بسم اللہ الرحمن الرحیم
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
تحفہ قادیانیت
جلد چہارم
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
رجسٹرڈ
حضوری باغ روڈ ملتان
514122
بسمہ تعالیٰ
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ
تحفہ قادیانیَّت
جلد چہارم
مولانا محمّد یوسف لُدھیانوی
عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّتْ
حضوری باغ روڈ ملتان ☎ 514122
مُقَدِّمَة
شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نور اللہ مرقدہ کو قدرت نے تردید قادیانیت کے لئے منتخب کیا تھا، آپ کی طالب علمی کے دور سے ہی تربیت اس ماحول میں ہوئی تھی چنانچہ جامعہ خیر المدارس میں تعلیم کے دوران آپ جمعہ کی تقریر سننے کے لئے حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ کی مسجد تشریف لے جاتے تھے۔ اسی کا فطری اثر تھا کہ ”قادیانیت“ کی نفرت دل میں بیٹھی ہوئی تھی، ابتدائی تدریسی دور میں جب آپ کی نظر ”صدقِ جدید“ کے اس شذرہ پر پڑی جس میں مولانا عبد الماجد دریا آبادی نے لاعلمی یا غلط فہمی کی بنا پر قادیانیوں کی حمایت کی تھی تو آپ تڑپ اٹھے اور فوری طور پر اس کا جواب لکھ کر ”ماہنامہ دار العلوم دیوبند“ کو ارسال کر دیا جو نہایت آب و تاب کے ساتھ دار العلوم میں شائع ہوا۔ اس کے بعد آپ اپنی تدریسی مصروفیات میں منہمک ہوگئے تا آنکہ قدرت کی طرف سے تردید قادیانیت کے لئے آپ کو زندگی وقف کرنے کا حکم نامہ محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی طرف
سے ملا اور آپؒ نے اپنی قلمی جولانیوں کا رخ تردید قادیانیت کی طرف ایسا پھیرا کہ آج اس موضوع پر سب سے زیادہ لٹریچر آپ کا تحریر کردہ ہے جو تحفہ قادیانیت کی شکل میں ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے جو تین جلدوں میں شائع ہو چکا ہے۔ آپؒ کے سانحہ شہادت کے بعد ظاہری طور پر یہ سلسلہ منقطع ہو گیا مگر آپ کے بعض مضامین جن میں آپ کی وہ پہلی تحریر بھی شامل ہے، اب چوتھی جلد کی شکل میں پیش خدمت ہے۔ جس میں حسب سابق حضرت شہیدؒ کے معاون خصوصی رفیق مکرم مولانا سعید احمد جلالپوری کی تدوین و ترتیب کی محنت و کاوش قابل تحسین ہے اسی طرح مولانا نعیم امجد سلیمی، برادرم عبداللطیف طاہر، جناب سید اطہر عظیم، برادرم حافظ عتیق الرحمٰن لدھیانوی کی معاونت بھی شامل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے اور اس مجموعہ کو حضرت شہیدؒ کے لئے صدقہ جاریہ بنائے۔ (آمین)
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد و آلہ و صحبہ اجمعین
(مفتی) محمد جمیل خان خاکپائے حضرت شہید اسلامؒ
فہرست
اسلام کے بنیادی عقائد ۷ مدیر ”صدق“ کی قادیانیت نوازی ۱۰۳ قادیانیت اور تحریف قرآن ۱۴۱ فتح مبین ۲۴۵ صدی کا سرا ۲۷۷ لاہوری قادیانیوں کی مضحکہ خیزیاں ۲۹۱ مراق اور نبوت ....... شیخ عبدالرحمن مصری کی خدمت میں ۳۲۹ مسیح قادیاں اور اس کے حواری ۳۳۹ قادیانی پیشگوئیوں کا انجام (مرزائی ارادے اور خدائی ارادے) ۳۵۳ عقیدۂ حیات مسیح علیہ السلام (مدیر ”پیغام صلح“ کے جواب میں) ۳۶۶ ابوظفر چوہان کے جواب میں ۴۰۹ رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام (چند مغالطوں کا جواب) ۴۳۶ رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مرزا طاہر کی الٹی منطق ۴۴۵ مسیح قادیاں کی عبرت ناک ناکامی ۴۵۲ معیار صداقت اور مرزا غلام احمد قادیانی ۴۶۲ قادیانی مسئلہ آئینی ترمیم کے بعد ۴۶۹ امتناع قادیانیت آرڈی نینس پر تبصرہ ۴۷۸ امتناع قادیانیت آرڈی نینس میں مسلمانوں کی کامیابی ۴۸۴ لندن میں اسلام آباد ۴۸۹ مباہلہ کی حقیقت ۴۹۵ اسلام میں خاتم النبیین کا مفہوم اور قادیانیت ۵۰۰ مقام نبوت اور قادیانیت ۵۵۱ قادیانیوں سے چند سوال ۶۶۳
اسلام کے بنیادی عقائد
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی، اما بعد:
سوال: ۱....... مذہب اسلام کے بنیادی عقائد کیا ہیں؟ قرآن وحدیث اور اقوال فقہاء کے حوالہ جات متعلقہ تحریر فرمائیں؟
جواب: ...... اسلام اور کفر کے درمیان خط امتیاز کیا ہے؟ اور وہ کون سے امور ہیں جن کا ماننا شرط اسلام ہے؟ اس کے لئے چند نکات ملحوظ رکھنا ضروری ہے:
- ۱: ...... یہ بات تو ہر عام وخاص جانتا ہے بلکہ غیر مسلموں تک کو معلوم ہے کہ :
”مسلمان ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی برحق تسلیم کرتے ہوئے آپ کے لائے ہوئے دین کو قبول کرنے کا عہد کریں“ گویا یہ طے شدہ امر ہے (جس میں کسی کا اختلاف نہیں) کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے پورے دین کو من وعن تسلیم کرنا اسلام ہے اور دین محمدی ﷺ کی کسی بات کو قبول نہ کرنا کفر ہے کیونکہ یہ آنحضرت ﷺ کی تکذیب ہے۔“
- ۲: ...... اب صرف یہ بات تنقیح طلب باقی رہ جاتی ہے کہ وہ کون سی چیزیں ہیں جن
کے بارے میں ہم قطعی دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں داخل ہیں اور واقعی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی ان کی تعلیم فرمائی ہے؟ اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو دین ہم تک پہنچا ہے، اس کا ایک حصہ ان حقائق پر مشتمل ہے، جو ہمیں ایسے قطعی و یقینی اور غیر مشکوک تواتر کے ذریعہ سے پہنچا ہے کہ ان کے ثبوت میں کسی قسم کے ادنیٰ اشتباہ کی گنجائش نہیں۔ مثلاً جس درجہ کے تواتر اور تسلسل سے ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی برحق کی حیثیت سے لوگوں کو ایک دین کی دعوت دی تھی ٹھیک اسی درجہ کے تواتر و تسلسل سے ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت میں لوگوں کو لا الہ الا اللہ کی طرف بلایا یعنی توحید کی دعوت دی، شرک و بت پرستی سے منع فرمایا، قرآن کریم کو کلام الٰہی کی حیثیت سے پیش کیا، قیامت کے حساب و کتاب، جزا و سزا اور جنت و دوزخ کو ذکر فرمایا۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ کی تعلیم دی۔ اس قسم کے وہ تمام حقائق جو ایسے قطعی و یقینی تواتر کے ذریعہ ہمیں پہنچے ہیں، جنکو ہر دور میں مسلمان بالاتفاق مانتے چلے آئے ہیں۔ اور جن کا علم صرف خواص تک محدود نہیں رہا بلکہ خواص کے حلقے سے نکل کر عوام تک میں مشہور ہو گیا۔ قرآن کریم میں بہت سی جگہ اس مضمون کو ذکر کیا گیا ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہے :
”آمن الرسول بما انزل اليه من ربه والمؤمنون كل آمن بالله وملائكته وكتبه ورسله لا نفرق بين احد من رسله وقالوا سمعنا واطعنا غفرانك ربنا واليك
المصیر۔“
(البقرہ ۔ ۲۸۵)
ترجمہ: ”اعتقاد رکھتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس چیز کا جو ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے اور مؤمنین بھی، سب کے سب عقیدہ رکھتے ہیں اللہ کے ساتھ اور اس کے فرشتوں کے ساتھ اور اس کی کتابوں کے ساتھ اور اسکے پیغمبروں کے ساتھ ۔ ہم اس کے سب پیغمبروں میں سے کسی میں تفریق نہیں کرتے، اور ان سب نے یوں کہا ہم نے (آپ کا ارشاد) سنا اور خوشی سے مانا، ہم آپ کی بخشش چاہتے ہیں اے ہمارے پروردگار! اور آپ ہی کی طرف ہم سب کو لوٹنا ہے۔“
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
دوسری جگہ ارشاد ہے :
” فلا وربك لايؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا فى انفسهم حرجاً مما قضيت ويسلموا تسليما ۔“
(النساء: ٦٥)
ترجمہ: ”پھر قسم ہے آپ کے رب کی یہ لوگ ایماندار نہ ہوں گے، جب تک یہ بات نہ ہو کہ ان کے آپس میں جو جھگڑا واقع ہو اس میں یہ لوگ آپؐ سے تصفیہ کراویں، پھر اس آپؐ کے تصفیہ سے اپنے دلوں میں تنگی نہ پاویں، اور پورا پورا تسلیم کرلیں۔“
تیسری جگہ ارشاد ہے :
”وما كان لمؤمن ولا مؤمنة اذا قضى الله ورسوله امراً ان يكون لهم الخيرة من امرهم ومن يعص الله و رسوله فقد ضل ضلالاً مبيناً ۔“
(الاحزاب : ۳۶)
ترجمہ : ”اور کسی ایماندار مرد اور کسی ایماندار عورت کو گنجائش نہیں ہے جب کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کا حکم دیدیں کہ پھر (ان مؤمنین) کو ان کے اس کام میں کوئی اختیار (باقی) رہے اور جو شخص اللہ کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کہنا نہ مانے گا وہ صریح گمراہی میں پڑا۔“
اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
”لا يؤمن احدكم حتى يكون هواه تبعا لما جئت بہ۔“
(مشکوٰۃ ص ۳۰)
ترجمہ : ”تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ اس کی خواہش میرے لائے ہوئے دین کے تابع نہ ہو جائے۔“
انہیں خالص علمی اصطلاح میں ”ضروریات دین“ کہا جاتا ہے ، یعنی یہ ایسے امور ہیں کہ ان کا دین محمدی ﷺ میں داخل ہونا سو فیصد قطعی و یقینی اور ایسا بدیہی ہے کہ ان میں کسی ادنیٰ سے ادنیٰ شک و شبہ اور تردد کی گنجائش نہیں ، کیونکہ خبر متواتر سے بھی اسی طرح کا یقین حاصل ہوتا ہے جس طرح کہ خود اپنے ذاتی
تجربہ اور مشاہدہ سے کسی چیز کا علم یقین حاصل ہوتا ہے۔ مثلاً بے شمار لوگ ایسے ہیں، جنہوں نے مکہ، مدینہ یا کراچی اور لاہور نہیں دیکھا، لیکن انہیں بھی ان شہروں کے وجود کا اسی طرح یقین ہے جس طرح کا یقین خود دیکھنے والوں کو ہے۔
دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری عمارت اسی تواتر کی بنیاد پر قائم ہے، جو شخص دین کے متواترات کا انکار کرتا ہے، وہ دین کی پوری عمارت ہی کو منہدم کر دینا چاہتا ہے، کیونکہ اگر تواتر کو حجت قطعیہ تسلیم نہ کیا جائے تو دین کی کوئی چیز بھی ثابت نہیں ہو سکتی تمام فقہاء، متکلمین اور علماء اصول اس پر متفق ہیں کہ تواتر حجت قطعیہ ہے، اور متواترات دینیہ کا منکر کافر ہے۔ (کتب اصول میں تواتر کی بحث ملاحظہ کی جائے) مناسب ہو گا کہ تواتر کے قطعی حجت ہونے پر ہم مرزا غلام احمد قادیانی کی شہادت پیش کر دیں۔ اپنی کتاب ”شہادت القرآن“ میں مرزا صاحب لکھتے ہیں :
”دوسرا حصہ جو تعامل کے سلسلہ میں آ گیا اور کروڑ ہا مخلوقات ابتدا سے اس پر اپنے عملی طریق سے محافظ اور قائم چلی آئی ہے اس کو ظنی اور شکی کیونکر کہا جائے ایک دنیا کا مسلسل تعامل جو بیٹوں سے باپوں تک اور باپوں سے دادوں تک اور دادوں سے پردادوں تک بدیہی طور پر مشہور ہو گیا اور اپنے اصل مبدأ تک اس کے آثار اور انوار نظر آ گئے، اس میں تو ایک ذرہ شک کی گنجائش نہیں رہ سکتی، اور بغیر اس کے انسان کو کچھ بن نہیں پڑتا کہ ایسے مسلسل عمل درآمد کو اول درجہ کے یقینیات میں سے یقین کرے، پھر جبکہ ائمہ حدیث نے اس سلسلہ میں تعامل کے ساتھ
ایک اور سلسلہ قائم کیا اور امور تعاملی کا اسناد راست گو اور متدین راویوں کے ذریعہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچادیا۔ تو پھر بھی اس پر جرح کرنا در حقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو بصیرت ایمانی اور عقل انسانی کا کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔“
(شہادت القرآن ص ۸ روحانی خزائن جلد ۶ ص ۳۰۴)
اور ”ازالہ اوہام“ میں لکھتے ہیں :
”تواتر ایک ایسی چیز ہے کہ اگر غیر قوموں کی تواریخ کی رو سے بھی پایا جائے تو تب بھی ہمیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۵۵۶ روحانی خزائن جلد ۳ ص ۳۹۹)
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ تین قسم کے امور ”ضروریات دین“ میں شامل ہیں :
- ۱:...... جو قرآن کریم میں منصوص ہوں۔
- ۲:...... جو احادیث متواترہ سے ثابت ہوں (خواہ تواتر لفظی ہو یا معنوی)۔
- ۳:...... جو صحابہ کرامؓ سے لے کر آج تک امت کے اجماع اور مسلسل تعامل و
توارث سے ثابت ہوں۔
الغرض ”ضروریاتِ دین“ ایسے بنیادی امور ہیں، جن کا تسلیم کرنا شرطِ اسلام ہے اور ان میں سے کسی ایک کا انکار کرنا کفر و تکذیب ہے۔ خواہ کوئی دانستہ انکار کرے یا نادانستہ‘ اور خواہ واقف ہو کہ یہ مسئلہ ضروریاتِ دین میں سے ہے‘ یا واقف نہ ہو‘ بہر صورت کافر ہوگا، ”شرح عقائد نسفی“ میں ہے :
”الإيمان في الشرع هو التصديق بما جاء به من
عنداللہ تعالیٰ ای تصدیق النبی علیہ السلام بالقلب فی جمیع ما علم بالضرورۃ مجیئہ بہ من عنداللہ تعالیٰ۔“
(شرح عقائد ص ۱۱۹)
ترجمہ: ”شریعت میں ایمان کے معنی ہیں ان تمام امور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے، یعنی ان تمام امور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دل و جان سے تصدیق کرنا جن کے بارے میں بداہتاً معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے۔“
اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ جو شخص ”ضروریات دین“ کا منکر ہو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں رکھتا۔ علامہ شامیؒ ”رد المحتار“ شرح ”در مختار“ میں لکھتے ہیں:
”لاخلاف فی کفر المخالف فی ضروریات الاسلام و ان کان من اھل القبلۃ المواظب طول عمرہ علی الطاعات کما فی شرح التحریر۔“
(ردالمحتار من الامامۃ ص ۲۷۲ ج ۱)
ترجمہ: ”جو شخص ”ضروریات دین“ میں مسلمانوں کا مخالف ہو اس کے کافر ہونے میں کوئی اختلاف نہیں اگرچہ وہ اہل قبلہ ہو اور مدۃ العمر طاعات اور عبادات کی پابندی کرنے والا ہو‘ جیسا کہ شرح تحریر میں اس کی تصریح کی ہے۔“
حافظ ابن حزم ظاہریؒ لکھتے ہیں:
”وصح الاجماع على ان كل من جحد شيئا صح عندنا بالاجماع ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتى به فقد كفر، وصح بالنص ان كل من استهزأ بالله تعالى: او بملك من الملائكة او بنبى من الانبياء عليهم السلام او بأية من القرآن او بفريضة من فرائض الدين فهى كلها آيات الله تعالى: بعد بلوغ الحجة اليه فهو كافر، ومن قال بنبى بعد النبى عليه الصلوة والسلام او جحد شيئا صح عنده بان النبى صلى الله عليه وسلم قاله فهو كافر۔“
(كتاب الفصل لابن حزم ج ۳ ص ۲۵۵،۲۵۶)
ترجمہ: ”اور اس بات پر صحیح اجماع ثابت ہے کہ جو شخص کسی ایسی بات کا انکار کرے جس کے بارے میں اجماع سے ثابت ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کو لائے تھے، تو ایسا شخص بلاشبہ کافر ہے، اور یہ بات بھی نص سے ثابت ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کا، کسی فرشتے کا، کسی نبی کا، قرآن کریم کی کسی آیت کا، یا دین کے فرائض میں سے کسی فریضہ کا مذاق اڑائے (واضح رہے کہ تمام فرائض آیات اللہ ہیں) حالانکہ اس کے پاس حجت پہنچ گئی ہو۔ ایسا شخص کافر ہے اور جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا قائل ہو، یا کسی ایسی چیز کا انکار کرے کہ اس کے نزدیک ثابت ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے تو وہ بھی کافر ہے۔“
اور قاضی عیاض مالکی ”الشفا“ میں لکھتے ہیں:
”و کذالك وقع الاجماع علی تکفیر کل من دافع نص الکتاب او خص حدیثا مجمعاً علی نقله مقطوعا به مجمعا علی حمله علی ظاهره۔“
(ص ۲۴۷ ج ۲)
ترجمہ: ”اسی طرح اس شخص کی تکفیر پر بھی اجماع ہے جو کتاب اللہ کی نص کا مقابلہ کرے، یا کسی ایسی حدیث میں تخصیص کرے، جس کی نقل پر اجماع ہو، اور اس پر بھی اجماع ہو کہ وہ اپنے ظاہر پر محمول ہے۔“
آگے لکھتے ہیں:
”و کذالك نقطع بتکفیر کل من کذب وانکر قاعدة من قواعد الشرع وما عرف یقینا بالنقل المتواتر من فعل الرسول ووقع الاجماع المتصل عليه الخ۔“
(ص ۲۴۸ ج ۲)
ترجمہ: ”اسی طرح ہم اس شخص کو بھی قطعی کافر قرار دیتے ہیں جو شریعت کے قاعدوں میں سے کسی قاعدے کا انکار کرے، اور ایسی چیز کا انکار کرے جو آنحضرت ﷺ سے نقل متواتر کے ساتھ منقول ہو اور اس پر مسلسل اجماع چلا آتا ہو۔“
علماء امت کی اس قسم کی تصریحات بے شمار ہیں، نمونے کے طور پر چند حوالے درج کر دیئے گئے ہیں۔ آخر میں مرزا غلام احمد قادیانی کی دو عبارتیں بھی
ملاحظہ فرمائیے۔ ”انجام آتھم“ ص ۱۴۴ میں لکھتے ہیں:
”ومن زاد على هذه الشريعة مثقال ذرة او نقص منها او كفر بعقيدة اجماعية فعليه لعنة الله والملائكة والناس اجمعين۔“ (روحانی خزائن جلد ۱۱ ص ۱۴۴)
ترجمہ: ”جو شخص اس شریعت میں ایک ذرہ کی کمی بیشی کرے‘ یا کسی اجماعی عقیدے کا انکار کرے‘ اس پر اللہ تعالیٰ کی‘ فرشتوں کی‘ اور تمام انسانوں کی لعنت۔“
اور ”ایام الصلح“ میں لکھتے ہیں:
”وہ تمام امور جن پر سلف صالحین کو اعتقادی اور عملی طور پر اجماع تھا اور وہ امور جو اہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں‘ ان سب کا ماننا فرض ہے۔“
(ص ۸۷ روحانی خزائن جلد ۱۴ ص ۳۲۳)
خلاصہ یہ ہے کہ ”ضروریات دین“ کا اقرار و انکار اسلام اور کفر کے درمیان حد فاصل ہے‘ جو شخص ”ضروریات دین“ کو من و عن بغیر تاویل کے قبول کرتا ہے وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہے اور جو شخص ”ضروریات دین“ کا انکار کرتا ہے یا ان میں ایسی تاویل کرتا ہے کہ جس سے ان کا متواتر مفہوم بدل جائے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے‘ اور جو مسائل ایسے ہوں کہ ہیں تو قطعی و اجماعی‘ مگر ان کی شہرت عوام تک نہیں پہنچی‘ صرف اہل علم تک محدود ہے ان کو ”قطعیات“ تو کہا جائے گا۔ مگر ”ضروریات“ نہیں کہا جاتا۔ ان کا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان کا انکار کرے تو پہلے اس کو تبلیغ کی جائے‘ اور ان کا قطعی اور اجماعی
ہوتا اس کو بتایا جائے اس کے بعد بھی اگر انکار پر اصرار کرے تو خارج از اسلام ہوگا۔
”مسامرہ“ میں ہے:
”و اما ما ثبت قطعا ولم یبلغ حد الضرورۃ کاستحقاق بنت الابن السدس مع البنت الصلبیۃ باجماع المسلمین فظاہر کلام الحنفیۃ الاکفار بجحدہ لانہم لم یشترطوا فی الاکفار سوی القطع فی الثبوت (الیٰ قولہ) ویجب حملہ علی ما اذا علم المنکر ثبوتہ قطعا۔“
(مسامرہ ص ۳۳۲)
ترجمہ: ”اور جو حکم قطعی الثبوت تو ہو مگر ضرورت کی حد کو نہ پہنچا ہو جیسے (میراث میں) اگر پوتی اور حقیقی بیٹی جمع ہوں تو پوتی کو چھٹا حصہ ملنے کا حکم اجماع امت سے ثابت ہے۔ سو ظاہر کلام حنفیہ کا یہ ہے کہ اس کے انکار کی وجہ سے کفر کا حکم کیا جاوے گا، کیونکہ انہوں نے قطعی الثبوت ہونے کے سوا اور کوئی شرط نہیں لگائی (الیٰ قولہ) مگر واجب ہے کہ حنفیہ کے اس کلام کو اس صورت پر محمول کیا جاوے کہ منکر کو اس کا علم ہو کہ یہ حکم قطعی الثبوت ہے۔“
- ۳:...... ”ضروریات دین“ کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ صرف ان کے الفاظ
کو مان لیا جائے، بلکہ ان کے اس معنی و مفہوم کو ماننا بھی ضروری ہے جو
آنحضرت ﷺ سے لے کر آج تک تواتر و تسلسل کے ساتھ مسلم چلے آتے ہیں ۔ فرض کیجئے ۔ ایک شخص کہتا ہے کہ میں قرآن کریم پر ایمان رکھتا ہوں ۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ قرآن کریم کے بارے میں میرا یہ عقیدہ نہیں کہ یہ محمد رسول اللہ ﷺ پر بذریعہ وحی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا جیسا کہ مسلمان سمجھتے ہیں ۔ بلکہ میں قرآن مجید کو حضور اکرم ﷺ کی اپنی تصنیف کردہ کتاب سمجھتا ہوں، کیا کوئی شخص تسلیم کرے گا کہ ایسا شخص قرآن پر ایمان رکھتا ہے؟ یا فرض کیجئے کہ ایک شخص کہتا ہے کہ میں محمد رسول اللہ (ﷺ) پر ایمان رکھتا ہوں ۔ لیکن ”محمد رسول اللہ“ سے مراد وہ شخصیت نہیں جس کو مسلمان مانتے ہیں بلکہ ”محمد رسول اللہ“ سے خود میری ذات شریف مراد ہے، کیا کوئی عاقل کہہ سکتا ہے کہ یہ شخص ”محمد رسول اللہ“ پر ایمان رکھتا ہے؟ یا فرض کیجئے کہ ایک شخص تسلیم کرتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے تواتر کے ساتھ آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی خبر دی تھی، لیکن ساتھ ہی کہتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے خود اس کی ذات مراد ہے، کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر ایمان رکھتا ہے؟
الغرض ”ضروریات دین“ میں اجماعی اور متواتر مفہوم کے خلاف کوئی تاویل کرنا بھی درحقیقت ”ضروریات دین“ کا انکار ہے، اور ضروریات دین میں ایسی تاویل کرنا الحاد و زندقہ کہلاتا ہے ۔ قرآن کریم میں ہے :
”ان الذین یلحدون فی آیتنا لایخفون علینا افمن یلقیٰ فی النار خیر امن یأتی آمنا یوم القیامة،
اعملوا ما شئتم انه بما تعملون بصير۔“
(حم السجدہ:۴۰)
ترجمہ: ”جو لوگ ٹیڑھے چلتے ہیں ہماری باتوں میں وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں، بھلا ایک جو پڑتا ہے، آگ میں، وہ بہتر ہے یا جو آئے گا امن سے، دن قیامت کے، کئے جاؤ جو چاہو، بے شک جو تم کرتے ہو، وہ دیکھتا ہے۔“
جو لوگ ضروریات دین میں تاویلیں کر کے انہیں اپنے عقائد پر چسپاں کرتے ہیں۔ انہیں ”ملحد و زندیق“ کہا جاتا ہے، اور ایسے لوگ نہ صرف کافر و مرتد ہیں، بلکہ اس سے بھی بدتر، کیونکہ کافر و مرتد کی توبہ قبول کی جاتی ہے، لیکن زندیق کی توبہ بھی قبول نہیں کی جاتی۔ راقم الحروف نے اپنے رسالہ ”قادیانی جنازہ“ میں زندیق کے بارے میں ایک نوٹ لکھا تھا جسے ذیل میں نقل کیا جاتا ہے:
”جو شخص کفر کا عقیدہ رکھتے ہوئے اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب کرتا ہو اور نصوص شرعیہ کی غلط سلط تاویلیں کر کے اپنے عقائد کفریہ کو اسلام کے نام سے پیش کرتا ہو، اسے ”زندیق“ کہا جاتا ہے۔ علامہ شامی ”باب المرتد“ میں لکھتے ہیں:
”فان الزنديق يموه كفره ويروج عقيدته الفاسدة ويخرجها فى الصورة الصحيحة وهذا معنى ابطان الكفر۔“
(شامی ص ۲۴۲ جلد ۴، طبع جدید)
ترجمہ: ”کیونکہ زندیق اپنے کفر پر ملمع کیا کرتا ہے، اور اپنے عقیدۂ فاسدہ کو رواج دینا چاہتا ہے، اور اسے بظاہر صحیح صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے اور یہی معنی ہیں کفر
کو چھپانے کے۔“
اور امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ ”مسوٰی“ شرح عربی ”مؤطا“ میں لکھتے ہیں:
”بیان ذلك ان المخالف للدین الحق ان لم یعترف بہ و لم یذعن لہ لا ظاھرا و لا باطنا فھو کافر و ان اعترف بلسانہ و قلبہ علی الکفر فھو المنافق ۔ و ان اعترف بہ ظاھرا لکنہ یفسر بعض ماثبت من الدین ضرورةً بخلاف مافسرہ الصحابة والتابعون واجتمعت علیہ الامة فھو الزندیق۔“
ترجمہ: ”شرح اس کی یہ ہے کہ جو شخص دین حق کا مخالف ہے اگر وہ دینِ اسلام کا اقرار ہی نہ کرتا ہو، اور نہ دینِ اسلام کو مانتا ہو، نہ ظاہری طور پر اور نہ باطنی طور پر، تو وہ کافر کہلاتا ہے۔ اور اگر زبان سے دین کا اقرار کرتا ہو اور اس کا دل کفر پر قائم ہو تو وہ منافق ہے اور اگر بظاہر دین کا اقرار کرتا ہو لیکن دین کے بعض قطعیات کی ایسی تاویل کرتا ہو جو صحابہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) اور تابعین اور اجماع امت کے خلاف ہو تو ایسا شخص ”زندیق“ کہلاتا ہے۔“
آگے تاویل صحیح اور تاویل باطل کا فرق کرتے ہوئے امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
”ثم التاویل تاویلان تاویل لا یخالف قاطعا من الکتاب و السنة و اتفاق الامة و تاویل یصادم ما
ثبت بقاطع فذالک الزندقۃ ۔“
ترجمہ: ”پھر تاویل کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ تاویل جو کتاب و سنت سے ثابت شدہ کسی قطعی مسئلہ کے خلاف نہ ہو، اور دوسری وہ تاویل جو ایسے مسئلہ کے خلاف ہو جو قطعی دلیل سے ثابت ہے۔ پس ایسی تاویل ”زندقہ“ ہے۔“
آگے زندیقانہ تاویلوں کی مثالیں ذکر کرتے ہوئے امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں:
”او قال ان النبی ﷺ خاتم النبوۃ و لکن معنی ھذا الکلام انہ لا یجوز ان یسمی بعدہ احد بالنبی و اما معنی النبوۃ و ھو کون الانسان مبعوثا من اللہ تعالیٰ الی الخلق مفترض الطاعۃ معصوما من الذنوب و من البقاء علی الخطأ فیما یری فھو موجود فی الائمۃ بعدہ فذلک ھو الزندیق۔“
(مسویٰ جلد ۲ ص ۱۳۰)
ترجمہ: ”یا کوئی شخص یوں کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم بلاشبہ خاتم النبیین ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کسی کا نام نبی نہیں رکھا جائے گا، لیکن نبوت کا مفہوم یعنی کسی انسان کا اللہ تعالیٰ کی جانب سے مخلوق کی طرف مبعوث ہونا، اس کی اطاعت کا فرض ہونا، اور اس کا گناہوں سے اور خطا پر قائم رہنے سے معصوم ہونا ، یہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد بھی امت میں موجود ہے تو یہ شخص ”زندیق“ ہے۔“
خلاصہ یہ کہ جو شخص اپنے کفریہ عقائد کو اسلام کے رنگ میں پیش کرتا ہو، اسلام کے قطعی و متواتر عقائد کے خلاف قرآن و سنت کی تاویلیں کرتا ہو، ایسا شخص ”زندیق“ کہلاتا ہے۔
دوم ...... یہ کہ زندیق مرتد کے حکم میں ہے، بلکہ ایک اعتبار سے زندیق، مرتد سے بھی بدتر ہے کیونکہ اگر مرتد توبہ کر کے دوبارہ اسلام میں داخل ہو تو اس کی توبہ بالاتفاق لائق قبول ہے، لیکن زندیق کی توبہ کے قبول ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہے، چنانچہ ”در مختار“ میں ہے:
”(و) کذا الکافر بسبب (الزندقة) لا توبة له، و جعله فی الفتح ظاهر المذهب، لکن فی حظر الخانية الفتویٰ علی انه (اذا اخذ) الساحر والزندیق المعروف الداعی (قبل توبته) ثم تاب لم تقبل توبته ویقتل، ولواخذ بعدها قبلت۔“
(شامی ص ۲۳۲ ج ۴)
ترجمہ: ”اور اسی طرح جو شخص زندقہ کی وجہ سے کافر ہو گیا ہو، اس کی توبہ قبول نہیں، اور فتح القدیر میں اس کو ظاہر مذہب بتایا ہے لیکن فتاویٰ قاضی خان میں کتاب الحظر میں ہے کہ فتویٰ اس پر ہے جب جادوگر اور زندیق جو معروف اور داعی ہو، توبہ سے پہلے گرفتار ہو جائیں اور پھر گرفتار ہونے کے بعد توبہ کریں، تو ان کی توبہ قبول نہیں بلکہ ان کو قتل کیا جائے گا، اور اگر گرفتاری سے پہلے توبہ کر لی تھی تو توبہ قبول کی جائے گی۔“
اور البحر الرائق میں ہے:
"لا تقبل توبة الزنديق في ظاهر المذهب و هو من لا يتدين بدين ...... وفي الخانية! قالوا ان جاء الزنديق قبل ان يوخذ فاقر انه زنديق فتاب عن ذلك تقبل توبته و ان اخذ ثم تاب لم تقبل توبته و يقتل۔" (ص ۱۳۶ ج ۵)
ترجمہ : ”ظاہر مذہب میں زندیق کی توبہ قابل قبول نہیں ، اور زندیق وہ شخص ہے جو دین کا قائل نہ ہو ...... اور فتاویٰ قاضی خان میں ہے کہ اگر زندیق گرفتار ہونے سے پہلے خود آ کر اقرار کرے کہ وہ زندیق ہے ، پس اس سے توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہے ، اور اگر گرفتار ہوا پھر توبہ کی تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی بلکہ اس کو قتل کیا جائے گا۔“
سوم : ...... قادیانیوں کا زندیق ہونا بالکل واضح ہے ‘ کیونکہ ان کے عقائد اسلامی عقائد کے قطعاً خلاف ہیں اور وہ قرآن و سنت کی نصوص میں غلط سلط تاویلیں کر کے جاہلوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ خود تو وہ پکے سچے مسلمان ہیں ان کے سوا باقی پوری امت گمراہ اور کافر و بے ایمان ہے ، جیسا کہ قادیانیوں کے دوسرے سربراہ آنجہانی مرزا محمود احمد لکھتے ہیں کہ :
”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ۳۵)
چند شبہات کا ازالہ
کفر و اسلام کے مسئلہ کی وضاحت کے بعد اس سلسلہ میں بعض لوگوں کو جو شبہات پیش آئے ہیں مناسب ہو گا کہ ان پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے۔
بعض حضرات یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جو شخص لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا قائل ہو اور اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو اس کو کافر کہنا جائز نہیں۔
یہ بات اس حد تک صحیح ہے کہ جو شخص کلمہ شریف پڑھ کر اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کرے ہم اس کو مسلمان سمجھیں گے جب تک کہ اس سے کوئی کلمہ کفر سرزد نہ ہو اور ضروریات دین میں سے کسی چیز کا منکر نہ ہو۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار کرنا دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو قبول کرنے کا معاہدہ ہے۔ پس جو شخص کلمہ پڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی کسی بات کا انکار کرتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتا اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں کئے گئے عہد کو توڑتا ہے، اس لئے اس کا کلمہ گو ہونا اس کے ایمان و اسلام کی ضمانت نہیں جب تک کہ وہ اپنے اس کفر سے بیزاری کا اعلان نہ کرے۔ فرض کیجئے ایک شخص کلمہ پڑھ کر قرآن مجید کی کسی آیت کا انکار کرتا ہے یا کسی رسول کو گالی دیتا ہے یا اسلام کے احکام کی توہین و تحقیر کرتا ہے کیا کوئی عاقل اس کو مسلمان کہہ سکتا ہے؟
الغرض کسی مسلمان کا کلمہ گو ہونا اسی وقت لائق اعتبار ہو سکتا ہے جب کہ کلمہ کے عہد پر بھی قائم ہو لیکن جو شخص اپنے قول و فعل سے اس عہد کو توڑ
ڈالے اس کا کلمہ پڑھنا محض نفاق ہے جو کفر کی بدترین قسم ہے۔ قرآن کریم میں ہے:
”اذا جاءك المنافقون قالوا نشهد انك لرسول الله ۔ و الله يعلم انك لرسوله ط والله يشهد ان المنافقين لكذبون۔“
(المنافقون : ۱)
ترجمہ : ”جب آئیں تیرے پاس منافق ، کہیں ہم قائل ہیں تو رسول ہے اللہ کا اور اللہ جانتا ہے کہ تو اس کا رسول ہے اور اللہ گواہ ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں۔“
- ۲:..... اسی طرح بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ”اہل قبلہ“ کو کافر کہنا جائز نہیں
کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
”من صلى صلاتنا و استقبل قبلتنا و اكل ذبيحتنا فذلك المسلم الذى له ذمة الله و ذمة رسوله فلا تخفر الله فى ذمته۔“
(بخاری ، مشکوٰۃ ، ص ۱۲)
ترجمہ : ”جس نے ہماری نماز پڑھی ، ہمارے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایا ، پس یہ وہ مسلمان ہے جس کے لئے اللہ کا عہد ہے اور اس کے رسول کا عہد ہے ، پس اللہ تعالیٰ سے اس کے عہد میں عہد شکنی مت کرو۔“
یہ شبہ بھی صحیح نہیں۔ اس سے اس حدیث پاک میں مسلمانوں کی معروف علامات کو بیان فرمایا گیا ہے۔ ایسے شخص سے جب تک کوئی موجب کفر سرزد نہ ہو اس کو مسلمان ہی سمجھا جائے گا اور یہی حدیث پاک کا مدعا ہے ، یہ نہیں
کہ صرف ان تین باتوں کے کرنے کے بعد خواہ وہ کتنا ہی کفر بکتا پھرے جب بھی اس کو مسلمان ہی سمجھا جائے۔ الغرض اہل قبلہ وہ لوگ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے دین کو مانتے ہوں اور ضروریات دین میں سے کسی چیز کے منکر نہ ہوں۔
شیخ ملا علی قاریؒ ”شرح فقہ اکبر“ میں لکھتے ہیں:
”اعلم ان المراد باهل القبلة الذين اتفقوا على ما هو من ضروريات الدين كحدوث العالم و حشر الاجساد و علم الله تعالى بالكليات و الجزئيات و ما اشبه ذلك من المسائل فمن واظب طول عمره على الطاعات و العبادات مع اعتقاد قدم العالم و نفى الحشر او نفى علمه سبحانه بالجزئيات لا يكون من اهل القبلة و ان المراد بعدم تكفير احد من اهل القبلة عند اهل السنه انه لا يكفر ما لم يوجد شىء من امارات الكفر و علاماته و لم يصدر عنه شىء من موجباته ۔“
(شرح فقہ اکبر ص ١٨٩)
ترجمہ: ”جاننا چاہئے کہ اہل قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ”ضروریات دین“ پر متفق ہوں، جیسے عالم کا حادث ہونا، حشر جسمانی، اللہ تعالیٰ کا کلیات و جزئیات کا علم رکھنا، اور اس قسم کے دیگر اہم مسائل، پس جو شخص مدۃ العمر طاعات و عبادات ہی کرے مگر اس کا عقیدہ یہ ہو کہ عالم قدیم ہے، حشر جسمانی نہیں
ہو گا اور اللہ تعالیٰ جزئیات کو نہیں جانتے تو ایسا شخص ”اہل قبلہ“ میں سے نہیں، اور یہ مسئلہ کہ ”اہل سنت کے نزدیک اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں“ اس سے مراد یہ ہے کہ جب تک کسی شخص میں کفر کی علامات نہ پائی جائیں اور اس سے کوئی چیز موجب کفر صادر نہ ہو تب تک اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔“
علامہ ابن عابدین شامیؒ ”رد المحتار“ میں لکھتے ہیں:
”لا خلاف فی کفر المخالف فی ضروریات الاسلام و ان کان من اہل القبلۃ المواظب طول عمرہ علی الطاعات کما فی شرح التحریر۔“
(رد المحتار من الامامہ ص ۳۷۷)
ترجمہ: ”جو شخص ”ضروریات دین“ میں مسلمانوں کا مخالف ہو، اس کے کفر میں کوئی اختلاف نہیں خواہ ساری عمر طاعات و عبادات کا پابند رہے۔“
اور علامہ عبدالعزیز پرہارویؒ ”شرح عقائد“ کی شرح میں لکھتے ہیں:
”اہل القبلۃ فی اصطلاح المتکلمین من یصدق بضروریات الدین ای الامور التی علم ثبوتہا فی الشرع و اشتہر فمن انکر شیئاً من الضروریات کحدوث العالم و حشر الاجساد و علم اللہ سبحانہ بالجزئیات و فریضۃ الصلوٰۃ و الصوم لم یکن من اہل القبلۃ ولو کان مجاہداً بالطاعات، و کذالک من باشر
شيئا من امارات التكذيب كسجود الصنم و الاهانة بامرٍ شرعى و الاستهزاء عليه فليس من اهل القبلة و معنى عدم تكفير اهل القبلة ان لا يكفر بارتكاب المعاصى و لا بانكار الامور الخفية غير المشهورة هذا ما حققه المحققون فا حفظه ۔“
(نبراس ص ۵۷۲)
ترجمہ : ”اہل قبلہ متکلمین کی اصطلاح میں وہ لوگ کہلاتے ہیں جو ”ضروریات دین “ کی تصدیق کرتے ہوں ، ”ضروریات دین “ سے مراد وہ امور ہیں جن کا شرع میں ثابت ہونا معلوم و مشہور ہے۔ پس جو شخص ”ضروریات دین“ (مثلاً حدوثِ عالم ، حشر اجساد ، اللہ تعالیٰ کا عالم جزئیات و کلیات ہونا ، نماز ، روزہ کا فرض ہونا) کا منکر ہو اس کا شمار اہل قبلہ میں نہیں‘ خواہ وہ طاعت یا عبادت میں کتنا مجاہدہ کرتا ہو ، اسی طرح وہ شخص کسی ایسی چیز کا ارتکاب کرے جو تکذیب کی علامت ہے‘ جیسے بت کو سجدہ کرنا ، کسی امر شرعی کی توہین کرنا اور دین کی کسی بات کا مذاق اڑانا وہ بھی اہل قبلہ میں شمار نہیں ہے‘ اور جو اصول ہے کہ اہل قبلہ کی تکفیر نہ کی جائے‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل قبلہ اگر گناہ کے مرتکب ہوں تو معصیت کی بنا پر اس کو کافر نہ کہا جائے ۔ نیز جو امور کہ مخفی ہیں مشہور نہیں‘ ان کے انکار پر بھی تکفیر نہ کی جائے ، یہ محققین کی تحقیق ہے اسے خوب یاد رکھو ۔“
- ۴....... بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی کے اسلام و کفر کا فیصلہ کرنا کسی انسان کا کام
نہیں کیونکہ ایمان دل میں ہوتا ہے اور دل کا حال اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ....... ان کا یہ شبہ بالکل سطحی ہے۔ اول تو اس لئے کہ ہم بھی کسی کے دل پر کفر کا حکم نہیں لگاتے بلکہ جن عقائد کفریہ کا اخبارات اور رسائل اور کتابوں میں برملا اظہار کیا جائے ان پر کفر کا حکم کیا جاتا ہے، اگر کوئی شخص واقعتاً ایسا ہو جو اپنے اندر مدۃ العمر کفر چھپائے پھرتا ہے مگر زبان و قلم سے اس نے کبھی اپنے کفر کا اظہار نہ کیا ہو بلکہ ظاہر میں کلمہ پڑھتا ہو، اور اپنے آپ کو مسلمان کہلاتا ہو، تو چونکہ اس سے کوئی چیز موجب کفر ظاہر نہیں ہوتی۔ اس لئے ہم اس کے کفر کا فیصلہ نہیں کریں گے بلکہ ایسے پوشیدہ کفر والے کے کفر کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ لیکن اگر کوئی شخص دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے قواعد کو توڑتا ہو، اور ضروریات دین کا برملا انکار کرتا ہو تو اس شخص کو مسلمان آخر کس اصول کے تحت کہا جائے گا؟
دوم :....... یہ کہ اسلام اور کفر کے کچھ دنیوی احکام ہیں اور کچھ اخروی۔ اگر کسی کافر کے کافر ہونے کا بھی حکم نہ کیا جائے، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ دنیا میں ہم اسلام اور کفر کے حدود کو مٹاتے ہیں۔ مسلمانوں اور کافروں کے احکام کو معطل کرتے ہیں، اور کافروں پر مسلمانوں کے یا مسلمانوں پر کافروں کے احکام جاری کرتے ہیں، کیا کوئی عقلمند بقائمی ہوش و حواس اس کو تجویز کر سکتا ہے؟
سوم :....... یہ کہ دنیا میں ہم جو کسی کے مسلمان یا کافر ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے ان اصول اور قواعد کے مطابق کرتے ہیں جو قرآن کریم اور حدیث نبوی میں موجود
ہیں، اس لئے یہ فیصلہ انسانوں کا نہیں۔ بلکہ خدا تعالیٰ ہی کا فیصلہ ہے جو انسانوں کے ذریعہ نافذ ہوتا ہے۔
- ۵:...... بعض لوگ بڑی شد و مد سے یہ شبہ پیش کرتے ہیں کہ ان
مولویوں کے فتوؤں کا کیا اعتبار ہے، انہوں نے کس کو چھوڑا جس پر کفر کا فتویٰ نہ لگایا ہو؟
اس شبہ کا حاصل یہ ہے کہ اگر بعض لوگوں نے بعض پر غلط فتوائے کفر لگایا ہے تو آئندہ کے لئے کسی کافر کو کافر کہنے کی راہ بھی بند ہو گئی ہے؟ یہ شبہ جس قدر کمزور ہے اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ اصول یہ ہے کہ اگر کسی کے خلاف فیصلہ غلط ہو تو دلائل سے اس کا غلط ہونا ثابت کیا جائے، یہ تو کوئی اصول نہیں کہ چونکہ بعض ججوں نے غلط فیصلے بھی کئے ہیں۔ اس لئے آئندہ کسی عدالت کا کوئی فیصلہ بھی قابل قبول نہیں، اسی طرح جن لوگوں نے کسی پر غلط فتویٰ صادر کیا ہو، اس کی غلطی واضح کی جاسکتی ہے اور بتایا جاسکتا ہے کہ اس فتویٰ میں فلاں اصول شرعی کی رعایت نہیں رکھی گئی۔ لیکن یہ سمجھنا کہ جو شخص قطعیات دین کا منکر ہو، اور جسے پوری امت بالاتفاق خارج از اسلام قرار دیتی ہو وہ بھی مسلمان ہے بالکل غلط ہے۔
- ۶:...... بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر کسی میں ننانوے وجوہ کفر کے پائے
جائیں اور ایک وجہ اسلام کی پائی جائے، اس کو کافر نہیں کہنا چاہئے اور اس کے لئے وہ امام ابو حنیفہؒ کا حوالہ دیتے ہیں، مگر ان کا مطلب سمجھنے میں ان سے غلطی ہوئی ہے (یا جان بوجھ کر وہ لوگوں کو مغالطہ دینا چاہتے ہیں) امام ابو حنیفہؒ کے اس قول کا
مطلب یہ ہے کہ : اگر کسی شخص نے کوئی ایسا فقرہ کہا جس کے ننانوے مطلب کفر کے ہو سکتے ہیں۔ لیکن ایک تاویل اس کی ایسی بھی ہو سکتی ہے جو اسلام کے مطابق ہو‘ تو ہم ایک مسلمان سے حسن ظن رکھتے ہوئے ان ننانوے وجوہ کو نہیں لیں گے بلکہ وہی مطلب لیں گے جو اسلام کے مطابق ہے ...... اور یہ بات بالکل صحیح ہے اور اہل علم ہمیشہ اس کا لحاظ بھی رکھتے ہیں‘ لیکن اگر کوئی شخص اپنے قول کی خود تشریح کر دے اور بانگ دہل اعلان کرے کہ میرا مطلب یہ نہیں بلکہ یہ ہے (جو موجب کفر ہے) تو ہم اس کے حق میں کفر کا فیصلہ دینے پر مجبور ہوں گے‘ اور اس صورت پر امام ابو حنیفہؒ کا قول چسپاں نہیں ہوتا‘ اسی طرح اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ جو شخص ننانوے باتیں کفر کی بکے اور ایک بات اسلام کی کر دیا کرے‘ اس کو بھی مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔
کیا ختم نبوت کا عقیدہ جزو ایمان ہے؟
سوال : ۲...... کیا ختم نبوت کا عقیدہ مسلمان ہونے کی لازمی شرط اور جزو ایمان ہے؟ قرآن و حدیث‘ فتاویٰ اور اقوال فقہاء کے حوالہ جات تحریر فرمائیں۔
جواب :...... ” بلاشبہ ختم نبوت کا عقیدہ جزو ایمان اور شرط اسلام ہے‘ کیونکہ جس درجہ کے تواتر و تسلسل سے ہمیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا‘ توحید کی دعوت دی‘ قرآن کریم کو کلام اللہ کی حیثیت سے پیش فرمایا‘ قیامت‘ جزا و سزا اور جنت و دوزخ کی خبر دی‘ نماز‘ روزہ اور حج و زکوٰۃ وغیرہ کی تعلیم دی۔ ٹھیک اسی درجہ کے تواتر سے ہمیں یہ معلوم ہے کہ آپ نے
اعلان فرمایا کہ میں خاتم النبیین ہوں، مجھ پر نبوت ورسالت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ پس جس طرح آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن کریم کے منزل من اللہ ہونے کا عقیدہ ”ضروریات دین“ میں شامل ہے اسی طرح ختم نبوت کا عقیدہ بھی جزو ایمان ہے۔ اور جس طرح آپ ﷺ کی نبوت یا قرآن کریم کے منزل من اللہ ہونے کا انکار یا اس میں کوئی تاویل کفر و الحاد ہے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا انکار یا اس میں تاویل بھی بلاشبہ کفر و الحاد ہے، کیونکہ یہ عقیدہ قرآن کریم کی نص قطعی، احادیث متواترہ اور اجماع مسلسل سے ثابت ہے اور اسلامی عقائد پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان میں ختم نبوت کا عقیدہ درج کیا گیا ہے۔
قرآن کریم : اہل علم نے قرآن کریم کی قریباً سو آیات کریمہ سے عقیدہ ختم نبوت ثابت کیا ہے۔ (ملاحظہ کیجئے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ کی ”ختم نبوت کامل“) یہاں اختصار کے مد نظر صرف ایک آیت درج کی جاتی ہے :
”ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین، وکان اللہ بکل شیئی علیما۔“
(الاحزاب : ۴۰)
ترجمہ : ” نہیں ہیں محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ، لیکن آپ اللہ کے رسول اور تمام انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں، اور ہے اللہ تعالیٰ ہر چیز کے جاننے والا۔“
اس آیت کریمہ میں دو قرأتیں متواتر ہیں۔ خاتم النبیین (بفتح تاء) یہ ا
عاصمؒ کی قرأت ہے اور خاتم النبیین (بکسر تا) جمہور قراء کی قرأت ہے۔ پہلی قرأت کے مطابق اس کے معنی ہیں مہر‘ یعنی آپ ﷺ کی تشریف آوری سے نبیوں کی آمد پر مہر لگ گئی۔ اب آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اور دوسری قرأت کے مطابق اس کے معنی ہیں‘ نبیوں کو ختم کرنے والا۔ تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ دونوں قرأتوں کا مآل ایک ہے‘ یعنی آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت بند ہے۔ چند تفاسیر ملاحظہ ہوں :
- ١:....... امام ابن جریر (م :۳۱۰ھ)
"ولكن رسول الله وخاتم النبيين الذى ختم النبوة فطبع عليها فلا تفتح لاحد بعده الى قيام الساعة۔"
(تفسیر ابن جریر ص ۱۴‘ ج ۲۲)
ترجمہ : "لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں‘ یعنی جس نے نبوت کو ختم کردیا‘ اور اس پر مہر لگادی۔ پس آپ کے بعد یہ مہر قیامت تک کسی کے لئے نہیں کھلے گی۔"
- ٢ :....... امام بغویؒ (م :۵۱۰ھ)
"ختم الله به النبوة وقرأ ابن عامر و ابن عاصم خاتم بفتح التآ على الاسم‘ اى آخرهم وقرأ الأخرون بكسر التآ على الفاعل لانه ختم به النبيين فهو خاتمهم....... عن ابن عباس ان الله حكم ان لا
نبی بعدہ۔“
(تفسیر معالم التنزیل ص ۲۱۸ ج ۵ مطبوعہ مصر)
ترجمہ : ”خاتم النبیین کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ نبوت کا سلسلہ بند کر دیا ہے، ابن عامر اور ابن عاصم نے خاتم کی تا کو زبر کے ساتھ پڑھا ہے، جس کا مطلب آخری نبی ہے۔ اور دوسرے قراء نے تا کی زیر پڑھی ہے، اس کا مطلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نبیوں کے سلسلے پر مہر لگا دی ہے۔ ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“
۳:....... علامہ زمخشری (م: ۵۳۸ھ)
”فان قلت کیف کان آخر الانبیاء وعیسیٰ ینزل فی أخر الزمان قلت معنی کونه أخر الانبیاء انه لا ینبأ احد بعده وعیسیٰ ممن نبئ قبله وحین ینزل، ینزل عاملاً علیٰ شریعة محمد، مصلیا الی قبلته کانه بعض امته۔“
(تفسیر کشاف ج ۳، ص ۵۴۴)
ترجمہ : ”اگر تم کہو کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی کیسے ہو سکتے ہیں جبکہ حضرت عیسیٰ آخری زمانہ میں نازل ہوں گے ؟ میں کہتا ہوں آپ ﷺ کا آخری نبی ہونا اس معنی میں ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی نیا نبی نہ بنایا جائے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان نبیوں میں سے ہیں جو آپؐ سے پہلے نبی بنائے جاچکے ہیں اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت محمدی پر عمل کرنے والے اور آپؐ کے قبلہ کی طرف نماز پڑھنے والے بن کر نازل ہوں گے گویا وہ
آپ کی امت کے ایک فرد شمار کئے جائیں گے ۔“
- ۴ :....... امام فخر الدین رازیؒ (م:۶۰۶ھ)
”وخاتم النبيين وذلك لان النبى الذى يكون بعده نبى ان ترك شيئا من النصيحة والبيان يستدركه من ياتى بعده واما من لا نبى بعده يكون اشفق على امته واهدى لهم واجدئ اذ هو كوالد لولده الذى ليس له غيره من احد ۔“
(تفسیر کبیر ج ۲۵‘ ص ۵۸۱ مطبوعہ بیروت)
ترجمہ : ”اس آیت میں خاتم النبیین اس لئے فرمایا کہ جس نبی کے بعد کوئی دوسرا نبی ہو‘ وہ اگر نصیحت اور توضیح شریعت میں کوئی کسر چھوڑ جائے تو اس کے بعد آنے والا نبی اس کسر کو پورا کر دیتا ہے۔ مگر جس کے بعد کوئی نبی آنے والا نہ ہو تو وہ اپنی امت پر از حد شفیق ہوتا ہے اور اس کو زیادہ واضح ہدایت دیتا ہے کیونکہ اس کی مثال ایسے والد کی ہوتی ہے جو ایسے بیٹے کا باپ ہو جس کا ولی و سرپرست اس کے سوا کوئی دوسرا نہ ہو ۔“
- ۵ :....... علامہ بیضاویؒ (م:۶۹۱ھ)
”وآخرهم الذى ختمهم او ختموا به ولا يقدح فيه نزول عيسىٰ بعده لانه اذا نزل كان على دينه ۔“
(تفسیر بیضاوی ج ۲‘ ص ۱۹۶ طبع مصر)
ترجمہ : ....... ”اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں کہ آپؐ نے نبیوں کے آنے کو ختم کر دیا
ہے یا آپؐ کے آنے سے وہ روکے گئے ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کا آپؐ کے بعد نازل ہونا اس میں کوئی نقص نہیں ہے‘ کیونکہ جب وہ نازل ہوں گے تو وہ آپ کی شریعت پر عامل ہوں گے۔“
- ٦ :....... علامہ نسفیؒ (م : ٧١٠ھ)
”ای اخرہم یعنی لا ینبأ احد بعدہ وعیسیٰ ممن نبئ قبلہ وحین ینزل‘ ینزل عاملاً علی شریعۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کانہ بعض امتہ...... وتقویہ قراۃ ابن مسعود ولکن نبیاً ختم النبیین۔“
(تفسیر مدارک التنزیل ج ٣‘ ص ٣٣٢ مطبوعہ مصر)
ترجمہ : ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاء کے آخر میں ہیں‘ آپ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں بنایا جائے گا۔ اور حضرت عیسیٰ ؑ تو آپ سے قبل نبی بنائے گئے۔ جب نازل ہوں گے تو وہ شریعت محمدی کے عامل بن کر نازل ہوں گے گویا وہ آپ کی امت کے ایک فرد ہوں گے۔ اور حضرت ابن مسعودؓ کی قرأت میں یوں ہے : لیکن آپؐ نبی ہیں‘ جس نے تمام نبیوں کی نبوت کے سلسلہ کو بند کر دیا ہے۔“
- ٧ :....... حافظ ابن کثیرؒ (م : ٧٧٤ھ)
”فہذہ الآیۃ نص فی انہ لا نبی بعدہ واذ کان لا نبی بعدہ فلا رسول بالطریق الاولٰی والاحرٰی لان مقام الرسالۃ اخص من مقام النبوۃ۔“
(تفسیر ابن کثیر ص ٢٩٣‘ ج ٣ طبع مصر)
ترجمہ : ” یہ آیت اس بارے میں نص قطعی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے، جب آپ کے بعد کوئی نبی نہیں تو بطریق اولیٰ کوئی رسول بھی نہیں، کیونکہ مقام رسالت مقام نبوت سے خاص ہے۔“
- ۸ :...... علامہ جلال الدین محلی (م : ۸۶۴)
”بان لا نبی بعدہ واذا نزل السید عیسیٰ يحكم بشریعتہ۔“
(جلالین علی ھامش جمل ص ۴۴۶ ج ۳)
ترجمہ : ”خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا اور عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو وہ شریعت محمدی کے ساتھ فیصلہ کریں گے۔“
- ۹ :...... امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (م : ۱۱۷۶ھ) لکھتے ہیں :
”ولیکن پیغمبر خدا است و مہر پیغمبراں است۔“ (اور لیکن آپ اللہ کے پیغمبر اور تمام نبیوں کی مہر ہیں)
اس کے بعد فوائد میں لکھتے ہیں :
”یعنی بعد از وے ہیچ پیغمبر نہ باشد۔“
(فتح الرحمٰن ص ۵۸۶ مطبوعہ دہلی)
یعنی ”مہر پیغمبراں“ کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہوگا۔
- ۱۰ :...... حضرت شاہ عبد القادرؒ (م : ۱۲۳۰ھ) آپ خاتم النبیین کا ترجمہ کرتے
ہیں :
"لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر۔"
موضح القرآن کے فوائد میں اس پر یہ نوٹ لکھتے ہیں :
"اور پیغمبروں پر مہر ہے" اس کے بعد کوئی پیغمبر نہیں، یہ بڑائی اس کو سب پر ہے۔"
(موضح القرآن)
منکر ختم نبوت دائرہ اسلام سے خارج ہے؟
سوال : ۳...... جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کے باوجود حضور اکرم ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر عقیدہ نہیں رکھتا، کیا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے؟
جواب : ...... اوپر کی تصریحات سے معلوم ہوچکا ہے کہ عقیدۂ ختم نبوت ضروریات دین میں داخل ہے، اس لئے جو شخص آنحضرت ﷺ کے آخری نبی ہونے کا عقیدہ نہیں رکھتا وہ بلاشبہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اور اس کا دعوائے اسلام حرف غلط ہے، فقہائے امت کے چند فتاویٰ سوال ۲ کے ذیل میں درج کئے جاچکے ہیں، اس سلسلہ میں اکابر امت کے مزید ارشادات ملاحظہ فرمائیے :
- ۱ : ...... حافظ ابن حزم ظاہریؒ نے ”کتاب الفصل فی الملل والاہواء
والنحل“ میں متعدد جگہ اس کی تصریح فرمائی ہے۔ چنانچہ ایک جگہ لکھتے ہیں :
"قد صح عن رسول الله ﷺ بنقل الكافة التى نقلت نبوته واعلامه وكتابه انه اخبر انه لانبى بعده ...... فوجب الاقرار بهذه الجملة وصح ان وجود النبوه بعده عليه السلام باطل لايكون
البتہ۔“
(ص ۷۷ ج اول)
ترجمہ : ”جس کثیر التعداد جماعت اور جم غفیر نے آنحضرت ﷺ کی نبوۃ اور معجزات اور قرآن کریم کو نقل کیا ہے، اس کثیر التعداد جماعت اور جم غفیر کی نقل سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فرمان بھی ثابت ہو چکا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہو گا، پس اس جملہ کے ساتھ اقرار واجب ہے، اور حضور علیہ السلام کے بعد نبوت کا وجود باطل ہے، ہرگز نہیں ہو سکتا۔“
ایک اور جگہ لکھتے ہیں :
”هذا مع سماعهم قول الله تعالى: ولكن رسول الله وخاتم النبيين، وقول رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا نبي بعدى، فكيف يستجيز مسلم ان يثبت بعده عليه السلام نبياً في الارض حاشا ما استثناه رسول صلى الله عليه وسلم في الآثار المسندة الثابتة في نزول عيسى بن مريم عليه السلام فی آخر الزمان۔“
(ص ۱۸۰ ج ۴)
ترجمہ : ”اللہ کا فرمان : ”رسول اللہ و خاتم النبیین“ اور حضور علیہ السلام کا ارشاد : ”لا نبی بعدی“ سن کر مسلمان کیسے جائز سمجھ سکتا ہے کہ حضور علیہ السلام کے بعد زمین میں کسی نبی کی بعثت ثابت کی جائے؟ سوائے نزول عیسیٰ علیہ السلام کے آخر زمانہ میں جو رسول اللہ ﷺ کی صحیح احادیث مسندہ سے ثابت
ہے۔“
ایک اور جگہ لکھتے ہیں :
”من قال بنبی بعد النبی علیہ الصلوة والسلام اوجحد شیئا صح عندہ بان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قالہ فہو کافر۔“
(ص ۳۵۶ ج ۳)
ترجمہ : ”جس شخص نے حضور علیہ السلام کے بعد کسی کی نبوت کا اقرار کیا یا ایسی شئی کا انکار کیا جو اس کے نزدیک ثابت ہو چکی ہو کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے‘ وہ کافر ہے۔“
ایک اور جگہ لکھتے ہیں :
”واما من قال ان اللہ عزوجل ہو فلان لانسان بعینہ او ان اللہ تعالیٰ یحل فی جسم من اجسام خلقہ او ان بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبیا غیر عیسیٰ بن مریم‘ فانہ لا یختلف اثنان فی تکفیرہ لصحة قیام الحجة بکل ھذا علی کل احد۔“
(ص ۲۳۹ ج ۳)
ترجمہ : ”جس شخص نے کسی انسان معین کو کہا کہ یہ اللہ ہے یا کہا کہ اللہ اپنی خلقت کے اجسام میں سے کسی جسم میں حلول کرتا ہے یا یہ کہا کہ محمد ﷺ کے بعد نبی ہے سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے‘ پس ایسے شخص کی تکفیر میں دو آدمیوں کا بھی اختلاف نہیں‘ کیونکہ ہر ہر بات کے ساتھ ہر ایسے
شخص پر حجت قائم ہو چکی ہے۔“
قاضی عیاض مالکی ”الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ“ میں لکھتے ہیں :
”وكذلك من ادعى نبوة احد مع نبينا صلى الله عليه وسلم او بعده...... او من ادعى النبوة لنفسه او جوز اكتسابها و البلوغ بصفا القلب الى مرتبتها...... وكذلك من ادعى منهم انه يوحى اليه وان لم يدع النبوة...... فهولاء كلهم كفار مكذبون للنبی صلی اللہ علیہ وسلم لانه اخبر صلی اللہ علیہ وسلم انه خاتم النبيين لا نبی بعده واخبر عن الله تعالىٰ انه خاتم النبيين وانه ارسل كافة للناس واجمعت الامة على حمل هذا الكلام على ظاهره وان مفهومه المراد به دون تاويل ولا تخصيص فلاشک فی کفر هؤلاء الطوائف كلها قطعاً اجماعاً وسمعاً۔“
(جلد ۲ ص۲۴۶/ ۲۴۷)
ترجمہ : ”اور اسی طرح جو شخص حضور علیہ السلام کے ساتھ کسی کی نبوت کا دعویٰ کرے...... یا اپنے لئے نبوت کا دعویٰ کرے‘ یا صفائی قلب کے ذریعہ سے نبوت کے مرتبہ تک پہنچنے اور کسب سے اس کے حاصل کرنے کو جائز سمجھے...... اور ایسے ہی وہ شخص جو یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی آتی ہے اگرچہ صراحتاً نبوت کا دعویٰ نہ کرے...... پس یہ سب کے سب کفار ہیں‘ اور حضور علیہ السلام کی تکذیب کرنے والے ہیں‘ اس لئے کہ آپؐ
نے خبر دی ہے کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں اور آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں اور خدا کی طرف سے قرآن میں یہ خبر دی کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں اور یہ کہ آپؐ تمام عالم کے انسانوں کی طرف رسول ہیں اور امت کا اجماع ہے کہ اس کلام کو اپنے ظاہر پر حمل کیا جائے اور اس پر بھی اجماع ہے کہ اس آیت کا نفس مفہوم ہی مراد ہے بغیر کسی تاویل و تخصیص کے‘ پس ان تمام جماعتوں کے کفر میں کوئی شک نہیں بلکہ وہ قطعی طور بالاجماع کافر ہیں۔“
حافظ فضل اللہ تور پشتیؒ (م ۶۳۰ھ) کا فارسی میں اسلامی عقائد پر ایک رسالہ ”معتمد فی المعتقد“ کے نام سے ہے‘ جس میں عقیدۂ ختم نبوت بہت تفصیل سے لکھا ہے‘ اور آخر میں منکرین ختم نبوت کے خارج از اسلام ہونے کی تصریح فرمائی ہے‘ اس کے چند ضروری اقتباسات درج ذیل ہیں :
”وازاں جملہ آنست کہ تصدیق وی کند کہ بعد ازوی ہیچ نبی نباشد مرسل و نہ غیر مرسل‘ و مراد از خاتم النبیین آنست کہ نبوت را مہر کرد و نبوت بآمدن او تمام شد یا بمعنی آنکہ خدا تعالیٰ پیغمبری را بوی ختم کرد‘ و ختم خدای حکم است بد آنچہ ازاں نخواہد گردانیدن۔“
(معتمد فی المعتقد ص ۹۴)
ترجمہ : ”منجملہ عقائد کے یہ ہے کہ اس بات کی تصدیق کرے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ نہ رسول اور نہ غیر رسول۔ اور ”خاتم النبیین“ سے مراد یہ ہے کہ آپؐ نے نبوت پر مہر لگادی‘ اور نبوت آپؐ کی تشریف آوری سے حد تمام
کو پہنچ گئی۔ یا یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ نے پیغمبری پر آپ ﷺ کے ذریعہ مہر لگادی‘ اور خدا تعالیٰ کا مہر کرنا اس بات کا حکم ہے کہ آپ ﷺ کے بعد نبی نہیں بھیجے گا۔“
ایک اور جگہ لکھتے ہیں :
”واحادیث بسیار از رسول صلی اللہ علیہ وسلم درست شدہ است کہ نبوت بآمدن او تمام شد و بعد از وی دیگری نباشد وازاں احادیث یکے را معنی آنست کہ در امت من نزدیک سی دجال کذاب باشند کہ ھر یک از یشان دعوی کنند کہ من نبی ام و بعد از من ہیچ نبی نباشد۔“
(ص: ۹۵)
ترجمہ : ”اور بہت سی احادیث رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہیں کہ نبوت آپ کی تشریف آوری پر پوری ہو گئی۔ آپ کے بعد کوئی اور نبی نہیں ہو گا۔ ان احادیث میں سے ایک کا مضمون یہ ہے کہ میری امت میں قریباً تیس جھوٹے دجال ہوں گے‘ ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ میں نبی ہوں‘ اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔“
ایک اور جگہ ہے :
”وروایات واحادیث دریں باب افزون از آنست کہ بر تواں شمردن‘ وچوں ازیں طریق ثابت شد کہ بعد از وی ہیچ نبی نباشد ضرورت رسول ھم نباشد زیرا کہ ہیچ رسول نباشد کہ نبی نباشد‘ چوں نبوت نفی کرد‘ رسالت بطریق اولیٰ منفی باشد۔“
(ص: ۹۶)
ترجمہ : ”اور اس باب میں روایات و احادیث حد شمار سے زیادہ ہیں‘ جب اس طریقہ سے ثابت ہوا کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا تو بدیہی بات ہے کہ رسول بھی نہ ہوگا‘ کیونکہ کوئی رسول ایسا نہیں ہوتا جو نبی نہ ہو‘ جب نبوت کی نفی کردی تو رسالت کی نفی بدرجہ اولیٰ ہوگئی۔“
ایک اور جگہ ہے :
”و بحمد اللہ ایں مسئلہ در میان اسلامیان روشن تر از آنست کہ آنرا بکشف و بیان حاجت افتد‘ اما ایں مقدار از قرآن از ترس آں یاد کردیم کہ مبادا زندیقی جاہلی را در شبہتی اندازد ...... و منکر ایں مسئلہ کسی تواند بود کہ اصلاً در نبوت او معتقد نباشد کہ اگر بر رسالت او معترف بودی ویرا در ھر چہ ازاں خبر داد صادق دانستے۔
و بھما حجتہا کہ از طریق تواتر رسالت او پیش از ما بداں درست شدہ است ایں نیز درست شد کہ وی باز پسین پیغمبر آنست در زماں او و تا قیامت بعد از وی ہیچ نبی نباشد و ھر کہ دریں بشک است در ایں نیز بشک است‘ و آنکس کہ گوید بعد ازیں نبی دیگر بود یا ہست‘ یا خواہد بود و آں کس کہ گوید کہ امکان دارد کہ باشد کافر است۔“
(ص : ۹۷)
ترجمہ : ”بحمد اللہ یہ مسئلہ اہل اسلام کے در میان اس سے زیادہ روشن ہے کہ اس کی تشریح و وضاحت کی ضرورت ہو‘ اتنی وضاحت بھی ہم نے قرآن کریم سے اس اندیشہ کی بنا پر
کردی کہ مبادا کوئی زندیق کسی جاہل کو شبہ میں ڈالے۔
اور عقیدہ ختم نبوت کا منکر وہ ہی شخص ہو سکتا ہے جو خود نبوت محمدیہ ﷺ پر بھی ایمان نہ رکھتا ہو‘ کیونکہ اگر یہ شخص آپ کی رسالت کا قائل ہوتا تو جن چیزوں کی آپؐ نے خبر دی ہے ان میں آپ کو سچا سمجھتا۔
اور جن دلائل اور جس طریق تواتر سے آپؐ کی رسالت و نبوت ہمارے لئے ثابت ہوئی ہے‘ ٹھیک اسی درجہ کے تواتر سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ آپؐ آخری نبی ہیں اور آپؐ کے زمانہ میں اور قیامت تک کوئی نبی نہ ہوگا‘ اور جس شخص کو اس ختم نبوت میں شک ہو اسے خود رسالت محمدیؐ میں بھی شک ہوگا‘ اور جو شخص یہ کہے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی ہوا تھا‘ یا اب موجود ہے‘ یا آئندہ ہوگا‘ اسی طرح جو شخص یہ کہے کہ آپؐ کے بعد نبی ہو سکتا ہے‘ وہ کافر ہے۔“
- ۴۔ حافظ ابن کثیرؒ آیت خاتم النبیین کے تحت لکھتے ہیں :
”فمن رحمۃ اللہ تعالیٰ بالعباد ارسال محمد ﷺ الیہم‘ ثم من تشریفہ لہ ختم الانبیاء والمرسلین بہ‘ واکمال الدین الحنیف لہ‘ و اخبر اللہ تبارک و تعالیٰ فی کتابہ ورسولہ ﷺ فی السنۃ المتواترۃ عنہ انہ لا نبی بعدہ لیعلموا ان کل من ادعیٰ ہذا المقام بعدہ فہو کذاب‘ افاک‘ دجال‘ ضال‘ مضل‘ ولو تخرق وشعبذ‘ واتیٰ بانواع السحر
والطلاسم والنيرنجيات فكلها محال وضلال عند اولی الالباب كما اجرى الله سبحانه على يد الاسود العنسي باليمن، ومسيلمة الكذاب باليمامة من الاحوال الفاسدة و الاقوال الباردة ماعلم كل ذى لب وفهم وحجی انهما كاذبان ضالان لعنهما الله تعالىٰ وكذالك كل مدع لذالك الى يوم القيامة حتى يختموا بالمسيح الدجال فكل واحد من هؤلاء الكذابين يخلق الله معه من الامور مايشهد العلماً والمومنون بكذب ماجأ بها۔“
(تفسیر ابن کثیر ص ۴۹۴ ج ۳)
ترجمہ : ”پس بندوں پر اللہ کی رحمت ہی ہے‘ محمد ﷺ کا ان کی طرف بھیجنا‘ پھر اللہ تعالیٰ کی جانب سے آنحضرت ﷺ کی تعظیم و تکریم میں سے یہ بات بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر تمام انبیاء اور رسل علیہم السلام کو ختم کیا اور دین حنیف کو آپ کے لئے کامل کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اس کے رسول نے اپنی احادیث متواترہ میں خبر دی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی پیدا ہونے والا نہیں تاکہ امت جان لے کہ ہر وہ شخص جو آپ کے بعد اس مقام (نبوت) کا دعویٰ کرے وہ بڑا جھوٹا‘ افترا پرداز‘ دجال‘ گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے اگرچہ وہ شعبدہ بازی کرے اور قسم قسم کے جادو‘ طلسم اور نیرنگیاں دکھلائے‘ اس لئے کہ یہ سب کا سب عقلاً کے نزدیک باطل اور
گمراہی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسود عنسی (مدعی نبوت) کے ہاتھ پر یمن میں اور مسیلمہ کذاب (مدعی نبوت) کے ہاتھ پر یمامہ میں احوال فاسدہ اور اقوال باردہ ظاہر کئے جن کو دیکھ کر ہر عقل و فہم اور تمیز والا یہ سمجھ گیا کہ یہ دونوں جھوٹے اور گمراہ کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے، اور ایسے ہی قیامت تک ہر مدعی نبوت پر، یہاں تک کہ وہ مسیح دجال پر ختم کر دیئے جائیں گے، پس ہر ایک ان کذابوں میں سے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ایسے امور پیدا فرمادے گا کہ علما اور مسلمان اس کے جھوٹے ہونے کی شہادت دیں گے۔‘‘
...... شیخ ابن نجیم ”الاشباہ والنظائر“ میں لکھتے ہیں :
”اذالم یعرف ان محمداً ﷺ آخر الانبیا فلیس بمسلم‘ لانہ من الضروریات (الاشباہ والنظائر) یعنی والجہل بالضروریات فی باب المکفرات لایکون عذرا بخلاف غیرھا فانہ یکون عذراً علی المفتی بہ، کما تقدم واللہ اعلم۔“
(شرح حموی ص ۲۶۷)
ترجمہ : ”جب کوئی شخص یہ نہ جانے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں، کیونکہ عقیدۂ ختم نبوت ضروریات دین میں داخل ہے۔ اور علامہ حمویؒ اس کی شرح میں لکھتے ہیں : یعنی ضروریات دین سے جاہل ہونا کفر سے بچانے میں عذر نہیں البتہ دوسری باتوں میں مفتی بہ قول کے مطابق عذر
ہے ۔“
- ۶:...... شیخ علی القاری (م: ۱۰۱۴ھ) ”شرح فقہ اکبر“ میں لکھتے ہیں :
”اقول التحدی فرع دعوی النبوة و دعوی النبوة بعد نبیناﷺ کفر بالاجماع۔“
(ص ۲۰۲ مطبوعہ مجتبائی)
ترجمہ : ”میں کہتا ہوں کہ معجزہ نمائی کا چیلنج کرنا فرع ہے دعویٰ نبوت کی اور نبوت کا دعویٰ ہمارے نبی کریم ﷺ کے بعد بالاجماع کفر ہے۔“
- ۷ :....... حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ”مسویٰ شرح موطا“ میں فرماتے ہیں :
”او قال ان النبیﷺ خاتم النبوة ولکن معنی هذا الکلام انه لا یجوز ان یسمیٰ بعده احد بالنبی، واما معنی النبوة وهو کون الانسان مبعوثا من الله تعالیٰ الی الخلق مفترض الطاعة معصوماً من الذنوب ومن البقاء علی الخطأ فیما یریٰ فهو موجود فی الائمة بعده فذلک الزندیق وقد اتفق جماهیر المتأخرین من الحنفیة والشافعیة علی قتل من یجری هذا المجریٰ۔“
(مسوی شرح موطا ص ۱۳۰ ج ۲)
ترجمہ : ”یا جو شخص یہ کہے کہ بیشک حضور علیہ السلام نبوت کے ختم کرنے والے ہیں، لیکن اس کلام کے معنی یہ ہیں کہ حضور علیہ السلام کے بعد کسی کو نبی کہنا اور نبی کا اسم اطلاق کرنا جائز نہیں، لیکن نبوت کی حقیقت اور اس کے معنی یعنی کسی انسان کا اللہ تعالیٰ کی جانب سے خلق کی طرف مبعوث ہونا اور مفروض
الطائفہ ہونا یہ حضور کے بعد اماموں میں بھی موجود ہے پس ایسا شخص زندیق ہے، جو شخص ایسی چال چلے اس کے قتل پر جماہیر حنفیہ و شافعیہ کا اتفاق ہے۔“
- ۸:....... علامہ سفارینی حنبلی (م : ۱۱۸۸ھ ۱۷۷۴ء) ”لوامع الانوار البہیہ شرح الدرۃ
المضیئۃ“ میں جو ”شرح عقیدہ سفارینی“ کے نام سے معروف ہے، لکھتے ہیں :
”ومن زعم انها مكتسبة فهو زنديق يجب قتله لانه يقتضى كلامه واعتقاده ان لا تنقطع، وهو مخالف للنص القرآنى والاحاديث المتواترة بان نبينا صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين عليهم السلام۔“
(ص ۲۵۷ ج ۲)
ترجمہ : ”جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ نبوت حاصل ہو سکتی ہے وہ زندیق اور واجب القتل ہے، کیونکہ اس کا کلام و عقیدہ اس بات کو مقتضی ہے کہ نبوت کا دروازہ بند نہیں، اور یہ بات نص قرآن اور احادیث متواترہ کے خلاف ہے، جن سے قطعاً ثابت ہے کہ ہمارے نبی ﷺ خاتم النبیین ہیں (علیہم السلام)۔“
- ۹:....... اور سید محمود آلوسی بغدادی تفسیر روح المعانی میں آیت خاتم النبیین کے
ذیل میں لکھتے ہیں :
”وكونه صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين مما نطق به الكتاب وصدعت به السنة واجمعت عليه الامة فيكفر مدعى خلافه ويقتل ان اصر ۔“
(ج ۲۲ ص ۶۰)
ترجمہ : ”اور آنحضرت ﷺ کا آخری نبی ہونا ان مسائل میں سے ہے جن پر قرآن ناطق ہے، جن کو سنت نے واشگاف کیا ہے اور جن پر امت کا اجماع ہے، پس اس کے بر خلاف کا دعویٰ کرنے والا کافر قرار دیا جائے گا اور اگر وہ اصرار کرے تو اسے قتل کیا جائے گا۔“
- ١٠ : ...... علامہ زرقانی شرح مواہب میں امام ابن حبانؒ سے نقل کرتے ہیں :
”من ذہب الیٰ ان النبوۃ مکتسبۃ لاتنقطع او الی ان الولی افضل من النبی فہو زندیق، یجب قتلہ لتکذیب القرآن وخاتم النبیین۔“
(زرقانی شرح مواہب جلد ٦ ص ١٨٨)
ترجمہ : ”جس شخص کا مذہب یہ ہو کہ نبوت کا دروازہ بند نہیں، بلکہ حاصل ہو سکتی ہے، یا یہ کہ ولی نبی سے افضل ہوتا ہے، ایسا شخص زندیق اور واجب القتل ہے۔ کیونکہ وہ قرآن کی اور خاتم النبیین کی تکذیب کرتا ہے۔“
- ١١ : ...... حجۃ الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ لکھتے ہیں :
”سو اگر اطلاق اور عموم ہے تب تو ثبوت خاتمیت زمانی ظاہر ہے، ورنہ تسلیم لزوم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے، ادھر تصریحات نبوی ﷺ مثل ”انت منی بمنزلۃ ھارون من موسٰی الا انہ لا نبی بعدی“ او کما قال، جو بہ ظاہر بہ طرز مذکور اسی لفظ خاتم النبیین سے ماخوذ ہے، اس باب میں کافی ہے، کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے پھر اس پر اجماع بھی منعقد ہو گیا، گو الفاظ مذکور بسند متواتر منقول نہ ہوں، سو یہ عدم
تواتر الفاظ باوجود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہوگا جیسا تواتر اعداد رکعات فرائض و وتر وغیرہ باوجودیکہ الفاظ احادیث مشعر تعداد رکعات متواتر نہیں، جیسا اس کا منکر کافر ہے ایسا ہی اس کا منکر بھی کافر ہے۔“
(تحذیر الناس ص ۹۔۱۰)
خاتم النبیین کی تفسیر مرزا صاحب سے :
خاتم النبیین کی جو تفسیر اکابر مفسرین سے نقل کی گئی ہے، دعویٰ نبوت سے قبل خود مرزا صاحب نے بھی اس کی تصدیق کی ہے، چند حوالے ملاحظہ فرمائیے :
- ۱ :...... ”ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم
النبیین“ یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں، مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔ یہ آیت بھی صاف دلالت کررہی ہے کہ بعد ہمارے نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔ پس اس سے بکمال وضاحت ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ دنیا میں نہیں آسکتا، کیونکہ مسیح ابن مریم رسول ہے، اور رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرائیل حاصل کرے، اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تابہ قیامت منقطع ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۶۱۳)
- ۲ :...... ”اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جائے اور
صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرئیل لاویں اور پھر چپ ہو جاویں یہ امر بھی ختم نبوت کا منافی ہے، کیونکہ جب ختمیت کی مہر ہی
ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہونی شروع ہو گئی تو پھر تھوڑا یا بہت نازل ہونا برابر ہے، ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرائیل بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی ﷺ کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔“
(ازالہ اوہام ص ۵۷۷)
۳:....... ”ظاہر ہے کہ یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النبیین کے بعد پھر جبرائیل علیہ السلام کی وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمد و رفت شروع ہو جائے اور ایک نئی کتاب اللہ گو مضمون میں قرآن شریف سے توارد رکھتی ہو پیدا ہو جائے اور جو مستلزم محال ہو وہ محال ہوتا ہے فتدبر۔“
(ازالہ اوہام ص ۵۸۳)
۴:....... ”قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو، کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے، اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے۔ اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آوے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔“
(ازالہ اوہام ص ۷۶۱ روحانی خزائن ص ۱۱ ج ۳)
۵:....... ”اور یقین کامل سے جانتا ہوں اور اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی صلعم خاتم الانبیاء ہیں اور آنجنابؐ کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نیا ہو یا پرانا ہو اور قرآن
کریم کا ایک شوشہ یا نقطہ منسوخ نہیں ہو گا ہاں محدث آئیں گے۔“
(نشان آسمانی ص ۳۰‘ روحانی خزائن ص ۳۹ ج ۴)
۶ :...... ”ما كان اللہ ان یرسل نبیاً بعد نبینا خاتم النبیین وما كان ان یحدث سلسلۃ النبوۃ ثانیاً بعد انقطاعہا ۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ۳۸۳)
ترجمہ : ”یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ ہمارے نبی خاتم النبیین ﷺ کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی نبی بھیجے اور نہ یہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انقطاع کے بعد پھر سلسلہ نبوت کا حادث کرے۔“
۷ :...... ”الا تعلم ان الرب الرحیم المتفضل سمی نبینا ﷺ خاتم الانبیاء بغیر استثناء‘ وفسرہ نبینا فی قولہ لا نبی بعدی ببیان واضح للطالبین‘ ولو جوزنا ظہور نبی بعد نبینا ﷺ لجوزنا انفتاح باب وحی النبوۃ بعد تغلیقہا‘ وہذا خلف کمالا یخفی علی المسلمین۔ وکیف یجئ نبی بعد رسولنا ﷺ وقد انقطع الوحی بعد وفاتہ وختم اللہ بہ النبیین۔“
(حمامة البشریٰ ص ۲۰‘ روحانی خزائن ص ۲۰۰ ج ۷)
ترجمہ : ”کیا تو نہیں جانتا کہ اس محسن رب نے ہمارے نبی کا نام خاتم الانبیاء رکھا ہے‘ اور کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا اور آنحضرت ﷺ نے طالبوں کے یقین کے لئے وضاحت سے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور اگر ہم آنحضرت کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز رکھیں تو لازم آتا ہے کہ
وحی نبوۃ کے دروازے کا افتتاح بھی بند ہونے کے بعد جائز خیال کریں اور یہ باطل ہے جیسا کہ مسلمانوں پر پوشیدہ نہیں اور آنحضرت کے بعد کوئی نبی کیونکر آوے حالانکہ آپ کی وفات کے بعد وحی نبوۃ منقطع ہو گئی ہے اور آپ کے ساتھ نبیوں کو ختم کر دیا ہے۔“
- ۸: ...... ”خدا تعالیٰ ایسی ذلت اور رسوائی اس امت کے لئے اور
ایسی ہتک اور کسر شان اپنے نبی مقبول خاتم الانبیاء کے لئے ہرگز روا نہیں رکھے گا کہ ایک رسول کو بھیج کر جس کے آنے کے ساتھ جبرائیل کا آنا ضروری امر ہے اسلام کا تختہ ہی الٹا دیوے حالانکہ وہ وعدہ کر چکا ہے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی رسول نہیں بھیجا جائے گا۔“
(ازالہ اوہام ص ۵۸۶ روحانی خزائن ص ۴۱۶ ج ۳)
- ۹: ...... ”آنحضرت ﷺ نے بار بار فرمایا تھا کہ میرے بعد کوئی
نبی نہیں آئے گا اور حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے اپنی آیت کریمہ ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔“
(کتاب البریہ ص ۱۹۹۔۲۰۰ روحانی خزائن ص ۲۱۷، ۲۱۸ ج ۱۳)
- ۱۰: ...... ”قرآن مجید میں مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں
بھی ذکر نہیں لیکن ختم نبوت کا بکمال تصریح ذکر ہے اور پرانے یا نئے نبی کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے اور حدیث لا نبی بعدی میں بھی نفی عام ہے
پس یہ کس قدر جرأت اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیا کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے اور بعد اس کے جو وحی نبوت منقطع ہوچکی تھی پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کر دیا جائے۔“
(ایام الصلح ص ۱۴۷ روحانی خزائن ص ۳۹۲‘ ۳۹۳ ج ۱۴)
مرزا صاحب کی ان عبارتوں سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوئے :
- ۱...... آیت خاتم النبیین ختم نبوت کے عقیدہ پر نص صریح ہے۔
- ۲...... خاتم الانبیا کے بعد وحی نبوت ورسالت کا دروازہ تا قیامت بند ہے۔
- ۳...... خاتم الانبیا کے بعد کسی شخص کا نبی اور رسول کی حیثیت سے آنا شرعاً محال
ہے۔
- ۴...... نبی کو وحی بذریعہ جبرئیل ملتی ہے اور خاتم النبیین کے بعد جبرئیل کی آمد وحی
رساں کی حیثیت سے بند کر دی گئی۔
- ۵...... خاتم الانبیا ﷺ کے بعد کسی شخص کا نبوت ورسالت کے منصب پر فائز ہونا
آنحضرت ﷺ کی توہین اور کسر شان ہے۔ اور امت محمدیہ کے لئے ذلت و رسوائی ہے۔
تنبیہ :...... مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کو روکنے کے لئے جو یہ لکھا ہے کہ ”نہ کوئی نیا نبی آسکتا ہے نہ پرانا“ یہ ان کی خود غرضی ہے‘ ورنہ اوپر اکابر امت کی تصریحات سے معلوم ہو چکا ہے (اور ہر صاحب عقل بھی اس کو سمجھتا ہے) کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہے کہ آپ ﷺ کی تشریف آوری
سے انبیاء کرام علیہم السلام کی فہرست مکمل ہو گئی۔ اس لئے آپ ﷺ کے بعد اب کسی شخص کو نبوت نہیں دی جائے گی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آپ ﷺ کے بعد نبوت نہیں دی گئی۔ نبوت ان کو آپ ﷺ سے پہلے مل چکی ہے۔ اس لئے ان کی تشریف آوری عقیدۂ ختم نبوت کے خلاف نہیں۔ اس قسم کی تاویلات مسیلمہ کذاب وغیرہ نے بھی کی تھیں مگر صحابہ کرام نے اس کی تاویل کو لائق التفات قرار نہیں دیا۔ کیونکہ ”ضروریات دین“ میں کوئی تاویل نہیں سنی جاتی‘ یہ تمام صحابہ کرام کا اجماعی فیصلہ تھا‘ جس سے ایک متنفس نے بھی اختلاف نہیں کیا۔ بلکہ مسیلمہ کذاب وغیرہ مدعیان نبوت کو واجب القتل سمجھا اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسیلمہ کذاب وغیرہ کے خلاف جہاد کیا۔ اسی سنت صدیقی پر عمل کرتے ہوئے بعد کے خلفاء نے مدعیان نبوت کو ہمیشہ واجب القتل سمجھا اور کبھی کسی مدعی نبوت کی تاویلات کو لائق توجہ نہیں سمجھا۔
قاضی عیاضؒ مالکی ”الشفا“ میں لکھتے ہیں :
”وقد قتل عبدالملک بن مروان الحارث المتنبئ وصلبہ وفعل ذالک غیر واحد من الخلفأ والملوک باشباههم واجمع علمأ وقتهم علی صواب فعلهم والمخالف فی ذالک من کفرهم کافر۔
(ج۲ ص۲۵۷۔۲۵۸)
ترجمہ : ”خلیفہ عبدالملک بن مروان نے مدعی نبوت حارث کو قتل کیا اور اسے سولی پر لٹکایا‘ اور اس کے بعد کے خلفاء و ملوک نے ایسے مدعیان نبوت کے ساتھ یہی سلوک کیا‘ اور ان
کے دور میں علماء نے ان کے اس فعل کے صحیح ہونے پر اجماع کیا اور جس شخص کو ان کے کفر میں اختلاف ہو وہ کافر ہے۔“ یہ مسلمانوں کا اجماع مسلسل ہے کہ مدعی نبوت کافر اور واجب قتل ہے۔
اول : حافظ جلال الدین سیوطیؒ نے ”خصائص کبریٰ“ میں ابو نعیم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ جب حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ رومیوں کے مقابلہ میں یرموک میں فروکش ہوئے تو رومیوں کے سپہ سالار نے اپنے ایک بڑے آدمی کو جس کا نام ”جرجیر“ تھا۔ آپ کی خدمت میں بھیجا‘ شام کا وقت تھا اس نے مسلمانوں کو نماز مغرب پڑھتے دیکھا تو بہت متاثر ہوا‘ اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے چند سوالات کئے ان میں سے ایک یہ تھا :
”هل كان رسولكم اخبركم انه يأتى من بعده رسول؟“ (کیا تمہارے رسول نے تمہیں یہ خبر دی تھی کہ ان کے بعد بھی کوئی رسول آئے گا؟)
حضرت ابو عبیدہؓ نے جواب میں فرمایا :
”لا‘ ولكن اخبر انه لا نبى بعده و اخبر ان عيسى بن مريم قد بشر به قومه۔“
(خصائص کبریٰ ص ۲۸۲ ج ۲)
ترجمہ : ”نہیں‘ بلکہ آپ نے یہ خبر دی کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں‘ اور یہ بھی بتایا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو آپ ﷺ کی بشارت دی تھی۔“
روایت میں ہے کہ سوال و جواب کے بعد وہ صاحب مسلمان ہو گئے تھے۔ جنگ یرموک میں شریک ہونے والے صحابہؓ و تابعینؒ (جن کی تعداد محتاط اندازے کے مطابق تیس ہزار سے کم نہیں ہو گی) کے سامنے ان کا امیر (جسے لسان نبوت سے امین ”ہذہ الامۃ“ کا خطاب ملا ہے) ختم نبوت کا اعلان کرتا ہے‘ کیا ایسا عقیدہ جس کا منائر و منابر پر ہزاروں کے مجمع میں علی رؤس الاشہاد اعلان ہو اس کے قطعی اجماعی عقیدہ ہونے میں کوئی شک رہ جاتا ہے؟ اور اس میں کسی ملحد کی کوئی تاویل مسموع ہو سکتی ہے؟
دوم :…… جب سے امت میں تصنیف و تالیف کا دور شروع ہوا ہے تب سے اب تک کتابوں کے خطبہ و دیباچہ میں ”والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد خاتم النبیین“ یا ان کے ہم معنی الفاظ عام طور سے ضرور لکھے جاتے ہیں‘ اور مشکل ہی سے کوئی مصنف ایسا نکلے گا جو آنحضرت ﷺ کا ذکر مبارک کرتے ہوئے آپ کی خاتمیت کا تذکرہ نہ کرے۔ کیا یہ اس کی دلیل نہیں کہ عقیدۂ ختم نبوت پر امت کا اجماع مسلسل چلا آ رہا ہے؟
سوم :…… اور پھر جب سے قرآن کریم کی تفسیر پر امت نے قلم اٹھایا تب سے اب تک کوئی مفسر ایسا نہیں جس نے آیت خاتم النبیین اور دیگر آیات کے تحت عقیدۂ ختم نبوت رقم نہ کیا ہو۔ دورِ اول سے آج تک مختلف زمانوں‘ مختلف زبانوں‘ مختلف علاقوں اور مختلف خطوں میں تفسیر قرآن پر بلا مبالغہ ہزاروں کتابیں لکھی گئی ہوں گی جن کی تعداد و شمار حیطۂ بشریت سے خارج ہے‘ اور آج بھی دنیا بھر کے کتب خانوں کی فہرست مرتب کی جائے تو ان تفاسیر کی فہرست‘ جو صدرِ اول سے
آج تک لکھی ہوئی دنیا میں موجود ہیں‘ ہزار سے یقیناً متجاوز ہو گی۔ اور کسی مسلمان کی تفسیر (خواہ وہ کسی زمانے اور کسی خطے کا ہو) عقیدۂ ختم نبوت سے خالی نہیں ہو گی‘ کیا اس کے بعد بھی اجماع مسلسل پر کسی دلیل کی ضرورت رہ جاتی ہے؟
چہارم :....... اور پھر جب سے احادیث طیبہ کو ابواب و فصول پر مرتب کرنے کا دور شروع ہوا ہے حضرات محدثین اور علمائے سیرت اپنی کتابوں میں آنحضرت ﷺ کے اوصاف و شمائل بیان کرتے ہوئے ”باب کونہ ﷺ خاتم النبیین“ یا اس کے ہم معنی عنوانات قائم کرتے چلے آئے ہیں‘ اور یہ سلسلہ دور اول سے لے کر آج تک مسلسل جاری ہے۔ چنانچہ بخاری و مسلم اور دیگر اکابر محدثین کی کتابوں میں یہ ابواب موجود ہیں۔ اور یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ باقی ساری کتابوں سے قطع نظر بخاری شریف ہی اپنے دور تصنیف سے لے کر آج تک متواتر چلی آتی ہے۔ اور ہر زمانے میں دنیا کے ہر خطے میں اہل علم اس کی تدریس میں مصروف رہے ہیں۔ کیا اس کے بعد بھی اس امر میں کوئی خفا رہ جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ”آخری نبی“ ہونے پر ”اجماع مسلسل“ چلا آتا ہے۔
پنجم :....... کون نہیں جانتا کہ قرآن کریم کا ایک ایک حرف متواتر ہے‘ اور صدر اول سے آج تک قرآن کریم کے لاکھوں حافظ موجود رہے ہیں‘ دنیا بھر میں قرآن کریم کی لاکھوں مرتبہ روزانہ تلاوت ہوتی رہی ہے‘ اور ہر زمانے میں مسلمانوں کا بچہ بچہ آیت کریمہ ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ کے مفہوم پر ایمان رکھتا آیا ہے۔ اس قرآنی اعلان کے بعد کسی زمانے کا کونسا مسلمان ایسا ہو گا جس نے کبھی آیت خاتم النبیین نہ سنی ہو۔ جو آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین نہ سمجھتا ہو اور جو
عقیدۂ ختم نبوت پر ایمان نہ رکھتا ہو۔ کیا قرآن کریم کے اس متواتر اعلان اور مسلمانوں کے متواتر ایمان کے بعد بھی ”عقیدۂ ختم نبوت پر اجماع“ میں کوئی شبہ رہ جاتا ہے؟
ششم: ....... دورِ تالیف کے آغاز سے لے کر آج تک مسلمانوں کے عقائد پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں ان سب میں جہاں آنحضرت ﷺ کی نبوت کا ذکر ہوتا ہے وہاں آپ کی بعثتِ عامہ اور آپ کے آخری نبی ہونے کا عقیدہ بھی درج کیا جاتا رہا ہے۔ چنانچہ امام طحاویؒ (م ۳۲۱ھ) کا مرتب کردہ عقائد نامہ جو عقیدۃ الطحاوی یا عقیدہ طحاویہ کے نام سے معروف ہے‘ اور جو ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے :
”هذا ما رواه الامام ابوجعفر الطحاوى فى ذكر بيان عقيدة اهل السنة والجماعة على مذهب فقهاء الملة ابى حنيفة نعمان بن ثابت الكوفى وابى يوسف يعقوب بن ابراهيم الانصارى وابى عبدالله محمد بن الحسن الشيبانى رضوان الله عليهم اجمعين، وما يعتقدون من اصول الدين ويدينون به لرب العالمين۔“
ترجمہ : ”یہ اہل السنّت والجماعت کے عقیدہ کا بیان ہے جو فقہاء ملت امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت الکوفی‘ امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم انصاری اور امام ابو عبداللہ محمد بن حسن شیبانی (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے مذہب کے مطابق ہے اور ان اصولِ دین کا بیان ہے‘ جن کا یہ حضرات عقیدہ رکھتے تھے‘ اور
جن کے مطابق رب العالمین کی اطاعت و بندگی کرتے تھے۔“
اس عقیدہ میں توحید کے بعد لکھتے ہیں : ”وان محمداً صلی اللہ علیہ وسلم عبدہ المصطفیٰ ونبیہ المجتبیٰ ورسولہ المرتضیٰ خاتم الانبیا وامام الاتقیا وسید المرسلین وحبیب رب العالمین وکل دعوۃ نبوۃ بعد نبوتہ بغی و ھویٰ وھو المبعوث الی عامۃ الجن وکافۃ الوریٰ بالحق والہدیٰ۔“
(ص ۳ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)
ترجمہ : ”اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ محمد ﷺ اللہ کے برگزیدہ بندے‘ اس کے چنے ہوئے نبی اور اس کے پسندیدہ رسول ہیں‘ آپ انبیاء کے خاتم‘ اتقیاء کے امام‘ رسولوں کے سردار اور رب العالمین کے محبوب ہیں‘ آپ کی نبوت کے بعد ہر دعویٰ نبوت سرکشی اور خواہش نفس کی پیروی ہے‘ آپ ہی عام جنوں کی طرف اور تمام مخلوق کی طرف حق و ہدایت کے ساتھ مبعوث کئے گئے ہیں۔“
امام طحاویؒ کے بعد عقائد پر جو کتابیں لکھی گئیں‘ ان سب میں عقیدۂ ختم نبوت درج کیا گیا‘ اور آپؐ کے بعد ہر قسم کے دعویٰ نبوت کو باطل قرار دیا گیا‘ مثلاً عقیدۂ تورپشتیؒ ‘ عقیدۂ امام غزالیؒ (جو احیاء العلوم میں شامل ہے ) عقیدۂ نسفیؒ ‘ مسامرہ شیخ ابن ھمامؒ ‘ تمہید ابو الشکور سالمیؒ ‘ عقیدۂ سفارینیؒ ‘ عقیدۂ بدء الامالیؒ ‘ مجموعۃ العقائد یافعیؒ ‘ عقیدۃ العوام شیخ احمد مرزوقیؒ ‘ عقیدہ مولانا جامیؒ ‘ عقیدہ امام ربانی مجدد
الف ثانیؒ (جو مکتوبات دفتر اول مکتوب نمبر ۲۶۶ میں درج ہے) عقیدہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ، عقیدہ شاہ عبدالعزیزؒ وغیرہ وغیرہ ...... جو عقیدہ اول سے آخر تک مسلمانوں کے عقائد کی کتابوں میں درج ہوتا چلا آتا ہو اس کے اجماع مسلسل میں کیا شبہ رہ جاتا ہے؟
ہفتم : ....... عقیدہ ختم نبوت پر مسلمانوں کے اجماع مسلسل کا اندازہ اس سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ دنیا کے کسی ملک اور کسی خطے میں چلے جائیے، اور وہاں کے مسلمانوں سے اس عقیدے کے بارے میں دریافت کیجئے، آپ کو یہی جواب ملے گا کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے۔
یہ دنیا بھر کے مسلمان، جو متفرق ممالک میں منتشر ہیں، جن میں کبھی ایک دوسرے سے ملاقات اور تبادلہ خیال کا موقعہ نہیں ملا، اور جو ایک دوسرے کی زبان سے بھی واقف نہیں، ان سب کو اس ایک عقیدے پر کس چیز نے جمع کر دیا؟ اسی اجماع مسلسل نے، جو صدر اول سے آج تک بلا انقطاع چلا آتا ہے، اور جہاں جہاں دنیا میں قرآن کی روشنی پہنچی وہاں یہ عقیدہ بھی مسلمانوں کو پہنچا۔ جس طرح دنیا بھر کے مسلمان ہمیشہ اس پر متفق رہے ہیں کہ اللہ ایک ہے اور محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں اسی طرح ہمیشہ سے اس پر متفق رہے ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد نبوت نہیں، اور یہ کہ مدعی نبوت کاذب و کافر ہے۔
ہشتم : ....... عقیدہ ختم نبوت کی قطعیت اور اس پر اجماع مسلسل کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا دجال اور ملحد و زندیق بھی اس کا انکار کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ منکرین ختم نبوت بھی مسلمانوں کے اجماع مسلسل کے سامنے سپر
انداز ہیں اور کم از کم لفظوں کی حد تک یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں اور جو آپ کو خاتم النبیین نہ سمجھے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے...... لیکن وہ اس کے معنی و مفہوم میں تاویل و تحریف کرتے ہیں‘ حالانکہ جس تواتر‘ جس قطعیت اور جس اجماع مسلسل سے یہ ثابت ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں اسی تواتر‘ اسی اجماع مسلسل اور اسی قطعیت سے یہ بھی ثابت ہے کہ خاتم النبیین کے معنی آخری نبی ہیں۔
امام غزالیؒ ”الاقتصاد“ میں ”خاتم النبیین“ اور ”لا نبی بعدی“ میں ملاحدہ کی تاویلات کو ہذیان قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
”ولکن الرد علی ھذا القائل ان الامة فھمت بالاجماع من ھذا اللفظ ومن قرائن احوالہ انہ افھم عدم نبی بعدہ ابداً وعدم رسول اللہ ابداً وانہ لیس فیہ تاویل ولا تخصیص فمنکر ھذا لایکون الا منکر الاجماع۔“
(ص ۱۲۳)
ترجمہ : ”لیکن اس قائل کا منہ یہ کہہ کر بند کیا جائے گا کہ امت نے اس لفظ سے اور قرائن احوال سے بالاجماع یہی سمجھا ہے کہ آپ نے یہ بات سمجھائی ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی اور کوئی رسول کبھی نہیں ہوگا‘ اور یہ کہ اس ارشاد میں کوئی تاویل و تخصیص نہیں‘ پس اس کا منکر وہی ہو گا جو پوری امت کے اجماع کا منکر ہو۔“
اور کتاب ”التفرقۃ بین الاسلام والزندقۃ“ میں امام غزالیؒ لکھتے ہیں :
”ولابد من التنبیہ علی قاعدۃ اخری وہو ان المخالف قد یخالف نصاً متواتراً ویزعم انہ مؤول وذکر تاویلا لا اقتداح لہ اصلاً فی اللسان، لا علی بُعد ولا علی قرب، فذالک کفر، وصاحبہ مکذب وان کان یزعم انہ مؤول۔“
(ص ۶۱)
ترجمہ : ”اور یہاں ایک اور قاعدے پر تنبیہ کر دینا بھی ضروری ہے وہ یہ کہ مخالف کبھی نص متواتر کی مخالفت کرتا ہے، اور دعویٰ یہ کرتا ہے کہ وہ (نص کا انکار نہیں کرتا بلکہ صرف) تاویل کرنے والا ہے۔ اور اس کی ایسی تاویل کرتا ہے جس کی زبان و بیان کے اعتبار سے دور و نزدیک کوئی گنجائش نہیں، تو ایسی تاویل بھی کفر ہے اور ایسی تاویل کرنے والا خدا و رسول کی تکذیب کرنے والا ہے۔ خواہ وہ یہی دعویٰ کرے کہ وہ تاویل کرنے والا ہے۔“
الغرض ”خاتم النبیین“ اور ”لا نبی بعدہ“ کا عقیدہ لفظاً و معناً متواتر ہے، اور آنحضرت ﷺ سے آج تک اس پر عملاً و اعتقاداً اجماع مسلسل چلا آرہا ہے۔ اس لئے اس میں تاویل و تحریف کرنے والے بھی اسی طرح کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں جس طرح کہ اس کا منکر کافر ہے، جس کے حوالے اوپر گزر چکے ہیں۔
فقہائے امت کے فتاوٰی
- ۱:...... فتاویٰ عالمگیری :
”اذا لم یعرف الرجل ان محمداً صلی اللہ علیہ وسلم آخر الانبیاء علیہم وعلی نبینا السلام فلیس بمسلم...... ولو قال انا رسول اللہ او قال بالفارسیۃ: من پیغمبرم یرید بہ من پیغام می برم یکفر۔“
(ص ۲۶۳ ج ۲)
ترجمہ : ”جب کوئی شخص یہ عقیدہ نہ رکھے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں، اور اگر کہے کہ میں رسول اللہ ہوں، یا فارسی میں کہے کہ میں پیغمبر ہوں، اور مراد یہ ہو کہ میں پیغام پہنچاتا ہوں تب بھی کافر ہو جاتا ہے۔“
- ۲:....... فتاویٰ بزازیہ بر حاشیہ فتاویٰ ہندیہ مصری :
”ادعیٰ رجل النبوۃ، فقال رجل ھات بالمعجزۃ قیل یکفر، وقیل لا۔“
(ص ۳۲۸ ج ۲)
ترجمہ : ”ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا، دوسرے نے اس سے کہا کہ اپنا معجزہ لاؤ، تو یہ معجزہ طلب کرنے والا بقول بعض کے کافر ہو گیا اور بعض نے کہا نہیں۔“
البحر الرائق شرح کنز الدقائق :
ویکفر بقولہ ان کان ما قال الانبیاء حقاً
او صدقاً وبقوله انا رسول الله وبطلبه المعجزة حين ادعیٰ رجل الرسالة وقيل اذا اراد اظهار عجزه لايكفر۔“
(ص ۱۳۰ ج ۵)
ترجمہ : ”اگر کوئی کلمہ شک کے ساتھ کہے کہ اگر انبیا کا قول صحیح اور سچ ہوالخ‘ تو کافر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر یہ کہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو کافر ہو جاتا ہے‘ اور جو شخص مدعی نبوت سے معجزہ طلب کرے وہ بھی کافر ہو جاتا ہے‘ اور بعض نے کہا ہے کہ اگر اس کا عجز ظاہر کرنے کے لئے معجزہ طلب کرے تو کافر نہیں ہوتا۔“
- ۴ :....... فتاویٰ ابن حجر مکی شافعیؒ :
”من اعتقد وحياً بعد محمد صلى الله عليه وسلم كفر باجماع المسلمين۔“
ترجمہ : ”جو شخص محمد ﷺ کے بعد بھی کسی پر وحی نازل ہونے کا عقیدہ رکھے وہ باجماع مسلمین کافر ہے۔“
- ۵ :....... فصول عمادی :
فتاویٰ عالمگیری (ص ۲۶۳ ج ۲ مطبوعہ مصر) میں فصول عمادی کے حوالے سے لکھا ہے :
”وكذالك لو قال انا رسول الله او قال بالفارسية من پیغامبرم يريد به پیغام مى برم يكفر‘ ولو انه حين قال هذه المقالة طلب غيره منه
المعجزة قيل يكفر الطالب۔ والمتاخرون من المشائخ قالوا ان كان غرض الطالب تعجيزه وافتضاحه لا يكفر۔“
ترجمہ : ”اور ایسے ہی اگر کہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں یا فارسی میں کہے ”من پیغمبرم“ اور مراد یہ ہو کہ میں پیغام لے جاتا ہوں تو کافر ہو جائے گا۔ اور جب اس نے یہ بات کہی اور کسی شخص نے اس سے معجزہ طلب کیا تو بعض کے نزدیک یہ طالب معجزہ بھی کافر ہو جائے گا‘ لیکن مشائخ متاخرین نے فرمایا کہ اگر طالب معجزہ کی غرض محض اس مدعی کی رسوائی اور اظہار عجز ہو تو کافر نہ ہوگا۔“
ختم نبوت اور اجماع امت
سوال ۴ :...... کیا یہ درست ہے کہ اس امر پر آج تک مسلسل اور مکمل اجماع امت‘ بشمول علمائے سنی وشیعہ رہا ہے کہ حضور ﷺ آخری نبی تھے‘ ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا؟ مفصل حوالہ جات تحریر فرمائیں!
جواب :...... بلاشبہ جس طرح مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ آنحضرت ﷺ رسول برحق ہیں‘ اسی طرح اس پر بھی اجماع ہے کہ آپؐ آخری نبی ہیں‘ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں‘ اور امت اسلامیہ میں ایک فرد بھی ایسا نہیں جو عقیدۂ ختم نبوت پر ایمان نہ رکھتا ہو‘ مرزا غلام احمد قادیانی نے ”شہادۃ القرآن“ میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کے تواتر کو ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے :
”یہ خبر مسیح موعود کے آنے کی اس قدر زور کے ساتھ ہر ایک زمانے میں پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہ ہو گی کہ اس کے تواتر سے انکار کیا جائے، میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر اسلام کی وہ کتابیں جن کی رو سے یہ خبر سلسلہ وار شائع ہوتی چلی آئی ہے، صدی وار مرتب کر کے اکٹھی کی جائیں تو ایسی کتابیں ہزار ہا سے کچھ کم نہ ہوں گی۔ ہاں یہ بات اس شخص کو سمجھانا مشکل ہے کہ جو اسلامی کتابوں سے بالکل بے خبر ہو۔“
آگے نماز پنجگانہ وغیرہ کی مثالیں دے کر مرزا صاحب لکھتے ہیں:
”اسی طرح ہزار ہا جزئیات ہیں جو عبادات اور معاملات اور عقود وغیرہ کے متعلق ہیں، اور ایسے مشہور ہیں کہ ان کا لکھنا صرف وقت ضائع کرنا اور بات کو طول دینا ہے۔“
(ص: ۳۴)
ٹھیک اسی طرح عقیدۂ ختم نبوت جن کتابوں میں لکھا گیا ہے اگر صدی وار ان کی فہرست مرتب کی جائے تو ان کی تعداد لاکھوں سے متجاوز ہو گی۔ اس لئے عقیدۂ ختم نبوت پر اجماع مسلسل کے دلائل پیش کرنا ایک بدیہی امر کو ثابت کرنے اور نصف النہار کے وقت وجود آفتاب کے دلائل پیش کرنے کے مترادف ہے۔ جو بقول مرزا صاحب ”صرف وقت ضائع کرنا اور بات کو طول دینا ہے۔“ تاہم کبھی کبھی بدیہیات پر بھی تنبیہ کی ضرورت پیش آتی ہے، اس لئے عقیدۂ ختم نبوت پر اجماع مسلسل کے سلسلہ میں تنبیہاً چند نکات پیش کئے جاتے ہیں واللہ الموفق ۔
اول : حضرت مفتی محمد شفیع صاحب نے اپنے رسالہ ختم نبوت کامل حصہ سوم میں حسب ذیل ۸۰ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اسمأ گرامی کی فہرست دی ہے، جن سے عقیدۂ ختم نبوت کی دو سو سے زیادہ احادیث مروی ہیں :
”حضرت صدیق اکبرؓ، حضرت فاروق اعظمؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت ابی ابن کعبؓ ، حضرت انسؓ، حضرت حسنؓ، حضرت عباسؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت سلمانؓ، حضرت مغیرہؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت ابو ذرؓ، حضرت ابو سعید خدریؓ، حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت جابر بن عبداللہؓ، حضرت جابر بن سمرہؓ، حضرت معاذ بن جبلؓ، حضرت ابو الدرداءؓ، حضرت حذیفہؓ، حضرت ابن عباسؓ، حضرت خالد بن ولیدؓ، حضرت عبداللہ بن زبیرؓ، حضرت عقیل بن ابی طالبؓ، حضرت معاویہ بن حیدہؓ، حضرت بہز بن حکیمؓ، حضرت جبیر بن مطعمؓ، حضرت بریدہؓ، حضرت زید بن ابی اوفیؓ، حضرت عوف بن مالکؓ، حضرت نافعؓ، حضرت مالک بن حویرثؓ، حضرت سفینہ مولیٰ حضرت ام سلمہؓ، حضرت ابو الطفیلؓ، حضرت نعیم ابن مسعودؓ، حضرت عبداللہ بن عمروؓ، حضرت ابو حازمؓ، حضرت ابو مالک اشعریؓ، حضرت ام کرزؓ، حضرت زید بن حارثہؓ، حضرت عبداللہ بن ثابتؓ، حضرت ابو قتادہؓ، حضرت نعمان ابن بشیرؓ، حضرت ابن غنمؓ، حضرت یونس بن میسرہؓ، حضرت ابو بکرہؓ، حضرت سعید بن
حیثمؓ، حضرت سعدؓ، حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت عرباض ابن ساریہؓ، حضرت زید بن ارقمؓ، حضرت مسور بن مخرمہؓ، حضرت عروہ ابن رویمؓ، حضرت ابو امامہ باہلیؓ، حضرت تمیم داریؓ، حضرت محمد بن حزمؓ، حضرت سہل بن سعد الساعدیؓ، حضرت ابو زمل جہنیؓ، حضرت خالد بن معدانؓ، حضرت عمرو بن شعیبؓ، حضرت مسلمہ ابن نفیلؓ، حضرت قرة بن ایاسؓ، حضرت عمران بن حصینؓ، حضرت عقبہ بن عامرؓ، حضرت ثوبانؓ، حضرت ضحاک بن نوفلؓ، حضرت مجاہدؓ، حضرت مالکؓ، حضرت اسما بنت عمیسؓ، حضرت حبشی بن جنادہؓ، حضرت عبد اللہ بن حارثؓ، حضرت سلمہ بن اکوعؓ، حضرت عکرمہ بن اکوعؓ، حضرت عمرو بن قیسؓ، حضرت عبد الرحمن بن سمرہؓ، حضرت عصمة بن مالکؓ، حضرت ابو قبیلہؓ، حضرت ابو موسیٰؓ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ۔‘‘
اور پھر ان ٨٠ صحابہ کرامؓ میں بڑی تعداد ان حضرات کی ہے جن سے متعدد احادیث مروی ہیں، اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان احادیث کے روایت کرنے والے تابعینؒ کی تعداد کتنی ہوگی؟ انصاف فرمائیے کہ جو مسئلہ قرآن کریم کی قریباً سو آیات میں منصوص ہو، جسے آنحضرت ﷺ نے دو سو سے زیادہ احادیث میں بیان فرمایا ہو اور جس کی شہادت ٨٠ صحابہ کرامؓ (بشمول عشرہ مبشرہ) اور لا تعداد تابعینؒ دے رہے ہوں کیا اس کے بدیہی اور آفتاب سے زیادہ روشن ہونے میں کوئی خفاء رہ جاتا ہے؟
دوم:....... اسلامی تاریخ کا مبتدی بھی جانتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زمانے میں سب سے پہلا جہاد مسیلمہ کذاب پر ہوا، جس میں مسیلمہ کذاب اور اس کے بیس ہزار ساتھی ”حدیقۃ الموت“ میں فی النار والسقر ہوئے۔ اور قریباً بارہ سو صحابہؓ و تابعینؒ نے (جن میں سات سو اکابر صحابہؓ بھی شامل تھے، جنہیں ”قرّاء“ کہا جاتا تھا) جام شہادت نوش کیا، حالانکہ مسیلمہ کذاب، آنحضرت ﷺ کی نبوت کا منکر نہیں تھا، بلکہ طبریٰ (ص ٢٤٤ ج ٣) کی روایت کے مطابق اس کی اذان میں ”اشہد ان محمد رسول اللہ“ کا اعلان کیا جاتا تھا، لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے دعویٰ نبوت کی وجہ سے اسے مرتد قرار دیا، باوجودیکہ وہ بھی اپنی نبوت کی تاویل رکھتا تھا۔
مرزا غلام احمد قادیانی کا اقرار کہ مدعی نبوت خارج از اسلام ہے :
اوپر مرزا صاحب کے حوالے گزر چکے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ وہ بھی دعویٰ نبوت سے قبل ”خاتم النبیین“ کی وہی تفسیر کرتے تھے جو امت اسلامیہ کا اجماعی عقیدہ ہے، اس وقت مرزا صاحب نے یہ بھی صاف صاف اقرار کیا تھا کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ خارج از اسلام ہے، درج ذیل حوالے ملاحظہ ہوں :
- ١ : ...... ”میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں
داخل ہیں اور جیسا کہ سنّت جماعت کا عقیدہ ہے ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت
میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہو گئی۔“
(مجموعہ اشتہارات ص ۲۳۱ / ج اول اشتہار ۲ / اکتوبر ۱۸۹۱ء)
- ۲:...... ”اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف
صاف اقرار اس خانہ خدا مسجد (جامع مسجد دہلی مراد ہے) میں کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاء ﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“
(مجموعہ اشتہارات ص ۲۵۵ ج ۱‘ اشتہار ۲۳ / اکتوبر ۱۸۹۱ء)
- ۳:...... ”میں مسلمان ہوں اور ان سب عقائد پر ایمان رکھتا
ہوں جو اہلسنت والجماعت مانتے ہیں اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا قائل ہوں اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہوں اور میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“
(آسمانی فیصلہ ص ۳)
- ۴:...... ”ماکان لی ان ادعی النبوۃ واخرج من
الاسلام والحق بقوم کافرین۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ۷۹، روحانی خزائن ص ۲۷۹ ج ۲)
ترجمہ : ”مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ میں نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے خارج ہو جاؤں‘ اور کافروں کی جماعت میں جاملوں۔“
- ۵:...... ”اگر راقم صاحب کی پہلی رائے صحیح ہے کہ میں
مسلمان ہوں اور قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہوں تو پھر یہ دوسری رائے غلط ہے جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ میں خود نبوت کا مدعی ہوں اور اگر دوسری رائے صحیح ہے تو پھر وہ پہلی رائے غلط ہے جس میں ظاہر کیا گیا کہ میں مسلمان ہوں اور قرآن شریف کو مانتا ہوں‘ کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے‘ وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں۔“
(انجام آتھم حاشیہ ص ۲۷۔ ۲۸ روحانی خزائن ص ۲۷‘ ۲۸ ج ۱۱)
نبوت کی شرائط :
سوال ۵ :...... نبوت کی لازمی شرائط و خصوصیات کیا ہیں‘ اور نبی کی تعریف کیا ہے؟ جواب مع حوالہ جات تحریر فرمائیں‘ نیز نبی اور رسول میں فرق بیان فرمائیں؟
جواب : جن حضرات کو منصب نبوت پر فائز کیا جاتا ہے وہ قوت عاقلہ و قوت عاملہ میں سب سے فائق ہوتے ہیں۔ حافظ فضل اللہ تورپشتیؒ انبیاء کرام علیہم السلام کے اوصاف و خصوصیات بیان کرتے ہوئے ”المعتمد فی المعتقد“ میں
رقمطراز ہیں :
”ہوائے ایشان پیرو فرمان حق بودہ است‘ و نفس ایشان ہموارہ در طاعت او بفرمان ایشان‘ وازیں وجہ ایشان از نافرمانیٔ خدا بقصد معصوم ماندند‘ و ایشان واجب العصمت اند‘ و مخالفت امر خدائے تعالیٰ بر ایشان روا نیست زیراکہ حق تعالیٰ خلق را فرمودہ کہ پیروی ایشان بکنند‘ و اگر عصیان بقصد از ایشان یافت شدے خدائے تعالیٰ خلق را متابعت ایشان نہ فرمودے.......
”انبیاء کرام علیہم السلام کی خواہش فرمان الٰہی کی پیرو ہوتی ہے‘ اور ان کا نفس اطاعت خداوندی میں ہمیشہ ان کا تابع و مطیع ہوتا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ یہ حضرات بالقصد خدا تعالیٰ کی نافرمانی سے معصوم ہوتے ہیں اور ان کے لئے عصمت واجب ہے‘ اور امر الٰہی کی مخالفت ان کے حق میں روا نہیں‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ مخلوق کو ان کی پیروی کا حکم فرماتے ہیں‘ اور اگر قصد معصیت ان سے صادر ہوتا تو اللہ تعالیٰ مخلوق کو ان کی بے چوں و چرا پیروی کا حکم نہ دیتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وازاں جملہ آنست کہ عقل ایشان تمامترین عقلہا بودہ است‘ واز اختلال و زوال محفوظ وادراک عقلہائے ایشان نہ چوں ادراکات
عقلہائے غیر ایشاں بودہ است ......
ترجمہ : ”من جملہ ان کے ایک یہ ہے کہ انبیاء کرام کی عقل تمام عقلوں سے اعلیٰ و ارفع اور کامل ہوتی ہے، اور اختلال و زوال سے محفوظ۔ اور ان حضرات کی عقول کا ادراک دیگر عقلاء کی عقلوں سے بہت بلند و بالا ہوتا ہے۔............
وازاں جملہ آنست کہ رائے ایشاں قوی ترین رائے ہا بودہ است‘ وفہم ایشاں تیز ترین فہمہا بودہ است‘ وازینجا است کہ آنچه ایشاں از علم وحی فہم میکنند غیر ایشاں فہم نتواند کردن.............
............. اور من جملہ ان کے ایک یہ ہے کہ انبیاء کرام کی رائے دوسروں سے بہت زیادہ قوی ہوتی ہے، اور ان کا فہم دوسروں سے کہیں زیادہ تیز ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ علوم وحی کو جس طرح انبیاء کرام علیہم السلام سمجھتے ہیں وہ کسی دوسرے کے لئے ممکن نہیں............
وازاں جملہ آنست کہ قوت حفظ ایشاں بیشتر از غیر ایشاں باشد و بقوت در بیان و فصاحت در سخن بیش از دیگران باشند............
............. اور من جملہ ان کے ایک یہ ہے کہ انبیاء کرام کی قوت حافظہ باقی سب لوگوں سے بڑھ کر ہوتی ہے، اور
قوت بیان اور فصاحت و بلاغت میں بھی وہ سب سے فائق ہوتے ہیں۔............
وازاں جملہ آنست کہ حواس ایشان تیز تر از حواس دیگران باشد و قوت ایشان در ظاہر و باطن تمامتر از قوت غیر ایشان باشد............
............اور من جملہ ان کے ایک یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے حواس دوسروں سے تیز ہوتے ہیں، اور ان حضرات کی ظاہری وباطنی قوتیں باقی سب لوگوں سے بلند و بالا اور کامل ہوتی ہیں۔............
وازاں جملہ آنست کہ خلق ایشان در غایت نیکوئی بودہ است و خلقت ایشان در غایت تمامی و حد اعتدال۔ وصورتھائے ایشان خوب بودہ است و آواز ہائے ایشان خوش، و چنانکہ در معنیٰ بر غیر خود افزوں بودند در صورت نیز ہمچنیں بودند......
(ص ٦٣-٦٤)
............اور من جملہ ان کے ایک یہ ہے کہ ان کا اخلاق انتہائی نیک ہوتا ہے اور ان کی ظاہری ساخت بھی نہایت کامل اور معتدل ہوتی ہے وہ نہایت خوب رُو اور خوش الحان ہوتے ہیں، اور وہ جس طرح سیرت ومعنی کے لحاظ سے سب سے فائق ہوتے ہیں اسی طرح ظاہر و صورت میں بھی سب سے بڑھ کر
ہوتے ہیں۔“
حضرت مولانا محمد ادریس کاندہلویؒ نے اپنے رسالہ ”شرائط نبوت“ میں نبوت کی مندرجہ ذیل دس شرائط ذکر کی ہیں :
(۱) مرد ہونا‘ (۲) عقل کامل‘ (۳) حفظ کامل‘ (۴) علم کامل‘ (۵) صداقت و امانت‘ (۶) عدم توریث‘ (۷) زہد کامل‘ (۸) اعلیٰ حسب و نسب‘ (۹) اخلاق کاملہ۔
خلاصہ یہ کہ منصب نبوت تمام مناصب سے بالاتر منصب ہے‘ اور اس کے لئے وہی شخصیت موزوں ہو سکتی ہے جو قوت قدسیہ کی حامل ہو‘ تمام اوصاف کمال میں سب سے فائق ہو‘ اور اس میں کوئی ظاہری و باطنی‘ جسمانی و روحانی اور صورت و سیرت کے اعتبار سے کوئی نقص نہ پایا جائے۔ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے اوصاف و خصائص کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ ان کا احاطہ ممکن نہیں‘ تاہم ان کی سیرت کا اجمالی خاکہ امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ نے ”خاتم النبیین“ میں ذکر فرمایا :
” یہاں پہنچ کر انبیاء کرام کی سیرت مقدسہ کا قرآن کریم اور کتب خصائص و سیر سے مطالعہ کرنا چاہئے۔ قرآن حکیم میں جو کچھ ان کے خطاب (سوال) و جواب کے سلسلہ میں آتا ہے اسے بغور پڑھو تو معلوم ہوگا کہ کس طرح ان حضرات کے معاملہ کی بنیاد امور ذیل پر قائم تھی‘ یعنی توکل و یقین‘ صبر و استقامت‘ اولو العزمی و بلند ہمتی‘ وقار و کرامت‘ انابت و اخلاص‘ فضل و اختصاص‘ یقین کی خنکی اور سینے کی ٹھنڈک‘ سفیدۂ صبح کی طرح
انشراح و اعتماد‘ صدق و امانت‘ مخلوق سے شفقت و رحمت‘ عفت و عصمت‘ طہارت و نظافت‘ رجوع الی اللہ‘ وسائل غیب پر اعتماد‘ ہر حال میں لذات دنیا سے بے رغبتی‘ سب سے کٹ کر حق تعالیٰ شانہ سے وابستگی‘ سامان دنیا سے بے التفاتی‘ مال و دولت سے بے توجہی‘ علم و عمل کی وراثت جاری کرنا‘ اور مال و متاع کی وراثت نہ جاری کرنا‘ چنانچہ ارشاد ہے: ”ہم وارث نہیں بنایا کرتے جو کچھ ہم چھوڑ جائیں گے وہ صدقہ ہے“ (صحیح بخاری ج ۲ ص ۹۹۵‘ مشکوۃ ص ۵۰۵) ترک فضول اور اس سے زبان کی حفاظت‘ ہر حالت اور معاملہ میں حق کا ساتھ دینا اور اس کی پیروی کرنا‘ ظاہر و باطن کی ایسی موافقت کہ اس میں کبھی بھی خلل اور رخنہ واقع نہ ہو۔ انہیں اتمام مقصد کے لئے باطل عذر‘ فاسد تاویلات اور حیلے بہانے تراشنے کی ضرورت نہیں ہوتی (کیونکہ یہ کذابوں کا سرمایہ اور نقد وقت ہے‘ چنانچہ کہا گیا ہے) کہ: ”کسی شخص نے کبھی اپنے دل میں کوئی بات نہیں چھپائی‘ مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے رخسارے کے صفحات اور اس کی زبان کی لغزش سے صادر شدہ الفاظ میں اسے ظاہر کر ہی دیا۔“ اور ان حضرات کے کسی بھی معاملہ میں تہافت و تساقط اور تعارض و تناقض راہ نہیں پاتا‘ بلکہ پردۂ غیب اور کمین گاہ قضا قدر سے ان کے سامنے حق اس طرح کھل جاتا ہے جس سے پوری طرح شرح صدر ہو جائے‘ انہیں اطلاعات الہیہ اور مواعید رب ذوالجلال کے پورا
ہونے میں کبھی رجوع اور تبدیلیٔ خیال کی ضرورت نہیں ہوتی۔ (جس طرح مرزا محمدی بیگم انجام آتھم ڈاکٹر عبدالحکیم کی موت وغیرہ وغیرہ میں پھنستا رہا) ان کے باطن کے پاک اور طبیعت کے پاکیزہ ہونے کی وجہ سے ان کی روش میں ایسی یکسانیت ہوتی ہے کہ تعارض و توفیق میں کسی حیلے بہانے کی حاجت نہیں ہوتی‘ جانب خدا کو جانب اغراض پر ترجیح دینا‘ مادی علائق اور رشتوں سے بے تعلقی اور اعراض‘ تمام حوادث و پیش آمدہ حالات میں حمد و شکر‘ یاد حق اور ذکر الٰہی میں ہمہ دم مشغول رہنا‘ رب العالمین کے زیر عنایت علم لدنی کے ذریعہ فطرت سلیمہ کے مطابق لوگوں کی تعلیم و تربیت کرنا جس میں کسی قسم کی فلسفہ آرائی‘ اختراع اور تکلف کا شائبہ نہ ہو‘ تسلیم و تفویض‘ عبدیت کاملہ‘ طمانیت زائدہ‘ استقامت شاملہ‘ ان کے دین کا تمام ادیان پر غالب آنا اور ان کے ذریعہ ایمان اور خصائل ایمان کا چار دانگ عالم میں پھیل جانا‘ ان حضرات نے دنیا میں رہ کر کبھی چاپلوسی کا راستہ نہیں لیا‘ اور کیا مجال کہ کفار و جبابرہ کے مقابلہ میں اپنی ایک بات سے بھی کبھی تنزل فرمایا ہو‘ یا فراعنہ کی تخویف و تہدید اور ان کے ہجوم کی بنا پر اپنے راستہ سے انحراف کیا ہو‘ یا حرص و طمع اور سامان دنیا جمع کرنے کا معمولی دھبہ بھی ان کے دامن مقدس تک پہنچا ہو‘ یا حرص و ہوا اور حب ماسوا نے کبھی انہیں اپنی طرف کھینچا ہو‘ اور ممکن نہیں کہ ان کے آپس میں علم و عمل کا اختلاف ہوا ہو‘ یا
ایک دوسرے پر رد و قدح یا ایک دوسرے کی ہجو اور کسر شان کی ہو‘ ناممکن ہے کہ انہیں اپنے کمالات پر کبھی ناز اور عجب ہو‘ یا وہ اپنے تمام حالات میں کبھی بھی کبر و تعلی اور نفس کے فریب میں مبتلا ہوں۔ خلاصہ یہ کہ جو کچھ بھی تھا عطیات ربانیہ سے تھا‘ انسانی کسب و ریاضت کے دائرے میں نہیں تھا (ارشاد خداوندی ہے) ”وہ اللہ خوب جانتا ہے جہاں رکھتا ہے اپنے پیغامات“ (سورہ انعام : ۱۲۴) نیز ارشاد ہے : ”لیکن اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہے۔“
(خاتم النبیین ص ۲۳۴ فقرہ ۱۴۰)
یہاں دو باتوں پر تنبیہ کر دینا ضروری ہے‘ اول یہ کہ محض اعلیٰ اوصاف و خصائص کو خصائص نبوت نہیں کہا جاسکتا‘ اور نہ کوئی شخص محض اعلیٰ اوصاف و خصائص کی بنا پر نبوت کا مستحق ہو جاتا ہے‘ کیونکہ نبوت ایک موہبت الٰہی اور عطیہ ربانی ہے‘ یہ کسب و ریاضت سے حاصل نہیں ہوتی‘ اس لئے انبیاء کرام علیہم السلام کے اوصاف و خصائص کو دیکھ کر کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ جس شخص میں ان اوصاف کا کچھ حصہ پایا جاتا ہو یا جو شخص ان اوصاف کا مدعی ہو اسے نبی بھی مان لیا جائے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ نبوت اور چیز ہے اور کمالات نبوت دوسری چیز ہے‘ بعض ارباب قوت قدسیہ میں کمالات نبوت کے مشابہ کمالات پائے جاتے ہیں‘ مگر جب تک کسی کو منصب نبوت پر کھڑا نہ کیا جائے وہ نبی نہیں ہوتا۔ پس نبوت کی علت ارادۂ خداوندی ہے جو کسی شخص کے مقام نبوت پر فائز کرنے سے متعلق ہوتا ہے‘ خلاصہ یہ کہ ہر نبی صاحب قوت قدسیہ ہوتا ہے‘ مگر ہر وہ شخص جو قوت
قدسیہ کا حامل ہو، ضروری نہیں کہ نبی بھی ہو، اور پھر نبی اور غیر نبی کے اوصاف میں محض ظاہری و صوری مشابہت ہو سکتی ہے، ورنہ غیر نبی کے اوصاف کبھی نبی کے اوصاف کے ہم سنگ نہیں ہو سکتے۔
دوم :....... یہ کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے، مگر کمالات نبوت جاری ہیں، جیسا کہ ”لو کان بعدی نبی لکان عمر“ میں اس کی تقریر گزر چکی ہے، اس لئے نبوت کے اوصاف و خصائص کی بحث تمام تر آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ سے پہلے انبیا کرام (علی نبینا وعلیہم الصلوۃ والتسلیمات) سے متعلق ہے۔ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیا کے بعد یہ بحث ہی غیر متعلق ہے کہ فلاں شخص اپنے اوصاف و خصائص کے اعتبار سے نبی ہو سکتا ہے یا نہیں؟
جس طرح ”لا الہ الا اللہ“ کے بعد کسی مدعی الوہیت دجال کا دعویٰ لائق التفات نہیں، کیونکہ یہ چیز ہی خارج از امکان ہے، ٹھیک اسی طرح ”لا نبی بعدی“ کے بعد کسی مدعی نبوت کا دعویٰ بھی لائق التفات نہیں، کیونکہ آپ ﷺ کے بعد حصول نبوت بھی خارج از امکان ہے، اور جو شخص اس کے امکان کا قائل ہو وہ خارج از اسلام ہے، جیسا کہ قبل ازیں مدلل گزر چکا ہے۔ واللہ الموفق۔
جس شخص کو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں تک اپنے احکام و پیغام پہنچانے کے لئے منتخب کرتے ہیں اور اسے وحی سے سرفراز اور معجزات سے مؤید فرماتے ہیں اسے نبی و رسول کہا جاتا ہے ”شرح عقائد نسفی“ میں ہے :
”الرسول انسان بعثہ اللہ تعالیٰ الی الخلق
لتبلیغ الاحکام ـــــــــــــــــــــــ وقد یشترط فیہ الکتاب بخلاف النبی۔“
(ص:۱۶)
ترجمہ : ”رسول وہ انسان ہے جس کو اللہ تعالیٰ احکامِ شرعیہ کی تبلیغ کے لئے مبعوث فرمائیں‘ اور کبھی رسول میں کتاب کا لانا شرط قرار دیا جاتا ہے‘ بخلاف نبی کے کہ اس کے لئے شرط نہیں۔“
سوم : ...... نبی اور رسول عام طور پر ہم معنی استعمال ہوتے ہیں‘ مگر جمہور محققین کے نزدیک دونوں کے درمیان عموم و خصوص کی نسبت ہے‘ نبی عام ہے اور رسول خاص‘ نبی تو ہر صاحب وحی کو کہتے ہیں خواہ اسے نئی کتاب‘ نئی شریعت یا نئی امت دی گئی ہو یا نہ دی گئی ہو‘ اور رسول خاص اس نبی کو کہتے ہیں جسے نئی کتاب یا نئی شریعت دی گئی ہو‘ یا اسے نئی قوم کی طرف بھیجا گیا ہو‘ جیسا کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کو قوم جرہم کی طرف مبعوث کیا گیا تھا۔ حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ ”آیت خاتم النبیین“ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
”اور یاد رہے کہ رسول اور نبی کے درمیان نسبت تباین نہیں ہے کیونکہ ارشاد خداوندی : ”وکان رسولاً نبیاً“ (سورۂ مریم :۵۱) میں دونوں جمع ہیں‘ اور ان دونوں کے درمیان نسبت مساوات بھی نہیں‘ کیونکہ ارشاد خداوندی : ”وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی۔“ (الحج : ۵۲) میں دونوں کو بالمقابل ذکر فرمایا ہے‘ پس جب یہ دونوں نسبتیں نہیں ہیں تو لا محالہ کوئی اور نسبت ہو گی‘ اور وہ نسبت اسی آیت کریمہ ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم
ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ (الاحزاب :۴۰) سے مستفاد ہوتی ہے کہ نبی عام ہے اور رسول خاص۔
رسول، جمہور علما کے نزدیک وہ ہے جو کتاب یا شریعت جدیدہ رکھتا ہو، یا شریعت قدیمہ کے ساتھ قوم جدید کی جانب مبعوث کیا گیا ہو، جیسا کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام قبیلہ جرہم کی جانب مبعوث ہوئے، اور نبی وہ ہے جو صاحب وحی ہو، خواہ کتاب جدید یا شریعت جدیدہ یا قوم جدید رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔ رسول اور نبی کے در میان عموم و خصوص کی نسبت کے اس آیت کریمہ سے مستفاد ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر دونوں کے در میان تساوی کی نسبت ہوتی تو یہاں ضمیر لوٹانے کا موقعہ تھا نہ کہ اسم ظاہر لانے کا۔ اندریں صورت ”خاتم النبیین“ کے بجائے ”خاتمہم“ فرمایا جاتا، اور خاتم النبیین میں جو اسم ظاہر لائے وہ اسی نکتہ کے لئے لائے تاکہ کلمہ عموم سے ہر قسم کی نبوت کا اختتام سمجھا جائے۔ اور آپ ﷺ کے بعد نبوت کے بالکلیہ منقطع ہونے کی صاف صاف تصریح ہو جائے، پس یہ طرز نبی کے عموم اور رسول کے خصوص پر دلالت کرتا ہے۔ اور معلوم ہے کہ یہ عام، خاص کے بغیر اسی صورت میں پایا جاتا ہے جبکہ وحی تو ہو مگر بغیر کتاب یا شریعت جدیدہ کے، اسی مادہ افتراق کی خاطر عنوان کو ضمیر لانے کے بجائے اسم ظاہر کی طرف تبدیل فرمایا۔ پس اس نکتہ جزیلہ کو سمجھ لینے کے بعد معلوم ہو گا کہ یہ آیت کریمہ جس
طرح نبوت تشریعیہ کے انقطاع پر نص قطعی ہے اس سے کہیں بڑھ کر نبوت غیر تشریعیہ کے انقطاع پر نص قطعی ہے‘ اس لئے کہ ضمیر کے بجائے اسم ظاہر اسی مقصد کے لئے واقع ہوا ہے کہ لفظ ”خاتم النبیین“ سے ہر قسم کی نبوت عامہ کے منقطع ہونے کی صراحت کر دی جائے۔“
(خاتم النبیین فقرہ ۱۸)
کیا مرزا قادیانی فاتر العقل تھا؟
سوال : ۶ ...... کیا مرزا غلام احمد قادیانی صحیح العقل انسان تھا یا اس کا دماغی توازن مشکوک تھا؟ اگر وہ مختل الدماغ اور فاتر العقل آدمی تھا تو اس کی تحریر و تقریر سے یا اس کے علاوہ کیا شواہد موجود ہیں؟ مکمل حوالہ جات تحریر فرمائیں۔
جواب : ...... مرزا غلام احمد اور اس کے پیروؤں نے اس کا اقرار کیا ہے کہ مرزا صاحب کو ”مراق“ کا عارضہ تھا‘ اس اقرار کے ثبوت میں مندرجہ ذیل حوالے ملاحظہ کئے جائیں :
الف : ...... ”دیکھو ! میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی ۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر ہے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی‘ تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی یعنی مراق‘ اور کثرت بول ۔“
(مرزا صاحب کا ارشاد مندرجہ رسالہ ”تشحیذ الاذہان“ جون ۱۹۰۶ء
اخبار بدر ۱۷ جون ۱۹۰۲ء بحوالہ قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ)
ب:...... ”میرا تو یہ حال ہے کہ باوجود اس کے کہ دو بیماریوں میں ہمیشہ مبتلا رہتا ہوں‘ پھر بھی آج کل میری مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کر کے بڑی بڑی رات تک بیٹھا کام کرتا رہتا ہوں حالا نکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی جاتی ہے ۔ اور دوران سر کا دورہ زیادہ ہوجاتا ہے مگر میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا اور اس کام کو کئے جاتا ہوں ۔“
(ملفوظات ص ۳۷۶ ج ۲)
ج:......”حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد) سے فرمایا کہ حضور ! غلام نبی کو مراق ہے‘ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک رنگ میں سب نبیوں کو مراق ہوتا ہے اور مجھ کو بھی ہے ۔“
(سیرۃ المہدی ص ۳۰۴ ج ۳)
اس اقرار و اعتراف سے قطع نظر مرزا صاحب میں مراق کی علامات بھی کامل طور پر جمع تھیں مرزا بشیر احمد ایم اے ”سیرۃ المہدی“ میں اپنے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کی ”ماہرانہ شہادت“ نقل کرتے ہیں :
”و:......”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزاغلام احمد ) سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے‘ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے‘ لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی
علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹریا (اور مراق) کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں، مثلاً کام کرتے کرتے یک دم ضعف ہو جانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہو جانا، گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا، یا ایسا معلوم ہوتا کہ ابھی دم نکلتا ہے، یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا وغیرہ ذالک۔ (مثلاً بدہضمی، اسہال، بدخوابی تفکر، استغراق، بدحواسی، نسیان، ہذیان، تخیل پسندی، طویل بیانی، اعجاز نمائی، مبالغہ آرائی، دشنام طرازی، فلک پیما دعوے، کشف و کرامت کا اظہار، نبوت و رسالت، فضیلت و برتری کا ادعا، خدائی صفات کا تخیل وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کی بیسیوں مراقی علامات مرزا صاحب میں پائی جاتی تھیں۔ ناقل)“
(سیرۃ المہدی ص ۵۵ ج ۲)
مرزا صاحب کو مراق کا عارضہ غالباً موروثی تھا، ڈاکٹر شاہ نواز قادیانی لکھتے ہیں:
ہ:…… ”جب خاندان سے اس کی ابتدا ہو چکی تھی تو پھر اگلی نسل میں بے شک یہ مرض منتقل ہوا چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔“
(ریویو آف ریلیجنز بابت اگست ۱۹۲۶ء ص ۱۱)
ڈاکٹر صاحب کے نزدیک مرزا صاحب کے مراق کا سبب اعصابی کمزوری تھی، لکھتے ہیں:
”واضح ہو کہ حضرت صاحب کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر، درد سر، کمی خواب، تشنج دل، بدہضمی، اسہال، کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی
کمزوری تھا۔
(ریویو مئی ۱۹۲۷ء ص ۲۶)
مراق کی علامات میں اہم ترین علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ :
”مالیخولیا کا کوئی مریض خیال کرتا ہے کہ میں بادشاہ ہوں، کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں خدا ہوں، کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں پیغمبر ہوں۔“
(بیاض نور الدین ص ۲۱۲ ج ۱۰)
یہ تمام علامات مرزا صاحب میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں، انہوں نے ”آریوں کا بادشاہ“ ہونے کا دعویٰ کیا، نبوت سے خدائی تک کے دعوے بڑی شد و مد سے کئے، انبیاء کرام سے برتری کا دم بھرا، دس لاکھ معجزات کا ادعا کیا، مخلوق کو ایمان لانے کی دعوت دی، اور نہ ماننے والوں کو منکر کافر اور جہنمی قرار دیا، انبیاء علیہم السلام کی تنقیص کی، صحابہ کرام کو نادان اور احمق کہا، اولیاء امت پر سب و شتم کیا، مفسرین کو جاہل کہا، محدثین پر طعن کیا، علماء امت کو یہودی کہا، پوری امت کو گمراہ کہا، اور فحش کلمات سے ان کی تواضع کی، یہ کام کسی مجدد یا ولی کا نہیں ہو سکتا بلکہ اس کو مراق کی کرشمہ سازی ہی کہا جا سکتا ہے۔
علاوہ ازیں مرزا صاحب نے بعض ایسے دعوے کئے جن کو سن کر ان صاحب کے خلل دماغ کا شبہ ہوتا ہے۔ ادنیٰ فہم کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی خدا کی گنجائش نہیں، اب اگر ایک شخص سر بازار کھڑا ہو کر یہ تقریر کرے کہ : ”اس میں اللہ تعالیٰ کے ماسوا خدا کی نفی کی گئی ہے اور فقیر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اس قدر کامل اور فنا فی اللہ کے مقام میں اس قدر راسخ ہے کہ میرا وجود بعینہ خدا کا وجود ہے اس لئے میرے دعویٰ خدائی
سے لا الہ کی مہر نہیں ٹوٹتی بلکہ خدا کی چیز خدا ہی کے پاس رہتی ہے، اور یہ کہ میں نے خدائی کمالات خدا میں گم ہو کر پائے ہیں، میرا وجود در میان میں نہیں اس لئے میرے خدا ہونے سے لا الہ الا اللہ کی صداقت میں فرق نہیں آتا۔“ تو فرمائیے اس فصیح البیان مقرر کے بارے میں عقلا کیا فیصلہ کریں گے؟ کیا لا الہ الا اللہ کی اس عجیب و غریب ”تفسیر“ کو کرشمہ مراق نہیں قرار دیا جائے گا؟
اب دیکھئے کہ آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ”امت اسلامیہ“ کا قطعی عقیدہ ہے، اور اس کے معنی آج تک یہی سمجھے گئے، جو آنحضرت ﷺ نے اپنے متواتر ارشاد ”انا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ میں بیان فرمائے، یعنی میں آخری نبی ہوں میرے بعد کسی کو نبوت عطا نہیں کی جائے گی، لیکن ایک شخص سر بازار کھڑا ہو کر ”لا نبی بعدی“ کی یہ تقریر کرتا ہے :
”اگر کوئی شخص اسی خاتم النبیین میں ایسا گم ہو کہ باعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پا لیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا؟ کیونکہ وہ محمد ہے گو ظلی طور پر، پس باوجود اس شخص کے دعوائے نبوت کے، جس کا نام ظلی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا ہے پھر بھی سیدنا محمد خاتم النبیین ہی رہا کیونکہ یہ محمد ثانی اسی محمد ﷺ کی تصویر اور اسی کا نام ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ۵ روحانی خزائن ص ۲۰۹ ج ۱۸)
اور پھر وہ اس فلسفہ کو اپنی ذات پر چسپاں کرتے ہوئے کہتا ہے :
”چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں ﷺ پس اس طور
سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی‘ کیونکہ محمد ﷺ کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ۵‘ روحانی خزائن ص ۲۱۲ ج ۱۸)
اور کہ ......
”تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کونسا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا ؟۔“
(ایضاً)
اور کہ ......
”میرا نفس درمیان نہیں ہے بلکہ محمد مصطفیٰ ﷺ ہے‘ اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔“
(روحانی خزائن جلد ۱۸ ص ۲۱۶)
بتائیے! اس کی توجیہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ یہ ”سلطان القلم“ غلبہ سودا اور جوش مراق کا شکار ہے۔ مراق کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ مریض کو اپنے جذبات و خیالات پر قابو نہیں رہتا‘ جو بات کسی وقت اس کے خیال میں آجائے اسے قطعی سمجھ کر ہانک دیتا ہے۔ اس لئے اس کی باتیں اکثر بے ربط ‘ انمل اور بے جوڑ ہوتی ہیں۔ اور ان میں کثرت سے تناقض پایا جاتا ہے۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں :
”جو پرلے درجہ کا جاہل ہو‘ جو اپنے کلام میں متناقض بیانوں کو جمع کرے‘ اور اس پر اطلاع نہ رکھے الخ“
(حاشیہ ست بچن ص ۲۹‘ روحانی خزائن ص ۱۴۱ ج ۱۰)
”ظاہر ہے کہ کسی سچیار اور عقلمند اور صاف دل انسانوں کی کلام میں ہر گز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل اور مجنون اور ایسا منافق ہو الخ۔“
(ست بچن ص ۳۰-۳۱‘ روحانی خزائن ص ۱۴۲ ج ۱۰)
”مگر یہ بات تو جھوٹا منصوبہ اور یا کسی مراقی عورت کا وہم تھا۔“
(حاشیہ کتاب البریہ ص ۲۳۸، ۲۳۹ روحانی خزائن جلد ۱۳)
مرزا صاحب کے کلام‘ ان کے دعوؤں اور ان کی تحقیقات میں اس کثرت سے تناقض پایا جاتا ہے کہ اس کا احاطہ مشکل ہے۔ ان کا شاید ہی کوئی نظریہ ایسا ہو جس کا توڑ خود انہی کی تحریر میں موجود نہ ہو۔ یہاں مرزا صاحب کے تناقضات کی چند مثالیں بطور نمونہ پیش کی جاتی ہیں:
- ۱...... دورِ سابق میں نبوت ثمرۂ اتباع تھی یا نہیں؟
”بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت نبی آئے مگر ان کی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وہ نبوتیں براہ راست خدا کی ایک موہبت تھیں‘ حضرت موسیٰ کی پیروی کا اس میں ایک ذرہ کچھ دخل نہ تھا۔“
(حقیقۃ الوحی حاشیہ ص ۹۷‘ روحانی خزائن ص ۱۰۰ ج ۲۲)
اُس کے برعکس چشمہ مسیحی میں لکھتے ہیں:
”ایک بندہ خدا کا عیسیٰ نام‘ جس کو عبرانی میں یسوع کہتے ہیں‘ تیس برس تک موسیٰ رسول اللہ کی شریعت کی پیروی کر کے خدا کا مقرب بنا اور مرتبہ نبوت پایا۔“
﴿حاشیہ چشمہ مسیحی ص ۴۹‘ روحانی خزائن ج ۲۰ ص ۳۸۱﴾
- ۲...... ایک نبی کا دوسرے نبی کی پیروی قرآن کی رو سے محال بھی ہے اور جائز بھی:
”جو شخص کامل طور پر رسول اللہ کہلاتا ہے وہ کامل طور پر دوسرے نبی کا مطیع اور امتی ہو جانا نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے رو سے بکلی ممتنع ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۵۶۹‘ روحانی خزائن ص ۴۷۰ ج ۳)
”حضرت عیسیٰ کی نسبت‘ جو موسیٰ سے کمتر اور اس کی شریعت کے پیرو تھے‘ اور خود کوئی کامل شریعت نہ لائے تھے‘ اور ختنہ اور مسائل فقہ اور وراثت اور حرمت خنزیر وغیرہ میں حضرت موسیٰ کی شریعت کے تابع تھے الخ۔“
(دافع البلا ص ۴ حاشیہ‘ روحانی خزائن ص ۲۱۹ ج ۱۸)
- ۳...... کسی نبی کا حضور اکرم ﷺ کا امتی ہونا قرآن سے ثابت بھی ہے اور کفر
بھی :
”قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل ہے‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لتومنن بہ ولتنصرنہ۔“
(براہین احمدیہ ضمیمہ حصہ ۵ ص ۱۳۳ روحانی خزائن ص ۳۰۰ ج ۲۱)
اس کے برعکس مرزا صاحب اپنی اس عبارت کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”جو شخص امتی کی حقیقت پر نظر ڈالے گا وہ بداہت سمجھ لے گا کہ حضرت عیسیٰ کو (آنحضرت ﷺ) کا امتی قرار دینا ایک کفر ہے۔“
(براہین احمدیہ ضمیمہ حصہ ۵ ص ۱۹۲‘ روحانی خزائن ص ۳۶۴ ج ۲۱)
- ۴...... یسوع خدا کا مقرب نبی بھی تھا اور پاگل بھی :
”ایک بندہ خدا کا عیسیٰ نام‘ جس کو عبرانی میں یسوع
کہتے ہیں...... خدا کا مقرب بنا اور مرتبہ نبوت پایا۔“
(حاشیہ چشمہ مسیحی ص ۴۹)
جبکہ ست بچن میں مرزاجی اپنی تردید کرتے ہوئے اس کے برعکس یسوع کو دیوانہ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں :
”یسوع در حقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہو گیا تھا۔“
(حاشیہ ست بچن ص ۱۷۱ روحانی خزائن ص ۲۹۵ ج ۱۰)
- ۵....... مرزا نے نبوت حضور کی پیروی سے پائی یا شکم مادر میں؟
”سو میں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پایا جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔ اور میرے لئے اس نعمت کا پانا ممکن نہ تھا اگر میں اپنے سید و مولیٰ فخر الانبیاء اور خیر الوریٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے راہوں کی پیروی نہ کرتا سو میں نے جو کچھ پایا اس پیروی سے پایا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۶۲ روحانی خزائن ص ۶۴ ج ۲۲)
تھوڑا سا آگے چل کر اس کے برعکس اپنی تردید کرتے ہوئے لکھتا ہے :
”خدا تعالیٰ نے مجھے اس تیسرے درجے میں داخل کر کے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی ہے‘ میری تائید میں اس نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ آج کی تاریخ سے جو ۱۶ جولائی ۱۹۰۶ء ہے‘ اگر میں ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۷۰ روحانی خزائن ص ۷۰ ج ۲۲)
- ۶ :....... مرزا کا زمانہ جلال کا بھی ہے اور نہیں بھی :
”میرا آنا خدا کے کامل جلال کے ظہور کا وقت ہے اور میرے وقت میں فرشتوں اور شیاطین کا آخری جنگ ہے اور خدا اس وقت وہ نشان دکھائے گا‘ جو اس نے کبھی دکھائے نہیں‘ گویا خدا زمین پر خود اتر آئے گا‘ جیسا کہ وہ فرماتا ہے : ”ھل ینظرون الا ان یأتیھم اللّٰہ فی ظلل من الغمام“..... خدا فرماتا ہے کہ میں زمین پر نازل ہوں گا اور وہ قہری نشان دکھلاؤں گا کہ جب سے نسل آدم پیدا ہوئی ہے کبھی نہیں دکھلائے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۱۵۴ روحانی خزائن ص ۱۵۸ ج ۲۲)
”وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا‘ اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کر دیں گے اور کج اور ناراست کا نام و نشان نہ رہے گا اور جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست و نابود کر دے گا اور یہ زمانہ اس زمانہ کے لئے بطور ارہاص واقع ہوا ہے یعنی اس وقت جلالی طور پر خدائے تعالیٰ اتمام حجت کرے گا اب بجائے اس کے جمالی طور پر یعنی رفق اور احسان سے اتمام حجت کر رہا ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ۵۰۵ روحانی خزائن ص ۳۱۷-۳۱۸ ج ۱)
براہین احمدیہ میں مرزا صاحب فرماتے ہیں ان کا زمانہ جلال کا نہیں جمال کا زمانہ ہے۔ جلالی زمانہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہوگا‘ اور مرزا صاحب کا زمانہ اس کے لئے بطور ارہاص ہے۔ لیکن حقیقۃ الوحی میں فرماتے ہیں کہ ان کا زمانہ جلال و قہر الٰہی کا زمانہ ہے۔ لطف یہ ہے کہ دونوں باتیں آپ نے ”وحی قطعی“ کے حوالے سے لکھیں۔ اور لطف بر لطف یہ کہ مرزا صاحب نے قرآن کریم کی آیت غلط نقل کی ۔ اور اس کا ترجمہ بھی غلط کیا۔
مرزا صاحب کا یہ ارشاد بھی دلچسپ ہے کہ ”میرے وقت میں فرشتوں اور شیاطین کا آخری جنگ ہے“ مرزا صاحب کو دنیا سے رخصت ہوئے قریباً صدی گزر چکی ہے مگر دنیا دیکھ رہی ہے کہ مرزا صاحب کی عالم وجود میں قدم رنجہ فرمائی سے دنیا کے شر میں اضافہ ہوا اور ہو رہا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مرزا صاحب نے حقیقۃ الوحی کی مندرجہ بالا عبارت میں جو کچھ لکھا ہے‘ اسے شاعری کہہ سکتے ہیں یا مراقی تخیلات۔
اور مرزا صاحب کا یہ ارشاد کہ ”خدا اس وقت وہ نشانات ظاہر کرے گا جو اس نے کبھی نہیں دکھائے“ یہ بھی مرزا صاحب کے جوش مراق کا کرشمہ ہے اور اس خالص غلط بیانی سے ان کا مدعا تمام انبیاء کرام پر اپنی فضیلت ظاہر کرنا ہے۔ اس کی بحث مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت میں آئے گی۔
- ۹ : ...... قرآن کریم کی آیت اور اپنے الہامات کے حوالے سے مسیح علیہ السلام کی
دنیا میں دوبارہ تشریف آوری کا اقرار و انکار :
عدنا وجعلنا جہنم للکافرین حصیراً...... یہ آیت (آیت سے مرزا صاحب کا الہام مراد ہے‘ قرآن کریم کی آیت اس طرح نہیں۔ ناقل) اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے۔ یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضحہ اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے‘ اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب...... حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے۔“
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ۵۰۵‘ روحانی خزائن ص ۳۱۷ ج ۱)
اس کے برعکس حقیقۃ الوحی میں لکھتے ہیں :
”یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہین احمدیہ میں‘ میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہو گا‘ مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں۔ اس تناقض کا بھی یہی سبب تھا کہ اگرچہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی...... لیکن بعد اس کے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی الٰہی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا تو ہی ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۱۴۸/۱۴۹ روحانی خزائن ص ۱۵۲/۱۵۳ ج ۲۲)
اعجاز احمدی میں مرزا صاحب مسلمانوں کو صلواتیں سنا کر پوچھتے ہیں کہ میں نے براہین احمدیہ میں کہاں لکھا ہے کہ مسیح موعود کا دوبارہ آنا وحی الٰہی سے بیان کرتا ہوں؟ براہین کی عبارتیں قارئین کے سامنے ہیں جن میں قرآن کی آیت اور
اپنے الہامات کے حوالے سے مرزا صاحب نے مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کا عقیدہ لکھا تھا لیکن اعجاز احمدی میں مرزا صاحب وحی کا انکار فرما رہے ہیں‘ ان کے اس انکار کی کیا توجیہ کی جائے؟ کیا وہ قرآن کریم کو اس زمانے میں سمجھنے کی استعداد سے محروم تھے؟ یہ بھی مرزا صاحب کے جوش مراق کا کرشمہ ہے اور اس خالص غلط بیانی سے ان کا مدعا تمام انبیاء کرام پر اپنی فضیلت ظاہر کرنا ہے۔
- ۷ : ....... حیات مسیح کا عقیدہ قرآن سے ثابت ہے اور شرک عظیم بھی :
”ھوالذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ۔“ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے، اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ۴۹۸۔۴۹۹ روحانی خزائن ص ۵۹۳ ج ۱)
اس کے برعکس مرزا صاحب حقیقۃ الوحی میں لکھتے ہیں :
”فمن سوء الادب ان یقال ان عیسیٰ ما مات ان ھو الا شرک عظیم“ (ترجمہ : پس یہ نہایت گستاخی ہے کہ کہا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں‘ یہ عقیدہ شرک عظیم نہیں تو کیا ہے؟)
(الاستفتاء ضمیمہ حقیقۃ الوحی ص ۳۹ روحانی خزائن ص ۶۶۰ ج ۲۲)
- ۸......مرزا کے الہام سے حیات مسیح بھی ثابت ہے اور وفات بھی :
”......لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار ...... مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے ...... سو چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیش گوئی میں ابتداء سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے، یعنی حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورد ہے۔“
(براہین حصہ چہارم ص ۴۹۹، روحانی خزائن)
اس کے برعکس اعجاز احمدی میں لکھتے ہیں :
”اس وقت کے نادان مخالف بدبختی کی طرف ہی دوڑتے ہیں اور شقاوت سر پر سوار ہے‘ باز نہیں آتے‘ کیا کیا اعتراض بنا رکھے ہیں‘ مثلاً کہتے ہیں کہ مسیح موعود کا دعویٰ کرنے سے پہلے براہین احمدیہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا اقرار موجود ہے‘ اے نادانو! اپنی عاقبت کیوں خراب کرتے ہو اس اقرار میں کہاں لکھا ہے کہ یہ خدا کی وحی سے بیان کرتا ہوں‘
(براہین احمدیہ کی عبارت ناظرین کے سامنے ہے جس میں مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کو قرآن کریم کی آیت اور اپنے دو الہاموں کے حوالے سے لکھا ہے‘ لیکن اعجاز احمدی میں ”وحی“ کا انکار کر رہے ہیں۔ یا تو مرزا صاحب قرآن کو
اور اپنے الہامات کو وحی نہیں سمجھتے یا جوش مراق میں بھول گئے...... (ناقل) 'اور مجھے کب اس بات دعویٰ ہے کہ میں عالم الغیب ہوں، جب تک مجھے خدا نے اس طرف توجہ نہ دی اور بار بار نہ سمجھایا کہ تو مسیح موعود ہے اور عیسیٰ فوت ہو گیا ہے تب تک میں اسی عقیدہ پر قائم رہا جو تم لوگوں کا عقیدہ ہے۔"
(اعجاز احمدی ص ۶)
لیکن اعجاز احمدی میں مرزا صاحب وحی کا انکار فرمارہے ہیں، ان کے اس انکار کی کیا توجیہ کی جائے؟ کیا وہ قرآن کریم کو اس زمانے میں سمجھنے کی استعداد سے محروم تھے؟ یہ بھی مرزا صاحب کے جوش مراق کا کرشمہ ہے اور اس خالص غلط بیانی سے ان کا مدعا تمام انبیاء کرام پر اپنی فضیلت ظاہر کرنا ہے۔
سوال : ۷ ...... کیا مرزا غلام احمد کا چال چلن اور اخلاقی کردار شک و شبہ سے بالا تر تھا اگر ایسا نہیں تو اس کا کیا ثبوت ہے؟ مع حوالہ جات تحریر فرمائیں۔
جواب : مرزا صاحب کی امت ان کو مسیح زمان و مہدی دوران وغیرہ وغیرہ نہ معلوم کیا کیا خطابات دیتی ہے، لیکن مرزا صاحب کی سیرت و کردار کا جو مرقع خود مرزا صاحب اور ان کی تحریروں کی روشنی میں ہمارے سامنے آتا ہے وہ کسی شریف انسان کا بھی نہیں ہو سکتا، خواہ وہ غیر مسلم ہی ہو، حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور ان کے سچے متبعین حضرات اولیاء امت کے ساتھ مرزا صاحب کا موازنہ تو ہمارے نزدیک ان اکابر سے بڑی زیادتی اور بے انصافی ہے۔ مرزا صاحب کی اخلاقی حالت کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیے :
حرام خوری : ایک غیر مسلم بھی ناجائز اور ناپاک مال کے استعمال کو انسانی شرافت سے فروتر سمجھتا ہے، لیکن مرزا صاحب نجس ترین مال کے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تھے۔
- ۱....... مرزا بشیر احمد صاحب سیرۃ المہدی میں رقمطراز ہیں :
”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری نے کہ ایک دفعہ انبالہ کے ایک شخص نے حضرت صاحب سے فتویٰ دریافت کیا کہ میری ایک بہن کنچنی تھی، اس نے اس حالت میں بہت سا روپیہ کمایا پھر وہ مر گئی، اور مجھے اس کا ترکہ ملا، مگر بعد میں مجھے اللہ تعالیٰ نے توبہ اور اصلاح کی توفیق دی، اب میں اس مال کو کیا کروں؟ حضرت صاحب نے جواب دیا کہ ہمارے خیال میں اس زمانہ میں ایسا مال اسلام کی خدمت میں خرچ ہو سکتا ہے، اور پھر مثال دے کر بیان کیا، کہ اگر کسی شخص پر کوئی سگ دیوانہ حملہ کرے اور اس کے پاس کوئی چیز اپنے دفاع کے لئے نہ ہو، نہ سوٹی، نہ پتھر، وغیرہ صرف چند نجاست میں پڑے ہوئے پیسے اس کے قریب ہوں تو کیا وہ اپنی جان کی حفاظت کے لئے ان پیسوں کو اٹھا کر اس کتے کو نہ دے مارے گا؟ اور اس وجہ سے رک جائے گا کہ یہ پیسے ایک نجاست کی نالی میں پڑے ہوئے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ پس اس طرح اس زمانہ میں جو اسلام کی حالت ہے اسے مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہتے ہیں کہ اس روپیہ کو خدمت اسلام میں لگایا جا سکتا ہے۔“ (سیرۃ المہدی ص ۲۶۱ ج ۳ از روایت نمبر ۷۲)
اور پھر مرزا صاحب نے صرف فتویٰ ہی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ اس مال نجس کو منگوا کر استعمال کیا، اور جب مولانا محمد حسین بٹالوی نے انہیں اس غیر اخلاقی حرکت پر ٹوکا تو مرزا صاحب ان کے الزام سے انکار تو نہیں کر سکے البتہ اس کی یہ تاویل فرمائی کہ :
”تمام حقوق پر خدا تعالیٰ کا حق غالب ہے اور ہر ایک جسم اور روح اور مال اسی کی ملک ہے، پھر جب انسان نافرمان ہو جاتا ہے تو اس کی ملک اصل مالک کی طرف عود کرتی ہے، پھر اس مالک حقیقی کو اختیار ہوتا ہے کہ چاہے تو بلا توسط رسل نافرمانوں کے مالوں کو تلف کرے اور ان کی جانوں کو معرض عدم میں پہنچاوے، اور یا کسی رسول کے واسطہ سے یہ تجلی قہری نازل فرماوے، بات ایک ہی ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ۶۰۱ روحانی خزائن ص ۶۱۰ ج ۵)
مرزا صاحب کی اس توجیہ کا حاصل یہ ہے کہ :
- الف........ کنجری خدا تعالیٰ کی نافرمان تھی۔
- ب........ جو نافرمان ہو اس کا مال خدا کا ہو جاتا ہے۔
- ج........ اور میں خدا کا رسول ہوں اس لئے میرے لئے یہ ”عطیہ
خداوندی“ حلال و طیب ہے۔ نتیجہ یہ کہ مرزا کے حق میں یہ کنجری کا مال نہیں خدا کا مال ہے، اور مرزا کے لئے حلال و پاک ہے۔
- ۲...... سیرۃ المہدی کی مندرجہ بالا روایت نقل کرنے کے بعد مرزا بشیر احمد
صاحب لکھتے ہیں : ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس زمانے میں خدمت اسلام کے لئے بعض شرائط کے ماتحت سودی روپیہ کے خرچ کئے جانے کا فتویٰ بھی حضرت صاحب نے اسی اصول پر دیا ہے، مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ فتویٰ وقتی ہیں اور خاص شرائط کے ساتھ مشروط ہیں، و من اعتدی فقد ظلم و حارب اللہ“
(سیرۃ المہدی ج۲ ص۲۶)
مرزا بشیر احمد صاحب کی تصریح کے مطابق مرزا غلام احمد ”خدمت اسلام“ کے لئے زانیہ کی کمائی اور سود وغیرہ ہر گندے مال کو حلال کر لیتے تھے اور جن ”خاص شرائط“ کا صاحبزادہ صاحب نے ذکر کیا ہے ان میں سے اہم تر شرط غالباً یہ ہو گی کہ ایسے اموال کو پاک اور مطہر کرنے کے لئے مرزا صاحب کی خدمت میں بھیجنا ضروری ہے۔ کیونکہ ”خدمت اسلام“ کا چارج صرف ان کے پاس ہے، کوئی شخص اپنے طور پر ”خدمت اسلام“ کی غلطی نہ کرے۔ ان دونوں روایتوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن و حدیث کی قطعی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کرنے کا گر بھی مرزا صاحب جانتے ہیں۔
دیانتداری : کاروبار میں دیانت داری کو ہر شریف النفس آدمی (خواہ وہ غیر مسلم ہی ہو) ضروری سمجھتا ہے، لیکن مرزا صاحب کی مجددیت کا آغاز ہی ابلہ فریبی، دھوکہ دہی اور وعدہ خلافی سے ہوتا ہے۔ مرزا صاحب نے اشتہار پر اشتہار دیئے کہ انہوں نے حقانیت قرآن اور صداقت اسلام پر ایک ایسی کتاب تالیف کی ہے، جو تین سو براہین قطعیہ و عقلیہ پر مشتمل ہے، اور جس کے مطالعہ کے بعد طالب
حق کو قبولیت اسلام کے بغیر کوئی چارہ نہ ہوگا‘ اور کوئی اس کے جواب میں قلم نہیں اٹھا سکے گا‘ لوگوں سے غربت اسلام کے نام پر اپیل کی گئی کہ کتاب کی قیمت پیشگی جمع کرا دیں تاکہ کتاب کی طباعت ہوسکے۔ چنانچہ اس ”دستِ غیب کے“ ذریعہ مرزا صاحب نے ہزاروں روپیہ جمع کر لیا‘ اور عام خریداروں کے علاوہ بہت سے نوابوں اور رئیسوں نے بمدِ اعانت خطیر رقم پیش کیں۔ مرزا صاحب نے چار پانچ سال میں (۱۸۸۰ء سے ۱۸۸۴ء) تک چار حصے شائع کئے‘ جن میں قرآن کریم کی حقانیت پر ایک بھی دلیل مکمل نہیں تھی۔ اصل موضوع پر کتاب کے شاید بیس صفحے بھی نہیں ہوں گے‘ باقی پوری کتاب زر طلبی کے مسلسل اشتہارات‘ گورنمنٹ کی مدح و خوشامد اور خود مرزا صاحب کی خود ستائی و تعلی آمیز الہامات سے پر کر دی گئی۔ یہ چار حصے مسلسل ۶۵۲ صفحے کی ایک جلد ہیں چوتھے حصے کے آخر میں مرزا صاحب نے اشتہار دے دیا کہ وہ چونکہ اب موسیٰ بن عمران کی طرح ” وانی انا ربک “ کی ندا سن کر کلیم اللہ بن گئے ہیں‘ اس لئے اب کتاب کی تکمیل کی ذمہ داری خود ان پر عائد نہیں ہوتی بلکہ :
”اب اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہراً و باطناً حضرت رب العالمین ہے‘ اور کچھ معلوم نہیں کہ کس اندازہ اور مقدار تک اس کو پہنچانے کا ارادہ ہے‘ اور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر اس نے جلد چہارم تک انوار حقیقت اسلام ظاہر کئے ہیں یہ بھی اتمام حجت کے لئے کافی ہیں۔“
مطلب یہ کہ تین سو دلائل پر مشتمل بقیہ حصے چھاپنے کا وعدہ ختم‘ اور لوگوں سے روپیہ جو وصول کیا جا چکا ہے وہ ہضم۔
ایک طویل مدت کے بعد مرزا صاحب نے براہین کا پانچواں حصہ لکھا‘ اس کے دیباچہ میں لکھتے ہیں :
”چار حصے اس کتاب کے چھپ کر پھر تخمیناً تیئیس برس تک اس کتاب کا چھپنا ملتوی رہا...... اور کئی مرتبہ دل میں یہ درد پیدا بھی ہوا کہ براہین احمدیہ کے ملتوی رہنے پر ایک زمانہ دراز گزر گیا‘ مگر باوجود کوشش بلیغ اور باوجود اس کے کہ خریداروں کی طرف سے بھی کتاب کے مطالبہ کے لئے سخت الحاح ہوا اور اس مدت مدید‘ اور اس قدر زمانہ التوا میں مخالفوں کی طرف سے بھی وہ اعتراض مجھ پر ہوئے کہ جو بدظنی اور بدزبانی کے گند سے حد سے زیادہ آلودہ تھے اور بوجہ امتداد مدت در حقیقت وہ دلوں میں پیدا ہو سکتے تھے۔“
(ص ۱ روحانی خزائن ص ۲ ج ۲۱)
اسی دیباچہ کے صفحہ ۷ پر مرزا صاحب لکھتے ہیں :
”پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا‘ مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا‘ اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔“
یہ تھی مرزا صاحب کی کاروباری دیانت کہ تئیس سال بعد پانچواں حصہ چھاپا جاتا ہے‘ اور پانچ پر صفر لگا کر پچاس پورے کر دئیے جاتے ہیں‘ کیا اس دیانت داری کی مثال کسی بدنام سے بدنام تجارتی کمپنی کے یہاں بھی ملتی ہے؟
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین
مدیر ”صدق“ کی قادیانیت نوازی
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ الذی ھدانا للایمان و ما کنا لنھتدی لو لا ان ھدانا اللہ و الصلوٰۃ و السلام علیٰ سیدنا و مولانا محمد الذی ارشدنا الی الاسلام، و علیٰ آلہ و اصحابہ و اتباعہ الذین توانا علیٰ فہم معانی القرآن
اما بعد ! مولوی عبدالماجد صاحب دریا آبادی پاک و ہند کی ایک ممتاز شخصیت ہیں، اور اپنے گوناگوں اوصاف کی وجہ سے مشہور ہیں۔ لیکن ”طائفہ ملعونہ قادیانیہ“ اور اس کے سربراہ مرزا آنجہانی کے حق میں مدت سے ان کی رائے بے جا حمایت کی حد تک نرم ہے۔ اس باب میں حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ کی حکمت، مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ کا تفقہ، مولانا خلیل احمد سہارنپوری صاحبؒ کا علم وفضل، مولانا مفتی کفایت اللہ صاحبؒ کا اخلاص، حافظ العصر مولانا السید محمد انور شاہ صاحب کشمیریؒ کا تبحر علمی، شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنیؒ کی تواضع، اور حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ کی معاملہ فہمی ان کے لئے قطعاً بے سود ہیں۔ وہ ان تمام حضرات (رحمۃ اللہ علیہم) کو اپنے وقت کا مقتدا اور اکابر ضرور تسلیم کریں گے لیکن جہاں تک ان حضرات کی تحقیق، استدلال یا استنباط کا تعلق ہے، مولانا موصوف جب تک اس کو خود اپنی تحقیق کی کسوٹی پر پرکھ نہیں لیں گے، ہرگز تسلیم نہ
کریں گے، اب اسے ان کی بلند نظری کہئے یا کمزوری! ان کا اصل مرض جو ان کے تمام کمالات پر غالب آگیا ہے یہی ہے کہ ان کے نزدیک تقلید کا لفظ بے معنی ہے، ان کے ملاحظہ سے بیسیوں نصوص گزار دیجئے، پچاسوں اقوال پیش کر دیجئے، لیکن ان کو ماننے کے لئے ان کا اپنا ”شرح صدر“ ضروری ہے۔ کسی مسئلہ میں ان سے ایک دفعہ انکار ہو جائے، تو آئندہ ”شرح صدر“ کی توقع بے کار ہوگی۔ اپنے ”شرح صدر“ کے خلاف ہمیں یاد نہیں کہ موصوف نے کبھی اپنے بڑوں کی بھی مانی ہو (جن کو وہ خود بھی پیر و مرشد کے بغیر یاد کرنا سوء ادب سمجھتے ہیں) چہ جائیکہ اپنے ہم مرتبہ یا کم مرتبہ کی انہوں نے سنی ہو، اور اسے لائق توجہ قرار دیا ہو، پھر اپنے تمام اکابر کے علی الرغم مرزائیت کی مفت وکالت اور بے جا حمایت میں وقتاً فوقتاً ان کے قلم سے ”صدق جدید“ کے صفحات پر جو نکات جلوہ گر ہوتے رہتے ہیں ان کو پڑھ کر مشکل ہی سے آدمی اپنی ہنسی ضبط کر سکتا ہے، موصوف کو اس ”طائفہ“ کی حمایت اور نصرت میں قریب قریب وہی ”شرح صدر“ ہے جو اس ملعون جماعت کے رد اور تعاقب میں السید الامام مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیری (نور اللہ مرقدہ) کو تھا، مولانا موصوف جب مرزائیت کی نصرت کے موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں تو ان کا جوش، ان کی نکتہ آفرینی اور ان کا طرز استدلال دیدہ باید کا مصداق ہوتا ہے، لطف یہ کہ بالکل فرضی اور وہمی مقدمات ملا کر مولانا جو نتیجہ نکالتے ہیں وہ ان کے نزدیک سو فیصد قطعی اور واقعی ہوتا ہے، اور نظر ثانی کی گنجائش، مولانا کے خیال میں اس میں نہیں ہوتی۔ بنظر انصاف دیکھئے مندرجہ ذیل عبارت کیا اسی نوعیت کی نہیں؟ مولانا رقم طراز ہیں :
”دعویٰ نبوت! متعارف اور مصطلح معنی میں ہرگز یقین نہیں آتا کہ اسے کوئی معمولی عقل و علم کا شخص بھی زبان پر لا سکتا ہے، چہ
جائیکہ مرزا صاحب سا ”فہیم و ذی ہوش“۔ سوا اس صورت کے کہ اس نے نبوت ہی کے کوئی مخصوص معنی متعارف و متبادر مفہوم سے الگ اپنے ذہن میں رکھ لئے ہوں، اور جس طرح فارسی، اردو کے بے شمار شاعروں نے شراب، کفر، اسلام، صنم، بت وغیرہ کی مخصوص اصطلاحیں ان کے لغوی اور شرعی دونوں مفہوموں سے بالکل الگ گھڑ لی ہیں، اس نے نبوت کا استعمال کسی خانہ ساز اصطلاحی معنی میں شروع کر دیا ہو، اور جب ایسا ہے تو انسان جس طرح ان بے شمار شاعروں کے مقابلہ میں اپنے کو بے بس پاتا ہے ایک نبی کے مقابلہ میں اور سہی۔“
(صدق جدید ۲/ نومبر ۱۹۶۲ء)
غور فرمایا جائے! مولانا نے دانستہ یا نادانستہ اس چند سطری فقرہ میں کتنے مقدمات بلا دلیل، خلاف واقعہ اور محض فرضی اور وہمی، بطور اصول موضوعہ ذکر کر ڈالے۔
- ۱:...... مرزا صاحب آنجہانی معمولی عقل و علم کا شخص نہیں، بلکہ مولانا باور
کرانا چاہتے ہیں کہ وہ فہم و ہوش کے غیر معمولی درجہ پر فائز تھا۔
- ۲:...... دعویٰ نبوت! متعارف اور مصطلح معنی میں مولانا کو یقین نہیں آتا
کہ ”کوئی معمولی عقل و علم کا شخص بھی زبان پر (لایا ہوگا) یا لا سکتا ہے“۔
- ۳:...... اسی مفروضہ کی بنیاد پر مولانا کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ”کسی بھی محال عقلی
یا شرعی کا دعویٰ کوئی معمولی عقل و علم کا شخص زبان پر نہیں لا سکتا“۔
- ۴:...... ان فرضی مقدموں سے مولانا اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ”مرزا
صاحب نے نبوت کا متبادر اور متعارف معنی میں دعویٰ نہیں کیا“۔
- ۵:...... مولانا کے نزدیک مرزا صاحب نے ”نبوت کا استعمال کسی خانہ
ساز اصطلاحی معنی میں کیا ہے، جو اس نے شرعی مفہوم سے بالکل الگ گھڑ لیا ہے“۔
......٦: مولانا کا دعویٰ ہے کہ بے شمار شاعر، شرعی الفاظ کو ان کے شرعی و لغوی دونوں مفہوموں سے ہٹا کر اپنے اصطلاحی معنی میں استعمال کرتے ہیں، لیکن ان سے کبھی تعرض نہیں کیا گیا، بلکہ ”انسان ان بے شمار شاعروں کے مقابلے میں اپنے کو بے بس پاتا ہے“۔
......٧: ان تمام مقدمات کو جوڑ کر مولانا کی تمنا ہے اور وہ مشورہ دیتے ہیں کہ لوگ جس طرح ان شاعروں کے مقابلہ میں بے بس ہیں ”ایک نبی کے مقابلے میں اور سہی“۔
کیا مولانا کی خدمت میں یہ التماس کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے نظریات کو عقل و علم اور فہم و ہوش ہی کی روشنی میں واقعات پر منطبق کرنے کی زحمت گوارا فرمائیں؟
مرزا صاحب علم و عقل اور فہم و ہوش کی ترازو میں!
مولانا، مرزا صاحب کو غیر معمولی عقل و علم کا شخص اور فہیم و ذی ہوش کا لقب پوری سادگی کے ساتھ دیں، لیکن واقعہ یہ ہے کہ مرزا صاحب کی شخصی زندگی کا بالاستیعاب مطالعہ کرنے، اس کی طفلی، شباب اور پیری کے واقعات اور احوال پر نظر غائر رکھنے، اس کے تمام معاملات پر غور کرنے ، اور اس کی تحریرات کو بنظر صحیح دیکھ جانے کے بعد میرا خیال تھا کہ کوئی شخص بشرطِ عقل سلیم اس کو زیرک، دانا، عاقل، عالم، ذی فہم اور ہوش مند قرار نہیں دے سکتا، الا یہ کہ خود اسی کے حواس ماؤف ہوگئے ہوں۔ پہلی دفعہ مولانا کی تحریر پڑھ کر یہ جدید انکشاف ہوا کہ مرزا صاحب کے ثنا خوانوں اور اس کو فہیم اور ذی ہوش قرار دینے والوں میں مولانا دریا آبادی جیسے فہیم اور ذی علم لوگ
۱
بھی شامل ہیں :
خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ مولانا کے ذہن میں فہیم اور ذی ہوش کا مفہوم کیا ہے؟ اور وہ کن بنیادوں پر مرزا صاحب کو فہیم اور ذی ہوش لکھ ڈالنے پر اپنے کو بے بس پاتے ہیں؟ :
شواہد فہم مرزا !
مرزا صاحب جن کے نزدیک (بقول مرزا محمود) ہر شخص بڑے سے بڑا مرتبہ حاصل کر سکتا ہے، حتیٰ کہ (خاک بدہن گستاخ) محمد رسول اللہ (بآبائنا و امہاتنا) سے بھی بڑھ سکتا ہو، ان کے فہم و ہوش اور غیر معمولی عقل و علم کا اندازہ لگانے میں مولانا دریا آبادی اب تک قاصر ہیں۔
جس کے نزدیک مسیح علیہ السلام کو ”کنجریوں سے میلان اور صحبت رہی ہو۔ ایک متقی انسان کی صفات سے وہ عاری ہوں“ ۔ ”زنا کار کسبیاں زنا کاری کا پلید عطر ان کے سر پر اور اپنے بالوں کو ان کے پاؤں پر ملتی ہوں“ مولانا دریا آبادی مصر ہیں کہ وہ ذی علم اور ہوشمند تھا۔
جو گستاخ، سیدنا مسیح علیہ السلام کے پورے خاندان کو بطور تعریض و تہکم ”پاک اور مطہر“ بتلاتا ہو، ان کی تین دادیوں اور نانیوں کو (العیاذ باللہ) ”زنا کار اور کسبی“ بتلاتے ہوئے شرم نہیں کرتا، اور زنا کار خانوادے سے آپ کے وجود کے ظہور پذیر ہونے کا انکشاف کرتا ہو، وہ مولانا کے نزدیک غیر معمولی عقلمند تھا۔
جو بدزبان، حضرت مسیح علیہ السلام کو شرابی، یوسف نجار کا بیٹا، ان کے قرآن
میں ذکر کردہ معجزات کو مکروہ عمل، قابل نفرت اعجوبہ نمایاں قرار دیتا ہو، اور ان کے معجزات کو مٹی کے کھیل سے زیادہ وقعت نہ دیتا ہو، مولانا چند آزاد ذہنوں سے مرعوب ہو کر اسے ”فہیم اور ذی ہوش“ مانتے ہیں۔
جو ”ہوشمند“ اعلان کرتا ہو کہ ”مسیح علیہ السلام ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں اتارنے سے قریب قریب ناکام رہے“ اور ”ان سے کوئی معجزہ نہ ہوا“ حیف ہے کہ وہ مولانا دریا آبادی کے نزدیک ”غیر معمولی عقل و علم کا شخص“ تھا۔
جو فرعون صفت بار بار قسم کھا کھا کر مسیح علیہ السلام سے افضلیت کا دعویٰ رکھتا ہو، اور جو یہ اعتقاد نہ رکھے اسے ”مبتلائے وسوسہ شیطانی“ قرار دیتا ہو، کون دانشمند اس کے حق میں مولانا دریا آبادی کا یہ خطاب تسلیم کرے گا کہ وہ فہم و ہوش اور عقل و علم کا شخص تھا، جس غیر معمولی عقل وعلم کے شخص نے اپنی تصنیفات میں بار بار یہ لکھا ہو کہ: ”مریم بتول نے ایک مدت تک بے نکاح رہ کر اور حاملہ ہو جانے کے بعد بزرگان قوم کی ہدایت اور اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر کے تعلیم تورات کی خلاف ورزی کی، بتول ہونے کے عہد کو توڑا، تعدد ازواج کی قبیح رسم ڈالی“ اس کو ”فہیم اور ذی ہوش“ تسلیم کرنا، اور پورے ”شرح صدر“ کے ساتھ تسلیم کرنا، مولانا دریا آبادی ہی کی ہمت ہے۔
جس بکنے والے نے یہ بکا کہ: ”مسیح علیہ السلام، مریم رضی اللہ عنہا کے بلا باپ اکلوتے بیٹے نہیں تھے، بلکہ مریم ان کے علاوہ چار بیٹوں اور دو بیٹیوں کی بھی ماں تھیں، اور یہ سب مسیح علیہ السلام کی طرح مریم اور یوسف نجار دونوں کی اولاد تھی“۔ اور مسیح علیہ السلام ”تمام نبیوں سے بڑھ کر سخت زبان، زبان کی تلوار چلانے والے، اپنے
کلام میں سخت اور آزردہ طریقہ استعمال کرنے والے تھے، اور ”مسیح علیہ السلام کو اس کی ذات سے کوئی نسبت نہیں“ اور ”مسیح علیہ السلام سے اپنی تمام شانوں میں وہ بڑھ کر ہے“ اور ”مسیح علیہ السلام سے بڑھ کر کام کرسکتا ہے“۔ مسیح علیہ السلام کے معجزات ”سامری کے گوسالہ“ سے زیادہ حیثیت نہ رکھتے تھے اور ”وہ تمام نبیوں سے بزعم خود افضل ہے“۔ خود ہی انہی کے فیصلہ سے وہ یہ اعلان کرنے پر اپنے کو مجبور سمجھتا ہے، مولانا کسی ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کر کے بتلائیں کہ اس کے فہیم، ذی ہوش، غیر معمولی عقل و علم کا اعلان کرنے والا خود بھی ان ہی اوصاف سے موصوف ہے؟
جس شخص نے صلحاء امت کی تکفیر کی ہو، ان کو سب و شتم کا نشانہ بنایا ہو، ان پر لعنت و ملامت کا ایک طومار کھڑا کردیا ہو، جو داماد رسول اللہ ﷺ ، سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کو ”مردہ علی“ (خاکش بدہن) اور ان کے مقابلہ میں اپنے کو ”زندہ علی“ کہتے ہوئے نہ شرمائے، جو ”صد حسین است در گریبانم“ کا نعرہ لگائے اور حیا نہ کرے، اپنی بیعت میں داخل نامہٴ اعمال سیاہ کرنے والوں کو اصحاب رسول اللہ ﷺ سے افضل بتلائے اور اس کی جبین غیرت عرق آلود نہ ہو، کیا عقلاء کے نزدیک اس کو فہیم اور ذی ہوش، صاحب عقل و علم کہنے والا حق بجانب ہے؟ ہمارے مولانا دریا آبادی نے کمال سادگی سے مرزا صاحب کو غیر معمولی عقل و علم کا شخص اور فہیم و ذی ہوش لکھ ڈالا۔ ذرا نہیں سوچا کہ اس کی زد میں کون کون آجائیں گے؟ اور ان کا یہ فقرہ کتنے اہل عقل، اہل علم، اصحاب فہم و دانش اور اصحاب بصیرت کے خلاف چیلنج ہے۔
مولانا کو معلوم ہوگا کہ ان کا یہی ممدوح جو ان کے دربار سے فہم اور ہوشمندی کا تمغہ حاصل کرتا ہے، ان کے شیخ الشیوخ، قطب الارشاد، حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ کو شیطان، اعمیٰ، غولِ اغویٰ، شقی اور ملعون قرار دیتا ہے، اب یہ فیصلہ
مولانا کی دیانت اور بصیرت پر چھوڑتا ہوں کہ ان دونوں میں فہیم کون تھا، اور بدفہم کون، صاحب عقل وعلم کون تھا، اور بے علم اور بے عقل کون؟
دریا آبادی صاحب جانتے ہوں گے کہ ان کے ممدوح کو جن جن صلحاء امت کے نام یاد تھے، اس نے ان میں سے ایک ایک کا نام لے کر ان کی تکفیر، تضلیل، تفسیق اور تحمیق کی ہے، اس نے اکابر امت کی پوستین دری، اور اولیاء امت کی خون آشامی میں کوئی تکلف محسوس نہیں کیا۔ اس نے علماء و صلحاء کے سب وشتم کے موضوع پر مستقل تصانیف چھوڑی ہیں۔ اس نے پوری امت کو ”حرامزادہ“ کہا ہے۔ اس نے پوری ملت کو خنزیر، اور ملت کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو (جن میں دوسرے مسلمانوں کی طرح میری اور مولانا دریا آبادی کی ماں، بہنیں اور بیٹی بھی شامل ہیں) کتیوں اور کنجریوں کے لقب سے ملقب کیا ہے، میں مولانا سے خدا کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں، خدارا بتلائیں کہ باایں ہمہ اوصاف وہ کب تک مرزا صاحب کو ”سینے پر ہاتھ رکھ کر، ٹھنڈے دل کے ساتھ“ سراہتے جائیں گے :
مرا اے کاشکے مادر نزادے
مرزا صاحب کے خرافات کی فہرست طویل الذیل ہے، میں یہ چند سطریں لکھ رہا ہوں، اور مرزا صاحب کی جرأت علی اللہ، تعلی، بے حیائی اور بے ہودہ گوئی اور انبیاء علیہم السلام، صحابہ کرامؓ، علماء امت کی مظلومیت کو نقل کرتے بھی قلم پر رعشہ طاری ہے۔ اس پر جب مولانا دریا آبادی کا فقرہ تصور میں آتا ہے تو دل پارہ پارہ ہو جاتا ہے۔
ہائے اللہ ! پوری امت، محمد رسول اللہ ﷺ کی امت، خیر امت، امت وسط کو پوری بے دردی کے ساتھ گمراہ، جہنمی، کافر، منافق، بے ایمان، حرام زادہ، خنزیر، کنجریوں کی اولاد کہا جائے، اور مولانا دریا آبادی بضد ہوں کہ کہنے والا بہر حال غیر معمولی ”عقل و علم کا شخص“ ہے اور ”فہیم اور ذی ہوش“ بھی۔ الیس منکم رجل رشید۔
وا اسفاہ ! پوری امت کے علما، بدذات، یہودی خصلت، بے ایمان، نیم عیسائی، دجال کے ہمراہی، اسلام دشمن، شیطان، غول، گدھے، مشرک، بے حیا، بے شرم وغیرہ وغیرہ الفاظ سے (معاذ اللہ، استغفر اللہ ) یاد کئے جائیں، اسی شاتم امت کو فہیم اور ذی ہوش لکھنے پر چند روشن خیالوں سے مرعوب ہو کر مولانا مجبور ہوں۔
یا للعجب ! اسی مرزا کی ”صدق“ کے صفحات میں دریا آبادی صاحب کے قلم سے مدح سرائی کی جاتی ہے، جس کے قلم نے انبیاء کی عصمت میں شگاف ڈالا، امہات المؤمنینؓ کی عفت پر سیاہی پھینکی، صحابہؓ کے مقام پر حملہ کیا، علماء و صلحاء کی دستار کو چھیڑا اور پوری ملت، ملت اسلامیہ پر سنگ باری کی۔ کاش مولانا کا ”شرح صدر“ مرزا صاحب پر ”ترس“ کھانے اور ان کے انصار کی بجائے، مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ، انبیاء کرامؑ اور آنحضرت ﷺ اور آپ کی امت پر ترس کھاتا، اور ان پر ظالم نے جو سوقیانہ حملے کئے، ان کا مقام، مولانا واضح کرتے، چند گریجویٹوں سے مرعوب ہونے کی بجائے وہ اہل اللہ سے مرعوب ہوتے، لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوا، کاش مولانا اب بھی غور فرمالیں کہ وہ کس سے توڑتے ہیں اور کس سے جوڑتے ہیں :
ببیں از کہ بریدی و با کہ پیوستی !
پھر جس کی طفلی کا عالم اس ”ہوش“ میں گزرا کہ ”روٹی پر راکھ“ کھا جانے کا
کوئی مضائقہ ہے یا نہیں، اس کی تمیز سے وہ قریب قریب سن شعور میں بھی عاجز تھا، جو بچپن میں نہیں بلکہ بیوی کا شوہر، اولاد کا باپ، طائفہ کا امام، بزعم خویش وقت کا مجدد اور ایک امت کی اصلاح کا مدعی ہونے کے باوصف فرنگی پاپوش کے دائیں بائیں کی تمیز نہ کر پاتا ہو، اور دائیں بائیں کی جو علامت اس کی بیوی نے لگادی تھی، اس کے علی الرغم وہ ان کو الٹا سیدھا پہننے پر مجبور ہو۔
حیف ہے کہ ہمارے مولانا دریا آبادی کی بارگاہ سے اسی کو فہیم اور ذی ہوش کے خطاب سے نوازا جاتا ہے۔ جو بیچارہ اپنی افتاد طبع سے مجبور ہوکر ’’گڑ کی ڈلیاں‘‘ اور بیماری کی لاچاری سے ’’مٹی کے ڈھیلے‘‘ ایک ہی جیب میں رکھنے کا عادی ہو، تعجب ہے کہ صدق جدید کی اصطلاح میں وہ غیر معمولی عقل کا شخص کہلاتا ہے۔
جس کی غفلت اسے گھڑی دیکھ کر وقت دریافت کرنے سے عاجز کردے، بالآخر ہندسے گن گن کر اسے وقت کا حساب لگانا پڑے، دریا آبادی صاحب کا دعویٰ ہے کہ وہ تھا بڑا ہوشمند، اور ذی عقل!
ہسٹریا اور مراق جس کے اوپر کے دھڑ کو، اور ذیابیطس اس کے نیچے کے دھڑ کو لازم ہو، جس کے بے ہوشی کے دورے دائم اور طویل ہوں، جسے کثرت بول کی وجہ سے سو سو دفعہ یومیہ پیشاب خانے کا رخ کرنا پڑے، اور نماز اس سے قل ہو اللہ کے ساتھ بھی نہ پڑھی جاسکے، سوچا جاسکتا ہے کہ اس کے حواس کس قدر ٹھکانے ہوں گے؟ اور وہ فہم و ہوش کے کس بلند مرتبہ پر فائز ہوگا؟
بہر حال مولانا کا یہ دعویٰ سراسر خلاف واقعہ ہے، اور ایک شخص کی حمایت میں نادانستہ بہت سے صلحاء سے وہ عناد اور ضد کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں۔
- ۲:...... مولانا کا دعویٰ ہے کہ ’’نبوت کا دعویٰ متعارف اور مصطلح معنی میں
یقین نہیں آتا کہ کوئی بھی معمولی عقل و علم کا شخص زبان پر لاسکتا ہے‘ بار بار سوچتا ہوں کہ مولانا ایسا ذی علم اس یقین سے کیوں خالی ہے؟ تاریخ کا ابجد خواں بھی واقف ہے کہ ہر قرن اور صدی میں، ایسے دجال اور مفتری ظاہر ہوتے رہے ہیں جنہوں نے نبوت کے دعاویٰ سے اسلام کی بنیادوں کو صدمہ پہنچانے کی کوشش کی۔
سب جانتے ہیں کہ دعویٰ نبوت ہی کا فتنہ اسلام کے خلاف سب سے پہلا فتنہ ہے، جو خود آنحضرت ﷺ کی موجودگی میں ظاہر ہوا۔ کیا کسی کے بس میں ہے کہ وہ اسود عنسی، مسیلمہ کذاب اور طلیحہ اسدی کے ناموں کو حدیث اور سیر کی کتابوں سے کھرچ دے؟ کیا دریا آبادی صاحب ان متنبیان کذابین کے دعویٰ نبوت میں تاویل کی ہمت کریں گے؟
اب سمجھ میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مبارک دور میں ..... بعض کور بختوں نے جو دعویٰ نبوت کیا اس میں تکوینی حکمت کیا تھی، گویا خاتم النبیینؐ کی تفسیر جیسے قولاً کھول کھول کر بیان کی گئی تھی، عملاً بھی اس کو واضح کر دیا گیا، بتلادیا گیا کہ آپؐ کی تشریف آوری کے بعد دعویٰ نبوت زبان پر لانے والے کس سلوک کے مستحق ہیں، اور آنحضرت ﷺ کے جاں نثاروں کو ان کے ساتھ کیا برتاؤ کرنا چاہئے، اور تاکہ امت کو آسانی کے ساتھ اس فتنہ کا شکار نہ کیا جاسکے، صدق اللہ : ”لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَّيَحْيٰی مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ“۔
مسیلمہ اور اسود کے ساتھ جو معاملہ بارگاہ رسالت پناہ ﷺ کی طرف سے کیا گیا جب اس ”اسوۂ حسنہ“ کے باوجود گمراہ کرنے والے بدبخت گمراہ کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں۔ خیر القرون کی یہ مثال لوگوں کی نظروں سے اگر اوجھل ہوتی تو نہیں کہا جاسکتا کہ امت کو کن کن فتنوں میں مبتلا کردیا جاتا۔
بہر حال مولانا کو یقین دلا دینا تو خدا ہی کے قبضہ میں ہے، لیکن کم از کم وہ اس بے یقینی کی وجہ بتلائیں، کیا مولانا نہیں جانتے کہ آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد سب سے پہلا لشکر اسی دعویٰ نبوت کو تہہ تیغ کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا، دور صدیقیؓ کا سب سے پہلا عظیم الشان کارنامہ یہی تھا کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت رکھنے والے گروہ کی سرکوبی فرمائی، اور اس مہم میں اس رواداری اور بے بسی سے کام نہیں لیا، جس کا مولانا دریا آبادی چند روشن خیالوں سے دب کر علماء کو مشورہ دیتے ہیں، بلکہ ایک ہزار اسی صحابہؓ کو شہید کروا دیا، جن میں کثرت قراء قرآن کی تھی۔ اور خلافت صدیقی میں سب سے پہلے جو خوش خبری، حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کو ملی وہ دعویٰ نبوت زبان پر لانے والے کے قتل کی تھی۔
ضروری ہے کہ آگے بڑھنے سے پہلے مولانا دریا آبادی سے اس دشواری کے حل کی درخواست کر لی جائے، کہ آنحضرت ﷺ اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بھی یہ تحقیق، مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی سے فرمائی تھی کہ وہ نبوت بالمعنی المتبادر کے مدعی ہیں یا ”لفظ نبوت کا استعمال انہوں نے اپنے تراشیدہ معنی میں کیا ہے“؟ یا یہ قانونی نکتہ دریا آبادی صاحب کو ان کے حیدرآبادی دوست کی جانب سے تلقین ہوا ہے؟
حیرت ہے کہ دریا آبادی صاحب علم وفضل، قرآن کے مفسر، اسلامی موضوعات پر درجنوں کتابوں کے مصنف ہو کر یہ یقین نہیں کر پاتے کہ آسمان کے نیچے اور زمین کی سطح پر ایسے ائمہ تلبیس بھی ہوئے ہیں جن کے دعویٰ نبوت نے ہزاروں بندگان خدا کو مبتلائے فتنہ کیا، گویا واقعہ کی واقعیت خود مولانا دریا آبادی کے یقین کے تابع ہے، اگر کسی بدقسمت واقعہ کا مولانا کو یقین نہ آئے تو وہ واقعہ نہیں۔ اس کی
واقعیت مولانا کے زورِ قلم کے سامنے دم مارنے کی مجال نہیں رکھتی۔ قرآن کی آیت ختم نبوت (وَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ) کی تفسیر لکھتے وقت، کتب تفسیر میں مولانا محترم کی نظر سے یہ حدیث گزری ہوگی:
”عن ثوبانؓ (رفعه) سيكون فى امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى ، و انا خاتم النبيين لا نبى بعدی.“
(رواه الترمذى و صححه)
”و عن ابى هريرةؓ (مرفوعاً) لا تقوم الساعة حتىٰ ينبعث كذابون دجالون قريب من ثلاثين كلهم يزعم انه رسول الله.“
(رواه الترمذى و قال حسن صحيح)
اس حدیث میں دعویٰ نبوت و رسالت زبان پر لانے والوں کی خبر جو تاکید کے ساتھ سنائی گئی ہے، کیا مولانا کے نزدیک یہ کسی واقعہ کی خبر نہیں؟ اس حکایت کے محکی عنہ پر مولانا کو ”یقین“ کیوں نہیں آتا؟ اور کیا اس حدیث پاک میں بھی نبوت اور رسالت کے کوئی دوسرے معنی ہیں؟ جب کہ مدعی کے مقابلہ میں حسب ارشاد مولانا، انسان بے بس سہی۔
بہر حال مولانا کو یقین آئے یا نہ آئے، لیکن اہل فہم پر واضح ہو گیا ہوگا کہ مولانا کا یہ دعویٰ سراسر خلاف واقعہ ہے۔
- ۳:...... کاش مولانا سے دریافت کیا جا سکتا کہ کس دلیل عقلی یا شرعی کی بنیاد
پر ان کو قطعی واقعات سے انکار ہے، جب اسی زمین پر رینگنے والے ”الانسان“ کو ”أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلٰى“ کا غلغلہ بلند کرتے ہوئے سنا گیا۔ ”أَنَا أُحْيِى وَ أُمِيْتُ“ کا ادعا کرتے ہوئے پایا گیا۔ ”أَمْ أَنَا خَيْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِيْ هُوَ مَهِيْنٌ“ کا نعرہ لگاتے
ہوئے دیکھا گیا۔ کہنے والوں نے جب ”اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ“، ”اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ“، ”یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ“، ”اِتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا“ تک کہہ ڈالا، تو آخر مولانا کیوں یقین نہیں کرتے کہ بد نصیبوں کی ایک ٹولی: ”انا نبی، انا رسول اللہ“ کا جھوٹا دعویٰ بھی زبان پر لا سکتی ہے، جب کہ مخبر صادق ﷺ نے اس کی خبر دی ہے۔
مولانا دریا آبادی نے خواہ مخواہ پہلے یہ نظریہ گھڑ لیا کہ دعویٰ نبوت کسی صاحب عقل و علم شخص کی طرف سے کیا ہی نہیں جاسکتا لیکن ان کا یہ مفروضہ جب واقعات پر منطبق نہیں ہوتا تو تمام متنبیان کذاب کی جانب سے مولانا تاویل کر کے اپنے مفروضہ کو صحیح کرنے کی کوشش کرتے ہیں (ملاحظہ ہوں مولانا کے حواشی تفسیریہ متعلقہ آیت و خاتم النبیین)۔ کاش مولانا اس مشکل کام کی بجائے غلط نظریہ ہی قائم نہ فرماتے ۔ یا اگر ان سے یہ غلطی ہو گئی تھی تو رجوع فرما لیتے ۔ آخر غلط بات سے رجوع کر لینے میں عار کیا ہے؟ غلطی پر متنبہ ہو جانا، اور اس سے رجوع کر لینا عیب نہیں، بلکہ کمال ہے۔
میں نے ثقات بزرگوں سے سنا ہے کہ حبر الاسلام، حافظ العصر، السید الامام مولانا انور شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے: ”مولوی صاحب! بعض مسائل میں ہم پندرہ سال تک غلطی پر رہے، بالآخر اساتذہ کی تنبیہ سے تنبہ ہوا“۔ لیکن یہ جگر اور حوصلہ ہر ایک کو نصیب نہیں۔ ”كل الناس افقه من عمر حتى النساء“ کا اعلان حضرت فاروقؓ ہی کی ہمت تھی، باوجودیکہ وہ غلطی پر بھی نہ تھے۔
بہر کیف مولانا کا یہ دعویٰ واقعہ کے قطعاً خلاف ہے، بہت بہتر ہوگا کہ مولانا موصوف، مسیلمہ کذاب سے لے کر مرزا صاحب تک کے دعوؤں میں تاویل کا طویل راستہ اختیار کرنے کی بجائے خود اپنے نظریہ میں غور و فکر اور نظر ثانی کا راستہ اختیار
کرلیں۔
عقل وعلم !
مولانا کے نزدیک ”معمولی عقل وعلم“ ایسے دو نسخے ہیں کہ جس کے پاس وہ موجود ہوں، وہ ان کو استعمال کرتا ہو یا نہ کرتا ہو، بہرحال ضرور یہی دو نسخے ضلالت، غلط بیانی، افترأ پردازی کا حفظ ما تقدم ہیں۔ جو شخص بھی معمولی عقل وعلم رکھتا ہو یقین کرو کہ وہ معصوم ہو گیا۔ شیطان کی مجال نہیں کہ کوئی غلط دعویٰ اس کی زبان پر لا سکے :
کار طفلاں تمام خواہد شد
مولانا کو معلوم ہونا چاہئے کہ معمولی عقل و علم نہیں بلکہ خاصا علم اور بھاری عقل رکھنے کے باوجود اشقیاء کے گمراہ ہونے اور غلط دعاوی کرنے کا تماشہ دیکھا گیا ہے، معلم ملائکہ کا خطاب رکھنے والا: ” اَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ “ کا دعویٰ زبان پر لاتا ہے اور ”فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيْمٌ“ کا مورد بنا دیا جاتا ہے۔ ایک ہزار شاگردوں کو املاء کرانے والا ”وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰی عِلْمٍ “ میں مبتلا دیکھا گیا ہے، پوری متعارف انسانیت میں ابوالحکم کا خطاب رکھنے والا ابوجہل کے نام سے پکارا جاتا ہے، تورات کے سفینے چاٹ جانے والوں کو ”كَمَثَلِ الْحِمَارِ “ فرمایا گیا ہے۔
یہ چند مثالیں ہیں، ورنہ شواہد و نظائر جمع کئے جائیں تو ضخیم جلد تیار ہوسکتی ہے، میں تو بتلانا چاہتا ہوں کہ کس قدر غیر ذمہ دارانہ فقرہ ہے جو مولانا ایسے فاضل کے قلم سے سرزد ہو گیا، کہ ”معمولی عقل و علم کا شخص دعویٰ نبوت زبان پر نہیں لاسکتا“۔ مولانا موصوف نے یہ فرض کر لیا، کہ معمولی عقل وعلم والے کو نہ شیطان گمراہ کر سکتا ہے،
نہ وہم و غلط کی آمیزش کا خطرہ اسے لاحق ہوسکتا ہے، نہ ہوا و ہوس، طمع اور لالچ، حب جاہ و مال میں مبتلا ہوکر عقل و علم کے دامن کو چھوڑ سکتا ہے، استغفر اللہ۔ مولانا اگر تلاش کریں گے تو مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ کو خدا ماننے والے، ”پیران نابالغ“ اور ”عاقلان خام فہم“ ان کو یورپ میں بکثرت مل جائیں گے۔ ”دیوتا گائے اور بیل ہے“ کا دعویٰ کرنے والے ”دانایان تیز ہوش“ خود انہی کے دیس میں دستیاب ہوں گے۔ ”یہ کارخانہ خود بخود چل رہا ہے“ اور ”ہم خود ہی پیدا ہوتے اور مرتے ہیں“ کا راگ الاپنے والے کیا اسی زمین پر آباد نہیں؟ جو اپنی عقل و خرد، اور سائنس اور تجربے کا لوہا پوری دنیا سے منوانا چاہتے ہیں۔
مولانا جانتے ہوں گے اور جو نہیں جانتے انہیں جان لینا چاہئے کہ یہاں مطلق عقل و علم نہیں بلکہ علم صحیح و مفید، اور عقل معاد کے ساتھ جاذبۂ الٰہی اور عنایت ربانی درکار ہے، اور یہ کہ کبریت احمر نادر الوجود ہے، نری حرف خوانی اور کالم نویسی کو کافی قرار دینا کسی طرح صحیح نہیں۔
نبوت کے دو معنی !
مولانا نے اعجوبہ نمائی کی حد کردی، یعنی یہ لکھنے کے بعد کہ نبوت کے ایک معنیٰ تو متبادر اور معروف ہیں، جس کا دعویٰ مولانا یقین کئے بغیر لوگوں کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ ”کوئی معمولی عقل و علم کا شخص نہیں کرسکتا“۔ آگے مولانا رقم طراز ہیں:
”سوا اس صورت کے کہ اس نے نبوت ہی کے کوئی مخصوص معنیٰ متبادر و متعارف مفہوم سے الگ اپنے ذہن میں رکھ لئے ہوں، اور جس طرح فارسی اور اردو کے بے شمار شاعروں نے شراب، کفر، اسلام، صنم، بت وغیرہ کی مخصوص اصطلاحیں ان کے لغوی و شرعی
دونوں مفہوموں سے بالکل الگ گھڑ لی ہیں، اس نے بھی نبوت کا استعمال کسی خانہ ساز معنی میں شروع کر دیا ہو، اور جب ایسا ہے تو انسان جس طرح ان بے شمار شاعروں کے مقابلہ میں اپنے کو بے بس پاتا ہے، ایک نبی کے مقابلہ میں اور سہی۔"
کاش یہ فقرہ لکھ کر مولانا نے اہل ایمان کی روح فرسائی، اور خود اپنی جگ ہنسائی کا سامان نہ کیا ہوتا، حیف ہے کہ ہم مولانا دریا آبادی کے قلم سے نبوت کی یہ نئی تقسیم سننے کے لئے زندہ رکھ لئے گئے کہ نبوت کی دو قسمیں ہیں: (۱) معروف و متبادر (۲) اصطلاحی اور خانہ ساز۔ اول کا دعویٰ ممکن نہیں، ثانی کے مقابلہ میں انسان بے بس ہے۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔
سب جانتے ہیں کہ خدا، رسول، نبی، خدائی، رسالت، نبوت، قرآن، کتاب اللہ وغیرہ شریعت کے وہ مخصوص اور مقدس الفاظ ہیں جن کے لغوی اور شرعی معنی میں رد و بدل کی اجازت کبھی نہیں دی گئی، اور ان الفاظ کو شرعی معنی سے ہٹا کر کسی خود ساختہ معنی پر اطلاق کرنے والا زندیق اور ملحد ہے، لیکن کتنی سادگی اور بھولے بھالے انداز میں مولانا دریا آبادی لوگوں کو اس خوش فہمی میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں کہ لفظ نبوت کو اگر کوئی اپنے ”خانہ ساز“ معنی میں استعمال کر لے تو کیا مضائقہ ہے؟ علم عقائد و کلام کا ادنیٰ طالب علم بھی واقف ہے کہ آیات الہیہ کے معانی میں تغیر کرنا، نصوص شرعیہ کے مفہومات میں تبدیلی کرنا، اور شریعت کے اصطلاحی الفاظ کو خود ساختہ معنی پہنانا، الحاد اور زندقہ ہے۔ خود مولانا دریا آبادی آیت ”إِنَّ الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ“ الآیہ کے حواشی تفسیریہ میں محققین سے ناقل ہیں:
"..............اَلَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِىْ آيَاتِنَا.....مُكَذِّبُوْنَ، اور منکروں سے مراد ہونا تو ظاہر ہی ہے، لیکن علماء محققین نے لکھا ہے کہ:
”وعید ان باطل فرقوں پر بھی شامل ہے، جو آیات قرآنی کے معنی گھڑ گھڑ کر، اور مسخ کر کر کے ایسے بیان کرتے ہیں جو حدود تاویل سے بالکل خارج ہوتے ہیں، متکلمین، اصولیین اہل سنت نے یہ تصریح کردی ہے کہ ہر نص اپنے ظاہر ہی پر محمول ہوگی، تاوقتیکہ کوئی دلیل قطعی تاویل کی مقتضی نہ مل جائے، لغت، زبان، قواعد نحوی سے الگ ہوکر ایسے معنی گھڑنا، جس سے احکام شریعت ہی باطل ہوجائیں، باطنیہ اور زنادقہ کا شیوہ رہا ہے۔“
عالمگیریہ میں ہے :
”و کذالک لو قال انا رسول الله او قال بالفارسیة ”من پیغمبرم“ یرید بہ ”من پیغام می برم“ یکفر “۔
(ج:۲ ص:۲۸۲)
کسی طاغی کو کب یہ اجازت دی جاسکتی ہے کہ کوئی ”خانہ ساز“ معنی ذہن میں رکھ کر معاذ اللہ لفظ خدا کو اپنے اوپر چسپاں کرلے؟ کب گوارا کیا جاسکتا ہے کہ ایک مکان پر کوئی بدبخت کعبۃ اللہ، بیت الحرام کا لفظ اطلاق کرلے (استغفر اللہ)؟ کسی ایسے کجرو کو کب برداشت کیا جاسکتا ہے، جو اپنے ہذیانات پر قرآن کا اطلاق کرے؟ (معاذ اللہ) کون سن سکتا ہے کہ پڑھنے والے ”مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَ الَّذِيْنَ مَعَهُ“ کی آیت کو اپنی ذات اور اپنے رفقاء کے لئے پڑھتے جائیں؟ اگر لفظ خدا کا اطلاق غیر اللہ پر، قرآن یا کلام اللہ، یا کتاب اللہ کا اطلاق
غیر قرآن پر، بیت اللہ یا کعبۃ اللہ کا استعمال بیت عتیق کے علاوہ پر جائز نہیں، اور ایسا کرنے والا بے ایمان اور ملحد ہے، اگر دینی غیرت مر نہیں گئی تو میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ نبوت یا رسالت کے مقدس اور پاکیزہ لفظ کا استعمال خود ساختہ اور خانہ ساز معنیٰ میں کس منطق کی رو سے جائز اور صحیح ہے؟ اور ”انسان ایسے ملحد کے مقابلے میں کیوں بے بس ہے“؟
ابنائے زمانے کی ستم ظریفی دیکھو، آج مولانا دریا آبادی کے طفیل شریعت کے اس ”روشن“، ”بدیہی“ اور بالکل ”واضح مسئلہ“ پر بھی قلم اٹھانا ناگزیر ہوا کہ اصطلاحاتِ شرعیہ کو غیر محل پر حمل کرنے والا، اور انہیں اپنے خانہ ساز معنیٰ پہنانے والا بے دین اور ملحد ہے۔
کاش مولانا دریا آبادی سے عرض کیا جاسکتا کہ انہوں نے کمالِ اخلاص کے ساتھ سہی، لیکن انتہائی سادگی کے ساتھ اس چھوٹے سے فقرے کے ذریعہ کتنے ”بڑے الحاد“ کا دروازہ کھول دیا ہے، قطعاً نہیں سوچا کہ اس کی زد میں صرف نبوت نہیں بلکہ خدائی بھی آتی ہے، جب خدائی اور نبوت پر ہاتھ صاف کردیا گیا، تو باقی رہ کیا جاتا ہے۔ لقد جئتم شیئا ادّا۔
نبوت یا شاعری !
پھر ستم بالائے ستم یہ کہ نبوت کا رشتہ مولانا محترم نے شاعری سے جا ملایا۔ دنیا میں قیاس مع الفارق کی بدترین مثال اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتی ہے؟ گویا لفظ نبوت بھی تماشائیوں اور بازیگروں کی ایک اصطلاح ہے۔ جس طرح بے شمار اصطلاحات کے مقابلے میں کسی کا زور نہیں چلتا، وہ جو چاہیں کریں، سب ان کے
مقابلے میں مولانا کے نزدیک بے بس ہیں۔
بس اسی طرح جو مسخرہ چاہے لفظ نبوت یا شریعت مقدسہ کے دوسرے الفاظ کو اپنے خود ساختہ پر محمول کرے، ان کو خانہ ساز مفہوم پہنائے، اس پر کوئی گرفت نہیں، بلکہ سب اس کے مقابلے میں بے بس ہیں۔
اول تو نبوت کو شاعری یا شاعرانہ اصطلاحات پر قیاس کرنا لفظ نبوت سے ہتک آمیز سلوک ہے، پھر مولانا سے یہ سوال بھی کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام نے ان ”بے شمار شاعروں“ کو کب اجازت دی ہے کہ وہ ایسی اصطلاحات وضع کریں جن میں حدود شرعیہ کو مسخ کیا گیا ہو؟ آیات قرآنیہ میں کھل کر تحریف کی گئی ہو؟ احادیث نبویہ کو ہدف تشنیع بنایا گیا ہو؟ با ایں ہمہ ان بے شمار شاعروں کے مقابلے میں شریعت نے بے بس ہو جانے کا حکم دیا ہو۔ کیا مولانا کوئی دلیل پیش فرمائیں گے؟:
بے بسی یا بے حسی!
پھر مولانا دریا آبادی، ان دجالوں کے مقابلے میں جو لوگوں کو ”انسان بے بس سہی“ کا با اخلاص مشورہ دیتے ہیں، آخر ان کی مراد اس بے بسی سے کیا ہے؟ کیا مولانا یہی فرمائش کرنا چاہتے ہیں کہ زنادقہ، نصوص شرعیہ کی غلط اور ”جدید“ تفسیریں کرتے رہیں، مگر لوگوں کی زبانیں گنگ ہوجانی چاہئیں۔ بے ایمانی کا گروہ انبیاء علیہم السلام کے احترام کو تہہ خاک کردے، لیکن علماء کے منہ بند رہنے چاہئیں، کجروؤں کے غول کے غول حصار اسلام پر سنگ باری میں مصروف رہیں، مگر ضروری ہے کہ تنگ نظر مولوی اپنی زبان و قلم کو روک رکھیں، شریعت کے احکام میں نسخ اور مسخ کیا جاتا رہے،
امت کو گمراہ کہا جاتا رہے، مگر لازم ہے کہ ملت کا ایک فرد بھی ٹس سے مس نہ ہو، بلکہ سب اطمینان سے ”بے بس ہو رہیں“۔ اگر انصاف اور دیانت عنقا نہیں، حمیت اور غیرت مفقود نہیں، تو عقلاً بتلائیں کہ ”یہ بے حسی ہوگی یا بے بسی“ فهل من مدکر ؟ مولانا دریا آبادی صاحب کو واضح رہنا چاہئے کہ ایسا نہیں، کبھی نہ ہوگا، بخدا ہرگز نہ ہوگا۔ لاینقضى فى الدين ولانا حمی ۔
مرزا صاحب اور ان کی جماعت کے مقابلہ میں علمائے امت بایں معنی تو اب تک ”بے بس“ ہیں کہ ان ایمان باختہ لوگوں پر شرعی تعزیر جاری نہیں کر سکتے، کہ اس کے لئے سلطنت شرط ہے۔ اب یہ مزید ”بے بسی“ جس کا مولانا دریا آبادی پُر خلوص مشورہ دیتے ہیں، یہی ہے کہ جس طرح علمائے کرام ہاتھ روکنے کے لئے ”بے بس“ ہیں، زبان و قلم کو روک کر بھی بے بس ہو جائیں۔ مرزا صاحب اور ان کی ذریت پر گرفت نہ کریں۔ ان کے دجل وتلبیس سے نقاب کشائی نہ کریں، بلکہ مولانا دریا آبادی کی طرح اس کے دعویٰ نبوت میں بے جا تاویل کر کر کے دائرہ اسلام میں ان کے لئے گنجائش پیدا کریں، مرزا صاحب کی حوصلہ شکنی نہ کریں، بلکہ اسے بصد شوق نبی کہلانے دیں۔ گویا ”سگہا را کشادہ و سنگہا را بستہ“ کا سماں پیدا کرلیں۔ اگر یہی بے بسی ہے، جس کو وہ علمائے امت کے سرمنڈھنا چاہتے ہیں، تو بصد معذرت! ان کا یہ مشورہ ناعاقبت اندیشانہ اور ناقابل قبول ہے، یہ حضرات آنحضرت ﷺ کا مشورہ بسر و چشم اور بجان و دل قبول کرچکے ہیں : ”قال رسول الله ﷺ یحمل هذا العلم من خلف عدوله، ينفون عنه تحريف الغالين و انتحال المبطلين و تأويل الجاهلين“۔
بہتر ہوگا کہ مولانا دریا آبادی بھی آنحضرت ﷺ کا مشورہ قبول کرلیں، اور
مرزا صاحب جیسے غالی، باطل پرست اور نادان کی تحریف و تاویل کو صحیح قرار دینے کی بجائے اس کی نفی اور ابطال کے لئے قلم اٹھائیں، اور اگر انہیں اس سے عذر ہے تو ان کا احسان ہوگا کہ دوسروں کو ”بے بس سہی“ کے مشورہ سے معذور رکھیں۔ و العذر عند کرام الناس مقبول ۔
اللہم ارنا الحق حقاً وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ ۔
اصل بحث:
یہ تمام تر کلام مولوی دریا آبادی صاحب کے مقدمات سے تھا، جن سے ”بلا یقین“ وہ دوسروں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ:
”مرزا صاحب چونکہ غیر معمولی عقل وعلم کے شخص تھے اس لئے انہوں نے دعویٰ نبوت مصطلح اور متبادر معنی میں نہیں بلکہ کسی خود ساختہ اور خانہ ساز معنی میں کیا ہوگا۔“
مندرجہ بالا گزارشات پر اگر مولانا غور فرمائیں گے تو ان پر واضح ہو جائے گا کہ ان کے ترتیب دادہ مقدمات سے ان کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا، پھر مولوی صاحب موصوف جانتے ہیں کہ جو مکروہ اور تلخ واقعہ روزِ روشن کی طرح کھل کر سامنے آ گیا ہو، اور اس کے عمل اور ردّ عمل نے ایک ضخیم کتب خانہ کے علاوہ نصف صدی کی تاریخ کو جنم دیا ہو، اس واقعہ کو زورِ استدلال اور قوتِ منطق سے نہ تو مٹایا جاسکتا ہے، اور نہ اس کے انکار پر بے جا اصرار کئے جانا دین وملت یا علم و ادب کی کوئی مفید خدمت ہے۔
مرزا صاحب اور دعویٰ نبوت!
مرزا صاحب نے قصر نبوت میں رونق افروزی کے لئے امام، مجدد، مصلح، مہدی، مثیل مسیح، مسیح موعود، ظل محمدی اور بروز احمدی وغیرہ کے جن ارتقائی مدارج کو قریب قریب بیس پچیس برس کی طویل مدت میں طے کیا ہے، ان کی تاریخ، مولوی صاحب کی نظر سے اوجھل نہیں ہوگی۔ بلند عمارت میں جانے والا جن زینوں پر قدم رکھ رکھ کر اوپر گیا ہے، ان ہی درمیانی سیڑھیوں میں اس کو تلاش کرتے رہنا، دانشمندی نہیں ہوگی۔
مطلب یہ کہ جاننے والے جانتے ہیں، اور جن لوگوں نے جان بوجھ کر انجان بن جانے کا فیصلہ نہیں کرلیا ہے ان کو جان لینا چاہئے کہ مرزا صاحب نے دفعتاً دعویٰ نبوت نہیں کیا، بلکہ اس بارِ افترا کو اٹھانے اور لوگوں میں ”یہ بس سہی“ کی استعداد پیدا کرنے کے لئے انہوں نے ربع صدی تک تدریجی دعوے کئے ہیں، اور اس مدت میں انہوں نے دجل وتلبیس کے لئے متعدد اصطلاحیں وضع کی ہیں۔
سب سے پہلے وہ خدمت دین اور دفاع عن الاسلام کا لبادہ پہن کر میدان مناظرہ میں فروکش ہوئے، جب عوام کو مائل دیکھا تو ملہم اور مجدد ہونے کا دعویٰ کیا، چند زود اعتقاد اور فریب خوردہ لوگ اسے تسلیم کر گئے، اور باقاعدہ ایک جدید دعوت میں بیعت کا سلسلہ کامیاب ہوا، تو بعض یارانِ وفا کیش کی خواہش اور درخواست پر مہدی ہونے کا دعویٰ زبان پر لایا گیا، یہ خوراک زود ہضم نہ تھی، لیکن زور دار تحدی، اور الہامات کی سحر آفرینی کے ساتھ اس کو ہضم کرانے میں بھی وہ بالآخر بزعم خویش کامیاب ہوئے، اب غذا ثقیل سے ثقیل تر تجویز ہورہی تھی۔ ادھر الہامات کا ہاضوم لوگوں کو مسلسل پلایا جارہا تھا، ساتھ ساتھ تحدی اور اشتہار بازی کے ذریعے ان کے دل
و دماغ کو مسحور کیا جا رہا تھا، اب مسیح علیہ السلام سے مماثلت اور فطری مناسبت کا دعویٰ کیا گیا، معاً یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ جس مسیح کے نزول اور آمد ثانی کی متواتر احادیث میں خبر دی گئی ہے، اس سے مراد یہی عاجز ہے۔ اس دعوے کے ہضم کرنے اور کرانے میں مرزا صاحب کن کن مشکلات سے دوچار ہوئے، کن کن دشوار گزار صحراؤں سے وہ گزرے، حیص و بیص اور مایوسی کے کیا کیا عالم ان پر طاری ہوئے، ان کی تفصیل موجب طوالت ہوگی۔ پھر ان عقدہ کشائیوں کے لئے ان کو اپنے رجال کار سمیت کتنی محنت کرنی پڑی، اور تحریفات اور بے جا تاویلات کا جو طومار ان کو تصنیف کرنا ناگزیر ہوا اس کی تفصیل بھی شاید کسی دوسرے موقع پر بیان کر سکوں۔
بہرحال ان کی تصنیفات آج بھی پکار پکار کر اعلان کر رہی ہیں کہ مسیح موعود کے دعوے کو ہضم کرنے اور کرانے کے لئے جتنی دقت اور دشواری مرزا صاحب اور ان کے ”خاص الخاص“ لوگوں کو پیش آئی، نہ پہلے دعاوی میں ان کو یہ دقت پیش آئی نہ پچھلے دعاوی میں۔
اس دعوے کے دوران مرزا صاحب ”مایوسی کے دوروں“ میں بھی مبتلا ہوئے جو ماقبل اور مابعد کے دعاوی میں نظر نہیں آتے، جب ان کو خیال آتا کہ مسیح موعود کا دعویٰ ان پر کسی طرح منطبق نہیں ہوتا تو کسی اور مسیح کی آمد کی گنجائش کا بھی وہ اقرار کرلیتے ہیں، جیسا کہ ایک جگہ مرزا صاحب لکھتے ہیں:
”میرا یہ دعویٰ تو نہیں کہ کوئی مثیل مسیح پیدا نہیں ہوگا، بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ کسی آئندہ زمانہ میں خاص کر دمشق میں مثیل مسیح پیدا ہو جائے۔“
کبھی وہ لکھتے ہیں:
”ہاں! اس بات سے انکار نہیں کہ شاید پیش گوئی کے ظاہری معنوں کے لحاظ سے کوئی اور مسیح موعود بھی آئندہ کسی وقت پیدا ہو۔“
کبھی ان کے قلم سے یہ فقرہ بھی نکل جاتا:
”ممکن ہے اور بہت ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر احادیث کے ظاہری الفاظ صادق آجائیں، کیونکہ یہ عاجز تو دنیا میں شان وشوکت کے ساتھ نہیں آیا۔“
الغرض مرزا صاحب کی اس قسم کی عبارتیں جن سے ان کی مایوسی جھلکتی ہے ان کی کتاب ازالہ اوہام ، میں آج بھی موجود ہیں، بالآخر دیکھتے ہی دیکھتے مرزا صاحب نے مخالفین کو مباحثوں اور مناظروں کے الجھاؤ میں مبتلا کردیا، اور مریدین کا وہ گروہ جو ان کے ہر دعوے کو آسمانی قرار دینے کا خوگر ہوگیا تھا، ان کو باور کرادیا کہ وہ واقعی مسیح موعود ہیں۔
جب اس وادی خون میں غوطہ زنی کے باوجود وہ اپنے خیال میں تر دامن نہ ہوئے، اور ماننے والوں میں استعداد کی پختگی نظر آئی تو آنحضرت ﷺ کے کمالات اور فیوض و برکات سے علیٰ وجہ الکمال وہ فیضیاب ہونے کے مدعی ہوئے۔ کمالات نبویہ کی اسی نشاۃ ثانیہ کو مرزا صاحب نے ظل و بروز کی اصطلاحات سے تعبیر کیا۔ لیکن اب تک وہ تمام تر اوصافِ نبوت کے ساتھ متصف ہونے کے باوجود دعویٰ نبوت سے کسی مصلحت کی وجہ سے پرہیز کرتے تھے، بالآخر مولوی عبدالکریم صاحب نے خطبۂ
جمعہ میں اس طلسم کو توڑا، اور مرزا صاحب کو نبی اور رسول کے خطابات سے نوازا، اور مرزا صاحب کی جانب سے اس کی تصویب کی گئی۔ اب مرزا صاحب صریح الفاظ میں اپنے لئے نبی اور رسول کے الفاظ استعمال کرنے لگے۔ اس پر ختم نبوت کے اجماعی عقیدہ کا (جس کو مرزا صاحب بقلم خود بار بار دہرا چکے تھے) اشکال پیش آنا فطری بات تھی، لیکن ظل و بروز وغیرہ کے باطنی قسم کے الفاظ وہ پہلے سے وضع کر چکے تھے، بالآخر بحث و مباحثہ کے اس میدان میں بھی ان کا بسیار نویس قلم رکنے نہیں پایا لیکن دجل و تلبیس کا کمال تھا کہ متناقض قسم کے دعاوی کو وہ خلط ملط کرتے رہے، نبوت و رسالت کے صریح دعویٰ کے ساتھ وہ مسیح موعود، مہدی موعود، مجدد وغیرہ کے مناصب بھی اپنے لئے تا حین حیات ثابت کرتے رہے۔ اس تناقض و تہافت اور دجل و تلبیس کا طبعی نتیجہ تھا کہ مرزا صاحب کے اس عالم سے رخصت ہو جانے کے بعد خود ان کے عقیدت مند لوگ ان کے دعاوی کی روشنی میں ان کا مقام متعین کرنے سے قاصر رہے۔
مرزا بشیر الدین اور ان کے رفقاء (قادیانی جماعت) کے نزدیک وہ نبی تھے، اس کے علاوہ ان کے تمام دعاوی ان کے نزدیک ماؤل ہیں (اس کے لئے مرزا محمود صاحب کی تصنیف ”حقیقت النبوۃ“ کی طرف رجوع کرنا چاہئے) اور مسٹر محمد علی اور ان کی جماعت کے نزدیک مرزا صاحب صرف امام یا مجدد تھے، لیکن اس کے باوجود یہ لوگ ان کو مسیح موعود کے نام سے بلا تکلف یاد کرتے ہیں۔
حق یہ ہے کہ مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کی صحیح توجیہ سے مسٹر محمد علی صاحب اور ان کی جماعت قاصر ہے۔
مدت کے بعد تیسرا موقف مولوی دریا آبادی نے اختیار کیا، کہ مرزا صاحب
نے نبوت کا دعویٰ ضرور کیا ہے، لیکن شرعی نبوت کا نہیں، بلکہ مرزا صاحب کی وہ تمام عبارتیں جن میں صریح نبوت کے الفاظ بار بار اصرار و تکرار کے ساتھ دہرائے گئے ہیں محض شاعرانہ استعارات پر محمول ہیں، اور ان میں لفظ نبوت کا استعمال کسی خانہ ساز معنی کے لئے کیا گیا ہے، جس کے مقابلہ میں انسان بے بس ہے، اس لئے دریا آبادی صاحب کے نزدیک صریح دعویٰ نبوت کے باوجود نہ مرزا صاحب دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، نہ ان کی جماعت کو سوء خاتمہ کا اندیشہ ہے، نہ نجات سے محرومی کا سوال ہے، اور نہ ان سے تعرض کرنا جائز ہے۔ کیونکہ اس خود ساختہ معنی کے اعتبار سے مرزا صاحب کا دعویٰ نبوت مولانا کے نزدیک محل اعتراض نہیں۔ افسوس یہ کہ دریا آبادی صاحب کا مؤقف مرزا صاحب کے متناقض دعاوی سے بھی زیادہ خمیدہ ہے، اور انصاف یہ ہے کہ مرزا صاحب کی ترجمانی سے موصوف کا یہ موقف بری طرح ناکام ہے، بلکہ ”توجیہ القول بما لا یرضی بہ قائلہ“ کا صحیح مصداق ہے۔
اب تک محل بحث یہ امر تھا کہ مرزا صاحب کا دعویٰ نبوت قواعد شرعیہ کے اعتبار سے جائز ہے یا ناجائز، لیکن دریا آبادی صاحب کی اس ”بلا یقین اور مجمل تشریح“ نے ”نیا فتنہ“ کھڑا کر دیا کہ مرزا صاحب کا دعویٰ نبوت معنیٰ متعارف و مصطلح فی الشرع کے اعتبار سے تھا، یا کسی ”خانہ ساز مفہوم“ کے اعتبار سے تھا۔
کاش وہ اس موقع پر ”معنیٰ متعارف“ اور ”خانہ ساز مفہوم“ کی کچھ وضاحت کرتے، اور پھر غور و فکر کی زحمت گوارا فرماتے، کہ مرزا صاحب کا دعویٰ نبوت دونوں معنوں میں سے کس معنے پر منطبق ہوتا ہے۔
دریا آبادی صاحب مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کے مفہوم کو پانے سے اب تک قاصر ہیں، اور ظلی، بروزی اور اتباع نبوی وغیرہ کے ابلہ فریب اور تلبیسانہ
الفاظ سے مرزا صاحب نے جو تاریکی قصداً پھیلادی ہے، مولانا موصوف کمال سادگی سے اس تاریکی میں سرگرداں ہیں۔ دریا آبادی صاحب نہیں جانتے کہ یہ الفاظ قند شیریں میں زہر ہلاہل لپیٹ کر دینے کی مکروہ کوشش ہے، ورنہ مرزا صاحب حقیقی معنی ہی میں نبوت کا دعویٰ رکھتے تھے۔
دریا آبادی صاحب فرمائیں کہ جس نبوت کی بنیاد ”۲۳ سالہ متواتر وحی“ پر رکھی گئی ہو، جو وحی ان کے بقول تورات، انجیل کی طرح واجب الایمان ہو، اور قرآن مجید کی طرح قطعی ہو اسی پاک وحی میں مرزا صاحب کو رسول، مرسل اور نبی کے الفاظ سے بہت تصریح اور توضیح کے ساتھ ایک دفعہ نہیں بلکہ صدہا دفعہ پکارا گیا ہو، کیا وہ نبوت متعارف نہیں ہوگی؟ اور کیا آنحضرت ﷺ کے بعد اس نبوت کا مدعی کذاب نہیں کہلائے گا؟ مرزا صاحب کی عبارتیں ملاحظہ ہوں:
”میں خدا تعالیٰ کی ۲۳ برس کی متواتر وحی کو کیوں کر رد کر سکتا ہوں، میں اس کی پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔“
(حقیقۃ الوحی ص: ۱۵۰)
”جب کہ مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت و انجیل و قرآن کریم پر، تو کیا انہیں مجھ سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ میں ان کی ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرہ کو سن کر اپنے یقین کو چھوڑ دوں جس کی حق الیقین پر بنا ہے۔“
(اربعین ص: ۴ و ۱۹)
”حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے، اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں، نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ، پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے کہ
ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں بلکہ اس وقت تو پہلے زمانہ کی نسبت بھی بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں۔“
(ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص: ۲۶۱)
”اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی ہے۔“
(اشتہارات ایک غلطی کا ازالہ منقول از ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص: ۲۶۳)
ان عبارات میں مرزا صاحب اپنی وحی کو (معاذ اللہ) توریت اور انجیل اور قرآن کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں، کیا فرماتے ہیں دریا آبادی صاحب کہ اگر مرزا صاحب کی وحی، رسالت، ایمان کے الفاظ متعارف معنی پر محمول نہیں، تو کیا توریت اور انجیل اور قرآن کا وحی ہونا کسی ”خانہ ساز مفہوم“ پر محمول ہے؟ استغفر اللہ!
مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ:
”میں نے خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے ”اس نعمت“ سے کامل حصہ پایا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔“
(حقیقۃ الوحی ص: ۶۲)
دریا آبادی صاحب فرمائیں کہ پہلے نبیوں اور رسولوں کو کیا نعمت ملی تھی، جس کا دعویٰ مرزا صاحب کو ہے؟
کیا یہ واقعہ سے صریح بے انصافی نہیں کہ ایک شخص اسی نعمت نبوت کے پانے کا دعویٰ رکھتا ہے، جو انبیاء علیہم السلام کو دی جاتی رہی مگر دریا آبادی صاحب اس کے دعویٰ میں تاویل اور گنجائش پیدا کرنے کے لئے اپنی پوری صلاحیت صرف کر دیتے
پھر کون نہیں جانتا کہ مرزا صاحب جس نبوت کے مدعی ہوئے ہیں، وہ بقول مرزا صاحب، تین لاکھ نشانات، بلکہ دس لاکھ سے زائد نشانوں کے ساتھ مؤید ہے، اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے جو اول درجے پر فائز ہیں۔
مولانا صاف فرمائیں کہ یوں سب نشانات کے مدعی کا دعویٰ کس خانہ ساز مفہوم کا تھا؟
مرزا صاحب علی الاعلان بیان کرتے ہیں کہ:
”میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھلائے ہیں کہ ”بہت کم ہی نبی“ ایسے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھلائے ہوں۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص:۱۳۶)
”بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کردیا ہے کہ باستثنائے ہمارے نبی ﷺ کے ”باقی تمام انبیاء علیہم السلام“ میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے، اور خدا نے اپنی حجت پوری کردی ہے، اور اب چاہے کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔“
(ایضاً ص:۱۳۶)
دریا آبادی صاحب بتلائیں کہ مرزا صاحب کے یہ معجزات جو ”بہت کم نبیوں“ کو دیئے گئے، اور باستثنائے ہمارے نبی ﷺ کے جن کا ثبوت ”باقی تمام انبیاء علیہم السلام“ کے حق میں محال ہے، ان معجزات سے ثابت شدہ مرزا صاحب کی نبوت کے معنی اگر شرعی نبوت کے نہیں تو تمام انبیاء کی نبوت کے معنی کیا ہیں؟ کیا یہ باعث حیرت نہیں کہ ایک شخص اپنی وحی کو مثل وحی انبیاء، اپنے معجزات کو تمام انبیاء سے فائق، اور اپنی نبوت کو ہم سنگ نبوت انبیاء قرار دیتا رہے، لیکن ہم کمال سادگی سے اس کے
دعویٰ میں گنجائش پیدا کرتے رہیں، اور لوگوں کو اس کے مقابلہ میں بے بس ہو جانے کا پر خلوص مشورہ دیتے رہیں: عذر لعمری فی الزمان بدیع۔
دریا آبادی صاحب کا حال تو ان ہی کو معلوم ہوگا، لیکن اپنا حال یہ ہے کہ جب مرزا صاحب کی یہ عبارت پڑھتا ہوں:
’’اور خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے، کہ اگر نوحؑ کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ غرق نہ ہوتے۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص:۱۳۷)
تو بے چینی کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے، مرزا صاحب نے نہ صرف یہ کہ اپنی نبوت اور معجزات کو سیدنا نوح علیہ السلام کی نبوت اور معجزات سے افضل بتلایا ، بلکہ ظالم نے اس ۹۰۰ سال کی تبلیغ کرنے والے بوڑھے پیغمبر (صلوٰۃ اللہ وسلامہ علیہ) کی نبوت اور ان کے معجزات میں کیڑے نکالے، گویا قوم نوحؑ کی غرقابی میں خود اس قوم کے مجرمانہ افعال کا نہیں بلکہ نوح علیہ السلام کے معجزات اور ان کی دعوت کے نقص کا دخل تھا، ورنہ جو کامل معجزات مرزا صاحب کو ملے اگر نوحؑ کے زمانہ میں وہ ظاہر کر دیئے جاتے تو وہ مسکین کیوں غرق ہوتے۔ استغفر اللہ!
صد حیف کہ دریا آبادی صاحب اب تک مرزا صاحب کو سمجھنے سے قاصر ہیں، اور مرزا صاحب کی طرف سے مدافعت کر کر کے بزعم خود خدمت دین کا فرض بجا لا رہے ہیں۔ مرزا صاحب بزعمِ خود آیت ’’ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ کا مصداق اس عاجز (مرزا صاحب) کو قرار دیتے ہیں، (اعجاز احمدی، اربعین وغیرہ) مگر دریا آبادی صاحب مرزا صاحب کی کیا خوب ترجمانی کرتے ہیں، کہ انہوں نے دعویٰ نبوت متعارف اور متبادر معنی میں
نہیں کیا۔
موصوف فرمائیں کہ آیت کا مصداق ’’جو بھی ہو‘‘ کیا وہ صرف شاعرانہ مفہوم کے اعتبار سے رسول ہے؟
مرزا صاحب اپنی وحی کے اوامر و نواہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اپنے لئے ’’صاحب شریعت نبی‘‘ کا منصب تجویز کرتے ہیں (اربعین ص:۴) لیکن ان کے وکیل دریا آبادی صاحب ابھی تک اس اشتباہ میں ہیں کہ ان کا دعویٰ نبوت کس مفہوم کے اعتبار سے تھا؟
مرزا صاحب بطور لازمہ نبوت ان تمام لوگوں کی تکفیر کرتے ہیں، جو اس جدید نبوت پر ایمان نہیں لائے اور ساتھ ہی وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حق صرف نبوت تشریعیہ کا ہے، وہ لکھتے ہیں:
’’یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ سے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں لیکن صاحب شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم، اور محدث ہیں، گو وہ کیسے ہی جناب باری میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن سکتا۔‘‘
(اربعین ص:۴، حاشیہ ص:۱۵)
اس نکتہ کی بنیاد پر مرزا صاحب نے ان تمام لوگوں کی تکفیر کی جو ان کے حلقۂ ارادت میں داخل نہیں ہوئے، اور شقی ازلی، کافر، جہنمی، دائرۂ اسلام سے خارج اور خدا و رسول کے باغی وغیرہ وغیرہ الفاظ سے ان کو نوازا۔ اور آج تک قادیانی جماعت اسی عقیدے کو بیان کرتی ہے۔ اسی نبوت کے منکرین سے مرزا صاحب نے کفار کا
معاملہ کیا، ان سے مناکحت حرام، ان کا جنازہ ناجائز، ان کی امامت میں نماز باطل وغیر ذالک، لیکن دریا آبادی صاحب کو خدا جانے کس نے بتلا دیا ہے کہ مرزا صاحب نبوت بالمعنی المتبادر کے مدعی نہ تھے۔
دریا آبادی صاحب جانتے ہوں گے کہ مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت (جس کی وہ بے سروپا تاویلات میں مصروف ہیں) نے صرف لفظ نبوت نہیں بلکہ شریعت کی نامعلوم کتنی اصطلاحات کو مسخ کیا ہے۔ دجل و تلبیس کے لئے امتی، فیض مآب، ظل اور بروز وغیرہ کے الفاظ انہوں نے ضرور استعمال کر لئے ہیں، لیکن نبی کے مقابلہ میں ناسخ شریعت نبی، امت کے مقابلہ میں جدید امت، وحی کے مقابلہ میں قطعی وحی، معجزات کے مقابلہ میں معجزات، حرم کے مقابلہ میں حرم، امہات المؤمنین کے مقابلہ میں ام المؤمنین، صحابہ کے مقابلہ میں صحابہ، خلیفہ اول و ثانی کے مقابلہ میں خلیفہ اول و ثانی، اسلام کے مقابلہ میں اسلام، شرعی کفر کے مقابلہ میں کفر، شرعی ارتداد و مرتد کے مقابلہ میں ارتداد و مرتد وغیرہ وغیرہ، اگر یہ تمام امور محمد ﷺ کے دین میں دریا آبادی صاحب کے نزدیک قابل برداشت ہیں، تو اس دین کا خدا حافظ ہے۔ پھر لوگ صرف مرزا صاحب کے مقابلہ میں ”بے بس نہیں“ بلکہ دریا آبادی صاحب اور ان جیسے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں بھی ”بے بس سہی“۔ جدت پسندی اور ستم ظریفی کی حد ہے کہ مرزائی نبوت میں اسلامی قمری مہینوں کے نام تک بدل دیئے جاتے ہیں، اور جدت پسند طبائع ابھی تک اس بحث میں مبتلا ہیں کہ مرزا صاحب اور ان کی جماعت سے تعرض کیوں کیا جاتا ہے؟ ان کے بلند بانگ دعاوی کو گنجائش پذیر، اور لائق تسامح کیوں نہیں قرار دیا جاتا؟ گویا ان حضرات کی عدالتِ عالیہ میں مرزا صاحب ”بائیں ہمہ“ مظلوم ہیں، اور علماء کرام ان کے موقف کا شرعی حکم بیان کر دینے کے جرم میں
لائق ”گردن زدنی“ ہیں: ایں کار از تو آید مرداں چنیں کنند۔
مرزا صاحب کا نظریہ مسیحیت!
صرف یہی نہیں کہ مرزا صاحب نے ”نبوت کا دعویٰ“ کیا، بلکہ اس ”متنبی کذاب“ نے اپنی نبوت کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے کتنے انبیاء کرام علیہم السلام کی عزت کو تہہ خاک کیا، اور اپنی نبوت کا محل تعمیر کرنے کے لئے کتنی نبوتوں کو پامال کیا، اور اپنی آبرو داری کی خاطر کتنوں کو بے آبرو کیا، اپنی حماقتوں کی پردہ داری کے لئے کتنی عصمتوں کی پوستین دری کی، اور اپنے غلیظ دعویٰ کی رقعہ دوزی کے لئے کتنے پاکیزہ پیرہن تار تار کئے۔ مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت میں اس متاع ایمان ربا کی اتنی کثرت ہے کہ ضخیم مجلد بھی اس کے لئے ناکافی ہے۔ دریا آبادی صاحب کی خدمت میں چند مثالیں عرض کرتا ہوں، تاکہ مرزا صاحب کی جرأت اور لوگوں کی ”بے بسی“ کا ان کو اندازہ ہوسکے۔
عیسیٰ علیہ السلام!
سیدنا عیسیٰ بن مریم (علیہا وعلیٰ نبینا الصلوٰۃ والسلام) اولو العزم انبیاء علیہم السلام میں سے ہیں۔ قرآن مجید نے ان کی پیدائش، طفلی، کہولت غرض زندگی کے اول و آخر کو جس اعجازی شان سے بیان کیا وہ سب کو معلوم ہے۔ قرآن حکیم نے ان کے کمالات اور معجزات کو جس اہتمام سے پرشوکت انداز میں ذکر کیا ہے وہ بھی کسی سے مخفی نہیں۔ لیکن مرزا صاحب کے دعاوی باطلہ کے لئے ان کا وجود چونکہ سنگ راہ کی حیثیت رکھتا تھا، اس لئے مرزا صاحب کو ان کے ساتھ رقیبانہ چشمک ہے، بالکل فرضی
اور خانہ ساز اعتراضات ان کے لئے اس قدر بے ہودہ انداز میں منسوب کرتے ہیں کہ انسانیت سر پیٹ لیتی ہے، اور شرافت ماتم کناں ہو جاتی ہے، مثلاً:
- ۱...... سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نفخہ جبریلؑ سے بلا توسط باپ کے پیدا ہونا
قرآن سے ثابت ہے، جو ان کے لئے ممتاز منقبت کا حامل ہے۔ مرزا صاحب اس کو برداشت نہیں کرپاتے، بلکہ ان کو یوسف نجار کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔
(کشتی نوح۔ روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۱۸)
- ۲...... انبیاء علیہم السلام کے انساب کا ہر طرح کے اغلاط سے پاک ہونا ایسی
ضرورت دینیہ ہے کہ کسی عاقل کو بھی اس میں کلام کی گنجائش نہیں۔ لیکن ”قاذف قادیان“ کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کو اس شرف سے محروم کر دینا ہی اسلامی خدمت ہے، چنانچہ وہ لکھتا ہے :
”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے، تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار، کسبی عورتیں تھیں، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا“ - العیاذ باللہ۔
(ضمیمہ انجام آتھم مصنفہ مرزا صاحب)
- ۳...... مرزا صاحب اپنی عداوت کی وجہ سے عیسیٰ علیہ السلام کو انبیاء کرامؑ
کے اخلاق و اوصاف سے نہیں بلکہ ایک معمولی شریف اور پرہیزگار انسان کے اخلاق سے بھی خالی دیکھنا چاہتے ہیں، اور اس کو ”جدی مناسبت“ قرار دیتے ہیں۔
(انجام آتھم ضمیمہ)
- ۴...... قرآن مجید نے عیسیٰ علیہ السلام کے جتنے معجزات ذکر کئے ہیں، مرزا
صاحب کے لئے وہ سرگرانی کا باعث ہیں، وہ لکھتے ہیں: ”عیسائیوں نے بہت سے
معجزات آپ کے بیان کئے ہیں مگر حق یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“
(انجام آتھم ضمیمہ)
ان کا رقیبانہ حسد جوش میں آتا ہے تو ان کو اس پر تعجب ہونے لگتا ہے کہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا تذکرہ ان کی محفل میں کیوں کرنے لگتے ہیں، ان کا چہرہ سرخ ہو جاتا ہے، اور وہ آگ بگولہ ہوجاتے ہیں، وہ غیظ وغضب سے لال پیلے ہوکر اعلان کرنے لگتے ہیں:
”یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل (مُردوں کو زندہ کرنا۔ ناقل) ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں، اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابلِ نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“
(ازالہ اوہام ج: ۳ ص: ۲۵۷ و ۲۵۸، حاشیہ ص: ۳۰۹)
- ۵......مرزا صاحب چونکہ خود دینی استقامت سے محروم تھے اس لئے ان کو
عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق وہی ”رقیبانہ فکر“ رہا کرتی تھی کہ ہائے وہ اس فضیلت سے کیوں سرفراز ہوگئے۔ بالآخر اسی ”جذبہ حسد“ سے مغلوب ہوکر وہ اس فضیلت کی نفی کی وجہ بھی ڈھونڈ لائے، وہ لکھتے ہیں:
”یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماریوں کو اس عمل کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے، مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کاروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔“
(ازالہ اوہام ج: ۳ ص: ۲۵۸، حاشیہ ص: ۳۱۱)
- ۶...... مرزا صاحب کے اس ”حسد وبغض اور غیظ وغضب“ کی اصل وجہ
امت کا یہ اجماعی عقیدہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں، اور قرب قیامت میں تشریف لائیں گے۔ یہ عقیدہ قرآن مجید نے بیان کیا، احادیث متواترہ نے اس کی تفصیلی جزئیات شرح وبسط سے ذکر فرمائیں، امت نے اس کو باب الایمان کا ایک جزو قرار دیا، حکما امت نے اس کے اسرار اور حکم بیان کئے، فقہا نے اس کی فقہی جزئیات سے بحث فرمائی، عقلِ صحیح اور فطرتِ سلیمہ نے عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کی علّتِ غائیہ کا سراغ لگایا، لیکن مرزا صاحب کے لئے عیسیٰ علیہ السلام کی ”شانِ رفع و نزول“ کیسے قابلِ برداشت ہوسکتی تھی۔ اس منقبتِ عیسویہ نے ان کو ”حواس باختہ“ کر دیا۔ وہ بے چارے پوری امت کے مقابلے میں کیا کریں؟ لیکن جب تک عیسیٰ علیہ السلام کے لئے فضیلت ثابت رہے گی ان کی دکانِ مسیحیت کیسے چلے گی؟ لیکن وہ یکہ و تنہا چند رفقا کے ساتھ کیا کیا کریں؟ عیسیٰ علیہ السلام کو کیسے ماریں؟ کہاں ان کی قبر بنائیں؟ اس رفع کا محال ہونا کس طرح لوگوں کو سمجھائیں؟ اس نزول میں جو مفاسد لازم آتے ہیں، وہ کیسے دلوں میں اتاریں؟ اس کے لئے مرزا صاحب نے اپنے رفقا سمیت ”عقل وخرد“ اور ”دین وایمان“ کی بڑی بڑی قربانیاں دیں۔ لیکن طوطی کی نقار خانے میں کون سنتا تھا، اس مایوس کن صورتحال نے ان کے اعصاب پر بہت برا اثر ڈالا، مراق اور ہسٹریا کے وہ پہلے سے مریض تھے، (دیکھو سیرۃ المہدی) اس پر یہ صدمۂ جانکاہ، اور سانحۂ ہوش ربا ان کو پیش آیا، اس کا انجام جو ہونا چاہئے تھا وہ ہوا...... ان کی یہی نفسیاتی کیفیت ہے جو ان کی اس زمانہ کی تحریروں سے نمایاں ہو رہی ہے۔ کبھی وہ دیوانہ وار آنے والے مسیح پر پل پڑتے :
”ہزار کوشش کی جائے اور تاویل کی جائے، یہ بات بالکل
غیر معقول ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ جب لوگ نماز کے لئے مساجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا، اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا، جب لوگ عبادت کے لئے بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا، اور شراب پئے گا، اور سؤر کھائے گا، اور اسلام کے حلال و حرام کی کچھ پروا نہ رکھے گا۔“
(حقیقۃ الوحی ص:۲۹)
اور کبھی اسی ”مراقی کیفیت“ میں آنحضرت ﷺ کی وہ متواتر احادیث جو آنے والے مسیحؑ کی علامات بیان کرتی ہیں اور بدقسمتی سے مرزا صاحب پر منطبق نہیں ہوتیں، ان کا فحش انداز میں استہزاء کرتے ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:
”کیا حضرت مسیح کا زمین پر اترنے کے بعد عمدہ کام یہی ہوگا کہ وہ خنزیروں کا شکار کھیلتے پھریں گے اور بہت سے کتے ساتھ ہوں گے، اگر یہی سچ ہے تو پھر سکھوں اور چماروں اور سانسیوں اور گنڈیلوں وغیرہ کو جو خنزیر کے شکار کو دوست رکھتے ہیں خوشخبری کی جگہ ہے کہ ان کی خوب بن آئے گی۔“
(ازالہ اوہام ج:۳ ص:۱۲۳)
(ماہنامہ دارالعلوم دیوبند جنوری ۱۹۶۴ء)
قادیانیت اور تحریف قرآن
صادق و کاذب میں فرق:
مگر خدا تعالیٰ کی حکمت وقدرت کے قربان جائیے کہ وہ اپنے محبوب بندوں کے معاملے میں بڑا غیور ہے۔ خدائی کے دعوے الاپنے والے فرعونوں کو چندے مہلت دے دیتا ہے، مگر انبیاء کرام کے کمالات پر ہاتھ صاف کرنے والے مدعیان کذاب کو فوراً رسوا کر دیتا ہے۔ ”محمدی بیگم“ کے معاملے میں اللہ رب العزت نے مرزا صاحب کو کس طرح ذلیل اور رسوا کیا؟ اس کا کچھ نمونہ میں گزشتہ نمبر ”قادیانی مقام محمود“ کے ذیل میں نقل کر چکا ہوں، ان کی مزید رسوائی ”زَوَّجْنٰکَھَا“ کے ”الہام“ سے عیاں ہوئی، غور فرمائیے کہ یہی فقرہ ایک الصادق الامین ﷺ کی زبان مبارک سے صادر ہوا تو اس کے کیا نتائج برآمد ہوئے؟ اور جب مرزا صاحب نے یہی فقرہ دہرایا تو کیا نتیجہ نکلا؟ اور ان نتائج پر غور کرنے کے بعد صادق کی صداقت اور مرزا صاحب کا کذب وافتراء دونوں چیزیں خوب کھل کر سامنے آجائیں گی، وہ نتائج حسب ذیل ہیں:
- اول:...... یہ ”نکاح آسمانی“ بلاشبہ آنحضرت ﷺ کی ایک عظیم الشان
خصوصیت اور آپ کا ایک منفرد کمال تھا جس میں آپ کا کوئی شریک نہیں، مگر آپؐ کی حیات طیبہ میں اس نوعیت کے خصائص وکمالات کی کیا کمی تھی؟ سیکڑوں نہیں، ہزاروں
تھے، یہی وجہ ہے کہ آپؐ نے اس واقعہ کو نہ غیر معمولی اہمیت دی، نہ کوئی اعلان و اشتہار جاری ہوا، نہ تحدی کی گئی، نہ اسے صدق و کذب کا معیار بتایا گیا۔ گویا اگر باذن الٰہی اس قسم کے بیسیوں نکاح بھی ہو جاتے تو عام انسانوں کے اعتبار سے خواہ یہ کتنا ہی غیر معمولی واقعہ ہوتا مگر آپؐ کے بلند و بالا مقام کے اعتبار سے یہ ایک معمولی بات تھی۔
اس کے برعکس مرزا صاحب نے ”مفروضہ نکاحِ آسمانی“ کی پیش گوئی کا غلغلہ ایسا بلند کیا کہ گویا تمام مسیحی کمالات اسی ایک عورت کی ذات میں سمٹ آئے ہیں، اس کے لئے اشتہار پر اشتہار دیئے جاتے ہیں، تحدی پر تحدی کی جاتی ہے، الہام پر الہام گھڑے جاتے ہیں، اسے صدق و کذب کا واحد معیار بتایا جاتا ہے، کتابوں پر کتابیں تصنیف ہو رہی ہیں۔ مصلح موعود اور خواتین مبارکہ کی بشارتیں اس سے وابستہ کی جا رہی ہیں، مسیح موعود سے متعلقہ احادیث اس پر چسپاں کی جا رہی ہیں اور قسمیں کھا کھا کر لوگوں کو مطمئن کیا جا رہا ہے۔ مرزا صاحب نے محمدی بیگم کی یاد میں جو ”رومانی ادب“ تخلیق کیا ہے، اگر اسے یکجا کر دیا جائے تو ایک ضخیم دفتر بن جائے۔ اب مرزا صاحب کے طوفانی ”زَوَّجْنَاكَهَا“ کا مقابلہ آنحضرت ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے ایک سادے سے واقعہ سے کیجئے تو صاف نظر آئے گا کہ وہاں حق و صداقت کا نور چمکتا ہے، اور یہاں دجل و تلبیس ، کذب و افترا اور لاف و گزاف کے تاریک سائے پھیلے ہوئے ہیں: ”وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اَوْلِيَاءُ هُمُ الطَّاغُوْتُ يُخْرِجُوْنَهُمْ مِنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمَاتِ“۔ وہاں ”نکاحِ آسمانی“ ہو چکا ہے اس کے باوجود سکون اور وقار ہے، یہاں ہوا ہوایا کچھ نہیں، حرف بر خود غلط پیش گوئی ہے مگر شور و غوغا سے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔
دوم:....... وہاں آیت : ”زَوَّجْنٰكَهَا“ نازل ہوتی ہے اور آنحضرت ﷺ بلا تکلف اٹھ کر حضرت زینبؓ کے گھر تشریف لے جاتے ہیں، نہ کسی سے درخواست، نہ سفارش نہ تحریک، نہ سلسلہ جنبانی، نہ کوئی مانع اور نہ اسے دور کرنے کی فکر۔ اور یہاں بھی آیت ”زَوَّجْنٰكَهَا“ گھڑی جاتی ہے، اس کے باوجود لڑکی کے والدین سے درخواستوں پر درخواستیں کی جارہی ہیں، انہیں وعدے وعید کے زور سے ہموار کیا جارہا ہے، سفارشیں کرائی جارہی ہیں، ایک ایک کی منتیں اور خوشامدیں ہورہی ہیں، عزیز و اقارب کو کبھی خوشامدانہ اور کبھی تہدید آمیز خطوط لکھے جارہے ہیں، الغرض ہر جتن کیا جاتا ہے کہ نکاح ہوجائے، مگر نہیں ہوتا، اور یہ ”زَوَّجْنٰكَهَا“ کا الہام اپنا سا منہ لے کر رہ جاتا ہے۔ وہ حقیقت تھی اور یہ محض بھونڈی نقالی اور کذب و افترأ کا ایک خوفناک جال۔
سوم:....... وہاں وہ خاتون پہلے سے ایک شوہر کے نکاح میں ہے، اور اس کے طلاق دینے اور عدت گزرنے کے بعد ”زَوَّجْنٰكَهَا“ کی آسمانی اطلاع آتی ہے، اور وہ پاکباز خاتون ہمیشہ کے لئے حرم نبویؐ میں داخل ہوجاتی ہے، اور یہاں گنگا الٹی بہتی ہے، یعنی وہ لڑکی کنواری ہے، اللہ تعالیٰ اس کا عقد نکاح مرزا صاحب سے خود باندھ دیتے ہیں، اور اس کے بعد مرزا صاحب کی یہ ”آسمانی منکوحہ“ کسی دوسرے کے حبالہٴ عقد میں چلی جاتی ہے، مگر بایں ہمہ مرزا صاحب کو ”زَوَّجْنٰكَهَا“ کی آیت پڑھنے سے حیا مانع نہیں ہوتی، بلکہ اصرار کیا جاتا ہے کہ خواہ وہ کسی گھر پر رہے مگر ہے ہماری ”منکوحہ آسمانی“:
چہارم:....... وہاں سراپا صداقت ہے اس لئے جب تک وہ خاتون کسی کے
نکاح میں ہے اس کے شوہر سے باصرار فرمایا جارہا ہے کہ :" اَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ “ (روک کر رکھ اپنے پاس اپنی بیوی اور ڈر اللہ سے) یعنی طلاق دینے کے خیال سے بھی باز رہ، اور ایسا خیال دل میں لانے سے اللہ کا خوف کر، مگر یہاں اول تو لڑکی کے منگیتر کو حکم دیا جاتا ہے کہ خبردار یہ ہمارا منکوحہ رشتہ نہ لینا، ورنہ مر جائے گا، تجھ پر خدا کا غضب ٹوٹ پڑے گا اور تو تباہ ہو جائے گا، اور جب وہ آنجناب کے اس ”خدائی حکم نامہ“ کی پرواہ نہیں کرتا اور لڑکی کو بیاہ لے جاتا ہے تو نہ صرف باصرار و تکرار اسے جگہ خالی کرنے کی فہمائش ہوتی ہے، بلکہ پیش گوئیاں کی جاتی ہیں کہ وہ ضرور مرے گا، لڑکی ضرور بیوہ ہوگی، اور ضرور ”اس عاجز“ کے نکاح میں آئے گی، مگر نتیجہ بالکل غلط نکلتا ہے۔
غور فرمائیے ! کہ وہاں شرافت نفس، خلوص و خیر خواہی اور انسانی اخلاقی قدروں کی کتنی بلندی پائی جاتی ہے....... اور یہاں خود غرضی اور اخلاقی گراوٹ کی کتنی پستی موجود ہے؟ کیا دنیا کا کوئی شریف آدمی اس اخلاقی گراوٹ کا مظاہرہ کر سکتا ہے؟
مرزا صاحب بزعم خود ”محمد رسول اللہ“ (ﷺ) کی بلند ترین سطح پر اپنے آپ کو نمایاں کرنا چاہتے ہیں، مگر کاش کہ وہ ہمارے دور کے ایک عام شریف آدمی کی سطح پر ہی لوگوں کو نظر آسکتے!
پنجم:........ وہاں یہ اندیشہ دامن گیر ہے کہ اگر زیدؓ نے اس پاکباز خاتون کو طلاق دیدی تو اس کی اشک شوئی کی کیا صورت ہوگی۔ اگر مطلقہ ہونے کے بعد اسے حرم نبوت میں داخل کیا جائے تو منافقین بے پر کی اڑائیں گے اور اس معمولی بات کو رنگ آمیزی کے ساتھ پیش کر کے مخلوق خدا کو گمراہ کریں گے کہ دیکھو محمد (ﷺ) نے
اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ زوجہ سے نکاح کر لیا، بالآخر اللہ تعالیٰ اس اندیشہ پر آپؐ کو لطف آمیز عتاب فرماتے ہیں کہ آپؐ اس عاجز مخلوق سے کیوں اندیشہ فرماتے ہیں؟ اللہ سے ڈرنا چاہئے اور بس : ” وَ تُخْفِى فِى نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ وَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَاهُ “۔
الغرض وہاں طبعی شرافت اور حیا کا یہ عالم ہے...... اور یہاں نہ خدا سے ڈر نہ مخلوق خدا سے حیا۔ ایک عورت سے نکاح کی آرزو ہے، مگر اس کے لئے الہامی اشتہارات کا وہ طوفان برپا کیا جاتا ہے کہ فضا مرتعش ہو جاتی ہے۔ ”پیشگوئی“ کی جاتی ہے، اس کے لئے حتمی تاریخیں دی جاتی ہیں، ”انتظار“ کی دعوت کے ساتھ لوگوں کو مسیحانہ خوش کلامی سے نوازا جاتا ہے، بار بار تاریخیں تبدیل کی جاتی ہیں، تاویلات کے دریا بہائے جاتے ہیں، مگر نتیجہ زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں جاتا۔
ششم :...... وہاں ”زَوَّجْنٰكَهَا“ کی آیت نازل ہوتی ہے اور چند لمحوں میں اس کی تعمیل ہو جاتی ہے اور پھر کبھی اس کا ذکر نہیں ہوتا۔ اور یہاں ”زَوَّجْنٰكَهَا“ کا پیغام ”جنم روگ“ بن کر رہ جاتا ہے۔ مرزا صاحب کی پہلی تصنیف ”براہین احمدیہ“ سے اس ”قصہ دلفریب“ کا آغاز ہوتا ہے اور آخری عمر کی تصنیف ”حقیقۃ الوحی“ پر بھی ختم نہیں ہو پاتا۔ کبھی بیمار پڑتے ہیں تو اسی کا خیال ستاتا ہے:
”اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی، یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی، بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی، اس وقت گویا ”پیشگوئی“ آنکھوں کے سامنے آگئی اور یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے، تب میں نے اس پیشگوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنی ہوں گے
جو میں سمجھ نہیں سکا، تب اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا: الحق من ربک فلا تکونن من الممترین۔ یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے، تو کیوں شک کرتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص: ۳۹۸، روحانی خزائن ج:۳ ص:۳۰۶)
اور کبھی خواب میں اسے سرخ و خوش رنگ لباس میں دیکھ کر اس سے بغلگیر ہوتے ہیں اور اس ”روشن بی بی“ سے روشنیِ قلب حاصل کرتے ہیں:
”۲۵؍ جولائی ۱۸۹۲ء مطابق ۲۰؍ ذی الحجہ ۱۳۰۹ھ روزِ دو شنبہ، آج میں نے بوقت صبح صادق ساڑھے چار بجے دن کے خواب میں دیکھا کہ ایک حویلی ہے، اس میں میری بیوی والدۂ محمود اور ایک عورت بیٹھی ہے، تب میں نے ایک مشک سفید رنگ میں پانی بھرا ہے اور اس مشک کو اٹھا کر لایا ہوں، اور وہ پانی لاکر ایک اپنے گھڑے میں ڈال دیا ہے، میں پانی کو ڈال چکا تھا کہ وہ عورت جو بیٹھی ہوئی تھی یکایک سرخ اور خوش رنگ لباس پہنے ہوئے میرے پاس آگئی، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جوان عورت ہے، پیروں سے سر تک سرخ لباس پہنے ہوئے شاید جالی کا کپڑا ہے، میں نے دل میں خیال کیا کہ وہی عورت ہے جس کے لئے اشتہارات دئے تھے (یعنی محمدی بیگم) لیکن اس کی صورت میری بیوی کی صورت معلوم ہوئی گویا اس نے کہا یا دل میں کہا کہ میں آگئی ہوں........... میں نے کہا یا اللہ! آجاوے۔ اور پھر وہ عورت مجھ سے بغلگیر ہوئی، اس کے بغلگیر ہوتے ہی میری آنکھ کھل گئی۔ فالحمد للہ علی ذالک۔“ (یعنی اللہ کا شکر ہے کہ خواب میں ہی سہی اس ”جان تمنا“ سے معانقہ تو ہو گیا، جناب مسیحیت مآب کو ایک
غیر محرم خاتون سے معانقہ کرتے ہوئے کوئی شرعی روک مانع نہیں ہوتی، نہ اپنے نیاز مندوں کے سامنے اسے نقل کرتے ہوئے اخلاقی گراوٹ کا احساس ہوتا ہے، نہ مرزائی امت کو اس ”وحی مقدس“ کے ذکر خیر سے گھن آتی ہے: تفو! بر تو اے چرخ گردان تفو!)
”اس سے دو چار روز پہلے خواب میں دیکھا تھا کہ ”روشن بی بی“ میرے دالان کے دروازے پر آ کھڑی ہوئی ہے، اور میں دالان کے اندر بیٹھا ہوں، تب میں نے کہا کہ آ، روشن بی بی اندر آجا۔“
(تذکرہ ص: ۱۹۷ طبع چہارم)
اور کبھی خواب و خیال کی دنیا میں اس کی ”برہنہ زیارت“ کرتے ہیں، دونوں ہاتھوں سے اسے پیار کرتے ہیں، اور نکاح فرما کر شیرینی تقسیم کر دی جاتی ہے، اور آنجناب فرضی طور پر دولہا میاں بن کر صبر و سکون حاصل کرتے ہیں :
”۱۴؍ اگست ۱۸۹۲ء مطابق ۲۰؍ محرم ۱۳۰۹ھ، آج خواب میں، میں نے دیکھا کہ محمدی (بیگم) جس کی نسبت پیش گوئی ہے، باہر کسی تکیہ میں مع چند کس کے بیٹھی ہوئی ہے، اور سر اس کا شاید منڈا ہوا ہے، اور بدن سے ننگی ہے اور نہایت مکروہ شکل ہے، میں نے اس کو تین مرتبہ کہا ہے کہ تیرے سر منڈی ہونے کی یہ تعبیر ہے کہ تیرا خاوند مرجائے گا، اور میں نے دونوں ہاتھ اس کے سر پر اتارے ہیں....... اور اسی رات والدہ محمود نے خواب میں دیکھا کہ محمدی (بیگم) سے میرا نکاح ہو گیا ہے اور ایک کاغذ مہر ان کے ہاتھ میں ہے جس پر ہزار روپیہ مہر لکھا ہے، اور شیرینی منگوائی گئی ہے اور پھر میرے پاس وہ خواب میں کھڑی ہے۔“
(تذکرہ ص: ۱۹۸، ۱۹۹ طبع چہارم)
اور جب عمر بھر کی ان تمناؤں اور آرزوؤں کا خون ہوتا ہے ، مگر اس شریف زادی کا سایہ دیکھنا بھی کبھی نصیب نہیں ہوتا تو مرزا صاحب اس کی بے وفائی سے کبیدہ ہوکر فرماتے ہیں :
”فرمایا : چند روز ہوئے کہ ”کشفی نظر“ میں ایک عورت مجھے دکھلائی گئی، اور پھر الہام ہوا: ويل لهذه المرأة و بعلها (اس عورت اور اس کے خاوند کے لئے ہلاکت ہے)۔“
(تذکرہ ایڈیشن نمبر ۳ ص: ۶۱۰)
اس موقع پر مرزا صاحب کی خدمت میں یہ عرض کرنا بجا ہوگا:
جس کو ہو جان و دل عزیز ، اس کی گلی میں جائے کیوں
ہفتم :....... وہاں صداقت تھی اس لئے ادھر آیت نازل ہوئی اور ادھر حضرت زینبؓ کو آنحضرت ﷺ کی دائمی زوجیت کا شرف حاصل ہوا۔ و هي زوجته في الجنة (طبقات ابن سعد ج: ۸ ص: ۱۰۸) جس سے انہیں اس بات کی قطعی ضمانت مل گئی کہ نہ یہ نکاح منسوخ ہوگا ، نہ طلاق ہوگی ، اور یہاں محض نقالی تھی اس لئے جس منہ سے ”زَوَّجْنَاكَهَا“ کا پرزور اعلان ہوا تھا، اور اشتہارات کی بھر مار کی گئی تھی آخر عمر میں اسی منہ سے یہ کہنا پڑا :
”یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے، یہ درست ہے، مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں ، اس نکاح کے ظہور کے لئے ، جو آسمان پر پڑھا گیا تھا، خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت شائع کر دی گئی تھی اور وہ یہ کہ ايتها المرأة توبي توبي فإن البلاء على
عقبک۔ پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص: ۱۳۲، ۱۳۳)
ہائے بے بسی! بائیس برس تک ”زَوَّجْنٰکَھَا“ کے خوابوں کی دنیا میں بھٹکنے کے بعد ”فسخ نکاح“ کا اعلان ہوا، اور وہ بھی ”یا تاخیر میں پڑ گیا“ کے لاحقہ کے ساتھ۔ یعنی امید وصل منقطع ہے مگر شجر تمنا ابھی تک ہرا بھرا ہے۔ گویا:
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے!
الغرض کہاں الہامات کی وہ شورا شوری اور کہاں ”فسخ ہو گیا“ کی یہ بے نمکینی؟ کہ خود ہی نکاح پڑھ لیتے ہیں اور تھک ہار کر خود ہی ”خلع“ کر لیا جاتا ہے۔
رہا مرزا صاحب کا یہ ارشاد کہ ”زَوَّجْنٰکَھَا کے ساتھ ایک شرط تھی“ اس کا اصل قصہ یہ ہے کہ بائیس برس کا بندھا ہوا ”آسمانی نکاح“ فسخ کرنا ہے، اب اگر وہ ”راستی“ سے کام لے کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ نکاح بندھا ہی نہیں تھا، یوں ہی ہم نے اڑا دیا تھا، تو یہ راستی فتنہ انگیز ثابت ہوگی، مرید برگشتہ ہو جائیں گے، ساری عمر کی کمائی برباد ہو جائے گی اور بنا بنایا کھیل بگڑ جائے گا، دانشمندی کا تقاضا یہی تھا کہ ”دروغ مصلحت آمیز“ سے کام لیا جاتا، اور کہہ دیا جاتا کہ ”زَوَّجْنٰکَھَا“ کے ساتھ ایک شرط بھی تھی، وہ شرط پوری ہوگئی تو نکاح خود بخود فسخ ہو گیا، اللہ میاں کو بھی ”خلع“ کی وحی نہ بھیجنی پڑی، مرزا صاحب کے اس ”دروغ مصلحت آمیز“ پر تفصیلی گفتگو کا موقع نہیں، مختصراً اتنا جان لینا کافی ہے کہ ان کے ”زَوَّجْنٰکَھَا“ کے الہام کی پوری عبارت ہم اوپر نقل کر چکے ہیں، اسے پڑھ کر فیصلہ کیجئے کہ مرزا صاحب کی یہ شرط ”راستی فتنہ انگیز “ ہے یا ”دروغ مصلحت آمیز“؟ اگر آنکھیں بند نہ ہوں تو ہر شخص کو نظر آئے گا کہ
”زَوَّجْنَاكَهَا“ کے الہام میں کوئی شرط نہیں، یہ محض بعد کی سخن سازی ہے۔ ہمیں یہاں یہ بحث نہیں کہ مرزا صاحب کے کس جرم کی پاداش میں خدا تعالیٰ نے ان کا نکاح آسمانی ”فسخ“ کردیا، اور اس سے بھی تعرض نہیں کہ ان سے وہ کون سا قصور سرزد ہوا تھا جس کی نحوست کی وجہ سے ان کی ”آسمانی منکوحہ“، اللہ تعالیٰ نے سلطان محمد کے حوالے کردی؟ ہمیں تو یہاں صادق و کاذب کا باہمی فرق واضح کرنا ہے، کہ ایک جگہ یہی لفظ ”زَوَّجْنَاكَهَا“ نازل ہوتا ہے اور دائمی زوجیت کا پیغام لاتا ہے، اور دوسری جگہ یہی لفظ چسپاں کیا جاتا ہے مگر نتیجہ دائمی فراق نکلتا ہے، دونوں پر غور کرنے کے بعد ایک معمولی عقل کا آدمی بھی فیصلہ کرے گا کہ پہلا سچا تھا اور دوسرا جھوٹا۔
لگے ہاتھوں یہ بھی سن لیجئے کہ اگر کوئی شخص اسلام سے پھر کر مرتد ہوجائے تو اس کا نکاح ”فسخ“ ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی شریعت میں کوئی ایسی صورت نہیں جس سے خود بخود نکاح ”فسخ“ ہوجائے۔ مرزا صاحب کا نکاح بڑا پکا تھا، خود اللہ میاں نے باندھا تھا، مگر بعد میں خود بخود ”فسخ“ ہوگیا، اس کی وجہ مرزا صاحب کے ارتداد کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے؟ قادیانی امت کو اس پر خوب غور کرنا چاہئے، اللہ تعالیٰ توفیق دے تو یہی ”فسخ ہوگیا“ کا نکتہ ان کی ہدایت کے لئے کافی ہے، توفیق ہی نہ ہو تو دفتر بھی بے سود ہے۔
قادیانی کلمہ :
قادیانی امت کے راستہ میں سب سے بھاری پتھر امت مسلمہ کا یہ عقیدہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کا کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ قیامت تک کے لئے ہے، یہ اس
امر کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں، آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو لامحالہ کلمہ بھی بدلتا، اب اگر مرزا صاحب بقول ان کے نبی ہیں...... اور نبی بھی کچھ معمولی درجے کے نہیں بلکہ تمام انبیا سے بڑھ کر...... تو سوال یہ ہے کہ ان کا ”کلمہ شریف“ کون سا ہے، جو قادیانی امت پڑھا کرے؟ ایسا عظیم الشان نبی، جس کے سامنے موسیٰ و عیسیٰ (علی نبینا وعلیہما السلام) بھی معاذ اللہ ہیچ ہوں، وہ دنیا میں آئے، اور اس کے نام کا کلمہ تک جاری نہ ہو، یہ بات عقل و نقل کے خلاف ہے، سوال بڑا وزنی اور متین تھا، مگر قادیانی امت بھی ماشاء اللہ قادیانی نبوت کے نور سے نئی نئی منور ہوئی تھی (برعکس نام نہند زنگی را کافور) اس کے لئے ایسے مشکل سوالات کا چٹکیوں میں حل کر دینا کیا مشکل تھا۔ چنانچہ ارشاد ہوا کہ :
”اگر ہم بفرض محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریم کا اسم مبارک اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی، کیونکہ مسیح موعود (مرزا غلام احمد) نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں، جیسا کہ وہ (مرزا صاحب) خود فرماتا ہے : ”صار وجودی وجودہ“ نیز : ”من فرق بینی و بین المصطفیٰ فما عرفنی و ما رأی“ اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا، جیسا کہ آیت وآخرین منہم سے ظاہر ہے، پس مسیح موعود (مرزا غلام احمد) خود ”محمد رسول اللہ“ ہے، جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔“
(کلمۃ الفصل مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان نمبر :۳ جلد :۱۴ ص :۱۵۸)
مطلب یہ کہ کلمہ کے الفاظ اگرچہ نہیں بدلے مگر تعبیر بدل گئی، مرزا صاحب کی تشریف آوری سے پہلے ”محمد رسول اللہ“ سے مراد پہلی بعثت کے ”محمد“ تھے، اور مرزا صاحب کے ادعائے نبوت کے بعد دوسری بعثت کے ”محمد“ یعنی مرزا غلام احمد مراد ہیں، اور چونکہ مرزا صاحب کا وجود بعینہ آنحضرت ﷺ کا وجود ہے، اور مرزا صاحب کی شکل میں دوبارہ آپ ﷺ ہی کی بعثت ہوئی ہے، اور اب مرزا صاحب ہی ”محمد رسول اللہ“ ہیں، اس لئے کلمہ کے الفاظ بدلنے کی ضرورت نہیں، صرف تعبیر اور مفہوم بدلنے کی ضرورت ہے۔ جب کلمہ شریف میں ”محمد رسول اللہ“ کا لفظ پڑھا جائے تو اس سے مرزا صاحب مراد لئے جائیں۔
بات صاف ہوگئی کہ قادیانی امت بھی ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھتی ہے، مگر مسلمانوں کے کلمہ میں ”محمد رسول اللہ“ سے حضرت محمد بن عبداللہ الہاشمی المکی المدنی مراد ہوتے ہیں، اور قادیانی کلمہ میں ”محمد رسول اللہ“ سے مرزا غلام احمد بن غلام مرتضیٰ القادیانی مراد ہے، جو بقول ان کے محمد رسول اللہ کا بروز اور اوتار ہے۔ اسی بنا پر میاں محمود احمد صاحب اپنے والد محترم مرزا غلام احمد کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ :
”حضرت مسیح موعود نے تو فرمایا ہے کہ ان کا (مسلمانوں کا) اسلام اور ہے اور ہمارا اور، ان کا خدا اور ہے اور ہمارا اور، ہمارا حج اور ہے اور ان کا حج اور، اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔“
(الفضل ۲۱؍ اگست ۱۹۱۷ء)
اور یہ کہ :
”آپ نے (یعنی مرزا صاحب نے) فرمایا: اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم ﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، غرض آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان سے (یعنی مسلمانوں سے) ہمیں اختلاف ہے۔“
(الفضل ۳۰؍ جولائی ۱۹۳۱ء)
اور یہ ”ایک ایک چیز میں اختلاف“ ہے بھی ایک فطری چیز ہے، کیونکہ پورے دین کی بنیاد تو کلمہ طیبہ پر ہے، جب اسی میں اختلاف ہو کہ مسلمانوں کے نزدیک ”محمد رسول اللہ“ سے مراد ”رسول مدنی“ ہوں (ﷺ) اور قادیانی امت کے نزدیک ”رسول قادیانی“، تو ظاہر ہے کہ دونوں کلموں سے دین کے دو الگ الگ درخت وجود میں آئیں گے، دونوں کے برگ و بار الگ ہونگے، اور یوں قادیانی دین کی ایک ایک بات محمد رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے دین کی ایک ایک بات سے مختلف ہوگی، اندریں صورت خدا، نبی اور کلمہ سے لے کر دین کے تمام اصول و فروع میں قادیانی امت کو مسلمانوں سے اختلاف ہونا ہی چاہئے۔
الگ کلمہ، الگ دین اور الگ امت:
اور جب خود انہی کے بیانات سے واضح ہے کہ وہ مرزا صاحب کو ”بروز محمد“ یا ”محمد است و عین محمد است“ سمجھ کر ان کا کلمہ پڑھتے ہیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی کہ قادیانی امت، مسلمانوں سے ایک الگ امت ہے، ان کا دین الگ اور ان کا کلمہ الگ۔ یہ بحث چونکہ ہمارے موضوع سے خارج ہے، اس لئے صرف دو حوالے مرزا صاحب کی کتابوں سے پیش کرنے پر اکتفا کرتا ہوں:
”انبیاء اس لئے آتے ہیں کہ تا ایک دین سے دوسرے دین میں داخل کریں، اور ایک قبلہ سے دوسرا قبلہ مقرر کرا دیں اور
بعض احکام منسوخ اور بعض نئے احکام لاویں۔“
(مکتوبات احمدیہ ج:۵ ص:۳)
”جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا اس دعویٰ میں ضرور ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرے، اور نیز یہ بھی کہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر وحی نازل ہوتی ہے، اور نیز خلق اللہ کو وہ کلام سناوے جو اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے، اور ایک امت بناوے جو اس کو نبی سمجھتی، اور اس کی کتاب کو کتاب اللہ جانتی ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص:۳۴۴
روحانی خزائن ج:۵ ص:۳۴۴)
مرزا صاحب کے ان دونوں ارشادات سے ثابت ہوا کہ نبی کی آمد سے دین بدل جاتا ہے اور آنے والے نبی کی امت ایک نئے دین میں داخل ہوجاتی ہے، اب اگر قادیانی صاحبان امت مسلمہ اور مسلمانوں کے دین کے اندر ہی رہنا چاہتے ہیں تو (بصد معذرت) مرزا صاحب کی نبوت پر لعنت بھیجیں، ان کے ادعائے نبوت کی تکذیب کریں اور انہیں مسیح موعود کے بجائے ”مسیح کذاب“ کا لقب دیں (جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئی میں پہلے گزر چکا ہے) ورنہ قادیانی امت کا یہ ادعا کہ ہم بھی ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھتے ہیں، کلمہ گو ہیں، قبلہ کی طرف منہ کرکے نمازیں پڑھتے ہیں، حج کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ محض ابلہ فریبی ہے، قرآن کی اصطلاح میں اسے نفاق کہتے ہیں، کہ جب مسلمانوں کا سامنا ہو تو آمنا کہو، اور جب اپنے خلوتیان راز کے پاس پہنچو تو کہو کہ ہم تو محض ان کو (مسلمانوں کو) اُلو بناتے ہیں، ”با مسلمان اللہ اللہ، با برہمن رام رام“۔
بہر حال جب خود انہی کے اقرار سے ثابت ہے کہ وہ محمد عربی ﷺ کا نہیں،
بلکہ بزعم خود احمد ہندی (مرزا غلام احمد ) کا کلمہ پڑھتے ہیں، اور یہ کہ ان کا قبلہ اور ان کی امت مسلمانوں سے الگ ہے تو وہ کب تک مسلمانوں کو فریب دیتے رہیں گے؟ یہاں یہ بحث محض ضمنی طور پر آگئی ہے، ہمیں تو ان کی تحریفات کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ بتانا ہے کہ انہوں نے جس طرح رسول اللہ ﷺ کے اسمائے گرامی کا سرقہ کر کے آپ ﷺ سے متعلقہ آیات کو مرزا صاحب پر چسپاں کرنے کی ناکام کوشش کی ہے اسی طرح آنحضرت ﷺ کے کلمہ شریف میں بھی، جو دین اسلام کا مرکز ثقل ہے، انہوں نے تحریف کا ارتکاب کر کے اس سے مرزا غلام احمد مراد لیا ہے۔
رسول قدنی :
اوپر ہم نے مسلمانوں کے ”رسول مدنی“ کے مقابلے میں قادیانی امت کے ”رسول قدنی“ کا اور مسلمانوں کے ”محمد عربی“ کے مقابلہ میں قادیانی امت کے ”احمد ہندی“ کا ذکر کیا ہے، یہ ”قدنی“ اور ”ہندی“ ہماری ذہنی اختراع نہیں، بلکہ یہ قادیانی امت کی ”مقدس اصطلاح“ ہے، چنانچہ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۲۲ء کے ”الفضل“ میں ”رسول قدنی“ کے زیر عنوان مرزا صاحب کی شان میں جو قصیدہ رقم کیا گیا ہے وہ ناظرین کی ضیافت طبع کے لئے ذیل میں درج کیا جاتا ہے، پڑھئے اور قادیانی امت کی ”ذہنی سلامتی“ کی داد دیجئے :-
تیرے صدقے ترے قربان رسول قدنی
میں بتاؤں تری کیا شان رسول قدنی
ہم ہیں ناچیز سے انسان رسول قدنی
دستخط قادر مطلق تری مسلوں پہ کرے
اللہ اللہ یہ تیری شان رسول قدنی
آسمان اور زمین تو نے بنائے ہیں نئے
تیرے کشفوں پہ ہے ایمان رسول قدنی
پہلی بعثت میں محمد ہے تو اب احمد ہے
تجھ پہ پھر اترا ہے قرآن رسول قدنی
سرمہ چشم تری خاک قدم بنواتے
غوث اعظم شہ جیلان رسول قدنی
اپنے اکمل کو بچا لیجئے کہ ہے زوروں پر
اس کے عصیان کا طغیان رسول قدنی
(قادیانی مذہب نمبر ۷۵ ص: ۴۴۱ طبع جدید ختم نبوت)
احمد ہندی :
اور ۱۴؍ جولائی ۱۹۳۵ء کے ’’الفضل‘‘ میں میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا کلام شائع ہوا ہے۔ اس میں فرماتے ہیں :
باقی تو پرانے قصے ہیں، زندہ ہیں یہی افسانے دو
الشیٔ بالشیٔ یذکر، بات سے بات نکل آتی ہے، رسول مدنی کے مقابلے میں
”رسول قدنی“ ”قدنی“ کا لفظ غالباً ”قادیانی“ کا مخفف ہے، یا قادیان کی طرف نسبت غیر قیاسی کے طور پر بنایا گیا ہے۔ تاہم ”قدنی“ کا لفظ اختراع کرنے والوں نے مدنی اور قدنی کے تقابل کو مدنظر رکھا مگر یہ نہ سوچا کہ یہ مضحکہ خیز لفظ ذوقِ سلیم اور وجدانِ صحیح پر کیا ستم ڈھائے گا۔ جب کہ ”رسول قدنی“ کی تک بندی بھی بے معنی نہیں، بلکہ قادیانی امت کی اس ذہنیت کی مظہر ہے کہ ہر بات میں مرزا غلام احمد کو رسول اللہ ﷺ کے برابر کھڑا کیا جائے، اس کے چند نظائر تو اسی زیرِ نظر مضمون میں ناظرین کے مطالعہ سے گزریں گے، لیکن ان کا احاطہ ایک مستقل مقالے کا موضوع ہے۔
آنحضرت ﷺ کے روضۂ اقدس اور گنبدِ خضرا سے مسلمانوں کو جو والہانہ تعلق ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، مگر قادیانی امت نے مذکورہ بالا ذہنیت کی تسکین کے لئے مدینہ منورہ کے قبرستان ”جنت البقیع“ کے مقابلہ میں قادیان کے قبرستان کو ”بہشتی مقبرہ“ کا نام دیا، اور آنحضرت ﷺ کے روضۂ اطہر اور ”گنبدِ خضرا“ کے مقابلہ میں مرزا صاحب کے مدفن کو ”گنبدِ بیضا“ سے تعبیر کیا، ملاحظہ فرمائیے کہ کتنی بلند آہنگی سے مرزا صاحب کے ”گنبدِ بیضا“ کی زیارت پر ”حجِ اکبر“ کی نوید سنائی جاتی ہے، اور اسے (خاکش بدہن) خود رسول اللہ ﷺ کا مدفن باور کرایا جاتا ہے چنانچہ ”الفضل“ لکھتا ہے :
”ایامِ جلسہ میں یا اس کے بعد وطن جانے سے پیشتر کچھ نہ کچھ وقت ”مقبرہ بہشتی“ میں حضرت مسیح موعود کے ”مزارِ پرنور“ پر حاضر ہونے کا ضرور نکالنا چاہئے.......... پھر کیا حال ہے اس شخص کا جو قادیان ”دارالامان“ میں آئے اور دو قدم چل کر ”بہشتی مقبرہ“ میں
حاضر نہ ہو....... اس میں وہ ”روضہ اطہر“ ہے جس میں اس خدا کے برگزیدہ کا جسم مدفون ہے جسے افضل الرسل نے اپنا سلام بھیجا اور جس کی نسبت حضرت خاتم النبیین نے فرمایا: یدفن معی فی قبری (وہ میرے ساتھ میری قبر میں دفن ہوگا)، اس اعتبار سے مدینہ منورہ کے گنبد خضراء کے انوار کا پورا پورا پرتو گنبد بیضاء پر پڑ رہا ہے، اور آپ گویا ان برکات سے حصہ لے رہے ہیں، جو رسول کریم ﷺ کے مرقد منور سے مخصوص ہیں۔ کیا ہی بدقسمت ہے وہ شخص جو احمدیت کے ”حج اکبر“ سے محروم رہے۔“
(الفضل ۱۸/دسمبر ۱۹۲۲ء)
یہ آنحضرت ﷺ سے تقابل کی (نعوذ باللہ) ایک ادنیٰ جھلک ہے، اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا تو تفصیل کسی دوسرے موقع پر کی جائے گی.......... آنحضرت ﷺ پر ان ناشائستہ عنایات کے باوصف قادیانی امت کو یہ خوش فہمی ہے کہ مسلمانوں کو اس سے کوئی اذیت نہیں ہوتی، نہ خدا و رسول کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے۔ (نعوذ باللہ من غضب اللہ وغضب رسولہ)
خصائص نبوی میں تحریف :
قادیانی امت نے مرزا صاحب کو ”محمد“، ”احمد“ اور ”آخری نبی“ قرار دے کر ان کے نام کا کلمہ جاری کر دیا تو اس کے بعد ضرورت تھی کہ آنحضرت ﷺ کے امتیازی اوصاف و کمالات مرزا صاحب کی طرف کھینچے جائیں، مگر قادیانی تحریف پسندوں کے لئے یہ کیا مشکل تھا، جب آنحضرت ﷺ کے اسمائے مقدسہ ”غلام احمد“ کے لئے اڑائے جاسکتے ہیں، جب بروز کے تحریفی رندے سے تراش خراش کر ”خاتم النبیین“ کی تختی ”رئیس قادیان“ پر آویزاں کی جاسکتی ہے، اور جب ”بعثت ثانی“ کے
مکروہ فلسفہ سے ”محمد رسول اللہ“ کا کلمہ شریف، قادیان کے مسیح موعود کی جانب منتقل کیا جاسکتا ہے تو دیگر اوصاف نبویہ میں تحریف کا عمل جراحی کیوں نہیں ہوسکتا؟ چنانچہ قادیان کے کارخانۂ تحریف میں ”صار وجودی وجودہ“ کی الہامی مشین نصب کردی گئی، اور اس میں بلند بانگ دعاوی کے خام مواد سے آنحضرت ﷺ اور دیگر انبیاء کرام سے متعلقہ آیات واحادیث، جناب مرزا غلام احمد صاحب کے قالب میں ڈھلنے لگیں، بطور نمونہ چند آیات پر مشقِ تحریف کا نظارہ اور : ”چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد“ کا نیا منظر دیکھئے۔
قادیانی قرآن :
تجھ پر پھر اترا ہے قرآن رسول مدنی
(روزنامہ الفضل قادیان ۱۶؍اکتوبر ۱۹۲۲ء)
آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت کا عظیم ترین معجزہ اور آپ کے منصب نبوت کا سب سے بڑا شاہکار وہ مقدس کتاب ہے جو قرآن کریم کی شکل میں تابندہ و پائندہ ہے، اور جسے قرآن کریم میں متعدد جگہ ”الکتاب المبین“ کے نام سے یاد کیا گیا ہے، قادیانی امت بے تاب تھی کہ کسی طرح نئے ”محمد رسول اللہ“ کی نئی ”الکتاب المبین“ بھی وجود میں آئے جو اپنی قطعیت وعصمت میں قرآن کریم کے ہم سنگ ہو، یہ عظیم منصوبہ انہیں متعدد مراحل میں پایۂ تکمیل تک پہنچانا پڑا، پہلے مرحلہ میں کوشش کی گئی کہ قرآن کو قادیان کے قریب بلکہ خود قادیان ہی میں اُتار لیا جائے، ملاحظہ ہو :
”اور یہ بھی مدت سے الہام ہوچکا ہے کہ انا انزلناہ
قریباً من القادیان ، وبالحق انزلنٰہ و بالحق نزل، و كان وعد الله مفعولاً.......... اس جگہ مجھے یاد آیا کہ جس روز وہ الہام مذکورہ بالا، جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے، ہوا تھا، اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں، اور پڑھتے پڑھتے انھوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ انا انزلناہ قریباً من القادیان۔ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے........... تب میں نے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے، اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے، مکہ اور مدینہ اور قادیان، یہ کشف تھا جو کئی سال ہوئے کہ مجھے دکھلایا گیا تھا۔‘‘
(ازالۂ اوہام ص:۷۳، ۷۶، ۷۷۔
روحانی خزائن ج:۳ ص:۱۳۸، ۱۳۹، ۱۴۰)
مگر نیاز مند مریدوں کی سعادت مندی ہے کہ انہیں اس عجیب و غریب کشف کو سن کر نہ تو حضور پر ”مراقی مالیخولیا“ کا وہم ہوا، نہ اس پر شیطانی القا کا شبہ ہوا، سب نے نہ صرف یہ کہ قرآن کا واقعی قادیان میں نازل ہونا تسلیم کرلیا، بلکہ ”قادیانی قرآن“ میں قادیان کا نام بھی اعزاز کے ساتھ لکھ دیا۔ شاباش! آفرین! ”وزیرے چنیں، شہر یارے چنیں“۔ اور پھر تصنع دیکھئے کہ حضور کو قادیان میں قرآن اترنے کا قطعی الہام بھی ہوتا ہے اور اس کے ساتھ مرزا غلام قادر صاحب کی اس کشفی قرأت پر تعجب بھی۔
دوسرے مرحلہ پر قرآن کی مثل پاک اور قطعی وحی مرزا صاحب پر اترنے لگی،
ملاحظہ فرمائیے :
بخدا پاک دانمش ز خطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم
از خطاہا ہمیں است ایمانم
بخدا ہست ایں کلامِ مجید
از دہانِ خدائے پاک و وحید
آں یقینے کہ بود عیسٰی را
بر کلامے کہ شد برو القا
واں یقیں کلیم بر تورات
واں یقیں ہائے سید السادات
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین
(درثمین ص:۲۸۷، نزول مسیح ص:۹۹،
روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۴۷۷)
ترجمہ از ناقل ...... جو کچھ میں خدا کی وحی سے سنتا ہوں بخدا اسے قرآن کی طرح خطا سے پاک اور منزہ سمجھتا ہوں، بخدا! یہ وہی ”کلام مجید“ ہے جو خدائے پاک و یکتا کے منہ سے نکلتا ہے، جو یقین عیسٰی کو ان پر نازل شدہ کلام پر تھا، جو یقین کلیم کو تورات پر تھا، اور جو یقین آنحضرت ﷺ کو قرآن پر تھا، میں یقین میں ان سب سے کم نہیں ہوں، جو جھوٹ کہے وہ لعنتی ہے۔
تیسرے مرحلہ میں اس ”ہمچو قرآن“ وحی پر پہلی کتابوں کی طرح ایمان لانا فرض قرار دیا گیا، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے :
الف:...... ”اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں، ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی ہے......اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہوکر یہ قسم کھاسکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے اوپر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔“
(اشتہار ”ایک غلطی کا ازالہ“ ص:۶۔ روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۱۰)
ب:...... ”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں ، جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر، اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو جو میرے پر نازل ہوتا ہے ، خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“
(حقیقة الوحی ص:۲۱۱۔ روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۲۲۰)
ج:...... ”میں خدا تعالیٰ کے ان تمام الہامات پر جو مجھے ہورہے ہیں ایسا ہی ایمان رکھتا ہوں جیسا کہ تورات اور انجیل اور قرآن مقدس پر ایمان رکھتا ہوں۔“
(اشتہار ۴؍ اکتوبر ۱۸۹۹ء مندرجہ تبلیغ رسالت
ج:۸ ص:۶۳۔ مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۱۵۴)
د:...... ”مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے، جیسا کہ تورات اور انجیل اور قرآن کریم پر۔“
(اربعین نمبر ۴ ص:۲۵ مصنفہ مرزا غلام احمد صاحب)
ہ:...... ”ان حوالہ جات سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے الہامات کو ”کلام الٰہی“ قرار دیتے ہیں۔ اور ان کا مرتبہ بلحاظ ”کلام الٰہی“ ہونے کے ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآن مجید اور تورات اور انجیل کا۔“
(اخبار الفضل ۱۳؍ جنوری ۱۹۳۵ء منکرین خلافت کا انجام ص: ۴۹، مصنفہ جلال
الدین شمس قادیانی ۔ قادیانی مذہب ص: ۲۷۰، فصل ۴ نمبر ۲۳ طبع جدید ختم نبوت)
ز:...... ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی وحی ، اپنی جماعت کو سنانے پر مامور ہیں، جماعت احمدیہ کو اس ”وحی اللہ“ پر ایمان لانا اور اس پر عمل کرنا فرض ہے۔ کیونکہ ”وحی اللہ“ اسی غرض کے واسطے سنائی جاتی ہے، ورنہ اس کا سنانا اور پہنچانا ہی بے سود اور لغو فعل ہوگا، جب کہ اس پر ایمان لانا اور اس پر عمل کرنا مقصود بالذات نہ ہو، یہ شان بھی صرف انبیاء کو ہی حاصل ہے کہ ان کی وحی پر ایمان لایا جاوے، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی قرآن شریف میں بھی یہی حکم ملا اور ان ہی الفاظ میں ملا، بعدہ حضرت احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا غلام احمد صاحب) کو ملا، پس یہ امر بھی آپ کی (مرزا صاحب کی) نبوت کی دلیل ہے۔“
(رسالہ احمدی نمبر ۵، ۶، ۷ بابت ۱۹۱۹ء موسومہ النبوہ فی
الالہام ص: ۲۸ مولفہ قاضی محمد یوسف صاحب قادیانی)
چوتھے مرحلہ میں یہ ضروری معلوم ہوا کہ مرزا صاحب کی وحی کو بہیئت مجموعی ”کتاب“ قرار دے کر مرزا صاحب کا ”صاحب کتاب“ ہونا تسلیم کرایا جائے، چنانچہ ارشاد ہوا :
الف:...... ”بحث اگر کچھ ہو سکتی ہے تو وہ ما انزل الیہ من
رتبہ پر ہو سکتی ہے، چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے : یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک۔ اور نبی کی کتاب یہی ہوتی ہے کہ مَا اُنْزِلَ کو جمع کر لیا جاوے، چونکہ حضرت مرزا صاحب علیہ الصلوٰۃ والسلام سب انبیاء کے مظہر اور بروز ہیں تو ان کا ماانزل الیہ من ربہ بہ برکت حضرت محمد ﷺ قرآن شریف سے اس قدر زیادہ ہے کہ کسی نبی کے ما انزل الیہ سے کم نہیں، بلکہ اکثروں سے زیادہ ہوگا۔ فالحمد للہ کہ حضرت مرزا صاحب علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک لحاظ سے صاحب کتاب ہونا ثابت ہوگیا۔‘‘
(الفضل ۱۵؍فروری ۱۹۱۹ء ۔ قادیانی مذہب فصل چوتھی نمبر ۲۸ ص:۲۷۴)
ب:....... ’’اور خدا کا کلام اس قدر مجھ پر (نازل) ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہیں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص: ۳۹۱ ۔ روحانی خزائن ج:۲۲ ص: ۴۰۷)
پانچواں مرحلہ یہ تھا کہ اس جدید قرآن اور ’’الکتاب المبین‘‘ کو یکجا مدون کر دیا جائے، چنانچہ یہ مقدس کام جناب میاں محمود احمد صاحب خلیفہ دوم قادیان کے دور میں پایۂ تکمیل کو پہنچا، ملاحظہ فرمائیے :
’’خدا تعالیٰ نے حضرت احمد علیہ السلام (مرزا غلام احمد صاحب) کے بہیئت مجموعی الہامات کو ’’الکتاب المبین‘‘ فرمایا ہے، اور جدا جدا الہامات کو آیات سے موسوم کیا ہے حضرت (مرزا) صاحب کو یہ الہام متعدد دفعہ ہوا ہے، پس آپ کی وحی بھی جدا جدا آیت کہلا سکتی ہے، جب کہ خدا تعالیٰ نے ان کو ایسا نام دیا ہے، اور مجموعہ الہامات کو ’’الکتاب المبین‘‘ کہہ سکتے ہیں۔
پس جس شخص یا اشخاص کے نزدیک نبی اور رسول کے واسطے کتاب لانا ضروری شرط ہے، خواہ وہ کتاب شریعت کاملہ ہو یا کتاب المبشرات والمنذرات ہو تو ان کو واضح ہو کہ ان کی شرط کو بھی خدا نے پورا کر دیا ہے۔ اور حضرت (مرزا) صاحب کے مجموعہ الہامات کو، جو مبشرات و منذرات ہیں، الکتاب المبین کے نام سے موسوم کیا ہے۔ پس آپ اس پہلو سے بھی نبی ثابت ہیں۔ و لو کرہ الکافرون“
(رسالہ احمدی نمبر ۵، ۶، ۷ موسومہ النبوۃ فی الالہام ص: ۴۳، ۴۴ مؤلفہ قاضی
محمد یوسف صاحب قادیانی۔ قادیانی مذہب فصل چوتھی نمبر ۲۹ ص:۲۷۴)
چھٹا مرحلہ یہ تھا کہ مریدوں کے لئے قرآن کریم کی طرح اس ”الکتاب المبین“ کی تلاوت کے کار ثواب پر ”نوید عید“ دی جائے، یہ کام بھی جناب میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے انجام دیا :
”حقیقی عید ہمارے لئے ہی ہے، مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ”الٰہی کلام“ کو پڑھا اور سمجھا جائے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا صاحب) پر اُترا۔ بہت کم لوگ ہیں جو اس کلام کو پڑھتے اور اس کا دودھ پیتے ہیں (واقعی بڑی شکایت کی بات ہے، مرزا صاحب مریم بنے، حاملہ ہوئے، وضع حمل کیا، اتنے مصائب اُٹھانے کے بعد بھی اگر ان کی اولاد ، ان کا دودھ نہیں پیتی تو غضب ہے۔ ناقل)، دوسری کتابیں خواہ کتنی پڑھی جائیں جو سرور اور یقین قرآن شریف سے پیدا ہوتا ہے وہ کسی اور سے نہیں ہو سکتا۔ (قرآن مجید کا ذکر تو محض برائے وزن بیت ہے، اصل مقصد اگلی بات سمجھانا ہے۔ ناقل) اسی طرح وہ سرور اور لذت جو حضرت مسیح موعود کے
الہاموں کے پڑھنے سے حاصل ہوتی ہے اور کسی کتاب کو پڑھنے سے نہیں ہو سکتی۔ جو ان الہاموں کو پڑھے گا وہ کبھی مایوسی اور ناامیدی میں نہ گرے گا، مگر جو پڑھتا نہیں یا پڑھ کر بھول جاتا ہے، خطرہ ہے کہ اس کا یقین اور امید جاتی رہے، وہ مصیبتوں اور تکلیفوں سے گھبرا جائے گا کیونکہ وہ سرچشمہ امید سے دور ہو گیا اگر وہ خدا کا کلام پڑھتا رہتا اور دیکھتا کہ خدا تعالیٰ نے کیا کیا وعدے دیئے ہیں اور پھر ان پر دل سے یقین رکھتا تو ایسا مضبوط ہو جاتا کہ کوئی مصیبت اسے ڈرا نہ سکتی۔ پس حقیقی عید سے فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود کے الہامات پڑھے۔‘‘
(خطبہ عید میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل
۱۳؍اپریل ۱۹۲۸ء۔ قادیانی مذہب فصل چوتھی نمبر ۳۰ ص: ۲۷۵)
میاں صاحب نے نہ صرف اس ”الکتاب المبین“ کی تلاوت بلکہ اس کے حفظ کی بھی ترغیب دلائی ہے اور غفلت و نسیان پر سنگین خطرات کا اظہار فرمایا ہے، اب میاں صاحب کے کارنامہ پر مرزا صاحب کے ایک حواری نے جو بلیغ تبصرہ فرمایا ہے وہ بھی سن لیجئے :
”جناب میاں محمود احمد صاحب (خلیفہ قادیان) اور ان کے حاشیہ نشین (اور ان سے پہلے خود مرزا صاحب۔ ناقل) جب نبوت کی پڑی جما چکے تو اب کتاب کی فکر ہوئی کیونکہ نبی اور کتاب لازم و ملزوم چیزیں ہیں۔ گو عارضی طور پر طوطے کی طرح مریدوں کو رٹا بھی دیا گیا تھا کہ حضرت ہارون کو کتاب نہیں دی گئی، اور فلاں نبی کو کتاب نہیں دی گئی، لیکن اندر سے دل نہیں مانتا تھا کہ آخر وہ نبی ہی
کیا جو کتاب نہیں لایا، بلکہ میاں محمود احمد صاحب (خلیفہ قادیان) نے تو صاف طور پر فرما بھی دیا کہ کوئی نبی نہیں ہوسکتا جو شریعت نہ لائے، اور مرید اب تک بھٹکتے پھرتے تھے، وہ عاجز آکر کبھی براہین احمدیہ کو ”کتاب“ بتا دیتے تو کبھی خطبہ الہامیہ کو اور کبھی البشریٰ کو........... اس لئے اب کے سالانہ جلسہ پر جناب میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے کتاب کی اہمیت کو جتاتے ہوئے خود قادیان میں حضرت مسیح موعود کے ”الہامات“ کو جمع کرنے کا حکم دیا، اور ساتھ ہی مریدوں کو اس کی تلاوت کے لئے بھی ارشاد فرمایا تاکہ ان کے قلوب طمانیت اور سکینت حاصل کریں۔
اگر حضرت مسیح موعود ”عین محمد“ ہیں اور آپ کی بعثت رسول اللہ ﷺ ہی کی ”بعثت ثانی“ ہے تو حضرت مسیح موعود کی وحی بھی ”عین قرآن“ ہونی چاہئے۔ اور جو وحی بھی آپ پر نازل ہوئی وہ ”قرآن مجید“ ہے۔ اور قرآن کو جو خاتم الکتب کہا گیا تھا تو اس کا مطلب فقط اس قدر مانا جائے گا کہ اس کتاب کی مہر سے آئندہ خدا کی کتابیں یا دوسرے لفظوں میں قرآن کے مزید حصے نازل ہوا کریں گے، اور کوئی وجہ نہیں کہ جو مجموعہ میاں صاحب، حضرت مسیح موعود کے الہامات کا اب شائع کرائیں گے اس کا نام بجائے البشریٰ کے ”قرآن مجید“ نہ رکھا جائے، یا ”القرآن“ ہی رکھ دیا جائے، کیونکہ یہ وہی قرآن ہے جو پیرایہ جدید میں جلوہ گر ہوا ہے اس لئے جناب میاں صاحب نے فرمایا تھا کہ اب کوئی قرآن نہیں سوائے اس قرآن کے جو مسیح موعود نے پیش کیا، اور یہ بالکل درست معلوم ہوتا ہے، اس لحاظ سے کہ مسیح موعود کی وحی جب عین قرآن ہے، جس کا کوئی محمودی
(بلکہ کوئی مرزائی بھی) انکار نہیں کر سکتا ، تو پھر اب جو قرآن محمودی (بلکہ کوئی مرزائی بھی) حضرات پیش کریں گے ضرور ہے کہ وہ پرانے قرآن کا ، جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا، اور نئے قرآن کا، جو مسیح موعود پر یا دوسرے لفظوں میں محمد رسول اللہ صلعم کی بعثت ثانی میں نازل ہوا، دونوں کا مجموعہ ہونا چاہئے، گویا عیسائیوں کی طرح ”عہد نامہ قدیم“ کے ساتھ ”عہد نامہ جدید“ بھی شامل ہوگا، تب یہ قدیم وجدید قرآن مل کر وہ قرآن بنے گا جس کے لئے میاں صاحب فرماتے ہیں کہ وہ یھدی من یشاء والا قرآن ہوگا۔“
(اجرائے نبوت کا فتنہ عظیم، از ڈاکٹر بشارت احمد صاحب
قادیانی، مندرجہ اخبار ”پیغام صلح“ لاہور ۱۱؍ جون ۱۹۳۴ء)
یہ ”قادیانی قرآن“ جسے قادیانی حضرات ”الکتاب المبین“ ، ”کتاب المبشرات والمنذرات“ ، ”وحی مقدس“ ، ”قرآن جدید“ ، ”ظلی قرآن“ ، ”بچو قرآن“ ، ”عہد نامۂ جدید“ وغیرہ ناموں سے یاد کرتے ہیں، تذکرہ کے نام سے اس کا جدید ایڈیشن چند سال پہلے بڑی آب وتاب اور تحقیق وتشریح کے ساتھ ”ربوہ“ سے شائع ہوا، راقم بھی اس کے مطالعہ سے لطف اندوز ہوا ہے، کبھی موقع ہوا تو انشاء اللہ اس کا تفصیلی تعارف بھی پیش کر دیا جائے گا، سردست قادیانی امت سے یہ گزارش ہے کہ ابھی تک ان کی ”وحی مقدس“ کا ساتواں مرحلہ باقی ہے جو پوری قادیانی امت پر فرض کفایہ ہے، وہ یہ کہ اس نئے قرآن کو ترتیب نزولی کے اعتبار سے مرتب کیا گیا ہے، اور اسے مختلف اجزا اور سورتوں میں ابھی تک تقسیم نہیں کیا گیا۔ دوسری بہت بڑی خامی یہ ہے کہ اس میں ”کلام الٰہی“ کو انسانی کلام سے مخلوط کر دیا گیا ہے، یہ مذہبی طور پر بڑی سنگین غلطی ہے، اس سے عیسائیوں کے ”عہد نامۂ جدید“ کی طرح تحریف کا دروازہ
کھل جائے گا، انسانی کلام (خواہ وہ مرزا صاحب ہی کا کلام ہو) بطور تشریح یا شان نزول بالکل الگ ہونا چاہئے۔ الغرض ”تذکرہ“ کو ”قادیانی قرآن“ کی تفسیر کہا جاسکتا ہے مگر جو ”الکتاب المبین“ مرزا صاحب پر نازل ہوئی ایک تو اسے بالکل معریٰ چھپنا چاہئے تاکہ میاں محمود احمد صاحب کی وصیت کے مطابق پڑھنے والے اس سے لذت و سرور حاصل کریں، پھر اسے اجزا و سُور پر مرتب ہونا چاہئے تاکہ مراقی مسیح کی مراقی امت کو اسے حفظ کرنے میں سہولت ہو۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اگر سیاسی جھمیلوں سے فرصت ملی تو جناب مرزا ناصر احمد صاحب خلیفۂ ثالث، ”قادیانی قرآن“ کی جمع و ترتیب کا یہ اہم کام اور آخری مرحلہ انجام دیں گے۔ (جس کی اس کو توفیق نہیں ہوئی)۔
بہر حال آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ قادیان کی الہامی مشین نے کس صفائی سے قرآن کریم کے نام ”الکتاب المبین“ میں تحریف کر کے اسے مرزا صاحب کے مجموعہ الہامات پر فٹ کردیا، کس طرح مرزا صاحب کو ”صاحب کتاب“ رسول بنا کر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے برابر کھڑا کردیا، اور کس طرح ان کی وحی پر ایمان لانا، اس پر عمل کرنا اور اس کی تلاوت سے سرور اور لذت حاصل کرنا قادیانی دین کا عظیم رکن بن گیا؟
قادیانی رحمۃ للعالمین:
مسلمانوں کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ ”رحمۃ للعالمین“، آنحضرت ﷺ کا وہ ممتاز لقب ہے جو آنحضرت ﷺ کے سوا، اولین و آخرین میں سے نہ کسی کو عطا ہوا، نہ ہوگا۔ چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے: ”وَ مَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ“
(انبیا:۱۰۷)
ترجمہ:...... ”اور نہیں بھیجا ہم نے تجھ کو مگر رحمت، واسطے عالموں کے“۔
(ترجمہ شاہ رفیع الدینؒ)
عرض کیا گیا : یا رسول اللہ! ان کافروں پر بددعا فرمائیے، ارشاد ہوا:
”انی لم ابعث لعاناً، انما بعثت رحمة“ (صحیح مسلم)
ترجمہ:...... ”میں لعنت برسانے کے لئے نہیں بھیجا گیا، میں تو رحمت بنا کر مبعوث ہوا ہوں ۔“
ایک اور حدیث میں ہے: ”انما انا رحمة مهداة“ ۔ یعنی میں تو سراپا رحمت ہوں جو عطیۂ ربانی ہے، (تفسیر ابن کثیر ص: ۲۰۱) حافظ ابن کثیر آیت مذکورہ بالا کے تحت لکھتے ہیں:
”یخبر تعالیٰ ان الله جعل محمداً ﷺ رحمة للعالمین، ای ارسله رحمةً لهم کلہم.“
ترجمہ:...... ”اللہ تعالیٰ خبر دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو رحمۃ للعالمین بنایا، یعنی آپ کو سب کے لئے سراپا رحمت بنا کر بھیجا ہے۔“
حفیظ جالندھریؒ نے خوب کہا ہے:
وہ بندہ جس کو رحمٰن، رحمۃ للعالمین کہدے
مرزا غلام احمد، چونکہ آنحضرت ﷺ کے تمام خصائص و کمالات اور مناقب و مفاخر کو قادیان منتقل کرنے کے درپے تھے، اس لئے بزعم خود رحمۃ للعالمین بننے کے
لئے موصوف نے اس آیت میں تحریف کی اور اسے اپنی ذات پر چسپاں کرلیا، حقیقۃ الوحی ص:۸۲ پر لکھتے ہیں :
”وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْن۔ ہم نے تجھے دنیا پر رحمت کرنے کے لئے بھیجا ہے۔“
مرزا صاحب نے اس تحریف سے ایک تو یہ ثابت کیا کہ رحمۃ للعالمین، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا لقب خاص نہیں (نعوذ باللہ)، بلکہ یہ لقب تو خود مرزا کا اپنا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ سورۂ انبیاء کی مندرجہ بالا آیات کا مصداق (معاذ اللہ) آنحضرت ﷺ نہیں بلکہ مرزا جی بلقابہ ہیں۔ اسے کہتے ہیں: ”بیک کرشمہ دو کار“۔ قادیانی امت کو مرزا جی کی شکل میں ایک نیا رحمۃ للعالمین دستیاب ہوا تو چودہ طبق روشن ہوگئے اور پوری امت مسلمہ کو تحدی آمیز دعوت کا اعلان ہوا :
”اے مسلمان کہلانے والو ! اگر تم واقعی اسلام کا بول بالا چاہتے ہو اور باقی دنیا کو اپنی طرف بلاتے ہو (اپنی طرف بلانا تو مرزائے قادیان کا مشغلہ ہے یا ان کی ذریت کا وظیفہ، یہ انہی کو مبارک ہو۔ مسلمان کسی کو ”اپنی طرف“ نہیں بلاتے، بلکہ ساری دنیا کو ۔ بشمول قادیانی امت کے ۔ حضرت خاتم النبیین ﷺ کی طرف بلاتے ہیں، کہ آپؐ ہی آخری نبی ہیں۔ ﷺ ۔ ناقل) تو پہلے خود سچے اسلام کی طرف آجاؤ جو مسیح موعود (مرزا صاحب) میں ہو کر ملتا ہے، اسی کے طفیل آج بِرّ و تقویٰ کی راہیں کھلتی ہیں، اسی کی پیروی سے انسان فلاح و نجات کی منزل مقصود پر پہنچ سکتا ہے۔ وہ وہی فخر اولین و آخرین ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا، اب اپنی تکمیل تبلیغ کے ذریعہ ثابت کر لے گا کہ واقعی اس کی
دعوت جمیع ممالک وملل عالم کے لئے تھی، فصلی اللہ علیہ وسلم ۔“
(الفضل قادیان ۲۷ ستمبر ۱۹۱۵ء)
دیکھا قادیانی دعوت کا زور؟ اور قادیانی رحمۃ للعالمین کی برکات کا ظہور؟ ”الفضل“ کی عبارت ایک بار پھر پڑھئے اور خط کشیدہ الفاظ کے مضمرات پر غور فرمائیے۔
الف:...... الفضل کا انکشاف ہے کہ مرزا جی کے آتے ہی مسلمان ، مسلمان نہیں رہے، بلکہ صرف ”مسلمان کہلانے والے“ بن گئے، مرزا جی کا آنا تھا کہ ”دنیا بھر کے اولیا واقطاب، علما وصلحا اور عام مسلمان بیک جنبش قلم ”کافر“ اور ”دائرۂ اسلام سے خارج“ قرار پائے، کیونکہ:
”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا، یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص: ۱۱۰ از مرزا بشیر احمد ایم اے قادیانی)
ذرا موسیٰ، عیسیٰ اور محمد کے الفاظ جس انداز تعظیم سے ذکر کئے گئے ہیں اس پر بھی نظر رکھئے، اور ان اولو العزم رسولوں کے ساتھ مرزا صاحب کا بے جوڑ پیوند لگانا بھی مدنظر رکھئے۔ قادیانی منطق یہ ہے کہ جس طرح عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کے بعد صاحب زمان رسول وہی تھے اس وقت صرف موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا اور ان کی پیروی کرنا موجب نجات نہیں تھا اور جس طرح آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد وہی صاحب زمان تھے اور موسیٰ وعیسیٰ علیہما السلام پر ایمان لانا اور ان کی شریعت پر عمل کرنا کفیل نجات نہیں تھا، ٹھیک اسی طرح مرزا جی کے دعویٰ نبوت کاذبہ کے بعد
اب انہی کا زمانہ ہے اور صرف محمد ﷺ پر ایمان لانا اور آپ کی پیروی و اطاعت کرنا موجب نجات نہیں، دوسرے الفاظ میں اب صاحب زماں رسول، حضرت محمد ﷺ نہیں بلکہ مرزا صاحب ہیں، لہٰذا جو ان کو نہیں مانتا وہ پکا کافر ہے۔
ب:...... ”الفضل“ کا دوسرا انکشاف یہ ہے کہ اب مرزا صاحب کا خرافاتی دین ہی ”سچا اسلام“ ہے، محمد ﷺ کا لایا ہوا دین، جس کو مسلمان ہمیشہ سے مانتے چلے آئے ہیں اور اس پر عمل کرتے چلے آئے ہیں، وہ سچا اسلام نہیں۔ گویا مرزا جی کا مشن محمد ﷺ کے دینِ اسلام کی تصدیق نہیں بلکہ تکذیب و تنسیخ تھا، وہ دنیا کو یہ بتانے کے لئے نہیں آئے تھے کہ مسلمانوں کا مذہب سچا ہے، بلکہ یہ دکھانے کے لئے آئے کہ تیرہ صدیوں سے مسلمان جس دین پر عمل پیرا ہیں وہ معاذ اللہ جھوٹا ہے، مثلاً عقیدۂ ختم نبوت جھوٹ، آپؐ کے بعد کسی کو نبوت نہ ملنے کا عقیدہ جھوٹ، عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول کا عقیدہ جھوٹ، نزول ملائکہ کا عقیدہ جھوٹ۔ وغیرہ وغیرہ۔ الغرض مرزا صاحب کے نزدیک اسلام میں جھوٹ ہی جھوٹ ہے، جو کچھ خود انہوں نے کہہ دیا، وہ سچ، باقی سب جھوٹ، اسلام کی جو بات ان کی خواہش کے خلاف ہو وہ غلط۔
ج:...... ”الفضل“ کا تیسرا انکشاف یہ ہے کہ آج قادیانی رحمۃ للعالمین ہی کے طفیل بر و تقویٰ کی راہیں کھلتی ہیں...... اور اسی کی پیروی، فلاح و نجات کی کفیل ہے۔ گویا مرزا صاحب نے آتے ہی نبوت محمدیہ کی بساط لپیٹ کر رکھ دی، اب بر و تقویٰ کی راہ محمد ﷺ کے ذریعہ نہیں بلکہ مرزا صاحب کے ذریعہ کھلے گی، اب مدارِ نجات حضرت خاتم النبیینؐ کی اطاعت نہیں بلکہ مرزا صاحب کی پیروی ہے، جس طرح آنحضرت ﷺ کی آمد سے موسیٰ و عیسیٰ (علی نبینا وعلیہما الصلوٰۃ والسلام) کا دور ختم ہوا، اسی طرح مرزا جی کی آمد سے دورِ محمدی ختم ہوا، اب یہ مرزا جی کے رحم و کرم پر ہے کہ
شریعت محمدیہ کے کسی حکم کو باقی رکھیں یا نہ رکھیں، اور قرآن کا مفہوم جو چاہیں بیان کریں۔ قادیانی امت کے لئے اس سے بڑھ کر رحمت اور کیا ہوسکتی ہے کہ اسے تیرہ سو سال پرانے رحمۃ للعالمین کی جگہ نیا تازہ رحمۃ للعالمین، نیا تازہ قرآن اور نیا تازہ دین مل جائے؟
د:....... ”الفضل“ کا چوتھا انکشاف یہ ہے کہ وہ (مرزا صاحب) وہی فخر اولین و آخرین ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا۔ ہمارے ناظرین کو اس فلک سیر لن ترانی پر تعجب نہیں ہونا چاہئے، قادیانی امت القاب کے عطیوں میں بڑی فیاض ہے، مرزا صاحب تو خیر پھر مرزا صاحب تھے، ان کے گھر کوئی ”مولود مسعود“ پیدا ہوتا تو وہ بھی فخر رسل، قمر الانبیا، مظہر الحق و العلا‘، اور گویا خدا آسمان سے اتر آیا، سے کم القاب پر قانع نہیں ہوتا تھا۔
لطیفہ : ۱۸۸۶ء میں مرزا جی جب پہلے پہل الہامی اکھاڑے میں اتر کر مبارزت طلب ہوئے تو ایک اشتہار شائع کیا، جس میں دیگر اٹل ٹپ پیش گوئیوں کے علاوہ اپنے یہاں ایک مولود مسعود ”عموائیل عرف چراغ دین“ کی پیدائش کی خوشخبری سنائی۔ (مرزا صاحب کی اہلیہ ان دنوں امید سے تھیں) اور ڈیڑھ صفحہ اس کے القاب و مناقب میں سیاہ کیا، مرزا صاحب ساری عمر اس ”کلمۃ اللہ“ کے لئے چشم براہ رہے مگر آخری لمحۂ حیات تک ان سے یہ طے نہ ہوسکا کہ وہ دین کا چراغ کب روشن ہوا اور کب گل ہوا، تماشائے قدرت یہ کہ مرزا صاحب اپنے جس لڑکے پر اس خوشخبری کو فٹ کرتے اس کی زندگی کا چراغ کچھ دن بعد گل ہوجاتا۔ بالآخر ۱۹۰۸ء میں خود مرزا جی کا پیمانۂ عمر لبریز ہوگیا، مگر ”عموائیل“ کو آنا تھا نہ آیا۔ (وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰی)۔ اندریں صورت اگر قادیانی امت اپنے مراقی مسیح کو رحمۃ للعالمین، فخر اولین و آخرین،
باعث تخلیق کائنات ایسے القاب سے نوازے تو کیوں تعجب کیجئے! البتہ اہل عقل و فہم کو قادیانی امت سے یہ سوال کرنے کا حق ہے کہ حکیم غلام مرتضیٰ کے گھر، محترمہ چراغ بی بی مرحومہ کے بطن سے پیدا ہونے والا غلام احمد نامی بچہ تیرہ سو برس پہلے آنے والا ”رحمۃ للعالمین“ کس منطق سے بن گیا؟ کیا آنحضرت ﷺ اپنی وفات کے تیرہ سو برس بعد پیدا ہوئے؟ یا یہ عجیب و غریب بچہ اپنی پیدائش سے تیرہ سو برس پہلے پیدا ہوچکا تھا؟ جب دو شخصوں کے سن ولادت کے درمیان تیرہ سو برس کا فاصلہ ہے، ایک تیرہ سو برس پہلے اور دوسرا تیرہ سو برس بعد آتا ہے تو آخر ”وہ وہی“ کیسے ہوگیا؟ مرزا صاحب تو خیر اعصابی و دماغی مریض تھے، مراقی دورے میں اگر ان کے قلم و دہن سے ایسی ”معرفت کی باتیں“ نکلیں تو اہل عقل کو چنداں تعجب نہیں ہوگا بلکہ انہیں ”مرفوع القلم“ سمجھ کر درگزر کیا جاسکتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ پوری کی پوری قادیانی امت بقائمی ہوش و حواس، آواگون کے عارضہ میں کیوں مبتلا ہے؟
لطیفہ : مرزا صاحب نے آخری عمر میں قادیانی امت کے لئے بہشتی مقبرہ کا محکمہ قادیان میں کھولا تھا (تقسیم کے بعد وہ ربوہ میں منتقل ہو گیا) جو قادیانی صاحبان اس بہشتی مقبرہ میں جگہ خریدنا چاہیں، قادیانی شریعت میں اس کی قیمت کل آمدنی کا ۱/۱۰ ادا کرنا پڑتی ہے۔ خریدار کی طرف سے جو وصیت نامہ اس کے لئے لکھا جاتا ہے اس میں خصوصیت کے ساتھ یہ الفاظ درج کئے جاتے ہیں : ” میں مسمی ......... بقائمی ہوش و حواس ...... وصیت کرتا ہوں ......الخ“ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان بھولے بھالے جنت کے خریداروں کی ”قائمی ہوش و حواس“ مرزا صاحب کے الٹے تللّے دعوؤں کو پڑھتے وقت کدھر چلی جاتی ہے؟ خود اسی بہشتی مقبرہ کو لیجئے! ان بے چاروں نے کبھی ”بقائمی ہوش و حواس“ اس پر بھی غور کیا کہ کیا قبر فروشی کی یہ اسکیم پہلے بھی کسی
نبی نے جاری کی تھی؟ اور یہ کہ بہشتی مقبرہ کا انکشاف تو مرزا صاحب کو قادیان میں اپنے باغ کے ایک حصہ میں ہوا تھا، اب وہ قطعۂ زمین قادیان سے ربوہ میں کیسے منتقل ہو گیا؟
کیا مرزا صاحب کی رحمۃ للعالمینی کا کرشمہ یہ بھی ہے کہ جو شخص ان کے دامان رحمت سے وابستہ ہو جائے وہ دین و دیانت کے ساتھ عقل و فہم اور دانش و خرد سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے؟
مرزا صاحب نے ازالۃ اوہام میں بڑے طمطراق سے کہا ہے کہ آج فلسفہ و عقل کی ترقی کا دور ہے اس میں فلاں اسلامی عقیدہ قبول نہیں کیا جاسکتا ہے، لیکن افسوس ہے کہ ان کی امت اسی ترقی فلسفہ کے دور میں ”وہ وہی ہے“ کا مراقی فلسفہ پیش کرتی ہے، اور اسے یہ خیال تک نہیں گزرتا کہ کوئی دانشور اس چیستاں کو سن کر اس کی عقلی سطح کے بارے میں کیا رائے قائم کرے گا۔
- ۵ :…… ”الفضل“ کا پانچواں انکشاف یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے تیرہ سو
برس بعد آکر پہلی بار مرزا صاحب نے یہ ثابت کیا کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت تمام اقوام و ملل کے لئے تھی۔ یعنی چشم بد دور مرزا صاحب مراقی مسیحیت کے عارضہ میں مبتلا نہ ہوئے ہوتے تو آنحضرت ﷺ کی بعثت عامہ بھی ثابت نہ ہوتی اور آپؐ کی تبلیغ بھی نامکمل رہ جاتی، کیونکہ نہ تو خود آپؐ نے تکمیل تبلیغ فرمائی، نہ آپؐ کے صحابہ کرامؓ نے، نہ تیرہ صدیوں کی پوری امت نے — جو کام آنحضرت ﷺ سے لے کر تیرہ صدی کی امت سے نہ بن پڑا، وہ کام مرزا جی نے کر دکھایا : ایں کار از تو آید مرداں چنیں کنند۔
ظاہر ہے کہ اس کے بعد قادیانی امت کے نزدیک آنحضرت ﷺ کے کسی
صحابیؓ، کسی تابعیؒ اور کسی غوث و قطب کی مرزا صاحب کے مقابلہ میں کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ اسے کہتے ہیں۔ انا و لا غیری۔ (بس جو کچھ ہوں میں ہی ہوں۔ میرے سوا کچھ نہیں)۔
قادیانی رحمۃ للعالمین کی برکات کا باب بڑا وسیع ہے، پانچ برکتیں تو ’’الفضل‘‘ نے یکجا ذکر کردی، ایک برکت مزید سن لیجئے:
ز:...... مرزا صاحب حقیقۃ الوحی صفحہ نمبر ۲۲۴ میں لکھتے ہیں:
’’حمامۃ البشریٰ (مرزا صاحب کی تصنیف) میں، جو کئی سال طاعون پیدا ہونے سے پہلے شائع کی تھی، میں نے لکھا تھا کہ میں نے طاعون پھیلنے کے لئے دعا کی ہے سو وہ دعا قبول ہوکر ملک میں طاعون پھیل گئی۔‘‘
مرزا صاحب نے ایک دو جگہ نہیں، بلکہ بیسیوں جگہ قحط، وبا اور زلزلوں کو اپنی مسیحیت کا نشان ٹھہرایا ہے، یہ ان کی مسیحیت کا نشان تھا یا ان کے کذب و افترا کا؟ یہ بحث تو اپنی جگہ رہی، مگر یہ دعا ان کی نام نہاد رحمۃ للعالمینی پر برہان قاطع ہے۔ پوری صدی کی تاریخ شاہد ہے کہ مرزا صاحب کی آمد سے دنیائے کفر کا تو بال بیکا تک نہیں ہوا، ہاں ان کی دعا کی برکت سے کفر و الحاد، فسق و فجور، ظلم و عدوان، بدکاری و بے راہ روی اور ذلت و ادبار کو وہ ترقی ہوئی کہ الامان و الحفیظ۔ اور جب سے وہ اس عالم وجود میں قدم رنجہ ہوئے، صدق و صفا، امانت و حیا، غیرت و شرافت اور امن و عافیت کا ایسا جنازہ نکلا کہ انسانیت آج تک ماتم کناں ہے، یہ سب کی آنکھوں دیکھی چیز ہے جس کے لئے کسی عقلی استدلال کی حاجت نہیں، نہ تاج العروس کھولنے کی ضرورت ہے۔ اگر قادیانی رحمۃ للعالمین، فخر اولین و آخرین کی یہی برکات ہیں تو اس سے توبہ ہی بھلی۔
قادیانی کوثر :
آنحضرت ﷺ کو ایک عظیم الشان عطیۂ خداوندی ”الکوثر“ عطا ہوا جس کا ذکر سورۂ الکوثر میں ہے : ”اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ“ (تحقیق دی ہم نے تجھ کو کوثر۔ ترجمہ شاہ رفیع الدینؒ)۔ ”کوثر“ کے معنی خیر کثیر کے ہیں، اور اس کا اہم ترین فرد ”حوض کوثر“ ہے جو قیامت میں آپ کو عطا کیا جائے گا، اور آپ اپنے دست مبارک سے اپنی تشنہ لب امت کو اس سے سیراب کریں گے، چنانچہ احادیث متواترہ میں اس کی یہی تفسیر آئی ہے، اور اس کو آنحضرت ﷺ کے خصائص میں شمار کیا گیا ہے، اور حوض کوثر سے سیرابی کی دعا ہر مسلمان کے ورد زبان رہتی ہے۔ مرزا صاحب کے لئے آنحضرت ﷺ کی یہ عظیم الشان منقبت، جو آپ ہی کے ساتھ خاص ہے، ناقابل برداشت تھی، چنانچہ ان کی مراقی متخیلہ نے چٹکی لی اور ان کی تحریفی مشین نے انہیں فوراً صاحب کوثر بنا دیا، مرزا صاحب سورۂ الکوثر کی پہلی آیت : ”اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ“ کو اپنے اوپر منطبق کر کے اس کا ترجمہ یوں فرماتے ہیں : ”ہم نے کثرت سے تجھے دیا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی ص:۱۰۲) مرزا صاحب نے پہلی تحریف تو اس میں یہ کی کہ آنحضرت ﷺ سے متعلقہ آیت کو اپنے اوپر چسپاں کرلیا، اور دوسری تحریف یہ کی کہ آیت کا ترجمہ غلط کیا، کیونکہ آیت میں ”الکوثر“ کا لفظ مفعول واقع ہوا ہے، یعنی جو چیز دی گئی ہے وہ ”الکوثر“ ہے، لیکن مرزا صاحب نے ”الکوثر“ کا ترجمہ ”کثرت سے“ کیا مگر مفعول کو ہضم کر گئے، اور یہ تشریح نہیں فرمائی کہ انہیں جو چیز کثرت سے دی گئی ہے وہ کیا ہے؟ اور یہ کہ ”قادیانی کوثر“ ...... کس چیز کی کثرت سے عبارت ہے؟ البتہ ان کی دوسری کتابوں میں اس کی تشریح ملتی ہے یعنی کثرت بول، کثرت اسہال، کثرت امراض، کثرت دوران، کثرت تشنج، کثرت مراق وغیرہ وغیرہ وہ چیزیں ہیں جو
مرزا جی کو ”کثرت سے“ عطا ہوئیں، اس سلسلہ میں چند تصریحات ملاحظہ کیجئے:
الف:...... ”میں ایک دائم المرض آدمی ہوں...... ہمیشہ درد سر اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے، اور دوسری بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے، اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شاملِ حال ہیں۔“
(ضمیمہ اربعین نمبر ۳،۴ ص:۴۔ روحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۷۰)
ب:...... ”مخدومی، مکرمی اخویم، اسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ۔
حالت صحت اس عاجز کی بدستور ہے، کبھی غلبہ دوران سر اس قدر ہو جاتا ہے کہ مرض کی جنبش شدید کا اندیشہ ہوتا ہے، اور کبھی یہ دوران کم ہوتا ہے، لیکن کوئی وقت دورانِ سر سے خالی نہیں گزرتا، مدت ہوئی نماز تکلیف سے بیٹھ کر پڑھی جاتی ہے۔ بعض وقت درمیان میں توڑنی پڑتی ہے، اکثر بیٹھے بیٹھے ریگن ہو جاتی ہے، اور زمین پر قدم اچھی طرح نہیں جمتا، قریب چھ سات ماہ یا زیادہ گزر گیا ہے کہ نماز کھڑے ہو کر نہیں پڑھی جاتی اور نہ بیٹھ کر اس وضع پر پڑھی جاتی ہے جو مسنون ہے، اور قرائت میں شاید قل ھو اللہ بمشکل پڑھ سکوں کیونکہ ساتھ ہی توجہ کرنے سے تحریک بخارات کی ہو جاتی ہے۔ خاکسار غلام احمد قادیان، ۵؍ فروری ۱۸۹۱ء“۔
(مکتوباتِ احمدیہ جلد پنجم نمبر ۲ ص:۳)
ج:...... ”مجھے دو مرض دامن گیر ہیں، ایک جسم کے اوپر
کے حصہ میں سر درد اور دوران سر اور دوران خون کم ہو کر ہاتھ پیر سرد ہو جانا، نبض کم ہو جانا۔ اور دوسرے جسم کے نیچے کے حصہ میں کہ پیشاب ”کثرت سے“ آنا اور اکثر دست آتے رہنا ۔ یہ دونوں بیماریاں قریب تیس برس سے ہیں۔“
(نسیم دعوت ص: ۶۸، روحانی خزائن ج: ۱۹ ص: ۴۳۵)
- د:...... ”اور یہ دونوں مرضیں اس زمانہ سے ہیں جس زمانہ
سے میں نے اپنا دعویٰ مامور من اللہ ہونے کا شائع کیا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص: ۳۰۷، روحانی خزائن ج: ۲۲ ص: ۳۲۰)
- ہ:...... ”حضرت صاحب کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر،
درد سر، کمی خواب، تشنج دل، بدہضمی ، اسہال، کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا ایک ہی باعث تھا اور وہ ”عصبی کمزوری“ تھا۔“
(رسالہ ریویو قادیان مئی ۱۹۳۷ء)
- و:...... ”ڈائری میں جو مراق کا لفظ آیا ہے اس سے مراد
مالیخولیا مراقی نہیں بلکہ پردۂ مراق کی بیماری دوران سر ہے۔۔۔۔۔ پردۂ مراق سے بخارات اٹھ کر دماغ کی طرف جاتے ہیں، جن سے سر درد یا دوران سر لاحق ہو جاتا ہے۔ پس پردۂ مراق کے ماؤف ہونے سے ”دوار کا عارضہ“ آپ کو ضرور تھا (اور بعض اوقات دوار کا یہی عارضہ، جو دائمی تھا، ترقی کر کے ہسٹیریا اور مراقی مالیخولیا کی صورت بھی اختیار کر لیتا تھا۔ ناقل)۔“
(احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک حصہ دوم ص: ۴۷۴، ۴۷۵
مؤلفہ قاضی محمد نذیر قادیانی ، ناظر اصلاح و ارشاد ربوہ )
- ز:...... ”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا
کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود...... سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹیریا
ہے، بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے، لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی اعصابی علامات پیدا ہوجایا کرتی تھیں جو ہسٹیریا کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں، مثلاً کام کرتے کرتے یکدم ضعف ہوجانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں سرد ہوجانا، گھبراہٹ کا دورہ ہوجانا، ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دم نکلتا ہے، یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا، وغیرہ ذالک (الغرض علامات تو سب ہسٹیریا کی تھیں نام خواہ کچھ ہی رکھو، سیدھے طریقے سے اسے ہسٹیریا یا مراقی مالیخولیا کہو، یا الٹی طرف سے کان پکڑ کر اسے ”دوار کا عارضہ“ کہہ کر مطمئن ہونے کی ناکام کوشش کرو۔ ناقل)۔“
(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص: ۵۵ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)
اس نوعیت کی حکایات و شکایات مرزا صاحب اور ان کے مخلصین کی کتابوں میں بڑی شدت سے درج ہیں۔ ان تصریحات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مرزا صاحب کو کیا کیا چیزیں ”کثرت سے“ دی گئیں۔ اور لطیفہ یہ ہے کہ یہ ”کوثر“ انہیں دعوائے ماموریت کے تحفہ میں عنایت ہوا ، خیر جیسا نبی ویسا کوثر! ہمارے مرزا صاحب آیت میں تحریف کر کے ”صاحب کوثر“ تو بن گئے، قادیانی امت کو مبارک ہو کہ مسلمانوں کے صاحب کوثرﷺ کے مقابلہ میں ان کے پاس بھی صاحب کوثر نبی موجود ہے :
قادیانی امت مرزا صاحب کے مراق سے بہت چڑتی ہے، مگر جب مرزا صاحب سلس البول اور مراق کو دو زرد چادریں قرار دے کر انہیں ”مسیح موعود“ کا
نشان قرار دیتے ہیں تو انہیں اپنے نبی کی پیغمبرانہ تشریح پر ایمان لانا چاہئے یا چڑنا چاہئے؟ اللہ نے انہیں عقل دی ہے، انہیں سوچنا چاہئے کہ ان دو منحوس بیماریوں کو ”علامتِ مسیح“ قرار دینا بجائے خود مرزا صاحب کے ”مراقی عارضہ“ پر سو دلیلوں کی ایک دلیل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جناب کا دماغ عرشِ معلیٰ پر تھا، جب بھی ہانکتے، بے تکی ہانکتے تھے۔
قادیانی یٰسٓ :
مرزا غلام احمد قادیانی صاحب حقیقۃ الوحی صفحہ نمبر: ۱۰۷، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ نمبر: ۱۱۰ میں لکھتے ہیں:
”یٰسٓ...... انک لمن المرسلین، علٰی صراط مستقیم، تنزیل العزیز الرحیم۔ اے سردار! تو خدا کا مرسل ہے، راہ راست پر، اس خدا کی طرف سے جو غالب اور رحم کرنے والا ہے۔“
سورۂ یٰسٓ کی ان ابتدائی آیات میں مرزا صاحب نے متعدد تحریفات کی ہیں:
اول:...... باجماعِ اہل عقل و نقل یہ آیات، حضرت خاتم النبیین ﷺ کے حق میں ہیں، جن میں حق تعالیٰ شانہ نے قرآن مجید کو شاہد بنا کر آپؐ کی رسالت و نبوت اور رشد و ہدایت کی شہادت دی ہے۔ مرزا صاحب کے دل میں صاحبِ یٰسٓ بن کر آنحضرت ﷺ سے چشم نمائی کا ”مراقی جذبہ“ پیدا ہوا تو بزور الہام ان آیات کو
اپنے اوپر منطبق کر لیا۔
دوم:...... باجماع اہل تفسیر سورۂ کا پہلا لفظ مقطعات قرآنیہ میں سے ہے، جن کے بارے میں اکثر محققین کا طرز اللہ اعلم بمرادہ بذالک ہے یعنی ان کی حقیقی مراد اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں، اور بعض حضرات نے اسے سورہ کا نام قرار دیا ہے، حضرت ابن عباسؓ، عکرمہؒ، ضحاکؒ، حسنؒ، سفیان بن عیینہؒ وغیرہ سے اس کے معنی یا انسان! کے مروی ہیں، زید بن اسلمؒ کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، اور ابوبکر وراقؒ کہتے ہیں کہ یٰا حرف ندا ہے، اور سین سید البشر کا مخفف ہے، اس لئے یاسین کے معنی ہوئے ”اے سردار اولاد آدمؑ“ مرزا صاحب نے بھی غالباً یہی معنی لے کر یاسین کا ترجمہ ”اے سردار!“ کیا ہے۔ گویا سید البشر اور سید اولاد آدم اب مرزا صاحب ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کے بجائے یہ خطاب اب مرزائے قادیان کو منتقل ہوگیا۔ (نعوذ باللہ)
سوم:...... قرآن مجید میں یٰسٓ کے بعد ”وَ الْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ“ ہے جس میں قرآن حکیم کی قسم کھائی گئی ہے اور اگلی آیت ”اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ“ اس قسم کا جواب ہے، مگر مرزا صاحب نے تحریف لفظی کر کے ”وَ الْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ“ کی آیت کو حذف کر دیا، اور جواب قسم بغیر قسم کے ذکر کر دیا۔
چہارم:...... قرآن کریم میں ”تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِ“ کی آیت، قرآن حکیم سے متعلق ہے، اور مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن، عزیز رحیم خدا کی جانب سے نازل شدہ ہے، مگر مرزا صاحب خود اپنے آپ کو نازل شدہ سمجھ بیٹھے، اور اس آیت کو بھی اپنی صفت قرار دے کر یہ ترجمہ کیا: ”اس خدا کی طرف سے جو غالب اور رحم کرنے والا ہے۔“
پنجم:......نبوت و مسیحیت اور وحی و الہامات کے پردہ میں قرآن کریم پر یہ تحریفی مشق ستم تو مرزائے قادیان کے مراق کا (جو خدانخواستہ مالیخولیا کی حد تک نہیں پہنچا تھا) ادنیٰ کرشمہ ہے، اس پر کس سے فریاد کی جائے؟ البتہ مناسب ہوگا اگر یہاں قادیانی سردار جی (ینس) کے سراپا کی، جو ان کے نیازمندوں نے کمال عقیدت سے مرتب کیا ہے، ایک جھلک دیکھ لی جائے۔
قادیانی امت کے قمر الانبیاء جناب مرزا بشیر احمد صاحب سیرۃ المہدی حصہ دوم صفحہ نمبر ۸۵ پر رقمطراز ہیں:
”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا صاحب) اپنی جسمانی عادات میں ایسے سادہ تھے کہ بعض دفعہ جب حضور جراب پہنتے تو بے توجہی کے عالم میں اس کی ایڑی پاؤں کے تلے کی طرف نہیں بلکہ اوپر کی طرف ہوجاتی اور بارہا ایک کاج کا بٹن دوسرے کاج میں لگا ہوتا تھا۔ (اور اگر حسن اتفاق سے اس قسم کے کئی لطیفے بیک وقت جمع ہوجائیں تو پورا کارٹون بن جاتا ہوگا۔ ناقل) اور بعض اوقات کوئی دوست حضور کے لئے گرگابی (انگریزی جوتہ) ہدیۃً لاتا تو آپ بسا اوقات دایاں پاؤں بائیں میں ڈال لیتے تھے، اور بایاں، دائیں میں، چنانچہ اس تکلیف کی وجہ سے آپ دیسی جوتا پہنتے تھے (اور اس کی ایڑی فوراً بٹھا لیتے تھے۔ ناقل) اسی طرح کھانا کھانے کا یہ حال تھا کہ خود فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں تو اس وقت پتہ لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں کہ جب کھانا کھاتے کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت کے نیچے آجاتا ہے۔ (مقام شکر ہے کہ کھانے اور کنکر کے درمیان تمیز کرنے کی حس تو باقی تھی، ورنہ
خدانخواستہ آپ کا مرتبہ عالی مسیحیت و نبوت سے بھی آگے نکل گیا ہوتا۔ ناقل)
ایک دوسرے نیاز مند لکھتے ہیں :
”آپ کو (یعنی مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو) شیرینی سے بہت پیار ہے، اور مرض بول بھی آپ کو عرصہ سے لگی ہوئی ہے، اسی زمانے میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں ہی رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے (ماشا اللہ ! اس قران السعیدین کے کیا کہنے؟ اول تو مٹی کے ڈھیلوں اور گڑ کے بھیلوں کو جیب میں۔ اور وہ بھی مسیح موعود کی جیب میں۔ جگہ ملنا ہی خوش ذوقی کی اچھی علامت ہے اور جب دونوں کو ایک ہی جیب میں یکجا یہ شرف حاصل ہو تو سبحان اللہ نور علیٰ نور ہے۔ لطافت و نزاہت، صفائی اور پاکیزگی، ذہنی سلامتی اور بلند مذاقی کا یہ اعجازی نمونہ انسانیت کی پوری تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے، یقیناً یہ سردار جی کے مسیح موعود ہونے پر ہزار دلیلوں کی ایک دلیل ہے۔ ناقل) اس قسم کی اور بہت سی باتیں ہیں جو اس بات پر شاہد ناطق ہیں کہ آپ کو یار ازل کی محبت میں ایسی محویت تھی کہ جس کے باعث اس دنیا سے ”بالکل بے خبر“ ہو رہے تھے۔ (اور بالکل بے خبری کے عالم میں گڑ اور ڈھیلوں کا استعمال یکساں جاری رہتا۔ ناقل)۔“
(تتمہ براہین احمدیہ ج: ۱ ص: ۶۷ حالات مرزائے قادیان از معراج الدین قادیانی)
فائدہ :
یہ تو تھا قادیانی رئیس کا قلمی مرقع ـــــ یہاں ہمارے قارئین کو ایک واضح
نکتہ ملحوظ رکھنا چاہئے۔ وہ یہ کہ ہر قوم اور گروہ کی اپنی الگ اصطلاحات ہوتی ہیں۔ مثلاً جو شخص دنیا و ما فیہا سے اتنا بے خبر ہو کہ اسے دائیں بائیں، اوپر نیچے اور الٹے سیدھے تک کی خبر نہ ہو، اور جس کے نزدیک مٹی کے ڈھیلے اور گڑ کے بھیلے یکساں شرف رکھتے ہوں، وہ عقلاء و اطباء کی اصطلاح میں ”ذہنی معذور“ کہلاتا ہے اور عوام کی اصطلاح میں مست الست اور پہنچا ہوا شمار کیا جاتا ہے۔ یہی شخص اگر اس سے بڑھ کر لوگوں کو کتے، خنزیر، سؤر، حرامزادے جیسے الفاظ سے نوازتا ہو تو طبی اصطلاح میں اسے جنون سبعی کہا جاتا ہے، اور مرزائی اصطلاح میں اسے ملہم من اللہ کا خطاب دیا جاتا ہے۔ اور اس سے بھی آگے بڑھ کر اگر یہ شخص ایسے دعوے کرتا کہ:............ میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں عیسیٰ ہوں، میں محمد رسول اللہ ہوں، میں صاحب کوثر ہوں، میں رحمۃ للعالمین ہوں، میں صاحب مقام محمود ہوں، میں خدا کی توحید و تفرید ہوں، میں عین اللہ ہوں، میں خالق السموات و الارض ہوں، میں صاحب کن فیکون ہوں، تمام انبیاء کے کمالات کا جامع ہوں، تمام نبیوں کا بروز ہوں، میں مہدی ہوں، میں کرشن ہوں، میں گرونانک ہوں، میری خبر قرآن میں ہے، حدیث میں ہے، ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں نے میرے آنے کی خبر دی، تمام اہل کشف نے میری پیشگوئی کی، آسمان و زمین نے میری گواہی دی۔ وغیرہ وغیرہ۔ تو ایسا شخص اطباء کی اصطلاح میں مراقی مانخولیا کا مریض ہے اور قادیانی اصطلاح میں ”مسیح موعود اور مہدی مسعود“ کہلاتا ہے۔ مانخولیا کی علامات میں اطباء کی تصریح یہ ہے :
”مریض صاحب علم ہو تو پیغمبری اور معجزات و کرامات کا دعویٰ کر دیتا ہے، خدائی کی باتیں کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تبلیغ کرتا ہے۔“
(اکسیر اعظم جلد اول ص: ۸۸ حکیم محمد اعظم خاں صاحب)
مسلمان اور قادیانی سب مانتے ہیں کہ مرزا جی نے مندرجہ بالا دعوے کئے ہیں، دونوں فریق اس پر بھی متفق ہیں کہ انہیں مراق کا عارضہ لاحق تھا (اس کی تفسیر خواہ کچھ ہی ہو) اس متفق علیہ اصول کے بعد دونوں فریقین کی اصطلاحیں الگ الگ ہو جاتی ہیں، مسلمانوں کے نزدیک خاتم الانبیاء ﷺ کے بعد مرزا صاحب کے یہ بے سروپا دعوے ان کے سودائے خام اور مراقی بخارات کی پیداوار ہیں، جبکہ قادیانی امت کے نزدیک یہ ان کی مسیحیت کا سرٹیفکیٹ ہے۔ قریباً ایک صدی سے مرزائی امت ، مرزا صاحب کے اناپ شناپ دعوؤں کی وادی تیہ میں بھٹک رہی ہے، اور تاویل در تاویل کے چکر سے اس کے اعضاء شل ہوچکے ہیں، مگر مرزا صاحب کی مسیحیت کا اونٹ ہے کہ کسی کروٹ سیدھا نہیں بیٹھ پاتا۔ دیگر دعاوی سے قطع نظر مرزا جی کا مسیحی دعویٰ ہی مرزائیت کے لئے اندھوں کے ہاتھی کی حیثیت رکھتا ہے، ایک نے ٹٹولا تو مجدد نکلا۔ دوسرے نے ہاتھ پھیرا تو غیر حقیقی نبی ظاہر ہوا، تیسرے نے اٹکل لگائی تو حقیقی مگر تشریعی نبی کا پتہ دیا، چوتھے نے کوشش کی تھی تو کامل ”تشریعی نبی“ کی خوش خبری لایا، پانچواں گیا تو ”آخری نبی“ کا مژدہ لایا، چھٹا آیا تو اس نے ”نبی گر“ بتایا۔ اور جس نے کہا اپنے مبلغ فہم وعلم کے مطابق کہا اس لئے کہ : ”یار ما ایں دارد آں نیز ہم“۔
مجھے جو بات کہنی ہے وہ یہ ہے کہ مرزائے قادیان، سورۃ یٰسٓ کی زیر بحث آیتوں کو تحریفی سانچے میں ڈھال کر اپنی ذات پر جو فٹ کرتے ہیں، ایک لمحہ کے لئے فرض کر لیجئے کہ ان آیات کا مصداق مرزا جی کی ذات گرامی ہے، اور ان کو واقعی ان کے عاجی خدا نے ”اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ“ کا بلند پایہ خطاب دیا ہے، اس فرض محال کے بعد دیکھئے کہ اس سے مرزا صاحب کے دعوئی نبوت کی تصدیق ہوتی ہے یا
تکذیب نکلتی ہے؟ اس پر غور کرنے کے لئے صرف دو نکتے ذہن میں رکھئے:
اول:...... یہ کہ قادیانی امت کی محمودی قادیانی ثم ربوی جماعت کے نزدیک مرزا صاحب غیر مستقل اور غیر تشریعی نبی تھے۔
دوم:...... یہ کہ مرزائی امت کو مسلم ہے کہ یہ آیات قرآن مجید میں آنحضرت ﷺ کے حق میں نازل ہوئیں، اور آپؐ ہی ”اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ“ کے اولیں مخاطب ہیں اور یہ کہ آپؐ ظلی بروزی اور غیر تشریعی نبی نہیں بلکہ حقیقی، مستقل اور ناسخ شریعت سابقہ رسول تھے۔
اب اگر ”اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ“ کی آیت مرزا جی پر بھی اسی طرح صادق آتی ہے جس طرح کہ آنحضرت ﷺ پر...... تو قادیانی امت کو دو باتوں میں سے ایک تسلیم کرنا پڑے گی، یا یہ کہ مرزا صاحب بھی آنحضرت ﷺ کی طرح مستقل اور ناسخ شریعت رسول تھے، یا اس کے برعکس آنحضرت ﷺ بھی مرزا جی کی طرح غیر تشریعی اور غیر مستقل رسول تھے۔ قادیانی امت کا یہ دوغلا پن کیسا عجیب ہے کہ ایک طرف تو ان تمام آیات کو، جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئیں، مرزا صاحب پر چسپاں کیا جائے اور دوسری طرف مرزا کے صاحب شریعت رسول ہونے کا انکار کیا جائے، آپ نے قرآن کا اعجاز دیکھا؟ مرزا جی آیات قرآن کو تراش خراش کر اپنے اوپر منطبق کرنا چاہتے ہیں، مگر آیات رسالت کا جامہ ان کے ”بونے قد“ پر کسی طرح راست نہیں آتا۔ ساڑھے چھ فٹ کے جوان کا کرتہ کسی ننھے بچے کو پہنا دیا جائے تو ایک تماشہ ضرور بن جائے گا، مگر اس سے وہ ننھا کیا سچ مچ کا جوان بن سکتا ہے؟ اب قادیانی امت ”اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ“ کے جامہ کو جو پورے سائز کی رسالت، نبوت کے لئے تیار کیا گیا ہے، تاویل کی قینچی سے کاٹ کر اپنے ”بونے نبی“ کے سائز پر لانے کی
کوشش کرے گی، مگر عقلاً دیکھ کر یہی کہیں گے کہ :
بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش
قادیانی مقام محمود :
آنحضرت ﷺ کے کمالات و خصائص میں سے ”مقام محمود“ ایک عظیم الشان عطیۂ ربانی ہے، جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے ذیل کی آیت میں آپؐ سے فرمایا ہے:
” وَ مِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰى اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا . “
(بنی اسرائیل :۷۹)
ترجمہ : ...... ”اور تھوڑی سی رات کو تہجد پڑھا کر ساتھ قرآن کے، بڑھتی (اضافہ) ہے واسطے تیرے ۔ شتاب ہے کہ بھیجے تجھ کو پروردگار تیرا مقام محمود میں ۔“
(ترجمہ شاہ رفیع الدین صاحبؒ)
شاہ عبدالقادر محدث دہلویؒ موضح القرآن میں فرماتے ہیں : یعنی ”نیند سے جاگ کر (تہجد میں) قرآن پڑھا کر، یہ حکم سب سے زیادہ تجھ پر کیا ہے کہ تجھ کو مرتبہ (سب سے) بڑا دینا ہے“۔ مقام محمود کی تفسیر متواتر احادیث میں خود آنحضرت ﷺ نے فرمائی ہے کہ اس سے مراد شفاعت کبریٰ کا وہ مقام ہے جو قیامت کے دن تمام انبیاء کرام علیہم السلام میں سے صرف آپ ﷺ کو عطا ہوگا، اور اس میں رونق افروز ہو کر آپؐ تمام امتوں کی شفاعت فرمائیں گے، یہ مرتبہ اولین و آخرین کے لئے لائق صد رشک ہوگا، سب آپؐ کی تعریف و ستائش میں رطب اللسان ہوں گے، اور آپؐ کی شان محمدیت ومحمودیت علی رؤس الاشہاد عالم آشکارا ہو جائے گی۔
مرزا غلام احمد قادیانی کو چونکہ آنحضرت ﷺ کے ہر منصب و مقام اور ہر خصوصیت و کمال پر ہاتھ صاف کرنے کا شوق تھا، اس لئے موصوف نے آیت بالا میں لفظی و معنوی تحریف کر کے بذریعہ الہام اسے بھی اپنی ذات پر چسپاں کر لیا۔ حقیقۃ الوحی کے ص: ۱۰۲ پر لکھتے ہیں : ”اراد اللہ ان یبعثک مقاما محمودا ۔“ (خدا نے ارادہ کیا ہے جو تجھے وہ مقام بخشے جس میں تو تعریف کیا جائے)۔
مرزا صاحب کی الہامی تحریف کا کرشمہ دیکھئے کہ قرآن کریم اور احادیث متواترہ میں یہ مقام اولین و آخرین میں سے صرف حبیب رب العالمین ﷺ کے لئے مخصوص کیا گیا تھا مگر .......... مرزا صاحب ، آنحضرت ﷺ کو ایک طرف ہٹا کر خود اس پر زبردستی قابض ہو گئے۔ لطف یہ کہ آنحضرت ﷺ سے تو یہ فرمایا گیا تھا کہ تہجد کی پابندی کیجئے اس کے انعام میں آپ کو یہ منصب عطا ہوگا، مگر مرزا جی پر خدا کی ایسی مہربانی ہوئی کہ ان کو بلا کسی شرط اور پابندی کے یہ ”مقام محمود“ مفت میں ہبہ کر دیا گیا، فرمائیے کس کا مرتبہ اونچا رہا؟ (نعوذ باللہ ) اس پر طرہ یہ کہ آنحضرت ﷺ سے تو یہ انعامی وعدہ لفظ ”عسیٰ“ کے ساتھ کیا گیا ، جو توقع کے لئے آتا ہے (اور شاہی محاورات میں پختہ وعدہ کا مفہوم دیتا ہے ) مگر مرزا صاحب صرف ”عسیٰ“ اور ”لعل“ پر قانع نہیں رہے، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر صاف صاف اراد اللہ (خدا نے ارادہ کیا ہے) کی سند لے آئے، یعنی آنحضرت ﷺ کے لئے تو اس مقام کا حصول متوقع ہے، مگر مرزا جی کے لئے صرف توقع نہیں بلکہ کھلے لفظوں میں ارادۂ خداوندی کا دو ٹوک فیصلہ سنایا جا چکا ہے۔ ان دونوں مرتبوں میں جو واضح فرق ہے وہ اہل علم سے مخفی نہیں، قادیانی دین میں چونکہ مرزا صاحب کا مرتبہ آنحضرت ﷺ سے فائق ہے اس لئے مرزا صاحب آنحضرت ﷺ کی کسی خصوصیت کو اپنی جانب منسوب کرتے ہیں تو
اس میں کچھ اضافے بھی فرمالیتے ہیں تاکہ ان کی بلندی و برتری نمایاں ہوسکے۔ (استغفر اللہ)
رہا یہ سوال کہ مرزا صاحب کے ”مقامِ محمود“ سے کیا مراد ہے؟ سو اس کی تفصیل بڑی دلچسپ اور عبرت آموز ہے۔ مختصر یہ کہ مرزا صاحب کے قریبی اعزہ میں ایک صاحب مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تھے، ان کی بڑی صاحبزادی محترمہ محمدی بیگم سے مرزا صاحب کو تعلق خاطر تو نہ جانے کب سے پیدا ہوا، تاہم ان کی تحریروں سے واضح ہوتا ہے کہ ابھی وہ آٹھ، نو برس کی معصوم بچی تھی کہ مرزا صاحب کی نظر عنایت اس کی جانب مبذول ہوچکی تھی، اور انہوں نے بذریعہ الہامات اس مقصد کے لئے اشارے کنائے شروع کردیے تھے۔ لکھتے ہیں:
”کئی سال ہوئے ہم نے اسی کے متعلق مجملاً ایک پیش گوئی کی تھی...... وہ پیش گوئی اس پیش گوئی کا ایک شعبہ تھی یا یوں کہو کہ یہ تفصیل اور وہ اجمال تھی...... پہلی پیش گوئی اس زمانے کی ہے جب کہ وہ لڑکی ہنوز نابالغ تھی...... یعنی اس زمانے میں جب کہ اس کی لڑکی آٹھ یا نو برس کی تھی۔“
(تبلیغ رسالت ج:۱ ص:۱۱۸)
مگر ان الہامات میں اصل مدعا محذوف منوی تھا اور مرزا صاحب کے مافی الضمیر کی خبر ان کے سوا کسی کو نہیں تھی، گویا ”معنی شعر در بطن شاعر“ کا مضمون تھا، مرزا صاحب دل کا مدعا زبان پر لانا چاہتے تھے مگر اس کے لئے کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھے، حسن اتفاق سے لڑکی کے والد مرزا احمد بیگ صاحب کو ایک ہبہ نامہ پر دستخط کرانے کے لئے مرزا صاحب سے ملتجی ہونا پڑا، مرزا صاحب کے لئے اس سے بہتر اور موزوں موقع اور کیا ہوسکتا تھا کہ شاہین ان کے پنجرے میں آچکا تھا، اور مقصود خود
چل کر ان کے دروازے پر محتاجانہ حاضر تھا، مرزا صاحب نے غالباً محسوس کیا کہ دو بدو ”کچھ دو اور کچھ لو“ کی سودے بازی بڑی گھٹیا قسم کی وقاحت ہے اس کا اثر غلط پڑے گا، اس لئے اس زریں موقع پر صاف صاف اظہار مدعیٰ کی تو انہیں جرأت نہ ہوسکی، سردست اسی کو غنیمت سمجھا کہ ان سے استمالت و مدارات برتی جائے، چنانچہ ان کو یہی جواب دیا گیا کہ ایک مدت سے بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت جناب الٰہی میں استخارہ کرلینے کی ہے، اس معاملہ میں بھی ہم جناب الٰہی سے استخارہ اور مشورہ طلب کرلیں گے اور انشاء اللہ استخارہ کے بعد ہم ضرور دستخط کردیں گے، بہر حال ہماری جانب سے آپ کی مدد میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں ہوگی، اور آپ کے اخلاق کریمانہ سے امید ہے کہ اگر باشارہ الٰہی کبھی آپ کی نصرت کی ضرورت پیش آئے تو آپ بھی دریغ نہیں کریں گے، مرزا احمد بیگ، مرزا صاحب کے وعدوں کی حقیقت سے آشنا تھے، انہیں یقین نہ آیا اور انہوں نے کہا کہ میری طرف سے وعدہ خلافی نہ ہوگی، آپ بھی وعدہ کا خلاف نہ کریں۔ یہ باہمی معاہدہ مرزا صاحب نے ”آئینہ کمالات اسلام“ ص: ۵۷۲ میں خط کشیدہ الفاظ میں درج کیا ہے، اس کی تشریح ہم نے ”اجتہاد“ سے کی ہے۔ تاہم اس معاہدہ کی تشریح، قادیانی امت اس سے بہتر کردے تو ہم مرزا صاحب کی طرح اپنے ”غلط اجتہاد“ پر بے جا اصرار نہیں کریں گے، بلکہ غلطی معلوم ہونے پر فوراً رجوع کرلیں گے۔ اس اجمالی وعدہ مواعدہ کے بعد مرزا احمد بیگ خالی ہاتھ اپنے گھر لوٹے تو مرزا صاحب نے بلا توقف ان کے پیچھے ایک خط بھیج دیا (یہاں مرزا صاحب کے بیانات میں کچھ گنجلک ہے۔ ۱۰؍ جولائی ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں لکھا ہے کہ ”مکتوب الیہ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا“ (تبلیغ رسالت ج:۱ ص:۱۱۶) اور آئینہ کمالات میں لکھا ہے کہ ”وہ چلا گیا اور میں نے اپنے حجرے کا قصد کیا...... خدا
کی قسم مجھے اس سے زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا جتنا جوتے کے تسمہ باندھنے یا پالان کے کسنے میں صرف ہوتا ہے کہ خدا نے مجھ پر وحی فرمائی ......الخ‘‘ ) کہ استخارے میں الہام ربانی یوں ہوا کہ ہبہ نامہ پر ضرور دستخط کئے جائیں گے، مگر شرط یہ ہے کہ آپ اپنی دختر کلاں محمدی بیگم کا رشتہ مجھے دو۔ اور پھر خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے کرشمے دیکھو، مزید برآں بہت سے وعدے وعید اور بھی فرمائے۔ خط کا متن حسب ذیل تھا:
”مکرمی مخدومی اخویم احمد بیگ سلمہٗ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
ابھی ابھی مراقبہ سے فارغ ہی ہوا تھا کہ کچھ غنودگی سی ہوئی، اور خدا کی طرف سے یہ حکم ہوا کہ احمد بیگ کو مطلع کردے کہ وہ بڑی لڑکی کا رشتہ منظور کرے، یہ اس کے حق میں ہماری جانب سے خیر و برکت ہوگا، اور ہمارے انعام و اکرام بارش کی طرح اس پر نازل ہوں گے اور تنگی اور سختی اس سے دور کردی جائے گی، اور اگر انحراف کیا تو مورد عتاب ہوگا، اور ہمارے قہر سے بچ نہ سکے گا۔
اور میں نے اس کا حکم پہنچادیا تاکہ اس کے رحم و کرم سے حصہ پاؤ اور اس کی بے بہا نعمتوں کے خزانے تم پر کھولے جائیں، اور میں اپنی طرف سے تو صرف یہی عرض کرتا ہوں کہ میں آپ کا ہمیشہ ادب و لحاظ ہی ملحوظ رکھتا ہوں اور آپ کو ایک دیندار اور ایماندار بزرگ تصور کرتا ہوں، اور آپ کے حکم کو اپنے لئے فخر سمجھتا ہوں، اور ہبہ نامہ پر جب کہو حاضر ہوکر دستخط کرجاؤں اور اس کے علاوہ میری املاک خدا کی اور آپ کی ہے، عزیز محمد بیگ کے لئے پولیس میں بھرتی کرنے اور عہدہ دلانے کی خاص کوشش و سفارش کرلی ہے،
تاکہ وہ کام پر لگ جاوے، اور اس کا رشتہ میں نے ایک بہت امیر آدمی، (کے یہاں) جو میرے عقیدت مندوں میں ہے، تقریباً کردیا ہے، اور اللہ کا فضل آپ کے شامل حال ہو فقط خاکسار غلام احمد عفی عنہ، لدھیانہ، اقبال گنج، مؤرخہ ۲۰؍فروری ۱۸۸۸ء‘‘
(قادیانی مذہب فصل ۸ نمبر ۶ ص:۳۷۶، بحوالہ
نوشتۂ غیب مؤلفہ ایم، ایس خالد صاحب وزیر آبادی)
مرزا صاحب کا یہ خط اخبار ”نور افشاں“ ۱۰؍مئی ۱۸۸۸ء میں چھپا تھا اور مرزا صاحب نے اسے تسلیم کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ یہ خط محض ربانی اشارے سے لکھا گیا تھا۔
(تبلیغ رسالت ج:۱ ص:۱۱۵)
کسی شخص سے اس کی لڑکی کے رشتہ کی درخواست کوئی انہونی بات نہیں جس کا برا منایا جائے، مگر مرزا صاحب اول تو مجمع الامراض تھے، سن مبارک بھی پچاس سے متجاوز تھا، اس پر طرہ یہ کہ وہ الہام، وحی، مسیحیت اور نبوت کے دعوؤں میں مسیلمۂ کذاب سے بھی گوئے سبقت لے گئے تھے، اور بقول مرزا شیر علی صاحب ”مراق سے خدائی تک پہنچے ہوئے تھے“۔ ان سب امور سے قطع نظر مرزا صاحب نے رشتہ طلبی کی یہ بحث جس سیاق سباق میں اٹھائی اور اس کے عوض معاوضہ میں وعدہ وعید کا جو سبز باغ دکھایا یہ بے ڈھنگا پن نہ صرف مشرقی روایات کے منافی تھا، بلکہ انسانی تہذیب و شائستگی سے بھی بمراحل بعید تھا، لڑکیاں سبھی کے گھروں میں ہوتی ہیں اور وہ ماں باپ کے گھر میں ”مقدس امانت“ تصور کی جاتی ہیں، ان کے معاوضہ کی تحریص و ترغیب انسانی شرافت پر بھر پور طنز ہے۔ مرزا صاحب نے اس غیر شائستہ درخواست پر جو کئی سال سے ان کے دل کا کانٹا بنی ہوئی تھی، مزید ستم یہ کیا کہ اسے ”خدائی حکم نامہ“
قرار دیا، ظاہر ہے کہ جو لوگ مرزا صاحب کی مسیحیت و نبوت کے دام گرفتہ نہیں تھے ان کے نزدیک یہ ”حکم نامہ“ خدا کی جانب سے نہیں، بلکہ مرزا صاحب کے نفسانی خیالات کے ہیجان کا شاخسانہ ہی ہوسکتا تھا۔ ان کے خیال میں ایک معمولی بات کو ”خدائی حکم نامہ“ کے رنگ میں پیش کرنا، خدا تعالیٰ کے مقدس حکم کی توہین و تذلیل کے مترادف تھا۔
مرزا صاحب نے اگرچہ بڑی احتیاط برتی تھی مگر وجوہ مذکورہ کی بنا پر ان کی یہ درخواست، جو اظہارِ مدعا کی پہلی کوشش تھی، بے حد نفرت و بیزاری کا موجب بن گئی، اور مرزا صاحب سے حسن ظن کا کوئی شائبہ اگر کسی کے دل میں تھا تو وہ بھی دھل گیا۔ چنانچہ مرزا صاحب کا یہ ”حکم نامہ الٰہی“ انہوں نے نہ صرف یہ کہ رد کر دیا، بلکہ مرزا صاحب کی ”پیغمبرانہ ذہنیت“ کو ”طشت از بام“ کرنے کے لئے مخالفین کے اخبار میں شائع کر دیا۔ مرزا صاحب کے لئے موقع شناسی کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اس رشتہ کے سودائے خام سے آس توڑ لیتے اور کسی حکیم کے اس قول پر عمل کرتے :
کیں جا ہمیشہ باد بدست است دام را
اگر وہ اس موقع پر چپ سادھ لیتے تو چندے شور و غوغا کے بعد یہ قصہ لوگوں کو بھول بھلا جاتا، اور بات آگے نہ بڑھتی۔ مگر مرزا صاحب حدیث نبوی :”حبک الشئ یعمی و یصم“ (کسی چیز کی محبت اندھا، بہرا کر دیتی ہے) کا مظہر بن چکے تھے، یوں بھی وہ مجبور تھے کہ معاملہ دل کا تھا، اور دل پر سوائے مقلب القلوب کے کسی کا زور نہیں، بہر حال مرزا صاحب کا دل، دماغ پر غالب آیا، اور انہوں نے اس سلسلہ میں اشتہار دینے شروع کئے، جن میں ان کے لب و لہجہ میں تندی و تیزی،
ان کے موقف میں شدت و تعلی اور ان کے مرض الہام سازی میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ انہوں نے اب زیادہ صراحت کے ساتھ اشتہارات میں یہ اعلان شروع کیا کہ :
”خدائے قادر و حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (احمد بیگ ہوشیارپوری) کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کرو اور ان کو کہہ دو کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اسی شرط کے ساتھ کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار ۲۰؍فروری میں درج ہیں (مرزا صاحب ۲۰؍ فروری کے اشتہار میں محمدی بیگم کے حصول کی پیشگوئی اشاروں کنایوں میں کر چکے تھے، اس پر آئندہ سطور میں تبصرہ ہوگا۔ ناقل)۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا۔ اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا، اور ان کے گھر میں تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی، اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے، پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے بار بار توجہ کی گئی (”بار بار توجہ کی گئی“ کا لفظ بتاتا ہے کہ مرزا صاحب کو خدا کی جانب سے محمدی بیگم کے سلسلہ میں قطعاً کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا، یہ محض آنجناب کے سوداوی خیالات تھے جو ”الہام“ کی شکل میں ڈھل جاتے تھے، اور مرزا صاحب اپنی خوش فہمی سے انہیں ”خدا کی
وحی“ سمجھ لیتے تھے، یوں بھی عشق اور جنون کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ورنہ خدا کے نبی اتنے غبی نہیں ہوتے کہ خدا کے قطعی حکم کے بعد بھی انہیں ”بار بار توجہ“ کی ضرورت پیش آئے اور اس کے بعد بھی مدعا ہاتھ نہ آئے۔ ناقل)، تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ (احمد بیگ) کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی، ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا۔ اور بے دینوں کو مسلمان بنادے گا، اور گمراہوں میں ہدایت پھیلائے گا، چنانچہ عربی الہام اس بارے میں یہ ہے: کذبوا بایاتنا و کانوا بھا یستھزؤن، فسیکفیکھم الله ، و یردھا الیک ، لا تبدیل لکلمات الله ، ان ربک فعال لما یرید، انت معی و انا معک، عسٰی ان یبعثک ربک مقاماً محموداً۔ یعنی انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کر رہے تھے، سو خدا تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں، تمہارا مددگار ہوگا، اور انجام کار اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا، کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے، تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہی ہو جاتا ہے، تو میرے ساتھ ہے اور میں تیرے ساتھ ہوں، اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا جس میں تیری تعریف کی جائے گی۔ یعنی گو اول میں احمق و نادان لوگ (آگے چل کر واضح ہوگا کہ مراد اس سے مرزائی امت ہے) بد باطنی اور بدظنی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں، لیکن آخر خدا تعالیٰ کی مدد دیکھ کر
شرمندہ ہوں گے، اور سچائی کے کھلنے سے چاروں طرف سے تعریف ہوگی۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج:۱ ص:۱۱۶)
ان مختصر اقتباسات سے واضح ہوا کہ مرزا صاحب کا ”مقام محمود“ محترمہ محمدی بیگم سے عقد ہونا تھا، اس ”مقام محمود“ کو حاصل کرنے کے لئے انہوں نے ہزار جتن کئے، ترغیب و ترہیب کے سارے حربے استعمال کئے، سفارشیں کرائیں، منتیں اور خوشامدیں کیں، جائداد کا لالچ دیا، نوکری دلانے کے وعدے کئے، قسمیں کھائیں، ہاتھ جوڑے، ناک رگڑی، لجاجتیں کیں، اپنا گھر اجاڑا، بیوی کو طلاق دی، بیٹوں کو عاق کیا، بہو کو طلاق دلائی، الغرض جو کچھ کیا اس کی تفصیل کے لئے ایک دفتر بھی ناکافی ہے، کہ :
بلا مبالغہ مرزا صاحب نے اس کے لئے وہ طوفان برپا کیا کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جاتے ، مگر افسوس کہ ان کو یہ ”مقام محمود“ مدۃ العمر نصیب نہ ہوا، ان کے پچیس سالہ داؤ پیچ، جوڑ توڑ، وعدے وعید، شیخی و تعلی، تحدی آمیز دعوے اور پے در پے الہامات سب پادر ہوا ثابت ہوئے، بالآخر اس رشتہ کی حسرت وصل ان کے ساتھ قبر میں دفن ہوئی، اور یہ ”ہما“ ان کے دام عقد میں تو کیا آتی، کبھی ان کے کنگرۂ منارۃ المسیح پر بھی سایہ فگن نہ ہوئی۔ آہ!
و للعاشق المحروم ما يتجرع
یعنی ارباب نعمت کو نعمت مبارک ہو، بدنصیب عاشق کی قسمت میں غم وغصہ
کے سوا کچھ نہیں۔ (شعر میں مسکین کے لفظ کو محروم سے بدلنے پر معذرت خواہ ہوں، کہ مقتضائے حال یہی تھا۔)
علماء نے لکھا ہے کہ خرق عادت کی کئی قسمیں ہیں، اگر ایک چیز خرق عادت کے طور پر کسی سچے نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو معجزہ ہے، کسی متبع سنت ولی اللہ کے ہاتھ سے ظاہر ہو تو کرامت ہے، کسی عام مؤمن کے لئے ظاہر ہو تو معونت ہے، کسی فاسق یا کافر کے ہاتھ سے اس کی غرض کے موافق ظاہر ہو تو استدراج ہے، فاسق یا کافر کے لئے اس کی غرض کے خلاف ظاہر ہو تو اہانت ہے، اور کسی شعبدہ باز کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو سحر اور شعبدہ ہے (نبراس شرح شرح عقائد مبحث کرامت)۔ جب کہ بعض حضرات سحر کو خرق عادت میں شمار نہیں کرتے۔
مرزا صاحب کے پیشرو مسیلمہ کذاب مسیح یمامہ سے اہانت کے طور پر کئی خرق عادت واقعات ظہور پذیر ہوئے۔ ایک عورت نے اس سے درخواست کی کہ محمد ﷺ کی دعا سے پانی کنوؤں میں جوش مارتا ہے، آپ بھی ہمارے نخلستان وغیرہ کے لئے دعا کیجئے۔ پوچھا : وہ کیا کرتے ہیں؟ کہا : ڈول میں کلی کر کے پانی کنوئیں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس نے بھی یہی کیا تو اس کا اثر یہ ہوا کہ جس قدر پانی کنوئیں میں پہلے سے موجود تھا وہ بھی سوکھ گیا۔ ایک بار آنحضرت ﷺ کی نقالی کرتے ہوئے کسی آشوب زدہ کی آنکھ میں تھوک لگایا تو وہ اندھا ہوگیا۔ ایک بار بکری کے تھن پر ہاتھ پھیرا کہ دودھ زیادہ ہو جائے مگر دودھ بالکل ہی خشک ہوگیا۔
ایک عورت نے شکایت کی کہ میرے بہت سے لڑکے مر چکے ہیں اب صرف دو ہی باقی رہ گئے ہیں ان کی درازیٔ عمر کی دعا کیجئے، اس نے چھوٹے لڑکے کے لئے چالیس برس عمر کی پیشگوئی کی، عورت گھر آئی تو بڑا لڑکا کنوئیں میں گر کر مر چکا تھا، اور
چھوٹا لڑکا جس کی چالیس برس عمر طے ہوئی تھی، نزع کی حالت میں تھا۔
(افادۃ الافہام ج:۱ ص:۱۸۹)
ایک بار کسی یک چشم نے درخواست کی کہ آپ اللہ کے نبی ہیں دعا کیجئے میری آنکھ ٹھیک ہو جائے، اس نے ہاتھ پھیرا تو دوسری آنکھ کی بصارت بھی جاتی رہی۔
(نبراس)
اللہ تعالیٰ کی جانب سے جھوٹے مدعیان نبوت کی اہانت و تکذیب کے واقعات جمع کرنا تو ایک مستقل مقالہ کا موضوع ہے، یہاں تو ہمیں مرزا صاحب کے ’’مقام محمود‘‘ سے غرض ہے۔ ذرا غور فرمائیے کہ ایک ایسا شخص جو بزعم خود خاندانی رئیس ہے، اپنے قریبی اعزہ میں ایک معمولی رشتہ طلب کرتا ہے، اپنی ہزاروں لاکھوں کی جائداد اس نوبیاہتا دلہن کے نام منتقل کر دینے کا وعدہ کرتا ہے، اسے ہر آسائش و راحت دلانے کی تسلی دلاتا ہے، کبھی لڑکی کے والدین کو دھمکیاں دیتا ہے، اور کبھی لڑکی کے سسرال کو کہ اگر یہ رشتہ کیا تو مر جاؤ گے، لٹ جاؤ گے، تمہارا گھر اجڑ جائے گا، تم پر مصائب ٹوٹ پڑیں گے، تمہیں ایسی ذلت وخواری نصیب ہوگی کہ دنیا اس سے عبرت پکڑے گی۔ اس کے لئے حکم خداوندی کے حوالے بڑے اصرار و تکرار کے ساتھ دیتا ہے، اس پر بار بار مؤکد بعذاب قسمیں کھاتا ہے، اسے ’’مقام محمود‘‘ قرار دیتا ہے، صرف اسی ایک واقعہ کو اپنے صدق و کذب کی کسوٹی بتا کر تمام دنیا کو چیلنج کرتا ہے، الغرض اس رشتہ کے لئے اپنے تمام مادی و روحانی وسائل جھونک دیتا ہے، بایں ہمہ نہ مدۃ العمر اسے وہ رشتہ میسر آتا ہے، نہ اس کی کشت تمنا بار آور ہوتی ہے، بلکہ بھری دنیا اس کے بصد حسرت و یاس دنیا سے رخصت ہونے کا تماشہ دیکھتی ہے، یقیناً یہ ازدواجی تاریخ کا ایک منفرد اور خرق عادت حادثہ ہے، جو ایک برخود غلط مدعیٔ نبوت کی اہانت و تذلیل کے لئے اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا۔
میر صاحب کا لطیفہ سنا ہوگا ،انہوں نے کہیں جمعہ کے وعظ میں مولوی صاحب سے سن لیا تھا کہ تہجد کی نماز سے چہرے پر نور آتا ہے۔ میر صاحب نے اس نسخہ کی آزمائش کا فوراً عزم کرلیا ، موسم سرد تھا، رات میں وضو کرنا مشکل نظر آیا تو رخصت تیمم پر عمل کیا، اور سیدھے توے پر دو ہاتھ مار کر مشغول بحق ہوگئے، صبح ہوتے ہی بیگم صاحبہ سے فرماتے ہیں کہ رات ہم نے تہجد پڑھی تھی، ذرا دیکھو! آج ہمارے چہرۂ انور پر کتنا نور ہے؟ نور اور نورانی چہرے کا تجربہ بیگم صاحبہ کے لئے بالکل نیا تھا، وہ اس کے رنگ و روپ کی تشخیص سے قاصر تھیں، اس لئے جواب دیا کہ اگر نور کالے رنگ کا ہوتا ہے تو پھر ماشاء اللہ نور گھٹائیں باندھے آرہا ہے۔
اگر قادیانی اصطلاح میں ”مقام محمود“ بھی اسی ”کالے رنگ“ کا ہوتا ہے کہ مرزا صاحب خدا کے الہام سے پیشگوئی فرمایا کریں، اور خدا تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے پیشگوئی پورا ہونے کا ہر راستہ بطور خرق عادت بند کردیا کریں، تو قادیانی امت کو مبارک ہو کہ ان کے نبی کی اہانت کے لئے اس قسم کی خرق عادت کا تماشہ، اللہ تعالیٰ نے بار بار دنیا کو دکھایا۔ مثلاً :
الف:.......۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کی پہلی پیشگوئی میں مرزا صاحب نے بڑے طمطراق سے تحدی آمیز دعویٰ کیا تھا کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے ایک ”مصلح موعود“ لڑکے کی بشارت دی ہے، اور اس کی الہامی صفات میں ڈیڑھ صفحہ سیاہ کیا، دیکھئے مجموعہ اشتہارات ج:۱ ص:۱۰۰۔ تبلیغ رسالت ج:۱ ص:۵۹،۶۰۔ مگر خدا تعالیٰ کی قدرت کا یہ تماشا سبھی نے دیکھا کہ مرزا صاحب نے اسے اپنے جس لڑکے پر چسپاں کیا وہ چلتا بنا، پہلے بشیر اول پر لگایا تو وہ رخصت ہوا، پھر تیرہ سال بعد مبارک احمد پر لگایا تو اس نے زندگی سے ہاتھ دھو لئے، بالآخر مرزا صاحب اس روح اللہ اور کلمۃ اللہ کی راہ تکتے
نکلتے دنیا سے رخصت ہوگئے، اور مصلح موعود سے متعلقہ لاف و گزاف ان کی جگ ہنسائی کا ابدی ذخیرہ بن کر رہ گیا۔
ب:...... مرزا صاحب، عبداللہ آتھم عیسائی سے پندرہ دن تک مناظرہ کرتے رہے، اور جب دیکھا کہ اس شاطر پادری سے مقابلہ کی طاقت مابدولت میں نہیں تو وہی ”الہامی پیشگوئی“ والا حربہ آزمایا اور اعلان کردیا :
”آج رات جو مجھ پر کھلا ہے وہ یہ ہے کہ جب کہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر...... تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے...... اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے، وہ انہیں دنوں مباحثے کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ (دوزخ) میں گرایا جاوے گا، اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی، بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے، اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی، اور اس وقت جب یہ پیشگوئی ظہور میں آوے گی بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے، اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے، اور بعض بہرے سننے لگیں گے...... میں اس وقت یہ اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی، یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بہ سزائے موت ہاویہ (دوزخ) میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں، مجھ کو ذلیل کیا جاوے، اور روسیاہ کیا جاوے، میرے گلے میں رسا ڈال دیا جاوے، مجھ کو پھانسی
دیا جاوے، ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔ اور میں اللہ جل شانہٗ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا، ضرور کرے گا، ضرور کرے گا، زمین آسمان ٹل جائیں، پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی....... اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔“
(جنگ مقدس تصنیف مرزا صاحب ج:۶ ص:۲۹۳)
مگر انجام کیا نکلا؟ اس مقررہ مدت کے اندر نہ آتھم نے رجوع الی الحق کیا، نہ مرا، اور ایک باطل پرست پادری کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے مرزا صاحب کی خرق عادت اہانت کا کرشمہ دکھا کر انہیں ان تمام القاب وخطابات کا مستحق قرار دیا جو خود ان کے قلم سے نکل کر، رہتی دنیا تک ان کی ”نیک نامی“ پر عادلانہ شہادت دیتے رہیں گے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے مرزا صاحب کا اپنے دعوائے الہام میں مفتری اور کذاب ہونا صفحات عالم پر ہمیشہ کے لئے رقم کر دیا، غالباً کسی جھوٹے کی ایسی اہانت وتذلیل کبھی نہ ہوئی ہوگی، اور تاریخ عالم میں اس کی کوئی مثال نہیں ملے گی۔
ج:.......مرزا صاحب نے اپنے حواری مولوی عبدالکریم کی صحت کی الہامی بشارت سنائی، (الحکم ۱۰؍ستمبر ۱۹۰۵ء) مگر وہ گردن کے پھوڑے اور ذات الجنب سے چند دن بعد انتقال کرگئے، یہ خرق عادت اہانت اس کے مشابہ ہے کہ مسیلمہ کذاب نے عورت کے لڑکے کی عمر چالیس برس بتائی، وہ گھر لوٹی تو نزع کا عالم تھا۔
مولوی عبدالکریم کا انتقال طاعونی پھوڑے سے ہوا اور ایسا درد ناک کہ مرزا صاحب ان کے پاس بھی نہ پھٹکے، مگر قادیانی امت طاعون کے لفظ سے بہت گھبراتی ہے اس لئے ان کے مرض کا کاربنکل، گلے کے نیچے پھنسی اور ذات الجنب کے الفاظ
سے تعبیر کیا کرتی ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے قادیانی مذہب فصل پندرھویں نمبر ۲۴۔
- د: ...... آخری عمر میں مرزا صاحب نے الہامی خوشخبری دی تھی کہ انہیں ایک
پاک لڑکا دیا جائے گا جس کا نام یحییٰ ہوگا، اور وہ غلام حلیم، مبارک احمد کی شبیہ کا ہوگا۔ (البشریٰ ج:۲ ص:۱۳۶) مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی اہانت کے لئے انہیں بے مراد دنیا سے رخصت کیا۔
- ہ: ...... مرزا صاحب نے اپنے مرید میاں منظور محمد کی اہلیہ کے بطن سے بشیر
الدولہ اور عالم کباب نامی لڑکے کی ولادت کی خوشخبری دی۔ (البشریٰ ج:۲ ص:۱۱۶) مگر اللہ تعالیٰ نے مرزا صاحب کی اہانت کے لئے اس خاتون ہی کو دنیا سے اٹھا لیا، کہ نہ وہ خاتون ہو، نہ عالم کباب آئے۔
- ز: ...... مرزا صاحب نے اپنے برگشتہ مرید ڈاکٹر عبدالحکیم کی پیشگوئی کے
مقابلہ میں اسے فرشتوں کی تلواریں دکھائیں اور خود اس کے مرنے کی پیشگوئی کی، مگر اللہ تعالیٰ نے مرزا صاحب کی اہانت کے لئے ڈاکٹر صاحب کو زندہ رکھا اور مرزا صاحب کو دارالجزاء میں طلب کر لیا۔
- ح: ...... مرزا صاحب نے مولانا ثناء اللہ مرحوم کے مقابلہ میں دو طرفہ بددعا
کی کہ جو جھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں طاعون اور ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے مرے۔ اور لکھا کہ :
”میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم و خبیر ہے، جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے، اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افترا ہے، اور میں تیری
نظر میں مفسد اور کذاب ہوں، اور دن رات افترا کرنا میرا کام ہے (اس میں شک ہی کیا ہے، اور پھر خدائے علیم وخبیر اور بصیر و قدیر کو؟۔ ناقل) تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کردے۔ آمین (خدا تعالیٰ نے مرزا صاحب کی یہ دعا بہت قریب سے سنی فالحمد للہ۔ ناقل) مگر اے میرے کامل اور صادق خدا، اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے (جی نہیں! بلکہ آپ کا یہ فقرہ خود مولانا ثناء اللہ صاحب (احسن اللہ ثناہ) پر غلط اتہام ہے، مولانا مرحوم نے ایک بات بھی آپ کی جانب ایسی منسوب نہیں کی جو خود آپ کے قلم سے نہ نکلی ہو، مخلوق کے سامنے تو خیر سچ جھوٹ سب کچھ چل جاتا ہے، مگر خدا کے سامنے تو غلط بیانی کرنے سے احتراز کیا ہوتا؟ باخدا تزویر حیلہ کے رواست؟۔ ناقل) حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر، مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے....... اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں در حقیقت مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھالے، یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر، آمین ثم آمین۔ ربنا افتح بیننا و بین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین۔ آمین‘‘
(اشتہار ۱۵؍ اپریل، مجموعہ اشتہارات ج: ۳ ص: ۵۷۸ و ۵۷۹)
یہ مرزا صاحب کے الہامی ترکش کا آخری تیر تھا جو ٹھیک نشانے پر بیٹھا، اور جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مرزا صاحب کی اہانت کا آخری فیصلہ کردیا۔ مرزا صاحب ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو بمرض وبائی ہیضہ انتقال کر گئے، اور مولانا ثناء اللہ صاحب کو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ایسی ”سخت آفت سے جو موت کے برابر ہو“ محفوظ رکھا، بلکہ ان کی زندگی میں ایسی برکت فرمائی کہ مرزا صاحب کے قریباً چالیس سال بعد تک بقید حیات رہ کر اپنی حسنات میں اضافہ کرتے رہے۔ اور قیام پاکستان کے عرصہ بعد واصل بحق ہوئے، اس طرح اللہ تعالیٰ نے خود مرزا صاحب کی موت سے ان کے سچ جھوٹ کا آخری فیصلہ کردیا، اور فیصلہ بھی ایسا صاف اور قطعی کہ کسی کو شک وشبہ کی گنجائش نہ رہے۔
الغرض اگر قادیانی اصطلاح میں ”مقام محمود“ اسی روسیاہی کا نام ہے کہ مرزا صاحب جو بددعا کریں وہ ان ہی پر پڑے، جو تحدی آمیز پیشگوئی کریں وہ ہمیشہ جھوٹی نکلے، عیسائیوں کے مقابلے میں شرط باندھیں تو اللہ تعالیٰ ان کے مقابلے میں مرزا صاحب کو ذلیل کر کے ان کی تکذیب کردے۔ کسی کی حیات کی خبر دیں تو مرجائے، کسی کی صحت کا الہام فرمائیں تو جانبر نہ ہو، کسی کی ولادت کی خبر اڑائیں تو والدہ ہی رخصت ہوجائے، کسی بات کو معیار قرار دے کر اپنے صدق و کذب کا چیلنج کریں تو اس کا انجام مرزا صاحب کا کذب ہی نکلے۔ اگر مقام محمود اسی رنگ کا ہوتا ہے تو مبارک ہو کہ خدا کے فضل سے یہ مرزا صاحب کی پوری الہامی و مسیحی زندگی کا کارنامہ ہے۔ اور اگر عقلاء کی اصطلاح کے مطابق ”مقام محمود“ اس ذلت و رسوائی اور ناکامی و روسیاہی کا نام نہیں، جو نصیب دشمنان مرزا صاحب بنے مدۃ العمر چمٹی رہی، بلکہ عزت ومرتبت کا وہ عالی مقام ہے جو تمام بنی نوع انسان میں سے صرف ایک فردِ یگانہ کے
لئے مخصوص ہے جس کی ذات عالی سراپا حمد ہے، جن کا نام نامی (غلام نہیں بلکہ) محمد اور احمد ہے، جس کی امت (احمدی نہیں بلکہ) الحامدون بلند پایہ لقب سے سرفراز ہے، جس کے لئے لواء الحمد (لدھیانہ، اقبال گنج میں نہیں بلکہ) روز محشر میں بلند کیا جائے گا، جس کی بدولت (قادیان کی تاریک کوٹھری نہیں بلکہ) جنت الفردوس بیت الحمد کہلائے گا۔ جس کی مدح و ستائش اور حمد کے ترانوں سے (چند مرزائیوں کی ٹولی نہیں) بلکہ اول سے آخر تک کی تمام انسانیت رطب اللسان ہوگی، اور جس کو مقام محمود پر سجدہ ریز ہونے کی حالت میں حق تعالیٰ شانہ کی حمد و تعریف کے لئے وہ الفاظ دیئے جائیں گے، جن سے تمام انسانوں کے لغت نا آشنا ہیں، بہرحال اگر ’’مقام محمود‘‘ ان خوش فعلیوں، خوش فہمیوں اور خوش گپیوں کا نام نہیں جن میں مرزا صاحب ساری عمر مبتلا رہے، بلکہ وہ بلند و بالا مرتبہ ہے جس کا کوئی عام انسان تو کجا؟ انبیاء علیہم السلام بھی تصور نہیں کر سکتے تو قادیانی امت کو کان کھول کر سن لینا چاہئے کہ یہ مقام قادیان کے غلام کے لئے نہیں بلکہ کونین کے آقاؐ کے واسطے مخصوص ہے، یہ منصب مسیح کذاب اور مسیلمہ پنجاب کے لئے نہیں بلکہ سید المرسلین و خاتم النبیین کے لئے نامزد ہے (ﷺ فداہ ابی و امی و روحی و جسدی) مرزا صاحب نے اپنے لئے ’’مقام محمود‘‘ کا دعویٰ کر کے ’’بازی بازی، باریش بابا ہم بازی‘‘ کا جو بھونڈا مظاہرہ کیا اس پر قادیانی امت جس قدر نفرین بھیجے، کم ہے، رسول اللہ ﷺ کی ذات عالی سے مرزا صاحب کی اس بیہودہ جسارت کا کرشمہ تھا کہ خدا کی غیرت جوش میں آئی اور مرزا صاحب کا مفروضہ ’’مقام محمود‘‘ (محمدی بیگم سے عقد) اللہ تعالیٰ نے ایک فوجی بہادر سلطان محمد کو بخش دیا اور تکوینی طور پر فرمایا کہ اس مقام پر فائز رہنا تا آنکہ یہ مفتری ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر نہ جائے۔ (و قد خاب من افتریٰ)
قادیانی احمد :
سورۃ صف کی آیت ۶ : ” وَ مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ يَّأْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُهٗ اَحْمَد “ (اور خوشخبری دیتا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا، اس کا نام احمد ہے) اس آیت کریمہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جس عظیم الشان رسول کی اپنے بعد تشریف آوری کی خوشخبری دی اور جس کا نام نامی ”احمد“ بتایا اس کا مصداق سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے زمانے سے (جب کہ یہ آیت نازل ہوئی) آج تک چودہ صدیوں میں مسلمانوں کے ایک متنفّس کو بھی اس سے اختلاف نہیں۔ خود آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاء اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کا مصداق ہوں (مشکوٰة ص :۵۱۳) آنحضرت ﷺ نے خود اپنے اسمائے گرامی محمد اور احمد ذکر فرمائے (مشکوٰة ص :۵۱۵) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اسی بشارت کی بنا پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے دنیا و آخرت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قرب و تعلق سب لوگوں سے زیادہ حاصل ہے اور یہ کہ ان کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں ”انا اولیٰ الناس بعیسیٰ بن مریم فی الاولیٰ و الآخرة (قال القاری فی المرقات: ای اقربهم الیه ، لانه بشر بان یأتی من بعدی) ...... و لیس بیننا نبی. متفق علیہ“ (مشکوٰة ص:۵۰۹) اسی آیت کی بنا پر اسلام کا عیسائیت کے مقابلے میں چودہ صدیوں سے معرکہ قائم ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے جس نبی کی آمد کی بشارت دی اور جس کا ذکر (تحریف کے باوجود) انجیل سے حذف نہیں کیا جاسکا ہے اس سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں، ان مختصر اشارات کے بعد اب قادیانی تحریف ملاحظہ فرمائیے:
” مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد “
آیت مرقوم الصدر کے الفاظ میں مسیح نے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک پیش گوئی کی ہے کہ ایک ایسے رسول کی بشارت دینے والا ہوں جس کا آنا میرے بعد ہوگا۔ اس کا نام احمد ہے۔ پیش گوئی میں آنے والے رسول کا اسم احمد بتایا گیا ہے، جس کے مصداق آنحضرت ﷺ اس لئے نہیں ہو سکتے کہ قرآنی وحی میں کسی مقام سے آپ کا نام نامی احمد ثابت نہیں ہوتا ، ہاں محمد آپ کا اسم گرامی ضرور ہے، جیسا کہ آپ قبل از دعوائے نبوت محمدؐ کے نام سے مشہور تھے، اور ایسا ہی قرآنی وحی میں بھی بار بار آپ کا نام محمد ہی بتایا گیا ہے۔“
(الفضل ۱۹؍اگست ۱۹۱۸ء)
”اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سا رسول ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آیا اور اس کا نام ”احمد“ ہے؟ میرا اپنا دعویٰ ہے، اور میں نے یہ دعویٰ یوں ہی نہیں کردیا ، بلکہ مسیح موعود علیہ السلام (جناب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کی کتابوں میں بھی اسی طرح لکھا ہوا ہے، اور حضرت خلیفہ المسیح اول (حکیم نور الدین صاحب) نے بھی یہی فرمایا ہے کہ مرزا صاحب احمد ہیں، چنانچہ ان کے درسوں کے نوٹوں میں یہی چھپا ہوا ہے اور میرا ایمان ہے کہ اس آیت کے مصداق حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد صاحب قادیانی) ہی ہیں۔“
(انوار خلافت ص:۲۱ مصنفہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)
ایک جانب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کی پوری امت ہے اور دوسری جانب قادیانی امت کے مسیح موعود، خلیفہ نور دین اور میاں محمود احمد ہیں۔ یہ فیصلہ تو دنیا کے اہل عقل و فہم پر چھوڑتا ہوں کہ ان دونوں فریقوں میں سے کون سچا
ہے؟ البتہ قادیانی محرف سے یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ مرزا صاحب کی ”مراقی مسیحیت“ کے لئے قرآن کی تحریف اگر ناگزیر تھی تو تحریف کرتے وقت ذہن و فکر کو مجتمع کر کے ذرا یہ تو سوچا ہوتا کہ:
- الف:...... اگر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ آیت کا مصداق بننے کی محض اس
لئے صلاحیت نہیں رکھتے (نقل کفر، کفر نباشد) کہ آپ کا اسم گرامی ”احمد“ قرآن کی کسی آیت میں مذکور نہیں تو مرزا صاحب کا نام کس قرآن میں لکھا ہے جس کی تلاوت فرما کر آپ نے یہ تمغۂ بشارت انہیں عطا فرما دیا؟
- ب:...... اور یہ کہ مرزا صاحب، جن کا نام والدین نے ”غلام احمد“ رکھا تھا
اور جو بچپنے سے ”سندھی“ کے نام سے معروف تھے، انہوں نے اپنے آقا (احمد) کی غلامی سے نجات حاصل کر کے بذات خود ”اسمہ احمد“ کا منصب کس منطق سے حاصل کرلیا؟ قادیانی امت کی عقل و دانش کی داد دیجئے کہ ”احمد“ (ﷺ) پر اسمہ احمد صادق نہیں آتا، لیکن آپ کے پشتی غلام ہونے کے دعویدار، ”غلام احمد قادیانی“ پر یہ نام صادق آتا ہے؟: بریں عقل و دانش بباید گریست۔
- ج:...... اور یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تو بشارت میں ”یاتی من
بعدی“ فرمایا تھا، یعنی جس کی آمد میرے بعد ہوگی، جس سے بعدیت متصلہ مراد ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد تو آنحضرت ﷺ کی آمد ہوئی۔ اب اگر بقول قادیانی امت کے اس کا مصداق مرزا غلام احمد صاحب ہیں تو وہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعد کیسے ہوئے؟ قادیانی امت مرزا صاحب کو نبی بنانے کے شوق میں آنحضرت ﷺ کو اس بشارت: ”اسمہ احمد“ سے معزول کرچکی ہے، اب مرزا صاحب کی بعدیت کو ثابت کرنے کے لئے اگلا قدم یہ ہوگا کہ معاذ اللہ، آنحضرت ﷺ کو منصب نبوت سے
ہٹا کر آپ کے بروز (مرزا صاحب) کو اس پر فائز کیا جائے گا۔ الغرض ”اسمہ احمد“ کا مصداق آنحضرت ﷺ کے بجائے ”غلام احمد“ کو قرار دینا ایسی کھلی تحریف ہے جس سے یہود اور باطنیہ بھی سر بجیب ہیں، اور جسے صاحب روح المعانی کے الفاظ میں ”ضرب من الہذیان“ کہا جاسکتا ہے۔ موصوف آیت زیر بحث کے ذیل میں فرماتے ہیں:
”و بشارته عليه السلام بنبينا ﷺ مما نطق به القرآن المعجز فانكار النصارىٰ ذالك ضرب من الهذيان.“
(روح المعانی ج: ۲۸ ص: ۸۶)
ترجمہ: ...... ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہمارے نبی ﷺ کی بشارت دینا ایک ایسی چیز ہے جس کے ساتھ قرآن معجز ناطق ہے۔ لہٰذا نصاریٰ کی جانب سے اس کا انکار کیا جانا ایک قسم کا ہذیان ہے (مراقی ہذیان کہہ لیجئے ۔ ناقل)۔
تاہم قادیانی امت کو مایوس نہیں ہونا چاہئے ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان کے ”مسیح موعود“ کو بھی ”بشارت“ سے محروم نہیں رکھا ، حضرت مسیح علیہ السلام کی یہ عظیم الشان بشارت ، جو مرزا صاحب سے متعلق ہے ”الفرقان“ ربوہ ، بابت فروری ۱۹۷۴ء صفحہ نمبر ۱۴ سے پیش خدمت ہے :
اپنی آمد ثانی کے ذکر میں فرمایا:
”تب اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں ہے (مثلاً قادیان میں) تو نہ ماننا ، کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی برپا ہوں گے (اور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دکھائیں گے
کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرلیں ) (بین القوسین کی عبارت ”الفرقان“ میں نہیں، ہم نے بائبل سے اضافہ کی ہے ) (متی ۲۴/۲۴، ۲۵ کیتھولک بائبل ) ”جھوٹے نبیوں سے خبردار رہو جو تمہارے پاس بھیڑوں کے بھیس میں آتے ہیں (مثلاً بڑی معصومیت سے دعویٰ کرتے ہیں کہ میں مسیح ناصری کا مثیل بن کر آیا ہوں) مگر باطن میں پھاڑنے والے بھیڑیے ہیں، تم انہیں پھلوں سے پہچان لو گے (مثلاً تعلیٰ آمیز دعوے مغلظات کا استعمال ، چندے کے اشتہارات، بہشتی مقبرے کی فروخت، مرنے کے بعد ”منارۃ المسیح“ کی تکمیل، تمام انبیاء علیہم السلام کی تنقیص ، صحابہ کرام کی تحمیق، علمائے امت کی تجہیل، امت اسلامیہ کی تکفیر، اعداء اسلام کے لئے جاسوسی وغیرہ)......اس دن بہتیرے مجھ سے کہیں گے : اے خداوند! اے خداوند! کیا ہم نے تیرے نام سے نبوت نہیں کی؟ (کہ آپ کی آمد ثانی کا انکار کر کے خود ”مسیح موعود“ کہلائے ۔)...... تب میں ان سے صاف کہوں گا کہ میری تم سے کبھی واقفیت نہ تھی (تم یونہی جھوٹے دعوے ہانکتے رہے کہ ہماری روح کشفی حالت میں مسیح علیہ السلام سے ملی ہے، ہم نے ایک دوسرے کی مزاج پرسی کی ہے۔ (مرزا صاحب نے اس نوعیت کے دعوے کئے ہیں جو ان کے مجموعہ الہامات و مکاشفات میں ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں)) اے بدکارو! میرے سامنے سے چلے جاؤ۔“
(متی ۷/۱۵-۲۳)
(یہ حوالہ الفرقان ربوہ نے کسی اندیشۂ خاص کی بنا پر ذکر نہیں کیا، اس کا اضافہ ہماری طرف سے قبول فرمائیے) ”اور جب
وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا اس کے شاگردوں نے الگ اس کے پاس آکر کہا کہ ہم کو بتا کہ یہ باتیں کب ہوں گی؟ اور تیرے آنے اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا، یسوع نے جواب میں ان سے کہا کہ خبردار کوئی تم کو گمراہ نہ کردے، کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے۔ (یہ پیشگوئی من وعن پوری ہوئی، بیسیوں کذاب، مسیح کا لبادہ پہن کر آئے اور خلق خدا کو گمراہ کر کے چلتے بنے) (متی ۲۴/ ۴-۵)
الغرض جہاں تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس بشارت کا تعلق ہے کہ میرے بعد ایک (اور صرف ایک) رسول آئے گا جس کا نام احمد ہوگا، تو یہ ہمارے آقا سید المرسلین و خاتم النبیین ﷺ کی تشریف آوری سے پوری ہوچکی ہے، اس کے بعد نہ کسی ”احمد“ کی گنجائش ہے نہ ”غلام احمد“ کی۔ قادیانی امت اگر اس ردائے بشارت کو آنحضرت ﷺ سے چھین کر کسی ”غلام“ کے حوالے کرے گی تو تحریف قرآن اور سرقۂ بشارت کے ذریعہ اپنی عقل و دانش پر جگ ہنسائی کا موقع فراہم کرے گی۔ البتہ اگر مرزا صاحب پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ”بشارت“ چسپاں کرنے کا بہت ہی شوق ہے تو ”الفرقان ربوہ“ کے حوالے سے وہ بشارت بھی پیش خدمت ہے یعنی ”بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں ”مسیح“ ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے“ یہ بشارت مرزا صاحب پر بغیر کسی تاویل کے حرف بحرف صادق آتی ہے، قادیانی امت چاہے تو ان کے مسیح موعود کو ان مدعیان مسیحیت میں سرفہرست جگہ دی جاسکتی ہے۔ ہماری گزارش ہے کہ قادیانی امت کو ”متی“ کے محولہ بالا دونوں ابواب کا مطالعہ نہایت سنجیدگی اور تدبر سے کرنا چاہئے، واللہ یقول الحق وھو یھدی السبیل۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ارشاد فرمودہ اس ”بشارت“ کی تصدیق آنحضرت ﷺ سے صحیح مسلم میں بایں الفاظ موجود ہے:
”يكون فى آخر الزمان دجالون كذابون يأتونكم من الاحاديث ما لم تسمعوا انتم و لا آباء كم، فإياكم و إياهم لا يضلونكم و لا يفتنونكم.“
(رواہ مسلم)
ترجمہ: ...... ”آخر زمانے میں بہت سے دجال، کذاب (مکار، جھوٹے) ہوں گے (جن کی علامت یہ ہے کہ ) وہ تمہارے سامنے ایسی باتیں لائیں گے۔ جو نہ تو تم نے کبھی سنی ہوں گی، نہ تمہارے باپ دادا نے، خبردار! ان سے بچتے رہنا! کہیں تمہیں گمراہ نہ کردیں اور اپنے فتنے کے جال میں نہ پھانس لیں۔“
(مشکوٰۃ ص:۲۸)
صاحب مرقات لکھتے ہیں: ”یعنی وہ جھوٹی حدیثیں پیش کریں گے، باطل احکام گھڑیں گے اور اعتقادات باطلہ کو مکر و فریب سے رائج کریں گے“ اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے ہم بتائیں گے کہ کس طرح یہ حدیثی بشارت مرزا صاحب اور ان کی امت پر حرف بحرف صادق آتی ہے۔ تاہم زیر نظر تحریف ہی سے قادیانیت کے عقائد باطلہ کا کسی قدر اندازہ ہو جاتا ہے۔ والعاقل تکفیہ الاشارہ۔
قادیانی محمد رسول اللہ اور رسولہ :
سورۃ ”الفتح“ کی آخری آیت ”مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَ الَّذِيْنَ مَعَهُ اَشِدَّاءُ عَلَی الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ“ (محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ آپ
کے صحبت یافتہ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں سخت اور آپس میں مہربان ہیں) اور سورۃ الصف کی آیت نمبر ۹ : ”هُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَی الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ“ (وہ اللہ ایسا ہے، جس نے اپنے رسول کو ہدایت (قرآن) اور دین حق (اسلام) دے کر بھیجا ہے تاکہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کر دے، گو مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو) ان دونوں آیتوں کے بارے میں مرزا صاحب کا ”الہامی انکشاف“ یہ ہے کہ پہلی آیت میں ”محمد رسول اللہ“ سے اور دوسری آیت میں ”رسولہ“ سے مراد ان کی ذات ہے (نعوذ باللہ) چنانچہ اپنے اشتہار ”ایک غلطی کا ازالہ“ میں لکھتے ہیں :
”حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں، نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ ......... چنانچہ وہ مکالمات الٰہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں ان میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے : ”هُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَی الدِّیْنِ كُلِّهٖ“۔ دیکھو صفحہ ۴۹۸ براہین احمدیہ۔ اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے ...... پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے : ”مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَالَّذِیْنَ مَعَهٗٓ اَشِدَّآءُ عَلَی الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ“ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص: ۳، ۴ روحانی خزائن ج: ۱۸ ص: ۲۰۶، ۲۰۷)
قادیانی خاتم النبیین :
قادیانی محرف کی ”فنی مہارت“ کا کمال دیکھو کہ آنحضرت ﷺ کے
اسمائے گرامی کے سرقہ کے بعد ”بروز“ کی کنجی سے ختم نبوت کا سر بمہر قفل کھول کر قصر نبوت میں داخل ہوتا ہے اور حضرت ختمی مآب ﷺ کا جامہ زیب تن کرنے کے بعد باہر آتا ہے، مگر بقول اس کے خاتم النبیین کی مہر جوں کی توں رہتی ہے۔ مرزا صاحب آیت ختم نبوت کی تحریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد..... نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں، مگر ایک کھڑکی سیرت صدیقی کی کھلی ہے یعنی ”فنا فی الرسول“ کی (محض جھوٹ ، سراپا کذب اور قرآن پر خالص افتراء ۔ ناقل) پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر ظلی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدیہ کی چادر ہے۔ ..... اس کے معنی یہ ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد کو ہی ملی، گو بروزی طور پر، مگر نہ کسی اور کو۔ پس یہ آیت کہ ”ما کان محمد ابا احد من رجالکم و لکن رسول اللہ و خاتم النبیین“ اس کے معنی یہ ہیں کہ : ”لیس محمد ابا احد من رجال الدنیا و لکن ہو اب لرجال الآخرة لانہ خاتم النبیین و لا سبیل الی فیوض اللہ من غیر توسطہ“ غرض میری نبوت اور رسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے، نہ میرے نفس کے رو سے۔ اور یہ نام بحیثیت فنا فی الرسول مجھے ملا، لہٰذا خاتم النبیین کے مفہوم میں فرق نہ آیا۔“
(ایضاً ص: ۲۰۷، ۲۰۸)
اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے، اور مجھے آنحضرت ﷺ کا وجود قرار دیا ہے، پس اس طور سے آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں ”میری
نبوت“ سے کوئی تزلزل نہیں آیا، کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا (جی ہاں! قادیان کے ”مراقی آئینہ“ میں ظل اور اصل کا حکم ایک ہی ہونا چاہئے، کیسے ٹھکانے کی بات ہے۔ ناقل)، اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں (ﷺ) پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی (یہی تو فنِ قزاقی میں مہارت کا کمال ہے کہ مکان کا قفل سر بمہر بھی رہے، اور اس کے اندر کا سارا خزانہ بھی صاف ہوجائے۔ ناقل)۔“
(ایضاً ص: ۲۱۲)
غرض خاتم النبیین کا لفظ ایک الٰہی مہر ہے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت پر لگ گئی ہے (کتنی بھونڈی تعبیر ہے۔ خاتم النبیین سے قصرِ نبوت سر بمہر ہوا ہے یا آنحضرت ﷺ کی نبوت پر معاذ اللہ مہر لگ گئی ہے؟ ناقل) اب ممکن نہیں کہ کبھی مہر ٹوٹ جائے، ہاں یہ ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں۔“
(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص: ۱۰، ۱۱ روحانی خزائن ج: ۱۸ ص: ۲۱۴، ۲۱۵)
مرزا صاحب کا یہ ”عقیدہ بروز“ اگر ایک طرف ہندوؤں کے عقیدۂ تناسخ کا چربہ ہے تو دوسری طرف عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث (ایک تین اور تین ایک) کی طرح گورکھ دھندا بھی ہے۔ اس کی تشریح کے لئے کوئی دوسری جگہ مناسب ہوگی، یہاں تو ہمیں مرزا صاحب کی تحریفی چابکدستیوں سے غرض ہے، وہ اپنی نبوت کاذبہ پر تحریف کا مکروہ پردہ ڈالنے کے لئے مندرجہ ذیل اصول وضع کرتے ہیں۔
- الف :...... آیت خاتم النبیین کی رو سے نبوت کی تمام کھڑکیاں بند ہیں، مگر
فنا فی الرسول کی کھڑکی کھلی ہے۔ جیسا کہ ہم بین القوسین اشارہ کر چکے ہیں، یہ قرآن کریم پر خالص افترا اور دروغ بے فروغ ہے۔ زیر بحث آیت قصر نبوت کے نہ صرف ایک ایک سوراخ کو بند کر دیتی ہے بلکہ اسے سر بمہر کر دینے کا اعلان کرتی ہے۔ مگر اس کے علی الرغم مرزا صاحب ”فنا فی الرسول“ اور ”سیرت صدیقی“ کی کھڑکی کھلی رہنے کا اعلان کرتے ہیں، دنیا میں یہ تماشہ کس نے دیکھا ہو گا کہ حکومت کسی مکان کو اپنی تحویل میں لے کر سربمہر کر دیتی ہے، مگر مرزا صاحب ایسے ذہین لوگوں کے لئے ایک کھڑکی کھلی رہنے دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی مکان کا چور دروازہ چوپٹ کھلا ہے تو اسے سر بمہر کرنے کے تکلف کی کیا حاجت تھی؟
ب :...... مرزا صاحب کے خیال میں ظل اور اصل میں کوئی فرق نہیں، کوئی غیریت نہیں، کوئی دوئی نہیں، اس لئے قصر نبوت کا دروازہ کھولنے کے بعد وہ اطمینان سے اندر داخل ہوتے ہیں، آنحضرت ﷺ کا جامۂ نبوت اٹھا کر خود پہن لیتے ہیں، اور جب ”چور چور“ کا شور سنتے ہیں تو بڑے اطمینان سے لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ چونکہ خاکسار ”فنا فی الرسول“ ہے، ظل محمد ہے، بروز احمد ہے، اس لئے محمد کی چیز محمد ہی کے پاس ہے۔ اگر نبوت مسخرہ پن کا نام نہیں تو ہمیں بتایا جائے کہ یہ بات دنیا کے کس عاقل نے کہی ہے کہ ظل اور اصل کے درمیان کوئی غیریت نہیں؟ اس لئے ظل کے بھی تمام وہی احکام ہیں جو اصل کے ہیں، ظل کا بھی وہی منصب ہے جو اصل کا ہے، ظل کے بھی وہی حقوق ہیں جو اصل کے ہیں، اور ظل بھی اسی سلوک کا مستحق ہے جس کا استحقاق اصل کو حاصل ہے۔
کیا قادیان کا یہ تحریفی فلسفہ جس پر قادیانیت کی ساری عمارت کھڑی ہے، اپنی بوالعجبی میں عیسائیوں کے فلسفۂ تثلیث سے کچھ کم ہے؟ دنیا کا کون عاقل ہے جو
ظل کو عین اصل سمجھتا ہو؟ اور ”فنا فی الرسول“ کو رسول کی گدی پر بٹھانے کے لئے آمادہ ہو، مگر قادیانی امت کی ذہنی سطح وہی ہے جس کا نقشہ ان کے ”مسیح موعود“ نے ان الفاظ میں کھینچا ہے :
”یہ تو ان کی قیل و قال ہے جس سے ان کی موٹی سمجھ اور سطحی خیالات اور مبلغ علم کا اندازہ ہوسکتا ہے، مگر فراست صحیحہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ غفلت اور حب دنیا کا کیڑا ان کی ایمانی فراست کو بالکل کھا گیا ہے، ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ جیسے مجزوم کا جذام انتہاء کے درجے تک پہنچ کر سقوط اعضاء تک نوبت پہنچاتا ہے اور ہاتھوں اور پیروں کا گلنا سڑنا شروع ہو جاتا ہے، ایسا ہی ان کے روحانی اعضا، جو روحانی قوتوں سے مراد ہیں، باعث غلو محبت دنیا کے گلنے سڑنے شروع ہوگئے ہیں۔۔۔۔ دینی معارف اور حقائق پر غور کرنے سے بکلی آزاد ہے، بلکہ یہ لوگ حقیقت اور معرفت سے کچھ سروکار نہیں رکھتے، اور کبھی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے کہ ہم دنیا میں کیوں آئے اور ہمارا اصلی کمال کیا ہے، بلکہ جیفۂ دنیا میں دن رات غرق ہورہے ہیں، ان میں یہ حس ہی باقی نہیں رہی کہ اپنی حالت کو ٹٹولیں کہ وہ کیسی سچائی کے طریق سے گری ہوئی ہے، اور بڑی بدقسمتی ان کی یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی اس ”نہایت خطرناک“ بیماری کو پوری پوری صحت خیال کرتے ہیں۔“
(اشتہار ”حقانی تقریر بر وفات بشیر“ یعنی سبز اشتہار
ص: ۱۸، ۱۹ روحانی خزائن ج:۲ ص: ۴۶۳، ۴۶۴)
یہاں قادیانی امت کی اس ”خطرناک بیماری“ کے چند مناظر کا ملاحظہ بھی
مناسب ہوگا :
- ا:....... ”محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
خدا نے لیا عہد سب انبیاء سے
کہ جب تم کو دوں کتاب اور حکمت
پھر آئے تمہارا مصدق پیغمبر
تم ایمان لاؤ، کرو اس کی نصرت
لیا تھا جو میثاق سب انبیاء سے
وہ عہد حق نے لیا مصطفیٰ سے
وہ نوح و خلیل و کلیم و مسیحا
سبھی سے یہ پیمانِ محکم لیا تھا
مبارک ! وہ اُمت کا موعود آیا
وہ میثاقِ ملت کا مقصود آیا“
(اخبار الفضل ۲۶؍ فروری ۱۹۲۴ء)
- ۲:....... ”اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم
کا منکر بھی کافر نہیں، کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں، جس میں بقول حضرت مسیح
موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے، آپ کا انکار کفر نہ ہو۔“
(کلمۃ الفصل، از مرزا بشیر احمد مندرجہ رسالہ ری
ویو آف ریلیجنز شمارہ نمبر ۳ ج:۱۴ ص:۱۴۷)
- ۳:...... ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا صاحب) کا
ذہنی ارتقا آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا...... اس زمانہ میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی ہے، اور یہ جزوی فضیلت ہے جو مسیح موعود کو آنحضرت صلعم پر حاصل ہے۔“
(مضمون ڈاکٹر شاہنواز خانصاحب مندرجہ
رسالہ ری ویو آف ریلیجنز بابت مئی ۱۹۲۹ء)
- ۴:...... ”مسیح موعود محمد است و عین محمد است“
(عنوان مندرجہ اخبار الفضل ۷ اگست ۱۹۱۵ء)
- ۵:...... ”صدی چودھویں کا ہوا سر مبارک
محمد پئے چارہ سازیٔ اُمت
ہے اب احمد مجتبیٰ بن کے آیا
حقیقت کھلی بعثِ ثانی کی ہم پر
کہ جب مصطفیٰ مرزا بن کے آیا“
(اخبار الفضل قادیان ۲۸؍مئی ۱۹۲۸ء)
دیکھا آپ نے؟ کس طرح مصطفیٰ ﷺ...... معاذ اللہ...... مرزا بن گئے اور مرزا عین محمد بن گئے، ان کا ذہنی ارتقا نعوذ باللہ نبی کریم ﷺ سے بھی بڑھ گیا، تمام نبیوں سے مرزا جی کے واسطے خدا نے عہد بھی لے لیا اور ان کی نبوت کا انکار
آنحضرت ﷺ کے انکار سے بڑھ کر کفر قرار پایا، مگر بقول ان کے ختم نبوت کی مہر نہیں ٹوٹی۔ اگر چہ عقل و خرد کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔
ج :....... مرزا صاحب نے اعلان عام کیا ہے کہ ”ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ، ایک بار نہیں بلکہ ہزار بار بروزی رنگ میں آکر اظہار نبوت کریں۔“ مگر کیا قادیانی امت کے نزدیک واقعہ بھی یہی ہے؟ ہرگز نہیں ! بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک آنحضرت ﷺ کے بعد مرزا صاحب پہلے اور آخری شخص ہیں جو اس منصب پر فائز ہوئے، نہ مرزا صاحب سے پہلے کوئی آیا نہ آئندہ آئے گا۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ بروزی فلسفہ دراصل مرزا صاحب کو منصب ختم نبوت پر فائز کرنے کی سازش ہے۔ ورنہ کیا آنحضرت ﷺ کا فیضان بس اتنا ہی تھا کہ پوری امت میں صرف ایک شخص ”فنا فی الرسول“ کی کھڑکی سے قصر نبوت میں داخل ہو سکتا؟ علامہ اقبالؒ نے صحیح کہا ہے :
”محمد ﷺ کے بعد کسی ایسے الہام کا امکان ہی نہیں جس سے انکار کفر کو مستلزم ہو، جو شخص ایسے الہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ اسلام سے غداری کرتا ہے۔....... بانی احمدیت کا استدلال یہ ہے کہ اگر کوئی دوسرا نبی پیدا نہ ہوسکے تو پیغمبر اسلام کی روحانیت نامکمل رہ جائے گی، وہ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں کہ پیغمبر اسلام کی روحانیت میں پیغمبر خیز قوت تھی خود اپنی نبوت کو پیش کرتا ہے، لیکن آپ اس سے پھر دریافت کریں کہ محمد ﷺ کی روحانیت ایک سے زیادہ نبی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ خیال اس بات کے برابر ہے کہ محمد ﷺ آخری نبی نہیں، میں آخری نبی ہوں، جب میں بانی احمدیت کی نفسیات کا مطالعہ ان کے دعوے کی
روشنی میں کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے دعویٰ نبوت میں پیغمبر اسلام کی تخلیقی قوت صرف ایک نبی یعنی تحریک احمدیت کے بانی کی پیدائش تک محدود کر کے پیغمبر اسلام کے آخری نبی ہونے سے انکار کر دیتا ہے اور اس طرح یہ نیا پیغمبر چپکے سے اپنے روحانی مورث کی ختم نبوت پر متصرف ہو جاتا ہے۔“
(حرفِ اقبال ص: )
د :...... اور یہ ”فنا فی الرسول“ کی ”بروزی کھڑکی“ جس سے گزر کر مرزا صاحب نے ”انا محمد“ کا نعرۂ مستانہ بلند کیا، جب ہم اس کی گہرائی میں اتر کر غور کرتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ مرزا صاحب جس طرح منصب رسالت سے نا آشنا ہیں اسی طرح ”فنا فی الرسول“ اور ”سیرت صدیقی“ کے مفہوم سے بھی کورے ہیں۔ ”مقام صدیقی“ صوفیا کی اصطلاح میں ”فنا فی الرسول“ کا آخری مقام تسلیم کیا جاتا ہے، اس کے معنی رسول اللہ ﷺ کے مقابل ابھرنے کے نہیں، بلکہ مٹنے کے ہیں، ”فنا فی الرسول“ کا ادنیٰ مرتبہ یہ ہے کہ اعتقادی طور پر رسول اللہ ﷺ کی ذات عالی کے سامنے امتی کو اپنا وجود اس قدر کوتاہ قامت اور ہیچ نظر آئے کہ اسے وجود کہنا بھی اس کے لئے ننگ و عار کا موجب ہو، پہاڑ کے سامنے ذرہ کی اور بحر محیط کے سامنے قطرہ کی کوئی حیثیت ہو سکتی ہے مگر رسول اللہ ﷺ کے سامنے صرف ایک امتی تو کجا؟ پوری امت کے مجموعی کمالات کی کوئی حیثیت نہیں، اسی بنا پر عارفین نے تصریح کی ہے کہ اگر بالفرض ساری دنیا صدیقوں سے بھر جائے تو ان سب کے کمالات کا مجموعہ بھی کسی ادنیٰ نبی ...... و لیس فیہم دنی ...... کے ادنیٰ کمال کی گرد کو نہیں پاسکتا، مرزا صاحب نے بیسیوں نہیں، سیکڑوں جگہ ”ظل و بروز“ اور ”فنا فی الرسول“ کی اصطلاحات کو پامال کیا ہے، مگر جب آدمی ان کے تعلی آمیز دعووں کی میزان نکالنے
بیٹھتا ہے تو ان کی ساری لفاظی کا نتیجہ صفر نکلتا ہے۔
مرزا صاحب ”فنا فی الرسول“ کے معنی ...... اپنی روایتی خوش فہمی کی بنا پر ...... یہ سمجھتے ہیں کہ ایک امتی اتباع رسول میں یہاں تک ترقی کرتا چلا جائے کہ بالآخر رسول کا صرف مثنی نہیں بلکہ خود رسول بن جائے، اور اسی کو وہ ”ظل و بروز“ اور ”عین محمد“ سے تعبیر کرتے ہیں، اور اپنے بارے میں وہ اس درجہ پر اعتماد ہیں کہ انہیں آنحضرت ﷺ کی سیرت کاملہ ہی نہیں بلکہ آپ ﷺ کا نام، کام اور مقام تک حاصل ہوگیا ہے۔ مگر خود ان کا یہی ادعا ان کے صحیح مقام کو متعین کردیتا ہے کہ وہ ”اتباع رسول“ کے دروازے پر پہنچ کر الٹے پاؤں واپس لوٹ آئے ہیں، اور اتباع رسول کی جنت ارم میں چلنا تو کجا؟ انہوں نے اندر جھانک کر بھی اسے نہیں دیکھا۔ اگر انہیں ”فنائیت“ کا واقعۃً کوئی مقام حاصل ہوتا ، اگر انہیں منصب رسالت کی کچھ بھی معرفت ہوتی اور ایک امتی کا جو صحیح مقام ہے اس کی انہیں ذرا بھی خبر ہوجاتی تو وہ اپنے آپ کو ان تعلی آمیز دعووں کی بلند چوٹی پر کبھی نہ پاتے۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ان کے بلند بانگ دعاوی کے ڈھول میں ہوا کے سوا کچھ نہیں۔
- ۵ : ...... فنا فی الرسول کی اس ”بروزی کھڑکی“ سے یہ بات بھی عیاں ہوتی
ہے کہ مرزا صاحب کے نزدیک دیگر مناصب کی طرح نبوت بھی ایک ایسی چیز ہے، جسے آدمی محنت و مجاہدہ اور اتباع رسول کے زینے سے حاصل کرسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مرزا صاحب نے محدثیت سے لے کر مسیحیت تک کے مدارج طے کرنے کے بعد بزعم خود نبوت کی بام بلند پر قدم رکھا ہے۔ اور اسلامی عقائد میں اس کی تصریح کردی گئی ہے کہ ایسا نظریہ صریحاً کفر اور زندقہ ہے۔
وللتفصیل محل آخر۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ و سلام علی عبادہ الذین اصطفی :
گزشتہ سال آزاد کشمیر اسمبلی نے قادیانیوں کو ایک غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد منظور کر کے عالمی توجہ کو ایک بار پھر ”قادیانی مسئلہ“ کی جانب مبذول کر دیا‘ قادیانیت ابھی اس سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ہاتھ پاؤں ہی مار رہی تھی کہ چند ماہ قبل ایک مضمون مختلف رسائل میں شائع ہوا جس میں مرزا غلام احمد صاحب کی کتابوں میں درج شدہ چند آیات شریفہ کی تحریف کا نوٹس لیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قرآن کریم کی تحریف ظلم عظیم ہے‘ اس لئے ایسی کتابوں کی اشاعت پر پابندی عائد ہونی چاہئے۔ اس مطالبہ سے ”ربوہ“ کے قصر خلافت میں زلزلہ آگیا کہ کہیں پنجاب میں بھی آزاد کشمیر جیسی صورت حال پیدا نہ ہو جائے۔ اس کے تدارک کے لئے مرزائی آرگن روزنامہ ”الفضل“ ربوہ نے ”تحریف قرآن کا الزام اور اس کی نامعقولیت“ کے زیر عنوان ”قادیانی علم الکلام“ کا ایک نیا باب رقم فرمایا ہے‘ یعنی بقول ان کے ”۲۵ نامی گرامی علمائے دین“ کے مضامین‘ تقاریر اور کتب میں درج شدہ ۸۲ آیات میں ۱۳۴ موٹی موٹی غلطیوں کی نشاندہی کرنے کے بعد ارشاد ہوتا ہے :
”کوئی کتاب ایسی نہیں ہے جس میں درج شدہ آیات قرآنی میں کاتب صاحبان اور پروف ریڈر صاحبان کی ”مہربانی“ سے (اور یہ ”مہربانی“ بجائے خود بشری تقاضا کی مرہون ہے۔ ناقل) سرے سے کوئی غلطی ہی نہ ہو۔“
اور یہ کہ :
”کتابت کی چند ایک غلطیوں کو تحریف قرآن قرار دینا سراسر غیر معقول ہے، اور اس کا مقصد فتنہ انگیزی کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔“
”الفضل“ کی اس ساری منطق کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح اور کتابوں میں کتابت کی غلطیاں رہ جاتی ہیں جن کا ذمہ دار مصنف نہیں ہوتا بلکہ کاتب اور پروف ریڈر صاحبان کے بشری تقاضے کی ”مہربانی“ ہوتی ہے، اسی طرح مرزا صاحب نے قرآن کی تحریف نہیں فرمائی، جو محرف شدہ آیات ان کی کتابوں میں موجود ہیں وہ سب قادیانیت پر کاتب صاحبان کا ”احسان“ ہے۔
”الفضل“ کے قارئین کو یہ جواب، جو ”عذر گناہ بدتر از گناہ“ کا ایک نیا ریکارڈ ہے، پڑھ کر مرزائی امت کے دین و دیانت پر ضرور رحم آئے گا، مگر انہیں اس پر کوئی تعجب نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ دجل و تلبیس مرزائیت کے خمیر میں شامل ہے، اور یہ ان کے ”مسیح موعود“ کی مخصوص تکنیک ہے، البتہ ہمیں ـــــــ ”الفضل“ کے مدیر شہیر سے یہ شکایت ضرور رہے گی کہ انہوں نے ”کرے داڑھی والا اور پکڑا جائے مونچھوں والا“ کے مصداق تحریف قرآن کا سارا بار کاتبوں کے کندھے پر ڈال کر حق و انصاف کا خون کیا ہے۔ اگر وہ یہ تاویل کرتے تو
بجا تھا کہ کاتب صاحبان تو خیر غلطیاں کیا ہی کرتے ہیں، مگر کبھی کبھی خود ہمارے حضرت صاحب بھی ”سہو کتابت“ کے عارضہ میں مبتلا ہو جاتے تھے، کیونکہ وہ دوران سر، مراق، ضعف دماغ اور کثرت بول کے دائمی مریض تھے، اور یہ تحفہ انہیں دعوی مسیحیت کے ”انعام“ میں بطور نشان عطا ہوا تھا۔ خود مرزا صاحب لکھتے ہیں:
”ہاں دو مرض میرے ”لاحق حال“ ہیں۔ ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں، اور دوسری بدن کے نیچے کے حصے میں، اوپر کے حصہ میں دوران سر ہے اور نیچے کے حصہ میں کثرت پیشاب ہے، اور دونوں مرضیں اسی زمانہ سے ہیں جس زمانہ سے میں نے اپنا دعوی مامور من اللہ ہونے کا شائع کیا ہے، میں نے ان کے لئے دعائیں بھی کیں مگر منع میں جواب پایا اور میرے دل میں القا کیا گیا کہ ابتدا سے ”مسیح موعود“ کے لئے یہ ”نشان“ مقرر ہے۔“
(حقیقتہ الوحی ص ۳۰۷ روحانی خزائن ج ۲۲ ص ۳۲۰)
بالکل صحیح فرمایا، جھوٹے مسیح کا نشان، خارق عادت مراق اور سلسل البول کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے؟ یہی اس کے ”لاحق حال“ ہے۔ ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:
”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی کی تھی جو اسی طرح وقوع میں آئی، آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا (کیا فرماتے ہیں علمائے مرزائیت اس مسئلہ میں کہ کیا واقعی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
نے مسیح کے ”آسمان سے اترنے“ کی پیش گوئی فرمائی ہے؟ جیسا کہ مرزا صاحب نے تحریر فرمایا ہے؟ یا یہ کہ ”آسمان سے اترنے“ کا لفظ مرزا صاحب نے محض مراقی ترنگ میں لکھ دیا؟ بینوا توجروا۔ ناقل) تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی‘ تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں‘ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی‘ یعنی مراق اور کثرت بول۔“ (دو زرد چادروں کا ترجمہ مراق اور کثرت بول! سبحان اللہ! کتنا خوبصورت اور خوشبودار ترجمہ ہے۔ یا للعجب۔ ناقل) (ملفوظات ج ۸ ص ۴۴۵)
مراق‘ ضعف دماغ‘ ضعف اعصاب‘ دوران سر اور دن میں سو سو بار پیشاب کرنا تو چشم بد دور مرزا صاحب کا مسیحی معجزہ ہوا‘ مزید برآں یہ کہ مرزا صاحب قرآن کے حافظ نہیں تھے‘ اور آیات نقل کرتے وقت شاید ان کو قرآن کریم کی مراجعت کی فرصت بھی کم ہوتی ہوگی‘ اس لئے مرزا صاحب کی کتابوں میں درج شدہ آیات قرآن میں جو غلطیاں ملتی ہیں وہ دراصل مرزا صاحب کے ”مسیحی عارضہ“ کی مرہون ہیں‘ مدیر ”الفضل“ کو چاہئے تھا کہ اپنے ”مسیح موعود“ کی سنت کے مطابق انہیں ”نشان مسیحیت“ قرار دے کر ان پر فخر کرتے‘ مگر صد حیف کہ وہ ”مسیح موعود کے اس عظیم نشان“ کو مرزا صاحب سے چھین کر کاتبوں اور پروف ریڈر صاحبان کے سر منڈھنا چاہتے ہیں۔
اگر انہیں یہ تاویل پسند نہیں تھی‘ تب بھی کاتبوں کے ذمہ سارا بار ڈالنے کا کوئی جواز نہیں تھا‘ بلکہ انہیں جرات رندانہ سے کام لے کر صاف صاف لکھنا چاہئے تھا کہ قرآن کی صحیح عبارت وہی ہے جو مرزا صاحب نے لکھی‘ کیونکہ قرآن
تو آج مرزا صاحب کی بدولت ہی موجود ہے‘ ورنہ وہ تو کبھی کا اٹھ چکا تھا۔ مرزا صاحب ”ازالہ اوہام“ کے حاشیہ میں صفحہ ۲۷۷ پر تحریر فرماتے ہیں کہ قرآن زمین سے اٹھ گیا تھا‘ وہ قرآن کو آسمان پر سے لائے ہیں (روحانی خزائن ص ۴۹۳ ج ۳)۔
ظاہر ہے کہ قرآن کو لانے والا ہی اس کی تصحیح بھی کر سکتا ہے‘ اور یہ بھی بتا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھ میں جو قرآن ہے اس میں فلاں فلاں جگہ غلطی ہے (معاذ اللہ! نقل کفر کفر نباشد۔ ناقل)۔ چنانچہ مرزا صاحب نے یہ منصب بھی اپنے ہاتھ میں رکھا ہے‘ وہ لکھتے ہیں کہ وہ قرآن کی غلطیاں نکالنے کے لئے آئے ہیں جو تفسیروں کی وجہ سے واقع ہو گئی ہیں (ازالہ اوہام ص ۷۰۸ روحانی خزائن ص ۴۸۲ ج ۳)۔
یہی وجہ ہے کہ کشف کی حالت میں مرزا صاحب کو ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ بھی قرآن مجید میں لکھا ہوا نظر آیا (ازالہ اوہام ص ۷۷۔۷۷ روحانی خزائن ص ۱۴۰ ج ۳ حاشیہ)۔ چونکہ مرزائیوں کے نزدیک مرزا صاحب کے کشف کو وحی کا درجہ حاصل ہے‘ اس لئے ہمیں یقین ہے کہ ”الفضل برادری“ اس فقرے کو قرآن کی آیت سمجھتی ہو گی‘ اور اسی بنا پر ان کے نزدیک مکہ اور مدینہ کے ساتھ ”قادیان“ بھی مقدس شہر ہے‘ کیونکہ اسی کشف میں مرزا صاحب نے یہ بھی دیکھا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے ”مکہ‘ مدینہ اور قادیان۔“
الغرض ”الفضل“ کو دعویٰ کرنا چاہئے تھا کہ جس طرح دنیا کی کوئی تفسیر مرزا صاحب کی تصدیق کے بغیر معتبر نہیں‘ اسی طرح قرآن کا کوئی نسخہ صحیح نہیں جب
تک کہ مرزا صاحب اس کے صحیح ہونے کی تصدیق نہ فرمادیں۔ ایک طرف قرآن کو آسمان سے زمین پر لانے اور قرآن کی غلطیاں نکالنے کے بلند بانگ دعوے کرنا اور دوسری طرف ترمیم شدہ آیات کو غریب کاتبوں کے سر دے مارنا، کیا اسی کا نام ”پنجابی مسیحیت“ ہے؟
اور اگر ”الفضل“ کے مدیر محترم مرزا صاحب کو اس منصب سے بھی معزول کرنا چاہتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ کسی ایرے غیرے کے کلام میں نہیں بلکہ مرزائیوں کے ”مسیح موعود“ کے کلام میں اتنی فاحش غلطیاں کیوں در آئیں؟ جب کہ ان کا دعوی ہے کہ :
”میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور عنقریب میرے ہاتھ پر ظاہر ہو گا جو کچھ فرقان سے ظاہر ہوا۔“
(بشری جلد ۲ ص ۱۱۹، تذکرہ ص ۶۷۴)
”اس عاجز کو اپنے ذاتی تجربہ سے یہ معلوم ہے کہ روح القدس کی قدسیت ہر وقت اور ہر دم اور ہر لحظہ بلا فصل ملہم (یعنی مرزا صاحب) کے تمام قویٰ میں کام کرتی رہتی ہے۔“
(حاشیہ آئینہ کمالات ص ۹۴ روحانی خزائن ص ۹۳ ج ۵)
کیسی شرم کی بات ہے کہ ایک طرف ”قرآن ہی کی طرح ہوں“ کہہ کر تقدس کے دعوے کئے جائیں ”روح القدس کی ہر لحظہ معیت“ کا افترا کیا جائے اور دوسری طرف قرآن کی آیتیں مسخ کر کے پیش کی جائیں، اور پوچھنے پر ”کاتب کی غلطی“ کا عذر لنگ پیش کر دیا جائے۔
قرآن کریم، جس کا ایک ایک حرف متواتر ہے، جس کے مطبوعہ نسخے گھر گھر
موجود ہیں اور جس کے سینکڑوں حافظ ہر خطے میں مل سکتے ہیں، جب تمام مرزائی ذریت مل کر بھی اپنی کتابوں میں قرآن کریم کی آیات کا صحیح اندراج کرنے پر پون صدی تک قادر نہ ہو سکی تو ان کے ”ٹیچی ٹیچی“ کی وحی کب قابل اعتبار ہو سکتی ہے؟ اور مرزائی امت دنیا کو مرزا صاحب کی ”وحی“ پر ایمان لانے کی دعوت کس منہ سے دیتی ہے؟ مدیر ”الفضل“ کی خوش فہمی کی داد دیجئے، سوال کیا جاتا ہے کہ آپ کے نام نہاد ”مسیح موعود“ قرآن کی آیات کو ادل بدل کر کیوں تحریر فرماتے ہیں؟ جواب ملتا ہے کہ: ”اس لئے کہ دوسرے لوگوں کی کتابوں میں بھی ایسی غلطیاں سہو کتابت کی بنا پر پائی جاتی ہیں۔“ مدیر ”الفضل“ صاحب! پہلے مرزا صاحب کو مسیحیت کی جلوہ گاہ سے نیچے کھینچ کر عام لوگوں کی صف میں کھڑا کیجئے اور پھر سہو کتابت کی نظیریں پیش کیجئے۔
اس سے بھی قطع نظر اہم سوال یہ ہے کہ اگر بقول ”الفضل“ یہ غلطیاں کاتبوں کی بشریت کے تقاضے کی مرہون ہیں تو قادیان سے ربوہ تک اور مسیح موعود سے مصلح موعود کے دور تک پون صدی کے تمام ایڈیشنوں میں کیوں یہ غلطیاں جوں کی توں محفوظ رکھی گئیں؟ کیا مرزائی امت کو اس طویل مدت میں ایک بھی بالغ نظر پروف ریڈر نہیں ملا جو ان غلطیوں کی اصلاح کر دیتا؟ چلئے آپ کے پروف ریڈر صاحبان کی نظر کمزور تھی، مگر اس کا کیا علاج ہے کہ علمائے امت نے پہلے ایڈیشن ہی سے ان غلطیوں کی نشاندہی کر دی تھی، مگر کیا اس کے باوجود مرزائی امت کو اصلاح اغلاط کی توفیق ہوئی؟ یا کوئی غلط نامہ شائع کیا گیا؟ کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ مرزائی امت ان محرف آیات پر بھی اسی طرح ایمان رکھتی ہے، جس طرح کہ مرزا صاحب کی خود تراشیدہ ”وحی“ پر؟ اور غریب کاتبوں پر الزام
محض دفع الوقتی اور سخن سازی ہے؟ سخن سازی اور سخن پروری کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، مگر مرزائی امت کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے، بقول مرزا صاحب:
”جب انسان حیا کو چھوڑ دیتا ہے تو جو چاہے بکے، کون اس کو روکتا ہے؟“
(اعجاز احمدی ص ۳ روحانی خزائن ج ۱۹ ص ۱۰۹)
ان معروضات سے واضح ہو گیا ہو گا کہ قادیانیت پر تحریف کا الزام محض الزام نہیں، بلکہ ایک کھلی حقیقت ہے اور ”الفضل“ کی منطق محض ابلہ فریبی ہے۔ اس کی مزید توضیح کے لئے علمائے امت نے مرزا صاحب کی نقل کردہ قرآنی آیات میں جن غلطیوں کی نشاندہی کی ہے، ہم ان کی ایک مختصر فہرست پیش کرتے ہیں، اسے سامنے رکھ کر قارئین کو خود فیصلہ کرنا چاہئے کہ طویل مدت سے آیات قرآن پر مسخ و تحریف کی جو مشق ستم جاری ہے یہ قادیانیت کی سوچی سمجھی تحریفی سازش ہے یا اس کا وبال صرف غریب کاتبوں کے سر پر ہے؟ اور یہ کہ جن کتابوں میں قرآن کریم کی کھلی تحریف کو روا رکھا گیا۔ کیا کوئی اسلامی حکومت ان کی اشاعت کی اجازت دے سکتی ہے؟ اور کیا پاکستان کے لئے قرآن کی یہ کھلی توہین قابل برداشت ہے؟
قرآن:
- ۱ : . . . . . ”وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا
بسورة من مثله و ادعوا شهداءکم من دون الله ان کنتم صادقین O فان لم تفعلوا و لن تفعلوا“
(سورہ بقرہ رکوع ۳)
مرزا صاحب:
”وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورة من
مثلہ وان لم تفعلوا ولن تفعلوا"
(سرمہ چشم آریہ حاشیہ ص ۱۰‘ براہین احمدیہ ص ۳۹۵-۳۹۶‘
۵۳۶‘ نور الحق ج ۱ ص ۱۰۹‘ حقیقۃ الوحی ص ۲۴۸)
مرزا صاحب نے قرآن کے خط کشیدہ الفاظ ہضم کر لئے اور ”وان“ کا اضافہ اپنی طرف سے کردیا‘ اور پھر ایک آدھ جگہ نہیں‘ بلکہ چار کتابوں میں کئی جگہ آیت کو بگاڑ کر لکھا‘ کیا متعدد کتب میں یہ حک و لک صرف کاتبوں کا تصرف ہے؟
قرآن:
- ۲ : . . . . . ”قل لئن اجتمعت الانس و الجن علی ان
یاتوا“
(بنی اسرائیل آیت ۸۸)
مرزا صاحب:
”قل لئن اجتمعت الجن والانس علی ان یاتوا“
(سرمہ چشم آریہ ص ۱۰)
قرآن:
- ۳ : . . . . . ”آمنت انہ لا الہ الا الذی آمنت بہ بنو
اسرائیل“
(سورہ یونس آیت ۹۰)
مرزا صاحب:
”آمنت بالذی آمنت بہ بنو اسرائیل“
(اربعین نمبر ۳ ص ۳۵‘ سراج منیر حاشیہ ص ۲۹ روحانی خزائن ص ۳۱ ج ۱۲)
”انہ لا الہ الا“ کے الفاظ زائد سمجھ کر حذف کردیئے اور با کا اضافہ اپنی طرف سے کرکے آیت کی مرمت کردی۔
قرآن:
- ۴ : . . . . . ”هل ينظرون الا ان ياتيهم الله في ظلل من
الغمام“
(سوره بقره ۲۱۰)
مرزا صاحب:
”يوم ياتى ربك فى ظلل من الغمام“
(حقیقۃ الوحی ص ۱۵۴)
پوری آیت میں بدترین تحریف کرکے آیت کا مضمون یکسر مسخ کر دیا، پھر نو سطروں میں اس کا ترجمہ اور تشریح کرکے آیت کے تحریفی کھنڈر پر کاشانہ مسیحیت تعمیر کیا گیا، با ایں ہمہ مدیر ”الفضل“ کی دانش و عقل دیکھئے کہ اسے کاتب کی ”مہربانی“ فرماتے ہیں۔
قرآن:
- ۵ : . . . . . ”ادع الی سبیل ربک بالحكمۃ و الموعظۃ
الحسنۃ وجادلهم بالتی ھی احسن“
(سوره نحل ۱۲۵)
مرزا صاحب:
”جادلهم بالحكمتہ والموعظتہ“
(نور الحق ص ۴۶ ج ١ روحانی خزائن ص ۶۳
ج ٨، تبلیغ رسالت ص ۱۹۴۔۱۹۵ ج ۳)
پوری آیت کی آیت ہی مسخ کردی۔
قرآن:
- ٦ : . . . . . ”يوم تبدل الارض غير الارض“
(سورہ ابراھیم آیت ۴۸)
مرزا صاحب:
”بدلت الارض غیر الارض“
(تحفہ گولڑویہ ص ۱۸۵)
”یوم تبدل“ کو ”بدلت“ سے بدل کر آیت کا مفہوم ہی بدل ڈالا۔
قرآن:
۷ : . . . . . ”لخلق السموات و الارض اکبر من خلق الناس“
(المومن ۵۷)
مرزا صاحب:
”ان خلق السموات و الارض اکبر من خلق الناس“
(ایام الصلح اردو ص ۶۱)
لام حذف اور ”ان“ کا اضافہ‘ اس قسم کی اصلاح مرزا صاحب کی مسیحائی کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔
قرآن:
۸ : . . . . . ”و جعل منہم القردۃ و الخنازیر“
(المائدہ ۶۰)
مرزا صاحب:
”و جعلنا منہم القردۃ و الخنازیر“
(ازالہ اوہام ص ۴۷۴ ج ۱)
”جعل“ کی جگہ ”جعلنا“ لکھ کر قرآن کی غلطی نکالی گئی (معاذ اللہ)۔
قرآن:
۹ : . . . . . ”الم یعلموا انہ من یحادد اللہ و رسولہ فان لہ نار
جہنم خالداً فیھا ذالک الخزی العظیمO"
(التوبہ ۶۳)
مرزا صاحب:
"الم یعلموا انہ من یحادد اللّٰہ و رسولہ یدخلہ ناراً خالداً فیھا ذالک الخزی العظیم"
(حقیقۃ الوحی ص ۱۳۰)
"فان لہ نار جھنم" حذف کرکے اس کی جگہ "یدخلہ ناراً" سے قرآن کی تصحیح کی گئی اور تصحیح شدہ آیت کا ترجمہ بھی فرما دیا تاکہ آئندہ کوئی شخص قرآن میں "فان لہ نار جھنم" پڑھنے کی "غلطی" نہ کرے۔
قرآن:
۱۰ : . . . . . "و جاھدوا باموالکم وانفسکم فی سبیل اللّٰہ"
(التوبہ ۴۱)
مرزا صاحب:
"ان یجاھدوا فی سبیل اللّٰہ باموالھم وانفسھم"
(جنگ مقدس ص ۹۴)
"وجاھدوا" کی جگہ "ان یجاھدوا" اور "کم، کم" کے بجائے "ھم، ھم" اور "فی سبیل اللہ" آخر کے بجائے درمیان میں لاکر پوری آیت ہی کو مسخ کر ڈالا۔
قرآن:
۱۱ : . . . . . "وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ"
(الحج ۵۲)
مرزا صاحب:
"وما ارسلنا من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی الشیطان
فی امنیته"
(ازالہ اوہام ص ۲۹۶‘ آئینہ کمالات ص ۲۱۷، ۲۳۰)
قرآنی لفظ ”من قبلک“ مرزا صاحب کے دعوائے نبوت کے منافی تھا، اس لئے اسے حذف کر کے بقول ان کے ”قرآن کی غلطی“ نکال ڈالی، مگر یہ اصلاح تو اس وقت دی جبکہ موصوف بزعم خود ”مسیح موعود“ اور ”نبی الزماں“ کے منصب پر فائز ہو چکے تھے، اور ”براہین احمدیہ“ کی تالیف کے وقت چونکہ حضور کو اپنی ”نبوت کا علم“ نہیں ہوا تھا، بلکہ اس وقت ”محدث“ کے منصب پر براجمان تھے، اس لئے براہین احمدیہ صفحہ ۳۲۸ میں آپ نے ”ولا محدث“ کے الفاظ بڑھا کر آیت یوں تحریر فرمائی ”و ما ارسلنا من قبلک من رسول و لا نبی و لا محدث“ اور قرآنی آیات کے ساتھ یہ گھناؤنا کھیل مدیر ”الفضل“ کے نزدیک تحریف نہیں، بلکہ ”کتابت کی غلطی ہے۔“ تفو! بر تو . . . . اے چرخ گرداں تفو!
قرآن:
۱۲ : . . . . . ”ولقد اتیناک سبعاً من المثانی والقرآن العظیم“
(الحجر ۸۷)
مرزا صاحب:
”انا اتیناک سبعاً من المثانی والقرآن العظیم“
(براہین احمدیہ ص ۳۰۶)
”ولقد“ کی جگہ ”انا“ رکھ کر قرآن کی اصلاح فرمائی گئی۔
قرآن:
۱۳ : . . . . . ”کل من علیها فان“
(الرحمٰن ۲۶)
مرزا صاحب:
کل شیئ فان"
(ازالہ اوہام ص ۱۳۶)
"من علیھا" کا لفظ شاید مرزا صاحب کے نزدیک نامناسب تھا‘ اسے "شیئ" . سے بدل دیا۔
قرآن:
۱۴ : . . . . . "یاایھا الذین آمنوا ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقانا و یکفر عنکم سیئاتکم و یغفرلکم و اللہ ذوالفضل العظیم"
(الانفال ۲۹)
مرزا صاحب:
"یاایھا الذین آمنوا ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقانا و یکفر عن سیئاتکم و یجعل لم نورا" تمشون بہ"
(آئینہ کمالات اسلام ص ۱۵۵)
قرآن کریم کے خط کشیدہ الفاظ "و یغفرلکم و اللہ ذوالفضل" کی جگہ کسی دوسری آیت کا ٹکڑا "و یجعل لکم نورا تمشون بہ" یہاں ٹانک دیا اور "آئینہ کمالات اسلام" کے بجائے اپنے "کمالات مسیحیت" کا آئینہ ہر ذی فہم کے سامنے کردیا۔
قرآن:
۱۵ : . . . . . ومن کان فی ھذہ اعمی"
(بنی اسرائیل ۷۲)
مرزا صاحب: "من کان فی ھذہ اعمی"
(حقیقۃ الوحی ص ۱۴۷)
آیت کے شروع میں واؤ کا لفظ زائد پا کر اسے حذف کر دیا۔
مندرجہ بالا تفصیل سے موٹی سے موٹی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مثال نمبر (۲) میں ترتیب الٹنے پر، مثال نمبر (۳) میں واؤ کے اضافے پر اور مثال نمبر (۱۵) میں واؤ کے حذف پر ”سہو کتابت“ کا عذر لنگ پیش کیا جاسکتا ہے، جبکہ یہ احتمال بھی قوی ہے کہ یہ مرزا صاحب کا ”سہو مسیحیت“ ہو اور غریب کاتب پر ناحق کا ”احسان“ دھرا گیا ہو، ان تین آیات کے علاوہ بقیہ آیات میں جو تحریفات کی گئی ہیں دنیا کی کوئی عدالت ان کی ذمہ داری کا بار کاتب کے سر نہیں ڈال سکتی، بلکہ یہ مرزا صاحب کی ”مسیحائی“ کا کرشمہ ہے، اور مرزائی امت نے اپنے نبی کی مسیحانہ تحریف کو بطور تبرک محفوظ رکھا ہے۔
اور یہ مرزا صاحب کی تحریف قرآن کا صرف ایک پہلو ہے، اس کا دوسرا پہلو، جو اس سے بھی گھناؤنا ہے، یہ ہے کہ موصوف گورداسپور کے خالص پنجابی ہونے کے باوصف عربی، فارسی، اردو، انگریزی اور ہندی میں الہام سازی کا شغل بھی فرمایا کرتے تھے، اور کیونکہ حضور کی عربی تعلیم کچھ یوں ہی سی تھی، اس لئے عربی الہامات بنانے کے لئے قرآن کریم کی مقدس آیات پر مشق مسیحیت فرمانے کے عادی تھے، قرآن کریم کی آیت کے چند الفاظ میں حذف و ترمیم کرکے اصلاح فرمائی اور اس سے ”الہام“ کشید کر لیا، اور ستم بالائے ستم یہ کہ اس کے ساتھ کسی دوسری زبان کے مہمل فقرے بھی بڑی فیاضی سے ٹانک لئے جاتے۔
قرآنی آیات، اصلاح و ترمیم کے بعد مرزا صاحب کی مسیحی ٹکسال میں ڈھل کر کس طرح ”الہام“ کی شکل اختیار کر لیتی ہیں؟ اگر یہ ایمان سوز منظر دیکھنا ہو تو
مرزا صاحب کی کتاب ”حقیقت الوحی“ صفحہ ۷۰ سے صفحہ ۱۰۸ (روحانی خزائن ص ۳۷ سے ص ۱۱۱ ج ۲۲) تک ملاحظہ فرمائیں، آپ کو معلوم ہو گا کہ ایسی ناپاک تحریف گزشتہ دور کے کسی دجال کو نہیں سوجھی ہوگی، اس کا ایک نمونہ یہاں درج کیا جاتا ہے، پڑھئے اور مرزا صاحب کے ملاعب بالقرآن پر ایمانی غیرت کو ٹٹولئے، اور کسی حافظ سے دریافت فرمائیے کہ اصل آیات کیا تھیں جن کی قطع و برید کر کے مرزا صاحب نے الہام سازی فرمائی ہے:
”واذ یمکر بک الذی کفر (الذین کفروا سے ”الذی کفر“ بنالیا۔ ناقل)‘ اوقدلی یا ھامان (چند الفاظ حذف کرلئے۔ ناقل) ‘لعلی اطلع علی (الی کو ”علی“ سے بدل لیا۔ ناقل) الہ موسی وانی لا ظنہ من الکاذبین‘ تبت یدا ابی لھب وتب‘ ماکان لہ لن یدخل فیھا الا خائفا (قرآن میں جمع کے صیغے ہیں، انہیں واحد کے صیغوں سے بدل کر ”فیھا“ کا اضافہ کرلیا اور اتنی عقل نہیں کہ عربی میں ”دخول“ کا صلہ ”فی“ کہاں آتا ہے۔ ناقل) و ما اصابک فمن اللہ (دو لفظ حذف کر کے ترمیم کرلی۔ ناقل) الفتنہ ھھنا‘ فاصبر کما صبر اولوالعزم (آیت کے الفاظ میں حذف و ترمیم کرلی۔ ناقل)۔“
(حقیقت الوحی ۸۱)
اسی کتاب کے صفحہ ۹۹ سے ایک اور نمونہ دیکھئے جس میں قرآن کریم کی آیات میں اردو، فارسی، اور جاہلی عربی کا پیوند لگا کر ملمع الہام تیار کی گئی ہے:
”ادعونی استجب لکم (آیت کا قطعہ ہے۔ ناقل)‘ دست تو دعائے تو ترحم از خدا‘ زلزلہ کا دھکا‘ عفت الدیار محلھا ومقامھا
(ایک جاہلی شاعر کا مصرعہ ۔ ناقل) 'تتبعہا الرادفہ (ایک آیت کا حصہ ۔ ناقل) 'پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔" الخ
(حقیقت الوحی ص ۹۹)
مدیر "الفضل" مرزا صاحب کے ہاتھ متاع ایمان تو فروخت کر ہی چکے ہیں، اس لئے انہیں ایمان و اسلام کا واسطہ دینا تو لغو ہے، لیکن ان کے دل میں انصاف و دیانت کی کوئی رمق اگر باقی ہے تو میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ فرض کیجئے مرزا صاحب کا قصہ درمیان میں نہ ہوتا اور کوئی دوسرا "مراقی بازگیر" اللہ تعالیٰ کی مقدس کتاب کے ساتھ یہی کھیل کھیلتا تو زندیق یا مجنون کے سوا لغت میں تیسرا لفظ کونسا ہے جو آپ اس کے لئے استعمال کرتے؟ اب انصاف کے دوسرے زینہ پر قدم رکھئے اور فرمائیے کہ جو لوگ آپ کے "مراقی مسیح" کو جھوٹا سمجھتے ہیں، اگر وہ مرزا صاحب کے اس تلعب کو تحریف قرار دے کر اس کے انسداد کا اسلامی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں تو کیا ان کا موقف صرف اس لئے "فتنہ انگیزی" ہے کہ اس سے "الفضل برادری" کے سارے کارخانہ کے بند ہو جانے کا اندیشہ ہے؟ خدا کا غضب! یہ کیسا اندھیر ہے کہ "مسیحیت" کی اوٹ میں آیات الٰہی سے گھناؤنا کھیل کھیلنا "فتنہ انگیزی" نہیں، اور اگر کسی دل جلے مسلمان کی غیرت ذرا انگڑائی لے کر احتجاج کی شکل میں ڈھل جاتی ہے تو "قصر خلافت ربوہ" سے "فتنہ انگیزی، فتنہ انگیزی" کے نقارے پٹ جاتے ہیں؟ اگر مرزا صاحب یا کسی دوسرے صاحب نے یہ حرکت کسی خلیفہ راشد کے زمانہ میں کی ہوتی تو واللہ العظیم! وہ اسی سلوک کا مستحق ہوتا جو "مسیلمہ کذاب" اور "اسود عنسی" سے کیا گیا۔ یہ انگریز بہادر کی اندھیر نگری تھی جس میں مسیحیت و نبوت کے کھوٹے سکے چلتے رہے،
حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم سے مساوات و برتری کے دعوے ہوتے رہے اور انبیا علیہم السلام کی توہین و تذلیل کو ”کارنامہ نبوت“ کی حیثیت دی گئی۔ ”الفضل برادری“ کو مطمئن رہنا چاہئے کہ تقسیم کے بعد ہم ایسے نام نہاد عاشقان رسول اور محبان قرآن کی غیرت و حمیت کو سانپ سونگھ گیا ہے، ان کی دینی حس کا سارا اثاثہ بت عشوہ گر سیاست کی نذر ہوچکا ہے، ان کا ضمیر اغراض و مصالح کی قربان گاہ کی بھینٹ چڑھ چکا ہے، ورنہ خدا کی قسم! اس ملک میں ..... ہاں اسی پاک ملک میں جو قرآن اٹھا اٹھا کر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا واسطہ دے دے کر ہم نے حاصل کیا تھا ..... قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ تلعب، یہ کھیل، یہ تماشہ اور بازیگری نہ ہوتی، قطعاً نہ ہوتی، ہرگز نہ ہوتی، اگر مسلمانوں کا ضمیر اور بخت دونوں آسودہ خواب اور راہی عدم نہ ہوگئے ہوتے ..... کفر کو خوش ہونا چاہئے کہ اسلام خود اپنے گھر میں کسمپرسی اور غربت کے عالم میں ہے۔
بہر حال مرزا صاحب نے قرآن کی لفظی تحریف تو پھر بھی بڑے حزم اور احتیاط کے ساتھ کی ہے، اور بہت سوچ سوچ کر اس وادی پرخار میں قدم رکھا ہے، کیونکہ لفظی تحریف کا ہاتھی مسیحیت کے تنگ دروازے سے بمشکل گزر سکتا تھا، اور الفاظ قرآن میں خیانت کی چوری مسلمانوں کا ہفت سالہ بچہ بھی پکڑ سکتا تھا۔ مرزا صاحب کے تحریفی جوہر اور ”مسیحی کمالات“ قرآن کی تحریف معنوی میں خوب خوب کھلے، مرزا صاحب نے ”تخت مسیحیت“ پر جلوہ افروز ہوکر سب سے پہلے تو اپنے نیاز مندوں سے ”قرآن کی آخری اتھارٹی“ کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا، جس کا مطلب یہ تھا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر صحابہ کرامؓ، تابعین
عظام' ائمہ دین اور پوری امت اسلامیہ کی تفسیر ایک طرف ہو اور مرزا صاحب کی ارشاد فرمودہ تفسیر دوسری طرف ہو تو حق وہی ہے جو مرزا صاحب فرمائیں، کیونکہ مرزا صاحب کی تشریف آوری کا مقصد ہی بقول ان کے قرآن کی ان غلطیوں کا نکالنا تھا جو تفسیروں سے پیدا ہو گئی تھیں، مرزا صاحب کے نیاز مندوں نے بھی انہیں یہ منصب عطا کرنے میں کسی بخل سے کام نہیں لیا، بلکہ مرزا صاحب کی ہر بات پر ”آمنا و صدقنا“ کے خزانے پوری فیاضی سے لٹائے، مرزا صاحب نے دن کو رات یا رات کو دن کہا تو ”نیاز کیشان مسیح موعود“ نے ”سچ ہے“ اور ”بجا فرمایا“ کا غلغلہ بلند کیا، اس کی ایک مثال کی طرف اوپر اشارہ کر چکا ہوں، کیا دنیا کا کوئی دیوانہ ایسا ہو گا جو نہ جانتا ہو کہ قرآن پنجاب میں نہیں بلکہ عرب میں نازل ہوا ہے، مگر مرزا صاحب نے ”حلقہ بگوشان مسیح“ سے فرمایا کہ بتاؤ! قرآن کہاں نازل ہوا؟ عرض کیا ”اللہ و رسولہ اعلم“ ارشاد ہوا ”انا انزلناہ قریباً من القادیان‘ و بالحق انزلنا و بالحق نزل“ (ہم نے اس کو قادیان کے قریب اتارا ہے، اور وہ عین ضرورت کے وقت اتارا ہے اور ضرورت کے وقت اترا ہے۔) فدائیان مسیح موعود بیک زبان بولے ”صدق اللہ و رسولہ“ مرزا صاحب کی یہ ”وحی“ ان کی تصنیف لطیف ”حقیقت الوحی“ کے صفحہ ۸۸ پر درج ہے، اور بین القوسین کا ترجمہ بھی خود مرزا صاحب کے قلم معجز رقم سے نکلا ہے۔ ”مسیح پنجاب“ کے حواریوں نے جب بقائمی عقل و خرد ”وحی الٰہی“ کی روشنی میں دن کو رات اور قرآن کو قادیان کے قریب نازل شدہ تسلیم کر لیا تو اس کے بعد اور کیا باقی رہ جاتا تھا؟ چنانچہ اپنے نیاز مندوں کی دانشمندی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مرزا صاحب نے دین میں الف سے یا تک انقلاب عظیم برپا کر دیا، دین کے تمام مسلمہ حقائق اور قطعی عقائد، جن پر مسلمانوں
کا ایمان ہے، مسیح موعود کی کرشمہ سازی کی نذر ہوگئے، نوبت بایں جا رسید کہ مسلمانوں کا خدا، خدا نہ رہا، اور رسول، رسول نہ رہا، چنانچہ مرزائیوں کے مصلح موعود مرزا بشیر الدین محمود خلیفۃ المسیح الثانی اپنے والد محترم کا دو ٹوک فیصلہ نقل فرماتے ہیں:
”حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نے تو فرمایا ہے کہ ان کا (یعنی مسلمانوں کا) اسلام اور ہے اور ہمارا اور، ان کا خدا اور ہے اور ہمارا اور، ہمارا حج اور ہے ان کا حج اور، اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔“
(الفضل ۲۱؍ اگست ۱۹۱۷ء)
”آپ نے (یعنی مرزا صاحب نے) فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان سے ہمیں اختلاف ہے۔“
(الفضل ۳۰؍ جولائی ۱۹۳۱ء)
اس اجمال کی تفصیل تو کسی دوسری فرصت میں کی جائے گی کہ مرزا صاحب نے اسلام کے آفتاب نصف النہار سے زیادہ روشن حقائق کو کس بیدردی سے جھٹلایا، یہاں ہم موضوع سخن کی رعایت سے ان سینکڑوں آیات میں سے چند آیات بطور مثال پیش کرتے ہیں۔ جن پر مرزا صاحب کی مسیحی تحریف نے مشق ناز فرما کر خون دو عالم اپنے نیاز کیش مریدوں کی گردن پر رکھا ہے۔
(ماہنامہ بینات کراچی محرم الحرام ۱۳۹۴ھ مطابق ۱۹۷۴ء)
فتح مبین
صلح حدیبیہ سے واپسی میں آنحضرت ﷺ پر سورۃ الفتح نازل ہوئی، جس میں اس صلح کو آنحضرت ﷺ کے لئے انعام خصوصی اور فتح مبین قرار دیا گیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ ”فتح مبین“ کی یہ بشارت ان پر نازل ہوئی ہے، ان پر نازل شدہ آیت مع ترجمہ وتفسیر درج ذیل ہے:
مِنْ ذَنْبِكَ وَ مَا تَأَخَّرَ.“
(سورۃ الفتح: ۱)
ترجمہ وتفسیر از مرزا صاحب: ”ہم نے تجھ کو کھلی کھلی فتح عطا فرمائی ہے، یعنی عطا فرمائیں گے، اور درمیان میں جو بعض مکروہات اور شدائد ہیں وہ اس لئے ہیں تا خدائے تعالیٰ تیرے پہلے اور پچھلے گناہ معاف فرمادے۔ یعنی اگر خدائے تعالیٰ چاہتا تو قادر تھا کہ جو کام مدنظر ہے وہ بغیر پیش آئے کسی نوع کی تکلیف کے اپنے انجام کو پہنچ جاتا اور بآسانی فتح عظیم حاصل ہوجاتی، لیکن تکالیف اس جہت سے ہیں کہ تا وہ تکالیف موجب ترقیٴ مراتب ومغفرت خطایا ہوں۔
(تذکرہ ص ۹۳،۹۴ طبع چہارم)
سبحان اللہ! کتنی عمدہ تفسیر ہے، آیت میں مغفرت وغیرہ کو فتح پر مرتب کیا گیا ہے اور مرزا جی اس کی ضد یعنی مکروہات وشدائد پر مرتب کررہے ہیں۔
فضیلت:
قادیانی امت ہر فضیلت و خصوصیت میں مرزا صاحب کو نہ صرف آنحضرت ﷺ کے مساوی قرار دیتی ہے، بلکہ مرزا صاحب کی افضلیت بھی نمایاں کیا کرتی ہے۔ چنانچہ وہ یہاں بھی دعویٰ کرے گی کہ مرزا صاحب کی ”فتح مبین“ کو دو وجہ سے آنحضرت ﷺ پر فوقیت حاصل ہے۔ اول یہ کہ آنحضرت ﷺ کو یہ بشارت منصب نبوت پر فائز ہونے کے اٹھارہ سال بعد ۶ھ میں حاصل ہوئی، اور مرزا صاحب کو منصب نبوت پر فائز ہونے سے اٹھارہ سال پہلے (مرزا محمود صاحب کی تحقیق کے مطابق مرزا صاحب ۱۹۰۱ء میں منصب نبوت پر فائز ہوئے، اور ”فتح مبین“ کی بشارت ان پر اٹھارہ سال پہلے براہین احمدیہ میں نازل ہوچکی تھی)۔ دوم یہ کہ آنحضرت ﷺ اس بشارت سے عمر بھر میں صرف ایک مرتبہ سرفراز ہوئے، اور مرزا صاحب پر دس مرتبہ یہ بشارت نازل ہوئی (دیکھئے تذکرہ طبع چہارم صفحات: ۵۰، ۹۲، ۲۴۶، ۲۷۸، ۲۸۵، ۳۵۶، ۵۱۵، ۶۳۱، ۶۴۸، ۸۵۴) اب بتائیے کس کا مرتبہ بلند تر ہوا؟ نعوذ باللہ من الغباوۃ و الغوایۃ۔
بہر حال مرزا صاحب ایک مرتبہ نہیں بلکہ دس مرتبہ صاحب فتح مبین بن کر آنحضرت ﷺ سے چشم نمائی کر رہے ہیں، آنحضرت ﷺ کی فتح مبین کا نظارہ تو سب نے دیکھا، آئیے ذرا مرزا جی کی ”فتح مبین“ کا بھی نظارہ کرتے جائیں۔
مرزا جی کی پوری زندگی ”فتح مبین“ کی تفسیر تھی اور ان کی شاندار کامیابیوں کے ایک دو نہیں دسیوں میدان تھے، جن کی تفصیل کے لئے ضخیم مجلدات بھی ناکافی ہیں۔ تاہم نہایت اجمال کے ساتھ چند اشارے یہاں بھی کر دینا مناسب ہوگا۔
پہلا میدان: دعاوی
مرزا جی نے جو معرکہ سب سے پہلے سر کیا، اور اولین و آخرین کو مات دے کر فتح مبین کا علم بلند کیا وہ ان کے دعاوی کا وسیع میدان ہے۔ ”دعاویٰ مرزا“ کے نام سے متعدد رسائل شائع ہو چکے ہیں، تفصیل کے لئے ناظرین ان کی مراجعت فرمائیں، البتہ اس میدان میں مرزا جی کی ”فتح مبین“ کا نظارہ کرنے کے لئے چند نکات کو ملحوظ رکھیں۔
نکتہ اول: بسیط و مرکب:
مرزا جی سے قبل جن مدعیان دعوت و ارشاد نے مسند تقدس پر جلوہ افروز ہو کر خلق خدا کو اپنی جانب مائل کیا، ان سب نے ایک دو بسیط دعوؤں پر قناعت کر لی، کسی نے نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا، کسی نے الوہیت اور خدائی کا ...... کوئی خدا کا بروز بنا، کوئی مسیح کا ...... کسی نے مہدویت کی مسند آراستہ کی، کسی نے حلول و ظہور کا ”باب“ کھولا، لیکن ہمارے مرزا جی کی ہمت بلند تھی جو کسی ایک آدھ دعویٰ پر قناعت نہ کر سکی بلکہ آپ نے ان تمام دعاوی کو جمع کر لیا جو آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک کسی سچے جھوٹے مدعی نے کئے، یا کرے گا۔ ملل و نحل کی کتابیں کھولو! اور دنیا کے تمام بانیانِ مذاہب (خواہ وہ سچے ہوں یا جھوٹے) کے دعاوی کو ایک ایک کر کے پیش کرتے جاؤ، ہم ہر ایک کے مقابلہ میں مرزا جی کا دعویٰ پیش کرتے جائیں گے۔ اس کے باوجود ہمارے مرزا جی کے دعاوی کا وسیع خزانہ ختم نہیں ہوگا۔ تم آدم علیہ السلام سے محمد ﷺ تک کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کو پیش کرو گے تو اس کے مقابلہ
میں مرزا جی کا صرف ایک شعر کافی ہوگا:
ہر رسولے نہاں پہ پیراہنم
(درثمین فارسی ص:۱۶۵)
(میری آمد سے ہر نبی زندہ ہوگیا، ہر رسول میرے پیراہن میں چھپا ہوا ہے...... ترجمہ از ناقل)
انصاف کرو کہ ”ہر نبی“ اور ”ہر رسول“ کے لفظ سے کوئی نبی اور کوئی رسول باہر رہا؟ پیش کرو کہ تاریخ نبوت میں کسی عظیم الشان رسول نے کبھی اتنا بلند دعویٰ کیا ہو؟
تم آنحضرت ﷺ کے مقدس صحابہ کو پیش کرو گے تو اس کے مقابلہ میں مرزا جی کا ایک فقرہ کافی ہوگا:
”میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکر کے درجہ پر ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکر کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۲۷۸، ترک مرزائیت ص:۱۸)
تم خانوادۂ اہل بیت کے گل سرسبد کو پیش کرو گے تو مرزا صاحب فرمائیں گے:
(نزول مسیح ص:۹۹، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۴۷۷)
تم کسی بڑے سے بڑے نبی، ولی، صدیق، قطب، مجدد اور محدث کو پیش کرو گے تو اس کے مقابلہ میں مرزا جی کا ایک جملہ کافی ہوگا:
”ان قدمی هذه على منارة ختم عليها كل رفعة.“ (یعنی یہ میرا قدم ایک ایسے منارہ پر ہے جو اس پر ہر ایک بلندی ختم کی گئی ہے)۔ (خطبہ الہامیہ ص: ۷۰، روحانی خزائن ج: ۱۶ ص: ۷۰)
”آسمان سے کئی تخت اترے مگر سب سے اونچا تیرا تخت بچھایا گیا۔“ (تذکرہ ص: ۳۳۹ طبع چہارم)
کوئی فرعون ”انا ربکم الاعلیٰ“ کا دعویٰ کرتے ہوئے سامنے آئے گا، تو مرزا جی ”انت اسمی الاعلیٰ“ کا نعرہ لگاتے ہوئے اس کے ساتھ بھی پنجہ آزمائی کے لئے حاضر ہوں گے۔ ملاحدہ باطنیہ کے پراسرار دعاوی پیش کئے جائیں گے تو مرزا جی کے پاس بھی دمشق سے قادیان اور دجال سے مولوی تک کے باطنی حربے موجود ہیں۔ تیرہ صدیوں کے مسیحان کذاب اور نام نہاد مہدیان ضلالت کی فہرست پیش کی جائے تو مرزا جی ایک ایک کا توڑ کرنے کے لئے ”انا المسیح و انا المہدی“ کا نعرہ مستانہ بلند کرتے ہوئے میدان میں نکلیں گے۔ صوفیاء کی شطحیات اور سکریہ کلمات پیش کرو گے، تو ان سے بڑھ کر مرزا جی سے سنو گے:
”اتانی ما لم یؤت احدا من العالمین“۔
(حقیقۃ الوحی ص: ۱۰۷، روحانی خزائن ج: ۲۲ ص: ۱۱۰)
ہندوؤں کا دعویٰ تناسخ سامنے لاؤ گے تو مرزا جی سے ”میں کرشن ہوں، رودر گوپال ہوں، امین الملک جے سنگھ بہادر ہوں“ کا جواب سن کر جاؤ گے۔
عیسائی حضرات الوہیت مسیح کا دعویٰ کریں گے تو مرزا جی کا ایک لفظ سن کر مغلوب ہو جائیں گے: ”آواہن (خدا تیرے یعنی مرزا جی کے) اندر اتر آیا“۔ وہ ابنیت مسیح کا نظریہ پیش کریں گے تو مرزا جی انہیں خدائی فرمان: ”انت منی بمنزلۃ
ولدی ، بمنزلۃ اولادی‘‘ سنا کر پچھاڑ دیں گے۔ خیر کہاں تک گناتا چلا جاؤں۔ مختصر یہ کہ دنیا کے کسی مدعی کا دعویٰ ایسا نہیں جو ہمارے مرزا جی بہادر کے کشکول دعاوی میں موجود نہ ہو، لیکن مرزا جی کی اوج کمال کا یہ تصور بھی ناقص ہے، انصاف یہ ہے کہ ان کے بعض ادعائی مقامات رفیعہ تک اولین و آخرین میں سے نہ کسی کی رسائی کبھی ہوئی اور نہ ہوگی۔ مثلاً دنیا میں اہل تناسخ کا غلغلہ تو بلند رہا، لیکن آج تک مرزا جی جیسا یہ دعویٰ کس نے کیا؟:
نیز ابراہیم ہوں، نسلیں ہیں میری بے شمار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن
ج:۲۱ ص: ۱۳۳، درثمین ص ۱۲۳)
ایک ہی جون میں چار جونیں بدلنے اور بے شمار نسلیں پیدا کرنے کی نظیر کون پیش کرسکتا ہے؟ مزید سنئے!
ہوں بشر کی جائے نفرت، اور انسانوں کی عار
(براہین پنجم ص: ۹۷، روحانی خزائن ج:۲۱ ص: ۱۲۷)
کیا انسانی تاریخ میں کسی ایسے ’’کرم خاکی‘‘ کی مثال پیش کر سکتے ہو؟ جس نے آدم زاد نہ ہونے کے باوجود نبوت و رسالت اور مسیحیت و مہدویت کا دعویٰ کیا ہو اور اس طرح وہ ’’بشر کی جائے نفرت‘‘ اور ’’انسانوں کی عار‘‘ کے مرتبۂ علیا تک پہنچا ہو؟ آج تک کس نے دعویٰ کیا کہ میں بیت اللہ ہوں ، حجر اسود ہوں، خدا کی مانند ہوں، خدا کی توحید و تفرید ہوں۔ اور کانّ اللہ نزل من السمآء کا باپ ہوں؟ وغیرہ وغیرہ۔
الغرض دعاوی کے میدان میں ہمارے مرزا جی کی ”فتح مبین“ کا پہلا کھلا کھلا نشان یہ ہے کہ ان کے مرکب دعاویٰ کی نظیر پیش کرنے سے سب عاجز ہیں، ان جیسا مدعی نہ ہوا، نہ ہوگا، نہ آیا، نہ آئے گا۔
دوسرا نکتہ : جامع الاضداد:
دعاوی کے میدان میں سب کو شکست دے کر مرزا جی نے ”فتح مبین“ کا پھریرا کیسے اڑایا؟ اس کو سمجھنے کے لئے دوسرا نکتہ یہ بھی سامنے رکھنا چاہئے کہ انسانی تاریخ کے تمام مدعیوں نے (خواہ وہ صادق ہوں یا کاذب) یہ احتیاط ملحوظ رکھی کہ ان کا دعویٰ تضاد اور تناقض کے کانٹوں میں الجھ کر نہ رہ جائے۔
کسی بانیٔ مذہب نے بطور دعویٰ ایسی دو باتیں کہنے کی جرأت نہیں کی، جو عقل و شرع یا کم از کم اس کے مسلمہ عرف کے مطابق ایک دوسری کی ضد ہوں۔ میدانِ دعاویٰ میں یہ معرکہ صرف ہمارے جامع الاضداد مرزا جی نے سَر کیا ہے، اور حق یہ ہے کہ بڑی جوانمردی سے سَر کیا ہے۔ مرزا صاحب کی یہ جامعیت بجائے خود ایک ضخیم کتاب کا موضوع ہے، تاہم اس کی وضاحت کے لئے یہاں چند مثالیں پیش کردینا کافی ہے۔
مثال اول : مرد و عورت:
عقلاً و شرعاً مرد اور عورت دو متبائن اصناف ہیں۔ کسی بانیٔ مذہب کو یہ حوصلہ نہ ہوا کہ بقائمی عقل و خرد وہ اپنے دعویٰ کی بنیاد مرد سے عورت اور عورت سے مرد بننے کے فلسفہ پر رکھے، مگر ہمارے مرزا جی نہ صرف یہ کہ بیک وقت مریم اور ابن مریم ہیں بلکہ ان کے دعوائے مسیحیت کا تمام تر انحصار اسی فلسفہ پر ہے، وہ بڑی بلند ہمتی سے
”مرزا غلام احمد سے مریم تک“ اور ”مریم سے ابن مریم تک“ کے تمام مراحل بطور استعارہ طے فرماتے ہیں اور پھر بصد شانِ رعنائی و زیبائی سچ مچ ”مسیح ابن مریم“ کی حیثیت سے مسند مسیحیت پر رونمائی فرما کر لوگوں کو ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں۔ اس ”استعاراتی فلسفہ“ کی تشریح موصوف نے نزول المسیح، کشتیٔ نوح (ص:۴۶، ۴۷، ۴۸) روحانی خزائن (ج:۱۹ ص:۵۰) اور حاشیہ حقیقۃ الوحی وغیرہ میں فرمائی ہے۔ تفصیل وہاں دیکھ لی جائے، البتہ خلاصہ ان الہامی رموز و اسرار کا یہ ہے کہ وہ غلام احمد سے مریم بنے ، دو برس تک مریمی شان سے پردہ میں نشو ونما پاتے رہے، دو سال بعد ان میں عیسیٰ کی روح پھونکی گئی، استعارہ کے رنگ میں حاملہ ہوئے، دس مہینہ بعد درد زہ ہوا، وضع حمل ہوا، اور پھر مدت تک مریمی صفات کی پرورش میں رہے، تا آنکہ سچ مچ عیسیٰ ابن مریم بن گئے۔ چونکہ خود مرزا صاحب کی تصریح کے مطابق یہ اسلام کی تیرہ صد سالہ تاریخ کا منفرد اور اچھوتا واقعہ ہے، اس لئے تسلیم کرنا چاہئے کہ اس پیچیدہ فلسفہ کی اختراع میں انہیں سب عقلا پر ”فتح مبین“ حاصل ہے۔
مثال دوم: حقیقت در استعارہ:
مرزا صاحب گزشتہ الہامی انکشاف میں تصریح فرماتے ہیں کہ ان کا غلام احمد سے عیسیٰ بن مریم تک پہنچنے کے لئے نسوانی مراحل طے کرنا بطور استعارہ تھا، اور اہل علم خوب جانتے ہیں کہ استعارہ اور حقیقت دو متبائن اور متضاد چیزیں ہیں، لہٰذا اگر مرزا صاحب کا مسیح بن مریم ہونا محض استعارہ ہے تو واقعۃً وہ مسیح نہیں، نہ اس پر احکام واقعیہ مرتب ہو سکتے ہیں، اور اگر وہ سچ مچ مسیح ابن مریم ہیں تو اس کو استعارہ کہنا صحیح
نہیں، مگر یہ بھی ان کی ”فتح مبین“ کا اعجوبہ ہے کہ وہ غلام احمد سے عیسیٰ بن مریم بننے کے درمیانی مراحل کو استعارہ فرماتے ہیں اور اسے سچ مچ کی حقیقت واقعہ قرار دے کر اس پر ایمان لانا بھی فرض قرار دیتے ہیں، ان دو متضاد دعوؤں کو ایک ساتھ نبھانا یہ بھی ہمارے مرزا جی بہادر کی ”فتح مبین“ ہے۔
مثال سوم: وحی اور سادہ لوحی:
مرزا صاحب اپنی پہلی تصنیف براہین احمدیہ کی تالیف سے کافی مدت پہلے مکالمہ، مخاطبہ، وحی اور الہام کی نعمت سے سرفراز ہوچکے تھے، اور یہ کتاب انہوں نے مأمور من اللہ، مجدد، ملہم اور مثیل مسیح بن مریم کی حیثیت میں تالیف فرمائی تھی۔
(مجموعہ اشتہارات ج:۱ ص:۲۳)
نیز اس کتاب کی عظیم ترین منقبت یہ ہے کہ وہ (عالم وجود میں آنے سے تقریباً پندرہ سولہ سال پہلے) آنحضرت ﷺ کے ملاحظۂ عالی سے گزری، آپؐ نے اسے بے حد پسند کیا، اور مرزا صاحب نے آپؐ کو اس کا نام ”قطبی“ بتایا جس کی تعبیر یہ تھی کہ ”وہ ایسی کتاب ہے کہ قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے جس کے کامل استحکام کو پیش کرکے دس ہزار روپے کا اشتہار دیا گیا ہے“۔
(براہین احمدیہ حصہ سوم ص:۲۴۸، حاشیہ در حاشیہ
مندرجہ روحانی خزائن ج:۱ ص:۲۷۴، ۲۷۵)
مرزا صاحب نے اس ”قطبی“ میں وہ تمام الہامات بھی درج کردیئے ہیں جن کو وہ آئندہ اپنے دعوؤں کے ثبوت میں پیش کرتے رہے، اور ساتھ ہی یہ بھی لکھ دیا:
هُوَ الَّذِيْ أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَىٰ وَ دِيْنِ الْحَقِّ
لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهِ۔ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے، وہ غلبہ مسیح علیہ السلام کے ذریعہ ظہور میں آئے گا، اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع اقطار میں پھیل جائے گا۔“
(براہین احمدیہ ص: ۴۹۸، ۴۹۹، حاشیہ در حاشیہ
مندرجہ روحانی خزائن ج:۱ ص : ۵۹۳)
اس کتاب کی تالیف کے دس بارہ سال بعد آپ نے فتح اسلام، توضیح مرام اور ازالہ اوہام نامی رسائل لکھے جن میں آپ نے یہ الہامی دعویٰ فرمایا:
”خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے میرے پر کھول دیا ہے کہ مسیح کے دوبارہ آنے کا قرآن شریف میں تو کہیں ذکر نہیں، قرآن شریف تو ہمیشہ کے لئے اس کو دنیا سے رخصت کرتا ہے، البتہ بعض حدیثوں میں جو استعارات سے پُر ہیں، مسیح کے دوبارہ دنیا میں آنے کے لئے بطور پیشگوئی بیان کیا گیا ہے، سو ان حدیثوں کے سیاق و سباق سے ظاہر ہے کہ اس جگہ درحقیقت مسیح ابن مریم کا دوبارہ دنیا میں آجانا ہرگز مراد نہیں، بلکہ یہ ایک لطیف استعارہ ہے، جس سے مراد یہ ہے کہ کسی ایسے زمانہ میں جو مسیح ابن مریم کے زمانہ کا ہم رنگ ہوگا، ایک شخص اصلاح خلائق کے لئے دنیا میں آئے گا جو طبع اور وقت اور اپنے منصبی کام میں مسیح کا ہم رنگ ہوگا....... اب جو امر کہ خدا تعالیٰ نے میرے پر منکشف کیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ مسیح موعود میں ہی ہوں۔“
(ازالہ اوہام ص:۳۷، ۳۸، روحانی خزائن ج:۳ ص:۱۲۱)
مرزا صاحب کے پہلے موقف اور اس جدید انکشاف میں کھلا تضاد تھا، اس لئے سوال ہوا کہ آپ کو مسیح موعود بنانے والے الہامات تو ”براہین“ میں ہی ہو چکے تھے، وحی الٰہی بھی نازل ہوتی تھی، جب آپ قطب ستارہ جیسی غیر متزلزل اور مستحکم کتاب اسلام کی حقانیت پر تصنیف فرما رہے تھے اس وقت آپ پر یہ ”انکشاف“ کیوں نہ ہوا؟ اس کے جواب میں حضرت مسیح الزماں فرماتے ہیں:
”میں نے ”براہین“ میں جو کچھ مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کا ذکر لکھا ہے، وہ ذکر صرف ایک مشہور عقیدہ کے لحاظ سے ہے جس کی طرف آج کل ہمارے مسلمان بھائیوں کے خیالات جھکے ہوئے ہیں، سو اسی ظاہری اعتقاد کے لحاظ سے میں نے ”براہین“ میں لکھدیا تھا کہ ”میں صرف مثیل موعود ہوں اور میری خلافت صرف روحانی خلافت ہے، لیکن جب مسیح آئے گا تو اس کی ظاہری اور جسمانی دونوں طور پر خلافت ہوگی۔ یہ بیان جو ”براہین“ میں درج ہوچکا ہے، صرف اس سرسری پیروی کی وجہ سے ہے جو ملہم کو قبل از انکشاف اصل حقیقت اپنے نبی کے آثار مرویہ کے لحاظ سے لازم ہے، کیونکہ جو لوگ خدا تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے، اور اپنی طرف سے کوئی دلیری نہیں کر سکتے۔“
(ازالہ ص: ۱۹۷، ۱۹۸، روحانی خزائن ج: ۳ ص: ۱۹۶)
جواب کا خلاصہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کا مشہور عقیدہ (جو صدر اول سے آج تک متواتر چلا آتا ہے) یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں، وہی دوبارہ بنفس نفیس تشریف لائیں گے۔ نیز نبی ﷺ کے آثار مرویہ بھی اسی مشہور عقیدہ کو بیان
کرتے تھے، اُدھر اس خاکسار مُلہم کو اصل حقیقت کا علم نہیں ہوا تھا اس لئے ہم نے براہین میں مسلمانوں کا مشہور عقیدہ لکھ دیا۔
مرزا صاحب کا یہ جواب اگر چہ بڑا فکر انگیز ہے، لیکن افسوس ہے کہ اس سے ان کے تضاد کا معمہ حل نہیں ہوا، اس لئے انہیں اس پر توجہ دلائی گئی تو جو جواب ارشاد ہوا وہ ”جواب تلخ مے زیبد لب لعل شکر خارا“ کا اچھا نمونہ ہے، فرماتے ہیں:
”اس وقت کے نادان مخالف بدبختی کی طرف ہی دوڑتے ہیں، اور شقاوت سر پر سوار ہے، باز نہیں آتے، کیا کیا اعتراض بنا رکھے ہیں، مثلاً کہتے ہیں کہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرنے سے پہلے ”براہین احمدیہ“ میں عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا اقرار موجود ہے، اے نادانو! اپنی عاقبت کیوں خراب کرتے ہو، اس اقرار میں کہاں لکھا ہے کہ یہ خدا کی وحی سے بیان کرتا ہوں؟ (حضرت! جوش غضب میں آپ کو یاد نہیں رہا، براہین احمدیہ کا صفحہ ۴۹۸، ۴۹۹ کھول کر دیکھ لیجئے، وہاں آنجناب نے قرآن کی آیت کے حوالے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری ذکر کی ہے، ہاں قرآن کو ”خدا کی وحی“ نہ سمجھتے ہوں تو دوسری بات ہے...... ناقل) اور مجھے کب اس بات کا دعویٰ ہے کہ میں عالم الغیب ہوں۔ (عالم غیب کا نہیں لیکن وما ینطق عن الھویٰ کا دعویٰ تو تھا، خدا سے وحی پانے والا غلط عقیدے لکھے؟ کتنی شرم کی بات ہے...... ناقل) جب تک مجھے خدا نے اس طرف توجہ نہ دی اور بار بار نہ سمجھایا (بار بار سمجھانے کی ضرورت کیوں ہوئی، خدا کا ایک بار سمجھانا کافی نہیں ہوتا؟...... ناقل) کہ تو مسیح موعود ہے اور عیسیٰ فوت ہوگیا ہے،
تب تک میں اسی عقیدہ پر قائم تھا جو تم لوگوں کا عقیدہ ہے۔ اسی وجہ سے کمال سادگی سے میں نے حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کی نسبت براہین میں لکھا، جب خدا نے مجھ پر اصل حقیقت کھول دی تو میں اس عقیدہ سے باز آ گیا، میں نے بجز کمال یقین کے جو میرے دل پر محیط ہو گیا، اور مجھے نور سے بھر دیا، اس رسمی عقیدہ کو نہ چھوڑا، حالانکہ اسی براہین میں میرا نام عیسیٰ رکھا گیا تھا اور مجھے خاتم الخلفاء ٹھہرایا گیا تھا، اور میری نسبت کہا گیا تھا کہ تو ہی کسر صلیب کرے گا۔ (حضرت! سوال بھی تو یہی تھا، آپ جواب دے رہے ہیں یا سوال دہرا رہے ہیں...... ناقل) اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ : ”ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“۔ (جب آپ کو بتا دیا گیا تھا کہ آپ ہی اس آیت کے مصداق ہیں تو اس بتا دینے کے بعد آپ نے اس آیت کا مصداق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کو کیوں قرار دیا؟...... ناقل) تاہم یہ الہام جو براہین احمدیہ میں کھلے کھلے طور پر درج تھا خدا کی حکمت عملی نے میری نظر سے پوشیدہ رکھا اور اسی وجہ سے باوجود یکہ میں براہین احمدیہ میں صاف اور روشن طور پر مسیح موعود ٹھہرایا گیا تھا، مگر پھر بھی میں نے بوجہ اس ذہول کے جو میرے دل پر ڈالا گیا حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کا عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا، پس میری کمال سادگی اور ذہول پر یہ دلیل ہے کہ وحی الہی مندرجہ براہین احمدیہ تو مجھے مسیح موعود بناتی تھی۔ مگر میں نے اس رسمی عقیدہ کو براہین
میں لکھ دیا، میں خود تعجب کرتا ہوں کہ میں نے باوجود کھلی کھلی وحی کے جو براہین احمدیہ میں مجھے مسیح موعود بناتی تھی کیونکر اس کتاب میں یہ رسمی عقیدہ لکھ دیا۔
پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شد و مد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے، اور میں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا، جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے تب تواتر سے اس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے...... خدا نے میری نظر کو پھیر دیا، میں براہین کی اس وحی کو نہ سمجھ سکا کہ وہ مجھے مسیح موعود بناتی ہے، یہ میری سادگی تھی جو میری سچائی پر ایک عظیم الشان دلیل تھی، ورنہ میرے مخالف مجھے بتلاویں (جی نہیں آپ کے مخالف کیوں بتائیں، ماشا اللہ آپ خود ہی اپنا سارا کچا چٹھا کھول رہے ہیں ”ہوئے تم دوست جس کے اس کا دشمن آسماں کیوں ہو؟“...... ناقل) کہ میں نے باوجودیکہ براہین احمدیہ میں مسیح موعود بنایا گیا تھا بارہ برس تک یہ دعویٰ کیوں نہ کیا؟ اور کیوں براہین میں خدا کی وحی کے مخالف لکھ دیا؟...... پس وہ الہامات جو میری بے خبری کے زمانے میں مجھے مسیح موعود قرار دیتے ہیں...... اگر وہ میرا افترا ہوتے تو میں اسی براہین میں ان سے فائدہ اٹھاتا اور اپنا دعویٰ پیش کرتا، اور کیونکر ممکن تھا کہ میں اسی براہین میں یہ بھی لکھ دیتا کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئے گا، ان دونوں تناقض مضمونوں کا ایک ہی کتاب میں جمع
ہوتا (مرزائی امت گواہ رہے کہ حضرت صاحب اپنی کتاب میں تناقض کا کھلا اعلان فرمارہے ہیں ...... ناقل) اور میرا اس وقت مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہ کرنا ایک منصف جج کو اس رائے کے ظاہر کرنے کے لئے مجبور کرتا ہے کہ درحقیقت میرے دل کو اس وحی الٰہی کی طرف سے غفلت رہی جو میرے مسیح موعود ہونے کے بارے میں براہین احمدیہ میں موجود تھی، اس لئے میں نے ان متناقض باتوں کو براہین میں جمع کر دیا۔“
(اعجاز احمدی ص:۶،۷،۸، روحانی خزائن ج:۱۹ص:۱۱۳،۱۱۴)
جواب کا حاصل یہ کہ مرزا صاحب کی فطرتی سادگی، غفلت و ذہول اور بے خبری بارہ برس تک اللہ تعالیٰ کی صاف، روشن اور کھلی کھلی وحی کا مدعا پانے سے قاصر رہی ...... اُدھر اللہ تعالیٰ کی متواتر وحی بارہ سال تک انہیں مسیح موعود کے منصب سے آگاہ کرتی رہی، اِدھر مرزا صاحب کی البیلی سادگی وحی الٰہی کے مخالف لکھنے لکھانے پر بضد رہی ...... یوں دو متناقض مضمونوں کے ایک جگہ جمع ہونے کی ذمہ داری مرزا صاحب پر نہیں بلکہ ان کی روایتی غفلت اور مدہوشی پر ہے، اور یہ ان کے کذب وافترا کی نہیں بلکہ صدق وراستی کا اعجاز ہے۔ (جل جلالہ)
اس طویل اقتباس اور اس کی تلخیص سے مقصد صرف مرزا صاحب کی جامعیت اضداد کا دکھانا ہے، تاریخ وسیرت کے دفتر کھنگالو! مگر تمہیں کسی ایسے مدعی وحی والہام کی نظیر نہیں ملے گی، جو ”وحی اور سادہ لوحی“ کے شیشہ وسنگ کا جامع ہو، کیا اس سادہ لوحی اور غفلت و بے خبری کی نظیر دنیا کی تاریخ پیش کرسکتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی صاف، صریح اور کھلی کھلی وحی کے باوجود کوئی صاحب وحی بارہ برس تک اپنے منصب سے بے خبری کا شکار رہا ہو؟ اور بارہ برس بعد چونک کر وہ خدا سے کہے: ”میں خود تعجب
کرتا ہوں کہ باوجود بار بار کی صریح، روشن اور کھلی کھلی وحی کے میں آپ کا مدعا نہیں سمجھا تھا، معاف کیجئے! فقیر کو کچھ ذہول اور بھول کا عارضہ ہے۔“ یعنی:
لگا کہنے: کس کا یہ تازہ لہو ہے؟
کسی نے کہا: جس کا وہ سر پڑا ہے!
کہا: بھول جانے کی کیا میری خو ہے!
آپ نے باقل اور شیخ چلی جیسے عاقلوں کے لطیفے ضرور پڑھے سنے ہوں گے، لیکن الہام و وحی اور نبوت و رسالت کا یہ درد ناک تماشہ کس نے دیکھا سنا ، پنجاب کو چودھویں صدی کا مجدد، مسیح اور نبی ملا بھی تو قادیاں کا وہ فرد یکتا جو بارہ اور بائیس برس تک بقول خود نشہ ذہول و غفلت میں خدا کا مطلب ہی نہیں سمجھا...... حیف ہے اس وحی پر جو صاحب وحی کو اندھیرے میں رکھے، اور تف ہے اس نبوت پر جس کا حامل، بائیس برس تک خود گم کردہ راہ رہے...... مرزا جی کے ان لطائف پر ظاہر بینوں کو ہنسی آئے گی، لیکن جو لوگ وحی الہی کے تقدس اور نبوت و رسالت کی رفعتوں سے آشنا ہیں وہ ان لطائف کو سن کر خون کے آنسو روئیں گے، کہ قادیاں کے ان مسیح صاحب نے ان مقدس اصطلاحات کی کیسی مٹی پلید کی، اور انہیں کتنی بے دردی سے پامال کر ڈالا......
فاللہ المستعان و الیہ المشتکی۔
مثال چہارم: تجدید اور شرک:
گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ مرزا صاحب ایک مدت تک عیسیٰ علیہ السلام
کی حیات اور ان کے رفع و نزول کے قائل رہے، اور یہی عقیدہ انہوں نے آیت قرآن، آثار نبویہ اور عقیدۂ امت مسلمہ کی روشنی میں اپنی ”قطبی“ میں درج کیا، لیکن اپنی عمر عزیز کی پچاس بہاریں دیکھنے کے بعد جب آپ نے خود مسند مسیحیت بچھائی تو سب سے پہلا کام یہ کیا کہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ کو شرک، الحاد، تحریف اور تفسیر بالرائے کا خطاب دے کر نہ صرف تیرہ صدی کی امت کو مشرک وملحد قرار دیا بلکہ اپنی سابقہ عمر پر بھی یہی فتویٰ جاری فرمایا، مرزا صاحب کے اس بے نظیر تضاد کا حل روزنامہ ”الفضل“ نے یہ نکالا ہے:
”حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ ماننا شرک ہے، لیکن پہلے براہین احمدیہ میں خود یہ عقیدہ بیان کر چکے ہیں، اب اگر کوئی شخص کہے کہ پھر آپ بھی شرک کے مرتکب ہوئے ہیں تو ہمارا یہی جواب ہوگا کہ ہرگز نہیں، آپ نے اس وقت یہ خیال ظاہر کیا تھا جب قرآن کریم اور الہام الٰہی سے وضاحت نہیں ہوئی تھی، شرک کے مرتکب وہ ہیں جو اس وضاحت کے بعد ایسا کرتے ہیں۔“
(۹/ جولائی ۱۹۳۸ء، قادیانی مذہب فصل دوم طبع جدید ص:۲۰۳)
الفضل کا مدعا یہ ہے جس طرح مرزا صاحب کو بارہ سال تک کھلی کھلی وحی الٰہی کا مفہوم ذہن نشین نہیں ہوا تھا، اسی طرح آپ شرکیہ عقیدہ کو بھی بصد شان تجدید اسلام ہی سمجھتے رہے، ”اس لئے شرک کے مرتکب ہرگز نہیں ہوئے“۔ بارہ سال بعد مرزا صاحب پر الہام کا مفہوم کھلا اور مجدد سے مسیح بنے تو اسلامی عقیدہ شرک میں تبدیل ہوگیا...... سبحان اللہ! کیا دقائق و معارف ہیں، الفضل کی تصریح سے ایک اور عقدہ بھی کھلا وہ یہ کہ شرک کو شرک سمجھ کر آدمی کرے تو شرک کا مرتکب کہلاتا ہے، جب
تک ”الہام الٰہی“ سے اس پر یہ ”وضاحت“ نہ ہو تب تک شرک کی تعلیم دیتے۔ - باوجود مشرک نہیں بلکہ مجدد اور مسیح ہوتا ہے:
مثال پنجم : امتی و نبی:
مرزا صاحب فرماتے ہیں:
”جس حالت میں مسیح ابن مریم اپنے نزول کے وقت کامل طور پر امتی ہوگا تو پھر باوجود امتی ہونے کے کسی طرح سے رسول نہیں ہوسکتا، کیونکہ رسول اور امتی کا مفہوم متبائن ہے۔“
(ازالہ ص: ۷۵)
مرزا صاحب کی اس تصریح سے واضح ہے کہ جو شخص کامل طور پر امتی ہو وہ کسی طرح سے رسول نہیں ہوسکتا، نہ اصلی نہ ظلی، نہ تشریعی نہ غیر تشریعی...... کیونکہ رسول اور امتی دونوں متبائن ہیں، اور عقلاً جانتے ہیں کہ دو متبائن مفہوم ایک ذات میں بیک وقت جمع نہیں ہوسکتے، مگر ہمارے مرزا صاحب کی مسیحائی نے دونوں کو بیک وقت جمع کر دکھایا۔ ان کی ساری عمر اسی دشت پیمائی میں گزری کہ وہ رسول بھی ہیں اور امتی بھی...... انہوں نے اس فلسفۂ اجتماع ضدین کی تشریح میں سینکڑوں صفحات سیاہ کئے، مگر عقیدۂ تثلیث کی طرح اس پیچیدہ فلسفہ کو غالباً نہ وہ خود سمجھے، نہ اپنی امت کو سمجھا سکے، چنانچہ آج تک وہ اس عقدہ کو حل نہ کرسکی کہ وہ واقعہً کیا تھے؟ رسول اور نبی تھے؟ یا نرے امتی؟ یا یہ کہ کامل طور پر نہ وہ تھے، نہ یہ تھے بلکہ ایک برزخی مخلوق تھے؟
مثال ششم: نزولِ جبریل:
مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا انکار کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان فرمائی تھی:
”ظاہر ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جائے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبریل لاویں اور پھر چپ ہو جاویں یہ امر بھی ختم نبوت کا منافی ہے، کیونکہ جب ختمیت کی مہر ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہونی شروع ہوگئی تو پھر تھوڑا یا بہت نازل ہونا برابر ہے۔“
(ازالہ ص: ۵۷۷، روحانی خزائن ج: ۳ ص: ۴۱۱)
مرزا صاحب کے پاس جبریل ایک بار نہیں، بلکہ بار بار آتا ہے، قرآن کریم جیسی قطعی وحی بھی نازل ہوتی ہے، مگر ان کی مسیحائی سے مہر نبوت نہیں ٹوٹتی، نزول جبریل کے لئے مندرجہ ذیل تصریحات ملاحظہ فرمائیے:
- الف:...... ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔“
(اخبار بدر ۵/ مارچ ۱۹۰۸ء، ملفوظات ج: ۱۰ ص: ۱۲۷)
”میں بیت اللہ میں کھڑے ہوکر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو مجھ پر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص: ۶، روحانی خزائن ج: ۱۸ص: ۲۱۰)
”جس طرح یہ بات ممکن نہیں کہ آفتاب نکلے اور اس کے ساتھ روشنی نہ ہو اسی طرح ممکن نہیں کہ دنیا میں ایک رسول اصلاح
خلق اللہ کے لئے آوے اور اس کے ساتھ وحی الہی اور جبرئیل نہ ہو۔“
(ازالہ ص:۵۷۸، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۱۴)
- ب:....... براہین احمدیہ میں اپنی وحی کی اقسام میں چوتھی صورت یہ بیان
فرمائی ہے:
”یا کبھی کوئی فرشتہ انسان کی شکل میں متشکل ہو کر کوئی غیبی بات بتلاتا ہے۔“ (ص:۲۳۸ حاشیہ در حاشیہ) وحی لانے والے فرشتہ کا نام جبریل ہے۔
- ج:....... مرزا صاحب اپنا ایک طویل مکاشفہ بیان فرماتے ہیں، اس کے
ایک فقرہ کا ترجمہ یہ ہے:
”اور میں نے محسوس کیا گویا جبریل میرے پاس بیٹھے ہیں۔“
(ترجمہ عربی از مرتب تذکرہ ص:۸۱۵، ۸۱۶ طبع دوم)
- د:....... حقیقتہ الوحی صفحہ ۱۰۳ (روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۰۶) کے ایک عربی
الہام میں فرماتے ہیں: ”جاء نی آئل و اختار“ (میرے پاس آئل آیا اور اس نے مجھے چن لیا)۔ اور اس کے حاشیہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ”اس جگہ آئل خدا تعالیٰ نے جبریل کا نام رکھا ہے، اس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔“
- ھ:....... مرزا صاحب کے فرزند مرزا محمود صاحب کی روایت ہے:
”میری عمر جب نو یا دس برس کی تھی، میں اور ایک اور طالب علم ہمارے گھر میں کھیل رہے تھے، وہیں ایک الماری میں ایک کتاب پڑی تھی، جس پر نیلا جزدان تھا، وہ ہمارے دادا صاحب کے
وقت کی تھی، نئے نئے ہم پڑھنے لگے تھے اس کتاب کو جو کھولا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ اب جبرئیل نازل نہیں ہوتا، میں نے کہا یہ غلط ہے، میرے ابا پر تو نازل ہوتا ہے ، مگر اس لڑکے نے کہا کہ جبرئیل نہیں آتا، کیونکہ اس کتاب میں لکھا ہے، ہم میں بحث ہوگئی، آخر ہم دونوں مرزا صاحب کے پاس گئے اور دونوں نے اپنا اپنا بیان پیش کیا ، آپ نے فرمایا: کتاب میں غلط لکھا ہے جبرائیل اب بھی آتا ہے۔“
(الفضل ۱۰؍اپریل ۱۹۲۲ء ، قادیانی مذہب
فصل چہارم نمبر:۲۶ ص:۲۷۲ طبع جدید)
- و :...... مرزا صاحب مسیح ابن مریم سے اپنی مشابہت کی تشریح کرتے ہوئے
اپنے مخصوص اندازِ معرفت میں ”روح القدس“ کا نزول اپنے اوپر تسلیم کرتے ہیں ، جو بقول ان کے نر و مادہ کے ملنے سے پیدا ہوتی ہے اور تینوں کا مجموعہ ”پاک تثلیث“ بن جاتا ہے۔ اسلامی اصطلاح میں ”روح القدس“ جبرئیل کا نام ہے۔
(دیکھئے توضیح مرام ص: ۲۲ روحانی خزائن ج:۳ ص: ۶۲)
- ز :...... مرزا صاحب کے دعوائے نزول جبریل کی صاف صاف ترجمانی ان
کے ایک حواری قاضی محمد یوسف صاحب ملتانی نے فرمائی ہے، وہ لکھتے ہیں:
”جو لوگ نبیوں اور رسولوں پر حضرت جبرائیل علیہ السلام کا وحی لانا ضروری شرطِ نبوت قرار دیتے ہیں ان کے واسطے یہ امر واضح رہے کہ حضرت صاحب (مرزا غلام احمد) کے پاس نہ صرف ایک جبرائیل آیا بلکہ بار بار رجوع کرتا تھا، اور وحی خداوندی لاتا تھا...... اعلیٰ درجہ کی وحی کے ساتھ فرشتہ ضرور آتا ہے، خواہ اس کو کوئی دوسرا فرشتہ کہو(مثلاً ٹیچی ٹیچی، مٹھن لال، شیر علی، سلطان احمد، غلام
قادر، الہی بخش، حفیظ، سقّے، لڑکا، کرسی نشین، قصاب، کاتب، باغبان وغیرہ وغیرہ دیکھئے ”تذکرہ“ عنوان ”فرشتہ“...... ناقل) یا جبرئیل کہو، اور چونکہ حضرت احمد علیہ السلام (مرزا غلام احمد) بھی نبی اور رسول تھے اور آپ پر اعلیٰ درجہ کی وحی کا یعنی وحی رسالت کا نزول ہوتا رہا لہٰذا آپ کی وحی کے ساتھ فرشتہ ضرور آتا تھا اور خدا نے اس فرشتہ کا نام تک بتا دیا ہے کہ وہ فرشتہ جبرائیل ہی ہے۔“
(النبوۃ فی الالہام ص:۳۰، قادیانی مذہب
فصل چہارم نمبر ۲۶ ص:۲۷۲ طبع جدید)
خلاصہ یہ کہ آنحضرت ﷺ کے بعد وحیٔ نبوت اور نزولِ جبرائیل مرزا صاحب کے نزدیک ناممکن بھی ہے اور واقع بھی...... ناممکن کو ممکن بنادینا انہی کا ”مسیحائی کارنامہ“ ہے۔
مثال ہفتم: گستاخی اور کمال:
مرزا صاحب لکھتے ہیں:
”قرآن شریف میں مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں ذکر نہیں، لیکن ختم نبوت کا بکمال تصریح ذکر ہے، اور پرانے یا نئے نبی کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے، نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے، اور حدیث ”لا نبی بعدی“ میں بھی نفی عام ہے، پس یہ کس قدر جرأت اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے، اور بعد اس کے جو وحی نبوت
منقطع ہوچکی تھی پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کر دیا جائے، کیونکہ جس میں شانِ نبوت باقی ہے اس کی وحی بلاشبہ نبوت کی وحی ہوگی۔‘‘
(ایام صلح ص: ۱۴۶، روحانی خزائن ج: ۱۴ ص:۳۹۳،۳۹۴)
مندرجہ بالا اقتباس میں مرزا صاحب خاتم الانبیاء ﷺ کے بعد کسی نئے یا پرانے نبی کی آمد کو قرآن کریم اور حدیث نبوی: ’’لا نبی بعدی‘‘ کی تصریح کے خلاف، شرارت، جرأت، گستاخی، خیالات رکیکہ کی پیروی اور نصوصِ صریحہ کا عمداً چھوڑنا قرار دیتے ہیں، اور صاف اعلان کرتے ہیں کہ جس میں شانِ نبوت موجود ہو اس کی وحی بلاشبہ نبوت کی وحی ہوگی، لیکن جب مرزا صاحب خود ’’شانِ نبوت‘‘ کے ساتھ ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے مقامِ رفیع پر فائز ہوتے ہیں تو یہی شرارت، جرأت، گستاخی، خیالات رکیکہ کی پیروی اور نصوصِ صریحہ کا عمداً پشت انداز کرنا آنحضرت ﷺ کی نبوت کا کمال بن جاتا ہے، فرماتے ہیں:
’’اور اگر کوئی شخص کہے کہ جب نبوت ختم ہوچکی ہے تو اس امت میں نبی کس طرح ہوسکتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس بندہ (مرزا غلام احمد) کا نام اسی لئے نبی رکھا ہے کہ سیدنا محمد رسول اللہ کی نبوت کا کمال امت کے کمال کے ثبوت کے بغیر ہرگز ثابت نہیں ہوتا، اور اس کے بغیر محض دعویٰ ہی دعویٰ ہے، جو اہلِ عقل کے نزدیک بے دلیل ہے، اور کسی فرد پر ختم نبوت ہونے کے یہی معنی ہیں کہ کمالاتِ نبوت اس پر ختم ہیں، اور نبی کے بڑے کمالات میں سے نبی کا فیض پہنچانے میں کامل ہونا ہے، اور یہ جب تک امت میں اس کا نمونہ نہ پایا جائے، ثابت نہیں ہوسکتا۔ اور پھر
یہ بھی یاد رہے کہ میری نبوت سے اللہ تعالیٰ کی مراد بجز کثرت مکالمہ و مخاطبہ اور کچھ نہیں ، اور یہ اکابر اہل سنت کے نزدیک بھی مسلم ہے، پس یہ صرف نزاع لفظی ہے۔“
(ترجمہ استفتاء عربی حاشیہ ضمیمہ حقیقۃ الوحی
ص: ۱۷۴ ، روحانی خزائن ج:۲۲ ص: ۷۳۷)
مرزا صاحب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کی نبوت کا کمال آنحضرت ﷺ کے کمال نبوت کی دلیل ہے، مرزا صاحب خدانخواستہ نبوت سے سرفراز نہ ہوتے تو عقلا کے نزدیک محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا کمال دعوائے بلا دلیل ہوتا، اب اگر مرزا صاحب کی نبوت ناقص ہوگی تو اس کے معنی یہ ہیں کہ دلیل نبوت محمدیہ ناقص ہے۔
اللہ تعالیٰ ایک عظیم الشان رسول عیسیٰ علیہ السلام کو حضور ﷺ کا امتی بنادیں تو معاذ اللہ یہ شرارت اور گستاخی ہے؟ اور ایک نالائق غلام بروزی برقعہ پہن کر آقا کی مسند پر قبضہ جمالے تو یہ کمال ہے، خوب کہا ہے:
جو چاہے تیرا حسن کرشمہ ساز کرے
آنحضرت ﷺ کے بعد کسی گزشتہ نبی کی آمد کو ماننے والے شریر اور گستاخ ہیں، بعد ختم نبوت کے سلسلۂ وحیٴ نبوت جاری کرنے کے ملزم ہیں، مگر مرزا صاحب از سر نو نبوت و رسالت اور وحی کا سلسلہ جاری کردیں تو آنحضرت ﷺ کے دعویٰ کی دلیل مہیا ہوجاتی ہے...... چہ خوب!
وہی تیرگی جو میرے نامۂ سیاہ میں ہے
مثال ہشتم: محدث اور نبی:
مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ وہ چشم بد دور مسیح موعود ہیں اس لئے بیک وقت نبی بھی ہیں اور محدث بھی۔ اس کے لئے انہوں نے ظلی ، بروزی، مجازی، استعاراتی، لغوی وغیرہ اصطلاحات کا ایک ایسا جال پھیلایا ہے کہ ان کی امت تو اس سے کیا نکلتی وہ خود بھی اپنے دام تناقض کا شکار ہو کر رہ گئے، اس کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے رسول اور محدث کی تعریف مرزا صاحب کے الفاظ میں پیش کر دینا مناسب ہوگا:
الف:...... رسول اور نبی:
”اسلام کی اصطلاح کے مطابق نبی اور رسول کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں، یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں، یا نبی سابق کی امت نہیں کہلاتے اور براہ راست بغیر استفادہ کسی نبی کے خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔“
(مرزا صاحب کا مکتوب ۱۷؍اگست ۱۸۹۱ء، مباحثہ راولپنڈی ص:۱۴۵)
مرزا صاحب کی اس تعریف سے جو بقول ان کے اسلام کی اصطلاح کے مطابق ہے، واضح ہوا کہ جو شخص کسی نبی سے استفادہ کا مدعی ہو وہ رسول اور نبی نہیں ہو سکتا۔
ب:......محدث:
مرزا صاحب نے آئینہ دساوس میں صفحہ ۲۳۱ سے ۲۳۸ تک ”محدث“ کی تعریف کرتے ہوئے خوب آسمان و زمین کے قلابے ملائے ہیں لیکن بالآخر نتیجہ یہ نکلا کہ:
”محدث نبی بالقوہ ہوتا ہے اور اگر باب نبوت مسدود نہ ہوتا تو ہر ایک محدث اپنے وجود میں قوت اور استعداد نبی ہو جانے کی رکھتا تھا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص: ۲۳۸، روحانی خزائن ج:۵ ص: ۲۳۸)
مرزا صاحب کی اس تعریف سے بھی واضح ہوتا ہے کہ محدث میں استعداد نبوت اگرچہ موجود ہوتی ہے، مگر چونکہ باب نبوت مسدود ہے اس لئے وہ بالفعل نبی نہیں ہوتا نہ ہو سکتا ہے۔ رسول و نبی اور محدث کی تعریف سننے کے بعد اب مرزا صاحب کا دعویٰ سماعت فرمائیے:
ج:......نبوت نہیں محدثیت:
”سوال:......رسالہ فتح اسلام میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے؟ الجواب:......نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے۔“
(ازالہ ص: ۴۲۱، روحانی خزائن ج:۳ ص: ۳۲۰)
د:......محدثیت نہیں نبوت:
”چند روز ہوئے ہیں کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے (یعنی مرزا صاحب) وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا ہے حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں......مجھے نبوت اور رسالت سے انکار نہیں......اگر خدا تعالیٰ نے غیب کی خبریں پانے والے کا نام نبی نہیں رکھا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے گا؟ اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں
کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے مگر نبوت کا معنی اظہار امر غیب ہے، اور نبی ایک لفظ ہے جو عربی اور عبرانی میں مشترک ہے، یعنی عبرانی میں اسی لفظ کو نابی کہتے ہیں اور یہ لفظ نابا سے مشتق ہے جس کے یہ معنی ہیں خدا سے خبر پا کر پیش گوئی کرنا۔‘‘ (سبحان اللہ جل جلالہ)
(ایک غلطی کا ازالہ ص: ۱، ۷۔ روحانی خزائن ج: ۱۸ ص: ۲۰۶ تا ۲۱۰)
پہلی عبارت میں نبوت و رسالت اور محدثیت کے درمیان تقابل کرتے ہوئے نبوت کی نفی اور محدثیت کا دعویٰ کیا گیا ہے، اور دوسری عبارت میں بھی ٹھیک وہی تقابل موجود ہے مگر اب اس کے برعکس نبوت کا دعویٰ ہے اور محدثیت کی نفی...... بقول غالب:
مرزا صاحب کی امت آج تک یہ فیصلہ نہیں کرسکی کہ ان کا اصل دعویٰ کیا تھا، لاہوری کہتے ہیں کہ قادیانی نہیں سمجھے، اور قادیانی کہتے ہیں کہ لاہوری خارجی ہیں، وہ نہیں سمجھے، اور ہم کہتے ہیں دونوں ٹھیک کہتے ہو، خود مرزا جی بھی نہیں سمجھے۔ ان کی خدمت میں عرض کیا جاتا ہے کہ حضور! آپ کے دعوؤں میں تناقض کیوں ہے؟ تو حضور فرماتے: ”میں نہیں جانتا کہ ایسا کیوں ہوا، خدا سے پوچھو۔‘‘ سنئے!
تناقض کا سبب:
”رہی یہ بات کہ ایسا کیوں لکھا گیا، اور کلام میں یہ تناقض کیوں پیدا ہوگیا؟ سو اس بات کو توجہ کر کے سمجھ لو کہ یہ اس قسم کا تناقض کہ جیسے براہین احمدیہ میں میں نے لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے
نازل ہوگا مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں، اس تناقض کا بھی یہی سبب تھا کہ اگر چہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور یہ بھی فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا، اس اعتقاد پر جما ہوا تھا اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان سے نازل ہوں گے اس لئے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر پر محمول کرنا نہ چاہا بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا، لیکن بعد اس کے اس بارے میں بارش کی طرح وحی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا تو ہی ہے۔ ...... پس یہ اس خدا سے پوچھو کہ ایسا تو نے کیوں کیا؟ میرا اس میں کیا قصور ہے؟“
(حقیقۃ الوحی ص: ۱۴۸-۱۴۹، ملخصاً،
روحانی خزائن ج:۲۲ ص: ۱۵۲-۱۵۳)
وحی اور عقیدہ:
”اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے؟ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا، مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا (مرزا جی کی امت کا لاہوری فرقہ کہا کرتا ہے کہ حضرت صاحب پر عقیدہ کی تبدیلی کا الزام محض تہمت ہے، اب فرمائیے یہ تہمت کس نے لگائی؟ مگر مرزا جی کے امتی بھی معذور ہیں جب خود مرزا جی نہیں جانتے کہ خدا نے ان کے ساتھ کیوں کیا؟ تو ان کے امتی بھی اگر نہ
جانتے ہوں کہ ان پر یہ تہمت کس نے لگائی تو گلہ شکوہ کیوں کیجئے...... ناقل) اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا...... میں خدا تعالیٰ کی تیئیس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں، میں اس کی پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔“
”خلاصہ یہ کہ میرے کلام میں کچھ تناقض نہیں، میں تو خدا تعالیٰ کی وحی کا پیروی کرنے والا ہوں ، جب تک مجھے اس سے علم نہ ہوا میں وہی کہتا رہا جو اوائل میں میں نے کہا اور جب مجھ کو اس کی طرف سے علم ہوا تو میں نے اس کے مخالف کہا...... میں نہیں جانتا کہ خدا نے ایسا کیوں کیا...... مگر خدا نے جو چاہا ہے کیا، اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے، کیا انسان کا مقدور ہے کہ وہ اعتراض کرے کہ ایسا تو نے کیوں کیا؟“
(حقیقۃ الوحی ص: ۱۴۹۔ ۱۵۰ ملخصاً،
روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۳، ۱۵۴)
چلیے بحث ختم ہوگئی۔ اس تناقض بیانی اور تبدیلی عقائد کا سارا الزام ”وحی الٰہی کی بارش“ اور ”خدا کے فعل“ پر عائد ہوا اور مرزا صاحب یہ کہہ کر کہ: ”میں نہیں جانتا کہ خدا نے ایسا کیوں کیا“ صاف چھوٹ گئے، جب مرزا صاحب بھی نہیں جانتے کہ خدا کے اس فعل میں کیا حکمت ہے تو ظاہر ہے کہ ان کی امت بھی نہیں جانتی ہوگی، نہ جان سکتی ہے۔
آئیے! ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ مرزا صاحب کو خدا نے اس تناقض میں کیوں ڈالا؟
مثال نہم:...... پاگل پن اور نبوت:
”ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں، کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“
(ست بچن ص:۳۱، روحانی خزائن ج:۱۰ ص:۱۴۴)
”اس شخص کی حالت ایک مخبط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص:۱۸۳، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۹۱)
لیجئے یہ تھی حکمت خدا تعالیٰ کے فعل میں کہ مرزا جی نبوت ومسیحیت کے چکر میں ایسا الجھیں کہ خود اپنے کلام میں تناقض کا اقرار کرنے پر مجبور ہو جائیں اور تناقض کے نتیجے میں خود اپنی ذات پر یہ تین فتوے صادر فرمائیں.......... لیکن اس کا کیا علاج کہ قادیانی امت فعلِ خدا کی حکمت سمجھنے سے قاصر ہے۔
مثال دہم:...... مراق اور نبوت:
مرزا صاحب کا ارشاد ہے:
”ایک رنگ میں سب نبیوں کو مراق ہوتا ہے، (غالباً جھوٹے نبی مراد ہیں، ورنہ سچے نبیوں کو مراق نہیں ہوتا...... ناقل) اور مجھ کو بھی ہے۔“
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۳۰۴)
مراق اور نبوت کی یہ جامعیت بھی بلا شرکت غیرے مرزا جی کا حصہ ہے۔ ہاں وہ اس نعمت میں ”سب (جھوٹے) نبیوں“ کو بھی شریک فرمالیں تو ان کا مال ہے، جس کو چاہیں دیں............ یہ دس مثالیں مرزا جی کی جامعیت اضداد کی تشریح کے لئے کافی ہیں، تاہم دسویں مثال مراق کی دلیل کے لئے ایک دو مثالیں اور بھی سن لیجئے:
مسیحیت کا صغریٰ کبریٰ:
الف:...... صغریٰ:...... ”خدا نے مجھے مسیح موعود مقرر کر کے بھیجا ہے۔“
(اربعین نمبر ۴ ص: ۲۵ ملخصاً، روحانی خزائن ج: ۱۷ ص: ۴۶۱)
کبریٰ:...... ”اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔“
(ازالہ ص: ۱۹۰، روحانی خزائن ج: ۳ ص: ۱۹۲)
نتیجہ:...... بتائیے کم فہم کا فتویٰ کس پر عائد ہوا؟
ب:...... صغریٰ:...... ”خدا تعالیٰ نے ...... مجھے عیسیٰ بن مریم ٹھہرایا۔“
(حاشیہ حقیقۃ الوحی ص: ۷۲، روحانی خزائن ج: ۲۲ ص: ۷۵)
کبریٰ:...... ”میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں، جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔“
(ازالہ ص: ۹۳، روحانی خزائن ج: ۳ ص: ۱۹۳)
نتیجہ:...... سراسر مفتری اور کذاب کون ٹھہرا؟
ج:...... صغریٰ:...... ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔“
(بدر ۵/مارچ ۱۹۰۸ء، حقیقۃ النبوت ص: ۲۷۲ ضمیمہ، ملفوظات ج: ۱۰ ص: ۱۲۷)
کبریٰ:...... ”ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج: ۲ ص: ۲۹۷)
نتیجہ:...... بتائیے! مرزا جی کی لعنت کس پر ہوئی؟
د:...... صغریٰ:...... ”اے سردار تو خدا کا مرسل ہے۔“
(ترجمہ الہام عربی ۔ حقیقۃ الوحی ص: ۱۰۷، حقیقت الوحی ج: ۲۲ ص: ۱۱۰)
کبریٰ:...... ”حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔“
(اشتہارات ۲/اکتوبر ۱۸۹۱ء، مجموعہ اشتہارات ج: اول ص: ۲۳۰-۲۳۱)
نتیجہ:...... فرمائیے! کاذب و کافر کون ہوا؟
مرزا صاحب کے تناقض و دعاوی کی فہرست بڑی طویل ہے۔ وہ چشم بد دور بیک وقت مسیح موعود بھی ہیں اور کرشن بھی، مہدی بھی ہیں اور جے سنگھ بہادر بھی، محمد رسول اللہ بھی اور برہمن اوتار بھی، حارث بھی ہیں اور مسلمان بھی، منصور بھی ہیں اور رودر گوپال بھی، آدم بھی ہیں اور خاتم بھی، مرزا صاحب کا قاری جب بھی ان کی کسی تصنیف لطیف کا مطالعہ شروع کرتا ہے تو ان کے دعاوی باطلہ، تاویلات، تحریفات اور تعلیات کے جنگل میں برسوں بھٹکنے کے بعد بس اس نتیجہ پر پہنچتا ہے جو بطور خلاصہ مرزا صاحب نے ایک جملہ میں سمیٹ دیا ہے کہ:
”ایک رنگ میں سب (جھوٹے) نبیوں کو مراق ہوتا ہے اور مجھ کو بھی ہے۔“
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۳۰۴)
صدی کا سرا!
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ و سلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ، اما بعد :
اگرچہ مرزا غلام احمد صاحب کا دعویٰ نبوت و مسیحیت اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکا ہے، تاہم مرزائی امت کی خیر خواہی کے لئے ہم ایک نیا اور اچھوتا نکتہ پیش کرتے ہیں، امید ہے وہ ان کے لئے غور و فکر کے نئے زاویئے مہیا کرے گا۔ لیجئے ذرا توجہ سے سنئے، "حقیقت الوحی" مرزا صاحب کی آخری دور کی تصنیف ہے، اس میں موصوف نے اپنی صداقت کی جو اول نمبر دلیل پیش کی ہے، وہ یہ ہے:
"پہلا نشان : قال رسول الله صلی الله علیه وسلم ان الله یبعث لهذه الامة على راس كل مائة سنة من يجدد لها دينها۔ رواه ابوداؤد۔ یعنی خدا ہر ایک صدی کے سر پر اس امت کے لئے ایک شخص مبعوث فرمائے گا، جو اس کے لئے دین کو تازہ کرے گا، اور اب اس صدی کا چوبیسواں سال جاتا ہے، اور ممکن نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ میں تخلف ہو ........ اور یہ بھی اہلسنت میں متفق علیہ امر ہے کہ آخری مجدد اس امت کا مسیح
موعود ہے‘ جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا‘ اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ یہ آخری زمانہ ہے یا نہیں؟ یہود و نصاریٰ دونوں قومیں اس پر اتفاق رکھتی ہیں کہ یہ آخری زمانہ ہے‘ اگر چاہو تو پوچھ کر دیکھ لو‘ مری پڑ رہی ہے‘ زلزلے آ رہے ہیں‘ ہر ایک قسم کی خارق عادت تباہیاں شروع ہیں‘ پھر کیا یہ آخری زمانہ نہیں؟ اور صلحا اسلام نے بھی اس زمانہ کو آخری زمانہ قرار دیا ہے‘ اور چودھویں صدی میں سے بھی تئیس سال گزر گئے ہیں‘ پس یہ قوی دلیل اس بات پر ہے کہ یہی وقت مسیح موعود کے ظہور کا وقت ہے (جی نہیں! آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ ناقل) اور میں ہی وہ ایک شخص ہوں‘ جس نے اس صدی کے شروع ہونے سے پہلے دعویٰ کیا (بلا دلیل رجم بالغیب اور قیاس آرائی شرعی حجت نہیں۔ ناقل) اور میں ہی وہ ایک شخص ہوں‘ جس کے دعوے پر پچیس برس گزر گئے‘ اور اب تک زندہ موجود ہوں (نتیجہ؟ ناقل) اور میں ہی وہ ایک ہوں‘ جس نے عیسائیوں اور دوسری قوموں کو خدا کے نشانوں کے ساتھ ملزم کیا (کون سا نشان؟ آسمانی نکاح والا؟ سلطان احمد کی موت والا؟ یا عبداللہ آتھم کی موت والا؟ چہ خوب! ناقل) پس جب تک میرے اس دعوے کے مقابل پر انہیں صفات کے ساتھ کوئی دوسرا مدعی پیش نہ کیا جائے‘ تب تک میرا یہ دعویٰ ثابت ہے کہ وہ مسیح موعود‘ جو آخری زمانہ کا مجدد ہے‘ وہ میں ہی ہوں۔ (جب چودھویں صدی ”آخری زمانہ“ ہی نہیں تو آخری زمانہ کے مجدد ہونے کا دعویٰ ہی
لغو ہے۔ (ناقل)”
(حقیقت الوحی ص ۱۹۳، ۱۹۴ روحانی خزائن ج ۲۲ ص ۲۰۰، ۲۰۱)
مرزا صاحب کی اس طویل دلیل آرائی کا خلاصہ یہ ہے کہ :
- ۱: ..... حدیث صحیح کے مطابق ہر صدی کے سر پر ایک مجدد کا آنا ضروری ہے،
ورنہ فرمودہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (معاذ اللہ) غلط ہو جاتا ہے۔
- ۲: ..... آخری زمانہ کے مجدد بالاتفاق اہل سنت حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں
گے۔
- ۳: ..... چودھویں صدی ہی آخری زمانہ ہے، جس کے بارے میں نزول مسیح
کی پیش گوئی تھی۔
- ۴: ..... اس صدی میں مرزا صاحب کے سوا کسی نے مجدد ہونے کا دعویٰ نہیں
کیا، لہٰذا وہ بلا مقابلہ مجدد منتخب ہوئے۔
- ۵: ..... اور جب وہ اس صدی کے مجدد ہوئے تو ”مسیح موعود“ بھی ہوئے۔
ہمیں مرزا صاحب کے ان مقدمات کے صحیح یا غلط ہونے سے بحث نہیں، البتہ یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کسی صدی کے تیئیس سال گزر جانا مسیح موعود کے ظہور کے وقت کی دلیل کیسے بن گئی؟ مختصر یہ کہ مرزا صاحب کی تصریح کے مطابق ان کا دور تجدید و مسیحیت چودھویں صدی تک محدود تھا، اور اب مرزا جی کی ”مسیحی تجدید“ کی میعاد پوری ہو چکی، اور ان کے تجدیدی کارناموں کا وقت مقدر گزر چکا، لہٰذا مرزا صاحب کی ”مسیحی امت“ سے درخواست ہے کہ اب کسی نئے مجدد کی آمد کیلئے جگہ خالی کیجئے :
مرزا صاحب نے چودھویں صدی کو ”آخری زمانہ“ سمجھ کر اپنی مسیحیت کی بنیاد رکھی‘ اور قاضی وقت نے فیصلہ کردیا کہ ان کی یہ بنیاد غلط تھی‘ لہٰذا ”آخری زمانہ“ کے لئے جس مسیح کی آمد کا انتظار ہے‘ وہ کوئی اور ہوگا۔ پس ثابت ہوا کہ مرزا غلام احمد صاحب ”آخری زمانہ کا مجدد“ نہیں تھے۔ اب مرزا صاحب کی ”مسیحی امت“ کو کہنا چاہئے کہ :
مرزا صاحب کے دعویٰ کا اہم ستون یہ حدیث تھی کہ ”ہر صدی کے سر پر ایک مجدد آئے گا“ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو چونکہ صدی کا سر آن پہنچا ہے‘ اس لئے مرزا صاحب کی ”مسیحی امت“ کو نئے مجدد کیلئے مسلمانوں کی صف میں شامل ہو جانا چاہئے‘ اور اگر یہ حدیث صحیح نہیں تو مرزا صاحب کی مسیحیت بھی حرف غلط اور دعویٰ باطل تھی‘ مرزائیوں کو اب مزید متاع ایمان اس کے ہاتھ فروخت نہیں کرنی چاہئے۔
لطیفہ : جب کوئی سرکاری افسر کسی عہدے کا چارج لیتا ہے تو اس کا پرجوش استقبال کیا جاتا ہے‘ اور جب اس کی سروس ختم ہوتی ہے تو اس کے لئے ”الوداعی پارٹی“ کا اہتمام ہوتا ہے۔ مرزا غلام احمد نے جب عہدہ مسیحیت چودھویں صدی کا چارج لیا تو علمائے امت نے‘ جو دین متین کے ہمہ وقتی ملازم ہیں‘ حضرت مسیح موعود کا پرجوش خیر مقدم کیا‘ اور پھر کامل صدی تک ان کی خدمت و تواضع کے لئے ہر وقت کمربستہ رہے‘ اور بحمد اللہ اس میں غفلت و تساہل سے کبھی کام نہیں لیا‘ تاآنکہ مرزاجی کی سروس پوری ہوئی‘ اور ان کی
ریٹائرمنٹ کا وقت آیا تو ملت اسلامیہ کے نمائندوں پر مشتمل خصوصی کمیٹی کو ”الوداعی پارٹی“ کے فرائض سپرد ہوئے، دو ماہ تک رنگا رنگ تقاریب رہیں، بالآخر بتاریخ ۷ ؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو چودھویں صدی کے ”مسیح موعود“ صاحب کو نہایت پروقار انداز میں الوداع کہی گئی، اور انہیں اسلام سے رخصت کر دیا گیا۔ فالحمد للہ۔ کیا مرزا صاحب کی ”مسیحی امت“ کے لئے اس لطیفہ غیبی میں کوئی درس عبرت ہے؟
مرزا صاحب نے مختلف حیلوں بہانوں سے چودھویں صدی کو ظہور مہدی، نزول عیسیٰ اور خروج دجال وغیرہ کا حتمی وقت بتایا تھا، اور اس کے لئے کبھی اپنے کشف کے حوالے دیئے، کبھی تاریخی مادے نکالے، کبھی حساب جمل کی پناہ لی، کبھی سابقہ کتب کا نام لیا، کبھی نصوص قرآن و سنت کو بگاڑا، اور کبھی بزرگان دین کی آرا و قیاسات کا سہارا لیا، لیکن وقت نے خود فیصلہ کر دیا کہ یہ سب مرزا صاحب کی سخن سازی تھی، ورنہ ان امور کو ”دلائل“ کہنا ان کی توہین تھی۔ انہوں نے متعدد جگہ نواب صدیق حسن خان صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے حوالے سے بھی کہا ہے کہ وہ چودھویں صدی میں نزول مسیح کے قائل تھے، ذیل میں حضرت نواب صاحب کی تصریح اس سلسلہ میں نقل کی جاتی ہے، امید ہے مرزا صاحب کی امت کیلئے یہ حوالہ مفید ہوگا، نواب صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
گویم شک نیست کہ تعین تاریخ ظہور مہدی، یا نزول عیسیٰ، یا خروج دجال، یا جز آن از وقائع و فتن کہ اخبار و آثار بوقوع آں در آخر زمان بالاجمال وارد اند از پیش نفس خود بکشف، یا حساب نجوم، -
یا تخیل موہوم، یا مفہوم لغت، یا انتحال نصوص یا تاویل ادلہ تحریف کلام نبویست، ایں ہمہ ہاشود، لیکن وقت آن جز عالم الغیب و الشہادہ ہیچ یکے را معلوم نیست، و نہ امید علم اوست در آئندہ، و مدعی آں کاذب و مقرر آں خاطی است۔"
(حجج الکرامہ ص ۴۴۰)
ترجمہ : ”میں کہتا ہوں کہ ظہور مہدی، نزول عیسیٰ علیہ السلام، خروج دجال، یا ان کے علاوہ وہ واقعات اور فتن، جن کے آخری زمانہ میں وقوع کے بارے میں اخبار و آثار بالاجمال وارد ہیں، ان کی تاریخ کی تعیین اپنی طرف سے کرنا خواہ کشف سے ہو، یا حساب نجوم سے، وہمی تخیلات سے ہو یا مفہوم لغت سے، نصوص کے سرقہ سے ہو، یا دلائل (کتاب و سنت) کی تاویل سے، بہرحال کلام نبوی کی تحریف ہے، یہ ساری چیزیں بلاشبہ ہوں گی، لیکن ان کا وقت خدائے عالم الغیب و الشہادہ کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں، نہ آئندہ اس کی امید ہے، جو شخص اس کا دعویٰ کرے، وہ جھوٹا ہے، اور جو شخص اس کی تائید و تصدیق کرے، وہ خطاکار ہے۔“
بنیادی غلطی
بعض اوقات ایک بنیادی غلطی انسان کو سنگین نتائج سے دوچار کردیتی ہے، مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا دعویٰ مسیحیت اس کی بہترین مثال ہے، تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ امت اسلامیہ کا تیرہ سو سال سے متواتر عقیدہ تھا
کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں، اور قرب قیامت میں آسمان سے نازل ہوں گے، حدیث کا ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ آخری زمانے میں آنے والے مسیح علیہ السلام کی جو تفصیلی علامات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائیں، ان میں سے ایک بھی مرزا غلام احمد مسیح قادیان پر صادق نہیں آتی، اور ان واضح علامات کی موجودگی میں مرزا صاحب کو ”مسیح موعود“ کہنا گویا زنگی کو کافور، اور بلی کو شیر کہنے کے مترادف ہے، مرزا صاحب خود بھی اس حقیقت سے بے خبر نہیں تھے، مگر ان سے بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے فرض کرلیا کہ بس چودھویں صدی آخری زمانہ ہے، اور اسی آخری صدی میں ظہور مہدی اور نزول مسیح ہوگا۔ مرزا صاحب کے ایک حواری لکھتے ہیں :
”ہم چھوٹے سے تھے تو ایک طرف اپنے بزرگوں سے سنا کرتے تھے کہ تیرہویں صدی سے بھیڑیوں نے بھی پناہ مانگی ہے، اور ہر چھوٹا بڑا یہی کہتا تھا کہ چودھویں صدی بڑی بابرکت ہوگی، کیونکہ اس میں امام مہدی علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے۔“
(عسل مصفیٰ ج ۱ ص ۲۹ مصنفہ مرزا خدا بخش و مصدقہ مرزا غلام احمد قادیانی)
ظاہر ہے کہ چودھویں صدی میں ظہور مہدی اور نزول عیسیٰ کا افسانہ محض ایک اٹکل پچو قیاس آرائی تھی، مگر مرزا غلام احمد مسیح قادیان نے اسے غلطی سے وحی منزل من اللہ سمجھ لیا، اور جب چودھویں صدی کے آغاز میں نہ مہدی آئے، نہ عیسیٰ علیہ السلام اترے، تو انہوں نے ازراہ کرم اس عہدہ جلیلہ
کو پر کرنے کے لئے اپنی خدمات پیش کر دیں، اور مسند مسیحیت پر جلوہ افروز ہوتے ہی اسلام کے مسلمہ عقائد سے انحراف، اور نصوص میں مضحکہ خیز تحریف و تاویل کر کے ایک نیا ”دین مسیحی“ ایجاد کر ڈالا۔
مرزا صاحب جب ”آخری زمانہ“ کا فلسفہ پیش کر کے اپنے ”دین مسیحی“ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے، اس وقت انہیں کیا خبر تھی کہ زمانہ جب ایک صدی سے دوسری صدی کی طرف کروٹ بدلے گا تو ان کی خود ساختہ مسیحیت کے تمام کس بل نکل جائیں گے؟ اور آنے والا مورخ ان کا نام بھی انہی مسیحان کذاب کی فہرست میں شامل کرے گا، جن کے بارے میں مرزا صاحب کی مصدقہ بائبل کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام نے یہ فرمایا تھا :
”اور جب وہ زیتون کے پہاڑ پر تھا، اس کے شاگردوں نے الگ اس کے پاس آکر کہا کہ ہم کو بتا کہ یہ باتیں کب ہوں گی؟ اور تیرے آنے، اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا؟ یسوع نے جواب میں ان سے کہا کہ خبردار! کوئی تم کو گمراہ نہ کر دے، کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے، اور کہیں گے ”میں مسیح ہوں“ اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیں گے۔“
(متی ب ۲۴، آیت ۳، ۵)
دیکھئے! حضرت مسیح علیہ السلام کی یہ پیشین گوئی کس صفائی سے حرف بحرف پوری ہوئی، بہت سے لوگوں نے لبادہ مسیحیت اوڑھ کر خلق خدا کو گمراہ کیا، مگر چند دن بعد ان کے دعاوی کا سارا ملمع اتر گیا، ٹھیک یہی قصہ مسیح قادیان کے ساتھ پیش آیا، انہوں نے اپنی مسیحیت کی گواہی میں چودھویں صدی کو پیش کیا تھا، مگر آج خود انہی کا پیش کردہ گواہ ان کے کذب و افترا کی شہادت دے رہا
ہے، کاش قادیانی مسیحیت کے سحر زدہ لوگوں کو اب بھی اپنی بنیادی غلطی کی اصلاح کے لئے توفیق ارزانی ہو جائے۔
سات ستمبر کے بعد
گزشتہ سال ریاست ربوہ کے خلیفہ مرزا ناصر صاحب اپنے مریدوں کو دھماکہ خیز بشارتیں سنا رہے تھے، ادھر مرزائی، مسلمانوں کو اعلانیہ دھمکیاں دے رہے تھے کہ عنقریب ہماری حکومت آنے والی ہے، مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا، ۲۹؍ مئی کو ربوہ اسٹیشن کا حادثہ پیش آیا، جو ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے ”مرزائی غیر مسلم اقلیت“ فیصلے پر منتج ہوا۔ وللہ الامر من قبل و من بعد۔ ۷؍ ستمبر کا آئینی فیصلہ مرزائی عزائم کے لئے صاعقہ آسمانی ثابت ہوا، جس سے مرزائیوں کے خیالی محلات پیوند زمین ہو گئے، اور ان کا سب کیا دھرا خاک میں مل گیا، اس آئینی فیصلہ سے مرزائیت پر کیا گزری؟ اس کا معمولی سا اندازہ ذیل کے مکتوب سے کیا جاسکتا ہے جو ”الفرقان، ربوہ“ کے مدیر کے نام ان کے ایک مرزائی دوست نے لکھا ہے، اور جو مکتوب الیہ کے بقول ”صدہا خطوط“ میں سے ایک ہے:
”محب محترم ابوالعطا صاحب! السلام علیکم! میں قریبا پانچ ماہ سے بستر پر پڑا ہوں، پرانی بیماری عود کر آئی ہے، عزیز ڈاکٹر منور احمد نائیجیریا سے نہیں آیا تھا کہ میں بیمار ہو گیا تھا۔ بیماری میں پنجاب پاکستان میں سخت ہنگاموں، لوٹ مار، لڑائی، جلائی، بائیکاٹ وغیرہ سے
سخت پریشانی رہی، اور آخر میں اب ایسی سخت پریشانی بھٹو صاحب نے ڈال دی ہے کہ میری رہتی سہتی جان بھی اب ختم ہونا چاہتی ہے، یا اس ملک سے نکل جانا چاہتی ہے، اس ملک کے واسطے ہم نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر چندے دیئے، کوششیں کیں، لاہور ۱۹۴۰ء والے ریزولیوشن کے پاس کرنے میں لاہور جاکر شامل ہوا، پھر پاکستان بنا، گھر امرتسر والا فسادیوں نے جلا کر خاک کر دیا، یہاں آئے، سات آٹھ برس تک قائد اعظم کے پاکستان کا اثر رہا، پھر یہاں فساد ہوئے، دکان جلائی گئی، مکان لوٹ لیا گیا، مارشل لا لگا، پھر اب ۲۰ برس کے بعد مارشل لا کی سی حالت ہوئی، پھر پٹائی ہوئی، بائیکاٹ ہوا، آگیں لگیں، لوگ گورنمنٹ کے قابو نہ آئے تو ہمیں جو قریباً دو سو برس سے جن کے اجداد مسلمان چلے آتے تھے، اور ان کی اولاد کو، جن میں پکے مسلمان صاحب کشوف ولی اللہ بھی تھے، اب بھٹو صاحب نے، جن کو ہم نے ووٹ دیکر اپنا ممبر کھڑا کیا، ہمیں ہی غیر مسلم کا فتویٰ دیکر مسلمانوں سے نکال دیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
آپ ہی اب صرف میرے پرانے عالم دوستوں میں سے رہ گئے ہیں، آپ کو میں عالم اور اپنا دوست ہونے کی وجہ سے مشورہ لینے کے لئے یہ خط لکھ رہا ہوں، آپ مجھ بیمار، غریب، نادار، کمزور، بجھے ہوئے دل اور پریشان دماغ والے اپنے دوست کو کیا مشورہ دیتے ہیں؟ میرا دل چاہتا ہے کہ اس ملک سے نکل جاؤں، وہاں ہی
مروں، اور پھر سلسلہ کا خیال کر کے اور بھی ڈراؤنی صورتیں نظر آرہی ہیں، احمدیوں (مرزائیوں) کا کیا بنے گا؟ تبلیغ کا کیا بنے گا؟ اتنی محنت ہماری اب کیسے اوپر کو چلے گی؟ اس خیال سے کہ باہر تبلیغ ہم کرتے ہیں، اور ہمیں ہی غیر مسلم یہاں ملک نے بنادیا ہے، اس کا جواب کیا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے ہم کمزوروں پر اتنا سخت ابتلا کیوں ڈال دیا ہے؟
خاکسار آپ کا پرانا دوست غمزدہ ڈاکٹر محمد منیر امرتسری ۱۰۔۹۔۷۴ء
(الفرقان ربوہ ستمبر ۱۹۷۴ء)
۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے آئینی فیصلہ کے بعد بہت سے سعادت مندوں کو مرزائیت سے تائب ہو کر دوبارہ حلقہ اسلام میں آنے کی توفیق ہوئی، اور بعض نے مرزا محمود احمد سابق خلیفہ ربوہ کی سنت کے مطابق تقیہ نفاق کا لبادہ اوڑھ لیا۔ مرزا بشیر الدین صاحب سابق خلیفہ ربوہ کے نزدیک جو لوگ ان کے ابا حضور (مرزا غلام احمد) کی خود ساختہ نبوت پر ایمان نہیں لائے، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں، مگر حکیم نور دین کے زمانے میں جب وہ حج کے لئے مکہ مکرمہ گئے تو بلا تکلف انہی کافروں کی اقتدا میں نمازیں پڑھتے رہے۔ (مباحثہ راولپنڈی ص ۲۲۶) بعد میں اپنے ڈیرے پر آکر ان کو لوٹا لیتے ہوں گے۔ صنادید
مرزائیت بھی کچھ دنوں تک مبہوت رہے، اور ان پر ”نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن“ کی کیفیت طاری رہی، تاہم محتاط لفظوں میں قومی اسمبلی اور اسلامیانِ پاکستان پر طنز و تحقیر، اور طعن و تشنیع کے تیر و نشتر بھی چلاتے رہے، لیکن جلد ہی مرزائیت کی شکستہ کشتی کی اصلاح و مرمت کے لئے تدابیر سوچی گئیں، ایک اطلاع کے مطابق ربوہ میں نیا قطعہ اراضی حاصل کیا گیا، اور جہاں تہاں سے مرزائیوں کو لا کر انہیں وہاں آباد کرنے، اور اسرائیل کی طرح اسے ناقابل تسخیر اسٹیٹ بنانے کا نیا نقشہ مرتب کیا گیا، آئینی فیصلہ میں تعویق و التوا کے لئے دوڑ دھوپ کی گئی، مسلمانوں کے درمیان تفریق و انتشار پیدا کرنے، اور انہیں ایک دوسرے سے لڑانے کے لئے خاکے مرتب کئے گئے، پاکستان کی ملت اسلامیہ اور حکومت کے خلاف نفرت پھیلانے کیلئے بیرون ملک خوب پروپیگنڈا کیا گیا، اور قصر خلافت ربوہ سے جنوری ۱۹۷۵ء میں نئی خوشخبری سنانے کا اعلان ہوا، جس کے نہ معلوم کیا کیا منصوبے زیر غور ہوں گے۔
زور آور حملے
مختصر یہ کہ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے بعد مرزائیت پر یاس و قنوط کی فضا چھا گئی تھی، مگر صنادید مرزائیت نے اس نیم بسمل کو ”الہامات“ کے انجکشن دیکر پھر مرزائیت کے غلبہ و اعلا کے سبز باغ دکھانے شروع کردیئے، چنانچہ اوپر ڈاکٹر محمد منیر صاحب کا جو خط درج کیا گیا ہے، اس پر مدیر ”الفرقان“ (ابوالعطا اللہ دتہ صاحب) نے یہ نوٹ لکھا ہے :
”مذہبی تاریخ پر نظر رکھیں کہ ہر زمانے کے فرستادہ کو دنیا کے
لوگ اسی طرح دھتکارتے رہے، مگر آخر کار سچائی کی فتح ہوتی رہی ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کے الہام پر غور فرمائیں کہ : ”دنیا میں ایک نذیر (مرزا) آیا پر، دنیا نے اس کو قبول نہ کیا، لیکن خدا اسے قبول کرے گا، اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کردے گا۔“
اس الہام کے ذکر کرنے سے مدیر ”الفرقان“ کا مقصد مرزائی برادری کو یہ تسلی دینا ہے کہ مسلمانوں کا مذہب مرزاجی کے الہام کے مطابق سچا نہیں، بلکہ مرزاجی کا ”مسیحی مذہب“ سچا ہے، اور خدا (معاذ اللہ) اسلام کے مقابلہ میں اس کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے زور آور حملے کرے گا۔
فرزند جلیل؟
اب مرزائیت بزعم خود ”خدا کے زور آور حملوں“ کیلئے تیار، اور نئے اسلحہ سے مسلح ہو کر میدان وغا (کارزار) میں پھر خم ٹھونک کر نکلی ہے، اور مسلمانوں کی غیرت کو للکارنے کی ”مقدس مہم“ کا آغاز پھر سے ہو رہا ہے، ملاحظہ فرمائیے :
- (الف) ”چونکہ سیدنا مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) اس
آخری زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند جلیل کی حیثیت میں احیا و غلبہ اسلام کی غرض سے بھیجے گئے تھے.......“
(روزنامہ الفضل ربوہ ۹ دسمبر ۱۹۷۴ء)
- (ب) ”اللہ تعالیٰ نے جب اس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم کی پیشگوئی کے بموجب آنحضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے
فرزند جلیل حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کو احیا و غلبہ اسلام کی غرض سے مبعوث کرنے کا ارادہ فرمایا تو .......“
(”الفضل“ ۱۹؍ دسمبر ۱۹۷۴ء)
مرزائیت کی بوالعجبی دیکھو! مرزا غلام احمد ایسے اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب کو کس ڈھٹائی کے ساتھ بار بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ”فرزند جلیل“ باور کرایا جاتا ہے‘ اور جو شخص خود حلقہ اسلام میں داخل نہیں‘ اسے ”اسلام کے احیا و غلبہ“ کیلئے مبعوث بتایا جاتا ہے :
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد و آلہ واصحابہ اجمعین۔
(بینات محرم ۱۳۹۵ھ مطابق فروری ۱۹۷۵ء)
لاہوری قادیانیوں کی مضحکہ خیزیاں
۱۹۷۵ء میں جبکہ راقم الحروف اتنا عدیم الفرصت نہیں تھا قوت و ہمت اور فکر و سوچ تازہ تھی اور ہمہ وقت قادیانی امت کی نقل و حرکت پر نگاہ رہتی تھی ، ان کے لٹریچر کے علاوہ ربوہ اور لاہور سے شائع ہونے والے تمام رسائل و جرائد زیر مطالعہ رہتے تھے ۔ انہی دنوں لاہوریوں کے رسالہ ”پیغام صلح“ میں لاہوریوں کی جانب سے شائع ہونے والے مضامین پر ”تازہ بتازہ ، نو بہ نو“ کے عنوان سے ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد میں میرے چند ایک تبصرے شائع ہوئے تھے جنہیں ”لاہوری قادیانیوں کی مضحکہ خیزیاں“ کے عنوان سے شائع کیا جا رہا ہے۔
مرزا غلام احمد : امر الٰہی
”فَعَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّاتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِہٖ“: اے مسلمانو! عنقریب اللہ تم کو فتح دے گا یا میری طرف سے کوئی تم میں امر آئے۔
(ہفت روزہ پیغام صلح ۲۹ جنوری ۱۹۷۵ء جلد: ۶۲ شمارہ: ۵ کالم: کالم: ۱)
یہ امر بھی ثابت کرتا ہے کہ یہ مجدد اور امام زمانہ ہے جس کے ساتھ اللہ ہم کلام ہوتا رہے گا، یہ ہی دعویٰ حضرت غلام احمد صاحب ”امام الزمان“ نے کیا ہے۔“
(ہفت روزہ پیغام صلح ۲۹؍جنوری ۱۹۷۵ء جلد:۶۲ شمارہ:۵ ص:۲)
جواب:...... اور اسی دعوئی ہم کلامی کی وجہ سے ”امام الزمان“ اور اس کی امت کو سکھوں اور ہندوؤں کی صف میں شامل کیا گیا ہے۔
فتویٰ:
”پھر یہ بھی قرآن مجید نے فتویٰ دیا ہے کہ جو لوگ اس امتیازی امر (مرزا غلام احمد) سے قطع تعلق رکھیں گے، یعنی اس کے ساتھ اختلاف کریں گے وہی گمراہ ہوں گے، وہی فاسق ہوں گے، وہی اللہ کا عہد توڑنے والے ہوں گے، اور فساد کریں گے زمین میں۔“
(ہفت روزہ پیغام صلح ۲۹؍جنوری ۱۹۷۵ء جلد:۶۲ شمارہ:۵ ص:۲ کالم:۲)
جواب:...... یہ لاہوری مرزائیوں کا ”ذاتی فتویٰ“ ہے کہ مرزا غلام احمد سے اختلاف کرنے والے گمراہ، فاسق، مفسد اور عہد الٰہی کو توڑنے والے ہیں، اور پھر کتنی معصومیت سے کہا جاتا ہے کہ ہم تو اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے۔
احمدی مسلمان:
”احمدی مسلمان (مرزائی) قرآن مجید کے مطابق عمل کرتے ہیں، وہ ہرگز فساد نہیں کرتے۔“
(ہفت روزہ پیغام صلح ایضاً ص:۲ کالم:۲)
جواب:....... جی ہاں! احمدی مسیحی فساد ہر گز نہیں کرتے ، بس ذرا سی قرآن مجید میں کتر بیونت کرتے ہیں اور وہ بھی اپنے امام الزمان کی ہدایت کی وجہ سے، شاید یہ فساد نہیں بلکہ اصلاح ہے، منافق بھی تو یہی کہا کرتے تھے۔
اور ”پیغام صلح“ کو شاید یاد نہیں رہا کہ مرزا غلام احمد کو مسیح موعود ماننے والے مسیحی جو اپنے آپ کو ”احمدی“ کہتے ہیں آئین کے مطابق مسلمان نہیں بلکہ غیر مسلم اقلیتوں میں شامل ہیں، ان کو ”مسلمان“ کہنا آئینی جرم ہے، آئندہ احتیاط رکھی جائے۔
نقش دوم:
”مجھے امید ہے ”احمدی مسلمان“ اپنے امام الزمان (مرزا غلام احمد) کے نقش قدم پر ثابت قدم رہیں گے۔“
(ہفت روزہ پیغام صلح ایضاً ص:۲ کالم:۲)
جواب:....... بلاشک، اور ثابت قدمی سے جہاں امام الزمان صاحب پہنچے ہیں وہاں جلد ہی پہنچیں گے، انشاء اللہ۔
تعزیرات پاکستان:
”۱۹؍ جنوری کے انگریزی روزنامہ پاکستان ٹائمز کی اطلاع ہے کہ پاکستان نیشنل اسمبلی میں جناب ملک اختر صاحب نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵۔اے میں ایک وضاحتی اضافہ کی تجویز پیش کی ہے جس کا ترجمہ حسب ذیل ہے: ”جو مسلمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم نبوت کے خلاف ، جس کی وضاحت آئین کی
دفعہ (آرٹیکل) ۲۶۰ کی شق (کلاز) ۳ میں کی گئی ہے، اعتقاد رکھے عمل کرے یا تبلیغ کرے گا وہ قانون کی رو سے مستوجب سزا ہوگا۔“
(ہفت روزہ پیغام صلح ایضاً ص: ۳ کالم: ۱)
جواب:...... تعزیرات پاکستان میں اس وضاحتی اضافہ پر نیشنل اسمبلی اور تمام ملت اسلامیہ کو مبارکباد ...... اور ملت مرزائیہ کے لئے عبرت! صد عبرت!!
ختم نبوت کا مقصد:
”قومی اسمبلی کا یہ اقدام ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کی متعلقہ ترمیم کا قدرتی نتیجہ ہے۔ ختم نبوت، دین اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے، اسلام کا مقصد ایک مربوط اور غیر منقسم معاشرہ قائم کرنا ہے۔ ایک عالمگیر خدا، ایک عالمگیر کتاب اور ایک کامل عالمگیر اسوہ حسنہ، تمام اس امر کے آئینہ دار ہیں کہ انسان کو ایک بار پھر ایک دین اور نظام حیات میں جکڑ دیا جائے اور اس طرح عالمی اخوت، مساوات اور انصاف پر تمام انسانوں کو متحد کر دیا جائے۔“
(ہفت روزہ پیغام صلح ایضاً ص: ۳ کالم: ۱)
جواب:...... اور اس عالمگیر مقصد میں رخنہ اندازی کے لئے غلام احمد قادیانی ایسے لوگوں نے ظلی نبوت کے افسانے کھڑے کئے اور تمام انسانوں کو کافر، فاسق، مفسد، گمراہ، عہد الٰہی کو توڑنے والے اور جہنمی بنا کر چلتے بنے، اس لئے ایسے اعدائے انسانیت کا سد باب ضروری ہے۔
ہمیشہ ناکام و نامراد:
”ختم نبوت کو اس نظام میں مرکزی مقام حاصل ہے۔
قرآن و حدیث اس حقیقت کے مؤید ہیں۔ اس امت کا اس پر اجماع چلا آیا ہے اور گو مختلف زمانوں میں بعض طالع آزماؤں نے اس چٹان سے سر ٹکرایا ہے، لیکن مصلحتِ خداوندی نے انہیں ہمیشہ ناکام و نامراد کیا ۔“
(ہفت روزہ پیغام صلح ایضاً ص:۳ کالم:۱)
جواب: ...... بالکل صحیح! اس صدی میں تو ان ”ناکام و نامراد“ طالع آزماؤں کا ایک غول ہی جمع ہو گیا تھا، جن کے سرخیل مرزا غلام احمد قادیانی تھے، مگر ناکامی و نامرادی کا یہ عالم کہ اور تو اور ان کے مریدوں نے ہی مرزائی نبوت کو کثرت تعبیر سے خوابِ پریشاں بنا دیا۔ ایک نے کہا حقیقی نبی تھے، دوسرے نے کہا نہیں، بلکہ مجازی نبی تھے، ایک نے کہا تشریعی نبی تھے دوسرے نے کہا نہیں بلکہ غیر تشریعی نبی تھے، کسی نے کہا اصلی نبی تھے دوسرے نے کہا نہیں بلکہ ظلی اور نقلی نبی تھے۔ کسی نے کہا مستقل نبی تھے دوسرے نے کہا نہیں بلکہ غیر مستقل نبی تھے، کسی نے کہا سچ مچ واقعی نبی تھے دوسرے نے کہا نہیں بلکہ غیر واقعی نبی تھے۔ دیکھئے! ختم نبوت کی چٹان سے ٹکرائے تو کیسا سر پھوٹا؟ اور مصلحتِ خداوندی نے انہیں کیسا ناکام و نامراد کیا؟ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰی ۔
کارگر اور مؤثر:
”ہمیشہ کی طرح آج بھی یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ دنیا میں اعمال و افعال پر تو تعزیر چل سکتی ہے مگر افکار و عقائد کی دنیا میں تعزیر و تشدد کبھی کارگر مؤثر نہیں ہوا۔“
(ہفت روزہ پیغام صلح ایضاً ص:۳ کالم:۱)
جواب:......اگر اعمال و افعال پر تعزیر چل سکتی ہے تو اقوال پر بھی یقیناً چل سکے گی، دل میں افکار و عقائد جو چاہے رکھے معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے، لیکن اگر ان غلط افکار و عقائد کا زہر زبان و قلم سے اگلنا شروع کریں گے تو قانون و تعزیر کو بہر حال اپنا فرض ادا کرنا ہے، بخاری شریف کی حدیث سنی ہوگی: ”من بدل دینہ فاقتلوہ“۔
تبرا:
”آج سب کو معلوم ہے کہ کچھ مسلمان صحابہ کرام کو منافق و مرتد جانتے ہیں اور تبرا کرتے ہیں۔“
(ہفت روزہ پیغام صلح ایضاً ص:۳ کالم:۲)
جواب:......جو لوگ صحابہؓ پر تبرا کرتے ہیں برا کرتے ہیں، لیکن کچھ غیر مسلم (مرزا غلام احمد وغیرہ) ایسے ہیں جو صحابہ کو نادان اور احمق کہتے ہیں، اور اپنے مریدوں کو صحابہ کرام کی جماعت بتاتے ہیں۔ ان کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟
ایمان:
”ہمیں ہر وہ شخص عزیز ہے جو کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان رکھتا ہے۔“
(ہفت روزہ پیغام صلح ایضاً ص:۳ کالم:۲)
جواب:......اور جو شخص کہے کہ خدا کی وحی کے مطابق ”محمد رسول اللہ“ میں ہوں، کیا وہ بھی عزیز ہے؟ اور آپ اسی ظلی ”محمد رسول اللہ“ پر ایمان رکھنے والوں کو تو عزیز نہیں سمجھتے؟
خدائی مقصد:
”ہم دل سے آرزو مند ہیں کہ مسلمان ختم نبوت وحدت اور اتحاد انسانیت کے خدائی مقصد کے لئے یک جان ہو جائیں اور غلبہ دین کے لئے مل کر کام کریں۔“
(ہفت روزہ پیغام صلح ایضاً ص: ۳ کالم: ۲)
جواب:....... بڑی مبارک آرزو ہے، مگر مرزا غلام احمد قادیانی کا فتنہ جب تک موجود ہے تب تک ختم نبوت اور وحدت امت کا ”خدائی مقصد“ پورا نہیں ہوسکتا، بس دعا بھی کیجئے اور کوشش بھی کہ یہ اس دور کا سب سے بڑا فتنہ جلد دفن ہو جائے۔
جماعت ربوہ: عجیب پوزیشن!
”ہم جماعت ربوہ سے مایوس نہیں، انہوں نے اپنے لئے عجیب پوزیشن اختیار کر رکھی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں، ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں، قرآن پر ایمان رکھتے ہیں، اس کے تمام حکموں پر عمل کرتے ہیں، اسلام کے بعد کوئی دین نہیں آئے گا، لیکن جب یہی اعلان کوئی دوسرا مسلمان کرتا ہے جو ان کی جماعت میں شامل نہیں تو اس کا نام کافر رکھتے ہیں۔“
(ہفت روزہ پیغام صلح ایضاً ص: ۳ کالم: ۲)
جواب:....... اور لاہوری مرزائی اس کا نام فاسق، گمراہ، عہد الٰہی کو توڑنے والے اور جہنمی رکھتے ہیں۔ یہ بھی تو عجیب پوزیشن ہے۔
کیوں کافر:
”اگر اسی خدا، رسول، کتاب پر ایمان لاکر مرزا صاحب اور جماعت ربوہ کے لوگ مسلمان کہلا سکتے ہیں، اور حضرت مرزا صاحب قرآن حکیم پر عمل کر کے خدارسیدہ ہو سکتے ہیں تو کوئی دوسرا مسلمان اس پر ایمان لا کر اور عمل کر کے کیوں کافر ہو سکتا ہے؟“
(ہفت روزہ پیغام صلح ایضاً ص:۳ کالم:۲)
جواب:...... اس لئے کہ ”حضرت مرزا صاحب“ نے اپنی نبوت کو جزوِ ایمان قرار دیا ہے، اپنی نبوت کے بغیر اسلام کو مردہ قرار دیا ہے، اپنی نبوت کے بغیر دین اسلام کو لعنتی اور قابلِ نفرت قرار دیا ہے، ظاہر ہے کہ ان کے مانے بغیر آدمی ”احمدی“ نہیں ہو سکتا، کافر ہی ہو سکتا ہے۔
ختم نبوت کا مسئلہ:
”مجھے یقین ہے کہ اگر حضرت مرزا صاحب کے ارشاد کے مطابق جماعت ربوہ کا ہر شخص تین دفعہ نہیں، ایک ہی دفعہ حضرت مرزا صاحب کی کتاب پڑھ جائے تو ختم نبوت کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہو جائے گا۔“
(ہفت روزہ پیغام صلح ایضاً ص:۳ کالم:۲)
جواب:...... ماشاء اللہ! چشم بد دور! ”حضرت صاحب“ کی کتب تین دفعہ نہیں ایک ہی دفعہ پیغام صلح والوں نے پڑھی ہیں، وہ نوے سال سے نہ تو جماعت ربوہ نے کبھی اٹھا کر دیکھیں، نہ علمائے امت نے کبھی ان سے ”استفادہ“ کیا، نہ قومی اسمبلی
کی خصوصی کمیٹی میں پیش ہوئیں، اس گنج مدفون کا سراغ بس ”پیغام صلح“ کو ہی مل سکا۔ جل جلالہ۔
اور یہ تو فرمایا ہوتا کہ ”حضرت مرزا صاحب“ کی کتب تین دفعہ نہیں ایک ہی دفعہ پڑھ جانے سے تو ختم نبوت کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہو جاتا ہے، یہ مسئلہ الجھایا کس کی کتابوں نے؟ ظلی ، بروزی ، امتی ، غیر امتی ، تشریعی ، غیر تشریعی ، اصلی، نقلی ، حقیقی، غیر حقیقی، مستقل، غیر مستقل نبوت کا جال کس ”حضرت صاحب“ کی کتابوں نے پھیلایا؟
ہمارا خیال ہے کہ اگر تعصب کی عینک اتار کر ”حضرت مرزا صاحب“ کی نبوت اور اس کے صفات و لوازم اور آثار و نتائج کو ان کی کتابوں میں پڑھا جائے تو شاید ”پیغام صلح“ واقعہ پیغام صلح ہو جائے۔ ”حضرت مرزا صاحب“ پر ایمان لانا اور پھر مسلمانوں کی فہرست میں شامل ہونے کی کوشش کرنا ”لا إلی ھولاء و لا الی ھولاء“ کا مصداق ہے۔
شرمناک حد تک مضحکہ خیز:
”برادران ربوہ نے ”ختم“ اور ”آخری“ کے جو معنی ”اوپر کی جانب“ ختم اور آخری کر رکھے ہیں وہ شرمناک حد تک مضحکہ خیز ہیں۔“
(ہفت روزہ پیغام صلح ایضاً ص : ۲ کالم : ۲)
جواب : ...... جزاک اللہ! اور مرزا صاحب نے ”آخری“ کے جو معنی ”محمد کی چیز محمد ہی کے پاس رہی“ کئے ہیں کیا وہ اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز اور شرمناک
منہ چڑانے کے مترادف:
”اور (مندرجہ بالا معنی) قرآن، حدیث، لغت، محاورہ، زبان اور خود مرزا کی ایک دو نہیں صدہا تحریروں کا منہ چڑانے کے مترادف ہیں اور اس طرح کھینچ تان کر امت میں قیامت تک صرف ”ایک انوکھا نبی“ لانے کے لئے اجرائے نبوت کا جو فتنہ کھڑا کر رکھا ہے اس سے نئے قانون کی روشنی میں جماعت ربوہ ایک چکر میں پڑ جائے گی یا تو انہیں حقیقی نبوت سے انکار کر کے ”خانہ ساز نبوت“ کی تبلیغ کے لئے غیر مسلم اقلیت ہونے کا اعلان کرنا ہوگا اور اگر وہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں تو پھر انہیں اعلان کرنا ہوگا کہ ہم مسلمان ہیں اور اسی مفہوم میں ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں جو آئین کا تقاضا ہے اور اس طرح اجرائے نبوت کے غیر اسلامی عقیدہ سے دستبردار ہونا ہوگا اور حضرت صاحب نے جہاں جہاں اپنی تحریروں میں لغوی، جزوی اور ناقص مجازی وغیرہ نبی کا لفظ استعمال کیا ہے اسے حضرت صاحب کے فرمودہ کے مطابق ”کٹا ہوا“ سمجھ کر اس کا حقیقی مترادف اصطلاحی لفظ ”محدث“ اپنانا ہوگا۔“
(ہفت روزہ پیغام صلح ایضاً ص:۳ کالم:۲، ص:۴ کالم:۱)
جواب :.......کاش یہ منہ چڑانے والی تقریر مرزا صاحب کی زندگی میں ان کے سامنے کی جاتی تو مرزا صاحب عیسیٰ ابن مریم اور محمد ثانی بننے کے لئے ایسی تاویلات نہ کرتے جو قرآن، حدیث، لغت، محاورہ، زبان اور خود ان کی اپنی تحریروں کا منہ چڑانے کے مترادف تھیں، اور اس طرح کھینچ تان کر امت میں ”مسیح محمدی“ کا جو
فتنہ انہوں نے کھڑا کیا اس سے نئے قانون کی روشنی میں مرزا صاحب کی امت چکر میں نہ پڑتی اور مرزا صاحب کی ”خانہ ساز نبوت“ کی بدولت انہیں غیر مسلم اقلیت قرار نہ دیا جاتا:
عقیدہ ترک:
”ہم تمام مسلمان فرقوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بھی ختم نبوت کو کماحقہ تسلیم کریں اور اس عقیدہ کو ترک کر دیں کہ ایک پرانا نبی آسمان پر بیٹھا ہے۔“
(ہفت روزہ پیغام صلح ایضاً ص:۴ کالم:۱)
جواب:......مشورہ خدا تعالیٰ کو دیجئے گا جس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کو قیامت کا نشان ”عِلْمٌ لِّلساعة“ فرمایا، نیز رسول اللہ ﷺ کو دیجئے کہ آپؐ نے دو صد احادیث میں قسمیں کھا کھا کر ان کے نازل ہونے کی امت کو خبر دی اور اعلان فرمایا:
”ان عیسیٰ لم یمت، و انه راجع الیکم قبل یوم القیامة.“
ترجمہ:......”بے شک عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں، اور وہ قیامت سے پہلے تمہاری طرف لوٹ کر آئیں گے۔“
(درمنثور ج:۲ ص:۳۳)
اور پھر یہ مشورہ تیرہ صدیوں کے مجددین، محدثین، مفسرین اور ائمہ دین کو دیجئے کہ ہر ایک نے یہی عقیدہ رکھا، اس کی تبلیغ کی اور اسی کو اپنی کتابوں میں درج فرمایا۔
اور پھر یہ مشورہ ”حضرت مرزا صاحب“ کو دیا ہوتا کہ انہوں نے مجدد، محدث، ملہم اور امام الزماں ہونے کی حیثیت میں یہ عقیدہ براہین احمدیہ میں درج فرمایا اور ۵۲ برس کی عمر تک اس پر قائم رہے کیونکہ اس وقت تک مریم بن کر عیسیٰ سے حاملہ نہیں ہوئے تھے۔ انصاف فرمائیے جو عقیدہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں درج فرمایا ہو، رسول اللہ ﷺ نے احادیث متواترہ میں تاکید در تاکید کے ساتھ ذکر فرمایا ہو، صحابہؓ و تابعینؒ اور مجددینؒ امت تیرہ صدی تک اس پر قائم رہے ہوں، خود آپ کے ”خانہ ساز عیسیٰ بن مریم“ ۵۲ برس تک اس پر ایمان رکھتے رہے ہوں ، بے چارے مسلمانوں کی کیا مجال ہے کہ وہ اس عقیدہ کو ترک کردیں؟ یہ تو حضرت مرزا صاحب ہی کا کمال ہے کہ جب ان پر وحی آئی تو عقیدہ بدل لیا۔
اور ہاں! آپ کو یہ غلط فہمی بھی مرزا صاحب کے مریمی حمل اور درد زہ نے ڈالی ہے کہ اس عقیدہ میں ہمارے نبی ﷺ کی ہتک ہے اور یہ بات ختم نبوت کے منافی ہے، ذرا عقل خداداد سے سوچ کر فرمائیے کہ مرزا صاحب جب یہ عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ رہے تھے اس وقت ہمارے نبی ﷺ کی ہتک کر کے کافر تو نہیں ہو گئے تھے؟ اور ختم نبوت کے منافی عقیدہ لکھ کر خارج از اسلام تو نہیں ہو گئے تھے؟
جان من! خاتم النبیین کے یہ معنی کس کتاب میں لکھے ہیں کہ آپ کی آمد سے تمام گزشتہ نبی مرگئے؟ یا ان کی نبوت سلب ہوگئی؟ یا کسی گزشتہ نبی کے لئے آپ کا امتی بننا حرام ہوگیا؟:
انبیاءؑ سے بڑھ کر:
”اب اس امت کی اصلاح تا قیامت آنحضرت
(ﷺ) کے خادم امتی اولیاء اللہ ہی پہلے کی طرح کرتے رہیں گے، نہ ہی اس امت میں امام معصوم آئیں گے، جن کا رتبہ انبیاء سے بڑھ کر ہوگا، یہ بھی ختم نبوت کے خلاف ہے، نہ ہی کوئی ایسا ولی اللہ آئے گا جس کا ماننا جزو ایمان ہوگا۔‘‘
(ہفت روزہ پیغام صلح ایضاً ص:۴ کالم:۱)
جواب:.......عیسیٰ علیہ السلام ، آنحضرت ﷺ کے خادم اور امتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے، اور ان کی آمد سے ایمان کے کسی رکن میں اضافہ نہیں ہوگا، کیونکہ ان کی نبوت پہلے ہی جزو ایمان ہے، اس لئے آپ کی تقریر مسلمانوں کے خلاف نہیں، ہاں آپ نے مرزا صاحب کی مسیحیت و مہدویت کی جڑ کاٹ دی، ان کا ماننا ان کے مسیحی دین میں جزو ایمان بھی ہے، اور عیسیٰ علیہ السلام بلکہ تمام انبیاء سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہونے کا اعلان بھی ہے، لہٰذا اگر آپ سچے تو مرزا جی..........؟
مدیر ”پیغام صلح“ صاحب! کسی مسئلہ پر قلم اٹھانا ہو تو ”حضرت مرزا صاحب“ کی پچاس الماریوں پر نظر ڈال لیا کریں۔ ورنہ وہی مثل ہوگی ”من چہ سرایم وطنبورہ من چہ سراید۔“
ایمانیات کا دائرہ:
”ایمانیات کا دائرہ قرآن تک محدود ہے۔“
(ہفت روزہ پیغام صلح ایضاً ص:۴ کالم:۱)
جواب:.......ایمانیات اجمالاً قرآن کریم نے اور تفصیلاً رسول اللہ ﷺ
نے اور تشریحاً مجددین امت نے بیان فرمائے ہیں، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان پر اٹھایا جانا اور قرب قیامت میں دوبارہ تشریف لانا بھی انہی ”ایمانیات“ میں شامل ہے، اس کا انکار وہی کرسکتا ہے جو نہ قرآن کریم پر ایمان رکھتا ہو، نہ رسول اللہ ﷺ پر اور نہ مجددین امت کو مسلمان سمجھتا ہو، جس کے ایمان کی بنیاد مرزا صاحب کی ”اعجاز مسیح“ اور ”کشتی نوح“ پر ہو اس کا نام آئین میں عیسائیوں اور ہندوؤں کے بعد ہی درج ہوسکتا ہے۔
ایک لمحہ بھی:
”ہماری جماعت حقیقی معنوں میں ختم نبوت پر ایمان رکھتی ہے۔ ہم کم از کم ساٹھ سال سے ختم نبوت کے حق میں جماعت ربوہ سے لڑ رہے ہیں اور ہماری کتابیں اور اخبارات اس پر گواہ ہیں، ہم حلفیہ اعلان کرتے ہیں کہ اگر ہمیں اس امر کا ذرہ بھر بھی یقین ہو کہ حضرت مرزا صاحب نے قرآن کی اصطلاح میں اپنے لئے لفظ نبی استعمال کیا تھا آپ حضرت نبی کریم ﷺ کے بعد ختم نبوت کے منکر تھے تو ہم ایک لمحہ بھی ان سے وابستہ نہ رہیں۔“
(ہفت روزہ پیغام صلح ایضاً ص:۴ کالم:۱)
جواب:......قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں آپ کی جماعت کے امیر مولانا صدر الدین صاحب بھی پیش ہوئے تھے، انہوں نے اپنا موقف بھی پیش کیا، ان پر جرح بھی ہوئی، افسوس ہے کہ آپ نے یہ نکات ان کو نہ سمجھا دیئے، ورنہ وہ اہل دانش کو ضرور مطمئن کردیتے۔ اب تو آپ کی یہ تقریر ”مشت کہ بعد از جنگ یاد آید
بر کلۂ خود باید زد‘‘ کا مصداق ہے۔ آپ کو قومی عدالت میں کوئی سمجھدار وکیل کھڑا کرنا چاہئے تھا، مقدمہ ہار جانے کے بعد قانونی نکات پیش کرنا بدحواسی کی علامت تو نہیں؟
غلطی خوردہ:
”ہمارے متعلق زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ ہم غلطی خوردہ ہیں، تو ہم علمائے حق اور انصاف پسند ارباب حکومت سے پوچھتے ہیں کہ اگر ہم غلطی کھا کر بھی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں تو اس میں اسلام اور امت کا کیا بگڑا؟ اور ہمارے خلاف قدغن کیسی؟“
(ہفت روزہ پیغام صلح ایضاً ص:۴ کالم:۱)
جواب:....... اگر ایک ”غلطی خوردہ“ اسلام کو خشک، مردہ، قابل نفرت اور لعنتی کہتا ہو اور امت مسلمہ کو فاسق، گمراہ، مشرک اور جہنمی کے خطاب دیتا ہو؟ ایک بر خود غلط مدعی کے منکروں پر کافر کا فتویٰ صادر کرتا ہو، اور پھر ان تمام امور کی ”تبلیغ“ کرتا ہو اس پر قدغن نہیں ہونی چاہئے؟ اس کی غلط نگہی، غلط اندیشی اور غلط روی سے اسلام اور امت کا کچھ نہیں بگڑتا؟
ختم نبوت پر تحقیق:
”جہاں تک عقائد کا تعلق ہے حکومت کو چاہئے کہ وہ اہل علم کی اعانت سے ختم نبوت پر تحقیق کرائے اور قرآن، حدیث اور گزشتہ مفسرین و محدثین کی تحریروں کی مدد سے علم کلام کی تدوین کرائے۔“
(ہفت روزہ پیغام صلح ایضاً ص:۴ کالم:۱)
جواب:...... اسلام کا علم عقائد قرآن وحدیث اور مفسرین و محدثین کی تحریروں کی روشنی میں الحمد للہ مدون شدہ موجود ہے، البتہ قادیانی امت کو اس پر ایمان نہیں۔...... رہی ختم نبوت کی تحقیق؟ سو وہ بھی بحمد اللہ کامل ومکمل ہوچکی ہے، اور قومی اسمبلی بھی ایک سو ایک دن تک گھاس نہیں کھودتی رہی۔ روزانہ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے تک ”اہل علم کی اعانت سے“ ختم نبوت پر تحقیق ہی کرتی رہی۔ مگر حیف کہ قادیانی امت کو وہ تحقیق بھی مسلم نہیں:
(ہفت روزہ پیغام صلح ایضاً ص: ٩ کالم: ٢)
اصل مطلب:
”حکومت دینی تعلیم و تدریس کا نظام اپنے ہاتھ میں لے لے، اپنی تعلیم کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرے اور اسے اس نصاب سے آزاد کرے جو صدیوں کے فرسودہ نظریات ، افکار اور تحقیق پر مبنی ہے۔“
(ہفت روزہ پیغام صلح ایضاً ص: ۴ کالم: ١)
جواب:...... ہاں! یہ تھی اصل مطلب کی بات! دینی مدارس میں پڑھایا جاتا ہے قرآن، حدیث، عقائد، اصول، فقہ اور ان کے خادم علوم، یہ قادیانی امت کے نزدیک ”صدیوں پہلے کے فرسودہ نظریات و افکار“ ہیں اس لئے ان کی جگہ قادیان کی جدید نبوت، جدید مسیحیت اور جدید علم کلام کا نصاب رائج ہونا چاہئے۔ یوں بھی دین کی حرارت کے لئے ایمان ویقین کی انگیٹھیاں بھی مدارس مہیا کرتے ہیں، اور چودھویں صدی کے ظلمت کدہ میں قال اللہ و قال الرسول کی روشن
قندیلیں بھی سر پھرے مدارس گھر گھر لئے پھرتے ہیں۔ قادیانی مسیحیت اور اشتراکی دہریت کے خلاف علم بغاوت یہیں سے بلند ہوتا ہے، اس لئے ان کو اپنے ہاتھ میں لینا ضروری ہے۔
اور اس مشورے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس طرح حکومت کے لئے ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا اور علمائے کرام ملت اسلامیہ اور خود حکومت کی نظر قادیانی مسئلہ سے ہٹ جائے گی اور آئین و قانون کو اپنے تقاضے پورے کرنے کی فرصت ہی نہیں ملے گی، اسے کہتے ہیں ”ایک تیر سے دو شکار“۔
تمام فتنوں کو:
”اگر حکومت دینی امور میں مخلص ہے تو اسے چاہئے کہ تمام مسلمانوں کو اسلامی اوامر و نواہی پر چلنے کے لئے قوانین بنائے اور ان تمام فتنوں کو ختم کرے جنہوں نے اسلامی اتحاد کو کھوکھلا کر رکھا ہے۔“
(ہفت روزہ پیغام صلح ایضاً ص:۴، کالم:۱)
جواب:....... مشورہ بڑا صائب ہے البتہ اس پر ایک فقرہ کا اضافہ کر دینا چاہئے کہ ان تمام فتنوں میں سب سے بڑا فتنہ مرزا غلام احمد کی مسیحیت ہے جو ابتدائے آفرینش سے آج تک بقول علامہ اقبال، اسلام کی غدار اور انگریز کی جاسوس رہی۔
وما علینا الا البلاغ
(ہفت روزہ لولاک لائل پور، ۱۷؍ مارچ ۱۹۷۵ء)
انوکھی رحمت:
لاہوری ہفت روزہ ”پیغام صلح“ ٢٢؍جنوری ١٩٧٥ء کی اشاعت میں ہے:
”ان فتاویٰ کفر کی کثرت کو دیکھ کر علماء ربانی گھبرائے نہیں، انہوں نے اس کو رحمت سمجھ لیا، پتھروں کی بارش کو پھول سمجھ کر برداشت کر لیا۔“
جواب:
فتویٰ کفر بھی رحمت ہے تو دعا کیجئے یہ دولت دونوں جہان میں مرزا صاحب کی جماعت کے شامل رہے، مرزا صاحب جو ”رحمۃ للعالمین“ بن کر آئے تھے، اس سے مراد بھی غالباً یہی رحمت کفر ہوگی............ مبارکباد۔
چودھویں صدی ختم ہونے کو:
پیغام صلح کے اسی شمارے میں ہے:
”اس صدی کے سر پر سوائے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے اور کسی شخص نے دعویٰ مجددیت نہیں کیا، آج چودھویں صدی ختم ہونے کو ہے۔“
جواب:
تو اب بس کیجئے مرزا صاحب کا دور تجدید ختم ہو لیا، ان کی رحمۃ للعالمینی کو جتنا گرجنا تھا گرج لی اور اس کا نتیجہ بھی نکل آیا۔
نئی خلافت نئے فتنے:
پیغام صلح ۵/ فروری ۱۹۷۵ء میں ہے:
”ہمارے زمانہ میں ایک نئی خلافت (ربوہ) نے ان (اسلامی) روایات کو ختم کرنے کے لئے سن ہجری کو ختم کر کے ایک نیا سن جاری کر دیا، جس کی وجہ سے اس سن کی عظمت پر ضرب پڑتی ہے، حالانکہ جن لوگوں نے سن ہجری جاری کیا تھا وہ اسلام میں ہجرت اور اس کے بلند ترین مقام کو خوب سمجھتے تھے اور انہیں علم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کو بلند ترین مقام بخشا تھا، لیکن اب مسلمانوں کو ”ہش، وفا، تبوک وغیرہ مہینوں کی راہ پر ڈال کر نئے نئے فتنوں کو ابھارا جارہا ہے۔“
جواب:
جزاک اللہ! بات ٹھیک کہی مگر ادھوری! اسلام میں قمری تقویم رائج ہے، سینکڑوں اسلامی احکام اس قمری حساب سے وابستہ ہیں، قمری تقویم کی جگہ ”ہش“ جاری کرنا دراصل ان احکام کو منسوخ کرنے کے مترادف ہے۔ مگر شکوہ کیجئے تو کس سے کیجئے؟ جس دور فتن میں اسود قادیاں کو محمد عربی ﷺ سے بڑھ کر مانا جائے، مسیلمہ ہند کو روح اللہ (علیٰ نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام) سے افضل سمجھا اور مسیح پنجاب کو تمام کمالات انبیاء کا جامع تصور کیا جائے اس تاریک دور میں ان باریکیوں میں کون جاتا ہے؟
اور جن لوگوں نے بقائمی عقل و خرد محمدؐ کے مقابلہ میں نیا محمد، نبوت کے مقابلہ میں نئی نبوت، امہات المؤمنین کے مقابلہ میں نئی ام المؤمنین، صحابہ کرام کے مقابلہ
میں نئے صحابی، اہل بیت نبیؐ کے مقابلہ میں نئے اہل بیت، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں نیا ابوبکر، عمر فاروقؓ کے مقابلہ میں فضل عمر، مردہ علی (معاذ اللہ) کے مقابلہ میں زندہ علی، حسینؓ کے مقابلہ میں نیا حسین، مہدیٔ اسلام کے مقابلہ میں نیا مہدی، آدم علیہ السلام کے مقابلہ میں نیا آدم، ابراہیم علیہ السلام کے مقابلہ میں نیا ابراہیم، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں نیا عیسیٰ، مقام ابراہیم کے مقابلہ میں نیا مقام ابراہیم، مسجد حرام کے مقابلہ میں نیا حرم، مسجد اقصیٰ کے مقابلہ میں نئی مسجد اقصیٰ، بیت اللہ کے مقابلہ میں نیا بیت اللہ، حج کے مقابلہ میں ظلی حج اور خلافت راشدہ کے مقابلہ میں نئی خلافت (وغیرہ وغیرہ) کا فتنہ کھڑا کر لیا ہو، ان کے لئے اسلامی سن کے مقابلہ میں قادیانی سن کا فتنہ کھڑا کرنا کیا حقیقت رکھتا ہے؟
غور کیجئے! جب مرکز تجلیات، کعبہ کی جگہ قادیاں بن جائے، جب مرکز عقیدت محمد رسول اللہ ﷺ کی جگہ احمد ہندی (مرزا صاحب) ٹھہرے اور جب گنبد خضراء کے حقوق قادیاں میں گنبد بیضاء کو عطا کر دیئے جائیں، تو اور پیچھے کیا رہ جاتا ہے؟ ہمارے بھولے بھالے لاہوری دوست کہتے ہیں حضرت صاحب نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ حیف ہے کہ ادھر بروزی نقب لگا کر اسلام کا سب کچھ لوٹ کر قادیان منتقل کر دیا گیا اور ادھر لاہوری دوست بیٹھے، سب اچھا ہے کی رٹ لگا رہے ہیں۔
نیا دین:
ہفت روزہ ”پیغام صلح“ ۵/مارچ ۱۹۷۵ء میں ہے کہ:
”معاصر ہفت روزہ لاہور ۱۷/ فروری ۱۹۷۵ء میں جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خاں سابق صدر عالمی عدالت انصاف کا ایک
مضمون بعنوان ’’میرا دین‘‘ شائع ہوا ہے، جس میں انہوں نے مرزا صاحب کو مجدد، محدث، مصلح کہہ کر لاہوری جماعت کے عقائد پر ’’برہانِ نیر‘‘ پیش کی ہے اور مرزا صاحب کے ظہور کو ختم نبوت کی مہر نہ توڑنے والا ٹھہرایا ہے۔ البتہ چوہدری صاحب کا یہ فقرہ کہ ’’آنحضرت ﷺ نے جہاں اس مسیح موعود کا ذکر فرمایا ہے اس کے ساتھ ہر بار ’’نبی اللہ‘‘ کا لقب بھی شامل کیا ہے‘‘ اصلاح طلب ہے۔‘‘
جواب:
ادارہ پیغام صلح نے اگر چوہدری صاحب کے مضمون سے یہ مطلب اخذ کیا ہے کہ مرزا صاحب نبی نہیں تھے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔
دراصل مرزا غلام احمد صاحب سے مرزا ناصر احمد تک قادیانی جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا صاحب، آنحضرت ﷺ کی مہر نبوت کے فیضان سے نبی بنے ہیں، اس لئے ان کی نبوت سے مہر نبوت نہیں ٹوٹتی بلکہ اس کا کمال ثابت ہوتا ہے، اور کمال فیضان سے مطلب ہے فنا فی الرسول ہوکر آپ کے تمام کمالات نبوت کو جذب کر کے نبوت محمدیہ کی چادر خود اوڑھ لینا۔ یہی معنی ہیں ظلی اور بروزی نبوت کے، اور یہی تفسیر ہے خاتم النبیین کی۔ خلاصہ یہ کہ مرزا صاحب نبی ہیں، واقعۃً نبی ہیں، حقیقۃً نبی ہیں، من جانب اللہ نبی ہیں، مگر بلاواسطہ نہیں بلکہ بواسطہ اتباع محمدی اور بذریعہ فیضان ختم نبوت ۔ یہ ہے قادیانی عقیدہ، اور یہی عقیدہ مختصراً چوہدری صاحب نے اپنے مضمون ’’میرا دین‘‘ میں بیان کیا ہے۔ اور اسی کی تشریحات مرزا صاحب نے سینکڑوں صفحات پر پھیلائی ہیں مگر لاہوری بھولے بادشاہ ہیں کہ چوہدری صاحب کے مضمون پر
بغلیں بجانے لگے۔
لاہوری دوستو! مرزا صاحب کی ظلی نبوت طلسم ہوشربا ہے، یہ بروزی گورکھ دھندا ہے، اس گتھی کو سلجھانا تمہارے بس کا روگ نہیں، ہمت ہے تو مجازی نبوت کے تار عنکبوت کو توڑ کر باہر نکل آؤ، اور اس بیضۂ مور سے باہر جھانک کر دیکھو کہ خدا کی زمین کتنی فراخ اور کشادہ ہے، اور اگر تمہارے کمزور اعضائے فکر اس مکڑی کے جالے کو توڑنے پر قادر نہیں تو ہمیشہ کے لئے اس میں پھڑ پھڑاتے رہو اور دنیا ہی میں ”لایموت فیھا ولا یحییٰ“ کی عبرتناک تصویر بنے رہو۔ خدا شاہد ہے کہ ہمیں تم لوگوں سے ذاتی بغض نہیں ، بلکہ تمہاری حالت زار پر رحم آتا ہے۔ مگر جب تم خود ہی اپنی ذات پر رحم نہ کرنا چاہو تو کیا کیا جائے؟ کس طرح تمہارا ہاتھ پکڑ کر تمہیں اس دلدل سے نکالا جائے جس میں تم سر تک دھنس گئے ہو اور ابھی دھنستے ہی جارہے ہو۔ مولانا لال حسین اختر، مولانا عبدالکریم مباہلہ اور دیگر بیسیوں افاضل ، قادیاں کے ”سبز باغ“ کی سیر کرنے کے بعد وہاں کے گل و بلبل کی داستانیں ساتھ لے کر نکل آئے، تمہیں بڑے باپ کے بڑے بیٹے کے افسانے ازبر ہیں اور پھر بڑے بیٹے کے بارے میں بڑے باپ کی الہامی بشارتیں اور دعائیں بھی حفظ ہیں، اس کے بعد بھی تمہاری قوت فکریہ صحیح فیصلہ نہ کرے اور تم نار کو عار پر اور دنیا کو عقبیٰ پر ترجیح دینے ہی کا فیصلہ کرو، تو تم ہی بتاؤ تمہیں کیسے سمجھایا جائے؟ اللہ تعالیٰ نے تمہارے سمجھنے سوچنے کے لئے بیسیوں موقعے پیدا کئے لیکن ”وَ مَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ“ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراطِ مستقیم کی ہدایت فرمائے۔
مدعی نبوت اور تاویل:
اسی ہفت روزہ ”پیغام صلح“ ۱۵/ مارچ ۱۹۷۵ء کے ص ۱۲ پر ہے:
”بے شک محمود احمد خلیفہ قادیاں نے علیحدہ امت قائم کی اور ختم نبوت کو توڑ کر اپنے والد بزرگوار کو...... کی تائید کرتے ہوئے مدعی نبوت ثابت کرنے کی کوشش کی اور تمام مسلمانوں کو مرزا صاحب کو نبی نہ ماننے کی وجہ سے کافر کہا، مگر چونکہ ظاہراً وہ تمام ارکان اسلام بجا لاتے ہیں اور منہ سے بھی کلمہ پڑھتے رہے لہٰذا ”احمدیہ جماعت لاہور“ ان کی تکفیر سے اجتناب کرتی رہی۔“
جواب:
یہ ہے مرزائی اسلام، ایک شخص مدعی نبوت کو حقیقی نبی ثابت کرتا ہے، اس پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے تمام امت مسلمہ کو کافر کہتا ہے، مگر لاہوری مرزائیوں کے نزدیک وہ کافر نہیں بلکہ پکا مسلمان ہے۔
مرزا محمود احمد خلیفہ قادیاں اور ان کی جماعت کے عقائد سب کو معلوم ہیں، وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو بعینہ محمد رسول اللہ سمجھ کر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں محمد سے مرزا صاحب مراد لیتے ہیں ، ان کا عقیدہ ہے کہ حضور ﷺ ہی مرزا قادیانی کی شکل میں دوبارہ مبعوث ہوئے ہیں، وہی تمام دنیا کے رسول ہیں ، وہی رحمۃ للعالمین ہیں، اب قیامت تک انہی کے ذریعہ فیض ملے گا، انہی کی پیروی میں اب نجات منحصر ہے اور جو لوگ مرزا قادیانی کی بعثت و نبوت پر ایمان نہیں لائے (ان میں لاہوری مرزائی بھی اپنے آپ کو شامل کرتے ہیں) وہ نہ صرف کافر بلکہ پکے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں، مشرک ہیں، جہنمی ہیں، کتوں اور خنزیروں کی اولاد ہیں۔ لیکن ان تمام خبیث عقائد کے باوجود لاہوری مرزائی ان کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں، اگر یہی صحیح ہے تو لاہوری مرزائیوں کو اعلان کر دینا چاہئے کہ مسیلمہ کذاب سے لے کر بہاء اللہ
ایرانی تک اور چراغ دین سے لے کر اسمعیل لندنی تک جتنے جھوٹے نبی، مسیح مہدی اور مدعی گزرے ہیں، وہ سب مسلمان تھے، اور ان کے ماننے والے ہماری برادری میں شامل ہیں۔ کیونکہ ہر مدعی کوئی نہ کوئی الہامی تاویل لے کر اٹھتا ہے، اور الہام و تاویل ہی کے سہارے اپنی رسالت و نبوت اور مہدیت و مسیحیت کا اعلان کرتا ہے۔ لہٰذا لاہوریوں کے نزدیک ہر تاویل کنندہ مسلمان ہے، اور ان کی برادری کا ممبر ہے۔
اسلامی عقائد میں وضاحت کردی گئی ہے کہ دین کے مسلّمہ حقائق کو تاویل کے ذریعہ بدلنے والا مسلمان نہیں۔ شیخ علی القاریؒ علم عقائد کی کتاب ”قصیدہ بدء الامالی“ کی شرح میں لکھتے ہیں:
”فإن إعتقاد نبوة من ليس بنبي كفر، كإعتقاد نفی نبوة نبي من الأنبياء.“
ترجمہ:....... ”غیر نبی کو نبی سمجھنا کفر ہے، جس طرح کہ کسی بھی نبی کے نبی نہ ہونے کا عقیدہ رکھنا کفر ہے۔“
انصاف کرو کہ مرزا صاحب جو غیر نبی تھے، ان کو حقیقی یا ظلی بروزی نبی سمجھنے والوں کا کیا حکم ہے؟ ان کی وحی پر ایمان لانے والے کون ہیں؟ ان کے معجزات کی تصدیق کرنے والے کیا حکم رکھتے ہیں؟ امام ابو حنیفہؒ کا فتویٰ یہ ہے کہ ”جس نے خاتم النبیین ﷺ کے بعد کسی نبوت کا دعویٰ کرنے والے سے معجزہ طلب کیا وہ بھی کافر ہے۔“
ان کی بھی سنئے:
روزنامہ الفضل ۸/ مارچ ۱۹۷۵ء میں ربوہ کے خلیفہ جناب مرزا ناصر احمد صاحب کا تازہ خطبہ جمعہ شائع ہوا ہے چند کلمات ان کے بھی سماعت فرمائیے گزشتہ
ہمیشہ ارشاد ہوتا ہے:
”گزشتہ عرصہ میں بہت سے مہینے ایسے گزرے ہیں جو بڑی پریشانیوں کے مہینے تھے اور فساد کے مہینے تھے، اور ظلم سہنے کے مہینے تھے اور ظلم کو برداشت کے ساتھ اور مسکراتے چہروں کے ساتھ برداشت کرنے کے مہینے تھے، اور جو چیز حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کے ذریعہ ہمیں حاصل ہوئی اس کو ظاہر کرنے کے مہینے تھے۔“
جواب:
یعنی عبرت پکڑنے کے علاوہ باقی سب کچھ کے مہینے تھے۔
قرآن پر یقین:
اسی شمارہ میں آگے مزید ارشاد ہے:
”یعنی یقین کی دولت کو ظاہر کرنے کے مہینے تھے، جو مرزا صاحب کے ذریعہ ہم نے پائی، یقین اس بات پر کہ اللہ ہے (اور وہ مرزا صاحب کی رؤیا کے مطابق خود مرزا صاحب ہیں۔ ناقل) اور یقین اس بات پر کہ قرآنِ عظیم ایک نہایت ہی حسین شریعت اور ایک کامل و مکمل ہدایت ہے۔“
جواب:
اگر یہ یقین ہوتا تو مرزا صاحب کو نئی ”وحی نبوت“ کے نئے بیس پارے لکھنے کی ضرورت نہ ہوتی، جبکہ مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ ”خدا کا کلام اس قدر مجھ پر نازل ہوا کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہیں ہوگا۔“
(حقیقت الوحی ص: ۳۹۱)
لولاک لما خلقت الافلاک:
مزید ارشاد ہے:
”یقین اس بات پر کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ دنیا کے لئے عظیم محسن ہیں اور آپ کا مقام اس کائنات میں ان الفاظ میں بیان ہوا ”لولاک لما خلقت الافلاک“ کہ اگر محمد ﷺ کو پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو اس کائنات کو پیدا کرنے ہی کی ضرورت نہ تھی۔“
جواب:
مرزائیوں کو حضور ﷺ کی شان لولاک پر بھی یقین نہیں ان کا ایمان یہ ہے کہ یہ شان مرزا غلام احمد کی ہے۔
(دیکھئے تذکرہ ص: ۶۰۳، ۶۴۹۔ طبع دوم)
رحمۃ للعالمین:
آگے مزید ارشاد ہے:
”حضرت محمد ﷺ رحمۃ للعالمین ہیں آپ کو صرف انسانوں کے لئے رحمت نہیں کہا گیا بلکہ رحمۃ للعالمین کہا گیا ہے۔“
جواب:
بے شک حضرت محمد ﷺ رسول اللہ بھی ہیں اور رحمۃ للعالمین بھی، لیکن مرزائیوں کا محمد رسول اللہ اور رحمۃ للعالمین تو مرزا غلام احمد ہے۔
(دیکھئے تذکرہ ص: ۸۳ اور ۹۷)
مہدی:
اسی شمارہ میں آگے فرماتے ہیں:
”اور یقین اس بات پر کہ حضرت محمد رسول اللہ کو ایک وعدہ دیا گیا تھا کہ آخری زمانہ میں آپ کی ”روحانی اولاد“ میں سے ایک مہدی ، ایک بطل جلیل اور آپ کا سب سے زیادہ محبوب بیٹا روحانی لحاظ سے پیدا ہوگا، اور وہ ایک جماعت پیدا کرے گا۔“
جواب:
اس ارشاد پر چند گزارشات ملاحظہ فرمائیں:
- ۱...... مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ مہدی سے متعلق حدیثیں جھوٹ ہیں۔ کیا مرزائی جھوٹ پر یقین رکھتے ہیں؟
- ۲...... مہدی کی احادیث میں کسی جگہ بھی ”روحانی اولاد“ کا لفظ نہیں آیا، کیا یہ رسول اللہ ﷺ پر افترا اور بہتان نہیں؟
- ۳...... جو شخص ساری عمر صلیب پرستوں کا مطیع و فرمانبردار رہے وہ بطل جلیل ہوتا ہے؟ اور جو شخص عیسائی کی عدالت میں انگوٹھا لگا کر آئے کہ فدوی آئندہ کوئی ایسا ویسا الہام شائع نہیں کرے گا وہ ”مہدی بہادر“ کہلاتا ہے؟
- ۴...... کس حدیث میں آیا ہے کہ مہدی کے مرجانے کے چالیس سال بعد اس کا پایۂ تخت قادیان شریف دار الکفر بن جائے گا، اور ۷۰ سال بعد اس کی جماعت کو بصد ذلت خارج از اسلام قرار دیا جائے گا اور جماعت کا امام اپنی جماعت کو غلبۂ اسلام کے سبز باغ دکھائے گا، اگر ایسا مضمون کسی حدیث میں آیا ہو تو خلیفہ صاحب ، اپنے خطبہ میں اس حدیث کا حوالہ دیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
آگے فرماتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ میں محمد مصطفیٰ ﷺ کے روحانی فرزند (معاذ اللہ مرزا) کو ایک جماعت دوں گا جو اس روحانی فرزند کے ذریعہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے فیوض و برکات کی وارث ، آپ کی تعلیم پر چلنے والی اور آپس میں پیار کرنے والی ہوگی۔“
جواب:
خلیفہ صاحب ! یہ کس آیت کا ترجمہ ہے؟ اور یہ بھی فرمایا ہوتا کہ مہدی کی یہ جماعت ربوہ والی ہے یا لاہوری؟ یا حقیقت پسند پارٹی یا قادیاں شریف کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے والی؟ ربوہ سے شہر بدر کئے گئے لوگ تو مہدی کی جماعت کا نقشہ کچھ اور ہی پیش کرتے ہیں۔
جماعت کا یقین:
آخر میں ارشاد ہے:
”میرے سامنے بعض دوست ایسے بھی ہیں جو اس حقیقت پر یقین نہیں رکھتے ، وہ خدا کی نگاہ میں مسیح موعود کی جماعت میں شامل نہیں ، صرف دکھ اٹھانے کے لئے حضرت مسیح موعود کی طرف منسوب ہونا تو بڑی بدقسمتی کے مترادف ہے، بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ دکھ اٹھانے کے لئے انسان مسیح موعود کی جماعت کی طرف منسوب
ہو جائے اور فیوض اور رحمتوں سے اپنے آپ کو محروم کر لے۔“ (ملخصاً)
جواب:
سارے خطبہ میں یہی ایک سچی بات ارشاد ہوئی، واقعہ مرزائی امت کے تمام افراد بدقسمتی، محرومی اور دکھ اٹھانے کے لئے ایک فرضی ”مسیح موعود“ مرزا غلام احمد کی طرف منسوب ہوگئے، اور یہی محرومی و بدقسمتی ان کی دائمی قسمت ہے۔ خلیفہ صاحب ان کو غلبۂ اسلام کے سبز باغ دکھا کر چندہ تو جمع کر سکتے ہیں، مگر ان کی قسمت نہیں بدل سکتے۔
(ہفت روزہ لولاک ۲۶؍ مئی ۱۹۷۵ء)
سیرت المہدی فضول
لاہوری رسالہ ”پیغام صلح“ ۲؍ اپریل ۱۹۷۵ء میں ہے:
”خیال تھا کہ شاید ربوائی جدت طرازوں نے ”سیرت المہدی“ ایسی فضول کتاب سے کوئی سبق حاصل کر لیا ہوگا، مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہوا اور لایعنی روایات کی اختراع جاری ہے، ملاحظہ فرمائیں: ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد مرزا غلام مرتضیٰ صاحب سے جب کسی نے پوچھا کہ آپ کا لڑکا کہاں ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ: کسی صف میں لیٹا ہوگا، یا لوٹے کی ٹونٹی میں۔“
(انصار اللہ جنوری ۱۹۷۵ء ص: ۸)
کیا لوٹے کی ٹونٹی میں ہونا بھی روحانیت کا کوئی مقام ہے؟
جواب:
کہتے ہیں کہ ایک حبشی جا رہا تھا، راستہ میں آئینہ ملا، اٹھا کر دیکھا تو اپنی پری پیکر صورت نظر آئی، گھبرا کر اسے زمین پر دے مارا، اور بولا: اتنا بدصورت تھا جب ہی تو کسی نے یوں پھینک دیا۔
”سیرت“ کسی شخص کا آئینہ ہوتی ہے، ”سیرت المہدی“ میں قادیانی امت کو مرزا غلام احمد کے ملکوتی سراپا کی کچھ جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ وہ حبشی کی طرح اس آئینہ ہی کو توڑنے پر آمادہ ہے حالانکہ اگر ”سیرت المہدی“ فضول ہے تو اس میں قصور ”سیرت“ کا نہیں، بلکہ صاحب سیرت کا ہے۔ نام نہاد ”مہدی“ کے صفحات زندگی ہی اتنے زریں اور تابناک ہیں کہ قادیانی امت ان سے حبشی کے آئینہ کی طرح جھنجلاتی ہے۔
رہا پیغام صلح کا یہ سوال کہ کیا لوٹے کی ٹونٹی میں ہونا بھی روحانیت کا کوئی مقام ہے؟ اس کا جواب نہ ”ربوائی جدت طراز“ دے سکتے ہیں، نہ ”لاہوری الہام پرست“ اس عقدہ کو حل کر سکتے ہیں، اس کا حل یہ ہے کہ جس مسیح موعود صاحب کے لئے چالیس برس کی عمر میں مراق اور سلسل البول ”روحانی مقامات“ کی حیثیت رکھتے ہوں، اس کے بچپن کا ”روحانی مقام“ لوٹے کی ٹونٹی ہی ہو سکتا ہے۔ مثل مشہور ہے کہ ”ہونہار بروے کے چکنے چکنے پات“ اور یہ تو سنِ شعور کا ”روحانی مقام“ تھا، جب مسیح موعود ابھی بچے ہی تھے، اس وقت آپ کا ”روحانی مقام“ تھا روٹی پر راکھ رکھنا اور کھانڈ کے دھوکے، گھر سے نمک چرا لے جانا۔
(دیکھئے سیرت المہدی ج:۱ ص:۲۴۳،۲۴۵)
توہین:
پیغام صلح ۲؍اپریل ۱۹۷۵ء کے شمارہ میں ہے:
”گزشتہ سال ربوہ کے مولوی محمد شریف صاحب حج پر تشریف لے گئے اور مکہ معظمہ میں اسیر زنداں رہے، جنوری ۱۹۷۵ء کے ”انصار اللہ“ میں داستان قید و بند کی دوسری قسط درج ہے جس کو بارہ مصالحہ لگا کر چٹ پٹا بنانے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن اس سلسلہ میں ان کی وصیت کا تذکرہ یوں کیا ہے: ”میں نے ان سے کہا کہ میری ایک درخواست ہے، وہ یہ کہ اگر میں قتل کر دیا جاؤں تو میری میت میرے وطن بھجوائی جائے، کہنے لگے ”لا فی ھذا الجھنم“ یعنی جہنم میں دفن کی جائے گی۔“
(ص:۲۵)
عربی کے اس سقیم فقرہ کا ترجمہ ہے ”نہیں اس جہنم میں“ لیکن ”داستان سرا“ نے ”ھذا“ کا ترجمہ ”اس“ حذف کر دیا ہے۔ کیا کوئی مسلمان مکہ معظمہ کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کر سکتا ہے؟ (العیاذ باللہ) ۔ ربوائی حضرات شعوری نہیں تو لاشعوری طور پر ایسی باتیں لکھ جاتے ہیں جن سے مقدس ہستیوں یا مقدس مقامات کی توہین ہوتی ہے، انہیں اس سے احتراز کرنا چاہئے۔“
جواب:
لاہوری مرزائی بھی بڑے بھولے بادشاہ ہیں، ”انصار اللہ“ نے مکہ مکرمہ کو جہنم لکھ دیا، بس اتنی سی بات پر مقدس ہستیوں یا مقدس مقامات کی توہین سے باز رہنے کا وعظ کہنے لگے، حالانکہ مقدس ہستیوں کی اہانت اور شعائر اللہ کی توہین تو مرزائی امت اور ان کے ”مسیح موعود“ کی سرشت میں داخل ہے، کیا پیغام صلح کو مرزا غلام احمد قادیانی کے تعلی آمیز دعوے بھول گئے ہیں؟ کیا انہیں یاد نہیں کہ مرزا صاحب نے ”اسلام“ کے بارے میں فرمایا تھا:
”نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو، اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں۔ وہ دین، دین نہیں ہے اور نہ وہ نبی، نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہوسکتا کہ مکالمات الٰہیہ سے مشرف ہوسکے، وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھلاتا ہے کہ صرف چند منقولی باتوں یعنی (آنحضرت ﷺ کی شریعت) پر انسانی ترقیات کا مدار ہے اور وحی الٰہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے...... سو ایسا دین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں، شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہوتا ہے۔“
(براہین احمدیہ ج:۵ ص:۱۳۸)
مزید سنئے:
”وہ مذہب مردار ہے جس میں ہمیشہ کے لئے یقینی وحی کا سلسلہ جاری نہیں کیونکہ وہ انسانوں پر یقین کی راہ بند کرتا ہے اور ان کو قصوں کہانیوں پر چھوڑتا ہے اور ان کو خدا سے ناامید کرتا اور تاریکی میں ڈالتا ہے۔ اور کیونکر کوئی مذہب خدا نما ہوسکتا ہے اور کیونکر گناہوں سے چھڑا سکتا ہے، جب تک کوئی یقین کا ذریعہ اپنے پاس نہیں رکھتا ....... اب بتلاؤ اے مسلمان کہلانے والو کہ ظلمات شک سے نور یقین کی طرف تم کیونکر پہنچ سکتے ہو ، یقین کا ذریعہ تو خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔“
(نزول مسیح ص:۹۱)
(ہفت روزہ لولاک لائل پور، جون ۱۹۷۵ء)
اسلام اور قادیانیت:
۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کے آئینی فیصلے کے مطابق منکرین ختم نبوت خارج از اسلام ہیں، اس فیصلہ کا مفہوم یہ ہے کہ اسلام اور قادیانیت دو ضدیں ہیں۔ اگر ایک شخص مسلمان ہے تو وہ مرزائی نہیں ہو سکتا، اور مرزائی ہے تو مسلمان نہیں کہلا سکتا۔ آئین کے تقاضوں کو اب تدریجاً قانونی شکل دی جارہی ہے، چنانچہ صدر مملکت کے ایک حکم میں سینٹ کی رکنیت کے مسلمان امیدواروں کے لئے لازم قرار دیا گیا کہ وہ حلفیہ اقرار کریں کہ وہ ختم نبوت کے منکر اور مرزائی نہیں ہیں۔ حلف نامہ کی عبارت حسب ذیل ہوگی:
”میں حضرت محمد ﷺ کے آخری نبی ہونے پر مکمل، پختہ اور غیر مشروط یقین رکھتا ہوں، اور میں ایسے شخص کو نبی یا مذہبی مصلح تسلیم نہیں کرتا جو حضرت محمد ﷺ کے بعد (مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح) نبی ہونے کا اعلان کرتا ہے۔“
قریباً اسی نوعیت کا حلف نامہ شناختی کارڈ کے فارم میں درج کیا گیا ہے، جس میں تصریح کی گئی ہے کہ جو شخص مذہب کے خانہ میں اپنا مذہب ”اسلام“ درج کرے اسے حلفیہ بیان دینا ہوگا کہ:
”میں اقرار کرتا/کرتی ہوں کہ میں خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتا/رکھتی ہوں اور یہ کہ میں کسی ایسے شخص کا/کی پیروکار نہیں ہوں، جو حضرت محمد ﷺ کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویدار ہو اور نہ ایسے دعویدار کو پیغمبر یا
مذہبی مصلح مانتا/مانتی ہوں، نہ ہی میں قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھتا/رکھتی ہوں یا خود کو ”احمدی“ کہتا/کہتی ہوں۔“
اس حلف نامہ کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت کے پیروکار (قادیانی گروپ، لاہوری گروپ) خود کو مسلم نہیں کہہ سکتے اور اگر وہ ”مسلم“ لکھنے پر اصرار کریں تو مرزا قادیانی کے پیروکار نہیں رہ سکتے۔ الغرض اسلام اور قادیانیت دو ضدیں ہیں جو ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں، مرزائی امت سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ نفاق کو چھوڑ کر اسلام اور قادیانیت دونوں میں سے ایک کو قبول کرنے کی کوشش کرے گی، بلکہ اندازہ یہی ہے کہ حسب سابق وہ مسلمانوں میں ہی گھسنے کی تدبیر نکالے گی لیکن اس صورت میں خود ان کا اپنا نقصان ہوگا۔
”غیر مسلم احمدی“ کا لفظ چھوڑ کر اگر وہ ”اسلام“ کا لفظ استعمال کریں گے تو ان کی مردم شماری کم ہوگی اور مرزا ناصر احمد خلیفہ ربوہ کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوجائے گا کہ پاکستان میں ہماری تعداد نصف کروڑ ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ مرزائی صاحبان اپنی تعداد محفوظ رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں، یا مصنوعی طور پر اسلام کا لبادہ اوڑھنے کو؟
عجیب منطق:
صدر مملکت کے حکم پر تبصرہ کرتے ہوئے لاہوری مرزائیوں کا آرگن ”پیغام صلح“، لکھتا ہے:
”ہم اس حکم کے دل سے مؤید اور مجوزہ حلف نامہ کو ضروری سمجھتے ہیں بشرطیکہ اس کے ساتھ حلف لینے والے کے لئے یہ
بھی لازمی قرار دیا جائے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد پر ایمان نہیں رکھتا۔ ورنہ جو شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد کا منتظر ہو اس کا حضرت محمد رسول اللہ (ﷺ) کے آخری نبی ہونے پر مکمل اور پختہ یقین تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
(پیغام صلح ۲/ جولائی ۱۹۷۵ء)
مثل مشہور ہے کہ ’’رسی جل گئی مگر بل نہیں گیا‘‘ مرزا قادیانی کے مرید اپنے کفر و الحاد کی وجہ سے امت مسلمہ سے کٹ چکے ہیں، عیسائیوں اور چوہڑوں، چماروں کی فہرست میں ان کا نام درج کیا جا چکا ہے، مگر کجی اور الحاد کا کانٹا ان کے حلق سے ابھی تک نہیں نکلا۔
’’پیغام صلح‘‘ نے مرزا قادیانی کی لکیر کا فقیر بن کر کتنی بڑی جسارت سے یہ لکھ دیا کہ جو شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا قائل ہو وہ ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتا، حالانکہ رسول اللہ ﷺ، صحابہ کرام، تابعین عظام، ائمہ دین، مجددین امت سب اسی عقیدہ پر دنیا سے رخصت ہوئے ہیں، یہ تمام حضرات، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور ان کے رفع و نزول کے قائل رہے۔ اس کا اعتراف خود مرزا قادیانی کو بھی ہے۔ چنانچہ مرزا کے ملفوظات میں لکھا ہے کہ:
’’ایک دفعہ ہم دلی میں گئے تھے، ہم نے وہاں کے لوگوں سے کہا کہ تم نے تیرہ سو ۱۳۰۰ برس سے یہ نسخہ استعمال کیا ہے کہ ’’حضرت عیسیٰؑ کو زندہ آسمان پر بٹھایا۔‘‘
(ج: ۱۰ ص: ۳۰۰)
مرزا کے اس ملفوظ سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ سے لے کر مرزا تک کی تیرہ صدیوں کے کل مسلمان یہی عقیدہ رکھتے آئے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ دوبارہ تشریف لائیں گے۔ اب ’’پیغام صلح‘‘ کی غلط منطق کے مطابق گویا تیرہ، چودہ صدیوں
کی امت ختم نبوت کی منکر اور دائرہ اسلام سے خارج تھی، اور خود رسول اللہ ﷺ پر بھی، ’’پیغام صلح‘‘ کا یہی فتویٰ عائد ہوگا (معاذ اللہ) یہ ہے وہ کج ذہنی جو مرزائی امت کو اپنے ’’ظلی اور جعلی نبی‘‘ سے میراث میں ملی ہے۔
سنگل اور ڈبل :
ہفت روزہ ’’پیغام صلح‘‘ نے پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے:
’’کیا جناب رامے اس بات پر غور کریں گے کہ یہ کہاں کا عدل اور انصاف ہے؟ یا عدل واحسان کی روح کے کہاں تک مطابق ہے کہ ملک کی ایک بہت بڑی جماعت اپنے پیشوا کی تقلید میں بار بار قسمیں کھا کھا کر یہ اعلان کررہی ہے کہ ہم حضرت رسول کریم محمد مصطفیٰ ﷺ کے خاتم النبیین بمعنی آخری نبی ہونے پر کامل ومکمل یقین وایمان رکھتے ہیں اور آپؐ کے بعد کسی نئے یا پرانے نبی کے آنے کے قائل نہیں، باوجود اس کے انہیں ’’غیر مسلم اقلیت‘‘ قرار دیا گیا۔‘‘
(۲۱ جولائی ۱۹۷۵ء ص: ۵)
دراصل مرزا قادیانی کے ماننے والوں کا قادیانی (ربوائی) گروپ اگر ’’سنگل کافر‘‘ ہے تو لاہوری گروپ ’’ڈبل کافر‘‘ کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت تو آفتاب نیمروز ہے جس سے کسی طرح انکار نہیں کیا جاسکتا، مرزا نے حقیقۃ الوحی میں لکھا ہے کہ:
’’جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس
امت میں سے گزرے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا، پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“
(ص: ۳۹۱)
اس لئے تمام مرزائی اگر مدعی نبوت کو پیشوا تسلیم کر کے دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو لاہوری مرزائی ایک ”نبی“ کی نبوت کا انکار کرنے کی وجہ سے ڈبل کافر ہوئے ہیں، رہا ان کا قسمیں کھا کھا کر یہ کہنا کہ ہم تو آنحضرت ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں، تو اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے سورۃ منافقون کی پہلی آیت میں دیدیا ہے: ”وَ اللّٰهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِيْنَ لَكٰذِبُوْنَ “ ترجمہ:....... اللہ گواہ ہے کہ یہ منافق اپنی قسموں میں جھوٹے ہیں۔
صحیح مگر نامکمل:
اس سلسلہ میں ”پیغام صلح“ نے مزید لکھا ہے کہ ”قادیانی یا ربوائی جماعت کے معتقدات جو کچھ بھی ہوں، ہمیں ان سے مطلب نہیں“۔
بلاشبہ لاہوری مرزائیوں کو ربوہ کے مرزائیوں سے کچھ مطلب نہیں ہوگا، مگر ربوہ والوں کے معتقدات تو ٹھیک وہی ہیں جو مرزا غلام احمد کی کتابوں میں درج ہیں اس لئے ”پیغام صلح“ کا فقرہ نامکمل رہے گا۔ جب تک کہ ”قادیانی جماعت“ کے ساتھ مرزا قادیانی کا نام بھی شامل نہیں کیا جاتا، ”پیغام صلح“ کو یہ لکھنا چاہئے تھا کہ مرزا قادیانی اور قادیانی جماعت کے معتقدات کچھ بھی ہوں، ہمیں ان سے کچھ مطلب نہیں۔ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ مدعی نبوت کو ”حضرت مسیح موعود“ بھی مانیں اور پھر یہ شکایت کریں کہ ہمیں ”غیر مسلم اقلیت“ کیوں قرار دیا گیا؟
پیغام صلح سے ایک سوال:
لاہوری مرزائی مرزا غلام احمد قادیانی کو ”مسیح موعود“ اور ”مہدی معہود“ کا لقب دیتے ہیں، اور حضرت مہدی علیہ الرضوان کے بارے میں حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ وہ زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دیں گے جس طرح کہ ان سے پہلے ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی۔
(مشکوٰۃ)
مرزائیوں کا مزعوم مہدی پون صدی قبل دنیا میں آیا اور چلا گیا۔ سوال یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی آمد کے بعد دنیا عدل و انصاف سے بھر گئی یا اس کے برعکس ظلم و جور میں مزید اضافہ ہوا؟ اگر واقعی مرزا قادیانی کے دم قدم سے عدل و انصاف دنیا میں پھیل گیا ہوتا، تو حدیث کے مطابق وہ بلاشبہ اپنے دعویٰ مہدویت میں سچا تھا، لیکن اس صورت میں پیغام صلح جناب رامے صاحب سے عدل و انصاف کی بھیک کیوں مانگ رہا ہے؟ مرزائی امت کا یہ وصف گدائی اعلان کر رہا ہے کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ مہدویت کے بعد عدل و انصاف کا دور دورہ نہیں ہوا، جس سے لازم آتا ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ مہدویت و مسیحیت غلط تھا۔ لہٰذا مرزائی امت کو دنیا کے جور و ستم کی شکایت نہیں کرنی چاہئے، کیونکہ اس سے ان کے مہدی صاحب کے دعویٰ مہدویت کا سارا طلسم ٹوٹ جاتا ہے۔ اور اگر انہیں اس شکایت سے مفر نہیں تو پہلے خود عدل و انصاف سے کام لے کر مرزا کے دعویٰ مہدویت سے دستبردار ہو جانا چاہئے۔
کیا لاہوری مرزائی قادیانی مہدی کے بارے میں عدل و انصاف سے کام لیں گے؟
(ہفت روزہ لولاک لائلپور، ۱۲؍ اگست ۷۵ء)
مراق اور نبوت
شیخ عبدالرحمن مصری کی خدمت میں
راقم الحروف کا ایک مختصر سا مضمون ”مرزا غلام احمد قادیانی کے سات دن“ کے عنوان سے ماہنامہ ”الحق“ اکوڑہ خٹک (جولائی ۱۹۷۵ء) میں شائع ہوا تھا، جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک عبارت پر چند سوالات اٹھائے گئے تھے، اس کے جواب میں لاہوری جماعت کے رکن رکین جناب شیخ عبدالرحمان مصری نے لاہوری مرزائیوں کے ہفت روزہ ”پیغام صلح“ لاہور کی چھ قسطوں میں ایک طویل مضمون رقم فرمایا، جو ۱۴ اگست ۱۹۷۵ء کی اشاعت سے شروع ہو کر ۸ اکتوبر ۱۹۷۵ء کی اشاعت پر ختم ہوا۔
میں جناب مصری صاحب کا ممنون ہوں کہ انہوں نے میری معروضات پر توجہ فرمائی، تاہم مجھے شکایت ہے کہ میرے سوالات کو ٹھیک سمجھ کر ان سے عہدہ برا ہونے کی کوشش نہیں فرمائی، یہاں میں صرف ایک مثال پر اکتفا کرتا ہوں، میں نے اپنے مضمون کے آغاز میں لکھا تھا :
”مرزا غلام احمد قادیانی، مراق اور ذیابیطس کے مریض تھے، اور یہ دونوں مرض ان کو دعوائے نبوت و مسیحیت کے انعام میں ملے تھے۔“
اس پر مصری صاحب خفا ہو کر فرماتے ہیں :
”مولوی صاحب موصوف (راقم الحروف) نے اپنے مندرجہ بالا بیان میں دو صریح غلط بیانیوں سے کام لیا ہے، ایک تو یہ کہ انہوں نے حضرت اقدس المسیح الموعود کی طرف مراق کی (۱) مرض منسوب کی ہے، اور دوسرے حضور کی طرف دعوائے نبوت منسوب کیا ہے، اور یہ دونوں باتیں غلط، اور مبنی بر افترا ہیں۔“
(پیغام صلح ص ۶، ۲۰ اگست ۱۹۷۵ء)
حالانکہ اگر یہ دونوں باتیں غلط، اور مبنی بر افترا ہیں، تو اس غلط گوئی اور افترا پردازی کا الزام خود مصری صاحب کے ”حضرت اقدس“ اور اس کے حواریوں پر عائد ہو سکتا ہے، نہ کہ مجھ غریب ناقل پر، کیونکہ راقم الحروف نے تو جو کچھ لکھا ہے، بحیثیت ناقل کے لکھا ہے، مشہور ہے کہ نقل کفر، کفر نباشد، مرزا غلام احمد قادیانی کی جانب مراق کی نسبت کرنا غلط نہیں، امید ہے مصری صاحب مندرجہ ذیل حوالے ملاحظہ فرما کر غلط گوئی اور افترا پردازی کا فتوی متعلقہ افراد پر صادر فرمائیں گے :
- ۱ مرزا غلام احمد صاحب فرماتے ہیں :
”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی کی تھی، جو اسی طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا، تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی، تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں، ایک اوپر کے
(۱) ”مرض“ مونث نہیں مذکر ہے، مگر مرزا صاحب اور مرزائی امت کے نزدیک چونکہ مریم رفتہ رفتہ ابن مریم بن جاتا ہے، اس لئے وہ مذکر و مونث کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ (محمد یوسف)
دھڑ کی‘ اور ایک نیچے کے دھڑ کی‘ یعنی مراق‘ اور کثرت بول۔“
(تشحیذ الاذہان جون ۱۹۰۶ء‘ بدر ۲ جون ۱۹۰۶ء‘ ملفوظات ج ۸ ص ۴۴۵)
- ۲ دوسری جگہ فرماتے ہیں :
”میرا تو یہ حال ہے کہ باوجود اس کے کہ دو بیماریوں میں ہمیشہ سے مبتلا رہتا ہوں‘ پھر بھی آجکل میری مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کر کے بڑی بڑی رات تک بیٹھا اس کام کو کرتا رہتا ہوں‘ حالانکہ زیادہ جاگنے سے ”مراق کی بیماری“ ترقی کرتی جاتی ہے‘ اور دوران سر کا دورہ زیادہ ہو جاتا ہے‘ مگر میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا۔“
(کتاب منظور الہی ص ۳۴۸‘ ملفوظات ج ۲ ص ۳۷۶)
- ۳ مرزا بشیر احمد ایم اے نقل کرتے ہیں :
”حضرت خلیفۃ المسیح اولؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد قادیانی) سے فرمایا کہ حضور! غلام نبی کو مراق ہے‘ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک رنگ میں سب نبیوں کو مراق ہوتا ہے‘ اور مجھ کو بھی ہے۔“
(سیرۃ المہدی ص ۳۰۴ ج ۳)
- ۴ نیز مرزا بشیر احمد صاحب موصوف اپنے ماموں ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب کی
شہادت نقل کرتے ہیں کہ : ” میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد قادیانی) سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے‘ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔“
(سیرۃ المہدی ص ۵۵ ج ۲)
- ۵ ڈاکٹر شاہ نواز صاحب لکھتے ہیں :
”واضح ہو کہ حضرت صاحب کی تمام تکالیف مثلاً ”دوران سر‘ درد سر‘ کمی خواب‘ تشنج دل‘ بدہضمی‘ اسہال‘ کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا‘ اور وہ عصبی کمزوری تھا۔“
(ریویو آف ریلیجنز مئی ۱۹۲۷ء ص ۲۶)
- ۶ نیز ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں:
”جب خاندان سے اس کی ابتدا ہو چکی تھی‘ تو پھر اگلی نسل میں بے شک یہ مرض منتقل ہوا‘ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔“
(ریویو اگست ۱۹۲۶ء ص ۱۱)
ان چھ شہادتوں میں سے چار خود مرزا غلام احمد صاحب کی ہیں‘ اور دو ڈاکٹر شاہ نواز قادیانی کی‘ اب مصری صاحب انصاف فرمائیں کہ مرزا صاحب کی طرف مرض مراق کا انتساب کر کے غلط گوئی اور افترا پردازی سے کس نے کام لیا ہے؟
سخن شناس نہ ئی دلبرا خطا اینجا است
اب رہی بحث دوسرے اتہام کی‘ جناب مصری صاحب نے مرزا صاحب کی جانب دعوائے نبوت کے انتساب کو بھی افترا پردازی قرار دیا ہے‘ جواباً ”گزارش ہے کہ اگر یہ افترا ہے تو یہ کار خیر بھی قادیان میں ہی انجام دیا گیا ہے‘ راقم الحروف کی حیثیت یہاں بھی ناقل محض کی ہے۔
جناب شیخ عبد الرحمان مصری صاحب کو شاید یاد ہو گا کہ جب وہ ہندو مذہب ترک کر کے مرزا غلام احمد کی مسیحیت کے حلقہ بگوش ہوئے تھے‘ اس وقت انہوں نے مرزا محمود احمد صاحب ”خلیفہ المسیح ثانی“ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے مرزا غلام احمد صاحب کی نبوت کا نہ صرف اقرار و اعتراف کیا تھا‘ بلکہ اپنی عمر عزیز کا بہترین حصہ انہوں نے مرزا صاحب کی نبوت کی پرجوش تبلیغ میں صرف کیا‘ بالآخر جب خلیفہ محمود احمد صاحب کا دست ناز مصری صاحب کی دامن عصمت تک پہنچا‘ اور وہ اپنے ”خلیفہ صاحب“ کے حق میں یہ عدالتی بیان دینے پر مجبور ہوئے کہ :
”موجودہ خلیفہ سخت بد چلن ہے‘ یہ تقدس کے پردہ میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے‘ اس کام کے لئے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے‘ ان کے ذریعہ یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو کرتا ہے‘ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے‘ جس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں‘ اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔“
(فتح حق ص ۴۱ مؤلفہ جناب ممتاز احمد فاروقی مطبوعہ ۱۹۶۵ء)
اس وقت وہ قادیان کے آسمان سے گر کر لاہور کے کھجور میں آ اٹکے۔ کیا میں جناب مصری صاحب سے دریافت کر سکتا ہوں کہ اگر مرزا غلام احمد کی جانب دعوائے نبوت کو منسوب کرنا غلط افترا ہے‘ تو آنجناب بقائمی ہوش و حواس‘ بہ دعوائے علم و فضل سالہا سال تک افترا پردازی کا یہ مقدس فریضہ کیوں انجام دیتے رہے؟ کیا آنجناب اس وقت خوف خدا اور محاسبہ آخرت سے عاری تھے؟
نیز کیا مصری صاحب اس عقدہ کو حل فرمائیں گے کہ مرزا محمود احمد صاحب کے بارے میں آپ نے عدالت میں جو حلفیہ بیان داخل کیا تھا‘ اس میں اگر کچھ قصور تھا تو
آپ کے مدعی علیہ کا تھا، مرزا غلام احمد صاحب نے آخر کیا قصور کیا تھا کہ آپ کے نزدیک مرزا صاحب کی نبوت باطل ہو گئی؟ اور اس واقعہ کے بعد آپ ان کی نبوت سے دست کش ہو گئے؟ یہ آخر کس شریعت کا مسئلہ ہے کہ بیٹا زنا کرے تو اس سے باپ کی نبوت مجددیت و محدثیت میں تبدیل ہو جاتی ہے؟ اور وہ نبی کی بجائے مجدد و محدث بن جاتا ہے؟
نیز جناب مصری صاحب سے یہ امر بھی دریافت طلب ہے کہ مرزا محمود احمد صاحب کی حالت کسی دوسرے سے پوشیدہ ہو تو ہو، مگر آپ تو خود صاحب واقعہ ہیں، آپ نے اپنے مقدس خلیفہ کے بارے میں عدالت میں تحریری بیان دیا تھا کہ :
”موجودہ خلیفہ سخت بد چلن ہے، یہ تقدس کے پردے میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے الخ“
یہ بیان صحیح تھا یا غلط؟ یہ مبنی بر واقعہ تھا یا مبنی بر افترا؟ اگر یہ بیان غلط اور افترا تھا تو خود ہی انصاف سے کہئے کہ جس شخص نے اپنے امام اور خلیفہ المسیح پر دنیا کی سب سے گندی تہمت دھری ہو، اس سے بڑا مفتری کون ہوگا؟ ........ اور اگر یہ بیان صحیح واقعات پر مبنی تھا، تو اس شخص سے بڑا مفتری کون ہے، جس نے اس قماش کے آدمی کو ”پنج تن پاک“ میں شامل کرتے ہوئے یہ کہا ہو۔
(”درثمین“ منظوم اردو کلام مرزا غلام احمد قادیانی ص ۴۵)
مصری صاحب! ایک طرف ان الہامات کو رکھئے، جو مرزا غلام احمد صاحب نے اپنے پیارے بیٹے مرزا محمود صاحب کے حق میں ارشاد فرمائے، اور دوسری طرف ان واقعات کو رکھئے، جو مرزا صاحب کے پیارے بیٹے کی جانب سے آپ پر، اور مولوی
عبدالکریم مباہلہ پر گزرے‘ اور جن کے آپ خود شاہد ہیں‘ اور جن کی وجہ سے آپ نے عدالت میں مرزا صاحب کے بارے میں سنگین ریمارکس دیئے‘ اور ان دونوں کی روشنی میں فیصلہ کیجئے کہ کیا مرزا غلام احمد صاحب کو ایک سیکنڈ کے لئے بھی مامور من اللہ تصور کیا جاسکتا ہے؟
باپ اپنے بیٹے کو ”یہی ہیں پنجتن جن پر بنا ہے“ کا تمغہ فضیلت عطا کرتا ہے‘ اور بیٹا‘ بقول آپ کے‘ تقدس کے پردے میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے‘ فرمائیے کہ اس کے بعد بھی باپ کو ”وماینطق عن الھویٰ“ سمجھتے رہنے کا آپ کے پاس جواز ہے؟
ہمارا موقف یہ ہے کہ اگر مرزا غلام احمد واقعی سچا تھا‘ تو یقیناً اس کا الہامی بیٹا مرزا محمود بھی سچا ہے‘ اور اس پر تہمتیں لگانے والے (مصری وغیرہ) بلاشبہ مفتری ہیں‘ اور اگر مصری صاحب اپنے عائد کردہ الزامات میں سچے ہیں‘ اور مرزا محمود صاحب کی وہی پوزیشن ہے‘ جو مصری صاحب کے بیان میں ذکر کی گئی ہے‘ تو پھر مرزا غلام احمد صاحب کے الہامات کے غلط ہونے‘ اور ان کے مفتری ہونے میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں۔
گزشتہ سطور سے واضح ہو چکا ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب کے دعوائے نبوت کا اقرار خود مصری صاحب کو بھی ایک طویل مدت تک رہا ہے‘ اور غالباً مصری صاحب کو صرف مرزا محمود احمد صاحب کے اعمال و افعال نے (بقول مصری صاحب کے) مرزا غلام احمد کی نبوت سے برگشتہ کیا ہے‘ اگر خدانخواستہ انہیں مرزا محمود احمد صاحب سے رنجش نہ ہو جاتی‘ تو وہ آج بھی مرزا صاحب کی نبوت کے سب سے بڑے پرچارک ہوتے‘ لیکن صد حیف! کہ آج وہ ”الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے“ کے مصداق مسلمانوں کو یہ طعنہ دیتے ہیں کہ یہ لوگ خواہ مخواہ ”حضرت صاحب“ (مرزا غلام احمد قادیانی) کی
طرف دعوائے نبوت کو منسوب کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں، مصری صاحب، یا لاہوری جماعت کے کسی ممبر کو اس امر میں اختلاف نہیں، نہ کسی عاقل کو ہو سکتا ہے، کہ مرزا صاحب نے نبوت کا دعویٰ کیا، اختلاف اس میں ہے کہ مرزا صاحب کی نبوت کس نوعیت کی تھی؟ ظلی تھی یا حقیقی؟ جعلی تھی یا اصلی؟ اب اگر راقم الحروف نے مرزا صاحب کی نبوت کی نوعیت متعین کر کے یہ کہا ہوتا کہ مرزا صاحب نے فلاں قسم کی نبوت کا دعویٰ کیا تھا، تو مصری صاحب کو اس پر اعتراض کرنے کا کسی درجہ میں حق حاصل تھا، مگر میں نے تو صرف مرزا صاحب کی نبوت کا ذکر کیا تھا، اگر مرزا صاحب کی جانب نبوت کا منسوب کرنا ہی ( خواہ اس کی نوعیت کچھ بھی ہو) افترا ہے، تو اس افترا پردازی کی ذمہ داری بھی مرزا غلام احمد صاحب پر عائد ہوتی ہے، انہوں نے سینکڑوں جگہوں پر اپنی نبوت کا ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کیا ہے، اس لئے اگر میں مصری صاحب کی زبان میں مرزا غلام احمد صاحب کو چودھویں صدی کا سب سے بڑا مفتری کہوں، تو کیا یہ بے جا بات ہوگی؟
آخر یہ کیا منطق ہے کہ اگر مرزا صاحب اعلان کریں کہ ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں“ (بدر ۵ مارچ ۱۹۰۸ء) تو وہ مصری صاحب کے ”حضرت اقدس المسیح الموعود“ بن جائیں، اور اگر یہی الفاظ محمد یوسف لدھیانوی دہراوے کہ مرزا صاحب نے رسالت و نبوت کا دعویٰ کیا ہے، تو وہ مصری صاحب کے نزدیک غلط گو اور مفتری کہلائے؟
میں یہاں یہ بحث نہیں اٹھانا چاہتا کہ مرزا غلام احمد صاحب نے جس نبوت کا دعویٰ کیا ہے، وہ صرف مجددیت و محدثیت تک محدود ہے؟ یا یہ کہ مرزا صاحب کی مجددیت و محدثیت دیگر انبیا کرام کی نبوت کے اوصاف و لوازم بھی اپنے ساتھ رکھتی
ہے؟ اس پر بہت سی بحثیں ہو چکی ہیں، تاہم میں اس موضوع پر بھی مصری صاحب سے گفتگو کرنے کو تیار ہوں، میرا دعویٰ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب نے اسی نوعیت کی نبوت کا دعویٰ کیا، جو نوعیت دیگر انبیا علیہم السلام کی نبوت کی ہے، اس سلسلہ میں میں سردست شیخ عبدالرحمان صاحب کو مشورہ دوں گا کہ وہ اپنی درج ذیل تحریر بغور پڑھیں :
”میں حضرت صاحب، یعنی حضرت مسیح موعود کے زمانہ کا احمدی ہوں، میں نے ۱۹۰۵ء میں بیعت کی تھی، میں حضرت مسیح موعود کو اسی طرح کا نبی یقین کرتا تھا، اور کرتا ہوں، جس طرح خدا کے دیگر نبیوں اور رسولوں کو یقین کرتا ہوں، نفس نبوت میں نہ اس وقت کوئی فرق کرتا تھا، نہ اب کرتا ہوں۔ لفظ استعارہ اور مجاز اس وقت میرے کانوں میں کبھی نہیں پڑے تھے، بعد میں حضور کی کتب میں یہ الفاظ جن معنوں میں میں نے استعمال ہوتے ہوئے دیکھے ہیں، وہ میرے عقیدے کے منافی نہیں، ان معنوں میں میں اب بھی حضور کو علی سبیل المجاز ہی نبی سمجھتا ہوں، یعنی شریعت جدید کے بغیر نبی، اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اتباع کی بدولت، اور حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت میں فنا ہو کر حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کا کامل بروز ہو کر مقام نبوت کو حاصل کرنے والا نبی۔ میرے اس عقیدے کی بنیاد حضرت مسیح موعود کی تقاریر، اور تحریرات، اور جماعت احمدیہ کا متفقہ عقیدہ تھا۔“
آخر میں شیخ عبدالرحمان مصری صاحب سے گزارش کروں گا کہ اگر وہ مرزا غلام احمد صاحب کے ”مراق اور نبوت“ سے آنکھیں بند کر کے لوگوں پر مفتری مفتری کا فتویٰ لگاتے رہیں گے، تو ان کا یہ طرز عمل خود ان کے بارے میں کوئی اچھا تاثر پیدا نہیں کرے گا، کیونکہ ساری دنیا مرزا غلام احمد کی عقیدت میں اندھی بہری نہیں ہے۔
مسیح قادیاں اور اس کے حواری
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ و سلام علی عبادہ الذین اصطفٰی : ”درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے“ یہ ایک خدا کے صادق نبی کا قول ہے اور درحقیقت ایک بہت سچی بات ہے۔ اگر ایک شخص خود راستی پر نہیں بلکہ وہ کذاب اور مفتری ہے، اور اس میں خود قوت قدسی نہیں، بلکہ وہ ایک گمراہ کنندہ آدمی ہے، جو مکر و فریب سے لوگوں کا مال کھاتا ہے، اور خدا پر گندے افترا پر منہ مارتا ہے تو وہ دوسروں میں راستی کی روح کیونکر پھونک سکتا ہے؟ اور ان کو گندوں سے کیونکر پاک کرسکے گا؟
مرزا صاحب کی صداقت یا غیر صداقت پرکھنے کے لئے آسان نسخہ یہی راہ ہے کہ جس جماعت کو وہ تیار کر کے چھوڑ گئے ہیں، اس جماعت کو دیکھ لو کہ اس کی کیا حالت ہے؟“
(مصنفہ مسٹر محمد علی ایم اے مندرجہ ریویو
آف ریلیجنز قادیان جون، جولائی ۱۹۰۸ء)
یہ مرزا غلام احمد قادیانی کے جاں نثار صحابی اور امیر جماعت احمدیہ لاہور مسٹر محمد علی ایم اے کے الفاظ ہیں۔ ”ریویو آف ریلیجنز قادیان“ جناب مرزا صاحب نے ۱۹۰۱ء میں جاری کیا تھا‘ اور مسٹر محمد علی کو اس کا ایڈیٹر مقرر کیا گیا تھا۔ ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء کو مرزا صاحب اس عالم مکر و فریب سے رخصت ہوئے تو چونکہ ان کے بہت سے الہامی خواب تشنہ تعبیر تھے‘ بہت سے دعوے محض دعوے تھے‘ بہت سے مقاصد نامکمل تھے (اور آج ایک صدی بعد بھی اس صورت حال میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی) اس لئے قادیانی امت کو جوابدہی کی ضرورت محسوس ہوئی‘ چنانچہ مرزا صاحب کی وفات کے بعد جون‘ جولائی ۱۹۰۸ء کا جو ”ریویو“ نکلا تو اس کے بیشتر مضامین اس جوابدہی پر مشتمل تھے‘ حکیم نور دین صاحب‘ حکیم محمد احسن امروہوی اور مولوی محمد علی صاحب نے اپنے اپنے رنگ میں مرزا صاحب کی قبل از وقت وفات پر تبصرہ کیا‘ اور ان اعتراضات کو اٹھانے کی کوشش کی جو مرزا صاحب کی وفات سے ان کی ذات پر وارد ہو سکتے تھے۔ مندرجہ بالا اقتباس ریویو کے اسی شمارے میں مندرج محمد علی ایم اے کے مضمون سے ماخوذ ہے جس کا عنوان ہے ”حضرت مسیح موعود کے وصال پر چند مختصر نوٹ“ (دیکھئے جلد ۷ ص ۲۸۴)۔
مسٹر محمد علی صاحب نے مرزا صاحب کی صداقت کو پرکھنے کا جو آسان راستہ بتایا ہے‘ آج ہم اس پر چند قدم چل کر مرزا صاحب کی صداقت کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں وہ روایت بھی پیش نظر رکھنی چاہئے جو مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے ”سیرۃ المہدی“ میں درج کی ہے‘ وہ لکھتے ہیں کہ ایک بار مسٹر محمد علی صاحب کا مرزا صاحب کے مقدس خسر جناب میر ناصر نواب صاحب سے کچھ اختلاف ہوا تو میر صاحب نے مرزا صاحب سے شکایت کی۔ مسٹر محمد علی صاحب نے
اس شکایت پر مرزا صاحب سے مؤدبانہ احتجاج کیا‘ تو مرزا صاحب نے فرمایا کہ میر صاحب نے کچھ کہا تو تھا‘ مگر وہ اپنے خیال میں ایسے مستغرق تھے کہ انہیں کچھ خبر نہیں کہ میر صاحب نے کیا کہا تھا۔ اسی سلسلہ میں مزید فرمایا:
”چند دن سے ایک خیال میرے دماغ میں اس زور کے ساتھ پیدا ہو رہا ہے کہ اس نے دوسری باتوں سے مجھے بالکل محو کر دیا ہے‘ بس ہر وقت اٹھتے بیٹھتے وہی خیال میرے سامنے رہتا ہے‘ میں باہر لوگوں میں بیٹھا ہوتا ہوں اور کوئی شخص مجھ سے کوئی بات کرتا ہے تو اس وقت بھی میرے دماغ میں وہی خیال چکر لگا رہا ہوتا ہے۔ وہ شخص سمجھتا ہو گا کہ میں اس کی بات سن رہا ہوں‘ مگر میں اپنے اس خیال میں محو ہوتا ہوں‘ جب میں گھر جاتا ہوں تو وہاں بھی وہی خیال میرے ساتھ ہوتا ہے‘ غرض ان دنوں یہ خیال اس زور کے ساتھ میرے دماغ پر غلبہ پائے ہوئے ہے کہ کسی اور خیال کی گنجائش نہیں رہی‘ وہ خیال کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ میرے آنے کی اصل غرض یہ ہے کہ ایک ایسی جماعت تیار ہو جاوے جو سچی مومن ہو‘ اور خدا پر حقیقی ایمان لائے‘ اور اس کے ساتھ حقیقی تعلق رکھے اور اسلام کو اپنا شعار بنائے‘ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ پر کاربند ہو‘ اور اصلاح و تقویٰ کے رستے پر چلے‘ اور اخلاق کا اعلیٰ نمونہ قائم کرے‘ تا پھر ایسی جماعت کے ذریعہ دنیا ہدایت پاوے اور خدا کا منشا پورا ہو۔ پس اگر یہ غرض پوری نہیں ہوتی تو اگر دلائل و
براہین سے ہم نے دشمن پر غلبہ بھی پالیا، اور اس کو پوری طرح زیر بھی کر لیا تو پھر بھی ہماری فتح کوئی فتح نہیں، کیونکہ اگر ہماری بعثت کی اصل غرض پوری نہ ہوئی تو گویا ہمارا سارا کام رائیگاں گیا۔"
(سیرۃ المہدی ص ۲۵۴ ج اول)
مرزا صاحب کا ارشاد کسی تشریح کا محتاج نہیں، ان کی بعثت کی اصل غرض ایک ایسی جماعت تیار کرنا تھی جو بقول ان کے ایمان و یقین، زہد و تقویٰ، اخلاص و للہیت اور اخلاق و اعمال کا بلند ترین نمونہ ہو، ان کی بعثت کی یہ غرض اگر پوری نہ ہو، تو اگر بالفرض وہ ساری دنیا کو بھی زیر کر لیں تب بھی یہ سمجھنا چاہئے کہ ان کا سارا کام فضول، ان کی ساری کوشش بے سود اور ان کے سارے دعاوی غلط ثابت ہوئے، اب صرف یہ دیکھنا باقی رہا کہ کیا مرزا صاحب ایسی جماعت تیار کر کے اپنی بعثت کی اصل غرض کی تکمیل کر گئے یا نہیں؟ اس نکتہ پر غور کرنے کے لئے ہم قادیانی جماعت کی تاریخ کو تین ادوار پر تقسیم کرتے ہیں، جنہیں قادیانی امت کے "خیر القرون" کہنا چاہئے:
پہلا دور : . . . . . جناب مرزا صاحب کی زندگی میں جماعت کی حالت دوسرا دور : . . . . . حکیم نور دین کے زمانہ میں جماعت کا نقشہ تیسرا دور : . . . . . حکیم صاحب کے بعد جماعت کی کیفیت
دور اول : قادیانی جماعت، مرزا غلام احمد کی زندگی میں
مرزا غلام احمد قادیانی نے قریباً ۱۸۸۰ء میں ملہم، مجدد اور مامور من اللہ کی حیثیت میں اپنی دعوت و دعاوی کا آغاز کیا، اور مختلف اعلانات و اشتہارات کے
ذریعہ خلق خدا کو قادیان آنے کی دعوت دی‘ اور ۱۸۸۸ء میں باقاعدہ اخذ بیعت کا اور تعلیم و تلقین کا سلسلہ شروع کیا‘ اس کے دو برس بعد ۱۸۹۰ء میں انہوں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔
دعویٰ مسیحیت کے تین سال بعد ۱۸۹۳ء میں مرزا صاحب نے اپنی جماعت کے اخلاق کی جو رپورٹ قلمبند کی‘ وہ ان کی کتاب ”شہادۃ القرآن“ (روحانی خزائن ص ۳۹۴ ج ۶) کے آخر میں ملحقہ ”اشتہار التوائے جلسہ“ میں محفوظ ہے‘ اس کے چند فقرے یہاں نقل کئے جاتے ہیں‘ جن سے مرزا صاحب کی تیرہ سالہ محنت کی ”شاندار کامیابی“ کا اندازہ آسانی سے ہوسکے گا۔
بدخوئی و کج خلقی:
مرزا صاحب لکھتے ہیں:
”ہم افسوس سے لکھتے ہیں کہ چند ایسے وجوہ ہم کو پیش آئے جنہوں نے ہماری رائے کو اس طرف مائل کیا کہ اب کی دفعہ اس جلسہ کو ملتوی رکھا جائے‘ اور چونکہ بعض لوگ تعجب کریں گے کہ اس التوا کا موجب کیا ہے‘ لہٰذا بطور اختصار کسی قدر ان وجوہ میں سے لکھا جاتا ہے:
”اول یہ کہ اس جلسہ سے مدعا اور مطلب یہ تھا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے ایک ایسی تبدیلی اپنے اندر پیدا کرلیں کہ ان کے دل آخرت کی طرف بکلی جھک جائیں‘ اور ان کے اندر خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو۔ اور وہ
زہد اور تقوی اور خدا ترسی اور پرہیزگاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مواخات میں دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں، اور انکسار اور تواضع اور راستبازی ان میں پیدا ہو، اور دینی مہمات کے لئے سرگرمی اختیار کریں، لیکن اس پہلے جلسے کے بعد ایسا اثر نہیں دیکھا گیا، بلکہ خاص جلسہ کے دنوں میں ہی بعض کی شکایت سنی گئی کہ وہ اپنے بعض بھائیوں کی بدخوئی سے شاکی ہیں، اور بعض اس مجمع کثیر میں اپنے اپنے آرام کے لئے دوسرے لوگوں سے کج خلقی ظاہر کرتے ہیں، گویا وہ مجمع ہی ان کے لئے موجب ابتلا ہو گیا۔ اور پھر میں دیکھتا ہوں کہ جلسہ کے بعد کوئی بہت عمدہ اور نیک اثر اب تک اس جماعت کے بعض لوگوں میں ظاہر نہیں ہوا، اور اس تجربہ کے لئے یہ تقریب پیش آئی کہ ان دنوں سے آج تک ایک جماعت کثیر مہمانوں کی اس عاجز کے پاس بطور تبادل رہتی ہے، یعنی بعض آتے اور بعض جاتے ہیں، اور بعض وقت یہ جماعت سو سو مہمان تک بھی پہنچ گئی ہے، اور بعض وقت اس سے کم، لیکن اس اجتماع میں بعض دفعہ بباعث تنگی مکانات اور قلت وسائل مہمانداری ایسے نالائق رنجش اور خود غرضی کی سخت گفتگو بعض مہمانوں میں باہم ہوتی دیکھی ہے کہ جیسے ریل میں بیٹھنے والے تنگی مکان کی وجہ سے ایک دوسرے سے لڑتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سو ایسا ہی یہ اجتماع بھی بعض اخلاقی
حالتوں کے بگاڑنے کا ایک ذریعہ معلوم ہوتا ہے۔"
(مجموعہ اشتہارات ج اول ص ۴۳۹ تا ۴۴۰)
چال چلن اور اخلاق:
”اور جب تک یہ معلوم نہ ہو اور تجربہ شہادت نہ دے کہ اس جلسہ سے دینی فائدہ یہ ہے اور لوگوں کے چال چلن اور اخلاق پر اس کا یہ اثر ہے تب تک ایسا جلسہ صرف فضول ہی نہیں بلکہ اس علم کے بعد کہ اس اجتماع سے نتائج نیک پیدا نہیں ہوتے‘ ایک معصیت اور طریق ضلالت اور بدعت شنیعہ ہے۔"
(ایضاً ص ۴۴۱)
بھیڑیوں کی طرح:
”اور اخی مکرم حضرت مولوی نور الدین صاحب سلمہ تعالیٰ بارہا مجھ سے یہ تذکرہ کر چکے ہیں کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت اور تہذیب اور پاک دلی اور پرہیز گاری اور علمی محبت باہم پیدا نہیں کی‘ سو میں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب موصوف کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض حضرات جماعت میں داخل ہو کر اور اس عاجز سے بیعت کر کے اور عہد توبہ نصوح کر کے پھر بھی ویسے کج دل ہیں کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں‘ وہ مارے تکبر کے سیدھے منہ سے السلام علیک نہیں کر سکتے۔ چہ جائیکہ
خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آویں۔“
(ایضاً)
سفلہ خود غرض، گالیاں اور نفسانی بحثیں:
”اور انہیں سفلہ اور خود غرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ ادنیٰ خود غرضی کی بنا پر لڑتے اور ایک دوسرے سے دست بدامن ہوتے ہیں، اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ ہوتا ہے، بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے، اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں، اور کھانے پینے کی قسموں پر نفسانی بحثیں ہوتی ہیں۔“
(ایضاً)
نفسانی لالچوں پر:
”اگرچہ نجیب اور سعید بھی ہماری جماعت میں بہت، بلکہ یقیناً دو سو سے زیادہ ہی ہیں . . . . . لیکن میں اس وقت کج دل لوگوں کا ذکر کرتا ہوں اور میں حیران ہوتا ہوں کہ خدایا یہ کیا حال ہے؟ یہ کونسی جماعت ہے جو میرے ساتھ ہے؟ نفسانی لالچوں پر کیوں ان کے دل گرے جاتے ہیں؟ اور کیوں ایک بھائی دوسرے بھائی کو ستاتا اور اس سے بلندی چاہتا ہے؟“
(ایضاً ص ۴۴۱ تا ۴۴۲)
ایسی بے تہذیبی:
”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا ایمان ہرگز درست نہیں
ہو سکتا جب تک اپنے آرام پر اپنے بھائی کا آرام حتی الوسع مقدم نہ ٹھہراوے ..... مگر میں دیکھتا ہوں کہ یہ باتیں ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں نہیں، بلکہ بعض میں ایسی بے تہذیبی ہے کہ اگر ایک بھائی ضد سے اس کی چارپائی پر بیٹھا ہے تو وہ سختی سے اس کو اٹھانا چاہتا ہے، اور اگر نہیں اٹھتا تو چارپائی کو الٹا دیتا ہے، اور اس کو نیچے گراتا ہے، پھر دوسرا بھی فرق نہیں کرتا اور وہ اس کو گندی گالیاں دیتا ہے اور تمام بخارات نکالتا ہے۔“
(ایضاً)
ان سے درندے اچھے:
”یہ حالات ہیں جو اس مجمع میں مشاہدہ کرتا ہوں، تب دل کباب ہوتا اور جلتا ہے، اور بے اختیار دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے اگر میں درندوں میں رہوں تو ان بنی آدم سے اچھا ہے۔“
(ایضاً)
میں تھک گیا:
”میں کہتے کہتے ان باتوں کو تھک گیا کہ اگر تمہاری یہی حالتیں ہیں تو پھر تم میں اور غیروں میں فرق ہی کیا ہے؟ لیکن یہ دل کچھ ایسے ہیں کہ توجہ نہیں کرتے اور ان آنکھوں سے مجھے بینائی کی توقع نہیں، لیکن خدا اگر چاہے۔ اور میں تو ایسے لوگوں سے اس دنیا اور آخرت میں بیزار ہوں، اگر میں صرف اکیلا کسی
جنگل میں ہوتا تو میرے لئے ایسے لوگوں کی رفاقت سے بہتر تھا۔“
(ایضاً ص ۴۴۴)
شوق پورا نہ ہوا:
”میری جان اس شوق سے تڑپ رہی ہے کہ کبھی وہ بھی دن ہو کہ اپنی جماعت میں بکثرت ایسے لوگ دیکھوں جنہوں نے در حقیقت جھوٹ چھوڑ دیا اور ایک سچا عہد اپنے خدا سے کرلیا کہ وہ ہر ایک شر سے اپنے تئیں بچائیں گے اور تکبر سے جو تمام شرارتوں کی جڑ ہے بالکل دور جا پڑیں گے اور اپنے رب سے ڈرتے رہیں گے، مگر ابھی تک بجز خاص چند آدمیوں کے ایسی شکلیں مجھے نظر نہیں آتیں۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد اول ص ۴۴۵ طبع ربوہ)
یہ مرزا صاحب کی تیرہ سالہ محنت سے تیار کردہ جماعت کا وہ نقشہ تھا جو خود مرزا صاحب کے قلم نے مرتب کیا، اس کے ملاحظہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ تیرہ برس تک مرزا صاحب کے دم عیسوی کی تاثیر نے ان کے ہاتھ پر توبہ نصوح کرنے والوں میں کیا تبدیلی پیدا کی؟ اب مرزا صاحب کے آخری دور کی شہادت ملاحظہ فرمائیے ”براہین احمدیہ حصہ پنجم“ (روحانی خزائن ج ۲۱) ان کی آخری تصنیف ہے، جس سے فارغ ہونے کے چند دن بعد ان کا انتقال ہوگیا، اور کتاب ان کی وفات کے بعد چھپ سکی، اس میں مرزا صاحب نے اپنی جماعت کے بارے میں جو رائے ظاہر فرمائی ہے وہ انہی کے الفاظ میں ہے:
جیسے کتا مردار کی طرف:
”بیعت کے معنی بیچ دینے کے ہیں۔ پس جو شخص درحقیقت اپنی جان اور مال اور آبرو کو اس راہ میں بیچتا نہیں میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ خدا کے نزدیک بیعت میں داخل نہیں، بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک ظاہری بیعت کرنے والے بہت ایسے ہیں کہ نیک ظنی کا مادہ بھی ہنوز ان میں کامل نہیں، اور ایک کمزور بچے کی طرح ہر ایک ابتلا کے وقت ٹھوکر کھاتے ہیں، اور بعض بدقسمت ایسے ہیں کہ شریر لوگوں کی باتوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں، اور بدگمانی کی طرف ایسے دوڑتے ہیں جیسے کتا مردار کی طرف، پس میں کیونکر کہوں کہ وہ حقیقی طور پر بیعت میں داخل ہیں۔ مجھے وقتاً فوقتاً ایسے آدمیوں کا علم بھی دیا جاتا ہے، مگر اذن نہیں دیا جاتا کہ ان کو مطلع کروں۔ کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے، اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جائیں گے۔ پس مقام خوف ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۸۷ روحانی خزائن ج ۲۱ ص ۱۱۴)
گویا قادیانی جماعت میں اخلاق عالیہ تو کیا پیدا ہوتے، بقول مرزا صاحب کے ان میں نیک ظنی کا مادہ بھی ان کی وفات تک کامل نہ ہوا، بلکہ وہ بدظنی کی طرف اس طرح دوڑتے ہیں جیسے کتا مردار کی طرف!
جناب مرزا صاحب نے اپنی جماعت کی بدگمانی اور بدظنی کے جس مرض کی
طرف اشارہ کیا ہے، اس کا تعلق خود مرزا صاحب کی ذات سے تھا۔ قادیانی جماعت کے بہت سے افراد کو مرزا صاحب سے شکایت تھی کہ وہ قومی روپے میں اسراف کرتے ہیں اور جو سرمایہ چندوں کی شکل میں جماعت کے خون پسینہ کی کمائی سے ”تبلیغ اسلام“ کے لئے جمع کیا جاتا ہے اسے مرزا صاحب ذاتی تعیش میں صرف کرتے ہیں، مرزا صاحب کی جانب سے اس شکایت کا جواب یہ تھا کہ انہیں جو کچھ ملتا ہے خدا کی طرف سے ملتا ہے، لہٰذا کوئی شخص اس کے مصارف پر حرف گیری کا مجاز نہیں، البتہ جن لوگوں کو ان پر اعتماد نہیں وہ آئندہ چندہ بند کردیں، (اور گزشتہ را صلوٰۃ کہیں) آپ ایک شخص کے خط کے جواب میں فرماتے ہیں:
”میری نسبت آپ کے . . . . . کی جماعت کی طرف سے یہ پیغام پہنچایا تھا کہ روپیہ کے خرچ میں بہت اسراف ہوتا ہے، آپ اپنے پاس روپیہ جمع نہ رکھیں اور یہ روپیہ ایک کمیٹی کے سپرد ہو جو حسب ضرورت خرچ کیا کریں، اور یہ بھی ذکر تھا کہ اس روپیہ میں سے باغ کے چند خدمت گار بھی روٹیاں کھاتے ہیں، اور ایسا ہی اور کئی قسم کے اسراف کی طرف اشارہ تھا، جن کو میں سمجھتا ہوں آپ نے اپنی نیک نیتی سے جو کچھ لکھا بہتر لکھا، میں ضروری نہیں سمجھتا کہ اس کا رد لکھوں (اور حقائق کو رد کرنا ممکن بھی نہیں۔ ناقل) میں آپ کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں جس کی قسم کو پورا کرنا مومن کا فرض ہے اور اس کی خلاف ورزی معصیت ہے کہ آپ . . . . . کی تمام جماعت کو اور خصوصاً ایسے صاحبوں کو جن کے دلوں میں یہ اعتراض پیدا ہوا
ہے بہت صفائی سے اور کھول کر سمجھادیں کہ اس کے بعد ہم ..... کا چندہ بکلی بند کرتے ہیں۔ اور ان پر حرام ہے اور قطعاً ”حرام ہے اور مثل گوشت خنزیر ہے کہ ہمارے کسی سلسلہ کی مدد کے لئے اپنی تمام زندگی تک ایک حبہ بھی بھیجیں (اور جو کچھ اب تک وہ بھیج چکے ہیں اور مرزا صاحب اسے ذاتی مصارف پر خرچ کرچکے ہیں‘ اسے حلال‘ قطعاً ”حلال اور مثل شیر مادر سمجھ کر درگزر کریں۔ ناقل)۔ ایسا ہی ہر شخص جو ایسے اعتراض دل میں مخفی رکھتا ہے‘ اس کو بھی ہم یہی قسم دیتے ہیں۔
یہ کام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جس طرح وہ میرے دل میں ڈالتا ہے‘ خواہ وہ کام لوگوں کی نظر میں صحیح ہے یا غیر صحیح‘ درست ہے یا غلط‘ میں اسی طرح کرتا ہوں (لہٰذا اگر خدا تعالیٰ میرے دل میں یہ ڈالے کہ اس روپیہ کو خانگی زیورات و ملبوسات میں خرچ کیا جائے تو مجھے یہی کرنا ہوگا‘ خواہ وہ چندہ دینے والے اس کو غلط ہی سمجھیں۔ ناقل)۔ پس جو شخص کچھ مدد دے کر مجھے اسراف کا طعنہ دیتا ہے‘ وہ میرے پر حملہ کرتا ہے ایسا حملہ قابل برداشت نہیں (کیونکہ جب ایک شخص کو مامور من اللہ سمجھ کر روپیہ دے دیا تو اس پر اسراف کا طعنہ کیا؟ وہ اسے جہاں چاہے خرچ کرے۔ ناقل) ..... پس اس کے بعد میں ایسے لوگوں کو ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح بھی نہیں سمجھتا جن کے دلوں میں بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں ..... میں تاجر
نہیں کہ کوئی حساب رکھوں، میں کسی کمیٹی کا خزانچی نہیں کہ کسی کو حساب دوں۔"
(ملفوظات ج ۷ ص ۳۲۵-۳۲۶ حاشیہ)
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ۲۶؍ اگست ۱۹۷۵ء)
قادیانی پیش گوئیوں کا انجام!
مرزائی ارادے اور خدائی ارادے
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی :
مرزا محمود احمد صاحب سابق خلیفہ ربوہ نے ۲۳؍جولائی ۱۹۳۸ء کو پارک ہاؤس کوئٹہ میں خطبہ جمعہ کے دوران کہا تھا :
”مجھے ہزار ہا غیر احمدی ملے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ احمدی بولتے بہت زیادہ ہیں‘ اور یہ سچ ہے‘ جب کوئی احمدی بولنے لگ جاتا ہے تو پھر وہ چپ ہونے کا نام ہی نہیں لیتا‘ اور اگر موقع ملے تو مخاطب کو اتنا تنگ کرتا ہے کہ اسے اپنی جان چھڑانی مشکل ہو جاتی ہے۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ وہ بولتا ہی نہیں، اگر بولے تو پھر دوسرے کو پیچھا چھڑانا مشکل ہو جائے‘ ہماری مثال تو ایسی ہے کہ لوگ کہتے ہیں : ”مردہ بولے کفن پھاڑے۔“
(الفضل ۱۳؍اگست ۱۹۳۸ء)
مرزا محمود صاحب کی یہ مثال مجھے ان کے صاحبزادہ گرامی قدر جناب مرزا ناصر احمد خلیفہ ربوہ کے ایک خطبے سے یاد آئی‘ خلیفہ جی نے ۱۷/جنوری ۱۹۷۵ء کے خطبے میں اپنے مریدوں کو نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا:
”اگلے چودہ سال کا زمانہ میرے نزدیک تربیت پر بہت زور دینے کا زمانہ ہے‘ جس میں ہزاروں ہزار احمدیوں کو تربیت یافتہ ہونا چاہئے‘ اور پھر اس کے بعد جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بتایا ہے غلبہ اسلام کی صدی کا ہم نے استقبال کرنا ہے۔“
”پس انصار اللہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور تربیت کا پروگرام بنائیں...... جب غلبہ اسلام کی اس عالمگیر اور ہمہ گیر جدوجہد میں وسعتیں پیدا ہوں اور اس وقت ہزاروں مربیوں کی ضرورت ہو تو ہزاروں لاکھوں مربی موجود ہوں تاکہ دنیا کو سنبھالا جاسکے۔“
(روزنامہ الفضل ربوہ ۲۱/فروری ۱۹۷۵ء)
غلبہ اسلام کا خواب اور اس کی الٹ تعبیر:
خلیفہ جی کے اس ”کفن پھاڑ پروگرام“ کو پڑھ کر ہمیں ان کے گزشتہ سال کے خطبے یاد آنے لگے‘ جن میں انہوں نے سات سال کے اندر اندر اپنی جماعت کو ”غلبہ اسلام“ کی تیاریاں مکمل کرنے کا حکم فرمایا تھا‘ اتنے کروڑ روپے جمع کرو‘ اتنے لاکھ سائیکلیں خرید لو‘ اتنے ہزار گھوڑے مہیا رکھو‘ سو میل یومیہ سائیکل چلانے کی مشق کرو‘ غلیل بازی میں مشاق ہو جاؤ‘ اور مجھ سے ان احکام کی مصلحت نہ پوچھو۔ کیوں؟ کیونکہ:
”ہمیں یقین دلایا گیا ہے کہ اسلام کے غلبہ کا زمانہ آگیا‘ ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ تمام بشارتیں جو امت مسلمہ کو یہ کہہ کر
دی گئی تھیں کہ ایک جماعت پیدا ہو گی جس کے ذریعہ اسلام ساری دنیا میں غالب آئے گا ان کے پورے ہونے کا وقت آگیا ہے۔۔۔۔۔۔ اسلام کے عالمگیر غلبہ کی خوشیاں ہی ہمارے لئے حقیقی خوشیاں ہیں۔“
(خطبہ عیدالفطر مندرجہ الفضل ۲۶/ فروری ۱۹۷۴ء)
خلیفہ صاحب کی ان الہامی بشارتوں کے نشہ سے مخمور ہو کر الفضل نے ۹/ مارچ ۱۹۷۴ء کو ”مخالفین حق کی روش اور ان کا انجام“ کے زیر عنوان ایک تیز و تند اداریہ سپرد قلم فرمایا جس میں اپنے مخالفین کی تباہی کی پیش گوئی کرتے ہوئے لکھا :
”خدا تعالیٰ نے حقیقی اسلام (مرزائیت) کو دنیا میں غالب کرنے کا فیصلہ کر دیا ہے، وہ بہر صورت غالب آئے گا، کون ہے جو خدا کے فیصلہ کو بدل سکے؟ اسلام کے غلبہ کا ایک لازمی نتیجہ یہ بھی ہے کہ جو قومیں اپنی کثرت اور طاقت و قوت کے گھمنڈ میں اسلام اور اس کے حقیقی علمبرداروں کے در پے آزار ہیں اور انہیں کالعدم کرنے کے منصوبے بنا رہی ہیں اگر وہ اپنی اس روش سے باز نہ آئیں تو پھر ان کا اس انجام سے دوچار ہونا یقینی ہے۔“
لیکن ہوا یہ کہ خلیفہ جی کا ”غلبہ اسلام کا وقت آگیا“ کا اعلان ابھی فضا میں گونج رہا تھا کہ خود خلیفہ جی کے شہر میں انہی کے مریدوں کے ہاتھوں ۲۹/ مئی ۱۹۷۴ء کو ایک ایسا حادثہ رونما ہوا جو ۷ / ستمبر ۱۹۷۴ء کے ”مرزائی غیر مسلم اقلیت فیصلے“ پر منتج ہوا، گویا سات سال میں مرزائیت کے غالب آنے کا جو خواب خلیفہ صاحب نے دیکھا تھا سات مہینے کے اندر اندر اس کی الٹ تعبیر سب کے سامنے آگئی۔ اب خلیفہ جی نے تازہ دم ہو کر غلبہ اسلام کی صدی شروع کرنے کا نیا اعلان فرمایا ہے۔
صدی شروع ہونے میں (سال رواں چھوڑ کر) صرف پانچ سال باقی ہیں، ہمیں خطرہ ہے کہ گزشتہ اعلانات کے مطابق نئی صدی کا آغاز قادیانیت کے لئے پیام اجل ہی ثابت نہ ہو۔
بندوں کی مختلف شانیں:
دراصل اللہ تعالیٰ کا معاملہ اپنے مختلف بندوں کے ساتھ مختلف ہوا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کے بعض بندے وہ ہیں جو کسی کشف والہام سے نہیں بلکہ اپنے ذاتی خیال سے بھی کوئی بات کہہ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی بات پوری کر دیتا ہے۔ حدیث میں ارشاد ہے :
”رب اشعث مدفوع بالابواب لو اقسم علی الله لا برہ۔“
(صحیح مسلم)
ترجمہ : ”بہت سے پراگندہ مو، جنہیں دروازوں سے دھکے دیئے جاتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کا مرتبہ اتنا بلند ہے کہ اگر وہ قسم کھا کر کہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری کر دیں گے۔“
اور بعض بندوں سے معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے کہ وہ جب بھی کسی امر کا اظہار کرتے ہیں تو قضاء وقدر کا فیصلہ اس کے خلاف ہوتا ہے‘ مسیلمہ کذاب جو ”مسیح یمامہ“ کے لقب سے مشہور تھا‘ اس کے بارے میں اس قسم کے بہت سے امور منقول ہیں کہ اس نے جو خوشخبری دی نتیجہ اس کے برعکس ہوا۔
مسیح قادیاں سے اللہ تعالیٰ کا معاملہ :
مرزا غلام احمد صاحب کی تاریخ تجدید و مسیحیت پر قادیانی دوستوں کی دوسروں سے زیادہ نظر ہو گی۔ وہ اگر مرزا صاحب کی تاریخ پر غور کریں گے تو انہیں نظر آئے گا کہ مرزا صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ایک نہ ختم ہونے والے ”ابتلا“ کے لئے پیدا کیا تھا، اور قریباً ایک صدی سے یہ ”ابتلائی شان“ ان کا اور ان کے متبعین کا طرۂ امتیاز ہے۔ مرزا صاحب نے جو بات بھی بطور تحدی کے جزم و وثوق کے ساتھ شائع کی اس کا نتیجہ بطور ابتلا برعکس ہی نکلا، جس کام کے کرنے یا ہونے کا انہوں نے ارادہ کیا، قضا و قدر نے اس کی ضد کے سامان پیدا کر دیئے، اور جس چیز کو مرزا صاحب نے چاہا اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف فیصلہ فرمایا۔
مرزا صاحب کا دور تجدید :
مرزا صاحب نے اپنی پہلی کتاب براہین احمدیہ (حصہ اول) ۱۸۸۰ء میں شائع کی اور اس میں اپنے مامور من اللہ اور مجدد وقت ہونے کا اعلان فرمایا اور ۱۸۹۱ء میں مسیح موعود ہونے کا اعلان فرمایا، گویا اس وقفہ کو مرزا صاحب کا تجدیدی دور کہا جا سکتا ہے اور اس کے بعد ۱۹۰۱ء تک ”مسیحی دور“ کہنا چاہئے اور ۱۹۰۱ء سے ان کا دور نبوت شروع ہوا جو ۲۶ / مئی ۱۹۰۸ء پر ختم ہوا۔
براہین احمدیہ :
- ۱ : ...... تجدیدی دور میں مرزا صاحب نے براہین احمدیہ میں حقانیت قرآن
کریم پر تین سو دلائل پیش کرنے کا اعلان فرمایا لیکن تقدیر کا فیصلہ اس کے برعکس تھا۔ چنانچہ پہلی دلیل ابھی نامکمل تھی کہ براہین احمدیہ کی اشاعت خدا نے ملتوی کر دی۔
- ۲:....... مرزا صاحب نے براہین احمدیہ کی پچاس جلدیں لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا
تھا‘ مگر تقدیر آڑے آئی اور چار حصوں کے بعد ۲۳ برس تک پانچواں حصہ بھی ملتوی رہا، اور پھر پانچ کے ہندسے پر ایک نقطہ لگا کر پچاس کا عدد پورا کرنا پڑا، اور یہ حصہ بھی بعد از وفات منصۂ شہود پر آیا۔
مصلح موعود :
مشیت الٰہی کا فیصلہ کس طرح مرزا صاحب کی خواہش کے خلاف ہوتا رہا؟ اس کی ایک مثال مصلح موعود کی پیش گوئی ہے‘ جس میں ارادۂ خداوندی نے بار بار مرزا صاحب کے ارادوں کو شکست دی، مثلاً :
- ۱:....... ۲۰/ فروری ۱۸۸۶ء کو ایک لڑکے کے تولد کی خوشخبری سنائی‘ جس کی
طویل وعریض صفات بیان فرمائیں‘ بعد میں یہ ”مصلح موعود“ کی پیش گوئی کے نام سے مشہور ہوئی‘ بہت سے لوگوں نے ”پسر موعود“ ہونے کا دعویٰ کیا مگر نہ یہ صفات آج تک کسی میں پائی گئیں‘ نہ باتفاق اسے مصلح موعود تسلیم کیا گیا‘ نہ مرزا صاحب خود ہی اس بارے میں کوئی واضح فیصلہ اپنی زندگی میں کر سکے‘ بلکہ ساری عمر شک و تذبذب میں مبتلا رہے۔
- ۲:...... ۲۲/ مارچ ۱۸۸۶ء کو اس کے لئے نو سال کی مدت تجویز فرمائی مگر نو سال
کے اندر ایسا کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوا۔
- ۳:....... ۸ / اپریل ۱۸۸۶ء کو فرمایا کہ : ”ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو
ایک مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔“ مگر مدت حمل میں بھی لڑکا نہ ہوا۔
۲
- ۴ :....... ۷ / اگست ۱۸۸۷ء کو ایک لڑکے کی ولادت ہوئی تو فوراً خوشخبری کا اشتہار
دیا اور اس میں لکھا :
”اے ناظرین! میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ لڑکا جس کے تولد کے لئے میں نے اشتہار ۸ / اپریل ۱۸۸۶ء میں پیش گوئی کی تھی اور خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر اپنے کھلے کھلے بیان میں لکھا تھا کہ اگر وہ حمل موجودہ میں پیدا نہ ہوا تو دوسرے حمل میں جو اس کے قریب ہے ضرور پیدا ہو جائے گا، آج ...... وہ مولود مسعود پیدا ہو گیا۔“
(مجموعہ اشتہارات ص ۱۴۱ ج ۱)
تقدیر یہاں بھی تدبیر پر غالب آئی اور ۳ / نومبر ۱۸۸۸ء کو ”وہ لڑکا“ داغِ مفارقت دے گیا۔
- ۵ :....... ۱۲ / جنوری ۱۸۸۹ء کو میاں محمود احمد کی ولادت ہوئی تو مرزا صاحب نے
پھر اشتہار دیا کہ :
”آج ...... اس عاجز کے گھر میں بفضلہ تعالیٰ ایک لڑکا پیدا ہو گیا ہے، جس کا نام بالفعل محض تفاؤل کے طور پر بشیر اور محمود بھی رکھا گیا ہے اور کامل انکشاف کے بعد پھر اطلاع دی جائے گی، مگر ابھی تک مجھ پر یہ نہیں کھلا کہ یہی لڑکا مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے یا وہ کوئی اور ہے۔“
(حاشیہ مجموعہ اشتہارات ص ۱۹۱ ج ۱)
- ۶ :....... اس کے بعد ۱۹ برس تک مرزا صاحب زندہ رہے‘ کامل انکشاف کے بعد
پھر کوئی اطلاع نہ دی کہ مرزا میاں محمود ہی مصلح موعود ہے‘ تاآنکہ ۲۸ / فروری ۱۹۴۴ء کو مرزا صاحب کی وفات کے ۳۶ سال بعد مرزا محمود صاحب نے بالہام الٰہی
مصلح موعود ہونے کا اعلان کیا، مگر خود اپنے والد کے ”صحابہ“ سے وہ اپنا یہ دعویٰ تسلیم نہ کرا سکے، بلکہ لاہوری جماعت نے ان پر ایسے سنگین اور گھناؤنے الزامات لگائے (اور اب تک لگائے جا رہے ہیں) جن کی موجودگی میں مصلح موعود تو کجا! انہیں عام انسانوں کا درجہ دینا بھی وہ تسلیم نہیں کرتے۔
- ۷ :....... جنوری ۱۸۹۷ء میں مرزا صاحب نے تحریر فرمایا کہ یہ مصلح موعود آسمانی
منکوحہ سے پیدا ہو گا (ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۳ روحانی خزائن ص ۳۳۷ ج ۱۱) مگر تقدیر یہاں بھی مانع ہوئی، چنانچہ آسمانی منکوحہ مرزا صاحب کے نکاح ہی میں نہ آنے دی گئی، اس سے اولاد کیسے ہوتی ؟
- ۸ :....... ۱۴ /جون ۱۸۹۷ء کو صاحبزادہ مبارک احمد کی ولادت ہوئی تو مرزا صاحب
نے تریاق القلوب میں اس کو ”مصلح موعود“ والی پیش گوئی کا مصداق قرار دے کر گویا مرزا محمود کے ”مصلح موعود“ ہونے کی نفی کردی، لیکن تقدیر یہاں بھی مسکرائی اور ۱۶ /ستمبر ۱۹۰۷ء کو یہ صاحبزادہ مبارک احمد بھی مرزا صاحب کی کشتِ تمنا کو خزاں نصیب کر کے ملک بقا کو سدھارے۔
- ۹ :....... اکیس برس تک تقدیر مرزا صاحب کو مصلح موعود کی پیش گوئی کے دریائے
ناپیدا کنار میں ہچکولے دیتی رہی، لیکن مرزا صاحب پھر بھی مایوس نہ ہوئے، نہ معاملہ خداوندی سے عبرت پذیر ہوئے، بلکہ مبارک احمد کی وفات پر ایک ”نئے یحییٰ“ کی خوشخبری کا اعلان کر دیا، مگر افسوس ہے کہ یحییٰ صاحب کی تشریف آوری سے پہلے ہی مرزا صاحب کا پیمانہ عمر لبریز ہو گیا اور مصلح موعود کی پیشگوئی دھری کی دھری رہ گئی۔
خواتین مبارکہ :
۲۰/ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں مرزا صاحب نے تحدی آمیز خدائی اعلان کیا تھا کہ :
”خدائے کریم جل شانہ نے مجھے بشارت دے کر کہا کہ تیرا گھر برکت سے بھرے گا اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو تو اس کے بعد پائے گا‘ تیری نسل بہت ہو گی۔“
اس اعلان کے بعد مرزا صاحب کو کوئی نئی ”خاتون مبارکہ“ تو نصیب نہ ہوئی‘ البتہ ایک ”خاتون مبارک“ کو طلاق ضرور ہوئی‘ شاید ”خدائی بشارت“ کی تعبیر یہی ہو گی کہ بعض صاحب اولاد خواتین مبارکہ تیرے حبالہ عقد سے آزاد ہو جائیں گی اور تیرا گھر اجڑ جائے گا، بیٹے عاق ہو جائیں گے، بہو کو طلاق ہو جائے گی‘ اور ایک نئی سنت مسیحی قائم ہو جائے گی۔
کنواری اور بیوہ :
۱۸۹۹ء میں مرزا صاحب نے خدائی اعلان جاری کیا کہ قریباً اٹھارہ سال قبل بکر و ثیب کا الہام ہوا تھا :
”خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا‘ ایک بکر ہو گی اور دوسری بیوہ۔ چنانچہ یہ الہام جو بکر کے متعلق تھا پورا ہو گیا ..... اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے۔“
(تریاق القلوب ۳۴ روحانی خزائن ص ۲۰۱ ج ۱۵)
مرزا صاحب کو تادم واپسیں بیوہ کا انتظار رہا‘ نہ جانے خدا تعالیٰ نے مرزا صاحب کی کون سی غلطی دیکھ کر الہامی ارادہ تبدیل فرمالیا۔
نیک سیرۃ اہلیہ :
۸ / جون ۱۸۸۶ء کو مرزا صاحب نے مولوی نور دین کو لکھا کہ :
”شاید چار ماہ کا عرصہ ہوا کہ اس عاجز پر ظاہر کیا گیا تھا کہ ایک فرزند قوی الطاقتین ، کامل الظاہر والباطن تم کو عطا کیا جائے گا ، سو اس کا نام بشیر ہوگا‘ میرا قیاسی طور پر خیال تھا کہ شاید وہ فرزندِ مبارک اسی اہلیہ سے ہوگا۔ اب زیادہ تر الہام اسی بات پر ہو رہے ہیں کہ عنقریب ایک عدد نکاح تمہیں کرنا پڑے گا اور جناب الٰہی میں یہ بات قرار پاچکی ہے کہ ایک پارسا طبع اور نیک سیرۃ اہلیہ تمہیں عطا ہوگی‘ وہ صاحبِ اولاد ہو گی۔“
(مکتوبات احمدیہ جلد ۵ ص ۲)
افسوس ہے کہ ”الہامات“ کے باوجود نہ کوئی پارسا طبع اور نیک سیرۃ اہلیہ انہیں عطا ہوئی‘ نہ الہامی فرزند متولد ہوا۔
تیسری شادی
تقدیر مبرم :
۲۰ / جون ۱۸۸۶ء کو مرزا صاحب نے مولوی نور دین کو لکھا کہ :
”اس عاجز کی یہ عادت ہے کہ اپنے احباب کو ان کی قوّتِ ایمانی بڑھانے کی غرض سے کچھ کچھ امور غیبیہ بتا دیتا ہے‘ اور اصل حال اس عاجز کا یہ ہے کہ جب سے اس تیسرے نکاح کے لئے اشارۂ غیبی ہوا ہے‘ تب سے خود طبیعت متفکر ومتردّد ہے‘ اور حکمِ الٰہی سے گریز کی جگہ نہیں‘ مگر بالطبع کارہ ہے‘ اور ہر چند اول اول چاہا کہ یہ امر
غیبی موقوف رہے مگر متواتر الہامات اور کشوف اس بات پر دلالت کر رہے ہیں کہ یہ تقدیر مبرم ہے۔"
(مکتوبات احمدیہ جلد ۵ ص ۲)
لیکن افسوس ہے کہ مرزا صاحب کے یہ متواتر الہامات بھی غلط نکلے اور نکاح کا نہ ہونا "تقدیر مبرم" ثابت ہوا۔
محمدی بیگم :
"مرزا صاحباں" کی طرح "مرزا محمدی" کا قصہ بھی شہرۂ آفاق ہے، مرزا صاحب نے اپنے اعزہ میں ایک لڑکی (محمدی بیگم) کا رشتہ طلب کیا مگر منظور نہ ہوا، ترغیب و تہدید سے کام لیا مگر غیر مفید ثابت ہوا، منت سماجت، خوشامد و سفارش کی ساری ترکیبیں غیر مؤثر ثابت ہوئیں۔ مرزا صاحب نے اس موضوع پر اتنا لکھا کہ ایک دلچسپ الف لیلیٰ مرتب ہو سکتی ہے، یہاں اس کا آغاز و انجام ملاحظہ فرمائیے :
سلسلۂ جنبائی :
مرزا صاحب نے اس نکاح کی جانب اشارہ اگرچہ ۲۰ / فروری ۱۸۸۶ء کے تحدی آمیز اشتہار میں بھی کیا تھا مگر باقاعدہ سلسلۂ جنبائی کے لئے ۲۰ / فروری ۱۸۸۸ء کو محمدی بیگم کے والد مرزا احمد بیگ کے نام خدائی حکم نامہ بھیجا کہ :
"ابھی مراقبہ سے فارغ ہی ہوا تھا تو کچھ غنودگی سی ہوئی اور خدا کی طرف سے یہ حکم ہوا کہ احمد بیگ کو مطلع کردے کہ وہ بڑی لڑکی کا رشتہ منظور کرے ...... اور میں نے اس کا حکم پہنچا دیا تاکہ اس کے رحم و کرم سے حصہ پاؤ...... اور اس کے علاوہ میری املاک خدا کی اور آپ کی ہے۔"
(قادیانی مذہب طبع جدید فصل آٹھویں ص ۴۵۶)
اعلان فسخ :
۲۰ / فروری ۱۸۸۶ء سے ۱۹۰۷ء تک مرزا صاحب اس خواہش کی تکمیل کے منتظر رہے، لیکن خدا کو منظور نہ ہوا۔ آخر کار حقیقۃ الوحی میں مرزا صاحب نے فسخ نکاح کا اعلان کر دیا۔ (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۱۳۳ روحانی خزائن ص ۵۷۰ ج ۲۲) :
لو بحرِ محبت کا کنارہ نظر آیا
آتھم کا غم :
۵ / جون ۱۸۹۳ء کو مرزا صاحب نے اپنے مد مقابل (عبداللہ آتھم) کو پندرہ مہینے بسزائے موت ہاویہ میں گرانے کا آسمانی حربہ چلایا، ۵ / ستمبر ۱۸۹۴ء اس کی آخری میعاد تھی، مرزا صاحب نے اپنے لاؤ لشکر سمیت اس کی موت کے لئے ہزار ہا جتن کئے، ٹونے ٹوٹکے بھی کئے کرائے، دعائیں بھی کیں، مگر یہ حربہ بھی بتقدیر خداوندی ناکام رہا۔ مرزا صاحب کی ناکامی دیکھ کر بعض مرزائی عیسائی بن گئے اور مرزا صاحب کو کافی ذلتیں اٹھانا پڑیں۔
الغرض جب سے مرزا صاحب ”مسیح موعود“ بنے خدا تعالیٰ کی مشیت نے فیصلہ کر لیا کہ مرزا صاحب جو کچھ کہیں واقعہ اس کے خلاف رونما ہوا کرے۔ خود غلبہ اسلام کی پیش گوئی جو مرزا صاحب نے فرمائی تھی اس کا انجام ایک صدی بعد بھی یہی نکلا کہ مرزا صاحب اور ان کے متبعین کو خارج از اسلام قرار دے دیا گیا۔ قادیانی صاحبان اس فقیر کی پیش گوئی نوٹ کر لیں کہ مرزا صاحب کی ”غلبہ اسلام کی پیش گوئی“ کبھی پوری نہیں ہو گی۔ اسلام انشاء اللہ ضرور غالب آئے گا، مگر
اصل مسیح علیہ السلام کے ذریعہ، کسی نقلی مسیح کے ذریعہ نہیں، قادیانی لیڈر جب بھی قادیانیت کے غلبہ کی بڑ ہانکتے سنائی دیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ تقدیر کا فیصلہ اس کے الٹ ہونے والا ہے۔
(ہفت روزہ ”لولاک“ لائل پور ۷ / اپریل ۱۹۷۵ء)
عقیدۂ حیات مسیح علیہ السلام
مدیر ”پیغام صلح“ کے جواب میں
مکرم و محترم جناب پروفیسر خلیل الرحمن صاحب! زیدت عنایاتہم
میرے خط محررہ ۹ جون ۷۷ء کا جواب بذریعہ ”پیغام صلح“ (۳؍اگست ۷۷ء) مجھے موصول ہوا، اور میں نے بڑی دلچسپی سے اس کا مطالعہ کیا۔ جواباً چند گزارشات پیش خدمت ہیں :
۱:..... میں نے عرض کیا تھا کہ کسی اسلامی عقیدہ کا ثبوت (۱) یا تو قرآن کریم سے ہوسکتا ہے (۲) یا حدیث متواتر سے (۳) یا اجماع امت سے، اور یہ کہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ قرآن کریم، حدیث متواتر اور اجماع امت تینوں سے ثابت ہے، اس کے بعد میں نے ان تینوں کے حوالے علی الترتیب پیش کئے تھے، جن کا انکار آپ نہیں کرسکے، مگر ان کے جواب میں آپ فرماتے ہیں کہ ”میرے لئے قرآن سے باہر کوئی دلیل منظور نہیں ۔“ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متواتر ارشادات، اور ائمہ ہدیٰ کے متفق علیہ و اجماعی عقائد کی آپ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں، آپ صرف قرآن کو مانتے ہیں، اور اس کی تفسیر بھی صرف وہی، جو آنجناب کے ذہنِ عالی میں آئے، اس کے علاوہ کوئی تفسیر
آپ کے لئے قابل قبول نہیں‘ خواہ وہ پوری امت کی متفقہ و مسلمہ ہو‘ اور خواہ وہ آپ کے ”مامور من اللہ“ کی تفسیر ہو۔
حیات عیسیٰ علیہ السلام کو تو قبول کیجئے یا نہ کیجئے‘ آپ کی اپنی صوابدید ہے‘ مگر یہ گزارش ضرور کروں گا کہ آپ نے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ سے گریز اختیار کرنے کا جو راستہ اپنایا ہے‘ وہ بڑا ہی خطرناک راستہ ہے‘ اور اس کی وجوہ حسب ذیل ہیں :
اولاً : میں آپ کے سامنے قرآن کریم اور آپ کے مسلمہ مامور من اللہ کی الہامی تفسیر پیش کروں‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات متواترہ کا حوالہ دوں‘ گزشتہ صدیوں کے اجماع سلف صالحین کو ذکر کروں‘ اور آپ ہر ایک کے جواب میں ”نامنظور“ کا لفظ کہہ کر فارغ ہو جائیں تو انصاف سے کہئے کہ پھر میں کسی اسلامی عقیدہ کے ثبوت میں اور کیا پیش کروں؟ بقول سعدی :
آنست جوابش کہ جوابش ندہی
ترجمہ : ”جو شخص کہ قرآن و حدیث کا حوالہ دے کر بھی تم اس سے عہدہ برآ نہ ہو سکو‘ اس کا جواب یہی ہے کہ اس کو جواب نہ دو۔“
ثانیاً : خود قرآن کریم کا ثبوت بھی تواتر سے ہے‘ اگر تواتر ہی آپ کے لئے ”نامنظور“ ہو تو قرآن کریم کا قطعی ثبوت آپ کس دلیل سے پیش کریں گے؟
ثالثاً : جناب مرزا صاحب فرماتے ہیں :
”تواتر ایک ایسی چیز ہے کہ اگر غیر قوموں کی تواریخ کے رو سے بھی پایا جائے تو تب بھی ہمیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ۵۵۶‘ روحانی خزائن ص ۳۹۹ ج ۳)
اور پھر تواتر سے جو علم حاصل ہوتا ہے‘ وہ آنکھوں دیکھی چیز کی طرح قطعی اور بدیہی ہوتا ہے‘ اس میں کبھی کسی نادان بچے کو بھی شک نہیں ہوتا‘ مگر کتنے تعجب کی بات ہے کہ امت محمدیہ کے ثقہ اور امین لوگوں کے تواتر کو آپ حیات عیسیٰ علیہ السلام سے بچنے کے لئے ”نامنظور“ فرما رہے ہیں۔ انصاف فرمائیے کہ عقلا کو آپ کے اس ”نامنظور“ کے بارے میں کیا رائے قائم کرنی چاہئے؟
رابعاً: آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متواتر ارشادات کو ”نامنظور“ فرما رہے ہیں‘ مگر جناب مرزا صاحب کی وصیت یہ ہے :
جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ۳۹ حاشیہ)
آپ ائمہ اہل سنت کے اجماعی عقیدہ کو نامنظور کہہ کر مسترد کر رہے ہیں‘ مگر جناب مرزا صاحب کی تصریح یہ ہے کہ :
”وہ تمام امور جن پر سلف صالحین کو اعتقادی اور عملی طور پر اجماع تھا‘ اور وہ امور جو اہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں‘ ان سب کا ماننا فرض ہے۔“
(ایام صلح ص ۸۷ روحانی خزائن ص ۳۲۳ ج ۱۴)
”اور جس شخص نے اس شریعت میں ایک ذرہ کی کمی بیشی
کی‘ یا کسی اجماعی عقیدہ کا انکار کیا‘ اس پر خدا کی لعنت‘ فرشتوں کی لعنت‘ اور تمام انسانوں کی لعنت۔“
(انجام آتھم ص ۱۴۴‘ روحانی خزائن ص ۱۴۴ ج ۱۱)
خامساً: اگر آپ قرآن سے باہر کوئی دلیل قبول نہیں کرتے تو آپ کے اور مسٹر غلام احمد پرویز کے مسلک میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟ اہل قرآن بھی تو یہی نعرہ لگاتے ہیں کہ قرآن سے باہر کوئی دلیل‘ اور ان کی خود تراشیدہ تفسیر کے سوا کسی بڑی سے بڑی شخصیت کی تفسیر ان کے لئے لائق قبول نہیں‘ بلکہ خوارج‘ جہمیہ‘ معتزلہ‘ باطنیہ وغیرہ سے لیکر دورِ حاضر کے پڑھے لکھے جاہلوں تک سب کا موقف یہی رہا ہے کہ سلف صالحین پر اعتماد نہ کیا جائے‘ بلکہ جو کچھ اپنی عقل میں آئے‘ اسی کو قرآن کے نام پر پیش کیا جائے۔
مجھے معاف کیجئے! اگر میں گزارش کروں کہ ایمان کی حفاظت اور دین کی سلامتی کا واحد راستہ سلف صالحین کی اقتداء‘ اور گزشتہ صدیوں کے ائمہ ہدیٰ کی پیروی ہے‘ اور یہ میری اختراعی رائے نہیں‘ بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مجددین امت کی یہی وصیت ہے‘ اس لئے ہمیں کسی عقیدہ کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کرنے کے لئے یہ دیکھنا ہو گا کہ صحابہ و تابعین اور سلف صالحین کا عقیدہ کیا تھا؟ اور انہوں نے قرآن کریم اور ارشادات نبویہ کا کیا مطلب سمجھا تھا؟ پس جبکہ میں نے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت قرآن کریم اور حدیث متواتر سے پیش کرنے کے ساتھ یہ بھی ثابت کر دیا تھا کہ تیرہ سو سال سے تمام اکابر امت کا عقیدہ بھی یہی چلا آتا ہے تو اس کے بعد آنجناب کا یہ کہنا قطعاً قرین انصاف نہیں کہ آپ نہ تو قرآن کریم سے باہر کوئی دلیل قبول کرنے کے لئے
تیار ہیں‘ نہ کسی اصول اور ضابطے کی پابندی کے لئے آمادہ ہیں‘ کیونکہ آنجناب کے اس ارشاد کا مطلب تو یہ ہے کہ آپ سے پہلے کسی نے قرآن کریم کو نہیں سمجھا‘ نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے‘ نہ صحابہؓ و تابعینؒ نے‘ نہ ائمہ مجددینؒ نے‘ بلکہ یہ سب کے سب ‘نعوذ باللہ‘ فہم قرآن سے عاری‘ اور اپنی اٹکل پچو رائے کے پیرو تھے۔ یہاں میں آنجناب کو امام ربانی مجدد الف ثانیؒ کا ایک فقرہ یاد دلاؤں گا :
”جماعتے کہ ایں اکابر دین را اصحاب رائے میدانند اگر ایں اعتقاد دارند کہ ایشاناں بہ رائے خود حکم میکردند و متابعت کتاب و سنت نمے نمودند پس سوادِ اعظم از اہل اسلام بزعم فاسد ایشاں ضال و مبتدع باشند بلکہ از جرگہ اہل اسلام بیروں بوند۔ ایں اعتقاد نکند مگر جاہلے کہ از جہل خود بے خبر است یا زندیقے کہ مقصودش ابطال شطر دین است۔“
(مکتوبات امام ربانی دفتر دوم‘ مکتوب ۵۵ ص ۱۵۵ ج ۲)
ترجمہ : ”جو لوگ ان اکابر دین کو ”اصحاب رائے“ سمجھتے ہیں‘ اگر وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ یہ حضرات اپنی رائے سے حکم کرتے تھے‘ اور کتاب و سنت کی پیروی نہیں کرتے تھے تو مسلمانوں کا سوادِ اعظم ان کے زعم فاسد کے مطابق گمراہ اور بدعتی ٹھہرے گا‘ بلکہ اہل اسلام کی جماعت ہی سے خارج ہوگا۔ ایسا نظریہ یا تو اس جاہل کا ہوسکتا ہے‘ جو اپنی جہالت سے بے خبر ہو‘ یا ایسے زندیق کا‘ جس کا مقصود دین اسلام کے ایک حصہ کو باطل ٹھہرانا ہو۔“
- ۲ :.... میں نے سب سے پہلے عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآن کی آیت‘
اور اس کے ذیل میں جناب مرزا صاحب کی الہامی تفسیر پیش کی تھی‘ اور لکھا تھا کہ یہ آیت ہمارے زیر بحث عقیدہ میں قطعی الثبوت بھی ہے‘ اور قطعی الدلالت بھی‘ اور خدا تعالیٰ کی قطعی پیشگوئی پر ایمان لانے میں پس و پیش کرنا کسی مومن کا شیوہ نہیں‘ آنجناب نے اس کا جو جواب دیا ہے‘ وہ میرے لئے سرمایہ صد حیرت ہے۔ آنجناب لکھتے ہیں :
”آپ یہ بھول گئے ہیں کہ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۱۸۸۴ء میں شائع ہوا‘ اور حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کا راز آپ پر (یعنی مرزا صاحب پر) ۱۸۹۰ء میں اس الہام کے ذریعہ منکشف ہوا : ”مسیح بن مریم فوت ہو گیا ہے و جعلناک المسیح بن مریم“ اس کے مد نظر آپ نے ۱۸۹۱ء میں دعویٰ مسیح موعود تک قرآن کریم کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی اطلاع کو جانچا اور پرکھا‘ جب آپ کو یقین ہو گیا کہ قرآن کریم وفات مسیح کی تصدیق کرتا ہے تو آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا‘ اور اپنے وفات مسیح کے عقیدہ کی تائید میں قرآن کریم سے ۳۰ آیات پیش کیں‘ جو ازالہ اوہام میں بالتفصیل مذکور ہیں‘ اس لئے آپ کو (یعنی راقم الحروف کو) چاہئے تھا کہ آپ ۱۸۹۱ء کے بعد کوئی تفسیر پیش کرتے‘ جس میں سے حضرت مرزا صاحب کا عقیدہ دوبارہ حیات مسیح مستنبط ہو سکتا۔“
میں صفائی سے عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ میں آپ کے اس جواب کو
آنجناب ایسے بالغ نظر پروفیسر کی شان سے قطعاً فروتر سمجھتا ہوں‘ غالباً آنجناب نے مندرجہ ذیل امور پر توجہ نہیں فرمائی :
اول : سب سے پہلے تو ”وفات مسیح“ کو ایک راز کہنا ہی سائنسی دنیا میں ایک نیا انکشاف کہلانے کا مستحق ہے۔ جو مسئلہ بقول آپ کے قرآن کریم کی تیس آیتوں میں صراحتاً ”بیان کیا گیا“ کیا اسے ”راز“ کہنا علم و عقل سے انصاف ہے؟ آپ جانتے ہیں کہ وضو کا مسئلہ قرآن کریم کی صرف دو آیتوں میں بیان کیا گیا ہے‘ کیا آپ دنیا کے کسی عاقل کا نام بتا سکتے ہیں جو بقائمی ہوش و حواس وضو کو ایک ”راز“ سمجھتا ہو؟
دوم: پھر اس ”راز“ کے لئے الہام کی کیا ضرورت تھی؟ کیونکہ مرزا صاحب سے پہلے جناب سرسید احمد خان بہادر کی نیچریت اس راز کا افشا کر چکی تھی‘ اور جناب حکیم نور دین ‘ جناب مولوی عبدالکریم‘ جناب محمد احسن امروہوی وغیرہ سرسید کی تقلید میں وفات مسیح کی منادی کر رہے تھے۔ سرسید کے نیچری نظریات کے زیر اثر جس مسئلہ کا اخبارات و رسائل میں غلغلہ بلند تھا‘ اسے نہ تو ”راز“ کہنا صحیح ہے‘ نہ اس کے ”انکشاف“ کے لئے الہام کی احتیاج۔
سوم : ایک طرف امت کا اجماعی عقیدہ تھا کہ مسیح علیہ السلام زندہ ہیں‘ دوسری طرف سرسید اور اس کے رفقا کا نیچری عقیدہ تھا کہ مسیح مر گیا‘ عین اس حالت میں بقول آپ کے مرزا صاحب کو وفات مسیح کا الہام ہوتا ہے‘ اور وہ امت کے اجماعی عقیدہ سے انحراف کر کے قرآن میں وفات مسیح کا گمشدہ راز ڈھونڈھنے لگتے ہیں‘ ان پر یہ انکشاف ہوتا ہے کہ قرآن کی تیس آیتیں وفات
مسیح کی تصریح کرتی ہیں۔ آپ کی یہ تقریر جناب مرزا صاحب کے بارے میں بے حد بدظنی پیدا کرتی ہے، اور ان کی حیثیت کو یکسر مشکوک بنا دیتی ہے، کیونکہ ایک غیر جانبدار یہ کہہ سکتا ہے کہ مرزا صاحب کا الہام، اور اس سے پیدا شدہ نظریات و دعاوی سرسید کے افکار کی صدائے بازگشت تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جناب مرزا صاحب کو سب سے پہلے انہی لوگوں نے قبول کیا ہے، جو سرسید کے غالی معتقد تھے، وہاں نیچریت پر عقلیت کا غلبہ تھا، اور یہاں کشف الہام کا دبیز پردہ۔
چہارم: آنجناب نے مرزا صاحب کی زندگی کے دو دور تجویز کئے ہیں، پہلا جوانی سے لیکر ۱۸۹۰ء تک کا، اور دوسرا ۱۸۹۱ء سے آخر حیات تک کا۔ پہلے دور میں وہ حیات مسیح کے قائل تھے، اور دوسرے میں وفات مسیح کے۔ پہلے دور میں وہ قرآن کریم سے عقیدہ حیات پیش کرتے تھے، اور دوسرے دور میں وفات کا عقیدہ۔ پہلے دور میں ان پر ظاہر کیا گیا تھا کہ ”مسیح علیہ السلام کی زندگی کے دو دور ہیں، اور یہ کہ انہیں مسیح کی پہلی زندگی سے مشابہت ہے، اور یہ کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے مسیح کی پیشگوئی میں شریک کر رکھا ہے، اور یہ کہ آیت کا مصداق مسیح علیہ السلام کی جلالی آمد ہے، اور دوسرے دور میں اس کے برعکس ان پر یہ ظاہر کیا گیا کہ مسیح کی زندگی کا بس ایک ہی دور تھا، جسے وہ پورا کر کے فوت ہو چکے ہیں۔ پہلے دور میں ان کو ”وان عدتم عدنا“ کا الہام ہوا تھا، جس میں مسیح علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی کی گئی تھی، اور دوسرے دور میں اس کے برعکس الہام ہوا کہ مسیح مر گیا ہے، دوبارہ نہیں آئے گا۔
الغرض حیات و وفات مسیح کے بارے میں مرزا صاحب کے دو عقیدے ہیں،
دو تفسیریں ہیں، اور دو الہام ہیں، جو آپس میں متناقض ہیں، ہم اور آپ اتنی بات پر تو متفق ہیں کہ ان میں سے ایک صحیح ہے، اور ایک غلط، گویا مرزا صاحب کی اعتقادی غلطی، تفسیری غلطی، اور الہامی غلطی تو ہماری طرح آنجناب کو بھی مسلم ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ مرزا صاحب اپنے پہلے دور میں غلطی پر تھے؟ یا دوسرے دور میں؟ ہمارا کہنا یہ ہے کہ پہلے دور میں مرزا صاحب سلف صالحین کے مسلک پر تھے، لہٰذا ان کا اس دور کا عقیدہ، اس دور کا الہام اور، ان کی اس دور کی الہامی تفسیر ہی قابل قبول ہے، اس کے مقابلہ میں آنجناب کا خیال یہ ہے کہ جب تک مرزا صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات متواترہ، اور سلف صالحین کے اجماع سے متفق تھے، اس وقت تک تو ان کا عقیدہ بھی غلط تھا، ان کا فہم قرآن بھی غلط تھا، اور ان کا الہام بھی غلط تھا، جونہی انہوں نے سرسید احمد خان سے ہمنوائی کی، ان کا عقیدہ بھی صحیح ہوگیا، ان کے الہام بھی قابل اعتبار ہوگئے، اور انہیں قرآن کریم بھی صحیح سمجھ آنے لگا۔ میں آنجناب ہی کو منصف بناتا ہوں کہ عقل و انصاف کی میزان میں ہمارا موقف وزنی ہے یا آپ کا؟
پنجم : آپ فرماتے ہیں کہ ۱۸۹۰ء میں مرزا صاحب پر وفات مسیح کا راز منکشف ہوا، اور اس کے بعد انہوں نے وفات مسیح کی تیس آیات ڈھونڈھ نکالیں، میں پوچھتا ہوں ۱۸۹۰ء تک یہ تیس آیات مرزا صاحب کو قرآن کریم میں کیوں نظر نہ آئیں؟ کیا یہ تیس آیات ۱۸۹۰ء کے بعد نازل ہوئی تھیں؟ یا اس سے پہلے جناب مرزا صاحب کے علم و فہم میں کچھ نقص تھا؟ آنجناب کی تحقیق کے مطابق اس وقت مرزا صاحب کی عمر ۵۵ برس تھی، گویا وہ چالیس برس سے
عاقل و بالغ تھے، اور پندرہ برس سے وہ اپنے مجدد، محدث، ملہم اور مامور من اللہ ہونے کا اشتہار بھی دے رہے تھے، انہیں ساری دنیا سے زیادہ فہم قرآن کا بھی دعویٰ تھا، سوال یہ ہے کہ مسلسل چالیس برس تک انہیں قرآن کریم کی یہ تیس آیتیں کیوں سمجھ نہ آئیں؟ اور مرزا صاحب کے فہم رسا کی رسائی ان تک کیوں نہ ہوئی؟ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ سرسید تو قرآن کی ان آیات کا مطلب سمجھ جائے، لیکن مرزا صاحب نہ سمجھیں؟ اور پھر سوال صرف مرزا صاحب کا نہیں، بلکہ یہی سوال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لیکر صحابہؓ و تابعینؒ، اور ائمہ مجددینؒ کے بارے میں بھی پیدا ہوتا ہے کہ ان تیس آیات کا مطلب ان اکابرین نے کیوں نہ سمجھا؟ اور وہ تسلسل اور تواتر کے ساتھ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ کیوں رکھتے آئے؟ کیا قرآن کسی ایسی زبان میں نازل ہوا، جس کو صرف سرسید کی نیچریت، اور جناب مرزا صاحب کا الہام ہی سمجھ سکتا ہے؟
- ششم : دور اول میں جناب مرزا صاحب نے حیات مسیح کا عقیدہ خود
تحریر فرمایا، اس کے لئے قرآن کریم کی سند پیش کی، اور اس کی تائید میں اپنا الہام بھی پیش فرمایا، لیکن دوسرے دور میں انہوں نے اس عقیدے کے بارے میں جو کچھ تحریر فرمایا، وہ مجھ سے زیادہ آپ کو معلوم ہے، مثلاً :
”حضرت عیسیٰ کا زندہ آسمان پر جانا محض گپ ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۰۰ روحانی خزائن ج ۲۱ ص ۲۶۲)
”بتلاؤ یہ ایمانداری ہے یا بے ایمانی؟“
(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ۱۸۸ روحانی خزائن ج ۲۱ ص ۲۸۳)
”صاف اور صریح طور پر نصوص صریحہ قرآن شریف کے
برخلاف ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ۱۱۷ روحانی خزائن ج ۲۱ ص ۲۸۳)
”پس یہ کس قدر جھوٹ ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ۱۱۸ روحانی خزائن ج ۲۱ ص ۲۸۳)
”محض جھوٹ کی حمایت۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ۲۰۴ روحانی خزائن ج ۲۱ ص ۳۷۷)
یہ بطور نمونہ چند فقرے نقل کئے ہیں‘ ورنہ ان کے اس قسم کے ارشادات اس کثرت سے ہیں کہ ان کا احصا ممکن نہیں۔ انصاف فرمائیے کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متواتر ارشادات (نعوذباللہ) انہی خطابات کے مستحق ہیں؟ اور امت محمدیہ کے تمام اکابر مجددین (نعوذباللہ) محض گپیں ہانکتے رہے؟ قرآن کریم کے نصوص صریحہ کی صاف اور صریح طور پر خلاف ورزی کرتے رہے؟ بے ایمانی اور جھوٹ پر متفق رہے؟ اور محض جھوٹ کی حمایت کرتے رہے؟ اس بات کو بھی جانے دیجئے‘ صرف یہی دیکھئے کہ تبدیلی عقیدہ کے بعد خود مرزا صاحب کی پہلی شخصیت کیسی نظر آتی ہے‘ اور ان کے تجویز فرمائے ہوئے القاب خود ان پر کیسے چسپاں نظر آتے ہیں؟ انہوں نے براہین احمدیہ میں قرآن و الہام کے حوالہ سے جب حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ لکھا تھا‘ کیا یہ محض گپ تھی؟ خالص جھوٹ تھا؟ بے ایمانی تھی؟ صریح طور پر نصوص قطعیہ سے انحراف تھا؟
محترم پروفیسر صاحب! حق تعالیٰ نے آپ کو عقل و فہم کا جوہر عطا فرمایا‘ سوچئے اور انصاف کیجئے‘ اگر قرآن کریم کی تیس آیتوں میں واقعی وفات مسیح کی
تصریح کی گئی ہوتی تو کیا امت محمدیہ کے اکابر بقول مرزا صاحب‘ کے قرآن شریف کے نصوص صریحہ کے برخلاف عقیدہ رکھ سکتے تھے؟ محض گپ تراشی کر سکتے تھے؟ جھوٹ اور بے ایمانی کے مرتکب ہو سکتے تھے؟ کیا اس کے بجائے ہمارے لئے یہ آسان نہیں کہ ہم یہ یقین رکھیں کہ جناب مرزا صاحب کو الہام میں غلطی لگی ہے‘ اور پھر دوسری غلطی ان سے یہ سرزد ہوئی کہ انہوں نے قرآن کریم کو اس غلط ”الہام“ کے مطابق ڈھالنا شروع کر دیا۔ جناب مرزا صاحب لکھتے ہیں :
”من تفوہ بکلمہ لیس لہ (لھا) اصل صحیح فی الشرع ملھما کان او مجتھدا “ فبہ الشیاطین متلاعبہ
(آئینہ کمالات اسلام ص ۲۱ روحانی خزائن ج ۵ ص ۲۱)
ترجمہ : ”جو شخص ایسا کلمہ منہ سے نکالے جس کی کوئی اصل صحیح شرع میں نہ ہو‘ خواہ وہ ملہم ہو یا مجدد‘ پس شیاطین اس کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔“
گزارش یہ ہے کہ ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لیکر چودہ صدیوں کے اکابر امت اور ائمہ ہدیٰ ہیں‘ اور دوسری طرف جناب مرزا صاحب‘ ان دونوں فریقوں میں سے کسی ایک فریق کے بارے میں ماننا پڑے گا کہ بقول مرزا صاحب: ”شیاطین اس کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔“ اب دیکھئے کہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی اصل صحیح شرع میں موجود ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام ائمہ مجددین پر مرزا صاحب کا یہ فتویٰ عائد ہوتا ہے‘ اور اگر حیات عیسیٰ علیہ السلام کا شرعی ثبوت موجود ہے تو
یہی فتویٰ خود مرزا صاحب پر عائد ہونا چاہئے۔ غالباً آنجناب مرزا صاحب کے بجائے سلف صالحین کو "شیاطین کے ہاتھ کا کھلونا" سمجھتے ہوں گے، مگر میں آپ کو اطمینان دلاتا ہوں کہ کسی فرد کے الہام و اجتہاد اور فہم قرآن میں تو غلطی لگ سکتی ہے، مگر پوری امت گمراہی پر متفق نہیں ہو سکتی، اور اگر عقیدہ حیات کا صحیح ثبوت نہ ہوتا تو سلف صالحین اور اکابر مجددین کبھی یہ عقیدہ نہ رکھتے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ غلطی جناب مرزا صاحب ہی کو لگی۔ شیخ محی الدین ابن عربیؒ فتوحات کے باب ۸۱ میں فرماتے ہیں :
"اس قسم کے شبہات سالکین کو پیش آتے رہتے ہیں، اور ایسی حالت میں شیخ و مرشد کامل کی تربیت و اصلاح کی ضرورت پیش آتی ہے، چنانچہ ہمارے شیخ کو بھی ایک دفعہ ایسا واقعہ پیش آیا تھا، جبکہ ان کو الہام ہوا کہ تو عیسیٰ بن مریم ہے۔"
اگر جناب مرزا صاحب کا بھی کوئی مرشد ہوتا تو اس کی توجہ سے ان کا یہ شبہ زائل ہو جاتا، مگر افسوس کہ مرشد کامل کے نہ ہونے کی وجہ سے مرزا صاحب نے اپنے الہام کو واقعی سمجھ لیا، اور اس پر یہاں تک اعتماد کر لیا کہ اس کے مطابق قرآن کریم کی تفسیر بھی کرنے لگے، اس طرح ان کا راستہ مسلمانوں سے الگ ہو گیا۔ نعوذ باللہ من الحور بعد الکور۔
ہفتم : آنجناب فرماتے ہیں کہ ۱۸۹۰ء میں مرزا صاحب کو بذریعہ الہام "مسیح بن مریم" بنا دیا گیا، اور اس الہام کی بنیاد پر انہوں نے ۱۸۹۱ء میں "مسیح موعود" ہونے کا دعویٰ کیا، مگر اس کے برعکس مرزا صاحب لکھتے ہیں :
"اے برادران دین و علمائے شرع متین! آپ صاحبان میری
ان معروضات کو متوجہ ہو کر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جس کو کم فہم لوگ ”مسیح موعود“ خیال کر بیٹھے ہیں، یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں، جو آج ہی میرے منہ سے سنا گیا ہو، بلکہ یہ وہی پرانا الہام ہے، جو میں نے خدا تعالیٰ سے پا کر براہین احمدیہ کے کئی مقامات پر بتصریح درج کردیا تھا، جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا ہوگا۔ میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں، جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے، وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے، بلکہ میری طرف سے عرصہ سات یا آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہورہا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں۔“
(ازالہ اوہام ص ۱۹۰ روحانی خزائن ج ۳ ص ۱۹۲)
آپ کی اور جناب مرزا صاحب کی عبارت میں واضح طور پر تناقض ہے، چنانچہ :
- (۱) آپ فرماتے ہیں کہ مرزا صاحب کو ۱۸۹۰ء میں الہام ہوا کہ ”ہم نے تجھ کو
مسیح بن مریم بنادیا“..... اس کے برعکس مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ یہ وہی پرانا الہام ہے جو براہین احمدیہ کے کئی مقامات پر بتصریح درج ہے۔
- (۲) آپ فرماتے ہیں کہ ۱۸۹۱ء میں مرزا صاحب نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ
کیا، اس کے برعکس مرزا صاحب کا ارشاد ہے کہ یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں، جو آج ہی میرے منہ سے سنا گیا ہو۔
- (۳) آپ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا، مگر مرزا
صاحب کہتے ہیں کہ ”اس عاجز نے مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جس کو کم فہم لوگ ”مسیح موعود“ خیال کر بیٹھے ہیں۔“
(۳) آپ لکھتے ہیں کہ الہام نے مرزا صاحب کو مسیح بن مریم بنایا (انا جعلناک المسیح بن مریم) مگر مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ ”میں نے مسیح بن مریم ہونے کا دعویٰ ہرگز نہیں کیا، جو شخص یہ الزام میرے پر لگائے، وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔“
کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کی بات صحیح ہے، یا مرزا صاحب کی؟ وہ کم فہم لوگ کون ہیں، جو مرزا صاحب کو ”مسیح موعود“ خیال کر بیٹھے ہیں؟ اور وہ سراسر مفتری اور کذاب کون ہے، جس نے مرزا صاحب کو ”مسیح بن مریم“ کا خطاب دیا؟ مسیح اور مثیل مسیح ایک ہی چیز ہے یا الگ الگ؟ کیا مرزا صاحب کا کوئی الہام ایسا ہے، جس میں ان کو ”مثیل مسیح“ کہا گیا ہو؟ آپ قرآن سے باہر کوئی دلیل قبول نہیں کرتے، قرآن کریم کی وہ کونسی آیت ہے، جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کو ”مسیح“ یا ”مثیل مسیح“ کہا گیا ہے؟ اور آنجناب نے وہ آیت پڑھ کر مرزا صاحب کو (ان کے دعویٰ کے علی الرغم) مسیح موعود مان لیا ہے۔
۲:..... آپ لکھتے ہیں : ”قرآن کریم سے حیات مسیح ثابت کرنے کے لئے آپ نے (یعنی راقم الحروف نے) تین آیات پیش کی ہیں: الف : ھوالذی ارسل الخ، ب : میثاق النبین، ج : ان عدتم عدنا الخ۔“
معاف کیجئے! آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے، میں نے حیات مسیح پر تین نہیں، بلکہ صرف ایک ہی آیت پیش کی تھی، آیت میثاق النبین حیات مسیح پر دلیل کی حیثیت سے پیش نہیں کی تھی، بلکہ آپ کے اس شبہ کے ازالہ کے لئے پیش کی
تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص ہوتی ہے، میں نے آیت میثاق النبین کے حوالے سے لکھا تھا کہ اگر سارے انبیا علیہم السلام بھی دوبارہ تشریف لے آئیں تو اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص نہیں، بلکہ تعظیم ظاہر ہوتی ہے۔ اسی طرح ”وان عدتم عدنا“ والی آیت مرزا صاحب کا الہام ہے، اور میں نے جناب مرزا صاحب کا الہام ہی نقل کیا تھا، نہ کہ قرآن مجید کی آیت۔۔۔۔۔۔ بہرحال میرے عریضہ کو آپ دوبارہ ملاحظہ فرمائیں، وہاں حیات مسیح پر آپ کو ایک ہی آیت ملے گی، نہ کہ تین، ایک کو تین سمجھنا بھی اسی طرح کی غلطی ہے، جس طرح کہ تین کو ایک سمجھنا۔
- ۳ :..... ”ھوالذی ارسل۔۔۔۔۔۔ کلہ“ میں آنجناب نے مرزا صاحب کی تفسیر کو
مسترد کر کے خود اپنی تفسیر پیش کر دی ہے، بے شک آنجناب علم و فہم اور عقل و دانش میں مرزا صاحب سے فائق ہوں گے، اس لئے آپ کو یقیناً ”اس کا حق ہو گا“ مگر افسوس ہے کہ میں آنجناب کی ایجاد کردہ تفسیر کو دو وجہ سے قبول نہیں کر سکتا، اول اس لئے کہ آنجناب مرزا صاحب پر ایمان رکھتے ہیں، اور انہیں ”مامور من اللہ“ مانتے ہیں، ادھر مرزا صاحب اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے تصریح کرتے ہیں کہ ”اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے۔“ جس سے ہر شخص یہ سمجھنے پر مجبور ہے کہ مرزا صاحب نے اس آیت کے تحت جو کچھ لکھا ہے، وہ ”اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے“ کی روشنی میں لکھا ہے، اور میں کسی شخص کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اپنے ”مامور من اللہ“ کے الہام کے خلاف قرآن کی تفسیر کرنے بیٹھ جائے، البتہ اگر آپ مرزا صاحب کے مامور من اللہ ہونے کا انکار کر دیں، اور
ان کے الہامات کو غلط اور جھوٹ قرار دیں تو آپ کو ان کے مقابلہ پر قرآن کی تفسیر کرنے کا حق کسی درجہ میں تسلیم کیا جاسکتا ہے، مامور من اللہ کے مقابلہ میں تفسیر کرنا تو عقل و دانش اور دین و دیانت کے صریح خلاف ہے، دوسری وجہ یہ کہ مرزا صاحب تمام مفسرین کا اجماع نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ نزول سے متعلق ہے، ملاحظہ فرمائیے :
”اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔ (اور چونکہ مرزا صاحب کے وقت میں یہ عالمگیر غلبہ ظہور میں نہیں آیا، اس سے ثابت ہوا کہ مرزا صاحب مسیح موعود نہیں۔ ناقل)“
(چشمہ معرفت ص ۸۳ روحانی خزائن ج ۲۳ ص ۹۱)
اسی مضمون کو مرزا صاحب نے ازالہ اوہام ص ۶۷۵ روحانی خزائن ص ۴۶۴ ج ۳، تریاق القلوب ص ۳۷ و ص ۵۳ روحانی خزائن ص ۲۳۱، ۲۳۲ و ۲۳۶ ج ۱۵، اور تحفہ گولڑویہ ص ۱۲۳ روحانی خزائن ص ۳۰۳ ج ۱۷ میں بھی بیان فرمایا ہے۔ اس صورت میں تمام متقدمین کے اتفاق کو، جس پر مرزا صاحب کی الہامی مہر بھی ثبت ہے، ترک کر کے آنجناب کی ایجاد کردہ تفسیر کو کیوں قبول کیا جائے؟
۴:..... آنجناب نے آیت میثاق النبیین کے ذیل میں اس ناکارہ سے سوال فرمایا کہ :
”کیا آپ قرآن کریم سے کوئی ایک ایسی آیت دکھا سکتے ہیں جس میں یہ ذکر ہو کہ حکمت الہیہ نے ان مصالح کی بنا پر حضرت
عیسیٰ (علیہ السلام) کو انبیا علیہم السلام کی نیابت کے لئے منتخب کیا؟" جواباً گزارش ہے کہ ایک طرف تو قرآن کریم نے عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی قطعی پیشگوئی کی، جسے میں براہین احمدیہ کے حوالے سے ذکر کرچکا ہوں، دوسری طرف قرآن کریم نے یہ اطلاع بھی دی کہ تمام انبیا کرام علیہم السلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق و نصرت کا عہد لیا گیا، تیسری طرف یہ عقلی مقدمہ ہے کہ کسی جماعت کی جانب سے ایک نمائندہ منتخب ہو کر کوئی کارروائی کرے تو وہ نیابتاً پوری جماعت کی جانب سے سمجھی جاتی ہے، ان مقدمات صحیحہ کے پیش نظر میں نے لکھا تھا کہ ممکن ہے اس عہد و پیمان کے ایفا کی ایک شکل یہ بھی ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لاکر اپنی طرف سے اصالتاً، اور دیگر انبیا کرام علیہم السلام کی جانب سے نیابتاً ایمان و نصرت کا عہد پورا فرمائیں۔ رہی یہ بات کہ انبیا کرام علیہم السلام کی جماعت میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کو کیوں اس منصب کے لئے تجویز کیا گیا؟ اس کے بارے میں، میں نے لکھا تھا کہ اس کی مصلحت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ یہ ایک ایسی صاف اور واضح بات ہے جس میں کسی گنجلک کی گنجائش نہیں تھی، مگر آپ ماشا اللہ اصرار و تحکم پر بھی قرآنی آیات کا مطالبہ فرماتے ہیں، اور مطالبہ کی دلیل یہ کہ :
”میرا ایمان ہے کہ انسانوں کی فلاح و بہبود اور اصلاح نفوس کے لئے جو بات ضروری ہوتی ہے، اس کو اس کی حکمت نے کبھی پوشیدہ نہیں رکھا، اپنے ایسے احکام کو وہ ”آیات بینات“ سے تعبیر کرتا، اور ان ”بینات“ کے بعد ہی وہ منکرین کو کافر کا خطاب
دیتا ہے۔”
مگر آپ نے یہ بات ملحوظ نہیں رکھی کہ قطعی احکام کا نام ”بینات“ ہے‘ نہ کہ احکام کی حکمتوں کا‘ اور آپ مجھ سے کسی حکم پر قرآن کریم کی آیت کا مطالبہ نہیں فرما رہے‘ بلکہ ایک قطعی حکم کی جو حکمت میں نے بیان کی‘ اس پر آیت پیش کرنے کو کہہ رہے ہیں۔ محترما! سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا قرب قیامت میں تشریف لانا قطعی ہے‘ ”آیات بینات“ میں شامل ہے‘ قرآن کریم‘ حدیث متواتر‘ اور اجماع امت سب اس کی قطعیت پر مہر تصدیق ثبت کر رہے ہیں‘ مگر ان کی تشریف آوری میں کیا کیا حکمتیں اور مصلحتیں ہیں؟ نہ ان کا احاطہ ممکن ہے‘ نہ ان کی تفصیل کا جاننا ضروری ہے‘ نہ ہم جاننے کے مکلف ہیں‘ اور اگر کوئی شخص کسی حکمت کو بیان کرے تو اس کے لئے اتنا کافی ہے کہ اس کے صحیح شواہد موجود ہوں اور بس۔ اگر آپ ہر حکم اور اس کی ہر حکمت کے لئے قرآنی آیات کا مطالبہ شروع کردیں گے تو آپ کو سخت دقت پیش آئے گی۔ غور فرمائیے کہ مرزا صاحب کے‘ بقول آپ کے‘ مسیح موعود ہونے کا تعلق انسانوں کی فلاح و بہبود اور انسانوں کی اصلاح سے ہے یا نہیں؟ کیا آپ قرآن کریم کی کوئی آیت دکھا سکتے ہیں کہ مرزا غلام احمد بن مرزا غلام مرتضیٰ قادیانی کے مسیح موعود بنائے جانے میں فلاں فلاں حکمتیں ہیں؟ میرے محترم! کچھ تو انصاف فرمائیے کہ جب آپ ماننے پر آتے ہیں تو مرزا صاحب کے الہام پر ایمان لے آتے ہیں‘ اور نہیں ماننا ہوتا تو قرآن کریم کی آیت قطعی الدلالت‘ اور حدیث متواتر و اجماع امت سن کر بھی نہیں مانتے‘ بہرحال منوانا میرا کام نہیں‘ تاہم انصاف و دیانت کی اپیل ضرور کرتا ہوں۔
۶: ...... آنجناب کے جوابات پر گفتگو کرنے کے بعد اب میں آپ کے پیش کردہ شبہات کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں۔ آنجناب کے شبہات کا مختصر اور جامع جواب یہ ہے کہ جو امر عقلاً ممکن ہو، اور مخبر صادق نے اس کی خبر دی ہو، اس کا ماننا لازم ہے، اور محض احتمالات کے ذریعہ اسے رد کرنا ناروا ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان پر اٹھایا جانا ممکن ہے، اور مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تشریف آوری کی قطعی خبر دی ہے، اس لئے اس خبر کا ماننا مومن کا فرض ہے، اور شبہات کے ذریعہ شارع کی خبر کو رد کر دینا اس کی تکذیب و توہین ہے، اور آپ کو معلوم ہے کہ شارع صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کفر ہے، اس اجمال کے بعد اب تفصیل عرض کرتا ہوں :
پہلا شبہ : ...... ”وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ“ سے آپ نے یہ اجتہاد کیا ہے کہ ”رسول مطاع ہوتا ہے، نہ کہ مطیع، اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مطیع نہیں ہو سکتے“ حالانکہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اپنی امت کا مطاع ہوتا ہے، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ایک رسول دوسرے رسول کا بھی پیرو نہیں ہو سکتا، دیکھئے! حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت خضر علیہ السلام کے حکم کی پابندی کا عہد کرتے ہیں، حضرت ہارون علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کرتے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو میری پیروی کرتے (مشکوٰۃ ص ۳۰) ان تصریحات سے ثابت ہوا کہ ایک رسول دوسرے رسول کا پیرو ہو سکتا ہے، اس میں کوئی خدشہ اور دغدغہ نہیں۔
دوسرا شبہ : ...... ”عیسیٰ علیہ السلام ”واٰخرین منھم“ میں شامل نہیں ہو سکتے،
اس لئے وہ آ بھی نہیں سکتے‘ اور زندہ بھی نہیں۔“
جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام امت محمدیہ کے ایک فرد کی حیثیت سے تشریف لائیں گے تو وہ اس امت میں کیوں شامل نہیں ہوسکتے؟ اور کیوں نہیں آسکتے؟
تیسرا شبہ : ...... الفاظ ”ویزکیھم“ سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ ”ان کا تزکیہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہوگا“ صحیح نہیں، کیونکہ آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت کے قابل تزکیہ لوگوں کا تزکیہ فرماتے ہیں، یہ کہاں سے نکل آیا کہ کوئی مزکی شخص امت میں شامل ہی نہیں کیا جاسکتا؟ اور پھر تزکیہ کے مدارج بھی غیر متناہی ہیں، اس لئے اگر یہ کہا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رفعت و بلندی اور تزکیہ و تصفیہ کی جو دولت اپنی شریعت پر عمل کرنے سے حاصل ہوئی تھی، اس سے کہیں بڑھ کر شریعت محمدیہ کی پیروی سے حاصل ہوگی تو اس میں کیا علمی اشکال ہے؟ دیکھئے آنجناب نے خود ہی انجیل برنباس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ ارشاد نقل کیا ہے :
”اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ! اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ ہو‘ اور مجھ کو اس قابل بنائے کہ میں تیری جوتی کا تسمہ کھولوں‘ کیونکہ اگر میں یہ شرف حاصل کرلوں تو بڑا نبی اور اللہ کا مقدس بن جاؤں گا۔“
کیا کوئی آپ جیسا عقلمند اس کا یہ مطلب نکالے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی کا تسمہ کھولنے سے پہلے نہ تو وہ ”بڑے نبی“ تھے‘ نہ ”مقدس“؟ اور یہ میں آگے چل کر بتاؤں گا کہ ان کی یہ دعا در حقیقت امت محمدیہ میں شامل
ہونے کی دعا ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے شرف قبول بخشا، اور اس ”شرف“ کے حاصل ہونے سے ان کی بڑائی اور تقدس میں واقعتاً اضافہ ہوا۔
چوتھا شبہ :...... ”کوئی نبی بیک وقت نبی بھی اور امتی بھی نہیں ہو سکتا۔“
یہ مقدمہ بالکل غلط ہے، محققین کا مسلک تو یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبی الانبیا ہیں، تمام نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقتدی اور تابع ہیں، یہی وجہ ہے کہ تمام نبی قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے ہوں گے، قرآن میں جو انبیا کرام کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے، اور آپ کی نصرت کرنے کا ذکر ہے، اس میں بھی اسی طرف اشارہ ہے، خود مرزا صاحب لکھتے ہیں :
”قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”لتومنن بہ ولتنصرنہ“ پس اس طرح تمام انبیا علیہم السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہوئے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۳۸، روحانی خزائن ص ۳۳۰ ج ۲۱)
مرزا صاحب کے اس حوالے سے ثابت ہوا کہ تمام انبیا کرام علیہم السلام اپنی جگہ نبی بھی ہیں، اور آیت شریفہ ”لتومنن بہ ولتنصرنہ“ کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی بھی ہیں، اس سے ثابت ہوا کہ آنجناب کا یہ اصول قطعاً غلط ہے کہ کوئی نبی بیک وقت نبی اور امتی نہیں ہو سکتا۔
علاوہ ازیں آپ کا قاعدہ مرزا صاحب کے بھی خلاف ہے، کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ”وہ امتی بھی ہیں، اور نبی بھی۔“
پانچواں شبہ :...... ”لتومنن بہ ولتنصرنہ“ کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ سے کہنا چاہئے تھا کہ اب وہ رسول مبعوث ہو گیا ہے‘ اب مجھے نیچے اتار دیجئے کہ میں وہ میثاق پورا کروں ...... اللہ تعالیٰ نے عہد لے کر اس عہد کو پورا کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آپؐ کی مدد کے لئے نہ بھیجا‘ آخر کیوں؟“
اس سوال کا جواب یا تو عیسیٰ علیہ السلام دے سکتے ہیں‘ یا اللہ تعالیٰ‘ کیونکہ یہ سوال مجھ پر نہیں‘ بلکہ عیسیٰ علیہ السلام پر ہے‘ یا خدا پر‘ اس لئے اس سوال کو قیامت کے دن کے لئے اٹھا رکھئے‘ وہاں انشا اللہ ٹھیک ٹھیک جواب مل جائے گا‘ اور اگر مجھ ہی سے اس کا جواب مطلوب ہے تو سنئے! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل کئے جانے کا ایک خاص وقت پہلے سے طے شدہ ہے‘ اور وہ ہے قرب قیامت میں خروج دجال کا وقت‘ اس مقررہ وقت سے پہلے ان کے نزول کے کوئی معنی نہیں تھے‘ نہ وہ یہ احمقانہ سوال کر سکتے تھے کہ مجھے قبل از وقت بھیج دیا جائے‘ اور نہ کسی کو خدا تعالیٰ سے یہ پوچھنے کا حق ہے کہ اب تک انہیں کیوں نہیں بھیجا؟
مسند احمد اور ابن ماجہ وغیرہ میں بروایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مروی ہے کہ معراج کی رات میری ملاقات حضرت ابراہیم‘ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علی نبینا وعلیہم السلام) سے ہوئی‘ آپس میں قیامت کا تذکرہ ہونے لگا تو سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا گیا‘ انہوں نے لاعلمی کا اظہار فرمایا‘ پھر موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا‘ انہوں نے بھی لاعلمی ظاہر کی‘ پھر عیسیٰ علیہ السلام کا نمبر آیا‘ انہوں
نے فرمایا :
"قیامت کے وقوع کا ٹھیک ٹھیک وقت تو اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں‘ ہاں! قیامت کے وقوع سے پہلے پہلے میرے رب کا مجھ سے ایک عہد ہے‘ وہ یہ کہ دجال نکلے گا تو میں نازل ہو کر اسے قتل کروں گا الخ"
(ابن ماجہ ص ۲۹۹‘ مسند احمد ص ۲۷۵ ج ۱‘ مستدرک حاکم ص ۳۸۸ ج ۴‘
فتح الباری ص ۴۷۹ ج ۱۳‘ امام حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے‘ اور امام ذہبی
نے اس کی تصدیق اور حافظ ابن حجر نے تائید کی ہے)
اس حدیث سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان کی تشریف آوری کا ایک وقت پہلے سے طے ہو چکا ہے۔
چھٹا شبہ : ..... ”عیسائیوں اور یہودیوں کا اختلاف قیامت تک رہے گا تو حضرت عیسیٰ آکر کیا کارنامہ انجام دیں گے؟“
وہی کارنامہ انجام دیں گے‘ جو مرزا صاحب نے براہین احمدیہ ص ۴۹۸ میں ذکر کیا ہے کہ :
"جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے‘ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا‘ اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔"
اور جسے صحیح حدیث میں ”ویہلک اللہ فی زمانہ الملل کلھا الا الاسلام“ سے تعبیر فرمایا ہے‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں اسلام کے سوا تمام مذاہب کو
نیست و نابود کر دے گا۔
”عیسائیوں اور یہودیوں کا اختلاف قیامت تک رہے گا“ اس کا مطلب یہ نہیں کہ قیامت کے صور پھونکنے تک رہے گا‘ بلکہ قرب قیامت تک مراد ہے‘ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد قرب قیامت کی علامت ہے‘ لہٰذا ان کے آنے تک اختلاف رہے گا‘ جب وہ تشریف لائیں گے تو اختلاف ختم ہوجائے گا۔
ساتواں شبہ :..... ”جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک صاحب کتاب نبی آئے گا تو ختم نبوت کی مہر کہاں رہے گی؟“
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کو نبوت عطا کی جائے‘ تب تو مہر ختم نبوت ٹوٹ جاتی ہے‘ خواہ وہ صاحب کتاب ہو یا بغیر کتاب کے‘ تشریعی ہو یا غیر تشریعی‘ اصلی ہو یا ظلی‘ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے تمام نبی بھی اگر زندہ رہتے‘ اور آپ کی پیروی کرتے تو اس سے ختم نبوت کی مہر نہیں ٹوٹتی‘ دیکھئے جناب مرزا صاحب اپنے والدین کے لئے خاتم الاولاد تھے (تریاق القلوب ص ۳۵۱‘ روحانی خزائن ص ۴۷۹ ج ۱۵) اب اگر وہ اپنے تمام بہن بھائیوں سے پہلے دنیا سے رخصت ہوجاتے‘ تب بھی ان کی ”ختم ولادت“ کی مہر نہیں ٹوٹ سکتی تھی‘ ہاں ان کے والدین کے یہاں ان کی ولادت کے بعد کوئی اور بچہ پیدا ہوجاتا تو اس سے ختم ولادت کی مہر ضرور ٹوٹ جاتی‘ ختم نبوت کی مہر کو بھی اسی طرح سمجھ لیجئے۔
آٹھواں شبہ :..... ”اگر حضرت عیسیٰ کو زندہ رکھنا تھا تو قرآن ان کی زندگی کو صاف صاف بیان کرتا‘ اور وہاں ایسی آیات نہ ہوتیں‘ جن سے کہیں تو حیات
ثابت ہوتی ہے، اور کہیں ممات، اور اس پر مسلمانوں میں اختلاف رونما نہ ہوتا۔“
آنجناب کا یہ شبہ تین دعاوی پر مشتمل ہے، اول یہ کہ قرآن نے ان کی زندگی کو صاف صاف بیان نہیں کیا، دوم یہ کہ اس مسئلہ میں آیات قرآن میں تعارض ہے، کہیں سے ان کی حیات ثابت ہوتی ہے، اور کہیں سے ممات، سوم یہ کہ اس مسئلہ میں مسلمانوں کا اختلاف رہا ہے۔
مجھے افسوس ہے کہ یہ تینوں دعاوی قطعی بے بنیاد، اور یکسر بے دلیل ہیں، قرآن اور شارح قرآن صلی اللہ علیہ وسلم نے جس صراحت کے ساتھ ان کی حیات، اور تشریف آوری کی خبر دی ہے، اور امت اسلامیہ نے جس تواتر، اور تسلسل کے ساتھ اس قرآنی و نبوی پیشگوئی کو لوح قلب پر رقم کیا ہے، اس کا حوالہ خود آنجناب کے ”مامور و مرسل“ سے دلا چکا ہوں، اور اگر آپ کو ان کی شہادت پر اعتماد نہ ہو تو گزشتہ اکابر کی جتنی شہادتیں آپ کہیں پیش کرنے کو حاضر ہوں۔
میرے محترم! فروعی اور اجتہادی مسائل میں اختلاف ہو سکتا ہے، اور اسے گوارا بھی کیا جا سکتا ہے، مگر دین کے قطعی و یقینی اور متواتر عقائد میں کتربیونت ناقابل برداشت ہے۔ کسی عقیدے کے صحیح یا غلط ہونے کا بس ایک ہی معیار ہے کہ وہ سلف صالحین، صحابہؓ و تابعینؒ، ائمہ مجددینؒ کے مطابق ہے، یا اس کے خلاف؟ اگر وہ سلف صالحین سے متواتر چلا آتا ہے تو اسے بغیر کسی حیل و حجت کے ماننا لازم ہے، اگر ایسے قطعی اور متواتر عقیدے کے خلاف کوئی رائے زنی کرتا ہے تو سمجھ لیجئے کہ وہ مسلمانوں کی راہ سے ہٹ چکا ہے، اس کی
عقل زنگ خوردہ اور اس کی قرآن فہمی زیغ آلود ہے۔ حیات عیسیٰ علیہ السلام کی قطعیت پر مرزا صاحب کی یہ عبارت آپ پڑھ چکے ہیں : ”مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشگوئی ایک اول درجہ کی پیشگوئی ہے، جس کو سب نے بالاتفاق قبول کرلیا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۵۵۷ روحانی خزائن ج ۳ ص ۴۰۰)
پہلے عریضے میں اس کے تحت میں نے جو نوٹ لکھا ہے، اسے ایک بار پھر بطور خاص ملاحظہ فرمالیا جائے۔
آنجناب کو غلط فہمی ہوئی کہ آپ نے ان لوگوں کی گری پڑی آرا کو ”مسلمانوں کا اختلاف“ سمجھ لیا، جن کے بارے میں مرزا صاحب لکھتے ہیں : ”حال کے نیچری جن کے دلوں میں کچھ بھی عظمت قال اللہ اور قال الرسول کی باقی نہیں رہی۔“
(ازالہ اوہام ص ۵۵۵ روحانی خزائن ص ۳۹۹ ج ۳)
آپ نے ان نیچریوں کی آرا کو مسلمانوں کے اختلاف سے تعبیر کرتے ہوئے یہ نہیں سوچا کہ بقول مرزا صاحب : ”وہ اس قدر متواترات سے انکار کر کے اپنے ایمان کو خطرہ میں ڈالتے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ۵۵۶ روحانی خزائن ص ۳۹۹ ج ۳)
میرے محترم! دینی عقائد میں ملاحدہ اور زنادقہ کی آرا کا اعتبار نہیں، نہ ان کا اختلاف کسی عقیدے کی قطعیت پر خاک ڈال سکتا ہے، میں عرض کرچکا ہوں کہ امت کے ثقہ و امین اکابر از اول تا آخر، حیات عیسیٰ علیہ السلام کے
عقیدے پر متفق رہے ہیں، یہ وہی حضرات ہیں، جن کے بارے میں آنجناب خود لکھتے ہیں :
”تاریخ اسلام گواہ ہے کہ آپ کے بعد ایسے عظیم المرتبت انسان پیدا ہوئے، جنہیں اولیا اور مجدد کہا جاتا ہے، اور جن کے ذریعہ اپنے اپنے زمانوں میں مسلمانوں میں پیدا ہونے والی خرابیاں دور ہوئیں۔“
کیا ان عظیم المرتبت انسانوں میں کبھی اس مسئلہ پر اختلاف ہوا؟ کیا کسی صدی کے مجدد نے اعلان کیا کہ حیات مسیح کا عقیدہ غلط ہے؟ ”عسل مصفیٰ“ میں مجددین کی فہرست دیکھ لیجئے، اور پھر مجھے بتائیے کہ فلاں فلاں اکابر نے اس عقیدے کے غلط ہونے کا اعلان کیا تھا، اور میں بفضل خدا پہلی صدی سے لیکر پندرہویں صدی تک کے اکابر کا عقیدہ پیش کرنے کو حاضر ہوں۔ بحمد اللہ ”حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ چودہ صدیوں کے اکابر کی نظر میں“ ”تحفہ قادیانیت جلد سوم“ میں شائع ہو چکا ہے۔ کیا اس کے بعد بھی آپ اپنی غلط فہمی پر اصرار کرنے میں حق بجانب ہوں گے؟ :
نواں شبہ :..... ”حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا : ”انما اخذ اللہ میثاق النبیین علی اممہم“ یعنی اللہ تعالیٰ نے نبیوں کا میثاق ان کی امتوں پر لیا، اس لئے حضرت عیسیٰؑ کو شہادت دینے کی کیا ضرورت؟“
پروفیسر صاحب! آپ کے منہ میں گھی شکر، آج آپ نے ترجمان القرآن، حبر الامت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا نام لیا، جزاک اللہ! مرحبا! اچھا یہ
فرمائیے کہ اگر یہی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرما دیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا گیا، اور یہ کہ وہ قرآنی و نبوی پیشگوئی کے مطابق قرب قیامت میں دوبارہ تشریف لائیں گے تو کیا میری اور آپ کی بحث کا فیصلہ ہو جائے گا؟ اور کیا آپ ان کے فیصلے پر سر تسلیم خم کردیں گے؟ اگر جواب اثبات میں ہو تو ماشا اللہ، اور اگر نہیں تو انصاف فرمائیے کیا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ارشاد صرف میرے ہی سامنے پیش کرنے کی چیز ہے؟ یہ تو شاید آنجناب کو بھی مسلم ہوگا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ مجھ سے اور آپ سے زیادہ قرآن جانتے تھے، اس کے مفہوم و مدعا سے باخبر تھے، اور اس کی تصریحات و ارشادات کو سمجھتے تھے، یا نہیں؟
اب سنئے میثاق کی بات! قرآن کریم نے اس عہد و پیمان کا ذکر کیا ہے، جو (غالباً ”عالم ارواح میں) انبیا کرام علیہم السلام سے حضرت خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لیا گیا، سب نے ایمان و نصرت کا عہد و پیمان باندھا، اب رہی یہ بات کہ یہ عہد پورا کس کس وقت ہوا؟ اور کس کس شکل میں ہوا؟ اس کو قرآن کریم نے ذکر نہیں فرمایا، میرے آقا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک شکل تجویز فرمادی کہ ہر نبی سے یہ عہد لیا گیا کہ وہ اپنے وقت میں اپنی امت کو اس عہد و پیمان کی وصیت کرے کہ جب حضرت خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو فوراً ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ، اور آپ کی نصرت و حمایت کے لئے کمر بستہ ہوجاؤ“ گویا انبیا کرام علیہم السلام کا اپنی اپنی امتوں کو وصیت کرنا، اور امتوں کا نیابتاً ”اس عہد کو پورا کرنا، یہ ایفائے عہد کی ایک شکل ہوئی، اور اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ سیدنا ابن
عباس رضی اللہ عنہ کے ارشاد میں آپ نے تدبر نہیں فرمایا‘ ورنہ وہ بھی اس عہد کے نیابتاً ” پورا ہونے ہی کے قائل ہیں‘ اس کے برعکس آنجناب نے جو تقریر فرمائی ہے‘ اس سے یا تو قرآن کریم کی تکذیب لازم آتی ہے‘ یا انبیا کرام علیہم السلام پر نعوذ باللہ عہد شکنی کا الزام عائد ہوتا ہے‘ کیونکہ قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ انبیا کرام علیہم السلام سے یہ عہد لیا گیا کہ ”تم ایمان لاؤ گے‘ اور نصرت کرو گے“ اب ظاہر ہے کہ انبیا کرام علیہم السلام بذات خود تو نصرت کر نہیں سکے‘ ادھر نیابت کے اصول کو آنجناب تسلیم نہیں کرتے‘ کیونکہ بقول آپ کے
”ایمان اسی نبی نے لانا ہے‘ اور مدد اسی نبی نے کرنی ہے‘ اس میں کیا تک ہے کہ وہ دوسرے کو کہے کہ بھئی میں تو نہ ایمان لاتا ہوں‘ اور نہ مدد کرتا ہوں‘ تم میری طرف سے ایمان بھی لے آؤ‘ اور مدد بھی کرو‘ کیا یہ خدا کے حکم کی حکم عدولی اور عہد شکنی نہیں؟“
ظاہر ہے کہ آپ کے اصول کے مطابق جب اس معاملہ میں ایک نبی دوسرے نبی کی نیابت نہیں کر سکتا‘ کیونکہ بقول آپ کے یہ عہد شکنی ہے‘ تو کوئی امتی اس معاملہ میں کسی نبی کی نیابت کیسے کر سکتا ہے؟ اور اس کی نیابت آنجناب کی بارگاہ میں کیسے قبول ہو سکتی ہے؟ گویا آپ کے نظریہ کے مطابق یا تو قرآن نے اس میثاق کی خبر نعوذ باللہ غلط دی ہے‘ یا انبیا کرام علیہم السلام عہد شکنی کے مرتکب ہوئے۔
بہر حال سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایفائے عہد کی جو شکل بیان
فرمائی ہے، اسی میں حصر نہیں، اس کے علاوہ بھی اور شکلیں ہوسکتی ہیں، مثلاً ” شب معراج میں تمام انبیا کرام علیہم السلام مقتدی ہوئے، امام الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کو منصب امامت تفویض کیا گیا، سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی، کیوں نہ اس واقعہ کو بھی اسی ”لتؤمنن بہ ولتنصرنہ“ کی ایک شکل سمجھا جائے؟ اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو آگاہ فرمادیا ہے کہ :
”الانبیاء اخوۃ لعلات، امہاتہم شتی و دینہم واحد، و انی اولی الناس بعیسی بن مریم، لم یکن بینی و بینہ نبی و انہ نازل فاذا رایتموہ الخ“
(النبوۃ فی الاسلام ص ۹۲)
ترجمہ : ”نبی علاتی بھائی ہوتے ہیں، ان کی مائیں مختلف ہوتی ہیں، اور ان کا دین ایک ہے، اور میں سب سے زیادہ قریب ہوں عیسیٰ بن مریم سے، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا، اور وہ ضرور نازل ہونے والا ہے، پس جب تم اس کو دیکھو......“
پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود بیان فرما رہے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری دین اسلام کی نصرت و حمایت کے لئے ہونے والی ہے تو اگر میں نے یہ عرض کردیا کہ یہ بھی اسی عہد و پیمان کے ایفا کی ایک شکل ہے تو اس میں کیا بے جائیت ہے؟ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ارشاد سے اس کا کیا تعارض ہے؟
رہا آنجناب کا یہ ارشاد کہ ”وہ ایک بار یہ میثاق پورا کرچکے ہیں، اب دوبارہ کیا ضرورت؟“ یہ میری عقل و فہم سے بالا تر ہے، جب وہ آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل ہیں تو انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت و نصرت کے فرض پر جب بھی مامور کیا جائے گا‘ وہ اسے بسر و چشم بجالائیں گے۔ مامور کرنے والا خدا ہے‘ فرض بجائی عیسیٰ علیہ السلام کر رہے ہیں‘ میں‘ آپ یا کوئی اور کون ہوتا ہے؟ جو ان پر یہ حکم امتناعی جاری کردے کہ ”نہیں جناب! آپ ایک بار یہ کام کر چکے ہیں‘ اب ضرورت نہیں‘ تشریف لے جائیے۔“
اسی طرح آنجناب کا یہ ارشاد بھی ناقابل فہم ہے کہ ”عہد و میثاق ہمیشہ تحریری ہوتا ہے“ جو عہد و پیمان زبانی ہو‘ اس کو آپ کیا نام دیں گے؟ اور اس کا پورا کرنا بھی لازم ہے یا نہیں؟ اور پھر انبیا کرام علیہم السلام سے تو یہ عہد عالم ارواح میں لیا گیا تھا‘ کیا اسی وقت ان سب کو تحریر لکھ کر بھی دے دی گئی تھی؟
دسواں شبہ :.... ”ایک بار تو حضرت عیسیٰؑ پر انجیل اتر چکی ہے‘ جس میں آنحضرت صلعم کے متعلق شہادت موجود ہے‘ اب ان پر کوئی دوسری کتاب اترنی چاہئے۔“
افسوس ہے اس ”اترنی چاہئے“ کی منطق میں نہیں سمجھ سکا‘ کیوں اترنی چاہئے؟ اس کی ضرورت اور وجہ؟ شاید لفظ ”ثُمّ“ پر نظر نہیں گئی‘ اس پر ذرا اچھی طرح غور فرما کر سوال کیجئے۔
گیارہواں شبہ :..... ”یثرب کے نبی معصوم کو‘ جنہیں ساری نسل انسانی کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا‘ آپ مدینہ میں مدفون سمجھتے ہیں‘ مگر حضرت عیسیٰ کو‘ جنہیں انجیل اور قرآن دونوں بنی اسرائیل کی طرف بھیجا جانے والا رسول کہتے ہیں‘ انہیں عرش پر زندہ سلامت سمجھے بیٹھے ہیں۔“
یہ شبہ آپ سے پہلے کئی بار پیش کیا جاچکا ہے‘ مجھے توقع نہ تھی کہ آنجناب
بھی اسے زیب رقم فرمائیں گے، تاہم مجھے مسرت ہے کہ آپ جتنے شبہات بھی پیش کریں گے، میں اپنی ناچیز استطاعت کے مطابق انہیں زائل کرنے کی کوشش کروں گا۔ وما توفیقی الا باللہ۔
سب سے پہلے تو میں آنجناب کی یہ غلط فہمی زائل کرنا چاہتا ہوں کہ ”ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عرش پر بیٹھے سمجھتے ہیں۔“ غالباً آنجناب نے آسمان اور عرش کو مترادف سمجھ لیا ہے، مگر واقعہ یہ ہے کہ آسمان اور چیز ہے، اور عرش اس سے الگ چیز ہے، مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عرش پر نہیں، بلکہ آسمان پر زندہ سمجھتے ہیں، اور ان دونوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔
دوسری گزارش یہ ہے کہ آپ کا یہ شبہ دراصل تین شبہات کا مجموعہ ہے :
- (۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فوت شدہ ہونا اور حضرت عیسیٰ کا زندہ
ہونا۔
- (۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمین پر ہونا یا زمین میں مدفون ہونا اور
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر ہونا۔
- (۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کا مختصر اور حضرت عیسیٰ علیہ
السلام کی عمر کا طویل ہونا۔
یہ تمام چیزیں آنجناب کے خیال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین و تنقیص کی موجب، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فضیلت و برتری کو مستلزم ہیں، مگر مجھے افسوس ہے کہ یہ سراسر غلط فہمی ہے، غالباً آنجناب کی غلط فہمی کا منشا یہ ہے کہ آپ نے (معاف کیجئے عیسائیوں اور نیچریوں کے پروپیگنڈے سے
متاثر ہو کر) اپنے خیال میں یہ طے کرلیا ہے کہ جو زندہ ہو‘ وہ فوت شدہ سے افضل ہوتا ہے‘ جو آسمان پر ہو‘ وہ زمین والوں سے برتر ہوتا ہے‘ اور جس کی عمر لمبی ہو‘ وہ چھوٹی عمر والے سے بہتر ہوتا ہے۔
میں پوچھتا ہوں کیا یہ اصول‘ جس پر آپ کے شبہ کی ساری عمارت کھڑی ہے‘ صحیح ہے؟ اور آپ کو مسلم ہے؟ آپ ذرا بھی تامل سے کام لیں گے تو آپ پر اس اصول کی غلطی فوراً واضح ہو جائے گی۔ محترم! کسی شخص کا مدفون اور دوسرے کا زندہ ہونا نہ اول الذکر کی تنقیص کا موجب ہے‘ نہ ثانی الذکر کی فضیلت کا۔ دیکھئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے وقت جو لوگ زندہ تھے‘ یا اب زندہ ہیں‘ کیا آپ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل سمجھ لیں گے؟ نعوذباللہ‘ یا کیا ان لوگوں کا زندہ ہونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص کا موجب ہے؟ دور کیوں جائیے‘ مرزا صاحب زیرِ زمین مدفون ہیں‘ اور آنجناب ماشاء اللہ زندہ سلامت (عرش پر نہ سہی) کرسی پر متمکن ہیں‘ کیا کسی احمق کو اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا چاہئے کہ آپ مرزا صاحب سے افضل ہیں؟ یا یہ کہ آپ کے زندہ ہونے میں مرزا صاحب کی توہین و تنقیص ہے؟ غور فرمائیے! کیا یہ دلیل ہے یا محض سفسطہ؟
اسی طرح کسی شخص کا محض آسمان پر ہونا‘ اور دوسرے کا زمین پر ہونا نہ تو اول الذکر کی افضلیت کی دلیل ہے‘ اور نہ موخر الذکر کی تنقیص کا موجب ہے‘ کون نہیں جانتا کہ انبیا کرام علیہم السلام آسمان کے فرشتوں سے‘ بلکہ حاملین عرش سے بھی افضل ہیں‘ جب جبریل علیہ السلام کے آسمان پر زندہ ہونے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص نہیں ہوتی‘ نہ جبریل علیہ السلام کا آپ
صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ہونا لازم آتا ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وجود کیوں بار خاطر ہے؟ جبکہ وہ جبریل علیہ السلام سے تو افضل ہی ہیں۔
اور سنئے! جناب مرزا صاحب لکھتے ہیں :
”جنات آسمان تک پہنچ جاتے ہیں، جیسا کہ ”فاتبعہ شہاب ثاقب“ سے ظاہر ہوتا ہے۔“
اگر خبیث جنات کے آسمان تک پہنچ جانے سے کوئی پہاڑ نہیں ٹوٹتا (البتہ ستارے ضرور ٹوٹتے ہیں) کسی نبی کی توہین نہیں ہوتی، نہ کسی کو جنات کی برتری و فضیلت کا شبہ گزرتا ہے تو ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام سن کر ہی کیوں طوفان برپا ہو جاتا ہے؟ اور پھر نیک روحوں کے اعلیٰ علیین پر جانے کا عقیدہ کس کو معلوم نہیں؟ کیا محض ان کے آسمان پر ہونے سے یہ فرض کر لیا جائے کہ ہر نیک روح زمین کے تمام باشندوں سے افضل ہوتی ہے؟ اور پھر میں کہتا ہوں کہ جب روحیں آسمان پر جاتی ہیں، اور وہی ان کا مستقر بھی ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تو لقب ہی ”روح اللہ“ ہے، وہ اگر آسمان پر جائیں، اور وہاں رہیں تو اس سے کیوں بدکا جائے؟
ضمناً یہ بھی عرض کردوں کہ جن عیسائیوں نے یہ دانشمندانہ گپ اڑائی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام چونکہ آسمان پر ہیں، اس لیے وہ خدا یا خدا کے بیٹے ہیں، ان سے کہئے کہ اگر آسمان پر جانے سے ہی خدائی مل جاتی ہے تو ایسے سستے خدا انہیں اور بھی مل جائیں گے، اس لئے وہ ان سارے صعود آسمانی والے خداؤں کی پرستش کے لیے تیار رہیں، آسمان کے سارے فرشتے ان کی خدائی کے لئے موجود ہیں، علیین کی تمام روحیں ان کی خدا بننے کو حاضر ہیں، اور آسمان تک
پہنچنے والے سب شیاطین ان سادہ لوحوں سے اپنی خدائی کا سکہ منوانے کے لئے موجود ہیں۔ محترم ! یہ اصول سراسر عیسائی گپ ہے کہ جو آسمان پر چلا جائے، وہ خدا بن جاتا ہے، وہ زمین والوں سے افضلیت کا استحقاق رکھتا ہے، میں نہیں سمجھتا کہ آپ ایسے عاقل و فہیم بھی عیسائیوں کے غلط، مگر مکروہ پروپیگنڈے کو اپنے دلائل کے دامن میں ٹانک سکتے ہیں۔ سرسید مسکین پر احساس کمتری طاری تھا، وہ اور اس کے حواری عیسائی پروپیگنڈے کے سیلاب میں بہ کر اسلامی عقائد پر مشق جراحی کرتے رہے، انہوں نے یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کی کہ یہ پروپیگنڈہ عقل و استدلال سے کس قدر عاری ہے، مگر اب تو ہم غلام نہیں، اب تو یہ طرز فکر چھوڑ دینا چاہئے۔
ہاں! کسی کی عمر کا مختصر، اور دوسرے کی عمر کا طویل ہونا بھی معیار فضیلت نہیں، حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ہزار برس ہوئی، اور نوح علیہ السلام کی اس سے بھی زیادہ، کیا اس سے یہ استدلال کرنا صحیح ہو گا کہ یہ دونوں حضرات ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل تھے؟ یا ان کا طویل عمر پانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص کا موجب ہے؟ الغرض نہ کسی کا زندہ ہونا معیار فضیلت ہے، نہ آسمان پر ہونا، نہ طویل العمر ہونا، اس لئے آنجناب کا یہ شبہ محض جذباتی ہے، اور اس کا منشا صرف غلط فہمی، اور عیسائی پروپیگنڈے سے مرعوبیت ہے۔
بارھواں شبہ : .... آنجناب کی مندرجہ بالا عبارت میں ضمناً ”ایک اور شبہ بھی پیش کیا گیا ہے، اسے بھی صاف ہونا چاہئے۔ آپ فرماتے ہیں :
”حضرت عیسیٰ کو انجیل اور قرآن دونوں بنی اسرائیل کی طرف بھیجا جانے والا رسول کہتے ہیں۔“
اس سے آپ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کی طرف بھیجا جانے والا رسول امت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) کی طرف کیوں کر آسکتا ہے؟ جواباً ”گزارش ہے کہ وہ امت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) کی طرف رسول بن کر نہیں آئیں گے، بلکہ اس امت میں اس کے ایک فرد کی حیثیت سے تشریف لائیں گے، وہ بنی اسرائیل کے رسول تھے، مگر ان کی دوبارہ تشریف آوری اس دور میں ہوگی، جس دور کے تمام لوگوں کے لئے رسول حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس امت کے لئے بھی، خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے بھی، ان کی امت کے لئے بھی، اور دیگر انبیا کرام علیہم السلام اور ان کی امتوں کے لئے بھی۔ بعید نہیں کہ ان کا اسی دنیا میں امت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) میں شامل ہونا ان کی اس دعا کا ثمر ہو، جو آنجناب نے انجیل برنباس سے نقل کی ہے :
”اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ ہو، اور مجھ کو اس قابل بنائے کہ میں تیری جوتی کا تسمہ کھولوں، کیونکہ اگر میں یہ شرف حاصل کرلوں تو بڑا نبی اور اللہ کا مقدس بن جاؤں گا۔“
ان کی اس دعا میں دو باتیں بالکل نمایاں ہیں، ایک یہ کہ ”جوتی کا تسمہ کھولنا“ کنایہ ہے فدویانہ خدمت اور نصرت و حمایت سے، گویا دعا یہ ہے کہ حق تعالیٰ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حامی و خادم بنائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل کر کے ان سے دین قیم کی خدمت لے۔ دوسرے یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل ہونا ان کے حق
میں ذلت کا موجب نہیں‘ بلکہ ان کی بڑائی اور تقدس و شرف کا باعث ہے‘ شاید ان کی اسی دعا کو قبول کرکے اللہ تعالیٰ نے ان سے وہ وعدہ کیا ہو‘ جسے میں حدیث معراج کے حوالے سے اوپر نقل کرچکا ہوں (دیکھئے پانچواں شبہ) الغرض ان کے اس امت میں تشریف لانے سے ان کی سابقہ حیثیت ختم نہیں ہوگی‘ البتہ بنی اسرائیل کے رسول ہونے کے ساتھ ساتھ وہ امت محمدیہؐ کے ایک فرد بھی ہوں گے (اور یہ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ تمام انبیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں) اور امت محمدیہؐ میں ان کی تشریف آوری کا سب سے اہم مقصد بھی اپنی ہی قوم یعنی بنی اسرائیل کی اصلاح ہوگا۔ شاید اسی نکتہ کے پیش نظر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود سے فرمایا تھا :
"ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامہ"
(در منثور)
ترجمہ : ”بے شک عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں‘ اور قیامت سے پہلے وہ تمہاری طرف واپس لوٹ کر آئیں گے ۔“
آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس امت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”نازل فیکم“ کی خوشخبری دی‘ یعنی تم میں نازل ہوں گے‘ اور بنی اسرائیل کو ”راجع الیکم“ فرمایا‘ یعنی ”تمہاری طرف لوٹ کر آئیں گے“ اس طرز تعبیر میں یہی نکتہ معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم
ہاں! یاد آیا! انجیل برنباس‘ جس سے آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا کا اقتباس نقل کیا ہے‘ اس میں ٹھیک اسلامی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہودیوں کے ہاتھ میں گرفتار ہونے سے بچایا جانا‘ زندہ
سلامت آسمان پر اٹھایا جانا، اور پھر آخری زمانے میں نزول فرمانا درج ہے، کیا آپ بتا سکیں گے کہ یہ انجیل کس زمانہ میں لکھی گئی؟ کس نے لکھی؟ اور اس کے مندرجات کی حیثیت کیا ہے؟
تیرھواں شبہ : .... جناب برکت خان کا ایک ژولیدہ فقرہ نقل کر کے آنجناب نے لکھا ہے :
”آپ کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ وہ بجسد عنصری آسمان پر اٹھائے گئے، اور واپس آئیں گے، اور امت محمدیہ کی اصلاح کریں گے، تو کیا جواب ہے آپ کے پاس عیسائیوں کے ان الفاظ کا کہ ابن اللہ ہے، کلمتہ اللہ ہے، خدائے کامل اور انسان کامل ہے؟“
میں آپ کو یاد دلاؤں گا کہ عیسائیوں کے ”یہ الفاظ“ آج نئے آپ کے سامنے نہیں آئے، بلکہ انہوں نے یہی عجیب و غریب الفاظ بارگاہ رسالت میں بھی پیش کئے تھے، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دلیل کا سامنا کرنے کے لئے نہ تو مسیح علیہ السلام کے رفع جسمانی کا انکار فرمایا، نہ ان کو یہ کہا کہ عیسیٰ مر چکا ہے، نہ ان کے کلمتہ اللہ اور روح اللہ ہونے سے انکار فرمایا، بلکہ ان کی غلطی کی اصلاح کے لئے صرف تین فقرے ایسے فرمائے کہ ان کا جواب نہ ان سے اس وقت بن سکا، نہ آج تک، ایک فقرہ یہ تھا :
”الستم تعلمون ان عیسیٰ یاتی علیہ الفناء وان ربنا حی لا یموت“
(در منثور)
ترجمہ : ”کیا تم نہیں جانتے کہ عیسیٰ پر فنا طاری ہوگی، اور ہمارا رب حی لا یموت ہے، کبھی نہیں مرے گا۔“
آپ دیکھ رہے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ عیسیٰ تو مر چکا ہے‘ بلکہ انہیں اس حقیقت پر متنبہ فرمایا کہ جس طرح ساری مخلوق فانی ہے‘ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام پر بھی آئندہ کسی زمانے میں قانون فنا طاری ہونے والا ہے‘ وہ قانون فنا سے مستثنیٰ نہیں‘ ان کی حیات مستعار‘ خواہ وہ کتنی ہی طویل ہو‘ انہیں خدا بنانے کے لئے کافی نہیں‘ وہ فانی ہیں‘ اور فانی خدا نہیں ہو سکتا۔
محترما! آپ نے برکت خان کے ایک فقرہ کے سامنے سپر ڈال دی‘ اور اُسے لاجواب سمجھ لیا جب تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کا انکار نہ کر دیا جائے‘ آپ نے برکت صاحب سے یہ تو پوچھ لیا ہوتا کہ انہوں نے اپنے ژولیدہ فقرے کا مطلب خود بھی سمجھا ہے؟ یا ”تین ایک‘ اور ایک تین“ کی طرح یہ بھی ایک ایسی چیستان ہے؟ جسے کوئی عیسائی نہ خود سمجھ سکتا ہے‘ نہ کسی اور کو سمجھا سکتا ہے؟ ان صاحب سے پوچھئے کہ :
- (۱) کیا خدا بھی قتل کیا جاتا اور سولی دیا جاتا ہے؟
- (۲) انسان خدا‘ خدا انسان؟ یہ کیا معما ہے؟
- (۳) خدا کا قاتل طاقتور تھا یا مقتول خدا؟
- (۴) کیا خدا خود ہی باپ اور خود ہی بیٹا ہے۔
- (۵) عیسیٰ علیہ السلام مقتول و مصلوب ہونے کے سبب ابن اللہ ہیں؟ یا برعکس
اس کے ابن اللہ ہونے کے سبب مقتول و مصلوب ہوئے؟ عیسائی عقیدہ اس بارے میں کیا ہے؟ اور برکت صاحب کیا فرما رہے ہیں؟
تعجب ہے! جو مسکین یہ نہیں جانتا کہ اس کا عقیدہ کیا ہے؟ اور جو کچھ وہ
لکھ رہا ہے اس کا مفہوم و مدعا کیا ہے؟ جسے یہ خبر نہیں کہ سبب کسے کہتے ہیں؟ اور مسبب کیا ہوتا ہے؟ آپ اس کی بے سروپا تک بندی کو لاجواب بتا کر مجھے اسلامی عقیدے میں ترمیم و اصلاح کا مشورہ دے رہے ہیں، اور اپنی خفگی کا سارا زور اسلامی عقیدے پر اتار رہے ہیں، کیا عقیدہ رفع کے انکار سے عیسائی مسلمان ہو جائیں گے؟ یا آپ نے عقیدہ رفع کا انکار کر کے عیسائیوں کو مسلمان بنالیا؟
میرے محترم! غیروں کے واہی تباہی شبہات کا سامنا کرنے کے لئے اسلامی عقائد میں کتر بیونت شروع کر دینا کوئی صحت مندانہ طرز فکر نہیں، بلکہ یہ گریز پائی، شکست خوردگی، اور سپر اندازی کی علامت ہے، یہ اسلام سے نادان دوستی ہے۔ میں بحمد اللہ مسیح علیہ السلام کے رفع جسمانی کا قائل ہوں، کیونکہ میرا خدا قائل ہے، میرا رسول قائل ہے، میرے پیشرو سلف صالحین قائل ہیں، لیکن کسی عیسائی کو میرے سامنے لائیے، میں دیکھوں گا کہ وہ کس دلیل، اور کس منطق سے آسمان پر جانے سے الوہیت یا ابنیت کشید کر کے دکھاتا ہے؟ یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی افضلیت کیسے ثابت کر کے دکھاتا ہے؟ مگر میں آنجناب کی خفگی کا کیا علاج کروں، آپ جوش میں یہ تک کہہ گئے :
"کہاں ہے آپ کی نگاہ میں آنحضرت خاتم النبین کی رفعت و عظمت؟ جب آپ کا اور عیسائیوں کا ایک ہی عقیدہ ہے، تو کیا آپ خدا کے ساتھ شرک کے مرتکب نہیں ہو رہے؟"
محترم! آپ کا یہ فقرہ نرا جذباتی ہے، غصہ میں آدمی حق و باطل، اور صحیح
غلط کی تمیز نہیں کر پاتا، حدود کی رعایت نہیں رہتی، بس غصہ تھوک دیجئے، اطمینان و سکون سے بتائیے، کیا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مسلمانوں اور عیسائیوں کا عقیدہ واقعتاً "ایک ہی ہے؟ کیا کسی باوقار اور سنجیدہ اتھارٹی کے سامنے آپ اپنے اس دعوٰی کو ثابت کر سکتے ہیں؟
اچھا یہ بتائیے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی سے واقعی انکا خدا ہونا ثابت ہو جاتا ہے؟ رفع و حیات مسیح کا عقیدہ واقعی شرک ہے؟ اگر آنجناب کے یہ دعوے جھنجھلاہٹ اور جذباتیت کا نتیجہ نہیں، بلکہ سنجیدگی سے آپ یہی سمجھتے ہیں تو آپ کے شبہ کا ازالہ میرا فرض ہے، اور میں انشاء اللہ اس فرض کو ضرور بجالاؤں گا، لیکن چند تنقیحات ضروری ہیں، آپ ان کی وضاحت کردیں :
- ۱- شرک کسے کہتے ہیں؟
- ۲- جو شخص شرک کا مرتکب ہو، اس کا کیا نام رکھتے ہیں؟
- ۳- شرک کی سزا وہی ہے، جو قرآن کریم نے بتائی ہے : "ان اللہ لا یغفر
ان یشرک بہ" یا کچھ اور؟
- ۴- شرک کو شرک سمجھ کر کیا جائے تبھی آدمی گناہ گار ہوتا ہے؟ یا
نادانستہ شرک بھی شرک ہی ہے؟ مثلاً "عیسائی صاحبان تثلیث کو شرک نہیں سمجھتے، بلکہ توحید سمجھتے ہیں، وہ مشرک ہیں یا نہیں؟
- ۵- حیات مسیح کا عقیدہ آپ کے خیال میں شرک خفی ہے یا جلی؟
- ۶- یہ کس تاریخ سے شرک شمار ہونے لگا ہے؟
- ۷- کیا مامور من اللہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے؟
- ۸- کیا شرک کا مرتکب مجدد بھی ہوتا ہے؟
- ۹۔ خدا تعالیٰ نے لوگوں کو شرک سے بچانے کے لئے اتمام حجت بھی کی
ہے یا نہیں؟
- ۱۰۔ اگر کی ہے تو کس تاریخ سے؟
آنجناب ان امور کی تنقیح فرمائیں گے، تب عرض کروں گا کہ ہم بحمد للہ حیات مسیح کو مان کر شرک کے مرتکب نہیں، بلکہ قضیہ برعکس ہے۔
میں نے آنجناب کے خط سے کرید کرید کر شبہات نکالے ہیں، اور انہیں حل کرنے کی ناتواں کوشش کی ہے۔ خدا شاہد ہے کہ میرا مقصود واقعتاً آپ کی اصلاح و بہبود اور خیر خواہی ہے۔ آنجناب ان معروضات پر غور و تدبر فرمائیں، اگر کوئی شبہ پھر باقی رہ جائے تو اس کی تشفی کے لئے حاضر ہوں، کوئی اور شبہ ہو تو وہ بھی پیش فرمائیے۔
و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمدن النبی الامی و آلہ و صحبہ و بارک و سلم۔
۲۹ شعبان ۱۳۹۷ھ ۱۶ اگست ۱۹۷۷ء
ابو ظفر چوہان کے جواب میں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمدللہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ، اما بعد :
خان شہزادہ صاحب نے ایک سوال نامہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں بھیجا تھا، اس کا جواب تحفہ قادیانیت جلد سوم کے ۲۱۰ صفحات میں شائع ہوا، اس کے آخر میں مضامین کی تلخیص تھی اور دو ایک باتیں بطور خاتمہ کے ذکر کی گئی تھیں۔ یہ آخری حصہ روزنامہ ”جنگ کراچی“ میں اور وہاں سے روزنامہ ”جنگ لندن“ میں شائع ہوا، جسے پڑھ کر جناب ابو ظفر چوہان صاحب نے چند سوالات بھیجے جن کا جواب لکھا جاتا ہے۔
”جناب مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب نے خان شہزادہ کے چند سوالات کا بڑا ہی علمی، تحقیقاتی، لطیف اور مفصل جواب، جو ”روزنامہ جنگ“ مورخہ ۱۱-۱۰-۹۶ء میں شائع ہوا ہے، نظر سے گزرا۔ ماشاء اللہ کافی مدلل ہے۔ مولانا صاحب کے جواب کو غور سے پڑھنے کے بعد چند سوالات میرے ذہن میں بھی ابھرے ہیں۔ امید ہے کہ مولانا صاحب تشفی کے لئے مزید اس مسئلہ پر روشنی ڈالیں گے“.......
ج : آنجناب نے جو شبہات پیش فرمائے ہیں اس ناکارہ نے ان کا بغور مطالعہ کیا ہے، اور ان کے حل کرنے کی اپنی استطاعت کے موافق کوشش کروں گا، بطور تمہید چند مخلصانہ گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
اول : اسلام کے جو عقائد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک امت اسلامیہ میں متواتر چلے آتے ہیں، اور جن کو ائمہ دین و مجددین ہر صدی میں تواتر کے ساتھ نقل کرتے آئے ہیں، وہ اسلام کے قطعی عقائد ہیں۔ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ صحیح عقیدہ لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو، اس کو لازم ہے کہ اہل سنت کے متواتر عقائد پر ایمان رکھے، محض اشکالات یا شبہات کی وجہ سے ان عقائد کا انکار نہیں کرنا چاہئے، بلکہ اسلامی عقیدہ پر ایمان رکھتے ہوئے ان اشکالات کو رفع کرنا چاہئے۔
دوم : حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قرب قیامت میں نازل ہونا ان عقائد میں سے ہے جو آنحضرت ﷺ سے ہر دور اور ہر صدی میں متواتر چلے آئے ہیں، صحابہؓ و تابعینؒ، اکابر ائمہ دینؒ و مجددینؒ میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو اس عقیدہ حقہ کا منکر ہو۔ لہٰذا دور جدید کے لوگوں کے پھیلائے ہوئے شبہات کی وجہ سے اس عقیدہ سے ایمان متزلزل نہیں ہونا چاہئے، اور دعا بھی کرتے رہنا چاہئے:
اللہم انی اعوذبک من الفتن، ما ظہر منہا وما بطن
ترجمہ : ”یا اللہ ! میں تمام فتنوں سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں، ان میں سے جو ظاہر ہیں ان سے بھی اور جو پوشیدہ ہیں ان سے بھی۔“
سوم : جنگ لندن میں جو مضمون شائع ہوا ہے اور جس پر آنجناب نے سوال رقم فرمائے ہیں، یہ مضمون ایک طویل مقالے کا آخری حصہ ہے جس میں مضامین کا
خلاصہ ذکر کیا گیا ہے۔ اصل مضمون ۲۱۰ صفحات پر مشتمل ہے جو ”تحفہ قادیانیت“ کی تیسری جلد میں شائع ہوچکا ہے‘ مناسب ہوگا کہ اس کتاب کا مطالعہ فرمائیں۔ ان مخلصانہ گزارشات کے بعد جناب کے ایک ایک سوال پر اپنے ناقص علم کے مطابق معروضات پیش کرتا ہوں۔
- ۱۔ مولانا صاحب نے فرمایا کہ ”شب معراج میں آنحضرت صلعم کی اقتدا
میں بیت المقدس میں سب انبیا کرام نے بمع حضرت عیسیٰ کے شرکت فرمائی۔ حضرت عیسیٰ کو اپنا اصلی جسم چھوڑ کر بدن مثالی بنانے کی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ ”وہ تو سراپا روح اللہ ہیں“۔ تو کیا باقی انبیا بمع حضرت نبی کریم صلعم کے نعوذباللہ روح اللہ نہیں ہیں؟ اس کی وجہ؟ کیا اس سے ہمارے پیارے آقا صلعم کی توہین کا پہلو تو نہیں نکلتا؟
ج : آنجناب کو معلوم ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے اللہ تعالیٰ نے ”روح منہ“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے:
”انما المسيح عیسیٰ بن مريم رسول الله وكلمته القاها الى مريم وروح منه“
(النساء ۱۷۱)
ترجمہ : ”مسیح عیسیٰ بن مریم تو اور کچھ بھی نہیں‘ البتہ اللہ کے رسول ہیں‘ اور اللہ تعالیٰ کے ایک کلمہ‘ جس کو اللہ تعالیٰ نے مریم تک پہنچایا تھا‘ اور اللہ کی طرف سے ایک جان ہیں ۔ “
(ترجمہ مولانا اشرف علی تھانویؒ)
اور آنحضرت ﷺ کی احادیث شریفہ میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ”روح اللہ“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مسند احمد ص ۲۱۶ ج ۴‘ مستدرک حاکم ص ۵۷۸ ج ۲‘ در منثور ص ۲۴۳ ج ۲‘ مجمع الزوائد ص ۳۴۲ ج ۸‘ میں ہے:
”وينزل عيسى بن مريم عليه السلام عند صلوة الفجر‘ فيقول لہ‘ امیرهم يا روح اللہ! تقدم صل“
ترجمہ : ! ”اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نماز فجر کے وقت نازل ہوں گے‘ پس مسلمانوں کا امیر ان سے عرض کرے گا ”اے روح اللہ ! تشریف لائیے‘ ہمیں نماز پڑھائیے۔“
اور اکابر امت نے بھی یہ لفظ استعمال فرمایا ہے‘ امام ربانی مجدد الف ثانیؒ ایک جگہ لکھتے ہیں:
”علامات قیامت کہ مخبر صادق علیہ وعلیٰ الہ الصلوۃ والتسلیمات ازاں خبر دادہ است حق است احتمال تخلف ندارد‘ مثل طلوع آفتاب از جانب مغرب برخلاف عادت‘ و ظہور حضرت مہدی علیہ الرضوان و نزول حضرت روح اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام و خروج دجال و ظہور یاجوج و ماجوج و خروج دابۃ الارض و دخانے کہ از آسمان پیدا شود تمام مردم را فرو گیرد عذاب درد ناک کند مردم از اضطراب گویند اے پروردگار ما ایں عذاب را از ما دور کن کہ ما ایمان مے آریم و آخر علامات آتش است کہ از عدن خیزد۔“
(مکتوبات امام ربانی‘ مکتوب ۶۷ دفتر دوم)
ترجمہ : ! ”علامات قیامت کہ مخبر صادق ﷺ نے ان کی خبر دی ہے برحق ہیں‘ احتمال تخلف کا نہیں رکھتیں‘ مثلاً آفتاب کا طلوع ہونا مغرب کی جانب سے عام عادت کے خلاف‘ اور حضرت مہدی (علیہ الرضوان) کا ظاہر ہونا‘ اور حضرت روح اللہ (علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام) کا نازل ہونا‘ اور دجال کا نکلنا‘ یاجوج وماجوج کا ظاہر ہونا‘ دابۃ
الارض کا نکلنا، اور ایک دھواں جو آسمان سے ظاہر ہوگا، تمام لوگوں کو گھیر لے گا اور دردناک عذاب کرے گا لوگ بے چینی کی وجہ سے کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! اس عذاب کو ہم سے دور کر کہ ہم ایمان لاتے ہیں، اور آخری علامت آگ ہے جو عدن سے ظاہر ہوگی۔“
الغرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ”روح اللہ“ کے لقب سے ملقب ہونا ایسی حقیقت ہے جس کو ہر پڑھا لکھا جانتا ہے۔ رہا یہ کہ صرف ان کو روح اللہ کیوں کہا گیا؟ اس کی جو وجہ جس کے ذہن میں آئی اس نے بیان کردی۔
بعض نے کہا کہ چونکہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ناروا باتیں کہتے تھے اور ان کی روح کو ناپاک روح سے تعبیر کرتے تھے اس لئے ان کو روح اللہ کے لقب سے یاد کیا گیا۔
امام راغب اصفہانیؒ فرماتے ہیں:
”وسمی عیسیٰ علیہ السلام روحاً فی قولہ و روح منہ وذلک لما کان لہ من احیاء الاموات“
(مفردات القرآن ص ۲۰۵ مطبع نور محمد کراچی)
ترجمہ : ۱ ”عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کا نام آیت شریفہ ”و روح منہ“ میں روح اس لئے رکھا گیا کہ ان سے مردوں کو زندہ کرنے کا ظہور ہوتا تھا۔“
بعض نے کہا کہ چونکہ ان کی روح بذریعہ جبریل علیہ السلام نفخ کی گئی اس لئے ان کو روح اللہ کہا جاتا ہے:
”وسمی علیہ السلام روحاً لانہ حدث عن نفخۃ جبریل علیہ
”السلام فی درع مریم علیهما السلام بامرہ سبحانہ“
(روح المعانی ص ۲۵ جلد ۶)
الغرض اکابر کے کلام میں اس قسم کی اور توجیہات بھی موجود ہیں، مگر عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے روح اللہ کے ساتھ ملقب ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ صرف انہی کی روح اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے باقی ارواح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں (نعوذباللہ)۔ اس لئے کہ حضرات انبیا کرام علیہم السلام کو مختلف القاب کے ساتھ ملقب کیا گیا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کو ”صفی اللہ“ کہا گیا۔ حضرت نوح علیہ السلام کو ”نجی اللہ“ کے ساتھ ملقب کیا گیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ”خلیل اللہ“ کے لقب سے مشرف کیا گیا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ”ذبیح اللہ“ کا لقب عطا کیا گیا۔ حضرت موسی علیہ السلام کو ”کلیم اللہ“ کے لقب سے مشرف کیا گیا۔ اسی طرح حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو ”روح اللہ“ کا لقب دیا گیا۔ مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ دیگر انبیا کرام علیہم السلام کی ارواح طیبہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نہیں ہیں۔
حضرت عیسی علیہ السلام کو روح اللہ کے لفظ سے یاد کیا جانا ایسا ہی ہے جیسا کہ کعبہ شریف کو ”بیت اللہ“ کہا گیا ہے، اور حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو ”ناقۃ اللہ“ کہا گیا ہے۔ پس اللہ کی طرف ان چیزوں کی نسبت تعظیم و تشریف کے لئے ہے۔ واللہ اعلم۔
- ۲۔ خان شہزادہ صاحب نے سوال کیا کہ جب مسلمانوں پر
مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑ رہے تھے، تو اس وقت حضرت عیسی
بجائے مسلمانوں کی مدد کرنے کے واپس آسمان پر کیوں تشریف لے گئے۔ مولانا صاحب نے فرمایا کہ ”صحابہ کرام کے لئے کنتم خیر امۃ اخرجت للناس‘ کا تاج کرامت تیار کیا جارہا تھا۔ اور حکمت بالغہ کے تحت ان کو آزمائش کی بھٹی میں ڈال رکھا تھا‘ نیز یہ کہ فتنہ دجال جس سے تمام انبیا نے پناہ مانگی تھی‘ اور ایک ایسا زمانہ بھی آنے والا تھا کہ لوگ چند ٹکوں کے عوض اپنا ایمان بیچ ڈالیں گے وغیرہ‘ تو اس وقت حضرت عیسیٰ کی زیادہ ضرورت ہوگی“ مولانا صاحب !اگر سرسری نظر سے بھی حضرت عیسیٰ کے حالات کا مطالعہ کیا جائے تو یہی نقشہ سامنے آتا ہے کہ آپ ساری زندگی ماریں کھاتے رہے۔ جب کوئی بائیں گال پر تھپڑ مارتا تو آپ دایاں گال آگے کردیتے‘ اور آسمان پر تشریف لے جانے سے پہلے صرف بارہ حواری اپنے پیچھے چھوڑ گئے تھے‘ اور بقول بائبل ان میں بھی اکثریت بے ایمان اور نمک حرام نکلے۔
مولانا صاحب پہلے تو یہ بتائیں کہ آپ کے آسمان پر جانے سے پہلے کیا واقعی ان کے ماننے والوں کی اتنی قلیل تعداد تھی؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو بظاہر ایسا ناکام نبی اور کمزور نبی اس قدر عظیم فتنہ دجالیت کا کیونکر مقابلہ کرسکے گا؟ جس سے سب نبیوں نے ڈرایا ہے اور جو اپنی مخصوص چھوٹی سی قوم اسرائیل کی اصلاح نہ کرسکا‘ وہ ساری دنیا کی اور بگڑی ہوئی امت محمدیہؐ کی اصلاح کیسے کریں گے؟
ج : یہاں چند امور قابل ذکر ہیں:
اول : آنجناب نے بائبل کے حوالے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جو لکھا ہے اہل اسلام اس کو صحیح نہیں سمجھتے‘ علما فرماتے ہیں کہ اہل کتاب کی جو باتیں کتاب و سنت کے موافق ہیں‘ ہم ان پر ایمان رکھتے ہیں‘ نہ اس وجہ سے کہ وہ اہل کتاب نے ذکر کی ہیں‘ بلکہ اس وجہ سے کہ ان کو اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ نے بیان فرمایا ہے۔ اور اہل کتاب کی جو باتیں کتاب و سنت کے خلاف ہیں‘ ہم ان سے برات کا اظہار کرتے ہیں‘ اور ان کی جو باتیں ایسی ہیں کہ کتاب و سنت ان کے بارے میں خاموش ہیں‘ ہم نہ ان کی تصدیق کرتے ہیں‘ نہ تکذیب۔ چنانچہ مشکوۃ شریف میں صحیح بخاری کے حوالے سے منقول ہے کہ اہل کتاب عبرانی میں تورات پڑھتے تھے اور اہل اسلام کے لئے عربی میں اس کا ترجمہ کرتے تھے‘ اس پر آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”لا تصدقوا اهل الكتاب ولا تكذبوهم و قولو آمنا باللہ وما انزل الینا۔“ الآیۃ
(رواہ البخاری)
ترجمہ : ۱ ”اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو‘ نہ تکذیب کرو‘ اور یہ کہو کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس چیز پر جو ہماری طرف نازل کی گئی۔“
دوم : حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ تعلیم کہ اگر کوئی دائیں گال پر تھپڑ مارے تو بایاں بھی پیش کردو‘ قرآن و حدیث میں منقول نہیں۔ لیکن اگر یہ نقل صحیح ہو‘ تو اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ
ان کو اس وقت جہاد کا حکم نہیں تھا۔ جیسا کہ مکہ مکرمہ میں آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرامؓ کو جہاد کا حکم نہیں تھا‘ بلکہ حکم یہ تھا کہ ماریں کھاتے رہو لیکن ہاتھ نہ اٹھاؤ۔ ہجرت کے دوسرے سال آیت شریفہ ”اذن للذین یقاتلون بانہم ظلموا وان الله على نصرهم لقدير“ (الآیہ........................................................................... پ ۱۷ سورۃ الحج) نازل ہوئی تو جہاد کا حکم ہوا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اگر اس وقت جہاد کا حکم نہ ہو تو اس کو ان کی کمزوری پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔
سوم : ان کے آسمان پر تشریف لے جانے سے پہلے صرف بارہ حواری تو نہیں تھے‘ بلکہ ایک اچھی خاصی تعداد ان کے ماننے والوں کی تھی‘ فآمنت طائفة من بنى اسرائيل وكفرت طائفه (الصف) میں اسی کا بیان ہے۔ البتہ ان کے رفع آسمانی سے پہلے یہود کا غلبہ رہا اور ان کے پیرو مغلوب رہے‘ جیسا کہ ہجرت سے پہلے حضرات صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) مغلوب تھے اور قریش مکہ غالب تھے۔
چہارم : آپ نے جو تحریر فرمایا ہے کہ ”بقول بائبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں اکثریت بے ایمان اور نمک حرام لوگوں کی تھی“ غالباً جناب کا اشارہ بائبل کے اس فقرہ کی طرف ہے کہ یہودا اسخریوطی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو چالیس درہم کے بدلے گرفتار کروا دیا تھا‘ لیکن یہ قصہ صراحتاً غلط ہے‘ اس لئے کہ ان بارہ حواریوں کو جنت کی بشارت دی گئی تھی۔ پس کیسے ممکن ہے کہ مبشر
بالجملہ ہونے کے بعد وہ مرتد ہو جائیں۔ قرآن کریم میں ہے :
"يأيها الذين آمنوا كونوا انصارالله كما قال عيسى ابن مريم للحواريين من انصارى الى الله قال الحواريون نحن انصار الله"
(الصف)
ترجمہ : ۱ ”اے ایمان والو ! تم اللہ کے مددگار ہو جاؤ‘ جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) نے حواریوں سے فرمایا کہ اللہ کے واسطے میرا کون مددگار ہوتا ہے؟ وہ حواری بولے ہم اللہ کے مددگار ہیں۔“
قرآن کریم کی کسی آیت اور کسی حدیث شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کی مذمت نہیں کی گئی‘ اور نہ کسی صحابی سے اس قسم کا مضمون منقول ہے۔ لہٰذا آنجناب کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کی اکثریت کو بے ایمان اور نمک حرام لکھنا صریح زیادتی ہے۔
کیا آنحضرت ﷺ کے دس مبشر صحابہؓ کو جو عشرہ مبشرہ کے لقب سے معروف ہیں‘ شیعوں کا یہ طعن دینا صحیح ہوگا کہ (نعوذ باللہ) ان کی اکثریت بے ایمان اور نمک حرام تھی۔
اصل قصہ وہ ہے جس کو امام ابن کثیرؒ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بہ سند صحیح نقل کیا ہے:
"قال لما ارادالله ان يرفع عيسى الى السماء خرج الى اصحابه وفى البيت اثنا عشر رجلاً من الحواريين فخرج عليهم من عين فى البيت وراسه
يقطر ماء ثم قال ا يكم يلقي عليه شبهى فيقتل مكاني و يكون معى فى درجتى فقام شاب من احدثهم سناً فقال له اجلس ثم اعاد عليهم فقام ذالك الشاب فقال اجلس ثم اعاد عليهم فقام الشاب فقال انا فقال هو ذاك فالقى عليه شبه عيسى ورفع عيسى من روز نة فى البيت الى السماء“
(تفسیر ابن کثیر ص ۴۷۳ ج-۱)
امام ابن کثیرؒ اس کو نقل کر کے لکھتے ہیں:
”وهذا اسناد صحيح الى ابن عباس ورواه النسائى عن ابى كريب عن ابى معاوية بنحوه وكذا ذكره غير واحد من السلف انه قال لهم ايكم يلقى عليه شبه فيقتل مكانى وهو رفيقى فى الجنة“
(حوالہ بالا)
ترجمہ : ۱ ”جب ارادہ کیا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھانے کا تو وہ نکلے‘ اپنے اصحاب کے پاس‘ اور مکان میں بارہ حواری تھے۔ یعنی آپ کے مکان میں ایک چشمہ تھا اس سے غسل کر کے ان کے پاس آئے‘ اور آپؑ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا ......پھر فرمایا تم میں سے کون ہے جس پر میری شباہت ڈال دی جائے۔ پس وہ میری جگہ قتل کر دیا جائے‘ اور میرے ساتھ میرے درجہ میں ہو‘ پس ایک نوجوان جو سب سے کم عمر تھا کھڑا ہوا‘ آپ نے
فرمایا بیٹھ جا‘ پھر وہی بات دھرائی‘ پھر وہی نوجوان کھڑا ہوا‘ آپ نے فرمایا بیٹھ جا‘ پھر اپنی بات دھرائی پس نوجوان کھڑا ہوا۔ پس کہا کہ میں اس کے لئے حاضر ہوں۔ فرمایا تو ہی وہ ہے۔ پس اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی‘ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مکان کے روشن دان سے آسمان کی طرف اٹھالیا گیا۔”
ترجمہ : ۱ ”یہ اسناد صحیح ہے ابن عباسؓ تک‘ اور امام نسائی نے اس کو ابو کریب سے اور انہوں نے ابو معاویہ سے اس کی مثل روایت کیا ہے۔ اور اسی طرح یہ بات بہت سے سلف نے ذکر فرمائی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حواریوں سے فرمایا کہ تم میں سے کون ہے کہ اس پر میری شباہت ڈال دی جائے۔ پس وہ میری جگہ قتل کردیا جائے اور وہ میرا رفیق ہو جنت میں۔”
یہ نوجوان یہودا اسخریوطی تھا‘ اس لئے یہ کہنا صحیح نہیں کہ اس نے غداری کی‘ کیونکہ اس نے جو کچھ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اشارہ‘ بلکہ بشارت کے مطابق کیا۔
پنجم : حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ناکام اور کمزور نبی کہنا صحیح نہیں‘ کیونکہ ان کی روحانی قوت قرآن کریم میں مذکور ہے:
”واذ تخلق من الطین کھیئۃ الطیر باذنی فتنفخ فیھا فتکون طیرا باذنی وتبرئ الاکمہ والابرص باذنی واذ
تخرج الموتی باذنی“
(المائدہ)
ترجمہ : ۱ ”اور جبکہ تم گارے سے ایک شکل بناتے تھے، جیسے پرندہ کی شکل ہوتی ہے، میرے حکم سے، پھر تم اس کے اندر پھونک مار دیتے تھے، جس سے وہ پرندہ بن جاتا تھا، میرے حکم سے، اور تم اچھا کر دیتے تھے مادر زاد اندھے کو، اور برص کے بیمار کو، میرے حکم سے، اور جبکہ تم مردوں کو نکال کر کھڑا کر لیتے تھے، میرے حکم سے۔“
اور دوبارہ تشریف آوری کے موقع پر دجال کے مقابلہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روحانی قوت کا یہ عالم ہو گا کہ دجال ان کو دیکھتے ہی اس طرح پگھلنے لگے گا، جیسا کہ نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔ صحیح مسلم ص ۳۹۲ ج۲ میں ہے:
”فاذا رآہ عدو الله ذاب کما یذوب الملح فی الماء فلو ترکہ لا نذاب حتی یھلک ولکن یقتلہ الله بیدہ فیریھم دمہ“
مسند احمد ص ۳۶۸ ج۲ میں ہے:
”فاذا صلی صلوۃ الصبح خرجوا الیہ فقال فحین یری الکذاب ینماث کما ینماث الملح فی الماء“
ان احادیث کا خلاصہ و ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزر چکا ہے۔
- ۳: مولانا صاحب آپ نے یہ بھی فرمایا کہ حضرت عیسیٰ کا
دوبارہ آنا اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ آپ نے آکر اپنے دشمن یہودیوں سے انتقام بھی لینا ہے، تو کیا انتقام لینا اسلامی شریعت کی نفی نہیں ہے؟ علاوہ ازیں حضرت عیسیٰ تو زندہ ہیں مگر ان کے دشمن تو مر کر خاک ہو کر جہنم رسید ہوگئے۔ اب وہ انتقام کن سے لیں گے؟ کیا ایک اٹھارویں نسل کے کسی فرد کو اس وجہ سے پھانسی پر چڑھایا جاسکتا ہے کہ آج سے دو ہزار سال پہلے اس فرد کے کسی جد امجد نے قتل کیا تھا؟ میری کانشنس بار بار اس ناانصافی پر احتجاج کرنے پر مجبور ہے۔ براہ کرم اس کا تسلی بخش جواب دے کر مشکور فرمادیں؟
ج : قرآن کریم میں ہے:
و ينصركم عليهم و يشف صدور قوم مؤمنين۔“
(سورة توبہ آیت ۱۴)
ترجمہ : ۱ ”ان سے لڑو، اللہ تعالیٰ (کا وعدہ ہے کہ) ان کو تمہارے ہاتھوں سزا دے گا، اور ان کو ذلیل (و خوار) کرے گا، اور تم کو ان پر غالب کرے گا، اور بہت سے مسلمانوں کے قلوب کو شفا دے گا۔“
اس سے معلوم ہوا کہ جہاد میں کفار سے انتقام لینا دین کی نفی نہیں، بلکہ عین دین ہے، اس لئے کہ حق تعالیٰ شانہ کی صفت ”عزیز ذو انتقام“ ہے، اور جہاد اسی صفت کا مظہر ہے۔ مجاہدین جارحہ الہیہ کی حیثیت سے خدا کے
دشمنوں سے انتقام لیتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مشہور حدیث ہے: "ما انتقم رسول اللہﷺ لنفسہ فی شئی قط الا ان ینتھک حرمۃ اللہ فینتقم للّٰہ بھا۔" (متفق علیہ) (مشکوٰۃ ص ۵۱۹)
حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہود سے انتقام لینا بھی انتقام الٰہی کا مظہر ہوگا۔
رہا آپ کا یہ فرمانا کہ ”حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے زیادتی تو دو ہزار سال پہلے کے لوگوں نے کی‘ اور وہ انتقام دو ہزار سال بعد کے لوگوں سے لیں گے“ اور یہ بات ایسی ہے کہ آپ کی کانشنس اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔
میرے محترم ! ذرا غور فرمائیے کہ آخری زمانے میں جب دجال کا خروج ہوگا اور یہود اس کے ساتھ ہو کر غلبہ اور تسلط حاصل کریں گے‘ تو حق تعالیٰ شانہ کی صفت انتقام جوش میں آئے گی‘ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دجالی فتنہ کا قلع قمع کرنے کے لئے نازل کیا جائے گا‘ اس وقت وہ دجال کے پیروکار یہود کا استیصال فرمائیں گے۔
پوری قوم یہود ایک فوج ہے‘ اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مخالفت پوری قوم نے کی‘ اس لئے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام قوم یہود سے بحیثیت جارحہ الٰہی کے انتقام لیں گے۔
- ۴۔ مولانا صاحب نے فرمایا ہے کہ انی متوفیک کے اگر معنی
یہ کئے جائیں کہ میں تجھے وفات دوں گا۔ تب بھی اس سے آئندہ کسی اور وقت میں وفات دینے کا وعدہ ثابت ہے‘ نہ یہ کہ
ان کی (حضرت عیسیٰ کی) وفات ہو چکی ہے۔ مولانا صاحب یہاں دو وعدے ہیں ۱۔ انی متوفیک ۲۔ ورافعک الی کہ میں تجھے وفات دوں گا اور تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا۔ وضاحت طلب امر یہ ہے کہ اگر وفات کا وعدہ ابھی پورا نہیں ہوا‘ تو اپنی طرف اٹھالینے والا وعدہ کیسے پورا ہو گیا؟ حالانکہ یہاں وفات کا وعدہ پہلے ہے۔
ج : عربی زبان میں ”و“ ترتیب کے لئے نہیں آتی‘ مثلاً ” آپ کسی شخص کو بازار بھیجیں اور اسے یہ کہیں کہ فلاں اور فلاں چیز لے کر آؤ تو ضروری نہیں کہ جس ترتیب سے آپ نے چیزیں خریدنے کا حکم فرمایا ہے اسی ترتیب سے وہ خریدے‘ بلکہ یہ صحیح ہوگا کہ آپ کی ذکر کردہ چیزوں میں سے دوسرے نمبر کی چیز کو وہ پہلے خریدلے اور پہلے نمبر کی چیز کو بعد میں خریدے‘ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ نے دو وعدے فرمائے تھے‘ ایک یہ کہ ”اے عیسیٰ تم کچھ غم نہ کرو‘ بے شک میں تم کو اپنے وقت موعود پر طبعی موت سے وفات دینے والا ہوں۔ پس جب تمہارے لئے موت طبعی مقدر ہے تو اطمینان رکھو کہ ان دشمنوں کے ہاتھوں دار پر جان دینے سے محفوظ رہو گے۔“
اور دوسرا وعدہ یہ کہ ”اور فی الحال میں تم کو اپنے عالم بالا کی طرف اٹھائے لیتا ہوں۔“ گویا اپنے وقت پر طبعی وفات دینے سے مقصود دشمنوں سے حفاظت کی بشارت تھی‘ یہ اپنے وقت موعود پر آئے گا جب قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام آسمان سے زمین پر نازل ہوں گے‘ جیسا کہ
احادیث صحیحہ میں آیا ہے۔
اور دوسرا وعدہ عالم بالا کی طرف فی الحال اٹھالئے جانے کا تھا سو وہ پورا کیا گیا، جس کے پورا ہونے کی خبر سورہ نساء میں دی گئی ہے ”بل رفعہ اللہ الیہ“ اب وہ زندہ آسمان پر موجود ہیں، اگرچہ پہلا وعدہ بعد میں پورا ہوگا، لیکن اس کا ذکر پہلے کیا گیا ہے، کیونکہ یہ مثل دلیل کے ہے دوسرے وعدے کے لئے، چونکہ دلیل رتبہ کے اعتبار سے مقدم ہوتی ہے، اور چونکہ ”واؤ“ ترتیب کے لئے موضوع نہیں، اس لئے اس تقدیم و تاخیر میں کوئی اشکال نہیں۔
(بیان القرآن ج۔۲ ص ۲۳ از مولانا اشرف علی تھانویؒ)
- ۵۔ مولانا صاحب فرماتے ہیں کہ ”قد خلت من قبلہ الرسل“
دو جگہ آیا ہے۔ ایک جگہ آنحضرت صلعم کے لئے اور دوسری جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے۔ اور یہ دونوں حضرات بوقت نزول آیات زندہ تھے ”مولانا صاحب قابل حل امر یہ ہے کہ جہاں آنحضرت صلعم کے بارے میں بیان ہوا ہے۔ وہاں ساتھ ہی خلت کی دو اشکال بیان ہوئی ہیں۔ (افامات او قتل) موت اور قتل، تیسری کوئی شکل ”خلت“ کی بیان نہیں ہوئی۔ اس معمہ کو بھی حل فرمادیں؟“
ج : آنحضرت ﷺ کے بارے میں یہ آیت شریفہ جنگ احد میں نازل ہوئی تھی، جبکہ شیطان نے یہ اڑا دیا تھا (الا ان محمداً قد قتل) اور اس خبر کے سننے سے صحابہ کرامؓ کی رہی سہی کمر بھی ٹوٹ گئی تھی، ورنہ لڑائی کا پانسہ پلٹ جانے کی وجہ سے بدحواس اور منتشر تو ہو ہی رہے تھے۔ ان کی
تسلی کے لئے فرمایا گیا:
"اور محمد ﷺ نرے رسول ہی تو ہیں (خدا تو نہیں جن پر موت یا قتل ممتنع ہو) آپ سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں، (اسی طرح ایک دن آپ بھی گزر جائیں گے) سو اگر آپ کا انتقال ہو جائے یا (بالفرض) آپ شہید ہی ہوجائیں تو کیا تم لوگ (جہاد یا اسلام سے) الٹے پھر جاؤ گے؟"
یہاں قتل کا ذکر حضرات صحابہؓ کی تسلی آمیز تمہید کے لئے ہے، ورنہ دنیا سے آپ کا تشریف لے جانا طبعی موت کی شکل میں متعین تھا، اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا طبعی موت سے وفات پانا بھی متعین اور منصوص ہے۔
حدیث میں ہے:
"ثم يتوفى ويصلى عليه المسلمون ويدفنونه"
(مسند احمد ص ۴۳۷ ج۲‘ فتح الباری ص ۳۵۷ ج۶)
- ۶- "بل رفعہ اللہ الیہ" کی تشریح میں مولانا صاحب رقم طراز
ہیں کہ رفع بمقابلہ قتل آیا ہے، اور قتل جسم کا ہوتا ہے روح کا نہیں، لہٰذا رفع سے مراد رفع جسمانی ہے، اور رفع الی اللہ قرآن کریم کے محاورہ میں رفع الی السماء کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ سورہ مریم آیت ۵۸ میں آیا ہے۔ "اور تو حضرت ادریس کا بھی ذکر سنادے۔ وہ ہمارا صدیق نبی تھا۔" ورفعنہ مکاناً علیا تو کیا یہاں بھی "رفعنا" کے معنی رفع السماء کے ہیں؟ تو
کیا اس طرح پھر حضرت ادریس کا بھی آسمان پر جانا ثابت نہیں ہوتا؟ مہربانی کر کے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
ج : حضرت ادریس علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں جو ”ورفعنہ مکاناً علیا“ وارد ہوا ہے اس کی بنا پر اگرچہ بعض اکابرؒ ان کے زندہ ہونے کے قائل ہوئے ہیں، جیسا کہ علامہ خیالی نے حاشیہ شرح عقائد نسفی میں ذکر کیا ہے (ص ۱۴۲)، لیکن جمہور علما ان کے رفع آسمانی کے قائل نہیں، لیکن حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے رفع آسمانی کے قائل ہیں۔
اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے حق میں تو رفع الی اللہ مذکور ہے، جو کہ رفع آسمانی میں نص ہے، بخلاف حضرت ادریس علیہ السلام کے کہ ان کے لئے رفع الی اللہ مذکور نہیں۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے رفع بمقابلہ قتل ذکر کیا گیا ہے، بخلاف ادریس علیہ السلام کے۔
تیسری وجہ، جیسا کہ مولانا عبدالحکیم سیالکوٹی نے لکھا ہے:
”عیسیٰ علیہ السلام کی حیات، ان کا زمین پر نازل ہونا، اور یہاں رہنا احادیث صحیحہ سے ایسے طور پر ثابت ہے کہ اس میں کوئی شبہ باقی نہیں رہا، اور اس میں کسی ایک آدمی کا بھی اختلاف نہیں، بخلاف دیگر حضرات کے۔ (مجموعہ حواشی البہیہ ص ۳۴۰ ج۔۳)
- ۷۔ اب ایک ضروری سوال جو اس سلسلہ میں شدت سے
میرے ذہن میں آتا ہے، یہ ہے کہ سورہ المائدہ کے آخری رکوع میں ساری گفتگو بروز قیامت اللہ تعالیٰ اور حضرت عیسیٰ
کے مابین ہونے والی کا پورا نقشہ کھینچا گیا ہے، وہاں حضرت عیسیٰ عرض کریں گے کہ جب تک میں ان میں رہا، میں ان کا پورا پورا نگران رہا (یعنی توحید کا سبق دیتا رہا) فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم مگر جب تو نے مجھے وفات دے دی، تو تو ہی ان پر نگران تھا۔ مولانا صاحب! کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عیسائی فرقہ والے حضرت عیسیٰ کی وفات کے بعد بگڑے ہیں؟ اور کیا عیسائی قوم کا عقیدہ الوہیت کا بگاڑ حضرت عیسیٰ کی وفات کو ثابت نہیں کرتا؟
ج : سورہ مائدہ میں فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم میں ان کے رفع آسمانی کا ذکر ہے، کیونکہ تمام مفسرین اس پر متفق ہیں۔ اس آیت میں ”توفی“ سے موت مراد لینا کسی طرح صحیح نہیں، اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دین کو پولوس نے بگاڑا ہے، اور تاریخ کے مطابق اس کی وفات ۶۰ء میں ہوئی۔ گویا ۶۰ء تک دین مسیحی بگڑ چکا تھا۔ معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قوم کا بگڑنا ان کی موت کے بعد نہیں، بلکہ ان کے رفع آسمانی کے بعد ہوا ہے۔ اس آیت شریفہ کا مطلب یہ ہے کہ میں ان کے حالات کو اپنی موجودگی میں تو دیکھ رہا تھا، لیکن جب آپ نے مجھے آسمان پر زندہ اٹھالیا، اس وقت وہ میری نگرانی سے خارج تھے، اور آپ ہی ان پر نگہبان تھے۔
- ۸۔ مولانا صاحب جناب خان شہزادہ کو مخاطب کرتے ہوئے
فرماتے ہیں ”حضرت عیسیٰ کی ہجرت کو تو ہم دونوں مانتے ہیں میں
ہجرت الی السماء کا قائل ہوں‘ اور آپ ہجرت الی الربوہ کے۔ اگرچہ آپ تعین نہیں کرتے کہ الی ربوۃ ذات قرار و معین کہاں ہے۔ نیز ان کے مدفن کا بھی کسی کو پتہ نشان نہ ہے‘ مولانا صاحب آپ نے خان شہزادہ کے ذمہ لگادیا کہ ربوہ والی جگہ کا تعین کریں‘ اور پتہ بتائیں‘ مگر کیا یہ ہم سب مسلمانوں کا فرض نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ نے جس زمین ربوہ کی نشاندہی فرمائی ہے‘ اور جہاں جاکر دونوں ماں بیٹے نے ہجرت کے بعد پناہ لی ہے‘ اس کی تلاش کریں؟ جبکہ خدا تعالیٰ نے اس زمین ربوہ کے بارے میں یہ بھی اشارہ فرمادیا کہ وہ ایک تسکین بخش اور چشموں والی زمین ہے۔ صرف ایک پاؤں کا نشان پاکر انسان اپنا گمشدہ اونٹ تلاش کر سکتا ہے‘ کیا ہم خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے پتہ پر خدا تعالیٰ کے ایک پیارے نبی کو اور ان کی پیاری والدہ ماجدہ مریم کو نہیں ڈھونڈ سکتے؟ میرے خیال میں صرف ہمت اور صاف نیت کی ضرورت ہے۔ آخر ربوہ آسمان پر تو نہیں ہے‘ وہ اونچی جگہ اسی زمین پر ہے‘ پھر ایک فرد تو نہیں دو ماں بیٹا ہیں‘ جہاں ماں ہوگی وہاں بیٹا بھی ہوگا۔ اس ضمن میں دوسرا سوال یہ ہے کیا ہر فوت شدہ نبی کی قبر کا پتہ لگانا ضروری ہے تب ہم کسی نبی کو وفات یافتہ تسلیم کریں گے؟ ورنہ نہیں۔ تیسرا سوال یہ ہے کہ حضرت مریم بھی تو ہجرت کے وقت اپنے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی تھیں‘ ان کے مقبرہ کا کیا آپ کو علم ہے؟ چوتھا
سوال یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کی ہجرت بمقام ربوہ آسمان پر جانے کی نفی نہیں ہے؟"
ج : یہاں چند امور قابل ذکر ہیں:
اول : جو مضمون میں نے جناب خان شہزادہ صاحب کے نام لکھا تھا‘ وہ پورا جناب کی نظر سے نہیں گزرا۔ میں نے اس آیت شریفہ و آوینا ہما الی ربوۃ ذات قرار و معین کے بارے میں لکھا تھا کہ اس کا تعلق واقعہ صلیب سے نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ابتدائی نشوونما سے ہے۔
دوم : حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہجرت آسمان کی طرف ہوئی ہے‘ اور اس میں نہ ان کی والدہ ماجدہ شریک تھیں‘ اور نہ ان کے حواری۔ اس ناکارہ نے ایک مستقل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی پر لکھی ہے جس میں آنحضرت ﷺ سے لے کر پندرھویں صدی تک تمام اکابر امت کی تصریحات جمع کردی ہیں۔ یہ رسالہ ”تحفہ قادیانیت“ جلد سوم میں شامل ہے۔
سوم : بہرحال حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام بیت اللحم میں پیدا ہوئے‘ پھر ان کی والدہ ماجدہ ان کو مصر لے گئیں‘ اور کوئی آٹھ نو سال کے تھے جب ان کا قیام ناصرہ بستی میں ہوا۔ یہی ان کا مستقر تھا‘ اس کے علاوہ انہوں نے کوئی وطن نہیں بنایا۔
- ۹۔ مولانا صاحب نے اپنے مضمون میں حضرت عیسیٰ کی ایک دعا کا ذکر برنباس انجیل کے حوالہ سے کیا ہے کہ آپ نے دعا کی تھی کہ مجھے اے خدا یا تو امت محمدیہ کا فرد بنادے۔ اس دعا کی
قبولیت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو آسمان پر اٹھالیا۔ یقیناً آپ جیسے جید عالم سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ آپ نے محض سنی سنائی بات کو مضمون کی زینت بنادیا ہو۔ تاہم اتنی گزارش کردوں کہ میری تحقیقات کے مطابق اس قسم کی دعا کا کہیں ذکر انجیل برنباس میں نہیں ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ آپ براہ کرم اس کا حوالہ یا اس کی فوٹو کاپی خاکسار کے پتہ پر ارسال فرمادیں۔ جہاں تک کہ کسی حدیث میں حضرت عیسیٰ کی اس دعا کا تعلق ہے تو میری تحقیق کے مطابق یہ بھی کسی حدیث میں ان کی ایسی دعا کا کہیں ذکر نہ ہے کیا آپ اس سلسلہ میں میری رہنمائی فرمائیں گے؟ البتہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا کا ذکر ہے جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ تو امت محمدیہ کا نبی نہیں ہو سکتا کیونکہ اس امت کا نبی اسی امت سے ہو گا پھر عرض کیا گیا کہ نبی نہیں تو امتی ہی بنادیجئے تو ارشاد باری تعالیٰ ہوا کہ تم ان سے پہلے ہوگئے ہو وہ پیچھے‘ البتہ تم کو اور ان کو میں دارالجلال میں اکٹھا کردوں گا۔ (اس کا ذکر حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ نے اپنی کتاب نشر الطیب فی ذکر الحبیبؐ کے صفحہ ۲۶۲ پر فرمایا ہے) مولانا صاحب اس سلسلے میں دو اہم سوال مزید ذہن میں آئے ہیں۔ پہلا یہ کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا امت محمدیہ کے فرد ہونے کی قبول نہیں ہوئی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں وہ کونسی افضلیت ہے کہ ان
کے لئے یہ دروازہ کھلا رکھ دیا گیا ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ بفرض محال مان بھی لیا جائے کہ حضرت عیسیٰ نے برنباس انجیل کی رو سے ایسی دعا کی تھی تو دعا تو صرف امتی بننے کی تھی نہ اصلاح امت کی؟ ان الجھنوں کا حل آپ کے نزدیک کیا ہے
فقط والسلام
ابو ظفر چوہان
ج : انجیل برنباس کی جس دعا کا میں نے ذکر کیا تھا‘ اس کے لئے باب ۴۴ کا آخر ملاحظہ فرمائیے (فقرہ ۳۰ سے ۳۲ تک) :
”اور جبکہ میں نے اس کو دیکھا‘ میں تسلی سے بھر کر کہنے لگا ” اے محمد! اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ ہو‘ اور مجھ کو اس قابل بنائے کہ میں تیری جوتی کا تسمہ کھولوں‘ کیونکہ اگر میں یہ (شرف) حاصل کرلوں تو بڑا نبی اور اللہ کا قدوس ہوجاؤں گا۔“ اور جبکہ یسوع نے اس بات کو کہا‘ اس نے اللہ کا شکر ادا کیا۔“
اس ناکارہ کے پاس انجیل برنباس کے دو نسخے ہیں
- ۱۔ مطبوعہ اسلامی مشن۔ ۷ ابدالی روڈ۔ سنت نگر‘ لاہور۔ جنوری ۱۹۸۰ء
بمطابق صفر ۱۴۰۰ھ
- ۲۔ ترجمہ۔ آسی ضیائی۔ مطبوعہ اسلامک پبلیکیشنز ۳۔ای
شاہ عالم مارکیٹ‘ لاہور۔ طبع پنجم جولائی ۱۹۸۷ء
آخر الذکر کے ترجمہ میں معمولی سا فرق ہے‘ اس کے الفاظ یہ ہیں:
”اور جب میں نے اسے دیکھا تو میری روح تسکین سے بھر گئی
یہ کہہ کر کہ ”اے محمد! خدا تیرے ساتھ ہو، اور وہ مجھے اس لائق بنائے کہ میں تیری جوتی کا تسمہ کھول سکوں۔ کیونکہ یہ پا کر میں ایک بڑا نبی اور خدا کا قدوس ہو جاؤں گا۔“ یہ کہہ کر یسوع نے خدا کا شکر ادا کیا۔“
رہا آپ کا یہ سوال کہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا تو قبول نہیں ہوئی حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام میں وہ کونسی خصوصیت تھی کہ ان کے حق میں دعا قبول ہوئی؟' اس کا جواب خود آنحضرت ﷺ دے چکے ہیں:
"الانبیاء اخوۃ لعلات امھاتھم شتی ودینھم واحد وانا اولی الناس بعیسی ابن مریم لانہ لم یکن بینی وبینہ نبی، وانہ نازل، فاذا رایتموہ فاعرفوہ رجل مربوع، الی الحمرۃ و البیاض، علیہ ثوبان ممصران، راسہ یقطر وان لم یصبہ بلل، فیدق الصلیب، ویقتل الخنزیر، ویضع الجزیۃ، وید عوالناس الی الاسلام، فتھلک فی زمانہ الملل کلھا الا الاسلام، وترتع الاسود مع الابل، والنمار مع البقر، والذیاب مع الغنم، وتلعب الصبیان بالحیات فلا تضرھم، فیمکث اربعین سنۃ ثم یتوفی ویصلی علیہ المسلمون۔"
(ابو داؤد ص ۲۳۸ ج ۲‘ مسند احمد ص ۴۳۷ ج ۲‘ فتح الباری
ص ۴۹۳ ج ۶) (حقیقت النبوۃ ص ۱۹۲ از مرزا محمود احمد قادیانی)
ترجمہ : ۱ ”انبیا علاتی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں ان کی مائیں تو مختلف ہوتی ہیں اور دین ایک ہوتا ہے اور میں عیسیٰ بن مریم سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں کیونکہ اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں اور وہ نازل ہونے والا ہے پس جب اسے دیکھو تو اسے پہچان لو کہ وہ درمیانہ قامت‘ سرخی سفیدی ملا ہوا رنگ‘ زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے‘ اس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہوگا گو سر پر پانی نہ ہی ڈالا ہو‘ اور وہ صلیب کو توڑے گا‘ اور خنزیر کو قتل کرے گا اور جزیہ ترک کردے گا اور لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دے گا اس کے زمانہ میں سب مذاہب ہلاک ہو جائیں گے اور صرف اسلام رہ جائے گا اور شیر اونٹوں کے ساتھ‘ چیتے گائے بیلوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے‘ اور وہ ان کو نقصان نہ دیں گے‘ عیسیٰ بن مریم چالیس سال تک رہیں گے اور پھر فوت ہو جائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔“
(ترجمہ از مرزا محمود احمد قادیانی)
اس حدیث کو مرزا محمود احمد صاحب قادیانی نے ”حقیقت النبوۃ“ میں صفحہ ۱۹۲ پر نقل کیا ہے اور محمد علی لاہوری نے ”النبوۃ فی الاسلام“ میں صفحہ ۹۲ پر نقل کیا ہے۔ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے ان کے نازل
ہونے کی خبر دی ہے اور ان کی خصوصیت یہ ذکر فرمائی ہے کہ ان کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ:
- ۱۔ ان کا زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے ملا ہوا ہے اور
- ۲۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت دی تھی۔
جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
"یبنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقاً لما بین یدی من التوراة ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمه احمد"
(سورۃ الصف آیت ۶)
- ۳۔ اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نازل ہونے کی خبر دی ہے وانہ
نازل فیکم تو یہ نازل ہونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی خدمت کے لئے ہو گا‘ کیونکہ ”جوتی کا تسمہ کھولنا“ خادمیت و مخدومیت کے تعلق کی طرف اشارہ ہے۔
- ۴۔ علاوہ ازیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کا تعلق متعدد وجوہ سے
ہے‘ شاید کہ آنجناب نے سنا ہوگا (جیسا کہ احادیث صحیحہ میں وارد ہوا ہے) کہ ان کی والدہ محترمہ حضرت مریم علیہا الرضوان‘ امہات المومنین میں شامل ہوں گی‘ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سوتیلے والد صاحب ہیں۔ اب اس سے بڑا تعلق کیا درکار ہے؟
وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین
وصلی اللہ تعالٰی علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد و آلہ و صحبہ اجمعین و بارک و سلم۔
۱۷-۱۰-۱۴۱۳ھ
رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام
(چند مغالطوں کا جواب)
مکرم جناب مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی
جناب عالی!
بعد تسلیمات عرض خدمت ہے کہ روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور ۵ اکتوبر ۱۹۹۶ء صفحہ ۱ پر ۴ اکتوبر کو آپ نے ربوہ کے جلسہ میں فرمایا کہ:
”حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی آمد سے ختم نبوت کے عقیدہ پر فرق نہیں پڑتا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کا امتی بنادیا گیا۔“
گزارش خدمت عالیہ میں یہ ہے کہ مجھے احمدی اصحاب سے واسطہ پڑنے پر معلوم ہوا کہ آپ کا اور ان کا عقیدہ امتی نبی ہونے کا ایک جیسا ہے، اصل وجہ اختلاف دونوں میں امتی نبی کا نہ رہا، بلکہ یہ ہوا کہ جناب مسیح از روئے قرآن و حدیث زندہ آسمان پر گئے، اور آسمان سے زمین پر واپس دوبارہ آئیں گے کہ نہیں؟ یعنی
پرانا بنی اسرائیل کا نبی امتی بن کر آئے گا‘ یا نیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے فیضیاب ہو کر امت میں سے جناب مسیحؑ کا مثیل امام مہدی ہی بن کر بموجب حدیث ”ابن ماجہ“، ”لا مہدی الا عیسیٰ“ امت میں سے آئے گا؟ اور جناب موصوف کس آیت کے مطابق ”امتی نبی“ اور آنحضرت صلعم (صلی اللہ علیہ وسلم) سے فیضیاب ہو کر آئیں گے؟ بینوا توجروا۔
دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن نے امتی نبی کی تعریف کیا فرمائی ہے؟ اور وہ تعریف حضرت مسیحؑ پر کیونکر چسپاں ہوگی؟ جبکہ انہوں نے آنحضور (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بحالت ایمان فیض حاصل نہیں کیا؟
تیسرا سوال‘ قرآن مجید کی چار آیات میں حضرت مسیحؑ کو صرف ”بنی اسرائیل“ کا رسول فرمایا ہے‘ اگر مسلمان ان کا یہ کہہ کر انکار کردیں کہ آپ ”بنی اسرائیل“ کے رسول ہیں‘ قرآن میں ہم کو آپ کی آمد پر ایمان لانے کا حکم نہیں‘ نہ آپ تمام دنیا کے رسول ہیں‘ بلکہ آیت ”ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ“ کے مطابق اسلام کے سوا موسوی یا عیسوی دین خدا کو قبول نہیں‘ اور نہ ذریعہ نجات‘ تو مسیح اس وجہ انکار کا جواب کیا دیں گے؟
چوتھا مشکل اور اہم مسئلہ یہ درپیش ہوگا کہ آئین پاکستان مورخہ ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء یہ ہے کہ جو ”حضرت محمد صلعم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد کسی بھی مفہوم میں‘ یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا
دعویٰ کرتا ہے‘ یا کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے‘ وہ آئین یا قانون کے اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔"
اس آئین کے مطابق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پرانے نبی کے امتی نبی ہو کر آنے کی وجہ سے وہ خود غیر مسلم قرار تو نہ پائیں گے؟ اور جو مسلمان ان کو امتی نبی یقین کرتے ہیں‘ یا پرانا نبی آنے والے کا اعتقاد رکھتے ہیں‘ وہ سب کے سب آئین پاکستان کے مطابق غیر مسلم ٹھہریں گے کہ نہیں؟
براہ کرم ان امور کا تسلی بخش جواب قرآن سے فرما کر ممنون فرمادیں۔ خدا آپ کو جزائے خیر دے۔ آمین۔
خاکسار سید احمد علی گھٹیالیاں خاص ضلع سیالکوٹ
بخدمت گرامی جناب سید احمد علی صاحب
آنجناب کا گرامی نامہ آج مورخہ ۲۳-۷-۹۷ کو بذریعہ روزنامہ جنگ موصول ہوا۔ آنجناب کا ممنون ہوں کہ آپ نے یاد فرمایا۔ آپ نے میری ایک تقریر کے حوالے سے فرمایا ہے:
"حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی آمد سے ختم نبوت کے عقیدہ میں فرق نہیں پڑتا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کا امتی بنا دیا گیا۔"
آنجناب کے یہ الفاظ میری صحیح ترجمانی نہیں کرتے‘ بہرحال یہاں چند باتوں کو سمجھ لینا چاہئے:
- (۱) حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا زندہ آسمان پر اٹھایا جانا اور آخری زمانہ
میں ان کا نازل ہونا قرآن کریم کی آیات شریفہ قطعیہ اور احادیث متواترہ میں وارد ہوا ہے، اور پوری امت کا اس عقیدہ پر اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام آسمان پر زندہ ہیں، اور قرب قیامت میں نزول اجلال فرمائیں گے۔ میرا رسالہ:
”حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات و نزول کا عقیدہ چودہ صدیوں کے مجددین و اکابر امت کی نظر میں۔“
جو میری کتاب ”تحفہ قادیانیت“ حصہ سوم میں شامل ہے، اس کو ملاحظہ فرما لیا جائے۔
تمام انبیا علیہم الصلوٰۃ والسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں، چنانچہ غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:
”یوں تو قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”لتؤمنن بہ ولتنصرنہ“ ، پس اس طرح تمام انبیا علیہم السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہوئے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۳۳، روحانی خزائن ج ۲۱ ص ۳۰۰)
تو چونکہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی بھی ہیں، اور حیات بھی ہیں، اس لئے آخری زمانہ میں جبکہ کانا دجال نکلے گا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم کی حیثیت سے تشریف لائیں گے، اور دجال کا صفایا
کریں گے‘ اور پوری دنیا میں اسلام پھیل جائے گا۔
- (۲) کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہوچکی تھی‘ اس لئے
بجائے نیا نبی بھیجنے کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبی کو دوبارہ لانے کی نوبت آئی‘ ورنہ ایسے اہم ترین مواقع پر کسی نئے نبی کو مبعوث کیا جاتا تھا‘ اب اس کے بجائے سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو محفوظ رکھا گیا۔
- (۳) چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں‘ اس لئے آپ کے بعد
کسی نبی کی آمد ممکن نہیں‘ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص نبی اور رسول نہیں بنایا جاسکتا‘ اس لئے یہ خیال کرنا کہ قادیانیوں کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام آگئے ہیں‘ اور مسلمانوں کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام ابھی نہیں آئے‘ یہ محض اپنے آپ کو دھوکا دینا ہے‘ جبکہ حقیقت میں عرض کرچکا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو زندہ ہیں‘ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی رسول اور نبی کا آنا ممکن ہی نہیں۔
- (۴) ”لامہدی الا عیسیٰ۔“ ابن ماجہ کی یہ حدیث بے حد کمزور ہے‘ اور حاشیہ
ابن ماجہ میں حضرت مولانا عبدالغنی مجددی دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس پر طویل بحث کی ہے‘ اس میں امام محمد بن حسین الآبری الحافظ کا قول ”مناقب شافعی“ سے نقل کیا ہے:
”وقد تواترت الاخبار واستفاضت بکثرۃ رواتھا عن المصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وسلم) فی المہدی‘ وانہ من اہل بیتہ‘ وانہ یملک سبع سنین‘ ویملاء الارض عدلا“ ‘ وانہ یخرج مع عیسیٰ بن مریم علیہ السلام فیساعدہ علی قتل الدجال بباب لد
بأرض فلسطين، وانه يؤم هذه الامه وعيسى عليه السلام يصلى خلفہ“
(حاشیہ ابن ماجہ ص ۲۹۲ مطبوعہ نور محمد)
ترجمہ: ”مہدی کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث متواتر ہیں، اور راویوں کی کثرت کی وجہ سے مشرق و مغرب میں پھیلی ہوئی ہیں، اور یہ کہ وہ اہل بیت میں سے ہوں گے، سات سال حکومت کریں گے، زمین کو عدل سے بھر دیں گے، اور یہ کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی معیت میں قتل دجال کے لئے نکلیں گے، اور عیسیٰ علیہ السلام دجال کو سرزمین فلسطین میں ”باب لد“ پر قتل کریں گے، اور یہ کہ اس وقت مہدی لوگوں کے امام ہوں گے، اور عیسیٰ علیہ السلام ان کی اقتدا میں نماز پڑھیں گے وغیرہ وغیرہ۔“
- (۵) مرزا غلام احمد کو قادیانی حضرات ”امتی نبی“ بناتے ہیں، جس کا مطلب یہ
ہے کہ وہ تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی، لیکن نبی تھے۔ یہ بات قطعاً غلط ہے، جیسا کہ اوپر عرض کرچکا ہوں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ کے بعد کسی کے نبی بننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، چنانچہ احادیث متواترہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خاتم النبیین کی تفسیر ”لا نبی بعدی“ کے ساتھ فرمائی ہے، اور حافظ ابن حزمؒ کے بقول:
”وہ پوری کی پوری امت جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب کو نقل کیا ہے، اسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات بھی نقل کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
نے خبر دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، مگر اس سے وہ عقیدہ مستثنیٰ ہے، جس کے بارے میں صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں، یعنی عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کا نازل ہونا، وہی عیسیٰ علیہ السلام جو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے، اور جن کے بارے میں یہود کا قتل کرنے اور سولی پر چڑھانے کا دعویٰ ہے، پس اس عقیدہ (نزول عیسیٰ علیہ السلام) پر ایمان لانا واجب ہے، اور یہ بات صحیح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت ملنا قطعاً باطل ہے۔ ہرگز نہیں ہو سکتا۔”
(کتاب الفصل ج ۱ ص ۷۷)
تو مرزا قادیانی کا نبی بننا تو محال، قطعی محال، اور ناممکن ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام چونکہ حیات ہیں، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ان کا تشریف لانا کسی طرح بھی محل اشکال نہیں۔
- (۶) مرزا غلام احمد قادیانی خود اپنی تحریر کے مطابق ”المسیح الکذاب“ تھا،
چنانچہ میرے متعدد رسائل میں یہ مضمون ذکر کیا گیا ہے کہ غلام احمد قادیانی نے مولانا عبدالحق غزنویؒ سے مباہلہ کیا، اور مباہلہ کے بعد مولانا کی زندگی میں مرگیا، جبکہ خود اس کی اپنی تحریر کے مطابق یہ جھوٹا ہونے کی علامت ہے (ملفوظات ص ۴۴۰، ۴۴۱ ج ۹)، تو جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے جھوٹا قرار دیدیا ہو، اس کے بارے میں سچائی کا احتمال کیسے ہو سکتا ہے؟
- (۷) یہ خیال کہ حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم سے فیض نہیں اٹھایا، بالکل غلط ہے، جیسا کہ میں اوپر عرض کرچکا ہوں، تمام کے تمام انبیائے کرام علیہم السلام حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی
ہیں‘ اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ملاقات بقید حیات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی‘ اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنا فیض حاصل کیا ہوگا‘ اور حق تعالیٰ شانہ کی جانب سے ایک لمحہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے ضروری علوم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو القا کر دیئے گئے‘ جیسا کہ حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو تمام اشیاء کے نام ایک لمحہ میں القا کر دیئے گئے تھے۔
- (۸) حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے‘
اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد وہ خود بھی‘ اور ان کی پوری قوم بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ماتحت ہوگئی‘ اس لئے ان کا آنحضرت صلی اللہ کے زمانے میں آنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اور نیابت کے لئے ہوگا‘ جس طرح کہ علما کرام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب ہیں‘ حضرت مسیح علیہ السلام اولوالعزم رسول ہونے کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب ہوں گے‘ مگر چونکہ ان کا دور نبوت ختم ہوچکا‘ اس لئے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے تابع ہوں گے‘ اور دین اسلام کی پیروی کریں گے۔
- (۹) آئین پاکستان کی ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کی ترمیم میں یہ کہا گیا ہے کہ جو شخص
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی مفہوم میں‘ یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے‘ یا کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے‘ وہ آئین اور قانون کے اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام جب تشریف لائیں گے تو نہ تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے
بعد نبوت کا دعویٰ کریں گے، نہ غلام احمد کی طرح اپنی نبوت کو منوائیں گے، کیونکہ مسلمان ان کی نبوت پر پہلے ہی ایمان رکھتے ہیں، اس لئے ان کی تشریف آوری آئین کی اس ترمیم کے خلاف نہیں ہو گی۔
حاصل یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی تشریف آوری پر ایمان رکھنا ہر مسلمان کا فرض ہے، اور کوئی جعلی مسیح یا جعلی عیسیٰ نہیں آئیں گے، بلکہ سیدنا المسیح عیسیٰ بن مریم علیہم الصلوۃ والسلام خود تشریف لائیں گے۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو صحیح ایمان کی توفیق عطا فرمائے۔
و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد و آلہ واصحابہ اجمعین۔
رفع ونزول عیسیٰؑ کے بارے میں
مرزا طاہر کی الٹی منطق
محترم ومکرم مدیر روزنامہ ”جنگ“ لندن السلام علیکم
عنایت ہوگی اگر آپ یہ استفسار علمائے کرام تک اپنے موقر جریدے کے ذریعہ سے پہنچادیں تاکہ وہ میری تشفی کر سکیں میں کل سے بہت پریشان ہوں کہ ایک عرصہ سے ان علمائے کرام کے کئے گئے قرآن کریم کے مطالب سے اندھیرے میں رہتے ہوئے ایک عجیب عقیدے پر ڈٹے ہوئے ہیں اور غور و فکر کی تکلیف نہیں کرتے۔
آج اتفاقاً میں نے اپنے ٹی وی پر M.T.A. ایم ٹی اے (مسلم ٹیلیویژن احمدیہ) کا پروگرام دیکھا جس میں الجیریا سے کسی صاحبہ نے ایک سوال کیا تھا جس کا جواب مرزا طاہر احمد نے نہایت تسلی بخش اور تفصیل سے دیا تھا۔ سوال یہ تھا کہ سورۃ مریم میں یہ جو آیت ہے واذکر فی الکتب ادریس انہ کان صدیقاً نبیا O و رفعنہ مکاناً علیا O(۵۷)“۔
یعنی قرآن کی رو سے ادریس کا بھی ذکر کر یقیناً ”وہ صدیق نبی تھا اور ہم نے اسے نہایت اعلیٰ مقام پر پہنچایا۔
میرا سوال علمائے کرام سے یہ ہے کہ وہ اس ضمن میں میری رہنمائی فرمائیں اور وضاحت کریں کہ یہی لفظ رفع والا حضرت عیسیٰ کے لئے استعمال ہوا ہے۔ یا تو حضرت ادریس بھی آسمان پر زندہ موجود ہیں یا پھر حضرت عیسیٰ بھی بقول قادیانی حضرات کے وفات پاچکے ہیں۔ میں قرآن کریم کا لفظی ترجمہ جانتی ہوں اور اس وقت سے بڑی الجھن میں ہوں کہ آج تک میں حضرت عیسیٰ کو زندہ آسمان پر کیسے سمجھتی رہی۔ برائے کرم اس سلسلہ میں میری رہنمائی فرمائیں، میں بہت پریشان ہوں۔
خاکسارہ ا۔ن۔خان
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمد للہ و سلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی‘ اما بعد :
محترمہ ہمشیرہ صاحبہ ! بعد از سلام مسنون گزارش ہے کہ آپ کا خط روزنامہ ”جنگ لندن“ کی وساطت سے موصول ہوا۔ بہت مسرت ہوئی کہ ہماری خواتین بھی دین کا ذوق رکھتی ہیں اور اگر کسی مسئلہ میں الجھن پیدا ہو تو علمائے کرام سے اس کی تشفی چاہتی ہیں۔ اس ضمن میں چند گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں، غور سے سنیں۔
- ۱۔ ہر شخص اکیلا پیدا ہوا ہے اور اس کو تنہا جانا ہے، اور ہر شخص کو اپنے
عقائد اور اعمال کا خود حساب دینا پڑے گا۔ اگر عقیدہ صحیح ہو تو نجات کی امید ہے، اور اگر عقیدہ صحیح نہ ہو تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے راندہ درگاہ الٰہی ہوگا۔
- ۲۔ صحیح عقائد وہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، صحابہؓ و
تابعینؒ سے اور ائمہ دینؒ و مجددینؒ سے نقل ہوتے ہوئے ہم تک پہنچے ہوں۔
- ۳۔ اس ناکارہ نے ایک رسالہ میں حیات عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے
عقیدہ پر اکابر امتؒ کی تصریحات جمع کی ہیں، اور یہ رسالہ میری کتاب ”تحفہ قادیانیت“ جلد سوم میں شامل ہے، اس میں تفصیل سے ذکر کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہؓ و تابعینؒ اور تمام اکابر امتؒ کا یہی عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام زندہ اٹھائے گئے ہیں اور آخری زمانے میں نازل ہوں گے، اور دجال لعین کو قتل کریں گے۔ یہی عقیدہ پہلے انبیا کرام علیہم السلام کا تھا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
الانبیا اخوۃ لعلات امہاتہم شتی و دینہم واحد وانا اولی الناس بعیسی بن مریم، لانہ لم یکن بینی وبینہ نبی، وانہ نازل، فاذا رایتموہ فاعرفوہ رجل مربوع، الی الحمرۃ والبیاض، علیہ ثوبان ممصران، راسہ یقطر وان لم یصبہ بلل، فیدق الصلیب، ویقتل الخنزیر، ویضع الجزیۃ، ویدعو الناس الی الاسلام، فتہلک فی زمانہا الملل کلہا الا الاسلام، وترتع الاسود مع الابل، والنمار مع البقر، والذیاب مع الغنم، وتلعب الصبیان بالحیات فلا تضرہم، فیمکث اربعین سنۃ ثم یتوفی ویصلی علیہ المسلمون۔
(ابوداؤد ص ۲۳۸ ج ۲، مسند احمد ص ۴۳۷ ج ۲، فتح الباری
ص ۴۹۳ ج ۶، حقیقۃ النبوۃ ص ۱۹۲ از مرزا محمود)
ترجمہ : ”یعنی انبیا علاتی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں، ان کی
مائیں تو مختلف ہوتی ہیں اور دین ایک ہوتا ہے، اور میں عیسیٰ بن مریم سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں، کیونکہ اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں، اور وہ نازل ہونے والا ہے، پس جب اسے دیکھو تو اسے پہچان لو، کہ وہ درمیانہ قامت، سرخی سفیدی ملا ہوا رنگ، زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے، اس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہوگا، گو سر پر پانی نہ ہی ڈالا ہو، اور وہ صلیب کو توڑے گا، اور خنزیر کو قتل کرے گا، اور جزیہ ترک کر دے گا، اور لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دے گا، اس کے زمانے میں سب مذاہب ہلاک ہو جائیں گے اور صرف اسلام رہ جائے گا، اور شیر اونٹوں کے ساتھ، اور چیتے گائے بیلوں کے ساتھ، اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے، اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے اور وہ ان کو نقصان نہ دیں گے۔ عیسیٰ بن مریم چالیس سال رہیں گے اور پھر فوت ہو جائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے“۔
(ترجمہ از مرزا محمود صاحب)
یہ حدیث صحیح ہے اور تمام محدثین کی مسلمہ ہے اس سے معلوم ہوا کہ تمام انبیا کرام کا عقیدہ ایک تھا، عقائد میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔
- ۴۔ آپ نے صحیح لکھا ہے کہ حضرت ادریس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے
بارے میں بھی ”ورفعنہ مکانا علیا“ فرمایا ہے، اور اسی بنا پر بہت سے علمائے امت ان کی حیات کے قائل ہیں، جیسا کہ شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ نے ”فتوحات مکیہ“ میں اس کی تصریح فرمائی ہے، لیکن عامہ علما ان کی حیات کے قائل نہیں، جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر تمام اکابر، جیسا کہ پہلے
میں لکھ چکا ہوں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے قائل تھے۔
۵۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اس آیت کے تحت میں لکھتے ہیں :
”یعنی قرب و عرفان کے بہت بلند مقام اور اونچی جگہ پر پہنچایا، بعض کہتے ہیں کہ حضرت مسیحؑ کی طرح وہ بھی زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور اب تک زندہ ہیں، بعض کا خیال ہے کہ آسمان پر لے جاکر روح قبض کی گئی، ان کے متعلق بہت سی اسرائیلیات مفسرین نے نقل کی ہیں ابن کثیرؒ نے ان پر تنقید کی ہے۔ واللہ اعلم۔“
(فوائد عثمانی بر حاشیہ ترجمہ شیخ الہندؒ)
اس فائدے سے تین باتیں معلوم ہوئیں :
اول : یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آسمان پر زندہ اٹھائے جانے، اور زندہ ہونے، اور قربِ قیامت میں ان کے نازل ہونے، اور زمین پر وفات پانے پر تمام اکابر امت، کا اجماع ہے، بخلاف حضرت ادریس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کہ ان کے زندہ اٹھائے جانے پر اجماع نہیں۔
دوم : حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا زندہ اٹھایا جانا قرآن میں منصوص ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ذکر فرمایا ہے، اور ان کا دوبارہ واپس آنا بھی قرآن میں منصوص ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر ان کے دوبارہ آنے کی پیش گوئی فرمائی ہے، اور اوپر بتا چکا ہوں کہ اس پر پوری امت کا اجماع ہے، بخلاف حضرت ادریس علیہ السلام کے کہ ان کے بلند مقام پر فائز ہونے کا قرآن کریم نے ذکر کیا ہے، جس سے بعض اکابر نے
رفع آسمانی سمجھا ہے، اور بعض نے رفع مکانی نہیں، بلکہ رفع مرتبت سمجھا ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور جمہور صحابہؓ نے ان کے رفع آسمانی کو ذکر نہیں فرمایا۔
سوم : یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رفع و نزول کے منکر کو کافر قرار دیا گیا ہے، کیونکہ ان کا رفع و نزول اجماعی و قطعی عقیدہ ہے، لیکن حضرت ادریس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اٹھائے جانے کا صرف احتمال ہے، اور ان کے نزول کا کوئی تذکرہ نہیں۔
علامہ عبدالحکیم سیالکوٹیؒ جو امام ربانی مجدد الف ثانیؒ کے ہمعصر ہیں، ”حاشیہ خیالی علی شرح عقائد“ میں لکھتے ہیں :
”انما اکتفی الشارح بذکر عیسی علیہ السلام لان حیاتہ و نزولہ الی الارض واستقرارہ علیہ قد ثبت باحادیث صحیحہ بحیث لم یبق فیہ شبہۃ ولم یختلف فیہ احد بخلاف ثلاثۃ۔“
(مجموعہ حواشی البہیہ ص ۳۴۰ جلد ۳)
ترجمہ : ”اور شارح نے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر کرنے پر اس لئے اکتفا فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا (آسمان پر) اور ان کا زمین پر نازل ہونا، اور ان کا زمین پر قیام کرنا احادیث صحیحہ سے اس قطعیت کے ساتھ ثابت ہے کہ اس پر کوئی ذرا سا شبہ بھی باقی نہیں رہا، اور اس میں کسی ایک نے بھی اختلاف نہیں کیا، بخلاف باقی تین حضرات کے (یعنی حضرت الیاسؑ، ادریسؑ اور خضر علیہم السلام کے) کہ ان کی حیات قطعیت سے ثابت نہیں، اور
اس پر اختلاف بھی ہے۔"
(مجموعہ حواشی البہیہ ص ۴۴۰ جلد ۳)
- ٦۔ گزشتہ بحث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ
والسلام کا آسمان پر اٹھایا جانا اور قرب قیامت میں نازل ہونا ایسا قطعی اور یقینی عقیدہ ہے کہ گزشتہ صدیوں میں کسی مسلمان کا اس میں اختلاف نہیں ہوا، لیکن حضرت ادریس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں یقین نہیں، تاہم اگر ان کے بارے میں کوئی عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ آسمان پر اٹھائے گئے، تو ہم اس کو گمراہ نہیں کہیں گے۔
لیکن مرزا طاہر نے امت اسلامیہ کے بالکل الٹ یہ نتیجہ اخذ کیا کہ حضرت ادریس علیہ الصلوٰۃ والسلام چونکہ آسمان پر نہیں گئے، لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی نہیں گئے۔ مرزا طاہر احمد صاحب آخر مرزا غلام احمد کے پوتے ہیں، وہ خود ایک زمانہ تک حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ رکھتے تھے، اس عقیدہ کو قرآن مجید کی آیات، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث، امت اسلامیہ کے اجماع و تواتر اور خود اپنے الہامات سے ثابت کرتے رہے، لیکن بعد ازاں اس عقیدہ کو کفر اور شرک قرار دیا، اور اس کو تحریف اور گپ کہنے لگے۔ جو حال دادے کا تھا وہی پوتے کا ہے۔ جس شخص کو اپنے لکھے ہوئے کا قرآن و احادیث کے حوالوں اور اپنے الہامات کا لحاظ نہ ہو اور وہ ان کو جھوٹ اور کفر کہے، اس کو کسی دوسرے کا لحاظ کیا ہو سکتا ہے؟ بہرحال مجھے بھی مرنا ہے، مرزا طاہر احمد صاحب کو بھی، اور آپ کو بھی، وہاں پہنچ کر ہر شخص کے سامنے حقیقت کھل جائے گی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم کو اور تمام مسلمانوں کو صراط مستقیم پر قائم رکھے۔ وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد و آلہ اجمعین
مسیح قادیاں کی عبرتناک ناکامی
اور اسلام کے بارے میں مرزائیوں کی دشنام طرازی
حال ہی میں لاہوری مرزائیوں کا شائع کردہ ایک پمفلٹ نظر سے گزرا، جس میں لاہوری مرزائیوں کے امیر اول مسٹر محمد علی صاحب ایم اے کے ”دو خطبے“ درج ہیں۔ یہ پمفلٹ غالباً ۱۹۳۸ء میں شائع ہوا تھا۔ اس کے دو اقتباس قارئین کی خدمت میں ہدیہ کرتا ہوں۔
- ۱۔ ”یورپ میں اسلام کے خلاف خوفناک تیاریاں“ کے زیر عنوان فرماتے ہیں:
”آج ایک صاحب کا خط آیا ہے، ان سے میری معمولی ملاقات ہے، جہاں تک یاد پڑتا ہے کسی چائے کی مجلس میں تعارف ہوا تھا، آج کل وہ حصول تعلیم کی غرض سے ولایت میں ہیں، وہیں سے انہوں نے یہ خط تحریر کیا ہے۔ اس میں لکھتے ہیں:
”اس عیسائی دنیا میں بحیثیت مذہب اسلام کو مٹا دینے کے لئے بہت اہتمام سے تیاریاں ہو رہی ہیں، بے شمار کتابیں اسلامی ممالک اور اسلامی معاشرت کے متعلق چھپ رہی ہیں، تاکہ عیسائی مبلغین کو ان ممالک میں عیسوی تبلیغ میں امداد دے سکیں، مسلمانوں کے عادات، خصائل، رسم و رواج، ان کے نقائص، ان کی خوبیاں سب کچھ عیسائی پادری کی معلومات کا حصہ بن رہی ہیں، اس کے علاوہ تقریباً ہر یونیورسٹی
میں ایک عالم و فاضل پروفیسر آف اسلامکس مقرر ہے، جو عام طور پر پادری یا یہودی ہوتا ہے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے علیحدہ علیحدہ مشن ہیں، جو ایشیا اور افریقہ میں نہایت کامیاب کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بے شمار پادری اور دوسرے عیسائی عربی زبان کی تعلیم حاصل کرتے رہتے ہیں، اور عربی کے فاضل انگلستان میں افغانستان یا ایران سے زیادہ ہوں گے، اور یہ سب اہتمام تخریب اسلام پر صرف ہو رہے ہیں۔“
مسٹر محمد علی کا یہ اقتباس قادیانیوں کے لئے عبرت کا مرقع اور قادیان کے نام نہاد مسیح کی ناکامی پر زبردست شہادت ہے، قادیانی مسیح ۱۹۰۸ء میں مر چکا تھا، لیکن اس کا دجال اس کے تیس سال بعد ۱۹۳۸ء میں بھی، بقول مسٹر محمد علی کے ”افریقہ اور ایشیا میں نہایت کامیاب کام کر رہا تھا“، اور اس کا یہ ”سب اہتمام تخریب اسلام پر صرف ہو رہا تھا۔“
- ۲- ”چند قابل غور اعداد و شمار“ کے عنوان کے تحت فرماتے ہیں:
”ہم میں سے بعض لوگ اٹھتے ہیں اور کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ یورپ مذہب سے بے زار ہو چکا ہے، اس لئے اس کے سامنے مذہب کو، قرآن کو پیش کرنا مفید نہیں ہو سکتا، اب یورپ کے لوگ مذہبی باتوں کو سننے کے لئے تیار نہیں، لیکن ایسا کہنے والے یہ نہیں سوچتے کہ اگر یورپ مذہب سے بیزار ہو چکا ہے تو اس کا قدم اپنی مذہبی کتاب یعنی بائبل کی اشاعت میں اس قدر آگے کیوں بڑھ رہا ہے؟ ذرا غور کیجئے کہ ۱۸۹۲ء تک بائبل کا ترجمہ دنیا کی تین سو مختلف زبانوں میں ہو چکا تھا، ۱۹۰۶ء میں یعنی چودہ سال بعد ایک سو زبانوں کا اور اضافہ ہو گیا، (پھر)
۱۹۱۷ء میں یعنی اور گیارہ سال بعد یہ تعداد پانچ سو تک پہنچ گئی، ۱۹۲۸ء میں، یعنی اور گیارہ سال بعد چھ سو زبانوں میں ان لوگوں نے بائبل کا ترجمہ کردیا، اور اس کے بعد ۱۹۲۸ء سے ۱۹۳۷ء یعنی ۹ سال کے عرصے میں یہ تعداد ۷۱۲ مزید زبانوں تک پہنچ گئی، گویا آخری نو سالوں میں ۱۱۲ مزید زبانوں میں بائبل کے ترجمے ہوگئے۔"
(ص۲۲‘۲۳)
دیکھا مرزا غلام احمد کی ”کسر صلیب“ کا کرشمہ! ۱۸۹۱ء میں جب کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ مجددیت کو بارہ تیرہ سال گزر چکے تھے، مرزا نے مسیح موعود بن کر بزعم خود عیسائیت کو پاش پاش کرنا شروع کیا، صلیب کو توڑ ڈالا، دجال کو قتل کر ڈالا، مگر مرزا قادیانی کے دور میں ۷ے۱۹۳ء تک سات سو بارہ زبانوں میں بائبل کے ترجمے ہوئے، اور مرزا صاحب کی مسیحیت اپنے قتل شدہ دجال اور ٹوٹی ہوئی صلیب کے ساتھ ان خوفناک کارناموں کا منہ تکتی رہی۔
اور یہ تو بائبل کی اشاعت میں ترقی کا نقشہ مسٹر محمد علی نے کھینچا ہے، خود عیسائیت کو مرزا قادیانی کی مسیحیت کی بدولت کتنی ترقی ہوئی، اس کے لئے یورپ، افریقہ اور ایشیا، بلکہ برصغیر پاک و ہند کے اعداد و شمار جمع کرنے کی بھی ضرورت نہیں، بلکہ قادیان کے ضلع گورداسپور کی عیسائی مردم شماری کا نقشہ دیکھ لینا کافی عبرت آموز ہے۔ وھو
ھذا: سال عیسائیوں کی آبادی ۱۸۹۱ء ۲۴۰۰ ۱۹۰۱ء ۴۴۷۱ ۱۹۱۱ء ۲۳۳۶۵
۱۹۲۱ء ۳۲۸۳۲ ۱۹۳۱ء ۴۴۲۳۳
گویا جب سے مرزائیت نے جنم لیا ہے، عیسائیت روز افزوں ترقی کر رہی ہے، اس قلیل عرصہ میں صرف قادیان کے اپنے ضلع گورداسپور میں عیسائی اٹھارہ گنا بڑھ گئے۔ جب تک مرزا صاحب صرف مجدد تھے، انہوں نے اپنے ضلع میں چوبیس سو عیسائی بنائے، جب مسیح موعود بن گئے، تو دس سال کے عرصہ میں اکیس سو مزید عیسائیوں کا اضافہ ہوا، اور جب وہ اس سے بھی ترقی کر کے ”ظل نبی“ بنے، تو عیسائیت نے دس سال کے عرصہ میں سینکڑوں کی بجائے ہزاروں کے اعتبار سے ترقی شروع کردی۔ قادیانی نبوت کی پہلی دہائی میں بیس ہزار، دوسری میں ۹ ہزار اور تیسری میں گیارہ ہزار عیسائیوں کا اضافہ مسیح موعود کے اپنے ضلع میں ہوا۔ عبرت! عبرت!! عبرت!!!
اب ناظرین مرزا قادیانی کے مندرجہ ذیل الفاظ غور سے پڑھیں اور مندرجہ اعداد و شمار کی روشنی میں خود فیصلہ کریں؟
”میرا کام، جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں، یہ ہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں، اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کر دوں، پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں، اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں، پس مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے؟ وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتے؟ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا، جو مسیح موعود اور
مہدی موعود کو کرنا چاہئے تھا‘ تو پھر میں سچا ہوں....... اور اگر کچھ نہ ہوا‘ اور میں مرگیا تو پھر سب لوگ گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“
(اخبار ”بدر“ ج ۲ نمبر ۲۹ مورخہ ۱۹ جولائی ۱۹۰۶ء ص ۴)
(”الہدیٰ“ نمبر ۱ ص ۴۳ بحوالہ قادیانی مذہب‘ جدید ایڈیشن ص ۴۵۱)
مرزا صاحب ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو وبائی ہیضہ سے مرگئے‘ مگر عیسائیت کی ترقی ان سے نہ رک سکی‘ اس لئے مرزا صاحب کی وصیت کے مطابق‘ سب لوگ گواہ رہیں کہ مرزا جھوٹا تھا۔
آپ شاید سوال کریں گے‘ پھر مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کی غرض و غایت کیا تھی؟ اس کا جواب یہ ہے: اسلام کو گالیاں دینا‘ مسلمانوں کو کافر بنانا‘ انگریزوں کے لئے جاسوسی کرنا‘ اور عیسائیوں کے اصول تسلیم کر کے عیسائیت کی مدد کرنا۔
اس اجمال کی تفصیل کبھی پھر عرض کی جائے گی‘ سردست یہ سن لیجئے کہ مرزا قادیانی نے اپنی امت کو اسلام کے خلاف زہر اگلنے اور اسے مغلظات سنانے کی کیسی مشق کرائی تھی۔ راقم الحروف نے لاہوری مرزائیوں کے ایک اہم رکن جناب ڈاکٹر اللہ بخش صاحب چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ”پیغام صلح“ لاہور کو اسلام کی دعوت دی تھی‘ اور دلائل کے ساتھ مرزا غلام احمد کی مسیحیت کا غلط ہونا ثابت کیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب میرے دلائل سے ایسے مبہوت ہوئے کہ انہوں نے نفاق کا لبادہ اتار کر اسلام ہی سے برات کا اظہار و اعلان کر دیا‘ وہ مجھے مخاطب کر کے لکھتے ہیں:
”آپ مجھے یہ دعوت دیتے ہیں کہ میں جمہور مسلمانوں کی راہ پر آؤں‘ تو سوال یہ ہے کہ وہ کونسی صورت اور شکل اسلام کی ہے‘ جو میں اختیار کروں‘ کیونکہ اس وقت تہتر فرقے موجود ہیں‘ اور ہر
فرقہ اپنے آپ کو ناجی کہتا ہے‘ (یہ تو مرزا صاحب سے پہلے بھی موجود تھے‘ کیا اس وقت بھی لوگوں کو اسلام چھوڑ دینا چاہئے تھا؟ ........ راقم) میرے دوست! آپ مجھے کس اسلام کی طرف بلانا چاہتے ہیں؟ وہ اسلام جس میں کوئی حرکت و طاقت باقی نہیں رہی‘ وہ اسلام جو علم و سائنس کے زمانے میں کوئی ہوشمند انسان قبول نہیں کر سکتا‘ وہ اسلام جو صرف رسم و رواج اور لفظ پرستی‘ ظاہر پرستی کا مجموعہ‘ حقیقت سے خالی اور روح سے مردہ ہو چکا ہے۔"
(پیغام صلح ۴ اگست ۱۹۷۶ء صفحہ ۱۲)
سن لیا آپ نے! مرزائیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد کے مسیح موعود بننے کی بدولت اب اسلام میں کوئی حرکت و طاقت باقی نہیں رہی‘ وہ حقیقت سے خالی‘ روح سے عاری اور مردہ ہو چکا ہے‘ اور کوئی ہوش مند مرزائی علم و سائنس کے زمانے میں اسلام قبول نہیں کر سکتا۔ یہ تو امت مرزائیہ کے ایک اہم رکن کی اسلام کے بارے میں رائے تھی‘ اب امت مرزائیہ کے قادیانی نبی کی رائے اسلام کے بارے میں سنئے! اسلام کا عقیدہ ہے کہ وحی نبوت حضرت خاتم النبیین ﷺ کے بعد بند ہو چکی ہے۔ مرزا قادیانی اس عقیدہ پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتا ہے:
"وہ دین‘ دین نہیں ہے‘ اور نہ وہ نبی نبی ہے‘ جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا کہ مکالمات الہیہ سے مشرف ہو سکے (یعنی نبی بن سکے)۔ وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے‘ جو صرف یہ سکھاتا ہے کہ چند منقولی باتوں پر (یعنی قرآن و حدیث پر) انسانی ترقیات کا انحصار ہے‘ اور وحی الہی آگے نہیں
بلکہ پیچھے رہ گئی ہے........ سو ایسا دین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں، شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۳۸، روحانی خزائن ص ۳۰۶ ج ۲۱)
اسی سلسلہ میں دوسری جگہ لکھتا ہے:
”اور اگر یہ کہا جائے کہ اس امت پر قیامت تک دروازہ مکالمہ، مخاطبہ اور وحی الٰہی کا بند ہے، تو پھر اس صورت میں کوئی امتی نبی کیونکر کہلا سکتا ہے؟ کیونکہ نبی کے لئے ضروری ہے کہ خدا اس سے ہمکلام ہو، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس امت پر یہ دروازہ ہرگز بند نہیں ہے، اور اگر اس امت پر یہ دروازہ بند ہو تا تو یہ امت ایک مردہ امت ہوتی، اور خدا تعالیٰ سے دور اور مہجور ہوتی۔“
”اور آنحضرت ﷺ کو جو خاتم الانبیا فرمایا گیا ہے، اس کے یہ معنی نہیں کہ آپ کے بعد دروازہ مکالمات و مخاطبات الٰہیہ کا بند ہے، اگر یہ معنی ہوتے تو یہ امت ایک لعنتی امت ہوتی، جو شیطان کی طرح ہمیشہ سے خدا تعالیٰ سے دور و مہجور ہوتی۔“
” ایسا نبی (یعنی محمد رسول اللہ ﷺ) کیا عزت، اور کیا مرتبت، اور کیا تاثیر، اور کیا قوت قدسیہ اپنی ذات میں رکھتا ہے، جس کی پیروی کے دعویٰ کرنے والے صرف اندھے اور نابینا ہوں، اور خدا تعالیٰ اپنے مکالمات و مخاطبات سے ان کی آنکھیں نہ کھولے، یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے وحی الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا
ہے، اور آئندہ کو قیامت تک اس کی بھی کوئی امید نہیں، صرف قصوں کی (یعنی قرآن و حدیث کی) پوجا کرو، پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہو سکتا ہے؟ جس میں براہ راست خدا تعالیٰ کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا، جو کچھ ہیں قصے ہیں۔"
"میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانے میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہوگا، میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں، نہ کہ رحمانی، اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ایسا مذہب جہنم کی طرف لے جاتا ہے، اور اندھا رکھتا ہے، اور اندھا ہی مارتا، اور اندھا ہی قبر میں لے جاتا ہے، مگر میں ساتھ ہی خدائے کریم و رحیم کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اسلام ایسا مذہب نہیں ہے، بلکہ دنیا میں صرف اسلام ہی یہ خوبی اپنے اندر رکھتا ہے کہ وہ بشرط سچی اور کامل اتباع ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت ﷺ کے مکالمات الہیہ سے مشرف ہو سکتا ہے۔"
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ۵ ص ۱۸۲‘ ۱۸۳، روحانی خزائن ص ۳۵۳‘ ۳۵۴ ج ۲۱)
مرزا قادیانی کی ان تحریروں کا لب لباب یہ ہے کہ یا تو مجھے نبی مانو، اور تسلیم کرو کہ مجھ پر بھی قرآن کریم جیسی قطعی وحی نازل ہوتی ہے، ورنہ اسلام شیطانی مذہب ہے، لعنتی اور قابل نفرت دین ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت باطل، اور آپ کی تمام امت اندھی ہے، اور قرآن و حدیث محض پرانے قصے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اور چونکہ اس امت میں مرزا غلام احمد قادیانی کے سوا کوئی ایسا شخص نہیں ہوا، جس کو مرزا قادیانی کے نزدیک نبوت کا منصب عطا کیا گیا ہو، چنانچہ وہ لکھتا ہے:
”اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے‘ اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں‘ تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔ اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔
غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں‘ اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں‘ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا‘ اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں‘ کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے‘ اور وہ شرط ان میں نہیں پائی جاتی۔“
(حقیقت الوحی ص ۳۹۱‘ روحانی خزائن ص ۴۰۶‘ ۴۰۷ ج ۲۲)
یعنی تیرہ سو برس تک تو اسلام نے کسی کو نبی نہیں بنایا‘ اور نہ آنحضرت ﷺ کی کامل پیروی کی برکت سے کوئی شخص اس منصب تک پہنچا‘ اس لئے تیرہ صدیوں تک تو اسلام‘ بقول مرزا قادیانی کے‘ لعنتی اور قابل نفرت مذہب رہا‘ آنحضرت ﷺ قوت قدسیہ سے محروم رہے‘ اور تیرہ صدیوں کے تمام مسلمان اندھے رہے‘ صرف قصے کہانیوں کی پوجا کرتے رہے........ اب اگر مرزا کی نبوت و مسیحیت تسلیم کر لی جائے‘ تب تو اسلام زندہ مذہب کہلائے گا‘ اور آنحضرت ﷺ بھی نبی ہوں گے‘ اور اگر مرزا کو نہ مانا جائے‘ اس کی وحی پر
ایمان نہ لایا جائے‘ تو نہ دین‘ دین ہے‘ نہ نبی‘ نبی ہے‘ بلکہ ایسا دین لعنتی اور قابل نفرت ہے‘ شیطانی ہے‘ مردہ ہے‘ قصے کہانیوں کا پرستار ہے۔ نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ۔
یہ تھا مرزا کے دعویٰ مسیحیت و نبوت کا اصل مدعا......... اسلام کو ایسی ناپاک گالیاں صرف قادیان کا مسیح‘ اور اس کی ذریت ہی دے سکتی ہے‘ کسی عیسائی‘ یہودی‘ ہندو‘ سکھ یا کسی کافر سے یہ کارنامہ کب انجام دیا جاسکتا تھا؟ لطیفہ یہ ہے کہ مرزا صاحب کے بعد اس کی امت میں سے بھی کوئی نبی ہوا؟ جو مکالمہ الہیہ سے مشرف ہو کر براہ راست خدا تعالیٰ کا پتہ لگائے‘ اور صرف مرزا کے قصے کہانیوں کی پوجا نہ کرے‘ اس لئے مرزا قادیانی کی تحریر کے مطابق اب اس کا مذہب بھی لعنتی اور قابل نفرت ہے‘ اس کی امت بھی اندھی ہے‘ اندھی مرے گی‘ اور سیدھی جہنم میں جائے گی‘ کیا کوئی مرزائی اس عقدہ کو حل کرے گا....؟
و آخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد و آلہ واصحابہ اجمعین۔
معیار صداقت
اور
مرزا غلام احمد قادیانی
عرض کیا جا چکا ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی خود اپنے مقرر کردہ معیار ”لو تقول“ پر مفتری ثابت ہوئے‘ کیونکہ جناب مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان کی تحقیق کے مطابق :
”نبوت کا مسئلہ آپ پر ۱۹۰۰ء یا ۱۹۰۱ء میں کھلا۔“....
”۱۹۰۱ء میں آپ نے اپنے عقیدہ میں تبدیلی کی ہے۔“....
”۱۹۰۱ء سے پہلے کے وہ حوالے‘ جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے‘ اب منسوخ ہیں‘ اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ۱۲۱)
”۱۹۰۱ء سے پہلے .... جو تعریف نبی کی آپ پہلے خیال فرماتے تھے اس کے مطابق آپ نبی نہ بنتے تھے۔“
”۱۹۰۱ء سے پہلے .... آپ اپنے آپ کو نبی کہنے سے پرہیز کرتے تھے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ۱۲۲)
۱۹۰۱ء میں مرزا صاحب پر نبوت کا مسئلہ کھلا‘ اور انہوں نے اپنے عقیدہ میں تبدیلی کر کے اپنی نبوت کا اعلان بڑے زور و شور سے کیا‘ اور ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو
بمرض وبائی ہیضہ مرزا صاحب کوچ کرگئے (حیات ناصر ص ۱۴)‘ اس طرح ان کی یہ بات خود ان پر صادق آئی (بین القوسین کے تشریحی الفاظ ناقل کی جانب سے ہیں) :
”خدا کی ساری پاک کتابیں گواہی دیتی ہیں کہ مفتری (مرزا صاحب کی طرح) جلد ہلاک کیا جاتا ہے۔ اس کو وہ عمر ہرگز نہیں ملتی‘ جو صادق کو مل سکتی ہے۔ تمام صادقوں کا بادشاہ ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ اس کو وحی پانے کے لئے تئیس برس کی عمر ملی۔ یہ عمر قیامت تک صادقوں کا پیمانہ ہے۔“
(ضمیمہ اربعین ۳، ۴ صفحہ اول‘ روحانی خزائن ج ۱۷ ص ۴۶۸)
اور مرزا صاحب کو مندرجہ ذیل خصوصی انعام‘ جو انہیں خاص طور سے من جانب اللہ عطا ہوا‘ اور ان کی امت کو بھی اس میں سے حصہ رسدی ملا‘ یہ تھا :
”اور ہزاروں لعنتیں خدا کی‘ اور فرشتوں کی‘ اور خدا کے پاک بندوں کی اس شخص پر ہیں‘ جو اس پاک پیمانہ میں کسی خبیث مفتری کو (مثلاً مرزا صاحب کو) شریک سمجھتا ہے‘ اگر قرآن کریم میں آیت لو تقول بھی نازل نہ ہوتی‘ اور اگر خدا کے تمام پاک نبیوں نے نہ فرمایا ہوتا کہ صادقوں کا پیمانہ عمر وحی پانے کا کاذب کو نہیں ملتا‘ تب بھی ایک سچے مسلمان کی وہ محبت جو اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونی چاہئے‘ کبھی اس کو اجازت نہ دیتی کہ وہ یہ بے باکی اور بے ادبی کا کلمہ مونہہ پر لاسکتا کہ یہ پیمانہ وحی
نبوت یعنی تئیس برس جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا‘ یہ کاذب کو (مثلاً ”مرزا صاحب کو) بھی مل سکتا ہے۔“
(ضمیمہ اربعین ص ۳ و ۴ ص ۲۱‘ روحانی خزائن ج ۱۷ ص ۴۶۸‘۴۶۹)
اور مرزا صاحب کا یہ احتجاج بھی ان کی امت پر حرف بہ حرف راست آیا:
”جس حالت میں قرآن شریف نے صاف لفظوں میں فرما دیا کہ اگر یہ نبی کاذب ہوتا تو یہ پیمانہ عمر وحی پانے کا اس کو عطا نہ ہوتا (بلکہ مرزا غلام احمد کی طرح اعلان نبوت کے سات سال بعد وبائی ہیضہ سے مرجاتا۔ ناقل) اور توریت نے بھی یہی گواہی دی‘ اور انجیل نے بھی یہی‘ تو پھر (مرزائیوں کا) کیسا اسلام اور کیسی مسلمانی ہے کہ ان تمام گواہیوں کو صرف میرے بغض کے لئے ایک ردی چیز کی طرح پھینک دیا گیا اور (مرزائیوں نے) خدا کے پاک قول کا کچھ بھی لحاظ نہ کیا۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ (مرزائیوں کی) کیسی ایمانداری ہے کہ ہر ایک ثبوت جو (مرزا صاحب کے مفتری ہونے پر) پیش کیا جاتا ہے‘ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔“
(ضمیمہ اربعین ۳ و ۴ ص ۲‘ روحانی خزائن ج ۱۷ ص ۴۶۹)
مرزا صاحب نے صادقوں کا جو پیمانہ وضع کیا تھا (یعنی ۲۳ برس)‘ اس پر خود تو پورے نہیں اترے‘ اے کاش کہ ان کا یہ پیمانہ ہی صحیح ہوتا‘ لیکن مرزا صاحب کی کتابوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دعویٰ نبوت کی طرح ان کا یہ مصنوعی پیمانہ بھی غلط اور سراسر خوش فہمی تھا‘ کیونکہ اگر ۲۳ برس کی مہلت پانا ”صادقوں کا پیمانہ“ ہے‘ اور بقول مرزا صاحب کے جھوٹے کی یہی
نشانی ہے کہ اسے اس قدر مہلت نہیں ملتی، اس کے معنی یہ ہوئے کہ جن انبیائے کرام کو اس قدر مہلت نہیں ملی، وہ مرزا صاحب کے نزدیک ”صادقوں کے پیمانہ“ پر پورے نہیں اترے، لہٰذا مفتری ثابت ہوئے، اس کے برعکس جن جھوٹے مدعیان وحی و الہام کو ۲۳ برس کی مہلت ملی، وہ صادقوں کے پیمانہ پر پورے اترے، لہٰذا ان پر ایمان لانا فرض ہوا۔ انصاف فرمائیے! کیا یہ معیار صحیح ہے؟
پھر لطیفہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک یہ مصنوعی پیمانہ ربڑ کی طرح گھٹ بڑھ بھی سکتا ہے، ذیل میں ان کی تصریحات ملاحظہ فرمائیے :
- ۱۔ غیر معین
”خدا کی ساری پاک کتابیں گواہی دیتی ہیں کہ مفتری جلد ہلاک کیا جاتا ہے (کتنی مدت میں؟ اس کی کچھ خبر نہیں۔ ناقل)۔“
(ضمیمہ اربعین ۳ و ۴ ص ۱، روحانی خزائن ج ۱۷ ص ۴۶۸)
- ۲۔ جلد ہلاک
”اور خدا تعالیٰ خود قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ میں مفتری کو مدد نہیں دیتا، اور وہ جلد ہلاک کیا جاتا ہے، اور اس کی جماعت متفرق کی جاتی ہے (یہ کس آیت کا ترجمہ ہے؟ ناقل)۔“
(شہادۃ القرآن ص ۷۵، روحانی خزائن ج ۶ ص ۳۷۱)
- ۳۔ فی الفور
”قرآن شریف میں ایسے شخص سے کسی قدر بیزاری ظاہر کی
ہے، جو خدا تعالیٰ پر افترا باندھے (مرزا صاحب کی طرح؟) یہاں تک کہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا ہے کہ اگر وہ بعض قول میرے پر افترا کرتا تو میں فی الفور پکڑ لیتا، اور رگ جان کاٹ دیتا۔‘‘
(انجام آتھم ص ۴۹، روحانی خزائن ج ۱۱ ص ۴۹)
۴۔ دست بدست
’’قرآن شریف کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا مفتری اسی دنیا میں (مرزا صاحب کی طرح) دست بدست سزا پالیتا ہے، اور خدائے قادر و غیور کبھی اس کو امن میں نہیں چھوڑتا، اور اس کی غیرت اس کو کچل ڈالتی ہے، اور جلد ہلاک کرتی ہے۔‘‘
(انجام آتھم ص ۴۹، روحانی خزائن ج ۱۱ ص ۴۹)
۵۔ دس۔ گیارہ
’’اب بفضلہ تعالیٰ گیارھواں برس جاتا ہے، کیا یہ نشان نہیں ہے؟ (یقیناً ’’نشان کذب ہے۔ ناقل) اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ کاروبار نہ ہوتا تو کیونکر عشرہ کاملہ تک، جو ایک حصہ عمر کا ہے، ٹھہر سکتا ہے؟‘‘
(نشان آسمانی ص ۳۷، روحانی خزائن ج ۴ ص ۳۹۷)
۶۔ بارہ برس
’’اور پھر تعجب پر تعجب یہ کہ خدا تعالیٰ ایسے ظالم مفتری کو اتنی لمبی مہلت بھی دیدے، جسے آج تک بارہ برس گزر چکے ہوں۔‘‘
(شہادۃ القرآن ص ۷۵، روحانی خزائن ج ۶ ص ۳۷۱)
- ۷- اٹھارہ یا پچیس برس
"جو شخص خدا تعالیٰ پر الہام کا افترا کرتا ہے .... وہ جلد پکڑا جاتا ہے (مرزا غلام احمد کی طرح) ، اور اس کی عمر کے دن بہت تھوڑے ہوتے ہیں .... کوئی منکر کسی تاریخ کے حوالہ سے ایک نظیر بھی پیش نہیں کرسکتا .... کہ کوئی جھوٹا الہام کا دعویٰ کرنے والا پچیس برس تک یا اٹھارہ برس تک جھوٹے الہام دنیا میں پھیلاتا رہا ۔"
(ایام صلح ص ۳۷‘ روحانی خزائن ج ۱۴ ص ۲۶۷‘ ۲۶۸)
- ۸- بیس برس
"میرے دعویٰ الہام پر پورے بیس برس گزر گئے، اور مفتری کو اس قدر مہلت نہیں دی جاتی ۔"
(انجام آتھم ص ۴۹‘ روحانی خزائن ج ۱۱ ص ۴۹)
- ۹- تئیس برس
"تئیس برس کی عمر ملی، یہ عمر قیامت تک صادقوں کا پیمانہ ہے۔"
(ضمیمہ اربعین ۳ و ۴ ص ۱‘ روحانی خزائن ج ۱۷ ص ۴۶۸)
- ۱۰- پچیس برس
"کیا کسی کو یاد ہے کہ کاذب اور مفتری کو افتراؤں کے دن سے پچیس برس تک مہلت دی گئی ؟ "
(سراج منیر ص ۲‘ روحانی خزائن ج ۱۲ ص ۴)
- ۱۱۔ تیس برس
”یہ لوگ باوجود مولوی کہلانے کے یہ کہتے ہیں کہ ایک خدا پر افترا کرنے والا .... تیس سال تک بھی زندہ رہ سکتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ۲۰۶‘ روحانی خزائن ج ۲۲ ص ۲۱۵)
کیا مرزا صاحب کا یہی خدائی پیمانہ ہے؟ جو جلد‘ فی الفور‘ دست بدست سے شروع ہوتا ہے‘ اور دس‘ گیارہ‘ بارہ‘ چودہ‘ سولہ‘ اٹھارہ‘ بیس‘ تئیس‘ پچیس برس کی وسعتوں کو پھلانگتے ہوئے تیس برس تک پہنچ جاتا ہے۔ ان کے اس ملمع شدہ مصنوعی پیمانہ کو دیکھنے والا کیا یہی نہیں کہے گا کہ:
”یہ تو صریح اجتماع ضدین ہے‘ اور کوئی دانشمند اور قائم الحواس آدمی ایسے دو متضاد اعتقاد ہرگز نہیں رکھ سکتا۔“
(ازالہ اوہام حصہ اول ص ۲۳۹‘ روحانی خزائن ج ۳ ص ۲۲۰)
انصاف فرمائیے! اگر ۲۳ برس کی مہلت ”صادقوں کا پیمانہ“ تھا تو مرزا صاحب نے اس سے کم و بیش مدت کو معیار کے طور پر کیوں پیش کیا؟
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد و آلہ واصحابہ اجمعین۔
قادیانی مسئلہ آئینی ترمیم کے بعد
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ وکفی و سلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ‘ اما بعد:
اخبارات میں چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے مشیر جناب لیفٹیننٹ جنرل فیض علی چشتی کا ایک بیان شائع ہوا ہے، جس میں یہ صراحت کی گئی ہے کہ : ”پاکستان بنیادی طور پر اسلام کے لئے اور خاص مسلمانوں کے لئے معرض وجود میں آیا تھا اس لئے یہاں کسی غیر مسلم اقلیت کو عام تبلیغ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ وہ اپنے عقیدہ کے مطابق عبادت کر سکتے ہیں، لیکن وہ مسلمانوں میں اسلام کے خلاف کسی دوسرے مذہب کی کھلے بندوں تبلیغ نہیں کرسکتے۔“
اس ضمن میں موصوف نے یہ انکشاف بھی فرمایا ہے کہ ۱۹۷۲ء کی مردم شماری کے مطابق دس سال کے عرصہ میں قادیانیوں کی مردم شماری میں دس فیصد کا اضافہ ہو گیا ہے۔ موصوف کے اس بیان پر معاصر عزیز ”نوائے وقت لاہور“ لکھتا ہے :
قادیانی مسئلہ آئینی ترمیم کے بعد
” چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے مشیر امور کشمیر لیفٹیننٹ
جنرل ایف اے چشتی نے کوٹلی (آزاد کشمیر) کی بار ایسوسی ایشن کے ارکان سے بات چیت میں یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر قائم کیا گیا تھا، اس لئے یہاں کسی بھی دوسرے مذہب یا عقیدے کے پرچار کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ موصوف کا یہ بیان ایک بنیادی اور مسلمہ اصول کے اظہار کے ضمن میں آتا ہے، اور دنیا بھر میں نظریاتی مملکتوں کا یہی معمول ہے کہ ان کے اساسی نظریہ سے متصادم و منحرف دینی عقائد یا سیاسی افکار کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کی اجازت نہیں دی جاتی۔ البتہ اس ضمن میں انہوں نے بار ایسوسی ایشن کے ایک قادیانی رکن کے سوال پر ۱۹۷۲ء کی مردم شماری کے حوالے سے جو انکشاف کیا ہے وہ صرف حکمرانوں کے لئے ہی نہیں، علمائے کرام کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ اس مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق ۱۹۶۱ء کے بعد دس سال کے عرصے میں قادیانیوں کی آبادی میں دس فیصد اضافہ ہو گیا۔
اب یہ کہنا تو مشکل ہے کہ اس مردم شماری کے اعداد و شمار اور کوائف (جس میں سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر کراچی کی آبادی اصل کے مقابلہ میں ۲۵ ۳۰ فیصد کم دکھائی گئی تھی، اور پنجاب کی آبادی میں بھی اضافے کے بجائے کمی دکھائی گئی تھی) کس حد تک مستند اور قابل اعتبار ہیں، لیکن قادیانیوں کے متعلق ستمبر ۱۹۷۴ء میں آئینی ترمیم کے مطابق قانون یعنی ضابطہ تعزیرات میں بھی تبدیلی کردی جاتی تو آج وہ صورت حال ہرگز نہ ہوتی جسے جنرل چشتی
نے افسوسناک قرار دیا ہے۔ اس آئینی ترمیم کے بعد شناختی کارڈوں، رجسٹریشن وغیرہ کے حلف ناموں میں تو اس کے مطابق تبدیلی کردی گئی ہے۔ لیکن ضابطہ تعزیرات میں ترمیم نہ ہونے کے باعث قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مقصد تشنہ تکمیل چلا آرہا ہے۔
اس آئینی ترمیم کی روشنی میں کچھ عرصہ بعد ضابطہ تعزیرات میں بھی ضروری تبدیلی کے لئے ایک مسودہ قانون قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا تھا، لیکن پیپلز پارٹی کی سیاسی، خاص طور پر انتخابی مصلحتوں نے اسے ناتمام رہنے دیا تھا۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ اپنے متعلق آئینی ترمیم کی وجہ سے قادیانی، مسٹر بھٹو اور پیپلز پارٹی سے خوش نہیں رہے تھے، لیکن مارچ ۱۹۷۷ء کے محولہ انتخابات میں بھی ان کی ساری ہمدردیاں بوجوہ پیپلز پارٹی کے لئے وقف تھیں۔ اب آئندہ انتخابات کے لئے نئی انتخابی فہرستیں تیار ہونے والی ہیں۔ لیکن قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا اقدام صرف اس وقت اپنے منطقی تقاضے پورے کرسکے گا جب آئینی ترمیم کی روشنی میں ضابطہ تعزیرات میں بھی ترمیم کر دی جائے گی، تاکہ کوئی بھی قادیانی مسلمان ووٹروں کی فہرست میں اپنا نام نہ لکھا سکے اور اگر لکھانے کی کوشش کرے تو قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار پائے۔" ۔ (نوائے وقت لاہور "۱۹ جمادی الاخری ۱۳۹۸ھ' ۲۷ مئی ۱۹۷۸ء)
اس ضمن میں ہم جناب جنرل فیض علی چشتی اور دیگر ارباب حل و عقد کی توجہ
چند امور کی جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں۔
- ۱:۔ قادیانی صاحبان اپنی مردم شماری کے بیان کرنے میں مبالغے کی حد تک غلط بیانی
کے عادی ہیں، چنانچہ ذیل میں اس کا مختصر سا خاکہ پیش کیا جاتا ہے۔
- (الف) مرزا غلام احمد قادیانی کا دعوی تھا کہ ان کے مرید تقریباً "چار لاکھ
انسان ہیں۔
(تتمہ حقیقت الوحی ۱۷، روحانی خزائن ج ۲۲ ص ۵۵۳)
- (ب) ۱۹۲۲ء میں مرزا محمود قادیانی کا دعوی تھا کہ ان کی جماعت چار پانچ لاکھ
ہے۔
(الفضل ۲۶۔۲۹ جون ۱۹۲۲ء)
- (ج) "اخبار مباہلہ" کے مقدمہ میں قادیانی گواہوں نے قادیانیوں کی تعداد
دس لاکھ بیان کی۔
- (د) ۱۹۲۰ء میں "کوکب دری" کے قادیانی مصنف کے مطابق قادیانی بیس
لاکھ تھے۔
- (ہ) ستمبر ۱۹۳۲ء میں بھیرہ (پنجاب) کے مناظرہ میں قادیانی مناظر مبارک احمد
پروفیسر جامعہ احمدیہ قادیان نے قادیانیوں کی تعداد پچاس لاکھ بتائی۔
- (و) قادیانی مبلغ عبدالرحیم درد جب انگلستان گئے تو انہوں نے مسٹر فلمی کے
سامنے بیان کیا کہ پنجاب کے مسلمانوں میں غالب اکثریت قادیانیوں کی ہے۔
(اس وقت پنجاب میں تقریباً "ڈیڑھ کروڑ مسلمان تھے۔ اب بقول عبدالرحیم درد گویا ۷۵ لاکھ سے بھی زیادہ قادیانی صرف پنجاب میں موجود تھے۔)
لیکن سرکاری رپورٹ کے مطابق ۱۹۳۱ء میں قادیانیوں کی مجموعی تعداد پنجاب میں ۵۵ ہزار تھی، جس میں کئی ہزار افراد لاہوری جماعت کے بھی شامل تھے۔
ملاحظہ فرمائیے مرزا قادیانی کے ۲۳ سال بعد بھی اس جماعت کی تعداد پنجاب میں ۵۵ ہزار اور باقی تمام ہندوستان میں پندرہ بیس ہزار تھی۔
(الفضل ۲ جون ۱۹۳۴ء)
لیکن مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کی غلط بیانی اور مبالغہ آمیز پروپیگنڈے کا یہ عالم ہے کہ وہ چار لاکھ سے شروع ہو کر ۷۵ لاکھ پر جاکر دم لیتے ہیں۔ آج کل قادیانی امت دعویٰ کر رہی ہے کہ کل دنیا میں ان کی مردم شماری ایک کروڑ ہے۔ یہ بھی اسی طرح کا مبالغہ آمیز جھوٹ ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق آج بھی ان کی آبادی پانچ‘ چھ لاکھ سے زیادہ نہیں ہوگی۔
- ۲۔ چونکہ غلط بیانی کرنا اور سنسنی خیز اور مبالغہ آمیز اعداد و شمار کے ذریعے دنیا کو
مرعوب کرنا قادیانیوں کے نبی کی سنت اور کار ثواب ہے‘ اس لئے یہ بات قرین قیاس ہے کہ وہ مردم شماری کے اندراج میں بھی اس مبالغہ آمیزی سے کام لیتے ہیں‘ اور ایک قادیانی کئی کئی جگہوں‘ بلکہ کئی کئی ملکوں میں اپنے نام کا اندراج کراتا ہے‘ اور پھر ایک ایک کنبے کے افراد کی تعداد کے اندراج میں بھی اسی مبالغہ آمیز غلط بیانی سے کام لیا جاتا ہے۔ اس لئے قادیانیوں کی مرعوب کن تعداد پر اظہار تشویش کے بجائے ہم جناب فیض علی چشتی اور مارشل لاء حکومت سے درخواست کریں گے کہ نئی مردم شماری میں قادیانیوں کی اس تکنیک کو بطور خاص ملحوظ رکھا جائے۔ پھر ان کے بوگس اندراجات کا پوری سختی سے انسداد کیا جائے۔ جو عملہ اس کام پر مامور ہو اسے پوری طرح محتاط رہنے کا حکم دیا جائے۔ اگر مارشل لاء حکومت قادیانی مردم شماری کو مبالغہ آمیز اندراجات سے پاک کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے‘ تو قادیانیوں کی مردم شماری میں مبالغہ کے بجائے کمی ....... حیرت انگیز کمی کا انکشاف ہوگا۔ اور اس سے قادیانیوں کے مرعوب کن پروپیگنڈے کی قلعی بھی کھل جائے گی۔
- ۳ :۔۔ قادیانیوں کی تعداد میں فرضی اضافہ سے بڑھ کر افسوسناک بات یہ ہے کہ
قادیانی غیر مسلم اقلیت ہونے کے باوجود حج پر بھی جاتے ہیں اور ان ممالک اسلامیہ میں بھی، جہاں ان کا داخلہ ممنوع ہے۔ اعلیٰ ملازمتوں پر فائز ہوتے ہیں، اس لئے کہ اب تک حکومت پاکستان نے کوئی قانونی اقدام ایسا نہیں کیا، جس سے مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان امتیاز ہوسکے۔ اگر شناختی کارڈ اور پاسپورٹ میں ایک خانہ مذہب کی تشخیص کے لئے رکھا جائے اور قادیانیوں کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ میں ” غیر مسلم“ کا اندراج کیا جائے، تو حکومت پاکستان عالم اسلام کو قادیانیوں کے فریب سے بچا سکتی ہے۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ حکومت پاکستان کو اب تک اس اہم قضیہ کی طرف کیوں توجہ نہیں ہوئی؟
- ۴ :۔۔ اس بحث کا ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ قادیانی، پاکستان اور دیگر اسلامی
ممالک کے اہم ترین کلیدی مناصب پر فائز ہیں، اور پاکستان سمیت اسلامی ممالک کا کوئی خفیہ سے خفیہ راز ایسا نہیں، جو قادیانیوں سے مخفی ہو، جب کہ قادیانی اپنی ابتدا آفرینش سے لے کر آج تک مسلمانوں کے بدترین دشمن ہیں۔ ان کے روابط ہمیشہ اسلام دشمن قوتوں کے ساتھ رہے ہیں۔ آج بھی ان کی ہمدردیاں مسلمانوں کے بجائے انہی طاغوتی طاقتوں کے ساتھ ہیں۔
کون نہیں جانتا کہ جب انگریزوں کا بغداد پر تسلط ہوا تو قادیان میں چراغاں کیا گیا اور خوشی کے جشن منائے گئے۔
کون نہیں جانتا کہ جب ترکی کو تاراج کیا جارہا تھا تو قادیانی بڑے فخر اور طمطراق سے اعلان کرتے تھے:
”ترکی حکومت اگر مٹتی ہے تو مٹنے دو اور یاد رکھو نہیں رکھو ترک اسلام نہیں
ہے۔“
کون نہیں جانتا کہ جب انگریز ممالک اسلامیہ کو ایک ایک کر کے پامال کر رہا تھا تو قادیانی بڑے فخر سے اعلان کرتے تھے :
”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) فرماتے ہیں کہ میں وہ مہدی موعود ہوں اور گورنمنٹ برطانیہ میری وہ تلوار ہے جس کے مقابلے میں ان علما کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ اب غور کرنے کا مقام ہے کہ پھر ہم احمدیوں کو اس فتح (انگریزی حکومت کی فتح) پر کیوں خوشی نہ ہو۔ عراق‘ عرب ہو یا شام‘ ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔“
کون نہیں جانتا کہ قادیانیوں کے نزدیک مسلمانوں کی حیثیت چوہڑے چماروں کی سی ہے اور وہ تمام عالم اسلام کو اسی حیثیت میں دیکھنے کے متمنی ہیں۔ اور پھر قادیانی خلیفہ کے یہ اعلانات کس کس کو معلوم نہیں؟ کہ:
”ساری دنیا ہماری دشمن ہے اور جب تک ہم ساری دنیا کو احمدیت میں داخل نہ کرلیں‘ ہمارا کوئی ٹھکانا نہیں۔“
”ہماری بھلائی کی صرف ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ تمام دنیا کو اپنا دشمن سمجھیں۔“
”جب تک ہماری بادشاہت نہ قائم ہو جائے تمہارے راستے سے یہ کانٹے ہرگز دور نہیں ہو سکتے۔“
”وہ لوگ جو واقعہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) پر ایمان لائے ہیں‘ وہ سمجھتے اور یقین رکھتے ہیں کہ سب
کچلے جائیں گے صرف ہم باقی رہیں گے۔"
"نہ صرف ہندوستان کی سلطنت کے حکمران احمدی جماعت کے ممبر ہوں گے بلکہ جیسا کہ وعدہ دیا گیا ہے، زار روس کا عصا بھی ان ہی کے ہاتھوں میں ہوگا، وہ دنیا میں عالمگیر حکومت قائم کریں گے۔"
"اس (یعنی قادیانی جماعت) کی بنیاد ہی اس پر ہے کہ دنیا کو کھا جانا چاہئے۔"
کیا قادیانی خلیفہ کے ان اعلانات کے بعد بھی کوئی شک رہ سکتا ہے کہ "قادیانی" مسلمانوں کے بدترین دشمن ہیں؟ ان ساری باتوں سے قطع نظر کیجئے، ستمبر ۱۹۷۴ء کے بعد سے اب تک قادیانیوں نے پاکستان کو بیرون ملک بدنام کرنے کے لئے جو مکروہ پروپیگنڈا کیا ہے وہ کس کے علم میں نہیں؟ اور اندرون ملک انتشار پھیلانے کے لئے انہوں نے جو کچھ کیا ہے کیا وہ ہمارے محکمہ انٹیلی جنس کے علم سے باہر ہے؟
ایک ایسی جماعت جو کہ مسلمانوں کو بدترین دشمن سمجھتی ہو، جس کی ہمدردیاں مسلمانوں کے خلاف ہوں، جو طاغوتی قوتوں کی حلیف ہو، اور جس کے مشن لندن اور ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ اسرائیل میں بھی کام کر رہے ہوں، ان کو مسلمانوں کی کلیدی آسامیوں پر مسلط اور اسلامی ممالک کے تمام خفیہ سے خفیہ رازوں سے مطلع کرنا عقل و منطق کی کس دلیل سے صحیح ہے؟
- ۵ :۔ جناب جنرل چشتی صاحب اعلان فرماتے ہیں کہ پاکستان میں کسی "غیر مسلم"
اقلیت کو اپنے عقائد کی کھلے بندوں تبلیغ کی اجازت نہیں دی جاسکتی، جب کہ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ قادیانی غیر مسلم اقلیت نہ صرف کھلے بندوں تبلیغ کر رہی ہے، بلکہ اسلام کے نام پر کر رہی ہے۔ کیا کسی ہندو، سکھ، یہودی، عیسائی اور پارسی کو
پاکستان میں یہ اجازت ہے کہ وہ اسلام کے نام پر اپنے عقائد کی تبلیغ و تشہیر کرے؟ اگر نہیں، اور یقیناً نہیں، تو حکومت پاکستان قادیانیوں کی اس جارحیت کا نوٹس کیوں نہیں لیتی؟
امتناع قادیانیت آرڈی نینس پر تبصرہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ‘ اما بعد :
صدر پاکستان جنرل محمد ضیا الحق نے ۲۶ اپریل کو مرزائیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے ایک آرڈی نینس جاری کیا‘ جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ اس آرڈی نینس کے ذریعہ تعزیرات پاکستان میں دو نئی دفعات ۲۹۸ (ب) اور ۲۹۸ (ج) کا اضافہ کیا گیا ہے۔
دفعہ ۲۹۸ (ب) کے مطابق ایسا شخص جو اپنے آپ کو احمدی کہتا ہو (خواہ اس کا تعلق قادیانی گروپ سے ہو یا لاہوری گروپ سے) اگر کسی ایسے شخص کو ”امیر المومنین‘ خلیفتہ المسلمین‘ صحابی‘ یا رضی اللہ عنہ“ کہے‘ جس کا تعلق نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں‘ یا کسی ایسی خاتون کو ”ام المومنین“ کہے‘ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے نہ ہو‘ یا کسی ایسے شخص کو (مرد یا عورت) جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے نہیں ”اہل بیت“ کہے یا قرار دے‘ نیز اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہے‘ اور اپنے ہم عقیدہ افراد کو بلانے یا جمع کرنے کے طریقہ کو اذان کہے‘ یا مسلمانوں جیسی اذان دے تو اس کا یہ فعل قابل دست اندازی پولیس (ناقابل ضمانت)
جرم ہو گا‘ جس پر اسے تین سال قید اور جرمانے کی سزادی جائے گی۔ ۲۹۸ (ج) کی رو سے ایسا شخص (مرد یا عورت) جو اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے (خواہ اس کا تعلق قادیانی گروپ سے ہو یا لاہوری گروپ سے) اگر بلاواسطہ یا بالواسطہ اپنے آپ کو مسلمان کہے‘ یا اپنے عقیدے کو اسلام کے نام سے موسوم کرے‘ یا اپنے مذہب کی تبلیغ و اشاعت کرے‘ یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے‘ یا کسی طرح بھی مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرے تو اسے بھی تین سال قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی‘ اور اس کا یہ جرم قابل دست اندازی پولیس اور ناقابل ضمانت ہو گا۔
نیز اس آرڈی نینس کے ذریعہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۹۹۔ الف میں ترمیم کر دی گئی ہے‘ جس کی رو سے صوبائی حکومت کو کسی ایسے اخبار‘ کتاب یا دیگر کسی ایسی دستاویز کو ضبط کرنے کا اختیار دیا گیا ہے‘ جو تعزیرات پاکستان میں شامل (مذکورہ بالا) نئی دفعات کی خلاف ورزی میں چھاپی گئی ہو۔
اس آرڈی نینس کے ذریعہ ”مغربی پاکستان پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈی نینس“ کی دفعہ ۲۴ میں ایک نئی شق شامل کر دی گئی ہے‘ جس کے ذریعہ صوبائی حکومت کو اختیار مل جائے گا کہ وہ تعزیرات پاکستان میں شامل کی گئی نئی دفعات کی خلاف ورزی کرنے والی کسی کتاب یا دستاویز کی طباعت و اشاعت کیلئے استعمال ہونے والے پریس کو بند کردے‘ یا اس اخبار کا ڈیکلریشن منسوخ کردے‘ جو ان دفعات کی خلاف ورزی کرے‘ اور کسی ایسی کتاب یا دستاویز کو ضبط کرے‘ جس میں ایسا مواد شامل ہو‘ جس کی طباعت و اشاعت مذکورہ دفعات کی رو سے ممنوع قرار دی گئی ہو۔
۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم کے ذریعہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا‘ اور بھٹو صاحب نے اس وقت وعدہ بھی کیا تھا کہ اس آئینی ترمیم کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کیلئے قانون سازی بھی کی جائے گی‘ لیکن بھٹو صاحب بوجوہ (جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں) اس وعدہ کا ایفا نہیں کرسکے‘ یوں ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم بھی عملاً غیر موثر اور بے کار ہو کر رہ گئی تھی‘ یہ سعادت اللہ تعالیٰ نے صدر جنرل محمد ضیا الحق کے لئے مقدر فرمائی کہ انہوں نے اس آرڈی نینس کے ذریعہ ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم کے تقاضوں کو قانونی شکل دے کر نہ صرف ملت اسلامیہ کے دیرینہ مطالبہ کو پورا کر دیا‘ بلکہ قادیانیوں کی روز افزوں شرارتوں کا بھی سد باب کر دیا‘ جس پر جناب صدر اور ان کے رفقا پوری ملت اسلامیہ کی طرف سے ہدیہ تبریک اور ستائش و تشکر کے مستحق ہیں۔ فجزاہم اللہ عن الاسلام والمسلمین خیر الجزاء۔
اسلامی حصار کو زندیقوں‘ ملحدوں اور منافقوں کی نقب زنی سے محفوظ کرنا ایک مسلمان حکمران کا اولین فریضہ ہے‘ اور ہم جناب صدر کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک اہم ترین فریضہ کی تعمیل کر کے بارگاہ الٰہی میں سرخروئی حاصل کی ہے‘ ہمیں امید ہے کہ وہ اس اقدام پر انشا اللہ سید الرسل خاتم الانبیا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے مستحق ہوں گے۔
یہ آرڈی نینس‘ قادیانیت کے خلاف انتہائی اور آخری اقدام نہیں‘ بلکہ اسے ہلکے سے ہلکا‘ اور کم سے کم درجے کا اقدام قرار دیا جاسکتا ہے‘ ورنہ اسلامی فقہ کی رو سے کسی اسلامی مملکت میں کسی مدعی نبوت‘ یا اس کی ذریت خبیثہ کا
وجود سرے سے قابل برداشت ہی نہیں، کیونکہ یہ لوگ اسلامی اصطلاح میں ”زندیق“ کہلاتے ہیں، اور تمام فقہائے امت اس پر متفق ہیں کہ مرتد اور ”زندیق“ کو اسلامی مملکت کے غیر مسلم شہری کی حیثیت سے باقی نہیں رکھا جاسکتا، بلکہ وہ سزائے موت کا مستحق ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مسیلمہ کذاب اور اس کے پیروؤں کی سرکوبی کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا، اور انہوں نے زندیقوں کے اس ٹولے کو واصل جہنم کیا ........ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دور حیات میں جب حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ نے یمن کے اسود عنسی کو قتل کیا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعہ اس کی اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فاز فیروز“ (فیروز کامیاب ہوگیا)۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے ادوار میں جب بھی کسی مدعی نبوت نے سر اٹھایا تو فورا اس کا سر کچل دیا گیا، قاضی عیاض ”الشفا“ میں لکھتے ہیں :
”وقد قتل عبدالملک بن مروان الحارث المتنبی وصلبہ و فعل ذالک غیر واحد من الخلفاء و الملوک باشباہھم و اجمع علماء وقتھم علی صواب فعلھم و المخالف فی ذالک من کفرھم کافر۔“
(ص۲۵۸ ج۲ مطبوعہ ملتان)
ترجمہ : ”اور خلیفہ عبدالملک بن مروان نے جھوٹے مدعی نبوت حارث کو قتل کرکے سولی پر لٹکایا، اور بے شمار خلفا و سلاطین نے اس قماش کے لوگوں کے ساتھ یہی سلوک کیا، اور ہر دور کے علما نے ان کی اس کارروائی کی تصویب کی، اور جو شخص ایسے لوگوں
کے کفر میں اختلاف کرے‘ وہ بھی کافر ہے۔“
پوری اسلامی تاریخ میں اس کی ایک مثال بھی پیش نہیں کی جاسکتی کہ کسی مدعی نبوت‘ یا اس کے پیروؤں کے وجود کو غیر مسلم شہری کی حیثیت سے برداشت کیا گیا ہو۔ الغرض تمام قضائے امت اس پر متفق ہیں کہ اسلامی مملکت میں ایک مرتد اور زندیق غیر مسلم شہری کی حیثیت سے نہیں رہ سکتا‘ علامہ شامی رحمتہ اللہ علیہ نے ”ردالمحتار“ میں قرامطہ باطنیہ پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے :
”و نقل عن المذاهب الاربعة انه لا يحل اقرارهم فى ديار الاسلام بجزية و لا غيرها و لا تحل مناکحتهم و لا ذبائحهم--------- و الحاصل انهم يصدق عليهم اسم الزنديق و المنافق و الملحد“
(ص ۲۲۲‘ ج ۴‘ طبع جدید مصر)
ترجمہ : ”اور مذاہب اربعہ سے نقل کیا ہے کہ ان کو دارالاسلام میں ٹھہرانا جائز نہیں‘ نہ جزیہ کے ساتھ‘ اور نہ بغیر جزیہ کے‘ اور نہ ان سے شادی بیاہ جائز ہے‘ اور نہ ان کا ذبیحہ حلال ہے‘ اور حاصل یہ کہ ان پر زندیق‘ اور منافق‘ اور ملحد کا نام صادق آتا ہے۔“
اس لئے اسلامی مملکت پاکستان میں قادیانی زندیقوں کے وجود کو برداشت کرتے ہوئے ان کی خلاف اسلام سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنا‘ ان کے ساتھ انتہائی درجہ کی رعایت ہے۔
اس آرڈی نینس کے ذریعہ صوبائی حکومتوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ قادیانیوں کا ایسا تمام لٹریچر ضبط کرسکتی ہیں‘ جو آرڈی نینس میں مندرج دفعات کے تحت آتا ہو‘ اور ایسے اخباروں اور رسالوں کا اجازت نامہ بھی منسوخ
کر سکتی ہیں، اور پریس بھی ضبط کر سکتی ہیں۔ ہم صوبائی حکومتوں کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ قادیانی لٹریچر سارے کا سارا اس آرڈی نینس کے تحت قابل ضبطی ہے، اس لئے مرزا غلام احمد قادیانی، اور اس کے اتباع و اذناب کی تمام کتابیں اور رسالے ملک میں ممنوع الاشاعت قرار دیئے جانے چاہئیں۔ صوبائی حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ قادیانی کتابوں، اخباروں اور رسالوں کی فہرست طلب کریں، اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کریں، یہاں صرف ایک مثال درج کی جاتی ہے، قادیانی ہفت روزہ ”لاہور“ صدارتی آرڈی نینس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے :
”گویا اس آرڈی نینس کے نفاذ کے بعد پاکستان میں عیسائی، یہودی، ہندو، پارسی اور سکھ تو اپنے اپنے مذہب کی کھلے بندوں تبلیغ و اشاعت کر سکیں گے، یہاں تک کہ کمیونسٹ اور دہریئے تک مسلمانوں میں اپنے افکار و نظریات کا پرچار کر سکیں گے، اور ان پر کوئی قدغن نہیں ہوگی، البتہ قدغن ہوگی تو صرف اس جماعت کے ارکان پر، جن کی خدمات اسلامی کے درخشندہ و تابندہ نقوش ساری دنیا میں جگمگ جگمگ کر رہے ہیں، اور جو قرآن کریم کا درجنوں معروف زبانوں میں ترجمہ کر کے خدا کے اس نور کو اقصائے دہر میں پھیلا چکی ہے، اور جس کا اس کے صرف بہی خواہوں ہی کو نہیں (اس کے) شریف الطبع بدخواہوں کو بھی اعتراف ہے۔“
اسی سلسلہ میں آگے لکھتا ہے :
”ہم اپنی مملکت عزیز کے صدر کی خدمت میں بڑے ادب
اور احترام کے ساتھ امن و جمہوریت پسند شرفائے وطن کا یہ تاثر پیش کردینا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ہزیمت خوردہ طائفہ مولویان کی دلدہی کیلئے (حق و انصاف کے تمام تقاضوں کے سر تا سر منافی) اس اقدام کو ”قومی المیہ“ کے علاوہ قومی یکجہتی کی دیوار میں ایک ایسی نئی دراڑ سے تعبیر کیا ہے، جو بلا وجہ و بلا ضرورت خود حکومت کے تیشہ اختیار سے پیدا کی گئی ہے، اور جس کو دنیا بھر میں اسلام سے سچی محبت رکھنے والے کسی بھی طبقے اور حلقے میں پسندیدگی کی نظروں سے نہیں دیکھا جائے گا۔“
(ہفت روزہ ”لاہور“ جلد ۳۲ شمارہ ۱۸ مورخہ ۵ مئی ۱۹۸۴ء)
کیا ہفت روزہ ”لاہور“ کا یہ تبصرہ آرڈی نینس کی دفعات کے ذیل میں نہیں آتا؟
اس آرڈی نینس کے بارے میں قادیانیوں کے تاثرات تو ہفت روزہ ”لاہور“ کے مندرجہ بالا تبصرے سے واضح ہیں ........ ہمیں اندیشہ یہ ہے کہ قادیانی اپنی سرشت کے عین مطابق نہ صرف صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کے خلاف، بلکہ مملکت خداداد پاکستان کے خلاف بھی زیر زمین سازشیں کریں گے، اور ملک میں انتشار پھیلانے کیلئے اپنے تمام وسائل استعمال کریں گے، بہت سے ایسے لوگوں کو بھی اپنا آلہ کار بنانے کی کوشش کریں گے، جن کو شاید خود بھی معلوم نہیں ہوگا کہ وہ قادیانی سازشی منصوبے کے تحت کام کر رہے ہیں، قادیانی سازشوں کا جال کس کس طرح پھیلایا جائے گا؟ کیسے کیسے لوگوں کو اس کے لئے استعمال کیا جائے گا؟ اور اس کے لئے کیا کیا وسائل اختیار کئے جائیں
گے؟ ان امور کی تفصیل کا یہ موقع نہیں، صرف اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اگر ملک کو قادیانی شر سے بچانا مقصود ہے تو نہ صرف پوری ملت کو چوکنا رہنا چاہئے، بلکہ حکومت کو بھی قادیانیوں کے جلی و خفی دوائر پر کڑی نظر رکھنی چاہئے۔
یہ آرڈی نینس جس تحریک کے نتیجہ میں معرض ظہور میں آیا، وہ مولانا محمد اسلم قریشی (مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ) کے اغوا (۱۷؍ فروری ۱۹۸۳ء) سے شروع ہوئی تھی، اس کے واضح قرائن موجود ہیں کہ یہ اغوا قادیانی طائفہ کے ممتاز افراد نے پولیس کی ملی بھگت سے کرایا تھا۔ مولانا قریشی کا آج تک سراغ نہیں مل سکا، اور یہ جنرل محمد ضیاء الحق کی حکومت کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے، جب تک مولانا قریشی بازیاب نہیں ہو جاتے، مسلمانوں کے لئے اطمینان کا سانس لینا مشکل ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ جناب صدر کو اس امتحان و آزمائش سے بھی عہدہ برا ہونا چاہئے۔
و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین۔
(بینات شعبان ۱۴۰۴ھ مطابق جون ۱۹۸۴ء)
امتناع قادیانیت آرڈی نینس میں
مسلمانوں کی کامیابی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ‘ اما بعد :
صدر جنرل محمد ضیا الحق نے قادیانیوں کی خلاف اسلام سرگرمیوں کو روکنے کیلئے جو آرڈی نینس ۲۶ اپریل ۱۹۸۴ء کو جاری کیا تھا‘ مئی کے اواخر میں قادیانیوں نے اسے وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کردیا تھا‘ اور عدالت نے قادیانی درخواست سماعت کیلئے منظور کرلی تھی‘ چنانچہ ۱۵؍ جولائی سے لاہور ہائیکورٹ میں اس کی سماعت شروع ہوئی‘ اور جمعہ‘ ہفتہ کی تعطیل کو چھوڑ کر ۱۲؍ اگست تک سماعت مسلسل جاری رہی۔ (۸؍ اگست بروز بدھ کو چیف جسٹس صاحب کی اسلام آباد تشریف بری کی وجہ سے عدالت کا اجلاس نہیں ہوسکا تھا‘ اس کے بجائے ہفتہ ۱۱؍ اگست کو اجلاس ہوا) مجموعی طور پر ۷۲ گھنٹے اس مقدمہ کی سماعت ہوئی۔
قادیانیوں کی جماعت ربوہ کی طرف سے مجیب الرحمٰن قادیانی‘ اور جماعت لاہور کی طرف سے ریٹائرڈ کیپٹن عبدالواجد پیش ہوئے‘ اور سرکار کی طرف سے جناب ریاض الحسن گیلانی اور جناب حاجی غیاث محمد صاحب نے اپنے دلائل پیش کئے۔ پروفیسر قاضی مجیب الرحمٰن‘ پروفیسر محمود غازی‘ پروفیسر
مولانا محمد اشرف خان‘ مولانا صدر الدین رفاعی‘ مولانا تاج الدین حیدری‘ علامہ مرزا یوسف حسین اور پروفیسر طاہر القادری نے مشیران عدالت کی حیثیت سے عدالت کو خطاب کیا۔
مقدمہ کی سماعت وفاقی شرعی عدالت کے فل بنچ نے کی‘ جو مندرجہ ذیل حضرات پر مشتمل تھا :
- ۱ : ..... چیف جسٹس جناب جسٹس آفتاب حسین صاحب
- ۲ : ..... جناب جسٹس سردار فخر عالم صاحب
- ۳ : ..... جناب جسٹس چوہدری محمد صدیق صاحب
- ۴ : ..... جناب جسٹس ملک غلام علی صاحب
- ۵ : ..... جناب جسٹس مولانا محمد عبدالقدوس قاسمی صاحب
قادیانیوں کے دونوں گروپوں نے اپنی درخواستوں میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ اس آرڈی نینس نے ان کی مذہبی آزادی پر پابندی عائد کردی ہے‘ اس لئے اسے خلاف کتاب و سنت قرار دیا جائے۔ فاضل عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپنے متفقہ فیصلہ میں قرار دیا کہ زیر بحث آرڈی نینس کتاب و سنت کے خلاف نہیں‘ اس لئے قادیانیوں کی دونوں درخواستیں خارج کی جاتی ہیں۔
راقم الحروف مسلمان وکلا کی اعانت کے لئے ۱۳ جولائی جمعہ کی شام کو لاہور پہنچ گیا تھا‘ اور علامہ ڈاکٹر خالد محمود‘ مولانا عبدالرحیم اشعر رئیس المبلغین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور مولانا منظور احمد چنیوٹی کی رفاقت میں ایک مہینہ تک لاہور میں قیام رہا۔ حق تعالیٰ شانہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ عدالتی فیصلہ کے اعلان
کے بعد فتح و کامرانی کے ساتھ واپسی ہوئی۔
اللهم لک الحمد حمداً دائماً مع دوامک ولک الحمد حمداً خالداً مع خلودک ولک الحمد حمداً لا منتہیٰ لہ دون مشیئتک ولک الحمد حمداً لا یرید قائلہ الا رضاک ولک الحمد عند کل طرفۃ عین و تنفس کل نفس۔
مقدمہ کی سماعت کیلئے کراچی سے پشاور تک کے اکابر وقتاً فوقتاً تشریف لاتے رہے۔ حضرت مولانا محمد عبدالقادر آزاد خطیب بادشاہی مسجد لاہور اور امیر اہل سنت حضرت اقدس سید انور حسین نفیس رقم کی قیادت میں زندہ دلان لاہور نے اس مقدمہ کے سلسلہ میں ناقابل فراموش نقوش ثبت کئے۔ ہمارے رفقا کا قیام جامعہ اشرفیہ لاہور میں رہا، اور حضرت مولانا قاری عبید اللہ صاحب مہتمم جامعہ اشرفیہ اور حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب نائب مہتمم نے اس طویل عرصہ میں میزبانی سے مشرف فرمایا۔ حق تعالیٰ شانہ ان تمام بزرگوں کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)
و آخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین وصلی اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین۔
(بینات ذوالحجہ ۱۴۰۴ھ مطابق اکتوبر ۱۹۸۴ء)
لندن میں اسلام آباد
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ :
اخباری اطلاع کے مطابق قادیانیوں نے انگلینڈ میں ”سرے“ کے مقام پر ۲۵ ایکڑ زمین خرید کر اس کا نام ”اسلام آباد“ رکھا ہے۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر نے وہاں قادیانیوں کے جلسہ کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کو ظلم کا نشانہ بنایا جارہا ہے‘ اور یہ صورتحال افسوسناک ہے۔ مرزا طاہر احمد نے اپنے پانچ گھنٹہ کے مسلسل خطاب میں دھمکی دی کہ اگر پاکستان میں قادیانی جماعت پر ظلم و ستم بند نہ ہوا تو وہاں بھی افغانستان جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ مرزا طاہر احمد نے مسلمانوں کو چیلنج کیا کہ اگر وہ حضرت عیسیٰ کو دوبارہ زندہ کردیں تو وہ اور ان کی جماعت حضرت عیسیٰ سے بیعت کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا بھی تو قادیانی جماعت کے مخالفین اپنی روایت کے تحت حضرت عیسیٰ کی بھی مخالفت کریں گے۔ مرزا طاہر احمد نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت مودودیت پر خصوصی نوازشات کر رہی ہے۔
(اخبار جنگ کراچی ۱۹ اپریل ۱۹۸۵ء)
اخباری نمائندوں نے مرزا طاہر احمد کی پانچ گھنٹہ کی تقریر کا جو خلاصہ نقل کیا ہے‘ اس میں قادیانیت کی روح نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔
اول‘ مسلمانوں کی دل آزاری کے لئے پاکستان کے دارالحکومت ”اسلام آباد“ کے مقابلے میں ”قادیانی اسلام آباد“ بسانے کا منصوبہ ...... قادیانی اگر چاہتے تو اپنے مذہبی دارالحکومت کا کوئی اور نام بھی رکھ سکتے تھے‘ لیکن روز اول سے ان کی ٹیکنیک یہ رہی ہے کہ ہر چیز میں مسلمانوں کا مقابلہ کیا جائے‘ مثلاً :
- ۱..... محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کو (نعوذ باللہ)
محمد رسول اللہ کی حیثیت سے کھڑا کیا گیا...... اور مسلمانوں کے جگر چھلنی کرنے کے لئے اس قادیانی محمد رسول اللہ کو رحمۃ للعالمین‘ فخر اولین و آخرین‘ افضل الرسل‘ صاحب کوثر‘ صاحب معراج‘ صاحب لولاک وغیرہ کے القاب دیئے گئے۔ اور دعویٰ کیا گیا کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیا کرام سے مرزا قادیانی پر ایمان لانے‘ اور اس کے ہاتھ پر بیعت لینے کا عہد لیا گیا۔
- ۲..... امہات المومنین کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی بیوی کو ”ام المومنین“ کا
خطاب دیا گیا۔
- ۳..... خلفائے راشدین کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کے جانشینوں کو ”خلیفہ“
اور ”امیر المومنین“ کے خطاب سے نوازا گیا۔
- ۴..... مکہ و مدینہ کے مقابلہ میں قادیان کو ”حرم“ اور ”دارالامان“ کہا گیا۔
- ۵..... شریعت محمدیہ کے مقابلہ میں مرزا کی وحی اور تجدید کردہ شریعت کو مدار
نجات قرار دیا گیا۔
- ۶..... ”رسول مدنی“ کے مقابلہ میں ”رسول قدنی“ کی اصطلاح جاری کی گئی۔
- ۷..... گنبد خضرا کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی قبر کو گنبد بیضا کا نام دیا گیا۔
- ۸ ..... حد یہ ہے کہ اسلامی مہینوں کے مقابلہ میں نئے قادیانی مہینے رائج کئے
گئے‘ وغیرہ وغیرہ۔
البتہ اب تک مسلمانوں کے اسلام آباد کے مقابلہ میں قادیانی اسلام آباد کی کسر باقی تھی‘ اس لئے قادیانیوں نے اپنے سفید آقاؤں کی آغوش میں بیٹھ کر یہ کسر بھی نکال لی۔ اس سے ہماری حکومت اور پاکستانی عوام کو کم از کم علامہ ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم کے اس قول کا یقین ضرور آجائے گا کہ : "قادیانی اسلام اور وطن دونوں کے غدار ہیں"
اپنی فرضی مظلومیت کا جھوٹا پروپیگنڈہ کرنا بھی قادیانیوں کی خاص عادت ہے‘ جو لوگ قادیان میں ایک فرضی "محمد رسول اللہ" کھڑا کرنے سے نہیں شرماتے‘ ان کو خلاف واقعہ غلط پروپیگنڈہ کرنے سے کیا عار ہو سکتی ہے؟ قادیانیوں کا سربراہ مرزا طاہر جب سے ملک سے فرار ہوا ہے‘ وہ مسلسل پاکستان کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف ہے‘ اس کی تقریروں کی کیسٹیں پاکستان میں درآمد کی جاتی ہیں‘ اور قادیانی حلقوں میں کھلے بندوں تقسیم کی جاتی ہیں۔ یہ کیسٹیں صدر مملکت اور اعلیٰ حکام تک پہنچائی جاچکی ہیں‘ اور اخبارات میں بھی چھپ چکی ہیں‘ لیکن جہاں تک ہمیں معلوم ہے‘ حکومت کی طرف سے ان کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا‘ اور نہ پاکستان کے خلاف نفرت و بغاوت پھیلانے کے جرم میں کسی قادیانی سے باز پرس کی گئی ہے‘ بلکہ اس کے برعکس قادیانی اونچے اونچے مناصب پر بدستور براجمان ہیں‘ وہ اپنے ماتحت مسلمانوں کو اپنا لٹریچر تقسیم کرنے پر مجبور کرتے ہیں‘ جہاں کوئی بڑا افسر قادیانی ہے‘ وہ اپنے ہم مذہب افراد کے ساتھ ترجیحی سلوک کرتا ہے‘ مسلمان ان کے ہاتھوں حیران و پریشان ہیں۔
پاکستان کے سائنسی مرکز میں‘ جو پاکستان کے لئے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے‘ قادیانیوں کی کھیپ کی کھیپ موجود ہے۔ پورے ملک کی ملازمتوں کا اگر سروے کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ قادیانی ہر جگہ موٹے موٹے عہدوں پر مسلط ہیں‘ اور اپنے کوٹے سے سو گنا زیادہ حصے پر قابض ہیں۔ یہ ہے قادیانیوں کی وہ مظلومیت‘ جس کا ڈھنڈورا مرزا طاہر احمد بیرون ملک پیٹ رہا ہے۔
مرزا طاہر کی یہ دھمکی کہ پاکستان میں افغانستان جیسے حالات پیدا کئے جاسکتے ہیں‘ صریح طور پر پاکستان کے خلاف اعلان بغاوت ہے‘ اور اس سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ مرزا طاہر پاکستان کے خلاف ملحد اور لادین طاقتوں سے گٹھ جوڑ کر رہا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ملحد اور کمیونسٹ قسم کے لوگ مرزائیوں کی حمایت میں بیانات جاری کر رہے ہیں۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے : ”قد بدت البغضاء من افواههم وما تخفي صدورهم اكبر“ یعنی ”اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بغض و نفرت کا اظہار وہ اپنے منہ سے کرنے لگے ہیں‘ اور ان کے سینوں میں غیظ و غضب کی جو بھٹی سلگ رہی ہے‘ وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔“
یہ قادیانیوں کی اندرونی کیفیت کا کل نقشہ ہے‘ وہ (خاکم بدہن) اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دینا چاہتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے قادیانیوں کا یہ خواب انشاء اللہ کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا‘ لیکن ہم حکومت سے اور پاکستان کے مسلمانوں سے دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ قادیانی جماعت کے جو لوگ پاکستان میں رہ کر پاکستان کے باغی مرزا طاہر کی اطاعت پر یقین رکھتے ہیں‘ ان کے ساتھ ہمارا رویہ کیا ہونا چاہئے؟ قادیانیوں کو پاکستان کے خلاف زہر اگلنے اور دھمکیاں دینے کے باوجود کس طرح لائق اعتماد سمجھا جاسکتا ہے؟ اور ان کے
خلاف قانونی کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ کیا ہماری حکومت قادیانیوں کی طرف اس وقت متوجہ ہوگی‘ جب وہ یہاں (خاکم بدہن) افغانستان جیسے حالات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ ہماری حکومت اور ہمارا دانشور طبقہ قادیانیوں کے عزائم و مقاصد کا نوٹس لے؟
مرزا طاہر احمد نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں جو کچھ کہا ہے‘ وہ اس یہودیانہ بغض و عداوت کا شاخسانہ ہے‘ جو مرزا قادیانی اور اس کی جماعت کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہے‘ یہودیوں کا دعویٰ تھا کہ ہم نے مسیح بن مریم کو قتل کر دیا‘ قتل عیسیٰ کا ٹھیک یہی دعویٰ مرزا قادیانی کو بھی ہے کہ :
”ہمارا وجود دو باتوں کے لئے ہے‘ ایک تو ایک نبی (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) کو مارنے کے لئے“
(ملفوظات ج۱۰ ص۶۰ حاشیہ)
جس طرح یہود قتل عیسیٰ کا جھوٹا دعویٰ کر کے ملعون و کافر ہوئے‘ اسی طرح مرزا قادیانی بھی عیسیٰ علیہ السلام کو مارنے کا دعویٰ کر کے کافر و ملعون ہوا‘ جس طرح یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے سے محروم رہے‘ اسی طرح قادیانیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور ثانی پر ایمان لانے سے انکار کر دیا‘ جس طرح یہودیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے بجائے ”المسیح الدجال“ کو مسیح مان لیا‘ اسی طرح قادیانی نے بھی عیسیٰ علیہ السلام کے بجائے ایک ”الاعور الدجال“ کو مسیح مان کر خوش ہو گئے۔
الغرض عیسیٰ علیہ السلام کے مسئلہ میں قادیانی ٹھیک یہودیوں کے نقش قدم پر ہیں‘ جس طرح یہودیوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری پر ایمان
لانے کی توفیق نہیں ہوگی، بلکہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی جماعت کے ہاتھوں قتل ہوں گے؛ اسی طرح قادیانیوں کو بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کی کبھی توفیق نہیں ہوگی، اور وہ بھی یہودیوں کے زمرے میں شامل ہو کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی افواج کے ہاتھوں قتل ہوں گے۔
اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو قادیانی یہودی فتنہ سے محفوظ رکھے۔ بحرمتہ نبی الکریم سیدنا و مولانا محمد النبی الامی صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین۔
مباہلہ کی حقیقت!
سوال : مباہلے کی کیا حقیقت ہے؟ اس بارے میں کلام مجید کی کون کون سی آیات کا نزول ہوا ہے؟
(اعجاز احمد خان)
جواب : مباہلہ کا ذکر سورۂ آل عمران (آیت ۶۱) میں آیا ہے، جس میں نجران کے نصاریٰ کے بارے میں فرمایا گیا ہے :
”پھر جو کوئی جھگڑا کرے تجھ سے اس قصہ میں، بعد اس کے کہ آچکی تیرے پاس خبر سچی تو تو کہدے، آؤ! بلاویں ہم اپنے بیٹے، اور تمہارے بیٹے، اور اپنی عورتیں، اور تمہاری عورتیں، اور اپنی جان، اور تمہاری جان، پھر التجا کریں ہم سب، اور لعنت کریں اللہ کی ان پر، جو جھوٹے ہیں۔“
(ترجمہ شیخ الہندؒ)
اس آیت کریمہ سے مباہلہ کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ جب کوئی فریق حق واضح ہوجانے کے باوجود اس کو جھٹلاتا ہو تو اس کو دعوت دی جائے کہ آؤ! ہم دونوں فریق اپنی عورتوں اور بچوں سمیت ایک میدان میں جمع ہوں اور گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جھوٹوں پر اپنی لعنت بھیجے۔ رہا یہ کہ اس مباہلہ کا نتیجہ کیا ہوگا؟ وہ مندرجہ ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے :
- ○ مستدرک حاکم (۲۔۵۹۴) میں ہے کہ نصاریٰ کے سید نے کہا کہ ان
صاحب سے (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے) مباہلہ نہ کرو، اللہ کی قسم!
اگر تم نے مباہلہ کیا تو دونوں میں سے ایک فریق زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔
- ○ صحیح بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم نے نصاریٰ نجران سے مباہلہ کا ارادہ فرمایا تو عاقب اور سید میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ ”ان صاحب سے مباہلہ نہ کیا جائے، کیونکہ اگر یہ نبی ہیں تو نہ ہم فلاح پائیں گے، اور نہ ہمارے بعد ہماری اولاد۔“
(در منثور ج ۲ ص ۳۸)
- ○ حافظ ابو نعیم کی ”دلائل النبوۃ“ میں ہے کہ سید نے عاقب سے کہا ”اللہ کی
قسم ! تم جانتے ہو کہ یہ صاحب نبی برحق ہیں، اور اگر تم نے اس سے مباہلہ کیا تو تمہاری جڑ کٹ جائے گی۔ کبھی کسی قوم نے کسی نبی سے مباہلہ نہیں کیا کہ پھر ان کا کوئی بڑا باقی رہا ہو، یا ان کے بچے بڑے ہوئے ہوں۔“
(ایضاً ص ۲۹)
- ○ ابن جریر، عبد بن حمید اور ابو نعیم نے دلائل النبوۃ میں حضرت قتادہؓ کی
روایت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ”اہل نجران پر عذاب نازل ہوا چاہتا تھا، اور اگر وہ مباہلہ کرتے تو زمین سے ان کا صفایا کر دیا جاتا۔“
- ○ ابن ابی شیبہ، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر اور حافظ ابو نعیم نے
دلائل النبوۃ میں امام شعبی کی سند سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ”میرے پاس فرشتہ اہل نجران کی ہلاکت کی خوشخبری لیکر آیا تھا، اگر وہ مباہلہ کر لیتے تو ان کے درختوں پر پرندے تک باقی نہ رہتے۔“
- ○ صحیح بخاری، ترمذی، نسائی اور مصنف عبد الرزاق وغیرہ میں حضرت ابن
عباس رضی اللہ عنہ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ ”اگر اہل نجران آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مباہلہ کر لیتے تو اس حالت میں واپس جاتے کہ اپنے اہل و عیال
اور مال میں سے کسی کو نہ پاتے۔“ (یہ تمام روایات در منثور ج ۲ ص ۳۹ میں ہیں)۔
ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ سچے نبی کے ساتھ مباہلہ کرنے والے عذاب الٰہی میں اس طرح مبتلا ہوجاتے ہیں کہ ان کے گھر بار کا بھی صفایا ہو جاتا ہے اور ان کا ایک فرد بھی زندہ نہیں رہتا۔
یہ تو تھا سچے نبی کے ساتھ مباہلہ کرنے کا نتیجہ‘ اب اس کے مقابلہ میں جھوٹے نبی کے ساتھ مباہلہ کا نتیجہ بھی سن لیجئے‘ ۱۰ ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ مطابق ۲۷ مئی ۱۸۹۳ء کو مولانا عبدالحق غزنوی مرحوم کا مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ مباہلہ ہوا (مجموعہ اشتہارات مرزا غلام احمد قادیانی ج ۱ ص ۴۲۷۔۴۲۸) اس مباہلہ کا نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا غلام احمد قادیانی ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو مولانا غزنوی مرحوم کی زندگی میں ہلاک ہو گیا۔ مولانا مرحوم‘ مرزا قادیانی کے بعد ۹ سال سلامت باکرامت رہے‘ ۱۶ مئی ۱۹۱۷ء کو ان کا انتقال ہوا (رئیس قادیان ج ۲ ص ۱۹۲) اس مباہلہ نے ثابت کردیا کہ مرزا جھوٹا تھا‘ کیونکہ خود مرزا قادیانی کا مسلمہ اصول ہے کہ :
”مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو‘ وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہوجاتا ہے۔“
(ملفوظات مرزا غلام احمد قادیانی ج ۹ ص ۴۴۰)
مرزا کی موت پر اللہ تعالیٰ نے اپنے فعل سے گواہی دے دی کہ مرزا قادیانی جھوٹا تھا‘ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے گواہی دی کہ مرزا جھوٹا تھا‘ خود مرزا نے (مندرجہ بالا عبارت میں) گواہی دی کہ میں جھوٹا ہوں‘ اس دن آسمان و زمین نے گواہی دی کہ مرزا جھوٹا تھا‘ تمام اہل علم اور اہل ایمان گواہی دیتے ہیں کہ
مرزا جھوٹا تھا۔
مرزا قادیانی کے ماننے والوں میں (خواہ وہ قادیانی ہوں یا لاہوری) اگر حق و دیانت کی کوئی رمق ہوتی تو وہ ان عظیم الشان گواہیوں کو قبول کر کے مرزائیت سے فوراً توبہ کر لیتے‘ اور وہ خود بھی یہ سچی گواہی دیتے کہ مرزا جھوٹا تھا‘ لیکن افسوس کہ قادیانیوں کے عوام ناواقف ہیں‘ حقیقت حال سے بے خبر ہیں‘ اور قادیانی لیڈر محض اپنے نفسانی جوش‘ اور اپنی گدی چلانے کے لئے حق و دیانت کی گواہی کو چھپاتے ہیں‘ اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے مسلمانوں کو مباہلہ کا چیلنج دے رہے ہیں۔ مرزا قادیانی نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں لکھا تھا :
”دنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے‘ مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں‘ جو اپنے نفسانی جوش کے لئے حق اور دیانت کی گواہی کو چھپاتے ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۲۱‘ روحانی خزائن ج ۱۱ ص ۳۰۵)
عجیب بات یہ ہے کہ قادیانیوں میں کوئی شریف آدمی اپنے لیڈروں سے یہ نہیں پوچھتا کہ حضور! مباہلہ تو ایک بار ہوتا ہے‘ بار بار نہیں ہوتا‘ جب ایک صدی پہلے مرزا غلام احمد قادیانی مباہلہ کر چکا‘ اور اس مباہلہ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے فیصلہ دے دیا کہ مرزا جھوٹا تھا تو دوبارہ مباہلہ کی چیلنج بازی محض ہم لوگوں کو احمق بنانے کے لئے نہیں تو اور کیا ہے؟
دوسرے یہ کہ مباہلہ کے لئے قرآن کریم کی رو سے دو فریقوں کا اپنی عورتوں اور بچوں سمیت ایک میدان میں جمع ہو کر مل کر دعا و التجا کرنا ضروری
ہے، آخر یہ کیسا مباہلہ ہے کہ آپ گھر بیٹھے بڑکیں مارتے ہیں، اور میدان مباہلہ میں نکلنے کی جرات نہیں کرتے؟ الیس منکم رجل رشید۔
و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد و آلہ واصحابہ اجمعین۔
اسلام میں خاتم النبیین کا مفہوم
اور
قادیانیت
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی‘ اما بعد
اس جلسہ میں میرے لئے مقالے کا عنوان تجویز کیا گیا ہے : ”اسلام میں ”خاتم النبیین“ کا مفہوم اور قادیانیت“
جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں اس عنوان کے تحت دو چیزیں آتی ہیں ’خاتم النبیین‘ کی تشریح، اور قادیانیوں نے اس کے مفہوم کو بگاڑنے کی جو کوشش کی ہے اس کی نقاب کشائی۔ انہی دونوں موضوعات پر مختصراً روشنی ڈالوں گا۔ واللہ الموفق لکل خیر وسعادت۔
حصہ اول
امت اسلامیہ کا بغیر کسی نزاع و اختلاف کے یہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ اکابر امت نے اس موضوع پر مستقل رسائل تصنیف فرمائے ہیں۔ حضرت مفتی محمد شفیع نور اللہ مرقدہ کا رسالہ ”ختم نبوت کامل“ اس موضوع پر نہایت جامع ہے۔ اس ناکارہ نے بھی اس موضوع پر ”عقیدہ
ختم نبوت" کے نام سے ایک رسالہ تحریر کیا ہے، جو تحفہ قادیانیت جلد اول کا سر عنوان ہے۔ اس مقالے میں مختصراً چند نکات ذکر کروں گا جو انشاء اللہ سامعین وقارئین کے لئے مفید بھی ہوں گے اور جدید بھی۔
عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت
عقیدہ ختم نبوت قطعی ویقینی بھی ہے اور ضروری بھی۔ اور اس کا انکار در حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انکار ہے۔ نعوذ باللہ۔
اسلامی عقائد پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں، ان میں عقیدہ ختم نبوت بمع اس کی تشریح کے بطور خاص ذکر کیا گیا ہے، چنانچہ شرح عقائد نسفی میں ہے : "اول الانبیاء آدم وآخرہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم"
ترجمہ : "انبیاء کرام کی جماعت میں سب سے پہلے نبی آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں"۔
یعنی سلسلہ نبوت کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا، اور اس کا اختتام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوا۔ چنانچہ اس بنی نوع انسان میں حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے کوئی نبی نہیں ہوا، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوا، نہ قیامت تک ہو گا۔ گویا جو شخص آنحضرت ﷺ کو آخر النبیین نہیں مانتا وہ آنحضرت ﷺ کی نبوت ورسالت کا منکر ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا انہوں نے یا تو اپنے آپ کو امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والتسلیم سے الگ کر لیا، جیسے بہائی فرقہ، یا انہوں نے عام لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے دجل وتلبیس کا جال پھیلایا، اور مختلف تاویلیں کیں، لیکن وہ اس کا انکار نہ کرسکے کہ عقیدہ ختم
نبوت اسلام کا قطعی عقیدہ ہے۔
مناسب ہو گا کہ یہاں قرآن کریم‘ حدیث نبوی‘ اور اجماع امت کی روشنی میں عقیدہ ختم نبوت کا جائزہ لیا جائے‘ اور آخر میں عقل سلیم کی روشنی میں اس پر غور کیا جائے۔
عقیدہ ختم نبوت اور قرآن کریم
حضرت شیخ الاسلام امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری نور اللہ مرقدہ نے اپنے رسالہ ”خاتم النبیین“ میں ذکر کیا ہے کہ عقیدہ ختم نبوت قرآن کریم کی تقریباً ایک سو آیات میں صراحۃ واشارۃ ذکر فرمایا گیا ہے یہاں چند آیات ذکر کرتا ہوں :
- ۱ …… حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے :
”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين۔“
(الاحزاب:۴۰)
ترجمہ : ”محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں‘ لیکن اللہ کے رسول ہیں‘ اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں۔“
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا ہے‘ اور خاتم النبیین کی تفسیر خود آنحضرت ﷺ نے ”لا نبی بعدی“ کے ساتھ فرمادی‘ یعنی خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا‘ اور تفسیر نبوی کی روشنی میں تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی شخص کو نبوت
عطا نہیں کی جائے گی، جن حضرات کو نبوت و رسالت کی دولت سے نوازا گیا اور رسول ونبی کے منصب پر ان کو فائز کیا گیا ان میں سب سے آخری حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔
خاتم النبیین کی تشریح
حضرات مفسرین نے اس آیت کے ذیل میں ”خاتم النبیین“ کے لغوی اور شرعی معنی تفصیل کے ساتھ ذکر فرمائے ہیں، ان کی تحقیقات کا خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت شریفہ میں دو قرأتیں ہیں ”خاتم النبیین“ (بفتح تا) اور ”خاتم النبیین“ (بکسر تا) اور ان دونوں کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ یہاں چند مفسرین کا حوالہ نقل کرتا ہوں۔
ابن جریرؒ :
ابن جریرؒ نقل فرماتے ہیں : فقرأ ذلک قراء الامصار سوی الحسن وعاصم بکسر التاء من خاتم النبیین بمعنی انه ختم النبیین (الی قوله) وقرأ ذالک فیما یذکر الحسن والعاصم وخاتم النبیین بفتح التاء بمعنی انه آخر النبیین۔
(ابن جریر ص ۱۶ ج ۱۲)
ترجمہ : اس معنی میں کہ حسن اور عاصم کے سوا تمام قاریوں نے اس کو خاتم النبیین بکسر التاء پڑھا ہے۔ یعنی آپ ﷺ نے تمام انبیا کو ختم کر دیا..... اور جیسا کہ نقل کیا جاتا ہے قراء میں سے
حسن اور عاصم نے اس لفظ کو خاتم النبیین بفتح التاء پڑھا ہے اس معنی میں کہ آپ ﷺ نبیوں کی جماعت میں سب سے آخری نبی ہیں۔“ -
ابن کثیرؒ :
ابن کثیرؒ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں :
”فهذه الآیۃ نص فی انه لا نبی بعده واذا کان لا نبی بعده فلا رسول بالطریق الاولٰی لان مقام الرسالۃ اخص من مقام النبوۃ‘ فان کل رسول نبی ولا ینعکس‘ وبذالک وردت الاحادیث المتواترۃ عن رسول الله صلی الله علیہ وسلم من حدیث جماعۃ من الصحابۃ رضی الله عنہم۔“
(ابن کثیر ص۸۹‘ ج۸)
ترجمہ : ”پس یہ آیت اس بات میں نص صریح ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں‘ اور جب کوئی نبی نہ ہوا تو رسول بدرجہ اولیٰ نہ ہوگا‘ کیونکہ مرتبہ رسالت کا بہ نسبت مرتبہ نبوت کے خاص ہے‘ ہر رسول کا نبی ہونا ضروری ہے اور ہر نبی کا رسول ہونا ضروری نہیں‘ اور اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث متواترہ وارد ہوئی ہیں‘ جن کو صحابہ کرام علیہم الرضوان کی ایک بڑی جماعت نے آپ ﷺ سے نقل کیا ہے۔“
کشاف :
علامہ زمخشری نے اپنی مشہور و مقبول تفسیر ”کشاف“ میں اس آیت کی شرح کرتے ہوئے فرمایا ہے :
"خاتم بفتح التاء بمعنى الطابع وبكسرها بمعنى الطابع وفاعل الختم وتقويه قراة عبد الله بن مسعود ”ولكن نبيا ختم النبيين“ فان قلت كيف كان آخر الانبياء وعيسٰى عليه السلام ينزل في آخر الزمان؟ قلت معنى كونه آخر الانبياء انه لا ينبا احد بعده وعيسٰى ممن نبيء قبله الخ۔"
(کشاف ص ۵۴۴ ج ۳)
ترجمہ :”خاتم بفتح التاء بمعنی آلہ مہر اور بکسر التاء بمعنی مہر کرنے والا یا ختم کرنے والا اور اس معنی (یعنی ختم کرنے والا) کی تقویت کرتی ہے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی قرات ”ولکن نبیا ختم النبیین“ پس اگر آپ یہ کہیں کہ آپ ﷺ آخر الانبیاء کس طرح ہو سکتے ہیں حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانہ میں آسمان سے اتریں گے؟ تو ہم کہیں گے کہ آپ کے آخر الانبیاء ہونے کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد کوئی شخص نبی نہ بنایا جائے گا‘ تو اب نزول عیسیٰ علیہ السلام سے کچھ اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان لوگوں میں سے ہیں جو آپ سے پہلے نبی بنا کر بھیجے گئے“۔
روح المعانی :
تفسیر روح المعانی میں ہے :
"والمراد بالنبی ما هو اعم من الرسول فیلزم من كونه صلی الله عليه وسلم خاتم النبيين كونه خاتم المرسلين"۔
(روح المعانی ص ۳۴ ج۲۲)
ترجمہ : "اور نبی سے مراد وہ ہے جو رسول سے عام ہے پس آپ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے آپ کا خاتم المرسلین ہونا بھی لازم ہوگا۔"
اور دوسری جگہ فرماتے ہیں :
"والمراد بكونه عليه الصلوة والسلام خاتمهم انقطاع حدوث وصف النبوة فی احد من الثقلين بعد تحلية عليه الصلوة والسلام بها فی هذه النشأة ولا يقدح فی ذالك ما اجمعت عليه الامة واشتهرت فيه الاخبار ولعلها بلغت مبلغ التواتر المعنوى ونطق به الكتاب على قول ووجب الايمان به واكفر منكره كالفلاسفة من نزول عیسٰی عليه السلام آخر الزمان لانه كان نبيا قبل تحلى نبينا صلی الله عليه وسلم بالنبوة فی هذه النشاة۔
(روح المعانی ص ۳۴ ج۲۲)
ترجمہ :"اور آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کے اس عالم میں وصف نبوت کے ساتھ متصف ہونے کے بعد وصف نبوت کا پیدا ہونا بالکل منقطع ہو گیا‘ جن و انس میں سے کسی میں اب یہ وصف پیدا نہیں ہو سکتا‘ اور یہ مسئلہ ختم نبوت اس عقیدہ سے ہرگز متعارض نہیں جس پر امت نے اجماع کیا ہے‘ اور جس میں احادیث شہرت کو پہنچی ہوئی ہیں اور شاید درجہ تواتر معنوی کو پہنچ جائیں‘ اور جس پر قرآن نے تصریح کی ہے اور جس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کے منکر مثلاً فلاسفہ کو کافر سمجھا گیا ہے‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا آخر زمانہ میں نازل ہونا۔ کیونکہ وہ آنحضرت ﷺ کے اس عالم میں نبوت ملنے سے پہلے وصف نبوت کے ساتھ متصف ہو چکے تھے"۔
نیز اسی آیت کی تشریح کرتے ہوئے صاحب روح المعانی فرماتے ہیں :
”وکونه صلی الله علیه وسلم خاتم النبیین مما نطق به الکتاب وصدعت به السنة واجمعت علیه الامة فیکفر مدعی خلافه ویقتل ان اصر“۔
(روح المعانی ص ۴۱ ج ۲۲)
ترجمہ :"اور آنحضرت ﷺ کا آخر النبیین ہونا ان عقائد میں سے ہے جن پر قرآن ناطق ہے‘ اور جن پر احادیث نے صاف صاف تصریح کی‘ اور جن پر امت نے اجماع کیا‘ اس لئے اس کے برخلاف کا دعویٰ کرنے والے کو کافر سمجھا جائے گا‘ اور اگر توبہ نہ
کرے تو قتل کردیا جائے“۔
زرقانی :
اور علامہ زرقانیؒ شرح مواہب لدنیہ میں آیت مذکورہ کی توضیح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
”ومنہا (یعنی من خصائصہ علیہ السلام) انہ خاتم الانبیاء والمرسلین کما قال تعالیٰ ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین ای آخرہم الذی ختمہم او ختموا بہ‘ علی قراۃ عاصم بالفتح۔ وروی احمد والترمذی والحاکم باسناد صحیح عن انس مرفوعًا ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی۔ قیل من لا نبی بعدہ یکون اشفق علیٰ امتہ وہو کوالد لولد لیس لہ غیرہ‘ ولا یقدح نزول عیسیٰ علیہ السلام بعدہ لانہ یکون علی دینہ مع ان المراد انہ آخر من نبی“۔
(زرقانی شرح مواہب ص۲۶۷ ج۵)
ترجمہ : ”اور آنحضرت ﷺ کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ آپ سب انبیا اور رسل کے ختم کرنے والے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ یعنی آخر النبیین جس نے انبیا کو ختم کیا یا وہ جس پر انبیا ختم کئے گئے‘ اور یہ معنی عاصم کی قرات یعنی بالفتح کے مطابق ہیں۔ اور امام احمد اور
ترمذی اور حاکم نے باسناد صحیح حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ رسالت ونبوت منقطع ہو چکی، نہ میرے بعد کوئی رسول ہے اور نہ نبی، کہا جاتا ہے کہ جس نبی کے بعد کوئی اور نبی نہ ہو وہ اپنی امت کے لئے زیادہ شفیق ہو گا اور وہ مثل اس باپ کے ہے کہ جس کی اولاد کے لئے اس کے بعد تربیت اور نگرانی کرنے والا نہ ہو، اور نزول عیسیٰ علیہ السلام سے ختم نبوت پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا اس لئے کہ عیسیٰ علیہ السلام اس وقت آنحضرت ﷺ کے دین پر ہوں گے، علاوہ بریں ختم نبوت سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے آخر میں نبی بنائے گئے، اور ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام پہلے نبی بن چکے ہیں۔“
خلاصہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک کے لئے پوری نوع انسانی کے لئے مبعوث فرما گئے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا آفتاب عالم تاب قیامت تک روشن رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ کسی نبی کی ضرورت ہے اور نہ گنجائش ۔
- ۲ : الیوم اکملت لکم دینکم واتممت
علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا “۔
(سورہ مائدہ)
ترجمہ : ” آج میں نے تمہارا دین کامل کر دیا، اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لئے دین اسلام ہی کو پسند کیا “۔
یہ آیت نبی کریم ﷺ کے آخری حج حجۃ الوداع میں جمعہ کے دن ۹ ذی الحج کو نازل ہوئی‘ اور اس کے بعد آنحضرت ﷺ ۸۰-۸۱ دن دنیا میں رونق افروز رہے اور اس آیت شریفہ کے بعد حلت یا حرمت کا کوئی حکم نازل نہیں ہوا۔
اس آیت شریفہ میں دین کے ہمہ وجوہ کامل ہونے اور نعمت خداوندی کے پورا ہونے کا اعلان فرمایا گیا ہے۔ اور چونکہ قیامت تک کے لئے دین کی تکمیل کا اعلان کردیا گیا‘ اس لئے یہ اعلان آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کو بھی متضمن ہے۔ حافظ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں کہ :
”ہذہ اکبر نعم اللہ تعالیٰ علی ہذہ الامۃ حیث اکمل تعالیٰ دینہم فلا یحتاجون الی دین غیرہ ولا الی نبی غیر نبیہم صلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ ولہذا جعلہ اللہ تعالیٰ خاتم الانبیاء وبعثہ الی الانس والجن۔“
(ابن کثیر ص ۱۳ ج ۲)
ترجمہ : ”یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے کہ اس نے ان کے لئے دین کو کامل فرمایا‘ لہٰذا امت محمدیہ نہ اور کسی دین کی محتاج ہے نہ اور کسی نبی کی‘ اور اس لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء بنایا‘ اور تمام جن و بشر کی طرف مبعوث فرمایا“۔
اس آیت شریفہ سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ قیامت تک کے لئے تمام انسانوں اور جنوں کیلئے رسول ہیں‘ اور آپ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد
قیامت تک کوئی نبی مبعوث نہیں ہو گا۔
- ۳۔۔۔۔ حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے سلسلہ نبوت شروع ہوا تو اعلان ہوا
کہ :
"یا بنی آدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی"۔
(الاعراف ۳۵)
ترجمہ :"اے اولاد آدم کی !اگر تمہارے پاس میرے پیغمبر آویں جو تم ہی میں سے ہوں گے جو میرے احکام تم سے بیان کریں گے"۔
لیکن حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام جو خاتم انبیا بنی اسرائیل ہیں ،ان کی زبان مبارک سے یہ اعلان فرمایا گیا کہ میرے بعد ایک رسول آئے گا جن کا نام نامی اور اسم گرامی احمد ہو گا (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے :
"ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد"۔
(الصف :۶)
ترجمہ :"اور میرے بعد جو ایک رسول آنے والے ہیں جن کا نام ( مبارک) احمد ہو گا میں ان کی بشارت دینے والا ہوں"۔
اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد صرف ایک رسول کا آنا باقی تھا، اور وہ ہیں محمد مصطفےٰ احمد مجتبےٰ ﷺ ، ان کی تشریف آوری کے بعد قیامت تک ان کے علاوہ کسی نبی ورسول کی آمد متوقع نہیں۔
- ۴۔۔۔۔۔۔ قرآن کریم کی متعدد آیات شریفہ میں آنحضرت ﷺ سے قبل نازل
ہونے والی وحی اور کتاب پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے ، مثلاً :
- ۱۔ "والذین یومنون بما انزل الیک وما انزل
من قبلك وبالاخرة هم يوقنون“۔
(البقرة ۴)
ترجمہ : ” اور وہ لوگ ایسے ہیں کہ یقین رکھتے ہیں اس کتاب پر بھی جو آپ کی طرف اتاری گئی ہے اور ان کتابوں پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری جاچکی ہیں، اور آخرت پر بھی وہ لوگ یقین رکھتے ہیں۔“
- ۲۔ ”لكن الراسخون فى العلم منهم
والمومنون يومنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك“۔
(النساء : ۱۶۲)
ترجمہ : ” لیکن ان میں جو لوگ علم (دین) میں پختہ ہیں اور جو (ان میں) ایمان لے آنے والے ہیں کہ اس (کتاب) پر بھی ایمان لاتے ہیں جو آپ کے پاس بھیجی گئی اور (اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں) جو آپ سے پہلے بھیجی گئی تھی“۔
- ۳۔ ”يا ايها الذين آمنوا آمنوا بالله
ورسوله والكتاب الذى نزل على رسوله والكتاب الذى انزل من قبل“۔
(النساء : ۱۳۶)
ترجمہ : ” اے ایمان لانے والو! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول (محمدﷺ) پر اور اس کتاب پر جس کو نازل کیا اپنے رسول (ﷺ) پر اور اس کتاب پر جو نازل کی تھی پہلے“۔
- ۴۔ ”ولقد اوحى اليك والى الذين من قبلك“۔
(الزمر : ۶۵)
ترجمہ : ” اور آپ کی طرف بھی اور جو پیغمبر آپ سے پہلے ہو
گزرے ہیں ان کی طرف یہ (بات) وحی میں بھیجی جاچکی ہے"۔
۵۔ "الم تر الی الذین یزعمون انھم آمنوا بما
انزل الیک وما انزل من قبلک"۔
(النساء : ۶۰)
ترجمہ :"کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ
وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی گئی
اور اس کتاب پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کی گئی"۔
۶۔ "کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک
اللہ العزیز الحکیم"۔
(الشوریٰ : ۳)
ترجمہ :"ایسے ہی وحی بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ آپ کی طرف اور آپ
سے پہلوں کی طرف جو زبردست اور حکمت والا ہے"۔
ان آیات شریفہ سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کے بعد کوئی کتاب اور کوئی وحی
اور کوئی خطاب الہیٰ ایسا باقی نہیں رہا کہ اس پر ایمان لانا واجب ہو، بلکہ جو وحی کہ انبیا
کرام علیہم السلام کے ساتھ مخصوص ہے اور جو انسانوں کیلئے واجب الایمان ہے، وہ
آنحضرت ﷺ کے بعد باقی نہیں رہی، اس لئے کہ آنحضرت ﷺ کے
بعد کوئی نبی اور رسول آنے والا نہیں، اور یہ ناممکن ہے کہ دنیا میں کوئی نبی ورسول
آئے اور اس پر ایسی وحی نازل نہ ہو جس پر ایمان لانا واجب ہو۔
۵۔ قرآن کریم کی متعدد آیات میں آنحضرت ﷺ کی امت کو ایک ہی
امت شمار کرتے ہوئے اس امت کا دامن قیام قیامت تک پھیلایا گیا، مثلاً :
ا۔ "کنتم خیر امۃ اخرجت للناس"۔
(آل عمران) :
ترجمہ : "تم لوگ اچھی جماعت ہو کہ وہ جماعت لوگوں کے لئے ظاہر کی گئی"۔
۲۔ "وکذلک جعلناکم امۃ وسطا لتکونوا شہداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شہیدا"۔
(البقرہ ۱۴۳) :
ترجمہ : "اور ہم نے تم کو ایسی ہی ایک جماعت بنادی ہے جو (ہر پہلو سے) اعتدال پر ہے تاکہ تم (مختلف) لوگوں کے مقابلہ میں گواہ ہو، اور تمہارے لئے رسول اللہ (ﷺ) گواہ ہوں"۔
۳۔ "فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشہید وجئنا بک علی ہولاء شہیدا"۔
(النساء ۴۱) :
ترجمہ : "سو اس وقت بھی کیا حال ہوگا جب کہ ہم ہر ہر امت میں سے ایک ایک گواہ کو حاضر کریں گے اور آپ ﷺ کو ان لوگوں پر گواہی دینے کے لئے حاضر لاویں گے"۔
ان آیات سے ثابت ہے کہ نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہے، نہ امت محمدیہ کے بعد کوئی امت۔ اس لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا :
انا آخر الانبیا وانتم آخر الامم
(ابن ماجہ ص ۲۹۷)
ترجمہ : "میں آخری نبی ہوں، اور تم آخری امت ہو"۔
۶۔۔۔ قرآن کریم میں بار بار آنحضرت ﷺ سے پہلے کے انبیا کرام علیہم السلام کا
تذکرہ کیا گیا ہے، لیکن آپ کے بعد کسی رسول کے آنے کی طرف کوئی ہلکا سا اشارہ بھی نہیں کیا گیا، مثلاً :
- ۱۔ "وما ارسلنا من قبلک من رسول"۔
(الانبیاء : ۲۵)
ترجمہ : اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی ایسا پیغمبر نہیں بھیجا"۔
- ۲۔ "وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی"۔
(الحج : ۵۲)
ترجمہ : "اور (اے محمدﷺ) ہم نے آپ کے قبل کوئی رسول اور کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا۔"
- ۳۔ "وما ارسلنا قبلک من المرسلین"۔
(الفرقان : ۲۰)
ترجمہ : "اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے"۔
اس قسم کی آیات بہت زیادہ ہیں "المعجم المفهرس لالفاظ القرآن" میں اس نوع کی آیات بتیس ذکر کی گئی ہیں۔
ظاہر ہے کہ اگر آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبوت مقدر ہوتی اور ان نبیوں کے انکار سے امت کی تکفیر لازم آتی تو لا محالہ وصیت و تاکید ہوتی کہ آنحضرتﷺ کے بعد بھی نبی آئیں گے ایسا نہ ہو کہ ان میں سے کسی کا انکار کر کے ہلاک ہو جاؤ۔
آنحضرتﷺ سے پہلے نبیوں کے ذکر کرنے کی بجائے اس سے زیادہ اہم یہ تھا کہ بعد میں آنے والے نبیوں کو ذکر کیا جاتا، کیونکہ انبیاء سابقین پر ایمان اجمالی بھی کافی تھا خواہ ان کی تعداد جو بھی ہو، بخلاف بعد میں آنے والے نبیوں کے کہ ان
کے ساتھ امت کو معاملہ پیش آنا تھا اس لئے ضروری تھا کہ ان کا ذکر تاکید کے ساتھ کیا جاتا، لیکن پورے قرآن میں ایک بھی آیت ایسی نہیں جس میں بعد آنے والے کسی نبی کا تذکرہ ہو، معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔
ان نکات میں میں نے قرآن کریم کی جن آیات کا حوالہ دیا ہے ان میں ختم نبوت کے مسئلہ کو ہر پہلو سے روشن کردیا گیا ہے، اور ان سے آیت "خاتم النبیین" کی تفسیر باکمل وجوہ معلوم ہوجاتی ہے کہ اس سے مراد ہے آخری نبی، جس کے بعد کوئی دوسرا نبی مبعوث نہ ہو۔
تنبیہ :
اگر کسی کو خیال ہو کہ جب آنحضرت ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی آنے والا نہیں ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری کیسے ثابت ہوسکتی ہے؟ تو جواب اس کا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام آنحضرت ﷺ سے پہلے کے نبی ہیں، جیسا کہ اوپر سورہ صف کی آیت نقل کرچکا ہوں :
"ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد"۔
(الصف: ۶)
ترجمہ : "اور میرے بعد جو ایک رسول آنے والے ہیں جن کا نام (مبارک) احمد ہوگا میں ان کی بشارت دینے والا ہوں"۔
معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد آنے والے تھے، چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی بشارت کے مطابق
آنحضرت ﷺ تشریف لائے' حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام چونکہ پہلے تشریف لائے تھے' اس لئے وہ انبیا سابقین کی فہرست میں شامل ہیں۔ اور امت محمدیہ تمام انبیا علیہم الصلوات والسلام پر پہلے سے ایمان لاچکی ہے ' البتہ آنحضرت ﷺ نے احادیث متواترہ میں اس کی اطلاع دی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ اٹھالئے گئے ہیں اور قرب قیامت میں جب کانا دجال نکلے گا تو اس کو قتل کرنے کے لئے تشریف لائیں گے۔
اس ناکارہ نے ”حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی حیات ونزول کا عقیدہ“ کے نام سے ایک رسالہ لکھا ہے جو تحفہ قادیانیت جلد سوم کا پہلا رسالہ ہے' اس میں مستند حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ قرب قیامت میں عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے نازل ہونے پر اللہ کا عہد ہے اور یہ تمام انبیا کرام علیہم السلام کا اجماعی عقیدہ ہے' تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اس پر اجماع ہے' اور صحابہؓ کے بعد چودہ صدیوں کے مجددین واکابر امت بھی اس پر متفق ہیں۔ واللہ الموفق۔
خاتم النبیین کا مفہوم احادیث متواترہ کی روشنی میں :
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباً دو سو احادیث میں علی رؤس الاشہاد مسئلہ ختم نبوت کو بیان فرمایا کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں' آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا' لیکن کسی حدیث میں اس طرف اشارہ بھی نہیں فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت جاری رہے گا یا یہ کہ انبیا آتے رہیں گے۔ ختم نبوت پر چند احادیث ملاحظہ فرمائیں :
- ۱......... حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا :
”انت منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ الا انہ لا نبی
بعدی“۔ (صحیح بخاری ص ۶۳۳ ج ۲ ، صحیح مسلم ص ۲۷۸ ج ۲)
ترجمہ : ”یعنی تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون کو موسیٰ (علیہما السلام) سے تھی ،مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے“۔
اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے :
”الا انہ لا نبوۃ بعدی“۔
ترجمہ : ”مگر میرے بعد نبوت نہیں ۔“
یہ حدیث ان پندرہ صحابہ کرام سے مروی ہے : حضرت سعد بن ابی وقاصؓ ، حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ ،حضرت عمرؓ ،حضرت علیؓ ،حضرت اسماء بنت عمیس ؓ ،حضرت ابو سعید خدریؓ ،حضرت ابو ایوب انصاری ؓ ،حضرت جابر بن سمرہؓ ،حضرت ام سلمہؓ ،حضرت براء بن عازبؓ ،حضرت زید بن ارقمؓ ،حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ،حضرت حبشی بن جنادہؓ ، حضرت مالک بن حویرثؓ ،حضرت زید بن ابی اوفیٰ رضوان اللہ علیہم اجمعین، جن کو میں نے اپنے رسالہ ”عقیدہ ختم نبوت“ میں بحوالہ ذکر کیا ہے۔
حضرت ہارون ؑ حضرت موسیٰ علیہما السلام کے تابع تھے اور ان کی کتاب و شریعت کے پابند تھے گویا غیر تشریعی نبی تھے ،لیکن آنحضرت ﷺ نے اپنے بعد ایسی نبوت کی بھی نفی فرمادی، معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد قیامت تک نہ کوئی تشریعی نبی آسکتا ہے نہ غیر تشریعی۔
- ۲ ...... عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال کانت بنو اسرائیل تسوسھم الانبیاء کلما ھلک نبی خلفہ نبی، وانہ لا نبی بعدی، وسیکون خلفاء
فيكثرون قالوا فما تامرنا يا رسول الله قال فوا ببيعة الاول فالا ول اعطوهم حقهم فان الله سائلهم عما استرعاهم“۔
(صحیح بخاری ص ۴۹۱ ج۱‘ صحیح مسلم ص ۱۲۶
ج۲‘ مسند احمد ص ۲۹۷ ج۲‘ مشکوٰۃ ص ۳۲۰)
ترجمہ : ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل کی قیادت خود ان کے نبی کرتے تھے‘ جب ایک نبی کی وفات ہوجاتی تو اس کی جگہ دوسرا آجاتا‘ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں البتہ خلفا ہوں گے اور بہت ہوں گے صحابہؓ نے عرض کیا ہمیں آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ فرمایا جس سے پہلے بیعت ہوجائے اس کی بیعت کو پورا کرو‘ اسی طرح درجہ بدرجہ ان کو ان کا حق دو‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کی رعیت کے بارے میں خود سوال کرلیں گے“۔
انبیاء بنی اسرائیل سابقہ شریعت پر قائم تھے خود اپنی شریعت نہیں رکھتے تھے‘ گویا غیر تشریعی نبی تھے اور ان انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر کرکے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نہ صرف یہ کہ صاحب شریعت نبی نہیں آسکتے بلکہ غیر تشریعی انبیا کی آمد بھی بند کردی گئی‘ اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اس امت کو انبیا کے بجائے خلفاء سے واسطہ پڑے گا۔
- ۳۔۔۔۔۔۔ آنحضرت ﷺ نے ختم نبوت کی ”حسی“ مثال بیان فرمائی‘ فرمایا :
”مثلی ومثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بنیانا فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من
زاوية من زواياه فجعل الناس يطوفون بالبناء ويتعجبون له ويقولون هلا وضعت هذه اللبنة قال فانا اللبنة وانا خاتم النبيين"۔
(صحیح بخاری ص ۵۰۱ ج ۱۔ صحیح مسلم ص ۲۲۸ ج ۲۔ واللفظ لہ)
ترجمہ : ”میری اور مجھ سے پہلے انبیا کی مثل ایسی ہے جیسے کہ ایک شخص نے بہت حسین و جمیل محل بنایا مگر اس کے کسی کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس کے گرد گھومنے لگے اور اس پر عش عش کرنے لگے، اور یہ کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ کیوں نہیں لگادی گئی۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں وہی آخری اینٹ ہوں اور میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں“۔
یہ حدیث حضرت ابو سعید خدریؓ سے بھی مروی ہے۔
اس حدیث پاک میں حسی مثال سے سمجھایا کہ نبوت کے محل میں صرف ایک اینٹ کی جگہ باقی تھی جو آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پر ہو چکی ہے اور قصر نبوت پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے، اب کسی اور نبی کی گنجائش ہی نہیں۔
- ۴۔ آنحضرت ﷺ نے یہ بھی سمجھایا کہ آنحضرت ﷺ کا ساری
مخلوق کی طرف مبعوث ہونا اور آپ کے ذریعہ سے انبیا کرامؑ کی آمد کا سلسلہ بند ہو جانا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے۔
"عن ابى هريرة رضى الله تعالى عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فضلت على الانبياء بست، اعطيت جوامع الكلم، ونصرت بالرعب، واحلت لى الغنائم، وجعلت لى
الارض طهورا ومسجدا، وارسلت الی الخلق کافة وختم بی النبیون۔
(صحیح مسلم ص ۱۹۹ ج ۱، مشکوٰۃ شریف ص ۵۱۲)
ترجمہ : ”حضرت ابو ہریرةؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے چھ چیزوں میں انبیا کرام علیہم السلام پر فضیلت دی گئی ہے۔ ۱: مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے ہیں۔ ۲۔ رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے۔ ۳۔ مال غنیمت میرے لئے حلال کر دیا گیا ہے۔ ۴۔ روئے زمین کو میرے لئے پاک کرنے والی چیز اور مسجد بنادیا گیا ہے۔ ۵۔ مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔ ۶۔ اور مجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔“
اس مضمون کی ایک حدیث صحیحین میں حضرت جابرؓ سے مروی ہے، جس میں پانچ خصائص کا ذکر ہے، اور اس کے آخر میں ہے:
وکان النبی یبعث الی قومہ خاصة وبعثت الی الناس عامة۔
(مشکوٰۃ ص ۵۱۲)
ترجمہ : ”پہلے انبیا کو خاص ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔“
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت تک کے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کے آنے کی گنجائش نہیں، لہٰذا جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت ورسالت کا دعویٰ کرتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتا ہے، اور ایسا شخص دجال
وکذاب ہے‘ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے ایسے دجالوں اور کذابوں کے ظہور کی پیش گوئی بھی فرمائی ہے :
۵.........عن ثوبان رضی الله تعالیٰ عنه قال قال رسول الله ﷺ انه سيكون في امتی كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبی وانا خاتم النبيين لا نبی بعدی”۔
(ابو داود ص ۲۲۸ ج ۲‘ ترمذی ص ۴۵ ج ۲)
ترجمہ : ”حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے ان میں سے ہر ایک یہی دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے‘ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں‘ میرے بعد کوئی نبی نہیں“۔
یہ حدیث حضرت ثوبانؓ کے علاوہ گیارہ صحابہؓ سے مروی ہے‘ جن کو میں اپنے رسالہ ”عقیدہ ختم نبوت“ میں باحوالہ نقل کر چکا ہوں اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے اس امت میں نبوت ورسالت کا سلسلہ جاری رہنے کے بجائے جھوٹے مدعیان نبوت کے ظہور کی اطلاع دی ہے‘ اور اس امت میں نبوت ورسالت کے انقطاع کی خبر دی ہے‘ چنانچہ حدیث مبارکہ ہے :
٦.........عن انس بن مالک رضی الله تعالیٰ عنه قال قال رسول الله ﷺ ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی”۔
(ترمذی ص ۱۵ ج ۲ مسند احمد ص ۲۶۷ ج ۳)
ترجمہ : حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نبوت ورسالت ختم ہوچکی ہے‘ پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ کوئی نبی“۔
حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے فتح الباری میں اس حدیث میں بروایت ابو یعلیٰ اتنا اضافہ نقل کیا ہے کہ :
ولکن بقیت مبشرات، قالوا وما المبشرات، قال رویا المسلمین جزء من اجزاء النبوۃ۔
(فتح الباری ص۳۷۵ ج۱۲)
ترجمہ : لیکن مبشرات باقی رہ گئے ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ مبشرات کیا ہیں؟ فرمایا کہ مومن کا خواب جو نبوت کے اجزا میں سے ایک جز ہے“۔
یہ حدیث حضرت انسؓ کے علاوہ حضرت ابو ہریرہؓ ‘ حضرت عائشہؓ ‘ حضرت حذیفہ بن اسیدؓ ‘ حضرت ابن عباسؓ ‘ حضرت ام کرز الکعبیہؓ سے بھی مروی ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ نبوت ورسالت کا دروازہ بند ہوچکا ہے‘ لہٰذا آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کے آنے کی کوئی گنجائش نہیں‘ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ مبشرات نبوت کی قسم نہیں بلکہ نبوت کا ایک جز ہے‘ اور سب جانتے ہیں کہ کسی چیز کے ایک جز کے پائے جانے سے وہ چیز متحقق نہیں ہوتی۔
بہر حال احادیث نبویہ کی رو سے بھی آنحضرت ﷺ کا آخری نبی ہونا اور اس امت کا آخری امت ہونا ایسا قطعی اور دو ٹوک ہے جس میں ذرا بھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔ یہاں صرف چند احادیث کا حوالہ دیا گیا ہے‘ احادیث کی پوری تفصیل
میرے رسالہ ”عقیدہ ختم نبوت“ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
اجماع امت
- ۱......... علامہ علی قاری رحمتہ اللہ علیہ شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں :
دعویٰ النبوۃ بعد النبیﷺ کفر بالاجماع ۔
(ص ۲۰۲)
ترجمہ : ہمارے نبیﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے“۔
- ۲......... حافظ ابن حزم اندلسیؒ ”کتاب الفصل فی الملل والنحل“ میں لکھتے ہیں :
واما من قال ان اللہ عز وجل فلان للانسان بعینہ وان اللہ تعالیٰ یحل فی جسم من اجسام خلقہ او ان بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبیا غیر عیسیٰ بن مریم فانہ لا یختلف اثنان فی تکفیرہ ۔
(کتاب الفصل ص ۲۴۹ و ۲۵۰ ج ۳)
ترجمہ : جس شخص نے کسی انسان کو کہا کہ یہ اللہ ہے‘ یا یہ کہا کہ اللہ اپنی خلقت کے اجسام میں سے کسی جسم میں حلول کرتا ہے‘ یا یہ کہا کہ محمدﷺ کے بعد کوئی نبی ہے سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے‘ پس ایسے شخص کے کافر ہونے میں دو آدمیوں کا بھی اختلاف
نہیں ہے۔“
- ۳ ـــ حافظ فضل اللہ تورپشتیؒ ”معتمد فی المعتقد“ میں مسئلہ ختم نبوت کی طویل
وضاحت کے بعد لکھتے ہیں :
” بحمد اللہ این مسئلہ درمیان اسلامیان روشن ترازاں است کہ آنرا بکشف و بیان حاجت افتد، اما ایں مقدار از قرآن از ترس آن یاد کردیم کہ مبادا زندیقی، جاہلی را در شبہتی اندازد۔ و منکر این مسئلہ کسی تواند بود کہ اصلاً در نبوت او معتقد نہ باشد کہ اگر بر رسالت او معترف بودی ویرا در ہرچہ ازاں خبر داد صادق دانستی۔ و بہماں جہتا کہ از طریق تواتر رسالت او پیش از ما بدان درست شدہ است این نیز درست شد کہ وی باز پسین پیغمبران است در زمان او و تا قیامت بعد از وی ہیچ نبی نباشد، و ہر کہ دریں شک است دراں نیز شک است۔ و آنکس کہ گوید بعد ازیں نبی دیگر بود، یا ہست، یا خواہد بود، و آنکس کہ گوید کہ امکاں دارد کہ باشد، کافر است۔“
(ص۹۷)
ترجمہ :” بحمد اللہ! یہ مسئلہ اہل اسلام کے درمیان اس سے زیادہ روشن ہے کہ اس کی تشریح و وضاحت کی ضرورت ہو۔ اتنی وضاحت بھی ہم نے قرآن کریم سے اس اندیشہ کی بنا پر کردی کہ مبادا کوئی زندیق کسی جاہل کو شبہ میں ڈالے۔
اور عقیدہ ختم نبوت کا منکر وہی شخص ہو سکتا ہے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت پر بھی ایمان نہ رکھتا ہو، کیوں کہ اگر یہ شخص آپ ﷺ کی رسالت کا قائل ہوتا تو جن چیزوں کی آپ نے خبر دی ہے ان میں آپ ﷺ کو سچا سمجھتا۔ اور جن دلائل اور جس طریق تواتر سے آپ کی رسالت ونبوت ہمارے لئے ثابت ہوئی ہے، ٹھیک اسی درجہ کے تواتر سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ آپ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے زمانہ میں اور قیامت تک کوئی نبی نہ ہوگا، اور جس شخص کو اس ختم نبوت میں شک ہو، اسے خود رسالت محمدیؐ میں بھی شک ہوگا، اور جو شخص یہ کہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوا تھا یا اب موجود ہے یا آئندہ کوئی نبی ہوگا، اسی طرح جو شخص یہ کہے کہ آپ کے بعد نبی ہو سکتا ہے، وہ کافر ہے"۔
- ۴ ......... حافظ ابن کثیرؒ آیت خاتم النبیین کے تحت لکھتے ہیں :
فمن رحمۃ اللہ تعالیٰ بالعباد ارسال محمد صلی اللہ علیہ وسلم الیہم ثم من تشریفہ لہم ختم الانبیاء والمرسلین بہ واکمال الدین الحنیف لہ وقد اخبر اللہ تبارک وتعالیٰ فی کتابہ ورسولہ صلی اللہ علیہ وسلم فی السنۃ المتواترۃ عنہ انہ لا نبی بعدہ لیعلموا ان کل من ادعی ہذا المقام بعدہ فہو کذاب‘ افاک‘ دجال‘ ضال‘ مضل‘ ولو تخرق وشعبذ واتی بانواع
السحر والطلاسم والنيرنجيات فكلها محال وضلال عند اولى الالباب، كما اجرى الله سبحانه وتعالى على يد الاسود العنسي باليمن ومسيلمة الكذاب باليمامة من الاحوال الفاسدة والاقوال الباردة ما علم كل ذي لب وفهم وحجى انهما كاذبان ضالان لعنهما الله تعالى۔ وكذلك كل مدع لذلك الى يوم القيامة حتى يختموا بالمسيح الدجال فكل واحد من هولاء الكذابين يخلق الله معه من الامور ما يشهد العلماء والمومنون بكذب من جاء بها ۔
(ابن کثیر: تفسیر القرآن العظیم ص ۴۹۴ ج ۳، مطبوعہ قاہرہ ۱۳۷۵ھ)
ترجمہ : ”پس بندوں پر اللہ کی رحمت ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کی طرف بھیجنا، پھر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کی تعظیم و تکریم میں سے یہ بات بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تمام انبیا اور رسل علیہم السلام کو ختم کیا اور دین حنیف کو آپ کے لئے کامل کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اس کے رسول ﷺ نے اپنی احادیث متواترہ میں خبر دی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی پیدا ہونے والا نہیں تاکہ امت جان لے کہ ہر وہ شخص جو آپ ﷺ کے بعد اس مقام نبوت کا دعویٰ کرے وہ بڑا جھوٹا، افترا پرداز، دجال گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے، اگرچہ شعبدہ بازی کرے، اور قسم قسم کے جادو، طلسم اور نیرنگیاں دکھلائے، اس
لئے کہ یہ سب کا سب عقلا کے نزدیک باطل اور گمراہی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسود عنسی (مدعی نبوت) کے ہاتھ پر یمن میں اور مسیلمہ کذاب (مدعی نبوت) کے ہاتھ پر یمامہ میں احوال فاسدہ اور اقوال باردہ ظاہر کئے، جن کو دیکھ کر ہر عقل و فہم اور تمیز والا یہ سمجھ گیا کہ یہ دونوں جھوٹے اور گمراہ کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے۔ اور ایسے ہی قیامت تک ہر مدعی نبوت پر، یہاں تک کہ وہ مسیح دجال پر ختم کر دیئے جائیں گے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ایسے امور پیدا فرمادے گا کہ علما اور مسلمان اس کے جھوٹے ہونے کی شہادت دیں گے“۔
- ۵ ...... علامہ سفارینی حنبلی ”شرح عقیدہ سفارینی“ میں لکھتے ہیں :
ومن زعم انھا مكتسبة فھو زنديق يجب قتلہ، لا نہ یقتضی کلامہ واعتقادہ ان لا تنقطع، وہو مخالف للنص القرآنی والاحادیث المتواترة بان نبینا صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین علیہم السلام۔
(محمد بن احمد سفارینی ص ۲۵۷ ج ۲ مطبع المنار مصر ۱۳۲۳ھ)
ترجمہ :”جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ نبوت حاصل ہوسکتی ہے وہ زندیق اور واجب القتل ہے کیوں کہ اس کا کلام و عقیدہ اس بات کو مقتضی ہے کہ نبوت کا دروازہ بند نہیں، اور یہ بات نص قرآن اور احادیث متواترہ کے خلاف ہے، جن سے قطعاً ثابت ہے کہ ہمارے نبی ﷺ خاتم النبیین ہیں“ (علیہم السلام)۔
- ۶......... علامہ زرقانی شرح مواہب میں امام ابن حبانؒ سے نقل کرتے ہیں :
من ذہب الی ان النبوۃ مکتسبۃ لا تنقطع او الی ان الولی افضل من النبی فہو زندیق یجب قتلہ لتکذیب القرآن وخاتم النبیین۔
(شرح المواہب اللدنیہ ص ۱۸۸ ج ۶ مطبوعہ ازھریہ مصر ۱۳۲۷)
ترجمہ : ”جس شخص کا یہ مذہب ہو کہ نبوت کا دروازہ بند نہیں‘ بلکہ حاصل ہو سکتی ہے‘ یا یہ کہ ولی نبی سے افضل ہوتا ہے‘ ایسا شخص زندیق اور واجب القتل ہے‘ کیونکہ وہ قرآن کریم کی آیت ”خاتم النبیین“ کی تکذیب کرتا ہے“۔
- ۷......... اور سید محمود آلوسی بغدادی تفسیر روح المعانی میں آیت خاتم النبیین کے ذیل
میں لکھتے ہیں :
وکونہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین مما نطق بہ الکتاب وصدعت بہ السنۃ واجمعت علیہ الامۃ فیکفر مدعی خلافہ ویقتل ان اصر۔
(روح المعانی ص ۴۱ ج ۲۲)
ترجمہ : ”اور آنحضرت ﷺ کا آخری نبی ہونا ان مسائل میں سے ہے جن پر قرآن ناطق ہے‘ جن کو سنت نے واشگاف کیا ہے اور جن پر امت کا اجماع ہے۔ پس اس کے خلاف دعویٰ کرنے والا کافر قرار دیا جائے گا اور اگر وہ اصرار کرے تو اسے قتل کیا جائے گا“۔
- ۸......... قاضی عیاض ”الشفا“ میں لکھتے ہیں :
وكذلك من ادعى نبوة احد مع نبينا صلى الله عليه وسلم او بعده ....او من ادعى النبوة لنفسه او جوز اكتسابا .... وكذ لك من ادعى منهم انه يوحى اليه وان لم يدع النبوة .... فهؤلاء كلهم كفار مكذبون للنبى صلى الله عليه وسلم، لانه اخبر صلى الله عليه وسلم انه خاتم النبيين لا نبى بعده، واخبر عن الله تعالى انه خاتم النبيين، وانه ارسل كافة للناس، واجمعت الامة على حمل هذا الكلام على ظاهره، وان مفهومه المراد به دون تاويل ولا تخصيص فلا شك فى كفر هولاء الطوائف كلها قطعا اجماعا وسمعا ۔
(الشفاء ص ۲۳۶۔۲۳۷ ج ۲)
ترجمہ :”اسی طرح جو شخص ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یا آپ کے بعد کسی شخص کے نبی ہونے کا مدعی ہو .... یا خود اپنے لئے نبوت کا دعویٰ کرے یا نبوت کے حصول کو اور صفائے قلب کے ذریعہ مرتبہ نبوت تک پہنچنے کو جائز رکھے.... اسی طرح جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے خواہ صراحۃ نبوت کا دعویٰ نہ کرے تو یہ سب لوگ کافر ہیں، کیونکہ یہ
آنحضرت ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ نے خبر دی کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں اور یہ کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں‘ اور آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی خبر دی ہے کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں اور یہ کہ آپؐ تمام انسانوں کے لئے مبعوث کئے گئے ہیں اور پوری امت کا اس پر اجماع ہے کہ یہ کلام ظاہر پر محمول ہے اور یہ کہ بغیر کسی تاویل و تخصیص کے اس سے ظاہری مفہوم ہی مراد ہے۔ اس لئے ان تمام لوگوں کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اور ان کا کفر کتاب و سنت اور اجماع کی رو سے قطعی ہے"۔ ‘
ایک اور جگہ لکھتے ہیں :
وقد قتل عبد الملک بن مروان الحارث المتنبی وصلبہ وفعل ذلک غیر واحد من الخلفاء والملوک باشباہہم واجمع علماء وقتہم علی صواب فعلہمُ والمخالف فی ذلک من کفرہمُ کافر۔
(الشفاء ص ۲۵۷ ج ۲)
ترجمہ : ”اور خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مدعی نبوت حارث کو قتل کر کے سولی پر لٹکایا تھا اور بے شمار خلفا و سلاطین نے اس قماش کے لوگوں کے ساتھ یہی سلوک کیا۔ اور اس دور کے تمام علما نے بالاجماع اس کے اس فعل کو صحیح اور درست قرار دیا۔ اور جو شخص مدعی نبوت کے کفر میں اس اجماع کا مخالف ہو وہ خود کافر ہے“۔
ختم نبوت عقل سلیم کی روشنی میں
قرآن کریم، احادیث متواترہ، اور اجماع امت کے بعد اس پر غور کریں کہ آیا عقل سلیم کی روشنی میں آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی آسکتا ہے؟
دین محمدی کے موخر ہونے کی عقلی وجوہ
- ۱.........حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اپنے رسالہ ”تحذیر الناس“ میں تحریر فرماتے
ہیں کہ :
(آنحضرت ﷺ کا جماعت انبیا میں سب سے آخر میں آنا لازم تھا، اول یا درمیان میں نہیں آسکتے تھے کیونکہ بالجملہ رسول اللہ ﷺ وصف نبوت میں موصوف بالذات ہیں اور سوا آپ کے اور انبیا موصوف بالعرض۔
اس صورت میں اگر رسول اللہ ﷺ کو اول یا وسط میں رکھتے تو انبیا متاخرین کا دین، اگر مخالف دین محمدی (ﷺ) ہوتا تو اعلیٰ کا ادنیٰ سے منسوخ ہونا لازم آتا حالانکہ خود فرماتے ہیں :
”ما ننسخ من آیۃ او ننسہا نأت بخیر منہا او مثلہا۔“
(بقرہ، ۱۰۶)
(ترجمہ :”ہم جس آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا (اے نبی آپ کے ذہن سے) بھلا دیتے ہیں تو اس کے بدلے میں اس سے بہتر یا اس جیسی دوسری آیت بھیج دیتے ہیں“۔)
اور کیوں نہ ہو‘ یوں نہ ہو تو اعطا دین منجملہ رحمت نہ رہے‘ آثار غضب میں سے ہوجائے‘ ہاں اگر یہ بات متصور ہوتی کہ اعلیٰ درجہ کے علما کے علوم ادنیٰ درجہ کے علما کے علوم سے کمتر اور ادون ہوتے ہیں‘ تو مضائقہ بھی نہ تھا‘ پر سب جانتے ہیں کہ عالم کا اعلیٰ مرتبت ہونا مراتب علوم پر موقوف ہے۔ یہ نہیں تو وہ بھی نہیں‘ اور انبیا متاخرین کا دین اگر مخالف نہ ہو تا تو یہ بات ضرور ہے کہ انبیا متاخرین پر وحی آتی اور افاضہ علوم کیا جاتا‘ ورنہ نبوت کے پھر کیا معنی؟ سو اس صورت میں اگر وہی علوم محمدی ﷺ ہوتے تو بعد وعدہ محکم :
"انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون"
(ترجمہ : ہم ہی نے قرآن کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں"۔)
کے جو بہ نسبت اس کتاب کے جس کو قرآن کہئے اور بہ شہادت آیت :
"ونزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شىء
(النحل ر۸۹)
(ترجمہ : "ہم نے تجھ پر (اے نبی امی) کتاب اتاری ہے جو ہر چیز کو بیان کرتی ہے"۔)
جامع العلوم ہے کیا ضرورت تھی‘ اور اگر علوم انبیا متاخرین علوم محمدی (ﷺ) کے علاوہ ہوتے تو اس کتاب کا "تبيانا لكل شىء
ہونا غلط ہو جاتا۔ بالجملہ جیسے ایسے نبی جامع العلوم کے لئے ایسی ہی کتاب جامع چاہئے تھی تاکہ علو مراتب نبوت لاجرم علو مراتب علمی ہے چنانچہ معروض ہو چکا، میسر آئی ورنہ علو مراتب نبوت بے شک ایک قول دروغ اور حکایت غلط ہوتی، ایسے ہی ختم نبوت بمعنی معروض کو تاخر زمانی لازم ہے۔۔۔۔"
- ۲ حق تعالیٰ شانہ نے نبوت حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وقت سے
شروع کی اور آنحضرت ﷺ پر جو کہ دنیا کے خاتمہ پر ہیں اس کی تکمیل فرمادی اور دین کے کامل کرنے اور نبوت کے ختم ہونے کا اعلان فرمادیا گویا آنحضرت ﷺ کے درمیان اور امت کے درمیان قیامت تک کوئی دوسرا آدمی دخیل نہیں ہو گا اور امت اس عقیدہ پر قائم رہ کر رحمت خداوندی کے زیر سایہ ہوگی اور کوئی ملحد و زندیق اور دجال و کذاب اس امت کو بہکانے اور آنحضرت ﷺ سے اس کا رشتہ کاٹنے کی جرات نہیں کرے گا، خدانخواستہ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد بھی نبوت کا دروازہ کھلا رہتا تو ایک دوسرے کی تکفیر کا دروازہ بھی کھلتا چنانچہ غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کرنے کے بعد پوری امت محمدیہ کو کافر ٹھہرایا لہٰذا ختم نبوت آنحضرت ﷺ کی امت کے حق میں سراپا رحمت ہے۔
- ۳......... حضرت شیخ الاسلام امام العصر مولانا انور شاہ کشمیریؒ تحریر فرماتے ہیں :
"وچوں حکیم تصریح کردہ است کہ ہر چیزے را کہ بدایت است نہایت لازم است، واز دوام مستقبل جواب دادیم کہ تجدد امثال ست لاغیر، پس حسب حدیث نبوی عمارت نبوت ہم آغاز وانجام داشت، کہ از آدمؑ شروع کردہ
بر خاتم الانبیاءؐ کہ آخرین لبنہ ازاں عمارت ہستند، اختتام فرمودند۔ اکنوں صدد آنست کہ بر عالم طبل رحیل زنند، گویا نظام عالم مانند جلسہ بود کہ مجلس استقبالی منعقد شد، واز قدوم صدر جلسہ خبر داد، کہ ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد وصدر کبیر قدوم میمنت لزوم ارزانی داشت، وخطبہ خواند، وجلسہ را بدرود کردند"۔
(خاتم النبیین ص ۸۶ از مولانا انور شاہ کشمیریؒ)
ترجمہ : ”اور جب حکما نے تصریح کردی کہ جس چیز کے لئے بدایت ہے اس کے لئے نہایت بھی لازم ہے۔ اور دوام مستقبل کا ہم نے جواب دے دیا ہے کہ وہ صرف تجدد امثال ہے، تو حدیث نبوی کے مطابق عمارت نبوت بھی آغاز وانجام رکھتی ہے کہ اسے آدم علیہ السلام سے شروع کرکے حضرت خاتم الانبیاءﷺ پر، جو اس عمارت کی آخری اینٹ ہیں، ختم کردیا گیا۔ اور اب تو صرف اس امر کا انتظار ہے کہ عالم کے کوچ کا نقارہ بجوایا جائے۔ گویا نظام عالم کی مثل ایک ایسے جلسہ کی تھی جو مجلس استقبالیہ کے طور پر منعقد ہوا، اور صدر جلسہ کی آمد آمد کا اعلان ہوا، چنانچہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمادیا) ”اور میں خوشخبری سناتا ہوں ”ایک رسول کی“ جو میرے بعد آئے گا۔ اس کا نام نامی ”احمد“ ہوگا۔ اور صدر کبیر کی تشریف آوری ہوئی، انہوں نے خطبہ پڑھا اور جلسہ برخاست کردیا گیا“۔
حصہ دوم خاتم النبیین کا مفہوم اور قادیانیت
گزشتہ سطور میں معلوم ہوچکا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا بایں معنی ہے کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں آپ کے بعد قیامت تک کسی شخص کو خلعت نبوت سے سرفراز نہیں کیا جائے گا۔ قرآن کریم‘ احادیث متواترہ‘ اجماع امت اور دلائل عقلیہ اس کے شاہد ہیں اور یہ امت کا وہ عقیدہ ہے جو آنحضرت ﷺ سے لے کر آج تک امت میں متواتر چلا آرہا ہے اور اس کے منکر اور اس سے منحرف کو بلا تامل کافر و زندیق قرار دیا گیا ہے۔ اب آئیے یہ دیکھیں کہ ان تمام چیزوں کے برعکس خاتم النبیین کے بارے میں قادیانیت کا موقف کیا ہے؟ سب سے پہلے یہ سمجھنا چاہئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت کو ملعون‘ کذاب‘ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتا تھا۔
چنانچہ لکھتا ہے :
”ان پر واضح ہو کہ ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں“۔
(مجموعہ اشتہارات ص ۲۹۷ ج ۲)
”سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفےٰ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت و رسالت کو کذاب و کافر جانتا ہوں“۔
(مجموعہ اشتہارات ص ۲۳۰ ج ۲)
”میں نبوت کا مدعی نہیں‘ بلکہ ایسے مدعی کو خارج از اسلام سمجھتا ہوں“۔
(آسمانی فیصلہ‘ روحانی خزائن ص ۳۱۳ ج ۴)
اور اس کے قلم سے اللہ تعالیٰ نے یہ بھی لکھوا دیا کہ آنحضرت خاتم النبیین ﷺ کے بعد کسی نبی و رسول کا آنا ممکن ہی نہیں‘ لہٰذا جو شخص رسالت و نبوت کا دعویٰ کرتا
ہے وہ ایک امر محال کا دعویٰ کرتا ہے، جو سراسر باطل ہے۔ چند فقرے ملاحظہ فرمائیے:
”ظاہر ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جاوے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرئیلؑ لاویں اور پھر چپ ہو جاویں یہ امر بھی ختم نبوت کا منافی ہے، کیونکہ جب ختمیت کی مہر ہی ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہونی شروع ہو گئی تو پھر تھوڑا یا بہت نازل ہونا برابر ہے“۔
(ازالہ اوہام ص ۵۷۷‘ روحانی خزائن ص ۴۱۱ ج ۳)
”ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرئیل بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت کے لانے سے منع کیا گیا ہے یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں، تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی ﷺ کے بعد ہرگز نہیں آسکتا“۔
(ایضاً ص ۴۱۴)
”لیکن خدا تعالیٰ ایسی ذلت اور رسوائی اس امت کے لئے اور ایسی ہتک اور کسر شان اپنے نبی مقبول خاتم الانبیا کے لئے ہرگز روا نہیں رکھے گا کہ ایک رسول کو بھیج کر جس کے آنے کے ساتھ جبرئیلؑ کا آنا ضروری امر ہے اسلام کا تختہ ہی الٹا دیوے حالانکہ وہ وعدہ کر چکا ہے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی رسول نہیں بھیجا جائے گا“۔
(ایضاً ص ۴۱۶)
”رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی
علوم کو بذریعہ جبرائیل حاصل کرے۔ اور ابھی ثابت ہوچکا ہے کہ اب وحی رسالت تا بہ قیامت منقطع ہے۔"
(ایضاً ص ۲۳۲)
ان حوالہ جات سے واضح ہے کہ :
- ......... ختم نبوت‘ اسلام کا قطعی عقیدہ ہے‘ جس کا مفہوم آیت خاتم النبیین کی رو
سے یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی شخص منصب نبوت پر فائز نہیں ہوسکتا‘ نہ کسی پر وحی نبوت نازل ہو سکتی ہے۔
- ......... وحی نبوت حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ نازل ہوتی ہے‘ اور
آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت جبرئیل علیہ السلام کے وحی نبوت لے کر آنے کے سلسلہ کو بند کردیا گیا ہے۔
- ...... آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت جبرئیل علیہ السلام کا کسی کے پاس
ایک فقرہ وحی لے کر آنا بھی ختم نبوت کے منافی ہے۔
- ...... اللہ تعالیٰ نے آیت خاتم النبیین میں وعدہ فرمایا ہے کہ آنحضرت ﷺ
کے بعد حضرت جبرئیل علیہ السلام کسی کے پاس وحی نبوت لے کر نہیں آئیں گے۔ اب اگر آنحضرت ﷺ کے بعد کسی شخص کا رسول اور نبی ہونا فرض کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کا جھوٹا ہونا لازم آتا ہے۔
- ......... آنحضرت ﷺ کے بعد کسی شخص کا رسول اور نبی ہونا
آنحضرت ﷺ کی توہین ہے۔
- ......... اور اس سے اسلام کا تختہ الٹ جاتا ہے۔
- ......... کوئی شخص رسول اور نبی نہیں ہو سکتا جب تک جبرئیل علیہ السلام اس کے
پاس وحی لے کر نہ آئیں‘ اور وحی رسالت قیامت تک بند ہے۔
ان تمام تصریحات کے باوجود مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ دعویٰ جڑ دیا کہ ”ہم نبی اور رسول ہیں“۔ اور یہ کہ اس کے بقول وحی الٰہی نے اسے ”محمد رسول اللہ“ قرار دیا ہے۔
مرزا غلام احمد کا خلیفہ دوم اور اس کا فرزند اکبر مرزا محمود احمد بڑی شد ومد سے اپنے ابا کی نبوت کا قائل تھا‘ اور اس کی نبوت کے منکروں کو کافر قرار دیتا تھا‘ اس کو مرزا غلام احمد کے ان حوالوں سے بڑی پریشانی ہوئی‘ بالآخر اس نے اعلان کر دیا کہ اس کے ابا کے یہ حوالے منسوخ ہیں‘ اور ان سے حجت پکڑنا غلط ہے‘ چنانچہ مرزا محمود اپنی کتاب ”حقیقۃ النبوۃ“ میں‘ جو خالص اسی موضوع پر لکھی گئی ہے‘ طویل بحث کے آخر میں لکھتا ہے :
”اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کا مسئلہ آپ پر ۱۹۰۰ء یا ۱۹۰۱ء میں کھلا ہے‘ اور چونکہ ایک غلطی کا ازالہ ۱۹۰۱ء میں شائع ہوئی ہے‘ جس میں آپ نے اپنی نبوت کا اعلان بڑے زور سے کیا ہے‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ۱۹۰۱ء میں آپ نے اپنے عقیدہ میں تبدیلی کی ہے‘ اور ۱۹۰۰ء ایک درمیانی عرصہ ہے جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور پر حد فاصل ہے‘ پس ایک طرف آپ کی کتابوں سے اس امر کے ثابت ہونے سے کہ ۱۹۰۱ء سے آپ نے نبی کا لفظ بار بار استعمال کیا ہے‘ اور دوسری طرف حقیقۃ الوحی سے یہ ثابت ہونے سے کہ آپ نے تریاق القلوب کے بعد نبوت کے متعلق عقیدہ میں تبدیلی کی ہے یہ بات ثابت ہے کہ ۱۹۰۱ء سے پہلے کے وہ حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے‘
اب منسوخ ہیں، اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔“
(حقیقتہ النبوۃ ص ۱۲۱)
مرزا محمود احمد کی یہ تحریر دنیا کے عجائبات میں شمار کئے جانے کے لائق ہے‘ کیونکہ مرزا محمود یہ تسلیم کرتا ہے۔ اور بالکل صحیح تسلیم کرتا ہے۔ کہ اس کا ابا پہلے اپنی نبوت سے انکار کرتا تھا‘ مدعی نبوت کو ملعون اور خارج از اسلام قرار دیتا تھا‘ لیکن بعد میں خود مدعی نبوت بن گیا‘ مرزا محمود کے خیال میں اس تضاد کو دور کرنے کا حل یہی تھا کہ اس کے ابا کی ۱۹۰۱ء سے پہلے کی تمام متعلقہ عبارتوں کو منسوخ کر دیا جائے‘ یہ طرفہ تماشا دنیا نے کب دیکھا ہو گا کہ باپ کی عبارتوں کو بیٹا منسوخ کر ڈالتا ہے؟
اور یہ تماشا بھی قابل دید ہے کہ ۱۹۰۰ء سے پہلے غلام احمد مدعی نبوت کو کاذب وملعون قرار دیتا ہے اس کو آنحضرت ﷺ کی توہین سمجھتا ہے اور آنحضرت ﷺ کے بعد کسی شخص کے دعویٰ نبوت کو آنحضرت ﷺ کی توہین اور اسلام کا تختہ الٹ دینے کے مترادف قرار دیتا ہے لیکن اس کے مرید اس کو نبی بناتے ہیں اور ۱۹۰۰ء کا پورا سال اس میں گزر جاتا ہے تب مرزا غلام احمد ۱۹۰۱ء میں نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اس سے پہلے جیسا کہ مرزا محمود نے لکھا ہے نبوت کے خیالات شروع ہو گئے تھے اور مرزا کا خطیب مولوی عبد الکریم مرزائی (الاعور الاعرج) اپنے خطبات جمعہ میں دھڑلے سے مرزا کی نبوت کا اعلان کرتا تھا‘ کیا جھوٹے نبیوں کے سوا اس کی کوئی مثال مل سکتی ہے کہ مریدوں کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کر دیا ہو۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔
الغرض مرزا غلام احمد قادیانی ختم نبوت کو اسلام کا عقیدہ سمجھتا تھا اور مدعی نبوت کو کافر اور کذاب اور خارج از اسلام قرار دیتا تھا‘ لیکن جب شیطان نے اس کو بہکایا تو خود مدعی نبوت بن بیٹھا اور اپنے کفر اور خارج از اسلام ہونے پر مہر ثبت
کردی۔ اب اس کی امت مختلف تاویلات کے ذریعہ سے نبوت کے جاری ہونے کو ثابت کرنا چاہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو عقیدہ قرآن کریم کی آیات بینات سے‘ احادیث متواترہ سے‘ اجماع امت سے‘ عقلی شواہد و دلائل سے اور خود مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریرات سے ثابت ہو‘ اس کے خلاف اجرائے نبوت کا عقیدہ پیش کرنا سوائے دجل و فریب کے کیا ہو سکتا ہے؟ میرا ارادہ تھا کہ قادیانیوں کی ان تاویلات کا ذکر کروں جو انہوں نے مرزا قادیانی کو نبی بنانے کے لئے ایجاد کی ہیں‘ مگر اہل فہم پر روشن ہے کہ کوئی شخص مسیلمہ کذاب کی تاویلات کو موضوع بناکر ان کی تردید کی ضرورت محسوس نہیں کرے گا‘ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے اذناب و اتباع کی تاویلات بھی اہل علم کے لئے موضوع بحث بنانے کے لائق نہیں ہیں‘ قادیانی کبھی نبوت کی اقسام ذکر کرتے ہیں کہ ایک نبوت تشریعی ہوتی ہے اور ایک نبوت غیر تشریعی‘ اور پھر غیر تشریعی کی دو قسمیں ہیں ایک بلا واسطہ اور ایک بواسطہ آنحضرت ﷺ کے فیض کے‘ گویا نبوت کی اب کل تین قسمیں ہوئیں‘ تشریعی نبوت‘ غیر تشریعی بلاواسطہ نبوت‘ اور غیر تشریعی بالواسطہ نبوت۔
لیکن یہ تقسیم مرزا غلام احمد کی جھوٹی نبوت کا سکہ رائج کرنے کے لئے قادیانیوں کی اپنی ایجاد ہے‘ اہل اسلام اس تقسیم سے متعارف نہیں ہیں۔ مسلمان صرف ایک بات کو جانتے ہیں کہ بعض انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو مستقل شریعت یا مستقل امت دی گئی‘ ان کو صاحب شریعت نبی کہتے ہیں اور بعض انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو پہلی شریعت کا تابع کیا گیا‘ ان کو بغیر شریعت و کتاب نبی کہتے ہیں‘ ورنہ حقیقت میں کوئی نبی بغیر شریعت کے نہیں ہوتا‘ کیونکہ ظاہر ہے کہ جو نبی بھی اللہ تعالیٰ کی جانب سے آئے گا وہ اپنی نبوت کا اعلان کرے گا‘ اور لوگوں پر فرض ہو گا کہ ان کی نبوت پر ایمان لائیں۔
ظاہر ہے کہ کسی نبی کا نبوت کی دعوت دینا یہ بھی شریعت کا حکم ہے بلکہ شریعت کا اصل الاصول نبی کی نبوت پر ایمان لانا ہے، لہٰذا نبی بغیر شریعت کے ہوتا ہی نہیں۔
علاوہ ازیں جب غلام احمد قادیانی نے آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کو کذّاب و کافر اور خارج از اسلام قرار دیا تو بالفرض اگر نبوت کی یہ تقسیم ہوتی بھی جو قادیانی ذکر کرتے ہیں تب بھی اس کا تعلق آنحضرت ﷺ سے پہلے زمانے سے ہو سکتا تھا، آنحضرت ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت ہی خارج از بحث ہے۔
لطیفہ ۔ ہمارے بزرگ مناظر اسلام مولانا محمد حیاتؒ فاتح قادیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ قادیانی مولوی اللہ دتہ سے میرا مناظرہ ہوا، موضوع تھا مسئلہ نبوت۔ میں نے کہا مولوی اللہ دتہ! تمام عقلاء کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ موضوع خاص ہو تو دلیل عام نہیں پیش کی جاتی۔ تم لوگ نبوت کی تین قسمیں بتاتے ہو، تشریعی، غیر تشریعی نبوت بلاواسطہ، اور غیر تشریعی نبوت بالواسطہ۔ ان میں سے دو قسمیں تمہارے نزدیک بھی بند ہیں، صرف ایک جاری ہے، یعنی غیر تشریعی نبوت بالواسطہ۔ سو تم قرآن کریم کی وہ آیتیں پیش کرو جو خاص اس دعویٰ کو ثابت کریں کہ نبوت کی دو قسمیں بند ہیں، البتہ نبوت غیر تشریعی بالواسطہ جاری ہے، ’فبهت الذی کفر‘ ۔ یعنی کافر کا منہ بند ہو گیا اور اس کو کوئی بات نہ سوجھی کہ کیا کہے۔
الغرض قادیانیوں کا اجرائے نبوت کو موضوع بنانا محض دجل اور تلبیس ہے، ورنہ جیسا کہ اوپر معلوم ہو چکا نبوت خود قادیانیوں کے نزدیک بھی بند ہے، صرف غلام احمد کی نبوت کو منوانے کے لئے یہ لوگ عوام کو فریب دیتے ہیں۔ مناسب ہے کہ ان کے دو چار فریب میں بھی ذکر کردوں :
الف ــــ قادیانی ہمیشہ یہ آیت پڑھتے ہیں: ”یبنی آدم اما یا تینکم رسل منکم
(الاعراف)
ترجمہ: ”اے اولاد آدم اگر تمہارے پاس رسول آئیں جو تم میں سے ہوں“۔ قادیانی کہا کرتے ہیں کہ اس آیت میں آنحضرت ﷺ کے بعد رسولوں کے آنے کی خبر دی گئی ہے۔
جواب ...... قریباً سنہ ۱۹۴۹ء کا واقعہ ہے، میں مدرسہ قاسم العلوم فقیر والی ضلع بہاول نگر میں پڑھتا تھا، خدا جانے کس نے مجھے قادیانیوں کا پرچہ الفضل دیدیا، اس میں یہی آیت اور یہی استدلال درج تھا، میں پڑھ کر پریشان ہوا۔ حضرت استاذ محترم حضرت مولانا محمد عبداللہؒ رائے پوری کے پاس حاضر ہوا، انہوں نے کہا کہ یہ تو قادیانیوں کا بہت پرانا استدلال ہے۔ انہوں نے روح المعانی نکالی اور مجھے عبارت پڑھ کر سنائی کہ یہ عہد، اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان سے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے لیا تھا، تو جو میثاق کہ حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے پیدا ہونے سے پہلے لیا گیا ہو، اس کو خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانہ پر منطبق کرنا دجل و تلبیس کے سوا کیا ہے؟
حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں :
”ابن جریرؒ نے ابو یسار سلمی سے نقل کیا ہے کہ یہ خطاب اما یاتینکم الخ کل اولاد آدم کو عالم ارواح میں ہوا تھا جیسا کہ سورہ بقرہ کے سیاق سے ظاہر ہوتا ہے :”قلنا اہبطوا منہا جمیعا فاما یاتینکم منی ھدیٰ“ اور بعض محققین کے نزدیک جو خطاب ہر زمانہ میں ہر قوم کو ہوتا رہا، یہ اس کی حکایت
ہے۔ میرے نزدیک دو رکوع پہلے سے جو مضمون چلا آرہا ہے اس کی ترتیب و تنسیق خود ظاہر کرتی ہے کہ جب آدم وحوا اپنے اصلی مسکن (جنت) سے جہاں ان کو آزادی و فراخی کے ساتھ بلا روک ٹوک زندگی بسر کرنے کا حکم دیا جاچکا تھا‘ عارضی طور پر محروم کردیئے گئے تو ان کی مخلصانہ توبہ وانابت پر نظر کرتے ہوئے مناسب معلوم ہوا کہ اس حرمان کی تلافی اور تمام اولاد آدم کو اپنی آبائی میراث واپس دلانے کے لئے کچھ ہدایتیں کی جائیں چنانچہ ہبوط آدم کا قصہ ختم کرنے کے بعد معاً "یبنی آدم قد انزلنا علیکم لباسا-" سے خطاب شروع فرماکر تین چار رکوع تک ان ہی ہدایات کا مسلسل بیان ہوا ہے۔ ان آیات میں کل اولاد آدم کو گویا بیک وقت موجود تسلیم کرکے عام خطاب کیا گیا ہے کہ جنت سے نکلنے کے بعد ہم نے بہشتی لباس وطعام کی جگہ تمہارے لئے زمینی لباس وطعام کی تدبیر فرمادی گو جنت کی خوشحالی وبے فکری یہاں میسر نہیں تاہم ہروقت کی راحت و آسائش کے سامان سے منتفع ہونے کا تم کو موقع دیا تاکہ تم یہاں رہ کر اطمینان سے اپنا مسکن اصلی اور آبائی ترکہ واپس لینے کی تدبیر کرسکو۔ چاہئے کہ شیطان لعین کے مکر وفریب سے ہوشیار رہو‘ کہیں ہمیشہ کے لئے تم کو اس میراث سے محروم نہ کردے۔ بے حیائی اور اثم وعدوان سے بچو‘ اخلاص وعبودیت کا راستہ اختیار کرو۔ خدا کی نعمتوں سے تمتع کرو مگر جو حدود وقیود مالک حقیقی نے عائد کردی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو۔ پھر دیکھو ہر قوم اپنی اپنی مدت موعودہ پوری کرکے کس طرح اپنے ٹھکانہ پر
پہنچ جاتی ہے اس اثنا میں اگر خدا کسی وقت تم ہی میں سے اپنے پیغمبر مبعوث فرمائے جو خدا کی آیات پڑھ کر سنائیں جن سے تم کو اپنے باپ کی اصلی میراث (جنت) حاصل کرنے کی ترغیب و تذکیر ہو اور مالک حقیقی کی خوشنودی کی راہیں معلوم ہوں‘ ان کی پیروی اور مدد کرو‘ خدا سے ڈر کر برے کاموں کو چھوڑو اور اعمال صالحہ اختیار کرو‘ تو پھر تمہارا مستقبل بے خوف و خطر ہے تم ایسے مقام پر پہنچ جاؤ گے جہاں سکھ اور امن واطمینان کے سوا کوئی دوسری چیز نہیں‘ ہاں اگر ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور تکبر کر کے ان پر عمل کرنے سے کترائے تو مسکن اصلی اور آبائی میراث سے دائمی محرومی اور ابدی عذاب وہلاکت کے سوا کچھ نہ ملے گا۔ بہرحال جو لوگ اس آیت سے ختم نبوت کی نصوص قطعیہ کے خلاف قیامت تک کے لئے انبیا ورسل کی آمد کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں ان کے لئے اس جگہ کوئی موقع اپنی مطلب براری کا نہیں"۔
(تفسیر عثمانی بر حاشیہ ترجمہ شیخ الہند)
- ۲......... علاوہ ازیں اس آیت کریمہ میں تو بہت سے رسولوں کے آنے کا تذکرہ ہے
آنحضرت ﷺ کے بعد تیرہ صدیوں تک تو کوئی رسول آیا نہیں۔ تیرہ سو سال کے بعد قادیانی کہتے ہیں کہ غلام احمد رسول آیا اور غلام احمد کے بعد کوئی رسول نہیں‘ تو قرآن کریم کی آیت قادیانیوں کے مذہب پر بھی منطبق نہ ہوئی۔
- ۳ ـــــــ علاوہ ازیں آیت میں رسولوں کے آنے کا ذکر ہے اور قادیانیوں کے
نزدیک مطلق رسولوں کا آنا بند ہے صرف غیر تشریعی اور بالواسطہ نبی آسکتے ہیں اس اعتبار سے بھی یہ آیت ان کے دعویٰ پر منطبق نہ ہوئی‘ الغرض اس آیت کو اجزائے
نبوت کے ثبوت میں پیش کرنا محض دجل و تلبیس ہے۔
ب ......... الله يصطفى من الملائكة رسلا ومن الناس ان الله سميع بصير ۔
(سورة الحج آیت ۷۵)
ترجمہ :” اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے رسالت کے لئے جس کو چاہتا ہے‘ منتخب کرلیتا ہے‘ فرشتوں میں سے (جن کو چاہے) احکام پہنچانے والے مقرر فرما دیتا ہے‘ اور اسی طرح آدمیوں میں سے اللہ تعالیٰ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے“۔
قادیانی کہتے ہیں کہ اس میں رسول بھیجنے کا قانون ذکر فرمایا ہے اور قانون نہیں بدلتا۔
جواب...... یہ ہے کہ یہ آیت بھی تمہارے دعویٰ پر منطبق نہیں کیونکہ تم خود تسلیم کرتے ہو کہ تشریعی نبوت بند ہے اور غیر تشریعی بلا واسطہ بھی بند ہے یہ سنت اللہ کیوں بدل گئی؟ پھر اس آیت میں تو رسولوں کے چننے کا ذکر ہے مگر تمہارے نزدیک ایک ہی رسول آیا۔ اور اس کو بھی خود اس کے ماننے والوں نے رسول نہیں مانا۔
ج ۔ اور کبھی کہتے ہیں کہ نبوت رحمت ہے‘ جب کہ درود شریف میں امت محمدیہ کو یہ دعا سکھائی گئی ہے :
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على ابراهيم وعلى آل ابراهيم انك حمید مجید۔
اگر ختم نبوت کو تسلیم کیا جائے تو امت نبوت سے محروم ہو جاتی ہے۔
جواب....... یہ ہے کہ تمہارے نزدیک بھی تشریعی نبوت بند ہے اور بلا واسطہ نبوت بھی بند ہے تو تمہارے نزدیک بھی یہ امت رحمت سے محروم ہوگئی شاید تم یہ کہو کہ شریعت رحمت نہیں بلکہ نعوذ باللہ پولوس کے بقول شریعت ایک لعنت ہے۔
و....... اهدنا الصراط المستقيم
قادیانی کہا کرتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی ہدایت کی دعا سکھائی ہے‘ اور صراط مستقیم ہے منعم علیہم کا راستہ‘ اور سورہ نسا میں منعم علیہم کے چار گروہ ذکر کئے ہیں‘ نبی‘ صدیق‘ شہداء‘ صالحین‘ گویا اس آیت میں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ یا اللہ ! ہمیں نبی بنا‘ صدیق بنا‘ شہید بنا‘ صالحین میں سے بنا‘
جواب ......... نبوت تو عطیہ خداوندی ہے اور سورہ فاتحہ پڑھنے کا حکم پوری امت کو ہے گویا پوری امت کا ہر فرد اپنے لئے نبوت کی دعا کر رہا ہے اور یہ بداہتاً باطل ہے۔
- ۲۔ نبوت حضرت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے ملی اور یحییٰ علیہ
السلام کو ان کے والد حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا سے ملی لیکن پوری تاریخ نبوت میں ایک مثال بھی نہیں ملتی کہ کسی شخص کو اس کی ذاتی دعاؤں کے صلہ میں نبوت عطا کی گئی ہو اور ایسی چیز کی دعا کرنا لغو اور باطل ہے۔
- ۳۔ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام میں تشریعی نبی بھی تھے تو لازم ہوا کہ تشریعی
نبوت کی بھی دعا کی جائے اور ہر شخص صاحب شریعت ہوا کرے۔ واللازم باطل فالملزوم مثلہ۔
- ۴......... قادیانیوں کے نزدیک نبوت آنحضرت ﷺ کے واسطے سے جاری ہے
بلا واسطہ نہیں تو جو چیز کہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کے حوالے کرچکے ہیں حق
تعالیٰ شانہ سے اس کی دعا کرنا اور حضورﷺ کو اس کے لئے کچھ بھی نہ کہنا عقلاً باطل ہے۔
- ۵۔ سورہ فاتحہ کی آیت شریفہ کا مطلب یہ ہے کہ یا اللہ! تیرے جن بندوں پر
انعام ہوا ہے ہمیں مرتے دم تک ان کے راستے پر قائم رکھیو کہ نہ ان پر غضب ہوا اور نہ وہ گمراہ ہوئے اور جن بندوں پر انعام ہوا ہے وہ چار گروہ ہیں نبیین‘ صدیقین‘ شہداء‘ صالحین یعنی اعلیٰ درجے کے اولیاء اللہ‘ اور اس آیت شریفہ کا مطلب یہ ہے کہ عالم اہل ایمان میں سے جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرے گا اس کو قیامت کے دن جنت میں ان حضرات کی رفاقت نصیب ہوگی۔
یہ میں نے قادیانی تحریفات کے چند نمونے ذکر کر دیئے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی اسلام سے اس طرح نکل چکے ہیں جس طرح سانپ اپنی کینچلی سے نکل جاتا ہے‘ اور اللہ اور اللہ کے رسولؐ کا نام لینا محض ان کی ذاتی غرض ہے‘ ورنہ ان کو اللہ اور رسول سے کوئی تعلق نہیں۔
خاتمہ
میں نے اپنے کئی رسائل میں ذکر کیا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے مولانا عبد الحق غزنویؒ کے ساتھ رو در رو مباہلہ کیا اور مباہلہ کے بعد حضرت مولانا کی زندگی میں ہلاک ہوا جب کہ اس کے ملفوظات صفحہ ۴۴۰‘ ۴۴۱ جلد ۹ میں خود اس کی زبان سے اقرار ہے کہ مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ثابت ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اللہ کی نظر میں جھوٹا تھا چونکہ اس نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا اس لئے وہ اللہ کی نظر میں المسیح الکذاب تھا اور چونکہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اس لئے وہ اللہ کی نظر میں مسیلمہ کذاب تھا اور جیسا
کہ مرزا نے اربعین کے آخر میں لکھا ہے کہ جھوٹا نبی ہلاک کیا جاتا ہے تتمہ اربعین میں ہے :
"اس مقام سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تمام کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ جھوٹا نبی ہلاک کیا جاتا ہے۔" الخ۔
(روحانی خزائن ص : ۴۲۷ ج - ۱۷)
تو چونکہ مرزا غلام احمد نبوت کا جھوٹا مدعی تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے خود اس کے قلم سے لکھوایا کہ تمام مسلمان اس کو کافر دجال بے دین اور اللہ اور رسول کا دشمن سمجھتے ہیں، چنانچہ مولانا عبدالحق غزنویؒ کے ساتھ مرزا کا جو مباہلہ ہوا اس کے اشتہار میں جو مباہلہ سے ایک دن پہلے ۸ ذوالقعدہ سنہ ۱۳۱۰ھ کو شائع کیا گیا مرزا لکھتا ہے :
"اے برادران اسلام! کل دہم ذیقعدہ روز شنبہ کو بمقام مندرجہ عنوان (یعنی بمقام امرتسر عید گاہ متصل مسجد خان بہادر حاجی محمد شاہ مرحوم) میاں عبد الحق غزنوی اور بعض دیگر علما جیسا کہ انہوں نے وعدہ کیا ہے اس عاجز سے اس بات پر مباہلہ کریں گے کہ وہ لوگ اس عاجز کو کافر اور دجال اور بے دین اور دشمن اللہ جل شانہ اور رسول اللہ ﷺ کا سمجھتے ہیں اور اس عاجز کی کتابوں کو مجموعہ کفریات خیال کرتے ہیں اور اس طرف یہ عاجز نہ صرف اپنے تئیں مسلمان جانتا ہے بلکہ اپنے وجود کو اللہ اور رسول کی راہ میں فدا کئے بیٹھا ہے لہٰذا ان لوگوں کی درخواست پر یہ مباہلہ تاریخ مذکورہ بالا میں قرار پایا ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ مباہلہ کی بددعا کرنے کے لئے بعض اور مسلمان بھی حاضر ہو جائیں کیونکہ میں یہ دعا کروں گا کہ جس قدر بھی میری تالیفات ہیں اُن میں سے کوئی بھی خدا اور
رسول کے فرمودہ کے مخالف نہیں ہے اور نہ میں کافر ہوں اور اگر میری کتابیں خدا اور رسول ﷺ کے فرمودہ کے مخالف اور کفر سے بھری ہوئی ہیں تو خدا تعالیٰ وہ لعنت اور عذاب میرے پر نازل کرے جو ابتدائے دنیا سے آج تک کسی کافر بے ایمان پر نہ کی ہو، اور آپ لوگ آمین کہیں کیونکہ اگر میں کافر ہوں اور نعوذ باللہ دین اسلام سے مرتد اور بے ایمان تو نہایت برے عذاب سے میرا مرنا ہی بہتر ہے اور میں ایسی زندگی سے بہ ہزار دل بیزار ہوں اور اگر ایسا نہیں تو خدا تعالیٰ اپنی طرف سے سچا فیصلہ کردے گا وہ میرے دل کو بھی دیکھ رہا ہے اور میرے مخالفوں کے دل کو بھی۔ بڑے ثواب کی بات ہوگی اگر آپ صاحبان کل دہم ذیقعدہ کو دو بجے کے وقت عید گاہ میں مباہلہ پر آمین کہنے کے لئے تشریف لائیں۔ والسلام"۔
(مجموعہ اشتہارات ص: ۴۲۶ ج - ۱)
مرزا کو اس کے حریف مولانا عبد الحقؒ کی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے قے اسہال اور وبائی ہیضے کی موت دے کر فیصلہ کر دیا کہ مرزا کافر دجال بے دین اور اللہ جل شانہ کا اور آنحضرت ﷺ کا دشمن تھا اور اس کی کتابیں مجموعہ کفریات ہیں اب اس فیصلہ کے بعد کوئی شخص نقد ایمان اس کے ہاتھ فروخت کرتا ہے تو اس کے سوا کیا کہا جائے : ختم اللہ علی قلوبہم۔ ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة انك انت الوهاب۔ وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
مقام نبوت اور قادیانیت
مسلمان اور قادیانی دونوں اس پر متفق ہیں کہ مرزا قادیانی جھوٹا تھا، بلکہ قادیانی، مرزا کو بڑا جھوٹا سمجھتے ہیں۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمدللہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفٰی‘ اما بعد :
اس جلسے کا موضوع قادیانیت ہے، حضرات علمائے کرام اپنے اپنے انداز میں اس مسئلہ پر روشنی ڈالیں گے، میں کچھ باتیں آپ سے، اور کچھ باتیں مرزا طاہر، اور اس کی جماعت سے کرنا چاہتا ہوں، باتیں بہت زیادہ ہیں، اس لئے مختصر کروں گا، اور آپ حضرات سے درخواست کروں گا کہ ذرا توجہ سے بات کو سمجھ لیں۔
غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا، قادیانیوں نے اس کو نبی، مسیح موعود اور نہ معلوم کیا کیا مان لیا۔ میں کہتا ہوں غلام احمد بھی نہیں جانتا تھا، مرزا طاہر بھی نہیں جانتا اور قادیانی بھی نہیں جانتے کہ نبوت کس چیز کا نام ہے :
اس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے
واللہ العظیم! اگر ان کے سامنے نبی کا صحیح تصور موجود ہو تا تو مرزا غلام
احمد قادیانی کے لئے امتی ہونا بھی عار سمجھا جاتا، نبی ہونا تو دور کی بات ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں، اور یہ لقب مرکب ہے دو لفظوں سے، خاتم اور النبین، اس اعتبار سے لازمی طور پر میرا مضمون دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے، ایک یہ کہ نبوت کیا چیز ہے؟ دوسرے یہ کہ خاتم کیا ہے؟
مختصر الفاظ میں یوں سمجھ لیجئے کہ تمام انسانی کمالات کا ایک مجموعہ اللہ تعالی بناتے ہیں، اور اس کا نام نبی رکھتے ہیں، کوئی انسانی نقص اس کے اندر نہیں رہنے دیتے، اس کی زبان میں، اس کے کان میں، اس کی آنکھوں میں، اس کے دل و دماغ میں، اس کے اعضاء میں کوئی نقص ایسا نہیں رہنے دیتے، جو عیب سمجھا جائے، ظاہری اور باطنی تمام نقائص بشریت سے پاک کرکے اللہ تعالی ایک ہستی کو منتخب فرماتے ہیں، اس کی تخلیق فرماتے ہیں، اور اس کا نام نبی رکھتے ہیں، یعنی اللہ تعالی کا پیغام اللہ تعالی سے لیکر مخلوق تک پہنچانے والا۔ نبی صدق، سچائی، راستی اور کمالات انسانی میں بے مثل اور بے مثال ہوتا ہے۔ اس کے زمانے کا کوئی آدمی علم، فہم، عقل، دین، دیانت، شرافت، نجابت میں اس کے برابر نہیں ہوتا۔ وہ سب سے عالی خاندان ہوتا ہے۔ تمہارے یہاں مسلمانوں میں سب سے عالی خاندان کون سمجھا جاتا ہے؟ سب سے عالی خاندان حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ سب سے زیادہ معزز آدمی کون ہے؟ یعنی عالی نسب، فرمایا سب سے زیادہ عالی نسب ہوئے ہیں سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام، خود نبی، باپ نبی، دادا نبی، پردادا نبی۔ عرض کیا کہ حضرت! یہ تو ہم نہیں پوچھنا چاہتے۔ فرمایا تم قبائل عرب کے بارے میں مجھ سے پوچھتے ہو؟ عرض کیا جی۔ فرمایا جو جاہلیت کے
زمانے میں سب سے اونچا خاندان سمجھا جاتا تھا، وہ اسلام میں بھی اونچا خاندان سمجھا جائے گا، بشرطیکہ فقہ فی الدین حاصل کرلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق میں سے اولاد آدم کو منتخب فرمایا‘ اولاد آدم میں عرب کو منتخب فرمایا‘ عرب میں قریش کو منتخب فرمایا‘ قریش میں ہاشم کو منتخب فرمایا اور بنو ہاشم میں اللہ تعالیٰ نے مجھے چن لیا۔ گویا پوری کائنات کا خلاصہ۔
فتح مکہ سے پہلے کا قصہ ہے کہ ابو سفیان مکہ سے ملک شام گیا ہوا تھا‘ یہ اس وقت مسلمان نہیں تھے‘ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گرامی نامہ شاہ روم ہرقل کے پاس پہنچا‘ اس نے اپنے آدمیوں کو بلایا کہ دیکھو یہاں عرب کے کچھ لوگ آئے ہوئے ہوں گے‘ ان کو بلاؤ تاکہ ان سے ان صاحب کے بارے میں معلومات کریں۔ یہ واقعہ بخاری شریف کے پہلے ہی باب میں ہے‘ چنانچہ ابو سفیان کو اس کے رفقا سمیت لایا گیا‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و کمالات کے بارے میں ہرقل نے سوالات کئے اور ابو سفیان نے جواب دیئے‘ رومیوں کا سب سے بڑا کافر سوال کرنے والا‘ اور عرب کا سب سے بڑا کافر جواب دینے والا‘ ناراض نہ ہونا‘ ابو سفیان رضی اللہ عنہ بعد میں بنے ہیں‘ اس وقت یہ کفار مکہ کے رئیس تھے‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی نمائندہ اس موقعہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے وکالت کرنے کے لئے موجود نہیں تھا۔ اس نے پوچھا کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) جو نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں‘ ان کا حسب و نسب کیسا ہے؟ جواب دیا‘ وہ بڑا عالی نسب ہے۔ تمام اہل عرب مانتے تھے کہ قریش سے بڑھ کر کوئی معزز
خاندان نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاندان قریش کا خلاصہ تھے، اور ان کی آنکھ کا تارا تھے۔ میں عرض کر رہا ہوں کہ سب سے بڑا دشمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا، آپ کے بارے میں شہادت دے رہا ہے، آگے ان گیارہ سوالات میں سے ہر ایک سوال کا جواب اس نے دیا، اور ہر جواب پر شاہ روم نے تبصرہ کیا، اس جواب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے تجھ سے پوچھا تھا کہ ان کا نسب کیسا ہے؟ تو نے کہا کہ وہ بڑا عالی نسب ہے، تمام کے تمام انبیا کرام علیہم السلام اسی طرح عالی نسب پیدا ہوتے ہیں، کسی نبی کا نسب نامہ اس وقت کے لحاظ سے سب سے عالی نسب نامہ ہوتا ہے، اس سے زیادہ معزز کوئی نسب نہیں ہوتا۔
تو خیر مختصر سی بات میں عرض کرتا ہوں۔ ظاہر کے اعتبار سے، باطن کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ تمام کمالات کا ایک مجموعہ تیار کرتے ہیں، اور اس کا نام نبی رکھتے ہیں، اس کی خواہشات بھی پاک ہوتی ہیں، اس کا بچپن پاک، اس کی جوانی پاک، اس کی کہولت پاک، اس کا بڑھاپا پاک، اس کی زبان پاک، اس کا دل پاک، کان پاک، پوری عمر میں کوئی لفظ کسی نبی کے منہ سے غلط نہیں سنا گیا، یہ ریکارڈ ہے، قبل از نبوت بھی، اور بعد از نبوت بھی۔ میرے منہ سے بہت سے غلط الفاظ نکل سکتے ہیں، اور بڑے بڑے لوگوں کے منہ سے بھی کوئی غلط بات نکل سکتی ہے، لیکن کبھی کسی نبی کے منہ سے کوئی ایسا لفظ نہیں نکلا، جس پر انگلی رکھی جاسکے۔ مجھے ہمیشہ حفیظ جالندھری مرحوم کا یہ شعر پسند آیا کرتا ہے :
وہ بندہ جس کو رحمٰن رحمتہ للعالمین کہدے
یہ میں نبوت کا ذکر کررہا ہوں‘ خاتم نبوت تو الگ ہے۔ نبوت کیا چیز ہے؟ قادیانیوں نے اس کو بچوں کا کھلونا بنادیا۔ اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی؟ یہ غلام احمد کو نبی بناتے ہیں۔ میں نے ایک کتاب میں مرزا غلام احمد قادیانی کے امراض کی فہرست جمع کردی ہے۔ تیس امراض تھے‘ جن میں سے ایک قوت مردمی کا کالعدم ہونا‘ یہ نبی ہے؟ اگر بہروپیے کے طور پر بھی کسی کو نبی بنانا تھا تو نقل مطابق اصل تو ہوتی۔ شکل دیکھو‘ عقل دیکھو‘ فہم دیکھو‘ فراست دیکھو‘ نبیوں کا مقابلہ کرتے ہیں؟
اور سنو حافظ تاج الدین سبکیؒ نے طبقات شافعیہ میں اپنے والد ماجد علی بن عبدالکافی تقی الدین سبکیؒ (بیٹا تاج الدین ہے اور باپ تقی الدین ہے) کا قول نقل کیا ہے کہ ناممکن ہے کہ کوئی امتی نبی کو سمجھ سکے۔ سمجھو کیا کہہ رہے ہیں؟ بڑے بڑے اولیا‘ اقطاب‘ بزرگان دین‘ اونچی کرامتوں والے‘ شاہ عبدالقادر جیلانیؒ‘ خواجہ معین الدین چشتیؒ جیسے‘ یہ نبی کو نہیں سمجھ سکتے کہ نبی کون ہوتا ہے؟ اور سنو ابوبکر (رضی اللہ عنہ) اور عمر (رضی اللہ عنہ) نہیں سمجھ سکتے کہ نبی کون ہوتا ہے‘ تقی الدین سبکیؒ لکھتے ہیں کہ اگر تھوڑا سا سمجھا ہے تو ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے سمجھا ہے‘ کیونکہ وہ صدیق اکبر ہیں‘ اور صدیق اکبر (رضی اللہ عنہ) کا سر وہاں ہوتا ہے‘ جہاں نبوت کا پاؤں ہوتا ہے‘ جہاں نبی کے پاؤں لگتے ہیں‘ وہاں صدیقیت کا سر لگتا ہے‘ اس لئے تھوڑی سی ان کو ہوا لگی ہوگی‘ ورنہ کسی امتی کی کیا مجال ہے کہ مقام نبوت کو پہچان سکے؟
تو یہ بات سمجھ لو کہ تمام کمالات انسانی کا مجموعہ اللہ تعالیٰ تیار کرتے ہیں‘ اپنی پیغام رسانی کے لئے‘ اور اس کا نام نبی رکھتے ہیں‘ اور آخر میں محمد صلی اللہ
علیہ وسلم کو امام الانبیا بنایا ”اول الانبیاء ادم و اخرھم محمد صلی اللہ علیہ وسلم“ عقائد کی ہر کتاب (مسلمانوں کے عقائد پر جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں ان) میں یہ عقیدہ درج کیا گیا ہے، اور خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کو کمالات انبیا کا مجموعہ بنادیا، ہمارے حضرت نانوتویؒ کا شعر ہے، بانی دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ تعالیٰ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرکے فرماتے ہیں:
ترے کمال کسی میں نہیں مگر دو چار
کسی کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن دے دیا، یوسف بن گئے، کسی کو اعجاز دے دیا، وہ موسیٰ بن گئے، کسی کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسیحائی عطا کردی، وہ مسیح علیہ السلام بن گئے۔ تمام انبیا کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے کمالات کا خلاصہ اور عطر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ کوئی کمال انبیا کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے کمالات میں سے، مخلوق کے کمالات میں سے ایسا باقی نہیں بچا، جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات عالی میں جمع نہ کردیا ہو، اور اس کے اظہار کے لئے اللہ تعالیٰ نے عالم ازل میں تمام انبیا سے عہد میثاق لیا ”واذ اخذ اللہ میثاق النبیین“ اور اسی بات کے اظہار کے لئے اللہ تعالیٰ نے شب اسرا میں تمام انبیا کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو جمع کیا تھا۔ حضرت اقدس حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کتاب ہے ”نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب صلی اللہ علیہ وسلم“ اس میں واقعات معراج کے آٹھویں واقعہ میں حضرتؒ نے لکھا ہے کہ تمام انبیا کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام
بیت المقدس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے جمع تھے (مقرر بعد میں آتا ہے‘ جلسہ پہلے جمع ہوتا ہے) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اتنے میں ایک نے اقامت کہی‘ اور انتظار کرنے لگے کہ امام کون بنتا ہے؟ جبریل امینؑ نے میرا ہاتھ پکڑا‘ اور ہاتھ پکڑ کے مجھے آگے کر دیا۔“ اس کو کہتے ہیں خاتم الانبیا اور امام الانبیا۔ امام الانبیا کا مطلب کیا ہے؟ سمجھے نہیں ہو اس رمز اور اشارہ کو؟ امام جب تک امام ہے‘ مقتدی اس کے اشارے پر چلے گا‘ یہ نہیں ہو سکتا کہ امام رکوع میں ہو‘ اور یہ سجدے میں چلا جائے‘ امام الانبیا بنانے میں اشارہ تھا کہ اب قیامت تک حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کا سکہ چلے گا۔
الغرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کا آغاز عالم ازل میں ہوا تھا‘ جبکہ تمام نبیوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے عہد لیا گیا‘ اور یہ عہد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پورا ہوا‘ اور اس کا ایک ظہور آخری دن ہوگا (آخری دن کونسا ہے؟ آخری دن قیامت کا دن ہے ”وبالاخرة هم یوقنون“ آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں‘ قیامت کا دن آخری دن ہے‘ کیونکہ اس کے بعد پھر دن اور رات کا سلسلہ ختم‘ زمانہ غیر محدود‘ وقت کے تعین کے لئے کوئی پیمانہ مقرر کریں گے‘ لیکن یہ دن رات کا نظام وہاں نہیں ہوگا)۔ آخری دن میں اس کا اظہار یوں فرمائیں گے کہ ”لوائے حمد“ (حمد کا جھنڈا) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں عطا کیا جائے گا‘ اور تمام نبی‘ آدم علیہ السلام سے لیکر عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام تک‘ سب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے ہوں گے۔ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم
نانوتویؒ بانی دارالعلوم دیوبند کے بقول ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبی الانبیا ہیں، اور جرنیلوں کے جرنیل ہیں۔ ہر نبی کی امت اس (نبی) کے ماتحت ہے، اور وہ نبی اپنی امت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ماتحت ہے۔“
شیخ سعدیؒ کا مشہور شعر ہے ”جو احمق روشن دن میں شمع کافوری جلائے، تم جلد دیکھو گے کہ اس کے چراغ میں تیل نہیں رہے گا۔“ دوپہر کو سورج نکلا ہوا ہے، ہر چیز روشن ہے، اور کوئی آدمی چراغ جلا کر بیٹھ جائے تو تم اس کے بارے میں کیا کہو گے؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت کا آفتاب طلوع ہونے کے بعد کسی اور کی نبوت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس کے باوجود اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ جھوٹا ہی نہیں، بلکہ احمق بھی ہے۔
ہمارے ایک بزرگ تھے، حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے دوست تھے، مولانا عبدالقدوسؒ۔ ہمارے حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ بہت دوستی تھی، حضرتؒ کے وصال کے بعد بھی وہ مجھ پر کرم فرماتے رہے، اور گھنٹوں آکر بیٹھتے تھے۔ پشاور یونیورسٹی میں استاد تھے، کوئی قادیانی بھی اس میں ہوگا، مولانا فرماتے تھے کہ ایک دن میں نے اس قادیانی سے پوچھا کہ کیا آپ احمدی ہوتے ہیں؟ بہت خوش ہو گیا، کہنے لگا جناب نے کیسے پہچان لیا؟ مولانا فرماتے ہیں میں نے نہایت سنجیدگی سے کہا کہ مرزائیوں کے منہ پر ایک خاص قسم کی لعنت برستی ہے، وہ تیرے چہرے پر بھی دیکھ رہا ہوں، چپ ہو گیا۔ واقعی! ہر قادیانی کے منہ پر ایک لعنت برستی ہے، جس کو اہل نظر فوراً پہچان لیتے ہیں۔ ذرا سوچو کہ جن لوگوں کے دلوں کی سیاہی ان کے چہروں پر آگئی ہو، ان کے دلوں کا کیا حال ہوگا۔
اب یہ باتیں جو مجھے آپ سے عرض کرنی تھیں، وہ تو ختم ہو گئیں، اور باقی منٹ رہ گئے صرف دس۔ اب چند باتیں ان لوگوں کے بارے میں کرتا ہوں، اور پھر اگر اطمینان کا موقعہ ملا تو انشاء اللہ کچھ اور باتیں بھی کرنی ہیں ان سے۔ میں نے عرض کیا کہ نبی، اللہ سے پیغام لیتا ہے، اور بندوں کو وہ پیغام دیتا ہے۔ اگر وہ کبھی کچھ کہہ دیا کرے اور کبھی کچھ کہہ دیا کرے تو کیا اس پر اعتماد ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں!
کسی مرزائی سے پوچھ لو، غلام احمد نے اپنی پہلی کتاب براہین احمدیہ صفحہ ۴۹۸۔۴۹۹ میں قرآن کریم کے حوالے سے، اور ”اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے“ کے حوالے سے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے آنے کا عقیدہ لکھا تھا کہ عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام آئیں گے، آسمان سے نازل ہوں گے، اور اللہ تعالیٰ نے اس کی پیشن گوئی فرمائی ہے، اور اس پیشن گوئی میں اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی شریک کر رکھا ہے۔ یہ قصہ ہے ۱۸۸۴ء کا، اس وقت کی یہ تحریر ہے، اس کے بعد ۱۸۹۱ء آیا تو کہا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عیسیٰ مر گیا ہے، اور تو اس کی جگہ ہو کر آیا ہے، اور عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق جو آیتیں تھیں، وہ بھی میرے نام کردیں۔
اب میں ایک بات پوچھتا ہوں ”عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے“ یہ مرزا کا ۱۸۸۴ء کا عقیدہ تھا، اور ”عیسیٰ علیہ السلام نہیں آئیں گے“ یہ ۱۸۹۱ء کا عقیدہ۔ ”آئیں گے“ اور ”نہیں آئیں گے“ یہ دونوں باتیں تو سچی نہیں ہوسکتیں، لامحالہ ان میں سے ایک بات سچی ہوگی، اور ایک جھوٹی، کیوں بھئی ٹھیک ہے؟ یہ اتنی موٹی بات ہے کہ اس کو سمجھنے کیلئے کسی منطق کی ضرورت نہیں، مثلاً ”جب کہا
جائے کہ ”زید آئے گا“ تو اس کا مطلب ہے کہ وہ زندہ ہے، اور جب کہا جائے کہ ”زید مر گیا ہے“ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نہیں آئے گا، ایک آدمی یہ دو خبریں ایک ہی زبان سے دے رہا ہے، اور ایک ہی قلم سے لکھ رہا ہے، ان میں سے ایک کو کہو گے سچی، اور ایک کو جھوٹی، اور جو جھوٹ بولے، وہ ہو گا جھوٹا، تو ہمارا اور قادیانیوں کا اس پر اتفاق ہے کہ مرزا نے ۱۸۸۴ء میں قرآن اور اپنے الہام کے حوالے سے یہ خبر دی کہ مسیح علیہ السلام دوبارہ آئیں گے، اور اس کے چھ سال بعد ۱۸۹۱ء میں اپنے الہام کے حوالے سے خبر دی کہ وہ دوبارہ نہیں آئیں گے، لہٰذا اگر پہلی خبر سچی تھی تو دوسری جھوٹی، اور اگر دوسری سچی تھی تو پہلی خبر جھوٹی۔
گویا ہمارا اور قادیانیوں کا اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد جھوٹا تھا، قرآن اور اپنے الہام کے حوالے سے جھوٹی خبریں دیا کرتا تھا۔ میں مرزا طاہر اور ان کی قادیانی امت سے عرض کرتا ہوں کہ ہمارا اور تمہارا مرزا کے بارے میں کوئی جھگڑا نہیں ہے، تم بھی مانتے ہو کہ اس نے ایک خبر جھوٹی دی، ہم بھی مانتے ہیں کہ اس نے ایک خبر جھوٹی دی، پس مرزا کے جھوٹا ہونے پر ہم دونوں فریق متفق ہیں، ہمارا اور قادیانیوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر مرزا غلام احمد کی پہلی خبر سچی تھی تو دوسری جھوٹی، اور اگر دوسری صحیح تھی تو پہلی جھوٹی، تو معلوم ہوا کہ دونوں فریق مرزا غلام احمد کے جھوٹا ہونے پر متفق ہیں، تمہاری زبان میں کہتے ہیں ایگری (Agree) یعنی دونوں متفق ہیں کہ مرزا جھوٹا تھا، الحمد للہ۔ میں مرزا طاہر اور مرزائیوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ مجھے کوئی منطق، کوئی فلسفہ، کوئی طریقہ بتاؤ جس سے مرزا غلام احمد سچا ثابت ہو سکے، کیا جھوٹی خبر دینے والا آدمی
بھی سچا ہو سکتا ہے؟ الغرض کوئی مرزائی، مرزا غلام احمد کو سچا ثابت کر دے۔ کیا مرزا طاہر اور مرزائی میرا چیلنج قبول کریں گے؟
اب آگے چلو! مرزا غلام احمد ۱۸۹۱ء تک کہتا رہا کہ عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے، چالیس سال کا تھا، جب ملہم بن گیا، اس کے باوجود باون سال کی عمر تک کہتا رہا کہ عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے، تو یہ خبر کہ عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے، باون (۵۲) سال کی خبر ہوئی، قادیانی کہتے ہیں کہ اس کی یہ خبر جھوٹی تھی، اور مرزا غلام احمد انتقال کر گیا ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو، سترہ سال چار مہینے چھبیس دن اس نے یہ خبر دی کہ عیسیٰ علیہ السلام مرگئے ہیں، نہیں آئیں گے، مسلمان کہتے ہیں کہ مرزا کی یہ خبر جھوٹی تھی، اب اس پر تو ہم دونوں فریق متفق ہیں کہ مرزا جھوٹا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ بڑا جھوٹا کون مانتا ہے، مرزائی کہتے ہیں کہ مرزا باون سال جھوٹ بولتا رہا، اور ہم کہتے ہیں کہ اس نے صرف آخری ساڑھے سترہ سال جھوٹ بولا، جو باون سال جھوٹ بولے، وہ بڑا جھوٹا ہے؟ یا جو سترہ سال چار مہینے جھوٹ بولے، وہ بڑا جھوٹا ہے؟ کیوں بھئی تمہاری عقل کیا کہتی ہے؟ باون سال جھوٹ بولنے والا بڑا جھوٹا کہلائے گا؟ یا سترہ سال جھوٹ بولنے والا؟
ہم کہتے ہیں کہ مرزا کی پہلی خبر سچی تھی، اس وقت جھوٹا نہیں تھا، ۱۸۹۱ء سے جھوٹ بولنے لگا، تو اس کے جھوٹ کی میعاد صرف سترہ سال چار مہینے چھبیس دن ہے، اور مرزائی کہتے ہیں کہ کمبخت پہلے جھوٹ بولتا تھا، باون سال تک جھوٹ بولتا رہا، بکواس کرتا رہا، اور بعد میں راہ راست پر آیا، اور سچ بولنے لگا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے باون سالہ جھوٹ سے خوش ہو کر اسے مسیح موعود (نبی) بنا دیا، نعوذ باللہ۔ جن کا نبی باون سال جھوٹ بولتا رہے، تم سوچو کہ وہ کیسا مسیح
موعود ہوگا؟ اور اس باون سال تک جھوٹ بکنے والے کو جو لوگ مسیح موعود مانتے ہیں‘ وہ کتنے جھوٹے ہوں گے؟ معلوم ہوا کہ مرزائی بڑا جھوٹا مانتے ہیں‘ اور ہم مرزا کو چھوٹا جھوٹا مانتے ہیں۔ یہ بات بھی سمجھ میں آگئی؟
اب ایک اور بات سمجھو‘ یہ تو ہوتا ہے کہ آدمی پہلے صحیح ہو‘ بعد میں بگڑ جائے‘ پہلے سچ بولتا ہو‘ بعد میں جھوٹ بولنے لگے‘ لیکن یہ ممکن نہیں کہ ایک آدمی باون سال تک جھوٹ بولتا رہے‘ اور بعد میں مسیح موعود بن جائے‘ اور کہے کہ میں مسیح موعود ہوں‘ کیونکہ اللہ کو مجھ پر بہت پیار آگیا کہ چونکہ یہ باون سال تک جھوٹ بولتا رہا ہے‘ اس لئے اس کو مسیح موعود بناؤ۔ کیا نبوت کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال ملے گی؟ کیا یہ نبوت کا مذاق اڑانا نہیں ہے؟ میرے اس سوال کا جواب دو کہ باون سال تک جھوٹ بکنے والا مسیح موعود کیسے بن گیا؟
مرزائی اپنی حقانیت کی دلیل میں کہتے ہیں کہ مرزا طاہر ٹی وی پر تقریر کرتا ہے‘ اور اس کی آواز ساری دنیا میں سنی جاتی ہے‘ میں کہتا ہوں کہ شیطان کی آواز ساری دنیا میں سنی جاتی ہے‘ کسی نبی کی آواز ساری دنیا میں نہیں سنی گئی‘ البتہ شیطان کی آواز ہر جگہ ہے‘ گانے ہندوستان میں بھی ہیں‘ پاکستان میں بھی ہیں‘ امریکہ میں بھی ہیں‘ ہر ایک ملک میں گانے موجود ہیں‘ شیطان کی آواز۔ کیوں جی ٹھیک ہے؟ تم ٹی وی پر آنے کو کمال سمجھتے ہو‘ میں کہتا ہوں یہ اس کے شیطان ہونے کی علامت ہے۔ مرزا طاہر! میرا تم سے ایک ہی سوال ہے کہ تم ٹی وی پر ساری دنیا کو اپنی شیطانی آواز سناؤ‘ لیکن اپنے دادا کو سچا ثابت کرکے دکھادو؟
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین
قادیانیوں سے چند سوال
اب تک کسی مرزائی کو ان سوالات کے جواب دینے کی ہمت نہیں ہوئی
بسم الله الرحمن الرحيم
مرزا غلام احمد قادیانی کے دجل و تلبیس سے متاثر قادیانی عوام کو کفر و زندقہ کی دلدل سے نکالنے کے لئے ہمیشہ علمائے امت نے نہایت عام فہم انداز میں بات سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ ذیل میں قادیانیوں سے اس سلسلے کے چند سوال کئے جاتے ہیں، جن پر غور و فکر کرنا ان کے لئے ہدایت کا راستہ کھول سکتا ہے!
سوال: ۱......مرزا غلام احمد قادیانی نے براہین احمدیہ حصہ چہارم میں سورۃ صف کی آیت: ۱۰ کے حوالہ سے لکھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ چنانچہ لکھتا ہے:
”ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ۔ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے۔ اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا۔ اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے، تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“
(براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیہ در حاشیہ ص: ۴۹۸، ۴۹۹۔ روحانی خزائن ج: ۱ ص: ۵۹۳)
مرزا کی عبارت غور سے پڑھ کر صرف اتنا بتائیے کہ مرزا نے قرآن کریم کے حوالہ سے جو لکھا کہ عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے، یہ سچ تھا یا جھوٹ؟ صحیح تھا یا غلط؟
ایک اہم نکتہ :
مرزا قادیانی، ۱۸۹۱ء تک کہتا رہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے، اس کے بعد یہ کہنا شروع کیا کہ وہ مر گئے ہیں، دوبارہ نہیں آئیں گے۔ مسلمان اور قادیانی دونوں فریق اس پر متفق ہیں کہ ان دونوں متضاد خبروں میں ایک سچی تھی اور دوسری جھوٹی۔ اس کے برعکس قادیانی کہتے ہیں کہ پہلی جھوٹی تھی اور دوسری سچی۔
جھوٹی خبر دینے والا شخص جھوٹا کہلاتا ہے۔ لہٰذا دونوں فریق اس پر متفق ہوئے کہ مرزا جھوٹا تھا۔
ایک اور قابل غور نکتہ :
یہ تو آپ نے ابھی دیکھا کہ دونوں فریق مرزا کے جھوٹا ہونے پر متفق ہیں، آیئے اب یہ دیکھیں کہ دونوں میں کون سا فریق مرزا کو ”بڑا جھوٹا“ مانتا ہے۔
مسلمان کہتے ہیں کہ ابتداً سے ۱۸۹۱ء تک مرزا اپنی زندگی کے پچاس برس تک سچ بولتا رہا، آخری سترہ سالوں میں اس نے جھوٹ بولنا شروع کیا۔ اس کے برعکس قادیانیوں کا کہنا یہ ہے کہ مرزا اپنی زندگی کے پچاس برس تک جھوٹ بکتا رہا، اور آخری سترہ سال میں اس نے سچ بولا۔
خلاصہ یہ کہ مسلمانوں کے نزدیک مرزا کے سچ کا زمانہ پچاس سال، اور جھوٹ کا زمانہ صرف آخری سترہ سال۔ اور قادیانیوں کے نزدیک مرزا کے جھوٹ کا زمانہ پچاس سال اور اس کے سچ کا زمانہ صرف سترہ سال ہے۔
بتائیے ! دونوں میں سے کس فریق کے نزدیک مرزا ”بڑا جھوٹا“ نکلا ؟
ایک اور لائق توجہ نکتہ :
مسلمان کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی پچاس سال تک سچ کہتا رہا کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے، لیکن پھر شیطان نے اس کو بہکا دیا اور شیطان کے بہکانے سے یہ کہنے لگا کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ نہیں آئیں گے بلکہ میں خود مسیح موعود بن گیا ہوں۔ اور قادیانی کہتے ہیں کہ وہ پچاس سال تک جھوٹ بکتا رہا کہ عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے، پھر اس پچاس سال کے جھوٹے کو اللہ تعالیٰ نے (نعوذ باللہ) مسیح موعود بنا دیا۔ کیا کسی کی عقل میں یہ بات آسکتی ہے کہ پچاس سال تک جھوٹ بولنے والا ”مسیح موعود“ بن جائے؟
ایک اور دلچسپ نکتہ :
اوپر معلوم ہو چکا ہے کہ مسلمان اور قادیانی دونوں فریق اس پر متفق ہیں کہ مرزا جھوٹا تھا۔ ادھر مرزا کا دعویٰ ہے کہ وہ مسیح موعود ہے۔ ظاہر ہے کہ جھوٹا آدمی جب مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرے گا تو وہ ”مسیح کذاب“ کہلائے گا، لہٰذا دونوں فریق اس پر بھی متفق ہوئے کہ مرزا ”مسیح کذاب“ تھا۔
سوال :۲....... مرزا نے مذکورہ بالا کتاب میں یہ بھی لکھا تھا کہ اس
عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ چونکہ یہ عاجز مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور چونکہ اس عاجز کو مسیح علیہ السلام سے مشابہت تامہ حاصل ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی سے اس عاجز کو بھی مسیح علیہ السلام کی مذکورہ بالا پیشگوئی میں شریک کر رکھا ہے، یعنی حضرت مسیح علیہ السلام ظاہری اور جسمانی طور پر اس پیشگوئی کا مصداق ہیں اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر، چنانچہ مرزا لکھتا ہے :
”لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی
غربت اور انکسار، اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے گویا ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں اور بحدے اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی باریک امتیاز ہے اور نیز ظاہری طور پر بھی ایک مشابہت ہے۔۔۔۔۔۔۔سو چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیشگوئی میں ابتدا سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے یعنی حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورد ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیہ در حاشیہ
ص:۴۹۹۔ روحانی خزائن ج:۱ص:۵۹۳،۵۹۴)
مرزا نے مندرجہ بالا عبارت میں ذکر کیا ہے کہ اس پر مندرجہ ذیل امور ظاہر کئے گئے ہیں:
- ۱:....... مرزا مسیح علیہ السلام کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے۔
- ۲:....... مرزا کو مسیح علیہ السلام سے مشابہت تامہ حاصل ہے۔
- ۳:....... لہٰذا اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کی پیشگوئی میں ابتدا ہی سے مرزا کو
بھی شریک کر رکھا ہے۔
- ۴:....... مسیح علیہ السلام سورۃ الصف کی مذکورہ بالا پیشگوئی کا ظاہری اور جسمانی
طور پر مصداق ہیں اور مرزا صرف روحانی اور معقولی طور پر اس کا محل ومورد ہے۔
سوال یہ کہ یہ چار باتیں مرزا پر کس نے ظاہر کی تھیں؟ اللہ تعالیٰ نے یا شیطان نے؟ اور یہ کہ یہ چار باتیں جو مرزا پر ظاہر کی گئیں، صحیح تھیں یا غلط؟ سچی تھیں یا جھوٹی؟
سوال: ۳...... مرزا غلام احمد قادیانی نے مذکورہ بالا کتاب میں اپنے الہام کے حوالہ سے یہ لکھا تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلال کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور یہ کہ مرزا کا زمانہ، حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ کے لئے بطور ارہاص واقع ہوا ہے۔ چنانچہ مرزا لکھتا ہے:
’’عسی ربکم ان یرحم علیکم و ان عدتم عدنا و جعلنا جہنم للکافرین حصیرا۔ خدائے تعالیٰ کا ارادہ اس بات کی طرف متوجہ ہے جو تم پر رحم کرے۔ اور اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف رجوع کیا تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رجوع کریں گے، اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے۔ یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے، یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضحہ اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کر دیں گے اور کج اور ناراست کا نام و نشان نہ رہے گا۔ اور جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست و نابود کر دے گا۔ اور یہ زمانہ اس زمانہ کے لئے بطور ارہاص کے واقع ہوا ہے یعنی اس وقت جلالی طور پر خدائے تعالیٰ اتمام حجت کرے گا۔ اب بجائے اس کے جمالی طور پر یعنی رفق اور احسان سے اتمام حجت کر رہا ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیہ در حاشیہ ص: ۵۰۵۔ روحانی خزائن ج: ۱ ص: ۶۰۱، ۶۰۲)
مرزا نے مندرجہ بالا عبارت میں اپنے الہام کے حوالہ سے جو دو باتیں لکھیں، یعنی:
- ۱:...... حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے۔
- ۲:...... اور یہ زمانہ اس زمانے کے لئے بطور ارہاص واقع ہوا ہے۔
سوال یہ ہے کہ مرزا کی یہ دونوں الہامی باتیں سچی تھیں یا جھوٹی؟
سوال :۴...... مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ میں لکھا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے اور اس کے ثبوت میں قرآن کریم کی آیت اور اپنے الہامات کا حوالہ دیا تھا۔ (جیسا کہ سوال نمبر ۳،۲،۱ میں مرزا کی عبارت آپ پڑھ چکے ہیں) لیکن اعجاز احمدی میں لکھتا ہے کہ میں نے براہین احمدیہ میں یہ عقیدہ خدا کی وحی سے نہیں لکھا تھا۔ مرزا کی عبارت ملاحظہ ہو:
”اس وقت کے نادان مخالف بدبختی کی طرف ہی دوڑتے ہیں، اور شقاوت سر پر سوار ہے، باز نہیں آتے، کیا کیا اعتراض بنا رکھے ہیں، مثلاً کہتے ہیں کہ مسیح موعود کا دعویٰ کرنے سے پہلے براہین احمدیہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا اقرار موجود ہے، اے نادانو! اپنی عاقبت کیوں خراب کرتے ہو، اس اقرار میں کہاں لکھا ہے کہ یہ خدا کی وحی سے بیان کرتا ہوں؟ اور مجھے کب اس بات کا دعویٰ ہے کہ میں عالم الغیب ہوں؟“
(اعجاز احمدی ص:۶۔ روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۱۱۴،۱۱۳)
سوال یہ ہے کہ براہین احمدیہ میں قرآن کریم کی آیت اور مرزا کے الہامات کا جو حوالہ دیا گیا تھا، کیا آپ کے نزدیک یہ خدا کی وحی ہے یا نہیں؟ اگر آپ ان چیزوں کو خدا کی وحی مانتے ہیں تو مرزا کا انکار کرنا جھوٹ ہے یا نہیں؟
سوال: ۵...... مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ میں لکھا تھا کہ سورۃ
الصف کی آیت: ۱۰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں پیشگوئی ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس پیشگوئی میں ابتداء ہی سے مجھے بھی شریک کر رکھا ہے۔ (دیکھئے سوال نمبر ۲ میں مرزا کی پوری عبارت)۔
اس کے برعکس اعجاز احمدی میں لکھتا ہے کہ براہین احمدیہ میں :
”مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ (سورۃ الصف: ۱۰)۔“
(اعجاز احمدی ص: ۷۔ روحانی خزائن ج: ۱۹ ص: ۱۱۳)
مرزا کے یہ دونوں بیان آپس میں ٹکراتے ہیں کیونکہ براہین میں کہتا ہے کہ اس پیشگوئی کا مصداق عیسیٰ علیہ السلام ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی اس میں شریک کر رکھا ہے، اور اعجاز احمدی میں کہتا ہے عیسیٰ علیہ السلام کا اس پیشگوئی میں کوئی حصہ نہیں، بلکہ میں ہی اس کا مصداق ہوں۔ اور لطف یہ کہ دونوں جگہ اپنے الہام کا حوالہ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کون سی بات سچی ہے اور کون سی جھوٹی؟ اور کون سا الہام صحیح ہے اور کون سا غلط؟
سوال: ۶...... مرزا قادیانی، اعجاز احمدی میں لکھتا ہے :
”پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شد و مد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے، اور میں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا، جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے
پر اصل حقیقت کھول دی جائے۔ تب تواتر سے اس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔“
(اعجاز احمدی ص:۷۔ روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۱۱۳)
اس کے برعکس ”آئینہ کمالاتِ اسلام“ میں لکھتا ہے: ”و والله قد كنت اعلم من ايام مديدة اننى جعلت المسیح ابن مریم، و انی نازل فی منزله، و لکن اخفیته، نظراً الى تاویله، بل ما بدلت عقيدتی و كنت عليها من المستمسكين، و توقفت فى الاظهار عشر سنين.“
(آئینہ کمالات اسلام ص: ۵۵۱۔ روحانی خزائن ج: ۵ ص:۵۵۱)
ترجمہ:..... ”اور اللہ کی قسم ! میں ایک مدت سے جانتا تھا کہ مجھے مسیح ابن مریم بنادیا گیا ہے، اور میں اس کی جگہ نازل ہوا ہوں۔ لیکن میں نے اس کو چھپائے رکھا اس کی تاویل پر نظر کرتے ہوئے، بلکہ میں نے اپنا عقیدہ بھی نہیں بدلا، بلکہ اسی پر قائم رہا اور میں نے دس برس اس کے اظہار میں توقف کیا۔“
ان دونوں بیانوں میں تناقض ہے۔ اعجاز احمدی میں کہتا ہے کہ بارہ برس تک مجھے خبر نہیں تھی کہ خدا نے بڑی شد و مد سے مجھے مسیح موعود قرار دیا ہے، اور آئینہ کمالات اسلام میں کہتا ہے کہ اللہ کی قسم ! میں جانتا تھا کہ مجھے مسیح موعود بنا دیا گیا ہے۔ لیکن میں نے اس کو دس برس تک چھپائے رکھا۔ ان دونوں باتوں میں سے کون سی بات صحیح ہے اور کون سی غلط؟ کون سی سچ ہے اور کون سی جھوٹ؟
سوال : ۷....... مرزا، اعجاز احمدی میں لکھتا ہے : ”خدا نے میری نظر کو پھیر دیا، میں براہین کی اس وحی کو نہ سمجھ سکا کہ وہ مجھے مسیح موعود بناتی ہے، یہ میری سادگی تھی، جو میری
سچائی پر ایک عظیم الشان دلیل تھی۔ ورنہ میرے مخالف مجھے بتلاویں کہ میں نے باوجودیکہ براہین احمدیہ میں مسیح موعود بنایا گیا تھا، بارہ برس تک یہ دعویٰ کیوں نہ کیا؟ اور کیوں براہین میں خدا کی وحی کے
مخالف لکھ دیا؟“ (اعجاز احمدی ص:۷۔ روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۱۱۴)
اس عبارت میں مرزا اقرار کرتا ہے کہ اس نے خدا کی وحی کو بارہ برس تک نہیں سمجھا اور خدا کی وحی کے خلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا عقیدہ لکھ دیا۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص بارہ برس تک وحی الٰہی کا مطلب نہ سمجھے اور وحی الٰہی کے خلاف بارہ برس تک جھوٹ بکتا رہے، کیا وہ مسیح موعود ہوسکتا ہے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ کسی شخص کا وحی الٰہی کے خلاف جھوٹ بکنا اس کے جھوٹا ہونے کی عظیم الشان دلیل ہے یا مرزا کے بقول اس کی سچائی کی؟
سوال :۸ ...... مرزا، آئینہ کمالات اسلام میں قسم کھا کر کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مسیح موعود اور مسیح ابن مریم بنادیا تھا، لیکن اس کے برعکس ازالہ اوہام میں کہتا ہے کہ میں مسیح موعود نہیں بلکہ مثیل مسیح ہوں اور یہ کہ جو شخص میری طرف مسیح ابن مریم کا دعویٰ منسوب کرے وہ مفتری اور کذاب ہے، چنانچہ ”علمائے ہند کی خدمت میں نیاز نامہ“ کے عنوان سے لکھتا ہے :
”اے برادران دین و علمائے شرع متین! آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہو کر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں، یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج ہی میرے منہ سے سنا گیا ہو بلکہ یہ وہی پرانا الہام ہے جو میں نے خدائے تعالیٰ سے پا کر براہین احمدیہ کے کئی مقامات پر بتصریح درج کر دیا تھا، جس کے شائع کرنے پر سات سال
سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا ہوگا، میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے بلکہ میری طرف سے عرصہ سات یا آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہو رہا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۱۹۰۔ روحانی خزائن ج:۳ ص:۱۹۲)
سوال یہ ہے کہ جب مرزا خود کہتا ہے کہ خدا نے مجھے مسیح ابن مریم بنا دیا ہے تو ازالہ اوہام کی رو سے خود مفتری اور کذاب ثابت ہوا یا نہیں؟ اور یہ کہ جو لوگ مرزا کو مسیح موعود کہتے ہیں مرزا کے بقول ”کم فہم لوگ“ ہیں یا نہیں؟
سوال :۹.......مرزا بشیر احمد ایم۔ اے سیرۃ المہدی میں لکھتا ہے :
”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔ پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے اور چونکہ تمہارے دادا کا منشا رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں اس لئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہو گئے۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۱ ص:۴۳، ایڈیشن دوم)
مرزا نے باپ کی پنشن میں خیانت کی، کیا ایسا شخص خدا کی وحی پر امین ہو سکتا
ہے؟ اور ایسا خائن اور چور مسیح موعود ہو سکتا ہے؟
سوال : ۱۰...... مرزا قادیانی ازالہ اوہام میں لکھتا ہے :
”یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشگوئی ایک اول درجہ کی پیشگوئی ہے، جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے، اور جس قدر صحاح میں پیشگوئیاں لکھی گئی ہیں، کوئی پیشگوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی، تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔“
(ازالہ اوہام ص:۵۵۷۔ مندرجہ روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۰۰)
مرزا قادیانی کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشگوئی متواتر ہے۔ ادھر مرزا کا کہنا یہ ہے کہ :
”میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں، جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔“
(ازالہ اوہام ص:۱۹۰۔ روحانی خزائن ج:۳ ص:۱۹۲)
پس جو لوگ مرزا کو آنحضرت ﷺ کی متواتر پیشگوئی کا مصداق قرار دیتے ہیں وہ مفتری اور کذاب ہیں یا نہیں؟
سوال : ۱۱...... مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام ص:۵۵۷ کی مندرجہ بالا
عبارت میں اقرار کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے متواتر احادیث میں مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشگوئی فرمائی ہے، ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے آنے والے مسیح بن مریم (علیہ السلام) کی کچھ علامات بھی بیان فرمائی ہوں گی، یہاں ایک حدیث ذکر کرتا ہوں، جسے مرزا محمود نے ”حقیقت النبوۃ“ ص:۱۹۲ میں نقل کر کے اس سے مسیح موعود
کے نبی ہونے پر استدلال کیا ہے، ترجمہ بھی مرزا محمود ہی کا نقل کرتا ہوں۔
مرزا محمود لکھتا ہے :
”الانبیاء اخوة لعلات، امہاتہم شتی و دینہم واحد، اولی الناس بعیسیٰ ابن مریم، لانہ لم یکن بینی و بینہ نبی، و انہ نازل، فاذا رأیتموہ فاعرفوہ رجل مربوع، الی الحمرة و البیاض، علیہ ثوبان ممصران، راسہ یقطر و ان لم یصبہ بلل، فیدق الصلیب و یقتل الخنزیر، و یضع الجزية، و یدعو الناس الی الاسلام، فتہلک فی زمانھا الملل کلھا الا الاسلام، و ترتع الاسود مع الابل، و النمار مع البقر، و الذیاب مع الغنم، و تلعب الصبیان بالحیات فلا تضرہم، فیمکث اربعین سنة، ثم یتوفی و یصلی علیہ المسلمون.
یعنی ”انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں، ان کی مائیں تو مختلف ہوتی ہیں اور دین ایک ہوتا ہے، اور میں عیسیٰ بن مریم سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں، کیونکہ اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں، اور وہ نازل ہونے والا ہے، پس جب اسے دیکھو تو اسے پہچان لو (۱) کہ وہ درمیانہ قامت (۲) سرخی سفیدی ملا ہوا رنگ (۳) زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے (۴) اس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہوگا گو سر پر پانی نہ ہی ڈالا ہو (۵) اور وہ صلیب کو توڑے گا (۶) اور خنزیر کو قتل کرے گا (۷) اور جزیہ ترک کردے گا اور لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دے گا (۸) اس کے زمانہ میں سب مذاہب ہلاک ہو جائیں گے اور صرف اسلام رہ جائے گا
(۹) اور شیر اونٹوں کے ساتھ، اور چیتے گائے بیلوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے، اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے اور وہ ان کو نقصان نہ دیں گے (۱۰) عیسیٰ ابن مریم چالیس سال تک رہیں گے، اور پھر فوت ہو جائیں گے (۱۱) اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے ۔“
(حقیقت النبوۃ ص: ۱۹۲)
اس حدیث شریف میں ذکر کردہ علامات کو ایک ایک کر کے ملاحظہ فرمائیں اور پھر انصاف سے بتائیں کہ کیا آنحضرت ﷺ کی ذکر کردہ یہ علامتیں مرزا غلام احمد قادیانی میں پائی گئیں؟ اگر نہیں ...... اور یقیناً نہیں ..... تو مرزا کو مسیح موعود قرار دینا کس طرح صحیح ہوگا؟
سوال: ۱۲...... مرزا غلام احمد قادیانی کے ملفوظات میں ہے :
”ایک دفعہ ہم دلی میں گئے تھے۔ ہم نے وہاں کے لوگوں سے کہا کہ تم نے تیرہ سو برس سے یہ نسخہ استعمال کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو مدفون اور حضرت عیسیٰؑ کو زندہ آسمان پر بٹھایا۔ یہ نسخہ تمہارے لئے مفید ہوا یا مضر ۔ اس سوال کا جواب تم خود ہی سوچ لو۔ ایک لاکھ کے قریب لوگ اسلام سے مرتد ہو گئے ہیں۔ ہر قوم اور ہر فرقے میں سے سید، مغل، پٹھان، قریشی وغیرہ۔ یہ تو حضرت عیسیٰؑ کو بار بار زندہ کہنے کا نتیجہ ہے۔ مگر اب دوسرا نسخہ ہم بتاتے ہیں وہ استعمال کر کے دیکھو اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کو (جیسا کہ قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے اور رسول کریم ﷺ نے فعلی شہادت دے دی) وفات شدہ مان لو۔“
(ملفوظات ج:۱۰ ص:۳۰۰)
اس عبارت سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی سے پہلے تیرہ صدیوں کی پوری امت مسلمہ اس عقیدہ پر متفق تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں، مرزا سے پہلے کی تیرہ صدیوں میں کسی صحابیؓ و تابعیؒ اور کسی مجدد نے امت کو یہ نسخہ نہیں بتایا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں، اب جو شخص امت کے اجتماعی عقیدہ کے خلاف مسلمانوں کو کوئی اور نسخہ بتائے وہ زندیق ہے یا نہیں؟
سوال: ۱۳...... مرزا قادیانی، چشمہ معرفت میں لکھتا ہے:
”چونکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے، اور آپ خاتم الانبیاء ہیں، اس لئے خدا نے یہ نہ چاہا کہ وحدت اقوامی آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ہی کمال تک پہنچ جائے، کیونکہ یہ صورت آپ کے زمانہ کے خاتمہ پر دلالت کرتی تھی، یعنی شبہ گزرتا تھا کہ آپ کا زمانہ وہیں تک ختم ہو گیا، کیونکہ جو آخری کام آپ کا تھا، وہ اسی زمانہ میں انجام تک پہنچ گیا، اس لئے خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہو جائیں، زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں ڈال دی، جو قرب قیامت کا زمانہ ہے، اور اس تکمیل کے لئے اسی امت میں سے ایک نائب مقرر کیا جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے، اور اسی کا نام خاتم الخلفاء ہے، پس زمانہ محمدی کے سر پر آنحضرت ﷺ ہیں، اور اس کے آخر میں مسیح موعود ہے، اور ضرور تھا کہ یہ سلسلہ دنیا کا منقطع نہ ہو جب تک کہ وہ پیدا نہ ہولے، کیونکہ وحدت اقوامی کی خدمت اسی نائب النبوت کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے، اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ
کرتی ہے، اور وہ یہ ہے : ہو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ (الصف ۔۱۰)۔ یعنی ”خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کردے۔“ یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کرے، اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا، اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیشگوئی میں کچھ تخلف ہو، اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے، جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں، کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔“
(چشمہ معرفت ص:۸۳،۸۴۔
روحانی خزائن ج:۲۳ ص:۹۰،۹۱)
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ تمام متقدمین کا اجماع ہے کہ آیت شریفہ کے مطابق عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔ اول تو مرزا کا دعویٰ ہی مسیح موعود ہونے کا نہیں، بلکہ مرزا کو مسیح موعود سمجھنا کم فہم لوگوں کا کام ہے(ازالہ اوہام ص:۱۹۰)۔ پھر مرزا کے وقت میں یہ عالمگیر غلبہ ظہور میں نہیں آیا۔ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ مرزا کو مسیح موعود سمجھنا غلط اور جھوٹ ہے؟
سوال نمبر : ۱۴...... مرزا صاحب کا مسیح موعود ہونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق ہے یا خلاف؟ اگر مطابق ہے تو برائے مہربانی وہ احادیث جن میں مرزا صاحب کی علامات بیان فرمائی گئی ہیں مع حوالہ کتب تحریر فرمائیں؟
سوال نمبر : ۱۵....... مرزا صاحب اربعین نمبر ۳، صفحہ نمبر ۱۷ مندرجہ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۰۳ پر فرماتے ہیں :
”لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں۔ جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہو گا تو :
- ۱۔ اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔
- ۲۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے۔
- ۳۔ اور اس کے قتل کے فتوے دیئے جائیں گے۔
- ۴۔ اور اس کی سخت توہین کی جائے گی۔
- ۵۔ اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج ...... اور
- ۶۔ دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔“
مسیح موعود کی یہ چھ علامتیں جو مرزا صاحب نے قرآن مجید سے منسوب کی ہیں‘ قرآن کریم کی کس آیت میں لکھی ہیں؟ اس کا حوالہ دیجئے۔
سوال نمبر : ۱۶ ..... اربعین نمبر ۲ صفحہ ۲۳ مندرجہ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۳۷۱ پر لکھتے ہیں کہ : ”انبیاء گزشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگادی کہ وہ (مسیح موعود) چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہو گا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہو گا۔“
کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا علیہم السلام کی طرف مرزا صاحب نے دو باتیں منسوب کی ہیں۔
- ۱۔ مسیح موعود کا چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہونا۔
- ۲۔ اور پنجاب میں پیدا ہونا۔
نوٹ : اربعین کے پہلے ایڈیشن میں ”انبیا گزشتہ“ کا لفظ تھا اوپر اسی کا حوالہ دیا گیا ہے۔ لیکن بعد کے ایڈیشنوں میں اس کو بدل کر ”اولیائے گزشتہ“ کا لفظ بنا
دیا گیا۔ اس تبدیلی کے بعد بھی یہ عبارت جھوٹ ہے۔
سوال نمبر : ۱۷...... ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم صفحہ ۱۸۸ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۵۹ پر لکھتے ہیں کہ :
”ایسا ہی احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا‘ اور وہ چودھویں صدی کا مجدد ہوگا۔“
احادیث صحیحہ کا لفظ کم از کم تین احادیث پر بولا جاتا ہے۔ لہٰذا مسیح موعود کی ان دو علامتوں کو جو مرزا صاحب نے احادیث صحیحہ کے حوالے سے لکھیں ہیں‘ کے بارے میں کم از کم تین تین احادیث کا حوالہ دیجئے۔
سوال نمبر : ۱۸...... اس کے متصل آگے لکھتے ہیں کہ :
”اور لکھا تھا کہ وہ اپنی پیدائش کی رو سے دو صدیوں میں اشتراک رکھے گا۔ اور دو نام پائے گا۔ اور اس کی پیدائش دو خاندانوں سے اشتراک رکھے گی۔ اور چوتھی دو گونہ صفت یہ کہ پیدائش میں بھی جوڑے کے طور پر پیدا ہوگا۔“
اگر یہ مرزا صاحب کا سفید جھوٹ نہیں تو فرمایا جائے کہ مسیح موعود کی یہ چار علامتیں حدیث کی کس کتاب میں لکھی ہیں؟
سوال نمبر : ۱۹..... ازالہ اوہام صفحہ ۸۱ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۴۲ پر فرماتے ہیں کہ
”صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“
کیا صحیح مسلم کی حدیث میں حضرت مسیح کا آسمان سے اترنا لکھا ہے؟
سوال نمبر: ۲۰.... شہادۃ القرآن صفحہ ۴۱ روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۳۹۷ پر لکھتے ہیں کہ : "اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں مثلاً " صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ ”ھذا خلیفۃ اللہ المہدی“ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے۔ جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔"
ہمارے سامنے صحیح بخاری کا جو نسخہ ہے اس میں تو یہ حدیث ھذا خلیفۃ اللہ المہدی ہمیں کہیں نہیں ملی۔ لیکن جس طرح مرزا صاحب کے گھر میں قرآن کریم کا ایسا نسخہ تھا جس میں ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ لکھا تھا (ازالہ اوہام ص ۷۶ تا ۷۷‘ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۴۰ حاشیہ )‘ اسی طرح شاید ان کے کتب خانہ میں کوئی نسخہ صحیح بخاری کا ایسا بھی ہو جس میں سے دیکھ کر مرزا صاحب نے یہ حدیث لکھی ہو۔
بہر حال اگر مرزا صاحب نے صحیح بخاری شریف کا حوالہ صحیح دیا ہے تو ذرا اس صفحہ کا عکس شائع کر دیجئے‘ اور اگر جھوٹ دیا ہے تو یہ فرمائیے کہ جو شخص صحیح بخاری جیسی معروف و مشہور کتاب پر جھوٹ باندھ سکتا ہے‘ وہ اپنے دعویٰ مسیحیت میں سچا ہو گا؟ کیونکہ مرزا صاحب ہی کا ارشاد ہے کہ ایک بات میں جھوٹ ثابت ہو جائے تو پھر دوسری بات میں بھی اعتبار نہیں رہتا۔
(چشمہ معرفت ص ۲۲۲)
سوال نمبر : ۲۱ ..... ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۳ روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۳۳۷ حاشیہ پر لکھتے ہیں :
”اس (محمدی بیگم سے نکاح کی) پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ : یتزوج و یولد لہ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سیہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“
مرزا صاحب کی اس تحریر سے پہلے ان کی اہلیہ محترمہ نصرت جہاں بیگم موجود تھیں اور مبارک احمد کے علاوہ باقی سب صاحبزادے بھی پیدا ہوچکے تھے، لیکن مرزا صاحب نے مسیح موعود کی ان دو علامتوں سے ”خاص شادی“ اور ”خاص اولاد“ مراد لی ہے یعنی محترمہ محمدی بیگم اعلیٰ اللہ مقامہا سے نکاح اور ان سے پیدا ہونے والی اولاد۔ مگر مرزا صاحب کو یہ نکاح ہی نصیب نہ ہوا، اولاد تو کیا ہوتی۔ فرمائیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی نعوذ باللہ غلط تھی یا مرزا صاحب کی مسیحیت غلط ٹھہری؟ اور یہ بھی فرمائیے کہ جب یہ پیش گوئی مرزا صاحب پر صادق ہی نہ آئی تو مرزا صاحب کے سیاہ دل منکروں کا جواب کدھر گیا
گیا؟ اور یہ بھی فرمائیے کہ جس شخص پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی صادق نہ آئے‘ وہ مسیح موعود ہو سکتا ہے؟ اور اسی پیشنگوئی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ :
”یاد رکھو کہ اگر اس پیش گوئی کی دوسری جزو (یعنی احمد بیگ کے داماد کی موت اور محترمہ محمدی بیگم کا مرزا صاحب کے حجلہ عروسی میں آنا) پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بد تر ٹھہروں گا“۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۴ روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۳۳۸)
نیز فرماتے ہیں کہ :
”میں اس کو صدق و کذب کا معیار ٹھہراتا ہوں اور میں نے نہیں کیا۔ مگر بعد اس کے مجھے میرے رب کی جانب سے خبر دی گئی“۔
(انجام آتھم ص ۲۲۳ روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۲۲۳)
مسیح موعود کی یہ خاص علامت محمدی بیگم (اعلیٰ اللہ مقامہا) سے نکاح کی سعادت تو مرزا صاحب کو نصیب نہ ہوئی۔ جس کی بنا پر وہ باقرار خود ”ہر بد سے بدتر“ اور ”کاذب“ ٹھہرے۔ اب فرمائیے ! اگر مرزا صاحب کو ”المسیح الکذاب“ کا خطاب دیا جائے تو کیا یہ انہی کے اقرار کے مطابق واقعہ کی صحیح ترجمانی نہیں؟
سوال نمبر : ۲۲....... مرزا صاحب تریاق القلوب ضمیمہ نمبر ۲ صفحہ ۱۵۹ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۴۸۳ پر لکھتے ہیں :
”اس کے (یعنی مسیح موعود کے) مرنے کے بعد نوع انسان میں علت عقم سرایت کرے گی۔ یعنی پیدا ہونے والے حیوانوں اور وحشیوں سے
مشابہت رکھیں گے اور انسانیت حقیقی صفحہ عالم سے مفقود ہو جائے گی۔ وہ حلال کو حلال نہیں سمجھیں گے اور نہ حرام کو حرام۔ پس ان پر قیامت قائم ہوگی۔“
فرمائیے! مرزا صاحب کے وجود میں ”مسیح موعود“ کی یہ خاص علامت پائی گئی ہے؟ کیا ان کے مرنے کے بعد جتنے انسان پیدا ہوئے وہ سب وحشی ہیں؟ اور انسانیت صفحہ ہستی سے مٹ گئی ہے؟ کیا کوئی بھی حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھنے والا دنیا میں موجود نہیں؟
اگر مرزا صاحب میں یہ علامت نہیں پائی گئی تو وہ مسیح موعود کیسے ہوئے؟ اور اگر پائی گئی ہے تو دور کے لوگوں کا تو قصہ جانے دیجئے، خود قادیانی جماعت کے بارے میں کیا فتویٰ ہے؟ کیا یہ بھی وحشیوں کی جماعت ہے؟ کیا ان میں حقیقی انسانیت قطعاً نہیں پائی جاتی؟ اور ان کو حلال و حرام کی کچھ تمیز نہیں؟
سوال نمبر: ۲۳..... مرزا صاحب مسیح بنے تو انہوں نے اپنے گھر میں دجال بھی گھڑ لیا یعنی پادری یہاں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ پادری تو دنیا میں پہلے سے موجود تھے بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے بھی پہلے اور ان کے مشرکانہ عقائد و نظریات بھی پہلے سے چلے آرہے تھے جس پر قرآن کریم گواہ ہے مگر دجال کو تو قتل کرنا تھا جب کہ مرزا صاحب کو مرے ہوئے پون صدی ہو رہی ہے اور ان کا دجال ابھی تک دنیا میں دندناتا پھر رہا ہے۔ مسیح موعود کی یہ علامت مرزا صاحب پر کیوں صادق نہیں آتی؟
دوسرے، دجال کو دنیا میں صرف چالیس دن رہنا تھا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آتا ہے مگر مرزا صاحب کے خود ساختہ دجال کا چلہ ابھی تک پورا ہی ہونے
میں نہیں آتا۔
تیسرے، مرزا صاحب لکھتے ہیں :
"میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید پھیلاؤں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کردوں۔ پس مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے۔ تو میں جھوٹا ہوں۔
پس دنیا کیوں مجھ سے دشمنی کرتی ہے۔ وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود اور مہدی موعود کو کرنا چاہئے تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا۔ اور میں مرگیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں"۔
(اخبار البدر ۱۹ جولائی ۱۹۰۶ء)
دنیا گواہ ہے کہ مرزا صاحب کے آنے کے بعد دین اسلام کو ترقی نہیں ہوئی بلکہ تنزل ہوا۔ حد یہ ہے کہ آج تک خود ان کی اپنی جماعت خارج از اسلام ہے۔ کیا قادیانی صاحبان سب دنیا کے ساتھ مرزا صاحب کے جھوٹا ہونے کی گواہی نہیں دیں گے؟ فرمائیے۔ اب مرزا صاحب کے جھوٹا ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی رہ جاتا ہے؟
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد و آلہ واصحابہ اجمعین۔