش کیا ہے جس سے قادیانی عقائد و نظریات اور ان کا مسلمانوں سے مناط اختلاف بالکل کھل کر سامنے آجاتے ہیں یہ کتابچہ اس پہلو سے بہت ممتاز ہے کہ یہ ایک مناظر اسلام کا انتخاب ہے جسکی ضرورت باقی تھی مولانا کی اس ترتیب سے وہ خلا پورا ہو گیا ہے جس کا پورا ہونا ضروری تھا۔

مولانا محترم کئی مناظروں میں میرے بھی معین رہے ہیں اور قادیانیت کو بے نقاب کرنے میں ہمیں مشترکہ طور پر یورپ اور افریقہ وغیرہ میں کئی مواقع بھی میسر آئے ہیں اسی تعلق سے اس ناچیز نے اس کتابچہ پر نظر ثانی کی ہے کہیں کہیں کچھ اضافے بھی کئے ہیں اور انگلستان میں مقیم ہونے کی حیثیت سے اسے انگریزی میں پیش کرنے کی سعی بھی کی ہے یہ رسالہ اپنے اختصار، جامعیت، اسلوب صحت نقل اور فنی گرفت میں اپنی مثال آپ ہے امام ابو بکر احمد بن الحسین البیہقیؒ دلائل النبوۃ میں ذکر کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۴

سیکون فی آخر ھذہ الامة قوم لھم مثل اجر اولھم یأمرون بالمعروف وینھون عن المنکر ویقاتلون اھل الفتن

صفحہ ۵

(ترجمہ) اس امت کے آخری دور میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہیں (ان کی دینی محنتوں پر) اولین امت جیسا اجر ملے گا وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ساتھ ساتھ اہل فتن کا بھی پورا پورا مقابلہ کرتے ہوں گے

شراح حدیث نے یقاتلون کے معنی بایدیھم او بالسنتھم کے بیان کئے ہیں اور فتن سے مراد اسلام سے بغاوت اور ہر قسم کے اعتقادی فتنے ہیں سو اس حدیث میں ان مناظرین اسلام کو بھی بشارت دی گئی ہے جو اپنی زبان اور بیان سے ان ملاحدہ و زنادقہ کا پوسٹ مارٹم کر کے امت کو ان کے ظالم پنجوں سے بچاتے اور چھڑاتے ہیں۔ اس امت میں جس طرح تنزیل کتاب پر جہاد کی نوبت آتی ہے بلکہ تاویل کتاب اور مرادات باب پر بھی جہاد میں اترنا پڑتا ہے سو مبارک ہیں وہ لوگ جو ان فتنوں کے آمنے سامنے نبرد آزما ہوتے ہیں۔

قادیانیت کا پورا پس منظر سمجھنے کے لئے محدث شہیر حضرت علامہ محمد یوسف بنوری کا مقدمہ اپنے ایجاز و اختصار اور جامعیت میں اپنی مثال آپ ہے اور برصغیر پاک و ہند سے باہر قادیانیت کے خلاف پہلی آواز ہے جو ایک مناظر کے قلم سے اٹھی ہے اور یورپ اور افریقہ میں ان لوگوں کی اپنی زبانوں میں انہیں خطاب کرتی ہے مقام مسرت ہے کہ احقر اس دینی محنت میں مؤلف محترم کے ساتھ ہے ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم

علامہ خالد محمود عفا اللہ عنہ ڈائریکٹر اسلامک اکیڈمی مانچسٹر انگلینڈ

صفحہ ٦

مقدّمہ

الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی خاتم النبیین سیدنا محمد وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین ۔

امت مرحومہ قرون اولیٰ سے آج تک ہمیشہ ایسے فتنوں سے دوچار ہوتی رہی ہے، جو اس کی ترقی واشاعت کی راہ میں کوہ گراں بنتے رہے۔ اگر پروردگار عالم کی رحمت شامل حال ہو کر اس کی حفاظت و بقا کا ذریعہ نہ بنتی تو آج ، ملتِ اسلامیہ کے اس عظیم الشان محل کی بنیادیں زمین بوس ہوچکی ہوتیں۔ قرون اولیٰ کے ان فتنوں میں سے خوارج ، شیعہ ، معتزلہ ، قدریہ ، کرامیہ وغیرہ جیسے فتنے خوب پھلے پھولے ، جن کے آثار آج بھی مختلف بلادِ اسلامیہ میں پائے جاتے ہیں۔ پروردگار عالم نے علمائے امت اور زعمائے ملت کو دین اور فصیلِ اسلام کی حفاظت کے لیے مقرر فرمایا ، چنانچہ دین بحالہ محفوظ رہا اور صفحاتِ دہر پر تاقیام قیامت یہ اس طرح چمکتا رہے گا کہ اس کی چمک اور چکا چوند ملحدوں اور بے دینوں کی آنکھوں کو ہمیشہ خیرہ کرتی رہے گی ۔

قرون اخیرہ کا سب سے بڑا فتنہ مرزا غلام احمد قادیانی کا ظہور ہے۔ جب برطانیہ نے ہند پر تسلط جمایا تو اسی کے ایماء ، اشارے اور اس کی سازش سے ، مشرقی پنجاب کے ایک قصبہ " قادیان " ضلع گورداس پور میں اس فتنہ کا

صفحہ ۷

ظہور ہوا۔ اس نے اپنے دعاوی میں آہستہ آہستہ ترقی کی پہلے اس نے دعویٰ کیا کہ وہ مجدد ہے‘ پھر دعویٰ کیا کہ وہ غیر تشریعی نبی ہے‘ پھر دعویٰ کیا کہ وہ تشریعی نبی و رسول‘ اور اس کی وحی قرآن مجید کی مانند ہے۔ چنانچہ یہ قرآن کریم سے آیات چن کر انہیں اپنے اوپر چسپاں کرتا‘ باطنیوں اور زندیقوں کی طرح قرآنی آیات کی تشریح و تعبیر کرتا اور اپنے کلام میں بابیوں اور بہائیوں کی پیروی کرتا رہا‘ یہ حضور علیہ السلام کے معجزات کی نقلیں کیا کرتا تھا۔ اس نے اپنی مسجد کو ’مسجد اقصیٰ‘ اپنے گاؤں کو مکہ المسیح اور لاہور کو اپنا مدینہ قرار دیا۔ اپنی مسجد میں ایک مینارہ بنا کر اس کا نام مینارۃ المسیح رکھا‘ اپنے گاؤں میں ایک قبرستان بنا کر اس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا اور اعلان کیا کہ جو بھی اس میں دفن ہوگا وہ بہشتی ہوگا۔ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایسی سخت توہین کی جسے سن کر جگر پھٹتا اور کلیجہ منہ کو آتا ہے‘ حالانکہ دنیا میں ایسا کوئی نبی نہیں گزرا جس نے کسی نبی کی توہین کی ہو۔ اس جھوٹے نبی نے اپنے اوپر ایمان نہ لانے والوں سب کو کافر قرار دیا‘ اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومتِ برطانیہ زمین پر اللہ کا سایہ ہے‘ اور اپنی کتابوں میں تحریر کیا کہ میں ان کا ”خودکاشتہ پودا“ ہوں۔ اس نے لوگوں کے سامنے پُر فتن اور مبالغہ آمیز گپیں ہانکیں اور کفر و الحاد کی گہری وادیوں میں اتر گیا۔

شروع میں یہ ایک محتقر اور کمزور سا فتنہ تھا مگر آہستہ آہستہ ترقی کرتا اور نشو و نما پاتا گیا‘ چنانچہ علماء ربانیین اٹھے اور قلم و زبان اور ہر ممکن طریقہ سے اس کے استیصال اور بیخ کنی میں مشغول ہوئے۔

امام العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند ان اکابرین میں سے تھے‘ جنہوں نے اس کی تردید کا بیڑا اٹھایا۔

صفحہ 8

علامہ موصوف نے عربی و فارسی میں متعدد کتب تصنیف فرمائیں۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کو کتابیں تصنیف کرنے میں مدد دی اور اپنے دوستوں اور شاگردوں کو تالیف و تبلیغ کے ذریعہ دین کے دفاع کے لیے اکسایا۔ علامہ موصوف نے "عقیدۃ الاسلام فی حیوۃ عیسیٰ علیہ السلام" ، "تحیۃ الاسلام فی حیوۃ عیسیٰ علیہ السلام" ، "التصریح بما تواتر فی نزول المسیح" اور تفسیر آیۃ خاتم النبیین کے علاوہ "مرزائیت اور اس جیسے دوسرے الحادی فتنوں کے رَدّ کے لیے ایک مستقل کتاب اصول" میں تصنیف فرمائی جس کا نام آپ نے "اکفار الملحدین فی ضروریات الدین" رکھا۔ مختصر یہ کہ اس علاقے کے علماء کے ہاں اس گمراہ فرقے کا کفر و ضلال روز روشن کی طرح واضح ہوگیا۔

چونکہ یہ تصنیفات و احوال بلاد عربیہ کے علماء اور عوام کے سامنے نہ تھے اور پھر دین و علوم دین سے عوام الناس کا تعلق بھی خاصا کمزور ہو چکا ہے ، اس لیے ایک ایسی جامع تصنیف کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی ، جس میں ان کے ایسے تمام عقائد کی ایک ایسی قابل قدر تعداد جمع کر دی جائے ، جنہیں دیکھتے ہی ان کا بطلان واضح ہو جائے اور مزید کسی دلیل کی ضرورت نہ رہے۔ اگرچہ اس سے پہلے برادرم مبلغ اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی کی "القادیانی والقادیانیۃ" اور مولانا احسان الٰہی ظہیر کی تصنیف محاضرات کی شکل میں سامنے آچکی تھیں مگر ابھی بہت سا خلا باقی تھا، چنانچہ ہمارے عزیز ساتھی الاستاذ الشیخ منظور احمد چنیوٹی (جنہوں نے اپنے آپ کو حفاظت دین اور اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے وقف کر رکھا ہے) اس خلا کو پُر کرنے کے لیے اٹھے ، اور حفاظت و خدمت دین کے جذبہ سے "القادیانی ومعتقداتہ" (قادیانی اور ان کے عقائد) تصنیف فرما کر اس خلا کو پُر کیا اور اس کے عربی و اردو کتب

صفحہ ۹

کے حوالوں سے ان کے قبیح و شنیع عقائد جمع کر دیئے گئے حالانکہ ان کا کفر اتنا واضح تھا کہ محتاج دلیل نہیں ۔

اللہ تعالیٰ ان کو (مؤلف) جزائے خیر دے، ان کے اس رسالے کے ذریعہ عربی و اسلامی ممالک کو فائدہ پہنچائے ۔ مرزائیوں کے چہرے سے مکر و فریب کے پردے کو چاک کرے اور اسے شرف قبولیت بخشے ۔ وصلی اللہ علیٰ سیدنا، سیدالعالمین وخاتم النبیین محمد و آلہ واصحابہ واتباعہ وعلماء امتہ العالمین اجمعین

کتبہ

محمد یوسف بن سید محمد زکریا البنوری الحسینی، خادم الحدیث النبوی کراچی، مغربی پاکستان بروز پیر ۱۵ جمادی الاخریٰ ۱۳۹۱ھ

رائے گرامی

شیخ حسنین محمد مخلوف (سابق) مفتی اعظم مصر

میں نے اس رسالے کا بغور مطالعہ کیا ۔ رسالہ میں مرزائیوں کے کفر و ضلال اور ان کے من گھڑت عقائد کا خوب اچھی طرح پردہ چاک کر کے، موضوع کے ساتھ مکمل انصاف کیا گیا ہے ۔ میں اس کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، تاکہ رسالہ قارئین کے قلوب و اذہان کے لیے مشعل راہ بن کر ان کو کفر و ضلال سے بچانے اور حق سے آگاہی کا وسیلہ بن سکے ۔ واللہ الموفق کتبہ ۔ ۱۲ ربیع الاول ۱۳۹۴ھ

حسنین محمد مخلوف سابق مفتی اعظم مصر و رکن کبار العلماء بالازہر و رکن مجلس تاسیسی رابطہ عالم اسلامی مکۃ المکرمہ

صفحہ ۱۰

بسم الله الرحمن الرحيم

كلمة المؤلف

الحمد لله وحده والصلوة والسلام على من لا نبي بعده ولا امته بعد امته ولا كتاب بعد كتابه . وعلى آله وصحبه اجمعين . ومن تبعهم الى يوم الدين . اما بعد !

اوائل انیسویں صدی عیسوی یعنی ۱۸۹۰ء میں ایک نام نہاد نبی مرزا غلام احمد قادیانی ہندوستان کے صوبہ پنجاب میں ظاہر ہوا۔ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور ہر اس شخص کو جو اس کی جھوٹی نبوت پر ایمان نہ لائے ‘ کافر قرار دیا۔ انگریز گورنمنٹ نے نہ صرف یہ کہ اس کی مدد کی بلکہ دراصل اس پودہ کو اپنے ہاتھوں سے لگانے والی بھی یہی حکومت تھی۔ جیسا کہ خود مرزا صاحب نے (تبلیغ رسالت میں) اس کا اعتراف کیا ہے۔ انگریز نے اس کی پوری پوری مدد و حفاظت کی ‘ چنانچہ یہ اس کے ایک استعماری ایجنٹ اور گماشتے کے طور پر کام کرتا رہا ۔ اس نے جہاد کے منسوخ ہونے اور حکومت برطانیہ کے واجب الاطاعت ہونے کا اعلان کیا اور اپنی دعوت کو دُور دراز ممالک حتیٰ کہ مرکز اسلام اور مہبط وحی خیر الانام یعنی مکہ و مدینہ شریف تک بھی پھیلا دیا ۔ اس نے اپنی دعوت کی تبلیغ کے لیے ہندوستان میں اپنے مولد و مسکن ’’قادیان‘‘ کو مرکز ٹھہرایا ، تا آنکہ مئی ۱۹۰۸ء کو بمرض ہیضہ انتقال کر گیا

صفحہ ۱۱

۱۹۴۷ء میں جب ہندوستان تقسیم ہوا اور پاکستان بن گیا تو انہوں نے "ربوہ" کے نام سے ایک نیا شہر بسانا شروع کیا، جو کہ پاکستان و بیرون پاکستان ان کی تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز بنے ۔

شروع دن ہی سے علماء اسلام اور دین دار طبقہ اس فتنہ سے پریشان اور خوف زدہ تھا، چنانچہ انہوں نے زبان و قلم سے اس کے خلاف جہاد کیا اور بالاتفاق مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں کو، کافر، مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا اور اس سلسلہ میں بہت سی مفید اور عمدہ کتابیں تصنیف فرمائیں ۔

ہم برادران اسلام کے سامنے اس نام نہاد نبی کے چند دعاوی :

صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی فوقیت و افضلیت اور اس جیسے دوسرے خرافات پیش کر رہے ہیں ۔ حوالہ جات کتب مع قید صفحات نقل کیے گئے ہیں اور عبارات نقل کرتے ہوئے، اپنی طرف سے کسی قسم کی کوئی تشریح، توضیح، ضمیمہ نویسی یا حاشیہ آرائی نہیں کی گئی ۔ واللہ الموفق الی الحق وھو یھدی السبیل ۔

(از مؤلف)

صفحہ ۱۲

دعاویٰ مرزا

مرزا صاحب کا مجدد، مہدی، مسیح اور نبی و رسول ہونے کا دعویٰ

( مجددیت سے نبوت، اور اس سے آگے تک )

وقت اور تند ہوا کی تاریکی کے وقت خدا کے رحم نے تقاضا کیا کہ آسمان سے نور نازل ہو۔ سو میں وہ نور ہوں اور وہ مجدد ہوں کہ جو خدا کے حکم سے آیا ہے اور بندہ مدد یافتہ ہوں اور وہ مہدی ہوں جس کا آنا مقرر ہو چکا ہے اور وہ مسیح ہوں جس کے آنے کا وعدہ تھا اور میں اپنے رب سے اس مقام پر نازل ہوا ہوں جس کو انسانوں میں سے کوئی نہیں جانتا ۔“

(خطبہ الہامیہ مترجم ص ۵۱ از مرزا غلام احمد مطبوعہ قادیان)

نوٹ :- مرزا صاحب اس کتاب کے بارے میں رقمطراز ہیں :-

ترجمہ :- یہی وہ کتاب ہے جس کا ایک حصہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عید پر الہام کیا گیا۔ جسے میں نے بغیر کسی تحریر و تدوین کے (محض) روح القدس کی زبان سے حاضرین پر القا کیا۔ اور کسی انسان کے بس میں نہیں کہ مجھ ایسی عبارت مرتجلا اور فی البدیہہ ادا کر سکے .... اور نہ ایسے ایسے معارف بتلا سکے (باقی اگلے صفحہ پر)

صفحہ ۱۳

اس کو عطا کیا گیا ..... اور تم کو مبارک ہو کیونکہ مہدی موعود تمہارے پاس آ پہنچا اور اس کے پاس بہت مال و متاع ہے جو تہہ بہ تہہ رکھا ہے۔ . . . اے لوگوں میں وہ مسیح ہوں کہ جو محمدی سلسلہ میں سے ہے اور میں احمد مہدی ہوں"۔

(خطبہ الہامیہ مترجم ص۵۹ ،۶۰ مطبوعہ قادیان اور اسی طرح ص۹ پر)

وہ منعم علیہ ہوں کہ اس کی طرف "فاتحہ" میں ان دو گروہوں کے ظہور کے وقت اشارہ تھا۔"

(خطبہ الہامیہ ص۱۹ ، قادیان)

العادت ہے، پس شانِ مماثلت پوری نہیں ہوتی ہے اور باہم مشابہت کا ہونا ضروری ہے جو سلیم الطبع لوگوں پر پوشیدہ نہیں ہے ہم کہتے ہیں کہ انسان کا بے باپ پیدا کرنا عادت اللہ میں داخل ہے۔ . . . ہاں ہم یہ بات قبول کر سکتے

(بقیہ حاشیہ) چھوڑے ہوئے مدون دفتروں میں بھی نہ پائے گا ۔ بلکہ یہ تو ایسے حقائق ہیں جو ربّ کائنات کی طرف سے مجھے وحی کیے گئے ہیں اور یہ ایک اظہارِ تام ہے ۔ تو کیا مسیح کے بعد بھی کچھ خفا ہے اور خاتم الخلفاء کے (آجانے کے) بعد بھی کوئی بھید الٰہی پوشیدہ ہے ! تعجب انگیز یہ بات نہیں کہ تم خاتم الائمہ سے ایسے نکات سنتے ہو جو تم نے اس سے پہلے علمائے امت سے نہیں سنے بلکہ بہت زیادہ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ”مسیح موعود“ امام منتظر ۔ لوگوں کے منصف اور ”خاتم الخلفاء“ تشریف لے آئے ہیں کہ پھر ان کے بعد خدا کی طرف سے معارف لیکر کوئی ایسا شخص جو لوگوں سے کسی عالم کی طرح باتیں کرے اور نور و ظلمت کے درمیان یوں فرق واضح کرے، نہ آئے گا۔ اور میں نے اس رسالے کا نام ”خطبہ الہامیہ“ رکھا اور یہ ایک نشان ہے“۔ ترجمہ ختم (یہ کتاب عربی ، فارسی ، اردو ، تینوں زبانوں میں ہے)

(صفحہ اول کتاب ہذا)

صفحہ ۱۴

ہیں کہ .... بغیر باپ کے پیدا ہونا قلیل الوقوع امر ہے ۔ بہ نسبت اس امر کے کہ اس کا مخالف ہے ، اور اسی امر عجیب کے مشابہ میری پیدائش ہے کہتے ہیں کہ میں توام پیدا ہوا ہوں ، اور میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی جو وہ مر گئی اور میں زندہ رہ گیا ۔ اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ واقعہ بھی نسبتاً عام پیدائش کے قاعدے سے عجیب ہے ۔

(حاشیہ خطبہ الہامیہ ص۸۸ ، مترجم مطبوعہ قادیان)

واسیح .... ان عیسیٰ مات ساتھ چلتا ہوں اور گھومتا ہوں .... ولا یحیٰ باحیاء کم ۔ عیسیٰ مر گیا اور وہ تمہارے زندوں کی طرح نہیں ۔

(تحفۃ الندوہ ص۷) (ترجمہ از مرتب)

(تریاق القلوب ص۳)

پاتا رہا ، پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو .... مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارے کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینہ سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے .... مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا .... پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا ۔

(کشتی نوح ص۴۶ ، ۴۷) (مطبوعہ قادیان)

سورہ تحریم میں خاص میرے لیے ہے اور وہ آیت یہ ہے : وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِنْ رُّوحِنَا ۔

صفحہ ۱۵

..... میرا ہی نام خدا نے براہین احمدیہ میں پہلی مریم رکھا اور بعد اس کے میری ہی نسبت یہ کہا کہ ہم نے اس مریم میں اپنی طرف سے روح پھونک دی اور پھر روح پھونکنے کے بعد مجھے ہی عیسیٰ قرار دیا۔ پس اس آیت کا میں ہی مصداق ہوں۔“

(حاشیہ حقیقۃ الوحی ص۳۳۷)

کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا۔" ٹریکٹ نمبر ۳۴ اسلامی قربانی مصنفہ قاضی یار محمد استاذ مرزا بشیر الدین محمود

کے سامنے اور ہمارے حکم سے ایک کشتی تیار کر اور ایسے لوگوں کے لیے شفاعت پیش نہ کر جنہوں نے تمام زندگی کے لیے ظلم کرنا اپنا اصول بنا لیا ہے کیونکہ وہ تو غرق ہونے سے پہلے ہی گناہوں میں غرق ہیں۔ اور جو لوگ تیرے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتے ہیں وہ خدا کے ہاتھ میں ہاتھ دیتے ہیں، خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر ہے۔“

(خطبہ الہامیہ مترجم ص۱۷، ۱۸ - قادیان)

کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لیے مدار نجات ٹھہرایا، جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔“

(حاشیہ اربعین نمبر ۴ ص۶)

وقد انبأنی ربی اننی کسفینۃ حق تعالیٰ مرا خبر داد کہ من بجهت

صفحہ ۱۶
نوح للخلق فمَن اتانی و خلق مانند کشتی نوحؑ ہستم۔ آنکہ در
دخل فی البيعة فقد نجا نزد من آمد و در سلک بیعت
من الضيعة فطوبٰی لقوم من مرتبط شد او لاریب از
هم ينجون ۔ ہلاک نجات یافت
آئنہ کمالات اسلام آئنہ کمالات اسلام مترجم فارسی
ص ۲۸۶ ص ۴۹۴

( مطبوعہ قادیان )

خدا نے مجھ کو آدم بنایا اور مجھ کو وہ سب چیزیں بخشیں کہ بآدم بخشیدہ بود۔"

( خطبہ الہامیہ مترجم قادیان ص۲۵۳،۲۵۴ )

(اخبار "بدر" ۵ مارچ ۱۹۰۸ء)

کا مصداق ہے کہ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدٰی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلّٰہ

(اعجاز احمدی ص۷ مطبوعہ ربوہ)

دافع البلاء ص۱۱

القادیان وبالحق انزلنٰہ ہے اور حق کے ساتھ اتارا ہے اور وبالحق نزل و کان ضرورت حقہ کے ساتھ اترا ہے اور

صفحہ ۲۱

اس رحمانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت، پوری طرح سے تجلی فرمائی جیسا کہ آدم چھٹے دن کے آخر میں احسن الخالقین خدا کے اذن سے پیدا ہوا اور خیر الرسل کی روحانیت نے اپنے ظہور کے کمال کے لیے اور اپنے نور کے غلبہ کے لیے ایک مظہر اختیار کیا جیسا کہ خدا تعالیٰ نے کتاب مبین میں وعدہ فرمایا تھا پس میں وہی مظہر ہوں۔ پس ایمان لاؤ اور کافروں سے مت ہو اور اگر چاہتا ہے تو اس خدا تعالیٰ کے قول کو پڑھ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی آخر آیہ تک پس یہ اظہار کا وقت اور روحانیت کے ظہور کے کمال کا وقت ہے۔ اے مسلمانوں کی جماعت ۔

(خطبہ الہامیہ ص۶۶ تا ۶۸)

اس پیشگوئی کو پورا کرے اور آخری اینٹ کے ساتھ بناء کو کمال تک پہنچاوے پس میں وہی اینٹ ہوں ۔

(خطبہ الہامیہ ص۱۷۶،۱۷۸)

میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۱۳ آخری شعر)

نوٹ عہ :۔ احادیث شریفہ میں وارد ہے نبی پاک نے ارشاد فرمایا ' میری مثال اور انبیاء علیہم السلام کی ایک محل جیسی ہے (جسکے معمار نے) اسے بہت عمدہ تعمیر کیا مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ پس دیکھنے والوں نے اس اینٹ کی جگہ کے سوا سب مکان کے حسن تعمیر اور اس کی خوبی کی تعریف کرتے ہوئے اسے گھوم پھر کر دیکھا۔ پس میں نے وہ جگہ بند کی، میرے ساتھ وہ عمارت ختم ہوئی اور میرے ساتھ رسول ختم کئے گئے۔ اور ایک روایت میں ہے پس میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔

(بخاری ومسلم)

صفحہ ۲۲
۲۴ - محمدؐ پھر اُتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمدؐ دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں ؎

( بدر قادیان ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۰۶ء)

دیتے ہوئے کہتا ہے) ؎

لئن خسف القمر المنیر و انّ لی
خسفا القمران المشرقان لتنکر

اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا، اب کیا تو انکار کرے گا۔

؎ وكان كلام معجز آيۃً له كذاك لى قول على الكل يبہر

ترجمہ :۔ اور اس کے معجزات میں سے معجزانہ کلام بھی تھا ، اسی طرح مجھے وہ کلام دیا گیا جو سب پر غالب ہے “

( اعجاز احمدی ، ضمیمہ نزول مسیح ” ص ۷۱ شرکت اسلامیہ ربوہ

” مثلاً کوئی شریر النفس ان تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ظہور میں آئے۔ (تحفہ گولڑویہ ص ۶۷)

خوش ہوئے ۔ شاباش کہی اور اسے اپنے قادیانی جریدے ”بدر“ میں شائع کیا۔

(مرتب)

صفحہ ۲۳

معجزہ اپنے دس لاکھ سے زیادہ نشان ۔ "جس شخص (مرزا قادیانی) کے ہاتھ سے ابتک دس لاکھ سے زیادہ نشان ظاہر ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں"۔

(تذکرۃ الشہادتین ص ۴۱)

ہے حتیٰ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے"۔

(ڈائری مرزا محمود احمد مطبوعہ اخبار الفضل ۱۷ جولائی ۱۹۲۲ء)

گیا ہوں اور یہ میرا قدم ایک ایسے منارہ پر ہے جو اس پر ہر ایک بلندی ختم کی گئی ہے پس خدا سے ڈرو اے جہنمیو! اور مجھے پہچانو! اور نافرمانی مت کرو اور نافرمانی پر مت مرو۔ اور زمانہ نزدیک آگیا ہے اور وہ وقت نزدیک ہے کہ ہر ایک جان اپنے کاموں سے پوچھی جائے اور بدلہ دی جائے

(خطبہ الہامیہ مترجم ص ۷۱، ۷۲)

اپنے تئیں شک اور شبہ کے ساتھ ہلاک مت کرو اور میں مغز ہوں جس کے ساتھ چھلکا نہیں اور روح ہوں جس کے ساتھ جسم نہیں وہ نور ہوں جس کو دشمنی اور کینہ کا دھواں چھپا نہیں سکتا ۔ اور کوئی ایسا شخص تلاش کرو جو میری مانند ہو، اور ہرگز نہیں پاؤ گے اگرچہ چراغ لے کر بھی ڈھونڈتے رہو"۔

(خطبہ الہامیہ مترجم ص ۷۳)

صفحہ ٢٤

مرزا صاحب کا صفات اللہ سے متصف بلکہ عین اللہ ہونے کا دعویٰ

طرف سے مجھ کو ملی ہے"۔

خطبہ الہامیہ مترجم صہ ٥٦

ان تقول لہ كن فيكون"۔ سے فی الفور ہو جاتی ہے ۔

- تذکرہ صہ ۵۲۵ ، ۶۵۶ ، ۸۲۶ - حقیقۃ الوحی صہ ۱۰۵

انجام آتھم صہ ۵۴ و تذکرہ صہ ۶۶ ، صہ ۲۰۴

ظہوری" میرا ظہور ہے ۔

(تذکرہ صہ ۷۰۰)

(حقیقۃ الوحی صہ ۸۶) و تذکرہ صہ ۵۲۶ ، صہ ۶۳۲

طبع جدید صہ ۲۹۹

(البشریٰ جلد اول صہ ۴۹)

فشل (بزدلی) سے"۔

(انجام آتھم صہ ۵۵ - ۵۳) و تذکرہ صہ ۲۰۴

صفحہ ۲۵

میرے ساتھ ہے ۔

(انجام آتھم ص ۵۹) وتذکرہ ص ۶۵ طبع جدید

یتم اسمی" کے جو میرا نام پورا ہو۔

(انجام آتھم ص ۵۹) وتذکرہ ص ۵۱

یحمدک اللہ ویمشی الیک خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے ۔

(انجام آتھم ص ۵۸) وتذکرہ طبع جدید ص ۲۶۷

علیہ - رایتنی فی المنام عین اللہ و تیقنت انی ہو ..... و بینما انا فی ہذہ الحالۃ کنت اقول ، انا نرید نظاما جدیداً سماءً جدیدۃ و ارضا جدیدۃ فخلقت السمٰوات والارض اولاً بصورۃ اجمالیۃ لا تفریق فیہا ولا ترتیب ثم فرقتہا و رتبتہا بوضع ہو مراد الحق و کنت اجد نفسی علی خلقہا کالمقادرین ۔ ثم خلقت السماء الدنیا و قلت انا زینا السماء الدنیا بمصابیح ثم قلت الان نخلق الانسان من سلالۃ من طین ۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۶۴، ۵۶۵) وتذکرہ ص ۱۹۶ طبع جدید

علیہ ترجمہ : میں نے اپنے آپ کو خواب میں دیکھا کہ میں عین اللہ ہوں اور میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں ۔۔۔۔۔ میں اسی حالت میں تھا کہ میں اپنے

صفحہ ۲۶

آپ سے کہنے لگا۔ ”میں ایک نظام جدید اور آسمانِ جدید اور ایک نئی زمین بنانا چاہتا ہوں“۔

پس میں نے پہلے زمین و آسمان کو اجمالی صورت میں پیدا کیا کہ جن میں نہ کوئی تفریق تھی نہ ترتیب۔ پھر میں نے ان کو جدا کیا اور ترتیب دی جیسا کہ حق کی مراد تھی۔ اور میں اپنے آپ کو ان کی تخلیق پر پوری طرح قادر پاتا تھا۔ پھر میں نے آسمانِ دنیا کو پیدا کیا اور میں نے کہا ”انا زینا السماء الدنیا“ الخ (یعنی ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے مزین کیا) پھر میں نے کہا، اب ہم انسانوں کو گوندھی ہوئی مٹی سے پیدا کرتے ہیں۔

(از مترجم)

صفحہ ۲۷

عقائد مرزا

توحید اور خدا تعالیٰ کے بارے میں مرزا صاحب کے عقائد

اصوم، اسهر و انام ۔ اور روزہ رکھوں گا، جاگتا ہوں اور سوتا ہوں ۔

(البشریٰ جلد ۲ ص ۷۹، و تذکرہ ص ۴۷۹) طبع قدیم

اخطی و اصیب انی مع دوں گا خطا کروں گا اور بھلائی کروں گا میں اپنے الرسول محیط ۔ رسول کے ساتھ محیط ہوں ۔

(البشریٰ جلد ۲ ص ۷۹، و تذکرہ طبع قدیم ص ۴۷۹)

کئی پیشگوئیاں لکھیں ۔ جن کا مطلب یہ تھا کہ ایسے واقعات ہونے چاہئیں ۔ تب میں نے وہ کاغذ دستخط کرانے کے لیے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا اور اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تامل کے، سرخی کے قلم سے اس پر دستخط کیے اور دستخط کرنے

صفحہ ۲۸

کے وقت قلم کو چھڑکا ، جیسا کہ جب قلم پر زیادہ سیاہی آجاتی ہے تو اسی طرح پر جھاڑ دیتے ہیں اور پھر دستخط کر دیئے اور میرے پر اسوقت نہایت رقّت کا عالم تھا اس خیال سے کہ کس قدر خدا تعالیٰ کا میرے پر فضل اور کرم ہے کہ جو کچھ میں نے چاہا، بلا توقف اللہ تعالیٰ نے اس پر دستخط کر دیئے، اور اسی وقت میری آنکھ کھل گئی اور اس وقت میاں عبداللہ سنوری مسجد کے حجرہ میں میرے پیر دبا رہا تھا کہ اس کے رُوبرو غیب سے سرخی کے قطرے میرے کُرتے اور اس کی ٹوپی پر بھی گرے اور عجیب بات یہ ہے کہ اس سرخی کے قطرے گرنے اور قلم کے جھاڑنے کا ایک ہی وقت تھا، ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہ تھا .....

میں نے یہ سارا قصّہ میاں عبداللہ کو سُنایا۔ اُس وقت میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ عبداللہ جو ایک رویت کا گواہ ہے اس پر بہت اثر ہوا اور اس نے میرا کُرتہ بطور تبرک اپنے پاس رکھ لیا، جو اب تک اس کے پاس موجود ہے ۔

حقیقۃ الوحی ص ۲۵۵ و تریاق القلوب ص ۶۲ /

" اِسمَع یَا وِلدی " "اے میرے بیٹے سُن"

(بشریٰ جلد ۱ ص ۴۹ بحوالہ قادیانی مذہب)

منی و انا منک ہے اور میں تجھ سے ہوں ۔

(تذکرہ ایڈیشن ۲ ، ص ۶۲۵ و حقیقۃ الوحی ص ۷۲)

میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں ، تو مجھ میں اور تمام مخلوق میں واسطہ

صفحہ ۲۶

(کتاب البریہ ص۵۸)

الحق والعلیٰ، کان اللہ نزل جس کے ساتھ حق کا ظہور ہوگا گویا من السماء آسمان سے "خدا" اترے گا۔

(حقیقۃ الوحی ص۹۵) وتذکرہ طبع قدیم ص۲۸۴

تک معلوم نہیں ہوئے)

(تذکرہ ص۵۱)

مرزا صاحب کے وحی، کتاب، نبوت اور ختمِ نبوت

کے بارے میں عقائد !

بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے نشان ظاہر کیے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص۶۸)

تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے قادیان کو اس خوفناک

صفحہ ۳۰

تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام اُمتوں کے لیے نشان ہے ۔"

( دافع البلاء ص۱۱ )

اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کیے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہوسکتی ہے . . . . لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے ۔"

(چشمہ معرفت ص۳۱۷ )

انبیاء وقتاً فوقتاً آتے رہیں جن سے تم وہ نعمتیں پائو۔ اب کیا تم خدا کا مقابلہ کرو گے اور اس کے قدیم قانون کو توڑو گے ؟'

(لیکچر سیالکوٹ ص۲۵ )

و اَدارَ اِصْبَعَہٗ برگزید و بگردش داد انگشت خود را و اَشَارَ بِاِصْبَعِہٖ اِلَیَّ و اشارہ کرد بسوی

صفحہ ۳۱

ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر، اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں ۔"

(حقیقۃ الوحی ص ۲۱۱)

نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا ۔ پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی ۔ . . . اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ان هذا لفي الصحف الاولى صحف ابراهيم وموسى ۔ یعنی قرآنی تعلیم تورات میں بھی موجود ہے ۔

(اربعین نمبر ۴ ص ۶)

(تذکرہ ص ۶۷۶)

۱؎ ۔ سلطان القلم کی اردو ملاحظہ ہو !

صفحہ ۲۷

مرزا صاحب کے حضرت عیسیٰ، مہدی، دجال اور

دابۃ الارض و یاجوج و ماجوج کے بارے میں عقائد!

ان عیسیٰ مات و لا یجیٔ کاحیائکم عہ

( تحفۃ الندوہ ص۱ )

خلاصتہ انا لا نجد فی القرآن شیئاً فی ھذا الباب من غیر خبر وفاتہ ۔

ہونا اپنی کتاب حمامۃ البشریٰ میں بخوبی ثابت کر دیا ہے اور خلاصہ اس کا یہ ہے کہ ہم قرآن میں بغیر وفات حضرت عیسیٰ کے اور کچھ ذکر نہیں پاتے ۔

( نور الحق حصہ اول ص۵۱ )

و اما القرآن فتوفاہ و الحقہ بالمیتین عہ

( اعلان خطبۃ الہامیہ ص۷ )

عہ : بے شک میں ہی مسیح ہوں اور حق کے ساتھ چلتا اور گھومتا ہوں، بے شک عیسیٰ مر گیا اور وہ تمہارے زندوں کی طرح نہیں آیگا۔

عہ باقی عیسیٰ نبی اللہ کے نزول کا مسئلہ تو یہ عیسائیوں کی مخترعات اور ایجادات سے ہے قرآن نے تو اسے وفات دے کر مُردوں کے ساتھ ملا دیا ہے ۔ (از مترجم)

PDF 29

٭ ان عقیدة رجوع المسیح وحیاتہ کانت من نسیج النصاریٰ ومفتریاتھم، بان الذین ظنوا من المسلمین ان عیسیٰ نازل من السماء ما اتبعوا الحق بل ھم فی وادی الضلال یتیھون عہ

(اخلاق خطبہ الہامیہ ص ۷)

نوٹ:- ترجمہ عبارت ! عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی اور ان کی حیات کا عقیدہ، عیسائیوں کی عبارت آرائی اور ان کی اختراع پردازی ہے . . . مسلمانوں میں سے جو لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمانوں سے اُترنے کا گمان رکھتے ہیں، لاریب انہوں نے حق کی پیروی نہیں کی، بلکہ وہ گمراہی کی وادیوں میں سرگرداں ہیں عہ

عہ مرزائیو ! پہلی صدی ہجری سے تیرھویں صدی ہجری تک کے اَن گنت اور لاتعداد مسلمانوں کے بارے میں، جو اس عقیدہ پر مر گئے، ان عبارات کی روشنی میں آپ حضرات کا کیا فتویٰ ہے ؟ مرزا صاحب خود لکھتے ہیں : . . . یہ غلطی دراصل آج نہیں پڑی بلکہ میں جانتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تھوڑے ہی عرصہ بعد یہ غلطی پھیل گئی تھی اور کئی خواص اور اولیاء اور اہل اللہ کا یہی خیال تھا (دیکھئے رسالہ احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے) بلکہ مرزا صاحب تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ بعض ایک دو کم سمجھ صحابہؓ کو جن کی درایت ممدوح نہیں تھی . . . یہ خیال تھا کہ عیسیٰ آسمان پر زندہ ہے، جیسا کہ ابو ہریرہؓ جو غبی تھا اور درایت اچھی نہیں رکھتا تھا، تو کیا مسلمانوں کی اتنی کثیر تعداد حتیٰ کہ صحابہ کرام نے بھی حق کی پیروی نہ کی، وہ بھی گمراہی کی وادی میں تھے اور نعوذ باللہ سب کے سب جہنمی اور اہل نار تھے ؟؟

(نعوذ باللہ من ذالک الکفریات)

( دیکھئے مرزا صاحب کی کتاب

اعجاز احمدی )

صفحہ ۳۴

عظیم یاکل الحسنات ویخالف الحصاۃ بل ھو توفی کمثل اخوانہ ومات کمثل اھل زمانہ وان عقیدۃ حیاتہ قد جاءت فی المسلمین من الملۃ النصرانیۃ ۱۳؂

خلاف اور نیکیوں کو کھا جانے والی چیز ہے، بلکہ وہ اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح وفات پا گیا اور اپنے اہل زمانہ کی طرح مر گیا اور اس کی حیات کا عقیدہ مسلمانوں میں عیسائیوں سے آیا ہے ۱۳؂

(ترجمہ از مرتب)

س : آپ کا اپنے مسیح قادیان کے بارے میں کیا حکم ہے جن کا باون ۵۲ سال تک یہی عقیدہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر زندہ موجود ہیں اور وہ قرب قیامت نزول فرما دیں گے اور لطف یہ کہ اس عقیدہ پر قرآنی آیات سے دلائل بھی پیش کرتے رہے، پھر ایک طویل . . . . مدت کے بعد اس وحی کی بنا پر جو مسلسل بارہ برس تک آپ پر نازل ہوتی رہی انہوں نے اپنے اس پرانے عقیدے کو تبدیل کیا ۔ دیکھئے اعجاز احمدی ص ۷۱ آئینہ کمالات اسلام ص ۱۵۵ اور براہین احمدیہ ان عبارات کی روشنی میں ۔ (۱) کیا مرزا صاحب مشرک اعظم (سب سے بڑے مشرک) نہیں؟ ۲۔ پھر وہ نبی کیسے ہوئے؟ ! ۳۔ کیا کبھی نبی بھی شرک کرتے ہیں ! ؟ ۴۔ مرزائی دوستو ! کیا کبھی سوچا، اس کا کیا جواب ہے ؟ بینوا توجروا ۔ یاد رہے کہ مرزا صاحب کا پہلا عقیدہ کسی غلط فہمی یا محض تقلید کی بنا پر نہ تھا کیونکہ مرزا صاحب اس وقت مجدد تھے اور مجدد پر فہم قرآن بقول مرزا صاحب خدا تعالیٰ کی طرف سے کھولا جاتا ہے ؟

صفحہ ۳۵

عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں اور ان پر بہتان ہائے عظیم

شان میں بڑھ کر ہے . . . . مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر مسیح ابن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں، ہرگز نہ کر سکتا* اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا" :

(حقیقۃ الوحی ص ۱۴۸)

عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے ۔

(کشتی نوح ص ۶۵ حاشیہ)

(ریویو آف ریلیجنز جلد ۱ ص ۱۳۲ سنہ ۱۹۰۲ء)

کبابی ہے . . . . چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خواری کا ایک بد نتیجہ ہے۔

(ست بچن ص ۱۷۲ حاشیہ)

میں پیشاب آتا . . . . ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے صلاح دی کہ ذیابیطس کے لیے افیون مفید ہوتی ہے ۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی، لیکن میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی

صفحہ ۳۶

کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی ۔ نسیم دعوت ص ۶۹

زناکار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا ، مگر شاید یہ بھی خدائی کے لیے ایک شرط ہو گی ، آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے، ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے ۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے ۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۶ حاشیہ)

سوچا ہو گا ۔ ہم تو سوچتے سوچتے تھک گئے اب تک کوئی عمدہ جواب خیال میں نہیں آیا۔ کیا ہی خوب خدا ہے جس کی دادیاں اور نانیاں اس کمال کی ہیں ۔

نورالقرآن حصہ دوم ص ۱۳

کر کے سر پر عطر مل رہی ہے کبھی پیروں کو پکڑتی ہے اور کبھی اپنے خوشنما اور سیاہ بالوں کو پیروں پر رکھ دیتی ہے اور گود میں تماشا کر رہی ہے ۔ ۔ ۔ یسوع صاحب اس حالت میں وجد میں بیٹھے ہیں اور کوئی اعتراض کرنے لگے تو اس کو جھڑک دیتے ہیں ، اور طرفہ یہ کہ عُمر جوان اور شراب پینے کی عادت اور پھر مجرد اور ایک خوب صورت کسبی عورت سامنے پڑی ہے جسم کے ساتھ جسم لگا رہی ہے ۔ کیا یہ نیک آدمیوں کا کام ہے اور اس پر کیا دلیل کہ کسبی کے چھونے سے یسوع کی شہوت نے جنبش نہیں کی تھی ۔ افسوس کہ یسوع کو یہ بھی میسر نہیں تھا کہ اس فاسقہ پر نظر ڈالنے کے بعد اپنی کسی بیوی سے صحبت کر لیتا ۔ کم بخت زانیہ کے چھونے سے اور ناز و ادا کرنے سے کیا کچھ نفسانی جذبات پیدا ہوئے

صفحہ ۳۷

ہوں گے اور شہوت کے جوش نے پورے طور پر کام کیا ہو گا۔ اسی وجہ سے یسوع کے منہ سے یہ بھی نہ نکلا کہ اے حرام کار عورت مجھ سے دُور رہ ۔ اور یہ بات انجیل سے ثابت ہوتی ہے کہ وہ عورت طوائف میں سے تھی اور زنا کاری میں سارے شہر میں مشہور تھی :

(نورالقرآن نمبر ۲ ص ۲۵)

پرستار، متکبر، خود بین خدائی کا دعویٰ کرنے والا "

(مکتوبات احمدیہ جلد نمبر ۳ ص ۲۳ تا ۲۴

مثلاً نورالقرآن حصہ دوم ص۱)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵ حاشیہ)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵ حاشیہ)

سے جو پلیدی اور ناپاکی کا مبرز ہے تولد پا کر مدت تک بھوک اور پیاس اور درد اور بیماری کا دکھ اٹھاتا رہا ۔

(براہینِ احمدیہ ص ۳۶۹)

حصہ چہارم

عورت کے پیٹ سے جنم لیا اور نہ صرف نو ماہ تک خون حیض کھا کر ایک گنہگار

نوٹ : خط کشیدہ الفاظ مرزا صاحب نے جلی قلم سے لکھے ہیں ۔ (از مرتب)

صفحہ ۳۸

جسم سے جو بت سوع اور تامار اور راحب جیسی حرام کار عورتوں کے خمیر سے اپنی فطرت میں امیت کا حصہ رکھتا تھا خون اور ہڈی اور گوشت کو حاصل کیا بلکہ بچپن کے زمانہ میں جو بیماریوں کی صعوبتیں ہیں جیسے خسرہ، چیچک دانتوں کی تکالیف وہ سب اٹھائیں اور بہت سا حصہ عمر کا معمولی انسانوں کی طرح کھو کر آخر موت کے قریب پہنچ کر خدائی یاد آ گئی ۔

(ست بچن ص۱۷۲)

(انجام آتھم ص ۵۱)

صفت نہیں جیسے بہرہ اور گونگا ہونا کسی خوبی میں داخل نہیں۔ ہاں یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفات کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے بچے اور کامل حُسنِ معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے ۔

(نور القرآن حصہ دوم ص ۱۱)

ابن مریم دجال اور یاجوج ماجوج

کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع کے گڑھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج و ماجوج کی عمیق

صفحہ ۳۹

تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابتہ الارض کی ماہیت کما حقہ ظاہر فرمائی گئی :

(ازالہ اوہام ص ۲۸۲)

لکم حقیقتہ من صفاء الہامی ٭ ....

اب دجال کے متعلق سنو میں اپنے صفائے الہام سے حقیقت حال تمہارے سامنے واضح کرتا ہوں ٭

ایھا الاعزۃ ! قد کشف ان وحدۃ الدجال لیست وحدۃ شخصیۃ بل وحدۃ نوعیۃ بمعنی اتحاد الآراء فی نوع الدجالیۃ کما یدل علیہ لفظ الدجال و ان فی ھذا لاسم آیات للمتفکرین ۔ فالمراد

معززین کرام ! دجال میں جو وحدت ہے وہ وحدت شخصیہ نہیں بلکہ وحدت نوعیہ ہے جس کا مطلب نوع دجالیہ میں آراء کا متفق ہو جانا ہے جیسا کہ لفظ دجال اس پر دلالت کرتا ہے اور اس نام میں غور کرنے والوں کیلئے نشانیاں ہیں ۔ پس لفظ دجال سے مراد

٭ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تو حقائق منکشف نہ ہوئے جو سید ولد آدم اور امام الانبیاء و اعلم الناس تھے، جیسا کہ مرزا صاحب کی محولہ بالا ازالہ اوہام ص ۲۸۲ کی عبارت سے معلوم ہوا مگر حضرت مرزا صاحب پر یہ حقائق بذریعہ الہام منکشف ہوگئے ۔ سبحان اللہ ؂

بت کریں آرزو خدائی کی
شان ہے تیری کبریائی کی

(از مرتب و مترجم)

صفحہ ۴۰
من لفة هذا الدجال ، سلسلة ملتفة ایسی متحد اور ہم آہنگ خواہشات دجالیہ
من همم دجالية لبعضها ظهير ہیں جن میں سے بعض ، بعض کی مددگار
للبعض" ہیں" (ترجمہ از مرتب)

(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۵۴ ، ۵۵۵)

معہود ہے ۔

(ازالہ اوہام ص ۲۹۴)

الاذنین کا اندازہ ستر باع کیا گیا ہے اور ریل کی گاڑیوں کا اکثر اسی کے موافق سلسلہ طولانی ہوتا ہے اور اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ وہ دخان کے زور سے چلتی ہیں، جیسے بادل ہوا کے زور سے تیز حرکت کرتا ہے ۔ پس جبکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھلے کھلے طور پر ریل گاڑی کی طرف اشارہ فرمایا ہے چونکہ یہ عیسائی قوم کا ایجاد ہے جن کا امام و مقتدا وہی دجالی گروہ ہے اس لیے ان گاڑیوں کو دجال کا گدھا قرار دیا گیا ۔"

(ازالہ اوہام ص ۲۹۴)

" تو ہم ایک گروہ دابۃ الارض کا زمین سے نکالیں گے، وہ گروہ متکلمین کا ہو گا جو اسلام کی حمایت میں تمام ادیان باطلہ پر حملہ کرے گا، یعنی وہ علماء ظاہر ہوں گے جن کو علم کلام اور فلسفے میں یدطولیٰ ہو گا ۔"

(ازالہ اوہام ص ۵۲۰)

آسمانی نور کا ایک ذرہ بھی نہیں، اور صرف وہ زمین کے کیڑے ہیں ۔

(شہادۃ القرآن ص ۲۵)

PDF 37

دابۃ الارض سے مراد علمائے سوء ہیں ۔ آئینہ البشریٰ ص۱۰

جس کی نسبت قرآن شریف میں وعدہ تھا ۔

(نزولِ مسیح ص ۱۳۹، ۱۴۰ ربوہ)

روس اور انگریزوں کا تسلط بیان فرمایا“ ۔ شہادت القرآن ص۲۵

ہیں جن میں سے ایک انگریز اور دوسرے روس ہیں۔ یہ دونو قومیں بلندی سے نیچے کی طرف حملہ کر رہی ہیں یعنی اپنی خدا داد طاقتوں سے فتح یاب ہوتی جاتی ہیں۔

(ازالہ اوہام ص۵۰۹)

ع۱ ان حوالہ جات میں مرزا صاحب نے دابۃ الارض سے علماء اسلام مراد لیے ہیں ۔ (مرتب)

٭ مرزا صاحب نے اوپر لکھا کہ دابۃ الارض سے مراد علماء اسلام ہیں مگر یہاں لکھتے ہیں کہ اس سے مراد ”طاعون“ ہے ۔ سچ ہے دروغ گو را حافظہ نہ باشد ۔ بایں ہمہ مرزا صاحب دعوے دار بھی ہیں کہ یہ حقائق بذریعہ ”الہام“ مجھ پر منکشف کیے گئے اور میرے سوا ”کسی“ پر حتیٰ کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی منکشف نہ ہوئے جیسا کہ ابھی آپ نے ملاحظہ فرمایا ۔ (مرتب)

PDF 38

اپنے مولد قادیان کے متعلق مرزا صاحب کے عقائد !

ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

( درثمین ص ۵۲ )

" مکہ " اور " مدینہ " اور " قادیان " ۔

( ازالہ اوہام ص ۱۴۰ )

گا وہ کاٹا جاوے گا ۔ تم ڈرو کہ تم میں سے کوئی نہ کاٹا جاوے ۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا ۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں :

( حقیقتہ الرؤیا ص ۴۵ بحوالہ مجدد پاکٹ بک ص ۳۹۱ )

کے طور پر بنایا ہے اور اس کو تمام جہان کے لیے " ام " قرار دیا ہے اور ہر ایک متنفس دنیا کو اسی مقدس مقام سے حاصل ہو سکتا ہے اس لیے یہ مقام " خاص " اہمیت رکھنے والا مقام ہے ۔

( خطبہ میاں محمود احمد مندرجہ الفضل ۳۰ جنوری ۱۹۲۵ء )

" قادیان کی عزت کر کے مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ کی توہین کرنے والے نہیں ہو سکتے ۔ خدا تعالےٰ نے ان تینوں مقامات کو مقدس کیا ۔ اور تینوں مقامات کو اپنی

PDF 39

تجلیات کے اظہار کے لیے چن لیا “

(تقریر میاں محمود احمد، الفضل ۳ ستمبر ۱۹۳۵ء)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودہ کے مطابق خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے . . . . قادیان خدا کے مسیح کا مولد ومسکن اور مدفن ہے۔ اس بستی میں وہ مکان ہے جس میں دنیا کا نجات دہندہ دجال کا قاتل‘ صلیب کو پاش پاش کرنے والا اور اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرنے والا پیدا ہوا۔ اس میں اس نے نشو و نما پائی اور اسی جگہ اس کی زندگی گزری ۔

(الفضل ۱۳ دسمبر ۱۹۲۹ء)

زمین ”بابرکت“ ہے۔ یہاں ”مکہ مکرمہ“ اور ”مدینہ منورہ“ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔

(ارشاد میاں محمود احمد۔ الفضل ۱۱ دسمبر ۱۹۳۲ء)

اور فیوض یہاں نازل ہوتے ہیں اور کسی جگہ نہیں . . . حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جو لوگ قادیان نہیں آتے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہی رہتا ہے“

(انوار خلافت ص ۱۱۷)

(بحوالہ قادیانی مذہب)

تو ارض قادیان فخر عجم ہے

(الفضل ۲۵ دسمبر ۱۹۳۲ء)

PDF 40

مسجد اقصیٰ

فی القادیان ۔

(خطبہ الہامیہ مترجم ص۲۷ حاشیہ)

ہوئے تو وہ مسجد اقصیٰ یہی ہے جو قادیان میں بجانب مشرق واقع ہے جس کا نام خدا کے کلام نے مبارک رکھا ہے ۔“

(خطبہ الہامیہ ص۲۲)

و من دخلہ کان امنا “

(تبلیغ رسالت جلد ششم ص۱۵۲، ۱۵۳)

(مرتب)

PDF 41

حج

مرزائیوں کا حج کے بارے میں عقیدہ !

مقرر کیا تھا۔ آج احمدیوں کے لیے دینی لحاظ سے تو حج مفید ہے مگر اس سے جو اصل غرض قوم کی ترقی تھی وہ انہیں حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ حج کا مقام ایسے لوگوں کے قبضہ میں ہے جو احمدیوں کو قتل کر دینا بھی جائز سمجھتے ہیں ۔ اب خدا تعالیٰ نے ”قادیان“ کو اس کام کے لیے مقرر کیا ہے ۔ ص۷ جیسا کہ حج میں رفث، فسوق اور جدال منع ہے ایسا ہی اس جلسہ میں بھی منع ہے ۔ ص۷

خطبہ جمعہ از میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ برکات خلافت ص۲۷ مجموعہ تقاریر میاں صاحب جلسہ سالانہ ۱۹۱۴ء

ہے وہ خشک اسلام ہے ۔ اس طرح اس ظلی حج کو چھوڑ کر مکہ والا حج بھی خشک رہ جاتا ہے کیونکہ وہاں آجکل حج کے مقاصد پورے نہیں ہوتے ۔“

ص۱۰۰

صفحہ ۴۶

ثواب زیادہ ہے “

(آئینہ کمالات اسلام ص ۳۵۲)

قادیانی اور انگریزی حکومت

حکومت برطانیہ کی تائید اور حمایت :

( پچاس الماریاں )

” میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید و حمایت میں گزرا ہے اور میں نے مخالفت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی تمام کتابوں کو عرب ممالک اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش یہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرنے والے ہیں، ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں “

( تریاق القلوب ص ۵۲ )

( پچاس ہزار کتابیں اور رسالے )

صفحہ ۴۷

کے قریب کتابیں اور رسالے اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلام میں اس مضمون کے شائع کیے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئیے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں، یعنی اردو، فارسی، عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں اور یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکے اور مدینہ میں بھی بخوبی شائع کردیں اور روم کے پایۂ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا اشاعت کردی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلیظ خیالات چھوڑ دیئے جو نافہم مُلّاؤں کی تعلیم سے انکے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکتا۔"

(ستارہ قیصریہ ص۳، مرزا صاحب کی ملکہ وکٹوریہ کو چٹھی)

:پچاس گھوڑے پچاس سوار

دربار میں ان کو کرسی ملتی تھی اور گورنمنٹ برطانیہ کے وہ سچے شکر گزار اور خیر خواہ تھے۔ ۱۸۵۷ء کے غدر (استعمار کے خلاف مشہور جنگ آزادی)، کے ایام میں پچاس گھوڑے انہوں نے اپنے پاس سے خرید کر اور اچھے اچھے جوان مہیا کر کے پچاس سوار بطور مدد کے سرکار کو دیئے۔"

صفحہ ۴۸

سے وہ اس گورنمنٹ میں بہت ہر دلعزیز تھے۔ بحوالہ ازالہ اوہام برحاشیہ ص ۵۵

(ساٹھ برس کی عمر تک اہم کام)

اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں تاکہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں جو انکو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔

(تبلیغ رسالت جلد ۷ ، ص ۱۶)

(قدیم خدمت گزار)

اس کے ناصح اور خیر خواہوں میں سے ہیں اور ہر ایک وقت پر دلی عزم سے ہم حاضر ہوتے رہے ہیں اور میرا باپ گورنمنٹ کے نزدیک صاحب مرتبہ اور قابل تحسین تھا اور اس سرکار میں ہماری خدمات نمایاں ہیں اور میں گمان نہیں کرتا کہ یہ گورنمنٹ کبھی ان خدمات کو بھلا دے گی اور میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ ابن مرزا عطا محمد رئیس قادیان اس گورنمنٹ کے خیر خواہوں اور مخلصوں میں سے تھا اور اس کے نزدیک صاحب مرتبہ تھا اور صدر نشیں مجالس عزت سمجھا گیا تھا اور یہ گورنمنٹ خوب اس کو پہچانتی تھی اور ہم پر کبھی کوئی بدگمانی نہیں ہوئی بلکہ ہمارا اخلاص تمام لوگوں کی نظروں میں ثابت ہو گیا اور حکام پر کھل گیا اور سرکار انگریزی اپنے ان حکام سے دریافت کر لیوے جو

صفحہ ۴۹

ہماری طرف آئے اور ہم میں رہے اور ہم نے ان کی آنکھوں کے سامنے کیسی زندگی بسر کی اور کس طرح ہم " ہر ایک خدمت میں سبقت کرنے والوں کے گروہ میں رہے "

( نور الحق حصہ اول ۲۷ ، ۲۸ )

انگریزی حکومت کا قلعہ اور تعویذ

کتابیں عرب کے لوگوں کو برابر پے در پے پہنچتی رہیں، یہاں تک کہ میں نے ان میں تاثیر کے نشان پائے اور بعض عرب میرے پاس آئے، اور بعضوں نے خط و کتابت کی اور بعضوں نے بدگوئی کی اور بعض صلاحیت پر آ گئے اور موافق ہو گئے ، جیسا کہ حق کے طالبوں کا کام ہے اور میں نے ان ایجادوں میں ایک زمانہ طویل صرف کیا ہے ، یہاں تک کہ گیارہ برس انہیں اشاعتوں میں گذر گئے اور میں نے کچھ کوتاہی نہیں کی ، پس میں یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ میں ان خدمات میں یکتا ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں ان تالیفات میں یگانہ ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس گورنمنٹ کے لئے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک پناہ کے ہوں ، جو آفتوں سے بچاوے اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ خدا ایسا نہیں کہ ان کو دُکھ پہنچاوے اور تو ان میں ہو ، پس اس گورنمنٹ کی خیر خواہی اور مدد میں کوئی دوسرا شخص میری نظیر اور مثیل نہیں اور عنقریب یہ گورنمنٹ جان لے گی ، اگر مردم شناسی کا اس میں مادہ ہے ۔

( نور الحق حصہ اول ص ۳۳ ، ۳۴ )

صفحہ ۵۰

"میری اور میری جماعت کی جائے پناہ"

سلطنت کو بنا دیا ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے نہ یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے نہ مدینہ میں :

(تریاق القلوب ص ۳۳۲ قادیان)

"انگریزوں کا خود کاشتہ پودا"

کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جاں نثار، خاندان ثابت کر چکی اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ (برطانیہ) کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں :"

"اس خود کاشتہ پودہ" کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔

(تبلیغ رسالت جلد ۷ ص ۱۹)

"میرا مذہب اور اصول"

صفحہ ۵۱

سے ثبوت پیش کیے ہیں صاف ظاہر ہے کہ میں سرکار انگریزی کا با دل و جان خیر خواہ ہوں اور میں ایک شخص امن دوست ہوں اور اطاعت گورنمنٹ اور ہمدردی بندگانِ خدا کی میرا اصول ہے اور یہ وہی اصول ہے جو میرے مریدوں کی شرائطِ بیعت میں داخل ہے ۔"

(کتاب البریہ ص ۸ اشتہار واجب الاظہار)

حصے ہیں ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو، جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو، سو وہ سلطنت، حکومتِ برطانیہ ہے ۔"

(شہادت القرآن ص ۳)

" قادیانی اور جہاد "

موسیٰ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا ۔ ۔ ۔ اور مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا ۔"

(اربعین نمبر ۴ ص ۱۵ حاشیہ)

اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا ہے اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے جس نے آج سے تیرہ سو برس

صفحہ ۵۲

پہلے فرما دیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا ہے ۔

( خطبہ الہامیہ مترجم ص ۱۶ و تبلیغ رسالت ج ۹ ص ۴۲ )

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو! خیال دین کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے ! دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نورِ خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

( ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ۲۶ )

اندرونی حالات دریافت کرے .... ہمارے امام (مرزا صاحب) نے ایک بڑا حصہ عمر کا جو بائیس برس ہیں، اس تعلیم میں گزارا ہے کہ جہاد حرام اور قطعاً حرام ہے۔ یہاں تک کہ بہت سی عربی کتابیں بھی مضمون ممانعت جہاد لکھ کر ان کو بلادِ اسلام، عرب، شام ، کابل وغیرہ میں تقسیم کیا ۔

( رسالہ ریویو آف ریلیجنز مولوی محمد علی قادیانی بابت ۱۹۰۲ء جلد ۱ ، ۲ )

جو دن رات کوشش کر رہا ہے کہ مسلمانوں کے خیالات میں سے جہاد کی " بیہودہ رسم " کو مٹا دے ۔

( بیان مرزا مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ۱۹۰۲ء جلد ۱ ، ۱۲ )

یاد رہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور

صفحہ ۵۳

پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے، ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں، اور نہ اس کی انتظار ہے، بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا اور ”قطعاً“ اس بات کو حرام جانتا ہے“

(اشتہار واجب الاظہار تریاق القلوب ص ۳۳۲)

مرزا صاحب پر ایمان نہ لانیوالے

کافر اور جہنمی

سے اس فرقہ کی حمایت کے لئے ایک کرناء بجائے گا اور اس کرناء کی آواز سے ہر ایک سعید اس فرقہ کی طرف کھنچا آئے گا، بجز ان لوگوں کے جو شقی ازلی ہیں، جو دوزخ کے بھرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۸۲ ، ۸۳)

مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے“

(تذکرہ ص ۳۴۲ ، ۳۴۳)

نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں“

(آئینہ صداقت از مرزا محمود ص ۳۵)

صفحہ ۵۴

غیر قادیانیوں سے نکاح کفر ہے

وہ احمدی نہیں ...... ایسی شادی میں شریک ہونا بھی جائز نہیں"

(ڈائری میاں محمود احمد مندرجہ الفضل قادیان ۲۳ مئی ۱۹۲۱ء)

بھی نکاح جائز ہے ..... اپنی لڑکی غیر احمدی کو نہ دینی چاہیے، اگر ملے تو لے بے شک لو، لینے میں حرج نہیں اور دینے میں گناہ ہے :

(الفضل ۱۶ دسمبر ۱۹۲۰ء)

ایمان رکھتے ہیں، نکاح جائز ہے"۔

(الفضل ۸ فروری ۱۹۳۰ء)

(الفضل ۱۷ جولائی ۶۱۹۲۲)

سے کفر کا فتویٰ لگ سکتا .... چنانچہ غیر احمدی کو لڑکی کا رشتہ دینا بھی اسی قسم میں سے ہے :

(الفضل ۴ مئی ۱۹۲۲ء)

صفحہ ۵۵

ہے، وہ غیر احمدی کو رشتہ نہ دینا ہے۔ جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے وہ یقیناً حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے۔ کیا کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بیدین ہے جو کسی ہندو یا کسی عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو مگر اس معاملہ میں وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دے دیتے ہو : "

(ملائکۃ اللہ ص۴۶)

" غیر احمدیوں کے پیچھے نماز قطعاً حرام ہے ! "

خواہ وہ کیسا ہی ہو اور لوگ اس کی کیسی ہی تعریف کرتے ہوں نماز نہ پڑھو۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور اللہ تعالیٰ ایسا ہی چاہتا ہے۔ اگر کوئی شخص متردد یا مذبذب ہے تو وہ بھی مکذب ہی ہے، خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ اس طرح احمدی اور اس کے غیر میں تمحیص و تمیز کر دے : "

(الفضل ۲۸ اگست ۱۹۱۷ء)

ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہیے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ امامکم منکم یعنی جب مسیح نازل ہو گا تو تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم

صفحہ ۵۶

میں سے ہوگا۔ پس تم ایسا ہی کرو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہو جائیں اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو۔

(حاشیہ اربعین نمبر ۳، ص ۳۴)

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۲ حاشیہ)

کے متعلق بار بار پوچھتے ہیں۔ میں کہتا ہوں تم جتنی دفعہ بھی پوچھو گے اتنی دفعہ میں یہی جواب دوں گا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں، جائز نہیں ، جائز نہیں۔"

(انوار خلافت میاں محمود احمد ص ۸۹)

مصلحتاً کسی غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھ لینے کا حکم :

" ۱۹۱۲ء میں میں سید عبدالحئی صاحب عرب مصر سے ہوتے ہوئے حج کو گیا ۔ قادیان سے میرے نانا صاحب میر ناصر نواب صاحب بھی براہ راست حج کو گئے جدہ میں ہم مل گئے ، اور مکہ مکرمہ اکٹھے گئے، پہلے ہی دن طواف کے وقت مغرب کی نماز کا وقت آگیا ۔ میں ہٹنے لگا مگر راستے رک گئے تھے ، نماز شروع ہو گئی تھی نانا صاحب جناب میر صاحب نے فرمایا حضرت خلیفۃ المسیح کا حکم ہے کہ مکہ میں ان کے پیچھے نماز پڑھ لینی چاہیے۔ اس پر میں نے نماز شروع کر دی، پھر اسی جگہ ہمیں عشا کا وقت آگیا، وہ نماز بھی ادا کی۔ گھر جا کر میں نے عبدالحئی صاحب عرب سے کہا کہ وہ نماز تو حضرت خلیفۃ المسیح کے حکم کی تھی اب آؤ خدا تعالیٰ کی نماز پڑھ لیں جو غیر احمدیوں کے پیچھے نہیں ہوتی ۔ اور ہم نے وہ دونوں نمازیں دہرائیں .... اور باوجود لوگوں کے روکنے کے برابر الگ نماز ادا کرتا رہا اور بیس دن کے قریب جو ہم وہاں رہے یا گھر پر نماز پڑھتے

صفحہ ۵۰

رہے یا مسجد کعبہ میں الگ اپنی جماعت کرا کے .... پیچھے رہے ہوئے لوگوں کے ساتھ مل جانے سے بعض دفعہ اچھی خاصی جماعت ہو جاتی تھی ... (ہمارے قادیان واپس آنے پر) ایک صاحب حکیم محمد عمر نے یہ ذکر حضرت خلیفۃ المسیح کے پاس شروع کر دیا ۔ آپ نے فرمایا ”ہم نے ایسا کوئی فتویٰ نہیں دیا۔ ہماری یہ اجازت تو ان لوگوں کے لیے ہے جو ڈرتے ہیں اور جن کے ابتلا کا ڈر ہے وہ ایسا کر سکتے ہیں کہ اگر کسی جگہ گھر گئے ہوں تو غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھ لیں اور پھر آکر دہرا لیں ۔

(آئینہ صداقت ص۹۱‘ ۹۲)

مسلمانوں حتیٰ کہ ان کے بچوں کی بھی نماز جنازہ ناجائز

تو مسیح موعود کا منکر نہیں؟ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندو اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا، کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذہب ہوتا ہے شریعت وہی مذہب ان کے بچہ کا قرار دیتی ہے۔ پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہی ہوا اس لیے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔

(انوار خلافت ص۹۳ میاں محمود)

کے مر چکنے کے بعد وہاں کوئی احمدی پہنچے تو وہ جنازہ کے متعلق کیا کرے۔ اس کے متعلق یہ ہے کہ ہم تو ظاہر پر ہی نظر رکھتے ہیں چونکہ وہ ایسی حالت میں مرا ہے کہ خدا تعالیٰ کے رسول اور نبی کی پہچان اسے نصیب نہیں ہوئی، اس لیے

صفحہ ۵۸

ہم اس کا جنازہ نہیں پڑھیں گے:

(ارشاد مرزا محمود احمد مندرجہ الفضل ۲۱ مئی ۱۹۱۵ء)

اس لیے نہیں پڑھا کہ وہ غیر احمدی تھا"۔

(اخبار الفضل ۱۵ دسمبر ۱۹۲۱ء) و (پیغام صلح ، جولائی ۱۹۲۴ء ص ۳۴

کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی دوسرے دنیوی، دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے، سو یہ دونوں ہمارے لیے حرام قرار دیئے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے اور اگر یہ کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام کیوں کہا جاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریم نے یہود تک کو سلام کا جواب دیا ہے۔

کلمتہ الفصل مرزا بشیر احمد قادیانی، مندرجہ ریویو آف ریلیجنز

ص ۱۶۹ نمبر ۳ جلد نمبر ۱۴)

بقول مرزا صاحب یہ نہایت فرمانبردار اور بڑی خدمت گزار عورت تھی مگر پھر بھی مرزا صاحب نے محض مسلمان ہونیکے جرم میں اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی۔ اسی طرح بانی پاکستان مسٹر محمد علی جناح جب فوت ہوئے تو سر ظفر اللہ خاں قادیانی نے انکی نماز جنازہ نہ پڑھی۔ باوجودیکہ وہ اسوقت حکومت پاکستان کے وزیر خارجہ تھے جب ان سے اسکے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے ایک مسلمان کا کافر وزیر یا ایک کافر حکومت کا مسلمان ملازم تصور کر لیں۔

صفحہ ۵۹

مرزائیوں سے ایک سوال

مرزا صاحب وفاتِ مسیح پر اپنی تالیفات کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں :

تلك كتب ينظر اليها كل یہ ایسی کتابیں ہیں جنہیں ہر مسلمان پیار و مسلم بعين المحبة والمودة محبت کی نظر سے دیکھتا، ان کے و ينتفع من معارفها و معارف سے مستفیض ہوتا، مجھے قبول کرتا يقبلني ويصدق دعوتي اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے مگر الا ذرية البغايا الذين ختم کنجریوں کی اولاد، جن کے دلوں پر اللہ الله على قلوبهم فهم لا نے مہر لگا دی ہے ۔ وہ قبول نہیں يقبلون - کرتے :

(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۴۷‘ ۵۴۸)

گویا مرزا صاحب پر ایمان نہ لانے والے سب کنجریوں کی اولاد ہیں۔ مرزا صاحب کا بڑا لڑکا فضل احمد آپ پر ایمان نہیں لایا تھا اور مرزا صاحب کی زندگی میں ہی مر گیا۔ مرزا صاحب نے اس کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی، جیسا کہ ابھی آپ نے ملاحظہ فرمایا ۔

مرزائی دوستو ! اپنے نبی مرزا غلام احمد قادیانی کے فتوے کی روشنی میں ذرا سوچ کر بتاؤ کہ فضل احمد کون تھا ؟ اس کی ماں کیسی تھی اور جس حضرت کے گھر میں ایسی پاکیزہ عورت تھی وہ حضرت کیا ہوئے ؟ ماشاء اللہ کیسا مطہر خاندان ہے۔ مرزا صاحب نے تمام دنیا کے مسلمانوں کو غلیظ ترین گالیاں دیں مگر خدائے عظیم و برتر کی قدرت سے وہ تمام گالیاں خود مرزا صاحب اور ان کے خاندان کی طرف لوٹ آئیں ۔ سچ ہے .... ”آسمان کا تھوکا منہ پر“

صفحہ ۶۰

خاتمہ

دین سے بغاوت ، ملت محمدیہ کے خلاف خروج ، کھلم کھلا ارتداد یہ افکار و آراء اور صریح کافرانہ عقائد جو ہم نے اُمت محمدیہ علی صاحبہا الف الف تحیۃ وسلام کے سامنے پیش کیے ، یہ اپنے ابطال پر خود شاہد ہیں۔ انہیں جھوٹا ثابت کرنے کے لیے کسی مستقل رد یا کسی دلیل و برہان کی ضرورت نہیں ۔ ایسی چیزیں جو تنقید و تردید کے لیے کسی عالم مخلص یا مومن صادق کے ہاں محتاج دلیل نہیں ، اتنی واضح ہیں کہ ان میں کسی بھی تاویل کا کوئی امکان نہیں ۔ اس نے اپنے اُن عقائد کی اس قدر وضاحت کی ہے کہ اس نے اپنے کفر و ارتداد میں کسی شک وشبہ اور تاویل کی گنجائش نہیں چھوڑی ، چونکہ اس کے تمام عقائد کا جمع اور اکٹھا کرنا مقصود نہ تھا اس لیے یہ چند حوالے ، مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر پیش کیے گئے ہیں ، ورنہ اس کی کتابیں تو ایسے زہریلے مواد سے بھری پڑی ہیں ، جنہیں دیکھنے سے عقل کے طوطے اڑ جاتے ہیں۔ یہ مشت بھر اسے کافر قرار دینے کے لیے کافی ہے۔

تمام کفریات دیگر اور دعاوی از قسم ، اوّل دعویٰ مہدویت و مثیل مسیح اور پھر مسیح موعود، دعویٰ وفات مسیح اور ان کے قرب قیامت نزول کا انکار، ان کی شان میں گستاخیاں اور ایسی فحش اور غلیظ گالیاں جنہیں سُن کر کلیجہ فگار اور جگر صد چاک ہوتا ہے۔ انہیں یوسف نجار کا بیٹا کہنا ، قرآن مجید پر بہتان باندھنا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس معنی میں

صفحہ ۶۱

خاتم النبیین ہونے کا انکار کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا ، امام الانبیاء سے اپنے معجزات کے زیادہ ہونے اور تمام انبیاء سے افضل ہونے کا دعویٰ اعلان منسوخیٔ حج اور جہاد اور یہ کہ انگریزی حکومت زمین پر خدا کا سایہ ہے اور اسکا اپنا کھلا اقرار کہ قادیانیت ”انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے ۔ تمام مسلمانوں کو گالیاں کہ جو مجھ پر ایمان نہیں لاتے وہ کنجریوں کی اولاد ہیں اور اسی طرح کے جہل و الحاد و کفر و ضلال جو سابقہ صفحات میں بیان ہوئے اگر تمام کے تمام جمع کیے جائیں تو پھر آپ کا اسکے کفر کے بارے میں کیا خیال ہے ! کیا اس کافر و ملحد نے کفر و ضلال اور کھلم کھلا گمراہی کی کوئی بھی ایسی بات چھوڑی ہے جو اس نے اپنے دعاوی میں ذکر نہ کی ہو۔

بلاشبہ یہ برطانوی سیاست کا تخم ریزہ تھا جس نے ملت اسلامیہ کو متزلزل کرنا چاہا ۔ اس نے قرآن مجید کو جھٹلایا ۔ ۔ ۔ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا بنایا ، اجماع امت کو پارہ پارہ کیا اور کفر و الحاد میں اپنے اگلے پچھلے سب فتنہ پردازوں کو مات کر گیا ، لیکن صد شکر کہ اپنی امیدوں اور آرزوؤں میں ناکام و نامراد ہی رہا اور علماء امت کی زبان و قلم اور روح و بدن کی کوشش ہائے پیہم سے یہ شجرہ ملعونہ بیخ و بن سمیت اکھاڑ کر پھینک دیا گیا :

يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُوْنَ ~ هذا وصلى الله على خير خلقه سيدنا محمد خاتم النبيين وامام المتقين وسيد الاولين والاخرين وعلى آله الغر الميامين واصحابه العاملين و ايات الدين وعلى تابعيهم باحسان الى يوم الدين ۔ محمد یوسف بنوری

صفحہ ۶۲

قادیانی

دائرہ اسلام سے خارج ھیں

”مؤتمر عالم اسلام مکہ المکرمہ کی قرارداد

قادیانیت وہ باطل مذہب ہے جو اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے اس کی اسلام دشمنی ان چیزوں سے واضح ہے ۔

قادیانیت برطانوی استعمار کی پروردہ ہے اور اس کے زیر سایہ سرگرم عمل ہے ۔ قادیانیوں نے امت مسلمہ کے مفادات سے ہمیشہ غداری کی ہے اور استعمار اور صہیونیت سے مل کر اسلام دشمن طاقتوں سے تعاون کیا ہے اور یہ طاقتیں بنیادی اسلامی عقائد میں تحریف و تغیر اور ان کی بیخ کنی میں مختلف طریقوں سے مصروف عمل ہیں ۔

طاقتوں کے سرمائے سے تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور قادیانی مختلف زبانوں میں قرآن مجید کے تحریف شدہ ترجمے شائع کر رہے ہیں ، ان خطرات کے پیش نظر کانفرنس نے مندرجہ ذیل قرارداد منظور کی ہے :۔

تمام مقامات میں جہاں وہ سیاسی سرگرمیوں میں مشغول ہیں ان کا محاسبہ کریں اور ان کے پھیلائے ہوئے جال سے بچنے کے لیئے عالم اسلام کے سامنے ان کو پوری طرح بے نقاب

صفحہ ۶۳

بائیکاٹ کیا جائے اور ان کے کفر کے پیش نظر ان سے شادی بیاہ کرنے سے اجتناب کیا جائے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے۔

قادیانی کے متبعین کی ہر قسم کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے نیز ان کے لیئے اہم سرکاری عہدوں کی ملازمتیں ممنوع قرار دی جائیں۔

قرآن کا شمار کر کے لوگوں کو اس سے متنبہ کیا جائے اور ان تراجم کی ترویج کا سدّ باب کیا جائے۔

روزنامہ ”الندوہ“ سعودی عرب ۱۴؍ اپریل سنہ ۱۹۷۴ء

بحوالہ تحفہ قادیانیت

PDF 60

کتابیات