تحفظ ناموس رسالت ﷺ کیوں اور کیسے؟ · مولانا مفتی محمد ریاض جمیل
Tahufuz Namoos-e-Risalat Q aur Kese · Mufti Raiz Jameel
PDF 1

محمد صلی اللہ علیہ وسلم

تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

کیوں اور کیسے ؟

ترتیب مولانا مفتی محمد ریاض جمیل صاحب أستاذ جامعہ اشرفیہ ، لاہور

پسند فرمودہ حضرت اقدس مولانا فضل الرحیم دامت برکاتہم العالیہ صاحب استاذ الحدیث و نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور

مكتبة الحرم اردو بازار لاہور

PDF 2

بسم اللہ الرحمن الرحیم

صلی اللہ

علیہ وسلم

تحفظ ناموس رسالت

کیوں اور کیسے؟

مولانا ریاض جمیل

ناشر

مکتبۃ الجوہر اردو بازار

لاہور

۰۳۲۱_۳۳۹۹۳۱۳

PDF 3

قرآن مجید میں توہین رسالت کی سزا

عَذَاباً مُّهِيناً

”بلاشبہ جولوگ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا و آخرت میں اللہ کی طرف سے پھٹکار ہے اور ان کے لئے رسوا کن عذاب تیار کیا گیا ہے۔

(الاحزاب ۔ ۵۷)

”اور جولوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ایذا پہنچاتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔“

(التوبہ۔۶۱)

حدیث شریف میں گستاخ رسولؐ کی سزا

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں گستاخی رسول کے کئی مجرموں کو قتل کی سزا دی گئی ۔ قاضی عیاض نے اس طرح کے آٹھ واقعات اپنی کتاب ”الشفا“ میں ذکر کئے ہیں۔ انہوں نے ایک واقعہ یہ بھی درج کیا ہے کہ ایک شخص نے سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں گستاخی کی ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون غیور ہے جو اس دریدہ دہن کو اس حرکت کا مزہ چکھائے؟ حضرت زبیرؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! میری خدمات حاضر ہیں، چنانچہ انہوں نے اس گستاخ کو گستاخی کی سزا دی۔

(الشفا)

PDF 4

کہنے والے کہتے ھیں آج نعت کا دور ہے بھول جاتے ھیں کہ ھر دور ھی نعت کا دور رھا ہے کہ یہ صنف سخن ازل انوار بھی ہے اور ابد آثار بھی حقیقت یہ ہے کہ نعت مخالفین اسلام کی لسانی گستاخیوں کے جواب کے لئے وجود میں آئی تھی خود حضور ﷺ کی مبارک رضا اس میں شامل تھی اور اس کے خال و خط اور اسلوب و اصول بھی زبانِ رسالت ھی نے متعین فرمائے تھے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دل آزار تحریریں بھی لکھی جاتی رھیں، توھین آمیز خاکے بھی چھاپے جاتے رھیں اور محب رسول کے دعوے دار محض نعت گوئی میں مصروف رھیں، ایسی نعت گوئی اور نعت خوانی قلم قلم حرف حرف اور لفظ لفظ منافقت ہے کہ اس میں محبت کا دعویٰ، غیرت کی چنگاری سے محروم ہے۔

”محبت خوب ہے،غیرت مگر اس سے فزوں تر ہے
PDF 5

انتساب

شہید ناموس رسالت غازی عامر عبدالرحمن چیمہ شہید رحمہ اللہ تعالیٰ کے نام

جن کی جرأت و بہادری نے امت مسلمہ کو تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا عملی راستہ دکھایا

کر دیا جاں دے کے ثابت عامر چیمہ شہید نے
قیمتی ہے غازیوں کی جاں سے ناموس رسول ﷺ
عزت و آرام و جاں دے دیں، مسلماں کٹ مریں
اور بچائیں شدّتِ ارماں سے ناموس رسول ﷺ
PDF 6

ہے، جس کی بدولت نئی کے طور پر بیان کیا گیا چنانچہ سیرت نبویؐ کا ور گراں کی طہارت اور ردی میں مقدور بھر معاون میں کامیاب ہوسکیں ت رب العالمین ہے میں قدم ڈگمگاؤں ان کے آبا و اجداد سلمانان عالم پر یہ سطح اور زاویے سے انفرادی زندگی میں ں آویزش اور کفار تعلیمات کو اجاگر کیا ست کر سکتا ہے؟! نے ایک دینی و ملی سازشوں سے پردہ تحفظ کی خاطر اپنی دہ قومی ترقی

وضاحت کر نہیں سکتا، مگر آواز دیتا ہوں
کہ اس کرب و بلا میں سخت جانوں کی ضرورت ہے
کہاں ہیں سید الکونینؐ کی امت کے دیوانے؟
کہ ناموس نبیؐ کے پاسبانوں کی ضرورت ہے

(شورش کاشمیریؒ)

نمبر شمار مضامین

پہلا باب تحفظ ناموس رسالت

دوسرا باب توہین آمیز خاکوں

صفحہ ۷
آواز دیتا ہوں
مانوں کی ضرورت ہے
امت کے دیوانے؟
ولوں کی ضرورت ہے

(شورش کاشمیری)

حسن ترتیب

نمبر شمار مضامین مصنفین صفحہ نمبر ۱ اللہ تمہیں صاحب سیف و سناں کرے ۱۳ ۲ شکریہ ۲۳ ۳ دو باتیں ۲۵ ۴ ہلاک ہوئے کارٹونوں والے ۲۷ پہلا باب تحفظ ناموس رسالت کی ضرورت واہمیت ۲۹ ۵ تحفظ ناموس رسالت کی اہمیت و ضرورت پروفیسر محمد اکرم رضا ۴۰ ۶ لٹ کے رہ گئی ہے بجا اپنی کائنات سید خورشید احمد گیلانی ۵۵ ۷ سر بیچ کر متاع دل وجاں خریدنا پروفیسر اقبال جاوید ۵۹ دوسرا باب توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟ ۶۳ ۸ توہین رسالت پر امام کعبہ کا خطبہ جمعہ فضیلۃ الشیخ اسامہ الخیاط ۶۴ ۹ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟ احسان اللہ ثاقب ۷۹ ۱۰ کیا یہ اتفاقی واقعہ تھا؟ اکرم شیخ ۸۱ ۱۱ توہین رسالت پس منظر و پیش منظر محمد عمر عثمانی ۸۴ ۱۲ اہانت رسول اور مغرب حافظ سجاد قمر ۸۷ ۱۳ توہین رسالت مہم کے سر پرست یہودی نکلے محمد صالح مغل ۹۱ ۱۴ مغرب کی توہین رسالت آفتاب عباسی ۱۰۰

صفحہ ۸

۱۵ آخر مغربی دنیا کیا چاہتی ہے؟ محمد بن محمود ۱۰۴ ۱۶ پبلک ڈپلومیسی اور توہین آمیز خاکے سلیم بخاری ۱۰۷ ۱۷ متعفن سوچ کے مکروہ مظاہر عرفان صدیقی ۱۱۰ ۱۸ عشق کا امتحان جاوید چودھری ۱۱۳ ۱۹ اہل مغرب کی ناکام سازش محمد اسماعیل ریحان ۱۱۵ ۲۰ قوت اور مذہب کا تصادم حافظ سجاد تقی ۱۲۰ ۲۱ قادیانی سازش محمد بدر عالم چنیوٹی ۱۲۳ تیسرا باب فقط اک نام محمدؐ سے محبت کی ہے ۱۲۷ ۲۲ توہین رسالت اور شان رسالت فضیلۃ الشیخ راشد الخالد ۱۲۸ ۲۳ چنگاری سے شعلے تک مولانا اسلم شیخوپوری ۱۳۴ ۲۴ حرمت مصطفیٰ ملت اسلامیہ کا آخری مورچہ مولانا عبد القدوس محمدی ۱۳۹ ۲۵ محبت کا قرینہ عرفان صدیقی ۱۴۲ ۲۶ سنو! غور سے سنو سعدی کے قلم سے ۱۴۵ ۲۷ یہ شمع جلتی رہے گی مولانا اسلم شیخوپوری ۱۵۰ ۲۸ چنگاری طلحہ السیف ۱۵۵ ۲۹ طویل رات علامہ عبد الرشید غازی ۱۵۸ ۳۰ دہر میں اسم محمدؐ سے اجالا کر دے حافظ محمد ادریس ۱۶۴ ۳۱ ایک بیٹے کا نام یہ رکھیں سعدی کے قلم سے ۱۶۸ ۳۲ آخرت کا سودا اوریا مقبول جان ۱۷۶ ۳۳ ناک پانی میں نصر اللہ عزیز ۱۷۹ ۳۴ ایسا بہت مشکل ہے سعدی کے قلم سے ۱۸۲ ۳۵ اے ہمارے آقاﷺ محمد بن محمود ۱۸۷ ۳۶ آقاﷺ کے بغیر وحید اللہ زیاد ۱۹۱ ۳۷ توہین رسالت اور ہماری زندگی وقار احمد ۱۹۴

چوتھا باب توہین رسالت اور ہماری ذمہ داری فیصلے کی گھڑی ۲۳۸ تحریک ناموس مصطفیٰ کے تقاضے ۲۳۹ صرف احتجاج نہیں عملی قدم بھی ۲۴۰ توہین رسالت: مسئلہ کیسے حل ہو سکتا ہے؟ ۲۴۱ توہین آمیز خاکوں پر عالم اسلام کی بے حسی؟ ۲۴۲ حکمت عملی کیا ہونی چاہئے؟ ۲۴۳ پس چہ باید کرد؟ ۲۴۴ ہمارے مجرم ہمارے حوالے ۲۴۵ معاشی بائیکاٹ ہی اصل حل ہے ۲۴۶ ایسا کیوں ہوا؟ ۲۴۷ سوہنے محمدﷺ کے نام پر ۲۴۸ ڈائیلاگ کی گنجائش موجود ہے ۲۴۹ تحفظ ناموس رسالت طاقت کے زور پر ۲۵۰ اظہارِ محبت اور احتجاج کا مؤثر طریقہ ۲۵۱ پانچواں باب گستاخ رسول شریعت کی نظر میں تحفظ ناموس رسالت کی شرعی حیثیت ۲۵۲ گستاخ رسول شریعت کی نظر میں ۲۵۳ توہین رسالت کا شرعی حکم ۲۵۴ توہین رسالت تاریخ کے جھروکوں سے ۲۵۵ گستاخ رسول کے بارے میں علمائے امت کے فتاوے ۲۵۶ نا قابل معافی جرم! ۲۵۷ کوئی عدالت گستاخ رسول کو معاف نہیں کر سکتی ۲۵۸ اے کاش کوئی ایک تو ایسا ہوتا ۲۵۹

صفحہ ۸ ۹

ہے، جس کی بدولت نبی کے طور پر بیان کیا گیا چنانچہ سیرت نبویؐ کا کرداری طہارت اور دعوٰی میں حد درجہ رواں میں کامیاب ہو سکیں رب العالمین ہے قدم بقدم، جنگلوں ان کے آباؤ اجداد مسلمانان عالم پر یہ طرح اور زاویے سے انفرادی زندگی میں نمایاں اور کفار تعلیمات کو اجاگر کیا ثابت کر سکتا ہے؟! نے ایک دینی وملی سازشوں سے پردہ تحفظ کی خاطر اپنی یونیورسٹی

محمد بن محمود ۱۰۴ سلیم بخاری ۱۰۷ عرفان صدیقی ۱۱۰ جاوید چوہدری ۱۱۳ محمد اسماعیل ریحان ۱۱۵ حافظ طاہراشرفی ۱۲۰ محمد بدر عالم چنیوٹی ۱۲۳ ہے ۱۲۷ فضیلۃ الشیخ راشد البراک ۱۲۸ مولانا اسلم شیخوپوری ۱۳۳ مولانا عبد القدوس محمدی ۱۳۹ عرفان صدیقی ۱۴۲ سعدی کے قلم سے ۱۴۵ مولانا اسلم شیخوپوری ۱۵۰ طیبہ حنیف ۱۵۵ علامہ عبد الرشید غازی ۱۵۸ حافظ محمد ادریس ۱۶۳ سعدی کے قلم سے ۱۶۸ اوریا مقبول جان ۱۷۶ نصر اللہ عزیز ۱۷۹ سعدی کے قلم سے ۱۸۲ محمد بن محمود ۱۸۷ عبد اللہ ثاقب ۱۹۱ ۱۹۴

چوتھا باب توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں ۱۹۹ ۴۸ فیصلے کی گھڑی یاسر محمد خان ۲۰۰ ۴۹ تحریک ناموس مصطفیٰؐ کے تقاضے عرفان صدیقی ۲۰۶ ۵۰ صرف احتجاج نہیں عملی قدم بھی مولانا محمد احمد حافظ ۲۱۰ ۵۱ توہین رسالت: مسئلہ کیسے حل ہو سکتا ہے آفتاب عباسی ۲۱۴ ۵۲ توہین آمیز خاکوں پر عالم اسلام کی حکمت عملی ثروت جمال اصمعی ۲۱۹ ۵۳ حکمت عملی کیا ہونی چاہئے؟ الطاف حسین قریشی ۲۲۵ ۵۴ پس چہ باید کرد؟ علم الدین ۲۳۲ ۵۵ ہمارے مجرم ہمارے حوالے اوریا مقبول جان ۲۳۳ ۵۶ معاشی بائیکاٹ ہی اصل حل ہے مولانا مفتی تقی عثمانی ۲۳۶ ۵۷ ایسا کیوں ہوا؟ یاسر محمد خان ۲۳۹ ۵۸ سوہنے محمدﷺ کے نام پر مفتی ابولبابہ شاہ منصور ۲۵۶ ۵۹ ڈائیلاگ کی گنجائش موجود ہے جاوید چوہدری ۲۶۰ ۶۰ تحفظ ناموس رسالت طاقت کے دور میں محمود خاقانی ۲۶۳ ۶۱ اظہار محبت اور احتجاج کا مؤثر ترین راستہ مولانا اسماعیل ریحان ۲۶۵ پانچواں باب گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں ۲۶۷ ۵۲ تحفظ ناموس رسالت کی شرعی حیثیت مفتی عبدالرؤف سکھروی ۲۶۸ ۵۳ گستاخ رسول شریعت کی نظر میں مفتی عبد الستار ۲۷۳ ۵۴ توہین رسالت کا شرعی حکم مولانا ثناء اللہ سعد ۲۷۸ ۵۵ توہین رسالت تاریخ کے پس منظر میں انجینئر نوید احمد ۲۹۷ ۵۶ گستاخ رسول کے بارے میں علماء امت کا فیصلہ ام سالم ۳۰۶ ۵۷ ناقابل معافی جرم! مولانا عبد الغفور ندیم ۳۰۹ ۵۸ کوئی عدالت گستاخ رسول کو معاف نہیں کر سکتی مولانا ثناء اللہ سعد ۳۱۲ ۵۹ اے کاش کوئی ایک تو ایسا ہوتا خالد عمران ۳۱۴

صفحہ ۱۰

۶۰ توہین رسالت کا کیس تاریخ کی عدالت میں عامر احمد خان ۳۱۷ ۶۱ یورپ اور توہین قانون انبیاء اسماعیل قریشی ۳۲۱ ۶۲ ایک عمومی اعتراض اور اس کا جواب مولانا منصور احمد ۳۲۵ ۶۳ برداشت اور عدم برداشت مولانا زاہد الراشدی ۳۲۸ ۶۴ صرف ایک دعا نصر اللہ عزیز ۳۳۲ ۶۵ یورپ سے انتالیس سوالات ۳۳۶ ۶۶ اے اصل مغرب! عطاء الرحمن ۳۴۲ ۶۷ مغرب کو گستاخانہ طرز عمل ترک کرنا ہوگا مولانا زاہد الراشدی ۳۴۵ چھٹا باب گستاخان رسول کا عبرتناک انجام ۳۴۹ ۶۸ قسم مولانا اسماعیل ریحان ۳۵۰ ۶۹ توہین رسالت کا نتیجہ وحید اللہ زیاد ۳۵۳ ۷۰ دو بدبختوں کا انجام رابعہ اسلم میمن ۳۵۶ ۷۱ روسی سکوں پر حضور کی تصویر ابوالنورین ۳۶۰ ساتواں باب مغرب کی آزادی اظہار ۳۶۳ ۷۲ توہین رسالت کی جسارت اور آزادی اظہار مولانا محمد احمد حافظ ۳۶۴ ۷۳ یہ تیر صرف ہمارے لئے ہیں! عرفان صدیقی ۳۶۸ ۷۴ مغرب کی آزادی اظہار عباس اطہر ۳۷۱ ۷۵ آزادی اظہار ایک جائزہ مولانا محمد حافظ ۳۷۴ ۷۶ توہین رسالت اور آزادی رائے کی حقیقت جاوید اقبال ۳۷۷ ۷۷ آزادی صحافت کی آڑ میں ...... ۳۸۱ ۷۸ توہین آمیز خاکے اور بین الاقوامی صحافتی اخلاقیات ڈاکٹر احسن اختر ناز ۳۸۵ ۷۹ ہولوکاسٹ اور آزادی اظہار اوریا مقبول جان ۳۸۹ ۸۰ آزادی اظہار کی حدود و قیود ابوطلحہ عثمان ۳۹۲

صفحہ ۱۱

ہے، جس کی بدولت ہی کے طور پر بیان کیا گیا چنانچہ سیرت نبویؐ کا کردار کی طہارت اور میں کامیاب ہو سکیں للہ رب العالمین ہے میں قدم بکھرنے دوں ان کے باوجو د اجداد مسلمانان عالم پر یہ طرح اور زاویے سے انفرادی زندگی میں ں آویزش اور کفار تعلیمات کو اجاگر کیا ت کر سکتا ہے؟ نے ایک دینی وملی ازوں سے پردہ حتطاط کی خاطر اپنی نعوذ باللہ

عامر احمد خان ۳۱۷ اسماعیل قریشی ۳۲۱ مولانا منصور احمد ۳۲۵ مولانا زاہد الراشدی ۳۲۸ نصر اللہ عزیز ۳۳۲

۳۳۶

عطاء الرحمن ۳۴۲ مولانا زاہد الراشدی ۳۴۵

۳۴۹

مولانا اسماعیل ریحان ۳۵۰ وحید اللہ زیاد ۳۵۳ رابعہ اسلم میمن ۳۵۶ ابو النورین ۳۶۰

۳۶۳

مولانا محمد احمد حافظ ۳۶۴ عرفان صدیقی ۳۶۸ حسان اطہر ۳۷۱ مولانا محمد حافظ ۳۷۴ عبدالاقبال ۳۷۷

۳۸۱

قرۃ العین اختر ناز ۳۸۵

میاں جان ۳۸۹

۳۹۲ ۱۰

آٹھواں باب تہذیبوں کا تصادم ۳۹۷ ۸۱ جنگ تو شروع ہے عرفان صدیقی ۳۹۸ ۸۲ یورپی پارلیمنٹ میں صلیبی جنگ کی بازگشت محسن فارانی ۴۰۰ ۸۳ تہذیبی مساوات جیون خان ۴۰۲ ۸۴ مغربی تہذیب اسلام دشمنی کے عمیق اسباب ارشاد احمد حقانی ۴۰۷ ۸۵ نظریاتی و تہذیبی جنگ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ آفتاب عباسی ۴۱۰ ۸۶ تہذیبوں کا ٹکراؤ چند قابل ذکر پہلو آفتاب عباسی ۴۱۴ ۸۷ معرکہ ہلال وصلیب کا آخری مرحلہ حافظ سجادتی ۴۱۷ ۸۸ اے تیغ بکف روز مکافات کہاں ہے؟ حافظ سجادتی ۴۲۱ ۸۹ بین المذاہب مفاہمت کا واحد راستہ پیر فضل حق ۴۲۶

نواں باب غازی عامر چیمہ شہیدؒ ۴۲۹ ۹۰ جرمنی کے زندان میں عامر چیمہ کی شہادت عبدالقدوس محمدی ۴۳۰ ۹۱ غازی علم دین شہید کا روحانی بیٹا عتیق مرتضیٰ ۴۳۳ ۹۲ عامر بھائی شادی مبارک سعدی کے قلم سے ۴۳۷ ۹۳ وہ جو حیات جاوداں پا گیا عرفان صدیقی ۴۴۲ ۹۴ داستانِ عشق کا ضمیمہ، غازی عامر چیمہ محمد مقصود احمد ۴۵۰ ۹۵ عاشق کا جنازہ خالد بن ولید ۴۶۳ ۹۶ ہمارا شاندار زمانہ سعدی کے قلم سے ۴۶۸ ۹۷ خون رنگ لائے گا نوید مسعود ہاشمی ۴۷۱ ۹۸ عامر چیمہ کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا یاسر محمد خان ۴۷۴ ۹۹ قوم سلام کرتی ہے مولانا اسلم شیخوپوری ۴۸۱ ۱۰۰ زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں اس کے نام پر مولانا قاری منصور احمد ۴۸۴ ۱۰۱ ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ اوریا مقبول جان ۴۸۶ ۱۰۲ عامر جو ”امر“ ہو گیا مجاہد ۴۸۸

صفحہ 12

۱۰۳ شہید ناز حاصل ترنائی ۴۸۹ ۱۰۴ تیرے ہوتے حرمت رسول کو بچایا ام حماد ۴۹۰ دسواں باب تحفظ حرمتِ رسولؐ پر منظوم کلام ۴۹۱ ۱۰۵ سنو! روضۂ اقدس سے کیا آواز آتی ہے؟ ۴۹۲ ۱۰۶ قربان ہو جائیں حرمت پر تقاضہ ہے محبت کا محمد حامد خان حامد ۴۹۳ ۱۰۷ اے کاش کہ ہم ”دھن“ کے بیمار نہ ہوتے اثر جونپوری ۴۹۴ ۱۰۸ عزت پہ تیری کملی والے سید سلیمان گیلانی ۴۹۵ ۱۰۹ ناموس مصطفیٰؐ پہ دل و جان وار دو فیض الرسول فیضان ۴۹۶ ۱۱۰ پھانسی پہ چڑھادو بادل سیالکوٹی ۴۹۷ ۱۱۱ گستاخ محمدؐ کی سزا موت ہے بس موت مظفر وارثی ۴۹۸ ۱۱۲ مت کرو مجبور ہم کو اثر جون پوری ۴۹۹ ۱۱۳ گوارہ کر نہیں سکتا اثر جون پوری ۵۰۰ ۱۱۴ اس شاتم سرکار کو مٹی میں ملا دو مولانا ولی اللہ صدیقی ۵۰۱ ۱۱۵ ہم نے ڈبو لئے ہیں کفن خون کے رنگ میں ام حماد ۵۰۳ ۱۱۶ آنچ آنے نہیں دیتے غلام آقا کی عزت پر ضیاء محمد ضیاء ۵۰۴ ۱۱۷ سلام ان پر قربان ہوئے جو ناموسِ رسالت پر حافظ لدھیانوی ۵۰۵ ۱۱۸ تیری سیرت کا شمع دان تھامے امۃ الرب ۵۰۶ ۱۱۹ فقط اک نام محمدؐ سے محبت کی ہے حفیظ رضا پسروری ۵۰۷

اللہ تمہیں صا

ڈنمارک کے ایک اخبار کے وشرافت نبی کریم ﷺ کے توہین آمیز خا گستاخ مغرب کا یہ پہلا وار تھا نہ آخری ا خلاف مستقل جنگ کا حصہ اور اس کی کڑ کے عسکری فکری اور تہذیبی حملوں سے مسل ہیں ان کے قلب کی اسلامی دھڑکنیں ر ہے، لہٰذا انہوں نے مسلمانوں کا آخری ۔ اس بار انہوں نے صحافت کے کاندھے کر ناموس رسالت کو ہدف بنا کر چان ہوگئے، گلے اخبارات کے صفحات اس والے یہ غلیظ چیتھڑے جب زیادہ چنگاریاں سلگنا شروع ہوئیں تو انہو دھار لیا۔ نیل کے ساحل سے لے کر کے باوجود ڈنمارک ٹس سے مس نہ ہوا بائیکاٹ کی لے بھی شامل ہو گئی گستاخ مگر اسلامی حکومتوں کی سطح پر اور اجت کے ابال کی طرح ایک دم عروج پر علماء کرام دانشوران مل

صفحہ 13

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اللہ تمہیں صاحب سیف و سناں کرے

ڈنمارک کے ایک اخبار کے ملعون ایڈیٹر نے حضور ختمی مرتبت، محسن انسانیت اور پیکر رواداری و شرافت نبی کریم ﷺ کے توہین آمیز خاکے چھاپے، مسلمانوں کے اس آخری سہارے اور متاع عزیز پر گستاخ مغرب کا یہ پہلا وار تھا نہ آخری اور عارضی۔ بلکہ یہ اس کی تاریخی اسلام دشمنی کا نمونہ اور اسلام کے خلاف مستقل جنگ کا حصہ اور اس کی فطرت خبیثہ کا ایک متعفن و مکروہ مظاہرہ تھا، مغرب یہ سمجھ بیٹھا کہ اس کے عسکری فکری اور تہذیبی حملوں سے مسلمانوں پر موت کا سکوت طاری ہے۔ انکی ایمانی نبضیں ڈوب چکی ہیں ان کے قلب کی اسلامی دھڑکنیں خاموش ہوگئی ہیں ان کے ماتھے کی حدت ٹھنڈک میں بدل گئی ہے۔ لہٰذا انہوں نے مسلمانوں کا آخری ٹیسٹ لینا چاہا تا کہ اس کے بعد انہیں سپرد خاک کردیا جائے ۔ اس بار انہوں نے صحافت کے محاذ سے سنگ باری شروع کی۔ آزادی اظہار کی فصیل پر کھڑے ہو کر ناموس رسالت کو ہدف بنا کر چاند ماری کرنے لگے مختلف شہروں میں آوارہ کتوں کی طرح گستاخ بھونکنے لگے اخبارات کے صفحات اس غلاظت سے بھرے جانے لگے مختلف ٹی وی چینلز پر نمودار ہونے والے یہ غلیظ چھچھورے جب زیادہ ہذیان بکنے لگے تو امت محمدیہ کے دلوں میں پڑی حب رسول کی چنگاریاں سلگنا شروع ہوئیں تو انہوں نے احتجاجی مظاہروں ریلیوں، جلسوں اور جلوسوں کا روپ دھار لیا۔ نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر مسلمان تڑپ اُٹھے، دنیا کے اس شدید ترین احتجاج کے باوجود دشمن ٹس سے مس نہ ہوا، اپنی جگہ اپنے غلط موقف پر ڈٹا رہا۔ پھر اس احتجاج میں اقتصادی بائیکاٹ کی لے بھی شامل ہوگئی گستاخ یورپ کی اس رگ حیات (تجارت) پر پاؤں آیا تو وہ بوکھلا کر رہ گیا ۔ مگر اسلامی حکومتوں کی سطح پر اور اجتماعی نظم کے طور پر نہ ہونے والا بائیکاٹ اور شدید ترین احتجاج بھی دودھ کے ابال کی طرح ایک دم عروج پر پہنچنے کے بعد جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔

علماء کرام دانشوران ملت اور اہل قلم نے اس حساس اور نازک مسئلہ کے حل کے لئے او آئی سی

صفحہ ۱۴

اسلامی حکومتوں، صحافیوں، تاجروں، قانون دان حضرات، ماہرین معاشیات اور عوام الناس کو راہنمائی فراہم کی اور انہیں بتایا کہ ان پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور اس مسئلے کے مستقل حل کے لئے امت کے مختلف طبقات کو کیا حکمت عملی اپنانی چاہئے جس میں موجودہ روح فرسا حادثہ کا حل بھی مضمر ہو اور آئندہ کے لئے بے لگام ہونے والے دریدہ دہنوں کا بندوبست بھی۔

امت کے مختلف طبقات نے ان سنجیدہ کاوشوں تجاویز و اقدامات کو انفرادی طور پر جامہ پہنانے کی کوشش کی، مگر حکومتوں سے عوام تک تمام ہی طبقات اجتماعیت کے فقدان سے دوچار رہے کسی بھی طبقہ (حکومتوں، صحافیوں، تاجروں، قانون دانوں اور عوام الناس) کا اجتماعی فیصلہ اور متحدہ موقف سامنے نہ آسکا۔ جس کی وجہ سے اہل باطل کو مزید شہہ ملی اور کئی ماہ بعد کچھ ممالک نے پھر وہ خاکے چھاپ دیئے مگر اس بار احتجاج نہ ہونے کے برابر تھا۔ سفارتی و اقتصادی بائیکاٹ، مجرموں کی امت مسلمہ کے حوالگی اور ان کو واصل جہنم کرنا اس مسئلہ کا اصل حل تھا مگر ہم یورپ و مغرب کے دیئے ہوئے طریقہ احتجاج کو ہی کافی سمجھتے رہے اور الفاظ کی توپوں سے بیانات کے گولے داغتے رہے۔ ہمارا خیال تھا کہ دشمن اس ”میچ“ سے گھبرا جائے گا، اس کو دن میں تارے نظر آنے لگیں گے، وہ سراسیمہ و پریشان ہوگا اور اپنا تھوکا چاٹنے پر مجبور ہو جائے گا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ہم سے معافیاں مانگے گا مگر خیال تو خیال ہی ہوتا ہے کئی ماہ پر مشتمل احتجاج بھی اس کو ہٹ دھرمی سے نہ ہٹا سکا جبکہ دوسری طرف ہمارا احتجاج حسب عادت و روایت اور یورپ کے حسب توقع دم توڑنے لگا اور مسلمانوں کی رگ جاں میں دوڑنے والے خون کی حیثیت رکھنے والا حب رسول کا کرنٹ ایشو کے طور پر زندہ نہ رہ سکا۔

سوال یہ ہے کہ اگر احتجاج کا سلسلہ حب رسولؐ کی خاطر تھا تو کیا محبت رسول ختم ہو گئی؟ کیا گستاخ یورپ جھک گیا؟ کیا شاتمان رسول اخبار ایڈیٹرز اور ان کے مالکان اپنے انجام بد سے دوچار ہو گئے؟ راجپال کی دم بریدہ نسل کے یہ سگ آوارہ واصل جہنم ہو گئے؟ کیا مغرب نے ایسی گھٹیا و مذموم حرکت اور متعفن سوچ کے مکروہ مظاہر پر بندشیں و قدغنیں قبول کر لیں؟ اور کسی ایسے چارٹر پر دستخط کر دیئے جو انبیاء علیہم السلام جیسی مقدس شخصیات پر دست درازی اور دریدہ دہنی کے ارتکاب سے مانع بن سکے؟ کیا گنبد خضریٰ میں تڑپتی دنیا کی عظیم ہستی کی روح کو قرار آ گیا؟ کہ ہم نے سلسلۂ احتجاج بند کر دیا، اقتصادی

صفحہ 15

بائیکاٹ کے تسلسل کو توڑ دیا، تہذیبی بائیکاٹ کی صدائے دلنواز لگانا چھوڑ دی؟ یہاں تک کہ ہم سے صبا بھی شکوہ کناں ہو گئی ۔

رہ رہ کے پوچھتی ہے صبا، شاخ شاخ سے
سارے چمن میں درد کا مارا کوئی نہیں؟

کہنے کو شاید بڑی بات ہو کہ توہین رسالت کے مجرم کو سزائے قتل تو ایک طرف وہ چیز جو ہمارے بس میں ہے وہ بھی ہم نہیں کر پائے۔ کھوکھلے لفظوں کی ایک شطرنج ہے جو بساط محبت پہ کھیلی جا رہی ہے کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہمارے تمام تر احتجاج کے باوجود کفار کی ہٹ دھرمی برقرار ہے، ان کے رعونت بھرے لہجوں میں آج بھی گرج ہے، ان کی اکڑی ہوئی گردنیں آج بھی تنی ہوئی ہیں۔ وہ آج بھی کسی قسم کی مجرموں کی حوالگی، معذرت یا اپنے فعل کا ازالہ و کفارہ کرنے سے انکاری ہیں؟ ادھر اپنا یہ حال ہے کہ ہمارے گھروں میں اب بھی یہودی مصنوعات کا انبار موجود ہے۔ ہمارے حلق اب بھی پیپسی اور کوک کو ترستے ہیں، کے ایف سی اور میکڈونلڈ آج بھی اسی طرح آباد ہیں، نیسلے کی مصنوعات اب بھی دھڑا دھڑ خریدی جا رہی ہیں۔ سفارتی تعلقات آج بھی جوں کے توں بحال ہیں؟ مجرم ممالک کے بے ضمیر ایجنٹ اب بھی زمین پر دندناتے پھر رہے ہیں۔ ہم نے نعرے تو بہت لگائے، عشق رسول ﷺ کے دعوے بھی بڑے کئے، ذرا بتائیے کیا محض پانی پانی پکارنے سے پیاس بجھتی ہے؟ کیا محبت محبت کا زبانی ورد ہمیں عاشق رسول ﷺ کہلوانے کے لئے کافی ہے؟

اب ہمیں کیا کرنا چاہئے یہ کتاب آپ کو بتائے گی کہ حالیہ مسئلے کے حل اور آئندہ کے لئے اس کے مستقل سدّ باب کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ یہ آپ کو ان راہنما اصولوں سے آشنا کرائے گی جو ناموس مصطفیٰ ﷺ کے تحفظ کے لئے ہمیں کام آئیں، یہ آپ کو ناموس رسالت اور اپنے دین و ایمان کو مغرب کے متعصبانہ ہتھکنڈوں سے بچانے کے لئے مستقل طور پر ہوشیار و بیدار رہنے کی ضرورت سے آگاہ کرے گی اور جذبہ حب رسول کو تیز و تازہ رکھنے کی ضرورت و اہمیت آپ پر اجاگر کرے گی، یہ آپ کو مغربی ٹکسال میں ڈھلنے والی اصطلاحات ( آزادی اظہار، مساوات، انسانی حقوق ) کی حقیقت و اصلیت اور ان کے پردے میں اسلامی شعائر اور مقدس شخصیات پر ہونے والے حملوں کی ہوشربا سچائی سے واقف

صفحہ ۱۳

کرائے گی۔

ساتھ ہی اخبارات کے صفحات (جن کی عمر ایک دن یا اس سے بھی کم ہوتی ہے) پر لڑی جانے والی ناموس رسالت کی اس جنگ کی تفصیلات کا ریکارڈ بھی نسل نو کے لئے محفوظ کرے گی تاکہ خدانخواستہ مستقبل قریب و بعید میں کوئی مستحق نار بدبخت پھر اس ابلیسیانہ طرز عمل کا مظاہرہ کرے تو امت کے کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھنے والوں کو لائحہ عمل کے انتظار میں بیٹھ رہنا نہ پڑے۔

اور آئندہ نسل کو یہ معلوم ہو کہ امت مرحوم نے گستاخی رسول کی اس جسارت اور ناپاک حرکت کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیا تھا یا کفن بردوش ہو کے ناموس مصطفےٰ کے لئے میدانوں میں اتر آئے تھے؟ اس میں غازی علم دین شہید کا کوئی جان نشین بھی پیدا ہوا تھا کہ وہی امت مرحوم کے ترکش کا آخری تیر تھا ؟ اس اعتبار سے زیر نظر کتاب حبّ رسول کو اجاگر کرنے اور اس کے تقاضوں کو دل و دماغ میں جاگزیں کرنے کی ادنیٰ سی کوشش ہے۔ تحفظ ناموس رسالت کی اہمیت اور ہماری ذمہ داریوں اور حقیقی فرائض سے آگاہی کی ایک معمولی سی خدمت ہے تاکہ امت مسلمہ کو معلوم ہو سکے کہ غیرت مندوں کا شعار اور اپنی مقدس شخصیات کے تحفظ کے لئے ان کا کیا کردار ہوتا ہے؟

یہ حقیقت تو کسی بھی دوست دشمن پر مخفی ہے نہ رہنی چاہئے کہ تحفظ ناموس رسالت کا باب کسی قلم کی سیاہی سے نہیں لکھا جاتا، اس داستان کو رقم کرنے کا اعزاز ڈیڑھ ہزار برس سے غازیوں اور شہیدوں کے مقدس لہو کی سرخی کو ہی حاصل ہے (اور یقیناً جب تک اس دھرتی پر ایک بھی غیرت مند کلمہ گو باقی ہے وہ پوری ہمت اور شجاعت کے ساتھ اپنے پیارے نبیؐ کے ناموس کی حفاظت کرتا رہے گا) اور ہمارے لئے یہ اعزاز بھی بہت بڑا ہے کہ ہم اس ملت کے فرد ہیں .... حقیر، کم مایہ اور نکمے سہی .... جس میں کئی شہیدان ناموس رسالتؐ پیدا ہوئے جن کے اس زرّیں سلسلے کا ایک حسین اضافہ غازی علم دین شہیدؒ کا روحانی بیٹا شہید ناموس رسالت ﷺ غازی عامر عبدالرحمن چیمہ شہیدؒ بھی ہے جس نے سرفروشی کی نئی تاریخ رقم کر کے پوری امت مسلمہ کے سر فخر سے بلند کر دیئے۔ آسمان محبت کے ان درخشندہ و تابندہ ستاروں کو زمین کے حقیر ذروں کا سلام! ہمارا سلام عقیدت اگر ان کی بارگاہ میں شرف قبول پالے تو ہماری زندگی باجواز ٹھہرے۔ ازل ابد کے ان زندوں سے نسبت ہمیں بھی زندہ رکھ سکتی ہے، خدا ہماری اس نسبت کو زندہ

صفحہ ۱۷

رکھے۔

قصر تاریخ کے شکستہ حصوں میں گستاخ بھوت بہر سمت بھونکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اس مخلوق کا سلسلۂ نسب ”حمالۃ الحطب“ اور ”بعد ذالک زنیم“ کے کھنڈرات میں ملتا ہے اس نسل کے پھیلے ہوئے ہونٹوں اور لٹکتی ہوئی زبانوں کا انقطاع تاریخ کے ہر دور کی ضرورت رہا ہے۔

تاریخ کے ہر عہد اور قصرِ تاریخ کے ہر حصے کی یہ اہم ضرورت، وقت پر متصرف کسی شخص نے پوری کر دکھائی جب بھی ایسا موقع آیا..... گویا جواں مردی اور جاں سپاری کا سورج بامِ قصر پر چمکا۔ جھرونکوں سے جھانکنے والے چہروں پر حیرت و استعجاب کے نقوش گہرے ہو گئے۔ اور کوئی دیوانہ اٹھا اور گستاخ کی زبان گدی سے کھینچ کر رکھ دی۔ ناموسِ رسالت کے محافظ وقت پر حکمران تھے، دلیری ان کے قدم چومتی رہی۔ دنیا حیران ہوئی کہ ان سے پہلے جان لینے اور جان دینے کا عمل اتنا معمولی کب تھا؟ قصرِ تاریخ کو شاتمیت کے بھوتوں کا مدفن بنا کر خوشی سے دار پر جھول جانے والے..... انسانیت کا ناز ہیں، ملت کا سرمایہ ہیں، اللہ کے محبوب ہیں۔

یہ افتخار اہل پاکستان کے لئے کوئی کم تو نہیں کہ عشق و وفا کی سونی راہوں پر ناموسِ رسالتؐ کے تحفظ کے لئے عامر عبدالرحمٰن چیمہ شہیدؒ نے اپنا خونِ جگر دے کر رسمِ وفا نبھائی اور اپنا تروتازہ جواں لہو بارگاہِ اقدس میں پیش کر کے زبانِ حال سے کہا.....

مسافروں سے کہو رات سے شکست نہ کھائیں
میں لا رہا ہوں اپنے لہو سے سحر کے چراغ

اور یقین جانئے عشق و وفا کے اتنے چراغ جل اٹھے ہیں کہ ہر در و بام ان کی روشنی سے منور ہے۔ لہو کے چراغ جلانے والے اس پاک طینت عاشقِ رسول کا تذکرہ آپ کتاب کے آخری باب میں ”ختام مسک“ کے طور پر پڑھیں گے۔ زیر نظر اوراق کی غایتِ تدوین توفیقِ عمل کو آواز دینا ہے جو عطا ہو جائے تو تیمور کے گھر سے گئی ہوئی حمیت آج بھی واپس لوٹ سکتی ہے۔ تاریخ ہماری منتظر اور وقت ہمیں امید بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے۔.... اے محمد عربیؐ کا کلمہ پڑھنے والو! اگر چاہتے ہو کہ دشمن گھٹنے ٹیک دے تو اس کے گریبان کی دھجیاں بکھیر دو۔ اور اگر گریبان نہیں پکڑ سکتے ہو تو اس کی پیٹھ پر لات ہی رسید کر

صفحہ ۱۸

دو (کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے)۔ نبی کی عزت وحرمت کو للکارنے والوں کی زبان گدی سے نہیں کھینچ سکتے تو ان کی بنائی ہوئی اشیاء کا ہی بائیکاٹ کر دو۔ اے شمع رسالتؐ کے پروانو! یہ وقت جمود نہیں وقت قیام ہے توڑ دو خاموشی کی تمام مہروں کو!

یہ خاموش مزاجی تمہیں جینے نہیں دے گی
اس دور میں جینا ہے تو کہرام مچادو

اے میری قوم! کیا تم میں کوئی معاذؓ اور معوذؓ ہے جو آج کے ابوجہل کو ناکوں چنے چبوائے؟ کیا تم میں کوئی محمد بن مسلمہؓ ہے جو آج کے کعب بن اشرف کی گردن اتار کر روح اقدس کو خوش کردے؟ کیا تم میں کوئی عبداللہ بن عتیکؓ ہے جو آج کے ابو رافع کو دندان شکن جواب دے؟ کیا تم میں کوئی سالم بن عمیرؓ ہے جو آج کے ابو عفک کا پیٹ اپنی تلوار سے چاک کردے؟ کیا تم میں کوئی نور الدین زنگی ہے جو طاغوت کے نمائندوں کو دیواروں میں چنوا دے؟ کیا تم میں آج کوئی صلاح الدین ایوبی ہے جو آج کے ریجی نالڈ کو اپنی تلوار سے واصل جہنم کردے؟ کیا تم میں کوئی غازی علم دین ہے جو آج کے راجپال کو چیر پھاڑ کے رکھ دے؟ کیا تم میں کوئی مرید حسین ہے جو آج کے رام گوپال کو جہنم میں جھونک دے؟ کیا تم میں کوئی عبدالقیوم ہے جو آج کے نتھورام کو ابوجہل وابولہب کے پاس بھیج دے؟ کیا تم میں کوئی عامر عبدالرحمٰن چیمہ ہے جو ڈینش اخبار کے بدکردار ایڈیٹر اور توہین آمیز خاکوں کے اصل محرک کیری بلجن پر قہر الٰہی بن کر ٹوٹے اور ان کی زبان مروڑ دے، ان کی گردن اور قلم توڑ دے اور انہیں خاک و خوں میں تڑپا کر موت کے گھاٹ اتار دے۔ دوستوں کو بھی معلوم رہے اور دشمن بھی سن لیں! یہ ہماری تاریخ تھی کل بھی اور اسی کو ہم دہرائیں گے آج بھی۔

ان بدنصیبوں نے توہین آمیز خاکے نہیں بنائے بلکہ اپنے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کئے ہیں۔ انشاء اللہ اب انہیں چین کی نیند نصیب نہیں ہوگی ایک نہ ایک دن کوئی خوش نصیب غازی بن کے برسے گا اور بدبو کی ان پتلیوں کو پھاڑ کر زمین میں دفن کردے گا، ان شاء اللہ۔

کیوں کر کہیں ہم منت اعداء نہ کریں گے
کیا کیا نہ کیا عشق میں، کیا کیا نہ کریں گے
صفحہ 19

نبی کی عزت وحرمت کو للکارنے والوں کی زبان گدی بائیکاٹ کر دو۔ اے شمع رسالت کے پروانو! یہ وقت سجود

میں جینے نہیں دے گی ہے تو کہرام مچادو ہو وہ ہے جو آج کے ابو جہل کو ناکوں چنے چبوائے؟ کیا ت کی گردن اتار کر روح اقدس کو خوش کر دے؟ کیا تم م ابن خطل جواب دے؟ کیا تم میں کوئی سالم بن عمیر دے؟ کیا تم میں کوئی نور الدین زنگی ہے جو طاغوت آج کوئی صلاح الدین ایوبی ہے جو آج کے ریجی نالڈ کو لی علم دین ہے جو آج کے راجپال کو چیر پھاڑ کے رکھ م گوپال کو جہنم میں جھونک دے؟ کیا تم میں کوئی پاس بھیج دے؟ کیا تم میں کوئی عامر عبدالرحمن چیمہ وں کے اصل محرک کیری بلجن پر قہر الٰہی بن کر ٹوٹے اور انہیں خاک و خوں میں تڑپا کر موت کے گھاٹ ی لیں ! یہ ہماری تاریخ تھی کل بھی اور اسی کو ہم

جائے بلکہ اپنے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کئے سو نہ ایک دن کوئی خوش نصیب غازی بن کے گا، ان شاء اللہ۔ ہ نہ کریں گے ہ نہ کریں گے

۱۸

شر میں سے خیر نکالنے والے حکیم و قدیر مولیٰ نے کفار کی تدبیر ان پر ہی الٹا دی ان کی سازش کو ناکامی سے دوچار کر کے دکھایا اور بتایا کہ تم سے بالا بھی ایک ذات ہے جس کے قبضہ میں ساری کائنات ہے ایک پتہ بھی جس کے امر کے بغیر ہل نہیں سکتا جو شر کے بطن سے خیر کے نکالنے پر قادر ہے۔ خوشگوار حیرت کی بات یہ ہے کہ اس شر کے اندر سے بھی اللہ رب العزت نے خیر کے کئی دریچے وا کئے۔ پہلی خیر تو ٹکڑیوں، ملکوں، تنظیموں، قوموں، قبیلوں کے نام پر بکھری ہوئی امت کو اتحاد کی صورت میں ملی ایک طویل عرصے کے بعد نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر، شرق وغرب اور شمال جنوب کے مسلمان ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملائے یکجان و یک زبان نظر آئے یہ بھی ناموس رسالت کا اعجاز و فیضان ہے۔ دوسری خیر یہ ظاہر ہوئی کہ جیسے نائن الیون کے بعد اسلام کے مطالعہ اور قبول کرنے کا رجحان بڑھا تھا اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے تھے اور یورپ و امریکہ میں اسلامی موضوعات پر لکھی گئی کتب کی مانگ بہت بڑھ گئی تھی یہاں بھی یہی کچھ ہوا دشمن نے چاہا تو یہ تھا کہ محمد عربی کی ذات اقدس پر کیچڑ اچھال کر لوگوں کو دامنِ مصطفیٰ سے وابستہ نہ ہونے کا سامان کیا جائے مگر الٹی آنتیں گلے پڑ گئیں اور سلیم الفطرت اور غیر جانبدار لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کتب کو ترجیحی بنیادوں پر طلب کیا جن میں محسنِ انسانیت کی زندگی کے شب و روز کے مبارک تذکرے تھے۔ ان مشامِ جاں تذکروں کو پڑھنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد ھادی برحق رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامنِ اطہر سے وابستہ ہو گئی۔

تیسری خیر جس کا اس شر کے بطن سے ظہور ہوا یہ کہ مسلمان ملکوں میں مغرب کے ”تہذیبی بائیکاٹ“ کا رجحان بڑھا۔ عرب ملکوں میں خصوصاً اور دیگر عالمِ اسلام میں عموماً مغربی طور طریقوں کے خلاف نفرت کی تیزی سے لہر اٹھی۔ موبائل کے ذریعے ایک دوسرے کو مغربی ملبوسات، مشروبات اور مصنوعات کے بائیکاٹ کے میسج کئے گئے۔ ان اخبارات کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا جو مغرب کے تہذیبی اقدار کے حریف سمجھے جاتے ہیں۔

مغرب نے مسلمانوں کی ثقافت بدلنے ان کے کلچر کو تباہ کرنے اور ان کو ایک بے رنگ و نور قوم بنانے کے لئے اربوں کھربوں کی دولت جھونکی۔ یقین جانئے ! اگر یورپ اور امریکہ کو اس تہذیبی بائیکاٹ کا ہلکا سا بھی اندازہ ہوتا تو وہ کھربوں ڈالر لے کر بھی یہ خاک چھاننے پر تیار نہ ہوتا۔

۱۹

ہے، جس کی بدولت ہی کے طور پر بیان کیا گیا چنانچہ سیرت نبوی کا کردار کی طہارت اور وں میں حد درجہ عداوت میں کامیاب ہوسکیں للہ رب العالمین ہے میں قدم جھکنے دوں ان کے آبا و اجداد مسلمانان عالم پر یہ بح اور زاویے سے انفرادی زندگی میں ں آویزاں اور کفار تعلیمات کو اجاگر کیا است کر سکتا ہے؟! نے ایک دینی وملی اثروں سے پردہ محتاط کی خاطر اپنی ر تھوڑی سی

صفحہ ۲۰

کچھ کتاب کے بارے میں

کتاب کو دس ابواب پر تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے باب میں ناموس رسالت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں توہین آمیز خاکوں کے پس پردہ مذموم مقاصد سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ تیسرے باب میں عشق رسولؐ اور اس کے تقاضوں کو ابھارتی فقط ایک نام محمدؐ سے محبت کا جذبہ پیدا کرنے والی تحریروں کا گلدستہ سجایا گیا ہے۔ چوتھے باب میں توہین رسالتؐ اور امت مسلمہ کے مختلف طبقات پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ پانچویں باب میں گستاخ رسولؐ کے بارے میں شریعت کے احکام ومسائل کا ذخیرہ اکٹھا کیا گیا ہے۔ نیز تحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے ہونے والے چند نامعقول سوالات کے بھرپور، ٹھوس، معقول اور دندان شکن جوابات دیئے گئے ہیں۔ چھٹے باب میں خدائی قہر کا شکار بننے اور محافظین ختم نبوت کے ہاتھوں اپنے عبرتناک انجام سے دوچار ہوتے بدبختوں کا عبرتناک انجام دکھلایا گیا ہے، تاکہ مستقبل کے راجپالوں ، سلمان رشدیوں ، کیری کچروں کو عبرت حاصل ہو۔ ساتویں باب میں آزادی اظہار اور اس کی حقیقت واصلیت سے پردہ اٹھایا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ باطل کس طرح ایسی بے ضرر اصطلاحات کا سہارا لے کر شعائر اسلام اور اسلام کی مقدس شخصیات کو نشانہ بناتا ہے۔ آٹھویں باب میں مغرب کی طرف سے امت مسلمہ پر مسلط کردہ عسکری ، فکری اور تہذیبی جنگ اور اس کے حقائق اور نقصانات سے باخبر کیا گیا ہے۔ نویں باب میں ناموس رسالت پر قربان ہو کر اپنے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھلوا کر امر ہو جانے والے غازی عامر عبدالرحمن چیمہ شہیدؒ کا ذکر خیر، سوانح عمری اور تاریخی کارنامے کی تفصیلات جمع کی گئی ہیں۔ دسویں باب میں حرمت رسولؐ پر قربان ہو جانے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے اشعار اور ناموس رسالت کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دینے کے جذبات پیدا کرنے والی نظمیں شامل کی گئی ہیں۔

تلك عشرة كاملة

ایک ہی موضوع پر مختلف اہل قلم کے اظہار کی وجہ سے تکرار لازمی امر تھا۔ اگرچہ اس پر قابو پانے کی کوشش کی گئی ہے تاہم اپنے باذوق قارئین سے امید ہے کہ وہ مجبوری کے اس تکرار کو گوارہ فرمالیں گے بلکہ بعض مقامات پر تو اسے ”تذکیر“ کے طور پر ملاحظہ فرمائیں گے۔ موضوع کی مناسبت اور مواد کی افادیت کی وجہ سے بعض تقاریر بھی شامل کتاب کی گئی ہیں امید ہے کہ انہیں کتابی اسلوب (جو سلاست و ادبیت کا رنگ لئے ہوتا ہے) کی بجائے خطابی اسلوب کے طور پر پڑھا جائے گا۔ مضامین کے انتخاب میں بھرپور کوشش کی گئی ہے کہ کوئی خلاف

صفحہ ۲۱

شریعت مضمون کتاب میں درج نہ ہونے پائے اس لئے کتاب علماء کرام کی نظروں میں بھی گزاری گئی لیکن اس کے باوجود اس امر کا اعلان ضروری ہے کہ مؤلف کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر اس کتاب کو پڑھ کر کوئی بھٹکا ہوا آہو سوئے حرم نکلے اور عشق رسول کا کوئی ایک بھی راہی، بہادر سپاہی بن کر وقت کے راجپال کا سر تن سے جدا کر دے تو میں سمجھوں گا کہ کتاب کی قیمت وصول ہوگئی۔

یہ کتاب عشق و محبت رسول کی سفیر ہے اور گستاخان رسول کو ان کے انجام بد سے دو چار کرنے کی صدا ہے۔ یہ صدا جہاں بھی پہنچے گی وہاں عاشقان رسول کی ایک فوج تیار ہوگی وہاں معوذؓ اور معاذؓ کے جانشین پیدا ہوں گے، کہ جو شمشیر بکف ہو کر پوچھتے پھریں گے کہ گستاخ رسول کہاں ہیں؟

بارگاہِ ربّ ذوالجلال میں دست بدعا ہوں کہ سَرورِ دو جہاں اور سُرورِ قلب و جاں صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کے تحفظ کے لئے ہونے والے اس حقیر و بے مایہ کوشش کو قبول فرما کر عشق رسول کی دولت سے سرشار فرمادے اور ہماری نکمی سی جان کو اس عظیم ہستی کے تحفظ کے لئے قبول فرمالے کہ:

”کہ ہے ناموس مسلمانوں کا، ناموسِ رسالت سے“

اور آخر میں احسان دانش مرحوم کی ہم ”پسماندگان“ کے لئے ایک آرزو:

اللہ تم کو صاحب سیف و سناں کرے
جسموں میں روحِ خالدؒ و طارقؒ رواں کرے
دے کر شعورِ زیست، ارادے جواں کرے
جو جم چکا ہے خوں رگوں میں دواں کرے
تم کو روِ رسولؐ پہ چلنا نصیب ہو
کب سے گرے پڑے ہو سنبھلنا نصیب ہو

محمد ریاض جمیل استاذ جامعہ اشرفیہ، لاہور 15 جون 2006ء

PDF 22

ہے۔ جس کی بدولت نبی کے طور پر بیان کیا گیا چنانچہ سیرت نبوی کا کردار کی طہارت اور وری میں مقدور و معاون میں کامیاب ہوسکیں للہ رب العالمین ہے میں قدم جمنے نہ دوں ان کے آبا واجداد سلمان عالم پر یہ سطح اور زاویے سے انفرادی زندگی میں کی آویزش اور کفار تعلیمات کو اجاگر کیا سے کر سکتا ہے؟ نے ایک دینی وملی سازشوں سے پردہ تحفظ کی خاطر اپنی غ گو تو زندیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ اللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ

عالمی تحریک ناموس رسالت

حفظہ اللہ کا جن کے درد

ہونے والے بدطینت

الحدیث جامعہ حقانیہ ا

زید مجدہم کا جن کی ہوسکا۔

کا سائبان مجھے میسر

راہ بنے۔

چلائی۔

صفحہ ۲۳

شکریہ !!!

عالمی تحریک ناموس رسالتؐ کو جنم دیا۔

حفظہ اللہ کا جن کے درد بھرے خطبات نے امت میں بیداری کی لہر پیدا کی۔

ہونے والے بدطینت انسان نما ابلیسوں پر برق الٰہی بن کے مسلط ہوئے۔

الحدیث جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کا جنہوں نے کتاب پر اپنی پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔

زید مجدہم کا جن کی مبارک و مستجاب دعاؤں کے طفیل میں اس خدمت کے قابل ہوسکا۔

کا سائبان مجھے میسر رہا۔

راہ بنے۔

چلائی۔

صفحہ ۲۴

مقالہ عنایت کیا۔

صفحہ ۲۵

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

دو باتیں

اشتیاق احمد

خیر و برکت کا تعلق دین، قوم اور ملک کے خیر خواہ حکمرانوں سے ہے اور خیر خواہ حکمرانوں کا تعلق مخلص عوام سے ہے.... گویا ہم ہی مخلص نہیں رہے، تبھی تو اسلام دشمن طاقتیں ہر گل کھلا رہی ہیں اور ہمارے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی..... پچھلے دنوں میں اخبار میں ایک خبر پڑھی...... ایک شخص کسی عدالت کی توہین کر بیٹھا.... اسے گرفتار کیا گیا اور سزا سنائی گئی.... ایک عدالت کی توہین پر تو حکومت ایک شخص کو سزا کا مستحق ٹھہراتی ہے.... لیکن نبی آخر الزمان ﷺ کی گستاخی پر گستاخی کی جاتی ہے....... پوری دنیا میں شور مچ جاتا ہے کہرام کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے لیکن اسلامی ملکوں کی حکومتیں عملی طور پر کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھاتیں، کوئی مؤثر احتجاج نہیں کرتیں۔

یہ سب کی سب باتیں ایک ہی بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں..... یہ کہ ہم ہی مخلص نہیں رہے ..... ہمارے ہی تلوں میں تیل نہیں رہا.... ہمیں تو بس اپنے آپ میں مگن رہنا آ گیا..... اس ایک گر نے ہوتے ہوئے ہمیں کسی اور گر کی ضرورت بھی کیا ہے.... اس گر نے ہمیں تمام گروں سے محروم کر دیا ہے اور ہم بھی لمبی تان کر سو چکے ہیں.... اب کوئی لاکھ نقارے بجاتا رہے........ ہم کہاں اٹھنے والے ہیں ....... اب تو صور اسرافیل ہی ہمیں جگائے تو جگائے.. ورنہ ہم نہیں جاگنے کے..... جو قوم نبی کریم ﷺ کی محبت کو بھی چند روزہ احتجاج کے بعد بھلا دے اور یہ گمان کرے کہ ہم سے جو ہو سکا.... ہم کر چکے..... اب ہماری ذمہ داری ختم.... اس قوم سے امید بھی کیا ہو سکتی ہے...... میں مسلمانوں سے پوچھتا ہوں.... کہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کا سلسلہ بند ہو گیا ہے.... ابھی چند دن پہلے اٹلی اور جرمنی کے اخبارات نے بھی وہ خاکے شائع کیے ہیں..... وہ سب باری باری ان کی اشاعت سے ہمارا خوب مذاق اڑا رہے ہیں ... لیکن ہمیں کیا ہم تو سو چکے ہیں.... ہمیں کون جگائے اور ہم کیوں جاگنے لگے.... ہم تو ان کی مصنوعات کو بھی اسی طرح استعمال کر رہے ہیں۔

اب ہوگا یہ کہ وہ اس سے اگلا قدم اٹھائیں گے.... اگلا قدم اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہوگا

صفحہ 26

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

...ان کا خوفناک قدم ہمیں پھر تھوڑی دیر کیلئے جگا دے گا... ہم ادھ کھلی آنکھوں سے ادھر اُدھر دیکھیں گے... ...منہ سے چند آوازیں نکالیں گے اور سوچ لیں گے... کوئی بات نہیں... یہ سب تو معمول کی باتیں ہیں... ایسا تو ہوتا ہی چلا آ رہا ہے... لہٰذا آنکھیں بند کر لو اور گہری نیند کے سمندر میں غوطہ لگا جاؤ...

ہاں! ایک امید ہے... ایک ٹمٹماتی امید..... اس قوم سے ہر دور میں کوئی نہ کوئی علم دین ضرور اٹھتا ہے.... اور ساری قوم کی آنکھیں کھول کر رکھ دیتا ہے.... سب کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے.... اس دور کا علم دین کہاں؟ ہے کون ہے؟.... ہو سکتا ہے کہ ابھی وہ بھی سونے والوں میں شامل ہو کر نیند کی لپیٹ میں ہو.... لیکن یہ کوئی ناممکن بات نہیں، ایک تیز ہوا کا جھونکا... ایک تیز آواز اسے جگا دے.... اور مشکل یہی ہے کہ ہم میں تو آواز لگانے والے بھی نظر نہیں آ رہے.... کوئی عطاء اللہ شاہ کی سی آواز کیوں نہیں لگاتا .... وہ غازی علم دین کو کیوں نہیں جگاتا... میرا رونا کسی کو کیوں نہیں رلاتا.... کیوں نہیں جگاتا.... اس لئے کہ میں خود بھی مخلص نہیں! میں نے بھی تو اپنے اخلاص سے ہاتھ دھو لئے ہیں.... یہ سب درست سہی... لیکن راکھ کے انبار میں کہیں نہ کہیں کوئی ایک آدھ چنگاری تو ضرور موجود ہے....

اے چنگاری.... تو کہاں ہے... تو کب آگ بنے گی... کب دشمن رسول ﷺ کو جلا کر راکھ کرے گی.... یہ انتظار کب ختم ہوگا... آخر کب؟

صفحہ ۲۷

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

ہلاک ہوئے کارٹونوں والے

شیخ الاسلام احمد بن تیمیہؒ اپنی شہرہ آفاق کتاب ”الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول“ میں بیان کرتے ہیں:

”لا تعداد مسلمانوں نے، جو کہ ثقہ راوی ہیں اور علم و فقہ سے بہرہ مند اور آزمودہ کار ہیں، ہم سے بیان کیا کہ شام کے ساحل پر واقع قلعوں اور شہروں کے محاصرے کے دوران ایک زبردست بات وہ متعدد بار آزما چکے ہیں۔ یہ ہمارے اپنے (ابن تیمیہ کے) زمانے کی بات ہے ۔ اہل اسلام ان مہموں میں قلعوں کا محاصرہ کئے ہوئے تھے تو اس سلسلہ میں ان (ثقہ عینی شاہدوں) نے ہم سے بیان کیا کہ کسی قلعے یا شہر کا محاصرہ کئے ہوئے ہمیں مہینہ مہینہ یا اس سے بھی زیادہ عرصہ گزر جاتا مگر وہ قلعہ یا شہر فتح ہونے کا نام نہ لیتا۔ حتیٰ کہ ہم قلعہ لینے کی آس بھی قریب قریب کھو چکے ہوتے۔ یہاں تک کہ جب وہ لوگ کبھی رسول اللہ ﷺ کی توہین کے مرتکب ہوتے اور آپ کی ذات و ناموس کے متعلق کچھ گستاخی کر بیٹھتے تو ان کا مفتوح ہو جانا ہمیں بہت قریب لگنے لگتا۔ صورت حال بیک وقت ہمارے حق میں تبدیل ہونے لگتی اور قلعہ کا زیر ہونا دن دو دن کی بات رہ جاتی۔ پھر ہمیں بھر پور فتح ملتی اور دشمن کا خوب ستیاناس ہوتا۔ ان راویوں کا کہنا ہے کہ یہ بات ہماری اس قدر آزمودہ رہی کہ جب کبھی ان بدبختوں کو رسول اللہ ﷺ کی شان میں زبان درازی کرتے سنتے تو اگرچہ اس کو سن کر ہمارا خون کھول رہا ہوتا مگر ہم اس کو فتح کی بشارت سمجھتے۔

”ایسی ہی روایت مجھ سے ثقہ راویوں نے غرب (شمالی افریقہ و اندلس) کی بابت بیان کی کہ وہاں بھی مسلمانوں کو نصاریٰ کے ساتھ یہی معاملہ پیش آتا رہا ہے۔“

(الصارم المسلول ج ۲ ص ۲۳۳۔۲۳۴)

تو کیا زمانہ جو اب ایک نئی کروٹ لے رہا ہے اور یہ امت جو ایک زبردست انداز میں زمین کے اندر اپنا کردار ادا کرنے کی جانب واپس آ رہی ہے اور اس کے اس واپسی کے راستے میں مجرمین ارض روڑے اٹکا رہے ہیں بلکہ اس کی اس راہ میں جم کر بیٹھے ہیں اور فی الوقت

صفحہ ۲۸

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

اس کا مقابلہ اسی میدان میں ہے... تو کیا اس راستے میں اس امت پر خدا کی نصرت کا وقت خود ہمارے اور ہمارے دشمن کے اندازے سے بڑھ کر قریب آ رہا ہے؟

بلاشبہ دشمن نے خدا کے آخری نبی ﷺ کی ذات کو، جو کہ وقت کا رسول ہے، ہدف توہین بنا کر خدا کے غضب اور اپنے برے انجام کو، جس کے آثار ایک وقت سے اس پر منڈلا رہے ہیں، بڑی جرأت کے ساتھ اور بلند آواز میں دعوت دی ہے... اور خدا سے، خصوصاً نبی وقت کے ساتھ تعامل کے حوالے سے، جو مانگا جائے خدا وہ ضرور دیتا ہے!

محمد ﷺ کسی خاص طبقے کے لئے نہیں جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔

’’رحمۃ مہداۃ‘‘ شجر انسانیت کے لئے ہدایت کا برستا مینہ۔ بانجھ زمین کے لئے خدا کا لامحدود فضل اور لطف و عنایت کی بے حد و بے حساب خیرات۔ کوئی چٹیل اور مسام بند زمین اس سے سیراب نہیں ہو سکتی باران کی پھوار سے کچھ نہ کچھ خوشگوار تو ضرور ہو سکتی ہے! اور یہ ماحول کی خوشگواری تو پچھلے چودہ سو برس سے ہی سب اہل زمین کے حصے میں آ رہی ہے!

ذلت اور قدروں کی موت دنیا کے کسی بھی خطے میں مکمل طور پر نہ ہو پائی تو اس کی وجہ یہی تو ہے کہ ایک آدمی دنیا میں محمد ﷺ پر درود بھیجا جائے اور آپ سے فضیلت اور قدروں کے اسباق لئے جانے کی بازگشت پورے جہان میں گونجتی ہے اور دنیا کو اپنے تحریف شدہ صحیفوں میں اخلاق اور دیانت اور خدا کی تعظیم کے جیسے کیسے سبق تلاش کرنے والے اور عدالت و انصاف کے جیسے کیسے دستور گھڑنے کے لئے مہمیز بھی تاریخ کے ان آخری ادوار میں یہیں سے ملی ہے.... جس کا اعتراف کرنے پر خدا کا فضل ہے آج کا ہر مؤرخ مجبور ہے......

خدا آگاہی کا یہ صاف شفاف ترین چشمہ اور خدا کی تعظیم اور خدا کی بندگی کی یہ خوبصورت اور روشن ترین اور نفیس ترین اور نادر ترین اور کامیاب ترین مثال محمد ﷺ...... جہانوں کے لئے خدا کی اس سب سے بڑی رحمت کو بارود کی رمز بنا کر آج جس بدبخت نے پیش کیا ہے اور جو اس رحمت کا بربادی اور تباہی کی علامت کے طور پر چرچا کرنے پر ہی بضد ہے، وہ خدا سے اپنے لئے اور اپنی قوم کے لئے بھلا کس چیز کا تقاضہ کر رہا ہے!؟

انا عند ظن عبدی بی ’’میں اپنے بندے کے حق میں وہی کچھ ہوں جیسا وہ میری بابت گمان رکھ لے‘‘ ! خدا نے اس سے بڑی رحمت زمین پر کبھی نہیں اتاری اور اس سے بڑھ

صفحہ ۲۹

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

کر فضل خدا نے اہل زمین پر کبھی نہیں کیا۔ جو شقی القلب رحمت کی اس گھٹا میں بھی بم اور گرنیڈ ڈھونڈھے بلکہ دنیا سے اپنی اس فتنہ وری پر داد چاہے، اس کے حصے میں خدا کی جانب سے کیا آنا چاہئے!؟ الجزاء من جنس العمل!!!

دنیا کو بم اور آگ کے یہ کھیل نبی ﷺ نے اور آپؐ کی امت نے دیے ہیں یا خود انہوں نے اور ان کے آباء نے جو تاریخ کا بدترین اور مظلم ترین فساد اُٹھانے کے لئے دنیا میں برپا ہوئے؟؟؟

بستے شہروں اور ہنستی بستیوں کو لمحوں کے اندر راکھ کا ڈھیر بنا دینے کی ریت آخر کس نے چلائی ہے؟

سورج میں اندھیرے کا انکشاف کر دینے کی صلاحیت بھی سچ کہ خدا نے دنیا کے رُوسیاہوں کو وافر دے رکھی ہوتی ہے اور ایسا وطیرہ اختیار کر کے یہ لوگ دراصل یہ بتاتے ہیں کہ خدا کی عادلانہ تقسیم ہو تو روشنی کے منبع سے بھی ان کے حصے میں ظلمت اور سیاہی ہی آنی چاہئے اور یہ کہ بارانِ رحمت کو بھی ان کے حق میں صرف اور صرف عذاب ہی ہونا چاہئے۔

خدا نے اپنے آخری رسول کو بشیر اور نذیر اور سراج منیر اور بیک وقت ہی نبی الرحمۃ اور نبی الملحمہ بنا کر بھیجا ہے... تو کیا ان لوگوں نے یہ تعین کر لیا ہے کہ اس تعلق سے خدا ان کو دے تو کیا دے!؟

اس شگون کے ”حقیقت“ بننے میں بھی آخر کیا رکاوٹ ہے؟ وما كان الله معذبهم و هم يستغفرون.

”کارٹون“ اور ان کے بنانے والے ”کارٹون“ تو کیا وقعت رکھتے ہیں البتہ ’رموز‘ کی زبان واقعتاً کسی وقت نقارۂ خدا ٹھہرتی ہے اور کسی قوم کے ایک بدبخت کی زبان سے نکلی ہوئی کوئی جسارت یا اس کے رویے سے ظاہر ہونے والا کوئی گستاخانہ اسلوب جو آفاق میں خبر بن کر پھیل جائے اور جس سے اس کی قوم کے سمجھدار اس کو باز نہ کر پائیں بسا اوقات کسی بڑے واقعے کی پیشین گوئی بن جاتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ دوئم کے عہد میں مسلم امیر الجیش سعد بن ابی وقاص نے اپنا

صفحہ ٣٠

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ ایلچی شہنشاہ فارس کے دربار میں بھیجا تو جواب میں فارس نے از راہ تحقیر مسلم ایلچی کو مٹی کا بھرا ہوا ایک ٹوکرا اُٹھوا دیا کہ وہ اسے ’تحفے‘ کے طور پر اپنے بڑوں کے پاس لے جائے اور رسول اللہ ﷺ کے ان جانشینوں کے سامنے پیش کرے۔ یہ ایک خاص پروٹوکول کی سطح کا واقعہ تھا اور نظر انداز کر دیا جانے والا ’عام سا لطیفہ‘ نہ تھا۔ سعدؓ بن ابی وقاص کا مسلم ایلچی بڑی مستعدی کے ساتھ وہ ٹوکرا اٹھا کر چل دیا اور کمالِ سرعت کے ساتھ واپس مستقر پہنچ کر اپنی قیادت کو خاک کا ٹوکرا یہ کہتے ہوئے پیش کیا کہ مبارک ہو اربابِ فارس نے اپنی مٹی آپ کو تحفہ کر دی ہے! کچھ ہی دیر بعد دنیا ’رموز‘ کی اس زبان کو حقیقت بنتے دیکھ رہی تھی!

کہا جاتا ہے فارس کے کچھ سمجھدار اپنے طاغوت کی اس حرکت کا، جس سے اس کا مقصد اہلِ اسلام کی محض تحقیر اور توہین تھا، فوری تدارک کرنے کے لئے متوجہ ہوئے بھی بلکہ خسرو کو یہ ’بے وقوفی‘ واپس کر لینے میں کامیاب ہوئے بھی، مگر ’ذرا‘ تاخیر کے ساتھ۔

تب فارس کے ہرکارے مسلم ایلچی کے تعاقب میں خوب دوڑائے گئے کہ کسی صورت بدشگونی کی یہ رمز واپس ہو جائے مگر مسلم ایلچی ان سے زیادہ تیز ثابت ہوا اور فارس کو اس کی یہ ’مہنگی بے وقوفی‘ واپس لے لینے کا موقع نہ دیا۔

آج کی مغربی تہذیب کے کچھ ترجمانوں نے خدا کے آخری پیغمبرﷺ کو اپنی ہرزہ سرائی کا موضوع بناتے ہوئے خدا کی اس بے مثال رحمت میں خود اپنے ہاتھوں اپنے لئے تباہی اور بربادی کی ایک تصویر بنائی ہے۔ اپنے تئیں اس کو بھیانک بنانے کی کوشش کی ہے اور از راہِ تضحیک اس کو دنیا میں جی بھر کر نشر کیا ہے۔ ان کی قوم کے ان لوگوں کو جو ان سے اسے واپس لے لینے کے ملتمس ہوئے منہ کی کھانی پڑی اور دیکھتے ہی دیکھتے چند بدبختوں کی آواز میں ہزاروں بد بختوں کی آواز شامل ہو گئی جن میں ہر قسم کے اور ہر سطح کے صاحبِ نفوذ طبقے شامل رہے۔ سب نے دیکھا کہ خدا کے سب سے برگزیدہ نبیؐ کے ساتھ اس ٹھٹھے اور مذاق کو ان کے ہاں ایک دوسرے سے بڑھ کر سراہا گیا۔

تو کیا یہ خدا کی کوئی حجت تھی جو ان پر خود ان کے ذریعے پوری کی جا رہی تھی؟ مسئلہ ایک آدھ شخص کا نہ رہا، جیسا کہ ہمارے یہاں کے بعض ’وسیع الظرف‘ بات ’رفع دفع‘ کرنے کے لئے ہم ’تیسری دنیا‘ کو سمجھانے میں کوشاں ہیں۔ اس کو تو ’تہذیب‘ اور ’آزادی اظہار‘ اور قوم

صفحہ ٣١

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟

کے 'طرز حیات' کا باقاعدہ مقدمہ بنایا گیا۔ اس کو 'قومی امتیاز' کے طور پر پیش کیا گیا۔ صلیبی بغض جو ان آخری ادوار میں اپنے اوپر 'ڈپلومیسی' کے کئی سارے کوٹ چڑھا چکا ہے اس موقع پر چھپائے نہ چھپتا تھا۔ غیرت قومی اور حمیت جاہلی کے تحت اس کو وہاں کے مؤثر طبقوں کی ایک کثیر تعداد کے ہاں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور اکثر خاموش رہنے والے بلکہ اس کو دبے لفظوں میں 'نامناسب' کہنے والے بھی علیہ السلام کی اس اہانت پر بغلیں بجاتے رہے۔ اس پر ایک آدھ شخص کیوں، پھر وہ پورا نظریہ معاشرت اور اس کے سب علمبردار کیوں ڈوبیں جس کی دہائی دے دے کر اور جس کے احیاء و تحفظ کے نام پر اخبارات کے لاکھوں کروڑوں صفحات پر اور ٹی وی کی کروڑوں سکرینوں پر خدا کے سب سے برگزیدہ رسول کی توہین کی گئی؟

مغرب کے سمجھدار کیا اپنے کچھ روسیاہوں کو یہ بے ہودگی واپس لے لینے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو پائے؟ معاملہ سب کے سامنے ہے اور وقت ہے کہ شاید گزر گیا ہے۔

یہ تصویر جس پر ایک فاسق مسلمان تک کا خون کھولتا ہے اپنے بنانے اور نشر کرنے والوں کے حق میں اور پھر اس کی آڑ میں نبی کے ساتھ ٹھٹھے کی اس کھلی آزادی دینے والی تہذیب کے لئے وکالت کرنے والوں کے حق میں کیا کسی حقیقت کی پیشین گوئی ہے؟ ہم جو غیب کا علم نہیں رکھتے کیا کہہ سکتے ہیں اور پھر خدا کے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے کا مجاز تو خود اس کا اپنا رسول نہ تھا، البتہ مانگنے والوں نے خدا سے اس کا عذاب یقیناً مانگ لیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے حق میں بولنا آدمی کے لئے ایک غیر معمولی شرف ہے۔ حسان بن ثابت کے لئے آپ کی موجودگی میں بلکہ آپ کی فرمائش پر منبر دھرا جاتا ہے جس پر چڑھ کر وہ نبی ﷺ کی مدح کرتے ہیں اور آپ کی ہجو کرنے والوں کی ہجو۔ ایک نبی کا نام و نمود سے کیا کام۔ وہ تو سب سے بڑھ کر خدا سے آگاہ شخص ہوتا ہے اور خدا کی عظمت کا منہ بولتا سبق۔ مگر کسی انسان کو جو مرتبہ دینا خدا کے پیش منشاء ہو اس سے لوگوں کو آگاہ کرانا بھی نبی ہی کا کام ہے۔ یہ ہے وہ وجہ جس کے باعث اپنا وہ مقام اور احترام جو خدا نے رہتی دنیا تک کے انسانوں پر آپ کی شان میں فرض ٹھہرا دیا ہے، امت کو بتانے اور سکھانے کا فریضہ آپ نے کمال دیانت اور بے ساختگی کے ساتھ سرانجام دیا۔

بے شک مکے کی حالت ضعیفی میں نبی آخرالزمان کے ساتھ جہالت و بدتمیزی سے پیش

صفحہ ۳۲

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

آنیوالوں کے ساتھ اعراض کا اسلوب اپنایا گیا اور ”اذا خاطبهم الجاهلون قالوا سلاما“ کو ایک مثال بنایا گیا۔ گو وہاں پر بھی جہاں کسی بااثر صحابیؓ کا بس چلا یا جہاں صورت حال نے کوئی ایسا موقع دیا وہاں ترکی بہ ترکی جواب دینے میں بلکہ اس سے بھی آگے چلے جانے میں ہرگز کوئی تردد نہ کیا گیا۔ جیسے جیسے آپؐ کے موحد جانثاروں کا وجود کسی قبیلے یا علاقے کے اندر معتبر اور محسوس واقعہ بنا ویسے ویسے ہی نبی کی بابت زبان درازی کو آخری حد تک ناقابل برداشت ٹھہرایا جانے لگا۔ اب جب یہ امت دنیا کے تین متصل براعظموں کے اندر تاحد نگاہ پھیلی ہوئی ہے اور اذان میں اشهد ان لا اله الا الله اور اشهد ان محمدا رسول الله کی صدا زمین پر سورج کے ساتھ ساتھ چلتی ہے.... آج جب جب اس نبی کے نام لیواؤں کی تعداد کل انسانی دنیا کی ایک چوتھائی ہونے کو ہے.... آج کی اس مسلمان بھری دنیا میں جہاں انسانوں کے چھوٹے چھوٹے گروہ بھی معمولی بات پر بگڑ کر دکھانا اپنا 'انسانی حق' جانتے ہیں اور جہاں کوئی گئی گزری قوم بھی اپنے نام اور اپنے مقدسات کی تضحیک ہو جانے نہیں دیتی.... وہاں آج مغرب میں چھاپے جانے والے کچھ بے معنی الفاظ اور دوہرے معیار کے حامل کچھ کھوکھلے شعارات کے احترام میں یہ امت اپنے نبی کی تضحیک برداشت کر لے جسے خدا نے اس کے شرک اور گمراہی سے نکل آنے کا ذریعہ بنایا ہے اور جس کی وساطت سے اپنی مواحدانہ بندگی کا سلیقہ بخشا ہے اور جس پر دن میں پانچ بار اہتمام کے ساتھ درود بھیجنا فرداً فرداً اس کے ہر شخص پر فرض کر رکھا ہے!؟

خود آپؐ کی زندگی کے اندر آپؐ کی شان سے فروتر بات کرنے والے کو جواب آپؐ کی طرف سے نہیں بلکہ کسی امتی کی طرف سے ملتا تھا۔ پھر آج تو یہ حق ہے ہی امت پر کہ وہ اپنے نبیؐ کے اس مقام اور ناموس کا تحفظ کرے کہ کوئی بدزبان اس کو پہنچنے کی جسارت نہ کرے۔

یہ حسانؓ بن ثابت ہیں جو ابوسفیان کو جواب دینے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ ایک امتی ہے جو اپنے نبی کے حق میں بولنے کے لئے اٹھا ہے اور اس کا صلہ صرف خدا کے ہاں پانے کا امیدوار ہے:

هجوت محمدا فاجبت عنه و عندالله فی ذاک الجزاء

”تم نے محمدﷺ کی تنقیص کی۔ سنو اس کا جواب میں دیتا ہوں۔ اس پر میرا صلہ کسی کے دینے کا ہے تو وہ خدائے رب العالمین کی ذات ہے۔“

صفحہ ٣٣

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟

شاعر صلے اور داد کی طلب سے بے پرواہ نہیں ہو سکتے۔ یہ شاعر بھی صلے سے بے فکر نہیں ۔ مگر ممدوح کی عظمت کا تقاضہ ہے کہ داد پانے کے لئے خدائے رب العالمین سے کم کہیں نگاہ نہ ٹکے!

اتهجوه ولست له بكفء فشر کما لخیر کما الفداء

”تم محمد ﷺ کو برا کہتے ہو۔ کیا تم ان کے برابر کوئی چیز ہو سکتے ؟ تم دونوں میں جو کمتر ہے وہی بہتر پر وارا جائے گا“۔

چاند پر تھوکنے والے کو ہمیشہ آئینہ دیکھنے کی ضرورت رہتی ہے۔ اپنی یہ تصویر دیکھنا اس کا حق ہے:

اتهجوه ولست له بكف ء!!!

تم میں اور ان میں کوئی نسبت بھی تو ہو! اس شخص کے بارے میں جو ڈیڑھ ہزار برس سے ایک آدھی دنیا کو خدائے وحدہ لاشریک کے آگے پوری بصیرت کے ساتھ سجدہ ریز کرانے کا ذریعہ بنا آیا ہے اور تہذیب انسانی پر جس کے نشانات انگشت سب سے نمایاں ہیں اور مشرق تا مغرب ہر محقق کو اس کی عظمت کے نئے سے نئے پہلو تلاش کرنے کی بابت تجسس دلاتے ہیں ... اس برگزیدہ ہستی کی بابت تم جو ہرزہ سرائی کرنے جا رہے ہو تمہاری ان کے سامنے کوئی اوقات بھی تو ہو!

ایک ایسے ماحول سے اٹھ کر جہاں خاندانی قدریں تباہ ہو چکی ہیں اور آدھی قوم اپنے والد سے شرف تعارف کا ذریعہ نہیں پاتی اور جہاں شجرۂ نسب ’ہسپتال‘ سے آگے نہیں بڑھتے اور جہاں خون کے رشتے ’ڈی این اے‘ میں تلاش کرنا پڑتے ہیں اور جہاں اکثر پائے جانے والے انسان ’غلطی‘ یا ’چوک‘ کا نتیجہ باور ہوتے ہیں اور یا پھر کسی ’حادثے‘ کا اور جہاں سے دنیا کو انارکی اور برہنگی کے علاوہ عالمی جنگوں اور تباہ کن بارودوں کے تحفے مل چکے ہیں... ایک ایسے ماحول سے اٹھ کر تم خدا کے نبیوں کو تہذیب اور امن کا طعنہ دینے چلے ہو!؟

آج ہمیں ان شاعروں اور ادیبوں کی ضرورت ہے جو صرف ’نعت‘ کہنا نہیں بلکہ وقت کے زندیقوں کو اپنے نبی کی جانب سے ’جواب‘ بھی دینا جانتے ہوں اور جو اپنے ادب

صفحہ ۳۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

کے اس عزم و معرکہ پر صلہ محض خدا سے پانے کے متمنی ہوں۔

دنیا کی سب قومیں ہی اپنے لئے ان قدروں کا تعین کرتی ہیں جو ان کے لئے زندگی، موت کا مسئلہ سمجھی جائیں...

مغرب کے تنگ نظر مفکرین آخر یہ کیوں سمجھ بیٹھے ہیں کہ دنیا ان پر ختم ہو جاتی ہے اور یہ کہ جس نعمت سے ان کے معاشرے محروم ہیں اس کا دنیا میں کہیں وجود تسلیم کیا ہی نہیں جا سکتا اور یہ کہ خدا کے نبیوں اور خدا کی کتابوں کی تعظیم و تقدس سے یہ خود اگر تہی دامن ہیں تو پھر کسی اور کو بھی اس کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے! چاہتے ہیں قومی سطح پر غیرت اور فخر کی کسی کے ہاں کوئی بنیاد ہو تو صرف وہ جسے یہ جانتے ہیں اور جو کہ لے دے کر گھسی پٹی وہی چند باتیں ہیں جو کسی بھی ملک کے قومی ترانے کے چند بولوں میں پوری ہو جاتی ہیں!

آسمان سے رشتہ منقطع کر لینے والے ان بے سمت معاشروں کو حقیقی مقدسات کا مفہوم کون سمجھائے؟

ایک محمد ﷺ ہی تو ہیں کہ خدا کے بعد جن پر ہم فخر کرتے ہیں.....

خدا اور اس کا رسول نہیں تو پھر دنیا میں یہاں فخر کے لئے رکھا کیا ہے؟ بطور ایک موحد مسلمان، ملک وہ چیز نہیں جس پر میں فخر کروں یا جس کے لئے میں کسی وقت آپے سے باہر ہونے لگوں..... ہر شخص کا ہی کوئی نہ کوئی ملک ہے جہاں زندگی کے کچھ سال اسے رہنا ہے اور پھر مر کر ہمیشہ کے لئے دفن ہو جانا ہے اس میں 'فضیلت' کی کیا بات؟ میں اگر کسی اور ملک میں ہوتا تو اس کی عظمت کے گیت گاتا۔ ایسی ناپائیدار بنیاد اس انسان کے لئے جو موت کے بعد بھی زندگی پانے پر یقین رکھتا ہو کیا وجہ افتخار ہو سکتی ہے؟

قوم، نسل، رنگ، زبان..... کون سی چیز ہے جو اس جہان محدود سے پرے دیکھنے والے کسی انسان کی نگاہ میں 'تقدس' کا درجہ رکھ سکتی ہے؟ ہر انسان ہی حیات فانی کے اس مرحلہ میں کوئی نہ کوئی قوم اور کوئی نہ کوئی وطن رکھے گا اور کوئی نہ کوئی زبان بولے گا۔ فخر کی بات ہو سکتی ہے تو وہ جو اس 'کوئی نہ کوئی' سے بڑھ کر ہو۔ یہ ایک خدا کی ذات ہے جس کے سوا ہر 'کوئی' باطل ہے اور ایک رسول کی ہستی ہے جس کے سوا ہر 'کوئی' ہدایت سے تہی دامن۔

صفحہ 35

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟

اس سوال پر آئیں تو اس امت کے سوا کسی کے پاس کچھ کہنے تک کے لئے کیا رہ جاتا ہے؟ کیا ہے کسی کے پاس جو وہ اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت اور محمد ﷺ کی رسالت کے بالمقابل پیش کر سکے؟ ہماری تو زندگی اس میں ہے، اس جہان کی زندگی ہی نہیں اگلے جہان کی زندگی بھی ... کوئی کب تک ہمیں ہماری حقیقی قدروں سے دور رکھ سکتا ہے؟؟؟ کوئی کب تک ہمیں بے معنی قدریں دے کر بہلا سکتا ہے؟؟؟

ظالم بار بار پوچھتے ہیں کہ ایک شخص جو چودہ صدیاں پیشتر سر زمین حجاز میں ہو گزرا ہے وہ آج کے سوا ارب زندہ انسانوں کے لئے، حتیٰ کہ اس امت کے گنہگار انسانوں تک کے لئے، اتنا اہم کیوں ہے کہ اس کے معاملے میں ایک چھوٹی سی بات ہو جانے پر یہ یوں آپے سے باہر ہو جاتے ہیں! بیشک یہ لوگ ’معلومات‘ اور ’تحقیقات‘ کا بڑا اہتمام کرتے ہیں لیکن ان کا یہ سوال واقعتاً اگر ’تجسس‘ پر مبنی ہے تو یہ انتہائی قابل ترس لوگ ہیں۔

اللہ اور اس کے رسول نہیں تو اس کے سوا اور ہے کیا جس پر کوئی شخص آخری حد تک چلا جانے پر تیار ہو؟ ہمارے لئے اس سے بھی بڑے تعجب کی بات ہے کہ وہ باتیں جن کے لئے تم عالمی جنگوں تک میں کود جانے اور دنیا کو جہنم میں بدل دینے کے لئے تیار ہو جاتے رہے ہو ان میں سے کون سی چیز ’مقدس‘ کہلانے کے لائق ہے اور تمہارے ایک دوسرے پر غراتے چلے جانے کے لئے وجہ جواز ہو سکتی ہے؟

عجب دور ہے کہ لوگ خدا کے ایک نبی کے لئے انسانوں کی جانثاری پر حیران ہیں ! یہ دنیا جس میں لوگ گھٹیا گھٹیا مقاصد پر جان دے دیتے ہیں خدا کے ایک خاص فرستادہ نبی ﷺ کے ساتھ اس امت کی ایمانی و جذباتی وابستگی پر انگشت بدنداں ہیں ! اس پر سوال کی ابھی باقاعدہ ضرورت سمجھتے ہیں کہ آخر ہوا کیا ہے جو زمین کے کئی ایک براعظم مسلم غم و غصہ کے باعث یوں تھرانے لگے ہیں !

یہ تو ان انسانوں کی خوش نصیبی ہے جو خدا کے رسول کی توقیر کی خاطر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ورنہ اصل میں تو یہ خدا ہے جو بصیرت کے اندھوں کو دکھاتا ہے کہ اس کو اپنے رسول کا کتنا پاس ہے اور یہ کہ اس کا رسول زمین میں آج بھی کتنا معزز ہے ! کہئے تو کوئی اور بھی شخص ہے جس کی ذات اور ناموس کے سوال پر زمین کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک انسانوں کے سمندر

صفحہ ۳۶

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

یوں ٹھاٹھیں مارنے لگے!؟

ھُوَ الَّذِیْ اَیَّدَكَ بِنَصْرِہٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ

(القرآن)

’’(اے نبیؐ) وہی تو ہے جس نے تیری مدد کی، اپنی مدد سے، اور مومنوں کے ذریعے۔‘‘

خدا کے ایک نبی پر جاں نثار ہونا تو تعجب نہیں فخر ہی کی بات ہے البتہ تعجب کی کوئی بات ہے تو وہ یہ کہ فخر کرنے اور جاں نثار ہونے کیلئے ایک قوم کے پاس کوئی بنیاد نہ ہو اور اگر ہو تو وہ وہی جو ہر ایک کے پاس ہے:

فخر ہو تو اس بات پر جو کسی کے پاس نہ ہو! یہ البتہ وہ بات ہے جس کے باعث ان کے گھاگ لوگ امیوں کی اس امت کے ساتھ بے پناہ حسد کرتے ہیں اور اس امت کو اپنی کتاب اور رسول سے یوں چمٹا دیکھ کر کوئلہ ہوتے ہیں اور یہی وہ بات ہے جو ہمارے یہاں کے ان ’روشن خیالوں‘ سے اوجھل ہے جو فکرِ مغرب کے کوڑے میں اپنے لئے فخر اور تشخص کی بنیادیں تلاش کرتے ہیں۔

کچھ باتیں صرف ایمان سے ہی سمجھ آسکتی ہیں!

وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُوْلِهٖ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَلٰكِنَّ الْمُنَافِقِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ

(القرآن)

’’عزت اللہ کے لئے ہے، اس کے رسول کے لئے ہے اور مومنوں کے لئے ہے۔ مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں‘‘

یہی وہ ہندوانہ ہٹ دھرمی و تنگ نظری ہے جو بار بار ادھر سے ہمیں اپنی ہی قدروں کے راگ سنائے جاتے ہیں اور انہی کی عظمت کے واسطے دیئے جاتے ہیں.... خدا کے نبی کی توہین سے کسی ’آزاد شہری‘ کو روک دینا ’تہذیب‘ کے منافی ہے! مگر یہودی ہولوکاسٹ کا ’استہزا‘ کر لینے پر تم فرانس میں چند سال پیشتر اسلام قبول کر لینے والے فلسفی روجیہ گارودی کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کر لیتے ہو۔ اس لئے کہ تمہارا قانون یہودیوں کے قومی جذبات مجروح کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ تمہاری اس آوارہ خیال ’آزادی اظہار‘ کو آخر ایک ’یہود‘ سے ہی کیوں پردہ ہے؟

مسئلہ اصل قدروں کا ہے۔ ہولوکاسٹ کا تقدس

صفحہ ۳۷

تحفظ ناموس رسالت' کیوں اور کیسے؟

ایک قدر ہے لہٰذا یہاں 'آزادی اظہار' پر قدغن عائد ہونا عین 'تہذیب' ہی کا تقاضہ ہے! اس 'آزادی' کی دہائی تب مچے گی جب تمہارے ہاں اسلام کا تقدس مجروح ہو!

دنیا میں تمہارے علاوہ گویا کوئی اور رہتا ہے اور نہ کوئی اپنی مستقل بالذات قدریں رکھتا ہے۔ تمہاری نگاہ میں سب سے زیادہ کوئی اس وقت کھٹکتا ہے جب وہ آپ اپنی قدروں کا تعین کرنے لگے۔ فاشزم اس کے

صفحہ 38

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟

کس قدر تعظیم اور حرمت کے لائق ہے ...

مگر کیا یہ وضاحت ان کو کر کے نہیں دی گئی؟ ڈنمارک کے مسلمانوں نے اور پھر مصر کے مسلم علماء نے کیا متعدد بار ان کو آگاہ نہیں کیا کہ نبی اسلام کی حرمت امت مسلمہ کے لئے کس قدر اہمیت کا حامل مسئلہ ہے اور اس پر یہ امت کہاں تک جاسکتی ہے؟

اور پھر کچھ باتوں کی وضاحت تو ہو ہی اس وقت سکتی ہے جب لہجے کی شدت زبان کا ساتھ دے رہی ہو۔ اس انداز کی شدت پر ہمارے ’داعیان مصلحت‘ کو تعجب کیوں ہوتا ہے؟

کوئی بجلی کے ننگے تار کو ہاتھ لگا لینے کے قریب ہو اس کو آپ کس انداز میں ٹوکتے ہیں کسی پستول میں گولی بھری ہو اس کی طرف ہاتھ بڑھانے والے نادان کو آپ کس انداز میں ’وضاحت‘ کرتے ہیں؟ کوئی آپ پر گاڑی چڑھا دینے کے قریب ہو آپ اس کو کتنے ’آرام اور سکون‘ کے ساتھ اس بات سے ’مطلع‘ کرتے ہیں؟ ایک بم پر کسی پاگل کا ہاتھ جا پڑنے والا ہو اس پر آپ کیا ’اسلوب‘ اختیار کرتے ہیں؟

کچھ باتوں کی محض ’اطلاع‘ کر دینے کے لئے بھی آپ کو ’شدت‘ اور ’تاثرات‘ کی ایک خاص حد تک جانا ہوتا ہے۔ اس کے بغیر وہ ’اطلاع‘ ہی نامکمل رہتی ہے اور ’سننے والے کو‘ اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ ’معاملہ‘ کس نوعیت کا ہے، جو کہ بلا شبہ ابلاغ کا نقص ہے۔

قوموں اور تہذیبوں کے مابین ’اطلاعات‘ کے اس پہلو کا ضروری ہونا بھی بعض مواقع پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

ہمارے یہ اصحاب خاطر جمع رکھیں۔ تہذیبوں کو اپنے مدعا سنانے کے لئے یہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے خصوصاً جب کسی ایک طرف سے سننے ہی نہ دیا جائے۔ سنانے کے لئے آواز ’اونچی‘ کر دینا ابلاغ کے منافی نہیں۔ چند بے قاعدگیوں کو مستثنیٰ کر دیا جائے تو امت اسلام کی جانب سے کوئی بات ’بلا ضرورت‘ نہیں ہوئی۔

صفحہ ۳۹

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

تحفظ ناموس رسالتؐ کی اہمیت وضرورت

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

پہلا باب

تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی اہمیت وضرورت

تحفظ ناموس رسالت کی اہمیت وضرورت کے احساس کو بیدار کرتی ، حرمتِ رسول ﷺ کو مسلمانوں کے لئے ہوا پانی سے زیادہ ضروری قرار دیتی ، کسی بھی حال میں امت کے اس آخری سہارے کو چھیننے کی کوششوں کو ناکام بنانے کی داعی اور خواجہ بطحا ﷺ کی عزت و ناموس پر کٹ مرنے کا جذبہ بیدار کرنے والی چند خوبصورت تحریریں۔

صفحہ ٤٠

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ ۞ تحفظ ناموس رسالتؐ کی اہمیت و ضرورت

تحفظ ناموس رسالتﷺ کی اہمیت و ضرورت

پروفیسر محمد اکرم رضا

حضور سلطان دو عالمﷺ، افتخار آدم و بنی آدم جناب محمد مصطفیٰﷺ کی ذات گرامی حسن و صورت اور جمال سیرت کے لحاظ سے اس قدر اکمل اور جامع ہے کہ ازل سے ابد تک کے تمام شخصی و تہذیبی محاسن ایک جگہ پر جمع کر دیے جائیں تو پھر بھی ان کا موازنہ محبوب خدا علیہ التحیۃ والثناء کی جامع الصفات شخصیت کی ہمہ جہتی فضیلت کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لیے آپﷺ کا اسم گرامی محمدﷺ رکھا گیا کہ آپﷺ سے بڑھ کر کسی اور شخصیت کی تعریف و مدحت ممکن ہی نہیں ہے اور اسی لیے آپ کو ”احمد“ (ﷺ) کے صفاتی نام سے پکارا گیا کہ آپ سے زیادہ اور کوئی ہستی اپنے خالق کی توصیف کا حق ادا نہیں کرسکتی۔ جب ایک مسلمان عشق و عقیدت کو اپنا راہنما تسلیم کر کے اپنے آقا و مولا (علیہ التحیۃ والثناء) کی عظمتوں کا تصور کرتا ہے تو ورطۂ حیرت میں کھو جاتا ہے کہ ہمارے نبیﷺ کس قدر ارفع و اعلیٰ ہیں، کس قدر بلند مرتبہ اور عالی نسب ہیں۔ کس قدر فضیلت مآب، محترم، مکرم اور اکرم ہیں، کس قدر رحمت شعار اور ہر عالم کے لیے وجہ افتخار ہیں، کس درجہ مظہر الطاف کردگار ہیں۔

محبوب جس قدر بے مثال اور بے نظیر ہو گا اس کے چاہنے والوں کے دلوں میں محبت کا جذبہ اسی قدر تیز تر اور سر بلند ہو گا اور جب اس محبوب کی شخصیت اور احترام کے روشن نقوش محب صادق کے قلب و جان میں نقش ہو جائیں گے تو پھر یہ چاہت اپنی انتہائی سر بلندیوں کو چھوتے ہوئے اس عشق سرمدی کا روپ اختیار کر لے گی جس کی بدولت محبوب کے ناموس اور اس کے مقام و مرتبہ پر تصدق ہو جانا ایک فطری تقاضا تصور کیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو سلطان اقالیم دو عالم جناب محمد مصطفیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام محبوب خدا بھی ہیں اور محبوب خلائق بھی۔ آپ جامع الخصائل بھی ہیں اور مجمع الکمالات بھی، آپ نور خدا کے مظہر بھی ہیں اور عشاق کی چاہتوں کا مرکز بھی۔ آپ کے جمال جہاں آرا کو جس نے

صفحہ 41

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

ایک مرتبہ دیکھا، دیکھتا ہی رہ گیا۔ آپ کے کمال سیرت کو جس نے ایک مرتبہ دل میں بسا لیا پھر ہمیشہ کے لیے ان کے در کا ہو کر رہ گیا۔ آپ کی حیثیت اس شمع لازوال کی تھی جس کی تب و تاب میں جملہ انبیاء و رسل کے محامد و محاسن کی جھلک محسوس ہوتی تھی۔ پروانے شمع کی ایک جھلک دیکھ کر قربانی و ایثار کے نام پر ایک لمحہ کے لئے بھی جھجک کا شکار نہیں ہوتے بلکہ اس کے حسن جہاں افروز پر قربان ہونے کو ہی اپنی سب سے بڑی کامرانی سمجھتے ہیں۔ حضور سرور کائنات علیہ الصلوٰۃ والسلام، جب شمع انوار توحید کی صورت میں جلوہ گر ہوئے تو پھر جاں نثاریوں اور فدا کاریوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ سلسلہ صحابہ کرامؓ کے دور سعید سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے اور انشاء اللہ ابد کی آخری ساعتوں تک ناموس مصطفیٰ ﷺ پر پروانہ وار نثار ہونے کا یہ جذبہ اہل ایمان میں دھڑکن بن کر سلامت رہے گا۔

تحفظ ناموس مصطفیٰ ﷺ کی اصل روح حضور نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان اقدس ہے کہ ”تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اسے مال، جائیداد، اولاد، ماں باپ حتیٰ کہ اس کی اپنی زندگی سے عزیز تر نہ ہو جاؤں۔“

تحفظ ناموس رسالت ﷺ ہر صاحب ایمان کے دل کی آواز اور اس کی عقیدت کا اعزاز ہے۔ ہر مسلمان اپنے آقا و مولا علیہ الصلوٰۃ والثناء کی عزت و توقیر پر فدا ہونا ایمان کی بنیاد سمجھتا ہے۔ یہی تعلیمات قرآنی کی تاثیر ہے اور یہی احکام ربانی کی تفسیر ہے۔ عزت رسول ﷺ پر کٹ مرنا اور ناموس رسالت پر جان لٹا دینا ابدی کامرانی کی دلیل ہے۔

میں پندرھویں صدی ہجری کے پہلے عشرہ میں مادیت کی ظاہری چکا چوند اور باطل فلسفوں کی بے اساس روشنیوں سے جان بچا کر تخیل کے راہوار پر سوار عشق و عقیدت کو خضر راہ بناتے ہوئے حیات مصطفیٰ ﷺ کے ان ایمان افروز ادوار کا احاطہ کرتا ہوں جب مہر عالمتاب نبوت اپنے چاہنے والوں کے درمیان بنفس نفیس جلوہ گر تھا۔ ہر طرف انوار کی ضو باری تھی، فضائیں تجلی ریز تھیں تو ہوائیں عطر بیز ، ہر ساعت حاصل زندگی تھی تو ہر لمحہ پیام شوق عشاق کی آنکھیں تھیں کہ سلطان خوبان دو عالم ﷺ کے جلووں کو دیکھ کر سیر ہی نہیں ہوتی تھی۔ میں تاریخ کی اوٹ میں جھانکتا ہوں تو غزوہ بدر کا آوازہ میرے کانوں میں گونجتا ہے۔ یہ میرے لاشعور کی آواز ہے جو نسلاً بعد نسلاً میری سانسوں اور یادوں کا احاطہ کئے

صفحہ ٤٣

تحفظ ناموس رسالت کی اہمیت و ضرورت تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟

ہوئے۔ میرے آقا و مولیٰ ﷺ کفار کے مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے انصار کے احسانات کا تذکرہ کرتے ہیں کہ کفار مکہ کی لڑائی ہم سے ہے، تم اگر پیچھے ہٹنا چاہو تو میری طرف سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا، سب دم بخود ہیں، سانسیں رُک چکی ہیں۔ معاً حضرت سعد بن عبادہؓ کی آواز گونجتی ہے:

”خدا کی قسم ! آپ فرما دیں تو ہم سمندر میں کود جائیں“

ابھی سرکار دو عالم ﷺ نے مرحبا ہی کہا تھا کہ حضرت مقدادؓ گویا ہوئے:

”ہم قوم موسیٰ کی طرح یہ نہ کہیں گے کہ آپ اور آپ کا خدا جا کر لڑیں۔ ہم آپ کے دائیں سے، بائیں سے، سامنے سے اور پیچھے سے لڑیں گے۔“

پھر تحفظ ناموس رسالت کے نام پر بدر کا معرکہ بپا ہوتا ہے۔ نہتے افراد لوہے میں غرق افراد کو تہ تیغ کر رہے ہیں۔ دو ننھے شاہین حضرت معاذؓ اور حضرت معوذؓ مجاہدانہ یلغار کے ساتھ آگے بڑھ کر ابو جہل پر جھپٹتے ہیں اور قبل اس کے کہ وہ موت کے ان معصوم پیامبروں کے جذبے کا امتحان لینے کے لیے خود کو آمادہ کر سکے، یہ شاہین ننھی تلواروں کے ساتھ اسلام کے سب سے بڑے دشمن اور سلطان دو عالم (ﷺ) کے سب سے بڑے بدخواہ کو واصل النار کر دیتے ہیں۔ اس کا انعام انہیں یوں عطا ہوتا ہے کہ شہادت کی خلعت لہو رنگ انہیں اپنے دامن میں ڈھانپ لیتی ہے۔

عقل کی نہیں، عشق کی جنگ تھی۔ یہ خرد کا نہیں جذبے کی تپش کا معرکہ تھا جس میں جذبۂ محبت رسول ﷺ کی روشن مثالیں اس کثرت کے ساتھ نظر آتی ہیں کہ عقل دم بخود ہو کر عشق کی قدآوری کے پیچھے پناہ ڈھونڈنے لگتی ہے۔ اس غزوۂ میں سیدنا صدیق اکبرؓ تحفظ ناموس رسول ﷺ کے نام پر اور آپ کے بیٹے ابو جہل کی زیر قیادت لڑ رہے تھے۔ جب اس بیٹے نے اسلام قبول کر لیا تو ایک دن سیدنا صدیق اکبرؓ سے عرض کیا:

”ابا جان ! آپ غزوۂ بدر میں متعدد مرتبہ میری تلوار کی زد میں آئے مگر میں نے محبت پدری سے مغلوب ہو کر تلوار کو پیچھے ہٹا لیا۔“

سیدنا صدیق اکبرؓ نے فرمایا:

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟

”بیٹے ! مجھے رب کعبہ اور شان مصطفیٰ ﷺ کی قسم تا تو مقام مصطفیٰ ﷺ کے تحفظ کے نام پر تیری گردن اُڑا

تحفظ ناموس رسالت ﷺ خدا کو کس قدر باطن پھر مجھے اس دور قدسی میں لے جاتا ہے جب تبلیغ اسلام اور اعلائے کلمۃ الحق کے مقدس مشن کو ف سے مسلط کردہ ہر قسم کے شدائد برداشت کر رہے مکہ کے ہجوم کو بلایا، پہلے اپنے کردار کے بارے میں اور صادق تسلیم کر لیا تو پھر انہیں توحید خداوندی اور کے چند جاں نثاروں کے علاوہ پورا مجمع آپ پر آواز بخت چچا ابولہب کی تھی جس نے ذلت کی انتہا کو چھو کر ”اے محمد ! (ﷺ) تمہارے وہ ہاتھ ٹو

ابولہب کے اس خبیث باطن، دریدہ د دیا، کرسی و عرش کپکپا اُٹھے۔ وہ جس کے لبوں سے چ تھا اپنے اندازِ بخشش سے گداؤں کو غنی کر دیں، اس تھا۔ میرے آقا ﷺ خاموش تھے۔ بہت کچھ کہہ س ﷺ کے صبر اور خاموشی کا انتقام آوازۂ خداوندی کے مخالف سے اس درجہ سخت انداز میں خطاب کیا گیا ہوتا تھا جیسے ابولہب اور اس کے خاندان پر ابدی اور اے جبار و قہار مصروف ارشاد تھا:

”ٹوٹ گئے ہاتھ ابولہب کے۔ اور ٹوٹ گ اس نے کمایا۔ اب پڑے گا بھڑکتی ایندھن۔ اس کی گردن میں رسی ہے مونج

صفحہ ۴۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تحفظ ناموس رسالتؐ کی اہمیت و ضرورت

”بیٹے! مجھے رب کعبہ اور شان مصطفوی ﷺ کی قسم تو ایک مرتبہ بھی میری تلوار کی زد میں آجا تا تو مقام مصطفی ﷺ کے تحفظ کے نام پر تیری گردن اُڑا دیتا۔“

تحفظ ناموس رسالت ﷺ خدا کو کس قدر عزیز ہے؟ ...... میں خود سے سوال کرتا ہوں۔ میرا باطن پھر مجھے اس دورِ قدسی میں لے جاتا ہے جب جنت کے گلزاروں کی بشارت دینے والے آقا ﷺ تبلیغ اسلام اور اعلائے کلمۃ الحق کے مقدس مشن کو عام کرتے ہوئے مکی زندگی میں دشمنانِ تیرہ باطن کی طر ف سے مسلط کردہ ہر قسم کے شدائد برداشت کر رہے تھے۔ ایک روز سلطانِ دوعالم (ﷺ) نے قریش مکہ کے ہجوم کو بلایا، پہلے اپنے کردار کے بارے میں دریافت کیا۔ جب بدترین مخالفین نے بھی انہیں امین اور صادق تسلیم کر لیا تو پھر انہیں توحیدِ خداوندی اور اپنی رسالت کا سرمدی پیغام سنایا۔ بس پھر کیا تھا، آپ کے چند جاں نثاروں کے علاوہ پورا مجمع آپ پر آوازے کسنے لگا، جن میں سے بدترین آواز آپ کے بد بخت چچا ابولہب کی تھی جس نے ذلت کی انتہا کو چھو کر کہا:

”اے محمد! (ﷺ) تمہارے وہ ہاتھ ٹوٹ جائیں جن سے تو نے ہمیں یہاں بلایا ہے۔“

ابولہب کے اس خبیث باطن، دریدہ دہنی اور انتہائی ذلیل طرزِ گفتگو نے زمین و آسمان کو لرزا دیا، کرسی و عرش کپکپا اُٹھے۔ وہ جس کے لبوں سے جنت کی بشارت اور شفاعت کا مژدہ عطا ہو، جس کے ہا تھ اپنے اندازِ بخشش سے گداؤں کو غنی کر دیں، اس کے بارے میں اس درجہ خرافات۔ ہر شخص مہر بہ لب تھا۔ میرے آقا ﷺ خاموش تھے۔ بہت کچھ کہہ سکتے تھے مگر شانِ رحمۃ للعالمینی آڑے آرہی تھی۔ آپ ﷺ کے صبر اور خاموشی کا انتقام آوازۂ خداوندی نے لیا۔ اور ربِ کریم نے ناموسِ مصطفی (ﷺ) کے مخالف سے اس درجہ سخت انداز میں خطاب کیا کہ پورے قرآن میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ابولہب اور اس کے خاندان پر ابدی اور دائمی لعنتوں کے سلگتے ہوئے پتھر برس رہے ہوں۔ خد ائے جبار و قہار مصروفِ ارشاد تھا:

”ٹوٹ گئے ہاتھ ابولہب کے۔ اور ٹوٹ گیا وہ آپ ...... کام نہ آیا اس کو مال اس کا اور نہ جو اس نے کمایا۔ اب پڑے گا دَہک مارتی آگ میں۔ اور اس کی بیوی جو سر پر لئے پھرتی ہے ایندھن۔ اس کی گردن میں رسی ہے مونجھ کی۔“

(سورۃ اللھب)

صفحہ ٤٤

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تحفظ ناموس رسالتؐ کی اہمیت و ضرورت

اور چشم عالم نے دیکھا کہ وہی کچھ ہوا جو ارشاد خداوندی تھا، ابولہب ذلت و رسوائی کی موت مرا اور اس کی بیوی اس قدر عبرت ناک انجام سے دوچار ہوئی کہ موت کے وقت دنیا میں ہی اس کی نظرو ں میں عذاب جہنم کا نقشہ کھینچ گیا۔ سچ تو یہ ہے:

مثال ابولہب گستاخ دربار رسالت کے
نبیؐ سے بچ بھی جائیں تو خدا سے کیسے بچتے ہیں

قرآن حکیم نے جس قدر زور عظمت و شان مصطفوی (ﷺ) پر زور دیا ہے اور احترام محبوب خدا ﷺ کی جتنی تاکید کی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کو ناموسِ حضور (ﷺ) کا تحفظ کس قدر عزیز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدائے کریم قرآن میں حضور نبی کریم (ﷺ) کے غیر معمولی محامد ومحاسن بیان کر کے ہی آپ کے ناموس کے تحفظ کو ایمان کا لازمی جزو قرار دے سکتا تھا۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو قرآ ن حکیم حضور محمد مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء کے ظاہری و باطنی کمالات کا اعلانِ عام ہے۔ آپ کی رحمتِ عام، آپ کی شفاعت اِنس وجاں کا پیغام کہیں یٰسین وطٰہٰ اور مزمل ومدثر کے خطاب، کہیں آپ کے شہر مقدس کی قسم، کہیں آپ کی پسندیدہ اشیاء کی قسم، کہیں آپ کی دلی خواہش پر تبدیلی قبلہ کا حکم، کہیں آپ کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دینا، کہیں آپ کو ہر قسم کے فیوض و برکات کی کثرت کا مژدہ سنانا، کہیں آپ کے دشمنو ں کو ذلیل وخوار کرنا اور ابتر بتانا، کہیں آپ کو ”وَ رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ“ کا تاج پہنانا، کہیں آپ کی اطاعت و خوشنودی بتانا، کہیں آپ کو عرشِ معلیٰ پر بلا کر مہمانِ خاص کا خلعتِ دوام پہنانا، کہیں آپ کے ہا تھوں دینِ اسلام کا اکمال کر کے آپ کو رہتی دنیا تک کے لئے محسنِ اعظم کی مسندِ خاص پر بٹھانا اور تمام اعز ازات واکرامات عطا کر کے خود ہی آپ کی محافظت کا ذمہ اٹھانا کہ:

”کافر ارادہ کرتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھادیں۔ مگر خدا اپنے نور کو اکمال پذیر کر کے رہے گا۔ کفار اور منکرینِ شانِ رسالت اس کو نقصان پہنچانے کے لئے جو چاہے کرتے رہیں گے۔“

نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
صفحہ 45

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تحفظ ناموس رسالتؐ کی اہمیت و ضرورت

اب ظاہر ہے کہ ایک صاحب ایمان اس ہستی عظیم کے ناموس اور عزت کے لیے جان لڑا سکتا ہے جو خدا کو بھی عزیز ہو اور مخلوق خدا کو بھی، جو افضل الخلائق بھی ہو اور ”بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر“ کا مصداق بھی۔ خدا اپنے ملائکہ کی جمعیت کے ساتھ جس کی شان میں رطب اللسان ہو کر فخر محسوس کر رہا ہو ایسی عدیم النظیر ہستی پر اپنی متاع حیات لٹا کر بھی مسلمان سمجھتا ہے کہ اس نے بہت سستا سودا کیا ہے کیو نکہ جس زندگی کو وہ قربان کر رہا ہے وہ تو خدا کی دی ہوئی امانت ہے جب کہ اس فدا کاری کے بدلے میں جو القابات سرمدی عطا ہورہے ہیں وہ ایک جان کیا ہزاروں زندگیوں کی مجموعی قدر و قیمت سے کہیں زیادہ افضل اور سربلند ہیں۔

اس لیے جب ہم تحفظ ناموس رسالت کے جذبے کی اصل، مقام مصطفیٰ (علیہ التحیۃ والثناء) کی رفعتوں کو قرار دیتے ہیں تو یہ عقدہ ایک آن میں حل ہو جاتا ہے کہ تحفظ مقام حضور (ﷺ) پر قربان ہونے والے کیوں مسکراتے ہوئے موت کی وادیوں کی طرف چلتے رہے۔ موت اس کائنات کی سب سے بھیانک حقیقت ہے مگر عشاق مصطفیٰ (علیہ الصلوۃ والثناء) کے لیے موت کی حیثیت فقط ایک پل کی تھی جسے عبور کر کے حبیب اپنے حبیب سے جا ملتا تھا۔

تحفظ ناموس رسالت مآب ﷺ کا احساس دل کی خلوتوں سے ابھرتا، آنکھوں سے عقیدت کے آنسوؤں کا خراج لیتا، جذبات کو ناموس حضور (ﷺ) پر مر مٹنے کے لیے آمادہ کرتا اور درگاہ رسول (ﷺ) پر فدا کاری کے آداب سکھاتا ہے۔ ماضی ہو یا حال یا حال کی کوکھ سے ابھرنے والا مستقبل، ہر لحظہ ہر آن امت مصطفوی (ﷺ) کے پیش نظر اپنے آقا و مولا (علیہ التحیۃ والثناء) کی عزت و ناموس پر کٹ مرنے کا جذبہ موجود رہا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا، عشق و عقیدت کی کٹھن راہوں پر وہی چل سکتا ہے جس کے دل میں مقام مصطفیٰ (ﷺ) کی شمع پوری ایمانی تب و تاب کے ساتھ جل رہی ہو۔ ہم عقیدت و احترام کے حوالے سے عشاق رسول (ﷺ) کے کارواں کے سپہ سالار سیدنا امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ کے حوالے سے ایک تاریخی حقیقت کا جائزہ لیتے ہیں:

ایک مرتبہ خلیفہ ابو جعفر منصور عباسی نے رسول (ﷺ) کی مسجد میں امام مالکؒ سے مناظرہ کیا۔ اثنائے مناظرہ میں آواز بلند کی۔ حضرت امام نے فرمایا اے امیر المومنین ! اس مسجد میں اپنی

صفحہ ٣٧

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تحفظ ناموس رسالتؐ کی اہمیت وضرورت

آوازوں کو بلند مت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یوں ادب سکھایا ہے کہ اپنی آواز حضورﷺ کی آواز سے پست رکھا کرو۔ حضورﷺ کا احترام وفات شریف کے بعد بھی ویسا ہی ضروری ہے جیسا حالت حیات میں تھا۔ یہ سن کر ابو جعفر دھیما پڑ گیا اور کہنے لگا۔ امام مالک! کیا میں قبلہ رو ہو کر دعا مانگوں، یا رسول اللہ ﷺ کی جانب منہ کروں۔ امام مالکؒ نے جواب دیا کہ تم رسول اللہﷺ کی طرف سے اپنا منہ کیوں پھیرتے ہو حالانکہ وہ قیامت کے دن تمہارے اور تمہارے باپ آدم کے وسیلہ ہیں، بلکہ تم حضورﷺ ہی کی طرف منہ کرو اور آپﷺ ہی کے وسیلے سے دعا مانگو، اللہ تعالیٰ قبول کرے گا۔ کیونکہ ارشاد باری ہے ”اور اگر یہ لوگ جس وقت اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں، آپ کے پاس آتے اور خدا سے بخشش مانگتے اور پیغمبر ان کے لیے بخشش مانگتے تو وہ اللہ معاف کرنے والا مہربان پاتے۔“

(شفا شریف۔ وفاء الوفا جزو اول)

اسی طرح اُمّ المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اگر مسجد نبوی (ﷺ) کے گرد کسی مکان میں میخ ٹھونکنے کی آواز سنتیں تو کہلا بھیجتیں کہ رسول کریم (ﷺ) کو اذیت نہ دو۔ سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے اپنے گھر کے دونوں کواڑ مناصع میں بنوائے کہ مبادا لکڑی کی تیاری میں اس کی آواز سے رسول اللہ (ﷺ) کو اذیت پہنچے۔

(وفاء الوفا جزو اول)

حضرت نافع روایت کرتے ہیں کہ عشاء کے وقت حضرت عمر فاروقؓ مسجد نبوی (ﷺ) میں تھے۔ ایک شخص کے ہنسنے کی آواز کان میں آئی۔ آپ نے اسے بلا کر پوچھا تم کون ہو؟ اس نے اپنا تعلق بنو ثقیف سے بتایا۔ سیدنا عمرؓ نے پھر پوچھا کیا تم اس شہر کے رہنے والے ہو؟ اس نے کہا کہ میں طائف کا رہنے والا ہوں۔ یہ سن کر آپ نے اسے دھمکایا کہ اگر تم مدینہ کے رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا۔ اس مسجد میں آوازیں بلند نہیں کی جاتیں۔

(وفاء الوفا)

سیدنا امام مالک علیہ رحمہ نے تمام عمر مدینہ منورہ میں بسر کی۔ پاس ادب کبھی مدینہ شریف کے حرم کی حد میں بول و براز نہیں کیا۔

(شفاء شریف)

غرضیکہ کس کس صاحب نظر کا تذکرہ کیا جائے۔ وہاں تو حیات مصطفیٰ (ﷺ) کا تصور ہی احترام وعقیدت کی حد تھا کہ حضور (ﷺ) ہماری آوازوں کو اسی طرح سماعت فرما رہے ہیں جس طرح حیات ظاہری میں فرماتے تھے۔ اور اسی لیے وہ بلند آہنگ لہجے میں بات کرتے ہوئے اس احساس کے

ساتھ لرز اٹھتے تھے کہ کہیں گستاخی کا ارتکاب نہ ہو

اپنی پلکوں سے
اونچی آواز ہوئی

اس تناظر میں یہ امر مسلمہ ہے کہ محب میں اکمل ترین ہے اور جو اس کی ظاہری آنکھ ہے، جس نے ظاہری آنکھوں سے دیکھنے کے مگر جب قرآن حکیم کے مقدس متن کے پیش نگاہ باطن کو خیرہ کرنے لگتا ہے۔ دراصل حضور شخصیت کا تصور ہی وہ قوت ہے جو چاہنے والو عشق وعقیدت کا روپ اختیار کرتی ہے اور کبھی ۔ کبھی مردہ رگوں میں خون زندگی بن کر دوڑتی غازی رحمتہ اللہ علیہ کے جذبہ شہادت کے نام پر کرتی ہے کہ۔

کوئی گل باقی رہے
پر رسولؐ اللہ

اس وقت جب کہ میں تحفظ ناموس جگمگاتے ہوئے ستاروں کو یکجا کر کے انہیں سامنے نکہت ونور کی اس طرح جلوہ گری نظر آ بھی اس کی لمعہ افشانیوں کا احاطہ نہیں کر سکتیں کو ترتیب کا روپ دینا چاہتا ہوں مگر عشق و فوقیت ثابت کرنے کے لیے میرے خامہ

صفحہ ٤٧

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تحفظ ناموس رسالت کی اہمیت و ضرورت

ساتھ لرز اٹھتے تھے کہ کہیں گستاخی کا ارتکاب نہ ہو جائے کیونکہ یہاں تو یہ تمنا مچل رہی ہوتی ہے ۔۔

اپنی پلکوں سے درِ یار پہ دستک دینا
اونچی آواز ہوئی، عمر کا سرمایہ گیا

اس تناظر میں یہ امر مسلمہ ہے کہ محب اسی محبوب پر اپنی جان قربان کرتا ہے جو صورت و سیرت میں اکمل ترین ہے اور جو اس کی ظاہری آنکھوں سے نہاں ہو کر بھی اس کے قلب و جاں میں عیاں ہے، جسے ظاہری آنکھوں سے دیکھنے کے لیے عشاق کی نگاہیں ہمیشہ ترستی ہی رہیں۔ وہ تصور میں رہتے ہیں مگر جب قرآن حکیم کے مقدس متن کے پیش منظر میں جھانکتے ہیں تو اس محبوب رب لم یزل کا نوری سراپا نگاہِ باطن کو خیرہ کرنے لگتا ہے۔ دراصل حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی حیات باطنی اور آپ کی بے عیب شخصیت کا تصور ہی وہ قوت ہے جو چاہنے والوں کے دلوں میں ہر آن موجزن رہتی ہے۔ یہی قوت کبھی عشق و عقیدت کا روپ اختیار کرتی ہے اور کبھی محبت و وارفتگی کے نام پر جان سپردگی کے آداب سکھاتی ہے کبھی مردہ رگوں میں خونِ زندگی بن کر دوڑتی اور کبھی بنجر دلوں کی کھیتیوں کو شہیدِ اُلفت مولانا کفایت علی کافی رحمۃ اللہ علیہ کے جذبہ شہادت کے نام پر احساساتِ عشقِ حضور (ﷺ) کے اس گلاب کی تازگی عطا کرتی ہے کہ۔

کوئی گل باقی رہے گا نہ چمن رہ جائے گا
پر رسولِ اللہ کا دینِ حسن رہ جائے گا

اس وقت جب کہ میں تحفظ ناموس مصطفیٰ ﷺ کے نام پر تاریخ و احادیث کے حوالے سے جگمگاتے ہوئے ستاروں کو یکجا کر کے انہیں ایک کہکشاں کا روپ دینے کی کوشش کر رہا ہوں تو میرے سامنے نکہت و نور کی اس طرح جلوہ گری نظر آتی ہے کہ میری باطنی نگاہیں تاریخ کی اوٹ میں پناہ لے کر بھی اس کی لمعہ افشانیوں کا احاطہ نہیں کر سکتیں۔ میں ماضی، حال اور مستقبل کے حوالے سے تاریخی حقائق کو ترتیب کا روپ دینا چاہتا ہوں مگر عشق و عقیدت کے ایمان افروز نظائر اپنی اتنی اولیت اور زمانی و مکانی فوقیت ثابت کرنے کے لیے میرے خامۂ عاجز اور ذہنِ ناپختہ کی سعی کو آزمائش میں ڈال دیتے ہیں۔

صفحہ ۴۸

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تحفظ ناموس رسالتؐ کی اہمیت و ضرورت

عشاق حضور (ﷺ) واقعات اور تحفظ مقام مصطفی (علیہ التحیۃ والثناء) کے نام پر قربانیوں کو ترتیب دینا مجھے اپنے بس سے باہر نظر آتا ہے۔ حق تو یہ ہے کہ چودہ صدیوں کے ایمان افروز افق پر تواتر سے بکھری ہوئی داستان عقیدت کو ترتیب دینا کسے آتا ہے۔ یہاں تو قدم قدم پر جان کی بازی لگتی ہے، دل و جان نذر کرنے پڑتے ہیں، خرد کی تیرہ شبی سے جان چھڑا کر جنون کی فدا کاری کو شعار بنانا پڑتا ہے یہاں لفظوں کی مناجات نہیں بلکہ عمل کی سوغات مقبول ہوتی ہے یہاں اشعار کے بے رنگ گجرے نہیں بلکہ شہادت کے لہو رنگ گلدستے بازیاب ہوتے ہیں:

یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

میں تخیل کو پھر خضر راہ بناتا ہوں مجھے کہیں سیدنا زیدؓ اور کہیں سیدنا خبیبؓ کفار کے نرغے میں نظر آتے ہیں۔ ایک منظم سازش ہے کہ مسلم مبلغین، حفاظ اور شارحین دین مصطفی (ﷺ) کو کسی نہ کسی بہانے مدینہ منورہ سے دور دراز کی بستیوں میں لے جا کر شہید کر دیا جائے۔ یہ عشاق سرمست اپنے آقا و مولا (علیہ التحیۃ والثناء) سے اجازت طلب کر کے جاتے ہیں مگر نگاہوں میں ہمہ وقت آپ ہی کے جلوے ہیں۔ کفار سیدنا زیدؓ کو اپنی بستی میں لے جا کر ظلم و تشدد کی انتہاء کر دیتے ہیں، انہیں کانٹوں پر گھسیٹا جاتا ہے، پتھروں کی بارش کی جاتی ، لباس تار تار ہے تو جسم فگار، ہر بن مو سے لہو رس رہا ہے، میلوں تک گھسیٹ کر لے جانے کے بعد ایک میدان کو ان کا مقتل بنا دیا جاتا ہے، سولی گاڑ دی جاتی ہے۔

کفار کا سردار نہایت تکبر سے پوچھتا ہے کہ ”زید ! اب تو تم کہتے ہو گے کہ میں نے اسلام قبول کیوں کیا اور کاش اس وقت پھانسی کے پھندے میں میری گردن نہ ہوتی بلکہ محمد کی گردن ہوتی“ (نعوذ باللہ)

تو اس وقت زیدؓ نے اپنے جسم کی بکھرتی ہوئی قوتوں کو یکجا کیا، پھانسی کے پھندے کو راہ وفا کا نذرانہ سمجھ کر قبول کرتے ہوئے جو جواب دیا وہ قیامت تک ناموس مصطفی (ﷺ) کے لیے جان لٹانے والوں کو عقیدت کا چلن سکھاتا رہے گا۔ میں پلکوں کے کناروں پر لرزاں آنسوؤں کو روک کر تاریخ

صفحہ ۴۹

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تحفظ ناموس رسالتؐ کی اہمیت و ضرورت کی زبان سے سیّدنا زیدؓ کا یہ جواب سن کر اپنی نامسلمانی پر پشیماں ہونے لگتا ہوں کہ۔

مجھے ہو ناز قسمت پر اگر نام محمدؐ پر
یہ سر کٹ جائے اور تیرا سگِ در اس کو ٹھکرائے
یہ سب کچھ ہے گوارا، پر یہ دیکھا جا نہیں سکتا
کہ ان کے پاؤں کے تلوے میں اک کانٹا بھی چبھ جائے

اور پھر تاریخ کے حوالے سے تحفظ ناموس مصطفیٰ (ﷺ) کا زریں عنوان بن کر مجھے غزوۂ احد کا وہ مجاہد یاد آتا ہے جو زخموں سے چور ہے۔ اس کے جسم کا کوئی عضو ایسا نہیں جہاں تیروں اور تلواروں کے زخم نہ لگے ہوں، اس پر نزع کا عالم طاری ہے۔ اس کے ساتھی اسے پانی پلانے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ کہتا ہے کہ میری آخری تمنا رخ مصطفیٰ (ﷺ) کی زیارت ہے کہ جس کے لیے قربان ہورہا ہوں، آخری سانسوں میں وہ سامنے ہو۔ حضورﷺ کو اطلاع ملتی ہے۔ آپ اس مجاہد کی طرف چلتے ہیں۔ ادھر سے وہ اپنی بکھرتی ہوئی سانسوں کی ڈوری کو سمیٹتے ہوئے محبوب دو عالم (ﷺ) کی طرف لپکتا ہے۔ گھسٹتے گھسٹتے وہ سلطان دو عالمﷺ کے قریب پہنچ گیا، میرے آقاﷺ کی چشم رحمت نواز نے اس کی طرف دیکھا۔ اس بجھتے ہوئے چراغ میں زمانے بھر کی روشنی سمٹ آئی۔ اس نے ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے حضور (ﷺ) کی طرف دیکھا۔ محبوب ومحب کی نگاہیں ملیں ۔ دونوں طرف آنسو تھے ۔ ایک طرف کے آنسوؤں میں رحمتِ بے کراں کی جلوہ سامانی تھی تو دوسری طرف کے اشکوں میں سرخروئی کی شادمانی۔

پھر اسی غزوۂ اُحد کے حوالے سے مجھے وہ جواں ہمت، بلند بخت اور سعید قسمت خاتون تحفظِ ناموس سرکارﷺ کا ایک نیا عنوان رقم کرتی نظر آتی ہے جو اس غزوۂ میں سلطان دو عالم کی شہادت کی افواہ سن کر مدینہ سے روتی ہوئی چل پڑی تھی۔ راستے میں لوگ ملتے گئے۔ کسی نے کہا تمہارا باپ شہید ہو گیا، کسی نے خاوند اور بھائیوں کی شہادت کی خبر سنائی تو کسی نے بیٹوں کی شہادت کے بارے میں آگاہ کیا، وہ خاتون ان سب کی شہادت پر ”الحمداللہ، الحمداللہ“ کا آوازہ بلند کرتی ہوئی فقط یہی سوال کرتی رہی کہ؛ ”میرے لیے خوشی کا مقام ہے کہ میرے خاندان کا ہر فرد ناموسِ رسالتﷺ پر تصدق ہوگیا۔ مگر میں

صفحہ 50

تحفظ ناموس رسالتؐ کی اہمیت و ضرورت تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

نے تم سے ان کے بارے میں پوچھا ہی کب ہے۔ مجھے تو یہ بتاؤ کہ حضور رحمت اللعالمین (ﷺ) کیسے ہیں؟‘‘

اور پھر اسے سامنے سے آقائے دو عالم ﷺ تشریف لاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ادبار کے بادل چھٹ گئے ہوں‘ رنج و آلام مٹ گئے ہوں‘ مصائب کا خاتمہ ہو گیا ہو ۔ اس کی بے چین روح کو یکلخت قرار آگیا ہو۔ بے قرار ساحل تمنا کو سکون کی دولت عطا ہو گئی ہو، اس کے آنسوؤں کے جھرنے یکلخت تھم گئے۔ اس مقام پر حفیظ جالندھری میرے اور اس محسن اسلام خاتون کے درمیان حائل ہو کر ترجمانی کا فریضہ سنبھال لیتے ہیں:

نظر آیا کہ ہاں جلوہ فگن نور تجلی ہے
پکار اٹھا کہ اب میری تسلی ہی تسلی ہے
تسلی ہے‘ پناہ بے کساں زندہ سلامت ہے
کوئی پرواہ نہیں‘ سارا جہاں زندہ سلامت ہے

ماضی اور حال میرے سامنے گڈ مڈ ہورہے ہیں۔ میں دبی ہوئی راکھ میں چنگاریاں تلاش کر رہا ہوں۔ میں خرد گزیدہ ہوں اس لیے اس کوشش میں ہوں کہ انگلیاں جلنے نہ پائیں۔ عصر حاضر کا کتنا بڑا فریب ہے۔ تحفظ ناموس مصطفیٰ (ﷺ) کی صدا بھی بلند کی جائے اور قربانی و ایثار کو قصۂ پارینہ سمجھ کر صرف چند الفاظ کو ہی متاع سرخروئی تصور کر لیا جائے۔ مصلحت کو امام اور خرد کو چراغ راہ سمجھ لیا جائے۔ کتنا بہادر، وجیہ اور تاریخ ساز تھا نواسۂ رسولؐ جو اپنے تمام خاندان کی زندگیوں کے سرمائے کو ایک مالا میں پرو کر کربلا کی تپتی ہوئی سر زمین پر لے آیا تھا۔ جسے نجانے کس کس نے روکا ہوگا مگر وہ تو راکب دوش نبوت تھا‘ جگر گوشۂ مصطفیٰ (ﷺ) اور نور فاطمۃ الزہراؓ تھا۔ اسے فقط ایک ہی احساس دامن گیر تھا کہ یہ وقتِ امتحان ہے۔ ناموس مصطفیٰ ﷺ پر اس سے زیادہ کٹھن وقت اور کیا آئے گا کہ شعائر اسلام کی حرمت کو پامال کر دیا جائے۔ ملوکیت کے ٹوٹے ہوئے بت پھر سے خانہ کعبہ کی پاسبانی کا فریضہ سنبھال لیں۔ اس شہزادۂ گلگوں قبا شہسوار کربلا نے‘ جسے دنیا حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے نام سے پکارتی ہے‘ اپنی جان ہی

صفحہ ۵۱

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تحفظ ناموس رسالتؐ کی اہمیت و ضرورت

قربان نہیں کی بلکہ گلستان نبوت کی ایک ایک کلی نذر خزاں کر دی۔ ناموس مصطفیٰ (ﷺ) کے لیے یہ اتنی بڑی قربانی ہے کہ میں چاہوں بھی تو اس کی تفصیل میں نہیں جاسکتا۔ یہاں تو قلم لرزنے اور وجدان کانپنے لگتا ہے۔ تصور دم توڑنے اور تخیل فریاد کناں ہونے لگتا ہے اور میں روتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ”صلو علیہ وآلہ“ کا ورد کرتا ہوا عہد حال میں لوٹ آتا ہوں کیونکہ:

تھی داستان طویل بھی اور دل گداز بھی
لیکن کہاں یہ دل کہ دیا جائے اس کو طول

ماضی سے حال کی جانب تاریخ کا سفر جاری ہے۔ یہ روشنی کا سفر ہے۔ کہیں کہیں ایسے فرعونوں کی آوازیں ابھرتی ہیں جو ”انا ولا غیری“ کے طلسم کا شکار ہو کر ناموس مصطفیٰ (علیہ التحیۃ والثناء) پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں مگر فوراً ہی وقت کی بساط پر ایسے فدا کارانِ ﷺ بھی ابھرتے ہیں جو ان فرعونوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ناموس مصطفیٰ ﷺ کا پرچم اس بلندی پر لہرا دیتے ہیں کہ طاغوتی قوتوں کا ہر ہتھکنڈا اسے سرنگوں کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ مجدد الف ثانیؒ جیسی شخصیات ناموس رسالت (ﷺ) کے چراغ کو ایک لحظہ کے لیے بھی گل نہیں ہونے دیتیں۔ حتیٰ کہ انگریزی استبدادیت کے مہیب سائے برصغیر پاک و ہند کے مسلم تشخص کو ختم کر کے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔

برطانوی سامراج نے اگرچہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی جیت لی تھی مگر وہ اس حقیقت سے بہرہ ور ہو چکا تھا کہ اسکے مظالم مسلمانوں کو تو کچل سکتے ہیں مگر ان کے باطن میں پوشیدہ روح اسلام کو مٹا نہیں سکتے۔ وہ مولانا کفایت علی کافی، مولانا غلام امام شہید، مولانا فضل حق خیر آبادی، مولانا عنایت اللہ کاکوروی، مفتی صدر الدین آزردہ، مولانا احمد اللہ مدراسی اور جنرل بخت خاں (رحمہم اللہ تعالیٰ) کی صورت میں شمع ناموس رسالت ﷺ کے پروانوں کی فداکاری کا لافانی جذبہ دیکھ چکا تھا اور اس نے سمجھ لیا تھا کہ۔

وہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمدؐ اُس کے بدن سے نکال دو
صفحہ 52

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تحفظ ناموس رسالتؐ کی اہمیت و ضرورت

یہی ”روح محمدؐ“ ہے جسے ہم نے تحفظ ناموس رسالت کے جذبے کا دوسرا نام دے سکتے ہیں ۔ اس مقصد کی خاطر اس نے تہذیب و تمدن کے کتنے ہی جال پھیلائے۔ حرص و آز اور مصلحت اندیشی کے سبق پڑھائے ۔ ہندو عفریت نے برطانوی سامراج کا پورا پورا ساتھ دیا ۔ ہر دو باطل قوتوں کی ایک ہی تمنا تھی کہ مسلمان اپنے ماضی سے دستبردار ہو کر ہندو قومیت سے رشتہ استوار کر لیں ۔ مگر یہاں شیخ احمد سرہندی ، شیخ العرب و العجم حضرت مولانا حسین احمد مدنی ، حضرت علامہ محمد اقبالؒ کی تعلیمات دلوں کو اسلامی نظریاتی تشخص کی قدر و قیمت سے بہرہ ور کر رہی تھیں ۔ مسلمانوں پر انتہائی کٹھن وقت تھا ۔ ایک طرف برطانوی استعماریت کی قہر سامانیوں اور دوسری طرف ہندو سامراج کی ازلی اسلام دشمنی ۔ ۔ ۔ ان سب کے ساتھ ساتھ ، قومیت پرست علماء کا نظریہ وطنیت اور پھر اس پر مستزاد آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کی خانہ ساز نبوت ۔ ۔ ۔ کلمہ حق کہنے پر زبان کٹتی تھی‘ غلامان رسول (ﷺ) پر عرصہ حیات تنگ تھا ۔ ان تمام اسلام دشمن قوتوں کا ایک ہی مدعا تھا کہ اسلامیان ہند کے باطن سے اس جذبے کو کھرچ کر ختم کر دو جو ناموس رسالت ﷺ پر معمولی سا حرف بھی برداشت نہیں کر سکتا اور جب میدان وفا میں آگے بڑھتا ہے تو قلت و کثرت‘ نتائج اور انجام و عواقب سے بے نیاز ہو کر فقط محبت رسول ﷺ اور ناموس مصطفیٰ ﷺ ہی کو مقدم جانتا ہے

اس جذبۂ محبت رسول ﷺ کو ختم کرنے کے لیے اور مسلمانوں کی پرسکون زندگی کو تہ و بالا کرنے کے لیے انگریزوں اور ہندوؤں نے وقت کے سمندر میں کتنے ہی پتھر پھینکے مگر وہ مسلمانوں کے جذبۂ عشق رسول ﷺ کو ختم نہ کر سکے ۔ مختلف ادوار میں غیرت اسلامی سے بے بہرہ ور اصحاب ایمان آگے بڑھتے رہے اور ہر شاتم رسول کو عبرت ناک انجام سے دوچار کرتے رہے ، حتیٰ کہ راجپال نے ”رنگیلا رسول“ کی صورت میں بحر سکوں پذیر میں ایک بہت بھاری پتھر دے مارا ۔ اگر محبان رسول ﷺ اس چوٹ کو برداشت کر جاتے تو پھر ناموس رسالت پر پے در پے حملوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ۔ مگر غازی خدا بخشؒ، اور غازی عبد العزیزؒ کے بعد ناموس رسالت ﷺ کے عظیم پاسدار غازی علم الدین شہیدؒ نے راجپال کو اس طرح کیفر کردار تک پہنچایا کہ پھر کسی گستاخ رسول کو ناموس مصطفیٰ ﷺ کے تقدس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ ہوسکی ۔ اس ایک مرد حق نے وہ کام کر دکھایا جو بعض اوقات ایک منظم سپاہ سے بھی ممکن

صفحہ ۵۳

تحفظ ناموس رسالت کی اہمیت و ضرورت تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی ناموس رسالت کی بالا تری کا اعجاز ہے کہ اس دورِ پر آشوب میں

ایک سپاہی کی ضرب کرتی ہے کارِ سپاہ

غازی علم الدین شہید تو عشق مصطفیٰ ﷺ کے نام پر فدا ہو گئے مگر ہمارے لیے پیغام چھوڑ گئے کہ محبت رسول ﷺ فقط زبانی دعویٰ کا نام نہیں یہ تو موت کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا دوسرا نام ہے۔ آج غازی علم الدین شہید کا نام محض ایک شخص کا نام نہیں بلکہ یہ تو جرأت و ہمت کا استعارہ ہے حمیت اسلامی کا شہپارہ ہے شوکت ایماں کی تنویر ہے تحفظ ناموس رسالت کی عملی تفسیر ہے۔ وقت کے قرطاس پر خون کی دھاروں سے نقش لا الہ الا الله محمد رسول الله رقم کرنے کا فسانہ ہے اپنے آقا و مولیٰ ﷺ سے غلاموں کی وابستگی کا جذبہ بیکراں ہے۔

تاریخ اسلام کے بطل جلیل غازی علم الدین شہید کی وساطت سے عہدِ حال کے ظلمت کدوں کو منور کرتے ہوئے جہاں میں اس فخر سے سرشار ہوتا ہوں کہ میں نے غازی علم دین علیہ الرحمہ کی صدی پائی ہے، وہاں یہ احساس مجھے انتہائی مضمحل اور میرے فکری اعصاب کو بوجھل اور خستہ کر دیتا ہے کہ غازی علم الدین شہید نے اپنی لہو رنگ قربانی سے تحفظ ناموس مصطفیٰ ﷺ کی جو داستان رقم کی تھی، اس کے اجالے ماند نہ پڑ جائیں۔ غازی علیہ الرحمہ نے تو اس وقت سامراجی قوتوں کے قلعے میں شگاف ڈال دیا تھا، جب مسلمان انتہائی مجبور، بے بس اور محکوم و لاچار تھے۔ مگر آج تو ہم ایک آزاد مملکت کے شہری ہیں مملکت خداداد پاکستان غازی علم الدین شہیدؒ اور ان جیسے دوسرے عشاق مصطفیٰ ﷺ کی قربانیوں کا ثمرہ ہے۔۔۔مگر اس ملک میں جو کہ فقط اور فقط اسلام اور حضور محمد مصطفیٰ ﷺ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، تحفظ ناموس رسالت کے لیے ہم نے اب تک کیا کیا ہے؟

(ﷺ) پر زد پڑتی ہے؟

صفحہ ۵۳

تحفظ ناموس رسالت' کیوں اور کیسے؟ تحفظ ناموس رسالت کی اہمیت وضرورت

(ﷺ) کی لو کو مدھم کرنے کا باعث تو نہیں بن رہے؟

اسلامیہ کا غیض و غضب آتش فشاں بن جاتا تھا۔ آج اس سے بڑا ظلم اپنوں کے ہاتھوں ہو رہا ہے۔ مگر ہم ہیں کہ دلوں سے عشق کی آگ کے بجھنے کا آخری منظر دیکھنے کے متمنی بنے بیٹھے ہیں!

فرقہ واریت کی نذر تو نہیں کر دیا؟

ﷺ سے کھیل کر ہماری حمیت کے لٹنے کا تماشہ دیکھ رہا ہے اور ہم بے بسی کے آنسوؤں میں ڈوب کر سوچ رہے ہیں کہ کیا غازی علم الدین شہید ہی ہماری اسلامی حمیت کے ترکش کا ”خدنگِ آخرین“ تھا اور کیا اپنی اس بے چارگی کو من حیث القوم تسلیم کر کے اپنی صدیوں کی غیرت مندانہ روایات سے دستکش تو نہیں ہو چکے؟

کتنے ہی سوالات ہیں جو تحفظ ناموس مصطفیٰ (ﷺ) کے حوالے سے ہمیں جھنجھوڑتے ہیں مگر ہم نے اپنی خرد کو رہنِ غیر کر کے اپنی متاعِ فکر کو متاعِ رائیگاں سمجھ لیا ہے۔ ہمارے احساسات پر آہستہ آہستہ مصلحت اندیشی کا کہر جمتا جا رہا ہے۔ لیکن تاریخ اس حقیقتِ ازلی کی شاہد ہے کہ عشقِ سرور کونین (ﷺ) محض وقتی جذبہ نہیں بلکہ یہ تو لاہوتی اور سرمدی نغمہ ہے جو زمان ومکان کے فاصلوں اور تاریخی مسافتوں کو ایک آن میں ختم کر کے غلاموں کا رشتہ اس آقا ومولا (علیہ التحیۃ والثناء) سے جوڑ دیتا ہے جس کی رحمۃ للعالمینی ہر دور کے خستہ سامانوں کو جینے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ عشقِ رسول (ﷺ) کبھی فنا نہیں ہوتا۔ ہمارا رسول (ﷺ) لافانی ہے۔ اس کے اقوال وارشادات، فرمودات اور احکام غیر فانی ہیں۔ اس کی سیرت کے نقوش دائمی اور اس کے وجود کا احساس ہمارے اپنے وجود کے ہونے کی دلیل ہے۔... وہ ہے تو سب کچھ ہے۔ اس سے کٹ کر ہماری حیثیت ذرہ ریگ سے بھی کمتر ہے۔

صفحہ ۵۵

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تحفظ ناموس رسالتؐ کی اہمیت و ضرورت

لے دے کے رہ گئی ہے یہی اپنی کائنات

صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانی

حکیم الامت علامہ اقبالؒ سے چند ملاقاتوں پر مشتمل فقیر سید وحید الدین کی انتہائی دلچسپ اور یقین افروز کتاب ”روزگار فقیر“ میں شاعر مشرق سے ایک ملاقات کا حال یوں درج ہے کہ ایک صاحب نے حضرت علامہؒ سے پوچھا ”غازی علم الدین کی موت شہادت ہے یا نہیں؟“

ڈاکٹر صاحب نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا ”اس کا انحصار نیت پر ہے۔ اس کے بعد سلسلۂ گفتگو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ اگر یہ حقیقت ذہن میں رکھتے ہو کہ حملہ آور کا اصل مقصد پیغمبر کے ذاتی وقار کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اس کے لائے ہوئے پیغام کو مجروح اور اس ایمان محکم کو متزلزل کرنا ہے، جو اس پیغام رشد و ہدایت پر قائم و استوار ہے تو یہ حملہ صرف انسانی یا پیغمبرانہ وقار کا قتل نہیں رہتا بلکہ اس ایمان اور عقیدے کا قتل بن جاتا ہے۔ اس کوشش یا اقدام کے خلاف ہر مدافعت یقیناً صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ہوتی ہے اور وہی اس کا ٹھیک ٹھاک اجر دینے والا ہے۔“

ڈاکٹر صاحب نے یہ کہہ کر نہایت رقت آمیز لہجے میں فرمایا:

”میں تو یہ بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی شخص میرے پاس آ کر یہ کہے کہ تمہارے پیغمبر نے ایک دن میلے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔“

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیؐ

در اصل یورپ کو اس ترکیب کا ابھی تک ادراک حاصل نہیں ہو سکا ورنہ وہ گستاخ ایڈیٹر کے مسئلے کو حقوق انسانی، آزادی رائے اور جمہوریت کا مسئلہ نہ بناتا۔ یورپ کے مفکرین کے ہاں انسان اور قوم کے اجزائے ترکیبی اس سے بالکل مختلف ہیں، جن کا تصور ایک مسلمان کے ہاں موجود اور مستحکم ہے۔ ان کے ہاں انسان کیا ہے؟ بندر کی ترقی یافتہ شکل، چار چھٹے گیلن پانی، فاسفورس، کولیسٹرول، آئرن کی

صفحہ 57

تحفظ ناموس رسالتؐ کی اہمیت و ضرورت تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

مخصوص مقدار اور چند دوسری دھاتوں کے آمیزہ کا نام انسان ہے، اور بس! اسی طرح قوم یا نسل وجود میں آتی ہے اور وطن سے یا رنگ و زبان سے، مگر ہمارے ہاں انسان نہ اتنا بے قیمت ہے اور نہ اس کی ساخت اتنی بے ہودہ ہے کہ منڈی یا دکان میں اس کا تول چند روپوں میں ہو جائے اور اس طرح قوم یا ملت، نسل، وطن، رنگ اور زبان جیسے مکڑی کے جالوں سے تشکیل نہیں پاتی بلکہ ہمارے ہاں انسان خلیفۃ اللہ فی الارض اور امانت الٰہی کا حامل اور امین ہے اور انسانوں ہی سے پیغمبر اور رسول مبعوث کئے گئے اور قوم، رنگ و نسل اور وطن و زبان سے نہیں بلکہ عقیدہ و ایمان سے بنتی ہے۔

یورپ سمجھتا ہے کہ پیغمبر بھی تو انسان ہوتے ہیں۔ اگر اس کے بارے میں کچھ لکھ دیا جائے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اور اگر کوئی قوم کسی تحقیر پر ناراض ہوتی ہے تو یہ کونسی پریشانی کی بات ہے؟ یہ یورپ کی اس کج فہمی اور بدفکری کا شاخسانہ ہے جو انسان اور قوم کے حوالے سے اخذ کردہ ہے۔ وہ انسان کو دھات، پانی اور ہوا کا آمیزہ اور قوم کو رنگ، نسل، زبان اور وطن کا مجموعہ سمجھ کر انسانیت کے تقدس اور ملت کے تشخص کو فراموش کر دیتا ہے۔ اس لئے توہین رسالت ﷺ ایسے فعل قبیح کو اس کے صحیح تناظر میں دیکھنے کی زحمت نہیں کرتا اور ہمیں بھی اس سے چنداں غرض نہیں کہ وہ انسان اور ملت کے بارے میں اپنے نظریات میں ضرور تبدیلی لائے، لیکن ہم اسے یہ بتانا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ ایک مسلمان کی سوچ کیا ہے؟

ہر انسان آکسیجن سے سانس لیتا ہے لیکن مسلمان کی سانس کا دوسرا نام عشق رسول ﷺ ہے۔ ہر انسان پانی پی کر جیتا ہے لیکن مسلمان حب رسول ﷺ کی آب و ہوا میں زندہ رہتا ہے۔ ہر انسان آنکھ سے دیکھتا ہے لیکن مسلمان کی آنکھ کا سرمہ خاک مدینہ و نجف ہے۔ ہر انسان کے پہلو میں دل دھڑکتا ہے لیکن ہر مسلمان کی دل کی دھڑکن یاد رسول ﷺ ہے۔ ہر انسان کی رگوں میں خون دوڑتا ہے لیکن مسلمان کی رگوں میں محبت آل رسول ﷺ گردش کرتی ہے۔ ہر انسان زندگی کو زندگی سمجھ کر بسر کرتا ہے لیکن مسلمان خدا اور رسول ﷺ کی خوشنودی کے لئے زندگی گزارتا ہے۔ ہر انسان آزادی کا خواہاں ہے لیکن مسلمان غلامی رسول ﷺ کا طلبگار ہے۔ ہر انسان موت سے خوفزدہ رہتا ہے لیکن مسلمان شہادت کی آرزو رکھتا ہے۔ ہر انسان نفع و نقصان کے حوالے سے سوچتا ہے لیکن مسلمان ہر چیز ایمان کے ترازو میں

صفحہ ۵۷

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تحفظ ناموس رسالتؐ کی اہمیت و ضرورت

تولتا ہے۔ ہر انسان اپنی ناموس کی فکر میں رہتا ہے لیکن مسلمان اپنی جان کو حرمت رسول ﷺ پر لٹا دینے کو اپنے لئے سعادت سمجھتا ہے۔

یورپ گستاخ ایڈیٹر کے واجب القتل ہونے کے فتوے کو حقوق انسانی کے منافی قرار دیتا ہے۔ اس سے بڑھ کر لطیفہ کیا ہو گا کہ کون سا انسان؟ جو ان کے نزدیک بندر کی اولاد ہے اور کیسا حق؟ جن کے ہاں کالا اور گورا دیکھ کر حقوق متعین ہوتے ہیں۔ انسان کے مقدس ہونے کا تصور مسلمان کے ہاں ہے اور اس کے حقوق کا تحفظ بھی سب سے پہلے اسلام نے کیا ہے، جس نے انسان کو اشرف المخلوقات اور کالے اور گورے اور بندہ و آقا کی تمیز کو فساد آدمیت قرار دیا ہے اور تاریخ نے اپنی آنکھوں سے علیؓ اور بلالؓ کو دوش بدوش چلتے اور نواسہ رسول امام حسنؓ اور غلام زادہ اسامہ بن زیدؓ کو آغوش رسول ﷺ میں زانو بہ زانو بیٹھے دیکھا۔

ہم جب گستاخ ایڈیٹر کو واجب القتل قرار دیتے ہیں تو یہ فتویٰ محض ایک فرد، ایک آدمی اور ایک انسان کے خلاف نہیں بلکہ ہر وہ سوچ واجب القتل ہے جو دلوں میں احترام رسول ﷺ فنا کرتی ہے، وہ ذہنیت واجب القتل ہے جو گستاخی رسول ﷺ کا سوچتی ہے، وہ شخص واجب القتل ہے جو پیغمبر ﷺ کے خلاف لکھتا اور واجب القتل ہے وہ زبان جو نبی ﷺ کے خلاف بھونکتی ہے اور پیغمبر بھی ایسا جو مسلمانوں کا نبی نہیں، انسانیت کا محسن ہے، حقوق انسانیت کا نگہبان ہے، ناموس آدمیت کا محافظ ہے، جس نے انسان کی حرمت کو کعبہ سے افضل اور انسان کی ذات کو راز الٰہی قرار دیا۔ ایسے پیغمبر کی توہین، وقار انسانی کی توہین ہے، ناموس آدمیت پر حملہ ہے، شرف آدم کی گستاخی ہے۔ جو شخص انسانیت کی آن کو ملحوظ نہیں رکھتا، کسی کو اس کی جان کا لحاظ کیسے ہو سکتا ہے؟

ان توہین آمیز خاکوں کا مقصد یہی تھا کہ مسلمانوں کے دلوں میں سے حب رسول ﷺ کی تپش چھین لی جائے تو مسلمان خود بخود راکھ کا ڈھیر بن جائیں گے اور پھر اس راکھ پر تھوڑا سا پانی چھڑک کر زمین کے برابر کر دیا جائے، لیکن یہاں یورپ کو پھر ٹھوکر لگی۔ اس نے حکمرانوں کے آئینے میں عام مسلمان کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی۔ اس نے سمجھا کہ ان میں زندگی کی رمق نہیں رہی، ان کے اعصاب شل ہو گئے ہیں، ان کے دل بجھ گئے ہیں، ان کے جذبات سو گئے ہیں اور اب صور اسرافیل پر بھی بڑی مشکل

صفحہ ۵۸

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تحفظ ناموس رسالتؐ کی اہمیت و ضرورت

سے اٹھیں گے۔ اسے یہ اندازہ نہ ہو سکا کہ لاریب مسلمان اپنی حمیتِ حبیب سے نا آشنا ہو گئے ہیں، اپنا نظام حکومت بھول بیٹھے ہیں، اپنی شکل وصورت بگاڑ بیٹھے ہیں، اپنی اقتصادیت گروی رکھ بیٹھے ہیں مگر اس سب کے باوجود دل کا سودا بازارِ عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں کرتے ہیں۔ اگرچہ مسلمان ہزار بار سرِ راہ لوٹے گئے، یورپ انہیں لوٹ کر لے گیا، امریکہ لوٹ رہا ہے اور خود جب لٹانے پر آتے ہیں تو اپنا سب کچھ ناموس مصطفیٰ ﷺ پر لٹا کر خوش ہوتے ہیں بلکہ اس پر بھی مطمئن نہیں ہوتے اور کہتے رہ جاتے ہیں:

کروں تیرے نام پہ جان فدا، نہ بس ایک جاں، دو جہاں فدا
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا، کروں کیا، کروڑوں جہاں نہیں

ایڈیٹر نے تو براہِ راست حملے کئے ہیں، مسلمان تو اشارے اور کنائے کی گستاخی کو نا قابلِ معافی گستاخی قرار دیتے ہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک نعلینِ نبی ﷺ کی نوک، تاجِ شاہی سے زیادہ محترم اور معظم ہے، ان کے ہاں آپ کا نقشِ کفِ پا سجدہ گاہِ عشق ہے، اہل اسلام کہکشاں کو آپ کے قدموں کی دھول سمجھتے ہیں، اربابِ عشق کلی کی چٹک کو تبسم رسول ﷺ کا صدقہ سمجھتے ہیں، صاحبانِ نظر کے عقیدے میں آبِ حیات، ان کے تلوؤں کا دھوون ہے، خلعتِ شاہی آپ کے لباس کی اترن ہے، دیارِ حبیب ﷺ کے کوچے، جنت کے باغیچے ہیں بلکہ دردمندانِ عشق اس شخص کو امام سمجھتے ہیں جو ان کی گلی کا گدا ہو۔

یورپ نے ان خاکوں کے ذریعے جانا ہے کہ مسلمانوں کی سیاست عدم استحکام کا شکار ہے، حکمران استعمار کے آلہ کار ہیں، معیشت مفلوج ہے اور دفاع کمزور ہے۔ لے دے کے ایک حبِ نبی ﷺ کا جذبہ ہے۔ اگر وہ بھی کسی طرح ان کے دلوں سے نکال لیا جائے تو وہ غلام بن جائیں گے۔ یورپ ہم سے ہماری یہ کائنات چھین لینا چاہتا ہے۔ اہل اسلام اپنے ہر معاملے میں غافل واقع ہوئے ہیں لیکن ناموسِ رسول ﷺ اور حبِ نبی ﷺ ان کو اپنے مال، اپنے وطن، اپنی اولاد اور اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے اور متاعِ عزیز فراموش کرنے والی چیز نہیں ہوتی اور یہی وہ متاعِ عزیز ہے، جس کے سہارے مسلمان زندہ ہیں ورنہ زندگی کا جواز کیا رہ جاتا ہے؟

اک عشقِ مصطفیٰؐ ہے اگر ہو سکے نصیب
ورنہ دھرا ہی کیا ہے جہانِ خراب میں
صفحہ ۵۹

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تحفظ ناموس رسالت کی اہمیت وضرورت

سر بیچ کر متاع دل و جاں خریدنا

پروفیسر اقبال جاوید

ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے سرفروشی ایک ایسا سودا ہے جس میں خسارہ نہیں، فائدہ ہی فائدہ ہے کہ اسی سے ایمان کی تکمیل کا ثبوت ملتا ہے۔ اسی سے محبت کے اعتبار اور وفا کے افتخار کا پتہ چلتا ہے کہ یہی واحد پیمانہ ہے اس عظیم وجلیل محبوب ﷺ کا، جو وجہ وجود کائنات ہے، جس نے اس ظلمت کدے میں ہدایت، سعادت اور رحمت کی کرنیں برسائیں۔ جس کی ذات پاک سے ہماری حیات مستعار کی ہر آبرو وابستہ ہے۔ جو فی الواقع رخ جمال الہی کا آئینہ ہے اور دست فطرت کا وہ عظیم ترین شاہکار ہے جس پر خود حسن آفرین کو ناز ہے کہ...... طور پر تجلیوں کی بارش اس وقت تک کے لئے تھی جب تک قدرت کے فن کو اوج کمال نہ ملا تھا۔ یہ فن ذات محمدی ﷺ کی صورت میں ظاہر ہو گیا اور تخلیق کو معراج کمال نصیب ہو گئی، تو اب فنکار کی بے حجابی کی ضرورت باقی نہ رہی، تخلیق بے حجاب ہو گئی اور خالق چھپ گیا، کیونکہ اب تخلیق، خالق کی معرفت کے لئے کافی تھی...... یہی وجہ ہے کہ خالق حقیقی نے اپنی محبت اور اپنی اطاعت کو اسی ذات اقدس سے وابستہ کر دیا اور یہی باعث ہے اس امر کا کہ مالک دو جہاں اس کی شان میں ہلکی سی شوخی اور ادنیٰ سی گستاخی بھی برداشت نہیں کرتا...... نہ کسی ماتھے کی کوئی سلوٹ، نہ نگاہوں کا کوئی زاویہ اور نہ ہونٹوں کی کوئی حرکت...... اور تاریخ شاہد ہے کہ ایسی نازیبا سلوٹوں، ایسے ناپاک زاویوں اور ایسی گستاخ حرکتوں کے حامل وجود، غبار معصیت بن کر اڑتے رہے ہیں، حق یہ ہے کہ جب بھی کوئی غیرت مند، محبوب خدا ﷺ کے بارے میں گستاخی کرنے والے کی زبان اس کی گدی سے کھینچ باہر کرتا ہے، اور خود دار و رسن کو بوسہ دیتا ہے تو الوہی ہونٹوں پر تبسم سا بکھر جاتا ہے اور ساتھ ہی اس کے لئے جنت کے سبھی ایوان کھل جاتے ہیں کہ وفا کا سوز ہی انسان کو کندن بنایا کرتا ہے۔

محبت جس کو خاکستر کرے گی کیمیا ہو گا
صفحہ ٦٠

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ ٭٭٭٭٭ تحفظ ناموس رسالتؐ کی اہمیت و ضرورت

ہماری پندرہ سو سالہ تاریخ کے حاشیے ایسے ہی جاں نثاروں کے لہو سے گلرنگ ہیں جو اشارتاً اور کنایتاً بھی اپنے نبی کریمﷺ کی توہین ایک منٹ کے لئے بھی برداشت نہیں کرتے، صراحتاً تو بہت دور کی بات ہے۔ حق یہ ہے کہ وہ شخص جو شان رسالتﷺ میں توہین کا کوئی بول سن کر خاموش رہتا اور محض لفظی ردعمل پر اکتفا کرتا ہے، اس کی منافقت، دنیاوی اور اخروی تذلیل پر منتج ہوا کرتی ہے کہ وہ ایمان کی شرطِ اول سے بھی محروم ہے۔ محبوب کی ایک نگاہِ ناز کے حصول کے لئے محبت ہی چاک گریباں نکل سکتی ہے۔ اور محبت کے بغیر اطاعت کا ہر تصور فریب نفس ہے جبکہ ایمان عمل کے بغیر صرف ایک لفظ ہی ہے وہ بھی بے معنی، ایک جسم ہے بے روح اور ایک خاکہ ہے بے رنگ...... محض پانی پانی پکارنے سے پیاس نہیں بجھا کرتی اور صرف روٹی روٹی کی رٹ لگانے سے بھوک نہیں مٹا کرتی جب تک پانی پیا نہ جائے اور روٹی کھائی نہ جائے، بعینہ خود کو مسلمان، مسلمان کہنے سے انسان مسلمان نہیں بنتا۔ جب تک اس کا عمل، اس کے ایمان کی تائید نہیں کرتا۔ محض لفظوں کی شطرنج بچھانے سے ناموس رسالت مآبﷺ کے تحفظ کے تقاضے پورے نہیں ہوا کرتے کہ محض لفظی خوشنمائی، اعمال کی سیاہی کی دلیل ہوا کرتی ہے۔

معنی ہیں معدوم، تحریریں بہت
ہے عمل مفقود، تقریریں بہت
بغض دل میں منہ میں تعریفیں بہت
کفر دل میں، لب پہ تکبیریں بہت
ایک اہل درد ہی ملتا نہیں
ورنہ درد دل کی تدبیریں بہت

آج صبر و عمل کے چمن میں نہ فکر و عمل کے سمن، ذوق کی رعنائی ہے نہ شوق کی زیبائی، سجدوں کا کیف ہے نہ آنسوں کی چمک، کوئی ویرانی سی ویرانی ہے...... زندگی سراب بھی ہے اور خراب بھی......

رہ رہ کے پوچھتی ہے صبا، شاخ شاخ سے
سارے چمن میں درد کا مارا کوئی نہیں؟
PDF 61

ی ی ی@PAGE ٦١

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ ۞ تحفظ ناموس رسالتؐ کی اہمیت و ضرورت

کہنے والے کہتے ہیں کہ آج نعت کا دور ہے، وہ بھول جاتے ہیں کہ ہر دور ہی نعت کا دور رہا ہے کہ یہ صنف ازل انوار بھی ہے اور ابد آثار بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نعت، مخالفین اسلام کی لسانی گستاخیوں کے جواب کے لئے وجود میں آئی تھی۔ خود رسول ﷺ کی مبارک رضا اس میں شامل تھی اور اس کے خال و خط اور اسلوب و اصول بھی زبان رسالتؐ نے متعین فرمائے تھے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دل آزار تحریریں بھی لکھی جاتی رہیں، وقت کے راجپال نئے نئے لبادوں میں سامنے بھی آتے رہیں اور عصر نو کے رشدی ہنود و یہود کی سر پرستی میں دندناتے بھی رہیں اور جب رسول ﷺ کے دعویدار محض نعت گوئی میں مصروف رہیں۔ ایسی نعت گوئی کلمہ، کلمہ اور حرف، حرف منافقت ہے کہ اس میں محبت کا دعویٰ، غیرت کی چنگاری سے محروم ہے۔

محبت خوب ہے، غیرت پر اس سے فزوں تر ہے

توصیف رسالت ﷺ کی معراج، گستاخ رسول کے سر کاٹنے اور اپنے سر کٹانے کی عملی کوشش میں پوشیدہ ہے۔ کیونکہ حمیت کے اس جذبے کے بغیر ایک مسلمان کا وجود ہی بے جواز ہو کر رہ جاتا ہے کہ امت کا اجماع اس پر ہے کہ شان رسالت مآب ﷺ میں گستاخی والے کو اسی لمحے قتل کر دیا جائے، کہ یہی اس کی سزا ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھا جائے کہ اگر وہ دریدہ دہن مسلمان ہے تو اس کی توبہ کو بھی درخورِ اعتنا نہ سمجھا جائے۔ وہ بہر نوع واجب القتل ہے اور اس سلسلے میں کسی نوع کا تساہل، نہ چرخ نیلی فام کو گوارا ہے نہ گنبد خضرا کو، کہ حضور ﷺ کی ذاتی، جذباتی اور شعوری وابستگی ضروری ہے۔ یہ پاکیزہ تعلق جتنا ڈھیلا پڑ جائے گا، ایمان بھی اس قدر کمزور ہوتا چلا جائے گا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ وابستگی، نظریات ہی سے ہونی چاہئے۔ شخصیات سے نہیں۔ حضور ﷺ کی شخصیت سے شخصی اور ذاتی محبت ہی ہمارے دنیاوی اور اخروی وقار کی ضامن ہے۔ اہل مغرب آزادی اظہار کے دلفریب نعروں کی آڑ میں دراصل حضور ﷺ سے مسلمانوں کی شدید ترین محبت کو ختم کر کے ان کی جمعیت اور حمیت کو پراگندہ کرنے کے درپے ہیں۔

نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا فوری قتل طے شدہ بات ہے، خواہ وہ خانہ کعبہ کے غلاف سے کیوں نہ لپٹا ہوا ہو۔ اور یہ بھی لازم ہے کہ قاتل عدالت میں اپنا دفاع ہرگز نہ کرے، بلکہ قتل کا برملا اعتراف کر کے اپنے لئے جنت اور دوسروں کے ایمان کے لئے منزل کا نشان چھوڑ جائے۔ اس ضمن میں

صفحہ ۶۲

تحفظ ناموس رسالت کی اہمیت و ضرورت تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

صحابہؓ کرام کا مقدس دور، ایثار و وفا کی ایمان افروز مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔ مگر عصر حاضر اس نوع کی سے، کلیتاً بانجھ نہیں ہے اور ہماری خاکستر میں ابھی کچھ چنگاریاں باقی ہیں۔

سربلندی پھر وفا کی دیکھنے میں آگئی
پھر وفا کے نام پر کچھ لوگ ہارے زندگی

اللہ تعالیٰ، ناموس نبوتؐ کے سامان خود فراہم کرتا ہے۔ ہم ایسے لوگ تحریریں لکھتے اور تقریریں کرتے رہ جاتے ہیں اور قدرت کسی سادہ دل کے جگر میں آگ لگا کر اس کے ایمان کو عمل کا خوش رنگ نقش بنا دیتی ہے کہ لالے کی حنا بندی فطرت کا محبوب مشغلہ ہے۔

صفحہ ٦٣

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

دوسرا باب

بسم الله الرحمن الرحیم

توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

اس باب میں آپ پڑھیں گے کہ توہین آمیز خاکوں کا یہ واقعہ اتفاقی بات تھی یا کوئی سوچی سمجھی سازش، توہین رسالت کے مذموم مقاصد کو پراسراریت کی قبر سے نکالتے، سازشوں کا پردہ چاک کرتے مکروہ عزائم سے باخبر کرتے چشم کشا مضامین۔

مزید فوائد:

(۱) گستاخان رسول ﷺ کا انجام۔ (۲) حرمت رسول ﷺ پر صحابہؓ کی فدا کاریاں۔ (۳) ڈنمارک کا محل وقوع۔ (۴) مسلم حکمرانوں کا ڈنمارک کے ایمبیسڈر پر معذرت خواہانہ رویہ۔ (۵) احترام مذاہب کے حوالہ سے اقوام متحدہ کا قانون۔ (۶) یہود و ہنود کی فطرت خبیثہ کا تاریخی حوالوں سے جائزہ۔ (۷) عیسائیت میں توہین رسالت کے سب سے پہلے مرتکب منحوس انسان کا شخصی خاکہ۔ (۸) یورپ کی احسان فراموشی۔ (۹) اہانت قرآن کے مرتکب کا انجام۔ (۱۰) ڈنمارک حکومت کی طرف سے قرآن کا تحریف شدہ ترجمہ کئے جانے کا انکشاف۔ (۱۱) مغرب کے دوغلے پن کی چند جھلکیاں۔ (۱۲) توہین رسالت کے مرتکب ایڈیٹر کا مکروہ قلم۔ (۱۳) ڈنمارک کی ڈنمارکہ ملکہ کا مکروہ چہرہ۔ (۱۴) توہین رسالت کے اصل مجرم کا نام و پتہ۔ (۱۵) اہانت قرآن کے ایک شرمناک واقعہ کا انکشاف۔ (۱۶) مغرب کی خود ساختہ قدروں پر ثابت قدمی کا سبق۔ (۱۷) توہین رسالت میں امریکی حصہ۔ (۱۸) اسلام، امریکہ اور یورپ میں تیزی سے پھیلنے والا مذہب۔ (۱۹) او آئی سی کی گہری نیند۔ (۲۰) شقی القلب ایڈیٹر کی اپنے فعل مکروہ کی توجیہات۔ (۲۱) اعتدال پسند دانشوروں کی نصیحتیں۔ (۲۲) قوت اور مذہب کے اثرات کا جائزہ۔ (۲۳) دنیا کے ایک انتہائی خطرناک سازشی گروہ "بلڈر برگر گروپ" کا انکشاف۔ (۲۴) مغرب کے سیکولرازم کی حقیقت۔ (۲۵) کفن چوروں کے گروہ "قادیانی جماعت" کا توہین رسالت میں حصہ۔

صفحہ 63

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

توہین رسالت ﷺ پر امام کعبہ کا خطبہ جمعہ

امام کعبہ و خطیب حرم فضیلۃ الشیخ راشد الخالد حفظہ اللہ تعالیٰ کا خطبہ جمعہ، اس خطبے نے عالمی تحریک ناموس رسالت کو جنم دیا۔ جس کی پاداش میں انہیں ایک بار اپنے منصب سے بھی معزول کر دیا گیا۔

ترجمہ: مولانا ریاض جمیل

اللہ کے بندو! میں آپ کو اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ صرف متقیوں کے ہی نیک اعمال قبول فرماتے ہیں۔

اللہ کے بندو! ڈنمارک ایک یورپی ملک ہے، ہمارے اور ان کے درمیان سفارتی تعلقات، تجارتی معاملات اور بین الاقوامی معاہدات ہیں، ہم نے انہیں کوئی اذیت نہیں پہنچائی اور نہ ان پر کسی قسم کی زیادتی کی ہے۔ قریب و بعید میں ہم نے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔

لیکن سارا عالم کفر ملت واحد ہے ان کافروں کے دل مسلمانوں کے خلاف حسد و عداوت اور بغض و نفرت سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ بات اللہ رب العزت بھی جانتے ہیں۔ قرآن مجید میں کئی ایک مقامات پر اللہ رب العزت نے ان کے مکر و فریب اور اسلام کے خلاف ان کی دسیسہ کاریوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ود كثير من اهل الكتب لو يردونكم من بعد ايمانكم كفاراً حسداً من عند انفسهم من بعد ماتبين لهم الحق

(البقرہ: ۱۰۹)

ان اہل کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہو جانے کے محض حسد و بغض کی بناء پر تمہیں بھی

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں۔

نیز فرمایا:

ودوا لو تكفرون كما

ان کی تو چاہت ہے کہ جس طرح وہ کافر

آخر آج کل ڈنمارک میں اسلام اور کیوں پیش آئی؟ ڈنمارک ڈھٹائی پر کیوں اتر آیا

مسلمان کس بری طرح پنجہ ظلم و استبداد رفعت، عظمت و سر بلندی تھا آج کسمپرسی

سرو سامانی کی حالت میں پتھروں سے کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں کہ کٹے بیٹھے ہیں۔

ان کی مدد نہ کر کے شرمندہ کیا۔

موقعہ پر کوئی مسلمان ان کی مدد کو نہ دیکھا۔

لیکن مسلمانوں نے کیا کر لیا سوائے معمولات اپنی روٹین میں رواں دواں

صفحہ 65

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں۔

نیز فرمایا:

ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سوآء

(النساء۔۸۹)

’ان کی تو چاہت ہے کہ جس طرح کے کافر وہ ہیں تم بھی ان کی طرح کفر کرنے لگو۔‘

آخر آج کل ڈنمارک میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف حالیہ نفرت آمیز مہم کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ڈنمارک ڈھٹائی پر کیوں اترا؟ اس کا جواب یہ ہے......!!

مسلمان کس بری طرح پنجۂ ظلم و استبداد میں جکڑے ہوئے ہیں۔ وہ قوم جس کا مقام عزت و رفعت، عظمت و سربلندی تھا آج بری طرح شدید ذلت و رسوائی سے دوچار ہے۔

سرو سامانی کی حالت میں پتھروں کے ذریعے اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر مسجد اقصیٰ کا دفاع کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ اور دوسری طرف ان کے مسلمان ساتھی انہیں فراموش کئے بیٹھے ہیں۔

ان کی مدد نہ کر کے شرمندہ کیا۔

موقعہ پر کوئی مسلمان ان کی مدد کو نہ پہنچا۔ ان واقعات پر امت مسلمہ کی مغلوبیت کو انہوں نے دیکھا۔

لیکن مسلمانوں نے کیا کر لیا سوائے چند دن کے شور و غوغا کے۔ اس کے بعد زندگی کے معمولات اپنی روٹین میں رواں دواں ہو گئے۔

صفحہ ۶۶

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

ہیں اور اپنے پیچھے لڑکیاں چھوڑ گئے ہیں۔ آپ ﷺ کی نسل کشی ہوگئی۔ (العیاذ باللہ)

مقبولیت کا پوری دنیا بالخصوص یورپی ممالک میں بڑھنا ان کے سامنے ہے۔ آج امریکہ اور یورپ کے کئی ممالک میں اسلام وہاں کا دوسرا مذہب بن چکا ہے۔ اور کوئی تعجب نہیں کیونکہ کہ تمام انسانوں کی پیدائش اسلام اور توحید پر ہوتی ہے۔ اس لئے توحید فطرت یعنی جبلت میں شامل ہے جس طرح کہ عہد الست سے واضح ہے۔

کے پاس نہ آجائے۔

مظالم کا شکار تھے تو ان حالات میں بھی جب انہوں نے اسلام کو مسلسل پھیلتا اور پیش قدمی کرتے ہوئے دیکھا، جس میں انہیں اپنی باطل قوتوں اور شیطانی طاقتوں کے شیرازے بکھرتے نظر آئے۔ اسلام کا سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چڑھتا دکھائی دیا۔ توحید کا آوازہ گونجتا دکھائی دیا۔ اسلام کا پھریرا چہار دانگ عالم لہراتا ہوا نظر آیا تو انہوں نے مسلمانوں کے پیر و مرشد، رہبر و راہنما جناب محمد ﷺ کی ذات اقدس پر نعوذباللہ کیچڑ اچھالنا شروع کردیا اسلام کا وسیع پیمانے پر پھیلاؤ دیکھ کر وہ بری طرح خوفزدہ اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہو گئے۔ چنانچہ وہ کسی پاگل کتے کی طرح بالآخر گھٹیا حرکتوں پر اتر آئے۔

اہانت و بدگوئی، فحش کاری اور دریدہ دہنی امریکہ و یورپ کے نام نہاد تہذیب یافتہ جانوروں کا خاص شیوہ ہے۔ آج جو لوگ ترقی کے اوج کمال پر براجمان نظر آتے ہیں اور جن کی ظاہری چمک دمک آنکھوں کو خیرہ کئے دیتی ہے۔ وہ اپنے باطن کی غلاظت اگل رہے ہیں وہ رحمت عالم محسن انسانیت امام المعصومین، خاتم النبین سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات اقدس کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

صفحہ 67

توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟ تحفظ ناموس رسالت ﷺ کیوں اور کیسے؟

کون محمد ﷺ؟ وہ رسول محترم ﷺ جو دنیا کے سب سے عظیم انسان، جو صورت میں اجمل، سیرت میں اکمل، نبیوں رسولوں کے سردار مقام محمود پہ فائز ہونے والے، اسراء، معراج سے مشرف ہونے والے، جن کے اشارے سے جنت کے دروازے کھلتے ہیں جو دنیا میں نور کا چشمہ بن کر آئے اور ساری کائنات کو کتاب وسنت کے نور سے منور فرما گئے۔ جن کی ذات اقدس ﷺ ہمارے لئے محور ایمان مرکز اطاعت و محبت اور مرجع ہدایت ہے۔ اگر ایک مسلمان کی زندگی سے معاذ اللہ آپ کو نکال دیا جائے تو کیا باقی بچتا ہے؟

برادران اسلام! مسلمان اپنے علم وعمل میں کمزور ہوسکتا ہے وہ گناہوں اور معصیتوں کی دلدل میں ڈوب سکتا ہے وہ بے عملی و بدعملی کا مرقع ہوسکتا ہے مگر اسکے دل میں کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ نے پیغمبر اسلام سے محبت و وارفتگی کا جو توانا بیج بویا ہے۔ اسے نکال نہیں سکتا۔ کوئی دم بریدہ سگ کوئے غلاظت آپ کی شان میں ہرزہ سرائی اور دشنام طرازی کرے اور مسلمان چین کی نیند سوئے یہ ممکن نہیں۔ اس بیچارے مسلمان کی تو دین و دنیا کی بھلائی آپ کی ذات سے وابستہ ہے۔ ہاں! وہ آپ کی ناموس کے تحفظ کے لیے کوئی بھی انتہائی قدم اٹھا سکتا ہے۔

اللہ کے بندو! ان سے پہلے بھی لوگوں نے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخیاں کیں اور آج بھی انہیں ایسا کرنے کی جرأت اسلئے پیدا ہوئی کہ معاذ و معوذ رضی اللہ عنہما دو ننھے مجاہدوں جیسا کوئی مجاہد آج انہیں مسلمانوں کی صفوں میں نظر نہیں آرہا ہے۔ ورنہ کبھی بھی اللہ کی قسم وہ ایسی دریدہ دہنی کی جرأت و جسارت نہ کرتے۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی میں میں صف کے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔ میں نے جب دائیں بائیں جانب دیکھا تو میرے دونوں طرف قبیلہ انصار کے دو نو عمر لڑکے تھے میں نے آرزو کی کاش! میں ان سے زیادہ طاقتوروں کے بیچ میں ہوتا۔ ایک نے میری طرف اشارہ کیا اور پوچھا چچا جان! مجھے ابو جہل کو دکھلا دیجئے۔ میں نے کہا بیٹے تم اسے کیا کرو گے؟ اس نے کہا مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم! جسکے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں نے اس کو دیکھ لیا تو میرا وجود اس کے وجود سے الگ نہ ہوگا یہاں تک کہ ہم میں جس کی موت پہلے

صفحہ ۶۸

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

لکھی ہے وہ مر جائے۔

مجھے اس پر بڑی حیرت ہوئی، پھر دوسرے نے مجھے چھوا اور وہی باتیں اس نے بھی کہیں۔ میں نے چند ہی لمحوں بعد دیکھا کہ ابو جہل لوگوں کے درمیان چکر کاٹ رہا ہے۔ میں نے کہا، ارے دیکھتے نہیں! یہ رہا تم دونوں کا شکار جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے۔ یہ سنتے ہی دونوں نے اپنی تلواریں لیں جھپٹ پڑے اور اسے مار کر قتل کر دیا۔

(صحیح البخاری فرض الخمس، باب من لم يخمس الاسلاب ۵۰۰۲/۴)

مسلمانو! بتاؤ آج تم میں سے کون اپنی جان ناموس رسالت پر قربان کرنے کے لیے تیار ہے۔ کون اللہ کے ان دشمنوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم رکھتا ہے؟

اللہ کے بندو! یاد رکھو ان کا علاج کل بھی جہاد تھا اور آج بھی جہاد ہے۔ دیر یا بدیر یہ اسی علاج سے بالآخر درست ہوں گے۔ کل کے ابوجہلوں کا بھی یہی علاج تھا اور آج کے ابو جہلوں کا بھی یہی علاج ہے۔

باوجود مسلمانوں کی توہین وتذلیل، تنقیص وتحقیر کے دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ انہیں اور ان کے اتحادیوں منافقوں کو ”جو ہمارے درمیان رہتے ہیں، اغیار کے لیے اپنے ملکوں کے دروازے کھول کر ان کا پرجوش استقبال اور ان کی طرف سے عطا کردہ سہولیات کا استخدام کرتے ہیں“ اسلام قبول کرنے والوں کی کثرت تعداد نے انہیں آگ بگولہ کر دیا ہے۔

مظالم کے جواب میں باوجود اس کے کہ وہ مسلمان سیاسی وعسکری طور پر ہر طرح سے کمزور ہیں ان کافروں کو گاجر مولی کی طرح کاٹنا، ان کے چھکے چھڑانا پہلے سے زیادہ مضبوط اور منظم طریقے سے عراق میں کافروں کے مسلمانوں پر حملوں کا تابڑ توڑ جواب دینا جبکہ کافروں نے مسلمانوں کے خلاف ہر قسم کی جدید ٹیکنالوجی کا اسلحہ استعمال کر کے دیکھ لیا۔ لیکن ان کے تمام جدید اسباب

صفحہ 69

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

وسائل اللہ کے شیروں نے رب کے حکم سے ناکارہ کر کے آگے بڑھنے کا عملی ثبوت پیش کیا جس کے نتیجے میں انہیں اپنا زوال قریب نظر آنے لگا تو انہوں نے چاند پر تھوکنے کی ناپاک کوشش کی۔ نتیجتاً تھوک ان کے اپنے ہی اوپر آ گرا۔ انہوں نے نبی پاکﷺ کے توہین آمیز خاکے بنائے۔ ان میں نبی اکرمﷺ کو تلوار لہراتے ہوئے دکھایا گیا اور آپﷺ کے ساتھ چند برقع پوش خواتین کو دکھایا گیا۔ دوسرے خاکے میں آپﷺ کی چادر (عمامے) کو بم کی شکل میں دکھایا گیا۔

ان خاکوں سے یہ باور کرانے کی مذموم کوشش کی گئی ہے کہ اسلام اعلیٰ مذہب نہیں۔ مسلمانوں کے نبیﷺ معاذ اللہ تخریب کار تھے۔ (نقل کفر کفر نہ باشد) (نعوذ باللہ) ایک زانی، قاتل، لٹیرے، مجنوں پیغمبر ہے۔ مجنونانہ باتوں کی پیروی کرتے ہیں، جنہوں نے ایک دہشت ناک معبود بنایا جس کا نام ”اللہ“ رکھا۔

آخر یہ کافر اس بات کیوں بھول گئے کہ محمد رسول اللہﷺ جرنیل المجاہدین تھے اور آپﷺ کے جانثاروں کی سب سے بڑی تمنا آرزو اور خواہش شہادت فی سبیل اللہ کا حصول ہے۔ خود رسول اللہﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔ ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں بھر پور تمنا رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جاؤں، پھر دوبارہ زندہ کیا جاؤں پھر شہید ہو جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید کیا جاؤں پھر (چوتھی بار) زندہ کیا جاؤں پھر شہید ہو جاؤں۔“

(صحیح بخاری)

وذلک فی ذات الالہ وان یشاء ...... یبارک علی اوصال شلو ممزع

یہ تو اللہ کی ذات کے لیے ہے وہ چاہے تو بوٹی بوٹی کٹے ہوئے اعضاء کے جوڑ جوڑ میں برکت ڈال دے۔

حیا باختگی کے چمکیلے غلاف والے پھولوں کی سجاوٹ میں سبق دینے اور عورت کو مرد کے شانہ بشانہ چلنے کا ڈھنڈورا پیٹنے کے باوجود مسلمان عورتوں نے ان کی تمام فریب کاریوں کو پاؤں کی

صفحہ 70

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

نوک سے ٹھوکر ماردی اور مکمل باپردہ ہو کر گھروں سے باہر نکلتی ہیں، حتیٰ کہ یورپ میں بھی مسلمان عورتوں کا پردہ نشین ہونا ان کو پسند نہیں آیا جس کے نتیجے میں انہوں نے توہین رسالت جیسے تاریخی گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا۔ یہ کافر اس بات سے کیوں نا آشنا ہیں کہ یہ مسلمان عورتیں امہات المومنین سیدہ خدیجہ، عائشہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہن کی روحانی بیٹیاں، مردوں سے پہلے اپنی جانیں ناموس رسالت پر قربان کرنے کے پرجوش جذبات رکھتی ہیں۔

جنگ احد میں نازک ترین لمحات کے موقع پر جب مسلمانوں نے بے مثال جانبازی اور تابناک قربانیوں کا مظاہرہ کیا ان میں ایک نادر کارنامہ خاتون صحابیہ ام عمارہ رضی اللہ عنہا کا بھی ہے جنہوں نے انتہائی پامردی و جانبازی سے رسول اللہ ﷺ کا دفاع کیا۔

سنو! مسلمان مردو! تمہاری غیرت کہاں کھو گئی۔ ایک عورت ہاں ہاں ایک عورت جو صنف نازک ہونے کے باوجود پیغمبر اسلام کا دفاع اپنے جسم پر تیر و نیزے کے وار کھا کر کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں دائیں اور بائیں دیکھتا ہوں تو مجھے ام عمارہ میرا دفاع کرتے ہوئے نظر آتی ہیں، اے ام عمارہ رضی اللہ عنہا آپ کتنے عظیم حوصلے والی ہیں۔ بتائیے آپ کی کوئی دنیاوی ضرورت ہو؟ ام عمارہ رضی اللہ عنہا جواب میں عرض کرتی ہیں ..... اے اللہ کے رسول ﷺ ہم چاہتے ہیں کہ جنت الفردوس میں ہمیں آپ کی رفاقت نصیب ہو۔ پیارے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں تم سب جنت میں میرے رفیق ہوگے۔

برادران اسلام! ۳۰ ستمبر ۲۰۰۵ء روز جمعۃ المبارک کو ڈنمارک کے ایک کثیر الاشاعت روزنامہ نے نبی پاک ﷺ کے ۱۲ توہین آمیز خاکے شائع کئے۔

ان خاکوں میں رسول اللہ ﷺ کی جس طرح توہین کی گئی ہے اسے کوئی بھی ادنیٰ سے ادنیٰ اور گنہگار مسلمان بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کافر کھلم کھلا دیدہ دلیری کے ساتھ ہمارے پیغمبر ﷺ کی توہین کریں اور ہم یہ کہیں کہ اسلام شدت پسندی، تخریب کاری، دہشت گردی، زمین میں قتل و غارتگری اور فساد پھیلانے کا حکم نہیں دیتا۔ اسلام روشن خیالی، رواداری، عفو و درگزر اور معاملات کو سلجھانے کے لئے نرمی برتنے کا حکم دیتا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ اور صحابہؓ کی شان یوں بیان نہیں فرمائی:

اشداء علی الکفار

صفحہ ۷۱

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

”کہ وہ کافروں پر سخت ہیں“

(الفتح ۲۹)

اللہ کی قسم! اگر یہ سنگین معاملہ سلامتی کے ساتھ گزر گیا تو اس سے بڑی ذلت ورسوائی والی بات کوئی اور نہ ہوگی۔ جو امت اپنے قائد کا دفاع کرنے کی طاقت نہیں رکھتی وہ کبھی بھی اپنے دشمنوں پر فتح و نصرت اور غلبہ حاصل نہیں کرسکتی۔

ہمیں اپنی کم ہمتی پست حالی اور حالت ضعف ایمانی پر خوب رونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے حضور یوں دعا گو ہونا چاہیے کہ

اے رب العالمین! ہماری اولاد کو ہم جیسا بزدل اور کمزور ایمان والا نہ بنانا کیونکہ ہم نے جب سے کافروں کی مصنوعات کا استعمال کیا ہے ہم دنیا اور مال ودولت کے پجاری بن چکے ہیں۔ ہمیں شہادت کی موت سے نفرت ہو چکی ہے۔ ہاں اب تو ہمارے حق میں یہی چیز بہتر ہے کہ ہم نقاب پوش عورتوں کی طرح نقاب کر کے گھروں سے نکلیں تاکہ ان کافر بھیڑیوں کو آزادی اظہار رائے کے نام پر ہمارا مذاق اُڑانے کا موقع ہی نہ ملے۔ یورپ اور امریکہ کے اخبارات ہولو کاسٹ کے بارے میں ایک لفظ لکھنے یا ہندوؤں کا مذاق اڑانے کی جرأت نہیں کرتے مگر مسلمانوں کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ پیغمبر اسلام کی توہین کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے کیا گاؤ پرست ہم سے زیادہ دلیر اور بہادر ہو چکے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہماری محبتوں کے وہ بلند بانگ دعوے کہاں گئے؟ آج مسلمان حکومتوں اور ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کا کیا کردار ہے؟ مسلمان حکمرانوں کی پر اسرار خاموشی کئی سوالوں کو جنم دے رہی ہے۔

اللہ کے بندو! تمام مسلمانوں کا نبی اکرم ﷺ کی حرمت وعظمت اور ناموس وتقدس کا دفاع کرنے پر اجماع ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ پر اپنا مال جان سب کچھ نچھاور کر دیا جائے لیکن آپ ﷺ کی حرمت پر آنچ تک نہ آنے دی جائے۔

ليعلم الله من ينصره ورسله بالغيب

(الحدید ۲۵)

تاکہ اللہ تعالیٰ جان لے کہ اس کی اور اسکے رسولوں کی مدد بغیر دیکھے کون کرتا ہے۔

صفحہ 72

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

آج کافروں نے مسلمانوں کے خلاف کھلم کھلا اعلان جنگ اور دشمنی کا اظہار کیا ہے۔ جس کا آغاز ڈینش ملکہ نے یہ کہہ کر دیا ہے کہ ”مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت پوری دنیا پر اسلام کی حکومت کے لئے ہمیں مارنا چاہتی ہے مسلمان ڈنمارک ملک کے لیے کینسر کا وائرس ہیں۔ لہٰذا مسلمان اپنے مسلم علاقوں میں چلے جائیں اور باقی دنیا کو ہنسی خوشی رہنے دیں“۔

اللہ تعالیٰ اس ملعونہ کو زندہ درگور کرے۔ کیا ہم پر طعن و تشنیع کرنے کے لیے کافر عورتیں ہی رہ گئیں ہیں؟

ڈنمارک کے وزیر اعظم نے بھی بڑی ڈھٹائی سے یہ عذر لنگ پیش کیا کہ یہ آزادی صحافت کا معاملہ ہے اور وہ اس کا دفاع کریں گے۔ ڈنمارک میں پریس حکومت کے کنٹرول میں نہیں۔ یہ عدالت کے کنٹرول میں ہے اور وہ آزادی اظہار کے معاملے میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتے۔

مجھے بتائیے اگر کسی کارٹون میں پیغمبر اسلام ﷺ کے بجائے بم والے ڈیزائن والی ٹوپی کسی یہودی کے سر پر دکھائی جاتی تو کیا شور نہ مچتا کہ اس سے یہودی مخالفت کی بو آتی ہے اور یہودیوں کی مذہبی دل آزاری کی جارہی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے خاکوں کی اشاعت سے اسلام اور مغرب کے مابین جو جنگ شروع ہوئی تھی وہ روز بروز شدت اختیار کرتی چلی جا رہی ہے۔ اور اب یہ جنگ محض چند اخبارات تک محدود نہیں بلکہ اسلام اور کفر کے درمیان جنگ کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ اس کے بعد اب کون سی ذلت و رسوائی کا انتظار کرو گے؟

عرب حکومتیں اپنے حکمرانوں اور وزیروں کی مخالفت کے بارے میں لوگوں پر سیخ پا ہو جاتی ہیں۔ لیکن بتاؤ سید البشر ﷺ پر تمہاری دینی غیرت و اخلاقی حمیت کہاں کھو گئی؟

آپ لوگوں کا کیا خیال ہے کہ اگر آج توہین آمیز خاکوں کے ذریعے عرب حکمران کی تذلیل و تحقیر کی جاتی تو کیا ردّعمل ہوتا۔ جواب آپ کے سپرد کرتا ہوں۔

اے امت محمد ﷺ آج تمہارے پیغمبر ﷺ کی توہین مسلسل کی جارہی ہے۔ بتاؤ تم کیا کرو

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

گے؟ اپنے نبی ﷺ کی توہین کا انتقام کب اور کیسے لو گے؟ نیڈو دودھ اور ان کی بالائی ، مکھن کا بائیکاٹ رکھتے ہو اور شریعت میں ایسے گستاخوں کو ان کی مجوزہ

سنو! سچے محبوں کی غیرت کا تذکرہ

حدیبیہ کے دن ایلچی عروہ بن مسعود ثقفی نے قریش کو دیکھا ہے کہ وہ شیروں کی کھالیں پہنے آپ ﷺ کو بیت اللہ سے روکنے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں۔ اے محمد ﷺ خدا کی قسم میں ایسے چہرے دیکھ کہ آپ ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ سیدنا ابو بکرؓ تھے انہوں نے غصے میں آکر کہا جا لات کی شرمگاہ کو چوس بعد عروہ پھر نبی ﷺ سے گفتگو کرنے لگا جب وہ گفتگو کرتا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس ہی کھڑے تھے داڑھی پر ہاتھ بڑھاتا تو وہ تلوار کا دستہ اس کے ہاتھ پر مارتے پرے رکھو۔ آخر عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور بولا یہ کون ہے۔ آپ ﷺ نے مسکراتے ہوئے فرمایا: یہ تمہارا بھتیجا مغیرہ بن شعبہ باری نہیں۔ اس کے بعد عروہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ صحابہ کے پھر اپنے رفقاء کے پاس واپس آیا اور بولا اے قوم بخدا میں نے رہ چکا ہوں۔ بخدا میں نے کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا کہ اس کے درباری محمد ﷺ کے ساتھی محمد ﷺ کی تعظیم کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم! وہ کھنکار بھی تھوکتے ہیں تو کسی نہ کسی کے اپنے جسم پر اور اپنے چہرے پر مل لیتا ہے۔ اور جب وہ کوئی حکم دوڑ پڑتے ہیں۔ جب وضو کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے

صفحہ 73

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

گے؟ اپنے نبیﷺ کی توہین کا انتقام کب اور کیسے لو گے؟ نیڈو دودھ اور ان کی بالائی مکھن کا بائیکاٹ کر کے؟ افسوس تم پر! کیا تم صرف اسی چیز کی طاقت رکھتے ہو اور شریعت میں ایسے گستاخوں کو ان کی مجوزہ سزا دینے سے قاصر ہو۔

سنو! سچے محبوں کی غیرت کا تذکرہ

حدیبیہ کے دن ایلچی عروہ بن مسعود ثقفی نبی اکرمﷺ کے پاس آیا اور آ کر کہنے لگا۔ میں نے قریش کو دیکھا ہے کہ وہ شیروں کی کھالیں پہنے آپ سے نبردآزمائی کے لیے بالکل تیار بیٹھے ہیں اور آپ ﷺ کو بیت اللہ سے روکنے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں۔

اے محمدﷺ خدا کی قسم میں ایسے چہرے اور ایسے اوباش لوگوں کو دیکھ رہا ہوں جو اسی لائق ہیں کہ آپﷺ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کے پیچھے موجود تھے انہوں نے غصے میں آ کر کہا جا! لات کی شرمگاہ کو چوس! ہم حضورﷺ کو چھوڑ کر بھاگیں گے؟ اس کے بعد عروہ پھر نبیﷺ سے گفتگو کرنے لگا جب وہ گفتگو کرتا آپﷺ کی داڑھی پکڑ لیتا۔ عروہ کے بھتیجے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبیﷺ کے پاس ہی کھڑے تھے ہاتھ میں تلوار تھی اور سر پر خود عروہ جب نبی کی داڑھی پر ہاتھ بڑھاتا تو وہ تلوار کا دستہ اس کے ہاتھ پر مارتے اور کہتے کہ اپنا ہاتھ رسول اللہ کی داڑھی سے پرے رکھو۔ آخر عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور بولا یہ کون ہے۔ یہ تو بڑا تند خو اور سخت طبیعت کا مالک ہے۔ رسول اللہﷺ نے مسکراتے ہوئے فرمایا: یہ تمہارا بھتیجا مغیرہ بن شعبہ ہے۔ اللہ اکبر۔ کوئی قرابت داری اور رشتہ داری نہیں۔ اس کے بعد عروہ نبی کریمﷺ کے ساتھ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے تعلق کا منظر دیکھنے لگا۔

پھر اپنے رفقاء کے پاس واپس آیا اور بولا اے قوم بخدا میں قیصر و کسریٰ اور نجاشی جیسے بادشاہوں کے پاس جا چکا ہوں۔ بخدا میں نے کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اس کی اتنی تعظیم کرتے ہوں۔ جتنی محمد ﷺ کے ساتھی محمدﷺ کی تعظیم کرتے ہیں۔

اللہ کی قسم! وہ کھنکار بھی تھوکتے ہیں تو کسی نہ کسی آدمی کے ہاتھ پر پڑتا ہے اور وہ شخص اسے اپنے جسم پر اور اپنے چہرے پر مل لیتا ہے۔ اور جب وہ کوئی حکم دیتے ہیں تو اسکی بجا آوری کے لیے سب دوڑ پڑتے ہیں۔ جب وضو کرتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ ان کے وضو کے پانی کے لیے لوگ لڑ پڑیں گے

صفحہ 73

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

اور جب کوئی بات بولتے تھے تو سب اپنی آوازیں پست کر لیتے تھے اور فرط تعظیم کے سبب انہیں بھر پور نظر سے نہیں دیکھتے تھے اور انہوں نے ایک اچھی تجویز پیش کی ہے لہذا اسے قبول کر لو۔

اللہ اکبر! صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعظیم رسول اللہ ﷺ کا یہ انداز تھا آج ہم کس انداز میں رسول اللہ ﷺ کی تعظیم کر رہے ہیں؟ ہم کس قدر رسول اللہ کے طریقے کو اختیار اور آپ ﷺ کی کس قدر اتباع و پیروی کر رہے ہیں؟ آج ہم ناموس رسالت پر اپنی جانیں نچھاور کرنے کے لیئے تیار ہیں یا پھر دنیا کے لہو و لعب میں مصروف اپنے لیل و نہار کا ضیاع کر رہے ہیں؟ اور ہمیں دین سے پیغمبر اسلام سے کوئی سروکار نہیں؟ دشمنان اسلام حرمت رسول ﷺ پر ڈاکہ ڈالیں یا کشمیر یا عراق میں مسلمان بے آبرو ہو؟ ظالم درندے بوڑھوں کی داڑھیاں نوچیں یا نوجوانوں کے خون سے ندیاں رنگین ہوں ہمیں ان چیزوں سے کوئی واسطہ نہیں .....؟

مسلمانو! اللہ کے لیے سوچو۔ ہماری دینی غیرت کہاں رخصت ہو گئی؟ ہمارا جہادی جذبہ آخر کیوں مفلوج ہو چکا ہے؟ یا پھر ہم ذلت و رسوائی اور اس مسکنت کی زندگی گزارنے پر راضی ہو چکے ہیں۔

درج ذیل واقعہ پر بار بار غور کیجئے تا کہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ آخر کیوں اللہ تعالی نے اپنے محبوب نبی ﷺ کی محبت و معیت کے لیے ان تابندہ و درخشاں جانباز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا انتخاب فرمایا۔

۵ ھ ماہ محرم کی ۵ تاریخ کو رسول اللہ کو یہ خبر ملی کہ خالد بن سفیان ہذلی نبی اکرم ﷺ کو قتل کرنے کے لئے فوج جمع کر رہا ہے تو آپ ﷺ نے اپنے محبّ صادق جانثار صحابی عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے فرمایا، ”خالد الہذلی میرے قتل کے درپے ہے اور مجھے اذیت پہنچا رہا ہے ابن انیس نے کہا، ”روحی لروحک فداء مرنی بما تشاء “ (میری جان آپ ﷺ پر قربان حکم کیجئے ) ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مکہ جاؤ اور خالد الہذلی کا سر میرے پاس لے کر آؤ۔ اللہ اکبر۔ ابن انیس رضی اللہ عنہ نے یہ نہیں کہا: میں اکیلا کیسے اس کا مقابلہ کر سکوں گا مجھے کچھ افراد درکار ہیں میرے پاس اسلحہ نہیں ۔ یہ بڑی مشکل او ر پرخطر مہم ہے نہیں نہیں .... ابن انیس رضی اللہ عنہ تن تنہا اللہ رب العزت کی ذات عالیہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے مکہ گئے اور ۱۸ روز باہر رہ کر ۲۳ محرم کو واپس تشریف لائے۔ وہ خالد کو قتل کر کے اس کا سر بھی ہمراہ

صفحہ 75

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

لائے تھے۔ آج ہماری حالت تو یہ ہے کہ مرغی یا بکری کو ذبح کرتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم وہ جوانمرد، بہادر اور دلیر لوگ تھے جو اللہ کے باغیوں، نبی ﷺ کے گستاخوں کی گردنیں کاٹنے کے خوگر تھے۔

جب خدمت نبوی ﷺ میں پیش ہو کر انہوں نے سر آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا تو آپ نے فرمایا: یہ چہرہ کامیاب ہوا اور انہیں ایک عصا مرحمت فرمایا اور فرمایا کہ یہ میرے اور تمہارے درمیان قیامت کے روز نشانی رہے گا۔ چنانچہ جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے وصیت کی یہ عصا بھی ان کے ساتھ ان کے کفن میں لپیٹ دیا جائے۔

(زاد المعاد ۱۰۸/۲، ابن ہشام ۷۱۹/۲، ۷۲۰)

اللہ کے بندو! ہاں کل قیامت کے دن جب ابن انیس وہ عصا لے کر اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے تو تمام لوگوں کو پتہ چل جائے گا یہ عصا اللہ کے رسول ﷺ کی ناموس کے تحفظ کی علامت ہے۔

بتائیے آج ہم نے تحفظ حرمت رسول ﷺ کے لیے کیا قربانی پیش کی ہے کہ جسے بطور علامت کے ہم قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش کرسکیں گے؟

آج کافر ہمارا مذاق اڑاتے ہیں مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں۔ قرآن مجید کو قدموں تلے روندھ کر بے حرمتی کرتے ہیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ کو گالیاں نکالتے ہیں اور پھر الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ چوری اوپر سے سینہ زوری کے مصداق مسلمانوں کے خلاف یہ بکواس کرتے ہیں کہ مسلمان دہشت گرد، تخریب کار، معاشروں کے کینسر، شرپسند اور انتہا پسند لوگ ہیں۔

تو یہ ہمیں بتائیں کہ اتنا کچھ ہونے کے بعد یہ ہمیں کیسا دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہم ان کے سامنے منہ کے بل لیٹ جائیں اور یہ ہمارے مونہوں کو اپنے قدموں تلے روندتے پھریں؟ کیا یہ ہم سے یہی چاہتے ہیں؟

یورپ میں ایک عام بدکار ترین شخص کی توہین بھی جرم ہے لیکن آزادی اظہار کے تقاضے پورے کرنے کے لیے صرف اسلام ہی ان کا تختہ مشق رہ گیا ہے۔

ڈنمارک میں قانونی طور پر مذاہب کی توہین جرم ہے لیکن اس کے باوجود اسلام کا مذاق اڑانا

صفحہ 76

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

جرم نہیں ٹھہرا تو یہ مغرب کی کھلی منافقت نہیں تو اور کیا ہے۔؟ آج وقت پھر کسی معاذؓ اور معوذؓ اور ابن انیسؓ جیسے قابل فخر غلامان محمدﷺ کا منتظر ہے۔ یہ واقعہ سنو اور آؤ ہم سب مل کر اپنی بزدلی اور کم ہمتی پر روئیں۔

عیسائیوں نے ہلاکو خان کے دور میں منگولیوں کے ایک سردار کے عیسائیت اختیار کرنے کے موقع پر ایک عظیم الشان محفل کا انعقاد کیا اس موقع پر ایک عیسائی پادری نے نبی اکرمﷺ کی شان میں نازیبا کلمات کہنا شروع کر دیئے۔

پاس ہی بندھا ہوا کتا اس پر جھپٹ پڑا۔ لوگوں نے بڑی مشکل سے بچ بچاؤ کرا دیا۔ ایک شخص اس عیسائی پادری سے کہنے لگا: محمدﷺ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے یہ کتا تم پر حملہ آور ہوا ہے۔ اس نے طنزیہ انداز میں کہا، نہیں یہ کتا بڑا خوددار ہے۔ اس کی عزت نفس نے میرے ہاتھ کے یوں یوں والے اشارے کو دیکھ کر یہ خیال کیا کہ شاید میں اسے مارنا چاہتا ہوں یہ دیکھ کر اس نے بھونکنا شروع کر دیا۔ پھر اس عیسائی نے دوبارہ نبی کریمﷺ کی شان میں پہلے سے زیادہ بدگوئی کرنا شروع کردی۔ یہ دیکھ کر کتا اپنی رسی توڑ کر شیر کی طرح جست لگا کر اس عیسائی پادری پر جھپٹ پڑا اور اپنے نوکیلے دانت اسکی گردن میں گاڑ دیئے۔ نتیجتاً وہ شخص جہنم واصل ہوا۔ اس عجیب منظر کو دیکھ کر چالیس ہزار منگول حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔

(الدرر الکامنہ لابن حجر (ج۲)

اللہ کے بندو! کتا نبی اکرمﷺ کی توہین پر غضبناک ہو گیا اور اس نے کس انداز سے اپنے غیرت مند ہونے کا ثبوت پیش کیا۔ آج ہماری غیرت کہاں رخصت ہو گئی؟

اللہ کی قسم! جمادات و حیوانات پیغمبر اسلامﷺ کے دیدار کے شوق میں تڑپ گئے کیا آج یہ شو ق ہمارے اندر سے بالکل ختم ہو چکا ہے؟ جبکہ نبی مکرمﷺ نے ہمارے ساتھ ملاقات اور ہمیں دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھوں صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا۔ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں آپﷺ نے فرمایا تم میرے ساتھی ہو اور میرے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک نہیں آئے۔ وہ مجھ پر بن دیکھے ایمان لائیں گے اور میری نبوت اور رسالت کی تصدیق کریں گے۔

(صحیح مسلم)

صفحہ 44

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

اے امت محمدﷺ بتاؤ کل جب تم نبی اکرمﷺ کے پاس حوض کوثر پر جاؤ گے تو امام الانبیاء، حبیب رب کبریا تم سے پوچھیں گے بتاؤ دشمنان اسلام نے میری عزت وحرمت پہ ڈاکے ڈالے مجھے خوب اذیتیں پہنچائیں تو تم نے میری عزت وآبرو، حرمت و ناموس کے دفاع میں کیا کردار پیش کیا؟

اس موقع پر عالم اسلام کے مسلم حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اسلامی غیرت وحمیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کسی بھی قسم کی مصلحت اور مفادات سے بالاتر ہوکر ان ممالک کا مکمل سفارتی اور معاشی بائیکاٹ کرنا چاہیے اور جب تک مجرموں کو سزا نہیں دی جاتی، عالم اسلام ان ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال نہ کرے تاکہ عالم کفر کو معلوم ہوجائے کہ مسلمان اپنے پیغمبرﷺ کی شان میں نہ کسی گستاخی کو برداشت کرسکتے ہیں اور نہ ہی اس مذموم فعل کی معافی کا کوئی سوال ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

وان نکثوا ایمانہم من بعد عہدہم وطعنوا فی دینکم فقاتلوا ائمۃ الکفر انہم لا ایمان لہم لعلہم ینتہون

(التوبہ: ١٢)

اگر کوئی قوم جس کے ساتھ تمہارا عہد ہے تمہارے دین میں طعن کرتی ہے تو اس کا مطلب ہے اس نے عہد کو توڑ دیا ہے اور اگر وہ عہد کو توڑ دے اور تمہارے دین پر طعن کرے تو ان کا علاج فقاتلوا ائمۃ الکفر ہے۔

تو لڑائی کس طرح ہوتی ہے کہ دشمن ملک کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی قائم رہیں؟ تجارت بھی جاری رہے؟ ان کو اپنے ملک میں آنے کی بھی اجازت ہو؟ خود اپنے سفیر بھی ان کے ملک میں رکھے جائیں، ساری محبتیں اور پروٹوکول اسی طرح جاری رہیں؟ اور ہم پھر بھی یہ کہیں کہ ہماری ان کیساتھ لڑائی ہے۔ کیونکہ ہمارے نبیﷺ کی ان لوگوں نے توہین کی ہے۔ بتاؤ تو صحیح اس طرح کرکے تمہارے نبیﷺ سے کس قسم کی دوستی ہوسکتی ہے؟

آج ہماری اسلامی غیرت کا تقاضا ہے کہ ہم پہلے قدم کے طور پر امریکہ ویورپ کی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ اس کے زیادہ بہتر نتائج نکلیں گے اور امریکہ ویورپ کے ہوش ٹھکانے

صفحہ ۷۸

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟ آجائیں گے۔ آج ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی معمولی قربانیاں پیش کرنے سے کیوں گھبراتے ہیں؟ کافروں کی تہذیب، لباس، شکل و صورت، مصنوعات غرض ہر چیز کا بائیکاٹ ہونا چاہیے۔ ہم مسلمان جتنی زیادہ سادہ اور اسلامی زندگی گزاریں گے کافر اتنا ہی ہم سے ڈریں گے۔ کافر کبھی بھی بڑے مالدار، عیش پسند مسلمانوں سے نہیں ڈرتا، ہمیشہ غریب، قناعت پسند اور خوددار مسلمانوں سے لرزہ براندام رہتا ہے۔ جو دین حق و صداقت پر جان نچھاور کرنے کے لئے ہمہ وقت مستعد رہتے ہیں۔

اے اللہ رب العزت! اپنے دین کی مدد فرما۔ ہمیں توفیق عطا فرما کہ ہم تیرے پیارے محبوب ﷺ کی ناموس و حرمت کا تحفظ کریں۔

ہمیں قیامت کے روز محمد رسول اللہ ﷺ کی شفاعت نصیب فرما۔ آپ ﷺ کے مبارک ہاتھوں سے حوض کوثر کا جام پلا اور جنت الفردوس میں ہمیں نبی اکرم ﷺ کی رفاقت نصیب فرما۔ ہمارے سینوں کو تن، من، دھن، حرمتِ رسول اور دین محمد ﷺ پر قربان کرنے کے جذبات سے لبریز فرما (آمین یا رب العالمین)

صفحہ ٧٩

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

احسان اللہ ثاقب

توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے حالات و واقعات اور اس کے مضمرات کا جائزہ لینے سے پیشتر یہ مناسب ہو گا کہ قارئین کو پہلے یہ بتایا جائے کہ خاکے شائع کرنے والا ملک ڈنمارک کہاں واقع ہے۔ اس کا محل وقوع کیا ہے اور اس کی آبادی کی نسلی اور مذہبی تقسیم کیا ہے۔ ان اعداد و شمار سے ہمیں زمینی حقائق کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ ڈنمارک براعظم یورپ کے شمال میں واقع سکینڈے نیوین ممالک ناروے، سویڈن، ڈنمارک، فن لینڈ، میں سب سے چھوٹا ہے۔ اس کا رقبہ 43 ہزار مربع کلو میٹر ہے جو کہ سری لنکا کے رقبہ 65 ہزار مربع میل سے کم ہے۔ یہ جرمنی کے شمال اور سویڈن کے مغرب میں واقع ہے۔ جبکہ اس کے مغرب میں جنوب مشرق میں سمندر پھیلا ہوا ہے۔

ڈنمارک میں آئینی بادشاہت ہے آج کل ملکہ مارگریٹ دوم اس کی حکمران ہے۔ ملک کی آبادی 55 لاکھ ہے۔ جو کہ سکینڈے نیوین، سکیمو، فیرو سے جرمن نسل کے لوگوں پر مشتمل ہے۔ مذہبی اعتبار سے آبادی کا 91 فیصد لوتھیرین، 2 فیصد پروٹسٹنٹ و کیتھولک اور 7 فیصد دیگر مذاہب سے تعلق رکھتا ہے۔ ڈنمارک میں لوگوں کی اکثریت ڈینش زبان بولتی ہے جب کہ کچھ حصہ جرمن زبان کا حامل ہے۔ معاشی اعتبار سے ڈنمارک یورپی یونین کا رکن ہے۔ مذہبی لحاظ سے سکینڈے نیوین ممالک کی یگانگت رکھتا ہے۔ کیونکہ ان چاروں ممالک میں لوتھیرین عقیدہ کے لوگوں کی اکثریت ہے۔ مثلاً یہ فن لینڈ میں 90 فیصد، سویڈن میں 94 فیصد، ناروے میں 87 فیصد اور ڈنمارک میں 91 فیصد ہیں۔ ڈنمارک کے ہمسایہ ممالک فرانس، جرمنی، ہالینڈ، اور بیلجیم وغیرہ ہیں۔ ان ممالک میں پروٹسٹنٹ اور کیتھولک عقیدہ کے عیسائی آباد ہیں۔ لوتھیرین وغیرہ کی نسبت زیادہ آزاد خیال اور ترقی پسند ہوتے ہیں۔

آئیے ہم اس پیچیدہ صورت حال میں ہم یہ دیکھیں کہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت سے

صفحہ ۸۰

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا

اسلام دشمن قوتیں کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ یہ مقاصد درج ذیل ہو سکتے ہیں۔

گرد انتہا پسند ثابت ہو جائیں۔

قبضہ برقرار رہے۔

صفحہ 81

توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟ تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

کیا یہ اتفاقی واقعہ تھا؟

یورپی یونین کے 25 میں سے 18 ممالک میں توہین مذہب جرم ہے

اکرم شیخ

میں آپ کے موضوع کی صرف آؤٹ لائن عرض کروں گا ”ناموس رسالت اور ہماری ذمہ داریاں“ میں آپ سب لوگوں کی طرح اُمت مسلمہ کا ایک فرد ہونے کی حیثیت سے اسی طرح ملول خاطر ہوں جس طرح امت کا ہر فرد غم زدہ ہے اور ہوش و حواس کو قائم رکھتے ہوئے شروع دن سے اس بات پر غور کر رہا ہوں کہ کیا یہ ایک حادثہ ہے یا ایک لمحاتی جذباتی واقعہ ہے۔ جو ڈنمارک کے ایک اخبار نے ہذیان کی صورت میں بکا ہے یا یہ کوئی سوچی سمجھی سازش ہے؟ تو میں نے جو گزشتہ دو ڈھائی ماہ میں ذاتی طور پر غور کیا ہے اور میرے ساتھیوں نے غور کیا ہے؟ اس پر میری عاجزانہ رائے یہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے اہل مغرب کی ایک پالیسی ہے اور وہ ہے مسلمانوں کو اشتعال دلانے اور مسلمانوں کی روایات کو پامال کرنے کی۔ مسلمان ممالک، ان کے اکابرین دین اور رسول اکرمﷺ کی سنت پر عمل پیرا لوگوں کے متعلق ان کا ایک خاص رویہ ہے جو ان کے ہر فرد کے ایک ایک عمل سے واضح اور مترشح ہے۔

میں نے اپنے دفتر میں ایک پروجیکٹ کے طور پر اس پر تحقیق شروع کی ہے۔ ہماری تحقیق کا یہ نتیجہ ہے کہ یورپی یونین کے 25 ممالک میں سے 18 ممالک کے اندر بلاسفمی Blasphemy (توہین مذہب) ان کے Statute Book (پارلیمنٹ کا پاس کردہ قانون) میں ایک جرم ہے۔ 18 ممالک کے اندر Blasphemy ان کے اپنے نبی جو ہمارے بھی نبی ہیں ان کے لیے گستاخی ایک قابل تعزیر جرم ہے۔ جرمنی، آسٹریا، نیدرلینڈ، انگلینڈ، فرانس، بیلجیم، اور بذات خود ڈنمارک کے اندر سیکشن 140 ڈینش پینل کوڈ کا قانون ہے جو غماز خبث باطن ہے۔ ان کے وزیر اعظم کا، ان کے صحافیوں کا، یہ فعل براہ راست اس کی زد میں آتا ہے۔ اس کے بعد ناروے، فن لینڈ، سپین، سویڈن، اٹلی، یونان، پولینڈ، یہ

صفحہ 82

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

یورپی یونین کے 25 ممالک میں سے اٹھارہ ممالک ہیں۔ اٹھارہ ممالک میں جن کا Statute Book باقی میں اس کا تذکرہ نہیں جس کی وجہ سے مجھے یہ سمجھ آئی ہے کہ مثلاً یوکرین ہے جس کے اندر اشتراکی نظام تھا وہاں ان قوانین تک ہماری رسائی نہیں ہے۔

دوسری بات یہ تھی کہ اشتراکی دور کے اندر وہاں مذاہب کے اوپر یہ ایک قدغن تھی۔ اس لیے یہ انڈرسٹینڈایبل (Understandable) ہے کہ یہ جو سات نئے ممالک اس کے آئے ہیں، ان میں سے سات کے قوانین ہمارے پاس نہیں ہیں۔ لیکن یہ ان کے Statute Book کے اندر ہر ملک کے سٹیچوٹ کی رو سے یہ ایک قابل تعزیر جرم ہے اور انگلینڈ کے میرے پاس آٹھ، دس کیسز ہیں جہاں انہوں نے House of Lord کی سزا کو کنفرم کیا ہے اور مجھے خود بھی تعلیم کے سلسلے میں وہاں رہنے کا موقع ملا ہے۔ آپ ایک ایسے شخص کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہ جو کہے کہ میرا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آپ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ایک جملہ کہہ دیں، عیسائیت کے مذہب پر آپ کوئی تبصرہ کر دیں تو آپ کو یہ محسوس ہو گا کہ پاپائے روم براہ راست آپ کی گردن کو لپک رہا ہے۔ ایک Atheist کرسچن اگر آپ اس کے مذہب کے بارے میں، اس کے دین کے بارے میں سٹیٹ کے نظریے کے بارے میں، اپنے بارے میں بیٹھے ہوئے ایک بات کہہ دیں تو آپ کی گردن کو وہ ایسے دبوچیں گے گویا کہ آپ نے پاپائے روم کی توہین کر دی ہے۔ اس لیے بات یہ نہیں ہے کہ اس میں سادگی ہے نہ اس میں حادثہ ہے۔ کہ امت مسلمہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے ایک شعوری کوشش ہے۔ اس کے جذبات کو پرکھنے کے لیے ارادی حملہ ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ پوری امت کی بدقسمتی یہ ہے کہ:

ہمیں سے رنگ گلستاں، ہمیں سے رنگ بہار
اور ہمیں کو نغمہ گلستاں پہ اختیار نہیں

تمام امت مسلمہ کے ممالک کے اندر عوام اور مسلمانوں کی منشا کے برعکس حکمران مسلط ہیں۔ ہمارا المیہ اور سانحہ یہ ہے کہ کوئی ایسا حکمران نہیں جو مسلم امہ کی ایکسپریشنز (جذبات) کو ایک عمل میں ٹرانسلیٹ کرے۔ آپ کے 54 اسلامی ممالک ہیں، آپ کی ایک قوت ہے، اکنامک کی قوت ہے، آپ کی ایک پولیٹکل فورس ہے۔ اور آپ نے اس کو غیر مؤثر رہنے، اپولوجٹکل (معذرت خواہانہ) انداز

صفحہ ۸۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

کے اندر آپ اس طرح بات کر رہے ہیں۔ کہ جس طرح آپ کوئی مسلم امہ پر بہت زیادہ احسان کر رہے ہیں کہ ہم نے OIC میں کہہ دیا ہے OIC تو پہلے ہی خوابوں کا مجموعہ ہے۔ اس بارے میں میرے ذہن کے اندر کوئی ابہام نہیں ہے۔ کہ اس وقت مسلم امہ کی لیڈرشپ کو، پوری مسلم امہ کو یہ بتانا پڑے گا کہ آپ کے اور ہمارے درمیان ایک خط فاصل کھینچ لی گئی ہے۔ اور وہ حرمت رسول ﷺ کی ہے۔ اگر آپ حرمت رسول ﷺ پہ کھڑے ہو کر بین الاقوامی فورم کے اوپر اس صدا کو بلند کرتے ہوئے مغرب کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرتے ہیں تو ہم آپ کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں ورنہ ہمارے اوپر نہ ان کی اطاعت واجب ہے نہ ان کے ساتھ ہمارا گزر اوقات ہو سکتا ہے۔ یہ شعوری طور پر ایک سوچی سمجھی سازش ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری مسلم امہ کی لیڈرشپ کو With one voice move (یک زبان ہو کر کام) کرنا ہوگا جہاں تک یونائیٹڈ نیشنز (اقوام متحدہ) کا تعلق ہے۔ یونائیٹڈ نیشنز کے Covent Civil and Political Rights جو ان کا ایک بنیادی ڈاکومنٹ ہے۔ ہیومن رائٹس پر اس کے آرٹیکل نمبر 3 کے اندر فریڈم آف ایکسپریشن، فریڈم آف اوپینین اور فریڈم آف پریس ہے۔ ساتھ آرٹیکل 3 یہ بھی کہتا ہے:۔

"The excercise of the right provided in paragraph two of this article carries with its special duties and responsibilities."

”کسی کے مذہب کو کسی کی نسل کو، کسی کے عقائد کو اور کسی کے مشاہیر کا آپ تمسخر نہیں اڑائیں گے۔“

میں اپنی بات یہیں ختم کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حرمت رسول ﷺ پر مر مٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)۔

صفحہ ۸۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

توہین رسالت...... پس منظر اور پیش منظر

محمد عمر عثمانی

ڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک کے اخبارات نے محسن انسانیت، پیکر رواداری و شرافت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے متعلق جو توہین آمیز اور شر انگیز خاکے شائع کیے ہیں، ان کے متعلق سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ محض اتفاق ہے یا اس کے پس پردہ کوئی طویل اور منظم منصوبہ بندی کارفرما ہے؟ آئیے حالات و واقعات کے تناظر میں اس بات کا جائزہ لیتے ہیں۔

پچھلی کچھ صدیوں سے مسلمانوں کی مذہبی دل آزاری اور نبی کریم ﷺ کی اہانت کے نقطہ نظر سے لکھی اور شائع کی جانے والی کتب، نازیبا خاکوں اور اسی نوعیت کے مسلسل واقعات کے جائزے سے یہ حقیقت واشگاف ہوتی ہے کہ بعض مسیحی مورخین، ہنود اور یہودیوں کی طرف سے اہل اسلام کے مذہبی جذبات اور ان کے مقدس تاریخی ورثے کا مذاق اڑانا ایک مستقل روایت بن چکی ہے اور وقفہ بہ وقفہ کوئی گستاخ اور تنگ نظر پیغمبر اسلام ﷺ اور دوسرے مشاہیر امت کی شان میں دریدہ اور تاریخی حقائق و واقعات میں تحریف کی جسارت کا مرتکب ہوتا رہتا ہے۔ جس سے عالم اسلام میں غم و اضطراب کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ اور مسلمانوں کی عقیدت و محبت کے نازک آبگینوں کو سخت ٹھیس پہنچتی ہے۔

پیغمبر رحمت دو عالم حضرت محمد ﷺ کی دوسرے مذاہب کے ساتھ انسان دوستی اور غایت درجہ مذہبی رواداری کے تاریخی اور ناقابل تردید حقائق کے باوجود عصر حاضر کی نام نہاد سیکولر، انسان دوست اور مذہبی آزادی اور رواداری کی علمبردار مغربی دنیا کے اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ سے عناد، تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پے در پے ایک سے زائد مغربی ممالک کے درجن بھر سے زائد اخبارات جان بوجھ کر مذکورہ خاکے شائع کر چکے ہیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ کے متعلق مغرب کی عیسائی دنیا کی بحث وتحقیق اور ان کی تحریروں اور خاکوں کا نچوڑ سب وشتم کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔ جس میں کلیسا کی دینی و مذہبی شخصیتوں

صفحہ ۸۵

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

کے علاوہ غیر دینی اور لادینی افراد بھی برابر حصہ لیتے رہے ہیں۔ اور یہ سیلاب بلا خیز آج تک رواں دواں ہے۔ چنانچہ اسی تاریخی حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے "A History of Medieval Islam" مصنف مغربی دان J.J.Saunders لکھتا ہے کہ:

’’اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ پیغمبر عربی ﷺ کو عیسائیوں نے کبھی بھی ہمدردی اور توجہ کی نظر سے نہیں دیکھا جن کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شفیق ہستی ہی آئیڈیل رہی ہے۔...... صلیبی جنگوں سے...... آج تک محمد ﷺ کو متنازعہ لٹریچر میں بطور ...... پیش کیا گیا ہے۔ ان کے متعلق بے ہودہ کہانیاں پھیلائی گئیں اور طویل عرصہ تک ان پر یقین کیا جاتا رہا۔‘‘

اس قسم کی تصویر کشی میں دنیائے عیسائیت کے جن لوگوں نے حصہ لیا ان میں سے قابل ذکر آدمی ’’جان آف دمشقی‘‘ (700-754ء) ہے۔ جان کو بازنطینی روایات کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف نفرت، دشمنی اور سب وشتم کا سلسلہ سب سے پہلے عیسائیت میں اس شخص نے شروع کیا تھا۔ رسول اکرم ﷺ کے خانگی حالات کو موضوع بحث بنا کر بے جا اعتراضات کیے۔

’’جان آف دمشقی‘‘ کے بعد قرون وسطیٰ کے تمام مصنفین نے بھی جان کی پیروی کرتے ہوئے تصویر رسول اللہ ﷺ کو خوب بگاڑنے کی کوشش کی۔ اس تفصیل کا مقصد یہ ہے کہ ظہور اسلام کے بعد کئی صدیوں تک مسیحی دنیا کی نفرت و عداوت کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی اور اہل مغرب پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں انتہائی توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے تھے۔ اتنے میں صلیبی جنگوں کے طویل سلسلے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ مغرب نے جب بھی تلوار استعمال کی اسے ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔ صلیبی جنگوں میں بھی صلیب سرنگوں ہوگئی۔ جب دنیائے مغرب نے محسوس کیا کہ میدان جنگ میں مسلمانوں کا کچھ زیادہ نہیں بگاڑ سکتے تو انہوں نے کمال عیاری سے اسباب ووسائل اور حکمت عملی کو یکسر تبدیل کر دیا۔ گویا یہ فیصلہ کر لیا کہ جنگ جیتنے کے لئے نیا ترکش اور نئے تیر استعمال کیے جائیں۔ انہوں نے سوچا کہ اب ذہنی اور فکری محاذ پر اسلام اور اہل اسلام کو زک پہنچائی جائے اور گرم جنگ میں نہ سہی سرد جنگ میں مسلمانوں کو زیر کیا جائے، چنانچہ انہوں نے پیغمبر اسلام ﷺ کو ہدف تنقید بنایا اور علم وتحقیق کے نام پر اسلام اور پیغمبر

صفحہ 86

توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

اسلامﷺ کے بارے میں مہمل خیالات، بے سروپا قصے، بے ہودہ الزامات اور گستاخانہ خاکوں کے بیج بو کر خرافات کا ایک ایسا جنگل

مورخ "Doctor Watt" اپنی کتاب "Muhammadؐ" میں لکھتا ہے:

"تاریخ کی عظیم بددیانتی ہوئی۔ مغربی مصنفین محمدﷺ کے بارے بدترین چیز بھی یقین کرنے کو تیار رہتے ہیں۔"

یورپ اسلام کے ان احسانات کو فراموش کر بیٹھا ہے جن کی بدولت آج اسے فلسفہ، طب، سائنس، ریاضی، ادب، تعلیم، معاشرت اور تہذیب و تمدن کے شعبوں میں امتیاز اور عالمگیر شہرت حاصل ہے۔ عہد حاضر کے بڑے بڑے اشاعتی ادارے اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا بدقسمتی سے یہودی سرمایہ داروں کے قبضہ میں ہے۔ چنانچہ وہ دنیا کے مختلف مذاہب خصوصاً اسلام کی تحقیر اور مختلف العقیدہ فرقوں کے درمیان شدید منافرت اور بے زاری پیدا کرنے کی نمایاں اور پوشیدہ کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔ اور عام طور پر تحریر و تقریر کی آزادی کے نام پر ناپاک مقاصد نہایت خوش اسلوبی سے پورے کر لیے جاتے ہیں۔ History of Jewish Crimes کے مصنف نے اس میں یہ حقیقت بیان کی ہے:

"امریکا اور یورپ کے بڑے بڑے اداروں پر بیشتر اجارہ داری یہودیوں کی ہے اور اخبارات خبر رساں ایجنسیوں، کتابیں شائع کرنے والے اداروں، کمپنیوں اور بڑے تجارتی اداروں کے خاص طور پر مالک ہیں۔"

ڈنمارک اور دیگر یورپین ممالک کے اخبارات میں نبی کریم ﷺ کے شائع ہونے والے خاکے اتنے اشتعال انگیز اور دل آزار ہیں کہ مسلمانوں کی غیرت ایمانی ان کا ذکر بھی برداشت نہیں کرسکتی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ عام پڑھا لکھا اور سنجیدہ انسان خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب و ملت ہی سے کیوں نہ ہو، وہ اس گھٹیا انداز اور مخرب اخلاق تصویر کشی کو شائستہ طرز اظہار اور رواداری کے مطابق قرار نہیں دے سکتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اسلام کی ہمہ جہتی حقانیت پر نکتہ چینی کی گنجائش نہ پاکر معاندین اسلام اپنے حسد کی آگ ناموس رسالت ﷺ پر حملے کرکے ٹھنڈی کرنا چاہتے ہیں۔

صفحہ ۸۷

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

اہانت رسولؐ اور مغرب

چھپا کر آستین میں بجلیاں رکھی ہیں ”مغرب نے“

حافظ سجادتی

ولندیزی فلم ساز تھیو وان گوغ (Theo van Gogh) نے اسلام میں عورت کے مقام کے موضوع پر ”سب مشن“ (Submission) نامی فلم بنائی، اس کی مصنفہ ڈچ پارلیمنٹ کی ممبر صومالی خاتون آیان حرسی علی (Ayan Hirs Ali) تھی جو گزشتہ کئی عرصہ سے یہ تصور کر رہی تھی کہ اسلام عورتوں پر جبر اور ظلم و ستم کا (نعوذباللہ) نام ہے۔ فلم کی افسانوی کہانی باپردہ عورت کے گرد گھومتی ہے جو ”رضائے الٰہی کی خاطر اپنی محبت کو قربان کر کے اپنے والد کے حکم سے انیس برس کی عمر میں محض اس لئے شادی کرتی ہے کہ اسلام میں ولی کو پسند کرنے کا حکم ہے حالانکہ لڑکی کو لڑکے کے وجود سے ہی کراہت محسوس ہوتی ہے۔ ۔ شوہر کی خواہش پر وہ اس سے خلوت کرتی ہے کیونکہ قرآنی حکم ”تمھاری عورتیں تمھاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھیتیوں میں جس طرح سے چاہو آؤ۔“ (البقرہ: ۲۲۳) کی رو سے وہ انکار کی مجاز نہیں۔ وہ اپنی زندگی کا محور صرف اور صرف اپنے شوہر کے احکام کی تعمیل کو سمجھتی ہے، اس لئے نہ وہ باہر جاتی ہے نہ اسکا کوئی اور مسئلہ ہوتا ہے۔ اس اطاعت شعاری کے باوجود اس کا شوہر اسے مارتا پیٹتا ہے۔ وہ اپنی زینت محرموں کے علاوہ کسی پر ظاہر نہیں کرتی، اس کی اخلاقی پاکیزگی اور احتیاط کے باوجود اس کا چچا اس سے جبر زنا کرتا ہے۔ وہ اپنی والدہ کے ذریعے والد سے داد رسی کی طالب ہوتی ہے تاکہ اس ظلم سے نجات ملے مگر اس کا باپ اسے اپنے بھائی کی عظمت پر شک کی نگاہ ڈالنے کی جرات سے روکتا ہے۔ فلم کا اختتام اس طرح ہوتا ہے کہ عورت اپنے باپ کے حضور سجدہ میں گر جاتی ہے گویا یہی اس کی منزل اور مقدر ہوتا ہے۔“

صرف اتنی کہانی ہوتی تو سمجھا جاتا کہ مظلوم خاتون کی فریاد سنائی گئی مگر اس فلم کی اشتعال انگیزی کا اندازہ اسے دیکھ کر ہی لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن کریم کی آیات کی ناقابل بیان انداز میں توہین کر

صفحہ ۸۸

توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟ تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

کے پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی گئی ہے یہ فلم ”آزادیِ اظہار“ کے نام پر ۲۰۰۴ء میں یورپ کے تمام ٹی وی چینلز پر نشر ہوئی ۲ نومبر ۲۰۰۴ء کو تھیووان گوغ ( Theoan Gogh) ایک مسلمان کے ہاتھوں انجام کو پہنچا تو یورپ کے سیاسی وحکومتی حلقوں میں اسلام کی کھلم کھلا تحقیر کی گئی اور مسلمانوں سے تقاضہ کیا گیا کہ سزائے موت، رجم، پردہ اور سب سے بڑھ کر حاکمیت الٰہی کے تصور سے دستبرداری کا اعلان کرے اور پھر یہ تصور بھی قوت سے ابھارا گیا کہ ”اسلام جمہوریت اور آزادی اظہار کی ضد ہے“ اگر ہم نے اسلام کی اصلاح کی تحریک نہ چلائی تو ”انتہا پسند“ اور ”دہشت گرد“ ہمارے معاشرے پر قبضہ کرلیں گے۔“

ڈنمارک میں برسراقتدار جماعت میں ۲۱ نومبر ۲۰۰۴ء کو ایک اجلاس منعقد کیا اس میں ارکان پارلیمنٹ شریک ہوئے اور حرسی علی کو اس کی فلم کا خصوصی انعام سے نوازا گیا۔ اس موقع پر ڈنمارک کے وزیر اعظم نے کہا کہ ”مغربی معاشروں میں انجیل و قرآن ہر چیز کو ہدف بنایا جاسکتا ہے اور اس بنیادی اصول سے انحراف برداشت نہیں کیا جائے گا۔“

ڈنمارک کی حکومت کے حوالے سے یہ اطلاعات بھی گردش کر رہیں ہیں کہ وہ قرآن کا ازسرنو ترجمہ پیش کرنے کے لئے کام کر رہی ہے تاکہ مسلمانوں کے اندر سے ”بنیاد پرستی“ کا زہر نکالا جاسکے۔ ستمبر ۲۰۰۵ء میں ایک سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے سرکردہ رکن موئس فریور ٹنیا نے ایک آرٹیکل میں لکھا: ”ڈنمارک میں پیدا ہونے والے مسلم نوجوان بھی بنیاد پرستانہ تعلیم سے آراستہ ہیں جو ہمارے معاشرے سے مطابقت نہیں رکھتی۔ چونکہ ہمارا قانون دشمنوں کو سرعام قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا اس لئے ان مجرموں سے نمٹنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ انہیں یہاں کے جیل خانوں میں ڈال دیا جائے یا روس کے جیل خانوں میں بھیج دیا جائے۔“ ڈنمارک ہی کے ایک ریڈیو چینل نے جولائی ۲۰۰۵ء: ”مسلمانوں کا واحد علاج یہی ہے کہ کہ ہم انہیں ہلاک نہیں کر سکتے تو کم از کم یورپ سے باہر ضرور دھکیل دیں۔“

ڈنمارک ہی کے ایک اور رائٹر نے اپنے مضمون میں ”مسلمانوں کو ایسے کینسر سے تشبیہ دی جس کا علاج آپریشن کے سوا کچھ نہیں۔“ اباحت کی حالیہ مہم کے حوالے سے مغرب کی آزادی کے اظہار کے نام کا بڑھتے ہوئے قدم اس بات کے غماز ہیں کہ یہ انفرادی عمل نہیں بلکہ اجتماعی رویہ کا مظہر ہے۔ واقعات کا

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

تسلسل بتا رہا ہے مغرب ایک منصوبہ بندی کے عراق اور گوانتانامو بے میں امریکی فوجیوں کے یہ مکروہ فعل انجام دیتے رہے حضور اکرمﷺ عیسائی، یہود، ہندو، بدھ مت، آتش پرست دلانے کے لئے ایسی اوچھی اوچھی حرکات کر

ایک طرف دنیائے کفر خود ایسے مقصود ہے، دوسری طرف وہ ایسے لوگوں کو ہے، اس کے لئے ملعون سلمان رشدی اور بمبئی میں پیدا ہونے والے رشدی کی کتاب برطانیہ کے مشہور روایتی تنقید نگار اہرون والف اپنی خراب انگریزی کی بنا پر قابل مزا ہے۔“

بھارتی صحافی ارن شرما کے بقول درجے کا کاغذ۔ اس گھٹیا کتاب میں چونکہ تو تو مغرب، رشدی، کا محافظ بن گیا، اس وقت کے علاقے ”میمن سنگھ“ میں جنم لینے والی تسلیمہ تعلیمات پر ہرزہ رسائی کی اور مذہبی کتب بھارت اور یورپی ممالک کی انسانی حقوق کی اور پھر اسے فرار کرانے میں کامیاب ہو گئیں سب سے بڑا ایوارڈ ”آنندا“ دیا۔ اسلام دو اس کے لیکچر کا اہتمام کرتیں ہیں، کلکتہ خواتین

توہین عدالت پر جب پاکستان حقوق کی تنظیمیں سمیت یورپی سورماؤں کے

صفحہ ۸۹

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

تسلسل بتا رہا ہے مغرب ایک منصوبہ بندی کے تحت مسلمانوں اور اسلام کی تضحیک کی راہ پر کار بند ہے۔ عراق اور گوانتاناموبے میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں جان بوجھ کر کرائی گئی۔ ہر دور میں ”مہذب“ لوگ یہ مکروہ فعل انجام دیتے رہے حضور اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق ”الکفر ملۃ واحدۃ“ اس مہم میں عیسائی، یہود، ہندو، بدھ مت، آتش پرست اور سیکولر سب ایک ہیں۔ وہ ماضی میں مسلمانوں کو اشتعال دلانے کے لئے ایسی اوچھی اوچھی حرکات کرتے رہتے ہیں جو ناقابل بیان ہیں۔

ایک طرف دنیائے کفر خود ایسے افعال و حرکات کی مرتکب ہو رہی ہے جن سے اسلام کی تضحیک مقصود ہے، دوسری طرف وہ ایسے لوگوں کو پناہ دے رہی ہے جن کا قلم ابکائیاں کرنے میں مصروف رہتا ہے، اس کے لئے ملعون سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ بھارت کے شہر بمبئی میں پیدا ہونے والے رشدی کی کتاب ”شیطانی کلمات“ منظر عام پر آئی جس پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانیہ کے مشہور ادبی تنقید نگار ابرون واف (Auberon Waugh) نے کہا ”سلمان رشدی اپنی خراب انگریزی کی بنا پر قابل سزا ہے ۔“

بھارتی صحافی ارن شوری کے بقول تیسرے درجے کی تصنیف، دوسرے درجے کا مصنف اور اول درجے کا نقاد۔ اس گھٹیا کتاب میں چونکہ توہین رسالت کی گئی تھی لہٰذا اس پر عالم اسلام میں شدید ردعمل ہوا تو مغرب، رشدی کا محافظ بن گیا، اس وقت بھی وہ برطانیہ کی میزبانی کے مزے لوٹ رہا ہے۔ بنگلہ دیش کے علاقے ”میمن سنگھ“ میں جنم لینے والی تسلیمہ نسرین کو محض اس لئے ہیرو بنا دیا گیا کہ اس نے اسلامی تعلیمات پر ہرزہ سرائی کی اور مذہبی کتب کو از کار رفتہ قرار دیا۔ اس کے خلاف مقدمات قائم ہوئے تو بھارت اور یورپی ممالک کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان مقدمات کو ”اظہار آزادی“ پر قدغن قرار دیا اور پھر اسے فرار کرانے میں کامیاب ہو گئیں۔ اسے مزید شہ دینے کے لئے بھارت نے مغربی بنگال کا سب سے بڑا ایوارڈ ”آنندا“ دیا۔ اسلام دشمن قوتیں اسے اظہار آزادی کا سمبل بنا کر مختلف یونیورسٹیز میں اس کے لیکچرز کا اہتمام کرتیں ہیں، کلکتہ، نیو یارک، اسٹاک ہوم اس کے تین مسکن ہیں۔

توہین رسالت پر جب پاکستانی عدالت سے دو نوجوانوں کو سزائے موت سنائی گئی تو انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت یورپی سورماؤں کے کلیجے منہ کو آ گئے، جب تک انہیں فرار نہیں کرالیا اس وقت تک وہ

صفحہ ٩٠

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

چین سے نہ بیٹھے۔ کلنٹن سلمان رشدی کو شاباش دیتا اور سویڈن کا وزیراعظم تسلیمہ کا استقبال کرتے نظر آتے ہیں۔ اسلام کے بولنے اور لکھنے پر آزادی اور اس کے دفاع پر پابندی۔ شیطانی کلمات کے جواب میں پاکستانی ڈاکٹر بشیر احمد نے کتاب لکھی تو نہ صرف شائع کرنے سے اسے انکار کر دیا بلکہ انہیں برطانیہ سے نکلنے پر بھی مجبور کر دیا گیا۔ احمد دیدات کی کتب، ابوالحسن ندویؒ ، سید قطب شہید کی تصانیف اور بوسنیا کے صدر مرحوم عالی جاہ عزت بیگ کی مشہور عالم کتاب ”اسلام بٹوین ایسٹ اینڈ ویسٹ“ (Islam Between East And West) پر پابندی ہے کہ اس سے مذہبی حقوق مجروح ہونے کا اندیشہ تھا۔ سویڈن کے اخبار ”ایس ڈی کوریل“ نے دعوت عام دی ہے کہ پیغمبر اسلامؐ کے خاکے بنا کر بھیجے جائیں گے جو مارچ ۲۰۰۶ء میں شائع کئے جائیں گے۔ تھائی لینڈ کے وزیراعظم تھاکس شینا درتا نے کہا ” احتجاج کرنے والے مٹھی بھر احمق ہیں انہیں نظر انداز کر دو۔“ ابلیسی افکار کے علمبرداروں کا یہ دہرا معیار ہر ذی شعور کے لئے لمحہ فکریہ ہے ایک طرف معافی اور معذرت کی باتیں ہیں اور دوسری طرف مبارزت کی دعوت ہے۔ قرآن کے مطابق وہ اپنا بغض اپنے مونہوں سے ظاہر کرتے ہیں اور جو ان کے دلوں میں بغض ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ (النساء) اسی لئے مسلمانوں کو ہر دم ہوشیار رہنا ہوگا۔

چھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں ”مغرب“ نے
عنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں
صفحہ ۹۱

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

توہین رسالت کی مہم کے سرپرست یہودی نکلے

محمد صالح مغل

30 ستمبر 2005ء بروز جمعہ کو ڈنمارک کے ایک کثیر الاشاعت روز نامہ جے لینڈ پوسٹن (Jyllands-Posten) نے نبی پاک ﷺ کے 12 توہین آمیز خاکے شائع کیے۔ ایک خاکے میں رسول اللہ ﷺ کو دو عورتوں پر خنجر لہراتے ہوئے دکھایا گیا جبکہ ایک خاکے میں بموں سے لیس پگڑی پہنی ہوئی دکھائی گئی جس پر لا الہ الا اللہ لکھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ایک خاکے میں رسول اللہ ﷺ سجدے میں گرے ہوئے ہیں اور ایک کتا ان کی پیٹھ پر چڑھا ہوا ہے (نعوذ باللہ ) روز نامہ میں شائع ہونے والے خاکوں میں اور بھی بہت غلیظ و واہیات قسم کے مناظر دکھائے گئے جنہیں تحریر کرنے سے قلم عاجز ہے۔ ان گستاخانہ خاکوں کو چھاپنے کا اصل مقصد اور پس منظر بیان کرنے سے پہلے روز نامہ جے لینڈز پوسٹن کے بارے میں چند حقائق ملاحظہ ہوں۔

روز نامہ جے لینڈز پوسٹن یہودی اخبار ہے اور اس کی پیشانی پر ڈیوڈ کا واضح نشان بنا ہوا ہے۔ اس روزنامے میں کام کرنے والے خاکہ نگار اور کارٹونسٹ کا تعلق امریکی تنظیم New Christian Born سے ہے۔ اس امریکی تنظیم کا ہدف اسلام کو بدنام کرنا اور اسلام کو دہشت گردوں کا مذہب ثابت کر کے مسلمانوں کا قلع قمع کروانا ہے۔ اسرائیل کی مدد کرنا اور اس کے ہر دشمن کو قتل کرنا اس تنظیم کا مرکزی ہدف ہے۔

روز نامہ جے لینڈز سرکاری اخبار ہونے کے ساتھ ساتھ وزارت عظمیٰ کا ترجمان بھی ہے۔ چنانچہ ان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے پہلے وزارت عظمیٰ کے دفتر میں ایک باقاعدہ اجلاس ہوا تھا اس کی تصدیق خود روز نامہ کے چیف ایڈیٹر نے اپنے 30 ستمبر کے اخبار میں گستاخانہ خاکوں کے ساتھ شائع ہونے والے مضمون ”آزادی اظہار“ میں کی ہے۔ اس مضمون میں چیف ایڈیٹر نے لکھا کہ ”مجھے اس وقت

صفحہ 92

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

بہت حیرت ہوئی جب وزارت عظمیٰ کے دفتر میں ہونے والی میٹنگ میں بعض افراد نے خاکے شائع کرنے کی مخالفت کی تھی۔ مجھے ایسے لوگوں سے بہت تنگی ہوتی ہے جو مسلمانوں کی دل آزاری کے خوف کی وجہ سے اسلام اور محمدﷺ کی توہین کرنے سے ڈرتے ہیں۔ یہ وہی خوف ہے جس کی وجہ سے کئی کالم نگار اپنے مضامین میں اپنا نام ذکر کرنے سے گھبراتے ہیں۔ ڈنمارک کے خاکہ نگار اور کارٹونسٹ مسلمانوں کے ردعمل کے خوف کی وجہ سے خاکے بنانے سے گھبراتے ہیں‘‘ چیف ایڈیٹر نے مزید لکھا ہے کہ ”ڈنمارک کے ایک معروف اداکار نے مجھ سے کہا کہ ٹی وی پر آ کر براہ راست قرآن کریم کی بے حرمتی کرنے سے اُسے صرف مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے کا خوف روکتا ہے۔ چیف ایڈیٹر نے مزید لکھا ہے کہ ہم نے یہ تاریخی خوف لوگوں کے دلوں سے نکال باہر پھینکنے کے لئے محمد (ﷺ) کے خاکے شائع کئے ہیں۔ اور مجھے حیرت ہے کہ مسلمانوں نے اپنے نبی کو بہت شان و تقدس دے کر ایسی ہستی بنا کر رکھا ہوا ہے۔ کہ ان کی شخصیت سے مذاق کرنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں جبکہ دنیا میں ان کے علاوہ ایسی کوئی ہستی نہیں ہے جس کی توہین کرنے پر پابندی ہو۔“ مضمون کے آخر میں چیف ایڈیٹر نے لکھا ہے کہ ”مجھے اس وقت بہت خوشی ہوگی جب ہم خوف کی مصنوعی دیوار مکمل طور پر گرا دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اور مسلمانوں کے فضول جنونی تقدیس کے پاگل پن کو بھی ختم کر ڈالیں گے“۔ چیف ایڈیٹر نے مزید لکھا ہے کہ یہ بہت خوش آئند بات ہوگی کہ مسلمانوں کی اکثریت جو امن و سلامتی سے رہنا چاہتی ہے وہ اپنی اندھیری تاریخ کے نقش قدم پر مزید چلنے سے انکار کر دے گی۔ اور ان خاکوں کو قبول کر کے جنونیوں کا ساتھ دینا چھوڑ دے گی۔“ گستاخانہ خاکوں کے ساتھ شائع ہونے والے چیف ایڈیٹر کے اس مضمون سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ گستاخانہ خاکے غلطی سے شائع نہیں کئے گئے بلکہ انہیں جان بوجھ کر شائع کیا گیا اور اخبار کی انتظامیہ کو خاکوں پر ہونے والے ردعمل کے بارے میں علم تھا۔ جیسا کہ ڈنمارک کے سیاسی روز نامہ Politiken نے 28 جنوری کو بتایا کہ ”ڈنمارک کے سب سے معروف تاریخ دان اور مذہب پر لکھنے والے رائٹر ٹم نیس نے خاکوں سے پیدا ہونے والے متوقع ردعمل کے بارے میں ایڈیٹر کو آگاہ کیا تھا اور خاکے شائع کرنے سے منع کیا تھا۔ مگر اس نے آزادی اظہار کے نام پر خاکے شائع کر دیئے۔“

کیونکہ پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکے بنانے کا تصور خود کسی کارٹونسٹ کا نہیں تھا بلکہ اس کے

صفحہ ۹۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

بجائے یہ خود روزنامہ جے لینڈز پوسٹن کا تھا۔ جس نے لوگوں کو خاکے بنانے پر اکسایا جیسا کہ روزنامہ اپنے ثقافتی صفحے پر 30 ستمبر 2005ء کو ایک اعلان چھاپتا ہے جس کا عنوان ہے ”پیغمبر اسلام کا خاکہ بنائیے ۔“

آزادی اظہار رائے کا نعرہ بلند کرنے والے اسی روزنامے نے اپریل 2003 میں عیسیٰ علیہ السلام کے کارٹون شائع کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ برطانوی اخبار دی گارجین نے 6 فروری 2006 کو بتایا کہ ڈنمارک کے جس روزنامے جے لینڈز نے رسول اللہ ﷺ کے خاکے شائع کئے ہیں، اسی روزنامہ نے اپریل 2003 ئمیں ڈنمارک کے کارٹونسٹ کرسٹوفر زیلیر کے عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت سے متعلق کارٹون کو شائع کرنے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر چہ بعض پادری ان کارٹونوں کو دیکھ کر مسکرائے تھے مگر ہمارے بعض قارئین شاید ان کارٹونوں کی وجہ سے غصہ میں آ جائیں اور ہمارے دشمن بن جائیں۔ اس لیے ہم ان کارٹونوں کو روزنامے میں شائع نہیں کر سکتے۔“

روزنامہ جے لینڈز پوسٹن کو یہ معلوم ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت سے متعلق کارٹونوں کو شائع کرنے سے چند قارئین کے جذبات مجروح ہوں گے مگر اسے یہ کیوں نہیں معلوم کہ محمد ﷺ کے گستاخانہ خاکے ڈنمارک میں بسنے والے ایک لاکھ 80 ہزار مسلمانوں جو ڈنمارک کی آبادی کا 3 فیصد ہیں کی دل آزاری کا باعث بنیں گے۔

روزنامہ جے لینڈز کو معلوم تھا کہ وہ گستاخانہ خاکے شائع کر کے کس سمت کی طرف جا رہا ہے۔ مگر حکومتی حمایت حاصل ہونے کی وجہ سے اس نے یہ جسارت کی۔ ڈنمارک میں سب سے پہلے اسلام کی توہین کی ابتداء ڈنمارک کی موجودہ ملکہ مارگریٹ نے کی تھی۔ ملکہ کی سرکاری سطح پر شائع شدہ بائیوگرافی (سوانح حیات) اپریل 2005 ئمیں منظر عام پر آئی۔ اس کتاب میں ملکہ مارگریٹ نے کہا کہ عالمی اور مقامی سطح پر ہمیں اسلام کا چیلنج درپیش ہے۔ ہمیں اسلام کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے مگر ہم نے سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کیا۔ ہمیں ہر وقت خطروں سے نبرد آزما ہونے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ کیونکہ کئی ایسی چیزیں ہیں جن سے درگزر نہیں کیا جا سکتا۔ ڈنمارک کی ملکہ نے اسلام کے خلاف جنگ کرنے کی دعوت دی۔

اس کے بعد بچوں کی کہانیاں لکھنے والے ڈنمارک کے مصنف کیری بلجن Kaere

صفحہ ۹۳

توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟ تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ Bluitgen نے محمدﷺ کی سیرت زندگی پر ایک کتاب لکھنا چاہی۔ اس کتاب کا عنوان کیری نے "قرآن اور محمدﷺ کی زندگی" رکھا۔ اس کتاب کا مواد تحریر ہو چکا تھا مگر مصنف کو ایسے کارٹونسٹ کی ضرورت تھی جو کتاب کے لئے محمدﷺ کے توہین آمیز خاکے بنا کر دے تاکہ وہ انہیں کتاب میں شامل کر کے اسے منظر عام پر لے آئے۔ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے کی وجہ سے کسی نے مصنف کو کارٹون نہیں بنا کر دیئے۔ بالآخر روزنامہ جے لینڈز کے چیف ایڈیٹر کو علم ہوا تو اس نے مصنف کو کہا کہ میں یہ خاکے آزادی اظہار رائے کے تحت بنا کر آپ کو دوں گا۔ اس کے بعد چیف ایڈیٹر نے پینٹرز ایسوسی ایشن کے 40 افراد کو بلایا اور انہیں توہین آمیز کارٹون بنانے کا حکم دیا۔ سب نے انکار کر دیا سوائے 12 افراد کے جنھوں نے توہین آمیز خاکے بنا کر دیئے۔ چیف ایڈیٹر نے ان خاکوں میں سے صرف 12 خاکے 30 ستمبر کو اپنے روزنامہ جے لینڈز میں شائع کئے جبکہ مصنف نے اپنی کتاب میں تمام گستاخانہ خاکے شائع کئے جن کی تعداد سو کے قریب ہے۔ کیری کی یہ کتاب چھپ کر مارکیٹ میں 24 جنوری 2006 کو آئی ہے اور انٹرنیٹ پر بھی دستیاب ہے۔ کتاب متوسط سائز کے 272 صفحات پر مشتمل ہے۔

کیری نے اس کتاب میں پیغمبر اسلامﷺ کی شخصیت مجروح کرنے کے ساتھ یہ دعویٰ کیا کہ محمدﷺ نے یہودیوں کو قتل کیا ہے۔ اور نازیوں کے دور میں بھی اتنے یہودی قتل نہیں ہوئے جتنے محمدﷺ کے دور میں ہوئے۔ کیری نے کتاب میں ایک خاکہ دکھایا جس میں محسن اعظمﷺ کھڑے ہو کر جائزہ لے رہے ہیں جبکہ ان کے ساتھی یہودیوں پر تشدد کر رہے ہیں۔ کتاب میں لاشوں پر ایک شخص کا خونی چہرہ بنایا اور اس کے ہاتھ میں تلوار تھما کر ایک خوفناک خاکہ بنا کر یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ رسول اللہﷺ (نعوذ باللہ) وحشی قاتل ہیں۔ اس کتاب میں خاکوں کے ذریعہ پیغمبر اسلام کو (نعوذ باللہ) ایک آوارہ اور لڑکیوں کو چھیڑنے والا شخص بنا کر پیش کیا گیا جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی کو بھی طعن و تشنیع بنا کر مذاق اڑایا گیا۔ اس کتاب میں اور بھی بہت کچھ بکواس کی گئی ہے۔ جنہیں یہ قلم تحریر کرنے سے عاجز ہے۔ کیری نے بچوں کے لیے لکھی جانے والی اس کتاب میں واہیات اور توہین آمیز خاکے اس لئے پیش کئے کہ بچوں کے ذہن میں اسلام کا غلط تصور نقش کر دیا جائے اور بچے سچائی اور جھوٹ میں تمیز نہ کر سکیں۔ کیری ملعون کا کتاب لکھنے کا اصل مقصد کیا تھا؟ اس کے بارے میں کیری نے خود 23 جنوری 2006 کو

صفحہ ۹۵

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

روز نامہ جے لینڈز پوسٹن میں ایک مضمون لکھ کر بتایا اس مضمون کا عنوان تھا ”حالیہ اور قدیمی تعصب“۔ کیری نے اپنی کتاب ”قرآن اور محمد ﷺ کی زندگی“ کو پڑھنے کی اپیل کرتے ہوئے لکھا کہ ”میری خواہش ہے کہ آنے والی نئی نسل اس کتاب کو پڑھے تاکہ ہم انہیں سمجھا سکیں کہ حقیقی اسلام کیا ہے۔ اس کتاب کو تصنیف کرنے سے اصل مقصد یہ تھا کہ کہیں ہماری نوجوان نسل دھوکہ کھا کر اسلام کے جال میں نہ پھنس جائے اس لئے یہ کتاب بچوں کے لیے لکھی گئی ہے۔“ کیری کے اس مضمون کے ساتھ ایک داڑھی والے آدمی کی تصویر بھی شائع کی گئی جس میں اس نے ایک پگڑی پہن رکھی ہے اور اس پر عبارت لکھی ہوئی ہے ”قرآن کریم“ جبکہ دونوں آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے اور اس پر لکھا ہوا ہے ”تعصب“۔ کیری نے یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ قرآن کریم پر عمل کرنے والا (نعوذ باللہ ) جنونی اور تعصب کو فروغ دینے والا شخص ہوتا ہے۔ اس مضمون کو کیری نے خاکوں سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے بارے میں ذکر کر کے مسلمانوں کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا ہے۔ توہین آمیز خاکے کا اصل ملزم کیری ہے جس نے روز نامہ جے لینڈز کے چیف ایڈیٹر کو آئیڈیا پیش کیا۔ ڈنمارک کی حکومت نے دنیا کے سامنے معذرت کا ڈھونگ تو رچایا مگر نہ اس مصنف کو گرفتار کیا اور نہ ہی اس کتاب پر پابندی عائد کی بلکہ جھوٹ بول کر مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش کی تا کہ وہ بائیکاٹ ختم کر دیں۔

30 ستمبر کو کارٹون شائع ہو جانے کے بعد ڈنمارک میں مسلمانوں نے ان گستاخیوں کا نوٹس لیا، اتوار 12 اکتوبر 2005ء کو کوپن ہیگن میں 27 اسلامی مراکز و تنظیموں کے رہنما و قائدین جمع ہوئے اور انہوں نے متحدہ کمیٹی بنانے کا اعلان کیا۔ اس کمیٹی کا نام یورپین کمیٹی برائے حرمت رسول ﷺ "The European Committee for Honouring of the Prophet" رکھا گیا اور اس کا امیر شیخ رائد حلیحل کو بنایا گیا۔ اس کمیٹی نے روزنامے سے توہین آمیز خاکے شائع کرنے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا مگر ایڈیٹر نے آزادی اظہار رائے کا نعرہ لگا کر مزید تصویروں کو اخبارات میں شائع کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ عنقریب وہ ایک کتاب شائع کرے گا جس میں گستاخی پر مبنی کارٹونز ہوں گے جو مسلمانوں کو مزید ذلالت اور توہین کا شکار کریں گے۔ اس کے بعد اس کمیٹی نے وزیر اعظم اینڈرس فوغ کے دفتر کا رخ کیا تو وزیر اعظم کی طرف سے جواب آیا کہ عدالت میں جاؤ، میں آزادی اظہار رائے کو ختم نہیں کر سکتا۔ عدالت

صفحہ 92

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

نے بھی آزادیِ اظہارِ رائے کی وجہ سے بات سننے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد اس کمیٹی نے اسلامی ممالک کے سفارت خانوں کا رخ کیا تو چند سفیروں کو شرم آگئی۔ اور 11 سفیروں نے وزیر اعظم سے ملنے کی درخواست کی مگر وزیر اعظم نے مصروفیات کا بہانا بنا کر ملنے سے انکار کر دیا۔ سفیروں کے بعد کمیٹی نے 19 اکتوبر 2005 کو دوبارہ وزیر اعظم سے ملنے کے لئے درخواست دی اور اس کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی۔ الجزیرہ ٹی وی نے بھی کمیٹی کی اس خبر کو نشر کیا وزیر اعظم کی طرف سے کمیٹی کو کوئی جواب موصول نہیں ہوا مگر روز نامہ جے لینڈز نے اپنی ویب سائٹ کے صفحہ اول پر الجزیرہ کا بیان عربی میں نشر کرنے کے ساتھ ایک خصوصی بینر شائع کیا جس میں لکھا ہوا تھا کہ ”محمدﷺ کے کارٹون دیکھنے کے لئے کلک کریں“۔ اس کے علاوہ جے لینڈز نے اپنی ویب سائٹ پر چیف ایڈیٹر کا ایک مضمون شائع کیا جو روزنامہ میں 12 اکتوبر کو شائع ہوا۔ مضمون میں چیف ایڈیٹر نے کہا کہ ”نہ ہم معذرت کریں گے اور نہ ہی خاکے چھاپنے سے باز آئیں گے۔ مسلمانوں کی طرف سے ہونے والی مذمت اور مظاہرے بے معنی ہیں اور ہم تشدد کی اس لہر کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ اس کے بعد 14 اکتوبر کو پانچ ہزار مسلمانوں نے ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں روزنامہ سے گستاخی کرنے پر معذرت مانگنے کی درخواست کی گئی۔ 10 نومبر کو ڈنمارک کے ایک روزنامہ Weekend Avisen نے رسول اللہﷺ کے پہلے سے بھی زیادہ توہین آمیز خاکے شائع کئے اور ایسے واہیات قسم کے مناظر دکھائے کہ کوئی ان کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا اور راقم کے پاس ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں کہ جن سے وہ ان خاکوں کی تفصیلات لکھ سکے۔

ان دنوں میں ہالینڈ کی رکن پارلیمان ایان ہری علی نے ڈنمارک کا دورہ کیا تھا۔ یہ وہی ملعونہ ہے جس نے ”سبمشن“ نامی فلم کا سکرپٹ لکھا جس میں ایک برہنہ عورت کی کمر پر قرآنِ کریم کی آیات لکھ کر بے حرمتی کی گئی ۔ اس فلم کا ہدایتکار تھیووان گوغ 2004ء میں ایک مسلمان کے ہاتھ جہنم واصل ہوا۔ ڈنمارک کے وزیر اعظم اینڈرس فوغ نے مسلمانوں کی مزید توہین کرنے کے لئے اس ملعونہ ایان کا جان بوجھ کر استقبال کیا جبکہ سفیروں کو مصروفیت کا بہانہ بنا کر ملنے سے انکار کر دیا۔ استقبالیہ کے دوران وزیرِ اعظم اینڈرس نے اس ملعونہ کو ایک سرکاری تمغۂ امتیاز سے نوازا جبکہ اس ملعونہ نے استقبال تقریب سے

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟

ڈنمارک کی ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا الیون کے بعد میں دین اسلام سے باغی ہوں اب سے لطف اندوز ہونے اور کچھ سبق سیکھنے آئی ہوں ایک توہین آمیز فلم بناسکوں جو اسلام کا اصل چہرہ اس کے بعد کمیٹی کے افراد نے ایک دفعہ سیکریٹری جنرل سے ملاقات کی اس کے بعد ع جنرل نے بھی ڈنمارک کے اخبار اور اس کی معاملہ کو اٹھایا گیا جس کی وجہ سے یہ معاملہ پوری ڈنمارک حکومت پر دباؤ بڑھنے کی وجہ سے روزنا جس میں کہا گیا کہ مسلمانوں کو غلط فہمی ہوئی ہے بلکہ ہم نے آزادی اظہار رائے کے تحت ان کے جو جذبات مجروح ہوئے ہم اس پر دلی ا اظہار رائے کے تحت ان کارٹونوں کو دوبارہ شا لینڈز نے مبہم الفاظ میں معذرت کا بیان جاری نے معذرت کر لی ہے اور وہ اپنے کئے پر نادم بائیکاٹ اور احتجاج عرب ممالک میں جاری مسلمانوں نے معاملے کو رفع دفع کر کے روزن کو روز نامہ جے لینڈز نے شائع کرتے ہوئے اور ہمیں اب بھی کارٹون چھاپنے کا حق حاصل اسی طرح 19 فروری کو تین سعودی ع جے لینڈز کے چیف ایڈیٹر سے منسوب ایک سے ان کی دل آزاری پر معافی مانگتا ہوں ا

ہے، جس کی بدولت ہی کے طور پر بیان کیا گیا چنانچہ سیرت نبوی کا وری میں خط و خال میں کامیاب ہو سکیں للہ رب العالمین ہے میں قدم رکھ سکوں ان کے باوجود اعداد مسلمانانِ عالم پر یہ طرح اور زاویے سے انفرادی زندگی میں کی آویزش اور کشمکش قیامت برپا کر گیا نے ایک نئی رمق ارتعاش سے پردہ حفظ کی خاطر اپنی مقبولیت بھی

صفحہ ۹۷

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

ڈنمارک کی ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”رسول اللہﷺ (نعوذ باللہ) صدام جیسے تھے۔ نائن الیون کے بعد میں دین اسلام سے باغی ہوں اور اب میں ڈنمارک میں آزادی اظہار رائے کے ماحول سے لطف اندوز ہونے اور کچھ سبق سیکھنے آئی ہوں تاکہ میں واپس جا کر محمد (ﷺ) کی سیرت و زندگی پر ایک توہین آمیز فلم بنا سکوں جو اسلام کا اصل چہرہ بے نقاب کرے گی۔“

اس کے بعد کمیٹی کے افراد نے ایک وفد مصر بھیجا جس نے جامعۃ الازہر کے شیخ اور عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات کی اس کے بعد عرب ممالک کے وزرائے خارجہ اور او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے بھی ڈنمارک کے اخبار اور اس کی مذمت کی۔ اسلامی کانفرنس تنظیم کے اجلاس میں بھی اس معاملہ کو اٹھایا گیا جس کی وجہ سے یہ معاملہ پوری دنیا میں پھیل گیا اور مسلمانوں نے احتجاج شروع کر دیا۔ ڈنمارک حکومت پر دباؤ بڑھنے کی وجہ سے روزنامہ جے لینڈز میں ایک بیان صفحہ اول پر عربی میں شائع ہوا جس میں کہا گیا کہ مسلمانوں کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ ہم نے ان کی توہین کرنے کے لئے خاکے شائع کئے ہیں بلکہ ہم نے آزادی اظہار رائے کے تحت ان خاکوں کو شائع کیا تھا۔ خاکوں کے شائع ہونے پر مسلمانوں کے جو جذبات مجروح ہوئے ہم اس پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہیں مگر ہم دوبارہ کہتے ہیں کہ آزادی اظہار رائے کے تحت ان کارٹونوں کو دوبارہ شائع کرنے کا حق اب بھی ہمیں حاصل ہے۔“ روزنامہ جے لینڈز نے مبہم الفاظ میں معذرت کا بیان جاری کیا جسے مغربی نیوز ایجنسیوں نے اس طرح پیش کیا کہ اخبار نے معذرت کر لی ہے اور وہ اپنے کئے پر نادم ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں تھا اور اسی وجہ سے اب تک بائیکاٹ اور احتجاج عرب ممالک میں جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے سربراہ کوفی عنان کا وہ بیان جس میں مسلمانوں سے معاملے کو رفع دفع کر کے روزنامہ کی معذرت قبول کرنے کی درخواست کی گئی ہے اسی بیان کو روزنامہ جے لینڈز نے شائع کرتے ہوئے اس کے آخر میں لکھا ہے کہ ”ہم نے کوئی معافی نہیں مانگی اور ہمیں اب بھی کارٹون چھاپنے کا حق حاصل ہے۔“

اسی طرح 19 فروری کو تین سعودی عرب اخبار (شرق الاوسط، الجزیرہ، الریاض) میں روزنامہ جے لینڈز کے چیف ایڈیٹر سے منسوب ایک بیان صفحہ اول پر شائع ہوا۔ اس بیان میں کہا گیا کہ مسلمانوں سے ان کی دل آزاری پر معافی مانگتا ہوں اور میں بطور چیف ایڈیٹر روزنامہ معافی مانگتا ہوں اور عہد

صفحہ ۹۸

ہے، جس کی بدولت نبی کے طور پر بیان کیا گیا چنانچہ سیرت نبوی کا دری میں خدوخال میں کامیاب ہوسکیں مذہب العالمین ہے میں قدم بقدم چلنے والوں ان کے باوجود اعداد مسلمانان عالم پر یہ طرح اور زاویے سے انفرادی زندگی میں بادیوں اور کفار تعلیمات کو اجاگر کیا ت کر سکتا ہے؟! کیا کے ایک دینی وملی ازشوں سے پردہ حفظ کی خاطر اپنی عفو و درگزر کی

تحفظ ناموس رسالت، کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

کرتا ہوں کہ آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔“ عربی اخبارات میں شائع ہونے والے اس بیان کو ابھی ایک دن بھی نہیں گزرا تھا کہ روزنامہ نے اسی دن 15 بج کر 29 منٹ پر اپنی ویب سائٹ پر ایک تردیدی بیان نشر کیا۔ اس بیان میں کہا گیا کہ عرب اخبارات میں شائع ہونے والے بیان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ بیان عرب ممالک میں کام کرنے والی ڈنمارک کی کمپنیوں نے شائع کروایا ہے۔ تاکہ عرب مسلمان ان کا بائیکاٹ ختم کر دیں۔ اسی طرح ڈنمارک کی وزارت خارجہ نے بھی اعلان کیا کہ اس کا عرب اخبارات میں شائع ہونے والے معذرتی بیان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور نہ ہی اس کا پہلے علم تھا۔ ویب سائٹ پر مزید بتایا گیا کہ چیف ایڈیٹر نے ایسا کوئی بیان جاری نہیں کیا اور ہم نے کارٹونوں کو شائع کرنے پر معذرت نہیں مانگی۔ توہین رسالت کی وجہ سے کتنا نقصان ہو چکا ہے اور کتنے ہی مظاہرین شہید وزخمی ہوچکے ہیں مگر روزنامہ جے لینڈز اب تک ہٹ دھرمی دکھا رہا ہے۔ اور معافی مانگنے سے انکار کرنے کے ساتھ ساتھ اب تک اپنی ویب سائٹ پر توہین آمیز خاکے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

اطالوی نیوز ایجنسی AKI سے 6 فروری کو گفتگو کرتے ہوئے روز نامہ کے 50 سالہ کلچر ایڈیٹر فلیمنگ روز نے کہا کہ خاکے شائع کرنے پر اسے ندامت نہیں بلکہ خوشی ہے اور وہ ہر قسم کے کارٹون شائع کرنے کے لئے بھی تیار ہے چاہے وہ یہودیوں کی نسل کشی کے حوالے سے کیوں نہ ہوں۔ فلیمنگ کے اس بیان کی وجہ سے روز نامہ کے مدیر اعلیٰ کارسٹن جسٹ نے اسے اخبار سے کافی لمبی چھٹی پر بھیج دیا اور یہ اعلان بھی کیا کہ ہم کبھی بھی یہودیوں اور عیسائیوں کے خلاف کوئی کارٹون شائع نہیں کریں گے۔ فلیمنگ روز کے بیان سے صرف ایک دن پہلے ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں عیسائیوں نے مسلمانوں کے احتجاج کے ردعمل میں بروز ہفتہ قرآن کریم کے نسخے گراؤنڈ میں جلائے جیسا کہ عیسائیوں نے موبائلز کے ذریعہ SMS کر کے اعلان کیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق ڈینش فرنٹ کے عیسائیوں نے 5 فروری کو کوپن ہیگن کے میدان میں مسلمانوں کو دھوکہ دے کر علاقہ کے شمالی جانب جا کر قرآن کریم کے نسخے جلائے جبکہ مسلمان سمجھے کہ جنوبی جانب قرآن کو جلایا جارہا ہے تو وہ اس جانب لپکے تو 7 ہزار مسلح پولیس نے ٹرکوں اور گاڑیوں کی طرف سے انہیں گھیر لیا جس کہ وجہ سے مسلمان بکھرنے پر مجبور ہو گئے۔ مگر

تحفظ ناموس رسالت، کیوں اور کیسے؟

160 مسلمان گرفتار ہو گئے اور پولیس نے تمام کیمرے کو معلوم ہوا کہ قرآن کریم تو علاقہ کے شمالی جانب وال والی تمام سڑکیں پولیس نے بلاک کر رکھی ہیں۔ وہاں کھڑی کی گئی رکاوٹی چیزوں کو عبور کر کے وہاں پہنچ قرآن کریم کے نسخے جلا کر وہاں سے واپس جاچک ہو گئے۔ مگر مسلمانوں نے ڈنمارک کی مصنوعات کا بائی

یونائیٹڈ پریس کے مطابق صرف سعودیہ ولما ”آرلا“ کو یومیہ 177 ملین ڈالر نقصان ہورہا ہے جبکہ تو اگلے چند مہینوں میں ڈنمارک کی کمپنیوں کو 160 ار سے زائد ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کر دیا جائے میں 2185 ڈنمارک کی ویب سائٹوں کو ہیک کیا۔ یو ہفتوں میں اتنی بڑی تعداد میں ویب سائٹوں کو ہیک ہون کی یہودیوں کمپنیوں نے مصنوعات کے بائیکاٹ کی خ انہوں نے ڈنمارک پر موجود دباؤ تقسیم کرنے کے لئے خاکے شائع کروائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ڈنمارک یورپی یونین لکھنا شروع کر دیا جیسا کہ اس بات کا انکشا سفیر نے مسلمانوں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ مسلمان ب ؟ ان کی اپنی مصنوعات تو موجود ہی نہیں ہے۔ ڈنمارک پتے کھانا گوارا کر لیں گے مگر اپنے پیغمبر کی توہین کرنے و

صفحہ ۹۹

تحفظ ناموس رسالتؐ، کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟ 160 مسلمان گرفتار ہو گئے اور پولیس نے تمام کیمرے چھین کر ضبط کر لیے۔ گھیرے کے دوران مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ قرآن کریم تو علاقہ کے شمالی جانب والے کونے میں جلایا جا رہا ہے۔ مگر اس طرف جانے والی تمام سڑکیں پولیس نے بلاک کر رکھی ہیں۔ وہاں پر جانے کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔ کچھ مسلمان کھڑی کی گئی رکاوٹی چیزوں کو عبور کر کے وہاں پہنچنے میں کامیاب ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ عیسائی قرآن کریم کے نسخے جلا کر وہاں سے واپس جاچکے ہیں۔ اس طرح عیسائی اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔ مگر مسلمانوں نے ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ پھر بھی ختم نہ کیا۔

یونائیٹڈ پریس کے مطابق صرف سعودیہ و امارات میں بائیکاٹ کی وجہ سے ڈنمارک کی فوڈ کمپنی ”آرلا“ کو یومیہ 177 ملین ڈالر نقصان ہو رہا ہے جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بائیکاٹ یوں ہی جاری رہا تو اگلے چند مہینوں میں ڈنمارک کی کمپنیوں کو 160 ارب ڈالر یعنی 39 ارب یورو کا نقصان ہوگا اور چار ہزار سے زائد ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کر دیا جائے گا۔ اس طرح مسلم ہیکروں نے صرف تین ہفتوں میں 2185 ڈنمارک کی ویب سائٹوں کو ہیک کیا۔ یورپی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک ملک کی صرف تین ہفتوں میں اتنی بڑی تعداد میں ویب سائٹوں کو ہیک ہونا انٹرنیٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ ڈنمارک کی یہودی کمپنیوں نے مصنوعات کے بائیکاٹ کی وجہ سے یہودی سرمایہ داروں کو شدید دھچکا لگا اور انہوں نے ڈنمارک پر موجود دباؤ تقسیم کرنے کے لئے 12 مغربی ممالک کے اخبارات میں توہین آمیز خاکے شائع کروائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ڈنمارک کی مصنوعات پر ڈنمارک کا نام لکھنے کی بجائے یورپی یونین لکھنا شروع کردیا جیسا کہ اس بات کا انکشاف ڈنمارک کے الجزائر میں موجود سفیر نے کیا۔ سفیر نے مسلمانوں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ مسلمان بائیکاٹ تو کر رہے ہیں مگر یہ کھائیں گے کہاں سے ؟ ان کی اپنی مصنوعات تو موجود ہی نہیں ہے۔ ڈنمارک کے اس سفیر کو پتہ ہی نہیں ہے کہ مسلمان گھاس اور پتے کھانا گوارا کر لیں گے مگر اپنے پیغمبر کی توہین کرنے والوں کے ٹکڑوں پر پلنا گوارا نہیں کریں گے۔

صفحہ 100

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ ٭ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

مغرب کی توہین رسالت.......حقائق آشکارا

ملمع سازی کا پردہ چاک

آفتاب عباسی

ڈنمارک اور ناروے کے اخبارات نے رکیک کارٹونوں کی اشاعت کی صورت میں پیغمبر آخر الزماںﷺ کی توہین کا ارتکاب کر کے جس خبث باطن کا مظاہرہ کیا ہے، دیگر یورپی ممالک کے اخبارات، حکمرانوں، تنظیموں اور اداروں نے اس کی تائید کر کے ثابت کر دیا کہ جدید، سیکولر، متمدن، بدلی ہوئی اور تبدیلیوں سے گزرتی اس دنیا میں اور کچھ بدلا ہو یا نہ بدلا ہو، اسلام اور مسلمانوں سے مغرب کا دیرینہ تعصب بہرحال نہیں بدلا۔ اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ سے صلیبیوں کی دشمنی میں سرمو فرق نہیں آیا۔ یہ آج بھی ان سے اتنی ہی شدت کے ساتھ بغض ونفرت کرتے ہیں جتنی کہ صلیبی جنگوں کے دور میں کرتے تھے۔

پیغمبرﷺ کی قیادت و رہنمائی میں رونما ہونے والے اسلامی انقلاب نے یہودی سیادت و اجارہ داری اور عیسائی غلبے و توسیع پسندی کی راہ جس طرح روکی، اس کی کسک اور چبھن یہود ونصاریٰ کے دل میں ہنوز روز اول کی طرح موجود ہے۔ رومن ایمپائر کی مجاہدین اسلام کے ہاتھوں زمین بوسی کا زخم مغرب اور امریکا کے صلیب پرست حکمرانوں کے ذہنوں میں آج بھی تازہ ہے اور مسلمانوں سے ان کا انتقام لینے کا جذبہ چھٹی صدی ہجری اور بارہویں صدی عیسوی میں فلسطین اور شام پر قبضے کے ارادے سے حملہ آور ہونے والے صلیبی یورپ کی طرح ہی جوان ہے۔

دراصل یورپ مسلمانوں کے حوالے سے کبھی بھی مذہبی تعصب سے آزاد نہیں رہا اور اس کی اسلام دشمنی میں سوا چودہ سو سالہ اسلامی تاریخ میں کبھی کمی نہیں آئی۔ فرق اتنا ہے کہ چھٹی صدی ہجری اور

صفحہ 101

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

بارہویں صدی عیسوی تک اس کا صلیبی تعصب کھلا، بے نقاب اور اعلانیہ تھا، لیکن صلیبی جنگوں میں عبرتناک شکستیں کھانے کے بعد اس نے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت اس پر پردے اور نقاب ڈالنے کا نیا انداز اپنایا۔ تاہم اللہ اور اس کے رسول کے ارشادات پر یقین اور تاریخ سے آگاہی رکھنے والے اہل بصیرت سے مغرب کی اسلام دشمنی اور مذہبی عصبیت کبھی بھی پوشیدہ نہیں رہی۔ مغرب نے جو بھی جامہ پہنا اور اپنی مذہبی انتہا پسندی کو جس لفافے میں بھی ملفوف کرنے کی کوشش کی، ایمانی بصیرت رکھنے والے اہل اسلام اسے تاڑتے ہی رہے۔

کسی کو یہ بات کتنی ہی ناگوار کیوں نہ گزرے اور کتنی ہی انتہا پسندانہ کیوں نہ نظر آئے بہرحال یہ حقیقت ہے کہ یہودی اور عیسائی فطرت کا دوسرا نام اسلام دشمنی ہے۔ جس طرح پاک بھارت آویزش تاریخ کی ایک گواہی ہے کہ بھارت نے پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم ہی نہیں کیا ہے، ایسے ہی اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے یہودی اور عیسائی تاریخ کا نچوڑ ہے کہ انہیں مسلمانوں کا آزاد اور خود مختار وجود قبول نہیں ہے۔ اور ان کی آزادی کو مکمل طور پر سلب کرنا ان دونوں کا آخری ہدف ہے۔ یہودی اور عیسائی مسلمانوں کے کبھی دوست نہیں ہو سکتے اور ان کی انتہائی خواہش یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان کے دین سے ہٹا کر کافر بنادیں، یہ قرآن کا اعلان و تنبیہ بھی ہے اور چودہ سو سالہ تاریخ نے بھی قدم قدم پر اس کی تصدیق کی ہے۔ مغرب اپنی عیسائیت کٹر پنتھی اور مذہبی انتہا پسندی کو بے نقاب چھوڑے یا اس پر سیکولر ازم، جمہوریت، نام نہاد انسانی حقوق اور انسانی آزادیوں کے نقاب چڑھائے یا تہذیب و روشن خیالی کی ملمع سازی کرے، اس کی اصلیت عیسائیت اور کٹر پنتھی ہی ہے۔ جس سے اس کا ذہنی و فکری لگاؤ کبھی کمزور نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ انتہا پسندانہ رہا۔ اس کا تازہ ترین ثبوت دنیا کے سوا ارب مسلمانوں کی محترم ترین مذہبی شخصیت کی توہین پر یورپ کا اتفاق اور اسے اپنی قابل فخر تہذیبی قدر قرار دینا ہے۔

مغرب کی یہ حرکت اور اس پر مسلمانوں کی طرف سے جاری احتجاج کی صورت میں دینی غیرت و حمیت کا اظہار، دشمن کے اٹھائے ہوئے شر سے خیر کے ظہور کا ایک اچھا نمونہ ہے۔ بے ضرر اور اعتدال پسندی کا امیج رکھنے والے ڈنمارک اور ناروے کے اخباروں اور حکومتوں کی یہ حرکت جو امریکا اور برطانیہ اور فرانس کی تاریخی انتہا پسندی کے سانچے میں نہایت فٹ بیٹھتی ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے

صفحہ 102

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

خلاف کسی نئے اقدام کی تمہید معلوم ہوتی ہے۔ اس کا مقصد مسلمانوں کی دینی غیرت کا ٹیسٹ بھی ہوسکتا ہے۔ اور مسلمانوں کی طرف سے زور دار ردعمل کے اسباب خود پیدا کر کے ان کے خلاف اپنے پروپیگنڈے اور منفی اقدامات کو نئی بنیادیں فراہم کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم یورپ کی اس گھناؤنی حرکت نے اس کے چہرے پر ملے اعتدال پسندی، رواداری اور امن پسندی کے غازے کو نہ صرف مکمل طور پر دھو ڈالا ہے، بلکہ اس کے روشن چہرے کے پیچھے اس کے باطن کی چنگیزیت والی تاریکی کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔

آخر ”اعتدال پسند“ اور ”مہذب“ عیسائی مغرب کے علاوہ اور کون سے اہل مذہب ہیں جو آزادی اظہار کے نام پر دوسرے مذاہب کی محترم شخصیات، یہاں تک کہ انبیاء کرام کی توہین بھی جرم نہ سمجھتے ہوں بلکہ اسے اپنا ایک اچھا اصول اور تہذیبی قدر کہہ کر اس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوں اور اس جرم کے مرتکبین کا مواخذہ کرنے کی بجائے اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو صبر و تحمل اور رواداری کی تلقین کرتے پھریں۔ دوسروں کے مذہبی اصولوں اور مقدس شخصیات کا مضحکہ اڑا کر ان کی دل آزاری کرنا بلکہ اسے اپنا حق سمجھنا اگر انتہا پسندی نہیں ہے تو پھر انتہا پسندی اور کس چیز کا نام ہے۔ مگر مغرب کا یہ امتیاز ہے کہ وہ ایک بدی ایجاد کر کے خود اسے سنبھالے رکھتا ہے اور اسے استعمال میں بھی لاتا ہے۔ مگر اسکے باوجود اس سے کہیں کم درجے میں بھی اختیار کرے تو وہ اس کے نزدیک بدترین اور قابل گردن زدنی ہو جاتا ہے۔ وہ دوسروں کے مذہب، مذہبی شخصیات اور تہذیبی قدروں کی توہین کر کے بھی خود ”مہذب“ ہی رہتا ہے۔ لیکن دوسرے اگر اپنی مذہبی قدروں اور مذہبی شخصیات کو توہین کے خلاف صدائے مذمت بلند کریں تو وہ اس کے نزدیک عدم برداشت والے انتہا پسند و دہشت گرد قرار پاتے ہیں۔ عیسائی مغرب اور اس کے اتحادی اسرائیل، روس، بھارت، ہزاروں ایٹم بم بنا کر اور امریکا انہیں استعمال کر کے بھی امن پسند ہیں، لیکن مسلمان اگر ایٹم بم اور میزائلوں کا خیال بھی دل میں لے آئیں تو وہ بدی کے محور اور دہشت گرد بن جاتے ہیں۔ مغرب کا یہی دوہرا معیار اور گھناؤنی ذہنیت کارٹونوں میں بھی نظر آتی ہے۔

مغرب پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین سے اتفاق کر کے امن دشمنی کا ثبوت دے رہا ہے۔ سوا ارب معمولی تعداد نہیں ہے۔ اور اتنی بڑی تعداد کے مذہبی جذبات کو چیلنج کرنا اور اس کے ساتھ کھیلنا کھلی

صفحہ ١٠٣

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟ دشمنی ہے۔ اور کھلی کھلی انتہا پسندی، بہر صورت مغرب کی اس حرکت نے اسلام کی بیان کردہ حقیقتوں کی صداقت کو مزید اجاگر اور آشکارا کیا ہے۔ اس سے مغرب کی اسلام دشمنی، پیغمبر اسلام سے اس کا بغض و کینہ، مذہبی تنگ نظری و انتہا پسندی، تہذیبی غرور و تکبر، امن دشمنی اور دوہرا معیار سب واضح ہو کر سامنے آئے ہیں اور اس نے اپنے چہرے پر دوسروں کے جذبات، عقیدے، اقدار، حقوق اور آزادیوں کے احترام اور رواداری اور امن پسندی کی جو ملمع سازی کر رکھی ہے۔ اس کا پردہ چاک ہو گیا ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ مغرب نے امریکا کی قیادت میں مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کے الزام و پروپیگنڈے کا جو طوفان کھڑا کر رکھا ہے جس سے مسلمان حکمران متاثر ہو کر اس کے شانہ بشانہ جا کھڑے ہوئے ہیں یہ در اصل اپنی دہشت گردی سے دنیا کی، خاص طور پر مسلمان حکمرانوں کی نظریں ہٹانے کی ایک فریب کا رانہ چال ہے مگر توہین رسالت کے جرم نے اس کی اس فریب کاری کا بھی پردہ چاک کر دیا ہے۔

مغربی اخبارات نے مسلمانوں کی شدید دل آزاری کی ہے اور بہت بڑا فتنہ اٹھایا ہے۔ اور یورپی یونین نے اس سے اتفاق اور یورپی کمیشن کے سربراہ نے اسے اپنی قدروں کے مطابق قرار دے کر نہایت درجہ کمینہ پن کا ثبوت دیا ہے مگر اس میں ان مسلمانوں کے لئے خاص طور پر ایک سبق بھی ہے جو اسلام سے جذباتی وابستگی اور اپنی دینی تعلیمات اور مذہبی قدروں پر مضبوطی سے عمل پیرا ہونے میں نہ صرف شرم محسوس کرتے ہیں۔ بلکہ یہود و نصاریٰ کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر دین و شریعت کے پابند مسلمانوں پر وہی پھبتیاں کستے ہیں جو مغرب نے ہمارے ہاں برآمد کی ہیں۔ ایسے ترقی پسند و روشن خیال مسلمان ذرا غور کریں کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات پر اس قدر یقین رکھتے ہیں جتنا کہ یورپی کمیشن کے سربراہ اور مغربی حکمرانوں کو اپنی ساختہ تہذیبی قدروں پر ہے۔ وہ بھی یہ سوچیں کہ جب یورپ اور امریکا کے صحافی، دانشور اور حکمران سوا ارب مسلمانوں کی ناراضگی سے قطع نظر اپنے اصولوں اور قدروں پر جمے ہوئے ہیں اور اس کے باوجود دہشت گرد اور انتہا پسند نہیں کہلاتے تو مغرب اور عالمی برادری کی خواہشات کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنی دینی تعلیمات اور مذہبی اقدار پر قائم رہنے والے مسلمان کیسے دہشت گرد اور انتہا پسند ہو گئے ہیں؟

صفحہ ١٠٣

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ ❁ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

آخر مغربی دنیا کیا چاہتی ہے؟

محمد بن محمود

اسلام مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کی تفریق کا قائل نہیں۔ اس کی نظر میں گورے اور کالے، عرب اور عجم سب کا یکساں مقام ہے، عزت اور سرفرازی صرف تقویٰ اختیار کرنے والوں کیلئے ہے۔ لیکن اس کا کیا کیجئے کہ جیسے مغرب کی سمت سورج بھی جا کر بے نور ہو جاتا ہے ویسے ہی دور حاضر میں وہاں کے باشندگان بھی اپنی اسلام دشمنی اور کور باطنی کی وجہ سے ظلمت شب کو بھی شرما رہے ہیں عجیب بات ہے کہ مغرب نے بارہا اپنے چہرے سے انسانی حقوق اور لبرل ازم کا، ماسک اتارا تا کہ دنیا بھر کے مسلمان ان کی حقیقت سے واقف ہو جائیں لیکن افسوس کہ ”شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں“ نے پھر بھی اسے پہچاننے میں غلطی کی۔ متحدہ ہندوستان میں انگریزی اقتدار کی چیرہ دستیاں ہوں یا عصر حاضر میں انسانیت کشی کا سب سے منظم منصوبہ گوانتاناموبے، ہر ایک کے پیچھے انہیں کے ہاتھ کارفرما ہیں۔ جن کی خوبیاں گنواتے ہم نہیں تھکتے۔

گزشتہ ایک صدی سے زائد کے طویل عرصے میں مغرب نے انسانیت کے خلاف جو جرائم کئے ہیں ان کی فہرست بہت طویل ہے اور شاید ایک ضخیم کتاب بھی اس کے لئے ناکافی ہو لیکن ان تمام شیطانی حربوں میں سب سے گھناؤنا، ناقابل معافی جرم حالیہ دنوں میں سید البشر، امام الانبیاء فخر دو عالم حضرت محمد ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں توہین آمیز اسکیچز کی اشاعت ہے۔ اس فعل بد کا آغاز یورپی ملک ڈنمارک سے ہوا۔ بعد ازاں ناروے، سویڈن، اور اسپین بھی اس میں ملوث ہو گئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورا یورپ پہلو بہ پہلو ان دلخراش واقعات میں شریک ہو گیا۔

یہ قابل گردن زنی جرم اتنا شدید اور المناک ہے کہ اس کیلئے مذمت کے تمام الفاظ کم معلوم ہوتے ہیں، اگر اسلام نے ایسے مواقع پر سزا کے بجائے گالی کے بدلے گالی کا قانون بنایا ہوتا تو ہم بھی ”

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ ❁

جواب آں غزل“ کے طور پر بہت کچھ لکھ سکتے تھے۔ لیکن اخلا انسانوں کا بدترین فعل ہے اور اس کے ذریعے انہوں نے تعلی معاشرہ جس نے انسانیت کو فراموش کر دیا ہو، جن کے یہاں ماں ساٹھ فیصد سے زائد آبادی اپنے باپ کی تلاش میں سرگرداں جرائم گاہیں قائم ہوں، جو خنزیر کھا کھا کر اس کی طرح بے غیرت پی کر خباثت اور غلاظت کی گٹھڑی بن چکے ہوں اور جن کے ڈکشنریوں سے نکال دیئے گئے ہوں ان کی طرف سے پاکیز مغربی دنیا اور اس کے کاسہ لیس ہر موقع پر عالم امن کے دعویدار بلکہ ٹھیکیدار ہیں اور ان کے تمام مخالفین کے دشمن ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں یہ جھوٹ بھی اپنی طرح جانتا ہے کہ ایک مسلمان کتنا ہی گنہگار اور تباہ حال کیو مآب ﷺ کے دامن اقدس کی طرف بڑھا ہوا ہاتھ اور جتنا بھی بے بس اور بے کس ہو وہ عالم تصور میں ہی سہی اس دنیا کے لیڈرز آج بتائیں کہ جب ان کی عوام لاکھوں مسلم ہوئے بھی گھناؤنا جرم کرتے ہوئے نہیں ہچکچاتی اور وہ خود ان امن کی ضمانت آخر کیوں اور کیسے دی جاسکتی ہے؟

مغربی دنیا کی طرف سے اس موقع پر آزادی اظہا بھر پور ثبوت فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ اگر آپ اسی آ بزرگ کو گالی نہیں دے سکتے۔ کسی شریف آدمی پر کیچڑ نہیں نہیں کر سکتے تو پھر مسلمانوں کے عظیم پیغمبر ﷺ کی توہین کرنے کی ناپاک جسارت کو کیسے درست کہا جاسکتا ہے۔ یہودیوں کی خود ساختہ نسل کشی کی داستان ”ہولو کاسٹ“ کو د

ہے، جس کی بدولت ہی کے طور پر بیان کیا گیا چنانچہ سیرت نبوی کا کردار کی طہارت اور میں کامیاب ہو سکیں رب العالمین ہے میں قدم بھٹکنے نہ دیں ان کے آباؤ اجداد مسلمانان عالم پر یہ طرح اور زاویے سے انفرادی زندگی میں کی آویزش اور کشمکش تعلیمات کو اجاگر کیا ست کر سکتا ہے؟ نے ایک دینی وملی سازشوں سے پردہ حفظ کی خاطر اپنی

صفحہ 105

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

’’جواب آں غزل‘‘ کے طور پر بہت کچھ لکھ سکتے تھے۔ لیکن اتنا کہے بغیر تو پھر بھی چارہ کار نہیں کہ یہ بدترین انسانوں کا بدترین فعل ہے اور اس کے ذریعے انہوں نے محض اپنے خبث باطن کا مظاہرہ کیا ہے۔ بھلا وہ معاشرہ جس نے انسانیت کو فراموش کر دیا ہو، جن کے یہاں ماں، بہن اور بیوی میں فرق مٹ چکا ہو، جن کی ساٹھ فیصد سے زائد آبادی اپنے اپنے باپ کی تلاش میں سرگرداں ہو، جن کے شہروں میں دنیا کی بدترین جرائم گاہیں قائم ہوں، جو خنزیر کھا کھا کر اس کی طرح بے غیرت ہو چکے ہوں، جو ام الخبائث (شراب) پی پی کر خباثت اور غلاظت کی گٹھڑی بن چکے ہوں اور جن کے ہاں شرافت ناموس اور غیرت جیسے الفاظ ڈکشنریوں سے نکال دیئے گئے ہوں ان کی طرف سے چاند پر تھوکنا، چاند کو کیا نقصان دے سکتا ہے۔

مغربی دنیا اور اس کے کاسہ لیس ہر موقع پر عالم اسلام کو یہ باور کرواتے آئے ہیں کہ وہ عالمی امن کے دعویدار بلکہ ٹھیکیدار ہیں اور ان کے تمام مخالفین بالخصوص مسلمانوں کی جہادی تحریکیں عالمی امن کے دشمن ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں یہ جھوٹ بھی اپنی موت آپ مر چکا ہے کیونکہ یورپ یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ ایک مسلمان کتنا ہی گنہگار اور تباہ حال کیوں نہ ہو وہ اپنے آقا ومولیٰ حضرت رسالت مآبﷺ کے دامن اقدس کی طرف بڑھا ہوا ہاتھ اور اٹھی ہوئی آنکھ برداشت نہیں کر سکتا۔ ایک مسلمان جتنا بھی بے بس اور بے کس ہو وہ عالم تصور میں ہی سہی اس ادھار کو چکانے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔ مغربی دنیا کے لیڈرز آج بتائیں کہ جب ان کی عوام لاکھوں مسلمانوں کے دل کی دھڑکنوں سے باخبر ہوتے ہوئے بھی گھناؤنا جرم کرتے ہوئے نہیں ہچکچاتی اور وہ خود ان مجرموں کی مکمل پشت پناہی کرتے ہیں تو عالم امن کی ضمانت آخر کیوں اور کیسے دی جاسکتی ہے؟

مغربی دنیا کی طرف سے اس موقع پر آزادی اظہار رائے کا حوالہ دینا درحقیقت اپنی حماقت کا بھر پور ثبوت فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ اگر آپ اسی آزادی اظہار رائے کے تحت کسی کے باپ یا بزرگ کو گالی نہیں دے سکتے۔ کسی شریف آدمی پر کیچڑ نہیں اچھال سکتے اور کسی شخص کے جذبات کو مجروح نہیں کر سکتے تو پھر مسلمانوں کے عظیم پیغمبرﷺ کی توہین کر کے لاکھوں انسانوں کے جذبات مجروح کرنے کی ناپاک جسارت کو کیسے درست کہا جا سکتا ہے۔ مغرب کے ذہنی دیوالیہ پن کی انتہا یہ ہے کہ یہودیوں کی خود ساختہ نسل کشی کی داستان ”ہولوکاسٹ“ کو وہاں باقاعدہ قانونی تحفظ حاصل ہے اور اس من

صفحہ ١٠٦

تحفظ ناموس رسالتﷺ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

گھڑت کہانی کا انکار آپ کو جیل تک پہنچا سکتا ہے۔ اور اس وقت آپ کو آزادی اظہار رائے جیسے نظریات سزا سے نہیں بچا سکتے لیکن مسلمانوں کے خلاف یورپ کونسل اور مذہبی تعصب انہیں یہ سب حقائق بھلا دیتا ہے۔

تحفظ ناموس رسالتﷺ کا باب کسی قلم کی سیاہی سے نہیں لکھا جا سکتا، اس داستان کو رقم کرنے کا اعزاز تو ڈیڑھ ہزار برس سے غازیوں اور شہیدوں کے مقدس لہو کی سرخی ہی کو حاصل ہے اور یقیناً اب تک اس دھرتی پر ایک بھی کلمہ گو باقی ہے وہ پوری ہمت، شجاعت اور دلیری کے ساتھ اپنے پاک نبی ﷺ کی عزت کا تحفظ کرتا رہے گا، ہم تو صرف مسلمانوں کو قرآن مجید کی وہ آیت یاد دلانا چاہ رہے ہیں جو مغربی دنیا کے اصل مقصد اور دلی خواہش کو بے نقاب کر رہی ہے۔

”اکثر اہل کتاب تو اپنے حسد کی وجہ سے حق ظاہر ہونے کے بعد بھی یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح سے تمہیں ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹا کر لے جائیں۔“

(البقرہ:109)

مسلمانوں کو ان کے دین سے برگشتہ کرنا یہی مغربی دنیا کا وہ اساسی اور بنیادی مقصد ہے جس کے لئے وہ ہر قسم کی سیاسی، اقتصادی، سماجی اور عسکری کوششیں کر رہے ہیں، اس لئے ناموس مصطفیٰﷺ کے تحفظ کا عمومی راستہ یہی ہے کہ مسلمان عملی طور پر دامن مصطفیٰﷺ سے وابستہ ہو جائیں اور دشمنان رسول کی ہر عادت اور ہر نشانی کا بائیکاٹ کر دیں خواہ وہ ان کی مصنوعات ہوں، ان کی شکل وصورت ہو یا ان کی تہذیب و تمدن کا کوئی حصہ۔

صفحہ 107

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

پبلک ڈپلومیسی اور توہین آمیز خاکے

سلیم بخاری

15 جنوری 2006ء کے واشنگٹن پوسٹ میں امریکا کے مشہور ادارے سکیورٹی سٹڈیز پروگرام کے سینئر مشیر جارج مائیکل نے ایک نہایت دلچسپ اور معنی خیز مضمون لکھا ہے، جو بعد میں لاس اینجلس ٹائمز نے بھی شائع کیا۔ ”Use Every Article in the Arsenal“ کے عنوان سے شائع شدہ اس مضمون میں جارج مائیکل نے امریکا کے صحافتی جرائم سے بڑے خوبصورت انداز میں پردہ اٹھایا ہے۔ لکھتے ہیں ”دوسری جنگ عظیم کے دوران جب جرمنی کو فتح کیا گیا تو سائیکالوجیکل وارفیئر ڈویژن کی توسیع کر کے امریکی فوج میں ”انفارمیشن کنٹرول ڈویژن“ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا جس کے سربراہ میجر جنرل رابرٹ میکلور مقرر کئے گئے۔ اس ادارے کا مقصد دراصل یہ تھا کہ جرمن عوام کی نفسیات کو صحافت کے ذریعے مفلوج کر دیا جائے اور انہیں ایک ایسی راہ پر لایا جائے جو امریکا کی اپنی طبائع کے مطابق ہو۔ 1946ء میں میجر جنرل رابرٹ میکلور نے ٹائم میگزین کے ایک نامہ نگار کو بتایا کہ ”مغربی جرمنی میں ہمارے کنٹرول میں 37 روزنامے، 6 ریڈیو اسٹیشن، 314 تھیٹر، 642 فلمیں، 101 میگزین، 237 پبلشر، 7384 پوسٹر اور 17 کارٹونسٹ ہیں جبکہ اس کے علاوہ ہم جرمن زبان میں ہی ایک روزنامہ بھی شائع کرتے ہیں، جس کی سرکولیشن 15 لاکھ روزانہ ہے۔ ہمارے کنٹرول میں تین بڑے میگزین ہیں اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف جرمنی نامی خبر رساں ایجنسی کو بھی کنٹرول کرتے ہیں جبکہ 20 لائبریری مراکز بھی چلاتے ہیں۔ ہم ہر ماہ رائے عامہ کے 15 جائزے لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہمارے مقصد کی تکمیل میں کہاں کمزوری رہ گئی ہے“۔

قارئین کرام واشنگٹن پوسٹ کے اس اقتباس سے اندازہ لگا چکے ہونگے کہ آج سے پورے 60 برس قبل رائے عامہ کو اپنے مشن کے حق میں ہموار کرنے اور اپنے مقصد کی تکمیل کیلئے کتنی حد تک ذرائع

صفحہ ۱۰۸

توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟ تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ ابلاغ پر قبضہ کر لیا گیا تھا اور اس حکمت عملی میں اب تک کتنی ترقی ہو چکی ہوگی۔ امریکا میں اب باقاعدہ میڈیا کمپینز بن گئی ہیں جو دنیا بھر کے اخبارات اور ٹی وی چینلز میں پلیسمنٹ کی خدمات انجام دیتی ہیں۔ خلیج جنگ کے دوران ایک خبر شائع ہوئی تھی کہ عراقی فوجیوں نے کویت کے ایک ہسپتال میں نوزائیدہ بچوں کے پیٹ میں سنگین بھونک کر انہیں اٹھایا اور ماؤں کو بے دردی سے قتل کر دیا ، اب اس کے کئی سال بعد یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ نیویارک کی ایک مضبوط میڈیا کمپنی کو بھاری معاوضہ دے کر دنیا بھر کے اخبارات میں یہ جھوٹی خبر چلائی گئی تھی۔ اب امریکی میڈیا کی طرف سے باقاعدہ طور پر یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ کویت پر عراقی قبضے کے دوران عراقی فوج کے مظالم کی جو خبریں اب تک شائع ہوتی رہی ہیں، وہ جھوٹ اور پروپیگنڈے پر مبنی تھیں تاکہ مسلمانوں اور عرب ممالک کے دلوں میں عراقی فوج سے نفرت پیدا کی جاسکے۔ حال ہی میں امریکا کے اس میڈیا گروپ کے بارے میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اس نے عراقی مدیروں اور صحافیوں کو بھاری رقم دے کر مسلمان جہادی گروپوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور امریکی پالیسی کے حق میں مضامین اور اداریے لکھوائے۔

ہم جرمنی ہی سے شروع کر کے امریکا کی صحافتی وارداتوں کا جائزہ لیں تو اس نتیجے تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں کہ جرمنی کی نازی پارٹی کی قیادت نے امریکیوں کی دانست میں غلط پالیسی اختیار کی تھی اور امریکا کا مقصد جرمنی کو صرف نازی سوچ سے پاک کرنا تھا جس کے لئے وہاں کے شعبہ نشر و اشاعت پر کنٹرول ضروری تھا۔ جرمنی کا مشن محدود اور سہل تھا کیونکہ وہ ایک روایتی انداز کی آسان جنگ تھی ، جسے امریکا نے جیت لیا لیکن اب امریکا اور اس کے اتحادیوں نے مسلمانوں کے خلاف جو صلیبی جنگ شروع کر رکھی ہے، یہ ایک غیر روایتی، مشکل، لامحدود اور غیر معینہ مدت تک چلنے والی جنگ ہے۔ اس جنگ میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کو صرف قطعہ زمین حاصل نہیں کرنا ہے بلکہ دل اور دماغ (Hearts and Minds) کو بھی اپنے قبضے میں لانا ہے لہٰذا اس کے لئے جرمنی سے کئی گناہ زائد محنت اور حکمت عملی درکار ہے۔ جرمنوں کو تو صرف وقتی اور کئی سال کی نمو پانے والی نازی سوچ سے پاک کرنا تھا لیکن اسلامی دنیا کو پورے ساڑھے چودہ سو سالہ پختہ اسلامی سوچ سے پاک کرنا ہے، جس کے لئے دنیا بھر میں ایک بڑی سطح پر بڑی تندہی سے کام ہو رہا ہے۔

صفحہ ۱۰۹

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

مسلمانوں کے خلاف جنگ میں امریکا نے صحافتی یلغار کے لئے نجی شعبے میں باقاعدہ ایک بڑا ادارہ اور وزارت خارجہ میں ایک شعبہ قائم کیا ہے، جسے پبلک ڈپلومیسی (Public Diplomacy) کا نام دیا گیا ہے اور شاید ہی دنیا کا کوئی اسلامی یا غیر اسلامی ملک ایسا ہو، جہاں ایف بی آئی کی مدد سے یہ پبلک ڈپلومیسی کا شعبہ کام نہ کر رہا ہو۔ پبلک ڈپلومیسی کا یہ شعبہ مسلمانوں کے اسلامی جذبات کو مردہ کرنے کے لئے جس پروپیگنڈے پر کام کر رہا ہے اسے یہ لوگ ”سچ“ کہتے ہیں (ڈنمارک سے مسلمانوں کی جس دل آزاری کا آغاز ہوا، یہ بھی اس شعبے کے ”سچ“ کا حصہ ثابت کیا جاسکتا ہے، نعوذ باللہ من ذالک)۔ اس سلسلے میں امریکیوں کا خیال ہے کہ اسلامی دنیا کا میڈیا بھی یہی سچ بولنے کے لئے بے قرار ہے لیکن اسلامی انتہا پسند اس کو ڈراتے دھمکاتے ہیں۔ یہ پبلک ڈپلومیسی شعبہ پوری دنیا کے نشر واشاعت کے اداروں کی خفیہ مالی اعانت کا پروگرام بھی چلا رہا ہے۔ پچھلے سال جب اس بات کا انکشاف ہوا تو گروپ کے بانیوں کا کہنا تھا کہ ”دہشت گردی کے خلاف ہمارا سب سے عظیم ہتھیار سچ ہے“۔

یورپی ملک ڈنمارک کے اخبار جے لینڈز پوسٹن میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی قبیح حرکت ہوئی تو مجھے بار بار اس پر یہی خیال آرہا ہے کہ اس ناپاک عمل میں امریکا کے اسی پبلک ڈپلومیسی کے شعبے کا ہاتھ ہے۔ اس کی دلیل یہی دی جاسکتی ہے کہ امریکا کو یورپ اور مسلمانوں میں جو دوری مقصود تھی اس میں وہ کسی نہ کسی حد تک کامیاب ہو گیا ہے۔ بہت سے یورپی ممالک امریکی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے تھے اور ان میں یہ سوچ بیدار ہو رہی تھی کہ امریکا مسلم ممالک کے وسائل پر قبضے کے لئے یورپ کو استعمال کر رہا ہے۔ یورپ کو امریکا کے قریب اور مسلمانوں سے دور کرنے کیلئے توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت کی منصوبہ بندی کی گئی جو نہایت کامیاب رہی۔ اب یورپ اور مسلمانوں میں فاصلے پیدا ہو چکے ہیں اور اس صورتحال سے فائدہ ہوا تو صرف امریکا کو ہوا...... باقی یورپ اور اسلامی دنیا دونوں کے حصے میں صرف نقصان ہی آیا۔

صفحہ 110

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

متعفن سوچ کے مکروہ مظاہر

عرفان صدیقی

ڈنمارک کے ایک اخبار کی جارحیت محض کسی آوارہ خو فرد واحد کے دماغ میں اُٹھنے والا فتور یا اس کی فکر بیمار میں انگڑائی لینے والی شیطنت کا نتیجہ نہیں، یہ اس عمومی روش کا اظہار ہے جو امریکہ اور یورپ کے باسیوں کے دل و دماغ میں سرطان کی طرح گھر کر چکی ہے اور وہ ترقی کی رفعتوں سے ہمکنار ہونے کے باوجود بغض، نفرت، کدورت اور گراوٹ کی پستیوں سے اوپر نہیں اُٹھ پائے۔ اسلام مسلمانوں اور اسلام کی علامتوں اور شعائر کے ساتھ اُن کے رویے کا سبب صدیوں پر محیط وہ عمل ہے جس نے اسلام کو ایک توانا، فعال، متحرک، انسانیت نواز، زندگی افروز اور جفاکش فلسفہ زندگی کے طور پر پیش کیا ہے جو تمام تر ناکہ بندیوں کے باوجود یورپ اور امریکہ میں تیزی کے ساتھ پھیلنے والا سرفہرست مذہب بن چکا ہے جس کی ”روح جہاد“ نے ان کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ یہ ”آزادی اظہار“ کا تقاضا ہے اپنی رائے، اپنی سوچ اور اپنا خیال پیش کرنے کا فطری حق ہے جس پر کوئی قدغن نہیں لگائی جاسکتی۔ ڈنمارک کے وزیر اعظم فرماتے ہیں کہ ”ساری دنیا کو اس حق کا احترام کرنا چاہیے کسی ریاست کو پریس کے رویے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرانا چاہیے“ لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں یہ محض آزادی اظہار، آزادی فکر کا معاملہ بھی نہیں۔ یہ ایک سوچی سمجھی مہم ہے جو برس ہا برس بلکہ صدیوں سے جاری ہے۔ جعلی نبوتوں کی تخلیق، ناموس رسالت پر حملے اور رحمت دو جہاں کے بارے میں مکروہات کی اشاعت اسی ناپاک مہم کا حصہ ہے۔ ڈنمارک کے اخبار ”جیلینڈز پوسٹن“ Jyllands Posten نے اگست کے اواخر میں ایک اشتہار کے ذریعے پریس پینٹرز ایسوسی ایشن کے ارکان کو باضابطہ دعوت دی کہ وہ پیغمبر اسلام کے خاکے بنائیں۔ منتخب خاکے، پینٹرز کے ناموں کے ساتھ شائع کئے جائیں گے۔

صفحہ ۱۱۱

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

اس اشتہار کے جواب میں پینٹرز ایسوسی ایشن کے چالیس ارکان میں سے بارہ نے خاکے بنا کر بھیجے۔ یہ بارہ کے بارہ خاکے ستمبر میں شائع کر دیئے گئے۔ ڈنمارک اس سے قبل بھی اسی نوع کی کئی وارداتیں کر چکا ہے۔ جولائی 2005ء میں ایک ڈنمارک ریڈیو چینل نے کہا ”مسلمانوں کا واحد علاج یہ ہے کہ اگر ہم انہیں ہلاک نہیں کر سکتے تو کم از کم یورپ سے باہر ضرور دھکیل دیں“۔ ستمبر 2005ء میں ڈنمارک پیپلز پارٹی کی ایک سرکردہ رکن لوئس فریورٹ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ”ڈنمارک میں پیدا ہونے والے مسلم نوجوان بھی بنیاد پرستانہ تعلیم سے آراستہ ہیں جو ہمارے معاشرے سے مطابقت نہیں رکھتی چونکہ ہمارا قانون دشمنوں کو سرعام قتل کرنے کے اجازت نہیں دیتا اس لئے ان مجرموں سے نمٹنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ انہیں حوالہ زنداں کر دیا جائے یا پھر انہیں روس کے جیل خانوں میں بھیج دیا جائے“۔

اس منظر نامے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ناموس رسالت پر مکروہ حملے کسی فرد واحد کے خبیث باطن کا اظہار نہیں، مغرب کی متعفن سوچ کا شاخسانہ اور سوچی سمجھی مکروہ مہم کا حصہ ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سائنس کی سرداری، ٹیکنالوجی کی تاجداری اور علوم و فنون کی عملداری کے باوجود اسلام کے بارے میں مغرب کی سوچ کس قدر پست اور کتنی نفرت بھری ہے۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ دہشت گردی کا سر چشمہ کہاں ہے؟ مسلمانوں کے ذہنوں میں چنگاریاں سلگانے، اُن کے دلوں میں آگ بھڑکانے اور اپنی جانوں سے بے نیاز ہو کر خودکش حملوں پر ابھارنے والی ہوائیں کہاں سے آ رہی ہیں، اسی پس منظر میں ایک بار پھر سوچئے کہ کیا نائن الیون کے بعد ”دہشت گردی“ کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے وقت بش کے ہونٹوں سے ”کروسیڈ“ کا لفظ یونہی پھسل گیا تھا یا اس کے پس منظر میں بھی اسلام اور اہل اسلام کے خلاف نفرت کا شیش ناگ پھنکاریاں لے رہا تھا؟ میں ابھی تک ”کین فنش برگ“ نامی اس امریکی نوجوان کو نہیں بھولا جس نے اسامہ بن لادن کی تصویروں والے ٹائلٹ پیپر رول بنانے کا اعلان کیا تھا اور امریکہ کی عالی مرتبت بارگاہوں سے اسے اتنے آرڈرز ملے تھے کہ چوبیس گھنٹے فیکٹری چلا کر بھی اس کے لئے ان آرڈرز کی تکمیل مشکل ہو گئی تھی۔ کیا اس قدر متعفن اتنا مکروہ اور ایسا اخلاق باختہ تصور کسی کلمہ گو مسلمان کے حاشیہ خیال میں بھی آ سکتا ہے؟

وہ خاکے بنائیں کارٹون تراشیں تصویر کشی کریں؟ ازل سے ابد تک جاری اس سرچشمہ نور کا

صفحہ ۱۱۲

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

کچھ نہیں بگڑے گا جو کرہ ارضی کے ہر گوشے میں لو دے رہا ہے۔ جس کے ذکر جمیل کو خود خالق کائنات نے رفعتیں بخش دیں وہ چمگادڑوں، جھینگروں اور مکوڑوں کی ہرزہ سرائی سے بہت بالا ہے وہ کیا جانیں کہ غبار راہ کو فروغ وادی سینا بخشنے والی ہستی کیا تھی؟ جس نے بنی نوع انساں کو عظمت انسانی کا درس دیا جس نے آدمیت کو ارفع قرینے دیئے جس نے حقوق انسانی کے تصور سے آشنا کیا جو اربوں انسانوں کے دلوں کی خوشبو، ذہنوں کا اجالا، روحوں کی آسودگی اور جذبوں کی حرارت ہے۔ چند شیطنت مزاج نابکاروں کی ایسی حرکتیں، ان کی سوختہ بختی اور کم نصیبی کے سوا کچھ نہیں۔ اس کا جواب دینا ہی ہے تو یورپ کے اقتصادی مفادات پر ضرب لگائیے۔ مسلمان ملکوں کی مارکیٹیں، ڈنمارک کی ڈیری مصنوعات سے بھری پڑی ہیں۔ ابھی تک سعودی عرب، کویت، لیبیا اور ایران کے سوا کسی نے ٹھوس ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ او آئی سی حسب معمول گہری نیند سوئی ہے اور ہم بدستور اس بے ننگ و نام جنگ کا ایندھن بنے ہوئے ہیں جسے خود یورپ اور امریکہ بھڑکا رہے ہیں۔ الزام مسلمانوں کے سر تھوپا جا رہا ہے کہ وہ انتہا پسند اور بنیاد پرست ہیں۔ جمہوریت کے معنی خود مختار اسلامی ممالک پر لشکر کشی، انصاف کے معنی اہل حرم کی لہو نوشی، دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مفہوم عالم اسلام کی سرکوبی اور آزادی اظہار کی تفسیر اسلام، اسلامی شعائر اور اسلامی علامات کو گالی دینا ہے۔ اس کے باوجود ہم تنگ نظر اور وہ روشن خیال ہیں اور اس کے باوجود ہم دہشت گرد اور وہ امن و آشتی کے سفیر ہیں۔

صفحہ ۱۱۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

عشق کا امتحان

جاوید چوہدری

بظاہر یہ محسوس ہوتا تھا کہ یہ خاکے محض اتفاق اور ایک ایڈیٹر کی بیوقوفی ہیں لیکن جب ناروے کے میگزین نے ان بجھی چنگاریوں کو ہوا دی اور نارویجن اخبار نے یہ چنگاریاں اڑا کر پوری دنیا میں پھیلا دیں تو معلوم ہوا یہ گستاخی محض بیوقوفی یا اتفاق نہیں تھا یہ عالم اسلام کے خلاف ایک گہری سازش تھی، اس سلسلے میں ہم یورپ کے دوسرے اخبارات کو بطور دلیل پیش کر سکتے ہیں جس وقت پورا عالم اسلام چراغ پا تھا اس وقت فرانس، جرمنی اٹلی اور سپین کے اخبارت نے بھی یہ خاکے شائع کر دیئے یہ خاکے فرانس کے اخبار فرانس سوئیز جرمنی کے اخبار لاھمبا میں شائع ہوئے یہ اقدام ثابت کرتا ہے یہ اتفاق نہیں تھا اور اسکے پیچھے ایک لمبی چوڑی سازش ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے، یہ سازش ہے کیا؟ آج سے پانچ برس پہلے مجھ سے ایک یورپی سکالر نے عجیب سوال پوچھا تھا، اس نے کہا تھا میں ایسے بے شمار روشن خیال اور لبرل مسلمانوں کو جانتا ہوں جو شراب پیتے ہیں، جو گے ہیں جو غیر فطری تعلقات کے حامی ہیں اور جو تیس برس سے یورپ میں رہ رہے ہیں، جو ہم جیسے ہیں لیکن جب ان کے سامنے نبی اکرم ﷺ کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے رد عمل اور ایک کٹر مولوی کے رد عمل میں کوئی فرق نہیں ہوتا ایسا کیوں ہے، ہم اس بات پر حیران ہیں اس سکالر کے سوال میں اس سازش کی ساری جڑیں پیوست ہیں، یورپ اور امریکہ کے "لبرل" دانشور ہر پانچ دس برس بعد اس قسم کی حرکت کرتے ہیں جس کے ذریعے یہ مسلمانوں کی لبرلزم کی سطح چیک کرتے ہیں، وہ یہ دیکھتے ہیں ہم اعتدال پسندی اور روشن خیالی کے کس درجے پر فائز ہیں لہٰذا اگر یہ محض اتفاق یا بے وقوفی ہوتی تو یہ بے وقوفی یولانڈ پوسٹن تک محدود رہتی یہ گستاخی میگزینت اور داگ بلادت تک نہ جاتی اور اس کے بعد یہ خاکے فرانس جرمنی اٹلی اور سپین کے اخبارات میں شائع نہ ہوتے اگر ہم واقعات کا جائزہ لیں تو یوں محسوس ہوتا ہے بارودی سرنگوں کا ایک سلسلہ تھا جس میں ایک بعد دوسرا دھماکہ ہوتا چلا گیا جس کے ذریعے معاملہ آگے بڑھتا گیا۔

صفحہ ۱۱۴

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

یورپی اخبارات اور حکومتوں کا ردعمل بہت دلچسپ ہے، ان کا کہنا ہے یہ محض آزادی رائے یا آزادی صحافت کا مسئلہ ہے اور ان کے اخبارات میں ہر قسم کا مواد شائع ہوتا رہتا ہے یہ موقف مکمل طور پر غلط اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ یولانڈ پوسٹن کی انتظامیہ اتنی سادہ اور بے وقوف نہیں وہ عوامی ردعمل سے اچھی طرح واقف ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہے ان کی آزادی کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں پہنچ کر اس کی سرحدیں ختم ہو جاتی ہیں۔ اگر یورپ کے اخبارات اتنے ہی آزاد ہیں تو انہوں نے آج تک یہودیوں کے خلاف کوئی خبر کوئی مضمون اور کوئی خاکہ کیوں شائع نہیں کیا یورپ کے اخبارات یہودیوں سے اتنے ڈرتے ہیں کہ وہاں جب بھی کوئی داڑھی والا کارٹون یا خاکہ بنایا جاتا ہے تو اس پر مسلم لکھ دیا جاتا ہے تا کہ کوئی قاری اسے غلطی سے یہودی نہ سمجھ بیٹھے۔ پچھلے پچاس برسوں سے یورپ کے کسی اخبار میں یہودیوں کے قتل عام (Holocast) کے خلاف ایک سطر شائع نہیں ہوئی لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہودیوں پر پہنچ کر یورپ کی آزادی صحافت دم کیوں توڑ دیتی ہے آج تک کسی نے ان سے یہ نہیں پوچھا اور نہ ہی ان لوگوں نے آج تک اس سوال کا کوئی جواب دیا۔ میرا خیال ہے یورپ کی آزادی صحافت مسلمانوں سے شروع ہوتی ہے اور مسلمانوں پر آکر ختم ہوجاتی ہے۔ اب آتے ہیں مسلمانوں کے ردعمل کی طرف وقت نے ثابت کیا مسلمان انتہائی برا ہو سکتا ہے لیکن نبیؐ رسالت ازواج مطہرات اور صحابہ کرام مسلمان کی زندگی کا وہ موڑ ہیں جہاں پہنچ کر وہ زندگی اور موت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتا ہے اور اس موڑ پر عموماً سو فیصد مسلمان شہادت کا فیصلہ کرتے ہیں یورپ اس بات کو نہیں سمجھ سکتا اسے کیا معلوم جس دن اللہ اکبر کی پہلی صدا مسلمان کے کان میں پہنچتی ہے تو اس کے خون کا ایک ایک قطرہ نبیؐ کی امانت سمجھتا ہے اور پوری زندگی کسی کذاب کسی راج پال کا تعاقب کرتے کرتے گزار دیتا ہے عشق کے اس امتحان میں موت پانی کے ایک گھونٹ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی کیونکہ مسلمان سمجھتے ہیں جب تک رسول اللہ کی ذات انکی ہر چیز سے زیادہ قیمتی نہیں ہو جاتی وہ مسلمان خود کو مسلمان ثابت کرنے پر تیار نہیں چنانچہ محسوس ہوتا ہے اب ان کے راستے میں جو بھی آیا وہ خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گا یہ عشق کا وہ دریا ہے جس کا کوئی بند نہیں ہوتا۔

صفحہ ۱۱۵

تحفظ ناموس رسالت کہاں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

اہل مغرب کی ناکام سازش

محمد اسماعیل ریحان

یورپی اخبارات میں حضور رحمت عالم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد جہاں پورے عالم اسلام میں شدید احتجاج ہورہا ہے وہاں سنجیدہ اذہان یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ مغرب کو عالم اسلام میں اپنے استعماری ، مشنری اور ثقافتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے مسلمانوں کی گہری خوابیدگی کی ضرورت تھی، اس نے یکا یک یہ بھونچال کیوں برپا کیا، نفرت کی چنگاریاں سلگا کر اس وقت عالم اسلام میں ہلچل مچانے کی آخر کیا وجہ تھی؟

طاغوتی طاقتیں عالم اسلام سے متعلقہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل اس کے بغیر بھی کرسکتی تھیں کہ ان کے مشنری ادارے عالم اسلام کے ہر شہر، قصبے اور دیہات میں کام کر کے بے شمار افراد کو مرتد بنا رہے ہیں، ان کا میڈیا اس ثقافت کو فروغ دے رہا ہے جو مادر پدر آزاد ہے، اور مسلم ممالک میں اسے روز بروز نہ صرف مقبولیت حاصل ہورہی ہے بلکہ اسلامی ممالک کا میڈیا بھی کم و بیش اسی ڈگر پر چل رہا ہے جغرافیائی لحاظ سے اسلامی ممالک کی سرحدوں کا تقدس آئے دن مجروح ہوتا رہتا ہے۔ فلسطین، کشمیر اور افغانستان سمیت مسلم دنیا کے اہم ترین پوائنٹ مغربی طاقتوں یا ان کے حامیوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ اس صورتحال میں اچانک ان خاکوں کی اشاعت سے اسلامی دنیا کو کیوں برافروختہ کیا گیا؟ یہ صورت حال تو مغربی دنیا کے مقاصد کے بالکل خلاف اور ان کے منصوبوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے۔

اس سوال کے جواب کے لیے ہم ڈنمارک کے دریدہ دہن اخبار جیلینڈز پوسٹن کے ایڈیٹر فلیمنگ روز کی اس تحریر پر نظر ڈالتے ہیں جس میں اس نے اس ناپاک ترین فعل کی توجیہات پیش کی ہیں۔ ان اقتباسات سے نہ صرف ہم اندازہ لگا سکتے ہیں اہل مغرب اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کیا نظریہ رکھتے ہیں بلکہ یہ بھی بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو اس بارے میں کس حد تک غیر

صفحہ 116

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

حساس دیکھنا چاہتے ہیں۔ رسوائے زمانہ ایڈیٹر لکھتا ہے کہ:

”کارٹون کی اجازت دینے میں میرے پیش نظر اسلامی موضوعات پر اظہار خیال سے روکنے والا خوف تھا جو یورپ میں کئی مواقع پر سیلف سنسر کا سبب بن چکا ہے۔ میں اب یہ سمجھتا ہوں کہ ہم یورپ والوں کو اس صورتحال کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہئے اور اعتدال پسند مسلمانوں کو اکسانا چاہیے کہ وہ اس پر کھل کر اظہار خیال کریں۔

مذکورہ اقتباس سے یہ بات بخوبی واضح ہوتی ہے کہ مغربی میڈیا حضور نبی کریم ﷺ سے متعلق موضوعات میں ادب و احترام کی لازمی حیثیت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ وہ اسے ایک خوف کے تحت رواج پانے والے ”سیلف سنسر“ کا نام دیتا ہے اور اس طرز کو تبدیل کرنے اور اسے ترک کرنے کا داعی ہے۔ گویا مغربی میڈیا یہ چاہتا ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف دریدہ دہنی کی فضا اتنی عام ہو جائے کہ اس بارے میں کوئی کچھ بھی کہہ سکے، کسی پر کوئی روک ٹوک نہ ہو۔ کسی کو پوچھ گچھ کا خوف نہ ہو۔ یہی نہیں بلکہ طاغوت کے یہ ایجنٹ یہ بھی چاہتے ہیں کہ آزادی اظہار کے نام پر بے ادبی اور گستاخی کے یہ جراثیم مسلمانوں میں بھی منتقل کر دیئے جائیں تا کہ وہ نام کے مسلمان بھی نہ رہیں بلکہ کھلے کافر، مرتد، زندیق اور گستاخ بن جائیں۔

ایڈیٹر اس حوالے سے بدبخت کارٹونسٹوں کا نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے ”ہم آپ یورپی مسلمانوں کو طنز و استہزاء کی اس روایت میں شامل کر رہے ہیں کیونکہ آپ ہماری سوسائٹی کا حصہ ہیں کوئی غیر نہیں۔“

اندازہ لگائیے کہ کس بے حیائی کے ساتھ بد باطن خود مسلمانوں کو توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیانک جرم میں شرکت کی دعوت دے رہے ہیں۔ اور اس بارے میں نرم گوشہ رکھنے والے افراد کو اعتدال پسند مسلمانوں کا نام دیا جا رہا ہے۔

توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد بی بی سی سمیت مغربی میڈیا کے متعدد چینلز اور درجنوں اخبارات نے ”اعتدال پسند مسلمان دانشوروں“ کے طور پر ایسے لوگوں کو متعارف کرایا ہے۔ جن کے عقائد و نظریات قطعاً ملحدانہ ہیں جو سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں مغرب نے

صفحہ 117

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس واقعے کے بارے میں ان کے ایمان کش خیالات و نظریات کی خوب خوب تشہیر کی ہے۔ جن میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کو اس بات میں قطعاً جذبات سے کام نہیں لینا چاہئے بلکہ صبر و تحمل سے مغرب کے موقف پر غور کرنا چاہیے۔ اور آزادی اظہار کے عالمی دھارے میں شامل ہونا چاہیے۔

اس بات کا ثبوت کہ یہ خاکے باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت شائع کئے گئے ہیں جو گستاخ ایڈیٹر کے اپنے الفاظ ہیں۔ مذکورہ صورتحال کا ذکر کرنے کے بعد وہ لکھتا ہے ”میں نے ڈینش کارٹونسٹوں کی ایسوسی ایشن کے ارکان کو دعوت دی کہ وہ اپنے تصورات کے مطابق حضرت محمد ﷺ کی تصویر کشی کریں “ ظاہر ہے کہ کارٹونسٹوں کو کسی کے کارٹون بنانے کی دعوت دینے کا مقصد اس کی توہین کے سوا بھلا اور کیا ہوسکتا ہے۔

گستاخ رسول ایڈیٹر کی خودسری ملاحظہ کریں کہ اس نے یہ ماننے کے باوجود کہ اس فعل سے مسلمانوں کو صدمہ پہنچا ہے۔ کہا ہے کہ ”ہم ایسا مواد بلکہ جارحانہ مواد شائع کرنے کا حق رکھتے ہیں اور اس پر قطعاً معذرت خواہ نہیں ۔“

لگتا ہے مغربی میڈیا نے ہر قیمت پر یہ تہیہ کر لیا ہے کہ وہ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں ادب و احترام کی رائج فضا کو ختم کرنے کی مہم ترک نہیں کرے گا، اس کی بنیادی وجہ خود اس ایڈیٹر کے قلم سے یہ سامنے آئی ہے۔ ”سرد جنگ کا یہ سبق ہے کہ اگر آپ ایک بار مطلق العنانیت پر مبنی خدمات سے دب جائیں گے تو مطالبات بڑھتے جائیں گے۔ مغرب کو سرد جنگ میں غلبہ اس لیے حاصل ہوا کہ ہم اپنی بنیادی اقدار پر قائم رہے اور ہم نے مطلق العنان جابروں کو خوش کرنا گوارا نہ کیا۔“

کیا یہ تحریر ظاہر نہیں کررہی کہ مغرب مسلمانوں کا چوطرفہ استحصال کرنے کے باوجود ان کی جانب سے صرف اپنے مذہبی حقوق کے تحفظ کی صدا کو بھی ”مطلق العنانیت“ سمجھتا ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ مغربی طاقتیں مسلمانوں کو بالکل کیڑے مکوڑے کی طرح بے حیثیت تصور کرتی ہیں۔ ان کا کوئی حق ان کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ان کی طرف سے بنیادی حقوق اور مذہبی اقدار کی خاطر بلند کی جانے والی آواز بھی اسی طرح مٹا دینے کے قابل ہے جس طرح کسی ظالم و جابر کی مطلق العنانیت۔ کیا

صفحہ ۱۱۸

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

ستم ہے کہ اس کھلے جبر و استبداد کے باوجود مغرب کو رواداری اور وسعت ظرفی کا دعویٰ ہے۔ کیا ہم اہل مغرب کے ”دانشور طبقے“ کی اس قدر پست ذہنیت کے بعد بھی ان سے کسی خیر کی توقع رکھ سکتے ہیں؟

بہر کیف یہ بات باعث اطمینان ہے کہ اس تمام تر شیطانی منصوبہ بندی کے باوجود مغرب مسلمانوں میں حضور نبی کریم ﷺ کے ادب احترام کے جذبات کم نہ کر سکا۔ بلکہ اس چوٹ سے مسلمانوں میں حب رسول ﷺ کی تڑپ پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ مسلمانوں نے دنیا بھر میں بھرپور احتجاج کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ مغرب کی اندھی نقالی کے باوجود ایسے بے راہ رو نہیں ہوئے کہ اپنے آقا کے نام کا ادب و احترام بھی فراموش کر دیں، ایک بے ادب، بے لگام، مردہ دل اور سیاہ باطن قلم کار اسے چاہے دانشوری کا نام دے یا اظہار آزادی کا، اسے اعتدال پسندی کہے یا روشن خیالی، اس پر سنسر شپ کے خاتمے کا لیبل لگائے یا اسے غیر جانبدار رجحان کی حوصلہ افزائی سے تعبیر کرے مگر مسلمان چاہے کیسا ہی گیا گزرا ہو، کتنا ہی باغی شرابی کبابی ہو، وہ اسے گستاخی ہی کہے گا، وہ اسے ایک لمحے کے لیے بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ وہ اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کے لئے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان میں آجاتا ہے اسے یہ احساس ہے کہ وہ گناہ گار ہے، بدکار ہے، روسیاہ ہے، اسے یہ بھی اندازہ ہے کہ وہ خدا کا مجرم ہے، اسے یہ بھی پتا ہے کہ اسے راہ سے ہٹانے والے شیطان کے ایجنٹ بھی مغربی میڈیا کے کرتا دھرتا ہیں۔ وہ یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی دن رات ان کے ہاتھوں لٹتا رہا ہے۔ اسلامی صورت، شکل، لباس، سب کچھ ان کے لئے لٹا دیتا ہے...... مگر جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ ان بدبختوں کا ہاتھ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کی طرف بڑھ رہا ہے تو وہ برداشت نہیں کر سکتا۔ مغربی مے کا نشہ ایک لمحے میں ہرن ہو جاتا ہے۔ ایمان کی چنگاری جس پر کروڑوں گناہوں کی دھول جمی ہوتی ہے۔ ایمانی غیرت کے ایک جھونکے سے سلگنے لگتی ہے اور سلگ کر شعلہ جوالہ بن جاتی ہے۔ پھر یورپی مصنوعات کوڑے کے ڈھیروں پر نظر آتی ہیں۔ سڑکیں احتجاج کرنے والوں سے بھر جاتی ہیں۔ پھر بظاہر لبرل مسلمان بھی انتہا پسندوں کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ مغرب کے ہرزہ سرا بد قماشوں کو کہنا پڑتا ہے ”سارے مشرق وسطیٰ اور ایشیا میں جو المناک مظاہرے ہوئے ہیں ہمیں ان کی توقع نہ تھی۔ نہ ہم ایسا چاہتے ہیں۔ ہمارے اخبار کو 104 دھمکیاں موصول ہو چکی ہیں۔ 100 افراد حراست میں ہیں، کارٹونسٹ کو قتل کی دھمکیاں ملنے کے

صفحہ 118

توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟ دینی اور وسعت ظرفی کا دعویٰ ہے۔ کیا ہم اہل بھی ان سے کسی خیر کی توقع رکھ سکتے ہیں؟ تمام تر شیطانی منصوبہ بندی کے باوجود مغرب بات کم نہ کر سکا۔ بلکہ اس چوٹ سے مسلمانوں انہوں نے دنیا بھر میں بھر پور احتجاج کر کے یہ کہ بے راہ رو نہیں ہوئے کہ اپنے آقا کے نام کا قم ، مردہ دل اور سیاہ باطن قلم کار اسے چاہے کی کہے یا روشن خیالی ، اس پرسیلف سنسر کے اسے تعمیر کرے مگر مسلمان چاہے کیسا ہی گیا گا، وہ اسے ایک لمحے کے لیے بھی برداشت لئے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان میں رو سیاہ ہے، اسے یہ بھی اندازہ ہے کہ وہ خدا کے شیطان کے ایجنٹ یہی مغربی میڈیا کے کرنا ہاتھوں لٹوا رہا ہے۔ اسلامی صورت، شکل، ہے کہ ان بدبختوں کا ہاتھ ناموس رسالت نہیں کر سکتا۔ مغربی مے کا نشہ ایک لمحے میں کی دھول بھی ہوتی ہے۔ ایمانی غیرت کے تا ہے۔ پھر یورپی مصنوعات کوڑے کے جاتی ہیں۔ پھر بظاہر لبرل مسلمان بھی انتہا ں کو کہنا پڑتا ہے ”سارے مشرق وسطی اور ۔ نہ ہم ایسا چاہتے ہیں۔ ہمارے اخبار کو ، کارٹونسٹ کو قتل کی دھمکیاں ملنے کے

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟ باعث روپوش ہیں، ”جیلینڈز پوسٹن“ کے ہیڈ کوارٹر کو کئی بار بم دھماکوں کی دھمکیوں کے باعث خالی کرنا پڑا ہے۔ یہ وہ فضا نہیں کہ جس میں سنسر شپ کو نرم کیا جاسکے۔“

آخر ایسا کیوں نہ ہو، کون ہے جو کالی کملی والے کی عظمت کو دھبہ لگانے کی کوشش کرے اور پھر چین و آرام سے رہ سکے۔ چاند کا تھوکا خود اپنے منہ پر ہی آتا ہے۔

ے جس کی بدولت نبی کے طور پر بیان کیا گیا چنانچہ سیرت نبویؐ کا کرداری طہارت اور دوری میں حد درجہ دان میں کامیاب ہو سکیں ش رب العالمین ہے میں قدم جھکنے دوں ان کے آبا و اجداد مسلمانان عالم پر یہ سطح اور زاویے سے انفرادی زندگی میں ل آویز اور کفار تعلیمات کو اجاگر کیا ست کر سکتا ہے؟! نے ایک دینی وملی ازشوں سے پردہ تحفظ کی خاطر اپنی

صفحہ 120

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

قوت اور مذہب کا تصادم..... مسلماں کو

مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے

حافظ سجاد بھٹی

”جن چیزوں نے انسانی فکر کو متاثر کیا وہ دو تھیں، قوت اور مذہب۔ قوت کا اثر محدود تھا، اس کی محدود قوت کے ذریعے انسان کے جسم پر تسلط حاصل کیا جا سکتا تھا لیکن اقلیم دل کی فتح ناممکن تھی۔ مذہب کی حکمرانی انسان کے ان بنیادی جذبات پر تھی جہاں اس کی فکر و نظر کے سانچے ڈھلتے تھے اور جہاں اس کی شخصیت تعمیر ہوتی تھی“۔

”کسی قوم یا شخص کی روح تک پہنچنا ہو تو اس کے معتقدات مذہبی کی تحقیق کرنی چاہئے“۔

اوپر کے دونوں اقوال مغرب کے قلمکاروں برتھولٹ اور کارلائل کے ہیں جن میں انہوں نے قوت اور مذہب کے اثرات کا جائزہ لیا ہے اور تسلیم کیا ہے کہ قوت کا رول عارضی رہا ہے۔ قوت نے سلطنتیں فتح کیں، ممالک کو زیر کیا، پہاڑوں کو سر کیا، سمندروں کو چیر ڈالا، زمین کے سینے میں دھنس گئی، ہواؤں کا رخ پھیرا، حریفوں کو چت کیا، ملک و قوم کا نقشہ بدل ڈالا مگر اس کے نقوش دیرپا ثابت نہ ہو سکے۔ وہ انسانی فکر، انسانی روح اور انسانی ضمیر کو بدلنے پر کبھی قادر نہ ہوسکی۔ طاقت کا شیرازہ بکھرتے ہی سب کچھ ہوا ہوا۔ تاریخ اس کے مقابلے میں مذہب کی پشت پناہ قوت رہی یا نہ رہی مگر اقلیم دل کو فتح کرنے میں صرف مذہب ہی کامیاب ہوا۔ جن اعمال، روایات اور تہواروں میں مذہب نے رنگ بھرا وہ انسانی زندگی کا معمول بن گئے۔ اس کے لئے کسی تعزیر، جرمانے اور قانون کو حرکت میں لانے کی ضرورت نہیں

صفحہ 121

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

پڑتی۔ مثلاً ماہ صیام کے آتے ہی مسلمان سحری و افطاری کے ضابطے پورے کرتے ہیں اور عیدین کے خوشیوں کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔ مذہب ماں کے دودھ کی دھاروں کی طرح انسانی خون میں شامل ہوتا چلا جاتا ہے۔ انسانی ضمیر کو بیدار کرنے اور روح کو بالیدگی دینے کے لئے مذہب سے زیادہ کوئی مؤثر عامل نہیں۔

مغرب چونکہ طاقت کے گھوڑے پر سوار ہے اس لئے وہ طاقت سے دنیا کو فتح کرنے کی مہم پر نکل کھڑا ہوا، اس نے سلطنتوں کو زیر و زبر کر ڈالا، کوہ و دمن روند ڈالے، ایٹم پر قدرت حاصل کر لی، سمندر کی تہیں کھنگال ڈالیں، زمین کا سینہ شق کر کے اس کی دولت سمیٹ ڈالی، خلاؤں کو مسخر کر لیا، فضاؤں پہ قدرت حاصل کر لی، عسکری قوت سے غاروں کو ادھیڑ ڈالا، سیاست، سیاحت، معیشت، ضمیر و روح پر بھی غلبہ حاصل کرنے کی ٹھانی۔ گاجر بھی دی اور لاٹھی بھی دکھائی، غارت گری بھی کی اور تذلیل بھی، نظام بھی بدلا اور نصاب بھی، تہذیب کا سبق پڑھایا، روشن خیالی کی ہوائیں دیں، دہشت گردی کے جھکڑ چلائے تاکہ مذہب کو زیر کرسکے۔ وہ اپنے زعم میں اس میں دھیرے دھیرے کامیاب ہورہا تھا، اس نے توہین قرآن کے ذریعے اپنی کامیابی کے گراف کا جائزہ لیا، اس کے بعد آخری وار کی تیاری کی۔ ڈنمارک سے اس حملے کا آغاز ہوا جب کرے بلوگن نے 2005ء کے آغاز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک کتابچہ لکھا۔ اس نے کتاب میں کچھ خاکے شامل کرنے کے لئے ڈنمارک کے آرٹسٹوں سے رابطہ کیا مگر انہوں نے انکار کر دیا اور اس کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان اسے گستاخی سمجھتے اور ایسے گستاخوں کو قتل کردیتے ہیں۔ بلوگن اور ”جیلنڈزپوسٹن“ کے ایڈیٹر نے مشترکہ طور پر 40 آرٹسٹوں کو خاکوں کے لئے کہا مگر اکثر نے انکار کردیا۔ عام حالات ہوتے تو شاید خاموشی اختیار کرلی جاتی مگر اس کے پیچھے ایک پورا منصوبہ کام کررہا تھا کیونکہ 5 مئی 2005ء کو جرمنی کی ریاست بویریا میں بلڈر برگ آرگنائزیشن کی ایک کانفرنس ہوئی۔ جس میں توہین رسالت کے اقدام کا فیصلہ ہوا۔ بلڈر گروپ کا ”لوگو“ خطرے کے نشان والی کھوپڑی اور ہڈیوں پر مشتمل ہے۔ خطرے کے اس نشان کے نیچے ایک ہاتھ گلوب کو اپنی ہتھیلی پر گھماتا نظر آتا ہے، گلوب پر دنیا کا نصف حصہ تاریک اور نصف روشن ہے جس سے غالباً یہ پیغام دینا مقصود ہے کہ روشن مغرب کے پاس ہے اور تاریکی کا مرکز عالم اسلام ہے۔ بلڈر گروپ کی کانفرنس جنوبی جرمنی میں میونخ سے 60 کلومیٹر دور

صفحہ ۱۲۲

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

”ڈورنٹ ہوٹل بوئل“ میں منعقد ہوئی۔ اس اجلاس میں جو لوگ شامل ہوئے ان میں ہنری کسنجر (سابق امریکی وزیر خارجہ) ورلڈ بینک کے نومنتخب صدر پال وولفوٹز، نیٹو کے سیکرٹری جنرل جاپ ہوپ شیفر، ورلڈ بینک کے سابق صدر جیمز وولفین، ڈاکٹر اسٹینلے فشر (گورنر بینک آف اسرائیل) بیلجیم کے پرنس فلپ، شیل گروپ آف کمپنیز کے صدر جیروں ویندر، آرتھر ڈبلیو ایچ، ڈاکٹر وان لین، جارڈن جونیئر (1991ء میں کلنٹن کو اس تنظیم میں لایا) جاکو لیلکا (فیٹ کمپنی) کا یہودی بینکار ڈیوڈ راک فلر، بلڈر برگ کے اعزازی چیئرمین رتینی ڈیوکٹن، ڈنمارک کی مشہور شخصیت اینڈ رایلڈرپ چیئرمین ڈینش آئل اینڈ نیچرل گیس (میریٹے ایلڈرپ کا شوہر ہے جو ڈنمارک کے اخبار جیلنڈز پوسٹن کی منیجنگ ڈائریکٹر ہے جس نے توہین آمیز خاکے شائع کئے) روتھس چائلڈ خاندان کے افراد، مائیکل لیڈین، رچرڈ پرلے اور ولیم کٹی جیسے فاشسٹوں سمیت ہالینڈ، بیلجیم، اسپین کی اشرافیہ، دیگر ممالک کے ٹاپ بیوروکریٹس اور نیٹو کی اعلیٰ شخصیات شریک ہوئیں۔ اسی طرح برطانیہ کے ایم پی کلنٹھ کلارک بھی موجود تھے۔ اس کے ارکان کو CIA, MI 6، موساد اور جرمنی کی سیکرٹ اور انٹیلی فورسز تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

بلڈر برگ گروپ کی تشکیل جنگ عظیم دوم کے بعد ہوئی۔ اس کے بانیوں میں برطانوی پرنس فلپ اور ہالینڈ کے پرنس برنارڈ کا نام آتا ہے۔ یہ گروپ دنیا کے بڑے مالیاتی ممالک اور کمپنیز کی نمائندگی کرتا ہے اور اسٹریٹجک معاملات پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرتا ہے۔ مثلاً 1973ء مشرق وسطی کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد تیل کی سپلائی منقطع ہونے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے سویڈن میں ”سالٹس جو باؤن“ کے مقام پر بلڈر برگ کا اجلاس ہوا اور معروضی حالات کے مطابق پالیسی مرتب کی گئی۔

5 مئی 2005ء کے اجلاس کے متعلق ویبسٹر گریفین (Webstergriffin) نے اپنے مضمون میں لکھا ہے ”اس بات کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ کارٹونز کے ذریعے اشتعال پھیلانے کا منصوبہ اس اجلاس میں بنایا گیا جس کے ذریعہ ہنٹنگٹن کے تہذیبوں کے تصادم کے نظریے کو ایک حقیقت ثابت کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ دوسری طرف یورپ ایران کے خلاف جنگ کی حمایت کے لئے پہلے کی نسبت زیادہ بہتر پوزیشن میں آگیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی شام، ایران اور لبنان میں ڈنمارک کے

صفحہ ۱۲۳

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

سفارت خانے جلائے جا چکے ہیں۔ سی آئی اے، ایم آئی سکس اور موساد کے ایجنٹوں نے سفارتخانے جلا کر تہذیبوں کے تصادم کو طے شدہ امر کے طور پر یورپی عوام کے سامنے پیش کیا“۔

یہ سارا منظر نامہ واضح کر رہا ہے کہ ”توہین رسالت“ نہ محض اتفاق ہے اور نہ ہی بے وقوفی بلکہ یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس کے ذریعے مسلمانوں سے آخری مورچہ چھینا جا رہا ہے۔ مغرب کی یہ چال اسی پر الٹ رہی ہے یا اس کے منصوبے کے مطابق آگے بڑھ گئی ہے، اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا مگر ایک چیز مغرب کے سامنے ضرور آ گئی ہے کہ طاقت سے مذہب کو ختم کرنا ممکن نہیں کیونکہ اگر مغرب نے یہ سوچ لیا ہے کہ مسلم قوم مذہب کے حصار سے باہر ہو کر راکھ کا ڈھیر بن چکی ہے تو یہ اس کی بھول ہے۔ توہین رسالت پر عام مسلمانوں کے ردعمل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اس شدت کے ساتھ مذہب سے وابستہ ہیں کہ عام مستعمل معنوں میں مذہبی قوتیں بھی شاید اتنی شدت کی پابند نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ طاقت سانچے نہیں بدل سکتی، مذہب سانچے بدل سکتا ہے۔ اسلام کو اللہ نے قوت اور مذہب دونوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔ مغرب نے ریاست سے مذہب کو الگ کر کے دیکھ لیا مگر وہ اب تک اس سے پیچھا نہیں چھڑا سکا، باوجود جمہوریت کے راگ الاپنے کے ”نیوکونز“ اس پر غالب آتے جا رہے ہیں۔ امریکا کے گزشتہ صدارتی انتخاب میں ”مذہبی قوت“ ہی بش کی کامیابی کا ایک بہت بڑا فیکٹر تھا۔ یورپ بھی سیکولر ہونے کے تمام دعووں کے باوجود اسلام اور مسلمانوں کو دبانے، کچلنے اور فنا کر دینے کے ہدف پر ایوانجلیکل چرچ کے (مذہبی) پیروکاروں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، جس کا سرکاری موقف یہ ہے کہ اسلام معاذ اللہ ایک خودساختہ دین ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول نہیں ہیں۔ جب مغرب سیکولر نہیں رہا تو مسلمان کیسے مذہب کو چھوڑ سکتا ہے؟ اسی لئے جس شدت کا حملہ ہوا ہے اسی شدت کا ردعمل بھی ہو رہا ہے۔ مذہب کی قوت سے لامذہبیت کے باوجود اگر مغرب جان نہیں چھڑا سکا تو وہ مسلمانوں سے کیسے یہ آس لگائے بیٹھا ہے کہ وہ مذہب کو خیر باد کہہ دیں گے؟ گناہ گار ہی اپنی جگہ مگر کافری کے لئے عاصی سے عاصی مسلمان بھی تیار نہیں۔ مغرب کو حالیہ احتجاج پر حیرت زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، طاقت کے مقابلے میں مذہب کھڑا ہے اور مذہب اپنا رنگ دکھا کر رہے گا۔ نظریہ آ رہا ہے کہ؎

مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نے
صفحہ ۱۲۴

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟

قادیانی سازش

محمد بدر عالم چنیوٹی

ڈنمارک جو ایک چھوٹے سے وجود کا حامل ملک ہے نے سید کون و مکان خیر البشر، سید الخلقﷺ کی شان اقدس میں توہین کی، دیگر غیر مسلم ممالک نے اس غلیظ کام کو بڑھاوا دیا تو دوسری طرف عالم اسلام بھی سراپا احتجاج بن گیا۔ بڑے دماغ مل بیٹھے تو سب کا اس پر اتفاق ہوا کہ یہ سازش یہودیوں کی تحریک پر عیسائی ممالک نے شروع کی ہے۔ اور اس سے عالم اسلام کی غیرت کا اندازہ کرنا مقصود ہے۔ اسی بنا پر یورپی ممالک کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جو ایک خوش کن بات تھی مگر بات تو اب کھل کر سامنے آئی کہ یہ سازش صرف یہودیوں کی نہیں تھی بلکہ دین اسلام و ختم نبوت کے منکر قادیانیوں کا بھی اس میں پورا پورا ہاتھ تھا۔ اس سازش کی رپورٹ ایک معاصر اخبار میں کچھ اس طرح شائع ہوئی ہے:

’’کوپن ہیگن (رپورٹ ڈاکٹر جاوید کنول) ڈنمارک میں خفیہ ادارے کے ایک افسر نے اپنا نام اور عہدہ صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر کارٹون ایشو پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ستمبر 2005ء میں قادیانیوں کا سالانہ جلسہ ڈنمارک میں ہوا، جس میں قادیانیوں کے مرکزی ذمہ داران نے شرکت کی۔ اس موقع پر قادیانیوں کے ایک وفد نے ڈینش وزیر سے ملاقات کے دوران جہاد کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ وہ بھی اسلام کی حقیقی تعلیمات کے علمبردار ہیں اور ان کے نبی مرزا غلام احمد قادیانی (نعوذ باللہ) نے جہاد کو منسوخ قرار دیا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسلامی احکامات تبدیل کر دیئے ہیں۔ اس لیے کہ محمدﷺ کی تعلیمات اور ان کا عہد ختم ہو چکا ہے (نعوذ باللہ)۔ ان کی اس یقین دہانی پر کہ محمدﷺ کے پیروکار صرف سعودی

صفحہ ۱۲۵

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟ عرب تک محدود ہیں۔ 30 ستمبر کو ڈینش اخبار نے محمد ﷺ کے حوالے سے بارہ کارٹون شائع کئے جن کا مرکزی نکتہ فلسفہ جہاد پر حملہ کرنا تھا۔ اعلیٰ ڈینش افسر نے کہا کہ ہمیں جنور ی 2006 کے آغاز تک اس بات کا یقین تھا کہ قادیانیوں کا دعویٰ سچا تھا کیونکہ جنوری تک سوائے سعودی عرب کے کسی اسلامی ملک نے ہم سے باقاعدہ احتجاج نہیں کیا تھا (او آئی سی) کی خاموشی ہمارے یقین کو پختہ کر رہی تھی۔ اس ذمہ دار افسر نے اس نمائندے کو اس ملاقات کی ویڈیو ٹیپ بھی سنائی جس میں ڈینش، اردو، اور انگریزی زبان میں گفتگو ریکارڈ تھی، دریں اثناء ”جنگ“ کے ایک سروے میں جس میں تین دنوں کے اندر 1500 ڈینش لوگوں کے خیالات معلوم کئے گئے۔ یہ بات سامنے آئی کہ 90 فیصد لوگوں کے خیال میں ڈنمارک کے اخبار نے محمد ﷺ کے بارے میں کارٹون شائع کر کے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔ 74 فیصد لوگوں کے مطابق ذمہ داریوں کا تعین کئے بغیر آزادی ممکن نہیں اور پریس کے لئے ذمہ داریوں کا تعین کرنے کے لیے قانون سازی وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ 31 فیصد لوگوں کے مطابق اس مسئلہ کا حل صرف یہ ہے کہ اہل اسلام ڈینش حکومت اور متعلقہ اخبار کی معذرت قبول کریں۔ جن لوگوں کو اظہار خیال کی دعوت دی گئی تھی۔ ان میں کاروباری افراد، طالب علم، سیاسی کارکنان، اخبار نویس، ٹیکسی ڈرائیور اور ملازمت پیشہ افراد شامل تھے۔ لوگوں کی اکثریت ازخود یہ نکتہ سامنے لے آئی کہ چند ماہ قبل جب جوتے بنانے والی ایک فرم نے اپنے جوتوں پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصویر شائع کی تو ڈینش حکومت نے ان جوتوں کی فروخت پر پابندی عائد کر کے فرم کو بند کر دیا۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصویر پر یہ کاروائی ہو سکتی ہے تو پھر محمد ﷺ کے کارٹون شائع کرنے پر متعلقہ اخبار کے خلاف کاروائی کیوں ممکن نہیں؟ علاوہ ازیں ٹیچرز یونین نے اپنے ایک اجلاس میں اتفاق رائے سے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عیسائیت کے ساتھ اسلام کو بھی لازمی مذہبی تعلیم قرار دیا جائے ۔ (گویا اسلامیات کو نصاب میں شامل کیا جائے) تاکہ مستقبل کے ورثاء اسلام اور

صفحہ ۱۲۶

توہین آمیز خاکوں کے مذموم مقاصد کیا تھے؟ تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

عیسائیت کا موازنہ کرسکیں۔ اس قرار داد کے مطابق دنیا کو جنگ کے شعلوں سے بچانے اور اسے امن کا گہوارہ بنانے کے لئے ضروری ہے کہ نئی نسل کو اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کیا جائے۔“

مذکورہ حقائق کی روشنی میں یہ باتیں ثابت ہوئیں کہ مرزا قادیانی، اس کی ذریت اور جماعت، عقیدۂ ختم نبوت کی ہرگز قائل نہیں، یہ جہاد کے بھی منکر ہیں، مرزا کے دعووں کے پیش نظر اس کا ٹولہ توحید ہی کا انکاری ہے۔ شاعر مشرق کی بات کہ قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے۔ قادیانی بھی یہودیوں کی طرح اسلام مخالف گروہ ہے۔ یہ نہ اسلام اور نہ ہی پاکستان کے خیرخواہ ہیں اور نہ کبھی ہو سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ قادیانیوں کے اس خباثت کے ذریعے یہ بھی ایک بار پھر واضح کر دیا کہ ہمارا دین اسلام سے کوئی تعلق و واسطہ نہیں ہے۔ اور یہ کہ انہوں نے پوری ملت اسلامیہ کو کافر قرار دیا اور یہ کہ عالم کفر نے یہ باور کر رکھا ہے۔ کہ سعودی عرب کے علاوہ دنیا میں مسلمان کہیں بھی نہیں بستے۔ ان مذکورہ حقائق کے پیش نظر عالم اسلام کا یہ مطالبہ کہ ان گستاخانِ رسول ﷺ کو اس جرم کی پاداش میں سزائے موت دی جائے جائز اور برحق ہے۔

صفحہ ۱۲۷

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک فقط نام محمدؐ سے محبت کی ہے

تیسرا باب

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اک فقط نام محمد ﷺ

سے محبت کی ہے

اس کتاب کا سب سے خوبصورت باب جس میں اہل قلم نے عشق رسول ﷺ کی سیاہی میں قلم ڈبو کر صفحہ قرطاس پر اپنے جذبات کو منتقل کیا ہے۔ حب رسول اللہ ﷺ کی چنگاری کو شعلوں میں بدلتی، گنبد خضریٰ کی وجد آفرین اور کانوں میں رس گھولتی آواز کو سنواتی، سنت نبوی ﷺ کے سانچے میں ڈھلنے کی تلقین کرتی دلگداز اور روح پرور تحریریں۔

حرفے چند:

(۱) امام کعبہ کا کلمہ حق (۲) شان رسالت مآب ﷺ کے ایمان افروز مناظر (۳) رجوع الی الجہاد کی دعوت (۴) بدنام زمانہ گستاخ رسول ﷺ سلمان رشدی کی مغرب کے ہاتھوں عزت افزائی (۵) اہانت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر مسلمانوں کا ردعمل (۶) صحابہ کرامؓ کا ادب رسول ﷺ (۷) دنیائے کفر کی گھبراہٹ کے حسرت آمیز مناظر (۸) گستاخ رسول ﷺ کو قتل کرنے والے کیلئے اکیاون کروڑ روپے کے انعام کا اعلان (۹) آزادیٔ اظہار اور دعوت جہاد پر پابندی (۱۰) معروف شاعر اختر شیرانی کے حب رسول ﷺ میں ایمان افروز واقعہ (۱۱) سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی تاریخی تقریر کا اقتباس (۱۲) غازی علم دین شہید کا تاریخی کارنامہ (۱۳) غازی علم دین شہید کو خراج تحسین پیش کرتا علامہ اقبالؒ کا ضرب المثل مقولہ (۱۴) ”فتح مبین“ کی عمومیت (۱۵) حالیہ واقع کے بعد سیرت پر مبنی کتب کی یورپ میں بڑھتی ہوئی مانگ اور جستجو (۱۶) اسم محمد ﷺ کے کمالات (۱۷) اسم محمد ﷺ کے ساتھ امت کی والہانہ وابستگی کے چند نمونے (۱۸) جدید تعلیم کی برکات (۱۹) یورپ کے بھنگیوں کی رسول اللہ ﷺ سے ناراضگی کی وجوہات (۲۰) آقائے دو جہاں ﷺ کے انسانیت پر احسانات (۲۱) روشن خیالی کے دعوؤں اور دلیلوں کا پوسٹ مارٹم (۲۲) توہین رسالت اور ہماری زندگی

صفحہ ۱۲۸

اک نقطہ نام محمدؐ سے محبت کی ہے تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

توہین رسالت اور شان رسالت

مسجد حرام کے امام و خطیب فضیلۃ الشیخ راشد الخالد حفظہ اللہ کا تازہ ترین خطبہ جمعہ

ترجمہ و ترتیب: مولانا محمود الرشید حدوثی۔ جامعہ اشرفیہ لاہور

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد:

اے اہل ایمان! سنو اللہ تعالیٰ نے کس طرح اپنے نبی ﷺ کی شان بیان کی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

”اے نبی! ہم نے آپ ﷺ کو گواہ بنا کر، بشارت دینے والا، ڈرانے والا، اللہ کے حکم سے اللہ کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے کافروں اور منافقوں سے آپ ہرگز نہ دبیں اور ان کی ایذا رسانی کی بالکل پرواہ نہ کریں، اللہ پر ہی بھروسہ کریں اللہ تعالیٰ بہترین کارساز ہے۔“

(الاحزاب: ۴۵ تا ۴۸)

اللہ تعالیٰ ہمارے نبی ﷺ پر رحمتیں نازل فرمائے جن کو شاہد بنا کر بھیجا گیا ہے۔ شاہد ہمیشہ انصاف کرتا ہے، آپ ﷺ کو مبشر بنا کر بھیجا گیا ہے، مبشر ہمیشہ خیر کا پیغام ہی دیتا ہے۔ آپ ﷺ کو نذیر بنا کر بھیجا گیا ہے، نذیر شفقت و محبت کے ساتھ تباہی و بربادی سے ہمیشہ ڈراتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

”تمہارے پاس تمہی میں سے ایک رسول آیا ہے تمہاری مشقت اسے گراں گزرتی ہے، تمہاری کامرانی کا حریص ہے اہل ایمان کے لئے وہ شفیق اور مہربان ہے۔“

(التوبہ: ۱۲۸)

لوگو! محمد بن عبداللہ کی آمد سے پہلے کائنات اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ آپ ﷺ کی آمد سے شب ظلمت کافور ہوئی حق کا بول بالا ہوا۔ آپ نے انسانیت کو سیدھی راہ پر ڈالا۔ اللہ کی قسم! اگر آج

صفحہ ۱۲۹

تحفظ ناموسِ رسالت کیوں اور کیسے؟ اک خطاء نامِ محمد سے محبت کی ہے

اس عظیم الشان ہستی کا دفاع نہ کیا گیا تو روئے زمین کی رونقوں اور بھلائیوں کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ دنیا ویران ہو جائے گی۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بڑی شان عطا فرمائی ہے۔ آپ ﷺ جس منبر پر جلوہ افروز ہوتے وہ خوشی سے جھومنے لگتا۔ آپ ﷺ بیان کے لئے جس منبر پر تشریف فرما ہوتے وہ آواز دینے لگتا۔ وعظ و نصیحت کے دوران آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہو جاتا تھا یوں لگتا تھا کہ آپ کسی حملہ آور لشکر کی اطلاع دے رہے ہوں۔ آپ ﷺ کو یہ شان ملی کہ آپ ﷺ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے۔ آپ ﷺ کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے جایا گیا، مسجد اقصیٰ سے آسمانوں کی طرف اٹھایا گیا۔ ایسے وقت میں انبیاء و رسل اور ملائکہ مسجد اقصیٰ میں موجود تھے۔ انہوں نے آپ ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی۔

اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کے علاوہ کسی انسان کی زندگی کی قسم نہیں کھائی۔ ارشاد ربانی ہے:

"تیری جان کی قسم! اس وقت ان پر نشہ سوار تھا، جس میں وہ سرگرداں تھے۔"

ہمارے نبی ﷺ کا اعزاز اور شان ہے کہ آپ ﷺ سے زیادہ عزت والا کوئی ذی نفس اللہ تعالیٰ نے پیدا نہیں کیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے بقول اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے علاوہ کسی انسان کی زندگی کی قسم نہیں کھائی۔ آپ ﷺ پر درود و سلام ہو۔

آپ ﷺ اولاد آدم علیہ السلام کے سردار ہیں۔ آپ قیامت والے دن سب سے پہلے اپنی قبر سے اٹھیں گے، آپ ﷺ سب سے پہلے سفارش کریں گے، آپ ﷺ کی سفارش قبول کی جائے گی، حمد کا پرچم قیامت کے دن آپ ﷺ کے ہاتھوں میں ہوگا۔ آپ ﷺ کا اسم گرامی احمد، محمد ہے۔ آپ ﷺ کے والد عبداللہ تھے، آپ ﷺ کی والدہ آمنہ تھیں۔ جو امن و امان کا آئینہ دار تھیں۔ آپ ﷺ کی پرورش کرنے والی ام ایمن تھیں۔ جو خیر و برکت کا مظہر تھیں۔ آپ ﷺ کو دودھ پلانے والی حلیمہ تھیں جو حلم و برد باری کا مجسمہ تھیں۔

ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اس صفت کا تقاضا ہے کہ آپ ﷺ کی شریعت ہر لحاظ سے کامل ہو، تمام انبیاء اور رسولوں کی اعلیٰ صفات کا آپ ﷺ نمونہ ہوں۔ بقول امام شافعیؒ "انبیاء علیہم السلام کے تمام معجزات و فضائل کی نظیر ہمارے نبی ﷺ میں موجود ہے۔"

صفحہ 130

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ اک فقط نام محمد سے محبت کی ہے

یا خاتم الرسل المبارک ضوؤه
صلی علیک منزل القرآن

”اے خاتم الرسل! جن کی ذات بابرکت اور شان بلند ہے۔ قرآن اتارنے والا آپﷺ پر رحمتیں نازل فرمائے۔“

پروردگار نے آپﷺ کی سمع وبصارت کو پاکیزگی کا اعلیٰ نمونہ بنادیا، آپﷺ کو کائنات پر فضیلت عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی تمام صفات کمال اور کمال اخلاق آپﷺ کی ذات میں رکھ دیئے۔ آپﷺ کی شان اخلاق بلند ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”آپﷺ اخلاق کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز ہیں ۔“ آپﷺ حسن و جمال کا پیکر تھے۔ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ مداح رسول ہیں، انہوں نے مدح رسول میں فرمایا:

واحسن منک لم تر قط عینی
واجمل منک لم تلد النساء
خلقت مبرءا من کل عیب
کانک قد خلقت کما تشاء

”آپﷺ سے زیادہ خوبصورت آج تک میری آنکھ نے نہیں دیکھا، آپﷺ سے زیادہ جمیل کسی ماں نے جنا ہی نہیں، آپﷺ ہر عیب سے پاک پیدا کئے گئے۔ گویا جس طرح آپﷺ نے چاہا اسی طرح پیدا ہوئے۔“

یہ اور اس جیسی بے شمار آپﷺ کی صفات ایسی ہیں جن کا اعتراف صرف اپنے ہی نہیں بلکہ دشمن بھی کرتے ہیں۔

مسلمانو! آج ہم ان صفات و محاسن کا تذکرہ کرنے اکٹھے نہیں ہوئے۔ ان میں ہمیں شک نہیں ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ آپﷺ اولاد آدم کے سردار، تقویٰ اور پاکیزگی کا اعلیٰ نمونہ ہیں، لوگو! آج جھوٹے اور سچے کے درمیان امتیاز کرنے کا وقت ہے۔ یہ وہ وقت ہے کہ ہم صدیوں سے مسلط ذلت و

صفحہ ۱۳۱

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ اکتفا نام محمد سے محبت کی ہے

رسوائی کے اسباب وعلل کا جائزہ لیں۔ ہر جگہ مسلمانوں کے چیخنے چلانے اور رونے دھونے کی آواز آرہی ہے۔ ہمیں نفرت وحقارت کی تصویر سمجھا جاتا ہے یہ وقت ہے کہ ہم اس بات کو سمجھیں کہ کب تک اس ذلت و رسوائی کی ہم تصویر بنے رہیں گے؟

مسلمانو! آج دنیا میں ہم سے بڑھ کر رسوا کون ہے؟ ایسا سب کچھ کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اللہ کے حکموں کو چھوڑ دیا ہے، اللہ کے اوامر کا احترام چھوڑ دیا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے دنیا والوں کے دلوں سے ہمارا رعب ختم کر دیا ہے۔ اگر ہم اللہ کے حکموں کو مانتے، پابندی کرتے تو آج ہمیں اس ذلت ورسوائی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ اگر ہم نبی اکرم ﷺ کی مبارک سیرت کو اپناتے تو آج خوف کے سائے ہم پر نہ چھائے ہوتے۔ ہمارے نبی ﷺ نے ہماری بیماری کو چودہ سو سال پہلے پہچان لیا تھا۔ ہمارے مرض کی تشخیص بھی کر دی تھی اور بتا بھی دیا تھا کہ:

کہ جب تم کاروبار زندگی، دنیا اور دنیا کی محبت میں مصروف ہو جاؤ گے بیل کی دمیں پکڑے کھیتی باڑی کرنے لگو گے، جہاد کو چھوڑ دو گے، اس وقت تمہیں اللہ ذلت میں گرفتار کر دیں گے۔ تم اس ذلت سے اس وقت تک نہیں نکل سکو گے جب تک تم واپس اپنے دین پر نہیں آجاؤ گے۔‘‘

(ابوداؤد)

مسلمانو! اپنے شاندار ماضی کو دیکھو جب مسلمان عزت والے تھے، ایک ظلم رسیدہ عورت کی آواز، وا اسلاماہ، پر معتصم باللہ نے اس کی مدد کے لیے لشکر بھیج دیا، اس وقت کو یاد کرو جب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے شاہ روم کو لکھا تھا کہ ”اے رومی کتے“ ان لوگوں نے بادشاہوں کو کس انداز میں مخاطب کیا، آج ہم ذلت برداشت کر رہے ہیں ہمارے احساسات پر مردنی چھا گئی ہے۔ جذبات کی انگیٹھیاں سرد ہو چکی ہیں، گائے کے بیوپاری اور بتوں کے پجاری آج ہمارے نبی ﷺ کا تمسخر اور مذاق اڑا رہے ہیں۔ شانِ نبوی میں گستاخی کر رہے ہیں، اور ہم ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے معافی، معافی کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ معذرت کیا ہوتی ہے؟ کون سی معذرت؟ معذرت طلب کرنا ہماری بے بسی ہے ہم نے آج ذلت کا لباس زیب تن کر رکھا ہے۔

مسلمانو! اس وقت مسئلہ یہود ونصاریٰ کی مصنوعات کا بائیکاٹ نہیں ہے۔ ان کے مکھن،

صفحہ 132

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک نقطہ نام محمدؐ سے محبت کی ہے

دودھ ، پنیر کے بائیکاٹ کا نہیں ہے۔ یہ تو ہماری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ ہمیں زندگی اور موت میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا ہے۔ میں آپ لوگوں کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ بتاؤ! تاریخ ہمارے بارے میں کیا رائے دے گی؟ آنے والا مورخ ہمارے بارے میں کیا لکھے گا؟ لکھنے والا ہمیں لکھے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ اور رسولﷺ سے خیانت کی ہے۔

آج ہمیں اچھی طرح سے سوچنا ہوگا ۔ کہ ہمارے نبیﷺ کی شان اور عظمت کیا ہے اور توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور تشہیر کے پس پردہ کیا محرکات اور مقاصد کارفرما ہیں اور ان حالات میں حضرت نبی اکرمﷺ کے دیوانوں کو کیا کردار ادا کرنا چاہیے۔

مسلمانو ! ہمارے نبیﷺ کو اللہ تعالیٰ نے رحمت للعالمین بنایا ہے ، جس نے اس رحمت کو قبول کیا اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہو گیا ۔ جس نے اس نعمت کو قبول کرنے سے انکار کیا وہ دنیا و آخرت میں برباد اور ناکام ہوا، ہمارے نبیﷺ ایسے نبی ہیں، جنہوں نے کبھی مشرکوں کے خلاف بدعا نہیں کی۔ ایک دفعہ کسی کہنے والے نے آپ کو ایسا کرنے کے لئے کہا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں لعنت کرنے کے لیے نہیں بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ (رواہ مسلم) اور فرمایا کہ مجھے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (مستدرک حاکم 90/1)

آپﷺ ایسے رحمت والے تھے کہ آپﷺ کی رحمت صرف انسانوں کے لئے نہیں تھی بلکہ حیوانوں پر بھی عام تھی۔ جب ایک مرتبہ دوران سفر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے چڑیا کے بچوں کو پکڑ لیا۔ چڑیا پریشان ہو گئی تو آپ اس کی پریشانی بھی برداشت نہ کر سکے آپﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ چڑیا کے بچوں کو واپس کردیں، دکھ ہوتا ہے کہ آج یہ واقعات کیوں سامنے نہیں رکھے جاتے؟

اس ہرنی کا قصہ سنو! جسے ایک شخص جنگل سے شکار کر کے لایا تھا اس کے تھنوں کا دودھ جب بھاری ہو گیا تو اس نے آپﷺ کی خدمت میں شکایت کی اور کہا کہ مجھے آزاد کر دیں تاکہ میں اپنے بچوں کے پاس چلی جاؤں اور مجھے اپنے دودھ سے آرام مل جائے۔ آپﷺ نے اس سے پوچھا کیا میں تجھے آزاد کردوں! تو اکیلی چلی جائے گی ، اس نے کہا کہ ہاں چلی جاؤں گی۔ اسی دوران وہ دیہاتی جو اس

صفحہ ۱۳۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک خطاء نام محمدؐ سے محبت کی ہے

کو شکار کر کے لایا تھا آ گیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم اس ہرنی کو پہچانو گے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ! یہ آپ ﷺ کی ملک ہے تو رسول اللہ نے اس ہرنی کو آزاد کر دیا۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم! میں نے اس ہرنی کو صحرا میں آواز لگاتے ہوئے سنا کہ لا اله الا الله محمد رسول الله ۔

لوگو! جس پیغمبر کی رحمت سے انسانوں کو تو فیض ملا مگر حیوانات بھی محروم نہ رہے ہوں، ان کی تصویریں اور توہین آمیز خاکے بنانا انتہائی مضحکہ خیز ہے، یہ آپ ﷺ کیساتھ انتہائی نازیبا مذاق ہے ہمارے نبی ﷺ تو حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے موازنہ کے مطابق چودھویں کے چاند سے زیادہ خوبصورت تھے۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ کے مطابق خوشی کے عالم میں آپ ﷺ کا چہرہ چاند کا ٹکڑا لگتا تھا۔ اگر حضرت یوسف علیہ السلام کو دنیا کا آدھا حسن دیا گیا تو ہمارے نبی ﷺ کو پورا حسن دیا گیا۔

اے پیغمبر اسلام کی توہین کرنے والو! مکہ اور اس کے باشندوں سے پوچھو! طائف اور اس کی وادیوں سے سوال کرو کہ اس عظیم الشان نبی ﷺ کی عظمت کیا ہے۔؟ قسم بخدا! زبان و قلم کی وسعتیں مدتوں تک آپ ﷺ کا احاطہ نہیں کر سکتیں کوئی بڑے سے بڑا سیرت نگار آپ ﷺ کی سیرت نگاری کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ ہمارے نبی ﷺ کی توہین کرنے والے خود اپنا نقصان کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے برے انجام سے بچ نہیں سکیں گے۔ مسلمانوں کا اس میں امتحان ہے۔

صفحہ 133

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ انتقام سے جہنم تک

چنگاری سے شعلے تک

مولانا محمد اسلم شیخوپوری

1988ء میں وائی کنگ پبلیکیشنز کے یہودی ادارے نے ”شیطانی آیات“ کے نام سے ایک بدنام زمانہ منافق کی لکھی ہوئی کتاب شائع کی تھی۔ جس کی نمایاں خصوصیات فحش گالیوں اور شہوت انگیز مضامین کی بھر مار تھی۔ رشدی نے برطانیہ کے عصمت فروش اور حیا باختہ معاشرے ہی کو برسر عام ننگا نہیں کیا بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ اہل بیت، ازواج مطہرات اور اصحاب رسول کی شان میں بھی انتہائی غلیظ زبان استعمال کی تھی۔ اہل مغرب نے مشتعل یا منفعل ہونے کی بجائے اس شرمناک تصنیف کو ادب عالیہ کا شاہکار سمجھ کر ہاتھوں ہاتھ لیا۔ جس کے نتیجے میں رشدی جیسا گمنام اور متعفن شخص شہرت کے آسمان پر جا پہنچا۔ مسلمان سراپا احتجاج تھے مگر یورپ اور امریکا میں اس کتاب کے ایڈیشن پر ایڈیشن شائع ہو رہے تھے۔ انہیں دنوں لندن کے سینما گھروں میں ایک یہودی فلم ساز مارٹن سکورس کی ایک انتہائی شرمناک فلم نمائش کے لیے پیش کی جانے والی تھی۔ جس میں نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک طوائف کے ساتھ سرگرم اختلاط دکھایا گیا تھا۔ اخبارات میں اس کی تشہیر زور وشور سے جاری تھی۔ لندن میں زیر زمین سٹیشنوں میں مسیح علیہ السلام کے ساتھ اس طوائف کے نیم برہنہ قد آدم پوسٹر لگائے گئے تھے۔ عیسائی شہری اسکی نمائش کا بڑی بے تابی سے انتظار کر رہے تھے۔ اس مو قع پر مسلم جیورسٹس لندن آفس کے چیئرمین جناب ریاض احمد نے برٹش فلم انسٹی ٹیوٹ کو نوٹس دیا کہ اس فلم کی نمائش برطانیہ کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اگر اس فلم کی نمائش نہ روکی گئی تو پھر اس کے فلم ساز اور مالکان سینما کے خلاف لندن کے مسلمان شہریوں کی جانب سے قانونی کاروائی کی جائے گی۔ اس پر وہاں کے عیسائی شہریوں کو بھی غیرت آئی اور کیتھولک چرچ کے رہنماؤں نے فلم ساز کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کا نوٹس دیا۔ اس کے بعد لندن میں مقیم اسلامی ملکوں کے مسلمان نوجوان نے اس سینما کے سامنے احتجاج کیا جہاں اس شرمناک فلم کی نمائش ہو رہی تھی۔ ان نوجوانوں کی دیکھا دیکھی یہودیوں اور

صفحہ ۱۳۵

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک محتاط نامہ نگار کی

عیسائیوں کا ایک گروہ بھی احتجاج میں شامل ہو گیا۔ جس کے نتیجے میں فلم سازوں کو تشہیری مہم روکنا پڑی اور حضرت مسیح علیہ السلام کے پوسٹر ہٹانا پڑے فلم بری طرح فلاپ ہو کر رہ گئی۔

یہ دو کردار آپ کے سامنے ہیں ایک کردار ان مذاہب بیزار اور اسلام دشمن یہودیوں اور عیسائیوں کا ہے جنہوں نے سلمان رشدی جیسے تیسرے اور چوتھے درجے کے ناول نگار کو محض اس کی فحش نگاری کی وجہ سے سر آنکھوں پر بٹھا لیا۔ اس شخص کے بارے میں کسی مولوی نے نہیں اردو کے مشہور شاعر اور انگریزی ادب کے معروف نقاد فیض احمد فیض نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مغرب کی اس سے بڑھ کر بد نصیبی اور کیا ہو گی کہ رشدی جیسے شخص کو برطانیہ کے ناول نگاروں میں شامل کیا گیا ہے۔ اس شخص کا کام جس کی وجہ سے وہ اہل مغرب کی آنکھوں کا تارا بن گیا بس یہ تھا کہ وہ گالی گلوچ اور فحش گوئی میں نہ کسی میں امتیاز کرتا تھا نہ فرق مراتب کا لحاظ کرتا تھا۔ ماں باپ کو معاف کرتا تھا نہ اپنی اولاد کو۔ بھائی بہنوں کو اور نہ معروف شخصیات کو۔ اپنے گھٹیا بازاری ناول میں اس نے برطانیہ کی وزیر اعظم مسز تھیچر کو ”شہوت پر اٹھنے کتیا“ تک کہہ دیا۔ ہوتے ہوتے اس کا حوصلہ اتنا بڑھا کہ اس نے انبیا علیہم الصلوۃ والسلام کے بے داغ دامن پر چھینٹے اڑانا شروع کر دیے۔ اس کی یاوہ گوئی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پاکستان اور ہندوستان میں تیرہ نوجوان جام شہادت نوش کر گئے۔ درجنوں زخمی ہوئے۔ ادھر پوری دنیا کے مسلمان سراپا احتجاج تھے ادھر یورپ میں اس بدقماش شخص کو شاہانہ پروٹوکول دیا جا رہا تھا۔ یہود و نصاریٰ کے اس ناگفتہ بہ کردار کے مقابلہ میں آپ مسلمانوں کے کردار کو دیکھیے۔ مذکورہ یہودی فلم ساز نے توہین کی تھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مگر احتجاج کر رہے تھے مسلمان ! اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کون روشن خیال ہے اور کون تاریک خیال؟ کس کے سینے میں بغض و عداوت کی بدبو بھری ہے اور کس کا دل بلا تفریق تمام انبیاء کی محبت سے منور اور معمور ہے۔

حال ہی میں اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ ڈنمارک کے جس اخبار نے نبی کریم ﷺ کے توہین آمیز خاکے اور کارٹون شائع کر کے دنیائے اسلام کے غیظ و غضب کو دعوت دی ہے اس اخبار کے مالکان نے مسلمانوں کے اس غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اپنے طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس اخبار میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بھی اتنے ہی خاکے اور کارٹون شائع کیے جائیں گے جتنے حضور اکرم ﷺ کے

صفحہ ۱۳۶

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ اک نقطہ نام محمدؐ سے محبت کی ہے حوالے سے شائع کیے گئے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ اس فیصلے کو مذکورہ اخبار کے پالیسی سازوں کی سادگی اور جہالت کہا جائے یا اسے ان کی سنگ دلی اور بے ہودہ پن کا نام دیا جائے۔ اہل اسلام کے نزدیک اخبار کی پہلی حرکت تو خباثت تھی دوسری حرکت بھی خباثت کے سوا کچھ نہیں۔ مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے آج تک کسی بھی نبی کی توہین نہیں کی اور نہ ہی کسی دوسرے کو اس کی اجازت دی ہے۔ وہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اپنے آقا ﷺ تک دنیا میں آنے والے ہر نبی کا دل و جان سے احترام کرتے ہیں جہاں تک سرور دو عالم ﷺ کا تعلق ہے تو آپ کی محبت ہر مسلمان کی رگوں میں خون کی طرح گردش کرتی ہے۔ آپ کی یاد آنے پر اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ وہ آپ کی غلامی کو آزادی سے کہیں زیادہ عزیز رکھتا ہے۔ وہ اپنی اور اپنے اہل وعیال کی ناموس سے زیادہ ناموس رسالت کو اہمیت دیتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ بظاہر دین سے دور دکھائی دیتا ہے اس کی شکل وصورت اور سیرت و کردار سے اس کے ”محمدی“ ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا...... لیکن جونہی توہین رسالت کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے اس کے پہلوئے دل میں سلگنے والی عشق رسول کی چنگاری بھڑک کر شعلہ بن جاتی ہے۔ اس کا امن و سکون تباہ ہو جاتا ہے اور وہ گستاخ زبان کو گدی سے کھینچ دینے اور بے لگام قلم اور ہاتھوں کو توڑنے کے لئے بے چین ہو جاتا ہے۔

جو لوگ ناموس رسالت کو محض ملاؤں کا مسئلہ سمجھتے ہیں وہ نہ صرف زمینی حقائق سے بلکہ مسلمانوں کی ذہنی اور نفسیاتی ساخت سے بھی قطعاً ناواقف ہیں۔ کیا یہ حقیقت ان کی آنکھوں پر پڑا ہوا پردہ ہٹا دینے کے لیے کافی نہیں کہ سب سے پہلے اس مسئلہ پر یورپ میں بسنے والے ان مسلمانوں نے آواز اٹھائی ہے جو سالہا سال سے وہاں کے مادر پدر آزاد ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔ آفرین ہے ان پر کہ مغربی ملکوں کی تہذیب و ثقافت، معاشرت اور بود و باش ان کے دلوں سے روح محمد (ﷺ) کو نہیں نکال سکی۔ انہیں کبھی تصویر کے جواز کے فتوے دکھائے جاتے ہیں۔ کبھی زمانہ بدل جانے پر لیکچر دیے جاتے ہیں۔ کبھی گرجوں کی دیواروں پر بنی ہوئی کنواری مریم اور جناب مسیح علیہ السلام کی قد آدم تصاویر کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔ کبھی ان اسٹوریوں کے دیکھنے اور سننے کا مشورہ دیا جاتا ہے جو مختلف مذہبی رہنماؤں کی زندگی کا احاطہ کرتی ہیں اور ہر سینما گھر میں دیکھی اور سنی جاسکتی ہیں۔ کبھی انہیں باور کرایا

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ جاتا ہے کہ پیغمبر بھی عام انسانوں جیسے انسان تکمیل کی خواہش رکھنے والے، چلنے پھرنے، کے خاکے بن سکتے ہیں تو پیغمبروں کے کیوں اپیل نہیں کرتیں اور وہ توہین رسالت کی چنگاریاں سلگ اٹھتی ہیں۔ قیادت کے بغیر خو میں کچھ شدت پسند اور اغیار کے ایجنٹ بھی م جلاؤ گھیراؤ کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ جان و مال کو نقصان پہنچانے کی اجازت ن اسلام کو بدنام کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ وہ کھوکھے دوکانیں اور ٹھیلے احتجاجی ہڑتالوں کی سزا دی جاتی ہے؟ اور سوچنے کی بات ی گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے اسے ا بجارہا ہوگا کہ دل آزاری بھی مسلمانوں ک خوب ٹھنڈے دل سے یہ جائزہ لینا ہے نقصان پہنچا سکتا ہے؟ انہیں اپنی حرکت پ لگام دے سکتا ہے؟ گستاخی اور توہین کا امریکا سمیت تمام یورپی ممالک نے اور ان میں سے بعض نے ان خاکوں کی عزائم کی نشان دہی بھی ہوتی ہے اور آ اسلام اور مسلمان دشمنی میں ان میں شد اور ذہین قائدین اور علما کو آگے آنا چا جسے اختیار کرنے سے وہ اپنے مذہبی فر

صفحہ ۱۳۷

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ اک نقطہ نام محمد سے محبت کی ہے

جاتا ہے کہ پیغمبر بھی عام انسانوں جیسے انسان تھے۔ خوردونوش کے محتاج ازدواجی اور بشری تقاضوں کی تکمیل کی خواہش رکھنے والے، چلنے پھرنے، اٹھنے بیٹھنے اور سونے جاگنے والے، لہٰذا اگر ہٹلر اور چرچل کے خاکے بن سکتے ہیں تو پیغمبروں کے کیوں نہیں بن سکتے؟ لیکن یہ لیکچر یہ دلائل اور یہ باتیں مسلم ذہن کو اپیل نہیں کرتیں اور وہ توہین رسالت کی ذرا سی آہٹ پر چونک اٹھتا ہے۔ مشرق سے مغرب تک چنگاریاں سلگ اٹھتی ہیں۔ قیادت کے بغیر خود ہی تحریک چل پڑتی ہے۔ پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس تحریک میں کچھ شدت پسند اور اغیار کے ایجنٹ بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ جو مقدس تحریک کو بدنام کرنے کے لیے جلاؤ گھیراؤ کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ ظاہر ہے اسلام جیسا مذہب کسی صورت بھی پرامن شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا۔ جو لوگ ایسی حرکتیں کرتے ہیں وہ دانستہ یا نادانستہ اسلام کو بدنام کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ وہ سینکڑوں بے گناہ لوگ جن کی گاڑیاں، ٹیکسیاں، موٹر سائیکلیں، کھوکھے دکانیں اور ٹھیلے احتجاجی ہڑتالوں اور جلوسوں میں نذر آتش کر دیے جاتے ہیں انہیں آخر کس جرم کی سزا دی جاتی ہے؟ اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس حرماں نصیب اخبار یا ملک نے توہین رسالت جیسے گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے اسے ایسی حرکتوں سے کیا نقصان پہنچتا ہے۔ وہ تو الٹا خوشی سے بغلیں بجا رہا ہوگا کہ دل آزاری بھی مسلمانوں کی نقصان بھی مسلمانوں کا اور بدنامی بھی مسلمانوں کی ...... ہمیں خوب ٹھنڈے دل سے یہ جائزہ لینا ہے کہ ہمارا کون سا عمل اور ردعمل ایسا ہے جو اغیار کو واقعی اور حقیقی نقصان پہنچا سکتا ہے؟ انہیں اپنی حرکت کے قبیح ہونے پر سوچنے پر مجبور کر سکتا ہے اور آئندہ کے لئے انہیں لگام دے سکتا ہے؟ گستاخی اور توہین کا نہ یہ پہلا واقعہ ہے اور نہ ہی آخری واقعہ ہے بلکہ جس انداز میں امریکا سمیت تمام یورپی ممالک نے گستاخی کے مرتکب ملک اور اخبار کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا ہے اور ان میں سے بعض نے ان خاکوں کی اشاعت کو ضروری سمجھا ہے۔ اس سے ان کے آئندہ کے خطرناک عزائم کی نشان دہی بھی ہوتی ہے اور آقا ﷺ کے فرمان کی تصدیق بھی کہ سارے کافر ایک ہی ملت ہیں۔ اسلام اور مسلمان دشمنی میں ان میں مثالی اتفاق پایا جاتا ہے۔ اس موقع پر ہمارے درد دل رکھنے والے فہیم اور ذہین قائدین اور علما کو آگے آنا چاہیے اور قوم کو دوٹوک انداز میں بتانا چاہیے کہ وہ کون سا لائحہ عمل ہے جسے اختیار کرنے سے وہ اپنے مذہبی فریضہ سے سبک دوش ہو سکتے ہیں۔ اگر مغربی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا

صفحہ ۱۳۸

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک تقاضا محبت کا بھی ہے

ہے تو ان کی مصدقہ فہرست بھی سامنے ہونی چاہیے۔ ہمارے تاجر حضرات کو چاہیے کہ وہ قوم کے سامنے مغربی مصنوعات میں سے ہر ایک کا متبادل پیش کریں۔ ایسا کرنا ہماری قومی ضرورت بھی ہے۔ اور مذہبی تقاضہ بھی ...... حقیقت یہ ہے کہ اگر ارباب حکومت سے لے کر تاجروں، دانش وروں، صحافیوں، علماء اور عام آدمی تک ہر ایک اپنا اپنا کام کرنے کا عزم کر لے تو پوری دنیا میں پیغمبر اسلام ﷺ کی تضحیک کا سلسلہ روکا جاسکتا ہے۔ مگر اس کے لیے چند ہنگامی جلسوں اور جلوسوں سے آگے بڑھ کر سوچنے کی ضرورت ہے۔

صفحہ 139

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ اک نقطہ نام محمدؐ سے محبت کی ہے

حرمت مصطفیٰ ﷺ...... ملت اسلامیہ کا آخری مورچہ

عبدالقدوس محمدی

یورپین اخبارات نے محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ کے بارے میں جو توہین آمیز ، شرانگیز ، دل آزار اور فساد پرور خاکے شائع کرنے کی جسارت کی اس پر اس وقت پورا عالم اسلام سراپا احتجاج ہے۔ ...... احتجاج و اضطراب ہے کہ آئے دن بڑھتا چلا جا رہا ہے...... دنیا بھر میں جلسے ، جلوسوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے...... ان دنوں یہ معاملہ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ پر چھایا ہوا ہے...... ایسے میں سوچنا یہ ہے کہ کیا یہ ساری کاروائی محض ایک اتفاق ہے؟...... کسی ایک آدھ اخبار کی جسارت ہے؟...... یا اس کے پیچھے کسی طویل اور منظم منصوبہ بندی کا دخل ہے؟...... ہم جب ان شرانگیز خاکوں کی اشاعت کے معاملے کے پس منظر کا جائزہ لیتے ہیں تو ان سوالات کا بڑا واضح اور دو ٹوک جواب مل جاتا ہے۔

ڈنمارک کے جس گستاخ اخبار نے سب سے پہلے یہ جسارت کی اس نے صرف یہ نہیں کیا کہ کہیں سے دو چار خاکے اٹھائے اور چھاپ دیئے...... بلکہ پہلے ڈنمارک کے 40 آرٹسٹوں کو دعوت دی گئی کہ وہ پیغمبر آخر الزماں ﷺ کے خاکے بنانے کے معاملے میں طبع آزمائی کریں ، ان میں سے 28 مصوروں نے ایسے خاکے تیار کرنے سے معذرت کر لی جن کی وجہ سے مذہب کی توہین ، حضور اکرم ﷺ کے کروڑوں امتیوں کی دل آزاری ہونے کا خدشہ تھا جبکہ 12 بدبخت آرٹسٹوں نے بھاری معاوضے کے عوض اس قسم کے خاکے تیار کرنے کی ہامی بھر لی اور پھر ان کے گندے دماغوں کی عفونت کو ڈنمارک کے اس اخبار نے چھاپ دیا...... سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان 40 آرٹسٹوں کو محض اس لئے جمع کرنا کہ وہ گستاخانہ خاکے تیار کریں اور پھر خاکے تیار کرنے والوں کو بھاری معاوضے دے کر مالا مال کر دینا یہ صرف اتفاق اور معمولی کاروائی نہیں اور نہ ہی یہ آزادی اظہار کی ایک کوشش ہے بلکہ یہ دراصل تحریک توہین رسالت کی ایک کڑی ہے...... اس تحریک کا اب نئے سرے سے آغاز کس نے؟ کب اور کیوں کیا؟ اس کی

صفحہ ۱۴۰

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ اک فقط نام محمدؐ سے محبت کی ہے

بڑی طویل اور دردناک داستان ہے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ حق و باطل کی آویزش ...... اسلام و کفر کی جنگ ...... اور مغرب و مشرق کے مابین کشمکش تو کب سے جاری ہے لیکن جب اہل باطل اس سے خاطر خواہ نتائج حاصل نہ کر پائے تو انہوں نے سوچا کہ اگر مسلمان کافر نہیں بنتا تو نہ بنے لیکن کم از کم مسلمان تو نہ رہے اس مقصد کے لئے انہوں نے افکار و نظریات کی جنگ شروع کی ...... فحاشی و عریانی کو فروغ دیا ...... گمراہی اور بے راہ روی کو عام کرنے کی کوشش کی ...... لیکن اس سب کچھ کے باوجود بھی جب معاملہ بنتا نظر نہ آیا تو وہ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ گئے کہ یہ امت بھی کیسی امت ہے؟ ...... یہ بیشمار فرقوں میں بٹ جاتی ہے ...... ان کے مابین سر پھٹول ہونے لگتی ہے ...... لیکن جب محمد عربی ﷺ کا نام نامی آتا ہے تو یہ اپنے سب اختلافات بھلا کر ...... رنجشوں اور کدورتوں کو مٹا کر ...... باہم شیر و شکر ہو کر مخالفین کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ہیں۔

وہ سوچنے لگے کہ ایک مسلمان اللہ کی نافرمانیوں پر نافرمانیاں کرتا چلا جاتا ہے ...... لیکن اس کے باوجود اس کے دل میں ایمان موجود رہتا ہے ...... کہیں نہ کہیں عشق رسالت کی کوئی چنگاری دبی ہوئی ہے ...... اور جب کبھی عزت و ناموس رسالت کے تحفظ کی بات آتی ہے تو وہ غازی علم دین بن جاتا ہے ...... جب ملت اسلامیہ نیم جان ہو کر موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہو جاتی ہے تو اس وقت اس کے اندر موجود فقط اک روح محمدؐ ہی ہے جو اسے مرنے نہیں دیتی ...... یہ سوچ کر عالم کفر نے یہ فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کے تن بدن سے روح محمدؐ کو نکال پھینکا جائے ...... ان کے دلوں سے عشق رسالت کو کھرچ کھرچ کر مٹا ڈالا جائے ...... چنانچہ اس وقت عالم کفر اسی منصوبے پر عمل پیرا ہے اور آج ان ظالموں کی نظریں ہمارے سب سے اہم اور قیمتی سرمائے اور اثاثے اور ہماری دولت و ثروت تاجدار ختم نبوت (فداہ نفسی و ابی و امی) اور آپ ﷺ کی عزت و ناموس پر لگی ہوئی ہیں۔ اور وہ حضور ﷺ کی شان اقدس میں بار بار گستاخی کا ارتکاب کر کے شر انگیز اور دلآزار خاکے شائع کر کے دراصل ہمیں عادی بنانا چاہتے ہیں ...... ہمارے تن بدن سے روح محمدؐ اور دل سے عشق و محبت اور غیرت کے جذبات مٹانا چاہتے ہیں ...... کبھی قرآن کریم کی بے حرمتی ہوتی ہے ...... کبھی اسلامی احکامات کا مذاق اڑایا جاتا ہے ...... کبھی مساجد و مدارس کو نشانے پر رکھ لیا جاتا ہے ...... کبھی علماء اور دیندار طبقے کو الزام و دشنام کا سامنا کرنا پڑتا ہے ...... ان کے قلم ...... اور ان کی

صفحہ 141

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک نقطہ نام محمد سے محبت کی ہے

زبانیں حضور اکرم ﷺ کی حرمت و ناموس تک آ پہنچی ہیں۔...... یہ جسارت حضور اکرم ﷺ کی عظمت و شان میں تو نقص کا سرے سے باعث ہے ہی نہیں کیونکہ آسمان پر تھوکا ہوا اپنے ہی منہ پر آ گرتا ہے اور آفتاب و ماہتاب کی طرف رخ کر کے پھونکنے سے ان کی ضیاء پاشیوں میں کوئی کمی تو نہیں آ جاتی ، یہاں بھی معاملہ کچھ اسی قسم کا ہے لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ جو کچھ کیا جا رہا ہے یہ دراصل اہل اسلام کے لئے امتحان اور آزمائش کا باعث ہے ...... بلکہ یہ ایک طرح کا ٹیسٹ کیس ہے...... وہ لوگ وقفے وقفے سے کبھی ٹھڈا مار کر ......کبھی چٹکی بھر کر ...... کبھی جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر چیک کرنا چاہتے ہیں کہ ان مسلمانوں میں زندگی کی کوئی رمق ...... عشق رسالت کی کوئی چنگاری ...... اور ایمان وغیرت کا کوئی ذرہ موجود ہے یا یہ مسلمان ان تمام نعمتوں اور دولتوں سے محروم ہو چکے ہیں۔

آج عالم اسلام میں جو احتجاج ہو رہا ہے اس سے عالم کفر کو یہ پیغام ضرور ملا ہوگا کہ مسلمان ابھی دینی غیرت وحمیت کی دولت سے بالکل عاری بھی نہیں ہوئے۔ یہ احتجاج موثر طریقے سے جاری رہنا چاہیے اور موجودہ حالات میں اس کا سب سے موثر طریقہ مکمل اقتصادی وسفارتی بائیکاٹ ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پھر سے مسلمان بن جائیں ...... سچے ، پکے ، کھرے اور صحیح معنوں میں مسلمان ...... ہم دوبارہ سے اپنے دلوں میں عشق ومحبت مصطفیٰ کی شمعیں فروزاں کریں ...... ہم اپنے شب وروز کا محاسبہ کریں ...... اپنے کردار وعمل کا جائزہ لیں ...... اپنا کھویا ہوا وقار اور مقام دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کریں تا کہ ہمارے دشمن کو دوبارہ کبھی ایسی جرات ہی نہ ہو۔ اس مسئلے پر عالم اسلام نے جو ہلکی سی انگڑائی لی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس گئے گزرے دور میں بھی ملت اسلامیہ بہت کچھ کرسکتی ہے ...... مسلمانوں کی بیداری اور اتحاد ویکجہتی نے بلاشبہ یورپ کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور بالخصوص اقتصادی بائیکاٹ نے تو ان کے ہوش ٹھکانے لگا دیئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر مسلمان خود سنجیدہ ، غیور اور مخلص ہو جائیں تو پھر مسلمانوں کی قابل احترام ہستیوں اور شعائر اسلام کی طرف نہ کوئی نگاہ اٹھ سکے گی نہ کوئی زبان اور نہ کوئی قلم ۔

صفحہ ۱۴۲

تحفظ ناموسِ رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

محبت کا قرینہ !

عرفان صدیقی

رات میں نے اپنے سرہانے رکھی علامہ اقبال کی فکر افزاء مثنوی اسرار خودی اور رموز بیخودی‘ اٹھائی اور اس کی آخری نظم ”عرض حال مصنف بحضور رحمۃ للعالمین ﷺ“ پڑھنے لگا۔ یہ نظم میں اس سے پہلے بیسیوں بار پڑھ چکا ہوں۔ جب کبھی میرے ذہن پر ساون رُت کی گھٹائیں سی چھا جاتی ہیں اور سر شام ہی اندھیرا گہرا ہو جاتا ہے اور میرے اندر رات بھر سردیوں کی بارش پیہم برستی رہتی ہے اور دل میں ٹین کی چھت پر گرتی بوندوں کی طرح ٹپ ٹپ کی آوازیں آنے لگتی ہیں تو میں علامہ کی طویل نظم پڑھنے بیٹھ جاتا ہوں اور پھر ہوا کا کوئی لطیف سا جھونکا مجھے اٹھا کر اس نور والی بستی میں لے جاتا ہے جو مجھ سے بہت دور تھی لیکن اب چشم زدن کے فاصلے پر رہتی ہے۔

اے ظہور تو شباب زندگی جلوۂ ات تعبیر خواب زندگی
اے زمیں از بار گاہت ارجمند آسماں از بوسۂ بامت بلند
شش جہت روشن زتاب روئے تو ترک و تاجیک و عرب ہندؤے تو
از تو بالا پایۂ ایں کائنات فقر تو سرمایہ ایں کائنات
در جہاں شمع حیات افروختی بندگاں را خواجگی آموختی
بے تو از نابود مندیہا خجل پیکران ایں سرائے آب و گل
تو تودہ ہائے خاک را آدم نمود

”اے حضور پاک ﷺ ! آپ وہ ہیں کہ آپ کے تشریف لانے سے زندگی پر شباب آگیا۔ آپ کا جلوہ مقصود کائنات ہے، جس سے زندگی کے خواب کو تعبیر ملی۔ آپ کی بارگاہ ناز سے اس زمین کا

صفحہ ۱۳۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک لفظ نام محمد سے محبت کی ہے

مرتبہ و مقام بلند ہوا۔ اتنا بلند کہ آسمان نے بھی آپ کی بارگاہ کے در و بام چوم کر بلندی حاصل کی۔ آپ ﷺ کے رخ انور کی تابانی سے کائنات کا گوشہ منور ہوا۔ ترک ہوں یا تاجک یا عرب، سب تیرے غلاموں میں شمار ہونے لگے۔

آپ ﷺ ہی کے دم قدم سے اس کائنات کا درجہ بلند ہوا۔ آپ ﷺ کا فقر و غنا اس کائنات کا سرمایہ عظیم ہے۔ آپ ﷺ نے اس دنیا میں زندگی کی شمع روشن کی اور غلاموں کو آقائی کا ہنر سکھایا۔ آپ ﷺ کے بغیر تو دنیا کی ساری شکلیں کم مایہ ہونے کے باعث اپنے آپ سے شرمندہ تھیں۔ حتیٰ کہ آپ ﷺ نے مٹی کے اندر عشق کی آگ بھڑکائی اور مٹی کے ان تودوں نے آدم کی شکل اختیار کر لی۔

جب میں نظم کے آخری حصے کے ان اشعار پر پہنچا تو میری بھیگتی آنکھوں کے پانیوں میں سبز رنگ کے ایک گنبد کا عکس جھیل سا لہرانے لگا اور علامہ کی آرزو کے سانچے میں ڈھلنے لگی۔

زندگی را از عمل ساماں نبود پس مرا ایں آرزو شایاں نبود
شرم از اظہار او آید مرا شفقت تو جرات افزائد مرا
ہست تو جرات شان رحمت گیتی نواز آرزو دارم کہ میرم در حجاز
کوکبم را دیدہ بیدار بخش مرقدے در سایہ دیوار بخش

”اے نبی رحمت ﷺ میری زندگی میں عمل کا کوئی سامان نہیں اس لئے یہ آرزو مجھے زیب نہیں دیتی۔ مجھے تو یہ آرزو کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے لیکن آپ ﷺ کی شفقت و رحمت میرا حوصلہ بڑھاتی ہے۔ آپ کی رحمت تو ایک دنیا کو نوازتی ہے۔ میری آرزو بس اس قدر ہے کہ مجھے سرزمین حجاز میں موت آئے۔ میری قسمت کے ستارے کو بیداری بخشے اور اپنی دیوار کے سائے تلے قبر کی جگہ عطا فرمائیے“۔

سات سمندر پار کے کم نصیبوں کو ان جذبوں کی حرارت اور ان آرزوؤں کی تپش کا اندازہ نہیں۔ جب خالق ارض و سما کے دربار سے فرمان جاری ہوا کہ ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنی آواز نبی ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو اور نبی ﷺ کے ساتھ اونچی آواز میں بات نہ کیا کرو جس طرح تم ایک

صفحہ ۱۴۴

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک لفظ نام محمدؐ سے محبت کی ہے

دوسرے کے ساتھ کرتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے‘‘۔ تو حضرت ابو بکر صدیقؓ نے حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں عرض کیا ’’یا رسول اللہ ﷺ! قسم ہے کہ اب میں زندگی کی آخر سانس تک اس طرح رہوں گا جس طرح کوئی سرگوشی کرتا ہے‘‘۔ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنی آواز اس قدر مدہم کر لی اور اتنی آہستگی سے کلام کرنے لگے کہ بعض اوقات ان سے اپنی بات دوہرانے کے لئے کہا جاتا۔ حضرت ثابت بن قیسؓ پر خوف کا عالم طاری ہو گیا اور وہ زار و قطار رونے لگے۔ ان کی آواز فطری طور پر بلند تھی اور انہیں یہ غم دامن گیر ہو گیا کہ اب میں کس طرح ہمکلام ہوں گا۔ قاضی ابو بکر عربیؒ کا کہنا ہے کہ روضۂ رسول ﷺ پر بھی اس قرآنی حکم کو ملحوظ خاطر رکھنا تقاضائے ادب ہے‘‘۔

ہمیں پل بھر کو رک کر رات کے کسی دلگداز لمحے میں اپنے من میں ڈوب کر عین اس وقت جب سبز رنگ کا ایک گنبد ہماری بھیگی آنکھوں میں تیر رہا ہو، اپنے آپ سے یہ ضرور پوچھنا چاہیے کہ ہمیں حضور ﷺ سے محبت کے اظہار کی کون سی راہ اختیار کرنی چاہیے؟ ہمارا پیرایہ احتجاج کیا ہونا چاہیے؟ میرے خیال میں ہمارے احتجاج کی لے بلند ہونے کے باوجود اتنی مہذب، اتنی باوقار اور اتنی باعظمت ہونی چاہیے کہ مغرب کے در و دیوار لرز جائیں گے لیکن کسی کو ہماری طرف انگلی اٹھانے کی جرات نہ ہو۔ ڈنڈے، اینٹیں، پتھر، روڑے، ٹوٹے ہوئے شیشے، جلتی ہوئی عمارتیں، جلتی ہوئی گاڑیاں، لٹتے ہوئے بینک اور بھڑکتے ہوئے شعلے ہمارا مقدمہ کمزور کر دیں گے۔ اس سے ہمارے ہمدردوں کو بھی ہماری وکالت میں مشکل پیش آئے گی جس دن کراچی سے گلگت تک کوئی دکان کھلی نہ ہوگی اور ہم گستاخان رسول ﷺ کی مصنوعات سے ہاتھ کھینچ لیں گے اور کروڑوں عوام درود و سلام کے زمزمے بلند کرتے ہوں گے اُس دن یورپ اور اس کے کاسہ لیسوں کو بھی اگلے رخ کا اندازہ ہو جائے گا۔

جن کے دربار میں اونچی آواز میں بولنا بھی منع ہے انہیں شاید ہمارا یہ طوفان پرور اور ہنگامہ خیز انداز احتجاج پسند نہ آئے۔

صفحہ ۱۴۵

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک فقط نامؐ سے محبت کی ہے

سنو! غور سے سنو

سعدی کے قلم سے

اللہ تعالیٰ کے محبوب اور آخری نبی حضرت محمدﷺ کتنے معزز محبوب اور کتنے پیارے ہیں۔۔۔۔ ان جیسی عزت اور شان روئے زمین پر نہ کسی کو ملی۔۔۔۔ نہ مل سکتی ہے۔۔۔۔ اب دنیا کے اسلام دشمن کافروں کو اس کا اندازہ ہونے لگا ہے۔۔۔۔ حالانکہ ابھی تو امت مسلمہ نے عشق مصطفیٰﷺ کے اظہار کا پہلا قدم اٹھایا ہے۔۔۔۔ یورپ کے تاجر پریشان اور وہاں کے اخبارات حیران ہیں۔۔۔۔ ڈنمارک کے اخبارات اپنا تھوکا ہوا چاٹ رہے ہیں۔۔۔۔ یقین کیجیے صرف احتجاج کے پہلے مرحلے پر ہی دنیائے کفر لرز کر رہ گئی ہے۔۔۔۔ ہاں میرے آقاﷺ کی عزت اور شان بہت اونچی ہے۔۔۔۔ ان کی گستاخی کا جرم کرنے والوں پر زمین تنگ ہو جائے گی۔۔۔۔ وہ گیدڑ کی ذلت والی زندگی جئیں گے اور کتے کی عبرتناک موت مریں گے۔۔۔۔ حالانکہ ابھی تو کچھ بھی نہیں ہوا۔۔۔۔ یہ تو غم کی سسکیاں ہیں آنسو تو ابھی باقی ہیں۔۔۔۔ یہ تو محض دھواں ہے آگ تو ابھی باقی ہے۔۔۔۔ امریکہ اور یورپ نے ”مسلمان حکمرانوں“ کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ کہ۔۔۔۔ کسی طرح احتجاج کا سلسلہ بند کیا جائے۔۔۔۔ مگر کہاں؟۔۔۔۔ دنیا کے ساتوں بڑے سمندر اپنے ہر طرف احتجاج ہی احتجاج دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔ اور مسلمان تو مسلمان اللہ تعالیٰ کی ہر مخلوق احتجاج کرنے کے لئے بے چین ہے۔ کیا۔۔۔۔ محمد عربیﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ایسے جانثار دیئے ہیں کہ تاریخ ان کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہے۔۔۔۔ تمہیں اطمینان تھا کہ افغانستان پر تمہارا قبضہ ہے۔۔۔۔ اور کرزئی سب کچھ سنبھال لے گا مگر وہاں سخت احتجاج ہوا اور بندوقوں نے گولیاں برسائیں۔۔۔۔ تمہیں اطمینان تھا کہ ہندوستان کے پچیس کروڑ مسلمان اب ٹھنڈے ہو چکے ہیں۔۔۔۔ مگر وہاں تو احتجاج تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔۔۔۔ میرٹھ کے مسلمانوں نے اعلان کیا ہے کہ جو کارٹون بنانے والے ناپاک سر کو کاٹے گا اس کو اکیاون کروڑ روپے کا انعام دیا جائے گا۔۔۔۔ اور میرٹھ کے مسلمان اسے سونے میں تول دیں گے۔۔۔۔ میرٹھ والو! تمہارا جذبہ مبارک! مگر معاف کرنا اسلام کے مجاہدین کو تم سے پہلے کسی نے۔۔۔۔ بہت بڑی قیمت کے بدلے خرید لیا ہے۔۔۔۔ ہاں

صفحہ ۱۳۶

اکتا نام محمدﷺ سے محبت کی ہے اکیاون کروڑ سے زیادہ اور وزن کے برابر سونے سے بہت زیادہ قیمت دے کر خرید لیا ہے...... معلوم ہے کس نے؟......ہاں مجاہدین کو اللہ تعالیٰ نے خرید لیا ہے......یہ بکے ہوئے لوگ ہیں اسی لئے تو کسی اور کی نہیں سنتے......کسی اور کی نہیں مانتے...... مسلمانو! پچھلے چار سال سے تو تم نے ان مجاہدین کو بھلایا ہوا تھا......اب آقاﷺ کے نام مبارک پر قربانی دی تو تمہیں جہاد بھی یاد آ گیا اور مجاہدین بھی......اب ہر کوئی غازی علم الدین کو یاد کر رہا ہے......اب ہر مسلمان دل کی گہرائی سے الجہاد الجہاد پکار رہا ہے......ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں...... مگر پاکستان کے وزراء کو ابھی کسی اور زمانے کا انتظار ہے......مجھے حیرت ہے کہ......جن لوگوں کے نزدیک ”نفرت پھیلانا“ سب سے بڑا جرم تھا وہ ابھی تک خاموش ہیں......انہوں نے کارٹونوں کی نفرت کو محسوس نہیں کیا؟......ہاں ان کی ڈیوٹی صرف مسلمان انتہا پسندوں کو ختم کرنے پر لگائی گئی ہے......اس لیے کہ انہوں نے ڈنمارک کے انتہا پسندوں کے خلاف اپنے ہونٹوں کو حرکت نہیں دی......نصیب اپنا اپنا ......اور قسمت اپنی اپنی......دنیا تیزی سے گزر رہی ہے ہر آدمی موت کی طرف بھاگ رہا ہے......قبر ہر ایک کو روزانہ ایک گز اپنی طرف کھینچ رہی ہے......کوئی خوش نصیب عشق مصطفیٰﷺ کے پھول اور روشنی جمع کر رہا ہے......کوئی خوش نصیب جان ہتھیلی پر رکھے رب سے شہادت کی فریاد کر رہا ہے......اور کچھ ”بدنصیب“ ظلم اور غفلت کے انگارے جمع کر رہے ہیں......موت آئے گی تو فیصلہ ہو جائے گا......معلوم ہوا ہے کہ یورپ کے ایک وزیر نے کارٹونوں والی شرٹ پہنی......پھر اسے استعفی دینا پڑا......معلوم ہوا ہے کہ یورپ کے تمام ممالک کے حکمرانوں نے ڈنمارک کو تعاون کا یقین دلایا ہے......اور آزادی رائے کے حق پر زور دیا ہے......اظہار رائے کی آزادی کا جھوٹ بہت خوفناک ہے......انگریزوں نے دنیا پر اپنے اقتدار کے زمانے میں ”زبان بندی“ کا قانون نافذ کیا......اور ہم اب تک اس کالے قانون کی نحوست بھگت رہے ہیں......اگر سب کچھ بولنے کی آزادی ہے تو پھر ”دعوت جہاد“ پر پابندی کیوں لگائی جاتی ہے......ٹھیک ہے میدان میں آکر بہادروں کی طرح مقابلہ کرو......تمہارے دل میں جو آئے تم بولو......ہمارے دل میں جو کچھ آئے ہم بولتے ہیں......پھر دیکھتے ہیں کہ دنیا کا رنگ کیا ہوتا ہے......کیا یورپ ایک مہینے کے لئے......ہاں صرف ایک مہینے کے لیے یہ چیلنج قبول کر سکتا ہے؟ کبھی نہیں......تم نے تو

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے مسلمانوں کی آواز کر کے دعوت جہاد کے راستے بند کراتے ہو جہادی کیمپوں کو جرم قرار دیا......اب کس ناپاک تمہارے نزدیک کارٹون بنانے سے کچھ نہیں ہ تمہارے پیٹ میں کیوں درد ہونے لگتا ہے کچھ پڑھا رہے ہیں انہیں پڑھانے دو...... کا پیغام پہنچانے والوں کو......کھلم کھلا بات کر کی زبان روکتے ہو......اور پھر یہ جھوٹا دعویٰ ک لوگوں نے آخرت سے غافل ہو کر......دنیا مادی ترقی کی......اب یہودیوں کی انگلیوں آج کی نازک دنیا کا تباہ ہونا اتنا ہی آسان اور تمہیں آقاﷺ سے اختلاف ہے تو... بجائے تم مناظرے کے میدان میں اترو... گے......اگر تم بے دین ہو تو پھر......مقدس کھاؤ پیو......آزاد مستیاں کرو اور مر جاؤ اور سازشی گدھوں کی طرح مردار کھانے پ اسلام کے فدائی دستے تمہاری نام نہاد طا پھر......دوسروں کے جذبات کا احترام ک انسان ہیں......تم نے خود کو ”پہلی دنیا“ اس کے ٹوٹنے میں زیادہ دن باقی نہیں رہے اے مسلمانو!......ہمارے زمانے میں......گستاخی کا نشانہ بنایا گیا

ہے، جس کی بدولت ہی کے طور پر بیان کیا گیا چنانچہ سیرت نبوی کا کردار کی طہارت اور وری میں حد و وجدان ش میں کامیاب ہو گئیں للہ رب العالمین ہے میں قدم جھکنے دوں ان کے باوجود جہاد مسلمانانِ عالم پر یہ طح اور زاویے سے انفرادی زندگی میں کی آویزش اور کفار تعلیمات کو اجاگر کیا ت کے ایک دینی وملی رت کر سکتا ہے؟ یہ نے ایک نئی تحریک ازشوں سے پردہ تحفظ کی خاطر اپنی م توفیق

صفحہ 147

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک نظام مرے مصطفیٰ کا ہے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے مسلمانوں کی آواز بند کی ہوئی ہے۔۔۔۔۔ تم تو کروڑوں ۔۔۔۔۔ اربوں ڈالر خرچ کر کے دعوت جہاد کے راستے بند کراتے ہو ۔۔۔۔۔ تم نے جہادی جلسوں پر پابندیاں لگوائیں۔ ۔۔۔۔۔ تم نے جہادی کیمپوں کو جرم قرار دیا۔ ۔۔۔۔۔ اب کس ناپاک منہ سے تم ”آزادی اظہار“ کی بات کرتے ہو ۔۔۔۔۔ جب تمہارے نزدیک کارٹون بنانے سے کچھ نہیں ہوتا تو پھر ۔۔۔۔۔ مدرسوں میں دین کی خالص تعلیم دینے پر ۔۔۔۔۔ تمہارے پیٹ میں کیوں درد ہونے لگتا ہے؟ جب رائے کے اظہار کی آزادی ہے تو پھر مدارس والے جو کچھ پڑھا رہے ہیں انہیں پڑھانے دو ۔۔۔۔۔ جہاد کی دعوت دینے والوں کو ۔۔۔۔۔ اپنی بات کہنے دو ۔۔۔۔۔ اسلام کا پیغام پہنچانے والوں کو ۔۔۔۔۔ کھلم کھلا بات کرنے دو ۔۔۔۔۔ مگر تم طاقت اور پیسہ استعمال کر کے ۔۔۔۔۔ مسلمانوں کی زبان روکتے ہو ۔۔۔۔۔ اور پھر یہ جھوٹا دعویٰ کرتے ہو کہ تم جمہوریت اور سیکولرازم کے علمبردار ہو ۔۔۔۔۔ تم لوگوں نے آخرت سے غافل ہوکر ۔۔۔۔۔ دنیا کی عیش کو اپنا مقصود بنالیا ہے۔ زندگی کو عیش سے بھرنے کیلئے مادی ترقی کی۔ ۔۔۔۔۔ اب یہودیوں کی انگلیوں پر ناچ کر اپنے عیش و آرام کو کیوں برباد کرنا چاہتے ہو؟ ۔۔۔۔۔ آج کی نازک دنیا کا تباہ ہونا اتنا ہی آسان ہے جس طرح تیل میں آگ کا لگنا ۔۔۔۔۔ اگر تم مذہبی لوگ ہو اور تمہیں آقا ﷺ سے اختلاف ہے تو ۔۔۔۔۔ پھر بدکاروں کی طرح گالیاں دینے ۔۔۔۔۔ اور کارٹون بنانے کی بجائے تم مناظرے کے میدان میں اترو ۔۔۔۔۔ انشاء اللہ مسلمان علماء ۔۔۔۔۔ تمہارے علمی غرور کا نشہ اتار دیں گے۔ ۔۔۔۔۔ اگر تم بے دین ہو تو پھر ۔۔۔۔۔ مقدس دینی ہستیوں پر انگلیاں اٹھانے سے باز رہو ۔۔۔۔۔ خنزیر کی طرح کھاؤ پیو ۔۔۔۔۔ آزاد خر مستیاں کرو اور مر جاؤ ۔۔۔۔۔ اگر تمہیں جنگ کا شوق ہے تو پھر کھل کر میدان میں اترو ۔۔۔۔۔ اور سازشی گدھوں کی طرح مردار کھانے کی بجائے شیروں کی طرح میدان میں مقابلہ کرو ۔۔۔۔۔ انشاء اللہ اسلام کے فدائی دستے تمہاری نام نہاد طاقت کا غرور توڑ دیں گے۔ ۔۔۔۔۔ اور اگر تم امن پسند اور مہذب ہو تو پھر ۔۔۔۔۔ دوسروں کے جذبات کا احترام کرو ۔۔۔۔۔ اور اس بات کو مت بھولو کہ دوسرے لوگ تم سے اچھے انسان ہیں۔ ۔۔۔۔۔ تم نے خود کو ”پہلی دنیا“ اور غریب کو ”تیسری دنیا“ کہہ کر جو نظام دنیا پر مسلط کیا ہے اب اس کے ٹوٹنے میں زیادہ دن باقی نہیں رہے۔ ۔۔۔۔۔

اے مسلمانو! ۔۔۔۔۔ ہمارے آقا ۔۔۔۔۔ ہمارے محبوب حضرت محمد عربی ﷺ کو ہماری جوانی کے زمانے میں ۔۔۔۔۔ گستاخی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ۔۔۔۔۔ اگر ہم اب بھی نہ سنبھلے تو حوض کوثر پر کس منہ سے ۔۔۔۔۔ حاضر

صفحہ 148

تحفظ ناموس رسالتﷺ کیوں اور کیسے؟ اک نام محمدﷺ سے محبت کی ہے ہی دیں گے۔ اے مسلمانو! تم نے جن کا لباس پہنا انہوں نے آقاﷺ کو گالی دی اللہ کے لئے آقا ﷺ کی محبت میں اس لباس پر تھوک دو۔ جن کو خوبصورت سمجھ کر ان کی طرح ڈاڑھیاں منڈوائیں..... انکی طرح بال رکھے..... تم نے دیکھ لیا کہ وہ کتنے گندے..... کتنے بدصورت اور کتنے ناپاک ہیں..... اللہ کے لیے آقاﷺ کی محبت میں ان ظالموں کی شکلوں پر تھوک دو..... اور اپنا چہرہ آقاﷺ کی سنت سے سجالو..... سر پر آقاﷺ کی سنت والے بال رکھ لو اور عمامہ سجالو..... رب کعبہ کی قسم اگر کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ آقاﷺ کی مبارک شکل وصورت اور سنت اختیار کر لیں تو یورپ کے گستاخان رسولﷺ کانپ اٹھیں گے..... اور درد سے چیخنے لگیں گے..... اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبیﷺ کو ”خصوصی رعب“ عطا فرمایا ہے..... اس رعب کا تذکرہ قرآن پاک میں بھی ہے..... اور کئی صحیح احادیث میں بھی ..... اور احادیث سے ثابت ہے کہ حضور اکرمﷺ کا رعب آپﷺ کے دشمنوں پر ایک مہینے کی مسافت کی دوری سے بھی پہنچ جاتا تھا..... حضرات مفسرین نے لکھا ہے کہ..... امت میں سے جو سچا مسلمان ہوگا ..... اور جو آقاﷺ کا پکا فرمانبردار ہوگا اللہ تعالیٰ اس کو بھی یہ رعب عطا فرمائے گا..... آج بعض فقیر و مسافر مسلمانوں کے رعب سے دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں لرزہ براندام ہیں..... اے مسلمانو! ہم کافروں کا لباس پہن کر..... ہم کافروں کی شکل بنا کر..... ہم جہاد کی تربیت چھوڑ کر..... اس رعب سے محروم ہوگئے..... تب کچھ بزدل کافروں کو آقاﷺ کی گستاخی کا موقع مل گیا..... ہم میلاد کے حلوے کی دیگیں بانٹتے رہ گئے اور دشمنوں نے آپﷺ کی دستار مبارک پر حملہ کردیا..... آج سے سیفٹی..... بلیڈ اور شیونگ کریم کو نالی میں پھینک دو..... اور تمہارے چہرے کی ڈاڑھی..... اور تمہارے چہرے کا عمامہ ڈنمارک کی ٹانگیں ہلا د ے گا۔ اے مسلمانو ہر گھر میں فضائل جہاد کی تعلیم کو لازم کرلو..... ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم غزوۂ بدر کو پڑھیں..... ہم غزوۂ احد کو سمجھیں..... اور ہم غزوۂ تبوک کے درد کو محسوس کریں..... ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ آقاﷺ جہاد میں کس طرح سے زخمی ہوئے..... اور پھر آپﷺ کے صحابہ نے کیا کیا؟..... اے مسلمانو! عشق مصطفیٰﷺ کی شمع کا پروانہ بننے کے لیے جہاد کی تعلیم کو عام کرنا ہوگا..... جب جہاد کی آیات کے بغیر قرآن مکمل نہیں ہوسکتا تو پھر..... جہاد کے بغیر ایک مسلمان کیسے کامل مسلمان

تحفظ ناموس رسالتﷺ کیوں اور کیسے؟ ہوسکتا ہے..... مظاہرے ہوتے رہیں گے..... نعرے بلند ہوتے رہیں گے..... اللہ کرے حکمرانوں کو بھی عشق رسولﷺ کا کوئی مبارک تقاضا کچھ اور ہے..... ہاں ایسے مسلمان..... مسلمان کہلائیں اور پھر اپنے عمل..... شکل بڑی عزت سمجھیں اور دنیا کی ظاہری ترقی سے کے پاس بیچ دیں..... اس کی پیاری رضا..... کے خون میں..... عشق مصطفیٰﷺ کی خوشبو ہاں ایسے مسلمان..... جو پورے کے نزدیک زندگی کا مطلب..... اللہ تعالیٰ تقاضا ہیں..... اور ایسے مسلمان وقت کی ضرو ہاں..... اللہ پاک کی قسم آواز آرہی ہے..... ..... اللہ کے رسول ہیں..... سبز گنبد مسکرا آواز کو مانتے ہو؟..... کیا اس آواز کو ماننے نہیں؟..... اس آواز کو ماننے والے ویسے والے کیسے تھے..... وہ دیکھو احد میں کیسے ہیں..... وہ دیکھو..... وہ دیکھو..... وہ دیکھو اور ناپاک ٹی وی چینلوں میں گم ہوچکے ہو بلا رہا ہے..... گنبد خضراء پکار رہا ہے.....

ے، جس کی بدولت نئی کے طور پر بیان کیا گیا چنانچہ سیرت نبوی کا کردار کی طہارت اور وری میں خدوخال ش کامیاب ہوگئیں للعالمین ہے میں قدم جھکنے دوں ان کے آباواجداد مسلمانان عالم پر یہ نچ اور زاویے سے انفرادی زندگی میں ں آویزاں اور کفار تعلیمات کو اجاگر کیا مت کر سکتا ہے؟ نے ایک دینی وملی بارشوں سے پردہ حفظ کی خاطر اپنی

صفحہ ۱۴۹

تحفظ ناموسِ رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک خط ناموسِ محبت کے

ہوسکتا ہے...... مظاہرے ہوتے رہیں گے...... بحرِ اوقیانوس سے لیکر بحرِ احمر تک شانِ مصطفیٰﷺ کے نعرے بلند ہوتے رہیں گے...... اللہ کرے مسلمانوں کا یہ جذبہ مزید بیدار ہو...... اللہ کرے مسلمان حکمرانوں کو بھی عشقِ رسولﷺ کا کوئی مبارک ذرہ نصیب ہوجائے...... یہ سب کچھ اپنی جگہ...... مگر وقت کا تقاضا کچھ اور ہے...... ہاں ایسے مسلمان...... جن کا ظاہر بھی مسلمان ہو اور باطن بھی مسلمان ہو...... جو خود کو مسلمان کہلوائیں اور پھر اپنے عمل...... شکل اور کردار سے مسلمان نظر بھی آئیں جو اسلام ہی کو سب سے بڑی عزت سمجھیں اور دنیا کی ظاہری ترقی سے مرعوب نہ ہوں...... ہاں ایسے مسلمان جو خود کو...... اللہ تعالیٰ کے پاس بیچ دیں...... اس کی پیاری رضا...... اور اس کی حسین جنت کے بدلے...... ہاں ایسے مسلمان جن کے خون میں...... عشقِ مصطفیٰﷺ کی خوشبو ہو...... اور جو فقیری کو شاہی پر ترجیح دیں......

ہاں ایسے مسلمان...... جو پورے عالم کو مسلمان کرنے کا عزم اور جذبہ رکھتے ہوں...... اور جن کے نزدیک زندگی کا مطلب...... اللہ تعالیٰ کے راستے میں قربان ہونا ہو...... ہاں ایسے مسلمان وقت کا تقاضا ہیں...... اور ایسے مسلمان وقت کی ضرورت ہیں...... مسجد نبوی کے میناروں سے آواز آ رہی ہے...... ہاں...... اللہ پاک کی قسم آواز آ رہی ہے...... اشھد ان محمد رسول اللہ...... میں گواہی دیتا ہوں...... محمدﷺ ...... اللہ کے رسول ہیں...... سبز گنبد مسلمانوں سے پوچھ رہا ہے...... کیا اس آواز کو مانتے ہو؟...... کیا اس آواز کو مانتے ہو؟...... کیا اس آواز کو مانتے ہو؟...... اگر مانتے ہو تو پھر خود کو اس مطابق ڈھالتے کیوں نہیں؟...... اس آواز کو ماننے والے ویسے تو نہیں ہوتے جیسے تم ہو...... جاؤ دیکھو...... اس آواز کے ماننے والے کیسے تھے...... وہ دیکھو احد میں کٹے پڑے ہیں...... وہ دیکھو بدر میں اپنے زخموں کے ساتھ موجود ہیں...... وہ دیکھو...... وہ دیکھو...... وہ دیکھو...... وہ کہاں کہاں تک جا پہنچے...... مگر تم تو...... رنگین فلموں...... اور ناپاک ٹی وی چینلوں میں گم ہوچکے ہو...... اٹھو اب توبہ کرو...... غسل کرو اور پاک ہو جاؤ...... گنبدِ خضراء بلا رہا ہے...... گنبدِ خضراء پکار رہا ہے......

صفحہ ۱۵۰

تحفظ ناموس رسالت' کیوں اور کیسے؟ اک خطاء عام رقم سے عبث کی ہے

یہ شمع جلتی رہے گی

مولانا محمد اسلم شیخوپوری

بلاشبہ یہ اتنا بڑا حادثہ ہے کہ اگر اس کے غم میں سورج سیاہ چادر اوڑھ لے، چاند پر تاریکی چھا جائے، ستاروں کی قندیلیں بجھ جائیں، آسمان ٹوٹ پڑے اور زمین کا سینہ شق ہو جائے تو بجا ہے۔ توہین کی گئی ہے اس عظیم شخصیت کی جسے جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ مذاق اڑایا گیا ہے اس معلم انسانیت کا جس نے زندگی بھر کسی مذہبی پیشوا تو کیا، خون کے پیاسوں کا بھی مذاق نہیں اڑایا۔ بازاری انداز میں خاکے بنائے گئے ہیں اس فخر انسانیت کے جس کے لائے ہوئے مذہب میں ایسا شخص مسلمان نہیں ہوسکتا جو کسی بھی نبی کی توہین کرتا ہو یا اس کے دل میں کسی پیغمبر کے بارے میں کدورت ہو۔

اس ناروا حرکت پر صومالیہ سے افغانستان تک، عراق اور شام سے پاکستان و ہندوستان تک احتجاج کی شدید لہر اٹھی ہے۔ جلوس نکل رہے ہیں نعرے گونج رہے ہیں گستاخان رسول کی مصنوعات کا بائیکاٹ ہو رہا ہے۔ سینے شق ہو رہے ہیں۔ آنکھیں ابل رہی ہیں، ایسے عشاق کی کمی نہیں جو ناموس رسالت پر سب کچھ قربان کر دینا چاہتے ہیں۔ ان کی سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ کیا کریں۔ تڑپ سکتے ہیں سو تڑپ رہے ہیں، بے بسی کے آنسو بہا سکتے ہیں۔ سو بہا رہے ہیں، یہ سب کچھ ہونا ہی تھا سو ہو رہا ہے۔ مسلمان کتنا گیا گزرا ہی سہی اس کے دل کے کسی نہ کسی کونے میں حبیب خدا کی محبت کا چراغ جل رہا ہوتا ہے۔ اس کی لو مدہم ہی سہی مگر وہ روشن ضرور ہوتی تو ہے۔

”اختر شیرانی اردو کے مشہور شاعر گزرے ہیں۔ لاہور کے عرب ہوٹل میں ایک دفعہ کمیونسٹ نوجوانوں نے، جو بلا کے ذہین تھے، اختر شیرانی کے ساتھ مختلف موضوعات پر بحث چھیڑ دی۔ اس وقت تک وہ دو بوتلیں چڑھا چکے تھے اور ہوش قائم نہ تھے تمام بدن پر رعشہ تھا حتی کہ الفاظ بھی ٹوٹ ٹوٹ کر زبان سے نکل رہے تھے۔ ادھر ”انا“ کا شروع سے یہ عالم تھا کہ اپنے سوا کسی کو نہیں مانتے تھے۔ جانے کیا

صفحہ ۱۵۱

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک نقطۂ نام محمدؐ سے محبت کی ہے

سوال زیر بحث تھا فرمایا ”مسلمانوں میں تین شخص ایسے پیدا ہوئے جو ہر اعتبار سے جینئس بھی ہیں اور کامل الفن بھی پہلے ابوالفضل، دوسرے اسد اللہ غالب، تیسرے ابوالکلام آزاد۔ شاعر وہ شاذ ہی کسی کو مانتے تھے۔ ہم عصر شعرا میں جو واقعی شاعر تھا اسے بھی اپنے سے کمتر خیال کرتے تھے کمیونسٹ نوجوانوں نے ”فیض“ کے بارے میں سوال کیا طرح دے گئے۔ ”جوش“ کے متعلق پوچھا گیا: وہ ناظم ہے۔ سردار جعفری کا نام لیا۔ مسکرائے ”فراق“ کا ذکر چھیڑا، ہوں ہاں کر کے چپ ہو گئے۔ ”ساحر لدھیانوی“ کی بات کی، سامنے بیٹھا تھا کہا: مشق کرنے دو۔ ”ظہیر کشمیری“ کے بارے میں کہا نام سنا ہے۔ ”احمد ندیم قاسمی؟“ ارشاد ہوا ” میرا شاگرد ہے۔“ نوجوانوں نے دیکھا کہ ترقی پسند تحریک ہی کے منکر ہیں تو بحث کا رخ پھیر دیا۔ فلاں پیغمبر کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آنکھیں سرخ ہورہی تھیں نشہ میں چور تھے، زبان پر قابو نہیں تھا لیکن چونک کر کہا کیا بکتے ہو؟ ادب انشا یا پھر شعر و شاعری کی بات کرو۔ کسی نے فوراً ہی افلاطون کی طرف رخ موڑ دیا۔ ان کے مکالمات کی بابت کیا خیال ہے؟ ارسطو اور سقراط کے بارے میں سوال کیا مگر اس وقت وہ اپنے موڈ میں تھے۔ فرمایا جی یہ پوچھو کہ ہم کون ہیں؟ یہ ارسطو، افلاطون یا سقراط آج ہوتے تو ہمارے حلقے میں بیٹھتے، ہمیں ان سے کیا کہ ان کے بارے میں رائے دیتے پھریں۔ اس لڑکھڑاتی ہوئی آواز سے فائدہ اٹھا کر ایک ظالم قسم کے کمیونسٹ نے سوال کیا۔ آپ کا حضرت محمدﷺ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اللہ! اللہ! ایک شرابی پر جیسے کوئی برق تڑپی ہو، بلور کا گلاس اٹھایا اور اس کے سر پر دے مارا۔ بدبخت ایک عاصی سے سوال کرتا ہے ایک سیاہ رو سے پوچھتا ہے ایک فاسق سے کیا کہلوانا چاہتا ہے؟ تمام جسم کانپ رہا تھا۔ ایکا ایکی رونا شروع کیا۔ ہچکی بندھ گئی ایسی حالت میں تم نے یہ نام کیوں لیا، تمہیں جرأت کیسے ہوئی؟ گستاخ بے ادب ”باخدا دیوانہ باش و با محمدؐ ہوشیار“ اس شریر سوال پر توبہ کرو، تمہارا خبث باطن سمجھتا ہوں۔“ خود قہر و غضب کی تصویر ہو گئے۔ اس نوجوان کا حال یہ تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ اس نے بات کو موڑنا چاہا مگر اختر کہاں سنتے تھے۔ اسے اٹھوا دیا۔ پھر خود اٹھ کر چلے گئے۔ تمام رات روتے رہے، کہتے تھے۔ ”یہ لوگ اتنے نڈر ہو گئے ہیں کہ آخری سہارا بھی ہم سے چھین لینا چاہتے ہیں۔ میں گنہگار ضرور ہوں لیکن یہ مجھے کافر بنا دینا چاہتے ہیں۔“

(بحوالہ مجھے ہے حکم اذاں)

لاہور کے ایک ترکھان کے بیٹے علم الدین کا نام بھی آپ نے ضرور سنا ہوگا۔ وہ عالم فاضل نہ تھا

صفحہ ۱۵۲

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک لفظ نام محمدؐ سے محبت کی ہے

نہ دنیاوی طور پر تعلیم یافتہ، مکتب میں داخلہ لیا نہ خانقاہ کا راستہ دیکھا۔ وہ سیدھا سادا جفاکش قسم کا نا خواندہ نوجوان تھا۔ اکیس سال کی عمر تھی کہ ایک دن معمول کی مزدوری سے واپس آتے ہوئے دہلی دروازے میں لوگوں کا ایک ہجوم دیکھا۔ وہاں تقریریں ہورہی تھیں۔ وہ بھی کچھ دیر کھڑے ہوکر سنتا رہا لیکن اس کے پلے کچھ نہ پڑا۔ قریب کھڑے ایک صاحب سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ راجپال نے نبی کریم ﷺ کے خلاف کتاب چھاپی ہے۔ اس کے خلاف تقریریں ہو رہی ہیں اور علما نے اسے واجب القتل قرار دیا ہے۔ علم الدین کے دل میں شعلے سے بھڑک اٹھے لیکن اسے معلوم نہ تھا راجپال کون ہے؟ کہاں رہتا ہے؟ اس کا حلیہ کیا ہے؟ انہی دنوں بیرون دہلی دروازہ میں مسلمانوں کا ایک فقید المثال اجتماع ہوا جس میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ نے ایسی دل گداز تقریر کی کہ سامعین پر رقت طاری ہوگئی کچھ لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ شاہ جی نے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

"آج آپ لوگ جناب فخر رسل محمد عربی ﷺ کے عزت و ناموس کو برقرار رکھنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ آج جنس انسان کو عزت بخشنے والے کی عزت خطرہ میں ہے، آج اس جلیل المرتبت کا ناموس معرض خطر میں ہے جس کی دی ہوئی عزت پر تمام موجودات کو ناز ہے۔"

اس جلسہ میں مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید دہلوی بھی موجود تھے۔ شاہ جی نے ان سے مخاطب ہو کر کہا:

"آج مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید کے دروازے پر ام المومنین عائشہ صدیقہ اور ام المومنین خدیجۃ الکبریٰ (رضی اللہ عنہما) کھڑی پوچھ رہی ہیں: ہم تمہاری مائیں ہیں، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کفار نے ہمیں گالیاں دی ہیں؟ اے دیکھو! کہیں ام المومنین عائشہ صدیقہ دروازہ پر کھڑی تو نہیں؟"

یہ الفاظ دل کی گہرائیوں سے اس جوش اور ولولہ کے ساتھ ابل پڑے کہ سامعین کی نظروں کے سامنے در و دیوار سے آہ و بکا کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ پھر اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا:

"تمہاری محبتوں کا یہ عالم ہے کہ عام حالتوں میں کٹ مرتے ہو لیکن کیا تمہیں معلوم

صفحہ ۱۵۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک خطا نامِ محمدؐ سے مٹ گئی ہے

نہیں کہ آج گنبدِ خضراء میں رسول اللہ ﷺ تڑپ رہے ہیں؟ آج خدیجہؓ اور عائشہؓ پریشان ہیں۔ بتاؤ تمہارے دلوں میں امہات المومنین (رضی اللہ عنھن) کے لئے کوئی جگہ ہے؟ آج ام المومنین عائشہ صدیقہ تم سے اپنے حق کا مطالبہ کرتی ہیں۔ وہی عائشہ جنہیں رسول اللہ ﷺ ”حمیرا“ کہہ کر پکارا کرتے تھے، جنہوں نے سید عالم ﷺ کو وصال کے وقت مسواک چبا کر دی تھی، یاد رکھو! اگر تم نے خدیجہ اور عائشہ کے لیے جانیں دیں تو یہ کچھ کم فخر کی بات نہیں۔“

اس تقریر نے سارے شہر میں آگ لگادی۔ ملک کے طول و عرض میں احتجاجی جلسے ہونے اور جلوس نکلنے لگے۔ آخر ایک دودھ فروش خدا بخش نامی اٹھا اور اس نے راجپال پر جا کر چاقو سے حملہ کردیا۔ راجپال زخمی تو ہوا لیکن اُس کی جان بچ گئی۔ ادھر علم الدین رات کو سو رہے تھے کہ انہیں ایک بزرگ نے خواب میں ملے اور انہوں نے کہا ”علم الدین ابھی تک سو رہے ہو تمہارے نبی ﷺ کی شان کے خلاف دشمن کارروائیوں میں لگے ہیں۔ اٹھو جلد کرو۔“ علم الدین صبح اٹھا، اس نے ایک ہندو کباڑیئے کی دکان سے اپنے مطلب کی چھری لی اور چل دیا۔ راجپال ابھی اپنے دفتر میں آ کر بیٹھا ہی تھا کہ غازی علم الدین نے اندر داخل ہو کر پلک جھپکنے میں چھری نکال کر گستاخ رسول کے بدبودار سینے میں اتار دی۔ ایک ہی وار اتنا کارگر ثابت ہوا کہ راجپال کے منہ سے صرف ہائے کی آواز نکلی اور وہ اوندھے منہ زمین پر جا پڑا۔

علامہ اقبال کو جب غازی علم الدین کے بارے میں بتایا گیا کہ ایک اکیس سالہ ان پڑھ اور مزدور پیشہ نوجوان نے گستاخ رسول کو واصل جہنم کر دیا ہے تو انہوں نے گلوگیر لہجے میں کہا:

”اسی گلاں ای کردے رہ گئے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا۔“
”ہم باتیں ہی بناتے رہے اور بڑھئی کا بیٹا بازی لے گیا۔“

غازی گرفتار ہوئے سیشن کورٹ میں مقدمہ چلا اور انہیں پھانسی کی سزا کا حکم سنایا گیا۔ مسلمانوں نے سیشن جج کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کردی۔ مسٹر محمد علی جناح ان دنوں بمبئی میں وکالت کرتے تھے۔ انہیں اس مقدمے کے لیے بلایا گیا۔ انہوں نے فاضلانہ بحث کی اور ٹھوس دلائل دیے لیکن ہائی کورٹ نے سیشن جج کا فیصلہ برقرار رکھا۔ غازی کو ہائی کورٹ کا فیصلہ سنایا گیا تو انہوں مسکرا کر کہا کہ ”شکر

صفحہ ۱۵۴

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک خطا نام محمدؐ سے محبت کی ہے

الحمد اللہ ! میں یہی چاہتا تھا۔ بزدلوں کی طرح قیدی بن کر جیل میں گلنے سڑنے کی بجائے تختہ دار پر چڑھ کر رحمۃ للعالمینؐ پر اس حقیر سی جان کو قربان کر دینا صد ہزار سکون کا موجب ہے۔ اللہ میری اس ادنیٰ اور پر خلوص قربانی کو قبول فرمائے۔“

غازی علم الدین شہید کے جنازے میں تقریباً 6 لاکھ مسلمان شریک ہوئے۔ اور جنازے کا جلوس تقریباً ساڑھے 5 میل لمبا تھا۔ وہ نہ صوفی باصفا تھے۔ نہ شعلہ نوا خطیب نہ کوئی مشہور مدرس تھے، اور نہ ہی سیاسی رہنما ........... بس ایک عاشق رسولؐ تھے مگر جب انہیں قبر میں رکھا گیا تو قطعہ ارض خوشبو سے مہک اٹھا اور بے شمار علماء و مشائخ کے دل میں یہ آرزو مچلنے لگی کہ اے کاش ! اس قبر میں ہمارے جسد خاکی کو رکھا جاتا۔

حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم علیہا السلام اور دوسرے انبیاء کرام علیہم السلام کی نازیبا تصاویر بنا کر ان سے لطف اندوز ہونے والے کیا جانیں کہ ایک مسلمان کے دل میں سرور دو عالم ﷺ کا کیا مقام ہے؟ کاش! پوری دنیا کو امن پسندی، رواداری، محبت اور انسانیت کا درس دینے والوں کو کوئی بتا دے کہ تمہاری یہ مذموم حرکتیں تہذیبوں کے تصادم کو جنم دے سکتی ہیں۔ ملکوں اور شہروں میں ایسی آگ بھڑک سکتی۔ جسے کوئی اپیل، کوئی وارننگ ٹھنڈا نہیں کر سکتی۔ ایسے علم الدین پیدا ہو سکتے جو ناموس رسالتؐ پر قربان ہو جانے کو دائمی زندگی اور ذریعہ نجات سمجھتے ہیں۔ ان پروانوں کا امتحان مت لو، ان کا ظاہر کیسا ہی سہی مگر ان کے باطن میں اب بھی شمع محبت فروزاں ہے۔ ان شاء اللہ یہ شمع جلتی رہے گی۔ تمہاری بد بودار پھونکیں اس شمع کو بجھا نہیں سکتیں۔

صفحہ 155

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ اک فقط نام محمد سے محبت کی ہے

چنگاری

طیبہ الیف

اللہ رب العزت نے اپنی مخلوقات میں انہیں اولیت بھی بخشی ہے اور اولویت بھی، ان کا نور نور الٰہی سے بنایا گیا، اور پھر دیگر چیزوں کی تخلیق عمل میں لائی گئی، وہ حسینوں میں سب سے حسین ہیں۔ محبوبوں میں سب سے محبوب ہیں۔ ان کا حسن با رعب، ہیبت اور جلال والا ایسا کہ نظریں تاب نہ لاسکیں۔ ورنہ کون ہوتا جو دیکھتا اور اس کے ہاتھ سلامت رہتے، یوسف علیہ السلام کو دیکھ کر تو عورتیں انگلیاں کاٹ بیٹھیں، یہاں نہ جانے کیسا سماں ہوتا، اتنے پردوں میں بھی جس نے محبت سے دیکھ لیا پھر اسے دنیا میں کیا اچھا لگا؟ جان، مال، اولاد، ماں باپ، خویش قبیلہ، بیوی، کون سی چیز اس کی نظر میں جچی؟ کوئی بدر میں قربان ہو گیا، کسی نے ان کے قدموں میں سر رکھ کر اپنی جان وار دی، کوئی زخموں سے چور محبت بھری نظروں سے آپ کے رخ انور کو دیکھتا ہوا دنیا سے رخصت ہو گیا، کوئی احد میں ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا، کسی نے سولی پر لٹک کر بھی گوارہ نہ کیا کہ محبوب کے قدموں میں کانٹا چبھ جائے اور اسے راحت کی حالت میسر ہو، عروہ آیا دیوانوں کی دیوانگی دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گیا، ابوسفیان نے زید کے جذبات سنے بے ساختہ پکار اٹھا کہ دنیا میں کوئی محبوب نہیں جس کے چاہنے والے اس قدر سرفروش ہوں، باہر کے سفراء نے جا کر اپنے بادشاہوں سے کہا کہ شاہی وہ نہیں جو تم محلات میں بیٹھ کر زرق برق لباس اور زیورات پہن کر خدم و حشم کے جلو میں بیٹھ کر کر رہے ہو، شاہی تو ”وہ“ کچی مسجد میں فقیروں کے جھرمٹ میں بیٹھ کر کر رہے ہیں۔

ان کا حسن کیا حسن تھا؟ کسی نے کہا ”لنا شمس وللافاق شمس“ (ایک سورج ہمارا ہے اور ایک آسمانوں کا ہے ) آسمانوں کے سورج کو زوال ہے ہمارے سورج کو نہیں۔ کسی نے چاند کو شرم دلائی کہ رخ انور کی تابانی دیکھ کر بھی تو چمک رہا ہے۔ اور اپنی ضیاء پاشیوں پر نازاں ہے؟ شرم کر، غرضیکہ جتنے منہ اتنی باتیں، لیکن کوئی بات ان کے حسن کی تعریف پر پوری نہیں بیٹھی۔ ہاں ایک عاشق نے کہا ”کأنک

صفحہ ۱۵۶

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اِک فقط نامِ محمدؐ سے محبت کی ہے

”قد خلقت کما تشاء“ (محبوب آپ ایسے ہیں گویا آپ نے اپنے سراپا کا انتخاب خود کیا)

اور کچھ بات نہ بنی، ادب کے سارے ذخیرے کھنگال لیں، شاعرانہ تخیل بازیاں، نثری فن پاروں، حسن کے استعاروں اور تشبیہ کے اشاروں کے انبار ملاحظہ کرلیں، امرء القیس سے لے کر غالب تک کے دیوان اچھی طرح پڑھ لیں ہر کسی نے اپنے محبوبوں اور ان کے حسن کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیئے ہوں گے، سروقد، رخسار، زلف، چشم و ابرو ہر ایک کی اعلیٰ سے اعلیٰ تشبیہ کے باب باندھ دیئے ہوں گے لیکن کسی محبوب کے بارے میں یہ جملہ نہ کہا جاسکا۔ ”خلقت کما تشاء“

کسی انسان کو اختیار دے دیا جائے کہ وہ اپنے لئے اعلیٰ سے اعلیٰ سراپا کا انتخاب کر لے تو وہ کیسا چاہے گا؟ کیسا کیسا حسن وہ اپنی ذات میں لانے کی کوشش کرے گا؟ بس ایسا حسن جس کے بارے میں یہ جملہ کہا جاسکے صرف ”انہیں“ ملا۔ اور یہ بات بھی تو صرف شاعری ہے ورنہ جسے احسن الخالقین، جس نے کائنات میں ایسا ایسا حسن پیدا فرما دیا کہ دیکھنے والوں کی نظریں دنگ ہیں، وہ اولیت کا شرف بخشے تو اُس کے حسن کی تعریف کسی سے ممکن ہی کیا ہوسکے گی؟

صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم تسلیماً کثیراً کثیراً۔

بقول خود بندر سے ترقی کر کے انسانوں کی صف میں آ شامل ہونے والے کچھ حرمان نصیب لوگوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے آقا ﷺ کی تصویر بنائی ہے۔ جاہلو! جس کی کوئی مثال اللہ نے نہیں بنائی تم اس قابل کہاں کہ اس کے بال کی بھی تصویر کشی کر سکو۔ کوئی کتنی بھی اچھی سے اچھی تصویر بنالے، دنیا بھر کا حسن اور فن اس میں انڈیل دے پھر بھی وہ ہمارے آقا ﷺ کے حسن کا ایک ذرہ بھی نہیں دکھا سکتا۔ بری تصویر بنائے گا تو وہ اس کے اپنے کسی رشتہ دار کی ہوگی، خدا کی قسم یہ ممکن ہی نہیں کہ اس کی صورت بنائی جاسکے، ہاں! انہوں نے جرم کیا ہے ایک گندی چیز کو ہمارے آقا ﷺ کی طرف منسوب کر کے، اور یہ کوئی معمولی جرم نہیں، ایسا گناہ جس پر آسمان پھٹ پڑے، زمین شق ہو جائے۔ پہاڑ گر پڑیں تو معمولی بات ہے، ان بدبختوں کو جلدی ہے عذاب الٰہی سے دوچار ہونے کی، انہیں جلدی ہے اس دنیا کو ختم کر دینے والی جنگ شروع کرنے کی، انہیں تیزی ہے جہنم میں داخل ہونے کی، وہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو اتنا چھیڑیں کہ یہ اٹھ کر قہر الٰہی بن کر ان پر ٹوٹ پڑیں، ہاں ان کی سوچ یہ ہے کہ مسلمان نکل کھڑے ہوں گے تو یہ اپنی

صفحہ ۱۵۷

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک حفظ نام محمدؐ سے محبت کی ہے تباہ کن ٹیکنالوجی اور مٹا دینے والے ہتھیار استعمال کر کے انہیں ختم کر دیں گے۔ اس طرح وہ پورے عالم کے بلامشرکت مالک و حکمران بن جائیں گے۔ لیکن یہ ان کی بھول ہے، مسلمان جب نکل کھڑے ہوں گے تو یہ کھلونے ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ عالمگیر جنگ ہوگی تمہارا بھی ایمان ہے اور ہمارا بھی۔ عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے اور دجال دنیا میں آئے گا اور فتنہ برپا کرے گا ہم بھی جانتے ہیں اور تم بھی۔ یہ سب کچھ ہوگا اور اپنے وقت مقررہ پر ہوگا لیکن اس سب کے بعد تم مٹ جاؤ گے ختم ہو جاؤ گے قرآن پڑھ کر دیکھ لو، اپنی کچی پکی کتابوں میں نظر کر لو، اس لئے کچھ دن گھروں میں عیش کر لو جلدی نہ کرو۔

تم نے بری حرکت کی تمہیں اس کی لازمی سزا ملنی چاہیے تھی لیکن خوشیاں مناؤ مسلمانوں میں خلافت باقی نہیں ہے ورنہ خلیفہ عظمت رسول ﷺ کی خاطر نفیر کا اعلان کر دیتا اور تمہیں کچھ لشکر اپنی طرف بڑھتے نظر آتے، شادیانے بجاؤ کہ امت میں آج کوئی صلاح الدین ایوبی نہیں جو تمہیں گستاخی کی سزا دینے کی قسم کھا لیتا اور بالآخر ایک دن اس کا ہاتھ تمہاری گردن تک پہنچ جاتا، تم نے اعلان کر دیا کہ ان گندی تصویروں والی شرٹیں پہن کر سر عام پھرو گے اور مسلمانوں کے دل جلاؤ گے۔ ہاں حکمران ترقی کرنے، روشن خیال اور رواداری پھیلانے اور اپنے بھائیوں کا خون کرنے میں مصروف، سیاستدان اپنی سیاست سے فارغ نہیں، لیڈران قوم بہت ”بڑے اور اونچے اونچے کاموں“ میں مصروف ہیں، کئی لوگ مجبور محض ہیں۔ اور اکثر روزی روٹی کے چکر میں محصور ہیں۔ تمہیں کسی نے للکارا نہیں کوئی تمہیں موت بن کر اپنی طرف بڑھتا نظر نہیں آیا اسی لیے تمہاری ہمتیں بڑھی جا رہی ہیں لیکن تم تاریخ پڑھو، اس امت کے اکثریتی اور ظاہری طبقے کو دیکھ کر اتنی غلط فہمی میں نہ رہو، یہ امت کبھی بانجھ نہیں ہوتی یہ اپنے کچھ تیر چھپا کر رکھتی ہے، جو نہ اپنوں کو نظر آتے ہیں نہ غیروں کو اور وہ دشمنوں تک پہنچ کر رہتے ہیں۔ شرٹیں پہن کر رکھو تا کہ وہ تمہیں پہچان سکیں اور نشان عبرت بنا سکیں۔ انہیں شرٹوں کے ساتھ قبروں میں اترو تا کہ منکر نکیر کو تعارف نہ پوچھنا پڑے، انہیں کے ساتھ جہنم میں جاؤ تا کہ ”زبانیۃ“ کو جاننے میں دشواری نہ ہو ہم اگرچہ بہت مصروف ہیں۔ لیکن کوئی تمہیں سبق سکھانے کے لیے ضرور فارغ ہوگا، ہم اگرچہ خاکستر ہیں لیکن ہم میں کوئی چنگاری ضرور پوشیدہ ہوگی جو تمہیں جلا کر راکھ کر دے گی۔

فانتظر وانا معكم من المنتظرين.

صفحہ ۱۵۸

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ اک تقاضائے محبت رسولؐ

طویل رات

علامہ عبدالرشید غازی ؒ

یہ رات نجانے اتنی طویل کیوں ہوتی جارہی ہے......؟ نیند آنکھوں سے کوسوں دور...... کروٹ پر کروٹ بدلے جاتا ہوں...... لیکن نیند ہے کہ آتی ہی نہیں...... یہ آخر مجھے کیا ہو گیا ہے......؟ اللہ نے سب کچھ تو دے رکھا ہے...... مال و متاع، گھر بار، پرہیزگار بیوی اور فرمانبردار اولاد اور وہ سب کچھ جس کی کوئی تمنا کرے...... پھر ان میں سے کچھ بھی تو کھویا نہیں کہ جس پر فکر یا رنج ہو...... لیٹے لیٹے اچانک ایک منظر نگاہوں کے سامنے آجاتا ہے...... عموریہ کا بازار ہے جہاں ایک عیسائی نے ایک مسلمان عورت کے چہرے پر تھپڑ مار دیا...... عورت نے روتے ہوئے دہائی دی۔ ہائے معتصم!! مجھے سمجھ نہ آیا کہ عموریہ میں رہنے والی اس عورت نے تھپڑ پر اپنے خلیفہ کو دہائی کیوں دی؟ وہاں سے سینکڑوں میل کی مسافت پر موجود خلیفہ معتصم باللہ کا اس مسئلہ سے کیا تعلق......؟ میرے ناخوابیدہ اور بے چین ذہن نے اس گتھی کو سلجھانے کی بہتیری کوشش کی لیکن ناکام رہا...... نیند ہے کہ آتی ہی نہیں اور یہ رات نجانے اتنی طویل کیوں ہوتی جارہی ہے؟ ہر طرف شاہی دربان ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ خلیفہ وقت اپنے شاہانہ تخت پر بڑی شان و شوکت سے جلوہ افروز ہے...... اس کے دائیں بائیں وزیر مشیر اور دیگر خواص اپنی اپنی مخصوص نشستوں پر بیٹھے ہیں...... خلیفہ معتصم باللہ کا خصوصی کارندہ انہیں معمول کے حالات بتاتے ہوئے عموریہ میں ایک مسلمان عورت کے چہرے پر تھپڑ رسید ہونے کا واقعہ سناتا ہے تو اچانک خلیفہ اپنے تخت شاہی سے اٹھ کر اونچی آواز میں ”لبیک“ کہتا ہے۔ سب حیران ہیں کہ اچانک ایسے خوشگوار ماحول میں خلیفہ اتنی معمولی سی بات پر اتنا برہم اور بیتاب کیوں ہو گیا...... پھر خلیفہ اپنے درباریوں کے سامنے اس عورت کی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے اس ملک پر لشکر کشی کے ارادے کا اظہار کرتا ہے درباری اسے روکنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں کہ حالات سازگار نہیں ہیں...... معروضی حالات اجازت نہیں دیتے...... زمینی حقائق کو سمجھنے کی کوشش کریں...... اس قسم کے اقدامات میں بہت سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں...... شورشیں امڈ آئیں

صفحہ ۱۵۹

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ ❁ ﷽ ❁ ایک لفظ نام محمدؐ سے محبت کی ہے گی..... خواہ مخواہ دشمنیاں، دوریاں اور بدامنیاں پیدا ہو جائیں گی..... پھر ہمارے حالات بھی اجازت نہیں دیتے..... اسلحہ کی کمی ہے..... وسائل کا فقدان ہے..... اس لیے جہاں پناہ آپ ایسا ہرگز نہ کریں..... لیکن خلیفہ بضد ہے کہ اس مسلمان بہن کی پکار نے میرا سکون غارت کر ڈالا ہے..... مجھے اب گھر اچھا لگتا ہے نہ کھانا، نہ پینا اور نہ ہی سونا..... میں اس وقت تک چین سے نہ بیٹھوں گا جب تک اپنی مسلمان بہن کا بدلہ نہ لوں..... اور پھر خلیفہ وقت کے حکم سے طبلِ جنگ بجا دیا جاتا ہے..... دربار کا یہ منظر اگرچہ میری نگاہوں سے غائب ہو جاتا ہے لیکن تاریخ کے بہت سے بوسیدہ اوراق میرے ذہن پر عکس ڈالتے چلے جاتے ہیں اور مجھے تاریخ کے دھندلکے میں اسی قسم کے کئی دیگر مناظر بھی دکھائی دینے لگتے ہیں..... احساس ہوتا ہے کہ ایک وقت تھا جب مسلمان ایک عام مسلمان کی حرمت و تقدس پر کٹ مر جایا کرتے تھے..... تاریخ کے یہ اوراق چونکہ میرے آباؤ اجداد کے ہیں اس لیے بھی مجھے بھلے لگتے ہیں اور انہیں یاد کرکے کچھ سکون آ جاتا ہے..... لیکن نیند ہے کہ اب بھی کوسوں دور..... اور یہ رات نجانے اتنی طویل کیوں ہوتی جارہی ہے؟

میں سوچتا ہوں کہ ایک عام مسلمان کی عزت و ناموس کی اتنی قدر کی جاتی تھی تو پھر جو لوگ مراتب میں زیادہ ہیں..... اللہ کے ولی ہیں..... ان کی حرمت کی کیا قدر کی جاتی ہوگی؟ پھر علمائے دین، محدثین کرام، تابعین اور صحابہ کرام، رضی اللہ عنہم کی عزت و عظمت اور ان کی حرمت کا کیا معاملہ ہوگا..... اور پھر تاجدار ختم نبوت ﷺ کے تو کیا ہی کہنے..... یہی سوچتے سوچتے اچانک میرے ذہن پر یورپین اخبارات میں شائع ہونے والے توہین آمیز اور شرانگیز خاکے آ جاتے ہیں..... میں لرز جاتا ہوں..... اور پورے بدن پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ میں اٹھ کر بیٹھ جاتا ہوں..... دل کی دھڑکنیں یک دم تیز ہوتی چلی جاتی ہیں..... آنکھوں سے ایک سیل رواں ہے کہ جاری ہو جاتا ہے..... دل کرتا ہے کہ دھاڑیں مار مار کر روؤں..... کرب ہے کہ ناقابل بیان..... کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے..... یوں لگتا ہے کہ دل بے قابو ہو کر باہر نکل پڑے گا..... یا اللہ! یہ مجھے کیا ہو گیا..... میں نے تو بڑے بڑے حادثات کو بھی بڑے صبر و تحمل سے سہہ لیا..... مجھ پر تو میرے والد گرامی کی شہادت کا دلدوز سانحہ بھی گزر گیا..... لیکن اللہ جانتا ہے کہ اس وقت بھی مجھ پر یہ کیفیت طاری نہیں ہوئی..... میں نے اپنے آپ کو سمجھانا شروع کیا..... مجھے اس مسئلہ پر

صفحہ ١٦٠

اک خطا نام محمدؐ پہ مٹنے کی ہے

اتنا جذباتی نہیں ہونا چاہیے ..... میرے اندر سویا ہوا ’روشن خیال‘ یک بیک انگڑائی لے کر اٹھ بیٹھا ..... اور اس نے مجھے سمجھانا شروع کر دیا کہ دیکھو اس معاملے میں آخر تم کر ہی کیا سکتے ہو؟ پھر یہ کہ جمعیت اہل سنت کی طرف سے گزشتہ جمعہ کو اسلام آباد میں اسی مسئلہ پر بھرپور مظاہرہ بھی کیا جا چکا ہے ..... اس میں بش کے پتلے جلائے گئے ..... گستاخ مغربی ممالک کے خلاف نعرے لگائے گئے ..... ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ..... یہ سب کچھ سوچ کر میرے دل کو ایک گونہ قرار سا آ گیا ..... اور میں دوبارہ بستر پر دراز ہو کر یہی باتیں سوچ کر نیند کی حسین وادیوں میں کھونے کی کوشش کرنے لگا ..... مختلف ممالک میں ہونے والے مظاہروں کے مناظر مجھے تھپکیاں دے کر لمحہ بہ لمحہ پرسکون کرتے چلے جا رہے تھے ..... لیکن ..... نہیں ..... لیکن! نہ جانے کیوں دل کے اندر ایک بے نام سی خلش ہے کہ پھر سے بڑھتی ہی چلی جاتی ہے ..... رہ رہ کر میرے دل سے درد کی ایسی ٹیسیں اٹھتی ہیں کہ میں تھرا کر رہ جاتا ہوں ..... ذلت کا احساس ..... ایسے جیسے کسی نے بھرے پرے بازار میں سر عام مجھے غلیظ ترین گالی دے دی ہو ..... مجھے بھرے بازار میں رسوا کر دیا ہو ..... میرا دل بڑی تیزی سے دھڑکنے لگا ..... اور میں ایک مرتبہ پھر بے چین ہو کر کروٹیں بدلنے لگا ..... نیند ہے کہ کوسوں دور ہے اور یہ رات نجانے اتنی طویل کیوں ہوتی جا رہی ہے؟

مجھے بار بار خیال آتا ہے کہ اگر کسی شخص کو بھرے بازار میں ماں کی گالی دے دی جائے تو کیا وہ خون خرابے پر نہیں اتر آئے گا ..... کیا وہ یہ تذلیل برداشت کر لے گا ..... اور پھر میں سوچنے لگتا ہوں کہ آج آقا مدنی ﷺ کی عزت و حرمت پر حرف آ چکا ہے ..... کروڑوں مسلمانوں کی موجودگی میں ایسا کیسے ممکن ہو گیا ..... مجھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وہ تاریخی جملہ یاد آنے لگا جب انہوں نے کہا تھا: ”دین میں کمی کی جائے اور میں زندہ رہوں یہ کیسے ممکن ہے ..... لیکن دوسری طرف حالت یہ ہے کہ ہمارے وہی معمولات، پہلے جیسے شب و روز، وہی قہقہے، وہی مسکراہٹیں، وہی کاروبار زندگی، وہی اللہ و رسول سے بغاوت اور نافرمانی کا چلن ..... مجھے بار بار خیال آتا ہے کہ کچھ بھی تو نہیں بدلا ..... ایسے لگتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ..... ہاں البتہ اتنا ضرور ہوا ہے کہ وقتاً فوقتاً مظاہرے ہو جاتے ہیں ہم نعرے لگا کر، تقریریں کر کے، قراردادیں منظور کر کے کچھ لکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں ..... ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی ذمہ

صفحہ ١٦١

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ اک لفظ نامحرم نے عبث کی ہے

داریوں سے عہدہ برآ ہوگئے ...... میں سوچتا ہوں کہ کیا اتنا کافی ہے؟ میرے اندر سے آواز آتی ہے نہیں ! اور میں پھر بے تاب ہو جاتا ہوں ...... اٹھ کر بیٹھ جاتا ہوں ...... پھر وہی کیفیت کہ نیند ہے کہ کوسوں دور اور یہ رات نجانے اتنی طویل کیوں ہوتی جارہی ہے؟

پھر میں سوچنے لگتا ہوں کہ اسلام تو ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حضور ﷺ کی ذات گرامی ہمارے لیے ہماری جان و مال، آل اولاد اور اعزہ واقربا سے زیادہ جب تک عزیز نہ ہو جائے تب تک ہمارا ایمان ہی کامل نہیں ہو سکتا...... لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ اگر کوئی ہماری ماں کی طرف نگاہ غلط انداز میں اٹھائے تو ہم اس کی آنکھیں پھوڑ دینے کے درپے ہو جاتے ہیں ...... کسی کی زبان ہمارے والد کی شان میں گستاخی کی مرتکب ہو تو ہم اسے گدی سے کھینچ لینے کا قصد کر لیتے ہیں ..... کوئی ہمارے بھائی کے ساتھ لڑ پڑے تو ہم کشت و خون پر تل جاتے ہیں ..... لیکن ذرا ہم سب دل پر ہاتھ رکھ کر اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں کہ کیا حضور ﷺ کی عزت و ناموس کے معاملے میں ہمارے دلوں کی یہی کیفیت ہے ..... ہمارے جذبات میں وہی تلاطم ہے؟ ہماری غیرت ایمانی میں ایسا ہی جوش و خروش ہے؟ یہ سوچ کر احساس رسوائی سے میرا سر جھک جھک جاتا ہے ...... مجھے شرم سے پسینہ آنے لگتا ہے ..... میں سوچتا ہوں کہ روئے زمین پر بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کی ذلت و رسوائی میں اب کیا کسر باقی رہ گئی ہے؟ لیکن ساتھ ہی یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر یہ ذلت ہم مسلمانوں کے حصہ میں ہی کیوں؟ میں سوچتا رہا کہ اس کا جواب مل جائے ..... بے چین ناخوابیدہ ذہن ساتھ نہ دے رہا تھا اس لیے پھر لیٹ گیا اور کروٹیں بدلنے لگا ...... بار بار تصور میں آپ ﷺ کا خیال مبارک گھومنے لگا اور پھر یوں لگا کہ جیسے میرے کان میں کوئی سرگوشی کر رہا ہے غور کیا تو آپ ﷺ کی حدیث مبارکہ ”جب تم جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ کی طرف سے تم پر ذلت مسلط کر دی جائے گی ۔“ کی مانوس آواز بڑی وضاحت سے کانوں سے ٹکرائی ...... لیکن یہ حدیث تو ہم اکثر بیانات وغیرہ میں سنتے اور لوگوں کو سناتے رہتے ہیں ...... غور کیا تو ساری گتھیاں سلجھتی چلی گئیں .......

پھر میں سوچنے لگا کہ ہم ذلت کے اس مقام تک یک دم نہیں پہنچے .... ہم تنزل و انحطاط کی کئی سیڑھیاں اترتے ہوئے اس گہری کھائی میں آ گرے ہیں ...... ہم نے خود ہی اپنے مسلمان بھائیوں کو

صفحہ 162

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک خط نامِ محمدؐ سے محبت کی ہے

کفار کے حوالے کیا...... ان کی حرمت اور تقدس کا قطعاً کوئی خیال نہیں کیا...... حتیٰ کہ مجاہدین کی عفت مآب، بہنوں اور بیٹیوں کو پکڑ پکڑ کر دشمن کے اڈوں تک پہنچاتے رہے...... ہمارے حکمران خود اسلامی شعائر کا مذاق اڑاتے رہے اور ہم اسے ٹھنڈے پیٹوں ہضم کرتے گئے...... مغرب بڑے منظم طریقے سے اپنے تھنک ٹینک کے ذریعے ہمارے ردعمل کا جائزہ لیتا رہا...... ہمارے جذبات کی بلندی ناپتا رہا...... ہمارے منہ میں امداد کی چوسنیاں دیتا رہا...... ہمیں مالی مفادات کے سبز باغ دکھاتا رہا...... اور ہمیں روشن خیالی اور اعتدال پسندی کی تھپکیاں دیتا رہا...... اور اب ذلت ورسوائی کی تمام حدود پھلانگتے ہوئے نوبت یہاں تک آپہنچی کہ ان ظالموں کے ہاتھ حضورﷺ کے دامنِ رحمت تک آپہنچے ہیں...... ان کے قلم عفونت اگل رہے ہیں۔ ان کی زبانیں زہر اگل رہی ہیں...... ذلت ورسوائی کی انتہا یہ ہے کہ حضور رحمتﷺ کی عزت وناموس پر دو ٹکے کے کارٹونسٹوں کے ذریعے کیچڑ اچھالا جا رہا ہے۔ لیکن کروڑوں مسلمانوں کا جم غفیر دل مسوس کر رہ جانے کے سوا کچھ نہیں کرسکتا۔ ایک طبقہ نعروں اور مظاہروں میں لگا ہوا ہے۔ کوئی بتائے کہ بش کے جتنے بھی پتلے جلائے گئے کیا کسی ایک کی ہلکی سی تپش اور آنچ بھی بش تک پہنچی ہے...... یوں لگا جیسے بش اپنے وائٹ ہاؤس میں بیٹھا ہم پر قہقہے لگا رہا ہے...... یہ وہ شخص ہے جس نے مسلمانوں کے خلاف کروسیڈ شروع کیا لیکن بڑی عیاری سے اس کا نام بدل دیا اور ہم نادان واقعی یہ سمجھ بیٹھے یہ جنگ دہشت گردی کے خلاف ہے...... میں سوچنے لگا کہ آج ہم جتنے نعرے لگا رہے ہیں کیا ان کی وجہ سے کفر کے ایوانوں میں کوئی لرزہ طاری ہوا؟ جواب ملا نہیں۔ میں سوچنے لگا کہ ان جذبات کا اظہار یقیناً اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ امت میں اس حوالے سے بیداری کی ایک لہر ضرور اٹھی ہے لیکن کیا اس کے ذریعے ہم اپنے اصل مقاصد کے حصول میں کامیابی سے ہمکنار ہو پائیں گے؟ میں سوچنے لگا کہ کیا کہیں کوئی مسلمان حکمران یا کوئی قیادت ان جذبوں کو صحیح سمت دے سکے گی؟ اس سوال کا جواب بھی نفی ہی میں ملتا ہے۔ اس لیے کہ اس وقت کہیں سے کوئی ایسی آواز گونجتی ہوئی سنائی نہیں دے رہی جو اس درد کا حقیقی درماں اور اس کا اصل تدارک اور سدراہ بن سکے...... اس لیے کہ اس مسئلے کا اصل علاج تو صرف اور صرف جہاد ہے۔

لیکن بدقسمتی سے ہم جہاد کا نام لیتے ہوئے بھی گھبراتے اور کتراتے ہیں...... کوئی نہیں سوچتا کہ ہم پر مسلط کی گئی جنگ آخر کب تک یک طرفہ رہے گی؟ اگر غور کریں تو عالم کفر نے ہمارے خلاف بہت

صفحہ ۱۶۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک خطا نامۂ محبّت کی ہے

عرصہ قبل ہی طبلِ جنگ بجا دیا تھا لیکن بڑی چالاکی اور عیاری سے اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نام دے دیا اور اسے الفاظ واصطلاحات کے دبیز اور خوش نما پردوں میں ڈھانپ کر مسلمانوں کو فریب دیا...... آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عالم اسلام کی طرف سے بھی نقارہ بجا اٹھے تا کہ عالم اسلام پر چھائی ہوئی ذلت ورسوائی کی سیاہ رات چھٹ جائے...... فیصلہ ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم اپنے خود ساختہ طرزِ عمل پر ہی اکتفا کر لیتے ہیں یا اللہ و رسول کے بتائے ہوئے علاج اور نسخے کو بروئے کار لا کر دشمن کے دانت کھٹے کرتے ہیں۔

یہ کتنی طویل رات اور خوفناک رات تھی جو یہی باتیں سوچتے سوچتے، وقفے وقفے سے روتے روتے اور جاگتے جاگتے بالآخر کٹ ہی گئی...... مسجد سے فجر کی اذان کی آواز بلند ہوئی تو میں اٹھ بیٹھا...... اور سارے خیالات کو ذہن سے جھٹک کر اذان کی طرف متوجہ ہو گیا لیکن جب مؤذن نے اشھد ان محمد رسول اللہ ﷺ کہا تو مجھے ایک مرتبہ پھر ایک دھچکا سا لگا...... یورپین اخبارات کے توہین آمیز خاکے اور شر انگیز خاکوں کا مسئلہ میرے دل و دماغ پر پیہم ضربیں لگانے لگا...... حرمتِ مصطفیٰ کی پکار مجھے جھنجھوڑنے لگی...... اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ میری یہ طویل رات تو کٹ ہی گئی ہے...... لیکن ہائے رے امتِ مسلمہ تیری یہ رات نہ جانے اتنی طویل کیوں ہوتی جا رہی ہے؟

صفحہ ۱۶۴

اک نقطہ نام محمدؐ سے محبت کی ہے تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

دہر میں اسم محمدﷺ سے اجالا کردے

حافظ محمد ادریس

یہ ایک تاریخی صداقت ہے، جسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ آنحضورﷺ کے دشمنوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ انہیں شکست دے سکیں مگر ان کی ایک نہ چلی اور آنحضورﷺ غالب رہے۔ آپﷺ اپنی حیات طیبہ میں بھی غالب تھے، آج بھی غالب ہیں اور قیامت تک غالب رہیں گے، نبی اکرمﷺ کے امتی کرہ ارضی پر ڈیڑھ ارب کی تعداد میں موجود ہیں، ان لوگوں میں قرآن کی ایک آیت کے مصداق تین طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں، ”کوئی تو ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے، کوئی بیچ کی راہ ہے اور کوئی اللہ کی اذن سے نیکیوں میں سبقت حاصل کرنے والا ہے یہی بڑا فضل ہے، (سورہ الفاطر

آیت نمبر 32)۔

دنیا بھر کے یہ مسلمان اوپر مذکور جس درجے میں بھی آتے ہوں وہ نبی اکرمﷺ کی ذات سے محبت کرتے ہیں اور ان پر کیچڑ اچھالنے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کر سکتے۔ ڈنمارک میں چھپنے والے غیر مہذب اور توہین آمیز خاکوں کو تمام مسلمان انتہائی غم و غصے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مشرق و مغرب میں وقتاً فوقتاً اسلام دشمن قوتوں نے آنحضورﷺ کی ذات اور ناموس کے خلاف مذموم اور نازیبا حرکتیں کی ہیں، مگر ایسی ہر بھونڈی حرکت کے نتیجے میں بالواسطہ اسلام کو تقویت ملی ہے اور اس کا پیغام زیادہ تیزی سے پھیلا ہے۔

آنحضورﷺ کو اللہ رب العالمین نے قرآن مجید میں فتح مبین کی خوشخبری سنائی ہے۔ فتح مبین کی اصطلاح کسی ایک فتح تک محدود منحصر نہیں ہے۔ یہ فتح عمومی اور دائمی ہے۔ کوئی دن اور کوئی لمحہ ایسا نہیں گزرتا، جب اس فتح کے نئے واقعات تاریخ رقم نہ ہوتے ہوں۔ حالیہ شر انگیز حرکت کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔ دنیا کو تہذیبوں کے تصادم کی آگ میں جھونکنے والے صلیبی اپنے مذموم عزائم

صفحہ 165

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک لفظ ناموسِ محبت کی ہے

کے ساتھ ہم سے برسرپیکار ہیں، مگر ان کے اپنے ملکوں میں ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین سرک رہی ہے۔ اہل اسلام کے لیے یہ خوشخبری ہے کہ ہم مثبت انداز میں دعوت کا جو کام نہ کر سکے، ہمارے دشمنوں کے اپنی منفی حرکتوں سے اس کا راستہ ہموار کر دیا ہے اور قدرت نے فضا سازگار بنا دی ہے۔

آج فرانس میں تبدیلی کی ہوا چلنے لگی ہے۔ لندن سے شائع ہونے والا اخوان المسلمون کا ترجمان ’’رسالۃ الاخوان‘‘ اپنے 17 فروری 2006 کے شمارے میں بتاتا ہے کہ اسم محمدﷺ فرانس کے ہر گھر میں داخل ہو گیا ہے اور ہر خاندان دن رات میں درجنوں مرتبہ اس نام کا ذکر کرتا ہے۔ ہر شخص یہ جاننا چاہتا ہے کہ محمدﷺ کی سیرت اور ان کا پیغام کیا ہے۔ اس رسالے کے مطابق تمام ذرائع ابلاغ پر آج سب سے زیادہ مقبول موضوع آنحضورﷺ کی ذات، سیرت اور پیغام ہے۔ کئی ٹیلی ویژن چینلوں نے اپنے ناظرین کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے اسلامی ثقافت اور ان کے صحیح خدوخال بھی لوگوں کے سامنے پیش کرنے شروع کر دیئے ہیں۔

ڈنمارک کے اخبار ’’جیلانڈ پوسٹن‘‘ کی خباثت کو فرانس کے اخبار ’’فرانس سوار‘‘ نے بھی اپنے صفحات میں شائع کیا۔ فرانس میں مقیم پیرس کی مسجد الدعوۃ کے خطیب شیخ العربی کشاط نے اسلام آن لائن نیٹ پر جن خیالات کا اظہار کیا وہ قابل ملاحظہ ہیں:

’’دشمن نے جو شر پھیلانا چاہا غالباً اس میں سے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے خیر و برکت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ آج فرانس کے ہر گھر میں اور سرزمین فرانس پر ہر جگہ، ہر مجلس اور ہر مکالمے میں جو لفظ سب سے زیادہ استعمال ہو رہا ہے وہ آنحضور کا نام نامی ہے۔ یہ اللہ کے زندہ معجزات میں سے ایک معجزہ ہے کہ اسلام جو انسانیت کی ضرورت بھی ہے، اور انسانوں کو خود ساختہ ظالمانہ قوانین کا نعم البدل بھی۔‘‘

فرانس کے ایک اور رسالے ’’لاکروا‘‘ نے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد کیے گئے ایک سروے کے نتائج اپنی 9 جنوری 2006 کی اشاعت میں چھاپے ہیں۔ اس کے مطابق فرانس میں 54 فیصد لوگوں نے یہ رائے دی ہے کہ پیغمبر اسلام کی توہین پر مشتمل خاکے شائع کرنا نہایت غلط کام ہے اسی سروے کے مطابق 78 فیصد رائے دہندگان نے یہ رائے دی کہ مغرب کی اس اشتعال انگیزی کے

صفحہ ۱۶۶

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ اک خطاء ہم نے محبت کی ہے

نتیجے میں عالمی سطح پر انتہا پسندی اور تشدد کے واقعات میں اضافے کا واضح خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

روایتی طور پر مغرب کو اسلام دشمن تصور کیا جاتا ہے اور اس لحاظ سے یہ درست بھی ہے کہ مغرب کے جاری نظام پر قابض طبقات، اسلام دشمن موقف ہی رکھتے ہیں۔ لیکن یہ بات قابل غور اور کسی حد تک خوش آئند ہے کہ مغرب کی عام آبادی اسلام سے نابلد ہونے کے باوجود اسلام دشمن شمار نہیں کی جاسکتی۔ حالیہ طوفان بدتمیزی میں بھی مغرب سے عیسائیوں کی مذہبی قیادت اور عیسائی چرچ نے بحیثیت مجموعی، توہین آمیز خاکوں کی مذمت کی ہے۔ ذرائع ابلاغ اور مغرب کی مجالس قانون ساز میں بھی ایسے افراد موجود ہیں جو عام شہرت کے حامل اور اسلام دشمن لہر کے شدید نقاد ہیں۔ یہ تعداد میں اگر چہ تھوڑے ہیں مگر ان کی بات میں وزن ہے اور اسے توجہ سے سنا جاتا ہے۔

یورپ کے 200 قابل ذکر سکالرز نے حال ہی میں ایک دستاویز پر دستخط کیے ہیں جو اسلام آن لائن نیٹ پر دستیاب ہے۔ اس میں انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ”انبیاء کرام کی ذات اور شخصیت کا موضوع بڑا نازک اور حساس ہے اور اسکا تقاضا ہے کہ دنیا کا ہر فرد اس پر مکمل ذمہ داری کے ساتھ اپنی زبان کھولے اور قلم چلائے۔ ذرا سی بے احتیاطی اور غیر ذمہ داری آتش فشاں کا لاوا پھٹنے کا سبب بن سکتی ہے۔ اسلام ایسا دین ہے جس کے ساتھ دہشت گردی کسی صورت لگا نہیں کھاتی۔ مغرب کو اس ضمن میں اپنا تصور درست کر لینا چاہیے ۔“ اس یادداشت پر دستخط کرنے والی 200 شخصیات میں مسلم اور غیر مسلم دونوں شامل ہیں۔

دستخط کرنے والوں میں نمایاں نام فرانس کی سابق خاتون وزیر مارٹن ابری اور صحافیوں کی عالمی تنظیم نمائندگان بلا سرحد کے جنرل سیکرٹری روبر مینار کا ہے۔ ان کے علاوہ یورپ میں عرب تنظیم برائے انسانی حقوق کے ترجمان ہیثم مناع، تیونس کے معروف قانون دان اور حقوق انسانی کے راہ نما المنصف المرزوقی، شامی عالم اور مفکر مقیم پیرس السید برہان غلیون، ڈنمارک کے مقبول مصنف اور ادیب آندرس جیر الیشو، فرانس کونسل برائے آئمہ و خطبائے مساجد کے سیکرٹری جنرل شیخ ضو مسکین اور سپین جیل میں مقید معروف صحافی تیسیر علونی کے بھی دستخط ہیں۔

یورپ میں موصولہ اطلاعات کے مطابق نائن الیون کے بعد لوگوں نے اسلامی کتب بالخصوص

صفحہ ۱۶۷

تحفظ ناموس رسالتؐ، کیوں اور کیسے؟ اکتفا نام محمدؐ سے محبت کی ہے قرآن مجید حاصل کرنے کے لیے اسلامی مکتبوں کا رخ کیا تھا۔ اس تازہ واقعہ کے بعد اس سے بھی کہیں زیادہ تعداد میں لوگ سیرت رسول ﷺ پر مبنی لٹریچر کی جستجو میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ عالم اسلام کے مایہ ناز خطیب عالم اور مفکر شیخ یوسف القرضاوی نے 10 فروری کے خطاب جمعہ میں جو براہ راست عرب دنیا کے کئی ٹی وی چینلز پر دکھایا گیا، فرمایا ”تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جس کسی نے بھی سیرت رسول ﷺ کا مطالعہ کیا وہ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ جو خوش قسمت تھے وہ حلقہ بگوش اسلام ہو گئے اور دیگر لوگ بھی اگر چہ مسلمان نہ ہوئے مگر آنحضور ﷺ کی عظمت کے نہ صرف قائل ہو گئے بلکہ کھل کر اس کا اظہار بھی کرتے رہے۔“ ہیروز اینڈ ہیروز شپ کے مصنف معروف برطانوی فلسفی تھامس کارلائل بھی ان ہی لوگوں میں سے تھے۔ یوسف قرضاوی صاحب نے مزید فرمایا کہ آج دنیا ایک بستی کی مانند ہے اور دستیاب ذرائع ابلاغ کو استعمال کر کے ہم آنحضرت ﷺ کی سیرت کے ذریعے دلوں کو فتح کر سکتے ہیں۔ وہ رحمۃ للعالمین ہیں اور آج دنیا کو رحمت کی شدید ضرورت ہے۔

سچی بات یہی ہے کہ آنحضور ﷺ کو جب اللہ نے یہ خوش خبری سنائی ”اے نبی ﷺ! ہم نے تم کو کھلی فتح عطا کر دی ہے۔“ (سورہ الفتح: آیت 1) تو یہ فتح وقتی اور محدود نہیں تھی۔ یہ دائمی اور لامحدود ہے۔ آنحضور ﷺ آج بھی سالار کارواں ہیں اور آپ کے وجود مسعود کا فیضان و برکات جاری ہیں۔ کامیابی اہل ایمان کا مقدر ہے۔ لیکن اس کے لیے ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنا اشتعال اور تخریب سے مکمل اجتناب کرنا تحمل، بردباری، جرأت اور قربانی کے ساتھ میدان جہاد میں اترنا ہوگا۔

صفحہ ۱۶۸

تحفظ ناموس رسالت... کیوں اور کیسے؟ اک لفظ نام محمدؐ سے محبت کی ہے

ایک بیٹے کا نام یہ (محمدﷺ) رکھیں

سعدی کے قلم سے

اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے پیارا نام محمدﷺ ہے۔.... ہم جب بھی یہ نام لیتے ہیں.... ہمارے ہونٹ دو بار خوشی سے ایک دوسرے کا بوسہ لیتے ہیں.... آپ بھی محبت سے کہیں! محمدﷺ.... دیکھیں آپ کا دل کتنا خوش ہوا اور اس میں سرور کی ایک لہر دوڑ گئی.... اور ہونٹ کتنے خوش ہوئے وہ ایک دوسرے کو مبارک دینے کے لئے دو بار گلے ملے.... ہاں اللہ کی قسم یہ بہت ہی پیارا نام ہے بہت ہی پیارا .... میں میرے ماں باپ اور میرے بچے اس پر قربان.... آپ کو معلوم ہے یہ نام بھی آقائے مدنیﷺ کا معجزہ ہے.... علماء نے اس نام کے بہت خوبصورت ترجمے کیے ہیں.... جس ترجمے کو دیکھیں تو دل سے آواز آتی ہے.... سبحان اللہ! یہ نام بھی ایک عظیم اور پرکشش معجزہ ہے۔.... صاحب قاموس نے لکھا ہے۔....

محمد الذی یحمد مرۃ بعد مرۃ

یعنی محمد وہ ہے جس کی بار بار تعریف کی جائے.... یعنی جس کی تعریف کا سلسلہ ختم نہ ہو.... مہینے سال بن گئے، سال صدیاں بن گئیں.... مگر حضرت محمدﷺ.... کی تعریف کا سلسلہ.... اسی طرح جاری ہے کہ بند ہو نہیں سکتا.... کیا اپنے کیا غیر.... جو بھی عقل رکھتا ہے.... تعریف کرتا چلا جاتا ہے.... جس نے صورت دیکھی تو وہ حسن یوسف علیہ السلام کو بھول گیا.... اور پھر تعریف کرتا چلا گیا.... اور جس نے سیرت دیکھی تو پکار اٹھا کہ بس.... یہی انسان کی ترقی کا سب سے آخری اور اونچا مقام ہے.... نہ ان جیسا کوئی پہلے تھا نہ ان جیسا کوئی بعد میں آسکتا ہے.... جو آپﷺ کو مسکراتا دیکھتا ہے وہ بھی تعریف میں ڈوب جاتا ہے.... اور جو میدان میں لڑتا دیکھتا ہے تو وہ بھی عش عش کے قصیدے پڑھتا ہے.... دنیا گدھے اور گھوڑے پر ہو تب بھی اسے رہنمائی.... محمدﷺ کے در سے ملتی ہے.... اور اب دنیا طیاروں اور سیارچوں میں ہے.... مگر پھر بھی.... وہ محمدﷺ کی محتاج ہے۔.... انسانی

صفحہ ۱۶۹

تحفہ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک لفظ نام محمدؐ سے محبت کی ہے

مسائل جوں جوں بڑھتے جاتے ہیں..... محمدﷺ کی تعلیمات کی ضرورت اسی قدر بڑھتی جاتی ہے..... تب ہر عقل والا تعریف کرتا ہے..... اور تعریف کرتا چلا جاتا ہے..... محمدﷺ..... محمدﷺ..... بعض اہل تحقیق اس پاک لفظ کا ترجمہ کرتے ہیں..... وہ ذات جس کی بہت تعریف کی جائے..... جی ہاں اللہ تعالیٰ کے ہاں پھر کس کی شان اور تعریف..... میرے آقا مدنیﷺ سے زیادہ ہوئی؟..... اوپر عرش سے لے کر نیچے فرش تک تعریف ہی تعریف..... تعریف کا آغاز تو خود رب تعالیٰ نے کیا..... اور سورتوں کی سورتیں آیتوں کی آیتیں اپنے محبوب کی تعریف میں نازل کر دیں..... حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آئے تو وحی بعد میں پڑھائی..... پہلے بے اختیار گلے لگ گئے..... فرشتوں کے جھرمٹ صبح سے شام تک زمین و آسمان کے درمیان درود شریف کے تحفے جمع کرتے ہیں..... اور پھر روضہ اطہر پر پہنچاتے ہیں..... کروڑوں انسان صبح و شام کی ہر گھڑی..... اللہم صل علی..... اللہم صل علی محمد..... ہر کوئی الگ رنگ سے پڑھتا ہے ہر کوئی الگ ترنگ سے پڑھتا ہے..... ارے کیوں نہ پڑھے محمدﷺ کے سب پر احسانات ہی اتنے ہیں کہ..... ساری مخلوق مل کر ان کا بدلہ ہی نہیں دے سکتی..... کیا انسان کیا جنات..... کیا سمندر کیا پہاڑ..... کیا آسمان کیا زمین..... سب پر میرے آقاﷺ کے احسانات ہیں..... اور سب کو ان احسانات کا اعتراف اور احساس ہے..... مگر سب عاجز ہیں کہ..... کیسے شکریہ ادا کریں، سب عاجز ہیں کہ کیسے تعریف کریں..... سب عاجز ہیں کہ کس طرح محبت کا اظہار کریں..... تب..... ان کے دلوں سے آواز آتی ہے..... اللہم..... اے ہمارے رب آپ ہی یہ کام کر سکتے ہیں..... صل علی محمد..... آپ ہی نے ان جیسی کامل و مکمل اور محبوب ہستی پیدا کی..... اور آپ ہی ان کو بدلہ دے سکتے ہیں..... ان کا حق ادا کر سکتے ہیں..... صبح سے لیکر شام تک کروڑوں..... اربوں بار اس زمین پر درود شریف پڑھا جاتا ہے..... جب عبدالمطلب نے اپنے یتیم..... اور ظاہری طور پر بے آسرا پوتے کا نام محمد رکھا تو کون سوچ سکتا تھا کہ یہ سب کچھ ہوگا؟..... پھر ہم کیوں نہ کہیں کہ عبدالمطلب نے یہ نام خود نہیں رکھا..... بلکہ..... ان سے رکھوایا گیا..... ان کے دل پر اس پاک نام کو اتارا گیا..... ورنہ غریب اماں آمنہ کے یتیم بیٹے کو تو..... اس وقت وہ دائیاں بھی نہیں لے رہی تھیں..... جن کو..... زیادہ انعام کا لالچ تھا..... اسی لیے تو حلیمہ کے بھاگ کھلے اور اس کی قسمت جاگی..... ہاں محمدﷺ کی برکات اسی کو ملتی

صفحہ ۱۷۰

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک لفظ نام محمدؐ سے محبت کی ہے

ہیں....... جو....... ملعون دنیا کا لالچی نہیں ہوتا....... کچھ محققین نے محمدﷺ کا ترجمہ کیا ہے....... خوبیوں والا تمام اچھی صفات والا....... الذی جمعت فیہ الخصال المحمودۃ وہ ذات جس میں تمام بھلائیاں اور اچھی صفات جمع ہوگئیں....... اس ترجمے میں کوئی کافر بھی شک نہیں کرسکتا....... مگر سچ یہ ہے کہ محمدﷺ اس سے بھی اونچے ہیں....... اس لیے تو سعدی فقیر کہتا ہے....... خوبیاں ان میں جمع ہوگئیں یہ بات ٹھیک....... مگر حق یہ ہے کہ جو چیز ان میں آگئی....... وہی خوبی بن گئی....... وہ خوبصورت بن گئی....... خوبیوں نے انہیں خوبصورت نہیں بنایا....... بلکہ انہوں نے خوبیوں کو خوبصورت بنایا....... وہ نہ ہوتے تو کونسی چیز ہے جو خوبی کہلاتی....... اور کونسی چیز ہے جو خوبصورت کہلاتی....... ہاں اللہ کی قسم....... ذات محمد کی طرح نام محمدﷺ بھی بہت پیارا ہے.......

کہیں ہم اس نام سے دور تو نہیں ہوتے جارہے؟....... کہیں ہم اس ذات سے دور تو نہیں ہوتے جارہے....... عرب کا اجاڑ وہ شہر یثرب....... کس کے دم قدم....... اور کس کی برکت سے ’مدینہ منورہ‘ ....... مدینہ طیبہ....... طابہ اور طیبہ بنا....... کہ آج آسمان بھی جھک کر مدینہ کی زمین پر رشک کرتا ہے....... حبشہ کا کالا غلام....... کروڑوں انسانوں کی آنکھیں ہر دور میں اس کی زیارت کو ترستی ہیں....... اور اس کی یاد میں عقیدت سے آنسو بہاتی ہیں....... کہاں مدینہ کی کچی گلیاں....... اور پھر کہاں روم و فارس کے لٹتے خزانے....... کہاں اپنے اونٹوں اور گھوڑوں پر اڑنے والے....... اور پھر کہاں دنیا پر علم و حکمت کے خزانے لٹانے والے....... جس طرف دیکھتے جائیں....... اور جس رخ پر سوچتے جائیں....... بے اختیار آنسو مچلنے لگتے ہیں....... اور زبان دل کو ساتھ لے کر پڑھتی ہے....... اللهم صل علی محمد....... اللهم صل علی سیدنا محمد....... آج ربیع الاول کا مہینہ شروع ہوئے تیسرا دن ہے....... میں عید میلاد النبی نہیں مناتا....... کیونکہ اگر میرا ایمان سلامت ہے تو میرا ہر دن عید میلاد النبی ہے....... مجھے ہر دن آقاﷺ کلمہ پڑھاتے ہیں، نماز سکھاتے ہیں....... اور معلوم نہیں کیا کچھ سکھاتے ہیں....... ایسا ہر مسلمان کے ساتھ ہوتا ہے....... ہم حضرت محمدﷺ سے جدا ہو کر....... نہ مسلمان رہ سکتے ہیں اور نہ انسان....... ہم ایک دن پیدائش مبارک کا جشن منائیں....... اور پھر انہیں بھول جائیں....... یہ ظلم ہوگا ظلم....... ان کے ساتھ نہیں ....... اپنے ساتھ اور اپنی نسلوں کے ساتھ....... مگر ہم غیروں کے کرسمس سے متاثر ہوکر....... سچے عاشقوں کا

صفحہ ۱۷۱

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک خط نام محمدؐ سے محبت کی ہے طریقہ محبت بھول جاتے ہیں۔۔۔۔۔ ارے محبت کوئی آسان کام تو نہیں ہے۔۔۔۔۔ پیٹ، معدے اور لالچ کے اس زمانے میں تو محبت ویسے ہی اس دنیا سے روٹھ کر میکے چلی گئی ہے۔۔۔۔۔ محبت سیکھنی ہے تو صحابہ کرام سے سیکھو۔۔۔۔۔ محبت سیکھنی ہے تو ازواج مطہرات سے سیکھو۔۔۔۔۔ محبت سیکھنی ہے تو اماں فاطمۃ الزہراء سے سیکھو۔۔۔۔۔ چند جلتے بجھتے بلب، دو چار رنگین جھنڈیاں ایک آدھ جلوس۔۔۔۔۔ اور پھر کھانے کی دیگ۔۔۔۔۔ ارے نہ تم نے محمد ﷺ کی شان کو سمجھا اور نہ ان کی محبت کو۔۔۔۔۔ امام قرطبیؒ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ۔۔۔۔۔ حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ۔۔۔۔۔ آقا ﷺ نے وصال فرما لیا ہے۔۔۔۔۔ فوراً قبلہ رخ ہوکر پکارے۔۔۔۔۔ اے ربا! آنکھیں واپس لے لے۔۔۔۔۔ ان کا کام اب ختم ہوچکا ہے۔۔۔۔۔ دعا ایسی سچی تھی کہ فوراً قبول ہوگئی۔۔۔۔۔ امام رازیؒ۔۔۔۔۔ نے تفسیر کبیر میں۔۔۔۔۔ اور دوسرے مفسرین نے بھی اپنی تفاسیر میں لکھا ہے کہ۔۔۔۔۔ آقا مدنی ﷺ احد کے دن زخموں سے چور تھے۔۔۔۔۔ خون اتنا بہہ گیا تھا کہ غشی کے دورے پڑتے تھے۔۔۔۔۔ بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا۔۔۔۔۔ ابا حضور ﷺ کے زخم دھو دھو کر قربان ہو رہی تھیں۔۔۔۔۔ اچانک آقا ﷺ نے اٹھ کر مشرکین کے تعاقب کا فیصلہ فرمایا۔۔۔۔۔ اور اعلان ہوا کہ۔۔۔۔۔ جو احد کی لڑائی میں شریک تھا ۔۔۔۔۔ صرف وہی میرے پیچھے چلا آئے۔۔۔۔۔ تب آسمان نے عشق و وفا کا وہ منظر دیکھا۔۔۔۔۔ جسے وہ کبھی نہیں بھلا سکے گا۔۔۔۔۔ کیسے بھلائے گا؟۔۔۔۔۔ جس عرش والے رب نے اس منظر کو قرآن پاک کی انمٹ آیت۔۔۔۔۔ اور اپنے قدیم کلام کا ازلی حصہ بنادیا ہے۔۔۔۔۔ بہتے زخموں اور کٹے جسموں کیساتھ۔۔۔۔۔ تکبیر کے نعرے بلند ہوئے۔۔۔۔۔ اور مدینہ سے حمراء الاسد تک آٹھ میل کی زمین۔۔۔۔۔ اس زخمی قافلے کے خون سے گل رنگ ہوگئی۔۔۔۔۔ قافلہ جا رہا تھا ساٹھ ستر کے درمیان کی نفری تھی۔۔۔۔۔ اور ادھر دو عاشق اپنے زخموں سے کراہ رہے تھے اور بے چینی سے تڑپ رہے تھے۔۔۔۔۔ او میرے یار! قافلے گئے۔۔۔۔۔ وہ دیکھو۔۔۔۔۔ وہ جارہے ہیں۔۔۔۔۔ اور ہم پیچھے رہ گئے۔۔۔۔۔ آقا بھی زخمی تھے۔۔۔۔۔ جائیں اور ہم ان کے ساتھ نہ ہوں۔۔۔۔۔ ہائے دل پھٹ رہے ہیں۔۔۔۔۔ سر سے پاؤں تک رستے زخم بھول گئے۔۔۔۔۔ شکست کا غم یاد نہ رہا۔۔۔۔۔ خون سے خالی جسم کے تقاضے دماغ سے نکل گئے۔۔۔۔۔ ارے یار! آقا تشریف لے جارہے ہیں۔۔۔۔۔ اور ہم یہاں؟۔۔۔۔۔ اٹھو ہمت کرو۔۔۔۔۔ مگر کہاں؟۔۔۔۔۔ آخر انسان تھے گوشت کٹ چکا تھا۔۔۔۔۔ خون نچڑ چکا تھا۔۔۔۔۔ تب۔۔۔۔۔ ایک معاہدہ ہوا ۔۔۔۔۔ یا میں ہمت جمع کر کے اٹھتا ہوں۔۔۔۔۔ اور تمہیں بھی اپنی کمر پر لادتا ہوں۔۔۔۔۔ جتنی دیر چل سکا چلتا رہوں

صفحہ ۱۷۲

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک خطاء ہم نے بھی محبت کی ہے گا........ جب گر جاؤں گا تو تم میرا بوجھ اٹھا لینا........ پھر وہ دونوں آقاﷺ کے پیچھے اسی شان سے روانہ ہوگئے...... گرتے پڑتے، ایک دوسرے کو اٹھاتے...... اور پھر آقا کے قدموں تک پہنچ گئے...... مگر آسمان کی وحی ان سے پہلے...... ان کی تعریف میں پہنچ چکی تھی...... گویا اس منظر نے زمین و آسمان کو اپنے گھیرے میں لے لیا تھا...... آؤ عید میلاد النبیؐ منانی ہے تو اس شان سے مناؤ...... جیسے...... ان دو حضرات نے منائی...... آج بھی تو حضورﷺ کے دین کو...... ایسے زخمی قافلوں کی ضرورت ہے...... مگر کہاں؟...... ہم تو بہت دور نکل گئے ہیں...... بہت دور...... آؤ واپسی کی کوشش کریں...... ورنہ تباہ ہوجائیں گے برباد ہوجائیں گے......

بات چل رہی تھی...... نام محمدﷺ کی...... یہ کتنا پیارا نام ہے...... کتنا پیارا...... امت مسلمہ نے جہاں...... اس نام والے سے اپنا رشتہ مضبوط رکھا وہاں انہوں نے...... اس نام کو بھی خوب مضبوطی سے تھامے رکھا...... محدثین، مفسرین کے نام پڑھ لیجئے...... کوئی احمد...... میرے اردگرد کئی کتابیں پڑی ہیں...... اکثر مصنفین کے نام محمد یا احمد...... سبحان اللہ امت نے ذات کی برکتیں بھی حاصل کیں...... اور نام کے مزے اور برکتوں سے بھی پورا پورا حصہ لیا...... مجوسیوں اور بدھ متوں کے علاقے بخارا کی ایک عورت نے یہ پتہ نہیں کیا سوچ کر...... اپنے لخت جگر کا نام محمد رکھا...... اور پھر یتیمی میں اسے پالا...... آج اس عورت کے بارے میں پوچھو وہ کون ہے...... ساری علمی دنیا کہتی ہے...... وہ امام بخاری کی ماں ہے...... جی ہاں محمد بن اسماعیل بخاری کی ماں...... یہ میرے ساتھ تفسیر قرطبی پڑی ہے...... عجیب بلند پایہ تفسیر...... میں سالہا سال سے اس کا دیوانہ ہوں اور اب تو کئی دن سے الحمدللہ روزانہ آٹھ گھنٹے میں اس کے قریب رہتا ہوں...... آج سے پہلے مجھے کبھی خیال نہ آیا کہ مصنف کا پورا نام تو دیکھ لوں...... بس اتنا پتہ تھا کہ وہ امام قرطبی ہیں...... جس آیت کی تفسیر سمجھنی ہوتی ہے...... وہ صفحہ کھول لیتا ہوں...... آج اسمِ محمد پر لکھنے بیٹھا تو کتاب پر غور سے نام دیکھا...... یہ بھی محمد ہیں...... ابو عبداللہ محمد بن احمد الانصاری القرطبی ...... یہ دیکھیں یہ شہرہ آفاق تفسیر...... ماشاء اللہ کمال کی تفسیر ہے...... اور واقعی علم کا بحر محیط یعنی سمندر ہے...... اس کے مصنف کا نام بھی محمد ہے...... محمد بن یوسف ابوحیان اندلسی...... دیکھا آپ نے مسلمان کتنے شوق سے...... اپنے بچوں کا نام محمد رکھتے تھے اور پھر کتنے اہتمام سے ان کو اس نام کی لاج رکھنے کے

صفحہ 173

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک خطا نام محمد سے محبت کی ہے قابل بناتے تھے۔ ...... آج یورپ کے برے لوگوں نے ...... حضرت محمدﷺ کے خلاف ...... ایک نئی جنگ شروع کی ہے ...... اور کارٹونوں کا سہارا لے کر اپنے دل کا بغض نکالا ہے تو ...... ہمیں اس جنگ کا جواب تین طریقے سے دینا ہوگا۔ ...... ان میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ ...... ہم ...... اس نام کو اور زیادہ پھیلائیں ...... اور ہم میں سے ہر مرد اور عورت مسلمان ...... اس بات کی نیت کر لے کہ ان شاء اللہ ...... میں اپنے بیٹے کا نام محمد رکھوں گا۔ تب کچھ عرصہ بعد محمد نام کے لاکھوں بچے ایمان اور قرآن کے سائے میں پل کر ...... جوان بنیں گے ...... اور ایک ایک گھر، ایک ایک گلی میں ...... حافظ محمد ...... عالم محمد، مجاہد محمد ...... مفتی محمد اور ...... کمانڈر محمد ہوں گے ...... جب آپ اور ہم یہ مبارک نیت کریں تو ساتھ ...... اس بات کا بھی عزم کریں کہ ہم اپنے محمد کو ...... حضرت محمدﷺ کا سچا امتی بنائیں گے ...... اسے قرآن پاک حفظ کرائیں گے ...... اسے تیراکی اور گھڑ سواری سکھائیں گے ...... اسے دین کا علم پڑھائیں گے ...... اور اسے جانباز و جری مجاہد بنائیں گے ...... آپ کو معلوم ہے ...... حضرت محمدﷺ کتنے بہادر تھے ...... امام رازیؒ نے سورۃ نساء کی آیت 84 کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ...... پوری مخلوق میں سب سے بڑے بہادر حضر ت محمدﷺ تھے ...... اور آپ تمام مخلوق میں سب سے زیادہ جنگی امور کے ماہر تھے ...... کیا آپ کو معلوم ہے؟ ...... آخری زمانے کے سب سے بڑے مجاہد کا نام کیا ہوگا؟ ...... جی ہاں وہ بھی محمد ہوں گے جن کا لقب مہدی ہوگا ...... چونکہ وہ مسلمانوں کے امیر بھی ہوں گے اور ان کو امام کہا جاتا ہے ...... یعنی حضرت امام مہدی ...... اب اگر ہم بھی ہر گھر میں ...... کم از کم ایک محمد ...... حضرت محمدﷺ کی تعلیمات کے مطابق تیار کریں تو انشاء اللہ ...... اس نام کا ...... ایک پورا مبارک لشکر وجود میں آجائے گا ...... ہمارے اندر عجمی رسم و رواج کی وجہ سے ...... نئے نئے نام رکھنے کا ایک غلط شوق رائج ہے ...... گھر میں بچے کا نام رکھتے ہوئے ...... اس بات کا پورا زور لگایا جاتا ہے کہ ...... یہ نام ...... پورے خاندان میں پہلے کسی کا نہ ہو ...... اور بالکل نیا ہو ...... اس بری رسم نے ہمیں پرویز جیسے ...... غلط ناموں میں ڈال دیا ہے ...... آپ حضرات صحابہ کرام اور صحابیات کے نام دیکھیں۔ ایک ہی گھر میں کئی بچوں کا ایک ہی نام رکھ دیا جاتا تھا۔ آج بھی عربوں میں یہ اچھا رواج موجود ہے ...... وہ اس فکر میں نہیں پڑتے کہ خاندان میں ایک نام کے کئی افراد نہ ہوں ...... بلکہ اس بات کی فکر کی جاتی ہے کہ بچے کا اچھے سے اچھا نام رکھا جائے ...... عربوں میں اکثر اپنے

صفحہ ۱۷۴

اک فقط نام محمد سے محبت کی ہے تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

بڑے بیٹے کا نام اس کے دادا کے نام پر رکھا جاتا ہے ۔...... جبکہ ہمارے ہاں یہ اچھا خاصا عیب شمار ہوتا ہے ...... پورے خاندان میں ایک بچی کا نام عائشہ ہو گیا تو بس اب یہ بابرکت نام ...... پورے خاندان کے لیے ممنوع ...... ہمارے ایک محترم بھائی فرماتے ہیں کہ ...... ہر گھر میں ایک عائشہ ہونی چاہیے ...... ان کی دل سے نکلی ہوئی اس بات کا یہ اثر ہوا کہ اس وقت بعض گھرانوں میں ایک چار دیواری میں ماشاء اللہ تین تین ”عائشہ بیبیاں“ موجود ہیں ...... اسی طرح ہمارے ہاں لمبے چوڑے نام رکھنے کا رواج ہے ...... حالانکہ نام اگر ایک لفظ پر مشتمل ہو تو بہتر ہے ...... جیسے محمد ...... احمد ...... عمر ...... مگر ایک رواج چل پڑا ہے کہ ...... شعر کے ایک مصرعہ کے برابر نام رکھا جاتا ہے ...... پھر ...... آگے پیچھے ملک ، چودھری ، خان ، حافظ ، قاری ، علامہ ، سید ، بخاری ، کاظمی ، معلوم نہیں کیا کیا لگا کر ...... نام کو ...... پورا ایک کالم بنا دیا جاتا ہے ...... بات کچھ دور نکل گئی ...... خلاصہ یہ ہے کہ ...... یورپ کی جنگ کا جواب دینے کے لیے جو تین اقدامات اس وقت ضروری محسوس ہو رہے ہیں ...... ان میں سے ...... ایک یہ بھی ہے کہ ...... ہم اس پاک نام کو خوب پھیلائیں ...... بعض لوگ یہ نام رکھنا بے ادبی سمجھتے ہیں ...... حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے ...... یہ بے ادبی نہیں محبت کی علامت ہے ...... بس پھر دیر کیسی ...... آج سے یہ مہم شروع ہو جائے کہ اب جو بیٹا ...... اللہ پاک دے گا ...... اس کا نام محمد ہوگا اور اس کا کام جہاد محمد ﷺ ہوگا ...... اس مبارک بیٹے کے آنے سے پہلے ...... خود کو ...... سیرت محمد ﷺ کے مطابق بنالیں ...... اس کے استقبال کے لیے ...... گھر کو ٹی وی سمیت تمام امراض سے پاک کر لیں ...... اور جب وہ آ جائے تو پھر ...... اسے ایسا تیار کریں کہ ...... جوان ہوتے ہی ...... حضرت امام مہدی کے لشکر کا جانباز سپاہی بن سکے ...... جب ہر طرف ...... لاکھوں خوبصورت پاک سیرت ...... اور تگڑے مضبوط جوان ...... اپنا نام محمد بتا رہے ہوں گے تو ...... یہ منظر اسلام کے لئے کتنا خوشگوار ...... اور دشمنان اسلام کے لیے کتنا عجیب پیغام ہوگا ...... کارٹون بنانے والے کی قبر پر ...... ایک کالا کتا پیشاب کر آئے گا ...... اور کہے گا کہ اے مردار! اگر میرا مالک میرا نام تیرے نام جیسا رکھ دے ...... تو میں اسے اپنی توہین سمجھوں گا ...... دوسری طرف لاکھوں جانباز محمد ﷺ ...... ہاتھوں میں قرآن پاک اور تلوار اٹھائے ...... جھوم جھوم کر پڑھ رہے ہوں گے : ......

اللہم صل علیٰ سیدنا محمد ......

صفحہ 175

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ ایک لفظ جو "محمد" سے محبت کی ہے

اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّد ......

تب آسمان، زمین ...... مٹی، پتھر، پھول پتے ....... اور بارش کے قطرے بھی پکاریں گے

اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّد ......
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّد ......

ہاں اس وقت بھی کائنات میں ...... اللہ تعالیٰ کے بعد حضرت محمد ﷺ کا نام چل رہا ہے ...... اور آئندہ بھی انہیں کا نام چلتا رہے گا ......

وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ......

اور اے محمد ﷺ ہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا

(القرآن)

جی ہاں اللہ تعالیٰ نے ان کا نام بلند کر دیا ...... بہت بلند، بہت بلند ...... آئیں مل کر پڑھیں ...... اور جھوم کر پڑھیں ۔

اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّد ......
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّد ......
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّد ......
صفحہ 176

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ اک فقط نام محمدؐ سے محبت کی ہے

آخرت کا سودا

اوریا مقبول جان

سارے شہر میں ہوکا عالم تھا۔ دکانیں بند، بازار سنسان، جمعہ کی نماز کے بعد لوگوں کا ابلتا ہوا ہجوم شہر کی سڑکوں پر غصے سے بپھر رہا تھا۔ اس جم غفیر کا نہ کوئی لیڈر تھا نہ رہنما جو کوئی جوش و ولولے میں گونجتی آواز کے ساتھ کسی چوک میں بلندی پر کھڑا ہو جاتا وہی مقرر اور وہی رہنما۔ لوگوں کی آنکھوں میں آنسو تھے اور چہرے پر غصہ۔ میں اپنے باپ کی انگلی پکڑے اس ہجوم میں شامل تھا۔ میرا باپ بار بار اپنی آنکھوں سے نکلتے ہوئے آنسو صاف کرتا اور مجھے جو صرف سات آٹھ سال کا بچہ تھا۔ اسے بتاتا تمہیں معلوم ہے ہندوؤں نے ہمارے پیارے رسول ﷺ کا موئے مبارک چوری کر لیا ہے۔ آپ ﷺ کے ایک بال سے اس قدر عقیدت اور محبت میرے بچپن کی یادوں میں سے ایک ہے۔ مجھے اس جلوس کے اختتام پر ایک مقرر کے وہ اشعار نہیں بھولتے جو اس نے جذبے کی تپتی ہوئی آواز میں کہے۔ مولانا ظفر علی خان کے شعر ایسے لگتا اس قوم کی آواز ہیں۔

نماز اچھی، روزہ اچھا، زکوٰۃ اچھی
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں خواجۂ یثرب کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

سرکار دو عالم ﷺ کی حرمت پر کٹ مرنے کی آرزو میری قوم کا اثاثہ تھی۔ یہ اثاثہ کسی مسجد و محراب یا مدرسے تک محدود نہیں تھا بلکہ جو جتنا گناہگار ہوتا اسے اتنا ہی اس حرمت پر کٹ مرنے کا احساس ہوتا تھا کہ شاید یوں ہی اسے نجات کا راستہ مل جائے۔ اس کی گناہگار زندگی کی شرمندگی دور ہوسکے۔ اختر شیرانی اردو کے مشہور شاعر تھے وہ ایک سادہ مسلمان تھے، جنہیں پارسائی کا کوئی دعویٰ نہ تھا۔ ایک دفعہ ان

صفحہ 177

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ اک لفظ نام محمد سے محبت کی ہے کے سامنے ایک شخص نے سید الانبیاء کی شان میں گستاخی کی کوشش کی۔ اختر نے گلاس کھینچ کر اسے مارا اور کہا کیا تم مجھ سے میری آخری متاع بھی چھیننا چاہتے ہو۔

عاصیوں، گناہگاروں اور عام مسلمانوں کی یہ آخری متاع جسے عشق رسول ﷺ کہا جاتا ہے۔ میرے ملک کے باسیوں کا خاصہ رہا ہے جس سرزمین نے غازی علم الدین شہید جیسے جانثار کو جنم دیا کہ اپنے وقت کے مقرر، خطیب اور عالم عطاء اللہ شاہ بخاری کو کہنا پڑا کہ ساری زندگی قرآن سناتے رہے۔ اپنی عالی نسبی پر ناز کرتے رہے۔ عشق رسول ﷺ پر وعظ کرتے رہے اور بازی ترکھانوں کا بیٹا لے گیا۔ لیکن یہ آخری متاع صرف چند سالوں میں ہم سے یوں چھن جائے گی۔ کہ پوری امت مسلمہ سراپا احتجاج بن جائے۔ عرب اس توہین آمیز کارٹون پر ڈنمارک کی اشیاء کا بائیکاٹ کریں تو صرف ایک ہفتے میں انہیں 27 ملین ڈالر کی ایکسپورٹ کا نقصان ہو۔ عراق میں برستی گولیوں اور امریکی فوج کی یلغار کے باوجود برستی بارش لاکھوں لوگ سڑک پر نکل آئیں۔ محکوم فلسطین میں سالوں سے مار کھاتے فلسطینی، افغانستان کے بے یار و مددگار افغان، امریکی حملے زد میں آنے والے ایرانی اور امریکی دھمکیوں کے نرغے میں شام کے مسلمان سب ایسے سراپا احتجاج تھے۔ کہ مجھے اپنے بچپن کا وہ شہر، وہ جلوس، وہ جم غفیر اور آنکھوں سے بہتے آنسو یاد آگئے اور میں اپنے چاروں جانب اس ہجوم کو ڈھونڈتا رہا۔ غازی علم الدین کے شہر میں اس غم و غصے کو تلاش کرتا رہا۔ مجھے تسلی دینے والے بہت تھے۔ کہتے تھے دیکھو سفیروں کو بلا کر احتجاج کر دیا گیا۔ بیان دے دیئے گئے اور کسی بڑے آدمی کا مذمت سے پر بیان آجاتا ہے کیا یہ کافی نہیں۔ لیکن معلوم نہیں کیوں مجھے سرکار دو عالم ﷺ کی وہ حدیث بار بار یاد آ جاتی ہے۔ ”تم اس وقت تک مومن ہو ہی نہیں سکتے جب تک میں تمہیں اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں سے زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔“ میں اکثر خود سے سوال کرتا کہ کیا کسی بھی بیان دینے والے، مذمت کرنے والے یا سفارتی خط لکھنے والے شخص کے باپ یا ماں کا مضحکہ خیز خاکہ بنایا جاتا یا توہین آمیز کارٹون شائع ہوتا۔ تو وہ ایسا ہی کرتا ، وہ اس شخص سے زندگی بھر بولنا چھوڑ دیتا۔ اس سے نفرت کرتا۔ مقدور ہوتا تو اس سے بدلہ لینے کی کوشش کرتا۔ آج توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے ہورہے ہیں۔ ہمارے ملک میں یہی صورتحال ہے لیکن اس میں وہ شدت اور جاہ و جلال نہیں جو ہونا چاہیے۔ آسائش حاصل کی جاسکتی ہے۔ پرتعیش زندگی گزاری

صفحہ 178

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک نقطۂ نام محمد سے محبت کی ہے

جاسکتی ہے۔ لیکن آخرت کے سودے اس سے بالکل الگ ہیں۔ ہم نے وہ سودے کرنے چھوڑ دیئے ہیں کہ شاید ہمارے قومی مفاد میں نہیں۔ لیکن میں اپنے اس ماضی کو کہاں دفن کروں جہاں مجھے غیظ وغضب کا ہجوم نظر آتا ہے۔ اپنے باپ کی آنسوؤں سے بھیگی داڑھی نظر آتی ہے۔ آنسو میری آنکھ میں بھی ہیں لیکن بے بسی کے آنسو، بے یقینی کے آنسو، وہ آنسو مجھ جیسے ہر شخص کی آنکھ میں ضرور ہوں گے میں نے عشق رسول ﷺ کی آخری متاع کے بدلے میں آخرت کا سودا کرنے کا موقع کھو دیا ہو۔

صفحہ ۱۷۹

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک نقطۂ نام محمدؐ سے محبت کی ہے

ناک پانی میں

نصر اللہ عزیز

جدید تعلیم کا ناس ہو کہ اس نے ہم سے ہماری تاریخ، ہماری تہذیب، ہماری ثقافت یہاں تک کہ ہماری شناخت بھی چھین لی ہے۔ آپ کو یقین نہ آئے تو کبھی دنیا بھر کے حکمرانوں پر مشتمل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کوئی تصویر دیکھ لیں، وہاں آپ کو ہر شخص اپنی ایک جداگانہ پہچان میں ملے گا۔ سوائے مسلم حکمرانوں کے جو بے چارے اپنے گال چھیل چھال کر اتنی زخمی کر دیتے ہیں کہ پھر انھیں وہ خلا پر کرنے کے لیے کئی قسم کی کریمیں استعمال کرنی پڑتی ہیں۔ گردن میں پٹا اتنی مضبوطی سے کس کر باندھتے ہیں کہ لگتا ہے کہ ابھی ان کا سانس گھٹ جائے گا۔ اور یہ ”مرحوم“ ہو جائیں گے۔ انگریزی بولنے کے لئے اتنا منہ بگاڑتے ہیں کہ کسی جنیاتی خرابی کا شبہ ہونے لگتا ہے۔

اس نئی روشنی نے ہماری نسل کی آنکھوں سے اسلامی تاریخ کے بلند و بالا عظمت کے میناروں کو بھی اوجھل کر دیا ہے لہٰذا اب انہیں یا تو کھلاڑیوں کے نام یاد ہوتے ہیں یا فنکاروں کے اس کے باوجود ہم فخر کر لیتے ہیں کہ ہمارے قارئین خلیفہ ہارون الرشید کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے آپ کے کوئی پڑوسی، رشتہ دار، کوئی کھلاڑی یا فنکار مراد نہیں بلکہ عظیم عباسی خلیفہ کا ذکر مقصود ہے جنہوں نے اپنے زمانے میں بڑے جاہ و جلال سے حکومت کی۔

بات مختصر یہ کہ جب یہ اس دار فانی سے کوچ فرما گئے تو پیچھے ان کے دو صاحبزادوں امین الرشید اور مامون الرشید میں حسب توقع تعلقات کشیدہ ہو گئے اور نوبت جنگ تک پہنچی۔ پہلے تو امین الرشید کا پلہ بھاری رہا لیکن بالآخر مامون الرشید کامیاب ہوا اور اس نے اپنے ”برادر عزیز“ کو پورے اعزاز و اکرام کے ساتھ وہاں پہنچا دیا جہاں ہر انسان نے بہر حال جانا ہی جانا ہے۔

اس قتل کے کافی عرصہ بعد ایک مرتبہ مامون الرشید سواری پر کہیں جا رہا تھا کہ راستے میں ایک

صفحہ ۱۸۰

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک حفظ نام محمدؐ سے محبت کی ہے

بھنگی جو صفائی کر رہا تھا، بادشاہ وقت کو دیکھا تو غصے سے آنکھیں پھیر لیں اور کہا:

"یہ شخص اس وقت سے میری نظروں سے گر چکا ہے جب سے اس نے اپنے بھائی امین کو قتل کیا تھا"

مامون الرشید نے جب یہ سنا تو جواباً صرف اتنا کہا:

انف فی الماء واست فی السما

"ناک تو پانی میں لگ رہا ہے اور سرین آسمان پر ہے۔"

یہ عرب کے ہاں ایک ضرب المثل ہے اور یہ اس وقت بولتے ہیں جب کہ بہت ہی حقیر ترین شخص کسی بڑی شخصیت پر غصے اور ناراضگی کا اظہار کرے۔ یقین جانیں اگر توہینِ رسالت ﷺ کے مرتکب اور ان کی پیٹھ ٹھونکنے والے ان سیاہ باطن گوروں کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو وہ دماغی سوچ کے اعتبار سے بالکل اسی مقام پر ہوں گے۔ جہاں وہ بھنگی تھا۔ بل ہم اضل۔

یورپ کے یہ "بھنگی" جنہوں نے اپنے کردار سے انسان تو انسان حیوانوں کو شرما دیا ہے سرورِ کائنات فخر موجودات، سید البشر، امام الانبیاء ﷺ سے خفا ہیں اس لئے کہ آپ نے ان کوڑھ دماغوں کی گندی ذہنیت کے مطابق زندگی کا نقشہ کیوں نہیں سکھایا۔ یہ اس لئے آقائے دو جہاں ﷺ سے ناراض ہیں ۔ کہ انہوں نے یہودیت اور عیسائیت کو منسوخ کیوں قرار دیا۔ انہوں نے اپنی امت کو عریانی اور فحاشی کے بجائے حیا اور عفت کا درس کیوں دیا۔ انہوں نے اپنا نام لینے والوں کو بے غیرتی کی زندگی گزارنے کی اجازت دینے کے بجائے بدر و احد، حنین و تبوک جیسی معرکہ آرائیوں کا حکم کیوں دیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو قرآن مجید جیسا اکسیر نسخہ کیوں دیا جس کی وجہ سے یہ تمام نظریوں اور ازموں سے محفوظ ہو گئے۔ غرضیکہ اس طرح کی باتوں کا نہ ختم ہونے والا ایک سلسلہ ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ سخت خفا ہیں۔

حالانکہ ہمارے آقا ﷺ تو وہ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے انسانیت کو انسانی حقوق سے روشناس کروایا۔ جنہوں نے بھولے بھٹکے انسانوں کو ایک کامل اور مکمل منشور عطا فرمایا۔ جنہوں نے رنگ و

صفحہ ۱۸۱

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک لفظ نام محمدؐ سے محبت کی ہے

نسل کے بتوں کو توڑ کر انسان کو مٹی پتھر کے سامنے رسوا ہونے سے بچایا۔ جنہوں نے عرب اور عجم، گورے اور کالے محمود اور ایاز سب کو ایک صف میں کھڑا کر دیا۔ جنہوں نے عرب کے وڈیروں، چوہدریوں، اور سرداروں کے طلسم کو توڑا۔ جنہوں نے ظالم کے ظلم کو شمشیر بے نیام کے ذریعہ روکنے کا حکم دیا۔ جنہوں نے یتیموں کو گلے سے لگایا سر پر دست شفقت رکھا، اور سرپرستی فرمائی۔ جنہوں نے غلاموں کی ہتھکڑیاں توڑیں اور بیڑیاں کھولیں۔ جنہوں نے بے نواؤں کو قوت اظہار بخشی، جنہوں نے کمزور کو حق کی طاقت عطا فرما کر طاقتور کے مقابل لا کھڑا کیا۔ جنہوں نے صنف نازک، بنت حوا کو اس کی زندہ قبر سے نکال کر ماں کا احترام، بیٹی کی محبت، بہن کا اکرام، اور بیوی کا اعزاز بخشا، جنہوں نے محنت کش کو اللہ کا حبیب قرار دے کر معاشرے میں علم کی دائمی قندیلیں روشن کیں۔ جنہوں نے رسوم و رواج کے صحراؤں میں بھٹکتے ہوئے لوگوں کی تشنگی آب حیات سے بجھائی۔ جنہوں نے بکھرے ہوئے موتیوں کو ایک خوبصورت لڑی میں پرو کر ایک بے مثال اور مثالی جماعت تیار کی۔ غرض الفاظ کم ہیں اوصاف زیادہ لکھتے لکھتے قلم شکستہ اور ذہن درماندہ ہوسکتا ہے مگر آپ ﷺ کے انسانیت پر احسانات کا احاطہ نہیں ہوسکتا۔ غرضیکہ ایک آدمی نے انسان کا بول بالا کر دیا۔ چمگادڑ کو اگر دن میں اندھیرا نظر آئے اور سورج کی شعائیں بھی اس کے لئے ناکافی ہوں تو اس میں آفتاب عالمتاب کا تو کوئی قصور نہیں۔ آقا ﷺ کی خوبیاں اور کمالات اگر ان کو سمجھ میں نہ آئیں تو ان کو اپنے فہم ناقص اور نظر کوتاہ کا علاج کرنا چاہیے۔ پچھلے چند برسوں سے یورپ نے اپنی غلیظ ذہنیت کو بے نقاب کر کے توہین رسالت کا ایک بازار گرم کر رکھا ہے۔ اور اس کے پیچھے کئی دماغ اور کافی سارے ڈالر کارفرما ہیں جن کے اثرات آپ کئی نام نہاد مسلمانوں پر بھی دیکھ سکتے ہیں جو ”بھگتوں“ کو ان کی اصلیت اور قدر و قیمت یاد دلانے کے بجائے ان کی نظروں میں باوقار دکھائی دینے کی کوششیں کرتے ہیں۔ بھلا جس دل میں رحمت دو عالم ﷺ کی عزت نہ ہو وہ ہماری اور آپ کی عزت کیوں کرنے لگا۔ کیا خیال ہے اگر کوئی آپ کے منہ پر آپ کے والد صاحب کو گالیاں دے لیکن آپ کی بڑی عزت افزائی فرمائے تو آپ اس کا یہ رویہ برداشت کرلیں گے؟

صفحہ ۱۸۲

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک لفظ نام محمدؐ سے محبت کی ہے

ایسا بہت مشکل ہے

سعدی کے قلم سے

اللہ تعالیٰ ان کے شر سے امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے ...... گزشتہ رات ریڈیو پر ان کی باتیں سنیں تو دل غم میں اور سر ”درد“ میں ڈوب گیا ...... وہ مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے تھے۔ بی بی سی اردو سروس والوں نے برطانیہ میں مقیم ”اسلامی سکالر“ ڈاکٹر غیاث الدین صدیقی صاحب کو اپنے پروگرام ”ٹاکنگ پوائنٹ“ میں دعوت دی تھی کہ وہ ...... شان رسالت مآب ﷺ کی گستاخی کے مسئلے پر لوگوں کے سوالات کے جواب دیں۔ میں نے سوچا کہ شاید امت مسلمہ کے زخموں پر مرہم رکھیں گے۔ مگر وہ تو پکے روشن خیال نکلے۔ ان کو ناپاک کارٹونوں پر اتنا دکھ نہیں تھا جتنا صدمہ انہیں مسلمانوں کے احتجاج پر تھا ...... وہ آخرت کے خوف سے بے نیاز ہو کر عجیب عجیب باتیں بولتے چلے گئے۔ علامہ اقبالؒ نے غالباً اسی لیے فرمایا تھا۔

میاں نجار بھی چھیلے گئے ساتھ
نہایت تیز ہیں یورپ کے رندے

ڈاکٹر غیاث الدین اس بات پر دکھی تھے کہ مسلمان اتنے سخت جذباتی کیوں ہو رہے ہیں؟ ...... اس سے تو یورپ کو بہت غلط میسج جائے گا اور وہ سمجھیں گے کہ مسلمان واقعی ”شدت پسند“ ہوتے ہیں ...... واہ ڈاکٹر صاحب واہ! ...... آقا مدنی ﷺ کی گستاخی پر بھی آپ کا دل نہ رویا ...... معلوم نہیں کس مٹی سے آپ جیسے لوگ بنے ہیں ...... آپ نے جس قدر ظالمانہ باتیں کیں ان کا جواب کسی نہ کسی دن تو آپ کو دینا ہی پڑے گا ...... کیا برطانیہ کی شہریت اتنی قیمتی ہے کہ اس کی خاطر ”غیرت ایمان“ بھی بیچی جاسکتی ہے؟ ...... آپ نے کفر اور اسلام کو برابر قرار دے کر اللہ پاک کی کتاب سے منہ موڑا ...... آپ نے کہا جب کوئی غیر مسلم اسلام چھوڑ کر کسی اور مذہب کو اختیار کرتا ہے تو ہم اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں ...... تو

صفحہ 183

اک خط نام محمدؐ سے محبت کی ہے تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

کیا ڈاکٹر صاحب! کفر اور اسلام آپ کی نظر میں ایک جیسے ہیں؟ ...... کیا ماضی میں کسی مسلمان اسکالر یا اسلام کے کسی عالم نے ایسی خوفناک گستاخی کی ہے؟ ...... اگر کفر اور اسلام ایک جیسے ہیں تو پھر صحابہ کرامؓ نے اسلام کی خاطر ماریں کیوں کھائیں؟ ...... اور اللہ کے نبیﷺ نے پوری دنیا کو اسلام کی دعوت کیوں دی؟ ...... پھر آپ نے کہا کہ دنیا بہت آگے نکل گئی ہے اور ہم مسلمان پیچھے رہ گئے ہیں۔ ...... ڈاکٹر صاحب! دنیا کس چیز میں آگے نکل گئی ہے؟ ...... کیا یہ دنیا اور اس کی زیب و زینت انسان کا مقصود ہے؟ دنیا تو قوم عاد کے زمانے میں بہت آگے نکل گئی تھی ...... اور قرآنی الفاظ سے اشارہ ملتا ہے کہ انہوں نے موجودہ زمانے کی ترقی سے بہت زیادہ ترقی کر لی تھی۔ ...... اگر جناب کو عربی آتی ہو تو ’’لعلکم تعلمون‘‘ کے الفاظ پر غور فرمائیں کہ قوم عاد کی ترقی موجودہ زمانے کی ترقی سے کئی ہاتھ آگے تھی۔ ...... تب حضرت ہود علیہ السلام نے انہیں آخرت کی یاد دلائی ...... توحید کی دعوت دی ...... تو کیا آگے بڑھتی ہوئی قوم کو اللہ کے نبی نے پیچھے دھکیلا؟ ...... اور پھر وہ قوم اپنی تمام تر ترقی کے ساتھ تباہ کر دی گئی۔ ...... یاد رکھنا ڈاکٹر صاحب! موجودہ ترقی بھی اسی طرح تباہ ہوگی ...... اور تب آپ جیسے لوگ جنہوں نے ’’گاڑی اور موبائل‘‘ کو ترقی سمجھ کر اسلام کو حقیر قرار دیا ہے ...... بہت پچھتائیں گے۔ ...... ہائے کاش آپ نبی کریمﷺ کے ان حجروں کو یاد کر سکتے جن میں آپﷺ نے زندگی بسر فرمائی ...... ڈاکٹر صاحب! کیا حضور اکرمﷺ دنیا سے پیچھے رہ گئے تھے؟ ...... اس زمانے میں روم و فارس کے بادشاہ آج کے حکمرانوں سے زیادہ قیمتی لباس پہنتے تھے ...... اور اپنے محلات اور کرسیوں کو سونے، چاندی سے سجاتے تھے ...... اگر اس زمانے میں آپ اور وحید الدین خان جیسے اسکالر زندہ ہوتے تو نعوذ باللہ اسلام کو اس لیے حقیر کہہ دیتے کہ اسلام کے پیغمبر ﷺ نے دنیا کی غلاظت کے ڈھیر اپنے پاس جمع نہیں کیے تھے؟ ......

ڈاکٹر صاحب ...... قرآن اور دین کو بدلنے سے کام نہیں چلے گا آپ جیسے لوگ ہی مسلمانوں کی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ ...... آپ لوگ دین کے نام پر دنیا کی طرف بلاتے ہیں، آپ لوگ مسلمانوں کو ’’مہذب گیدڑ‘‘ بننے کی دعوت دیتے ہیں۔ ...... آپ لوگ برطانیہ اور یورپ کی روشنی سے مرعوب ہیں آپ لوگوں کے دلوں سے اسلام کی عظمت نکل چکی ہے۔ ...... آپ لوگوں کو ’’فقر غیور‘‘ کے معنی بھول چکے ہیں۔ آپ مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ انگریزی علوم پڑھیں ...... تاکہ یورپ کے

صفحہ ۱۸۴

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک فقط نام محمدؐ سے محبت کی ہے

بوٹ پالش کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو.......آپ بار بار ایک ہی جملہ دہراتے تھے کہ یورپ سیکولرازم کی زبان سمجھتا ہے۔ اس لیے اس کے ساتھ یہی زبان بولنی چاہیے۔ تف ہو ایسی عقل مندی اور دانشوری پر۔ ہم مسلمان ہو کر سیکولر زبان بولیں؟.....آخر کیوں؟.....کیا یورپ کا بدکار معاشرہ ہمارا خدا ہے؟.....کیا یورپ کے ناپاک لوگ دنیا کے حکمران ہیں؟.....کیا ہماری کامیابی اور ناکامی کی چابی یورپ کے ہاتھ میں ہے؟......ہاں یورپ کے لوگوں نے مذہب کو شکست دی ہے ہم یہ بات مانتے ہیں مگر انہوں نے جھوٹے اور باطل مذاہب کو شکست دی ہے.....اسلام کو شکست دینا ان کے بس میں ہی نہیں ہے....... اسلام کی گود ابھی ہری ہے......اسلام کا دامن ابھی تک فدائیوں سے لبریز ہے.......ہمیں ہمارے نبی ﷺ نے ایک زبان سکھائی ہے.....ہم کمزور ہوں یا طاقتور.....ان شاء اللہ.....وہی زبان بولتے رہیں گے۔

ہمارے آقا ﷺ.....ان کے پاؤں کی خاک پر قربان......انہوں نے مٹھی بھر جاں نثاروں کے ساتھ مدینہ منورہ میں.....ایک.....اسلامی ریاست قائم کی.....بہت چھوٹی سی ریاست.....بہت سادہ سی ریاست......اور آپ جیسوں کی نظر میں......(نعوذ باللہ ) غیر ترقی یافتہ اور پسماندہ ریاست....... اور پھر پوری شان کے ساتھ اس ریاست سے کچھ وفد روانہ ہوئے......انہوں نے پھٹے ہوئے پیوند لگے کپڑے پہن رکھے تھے......ان کی تلواروں کے دستوں پر لتے بندھے ہوئے تھے۔ ہاں وہ احساس کمتری سے پاک تھے۔ جی ہاں......وہ احساس کمتری جس نے آپ جیسے اسکالرز کو دین کی تحریف پر مجبور کر رکھا ہے......ان وفود کے پاس کچھ ”خطوط“ تھے......سرور دو عالم ﷺ کے خطوط......یہ خطوط کچی دیواروں اور کھجور کی ٹہنیوں سے بنی مسجد نبوی میں بیٹھ کر لکھے گئے تھے......ان خطوط کا سب سے نمایاں جملہ.....جس کے ذریعے دنیا کے بادشاہوں کو خطاب کیا گیا تھا......سیکولر زبان میں نہیں تھا......اس جملے کی گونج آج تک سنائی دے رہی ہے۔......اسلم تسلم......اسلام لے آؤ، سلامت رہو گے۔......ڈاکٹر صاحب! آپ کو تکلیف ہوگی......مگر میں اس جملے کا اصل ترجمہ لکھتا ہوں۔

اے دنیا کے بادشاہو! سلامتی چاہتے ہو تو اسلام قبول کر لو۔

سبحان اللہ کتنی خوبصورت زبان ہے.......رب کعبہ کی قسم مسلمان کو بس یہی زبان زیب دیتی ہے۔ نمرود کے پاس حکومت تھی ترقی تھی......حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ”سیکولر ڈائیلاگ“ نہیں

صفحہ 185

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ ایک لفظ نام محمدؐ سے محبت کی ہے

کہا ...... کلہاڑا اٹھایا ...... اور بتوں کو توڑ دیا ...... آپ کو برا لگا ہوگا ...... اس طرح تو نفرت پھیلتی ہے نا؟ ...... مگر مجھے تو یہ ادا ایسی پسند آگئی کہ ہر دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کئی کئی بار سلام بھیجتا ہوں ...... نمرود کا نام تک نہیں لیتا ...... یاد رکھنا ڈاکٹر صاحب ...... دنیا ٹونی اور بش کو بھول جائے گی ...... مگر میرے آقا ﷺ اور ان کے جاں نثار امتی زندہ رہیں گے ...... ڈاکٹر صاحب! اگر آپ کے نزدیک یورپ کا ویزہ ہی سب کچھ ہے ...... اگر آپ کے نزدیک دنیا کی ترقی کامیابی کا معیار ہے ...... اگر آپ کے نزدیک اسلام اور مسلمان (نعوذ باللہ) حقیر ہیں، تب تو آپ سے بات کرنا فضول ہے ...... اللہ پاک آپ کے خیالات اور نظریات سے مسلمانوں کی حفاظت فرمائے ...... اور آپ کو قارون سے زیادہ دنیا کی ترقی اور فرعون سے زیادہ اونچا مقام عطا فرمائے ...... ہم لوگ تو غریب مسلمان ہیں۔

فرعون کا بڑا معزز مقام تھا (آپ کی سوچ کے مطابق) اور حضرت موسیٰ علیہ السلام ڈرتے چھپتے پھرتے تھے (خائفاً یترقب) قارون مزے کر رہا تھا اور ترقی پر ترقی کرتا چلا جا رہا تھا ...... اور حضرت موسیٰ الٰہی علم سیکھنے کیلئے ...... بھوکے پیاسے جنگلوں کی خاک چھانتے پھرتے تھے ...... انہوں نے فرعون سے ڈائیلاگ شروع نہیں کیا تا کہ ترقی میں شریک ہو جاتے ...... ڈاکٹر صاحب ہم غریب ہیں۔ آپ کو کیا ہو گیا ...... پاکستان کے ایک سابق فوجی جنرل وزیر داخلہ عدم تشدد اور رواداری پر درس دے رہے تھے ...... اور اسلام، اسلام کر رہے تھے ...... میں نے گستاخی کی ...... اور عرض کر دیا کہ جناب اسلام، اسلام کرنے کی بجائے خود اسلام سے ہی پوچھ لیتے ہیں کہ کیا ٹھیک ہے اور کیا غلط؟ ...... وزیر خارجہ صاحب ٹائم نکالیں، میں قرآن پاک کی سینکڑوں آیات جہاد کی سناتا ہوں ...... وہ بھی ...... اپنے دلائل پیش کریں ...... ہمیں خود کو اور مسلمانوں کے بچوں کو مروانے کا شوق نہیں ہے ...... اور نہ جہاد سے ہماری روٹی روزی وابستہ ہے ...... ہم تو اس لیے جہاد کا نام لیتے ہیں کہ یہ اسلام کا ایک لازمی رکن ہے اور فریضہ ہے ...... میں اسی طرح کی باتیں کرتا چلا گیا اور وزیر خارجہ صاحب ...... کے چہرے کا رنگ بدلتا چلا گیا۔ ...... رواداری اور برداشت کا درس دینے والے ”جنرل صاحب“ خود چند حق باتیں برداشت نہ کر سکے اور انتقام لینے پر اتر آئے ......

اللہ اکبر ...... آقا مدنی ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی ہو تو ...... یہ روشن خیال برداشت کا

صفحہ ۱۸۶

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ اک لفظ نام محمدؐ سے محبت کی ہے

سبق یاد دلاتے ہیں۔۔۔۔ مگر جب خود ان کی ذات کا مسئلہ ہو تو پورے ملک کی سرکاری طاقت ۔۔۔۔۔ اپنے ذاتی انتقام کے لئے جھونک دیتے ہیں۔۔۔۔۔ ان کے اسی رویے سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ ”روشن خیالی“ کسی نظریے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہندو فلاسفی ہے۔ کہ اپنے سے طاقتور کو سجدہ اور سیلوٹ اور اپنے سے کمزور کو لات اور مکا۔۔۔۔۔

آپ تجربہ کر کے دیکھ لیں۔۔۔۔ آپ خود کو ”روشن خیال“، اعتدال پسند کہلانے والے کسی حکمران سے پوچھیں۔۔۔۔ جناب! کوئی (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرے تو ہم کیا کریں؟ ۔۔۔۔ جواب ملے گا برداشت کرو۔۔۔۔ اگر کوئی اسلام کیخلاف کچھ کرے؟ ۔۔۔۔ جواب ملے گا کرتا رہے تم برداشت کرو۔۔۔۔ جناب کوئی بد بخت حضور پاک ﷺ، آپ کے صحابہ کرامؓ، آپ کی ازواج مطہراتؓ پر کچھ بکے؟ ۔۔۔۔ جواب ہوگا ہر کسی کی اپنی سوچ ہے جذبات میں نہ آؤ۔۔۔۔ پھر پوچھیں۔۔۔ جناب کوئی آپ کو یا آپ کی حکومت کو برا بھلا کہے۔۔۔۔ آپ کی ذات پر کیچڑ اچھالے پھر؟ پھر کیا جواب ہوگا ہمارے ان روشن خیال والوں کا؟

صفحہ ۱۸۷

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ اک لفظ نام محمد سے محبت کی ہے

اے ہمارے آقا و مولیٰ ﷺ

محمد بن محمود

وہ اللہ جو دانے کو پھاڑ کر اس میں سے گندم اور گٹھلی کو چیر کر اس میں سے کھجور نکالتا ہے وہ رب جو دن میں سے رات اور رات میں سے دن کو برآمد کرتا ہے وہ رب جو اندھیری رات میں سیاہ پہاڑ پر رینگنے والی کالی چیونٹی کی رفتار سے بھی باخبر ہے۔ وہ رب جس کی قدرت عظیم ہے، جس کی حکمت لامتناہی ہے، اور جس کی رحمت وسیع ہے، جو عالم الغیب ہے، وحدہ لاشریک ہے، نہ اس کی کوئی مثال ہے نہ مثل، نہ اس کی کوئی نظیر ہے نہ برابر۔

وہ رب چاہے تو ہم گنہگاروں کی یہ عاجزانہ صدا اپنے حبیب و محبوب ﷺ کے دربار تک پہنچا دے۔

اے ہمارے آقا و مولیٰ ﷺ:

آپ ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بے شمار رحمتیں اور لامحدود سلام نازل ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو وہ بہترین سے بہترین صلہ عطا فرمائے جو کسی نبی کو اپنی قوم کی طرف سے یا کسی رسول کو اپنی امت کی طرف سے دیا جا سکتا ہے۔ آپ ﷺ جب دنیا میں تشریف لائے تو ہر طرف تاریکی کا دور تھا اور ظلم وستم کا راج تھا۔ آپ ﷺ نے عدل وانصاف کے چراغ جلائے، مخلوق اور خالق کے درمیان فاصلے مٹائے اور انسان کو انسانیت کا راستہ دکھلا کر اس بنی نوع انسان پر بے شمار احسانات فرمائے۔

اے رحمت دو عالم ﷺ:

آپ ﷺ نے اپنی امت کو توحید کا سبق سکھایا، سنت کا پیارا راستہ دکھایا، خلفائے راشدین کے طریقے کی اہمیت سمجھائی، آپ ﷺ نے ہمیں قرآن و حدیث کا دستور دیا۔ آپ ﷺ نے ہمیں شرافت، دیانت اور حکمت کے تحائف دیئے۔ آپ ﷺ نے ہمیں اسلام کی رسی عطا فرمائی جس نے

صفحہ ۱۸۸

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک فقط نام محمدؐ سے محبت کی ہے ہمیں ادھر ادھر بھٹکنے سے محفوظ کر دیا۔ آپﷺ نے ہمیں جہاد کا راستہ دکھایا جس کی وجہ سے ہم عزت کے حقدار ٹھہرے اور دنیا میں ہم نے اللہ تعالیٰ کے کلمے کو بلند کیا، مسلمانوں کے جان و مال کو محفوظ کیا۔

آپﷺ کے ماننے والوں نے جانثاری اور سرفروشی کی وہ مثالیں قائم کر دیں کہ آج تک دنیا ان کی نظیر پیش نہیں کر سکتی۔ ابھی آپﷺ کو پردہ فرمائے کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ آپﷺ کے لائے ہوئے پیغام کو افریقہ کے صحراؤں اور ایشیا کے کوہساروں تک پہنچا دیا گیا۔ آپﷺ کے نام لیواؤں نے قیصر و کسریٰ کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ آپﷺ کے متبعین نے انسان کو انسان کی عبادت سے نکال کر اللہ کی عبودیت میں دے دیا تھا۔

اے خاتم النبینﷺ!

لیکن پھر ہم غلطی کا شکار ہو گئے، ہمیں بے راہ روی نے مار ڈالا۔ ہم نے توحید کے بدلے شرک کو اختیار کر لیا۔ سنت کی بجائے بدعات ہمارا دستور العمل بن گئیں۔ آپﷺ کے مبارک طریقوں کی بجائے غیروں کے طریقے ہمیں پسندیدہ لگنے لگے۔ ہم نے اسلامی تہذیب کی بجائے رومی، مصری، ہندی، سندھی، پنجابی اور مغربی ثقافت کو گلے لگا لیا۔ ہم جو زمانے کی قیادت کر سکتے تھے۔ خود زمانے کے پیروکار بن گئے۔

اے سرور کائناتﷺ!

آپﷺ ہمیں امت واحد بنا کر گئے تھے۔ آپﷺ نے اخوت اسلامی کی بنیادیں قائم فرمائی تھیں۔ آپﷺ نے دربار حبشہ کے بلالؓ، روم کے صہیبؓ، فارس کے سلمانؓ اور عرب کے صحابہ رضی اللہ عنہم یکجا تھے۔ آپﷺ نے رسوم جاہلیت کو مٹا دیا تھا آپﷺ نے قوم اور نسل پر فخر و مباہات کو ممنوع قرار دے دیا تھا۔ لیکن اے آقاﷺ پھر ہم بٹ گئے اور کفار کے ہاتھوں بری طرح پٹ گئے۔ ہم نے عرب، عجم، ایرانی، تورانی، مصری اور شامی کے نعروں نے سر اٹھایا، ہم ٹولیوں اور فرقوں میں تقسیم ہو گئے۔

اے شفیع عاصیاںﷺ!

آپﷺ تو اپنی امت پر بہت مہربان تھے آپﷺ نے مکہ کی گلیوں اور طائف کی وادیوں

صفحہ 189

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک خط نام محمدؐ سے محبت کی ہے

میں اسی امت کے لئے ماریں کھائیں۔ آپ ﷺ نے اپنی حج کی قربانی میں بھی اپنی امت کو فراموش نہیں فرمایا۔ آپ ﷺ نے دن کی تسبیحات میں اور رات کی مناجات میں اپنی امت کو شریک فرمایا۔ آپ ﷺ کے احسانات اس امت پر بے شمار ہیں۔

اے ہمارے رہبر و رہنما ﷺ!

آج آپ ﷺ کی امت کا عجیب حال ہے۔ ساری دنیا کے کفار اس کو ختم کرنے کے لئے ایک دوسرے کو ایسے دعوت دے رہے ہیں۔ جیسے کھانا کھانے والے کھانے پر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔ آپ ﷺ کی امت کے جسم کے ایک ایک حصے سے لہو رس رہا ہے۔ آپ ﷺ کی امت کے چھ ماہ کے فلسطینی بچے ضیاء التمیزی کو معاف نہیں کیا گیا۔ آپ ﷺ کی امت کے افراد کو فلسطین میں بے گھر اور بے در کیا جا رہا ہے۔ کشمیر میں آپ ﷺ کی امت کی خواتین کی بے حرمتی کی جا رہی ہے۔ چیچنیا میں خون مسلم کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ افغانستان میں آپ ﷺ کے لائے ہوئے نظام کو مٹانے کے لئے ساری کفریہ طاقتیں جمع ہیں۔ ادھر مسلمانوں کے حکمران خود مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ ان کی جان و مال کے سودے کر رہے ہیں۔ ہزاروں شہداء اور لاکھوں مہاجرین کو فروخت کر رہے ہیں۔

اے رحمت مجسم ﷺ!

کفار نے ہماری بے غیرتی اور بزدلی کا سہارا لیا انہوں نے بے شمار مظالم اور بے تحاشا ستم رانیوں کے بعد آخر اپنے ترکش کا آخری تیر بھی چلا دیا۔ وہ سیاہ باطن گورے آپ کی حرمت سے کھیلنے لگے، ان کی دریدہ دہنی اور گستاخی نے خاکوں اور کارٹونوں کی شکل اختیار کر لی آپ ﷺ کے نام لیوا بے بس اور بے کس تھے۔ لیکن اس کے باوجود مراکش سے انڈونیشیا تک ہر فرد انتقام کا عزم لیکر میدانوں میں نکل آئے۔ اگر مسلم حکمران چاہتے تو ان ممولوں کو وقت کے شہبازوں سے ٹکرا دیتے اور پھر عشق مصطفیٰ ﷺ کے حقیقی نظارے دیکھتے۔

مگر اے میرے آقا ﷺ:

آج ہم میں کوئی محمد بن مسلمہ نہیں، کوئی عبداللہ بن عتیک نہیں، کوئی عبداللہ بن انیس نہیں، کوئی

صفحہ 190

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ اک فقط نام محمد سے محبت کی ہے

نورالدین زنگی نہیں۔ کوئی صلاح الدین ایوبی نہیں۔ ہاں آقاﷺ! ہماری صفوں میں کوئی علم دین، کوئی مرید حسین، عبدالقیوم، کوئی عبدالرشید، اور بابو معراج دین بھی، آقاﷺ کوئی بھی نہیں جو آپﷺ کے گستاخوں سے اس صفحۂ ہستی کو پاک کر سکتے۔

آج ہمارے درمیان زبردست حکمران، بہادر، سخی مالدار، ذہین دانشور، اعلیٰ منصف، بہترین عالم اور بیشمار نیک و متقی لوگ موجود ہیں۔ لیکن کوئی نہیں جو گنبد خضراء سے آنے والی اس صدا کا جواب دے سکے۔

"کون ہے جو ان بدزبانوں کو لگام دے؟ کون میرا غلام! جو مجھے ان موذیوں سے راحت پہنچائے، بے شک اے میرے آقاﷺ ہم نادم شرمندہ ہیں۔"

صفحہ ۱۹۱

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک لفظ نام محمدؐ سے محبت کی ہے

آقا ﷺ کے بغیر!

وحید اللہ زیاد

مشرکین کے لئے میدان بدر میں شکست، کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی کہ وہ اتنی آسانی سے بھلا دیتے۔ ان کے بڑے بڑے سورما اس جنگ میں آئے تھے۔ ابو جہل جسے عرب کا دماغ کہا جاتا تھا۔ وہ بھی اس معرکے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ اس کے علاوہ ستر سے زیادہ قیدی بھی مسلمانوں کے قبضہ قدرت میں آئے تھے اور مسلمان تھے ہی کتنے؟ آٹے میں نمک کے برابر، بے کس و لاچار مسلمانوں کے ہاتھوں اتنا بڑا زخم کھا کے بھلا وہ کیسے سکون کی نیند سو سکتے تھے۔ ایک طرف عربی حمیت ان پر ملامت و ندامت کے کوڑے برسا رہی تھی دوسری طرف مکار و چالاک قوم یہود، اپنی چرب زبانی سے مشرکین کے مقتولوں کے تذکرے دلسوز انداز میں چھیڑ کر انہیں بدلہ لینے پر ابھار رہے تھے۔ ابوسفیان جو مشرکین کا سردار تھا، جہاں بھی جاتا ہر جگہ اسے یہی طعنے سننے کو ملتے کہ ”چند لٹے پٹے مسلمانوں کے ہاتھوں اتنا بھاری زخم کھا کے میدان چھوڑ کے بھاگ گئے“ کچھ شاطر یہودیوں کی ریشہ دوانیوں سے اور کچھ اپنی قوم کی ملامت سے بالآخر اس نے بادل ناخواستہ مسلمانوں سے پنجہ آزمائی کا فیصلہ کر لیا اور احد کے دامن کوہ کو میدان جنگ قرار دیا۔

مقررہ وقت پر دونوں فوجیں میدان احد میں پہنچ گئیں۔ علمبرداران کفر کی قیادت ابوسفیان کے ہاتھ میں تھی اور تشنگان توحید اپنے محبوب سپہ سالار اعظم ﷺ کے جھنڈے تلے جمع ہوئے تھے۔ صفیں آمنے سامنے ہو گئیں۔ پجاریان صنم کی زبانوں پر غزوہ بدر میں کام آئے اپنے مقتولوں کے نام تھے جو اونچی آواز میں پکار پکار کر انتقام انتقام کی صدا لگا رہے تھے...... باقاعدہ لڑائی شروع کرنے سے قبل رواج کے مطابق لعین منکرین توحید نے اپنے آزمودہ کار شہسواروں کو ایک ایک کر کے مبارزے کے لئے میدان میں بھیجا مگر چشم فلک ان کی اکڑ خانی سے زیادہ دیر محظوظ نہ ہوسکی۔ کیونکہ چند ہی لمحے بعد وہ زمین پر تڑپ

صفحہ ۱۹۲

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک خطاء نام ہے محبت کی رہے تھے۔ ابوسفیان کی دلی تمنا تھی کہ جنگ لڑے بغیر مسلمانوں سے کچھ مطالبات منوا کے واپس چلا جائے لیکن اس واقعہ نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور لڑائی کی آگ دھکنے لگی۔ جدید اسلحہ سے لیس ملحدوں کا بے پناہ ہجوم، غازیان اسلام کے سامنے تنکے کا ڈھیر ثابت ہوا۔ چند فدائی حملوں نے ان کے قدم اکھاڑ دیئے اور دم دبا کے بھاگ گئے۔ خالد بن ولید جو شروع سے ہی بہادری اور دلیری میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے وہ کیسے شکست کھا کے زندہ سلامت واپس مکہ جاتے؟ ان کی کتاب حرب میں تو صرف دو باتیں نقش تھیں مرجاؤ یا ماردو۔ حالات کے جبر کے سامنے اس نے کبھی ہتھیار نہیں پھینکے تھے۔ پسپائی کرتے ہوئے وہ اپنے دستے کو باقی ماندہ شکست خوردہ لشکر سے الگ کر کے مخالف سمت سے مسلمانوں پر جھپٹ پڑا۔ لشکر اسلام جو تلواریں ایک طرف رکھے مال غنیمت جمع کرنے میں مصروف تھا، وہ کہاں اس ناگہانی آفت کا مقابلہ کرتا؟ کچھ مسلمان تو تلواریں اٹھانے میں کامیاب ہو گئے مگر اکثریت بے دست و پا ہو کے دشمنوں کے نرغے میں آگئی، بس پھر کیا تھا، ایک قیامت سی برپا ہوگئی۔ جو جیت گیا تھا اسے شکست کے آثار نظر آنے لگے جو کراہ رہا تھا، وہ فتح مندی کے نغمے گانے لگا، جو کامیابی کی خوشی میں مگن تھا اسے ناکامی کے اندیشے نے نڈھال کر دیا، جو سر پہ پاؤں رکھ کے گیدڑوں کی طرح فرار ہو گئے تھے۔ وہ کامرانی کے نشہ سے سرشار چیتے کی چال چلتے ہوئے واپس مڑ رہے تھے، جس نے غنیم کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر پھینکا تھا اب خود ان کی گردنیں آگ اگلتی شمشیروں کی زد پر تھیں، بزدل کمینے کی یہی نشانی ہے کہ جب اسے قوت و غلبہ حاصل ہو جائے تو وہ درندگی کی انتہا کر دیتا ہے، مشرکوں کی خاتون اول ”ہندہ“ نے اپنے نامور بہادروں کی درگت بنتے ہوئے دیکھی تھی۔ اب جبکہ موقع مل گیا تو وحشت و بربریت کی مثال قائم کر دی۔ زندہ تو کوئی مسلمان ہاتھ نہ لگا البتہ لاشوں پر اپنے خبث باطن کا خوب مظاہرہ کیا۔ ان کے مطہر جسموں کا بری طرح مثلہ بنایا۔ غیظ و غضب کی آگ میں جلی ہوئی اس ”دیوی“ نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا وہ حال بنایا کہ جسے لکھتے ہوئے آج بھی قلم پر رعشہ طاری ہو جاتا ہے، یہ طوفان بدتمیزی اپنے عروج پر تھا کہ ملعون شیطان نے یہ افواہ اڑائی کہ نعوذ باللہ حضور اقدس ﷺ کو کافروں نے شہید کر دیا۔ زخموں سے چور، خون میں لت پت صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے جب یہ منحوس خبر سنی تو ان کے رہے سہے حوصلے جواب دے گئے۔ کچھ صحابہ کرامؓ نے مایوس ہو کر اپنے آپ کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہوئے شکستہ

صفحہ 193

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک نقطہ ناموس سے محبت کی ہے دلی سے ایک طرف ہٹ کے بیٹھے گئے۔ کیونکہ جنگ کا شیرازہ بکھر چکا تھا۔ اس لئے ہر کوئی انفرادی طور پر دشمن کے مذموم ارادوں کے سامنے جابجا حائل تھا۔ صرف گنتی کے چند صحابہ کرامؓ جو فخر دوجہاں ﷺ کی حفاظت پر مامور تھے۔ ایک جگہ اکٹھے ہو کر لڑ رہے تھے، ایسے میں ایک مشرک کو فنا فی النار کر کے حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ جب واپس اپنے بکھرے ساتھیوں سے ملنے آ رہے تھے۔ تو راستے میں انہیں چند پریشان حال صحابہ کرامؓ نظر آئے جو بے سدھ ہو کے بیٹھے تھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا، ”اے پرستاران حق اتنی جلدی دل تھام کر کے بیٹھ گئے حالانکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ملحدین زمانہ ابھی تک بڑھ چڑھ کے لڑ رہے ہیں۔“ انہوں نے جواب دیا۔ ”اے انس ہم بے وفا نہیں ہیں لیکن جب شمع ہدایت ہی نہ رہا تو اب جنگ کا فائدہ ہی کیا ۔“ ”کیا مطلب؟“ ”یہ کہ ہمارے ...... آقا و مولیٰ ﷺ افسوس کہ اس دنیا میں نہیں رہے۔“

حضرت انس نے یہ سن کر بے ساختہ کہا:

”اب تم زندہ رہ کر کیا کرو گے؟ جاؤ تلوار اٹھاؤ اور لڑ کے شہید ہو کے اپنے آقا ﷺ سے ملو ۔“

یہ کہہ کر حضرت انس رضی اللہ عنہ شمشیر بدست ہو گئے اور کافروں کی صفوں میں گھس کر جانبازی سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔

لیلیٰ مجنوں کے مفروضوں سے دل بہلانے والو! ذرا اس وارفتگی و عقیدت پر بھی غور کرو جو محبت کی پر خلوص مثال حضرت انس رضی اللہ عنہ نے قائم کر دی کہ محبوب ﷺ نہ رہا تو زندگی میں کیا دھرا ہے؟ جاؤ شہید ہو کے ان کے مبارک قدموں میں پہنچ جاؤ۔

اے خبث باطن کا اظہار کرنے والے ملعون کارٹونسٹ ! مسلمان لاکھ کمزور ہو لیکن حضرت انس رضی اللہ عنہ کی طرح اپنے پاک نبی ﷺ کی عظمت کی خاطر جان لٹانے والے آج بھی ہزاروں نہیں لاکھوں کروڑوں ہیں۔ یقین نہیں آتا تو اپنا اصلی نام مع صحیح پتہ ارسال کر کے تو دیکھ......!

صفحہ ۱۹۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک نام محمدؐ سے محبت کی ہے

توہین رسالت ﷺ اور ہماری زندگی

وقار احمد

یہ مقولہ مشہور ہے کہ ”جس کا کھائے اسی کا گائے“ اس کا مصداق وہ شخص بن سکتا ہے جس کے اندر کم از کم انسانیت کا مادہ موجود ہو۔ جس کے اندر مادۂ انسانیت ہی نہ ہو وہ اس بھیڑئے اور سانپ کی طرح کھاتا تو رہے گا لیکن وہ اس کھلانے والے کے کام کچھ بھی نہ آئے گا بلکہ ہمیشہ اس پر حملہ آور ہونے اور ڈسنے کی کوشش میں رہے گا۔ کچھ یہی حال آجکل کے مادر پدر آزاد اور بزعم خویش، روشن خیال، اعتدال پسندی کے مبلغ، جمہوریت کے پیامبر اور امن و سلامتی کے علمبردار یہود و نصاریٰ اور دنیا کے تمام انسانوں بلکہ ہر شے کو جو بہاریں ملی ہیں وہ محسن انسانیت، رحمت للعالمین، خاتم الانبیاء شافع محشر، ساقی کوثر احمد مجتبیٰ ﷺ کی بدولت ملی ہیں۔

اس نمک حرام قوم پر جس کی گندی زبانیں آج محبوب خدا ﷺ کی توہین کیلئے کھل رہی ہیں، آقا مدنی ﷺ کے ان کے آباؤ اجداد پر جو احسانات تھے وہ بھول گئے۔ ایک دفعہ آپ ﷺ مدینہ میں صلح کے دنوں میں یہودیوں کے پاس ایک قتل کا خون بہا وصول کرنے کیلئے تشریف لے گئے تو انہوں نے سوچا کہ آپ ﷺ کو (نعوذ باللہ) قتل کرنے کا اچھا موقع ہے، آپ ﷺ کو کہا کہ ہم رقم کا انتظام کرتے ہیں اور مشورہ کیا کہ آپ ﷺ جس دیوار کے نیچے بیٹھے ہیں کوئی شخص اوپر چڑھ کر بھاری پتھر ان پر گرا دے تو انکا کام (نعوذ باللہ) تمام ہو جائے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی آپ ﷺ کو اس کی اطلاع دی تو آپ ﷺ اٹھ کر واپس آگئے۔ آپ ﷺ نے ان کو اطلاع دی کہ تم نے بدعہدی کی ہے لہٰذا دس دنوں میں مدینے سے نکل جاؤ وگرنہ قتل کر دیئے جاؤ گے، لیکن وہ نہ نکلے، آپ ﷺ نے جب حملہ کیا تو مجبور ہو کر قلعہ بند ہو گئے پھر اس وقت بھی آپ ﷺ نے ان پر یہ احسان کیا کہ ان کو قتل کرنے کی بجائے ان کو کہا کہ ہتھیاروں کے علاوہ جتنا سامان لے جاسکتے ہو لے جاؤ یہ لوگ آپ ﷺ کے اس احسان کو بھی بھول گئے،

صفحہ 195

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک نظامِ محمدؐ سے محبت کی ہے

اگر اس وقت ان کا بالکل ہی قلع قمع کر دیا جاتا اور ان پر یہ احسان نہ ہوتا تو ان کی نہ یہ ذریت ہوتی اور نہ انکی یہ گستاخ زبانیں اور ہاتھ جو محبوب خدا ﷺ کے خلاف استعمال ہوئے، اور اسی طرح ان کے سردار عبداللہ بن ابی پر بھی آپ ﷺ کے بے شمار احسانات تھے، اسکا نفاق معلوم ہونے کے باوجود آپ ﷺ نے اس کے مرنے کے بعد اپنی قمیض مبارک اسکی تکفین کیلئے دے کر اس پر احسان کیا اور یہ لوگ اپنے سردار پر کیا گیا یہ احسان بھی فراموش کر گئے کیونکہ ان کے آباؤ اجداد ہی نمک حرام تھے وہ ان احسانات کی قدر نہ کر سکے بلکہ اور مخالفت میں بڑھتے گئے تو آج انکی اولاد نے بھی ایسا ہی ہونا تھا، اس لئے آج انکی گندی زبانیں اور ہاتھ محسن انسانیت ﷺ کے خلاف استعمال ہوئے ہیں۔ اگر ان کے اندر مذہب نام کی کوئی چیز ہوتی، اپنی عیسائیت یا یہودیت پر ہی ہوتے تو یہ کام نہ کرتے، حالانکہ ان کے نبی حضرت عیسیٰ تو محبوب خدا ﷺ کے بارے میں انجیل میں خوشخبریاں سنا کر گئے تھے جیسا کہ سورۃ صف آیت نمبر ٦ میں ہیں۔

ترجمہ: ”اور جب عیسیٰ نے کہا اے بنی اسرائیل: میں اللہ کا رسول بنا کر تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں۔ تصدیق کرنے والا ہوں جو مجھ سے پہلے تورات میں ہے اور خوشخبری سناتا ہوں ایسے رسول کی جو مجھ سے بعد آئیگا۔ اس کا نام احمد ہوگا۔ ان کے نبی تو محبوب خدا ﷺ کے آنے سے پہلے ہی ان کی تعظیم و تکریم کا حکم دے گئے تھے۔ لیکن انہوں نے توہین رسالت کر کے حکم عدولی کی جس کی وجہ سے گویا یہ اپنے مذہب سے بھی خارج ہو گئے۔ آپ ﷺ کے محسن انسانیت ہونے کی وجہ سے جو ان پر انعامات و احسانات تھے اس توہین کی وجہ سے وہ انسانیت سے بھی خارج ہو گئے، اور جو مذہب سے بھی خارج ہو جائے اور مادۂ انسانیت بھی اس میں نہ رہے تو پھر وہ اس دنیا میں رہنے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔

تو ایسی گندی بوٹیوں اور گندے کیڑوں کا صفایا کون کرے؟ آپ ﷺ کے دور کے اندر جب آپ کی توہین میں ابو رافع یہودی کی زبان کھلی تو اس کی زبان کو ہمیشہ کیلئے بند کرنے کیلئے عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوتے ہیں اور اس بدبخت کا قلع قمع کر کے آقا نامدار ﷺ کو اس سے ہمیشہ کیلئے نجات دلاتے ہیں۔

اسی طرح جب کعب بن اشرف توہین آمیز کلمات زبان سے نکالتا ہے تو اس کی زبان بندی کیلئے آقا مدنی ﷺ اعلان فرماتے ہیں کون مجھے اس سے نجات دلائے گا۔ تو محمد بن مسلمہ (رضی اللہ عنہ)

صفحہ ١٩٦

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اک تقاضا نام محمدؐ سے محبت کی ہے

اس مہم کو پورا کرنے، محبوب خدا ﷺ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے، اور اس کی گندی زبان سے نجات دلانے اور محسن انسانیت ﷺ سے جنت کی خوشخبری لینے کیلئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ جذبہ جہاد اور آپ ﷺ پر جان فدا کرنیکا سلسلہ صرف اسی زمانہ کے ساتھ خاص نہ تھا بلکہ ہر دور میں جب کوئی اپنی زبان توہین آمیز کلمات نکالتا تو اس کی زبان کو تن سے جدا کرنے والے فدائیاں محمد ﷺ موجود ہوتے۔

ان گستاخوں کی زبانوں کو بند کرنے کیلئے جن کے پاس مادی اسباب ہیں۔ وہ تو خود انکے زر خرید غلام ہیں۔ وہ تو ان آقاؤں کو راضی کرنے کیلئے آقا نامدار ﷺ کی شریعت کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔ قرآنی آیات کو نصاب تعلیم سے نکال کر جہاد و جذبہ جہاد ختم کر کے مدارس اور اہل مدارس کو دہشت گردی کے اڈے اور دہشت گرد کہہ کر مسلمانوں کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو ننگا کر کے سرعام سڑکوں پر لا کر، سکولوں میں قرآنی تعلیم کی بجائے میوزک و ڈانس کی تعلیم کو لانے کی کوشش کر کے اور جہادی تنظیموں پر پابندیاں عائد کر کے اس شریعت کو بدلنا یا مٹانا چاہتے ہیں۔

اس لئے ان سے ناموس رسالت کی امید رکھنا بلی سے گوشت کی حفاظت کرانے کے مترادف ہے۔ اگر حکمران طبقہ اپنے اخباری بیان دینے میں سچا اور مخلص ہے تو وہ صرف سرسری بیان دینے پر ہی اکتفاء نہ کرے بلکہ ان کو عملی جامہ بھی پہنائے جس طرح افغانستان کے مسئلہ میں اسلامی مملکت کو ختم کرنے میں امریکہ کا تعاون صرف اخباری بیانوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ عملی صورت میں امریکہ کو اپنے عزائم پورے کرنے کیلئے پاکستانی اڈے مہیا کئے۔ جہادی تنظیموں پر پابندی لگانے کیلئے صرف اخباری بیانوں کے ذریعے ہی اپنے آقاؤں کو راضی نہیں کیا۔ مدارس کے خلاف صرف کاغذی کارروائی ہی نہیں ہوئی بلکہ عملی طور پر ان کو بدنام کرنے کیلئے ان پر چھاپے مارے گئے۔ اہل مدارس کو گرفتار کیا گیا۔

اسی طرح جب تک اس توہین رسالت کیس میں یہ اعلیٰ طبقہ عملی طور پر سراپا احتجاج نہیں ہوتا۔ یعنی اپنے سفراء کو ان گستاخوں کے ممالک سے واپس نہیں بلواتا اور ان کے سفراء کو نااہل قرار دیکر واپس نہیں بھیجتا اور ان کی تمام مصنوعات کا عملی طور پر بائیکاٹ نہیں کرتا تو گویا یہ حکمران اس توہین اس توہین رسالت کیس میں عملاً شریک ہیں اور اپنے صرف اخباری بیان دیکر عوام کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔

اسی طرح تمام مسلمانوں کو اپنی عملی زندگی نبی ﷺ کے طریقوں پر ڈھالنا ہوگی اور خواب

صفحہ 197

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اکتفا نام محمد سے محبت کی ہے

غفلت سے بیدار ہو کر زندگی کا رخ تبدیل کرنا ہوگا۔

ہمیں جن کو اپنا دوست بتلایا جاتا تھا وہی ہمارے اصل دشمن نکلے۔ جنکی تہذیب کو اپنا کر ہم خوش ہوتے تھے اور اپنے آپ کو ترقی یافتہ سمجھنے لگے تھے۔ آخر کار ان دشمنوں نے ہمارے آخری سہارے پر بھی حملہ کر دیا۔ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہمارے نوجوان ہندوؤں کی رسم بسنت وغیرہ کو ترک کر کے ناموس رسالت پر فدا ہو جائیں۔ کیا اب بھی پینٹ، شرٹ کو مہذب لباس اور کرتہ، شلوار، عمامہ کو دقیانوسی لباس سمجھیں گے۔ کیا اب بھی بوڑھے اور جوان ڈاڑھی کو منڈوا کر ان دشمنوں کو راضی کر کے آقا نامدار ﷺ کے دل کو چھلنی کرتے رہیں گے۔

کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہماری مسلمان خواتین جن کو ان دشمنوں نے آزادی کا دھوکہ دے کر حیا و پردے کی چادر سے باہر نکالا ہے۔ یہ باحیاء پردہ دار خواتین بن جائیں۔ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہماری نوجوان نسل سینماؤں، تھیٹروں، کھیل کے میدانوں کو آباد کرنے کی بجائے مساجد کا رخ کر کے انکو آباد کرنا شروع کر دیں اور مغربی تہذیب کو خیر آباد کہہ کر محمدی تہذیب کو اپنا لیں۔ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ انکا ڈاڑھی، پگڑی رکھنے والوں کو دقیانوس، پرانی ثقافت والا کہنے کی بجائے خود بھی ایسے بن جائیں۔

جب وہ ہمارے آخری سہارے پر بھی حملہ آور ہو چکے تو آئیں تمام مسلمان عہد کریں کہ ان دشمنوں کی گندی تہذیب جس نے ہمیں فحاشی، عریانی، بدمعاشی کے سوا کچھ نہ دیا، اس کو ترک کر کے شریعت مطہرہ کی پاکیزہ تہذیب کو اپنائیں گے اور آپ ﷺ کی تمام سنتوں کو اپنی زندگی میں لا کر آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائیں گے۔

اسی طرح ہم محمد بن مسلمہ، عبداللہ بن عتیک، معاذ و معوذ رضی اللہ عنہم کی طرح ان دشمنان رسول کی گردنوں کو بلا واسطہ کاٹ کر نبی رحمت کی آنکھوں کو ٹھنڈا نہیں کر سکتے تو بالواسطہ انکی گردنوں کو توڑ دیں وہ اس طرح کہ یہ یہودی آج مست ہیں صرف معیشت کے بل بوتے پر انکی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے انکی ریڑھ کی ہڈی کو توڑ دیں۔

صفحہ 198

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

اک لفظ نام محمدؐ سے محبت کی ہے

صفحہ 199

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

چوتھا باب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

خباثت کے پجاریوں کی طرف سے توہین رسالت کا ارتکاب نہ پہلی بار ہوا ہے اور نہ آخری، بلکہ یہ ان کی فطرت خبیثہ بن چکی ہے۔ ایسے موقع پر کیا کرنا چاہئے امت کے مختلف طبقات (حکومت، علماء، وکلاء، عوام، تاجر برادری و صحافی حضرات وغیرہ) کو درست فیصلہ، باطل کو اپنا تھوکا چاٹنے پر مجبور کرنے والا لائحہ عمل فراہم کرتے ، حکمت عملی کا تعین کرتے علماء کرام و دانشوران ملت وغیرہ کی رہنما تحریریں۔

مزید فوائد:

(۱) مسلمانوں کے احتجاج کا پیغام (۲) توہین رسالت کی سازش کو پروان چڑھانے کے امریکی مقاصد (۳) کروسیڈ کی تیغ بے نیام کے شکار (۴) مغرب کی آزادی اظہار کی پریکٹس کے موضوع (۵) توہین رسالت پر یورپ کی ہٹ دھرمی (۶) مسئلہ کے حل کے آبرومندانہ طریقے (۷) مغرب میں قبول اسلام کا بڑھتا ہوا رجحان (۸) اسلام کے درست تعارف کا سنہری موقع (۹) اسلامی تھنک ٹینک کے قیام کی تجویز (۱۰) توہین رسالت کے انسداد جرائم کا چالیس نکاتی لائحہ عمل (۱۱) اقتصادی و تہذیبی بائیکاٹ کے اثرات و ثمرات

صفحہ 200

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

فیصلے کی گھڑی

مسلمان ملکوں میں ہونے والے احتجاج نے یورپ اور امریکہ کو ششدر کر دیا ہے

یاسر محمد خان

آج ڈنمارک کے گستاخ خاکوں کی اشاعت کو 5 ماہ ہو چکے ہیں ان پانچ مہینوں کے دوران کیا کیا ہوا؟ کس ملک اور کس شخصیت نے کیا کردار ادا کیا؟ یہ باتیں پرانی ہو چکی ہیں۔ اس سارے قصے کے دوران امریکا کا کردار بظاہر متوازن اور غیر جانبدارانہ محسوس ہوتا ہے۔ جب ڈنمارک، ناروے، فرانس، اٹلی، جرمنی، اور اسپین میں یہ خاکے شائع ہوئے اور عالم اسلام نے ان پر شدید ردعمل ظاہر کیا تو امریکا نے یورپ کی بجائے مسلم ورلڈ کا ساتھ دیا۔ چرچ آف امریکا نے بھی مسلمانوں کے جذبات کی ”ترجمانی “ کی اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان بھائی چارے اور اخوت کی فضا قائم کرنے کا مشورہ دیا۔ یہ ایک پہلو تھا جبکہ دوسرا پہلو اس سے یکسر مختلف اور حیران کن ہے۔

میں نے پچھلے دنوں برطانیہ کا ایک اخبار پڑھا اس اخبار میں ایک تجزیہ نگار نے ان خاکوں کو امریکہ کی سازش قرار دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ خاکوں کی اس سازش کے پیچھے امریکا کا پورا پورا ہاتھ تھا۔ اگر امریکا اس ایشو میں شریک نہ ہوتا تو یہ ایشو یوں عالمی حیثیت اختیار نہ کرتا۔ اخبار کے تجزیہ نگار کا کہنا تھا، ”دہشت گردی کی حالیہ جنگ میں امریکا پوری دنیا میں اکیلا تھا۔ نائن الیون کے بعد امریکا کا اثر و نفوذ اور چوہدراہٹ خطرے کا شکار ہو گئی تھی۔ اس وقت امریکا کے پاس دو آپشن تھے وہ اس غم کو چپ چاپ سہہ جاتا، امریکا کے اندر سکیورٹی سخت کر دیتا۔ ساری دنیا کو غصے سے دیکھتا۔ دھمکیاں دیتا اور اپنی عزت بچا کر چپ چاپ بیٹھ جاتا یا پھر وہ جھوٹے سچے ملزمان بناتا۔ انہیں دھمکی دیتا اور اس کے بعد پوری طاقت سے ان کے اوپر حملہ آور ہو جاتا، دشمنوں کو کچل کر رکھ دیتا۔ اور خود کو سپر پاور ثابت کر کے پوری دنیا پر حکمرانی کرتا۔ امریکا نے دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ اس نے اپنی اتحادی طاقتوں کو طلب کیا۔ اور ”آپ ہمارے

صفحہ ۲۰۱

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

ساتھ ہیں یا دشمن کے ساتھ؟ کا نعرہ لگا دیا۔ امریکا اس وقت دنیا کا ”ہاتھی“ ہے۔ اور یہ حقیقت ہے جنگل کا کوئی جانور ہاتھی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ چنانچہ امریکا کے اتحادیوں کے پاس انکار کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ یورپ کے 16 ممالک نے اس جنگ کے دوران امریکا کو مالی اور عسکری تعاون دینے کا وعدہ کر لیا۔ ان ممالک نے اس جنگ میں امریکا کا ساتھ دیا لیکن اس دوران یورپ کے ممالک نے ایک دلچسپ فیصلہ کیا۔

معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ انہوں نے حکومتوں کو امریکا کا اتحادی بنا دیا جبکہ عوام مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ یورپ کی حکومتوں نے امریکا کو مالی تعاون اور فوجی دستے دیئے جبکہ عوام افغانستان اور عراق کے مظلوم لوگوں کی مدد کے لیے سڑکوں پر آ گئے۔ عوام کی اس تائید اور محبت کے اچھے اثرات مرتب ہوئے اور یورپ اور مسلمان ایک دوسرے کے مزید قریب آ گئے۔ امریکا کو اس مسلم یورپین محبت کا نقصان پہنچا۔ امریکا پوری دنیا میں مسلمانوں کا دشمن ثابت ہو گیا جبکہ یورپ غیر جانبدار اور بعض ایشوز میں مسلم امہ کا دوست بن گیا۔ 2003ء کے آخر تک امریکا اس صورت حال کا صبر سے جائزہ لیتا رہا لیکن فروری 2004ء میں امریکا نے بڑی سنجیدگی سے سوچنا شروع کیا۔ جب تک وہ پوری عیسائی دنیا کو مسلم ورلڈ کے مقابلے میں کھڑا نہیں کر دیتا وہ اس جنگ کو ”صلیبی جنگ“ کی شکل نہیں دے سکے گا۔

یہ حقیقت ہے کہ 2001 میں جب صدر بش نے دہشت گردی کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا تو یہ اس کی خواہش اور منصوبہ تھا کہ وہ اس جنگ کو صلیبی جنگ کی شکل دے اور اس جنگ کی آڑ میں مسلمانوں کو کرہ ارض سے صاف کر دے۔ بش نے ایک منصوبے کے تحت یورپی اقوام کو اس جنگ میں اپنا ”پارٹنر“ بنایا تھا۔ لیکن امریکا کی بدقسمتی اور یورپ اور مسلمانوں کی خوش قسمتی سے یہ جنگ افغان اور عراق امریکا جنگ بن کر رہ گئی۔ یہ صلیبی جنگ نہ بن سکی، اس کا دائرہ پوری اسلامی دنیا تک نہ پھیل سکا۔ صدر بش نے 2003ء میں اپنی ساری پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لیا اور اس نے ہر قیمت پر یورپ کو اس جنگ میں لپیٹنے کا فیصلہ کیا۔ اس منصوبے کا آغاز 11 مارچ 2004 میں اسپین سے ہوا۔ 11 مارچ کو میڈرڈ کی تین ٹرینوں میں بم دھماکے ہوئے جن میں 191 لوگ ہلاک اور دو ہزار سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔ ان دھماکوں کے بعد بڑی دلچسپ صورت حال سامنے آئی۔ امریکا کی تین بڑی خبر رساں ایجنسیوں نے

صفحہ 202

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

دھماکوں کی خبر نشر کرتے ہی اسے مسلمانوں کی دہشت گردی قرار دے دیا جبکہ امریکی حکومت نے اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ ثابت کر دیا۔ جس دن یہ دھماکے ہوئے امریکی حکومت نے اسی دن اسپین کے ساتھ مل کر ان دھماکوں کے بارے میں تحقیقات کرنے اعلان کر دیا۔ یہ اعلان یہ خبریں اور امریکی حکومت کا یہ ردعمل بڑی معنی خیز تھا۔ امریکا کا خیال تھا ان دھماکوں کے ردعمل میں پورا یورپی معاشرہ مسلمانوں کے خلاف ہو جائے گا اور وہ کھل کر امریکا کی حمایت کا اعلان کر دے گا۔ امریکا اور اسپین کی مشترکہ تحقیقات کا بھی یہی مقصد تھا امریکا کی کوشش تھی کہ اگر کسی سطح پر یہ دھماکے کسی دہشت گرد تنظیم یا گروپ کی سازش ثابت ہو جائیں۔ اور حکومت چالاکی کے ساتھ انہیں مسلمانوں کے کھاتے میں ڈال دے لیکن بدقسمتی سے اسپین کے لوگوں اور حکومت کو بہت جلد اس سازش کا اندازہ ہو گیا اور اسپین کی حکومت اس معاملے میں پوری طرح امریکا کی پارٹنر نہ بن سکی۔ یوں میڈرڈ کے دھماکوں کی بازگشت ختم ہو گئی۔ یورپ کے لوگ بہت جلد اسے بھول گئے۔ اور زندگی دوبارہ معمول پر آ گئی۔ اسپین کے بعد 7 جولائی 2005 کو یہی حرکت برطانیہ میں ہوئی۔ برطانیہ کے تین نوجوانوں نے خودکش حملے کیے جس کے ردعمل میں یورپ ایک بار پھر لرز گیا۔ یہ یورپ بالخصوص برطانیہ کو صلیبی جنگ میں شریک کرنے کی بہت بڑی کوشش تھی لیکن بدقسمتی سے یہ کوشش بھی پوری طرح بار آور ثابت نہ ہوئی۔ برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف میڈیا کیمپین (مہم) شروع ہوئی۔ مسلمانوں کے گھروں، دکانوں عبادت گاہوں پر حملے بھی ہوئے۔ مسلمانوں کے خلاف قوانین بھی بننا شروع ہوئے مسلمانوں کو شہریت دینے اور ان کی پرانی شہریتوں کی پڑتال کا بھی فیصلہ ہوا لیکن 2005ء ختم ہونے سے پہلے پہلے یہ ساری نفرت ختم ہوگئی۔ اور برطانیہ میں آباد مسلمان دوبارہ اس معاشرہ کا حصہ بن گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ برطانیہ کے لوگوں اور حکومت نے بہت جلد اس سازش کو بھانپ لیا اور انہوں نے اس طرح ردعمل ظاہر نہ کیا جس طرح امریکا نے نائن الیون کے بعد کیا تھا۔

اگر ہم اسپین اور برطانیہ کے واقعات کا تجزیہ کریں تو ہمیں ان دونوں میں ایک بات مشترک نظر آتی ہے وہ مشترک بات یہ دھماکے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کوئی نادیدہ طاقت ان دھماکوں کو بنیاد بنا کر یورپ کے دل میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بیج بونا چاہتی تھی۔ امریکی ٹیلی ویژن چینلوں نے

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اس نفرت کو ہوا دینے کی بہت کوشش کی ہوگیا۔ ہم ان دھماکوں کو پس منظر میں رکھ یہ گستاخانہ خاکے سب سے پـ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس گستاخی کے تھیں۔ اول ڈنمارک دنیا کا واحد ملک ہیں۔ لہٰذا اس تجارت کے باعث ڈنما سازش کرنے والوں کا خیال تھا کہ یہ گستا یہ ایشو پوری دنیا میں پھیل جائے گا۔ دوسـ نہیں کرتے۔ 2004 میں امریکا کے بعـ ”میری ترجیحات کی فہرست میں مسلما یہ خاکے شائع ہوں گے تو اسلامی دنیا بـ احتجاج کو درخور اعتنا نہیں سمجھے گا۔ چنا ثابت ہوا، 30 ستمبر 2005 کو یہ خاکـ ملکوں کے سفیروں نے احتجاج کرتے ـ سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔ اسـ عربوں اور ڈنمارک کے درمیان تجار کے مشیروں نے مل ملا کر یہ مسئلہ دبا اگست کو شاہ فہد کا انتقال ہوگیا تھا شاہ عـ دور میں کوئی ایسا ایشو نہیں چاہتے تھے معیشت اور سیاست کو متاثر کرے شاہ عـ اختیار کی۔ متحدہ عرب امارات کی حالت النہیان بھی تازہ فوت ہوئے تھے اور ان کـ

ہے، جس کی بدولت نئی کے طور پر بیان کیا گیا چنانچہ یہ صرف نبوی کا کرداری، طہارت اور وری میں خدوخال وان ش میں کامیاب ہوگئیں للعالمین ہے میں قدیم جنگجوؤں ان کے آباء و اجداد مسلمانان عالم پر یہ سے اور زاویے سے سطح اور زندگی میں انفرادی زندگی میں کی آویزش اور کفار طے کیا جا کر کیا کے ایک دینی وملی محسوس کر سکتا ہے؟! نے ایک دینی وملی سازشوں کے پردہ تحفظ کی خاطر اپنی تعوذ وتوفیق

صفحہ 203

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہینِ رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

اس نفرت کو ہوا دینے کی بہت کوشش کی لیکن ان کے عزائم پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے اور یورپ بہت جلد ٹھنڈا ہو گیا۔ ہم ان دھماکوں کو پس منظر میں رکھ کر اب خاکوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

یہ گستاخانہ خاکے سب سے پہلے ڈنمارک کے اخبار ”یولانڈ پوسٹن“ میں شائع ہوئے تھے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس گستاخی کے لیے ڈنمارک ہی کو کیوں منتخب کیا گیا؟ اس کی دو بڑی وجوہات تھیں۔ اوّل ڈنمارک دنیا کا واحد ملک ہے جس سے عرب حلال گوشت اور ڈیری مصنوعات خریدتے ہیں۔ لہٰذا اس تجارت کے باعث ڈنمارک سے مسلمانوں کا بہت قریبی اور تقریباً روزانہ کا رابطہ ہے۔

سازش کرنے والوں کا خیال تھا کہ یہ گستاخی فوراً اسلامی دنیا تک پہنچ جائے گی وہاں احتجاج شروع ہوگا اور یہ ایشو پوری دنیا میں پھیل جائے گا۔ دوسری وجہ ڈنمارک کے وزیر اعظم ہیں، یہ وزیر اعظم مسلمانوں کو پسند نہیں کرتے۔ 2004 میں امریکا کے دورے کے دوران انہوں نے امریکی میڈیا کو مخاطب کر کے کہا تھا ”میری ترجیحات کی فہرست میں مسلمان سب سے آخر میں آتے ہیں“۔ نادیدہ طاقتوں کا خیال تھا جب یہ خاکے شائع ہوں گے تو اسلامی دنیا وزیر اعظم کے سامنے احتجاج کرے گی اور وزیر اعظم ان کے اس احتجاج کو درخور اعتنا نہیں سمجھے گا۔ چنانچہ یہ ایک بڑا ایشو بن جائے گا۔ ان نادیدہ طاقتوں کا یہ خیال سچ ثابت ہوا، 30 ستمبر 2005 کو یہ خاکے شائع ہوئے اور اکتوبر 2005 میں ڈنمارک میں موجود مسلمان ملکوں کے سفیروں نے احتجاج کرنے کے لیے وزیر اعظم سے ملاقات کا وقت مانگا تو وزیر اعظم نے ان سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد اس ایشو کے ابھرنے کے مواقع پیدا ہو گئے تھے۔ لیکن عربوں اور ڈنمارک کے درمیان تجارت کا سائز اتنا بڑا تھا کہ ڈنمارک کی ”آرلا“ کمپنی اور دوسری کمپنیوں کے مشیروں نے مل ملا کر یہ مسئلہ دبا دیا۔ ان دنوں سعودی عرب داخلی سیاست میں بھی الجھا ہوا تھا۔ یکم اگست کو شاہ فہد کا انتقال ہو گیا تھا شاہ عبداللہ نے ابھی تازہ تازہ عنان اقتدار سنبھالی تھی وہ بھی اس نازک دور میں کوئی ایسا ایشو نہیں چاہتے تھے۔ جس کے نتیجے میں عوامی ردعمل کا خدشہ ہو یا جو سعودی عرب کی معیشت اور سیاست کو متاثر کرے شاہ عبداللہ کی رضامندی کے باعث سعودی حکومت نے وقتی خاموشی اختیار کی۔ متحدہ عرب امارات کی حالت بھی سعودی عرب سے زیادہ مختلف نہیں تھی۔ شیخ زید بن سلطان النہیان بھی تازہ فوت ہوئے تھے اور ان کی جگہ بننے والے حکمران بھی ابھی کسی ایسے ایشو کے متحمل نہیں ہو سکتے

صفحہ ۲۰۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

تھے لہٰذا یہ ایشو اخبارات کی فائلوں میں دفن ہو کر ختم ہو گیا۔ نادیدہ طاقتوں کی یہ سازش بھی ناکام ہو گئی۔ چنانچہ ان لوگوں نے اسے ذرا سی وسعت دینے کا فیصلہ کیا۔

اگلا ٹارگٹ ناروے تھا اس کی وجہ پاکستانی مسلمان تھے۔ ناروے کا شمار یورپ کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جن میں بڑی تعداد میں پاکستانی آباد ہیں۔ ناروے میں پاکستانیوں کی کمیونٹی بڑی مضبوط ہے۔ ناروے ایک ایسی ویلفئیر سٹیٹ ہے۔ جس میں بے روزگار کو روزگار اور ضروریات زندگی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس سہولت کے باعث 1960 کی دہائی میں بے شمار مسلمان ناروے گئے اور انہوں نے نہ صرف وہاں رہنا شروع کر دیا بلکہ انہوں نے وہاں اپنے قبرستان اور سکول بھی بنا لیے۔ ناروے یورپ کا ایک ایسا ملک بھی ہے جس میں مسلمان کمیونٹی عالم اسلام پر ہونے والی زیادتیوں کے خلاف ایک تواتر سے احتجاج کرتی رہتی ہے۔ جس میں باجماعت نماز جمعہ ہوتی ہے۔ اور اس نماز میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمان شریک ہوتے ہیں۔ اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے ناروے کے ایک میگزین کا انتخاب کیا گیا یہ ایک محدود سرکولیشن کا حامل میگزین تھا لیکن اسے عیسائیوں کا ایک متعصب فرقہ چلاتا تھا۔ اس بار فیصلہ ہوا کہ یہ کارٹون حج کے زمانے میں شائع کیے جائیں۔ یہ خاکے شائع ہوئے اور اسی شام یہ خاکے انٹرنیٹ کے ذریعے پوری دنیا میں پھیلا دیے گئے۔

بہر حال! ان خاکوں کے پیچھے امریکا ہو یا یورپ دونوں ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے ہیں۔ مسلمان ملکوں میں ہونے والے غیر معمولی احتجاج نے دونوں طاقتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے ۔ پٹے ہوئے، کچلے ہوئے اور معاشی اعتبار سے تباہ حال مسلمانوں میں اس قدر اشتعال پیدا ہو سکتا تھا یا ان کے متحد موقف کے نتیجہ میں مغرب کو کوئی اقتصادی و معاشی ضرب پڑ سکتی تھی یقیناً یہ بات مغرب کے وہم و گمان میں نہ تھی۔ ان کا خیال تھا کہ جس طرح افغانستان و عراق کا معاملہ ٹھنڈے پیٹوں برداشت کیا گیا اسی طرح دو چار دن رو کر مسلمان چپ ہو رہیں گے مگر اب کی بار ایسا نہیں ہوا۔

امریکا و مغرب کے لیے دوسری بری خبر جو ان کے عمرانی و معاشرتی بزرجمہروں کے لیے صاعقہ آسمانی ثابت ہوئی وہ مسلمان ملکوں میں مغرب کے ”تہذیبی بائیکاٹ“ کا غیر معمولی طور پر بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ عرب ملکوں میں خصوصاً اور دیگر عالم اسلام میں عموماً مغربی طور طریقوں کے خلاف نفرت کی

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

لہر تیزی سے اٹھی ہے۔ موبائل کے ذریعہ ا بائیکاٹ کے میسج کیے جا رہے ہیں۔ ان اخبا کے تہذیبی اقتدار کے حریف سمجھے جاتے ہی ان کے بیانات کی ٹیون بھی بدل گئی ہے۔ بیانات جاری کرنے شروع کر دیے ہیں۔

مغرب نے مسلمانوں کی قوم بنانے کے لیے اربوں، کھربوں کی س رہی تھی کہ اچانک گستاخانہ خاکوں نے ا دلوں سے سرکار دو عالم ﷺ کی قدر و منزل وہ بیداری جو شاید عشروں کی محنت کے ب مسلمان علماء کو چاہیے کہ اس تہذیبی بائی کرائیں کہ اب فیصلے کی گھڑی ہے اگر آ پھر جلدی نہ آئیں۔ یقین جانئے! مغرب ڈالر لے کر ان خاکوں کو چھاپنے پر تیار ن یہ شہادت کسی صورت ضائع نہیں ہونا چ

صفحہ ۲۰۵

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

لہر تیزی سے اٹھی ہے۔ موبائل کے ذریعہ ایک دوسرے کو مغربی ملبوسات، مشروبات اور دیگر اشیاء کے بائیکاٹ کے میسج کیے جارہے ہیں۔ ان اخبارات ورسائل کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جو مغرب کے تہذیبی اقتدار کے حریف سمجھے جاتے ہیں۔ مسلمان سربراہوں نے بھی غالباً نوشتہ دیوار پڑھ لیا ہے اور ان کے بیانات کی ٹیون بھی بدل گئی ہے۔ صبح وشام مغرب کی تسبیح پڑھنے والوں نے دھیمی سروں پر مذمتی بیانات جاری کرنے شروع کر دیے ہیں۔

مغرب نے مسلمانوں کی ثقافت بدلنے، ان کے کلچر کو تباہ کرنے اور ان کو ایک بے رنگ وبو قوم بنانے کے لیے اربوں، کھربوں کی دولت جھونکی تھی اب یہ مہم این جی اوز کی شکل میں تیزی سے پھیل رہی تھی کہ اچانک گستاخانہ خاکوں نے ان کا بنا بنایا کھیل بگاڑ دیا۔ انہوں نے یہ خاکے تو مسلمانوں کے دلوں سے سرکار دو عالم ﷺ کی قدر و منزلت کم کرنے کے لیے بنوائے تھے۔ مگر الٹی آنتیں گلے پڑ گئیں۔ وہ بیداری جو شاید عشروں کی محنت کے بعد بھی نہ پیدا ہو سکتی، خاکوں نے ایک دن میں پیدا کر دی ہے۔ مسلمان علماء کو چاہیے کہ اس تہذیبی بائیکاٹ کے پروگرام کو پوری قوت سے چلائیں۔ نوجوان کو یہ باور کرائیں کہ اب فیصلے کی گھڑی ہے اگر آج بھی ہم مغرب کے سحر اور طلسم سے نہ نکل سکے تو شاید ایسے مواقع پھر جلدی نہ آئیں۔ یقین جانئے! مغرب کو اگر اس تہذیبی بائیکاٹ کا ہلکا سا اندازہ بھی ہوتا تو وہ کروڑوں ڈالر لے کر ان خاکوں کو چھاپنے پر تیار نہ ہوتا۔ ان کی سکیم فیل ہو چکی ہے۔ اب گیند ہمارے کورٹ میں ہے یہ شارٹ کسی صورت ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ یہ موقع رائیگاں نہیں جانا چاہیے۔

صفحہ ۲۰۶

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

تحریک ناموس مصطفیٰﷺ کے تقاضے

عرفان صدیقی

”تحریک ناموس مصطفیٰ“ کا جوش و آہنگ صرف مسلمانانِ پاکستان تک محدود نہیں۔ یہ ایک عالمگیر جذبۂ بے اختیار کی نمود ہے جو بے ساختگی کے ساتھ اُبھر کر سامنے آگئی ہے۔ ساری دنیا کے مسلمان ایک ہی ذہنی و قلبی کیفیت سے دوچار ہیں۔ جغرافیہ، رنگ، نسل، نسب اور عرب و عجم کے سارے امتیازات ختم ہو گئے ہیں۔ مراکش سے انڈونیشیا تک پھیلی اسلامی دنیا ایک ہی آگ میں جل رہی ہے۔ ہر کلمہ گو مسلمان یہ محسوس کرتا ہے کہ آری صرف اس کے دل پہ چلی ہے اور جگر اسی کا خون ہوا ہے۔ شاید ہی کوئی کم نصیب ایسا ہو جو سرورِ دو عالمﷺ کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر رنج و غم کی کیفیت میں مبتلا نہ ہوا ہو۔ یہی احساس تو اہلِ حرم کی دولت ہے۔ یہی آنسو تو ان کی زندگی کا سرمایہ بے بہا ہیں۔ یہی کسک تو ان کے لیے توشۂ دو جہاں کا درجہ رکھتی ہے۔ کوئی مسلمان کتنا ہی غافل، کیسا ہی بے عمل اور اسلامی عبادات و تعلیمات سے کتنا ہی دور کیوں نہ ہو۔ نبی آخر الزماں کی شانِ اقدس میں معمولی سی گستاخی برداشت کرنا بھی اس کی قوتِ برداشت سے باہر ہے۔ غازی علم الدین شہید کے دل میں محبت و عقیدت کے اسی جذبے نے انگڑا ئی لی تھی اور علامہ اقبال نے رو رو کر کہا تھا ”ہم باتیں کرتے رہ گئے اور ترکھانوں کا لڑکا بازی لے گیا ۔“

ڈنمارک اور اس کی تقلید میں یورپی اخبارات کی ہرزہ سرائی دراصل مسلمانانِ عالم کے جذبۂ احساس کا درجہ حرارت معلوم کرنے کی ایک ناپاک کوشش ہے۔ امریکا اور یورپ کا خیال ہے کہ افغانستان اور عراق پر غلبے نے مسلمانوں کی کلغی جھکا دی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ قلعہ جنگی سے گوانتاناموبے اور قندھار سے فلوجہ تک انہوں نے ہر وہ ظلم آزما ڈالا جس کا تصور کرنے سے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن مسلمانانِ عالم بے جان لاشوں کی طرح بے حس و حرکت پڑے رہے۔ ان کا خیال ہے کہ مسلمان بیٹیوں کی عصمت دری سے قرآنِ کریم کی بے حرمتی تک، کوئی بات بھی امتِ مسلمہ کو بیدار نہیں کر سکی، چنانچہ

صفحہ ۲۰۷

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

انہوں نے طے کیا کہ اب اس ہستی کو نشانہ بنایا جائے جس کی محبت وعقیدت ہر مسلمان کو اپنی جان تک لڑا دینے کا حوصلہ دیتی ہے تا کہ دیکھا جاسکے کہ راکھ کے اس ڈھیر میں کوئی چنگاری باقی ہے یا نہیں؟

نبی پاک ﷺ کے خاکوں کی اشاعت کے بعد یورپ کا متحد و یک جان ہو جانا اور اس مکروہ حرکت کو آزادی اظہار کے لبادے میں چھپا دینا اس امر کا ثبوت ہے کہ ان کے دل اور دماغ میں کیا فتور ہے اور ان کی فکر بیمار میں کس طرح کی سازشیں پروان چڑھ رہی ہیں۔ مسلمانان عالم کی حساس ترین رگ پر نشتر چلا کر انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا اس پر بھی وہ خواب غفلت سے جاگتے ہیں یا بدستور بے نیازی کی چادر تانے سوئے رہتے ہیں۔

الحمد اللہ ! کہ انہیں وہ پیغام مل گیا جو ملنا چاہیے تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس نوع کا واضح ، دو ٹوک اور غیر مبہم پیغام انہیں بہت پہلے مل جانا چاہیے تھا۔ یہ پیغام صدر بش کے والد گرامی کے عہدہ صدارت کے دوران ہی مل جانا چاہیے تھا جب امریکا برطانیہ اور ان کے اتحادی عراق پر بم اور میزائل برسانے لگے تھے۔ یہ پیغام شاید اس سے بھی پہلے اس وقت مل جانا چاہیے تھا جب امریکا اور یورپ عالم اسلام کے قلب میں اسرائیل کا ناسور کاشت کر رہے تھے۔ اگر یہ سب کچھ قصہ ماضی ہو گیا تھا تو بھی ہمیں نائن الیون کے افق سے پھوٹنے والی فتنہ گر ہواؤں کا ادراک کر لینا چاہیے تھا۔ یہیں چوکنا ہو جانا چاہیے تھا کہ آخر بش کے منہ سے ”کروسیڈ“ کا لفظ کیوں نکلا ہے؟ اور جب دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لشکر فتوحات کے لیے روانہ ہوئے تو ان کے خونخوار تیور اور ان کا رخ دیکھ کر ہمیں اندازہ ہو جانا چاہیے تھا کہ ”دہشت گردی“ کسے کہا جا رہا ہے اور اس کروسیڈ کی تیغ بے نیام کس کے لہو کی پیاسی ہے؟ ہم تو کسی مرحلے پر نہ جاگے، کسی کچوکے پہ بیدار نہ ہوئے، کسی زخم نے ہمارے دل میں درد نہ جگایا۔ افغانستان تاراج ہو گیا، بستیاں راکھ ہو گئیں، معصوم لوگ خاک وخون میں نہلا دیے گئے۔ سنہری بالوں ، شہابی آنکھوں اور گلابی گالوں والی معصوم بچیاں مغرب کے شہروں میں نیلام ہو گئیں۔ تورا بورا، قلعہ جنگی اور دشت لیلیٰ کی ایسی ایسی کہانیاں رقم ہوئیں کہ ہفت افلاک بھی تھرا اُٹھے۔ بگرام اور قندھار کے ہوائی اڈے پر بنے عقوبت خانوں میں کتنے ہی افغان اپنی جانیں ہار بیٹھے۔ سر زمین دجلہ وفرات کی خوں آشام تاریخ میں ایک ایسے خونیں باب کا اضافہ ہو گیا جو رہتی دنیا تک انسانیت کا سر احساس تذلیل سے جھکائے رکھے گا۔ ابوغریب

صفحہ ۲۰۸

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

کی کال کوٹھڑیوں کے در و دیوار نے جو کچھ دیکھا، اس کے تصور سے بھی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ یہ سب کچھ ہماری رگوں میں رینگتے لہو میں زندگی کی حرارت نہ جگا سکا۔ گوانتانا موبے میں کیا کچھ نہیں ہوا لیکن ہم برف کے تودے کی طرح منجمد رہے۔ امریکا اور یورپ نے اسلامی تنظیموں، اسلامی شخصیات، اسلامی فلاحی اور رفاہی اداروں اور اسلامی مدارس کو نشانہ بنایا اور ہماری رگ حمیت نہ پھڑکی۔ اگر ہم اسی وقت یہ پیغام دے دیتے کہ اتنا تجاوز نہ کرو اور ہمارے گراں قیمت اثاثوں کو اس طرح نہ لوٹو تو شاید وہ سنبھل جاتے۔ شاید انہیں اندازہ ہو جاتا کہ درندگی اور سفاکی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ شاید انہیں احساس ہو جاتا کہ راکھ کے ڈھیر میں بھی چنگاریاں موجود ہیں جو کسی بھی وقت بھڑک سکتی ہیں لیکن ایسا نہ ہوا۔ مغرب اور یورپ کو اپنی زندگی و بیداری کا پیغام نہ دیا جا سکا۔ یہاں تک کہ خونخوار قاتلوں کا رخ سرکار مدینہﷺ کی بارگاہ عالی کی طرف مڑ گیا اور تب ہمیں محسوس ہوا کہ آگ کے شعلے ہمارے سرمایۂ قلب و روح تک آن پہنچے ہیں اور اگر ہم نے اب بھی کروٹ نہ بدلی تو سب کچھ خاکستر ہو جائے گا۔

اچھا ہوا کہ ہمیں سیل تند خو کی تباہ کاریوں کا اندازہ ہو گیا۔ لیکن!

کیا ہمارے جذبوں کا رخ ڈنمارک، ناروے اور کارٹون شائع کرنے والے دوسرے ممالک تک محدود رہنا چاہیے؟

کے بعد پھر سے لمبی تان کر سو جانا چاہیے؟

ان سوالات کا جواب تلاش کرنا بے حد ضروری ہے اس لیے کہ ڈنمارک یا بعض دوسرے یورپی ممالک کی جسارت کا سرچشمہ وہ مسلم کش رویہ ہے جو ایک عرصے سے امریکا اور یورپ نے اختیار کر رکھا ہے۔ ہمیں اس فوری مسئلے سے ہٹ کر حقیقی مسئلے پر توجہ دینا ہوگی۔ امریکا اور یورپ کی اس متعفن سوچ کو پیش نظر رکھنا ہوگا جس نے ساری اسلامی دنیا کو نشانے پر دھرا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک پر لازم ہے کہ

صفحہ ۲۰۹

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

مغرب کے رویے کی روشنی میں مسلمانوں کے فکر و شعور کو جلا بخشے۔ خاص طور پر نسلِ نو کے جذبہ و احساس کو ایسے سانچے میں ڈھالے کہ ان کے اندر اپنے دین، اپنے عقائد، اپنے نظریات اور اپنی اقدار سے لازوال وابستگی کا ولولہ بیدار ہو۔ اس بیمار سوچ کا قلع قمع کیا جائے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا کوئی توڑ نہیں اور طاقت کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دینا چاہیے۔ اس خیال کی بیخ کنی بھی ضروری ہے کہ اگر ہمارے اندر مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کا حوصلہ نہیں اور اگر ہم ان کے بموں اور میزائلوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو ہمیں صدائے احتجاج بھی بلند نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیں اس احساس سے بھی نجات حاصل کرنا ہوگی کہ جہالت، پسماندگی اور غربت کی وجہ سے ہم مغرب کی تہذیبی اقدار کو ترقی کا ذریعہ بنائیں اور نام نہاد ”روشن خیالی“ کی رو میں بہتے چلے جائیں۔

توہین رسالت کے حالیہ واقعات کے بعد اسلامی دنیا کے ردعمل کو زیادہ ٹھوس بنانے کی ضرورت ہے۔ توہین کے مرتکب ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ شرط اول ہے۔ تمام اسلامی ممالک کو ان ممالک کے ساتھ سفارتی روابط کے حوالے سے بھی متفقہ فیصلہ کرنا چاہیے۔ اسلامی کانفرنس کو دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے۔ اس جنگ کا دست و بازو بن جانے والوں کو بھی گزشتہ چار برسوں کے احوال و کوائف کا جائزہ لے کر نئی حکمت عملی اپنانی چاہیے۔ مغرب کی فکری یلغار اور اس کے عزائم کا مقابلہ کرنے کے لیے امت کی سطح پر کوئی موثر تھنک ٹینک وجود میں آنا چاہیے۔ ”تہذیبوں کے تصادم“ کا جو فلسفہ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ہنٹنگٹن نے پیش کیا ہے، اس کے اسرار و رموز سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اگر تحریک ناموس مصطفیٰ ﷺ کے دوران ہم اپنے مجموعی کردار و عمل کو پیش نظر رکھتے ہوئے مغرب کے بارے میں زیادہ بالغ نظر، زیادہ جامع اور زیادہ خود دار پالیسی بنانے میں کامیاب ہو گئے تو یہ اس کا بہت بڑا ثمر ہوگا۔

صفحہ 210

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

صرف احتجاج نہیں عملی قدم بھی!

مولانا محمد احمد حافظ

ایک ادنیٰ امتی کے لیے اگر کوئی سرمایۂ حیات ہوسکتا ہے تو وہ آنحضرت ﷺ کی محبت و عقیدت ہے۔ ہماری دین و دنیا کی فلاح اور اخروی نجات آپ ہی کی ذات اقدس سے وابستہ ہے۔ قرآن مجید نے امام الانبیاء ﷺ کے اوصاف کو کھول کھول کر بیان فرمایا قرآنی اسلوب میں آپ ﷺ کی ذات ستودہ صفات سے متعلق معمولی خرخشے کو بھی ناقابل برداشت قرار دیا گیا ہے۔

اہل مغرب کی طرف سے توہین رسالت کی جسارت نئی بات نہیں، اس سے قبل بھی متعدد بار مغربی پریس آپ کی ذات اقدس پر کیچڑ اچھال چکا ہے۔ پاکستان میں بھی متعدد بار عیسائیوں نے آپ ﷺ کی ذات کے حوالے سے گھناؤنی حرکتیں کی ہیں جن کی بناء پر یہاں کئی مرتبہ کشیدگی کا ماحول پیدا ہوا۔ شاید اہل مغرب اور ان کے حواری موالیوں نے "آزادیٔ اظہار" کی پریکٹس کے لئے اسی موضوع کو چن لیا ہے اور وہ جب چاہتے ہیں اپنے خبث باطن کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے لگتے ہیں۔ ایک طرف تو یہ ہوتا ہے دوسری طرف جب اہل ایمان اپنے دینی جذبات کا مظاہرہ کرتے ہیں تو مذہبی رواداری، برداشت و عدم برداشت کا لایعنی ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔ اور مسلم ممالک کا رونا رویا جاتا ہے۔

موجود نازک ترین صورتحال میں پاکستان کے جید علماء، مفتیان اور مشائخ حضرات نے سعودی مفتی اعظم کے فتویٰ کی توثیق کرتے ہوئے توہین رسالت کی جسارت میں ملوث ممالک کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ امید ہے کہ اہل وطن اس آواز پر لبیک کہیں گے اور حضور ختمی مرتبت ﷺ سے بے پناہ محبت و عقیدت کا مظاہرہ کریں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آنحضرت ﷺ کی ناموس کا تحفظ شرعی واجب ہے۔ کوئی مسلمان اس وقت تک کامل الایمان نہیں ہوسکتا جب تک کہ آپ

صفحہ ۲۱۱

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

ﷺ کی ذات کو اپنی عزت و آبرو، جان و مال اور اولاد و والدین سے زیادہ عزیز نہ رکھے۔ چونکہ اہل کفر اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہیں اور مسلمانوں کی عزت و غیرت کو مسلسل للکار رہے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر بہتر لائحہ عمل کیا ہو سکتا ہے۔ اس کی نشاندہی ضروری ہے۔

میں ملوث ممالک سے اس وقت تک سفارتی روابط منقطع کر لیے جائیں جب تک کہ وہ بدمعاش اخباروں کے خلاف کاروائی نہیں کرتے۔ ثانیاً اقوام متحدہ کے مسلم ممبر ممالک جنرل اسمبلی میں توہین انبیاء کی روک تھام اور مجرمین کو احتساب کے شکنجے میں لانے کے لیے قانون سازی کا بل پاس کرائیں۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ مغرب کے شتر بے مہار صحافیوں نے توہین رسالت کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔ آج اگر اس سلسلے کو نہ روکا گیا تو اس طرح کے سانحے آئندہ بھی رونما ہوتے رہیں گے۔ اس لیے مسلم حکمران محض زبانی جمع خرچ کا مظاہرہ کرنے کی بجائے جنرل اسمبلی میں اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضور نبی کریم ﷺ کی ناموس کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

کریں۔ ان تنظیمات کے اراکین توہین رسالت کے مجرم ممالک کے سفارت خانوں کو خطوط اور ای میلز کے ذریعے پر زور احتجاج ریکارڈ کروائیں۔ اس کے علاوہ اپنی حکومتوں پر بھی دباؤ ڈالیں کہ وہ عالمی سطح پر تحفظ ناموس رسالت کا قانون منظور کروانے کی کوشش کریں۔

تحفظ ناموس رسالت جیسے شرعی واجب کی اہمیت باور کرائیں۔ آنحضرت ﷺ کی مبارک سیرت کو بیان فرمائیں۔ جس ذات کے صدقے علماء و خطباء محراب و منبر رسولؐ کے وارث ہیں۔ اسی ذات اقدس کی ناموس آج اپنا حق مانگتی ہے اور اس حق کی ادائیگی طبقہ علماء پر فرض اور قرض ہے۔

صفحہ ۲۱۲

توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

اور جسم ایک ہے۔ حضور نبی کریمﷺ کی محبت اس کے رگ و پے میں خون کی طرح گردش کرتی ہے۔ اس لئے توہین آمیز کارٹون جیسا سلسلہ قطعی ناقابل برداشت ہے۔

کہیں توہین رسالت کے مجرم ممالک کا اقتصادی بائیکاٹ کریں۔ وہ اس بات پر یقین کرلیں کہ بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے اور آتش بجاں تقریریں وہ موثر کام نہیں کر سکتیں جو ان کا اقدامی عمل کر سکتا ہے۔ مغرب کو اگر ناموس رسالت کے حوالے سے راہ راست پر لانا ہے اور اس کا مزاج درست کرنا ہے تو مغربی مصنوعات کا بائیکاٹ لازم ہے۔

شتم کرے اور آپ کی ذات اقدس کو طعن و استہزاء کا ہدف بنائے تو سنت یہ ہے کہ شاعر، ادیب، قلم کار، کالم نویس اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی قلمی صلاحیتیں ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے وقف کر دیں۔ کفار کے استہزا اور ہجو کا جواب اسی طرح دیں جس طرح ملعونوں کی زبانیں ہذیان بکتی ہیں۔

کی مصنوعات کی تجارت سے انکار کر دیں۔ وہ اس دنیا کے تھوڑے سے منافع پر آخرت کے اجر و ثواب کو ترجیح دیں۔ اور یقین کرلیں کہ آج انہوں نے محبت رسولﷺ کا ثبوت نہ دیا تو روز قیامت شفاعت سے محرومی ہو سکتی ہے۔

کارٹونوں کا شائع کئے چلے جانا ہماری بزدلی، کم ہمتی و مداہنت پسندی کا نتیجہ ہے۔ اس موقع پر توبہ و استغفار اور حضور نبی کریمﷺ پر سنت طریقے سے درود و سلام کا خصوصی اہتمام کیا جائے اور تحفظ ناموس رسالت کے لیے اپنے اندر جان کی بازی لگا دینے کا والہانہ جذبہ پیدا کیا جائے۔

صفحہ ۲۱۳

توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

فلاح سنت و شریعت کی اتباع میں ہے۔ ہمیں چاہیے کہ بے عملی کی زندگی ترک کر کے احکامِ شریعت کو کماحقہ بجالائیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور اللہ رب العزت کو اپنی سچی اطاعت و فرمانبرداری، عجز و انکساری اور اتباع و بندگی کے ذریعے راضی کر لیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

صفحہ ۲۱۴

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

توہین رسالت ............ مسئلہ کیسے حل ہو سکتا ہے؟

آفتاب عباسی

توہین رسالت کی چبھن نے مسلمانوں پر چھائی بے حسی کی نیند کو اڑا کر ان میں بیداری کی لہر پیدا کی ہے، معلوم نہیں یورپی اخبارات نے یہ گھٹیا حرکت کس مقصد اور کس نیت سے کی ہے۔ لیکن اس طوفان بلا خیز نے مسلمانوں کی دبی ہوئی ایمانی چنگاریوں پر سے راکھ اڑا کر ان میں نئی چمک پیدا کرنے کا کام کیا ہے۔ جذبوں کی بیداری اور ایمانی حرارت کی اس لہر میں دن بدن تیزی اور شدت آتی جا رہی ہے۔ پوری دنیائے اسلام، یورپ کی اس قبیح حرکت پر آتش زیر پا اور اس کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ ہر اسلامی ملک میں یورپی اخبارات اور یورپی حکومتوں کی پرزور مذمت ہو رہی ہے۔ مسلمانوں کا ہر طبقہ اہانتِ رسولؐ کے جرم پر مغرب کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کر رہا ہے جلسے اور سیمینار ہو رہے ہیں۔ جلوس اور ریلیاں نکل رہی ہیں جن میں مسلمان ارتکابِ جرم کرنے والے اخبارات سے معافی مانگنے اور یورپی حکومتوں سے ان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور خود اپنی حکومتوں سے ان کا مطالبہ یہ ہے کہ ہٹ دھرم یورپی ممالک کا اس وقت تک اقتصادی و سفارتی بائیکاٹ کیا جائے جب تک کہ وہ توہین رسالت کے مجرموں کے خلاف کاروائی کر کے انہیں قرار واقعی سزائیں نہ دے دیں۔ لیکن دوسری جانب مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ ہو رہا ہے۔ بد نیت یورپی اخبارات اور مذہبی تعصب و کینے سے پر مغربی حکمرانوں کے سینے اپنی غلطی پر معذرت اور اس معاملے کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ مسلمانوں کو شدت پسندی، تنگ نظری اور انتہا پسندی کے طعنے دینے والے خود اس وقت بدترین تنگ نظری کا ثبوت پیش کر رہے ہیں۔ ادھر مسلمان حکمرانوں کے پاؤں میں بھی مصلحت کی بیڑیاں پڑی ہوئی ہیں۔ وہ مسلم عوام کے جذبات کی مکمل ہمنوائی سے گریزاں ہیں۔ وہ نہ حبّ رسولؐ کو سیاسی اقتصادی، حکومتی اور ذاتی مصلحتوں پر غالب اور مقدم رکھنے کے مومنانہ طرز عمل کا بے ساختہ اظہار کر سکے ہیں اور نہ ہی دین کے معاملے میں کسی مخالف طاقت کے دباؤ، ملامت اور رعب کی پرواہ نہ پرواہ کرنے رعب کی پرواہ نہ Wait, the last line has a typo in my check! "ررعب" -> "رعب" Let me just output the final block without markdown. Let me regenerate the output block to be absolutely sure no markdown escapes and fixing "ررعب" to "رعب" just in case. Oh wait, my scratchpad had "رعب" correctly, my mental check typed "ررعب". I will output the raw text directly.

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

توہین رسالت ............ مسئلہ کیسے حل ہو سکتا ہے؟

آفتاب عباسی

توہین رسالت کی چبھن نے مسلمانوں پر چھائی بے حسی کی نیند کو اڑا کر ان میں بیداری کی لہر پیدا کی ہے، معلوم نہیں یورپی اخبارات نے یہ گھٹیا حرکت کس مقصد اور کس نیت سے کی ہے۔ لیکن اس طوفان بلا خیز نے مسلمانوں کی دبی ہوئی ایمانی چنگاریوں پر سے راکھ اڑا کر ان میں نئی چمک پیدا کرنے کا کام کیا ہے۔ جذبوں کی بیداری اور ایمانی حرارت کی اس لہر میں دن بدن تیزی اور شدت آتی جا رہی ہے۔ پوری دنیائے اسلام، یورپ کی اس قبیح حرکت پر آتش زیر پا اور اس کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ ہر اسلامی ملک میں یورپی اخبارات اور یورپی حکومتوں کی پرزور مذمت ہو رہی ہے۔ مسلمانوں کا ہر طبقہ اہانتِ رسولؐ کے جرم پر مغرب کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کر رہا ہے جلسے اور سیمینار ہو رہے ہیں۔ جلوس اور ریلیاں نکل رہی ہیں جن میں مسلمان ارتکابِ جرم کرنے والے اخبارات سے معافی مانگنے اور یورپی حکومتوں سے ان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور خود اپنی حکومتوں سے ان کا مطالبہ یہ ہے کہ ہٹ دھرم یورپی ممالک کا اس وقت تک اقتصادی و سفارتی بائیکاٹ کیا جائے جب تک کہ وہ توہین رسالت کے مجرموں کے خلاف کاروائی کر کے انہیں قرار واقعی سزائیں نہ دے دیں۔ لیکن دوسری جانب مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ ہو رہا ہے۔ بد نیت یورپی اخبارات اور مذہبی تعصب و کینے سے پر مغربی حکمرانوں کے سینے اپنی غلطی پر معذرت اور اس معاملے کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ مسلمانوں کو شدت پسندی، تنگ نظری اور انتہا پسندی کے طعنے دینے والے خود اس وقت بدترین تنگ نظری کا ثبوت پیش کر رہے ہیں۔ ادھر مسلمان حکمرانوں کے پاؤں میں بھی مصلحت کی بیڑیاں پڑی ہوئی ہیں۔ وہ مسلم عوام کے جذبات کی مکمل ہمنوائی سے گریزاں ہیں۔ وہ نہ حبّ رسولؐ کو سیاسی اقتصادی، حکومتی اور ذاتی مصلحتوں پر غالب اور مقدم رکھنے کے مومنانہ طرز عمل کا بے ساختہ اظہار کر سکے ہیں اور نہ ہی دین کے معاملے میں کسی مخالف طاقت کے دباؤ، ملامت اور رعب کی پروا نہ

صفحہ ۲۱۵

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

کے مجاہدانہ وصف کا عملی ثبوت پیش کر سکے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے۔ جس روشن خیال اور وسیع النظر مغرب نے دنیا کے ڈیڑھ ارب انسانوں کے جذبات سے کھیلنے کے مکروہ عمل کو اب تک کوئی خاص مسئلہ ہی نہیں سمجھا ہے اور جس نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے غم و غصے اور ناراضگی کے اظہار کی اب تک کوئی پرواہ نہیں کی ہے کیا وہ آئندہ کسی مرحلے پر اس مسئلے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس کے منطقی اطمینان بخش اور پائیدار حل پر آمادہ ہو جائے گا؟ اگر نہیں تو مسلمانوں کو اسے اس مرحلے تک لانے کے لئے کیا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔ اور کونسی حکمت عملی اپنانی ہوگی؟ اس وقت مسلمان کے لئے اہم ترین سوال یہی ہے۔

مسلمانوں کا اب تک کا غم و غصے اور جذبات کا اظہار اور مغربی اخبارات اور حکومتوں کی پر زور مذمت یورپ کے رویے میں تبدیلی پیدا نہیں کر سکی۔ جس کی بظاہر وجہ یہ ہے کہ مسلم عوام کے احتجاج اور مظاہروں سے اس کے مفادات پر ابھی تک کوئی قابل ذکر زد نہیں پڑی ہے اور اسے فی الحال کسی بڑے نقصان کا اندیشہ دکھائی نہیں دیتا۔ اس کے علاوہ مغرب شاید مسلمانوں کے غم کو وقتی اشتعال و ہیجان کی صورت میں دیکھ رہا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ابال محض چند روز کی بات ہے، اس کے بعد کچھ لئے دیئے بغیر ہی سب کچھ نارمل ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ مغرب کی ہٹ دھرمی کے لئے مسلمان حکمرانوں کی وہ روشن خیالی بھی ایک بہت بڑا سہارا ہے جو ایمان و غیرت اور ملی مفادات پر بڑی سے بڑی زد پڑنے کے باوجود حمیت آشنا نہیں ہوتی۔ مغرب اور امریکا مسلمانوں کے وسائل پر قبضہ کریں، ان کے خلاف سازشوں کے تانے بانے بنیں، ان کے خلاف ریاستی دہشت گردی کی حمایت کریں، خود جارحیت کریں، سیاسی، معاشی اور میڈیائی دہشت گردی کریں، مسلمانوں کے دین، قرآن اور محترم شخصیات کا مذاق اڑا کر ان کی غیرت کو چیلنج کریں، ان کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کر کے انہیں بدنام کریں، مسلم ممالک کی خود مختاری پر حملہ آور ہوں۔ سیاسی مسائل اور پالیسیوں میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کریں۔ مسلمانوں کو مکمل طور پر مفلوج کرنے اور مسلم تہذیب کو مٹانے کے لئے اتحاد بنائیں اور طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کریں مسلمان حکمرانوں کی غیرت پر ان کی روشن خیالی ہی غالب رہتی ہے۔ اور وہ اس سب کچھ کے باوجود نہ صرف یہ کہ امریکا اور مغرب کے سامنے مسلم عوام کے جذبات و مفادات کی اس طرح ترجمانی

صفحہ 216

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

کی جرات نہیں کر سکتے جس سے وہ (اہل مغرب) ناراض ہو جائیں بلکہ وہ موقع بموقع امریکا اور مغربی ممالک کے ساتھ دوستی میں کوئی فرق نہ آنے کے اعلانات کے اعادے کو بھی ضروری سمجھتے ہیں۔

مسلم عوام اور مسلمان حکمرانوں میں سوچ و فکر اور جذبوں کا یہ تفاوت و تضاد اور عالم اسلام میں پایا جانے والا تہ در تہ اختلاف یورپ، امریکا اور دیگر اسلام مخالف قوتوں کی ہمت بندھاتا ہے اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں اور جارحانہ اقدامات کے ان کے عزائم کو تقویت پہنچاتا ہے۔

عالم اسلام کا یہ کمزور ترین پہلو ہے کہ آج اکا دکا کے علاوہ تمام مسلمان حکمران دہشت گردی کے مغربی تصور کو قبول کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عنوان سے جاری مغربی مفادات کے تحفظ کی مہم میں اسلام دشمن مغرب اور امریکا کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر مسلمانوں ہی کو مار اور مروا رہے ہیں جبکہ اس کے برعکس مغرب اور عیسائی دنیا کا کوئی ایک حکمران بھی ایسا نہیں ہے جو مسلمانوں کے کسی ایک مسئلہ میں بھی مغرب سے الگ ہو کر مسلمانوں کے ساتھ کھڑا ہو اور ان کی جنگ میں کسی بھی سطح پر ان کا مددگار اور اتحادی ہو۔ گویا مغرب کی صفوں میں مکمل اتفاق موجود ہے۔ مغرب کا کوئی حکمران اور لیڈر اقتدار کے حصول یا استحکام کے لئے مسلم ممالک کی طرف نہیں دیکھتا جبکہ مسلم ممالک خصوصاً پاکستان میں حکمران اور سیاسی لیڈر نہ صرف اقتدار کے حصول اور ان کی بقا کے لئے امریکا اور مغرب کی حمایت کو ضروری خیال کرتے آئے ہیں اور اسے حاصل کرنے کو بھی قبول کرتے رہے ہیں بلکہ موجودہ حکمران اس بات کو اپنے بہت بڑے کارنامے اور قابل فخر کارکردگی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ کہ انہوں نے امریکا اور اتحادیوں کی مدد کرتے ہوئے سات سو مجاہدین کو پکڑ کر امریکا کے حوالے کیا ہے۔

ان حالات میں چارہ گری کی صورت کیا ہو سکتی ہے؟ مسئلے کے حل کی جانب کون سا راستہ جاتا ہے؟ کیا پیغمبر اسلام، اسلامی مقدسات اور دینی شعائر کی حرمت کے تحفظ کی کوئی یقینی سبیل نکل سکتی اور نکالی جا سکتی ہے یا نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس مسئلے کا مسلمانوں کے لیے آبرومندانہ حل کی سبیل موجود تو ہے لیکن اس پر عمل آسان نہیں بلکہ خاصا دشوار ہے۔ وہ حل مسلمانوں کے ہر طبقے سے کچھ قربانیاں مانگتا ہے۔ اگر ہم ان قربانیوں کے لئے آمادہ ہوں تو مسئلے کا حل نکل سکتا ہے۔ ورنہ نہیں اور جب تک ہم ان قربانیوں کے لئے تیار نہیں ہوتے مغرب اور امریکا کو کسی پریشانی کی کوئی ضرورت نہیں۔

صفحہ ۲۱۷

تحفظ ناموس رسالت، کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

اس کے مکروہ عزائم کے خلاف شعور کو مستقل بنیادوں پر بیدار و منظم کیا جائے۔

کیا جائے۔

حکومتی مفادات کو قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اور متحد ہو کر اس کا عملی مظاہرہ کریں۔

اتفاقی ہے نہ عارضی اور نہ آخری بلکہ یہ اس کی تاریخی اسلام دشمنی کا ایک نمونہ اور اسلام کے خلاف اس کی مستقل جنگ کا ایک حصہ ہے۔ اس لیے ناموس رسالت اور اپنے دین و ایمان کو مغرب کے متعصبانہ ہتھکنڈوں کی زد سے بچانے کے لیے مستقل طور پر ہوشیار و بیدار رہنے اور جذبہ حب رسول کو ہر آن تیز و تازہ رکھنے کی ضرورت ہے۔

تک کہ وہ اپنی گستاخانہ حرکت پر ندامت کے اظہار کے ساتھ ساتھ آئندہ ایسی حرکت سے مکمل اجتناب کی یقین دہانی اور اس کے قابل اعتماد انسداد کے اقدامات نہ کر لیں۔

کے ذریعے بھی۔ اس کے لیے عوامی جلسے بھی منعقد کئے جائیں اور خواص کے لئے خصوصی پروگرام اور سیمینار بھی (جیسا کہ روزنامہ اسلام نے اس موضوع ایک شاندار سیمینار کا انعقاد کر کے ایک مثال قائم کی ہے) دعوتی ٹیمیں اور وفود تشکیل دے کر اندرون ملک بھی ہر طبقہ تک شعور کی بیداری کی اس مہم کو وسعت دی جائے اور بیرون ملک بھی مسلمانوں کے ہر طبقہ تک اس دعوت کو پہنچا کر ان کی ایمانی غیرت کو جھنجھوڑا جائے۔ اور انہیں ناموس رسالت کے دشمنوں کے خلاف تمام مسلمانوں کے ہمقدم اور ہم آواز ہونے کی ضرورت کا احساس دلایا جائے۔

صفحہ ۲۱۸

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالتؐ اور ہماری ذمہ داریاں

ہتھکنڈوں اور ظالمانہ اقدامات کے نمونے ماضی اور حال کی تاریخ سے لے کر عوام کو ان سے آگاہ کیا جائے تاکہ مغرب کے بظاہر روشن چہرے کے پس پردہ اس کے اصل چہرے سے پردہ اٹھے اور مسلمان اس کے متعلق کسی غلط فہمی اور دھوکے کا شکار نہ ہوں۔

اگر ہم اس کے لئے پختہ عزم کے ساتھ اور متفق و منظم ہو کر میدان عمل میں نکل آئیں تو مغرب سمیت تمام اسلام دشمن قوتوں کے عزائم خاک میں مل سکتے ہیں۔

صفحہ 219

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

توہین آمیز خاکوں کا مسئلہ....... عالم اسلام کی حکمت عملی

ثروت جمال اصمعی

آزادیٔ اظہار کے نام پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ اور شرانگیز مہم، عین اس وقت شروع کی گئی جب پوری مسلم دنیا میں اسلامی قوتیں جمہوری ذرائع سے اپنی مقبولیت ثابت کر رہی ہیں۔ مصر، فلسطین، عراق، ایران، پاکستان، بنگلہ دیش، ملائیشیا، انڈونیشیا، اردن، بحرین، سعودی عرب، ترکی، اور الجزائر وغیرہ کے انتخابی تجربات اس کا کھلا ثبوت ہیں، خود یورپ اور امریکہ میں ہر سال ہزاروں مرد و زن حلقہ بگوش اسلام ہورہے ہیں۔ اور ان میں سے کوئی بھی اسلام کے کسی جدید روشن خیال اور اعتدال پسند ایڈیشن سے متاثر ہوکر مسلمان نہیں ہوتا بلکہ یہ سب کے سب اسی پندرہ سو سال پرانے اسلام کو جوں کا توں اپناتے ہیں۔ مسلمان ہونے والی مغربی خواتین کسی چوں چراں کے بغیر ستر وحجاب کی پابندیاں خوشی خوشی قبول کرتی ہیں اور مردوں کی شکل وصورت اور معمولات زندگی ان کے دل کی تبدیلی کی شہادت دینے لگتے ہیں۔

حالات کے اس تناظر میں یکے بعد دیگرے مغربی ملکوں کے اخبارات کی جانب سے انسانیت کے محسن اعظم ﷺ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب جس کا نتیجہ لازمی طور پر دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے اندر شدید اضطراب اور اشتعال کی صورت میں برآمد ہونا تھا، پھر اس شرانگیزی اور منافرت خیزی کو ذرائع ابلاغ کا جائز حق قرار دینے پر اصرار، اس کے بعد بش، بلیئر اور یورپی یونین کی طرف سے اس موقف کی بڑی حد تک ہمنوائی اور حالات کی خرابی میں براہ راست شریک ڈینش وزیراعظم سے فون پر اظہار یکجہتی...... ان سب کو محض ایک سلسلہ اتفاقات باور نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تو ممکن ہے کہ اس سلسلے کا آغاز کسی طے شدہ مشترکہ منصوبہ بندی کے تحت نہ ہو لیکن بعد میں درجنوں مغربی ملکوں کی اس میں سرگرم شرکت اور ایک قطعی نامعقول موقف پر ہٹ دھرمی کے ساتھ قائم رہنا ایک سوچی سمجھی سازش ہی ہو سکتی ہے اور اس

صفحہ ۲۲۰

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

کا مقصد حالات کو بالآخر تہذیبوں کے تصادم کے اس نظریے کی عملی تکمیل تک پہنچانا دکھائی دیتا ہے جو کہ کمیونسٹ روس کے خاتمے کے بعد سے مغربی مفکر پیش کر رہے ہیں۔ اس نظریے کا خلاصہ یہ ہے کہ اب دنیا میں اسلام وہ واحد نظام حیات ہے جس سے مغربی تہذیب کو خطرہ درپیش ہے لہٰذا اس کی حفاظت کے لیے اسلام اور کم از کم ”سیاسی اسلام“ کے خطرے کا قلع قمع ضروری ہے مسلم دنیا میں امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کی جارحانہ سرگرمیاں اسی فکر کے تابع دکھائی دیتی ہیں اور مغربی ملکوں کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں اور اتنے منظم انداز سے مسلمانوں کی محبوب ترین ہستی کو ہدف تضحیک بنائے جانے سے لگتا ہے کہ مغرب اور اسلام میں ٹکراؤ کی مطلوبہ منزل کو جلد سے جلد قریب لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ کارٹون کروسیڈ شروع کرنے اور پھر اس میں بتدریج شریک ہوتے چلے جانے والے عناصر شاید اس گمان میں مبتلا تھے کہ اس کھیل میں چت بھی ان کی ہوگی اور پٹ بھی۔ اس چال سے ان کا اولین مقصد تو یہی ہوگا کہ مسلم ملکوں کے اندر جمہوری ذرائع سے اپنی مقبولیت ثابت کرنے والی اسلامی قوتوں کو مشتعل کر کے تشدد پر آمادہ کیا جائے اور پھر دنیا کو بتایا جائے کہ اسلامی تحریکیں جمہوری تقاضے پورے کرنے کی اہلیت سے محروم ہیں۔ اسلام بنیادی طور پر دہشت گردی کا مبلغ تحمل و برداشت سے عاری اور جمہوری اصولوں اور آزادیوں پر مبنی مغربی تہذیب سے متصادم ہے۔ اسلامی قوتیں عالمی امن کے لئے خطرہ ہیں۔ یہ کبھی جمہوری عمل کا حصہ نہیں بن سکتیں۔ لہٰذا انہیں کچلے بغیر اور ”سیاسی اسلام“ کا خاتمہ کئے بغیر دنیا میں سکون نہیں ہو سکتا۔ غالباً اسی طرح مسلم ملکوں میں مغرب کے تابعدار حکمرانوں کو بھی جمہوری سیاست میں ابھرتی ہوئی اسلامی تحریکوں کو دبانے کا ایک جواز مہیا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس سازش کے خالقوں کے پیش نظر یہ بھی یقیناً ہوگا کہ اس تدبیر سے مغرب میں قبول اسلام کے بڑھتے ہوئے رجحان کی روک تھام کی جائے اور اسلام کی طرف مائل ہونے والوں کو بتایا جائے کہ اسلام امن و آشتی اور محبت کا نہیں، بدامنی، تشدد، نفرت اور خونریزی کا علمبردار ہے۔ اور اگر بفرض محال اسلامی تحریکیں اس شیطانی شرارت پر کوئی تند و تیز ردعمل ظاہر نہ کریں تو اس صورت میں یہ تحریکیں خود پوری دنیا میں عام مسلمانوں کے نزدیک بزدل اور بے حوصلہ قرار پائیں گی اور ان کے چڑھتے سیلاب کے آگے مسلمان عوام کے مجروح اور شکستہ جذبات کا ملبہ خود ہی بند باندھنے کا ذریعہ بن جائے گا۔ اس کے علاوہ بے بسی، لاچارگی اور شکست

صفحہ ۲۲۱

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں خوردگی کی کیفیت پوری دنیا کے مسلمانوں کو نفسیاتی طور پر توڑ پھوڑ کر رکھ دے گی۔ واقعات و حالات کی گواہی یہی ہے کہ اس سازش کے پس پشت یہ تمام مقاصد کارفرما تھے مگر قدرت کے منصوبے شاید کچھ اور ہیں چنانچہ چند ہفتوں کے اندر ہی یہ چال خود سازشی عناصر پر الٹتی نظر آ رہی ہے۔ پوری امت مسلمہ نے اس معاملے میں ایمانی حمیت اور یکسوئی و یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پھر اظہار رائے کی آزادی کے نام پر اسلام کے خلاف اشتعال انگیز کارٹونوں کی اشاعت کی اس بھونڈی اور ناپاک مہم کو جائز ثابت کرنے کے لیے دیئے جانے والے دلائل اتنے بودے ہیں کہ اپنی تردید آپ کر رہے ہیں۔ یہ دلائل کسی معقول آدمی کو قائل کرنے کی صلاحیت سے بالکل عاری ہیں اور خود مغرب میں تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ جبکہ عام لوگوں میں انتہا پسند اور متعصب سازشی عناصر کے رویے پر سوچ بچار کے ساتھ ساتھ اسلام کے بارے میں جستجو کی ایک نئی اور طاقتور لہر نے جنم لیا ہے اس طرح اللہ تعالیٰ نے اہل مغرب تک اسلام کا درست تعارف پہنچانے کا ایک سنہری موقع مسلمانوں کو فراہم کر دیا ہے۔ اب یہ ہم مسلمانوں کا کام ہے کہ ہم اس سے کیسے اور کتنا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی اسلامی تحریکیں اس مقصد کے لئے اچھی طرح سوچ سمجھ کر ایک مشترکہ حکمت عملی ترتیب دیں اور پھر پورے اہتمام سے اسے بروئے کار لائیں۔

اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مغرب کی متعصبانہ مہم نے دنیا کے سامنے اسلام کا درست تعارف پیش کرنے کا جو سنہری موقع مسلمانوں کو فراہم کر دیا ہے اس سے فائدہ اٹھانے کے حوالے سے سب سے پہلی بات تو یہی ہے کہ اسلام سے کھلے بغض پر مبنی اس مہم کے خلاف خود مسلمانوں کا طرز احتجاج اسلام کے تعارف کا اولین ذریعہ ہے۔ اگر یہ پوری طرح اسلامی احکام کے تابع ہو تو غیر جانبدار لوگوں ہی کے نہیں بدترین مخالفین کے دلوں کو جیتنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ اس حوالے سے مکمل ہدایت قرآن و سنت میں موجود ہے اور اسلامی تحریکوں کی قیادتوں اور علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود بھی انہیں ملحوظ رکھیں اور مسلم عوام کو بھی ان سے آگاہ کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ علمی و فکری میدانوں اور ابلاغ کے محاذ پر اسلامی قوتوں کی جانب سے عالمی سطح پر منظم اور مربوط جدوجہد انتہائی ضروری ہے۔ جس کا فی الوقت تقریباً فقدان نظر آتا ہے۔ ایسے چوٹی کے چند مسلمان اسکالر جو قرآن و سنت کی حقانیت پر پورا اعتماد رکھتے ہوں جن کا قلب و ذہن دونوں مسلمان ہوں اور جو اسلام کے بارے میں کسی معذرت خواہی کا شکار نہ ہوں،

صفحہ ۲۲۲

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

اگر صرف اس کام کے لئے فارغ کر دیئے جائیں کہ وہ اسلام کے خلاف نت نئی شکلوں میں آئے دن کئے جانے والے پروپیگنڈے کا جدید ذہن کے مطابق اطمینان بخش جواب دیں گے روزمرہ حالات ، واقعات اور معاملات ومسائل کے حوالے سے تحقیق وتجزیے کا کام کریں گے، انسانیت کے لئے اسلام کی دعوت اور پیغام کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق پیش کریں گے، مغربی تہذیب نے انسانیت کے لئے جو سنگین مسائل پیدا کئے ہیں ان کی نشاندہی کر کے اسلام کی روشنی میں ان کا حل سامنے لائیں گے...... تو اسلام کے دفاع اور ابلاغ کا ایک مستقل نظام وجود میں آسکتا ہے۔ جدید اصطلاح میں اسے مسلم دنیا کا عالمی تھنک ٹینک کہا جاسکتا ہے۔

مغرب نے اپنے مخصوص مقاصد کے لئے اسلام اور عالم اسلام پر کام کرنے والے بے شمار تھنک ٹینک بنا رکھے ہیں لیکن اسلامی دنیا میں بین الاقوامی سطح پر ایسا کوئی ادارہ فعال دکھائی نہیں دیتا۔ اس کمی کو بلا تاخیر پورا کیا جانا چاہئے۔ یہ کام حکومتوں سے کہیں بہتر انداز میں اسلامی تحریکیں کرسکتی ہیں۔ اس کے لئے جو جذبہ، ولولہ اور بصیرت درکار ہے وہ سرکاری دربار کے وابستگان کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس ادارے کو سرکاری مصلحتوں اور سرخ فیتے کا شکار ہونے سے بچانے کے لئے وسائل بھی مسلم دنیا کے اہل خیر کو نجی طور پر فراہم کرنے چاہئیں۔ جو امت پوری دنیا میں جہادی تحریکوں کی مالی سرپرستی کر سکتی ہے اس کے لئے اپنے چند اہل علم کو فکری محاذ پر لڑنے کے لئے دنیاوی فکروں سے فارغ کر دینا یقیناً مشکل نہیں ہے۔ بس ضرورت اس جانب توجہ دینے کی ہے۔ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سبب اب دنیا کے کونے کونے کے لوگ ایک دوسرے سے بآسانی اور ہمہ وقت مربوط رہ سکتے ہیں۔ اور علمی وفکری کام کے لئے باہمی تبادلہ خیال اور مشاورت میں جغرافیائی فاصلے قطعاً حائل نہیں رہے ہیں۔

اسلام پر دہشت گردی ، خواتین کے حقوق، اقلیتوں سے بدسلوکی، انسانی حقوق کی پامالی وغیرہ کے حوالے سے جو حملے مغرب کے فکری مورچوں سے آئے دن ہوتے رہتے ہیں ان کا جواب دینے کے لئے اسلامی دنیا کے علمی جرائد کے خصوصی نمبر پورے عالم اسلام کے اہل علم و دانش کے تعاون سے شائع کئے جانے چاہئیں۔ ان کاوشوں کی حیثیت بھی محض دفاعی نہیں ہونی چاہیے بلکہ مغرب کے سیکولر نظام سیاست اور سرمایہ دارانہ معیشت کے ہاتھوں انسانیت ...... غربت اور بے روزگاری ، ارتکاز دولت، امیر اور غریب

صفحہ ۲۲۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں، سودی نظام کی تباہ کاریوں، آزادی نسواں کے نام پر عورت کے بدترین استحصال ...... ان خصوصی شماروں میں ان کا مکمل تجزیہ بھی کیا جائے اور اسلام ان مسائل سے کس طرح نمٹ سکتا ہے اس بارے میں مکمل رہنمائی بھی فراہم کی جائے۔ یہ کام بھی اسلامی تحریکیں ہی بہتر طور پر کر سکتی ہیں۔ اس کے لئے اچھی منصوبہ بندی کی جائے، بنیادی موضوعات اور ان کے ذیلی عنوانات کا تعین اچھی طرح سوچ سمجھ کر کیا جائے، پھر یہ موضوعات موزوں ترین افراد کے لئے مختص کئے جائیں اور مواد کی فراہمی میں بھی پورا تعاون کیا جائے تو بہت اچھی کاوشیں منظر عام پر لائی جاسکتی ہیں۔ لکھنے والوں کو کسی بھی زبان میں لکھنے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے اور ان کی تحریروں کا بعد میں ترجمہ کرانے کا مناسب بندوبست کیا جانا چاہیے۔ اصل دستاویز عربی، اردو، انگریزی، کسی بھی زبان میں منظر عام پر لائی جاسکتی ہے۔ مگر بعد میں اس دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں ترجمہ کر کے شائع کرنے کا اہتمام ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں سوشلزم کے خلاف یہ کام اسلامی قوتوں نے انتہائی مؤثر انداز میں کیا تھا۔ انسانیت دشمن مغربی سرمایہ داری کے خلاف بھی علمی وفکری جہاد وقت کی آواز ہے۔ اسلام اور مادہ پرستی میں براہ راست جنگ شروع ہوچکی ہے اور اسے جیتنے کے لئے بارود سے زیادہ دلیل کی قوت درکار ہے۔ اور الحمد للہ دلیل کے میدان میں اسلام کا کوئی مد مقابل نہیں۔ ضرورت صرف اللہ کے پیغام کو درست طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ہے۔ اسلامی تحریکوں کا سیاسی جدوجہد اور جہادی کاوشوں کے ساتھ ساتھ اس محاذ پر پوری طرح سرگرم ہونا ضروری ہے۔

ابلاغ کے محاذ پر اسلام کی جنگ لڑنے کے لئے جدید ذرائع ابلاغ سے بھر پور کام لیا جانا انتہائی ضروری ہے۔ اس کی بہت کم وقت میں اور بہت تھوڑے وسائل کے ساتھ روبعمل لائی جاسکنے والی ایک تدبیر ویب سائٹس کی ہے۔ فی الوقت عالم اسلام کی کوئی نمائندہ ویب سائٹ انٹرنیٹ پر موجود نہیں ہے۔ عالمی اسلامی تحریکیں باہمی تعاون اور مشاورت سے یہ کام بھی کر سکتی ہیں۔ تاہم اسلام کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے اور اس کے بارے میں کئے جانے والے گمراہ کن پروپیگنڈے کا بروقت ازالہ کرنے کے لئے، ایک ایسا ٹی وی چینل بھی اسلامی قوتوں کو قائم کرنا چاہیے جس کے ذریعے واقعات کو ان کے صحیح رنگ میں دنیا کے سامنے لایا جائے اور وقت کے مسائل پر اسلام کا موقف دو ٹوک اور بے لاگ انداز میں پیش

صفحہ ۲۲۴

توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

کیا جائے۔ اس چینل کی نشریات کم از کم تین زبانوں یعنی اردو، عربی اور انگریزی میں ہونی چاہیں۔ احتجاجی مظاہروں، مصنوعات کا بائیکاٹ اور سفارتی تعلقات کا خاتمہ وغیرہ جیسے اقدامات کی بلاشبہ اپنی افادیت ہے لیکن دور رس نتائج کے لئے ٹھوس اور پائیدار حکمت عملی ناگزیر ہے۔ جس کے چند نکات اس سلسلہ تحریر میں پیش کئے گئے ہیں۔ تاہم اس سمت میں فوری اقدامات وقت کی ناگزیر ضرورت ہیں اور عالمی اسلامی قوتوں کو اسے اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔

صفحہ 225

تحفظ ناموس رسالت، کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

حکمت عملی کیا ہونی چاہیے؟

الطاف حسن قریشی

میں روزنامہ اسلام کے منتظمین کو مبارک باد دیتا ہوں کہ انہوں نے ایک نہایت اہم اور سلگتے ہوئے موضوع پر اتنے بڑے سیمینار کا اہتمام کیا اور اتنی بڑی بڑی شخصیات کو یہاں آنے کی دعوت دی۔ مجھے امید ہے کہ جو کچھ یہاں بیان ہو چکا ہے اور آئندہ جو کچھ بیان ہو گا اس کی روشنی میں ہم کوئی قابل عمل لائحہ عمل تیار کر سکیں گے۔

معزز حضرات صبح سے اب تک اس مسئلے پر بہت سی باتیں ہو چکی ہیں اور تجاویز اور تجزیے اور مشورے سامنے آئے۔ ان سب کے پیچھے ایک عظیم جذبہ کارفرما ہے اور یہ سانحہ بھی اتنا بڑا ہے اور اس کے اثرات ہمارے مستقبل پر اتنے زیادہ اثر انداز ہوں گے اگر ہم نے آج سے ہی کوئی لائحہ عمل طے نہ کیا پوری قوم نے اپنی توانائیوں کا صحیح انداز میں اظہار نہ کیا اور عمل کے راستے متعین نہ کیے تو پھر ہمیں شاید ایک بہت بڑی آزمائش سے دوچار ہونا پڑے۔

معزز حضرات! میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ جو خاکے شائع ہوئے ہیں ان کے پیچھے ایک ذہن کام کر رہا ہے، تو اہل علم حضرات کا فرض یہ ہے کہ جو ذہن کام کر رہا ہے اور جس کی ذہنیت نے یہ طوفان اٹھایا ہے اس کا ہم صحیح سراغ لگا سکیں اور اپنا ہدف متعین کر سکیں۔ میری ناقص اور حقیر سی رائے یہ ہے کہ اس کے پیچھے وہ ذہن کام کر رہا ہے جو اسلام کے بارے میں تعصب رکھتا ہے اور وہ مسلمانوں کے جذبات اور مسلمانوں کو جو اپنے مشاہیر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید سے جو عقیدت ہے اُس عقیدت کو ماپنے کے لیے بھی کہ اب اس میں کتنی کمی آئی ہے اور کتنی زیادتی اس میں قائم ہے، اسے ناپنے کے لئے میں سمجھتا ہوں یہ ایک عمل شروع ہے۔ اب غور طلب بات یہ ہے کہ ایک نقطہ نگاہ تو یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ یہودیوں کی سازش ہے اور یورپی مغربی دنیا اسلام کے خلاف کام کر رہی ہے۔ یہ

صفحہ ۲۲۶

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

نقطہ نگاہ رکھنے والے لوگ تاریخی شواہد بھی پیش کرتے ہیں اور ان میں حقیقت کا بہت بڑا عنصر نظر آتا ہے لیکن معزز حضرات میری حقیر سی رائے یہ ہے کہ ہمیں اس وقت پوری مغربی دنیا اور امریکا سے جنگ مول لینے کی بجائے اس محدود ذہنیت کے خلاف اپنی صلاحیتوں اور قوتوں کو مجتمع کرنا چاہیے جو اس فساد کے پیچھے بنیادی حیثیت رکھتا ہے تو میرا مشورہ یہ ہوگا کہ چاہے معاملات بعد میں کچھ اور شکل اختیار کر گئے ہیں اور اس میں بہت سے عوامل شامل ہو گئے ہیں لیکن اصل شرارت ڈنمارک میں ہوئی ہے۔

ڈنمارک کے ایک اخبار نے یہ شرارت کی ہے تو حکمت عملی کا تقاضا میرے نزدیک یہ ہے کہ پوری امت مسلمہ کو اپنا سارا دباؤ اور ساری قوتیں ڈنمارک پر مرکوز کر دینی چاہئیں کہ ڈنمارک کو مجبور کیا جائے کہ جو اس سے غلطی ہوئی ہے، اس کی معافی بھی مانگے اور جو مجرم ہیں وہ مجرم ایک ایسی عدالت میں یا ایک ایسے اسلامی ملک کے حوالے کئے جائیں جہاں ان پر باقاعدہ مقدمہ چلا کر انہیں قرار واقعی سزا دی جا سکے۔ میرا خیال یہ ہے کہ اگر ہم اپنے آپ کو اس نقطے پر مرکوز کریں گے تو ہماری کامیابی کے امکانات بہت روشن ہیں اور اس کے پھر کیا طریقے ہیں؟

اس کی پھر ہمیں کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے؟ ہمیں سفارتی تعلقات ختم کر دینے چاہیے، ہمیں اقتصادی تعلقات منقطع کرنے چاہئیں؟ ہمیں وہاں کے جو اخبارات ہیں ان پر کام کرنا چاہئیں؟ یہ سب چیزیں ہم طے کر سکتے ہیں لیکن بنیادی فیصلہ کرنے کی بات یہ ہے کہ اس وقت آیا ہمیں ساری مغربی دنیا سے ٹکر لینے میں زیادہ فائدہ ہوگا یا ہم ڈنمارک کے اوپر Concentrate کر کے اور اسے مجبور کرتے ہیں سرنڈر کرنے پر؟ تو وہ اس سے ایک عبرت کا نشان بن سکے گا اور اس سے باقی ممالک کو احساس ہوگا کہ جب مسلمان جمع ہو کر کوئی کام کرتے ہیں تو اس یلغار کو روکنا بڑا مشکل ہوتا ہے تو میری پہلی گزارش آپ کی خدمت میں یہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس پر کام کرنا چاہیے کہ ڈنمارک کو ہم کیسے مجبور کریں کہ وہ گھٹنے ٹیکے اور مسلمانوں کی جو قوت ہے اس کا احساس کرے اور اس کے ذریعے سے ہم پوری عالمی برادری کو یہ پیغام دیں کہ یہ اتنا حساس مسئلہ ہے کہ اس سے کھیلنے کا مطلب بہت سے خطرناک نتائج کو دعوت دینا ہے۔

معزز حضرات! میری دوسری گزارش یہ ہے کہ جو پہلی گزارش سے متعلق ہے کہ تمام یہودیوں

صفحہ ۲۲۷

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ اور تمام غیر مسلموں کی مجموعی طور پر مذمت کرنے کی بجائے صرف اس گروہ کو ہم تلاش کریں جو یہ فتنے مختلف وقتوں میں اٹھاتا رہتا ہے دیکھیے حقیقت یہ ہے کہ جب عراق پر امریکا حملہ کرنا چاہتا تھا تو اس کے خلاف کتنے مظاہرے امریکا، برطانیہ، جرمنی اور فرانس میں ہوئے۔ اتنے مظاہرے عالم اسلام میں نہیں ہوئے۔ وہاں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ نکلے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ غلط راستہ ہے اور ایک آزاد اور خود مختار ملک پر حملہ کرنا مسلمہ عالمی اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے بڑی جرات کے ساتھ اس کا مظاہرہ کیا جبکہ ہم نہیں کر سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم آج عالمی برادری کو اصولوں کی بنیاد پر قائل کر سکیں۔ یہ ایک کاز ایسا ہے جس میں انہیں ہمارا ساتھ دینا چاہیے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس طریقے سے ہماری آواز عالم اسلام سے باہر نکل کر دوسری دنیا میں بھی اپنا ایک راستہ بنائے گی اور لاکھوں لوگ اس کاز میں شامل ہوسکیں گے، لیکن میرا خیال ہے کہ جب ایک چیز ہمارے سامنے آچکی ہے اور انہوں نے ایک بہت بڑے مسئلے پر مسلمانوں کو از خود بتا دیا ہے اور خود انہوں نے محسوس کر لیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں کہ جس کو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کی بہت مخالف ہے تو ساری کیفیت یہ نہیں ہے، وہاں کے جو عوام ہیں وہ اس جنون میں مبتلا نہیں ہیں جس جنون میں ایک چھوٹا سا گروہ یا ایک چھوٹی سی جماعت ہے بلکہ میں تو یہ آپ سے تجویز کروں گا کہ جہاں جہاں جن جن ملکوں میں اس وقت مظاہرے ہوئے تھے اور اس وقت بھی انہوں نے مظاہروں میں حصہ لیا ہے ان کو ہم خط بھیجیں۔ ان کا شکریہ ادا کریں۔

میری تیسری گزارش ہے کہ یہ جو کچھ ہم مظاہرے کر رہے ہیں جو ایک بہت فطری اظہار ہے جس کا حق پوری دنیا تسلیم کر رہی ہے بش سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک اور دوسرے ادارے بھی وہ یہ کہتے ہیں کہ احتجاج کرنا آپ کا حق ہے۔ آپ کو تکلیف پہنچی، آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے تو آپ کا یہ فطری حق ہے کہ جو غلط کام ہوا ہے اس کے خلاف احتجاج کریں اور پوری دنیا پر بھی واضح کریں کہ مسلمان اس معاملے میں بہت حساس ہیں، انہیں بہت تکلیف پہنچی ہے اور وہ متحد ہو گئے ہیں اور وہ متحد ہو کر اپنے زخموں کے ازالے کی کوشش کریں گے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس سے معاملہ بہت بہتر ہوگا اور اسی طریقے سے ہم انتشار سے بچ سکیں گے۔

میرا چوتھا مشورہ یہ ہے کہ اس میں جو خرابی پیدا ہوئی ہے جس کی وجہ سے یہ لگتا ہے کہ ہمارے

صفحہ ۲۲۸

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

احتجاج، ہمارے مظاہرے موثر ثابت نہیں ہو رہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران اس احتجاج میں شامل نہیں ہوئے۔ میرا خیال یہ ہے کہ اگر ہمارے حکمران اس احتجاج کی قیادت کریں تو اس سے قومی یکجہتی کو بھی بہت طاقت ملے گی اور بہت سی جو دوریاں ہیں یا بہت سی غلط فہمیاں ہیں ان کا خاتمہ بھی ہو جائے گا اور پھر اس کی وجہ سے پورے عالم اسلام میں یہ ایک روش آگے بڑھے گی کہ حکمران اور عوام مل کر اس احتجاج میں شریک ہوں گے۔ اب بدقسمتی سے کہ حکمران ایک دوسرے رخ پر ہیں اور عوام ایک دوسرے راستے پر چل رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں یہ بات مسلسل کہنی چاہیے چونکہ اصل میں جو کام زیادہ موثر ثابت ہوگا وہ تو وہی ہوگا کہ حکومتوں کے اندر تحریک پیدا ہو اور وہ اس کی سنگینی کا پورا احساس کریں اور قوم کی قیادت کریں۔ اس طریقے سے پھر آپ کی پوری امت مسلمہ اور آپ کی او آئی سی، جو ابھی تک سست روی کا شکار ہے، کے اندر بھی ایک نئی روح پھونک دی جائے اور ایک نیا ولولہ پیدا ہو گا اور مسلمانوں کو اپنی بات پوری دنیا میں پہنچانے میں بہت آسانی ہوگی۔ اسی طریقے سے میں ایک بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں بہت سے کام سود و زیاں کی میزان سے بلند ہو کر کرنے ہوں گے۔ مثال کے طور پر پوری قوم کو کم از کم ڈنمارک کی مصنوعات کے بائیکاٹ کے لیے آمادہ ہونا چاہیے۔ اس کے لیے ان میں جوش پیدا کرنا چاہیے۔ اس سے یہ ہوگا کہ آپ کی تحریک موبلائز ہوگی اور وہ مستقل طور پر موبلائز رہے گی اور وہ دوسرے ملکوں کو یہ پیغام دیتی رہے گی کہ آپ کی مصنوعات کا پورا عالم اسلام بائیکاٹ کر سکتا ہے اور یہ بائیکاٹ خواہ آپ کو محدود سا نظر آتا ہو لیکن اس کے اثرات بہت گہرے ثابت ہوں گے، ہمارے عوام کے سامنے ایک مقصد ہوگا، اس مقصد کی وجہ سے ان کے اندر وہ جذبہ زندہ رہے گا، وہ ایک مذہبی طریقے سے اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو محبت ہے اور ان کی شان میں گستاخی کرنے والا ملک ہے اس کے بارے میں ہمارا ایک مستقل رویہ سامنے آئے گا۔ یہاں تک کہ وہ معافی بھی مانگے اور مجرموں کو سزا بھی دے تو تحریک کو منظم اور آگے بڑھانے کے لیے یہ بہت ضروری ہے ورنہ یہ ہوتا ہے کہ کچھ عرصے کے بعد آہستہ آہستہ معاملہ جو ہے وہ پھر فزل آؤٹ (Fizzleout) ہونے لگتا ہے اور پھر عوام بھی سست روی کا شکار ہو جاتے اور بعض اوقات اس میں وہ عناصر شامل ہو جاتے ہیں جو اس پورے پاکیزہ کام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

صفحہ 229

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

میری چھٹی تجویز یہ ہے کہ اس میں جو اصل کام ہے وہ میڈیا کا کام ہے۔ یہ سب میڈیا کی جنگ ہے اور آزادیِ اظہار کی گفتگو پر بہت زور دیا جارہا ہے، اس لیے ہمیں اخبار کے مالکان اور جرائد سے یہ بات کہنی چاہیے کہ آپ اس تحریک کو آگے لے کر چلیں اور خود بھی اپنا اجلاس طلب کریں اور دنیا کے میڈیا کے جو لوگ ہیں جن تک انٹرنیٹ کے ذریعے رسائی آسان ہے ہم ان تک اپنا پیغام پہنچا دیں کہ اس سے ہمیں بہت صدمہ ہوا ہے۔ ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہماری عوام بھڑک اُٹھے، وہ توہین آمیز خاکے کبھی برداشت نہیں کریں گے اور اگر آپ نے ان کا ساتھ نہ دیا تو پھر اس کے نتائج کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں میڈیا کو منظم کرنا ہوگا اور مستحکم کرنا ہوگا۔

یہ معاملہ اتنا بڑا چیلنج ہے اور حقیقت بھی یہ ہے کہ یہ بہت بڑا چیلنج ہے اور اس کے پیچھے جو دماغ کام کر رہے ہیں وہ بہت منظم ہیں اور ان کے مقاصد بہت ہی ناپسندیدہ اور خطرناک ہیں، اس لیے ہم صرف بہت سطحی کام کرنے سے یا وقتی طور پر اقدام کرنے سے اصل خطرے کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ میڈیا کے میدان میں ہم مغرب سے بہت پیچھے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ صرف پیچھے ہی نہیں بلکہ ہمارا کوئی وجود ہی نہیں۔ مغرب میں مسلمان کسی جگہ پر، کسی اخبار میں، کسی ٹیلی ویژن میں آپ کو نمایاں نظر نہیں آئیں گے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پورے عالم اسلام میں ایسے ادارے نہیں ہیں جو بہت اعلیٰ معیار کے میڈیا مین تیار کر سکیں جو اردو کے علاوہ انگریزی میں، عربی میں فرانسیسی میں، اطالوی زبان میں اور جاپانی میں اور چینی زبان میں جہاں وہ بہت کمپیٹیشن کے ساتھ، پورے شعور کے ساتھ، اسلام کے پورے فلسفے کو سمجھنے کے ساتھ، اس کے پورے نظام کو سمجھنے کے ساتھ، جو عارضی ایشوز ہیں، ان کو بھی وہ صحیح طور پر سمجھنے اور ہر ملک کی ثقافت اور روایت کے مطابق گفتگو کر سکیں دراصل ایسا کوئی ادارہ ہمارے ملک میں اور نہ دوسرے ممالک میں ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم اپنی بات نہ امریکی عوام کو بتا سکتے ہیں اور نہ یورپی عوام کو۔ ہم بالکل سہمے سے رہتے ہیں جیسے ہمارے پاس کچھ ہے ہی نہیں۔

میں سمجھتا ہوں کچھ کام ہمیں بہت حکمت کے ساتھ، بہت تدبر کے ساتھ کرنے ہوں گے۔ ہمیں کوئی ایسا راستہ اختیار کرنا ہوگا کہ ہم اعلیٰ معیار کے ایسے ادارے قائم کریں جس میں ہم اس طرح کے لوگ تیار کریں جو اسلام کا پیغام لے کر دنیا کے مختلف علاقوں میں جائیں اور اپنے علم کی بدولت اور اپنی

صفحہ ۲۳۰

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

گفتار کی صلاحیت کے مطابق لوگوں کو تبلیغ کرسکیں کہ اسلام ان کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے عالم انسانیت کے لیے امن اور سکون کا پیغام لے کر آیا ہے اور اس کو اختیار کرنے ہی سے آپ کی زندگی میں بہتری آئے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس کام کی تیاری کرنی چاہیے اور مجھے کل خوشی ہوئی میں جب جامعۃ الرشید میں گیا تو میں نے وہاں ایک نقش دیکھا کہ یہ نقش ابھر رہا ہے اور وہاں اس بنیاد پر کام شروع ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو وسعت عطا کرے اور ہم پورے عالم اسلام میں یہ تحریک آگے چلاسکیں۔ ہماری بدقسمتی کی انتہاء یہ ہے کہ ہمارے اخبارات کے لوگ جو ابلاغ عامہ کے نمائندے ہیں۔

پورے مسلمان ملکوں میں کام کر رہے ہیں، ہماری سرے سے کوئی تنظیم ہی نہیں ہے، ہم آپس میں مل بھی نہیں سکتے، ہمارے اوپر اتنی پابندیاں ہیں کہ ہم سعودی عرب نہیں جاسکتے۔ دل چاہتا ہو کہ ہم اپنے لوگوں سے جاکر ملیں۔ ان سے مشورہ کریں، ان کو اس طرف لائیں، کوئی کام اس لیے نہیں ہو رہا کہ ہمارے راستے بند ہیں، اس لیے ہمیں یہ بھی مطالبہ کرنا چاہیے کہ عالم اسلام کے حکمرانوں سے یہ کہا جائے کہ وہ لوگ جو رائے عامہ تشکیل کرتے ہیں جو سوسائٹی میں علم اور تحقیق کا کام کر رہے ہیں ان پر ویزا کی پابندیاں بالکل ختم کی جائیں اور ایک ایسی فہرست تیار کی جائے جس پر تمام ملکوں کا اتفاق ہو کہ ان کا آنا جانا بالکل ویزا کے بغیر ہوتا کہ ہم اس میدان جس میں ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں جس میں ہمارا کوئی وجود نہیں ہے، ہم اس میں کوئی کام کرسکیں تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی مستقل اور جسے آپ لانگ ٹرم منصوبہ بندی کہتے ہیں جو اسٹریٹجی ہوتی ہے یہ اس کی بات ہو رہی ہے اس پر ہمیں آج توجہ دینی ہوگی۔

ہم بہت وقت ضائع کرچکے ہیں۔ اسی طریقے سے ہمیں علم و تحقیق کے ادارے بہت اعلیٰ معیار کے قائم کرنے چاہئیں۔ مستشرقین سالہا سال سے اپنی تحریروں میں قرآن مجید اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ پر بہت نازیبا اور بہت رکیک حملے کر رہے ہیں۔ لیکن ہمارے پورے ملک میں بلکہ میرے خیال میں پورے عالم اسلام میں ایسے ادارے موجود نہیں کہ اور جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں ان کا مدلل، مثبت، مسکت جواب دے سکیں اور ان پر یہ واضح کرسکیں کہ آپ کن کن غلطیوں کا شکار ہیں۔ یہاں کوئی نہیں اور جو کچھ ہوتا ہے کبھی رسول کریم صلی اللہ علیہ پر ہو گیا، کبھی قرآن مجید پر ہو گیا۔

قرآن مجید کے بارے میں بھی ان کا یہی رویہ ہے۔ ان کا رویہ اس لیے ہے کہ وہ دو تین جو

صفحہ ۲۳۱

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

تہذیبی عناصر ہیں وہ مسلمانوں کو زندہ رکھتے ہیں، مسلمانوں کو متحد رکھتے ہیں، ان کا احترام آہستہ آہستہ مختلف طریقوں سے کم کیا جائے وہ جو مسلمانوں کو قوت بخشتی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، ان میں اتنی کمی لائی جائے کہ مسلمان بے حس ہو جائیں اور پھر وہ جو چشمے ابلتے ہیں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر آتا ہے یا ان پر جب کبھی حرف آتا ہے تو پورا عالم اسلام شعلہ آتش بن جاتا ہے تو حضرات اس کا بھی ہمیں اہتمام کرنا چاہیے۔ آج سوچیں گے تو پانچ، دس سال تک ہم کچھ کر سکیں گے۔

آخری بات جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں کوئی ایسا اہتمام بھی کرنا چاہیے کہ عالم اسلام میں کوئی ایسا ملک ہم منتخب کریں جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور ان کے تصورات کے مطابق ایک فلاحی ریاست بنا سکیں۔ فلاحی ریاستیں یورپ نے تو بنائی ہیں، غیر مسلموں نے انسان کے ساتھ ایک اچھا سلوک کرنے کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے مسلمان ملکوں میں ان کا کوئی نام و نشان نہیں ہے بلکہ ہمارے ہاں آدم بیزاری کا رویہ زیادہ ہے۔ ہم اپنے بھائی کی مدد کرنے کی بجائے اس کے رستے میں روڑے اٹکانے میں مصروف ہیں ہم اپنے بھائی کے غم میں دکھ میں کام آنے کو ترجیح نہیں دے رہے۔ ہم انسان سے انسان کی حیثیت سے سلوک نہیں کر رہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ میں انسان کو غیر معمولی حیثیت حاصل ہے تو کہاں ہم اور ہمارا یہ عالم کہ ہمارے حکمران ہمارے عوام اور ہمارے معاشرے میں شعوری اور اخلاقی طور پر بھی نفاست کی بجائے گندگی ہے۔

معزز حضرات! میں آپ سے یہ بھی گزارش کروں گا کہ ہم جو حالت جنگ میں ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بڑی طویل جنگ ہے جو ہمیں لڑنی ہے۔ اپنی بہت اصلاح کرنی ہے، اپنے معاملات کو سلجھانا ہے، اپنے گھر کو درست کرنا ہے، اپنے دل کی دنیا کو آباد کرنا ہے اور عقیدت اور ایمانی قوت کے ساتھ اس طرح آگے بڑھنا ہے کہ اسلام کی حقانیت بھی واضح تر ہوتی چلی جائے اور انسان کے لیے یہ معاشرہ مثالی بنے اور یہاں ذہنی اور روحانی سکون بھی ہو۔

صفحہ ۲۳۲

توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

پس چہ باید کرد؟

علم الدین مغربی دنیا کی طرف سے نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخانہ حرکتوں کے بعد دنیا میں بسنے والے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان یہ یقین کر لینے پر مجبور ہیں کہ فی زمانہ غیر مسلم طاقتیں بغیر سوچے سمجھے ان کے درپے آزار ہیں اور ان سب حرکتوں کا مقصد صرف اور صرف ان کے مذہبی جذبات سے کھیلنا اور ان کے احساسات کو ٹھیس پہنچانا ہے آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک ایسی خفیہ جنگ کا انکشاف ہے جو صدیوں سے جاری ہے اور مسلمان اس کا ایندھن بنتے چلے آئے ہیں۔ لیکن اب یوں نظر آتا ہے کہ ایک فیصلہ کن مرحلہ شروع ہوا چاہتا ہے۔ جو یقینی طور پر اس انجام کو پہنچے گا جس میں اہل اسلام کو شعور و یقین کی دولت نصیب ہوگی اور وہ اپنی تہذیب و ثقافت سے لے کر اقتصاد و معیشت تک کو دشمن کے چنگل سے آزاد کرانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ خدا کرے کہ وہ روز روشن ہمیں جلد دیکھنا نصیب ہو اور ملت اسلامیہ اپنی سلامتی اور بقاء کے بارے میں سکھ کا سانس لے۔

عالم اسلام میں مغربی ممالک کے خلاف نفرت و ناپسندیدگی کی حالیہ لہر کا آغاز توہین آمیز خاکوں سے ہوا، جو پہلی بار ستمبر 2005 میں ڈنمارک کے ایک اخبار نے شائع کئے۔ ان خاکوں کے ذریعے نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں جس طرح گستاخی کی گئی اسے مسلمان تو مسلمان دنیا کا کوئی عقلمند اور منصف مزاج کافر بھی جائز اور روا قرار نہیں دیتا۔ مگر اس کے باوجود دوسرے کئی یورپی ممالک نے یہ خاکے شائع کر کے یا اس نامعقول حرکت کی تائید و حمایت کر کے ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف اس شرارت کو صحیح قرار دیتے ہیں بلکہ اس فتنہ کو پھیلانے اور اس آگ کو بھڑکانے میں اپنا اپنا حصہ ملانا بھی ضروری گردانتے ہیں۔ اب تک جن ممالک کے مختلف ذرائع ابلاغ یہ خاکے شائع کر چکے ہیں یا ان خاکوں کی بے جا حمایت کر چکے ہیں ان میں نمایاں ممالک درج ذیل ہیں۔

صفحہ ۲۳۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

ڈنمارک، ناروے، بیلجئم، فرانس، برطانیہ، امریکہ، نیوزی لینڈ، سویڈن، اسرائیل، جرمنی، ہسپین، اٹلی، سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ، آسٹریا، آسٹریلیا، ہنگری، جمہوریہ چیک، آئر لینڈ، یمن، ملائیشیا، الجیریا، مصر۔

اس سنگین اور بھیانک جرم میں ملوث ممالک کی اس طویل فہرست ثابت کرتی ہے کہ دشمنانِ اسلام مسلمانوں کے خلاف متحد ہو چکے ہیں اور وہ ہر اس طریقے سے لڑی جانے والی جنگ کو جیتنا چاہتے ہیں جو انہیں میسر ہو۔ خواہ وہ عقل و شریعت کی رو سے صحیح ہو یا نہ ہو۔

ایسے عالم میں مسلمانوں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ وہ اپنی بقا کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور اپنے مستقبل کو بچانے کیلئے حال کو غنیمت جانیں۔

مغربی ممالک سے قطع تعلق اور ان کی مصنوعات سے بائیکاٹ کی موجودہ لہر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ دشمن کے خلاف مسلمانوں کی نفرت کا یہ اظہار دراصل ایک موثر ہتھیار بھی ہے۔ جس کے ذریعہ اہل اسلام کفار کو مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ ایسی گھٹیا حرکتوں سے باز آئیں اور پیغمبر اسلام ﷺ کی عزت و ناموس کے تقدس کی پامالی سے گریز کریں تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سلسلے کو زیادہ سے زیادہ مربوط بنایا جائے تاکہ اس کے اثرات زیادہ بہتر طور پر نمایاں ہوں اور جن مقاصد کے تحت بائیکاٹ کی یہ تحریک شروع کی گئی ہے وہ جلد از جلد حاصل ہو سکیں۔

ہم آج کے مقالے میں مغربی ممالک سے قطع تعلق کی چند اہم اور مفید شکلیں پیش کر رہے ہیں جن کے ذریعے اہل ایمان نبی کریم ﷺ کی حرمت و ناموس کے تحفظ کے لئے لڑی جانے والی اس جنگ کو مزید موثر، مضبوط اور مستحکم بنا سکتے ہیں۔ آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ کس کس طریقے سے قطع تعلق کا یہ سلسلہ اور بائیکاٹ کی یہ مہم کامیاب ثابت ہو سکتی ہے؟

صفحہ ۲۳۳

توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

صفحہ ۲۳۵

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

کی بنی ہوئی گاڑیوں اور دیگر تمام مشینری کو ٹھیک کرنے میں ثانوی درجہ دیں اور ان اشیاء کے مالکان کو یہ باور کرائیں کہ وہ ان اشیاء کے استعمال کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ تاکہ لوگوں کو احساس ہو کہ اگر آئندہ بھی انہوں نے ان ممالک کی مصنوعات خریدیں تو انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اسی طرح مکینک حضرات کو یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ اگر وہ متعلقہ ممالک کی مشینری میں کوئی پرزہ خراب پاتے ہیں تو اول تو اسی کو ٹھیک کر کے دوبارہ لگا دیں ورنہ پھر یہ کوشش کریں کہ اس کی جگہ کسی دوسرے ملک، دوسری کمپنی کا پرزہ خریدیں تاکہ متعلقہ ممالک کو مزید فائدہ نہ پہنچنے پائے۔

متعلقہ ممالک کا مال فروخت کیا جارہا ہو اور اس کی بجائے ایسے مقامات کو ترجیح دیں جہاں کے تاجر حضرات مؤثر طریقے سے بائیکاٹ کی تحریک میں حصہ لے رہے ہوں۔ ایسا کرنے سے ہم ان لوگوں پر اپنی بے رغبتی اور ناپسندیدگی واضح کر سکتے ہیں جو ابھی تک اس تحریک میں حصہ نہیں لے رہے یا اسے اہمیت نہیں دے رہے ۔

طریقوں کو ترک کرنا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح اس بات سے بھی گریز کرنا چاہیے کہ ہم اپنے گھروں یا دفاتر کی تزئین و آرائش اور نقش و نگار ان مغربی ممالک کی نقل کرتے ہوئے بنائیں۔

متعلقہ ممالک کے خلاف مہم چلا رہا ہے۔

مقامی باشندوں کو یہ باور کرائیں کہ ان کی حکومتوں کی غلط اور غیر مناسب پالیسیوں کی وجہ سے ان کی قوم اور ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ تاکہ وہ لوگ خود اپنی حکومتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ ایسا کرنے سے متعلقہ ممالک کی داخلی طور پر پیش آنے والی مشکلات ان کی روش میں

صفحہ ۲۳۶

توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟

تبدیلی کا باعث بن سکتی ہیں۔

کے ساتھ کسی قسم کا تعاون کرتا ہے ان کے سفارت خانوں کے چکر لگاتا ہے یا کسی بھی شعبے میں ان کی نمائندگی کے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ ہمیں ایسے لوگوں کے ساتھ محتاط اور محدود رویہ اپنانا چاہئے تاکہ انہیں اپنے غلط طور طریقے کا احساس ہو۔

پیش کریں جن سے ان مغربی ممالک کی نام نہاد آزادی رائے کا پردہ چاک ہو اور وہاں آزادی نسواں اور احترام انسانیت کے نام پر جو ڈھونگ رچائے جارہے ہیں ان کی حقیقت واضح ہو۔ تاکہ ہر وقت ”مغرب مغرب“ اور ”روشن خیالی“ کی مالا جپنے والوں کی زبانوں کو لگام ملے اور عوام الناس کو پتہ چلے کہ مغربی تہذیب اندر سے کس قدر کھوکھلی اور ناپائیدار ہے۔

مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی سازشوں کا پردہ چاک کریں، اور افغانستان اور عراق کے خلاف جنگ میں ان ممالک نے امریکہ کا ساتھ دے کر جس طرح مسلمانوں کی نسلوں کو تباہ و برباد کرنے اور ان کی ہنستی بستی بستیوں کو اجاڑنے میں خوفناک کردار ادا کیا ہے اسے یاد دلائیں، تاکہ مسلم عوام اپنے ان دشمنوں کے حقیقی روپ کو پہچان لیں۔ اور ان کے دل و دماغ ایسی ظالم قوموں سے انتقام اور بدلہ لینے کے جذبات سے معمور ہو جائیں۔ اور ان کے ذہنوں میں ان کی پیش کردہ مصنوعات کی نفرت بیٹھ جائے۔

پیش ہیں اور حکومتیں ان مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں جس طرح سے بے جا مداخلت کرتی رہی ہیں۔ مثلاً فرانس، جرمنی اور ڈنمارک وغیرہ میں پردہ اور حجاب کے خلاف سرکاری پابندی وغیرہ، ایسے واقعات و حالات کا بھی زیادہ سے زیادہ پرچار ہونا چاہیے۔ تاکہ ان ممالک کی طرف سے دی جانے والی نام نہاد مذہبی آزادی کی حقیقت بھی واضح ہو سکے۔ اس سلسلہ میں

صفحہ ۲۳۷

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

ہمارا میڈیا بہترین خدمات سرانجام دے سکتا ہے۔ خدا اسے توفیق عطا فرمائے۔

فرانس، برطانیہ، جرمنی اور ڈنمارک کے علاوہ کئی دیگر متعلقہ ممالک بارہا سازشوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ان سازشوں کی تفصیلات انتہائی چشم کشا بھی ہیں اور بھیانک بھی۔ اگر عوام کو ان تفصیلات سے باقاعدہ طور پر آگاہ کیا جائے تو یہ واضح ہو جائے گا کہ رسول کریمﷺ کے ساتھ ان بدبخت و بدذات قوموں کا عناد و بغض آج کا نہیں بلکہ بہت پہلے سے ہے۔ ایسے حقائق کی موجودگی میں کوئی مخلص اور سچا مسلمان ان ممالک کو مالی منفعت پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

سے عام طور پر اور اہل پاکستان سے خاص طور پر اچھا اور خیر خواہانہ رویہ نہیں اپناتیں۔ بلکہ ان کی کوشش رہی ہے کہ جہاں اور جب بھی موقع ملے ہمیں بدنام اور رسوا کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں۔ اس تلخ حقیقت کی بے شمار مثالیں ماضی قریب و بعید میں پائی جاتی ہیں۔ ایسی مثالوں کو اجاگر کرنے سے بھی عوام الناس ان سے قطع تعلق کرنے پر آمادہ ہوسکیں گے۔

اور نام بتائیں اور انہیں تاکید کریں کہ وہ کبھی ان کے ہاں کی بنی ہوئی کوئی چیز نہ کھائیں۔ خواہ وہ میٹھی ٹافیاں یا چاکلیٹ ہی کیوں نہ ہو۔ اس مقصد کی خاطر ہمیں اپنے بچوں کو رسول کریمﷺ کی محبت اور الفت کی تعلیم دینی ہوگی۔ انہیں حرمت رسولﷺ کے لئے قربانی دینے کی تلقین کرنی ہوگی۔ تاکہ یہ کم سن بچے اپنے ذہنوں کو پیغمبر اسلامﷺ کی محبت اور آپﷺ کے دشمنوں کی نفرت سے بھر لیں اور اپنے آپ کو ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار پائیں۔

کی اہمیت و ضرورت کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ نسل نو پر مشتمل یہ طبقہ کسی بھی تحریک کی کامیابی کا اہم محرک ثابت ہوسکتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ان

صفحہ ۲۳۸

توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

تعلیمی مراکز سے اس مہم کو منظم طریقے سے چلایا جائے تو یہ جلد کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہے۔

ایسی مشینری اور مواد استعمال نہ کریں جو متعلقہ ممالک سے درآمد کیا جاتا ہو۔ اس طرح وہ بھی اس تحریک میں شمولیت کی سعادت حاصل کر سکتے ہیں۔

ہیں ان کی ذمہ داری بھی نہایت اہم ہے اس لئے کہ ایسے ممالک سے آنے والے اخبارات و جرائد اور کتب ایسی تحریروں سے بھرے ہوتے ہیں جن کے ذریعہ مسلمانوں کو ان کے مذہب سے اور پیغمبر محترم ﷺ سے بیگانہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی طرح جو کتب تکنیکی مواد پر مشتمل ہوں، ان کے سلسلہ میں بھی یہ احتیاط رکھیں کہ وہ متعلقہ ممالک سے درآمد شدہ نہ ہوں تا کہ ان کے مالی منافع ان تک نہ پہنچیں۔

یورپی ممالک سے دوستی اور تعلقات کے نتیجہ میں اٹھا چکے ہیں۔ یہ نقصانات مالی بھی ہیں اور سیاسی بھی عرب ممالک خاص طور پر ان کا شکار ہو چکے ہیں۔

ماہرین بلا رکھے ہیں یا ان کی خدمات حاصل کرتے ہیں ایسے لوگوں کو احتیاط رکھنی چاہیے کہ وہ متعلقہ ممالک کے باشندوں کو اپنے ہاں ملازم نہ رکھیں اور نہ ہی ان کی خدمات حاصل کریں۔

موجودہ تکلیف دہ صورتحال میں بھی دونوں قومیں شریک ہیں۔ یہود و نصاریٰ کے اس گٹھ جوڑ کو زیادہ سے زیادہ عوام کے سامنے لانا چاہیے۔ تا کہ دشمن کے مقابلے میں مسلم امہ میں باہمی اتحاد کا جذبہ پیدا ہو۔

صفحہ 239

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہمیں عوام کو بتانا چاہیے کہ متعلقہ ممالک میں کئی ایک مثلاً امریکہ، برطانیہ، فرانس وغیرہ نے اپنی فوجیں جزیرہ عرب کے مختلف خطوں میں تعینات کر رکھی ہیں۔ جس کی وجہ سے مسلم امہ کے مقدس مقامات اور مراکز ہمہ وقت خطرات سے دوچار رہتے ہیں۔ ایسے ممالک اور قوموں سے قطع تعلق کرنا انتہائی اشد ضروری ہے۔

تعلق اور ان کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چلائیں۔ اپنے دوست احباب کو ایسے پیغامات ارسال کریں جن میں اس مبارک تحریک میں شمولیت کی ترغیب دی گئی ہو۔ اگر اس سلسلہ میں با قاعدہ ویب سائٹس بنائی جائیں اور منظم اور سنجیدہ طریقے سے ان کے ذریعہ مہم جاری رکھی جائے تو یہ بہت زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔ ان ویب سائٹس میں ایسا مواد جاری کیا جائے جن میں ان ممالک کی اسلام دشمنی، رسول کریم ﷺ کی شان میں گستاخی، مسلمانوں کی مظلومیت اور یورپی ممالک کی مصنوعات کے بائیکاٹ کے دینی و دنیاوی ثمرات و فوائد سے آگاہ کیا گیا ہو۔ اب تک جو عربی اور انگریزی ویب سائٹس بائیکاٹ کے حوالے سے کام کر رہی ہیں انہیں بھی زیادہ سے زیادہ متعارف کروایا جائے۔

سلسلہ میں بھر پور کردار ادا کرنے کی تاکید کریں اور اس تحریک میں شمولیت کی ترغیب دیں۔ نیز مفتیان کرام اس بابت شرعی فتاویٰ جاری فرمائیں۔

کی طرح اس بارے میں بھی ان کی قیادت و رہنمائی کریں اور خود بھی اس میں شمولیت اختیار فرمائیں۔

میں متعلقہ ممالک سے بائیکاٹ کے بعد ان کی معیشت اور اقتصاد پر پڑنے والے مالی نقصانات بتائے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر عوام کو بتایا جائے کہ عرب ممالک کی طرف سے

صفحہ ۲۴۰

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں، کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

بائیکاٹ تحریک شروع ہونے کے صرف چار دن تک ڈنمارک کو ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ تاکہ عوام میں یہ مہم جاری رکھنے اور اسے آگے بڑھانے کا حوصلہ پروان چڑھے۔

خبریں قوم تک پہنچائیں جن میں بائیکاٹ تحریک کے تازہ ترین واقعات اور حالات درج ہوں۔ مثال کے طور پر عوام کو بتایا جائے کہ آج سعودی عرب میں ڈنمارک کی کمپنیوں نے اپنے پلانٹ بند کر دیئے ۔ آج ناروے کی فلاں کمپنی عوامی غیظ و غضب کا نشانہ بنی وغیرہ وغیرہ۔

عوام الناس کو اس تحریک میں شمولیت کی ترغیب دی جائے اور انہیں اس کے فوائد سے آگاہ کیا جائے۔ ان بینروں اور اشتہارات پر ایسے موثر اور جاندار جملے اور نعرے تحریر کیے جائیں جو بینر پڑھنے والے کے دل کو جھنجھوڑ ڈالیں اور اسے خواب غفلت سے بیدار ہونے پر مجبور کردیں۔ مثال کے طور پر مسلمانوں کو اس ذریعہ سے آگاہ کیا جائے کہ آپ کا جو مال ان ممالک تک پہنچتا ہے وہ آپ ہی کے مفادات کے خلاف اور آپ کے دین کے خلاف سازشوں میں خرچ کیا جاتا ہے۔ ایسے پمفلٹ بھی زیادہ سے زیادہ تقسیم کیے جائیں جن میں یہ ترغیب دی جائے اور ساتھ ساتھ عوام الناس کو متعلقہ ممالک کی مصنوعات کی متبادل اشیاء سے بھی آگاہ کیا جائے تاکہ وہ اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ اس تحریک میں شامل ہو سکیں۔

جاتی ہیں ان میں حلال حرام کی تمیز نہیں رکھی جاتی بلکہ حد تو یہ ہے کہ ایسی بہت سی چیزیں تیار کرتے وقت یہ ممالک انسانی صحت کے تقاضوں اور طبی اصولوں کا بھی لحاظ نہیں رکھتے مثال کے طور پر ڈنمارک کی طرف سے عرب ممالک کو مکھن سپلائی کیا جاتا رہا۔ اس کے بارے میں تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ اس میں کیمیاوی اجزاء شامل تھے جن کی وجہ سے کئی انسانی جانوں کو شدید نقصان پہنچا۔

صفحہ 241

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

کے ذریعہ موثر طریقے سے حکومت وقت تک یہ پیغام پہنچائیں کہ جب تک حکومت ایسے ممالک کا بائیکاٹ نہیں کرتی وہ اس کے ساتھ مخلصانہ تعاون اور جدوجہد جاری رکھنے سے معذور ہیں تاکہ حکام کے دلوں میں احساس پیدا ہو کہ وہ متعلقہ ممالک سے تعلقات جاری رکھ کر خود اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارنے کی غلطی کر رہے ہیں۔

آپ ﷺ سے وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے متعلقہ ممالک سے فی الفور ہر طرح کا ناطہ توڑ لیں۔ ان ممالک سے سفارتی تعلقات ختم کر دیئے جائیں۔ تجارتی تعلقات ختم کر دیئے جائیں۔ تجارتی معاہدے منسوخ کر دیئے جائیں۔ ان ممالک کے سرکاری دورے بند کر دیئے جائیں اور ہر سطح ہر فورم پر ان ممالک تک یہ پیغام پہنچایا جائے کہ جب تک وہ اس بھیانک جرم کے مرتکب افراد کو کیفر کردار تک نہیں پہنچاتے ، اس وقت تک مسلم ممالک اور ان کی حکومتیں ان کے ساتھ کسی بھی طرح کا تعلق اور دوستانہ قائم رکھنے کے روادار نہیں ہیں۔ اگر 57 اسلامی ممالک کے ارباب اقتدار مشترکہ طور پر یہ راستہ اپنائیں اور جرأت و ہوشمندی کا مظاہرہ کریں تو کچھ بعید نہیں ہے کہ ان کی مدد اور تعاون کے سہارے چین کی زندگی بسر کرنے والے مغربی حکمرانوں کی عقلیں ٹھکانے آجائیں۔ ان کے دماغوں کا فتور کافور ہو جائے اور وہ ہوش کے ناخن لیں۔

آپ خواہ زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اس لائحہ عمل کو اپنا کر اپنے لئے دنیا و آخرت کی سعادتوں کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ یہ نہ سمجھئے کہ صرف آپ کے اس تحریک میں شامل ہو جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کیونکہ قطرہ قطرہ مل کر ہی دریا بنتا ہے۔ اور یہ بھی نہ کہیے کہ ان مصنوعات کے بغیر ہمارا گزارہ نہیں، کیونکہ ایسا کہہ کر گویا کہ آپ اپنے آپ کو رسول کریم ﷺ کی ذات عالی پر ترجیح دے رہے ہیں۔ پس غفلت نہ کیجئے ہوش و خرد کا ثبوت دیجئے اور

صفحہ ۲۴۲

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

ایمان جرأت اور اسلامی غیرت کا اظہار کیجیے۔ پھر بھی خدانخواستہ آپ کچھ نہیں کرسکتے تو خدارا کم از کم اتنا تو کیجئے کہ مقاطعہ (بائیکاٹ) کی اس مہم کے ساتھ خیر خواہانہ رویہ اپنائیے اور اس کی کامیابی کے لئے دعا گو رہیے۔

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

ہمارے

بالآخر اسے 11 نومبر 05 ایک عدالت نے جو اس کے جولی سر نکالے تھے۔ اسے ایک نامور تاریخ دا دوران دنیا کے سب سے بڑے انسان کہیں آشوٹز (Auchwitz) کے گیس دلیل کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس مہم پچھلی سیٹ پر مرے تھے۔ دنیا بھر میں ہے اور جرأت کی بات یہ ہے کہ جملہ تعداد میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے افسانے گھڑتے ہیں اور دنیا کے دیگر یہ شخص ڈیوڈ ارونگ ہے سنائی ہے۔ 20 فروری 2006ء کو نہ ہی یہ بتایا کہ وہ سچا ہے یا جھوٹا ساتھ موجود تھا اور سامنے صرف ی پرست نفرت پھیلانے والا شخص ہے یہ ارونگ کے لیے پر 1992ء میں جرمنی کے ایک جج

صفحہ ۲۴۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

ہمارے مجرم، ہمارے حوالے

اوریا مقبول جان

بالآخر اسے 11 نومبر 2005ء کو گرفتار کر لیا گیا۔ یوں تو وہ برطانیہ کا شہری ہے لیکن آسٹریا کی ایک عدالت نے جو اس کے جنوبی صوبے کے ایک شہر میں واقع ہے۔ 1989ء میں اس کے وارنٹ نکالے تھے۔ اسے ایک نامور تاریخ دان کی حیثیت سے وہاں بلایا گیا جہاں اس نے دو تقریروں کے دوران دنیا کے سب سے بڑے افسانے کے طور پر یہودیوں کے قتل عام کو پیش کیا۔ اس نے کہا کہ مجھے کہیں آشوٹز (Auschwitz) کے گیس چیمبر کے بارے میں کوئی شواہد نہیں مل سکے۔ اس نے کہا کہ میں دلیل کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس گیس چیمبر میں اتنے بھی لوگ نہیں مرے جتنے ایڈورڈ کینڈی کی کار کی پچھلی سیٹ پر مرے تھے۔ دنیا بھر میں اس گیس چیمبر والے کیمپ سے بچ نکلنے والوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے اور جرأت کی بات یہ ہے کہ جوں جوں وقت گزرتا ہے نئی کہانیوں اور نئے افسانوں کے ساتھ ان کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ میں ایسے لوگوں کی جو یہودی قتل عام کے افسانے گھڑتے ہیں اور دنیا کے دیگر جھوٹوں کی تنظیم بناؤں جنہوں نے پوری دنیا کو بے وقوف بنا رکھا ہے۔

یہ شخص ڈیوڈ ارونگ ہے جسے اس عدالت نے نفرت پھیلانے کے جرم میں تین سال کی سزا سنائی ہے۔ 20 فروری 2006ء کو اپنے فیصلے میں عدالت نے نہ تو اس کی تحقیق کی سچائی پر کوئی بحث کی اور نہ ہی یہ بتایا کہ وہ سچا ہے یا جھوٹا ہے کیونکہ ایسا کرنا عدالت کے لیے ناممکن تھا۔ ارونگ دلائل و شواہد کے ساتھ موجود تھا اور سامنے صرف یہودی میڈیا میں پھیلا ہوا پروپیگنڈہ تھا۔ اس نے یہی کہا کہ یہ ایک نسل پرست نفرت پھیلانے والا شخص ہے اور یہ ہمارے قانون میں جرم ہے۔

یہ ارونگ کے لیے پہلا مقدمہ نہیں تھا اور نہ ہی یہ پہلا ملک تھا جہاں اسے سزا سنائی گئی ہو۔ 1992ء میں جرمنی کے ایک جج نے اسے چھ ہزار ڈالر جرمانہ کر دیا جس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ بحث کے

صفحہ ۲۴۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں دوران اس بات پر ڈٹا ہوا تھا کہ نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کی ہلاکت ایک من گھڑت کہانی ہے۔ اس نے امریکا میں اپنے خلاف لکھے ہوئے ڈیبرا لپ سٹیڈیٹ کے مضمون کے خلاف مقدمہ کر دیا۔ جج چارلس گرے نے وہاں پر بھی تاریخ کے شواہد پر کوئی بحث نہ کی۔ صرف دو لفظ دہرائے گئے کہ ”وہ یہودیوں کے قتل عام کا منکر اور نفرت پھیلانے والا ہے۔“ اور اس کا مقدمہ خارج کر دیا گیا۔ اس نے سارے معاملے پر تیس سے زیادہ کتابیں تحریر کیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کی کتابیں پہلے دن دکانوں سے خریدی جاتیں۔ یوں وہ دنیا میں زیادہ بکنے والا مورخ مشہور ہو گیا لیکن اس کی کتابیں سوائے اس کے کسی کو میسر نہ آئیں۔ اس نے اس معاملے کو اپنی تحریروں میں اٹھایا کہ پریس اور آزادی اظہار کے سب سے بڑے دشمن خود یہودی ہیں لیکن جیسے ہی انٹرنیٹ وجود میں آیا اس کے خیالات اور اس کی تحریریں منظر عام پر آگئیں اور دنیا بھر کے یہودی اس شخص کو سزا دلوانے اور اس حرکت کا مزا چکھانے کے لیے سرگرم عمل ہو گئے اور آج وہ آسٹریا کی ایک جیل میں نفرت پھیلانے کے جرم میں سزا بھگت رہا ہے۔

ارونگ اکیلا نہیں ہے۔ دنیا میں بہت سے ایسے ہیں جو اس جرم کی سزا بھگت رہے ہیں کہ انہوں نے یہودیوں کے اس جھوٹ کا پول کھولنے کی کوشش کی۔ گذشتہ پچاس سال سے دنیا بھر کے میڈیا، کتابیں، اخبارات، رسائل صرف ایک ہی کہانی بیان کرتے آئے ہیں کہ جنگ عظیم دوم میں جرمن افواج نے 60 لاکھ یہودیوں کا قتل عام کیا۔ اسے ہر نصاب کی کتاب اور تاریخ کے مآخذ میں ایسے درج کر دیا گیا ہے کہ اسے کھرچنا مشکل ہے۔ واشنگٹن شہر کے بیچوں بیچ ایک عجائب گھر بنا دیا گیا کہ لوگوں کے لیے ایک دستاویز موجود ہو۔ تمام ملک کے سکولوں کے بچے اسکا وزٹ کرتے ہیں یا اس میوزیم کی فلمیں انہیں اسکولوں میں دکھائی جاتی ہیں۔ یہ پروپیگنڈہ اتنا شدید ہے کہ اس جھوٹ کو سچ سمجھنے والوں میں دنیا کے بڑے بڑے لیڈروں کے ساتھ مسلمانوں کے رہنما بھی شامل ہیں۔ مہاتیر محمد جیسے مغرب سے نفرت کرنے والے نے بھی یہودیوں کے اس قتل عام کے بعد ان کے ابھرنے کو مثال کے طور پر پیش کیا۔

سالوں سے اس جھوٹ پر سے پردہ اٹھانے والے قید، سزاؤں، بدنامیوں، قتل کے حملوں اور پولیس کے تشدد کا شکار ہیں۔ کسی مملکت کے شہری ہوں۔۔۔۔ اس سے کوئی غرض نہیں۔ کسی بھی ملک کا یہودی ایک درخواست سے ان کے خلاف مقدمہ کر سکتا ہے کہ اس نے نفرت پھیلائی ہے۔ یہودیوں کے

صفحہ ۲۳۵

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

خلاف لوگوں کو اُبھارا ہے اور پھر دنیا میں آزادی کا علمبردار برطانیہ اپنا شہری ڈیوڈ ارونگ ان کے حوالے کر دیتا ہے۔ عالمی طاقت امریکا اپنے ملک میں کینیڈا سے آئے ہوئے شخص ارنسٹ زینڈل کو جرمن عدالت کے سپرد کر دیتی ہے اور سب سے اہم یہ کہ اسرائیل میں ان لوگوں کی فہرست مرتب کی جا رہی ہے کہ ایک دن ان کو وہاں کی عدالتوں میں بھی گھسیٹا جائے گا۔

یہ سب میں نے اس لیے بیان کیا کہ امت مسلمہ جس شخصیت سے عشق کرتی ہے، اپنی جان، مال، عزت، آبرو، ماں باپ، بیوی بچے سب قربان کرنے کو تیار ہو جاتی ہے، اس کے بارے میں توہین آمیز کارٹون چھاپنے والوں کو وہاں کی عدالتوں میں کون گھسیٹے گا؟ ہاں ! ایک بات طے ہے کہ 57 مسلم ممالک میں جہاں جہاں انٹرنیٹ پر یہ کارٹون دیکھے گئے سب جگہ ایک مقدمہ درج ہو نفرت پھیلانے کا، اور پھر پوری مسلم امہ اسی طرح اپنے مجرم مانگے جیسے آسٹریا اور جرمنی کے یہودیوں نے مانگے تھے۔ وہ حکومتیں جو آج صرف معاشی بائیکاٹ سے اتنی خوفزدہ ہو چکی ہیں، جن کی معیشت تباہ و برباد ہونے کو آ رہی ہے، صرف اُمت مسلمہ کی سید الانبیاء ﷺ سے محبت کی وجہ سے ان کی توہین کے مجرموں کو سزا دو یہ وہ راستہ ہے جو دنیا بھر میں ثابت کر سکتا ہے کہ سوا ارب لوگ جب اکٹھے ہوں تو اس طوفان کا مقابلہ کتنا مشکل ہوتا ہے؟ یہ گھڑی ہے جب نیل سے تا بخاک کاشغر مسلمانوں کے ایک ہونے کا وقت آ پہنچا ہے۔

صفحہ ۲۴۶

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

معاشی بائیکاٹ ہی اصل حل ہے

مفتی محمد تقی عثمانی

آپ جانتے ہیں کہ اس وقت یہ اجتماع ان درندوں کی دریدہ دہنی کے خلاف اپنے جذبات کے اظہار اور احتجاج کے لیے منعقد ہوا ہے جو ان باطل اور ناپاک سرشت انسانوں نے حضورﷺ کی شان میں کی ہے لیکن ان کی اس گستاخی کے جواب میں یہ اللہ رب العزت کا فضل و کرم ہے کہ پورے عالم اسلام، ساری دنیا کی زبان پر ایک ہی آواز ہے اور وہ ہے جناب محمد رسول اللہﷺ کی ناموس کا تحفظ۔

الحمدللہ اس عظیم نام نے پوری امت کو ایک ہی مقصد پر متحد کر دیا ہے۔ یہ کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں یہ کسی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں یہ کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں، یہ پوری ملت اسلامیہ کا مسئلہ ہے اور الحمدللہ مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک پوری اسلامی دنیا اس کے خلاف سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے۔ آج ہمیں نبی کریمﷺ کی ناموس کے تحفظ کے لیے اور آپ کی ناموس پر ناپاک حملے کرنے والوں کے خلاف کیا کرنا ہے؟ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ سرکار دو عالمﷺ کی شان میں ادنیٰ گستاخی کا اصل علاج وہی ہے جو غازی علم دین شہید رحمہ اللہ نے کیا تھا یعنی وہ زبان جو نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کے لئے اٹھے وہ اس قابل ہے کہ نکال دی جائے۔ وہ قلم اور ہاتھ جو سرور دو عالمﷺ کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہوئے وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ قطع کر دیے جائیں۔ اور غازی علم دین شہید رحمہ اللہ نے اپنے عمل سے اس بات کو کر کے دکھایا ہے۔ جو اس گستاخی کا اصل علاج تھا۔ لیکن آج جبکہ ہم ان گستاخوں سے دور بیٹھے ہیں تو کم از کم ہمیں اس احتجاج کے اندر اس بات کا عہد اور اقرار کرنا چاہیے کہ جن ناپاک زبانوں اور ناپاک ہاتھوں نے سرکار دو عالمﷺ کی ناموس پر حملے کیے ہیں ان کی بنائی ہوئی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ اگر کوئی شخص سرکار دو عالمﷺ کی محبت کا ادنیٰ حصہ بھی اپنے دل میں رکھتا ہے وہ اگر ان

صفحہ ۲۴۷

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں ناپاک لوگوں کی بنائی ہوئی اشیا کو استعمال کرتا ہے تو یہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے دین کے ساتھ، آپ ﷺ کی امت کے ساتھ غداری کے مترادف ہوگا۔ لہٰذا میں اس عظیم اجتماع سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ آج ہم یہ عہد لے کر اٹھیں کہ جن لوگوں نے سرکار دوعالم ﷺ کی شان میں گستاخی کی اور جن حکومتوں نے ان کی پشت پناہی کی ہے اور ان کا دفاع کیا ہے ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔

یاد رکھیے کہ یہ لوگ آزادی صحافت کی آڑ لے کر اور اس کا بہانہ بنا کر اس گستاخی کا ارتکاب کرنے والوں کو اس لیے نہیں روک سکتے کہ ہمارے ہاں اظہار رائے کی آزادی ہے۔ یہ اظہار رائے کی آزادی کا بہانہ، یہ مبہم الفاظ...... ان کا مطلب صرف یہ ہے کہ جو ہمارے مفاد کے موافق ہو اس کو قبول کریں گے اور جو ہمارے مفاد کے خلاف ہو اس کو رد کریں گے۔ لہٰذا میرے بھائیو! یہ قوم صرف باتوں سے ماننے والی نہیں ہے یہ جوتے کی آشنا قوم ہے۔ جب تک کوئی ان پر جوتے نہیں پھیرے گا۔ اس وقت تک یہ قابو میں نہیں آئیں گے۔ آج اگر ہم سے کوئی کہے کہ آؤ ڈنمارک پر چڑھائی کرتے ہیں تو یہ ہمارے اختیار سے فی الحال باہر ہے۔ یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ جب اللہ پاک اس بات کا موقع عطا فرمادے تو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں....... لیکن اس وقت ایک چیز جو مسلمان کے اختیار میں ہے، ہر تاجر کے اختیار میں ہے، وہ یہ ہے کہ ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ ہر شخص بتائے کیا وہ یورپ کی مصنوعات کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا؟ کیا تمہارے نزدیک نبی کریم ﷺ کی ناموس زیادہ عزیز ہے یا ڈنمارک کا مکھن زیادہ عزیز ہے؟ اگر سرکار دوعالم ﷺ کے نام پر ہمیں فاقے بھی کرنے پڑ جائیں پیٹ پر پتھر بھی باندھنے پڑ جائیں تو ایک مسلمان کے لیے یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ اگر آج ہم میں سے ہر شخص یہ تہیہ کر لے کہ ان کی مصنوعات نہ خریدیں گے اور نہ بیچیں گے اور نہ ہی استعمال کریں گے تو یہ دنیا پرست اور مال کے پجاری گھٹنے ٹیک دیں گے۔

یاد رکھیے! اس بائیکاٹ سے ان کو دن میں تارے نظر آ جائیں گے۔ ہم نے بین الاقوامی سطح پر اس مسئلہ کو اٹھانے کے لیے ”او آئی سی“ کے ذریعے اس بات کی کوشش کی ہے اور ان شاء اللہ وہ کوشش اللہ کی رحمت سے کامیاب ہوگی۔ یہ قانون بنایا جائے کہ بین الاقوامی طور پر کوئی بھی شخص نہ صرف نبی کریم ﷺ کی بلکہ تمام انبیاء کرام میں سے کسی کی بھی شان میں کوئی ادنیٰ گستاخی کا مرتکب ہو وہ سخت ترین سزا کا

صفحہ 248

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

مستوجب ہوگا اور یہ قانون الحمد للہ بنانا شروع کر دیا گیا ہے۔ لیکن یہ قانون اسی وقت کامیاب ہوسکتا ہے اور ہم اس کے نفاذ میں اس وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جبکہ عوام کی طرف سے یہ پریشر، دباؤ اور احتجاج برقرار رہے، لہذا جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ کیوں بار بار احتجاج کر رہے ہیں؟ بار بار کیوں جلسے منعقد کر رہے ہیں؟ تو یہ کہنے والے درحقیقت اس تحریک کو دبانا چاہتے ہیں لیکن اگر یہ تحریک جاری نہ رہی اور مسلمانوں کی طرف سے یہ دباؤ برقرار نہ رہا تو بین الاقوامی سطح پر ہونے والی وہ کوششیں بھی کامیاب نہیں ہوسکتیں جو اس وقت ہو رہی ہیں۔ لہذا میری آپ حضرات سے اس وقت تین گزارشات ہیں:

بائیکاٹ کریں گے۔

جاتا اس وقت تک ہماری یہ تحریک جاری رہے گی۔

گناہ کی جان، مسلمان کی آبرو پر حملہ نہیں ہونا چاہیے۔ سرکار دو عالمﷺ کا ارشاد ہے کہ مومن کی جان و مال اور آبرو، کعبہ سے زیادہ حرمت رکھتی ہے لہذا ہمیں جس طرح حضور اکرمﷺ سے محبت کا حق ادا کرنا ہے اسی طرح ہر انسان کا بھی حق ادا کرنا ہے۔ ہماری تحریک یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ ایک منظم اور مرتب تحریک ہے اور اس میں کسی بے گناہ کی جان و مال و آبرو پر کوئی حملہ نہیں ہوگا۔

یاد رکھیے! اس قسم کی تحریکوں میں ہمیشہ کچھ شر پسند عناصر ہاتھ دکھا جاتے ہیں اور اس کو بدنام کرنے کے لیے اور اس کو غلط رخ پر ڈالنے کے لیے ایسے اقدامات کرتے ہیں جن سے وہ تحریک ناکام ہو۔ ایسے اقدامات سے ہمیشہ خبردار رہیں اور اپنی اس تحریک کو منظم اور پرامن طور پر سرکار دو عالمﷺ کی تعلیمات کے مطابق اس وقت تک جاری رکھیں جب تک یہ مجرم کیفر کردار تک نہیں پہنچ جاتے۔

صفحہ 239

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

ایسا کیوں ہوا؟

٭ یاسر محمد خان

فرڈی نینڈ مارکوس فلپائن کا صدر تھا۔ وہ 30 دسمبر 1965ء سے 30 جون 1986ء تک فلپائن کا صدر رہا۔ وہ ایک آمرانہ سوچ کا حامل شخص تھا۔ اس نے ملک کی ساری طاقتیں اور سارے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ اس نے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ تمام اپوزیشن لیڈروں اور اخبار نویسوں کو گرفتار کر لیا، میڈیا پر سنسر شپ لگا دی۔ اس نے نیا آئین نافذ کیا اور تمام اختیارات اپنی بیوی کو دے دیے۔ اس نے اپوزیشن لیڈر بننگو اکینو کو ہوائی کی سیڑھیوں پر گولی مروا دی۔ وہ بے انتہا کرپٹ انسان بھی تھا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے فلپائن کو لوٹا، اس نے ٹھیکوں سے کمیشن لی، اور سرکاری خزانہ دونوں ہاتھوں سے لوٹا، امریکا اس سارے معاملے میں مارکوس کا ساتھی تھا۔ اس کی دو وجوہ تھیں ایک: ان دنوں فلپائن میں کمیونسٹ پارٹی بہت سرگرم تھی اور امریکا کا خیال تھا کہ اس نے اگر مارکوس سے تعاون نہ کیا تو کمیونسٹ اقتدار میں آجائیں گے۔ جس کے نتیجے میں مشرق بعید کا ایک اہم ملک ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ دوسرا: امریکا نے 1892ء سے فلپائن میں فوجی اڈے قائم کر رکھے تھے۔ یہ اڈے 99 سال کی لیز پر تھے۔ امریکا کا خیال تھا کہ اگر 1991ء تک فلپائن میں ان کی حامی حکومت ہوئی تو ان کی لیز میں اضافہ ہو سکتا ہے، ورنہ انہیں فلپائن چھوڑنا پڑے گا۔ مارکوس ایک ایسا شخص تھا جو ان دونوں معاملات میں امریکا کی مدد کر سکتا تھا چنانچہ امریکا نے مارکوس کے ساتھ اندھا تعاون کرنا شروع کر دیا۔ مارکوس نے اس تعاون کا بھر پور فائدہ اٹھایا اور وہ چند برسوں میں فلپائن کا خدا بن گیا لیکن پھر قدرت کی طاقتیں اس کے خلاف متحرک ہوگئیں۔ لوگوں کے دلوں میں اس کی نفرت بیدار ہوئی۔ اپوزیشن جماعتوں نے اتحاد بنایا۔ فوج نے اپوزیشن کی مدد کرنا شروع کی اور فلپائن میں مارکوس کے اقتدار کی بساط لپیٹی جانے لگی۔ 7 فروری 1986ء کو مارکوس نے الیکشن کرائے جس میں اس نے بھر پور دھاندلی کرائی۔ الیکشن کمیشن نے اسے کامیاب قرار دے دیا.... لیکن اپوزیشن نے ان نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ عوام سڑکوں

صفحہ ۲۵۰

توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

پر آئے جس سے متاثر ہو کر فوج کے سربراہ جنرل راموس نے مارکوس کے خلاف بغاوت کر دی۔ وہ اور اپوزیشن ایک جگہ جمع ہوئے۔ مارکوس اکیلا ہو گیا چنانچہ وہ ستمبر 1986 کو ہوائی فرار ہو گیا۔ وہ اپنے ساتھ 86 کروڑ 8 لاکھ ڈالر بھی لے گیا۔

مارکوس کے فرار ہونے کے بعد فلپائن کے لوگوں نے امریکا سے احتجاج کرنا شروع کر دیا۔ یہ احتجاج بہت دلچسپ تھا۔ فلپائن کا جو بھی شہری منیلا میں امریکی سفارت خانے کے قریب پہنچتا وہ چند سیکنڈ کے لیے امریکی سفارت خانے کے گیٹ پر رکتا، اپنی گاڑی کا رخ گیٹ کی طرف کرتا، زور سے ہارن بجاتا اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہو جاتا۔ منیلا کے ہر شہری نے اسے اپنی عادت بنالیا۔ احتجاج کے اس طریقے کے موجد منیلا یونیورسٹی کے چند طالب علم تھے۔ ان طالب علموں نے اخبارات میں اشتہار دیا جس میں انہوں نے عوام سے درخواست کی کہ آپ لوگ فلاں تاریخ کو فلاں وقت اپنی اپنی گاڑیاں لے کر امریکی سفارت خانے کے سامنے پہنچ جائیں ہم سب مل کر امریکی حکومت سے احتجاج کریں گے۔ اس اشتہار کے جواب میں فقط دو اڑھائی سو لوگ پہنچے۔ یہ سب لوگ آدھ گھنٹہ تک ہارن بجاتے رہے۔ ہارن کے ذریعے اس دلچسپ احتجاج کی خبر اگلے روز اخبارات میں شائع ہوئی تو منیلا کے لوگوں کو یہ طریقہ دلچسپ لگا چنانچہ اگلے دن جو بھی شہری امریکن ایمبیسی کی طرف جاتا وہ چند سیکنڈ کے لیے گیٹ کے سامنے رکتا، ہارن بجاتا اور آگے روانہ ہو جاتا۔ آگے چل کر فلپائن کے زیادہ تر لوگوں نے امریکی سفارت خانے کے سامنے ہارن بجانا اپنا معمول بنالیا۔ منیلا کے ایک اخبار کی تحقیق کے مطابق امریکن ایمبیسی کے سامنے روزانہ ایک لاکھ گاڑیاں ہارن بجاتی تھیں اور روزانہ مجموعی طور پر اڑھائی لاکھ سیکنڈ ہارن بجتا تھا۔

اس احتجاج کا شدید نفسیاتی ردعمل ہوا، امریکی سفارت خانے میں کام کرنے والا عملہ بیمار ہو گیا۔ امریکہ کے پانچ بڑے سفارت کاروں نے استعفیٰ دے دیا۔ لوکل لوگوں نے کام بند کر دیا اور امریکہ کے اندر لوگ امریکی وزارت خارجہ پر ہنسنے لگے۔ امریکہ نے آنے والے دنوں میں اس احتجاج کو بڑی سنجیدگی سے لیا۔ امریکا نے 1986 میں دو اعلان کیے۔ ایک حکومت مارکوس کی حمایت سے انکار کر دیا۔ یہ انکار اس قدر پکا تھا کہ اس کے بعد امریکا نے مارکوس کو ہوائی کے دارالحکومت ہونولولو سے باہر نہیں جانے دیا۔ اس کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی۔ مارکوس اسی پابندی کے عالم میں 28 ستمبر 1989 کو ہونولولو میں انتقال

صفحہ 251

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

کر گیا۔ دوسرا: امریکا نے فلپائن قوم سے اپنی سابقہ غلطیوں پر معافی مانگ لی۔

16 ستمبر 1991 کو فلپائن کے سینٹ نے امریکی اڈوں کی لیز میں اضافے کی درخواست مسترد کر دی۔ یہ امریکا کے لیے ایک بہت بڑا جھٹکا تھا لیکن امریکی حکومت یہ جھٹکا بھی چپ چاپ سہ گئی کیونکہ وہ فلپائنی عوام کے احتجاج کی شدت سے واقف تھی۔ امریکا نے 27 اکتوبر کو اپنے اڈے فلپائن حکومت کے حوالے کیے اور اپنی فضائیہ واپس بلالی۔ تاریخ اس سارے آپریشن کا کریڈٹ فلپائن کے ان لوگوں کو دیتی ہے جنہوں نے ہارن کے ذریعے امریکی حکومت کو یہ باور کرا دیا کہ جب کوئی قوم کسی دوسری قوم سے نفرت کرتی ہے تو ہارن بجا بجا کر بھی دوسری قوم کو پسپائی پر مجبور کر دیتی ہے۔

یہ احتجاج کا ایک شاندار طریقہ تھا اسے اب تک چار اقوام اپنا چکی ہیں اور چاروں اقوام نے اس سے یکساں فوائد حاصل کیے ہیں احتجاج کا ایک اور دلچسپ طریقہ میں نے ساؤتھ افریقہ کے کسی جریدے میں پڑھا تھا اس جریدے میں کسی سائنس دان نے انکشاف کیا کہ امریکی سنڈی کی ترکیب ایک جاپانی سائنس دان نے امریکی قوم کا مذاق اڑانے کے لئے وضع کی تھی۔ یہ سنڈی بنیادی طور پر پودوں کا ایک کیڑا ہے یہ کیڑا گرم مرطوب علاقوں کی فصلوں کو لگ جاتا ہے۔ یہ کیڑا ایک بار لگنے کے بعد پودے کی جان نہیں چھوڑتا۔ یہ کیڑا جب پودے کے تنے کو اپنی گرفت میں لیتا ہے تو اس کے بعد اس کا سارا رس چوس جاتا ہے اور اسے سرکنڈا بنا کر چھوڑتا ہے۔ ایک جاپانی سائنس دان نے اس کیڑے کو ”امریکی سنڈی“ کا نام دے دیا۔ اس کے بعد یہ نام پوری دنیا میں مشہور ہو گیا۔ اب تیسری دنیا کے لوگ تمام امریکیوں کو امریکی سنڈی کہتے ہیں۔ احتجاج کا ایک طریقہ ناٹ ویڈ (Knot wed) نام کا ایک پودا بھی تھا یہ ایک جاپانی پودا ہے اسے اس وقت احتجاجی پودا کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ یہ پودا جاپان میں کثرت سے پایا جاتا ہے۔ آج سے ڈیڑھ سو برس پہلے برطانوی فوجی جاپان پہنچے۔ انہوں نے وہاں قبضہ کر لیا اور مقامی آبادی پر ظلم و ستم شروع کر دیئے وہاں اس وقت ایک بانس نما پودا ہوتا تھا۔ یہ پودا دیکھنے میں انتہائی خوبصورت تھا۔ اس دور میں ایک برطانوی خاندان جاپان سے واپس برطانیہ آنے لگا تو جاپان کے ایک مقامی شخص نے اسے یہ پودا تحفے میں دے دیا۔ وہ خاندان برطانیہ آیا اور اس نے اپنے صحن میں یہ پودا لگا دیا۔ یہاں سے برطانیہ کی زراعت کی تباہی شروع ہو گئی۔ یہ دنیا کا ایک ایسا پودا ہے جو ہر قسم کی مٹی

صفحہ 252

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

میں اگ سکتا ہے۔ یہ سڑکوں، چٹانوں، کنکریٹ کی دیواروں اور چھتوں تک پر اگ سکتا ہے۔ اور نہایت تیزی سے پھیلتا ہے اس کے پھولوں پر آنے والے زرد ذرات ہوا کے ذریعے اڑتے ہیں اور یہ ہوا جس جس جگہ سے گزرتی ہے وہاں یہ پودا اگتا چلا جاتا ہے۔ اس پودے کے بارے میں مشہور ہے کہ اگر زمین میں مٹر کے دانے کے برابر بھی اس کی جڑ ہو تو یہ بیس پچیس برس کے بعد دوبارہ اگ آتا ہے۔ یہ پودا جس جگہ لگتا ہے وہاں کے تمام دوسرے پودے گلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ وہاں کی زمین بنجر ہو جاتی ہے۔ 1946ء میں برطانیہ کو اس پودے کی تباہی کا اندازہ ہوا تو گوروں نے اسے جڑوں سے اکھیڑ کر باہر پھینک دیا۔

لیکن جہاں جہاں یہ پودا پھینکا وہاں یہ دوبارہ اگ آیا۔ اس وقت برطانیہ میں نہ صرف اس پودے پر پابندی ہے بلکہ پودا لگانے والے کو دو سال قید بامشقت کی سزا بھی دی جاتی ہے۔ برطانوی حکومت کے تخمینے کے مطابق برطانیہ کو اس پودے سے جان چھڑانے کے لئے ڈیڑھ ارب پاؤنڈ درکار ہیں۔ یہ پودا جاپانیوں کا انتقام یا احتجاج تھا۔ وہ کمزور تھے۔ لہٰذا وہ برطانوی فوجوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے ایک پودے کا تحفہ دے کر برطانیہ سے اس کے ظلم و ستم پر ایسا احتجاج کیا جس کا سلسلہ ڈیڑھ سو سال سے جاری ہے۔

احتجاج کا ایک طریقہ خرید و فروخت بھی ہے۔ اس وقت دنیا کو گلوبل ویلج کہا جاتا ہے۔ یہ حقیقتاً ایک گاؤں ہے جس میں ہر چیز کا ایک وقت میں ایک شخص خریدار بھی ہوتا ہے اور اسی وقت فروخت کنندہ بھی...... یہ حقیقت ہے کہ اس دنیا میں اب کوئی ملک دوسرے ملک کی مدد کے بغیر سلامت نہیں رہ سکتا۔ سب ملک ایک مارکیٹ کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ جس میں ایک ملک دوسرے کو گندم بیچ رہا ہے اور اس کے بدلے میں اس سے تیل خرید رہا ہے اور یہ دونوں مل کر کسی تیسرے ملک سے پانی لے رہے ہیں۔ چنانچہ اس وقت یہ مجبوری احتجاج کا سب بہتر طریقہ ہے۔ اس سلسلے میں ہم چین کی مثال دے سکتے ہیں۔ چین اس وقت سوئیاں بنانے والا دنیا کا واحد ملک ہے۔ آپ کپڑے سینے کی مشینوں سے لے کر سرنج کی سوئیوں اور گھڑیوں میں نصب سوئیوں تک کو لے لیں۔ یہ سب سوئیاں چین میں بنائی جاتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ وہ مخصوص فولاد ہے جس کے ذریعے یہ سوئیاں بنتی ہیں۔ وہ فولاد صرف چین میں دستیاب

صفحہ ۲۵۳

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں ہے ۔ لہذا اگر چین دنیا کی صرف سوئیاں بند کر دے تو دنیا کے 182 ممالک مسائل کا شکار ہو جائیں۔ اسی طرح اس وقت دنیا میں تیل پیدا کرنے والے صرف 11 ممالک ہیں ۔ ان گیارہ ممالک میں 10 اسلامی ممالک ہیں۔ ان ممالک نے عرب اسرائیل جنگ کے دوران یورپ کو تیل کی سپلائی بند کر دی تھی جس کے نتیجے میں پورے یورپ اور پورے امریکا میں ٹریفک بند ہو گئی تھی۔ لوگ پیدل دفتر جاتے تھے اور پیدل گھر آتے تھے۔ تازہ ترین مثال عراق کی ہے 1992 میں امریکا عراق جنگ کے بعد اقوام متحدہ نے عراق پر اقتصادی پابندیاں لگا دیں۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں یورپ کی کمپنیوں نے جان بچانے والی ادویات کی سپلائی بند کر دی۔ جس کے بعد عراق میں صحت کے سنگین مسائل پیدا ہو گئے ۔ اس کے ہسپتال قبرستان کی شکل اختیار کر گئے ۔ آپ احتجاج کی تازہ لہر کو لیں۔ ڈنمارک میں گستاخ خاکوں کی اشاعت کے بعد سعودی عرب اور اس کے بعد متحدہ عرب امارات نے ڈنمارک کی کمپنی ”آرلے“ کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا۔ ”آرلے“ ہر سال 3 ارب ڈالر کی ڈیری مصنوعات عرب ممالک کو فروخت کرتی تھی۔ اس بائیکاٹ کے نتیجے میں یہ کمپنی شدید مالیاتی بحران کا شکار ہو گئی۔ کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر یہ بائیکاٹ جاری رہا تو شاید کمپنی کو اپنے ملازمین کی تعداد نصف کرنا پڑے۔ اس طرح ”ٹیلی نار“ ناروے کی موبائل فون کمپنی ہے۔ یہ کمپنی اس وقت 21 اسلامی ممالک میں کاروبار کر رہی ہے۔ خاکوں کی اشاعت کے بعد اسلامی ممالک میں ٹیلی نار کے دفاتر اور تنصیبات پر حملے شروع ہو گئے لوگوں نے اس کی سروسز بند کر دیں، صرف ایک ماہ میں اس کمپنی کا ریونیو نصف ہو گیا جبکہ اسلامی ممالک میں موجود اس کے نمائندوں نے دھڑا دھڑ چھٹیاں لینا شروع کر دی ہیں۔

ڈنمارک کے گستاخ خاکوں کے بارے میں اطلاعات جب پاکستان پہنچیں تو ہمارے عوام نے بھی ان پر شدید احتجاج کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں نبی اکرم ﷺ کی ذات وہ ذات اقدس ہے جس پر کوئی مسلمان سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ توہین رسالت کے بعد مسلمان کے لیے دو راستے رہ جاتے ہیں۔ وہ غازی بن کر زندہ رہے یا پھر شہید ہو کر ابدی زندگی پا جائے لیکن بدقسمتی سے ہم نے اس احتجاج کے لئے جو طریقہ استعمال کیا وہ خود کشی سے ملتا جلتا ہے ہم نے دشمن پر حملہ کرنے، اسے اپنا موقف سمجھانے یا اسے کوئی نقصان پہنچانے کی بجائے اپنا نقصان شروع کر دیا ہے۔

صفحہ ۲۵۴

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

حکومت کے ایک وزیر نے ایک دن ڈنمارک کی ادویات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا اور اگلے دن حکومت نے اس اعلان کی تردید کر دی۔ ہم نے ڈنمارک اور ناروے کے سفارت خانوں کی حفاظت کے لئے وہاں پولیس تعینات کر دی ہے۔ ہماری انتظامیہ جی جان سے اسلام آباد کے سفارتی علاقے کی حفاظت کر رہی ہے۔ اور ہم لوگ اسی طرح ڈنمارک کے مکھن کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ آپ پاکستان کے کسی فائیو سٹار ہوٹل میں جا کر دیکھ لیں، آپ کو ناشتے میں ڈنمارک کا مکھن ملے گا۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ کیسا احتجاج ہے؟ جن لوگوں کی زندگیاں اس احتجاج سے متاثر ہونی چاہیے تھیں وہ لوگ اطمینان سے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ احتجاج کرنے والوں کی اپنی دکانیں، اپنے گھر اور اپنی گاڑیاں جل رہی ہے ہماری زندگی تعطل اور پریشانی کا شکار ہے۔ یہ غلط ہے ہمیں بنیادی طور پر احتجاج کرنے کا طریقہ نہیں آتا۔ ہمیں چاہیے ہم صرف خرید و فروخت کو احتجاج کا ذریعہ بنائیں۔ ہم گستاخ ممالک کی مصنوعات خریدنا اور انہیں اپنی مصنوعات بیچنا بند کر دیں۔ ہم آج فیصلہ کرلیں کہ ہم ڈنمارک اور ناروے کو ایک قطرہ تیل نہیں دیں گے۔ ہم ناروے اور ڈنمارک کی کسی کمپنی کی کوئی پراڈکٹ نہیں خریدیں گے۔ اس کے بعد ہم ڈنمارک اور ناروے کے کاروباری حریف ممالک سے تجارتی معاہدے کریں۔ ہم ان کے دشمن ممالک سے وہ تمام مصنوعات خریدنا شروع کر دیں جن میں ڈنمارک اور ناروے کو مناپلی حاصل تھی۔ اس کے نتیجے یہ دونوں گستاخ ملک شدید معاشی اور تجارتی بحران کا شکار ہو جائیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک تاجر اپنے والد کو ناراض کر لیتا ہے لیکن وہ گاہک کی ناراضگی برداشت نہیں کرتا۔ ہمیں تجارت کی اس نفسیاتی کمزوری کو اپنے احتجاج کا ذریعہ بنانا چاہیے۔ اس وقت دنیا میں ایک ارب 45 کروڑ مسلمان ہیں یہ تمام مسلمان صابن، ٹوتھ پیسٹ، ہیئر آئل، شیمپو، خوشبو اور ادویات استعمال کرتے ہیں۔ یہ کپڑے اور جوتے بھی پہنتے ہیں، ان میں سے نصف مسلمانوں کے پاس موبائل بھی ہیں، ان میں سے کم از کم تیس چالیس کروڑ مسلمانوں کے پاس گاڑیاں، ٹیلی ویژن، فریج اور مائیکرو ویو اون بھی ہیں۔ یہ ایک ارب 45 کروڑ مسلمان یورپ اور امریکا کے گاہک ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ دنیا کی کوئی قوم کوئی ملک گاہکوں کی اتنی بڑی تعداد کو ناراض نہیں کر سکتا۔ اسی طرح ہمارے پاس تیل ہے اور تیل کو اس وقت وہی حیثیت حاصل ہے جو انسانی بدن میں خون کو حاصل ہے۔ لہذا جس طرح انسانی بدن خون کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا بالکل اس طرح آج

صفحہ ۲۵۵

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

دنیا تیل کے بغیر نہیں چل سکتی چنانچہ اگر ہم نے احتجاج کرنا ہے تو ہم ایک طرف یورپ کا تیل بند کر دیں، اور دوسری طرف اپنے اپنے ملک میں یورپ کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیں۔ یقین کیجئے یورپ اپنی موت آپ مر جائے گا۔ وہ اپنے ہی قدموں میں گر کر دم توڑ جائے گا...... لیکن خدا کے لیے خودکشی بند کر دیں احتجاج وہ کریں جس سے گستاخ ملکوں کو نقصان پہنچے۔ اپنے پاؤں پر ہتھوڑی نہ ماریں، خود کو قتل نہ کریں۔

صفحہ ۲۵۶

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

سوہنے محمد ﷺ کے نام پر

ہمیں مصنوعات کی طرح تہذیب وثقافت کا بھی بائیکاٹ کرنا ہوگا

مفتی ابولبابہ شاہ منصور

مسلمانوں کی نفسیات میں پوشیدہ حب رسول ﷺ کے لافانی جذبے پر کافی کچھ سوچا اور لکھا جاچکا ہے۔ اس عقدے کی گرہ کشائی کی مغربی مفکرین نے بہت کوشش کی ہے لیکن وحی کے علم سے محرومی کے سبب وہ اس راز کو نہیں پاسکے کہ ان کے رنگ میں پوری طرح رنگے اور دنیا داری میں پوری طرح لتھڑے اس ”محمڈن“ کو نبی پاک ﷺ کا نام نامی سنتے ہی اچانک کیا ہوجاتا ہے کہ یہ باطنی تطہیر کے سارے مرحلے ایک جست میں پھلانگ کر کٹر بنیاد پرست، ”مُسلّے“ کا روپ دھار لیتا ہے۔ اور تو اور وہ لوگ جو بظاہر نام ہی کے مسلمان ہوتے ہیں وہ بھی آپے سے باہر ہو کر مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں اور اس طرح کی کوئی بات سنتے ہی ان کے اندر سے چمکتا، حب رسول سے سرشار مسلمان برآمد ہو کر اپنے پر پھیلا کر گناہوں پر سایہ کر لیتا ہے۔ جب مغربی مفکرین کو اس پر حیرت زدہ دیکھتا ہوں تو مجھے ان پر ہنسی اور خود پر فخر آتا ہے کہ الحمدللہ ! میں بھی گنہگار مسلموں میں سے ایک فرد ہوں جس کے پاس ایسا نادر نایاب سرمایہ ہے جو آخری دم تک اور قبر و حشر تک ہمارا سہارا ہے ایسے موقع پر مجھے بخشو چاچا یاد آجاتے ہیں۔

بخشو چاچا کی ڈیوٹی یہ ہوتی تھی کہ وہ نظر رکھیں کہ دوپہر کو سارے بچے سوتے رہیں اور کوئی بھی دھوپ میں باہر نہ نکلے۔ جبکہ بچوں کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ کس طرح چاچا کو چکر دے کر نکل جائیں اور کھیل کود کے مزے لیں یا بیر اور گوندیاں توڑ کر کھائیں۔ چاچا میں کمال یہ تھا کہ وہ نگرانی کرتے کرتے خود بھی اونگھنے لگتے اور کبھی کبھی تو ان کو غافل سمجھ کر جیسے ہی کوئی بچہ بستر چھوڑتا یا اٹھ کر باہر جانے کی کوشش کرتا فوراً ان کی آنکھ کھل جاتی اور بچے کو واپس بستر میں دبکنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔ ہم مدتوں یہ راز حل نہ کر پائے کہ آخر وہ کون سا الارم ہے جو سوتے اونگھتے چاچا کو بروقت خبردار کر دیتا ہے اور کیا وجہ ہے کہ وہ عین

صفحہ ۲۵۷

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

وقت پر چونک کر اٹھ جاتے ہیں اور چوری پکڑ لیتے ہیں۔ بعد میں جب خوابیات، مابعد الطبعیات اور نفسیات پر کچھ پڑھنے کا موقع ملا تو معلوم ہوا کہ انسان کی فکر پر کوئی چیز اتنی مسلط ہو جائے کہ اس کا شعور، تحت الشعور اور لاشعور یکساں طور پر اس کی طرف ہمہ تن متوجہ رہنے کا عادی ہو جائے تو اس کے لیے بیداری اور نیند برابر ہو جاتے ہیں اور اس کے لاشعور میں بجنے والی گھنٹی کو اس کا شعور بروقت سن لیتا ہے۔

مسلمان کے تحت الشعور میں کلمہ پاک کا دوسرا جز ”محمد رسول اللہ“ پڑھتے ہی ذات محمد ﷺ سے ایسا انس و محبت تکوینی طور پر فیڈ ہو جاتا ہے کہ اس کا ظاہر کتنا ہی گندا ہو جائے اس کے باطن میں یہ پاکیزہ اور مبارک روشنی روح کی گہرائیوں میں اتر کر لو دیتی رہتی ہے اور جیسے ہی اس چنگاری کو پھونک ماری جائے یہ شعلہ جوالہ بن کر بھڑک اٹھتی ہے۔ قدرت اللہ شہاب نے اس حقیقت کو بڑے خوبصورت انداز میں سمجھایا ہے۔ ان کے اپنے الفاظ میں ملاحظہ ہو:

”جب میری عمر پانچ یا چھ سال کے قریب تھی تو اس زمانے میں مجھے اسلام اور پیغمبر اسلام کے ساتھ کسی قسم کا کوئی خاص لگاؤ نہ تھا۔ مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے کے باعث میکانکی طور پر کلمہ جانتا تھا اور دینیات کے استاذ کے خوف سے نماز کی سورتیں اور دعائیں طوطے کی طرح رٹ رکھی تھیں۔ آبادی سے دور ایک مخبوط الحواس مجنوں صفت مجذوب نما شخص ویرانے میں بیٹھا رہتا تھا اور ہمہ وقت ”لا الہ الا اللہ“ کی ضربیں لگاتا رہتا تھا۔ میں اور میرا ایک ہم عمر ہندو دوست اکثر اس کے پاس جا کر اس کا منہ چڑایا کرتے اور اس کے ذکر کی نقلیں اتارا کرتے تھے۔ میرا ہندو دوست ”لا الہ الا اللہ“ کے وزن پر مہمل، مضحکہ خیز اور کبھی کبھی فحش قافیے جوڑ کر مذاق بھی اڑایا کرتا تھا۔ مجذوب نے ہمیں بار بار ڈانٹا کہ ہم اللہ کے نام کی بے حرمتی نہ کریں لیکن ہم باز نہ آئے ایک روز ہم دونوں اسی مشغلے میں مصروف تھے کہ ایک شخص ادھر سے نعتیہ اشعار الاپتا ہوا گزرا جس کا ایک مصرع یہ تھا:

محمد نہ ہوتے تو دنیا نہ ہوتی

یہ مصرع سن کر میرا ہندو دوست زور زور سے ہنسنے لگا اور اس نے اسم محمد (ﷺ) کی شان میں کچھ گستاخیاں بھی کیں۔ میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، لپک کر ایک پتھر اٹھایا اور اسے گھما کر ہندو لڑکے کے منہ پر ایسے زور سے مارا کہ اس کے سامنے کا آدھا دانت ٹوٹ گیا۔

صفحہ ۲۵۸

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

یہ حقیقت ہے کہ اس زمانے میں شعوری طور پر اللہ اور رسول اللہ ﷺ دونوں کے ساتھ یکساں بے گانگی تھی۔ پھر لاشعور کی وہ کون سے لہر تھی، جو اللہ کے ساتھ مذاق پر تو خاموش رہتی تھی لیکن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گستاخی پر آناً فاناً جوش میں آگئی تھی؟ یوں بھی عام مشاہدہ یہی ہے کہ اگر کوئی ہمیں گالی دے تو غصہ آتا ہے ہمارے ماں باپ کو گالی دے تو اور زیادہ غصہ آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خلاف زبانِ طعن دراز کرے تو دل کڑھتا ہے اور گالی گلوچ تک نوبت آسکتی ہے۔ لیکن رسول خدا ﷺ کے متعلق بدزبانی کرے تو اکثر لوگ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور کچھ لوگ تو مرنے مارنے کی بازی تک لگا بیٹھتے ہیں۔ اس میں اچھے، نیم اچھے یا برے مسلمان کی بالکل کوئی تخصیص نہیں بلکہ تجربہ تو یہی شاہد ہے کہ جن لوگوں نے ناموس رسول ﷺ پر اپنی جان عزیز کو قربان کر دیا، ظاہری طور پر نہ تو وہ علم وفضل میں نمایاں تھے اور نہ زہد وتقویٰ میں ممتاز تھے۔ ایک عامی مسلمان کا شعور اور لاشعور جس شدت اور دیوانگی کے ساتھ شانِ رسالت کے حق میں مضطرب ہوتا ہے اس کی بنیاد عقیدے سے زیادہ عقیدت پر مبنی ہے۔ خواص میں یہ عقیدت ایک جذبہ اور عوام میں ایک جنون کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔ یہ جذبہ یا جنون نہ تو کسی منظم تحریک کی پیداوار ہے اور نہ ہی کسی خاص برین واشنگ کا نتیجہ ہے۔ اس کے برعکس یہ تو ایک خودکار تخلیقی عمل کی طرح جنم لے کر فطرت انسانی کے ایسے نہاں خانوں میں پوشیدہ رہتا ہے جس کا بسا اوقات ہمیں خود بھی علم نہیں ہوتا۔ زیادہ نیک لوگوں میں عقیدت رسول ﷺ کی حدت پائی جاتی ہے اور نسبتاً کم نیک لوگوں میں عقیدت رسول میں شدت پائی جاتی ہے۔ عقیدت کی حدت اور شدت کا یہ وسیع وعریض ہمہ گیر پھیلاؤ یقیناً اس آیت کریمہ کی منہ بولتی تفسیر ہے جس میں اللہ نے حضور ﷺ کے بارے میں یہ بشارت دی ہے۔ ''وَرَفَعْنَا لَكَ ذِکْرَکَ '' (''ہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا ۔'' پارہ 30 سورہ الم نشرح، آیت 4) ظاہری طور پر تو اس بشارت کا مظہر وہ ذکرِ رسول ہے جو درود و سلام اور اذان اور نماز میں بار بار ہر جگہ ہر آن لازمی طور پر کیا جاتا ہے۔ لیکن باطنی طور پر اس کا کھلا مظہر احترامِ رسالت کی وہ پوشیدہ حقیقت ہے جو ہر اچھے یا برے مسلمان کے لاشعور میں اسی طرح جاری و ساری رہتی ہے جس طرح کہ خون اس کی رگوں میں گردش کرتا ہے۔''

(شہاب نامہ ص 1217)

صفحہ 259

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہینِ رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

الحمد للہ! ثم الحمد للہ! ہماری رگوں میں بھی یہی خون گردش کر رہا ہے اور جب تک یہ دنیا قائم ہے سوہنے محمد کے نام لیواؤں کی رگوں میں عشقِ رسول (ﷺ) کی حرارت موجود رہے گی اور یہ جاں فزا خوشبو ان کے دل و دماغ میں قیامت کی صبح تک رچی بسی رہے گی۔

میرے محمدی بھائیو! ہمیں گستاخان رسول کی مصنوعات کی طرح ان کی تہذیب و ثقافت کی نفرت بھی دل میں بٹھانی ہوگی۔ ان کے طور طریقوں کا بھی بائیکاٹ کرنا ہوگا، ورنہ روزِ قیامت سوہنے محمدﷺ کو سینے کے زخم تو دکھا سکیں گے منہ دکھانا مشکل ہوگا۔ مغربی تہذیب نے بسنت کے روپ میں ہندوانہ تہذیب کے ساتھ آمیزش کر کے ہمیں غلط سمت پر ڈال دیا ہے۔ ہے کوئی جو سوہنے محمدﷺ کے نام پر وہ سب کچھ کر گزرے جو آج نہ ہوا تو بہت دنوں تک پھر نہ ہوگا۔

صفحہ ۲۶۰

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

ڈائیلاگ کی گنجائش موجود ہے

جاوید چودھری

چند روز پہلے سینیٹر مشاہد حسین نے برطانیہ کے ارکان اسمبلی کے اعزاز میں ڈنر دیا تھا اس ڈنر میں برطانیہ سے لارڈ امر بھالیہ، برٹش ایم پی اے شاہد ملک اور نارویجن پارلیمنٹ کے پاکستانی رکن خالد محمود شریک تھے۔ ان حضرات نے ڈنر کے دوران خاکوں کے بعد یورپ میں پیدا ہونے والے حالات کے بارے میں بریفنگ دی۔ یہ ایک محدود محفل تھی جس میں ایم پی اے خالد محمود نے یورپ کی صورت حال پر روشنی ڈالی، خالد محمود کے ساتھ یہ میری دوسری ملاقات تھی۔ ان کے ساتھ پہلی ملاقات اوسلو میں ہوئی تھی، وہ اس وقت سٹی کونسل کے رکن تھے۔ اب وہ ناروے کی پارلیمنٹ کے ممبر بن چکے ہیں انہوں نے اپنی گفتگو میں بتایا، ”ناروے کے جس میگزین نے گستاخانہ خاکے ری پرنٹ کئے تھے وہ محدود سرکولیشن کا میگزین تھا جس کے قارئین کی تعداد کسی بھی طرح دو تین ہزار سے زیادہ نہیں۔ یہ میگزین ناروے کا ایک عیسائی فرقہ شائع کرتا ہے ہم نے جب یہ خاکے دیکھے تو ہمیں بہت دکھ ہوا، ناروے میں مسلمانوں کی ایک فعال تنظیم ہے جس کا نام اسلامک کونسل ہے اس کونسل کے چیئرمین ایک فلسطینی عالم ہیں جبکہ سیکرٹری جنرل پاکستانی ہیں، ہم لوگوں نے کونسل کا اجلاس بلایا اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ ہم لوگ اس گستاخی پر احتجاج کریں گے ہم لوگوں نے دن اور وقت طے کیا اور تمام مسلمانوں کو جلوس میں شرکت کی دعوت دے دی۔ ہم نے اس جلوس کے بارے میں مقامی اخبارات میں خبریں بھی شائع کرائیں ہم لوگ جب وقت مقرر پر نکلے تو ہم نے دیکھا ہمارے ساتھ بے شمار غیر مسلم نارویجن بھی شامل ہیں۔ ان لوگوں نے اس دن نہ صرف ہمارا ساتھ دیا بلکہ ہمارے ساتھ نعرے بھی لگاتے رہے۔ ہم نے ان سے پوچھا تم لوگ غیر مسلم ہو کر ہماری مدد کیوں کر رہے ہو؟ ان لوگوں نے جواب دیا ہم سمجھتے ہیں اس میگزین نے مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کی، میگزین کو کسی فرقے، مذہب اور طبقے کی دل آزاری کرنے کا حق حاصل نہیں لہٰذا ہم لوگ آپ کے

صفحہ 261

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں ساتھ ہیں۔ خالد محمود کا کہنا تھا ناروے میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جو مذہبی تعصب سے بالا تر ہو کر مسلمانوں کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں جو ہمارے مسائل میں ہماری مدد کرتے ہیں۔

اگر ہم عالم اسلام یورپ اور امریکہ کے تعلقات کا تجزیہ کریں تو ہمیں یورپ عالم اسلام کے زیادہ قریب محسوس ہوتا ہے، یورپی ممالک میں کروڑوں کی تعداد میں مسلمانوں کی چوتھی نسل پروان چڑھ رہی ہے۔ یورپ میں مساجد، مسلمانوں کے قبرستان، اسلامک سنٹر اور سکولز موجود ہیں۔ یورپی ممالک مسلمانوں کے عقائد کا بھی خیال رکھتے ہیں یورپ کے زیادہ تر دفاتر، اداروں فیکٹریوں اور فرموں میں مسلمانوں کو عید، رمضان اور عاشورہ پر چھٹیاں دی جاتی ہیں۔ مسلمان نماز جمعہ کے لئے بھی اپنے اپنے دفاتر سے چھٹی لے لیتے ہیں اگر دیکھا جائے تو اسلام نسبتاً ایک نیا مذہب ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد صرف پندرہ ہزار تھی مسلمانوں کا امریکہ کی طرف رجحان 80ء کی دہائی میں شروع ہوا چنانچہ امریکی قوم اسلام اور اسلامی عقائد سے اتنی واقف نہیں جتنی یورپی اقوام آگاہ ہیں۔

اگر ہم اس پس منظر کو سامنے رکھیں تو یہ خاکے ایک ایسی سازش محسوس ہوتے ہیں جس کے ذریعے بعض نادیدہ طاقتیں یورپ کو بھی دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں گھسیٹنا چاہتی ہیں تا کہ یورپ بھی صلیبی جنگوں کا حصہ بن جائے اور امریکہ مسلم دنیا کا واحد ہدف نہ رہے۔

اگر ہم خاکوں کے کینوس کو ذرا وسیع پس منظر میں دیکھیں تو ہمیں ان کے دو تین پہلو مزید بھی دکھائی دیتے ہیں یورپ میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے، نائن الیون کے بعد جرمنی فرانس اور سپین کے ہزاروں لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ اسلام قبول کرنے کا یہ عمل نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں تیزی آ رہی ہے اس کی وجہ اسلام کا مطالعہ ہے نائن الیون کے بعد جب مغربی میڈیا نے اسلام، اسلام اور مسلمان، مسلمان کا راگ الاپنا شروع کیا تھا تو وہاں کے لوگوں نے تجسس سے مغلوب ہو کر اسلام کا مطالعہ شروع کر دیا۔ 2002 میں یورپ میں قرآن مجید کے جتنے تراجم فروخت ہوئے اتنے پچھلے پچاس برسوں میں مجموعی طور پر نہیں ہوئے تھے۔ یورپی عوام نے جب یہ مطالعہ شروع کیا تو وہ اسلام کی حقانیت کے قائل ہو گئے اور انہوں نے دھڑا دھڑ اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔ یہ بات وہاں کے مذہبی طبقات کے لئے بڑی الارمنگ تھی چنانچہ انہوں نے یہ سلسلہ روکنے کا فیصلہ کیا۔ میرا خیال ہے یہ خاکے اس پیش بندی کا ایک

صفحہ 262

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

حصہ ہیں۔ ان خاکوں کی دوسری وجہ خالصتاً کاروباری اور تجارتی ہے۔ یورپ میں اس وقت مسلمانوں کی چوتھی نسل پروان چڑھ رہی ہے یہ لوگ جب یورپ پہنچے تھے تو تیسرے درجے کے شہری تھے اور انہیں وہاں صرف وہی نوکریاں دی جاتی تھیں جو عموماً تیسرے درجے کے شہریوں کو ملتی ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ لوگ پہلے درجے کے شہری بن گئے، انہوں نے تعلیم حاصل کی، کاروبار کئے، الیکشن لڑے یہاں تک کہ آج کے تین بڑے اداروں کی تحقیق کے مطابق مسلمان یورپ میں ایک بڑی کاروباری طاقت بن کر ابھر رہے ہیں یورپ کے متعصب طبقوں کا خیال ہے اگر مسلمان اسی طرح ترقی کرتے رہے تو یہ لوگ ان کو شدید نقصان پہنچائیں گے چنانچہ یہ لوگ بڑے عرصے سے مسلمانوں کا کاروباری زور توڑنے میں مصروف ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر ہم اس پس منظر کو سامنے رکھ کر ان خاکوں کو دیکھیں تو ہمیں محسوس ہوگا کہ خاکے شائع کرانے والوں کو مسلمانوں کا اندازہ تھا وہ جانتے تھے مسلمان ان خاکوں کے خلاف شدید احتجاج کریں گے لہٰذا وہ بعدازاں اس احتجاج کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کے خلاف ایسے قوانین منظور کرالیں گے جن کے ذریعے ان کا کاروباری اثرونفوذ محدود ہوجائے۔ جن کے ذریعے ان کا زور ٹوٹ جائے۔

یہ وہ سارے خدشات ہیں جن کی روشنی میں اگر ہم خاکوں کو دیکھیں تو ہم مستقبل میں یورپ کے ساتھ اپنے تعلقات کی نوعیت طے کرسکتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے عالم اسلام کے موجودہ ردعمل کی وجہ سے یورپ میں مسلمانوں کے ساتھ ڈائیلاگ کی سوچ ابھر رہی ہے یورپ میں ایک بہت بڑا طبقہ ہے جو مسلمانوں کے ساتھ ایسا ڈائیلاگ چاہتا ہے جس کے نتیجے میں یورپی اقوام اور مسلمان مذہبی اور نظریاتی تصادم سے بچ سکیں جس کے ذریعے دونوں ایک دوسرے کا نقطہ نظر سمجھ لیں اور دونوں مل کر ایک ایسا لائحہ عمل طے کرلیں جس کی مدد سے دونوں اچھے ہمسایوں کی طرح رہ سکیں۔ ہمیں اس موقع کا فائدہ اٹھانا چاہیے ہمیں چاہیے کہ ہم یورپ کے ساتھ ایک سنجیدہ ڈائیلاگ کریں اور اس ڈائیلاگ کے ذریعے وہاں توہین رسالت کے باقاعدہ قوانین منظور کرائیں ہم انہیں اپنی روایات، نظریات اور ثقافت کا احترام کرنے پر مجبور کریں ہم دونوں مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان ایک ایسی لکیر وضع کردیں جس کے دونوں طرف رہنے والے ایک دوسرے کا احترام کریں ایک دوسرے سے محبت کریں۔

صفحہ ۲۶۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

تحفظ ناموس رسالتؐ............ طاقت کے دور میں

محمود خارانی

کہا جاتا ہے کہ ”آج علم ، دلیل اور جمہوریت کا دور ہے۔“ لیکن زمینی حقائق بتلاتے ہیں کہ ”یہ آج جہالت، شبہ اور طاقت کا دور ہے۔“ انسانی جان کی قدر و قیمت سے بے خبر قوموں کا راج ہے۔ محض شبہ کے سہارے بم برسانا تہذیب و شائستگی کا شعار بن گیا ہے جو طاقتور ہے اسے یہ حق حاصل ہے کہ کمزور کے جذبات سے کھیلے، اگر آج کے ”مہذب“ لوگوں کے دلوں میں علم کی قدردانی ہوتی تو انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ علم رکھنے والی شخصیت حضرت محمد ﷺ کی شان میں اس طرح سرعام پوری ڈھٹائی کے ساتھ توہین نہ کی جاتی ، دلیل کی اہمیت تو اس وقت واضح ہوگئی جب فلسطینیوں پر ان کی اپنی زمین پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا، اگر دلیل کا کوئی پاس ہوتا تو محض ایک شبہ کی بنیاد پر افغانستان کی لاکھوں بے گناہ جانوں کو موت کے گھاٹ نہ اتار دیا ہوتا۔ اگر آج دلیل کی دنیا ہے تو وہ کون سی دلیل تھی جسے بنیاد بنا کر عراق کے گل و گلزار علاقوں کو آتش کدہ بنایا گیا۔ اگر بااقتدار قوموں کے ہاں دلیل کچھ وقعت رکھتی ہے تو توہین رسالت کے مرتکبین کو سزا کیوں نہیں دی جارہی؟ جنہوں نے بقول سابق وزیر خارجہ پاکستان آغا شاہی ”شہری وسیاسی حقوق پر عالمی قانون (ICCPR) کی خلاف ورزی کی ہے۔ اور جو ہمہ قسم کے نسلی امتیاز یا تعصبات کے خاتمہ پر عالمی کنونشن (ICERD) کی رپورٹوں کو خاطر میں نہیں لائے۔

اگر دلیل کی حاکمیت ہے تو ڈنمارک کے گستاخ قید و بند سے کیوں آزاد ہیں؟ جبکہ ڈنمارک کے کریمنل کوڈ کے سیکشن 140 میں واضح طور پر درج ہے کہ ”ہر وہ شخص جو ملک میں قانونی طور پر مقیم کسی فرد یا کمیونٹی کے مذہب یا عبادات اور دیگر مقدس علامات کی تضحیک کرے گا، اسے زیادہ سے زیادہ چار ماہ کی قید و جرمانہ کی سزا دی جاسکے گی اور سیکشن 266 بی میں لکھا ہے:

”ایسا کوئی بھی بیان یا سرگرمیاں جرم ہیں جو کسی بھی کمیونٹی کے افراد کے

صفحہ ۲۶۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں

لئے رنگ ونسل ، قومیت ، مذہب یا جنس کے حوالے سے دل آزار ہوں ۔“

اگر دنیا دلیل کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا دعویٰ رکھتی ہے تو ان حقائق کو کوئی اہمیت کیوں نہیں دے رہی؟ ڈنمارک کے آئین سے لیکر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور تک ہر دلیل یہی تقاضا کرتی ہے کہ دوسروں کی دل آزاری کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، اس پر عمل درآمد ہونے سے پتہ چلتا ہے کہ اہل مغرب باتوں سے نہیں جوتوں سے آشنا قوم ہے۔ بالفرض اگر دلیل ان کے ہاں کوئی معنی رکھتی ہے تو اس کی تشریح یہ ہے ”کہ مظلوم کے خلاف شبہ بھی دلیل بن سکتا ہے جبکہ ظالم کے خلاف دلیل شبہ بن جاتی ہے۔“

خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے تیرا حسن کرشمہ ساز کرے

جمہوریت کے پرخچے تو اس وقت اڑا دیئے گئے جب حماس جیسی جمہوری پارٹی پر زبان طعن دراز کی گئی۔ دنیا بتائے کہ جمہوریت کے وہ کون سے تقاضے ہیں جن کی بناء پر فلسطین میں حماس کی واضح جمہوری کامیابی کے باوجود اس کے لئے عالمی دروازے بند ہیں کیا جمہوری معاشروں کے یہی اوصاف ہیں کہ وہاں قانونی طور پر مقیم باشندوں کے مذہبی جذبات سے کھیلا جائے؟

ثابت ہوا کہ علم ، دلیل اور جمہوریت کا دور ختم ہو گیا طاقت کا دور اپنے عروج پر ہے۔ چنانچہ عالم اسلام میں اس نازک موقع پر ہر ملک کے مسلمانوں کی نظر طبعی طور پر اپنے ملکی حکمرانوں کی طرف متوجہ ہوتی ہے لیکن عوام کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارے یہ حاکم اقتدار کے محکوم ہیں۔

صفحہ ۲۶۵

تحفظ ناموس رسالت اور ہماری ذمہ داریاں تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

اظہار محبت اور احتجاج کا مؤثر ترین راستہ

محمد اسماعیل ریحان

معاشی بائیکاٹ کے ساتھ ہمیں ایک اور پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے، جو اس سارے معاملے میں سب سے اہم بات ہے۔ ہر مسلمان یہ سوچے کہ وہ کس طرح توہین رسالت کے مرتکب ملکوں اور قوموں کو تنگ کر سکتا ہے۔ وہ کس طرح ان شیطانی قوتوں کو زچ کر سکتا ہے؟ اگر غور کریں تو اس کی آسان صورت یہ ہے کہ ہم اپنا چہرہ، لباس، تہذیب و تمدن، معاشرت اور رہن سہن یورپی لوگوں سے بالکل مختلف کر کے انہیں حیرت انگیز صدمہ پہنچا سکتے ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ عالم اسلام کے تقریباً سارے ہی مسلمان سراپا احتجاج ہیں مگر اس حالت میں کہ ان کی اکثریت نے یورپی ممالک کے لوگوں کی طرح داڑھیاں مونڈھی ہوئی ہیں۔ اکثر خواتین انہی کی طرح بے پردہ ہیں، ان کا طرز رہائش اپنا فخر سمجھا جا رہا ہے، کھانے پینے کی چیزوں میں ان کی نقل کی جا رہی ہے۔ داڑھیاں رکھنے والے، سنت کے مطابق لباس پہننے والے، ٹوپی اور عمامے کا اہتمام کرنے والے، نمازوں کو جماعت سے ادا کرنے والے آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔

ذرا غور کیجئے گستاخ قوم کی نقل کرتے ہوئے ہم ان کی گستاخی پر سراپا احتجاج ہیں ....... ایسے احتجاج کی بھلا انہیں کیا پرواہ ہو سکتی ہے، جبکہ وہ دیکھ رہے ہیں اپنے نبی ﷺ کی ناموس پر کٹ مرنے کا نعرہ لگانے والے خود نبی ﷺ کی سنت کو چہروں سے نوچتے جا رہے ہیں۔ وہ یہ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے کہ ہمارا معاشی بائیکاٹ کرنے کی دھمکیاں دینے والے سر سے پاؤں تک ہماری غلامی کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔

بلاشبہ ہر مسلمان اس معاملے میں جذباتی ہے اور یہ جذباتی ہونا بہت مبارک ہے مگر کاش ان جذبات کو صحیح استعمال کیا جائے۔ اگر یورپ کی ناپاک جسارت پر دل گرفتہ ہونے والا ہر صاحب ایمان یہ

صفحہ ۲۲۲

توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

تہیہ کر لے کہ آج سے اس کی کوئی نماز قضاء نہ ہوگی، آج سے وہ چہرے پر ریزر استعمال نہیں کرے گا، سنت رسول ﷺ کو کاٹ کر نالی میں بہانے کی گستاخی نہیں کرے گا، لباس سنت کے مطابق پہنے گا، کسی کا حق نہیں مارے گا، باطل قوتوں کی میڈیا مہم کا نشانہ نہیں بنے گا، ان کی غلیظ فلمیں دیکھنا بند کر دے گا، گھر سے فحاشی، بے حیائی اور موسیقی کے آلات نکال باہر کرے گا، اپنی عورتوں کو شرعی پردہ کا پابند کرے گا.... تو یقین رکھیئے کہ ہمارے اس طرز احتجاج سے باطل کی چولیں ہل جائیں گی، یورپ کے گستاخ انگشت بدنداں رہ جائیں گے، شیطان کے ایوانوں میں صف ماتم بچھ جائیں گی، اپنی گستاخی کے ردعمل میں مسلمانوں کو سچا مسلمان بنتا دیکھ کر دشمن کو اندازہ ہوگا کہ یہ جسارت اسے کتنی مہنگی پڑی ہے۔ سچا مسلمان اس کے لئے تنہا بھی بھاری ہے۔ اگر اسے سب ہی سچے مسلمان بنتے نظر آنے لگیں تو اس کے قدم لامحالہ اکھڑ جائیں گے۔ وہ آئندہ ایسی جسارت کا تصور بھی نہیں کرے گا جس کے نتائج اسے اس قدر سخت بھگتنا پڑیں۔ باطل کی ساری محنت مسلمان کو اسلام سے دور کرنے پر صرف ہورہی ہے، جس کام سے اس ساری محنت پر پانی پھر جائے وہ اسے دہرانے کی غلطی نہیں کرے گا۔

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

پانچواں باب

گستاخ رسول

اس باب میں قرآن و سنت اور کتب

ہیں اور ساتھ میں نئے اٹھنے والے

مزید فوائد:

(۱) تحفظ ناموس رسالت کا شرعی

(۲) جس کمپنی کا توہین سے تعلـ

انجام (۵) گستاخ رسول کـ

(۶) توہین رسالت، قائلِ مـ

کے حوالے سے چند نامعقول اعتر

مرتکب یورپ سے ۳۹ سوالا

صفحہ ۲۶۷

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

پانچواں باب

گستاخ رسول ﷺ شریعت کی عدالت میں

اس باب میں قرآن وسنت اور کتب فقہ سے وہ احکامات جمع کئے گئے ہیں جو اس موضوع سے متعلق ہیں اور ساتھ میں نئے اٹھنے والے سوالات کا بھی جواب دیا گیا ہے۔

مزید فوائد:

(۱) تحفظ ناموس رسالت کا شرعی حکم (۲) شرعی سزا کا نفاذ ممکن نہ ہونے کی صورت کا حکم (۳) جس کمپنی کا توہین سے تعلق نہ ہو اس کے بائیکاٹ کا حکم (۴) گستاخان رسول کا بدترین انجام (۵) گستاخ رسول ائمہ فقہ کی نظر میں (۶) انسداد توہین رسالت عالمی اور ملکی قوانین (۷) توہین رسالت ناقابل معافی جرم (۸) توہین رسالت کی تاریخ (۹) ناموس رسالت کے حوالہ سے چند نامعقول اعتراضات اور انکے معقول ومسکت جوابات (۱۰) توہین رسالت کے مرتکب یورپ سے ۳۹ سوالات

صفحہ ۲۶۸

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی شرعی حیثیت

حضرت مولانا مفتی عبدالرؤف سکھروی مدظلہ

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد:

ڈنمارک اور بعض یورپین ممالک میں کچھ لوگوں نے سرکار دو عالم ﷺ کے گستاخانہ خاکے بنائے اور شائع کئے ہیں۔ یہ عزت مآب جناب رسول اللہ ﷺ کی شان میں توہین اور سراسر گستاخی ہے۔ جو حرام، مطلقاً ناجائز اور سنگین جرم ہے، اس کی سزا قتل ہے۔ اس پر دنیا بھر کے مسلمانوں نے شدید غم وغصہ کا اظہار کیا ہے جو کرنا ہی چاہیے۔ اس موقع پر کچھ سوالات ذہنوں میں ابھرتے ہیں قرآن وسنت کی روشنی میں ان کے جوابات لکھے گئے ہیں۔

تحفظ ناموس رسالت کی شرعی حیثیت:

تحفظ ناموس رسالت تمام مسلمانوں کا دینی اور شرعی فریضہ ہے۔ کیونکہ حضور اکرم ﷺ کا حق تو ہماری اپنی جانوں سے بھی بہت زیادہ ہے چنانچہ ارشاد باری ہے۔

ترجمہ: ”نبی کریم (ﷺ) مومنین کے ساتھ ان کے نفس (اور ذات) سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں۔ (سورۂ احزاب)

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے ہیں کہ صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”کوئی مومن ایسا نہیں جس کے لئے میں دنیا وآخرت میں سارے انسانوں سے زیادہ اولیٰ واقرب نہ ہوں، اگر تمہارا دل چاہے تو اس کی تصدیق کے لئے قرآن کریم یہ آیت پڑھ لو۔ (النبی اولیٰ بالمومنین)

صفحہ ۲۶۹

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

جس کا حاصل یہ ہے کہ محمدﷺ ہر مومن مسلمان پر ساری دنیا سے زیادہ شفیق و مہربان ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ اس کا لازمی اثر یہ ہونا چاہیے کہ ہر مومن کو آنحضرتﷺ سے محبت سب سے زیادہ ہو، جیسا کہ حدیث میں بھی یہ اشارہ ہے کہ:

”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کے دل میں میری محبت اپنے باپ، بیٹے اور سب انسانوں سے زیادہ نہ ہو۔“

(بخاری ومسلم)

ذیل میں چند احادیث مبارکہ اور آثار صحابہ سے بھی تحفظ ناموس رسالت کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

کہتی تھی تو ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئی، رسول اللہﷺ نے اس کے خون کو ناقابل سزا قرار دیدیا۔

(ابوداؤد: ج ۲ / ۲۵۲)

تھا ان دونوں کے قتل کرنے کا حکم بھی اس لئے دیا گیا کہ یہ دونوں حضورﷺ کی شان میں بدگوئی کے اشعار گایا کرتی تھیں۔ ان میں سے ایک قتل کی گئی اور دوسری بھاگ گئی جو بعد میں آ کر مسلمان ہوگئی۔

(رواہ فی ہامش ابوداؤد: ج ۲ / ۹ کذا فی ہامش البخاری: ج ۲ / ۶۱۳)

بھی ان لوگوں میں شامل تھا جو رسول اللہﷺ کو ایذاء پہنچایا کرتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کیا۔

(کذا فی ہامش البخاری: ج ۲ / ۶۱۴)

ان واقعات سے معلوم ہوا کہ حضور اکرمﷺ کو گالیاں دینے والا مباح الدم ہو جاتا ہے۔ یعنی اس کا خون بہانا جائز ہو جاتا ہے اور حق بجا لانے والا سزاؤں کا مستحق نہیں ہوتا بلکہ ثواب کا حق دار ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص صراحتاً یا اشارۃً یا قولاً یا فعلاً بدگوئی اور گستاخی کرے تو شرعاً گستاخی کرنے والا شخص قتل کا مستحق ہے اور قتل کرنے کی ذمہ داری حکومت پر ہے کہ وہ ہر طریقے سے ایسے مجرم کو پکڑ کر اس پر قتل کی

صفحہ ۲۷۰

تحفظ ناموس رسالت' کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

سزا جاری کرے۔ عام آدمی کے لئے قانون کے نفاذ کو اپنے ہاتھ میں لینا مناسب نہیں لیکن اس کے باوجود اگر کسی عام شخص نے ایسے گستاخ اور بدگوئی کرنے والے شخص کو قتل کر دیا تو اس پر شرعاً نہ قصاص ہے اور نہ تاوان، کیونکہ ایسے شخص کا خون مباح ہو جاتا ہے۔ اور اس کا قتل جائز ہو جاتا ہے۔ عام شخص کے لئے ایسا کرنا صرف خلاف انتظام ہے۔

یہ تفصیل اس وقت ہے کہ جبکہ گستاخی کرنے والا حربی کافر ہو یا مسلمان ہو لیکن اگر گستاخی کرنے والا ذمی کافر ہو (یعنی اسلامی ملک کا باشندہ ہو) تو بعض فقہاء کے نزدیک اس کا بھی یہی حکم ہے جو اوپر لکھا گیا، کیونکہ ایسے کافر کا ذمہ ختم ہو جائے گا لیکن بعض فقہاء جیسے علامہ شامی رحمہ اللہ کی تحقیق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا عہد ذمہ تو ختم نہ ہوگا لیکن انتظامی اور تعزیری طور پر حکومت وقت اس کو قتل کر سکتی ہے جبکہ وہ علانیہ اور بار بار سب وشتم کرتا ہو۔

(رسائل ابن عابدین ، خلاصۃ الفتاویٰ)

شرعی سزا کا نفاذ ممکن نہ ہو تو کیا حکم ہے؟

موجودہ دور میں اگر شرعی سزا کا نفاذ ناممکن ہو تو مسلمانوں کے لئے اس سے برأت اور بچاؤ کے لئے کیا حکم ہے اور وہ کیا طریقہ اختیار کریں؟

ایسی صورت میں ہر مسلمان کے ذمہ ہے کہ اس میں جتنی قوت و طاقت ہو وہ جائز اور ممکن طریقوں کے ذریعہ ایسی گستاخانہ حرکتوں کو اور ایسی گستاخانہ حرکت کرنے والوں کو اور ان کے اسباب و ذرائع کو روکیں اور جس میں یہ قدرت نہ ہو ان پر زبان سے اس کی خرابی اور برائی بیان کرنا واجب ہے۔ اور جس کو زبان سے کہنے میں جان و مال کا خطرہ ہو اس کے لئے دل میں برا جاننا واجب ہے جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث میں یہی تفصیل آئی ہے:

”سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو شخص برائی کو دیکھے تو چاہیے کہ اپنی طاقت سے اس کو روکے، اگر اس کی قوت نہ ہو تو زبان سے اس کو منع کرے، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے اس کو برا سمجھے، یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔“

(ج ۵۱/۱)

صفحہ ۲۷۱

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

اس سلسلے میں احتجاج کرنا درست ہے بشرطیکہ احتجاج پر امن طریقے سے ہو اور اس میں حرام و ناجائز کا ارتکاب نہ ہو۔ مثلاً لوگوں کی املاک اور اموال کو نقصان پہنچانا، جلاؤ گھیراؤ اور پتھراؤ وغیرہ کرنا کیونکہ یہ سب گناہ کے کام ہیں جو حرام اور ناجائز ہیں ان سے بچنا بہر حال میں لازم ہے۔

ایسے لوگوں سے تجارتی تعلقات ختم کر لینا یا معاملات ختم کر لینا شرعی رو سے جائز ہے یا نہیں؟

گستاخی کرنے والوں سے تجارتی تعلقات یا معاملات کا ختم کر لینا شرعاً جائز ہے اور ہماری ایمانی غیرت و حمیت کا بھی یہی تقاضا ہے۔

چنانچہ کتب احادیث میں ثمامہ ابن اثال رضی اللہ عنہ کا واقعہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے ثمامہ ابن اثال رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے سردار تھے اور اسلام لانے کے بعد جب وہ مکہ مکرمہ گئے اور اہل مکہ نے ان کے اسلام لانے کو توہین آمیز الفاظ سے تعبیر کیا تو انہوں نے اہل مکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کردیئے، اس طور پر کہ اہل مکہ کے لئے یمامہ سے آنے والے غلہ کی درآمد پر پابندی لگادی اور یہ کہا کہ اس وقت تک یہ پابندی برقرار رہے گی جب تک کہ رسول اللہ ﷺ اس کی اجازت نہ دے دیں۔ چنانچہ جب اہل مکہ غلہ کی درآمد پر پابندی لگنے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوئے تو انہوں نے حضور اکرم ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ثمامہ ابن اثال رضی اللہ عنہ کے نام والا نامہ تحریر فرمائیں کہ وہ اس پابندی کو ختم کردیں۔ چنانچہ حضور ﷺ نے ان کی یہ درخواست منظور فرماتے ہوئے ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کی جانب ایک مکتوب مبارک تحریر فرما کر ارسال کیا، اس کے بعد یہ پابندی ختم کردی گئی اور معاہدات ختم کرنے کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے۔ جب حضور ﷺ مدینہ منورہ پہنچے تو انصار اور مہاجرین کے درمیان ایک تحریری معاہدہ فرمایا اور اس میں یہود کو بھی شامل کیا لیکن بعد میں یہود کی سازشوں، ریشہ دوانیوں اور گستاخیوں کی بناء پر معاہدہ ختم فرمایا حتیٰ کہ بعض یہود کے خلاف جہاد فرمایا اور بعض کو جلا وطن کیا۔ (مسلم)

جس کمپنی کا توہین سے تعلق نہ ہو اس کے بائیکاٹ کا کیا حکم ہے؟

اگر کسی کمپنی یا شخص کا اس توہین والے عمل کے ساتھ بلاواسطہ کوئی تعلق نہ ہو تو محض ایک علاقائی یا لسانی تعلق ہو، اس بناء پر اس شخص یا کمپنی کا بائیکاٹ کرنا اور لوگوں کو اس کی ترغیب دینا کیسا ہے؟

صفحہ ۲۷۲

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

اگر کسی کمپنی یا شخص کا اس توہین والے عمل کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو، محض ایک علاقائی یا لسانی تعلق ہو تو اگر وہ ان کے اس برے عمل کے حامی ہوں تو ان کا وہی حکم ہے جو اوپر ذکر کیا گیا ہے اور اگر وہ کمپنی یا شخص گستاخان کے اس برے عمل سے بیزاری اور لاتعلقی اختیار کرے تو ایسی صورت میں اگر کمپنی کی آمدنی کا فائدہ گستاخوں کو پہنچ رہا ہو تو اس کمپنی کا بائیکاٹ کرنا چاہئے۔ البتہ اس شخص سے جو اس گستاخی سے بیزاری اور لاتعلقی اختیار کرے اس سے تعلق رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (ماخوذ فتویٰ جامعہ دارالعلوم کراچی، بتصرف کثیر)

صفحہ ۲۷۳

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

گستاخ رسول شریعت کی نظر میں

فتوی جامعہ خیر المدارس، ملتان

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ..... جو آدمی سبّ نبی ﷺ کا مرتکب ہو اور اس کو آزادی رائے کہہ کر اس پر مصر رہے خواہ مسلمان ہو یا ذمی ہو یا کافر، اسے زندہ رہنے کا حق دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ براہ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں شافی جواب تحریر فرمائیں جو مسلک احناف کی ترجمانی کرے۔

المستفتی اختر رسول

جواب

جو شخص رسالت مآب ﷺ کی بار بار علانیہ توہین کا مرتکب ہو یا اس پر مصر ہو یا دیگر قرائن سے اس کے خبث کا اظہار ہو جائے تو ایسا شخص توبہ کرنے کے باوجود قتل کا مستحق ہے۔ قرآن وحدیث اور عبارات فقہا سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ قرآن پاک میں باری تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

ان الذين يؤذون الله ورسوله لعنهم الله في الدنيا والاخرة واعد لهم عذابا مهينا (احزاب: ۵۷)

دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے،

والذين يؤذون رسول الله لهم عذاب اليم (توبہ: ۶۱)

نیز ارشاد ہے:

ملعونین اینما ثقفوا اخذوا وقتلوا تقتيلا (احزاب: ۶۱)

علامہ شامیؒ ان آیات کو ذکر فرمانے کے بعد لکھتے ہیں: فهذه الايات تدل علی کفره

صفحہ ۲۷۳

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

و قتله

(رسائل ابن عابدین صفحہ ۳۱۷ جلد ۱)

حدیث پاک میں منقول ہے

فلا تنتهى ويزجرها فلا تنزجر فلما كانت ذات ليلة جعلت تقع في النبي ﷺ و تشتمه فاخذ المعول فوضعه فى بطنها واتكا عليها فقتلها وذكر ذلك للنبي ﷺ فقال : الا اشهدوا ان دمها هدر رواه ابوداؤد و سكت عنه (۲۵۱/۲) والمنذرى وقال اخرجه النسائى (اعلاء السنن حديث نمبر ۳۲۳۰)

ماتت وابطل رسول الله ﷺ دمها رواه ابوداؤد (۲۵۱/۲)

ﷺ فتناوله فرفع ذلک الى عمرو بن العاص فقال: قد اعطينا هم العهد فقال عرفة : معاذ الله ان نكون اعطينا هم العهود والمواثيق على ان يوذونا فى الله ورسوله انما اعطينا هم على ان نخلى بينهم وبين كنائسهم يقولون فيها مابدا لهم فقال عمرو : صدقت! رواه الطبرانى قلت فالاسناد حسن

(اعلاء حدیث نمبر ۳۲۳۳)

علامہ سہارنپوریؒ حدیث ثانی کے تحت فرماتے ہیں:

ولذا افتى اكثرهم (اى الحنفية) بقتل من اكثر من سب النبى ﷺ من اهل الذمة وان اسلم بعد اخذه (بذل ، ۲/ ۱۲۵)

قرآن وحدیث کے ان واضح ارشادات کی روشنی میں فقہاء کرام نے یہی مسلک اختیار کیا ہے کہ مسلمان اگر توہین رسالت کے ارتکاب کے بعد توبہ نہ کرے بلکہ مصر رہے تو بالاجماع مستحق قتل ہے۔

صفحہ ۲۷۵

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

قال القاضی عیاض اجمعت الامة علی قتل منتقصة من المسلمین وسابه قال ابوبکر ابن المنذر : اجمع عوام اهل العلم علی ان من سب النبی ﷺ علیه القتل وممن قال ذلک مالک بن انس واللیث واحمد و اسحاق وهو مذهب الشافعی قال عیاض وبمثله قال ابو حنيفه واصحابه والثورى واهل الکوفة والاوزاعی فی المسلم قال الخطابی : لا اعلم احد من المسلمین اختلف فی وجوب قتله الا ما حکی عن بعض الفقهاء من انه اذا لم يستحل لا یکفر زلة مردودة بدلیلها وهو الاجماع ...... وماحکی عن بعض الفقهاء من انه اذا لم يستحل لایکفر زلة عظيمة وخطا عظيم لا يثبت عن احد من العلماء المعتبرین ولا یقوم علیه دلیل صحیح

(رسائل ابن عابدین صفحہ ۳۱۶ جلدا)

امام محمدؒ سیر کبیر میں علانیہ توہین رسالت ﷺ کے مرتکب ذمی کے بارے میں فرماتے ہیں: وکذلک ان کانت تعلن بشتم رسول الله ﷺ فلاباس بقتلها لحديث الهمدانی (الخ) (اعلاء، ۵۲۹۰/۱۱)

علامہ ابن عابدینؒ اپنے رسالۃ تنبیہ الولاۃ والحکام میں لکھتے ہیں ۔ ولایلزم من عدم نقضه عدم قتله فیقتل عندنا سياسة اذا تکرر منه ذلک واعلن به وان اسلم فلا فرق حينئذ بين المسلم والذمی لان کلا منهما اذا تکرر منه ذلک وصار معروفا به دل ذلک علی انه يعتقد مايقول وعلی خبث باطنه وظاهره وسعیه فی الارض بالفساد ان توبته انما کانت تقية ليد فع بها عن نفسه القتل و يتمكن من اذية رسول الله ﷺ وامته المومنین ويضل من یشاء من ضعفة الیقین (رسائل ۳۵۵/۱) وايضا قال : لاينبغی لمسلم التوقف فی قتله وان تاب لکن بشرط تکرر ذلک منه وتجاهره به کما علمته مما نقلنا عن الحافظ ابن تيمية عن اکثر الحنفية ومما نقلناه

صفحہ ۲۷۶

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

عن مفتى ابى السعود (ايضاً، ۳۵۶/۱)

علامہ ابن الہمامؒ ذمی گستاخ رسول ﷺ کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں:

والذي عندي ان سبه او نسبة مالا ينبغى الى الله تعالى ان كان مما يعتقدونه اذا اظهره يقتل به وينتقض عهده...... لانه الغاية في التمرد والاستخفاف بالاسلام والمسلمين فلايكون جاريا على العقد الذي يدفع عنه القتل

(فتح القدير، ۳۰۴/۵)

علامہ شامیؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:

فـمـا بـحثـه فـي الـفتـح فـي النقض مسلم مخالفته للمذهب واماما بحثه في القتل فغير مسلم مخالفته للمذهب

(منحة الخالق صفحہ ۱۹۵، جلد ۵)

علامہ حصکفیؒ ذمی کے بارے میں بیان فرماتے ہیں:

قـال الـزيـلـعـي : واختياري في السب ان يقتل وتبعه ابن الهمام قلت وبه افتى شيخنا الخير الرملي

علامہ ابن عابدین شامیؒ اس کے تحت لکھتے ہیں:

فـلو اعلن بشتمه او اعتاده قتل ولو امرأة وبه يفتى اليوم الى ان قال : فصار الحـاصـل ان عـقـد الذمة لاينتقض بماذكروه مالم يشترط انتقاضه به فاذا اشتـرط انـتـقـض والا فلا الا اذا اعلن بشتم او اعتاده لما قدمناه ولما ذكره عن الشلبي عن حافظ الدين النسفى اذا طعن الذمى فى دين الاسلام طعنا ظـاهـرا جاز قتله لان العهد معقود معه على ان لا يطعن فاذا طعن فقد نكث عهـده و خـرج مـن الذمة اهـ لكن مقتضى هذا التعليل اشتراط عدم الطعن لا بمجرد عقد الذمه

(شامی صفحہ ۳۴۳، جلد ۶)

شامی کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ عقد ذمہ مطلق ہو یا مشروط عقد ذمہ میں اعلانیہ گستاخی کی جائے تب بھی ذمہ باقی نہیں رہتا اور قتل کرنا جائز ہو جاتا ہے اسی بات کو علامہ ظفر عثمانیؒ نے قدرے تفصیل

صفحہ 277

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

سے بیان فرمایا ہے:

وحاصله: ان عقد الذمة ولو كان مطلقا غير مشروط بالشروط يقتضى ترك ايذاء المسلمين فى الله ورسوله وفى دينهم فاذا خالفوا ذالك انتقض العهد وهذا ما افتى به المتاخرون منا والاثر مويدهم وهو نص فى الباب

(اعلاء السنن صفحہ ۵۳۰، جلد۱۱)

ان عبارات فقہاء سے ثابت ہوا کہ علانیہ یا بار بار توہین رسالت ﷺ کا مرتکب شخص خواہ مسلمان ہو یا ذمی احناف کے نزدیک بھی مستحق قتل ہے۔ بالخصوص موجودہ دور میں جبکہ شرعی عہد ذمہ کی بجائے محض معاہدات طے ہوتے ہیں۔ اور عہد ذمہ اور معاہدہ محضہ کے احکام ایک نہیں ہیں۔

فان اليهود لم يكونوا اهل ذمة وانما كانوا اصحاب موادعة بلا جزية توخذ منهم دفعا لشرهم الى ان امكن الله منهم لانه لم توضع جزية قط على اليهود المجاورين من قريظة والنضير ومن ادعى غير ذلك فعليه البيان وشتان بين اهل الموادعة واهل الذمه فافهم

(اعلاء السنن صفحہ ۵۲۹، جلد۱۱)

فقط واللہ اعلم

کتبہ حسین احمد خوشابی (متخصص دوم)

الجواب صحیح بندہ عبدالستار عفی عنہ بندہ عبدالحکیم عفی عنہ

صفحہ ۲۷۸

گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

توہین رسالت کا شرعی حکم

مولانا ابو محمد ثناء اللہ سعد شجاع آبادی

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ، اما بعد ، فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ النبی اولی بالمومنین من انفسھم وازواجہ امھاتھم ۔ قال النبی صلّی اللہ علیہ وسلم لا یومن احدکم حتّی اکون احبّ الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین ۔ صدق اللہ ورسولہ النبی الکریم

فطرت انسانی پر پیدا ہو کر جبلت شیطانی پر گامزن ہو جانے والے تاریک بخت لوگوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ ہمیں اپنے دلوں کو ٹٹول کر، محبوب انس و جان اور جان دو جہان صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت خالص کی ساری پونجی لٹانے اور اپنی ذمہ داریوں کا ازسر نو تعین کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ اگر ہم محض محبت رسول کے ظاہری دعوے کرتے ہیں یا کرتے رہے ہیں تو ہم جیسا ضمیر کا مجرم اور کون ہو سکتا ہے اور اس حال میں ہمارے زندہ ہونے یا زندہ رہنے کے کیا معنی ہو سکتے ہیں؟ یہ سوال بڑی شدت سے جواب کا طالب ہے! اور اگر ہم واقعی محبت رسول ﷺ کے دعوے میں سچے ہیں تو ہمارا ظاہر و باطن اس کا سب سے بڑا گواہ ہونا چاہئے! شاعر نے فیصلہ کن بات کہی ہے۔

لو کان حبّک صادقاً لاطعتہ
فان المحب لمن یحبّ مطیع

شاید ہمارے اعمال کی کوتاہی اور باہمی افتراق و انتشار نے ہمیں یہ دن دکھایا کہ کفار و فجار نے ناموس رسالت کی توہین کی، بیہودہ خاکے چھاپے اور ہماری غیرت کو للکارا! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق کھلے عام اڑایا گیا اور اسے آزادی صحافت کا نام دے کر اربوں مسلمانوں کے ایمان سے کھیلا گیا۔ ابو جہل، ابولہب اور کعب بن اشرف کی معنوی اولاد کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ انہوں نے جس جرم کا ارتکاب

صفحہ ۲۷۹

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

کیا ہے ہماری نظروں میں اس سے بڑھ کر کوئی جرم نہیں ہوسکتا۔ ناموسِ رسالتؐ ہمیں ہماری رگِ جاں میں دوڑتے ہوئے لہو سے زیادہ عزیز ہے۔ اور اسی پر ہمارے ایمان کا دارومدار ہے، اگر ہمارے رب کو منظور ہوا تو ان شاء اللہ ہم تمہیں توہینِ رسولؐ کا مزہ ضرور چکھائیں گے۔

حضورﷺ کا مذاق اڑانے والوں سے قدرت کا انتقام

ہماری چودہ سو سالہ تاریخ گواہ ہے کہ اس جرم کے مرتکب کو نہ ہمارے رب نے معافی دی ہے اور نہ ہم نے معافی دی ہے۔

ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے مسند ابوبکر بزار اور تاریخ محمد بن اسحاق کے حوالہ سے حضرت انسؓ اور حضرت عمرو بن زبیرؓ کی یہ روایات نقل کی ہیں کہ قریش کے پانچ بڑے سرکش سرداروں نے جب حضور اکرمﷺ کو حرم شریف میں اذیت پہنچائی اور آپ کا مذاق اڑایا تو آپﷺ دل برداشتہ ہوئے، اور بددعا کے الفاظ آپ کی زبانِ مبارک سے نکلے۔ چنانچہ اللہ کی مشیت بھڑک اٹھی، جبرائیلؑ حاضرِ خدمت ہوئے اور اللہ کا پیغام آپﷺ کے گوش گزار کیا:

فاصدع بما تؤمر واعرض عن المشركين O انا كفينك المستهزئينO

”اے اللہ کے رسول ! جو حکم دیا جا رہا ہے اسے کھول کر سنا دو، اور مشرکین کی زیادتیوں کو نظر انداز کرو، بے شک ہم ان مذاق اڑانے والوں کے لئے کافی ہیں۔“

یہ آیتیں گویا ان بدنصیب لوگوں کے لئے اعلانِ ہلاکت تھیں۔

اسود بن ابی زمعہ ان میں بڑا ہی سنگدل انسان تھا، اور حضورﷺ کے ساتھ بے دردی اور شقاوت کا مظاہرہ کیا کرتا تھا۔ آپﷺ نے اس کے حق میں فرمایا تھا: ”اَللّٰھُمَّ اعم بصرہٗ واثکلہٗ ولدہٗ“ اے اللہ! اسے اندھا کر دے اور اولاد سے محروم کر دے۔

چنانچہ اسود رو سیاہ سامنے سے گزرا تو جبرئیل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا، جس کی وجہ سے یہ ظالم پیاس کی بیماری میں مبتلا ہو کر مرا۔

ولید بن مغیرہ سامنے آیا، جبرئیل علیہ السلام نے اس کی ایڑی کے پرانے زخم کی طرف اشارہ کیا، زخم بھر چکا تھا، مگر اس اشارہ کے بعد وہ زخم پھر ہرا ہو گیا اور اسی زخم میں اس کی موت واقع ہوئی۔

صفحہ 280

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخِ رسولؐ کائنات کی عدالت میں

عاص بن وائل سامنے آیا ، جبرئیل علیہ السلام نے اس کے تلوے کی طرف اشارہ کیا ، چنانچہ طائف جاتے ہوئے اس کے تلوے میں لوہے کی کیل گھس گئی ، اور یہ بد نصیب اسی زخم میں ہلاک ہوا۔ آخر میں حارث بن طلاطلہ گزرا ، جبرئیل علیہ السلام نے اس کے سر کی طرف اشارہ کیا ، اسے خون کی قے شروع ہو گئی اور اسی مرض میں ہلاک ہو گیا۔

ابو جہل کا کیا انجام ہوا ، ابولہب کا کیا انجام ہوا ، ابولہب کی بیوی اُمِ جمیل پر کیا گزری ، اس کے بیٹے عتبہ پر اللہ نے کس طرح اپنے کتوں میں سے کتا مسلط کیا ، یہ سارے واقعات تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہیں ، اور ناموسِ رسالت کی طرف حاسدانہ ، معاندانہ ، باغیانہ نظروں سے دیکھنے والوں کے لئے تازیانہ عبرت ہیں۔ اللہ کی غیرت برداشت نہیں کرتی کہ اس کے محبوب پیغمبر ﷺ کی عزت و ناموس کا دشمن اس کی زمین پر عزت کی زندگی گزارے ، وہ بعض اوقات اسے ڈھیل ضرور دیتا ہے لیکن بالآخر اسے ذلت کی موت مارتا ہے۔

توہینِ رسالت کے مرتکبین سے حضور ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا انتقام

”ناموسِ رسالت“ کی طرف نظرِ بد سے دیکھنے والوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام دشمن طاقتوں کی چھتری کے نیچے پناہ لینے سے ان کا جرم نہ تو معاف ہو سکتا ہے اور نہ ہی مسلمانوں کے دل و دماغ سے محو ہو سکتا ہے۔

سورۃ نساء کی آیت ”فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم“ کی تفسیر میں ہے کہ ایک منافق نے حضور ﷺ کے فیصلے کے بعد حضرت عمرؓ سے دوبارہ فیصلہ کی درخواست کی تو اسے بھی اہانتِ رسول کے جرم میں قتل کر دیا گیا اور اس کا دعویٰ عدالتِ نبوی ﷺ میں پیش ہوا تو اس کی سماعت کے بعد اس آیت کے نزول سے نہ صرف حضرت عمرؓ کے فیصلہ کی عدالتِ الٰہی سے توثیق ہوئی بلکہ انہیں ”فاروق“ (یعنی حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا) کے عالی مرتبت خطاب سے بھی سرفراز فرمایا گیا۔

قتلِ کعب بن اشرف

جناب جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے روایت ہے کہ سرکارِ رسالت مآب ﷺ نے صحابہؓ سے

صفحہ ۲۸۱

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں فرمایا ”تم میں کون کعب بن اشرف کی خبر لے گا؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی ہے“۔ یہ سن کر محمد بن مسلمہ انصاری کھڑے ہوئے اور عرض کیا ”یا رسول اللہ ! کیا آپ ﷺ کو منظور ہے کہ میں اسے ختم کر دوں؟“ فرمایا ”ہاں!“ ۔ جس پر انہوں نے کہا: ”تو پھر مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس سے نپٹنے کے لئے جس طرح مناسب سمجھوں معاملہ کروں ۔“ فرمایا: ”اجازت ہے“ ۔ اس کے بعد محمد بن مسلمہؓ کعب کے پاس پہنچے اور کہا ”دیکھو یہ شخص (یعنی پیغمبر اسلام) ہم سے زکوٰۃ مانگتا ہے جبکہ ہمارے پاس خود کھانے کو نہیں ۔ عجیب مصیبت میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ میں تمہارے پاس اس لئے آیا ہوں کہ ہمارے لئے کچھ قرض کا انتظام کرا دو“ ۔ کعب نے کہا: ”ابھی کیا ہے، خدا کی قسم آگے چل کر تمہیں اور بھی بہت تکلیفیں اٹھانا پڑیں گی“۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا: ”بات یہ ہے کہ ہم ایک بار اس کی پیروی کر چکے ہیں ، اب یہ اچھا نہیں لگتا کہ ایک دم اس کو چھوڑ دیں مگر دیکھ رہے ہیں کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ خیر ، ہم اس غرض سے آئے ہیں کہ ایک وسق یا دو وسق (غلہ یا کھجور) ہم کو قرض دلوا دو“ ۔ کعب نے کہا ”اچھا اس کا انتظام ہو جائے گا مگر اس کے بدلہ تمہیں رہن رکھنا ہوگا“ ۔ انہوں نے کہا ”کیا چیز ہم بطور رہن رکھیں؟“ کعب نے کہا: ”اپنی عورتوں کو بطور رہن ہمارے پاس رکھو“ ۔ جس پر ان لوگوں نے کہا: ”یہ بھی خوب ! سارے عرب میں تم خوبصورت لوگ ہو، بھلا ہم کس طرح اپنی عورتوں کو تمہارے پاس گروی کر دیں“ ۔ اس نے کہا: ”اچھا اپنے بیٹوں کو ہمارے پاس گروی کرو“ ۔ انہوں نے کہا ”بیٹوں کو گروی کریں گے تو لوگ ساری عمر طعنہ دیں گے وسق یا دو وسق پر یہ گروی ہوئے تھے، جو بڑے شرم کی بات ہے۔ البتہ ہم اپنے ہتھیار تمہارے پاس بطور رہن رکھ سکتے ہیں“ ۔ اس گفتگو کے بعد محمد بن مسلمہؓ رات کو پھر آنے کا وعدہ کر کے چلے گئے۔ جب رات کو آئے تو ابو نائلہ کو ، جو کعب کا رضاعی بھائی تھا، ساتھ لائے۔ کعب نے ان کو قلعہ کے پاس بلا لیا اور خود قلعہ سے اتر کر نیچے ان سے آ کر ملا۔ جب وہ قلعہ سے اترنے لگا تو اس کی بیوی کہنے لگی ”اتنی رات گئے کہاں جا رہے ہو؟“ کعب نے کہا ”محمد بن مسلمہؓ اور میرا بھائی ابو نائلہ مجھے بلا رہے ہیں“ ۔ سفیان کہتے ہیں ، عمرو بن دینارؓ کے سوا اور لوگوں نے یہ بات بھی کہی ہے کہ اس کی بیوی نے یہ بھی کہا ”میں نے جو آواز سنی ہے اس سے خون ٹپک رہا ہے“۔

جب کعب سر پر چادر اوڑھے ہوئے اترا (اس خیال سے کہ مسلمانوں کا اسلحہ اس کے پاس

صفحہ 282

گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

گروی ہو جائے گا) تو اس کے بدن سے خوشبو کی مہک آ رہی تھی۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا ”میں نے تو آج تک ایسی خوشبو نہیں سونگھی“۔ عمرو کے سوا اور دوسرے راویوں نے یوں بیان کیا ہے کہ کعب نے اس کے جواب میں کہا ”میرے پاس عرب کی ایسی عورت ہے جو سب سے زیادہ معطر رہتی ہے اور حسن و جمال میں اس کی کوئی نظیر نہیں“۔ عمرو بن دینار کا بیان ہے کہ محمد بن مسلمہؓ نے کعب سے کہا ”کیا میں تمہارا سر سونگھ لوں؟“ کعب نے کہا، ”ہاں سونگھ لو“۔ محمد بن مسلمہؓ نے اس کا سر خود بھی سونگھا اور اپنے ساتھیوں کو بھی سونگھایا۔ پھر کہا ”ایک مرتبہ اور“۔ اس نے کہا ”اچھا!“ اس مرتبہ محمد بن مسلمہؓ نے کعب کا سر زور سے تھام لیا اور ساتھیوں سے کہا، ہاں اس کا سر لے لو اور انہوں نے اس کا کام تمام کر دیا۔ پھر حضور ﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ ﷺ کو اس کی خبر دی۔“ (1)

صحیح بخاری میں ہے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن حضور ﷺ نے ابن خطل کو اس وجہ سے کہ وہ شاتم رسول تھا، حرم میں قتل کروا دیا۔ فتح الباری میں اس واقعہ کی پوری تفصیلات موجود ہیں۔ ابن خطل خانہ کعبہ کا غلاف پکڑ کر لٹکا ہوا تھا، ایک صحابی نے خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہو کر اس کے بارے میں اطلاع دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا، جاؤ اسے قتل کر دو۔ انہوں نے اسے قتل کر دیا۔

فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے جن مجرمین کا خون رائیگاں قرار دیا تھا، ان میں ابن خطل کی دو لونڈیاں بھی تھیں جو نبی ﷺ کی ہجو گایا کرتی تھیں۔ ان میں ایک کا نام قریبہ تھا جو قتل کر دی گئی تھی۔

مدینہ میں ایک شخص تھا جس کا نام ابو عفک تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے جب حارث بن سوید بن صامت کو قتل کرا دیا تو اس نے منافقت کا رویہ اختیار کیا اور حضور ﷺ کی شان میں منظوم ہجو لکھی۔ حضور ﷺ کو جب اس کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی ہے جو اس کو قتل کر دے؟“ سالم عمیرؓ اٹھے اور انہوں نے جا کر اس کو قتل کر دیا۔

بنو امیہ کی ایک عورت تھی جس کا نام عصماء بنت مروان تھا۔ یہ شاعرہ تھی۔ ابو عفک کے قتل سے اسے ناگواری ہوئی اور اس کا نفاق ظاہر ہوا۔ ذات رسول ﷺ اور آپ ﷺ کے مشن اور اہل اسلام کے خلاف اس نے اشعار میں ہرزہ سرائی کی۔ حسان بن ثابتؓ نے اس کے قصیدہ کا جواب دیا۔ دونوں

صفحہ ۲۸۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

کے قصیدوں کے اشعار سیرت ابن ہشام میں بھی مذکور ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے کہا کہ کیا کوئی شخص نہیں جو انتقام لے اور اس عورت کو جاکر قتل کر دے؟ عمیر بن عدی الخطمی نے یہ کام اپنے ذمہ لیا اور اس کے گھر جا کر اسے قتل کر دیا۔ قتل کرنے کے بعد وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور قتل کی اطلاع دی، آپ ﷺ نے فرمایا: نصرتَ اللّٰہَ ورسولَہٗ یا عمیر...... عمیر! تم نے اللہ اور اس کے رسول کی مدد کی۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا شاتم رسول کے بارے میں عملاً اور صریحاً اجماع ہے کہ انہوں نے کسی ایسے بدبخت کو زندہ نہیں چھوڑا جس نے اشارے، کنائے کی زبان میں بھی حضور ﷺ کی توہین کی ہو۔ عرفہ ابن الحارث جو کہ صحابی ہیں، عکرمہ بن ابی جہل کے ساتھ یمن میں مرتدین کے خلاف جہاد میں شریک تھے۔ ان کے پاس سے ایک عیسائی گزرا، جس کا نام یحون تھا، آپ نے اسے اسلام کی دعوت دی۔ اس نے حضور ﷺ کے متعلق غلط جملہ استعمال کیا۔ آپ اسے پکڑ کر والی مصر حضرت عمرو بن العاصؓ کے پاس لے گئے۔ والی مصر نے نصاریٰ کو بلایا اور فرمایا کہ ہم انہیں عہد دے چکے ہیں۔

حضرت عرفہؓ نے فرمایا: ”معاذ اللہ! کیا ہم نے اس کا اس لئے عہد و ذمہ لیا کہ یہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول کے متعلق ایذا دیں؟ ہم نے تو صرف یہ ذمہ لیا ہے کہ ہم ان کے درمیان اور ان کے کنائس (عبادت گاہوں) کے درمیان کوئی مداخلت نہیں کریں گے یعنی اپنی عبادت گاہوں میں وہ جو چاہیں کریں اور ہم نے اس بات کا ذمہ لیا کہ ہم ان پر ان کی استطاعت سے زیادہ کوئی بوجھ نہیں ڈالیں گے اور ان کی جان و مال اور عبادتگاہوں کی حفاظت کریں گے، نیز ان کے درمیان اور ان کے احکام کے درمیان کوئی مداخلت نہیں کریں گے مگر یہ کوئی مقدمہ ہمارے پاس لائیں تو ہم ان کے درمیان اللہ کے احکام کے مطابق فیصلہ کریں گے“۔

حضرت عمرو بن العاصؓ نے فرمایا: ”صدقت“ آپ نے سچ کہا۔

(2)

دوسری روایت بھی اسی کتاب کے اسی صفحہ پر حضرت عمیر بن اُمیہ سے ہے۔ فرماتے ہیں کہ میری ایک بہن مشرکہ تھی اور حضور ﷺ کے متعلق سب و شتم کرتی، تو آپؓ ایک دن تلوار لے کر آئے اور اسے قتل کر دیا۔ آپ کے بھانجوں نے چیخ و پکار کی اور کہا کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کے ماں باپ مشرک ہیں اور ان میں سے کسی کو قتل نہیں کیا گیا، نیز ہم اپنی ماں کے قاتل کو جانتے ہیں۔ حضرت عمیرؓ کو

صفحہ ۲۸۴

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں کوئی بے گناہ نہ قتل کر دیا جائے تو آپ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ بیان کیا۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ ”تو نے اپنی بہن کو قتل کیا؟“ جواب دیا: ”جی ہاں!“ فرمایا ”کیوں؟“ کہا کہ: ”آپﷺ کے متعلق نازیبا الفاظ کہہ کر مجھے ایذا دیتی تھی“۔ تو رحمت عالم نے مقتولہ کے لڑکوں کو طلب کیا اور ان سے پوچھا، تو انہوں نے بے گناہ آدمی کو قاتل قرار دیا، تو آپﷺ نے پورے معاملہ سے مطلع فرماتے ہوئے ان کا خون معاف کر دیا۔ (3)

مہاجر بن امیہ جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دورِ خلافت میں صوبائی عدلیہ کے سربراہ تھے، ان کی عدالت میں دو گانے والی عورتوں کا مقدمہ پیش ہوا۔ ایک کے خلاف الزام تھا کہ اس نے سرکارِ رسالت مآبﷺ کی شان میں توہین آمیز الفاظ استعمال کئے ہیں۔ دوسری عورت پر الزام تھا کہ اس نے اپنے گیتوں میں مسلمانوں کی ہجو اور توہین کی ہے۔ دونوں کے خلاف شہادت سے جرم ثابت ہو گیا، انہیں یہ سزا دی گئی کہ دونوں کے ہاتھ کاٹ دیئے گئے اور ان کے دانت توڑ دیئے گئے کہ آئندہ ایسی بدآموزی سے وہ باز رہیں۔ ان دونوں مقدمات کی روئیداد جناب صدیق اکبرؓ کے سامنے پیش ہوئی، تو آپؓ نے ان دونوں سزاؤں سے اختلاف کرتے ہوئے مہاجر بن امیہ کو تحریر فرمایا:

”اس مغنیہ کے خلاف جس نے رسول اللہﷺ کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے، تم نے جو کارروائی کی اس کا مجھے علم ہوا۔ اگر تم یہ کارروائی نہ کر چکے ہوتے تو میں تمہیں حکم دیتا کہ اسے سزائے موت دی جائے کیونکہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے خلاف ارتکابِ جرم کی سزا عام جرائم کی سزا کے برابر نہیں ہوتی اور تم نے دوسری مغنیہ کو، جس نے مسلمانوں کی ہجو اور دشنام طرازی کی ہے جو سزا دی ہے وہ بھی درست نہیں۔ اس لئے آپؓ نے حاکمِ عدالت کو ہدایت کی کہ وہ اس بارے میں آئندہ محتاط رہے اور ایسی سنگین سزا کے اجراء سے اجتناب کرے۔“

توہین رسالت کے بارے میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ایک اور واقعہ سے ان کی ژرف نگاہی، حلم و تدبر اور صحیح قوتِ فیصلہ کا اندازہ ہوتا ہے۔ جس میں ان کی ذاتی دشمنی، اشتعال انگیزی اور غم و غصہ کا کوئی دخل نہیں تھا۔ اس واقعہ کے راوی حضرت ابو برزہؓ فرماتے ہیں:

صفحہ 285

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

''ایک دن میں حضرت ابوبکرؓ کی مجلس میں موجود تھا، ایک شخص نے آپؓ سے گستاخی کی جس پر آنجنابؓ اس شخص سے ناراض ہوئے۔ خلیفۂ وقت کی شان میں گستاخی پر مجھے غصہ آ گیا اور میں بھی اس وقت مشتعل ہو گیا۔

میں نے عرض کیا: ''اے خلیفۂ رسول اگر آپ اجازت دیں تو میں اس نامعقول گستاخ کی گردن اڑا دوں؟‘‘

حضرت ابوبکرؓ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا اور اٹھ کھڑے ہوئے اور خاموشی سے اندر کمرے میں چلے گئے اور تھوڑی دیر بعد مجھے اندر بلا بھیجا اور پوچھا:

اے ابو برزہ! تم نے ابھی مجھ سے کیا کہا تھا؟

میں نے عرض کیا ''یہی کہ آپ اگر اجازت دیں تو میں اس کا سر اڑا دوں‘‘۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا ''اچھا اگر میں تمہیں اجازت دیتا تو کیا تم واقعی اسے مار دیتے؟‘‘

میں نے عرض کیا ''یقیناً میں اس کو زندہ نہ چھوڑتا۔‘‘

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا، رب ذوالجلال کی قسم یہ مرتبہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی اور شخص کو حاصل نہیں (کہ اس سے گستاخی کرنے والے کو قتل کر دیا جائے خواہ وہ خلیفہ وقت ہی کیوں نہ ہو)۔ (4)

مطلب یہ کہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بدزبانی کرنے والا سزائے موت کا مستوجب ہے۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی انسان ایسا نہیں جس کی بدگوئی کرنے والے کو سزائے موت دی جائے۔ (البتہ خلفاء راشدین کے ایمان کا انکار کرنے اور انہیں سب و شتم کرنے سے چونکہ اسلام کے بعد کفر کا التزام ثابت ہونے سے ارتداد لازم آتا ہے۔..... اور اسلام کے بعد ارتداد کی سزا قتل ہے، لہٰذا تمام وہ شیعہ مصنفین جو اس جرم میں ملوث ہیں شرعی طور پر اسلامی حکومت میں ان کی سزا قتل ہے)

ابن وہب نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ ایک راہب نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی شان میں دشنام طرازی کی۔ جب حضرت ابن عمرؓ نے یہ بات سنی تو ان لوگوں سے جنہوں نے یہ

صفحہ ۲۸۶

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

واقعہ سنایا، فرمایا: ”تم نے اسے قتل کیوں نہیں کر دیا؟ اگر میں وہاں ہوتا تو اسے زندہ نہ چھوڑتا“۔

طحاوی کے باب ’استتابۃ المرتد‘ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا ایک اہم فیصلہ درج ہے، آپؓ حضرت عمر فاروقؓ کے زمانہ میں کوفہ کے چیف جسٹس تھے۔ آپؓ کی عدالت میں پیروان مسیلمہ کذاب کو ارتداد کے جرم میں گرفتار کر کے پیش کیا گیا۔ جنہوں نے توبہ کرتے ہوئے معافی کی درخواست کی۔ ان میں سے ایک شخص عبداللہ ابن النواحہ کو آپ نے باوجود توبہ کے سزائے موت دی۔ لوگوں نے اعتراض کیا کہ ایک ہی جرم کی دو مختلف سزاؤں کا کیا جواز ہے؟ حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا: ”ابن النواحہ وہ آدمی ہے جو حضورﷺ کی خدمت میں حجر بن دثال کے ساتھ مسیلمہ کا سفیر بن کر آیا تھا۔ حضورﷺ نے فرمایا کیا تم شہادت دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ان دونوں نے کہا، کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے؟ (یقیناً صریحاً یہ آپﷺ کی شان میں گستاخی تھی) جس پر حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر سفارت کاروں کا قتل جائز ہوتا تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا۔ اب چونکہ ابن النواحہ گرفتار ہو کر آیا ہے اس لئے اس کو یہ سزائے موت دی گئی ہے۔“

(5)

صحابہ کرام اور خلفاء راشدینؓ کے ادوار کے بعد اگرچہ عرب حکمرانوں کا طرز بود و باش سلاطین عجم کی طرح غیر اسلامی ہوتا جا رہا تھا، لیکن ملک کا قانون عام شریعت ہی کے تابع تھا۔

ایوب بن یحییٰ (جو عبد الملک کے دور حکومت میں حاکم عدن مقرر ہوئے تھے) جب عدن پہنچے تو ان کے سامنے ایک نصرانی کو لایا گیا، جس نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی۔ ایوب نے اس کے بارے میں عبد الرحمن صنعانی سے مشورہ کیا، جنہوں نے اس جرم کی پاداش میں اس کے قتل کا فتویٰ دیا تو اسے قتل کر دیا گیا۔ عبد الرحمن صنعانی وہ بزرگ ہیں، جنہوں نے حضرت عمرؓ سے اکتساب علم کیا اور ان کے تربیت یافتہ ہیں، پھر ایوب نے اس بارے میں عبد الملک کو اس کی اطلاع دی جس نے جواب میں کہا کہ تم نے بالکل ٹھیک کیا ہے۔

امام ابن حزم نے اپنی معرکۃ الآراء تصنیف ”المحلی“ میں ابن عبد الملک سے متعلق شاتم رسولؐ کے بارے میں ایک اور واقعہ کا ذکر علی بن المدینی کے حوالہ سے اس طرح کیا ہے: ”علی بن المدینی ایک مرتبہ خلیفہ ابن عبد الملک کے پاس آئے تو اس نے ان سے پوچھا، کیا

صفحہ ۲۸۷

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

تم کو کوئی ایسی حدیث معلوم ہے جو شاتم رسول کے بارے میں مستند ہو؟ علی نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے عبدالرزاق بن ھمام صاحب المصنف کی وہ حدیث سنائی جس میں حضرت خالد بن ولید نے حضور ﷺ کے حکم پر شاتم رسول کو قتل کیا تھا۔ جس پر خلیفہ نے علی بن المدینی کو خوش ہو کر ایک ہزار دینار بطور انعام دیئے۔

(6)

عباسی دور حکومت میں شاتم رسول کا قتل

خلیفہ ہارون رشید نے چند فقہاء عراق کے حوالہ سے امام مالک رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ جو شخص سرکار رسالت مآب ﷺ کو گالی دے، اسے کیا سزا دی جائے؟ اس پر امام غضبناک ہوئے اور فرمایا اس امت کا کیا ٹھکانا جو نبی کریم ﷺ کی شان میں سب وشتم پر خاموش رہے، ایسے شخص کو قتل کر دیا جائے اور جو صحابہؓ کو گالی دے اسے کوڑے مارے جائیں۔

(7)

گستاخ رسول ائمہ فقہ کی نظر میں

محترم قارئین! تمام ائمہ فقہ، امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ، امام داؤدؒ، امام ابن حزمؒ، امام ابن تیمیہ (رحمہم اللہ تعالیٰ) اور ان کے سارے صاحب علم وفضل شاگرد اس بات پر متفق ہیں کہ شاتم رسول واجب القتل ہے اور یہ سزا اسے بطور حد دی جائے گی۔

توہین رسالت کے مجرم کے لئے فقہ حنفی کے قوانین

”فتاویٰ بزازیہ“ اور ”تنبیہ الولاۃ“ جو فقہ حنفی کی معروف کتابیں ہیں، ان کی رُو سے شاتم رسولؐ کو سزائے موت بطور حد دی جائے گی۔ اس کی سند میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وہ فرمان ہے، جب آپ نے اپنے گستاخ کے قتل سے ابو برزہؓ کو منع کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ یہ حق سوائے اللہ کے رسول ﷺ کے کسی اور کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور کوفہ کے دیگر فقہاء کا اس پر اتفاق ہے اور یہی مذہب مشہور اور مذہب جمہور ہے۔ امام خیر الدین رملی (حنفی) فتاویٰ خیریہ میں شاتم رسول کو حدّاً واجب القتل قرار دیتے ہیں۔ صدر الشہید حنفی کا ”البحر الرائق“ میں یہی فتویٰ ہے کہ شاتم رسول کو حدّاً قتل کیا جائے گا۔ امام ابو نصر حنفی اور علامہ ابواللیث سمرقندی حنفی بھی اسی کے قائل ہیں کہ شاتم رسول کو سزائے موت بطور حد دی جائے گی۔ البتہ چند فقہائے حنفیہ کا اگر کچھ اختلاف ہے تو وہ

صفحہ ۲۸۸

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول مجرمیت کی عدالت میں

اس بات پر ہے کہ اگر شاتم رسول قبل الاخذ یعنی گرفتاری سے پہلے توبہ کر لے تو یہ حد ساقط ہو جائے گی اور وہ سزائے موت سے بچ جائے گا؟ اس بارے میں بھی علمائے احناف کی اکثریت کا فتویٰ ہے کہ قبل الاخذ توبہ سے حد ساقط نہیں ہوگی اور شاتم رسول مستوجب سزائے موت ہوگا۔ بعد الاخذ یعنی گرفتاری کے بعد معافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کچھ علمائے احناف کو اس مسئلہ پر جو اشتباہ پیدا ہوا ہے وہ ایک قول ہے جو امام ابو حنیفہؒ سے منسوب ہے۔ جس کے بارے میں بھی اختلاف ہے کہ آیا وہ قول امام صاحبؒ کا ہے بھی یا نہیں؟ خود ان کے فاضل شاگرد امام محمدؒ تو بلا استفسار قتل مرتد کو بھی مباح قرار دیتے ہیں حالانکہ مرتد اور شاتم رسول میں واضح فرق موجود ہے کیونکہ توہین رسالت کا جرم ارتداد سے بھی سنگین تر ہے۔

(8)

فقہ حنفی کے ایک اور مستند امام ابن عابدین کا رد المحتار حاشیہ در مختار میں حسب ذیل فتویٰ درج ہے: ”کافر کو سب و شتم النبی (ﷺ) کی وجہ سے بطورِ حد قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ حد توبہ سے ساقط نہیں ہوتی“۔

(9)

ابن الہمام فتح القدیر کی شرح میں لکھتے ہیں: ”جس نے رسول اللہ ﷺ سے دل میں بغض رکھا وہ مرتد ہو گیا اور شاتم رسول تو اس سے بھی بدتر ہے۔ ہمارے نزدیک واجب القتل ہے اور اس کی توبہ سے سزائے موت موقوف نہیں ہوگی اور یہ مذہب اہل کوفہ اور امام مالکؒ کا بھی ہے اور یہ حکم حضرت ابو بکرؓ سے منقول ہے ۔ صدر الشہید حنفی، امام خیر الدین رملیؒ، ابواللیث سمرقندیؒ، امام صفارؒ کے علاوہ اکثر فقہائے احناف کا اس پر اتفاق ہے ۔

(10)

نعمان عبدالرزاق السامری نے اپنی کتاب ”احکام المرتد فی الشریعۃ الاسلامیۃ“ میں فقہ حنفی کے ایک بہت بڑے عالم علامہ محی الدین کی کتاب ”السیف المشہور علی الزندیق الساب للرسول“ میں شاتم رسول کے بارے میں علمائے احناف کی تحقیق کا مکمل اقتباس درج کیا ہے، جس کا ترجمہ حسب ذیل ہے:

”جہاں تک احناف کا تعلق ہے، وہ مرتد کی توبہ کے قائل نہیں۔ اسی طرح وہ گستاخ رسول کی توبہ کو بھی رَد کرتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک توہین رسالت ارتداد سے بھی سنگین جرم ہے۔ اس سلسلہ میں وہ علامہ محی الدین کی تحریر کو من وعن نقل کرتے ہوئے اسے بطور سند پیش کرتے ہیں ۔“

صفحہ 289

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

”شاتم رسول کے بارے میں فتاویٰ بزازیہ سے واضح ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ یا انبیاء میں سے کسی کی شان میں گستاخی کرے اور انہیں برا بھلا کہے تو ایسے شخص کو بطور حد سزائے موت دی جائے گی اور کسی صورت میں بھی اس کی توبہ قابل قبول نہیں خواہ وہ گرفتار کر کے عدالت میں لایا جائے یا وہ خود توبہ کر کے عدالت میں پیش ہو جائے کیونکہ حد اس پر واجب ہو چکی ہے، اس لئے توبہ سے وہ ساقط نہیں ہو گی“۔ اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی شخص اس کے خلاف رائے دے گا کیونکہ یہ ایک ایسا حق ہے جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ بندہ سے بھی متعلق ہے۔ بایں وجہ وہ توبہ سے زائل نہیں ہو گا جیسا کہ تمام حقوق العباد کا معاملہ ہے۔ قذف کی حد توبہ سے ساقط نہیں ہو جاتی، یہی مذہب ہے حضرت ابو بکر صدیق ؓ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کا اور اسی کی روشنی میں علمائے روم آج تک فتویٰ دیتے آئے ہیں۔ آلِ عثمان سے قبل بھی اسی فتویٰ پر عملدرآمد ہوتا رہا ہے۔ اس فتویٰ کی علت سرکار رسالت مآب ﷺ کی ایذا رسانی ہے۔ یہ دراصل انسانی حق ہے اور اس کی بدولت ایک نظام کی حفاظت ہوتی ہے اور یہ سزا ارتداد سے بھی روکتی ہے ۔“ (11)

فقہ حنفی کی ایک اور مستند کتاب ”فتاویٰ قاضی خان“ میں جو امام الحسن بن المنصور الاوزجندی کی تالیف ہے، ان باتوں کا صراحتاً ذکر ہے جن سے اہانتِ رسول ہوتی ہے۔

ہندوستان کے درویش صفت، پابند شریعت اور غازی حکمران اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ کے دور میں جو فقہ مدوّن ہوئی تھی ”فتاویٰ عالمگیریہ“ کے نام سے آج بھی موجود ہے اور برٹش راج سے قبل برصغیر ہند میں قانونِ ملکی کے طور پر نافذ رہی ہے۔ اس میں بھی وہ جزئیات تفصیلاً بیان کر دی گئی ہیں جن سے توہینِ رسالت کا ارتکاب ہوتا ہے اور اس کا مرتکب تکفیر کی زد میں آتا ہے مثلاً اگر کسی نے (معاذ اللہ) یہ کہا ”محمد درویشک بود یا جامہ پیغمبر ریمناک بود“ یعنی محمد (علیہ الصلوٰۃ والسلام) ایک حقیر درویش تھے یا ان کے کپڑے پیپ سے بھرے ہوئے تھے، تو بعض فقہاء کے نزدیک مطلقاً اس کی تکفیر کی جائے گی۔ یعنی اتنا کہہ دینے سے وہ مستوجب سزا ہو جائے گا، مگر بعض فقہاء تکفیر کے لئے نیت کی شرط لازمی قرار دیتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک مثال سے اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے جس کا نام ”محمد“ یا ”احمد“ ہے، اسے کوئی یہی نام لے کر گالی دے اس کی نیت اور اس کا مقصود توہینِ رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وسلم)

صفحہ ۲۹۰

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

ہو تو ایسے شخص کی تکفیر کی جائے گی۔ اس کے لئے محیط کا حوالہ دیا گیا ہے البتہ اکراہ یعنی جبر کی صورت میں اگر کسی نے حضور ﷺ کو بُرا بھلا کہا تو اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی کیونکہ کسی شخص کو کلمہ کفر کہنے پر مجبور کیا جائے اور اس نے اس جبر واکراہ کی وجہ سے کہا ہو تو وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوگا۔ (12)

کرے یا یہ کہے کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ جاننے والا ہوں، یا کسی اور کو حضور ﷺ پر فضیلت دے تو ایسا شخص تمام فقہاء کی نظر میں کافر ہے اور ایسے شخص کو قتل کیا جائے گا۔ (13)

دیگر فقہاء کا مسلک

دیا جائے گا۔ نہ اس سے توبہ طلب کی جائے گی، اور نہ اس کی توبہ قبول ہے۔ اگر وہ توبہ بھی کرلے تب بھی اسے بطورِ سزا قتل کیا جائے گا، یہ بُرا کہنے والا نہ جہالت کی وجہ سے معذور ہوگا کیونکہ کفر میں جہل کوئی عذر نہیں، نہ نشہ کی وجہ سے معذور ہوگا بشرطیکہ وہ نشہ حرام ہو۔ نہ لاپرواہی کی وجہ سے معذور ہوگا کہ بلا سوچے سمجھے کثرتِ کلام کی وجہ سے اس میں مبتلا ہو گیا ہے، اسی طرح سبقتِ لسانی کا عذر بھی قبول نہیں کیا جائے گا نہ غصہ کی وجہ سے معذور ہوگا، بلکہ اگر شدید غصہ میں گالی دے، تب بھی قتل کیا جائے گا۔ یا تاویل کر کے یہ کہے کہ میری مراد تو کچھ اور تھی جیسے کسی کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق کا ذکر کیا گیا، اس نے لعنت کی اور پھر کہنے لگا میں نے تو تجھ پر لعنت کی تھی۔ کیونکہ اسے بھونکنے کے لئے اللہ نے بھیجا ہے۔ ان سب صورتوں میں توبہ قبول نہیں اور قتل لازمی ہے۔۔۔۔۔۔ ہاں اگر بُرا کہنے والا کافر اصل تھا پھر مسلمان ہو گیا تو قتل نہ کیا جائے گا، کیونکہ اسلام پُرانے سب گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ باقی رہا وہ شخص جو بدگو مسلمان تھا پھر کسی اور وجہ سے مرتد ہو گیا اور پھر اسلام لے آیا تو اس کا قتل ساقط نہ ہوگا اور یہی حکم ہے اللہ تعالیٰ کو بُرا کہنے والے کا، کہ یہ اگر مسلمان نہ ہو تو قتل کر دیا جائے گا۔ البتہ اگر مسلمان ایسی حرکت کرے تو اس سے توبہ کروانے میں اختلاف ہے کہ کیا توبہ کروا کے توبہ قبول کرنے کے بعد قتل معاف کر دیا جائے گا یا توبہ کے باوجود قتل کر دیا جائے گا، اس صورت میں راجح قول پہلا ہے۔ (14)

امام صاوی مالکی رحمہ اللہ حاشیہ علی الشرح الصغیر میں فرماتے ہیں: ”یہ جو نبی کو ’سب‘ کرنے“

صفحہ ۲۹۱

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

والے کا حکم بیان کیا جا رہا ہے اس میں سب کا لفظ گالی کو بھی شامل ہے اور ہر بُرے کلام کو بھی۔ تو اب آپﷺ پر تہمت، آپ کی شان کو ہلکا سمجھنا، آپ پر عیب لگانا...... یہ ساری صورتیں ”سب“ کے لفظ میں داخل ہیں، اور ”ساب“ کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ مکلف (عاقل بالغ) ہے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔

(15)

”بے شک ہر وہ شخص جس نے نبی اکرمﷺ کو گالی دی یا حضورﷺ کی طرف کسی عیب کو منسوب کیا یا حضورﷺ کی ذات مقدسہ، آپﷺ کے نسب، دین یا آپﷺ کی کسی خصلت سے کسی نقص کی نسبت کی، یا آپﷺ پر طعنہ زنی کی یا جس نے بطریق دشنام اہانت یا تحقیر کی یا شان مبارک یا ذات مقدسہ کی طرف کسی عیب کو منسوب کرنے کے لئے حضور کو کسی چیز سے تشبیہ دی، وہ حضورﷺ کو صراحتاً گالی دینے والا ہے، اُسے قتل کر دیا جائے۔ ہم اس حکم میں قطعاً کوئی استثناء نہیں کرتے، نہ ہم اس میں کوئی شک وشبہ کرتے ہیں۔ خواہ صراحتاً توہین ہو یا اشارۃً یا کنایۃً اور یہ سب علماء اُمت اور اہل فتویٰ کا اجماع ہے عہد صحابہ سے لے کر آج تک۔

(16)

”شاتم رسول کافر و مرتد قرار دیا جائے گا اور اس کا قتل واجب ہے اسے کوئی معافی نہیں دی جائے گی اور علماء کا اس پر اتفاق ہے اور جو شخص گستاخ نبوت کے کفر وعذاب میں شک کرے وہ بھی سرحد کفر میں داخل ہو جائے گا“۔ اسی سلسلہ میں شاہ صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنے گستاخ کو معاف فرمادیں یا قتل کر دیں، چنانچہ یہ دونوں باتیں واقع ہوئی ہیں لیکن امت پر شاتم رسول کا قتل واجب ہے اور شاتم رسول کی توبہ قابل قبول نہیں ہے“۔

(17)

اسی طرح دارالعلوم دیوبند کے ممتاز عالم دین مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ، شاگرد شیخ الہند حضرت محمود الحسن رحمہ اللہ نے گستاخ رسول کے بارے میں قتل کا فتویٰ دیا ہے۔

(18)

خلاصہ یہ ہے کہ نبیﷺ کو گالی دینے والے کے کفر اور اس کے مستحق قتل ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں۔ چاروں آئمہ (ابوحنیفہ، مالک، شافعی اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ) سے یہی منقول ہے۔

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ کا وجود اس لائق نہیں کہ وہ زمین پر موجود رہے

صفحہ 292

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول ﷺ شریعت کی عدالت میں

بلکہ اسے فی الفور واصل جہنم کرنا ضروری ہے۔

علماء اور عدالتوں پر لازم ہے کہ وہ رسالت مآب ﷺ کی عزت کے پیش نظر ایسے شخص کے قتل کا حکم جاری کریں۔

امام محمد بن عبداللہ صاحب تنویر الابصار عدم قبول توبہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ”میری رائے کے مطابق یہی قول قوی ہے کہ جو شخص صاحب شرع ﷺ کو بُرا کہتا ہے، اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ فتویٰ اور قضا کی صورت میں حضور ﷺ کے مرتبہ کے پیش نظر علماء اور عدالت پر لازم ہے کہ وہ اس کے قتل کا حکم دیں۔

قانون توہین رسالت...... عالمی اور ملکی تناظر میں

یورپ اور قانون توہین انبیاء

محترم قارئین! اب ہم مختصر الفاظ میں یہ بھی واضح کئے دیتے ہیں کہ، قانون توہین انبیاء علیہم السلام دنیا کے تقریباً تمام ملکوں میں تھوڑی بہت معمولی تبدیلیوں کے ساتھ نافذ رہا ہے۔ نیو انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے مطابق اکثر مشرقی اور یورپی ملکوں میں بلاس فیمی لاء کسی نہ کسی صورت قابل مؤاخذہ جرم رہا ہے، آسمانی صحائف کو ماننے والی اقوام جہاں بھی حکمران رہی ہیں وہاں توہین رسالت کی سزا، سزائے موت پر عمل درآمد ہوتا رہا ہے۔

تالمودی قانون

یہودیوں کے تالمودی قانون کی رُو سے صرف پیغمبران بنی اسرائیل اور تورات کی بے حرمتی کی سزا موت ہے۔ عہد نامہ عتیق (Old-Testament) میں رسول کے نائبین کی اہانت کی سزا بھی سزائے موت مقرر ہے، ملاحظہ ہو استثنا باب 12:18 صفحہ 183۔

پاپائے روم یا چرچ کے اقتدار میں آنے سے قبل یورپ میں رومن لا (Roman Law) کی عمل داری تھی۔ چونکہ انجیل میں کوئی قانونی احکام موجود نہ تھے لیکن کلیسا نے سٹیٹ (State) پر غلبہ و اقتدار حاصل کر لیا تو پوپ کے منہ سے نکلے ہوئے حکم کو قانون پر بالا دستی حاصل ہو گئی۔ توراۃ کے برعکس انجیل صرف پند و نصائح کا مجموعہ ہے اس لئے یورپ اور ایشیا میں جہاں جہاں عیسائی حکومتیں قائم ہوئیں،

صفحہ ۲۹۳

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

وہاں کاروبار حکومت چلانے کے لئے اہل کلیسا کو رومی قانون اور یہودیوں کے تالمودی قانون ہی پر انحصار کرنا پڑا۔ اس لئے چرچ نے توہین مسیح علیہ السلام کے لئے اسی سزا کا حکم دیا جو بنی اسرائیل کے پیغمبر کی اہانت کے لئے مقرر تھی۔

رومن لاء

رومن ایمپائر کے شہنشاہ جسٹینین (Justinian) کا دور حکومت طلوع اسلام سے چند سال قبل 528 تا 565 عیسوی پر محیط ہے۔ رومن لاء کی تدوین کا سہرا بھی اسی کے سر ہے اور اس کو عدل و انصاف (Justice) کا مظہر بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس نے جب دین مسیحی قبول کر لیا تو قانون موسوی کو منسوخ کر کے انبیائے بنی اسرائیل کی بجائے صرف یسوع مسیح کی توہین اور انجیل کی تعلیمات سے انحراف کی سزا سزائے موت مقرر کی۔ اس کے دور سے قانون توہین مسیح سارے یورپ کی سلطنتوں کا قانون بن گیا۔ روس اور اسکاٹ لینڈ میں بھی اٹھارہویں صدی تک اس جرم کی سزا سزائے موت ہی دی جاتی رہی ہے۔

روس میں بالشویک انقلاب کے بعد جب کمیونسٹ حکومت برسر اقتدار آئی تو سب سے پہلے اس نے دین و مذہب کو سیاست اور ریاست سے کلیتاً خارج کر دیا۔ اس کے بعد یہاں سزائے موت برقرار رہی لیکن اہانت مسیح کے جرم کی پاداش میں نہیں بلکہ مسیح کی جگہ اشتراکی امپیریلزم کے بانی سربراہ نے لے لی۔ اسٹالن جو رشین ایمپائر کا سربراہ بن بیٹھا تھا، اس کی اہانت تو بڑی بات تھی، اس سے اختلاف رائے رکھنا بھی ممالک محروسہ روس کا سنگین جرم بن گیا۔ ایسے سر پھرے لوگوں کے یا تو سر کچل دیئے جاتے تھے جس کی مثال لینن کے ساتھی ٹراٹسکی کی خونچکاں موت کی صورت میں موجود ہے، جو اپنی جان بچانے کی خاطر روس سے بھاگ کر امریکہ میں پناہ گزیں تھا یا پھر ایسے مجرموں کو سائبیریا کے بیگار کیمپوں میں موت کے حوالے کر دیا جاتا تھا۔ ایسی اذیت ناک سزاؤں نے زار روس کے سیاہ دور کے عقوبت خانوں کو بھی بھلا دیا۔

(20)

یہ وہ ناقابل تردید حقائق ہیں جو آج بھی کتابوں کے صفحات میں بکھرے ہوئے ہیں۔ ہمارے لئے قابل غور امر یہ ہے کہ آخر علماء مغرب ان حقائق سے آنکھیں کیوں چراتے ہیں۔ صاف

صفحہ ۲۹۳

گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

ظاہر ہے کہ اس سے ان کا مقصد صرف یہی ہو سکتا ہے کہ مسلمان اپنے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و عظمت کی حفاظت سے دستبردار ہو جائیں اور آخر کار اسلام کی دولت سے ہاتھ دھو بیٹھیں ۔ لیکن یاد رکھئے کہ کفار واشرار کی یہ فکر خام کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھار سکے گی ۔ مسلمان عمل کے اعتبار سے جس قدر بھی تہی دامن ہو، تاہم موجودہ دور میں بھی یہ حقیقت واشگاف ہو چکی ہے کہ وہ اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بے حد حساس ہے، اور کیوں نہ ہو کہ جس اللہ نے یہ زمین بنائی، بچھائی اور سجائی اسی اللہ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کو قانونی تحفظ بھی بخشا اور واجب قرار دیا کہ جو شخص میرے لاڈلے کے خلاف بغض وحسد کا اظہار کرے اور کسی بھی طریقے سے اپنے خبث باطن کا پرچار کرے اس ناہنجار کو تہہ تیغ کرنا تمہاری ذمہ داری ہے۔ یہ ذمہ داری اس وقت بھی موجود تھی جب اللہ کے رسول مدینہ منورہ کی سرزمین پر علم وحکمت کی خیرات بانٹ رہے تھے اور اب جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دارالبقاء والسرور کی طرف منتقل ہوئے ایک ہزار چار سو سولہ برس بیت چکے ہیں یہ ذمہ داری ہمارے سر پر ہے، اور ہم میں سے ہر شخص کا یہ عزم بالجزم ہے کہ اگر اللہ اپنی قدرت کاملہ کے تحت ایسے اسباب پیدا فرما دے کہ خاکے چھاپنے والا بدبخت ملعون صحافی اگر ہمارے سامنے لا کھڑا کیا جائے تو ہم اسے ایک لمحہ کے لئے بھی اس دھرتی پر زندہ نہیں رہنے دیں گے ۔ ہم بے عمل اور بد عمل سہی! لیکن ناموسِ رسالت کی قدر وقیمت سے ہر دور میں باخبر رہے ہیں ۔ اس مسئلہ پر جانیں دینا اور جانیں لینا ہمارے لئے نہ صرف یہ کہ مشکل نہیں بلکہ ہمارا محبوب مشغلہ ہے ۔

کیا ڈینش اخبار کا بد کردار صحافی اور اس کی پشت پناہی کرنے والی عالمی شیطانی طاقتیں ہماری تاریخ کو بھول گئی ہیں ؟.......

کیا واقعی دنیا ابو جہل کا انجام بھول چکی ہے؟.......

کیا ابورافع کی ذلت ناک موت کی کہانی صفحات تاریخ سے مٹ گئی ہے؟.......

کیا کعب بن اشرف کا انجام بد ان لوگوں کو یاد نہیں رہا ؟.......

کیا غلاف کعبہ سے لپٹا ہوا ابن خطل ، قتل نہیں کر دیا گیا ؟.......

کیا حویریث بن نقید ، عصماء بنت مروان اور ابی عفک کا تماشہ چشم فلک نے نہیں دیکھا ؟.......

صفحہ ۲۹۵

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟

کیا مسیلمہ کذاب کی ہزیمت کا باب لوگوں کے حافظہ سے محو ہو گیا ہے؟......

کیا دنیا نہیں جانتی کہ راجپال نے ناموس رسالت پر انگشت نمائی کی تو ملت اسلامیہ کا شیر غازی علم الدین اس پہ جھپٹا اور اسے چیر پھاڑ کر رکھ دیا؟......

(21)

رام گوپال نے ناموس رسالت پر ڈاکہ زنی کی تو غازی مرید حسین نے اسے جہنم میں جھونک دیا......

نتھو رام نے دریدہ دہنی کی تو غازی عبدالقیوم نے دن دیہاڑے اسے ابوجہل اور ابولہب کے پاس بھیج دیا......

سوامی شردھا نند نے ہذیان بکا تو غازی عبدالرشید نے اسے جہنم واصل کر دیا......

چنچل سنگھ نے بکواس کی تو غازی عبداللہ نے ایک ہی وار میں اسے فی النار والسقر کر دیا......

کھیم چند گنبدِ خضریٰ کی طرف منہ کر کے بھونکا تو غازی منظور حسین نے اس جہنمی کتے کو اس کے دیس میں پہنچا دیا......

پالامل نے اپنا متعفن منہ کھولا تو غازی صدیق نے اسے موت کا رقص کرا دیا......

ملعون بھیکو نے ہرزہ سرائی کی تو غازی عبدالمنان نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا......

چرن داس نے اپنے منہ سے غلاظت اگلی تو غازی میاں محمد نے اس کے وجود کو ادھیڑ دیا......

ویدا سنگھ نے زہر میں ڈوبی ہوئی اپنی بچھو نما زبان کھولی تو غازی احمد دین نے اسے قتل کر کے ملت اسلامیہ کے کلیجے کو ٹھنڈک پہنچائی......

ہر دیال سنگھ جب قصرِ نبوت کی طرف پھنکارا، تو غازی معراج دین نے اس کی زبان مروڑ دی، گردن توڑ دی......

جب عبدالحق قادیانی نے زہر اُگلا حاجی محمد مالک اس پہ رعد بن کے کڑکا اور اسے نارِ جہنم میں بیٹھے مرزا قادیانی کی جھولی میں پھینک دیا......

جب نعمت احمر حرمتِ رسول پر حملہ آور ہوا تو غازی فاروق نے اسے خاک و خون میں تڑپایا......

صفحہ ۲۹۶

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

اور ہاں ..... جب صادق گنجی نے ناموس رسالت کو بے وقعت بنانے کی سازش کی تو غازی حق نواز اس پر قہر الٰہی بن کر ٹوٹا اور اسے جہنم کی اتھاہ گہرائیوں میں جھونک دیا .....!!

دوستوں کو بھی معلوم رہے اور دشمن بھی سن لیں کہ یہ ہماری تاریخ ہے ..... آج بھی اگر امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی یا کسی بھی شیطانی طاقت کا کوئی پروردہ ناموس رسالت پر ڈاکہ زنی کرے گا تو ان شاء اللہ اسے چین کی نیند نصیب نہیں ہوگی اور ایک نہ ایک دن کسی خوش نصیب کے ہاتھوں وہ اپنے انجام بد کو پہنچ کر رہے گا!

کیوں کر کہیں پھر متبع اعداء ، نہ کریں گے
کیا کیا نہ کیا عشق میں ، کیا کیا نہ کریں گے

....................................... حواشی .......................................

گئی ہے، بعض جملوں اور الفاظ میں بھی توارد و تشابہ ہو سکتا ہے۔

صفحہ ۲۹۷

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

توہین رسالت ﷺ تاریخ کے پس منظر میں

انجینئر نوید احمد

قرآن حکیم سے رہنمائی ملتی ہے کہ توہین رسالت کے جرم کا سلسلہ نبوت و رسالت کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا۔ بقول اقبال:

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفیٰؐ سے شرارِ بولہبی

پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں ابلیس لعین نے گستاخی کرتے ہوئے کہا تھا:

ارءیتک ہذا الذی کرمت علی لئن اخرتن الی یوم القیمۃ لاحتنکن ذریتہ الا قلیلا

(بنی اسرائیل)

”دیکھ تو سہی کیا یہی ہے وہ شخص جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے، اگر (اے اللہ) تو مجھ کو قیامت کے دن تک کی مہلت دے تو میں ضرور اس کی اولاد کو اکھاڑ پھینکوں گا سوائے ان میں سے چند کے۔“

انبیاء علیہم السلام کے ساتھ گستاخی کے حوالے سے قرآن حکیم نے ہمیں آگاہ کیا کہ:

وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا شیطین الانس والجن یوحی بعضہم الی بعض زخرف القول غرورا ولو شاء ربک ما فعلوہ فذرہم وما یفترون

(الانعام)

”اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بنا دیے انسانوں اور جنوں میں سے شیطان، جو

صفحہ ۲۹۸

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

دھوکا دینے کے لئے ایک دوسرے کو دلفریب باتیں سجھاتے رہتے ہیں، اور اگر تمہارا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے، تو چھوڑ دو ان کو اور اس کو جو کچھ یہ گھڑتے ہیں۔‘‘

اس وقت توہین رسالت کا جرم کرنے والے اظہارِ آزادیٔ رائے کی پرفریب بات یعنی ’ ’زخرف القول‘‘ کو اپنے جرم کا جواز بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ جبکہ یورپ ہی میں آزادیٔ اظہارِ رائے کا معاملہ یہ ہے کہ بہت سے صحافی محض اس وجہ سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں کہ انہوں نے ’’ہولوکاسٹ‘‘ کے دوران ہلاک ہونے والے یہودیوں کی ساٹھ لاکھ کی تعداد کو چیلنج کیا تھا۔ ان صحافیوں پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے یہودی قوم کی دل آزاری کی ہے لہٰذا وہ سزا کے مستحق ہیں۔ دوسری طرف توہین آمیز خاکوں کی اشاعت سے کروڑوں مسلمانوں کو دکھ پہنچا ہے لیکن اس کا کوئی احساس نہیں۔

ایک آیت میں اللہ نے فرمایا کہ ’’اگر اللہ چاہتا تو یہ شیاطین کسی نبی کے خلاف کچھ نہ کر سکتے۔ لیکن اللہ نے خود ہی ان کو ڈھیل دی ہے‘‘۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں تمام انسانوں کو اللہ نے امتحان کے لئے بھیجا ہے۔ ایک طرف نبی ﷺ سے محبت کا راستہ ہے جس میں نبی کی اطاعت کرتے ہوئے شریعت کی پابندی کے ساتھ زندگی گزارنی ہے۔ دوسری طرف شریعت کی پابندیوں سے بچنے کے لئے آسان راستہ ہے کہ شریعت کی راہ دکھانے والے نبی ﷺ ہی کے دشمن بن جاؤ۔ یہ گستاخی وہی لوگ کر رہے ہیں جن کو آخرت میں محاسبہ پر یقین نہیں۔ اسی لیے سورۃ الانعام میں اگلی آیت میں فرمایا گیا۔

ولتصغی الیہ افئدة الذین لا یؤمنون بالآخرة ولیرضوہ ولیقترفوا ما ہم مقترفون

(الانعام)

’’اور (ہم یہ اس لیے کرنے دیتے ہیں) تاکہ مائل ہوں ان باتوں کی طرف دل ان لوگوں کے جو ایمان نہیں رکھتے آخرت پر، اور پسند کرلیں اس کو، اور یہ اس لیے بھی تاکہ کرتے رہیں وہ (برے کام) جو وہ کر رہے ہیں۔‘‘

نبی علیہ السلام کے دشمنوں کی جسارتوں کا شر اہل ایمان کے لئے یہ خیر پیدا کرتا ہے کہ ان میں نبی کی محبت کا جوش اور بڑھ جاتا ہے بقول شاعر:

صفحہ ۲۹۹

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب!
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے !

ہر نبی علیہ السلام کے ساتھ دشمنی کرنے والوں کا ذکر سورۃ الفرقان آیت ۳۱ میں بھی آیا ہے:

﴿وکذالک جعلنا لکل نبی عدوا من المجرمین و کفی بربک ھادیا و نصیرا۔﴾

”اور اسی طرح ہم نے مجرموں میں سے ہر نبی کے دشمن بنادیے اور (اے نبی) آپ ﷺ کا رب ہدایت دینے اور مدد کرنے کو کافی ہے۔“

یعنی نبی کے دشمن لوگوں کو گمراہ کرنے اور نبی کے مشن کو ناکام کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے لیکن اللہ کافی ہے ہدایت دینے کے اعتبار سے اور وہی مددگار ہونے کے اعتبار سے اللہ کا فیصلہ ہے کہ نبی کو ایذا دینے والے دنیا و آخرت میں ذلیل و رسوا ہو کر رہیں گے۔ ارشاد الٰہی:

ان الذین یؤذون اللہ ورسولہ لعنھم اللہ فی الدنیا والاخرۃ واعد لھم عذابا مھینا

(الاحزاب)

”جو لوگ اللہ کو ناراض کرتے اور اس کے رسول کو ستاتے ہیں ان پر اللہ دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لیے اس نے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔“

مکی دور میں توہین رسالت:

پورے مکی دور میں مشرکین نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخیاں کرتے رہے۔ وہ آپ ﷺ پر طنز کے تیر برساتے رہے اور بار بار جسمانی اعتبار سے بھی مجروح کرنے کا جرم کرتے رہے۔ قرآن حکیم میں اس توہین کا ذکر کئی بار آیا ہے۔

واذا راک الذین کفروا ان یتخذوک الا ھزوا ط اھذا الذی یذکر الھتکم ج وھم بذکر الرحمٰن ھم کفرون

(الانبیاء)

صفحہ ۳۰۰

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

”اور (اے نبیﷺ) جب بھی کافر آپﷺ کو دیکھتے ہیں تو ہنسی کرتے ہیں کیا یہی ہے وہ شخص جو تمہارے معبودوں کا ذکر (انکار) کیا کرتا ہے؟ حالانکہ وہ خود رحمٰن کے ذکر سے انکاری ہیں۔“

وقالوا لولا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم

(الزخرف)

”اور انہوں نے کہا کہ کیوں نازل نہیں کیا گیا یہ قرآن دو بستیوں کے کسی عظیم آدمی پر۔“

وعجبوا ان جاء ھم منذر منھم وقال الکٰفرون ھذا سحر کذاب o

(ص)

”اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک خبردار کرنے والا آیا، اور کافر کہنے لگے کہ یہ جادو گر اور بہت بڑا جھوٹا ہے۔“

طائف میں رسول اللہﷺ کو اپنی حیات مبارکہ کی شدید ترین اذیت کا سامنا ہوا اور آپﷺ نے اللہ کی جناب میں یوں فریاد کی۔

اللھم الیک اشکو ضعف قوتی وقلۃ حیلتی وھوانی علی الناس، یا ارحم الراحمین انت رب المستضعفین وانت ربی الی من تکلنی ؟ الی بعید یتجھمنی ام الی عدو ملکتہ امری؟

”اے اللہ ! میں تجھ ہی سے اپنی کمزوری وبے بسی اور لوگوں کے نزدیک اپنی بے قدری کا شکوہ کرتا ہوں، یا ارحم الراحمین۔ تو کمزوروں کا رب ہے اور تو ہی میرا بھی رب ہے۔ تو مجھے کس کے حوالے کر رہا ہے؟ کیا کسی بیگانے کے جو میرے ساتھ سختی سے پیش آئے یا کسی دشمن کے جس کو تو نے میرے معاملے کا مالک بنا دیا ہے۔؟“

(سیرت ابن ہشام ، بحوالہ تاریخ الطبری ۳۲۵/۲)

صفحہ ۳۰۱

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

جس شخص کی معاشرے میں شروع ہی سے کوئی عزت نہ ہو، اگر کوئی اس کی زیادہ توہین کر دے تو وہ اس کا اتنا اثر نہیں لے گا۔ لیکن نبی کریمﷺ کو ظہورِ نبوت سے قبل لوگ ”الصادق“ اور ”الامین“ کہتے تھے، آپﷺ سے اپنے تنازعات کا فیصلہ کرواتے تھے۔ جب آپﷺ نے انہیں دنیا و آخرت کی فلاح کی طرف دعوت دینی شروع کی تو وہ آپﷺ کے دشمن ہو گئے اور طرح طرح سے آپ ﷺ کی توہین کرنے لگے۔ اس پر آپﷺ کو شدید دکھ تھا۔ اللہ نے آپﷺ کو ان الفاظ میں تسلی دی:۔

انا کفینٰک المستہزئین O الذین یجعلون مع اللہ الھاً آخر ج فسوف یعلمون O ولقد نعلم انک یضیق صدرک بما یقولون O فسبح بحمد ربک و کن من السجدین O واعبد ربک حتی یاتیک الیقین O

(الحجر)

” (اے نبیﷺ!) یقیناً ہم کافی ہیں آپﷺ کی طرف سے ان مذاق اڑانے والوں کے خلاف ۔ یہ وہ ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ اور معبود بنا لیے ہیں۔ پس یہ عنقریب جان لیں گے (آپﷺ کی توہین اور اللہ کے ساتھ شرک کا انجام ) اور ہم نے جان لیا ہے کہ ان کی باتوں سے آپ کا سینہ تنگ ہوتا ہے۔ سو آپﷺ اپنے پروردگار کی تسبیح کیجئے اس کی حمد کے ساتھ اور ہو جائیے سجدہ کرنے والوں میں سے۔ اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہیے یہاں تک کہ آپﷺ کے پاس یقینی شے (یعنی موت) آ جائے۔“

مکی دور میں نبی اکرمﷺ کی سب سے زیادہ توہین کرنے والا بدبخت ابولہب تھا۔ دور نبوی ﷺ کا یہ واحد کافر ہے جس کا قرآن میں نام آیا ہے اور اللہ نے اس کے حق میں شدید وعید بیان فرمائی۔ از روئے الفاظ قرآنی :۔

تبت یدآ ابی لہب وتب O ما اغنی عنہ مالہ وما کسب O سیصلی ناراً ذات لہب O

(اللہب)

”ٹوٹ جائیں ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ ہلاک ہو! نہ تو اس کا مال ہی اس کے کچھ

صفحہ ۳۰۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

کام آیا اور نہ وہ جو اس نے کمایا۔ وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘

دونوں ہاتھ سے مراد اس کے دو بیٹے ہیں۔ ایک بیٹے نے اللہ کے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کی۔ آپ ﷺ نے اسے بددعا دی کہ اے اللہ! اپنے کتوں میں سے کوئی کتا اس پر مسلط کر دے۔ شام میں ایک تجارتی سفر سے واپسی پر ایک شیر نے اسے چیر پھاڑ دیا۔ دوسرا بیٹا مسلمان ہو گیا۔ گویا ابولہب اپنے دونوں بیٹوں سے محروم ہو گیا۔ موت کے بعد اس کی میت سے اس قدر تعفن پیدا ہوا کہ کوئی قریب نہ جاسکتا تھا۔ ایک رسی کے پھندے کے ذریعے اس کی لاش کو گھسیٹ کر جنگل میں پھینکا گیا۔ اسی طرح فتح مکہ کے موقع پر قریش کے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ آج تم پر کوئی سرزنش نہیں، تم سب آزاد ہو، البتہ ایسے نو افراد کو معاف نہیں کیا گیا جو آپ ﷺ کی توہین کرتے تھے ان کے بارے میں حکم دیا گیا کہ اگر وہ کعبہ کے پردے کے پیچھے بھی پائے جائیں تو انہیں قتل کر دیا جائے۔

مدنی دور میں توہین رسالت:

مدنی دور میں منافقین رسول اللہ ﷺ کی توہین میں پیش پیش تھے۔ قرآن حکیم میں اس کا ذکر کئی مقامات پر ہوا۔

واذا قیل لهم تعالوا الى ما انزل الله والى الرسول رایت المنفقین یصدون عنک صدودا

(النساء)

’’اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ آؤ اس کی طرف جو اللہ نے نازل فرمایا اور رسول ﷺ کی طرف تو آپ ﷺ دیکھتے ہیں کہ منافق آپ ﷺ کے پاس آنے سے کتراتے ہیں۔

الم تر الى الذین نهوا عن النجوى ثم یعودون لما نهوا عنه ویتنجون بالاثم والعدوان ومعصیت الرسول ز واذا جآءوک حیوک بمالم یحیک به الله ويقولون فى انفسهم لو لا یعذبنا الله بما نقول ط حسبهم جهنم ج یصلونها ج فبئس المصیر ہ

(المجادلة)

صفحہ ٣٠٣

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

”کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنہیں خفیہ سرگوشی کرنے سے منع کیا گیا تھا؟ مگر وہ وہی کرتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور باہم سرگوشیاں کرتے ہیں گناہ اور معصیت اور زیادتی کے کاموں اور رسول ﷺ کی نافرمانی کے لئے اور جب (منافقین) آپ ﷺ کے پاس آتے ہیں تو آپ ﷺ کے بارے میں ایسے کلمات کہتے ہیں جو اللہ نے آپ ﷺ کے لئے نہیں کہے اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم کہتے ہیں اس پر اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا؟ ان کے لئے جہنم کافی ہے۔ وہ اس میں ڈالے جائیں گے۔ اور وہ لوٹنے کی بہت بری جگہ ہے۔“

ومنهم الذين يوذون النبى ويقولون هو اذن

(التوبہ : ٦١)

”اور ان میں سے کچھ ہیں جو نبی (ﷺ) کو ایذا پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو نرے کان ہیں۔“

اس آیت کا پس منظر یہ ہے غزوہ تبوک کے موقع پر غزوہ میں شرکت سے بچنے کے لیے منافقین جھوٹے عذر پیش کرتے تھے۔ نبی اکرم ﷺ شرافت ومروت کا پیکر تھے۔ آپ ﷺ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ لوگ جھوٹا عذر پیش کر رہے ہیں انہیں شرمندہ نہ کرتے اور ان کا عذر قبول فرما لیتے۔ وہ بدبخت باہر جا کر مذاق اڑاتے کہ ”ھــــــو اذن“ کہ محمد (ﷺ) تو نرے کان ہیں، ہم جو بہانہ کریں وہ ہمارے جھوٹ کو سمجھتے ہی نہیں بلکہ اس پر یقین کر لیتے ہیں۔ گویا وہ آپ ﷺ کی نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ میں منافقین کی ان گستاخیوں کی سزائیں بیان فرمائی:

استغفر لهم او لا تستغفر لهم ان تستغفر لهم سبعين مرة فلن يغفر الله لهم

(التوبہ : ٨٠)

”(اے نبیﷺ) خواہ آپ ﷺ ان کے لیے بخشش مانگیں، خواہ نہ مانگیں، اگر آپ ﷺ ان کے لیے ستر مرتبہ بھی بخشش مانگیں گے تب بھی اللہ ہرگز ان کو معاف نہ

صفحہ ۳۰۴

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخِ رسول شریعت کی عدالت میں

فرمائے گا۔“

مدینہ میں منافقین کے علاوہ یہود بھی رسول اللہ ﷺ کی توہین کا جرم کرتے رہتے تھے۔ انہیں حسد تھا کہ آخری نبی یہود میں سے کیوں نہیں آئے۔ اس ضد کی وجہ سے وہ آپ ﷺ سے دشمنی رکھتے تھے۔ اللہ نے ان کے خبث باطن اور ان کے خلاف وعیدوں کا ذکر اس طرح کیا:

بئسما اشترو به ان يكفروا بما انزل الله بغيا ان ينزل الله من فضله على من يشاء من عباده ج فبآؤ بغضب على غضب وللكفرين عذاب مهين

(البقره)

”بری ہے وہ شے جس کے بدلے میں انہوں نے سودا کیا اپنی جانوں کا کہ انہوں نے کفر کیا اس کلام کا جو اللہ نے نازل کیا محض اس بات سے جل کر کہ اللہ تعالیٰ بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنی مہربانی سے (وحی) نازل فرماتا ہے۔ تو وہ غضب در غضب کے مستحق ہوئے اور کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔“

من الذين هادو يحرفون الكلم عن مواضعه ويقولون سمعنا وعصينا واسمع غير مسمع وراعنا ليا بالسنتهم وطعنا فى الدين ط ولو انهم قالوا سمعنا واطعنا واسمع وانظرنا لكان خيرا لهم واقوم ولكن لعنهم الله بكفرهم فلا يؤمنون الا قليلا O يايها الذين اوتو الكتب امنوا بما نزلنا مصدقا لما معكم من قبل ان نطمس وجوها فنردها على ادبارها او نلعنهم كم لعنا اصحب السبت ط وكان امر الله مفعولا

(النساء)

”یہ جو یہودی ہیں ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کلمات کو ان کے اصل محل ومقام سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور نافرمانی کی ( نہیں مانا ) اور سنئے نہ سننے والے ہوتے ہیں، اور زبان کو مروڑ کر اور دین پر طعن کی راہ سے (آپ ﷺ سے گفتگو کے وقت ) راعنا کہتے ہیں۔ اور اگر وہ (یوں) کہتے کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا

صفحہ ٣٠٥

گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

اور (صرف) اسمع اور (راعنا کی جگہ) انظرنا (کہتے) تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا اور بات بھی بہت درست ہوتی۔ لیکن اللہ نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے۔ پس ایمان نہیں لائیں گے مگر ان میں سے چند۔ اے کتاب والو! ایمان لے آؤ ہماری نازل کی ہوئی کتاب پر جو تمہاری کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ قبل اس کے کہ ہم لوگوں کے چہروں کو بگاڑ کر ان کی پیٹھ کی طرف پھیر دیں۔ یا ان پر اس طرح لعنت کریں جس طرح سبت والوں پر کی تھی۔ اور اللہ نے جو حکم فرمایا سو (سمجھ لو کہ) پورا ہونے والا ہے۔‘‘

ان الذين يكفرون بالله ورسوله ويريدون ان يفرقوا بين الله ورسله ويقولون نؤمن ببعض ونكفر ببعض ويريدون ان يتخذوا بين ذلك سبيلا ہ اولئك هم الكفرون حقا ج اعتدنا للكفرين عذابا مهينا

(النساء)

’’یقیناً جو لوگ اللہ سے اور اس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور ایمان اور کفر کے بیچ میں ایک راہ نکالنا چاہتے ہیں۔ وہ بلاشبہ پکے کافر ہیں۔ اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘

صفحہ ۳۰۶

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

گستاخ رسول کے بارے میں علمائے امت کا فیصلہ

اہم مسئلہ

حضرات انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کی عصمت وعزت کے متعلق تمام علماء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ انبیاء تمام چھوٹے بڑے گناہوں، لغزشوں اور خطاؤں سے محفوظ ومعصوم ہیں ان سے گناہوں کا صدور ممکن نہیں۔

امام قرطبی رحمہ اللہ اپنی مشہور ”تفسیر قرطبی“ میں فرماتے ہیں کہ:

”ائمہ اربعہ اور جمہور امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام انبیاء چھوٹے بڑے گناہوں سے محفوظ ہوتے ہیں۔ گستاخ رسول کے بارے میں علماء امت کا فیصلہ یہ ہے کہ گستاخ رسول مرتد اور واجب القتل ہے۔“

محمد بن سحنون فرماتے ہیں کہ علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو گالی دینے والا اور آپ کی توہین کرنے والا کافر ہے۔ اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی وعید جاری ہے۔ اس کا حکم قتل ہے۔ جو اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ کافر ہے۔

امام ابوبکر بن منذر فرماتے ہیں کہ علماء اسلام کا اجماع ہے کہ شاتم رسول کو قتل کیا جائے گا۔ اس مسلک میں امام مالک بن انس، لیث بن سعد، امام احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ شامل ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی یہی مسلک ہے۔

امام اعظم ابوحنیفہ اور ان کے دیگر تلامذہ، امام سفیان ثوری، امام اوزاعی کا مجموعی قول یہ ہے کہ ”ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی، یا حضور ﷺ کی طرف کسی عیب کو منسوب کیا، حضور کی ذات مقدسہ، آپ کے نسب و دین، یا آپ کی کسی خصلت سے کسی نقص کی نسبت کی یا آپ پر طعنہ زنی کی۔ حضور ﷺ کو کسی شے سے تشبیہ دی وہ حضور اکرم ﷺ کو براہ راست گالی دینے والا ہے۔ اسے قتل

صفحہ 307

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

کر دیا جائے۔ ہم اس حکم میں قطعاً کوئی استثناء نہیں کرتے نہ ہم اس میں شک کرتے ہیں۔ خواہ صراحتاً توہین ہو یا اشارہ کنایہ میں۔“

امام ابو حفص کبیر سے منقول ہے کہ اگر کسی نے حضور انورﷺ کے کسی ایک بال مبارک کی طرف بھی عیب منسوب کیا وہ کافر ہو جائے گا۔

علامہ ابوسلیمان الخطابی فرماتے ہیں۔ جب مسلمان کہلانے والا نبی اکرمﷺ کی شان میں تنقیص اور اہانت کا مرتکب ہو تو میرے علم میں کوئی مسلمان ایسا نہیں، جس نے اس کے قتل میں اختلاف کیا ہو۔

فتح القدیر میں ہے کہ جو شخص رسول اللہﷺ سے اپنے دل میں بغض رکھے وہ مرتد ہے آپ کو گالی دینے والا یقیناً مستحق گردن زدنی ہے پھر یہ قتل ہمارے نزدیک بطور حد ہوگا۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی شاتم رسول پر پوری ایک کتاب ہے جس میں شتم رسول پر مکمل اور مدلل انداز میں گفتگو کی گئی ہے۔ ان کی کتاب کا نام ہے ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“

امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں:

”رسول اکرمﷺ کی شان میں دشنام طرازی ایک عام مومن کو گالی دینے کی طرح نہیں، اس لیے کہ رسول اللہﷺ عام حقوق و فرائض میں عام مومنوں کی طرح نہیں مثلاً یہ کہ آپ کی اطاعت و محبت واجب ہے۔ اور آپ کی محبت عام لوگوں سے مقدم ہے۔ نیز یہ کہ اکرام و احترام میں کوئی آپ کا شریک و سہیم نہیں۔ آپ پر صلوٰۃ و درود بھیجنا واجب ہے۔ آپ کو گالی دینے کے متعلق عرض ہے کہ اس سلسلے میں کم از کم بات جو کہی جاسکتی ہے وہ یہ کہ آپ کو گالی دینا کفر و قتال کا موجب ہے۔“

امام ابن تیمیہ مزید لکھتے ہیں کہ:

رسول اللہﷺ کی نصرت و اعانت اور اکرام و احترام واجب ہے اور آپ پر دشنام طرازی کرنے والوں کو قتل کرنا ضروری ہے۔ اگر ایسے آدمی کو قتل نہ کیا جائے تو یہ آپ

صفحہ ۳۰۸

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

ﷺ کی تائید و نصرت نہیں۔“

قاضی عیاض رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”الشفاء“ میں لکھا ہے کہ علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ:

”جس شخص نے انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نبی کے لیے ویل (عذاب) یا برے امر کی بددعا کی تو اسے بغیر توبہ کے قتل کرنا چاہیے۔“

قاضی صاحب کا اپنا قول ہے کہ ”یہ بات شک و شبہے سے بالا ہے کہ توہین آمیز کلمات کہنے والے کو قتل کیا جائے۔ باوجودیکہ اس نے اپنے قول سے رجوع کیا ہو اور توبہ کی ہو۔ کیونکہ ایسے کلمات کہنے والے کی توبہ بھی قبول نہیں ہوتی۔ توبہ کے باوجود بھی اسے قتل کیا جائے گا۔“

شاتم رسول کے بارے میں مندرجہ ذیل کتب میں واضح احکام موجود ہیں۔ احکام القرآن، فتاویٰ شامی، الدرالمختار، الصارم المسلول علی شاتم الرسول، الشفاء، فتاویٰ قاضی خان وغیرہ۔

علماء امت اور فقہاء اسلام کی ان تصریحات کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کی بے ادبی کا معمولی شائبہ بھی روا نہیں رکھا جاسکتا۔ ایسے بدبخت کا روئے زمین پر زندہ چلنا پھرنا ہرگز قابل قبول نہیں، علماء امت نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اس کی معافی بھی قبول نہیں ہے۔

صفحہ ۳۰۹

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

ناقابل معافی جرم!

عبدالغفور ندیم

ڈنمارک، ناروے، اور دنیا کے دیگر غیر مسلم ممالک میں دنیا کے عظیم ترین انسان، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی توہین کے خلاف سارا عالم اسلام سراپا احتجاج ہے۔ ہر جگہ مظاہروں، ریلیوں، جلسوں اور جلوسوں کا سلسلہ جاری ہے اور انتہائی غم وغصہ کے عالم میں توہین رسالت کے مرتکب اخبارات کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دینے کے مطالبے بھی ہو رہے ہیں اس لئے کہ حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی سے ہر مسلمان گہری عقیدت و محبت رکھتا ہے، وہ سب کچھ برداشت کر سکتا ہے مگر رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا بلکہ اسے جہاں موقع ملتا ہے، غازی علم الدین شہیدؒ کا کردار ادا کرتا ہے اور ’دشمن رسول‘ کو واصل جہنم کر دیتا ہے۔

یورپی اخبارات کو شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ حضور ﷺ کی توہین پر مبنی خاکے شائع کرنے پر پوری دنیا کے مسلمان اٹھ کھڑے ہونگے اور توہین رسالت کا بدلہ لینے کے لئے سر پر کفن باندھ کر میدان عمل میں اتر جائیں گے، لیکن جب انہوں نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو بپھرا ہوا دیکھا تو رسمی طور پر مسلمانوں سے معذرت کر کے ان کے غصے و غم کو کم کرنے کی ناکام کوشش کی اور بعض اسلامی حلقوں کی طرف سے یہ مطالبہ سامنے آیا کہ توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبارات کے مدیران عالم اسلام سے اپنے سنگین جرم کی معافی مانگیں لیکن جن ممالک میں یہ دل خراش اور جگر پاش حرکت کی گئی انہوں نے اس حرکت پر معافی مانگنے کے بجائے اسے آزادیِ اظہار رائے کا نام دے کر متعلقہ اخبارات کا دفاع کیا جس سے اہل اسلام کے جذبات زیادہ مجروح ہوئے۔ جس پر معافی کا مطالبہ بہت شدت اختیار کر گیا جس پر امام کعبہ جناب عبد الرحمٰن السدیس نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ ”وہ توہین رسالت کے مجرموں کو ہرگز معاف نہ کریں“ اس

صفحہ ٣١٠

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

لئے کہ یہ جرم قابل معافی ہے ہی نہیں۔

بلاشبہ امام کعبہ نے ایمانی غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کیا لیکن کیا کسی مسلمان کو اختیار ہے کہ وہ شاتم رسول کو معاف کر سکے؟ قرآن وسنت میں اس کا جواب نفی میں ملتا ہے۔ خود حضور ﷺ نے اپنی زندگی میں ایسے متعدد لوگوں کے قتل کا حکم صادر فرمایا جو آپ ﷺ کی توہین کے مرتکب ہوئے تھے۔ کعب بن اشرف یہودی کا قتل اسی سلسلے کی کڑی تھا۔ ابو رافع یہودی کو اسی جرم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کروایا۔ عصماء نامی ایک عورت کو اسی جرم میں واصل جہنم کیا گیا۔

امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مشہور زمانہ تصنیف ”الصارم المسلول“ میں لکھا ہے کہ ”خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو یہ اختیار تھا کہ وہ توہین رسالت کے مجرم کو معاف کر دیں یا سزا سنا دیں، لیکن کسی امتی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ شاتم رسول کو معاف کر سکے بلکہ اہانت رسول کرنے والے کو قتل کرنا اُمت پر فرض ہے۔“

(بحوالہ الملحدین ص ۴۴۶)

دورِ مصطفیٰ میں شاتم رسول کو معاف کرنے اور سزا دینے کی دونوں مثالیں موجود ہیں۔ فتح مکہ کے موقع پر جہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جانی دشمنوں کے لئے عام معافی کا اعلان فرمایا وہاں کچھ لوگوں کا نام لے کر اُن کے قتل کا حکم بھی صادر فرمایا جن میں ابن خطل نامی ایک شخص بھی تھا جو قتل سے بچنے کیلئے غلاف کعبہ میں چھپ گیا، اس لئے کہ اسے معلوم تھا کہ بیت اللہ وہ مقدس مقام ہے جہاں کسی کو قتل کرنا تو درکنار، کسی جانور یا پرندے کا شکار کرنا بھی منع ہے۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر اس ملعون کو غلاف کعبہ سے نکال کر صحابہ کرام نے قتل کیا اور دنیا پر اس حقیقت کو واضح کر دیا کہ توہین رسالت کے مرتکب کو کعبہ میں بھی پناہ نہیں مل سکتی تو پھر دنیا میں وہ کون ہے جو ایسے کافروں کو پناہ دے سکے؟ گویا ایسے ملعونوں کو پناہ دینے والا بھی درحقیقت توہین رسالت کا مرتکب ہو کر اہل اسلام کے غیظ وغضب کا نشانہ بنے گا۔

امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے عرض ہے کہ ایک دفعہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک ایسے شخص کو لایا گیا جو توہین رسالت کا مرتکب ہوا تھا۔ حضرت عمر فاروق نے اس شخص کے قتل کا حکم صادر فرمایا اور پھر یہ فرمان جاری کر دیا کہ ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی شان میں یا انبیاء علیہم السلام میں

صفحہ ٣١١

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

سے کسی بھی نبی کی شان میں سب وشتم یا گستاخی کرے اسے قتل کر دو۔‘‘ (بحوالہ: اکفار الملحدین ص۲۳۷)۔ گویا قانون بن گیا کہ اب جو کوئی بھی توہین رسالت کا مرتکب ہوگا، اُسے قتل کر دیا جائے گا۔

الغرض شرعی قانون کے اعتبار سے دنیا میں کوئی شخص حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو معاف کرنے کا مجاز نہیں، تو پھر معافی کا مطالبہ ہی کیوں کیا جائے؟ اب تو جو شخص شاتم رسول سے معافی کا مطالبہ کرے گا وہ خود بھی توہین رسالت کا مرتکب قرار پائے گا اس لئے ڈنمارک یا دوسرے یورپی ممالک میں جو لوگ اہانت رسول ﷺ کے مرتکب ہوئے ہیں، ان سے معافی کا مطالبہ کرنے کے بجائے متعلقہ حکومتوں سے یہ مطالبہ کیا جانا چاہئے کہ وہ توہین رسالت ﷺ پر مبنی خاکے شائع کرنے والوں کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کریں ورنہ مسلمانوں کے جذبات کو قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اسی طرح جو اسلام دشمن عناصر پاکستان کی مقدس سرزمین پر حضور اکرم ﷺ کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں حکومت پاکستان کو چاہئے کہ ان مجرموں کو بھی سزائے موت دینے کا فیصلہ کرے تاکہ آئندہ اسلام اور پیغمبر اسلام کے کسی دشمن کو ادنیٰ گستاخی کرنے کی جرأت بھی نہ ہو سکے ورنہ جس کا دل چاہے گا وہ حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرے گا اور بعد میں معافی مانگ لے گا، اس طرح پیغمبر اسلام کی عزت و آبرو ایک سنگین مذاق بن جائے گی اور اس مذاق کا خمیازہ دوسروں کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی بھگتنا پڑے گا۔

صفحہ ۳۱۲

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

کوئی عدالت یا حکومت، گستاخ رسول کی سزا کو معاف نہیں کر

سکتی

مولانا ابو محمد ثناء اللہ سعد شجاع آبادی

کیا کوئی عدالت یا حکومت اس سزا کو معاف کر سکتی ہے؟

ہے کہ اس میں انسان کوئی تغیر و تبدل نہیں کر سکتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہوتی ہے۔ عدالت اور حکومت پر اس کا اجراء لازم ہوتا ہے اس کو ساقط کرنا کسی کے اختیار میں نہیں۔

کے حقوق وہی معاف کر سکتے ہیں۔

امام خیر الدین اسی طرف توجہ دلاتے ہوئے رقمطراز ہیں:

"شاتم رسول کا قتل بطور حد لازم ہے جو توبہ سے ساقط نہیں ہو سکتا اور اس بارے میں کسی مسلمان کے اختلاف کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ ایسا حق ہے جس کے ساتھ عبد خاص (حضور ﷺ) کا حق متعلق ہے اس لئے فقط توبہ سے ساقط نہیں ہو گا جیسے دوسرے لوگوں کے ہر قسم کے حقوق کے لئے خود حق دار کا معاف کرنا ضروری ہے۔“ (تنبیہ الولاۃ والحکام ۳۴)

گرامی قدر سامعین! جب زنا، چوری اور شراب جیسے جرائم پر لاگو حد کوئی عدالت اور حکومت منسوخ نہیں کر سکتی اور نہ ہی اس کے ارتکاب کرنے والے کو معاف کر سکتی ہے تو پھر اتنے عظیم جرم کی سزا کو کیسے معاف کیا جا سکتا ہے۔

صفحہ 313

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

سزائے موت بطور حد

مذکورہ بالا روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان حضرات نے شتم رسول کو کفر ہی نہیں قرار دیا، بلکہ حد قرار دیا اور کسی نے بھی شاتم سے استتابت (توبہ طلب) نہیں کی، لہٰذا ثابت ہوا کہ شاتم خواہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، اس سے توبہ نہیں کرائی جائے گی، بلکہ اسے بطور حد قتل کیا جائے گا۔ اس مقام پر عرض کر دینا مناسب ہو گا کہ استتابت اور توبہ کی اگر اجازت دے دیجائے تو نبی اکرم ﷺ کی حرمت سے لوگ کھیلنے لگیں گے۔ العیاذ باللہ سب وشتم کریں گے اور یہ جان کر کہ توبہ کرنے سے حد سے بچ جائیں گے، توبہ کر لیں گے۔ اس طرح ان کی جرأت بڑھے گی۔ علامہ احمد فتحی بھنسی نے اپنی کتاب ”السیاسۃ الجنائیۃ فی الشریعۃ الاسلامیۃ“ طبع قاہرہ ۱۹۶۵ء ص ۴۱ پر مرحوم ڈاکٹر محمد یوسف موسیٰ کے حوالے سے لکھا ہے:

”جب ہم توبہ کرنے والے کی ”حد“ معاف کرنا شروع کر دیں، گویا کہ ہم بہت سے ایسے لوگوں کو معاف کریں گے جو زبان سے وہ بات کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتی، تو اس وقت حدود اللہ ضائع ہو جائیں گے اور مجرم محارم اللہ کو توڑنے کی جرأت کریں گے اور ہمیشہ کہتے رہیں گے تبنا وأنبنا الی اللہ ”ہم نے توبہ کر لی اور اللہ تعالیٰ سے اس بارے میں رجوع کر لیا ہے“۔

لہٰذا شاتم رسول کے لئے قرآنی آیات، احادیث، اجماع صحابہ اور مصالح زمانہ کے تحت استتابت کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور وہ واجب القتل ہے۔ احادیث اور اجماع کے باعث جملہ فقہاء امت کا بھی اس امر پر اجماع ہے کہ شاتم رسول قتل کیا جائے گا اور اس سے توبہ نہیں کرائی جائے گی، نہ اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔

صفحہ ۳۱۴

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

اے کاش کوئی ایک تو ایسا ہوتا!

خالد عمران

توہین رسالت کے مرتکب کی سزا شریعت مطہرہ نے نہ صرف متعین کر دی بلکہ خود رحمت دو عالمﷺ نے اس سزا کا نفاذ کر کے قیامت تک کے لئے بتا دیا کہ ایسے فعل شنیع کے مرتکب کی گردن تن سے جدا کر دی جائے۔ اب کوئی او آئی سی کا سیکرٹری جنرل ہو یا جمہوریت نامی دیوی کا عاشق مصلح ہو، اگر گستاخ رسول سے معذرت کا مطالبہ کرتا ہے تو اس کے ایمان کا فیصلہ مفتیان عظام ہی کر سکتے ہیں، رہے پاکستان جیسے ملکوں کے عوام الناس کہ جن کے دامن میں حب رسول کے پھول ہی نہیں فردوس کے بالا خانوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ وہ اپنی حکومتوں سے یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ایسے مجرموں اور گستاخوں کو کڑی سزا دلانے کے لیے حکمران اپنا اقتدار، اپنا اثر و رسوخ اور اپنے وسائل کا ہر ممکن استعمال کریں۔ اپنے طور پر ہر کلمہ گو نیت کرے کہ اگر اللہ اسے اتنی توفیق بخش دے تو وہ خود یہ کام کرے گا ورنہ ممکن حد تک ایسے تمام ممالک کی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے اور اس مہم کو اتنا کامیاب بنادیں کہ اقتصادی طور پر کفر لرزہ براندام ہو جائے۔

سفارتی تعلقات توڑنا حکومت کا اختیار ہے اور حکومت کو اپنا اختیار استعمال کرنے پر مجبور کرنا ان لوگوں کا کام ہے جو حکومتی اختیارات کی بے پناہی میں اضافے کا سبب بنے ہیں۔ اسلام آباد کے ایوان حکومت پر نظر رکھنے والے ان ایوانوں تک پہنچنے میں اگر اسلام کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی بجائے اسلام کے مخالف شیطانی نظام جمہوریت کو اپنا رہے ہوں تو پھر وہ جمہوریت کے دائرے میں رہ کر احتجاج کرنے کو ہی ترجیح دیں تو ہمیں اس پر کسی قسم کی حیرت نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کے لیے کب تک اسلام کا نام استعمال کیا جاتا رہے گا۔ جمہوری نظام میں تو آزادی اظہار ہے، خواہ اس آزادی کو استعمال کرکے کوئی بد بخت ایک ارب سے زائد افراد کی دل آزاری کرے۔ یہ بھی درست کہ خاتم النبین،

صفحہ ۳۱۵

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

وجہ تخلیق کائنات، سرکار دوعالم، سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی گستاخی پر ساری انسانیت بھی خاکم بدہن اگر اکٹھی ہو جائے پھر بھی آمنہ کے دریتیم کی شان وعظمت اور رفعت میں ذرہ برابر کمی نہیں ہو سکتی لیکن تحفظ ناموس رسالت تو ہر کلمہ گو کا ایمانی فرض ہے۔ گستاخ رسول کی اعانت کرنے والے افراد، جماعتوں اور ملکوں کے ساتھ اگر آج کا بے حس مسلمان لڑ نہیں سکتا تو اس کے دل سے نبی پاک ﷺ کی بتائی ہوئی ہی نہیں بلکہ دی گئی سزا کو نکال کر اس سے معذرت کا مطالبہ کروانا ہی پوری امت کے دلوں میں ٹمٹماتی ایمان کی شمع کو بجھانے کے مترادف ہے؎

روشن خیالی کے علمبردار، اعتدال پسندی کے مبلغ دانشور، صحافت کی آڑ میں بیسوا اور ہوا کی طرح تحریر کا بین السطور بدلنے والے پاجی قسم کے قلمکار آج جب مشورہ دیں کہ حضور اکرم ﷺ کی گستاخی کی تمام صورتوں کے متعلق اقوام متحدہ سے کوئی بین الاقوامی قانون بنوایا جائے تو حیرت نہیں ہوتی لیکن جب اس طرح کے مشورے دینے والے اور گستاخان رسالت سے معذرت طلب کرنے والے اپنے بنیاد پرست ہونے پر فخر کرتے ہوں تو ہم جیسا گناہ گار سوچتا ہے کہ وہ بنیاد پرست کیا ہوئے جن کی صدائے رستہ خیز غازی علم دین جنم دیا کرتی تھی، اہل دین بھی اگر کہیں کہ توہین رسالت کے مجرم کو سزا تو موت ہے لیکن علماء اور مفتی فیصلہ کریں گے کہ ڈنمارک اور ناروے کے متعلق شریعت کا حکم کیا ہو گا؟ ایسے میں عوام الناس کس سے رہبری چاہیں اور کسے رہنما کریں؟

انسانیت کا ہمدرد رحمت للعالمین سے بڑھ کر تو کوئی نہیں ہو سکتا۔ امن وامان کا طالب اس محسن انسانیت سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے جو ابو سفیان جیسے دشمن سردار (اس وقت تک ان کے ایمان کا اظہار نہیں ہوا تھا) کے گھر میں پناہ لینے والے دشمنوں کو معاف کرنے کا اعلان کرے لیکن جب خود انہوں نے ایک نہیں تین گستاخوں کو موت کی نیند سلانے والے کے لئے جنت کی بشارت دی ہو تو پھر آج کے عالم کفر سے معذرت کا مطالبہ کرنا کیا کہلائے گا؟ اور پھر یہیں پر بس نہیں بلکہ ناموس رسالت کے مسئلے پر لاکھوں لوگوں کو اکٹھا کرنے کے بعد بجائے کوئی ٹھوس لائحہ عمل اختیار کر کے حکمرانوں کے خلاف اپنے سیاسی اختلافات کی بناء پر تحریک چلانے اور پرانی وردی اتروا کر کسی نئی وردی والے کو خوش آمدید کہنے کی تیاری کرنا کیا ہے؟ ہماری رہنماؤں سے دست بستہ گزارش ہے کہ قوم کے دل و دامن میں حُب رسول ﷺ کی

صفحہ 316

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

جو دولت ہے خدا اسے باقی رہنے دیں۔ رہا توہین رسالت کا مسئلہ تو اس کی سزا پر علماء، شارحین اسلام، فقہا کرام کا اتفاق ہی نہیں بلکہ خود نبی رحمت نے اس سزا کو نافذ کر کے بھی دکھایا۔ ایسے میں تو یہ ایمانی غیرت و حب مصطفیٰ کا تقاضا بھی ہے کہ گستاخ رسول کی زبان محاورتاً نہیں عملاً گدی سے کھینچ کر کتوں کے آگے ڈال دی جائے۔

کاش آج پچاس سے زائد اسلامی ممالک کے سربراہوں میں سے کوئی ایک تو اس قابل ہوتا، ایک ارب 25 کروڑ کے قریب مسلمانوں میں تیل کی دولت سے مالا مال، ایٹمی قوت عسکری طاقت کے حامل بے پناہ دنیاوی وسائل کے رکھنے والے عالم اسلام میں کوئی ایک تو ایسا ہوتا جو عالم کفر قسطنطنیہ پر چڑھائی کر نیوالے پہلے اسلامی لشکر کے سالار کی طرح دفاع ناموس رسالت کو للکار سکتا کہ جیسے اس نوجوان نے صحابی رسول سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی قبر کے دفاع کے لیے اس وقت کی سپر طاقت کو للکار کر کہا تھا کہ یہ ہمارے نبی کے پیارے اور بزرگ تر کی قبر ہے، اگر اسے کوئی نقصان پہنچا تو میں بلاد عیسائی میں موجود عیسائیوں کے تمام قبرستان اکھاڑ کر رکھ دوں گا اے کاش کوئی ایک تو ایسا ہوتا!

صفحہ 317

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

توہین رسالت کا کیس تاریخ کی عدالت میں

عامر احمد خان

جب سترہویں، اٹھارویں اور انیسویں صدی میں یہودیوں کے اشارے پر عیسائی تقسیم ہورہے تھے اور باہم متصادم تھے تو یہودی طرح طرح کے الزام تراش کر عیسائیت کو بدنام کر رہے تھے۔ برطانیہ، اسکاٹ لینڈ اور دیگر ممالک نے فوری طور پر مذہبی توہین کا قانون پاس کیا اور اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو سزائے موت دینے کا اعلان کیا۔

یہ قانون بیسویں صدی کے آخر میں ختم کر دیا گیا۔ تاکہ توہین رسالت کے یہ حربے مسلمانوں کے خلاف استعمال کیے جاسکیں۔ تہذیبوں کے تصادم کے ڈرامے کو سمجھنے کی خاطر درج ذیل واقعات پر نظر کریں تو حقیقت واضح ہو جائے گی۔

برطانیہ میں پینگوئین بکس نے Satanic Verses ”شیطانی آیات“ کے عنوان سے رسوائے زمانہ شاتم رسول سلمان رشدی کی کتاب شائع کی تو 1989 میں مسلمانوں نے اس کمپنی کے خلاف توہین رسالت کے قانون پر عمل درآمد کرانے کی کوشش کی۔ اس مرحلہ پر عیسائیوں اور یہودیوں کی جانب سے مذہبی توہین کے قوانین کے خلاف انسانیت نوازی اور لبرل ازم کی مہم شروع کر دی گئی اور لندن میں ایک پریشر گروپ آرٹیکل 19 کے نام سے قائم کر دیا گیا۔ رسوائے زمانہ شاتم رسول سلمان رشدی اور اس کے پبلشر کے دفاع کے لیے انٹرنیشنل کمیٹی قائم کی گئی۔ مصنف کو دھمکیاں ملیں تو اس کے تحفظ کے لئے توہین کے خلاف مہم شروع کی گئی۔ 12 اپریل 1989 کو برطانوی پارلیمنٹ میں ٹونی بین نے ایوان نمائندگان میں ایک بل پیش کیا جس کا مقصد توہین کے قانون کو ختم کرنا تھا۔ ٹونی بین کی تمام ارکان پارلیمنٹ نے حمایت کی۔ اس میں ڈیوڈ اسٹیل اور سر آئن گلمور بھی شامل تھے۔

صفحہ 318

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

توہین رسالت کے خلاف یہ قوانین گذشتہ تین صدیوں سے کسی نہ کسی شکل میں مغربی ممالک میں موجود تھے۔ اس قانون کی اساس کے سرے ”نیو ٹیسٹمینٹ“ یعنی انجیل سے جاملتے ہیں۔ ابتدائی مسیحی جو خود کو سچائی کے محافظ تصور کرتے تھے، غلط تصورات پیش کرنے والے عیسائیوں سے عاجز تھے جو خداوند یسوع مسیح کی توہین کر کے ان کی سچائی سے انحراف کے درپے تھے۔ کچھ مسیحی سچائی کے اپنے مشن پر کاربند رہے تھے۔ خود پال نے کورنتھیوں کے نام اپنے دوسرے خط میں ان عیسائیوں پر نکتہ چینی کی جنہوں نے ان کی مخالفت کی اور ان کو جھوٹے پادری کے گمراہ کن کارکن قرار دیا ہے۔ پال نے کہا

”یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ابلیس تک خود کو روشنی کے فرشتے کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ یہ اس لحاظ سے حیرت انگیز نہیں کہ اس کے خادم خود کو سچائی کے خادم بنا کر پیش کریں۔“

انگلینڈ میں خدا کے خلاف تحریر اور تقریر کو 17ویں صدی میں جرم قرار دیا گیا۔ اس کی سزا موت تھی۔ تاہم بتدریج قوانین متروک ہوتے گئے۔ یہ بیشتر پروٹسٹنٹ ممالک میں ہوا۔ انگلینڈ اور نوآبادیاتی امریکہ میں ربانیت کے انکار کو توہین قرار دیا گیا۔ 17، 18 اور 19ویں صدی میں عدالتوں نے توہین کے قانون کو استعمال کیا جس میں خدا، چرچ یا یسوع مسیح کی توہین کو جرم قرار دیا گیا۔ اس طرح عیسائیت کے خلاف فحش یا گستاخانہ اشاروں یا ریمارکس کو خلاف قانون قرار دیا گیا۔ 1729 میں کیمبرج کے ماہر تعلیم تھامس وولسٹون نے، جن پر پمفلٹس کی سیریز لکھنے پر مقدمہ چلایا گیا، نیو ٹیسٹمینٹ (انجیل) کے معجزات کی حقیقت سے انکار کیا اور ان کو افسانہ قرار دینے پر اصرار کیا۔ ان پمفلٹس سے یہ سمجھا گیا کہ انہوں نے عیسائیت کی بنیادوں کو ہلا دیا ہے۔ وولسٹون کو 1733 میں اس کی موت تک قید رکھا گیا۔

توہین رسالت کے قوانین امریکہ اور یورپی ممالک (بشمول جرمنی) میں انیسویں صدی تک بحال رکھے گئے۔ جبکہ انیسویں صدی میں یہ قوانین بتدریج ختم ہوتے گئے۔ جرمنی میں بھی توہین رسالت کے خلاف قانون ختم کر دیا گیا۔ برطانیہ میں توہین کے خلاف قوانین تاحال نافذ العمل ہیں کم از کم تھیوری میں ہر اس لحاظ سے موثر ہتھیار ہیں جن سے عیسائیت کو تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے۔ تاہم عملی طور پر انہوں

صفحہ ۳۱۹

تحفظ ناموس رسالت... کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

نے کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا۔ 1949ء میں مشہور برٹش جج لارڈ ڈیننگ نے یہ اعلان کیا کہ برٹش لاء متروک ہو گیا ہے اسے تاریخ کی کتابوں کی نذر کر دیا جائے۔ اس قانون کی وجہ یہ تھی کہ یہ سوچا گیا کہ عیسائیت سے انکار عیسائی معاشرے کی بنیادیں ہلا سکتا ہے۔ اب عیسائی معاشرے کو ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے، اس معاشرہ میں توہین کا جرم ایک مردہ کی مانند نظر آتا ہے۔ کیونکہ انسان اب دولت کا پجاری بن گیا ہے۔

عیسائیوں کے برعکس آج بھی ہر عام مسلمان کا عقیدہ قرآن کی مقدس روایات اور آسمانی ہدایات پر مبنی ہے۔ مسلمان خود کو اسلامی روایات سے ہم آہنگ قرار دیتے ہیں اور جذباتی طور پر اپنی زندگی سنت کے سانچے میں ڈھالنے کو انتہائی اہم عبادت سمجھتے ہیں۔ ان گنت مسلمان قرآن کی حرمت کے تحفظ کی قسم کھاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی شان اقدس میں کسی گستاخی کو کسی صورت برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ گستاخ رسول کو جہنم رسید کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ غازی علم دین شہید نے جب ایک ہندو گستاخ رسول کو جہنم رسید کیا تو ان کے مقدمہ کی وکالت خود قائد اعظم نے کی تھی۔

ماضی میں یہ تصور کیا گیا کہ توہین سے مراد عیسائی مذہب کی توہین اور عدم احترام ہے۔ توہین کے خلاف تمام مغربی قوانین میں یہ رائے نمایاں رہی۔ یہ فرض کر لیا گیا کہ یہ قوانین کسی قسم کی توہین کے امتناع کے آئینے دار ہیں۔ یہ نظریہ یورپ اور امریکہ میں کئی عیسائی رہنماؤں کے حالیہ موقف سے قریب تر ہے جنہوں نے رشدی تنازع میں تدبر، جرأت اور تحمل کا ثبوت دیا ہے۔ تاہم اگر توہین کے مسئلے کی طرف تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ مسیحی چرچ نے مجموعی طور پر توہین کے خلاف قانون کا مختلف انداز سے جائزہ لیا ہے۔ خداوند، مسیح یا مسیحی عقیدہ کے خلاف توہین کی نہ صرف مزاحمت کی گئی بلکہ سزا کا مستوجب سمجھا گیا، جبکہ دیگر مذہبوں کی تضحیک کو آزادی صحافت قرار دیا گیا۔

چرچ نے بسا اوقات عیسائیوں کی ان سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔ تا کہ وہ توہین اور ربانیت کو ایسے ہتھیاروں کے طور پر استعمال کریں جن سے دوسرے کے عقیدہ کی بے عزتی اور تذلیل کی جائے، جس کا مظاہرہ آج کل ہو رہا ہے۔

ماضی میں بھی عیسائیوں نے صلیبی جنگوں میں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کر دیا تھا۔ وہ مسیحی

صفحہ ۳۲۰

گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں تحفظ ناموس رسالت' کیوں اور کیسے؟

برتری کے لئے یہ جنگ لڑ رہے تھے۔ جو مسلمانوں کیخلاف نفرت کا اظہار تھی۔ اسلام سے عیسائیت کو ہمیشہ سیاسی اور فوجی خطرات لاحق رہے ہیں۔ 1683ء میں ترکوں کو ویانا میں روک دیا گیا تھا تاہم اس کے بعد بھی ترکی کے کنٹرول میں مسیحی دنیا کے کچھ حصے رہے۔ مسیحی اسلام کو اس کی فوجی سیاسی اور ثقافتی طاقت کی وجہ سے اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ عیسائی اپنے مسلمان دشمن کو شیطان کے روپ میں پیش کرتے ہیں۔ اسلام سے مسیحی دنیا کی دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں بات مزید واضح ہوگئی ہے۔ کہ اسلام دشمنی میں مسیحی اقوام کسی بھی انتہائی اقدام سے گریز نہیں کرتیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان اپنے دین کی بقا اور نبی کریم ﷺ کی ناموس رسالت کی خاطر متحد ہو جائیں اور اپنا تن من دھن سب کچھ محمد عربی ﷺ کی عزت پر قربان کرنے کا عزم کر لیں کیونکہ یہ وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے۔

صفحہ 321

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

یورپ اور قانون توہین انبیاء

اسماعیل قریشی

یہ بات نہیں کہ یورپ اور امریکہ کو مسلمانوں کے اپنے پیغمبر ﷺ کی ذات اقدس سے والہانہ عقیدت اور محبت کا علم نہیں۔ موجودہ اکیسویں صدی میں اور اس سے قبل چودہ سو سال کے عرصہ دراز میں یورپ، ایشیا اور افریقہ میں جہاں جہاں بھی مسلمان بطور حکمران رہے ہیں یا بحیثیت شہری آباد رہے ہیں۔ وہاں ان کی رواداری، امن و آشتی اور تمام مذاہب کے پیغمبروں اور رہنماؤں کا احترام صرف ان کی صلح جو پالیسی نہیں بلکہ ہر جگہ ہر مقام اور ہر دور میں اس کا عملی مظاہرہ بھی ہوتا رہا ہے۔ جس کا اعتراف خود عیسائی اور غیر مسلم مورخین کرتے چلے آئے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اپنے پیغمبر ﷺ کی شان میں کسی قسم کی کوئی گستاخی اور توہین کسی طور پر برداشت نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے وہ اپنی جان و مال ماں باپ اور اولاد تک قربان کرنے کیلئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ قدرت اللہ شہاب جو انگریزوں کے استعماری دور میں اور اس کے بعد پاکستان بیوروکریسی کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اور ملک عزیز کے نامور منصف بھی ہیں، سرکار رسالتمآب کے بارے میں اپنے ذاتی واقعہ کے حوالہ سے مسلمانوں کی قومی نفسیات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”رسول خدا ﷺ کے متعلق اگر کوئی بدگوئی کرے تو مسلمان آپے سے باہر ہوجاتے ہیں۔ (جیسا کہ وہ خود ہوئے تھے) اور کچھ لوگ تو مرنے مارنے کی بازی لگا بیٹھتے ہیں۔ اس میں اچھے نیم اچھے یا برے مسلمان کی بالکل تخصیص نہیں بلکہ تجربہ تو یہی شاہد ہے کہ جن لوگوں نے اپنی جان عزیز کو ناموس رسول پر قربان کر دیا ظاہری طور پر وہ تو نہ علم و فضل میں نمایاں تھے اور نہ زہد و تقویٰ میں ممتاز تھے۔ ایک عام مسلمان کا شعور اور لاشعور جس شدت اور دیوانگی کے ساتھ شان رسالت کے حق میں مضطرب ہوتا ہے اس

صفحہ 322

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

کی بنیاد عقیدے سے زیادہ عقیدت پر مبنی ہے۔ خواص میں یہ عقیدت ایک جذبہ اور عوام میں ایک جنون کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔‘‘

یورپ اور امریکہ کی عیسائی اور سیکولر حکومتیں پیروان محمد ﷺ کے اس اجتماعی شعور سے واقف ہیں۔ اس کا تاریخی پس منظر بھی ان کے سامنے موجود ہے گذشتہ صدیوں میں جب مسلمان سپین ، فرانس ، روم ، یونان ، بلغاریہ ، روس اور یورپ کے علاوہ ایشیا اور افریقہ کے ممالک میں حکمران رہے ہیں وہاں انہوں نے اسلامی رواداری سے کام لیتے ہوئے عیسائیوں ، یہودیوں ، ہندوؤں اور دیگر غیر مسلموں کو اپنے ساتھ شریک اقتدار کیا ہے اور انہیں اپنے مذہب کی عملداری میں پوری آزادی دی ہے۔ ان کے مذہبی معاملات اور عبادات میں کبھی کوئی دخل اندازی نہیں کی۔ انہوں نے اپنی حکومتوں کیخلاف کھلی بغاوت کرنے والوں کو بھی معاف کردیا ہے لیکن اپنے پیغمبر کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو اپنے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی ہے۔ چند سال پیشتر ایک بد بخت شخص سلمان رشدی نے عیسائیوں کا آلہ کار بن کر اپنی شرمناک کتاب شیطانی آیات میں پیغمبر اسلام علیہ السلام کی بالواسطہ اہانت کی جس پر تمام یورپ ، امریکہ اور ساری دنیا کے مسلمان سراپا احتجاج بن گئے تھے۔ یورپ کی عیسائی نام نہاد سیکولر حکومتوں کا شروع ہی سے یہ عجیب و غریب دوہرا معیار رہا ہے کہ اپنے ملکوں میں تو توہین مسیح کے جرم کی سنگین سزا ، سزائے موت نافذ کرتی رہی ہے اور اب بھی عمر قید کی صورت میں موجود ہے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان یا دوسرے مسلمان ملکوں میں پیغمبر اسلام ﷺ کی اہانت کی سزا سرے سے موجود نہ رہے۔ کیونکہ اس سے عیسائی اور دیگر اقلیتوں کے انسانی حقوق مجروح ہوتے ہیں۔

ریڈرز ڈائجسٹ اور نیویارک سنڈے ٹائمز میگزین کے مضمون نگاروں نے راقم کے حوالے سے توہین رسالت کے قانون کو ”قریشی بلاس فیمی لاء“ بتلاتے ہوئے پاکستان کا عیسائیوں کے خلاف اعلان جنگ (Pakistan's War Against Christians) کے عنوان سے مضامین شائع کئے ہیں۔ ایسی ہی بات گذشتہ روز توہین رسالت کے مذاکرے میں مسیحیوں کے نمائندے جان الیگزنڈر ملک بشپ نے کہی کہ یورپ میں بلاس فیمی لائے کے متعلق ان کا ارشاد ہے کہ توہین مسیح کا قانون وہاں حضرت مسیح علیہ السلام کی تضحیک اور تمسخر پر حرکت میں آتا ہے لیکن یورپی ملکوں میں مسلمانوں کے محبوب پیغمبر ﷺ

صفحہ 323

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

کے خلاف کارٹون اور خاکوں کے ذریعے جو تمسخر کیا جا رہا ہے اور ان کی مقدس ذات کی تضحیک کی جا رہی ہے اسے وہاں کی حکومتیں اور عیسائی دنیا پریس کی آزادی اور آزادی اظہار کا نام دے رہی ہے۔ جس کو وہ اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں اور ایسی غیر اخلاقی اور ناشائستہ حرکتوں کے اعادہ سے روکنے کے لیے بھی ان حکومتوں نے صاف انکار کر دیا ہے حالانکہ خود ان ملکوں اور ساری دنیا کے آئین اور قانون میں اظہار رائے کی آزادی کے واضح حدود متعین ہیں، اس مضمون میں ان ملکوں کے آئینی دفعات کی گنجائش نہیں اس لیے ہم یہاں صرف یورپی ملکوں کے کنونشن (آئین) کے آرٹیکل 10 کا حوالہ دیں گے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اظہار آزادی کا حق نہایت حزم و احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔ اس کے ذریعہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ملک میں معاشرے کے اخلاقی اقدار، دوسروں کی عزت نفس اور ان کے بنیادی حقوق کو گزند پہنچائے۔ اس بارے میں یورپی یونین کی ہیومن رائٹس کی اعلیٰ ترین عدلیہ نے سال 1996ء میں برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز کے توہین مسیح کے مقدمہ میں فیصلہ پر اسی آرٹیکل 10 کی اپیل کی سماعت کے بعد ایک اہم اور نہایت دلچسپ مقدمہ ونگرو بنام مملکت برطانیہ میں بڑا معرکہ الآرا فیصلہ صادر کیا ہے۔ جو یورپی یونین کے تمام ممبر ملکوں پر لاگو ہے۔ اس فیصلہ کا مختصر ذکر ہمارے ملک کے حکمرانوں کے لیے چشم کشا اور سبق آموز ہے۔

برطانیہ میں ایک فلم ڈائریکٹر مسٹر ونگرو نے ایک ویڈیو فلم تیار کی جس میں سولہویں صدی کی عیسائی راہبہ سینٹ ٹریسا، جو جناب یسوع مسیح کی بڑی عقیدت مند تھی حالت وجد میں صلیب کے گرد رقص کرتے ہوئے اپنا گریبان چاک کر کے اپنے عریاں سینہ کو لہو رنگ کر لیتی ہے۔ اور اسی حالت میں تصوراتی مسیح صلیب کے بوسہ لیتی ہے۔ جس پر جناب مسیح علیہ السلام کے لبوں کو بھی ہلکی جنبش ہوتی ہے۔ اس فلم کو برطانیہ کے سنسر بورڈ نے نمائش کی اجازت دینے سے انکار کر دیا جس پر یہ معاملہ عدالتوں تک پہنچا۔ جہاں یہ قرار دیا گیا کہ یہ مقدس سینٹ ٹریسا کے کردار کی توہین ہے۔ جس سے برطانیہ کے عیسائی شہریوں کے جذبات مشتعل ہونے کا اندیشہ ہے۔ ان فیصلوں کے خلاف جوڈیشل ریویو کے لیے یہ مقدمہ برطانیہ کی سب سے بڑی عدالت ہاؤس آف لارڈز میں سماعت کے لیے آیا۔ وہاں کے تمام جج حضرات نے ماتحت عدالتوں کے فیصلہ کو بحال رکھا۔ عدالت عظمیٰ کے ایک معروف لبرل جج اسکار مین نے یہ بھی قرار دیا

٣٢٣

صفحہ ۳۲۳

گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

کہ بلاس فیمی لا برطانیہ کی سالمیت کے لیے ناگزیر ہے۔ اس فیصلہ کو مملکت برطانیہ کے خلاف مسٹر دگرو نے یورپی یونین کے حقوق انسانی کی اعلیٰ ترین عدالت میں چیلنج کر دیا کہ اس فیصلہ سے ایک آزاد ملک کے آزاد شہری کے آزادی اظہار کے حقوق ختم ہوئے ہیں یورپی یونین کے کنونشن (آئین) کے آرٹیکل 10 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یورپ کے ہیومن رائٹس کی اس عدالت عالیہ نے اپنے آئین کی آرٹیکل 10 کی تشریح کرتے ہوئے ہاؤس آف لارڈز کے فیصلہ کی توثیق کر دی اور دگرو کی اپیل کو مسترد کر دیا مملکت برطانیہ کے حق میں فیصلہ صادر کرتے ہوئے لکھا کہ توہین مسیح علیہ السلام کے قانون کی بدولت حقوق انسانی کا تحفظ برقرار رہتا ہے۔

یورپ کے ہم جیسے خوش فہم مسلمانوں نے اس عالی مرتبت عدالت میں سلمان رشدی کے حوالے سے اپنے جائز حقوق انسانی کے لیے داد رسی طلب کی لیکن کون سنتا ہے۔ فغان درویش، غریب مسلمانوں کو فریاد کی اجازت بھی نہیں مل سکی۔ یہ ہیں یورپ کے وہ حقوق انسانی جن سے دنیا کی تمام دوسری اقوام سے صرف ایک مسلمان قوم جس کے پیروکار ارب سے زیادہ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں محروم کر دیا گیا ہے۔

مسلمان ملکوں میں کروسیڈ کے نام پر خونریز جنگ اور قتل و غارت گری اور ان کی جغرافیائی سرحدوں میں گھس کر وہاں کے نہتے بچوں عورتوں، بوڑھوں اور مردوں کا سفاکانہ قتل عام جاری ہے۔ اور اب مسلمان ملکوں کی نظریاتی سرحدوں پر یلغار کے جو محرکات ہیں اس کی تہہ دار تحت شعور میں تین صدیوں کی مسلسل صلیبی جنگوں میں یورپ اور پاپائیت کی شکست کا انتقامی جذبہ کارفرما ہے۔ لیکن مغرب اس غیر انسانی مجرمانہ کاروائیوں کے انجام سے بے پروا ہو کر سپر پاور ہونے کے زعم میں جس طرح کھیل کھیل رہا ہے اس نے تہذیب کے تصادم سے انسانیت کو تباہی کے مہیب غار کے خوفناک دہانہ تک پہنچا دیا ہے۔ اب ذرا سی سہل انگاری اس کرۂ ارض پر انسان کے وجود ہی کو نیست و نابود کر دے گی۔

صفحہ ۳۲۵

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

ایک عمومی اعتراض اور اس کا جواب

مولانا منصور احمد

آج کل یہ سوال عام طور کیا جاتا ہے کہ رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تو بہت مشفق و مہربان تھے اور اپنے اوپر ہونے والی زیادتیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت فرمالیا کرتے تھے۔ مکہ کی وادی میں آپ کو کیا کیا نہیں ستایا گیا لیکن اس کے باوجود آپ نے فتح مکہ کے دن سزا دینے کے بجائے عفو و درگزر سے کام لیا۔ ایک یہودی نے آپﷺ کو ”السام علیکم“ (تم پر موت ہو) کہا لیکن آپﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم نہیں دیا۔ آپﷺ نے فرمایا:

”موسیٰ علیہ السلام کو اس سے زیادہ تکلیفیں دی گئیں لیکن انہوں نے صبر کیا۔“

ایسے بیشمار واقعات کی موجودگی میں توہین رسالت کے مجرم کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کچھ عجیب سا لگتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس مطالبے میں شرعی حکم کے بجائے صرف جوش اور جذبات کا عمل دخل ہے۔ یہ وہ شبہ ہے جسے بار بار مختلف تعبیروں اور طریقوں سے خاص طور پر جدید حلقوں کی طرف سے اٹھایا جاتا ہے۔ او آئی سی کے جنرل سیکرٹری اکمل الدین اوگلو صاحب نے بھی اپنے ۲۲ فروری ۲۰۰۶ء کے انٹرویو میں ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے۔

دراصل اس غلط فہمی کی بنیاد اس مفروضے پر مبنی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور آپ پر تنقید ایک انسان کی توہین کے برابر ہے یا زیادہ سے زیادہ ایک عظیم مصلح، رہنما اور مثالی ہستی کی تنقیص ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ بنیاد اور اساس ہی غلط ہے کیونکہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت صرف محمد بن عبداللہ کی نہیں بلکہ رسول اللہ کی بھی ہے یعنی آپﷺ صرف ایک انسان نہ تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کے فرستادہ تھے اور آخری دین، دین اسلام کے ہر حکم اور ہر عمل کیلئے اتھارٹی

صفحہ ۳۲۶

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

تھے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو جب ایک بدبخت شانِ رسالت میں گستاخی کرتا ہے تو وہ صرف ایک انسان کی ہتک نہیں کرتا بلکہ درحقیقت:

ہی بنایا ہے۔

تھے۔

اقرار کیا تھا۔

ایمان کا ہی دوسرا عنوان ہے۔

اس تفصیل کے بعد اصل بات واضح ہو جاتی ہے کہ سرکارِ دو عالم ﷺ کو تو یہ اختیار تھا کہ اپنی ذات کو تکالیف اور ایذاء پہنچانے والے کو معاف کردیں لیکن یہ بھی تب تک جب تک اس کا اثر اللہ کے دین تک نہ پہنچے ورنہ یہ معافی اور درگزر کا معاملہ نہیں ہوتا تھا۔ اسی لئے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

”آپ ﷺ نے کبھی کسی سے اپنی ذات کیلئے انتقام نہیں لیا لیکن جب اللہ کی قائم کردہ حرمتوں میں سے کسی کو پامال کیا گیا تو آپ نے اللہ ہی کیلئے انتقام لیا“۔

(بخاری، مسلم)

چنانچہ قارئین انہی صفحات میں ایک درجن سے زائد ایسے واقعات ملاحظہ فرمائیں گے جن میں آنحضرت ﷺ نے توہین رسالت کے مجرموں پر سزائے موت کا اطلاق فرمایا۔

یہ فرق اور تفصیل تو سرکارِ دو عالم ﷺ کی اپنی ذات کے اعتبار سے تھی ورنہ ایک مسلمان کیلئے تو توہین رسالت کے مرتکب کو معاف کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ یہ اس کی اپنی ذات کا معاملہ

صفحہ ۳۲۷

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

نہیں کہ وہ مجرم کو معاف کر کے سیرت نبوی کی پیروی کرے۔ یہ تو اس کے ذمے اللہ، اس کے رسول اور دینِ اسلام کا حق ہے کہ وہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ علامہ ابن تیمیہؒ نے اسی بات کو ان مختصر الفاظ میں سمو دیا ہے، فرماتے ہیں:

’’ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان لہ ان یعفو عمن شتمہ و سبہ فی حیاتہ و لیس لا متہ ان یعفو من ذلک‘‘

(الصارم المسلول ۱۹۵)

یعنی ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ اپنے سامنے سب وشتم کرنے والوں سے درگزر کر لیں لیکن آپ کی اُمت کیلئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس جرم کو معاف کردے۔‘‘

افسوسناک بات یہ ہے کہ توہین رسالت کے موقع پر چشم پوشی اور بزدلی دکھانے کیلئے سیرت کا حوالہ وہ لوگ دیتے ہیں جو خود اپنی ذات پر ایک لفظ برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے اور اپنی توہین و تنقیص کا انتقام لینے کیلئے بسا اوقات ہزاروں انسانوں کی زندگیاں جھونک دیتے ہیں حالانکہ حقیقت بین نگاہوں سے دیکھا جائے تو اپنی ذات پر تکالیف اور توہین برداشت کرنا سیرت نبوی کا تقاضہ ہے نہ کہ اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر۔

بندہ نے اس سوال کو آسان انداز میں حل کر دیا ہے جب کہ اہل علم نے اپنی کتب میں اس پر مفصل علمی کلام فرمایا ہے۔ قاضی عیاضؒ نے ’’الشفاء‘‘ میں باقاعدہ ایک فصل قائم کر کے کئی صفحات پر اس اعتراض کا جواب دیا ہے۔ تفصیل جاننے کے خواہشمند اُس کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

معنی ہیں معدوم، تحریریں بہت
ہے عمل مفقود، تقریریں بہت
بغض دل میں، منہ پر تعریفیں بہت
کفر دل میں، لب پہ تکبیریں بہت
اہل اہل درد ہی ملتا نہیں
ورنہ درد دل کی تدبیریں بہت
صفحہ ۳۲۸

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

برداشت اور عدم برداشت

مولانا زاہد الراشدی

ڈنمارک کے اخبار ”جیلنڈز پوسٹن“ میں نبی اکرمﷺ کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر مسلمانوں کے ردعمل کا دائرہ مسلسل وسیع ہوتا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی مسلم ممالک میں عوام اور ان کی حکومتوں کے درمیان اس حوالے سے فاصلہ بھی بڑھنے لگا ہے۔ مسلم حکومتوں کی خواہش اور کوشش ہے کہ ان خاکوں کے خلاف احتجاج تو ہو مگر اس کا دائرہ اس قدر وسیع نہ ہو کہ مسلم حکومتوں اور مغرب کے درمیان شکوک و شبہات کی فضا قائم ہونے لگے اور ان میں باہمی تعاون کا جو نیٹ ورک موجود ہے وہ متاثر ہو جائے مگر دینی حلقوں اور عوام کی کوشش یہ رخ اختیار کرتی جا رہی ہے کہ اس مسئلہ پر یہ طے پائے کہ مغرب اور عالم اسلام کے درمیان فکری اور تہذیبی کشمکش کی حدود اب طے ہو جانی چاہیں اور آزادی رائے اور انسانی حقوق کے نام سے مسلم امہ کے خلاف مغرب کی فکری اور ثقافتی یلغار کو کسی جگہ بریک ضرور لگنی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ احتجاج کرنے والوں اور مظاہروں کے لئے سڑکوں پر آنے والوں کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ مسلم سربراہ کانفرنس کا اجلاس فوری طور پر طلب کیا جائے اور مشترکہ طور پر لائحہ عمل طے کر کے مغرب سے دو ٹوک بات کی جائے۔ جبکہ ڈنمارک کی حکومت ابھی تک اس موقف پر قائم ہے کہ اسے ان خاکوں کی اشاعت پر افسوس ہے لیکن وہ اظہار رائے کی آزادی کے حق کا احترام کرتی ہے اور مذکورہ اخبار کے خلاف کوئی کاروائی کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ دوسری طرف ”جیلنڈز پوسٹن“ کے ثقافتی مدیر فلیمنگ روز نے ایک مضمون میں خود کو اس کاروائی میں حق بجانب قرار دیا ہے۔ اور الٹا مسلمانوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عدم برداشت کا شکار ہیں۔ اور اسی ”عدم برداشت“ کو ختم کرنے کے لئے وہ اس مہم میں سرگرم عمل ہیں۔ ان حضرات کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اسلام تنقید کو برداشت نہیں کرتا اور ہم عدم برداشت کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

صفحہ 329

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

آج کے کالم میں ہم اسی پہلو پر کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ جہاں تک تنقید کا تعلق ہے یہ بات قطعی طور پر بے بنیاد ہے کہ اسلام تنقید برداشت نہیں کرتا۔ کیونکہ دلیل اور منطق کے حوالے سے جب بھی اسلام کی کسی بات پر اعتراض ہوا ہے یا تنقید کی گئی تو مسلمانوں نے نہ صرف اسے سنا ہے اور اس کا دلیل کے ساتھ جواب دیا ہے بلکہ اگر کوئی بات قبول کرنے کے قابل ہوئی ہے تو اس میں بھی تامل سے کام نہیں لیا۔ خود نبی اکرم ﷺ کی حیات طیبہ میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ جن میں سے ایک دو کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے صلح حدیبیہ کے موقع پر جب نبی اکرم ﷺ اور کفار مکہ کے نمائندہ سہیل بن عمرو کے درمیان مذاکرات ہو رہے تھے۔ اور معاہدہ کی طے شدہ شرطیں لکھوائی جا رہی تھیں تو نبی اکرم ﷺ نے معاہدہ کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھوائی اور معاہدہ کے متن کا آغاز یوں کیا کہ یہ وہ امور ہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ اور سہیل بن عمرو نمائندہ قریش کے مابین طے پائے ہیں۔ معاہدہ لکھا جا چکا تھا۔ اور دستخط سے قبل دوبارہ سنایا جا رہا تھا کہ سہیل بن عمرو نے اعتراض کیا کہ بسم اللہ کے ساتھ رحمٰن اور رحیم کا ذکر ہمارے ہاں معروف نہیں ہے اور یہ آپ کی اپنی اصطلاح ہے جبکہ معاہدہ میں صرف مشترکہ باتوں کا تذکرہ ہوتا ہے اس لیے یہ دونوں لفظ حذف کرنا ہوں گے اسی طرح ہم آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے، اس لیے معاہدہ میں آپ کا تذکرہ محمد بن عبداللہ کے عنوان سے ہوگا۔ نبی اکرم ﷺ نے قریش کے نمائندہ کے اس اعتراض کو تسلیم کیا اور رحمٰن، رحیم اور رسول اللہ کے الفاظ معاہدے سے حذف کروا دیئے حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جو معاہدہ لکھ رہے تھے ایمانی غیرت کی وجہ سے ان مقدس الفاظ پر لکیر کھینچنے سے انکار کر دیا تھا مگر اس کے باوجود وہ الفاظ حذف کر دیئے گئے اور نبی اکرم ﷺ نے اعتراض اور تنقید کو نہ صرف برداشت کیا بلکہ اسے قبول بھی کیا۔ اسی طرح کا ایک واقعہ بخاری شریف میں مدینہ منورہ کے حوالے سے بھی مذکور ہے کہ ایک یہودی نبی اکرم ﷺ کی محفل میں آیا اور آپ کو ”یا محمد“ کہہ کر مخاطب کیا، اس پر ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے اسے دھکا دے دیا۔ اس صحابی رضی اللہ عنہ سے وجہ پوچھی گئی تو اس نے بتایا کہ اس نے یا رسول اللہ کہہ کر مخاطب کیوں نہیں کیا؟ اس یہودی نے جواب دیا کہ جب ہم آپ کو رسول اللہ مانتے ہی نہیں تو اس صفت کے ساتھ مخاطب کیسے کر سکتے ہیں؟ اس پر نبی اکرم ﷺ نے یہ فرما کر معاملے کو نمٹا دیا کہ میں محمد رسول اللہ ﷺ بھی ہوں اور محمد بن عبداللہ بھی ہوں۔

صفحہ ۳۳۰

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

الفرض جہاں اعتراض کسی دلیل کی بنیاد پر ہوا ہے اور تنقید میں سنجیدگی پائی گئی ہے۔ وہاں کسی نے اس کو رد نہیں کیا بلکہ اس کا جواب دیا ہے یا اسے قبول کیا گیا ہے۔ البتہ توہین اور تنقیص کا مسئلہ جدا ہے اور اسے کسی دور میں بھی برداشت نہیں کیا گیا۔ چودہ سو سالہ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں نے قرآن کریم پر، نبی اکرم ﷺ کی ذات گرامی پر اور اسلامی تعلیمات پر ہر دور میں سینکڑوں اعتراضات کئے ہیں اور سینکڑوں مسائل پر تنقید کی گئی ہے۔ ان اعتراضات اور ان کے جوابات کے حوالے سے ایک مستقل لٹریچر ہے جو نہ صرف کتب خانوں کی زینت ہے بلکہ مسلسل پڑھا جا رہا ہے۔ مسلمانوں نے کبھی اس پر ناک بھوں نہیں چڑھائی بلکہ دلیل کا جواب دلیل سے دیا ہے۔ مکالمہ اور مباحثہ میں حصہ لیا ہے۔ اور آج بھی علمی حلقوں میں یہ مباحثہ اور مکالمہ جاری ہے۔ مگر توہین اور تنقیص کو تنقید کے پردے میں چھپانے کی بات قبول نہیں کی جاسکتی کیونکہ توہین اور تمسخر کسی حالت میں بھی قابل برداشت نہیں ہے۔

نبی اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ میں ہمیں دونوں باتیں ملتی ہیں۔ حدیبیہ میں سہیل بن عمرو نے دلیل کی بنیاد پر بات کی تو اسے قبول کیا گیا لیکن اس کے صرف دو سال بعد فتح مکہ کے موقع پر عبداللہ بن خطل کو عام معافی سے مستثنیٰ قرار دے کر اس کے قتل کا حکم خود نبی اکرم ﷺ نے صادر فرمایا حتی کہ آنحضرت ﷺ کو بتایا گیا کہ عبداللہ بن خطل جان بچانے کے لئے خانہ کعبہ کے غلاف کے پیچھے چھپا ہوا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اسے وہیں قتل کر دو۔ چنانچہ اسے وہاں سے گھسیٹ کر مسجد حرام میں ہی زمزم کے چشمہ کے قریب جہنم رسید کر دیا گیا۔ اس لیے کہ وہ گستاخ تھا اور اس کی مخالفت دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ اہانت اور تحقیر پر مبنی تھی اس لیے مسلمانوں نے اس معاملے میں ”حدِ فاصل“ کو ہمیشہ قائم رکھا ہے۔ جہاں اختلاف یا مخالفت دلیل کے ساتھ ہوئی ہے وہاں دلیل سے جواب دیا ہے لیکن جہاں اہانت اور تحقیر کا پہلو پایا گیا ہے۔ وہاں مسلمانوں نے ایسا کرنے والے کے ساتھ وہی معاملہ کیا ہے جو عبداللہ بن خطل کے ساتھ کیا گیا تھا۔

اس کی ایک مثال ماضی قریب میں بھی ملاحظہ کی جاسکتی ہے کہ ایک ہندو دانشور پنڈت دیانند سرسوتی نے اپنی کتاب ”ستیارتھ پرکاش“ میں اسلام، قرآن کریم اور نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس پر

صفحہ ٣٣١

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

سینکڑوں اعتراضات کئے ہیں جن کا عملی طور پر جواب دیا گیا ہے۔ حضرت مولانا قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند کے ساتھ تو اس کا مناظرہ بھی ہوا تھا اور حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ نے ”حق پرکاش“ کے نام سے اس کا باقاعدہ جواب دیا ہے مگر دیانند سرسوتی کو مسلمانوں کی طرف سے کسی غیظ وغضب کا نشانہ نہیں بننا پڑا جبکہ اسی ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے ایک اور مصنف راج پال نے اپنی کتاب ”رنگیلا رسول“ میں نبی اکرم ﷺ کا تذکرہ گستاخی اور اہانت کے لہجے میں کیا تو اسے غازی علم دین شہید نے کیفر کردار تک پہنچا دیا۔ یہ اس بات کی تاریخی شہادت ہے کہ مسلمانوں نے تنقید اور توہین میں فر ق ہمیشہ قائم رکھا ہے۔ اور وہ اس فرق کو اچھی طرح سمجھتے ہیں البتہ مغرب میں یہ فرق ختم ہو گیا ہے اور مغرب کے دانشور تنقید اور تنقیص کے معاملے کو خلط ملط کر کے تنقید کے نام پر تنقیص اور توہین کا حق مانگ رہے ہیں۔ آج بھی مغرب کا کوئی دانشور دلیل کے حوالے سے بات کرے، اسلام کی کسی بات پر تنقید کرے یا نبی اکرم ﷺ کے کسی ارشاد اور عمل کو دلیل کی بنیاد پر ہدف تنقید بنائے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اور ہم ماضی کی طرح اب بھی اس کا جواب دلیل سے دیں گے۔ اور ہر علمی تنقید کا خندہ پیشانی سے سامنا کریں گے۔ لیکن تنقید کے نام پر توہین اور آزادیٔ رائے کے نام پر تحقیر کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ یہ مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ اور ان کی حمیت و غیرت کا مسئلہ ہے۔ جس میں کسی لچک یا نرمی کی گنجائش نہیں ہے البتہ اس موقع پر مغرب کے دانشوروں سے یہ پوچھنے کو جی چاہتا ہے کہ تمسخر، استہزا کا سہارا لینے کی ضرورت اسے پیش آتی ہے جو دلائل کے ہتھیار سے محروم ہوگیا ہو، کیا مغرب کے ترکش میں دلیل نام کا کوئی تیر باقی نہیں بچا کہ وہ تحقیر و توہین کے بھونڈے حربوں پر اتر آیا ہے؟

صفحہ ۳۳۲

تحفظ ناموس رسالت‘ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

صرف ایک دعا

نصر اللہ عزیز

ہنسنے اور مسکرانے کا موسم نہیں ........ ورنہ ہم آپ کو دو چار لطیفے سنا ہی دیتے ۔ ویسے کیا یہی صورتحال کم مضحکہ خیز ہے کہ وہ لوگ جو اپنے حسب نسب سے بھی ناواقف ہیں، جو انسانی اقدار سے عاری ہیں، جو تہذیب کا دامن چھوڑ بیٹھے ہیں، جو شرافت سے نابلد ہیں، جنہیں وقار دوستی کا پتا ہے اور نہ ہی ان میں مجال دشمنی ہے، وہ کمترین، پست ترین اور بدترین لوگ آج اس ذات اقدس پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کررہے ہیں، جو حسن و جمال کے پیکر ہیں، جو آدمیت کی پیشانی کا جھومر ہیں، جو وجہ تخلیق کائنات ہیں اور جو باعث فخر موجودات ہیں ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔

دو آدمیوں کا سر راہ چلتے آمنا سامنا ہو گیا۔ ایک مسلمان تھا، دوسرا کافر۔ کافر جو برسہا برس سے اپنے دل میں مسلمان کے لئے خلش اور نفرت لئے بیٹھا تھا، کہنے لگا کہ آج تمہیں اتنی گالیاں دوں گا ... اتنی گالیاں دوں گا کہ تم نے کبھی سنی نہ ہوں گی۔ مسلمان بولا ٹھیک ہے، کتے سے بھونکنے کے سوا اور توقع ہی کیا کی جاسکتی ہے۔ لیکن اتنی بات یاد رکھنا کہ جتنی گالیاں مجھے دو گے اتنا ہی خود جلنا اور کڑھنا پڑے گا۔

کافر نے پوچھا : ”وہ کیسے؟“

مسلمان بولا : ” آزما کر دیکھ لو“

اب کافر نے اپنی لمبی سی زبان نکالی اور گالیوں کا ایک طویل پہاڑ سنا ڈالا۔ پھر جب وہ گالیاں دے دے کر تھک گیا تو مسلمان نے بڑے اطمینان سے کہا :

” ہمیں ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گالیاں دینے سے منع کیا ہے، لہٰذا فی الحال اتنا سن لو کہ جتنی گالیاں تم نے مجھے دی ہیں، ان گالیوں کو اتنی ہی گالیوں سے ضرب دو۔ اور پھر جو جواب آئے وہ

صفحہ ۳۳۳

تحفظ ناموس رسالت... کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

میری طرف سے اپنے حق میں قبول کرلو۔‘‘

یہ جواب سن کر کافر بڑا سیخ پا ہوا اور کچھ سوچے سمجھے بغیر پھر گالیاں دینی شروع کردیں۔ پھر جب وہ بھونکتے بھونکتے تھک گیا تو مسلمان نے بڑے سکون کے ساتھ وہی جواب دہرایا اب اس کمبخت کا پارہ اور بھی چڑھ گیا اور بالکل بے لگام ہوکر بھونکنے لگا مسلمان خاموشی سے سنتا رہا اور جب وہ چپ ہوا تو پھر اس نے وہی جواب دے ڈالا۔ آخر کب تک ایسا ہوتا۔ کافر جب اپنے پاس موجود دشنام طرازی کا سارا ذخیرہ ختم کر چکا تو راہ بدل لینے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ باقی نہ رہا۔

وہ ۴۵ ممالک جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی گئی، وہ درجنوں اخبارات جو اس بھیانک جرم کے مرتکب ہوئے اور وہ سینکڑوں بد بخت لوگ جو اس گستاخی میں شریک رہے، ہم ان سب سے یہی کہتے ہیں کہ وہ سب گالیاں جو تم ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے رہے ہو اور وہ سب برائیاں، جو تم پاک ذات صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے گنوا رہے ہو، بار بار ضرب دینے کے بعد امت مسلمہ کے ہر مرد و زن اور پیر و جوان کی طرف سے علیحدہ علیحدہ اور بار بار اپنے لئے قبول کرو، کہ تم اس سے بھی بدرجہا بدترین گالیوں کے مستحق ہو۔ ایسی گالیاں...... جنہیں زبان پر لاتے ہوئے ہمیں شرم آتی ہے۔

خدا غارت کرے ان لوگوں کو، ان کے جسم مفلوج ہو جائیں، ان کے دماغوں میں کیڑے پڑ جائیں، یہ سب کوڑھی ہو جائیں اور ناس ہو ان کے حواریوں کا ...... کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ جس جرم کا وہ ارتکاب کر رہے ہیں، وہ ناقابل معافی ہے اور اس کی سزا قدرت ایسے بھیانک انداز میں دیتی ہے کہ رہتی دنیا تک کے لئے ایسے بدبخت لوگ نشان عبرت بن جایا کرتے ہیں۔

ہلاکو خان کے نام سے کون واقف نہیں۔ تاریخ کے اس جابر تا تاری جنگجو حکمران کی ایک بیوی کا نام ظفر خاتون تھا۔ ظفر خاتون عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی تھی اور اسکی وجہ سے ہلاکو خان کے زیر تسلط علاقوں اور رعایا میں عیسائیت کو خوب پھلنے پھولنے کا موقع مل رہا تھا۔ عورتوں کی آڑ میں اپنے مذہبی عقائد کا پرچار کلیسا کا پرانا مشغلہ رہا ہے اور ایسے کسی بھی موقع سے فائدہ اٹھانے سے اہل صلیب کم ہی چوکتے ہیں۔ بہر کیف ہلاکو خان کی حکومت عیسائیت کے فروغ کیلئے ایک مضبوط سہارے کا کام دے رہی تھی۔ ایک دفعہ عیسائیوں کی کوشش سے ہلاکو خان کے ایک اہم جنگی سردار نے عیسائیت قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔

صفحہ ۳۳۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول نیچر کی عدالت میں

یہ شخص حکومت وقت میں اتنے اہم کردار کا حامل تھا کہ پوری عیسائی دنیا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اور کلیسا نے اس سردار کو عیسائیت میں خوش آمدید کہنے کیلئے ایک تقریب جشن کا اہتمام کیا۔ اس تقریب میں شرکت کے لئے مرکزی کلیسا کے کئی پادری خصوصی نمائندے بن کر آئے۔

تقریب کا آغاز ہوا تو مختلف پادریوں نے باری باری اُٹھ کر تقریریں کیں اور عیسائیت کے فضائل بیان کئے۔ اسی دوران ایک پادری کی باری آئی تو اس بدبخت نے اپنی تقریر شروع کرتے ہی پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی شروع کر دی۔ اتفاق سے وہاں قریب ہی ایک تاتاری سپاہی کا شکاری کتا بندھا ہوا تھا۔ اس کتے کے کان میں جب پادری کے الفاظ پہنچے تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ سخت طیش میں آگیا اور پھر اس نے اپنی رسی چھڑا کر پادری پر حملہ کر دیا۔ لیکن عین اسی لمحے لوگ آگے بڑھے، پادری کو اس عذاب سے خلاصی دلائی اور کتے کو دوبارہ رسی سے باندھ دیا گیا۔

یہ صورتحال دیکھ کر بعض لوگوں نے پادری سے کہا کہ تم نے ایک قابلِ احترام ہستی کے بارے میں نازیبا باتیں کیں، اس لئے کتے نے تم پر حملہ کر دیا۔ لیکن اس بدبخت کا اصرار تھا کہ میں چونکہ تقریر کے دوران اشارے کر رہا تھا، اس لئے کتا یہ سمجھا کہ میں اس پر حملہ آور ہونے لگا ہوں۔ بس اس لئے اس نے مجھ پر حملہ کر دیا۔ یہ کہہ کر پادری نے دوبارہ اپنی تقریر شروع کی اور کچھ دیر بعد پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں دریدہ دہنی شروع کر دی۔ اُدھر کتے نے دوبارہ یہ الفاظ سنے تو پھر طیش میں آگیا۔ اس نے اپنی رسی چھڑائی اور اس بدبخت پادری پر حملہ آور ہو گیا۔ اب کی بار کتے نے اس کے گردن کو دبوچ لیا اور اس وقت تک نہیں چھوڑا، جب تک کہ وہ بدطینت انسان تڑپ تڑپ کر مر نہیں گیا۔

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے والے سے قدرت کا یہ انتقام دیکھ کر وہاں موجود چالیس ہزار افراد نے فوراً اسلام قبول کر لیا۔

شاید آپ نے پڑھ رکھا ہو کہ جس طرح ابولہب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا تھا، ویسے ہی اس کا بیٹا بھی گستاخ تھا۔ اس تیرہ بخت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی تکلیف پہنچائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کیلئے بددعا فرمائی....... ”اے اللہ! اس پر اپنے کتوں میں سے ایک کتا مسلط فرما“۔ اُسے جب اس بددعا کا پتا چلا تو باوجود کافر ہونے کے اس کی نیند حرام ہو گئی۔ ہر وقت

صفحہ ۳۳۵

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

خطرے سے دوچار رہتا کہ کب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بددعا رنگ لائے گی اور قدرت اس سے انتقام لے گی۔ ایک دفعہ تجارتی قافلے کے ہمراہ محو سفر تھا کہ رات کا اندھیرا چھا گیا۔ اس نے لوگوں سے کہا کہ سارے قافلے کا سامان میرے ارد گرد رکھ دو اور خود بھی میرے آس پاس حلقہ بنا کر پڑاؤ ڈالو تا کہ کوئی جانور حملہ نہ کر سکے۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا، مگر رات کے کسی پہر نجانے کہاں سے کوئی درندہ آیا اور اس ملعون شخص کو چیر پھاڑ کر چلا گیا۔

ایک ایسے وقت میں ......... جب بے بسی نے ہماری کمر توڑ دی ہے، بزدلی نے ہمارے دلوں میں گھر کر لیا ہے، مصلحتوں کے جال میں ہم بے دست و پا ہو چکے ہیں اور سرحدوں نے ہمارے قدم جکڑ لئے ہیں، ہم اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت و ناموس کا انتقام لینے کیلئے اور کچھ نہیں کر سکتے تو آیئے ! سب مل کر یہ دعا کریں کہ ......... ’’اے اللہ ! ان گستاخوں میں سے ہر ایک پر اپنے کتوں میں سے ایک ایک کتا مسلط فرما۔‘‘ (آمین)

وضاحت کر نہیں سکتا، مگر آواز دیتا ہوں
کہ اس کرب و بلا میں سخت جانوں کی ضرورت ہے
کہاں ہیں سیدالکونین ﷺ کی امت کے دیوانے؟
کہ ناموس نبی ﷺ کے پاسبانوں کی ضرورت ہے
صفحہ ۳۳۶

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

توہین رسالت ﷺ کرنے والے یورپ سے ۳۹ سوال

صفحہ ۳۲۶-۳۲۷

گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

والے یورپ سے ۳۹ سوال

عزت یا مذہبی دل آزاری کرنے والوں کے خلاف کوئی سائیت قانون (Blasphemy) کے حوالے سے پر قدغن نہیں؟

لیکن کیس عدالت میں لایا گیا جس میں اوٹو پریمینگر (انسٹی ٹیوٹ) کو فریق بنایا گیا۔ کیا یہ ثابت نہیں کرتا کہ برطانیہ کی نہ کسی طرح موجود ہے۔

رچ (عیسائیت) کے تحفظ تک کیوں محدود ہے۔ کیا یہ نہیں؟

برطانیہ میں دیگر مذاہب کے لوگوں کے لئے کوئی قانون ہے نہ کہ ”کسی کے عقائد“ کی۔ اس مذہبی تفریق

طرف آزادی اظہار کا احترام کرنا ہے، وہیں وہ کے بھی پابند ہیں۔ کیا یہ مشکل ترین کام نہیں؟ کیا ؟

فلم کی ریلیز روک دی تھی کیونکہ اس کے نزدیک

۳۲۶

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

یہ توہین مذہب (یا چرچ) کے دائرے میں آتی ہے۔ حالانکہ یہ ثابت بھی نہیں کر سکے تھے کہ فلم سچ مچ توہین آمیز ہے۔ لیکن جیلنڈز پوسٹن نامی ڈنمارک کے اخبار میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر ٹونی بلیئر کا ڈنمارک کے وزیر اعظم کو فون اور اس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا برطانوی دوغلے پن کو ثابت نہیں کر رہا؟ کیا ان کے نزدیک ایک فلم کا اجراء روکنا اظہار رائے کی آزادی پر قدغن نہیں تھا؟

بھی یہ دعویٰ آزادی اظہار کی بنیاد پر کیا تھا، مگر یورپی عدالت نے بھی فیصلہ اس کے خلاف دیا۔ کیا یہ واقعہ اسلام کے حوالے سے یورپی ممالک کے دوغلے طرز عمل کو آشکار نہیں کرتا؟

موجود ہیں۔ لیکن وہ صرف ان کے اپنے مذہب کے تحفظ کے لئے ہیں؟

تعظیم کو آزادی اظہار پر فوقیت دی؟

یا کمیونٹی کے مذہب یا عبادت گاہ اور دیگر مقدس علامات کی تضحیک کرے گا، اسے زیادہ سے زیادہ چار ماہ کی قید یا جرمانہ کی سزا دی جا سکے گی ۔“ کیا جیلنڈز پوسٹن نامی ڈنمارک کا اخبار اس قانون کی زد میں نہیں آتا ہے؟

امکان ہے؟

سوالات کا جواب ہاں میں دیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر ڈنمارک کی حکومت مذکورہ اخبار کے خلاف قانونی کاروائی کیوں نہیں کر رہی؟

۳۲۷

ہے ۔ جس کی بدولت نبی کے طور پر بیان کیا گیا چنانچہ سیرت نبوی کا ورق میں خط و خال اور رسولِ مقبول کی میں کامیاب ہو سکیں اللہ رب العالمین ہے میں قریہ بہ قریہ گھومتے، دلوں تا ان کے آبا و اجداد مسلمانانِ عالم پر یہ طرح اور زاویے سے انفرادی زندگی میں کی آویزش اور کفار تعلیمات کو اجاگر کیا مبعوث کر سکتا ہے؟! نے ایک نئی وحی سازشوں سے پردہ تحفظ کی خاطر اپنی نقشہ کھینچتے وقت حق

صفحہ ۳۳۸

گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں ٭ تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟

پر تلے ہوئے ہیں۔ کیا وہ اپنے ہی ملک کے قوانین کو سبوتاژ نہیں کررہے؟ یا پھر ڈنمارک کے مسلمان وہاں کے قانونی شہری نہیں؟

ہیں جو کسی بھی کمیونٹی کے افراد کے لیے رنگ، نسل، قومیت، مذہب یا جنس کے حوالے سے دل آزار ہوں ۔“ کیا جیلنڈز پوسٹن نے مذہب کی بنیاد پر قانونی طور پر مقیم ڈنمارک کی مسلمان آبادی کی دل آزاری نہیں کی؟

کا حق حاصل ہے مگر کسی قانون کو توڑنے کا نہیں۔ کیا جیلنڈز پوسٹن نے کریمنل کوڈ سیکشن ۱۴۰ اور سیکشن ۲۶۶ بی کو نہیں توڑا۔

اور خود ان کے حکمران انہیں آزادی اظہار کی پناہ کیوں فراہم کررہے ہیں؟

پوسٹن کی حرکت پر معافی مانگنے سے انکار کیوں کیا؟

ہر شخص کو اپنے خیالات کے اظہار کی اور اسے چھاپنے کی مکمل آزادی ہے مگر اپنے خیالات کے حوالے سے وہ کورٹ آف جسٹس کو جواب دہ ہے“ کیا جیلنڈز پوسٹن بھی کورٹ آف جسٹس کو جواب دہ ہے؟

جذبات کا احترام کرتے ہوئے جیلنڈز پوسٹن سے جواب طلب کیا ہے؟

صفحہ ۳۳۹

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

مطابق ہولوکاسٹ یعنی نازیوں کی جانب سے یہودیوں کے قتل عام کی کہانی کے کسی ایک بھی جزو سے انکار کرنے والے کو ۲۰ سال قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ کیا یہ قانون یہودیوں کی یورپ میں دوسروں سے نسلی برتری قرار دینے کا ثبوت نہیں؟

کے لئے علیحدہ سے قانون بنانا اور مسلمانوں کے مذہبی احترام کے لئے قانون نہ بنانا متضاد تاثر نہیں چھوڑتا؟

قانون کو رواج دینے کے لئے جواز فراہم کر سکتی ہے؟

گی؟

گھٹیا فعل کا اعادہ ہو؟

1950. 4x1) کے سیکشن 1 آرٹیکل 9 پارٹ 1 اور 2 کے مطابق ”ہر شخص کو آزادیٔ خیالات، شعور اور مذہب کا حق حاصل ہے۔ اس آزادی میں مذہب کی تبدیلی اپنے مذہب کے مطابق زندگی

صفحہ ۳۴۰

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

گزارنا اس کی تعلیمات عمل کرنا شامل ہے۔ ان آزادیوں پر معاشرے میں موجود قوانین کے دائرہ کار کے اندر عمل کرنا ہوگا تاکہ یہ آزادیاں کسی دوسرے فرد یا کمیونٹی کے تحفظ، امن وامان اور دیگر افراد یا کمیونٹی کے حقوق اور آزادیوں کو سلب کرنے کا ذریعہ نہ بنیں۔“ کیا ڈنمارک سمیت دیگر یورپی ممالک نے یورپی یونین کے اس چارٹر کی پاسداری کی ہے؟

مطلب یہ ہے کہ ہر کوئی اپنی رائے کے اظہار کے لئے حکومتی بندشوں سے آزاد ہے۔“ کیا اس شق سے کہیں بھی یہ مطلب اخذ کیا جاسکتا ہے کہ کوئی بھی شخص کسی دوسرے کے مذہب یا ذاتی زندگی میں مداخلت کر سکتا ہے؟

with it duties & responsibilities" کیا یہ آزادی اظہار کے ساتھ ساتھ ”فرض شناسی اور ذمہ داری“ کی شرط عائد نہیں کرتا؟

فراہم کر رہے ہیں؟

جائیں گے تاکہ جمہوری روایات، علاقائی سلامتی، قومی مفادات، دوسرے کے حقوق کی پاسداری اور باہمی اعتماد کو نقصان نہ پہنچے“۔ کیا کسی بھی یورپی ملک کے اخبارات نے اس حرکت سے قبل مندرجہ بالا عوامل پر غور کیا؟

کے اخبار نے اپنے ہی ملک کے کریمنل کوڈ سیکشن ۱۴۰ اور ۲۶۶ بی کو پامال نہیں کیا؟

صفحہ 341

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

صفحہ ۳۴۲

گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

اے اہل مغرب

عطاء الرحمان

یورپ میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں توہین آمیز کارٹونوں کی بار بار اشاعت، ایک کے بعد دوسرے اخبار کے ذریعے انہیں اچھالنا۔ مسلمانان عالم کے مذہبی جذبات کو مسلسل برانگیختہ کرنا۔ یہ عمل آزادیٔ رائے کے حق کا استعمال ہے یا اہل مغرب کی نفسیات میں پیوست اسلام کے خلاف تعصب...... مسلمانوں کے بارے میں یہ نفرت صلیبی جنگوں کے دور سے چلی آ رہی ہے، صدیوں پرانے عناد کا ایسے ماحول میں اظہار ہے جب کہ مسلمان خطۂ ارض کے کئی مقامات پر آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ مغرب کی عیسائی دنیا ان کی پالتو یہودی ریاست اور سٹرٹیجک اتحادی ہندو بھارت اس جدوجہد کو کچل کر رکھ دینے کیلئے طاقت، وسائل اور رسوخ کا سارا زور لگا رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپ اپنے سامراجی مفادات کی تکمیل اس میں سمجھتے ہیں کہ مسلمان قوموں کو آزادی اور آبرومندی کے ساتھ سر نہ اٹھانے دیا جائے۔ اس سوچ نے ان کے اندر جو احساسِ جرم پیدا کیا ہے اس پر اسطرح پردہ ڈالا جا رہا ہے کہ اسلام کی مقدس ترین شخصیات اور علامات کے بارے میں اعلیٰ تصورات کا IMAGE بگاڑ کر رکھ دیا جائے پھر یہ سوال کہ کیا آزادیٔ اظہار کا حق اس حد تک متاعِ عزیز ہے کہ مسلمہ تہذیبی قدروں اور شائستگی کے آدرشوں کو نذرانے کے طور پر اس دیوی کے قدموں پر نچھاور کر دیا جائے اور یہ راگ الاپا جائے۔ ہم سا کوئی مہذب ہو تو سامنے آئے۔ اس تناظر میں کچھ حقائق ایسے ہیں جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

اللہ کا مسلمانوں کے یہاں جو احترام پایا جاتا ہے وہ ہمارا دینی فریضہ ہے۔ اہل اسلام اپنے رسول ﷺ کی مانند ان کی توہین کے بارے میں ایک کلمہ برداشت نہیں کر سکتے۔ اس لئے کہ ہمارے نزدیک یہ بھی خدا کے فرستادہ تھے۔ لہٰذا ہم جو اپنے اذہان اور قلوب میں انہیں تقدس کا درجہ دیئے ہوئے ہیں تو کسی پر

صفحہ ۳۴۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

احسان نہیں کرتے۔ یہ ہمارے مذہبی عقائد کا حصہ ہے لیکن مسلمانوں نے تو کبھی ہندوؤں کے دیوتاؤں اور دیومالائی شخصیات مثلاً کرشن اور رام چندر جی کی توہین کے بارے میں بھی نہیں سوچا۔ سکھوں کے گرونانک اور بدھ مذہب کے بانی مہاتما بدھ کا ذکر ہماری کتابوں، رسائل، جرائد اور تقاریر و بیانات میں ضروری احترام کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ انہیں ہم مذہبی لحاظ سے پیغمبر تو دور کی بات ہے ولی بھی تسلیم نہیں کرتے۔ لیکن ہندو، سکھ اور اس طرح کے دوسرے مذاہب کو ماننے والے اہل اسلام سے اس پر کم ہی شاکی ہوئے ہونگے کہ انہوں نے ان کے روحانی پیشواؤں کو توہین، نفرت اور استہزاء کا موضوع بنایا ہے ۔ یہ ایک تہذیبی قدر ہے اس کا آزادی اظہار سے کوئی تعلق نہیں۔ ورنہ اظہار کی آزادی مسلمانوں کا بھی اتنا بڑا حق ہے جتنا کسی دوسری قوم کا...... قرآن مجید میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے دوسروں کے جھوٹے خداؤں کو بھی برا نہ کہو۔ مبادا وہ تمہارے سچے خدا کی توہین کریں۔ اس فرمان پر غور کیجئے۔ یہاں آزادی اظہار پر قدغن نہیں۔ ایک مہذب اور شائستہ طرز عمل اپنانے کا حکم دیا گیا ہے غیروں کا پیشوا تمہاری نگاہ میں جھوٹا بھی ہے تو برا نہ ٹھہراؤ۔ تضحیک نہ کرو تاکہ وہ ردعمل میں تمہارے سچے پر الزام نہ لگائیں۔ یوں بلاوجہ فساد فی الارض جنم نہ لے۔ اگر روڑہ پھینک کر کسی کا ماتھا پھوڑ دینا آزادی اظہار نہیں تو سرعام گالی دینا بھی نہیں۔ جوہری اور اخلاقی لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ آج کے مسلمان زوال یافتہ قوم ہیں وہ دنیوی ترقی میں پیچھے ہیں وہ علم و ہنر میں آگے نہیں۔ انہیں دنیا میں سیاسی اور اقتصادی غلبہ حاصل نہیں وہ آزادی کی جائز ترین جنگ بھی لڑیں تو دہشت گرد ہونے کی گالی دی جاتی ہے۔ آزادی اظہار کے حق کا پورا شعور رکھنے کے باوجود کسی کے پیغمبر، نبی یا دیوتا کے انسانی یا روحانی تصور کو مسخ نہیں کرتے۔ کارٹونوں کے ذریعے اس کی شخصیت کو بگاڑ کر پیش نہیں کرتے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آج کا مسلمان شائستگی اور تہذیب کے اعلیٰ مقام پر فائز ہے لیکن اس حد تک کھوکھلا بھی نہیں جتنا آپ اہل مغرب نے اپنے آپ کو ثابت کیا ہے۔

اور اصولی اعتراضات کئے جارہے ہیں تو انہیں سننا برداشت نہیں کرتے۔ انیسویں صدی کے آخر میں سر ولیم میور نے ’لائف آف محمد‘ لکھی۔ حضور ﷺ کی ذات گرامی پر اپنے تئیں علمی اعتراضات کئے۔ اس

صفحہ ۳۴۴

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول حریت کی عدالت میں

عہد میں مسلمانوں کے سب سے ممتاز دانشور سر سید احمد خان نے پوری ذمہ داری کیساتھ اس چیلنج کو قبول کیا۔ دہلی سے لندن پہنچے۔ وہاں کی ایک لائبریری میں بیٹھ کر مدلل اور تفصیلی جواب رقم کیا۔ اس کا انگریزی میں ترجمہ کرایا۔ اشاعت ہوئی۔ ولیم میور نے گھٹنے ٹیک دیئے۔ لندن ٹائمز میں خط چھپوایا۔ اس کی مراد یہ نہیں تھی۔ وہ یہ نہیں تھی۔ مستشرقین نے اس کے بعد بھی اسلام اور بانی اسلام کے بارے میں انگریز ی، فرانسیسی، جرمن اور دوسری زبانوں میں کتب لکھی ہیں۔ اپنے طور پر داد تحقیق دی ہے۔ بظاہر بڑے بڑے اعتراضات کئے ہیں۔ مسلمان سکالروں نے بھی ان کا اتنی ہی علمی ثقاہت کے ساتھ جواب دیا ہے۔ احتجاج کئے ہیں نہ جلوس نکالے ہیں نہ ہنگامے کئے ہیں۔ علم کا علم کے ساتھ مقابلہ و موازنہ کیا ہے۔

ہمارے عہد میں ممتاز برطانوی مستشرق پروفیسر منٹگمری واٹ کی دو کتابوں Mohammad at Mecca اور Mohammad at Madina کو بہت شہرت ملی ہے۔ پاکستان اور دیگر مسلمان مما لک کی ہر قابل ذکر لائبریری میں ان کے نسخے مل جائیں گے۔ ان میں نہایت علمی فنکاری کے ساتھ حضورؐ کے کردار کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ بڑی ہوشیاری کے ساتھ اعتراضات وارد ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کی جانب سے بھی اعلیٰ درجے کی علمی و تحقیقی ثقاہت کے ساتھ جواب لکھے گئے ہیں۔ کبھی کسی نے ان کتابوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ نہیں کیا۔ حال میں جرمنی زبان کی ایک ویب سائٹ پر قرآن کے حرف بحرف درست ہونے اور عہد رسالت سے لے کر اب تک اس کے متن میں کسی قسم کی تحریف نہ ہونے کے مسلمانوں کے دعوے کو چیلنج کیا ہے۔ بعض دستاویزی شہادتوں کے ذریعے قرآن مجید کے مستند کتاب ہونے کو مشکوک ٹھہرانے کی سعی کی گئی ہے۔ جواب میں مسلمانوں نے آسمان سر پر نہیں اٹھایا۔ تردید میں ایک سے زیادہ اور بلند پایہ تحقیقی کتب منصہ شہود پر آئی ہیں ادعائے علم کا مقابلہ علم سے کیا گیا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا قطعی غلط ہوگا کہ اہل اسلام میں علمی اور تحقیقی اعتراضات کا سامنا کرنے کی ذہنی یا جذباتی سکت نہیں۔

لیکن اہل مغرب! جب آپ گالی دینے پر اتر آئے ہیں۔ سلمان رشدی سے ناول لکھواتے ہیں یا اپنے اخبارات میں کارٹون چھپوا کر گھٹیا لب و لہجے میں باطنی عناد کو ظاہر کرتے ہیں۔ یوں تہذیب اور شائستگی کی مسلمہ علامتوں کو پامال کرتے ہیں۔ تو پھر آپ آزادی کے حق کا ہرگز ہرگز جائز استعمال نہیں کر سکتے۔ مسلمانوں کو جنگ پر اکساتے ہیں لیکن یہ بہادری نہیں چھپ کر وار کرنا ہے۔

صفحہ ۳۴۵

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

مغرب کو اپنا گستاخانہ و معاندانہ طرز عمل ترک کرنا ہوگا

مولانا زاہد الراشدی

سابق وزیر خارجہ نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں بتایا ہے کہ ڈنمارک کے جس اخبار نے جناب نبی کریم ﷺ کے گستاخانہ خاکے اور کارٹون شائع کر کے دنیائے اسلام کے غیظ و غضب کو دعوت دی ہے، اس اخبار کے مالکان نے مسلمانوں کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنے طور پر فیصلہ کیا ہے کہ اس اخبار میں سیدنا عیسیٰؑ کے بھی اتنے ہی کارٹون شائع کئے جائیں گے جتنے نبی کریم ﷺ کے حوالے سے شائع کئے گئے ہیں۔ جناب آغا شاہی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے درست کہا ہے کہ اس سے مسلمانوں کے غصے میں کمی نہیں ہوگی بلکہ رنج و غصہ میں اضافہ ہوگا اس لئے کہ مسلمان سیدنا حضرت عیسیٰؑ کا بھی اسی طرح احترام کرتے ہیں جیسے سیدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی عقیدت و احترام ان کے دل میں ہے۔

جہاں تک حضرت عیسیٰؑ کے خاکوں کی اشاعت کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس سے مسلمانوں کا غصہ کم ہونے کے بجائے بڑھے گا کیونکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ جس طرح سیدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی ناقابل برداشت ہے، اسی طرح سیدنا عیسیٰؑ بلکہ اللہ تعالیٰ کے کسی بھی سچے پیغمبر کی شان اقدس میں گستاخی ناقابل برداشت ہے اور قرآن و سنت میں اس بات کا حکم دیا گیا ہے۔

قرآن کریم کی سورۃ البقرہ کی آیت ۲۵۳ میں یہ بتایا ہے کہ ہم نے انبیاء کرامؑ کو ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے۔ اسی بنیاد پر ہم حضرات انبیاء اکرامؑ کے درمیان فضیلت اور درجات کی ترتیب کے قائل ہیں اور جناب نبی اکرم ﷺ کو تمام انبیاء کرام سے افضل مانتے ہیں لیکن جہاں تک ایمان و عقیدہ اور محبت و احترام کی بات ہے وہاں قرآن کریم نے سورۃ البقرہ ہی کی آیت ۱۳۶ میں ہمیں یہ عقیدہ بتایا ہے کہ ہم ان کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے ہیں اس لئے کوئی مسلمان سیدنا حضرت عیسیٰؑ یا کسی بھی اور پیغمبر کی

صفحہ ۳۴۶

گستاخ رسول مجسٹریٹ کی عدالت میں تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا اور اللہ کے کسی بھی پیغمبر کی شان میں گستاخی پر اس کا یہی ردعمل ہوگا۔

اس موقع پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانیوں کو علماء امت نے متفقہ طور پر کافر قرار دیا تو تکفیر کی وجوہ میں یہ وجہ بھی تھی کہ مرزا قادیانی نے اپنی بعض تحریروں میں سیدنا حضرت عیسیٰ کی شان میں گستاخی کی ہے جو مسلمانوں کے متفقہ عقیدے کے مطابق کفر ہے۔

اس سلسلے میں جناب نبی اکرم ﷺ کی ہدایات کیا ہیں، اس کا اندازہ بخاری شریف کی دو روایتوں سے کیا جاسکتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک یہودی نے جناب نبی اکرم ﷺ سے شکایت کی کہ آپ کے ایک صحابی نے مجھے تھپڑ مارا ہے۔ اس صحابی کو دربار نبویؐ میں طلب کیا گیا اور اس نے اقرار کیا کہ ہاں میں نے تھپڑ مارا ہے اس لئے کہ یہ کہہ رہا تھا کہ حضرت موسیٰ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے میں نے پوچھا کہ کیا یہ فضیلت انہیں حضرت محمد رسول ﷺ پر بھی ہے؟ اس نے کہا ہاں تو میں نے اس پر غیرت میں آ کر اسے تھپڑ مار دیا۔ جناب نبی اکرم ﷺ نے اس پر غصہ کا اظہار فرمایا اور کہا کہ مجھے انبیاء کرام پر اس طرح فضیلت مت دو۔

اس پر محدثین کرام کے ہاں بحث چلتی ہے کہ جب جناب نبی اکرم ﷺ کو باقی انبیاء پر فی الواقع فضیلت حاصل ہے تو امت کو اس سے منع کیوں کیا گیا؟ اس بارے میں محدثین کرام کہتے ہیں کہ جہاں تک فضیلت اور درجے کی بلندی کا تعلق ہے تو وہ تو ہمارے نبی ﷺ کا حق ہے لیکن اگر انبیاء کا باہمی تقابل کر کے فضیلت کا اس طرح اظہار کیا جائے گا تو اس سے کسی نہ کسی نبی کی توہین کا پہلو نکل سکتا ہے جو ظاہر ہے توہین ہی شمار ہوگا اسی لئے جناب نبی اکرم ﷺ نے باقی انبیاء پر اپنی فضیلت کے اس تقابلی اظہار سے منع فرما دیا تاکہ کسی بھی پیغمبر کی توہین کا کوئی احتمال باقی نہ رہے۔ اس لئے جہاں تمام انبیاء کے سردار، قائد اور امام کے ساتھ کسی پیغمبر کے اس طرح کے تقابل کو گوارہ نہیں کیا گیا وہاں سیدنا عیسیٰ تو ہمارے لئے صرف سابق پیغمبر ہی نہیں ہیں بلکہ وہ ہماری امت کا حصہ ہی ہیں اور مسلمانوں کے مستقبل کے قائد ہیں

صفحہ 347

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

کیونکہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ عیسیٰؑ کو یہودی نہیں قتل کر سکتے تھے، وہ سولی پر بھی نہیں چڑھائے گئے اور ان پر طبعی موت بھی ابھی تک وارد نہیں ہوئی بلکہ وہ زندہ آسمانوں پر اٹھالئے گئے تھے اور اسی حالت میں دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے، مسلمانوں کی انتہائی زبوں حالی اور کسمپرسی کے دور میں ان کا سہارا بنیں گے، مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن دجال کو قتل کریں گے اور مسلمانوں کے اس وقت کے امیر امام مہدی کے ساتھ مل کر خلافت اسلامیہ کا عالمی سطح پر احیاء کریں گے، ان کی شادی ہو گی، بچے ہوں گے، مدینہ منورہ میں ان کی وفات ہوگی اور جناب نبی اکرم ﷺ کے روضہ اطہر میں ان کے ساتھ دفن ہوں گے جہاں آج بھی ایک قبر کی جگہ ان کے لئے موجود ہے۔

اس لئے اگر ڈنمارک کے گستاخ رسول ﷺ کے اخبار کے مالکان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ سیدنا حضرت عیسیٰؑ کے گستاخانہ خاکے شائع کر کے صورتحال کو متوازن کر سکیں گے تو یہ ان کی بھول ہے اور وہ شدید غلط فہمی کا شکار ہیں۔ البتہ اس سے یہ دلچسپ صورتحال اس لئے ضرور پیدا ہو جائے گی کہ مسیحی کہلانے والے لوگ حضرت عیسیٰؑ کی شان میں گستاخی کر رہے ہوں گے اور حضرت محمد رسول ﷺ کی امت کے غیرت مند لوگ حضرت عیسیٰؑ کی ناموس کی تحفظ کا پرچم اٹھائے اس بیہودگی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر رہے ہوں گے۔ باقی رہی بات توہین رسالت ﷺ پر مسلمانوں کے جذبات کو مغرب نے ایک مرتبہ پھر دیکھ لیا ہے کہ دنیا کا کوئی مسلمان اس معاملہ میں لچک کا روادار نہیں اور احتجاج مذمت کا دائرہ امت مسلمہ کے تمام طبقات اور خطوں تک دن بدن وسعت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

صفحہ ۳۴۸

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

گستاخ رسول شریعت کی عدالت میں

صفحہ ۳۴۹

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخان رسول کا عبرتناک انجام

بسم اللہ الرحمن الرحیم

چھٹا باب

گستاخان رسول ﷺ کا عبرتناک انجام

حریم نبوت اور حرمت رسول ﷺ سے کھیلنے کی شیطانی حرکت کے مرتکب شاتمان رسول ﷺ پر عذاب خداوندی کے برستے کوڑوں اور عبرتناک انجام سے پردہ اٹھاتے مستقبل کے گستاخان رسول ﷺ کو پیام قضاء دیتے متفرق مضامین۔

مزید فوائد

(۱) گستاخ رسول ﷺ سے معذرت کے غیر معقول مطالبہ کا تجزیہ (۲) حب مصطفی ﷺ اور غیرت ایمانی کا تقاضہ (۳) توہین رسالت پر حضرت حمزہؓ کا ابو جہل سے انتقام (۴) اہانت رسول ﷺ کی کوششیں اور مسلمان حکمرانوں کے انتقام کی ایمان افروز داستانیں

صفحہ ۳۵۰

گستاخان رسول کا عبرت ناک انجام

قسم

محمد اسماعیل ریحان

ساڑھے آٹھ سو سال پہلے کی بات ہے مسلمان تاجروں کا ایک قافلہ جا رہا تھا اس کا گزر شام کے ان ساحلی علاقوں سے ہوا جہاں عیسائیوں کی حکومت تھی۔ ایک بدطینت عیسائی نواب ریجی نالڈ نے اس قافلے کو لوٹ کر ان تاجروں پر بدترین مظالم ڈھائے اور اسلام کا مذاق اڑاتے ہوئے سرِ عام حضور خاتم الانبیاء ﷺ کی شان میں گستاخی کی۔

یہ خبر اسلام کے ایک فرزند کو ہوئی جس نے توحید کا پرچم بلند کرنا اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنایا ہوا تھا اور مسلمانوں پر کفار کے مظالم کی خبریں سن کر تڑپ جایا کرتا تھا۔ مسلمانوں کی حکومتیں بہت سی تھیں۔ عراق، ایران، ہندوستان، افریقہ، اور اسپین انہی کے قبضے میں تھے مگر اکثر حکمران آپس میں دست و گریبان تھے۔ اسلام کی اسی بے کسی کو دیکھتے ہوئے عیسائیوں کا سیلاب مغرب سے امڈ آیا تھا اور بحیرہ روم پار کر کے شام کے ان علاقوں پر قابض ہو گیا تھا جہاں پانچ صدیوں سے مسلمان بس رہے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ قبلہ اول مسجد اقصیٰ بھی ان کے قبضے میں چلی گئی تھی۔ فرزندان اسلام اپنی اس مفلوک الحالی پر غم کے آنسو تو بہا رہے تھے مگر کچھ کر نہ سکتے تھے۔ انہیں کوئی رہنما میسر نہ تھا۔ جس کی قیادت میں وہ کفر کی اس طاقت سے ٹکر لیتے جو یورپ کی کم و بیش درجن بھر حکومتوں پر مشتمل تھی۔ نصف صدی تک امت مسلمہ کی کوکھ سے کسی ایسے قائد نے جنم نہ لیا جو قبلہ اول کو اغیار کے پنجوں سے آزادی دلاتا۔ مگر اللہ جل شانہ نے امت مرحومہ کو کبھی بانجھ نہیں بنایا۔ اس کے بطن سے ہمیشہ ایسے رجل رشید ظاہر ہوتے رہے جو مظالم و مصائب کی سیاہ گھٹاؤں کو نور کی برسات میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ۹۰ سال تک ارض مقدس میں عیسائی سورماؤں کی خرمستیاں جاری رہیں مگر پھر مشیت ایزدی نے اس فرزند اسلام کو اہل باطل کے سامنے لا کھڑا کیا جو کردستان کے ایک سپاہی پیشہ گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کا نام صلاح الدین

صفحہ ۳۵۱

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخان رسول کا عبرتناک انجام ایوبی تھا۔ ملت اسلامیہ کا وہ ہیرو جس کے نام سے آج بھی کفر کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ صلاح الدین ایوبی ایک معمولی سپاہی سے ترقی کر کے موصل کے حاکم نور الدین زنگی کے قابل ترین افسران میں شامل ہو گئے حتیٰ کہ نور الدین زنگی کے حکم پر انہوں نے مصر جا کر وہاں کے فاطمی خلفاء کے ماتحت علاقے کا انتظام سنبھالا اور آخر کار مصر کے خود مختار حکمران بن گئے۔ نور الدین زنگی کی وفات کے بعد موصل اور شام بھی ان کے زیر اقتدار آ گئے۔ مورخین کا کہنا ہے کہ حکمران بننے سے پہلے سلطان کی زندگی ایک عام فوجی افسر کی زندگی تھی۔ ان میں کوئی ایسی امتیازی خوبی نظر نہ آتی تھی جس سے یہ اندازہ ہو سکتا کہ وہ امت مسلمہ کے لیے اتنا بڑا کام کر جائیں گے مگر بادشاہ بنتے ہی ان کی زندگی میں اس طرح حیرت انگیز تبدیلی آئی جیسا کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ کی سیرت میں دکھائی دیتی ہے۔ سلطان کو محسوس ہوا کہ اللہ تعالیٰ ان سے کوئی بہت بڑا کام لینا چاہتا ہے تب ہی اس نے اتنی بڑی امانت اور ذمہ داری ان کے حوالے کی ہے بس پھر کیا تھا سلطان کی زندگی کا ہر لمحہ اسلام کی سربلندی کے لئے وقف ہو گیا، وہ شام کے ساحلی علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں پر عیسائیوں کے مظالم تو اپنے لڑکپن سے دیکھتے آئے تھے مگر اس بات کا احساس انہیں پہلی بار ہوا تھا۔ کہ اس کا انتقام لینا ہر مسلمان کی اور سب سے پہلے میری ذمہ داری ہے۔

پھر واقعہ پیش آیا جس نے سلطان کو ایک آتش فشاں بنا دیا۔ نواب رینجی نالڈ نے مسلمان تاجروں کا قافلہ لوٹا اور رحمت عالم نبی اکرمﷺ کی توہین کر کے پوری امت مسلمہ کی غیرت کو چیلنج کیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے یہ چیلنج قبول کیا اور اس شان سے کہ دنیا تا قیامت یاد کرتی رہے گی۔ انہوں نے کوئی مذمتی قرار داد پاس نہیں کی ۔ احتجاجی بیان نہیں دیا۔ انہوں نے صرف اتنا کہا ”اللہ کی قسم! میں رینجی نالڈ کو اپنے ہاتھوں سے قتل کروں گا ۔“ قبلہ اول کی آزادی کے لئے سلطان کی شمشیر عیسائیوں کے خلاف پہلے ہی بے نیام ہو چکی تھی۔ مگر اس واقعے کے بعد جو ان کی تلوار چلی تو عیسائیوں کی مزاحمت کی ہر دیوار چیتھڑوں میں تبدیل ہوتی چلی گئی۔ آخر کار رینجی نالڈ گرفتار ہوا۔ سلطان نے اتمام حجت کے لئے آخری بار اسے اسلام کی دعوت دی مگر اس بدبخت گستاخ کے نصیب میں سعادت نام کی کوئی شے نہیں تھی۔ سلطان نے تلوار کے دستے پر گرفت مضبوط کی اور ایک ہی وار میں رینجی نالڈ کا کام تمام کر دیا۔ پھر دیر تک اپنے خالق

صفحہ ۳۵۲

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ ❁ ضمیمہ ❁ گستاخان رسول کا عبرت ناک انجام

کے حضور مناجات میں مشغول رہے۔ جس نے انہیں اپنی قسم پوری کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔

آج نہ معلوم کیوں تاریخِ اسلام کا یہ واقعہ خود بخود نوکِ قلم پر آ گیا ہے۔ جی چاہتا ہے آج پھوٹ پھوٹ کر روؤں کہ ہمارے پیارے آقا ﷺ کی توہین ہو رہی ہے۔ شانِ اقدس میں وہ وہ گستاخیاں ہو رہیں جو ابوجہل اور ابولہب بھی نہ کر سکے۔ مگر آہ! ہم سوائے چیخنے چلانے کے کچھ نہیں کر پارہے کاش! کاش....... ہم کچھ کر سکتے....... کاش ہمارے حکمرانوں میں کوئی ایک تو صلاح الدین ایوبی ہوتا جو ان گستاخیوں کا بدلہ لینے کی قسم کھا لیتا....... وہ قسم پوری کر پاتا یا نہیں مگر ہمیں تو کچھ اطمینان ہو جاتا۔ ہم اپنے آپ سے اتنے شرمندہ اور شرمسار تو نہ ہوتے۔ اب تو یہ سوچ کر گنبد خضراء کا تصور کرنے کی ہمت بھی نہیں ہوتی۔ کہ کالی کملی والے کے دشمن ہماری غیرت پر تازیانے برسا رہے ہیں۔ اور ہم....... افغانستان لٹا، عراق تباہ ہوا، زلزلے نے برباد کیا، کتنی آزمائشیں آئیں مگر زندگی سے ایسی شرمندگی کبھی نہ ہوئی تھی جو اب ہورہی ہے۔

ایسی زندگی سے تو موت بدرجہا بہتر معلوم ہوتی ہے۔ جس میں ہمیں آئے روز اپنے پیغمبر ﷺ کی گستاخیوں کے مناظر دیکھنا پڑ رہے ہوں....... عالم اسلام کے رہنماؤ! تم بیانات سے آگے بڑھ کر کچھ کر کے دکھاؤ گے؟

صفحہ 353

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخان رسول کا عبرت ناک انجام

توہین رسالت کا نتیجہ

وحید اللہ زیاد

وہ گاؤں سے ذرا باہر ایک بلند سی چٹان پر بیٹھی شمال کی طرف دیکھتی رہی، اسے یقین تھا کہ وہ ضرور آئے گا لیکن ڈوبتے سورج نے اس کے دل کو بھی ڈوبا دیا اور وہ مزید انتظار کرنے کی بجائے اپنے گھر کو روانہ ہونے لگی، ابھی چند قدم ہی گئی تھی کہ اس نے کانوں میں گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز سن لی پلٹ کر جو دیکھا تو اس کا دل خوشی سے مچلنے لگا کیونکہ جس شخص کے انتظار میں اس بے چاری نے پورا دن کڑکتی دھوپ میں کھلے آسمان تلے بیٹھ کر گزارا وہی شخص اب اس سے چند ہی گز کے فاصلے پر تھا...... کیا کر رہی ہو تم اس ویرانے میں؟...... گھوڑ سوار نے خاتون کے قریب پہنچ کر کہا......

”تو یہ ہے چوری اور سینہ زوری کئی دنوں سے تمہاری شکل غائب تھی اور اب باز پرس مجھ سے ہو رہی کہ تم ادھر کیا کر رہی ہو...... خاتون نے سیدھا جواب دینے کی بجائے طنزیہ انداز اپنایا

بھائی ہم کون ہوتے ہیں اپنی عزیزہ محترمہ سے باز پرس کرنے والے....... گھڑ سوار نے حالات کی نزاکت کو بھانپ کر دوسرا رخ اختیار کیا...... لیکن اتنا پتہ تو چلے کہ اس دشت بیاباں میں آخر کس سردار عالیشان کا انتظار ہو رہا ہے۔؟

اس جانباز بے مثال کا جسے اپنے پیٹ کی خاطر ہزاروں خطروں سے لڑنا تو آتا ہے لیکن اپنے عزیزوں کی خبر گیری کے لئے اس کے پاس چند ساعت بھی نہیں ہوتے۔ خاتون اپنے انداز پر ہی قائم تھی۔

یہ تم کیا پہیلیاں بجھوا رہی ہو صاف بات کیوں نہیں کہتی۔ گھڑ سوار نے جھنجھلا کر کہا۔

بس بس زیادہ آنکھیں دکھانے کی ضرورت نہیں، اتنے بہادر ہو تو جاؤ ابن ہشام سے اپنے بھتیجے کا پوچھ لو...... خاتون نے اسے برانگیختہ کرنے کی کوشش کی...... اس نیک خصلت خاتون نے شدید گرمی کے موسم میں گھر سے کافی دور شعلے برستے سورج کے نیچے پورا دن یوں تو نہیں گزارا...... اس کا بس

صفحہ ۳۵۴

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخان رسول کا عبرت ناک انجام

چلتا تو وہی اس ظالم کی زبان کاٹ دیتی جس بدبخت نے ایک مظلوم کی دل شکنی کی تھی۔ لیکن شرک کی ظلمتوں میں غرق شدہ معاشرے میں صنف نازک کی اتنی ہمت کہاں؟……

کیوں کیا ہوا میرے بھتیجے کو…… گھڑ سوار نے گھوڑے سے اتر کر بے چین ہوتے ہوئے

پوچھا…… کس کو کونسا بھتیجا…… بتاؤ نا……۔

کونسا بھتیجا؟ خاتون نے اس کی بات کو دہرایا…… یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے تم خود سوچو کہ تمہارے بھتیجوں میں سے کون ہو سکتا ہے جس پر ابن ہشام جیسے کمینے کا بھی ہاتھ اٹھ سکتا ہے…… سوچتے کیوں ہو میں تمہیں بتا دیتی ہوں…… وہی یتیم و مسکین بے چارا جس کا نہ باپ ہے نہ ماں…… جسے پرایوں نے طنز و تشنیع کا نشانہ بنایا اور اپنوں نے بھی دھتکارا…… جو مضبوط اور نامور خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود آج لاوارث ہے…… آج اسے ایک وحشی انسان صرف اس لیے نشانہ عتاب بناتا ہے کہ اس نے نیا دین گھڑ لیا ہے۔ اس جرم کی وجہ سے اس کی داڑھی نوچی جاتی ہے اس کے اوپر بیت اللہ جیسی پاک جگہ میں اوجھڑی ڈالی جاتی ہے…… اس پر طعنے کسے جاتے ہیں اسے قتل کرنے کی سازش کی جاتی ہے…… اے عرب کے غیور قبیلے کے غیرت مند فرد! برا مت سمجھنا میرے دل میں تمہارے لئے بہت قدر تھی لیکن اپنے خون سے تم لوگوں کی غداری دیکھ کر میں اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور ہو گئی ہوں…… خاتون نتیجے سے بے نیاز ہو کر جذبات میں آ کر بولی…… ایک عورت ہو کر مجھ سے وہ لاف زنی برداشت نہ ہو سکی جو تمہارے بھتیجے کو وہ بدفطرت سنا رہا تھا…… مگر حیران ہوں تمہاری مردانی پر کہ ٹس سے مس نہیں ہوتی…… مجھے معلوم ہے کہ تم بہت دور سے شکار کر کے واپس آ رہے ہو بہت تھکے ہو گے لیکن یہ میری ذمہ داری تھی جو میں نے پوری کر لی باقی تم جانو اور ابن ہشام…… خاتون یہ کہہ کر آگے کو روانہ ہو گئی ابھی قریب ہی تھی کہ واپس مڑ گئی جیسے کوئی اہم بات اسے یاد آ گئی ہو…… اور ہاں ایک بات یاد رکھنا…… خاتون نے اس کے گھوڑے کے زین پکڑتے ہوئے کہا…… اس ملاقات کا ذکر کسی کو نہ ہو جائے ورنہ میری خیر نہیں کیونکہ…… جس آدمی کے سامنے تم جیسا با عزم، باہمت، دلیر، نڈر، جنگجو اور بارعب انسان دب سکتا ہے اس کے سامنے میں کس کھیت کی مولی ہوں…… خاتون یہ کہہ کر چلی گئی…… لیکن اس کے اس آخری جملے نے گھڑ سوار کی کایا پلٹ دی۔ گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھا ہوا وہ عجیب کشمکش میں مبتلا تھا کہ کیا کرے؟…… اس نے اپنے آپ سے

صفحہ 355

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخان رسول کا عبرت ناک انجام

کہا ..... ابن ہشام سے انتقام لینا چاہیے مگر یہ تو پھر خاندانی لڑائی بن جائے گی ..... ہو جائے پھر کیا ہے ..... اس کی مردانی نے اسے ڈانٹا ..... تیرا بھتیجا کیا سوچے گا کہ ان کے چاچاؤں میں کسی سے پوچھ لینے کی بھی ہمت نہیں ..... دل کے ایک گوشے سے آواز آئی ..... کیا میں واقعی اتنا بے حس ہو چکا ہوں ...... خاتون کی باتیں ایک ایک ہو کے اس کے ذہن کو جھنجھوڑتی رہیں اور خاص کر وہ بات ..... اس کے سامنے جب تم جیسا انسان دب سکتا ہے ...... ابن ہشام دیکھ لوں گا تمہیں ...... اس نے سوچتے سوچتے فیصلہ کر لیا تم نے کیا سمجھ رکھا ہے اپنے آپ کو ...... ابھی محمد (ﷺ) اتنا بھی لاوارث نہیں ہوئے۔

چند ہی لمحوں کے بعد وہ بیت اللہ کے سامنے پہنچ چکا تھا ..... گھوڑے سے اتر کر وہ سیدھا اس ٹولے کی طرف بڑھا جس میں عمرو بن ہشام جو تاریخ میں ابو جہل کے نام سے مشہور ہے بیٹھا ہوا تھا ...... اس نے بھرے مجمعے میں لگی لپٹی رکھے بغیر ابو جہل کو گریبان سے پکڑ کر اسے جھنجھوڑتے ہوئے کہا ہلاک ہو جاؤ اے عمرو کیا تم نے میری موت کی خبر سنی تھی ..... مگر ابو جہل کو تو گویا سانپ سونگھ گیا تھا ..... کاٹو تو رگوں میں خون نہیں والی کیفیت اس پر طاری تھی ..... اس نے تو صرف لاچار و بے کسوں پر ہاتھ اٹھانا سیکھا تھا، شیر دل جوان کے پنجے سے وہ پہلی مرتبہ نبرد آزما تھا۔ ابن ہشام ..... اس کی گرج ایک بار پھر سنائی دی ..... تم نے محمد (ﷺ) کی توہین اس لیے کہ انہوں نے نیا دین اختیار کیا ہے تو کان کھول کر سن لو آج کے بعد میرا بھی وہی مذہب ہوگا جو محمد ﷺ کا ہے ..... میں اسی اللہ کی عبادت کروں گا جس کی عبادت محمد ﷺ کرتا ہے ..... یہ کہ کر وہ مرد جری چلا گیا اور ابو جہل سر پکڑ کر بیٹھ گیا اگلے دن تمام مسلمانوں کے چہرے خوشی اور مسرت سے چمک رہے تھے کیونکہ کفر ایک عظیم طاقت سے محروم ہو گیا تھا ...... جی ہاں! حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شرک سے توبہ کر کے اسلام کی آغوش میں آ گئے تھے .....

کسمپرسی کی حالت میں ابو جہل کی شان رسالت ﷺ میں گستاخی کے نتیجے میں اسلام کو اللہ تعالیٰ نے اتنی عظیم کامیابی سے نوازا تھا کیا خبر علمبرداران کفر کی حالیہ گستاخی کے پیچھے بھی قدرت کی وہی حکمت پوشیدہ ہو۔

صفحہ 356

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخان رسول کا عبرت ناک انجام

دو بدبختوں کا انجام

رابعہ اسلم میمن

یہ ذکر ہے 1162ء کا...... اللہ کا ایک برگزیدہ بندہ اور اسلام کا عظیم جرنیل سلطان نورالدین زنگی اپنے دارالحکومت دمشق شہر میں تھا۔ ایک رات نماز تہجد ادا کر کے وہ کچھ دیر کیلئے اپنے بستر پر دراز ہوا تو اس کی آنکھ لگ گئی۔ اسی دوران اس نے خواب میں دیکھا کہ سرکار دو عالم ﷺ اس سے مخاطب ہیں اور نیلی آنکھوں والے دو آدمیوں کی طرف اشارہ کر کے فرما رہے ہیں ...... نور الدین ہمیں ان دونوں کے شر سے بچاؤ۔ یہ ہمارے درپے آزار ہیں ...... یہ ارشاد عالی سنتے ہی نورالدین زنگی کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ ...... وہ اٹھ بیٹھتے ہیں اور وضو کر کے نماز دوگانہ ادا کرتے ہیں اور پھر کچھ دیر ان کی آنکھ لگ جاتی ہے پھر وہی منظر دیکھتے ہیں، پھر اٹھتے ہی نماز پڑھتے ہیں۔ پھر آنکھ لگتی ہے اور تیسری مرتبہ وہی منظر خواب میں نظر آتا ہے اب تو سلطان نورالدین زنگی کی نیند غارت ہو گئی۔ وہ بے تابی کے ساتھ اٹھے۔ اس وقت اپنے وزیر باتدبیر جمال الدین کو طلب کیا اور اسے ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔ وزیر بھی ہوشمند تھا فوراً عرض کی کہ ہمیں بلا تاخیر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہونا چاہیے۔ تاکہ اصل صورت حال سے آگاہی ہوسکے۔ چنانچہ آنے والے چند لمحات میں ہی بیس سپاہیوں کی ہمراہی میں سلطان نورالدین زنگی اور ان کے وزیر حجاز مقدس کی طرف روانہ ہو گئے۔

مسلسل بارہ دن کے تھکا دینے والے سفر کے بعد سلطان نورالدین زنگی مدینہ منورہ پہنچے تو سیدھے مسجد نبوی میں تشریف لے گئے۔ وہاں روضہ رسول ﷺ پر حاضری دی۔ دو رکعت نماز ادا کی اور وہیں بیٹھے بیٹھے اعلان کرا دیا کہ سلطان معظم کی دربار رسالت ﷺ میں حاضری کے موقع پر تمام اہل مدینہ کے لئے مسجد نبوی میں ایک پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا جارہا ہے شہر کے ہر پیر و جوان کو تاکید کی جاتی ہے کہ وہ وقت مقررہ پر پہنچ جائے اور سلطان کی طرف سے میز بانی سے فیض یاب ہو۔ اس اعلان کے مطابق

صفحہ ۳۵۷

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخان رسول کا عبرتناک انجام

لوگوں کی آمد شروع ہوئی تو سلطان زنگی ایک ایسی جگہ کھڑے ہو گئے جہاں سے ہر آنے والے کا چہرہ ان کی نظروں کے سامنے ہو کر گزرتا تھا۔ صبح سے شام تک لوگ آتے رہے اور شاہی ضیافت کے ساتھ ساتھ سلطانی اعزاز و اکرام کے مزے بھی لوٹتے رہے۔ جب کہ سلطان خود مستقل اسی جگہ بیٹھے رہے اور بے تابی سے ان دو چہروں کا انتظار کرتے رہے۔ جو خواب میں انہیں دکھائے گئے تھے۔ اسی عالم میں دن پورا گزر گیا اور شام کے سائے پھیلنے لگے مگر سلطان کو وہ دو نیلی آنکھوں والے دکھائی نہیں دیئے۔

جب رات ہونے کو آئی تو سلطان نے پریشانی کے عالم میں مقامی حکام کو طلب کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا ہماری دعوت پر مدینہ کے سب لوگ حاضر ہوئے ہیں؟ تو پتہ چلا کہ واقعی سب آئے ہیں سوائے دو فقیروں کے جو دنیا ومافیہا سے بے غم و بے فکر ہو کر ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں گوشہ نشینی کی زندگی گزارتے ہیں اور کاروبار سرکار سے کوئی لین دین نہیں رکھتے۔ ان کی جھونپڑی کا دروازہ اکثر و بیشتر بند ہی رہتا ہے اور کہا یہی جاتا ہے کہ وہ اپنے بیشتر اوقات نماز اور عبادات میں گزار دیتے ہیں۔ ان دونوں سے توقع ہی نہیں کی جاسکتی کہ وہ سلطانی ضیافت کے بکھیڑوں میں پڑیں۔ ان حکام نے سلطان کے سامنے ان دونوں درویشوں کی صفات و اخلاق کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کچھ عرصہ قبل جب مدینہ منورہ میں قحط سالی ہوئی تھی اور لوگ فقر و فاقے کے عالم میں بھوکوں مرنے لگے تو ان دونوں فقیروں نے لوگوں کی دل کھول کر مالی مدد کی تھی اور ہر شخص کو اتنا دیا تھا کہ لوگ ان کے عطاء کئے جانے والے غیبی خزانوں پر انگشت بدنداں رہ گئے تھے۔

یہ سب باتیں سن کر ان دونوں کو مشکوک قرار دینا آسان نہ تھا لیکن سلطان زنگی پھر بھی اپنی کوشش پوری کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ حکم دیا کہ ان دونوں کو بھی ضیافت میں حاضر کیا جائے اور اگر وہ آنے سے انکار کریں تو زبر دستی لایا جائے۔ یہ بات جب ان گوشہ نشین فقیروں تک پہنچی تو وہ دونوں حاضری پر آمادہ ہو گئے اور پھر جب وہ سلطان زنگی کی نظروں کے سامنے سے گزرے تو انہوں نے ان دو فقیروں اور ان دو چہروں کے درمیان کچھ فرق نہ پایا۔ پہلی ہی نگاہ میں انہیں یہ یقین ہو گیا کہ یہ وہی بدبخت و بد باطن ہیں جن کی جانب آقا ﷺ نے اشارہ فرمایا تھا۔ چنانچہ ان دونوں کو فوراً گرفتار کر لینے کا حکم صادر ہوا۔ لیکن عوام میں اتنی مقبولیت رکھنے والے افراد کو بلا دلیل و حجت سزا بھی نہیں دی جاسکتی تھی۔ لہٰذا

صفحہ ۳۵۸

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ گستاخان رسول کا عبرتناک انجام

سلطان نے فرمائش کی کہ وہ ان گدڑی پوشوں کی جھونپڑی میں جانا چاہتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر اندر باہر چہار اطراف کی تلاشی لی گئی لیکن ایسا کچھ برآمد نہ ہوا جس کی وجہ سے انہیں ملزم ٹھہرایا جاتا، یا کم از کم مشکوک ہی سمجھا جاتا۔ سب کچھ دیکھ کر سلطان زنگی شدید اضطراب کا شکار ہو گئے کہ ایک طرف سرکار مدینہ ﷺ کی طرف سے واضح اشارہ تھا اور دوسری طرف مدینہ بھر کے لوگوں کی جانب سے ان دونوں کے تقدس کی گواہی۔ بالآخر سلطان نے اپنے رب کے حضور دست بستہ دعا کی اور از سر نو جھونپڑی کی تلاشی ہوئی اب کی بار کسی نے ان دونوں کا مصلیٰ اٹھایا تو نیچے زمین سے برابر کا ایک بڑا سا پتھر پایا گیا۔ سلطان نے اس پتھر کو اٹھوایا تو سب لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں غار نما ایک سرنگ کا دہانہ تھا۔ سلطان زنگی از خود آگے بڑھے اور سرنگ میں داخل ہو گئے۔ پھر وہ اس میں چلتے رہے حتی کہ ایک قبر کے اندرونی حصے کے پاس پہنچے۔ یہ عین وہ جگہ تھی جہاں زمین کے اوپر حضور نبی آخر الزمان محمد ﷺ کا روضہ اقدس تھا۔ اور لوگ اس کی زیارت سے اپنی آنکھوں کا قرار حاصل کرتے تھے۔ بعض روایات میں تو یہاں تک آتا ہے کہ سلطان زنگی روضہ اقدس کے اس قدر قریب پہنچ گئے کہ نبی محترم ﷺ کے اقدام مبارک آپ کو صاف دکھائی دینے لگے۔

یہ سب کچھ دیکھ کر سلطان کانپ اٹھے، فوراً واپس لوٹے، ان دونوں بدبختوں کو طلب فرمایا اور پوچھا کہ یہ سب کچھ کیا ہے اور کیوں ہے؟ ان دونوں نے پہلے تو حیل و حجت کی لیکن رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کی وجہ سے کچھ نہ بن پڑی تو خود ہی بتایا کہ وہ دونوں عیسائی ہیں اور انہیں یورپی بادشاہوں نے بے شمار مال و دولت دے کر بھیجا ہے اور ان کے ذمے یہ کام سپرد کیا ہے کہ وہ (نعوذ باللہ) پیغمبر اسلام ﷺ کے جسد اطہر کو ان کے روضۂ مبارک سے نکال لائیں۔ تاکہ مسلمان اس مرکز سے محروم ہو جائیں۔ جو انہیں ایک دوسرے سے وابستگی اور وحدت عطا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر ایسا ہو جاتا تو فتنہ پرور بدفطرت عیسائیوں کے لئے مسلمانوں کو یہ چیلنج کرنا بھی ممکن ہوتا ہے کہ مسلمان جس نبی ﷺ کی زیارت کرنے جوق در جوق چلے آتے ہیں۔ وہ تو اپنی قبر میں ہیں ہی نہیں۔

یہ سب کچھ سن کر سلطان نورالدین زنگی کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ آقا ﷺ کی ایسی بھیانک گستاخی کا انتقام لینے کے لئے ان کا لہو جوش مارنے لگا۔ تب ایک لمحہ کی تاخیر کئے بغیر ان دونوں

صفحہ ۳۵۹

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخان رسول کا عبرت ناک انجام بدبختوں کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ اور پھر تمام اہل مدینہ کے سامنے انہیں قتل کر دینے کے بعد سلطان کو اس وقت تک سکون نہ ملا۔ جب تک کہ ان دونوں کی ناپاک لاشوں کو جلا کر راکھ نہ کر دیا گیا۔

مغرب کا 1162ء میں شروع ہونے والا سفر 844 برس کے بعد بھی جاری ہے۔ اگر اس وقت رسول اکرم ﷺ کے جسم اطہر کی توہین کے لئے عیسائی بادشاہوں نے اپنی دولت کی تجوریوں کے منہ کھول رکھے تھے تو آج بھی ڈالرز ، پاؤنڈز ، کرونی (ڈنمارک اور ناروے کے سکے ) لیرا (اٹلی کا سکہ ) اور فرانک (فرانس کا سکہ ) بانٹے جارہے ہیں۔ تاکہ اظہار رائے اور جمہوری آزادیوں کے نام پر اہانت رسول ﷺ کا ارتکاب کیا جائے۔ کبھی یہ کام مستشرقین سے لیا گیا تھا اب یہ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا سے لیا جارہا ہے۔ 30 ستمبر 2005 کو ڈنمارک کے روزنامے جیلنڈ پوسٹن (Jyllands Posten) نے نبی کریم ﷺ کا توہین آمیز خاکہ شائع کیا۔ (نعوذ باللہ ) اس خاکے پر 4 نومبر 2005 کو جمعۃ المبارک کے دن بعد از نماز کوپن ہیگن میں ڈنمارک کے مسلمانوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور اخبار کے ایڈیٹر اور کارٹونسٹ سے معافی کا مطالبہ کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ”یہ اقدام اظہار رائے کی آزادی کے لیے اٹھایا گیا ہے۔“ کیا آزادی تحریر و تقریر مطلب صرف یہ رہ گیا ہے۔ کہ عقیدے، مذہب اور پیغمبر کی ذات پر کیچڑ اچھالا جائے؟ حیران کن امر یہ ہے کہ سلطنت، ریاست، دستور اور اقتدار اعلیٰ پر حرف گیری تو سزائے موت کی موجب بنے مگر باعث تخلیق کائنات کی عزت و حرمت پر حرف گیری اظہار رائے قرار پائے۔

مسلمانوں کو امن اور اعتدال پسندی کا درس دینے والے مغرب کا دوہرا طرز عمل ایک بار پھر دنیا کے سامنے ہے، گوانتا موبے اور ابوغریب کی تذلیل کے بعد مغرب نے یہ باور کر لیا تھا۔ کہ اسلام اور پیغمبر اسلام کی تضحیک کا مرحلہ شروع کیا جائے مگر حالیہ احتجاج نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اسلام پر چلنے والا مسلمان بھی حرمت رسول پر قربان ہونا اپنے لیے سعادت سمجھتا ہے کیونکہ:

”خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیؐ“
صفحہ ۳۶۰

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخان رسول کا عبرت ناک انجام

رومی سکوں پر حضورﷺ کی تصویر...... ایک تاریخی واقعہ

ابوالنورین

یہ ۷۵ ہجری بمطابق ۶۹۶ عیسوی کا سال تھا جب عبدالملک بن مروان (۲۶ھ تا ۸۶ھ) اپنے والد کے انتقال کے بعد مسلمانوں کا خلیفہ بنے۔ وقت کی سپر پاور ہونے کے ناتے ان دنوں ساری دنیا میں رومی سکے چلتے تھے۔ دینار پر رومی اور درہم پر ایرانی نقش ہوتے تھے اور ڈھلائی کا کام مصر میں ہوتا تھا جہاں نصرانی غلبہ کی وجہ سے سکوں پر باپ، بیٹا اور روح کا نشان ہوتا تھا، چونکہ اب مصر مسلمانوں کے زیر نگین تھا اس لیے عبدالملک بن مروان نے یہ نقوش ختم کرا کے رومی سکوں پر کلمہ توحید ثبت کرا دیا اور اسلامی سلطنت کے تمام عاملین کو ہدایت کی کہ رومی نقوش والے تمام سکے ضبط کر لیے جائیں۔ یہ بات رومیوں کے لیے خلاف توقع تھی وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ رومی سکوں کے ساتھ مسلمان یہ حشر کریں گے۔ اس کی خبر جب روم پہنچی تو بادشاہ روم نے خلیفہ عبدالملک بن مروان کو قدرے دھمکی آمیز خط لکھا کہ آپ نے ہمارے سکوں میں ترمیم کر کے نیا طریقہ نکال کر ٹھیک نہیں کیا اور یہ کہ اسے ختم کر کے پرانا طریقہ جاری کرنے کے احکام جاری کریں اور رام کرنے کی غرض سے قیمتی ہدیہ ساتھ روانہ کر دیا۔ عبدالملک بن مروان نے خط رکھ لیا اور قاصد کو یہ کہہ کر بمعہ ہدیہ واپس بھیج دیا کہ میں اس کا جواب نہیں دوں گا نہ ہی ہمارے ہاں ا سکی کوئی اہمیت ہے۔ جب ایلچی روم واپس پہنچا تو شاہ روم نے ہدیہ میں اضافہ کر کے قاصد کو واپس روانہ کیا اور کہلا بھیجا کہ امید ہے آپ میرے ہدیہ کی قدر کریں گے اور قبول کر کے رومی نقش و نگار دوبارہ بحال کر دیں گے عبدالملک نے دوبارہ ہدیہ واپس کر دیا اور خط کا کوئی جواب نہ دیا۔ شاہ روم نے پھر خط لکھا جس کے الفاظ یہ تھے۔ ”تم نے میرے خط اور ہدیہ کی توہین کی، مجھے جواب دینے کی ضرورت تو نہیں تھی گو اولاً مجھے یہ خیال ہوا کہ شاید میں نے ہدیہ کم بھیجا تھا تو میں نے اس میں اضافہ کر دیا پھر میں نے اسے تمہارے پاس بھیجا تم نے لوٹا دیا اور اب تیسری بار اس میں اضافہ کر رہا ہوں۔ میں عیسیٰ بن مریم کی قسم کھاتا ہوں کہ تم ضرور نقش و نگار کے بارے میں نظر ثانی کرو گے اور پہلے والے طرز پر رہنے دو گے۔ تمہیں معلوم ہونا

صفحہ ۳۶۱

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخان رسول کا عبرتناک انجام چاہیے کہ ہم نے روم میں بھی ڈھلائی کا کام شروع کر دیا ہے اگر تم مصر میں ڈھلائی کا کام ہمارے پرانے طریقے پر بحال نہیں کرو گے تو ہم تمہارے نبی ﷺ کی تصویر کا نقش اپنے سکوں میں بنا دیں گے۔ (نعوذ باللہ) مجھے امید ہے کہ جب تم یہ خط پڑھو گے تو پسینے سے شرابور ہو جاؤ گے اس لیے جو میں کہتا ہوں اس پر عمل کرو اس سے آپس کے تعلقات بڑھیں گے۔

جب عبدالملک نے یہ خط پڑھا تو برہم ہو گیا اور اپنے آپ کو بھی برا بھلا کہا کہ اس کے سبب ایک کافر کو رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کا موقع مل رہا تھا چونکہ پوری سلطنت اسلامی میں کارو بار زندگی رومی سکوں سے ہوتا تھا اس لیے یکدم اس نظام کو ختم کرنا بھی صحیح نہ تھا گویا پورا معاشی نظام یکسر بدلنا پڑتا جبکہ اس وقت مسلمانوں کے پاس متبادل کرنسی کا کوئی آپشن بھی نہ تھا چنانچہ اس نے ارکان سلطنت کو جمع کیا اور مشورہ میں یہ طے ہوا کہ محمد بن علی بن حسینؓ سے اس مسئلے کا حل دریافت کیا جائے اور اس وقت تک شاہ روم کے قاصد کو محبوس کر دیا جائے بظاہر یہ انتہائی نازک اور حساس کام تھا۔ اس لیے کہ سکوں کا وزن، سائز جبکہ پہلی مرتبہ ڈھالے جا رہے ہوں وقت طلب ہوتا ہے لیکن تائید ایزدی سے یہ کام مہینوں کی بجائے چند دنوں میں مکمل ہو گیا۔ محمد بن علیؓ نے آخر میں دو باتیں فرمائیں۔ ایک یہ کہ خدائے قہار اس شخص کو کبھی نہیں چھوڑیں گے جس نے جناب رسول اللہ ﷺ کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کئے ہوں۔ ساتھ ہی انہوں نے اسلامی سکوں کے اجزاء کے متعلق تمام جزئیات سمجھا دیں جس کے مطابق ایک طرف کلمہ توحید اور دوسری طرف کلمہ رسالت اور درمیان میں ڈھلائی کا سال اور شہر کندہ کیا گیا۔ چنانچہ یہ سکے پوری سلطنت اسلامیہ میں پھیلا دیئے گئے اور رومی سکے جمع کر کے دار السلطنت میں بھجوانے کے احکام جاری کر دیئے گئے اور یہ کہ پرانے سکوں کو استعمال کرنے پر سزائے موت نافذ کی جائے گی۔ اس کے بعد روم کے قاصد کو یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ شاہ روم سے یہ کہہ دینا کہ تم جو اقدام کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ممنوع ہے اور یہ کہ میں نے اپنے تمام گورنروں کے پاس یہ احکام بھیج دیے ہیں کہ رومی سکوں کو بے حیثیت قرار دے دیا جائے اور انہیں جمع کر کے دارالسلطنت میں اسلامی نقش کے مطابق ڈھالنے کیلئے بھیج دیے جائیں۔

جب یہ ساری باتیں شاہ روم کو معلوم ہوئی تو درباریوں اور ہم نشینوں نے اسے خلیفہ کو دی ہوئی

صفحہ 362

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ گستاخان رسول کا عبرتناک انجام

دھمکی پر عمل کرنے کا مشورہ دیا۔ شاہ نے کہا کہ میں نے تو اپنے سخت رویے سے انہیں دھمکایا تھا۔ اور رعب کے ذریعہ کام نکالنا چاہتا تھا۔ لیکن وہ لوگ میری دھمکی میں نہیں آئے اب میں اس کے سوا کیا کر سکتا ہوں۔ ہمارے ہاں تو ہمارے ہی سکے چلیں گے مسلمان ہمارے سکوں کو قبول نہیں کرتے تو میں کچھ نہیں کر سکتا۔

یہ واقعہ امام بیہقیؒ نے بروایت خلیفہ ہارون الرشید (146ھ تا 193ھ) اپنی کتاب ”المحاسن والمساوی“ میں نقل کیا ہے جو بحوالہ ”حیات الحیوان“ مطبوعہ 1992 ادارہ اسلامیات لاہور صفحہ 230 تا 234 سے بشکریہ ملخصاً یہاں لکھ دیا گیا ہے۔

کسی سپر پاور کے شان رسالت میں گستاخی کے عزائم کو حکمت و تدبیر سے ملیا میٹ کرنے کا اس طرح کا واقعہ شاید پوری تاریخ اسلام میں نہیں ملتا۔

صفحہ 363

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

بسم الله الرحمن الرحيم

ساتواں باب

مغرب کی آزادی اظہار

مغربی پراپیگنڈے نے ذہنی اختراع کے پردے میں ناموس رسالت کے خلاف جو طوفان کھڑا کیا اس کا رخ صرف مسلمان قوموں کی طرف ہے۔ جن ہتھکنڈوں کا سہارا لیتے ہوئے یہ درندہ صفت اور دریدہ دہن لوگ ہماری مقدس شخصیات پر حملہ آور ہوتے ہیں وہ عالم اسلام میں بھی رائج ومسلّم ہوچکی ہیں۔ ان خوشنما اقدار (آزادی اظہار، مساوات وغیرہ) کا پردہ چاک کرتے یہ مضامین پڑھئے اور خود فیصلہ کیجئے کہ مغرب کی آزادی اظہار کا اصل مفہوم کیا ہے؟

مزید فوائد

(1) یورپ کی یہود دشمنی کی یہود عاشقی میں تبدیلی کی داستان (2) آزادی اظہار کی حقیقت واصلیت (3) آزادی اظہار کا غلط استعمال (4) آزادی اظہار کی حدود و قیود (5) حقوق انسانی کے منشور کا عالمی بنیادوں پر تنقیدی جائزہ لینے کا مشورہ (6) مغربی میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اور اس کا ہولناک انجام (7) یورپی ممالک اور اقوام متحدہ کے ”صحافتی ضابطہ اخلاق“ کی بعض شقوں کا ذکر (8) ہولوکاسٹ اور آزادی صحافت (9) برداشت اور عدم برداشت (10) مغرب کو آئینہ دکھلاتے چند چشم کشا مضامین

صفحہ ۳۶۴

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

توہین رسالت کی جسارت اور ”آزادی اظہار“

مولانا محمد احمد حافظ

اس ہاشمی نوجوان کا اضطراب قابل فہم تھا ...... اس کی آواز میں لرزش تھی ...... لہجہ پر سوز تھا ...... یہ اس درد کی آنچ تھی جو ہر صاحب ایمان شخص اپنے دل میں محسوس کرتا ہے ...... ڈنمارک کے اخبار Jyllands Posten کی غلاظت کو چھپے ہوئے دنوں گزر گئے تھے ...... سعودی عرب میں احتجاج زوروں پر تھا ...... اور ائمہ حرمین اپنے خطبات اور فتاویٰ کے ذریعے ڈنمارک کے اقتصادی بائیکاٹ کا اعلان عام کر چکے تھے ...... یہ خبریں عالم اسلام کے دیگر ممالک میں بھی شائع ہورہی تھیں ...... مگر بہت غیر نمایاں، محجوب اور شرم ساری کے ساتھ ...... اہل پاکستان میراتھن ریس کی مستیوں میں ہلکورے لے رہے تھے ...... وہ ہاشمی نوجوان سعودیہ سے بات کررہا تھا ...... اس کا سوال تھا ”کیا جنت میں صرف سعودیہ والوں نے جانا ہے، باقیوں نے جہنم میں جانے کا ٹھیکہ لے لیا ہے ......؟“ جانے اس سوال کی گہرائیوں میں کیا درد پنہاں تھا کہ کچھ لمحوں کے لیے میں گم صم کھڑا رہ گیا ...... جذبات کی حدت و تمازت کا آپ اندازہ کر سکتے ہیں ...... مگر جب معاملہ ایک طرف نبی محترم ﷺ کی ناموس کا ہو تو بات دوسری ہے۔ آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کے بلندی مرتبہ کا کیا کہنا ...... آپ کی ذات اقدس سے متعلق دل میں ذرہ بھر میل لانا حبط ایمان کا سبب ہے۔

ادب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا

اور جن کے نام گرامی کے علو مرتبت کا عالم ہو کہ ......

ہزار بار بشویم دہن ز مشک و گلاب
ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی است
صفحہ ۳۶۵

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

آپ ایسی مقدس اور پوتر ذات کے متعلق کسی متروک النسب کا اہانت آمیز رویہ و دشنام ادنیٰ امتی کے لیے بھی قابلِ قبول نہیں ہو سکتا تو ایک عالی نسب اور عالی نسبت ہاشمی نوجوان کا اضطراب کیونکر ناقابل فہم ہو سکتا ہے۔۔۔؟ واقعہ یہ ہے کہ اس وقت تک سوائے سعودی عرب کے اور کسی ملک نے اہانتِ رسول کے اتنے بڑے واقعے پر معمولی احتجاج بھی نہیں کیا تھا۔ وہ تو جب اہلِ سعودیہ نے ڈنمارک کے ساتھ اقتصادی بائیکاٹ کیا اور اس کے نتیجے میں اس کی ریڑھ کی ہڈی چٹخنے اور ٹوٹنے لگی تو کچھ کچھ احساس ہوا کہ معاملہ کیا گزرا ہے۔۔۔ اسی دوران سید ذوالکفل بخاری کا سعودیہ سے ایک ورقہ فیکس موصول ہوا۔۔۔ اس ہاشمی نوجوان نے لکھا تھا:

”ڈنمارک کے اخبار Jyllands-Posten نے اپنے 30 ستمبر 2005ء کے شمارے میں ایک مضمون چھاپا، جس کا موضوع یہ تھا کہ نبی کریم ﷺ کی تصویر بنانے سے اس لیے اجتناب برتا جاتا ہے کہ مصور ”انتہا پسند“ مسلمانوں کے غیض وغضب سے ڈرتے ہیں، اگر کوئی مصور یہ جسارت کرتا بھی ہے تو ”گمنام“ رہ کر۔ لہٰذا یہ صورتحال ”آزادی اظہار“ کے اس دور میں سخت تشویشناک اور اندوہناک ہے۔ اس مضمون کے پہلو بہ پہلو، مختلف ڈنمارکی مصوروں کے حضور خاتم النبین، سید الاولین والآخرین ﷺ کے مقدس سراپے سے منسوب ۔۔۔ بارہ کارٹون شائع کیے گئے۔ استہزاء توہین اور تضحیک کے 12 نمونے گندے، ناپاک، غلیظ اور متعفن ہاتھوں سے کھینچی گئی یہ تصویریں، پورے ایک سو دن، دنیا بھر کے مسلمانوں ”غلامانِ محمدؐ“ اور ”عاشقانِ رسولؐ“ کے منہ پر بے غیرتی کی کالک ملتی رہی۔ ایک ارب سے زائد مسلمان، 56 اسلامی ممالک اور ان کی حکومتیں، مملکتیں، ادارے، تنظیمیں، کونسلیں، اسمبلیاں، کابینائیں۔ ۔۔۔ کہیں سے کوئی آواز نہ اٹھی۔ دو چار آوازیں اٹھیں بھی تو وہ اتنی ”تنہا“ تھیں کہ اضطراب کی کوئی سی لہر اور احتجاج کی کوئی سی گونج پیدا کئے بغیر، یہیں کہیں، ہمارے گرد و پیش میں کھو گئیں۔ نتیجہ یہ کہ 10 جنوری 2006ء کو (30 ستمبر کے 100 دن بعد) یہی تصویریں ناروے کے ایک میگزین نے آزادی اظہار ہی کی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے دوبارہ چھاپیں۔ سرکاری سطح پر واحد ملک سعودی عرب ہے، جس نے ڈنمارک اور ناروے سے بھرپور احتجاج کیا ہے۔ سعودی عرب نے 26 جنوری کو ڈنمارک سے اپنا سفیر واپس بلالیا ہے۔ تاحال دونوں ”مہذب“ اور متمدن ”یورپی ملکوں کی حکومتیں آزادی اظہار کے منافی کسی

صفحہ ۳۶۶

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار بھی اقدام کے ذریعے سے کسی اخبار یا جریدے پر گرفت سے معذوری، عجز اور بے بسی کا اظہار کر رہی ہیں۔ سعودی عرب کے مفتی اعظم نے عوام سے ڈنمارک کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔ 27 جنوری جمعہ کو خطبات جمعہ میں پورے سعودی عرب میں اس احتجاج اور بائیکاٹ کی گونج سنی گئی۔ ’بائیکاٹ‘ کی اس اپیل کا نتیجہ یقیناً حوصلہ افزاء ہے۔ خشک اور مائع دودھ اور دودھ کی دیگر مصنوعات کی برآمد کے لیے ڈنمارک اس وقت سعودی عرب میں سرفہرست ہے، بائیکاٹ پر ڈنمارک کی کمپنیوں کے اظہار تشویش اور ناروے کے سفیر برائے سعودی عرب کی طرف سے نارویجن میگزین کے لیے اظہارِ مذمت سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بائیکاٹ اور مقاطعہ، ڈنمارک کے ’ڈنگ مار‘ ہوں یا ناروے کے ’نمک حرام اور نیش زن‘ سب کا ابتدائی علاج ضرور ثابت ہوگا، مگر اس کے بعد...؟

سید ذوالکفل بخاری کے جذبات کو میں سمجھ سکتا ہوں، وہ بطل حریت، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا نواسہ ہے...... اس کی رگوں میں ہاشمی خون متلاطم ہے۔ اس کا خاندان گزشتہ پون صدی سے ”ختم رسالت“ اور ناموس رسالتؐ کے تحفظ کے لیے مورچہ زن ہے۔

یہ صحیح بات ہے کہ اوّل اوّل اس ناپاک جسارت کے حوالے سے عالمی سطح پر کوئی خاص احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ چنانچہ فرانسیسی اخبار France Soir نے بھی وہی متعفن کارٹون دوبارہ شائع کر دیئے بلکہ اپنے پیش روؤں سے ایک قدم مزید آگے بڑھ کر ذات باری تعالیٰ کے بارے میں دریدہ دہنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھا:

”ہاں! ہم خدا کا کارٹون بنانے اور اسے چھاپنے کا حق بھی رکھتے ہیں۔“

عالمی نشریاتی ادارہ بی بی سی ایسے موقع پر کیسے پیچھے رہ سکتا تھا، اس نے بھی ”آزادیِ اظہار“ کا بدترین مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ کارٹون نشر کئے۔ گزشتہ چند سالوں سے مغرب عالم اسلام کے خلاف جس خبث باطن کا مظاہرہ کر رہا ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ کبھی عالمی طاقتوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایٹم بم کے ذریعے نعوذباللہ بیت اللہ کو اڑا دیں...... کبھی اسلامی شعائر کا کھلے عام استہزاء کیا جاتا ہے......

کبھی کلمہ طیبہ کو جوتوں اور کپڑوں پر چھاپا جاتا ہے۔ یورپ بھر میں کئی شراب خانے مکہ کے نام پر ہیں، ابوغریب جیل اور گوانتاناموبے کے عقوبت خانوں میں امریکیوں کے ہاتھوں قرآن مجید کی بے

صفحہ ۳۶۷

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

بے حرمتی کوئی نئی بات نہیں ہے..... معلوم ہوتا ہے کہ پورا مغرب نفسیاتی مریض بن چکا ہے اور باؤلا ہو کر رکیک حرکتیں کر رہا ہے۔ ڈنمارک، ناروے، فرانس اور دیگر یورپی ممالک جس اخلاقی انارکی کے دور سے گزر رہے ہیں، ایک شریف النفس انسان اس کا تصور نہیں کر سکتا۔ آپ اگر مغربی اقوام کو شرعی حدود کے پیمانے میں جانچیں تو کسی صحیح النسب فرد کو ڈھونڈنا مشکل ہو جائے گا۔ ایسے لوگ جو زنا و شراب کی پیداوار ہوں، جن کی مائیں اپنے کتوں کی اولاد جنتی ہوں تو ایسی نسل سے سوائے شیطنت کے اور کیا توقع رکھی جاسکتی ہے؟

ان تمام معاملات کے باوجود اہم تر سوال یہ ہے کہ آخر ڈنمارک، ناروے اور فرانس کے اخباروں نے یہ جسارت کیوں کی کہ ”آزادی اظہار“ اور ”اظہار رائے“ کی آڑ میں حضور نبی کریم ﷺ فداہ ابی وامی واولادی کی ذات اقدس پر غلاظت اچھالیں؟ اس سوال کے جواب میں ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر کڑے احتساب کی ضرورت ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں دشمن کے وار کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ ”آزادی“ عالمی سطح پر ایک مسلمہ قدر ہے جو اقوام متحدہ کے منظور شدہ ”حقوق انسانی چارٹر“ کی اصل روح ہے۔ آزادی رائے، آزادی اظہار، آزادی ابلاغ، آزادی نسواں ..... یہ تمام ”حقوق انسانی چارٹر“ کے ضمنی عنوانات ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حقوق انسانی کا چارٹر اصلاً بغاوت الٰہی کا چارٹر ہے۔ مذکورہ اخبارات نے بھی رحمت عالم ﷺ کی ذات اقدس کے حوالے سے ”آزادی اظہار کی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے کارٹون شائع کئے۔ مسلمانوں کے خلاف مختلف خطوں میں جاری کفریہ سازشوں کا جب ہمارے مذہبی اور غیر مذہبی دانشور تجزیہ کرتے ہیں تو بالآخر ”یہودی سازش“ کا فتیلہ تلاش کر لاتے ہیں۔ یہود و نصاریٰ کی مسلمانوں کے ساتھ آویزش سے انکار ممکن نہیں مگر اس دوران ان بیساکھیوں کو نظر انداز کر دینا جن کا سہارا لیتے ہوئے درندہ صفت اور دریدہ دہن لوگ ہماری مقدس شخصیات پر حملہ آور ہوتے ہیں نامناسب بات ہے۔ اس لیے کہ جن اقدار کا سہارا لیتے ہوئے یہ ”عیسائی“ اور یہودی مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے ہیں وہ عالم اسلام میں بھی رائج و مسلم ہو چکی ہیں۔ چنانچہ ان خوش نما اقدار کا پردہ چاک کرنے کی بھی ضرورت ہے جن کی آڑ لے کر مغربی اقوام ہذیان بکتی ہیں۔

صفحہ 368

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

یہ تیر صرف ہمارے لئے ہیں!

عرفان صدیقی

آج سے کوئی 16 سال قبل برطانوی مورخ ڈیوڈ ارونگ نے آسٹریا میں ایک لیکچر میں یہ کہہ دیا کہ ”یہودیوں کے قتل کے لئے پولینڈ میں گیس چیمبرز کی موجودگی ایک افسانہ ہے اور دوسری جنگ عظیم کے دوران نازیوں کے ہاتھوں 60 لاکھ یہودیوں کے قتل کی کہانی بھی درست نہیں“۔ اس افسانوی قتل عام کو ”ہولو کاسٹ“ کا نام دیا جاتا ہے اور یہ ایک ایسی متبرک دیو مالائی صداقت قرار پائی ہے جس پر ”ایمان“ نہ لانا یا جسے جھٹلانا یا جس پر شک و شبہ کا اظہار کرنا بہت سے مغربی ممالک نے جرم قرار دے رکھا ہے۔ آسٹریا میں اس جرم کی سزا دس سال قید ہے۔ ڈیوڈ ارونگ پر مقدمہ قائم کر دیا گیا۔

نومبر 2005ء میں وہ دائیں بازو کے انتہا پسند طلبہ کی دعوت پر لیکچر دینے آسٹریا گیا تو اسے گرفتار کر لیا گیا۔ ڈیوڈ ارونگ کو حالات کے تیوروں کا اندازہ ہو گیا۔ اُس نے بی بی سی کو ایک خط لکھا کہ ”گیس چیمبرز کے بارے میں میرے خیالات میں اب تبدیلی آ گئی ہے۔ یہ بلاشبہ ایک بدترین سانحہ تھا“۔ عدالت میں پیشی کے دوران اُس نے ”60 لاکھ“ تو نہ کہا البتہ تسلیم کیا کہ ”لاکھوں لوگ مارے گئے اور اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ گیس چیمبرز بھی موجود تھے“۔ ارونگ کے اس رویے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے اُسے تین سال قید کی سزا سنائی اور جیل بھیج دیا۔ ڈیوڈ ارونگ کے وکیل نے کہا کہ اُسے اس فیصلے پر حیرت ہوئی ہے ”شاید عدالت اس فیصلے کے ذریعے دنیا کو پیغام دینا چاہتی تھی لیکن پیغام کافی سخت ہو گیا ہے“ وکیل نے فیصلے پر نظر ثانی کی استدعا کرتے ہوئے نرم رویہ اختیار کرنے کیلئے کہا کیونکہ بقول اُس کے ”ڈیوڈ ارونگ کے خیالات میں اب تبدیلی آ گئی ہے“۔

ڈیوڈ ارونگ کو شاید معلوم نہ تھا کہ آزادی اظہار رائے کا اصل مفہوم کیا ہے؟ وہ کب کہاں اور کن کے لئے استعمال ہونی چاہیے اور اس خوبصورت ترکش سے نکلنے والے تیروں کا رخ کن سینوں کی

صفحہ ٣٦٩

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ مغرب... آزادی اظہار

طرف ہونا چاہیے۔ اُسے غالباً اس امر کی اطلاع بھی نہیں ہوسکی کہ مغرب کی کارگاہ فکر نے امریکہ میں وضع ہونے والی نئی لغت پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے اور اب الفاظ تراکیب اور اصطلاحات کا وہی مفہوم لیا جاتا ہے جو وائٹ ہاؤس کی دانش گاہ نے متعین کر دیا ہے۔ ہم اہل مشرق تو اچھی طرح جان گئے ہیں کہ امریکہ، یورپ اور مغرب میں ترتیب پانے والی اس نئی لغت میں درج الفاظ کیا معنی رکھتے ہیں اور انہیں کس مفہوم میں استعمال کیا جانا چاہیے۔ مثال کے طور پر ہم جانتے ہیں کہ جب ”غلامی“ کی زنجیروں میں جکڑی کسی قوم کو آزادی دلانے کا اعلان کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی سرزمین کم نصیب کو ہلاکت آفریں بموں اور میزائلوں کا نشانہ بنایا جانا ہے وہاں آگ اور بارود کی برکھا برسانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور وہاں فلوجہ جیسے مناظر اور ابو غریب جیسی داستانیں رقم ہونے والی ہیں۔ عراق اور افغانستان کے عوام اس ”آزادی“ سے ہمکنار ہو چکے ہیں اب کے پھر جھنڈے لہراتا لشکر بے اماں ایران اور شام کے ”محکوموں“ کو ”آزادی“ دلانے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ ہم اب یہ بھی جان چکے ہیں کہ اس نو تخلیق لغت میں ”جمہوریت“ کے معنی و مفہوم کیا ہیں۔

اس کا سیدھا سادہ مفہوم یہ ہے کہ ہر وہ بندوبست جمہوریت بلکہ حقیقی جمہوریت کہلاتا ہے جو اپنے عوام کے جذبہ و احساس سے بے نیاز امریکہ سے آئے ہر فرمان کو اپنا دستور العمل بنانے اور دل و جان سے اسے عملی جامہ پہنانے میں جُت جائے۔ اس کے برعکس ہر وہ نظام غیر جمہوری اور آمرانہ ہے جو بے شک عوام کے ووٹوں سے وجود میں آئے اور جس کے حکمران عوام کی دھڑکنوں میں بستے ہوں لیکن وہ امریکہ کے سامنے گردن جھکانے کی بجائے اپنے قومی و ملکی مفادات کو اولیت دیتا ہو۔ اسی طرح ”انصاف“ کا مطلب وہ سزا ہے جو امریکہ کسی فرد یا حکومت کیلئے تجویز کرتا ہے۔ اس طریق انصاف کے تحت امریکہ پہلے ایک مفروضہ تخلیق کرتا ہے پھر اسے ہولناک جرم قرار دے کر چارج شیٹ جاری کرتا اور اس کے ساتھ ہی حملہ کر دیتا ہے۔ بعد ازاں اگر یہ مفروضہ سو فیصد غلط نکلے تو بھی اسے انصاف ہی کا ایک پہلو خیال کر لیا جاتا ہے۔ بعض اوقات ”فوری انصاف“ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں امریکہ کسی رسمی کارروائی کے چکر میں پڑے بغیر ہی ”مشکوک مجرم“ کا بھرکس نکال دیتا ہے جیسے باجوڑ میں ہوا۔ ”دہشت گردی“ کے معانی بھی اب پوری دنیا پر واضح ہو چکے ہیں۔ طے پا گیا ہے کہ یہ صرف مسلمانوں

صفحہ ۳۷۰

مغرب کی آزادی اظہار تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ کے ذہنوں میں انگڑائی لیتی اور انہی کے ہاتھوں ظہور پذیر ہوتی ہے اور امریکہ کی طرف سے لاکھوں معصوم انسانوں کی ہلاکت دراصل دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے۔

اب ”آزادی اظہار“ کا مفہوم بھی اپنی تمام تر معنویت کے ساتھ آشکار ہو رہا ہے۔ اگر ڈیوڈ ارونگ ”ہولوکاسٹ“ کی شان میں گستاخی کرنے کے بجائے سوا ارب مسلمانوں کے مذہب، عقائد، شعائر یا مقدس شخصیات کی حرمت سے کھیلتا تو پورا یورپ اس کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو جاتا۔ ٹونی بلیئر اور جارج بش اس سے اظہار یکجہتی کرتے اور وہ یکا یک محبوبیت و مقبولیت کی معراج کمال پر پہنچ جاتا۔ افسوس کہ وہ ایک برطانوی مورخ ہوتے ہوئے بھی ”آزادی اظہار“ کے حقیقی معنی و مفہوم کو نہیں سمجھ پایا اور نہ اُسے کسی نے سمجھایا کہ یہ تیر کن سینوں پہ چلایا جاتا ہے۔

صفحہ ٣٧١

تحفظ ناموس رسالت... کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

مغرب کی آزادی اظہار

عباس اطہر

مغربی دنیا کا ایک بہت بڑا مسئلہ آزادی اظہار ہے جس پر وہ کبھی اپنے ”اصولوں“ سے دستبردار نہیں ہوتی۔ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد اسی اصول کو بنیاد بنا کر معافی مانگنے سے انکار کیا گیا اور آزادی صحافت کو آڑ بنایا گیا۔ میڈیا کی آزادی مغربی دنیا میں بہت مقدس سمجھی جاتی ہے اور اس کا ایک تازہ ترین نمونہ یہ ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ آسٹریلوی ٹیلی ویژن چینل کو عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر مظالم کی تصاویر نہیں دکھانا چاہئیں تھیں کیونکہ اس سے اشتعال بڑھے گا اور غیر ضروری تشدد کی کاروائیاں سامنے آسکتی ہیں جس اصول کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے اسی کے تحت دنیا بھر میں احتجاج کے باوجود یورپی یونین نے اپنے میڈیا کی آزادی کو محدود کرنے کے مطالبات مسترد کر دیئے ہیں۔ یہ آزادی اظہار اس اعتبار سے بڑی مقدس ہے کہ یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں کے جذبات کی توہین تو آزادی اظہار ہے لیکن یہودیوں کی توہین کو ناقابل معافی جرم سمجھا جاتا ہے۔ یہ سوال مسلمانوں نے ہی نہیں خود یورپی صحافیوں نے بھی اٹھایا ہے۔ یہودیوں کے معاملے میں آزادی اظہار کی صورت حال یہ ہے کہ ہر وہ فقرہ یا اشارہ جو یہودیوں کو ناپسند ہو، یہود دشمنی قرار پاتا ہے اور یورپ میں دوسرے ہر جرم کی معافی ہو سکتی ہے۔ لیکن یہود دشمنی کی نہیں۔ یہود دشمنی کا تناظر اتنا وسیع ہے کہ یہ کہنا بھی یہود دشمنی کے زمرے میں آتا ہے کہ ہٹلر نے اتنی تعداد میں یہودی نہیں مارے تھے جتنے بیان کئے جاتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سارا رویہ یورپی حکومتوں اور پریس کا ہے۔ عوامی سطح پر آج بھی یہودیوں کے خلاف اتنی ہی نفرت پائی جاتی ہے جتنی ماضی میں تھی۔ فرق یہ ہے کہ حکومتی پابندیوں کے باعث لوگوں کو ”جرأت اظہار“ کا ذرا کم ہی موقع ملتا ہے تاہم لوگوں کا داؤ لگ جائے تو وہ یہودیوں کی قبروں پر غصہ اتار لیتے ہیں۔

صفحہ ۳۷۲

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

یورپ میں یہود دشمنی کو Taboo ( شجر ممنوعہ ) بنانے کا ذمہ دار امریکہ ہے۔ جنگ عظیم کے خاتمے پر یورپ امریکہ کا مفتوحہ علاقہ بن گیا اور یہود ”مقدس“ قرار پائے۔ اب نائن الیون کے بعد کی دنیا میں فلسطینیوں کو یہ مشورہ دیا جارہا ہے کہ وہ صابرہ اور شتیلہ میں ہزاروں عورتوں اور بچوں کے قاتل شیرون کو ”امن کا چیمپیئن“ مان لیں اور یہ بھی قبول کرلیں کہ ان کی جدوجہد آزادی دراصل دہشت گردی ہے جس کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔

یورپ ماضی میں ہمیشہ یہود دشمن رہا۔ یورپ کی یہود دشمنی، یہود عاشقی میں اس طرح تبدیل ہوئی ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے مفتوحہ یورپ (جرمنی، آسٹریا وغیرہ ) میں تعمیر نو کے دوران سب سے زیادہ خرچہ یہودیوں کے قتل عام اور نازیوں کے مظالم کی کہانیوں پر مبنی فلموں، ٹی وی ڈراموں، کتابوں اور دوسرے لٹریچر پر صرف کیا۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد پیدا ہونے والی یورپ کی ساری نئی نسل نے پروپیگنڈے کے اس طوفان نوح کے سائے میں آنکھ کھولی۔ یہ نسل جب جوان ہوئی اور حقائق پر دوسرے زاویے سے نظر ڈالنے کا موقع ملا تو ان کی سوچ کچھ اور ہو گئی لیکن نہ نظر آنے والی امریکی زنجیروں میں جکڑی حکومتیں اور یہودیوں کی ترغیبات کا شکار یورپی میڈیا بدستور یہودی عاشقی میں مبتلا رہا۔

یہ Taboo اتنا مضبوط ہے کہ جرمنوں کی کسی حکومت کو آج تک یہ جرات نہیں ہو سکی کہ وہ دوسری جنگ عظیم میں امریکیوں کے ہاتھوں جرمنوں کے قتل عام کا احوال بیان کر سکے۔ جرمنی کے سرکاری نصاب میں سارا زور یہودیوں کے مظلومانہ قتل عام پر ہے یا پھر نازیوں کے ظالم ہونے پر۔

اب ایک فلم بنی ہے جس میں جرمنوں نے کچھ کچھ جرات سے کام لیا ہے۔ یہ فلم ”ڈریسڈن دی انفرنو“ Dresden the Inferno کے نام سے پیر 13 فروری کو جرمنی کے سینماؤں میں نمائش کے لئے پیش کی گئی ہے۔ ڈریسڈن جرمنی کا ایک ہنستا بستا شہر تھا جہاں مشرقی علاقوں سے آنے والے ہزاروں جرمن پناہ گزیر بھی آباد تھے لیکن 13 اور 14 فروری 1945ء کو امریکہ اور برطانیہ نے اس پر تاریخ کی بدترین بمباری کی۔ اس بمباری میں پچاس ہزار سے زیادہ شہری ہلاک ہوئے۔ ازراہ مروت فلم ریلیز ہونے کی خبر میں یہ تعداد 35 ہزار بتائی گئی ہے۔ اس فلم میں امریکہ کو ظالم دکھانے کی جرات نہیں کی گئی،

صفحہ ۳۷۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

صرف معروضی انداز میں ایک محبت کی کہانی کے حوالے سے شہر کی تباہی دکھائی گئی ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ جرمنی میں ایک ایسی فلم بنی ہے جس میں کم از کم یہ تو بتایا گیا ہے کہ ڈریسڈن میں ہزاروں شہری امریکی کی بمباری سے مارے گئے۔ اتنی جرات کرنے کے لئے فلمساز کو اپنی فلم میں پہلے تو یہ بتانا پڑا کہ جنگ کے اصل ذمہ دار یعنی اصل ظالم خود جرمن تھے پھر یہ بھی بتانا پڑا کہ امریکہ اور برطانیہ بمباری کر کے ڈریسڈن کے شہریوں کا قتل عام نہیں کرنا چاہتے تھے۔ (شاید وہ ظلم کا قلع قمع کر رہے تھے)۔ جرمن فلم کے ناظرین اتنے ذہین تو ضرور ہوں گے کہ وہ فلم کی نمائش کیلئے پیش کیا جانے والا یہ ”عذر“ اچھی طرح سمجھ لیں۔ اب تک جرمن صرف نازیوں کے مظالم کی فلمیں دیکھتے رہے ہیں۔ پہلی بار وہ امریکی کارروائی کی فلم دیکھ رہے ہیں یہ انقلاب بھی خاصا اہم ہے۔

باقی یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ امریکی اور برطانوی کبھی قتل عام کرتے ہیں نہ قیدیوں کی تذلیل۔ یہ دونوں کام تو تعمیر نو اور قوموں کو آزادی دلانے کے نیک عمل کے دوران خود بخود ہو جاتے ہیں۔ برطانوی فوجی اگر عراقی بچوں کو ٹھڈے مار مار کر ہلاک کر دیتے ہیں اور ان کی لاشوں پر بھی ”ٹھڈا“ بازی جاری رکھتے ہیں۔ تو یہ بھی انسانی حقوق کے احترام کا ایک انداز ہوتا ہے بچوں کے ساتھ ہونے والے ان واقعات کی نئی ویڈیو فلم پر دنیا میں شور مچا ہوا ہے اور ٹونی بلیئر نے اس فلم کی تحقیقات کا اعلان بھی کر دیا ہے حالانکہ دونوں عمل ہی غیر ضروری اور بے نتیجہ ہیں نہ تو شور مچانے سے کچھ ہو گا نہ تحقیقات سے ”ٹھڈا بازی“ رکے گی۔ یہ تو آزادی اظہار کا وہ پہلو ہے جو امریکہ اور یورپ نے اپنے لئے مخصوص کر رکھا ہے۔

صفحہ 374

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

آزادی اظہار...... ایک جائزہ

مولانا محمد احمد حافظ

یورپی ذرائع ابلاغ کی جانب سے توہین رسالت کے ارتکاب کے بعد اب تک کسی بھی متعلقہ ملک اور توہین رسالت کے مجرموں نے معافی نہیں مانگی ہے بلکہ یہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کی ہے کہ کارٹونوں کی اشاعت آزادی اظہار اور انسانی حقوق کا معاملہ ہے جو عالمی سطح پر مسلم ہے، اس لئے حکومتی سطح پر اس سلسلے میں کسی قسم کا ایکشن نہیں لیا جا سکتا بلکہ ایک موقف یہ بھی اختیار کیا گیا ہے کہ مسلم ممالک میں اس مسئلے پر احتجاج آزادی اظہار کی نفی ہے۔ کم از کم ڈنمارک اور ناروے کی حکومتوں کا یہی موقف ہے۔

ادھر احتجاج کرنے والی مسلم تنظیموں اور مسلم زعما کا کہنا ہے کہ ہم آزادی اظہار کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کو ہدف بنایا جائے۔ چنانچہ کارٹونوں کی اشاعت آزادی اظہار کا ”غلط استعمال“ ہے۔ گویا ان کے خیال میں آزادی اظہار کی بھی کچھ حدود ہیں حالانکہ حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ خود مغرب اس سلسلے میں یکسو نہیں، حال ہی میں ہولوکاسٹ کے حوالے سے برطانوی مورخ ڈیوڈ ارونگ کو اس لئے جیل بھیج دیا گیا ہے کہ اس نے آزادی اظہار کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل عام کا انکار کیا ہے۔ ڈیوڈ ارونگ نے جیل سے اپنے ایک انٹرویو میں اپنے معاملے میں ہونے والی کارروائی کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”آزادی اظہار رائے کا مطلب ہی ایسی بات کہنے کا حق ہے جسے دوسرے لوگ ناپسند کرتے ہوں۔ دوسرے لفظوں میں اظہار رائے کی آزادی کا مطلب غلط بات کہنے کا حق ہے“۔ (ایکسپریس۔ 24 فروری 2006ء)

ہمارے ہاں بعض مسلم دانشور ابھی اس بات کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آزادی کی

صفحہ ۳۷۵

مغرب کی آزادی اظہار تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟

اصل حقیقت کیا ہے؟ صحیح ہے کہ آزادی اظہار حقوق انسانی کے منشور کی ایک شق ہے۔ ”حقوق انسانی“ کا منشور مغربی طاقتوں کا ترتیب دیا ہوا ہے، چنانچہ اس پس منظر میں مغرب کے تصور انسان، اس کے تصور خیر وشر اور مقصد حیات کو جانے بغیر حقوق انسانی کے اس منشور کا گہرا مطالعہ و تجزیہ نہیں کیا جا سکتا۔

حقوق انسانی جس کا منشور ایسے ماحول میں ترتیب دیا گیا جب ہیومنزم کی تحریک پورے مغرب میں سرایت کر چکی تھی اور مغرب عمومی طور پر مذہب کی جکڑ بندیوں سے آزاد ہو کر انسان پرستی کی طرف مائل ہو چکا تھا، یعنی انسان خود اپنی پرستش میں مگن اور زیادہ سے زیادہ لذت کے حصول میں منہمک ہو چکا تھا۔ حقوق انسانی کے منشور کی تمام شقیں انسان ہی کے گرد گھومتی ہیں جو اس کی الوہیت کے امکانات کو واضح کرتی ہیں۔ اس منشور کے سرسری مطالعے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ آزادی، مساوات اور ترقی ...... یہ تینوں اس کی حقیقی روح ہیں۔ آج مغرب ہمارے احتجاج کو سمجھنے سے اس لئے قاصر ہے کہ اس کے ہاں آزادی کا تصور خالص مادی نوعیت کا ہے۔ مغرب میں اس تصور کا مطلب مذہبیت، روحانیت، عقیدہ آخرت، حصول رضائے الٰہی کی خواہش کی پامالی کے سوا کچھ نہیں۔ مغرب اس بات میں راسخ ہو چکا ہے کہ کسی بھی معاشرے کے قیام اور وجود کے لئے آزادی بنیادی قدر ہے۔ آزادی کی آڑ میں مغرب کا پہلا ہدف مذہب اور مقدس شخصیات ہوتی ہیں، اس لئے کہ لبرل اور سیکولر معاشرے میں ایسے فرد کی گنجائش نہیں جو مذہبی پابندیوں میں جکڑا ہو اور اپنے تعقل و وجدان کی بنیاد پر زندگی کی تعمیر کرنے کی بجائے کسی شخصیت کو اپنا رہبر، مقتدیٰ اور پیشوا تسلیم کرتا ہو۔

مغربی معاشروں میں آزادی (Freedom) کے بارے میں مختلف طرح کے تصورات موجود ہیں، مجموعی طور پر غالب تصور یہی ہے کہ انسان اپنے خیر و شر کے معیارات کے تعین کا نہ صرف خود مجاز بلکہ حق دار ہے اور اس کی انسانیت کا جوہر ہی یہ ہے کہ وہ اپنی متعین کردہ اقدار کو آزادانہ اپنا سکے اور ان کے مطابق زندگی گزار سکے۔ چنانچہ مغرب میں اگر کوئی شخص نکاح کو فضول چیز سمجھتا ہے اور اسے اپنی ترقی میں رکاوٹ سمجھتا ہے تو اسے آزادی حاصل ہے کہ وہ کسی عورت سے وقتی تعلق رکھ سکے، یا وہ شراب پینے کو بہتر خیال کرتا ہے تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اسے شراب مہیا ہونے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ مغربی معاشرے میں ایک رائٹر اپنی نگارشات میں جو چاہے پیش کر سکتا ہے، وہ اپنے خیالات کے اظہار میں آزاد

صفحہ 376

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

ہے، ایک آرٹسٹ اپنے فن کے اعتبار سے آزاد ہے۔ وہ کارٹونسٹ ہے تو اسے آزادی ہے کہ وہ جیسا چاہے کارٹون بنا سکے، ڈرامہ نگار ہے تو اپنی مرضی سے کردار اور مکالمے تجویز کر سکتا ہے۔ وہ افسانہ نویس اور کہانی نگار ہے تو وہ اس بات میں آزاد ہے کہ اپنی کہانی اور افسانے کا پلاٹ اپنی مرضی کا منتخب کر سکے، قطع نظر اس بات کے کہ اس کے کرداروں، مکالموں اور کہانیوں سے الحاد، عریانیت اور بدعقیدگی کا پرچار ہوتا ہو یا کوئی بھی مقدس شخصیت ہدف تنقید بنتی ہو۔ حالیہ واقعات کے تناظر میں جب ایک فرانسیسی اخبار نے یہ کہا کہ ”ہمیں حق حاصل ہے کہ ہم خدا کا کارٹون بھی بنائیں اور چھاپیں“ تو اس ایک جملے میں پورے مغرب کی سوچ اور فکر سمٹ کر آگئی کہ اہل مغرب اپنی آزادی کے سلسلے میں کسی قسم کی حد بندیوں کے قائل نہیں۔ ڈنیش حکومت کو امریکا و برطانیہ کی تھپکی اس بات کی غماز ہے کہ وہ اس معاملے میں کسی قسم کی مفاہمت یا معذرت پر مبنی رویہ اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں۔ وہ حقوق انسانی کا تحفظ اسی میں سمجھتے ہیں کہ ہر فرد اپنے دائرہ اختیار میں آزاد رہ سکے۔ تحفظ حقوق انسانی کی تنظیموں کی خاموشی بھی اسی تناظر میں ہے کہ وہ کارٹونوں کی اشاعت پر قدغن کو آزادی اظہار میں رکاوٹ خیال کرتی ہیں۔

اس مرحلے پر لمحہ فکریہ ہمارے لئے ہے کہ ہم ذہنی سطح پر آج کہاں ہیں؟ کیا ایک ایسا منشور جو حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے ارتکاب میں نہ صرف یہ کہ رکاوٹ نہ ہو بلکہ اس جسارت کو مزید ممکن بناتا ہو، ایک صاحب ایمان کے لئے قابل تسلیم ہو سکتا ہے؟ یقیناً اس کا جواب نفی میں ہوگا۔ ہمارے خیال میں حقوق انسانی کا منشور اصلاً غلبہ کفر کا منشور ہے۔ اس منشور کا علمی بنیادوں پر تنقیدی جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ الحمد للہ! ہماری فکری بنیادیں ابھی اتنی بانجھ نہیں ہوئی ہیں کہ انسانی حقوق کے منشور کو علمی بنیادوں پر پرکھا نہ جاسکے۔ بات صرف اتنی ہے کہ آج ہم مغرب کی علمی برتری کی مرعوبیت سے نکل آئیں اور اسلامی ماخذات کی طرف رجوع کرلیں، اپنے دل میں رومی کے عشق اور دماغ میں غزالی کی فکر کو اجاگر کر لیں، اپنے علم و نظر کا منبع وحی الہی کو مان لیں، اسوہ و قدوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حرز جان بنالیں تو ان شاء اللہ ہمیں وہ روشن راہیں ضرور دکھائی دینے لگیں گی جن پر چلتے ہوئے ہم اپنی علمی کم مائیگی، فکری پستی اور عملی کمزوری کو دور کر سکیں گے۔

صفحہ ۳۷۷

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

توہین رسالت اور آزادی رائے کی حقیقت

جاوید اقبال

ہر تصور علمیت کے پیچھے کچھ ما بعد الطبیعاتی تصورات پائے جاتے ہیں تحریک تنویر نے جو مابعد الطبیعاتی تصورات انسان کے بارے میں قائم کئے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔

آزادی:

یعنی انسان خود مختار ہستی ہے، انسان قائم بالذات ہے اس پر کوئی خارجی قدغن نہیں لگائی جاسکتی، کسی بیرونی چیز کو کوئی تقدیس حاصل نہیں ہے۔ انسان خود اپنے لیے پیمانہ معیار خیر و شر مقرر کرسکتا ہے۔ اور وہ جیسے بھی چاہے تشریح خیر و شر کر سکتا ہے گویا تحریک تنویر کا بنیادی کلمہ لا الہ الا انسان ( نعوذ باللہ ) قرار پایا اور خدا کی حرمت اور تقدیس کی بالکل کوئی جگہ نہیں رہی۔

مساوات:

تمام انسان جو انسان کی اس خدائی کا کلمہ پڑھتے ، اسی مذہب انسانیت میں شامل ہو جاتے ہیں ایک فرد محض اپنی چاہت کی بنا پر کسی دوسرے فرد سے افضل یا کمتر نہیں ہو سکتا۔ گویا ہر قسم کے تصورات خیر و شر کی یکساں قدر ہے، انہی معنوں میں تمام افراد بھی مساوی القدر ہیں۔ ان میں کوئی درجہ بندی نہیں ہے۔ اس مذہب انسانیت میں شامل افراد ہی مہذب دنیا کا حصہ ہیں۔

آزادی اور مساوات کی انہی اقدار کا شور وغوغا مغربی تہذیب میں ہر جا نظر آتا ہے۔ چاہے انفرادی زندگی ہو چاہے معاشرتی صف بندی ہو اور چاہے سیاسی ادارے۔ مغرب میں جنم لینے والے تمام نظریات لبرلزم سوشلزم یا نیشنل ازم میں معمولی فروعی اختلافات کے ساتھ ان بنیادی اقدار پر اجماع پایا جاتا ہے۔ آزادی رائے کی عمارت کی تشکیل بھی انہیں اصولوں پر ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی منشور

صفحہ 378

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

1948 کے آرٹیکل 19 کے الفاظ یہ ہے

"Every one has right of the freedom of opinions and

expression"

یہ آزادی دراصل انکار ہے عبدیت کا، انسان جب اپنے عبد ہونے سے انکاری ہو جاتا ہے تو حقوق العباد بجالانے کی بجائے حقوق انسانی کا طالب ہو جاتا ہے۔ یہ مساوات دراصل نظام ہدایت کی رد ہے۔ دین اسلام میں ہدایت کا پورا نظام موجود ہے جو ہم تک انبیاء علیہم السلام، صحابہ، تابعین اور تبع تابعین، علمائے اسلام اور صوفیاء عظام کے ذریعے پہنچا ہے۔ اسی وجہ سے جس طرح ہم خدا کے سامنے اپنے عبد و غلام ہونے کا اقرار کرتے ہیں اسی طرح تمام انبیاء علیہم السلام کو بھی ہمارے ہاں تقدیس حاصل ہے۔ اور پھر درجہ بہ درجہ جو جس قدر عبدیت میں بڑھا ہوا ہوگا اور تقویٰ و خشیت کے جتنے بلند مقام پر ہوگا اس کی اہمیت و فضیلت دوسرے افراد سے اسی نسبت سے بلند ہوگی۔

مغربی تہذیب عبدیت اور نظام ہدایت کی کلی طور پر انکاری ہے۔ اس لئے ملعون اخبار کے ملعون ایڈیٹر سے جب احتجاج کیا گیا تو اس نے ڈھٹائی سے کہا کہ ہمیں خدا کا کارٹون بنانے اور مذاق اڑانے کا بھی حق حاصل ہے۔ اسی طرح شروع میں جب احتجاج کیا گیا تو اخبار نے یہ کریہہ تجویز پیش کرکے اپنی طرف سے بات ختم کرنے کی کوشش کی کہ مسلمان اگر نبی کریم ﷺ کے کارٹونوں پر اعتراض کر رہے ہیں تو ہم اسی تعداد میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کارٹون بھی شائع کر دیتے ہیں۔ یہاں جملہ معترضہ کے طور پر یہ بات یاد رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تضحیک مغربی میڈیا کی ایک مستقل تھیم ہے اور ان کے معاملے میں مغرب نے تضحیک کا کوئی پہلو نہیں چھوڑا ہے اور وہ وہ خرافات شائع کی ہیں اور ایسی تصاویر بنائی ہیں جن کو لکھنے کا کوئی قلم متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہ تجویز بھی مذکورہ اخبار نے ”آزادی“ کے پس منظر میں دی ہے۔ کیونکہ آزادی کی قدر کو اپناتے ہوئے یہ سوچے گا کہ کیا اسے آفاقی (Universalize) بنایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ یعنی جو وہ اپنے لئے چاہ رہا ہے سب کے لیے چاہ سکتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو وہ قدر پسندیدہ کہلائے گی

یہی وہ آزادی کی قدر ہے جس کے لئے بش کہتا پھرتا ہے کہ ہم افغانستان اور عراق میں اس

صفحہ ۳۷۹

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

لئے آئے تاکہ لوگوں کو آزادی (Freedom) دلا سکیں۔ اس لئے پرویز مشرف کے روشن خیال اعتدال پسندی کے نظریے کی اتنی قدر کی جاتی ہے کیونکہ یہ فطری طور پر ”آزادی“ اور ”مساوات“ کی قدروں کے فروغ کا باعث ہے۔ صدر کی وردی بھی اس لئے منظور ہے کہ اس کے ذریعے جمہوریت کی اساسی قدریں ”آزادی“ اور ”مساوات“ فروغ پا رہی ہیں۔ ان قدروں کے بغیر جمہوریت بھی ہرگز قابلِ قبول نہیں ہے۔ (الجزائر، فلسطین کی مثال واضح ہے) جو ان قدروں پر ایمان رکھتے ہیں وہ مہذب (Civilized) ورلڈ کا حصہ ہیں اور جو نہیں رکھتے وہ غیر مہذب دنیا کا حصہ ہیں اس لئے ان کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ طالبان افغانستان کی حکومت اس لئے ختم ہوئی کہ وہ ”غیر مہذب“ تھے، اور ”آزادی“ اور ”مساوات“ کو بالکلیہ رد کرتے تھے۔

مغرب اس فریب میں مبتلا ہے کہ جب عیسائیت اس تبدیلیِ عقلیت جس کا ہم شروع میں تذکرہ کر چکے ہیں کا مقابلہ نہ کر سکی اور کوئی ہمہ گیر تحریک مزاحمت نہ چل سکی تو اسلامی تہذیب بھی ایسا نہ کر سکے گی۔ روشن خیالی، اعتدال پسندی کا مفہوم و مقصود اس کے سوا کیا ہے کہ اسلام محض چند ظاہری علامتوں تک محدود ہو کر رہ جائے۔ اور لوگ اسے ایک نظامِ زندگی کے طور پر نہ اپنائیں۔ وہ لوگ جو مغرب کو اچھی طرح سے نہیں جانتے وہ مرعوب ہو کر اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ مغرب نہایت طاقتور ہے۔ جبکہ در حقیقت مغرب آج ایک شکست خوردہ اور زوال پذیر نظام کی طرف دعوت دے رہا ہے۔ اور اسے آسانی سے شکست دی جا سکتی ہے۔ اس دعوے کے پیچھے چار ٹھوس دلائل موجود ہیں۔

ثابت کر دی ہے کہ استعمار کی صف بندی ایسی نہیں ہے جسے شکست نہ دی جا سکے۔

آبادی مسلسل گھٹتی چلی جا رہی ہے۔ اور وہ ایک مرتی ہوئی تہذیب ہے۔

ہیں۔ اور کسی وقت بھی بہت بڑا بحران (Crises) پیدا ہو سکتا ہے۔

صفحہ ۳۸۰

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

نزم نے جو دعوے کیے تھے جو معروضات قائم کیے تھے کہ آزادی اور مساوات کسی بھی تہذیب کی جائز بنیاد ہو سکتی ہیں۔ اور عقلی بنیادوں پر ان کو قبولیت عامہ دلوائی جا سکتی ہے۔ یہ ایک جھوٹا دعویٰ ہے۔ لہٰذا جو نظام مغرب نے مسلط کیا ہوا ہے وہ جبر کی بنیاد پر ہے۔

پاکستان میں اس وقت عشق رسالت مآبؐ کی وہ جذباتی فضا موجود ہے جہاں ہر شخص اس نعرے سے سرشار ہے کہ ”غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے“

اس فضا کو ہم پروان چڑھا کر روشن خیال اعتدال پسندی اور اس کی دو اقدار آزادی اور مساوات کو بالکلیہ رد کر سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تحریک کو محض یورپی مصنوعات کے بائیکاٹ تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ مغربی نظام زندگی یعنی سرمایہ داری اور مغربی تصورات زندگی یعنی آزادی اور مساوات کے رد کی تحریک بنادی جائے۔ اس کے لئے ضروری ہے ہم روشن خیال اعتدال پسندی کے نظریے کو اچھی طرح پہچانیں اور اسے کلی شکست دینے کے لئے قلیل المدت اور طویل المدت منصوبہ بندی کریں ورنہ خاکم بدہن وہ وقت بھی آسکتا ہے کہ پاکستانی عوام وہ رویہ اختیار کرلیں جو مغرب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے کیا جاتا ہے۔ یہ بالکل انہونی اور انوکھی بات نہیں ہے۔ ماضی کی کتنی ہی ایسی اقدار تھیں جن کے خلاف کام کرنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا اور آج ہمارے ملک میں ان کے تانے بانے ٹوٹے نظر آرہے ہیں۔

صفحہ ۳۸۱

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

آزادی صحافت کی آڑ میں غیر ذمہ داری کی انتہا

”مخاصمت کے خاتمے میں میڈیا کا کردار“ (The Role of Media in Conflict Resolution) آج کے جدید ذرائع ابلاغ پر ہونے والی تحقیق کا ایک نیا ایونیو ہے۔ انسانی تہذیب کے ارتقائی عمل میں میڈیا کے اس مثبت کردار کو عالمی سیاستدان، سفارتکار، دانشور اور خود ماہرین ابلاغیات بے پناہ اہمیت دے رہے ہیں۔ ہوا یوں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد 45 سالہ سرد جنگ، میڈیا بطور نرم ہتھیار (Soft Weapon) استعمال کر کے لڑی گئی۔ جو تباہ کن ہتھیاروں سے زیادہ موثر ثابت ہوا۔ میڈیا کے اس استعمال نے عالمی امن کی فضا میں بھی بڑی طاقتوں کے غلبے اور دھاک بٹھانے کی صورت نکال لی۔ سرد جنگ میں ہونے والے درجنوں واقعات (Cases) پر ہونے والی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ میڈیا مخاصمت اور تصادم کو پھیلانے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔

سرد جنگ کے اختتامی عشرے پر میڈیا کے ذمہ دارانہ کردار کو بڑھانے پر عالمی ماہرین ابلاغیات نے Conflict Resolution میں میڈیا کے کردار کا جائزہ لینا شروع کیا تو وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ”جس طرح میڈیا کے ذریعے تصادم کی فضا کو برقرار رکھ کر سرد جنگ جاری رکھی اور بڑھائی جاسکتی ہے، اسی طرح میڈیا اقوام و ممالک کے درمیان تصادم اور مخاصمت کو ختم کرانے میں بہت موثر کردار ادا کر سکتا ہے“۔

میڈیا کے مثبت کردار سے متعلق اس نئی اپروچ کو سکینڈے نیوین ممالک نے بہت فروغ دیا۔ سویڈن اور ناروے کی یونیورسٹیوں میں Conflict Resolution میں میڈیا کے کردار پر بھاری رقوم سے تحقیقی پراجیکٹ شروع کئے گئے۔ نتیجتاً ماہرین ابلاغیات میں ایک مکتب فکر ایسا پیدا ہو گیا جو اس پر یقین رکھتا ہے کہ میڈیا صرف سرد جنگ کا ہتھیار ہی نہیں بلکہ یہ دو متصادم ممالک میں امن کی فضا قائم کرا کے تنازعات ختم کرانے کا موثر انسٹرومنٹ بھی ہے۔ چنانچہ عالمی استحکام کے حامی ماہرین ابلاغیات اور دنیا

صفحہ ۳۸۲

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

میں تنازعات کو ختم کرنے پر حقیقی یقین رکھنے والے سفارتی حلقوں نے میڈیا کے اس کردار پر بہت زور دینا شروع کر دیا۔ افسوسناک اور تشویشناک امر یہ ہے کہ ایک طرف دنیا میں امنِ عالم کے قیام کے لئے میڈیا سے کام لینے اور میڈیا کے اس نئے کردار کو فروغ دینے کی کوششیں ہو رہی تھیں، تو دوسری جانب مغربی میڈیا، سرد جنگ میں میڈیا کے روایتی کردار (مخاصمت پیدا کرنے اور اسے بڑھانے) کو برقرار رکھنے کے لئے سرگرم ہو گیا تھا۔ چنانچہ سرد جنگ کے خاتمے سے قبل ہی ’’مسلم فنڈامنٹلزم‘‘ مغرب میں ایک نئے ہوّے کے طور پر بلڈ کر دیا گیا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک نہ تو 9/11 کا واقعہ ہوا تھا نہ کینیا اور تنزانیہ کے امریکی سفارتخانوں میں دھماکہ نہ ہی 7/7 ہوا تھا اور نہ بالی میں دھماکے اور نہ ہی فلسطین میں خودکش حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا بلکہ حماس نے پرامن سیاسی جدوجہد کے لئے انتفاضہ کی تحریک شروع کی تھی جس کی تقلید مقبوضہ کشمیر میں بھی ہوئی لیکن ہر دو جگہ پاپولر اپ رائزنگ کو مسلح جدوجہد میں تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔

اس پس منظر کے ساتھ سوویت یونین کا خاتمہ ہوا تھا۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل سولانا (یورپین یونین کے موجودہ وزیر خارجہ) نے ایک ٹی وی انٹرویو میں نیٹو کے قیام کو جاری رکھنے کا جواز یہی بتایا کہ ’’اب نیٹو مسلم فنڈامنٹلزم کے خطرے سے نمٹنے کے لئے قائم رہے گا‘‘ اگلے سال 1992ء میں امریکی پروفیسر ہنٹنگ ٹن کا شہرہ آفاق تحقیقی مقالہ ’’تہذیبوں کا تصادم‘‘ (Clash of Civilization) بین الاقوامی امور کے مشہور تحقیقی جریدے فارن افیئرز میں شائع ہوا تو مغربی میڈیا نے اس کی خوب تشہیر کی اور اسے ایک عالمی ڈیبیٹ کا موضوع بنا ڈالا۔ زبردستی شروع کی گئی اس نئی سرد جنگ کے آغاز میں مغربی میڈیا کا کردار انتہائی متنازع رہا خصوصاً مسلم دنیا میں تو یہ اپنا اعتبار کھو بیٹھا۔ مغربی میڈیا (خصوصاً امریکہ) کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے کی انتہائی شکل عراق پر امریکی، برطانوی حملے سے قبل اس پروپیگنڈے کی شکل میں سامنے آئی جس میں امریکی میڈیا (بحیثیت مجموعی) نے عراق میں تباہ کن ہتھیاروں کے ذخائر کا غوغا کرنے میں امریکی انتظامیہ کی بھرپور معاونت کی۔ عراق پر اس حملے کے خلاف عالمی رائے عامہ کی شدید دباؤ کے باوجود مجموعی طور پر امریکی میڈیا اپنی حکومت کے من مانے اور سامراجی نوعیت کے اقدامات کا ایسا ’’وفا شعار‘‘ نکلا کہ اس کے پروفیشنلز کا جنازہ نکل گیا۔ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی پر دسترس کے علاوہ یہی

صفحہ 383

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار پروفیشنلزم اس کی عالمی ابلاغی طاقت کے پوٹینشل کا غالب حصہ تھا۔ آج مغربی میڈیا مشرق پر اپنا اعتماد کھو بیٹھا ہے۔ جب تک مشرق کا اپنا میڈیا زور نہیں پکڑتا اس کا غلبہ تو رہے گا لیکن اس کے تیزی سے اعتبار کھونے کے دور رس نتائج کو روکا نہیں جاسکے گا۔

اس پس منظر میں ڈنمارک کے اخبار گستاخی رسولؐ کے زمرے میں آنے والے کارٹونوں کی اشاعت اور مسلمانوں میں اس کے شدید ردعمل کے باوجود کئی یورپی ممالک کے اخبارات میں ان کی اشاعت مکرر نے یہ واضح شبہات پیدا کر دیئے ہیں کہ دنیا کو تصادم سے دو چار رکھنے اور تہذیبی تصادم کے نظریے کو فروغ دینے والی ابلاغی قوتیں منظم ہو کر سرگرم ہو گئی ہیں۔ ان کا بڑا (اور موجودہ حالات میں شاید واحد) ہدف اسلامی دنیا ہے۔ اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ شر کی یہ عالمی قوتیں، مسلم حکومتوں، میڈیا، دانشوروں اور امہ کی بھاری اکثریت کی اس یقین دہانی پر یقین نہیں کر رہی کہ اسلام سلامتی و امن کا عالمی پیغام ہے وہ ہر حال میں مسلمانوں سے الجھ کر کوئی بڑا تصادم پیدا کرنے پر تلی ہوئی ہیں ڈینش اخبار نے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کارٹون شائع کرنے کی گستاخی کے بعد آزادی اظہار کی آڑ میں اپنے گھناؤنے عمل کو درست قرار دینے کی کوشش کی ہے اور جس طرح آزادی صحافت کے نام پر یکے بعد دیگرے دوسرے کئی یورپی اخبارات نے انہیں ری پروڈیوس کیا ہے، اس سے تو واضح ہو رہا ہے کہ یہ مسلمانوں اور متعلقہ یورپی ممالک کے درمیان تصادم پیدا کرنے کی کوئی بہت منظم عالمی سازش ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈینش اخبار اور اس سے اظہار یکجہتی کرنے والے کئی یورپی اخبارات نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو مشتعل کر کے آخر کون سا مقصد حاصل کیا ہے؟ یہ اتنے سادہ نہیں کہ ”آزادی کے اس مفہوم کو نہ سمجھتے ہوں کہ جہاں ان کی آزادی سے کوئی دوسرا متاثر ہونے لگے۔ وہاں ان کی آزادی کی حد ختم ہو جاتی ہے“۔ جو حقائق سامنے آئے ہیں اور بعض مغربی اخبارات مسلم دنیا کے شدید ردعمل کے باوجود انتہا درجے کا جو غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں اس سے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ اخبارات، ان کا دفاع کرنے والی حکومتیں اور تنظیمیں غیر اعلانیہ طور پر مسلمانوں میں اشتعال پیدا کرنے پر متفق ہیں۔ اگر ان کے اس غیر مہذب اقدام کا دفاع اظہار رائے کی آزادی کے نعرے سے ہی کیا گیا تو پھر دنیائے اسلام میں ملا اور مدرسے کو بھی اشتعال پیدا کرنے سے نہیں روکا جاسکے گا۔ مغربی الزامات کے مطابق وہ جو ”خودکش

صفحہ 384

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

’مجاہد‘ تیار کرتے ہیں اس کے پس پردہ ملا اور مدرسے کی ابلاغی صلاحیت ہی ہے۔ اگر ان کے جواز کے مطابق مغربی پریس کو مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی آزادی ہونی چاہئے تو مغرب کو اپنا یہ مطالبہ ختم کر دینا چاہئے کہ مسلم ممالک کی حکومتیں اپنے ملکوں میں حصول آزادی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے اپنے شہریوں کو مشتعل کرنے والے ابلاغی مراکز ختم کریں۔ یہ صورتحال یقیناً دنیا میں ”تہذیبوں کے تصادم“ کے نظریے کو ایک طویل اور ہولناک شکل میں ڈھال دے گی۔ جس کی ذمہ داری مغرب کے اس اشتعال انگیز میڈیا پر عائد ہوگی جو آزادی اور ذمہ داری کے (ہر حال میں مطلوب) توازن کو بگاڑنے پر تل گیا ہے۔ دیر سے صحیح لیکن ویٹی کن نے مغرب کو جو یہ یاد دہانی کرائی ہے کہ ”آزادی صحافت کو اشتعال پیدا کرنے کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہئے“ موجودہ سلگتی صورتحال کو سنبھالنے کی ایک کوشش ہے لیکن ویٹی کن کے پیغام کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ سو، مسلم ممالک کی حکومتوں، سیاستدانوں، میڈیا اور دانشوروں کو اب یہ عالمی ڈیبیٹ شروع کرنی چاہئے کہ کیا ”میڈیا کو اتنی آزادی دینی چاہئے کہ یہ مخالف تہذیبوں سے ٹکرائے یا سوسائٹی میں ان سے ٹکرانے کا ماحول پیدا کرے؟“ اگر آزادی صحافت کی آڑ میں اشتعال پیدا کرنے اور اس کے دفاع کا سلسلہ جاری رہا تو ایک ایسی ”انڈر ورلڈ“ وجود میں آجائے گی جو سب سے زیادہ مغرب کے لئے پریشان کن ہوگی۔ یہ پیدا کیا گیا تہذیبی تصادم جب بھی اپنے ہولناک نتائج کے ساتھ ختم ہوگا تو یہ ثابت کرنا مشکل نہ ہوگا کہ 21ویں صدی کے اس سیاہ باب کے لکھے جانے کی ایک ہی وجہ ہوگی کہ مغرب کی ابلاغی قوتوں نے غیر مسلموں اور مسلمانوں میں آزادی کے مفہوم کو متنازعہ بنا دیا اور اپنی تشریح کے مطابق مادر پدر آزادی کا استعمال کیا۔ بہتر یہ ہے کہ مغرب کے محقق اتنی گھناؤنی سازش کے ماسٹر مائنڈ کو خود ہی تلاش کر کے اسے کیفر کردار تک پہنچائیں اور سوچیں کہ Conflict Resolution میں میڈیا کے مثبت کردار کے پروموٹر سیکنڈے نیوین ممالک آج ایک ارب 25 کروڑ مسلمانوں میں شرانگیز ممالک کیوں سمجھے جا رہے ہیں۔

صفحہ 385

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

توہین آمیز خاکے اور بین الاقوامی صحافتی اخلاقیات

ڈاکٹر احسن اختر ناز

دنیا بھر میں محسن انسانیت ﷺ کی شان اقدس کے خلاف شائع ہونے والے ناپاک خاکوں کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔ عشق نبیؐ سے سرشار ہر مسلمان مغرب کی اس ہرزہ سرائی اور سازش پر شعلہ جوالہ بنا ہوا ہے۔ مولانا ظفر علی خان کی زبان میں وہ کہہ رہا ہے:

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہؐ یثرب کی حرمت پر
خدا شاہد ہے، کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

یہی کٹ مرنے کا جذبہ مسلمانوں سے ان ملکوں کے سفارت خانوں پر حملے کروا رہا ہے اور یہی جذبہ ان ملکوں کی مصنوعات کا اقتصادی بائیکاٹ کرنے پر اکسا رہا ہے۔ اپنے ملک کا نقصان کرنے کی بجائے ان کو نقصان پہنچانے کی ضرورت ہے۔ وہی امریکہ اور مغرب، جو اپنی جمہوری آزادیوں اور نائن الیون کے بعد بالخصوص دوسرے مذاہب کا احترام اور ان سے مکالمے پر زور دے رہے ہیں وہی اب اپنا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لا کر اپنی ہی تعلیمات اور دعوؤں کی سرعام نفی کر رہے ہیں۔ ایک اخباری اندازے کے مطابق مختلف ممالک کے تقریباً 75 اخبارات میں یہ مذموم مواد شائع ہو چکا ہے اور 200 سے زائد ٹی وی چینلز اسے نیوز فیچر کی صورت میں پیش کر چکے ہیں۔

اس وقت انسانی حقوق کے ان علمبرداروں کو یہ یاد کرانے کی ضرورت ہے کہ وہ سول اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی کنونشن کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ وہ نسلی تعصب کی تمام صورتوں کو ختم کرنے کی بات نہیں کر رہے۔ مذموم کارٹون شائع کر کے مغربی ممالک نے بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ آزادی صحافت کے نام پر پوری دنیا کے مسلمانوں کے دل زخمی کیے ہیں۔ اس مسئلے کو عالم اسلام کے ماہرین قانون کو انسانی حقوق کی یورپی عدالت میں اٹھانا چاہیے۔

صفحہ ۳۸۶

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار یہ گستاخانہ خاکے شائع کرنے والے اخبارات کو مسلمانوں کے دینی جذبات مجروح کرنے کی بجائے اپنی اشاعت بڑھانے کے لئے دوسرے ہتھکنڈے آزمانے چاہئیں نہ کہ پورے عالم اسلام میں نفرت اور شر کا ایک کہرام برپا کر دیا جائے۔ ایسے تخریبی ذہنوں کو دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے وہ مشہور واقعہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ جہاں سے دوسرے کی ناک شروع ہوتی ہے وہاں سے ان کی آزادی کی حدود ختم ہو جاتی ہیں۔

مادر پدر آزاد صحافت کا چلن دنیا کے کسی بھی ملک میں برداشت نہیں کیا جاتا۔ صحافت کے ان دریدہ دہنوں کو ان کی اپنی تاریخ یاد کروانے کی ضرورت ہے کہ 1971ء میں میونخ (جرمنی) میں یورپین کمیونٹی کی صحافتی ٹریڈ یونینوں کے چھٹے اجلاس میں صحافیوں کے فرائض اور حقوق کا ڈیکلریشن منظور کیا گیا تھا۔ اس ڈیکلریشن کا مرکزی نکتہ ہی یہ تھا کہ صحافیوں کو آزادی صحافت کا حق استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ ہر قدم پر ذمہ داری کا ثبوت بھی دینا ہوگا۔ اس ڈیکلریشن کا بیسواں نکتہ یہی تھا کہ صحافی کسی فرد یا ادارے کے متعلق غیر اخلاقی، توہین آمیز، ناشائستہ مواد شائع کرنے سے مکمل اجتناب کرے گا۔ اس ڈیکلریشن پر دستخط کرنے والے ممالک میں بلجیم، سائپرس، چیکوسلواکیہ، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، وفاقی جمہوریہ جرمنی، یونان، ہنگری، آئرلینڈ، اٹلی، نیدرلینڈ، ناروے، پولینڈ، رومانیہ، سویڈن، سوئٹزرلینڈ، ترکی، یوکے، کینیڈا، کیری بین، چلی، کولمبیا، کیوبا، امریکہ، وینزویلا اور آسٹریلیا وغیرہ شامل تھے۔

آزادی صحافت کے نام پر عالم اسلام کے دلوں کو شدید ٹھیس پہنچانے والے یہ کیوں بھول گئے کہ وہ عالمی ادارے جن پر ہمیشہ ان کا قبضہ رہا ہے، انہی کے قائم کردہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو UNESCO کے تحت صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم نے نومبر 1974ء میں ”صحافت کا عالمی ضابطہ اخلاق“ منظور کیا تھا۔ اس کا پہلا نکتہ ہی یہ تھا کہ کوئی صحافی حقائق کو مسخ نہیں کرے گا۔ تیسرا نکتہ یہ تھا کہ کسی فرد، افراد یا کسی مذہبی گروہ کی توہین کرنے کے لیے صحافت کے ذریعے کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا۔ اس کا پانچواں نکتہ یہ تھا کہ ہر صحافی عوامی مفاد کے لیے کام کرے گا۔ بنیادی انسانی حقوق کا ہر وقت خیال رکھے گا۔ لوگوں کے درمیان افہام و تفہیم کو فروغ دے گا۔ عالمی سطح پر دہشت گردی کے پھیلاؤ کے لئے کوئی کوشش نہیں کرے گا۔ سماجی، نسلی اور مذہبی تعصبات اور نفرت کی حوصلہ افزائی ہرگز نہیں کرے گا۔ اقوام

صفحہ ۳۸۷

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

متحدہ کے ان ممبر ممالک کے صحافیوں نے یہ شرپسندانہ خاکہ شائع کر کے اس عالمی صحافتی ضابطہ اخلاق کی شدید خلاف ورزی کی ہے۔ اس خلاف ورزی کا اقوام متحدہ کے ادارے کو ہی سختی سے نوٹس لینا چاہیئے۔

1983ء میں پیرس میں یونیسکو کے تحت چوتھے بین الاقوامی مشاورتی اجلاس کے بعد پیشہ ورانہ صحافت کے جو دس اصول وضع کئے گئے تھے، ان میں تیسرا اصول یہ ہے کہ صحافی ہر حال میں اپنی سماجی ذمہ داری پوری کرے گا۔ چھٹا اصول یہ تھا کہ ہر صحافی کو انسانی وقار کا خیال رکھتے ہوئے تمام انسانوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیئے۔ ان کی شہرت کو زبانی یا تحریری صورت میں نقصان نہیں پہنچانا چاہیئے۔ آٹھواں اصول یہ تھا کہ ایک سچے صحافی کو انسانیت کی آفاقی اقدار کے لئے Stand رہنا چاہیے اور اسے امن، جمہوریت، انسانی حقوق و سماجی ترقی اور قومی آزادی سے بھی مقدم جاننا چاہیئے، جبکہ اسے ہر تہذیب کے امتیازی تقدس کا خیال رکھنا چاہیئے۔ صحافی کو بین الاقوامی تعلقات کی بہتری اور ہم آہنگی کے لئے امن اور انصاف قائم کرنے کے لئے مکالمے اور گفت و شنید کی حمایت کرنی چاہیئے۔ ہر صحافی کو ان امور سے متعلقہ بین الاقوامی معاہدوں، اعلانات اور قراردادوں کے بارے میں باخبر رہنا چاہیے تا کہ ان کی پابندی کی جاسکے۔

اس بین الاقوامی صحافتی ضابطہ اخلاق کا نواں نکتہ یہ تھا کہ ہر صحافی دنیا بھر میں جنگ کے خاتمے اور انسانیت کے درمیان تصادم پیدا کرنے والی تمام برائیوں کو ختم کرنے کے لئے کوشش کرتا رہے گا اور اسے تمام اقوام کے تقدس اور حقوق کا خیال رکھنا چاہیئے۔ اس سلسلے میں اسے نسل، جنس، زبان، قومیت اور مذہب وغیرہ کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں کرنا چاہیئے۔

قارئین! آپ نے ان تمام عالمی صحافتی ضابطہ اخلاق کی روشنی میں جائزہ لے لیا کہ امریکہ اور یورپی اقوام نے اپنے ہی طے کردہ اخلاقی ضابطوں کی دھجیاں کس طرح اڑائی ہیں۔ ان اقوام نے اسلام سے تہذیبی تصادم میں ہر بات بھلا دی ہے اور تعصب و نفرت کی آگ میں سب کچھ جلا کر بھسم کر دیا ہے۔

ضابطہ اخلاق کے بارے میں یہ عمومی تاثر پایا جاتا ہے کہ اس کی خلاف ورزی پر حکومتوں کے پاس سزا دینے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ انگریزی معاصر 'ڈان' میں معروف بھارتی صحافی ایم جے اکبر کا مضمون "The answer is boycott" 17 فروری 2006ء کو شائع ہوا ہے۔ اس میں انٹرنیٹ پر

صفحہ 388

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

مذکورہ ڈنمارک کے پینل کوڈ کے سیکشن 266B کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق اگر کوئی فرد عوامی سطح پر ارادتاً کوئی بیان دیتا ہے یا ایسی کوئی اطلاع دیتا ہے کہ جس میں کسی گروہ یا افراد کو دھمکی دی گئی ہو، ان کی بے عزتی یا توہین کی گئی ہو، یہ اقدام کسی گروہ یا افراد کی نسل، رنگ، قوم، علاقے، عقیدے، یا جنسی حوالے سے ہو، اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کو جرمانہ کیا جائے گا اور اسے دو برس کے لئے قید کیا جائے گا۔ اس سیکشن میں یہ اضافہ ہے کہ اگر کوئی فرد کسی بھی فرد کے عقیدے یا کسی بھی مذہبی کمیونٹی، جو اس ملک میں قانونی طور پر مسلمہ ہے، کی توہین یا بے عزتی کرتا ہے، اس کو جرمانہ اور چار ماہ سے زائد عرصہ قید کی سزا دی جائے گی۔

اس قانون کی موجودگی میں ڈنمارک کے وزیراعظم اینڈرو فوگ رس موسن اپنی بے یاری و مددگاری کا رونا کیسے رو سکتے ہیں۔ انھیں روئے زمین پر رہنے والے 150 کروڑ سے زائد مسلمانوں کے عقیدے اور جذبات کا لازماً احترام کرنا اور کروانا چاہیے۔ آخر تین سال قبل ڈنمارک کا وہی اخبار حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں توہین آمیز مواد شائع کرنے سے کیوں رک گیا تھا؟ ان ملکوں میں ہولوکاسٹ کے بارے میں بات کرنے والے کو جیل میں ڈالنے کا قانون کیوں رائج ہے؟

اخبار Jyllands Posten کا متعصب ایڈیٹر فلیمنگ روز اگر اپنی اس ہرزہ سرائی اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر معافی مانگنے کو تیار نہیں ہے تو اسے صحافت کی بجائے کوئی اور پیشہ اختیار کر لینا چاہیے۔ اس کے بقول اگر یہ تہذیبوں کی بجائے ثقافتوں کی جنگ ہے تو اس کی اس مذموم حرکت سے پورے عالم اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کی تمام مہذب قوموں کو اس کی اس گستاخانہ اور کروڑوں انسانوں کی دل آزاری کرنے والی ثقافت سے بہت زیادہ نفرت ہو چکی ہے۔ فلیمنگ روز ایسی گھٹیا حرکات کر کے خود کو اپنے پہلے سے تباہ شدہ اور ہر اخلاق سے عاری اور بدبودار ثقافت بہت جلد دنیا بھر میں شدید نفرت کی علامت بنا دے گا۔ انشاء اللہ!

صفحہ ۳۸۹

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

ہولوکاسٹ اور آزادی اظہار

اوریا مقبول جان

واشنگٹن امریکہ کا دارالحکومت ہے لیکن جہاں اس شہر میں دنیا کی اس سپر پاور کی دعویدار مملکت کے تمام بڑے ادارے موجود ہیں یہ شہر اپنے بڑے بڑے عجائب گھروں کی وجہ سے بھی مشہور ہے یہ عجائب گھر ایک فرانسیسی نواب کے ایسے بیٹے نے بنائے تھے جسے وہ دنیا کے سامنے اپنا بیٹا تسلیم نہیں کرتا تھا کیونکہ وہ ایک خفیہ شادی کا نتیجہ تھا۔ اس بیٹے نے مفلوک الحالی میں امریکہ میں قسمت آزمائی کی اور اپنا نام Smith's Son یعنی سمتھ کا بیٹا رکھا اس کی جائیداد سے طرح طرح کے عجائب گھر بنے بڑے ڈائنو سار کے ڈھانچوں کا میوزیم، دنیا کے پہلے جہاز سے خلائی شٹل تک کا میوزیم، بڑی بڑی قیمتی پینٹنگز کا میوزیم لیکن اس کے مرنے کے بعد ان اداروں پر امریکہ کے یہودی چھا گئے اور انہوں نے اسے جنگ عظیم دوم میں مرنے والے یہودیوں کی یادگار کے طور پر ایک ہولوکاسٹ میوزیم بنا دیا۔ اس میوزیم اور دنیا بھر کے میڈیا کے ذریعے انہوں نے یہ شدید پراپیگنڈہ کیا کہ اس جنگ میں مغرب نے 60 لاکھ یہودیوں کو مارا تھا۔ فلمیں بنیں کتابیں لکھی گئیں مضمون اور پمفلٹ شائع ہوئے اور امریکہ کی ریاست پر قبضے کی وجہ سے پورے یورپ کو مطعون کیا گیا۔ ان کے عوام اور رہنماؤں کو قصابوں سے تعبیر کیا گیا۔

ہولوکاسٹ کے مرنے والے یہودیوں کو اس قدر مقدس درجہ حاصل ہو گیا کہ ان کے خلاف بات کرنے والا، ان کی چالاکیوں، نمک حرامیوں اور اپنے ہی ملک سے غداری کے بارے میں گفتگو کرنے والے کو نفرت پھیلانے والا قرار دے کر قابل تعزیر بنا دیا گیا۔ وہ لوگ جنہوں نے یورپ امریکہ اور کینیڈا میں ان یہودیوں کی عیاری کا پردہ چاک کرنے کی کوشش کی ان کا جو حشر ہوا وہ ایک لمبی داستان ہے۔ میں یہاں صرف ان لوگوں میں سے چند ایک کا ذکر کروں گا جنھوں نے صرف اتنا زبان سے یا قلم سے نکالا کہ یہودیوں نے جو 60 لاکھ تعداد بتائی ہے وہ غلط ہے۔ بلکہ مرنے والوں کی تعداد تو چند لاکھ سے

صفحہ ٣٩٠

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

بھی زیادہ نہیں ہے۔ بعض نے تو صرف اس طرف اشارہ ہی کیا تھا۔ ان سب کو نفرت پھیلانے کے جرم میں سزائیں بھگتنا پڑیں۔

کینیڈا میں میلکم روس، ڈوگ کولنز، ارنسٹ زنڈل کو پریس میں سب سے پہلے ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور پھر ان کو عدالتوں میں گھسیٹا گیا ان کی جائیدادیں ضبط کر لی گئیں۔ اور انہیں معاشرے میں نفرت پھیلانے کے جرم میں در بدر ہونا پڑا۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ ثابت کیا جائے کہ کہاں ساٹھ لاکھ یہودی مرے تھے۔

ان میں سے دو ارنسٹ زنڈل اور گریمر روڈلف امریکہ چلے گئے لیکن کچھ عرصے بعد ان دونوں کو امریکہ نے اپنے ملک سے نکال کر جرمنی کے حوالے کر دیا۔ جہاں وہ آج کل نفرت پھیلانے کے جرم میں مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ آسٹریا وہ ملک ہے جہاں اسی ہولو کاسٹ کے خلاف بات کرنا جرم ہے وہاں ان کے ایک مشہور صحافی ڈیوڈ ارونگ کو گزشتہ دنوں گرفتار کر لیا گیا کیونکہ وہ اپنی تحریر سے یہودیوں کے اس پراپیگنڈے کو غلط ثابت کر رہا تھا بلجیم کا ایک اور لکھنے والا سیک فرانک بک ایسی ہی تحریریں لکھ رہا تھا کہ اسے ہالینڈ کی حکومت نے گرفتار کیا اور آج کل وہ جرمنی کی عدالت میں پیش ہونے کے لئے ہالینڈ بدر کا انتظار کر رہا ہے۔ وہ جرمن شہری بھی نہیں لیکن اس کے عالمی وارنٹ جرمن عدالت نے جاری کئے ہیں۔ صرف قانونی کاروائی کی بات نہیں 19 ستمبر 2005ء کو بلجیم کے ایسے ہی ایک لکھنے والے ویسینٹ ریونارڈ کے گھر میں پولیس گھس گئی۔ پورے گھر کو توڑ پھوڑ دیا۔ اسے گرفتار کر لیا گیا اور کہا گیا کہ اسے تب رہا کیا جائے گا جب وہ پاگلوں کے ڈاکٹر سے معائنہ کروائے اور یہودیوں کے ہولو کاسٹ کے خلاف لکھنا اور بولنا بند کر دے۔

یہ سب تو ان ممالک میں ہوا ہے جو آج سرکار دو عالم ﷺ کے توہین آمیز کارٹون چھاپنے پر پریس کی آزادی کا بہانہ بناتے ہوئے کاروائی سے انکار کر رہے ہیں۔ لیکن اس دنیا کے چہرے پر ایک اور طمانچے کا ذکر دوں 19 جون 2004 کو اسرائیل کی کینسٹ یعنی پارلیمنٹ نے حکومت کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ دنیا میں کہیں بھی کسی جگہ بھی کوئی شخص اگر ساٹھ لاکھ کی تعداد کم بتانے کی کوشش کرے تو اس پر مقدمہ چلا سکتی ہے۔ اور اس ملک سے نفرت مجرم Hate Criminal کے طور پر مانگ سکتی ہے۔ گرفتار کر سکتی

صفحہ ۳۹۱

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

ہے۔ سزا دے سکتی ہے۔ یعنی اس وقت جو لکھنے والے جرمنی اور آسٹریا کی عدالتوں میں مقدموں کا سامنا کر رہے ہیں وہ کل اسرائیل کی درخواست پر اس کی جیل میں ہوں گے۔ نفرت پھیلانے والی سزا صرف ان لکھنے والوں کو دی جاتی ہے جو یہودیوں کے خلاف لکھتے ہیں۔

یہ تفصیل اس قدر طویل ہے اور کئی سالوں پر پھیلی ہوئی ہے لیکن صرف اس لیے پیش کر رہا ہوں کہ صرف جنگ میں اپنے ہی ملک سے غداری کے جرم میں اور اپنی عیاریوں کی وجہ سے سزا پانے والے یہودی اتنے مقدس ہیں کہ ان کی تعداد کم کرنے پر نفرت پھیلتی ہے تو وہ قوم جس کے لوگوں کی زندگیوں کا سرمایہ ہی عشق رسول ﷺ ہے جو اپنی جان و مال عزت آبرو، اولاد اور ماں باپ سے زیادہ ان سے محبت کرتی ہے اس کی توہین نفرت پھیلانے کے جرم میں نہیں آتی۔ کاش کوئی حکمران کوئی لیڈر کوئی صاحب اقتدار دنیا بھر کے میڈیا کے سامنے بتائے کہ جس نے کارٹون چھاپے اسے اسی قانون کے تحت سزا دو ورنہ تم ہم سے اجنبی، بیگانے، کاش کوئی پارلیمنٹ سڑک پر نکلنے سے پہلے اسرائیل کی طرح یہ بل منظور کرے کہ توہین رسالت کا مجرم خواہ امریکہ میں ہو یا ڈنمارک میں اسے ہمارے حوالے کرو اس بل کو پاس کرنے کے لئے صرف ایک ووٹ چاہئے لیکن ووٹ کو ڈالنے کے لئے غیرت و ہمت اور جرأت ہی نہیں عشق رسول ﷺ کی دولت بھی ضروری ہے اور اسی میں ہماری آبرو کا راز پوشیدہ ہے۔

صفحہ ۳۹۲

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

آزادی اظہار کی حدود و قیود

ابوطلحہ عثمان

انجم نیازی نے کیا خوب کہا ہے:

ترے باغی، ترے شاتم بشر اچھے نہیں لگتے
تیرا سایہ نہ ہو جن پر وہ سر اچھے نہیں لگتے
تیرے اصحاب سے مجھ کو محبت کیوں نہ ہو آقا
کے اونچے، گھنے، ٹھنڈے شجر اچھے نہیں لگتے

"اللہ فرشتوں میں سے اپنے رسول (پیغام پہنچانے والے) چن لیتا ہے اور انسانوں میں سے بھی رسول چن لیتا ہے۔"

یہ اعلان خالق کائنات اللہ رب العالمین کا ہے یعنی جیسا اللہ کا پیغام پاک اسی طرح اس کی مخلوق فرشتے بھی پاک اور انسانوں کی طرف انسانوں میں سے اللہ کے منتخب کردہ رسول علیہم السلام بھی ہر عیب سے پاک اور معصوم ...... جب یہ بات ہے تو رسولوں کی طرف انگلی اٹھانا اور بری نیت سے دل اور زبان پر حرف تنقید لانا بھی نا قابل معافی جرم ......

آزادی اظہار کے عنوان سے سیدنا آدم علیہ السلام پر تنقید سب سے پہلے ابلیس نے کی تھی اللہ کے منتخب بندے اور نبی پر تنقید نا قابل معافی جرم تھا، ابلیس کو سمجھایا گیا مگر صرف اپنی ضد پر اڑا رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اسے نشان عبرت بنا دیا گیا۔ اس کے ہزاروں سجدے اور عمر بھر کی عبادت اکارت ہو گئی۔ قرب خدا وندی کی سعادت سے محروم ہوا اور

؎ بہ زندان لعنت گرفتار کرد
صفحہ ۳۹۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

اللہ پاک کسی پر ظلم نہیں کرتا مگر لوگ خود اپنے پر ظلم کرتے ہیں اللہ تو نبیوں کو رحمت بنا کر بھیجتے ہیں وہ آ کر دنیوی لذات و خواہشات میں الجھے انسانوں کو ابدی نعمتوں اور آسائشوں کی نشاندہی کرتے ہیں پھر عجیب بات ہے کہ نبیوں کے جسم و جان پر بھی حملے ہوئے اور اخلاقی تنقید بھی کی گئی۔ قرآن مجید گواہ ہے کہ بیشمار نبیوں کو بے جرم شہید کیا گیا اور یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ سزا اور عذاب اس شخص کو ہو گا جس نے کسی نبی کو شہید کیا یا جو نبی کے ہاتھوں قتل ہوا یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام نے ہمیشہ کوشش کی کہ کوئی شخص جہاد کے دوران بھی ان کے ہاتھ سے قتل نہ ہو۔ ہاں ایک دو بدبختوں نے ہمارے نبی رحمت اللعالمین کو چیلنج کیا تھا تو پھر نبی چونکہ بزدل نہیں ہوتا، بہادر ہوتا ہے لہٰذا ہمارے نبی نے جواب میں فرمایا ”تو میرے ہی ہاتھوں سے قتل ہوگا ۔“ پھر نبی کے ہاتھ کا نیزہ ہلکی سی خراش دیتے ہوئے اس کافر کے جسم کے پاس سے نکل گیا مگر وہ چیختے چلاتے ہوئے تھوڑی دور جا کر جہنم رسید ہو گیا۔

میں کہہ رہا تھا کہ نبیوں پر جسمانی تکالیف بھی آئیں ان پر حملے کیے گئے، جن کا ذکر اللہ پاک نے اپنے ازلی ابدی کلام قرآن پاک میں کیا ہے۔ نبیوں کو جادوگر ، دیوانہ وغیرہ کہا گیا اللہ نے اس کا ذکر بھی کیا ہے مگر اس کے بدلے میں اللہ پاک نے سخت عذاب کے فیصلے کے باوجود ان کو برا بھلا نہیں کہا جبکہ نبیوں پر اخلاقی الزام اور گالی اللہ پاک نے کبھی گوارا نہیں فرمائی اور ”اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے“ والا معاملہ فرمایا ہے۔ صرف ایک دو مثالیں پیش کرتا ہوں ۔

مثلاً قرآن مجید نے کئی مقامات پر بنی اسرائیل اور اہل باطل کے نبیوں کو شہید کرنے کا ذکر فرمایا ہے۔ مگر جب قارون نے زکوٰۃ دینے سے بچنے کے لئے ایک بدکار عورت سے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بھری مجلس میں اخلاقی الزام لگوایا تو جواباً ”خسفنا بہ الارض“ (ہم نے اسے زمین میں دھنسا دیا) ا کر کے دکھا دیا اور اس کے اس کہنے پر کہ اچھا تم میرا خزانہ لوٹنا چاہتے ہو، اس کا خزانوں بھرا گھر بھی اس کے سر پر رکھ دیا گیا ..... نبی آخر الزماں سیدنا محمد رسول ﷺ کو ان کے قریب ترین رشتے دار کہ بہ فرمانِ نبوی ” چچا باپ کی جگہ ہے“ مگر اسی چچا نے جب گالی دی تو جواب میں رحمت اللعالمین نے صبر کیا مگر خالقِ رحمت نے اس آزادی اظہار کو برداشت نہ کیا۔ وہی الفاظ بہت کچھ اضافے کے ساتھ اس کے منہ پر دے مارے اور اس کاروائی کو قرآن مقدس کی ایک سورۃ بنا کر ہمیشہ کے لئے محفوظ فرما دیا اور یہ کہ جو کوئی

صفحہ ۳۹۴

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

باقی قرآن مجید کی طرح اس سورۃ کو پڑھئے گا، اسے ہزاروں نیکیاں ملتی رہیں گی۔ یہ عصمت انبیاء اور غیرت الہی کا تقاضا تھا، اسی طرح سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی عصمت کی حفاظت کے لئے ان کے ہزاروں لاکھوں صحابہ کی حفاظت یعنی اخلاق و کردار کی بلندی کا حصار بھی اللہ نے ضروری سمجھا۔ نبی پاک ﷺ کے الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے مجھے چن لیا اور میری خاطر میرے صحابہ کو چن لیا پھر ان کو میرے انصار و مددگار اور (بعض کو) میرے اصہار بنا دیا کما قال علیہ السلام ۔

حضرات صحابہ کو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ معزز ترین صحابی سے لے کر ایک عام صحابی تک (اگرچہ بحیثیت صحابہ جیسے سب بلند شان اور برابر ہیں مگر درجات میں فرق ہے جیسے انبیاء بحیثیت نبی سب برابر بلند مرتبت والے ہیں مگر درجات نبوت میں بعض کو بعض پر فضیلت ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ سید الرسل اور امام الانبیاء ہیں) تمام صحابہ رضی اللہ عنہ اخلاقی کوتاہیوں سے پاک اور محفوظ قرار دیے گئے بلکہ اللہ نے فرما دیا کہ ان جیسا ایمان لاؤ گے تو قبول ہوگا، ایمان اور ہدایت کا معیار یہی اصحاب رسول ہیں۔ پھر جب معلوم ہو گیا کہ یہ حضرت صحابہ بہ فرمان نبوی ہدایت یافتہ لوگ ہیں تو آزادی اظہار یہاں بھی اللہ کو گوارا نہ ہوا خصوصاً اخلاق و کردار کی بات حتی کہ طنز بھی برداشت نہیں۔ لوگوں سے کہا گیا کہ یہ معیاری لوگ ہیں۔ ان کی طرح ایمان لاؤ گے تو مقبولان بارگاہ الہی بن جاؤ گے۔ انہوں نے فوراً اپنے بغض باطن، بدنصیبی کا اظہار کیا ”ہم لوگوں کی طرح ایمان لائیں جو بیوقوف ہیں، ان میں عقل نہیں، انہوں نے گھر بار چھوڑا، مال اولاد چھوڑے مکہ مکرمہ جیسا مقدس و عزیز وطن چھوڑا کیا ہم ان کی طرح ایمان لائیں“ حضرات صحابہ کو بات پہنچی، جبر و برداشت سے کام لیا، جبریل امین قرآن لے کر پہنچ گئے۔ وہ قرآن کیا تھا۔ جو الفاظ طنز و تنقید کے منافقین مدینہ نے استعمال کیے تھے وہ الفاظ کئی گنا اضافے کے ساتھ ان کے منہ پر مار دیئے گئے تھے پھر جن لوگوں کو صحابہ پر تنقید سے توبہ کی توفیق نہ ہوئی ان کو جہنم کا ایندھن بنا دیا گیا۔

آزادی اظہار تو اچھی بات ہے مگر اس کی اخلاقی حدود بھی تو ہوتی ہیں جو کوئی ان حدود و قیود کو توڑ ڈالتا ہے اس کا انجام بخیر نہیں ہوتا۔ اللہ کی طرف سے بھی فوراً بدلہ لیا جاتا ہے۔ زندگی کی کچھ گھڑیاں بقایا ہوں تو گزران تنگ کر دی جاتی ہے۔ نبی پاک ﷺ نے بھی اللہ کی اس سنت کو جاری کیا اور کل سترہ (۱۷) آدمیوں کو قتل کر دیے جانے کے لئے نامزد کر دیا جن میں سے ایک کعب بن اشرف یہودی تھا۔ ان

صفحہ ۳۹۵

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

سترہ لوگوں کا قصور یہی تھا کہ آزادی اظہار میں تمام حدود کو پار کر گئے تھے۔ لہٰذا رحمت اللعالمین کی رحمت کی برسات سے محروم ہو گئے۔ ان لوگوں نے رسول مقبول ﷺ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کیا تھا۔

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ خلیفہ رسول بلافصل رحمت عالم کی نیابت میں ان کے منبر پر تشریف فرما تھے۔ اطلاع ملی کہ یمن کے گورنر حضرت مہاجر رضی اللہ عنہ نے دو عورتوں کے ہاتھ قلم کروا دیے اور ان میں سے ایک کے دانت بھی تڑوا دیے ہیں۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ دونوں گانے والی کم ظرف عورتیں مسلمانوں کی ہجو میں اشعار پڑھتی تھیں اور دوسری نے تو رسول مقبول ﷺ کی بارگاہ اقدس میں بھی گستاخی کر ڈالی تھی۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے گورنر اسلام کے اس فیصلے کو غلط قرار دیا اور فرمایا جو عورت نبی پاک ﷺ کی ہجو کرتی تھی اس کی گردن اڑا دینی چاہیے تھی اور دوسری جو عام مسلمانوں کو برا کہتی تھی اسے تعزیراً زجر و توبیخ کر دی جاتی۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ایام خلافت میں نصرانی اکثریت والے کسی شہر میں جو عیسائیوں کی حکومت میں تھا کسی نصرانی جرنیل نے کسی مسلمان کو تھپڑ مار دیا تھا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے سپاہی بھیج کر اس نصرانی جرنیل کو پکڑوایا اور اس مسلمان کو بلوا کر اسے تھپڑ لگوایا پھر فرمایا اس عیسائی کو اس کے شہر میں چھوڑ آؤ اور وہاں اگر ان لوگوں نے پھر اس قسم کی کوئی حرکت کی تو اس کا جواب اسی طرح دیا جائے گا۔

عباسی خلیفہ معتصم باللہ کے زمانہ میں بھی ایسا ہوا کہ کسی نصرانی متکبر شخص نے ایک غریب مسلمان خاتون کی بے عزتی کر دی۔ بیچاری غریب عورت کچھ نہ کر سکی مگر آسمان کی طرف منہ کر کے فریاد کناں ہوئی اور خلیفہ کا نام لے کر اس کے منہ سے نکلا ہائے معتصم، نصرانی لوگ اس غریب عورت کا مذاق اڑانے لگے مگر معتصم باللہ نے سب پروگرام چھوڑ چھاڑ لشکر جرار لے کر عموریہ شہر پر چڑھائی کر دی۔ سچے اسلامی جذبے کے سامنے کب کوئی ٹھہر سکا ہے۔ شہر فتح ہو گیا۔ معتصم باللہ نے اس متکبر نصرانی کو گرفتار کروایا اور مظلوم خاتون کو بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ لایا گیا، وہ متکبر نصرانی زمین پر گر کر معافی مانگنے لگا۔ خاتون نے کھلے دل سے معاف کر دیا تو اسے چھوڑ دیا گیا۔

آج بات ڈنمارک اور ناروے کی نہیں، اصل تو تمام یہود و نصاریٰ کی کھٹک ہی اسلام اور رسول اسلام کا

صفحہ ۳۹۶

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ آٹھواں باب

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ مغرب کی آزادی اظہار

بغض ہے جو ان کے منہ سے (اور ہاتھوں سے ) ٹپک پڑتا ہے اور جو ان کے سینوں (اور دلوں) میں ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے بات غیرت مسلم کی ہے اس وقت مسلمان غیور تھے آج مجبور و مقہور ہیں۔

غیرت ہے بڑی چیز میدان تگ و دو میں
پہناتی ہے درویش کو تاج سر دارا

آج کا بددین اور دین دشمن یہودی نصرانی بارگاہ رسالت مآب ﷺ یا اصحاب رسول کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے اور مسلمان جوان مطالبہ کرتا ہے کہ وہ معافی مانگے۔ ان کا علاج یہ ہرگز نہیں۔

کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

ان کا علاج وہی ہے جو اللہ نے گستاخ بیت اللہ ، ابرہہ کا اور گستاخ رسول ابولہب کا کیا۔ ان کا علاج وہی ہے جو ستر نامرد کافروں کا رسول اللہ نے کیا، ان کا علاج وہی ہے جو سیدنا صدیق اکبر خلیفہ رسول اللہ ﷺ نے گانے والی گستاخ رسول عورت کا کیا اور ان کا علاج وہی ہے جو غازی علم الدین شہید نے سمجھا اور کیا

ے یارب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے

ماخذات

صفحہ ٣٩٧

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

آٹھواں باب

تہذیبوں کا تصادم

توہین آمیز خاکے صلیبی بغض اور تہذیبی تصادم کا عملی اظہار تھے یا وقتی جوش و ابال، مسلم حکمران اور روشن خیال دانشور اس قسم کے کسی بھی تصادم کے سرے سے انکاری ہیں۔ آئیے آپ ان تحریروں اور ان میں اٹھائے گئے مضبوط، محکم اور ٹھوس دلائل اور نکات کو پڑھیئے اور رائے قائم کیجئے کہ عسکری، فکری، نظریاتی اور اس تہذیبی جنگ میں کون سنگ بار ہے اور کون شکار؟ اور دیکھئے کہ یہ جنگ یک طرفہ ہے یا دوطرفہ؟ کون اس جنگ میں مغرب کا پارٹنر اور ایجنٹ ہے اور کون مد مقابل اور ہدف۔ ہمہ جہت تہذیبی تصادم کے شروع ہو جانے کا چیخ چیخ کر اعلان کرتے چند فکر انگیز مضامین۔

مزید فوائد:

کے معاون روبوٹ (٣) مغرب کی انتہا پسندی کی چند جھلکیاں

الگ الگ ہونے کا مغالطہ (٦) تہذیبی مفاہمت کا واحد حل

صفحہ ۳۹۸

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

جنگ تو شروع ہے!

عرفان صدیقی

وزیر اعظم شوکت عزیز نے ڈنمارک اور متعدد دوسرے یورپی ممالک کے اخبارات میں شائع ہونے والے توہین آمیز خاکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی حرکتوں سے تہذیبوں کے درمیان جنگ چھڑ سکتی ہے۔ تو کیا یہ جنگ شروع نہیں ہوئی!

کیا امریکہ کی سربراہی اور یورپ کی معاونت سے ”دہشت گردی“ کے خلاف لڑی جانے والی بے ننگ و نام جنگ جسے بش نے ”کروسیڈ“ کا نام دیا تھا، ایک مخصوص تہذیب کی ایک مخصوص تہذیب پر یلغار نہیں؟ نائن الیون کے بعد سے اب تک کے ماہ و سال اور شب و روز کے زاویے بنا کر جائزہ لیجئے اور بتائیے کہ اس جنگ کے لشکروں کا رخ کن بستیوں کی طرف ہے؟ کن خاک نشینوں کے سینے چھلنی ہو رہے ہیں؟ کن کے بچوں کی اعضاء بریدہ لاشیں دشت لیلیٰ کی آگ کا ایندھن بن گئی ہیں۔ فلوجہ کی گلیاں کس کے لہو میں نہلا دی گئیں؟ کنٹینروں میں بند کر کے شہید کر دیئے جانے والوں کا تعلق کس قبیلے سے تھا؟ گھروں سے اٹھا کر لاپتہ کر دیئے جانے والوں کا نام و نسب کیا تھا؟ گھنی ڈاڑھیوں، بھاری پگڑیوں اور لمبی عباؤں والی مخلوق کس سے رشتہ و پیوند رکھتی تھی؟ گوانتاناموبے کے چڑیا گھر کے پنجرے کن جھیلوں سے آئے پرندوں سے آباد ہیں۔ ابوغریب جیل کی دیواروں سے سر ٹکراتی اور کسی محمد بن قاسم کو پکارتی فاطمہ اور نور کا شجرۂ نسب کیا تھا؟ پاکستان کی عفت مآب بیٹی عافیہ صدیقی کس کے آنگن کا پھول تھی؟ کیا ابھی تہذیبوں کی جنگ شروع نہیں ہوئی؟

دنیا کے پانچ ارب انسانوں میں سے کسی ایک کا نام لیجئے جو نائن الیون کے بعد ”دہشت گردی“ کے خلاف جنگ کی زد میں آیا ہو اور وہ غیر مسلم ہو؟ ابوغریب گوانتاناموبے، قندھار، بگرام اور دنیا بھر میں پھیلی عقوبت گاہوں میں اذیتیں سہتے کسی ایک شخص کا نام بتائیے جو محمد عربی ﷺ کا کلمہ نہ پڑھتا

صفحہ ۳۹۹

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

ہو؟ امریکی بموں اور میزائلوں کے بھینٹ چڑھ جانے والوں میں سے کسی ایک کا نام لیجئے جس کا سینہ کلمہ توحید سے منور نہ ہو؟ کھنڈر ہو جانے والی کسی ایک بستی کا نام لیجئے جہاں پانچ وقت اللہ اکبر کی صدا بلند نہ ہوتی ہو؟ دہشت گرد قرار پانے اور پابندیوں میں جکڑی جانے والی کسی ایک تنظیم کا نام لیجئے جس کا رشتہ اسلام اور مسلمانوں سے نہ جڑتا ہو؟ منجمد ہو جانے والے اکاؤنٹس کے کسی ایک کھاتہ دار کا نام بتائیے جو مسلمان نہ ہو؟ دہشت گردی کے الزام میں مقدمات بھگتنے اور سزائیں پانے والوں میں کسی ایک کی نشاندہی کیجئے جو کلمہ گو نہ ہو؟ کروڑوں ڈالر قیمت رکھنے والے کسی ایک سر کا حوالہ دیجئے جو کسی مسلمان کے دھڑ پر نہ رکھا ہو۔

کیا اب بھی شک ہے کہ تہذیبوں کی جنگ شروع نہیں ہوئی؟

چیچنیا کے جانبازوں کے پرخچے اڑانے کے باوجود روس اس لیے معصوم ہے کہ بہنے والا لہو مسلمانوں کا ہے۔ اہل کشمیر کے سینے چھلنی کرنے کے باوجود بھارت اس لئے آنکھ کا تارا ہے کہ خاک و خوں میں تڑپتی لاشیں مسلمانوں کی ہیں۔ فلسطینیوں پر آگ اور بارود برسانے والا اسرائیل اس لئے دل کا سرور ہے کہ رزق خاک ہو جانے والوں کی رگوں میں دوڑتے لہو سے بوئے حجاز آتی ہے۔

بلاشبہ جنگ شروع ہے۔۔۔۔ لیکن یہ جنگ یک طرفہ ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اہل حرم کفر کی عسکری، فکری، نظریاتی اور تہذیبی یلغار کے چرکے کھا رہے ہیں، مسئلہ یہ بھی ہے کہ انہیں ابھی تک اس جنگ کے شروع ہونے کا اندازہ ہی نہیں ہوا۔ اور سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ رضا کارانہ خوش دلی کے ساتھ دشمن کی سپاہ کا حصہ بنے اپنے ہی قلعوں کی فصیلوں پر ضربیں لگا رہے ہیں۔

صفحہ 400

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

یورپی پارلیمنٹ میں صلیبی جنگ کی بازگشت

محسن فارانی

یورپی پارلیمنٹ کے ارکان نے یورپ اور اسلامی دنیا میں پیغمبر اسلام کے بارے میں چھپنے والے متنازع خاکوں کے خلاف ہونے والے پُر تشدد مظاہروں کی مذمت کی ہے اور ڈنمارک کے ساتھ ”یکجہتی“ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین کے رکن کسی بھی ملک پر حملہ سب پر حملے کے مترادف سمجھا جائے گا۔ یورپی کمیشن کے صدر جوز مینوئل بروسو نے دھمکی دی کہ ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ پورے یورپ کے بائیکاٹ کے برابر خیال کیا جائے گا۔

توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والوں کے ساتھ اس ”اظہار یکجہتی“ سے اب اس امر میں کوئی شک وشبہ نہیں رہنا چاہئے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نئی صلیبی جنگ پوری شدومد سے جاری ہے، جس کا اعلان امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے افغانستان پر حملے کے ساتھ ہی صدر بش کی زبان سے ”کروسیڈ“ کی شکل میں کیا گیا تھا۔ اس کے بعد جھوٹے اور شرمناک بہانوں کی بناء پر عراق پر ظالمانہ فوجی تسلط ہوا، امریکہ و اسرائیل کی طرف سے ایران پر حملے کی دھمکیاں دی جانے لگیں اور اب توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے مغربی اخبارات و جرائد نے نبی کریمؐ کے خاکے شائع کر کے کوفی عنان کے الفاظ میں مسلمانان عالم کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے۔

مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگوں کا آغاز گیارہویں صدی عیسوی کے اواخر میں ہوا تھا۔ 1099ء میں یورپ کے وحشی صلیبی لشکر شام، لبنان اور فلسطین میں تباہی مچاتے ہوئے بیت المقدس پر آن قابض ہوئے تھے۔ حضرت عیسیٰؑ کے نام لیوا ان درندوں نے بیت المقدس میں 70 ہزار نہتے مسلمان شہید کردیئے، مسجد اقصیٰ اور حرم شریف کا احاطہ پناہ گزین مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کی لاشوں سے پٹ گیا تھا، حتیٰ کہ بیت المقدس کے بازاروں میں اس قدر خون بہایا گیا تھا کہ ایک صلیبی جنگجو کے بقول ان

صفحہ ۴۰۱

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

کے گھوڑوں کے پاؤں ٹخنوں سے اوپر تک انسانی خون میں ڈوبے جاتے تھے۔ پھر 1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو صلیبیوں سے آزاد کرا لیا، جنہوں نے مسجد اقصیٰ اور قبۃ الصخرہ کو گرجے میں بدل دیا تھا۔ اس نے عیسائیوں کو پُر امن طور پر شہر چھوڑ جانے کی اجازت دی۔ پھر انگلستان کا شاہ رچرڈ، فرانس کا شاہ ہنری اور جرمنی کا شاہ فریڈرک بیت المقدس کو مسلمانوں سے واپس لینے کے لئے اپنے لشکروں کے ساتھ چڑھ دوڑے تھے۔ اس طرح تیسری صلیبی جنگ چھڑی تھی، جس کے دوران میں فریڈرک شام کا ایک دریا عبور کرتے ہوئے ڈوب مرا۔ ہنری خائب و خاسر ہو کر لوٹ گیا اور رچرڈ شکست کھا کر سلطان صلاح الدین ایوبی سے صلح کرنے پر مجبور ہو گیا، حتیٰ کہ اس نے صلاح الدین کے بھائی ملک العادل کو اپنی بہن جولیانہ کا رشتہ دینے کی پیشکش بھی کر دی تھی، جو سلطان نے مسترد کر دی۔

صلاح الدین ایوبی کے بعد بھی یورپ کی صلیبی جنگیں ایک صدی تک جاری رہیں، حتیٰ کہ دریائے نیل کی جنگ کے دوران میں فرانسیسی بادشاہ کو مصری سلطان نے گرفتار کر لیا تھا اور پھر اسے بھاری تاوان کے عوض رہا کیا گیا تھا۔ آخری صلیبی جنگوں میں مصری سلاطین رکن الدین بیبرس اور سیف الدین قلاوون نے صلیبی وحشیوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا تھا۔

اگرچہ 1291ء میں دسویں صلیبی جنگ کے اختتام سے بیت المقدس (یروشلم) کی بازیافت کے حوالے سے صلیبی جنگوں کا سلسلہ تو ختم ہو گیا تھا، لیکن سپین اور وسطی یورپ میں صلیبی جنگیں دوسری شکل میں جاری رہیں۔ 1236ء میں قرطبہ اور 1249ء میں اشبیلیہ مسلمانوں کے ہاتھ سے چھن گئے تھے، پھر 1492ء میں مسلمانانِ اندلس کا آخری حصار غرناطہ عیسائیوں کے تسلط میں چلا گیا اور اگلی ایک صدی میں جنونی پادریوں کی نگرانی میں سپین (اندلس) سے مسلمانوں کا صفایا کر دیا گیا۔ اس دوران میں عثمانی ترک کوسوو، بوسنیا اور سربیا (1389ء)، قسطنطنیہ (1453ء)، یونان (1468ء) اور بلغاریہ، رومانیہ، البانیہ اور ہنگری پر قابض ہو گئے اور انہوں نے بار بار یورپ کے بڑے بڑے صلیبی عساکر کو شکستیں دیں، جن کے نتیجے میں ترکوں کا نام ہی یورپ کے لئے ہوا بن گیا اور یورپی مسیحی، مسلمانوں کو ”ترک“ ہی کہنے لگے، تاہم یورپ کا مرکزی شہر وی آنا (آسٹریا) ترکوں کے دو تین بار کے محاصرے کے باوجود فتح نہ ہو سکا، حتیٰ کہ ویانا کا آخری محاصرہ (1686ء) بھی ناکام رہا۔

صفحہ 402

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

اٹھارہویں صدی عیسوی کے اواخر میں ترکوں کی پسپائی کا آغاز ہوا اور یکے بعد دیگرے یورپ کے مقبوضہ ممالک ان کے ہاتھ سے جاتے رہے۔ چیچنیا، یونان، رومانیہ، کریمیا، بلغاریہ، بوسنیا، ہرزیگووینا، سربیا، مونٹی نیگرو اور البانیہ سوا صدی کے عرصے میں ترکوں سے چھن گئے، بلکہ ہندوستان، ترکستان، مصر، قبرص، لیبیا، سوڈان، تیونس، الجزائر، کویت، بحرین، یمن اور عمان اور مغربی و مشرقی افریقہ کے مسلم ممالک بھی یورپی استعماری طاقتوں نے ہتھیا لئے۔ آخر کار پہلی جنگ عظیم (1914-18ء) کے دوران میں فلسطین، شام، اردن، لبنان اور عراق بھی صلیبیوں کے تسلط میں چلے گئے، حتیٰ کہ انگریز فاتح جرنیل ایلن بی نے بیت المقدس میں داخل ہو کر نعرہ مارا: ”میں آخری صلیبی ہوں“۔ اس کا مفہوم یہ تھا کہ اس نے آخری صلیبی جنگ جیت لی ہے۔

لیکن نہیں، صلیبی جنگوں کا تسلسل آج بھی جاری ہے۔ اکیسویں صدی کی صلیبی جنگ جارج واکر بش اور ٹونی بلیئر نے چھیڑ رکھی ہے۔ یہ دونوں شاطر رچرڈ اور جنرل ایلن بی کے وارث ہیں اور پورے صلیبی جوش و جذبے سے عالم اسلام کے خلاف مصروف پیکار ہیں۔ عالم اسلام کے حکمران بھی نام نہاد دہشت گردی کے نام پر لڑی جانے والی صلیبی جنگ میں آئمہ کفر کے اجیر بن گئے ہیں اور تو اور عالم اسلام کی واحد ”ایٹمی طاقت“ بھی واشنگٹن کی ظالمانہ خواہشات پر سر تسلیم خم کر چکی ہے۔

یہ بش و بلیئر کی صلیبی جنگ کا شاخسانہ ہی ہے کہ یورپ توہین رسالت کا ارتکاب کر کے عالم اسلام کی اجتماعی قوت اور غیرت کو للکار رہا ہے۔ سب سے پہلے توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے ملک ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔ یورپی پارلیمنٹ کے مذکورہ اجلاس میں جب صدر آسٹریا ہانز فشر نے ”کسی مذہب کے بنیادی عقیدے کے سلسلے میں میڈیا پر بندشیں عائد کرنے“ پر زور دیا تو اکثر ارکان نے مخالفت کی۔ کیرن ریس جار جن سن نامی خاتون رکن تو پھٹ پڑیں: ”اگر ہم آزادی اظہار کو کچلنے لگے تو کسی مذہب کا تنقیدی تجزیہ کرنے کے ہمارے حق اور آزادانہ اظہار رائے کے ہمارے حق کی خلاف ورزی ہوگی“۔ اب اس عورت کو کون بتائے کہ تم ہر مذہب کا ”تنقیدی تجزیہ“ شوق سے کرو، مگر انبیاء کی توہین کرنے کا حق تمہیں کس نے دیا ہے!

یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس میں یورپین پیپلز پارٹی کے لیڈر ہانس جرٹ پوٹرنگ نے مطالبہ

صفحہ 403

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

کیا کہ یورپی یونین اور تنظیم اسلامی کانفرنس ماہرین کا ایک کمیشن مقرر کریں، جو سکولوں کی کتابوں میں نسلی اور مذہبی تعصب کا جائزہ لے۔ انہوں نے مسلم ممالک میں شائع ہونے والے بعض جرائد لہراتے ہوئے کہا: ”ہمارے پاس سینکڑوں کارٹون اور خاکے ہیں، جو ہماری قدروں اور ہمارے مذہب کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ایسے کارٹون اسلامی ممالک میں بھی چھپتے ہیں“۔ یہ مسٹر پوٹرنگ کا صریح جھوٹ اور خلط مبحث ہے۔ مسلمان یہود و نصاریٰ کی غلیظ سماجی قدروں مثلاً اغلام بازی (Gay Culture) اور بے محابا حرامی بچے پیدا کرنے کا تو مذاق اڑاتے ہیں، لیکن کوئی مسلمان کسی نبی کی توہین کرنے کا تصور تک نہیں کر سکتا۔ انہوں نے ماہرین کے جس کمیشن کے تقرر کی بات کی ہے، اس کی زد سب سے پہلے تو اسرائیل پر پڑے گی، جس کا نصاب دنیا میں سب سے زیادہ زہریلا ہے، اس نے ایک کروڑ فلسطینی مسلمانوں کے حقوق غصب کر رکھے ہیں اور اقوام متحدہ کی کوئی قرارداد کبھی تسلیم نہیں کی۔ پھر اس کمیشن کے دائرہ کار میں تمام درجوں کا تدریسی نصاب، مطبوعات اور میڈیا بھی شامل ہونا چاہئے، کیونکہ یہ مغربی میڈیا ہی ہے، جس نے دنیا بھر میں شر انگیزی اور قوموں کے درمیان نفرت اور مخاصمت پھیلانے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے!

ڈنمارک کے سابق وزیراعظم پول نائروپ راسموسن نے یورپی پارلیمنٹ میں بے حد صدمہ ظاہر کیا کہ لوگ کس طرح (ڈنمارک و امریکہ کے) جھنڈے جلا رہے اور سفارتخانوں پر حملے کر رہے ہیں۔ اب پول نائروپ جیسے صلیبی عیسائیوں کے اس ”اظہار صدمہ“ پر کیا کہا جائے، جنہیں خرابی بسیار کے بعد بھی حضرت محمد ﷺ کی توہین کے ارتکاب کی مذمت کرنے کی توفیق نہیں ہوئی! الٹا یورپی کمیشن کے صدر بروسو نے ایک انٹرویو میں اعلان کیا ہے کہ ”نہ کارٹونوں کی اشاعت کوئی غلطی ہے، نہ ہم معافی مانگیں گے۔ یورپ میں ایسے مواد کی اشاعت کوئی بڑی بات نہیں، جس پر ہم شرمندگی کا اظہار کریں۔ میں جانتا ہوں کہ ایسے مواد کی اشاعت سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، مگر یہ آزادی اظہار رائے اور جمہوریت کے لئے بہت ضروری ہے“۔ ادھر اٹلی کے ایک وزیر رابرٹو کارڈولی، جس نے اعلان کیا تھا کہ ”وہ توہین آمیز کارٹونوں سے آراستہ ٹی شرٹس خود بھی پہنے گا اور لوگوں میں بھی تقسیم کرے گا“ .....اسے مستعفی ہونا پڑا ہے۔ صلیبی عیسائیوں کی یہ ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی عالم اسلام کے لئے لمحہ فکریہ ہے اور امت مسلمہ سے اجتماعی عملی اقدام کا تقاضا کرتی ہے!

صفحہ 404

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

تہذیبی مساوات

جیون خان

شاید امتحان مقصود تھا۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ اعتدال پسندی کا دعویٰ کرنے والے مسلمان کتنے روشن خیال ہیں۔ ترکیب سادہ سی تھی۔ ایک اخبار نے خاکے بنوائے۔ پھر ان توہین آمیز خاکوں کو چھاپ دیا۔ مقامی مسلمانوں نے آواز اٹھائی جس پر نہ اخبار نے کوئی توجہ دی نہ حکومت نے۔ پھر اور یورپی اخباروں نے وہی خاکے شائع کرنا شروع کر دیے۔ لگ بھگ 75 چھوٹے بڑے اخبار اہانت کے مرتکب ہوئے۔ انٹرنیٹ نے جلتی آگ پر تیل ڈالا، اسلامی دنیا میں اشتعال کی لہر ابھرنا فطری امر تھا۔ احتجاج شروع ہوا تو مغربی تہذیب کے علمبرداروں نے اظہار رائے اور پریس کی آزادی کو ایسی متاع عزیز قرار دیا جس پر کسی پابندی کا تصور تک ممکن نہیں تھا۔

اسلام کے ظہور کو آدھ دن تو نہیں ہوا، پوری چودہ صدیاں بیت گئی۔ مغرب والوں کے لیے اسلام کوئی عجوبہ نہیں۔ مدتوں ساتھ ساتھ چلے ہیں امن کا زمانہ بھی گزرا ہے اور حالت جنگ میں بھی زور بازو آزمایا ہے۔ صلیبی جنگیں نہ انہیں بھولی ہیں نہ امت مسلمہ کے ذہن سے محو ہوئی ہیں۔ ہسپانیہ پر آٹھ سو سال تک اسلامی پرچم لہراتا رہا۔ مسلمان وسط فرانس تک جا پہنچے۔ کارواں وہاں تھمتا تو شاید یورپ آج اسلامی تہذیب کا گہوارہ ہوتا۔ جب خلافت عثمانیہ کا دور تھا ترک مسلمان عروج پر تھے ناتوانی اور روسیاہی ابھی ان کے مقدر میں لکھی نہیں گئی تھی۔ زوال نے آلیا تو بھی یورپ سے تعلق برقرار رہا۔ یورپی اقوام آقاؤں کے روپ میں سامنے آئیں۔ انڈونیشا ولندیزیوں کے ہتھے چڑھا۔ ہندوستان، ملائیشیا مسلم افریقہ کے وسیع علاقوں کے نصیب میں انگریز کی غلامی لکھی گئی۔ پہلی جنگ عظیم میں اسرائیل کا بیج بویا گیا۔ عاجز و لاچار مسلم دنیا فاتحین کے قدموں تلے اس طرح روندی جاتی رہی کہ احساس زیاں تک جاتا رہا۔ جاہ و جلال سب جاتا رہا۔ ذلت اور رسوائی گلے کا ہار بنی۔

صفحہ 405

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

اس بدحالی میں بھی ہر ایک مسلمان نے قرآن کو سینے سے لگائے رکھا اور آقائے نامدار کو دل میں بسائے رکھا۔ حالات جیسے بھی رہے اس متاع عزیز آنچ نہ آنے دی۔ ہونا بھی یہ چاہیے تھا۔ زندگی اس کی ہے۔

مغرب والے اتنے بھولے نہیں کہ وہ چودہ سو سالوں میں ہماری فطرت اور نفسیاتی ساخت سے ناواقف رہے ہوں، وہ جانتے ہیں کہ توہین رسالت پر کوہِ طیش و غم مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے گا۔ ہم تلملا اٹھیں گے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی۔ جانوروں تک کو اذیت دینا ان کو مرغوب نہیں۔ مغربی تہذیب گالی گلوچ کی روادار نہیں۔ انسانی حقوق کا بڑا خیال رکھا جاتا ہے۔ کمزور طبقوں کے استحصال کے خلاف خاصا شور اٹھتا ہے۔ اہل اسلام کے بارے میں معاملہ مگر ذرا ٹیڑھا ہے عوام کو کسی نے اصل تصویر دکھائی ہے نہیں۔ صدیوں سے جڑ پکڑ جانے والے تعصب کا کسی سے علاج ہی ممکن نہیں ہوا۔

قصور روشن خیال طبقہ کا تھا، تہذیبی دنیاؤں میں رابطہ کا ذریعہ یہی لوگ ہیں۔ ادھر ادھر آنا جانا ان کا ہی رہتا ہے۔ یہ لوگ غالباً اپنے آپ کو نہیں جانتے اپنے من میں جھانکنے کی کبھی نوبت نہیں آئی۔ نہ اپنی معرفت نصیب ہوئی نہ اپنے رب کی۔ دنیاوی چمک جدھر نظر آئی چل دیئے۔ ہر چمکدار چیز کے پیچھے دوڑنے اور ہر قیمت پر اسے پالینے کو زندگی کی معراج سمجھا۔ مغرب والوں نے پسماندگی، جہالت، اور شدت پسندی کا طعنہ دیا تو اس کوڑے کرکٹ کو بیچارے بنیاد پرستوں کی جھولی میں ڈال دیا۔ پھر اپنے مغربی مہربانوں کو ہر طرح باور کراتے رہے کہ شرع متین کے پابند تو فقط گنتی کے مسلمان ہیں۔ بھاری اکثریت آزاد خیال اور ترقی پسند ہے۔ وہ سب مغربی اقدار پر وارے نیارے ہیں۔ مغربی کلچر خوشبو کی طرح پھیلتا جا رہا ہے۔ خوشحال طبقہ تو مغرب کے رنگ میں رنگ چکا ہے۔ لباس تو لباس ذہن اور قلب تک بدل چکے ہیں۔ ان پڑھ عوام کسی کھاتے میں نہیں۔ نہ ان کی کوئی رائے ہے نہ آواز، ریوڑ ہے، جدھر چاہے ہانک لو۔

مغرب والوں کو مسلم دنیا میں برپا ہونے والے اس نفسیاتی انقلاب پر اعتبار آنے لگتا ہے۔ کوئی نہ کوئی اس کی گہرائی کا اندازہ لگانا چاہتا ہے وہ دکھتی رگ کو چھیڑ دیتا ہے۔ ہنگامہ سامنے آتا ہے تو وہ پریشان ہو کر کہتے ہیں کہ یہ تو ویسے ہی ہیں جیسے تھے۔

صفحہ ٤٠٦

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

اسلام کا مطلب ہی سلامتی اور امن ہے۔ تہذیبوں کا بے وجہ ٹکراؤ بنی نوع انسان کے لئے کل بھی المیہ تھا اور آج بھی المیہ ہے۔ نسل انسانی گروہوں میں بٹ کر نشو و نما نہیں پاسکتی۔ تجارت اور میل جول زندگی کا لازمہ ہیں۔ خوشگوار تعلقات قائم کئے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ ان کی بنیاد تہذیبی مساوات پر اٹھانا ہوگی ثقافتی غلبہ پر ہرگز نہیں۔ ہمارے اعتدال پسندوں کو آگے آنا ہوگا۔ انہیں ڈنکے کی چوٹ پر مغرب کو بتانا ہوگا کہ ہم نہ تارک قرآن ہو سکتے ہیں نہ اسے ذرہ بھر بدل سکتے ہیں۔ اور یہ کہ انبیاء کرام کی توہین سے بڑی اشتعال انگیزی ہمارے نزدیک ممکن ہی نہیں۔ ہمارا مذہب اپنا ہے ثقافت اور کلچر بھی مغرب سے جدا ہیں۔ اپنی اقدار کو ہم خیر باد نہیں کہہ سکتے۔ تہذیبی غلبے کا خیال مغرب والے دل سے نکال دیں۔ اللہ نے سب انسان برابر پیدا کئے ہیں۔ کوئی کسی کا غلام نہیں۔ آزادی اور مساوات کے جذبوں سے سرشار ہو کر ہم دنیا بھر کی زندہ تہذیبوں کی طرف امن سلامتی اور دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ تا کہ انسانیت اپنی تکمیل کی طرف بڑھ سکے۔

ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اندر بھی جھانکنا ہوگا۔ جن چیزوں کے بغیر گزارہ ہو سکتا ہے انہیں ترک کر دیں۔ دیسی مال کی قدر کریں۔ دوستی ان سے بڑھائیں جو ہماری عزت کریں ان چوکٹھوں کی طرف نہ لپکیں جہاں نوالہ دینے سے پہلے دھتکار اور پھٹکار نچھاور کی جاتی ہے۔ عزت نفس قربانی مانگتی ہے۔ نسخہ اس کا امیری نہیں فقیری ہے۔ خودی نہ بیچ فقیری میں نام پیدا کر۔

صفحہ ۴۰۷

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

مغربی تہذیب۔ اسلام دشمنی کے عمیق اسباب

ارشاد احمد حقانی

کوئی سمجھے یا نہ سمجھے، کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے ڈنمارک میں شائع ہونے والے اہانت آمیز خاکے اس عیسائی اور مغربی ذہنیت کا اظہار ہیں جو اسلام پیغمبر اسلام ﷺ اور مسلمانوں کے بارے میں صدیوں سے مغرب کے دل و دماغ میں موجود ہے۔ ممتاز نو مسلم سکالر علامہ محمد اسد نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ”دی روڈ ٹو مکہ“ کے دیباچے میں بڑی تفصیل سے اس موضوع پر اظہار خیال کیا ہے کہ اسلام کے بارے میں مغربی اقوام کا رویہ معاندانہ کیوں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ صلیبی جنگوں سے پہلے کی صدی اور پھر صلیبی جنگیں تہذیب مغرب اور اس کے ماننے والوں کے حافظے میں اس طرح موجود اور برسر پیکار ہیں جس طرح ایک انسان بچپن کی یادیں، تعصبات، ہمدردیاں اور مخالفتیں ساری زندگی اس کے ساتھ رہتی ہیں اور وہ ان سے چھٹکارا نہیں پاسکتا۔ اسد نے جب اپنی مذکورہ کتاب لکھی تو اس وقت تک ”تہذیبوں کے تصادم“ نام کی کوئی تھیوری پیش نہیں کی گئی تھی اور کتاب کے تحریر کئے جانے کے وقت مسلمانوں اور مغربی اقوام کے درمیان کوئی گرم محاذ بھی کھلا ہوا نہ تھا۔ مسلمان بالعموم دنیا میں پسماندہ تھے۔ سیاسی آزادی سے بھی محروم تھے اور مغرب کی کسی فکری یا نظریاتی یلغار کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں بھی نہ تھے۔ اس پوزیشن میں تو وہ اب بھی پوری طرح نہیں ہیں لیکن پچھتر اسی سال پہلے تو مسلمان اور بھی زیادہ کمزور پوزیشن میں تھے۔ اس وقت علامہ اسد کی باریک بین نگاہوں اور ان کے ذہن رسا نے مغربی اور اسلامی تہذیب کے درمیان تصادم کے عمیق اسباب کا تعین کر لیا تھا۔ آج تو ڈنمارک کے وزیر اعظم کہتے ہیں کہ کارٹونوں کا معاملہ صرف ان کے ملک تک محدود نہیں رہا، یہ یورپ بمقابلہ عالم اسلام، کا رنگ اختیار کر چکا ہے۔ وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا ”اسلام تہذیبوں کے تصادم پر یقین نہیں رکھتا اور او آئی سی کے ارکان کو عالمی سطح پر اکیلا و تنہا رہ جانے کے خدشے اور اندیشے سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔ جناب شوکت

صفحہ ۴۰۸

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

غرض تہذیبوں کے تصادم کے نظریئے کو درست مانتے ہوں یا نہ مانتے ہوں، خاکوں کی اشاعت اس پر مسلمانوں کے ردعمل نیز ڈنمارک کے وزیر اعظم اور ان کی حکومت اور متعلقہ اخبار یا اخبارات کے ایڈیٹروں کے اظہار افسوس اور اظہار ندامت کرنے اور معافی مانگنے کے انکار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تصادم کی جڑیں بہت گہری ہیں اور تنازع صرف آزادی اظہار کی حدود اور انداز کا نہیں ہے۔

آپ دیکھیں گے کہ مغربی تہذیب کی نفسیات میں صدیوں سے یہ سوچ موجود ہے کہ اسلام ان کا دشمن ہے اور نعوذ باللہ پیغمبر اسلام ایک ایسے مذہب کے بانی ہیں جو غیر مہذب ہے اور حالیہ واقعات نے اس کو ہمیشہ سے بڑھ کر مبرہن، واضح اور نمایاں کر دیا ہے۔ پاکستان کی یہ تجویز مفید ہے کہ خاکوں کی اشاعت سے پیدا ہونے والے بحران پر غور کرنے کے لئے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس بلایا جانا چاہیے۔ یہ اجلاس تبھی موجودہ بحرانی کیفیت میں کوئی موثر کردار ادا کر سکے گا جب او آئی سی کے وزرائے خارجہ تنازعے کی تہہ تک جانے کی کوشش کریں گے اور محض ”گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے“ تک محدود نہیں رہیں گے۔ بدقسمتی سے او آئی سی کا اب تک کردار امریکہ اور مغرب کے حوالے سے زیادہ اعتماد افزا اور جاندار نہیں رہا۔ اب اسے امید افزا اور جاندار بنانا مقصود ہے تو مسلمان وزرائے خارجہ کی سوچ میں خود اعتمادی اور آزادی عمل پیدا ہونی ضروری ہے۔ ورنہ اندیشہ ہے کہ وزرائے خارجہ بعض فرسودہ کلیوں کے اعادے سے زیادہ کچھ نہیں کر سکیں گے۔ لیکن میری دانست میں خاکوں کی اشاعت ایک خیر مستور بھی ثابت ہو رہی ہے۔ جس نے عالم اسلام کو جھنجھوڑا ہے نیز امہ کے تصور کو مضبوط کیا ہے۔ ہمارے اکثر و بیشتر لبرل دانشور یہ کہنے کے عادی ہیں کہ امہ کا تصور بے معنی ہے اور امہ نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ وہ خاکوں کی اشاعت پر سامنے آنے والے ردعمل کو دیکھیں جو مراکش سے انڈونیشا تک بالکل یکساں ہے تو انہیں بآسانی سمجھ آ جائے گا کہ عالم اسلام ایک مخصوص معنوں میں ایک فکری اور عملی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ او آئی سی کے ارکان کی تعداد 58 ہے۔ ان کے اپنے اپنے قومی مفادات ہیں۔ ان میں اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔ ان کے درمیان مسلح تصادم بھی ہو جاتے ہیں لیکن فکر وعمل کے اشتراک اور اتحاد کی ایک زیریں لہر بھی پورے عالم اسلامی میں موجود ہے۔ گیلپ سروے آف پاکستان کے جناب اعجاز شفیع گیلانی نے مجھے بتایا ہے کہ جب بہت سے معاصر مسائل پر دنیا کے مختلف ملکوں اور

صفحہ ۴۰۹

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

براعظموں میں بسنے والے مسلمانوں کے رد عمل کا سروے کیا گیا تو ان کے جوابات میں حیرت انگیز مماثلت پائی گئی۔ وہ ایک ہی طرح سوچتے تھے اس لیے امہ کو محض ایک واہمہ کہنا اب کسی ہوشمند مسلمان کے لئے ممکن نہیں ہونا چاہیے۔ جیسا کہ عرض کیا خاکوں کی اشاعت عالم اسلام کے لئے ایک خیر مستور ثابت ہوئی ہے جو ان کی سوچ اور عمل میں یکجائی اور یکجہتی پیدا کرنے کا باعث بنے گی اور شاید اسی وجہ سے او آئی سی بھی ایک زیادہ فعال تنظیم بن سکے۔

صفحہ ٤١٠

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

نظریاتی و تہذیبی جنگ۔۔ ہم کہاں کھڑے ہیں؟

آفتاب عباسی

مغرب اس مغالطہ اندازی میں بھی کامیاب رہا ہے کہ مذہب اور تہذیب دو مختلف چیزیں ہیں اور کسی قوم کی تہذیب سے دشمنی اور اسے مٹانے کی کوشش اس قوم کے مذہب سے دشمنی کے مترادف نہیں ہے۔ چنانچہ اس کے باوجود کہ مغرب کی بین الاقوامی سطح پر بھی اور مسلم ممالک کے ساتھ معاملہ کرتے وقت بھی مسلمانوں کے حوالے سے تمام پالیسیاں اقدامات اور فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو مسلمانوں کی تہذیبی علامات اور سماجی اقدار پر نہ صرف منفی طور پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ ان کے پس پردہ اسلامی تہذیب و روایات کی بیخ کنی اور ان کی جگہ مغرب کے تہذیبی نشانات کندہ کرنے کے عزائم صاف جھلکتے دکھائی دیتے ہیں مغرب کا دعویٰ پھر بھی یہی رہتا ہے کہ وہ اسلام کے خلاف نہیں ہے اور اس دعویٰ کا ہمارے ہاں اعتبار بھی کیا جاتا ہے مغربی طرز کے تعلیمی اداروں یا خود مغرب کے تعلیمی اداروں میں تعلیم پانے والی مسلمان پود جو آگے جا کر مسلم ممالک میں اقتدار و اختیار کے سوتوں کی مالک بنتی ہے۔ مغرب کی ایسی منافقانہ باتوں پر بطور خاص کان دھرتی اور اعتبار کرتی ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان پود اور نسل مغربی نظام تعلیم اور مغربی کلچر والے اداروں میں تعلیم پانے کے سبب مغرب سے فکری اور تہذیبی طور پر ہم آہنگ و ہم رنگ ہو جاتی ہے۔ مغربی نظام اور کلچر والے اداروں میں پڑھی ہوئی یہی کلاس آج مسلم ممالک اور تقریباً پورے عالم اسلام میں مغرب کی بہترین معاون بنی ہوئی ہے۔

مسلم ممالک کے حکمران اسی کلاس سے تعلق رکھتے ہیں جو مغربی تعلیم گاہوں جنہیں مغربی تہذیب گاہیں یا نظریاتی و تہذیبی اعتبار سے قتل گاہیں کہنا زیادہ مناسب ہوگا میں تعلیم و تربیت پانے کے سبب اسلامی تہذیب و اقدار سے زیادہ مغرب اور اس کی تہذیب سے مانوس و ہم آہنگ ہیں۔ اسی بنا پر وہ ٹھیٹھ اسلامی طرز حیات اور دینی مدارس میں تعلیم و تربیت پانے والے اس طرز حیات کے حامل علماء و

صفحہ ٤١١

جدید مسلم ریاست میں اور ہم؟ تہذیبوں کا تصادم طالبان دین سے بھی اسی طرح وحشت کھاتے ہیں جس طرح مغرب کے غیر مسلم حکمران اور شریعت کے احکام و قوانین سے بھی اسی طرح بدکتے ہیں جس طرح پورا مغرب بدکتا ہے۔ مغرب سے اس فکری و تہذیبی ہم آہنگی نے آج مسلمان حکمرانوں کو امت مسلمہ، اپنے دین، نظریات اور اسلامی تہذیب و اقدار کا محافظ و ترجمان بنا ڈالا ہے چنانچہ آج صورتحال یہ ہے کہ دنیا کے کسی ملک اور کسی مقام پر مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم ہوں، ان کی نسل کشی کی جائے، مسلمان خواتین کی عصمتیں لٹیں، اسلامی اقدار کا مذاق اڑایا جائے، مسلمانوں کے مذہبی حقوق پامال کئے جائیں یہاں تک کہ قرآن اور پیغمبر اسلام ﷺ کی نہایت گھٹیا اور رکیک انداز میں توہین کی جائے، مسلم ممالک کے اقتدار کے ایوانوں سے اس کے خلاف ایمانی جرأت و غیرت اور دلی درد کی غمازی کرنے والی کوئی آواز نہیں اٹھتی۔ مسلم ممالک کے اقتدار کے کسی ایوان سے اضطراب و پریشانی اور بے قراری و بے چینی کی کوئی کیفیت ابھرتی دکھائی نہیں دیتی۔ بلکہ الٹا ان ایوانوں سے مسلمانوں کو نرمی، برداشت، اعتدال پسندی اور جذباتی نہ ہونے کی نصیحتیں کی جاتی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور شدت و انتہا پسندی کے حوالے سے امریکی فکر و فلسفہ سے اتفاق کرنے اور نصاب میں امریکا کی تلقین کردہ اصلاحات لانے پر آمادگی ظاہر کرنے بلکہ نصاب میں تبدیلی کے اقدامات شروع کر دینے کے بعد اسلام کے خلاف مغرب کی نظریاتی و تہذیبی جنگ میں مسلمان حکمرانوں کا کردار اور مقام خود ہی متعین ہو جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایک اور قومی کیفیت کا تصور بڑا کرب انگیز اور روح فرسا ہے۔ ہم اللہ کے آخری نبی (ﷺ) اور آخری دین کے ماننے والے ہیں۔ ہمارا بجا طور پر یہ دعویٰ ہے کہ اسلام کل انسانیت کے لئے پیغام ہدایت و فلاح ہے۔ ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ اس آخری پیغام کو کل انسانیت تک پہنچانا اور اس کے عدل گسترانہ سائے کی ٹھنڈک سے پوری دنیا کو مستفید کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمارا یہ بھی درست اور بجا دعویٰ ہے کہ پوری دنیا میں امت مسلمہ ہی وہ واحد امت ہے جس کے پاس الہامی کتاب اور خدائی پیغام اپنی اصل شکل میں موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنے پیغمبر ﷺ کی ان پیشین گوئیوں پر یقین کے بھی دعویدار ہیں جن میں آخری دور میں مسلمانوں کی اسلام دشمن قوتوں (یہود و نصاریٰ) کے ساتھ جنگوں، مسلمانوں کے امتحانات، مشکلات اور کڑی آزمائشوں سے گزرنے اور

صفحہ 412

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

دشمنوں کے ہاتھوں سخت جانی و مالی نقصانات اٹھانے اور بالآخر ان طاغوتی قوتوں پر فتح پانے اور ان کی دیو ہیکلائی قوت کے سب سے بڑے نشان، دجال کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں مارے جانے کا ذکر ہے۔ مسلمانوں کے یہ مذہبی حقائق ان سے جس سوچ فکر مندی منصوبہ بندی اور عملی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں ہمارے ہاں ان کے عشر عشیر کا بھی کہیں وجود نظر نہیں آتا۔ یہود و نصاریٰ آرمیگاڈون کے نام سے آخری تہذیبی جنگ کی بھر پور پلاننگ کے بعد اس کا آغاز بھی کر چکے ہیں۔ لیکن جنگ کا دوسرا فریق میدان سے سرے سے غائب ہے۔

ہمارے ہاں نہ فکر ہے نہ حقیقی مفکرین، نہ تھنک ٹینک ہے نہ کوئی تھنک ٹینک ہے۔ دعاؤں کے سہارے جینے اور بزرگوں کے تبرکات کے واسطوں سے جنگیں جیتنے کا ذہن رکھنے والی یہودی اور مسیحی اقوام اپنی غیر مستند تاریخی روایات میں پائی جانے والی آخری دور کی جنگوں سے متعلق پیشین گوئیوں کی بنیاد پر بدترین لوگوں (مسلمانوں) کے خلاف آخری معرکہ لڑنے کے لیے مکمل تیاری کر چکی ہے۔ مگر آخری نبی اور عالمی دین پر ایمان اور اس سے وابستگی کا فخریہ دعویٰ رکھنے والا مسلمان، سوچ، منصوبہ بندی اور عمل تینوں میدانوں سے غائب نظر آتا ہے۔ جو قومیں مسلمانوں کی دشمن ہیں۔ پاکستان سمیت مسلمانوں کی قیادت ان ہی کے ہاتھ پر ”بیعت“ کیے ہوئے ہے۔ ان کے فکر و فلسفہ کی اسیر ان کی ہدایات پر پالیسیاں بنانے کو ترقی کا راز خیال کئے ہوئے اور اپنے عوام کی اسی نہج پر ذہن سازی کرنے میں مصروف ہے۔ یہاں تک کہ نسل نو کی ذہنی، فکری، نظریاتی، اخلاقی و عملی تشکیل کے سانچے، نصاب تعلیم کو انہیں دشمنوں کی پسند کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے۔

صفحہ ۴۱۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

تہذیبوں کا ٹکراؤ .................... چند قابل ذکر پہلو

آفتاب عباسی

مغرب نے رسالت مآبﷺ کی توہین کے قبیح و کریہہ عمل کا ارتکاب کرنے والوں کی تائید، حمایت پر اتفاق اور اس جرم پر ندامت اور معافی مانگنے سے یکسر انکار کر کے یہ واضح کر دیا ہے کہ اس کے سیکولرازم، رواداری اور دوسروں کے جذبات کے احترام کے نعرے محض ڈھکوسلہ ہیں۔ وہ سیکولرازم کا ڈھنڈورا پیٹنے، رواداری کو اپنا اصول بتانے اور دوسروں کو رات دن اس کا درس دینے کے باوجود خود گلے تک مذہبی تعصب و تنگ نظری میں ڈوبا ہوا ہے۔ وہ دوسروں سے جس بات کی توقع رکھتا ہے خود اس پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ وہ مسلمانوں سے یہ چاہتا ہے کہ وہ مذہب کی نظر سے دیکھنے اور مذہب کے دماغ سے سوچنے کا قدامت پسندانہ طریقہ چھوڑ دیں۔ وہ چاہتا ہے کہ مسلمان مذہبی بنیاد پر نہ کسی کی حمایت کریں نہ مخالفت۔ نہ مذہبی بنیاد پر کوئی اتحاد تشکیل دیں نہ مذہبی بنیاد پر کسی اتحاد سے الگ ہوں، بلکہ مذہب کو ایک طرف رکھ کر اور اس کی حدود و قیود کو توڑ کر دوسری تہذیبوں میں اس طرح گڈمڈ ہو جائیں کہ من و تو کا کوئی فرق ہی باقی نہ رہے۔ چنانچہ مغرب کو مسلمانوں کی او آئی سی جیسی نام کی اور بے جان تنظیم بھی گوارا نہیں ہے۔ مغربی ذرائع اس تنظیم کے محض علامتی اور عمل کے اعتبار سے بے حقیقت ہونے کے باوجود اسے اپنے وضع کردہ روشن خیالی اور وسعت نظر کے فریم میں فٹ نہ سمجھتے ہوئے اس پر اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ مسلمان ملکوں نے مذہبی بنیادوں پر یہ اتحاد کیوں قائم کیا ہے؟

مغرب والے بزعم خویش خود کو مذہبی بنیادوں پر سوچنے اور مذہبی نسبت سے اتحاد اور تنظیمیں قائم کرنے کے ’’غیر مہذب‘‘ طرز عمل سے پاک سمجھتے ہیں۔ چنانچہ یورپی ممالک نے جو اتحاد قائم کیا ہوا ہے اس کا نام مسیحی یونین یا مسیحی آرگنائزیشن نہیں ہے بلکہ یورپی یونین ہے۔ یہ مثال بظاہر مغرب کے سیکولرازم کی تائید کرتی ہے۔ لیکن کیا باطن اور واقعتاً بھی صورتحال ایسی ہی ہے؟ اور باتوں کے علاوہ

صفحہ ۴۱۴

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

توہین رسالت کے معاملے میں یورپی یونین کی حالیہ ہٹ دھرمی اور اس جرم کے مرتکبین کی پشت پناہی پر تمام یورپی ممالک کا سرکاری اتفاق اس کا جواب نفی میں دیتا ہے۔ یورپ ظاہر میں اپنی مذہبیت کو جتنا چھپا کر رکھنے کی کوشش کرتا ہے باطن وہ اتنی ہی شدت کے ساتھ مذہبی عصبیت کا شکار ہے۔ وہ جس شدت کے ساتھ انتہا پسندی اور تنگ نظری کا پروپیگنڈہ کرتا ہے، اس سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ انتہا پسندی خود اس کے اپنے قول وفعل میں موجود ہے۔ یہ انتہا پسندی توہین رسالت کے معاملے میں تمام تر پردوں، نقابوں، اور لیپا پوتی کے باوجود کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ مسیحی یونین نے یورپی یونین کا جو لبادہ اوڑھ رکھا تھا وہ اتر گیا ہے۔ اور یورپ ایک بار پھر مسیحیت کے رنگ میں اسلام کے مدمقابل آ کھڑا ہوا ہے۔

مغربی اخبارات کی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق توہین رسالت کی رذیل حرکت اور امریکا اور مغربی ممالک کے حکمرانوں کی طرف سے ان کی دفاع نے دنیا میں ایک نئے منظر نامے کو جنم دیا ہے۔ اس سے ایک طرف جہاں امریکا اور مغرب کی رواداری، دوسروں کے جذبات کا احترام، روشن خیالی اور برداشت کے نعروں کی اصلیت واضح ہوئی ہے اور مسلمانوں کے خلاف ان کے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے پروپیگنڈے کے غبارے سے ہوا نکلنے لگی ہے وہیں دوسری جانب حب رسول ﷺ سے سرشار اہل عشق و جنوں کے جذبات نے بھی مغرب کے اٹھائے ہوئے طوفان اور روشن خیالی کی مالا جپنے والے مغرب کے ’’عقلمند‘‘ اتحادیوں کی تمام تر تعلیوں سے قطع نظر انگڑائی لینا شروع کر دی ہے۔ ناموس رسالت اور توہین پیغمبر کا مسئلہ ہی ایسا ہے کہ ’’روشن خیال عقلمندوں‘‘ کو بھی انتہا پسند جاہلوں کی دبے اور ہلکے الفاظ میں ہی سہی مگر ہمنوائی کرنی پڑرہی ہے۔ یعنی کچھ کچھ انتہا پسندی ان کی اپنی مجبوری بھی بن گئی ہے۔ کیونکہ عشق بہر حال عشق ہے، جب وہ اپنی راہ پر چل پڑے تو پھر نہ عقل کے روشن خیالی والے فلسفوں کو خاطر میں لاتا ہے اور نہ وہ اس کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ مغرب کا خود تخلیق کردہ یہ منظر نامہ اس بات کی تائید کرتا ہے کہ جو کام عشق و جنوں سے ہوتا ہے وہ عقل و دور اندیشی سے نہیں بن پاتا اور مسلمان مغرب کے لیے قابل قبول بننے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کرلیں وہ مغرب کے دماغ سے اسلام دشمنی اور صلیبی سوچ کو نہیں نکال سکتے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو تین مسلمان ملکوں کے علاوہ باقی سب کے روشن خیالی کا گھونٹ پی کر اور عقلمندی کا سبق پڑھ کر اتحادیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جانے سے اسلام اور مسلمانوں

صفحہ 415

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

کے بارے میں مغرب کی سوچ اور رویے میں ضرور تبدیلی پیدا ہوتی مگر ایسا نہیں ہوا ہے۔ اسی منظر نامے کے دو ذیلی مناظر اور شواہد تمام اتحادیوں کو دعوت غور و فکر دیتے ہیں بشرطیکہ انہیں توفیق میسر آئے۔ ایک منظر تو وہ ہے جس کے مطابق توہین رسالت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے اعتدال پسند مسلمان حکمرانوں سے تحفظ ناموس رسالت کی توقع وابستہ کرنے کی بجائے انتہا پسند اسامہ کو آواز دی ہے اور دوسرا یہ کہ امریکی وزیر داخلہ رمز فیلڈ نے یہ اعتراف کیا ہے کہ القاعدہ کے خلاف پروپیگنڈہ کی جنگ ہم ہار گئے ہیں۔ جس کا مطلب اس کے سوا اور کیا نکلتا ہے کہ امریکا اور اس کے فکری وعملی اتحادی جن مسلمانوں کو انتہا پسند قرار دے کر ان کے وجود سے دنیا کو ”پاک“ کرنا چاہتے ہیں مسلمانوں کا عوامی اور اجتماعی شعور انہی کو اسلام دشمن قوتوں کا اصل مد مقابل اور اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ کی جنگ لڑنے والا سمجھتا ہے۔ یہاں ایک پہلو اور بھی مسلمانوں خصوصاً مسلمان حکمرانوں کے لیے غور طلب ہے کہ اسے تہذیبوں کی جنگ کہا جائے یا اسلام اور مسیحی یورپ کی تاریخی آویزش؟ یہ بہر حال جاری ہے اور اس نے نائن الیون کے بعد ایک نیا موڑ لیا ہے لیکن اس جنگ یا آویزش میں جہاں اس اعتبار سے توازن نہیں ہے کہ مسلمانوں کے مقابلے میں مغرب طاقت، وسائل اور جنگی قوت کے اعتبار سے بہت آگے ہے اور دونوں کا بظاہر کوئی مقابلہ نہیں ہے وہیں یورپ کے حکمرانوں، عوام، دانشوروں، صحافیوں اور مذہبی طبقے میں اسلام کو زیر کرنے کے مقصد میں مکمل اشتراک اور ہم آہنگی ہے لیکن مسلمانوں میں مسیحی مغرب کے بالمقابل اسلام اور مسلمانوں کے دفاع کے معاملے میں مکمل انتشار پایا جاتا ہے۔

مسلم ممالک کے حکمرانوں کی سوچ اپنے عوام کے جذبات سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی پہلے تین چار اور اب ایک دو ممالک کے علاوہ تمام مسلمان ملکوں کے حکمران مغربی فکر و فلسفہ اور مغربی نظریات و اصطلاحات پر مغرب ہی کے طے کردہ مفہوم کے مطابق صاد کئے ہوئے ہیں اور ان کی روشنی میں ایسی پالیسیاں بنانے اور نافذ کرنے میں لگے ہوئے ہیں جو اسلام کے حریف مغرب کے مقاصد کو پورا کرنے اور اس جنگ میں اسے قوت فراہم کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کے دفاع کی سوچ کو انتہا پسندی کا نام دینے والے مغربی فکر و فلسفے سے اتفاق کرنے کا مطلب ہی تہذیبوں کی جنگ میں جو در حقیقت اسلام اور مسیحیت کی جنگ ہے اسلام کی دفاعی لائنوں سے نکل کر اسلامی مورچوں پر یلغار کرنے

صفحہ 416

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

والی حملہ آور قوتوں کے ساتھ جا کر کھڑا ہونا ہے۔ کیا مسلمان حکمران مسلمانوں کی حریف قوتوں کی طرف سے ان کے ساتھ عین محاذ آرائی کی حالت میں اور ہر جانب سے گھیراؤ کر کے انہیں بے بس کرنے کے اقدامات کی موجودگی میں بھی اپنی اتنی بڑی غلطی اور غلط مقام پر کھڑے ہونے کے خطرناک عواقب کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں؟ کیا اسلام کی ان حریف قوتوں کی طرف سے انہیں کوئی ایسی قابل یقین ضمانت فراہم کی گئی ہے کہ مغرب کی طرف سے شروع کی گئی تہذیبوں کی اس جنگ کا آخری ہدف اسلامی تہذیب کا خاتمہ نہیں ہے یا مسلمان حکمرانوں کے پاس کوئی ایسی قابل بھروسہ تیاری اور حکمت عملی موجود ہے جو اس جنگ کے نتائج کو مسلمانوں کے حق میں پلٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ یہ کس قدر قابل افسوس اور حماقت آمیز صورت حال ہے کہ اپنے انبیاء کی اصل تعلیمات اور مستند پیشین گوئیوں سے محروم قومیں اپنے خود ساختہ مذہبی وتہذیبی اصولوں کو دنیا میں سربلند کرنے اور غیر مستند روایات سے ملنے والی پیشین گوئیوں کو واقعاتی شکل دینے کے لیے متحد بھی ہیں اور ضرورت سے زیادہ تیاریاں کئے ہوئے بھی ہیں لیکن اس آخری دین کے ماننے والے جو قیامت تک کے لیے اور کل انسانیت کے لیے آیا ہے اپنے دین کی سربلندی کے لیے اور اپنے پیغمبر کی صحیح سچی اور مستند پیشین گوئیوں کو رو بہ عمل لانے کے لیے نہ پرعزم ہیں اور نہ اس کے لیے سنجیدہ تیاریوں پر آمادہ بلکہ ان کے حکمران ان باتوں پر غور اور انہیں سنجیدگی سے لینے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔ امریکا اور یورپ میں آرماگیڈون کے نام سے جن آخری بڑی جنگوں کا الہامی تصور موجود ہے اور جو بہت شہرت حاصل کر چکا ہے، اس سے امریکا اور یورپ کا حکمران طبقہ اتنا ہی آگاہ ہے جتنا کہ ان کا مذہبی طبقہ۔ امریکا اور مغرب کے حکمران، سائنسدان اور حکمت کار سب اس پر پختہ یقین بھی رکھتے ہیں اور ان جنگوں میں کامیابی کے لیے ہمہ جہتی تیاریوں اور اقدامات میں بھی مصروف ہیں، اس کے بالمقابل مسلمان یا تو محض توقعات کے سہارے جی رہے ہیں یا کبوتر کی طرح حقائق سے آنکھیں چرانے میں ہی عافیت و سرخروئی کا عقیدہ رکھتے ہیں اس وقت کی دنیا کا یہ منظر نامہ مسلمانوں کے تمام اہم طبقات سے نہایت سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔ وہ اس صورتحال میں خود کو کس مقام پر پاتے ہیں اور مسلمانوں کی درست رہنمائی کا فریضہ ادا کرنے کے لیے کیا عزائم اور سوچ رکھتے ہیں؟ اس وقت کے یہ اہم سوال ہیں۔

صفحہ 417

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

معرکہ ہلال وصلیب کا آخری مرحلہ

حافظ ساجد وٹو

تیسری صلیبی جنگ میں شاہ جرمنی فریڈرک، شاہ برطانیہ رچرڈ شیر دل، شاہ فرانس فلپ آگسٹس نے اکٹھے شرکت کی مگر ہلالی پرچم کی آن بان کو ٹھیس نہ پہنچا سکے۔ جرمن بادشاہ ایشیائے کوچک کے ایک دریا میں ڈوب کر مر گیا۔ شاہ فرانس عکہ کا دو سالہ محاصرہ کرنے کے بعد رچرڈ سے اختلاف کی بنا پر واپس چلا گیا البتہ رچرڈ سلطان صلاح الدین ایوبی سے ”صلح رملہ“ کے نام سے معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو گیا، سلطان نے عکہ سے یافہ تک ساحلی شہر عیسائیوں کو دے کر زیارت بیت المقدس کی پوری آزادی فراہم کر دی۔

سلطان ایوبی کا انتقال 1193 میں ہوا، کہ اس کے دو سال بعد 1195 میں پاپائے روم کی دعوت پر شاہ جرمن ہنری ششم کی قیادت میں چوتھا صلیبی حملہ ہوا مگر عکہ پہنچ کر اس کا انتقال ہو گیا۔ یوں یہ حملہ ناکام رہا۔ پانچویں حملے کی دعوت بھی پاپائے روم و قسطنطنیہ کی طرف سے مشترکہ طور پر دی گئی جس میں قبرص، ارمینیا، آسٹریا اور ہنگری بھی جرمنوں اور فرانسیسیوں کے ساتھ شریک ہوئے۔ اس میں زیادہ تر جرمنی اور فرانس کے نو عمر لڑکے تھے۔ اس لیے یہ ”حملہ اطفال“ بھی کہلاتا ہے۔ اس جنگ میں صلیبیوں کو مصر میں عبرتناک شکست ہوئی اور ملک العادل کے بیٹوں سے معاہدہ صلح کر کے واپس لوٹنا پڑا۔

متحدہ عیسائی یورپ کا چھٹا حملہ تقریباً 6 سال بعد 1228ء میں شاہ جرمنی فریڈرک دوم کی قیادت میں ہوا۔ الملک الکامل کے ساتھ نئے معاہدہ صلح کے تحت بیت المقدس بھی صلیبیوں کے پاس چلا گیا۔ مگر پھر 1244ء میں الملک الکامل کے بھائی الملک المعظم نے بیت المقدس سے صلیبیوں کو نکال کر باہر کیا۔

تیرہویں صدی عیسوی میں جبکہ معرکہ ہلال وصلیب گرم تھا ایشیا میں ایک نئی عظیم قوت چنگیز

صفحہ ۴۱۸

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ قندیلوں کا شہر خان کی قائم کردہ منگول سلطنت تھی۔ عیسائیوں نے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے منگولوں کو عیسائی بنانے کے لئے منگول خاقان کے دربار میں پہلے 1146 میں پوپ انوسینٹ چہارم کی طرف سے ’گیوونی ڈی پیانو کارپینی (De Plano Carpinigeo Vanni) مشن روانہ کیا گیا۔ اس کے بعد 1253 میں شاہ فرانس لوئی جو کہ ولی اللہ (King Saint Louis) کہلاتا تھا کی طرف سے ولیم روبرک کا ایک اور مشن بھیجا گیا۔ جس نے ہلاکو خان کی عیسائی بیوی ڈوکوز خاتون (Doquz Khatoon) اور ہلاکو کے عیسائی جرنیل کت بوغا اور دوسری عیسائی معتمدین کے ساتھ مل کر یہ منصوبہ بنایا کہ مغرب اور مشرق بعید کے عیسائی منگولوں کو عیسائی بنائیں۔ اور پھر ان ناقابل تسخیر نئے عیسائیوں کی مدد سے مسلمانوں کے خلاف ایسی صلیبی جنگ لڑی جائے کہ وہ بری و بحری محاذوں سے بے رحم عیسائی حملہ آوروں میں گھر جائیں تو ان کا صفایا کر دیا جائے۔ 1258ء میں منگولوں کے ہاتھوں بغداد کی فتح اور 1260ء میں کت بوغا کے تحت دمشق پر قبضہ کے بعد منگول مغربی صلیبی حملہ آور کے ساحلی مورچے سے 100 میل کے فاصلے پر پہنچ گئے۔ اس لئے عیسائی فوجیں باہم ملنے کو تھیں مگر یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔ اور مملوک ترک سلطان بیبرس نے 1260ء سے 1271ء تک دس سال صلیبیوں سے جہاد کیا اور انطاکیہ کی ریاست کا خاتمہ کر کے عیسائیوں کی کمر توڑ دی۔ یوں بیت المقدس سے عیسائیوں کے آخری نشانات بھی مٹ گئے۔ ساتواں صلیبی حملہ فرانس کے شاہ لوئی نہم کی قیادت میں صلیبیوں کا آخری بڑا حملہ تھا۔ جو تیونس کے ناکام محاصرے اور ایک مہلک وبا کے پھوٹنے پر لوئی نہم کے مرنے کے ساتھ کمزور پڑ گیا۔ اس لشکر کا ایک حصہ برطانوی ولی عہد شہزادہ ایڈورڈ کی قیادت میں عکہ پہنچا۔ اس نے منگولوں کو مصر و شام کے مملوک ترکوں پر حملہ کی دعوت دی مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ اور ”ظاہر بیبرس“ سے قیساریہ کا معاہدہ کرنا پڑا۔

جب منگول اور صلیبی جارحیت کے اشتراک سے دنیائے اسلام میں جابجا انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنائے اور خون کی ندیاں بہائی جا رہی تھیں۔ اور عالم یہ ہو گیا تھا کہ مسلمان مصنفین نے دبے لفظوں میں اسلام کے مستقبل کے متعلق ناامیدی کا اظہار شروع کر دیا تھا اور کت بوغا اپنے آقاؤں کی آشیرباد سے اسلام کے خاتمے کی مہم میں ایک حتمی ضرب لگانے کے لئے آگے بڑھا تو اللہ تعالیٰ نے جالوتٰی افواج کے خاتمے کی یاد تازہ کر دی۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے جالوت کو قتل کر کے کفر کا زور توڑ دیا تھا جبکہ

صفحہ ۴۱۹

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم مسلم فوج صرف 313 بے سروسامانوں پر مشتمل تھی۔ ایک غلیل کے ذریعے حضرت داؤد علیہ السلام نے لوہے میں لپٹے جالوت کی پیشانی کو نشانہ بنایا عین اسی مقام پر ببرس نے (مقام عین جالوت میں) صلیب منگول اتحاد کو شکست دی اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا۔ ظاہر ببرس کے بعد الملک المنصور سیف الدین قلاوون نے اسلامی مشرق سے صلیبیوں کے اخراج کے لئے مشرق کے ہمسایہ ممالک سے صلح و تعاون کا ہاتھ بڑھایا۔ یورپ کے بعض بادشاہوں کے پاس سفیر بھیجے۔ اس کی بیدار مغزی سے یورپ کا داخلی انتشار ابھر کر سامنے آیا۔ سیف الدین نے حصن المرقب، طرابلس، طرطوس کی تین عیسائی ریاستوں کا خاتمہ کر دیا۔ عکہ کو وہ فتح نہ کر سکا یہ کام اسکے نوجوان بیٹے الملک الاشرف خلیل نے 18 مئی 1291 کو صلیبیوں کا آخری قلعہ بھی فتح کر کے پوپ اربن ثانی کی طرف سے شروع کئے گئے صلیبی جنگوں کے ہولناک ڈرامے کو انجام تک پہنچا دیا اور پھر مشیت ایزدی سے نئے اسلامی دور کا آغاز اس طرح ہوا کہ منگول حکمرانوں نے دین حق ”اسلام“ کو قبول کر کے اسے نئی آن بان دی۔

پھر اسلامی تاریخ نشیب و فراز سے گزرتی رہی۔ پیٹر راہب کی روح کی تجسیم ایک فرانسیسی کرنل کی صورت میں جنگ عظیم اول کے دوران اس وقت ظاہر ہوئی جب وہ دمشق میں صلاح الدین ایوبیؒ کے مزار پر گیا اور اس کی قبر پر لات مار کر کہا ”صلاح الدین ہم واپس آگئے ہیں ۔“ کیونکہ صلیبی جنگوں میں عسکری محاذ پر ناکام ہونے کے بعد وہ چپکے نہیں بیٹھے بلکہ انہوں نے فکری محاذ پر کام شروع کیا۔ اسلامی علوم کی حفاظت اور تحقیق کے پردے میں اسلام اور پیغمبر اسلام کے متعلق غلط فہمیاں پیدا کرنے اور انہیں پھیلانے کا منصوبہ بنایا جس پر آج بھی عمل جاری ہے۔ فکری محاذ پر انہیں کچھ کامیابیاں ملیں مگر جب وہ مسلم امہ کے جذبہ حریت کو سرد نہ کر سکے تو انہوں نے یہود کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا اور مسلمانوں کو زک پہنچائی۔ اسرائیل کا ناسور مشرق وسطیٰ میں انہی صلیبیوں نے گاڑا اور پھر سائرن (Siren) (یونانی دیوی) جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی موسیقی سے ملاح بے خود ہو کر اس کا رخ کرتے اور غرق ہو جاتے تھے۔ کی مانند شیطانی نظام ”نیو ورلڈ آرڈر“ بنا۔ صلیبیوں اور صہیونیوں نے ملٹی نیشنل ویمپائر (خون چوسنے والی بلا) یورپی اور بین الاقوامی صنعتی اور تجارتی کمپنیوں، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی فسوں کاری سے مسلم معیشت پر کنٹرول حاصل کر کے اپنے مذموم مقاصد کو منطقی انجام تک پہنچانے کی تگ و دو جاری رکھی۔ مشنریوں کے

صفحہ ۴۲۰

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

ذریعے مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی مساعی کیں۔ پہلے اگر صلیبی مسلمانوں کو لکڑی کی بنی ہوئی صلیب پر لٹکا کر جلاتے تھے تو آج سیاروں، لیزر بم اور سپر کمپیوٹروں کی جدید ٹیکنالوجی پر مبنی عریانی، معاشرتی سیاسی اور معاشی ہتھکنڈوں کی غیر مرئی سولی پر لٹکا کر جلایا جارہا ہے۔ اس کے لیے سی۔آئی۔اے، موساد، خاد اور دوسرے یورپی ممالک کی ایجنسیاں مشترکہ مہم جوئی کر رہی ہیں۔

اس وقت مغرب جس مہم جوئی کو اپنا شعار بنائے قلوب مسلم پر ضربیں لگا رہا ہے۔ یہ اس ذہنیت کا اظہار ہے۔ جو اسلام، پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں صدیوں سے ان کے دل و دماغ میں پیوست ہے۔ بقول علامہ اسد ”اس وقت جو تصادم کی سوچ اور محسوسات اسلام کے بارے میں مغربی معاشرے میں پائے جاتے ہیں، اس کی جڑیں صلیبی جنگوں میں نظر آتی ہیں۔ صلیبی دعویٰ کرتے ہیں کہ آج کے تصادم کا تعلق کروسیڈز (صلیبی جنگوں) سے نہیں مگر ہزار سال پہلے کے اثرات واضح طور پر بیسویں صدی کے لوگوں پر نظر آ رہے ہیں۔ علامہ اسد کے مطابق مغربی تہذیب کی نفسیات میں صدیوں سے اسلام دشمن سوچ موجود ہے، ڈنمارک اور دوسرے مغربی ممالک میں وقوع پذیر ہونے والے توہین رسالت کے حالیہ واقعات نے اسے مبنی برحقیقت کے طور پر واضح کر دیا ہے۔ اس سے اور کچھ ہوا یا نہیں اسلام کے پیروکاروں میں امہ کا تصور مضبوطی کے ساتھ ابھر کر سامنے آیا ہے، فکر و عمل کے اشتراک کی لہر نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر نظر آنے لگی ہے۔ بش کے منگول علاقے میں جانے کے بعد چنگیزیت اور چنگیزی تحسین، صلیبی اور منگولی اشتراک کی تصویر کو ایک بار پھر سامنے لے آئی ہے۔ سارا مغرب ایک ہے تو مسلم امہ بھی اس جانب رواں ہے۔ جس کا نتیجہ صلیبی جنگوں کا جو نکلا تھا ان شاء اللہ وہی ثمرہ اب بھی مسلم امہ کو ملے گا بشرطیکہ وہ مکافات عمل کا حصہ بننے کے لئے تیار ہو ورنہ روشن خیالی کے ناٹک سے وہ (مغرب) کبھی راہ پر نہیں آئے گا۔ بلکہ اس کے لئے عزم بالجزم کی ضرورت ہے۔

عجز و نیاز سے تو وہ نہ آیا راہ پر
دامن کو آج اس کے حریفانہ کھینچیے
صفحہ ٤٢١

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

اے تیغ بکف روز مکافات کہاں ہے؟

حافظ سجاد تقی

فلسطین فتح کرنے کے بعد جب مسلمانوں نے یروشلم کا محاصرہ کیا تو 638ء میں عیسائیوں نے گفت وشنید کے لیے یہ شرط رکھی کہ خلیفۃ المسلمین خود ان سے معاہدہ کرنے کے لئے آئیں تب وہ شہر کو مسلمانوں کے حوالے کریں گے دربار خلافت میں عیسائیوں کی یہ شرط پہنچائی گئی تو امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ یروشلم کے عیسائیوں سے بات کرنے چل پڑے۔ اس سفر میں امیر المومنین اور ان کا غلام باری باری اونٹ پر بیٹھتے رہے۔ جب یروشلم قریب آیا تو اپنی باری کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اونٹ سے اتر کر اس کی مہار تھام لی۔ غلام نے اصرار کیا کہ آپ اونٹ پر بیٹھیں میں مہار تھاموں گا مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے اس کی کوئی پیش نہ چلی کیونکہ یہ طے شدہ معاہدے کے مطابق ان کی باری مہار تھامنے کی تھی۔ چنانچہ چشم فلک نے یہ منظر دیکھا کہ حاکم وقت اونٹ کی مہار تھامے آگے چل رہا ہے اور غلام اونٹ پر بیٹھا ہے۔ اسی حالت میں امیر المومنین یروشلم میں داخل ہوئے۔ عیسائی مذہبی رہنماؤں نے جب یہ منظر دیکھا تو انہوں نے بغیر لڑائی کے شہر مسلمانوں کے ساتھ معاہدے کے بعد ان کے سپرد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ کیونکہ ان کی کتاب میں یہ پیش گوئی موجود تھی کہ ”بیت المقدس کو فتح کرنے والا حکمران جب یروشلم میں داخل ہوگا تو وہ اونٹ کی مہار پکڑے چل رہا ہوگا اور غلام اونٹ پر سوار ہوگا۔“

وہ کس شان سے امت کا امام آتا ہے
خود تو پیدل ہے سواری پہ غلام آتا ہے

معاہدہ ہوا تو عیسائیوں نے شہر میں مسلمان فوج کے داخل ہونے والے تمام راستوں پر عریاں نسوانی حسن کا حربہ آزمایا مگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی نے آنکھ اٹھا کر اس طرف نہ

صفحہ ۴۲۲

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

دکھایا۔ یروشلم خون کا ایک قطرہ بہے بغیر مسلمانوں کے قبضے میں چلا گیا۔ مسلمانوں نے کسی کو بھی گزند نہ پہنچایا۔ لفظ یروشلم جس کا ایک زمانے تک مطلب ”امن“ تھا فی الواقع مسلم دور اقتدار میں جائے امن رہا۔ مسلمانوں نے نہ صرف اس کی پوری حفاظت کی بلکہ کعبۃ اللہ کے بعد اسے اہم ترین مقام کی حیثیت دی جس کی ایک وجہ یہ کہ اس کا مسلمانوں کا قبلہ اول ہونا اور دوسری وجہ سفر معراج میں رحمت کائنات ﷺ نہ صرف بیت المقدس میں تشریف لے گئے بلکہ انبیاء علیہم السلام کی امامت بھی فرمائی اور پھر یہیں سے سفر معراج کا دوسرا حصہ شروع ہوا۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے عالم بالا کا سفر کیا اور قاب قوسین کے مرحلہ علیا تک پہنچے۔

گیارہویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں صلیبی جنگوں کے آغاز سے قبل دو اہم واقعات رونما ہوئے۔ (۱) بغداد پر سلجوقی ترکوں کی حکمرانی تھی، انہوں نے 1070ء میں مصر کے فاطمیوں سے شام چھین لیا جس کا انہیں سخت رنج ہوا۔ فاطمی وزیر افضل بن بدر الجمالی نے ترکوں کے خلاف صلیبیوں سے ساز باز کی۔ سلجوقیوں نے مصر پر بھی چڑھائی کی اور کامیاب رہے۔ (۲) بازنطینی سلطنت فاطمیوں کی پشت پر تھی ترکوں نے بازنطینیوں کو ایشیائے کوچک میں ایسی فیصلہ کن شکست دی کہ انہیں اپنی بقا خطرے میں پڑتی ہوئی نظر آئی جس کے لئے انہوں نے پوپ سے فریاد کی کہ ترکوں سے مقبوضہ علاقوں کو خالی کرایا جائے۔ ترکوں نے چونکہ عیسائی زائرین کو ملکی قوانین کا احترام کرنے اور بیت المقدس کی زیارت کے لئے آتے جاتے راستوں کی آبادیوں سے تعرض کرنے سے روکا تھا۔ لہٰذا پورے یورپ میں مقامات مقدسہ کی زیارت کے لئے راستے کی آزادی کو دینی فریضہ قرار دینے کے لئے 1095ء میں فرانس کے شہر اوفرن میں ”کلیر ماؤنٹ“ کے تاریخی اجتماع میں مسلمانوں کے خلاف مقدس جنگ کا اعلان کیا گیا۔ اس تحریک کا روح رواں پوپ اربن دوم (Pope Urbon II) اور پیٹر راہب (Peter the Hermit) تھے۔ پوپ اربن نے کہا ”بیت المقدس کو بہانہ بناؤ اور سرزمین مقدس کو مسلمانوں سے چھین لو، یہ سرزمین تمہاری ہے اور اس سے ان کافروں (مسلمانوں) کا کوئی تعلق نہیں۔ بائبل میں اس زمین میں دودھ اور شہد کی نہریں جاری ہونے کا ذکر ہے۔“ اسی قسم کا ایک اجتماع ”پلے سنزا“ میں ہوا۔ اس کے بعد سارے یورپ میں یہ نعرہ بلند ہوا "Duesvult" (صلیبی جنگ رضائے الٰہی ہے) پوپ اربن ثانی نے صلیبی جنگ میں

صفحہ ۴۲۳

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟

حصہ لینے والوں کے لیے تمام گناہوں سے معافی کا فرمان کلیسا (Bill of Plenary Indulgences) جاری کر دیا جبکہ پیٹر راہب کی تقاریر کے نتیجے میں امراء نے اپنی جائیدادیں بیچ کر اور غرباء نے اپنی پونجی صرف کر کے جنگ کی تیاریاں کیں۔ 1096ء میں تین لاکھ اور 1097 میں چھ لاکھ کے لشکر روانہ ہوئے۔ کئی شہر فتح کرنے اور وہاں قتل عام کرنے کے بعد جولائی 1099ء کو بیت المقدس پر صلیبیوں کا قبضہ ہو گیا جس کے بعد پیٹر راہب اور ریمنڈ آف سینٹ گائلز (Raymond of St Giles) نے یروشلم کی تمام مسلم آبادی کو حکم دیا کہ وہ امان کی خاطر مسجد اقصیٰ میں اکٹھے ہو جائیں۔ جب یہ نہتے لوگ اکٹھے ہوئے تو اس کے بعد جو کچھ ہوا اس کی جھلکیاں یہ ہیں ”کچھ مسلمانوں کے سر قلم کر دیئے گئے، کئی ایک کو تیروں سے چھلنی کر کے میناروں سے کودنے پر مجبور کر دیا گیا۔ بہت سوں کو دیر تک اذیتیں دینے کے بعد آگ میں جلا دیا گیا۔ تمام سڑکوں، چوراہوں پر بریدہ سروں، ہاتھوں اور پاؤں کے انبار لگے تھے۔ گلیوں میں خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں۔ ہر سو مردوں عورتوں اور بچوں کی لاشوں کے ڈھیر تھے کم سے کم اندازے کے مطابق 70 ہزار مسلمان قتل ہوئے۔ مسجد اقصیٰ کے احاطہ میں صلیبی جنگوں کے گھوڑے گھٹنوں تک خون میں ڈوبے ہوئے چل رہے تھے۔ جب عیسائی سردار اس قتل عام سے نڈھال ہو گئے تو انہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقبرہ کے کلیسا (Holy Sepulchre) میں مذہبی رسوم کی ادائیگی کا خیال آیا۔ پیٹر راہب کی قیادت میں ایک جلوس کی شکل میں اٹی ہوئی لاشوں اور بہتے ہوئے خون سے گزرتے ہوئے عود کی خوشبو اور موم بتیوں کی روشنی میں جہاں عقیدت کے آنسوؤں میں مذہبی رسوم کی ادائیگی کر رہے تھے وہاں سے کوئی 200 گز کے فاصلے پر صلیبی جنگجو بائبل کی مناجات (Psalms) سے ”روحانی فیض“ حاصل کرتے ہوئے معصوم مسلمان بچوں کو پاؤں سے پکڑ کر ان کے سر دیوار سے پٹخ رہے تھے۔“

صلیبی یلغار جس تیزی اور قوت سے آگے بڑھ رہی تھی ممکن تھا کہ مصر و شام کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ ایسے عماد الدین زنگی اور اس کا بیٹا نور الدین زنگی صلیبیوں کے آگے ڈٹ گئے اور پھر صلیبی جنگوں کا سلسلہ چل نکلا۔ دوسری جنگ 1147ء میں جرمن بادشاہ کونراڈ ثالث اور شاہ فرانس لوئی ہفتم کی قیادت میں ہوئی مگر ان کی کوئی پیش نہ گئی اور 1149 میں وہ ناکام و نامراد ہوئے۔

صفحہ 424

تجدید احیائے دین کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

تیسری صلیبی جنگ سلطان صلاح الدین ایوبی کی شاندار فتوحات کے ردعمل میں ہوئی ایوبی نے 1171ء میں فاطمی خلافت کا خاتمہ کر کے نہ صرف مصر پر اقتدار مستحکم کیا بلکہ نورالدین زندگی کے انتقال کے بعد اسلامی قوموں میں نظم و اتحاد پیدا کیا۔ صلاح الدین ایوبی نے شام اور فلسطین کی یکے بعد دیگرے تمام ریاستیں ختم کردیں۔ اور 1187ء میں اٹھاسی سال کے بعد یروشلم کو دوبارہ فتح کیا اور عیسائیوں کے پاس انطاکیہ اور صور کی ریاستوں کے علاوہ کچھ بھی باقی نہ رہا۔ اس فتح کا احوال مغربی مورخین نے یوں بیان کیا ہے۔ ”سلطان نے جزیہ ادا کرنے کی شرط پر تمام عیسائیوں کو رہنے کی اجازت دے دی۔ سلطان نے ہمیشہ اپنے مفتوحین کے ساتھ فراخدلی کا برتاؤ کیا۔ سوائے مسیحی جنگجو جوگیو (Monks) کے قتل کے ذرا برابر بھی سختی نہیں کی۔ شاید ہی کبھی کسی اور جرنیل نے اپنے دشمنوں کے ساتھ ایسی خوش خلقی اور ہمدردی کا مظاہرہ کیا ہو جبکہ حریف اس کے مذہب کے بھی دشمن ہوں۔ سلطان نے فرنگی امراء کی خواتین کی التجا پر ان کے قیدی شوہروں اور باپوں کو رہا کیا۔ بلکہ اس نے جانے والوں کے لئے بحفاظت عیسائی علاقوں میں پہنچانے کا بھی بندوبست کیا۔ اور جیب سے انہیں خرچ دیا۔ (دوسری طرف) جونہی یہ لوگ ٹرپولی کے عیسائی علاقے میں پہنچے تو وہاں کے امراء نے ان سے مال و اسباب چھین لیا۔ اسکندریہ کی بندرگاہ میں عیسائی جہاز راں اپنے ہم مذہبوں سے کرایہ وصول کیے بغیر کسی کو لے جانے پر تیار نہ ہوئے۔ سلطان نے جو فوجی مہاجرین عیسائیوں کے ساتھ بھیجے تھے انہوں نے دوران سفر بہترین سلوک کا مظاہرہ کیا۔ وہ بیماروں کی تیمارداری کرتے، بچوں کو اٹھاتے اور اپنی سواریاں عورتوں اور بوڑھوں کو دیتے۔ عین اسی وقت جب کہ یہ سارا کچھ ہو رہا تھا یروشلم کے بطریق ہرقلیس (Heraclius) نے نہ صرف ذاتی دولت بلکہ یروشلم کے دوسرے تمام گرجاؤں کی دولت بھی اکٹھی کی اور بحفاظت یورپ جانے کے لئے جہاز میں سوار ہو گیا۔ روم پہنچ کر اس نے سیاہ ماتمی لباس پہنا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک ایسی شبیہہ بنوائی جسے خون میں لت پت دکھایا گیا اور اسکے ساتھ ایک مسلمان کو مارتے دکھایا گیا تھا لے کر یورپ کے قریہ قریہ اور شہر شہر گھوما کہ حضرت محمد ﷺ کے پیروکار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو (نعوذ باللہ) مار رہے ہیں۔“ معرکہ ہلال وصلیب میں مسلمانوں کا رویہ اور پوپ کا طرز عمل تاریخ کا حصہ ہے۔ طرفین نے بیت المقدس کی فتح کے بعد دشمنوں سے جو سلوک کیا وہ مغربی مفتوحین کی تحریروں سے سامنے رکھا گیا۔ اس وقت سے اب تک

صفحہ ۴۲۵

تحفظ ناموس رسالت... کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

زمان ومکاں کی قیود سے آزاد ہلال وصلیب کی معرکہ آرائی جاری ہے۔ عسکری وفکری دونوں محاذوں پر مسلمانوں کے درد کا سودا ہوتا چلا آ رہا ہے۔ مظلوم ظالم ٹھہرائے گئے اور ظالم مظلومیت کا نقاب اوڑھے سرگرم رہا۔ مسلم حکمران و دانشور فکری غلامی کا قلادہ اپنی گردن میں ڈالے مسلمانوں کو ہی کوسنے دیتے رہے۔ جذبہ ایمانی کو مسلم کے لئے درد سر باور کر رہے ہیں۔ حالات و واقعات اشارہ کر رہے ہیں مسلم امہ کا جذبہ ایمانی مکافات عمل کا منتظر ہے۔

ہوتا ہے یہاں روز مرے درد کا سودا
اے تیغ بکف روز مکافات کہاں ہے؟
صفحہ ۴۲۶

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تقدیم بندہ بصد احترام

بین المذاہب مفاہمت اور ہم آہنگی کا واحد راستہ

پیر فضل حق

ڈنمارک کے بعد دوسرے متعدد مغربی ممالک میں سرکار دو عالم ﷺ اور اسلام کے بارے میں اہانت آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد مسلم ممالک میں جس غیظ و غضب کا اظہار کیا گیا اور کیا جا رہا ہے اس سے بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ آزادیٔ اظہار کے پر فریب نعرے کی آڑ میں کئے جانے والے مذکورہ اقدام کے نتیجے میں مسلمانوں کو کس قدر ذہنی و قلبی اذیت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اور ڈینش وزیر اعظم نے بعض مسلم ملکوں میں اپنے سفارتخانوں کے نذر آتش کئے جانے پر جو یہ کہا ہے کہ وہ اس پر کچھ نہیں کہنا چاہتے کیونکہ مسلمان نوجوانوں نے یہ سب کچھ سخت اشتعال کی حالت میں کیا ہے۔ اور ان کے دل ان خاکوں کی اشاعت پر بجا طور پر دکھی ہیں اگر حقیقت پسندی کی نظر سے دیکھا جائے تو آہستہ آہستہ مغرب کو بالآخر اس امر کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ بین المذاہب ہم آہنگی اور مفاہمت اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ تمام ادیان حقہ کے مقدس بانیوں کا احترام کرنا اور ان کی مقدس کتابوں اور تعلیمات کی دل سے عزت و تکریم کرنے کی راہ نہ اپنائی جائے مسلمانوں کو اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی مشکل پیش نہیں آسکتی کیونکہ ہم صمیم قلب سے تمام ادیان کی بنیاد ڈالنے والے انبیاء علیہم السلام کی توقیر کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں اور اس کے بغیر ان کے ایمان کی تکمیل ہی نہیں ہو سکتی۔ وہ ابولانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام، اور حضرت مسیح علیہ السلام سب کو اللہ تعالیٰ کے فرستادہ اور پاک باز نبی سمجھتے ہیں اور ان کی شان میں کسی ادنیٰ سی بے ادبی کا تصور بھی نہیں کر سکتے اسی طرح وہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حرمت کو اپنی جان سے بھی پیارا سمجھتے ہیں اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ دوسرے مذاہب کے ماننے والے اگر بانی اسلام پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم اس امر کا تو ضرور اہتمام کریں کہ زبانی،

صفحہ ۴۲۷

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم تحریری یا عملی طور پر کوئی ایسا اقدام نہ کیا جائے جس سے ان کی توہین کا کوئی پہلو نکلتا ہو۔ حضور ﷺ نے حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کو اپنی حیات مبارکہ میں ہی تبلیغ اسلام کے لئے شاہ نجاشی کے دربار میں حبشہ بھیجا تھا اور جب حضور ﷺ کا پیغام شاہ حبشہ کو پہنچایا گیا تو اس نے استفسار کیا کہ آپ ﷺ کی تعلیمات کیا ہیں۔ جس پر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے سورہ مریم کی وہ آیات تلاوت کیں جن میں حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کی پاکبازی اور راستبازی کا نہایت پرشوکت الفاظ میں ذکر کیا ہے۔ یہ آیات سننے کے بعد نجاشی پر مسرت و انبساط کی ایک ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ اس نے مسلمانوں کے وفد سے غیر معمولی عزت و احترام کا سلوک کیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر اہل مغرب جن کی بڑی تعداد مسیحی مذہب سے تعلق رکھتی ہے بانی اسلام کا ایسا ہی احترام کرنا شروع کر دیں جیسا کہ شاہ حبشہ نے کیا تھا تو نہ صرف یہ کہ دنیا کے دو بڑے مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان مغائرت اور بیگانگی کم ہو سکتی ہے بلکہ ان میں مفاہمت اور صلح و آشتی کے ایسے رشتے جنم لے سکتے ہیں جو قیام امن عالم کے لئے عصر حاضر میں کی جانے والی کوششوں کو آگے بڑھانے میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر یہود بھی یہ سمجھ لیں کہ جس طرح مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت یعقوبؑ اور حضرت موسیٰؑ کے احترام کو اپنا ایک دینی فریضہ سمجھتے ہیں اسی طرح یہودی مذہب کے پیروکار بھی حضور ﷺ کی عزت و عظمت کی پاسداری کو اپنا دینی نہیں تو کم از کم اپنی دنیوی ذمہ داری ہی سمجھ لیں تو اس سے بین المذاہب صلح و آشتی کی جانب نہایت اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔ حضور ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان رکھنے والے دو مذہب یہودیت اور مسیحیت کے ماننے والوں کو توحید خداوندی کے ایک نقطے پر اکٹھے ہونے کی جو دعوت دی تھی اگر مذکورہ بالا مذاہب کے ماننے والے اس حد تک اتفاق کرتے ہوئے بھی اسلام اور بانی اسلام ﷺ کی شان میں کوئی گستاخی کرنے سے باز آ جائیں تو اس نوع کا اقدام بھی بین المذاہب نفرتوں کو دور کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔ لیکن مشکل یہ آن پڑی ہے کہ مغرب میں حریت فکر اور آزادی اظہار کے لئے ہر قسم کی اخلاقی حدود و قیود کو تج کر اباحیت تک کے جواز کے لئے حیلے بہانے تلاش کرنے کی روایت

صفحہ 428

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تہذیبوں کا تصادم

جو اب بہت پختہ ہو گئی ہے اس نے مغربی معاشرے میں مذہب سے بیگانگی اور مادر پدر آزادی کو اس قدر عام کر دیا ہے کہ برخود غلط افراد کے لئے مقدس بانیان مذاہب اور ان کی تعلیمات کا تمسخر اڑانا بھی ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ اور ایک مغربی نشریاتی ادارے کی جانب سے حضرت مسیح علیہ السلام کی اہانت پر مبنی ایک فلم کی نمائش پر مسیحیوں کی جانب سے املاک کو بعض مغربی ممالک میں ہی خاکستر کر دینے کی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے بالکل درست کہا ہے کہ اگر مسیحی اپنے دین کے مقدس بانی کی اہانت پر اس قدر مشتعل ہو سکتے ہیں تو مسلمانوں کو غم و غصہ میں آ کر اس طرح کے کسی اقدام پر آمادہ ہو جانے پر کوئی دوش نہیں دیا جا سکتا۔

اس ساری تفصیل سے یہ بات پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ بین المذاہب مفاہمت کو بڑھانے کا واحد راستہ صرف یہ ہے کہ پوری دنیا میں تمام معروف ادیان کے بانی انبیاء علیہم السلام کی اہانت کو قانوناً جرم قرار دیا جائے اور اس پر لفظی و معنوی طور پر اس انداز میں عمل کیا جائے کہ اس کی روح کسی طرح مجروح نہ ہو تہذیبوں کے تصادم کو صرف اسی طریقہ سے روکا جا سکتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اہل مغرب کا سنجیدہ طبقہ اس کا کس طرح جواب دیتا ہے۔

صفحہ ۴۲۹

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

بسم الله الرحمن الرحيم

نواں باب

غازی عامر چیمہ شہید

غازی علم دین شہید کے روحانی بیٹے، شہید ناموس رسالت غازی عامر عبدالرحمن چیمہ شہید کے مبارک جنازے کو خراج تحسین پیش کرتی ایمان افروز منتخب تحریریں۔

مزید فوائد:

(۱) جرمنی کی کال کوٹھڑی میں ”آبروئے ما ز نام مصطفیٰ ﷺ است“ کا ورد کرنے والے کفن بردوش مجاہد کی زندہ و جاویداں داستاں۔ (۲) حرمت رسول ﷺ پر قربان ہو جانے والے اُمّتِ مسلمہ کے فرزند ارجمند کی ولادت باسعادت، خاندانی پس منظر اور تعلیمی مراحل کی روداد۔ (۳) عشق رسول ﷺ پر جان کی بازی لگا کے امر ہو جانے والے عامر شہید کی سیرت و کردار کی دلآویز جھلکیاں (۴) ناموس رسالت ﷺ پر حملہ آور ہونے والے بدطینت اور کمینہ خصلت انسان نما ابلیسوں کے لئے برق قضا کی حیثیت رکھنے والے عاشق رسول ﷺ کے تاریخی کارنامے کی تفصیلات (۵) عامر چیمہ کا سر فخر سے بلند کرنے والے والدین اور بہنوں کے عشق سے لبریز جذبات و تاثرات (۶) غیرت و حمیت کی درخشاں تصویر تحفظ ختم نبوت کی بے نیام شمشیر کی قربانی کی قبولیت کی گواہی دیتے مبارک خواب (۷) حریم نبوت کے پاسبان، ناموس رسالت کے نگہبان کے خون کے ظاہر ہوتے اثرات و برکات

صفحہ ۴۳۰

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

جرمنی کے زندان میں عامر چیمہ کی شہادت

عبدالقدوس محمدی

کچھ عرصہ قبل یورپین اخبارات میں چھپنے والے دلآزار، شرانگیز اور توہین آمیز خاکوں کے حوالے سے امت مسلمہ کے ہر فرد نے اپنی اپنی بساط و استطاعت کے مطابق احتجاج کیا ....... کسی نے جلوس نکالا ....... کسی نے مظاہرہ کیا ..... کسی نے کانفرنسوں اور سیمیناروں کا انعقاد کیا ....... کسی نے بینرز آویزاں کئے ....... کسی نے تقریروں کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا ....... کسی نے قلمی احساسات کا اظہار کیا ..... مگر سب سے زیادہ انوکھا اور مؤثر احتجاج ایک پاکستانی طالب علم عامر چیمہ نے کیا ...... اس نے اپنی غیرت ایمانی کا ثبوت پیش کرنے کیلئے ....... اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی عقیدت ومحبت کا اظہار کرنے کیلئے خنجر کا سہارا لیا اور توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبار کے برلن (جرمنی) میں موجود بیورو چیف پر قاتلانہ حملہ کر دیا جس سے وہ بدبخت شدید زخمی ہو گیا ...... جبکہ عامر چیمہ کو موقع پر موجود گارڈز نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا ...... ۲۰ مارچ کو عامر کو گرفتار کیا گیا اور اس وقت سے لے کر شہادت تک اس بیچارے پر نہ جانے کس قسم کا تشدد ہوتا رہا ..... ظلم وستم کے کیسے کیسے پہاڑ توڑے گئے ....... اسے کیسی کیسی تکلیفوں اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر وہ اس ظلم وستم کی تاب نہ لاکر جام شہادت نوش کر گیا۔

اس عرصہ میں عامر چیمہ کے اہل خانہ اس کی رہائی کیلئے ہر ممکن کوشش کرتے رہے ....... انہوں نے قانونی چارہ جوئی کا انتظام کرنا چاہا ....... پاکستانی سفارتخانے کی وساطت سے اپنے بیٹے سے بات کرنے کی خواہش کا بار بار اظہار کیا لیکن نہ تو عامر کو اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع دیا گیا ....... نہ ہی اس کے اہل خانہ کو کسی کو اپنا وکیل بنانے کی اجازت دی گئی ....... اور

صفحہ ۴۳۱

تحفظ ناموس رسالت ،کیوں، کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

یا نہ ہی ان کی فیملی سے بات کروائی گئی...... کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ مغربی ممالک جو حقوق انسانی کے علمبردار بنے پھرتے ہیں....... ہر وقت انصاف کا ڈھنڈورہ پیٹتے رہتے ہیں...... عدل کی بالادستی کی بات کرتے ہیں...... تحمل و رواداری کی تلقین کرتے رہتے ہیں...... ان کی جیل میں ایک پاکستانی نوجوان کو اس بے دردی سے شہید کر دیا جائے گا۔ عامر کی شہادت نے ان ظالموں کی انصاف پسندی، انسانیت سے ہمدردی اور عدل و انصاف کی بالا دستی کے نعروں کا بھانڈا ایک بار پھر پھوڑ دیا ہے۔

اور رہ گئی ہماری حکومت جس کے ذمہ اپنے ایک ایک شہری کے تحفظ کا فرض عائد ہوتا ہے۔ اس حکومت کے کارندوں نے عامر کے اہل خانہ کو اندھیرے میں رکھا....... انہیں طفل تسلیاں دیتے رہے------ انہیں راز داری کی تلقین کرتے رہے...... اور بالآخر یہ حادثہ ہو گزرا....... اسے المیہ ہی کہا جائے گا کہ برازیل جیسے ملک کا عام شہری لندن میں گولیوں کی بوچھاڑ کا نشانہ بنتا ہے تو برازیل آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے اور برطانیہ کو گھٹنے ٹیکنے اور ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے پر مجبور کر دیتا ہے، لیکن سمجھ نہیں آتی کہ عالم اسلام کے باشندوں کا لہو اتنا ارزاں اور اتنا بے حیثیت کیوں ہے؟........ پاکستانی اتنے غیر محفوظ کیوں ہیں کہ جس کا جی چاہتا ہے، پاکستانی باشندوں کے لہو سے ہاتھ رنگ لیتا ہے اور ہمیں احتجاج کے دو بول بولنے کی توفیق بھی نہیں ہوتی....... ستمگروں کے ستم کا نشانہ بننے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کرنے اور ان کی تسلی کیلئے چند کلمات کہنے کا حوصلہ بھی نہیں ہوتا...... آخر کیوں؟

اور جہاں تک تعلق ہے عامر چیمہ کا تو وہ تو حد سود و زیاں سے گزر گیا ہے....... اس جواں سال عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ناموس رسالت کے تحفظ کیلئے اپنی جان نچھاور کر کے اپنے ایمان کے کامل ہونے کا ثبوت دے دیا ہے....... وہ زندہ جاوید رہے گا........ اب وہ مسلمانان عالم کے دلوں اور تاریخ کے صفحات سے کبھی نہیں مٹ سکتا...... وہ ان لوگوں کی صف میں جا شامل ہوا ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ’’انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں‘‘ اور ایسے لوگوں ہی کے بارے میں کسی پنجابی شاعر نے کہا تھا:

صفحہ ۴۳۲

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

او مر کے وی نئیں مردے

عامر چیمہ عہد حاضر کا وہ غازی علم دین شہید ہے جو جرأت اور ہمت و غیرت کا استعارہ بن گیا..... وہ ایک ایسا مینارۂ نور ٹھہرا ہے جس سے صدیوں عاشقان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم رہنمائی لیتے رہیں گے۔ غازی علم دین شہید جیل کی جس کوٹھڑی میں قید تھے اس کے دربان اور چوکیدار بتاتے ہیں کہ اس کوٹھڑی سے کئی شب انوکھی انوکھی سی روشنیاں پھوٹا کرتی تھیں..... کبھی اجنبی سی خوشبوئیں مہکا کرتی تھیں..... کبھی غازی دیر تک غائب ہو جاتے تھے..... کبھی کسی ان دیکھی ہستی سے محو گفتگو ہوتے تھے.......... میں یہ سوچتا ہوں کاش! عامر جس جیل میں تھا اس کا کوئی دربان مسلمان ہوتا تو وہ دنیا والوں کو بتاتا کہ عامر نے زنداں میں ڈیڑھ ماہ کا عرصہ کیسے گزارا؟.... اس ڈیڑھ ماہ کے دوران نجانے وہ قرب کے کتنے زینے چڑھا؟...... اس نے سلوک و احسان کی کون کون سی منازل طے کی ہوں گی؟....... کیا معلوم اس کیلئے علم و حکمت کے کون کون سے در وا ہوئے ہونگے؟..... کیا خبر اس پر اللہ کے احسانات و نوازشات کی کیسی کیسی بارشیں برسی ہونگی؟

مجھے رہ رہ کر اس بانکے سجیلے نوجوان کی سعادت مندی اور خوش بختی پر رشک آ رہا ہے ........ جو گھر سے جرمنی کی ایک یونیورسٹی کی ڈگری لینے نکلا تھا........ اور اب وہ سر پر سفید کفن لپیٹے....... چہرے پر شہادت کے لہو کا غازہ مل کر........ ہاتھوں میں جنت کا پروانہ لیے لوٹ رہا ہے......... جواں سال عامر نے جولائی میں تعلیم مکمل کر کے واپس لوٹنا تھا........ اس کی بہنوں کی آنکھوں میں اپنے اکلوتے بھائی کی خوشیوں کے خواب تاروں کی مانند جھلملا رہے تھے اور وہ ان سب کی پرواہ کئے بغیر جنتی حوروں کا دولہا بن کر افق کے اس پار چلا گیا...... عامر تو چلا گیا ..... اس نے ایک ہی جست لگائی اور اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں اور فردوس کے بالا خانوں میں پہنچ گیا..... مگر جاتے جاتے ہمارے لئے بہت سے پیغام، بہت سے سوالات چھوڑ گیا....... ہمیں آزمائشوں سے دو چار کر گیا...... امتحانات میں ڈال گیا...... دیکھئے ہم ان آزمائشوں میں کامیابی حاصل کرتے ہیں یا ناکام ہو جاتے ہیں؟

صفحہ ۴۳۳

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

غازی علم دین شہید کا روحانی بیٹا

عتیق مرتضیٰ

وہ نہ تو کوئی باریش نوجوان تھا، نہ ہی کسی مدرسے کا طالب علم اور نہ ہی اس کا تعلق کسی جہادی تنظیم کے ساتھ تھا۔ البتہ رحمت دوعالمﷺ سے حد درجہ عشق اور خواجہ بطحا کی حرمت پر کٹ مرنے کا جذبہ ہر مسلمان کی طرح عامر چیمہ کے نزدیک بھی کائنات کا سب سے قیمتی سرمایہ تھا۔ یہ وہ جذبہ ہے جو جنون کی حد تک دنیا کے ہر مسلمان کے دل میں پایا جاتا ہے۔ اسی جذبہ جنون کا کرشمہ تھا جس نے عامر چیمہ شہید کو غازی علم دین شہید کا وارث بنا دیا، وہی غازی علم دین جو عامر شہید کے لئے ایک مثالی شخصیت تھی۔

عامر چیمہ شہید راولپنڈی میں رہائش پذیر ریٹائرڈ پروفیسر نذیر احمد چیمہ کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ان دنوں عامر ٹیکسٹائل اینڈ مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے جرمنی گئے ہوئے تھے وہ جرمنی کے شہر ”مونشن گلاڈ باغ“ کی یونیورسٹی ”اوشوے فیڈر ہائن“ میں ماسٹرز کے چوتھے سمسٹر میں تھے اور جولائی میں انہوں نے تعلیم مکمل کر کے وطن واپس آنا تھا عامر شہید کے والدین ، دوست احباب اور رشتہ دار اس انتظار میں تھے کہ ان کا عامر جلد ہی ماسٹرز کی ڈگری لے کر وطن لوٹے گا لیکن قسامِ ازل نے ان کے نصیب میں اس سے کروڑ ہا درجہ بلند سعادت لکھ رکھی تھی جو اس دنیا میں کم ہی کسی کو نصیب ہوا کرتی ہے۔ اللہ نے ان کو شہادت و سعادت کا وہ تاج پہنایا جس کے مقابلے میں ساری دنیا کے ڈپلومے، سندیں اور ڈگریاں ایک ذرے کی حیثیت بھی نہیں رکھتیں ..... ہوا یوں کہ جب ناروے اور دیگر ممالک کے اخبارات کی جانب سے رحمت عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کی گھٹیا ترین اور شرمناک حرکت کی اطلاع عامر شہید کو ملی تو فرط غیرت سے ان کے تن بدن میں آگ لگ گئی..... اس کی راتوں کی نیند اور دن کا چین تباہ ہو گیا .... عامر شہید

صفحہ ۴۳۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

نے سوچا کہ ایسی زندگی کا کوئی فائدہ نہیں جس میں میرے نبی ﷺ کی توہین ہوتی رہے.... توہین کرنے والے اس دھرتی پر زندہ موجود ہوں.... اور ایک مسلمان اس پر خاموش رہے۔ چنانچہ عامر شہید نے دل ہی دل میں گستاخان رسول کو سزا دینے کا عزم کیا اور پختہ ارادے اور نیک عزائم لے کر اپنے عظیم مشن کی تکمیل کے لئے ترکیبیں سوچنے لگے۔

غازی علم دین کے اس روحانی بیٹے نے اپنے مقدس مشن کی تکمیل کے لیے بعینہ وہی طریقہ کار اختیار کیا جس کو غازی علم دین نے اپنایا تھا۔ چنانچہ عامر شہید نے جرمنی میں ہی ایک مضبوط اور تیز دھار خنجر خریدا اور گستاخ اخبار کے دفتر کی مسلسل نگرانی شروع کر دی اور موقع کی تاک میں رہے۔ آخر پندرہ روز کی مسلسل نگرانی کے بعد عامر شہید کی مراد بر آئی اور اس اخبار کا بیورو چیف عامر کے نشانے پر آگیا۔ بیورو چیف پر عامر کی عقابی نگاہیں پڑیں عامر شہید زخمی شیر کی طرح اس پر جھپٹ پڑے اور اپنے تیز دھار خنجر کے پے در پے وار کر کے اس بیورو چیف کو شدید زخمی کر دیا۔ موقع پر موجود گارڈز نے عامر کو پکڑ لیا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔ بعد ازاں جب عدالت میں عامر کو پیش کیا گیا تو اس نے عدالت کے روبرو انتہائی جرأت و دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کارنامے کا فخریہ اقرار کیا اور صرف یہی نہیں بلکہ اس نے اپنے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ اگر اس کو دوبارہ موقع ملا تو وہ اپنے نبی ﷺ کی عزت و حرمت کی خاطر اس قسم کے اقدام سے ہرگز گریز نہیں کرے گا۔

عامر چیمہ کو ۲۰ مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت سے عامر شہید جرمن پولیس کی حراست میں تھے۔ اس دوران ان پر بے انتہا تشدد کیا گیا اور ان کا تعلق زبردستی القاعدہ سے جوڑنے کی کوششیں کی گئیں۔ اور آخر کار کسی سوچی سمجھی سازش کے تحت ان کو حد درجہ تشدد کر کے شہید کر دیا گیا۔ جرمن پولیس نے ان کی موت کو خودکشی قرار دیا ہے لیکن قرائن و شواہد چیخ چیخ کر اس مرد مجاہد کی مظلومانہ شہادت کی گواہی دے رہے ہیں۔ جرمن پولیس کا کہنا ہے کہ شہید نے رسی کے ذریعے پھندا ڈال کر خودکشی کی۔ حالانکہ جرمنی کی جیلوں کے بارے میں یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ وہاں قیدیوں کو اس قسم کی اشیاء اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں۔ پھر جب عامر کا تعلق

صفحہ ٤٣٥

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

القاعدہ سے جوڑا جا رہا تھا تو ان کی نگرانی میں تو مزید احتیاط اور سختی برتی گئی ہوگی۔ ایسے میں عامر شہید کے پاس رسی کہاں سے آئی؟ حقیقت میں خودکشی کا الزام شہید کے قاتلوں کی اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے لیکن اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں سے نہ تو شہید کے لہو کو چھپایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس جرم کی سزا سے بچا جا سکتا ہے۔ گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے اب امت مسلمہ پر دوہرا قرض آن پڑا ہے۔ ایک تو شاتمین رسول ﷺ کے حوالے سے اور دوسرا قاتلین عاشق رسول ﷺ کے حوالے سے۔ عامر شہید کی شہادت پر حفیظ میرٹھی کا یہ شعر مجھے آج بار بار یاد آ رہا ہے:

عجیب لوگ ہیں، کیا خوب منصفی کی ہے
ہمارے قتل کو کہتے ہیں خودکشی کی ہے
اسی لہو میں تمہارا سفینہ ڈوبے گا
یہ قتل عام نہیں ہم نے خود کشی کی ہے

عامر شہید نے اپنے اس کارنامے سے پوری امت مسلمہ کا سر فخر سے بلند کر دیا لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے شہید کی اس طرح قدر نہیں کی جس کے وہ حقدار تھے۔ اوّل تو شہید کے اس عظیم اور جرأت مندانہ اقدام کو اندھیرے میں رکھا گیا۔ اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے علاوہ ملکی اخبارات میں بھی اس کارنامے کو وہ نمایاں کوریج نہیں دی گئی جس کی ضرورت تھی۔

یہاں ایک بات یہ بھی قابل غور ہے کہ جس طرح شہید کے کارنامے کو چھپانے کی کو شش کی گئی، اسی طرح قاتلانہ حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے اخبار کے بیورو چیف کے نام اور کوائف کو بھی پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ حملے کے بعد ابھی تک اس شخص کے بارے میں کوئی خبر نہیں آئی۔ واضح رہے کہ مذکورہ شخص پر عامر شہید نے تیز دھار خنجر کے ذریعے قوت ایمانی کے ساتھ کئی بھرپور وار کیے تھے۔ عین ممکن ہے اس حملے کے نتیجے میں یہ شخص جہنم واصل ہو چکا ہو لیکن کسی خاص

صفحہ ۴۳۶

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

مقصد کے تحت اس کی موت کی خبر ظاہر نہ کی گئی ہو کیونکہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ تھی جس کا مقصد مسلمانوں کی غیرت ایمانی کا امتحان لینا تھا۔ اور جب ایک مسلمان نے غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمنان رسولﷺ کو منہ توڑ جواب دیا تو اس کے کارنامے کو چھپانے کی کوششیں ہونے لگیں۔ واضح رہے کہ یہی پالیسی افغان، عراق جنگ میں بھی مغربی خبر رساں ادارے اپنائے ہوئے ہیں کہ مسلمان مجاہدین کی وہ جرات مندانہ کاروائیاں جن میں کئی کئی غیر ملکی فوجی مارے جاتے ہیں ان کارناموں کو پس پردہ رکھا جاتا ہے۔ اور امریکی کاروائیوں کو حد سے زیادہ نمایاں کیا جاتا ہے۔ تاکہ مسلمانوں کے دلوں میں کفر کا رعب ڈالا جائے اور دنیا کو یہ باور کرایا جائے کہ مسلمان ایک غریب، مسکین، بزدل اور خواب غفلت میں ڈوبی ہوئی قوم ہیں۔ ان میں کوئی دم خم نہیں۔ ان کے ملکوں پر بمباری کرو یا ان کے پیغمبرﷺ کی گستاخی، ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اب ان میں کوئی صلاح الدین ایوبی، کوئی محمد بن قاسم باقی نہیں رہا۔ لیکن عامر شہید جیسے نوجوان ہر میدان میں کفر کی امیدوں پر پانی پھیرتے اور اس کو ناکوں چنے چبواتے رہیں گے انشاء اللہ۔ عامر شہید کا ہدف بننے والا شخص اگر زندہ بھی ہے تو یہ نہ سمجھا جائے کہ مشن ناکام ہوا۔ دشمن زندہ رہے یا موت کے منہ میں جائے لیکن عامر بہر حال ابدی کامیابی پا چکے ہیں۔ اے عامر شہید! تجھ پر کروڑوں رحمتیں ہوں۔ ہم لوگ تو گفتار میں لگے رہ گئے۔ آپ نے کردار کے میدان میں پہلا قدم رکھ دیا۔ اللہ عامر چیمہ شہید کو جنت الفردوس میں اعلیٰ درجات عطا فرمائے۔ (آمین)

صفحہ ٤٣٧

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

عامر بھائی شادی مبارک

سعدی کے قلم سے

اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے..... حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے عاشق..... شہید ناموس رسالت..... قابل فخر قابل رشک اسلامی بھائی محمد عامر چیمہ شہید کو ہمارا سلام پہنچے..... عقیدت بھرا سلام پہنچے..... عقیدت بھرا سلام، محبت بھرا سلام، بہت پیارا بہت میٹھا دل کی گہرائیوں سے نکلا ہوا سلام ..... اگر کسی ”پاگل“ کو شک ہے کہ .... عامر کی شہادت سے کوئی ڈر جائے گا... کوئی گھبرا جائے گا، تو وہ اپنے دماغ کا علاج کرائے..... کل میں عامر کے والد محترم کی آواز سن رہا تھا..... یقین کریں ذرہ برابر افسوس کا اظہار نہیں تھا..... بس فخر تھا جو چھلک رہا تھا اور خوشی تھی جو مہک رہی تھی..... ہاں اللہ کے شیروں کے والدین ایسے ہی ہوا کرتے ہیں..... بے شک عامر اللہ تعالیٰ کا شیر تھا جس کی ایک گرج نے ”گوری نجاست“ کو ہلا کر رکھ دیا..... ہاں ایک کمزور سے نوجوان نے پورے یورپ کے گستاخان رسول پر لرزہ طاری کر دیا.... ہم تو عامر کی زیارت کو ترس رہے تھے مگر وہ آرام سے سو گیا..... مجھے اس سوئے ہوئے دولہے پر وہ شعر یاد آ رہا ہے..... جو ہندوستان کے ایک شاعر نے ان بچوں کی لاشیں دیکھ کر کہا تھا..... جو ایک ”مسجد“ کا تحفظ کرتے ہوئے شہید ہو گئے تھے:

تعجب کیا جو ان بچوں کو شوق شہادت ہے
یہ بچے ہیں انہیں کچھ جلد سو جانے کی عادت ہے

ہاں مجھے عامر کے مقام کو دیکھ کر وہ حدیث شریف یاد آ رہی ہے..... جو امام بخاریؒ نے اپنی مایہ ناز تصنیف ”صحیح بخاری“ کی ”کتاب الجہاد“ میں لکھی ہے کہ..... ایک صاحب مسلمان ہوتے ہی میدان جہاد میں کود پڑے..... انہوں نے ابھی تک ایک نماز ادا نہیں کی تھی..... کیونکہ نماز ادا کرنیکا موقع ہی نہ ملا تھا کہ نماز کا وقت ہی نہیں آیا تھا..... ادھر کلمہ پڑھا، مسلمان ہوئے اور ادھر جنت کے میدان میں اتر

صفحہ 438

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

پڑے..... اور شہید ہو گئے۔..... آپ ﷺ نے ان کا اُونچا مقام دیکھ کر فرمایا:

عَمِلَ قَلِيْلاً وَ أُجِرَ كَثِيراً

کہ تھوڑی سی دیر کا عمل کیا..... اور بہت سا اجر پالیا..... عامر یار! سچ بتاتا ہوں اس زمانے میں تم مجھے اس حدیث شریف کا مصداق نظر آتے ہو..... اور تمہیں یہ مقام اس لئے ملا کہ تم نے سچا عشق کیا..... اور سچا عشق انجام کی پرواہ نہیں کیا کرتا۔

جان دے دی ہم نے ان کے نام پر
عشق نے سوچا نہ کچھ انجام پر

تم تو یورپ میں ”ڈگری“ لینے گئے تھے..... کس کو خبر تھی کہ..... عشق کی پرواز تمہیں وہ ڈگری دلا دے گی..... جس ڈگری کے بعد کسی چیز کی ضرورت ہی نہیں رہتی..... واہ! عامر تم تو عجیب انسان نکلے ..... یورپ جانے والے نوجوان واپسی پر اپنی بغل میں کسی ”گوری خباثت“ کو لے کر آتے ہیں..... مگر تم جب آؤ گے تو تمہاری ماں..... بہتر (۷۲) پاک، حسین اور معطر حوروں کی ساس بنی بیٹھی ہوگی.....

ہاں سچے مسلمان جوان اپنی ماں کیلئے ایسی ہی بہو لاتے ہیں..... عامر سچ بتاؤ..... عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سچا مقام تمہیں کیسے مل گیا؟..... یورپ میں جا کر تو لوگ اندھے ہو جاتے ہیں..... سارا دن بد نظری اور شہوت کی آگ میں جلتے ہیں..... شراب کی پیپ سے اپنا معدہ ناپاک کرتے ہیں..... نائٹ کلبوں میں اپنا دل اور دماغ بیچ آتے ہیں..... اور انہیں تو مدینہ منورہ کی گلیاں تک بھول جاتی ہیں.....

پیارے شہید! اب تو بتا بھی دو کہ تمہیں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نور کیسے نصیب ہو گیا؟..... کلمہ تو سبھی پڑھتے ہیں..... آقا ﷺ کا حسن اور مقام بھی سب کو معلوم ہے..... آقا ﷺ کے زخموں کا بھی سب کو پتا ہے..... مگر تمہارے دل پر یہ نور کیسے برسا؟..... ہاں مجھے معلوم ہے تم یہ راز نہیں بتاؤ گے..... ہاں! سچا عشق بہت خفیہ ہوتا ہے..... حضرت زیاد بن سکن زخموں سے چور تھے پھر بھی گھسٹ گھسٹ کر آگے بڑھتے رہے..... اور پھر اپنا رخسار آقا ﷺ کے قدم مبارک پر رکھ دیا..... اور روح نے جسم کو سلام کر دیا کہ..... اب تو کام پورا ہو چکا ہے..... عامر! ہمیں معلوم نہیں تم نے جاگتے ہوئے کچھ دیکھا یا سوتے ہوئے..... اور پھر

صفحہ ۴۳۹

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید تمہارے لیے زندہ رہنا مشکل ہو گیا ..... ہاں دیکھنے کیلئے تو بہت کچھ موجود ہے مگر دنیا کی محبت نے آنکھوں کو اندھا ..... اور دل کے آئینے کو دھندلا کر دیا ہے ..... اس لئے تو شہداء کی تعداد کم نظر آ رہی ہے ..... ورنہ ..... آخرت اور شہادت کے مزے دیکھنے والوں کیلئے زندہ رہنا بہت مشکل ہو جاتا ہے ..... عامر بھائی ! تم نے حضرت معاذؓ اور حضرت معوذؓ کی سنت کو زندہ کر دیا ..... وہ دونوں غزوہ بدر میں زخمی شیروں کی طرح بے چینی سے ادھر اُدھر دوڑتے پھر رہے تھے ..... اور ایک ایک سے پوچھتے تھے ابو جہل کہاں ہے؟ ..... ابو جہل کون ہے؟ ..... حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ سے بھی انہوں نے یہی پوچھا ..... انہوں نے فرمایا اے بچو کیوں پوچھتے ہو؟ ..... فرمانے لگے ہم نے سنا ہے کہ وہ آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا ہے ..... اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ستاتا رہا ہے ..... آج ہم اس کا حساب چکا کر اپنے دل کی اس آگ کو ٹھنڈا کرنا چاہتے ہیں ..... جو نجانے کب سے ہمیں تڑپا رہی ہے ..... حضرت عبدالرحمنؓ بن عوفؓ نے اشارہ کیا ..... اور وہ دونوں بچے یوں ابو جہل کی طرف بڑھے جس طرح کمان سے تیر نکلتا ہے ..... عامر بھائی ! تم نے جب بھی سنا کہ ظالموں نے گستاخی کی ہے تو تم نے جینے کو حرام کر لیا ..... تمہارے پاس کچھ نہیں تھا مگر تم نے اپنے چاقو سے ..... وقت کے فرعونوں کو چیلنج کر دیا ..... لوگ کہتے ہیں کہ طاقت نہ ہو تو جہاد نہیں ہوتا ..... مگر عشق نے کبھی اس بات کو نہیں مانا ..... نہ غزوہ بدر میں نہ ..... صلیبی جنگوں میں ..... اور نہ تم نے اے عامر شہیدؒ اس بات کو سعادت کے رستے کی رکاوٹ بننے دیا ..... ایک چاقو لے کر تم نے سفر کا آغاز کیا ..... اور صرف ایک مہینے میں امت مسلمہ کی آنکھوں کا تارا، جنت کے مہمان، اور زمانے کے غازی اور شہید بن گئے ..... ہاں تمہارے ماں باپ کو حق ہے تم پر ناز کریں ..... امت مسلمہ کو حق ہے تم پر فخر کرے ..... اور نوجوانوں کا حق ہے کہ وہ تمھیں اپنا آئیڈیل بنائیں ..... عامر بھائی ! میں نے تمھیں نہیں دیکھا ..... مگر مجھے یوں لگتا ہے کہ میرے اور تمھارے درمیان صدیوں سے یاری ہے ..... اور ہم ایک دوسرے کے پرانے دوست ہیں ..... دراصل تم نے اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ سے یاری کر کے ہم سب کے دلوں کو جیت لیا ہے ..... اب تم زندہ رہو گے ..... انشاء اللہ ..... اور تمہیں کوئی نہیں مار سکے گا ..... حوریں تمھارا استقبال کریں گی ..... فرشتے تم پر سلامتی بھیجیں گے، شہداء تم سے ملاقاتیں کریں گے ..... اور تم اپنے رب کے قرب میں لذت والی روزی کھاؤ گے ..... امت مسلمہ کے علماء تمھارے لیے

صفحہ ۴۴۰

غازی عامر چیمہ شہید تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

دعائیں مانگیں گے ..... اولیاء کرام رات کی آخری گھڑیوں میں تمھارے لیے دامن پھیلائیں گے ..... مجاہدین تمھارے نام کے شعلے دشمنوں کی طرف برسائیں گے، مائیں تمھیں پیار کریں گی ..... اور بہنیں رو رو کر تمھارے اونچے درجات کے لیے آنسو بہائیں گی ..... ہاں عامر! اب تم مسلمانوں کے بیٹے اور بھائی بن گئے ہو ..... شعراء تمھاری شان میں درد بھرے فخریہ قصیدے لکھیں گے ..... اور جوان عورتیں اپنے بچوں کو تمھارے جیسا بنانے کے لیے رب کے حضور سجدے والی دعائیں کریں گی ..... عامر بھائی! تم نے سنا کہ تمھاری شہادت کو ..... خودکشی بتایا جا رہا ہے ..... تاکہ ..... تمھاری بلند شان پر گرد و غبار ڈالا جاسکے ؟ ..... مگر ..... تمھارا خون تو مہک رہا ہے ..... شہیدوں کو کون بدنام کر سکتا ہے؟ ..... خودکشی یورپ اور واشنگٹن کے پجاری کرتے ہیں ..... مدینہ منورہ کے بیٹے تو خودکشی کا نام تک نہیں لیتے ..... عامر! تو اللہ تعالیٰ کا شیر اور پاک نبی ﷺ کا عاشق تھا ..... اس عشق میں ناکامی ہے ہی نہیں ..... پھر خودکشی کیسی .....

ہاں عامر! ہم نہیں بھولیں گے کہ تمھیں بہت ستایا گیا ..... ہاں اللہ پاک کی قسم ..... ان سسکیوں اور آہوں کو نہیں بھلایا جائے گا جو تمھارے گلے سے بلند ہوئی ہوں گی ..... امت مسلمہ! جیسی بھی ہے ..... الحمد للہ بے حس نہیں ہے ..... ظالم لوگ تمھارے چاقو سے ڈر گئے ..... تمھارے بیانات اور عزائم نے ان کو ہلا کر رکھ دیا ..... تب ..... انہوں نے تمھیں ستایا ..... تمھیں تڑپایا ..... اور تمھیں تکلیف کا نشانہ بنایا ..... ہائے عامر! کاش کہ زمین کے ایک چپے پر بھی اسلامی حکومت قائم ہوتی تو ..... تمھاری آہوں کا بر سر عام حساب مانگا جاتا ..... عامر! تمھارے جیسے نوجوان ہر جگہ اسی طرح ستائے جاتے ہیں ..... اسی طرح تڑپائے جاتے ہیں مکہ کا ریگستان زمانے کے بلال پر ہمیشہ گرم رہتا ہے ..... اور زمانے کا امیہ ہمیشہ وقت کے بلال کی گردن پر پاؤں رکھتا ہے ..... مگر انجام بہت اچھا ہوتا ہے ..... مکہ میں اذان گونجتی ہے ..... امیہ کا گلا ہوا جسم بدر کے اندھے کنویں میں ڈالا جاتا ہے ..... اور بلال مسجد نبوی کا مؤذن، بدر کا مجاہد، مکہ کا فاتح ..... اور کعبہ کا منادی بنتا ہے ..... عامر بھائی! جو کچھ تم پر بیتا ہے مجھے اس کا احساس ہے ..... کیونکہ ..... میں بے شمار بھیانک مناظر کا گواہ ہوں ..... میں نے تشدد سے شہید ہونے والوں کو دیکھا ہے ..... اور میں نے تشدد کرنے والوں کے منحوس تیور خود پڑھے ہیں .....

مگر عامر! ایک بات سچی ہے کہ میں تم سے تعزیت نہیں کروں گا ..... ہاں اگر تم کسی گوری کافرہ

صفحہ ٤٤١

غازی عامر چیمہ شہید آخری گھڑیوں میں تمھارے لیے دامن پھیلائیں طرف برسائیں گے، مائیں تمھیں پیار کریں گی..... اور آنسو بہائیں گی..... ہاں عامر اب تم مسلمانوں کے بیٹے درد بھرے فخریہ قصیدے لکھیں گے..... اور جوان عورتیں کے حضور سجدے والی دعائیں کریں گی..... عامر بھائی ! تم ہے..... تاکہ..... تمھاری بلند شان پر گرد و غبار ڈالا جاسکے دل کو کون بدنام کر سکتا ہے؟..... خود کشی یورپ اور واشنگٹن خود کشی کا نام تک نہیں لیتے..... عامر ! تو اللہ تعالیٰ کا شیر نامی ہے ہی نہیں..... پھر خود کشی کیسی..... میں بہت ستایا گیا ..... ہاں اللہ پاک کی قسم..... ان سے گلے سے بلند ہوئی ہوں گی..... امت مسلمہ! جیسی بھی ہمارے چاقو سے ڈر گئے..... تمھارے بیانات اور عزائم دل ستایا..... تمھیں تڑپایا..... اور تمھیں تکلیف کا نشانہ بنایا کی اسلامی حکومت قائم ہوتی تو ..... تمھاری آہوں کا ہر جوان ہر جگہ اسی طرح ستائے جاتے ہیں..... اسی طرح ہر ہمیشہ گرم رہتا ہے..... اور زمانے کا امیہ ہمیشہ وقت بہت اچھا ہوتا ہے..... مکہ میں اذان گونجتی ہے..... امیہ کا ..... اور بلال مسجد نبوی کا مؤذن، بدر کا مجاہد، مکہ کا فاتح پر جتا ہے مجھے اس کا احساس ہے..... کیونکہ..... میں سے شہید ہونے والوں کو دیکھا ہے..... اور میں نے تعزیت نہیں کروں گا..... ہاں اگر تم کسی گوری کافرہ

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید کے عشق میں مبتلا ہو چکے ہوتے تو میں تم سے تعزیت ضرور کرتا..... تم یورپ کی رنگینیوں کا چارہ بن چکے ہوتے تو میں ضرور تعزیت کرتا..... تم کسی نائٹ کلب میں ناچ رہے ہوتے تو میں ضرور تعزیت کرتا..... تم اُس گندی دنیا کو ترقی یافتہ سمجھ رہے ہوتے تو میں ضرور تعزیت کرتا..... مگر اب کس بات پر تعزیت کروں؟..... تمہیں مارا گیا تو یہ مار تمھارے لیے آخرت کا تحفہ بن گئی..... ہم کس طرح سے بھولیں کہ آقا مدنی ﷺ کو اس سے زیادہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا..... عامر! اگر تم پر تھوکا گیا تو یہ بھی تم سے ایک سنت زندہ ہوئی..... عامر! تمہیں ڈرایا دھمکایا گیا تو تمھارے خوف کے ہر لمحے پر جنت نے تمھارے بوسے لیے ..... عامر ! تمہیں تنہائی کی وحشت میں زخمی کیا گیا تو حوریں جنت سے اتر کر پہلے آسمان پر تمھاری زیارت کے لیے آ بیٹھیں..... اور جب تمہیں گرایا گیا ..... تو تم نے بلندیوں کی طرف سفر کا مزہ پایا..... عامر! تم تو جان چکے ہو گے کہ کیسی تعزیت اور کس طرح کی تعزیت؟..... تم تو ناموس رسالت کی موجودہ تحریک کے بانی بن گئے..... تمھارا خون تمھارا جسم اس عمارت کی بنیاد بن گئے..... یہ عمارت ضرور بلند ہوگی..... اے عامر ! تم اللہ پاک کی طرف سے اتنی ہی زندگی لائے تھے مگر..... تم خوش نصیب نکلے کہ تمھیں زندگی کے بعد زندگی مل گئی..... اور تم امتحان میں انشاء اللہ ..... کامیاب ہو گئے..... عامر ! ہم نے ایک صحابی کا قصہ پڑھا ..... ان کی شادی نہیں ہوئی تھی..... شکل وصورت سے بھی غلاموں جیسے تھے ..... وہ شہید ہو گئے..... کسی دوست نے آواز دے کر پوچھا! کتنی شادیاں ہوئیں؟ انہوں نے ہاتھ کی انگلیوں سے اشارہ کر کے بتا دیا ..... عامر ! تمھیں شادی مبارک ہو ..... اگر میں شاعر ہوتا تو آج تمہارا ایسا ”سہرا“ لکھتا کہ..... جوانیاں تڑپ کر رہ جاتیں..... ہاں اصل دولھے تو تم ہو اور ”سہرا“ تمہارے ہی لیے لکھا جانا چاہیے..... دنیا کی شادیاں تو تکلفات اور رسومات کی آگ میں جل رہی ہیں..... ان میں تو غفلت اور پریشانیاں زیادہ ہیں..... ان میں تو فضول خرچے اور رسوائیاں شامل ہو گئی ہیں ..... مگر تمھاری شادی بہت اچھی اور بہت مبارک ہے..... اور پھر اسے خوب مزے لے لے کر پڑھنا عامر یار کیا کروں مجھے تو تم پر رشک آ رہا ہے..... اتنی جلدی اور اتنا آسان سفر ..... اور اتنی خوبصورت منزل ..... اللہ پاک شہادت سے محروم نہ فرمائے ..... عامر سچ بتاتا ہوں! ..... اگر یہ دعاء قبول ہو گئی تو پھر میں تم سے ملوں گا..... سینے سے لگاؤں گا..... تمھاری پیشانی کا بوسہ لوں گا..... اور تمہیں شادی پر مبارکباد دوں گا..... عامر بھائی! شادی مبارک ہو!

صفحہ ۴۴۲

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

وہ جو حیات جاوداں پا گیا!

عرفان صدیقی

وہ جو امر ہو گیا......!

اس لیے کہ اس نے نقد جاں نبی رحمت ﷺ کی دہلیز پر رکھ دی......

وہ یہ برداشت نہ کر پایا کہ توہین رسالت کے مرتکب اور وہ خود ایک ساتھ زندہ رہیں......

یہ حب رسول ﷺ کے ارفع و عظیم جذبے کے منافی تھا...... یہ کسی ایسے شخص کے لئے قابل قبول نہیں ہو سکتا جو مسلمان ہونے کا دعویدار ہو......

جو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا پاکیزہ کلمہ پڑھتا ہو......

گنتی کی چند سانسیں !...... چند ساعتیں...... وہ ماہ و سال میں ڈھل جائیں...... یا صدیوں میں بدل جائیں......

موت تو بہر حال آتی ہے......

لیکن وہ موت جس میں اللہ کی بندگی کا رنگ جھلک رہا ہو......

جس میں سرکار دو جہاں ﷺ کی خوشبو مہک رہی ہو......

وہ موت تو ساری کائنات کی زندگیوں پہ حاوی ہو جاتی ہے...... زندگی سے محبت کرنے والے...... اکثر جیتے جی مر جاتے ہیں.........

عمر کی آخری سانس تک اپنی میت اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں...... اور وہ جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی راہ میں جانوں سے گزر جاتے ہیں.......

PDF 443

غازی عامر چیمہ شہید

جاوداں پا گیا!

عرفان صدیقی

دہلیز پر رکھ دی....... اور وہ خود ایک ساتھ زندہ رہیں....... تھا....... یہ کسی ایسے شخص کے لئے قابل قبول نہیں ہو سال میں ڈھل جائیں....... یا ہے....... زندگی سے محبت کرنے والے....... ئے پھرتے ہیں....... اور گزر جاتے ہیں.......

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

وہ شہادت کا بلند منصب پاتے اور دائمی زندگی سے ہم کنار ہو جاتے ہیں....... بلاشبہ پروفیسر نذیر احمد چیمہ کا سعادت مند بیٹا اسی مقام رفعت پر فائز ہوا....... اور حیات جاوداں پا گیا.......!

اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ اسکا تابوت کس ہوائی اڈے پہ اترا؟ اسکی میت کو کس نے کندھا دیا؟ اسکی قبر کہاں کھدی؟ اسکی نماز جنازہ کہاں پڑھی گئی؟ اس میں کتنے لوگ شریک ہوئے؟ اسکی تجہیز وتکفین میں کن عالی مرتبت ہستیوں نے شرکت کی؟ یہ سب کچھ ہم دنیا داروں کے لئے ہے۔ وہ جو پیچھے رہ گئے....... وہ جنہیں دل بہلاؤں کی حاجت رہتی ہے۔ عامر تو نورانی پروں والے فرشتوں کے جلو میں رفعتِ افلاک سے بہت آگے نکل گیا۔ اسے ان باتوں سے کیا غرض؟

لیکن جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا، شہید کے والدین اور اسکی بہنوں کو اتنا حق ضرور ملنا چاہیے تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی میت اپنی مرضی کے شہر میں وصول کر سکیں۔ اپنی خواہش کے مطابق اسکی نماز جنازہ ادا کر سکیں۔ اپنی آرزو کے مطابق اسکی تدفین کر سکیں۔ انہیں پکڑ جکڑ کر مجبور نہیں کر دینا چاہیے تھا کہ وہ حکومتی مصلحتوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔ دو دن قبل اطلاعات ونشریات کے وزیر مملکت جناب طارق عظیم، عامر شہید کے گھر تشریف لے گئے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دوٹوک اعلان کیا کہ عامر شہید کی تجہیز وتکفین اسکے والدین کی مرضی ومنشا کے مطابق ہوگی۔ ان کا یہ اعلان جلی سرخیوں کے ساتھ پاکستان بھر کے اخبارات کی زینت بنا لیکن جمعہ کی شام مقامی انتظامیہ اور پولیس نے پروفیسر نذیر چیمہ کے گھر کے آس پاس ڈیرے ڈال دیئے ۔ دل گرفتہ اور نڈھال باپ کے اعصاب پر ضربیں لگائی جانے لگیں۔ خوفناک مناظر کی تصویر کشی ہونے لگی، یہاں توڑ پھوڑ ہو گئی تو کون ذمہ دار ہوگا؟ بم دھماکہ ہو گیا تو بے گناہوں کا لہو کس کی گردن پر ہوگا، پروفیسر چیمہ کے پاس کسی سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔ اس میں کسی سے جرح کرنے، بحث میں الجھنے کا یارا نہ تھا۔ گھر کی خواتین کو خبر ہوئی تو ایک کہرام مچ گیا۔ عامر کی زندگی کے کتنے ہی شب و روز راولپنڈی میں گزرے۔ وہ یہیں پلا بڑھا۔ یہیں جوان ہوا، یہیں تعلیم حاصل کی۔ یہاں کی ہواؤں میں سانس لیتا، یہاں گلیوں میں چلتا اور یہاں کی محفلوں میں لو دیتا رہا۔ وہ آخری بار اسی بستی سے زندگی کے آخری سفر کو نکلا اور امر ہو گیا۔ اس حرماں نصیب بستی، ان گلیوں، دیواروں اور چھتوں کو عامر کے تابوت کے آخری دیدار سے محروم کر دینے کا کوئی جواز نہ تھا۔

ہے، جس کی بدولت نبی کے طور پر بیان کیا گیا چنانچہ سیرت نبویؐ کا دوری میں خدوخال اور مدینہ کی کامیاب سکیم اللہ رب العالمین ہے میں جس میں بچگانہ خول ان کے آبا و اجداد مسلمانان عالم پر یہ رخ اور زاویے سے یا انفرادی زندگی میں کی آویزش اور کفار تعلیمات کو اجاگر کیا بحث کر سکتا ہے؟! سے ایک ذیلی وحی سازشوں سے پردہ تحفظ کی خاطر اپنی کہ یونیورسٹیز کی

صفحہ ۴۴۴

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

گزشتہ ایک ہفتے سے عامر شہید کا گھر اور گردوپیش کی گلیاں دور و نزدیک سے آئے ہوئے لوگوں سے بھری رہتی تھیں۔ امن وامان کا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوا۔ حکومت کے خلاف کوئی نعرہ نہ لگا۔ شیخ رشید احمد، طارق عظیم، مولانا فضل الرحمن اور قاضی حسین کو یکساں فراغ قلبی سے خوش آمدید کہا گیا۔ گہرے اضطراب اور شدید غم کے باوجود عامر کے اہل خانہ نے حکومت کی کوتاہیوں کو ہدف تنقید نہ بنایا ۔ میت راولپنڈی آ جاتی اور لاکھوں لوگ بھی اس کی نماز جنازہ میں شریک ہو جاتے تو بھی کوئی افتاد نہ ٹوٹتی تھی۔ راولپنڈی کے درودیوار، یہاں کی خاک اور یہاں کے لوگوں سے ان کا حق چھین لیا گیا۔ یہ ہر اعتبار سے ایک ناروا، ایک دل آزار ایک ناپسندیدہ اقدام تھا۔ وہ جو شہید کی میت اور اس کے چاہنے والوں کی خوا ہشات کے درمیان دیوار بنے، جب انکی وردیاں اتر جائیں گی جب ان کے کروفر کا سورج غروب ہو جائے گا اور جب انہیں اپنی قبریں قریب آتی دکھائی دینے لگیں گی تو ۱۳ مئی ۲۰۰۶ کے دن کا دہکتا سورج ہر آن ان کے سروں پر آگ برساتا رہے گا۔

عامر عبد الرحمن شہید، اسلامی جمہوریہ پاکستان نامی ریاست کے اس سلوک کا مستحق نہ تھا، اگر وابستگان دربار میں اس کے تابوت کو کندھا دینے کا حوصلہ نہ تھا اگر ان کی روشن خیالی انہیں اس کے جنازے میں شرکت کی اجازت دینے سے گریزاں تھی اگر وہ اس کی قبر پر پھول چڑھانے کو ”اعتدال پسندی“ کے تقاضوں کے منافی خیال کرتے تھے، اگر شہنشاہ عالم پناہ کے خوف سے شہید کے لئے تعزیتی پیغام جاری کرنا ان کے لئے ممکن نہ تھا، تو بھی اس کی میت کی آمد اور تجہیز وتکفین کے معاملات کلی طور پر شہید کے والدین اور راولپنڈی کی عوام پر چھوڑ سکتے تھے۔ انہیں مطلوبہ ضمانتیں بھی فراہم کی جاسکتی تھیں ۔ شہید کی میت کے تقدس کا پاس ہر ایک کو تھا اور کوئی نہ تھا جو اس موقع کو حکومت کے خلاف غم وغصہ کیلئے استعمال کرتا۔ البتہ اب پاکستان کے طول وعرض سے کسی کے ہاتھ ارباب اختیار کو دعاؤں کیلئے نہیں اٹھیں گے اور بہت سی پھیلی جھولیاں ان نوکر پیشہ لوگوں کیلئے نہ جانے کیا کچھ مانگ رہی ہونگی۔

جمعہ کی صبح میں لاہور جانے کیلئے اسلام آباد ایئر پورٹ کے لاؤنج میں بیٹھا تھا کہ میرا فون بجا ۔ اس کی آواز رندھی ہوئی تھی اور اس کے منہ سے نکلنے والا ہر لفظ کرب میں ڈوبا ہوا تھا۔ وہ بولی...... میں عامر چیمہ کی بہن بول رہی ہوں۔ دیکھئے ہمارے گھر پولیس آ بیٹھی ہے۔ ہمارے والد صاحب کو

صفحہ ۴۳۵

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

پریشان کیا جا رہا ہے۔ ہمیں ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارے بھائی کی میت یہاں نہ آنے پائے۔ دیکھیں ہم پچھلے دس دنوں سے اس کی راہ دیکھ رہے ماں چیختی رہ گئی، بہنیں بلکتی رہ گئیں، باپ منت سماجت کرتا رہ گیا لیکن ریاست کو خطرہ تھا۔ سو اس کی میت لاہور پہنچا دی گئی۔ ایئر پورٹ جانے والے راستوں کی کڑی نگرانی کی گئی۔ میت کو ہیلی کاپٹر میں ڈال کر شہید کے آبائی گاؤں ساروکی پہنچا دیا گیا۔ نماز جنازہ کے وقت کے بارے میں زبردست کنفیوژن پھیلا دیا گیا۔ اخبارات، ٹی وی چینلز، اشتہارات ذاتی رابطے سب الگ الگ کہانی سنا رہے تھے۔ والدین نے آخری خواہش کے طور پر چاہا کہ نماز جنازہ چار بجے شام ادا کی جائے لیکن اپنی سرکار کو یہ بھی قبول نہ تھا۔ بھری دوپہر کے وقت اس کی نماز جنازہ پڑھا دی گئی لیکن اس وقت اور اس حال میں بھی انسانوں کے ایک سمندر نے اسے الوداع کہا۔ سمندر کی لہریں ساروکی جانے والے راستوں پر رات گئے تک متلاطم دریاؤں کا منظر پیش کرتیں رہیں۔

غازی علم الدین شہید کو جب ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۹ء کو پھانسی دی گئی تو انگریز سامراج کے کارندوں نے بھی یہی طرز عمل اختیار کیا تھا، انہیں بھی ڈرایا گیا کہ شہید کے ورثاء اور عوام کی مرضی کے مطابق تجہیز وتکفین ہوئی تو قیامت آجائے گی۔ عوام تڑپتے رہ گئے اور شہید کو میانوالی جیل کے احاطے میں قبر کھود کر دفن کر دیا گیا۔ اس پر عوام سراپا احتجاج ہو گئے اور ملک بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔ تب علامہ اقبال کی سر براہی میں اکابرین کا ایک وفد گورنر سے ملا۔ تیرہویں دن میت کو میانوالی جیل کے احاطے سے نکال کر لاہور لایا گیا جہاں ان کی تدفین ہوئی۔ لیکن آج کوئی علامہ اقبال بھی نہیں۔ ہوتا بھی تو وہ آج کے سامراج کو کیسے سمجھاتا؟

عامر شہید کے نیک دل اور پاکباز استاد کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا اور وہ تھم تھم کر رک رک کر پروفیسر نذیر چیمہ کو اپنا خواب سنا رہے تھے: ”میں نے خواب میں ایک بڑا ہی مقدس اور پاکیزہ اجتماع دیکھا۔ ہر سو نور کے فوارے پھوٹ رہے تھے۔ پتہ چلا کہ صحابہ کرام تشریف فرما ہیں۔ کسی نے کہا کہ حضور ﷺ بھی قریب ہی ہیں لیکن آپ ﷺ کا رخ انور دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ پھر حضور ﷺ کی مشکبو آواز سنائی دی ”عامر آ رہا ہے“ صحابہ

صفحہ 446

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

غازی عامر چیمہ شہید

کرام یکبار کھڑے ہو گئے اور ایک خاص سمت دیکھنے لگے۔ پھر رحمت دو عالم ﷺ نے بلند آواز میں پکارا ”حسن، حسین دیکھو تو سہی کون آ رہا ہے“ میں اسے تمہارے پاس بھیج رہا ہوں اسکا خیال رکھنا“۔

تم اسکا تابوت ساروکی لے جاؤ اس سے بھی دور کسی بستی میں پہنچا دو، اس کے جسد خاکی کو کسی شاداب زمین کے حوالے کرو، یا بلوچستان کے ریگزاروں کی سلگتی ریت کے سپرد کر دو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اسے تو سرکار دو جہاں ﷺ نے جوانان جنت کے سرداروں کے حوالے کر دیا ہے لیکن تمہارا نام ان میں لکھ دیا گیا ہے جو خسارے میں رہتے ہیں اور میرا دل تو خسارے کا تصور بھی کرتے ہی لرز جاتا ہے ۔ عامر شہید کی دعائے قل میں شرکت کیلئے ساروکی جاتے ہوئے میں عجیب و غریب سی سوچوں میں کھویا رہا۔ زندگی کتنی کشش رکھتی ہے۔

انسان اس کیلئے کیا کیا پاپڑ بیلتا، کیسے کیسے جتن کرتا، کن کن امتحانوں سے دو چار ہوتا، کیسی کیسی فصیلوں پر کمندیں ڈالنے کی کوشش کرتا اور کن کن سنگلاخ چٹانوں سے جوئے شیر بہالانے کی سبیلیں تراشتا ہے۔ ہر آن اس کے سر پر ایک دھن سی سوار رہتی ہے۔ کوئی مجھ سے آگے نہ نکل جائے، کوئی مجھ سے زیادہ نامور نہ ہونے پائے، اونچی مسند اور بلند منصب پانے کیلئے ہم کیسی کیسی معرکہ آرائیاں کرتے، کیسے کیسے ارفع نظریات کی بولی لگاتے، کیسے کیسے اصولوں کو منڈی کا مال بناتے، کیسی کیسی اخلاقی اقدار کو کوڑیوں کے مول لٹاتے اور کیسے کیسے سنگ آستاں کو اپنی سجدہ گاہ بناتے ہیں۔ اختیار اور اقتدار پر قابض رہنے کیلئے ذہن و فکر کی کیسی کیسی توانائیوں کو مہمیز کرتے، کیسے کیسے جادو گروں کو جاگیریں عطا کرتے اور کیسے کیسے بازیگروں کے کرتبوں کا سہارا لیتے ہیں۔ کوئی اچھی سی نوکری، کوئی بڑا سا گھر، ایک نئی نویلی گاڑی، آسائشیں، آرائشیں، اسباب، اثاثے، جائدادیں، پلاٹ، پلازے، کارخانے، فیکٹریاں، کاروبار، نگر نگر کے تفریحی دورے، دولت، شہرت، نام، مقام، کیسے کیسے سراب ہیں کہ ہم مسلسل ان کے تعاقب میں رہتے ہیں۔ نیلے آسمانوں کے اوپر عرش معلیٰ پہ بیٹھی ہستی ہماری اس سیماب پائی اور اضطراب پر مسکراتی رہتی ہے۔ پھر اچانک ایک نا مطلوب گھڑی سر پہ آ کھڑی ہوتی ہے۔ کہیں دور رخصتی کا ناقوس بجتا ہے۔ جاہ و جلال، کروفر، تخت و تاج، خدام و حشم، خسرو، نیزہ بردار، چوبدار، شاہی طبیب سب ہار جاتے ہیں۔ رگوں میں رواں لہو سرد پڑنے لگتا ہے۔ زمانے بھر کو اپنی مٹھی میں لینے والی انگلیاں بے جان سی ہونے

صفحہ ۴۴۶-۴۴۷

ہے جس کی بدولت نبی تھے کہ طور پر پیدا کیا گیا چنانچہ سیرت نبوی کا دوری میں خدوخال اور صد میں کامیاب ہو سکیں اللہ رب العالمین ہے میں اس پر کچھ نہ کہوں خان کے آباء و اجداد مسلمانان عالم پر یہ کر زاویے سے اور انفرادی زندگی میں کی آویزش اور کفار تعلیمات کو اجاگر کیا بہت کر سکتا ہے؟! سازشوں سے پردہ نے ایک دبی ہوئی تحفظ کی خاطر اپنی ہفت روزہ نیوز ویک

غازی عامر چیمہ شہید

سمت دیکھنے لگے۔ پھر رحمت دو عالم ﷺ نے بلند آواز میں پکارا کہ خدا سے تمہارے پاس بھیج رہا ہوں اسکا خیال رکھنا“۔ تو اُس سے بھی دور کسی بستی میں پہنچا دو، اس کے جسد خاکی کو کسی کے ریگزاروں کی سلگتی ریت کے سپرد کر دو، اس سے کوئی فرق جانا، ان جنت کے سرداروں کے حوالے کر دیا ہے لیکن تمہارا نام گئیں اور میرا دل تو خسارے کا تصور بھی کرتے ہی لرز جاتا ہے ساروکی جاتے ہوئے میں عجیب و غریب سی سوچوں میں کھویا

کیسے کیسے جتن کرتا، کن کن امتحانوں سے دوچار ہوتا، کیسی کیسی کن سنگلاخ چٹانوں سے جوئے شیر بہلانے کی سبیلیں تراشتا آتی ہے۔ کوئی مجھ سے آگے نہ نکل جائے ، کوئی مجھ سے زیادہ نام پانے کیلئے ہم کیسی کیسی معرکہ آرائیاں کرتے ، کیسے کیسے کو منڈی کا مال بناتے، کیسی کیسی اخلاقی اقدار کو کوڑیوں کے سجدہ گاہ بناتے ہیں۔ اختیار اور اقتدار پر قابض رہنے کیلئے کیسے کیسے جادوگروں کو جاگیریں عطا کرتے اور کیسے کیسے اچھی سی نوکری ، کوئی بڑا سا گھر ، ایک نئی نویلی گاڑی، یں، پلاٹ، پلازے، کارخانے، فیکٹریاں، کاروبار، مگر مگر کیسے سراب ہیں کہ ہم مسلسل ان کے تعاقب میں رہتے میں ہماری اس سیماب پائی اور اضطراب پر مسکراتی رہتی کی ہوتی ہے۔ کہیں دور رخصتی کا ناقوس بجتا ہے۔ جاہ نیزہ بردار، چوبدار، شاہی طبیب سب ہار جاتے موت کو اپنی مٹھی میں لینے والی انگلیاں بے جان سی ہونے

۴۴۶

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

لگتی ہیں۔ نبضیں ڈوبنے لگتی ہیں اور پھر سارا تماشا ختم ہو جاتا ہے۔ کوئی تاجدار زمانہ ہو ، شہنشاہ عالم ہو ، فاتح جہاں ہو، فقیر راہ نشیں ہو، مفسر ہو، محدث ہو، فقیہ اور قطب زماں ہو، سب کو ایک نہ ایک دن رختِ سفر باندھنا ہوتا ہے اور جب بنجارہ لاد چلتا ہے تو سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاتا ہے۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے لیکن عامر شہیدؒ چیز جیسی موت کتنوں کو نصیب ہوتی ہے۔۔۔۔۔ ساروکی سے ذرا پہلے میں جسٹس (ر) افتخار چیمہ کے گھر جہاں سابق صدر رفیق تارڑ بھی تشریف فرما تھے۔ شہید کے جنازے کا منظر موضوع گفتگو تھا۔ اتنا بڑا اجتماع ساروکی کی فضاؤں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ لوگ ننگے پاؤں تپتی زمین پر دوڑے چلے آ رہے تھے۔ آسمان سے آگ برس رہی تھی لیکن عشق کی سرمستیوں نے انہیں اپنے آپ سے بے نیاز کر دیا تھا۔ وہ گر رہے تھے، بے ہوش ہو رہے تھے، پسینے میں شرابور تھے، پیاس سے ان کے ہونٹ چٹخنے لگے ۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے نمائندے گرمی کی کرشمہ سامانیاں دیکھ رہے تھے اور حیران ہو رہے تھے کہ یہ لوگ کس سیارے کی مخلوق ہیں۔ بی بی سی کا نمائندہ بار بار منرل واٹر کی بوتل سے منہ لگا رہا تھا۔ بار بار پسینے سے تر چہرہ پونچھ رہا تھا۔ اس نے مائیک جسٹس (ر) افتخار چیمہ کے سامنے کیا تو وہ بولے ”تم لوگ اسکا اندازہ نہیں لگا سکتے، تمہارے پاس یہ تصور ہی نہیں کہ مسلمان رسول اکرم ﷺ سے کیسی محبت کرتے ہیں۔ ہمارے لئے اپنی جانیں، اپنے مال اپنی اولادیں، ناموسِ رسالت ﷺ کے سامنے ہیچ ہیں۔ تمہیں اندازہ نہیں کہ عامر سے لوگوں کی اس بے پایاں محبت کی وجہ کیا ہے ۔“ بے شک انہیں اندازہ نہیں لیکن کیا انہیں اندازہ ہے کہ جنہوں نے شہیدؒ کی میت کی بے حرمتی کی، اس کے والدین کی خواہشات کی نفی کی اور اسکی بہنوں کی آرزؤں کا خون کیا۔ پورے خاندان کو یرغمالیوں کے سے انداز میں ساروکی پہنچایا گیا اور جبراً نماز جنازہ پڑھانے پر مجبور کر دیا گیا۔

دعائے قل سے فراغت اور پروفیسر نذیر چیمہ سے مل کر میں نے رخصت چاہی لیکن شہیدؒ کے قریبی اعزہ مجھے گھر لے گئے۔ شہیدؒ کی ماں ، شہیدؒ کی بہنیں، برلن سے شہیدؒ کی میزبان ماموں زاد بہن، گھر کی دوسری خواتین اور قریبی اعزہ میرے پاس آ بیٹھے۔ عامر کی مشکبو باتیں ہونے لگیں۔ ماں نے کہا : ”وہ بہت ہی نیک بچہ تھا۔ جب کبھی بھی توہین رسالت کے بارے کوئی خبر چھپتی ، وہ بہت بے کل ہو جایا کرتا تھا۔ اب میں سوچتی ہوں کہ وہ اکثر غازی علم الدین کا ذکر کیا کرتا تھا۔ جیسے وہ اسکی پسندیدہ شخصیت ہو

۴۴۷

صفحہ ۴۴۸

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

۔پچھلے رمضان میں وہ آیا تو سترہویں، اٹھارویں روزے والے دن ہی واپس جرمنی جانے کا پروگرام بنالیا ۔میں نے کہا بیٹا! عید تو کر کے جاؤ۔ وہ کہنے لگا کہ ”میری حاضریاں کم ہو جائیں گی اور امی آپکی اصل عید تو اس دن ہوگی نا جس دن میں اپنی تعلیم مکمل کر کے اور ڈگری لے کر واپس آؤنگا“ مجھے کیا خبر تھی کہ وہ اتنی بڑی عید بن کر آئے گا۔“

برلن میں اسکی میزبان ماموں زاد بہن نے بتایا ”ہمیں بالکل بھی اندازہ نہیں ہوا کہ وہ اس طرح کا کوئی پروگرام بنا رہا ہے۔ ہاں اس میں ہم نے بعض تبدیلیاں نوٹ کی تھیں، نماز وہ پہلے بھی پڑھتا تھا لیکن اتنے اہتمام سے نہیں۔ بعض اوقات چھوٹ بھی جاتی تھی لیکن اس مرتبہ وہ نماز کی سخت پابندی کر رہا تھا۔ حتی کہ کھانا لگا ہوتا تو وہ کہتا ”باجی نماز کا وقت ہو گیا ہے پہلے نماز پڑھ لوں“۔ جمعہ کے روز علاقے کے مسلمانوں نے گستاخی کرنے والے اخبار کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کیا لیکن عامر اس میں شریک نہیں ہوا ۔ وہ مسجد میں نماز جمعہ پڑھنے چلا گیا اور کافی وقت لائبریری میں گزارا۔ شام کو وہ میرے شوہر سے بڑے تجسس کے ساتھ پوچھتا رہا ”مظاہرہ کیسا تھا، کتنے لوگ تھے اسکا کوئی اثر ہوگا؟“ میں میاں سے کہتی تھی کہ عامر کچھ بدلا بدلا سا لگتا ہے لیکن ہمیں کوئی وہم و گمان تک نہ تھا کہ اس کے دل میں کیا ہے؟“

عامر کی بہنیں شدید اضطراب اور غصے میں تھیں۔ انہیں حکومت سے اس رویے کی توقع نہ تھی ۔ ”ہمیں قیدیوں کی طرح یہاں لا پھینکا گیا۔ کچھ بھی ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہونے دیا گیا۔ ہم سے بھی اور پورے پاکستان کے لوگوں سے بھی دھوکہ کیا گیا“ والدہ نے بتایا ”عامر کا خط ملنے کے بعد ہم نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اس کی وصیت کے مطابق ہم اسے راولپنڈی کے بڑے قبرستان میں دفنا دیں گے لیکن حکومت نے ایسا نہ ہونے دیا۔ ہم نے عامر کو امانتاً یہاں دفن کیا۔ قوم کو چاہئے کہ وہ میت کو راولپنڈی لے جانے میں ہماری مدد کرے۔“

مرد شریف پروفیسر نذیر چیمہ نے بھی کہا کہ ”میت کو امانتاً یہاں دفن کیا گیا ہے“ غازی علم الدین کی کہانی اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ تب علامہ اقبال نے قومی عمائدین کے ساتھ مل کر ایک کردار ادا کیا تھا۔ آج سیاست کی دکان چمکانے اور قبر کی مجاوری کرنے والے بڑھ چڑھ کر کرتب دکھا رہے ہیں لیکن شہید کی وصیت اور اس کے والدین کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کی کوئی ٹھوس اور سنجیدہ کوشش نہیں ہو رہی

صفحہ ۴۴۹

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

ضرورت اس امر کی ہے کہ شہید کے والدین سے مشاورت کے ساتھ بلا تاخیر ایک قومی کمیٹی تشکیل دی جائے ۔ جو حکومت پنجاب کے عمائدین اور ضروری ہو تو صدر مشرف سے مل کر میت کو راولپنڈی لانے کی کوشش کرے۔ اگر ایسی کمیٹی دس دن پہلے بن جاتی تو عامر کے لواحقین یک و تنہا نہ ہوتے اور نہ حکومت من مانی کر سکتی ۔

میں نے پروفیسر نذیر ، عامر کی والدہ ، عامر کی بہنوں اور عامر کے قریبی عزیزوں کو دل گرفتہ پایا کہ بعض مذہبی گروہ عامر کی میت کو یرغمال بنانے کیلئے طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے کام لے رہے ہیں ، انہیں دکھ تھا کہ سوا ارب مسلمانوں کے ہیرو اور پوری پاکستانی قوم کے دلوں میں دھڑکنے والے شہید کو گروہی اور مسلکی رنگ میں رنگ کر محدود اور متنازعہ بنایا جارہا ہے۔ مجوزہ کمیٹی اس معاملے کو بھی اپنی تحویل میں لے کر غمزدہ خاندان کو گھیراؤ کی کیفیت سے نکال سکتی ہے۔

ساروکی سے واپس آتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ کیسے کیسے نامور دنیا سے جاتے ہیں تو ایک آنکھ بھی نم نہیں ہوتی اور کیسے کیسے گم نام، اپنی آخری ہچکی کے ساتھ ہی کبھی نہ غروب ہونے والا آفتاب جہاں تاب بن جاتے اور کروڑوں انسانوں کے دلوں میں خوشبو کیطرح رچ بس جاتے ہیں۔ کیا یہ اسم محمد ﷺ کا اعجاز ہے؟

صفحہ ۴۵۰

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

داستان عشق کا ضمیمہ۔۔غازی عامر چیمہ

ولادت باسعادت اور خاندانی پس منظر

محمد مقصود احمد

۴ دسمبر ۱۹۷۷ء حافظ آباد میں ایک خوش قسمت بچے نے جنم لیا۔ والد محترم نے اپنے اس لخت جگر کا نام عبدالرحمن اور والدہ محترمہ نے نور نظر کا نام عامر رکھا۔ تاہم بعد میں یہ بچہ عامر چیمہ کے نام سے مشہور ہوا۔ عامر کے والد محترم کا نام نذیر ہے، اور آپ چیمہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ جناب محمد نذیر چیمہ کا آبائی تعلق وزیر آباد کے نواحی گاؤں ساروکی سے ہے۔ جبکہ آپ کی شادی حافظ آباد سے ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک بیٹا محمد عامر چیمہ اور تین بیٹیاں عطا فرمائیں۔

جناب محمد نذیر چیمہ پیشے کے لحاظ سے شعبہ تعلیم سے وابستہ رہے ہیں اور گورنمنٹ حشمت علی کالج راولپنڈی میں چھبیس سال تک تدریسی فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ اس ملازمت کا آغاز محمد عامر چیمہ کی ولادت سے ایک سال پہلے ہی ہو گیا تھا، اس لئے یہ گھرانہ مستقل طور پر راولپنڈی ہی میں آ بسا۔ جہاں محترم نذیر صاحب کو کالج کی طرف سے رہائش مل چکی تھی۔

تعلیمی مراحل

محمد عامر چیمہ کی زندگی کا بیشتر حصہ اسی علاقے میں گزرا اور اپنے تعلیمی سفر کا آغاز بھی آپ نے یہیں سے کیا۔ پروفیسر محمد نذیر چیمہ صاحب چونکہ خود مذہب سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور اسلامی تعلیما ت سے انہیں گہرا لگاؤ ہے، اس لئے انہوں نے اپنے فرزند ارجمند کی تعلیم و تربیت کے سلسلہ میں بھی اپنے مزاج کا پورا پورا اظہار کیا۔ چنانچہ محمد عامر کو مستقل طور پر ابتدائی دینی تعلیم دی گئی اور آپ نے حشمت علی کالج کی مسجد ہی میں ناظرہ قرآن مجید مکمل کیا۔۔۔۔۔اور ساتھ ہی عصری تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ محمد عامر چیمہ نے اسکول کی پڑھائی گھر سے قریب ہی واقع گورنمنٹ پرائمری سکول سے شروع کی

صفحہ ۴۵۱

مجدد ناموس رسالت کیوں مارے گئے؟ غازی عامر چیمہ شہید

کی۔ پھر جامع ہائی اسکول میں داخلہ لیا اور میٹرک تک یہیں پڑھتے رہے۔ دورانِ تعلیم آپ کی قابلیت نمایاں رہی اور اساتذہ کرام کی نظروں میں لائق توجہ رہنے کے ساتھ ساتھ اپنے ہم سبق و ہم عصر طلبہ میں بھی آپ بوجہ ممتاز رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے ساتھ گزرے وقت اور بیتی یادوں کو آپکے دوست آج بھی اپنے دلوں میں محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔ راجہ ساجد نذیر ڈھوک کشمیریاں راولپنڈی کے رہائشی ہیں اور عامر چیمہ کو بچپن سے جانتے ہیں، آپ نے عامر چیمہ کے حوالے سے اپنی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا:

”میں عامر کو اس وقت سے جانتا ہوں، جب یہ ننھا سا پھول گورنمنٹ پرائمری اسکول میں پڑھتا تھا۔ شروع سے ہی عامر چیمہ کم گو اور صاف گو تھا اور عام بچوں سے بالکل مختلف تھا۔ اس کی شہادت تک اہل محلہ کو اس پر فخر رہا اور اس فخر کی لاج رکھتے ہوئے اس نے پورے عالم اسلام کے سر فخر سے بلند کر دئے۔ آخری بار جرمنی جانے سے پہلے وہ مجھے ملے تھے اور پڑھائی پر بات چیت ہوئی۔ عامر ایک پرعزم اور باحوصلہ جوان تھے۔“ جناب محمد یحییٰ علوی صاحب نیک سیرت انسان ہیں اور گورنمنٹ جامع ہائی اسکول فار بوائز میں عرصہ دراز تک تدریسی فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔ آپ کے تدریسی موضوعات عربی، اسلامیات، اور اردو رہے۔ اسی اسکول میں عامر چیمہ شہید نے آپ سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ محمد یحییٰ صاحب عامر شہید کے اس دور کے بارے میں بتایا:

”عامر بہت ذہین اور سمجھدار بچہ تھا۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی ایسا ہوا ہو کہ وہ اسکول آیا ہو اور اس نے گھر کے لیے دیا جانے والا کام پورا نہ کیا ہو۔ وہ اکثر و بیشتر امتحانات میں اوّل یا دوم پوزیشن حاصل کرتا۔ اور اسی تعلیمی قابلیت کی وجہ سے اسے باقی ہم جماعتوں پر نگران مقرر کیا گیا تھا۔ دسویں جماعت کا امتحان شاندار نمبروں سے پاس کر کے عامر نے وظیفہ بھی حاصل کیا۔“

۱۹۹۳ء میں دسویں جماعت نمایاں کامیابی کے ساتھ پاس کر کے عامر چیمہ شہید نے ایف جی سرسید کالج مال روڈ راولپنڈی میں داخلہ لیا اور وہاں بھی اپنی قابلیت اور صلاحیت کا لوہا منوایا۔ اپنے ہم جماعتوں میں علمی و اخلاقی لحاظ سے فوقیت نے آپ کو ہمیشہ نمایاں اور ممتاز مقام دیا اور نہ صرف ہم عصر طلباء بلکہ اساتذہ کرام بھی آپ کی صلاحیتوں کے جس طرح قائل رہے، اس کا اندازہ آپ کے دو اساتذہ جناب پروفیسر عبداللہ خان نیازی اور جناب پروفیسر محمد صفدر (سابق پرنسپل ایف جی سرسید اسکول

صفحہ ۴۵۲

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

راولپنڈی) کی طرف سے مشترکہ طور پر عامر شہید کو پیش کیے گئے خراج تحسین کے مندرجہ ذیل الفاظ سے بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے:

”عامر سرسید کالج میں ہمارا شاگرد تھا‘ دو سال ہمارے پاس گزارے‘ لیکن اس میں کوئی بری عادت نہیں دیکھی۔ وہ خاموش طبیعت کا مالک تھا لیکن اس موقع پر اس نے جو کام کیا‘ وہ اب ارب ہا مسلمانوں پر نمبر لے گیا۔ ہم کافی عرصہ سے اس بات کو ترس رہے تھے کہ دیکھیں کون غازی علم دین شہید کی راہ پر چل کر اپنی عاقبت سنوارتا ہے‘ عامر نے شہید ہو کر یہ بات ثابت کر دی ہے کہ امت مسلمہ ابھی بانجھ نہیں ہوئی۔ عامر کی روح تو یقیناً جنت کے باغوں میں سیر کرتی ہو گی‘ بہر حال اس نے مسلمانوں کو جگا دیا ہے۔“

۱۹۹۵ء میں سرسید کالج راولپنڈی سے ایف۔ ایس۔ سی مکمل کرنے کے بعد عامر شہید بی۔ ایس۔ سی کے لیے نیشنل کالج اینڈ ٹیکسٹائل انجینئرنگ فیصل آباد چلے گئے۔ وہاں آپ نے بی۔ ایس۔ سی کا امتحان نمایاں کامیابی کے ساتھ پاس کیا۔ فیصل آباد میں قیام کے دوران بھی آپ کا کردار مثالی رہا۔ آپ کے ایک ہم جماعت ہارون احمد خان ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں اپنے عظیم دوست کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا:

”عامر انتہائی جی دار، محبت کرنے والا، مخلص اور صحیح معنوں میں یاروں کا یار تھا۔ عامر اللہ کے نبی سے سچی محبت کرنے والا اور نبی ﷺ کے دشمنوں اور گستاخوں سے سخت نفرت کرنے والا تھا۔ وہ وعدہ کا پکا اور دوستوں کے مسائل حل کرنے کے لیے اپنی ذات کو نظر انداز کر دینے والا تھا۔“

..... اور اب آپ کا ارادہ تھا کہ تدریسی شعبہ سے منسلک ہو جائیں۔ اس سلسلہ میں آپ یونیورسٹی آف مینجمنٹ ٹیکسٹائل لاہور میں تدریس کے خواہش مند تھے۔ تاہم اس کے لیے چونکہ ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری حاصل کرنا ضروری تھا، لہٰذا آپ نے جرمنی کے شہر گلڈباخ میں قائم ہندرہن یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز مانشین میں داخلہ کے لیے درخواست بھیج دی۔ یہ درخواست کافی عرصہ تک تشنہ جواب رہی اس لیے آپ نے وقت کو استعمال کرنے کی خاطر ٹیکسٹائل انجینئرنگ کے شعبہ میں ملازمت اختیار کر لی۔ اس سلسلے میں آپ کراچی قائد آباد میں واقع الکرم ٹیکسٹائل ملز میں بطور

صفحہ ۴۵۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

انجینئر ملازم رہے۔ اور پھر کچھ عرصہ آپ نے لاہور میں بھی ملازمت کی۔ ملازمت کا یہ کل عرصہ تقریباً دو سال پر محیط رہا۔ لاہور میں ملازمت کے دوران ہی جرمنی سے یونیورسٹی کا جواب موصول ہوا کہ عامر چیمہ کی درخواست منظور کر کے انھیں داخلہ دے دیا گیا ہے۔ اس جواب کے موصول ہوتے ہی جرمنی جانے کی تیاری شروع کر دی۔

پروفیسر محمد نذیر چیمہ کہتے ہیں کہ عامر شہید اگرچہ اس وقت ملازمت کر رہا تھا لیکن وہ بکھیڑوں میں پڑنے کی بجائے تدریس کی لائن کو ترجیح دیتا تھا اور اس کا ارادہ یہی تھا کہ وہ تدریس کرے، لیکن چونکہ چین یا جاپان وغیرہ کی بجائے داخلہ جرمنی میں ملا اس لیے میں نے بادلِ نخواستہ عامر کو جرمنی بھیج دیا۔

عامر چیمہ شہید ۲۰۰۲ء میں جرمنی پہنچے اور ماسٹر آف ٹیکسٹائل اینڈ کلوزنگ مینجمنٹ کے کورس کے لیے داخلہ لیا۔ یہ کورس چھ چھ ماہ کے چار مرحلوں (سمیسٹرز) پر مشتمل ہے عامر شہید نے کامیابی کے ساتھ دو سالہ کورس کے پہلے تین مراحل مکمل کیے اور اب چوتھا مرحلہ چل رہا تھا کہ آپ کی شہادت کا سانحہ پیش آ گیا۔ جولائی ۲۰۰۶ء میں آپ کی تعلیم مکمل ہونی تھی کہ اس سے پہلے ہی آپ دنیائے فانی کو چھوڑ کر حیات جاودانی پا گئے۔

خوب صورت، خوب سیرت

گورا رنگ، وجیہ چہرہ، باوقار شخصیت، اور پاکیزہ فطرت کے حامل غازی عامر شہید ظاہری حسن کے ساتھ ساتھ باطنی خوبیوں سے بھی مالا مال تھے۔ قدرت نے آپ کو بے پناہ اخلاقِ حسنہ سے نوازا اور اچھائیوں سے آراستہ و پیراستہ کیا۔ یہ آپ کی بے شمار خوبیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ گھر اور محلے کا ہر فرد آپ کو بہترین سے بہترین الفاظ سے یاد کرتے تھکتا نہیں۔ آئیے! شہیدِ ناموسِ رسالت کی اخلاقی زندگی اور طور و اطوار کا ایک مختصر سا جائزہ لیں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ قدرت اپنے منتخب بندوں کی ابتدا ہی سے کیسی بہترین پرورش کرتی ہے۔

عامر چیمہ شہید کی سب سے نمایاں خصوصیت نماز کے معاملے میں آپ کا حد درجہ اہتمام تھا ۔ آپ پانچ وقت کی نمازیں باقاعدگی سے مسجد میں حاضر ہو کر باجماعت ادا کرتے اور سنت و نوافل کا بھی

صفحہ 454

غازی عامر چیمہ شہید تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

اہتمام کرتے۔ آپ کی عادت تھی کہ جونہی نماز کا وقت ہو جاتا آپ جہاں بھی ہوتے قریبی مسجد میں پہنچ جاتے اور پھر باجماعت نماز ادا کر کے ہی مسجد سے لوٹتے۔ بے شک نماز انسان کو ہیرا بنا دیتی ہے اور عامر شہید واقعی اس فریضے کا اہتمام کر کے ہیرا بن گئے۔ رب کے حضور اہتمام اور باقاعدگی کے ساتھ سربسجود ہونے ہی کا نتیجہ تھا کہ آپ کی زندگی کا ہر گوشہ روشن اور تاباں ہو گیا۔ آپ کے اخلاق حسین تر اور آپ کی عادتیں پاکیزہ ترین ہو گئیں۔

خود نماز کے اہتمام کے ساتھ ساتھ آپ دوسروں کو بھی نماز پڑھنے کی بہت زیادہ تاکید کرتے ۔ شہید کے تایا زاد بھائی غلام مرتضیٰ چیمہ کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کراچی میں ملازمت کے دوران عامر چیمہ جب بھی ان سے ملتے، انہیں نماز کی تلقین کرتے اور کہتے کہ کچھ بھی ہو جائے نماز ضرور پڑھا کرو، نماز ضرور پڑھا کرو۔

نماز کے بعد آپ کو سب سے زیادہ شغف کتابوں کے مطالعہ سے تھا۔ عربی کا ایک مقولہ ہے کہ ”اس دور میں کتاب بہترین ہم نشین ہے ۔“ اور عامر چیمہ شہید نے اس راز کو پالیا۔ نماز اور دیگر ضروری کاموں کے علاوہ آپ کا وقت نصابی اور غیر نصابی کتب کے مطالعے میں گزرتا۔ پھر خاص طور پر دینی کتب کے مطالعہ کا آپ خاص شوق رکھتے تھے یہی وجہ تھی کہ کسی مدرسہ میں باقاعدہ دینی تعلیم حاصل نہ کرنے کے باوجود بھی عامر شہید بہت سی دینی تعلیمات سے بخوبی واقف تھے اور اسی نوعیت کے مطالعے نے آپ کے دل و دماغ کو دین کے نور سے روشن کر کے آپ کو عمل کا خوگر بنا دیا۔ آپ کے رشتہ دار کہتے ہیں کہ عامر کی دوستی کتابوں سے تھی، اور ہمیشہ مطالعہ میں ہی منہمک پائے جاتے۔

کتابوں کو دوست بنا کر عامر شہید باقی سب دوستیاں بھول گئے۔ سکول سے لے کر یونیورسٹی تک آپ سینکڑوں ہم عمر نوجوانوں کے درمیان رہے، ان کے ساتھ رہن سہن اور رکھ رکھاؤ کا پورا اہتمام رکھا۔ لیکن باقاعدہ طور پر کسی سے آپ کی دوستی نہ رہی۔ سب چھوٹے بڑے ملنے والے کیساتھ آپ بہترین انداز میں خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آتے لیکن کسی ہم عمر کے ساتھ بیٹھ کر فضول وقت ضائع کرنا یا بے معنی بات کرنا، گویا کہ آپ کو آتا ہی نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کے جانے کے بعد پورے محلے میں کوئی ایک نوجوان بھی ایسا نہیں ہے جسے عامر شہید کا خاص دوست کہا جاسکے۔ مگر کوئی ایسا فرد بھی نہیں ہے

صفحہ ۴۵۵

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

جو یہ کہہ سکے کہ وہ میرے ساتھ کبھی روکھے سوکھے انداز میں پیش آئے۔ زیادہ وقت خاموش رہنا اور کم سے کم بولنا آپ کی طبیعت کا خاصہ تھا اور فضول بات کرنے سے تو آپ خاص طور پر احتراز کرتے۔ آپ کی عادت تھی کہ ہر بات کو اس کی تہہ تک پرکھتے اور اس میں خوب غور و خوض کرتے۔ لیکن اس کے لئے بے معنی یا فضول گفتگو کرنا انہیں قطعاً پسند نہیں تھا۔ جب بھی کسی سے مخاطب ہوتے تو پہلے اس کی بات پوری طرح سنتے اور سمجھتے پھر جب وہ اپنی بات پوری کر لیتا تو آپ اس کو جواب دیتے یا ضرورت کے بقدر سوال کرتے۔ ایک حدیث شریف میں وارد ہوا کہ: ”بہترین انداز میں سوال کرنا آدھا علم ہے۔“ اور عامر شہید اس کے مکمل طور پر مصداق تھے کہ آپ کا ہر سوال مختصر الفاظ میں، نپا تلا اور بھر پور ہوتا۔

پروفیسر محمد نذیر چیمہ فرماتے ہیں کہ یہ بات حیرت انگیز ضرور ہے مگر بالکل سچ ہے کہ میرے بیٹے کو اس دور میں جیتے ہوئے بھی گالی دینی آتی ہی نہ تھی۔ اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ گالی کن الفاظ میں دی جاتی ہے۔ حالانکہ وہ آزاد منش نوجوانوں کے درمیان عرصہ دراز تک رہا اور پھر دوران ملازمت بھی یہ ایک طرح سے لازمی سی بات تھی۔

عامر چیمہ شہید نے اپنی زندگی بالکل ایسے گزاری جیسے کسی آدمی کے پاس وقت بہت کم ہو اور کام بہت زیادہ..... یقیناً انہیں اندازہ تھا کہ وہ بہت تھوڑے وقت کے لئے اس دنیا میں آئے ہیں اور بہت بڑا کام کر گزرنا ان کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے کھیل کود میں کبھی بھی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔ محلے میں گزرا ہوا بچپن ہو یا سکول کالج کا زمانہ، وہ ہمیشہ کھیل کود سے دور..... بہت دور رہے ۔ محلے کے نوجوان بتاتے ہیں کہ عامر سالہا سال ہمارے درمیان سے گزرتے رہے، وہ ہمیں گلی ڈنڈا سے لے کر کرکٹ تک ، سب کچھ کھیلتے ہوئے دیکھتے ، ہم کھیل میں مدہوش رہتے اور وہ ایک طرف مسکراتے ہوئے سلام دعا کر کے خاموشی کے ساتھ گزر جاتے اور گھر میں داخل ہو جاتے ، جہاں ان کی دوست کتابیں ان کی منتظر ہوتیں۔

صفحہ ۴۵۶

غازی عامر چیمہ شہید تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

عامر شہید کا ایک خاص وصف یہ بھی تھا کہ وہ ہمیشہ اپنی نگاہیں پست رکھتے۔ جاننے والے کہتے ہیں کہ عامر کو تو اوپر دیکھنا ہی نہیں آتا تھا۔ شہید کے ایک عزیز نے ان کی اس عادت کی مثال دیتے ہوئے کہا:

’’آپ یوں سمجھ لیجئے کہ عامر گلی کے ایک نکڑ پر کھڑے ہیں اور دوسرے نکڑ پر لوگوں کا بہت زیادہ ہجوم ہے، عامر کو اس ہجوم کا اس وقت تک پتہ نہ چلے گا جب تک وہ اس کے بالکل قریب نہیں پہنچ جاتے اور لوگوں کی آوازیں ان کی سماعت سے نہیں ٹکرا جاتیں‘‘

راہ میں چلتے انہیں چھوٹا ملے یا بڑا، وہ ہمیشہ اپنی نگاہ نیچی رکھ کر ملتے۔ یہ عادت اس قدر پختہ تھی کہ لوگ کہتے ہیں کہ عامر شہیدؒ نے بہت کم ملنے والوں کے چہروں کو دیکھا ہوگا۔

شہید کے رشتہ دار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ پروفیسر نذیر احمد چیمہ اور ان کا سعادت مند بیٹا عامر چیمہ خاندان بھر میں سب سے زیادہ علم دوست اور باوقار شخصیات کے مالک رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان باپ بیٹا نے نہ کبھی اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا سمجھا اور نہ ہی کسی کو تکبر کی نظر سے دیکھا۔

دنیا میں رہتے ہوئے دنیا سے کٹ کر رہنے کے یہ معنی نہیں کہ عامر شہید نے اپنوں کو بھلا دیا، انہیں نظر انداز کیا، ان کی حق تلفی کی، یا حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی برتی۔ خدمت خلق کا جذبہ ان کی گھٹی میں شامل تھا۔ وہ لوگوں کے کام آنے میں کبھی پیچھے نہ رہے۔ ضرورت مندوں کے کام آتے، اگر کسی کی حاجت پوری کرنے کی استطاعت اپنے اندر نہ پاتے تو اس سے خیر سگالی کرتے اور اظہار ہمدردی سے قطعاً نہ چوکتے۔ کچھ نہ ہو سکتا تو اس کو بہتر اور مفید مشورہ ضرور دیتے۔ اگر کوئی شخص انہیں کوئی کام کہہ دیتا اور وہ اس کو کر سکتے تو ضرور کرتے۔ خواہ اس کے لئے انہیں پیادہ پا دور کا سفر کرنا پڑتا یا محنت مشقت اٹھانی پڑتی۔ جفاکشی ان کی طبیعت تھی اور سہولت میسر نہ ہونے کی صورت میں وہ مشقت کرنے سے کبھی نہیں اکتائے۔

والدین کی خدمت اور اطاعت اور بہنوں سے محبت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ والد محترم کی ہر ہدایت کو حرز جاں بنا کر رکھتے اور والدہ محترمہ کا خوب خوب خیال رکھتے۔ والدین کا بھی اپنے بیٹے سے اس قدر پیار تھا کہ آخری بار جب وہ جرمنی گئے تو گھر کے ایک کمرہ میں ان کے اپنے ہاتھوں سے

صفحہ ۴۵۷

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

لٹکائے ہوئے کپڑوں کا ایک جوڑا آج بھی اسی طرح لٹک رہا ہے اور والدین نے اسے وہاں سے نہیں ہٹایا کہ یہ ان کے پیارے لخت جگر اور نورِ نظر کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔

آپ جرمنی سے آخری بار جب والدین اور بہنوں سے ملنے کے لئے پاکستان آئے تو والدہ محترمہ نے ایک دن اپنے پیارے بیٹے سے کہا کہ بیٹا اب ہم تمہاری شادی کا سوچ رہے ہیں یہ گھر تمہارے لئے ہی بنایا گیا ہے۔ یہ سن کر عامر شہید حسب معمول مسکرا دئیے اور والدہ کی خدمت میں عرض کی:

”امی جان! مجھے اس میں سے کچھ نہیں چاہئے ، میں نے اپنا سارا حصہ اپنی پیاری بہنوں کو دے دیا ہے۔“

تاریخی کارنامہ

ستمبر ۲۰۰۵ء میں جبکہ غازی عامر چیمہ شہید جرمنی میں زیر تعلیم تھے، یورپی دنیا کی طرف سے وہ ناپاک جسارت سامنے آئی جسے دنیا کے ہر شریف طبع انسان نے نفرت کی نظر سے دیکھا۔ ڈنمارک کے ایک اخبار کی طرف سے شائع ہونے والے نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی پر مشتمل خاکے پوری دنیا میں مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے ، انہیں اشتعال دلانے اور ان میں غم وغصہ کی لہر دوڑانے کا باعث بنے۔ ایسے میں عامر چیمہ شہید کا ان واقعات سے متاثر ہونا یقینی عمل تھا، جبکہ آپ کی زندگی کے کئی مراحل اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ عشق رسول ﷺ کے معاملے میں انتہائی سخت اور غیر لچکدار رہے۔ شہید کے والد صاحب فرماتے ہیں کہ میں اکثر وبیشتر اپنے بیٹے کے ساتھ بیٹھ کر مختلف موضوعات پر گفتگو کیا کرتا تھا اور بات چیت کے دوران اکثر ایسے امور بھی زیر بحث آتے تھے جن کا تعلق نبی کریم ﷺ کی شان اقدس سے ہوتا تھا۔ میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا کہ باقی دینی معاملات میں، میں اس سے زیادہ سخت اور پابند تھا۔ لیکن عامر عشق رسول اور نبی اکرم ﷺ کی محبت کے سلسلے میں مجھ سے کہیں زیادہ آگے بڑھا ہوا تھا۔ بسا اوقات کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ کسی بے دینی یا گستاخ رسول کی بات چلتی تو عامر بہت جذباتی ہو جاتا اور کہتا کہ فلاں واجب القتل ہے۔ ایسے موقع پر میں اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتا اور کہتا

صفحہ ۴۵۸

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ قاضی عامر چیمہ شہیدؒ

کہ بیٹا یہ کام حکومت کا ہے تمہارا نہیں۔

ایک ٹیکسٹائل مل سے ملازمت ترک کرنے کی وجہ بھی آپ کے یہ جذبات بنے۔ ہوا کچھ اس طرح کہ مل میں ایک ایسے ڈیزائن کی ٹائل تیار کی جا رہی تھی جسے دیکھ کر لفظ ”محمد“ لکھا ہونے کا شبہ ہوتا تھا ۔ عامر شہیدؒ نے جب یہ صورتحال دیکھی تو مل کے ذمہ داران کو اس طرف توجہ دلائی اور اصرار کیا کہ وہ اس طرح کی ٹائل بنانا بند کریں، تاکہ توہین اور بے ادبی کی صورت نہ پیدا ہو۔ بار بار توجہ دلانے کے باوجود جب انتظامیہ نے کوئی عملی قدم نہ اٹھایا تو آپ بے چین ہو گئے اور اسی بے چینی کے عالم میں ملازمت سے استعفیٰ دے کر واپس گھر تشریف لے آئے۔ حالانکہ اس ادارے میں آپ کی شخصیت کو کافی اہمیت حاصل تھی اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ بلکہ عامر شہیدؒ مل کے ان انجینئرز میں سے تھے جنہیں خود انتظامیہ نے درخواست کر کے ان کی خدمات حاصل کی تھیں۔

کچھ ایسا بھی تھا کہ ان کے لاشعور میں یہ بات بس چکی تھی کہ اللہ نے ان سے کوئی بہت بڑا کام لینا ہے۔ چنانچہ آخری بار جرمنی جانے سے پہلے آپ نے کئی بار اپنے والد محترم کی خدمت میں عرض کی:

”ابو جان! پتہ نہیں اللہ تعالیٰ مجھ سے کیا کام لینا چاہتے ہیں؟“

ان کی اس بات کے جواب میں والد صاحب یہی کہتے کہ بیٹا! اللہ تعالیٰ آپ کو پڑھا لکھا کر بڑا آدمی بنانا چاہتے ہیں۔

پروفیسر محمد نذیر چیمہ صاحب فرماتے ہیں کہ یورپ میں جب توہین آمیز خاکوں کا سلسلہ شروع ہوا تو ہم نے جان بوجھ کر کبھی اپنے بیٹے سے اس کا تذکرہ نہیں کیا کہ کہیں وہ جذباتی ہو کر کوئی بڑا قدم نہ اٹھالے۔

…… لیکن عشق و محبت کی جو آگ عامر شہیدؒ کے مبارک سینے میں سلگ رہی تھی اس سے اس کے سوا ہر شخص بے خبر تھا۔

جرمنی میں تعلیمی کورس کے چوتھے مرحلے کے دوران یونیورسٹی میں چند دنوں کی تعطیلات ہو

صفحہ ۴۵۹

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

گئیں تو عامر شہید اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لئے۔ برلن شہر آ گئے۔ یہاں آپ کے بڑے ماموں کی صاحبزادی اور ان کا گھرانہ عرصہ دراز سے رہائش پذیر ہے۔ یہاں عامر شہید نے معمول کے مطابق چھٹیاں گزاریں، تاہم ان میں ایک تبدیلی ایسی تھی جو وہاں موجود سب رشتہ دار دیکھ رہے تھے۔ ماموں زاد بہن کے شوہر کہتے ہیں کہ ہم بہت شدت سے محسوس کر رہے تھے کہ عامر شہید کئی دنوں سے گہری سوچوں میں گم رہتے تھے۔ ایک دن ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ اس قدر گم سم کیوں نظر آ رہے ہیں؟ کوئی پریشانی یا تکلیف تو نہیں؟ لیکن انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ مجھے نہ کوئی پریشانی ہے اور نہ ہی تکلیف۔

یونیورسٹی کی طرف سے ملنے والی تعطیلات ۱۱ مارچ کو ختم ہو گئیں۔ لیکن عامر یونیورسٹی نہیں گئے ، وہ برلن میں رہے اور کسی کو نہیں معلوم کہ شبانہ روز ان کی سرگرمیاں کسی نوعیت کی رہیں۔ تاہم آنے والے حالات و واقعات نے ثابت کر دیا کہ عامر ان دنوں اپنے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے راہیں تلاش کرتے رہے جن پر انہوں نے چند دنوں بعد عمل پیرا ہونا تھا۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ دن ان کے لئے انتہائی اہم تھے اور مصروف ترین بھی۔

۲۰ مارچ ۲۰۰۶ء کی صبح سے عامر چیمہ اپنے رشتہ داروں کے گھر سے غائب تھے اور کسی کو ان کے بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں؟ اسی دن سورج ڈھلتے ہی برلن شہر میں ایک اہم واقعہ پیش آیا۔

جرمنی سے شائع ہونے والے ایک قدیم اخبار ”ڈائیولٹ“ (Diwelt) کے مرکزی دفتر میں ایک نوجوان داخل ہوا اور بغیر رکے ہوئے اخبار کے ایڈیٹر ”ہینرک بروڈر“ (Henryk broder) کے کمرے کی طرف بڑھا، جہاں وہ شخص اپنے دفتری کاموں میں مشغول تھا۔ نوجوان کے عمارت میں داخل ہوتے ہی سیکورٹی اہلکار اس کی طرف لپکے اور اسے پکڑنے کی کوشش کی۔ لیکن نوجوان پورے رعب اور اعتماد کے ساتھ دھاڑا اور انہیں للکارتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی تو وہ اپنے جسم کے ساتھ بندھا ہوا بارود اڑا ڈالے گا اور وہ سب اس کے ساتھ موت کے گھاٹ اتر جائیں گے۔ یہ بات سنتے ہی سیکورٹی اہلکار گھبرا کر پیچھے ہٹ گئے اور نوجوان بھاگتا ہوا ایڈیٹر کے کمرے میں داخل ہو گیا۔ پل بھر میں اس نے کپڑوں میں چھپایا ”ہنٹر نائف“ نامی خاص شکاری خنجر نکالا اور ایڈیٹر کی گردن پر وار

صفحہ ۴۶۰

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

کرنے کو لپکا، مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنے شکار کا کام تمام کرتا، دفتر کا دیگر عملہ جمع ہو گیا اور اس نے نوجوان کو قابو کر لیا۔ تاہم اتنا ضرور ہوا کہ اس دوران خنجر کا ایک وار ایڈیٹر کی گردن پر گہرا زخم کر چکا تھا۔ نوجوان نے ایڈیٹر پر مزید وار کرنے کے لئے اپنے آپ کو لوگوں کے چنگل سے چھڑانے کی بھر پور کوشش کی، لیکن وہ ایسا نہ کر سکا اور کچھ ہی دیر بعد اس کے ہاتھوں میں جرمن پولیس کے مسلح اہلکار ہتھکڑیاں ڈال رہے تھے۔

یہ نوجوان امت مسلمہ کا قابل فخر سپوت اور مایہ ناز فرزند غازی عامر چیمہ تھا اور وہ اخبار جس کے ایڈیٹر پر عامر چیمہ نے قاتلانہ حملہ کیا، ان ذرائع ابلاغ میں سے ایک تھا، جنہوں نے کائنات کی سب سے معزز اور محترم ہستی نبی اکرم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کیا یا اس ناپاک جسارت کی حمایت کی۔ عامر چیمہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں میں سے وہ مرد جری نکلا جس نے اپنے محبوب ﷺ کی حرمت پر حملہ آور ہونے والوں کو ختم کر ڈالنے کا عزم کیا...... یہ سوچے بغیر کہ خود اس کا کیا انجام ہوگا؟

جرمن پولیس نے عامر چیمہ کو گرفتار کیا اور تین دن بعد جب اس مرد جری کو عدالت میں پیش کیا گیا تو یورپ کے دل میں بسنے والے ان گوروں کے اس ”مجرم“ کے ساتھ ساتھ عدالت کے روبرو اس کا وہ تحریری بیان بھی پیش کیا گیا، جس میں اس نے کہا تھا کہ:

’میں اقرار کرتا ہوں کہ میں نے اخبار ’ڈائیولٹ‘ (Diewelt) کے ایڈیٹر ’ہینرک بروڈر‘ (Henryk Broder) پر قاتلانہ حملہ کیا۔ یہ شخص ہمارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کا ذمہ دار تھا اور اگر مجھے آئندہ موقع ملا تو میں ایسے ہر شخص کو قتل کر ڈالوں گا‘۔

یہ سب کچھ سیاہ دل گوروں کے لئے ناقابل برداشت تھا۔ لہٰذا....... عامر چیمہ جیسے بہادر، جری ، بے خوف اور نڈر مسلمان نوجوان کو قانون و عدالت سے ماوراء رہتے ہوئے جرمن پولیس نے اپنی حراست میں سخت تشدد اور بہیمیت کا نشانہ بنا کر شہید کر ڈالا۔

بنا کردند خوش رسمے بہ خاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
صفحہ ۴۶۱

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہیدؒ

”عامر نے میرا دودھ حلال کر دیا“

عامر چیمہ شہیدؒ کی والدہ محترمہ کے تاثرات

”میں خوش ہوں کہ میرے بیٹے نے عشقِ رسول میں قربانی دی۔ میرا شیر جوان بیٹا اسلام کا شیر جوان بیٹا نبی کریم ﷺ کی محبت میں قربان ہو گیا۔ عامر نے اب واپس نہیں آنا لیکن میں مسلمانوں سے کہتی ہوں کہ وہ کافروں کا مقابلہ کریں تب مجھے ٹھنڈ ملے گی۔ مسلمانو ان کافروں کی ایمبیسی کو آگ لگا دو جنہوں نے میرے بیٹے کو بے گناہ شہید کر دیا ہے۔ مسلمان اس ظلم کے خلاف احتجاج کریں اور سڑکوں پر نکل آئیں۔ مسلمان ان کافروں کا بائیکاٹ کریں، نہ وہاں سے کوئی چیز منگوائیں اور نہ کوئی چیز ان کے لئے جائے۔ ہمارے حکمران ہمیں کہتے رہے خاموش رہو عامر چھوٹ جائے گا مگر ہمیں کیا پتہ تھا کہ وہ واپس نہیں آئے گا۔ ان حکمرانوں نے ہمارے ساتھ کو ئی تعاون نہیں کیا۔ بے شک ہر بات مقدر کے مطابق ہوتی ہے مگر کوشش تو کرنی چاہئے، کوشش کرنے سے بڑے بڑے مسئلے حل ہو جاتے ہیں۔ ہمارے سفارتخانے والے ہمیں کہتے رہے کہ حوصلہ رکھو اور شور نہ کرو۔ ہمیں کیا پتہ تھا کہ کافر میرے عامر کو شہید کر دیں گے۔ وہ حضورؐ کے عشق میں شہید ہو گیا۔ اسلام کا پروانہ، میرا اسلام کا پروانہ، اللہ اس کی شہادت قبول کرے۔ میں خوش ہوں کہ میرا جوان بیٹا اسلام پہ جاں وار گیا۔ میرے بہادر بیٹے نے میرا دودھ حلال کر دیا۔“

ایک مبارک خواب

محترم جناب محمد یحییٰ علوی صاحب گورنمنٹ اسکول فار بوائز راولپنڈی کے سابق استاد ہیں اور اس اسکول میں عرصہ دراز تک عربی، اردو اور اسلامیات کی تدریس کر چکے ہیں۔ موصوف عامر چیمہ شہیدؒ کے استاد بھی رہے ہیں۔ عامر شہیدؒ کی شہادت کے بعد آپ نے ایک مبارک خواب دیکھا جو خود آپ کی زبانی نذرِ قارئین ہے:

”الحمد للہ میرا معمول ہے کہ ہر شب جمعہ کو کم از کم ۵ سو مرتبہ درود شریف پڑھ کر سوتا ہوں۔ ۴ مئی کو نماز عشاء ادا کرنے کے بعد جب میں مسجد سے نکلا تو ایک دوست نے بتایا کہ پروفیسر نذیر چیمہ کا بیٹا

صفحہ ۴۶۲

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

عامر جو گستاخ رسول پر حملے کے جرم میں جرمنی میں گرفتار تھا شہید کر دیا گیا۔ یہ خبر سن کر مجھے بہت صدمہ ہوا اور عامر کی یادیں دل میں بسائے میں نے اپنا معمول پورا کیا اور سو گیا۔ صبح سے کچھ دیر پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بہت بڑے میدان میں بہت زیادہ قمقمے جگمگا رہے ہیں اور ہر طرف روشنی ہی روشنی پھیلی ہوئی ہے۔ اس روشنی کو دیکھ کر مجھے یہ خیال ہوا کہ یقیناً یہ روشنی دنیا کی نہیں ہے۔ اسی دوران میں نے دیکھا کہ اس روشن میدان میں ایک طرف ایک بلند اسٹیج سجا ہوا ہے اور اس پر حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم بھی موجود ہیں۔ اسی اثناء میں میدان کی دوسری طرف سے عامر شہید آتے ہیں اور تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھتے ہیں۔ آقا صلی اللہ علیہ وسلم عامر کو اپنی طرف آتا دیکھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور آغوش مبارک میں لے کر کے عامر کو پکارتے ہوئے فرماتے ہیں:

”مرحبا! اے میرے بیٹے“

بس اسی لمحے قریبی مسجد سے اذان فجر بلند ہوئی اور میری آنکھ کھل گئی۔

صفحہ ٤٦٣

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

عاشق کا جنازہ

خالد بن ولید

’’سیاہ دل گوروں‘‘ کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرنے والے ملت اسلامیہ کے مایہ ناز سپوت عامر چیمہ شہید کا جسد خاکی ’’روشن ضمیر کالوں‘‘ تک پہنچا تو لاکھوں افراد کا بحر بے کراں اپنے ہیرو کے استقبال اور اس کو الوداع کہنے کے لئے موجود تھا۔

۱۶ مئی کی شام جرمنی کے سرکاری فرشتوں نے راولپنڈی میں رہائش پذیر عامر کے والد محترم نذیر چیمہ صاحب سے ملاقات کی ہے اور بند کمرے میں ایک گھنٹہ تک تفصیلی مذاکرات ہوئے ہیں۔ ایک غمزدہ، دکھی، بے بس اور مجبور باپ کے ساتھ بوٹوں والی سرکار کے زور آور نمائندوں کے ان مذاکرات میں کیا طے پایا، یہ تو آنے والے دنوں میں پروفیسر نذیر چیمہ ہی کچھ بتا سکیں گے، بشرطیکہ انہوں نے دکھ اور درد کی یہ ساری کہانی اپنے پاکیزہ فطرت لخت جگر کے جسد خاکی کے ساتھ ہی زمین کی تہہ میں دفن نہ کر ڈالی ہو۔ تاہم اتنی بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ مذاکرات کا مقصد محض یہ تھا کہ حکومت راولپنڈی یا اسلام آباد میں جنازے کے متوقع اجتماع سے سخت گھبرائی ہوئی تھی اور اہل اقتدار کی بھرپور کوشش تھی کہ عامر چیمہ کا تاریخی جنازہ عوام الناس کی نظروں سے جس قدر دور اور ایوان اقتدار سے جس قدر فاصلے پر ہو اتنا ہی ان کے لئے کم خطرات کا باعث بنے گا۔ سرکاری نمائندوں نے اس بوڑھے باپ کے ساتھ مذاکرات کے دوران اپنے مطالبات منوانے کے لئے کیسی کیسی زور آزمائیاں کیں، ان کا اندازہ اسی سے کیا جا سکتا ہے کہ پروفیسر صاحب مذاکرات کے بعد مسجد میں جا بیٹھے اور کئی گھنٹے تک وہیں معتکف رہے ۔ وہ واضح طور پر اس قدر دل برداشتہ تھے کہ نہ کسی سے بات کی اور نہ ہی کسی کے سوال کا جواب دیا۔ اسی رات شہید کی ہمشیرہ نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ حکومت نے ہم سے کہا ہے کہ جنازہ آبائی

صفحہ ۴۷۴

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

گاؤں ”ساروکی چیمہ“ میں پڑھایا جائے اور ہم اس کے لئے تیار ہیں، کیونکہ اس وقت ہماری سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح شہید بھائی کی میت ہم تک پہنچ جائے اور ہم بھائی کا آخری دیدار کر لیں۔ اب اگر حکومت ہماری اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے شرائط عائد کر رہی ہے تو ہم یہ سب باتیں ماننے پر مجبور ہیں۔ اہلخانہ کی اسی تڑپ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے یہ شرط بھی منوائی گئی کہ عامر کی میت پاکستان آنے کے بعد اسے جلد سے جلد دفن کیا جائے گا اور کسی بھی طور پر اس کے پوسٹ مارٹم کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ ایسا کرنے سے لازمی طور پر عامر کی شہادت کی حقیقی وجوہات سامنے آ جاتیں اور جرمن حکومت کا یہ دعویٰ اپنی موت آپ مر جاتا کہ عامر نے جرمن پولیس کی زیر حراست خودکشی کی ہے۔

صورت حال بتا رہی تھی کہ سرکار کی بھر پور کوشش ہو گی کہ ”ساروکی“ میں بھی جنازہ جلد سے جلد ہو اور کم سے کم لوگ اس میں شرکت کر پائیں۔ ایسے میں ضروری تھا کہ حتی المقدور وقت سے پہلے جنازہ کے لئے پہنچا جائے۔ چنانچہ چار بجے جنازہ پڑھائے جانے کی عمومی اطلاع کو نظر انداز کرتے ہوئے جب میں صبح نو بجے ساروکی چیمہ پہنچا تو پورے علاقے میں ہر طرف ہجوم عاشقاں دکھائی دے رہا تھا۔ میں جب عامر کے آبائی گاؤں میں داخل ہوا تو ہزاروں افراد وہاں موجود تھے، جب کہ سینکڑوں گاڑیاں اور پیدل افراد کی ایک طویل قطار رینگتے رینگتے گاؤں میں داخل ہو رہی تھی۔ جنازے کے لئے امڈ آنے والی اس خلق خدا کا جوش وخروش قابل دید بھی تھا اور قابل داد بھی۔ جہاں شہید کی قبر کھودی جا رہی تھی، صرف اسی احاطے میں ہزاروں افراد کا بے قرار مجمع ان لوگوں کے دلوں میں مچلتے جذبات کا بھر پور اظہار کر رہا تھا کہ سینکڑوں آدمی ایک قطار میں کھڑے انتظار کر رہے تھے کہ ان کی باری آئے اور وہ عامر شہید کی آخری آرام گاہ تیار کرنے کے لئے دو کدالیں چلانے کی سعادت حاصل کر سکیں۔ قبرستان سے ذرا فاصلے پر تیار کی گئی جنازہ گاہ میں ایک بہت بڑا اسٹیج تیار کر دیا گیا تھا، اسٹیج کے سامنے وسیع و عریض احاطے میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی مختلف تنظیموں کے ایک ساتھ لہراتے ہوئے پرچم اور تہنیتی پیغامات پر مشتمل بینرز اس اتحاد و اشتراک کی غمازی کر رہے تھے، جو شہید ناموس رسالت کے مقدس لہو کی

صفحہ ۴۶۵

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

برکت سے قائم ہو چکا ہے اور کچھ بعید نہیں کہ یہی وہ صورت حال ہے جس نے دشمنان اسلام کو حیران و ترساں کر رکھا ہے ۔ بالیقین وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ مسلمانوں کے ایسے اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ ان کے لیے کسی بھی طرح کے خطرناک حالات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے

جنازہ گاہ سے کچھ فاصلے پر ہی عامر شہید کے چچا کا گھر واقع ہے۔ میں یہاں پہنچا تو مختلف مسالک کے علماء کرام اور مشائخ عظام تشریف فرما تھے اور گرمی کی شدت کو بھلا کر بھر پور والہانہ انداز میں میت کی راہ میں دیدہ و دل فراش کئے بیٹھے تھے۔

گذشتہ شام کے اعلان کے مطابق لاہور ائیر پورٹ پر وزیر اعلیٰ پنجاب جناب پرویز الٰہی نے آج صبح میت وصول کر کے اس کے ہمراہ اپنے ہیلی کاپٹر میں گوجرانوالہ آنا تھا ،تاہم موصوف اپنے دیگر ضروری کاموں کی وجہ سے اس ”غیر ضروری“ کام کے لئے وقت نہیں نکال سکے۔ چنانچہ کچھ دیگر سرکاری عہدیداروں کے ہمراہ میت گوجرانوالہ پہنچی۔ جہاں سے اسے ایک ایمبولینس میں رکھ کر ساروکی چیمہ روانہ کر دیا گیا .... اور اس کے ساتھ ساتھ پولیس کی چار موبائل گاڑیاں اور ایک چمکتی دمکتی کار روانہ ہوئی۔ اس کار میں علاقہ کے ناظم جناب فیاض بھٹہ بالکل یوں تشریف فرما تھے جیسے وہ کسی قریبی عزیز کی شادی میں شرکت کے لئے تشریف لے جارہے ہوں ۔ دیکھنے والوں کے لئے یہ فیصلہ کرنا بھی بہت مشکل ہو پا رہا تھا کہ پولیس کی یہ چار گاڑیاں شہید کے اعزاز میں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں یا ناظم علاقہ کے پروٹوکول میں ....؟

گاؤں میں داخل ہوتے ہی لاکھوں افراد ایمبولینس کی طرف لپکے ، یہاں شہید کے دیدار کا تو سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا تاہم لوگوں کی کوشش تھی کہ وہ کسی نہ کسی طرح اس ایمبولینس کو چھولیں ، جس میں کائنات کی مقدس ترین ہستی ﷺ کا سچا عاشق اپنا سفر آخرت طے کر رہا ہے لیکن ہجوم اب تک اسقدر بڑھ چکا تھا کہ بہت کم لوگوں کو ہی یہ سعادت حاصل ہوسکی۔ تقریباً پون گھنٹے تک اسی ہجوم میں رینگنے کے بعد ایمبولینس گھر تک پہنچی ، جہاں بوڑھی ماں اور جوان بہنیں اپنے اکلوتے بیٹے اور بھائی کو ایک نظر دیکھنے کے لئے تڑپ رہیں تھیں ۔ آدھ گھنٹے کے لئے یہ تابوت گھر میں رکھا گیا اور اہل خانہ نے شہید کی سرسری زیارت کی۔ اس دوران ہزاروں لوگوں

صفحہ ۴۶۶

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ قاضی عامر پیر شہید

کا مجمع باہر کھڑا زیارت کے لئے مچل رہا تھا، مگر یہ سب کچھ پروگرام میں شامل ہی نہ تھا۔ گھر والوں سے رخصت ہونے کے بعد میت کو جنازہ گاہ میں لایا گیا تو لاکھوں افراد اپنے عظیم بھائی کا جنازہ پڑھنے کے لئے موجود تھے۔ اس موقع پر مجھے ایک فقہی مسئلہ یاد آ گیا۔

امام ابو حنیفہؒ کا مسلک ہے کہ شہید کا جنازہ پڑھنا چاہئے اور باقی ائمہ فرماتے ہیں کہ شہید چونکہ بخشا بخشایا ہوتا ہے، لہٰذا اس کی نماز جنازہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ امام ابو حنیفہؒ سے کسی نے ان کے موقف کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ ہر آدمی کا جنازہ واقعی اس لئے پڑھایا جاتا ہے کہ مرنے والے کی بخشش کا سامان ہو جائے لیکن شہید کا جنازہ ہم اس لئے پڑھتے ہیں کہ ہماری بخشش و مغفرت کا باعث بن جائے۔ واقعی آج جمع ہونے والا لاکھوں مسلمانوں کا یہ اجتماع اسی لئے حصول برکت کی خاطر یہاں نظر آ رہا تھا۔

جنازہ گاہ میں شائقین اور عشاق کی بے تابی کا اندازہ اسی سے کیا جا سکتا ہے کہ پورے ایک گھنٹے تک منتظمین کی کوششوں کے باوجود لوگ سنبھل نہیں پائے اور بالآخر جنازہ اسی عالم میں پڑھایا گیا کہ لوگوں سے کہا گیا کہ وہ جہاں جہاں کھڑے ہیں وہ اپنا رخ قبلے کی طرف کر لیں۔ ایسے میں بھی بہت سے لوگوں کو رش کی وجہ سے قبلے کی سمت ہی نہیں معلوم ہو سکی۔ بہر حال بر وقت نماز جنازہ ادا کی گئی، اس حال میں کہ سورج سوا نیزے پر کھڑا تھا اور گرمی کے مارے لوگ بے حال ہوئے جا رہے تھے۔ شدید حبس اور نا قابل برداشت بھگدڑ کی وجہ سے پچاس سے زائد افراد بے ہوش ہو گئے۔ خود میں بھی نماز جنازہ پڑھنے کے تقریباً پندرہ منٹ بعد بے ہوش ہوا اور دو گھنٹے تک بے سدھ پڑا رہا۔ قریبی دوستوں کی مسلسل جد و جہد کے بعد ہوش میں آیا ہنوز لوگوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کرنے والوں کی واپس جانے والی قطار جتنی طویل تھی، اتنی ہی طویل قطار آنے والوں کی تھی۔ یہ وہ لوگ تھے جو چار بجے اعلان شدہ وقت کے مطابق جنازہ میں شرکت کے لئے آ رہے تھے، جب کہ نماز جنازہ وقت سے تین گھنٹہ پہلے ہی ادا کی جا چکی تھی۔ ایسے میں ان متاثرین کے درد و کرب اور افسوس و اندوہ کا کیا عالم ہو گا؟ یہ انہیں سے پوچھا جا سکتا ہے۔

صفحہ 467

ہے، جس کی بدولت نبی کے طور پر بیان کیا گیا چنانچہ یہ سیرت نبوی کا اور کرداری طہارت اور دور کی ملحد و عدوان مقاصد کامیاب ہوسکیں اللہ رب العالمین ہے میں قدیم ہتھکنڈوں تا ان کے آباء و اجداد مسلمانان عالم پر یہ سطح اور زاویے سے وانفرادی زندگی میں کی آویزش اور کفار تعلیمات کو اجاگر کیا ثابت کر سکتا ہے؟! نے ایک نئی وطنی تھکنڈہ کی خاطر اپنی نیویارک

قاری عامر چیمہ شہید رہا تھا، مگر یہ سب کچھ پروگرام میں شامل ہی نہ تھا۔ گھر والوں کو جنازہ گاہ میں لایا گیا تو لاکھوں افراد اپنے عظیم بھائی کا جنازہ پر مجھے ایک فقہی مسئلہ یاد آ گیا۔

کہ شہید کا جنازہ پڑھنا چاہئے اور باقی ائمہ فرماتے ہیں کہ اس کی نماز جنازہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ امام ابو حنیفہ سے تو فرمایا کہ ہر آدمی کا جنازہ واقعی اس لئے پڑھایا جاتا ہے کہ ئے لیکن شہید کا جنازہ ہم اس لئے پڑھتے ہیں کہ ہماری بخشش آج جمع ہونے والا لاکھوں مسلمانوں کا یہ اجتماع اسی لئے تھا۔

اور عشاق کی بے تابی کا اندازہ اسی سے کیا جاسکتا ہے کہ وں کے باوجود لوگ سنبھل نہیں پائے اور بالآخر جنازہ اس یا کہ وہ جہاں جہاں کھڑے ہیں وہ اپنا رخ قبلے کی طرف کر ش کی وجہ سے قبلے کی سمت ہی نہیں معلوم ہوسکی۔ بہر حال یہ ال میں کہ سورج سوا نیزے پر کھڑا تھا اور گرمی کے مارے ندید حبس اور ناقابل برداشت بھگدڑ کی وجہ سے پچاس سے کی نماز جنازہ پڑھنے کے تقریباً پندرہ منٹ بعد بے ہوش یہی دوستوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد ہوش میں آیا ہنوز ہ میں شرکت کی سعادت حاصل کرنے والوں کی واپس ویل قطار آنے والوں کی تھی۔ یہ وہ لوگ تھے جو چار بجے رکت کے لئے آرہے تھے، جب کہ نماز جنازہ وقت سے میں ان متاخرین کے درد و کرب اور افسوس و اندوہ کا کیا

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ قاری عامر چیمہ شہید دو لاکھ سے زائد افراد اپنے محبوب کو الوداع کہہ کر گھروں کو لوٹ گئے، مگر ایک عاشق کے جنازے میں شرکت کی سعادت تادم آخر ان کے قلب و روح کو پاکیزہ اور ان کے مشام جاں کو معطر رکھے گی۔ بشرطیکہ انہوں نے اس ناقابل فراموش داستان عشق کو فراموش نہ کر دیا..!!

صفحہ ٤٦٨

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

ہمارا شاندار زمانہ

سعدی کے قلم سے

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ....... عامر عبدالرحمن چیمہ شہیدؒ کے جنازے میں لاکھوں مسلمانوں نے شرکت کی.... اس بابرکت جنازے میں شریک ہر مسلمان ہماری ”مبارکباد“ قبول فرمائے ...... گرمی کا موسم تھا، جنازہ بھی ایک غیر معروف گاؤں میں تھا ...... لوگوں کو وہاں تک پہنچانے اور لے جانے کا کوئی با قاعدہ انتظام بھی نہیں تھا ...... نماز جنازہ کا حتمی وقت بھی کسی کو معلوم نہیں تھا ...... مگر پھر بھی لاکھوں مسلمان وہاں پروانوں کی طرح جمع تھے ...... یہ سب کچھ اس قابل ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے کہ ....... امت مسلمہ میں الحمد للہ ....... ایمان بھی موجود ہے اور جذبہ بھی .. کیا بوڑھے کیا جوان ، بسوں پر لٹکتے اور پیدل گھسٹتے عاشق کی بارات کا حصہ بننے کے لئے بے چین تھے ...... کتنے لوگ روزانہ معلوم کرتے تھے کہ عاشق کب آئے گا ؟ ...... عاشق کب پہنچے گا ؟ ...... وہ ایک ایک سے پوچھتے تھے کہ عاشق کہاں اترے گا ؟ ...... غریب مسلمان جیب میں کرایہ لئے ایک ایک گھڑی گن کر گزار رہے تھے ...... پہلے اعلان ہوا کہ عاشق پنڈی، اسلام آباد آئے گا ...... مگر ایسا نہ ہو سکا ...... لوگ سارا دن دیوانوں کی طرح اس کے گھر اور جنازے کے چکر کاٹتے رہے ...... پھر تاریخ ملتوی ہوتی گئی تا کہ ...... عشق کی آگ ٹھنڈی پڑ جائے ...... اور دھرتی کے فخر کو چپکے سے سپرد خاک کر دیا جائے ...... مگر عاشق کا جنازہ ایسی دھوم سے نکلا کہ بادشاہوں کے جلوس اس کے سامنے شرمندہ ہو گئے ...... امام احمد بن حنبلؒ فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا ...... اور ہمارے دشمنوں کے فیصلے ”جنازے“ کریں گے مسلمانی کا دعویٰ کرنے والے حکمرانوں نے امام احمد بن حنبلؒ کو قید کیا تھا ...... اور ان کے پیٹ پر کوڑے برسائے تھے .. امام صاحبؒ کا جب انتقال ہوا تو لاکھوں مسلمانوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی ....... وقت کے حکمران ”متوکل باللہ“ نے اپنے کارندے بھیجے کہ جنازہ گاہ کی پیمائش کر کے

صفحہ ۴۶۹

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہیدؒ اندازہ لگاؤ کہ ...... کتنے لوگوں نے نماز جنازہ ادا کی ہے ...... پیمائش سے اندازہ ہوا کہ کل پچیس لاکھ افراد نے نماز جنازہ ادا کی تھی ...... مروذی جو امام احمد بن حنبلؒ کے پڑوسی تھے فرماتے ہیں کہ جس دن امام احمد بن حنبلؒ فوت ہوئے ہیں ...... اس دن بیس ہزار مجوسی ، یہودی ، نصرانی و مجوسی آپ کے جنازے کی حالت دیکھ کر مسلمان ہوئے ...... میں عامر شہید کے جنازے پر بار بار شکر اس لئے ادا کر رہا ہوں کہ ...... معلوم نہیں کہ عشق مصطفیٰ ﷺ کا یہ عظیم مظاہرہ دیکھ کر کتنے لوگ مسلمان ہوئے ہوں گے ...... کہاں جرمنی کی وہ تاریک جیل اور اس کی قاتل کوٹھڑی ...... کہاں ایک اجنبی گمنام مسافر ...... اور کہاں مسلمانوں کا یہ ٹھاٹھیں مارتا سمندر ...... ہر شخص عامر کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بے تاب تھا ...... ہاں جس کی محبت کے فیصلے آسمانوں پر ہو چکے ہوں ...... زمین پر اسے ایسی ہی محبت اور مقبولیت ملتی ہے ...... میں نے بار بار معلوم کیا ...... اور جنازے میں شرکت کرنے والوں سے پوچھا ...... کسی نے دولھے کی جھلک بھی دیکھی ؟ ...... معلوم ہوا کہ کچھ لوگوں نے قبر میں اترتے وقت عاشق کو دیکھ لیا اور پھر اس کے چہرے کا نور دیکھ کر بے ہوش ہو کر گر پڑے ...... سبحان اللہ ! کیا اعزاز ہے اور کیا اکرام ...... کئی دن پرانی میت چاند کی طرح چمک رہی تھی ...... اور گلاب سے بڑھ کر مہک رہی تھی ...... اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمارے زمانے کو ...... شہداء کے خون اور سچے لوگوں کی سچائی سے مہکا دیا ہے ...... ہم خواہ مخواہ حالت کی خرابی کا شکوہ کر کے ہر وقت ناشکری کرتے رہتے ہیں ...... جس زمانے کے ” اکابر“ شہادت کی دعاء مانگتے ہوں ...... جس زمانے کے نوجوان فدائی قافلوں کے مسافر ہوں ...... اگر میں اس زمانے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کروں تو یہ میرا فرض بنتا ہے ...... یہ میرا حق بنتا ہے ...... ناشکری کے لئے بہت سی خبریں موجود ہیں ...... تنقیدی کالم لکھنے کے لئے بہت سے بیانات سامنے ہیں ...... مگر گوجرانوالہ کے گاؤں ”سارو کی چیمہ“ کی کھیتوں میں لاکھوں مسلمانوں کا اجتماع ...... قلم اور دل کے رخ کو شکر کی طرف موڑتا ہے ...... سورج قیامت تک نکلتا رہے گا چاند اپنی روشنی پھیلاتا رہے گا ...... لوگ آتے رہیں گے اور موت پاتے رہیں گے ...... موسم تبدیل ہوتے رہیں گے ...... غرض کائنات کے اس نظام پر کوئی بھی اثر قیامت تک نہ پڑے گا

صفحہ 470

غازی عامر چیمہ شہیدؒ تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنایا ہوا بہترین نظام ہے ...... اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی مسلمان کو ...... شہادت کا مل جانا ایک ایسی نعمت ہے ...... جس کا کوئی بدل نہیں ...... امت مسلمہ کا ایک عاشق کے استقبال میں اس طرح نکلنا ...... ایک ایسی علامت ہے ...... جس کا کوئی جواب نہیں ...... شہید عامر کے چہرے پر نور کا برسنا ...... ایک ایسا واقعہ ...... جس کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ...... قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں شہادت کی مٹھاس کو کھول کھول کر سمجھایا گیا ہے ...... ماضی کے قبرستان شہیدوں کی اونچے مقام کی داستان ہر لمحہ سناتے رہتے ہیں ...... میں خوش ہوں کہ ہمارا زمانہ بانجھ نہیں ہے ...... میں خوش ہوں کہ ہمارا دور بے آبرو نہیں ہے ...... اگر قرآن پاک سنا رہے ہیں تو الحمداللہ ...... اس زمانے میں بھی سننے والے کان موجود ہیں ...... سمجھنے والے دل موجود ہیں ...... اگر اللہ تعالیٰ خرید رہا ہے ...... تو الحمداللہ اس زمانے میں بھی بکنے والی جوانیاں موجود ہیں ...... اگر حسن مصطفیٰ ﷺ چمک رہا ہے تو الحمداللہ ...... اس زمانے میں بھی عاشق موجود ہیں ...... یا اللہ ہمیں بھی شامل فرما ...... یا اللہ ہمیں بھی قبول فرما ...... آمین۔

صفحہ 471

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

خون رنگ لائے گا

نوید مسعود ہاشمی

یورپ کے شیطانوں نے آزادی اظہار کے نام پر آقائے مدنی ﷺ کی جو گستاخی کا ارتکاب کیا ہے اس کی وجہ سے پوری ملت اسلامیہ کے دل گھائل اور مجروح ہیں۔ اس لئے کہ ہر مسلمان نبی کریم ﷺ کی ذات کو والدین، اولاد، عزیز و رشتہ دار، دولت و کاروبار حتیٰ کہ اپنی جان سے بھی زیادہ ”عزیز ترین“ سمجھتا ہے اور یہ قانون قرون اولیٰ کے صحابہ کرامؓ سے لیکر قیامت کی صبح تک اسلام قبول کرنے والے ہر مسلمان پر یکساں لاگو ہے۔ یورپ کے شیطانوں نے آقائے نامدار ﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع کر کے مسلمانوں کے جذبات میں جو آگ لگائی تھی اس کے شعلے شیطان صفت گستاخوں کی طرف آہستہ آہستہ بڑھنے لگے ہیں جس کا اندازہ عاشق رسول ﷺ عامر چیمہ کے بے مثال کارنامے سے لگایا جاسکتا ہے۔ ۱۸ اپریل کی شام کو جب راقم کے کانوں میں عامر شہیدؒ کے کارنامے کی خبر پہنچی تو راقم اپنے دوست مفتی مجیب الرحمٰن کے ہمراہ عامرؒ کے گھر پہنچا۔ عامرؒ کے والد محترم پروفیسر نذیر چیمہ صاحب نے بڑی محبت سے استقبال کیا اور بتایا کہ مجھے بعض ذرائع سے یہ بات پہنچائی گئی ہے کہ میرے بیٹے عامر کو گستاخ جرمن اخبار دے ویلٹ کے ایڈیٹر پر حملے کی کوشش کی وجہ سے جرمنی پولیس نے گرفتار کر لیا ہے ہم پروفیسر صاحب کو ان کے ہونہار فرزند کے بیمثال کارنامے پر مبارک باد پیش کی اور ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا انہوں نے بتایا کہ عامرؒ میرا اکلوتا بیٹا اور تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ والد اور بہنیں عامرؒ سے شدید محبت کرتی ہیں اور جرمن پولیس کے ہاتھوں عامر کی گرفتاری کی خبر سن کر وہ مسلسل پروردگار سے اس کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہے تھے۔ عامر نذیر کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا کسی مدرسے کا طالبعلم نہیں تھا کسی مذہبی یا کسی سیاسی تنظیم کا کارکن بھی نہیں تھا، میں تسلیم کرتا ہوں کہ ان

صفحہ ۴۷۲

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہیدؒ

کیا یہ بات سچ ہے کہ عشق مصطفیٰ کسی سکول، کالج، یا کسی مدرسے کے محتاج تو نہیں ہیں، ۲۸ سالہ عامر نے کافروں کے سینے پر بیٹھ کے عشق رسول ﷺ کا حق ادا کیا، شاید اس موقع کے لئے علامہ اقبال نے فرمایا ہے کہ

عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام
اس زمیں و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں نے

عامر کی غیرت و حمیت جرات ایمانی نے گستاخ رسول ﷺ شیطانوں پر واضح کر دیا ہے کہ تم نے ناموس پیغمبرؐ پر جو ڈاکہ ڈالا ہے اس کے سنگین نتائج لازماً بھگتنا پڑیں گے کیا ہوا اگر عامر کے ہاتھوں وہ گستاخ قتل ہونے سے بچ گیا مگر عامر کے جرات مندانہ کردار نے امت مسلمہ کے نوجوانوں کا ولولہ تازہ کر دیا ہے، عامر کے دکھائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے عاشق رسول یقیناً اس کا ادھورا مشن ضرور پورا کریں گے۔

مگر میرا وجدان کہتا ہے کہ جرمن پولیس کے بے پناہ تشدد کو سہتے ہوئے مسکرا کر زبان حال سے کہتا ہوگا۔

سجدہ اس سر کا ہے جو تن سے جدا ہوتا ہے
یوں کہیں سجدہ شکرانہ ادا ہوتا ہے

مجھے مرنے کی حد تک یقین ہے کہ عامر چیمہ کی روح پرواز کر رہی ہو گی تو یقیناً آقائے نامدار ﷺ اپنے صحابہ کرامؓ کے جلو میں عامر کی روح کا استقبال کرنے پہنچے ہونگے حور و غلمان کو عامر کے لئے تیار کیا گیا ہوگا۔ اس لئے کہ حور و غلمان ایسے ہی قدسی صفات جانبازوں کی راہ تکتے ہیں۔ فرشتے جبرائیل امیں کی قیادت میں اپنے ہاتھوں میں تاج مقدس لئے ایسے شہداء کو خوش آمدید کہتے ہیں، محسن انسانیت ﷺ کی عظمت پر کٹ مرنے والوں کو شجر و حجر، پہاڑ، چٹانیں، جنگل، صحرا، دریا و سمندر ہوائیں اور فضائیں بھی سلام عقیدت پیش کرتی ہیں، عامر چیمہ امت مسلمہ کے ماتھے کا تاج ہے یہ وہ مرد قلندر ہے جس نے دنیاوی جاہ و حشمت اور آسائشوں کو لات مار کر اپنی

صفحہ ۴۷۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہیدؒ زندگی رسول اللہ ﷺ پر فدا کر کے ۵۶ اسلامی ممالک کے غلام حکمرانوں کو یہ سبق دیا ہے کہ یورپ اور امریکہ سے زندگی کی بھیک مانگنے والے حکمرانو، ذلت کی سو سالہ زندگی سے عزت کی چند روزہ زندگی بہتر ہے، عامر شہید کی والدہ محترمہ اور بہنیں اطمینان رکھیں کہ ان کے بیٹے اور بھائی کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اس لئے کہ پروردگار عالم شہید کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیتا دنیا دیکھے گی کہ یہ خون رنگ لا کر رہے گا۔

صفحہ ۴۷۴

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہیدؒ

عامر چیمہ کا لہو رائیگاں نہیں گیا

یاسر محمد خان

برلن میں واقع موبٹ (Moabit Prison) جیل جرمنی کی بدترین جیل ہے ۔ اس جیل میں ۴۴ دن تک غازی عامر پر تشدد کے تمام حربے استعمال کیے گئے ، بالآخر ۴ مئی کو شہید کر دیا گیا ۔ ۵ مئی کو پاکستانی اخبارات میں غازی عامر کی شہادت کی خبر شائع ہوئی جس کے بعد پاکستان کے تمام ذرائع ابلاغ میں عامر چیمہ کے نام اور کارنامے نے شہ سرخیوں کی جگہ لے لی ۔ آنیوالے دنوں میں عامر چیمہ پاکستانی نوجوانوں کے ہیرو بن گئے ۔ ان کا آبائی قصبہ ساروکی تھا ۔ یہ وزیر آباد کے قریب ایک چھوٹا سا قصبہ ہے ۔ ان کے والدین تیس برس پہلے ساروکی سے راولپنڈی منتقل ہو گئے تھے ۔ وہ راولپنڈی کی ایک متوسط بستی ڈھوک کشمیریاں کی گلی نمبر ۱۸ میں رہتے تھے ۔ جب عامر چیمہ کی شہادت کی خبر پاکستان پہنچی تو ڈھوک کشمیریاں کی گلی راولپنڈی ، اسلام آباد اور ملک بھر سے عامر چیمہ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے آنے والوں کا مرکز بن گئی ۔ یہ لوگ عامر چیمہ کے والد کے ہاتھ چومتے تو وہ اپنے شہید بیٹے کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے آنے والوں کو خود حوصلہ دیتے ۔ پروفیسر نذیر چیمہ سے ملنے ہر شخص کی زبان پر یہ الفاظ ہوتے : ’’یہ ہیں شانِ رسالتﷺ پر قربان ہونے والے پروانے کے خوش نصیب والد محترم ، آپ ہمارے لئے بھی دعا کریں ، آپکے درجات عظیم ہیں ۔‘‘ گلی نمبر ۱۸ کو ڈویژنل پبلک سکول ، ڈھوک کالا خان سکھو روڈ ، سروس روڈ ، ڈھوک پراچہ ، ٹرانسفارمر چوک سے آنیوالے تمام راستے ملاتے ہیں اور اس گلی تک پہنچنے کیلئے دن بھر عقیدت مندوں کا جم غفیر رواں دواں رہتا تھا ۔ اس گلی میں آنے والے افراد شہید عامر چیمہ کے گھر پہنچنے سے قبل وضو کرتے اور با ادب شہید کے والد اور رشتہ داروں کے عقیدت سے ہاتھ چومتے تھے ۔ گلی گلدستوں ، ہاروں اور پھولوں سے لد گئی تھی اور پھولوں کی خوشبو عجب منظر پیش کرتی تھی ۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اس گلی میں نور کی

صفحہ ۴۷۵

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ قاضی عامر چیمہ شہید

بارش ہو رہی ہو۔ سیاسی کارکن ، سیاسی قائدین ، نوجوان اور معمر افراد جن میں خواتین بھی شامل تھیں جوق در جوق اس گلی کی طرف آتے جاتے نظر آتے تھے۔

عامر شہید کے والد ، والدہ اور بہنیں صرف یہ کہتے نظر آتے کہ ہمارے بیٹے ، ہمارے بھائی کا جسد خاکی لایا جائے ۔ ۱۳ مئی کو عامر چیمہ کا جسد خاکی پاکستان پہنچا ۔ یہ جسد خاکی ساروکی لے جایا گیا ، وہاں ان کے جنازے میں شریک ہونے کے لئے پاکستان بھر سے دو لاکھ سے زائد لوگ ساروکی میں جمع تھے یہ ایک حیران کن بات تھی۔

اس جنازے کی کوریج پوری دنیا کے میڈیا نے کی ۔ کوریج کے بعد یورپ اور امریکہ میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ، وہاں کے سیاستدانوں اور دانشوروں نے یہ کہنا شروع کر دیا اگر اسلامی دنیا میں عامر چیمہ جیسے دس بیس مزید لوگ پیدا ہو گئے تو ہمارا کیا بنے گا۔ اس جنازے کے بعد امریکہ میں ایک نیا تھنک ٹینک ابھرا اور اس تھنک ٹینک نے سنجیدگی سے توہین رسالت کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا ہے۔

ان لوگوں کا کہنا ہے اقوام متحدہ کو ایک ایسا قانون پاس کرنا چاہئے جس کے تحت دنیا کے تمام ممالک اور ان ممالک میں کام کرنے والے ادارے اس بات کے پابند ہوں کہ وہ اور ان کا کوئی کارکن کسی مذہب کی مقدس ہستی کے بارے میں کوئی توہین آمیز کلمہ نہیں بولے گا۔

اس تھنک ٹینک کا خیال ہے اگر اقوام متحدہ نے کوئی ایسا قانون نہ بنایا تو عامر چیمہ کے جنازے سے بے شمار عامر چیمہ پیدا ہو جائیں گے جو پورے یورپ ، امریکہ اور مشرق بعید پر عرصہ حیات تنگ کر دیں گے۔ مجھے کل ایک دوست نے پوچھا تھا: ”عامر چیمہ نے جان دے کر کیا پایا؟“ میں نے امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ اس کے سامنے رکھی اور اس کے بعد عرض کیا:

”عامر چیمہ نے دنیا کے ان تمام گستاخوں کے دل میں خوف پیدا کر دیا جو ہمارے مذہب ، ہمارے عقائد اور ہماری مقدس ہستیوں کا مذاق اڑاتے تھے ، جو ایسی ناپاک جسارتوں کے منصوبے تراشتے تھے ۔ میں نے کہا: ایک غازی علم الدین شہیدؒ نے جان دی تھی تو اس کے بعد کسی ہندو کو ہمارے رسول ﷺ کے بارے میں بات کرنے کی جرات نہ ہوئی۔ آج ایک عامر

صفحہ ۴۷۶

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہیدؒ

چیمہ نے جان دی ہے تو مجھے یقین ہے آج کے بعد یورپ کا کوئی راجپال یہ جرات نہیں کرے گا۔ عامر چیمہ کا لہو رائیگاں نہیں گیا۔

محب صادق، عاشق جانی

باتیں کرنے والے باتوں میں ہی لگے رہتے ہیں اور کام کرنے والے کام کر گزرتے ہیں ۔ سست اور کاہل لوگ ارادے باندھنے اور توڑنے میں ہی لگے ہوتے ہیں اور پختہ عزم اور مستعد لوگ سفر کے کئی مرحلے طے کر چکے ہوتے ہیں ۔ منزل اور مقصد کی عظمت پر یقین سے محروم اور طلب صادق سے بے بہرہ لوگ ادھر ادھر کے تماشوں نظاروں میں ہی محو ہوتے ہیں اور منزل کی سچی تڑپ رکھنے والے یاران تیز گام منزل پر پہنچ چکے ہوتے ہیں ۔

ہمارا اور عامر چیمہ شہید کا معاملہ بھی ایسا ہی رہا ، ہم صرف نعرے لگانے ، دعوے کرنے ، تقریروں کی دھوم مچانے، تحریروں کا سکہ جمانے ، مجالس برپا کرنے اور ریلیوں اور جلوسوں کی دھاک بٹھانے میں ہی مگن رہے اور عامر چیمہ عشق و محبت کے عملی راستے پر نہایت سبک رفتاری سے چل کر منزل پر جا پہنچا ۔ بلاشبہ فقط دعوؤں اور نعروں کی دنیا اور ہے، سچی تڑپ ، والہانہ محبت اور حقیقی فدائیت کی دنیا اور ہے ۔ دعوؤں اور نعروں والے ساری عمر ادعا اور سخن سازی کے میدان تیہ میں ہی چکر کاٹتے پھرتے ہیں اور سچے جذبوں والے باعزیمت و باعمل بندے مختصر وقت میں منزل کو جا لیتے ہیں ۔ انہیں راستے کا کوئی اچھوتا منظر اپنی طرف متوجہ کر پاتا ہے اور نہ کوئی پرکشش اور سریلی آواز ۔ منزل کی جستجو اور طلب کا سچا جذبہ دنیا کی بڑی سے بڑی ، اعلیٰ سے اعلیٰ اور جاذب سے جاذب تر چیز کو بھی ان کی نظر میں بے قیمت اور ناقابل التفات بنا دیتا ہے ،اس لئے منزل تک رسائی کا ان کا راستہ مختصر اور رفتار سریع ہو جاتی ہے ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ہر مقصود کو پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔

عالم اسلام کے مسلمانوں نے نبی اکرمﷺ کے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے ذمہ داروں کے خلاف احتجاج کئے ، بڑے بڑے جلوس اور پرشکوہ ریلیاں نکالیں ، پر جوش نعرے

صفحہ 477

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

لگائے، اپنی حکومتوں سے گستاخ ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے مطالبے کئے ، ان کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چلائی، مگر یہ جوش و خروش چند روز تھا، جلد ماند پڑ گیا۔ اس سے کوئی اثر ہوا نہ ہونے والا تھا۔ اس کا ادراک شاید عامر چیمہ کو بھی تھا اسی لئے اس نے کسی جلسے، جلوس میں شریک ہو کر نعرہ بازی کرنے کی بجائے اپنی بساط کے مطابق ممکنہ عمل کی راہ اپنائی ۔ عامر چیمہ شہید اپنے نشانے کو ٹھکانے لگانے میں اگر چہ کامیاب نہ ہو سکا بلکہ خود نبی اکرم ﷺ کے گستاخوں کا نشانہ بن گیا جو کہ دنیا پرست ”روشن خیالوں“ کے نزدیک ایک نا سمجھی و بے عقلی والی حرکت ہے، لیکن عشق و محبت اور دنیا کی پرستار عقل کے فیصلے ہمیشہ مختلف و متضاد ہوتے ہیں ۔ عشق و محبت کے فیصلے عقل نارسا کے لئے ہمیشہ حیران کن ہوا کرتے ہیں۔ عشق بلا تامل اور سود و زیاں کی فکر کے بغیر آگ میں کود پڑتا ہے اور عقل الگ محو حیرت و تماشا کھڑی دیکھتی رہ جاتی ہے:

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

عامر چیمہ شہید جان کی بازی ہار گیا، مگر عشق و محبت کی بازی جیت گیا اور ناموس رسالت پر جان دے کر یہ ثابت کر گیا کہ اس دنیا میں ابھی اپنے رب اور نبی کے ایسے سچے عاشق موجود ہیں جن کے متعلق قرآن نے یہ گواہی دی ہے کہ وہ اللہ کی رضا کے لئے اپنی جانوں کا سودا کر لیتے ہیں۔ عامر چیمہ تنہا تھا، بے سرو سامان تھا، وہ اس کے سوا کر بھی کیا سکتا تھا جو اس نے کیا، جب کہ عالم اسلام کی ۵۷ حکومتیں، ۵۷ ملکوں کے حکمران، ان کی فوجیں، ان کے زعم خویش بڑے بڑے نامور و بہادر جرنیل جو خود ان کے بقول کئی بار موت کا قریب سے سامنا کر چکے ہیں وہ بھی یورپ کے گستاخوں کو سرنگوں نہ کر سکے، ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے ان سے کوئی بات نہ منوا سکے بلکہ اس بارے میں لب کشائی کی بھی ہمت نہ کر سکے۔ عامر چیمہ ایک سچا عاشق ہونے کے ناطے سوائے اپنی جان پیش کرنے کے اور کیا کر سکتا تھا سو اس نے وہ پیش کر دی۔

سچی بات یہ ہے کہ اندیشہ نفع و ضرر سے بے نیاز ہو کر میدان عمل میں کود جانا، دنیا کے اسباب لذت و تعیش، پر آسائش زندگی، مچلتی جوانی، پرکشش مستقبل، والدین کی محبت اور پیاروں

صفحہ ۴۷۸

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہیدؒ

کی چاہتوں کو ایک طرف رکھ کر جاں نثاری و جاں سپاری کی عزیمت والی راہ پر چل پڑنا ہر ایک کا کام نہیں ہے۔ یہ انہیں کا نصیب اور انہیں کا حوصلہ ہوتا ہے جنہیں اپنے رب اور حضور اکرم ﷺ کی محبت کی دیوانگی والی نعمت عطا ہوتی ہے۔ دار و رسن ”روشن خیال فرزانگی“ کی نظر میں زندگی کا اختتام ہے لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دیوانوں کے نزدیک یہی اصل زندگی اور حقیقی اقبال و عروج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ”فرزانے“ اس کے تصور سے بھی لرزاں رہتے ہیں اور ”دیوانے“ کشاں کشاں اس کی جانب بڑھتے ہیں، بقول شاعر

دار و رسن کو چوم کے آگے نکل گئی
یہ حوصلہ اگر ہے تو دیوانگی میں ہے

دیکھا جائے تو عامر چیمہ شہیدؒ حب رسول اور عشق نبی ﷺ کے کم از کم ڈیڑھ ارب دعوے داروں میں سچائی کے میزان پر پورے اترے ہیں اور عشق کے امتحان میں اعلیٰ نمبروں سے پاس ہوئے ہیں۔

ایک شاعر نے دوستوں اور چاہنے والوں کی تین قسمیں بیان کی ہیں:

دلا اندر جہاں یاراں سہ قسم اند
زبانی اند و نانی اند و جانی

(اے دل! دنیا میں دوست تین طرح کے ہوتے ہیں، ایک زبانی ، دوسرے نانی (روٹی اور دستر خوان کے دوست) اور تیسرے جانی)۔ یعنی ایک زبان اور دعوے کی حد تک دوست اور محبّ ہوتے ہیں۔ چکنی چپڑی باتیں کرکے خوش کرنے والے، دعوے جاں نثاری اور پسینے کی جگہ خون بہانے کے لیکن جب وقت آیا تو غائب، دوسرے نانی یعنی دستر خوان کے دوست ، جب تک کھانے کو مل رہا ہے، دستر خوان پر چکنے اور مرغن کھانے اڑانے کا موقع مل رہا ہے تو دوستی قائم ہے، جگری دوستی اور گہرے تعلق کا اظہار ہورہا ہے لیکن جیسے ہی کھانے پینے کا سلسلہ ختم ہوا، دستر خوان سمیٹا دوست نے دوسرا دروازہ تلاش کرنا شروع کر دیا، تیسری قسم جانی دوستوں کی

صفحہ ۴۷۹

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

ہے ۔ جو محض زبان، کھانے پینے اور مفاد کے دوست نہیں ہوتے بلکہ واقعتاً جگری اور جانی دوست ہوتے ہیں ۔ وہ محبت و چاہت کے نرے دعوے کرنے والے نہیں ہوتے بلکہ فی الحقیقت چاہنے والے ہوتے ہیں ۔ وہ مشکل وقت میں ساتھ نہیں چھوڑتے ، امتحان کا وقت آجائے تو پیچھے نہیں ہٹتے بلکہ جان کی بازی تک لگا دیتے ہیں۔ یہی اصل میں سچے محبّ اور جگری و جانی عاشق ہوتے ہیں ۔ ایسے ہی دوستوں کو دنیا میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ایسے ہی محبّ و عاشق قیامت کے روز سچے قرار پا کر اعلیٰ اعزاز و اکرام سے نوازے جائیں گے ۔

دیکھا جائے تو ہم میں سے اکثر یا تو زبانی عاشق ہیں یا نانی (روٹی اور حلوے مانڈے والے ) عشق ومحبت کے زبانی دعووں سے کچھ نہیں جاتا ، ان پر نہ مال خرچ ہوتا ہے اور نہ کوئی جانی محنت و مشقت برداشت کرنا پڑتی ہے ۔ روٹی اور حلوے مانڈے والا عاشق تو بہت مزے دار ہے ۔ ”رند کے رند رہے اور ہاتھ سے جنت نہ گئی ۔“ حضور ﷺ کے نام کی بڑی برکت ہے ذکر اور نعت رسول کی مجلس منعقد کر لی تو چندہ اور دیگر عطیات آئے ، مٹھائی کا بندو بست بھی ہو گیا ، گلے میں پھول کے ہار بھی پہنائے گئے ، واہ واہ بھی ہو گئی ، کوئی اسی کو دنیا کی کمائی کا راستہ بنانا چاہے تو بڑا نفع بخش راستہ ہے اس سے دنیا بھی خوب ملتی ہے ، مسلمان آپ کے نام پر مال بھی دیتے ہیں اور عزت واحترام بھی ۔ اگر کوئی آپؐ سے عشق ومحبت کے دعووں کے پیچھے مال ، شہرت اور لوگوں کی عقیدت سمیٹنے کے مقاصد کارفرما رکھتا ہو جیسا کہ اس کے شواہد اور مثالیں ہمارے معاشرہ میں عام ہیں تو پھر یہ عشق ”نانی“ ہو گا، حقیقی نہیں ہے ۔ یہ عشق آسان ہی نہیں ”مزے دار“ اور پرکشش بھی ہے اور ایسا عاشق بننا بھی کوئی کمال کی بات نہیں ہے ۔ سچا اور باکمال عاشق وہ ہے کہ جان ہتھیلی پر لئے پھرتا ہو اور جب عشق کی طرف سے جان سپاری کا تقاضہ ہو تو پھر جان کو پیش کرنے میں لمحہ بھر کا دریغ نہ کرے ۔

”زبانی“ اور ”نانی“ عاشقوں کی پہچان یہ ہے کہ زبانی عاشق عام حالات میں بڑا شور ڈالتے اور بڑی دھوم مچاتے ہیں لیکن جونہی امتحان کا کوئی مرحلہ آتا ہے ، معرکہ خیر و شر کی نوبت آتی ہے اور حق و باطل کا میدان کارزار گرم ہوتا ہے تو یہ منظر سے غائب ہوجاتے ہیں ، ان کی

صفحہ ۴۸۰

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

صفوں میں خاموشی چھا جاتی ہے، ان کے عشق و محبت کے نعروں کی گونج ماند پڑ جاتی ہے، کہ دین کے دشمنوں اور نبی اکرم ﷺ کے گستاخوں کے مقابلہ کے اصل میدان کا رخ کرتے دکھائی نہیں دیتے جبکہ سچا محبّ اور عاشق جانی دعوے کم کرتا ہے، نعرے کم لگاتا ہے لیکن عمل کے میدان میں آگے ہوتا ہے۔ دین پر اور اللہ اور اس کے رسول کی ناموس پر حرف آجائے تو پھر اسے گھر، گھر والے ، نوکری، کاروبار، اعلیٰ ملازمت، بڑا عہدہ، زندگی کی لذتیں کچھ یاد نہیں رہتیں، وہ دیوانہ وار اللہ اور اس کے رسول کی عزت و ناموس پر مر مٹتا ہے۔ یا گستاخوں کو جہنم رسید کر دیتا ہے یا اپنی جان قربان کر دیتا ہے۔ آج حب رسول کے ڈیڑھ ارب دعویداروں کی اکثریت یا زبانی عاشقوں کی ہے یا ”نانی“ عاشقوں کی ہے، سچے اور جانی عاشقوں کی تعداد بہت کم ہے جو دھوم مچائے اور جلوس نکالے بغیر اللہ اور اس کے رسولؐ کے دشمنوں سے نبرد آزما ہیں اور بلاشبہ عامر چیمہ شہید بھی ان سچے محبّین اور جانی عاشقوں میں سے ایک تھا جو اپنا عہد پورا کر چکا۔

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
صفحہ ۴۸۱

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

قوم سلام کرتی ہے

مولانا محمد اسلم شیخوپوری

مغربی اخبارات میں پے در پے سید البشرﷺ کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت ”روشن خیال اور اعتدال پسند“ صحافیوں کے بغض وعناد کا کھلم کھلا اظہار، دل و دماغ میں بھری ہوئی گندگی کا اُبال ۔مسلمانانِ عالم کی بے بسی تلملاہٹ اور بے چینی، کوئی دھاڑیں مار کر رویا، کسی نے چھپ چھپ کر آنسو بہائے۔ کسی نے جلوس منظم کیا، کسی نے گستاخ ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا۔ کسی کا سینہ مسلمان سپاہیوں کی گولیوں سے چھلنی ہو گیا، کوئی حوالہ زنداں ہوا ہزاروں تھے جنہوں نے چپ سادھ لی۔ اٹھائیس سالہ عامر چیمہ بھی ان ہزاروں میں سے ایک تھا۔ وہ ایم ایس سی کرنے کے لیے جرمنی گیا تھا۔ روشن مستقبل اُس کے سامنے تھا۔ دنیا کا بھی اور آخرت کا بھی! مگر اس نے اس جہان کے مستقبل کو اُس جہان کے مستقبل پر ترجیح دی۔ اس نے جب حبیب کبریاﷺ کے خاکے دیکھے ہوں گے، ضرور تڑپا ہوگا، پھوٹ پھوٹ کر رویا ہوگا، بے قراری میں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھے ہوں گے۔ کئی راتیں آنکھوں ہی آنکھوں میں کٹ گئی ہوں گی، کھانا حلق سے بمشکل اُترتا ہوگا۔ تین سراپا انتظار بہنوں کی جوانی اور والدین کا بڑھاپا سوالیہ نشان بن کر سامنے آیا ہوگا۔ جوانی کے ادھورے خوابوں اور جرمنی کے کوچہ و بازار کی مادی چکا چوند نے بھی اقدام سے باز رکھنا چاہا ہوگا، پھر کشتگانِ عشق رسالت کی ایمان افروز داستانیں یاد آئی ہوں گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ خواب میں چہرہ انور کی زیارت ہو گئی ہو اور محسنِ اعظمﷺ نے سوال کیا ہو عامر! کیا میری توہین کے باوجود پوری اُمت چین کی نیند سوتی رہے گی؟ کوئی نہیں جو میری ناموس پر جان کی بازی لگا دے اور پوری اُمت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر دے؟

قوم ہاشمی اپنی ترکیب میں دوسری اقوام سے بالکل الگ ہے۔ دوسری قومیں انبیاء کی توہین، استہزاء اور ایذا کو گوارا کر لیتی ہیں۔ لیکن یہ قوم گوارا نہیں کرتی۔ جہاں تک سرور دوعالمﷺ کا تعلق، امت

صفحہ ۴۸۲

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہیدؒ

اسلامیہ آپﷺ کی ذات ہی سے نہیں، آپﷺ کے شہر و مسکن، اسکے گلی کوچوں، آپﷺ کی سواری، آپﷺ کے اصحاب، آپﷺ کی ازواج اور آپﷺ کے نام ونسب سے بھی بے پناہ محبت رکھتی ہے۔

عامر نذیر چیمہ کا نام تو ”عاشق النبی“ نہ تھا لیکن اس کا دل عشق رسالتﷺ سے یقیناً معمور تھا۔ یہ عشق ہی تھا جس نے عامر چیمہ کے لیے اپنی جوانی، دنیاوی مستقبل اور مادی رشتے داؤ پر لگانا آسان کر دیا۔ اسکے بس میں ہوتا تو وہ گستاخی کے مرتکب ایڈیٹر کا بھیجا آتشین اسلحہ سے اڑا دیتا لیکن اسے صرف ایک خنجر میسر آسکا۔ وہ یہ خنجر لے کر ہی جرمن اخبار ”ڈائی ویلٹ“ کے ایڈیٹر پر حملہ آور ہو گیا۔ ایڈیٹر زخمی ہو گیا اور عامر کو گرفتار کر لیا گیا۔ شہادت سے قبل وہ ۵۵ دن تک جیل میں رہا۔ کوئی نہیں جانتا کہ ان ۵۵ دنوں میں اس پر کیا گزری۔

اب اسکی شہادت کو خود کشی کا رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ جس نوجوان نے حصولِ مغفرت و شفاعت کے لیے اپنی جان کو خطرے میں ڈالا ہو وہ خود کشی جیسے حرام عمل کا ارتکاب کرے۔ غیروں سے کیا شکوہ کرنا اپنوں کا حال یہ ہے کہ وہ شہید ناز کی تدفین کا انتظام اس انداز میں کر رہے ہیں کہ غلامانِ مصطفیٰﷺ اس میں کم سے کم شریک ہو سکیں۔ یقین ہے کہ اگر کسی جیالے نے اربابِ اقتدار میں سے کسی کی خاطر جان قربان کی ہوتی تو اس کا جنازہ عامر کے جنازے سے زیادہ دھوم دھام سے اُٹھایا جاتا مگر وہ شخصیت جو مدینہ منورہ میں محو استراحت ہونے کے باوجود پوری دنیا کے مسلمانوں کے دلوں پر حکومت کر رہی ہے، اس کے عاشق کا جنازہ اخفا کے ساتھ ادا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ حکمرانوں کی حرکتیں اور کوششیں اپنی جگہ پر لیکن جہاں تک قوم کا تعلق ہے تو اس کے دل غازی عامر کے والدین کے ساتھ دھڑک رہے ہیں۔ پوری قوم سلام کرتی ہے ان والدین کو جن کی تربیت نے اپنے نُونہال کے رگ و ریشہ میں عشق رسالت کا نور بھر دیا۔ ان بہنوں کو جن کا اکلوتا بھائی ناموس رسالت پر قربان ہو گیا۔ مگر وہ اس کی شہادت پر فخر اور خوشی محسوس کرتی ہیں۔ ان ہاتھوں کو جو ایک گستاخ کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے حرکت میں آئے، اس جسد خاکی کو جسے شہادت کی خلعت فاخرہ پہننا نصیب ہوئی ، اس خاندان کو جس کے ایک فرد نے سرفروشی کے فسانوں میں ایک خوبصورت اضافہ کر دیا اور سلام اس

صفحہ ۴۸۳

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہیدؒ

صاحب خلق عظیمﷺ پر جن کی محبت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے اور جن کی عظمت پر کٹ مرنے کو آج بھی ہر مسلمان بہت بڑی سعادت سمجھتا ہے۔ بقول حضرت ماہر القادری مرحوم ؎

سلام اس پر کہ جس کے نام لیوا ہر زمانے میں
بڑھا دیتے ہیں طرہ سرفروشی کے فسانے میں
سلام اس پر کہ جس کے نام کی عظمت پہ کٹ مرنا
مسلماں کا یہی ایماں، یہی مقصد، یہی شیوہ
صفحہ ۴۸۴

غازی عامر چیمہ شہید تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟

زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں اس کے نام پر

مولانا قاری منصور احمد

مغربی معاشرے، آزادانہ ماحول اور مخلوط کھلی سوسائٹی میں رہنے کے باوجود تنگ نظر، متعصب اور انتہا پسند ہی رہا۔ اس نے اسکول و کالج میں انگریزی تعلیم حاصل کی اور سائنس کے مضامین پڑھے۔ پھر بھی اس میں روشن خیالی آئی نہ اعتدال پسندی۔ یورپ میں موجود ہونے کے باوجود آزادی اظہار رائے اور مذہبی رواداری کا مفہوم نہیں سمجھ پایا۔ سمجھتا بھی کیسے؟ معاملہ ہی ایسا ہے۔ اس میں بے سمجھی ہی سمجھ داری ہے۔ بڑے بڑے دانش ور اس معاملے میں ایسے پاگلوں پر رشک کرتے دیکھے گئے۔ دیہاتی اَن پڑھ علم دین ہو یا اس پر فدا ہوتا ہوا دانش افرنگ کا شیدا اقبال، سرکار انگلشیہ کا منظور نظر اور غیر منقسم ہندوستان کے عظیم پنجاب کا وزیر اعلیٰ سر شفیع ہو یا شرابی کبابی اختر شیرانی، ان میں سے کوئی بھی ”اس معاملے“ میں روا داری کا قائل نہیں۔ ان میں سے عملاً کوئی کچھ کر سکا یا نہ کر سکا مگر اس ننگ انسانیت کے سینے میں خنجر اُتارنے کی حسرت سب کے دلوں مچلتی تھی جو ”زینت انسانیت“ کو داغ دار کرنے کی جسارت کرے۔

ہر مسلمان اپنی کمزوریوں، کوتاہیوں اور غفلتوں کے باوجود اس آخری سہارے (نبی اکرم ﷺ) سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔ سائنس کے فارمولوں اور ریاضی کے اصولوں سے بھرے دماغوں میں جو بات فٹ نہیں آسکتی، عامر شہید جیسے سر پھرے اپنی جان سے گزر کر انہیں اس زمینی حقیقت سے باخبر کرنا چاہتے ہیں کہ جذبہ جنون سائنس و ٹیکنالوجی سے الگ کوئی چیز ہے۔

عامر نے اپنے خون سے حرمت رسول ﷺ کے تحفظ کے لیے درست راہ کی نشان دہی کر دی ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ جلسے، جلوس، احتجاج اور ہڑتالیں ان کمینہ خصلت لوگوں کا علاج نہیں ہے۔ اس نے دبی چنگاری کو پھر شعلہ بنا دیا ہے۔ ولولوں کو تازہ اور جذبوں کو جوان کر دیا ہے۔ اس کو تشدد کر کے ہلاک کرنے والوں نے کتنی بڑی غلطی کی ہے انہیں اس کا اندازہ نہیں ہے۔ وہ اگر پہلے ہی چپ چاپ اسے اس کی

صفحہ ۴۸۵

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

لاش لا کر ورثاء کے حوالے کر دیتے اور یہاں کی حکومت اپنے روایتی انداز میں پولیس کے نرغے میں دفن کر دیتی تو شاید معاملہ دب جاتا ...... مگر بعض وقت مت بھی تو ماری جاتی ہے۔ دشمنوں کی پیش بندیوں سے وہ مسلمانوں کا ہیرو بن گیا۔ وہ اب سب کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ اس کا باپ اب قوم کا معزز ترین فرد ہے۔ اس کے گھر کے راستے میں پھول بچھے ہیں۔ یقیناً عامر کے راستے میں بھی پھول بچھے ہوں گے۔ پہلے ہر پانچویں بچے کا نام اُسامہ رکھا جاتا تھا اب عامر بھی محبوب ناموں میں شمار ہوگا، نبی ﷺ کے عاشقوں کے ناموں کو اللہ خود محبوبیت عطا فرماتے ہیں۔ بلال اور خبیب ہی کیا کم تھے، اب عامر بھی ان میں شامل ہے۔ عامر کی جرأت نے قلم اور زبان کی بندشیں بھی کھول دی ہیں جو حالات کی نزاکت کا حوالہ دے کر ہم نے اپنے اوپر لاگو کر لی تھیں۔ اب پھر مرنے مارنے کی باتیں کھلم کھلا ہونے لگی ہیں۔ حکومت اس تشدد، انتہا پسندی اور دہشت گردی کو روکنا چاہتی ہے تو اپنے آقاؤں کی خدمت میں سنجیدگی سے عرض کرے کہ وہ اس کمینگی سے باز آ جائیں۔ ورنہ یہ آگ بہت تیزی سے پھیلتی نظر آتی ہے۔

صفحہ 486

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ

اوریا جان مقبول

شہر لاہور نے اس سے بڑا جنازہ نہیں دیکھا تھا۔ آنکھیں عشق رسالت کے جذبے سے اشکبار تھیں اور بازو اس جنازے کو کندھا دینے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے بے تاب۔ پچپن سالہ علامہ اقبال بھی اس سعادت کو حاصل کیے ہوئے تھے اور کہتے جاتے: ”اسی گلاں کر دے رہے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا۔“ ہم باتیں کرتے رہے اور ترکھانوں کا بیٹا بازی لے گیا۔ وہ مقدمہ جسے لڑنے کا اعزاز محمد علی جناح، تصدق حسین خالد، خواجہ فیروز الدین اور خواجہ نیاز احمد جیسے لوگوں کو حاصل رہا۔ بڑھئی کا بیٹا غازی علم دین شہید جسے علامہ اقبال نے لحد میں اُتارا اور اس فضا میں یہ شعر پڑھا؎

ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر

عاشقان رسول ﷺ کی یہ فہرست بہت طویل ہے۔ اتنی ہی طویل ہے جتنی گستاخان رسول ﷺ کی۔ میں اس تاریخ میں نہیں جانا چاہتا کہ بعثت نبوی کی پہلی صدی میں ہی مسیحی یورپ نے اسلام نہیں بلکہ پیغمبر اسلام ﷺ کی شخصیت کو اپنا ہدف بنایا۔ سینٹ جان آف دمشقی نے ۷۵۳ء میں سرکار دو عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کی۔ میں وہ الفاظ یہاں درج کر کے اپنے قلم کو آلودہ نہیں کرنا چاہتا لیکن اس آغاز سے لے کر آج تک کتابوں، رسالوں، اخباروں اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے مسلمانوں کے عشق کا امتحان لیا جاتا رہا جو سید الانبیاء ﷺ کی ذات سے کرتے ہیں۔ تاریخ اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے کہ اس عشق اور وارفتگی کا تعلق علم دین، شرع پر عمل، ظاہری وضع قطع یا علمی پس منظر تک محدود نہیں بلکہ گنہگار سے گنہگار شخص بھی رسالت مآب ﷺ کی ذات سے عشق کو اپنا سرمایہ سمجھتا ہے اور آخرت میں شفاعت کا ذریعہ۔

صفحہ ۴۸۷

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہیدؒ

حیدر آباد سندھ کی سڑکوں پر تانگہ چلانے والا عبدالقیوم دن رات اپنے گھوڑے کی دیکھ بھال کرتا اور سواریاں اُٹھا کر رزق کا سامان مہیا کرتا ، سادہ سا مسلمان ۔ آریہ سماج لیڈر نتھو رام نے اپنی کتاب ہسٹری آف اسلام میں سید الانبیاء ﷺ کی شان میں گستاخی کی ۔ مقدمہ عدالت میں چلا ، مسلمانوں کے دل زخمی تھے ۔ اسے معمولی سا جرم قرار دے کر چند ماہ سزا سنائی گئی ۔ اس نے اس سزا پر اپیل کی تو اپنا تانگہ گھوڑا کسی کے سپرد کر کے عدالت جا پہنچا اور بھری عدالت میں نتھو رام کو جہنم واصل کر دیا ۔ مقدمہ چلا ، عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی تو تشکر کے آنسو آنکھوں میں لیے کہنے لگا : ” جج صاحب ! میں آپ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ آپ نے مجھے موت کی سزا سنا دی ۔ یہ ایک جان کس گنتی میں ہے ؟ اگر میرے پاس لاکھ جانیں بھی ہوتیں تو ناموس رسالت پر نچھاور کر دیتا ۔“ اس شمع کے پروانوں کے رنگ ڈھنگ ہی نرالے ہوتے ہیں ۔ یہ اپنے جرم کو اپنی آخرت کا سرمایہ تصور کرتے ہیں ۔ یہ جرم سے انکار نہیں کرتے ، خودکشی ان کے دستور وفا میں حرام ہے ۔ یہ اس لمحے کا انتظار کرتے ہیں جب ساقی کوثر کے دربار میں سرخرو ہو کر جانے والے ہوتے ہیں ۔ یہ سب لوگ آج اس لیے یاد آ رہے ہیں کہ اس فہرست میں آج پھر ایک ایسے شخص کا اضافہ ہوا ہے جو مغربی تعلیم سے آراستہ اور اس دیس میں تحصیل علم کے لیے گیا تھا ۔ عامر چیمہ ...... لیکن رسالت مآب سے عشق کی چنگاری تو نصیب کی بات ہوتی ہے ۔ اس بازی جیتنے کی سند میرے آقا نے خود عطا کی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تم اس وقت تک مومن ہو ہی نہیں سکتے جب تک میں تمہیں اپنے ماں باپ اور اولاد سے زیادہ محبوب اور عزیز نہ ہو جاؤں ۔ مشرق کے پروردہ ہوں یا مغرب کے ، ماں باپ سے تمسخر کوئی برداشت نہیں کر سکتا اور یہاں تو ان سے زیادہ محبت کا سوال ہے ۔ محبت جس کی کوئی انتہا نہیں ہوتی ۔ جس کے جذبوں کی مہک اور قربانی سے پھول کھلتے ہیں ۔ دریدہ دہنوں کی زبانوں پر قفل لگتے ہیں ۔

زمیں کو ناز ہے عشاق آقا ﷺ کی سعادت پر
فلک حیران ہے اس جذبۂ شوق شہادت پر
خود اپنا خوں نچھاور کر دیا باغ نبوت پر
کروڑوں رحمتیں ، پروانۂ شمع رسالت پر
صفحہ ۴۸۸

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

عامر جو ”امر“ ہو گیا

ساتھیو! عامر چیمہ بھائی جو قرض اپنا چکا گیا ہے
جو بڑھ کے باطل سے لے کے ٹکر عہد اپنا نبھا گیا ہے
کیا تھی آئی دل میں اس کے نبیﷺ کی حرمت پہ کٹ مَرا وہ
فخر ہیں کرتے اسلام والے کہ سر کفر کا جھکا گیا ہے
نہیں ہے فرصت تم کو اپنے اپنے کاموں سے اے جوانو!
جواں تھا وہ بھی ہمارے جیسا جو جاں کو اپنی کٹا گیا ہے
ہماری غیرت تھی جاگی جس دن لگائے ہم نے پر جوش نعرے
وہ اپنے نعرے کا حق اے بھائیو! جلد پھر ادا کر گیا ہے
نہیں پہنچا ملعون انجام کو اپنے تو کیا ہوا ہے
دین پہ کٹ کے عامر بھائی سبق اس کو سکھا گیا ہے
کہہ رہے ہیں یہ دنیا والے جاں کو اپنی گنوایا اس نے
نبیﷺ کی حرمت پہ قربان ہو کر جنت کو اپنی چلا گیا ہے
ساتھیو! عامر چیمہ بھائی جو قرض اپنا چکا گیا ہے
جو بڑھ کے باطل سے لے کے ٹکر عہد اپنا نبھا گیا ہے

(مجاہد)

صفحہ 489

ہے، جس کی بدولت نبی کے طور پر بیان کیا گیا چنانچہ یہ سیرت نبوی کا اور کارکردگی طہارت اور وری میں خدوخال مدتوں کامیاب ہو سکیں اللہ رب العالمین ہے میں قدم بہ قدم تبدیلیوں ان کے آباء واجداد مسلمانان عالم پر یہ سطح اور زاویہ سے انفرادی زندگی میں کی آویزش اور کفار تعلیمات کو اجاگر کیا بہت کر سکتا ہے؟! نے ایک دینی وملی سازشوں سے پردہ تحفظ کی خاطر اپنی قیہ نیوزیونزی

غازی عامر چیمہ شہید

جو "امر" ہو گیا

ا گیا ہے
کھا گیا ہے
کیا شے آئی دل میں اس کے نبی ﷺ کی حرمت پہ کٹ مرا وہ
فخر ہیں کرتے اسلام والے کہ سر کفر کا جھکا گیا ہے
والے جوانو!
کٹا گیا ہے
ہماری غیرت تھی جاگی جس دن لگائے ہم نے پر جوش نعرے
وہ اپنے نعرے کا حق اے بھائیو! جلد پھر ادا کر گیا ہے
ہوا ہے
کیا گیا ہے
کہ رہے ہیں یہ دنیا والے جاں کو اپنی گنوایا اس نے
ﷺ کی حرمت پہ قربان ہو کر جنت کو اپنی چلا گیا ہے
قرض اپنا چکا گیا ہے
وفا کے کر عہد اپنا نبھا گیا ہے

(مجاہد )

٤٨٨

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہید

شہید ناز

یہ مت کہنا کہ عامر مر گئے ہیں شہید ناز اپنے گھر گئے ہیں
یقیناً پائیں گے وہ سر فرازی لیے ہاتھوں میں اپنا سر گئے ہیں
وہ خود تو پا گئے رفعت یقیناً ہمارا قد بھی اونچا کر گئے ہیں
شہادت پائی ہے وہ پُر سعادت کہ اک عالم کو زندہ کر گئے ہیں
کریں گے قرب سرکار حاصل کہ ڈگری عشق کی لے کر گئے ہیں
غلاموں نے دکھائی ایسی جرأت کہ سب گستاخ آقا ﷺ ڈر گئے ہیں
دکھائی دے رہی ہے راہ حق صاف وہ اک قندیل روشن کر گئے ہیں
ہے کوئی راہ ان کی چلنے والا کہ سارے باحمیت مر گئے ہیں
خرد مند وہی ہے مستعد راہ جدھر سے عاشق سرور ﷺ گئے ہیں
بھرا جائے گا دوزخ کو انہی سے لہو سے ہاتھ جن کے بھر گئے ہیں
کہاں ہیں داعیان حق وانصاف مجھے لگتا ہے شاید مر گئے ہیں
ستم کی انتہا ہے بے بسوں پر حد اخلاق سے باہر گئے ہیں

(فیصل رحمانی)

٤٨٩

صفحہ ۴۹۰

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ غازی عامر چیمہ شہیدؒ

تیرے لہو نے حرمتِ رسولؐ کو بچایا

عامر جسے شہادت نے امر بنا دیا
حبِ رسولِ ہاشمی کا جرعہ پلا دیا
زمانہ رشک کرتا ہے اس کے نصیب پر
نعرۂ حق لگایا جس نے صلیب پر
جان نثارِ امت نے لرزا دیا کفر کو
جاں دے کے بتلا دیا آج کفر کو
شانِ رسولِ عربی پہ نقب لگانے والے
رسوائیاں کمائیں گے حق کو چھپانے والے
فدائی میرے محمدؐ کے ہیں پاسبان اس کے
امانت ہے آسمانی یہ قدر دان اس کے
اپنا لہو بہا کے اس کو بچائیں گے ہم
خائب اور خاسر عدو کو مٹائیں گے ہم
جس نے نبی کی حرمت کے حق کا شعور پایا
اسی نے لہو بہایا اسی نے سر کٹایا
تو نے نبی کی امت کا قرضِ گراں چکایا
تیرے لہو کے رنگ نے اسلام کو سجایا
زنداں میں کفر کی تیری یہ حق منادی
خبیب و بلال کی یادیں پھر دلا دیں
سلام تیری جرأت پہ شہیدِ محبتِ رسولؐ
عطا ہو سبھی جوانوں کو اطاعت و عقیدتِ رسولؐ

(ام حماد)

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ دسواں باب تحفظ

ہے، جس کی بدولت ہی ت کے طور پر بیان کیا گیا چنانچہ سیرت نبوی کا اور کردار کی طہارت اور عہد میں کامیاب ہو سکیں اللہ رب العالمین ہے میں قدم ڈگمگادوں ان کے آبا و اجداد مسلمانانِ عالم پر یہ سطح اور زاویے سے انفرادی زندگی میں کی آویزش اور کفار تعلیمات کو اجاگر کیا بہت کر سکتا ہے!؟ سے ایک نئی روح سازشوں سے پردہ تحفظ کی خاطر اپنی قہ یونیورسٹی

صفحہ 491

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تحفظ حرمت رسولؐ پر منظوم کلام

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دسواں باب

تحفظ حرمت رسول ﷺ پر منظوم کلام

خواجہ بطحا کی حرمت پہ کٹ مرنے کا جذبہ پیدا

کرنے اور محبان ناموس رسالت کو خراج عقیدت

پیش کرنے والی خوبصورت نظمیں اور منتخب اشعار۔

صفحہ ۴۹۲

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تحفظ رسالتؐ پر منظوم کلام

سنو! روضہ اقدس سے یہ کیا آواز آتی ہے

جوانان وطن اٹھو ! سنبھل جانے کا وقت آیا
بہت سوئے ہو تم اب ہوش میں آنے کا وقت آیا
سنو! یہ روضہ اقدس سے کیا آواز آتی ہے؟
مسلمانو! میری حرمت پہ کٹ مرنے کا وقت آیا
بھڑک اٹھے ہیں پھر سے ہتک نبوت کے شعلے
انہیں پھر جذبہ ’’صدیق‘‘ دکھلانے کا وقت آیا
جہاں سے تین سو تیرہ چلے تھے تم مسلمانو!
انہیں ماضی کی راہوں پہ پلٹ جانے کا وقت آیا
جلا ڈالی تھیں تم نے کشتیاں اندلس کے ساحل پر
مسلمانو! یہ تیری تاریخ دہرانے کا وقت آیا
نبی کی آبرو رہی باقی تو تم بھی باقی ہو
وگرنہ پھر غلامی میں الجھ جانے کا وقت آیا
تپش سورج سے لو اور آسماں سے بجلیاں چھینو
کفر کے مسکن پر آگ برسانے کا وقت آیا
اٹھو! مایوسیوں کی زندگی سے موت بہتر ہے
افضل مر کے حیات جاوداں پانے کا وقت آیا
صفحہ 493

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ تحفظ ناموس رسالت منظوم کلام

قربان ہو جائیں حرمت پر، تقاضا ہے محبت کا

کرتے ہو کیوں بہانہ آزادی صحافت کا اظہار ہے یہ تمہارے دل کی خباثت کا
گستاخی رسولؐ کے مرتکب تو ہو گئے ہو انتظار کرو اب اپنی شامت کا
جس دل کی تڑپ کا رب بھی مان رکھتا ہے دل دکھایا ہے تم نے محسن انسانیت کا
اب کیسے بچو گے تم قہر الہی سے کب تک دفاع کرو گے شیطانیت کا
لاکھ پردوں میں بھی چھپا کر رکھو مگر انجام برا ہونا ہے گستاخی کے مرتکب کا
سوئے ہوئے شیروں کو تم نے جگایا ہے پچھاڑ کھائے گا تقاضہ ہے شیر کی فطرت کا
اپنے ماں باپ سے بھی ہم کو پیارے ہیں قربان ہو جائیں حرمت پر، تقاضہ ہے محبت کا
دھرادے اپنی تاریخ کو دکھادے سرفروشی کرنا چاہتا ہے کافر اندازہ ہماری غیرت کا
خواہش جنت اگر دل میں ہے مسلمانو تمہارے شہادت کا راستہ ہے مختصر راستہ جنت کا
”علم دین“ نہ رہا مگر تو تو زندہ ہے اٹھ منتظر کیوں ہے کسی کرامت کا
سرحدیں حائل ہیں درمیاں ہمارے ورنہ سر لے آتا حامد اس بدبخت کا

(محمد حامد خان حامد)

صفحہ ٤٩٤

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تجدید عہد، رسولؐ کا حکم، کام

اے کاش! کہ ہم ”وھن“ کے بیمار نہ ہوتے

گر عالمِ فانی کے پرستار نہ ہوتے
اور عارضی لذت کے طلب گار نہ ہوتے
سردارِ جہاں ہوتے سرِ دار نہ ہوتے
اے کاش کہ ہم ”وھن“ کے بیمار نہ ہوتے
خود اپنی ہی حالت پہ مسلمان نہ روتا
کافر سے جہاد آج اگر ترک نہ ہوتا
آپس میں کبھی برسرِ پیکار نہ ہوتے
اے کاش کہ ہم ”وھن“ کے بیمار نہ ہوتے
تحقیر کی، تنقید کی ہمت نہ ہوتی
اغیار کو تضحیک کی جرأت نہ ہوتی
اپنے ہی اگر دین سے بیزار نہ ہوتے
اے کاش کہ ہم ”وھن“ کے بیمار نہ ہوتے
اک ذرہ حرارت اگر ایمان میں ہوتی
اور زندگی کی لہر مسلمان میں ہوتی
آج اتنے جری کافر مردار نہ ہوتے
اے کاش کہ ہم ”وھن“ کے بیمار نہ ہوتے
افکار میں، کردار میں بھی ہوتی بلندی
کفار میں ہوتی اگر انصاف پسندی
گستاخِ نبی کے وہ طرف دار نہ ہوتے
اے کاش کہ ہم ”وھن“ کے بیمار نہ ہوتے
اسلام کے فرزند اگر ہوتے مہم جو
لاتے وہ اثر کام میں گر قوتِ بازو
محفوظ کبھی شاتمِ سرکارﷺ نہ ہوتے
اے کاش کہ ہم ”وھن“ کے بیمار نہ ہوتے

(اثر جون پوری)

صفحہ ۴۹۵

تحفظ حرمت رسول پر منظوم کلام

”وھن“ کے بیمار نہ ہوتے

سردار جہاں ہوتے سر دار نہ ہوتے
اے کاش کہ ہم ”وھن“ کے بیمار نہ ہوتے
آپس میں کبھی برسر پیکار نہ ہوتے
اے کاش کہ ہم ”وھن“ کے بیمار نہ ہوتے
اپنے ہی اگر دین سے بیزار نہ ہوتے
اے کاش کہ ہم ”وھن“ کے بیمار نہ ہوتے
آج اتنے جری کافر مردار نہ ہوتے
اے کاش کہ ہم ”وھن“ کے بیمار نہ ہوتے
گستاخ نبی کے وہ طرف دار نہ ہوتے
اے کاش کہ ہم ”وھن“ کے بیمار نہ ہوتے
محفوظ کبھی شاتم سرکارؐ نہ ہوتے
اے کاش کہ ہم ”وھن“ کے بیمار نہ ہوتے

(اثر جون پوری)

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تحفظ حرمت رسول پر منظوم کلام

عزت پہ تیری کملی والے

عزت پہ تیری کملی والے
حرمت پہ تیری کملی والے
کٹنے کے لیے، مرنے کے لیے
تیار ہیں ہم ، تیار ہیں ہم
اے جان دو عالم ، ختم الرسل
تسلیم و بجا اے ہادیٔ کل
فساق ہیں ہم ، فجار ہیں ہم
تیار ہیں ہم ، تیار ہیں ہم
یہ اٹلی، فرانس اور ڈنمارک
ہیں سب شیطان کے پرچارک
بے شرموں سے بیزار ہیں ہم
تیار ہیں ہم تیار ہیں ہم
یہ بش کی شہہ پہ اچھلتے ہیں
اغیار کے مال پہ پلتے ہیں
ہر سازش سے ہوشیار ہیں ہم
تیار ہیں ہم ، تیار ہیں ہم
یورپ سے سفارت بند کرو
تم ان سے تجارت بند کرو
چالیں نہ چلو بیزار ہیں ہم
تیار ہیں ہم ، تیار ہیں ہم
ہم ایک ہیں سب اللہ کی قسم
پیچھے نہیں اب ہٹنے کے قدم
فولاد کی اک دیوار ہیں ہم
تیار ہیں ہم ، تیار ہیں ہم

سید سلمان گیلانی

صفحہ ۴۹۶

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تحفظ ناموس رسالتؐ منظوم کلام

ناموس مصطفیٰ ﷺ پہ دل و جان وار دو

ناموس مصطفیٰ پہ دل و جان وار دو
گستاخ کو جو دیکھو بلا خوف مار دو
شان و شکوہ خواجۂ گیہاں پہ مر مٹو
حسن و جمال ملت بیضا نکھار دو
ہر شاتم لعین کا گھر بار پھونک دو
اس پاک سر زمین کا نقشہ سنوار دو
دل سے کبھی تو فرض عقیدت ادا کرو
سر سے کبھی تو قرض محبت اتار دو
عشق رسولؐ مخزن کیف و نشاط ہے
دشت دل و نظر کو پیام بہار دو
سرکارؐ کے وقار پہ آئے نہ کوئی حرف
عمر عزیز بس اسی دھن میں گزار دو

(فیض الرسول فیضان)

صفحہ ۴۹۷

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تحفظ حرمتِ رسول پر منظوم کلام

پھانسی پہ چڑھا دو

مجروح کئے جس نے مسلمانوں کے جذبات اس پرچۂ مغرب کے دفاتر جلا دو
توہین رسالت کی کرے پھر نہ وہ جرأت سب مل کے مسلمانو! اسے ایسی سزا دو
علماء سے لو مشورہ اس شخص کے بارے اس شخص پہ پھر فتویٰ قتل لگا دو
ہے یہی مرے دین کا، مذہب کا تقاضا گستاخ نبی کو صفحہ ہستی سے مٹا دو
فتویٰ دیں اسے موت کا سارے مسلمان اس جرم میں اس شخص کی گردن کو اُڑا دو
جس ملک میں توہین رسالت یہ ہوئی ہے اس ملک کے اس شخص کو پھانسی پہ چڑھا دو
دنیا میں مسلمان ہیں اک ارب سے زیادہ ناقابل تسخیر ہے طاقت یہ دکھا دو
پھر کر نہ سکے اس طرح توہین رسالت تم زندگی کا اس کی اگر دیا بجھا دو
پھونکوں سے کبھی بجھ نہیں سکتا یہ سورج اے کافرو تم کفر کی کیسی بھی ہوا دو
ہے غیرت اسلام کا اک یہ بھی تقاضا تم جان کو اپنی بھی محمد ﷺ پہ لٹا دو
ڈنمارک کی اشیاء کو نہ کوئی خریدے تم اس سے تجارت پہ پابندی لگا دو
ماں باپ ہوں بادل کے قربان نبی ﷺ پر ہو ان پہ مری جان بھی قربان دعا دو
اخبار نے مانگی ہے معافی تو ہوا کیا؟ یہ جرم ہے ناقابل معافی یہ بتا دو
جن ملکوں میں گستاخی ہوئی پاک نبی ﷺ کی ان ملکوں سے تم اپنی سفارت ہی اٹھا دو

بادل سیالکوٹی

صفحہ ۴۹۸

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تحفظ حرمت رسولؐ پر منظوم کلام

گستاخ محمدؐ کی سزا موت ہے بس موت

ہر فیصلہ عدل و وفا موت ہے بس موت
گستاخ محمدؐ کی سزا موت ہے بس موت
زنداں میں حقیقت سے وہ بھاگا ہوا قیدی
اب اس کے لئے آب و ہوا موت ہے بس موت
اک روز اسے ڈھونڈ ہی لے گی کوئی گولی
اب اس کے ٹھکانے کا پتہ موت ہے بس موت
قرآن سے سزا گستاخ ملعون پوچھی
ہر آیۂ قرآن نے کہا موت ہے بس موت
بے خوف نہیں ایک بھی لمحے سے وہ اپنے
ہر سانس اب اس کا بخدا موت ہے بس موت
کفار سے کتنی ہی سفارش وہ کرالے
اس کے لئے آغوش موت ہے بس موت
دولت کے پجاری کو بلاتا ہے جہنم
شہرت کے بھکاری کی غذا موت ہے بس موت

(مظفر وارثی)

صفحہ 499

ہے، جس کی بدولت بنی کے طور پر بیان کیا گیا چنانچہ سیرت نبوی کا دور اول کی طہارت اور دوری میں خندہ زناں ش کامیاب ہو سکیں اللہ رب العالمین ہے میں قدم ڈگمگادوں تا ان کے آباء واجداد مسلمانان عالم پر یہ سطح اور زاویے سے انفرادی زندگی میں کی آویزش اور کفار تعلیمات کو اجاگر کیا ہو سکتا ہے؟! تعلیمات سے پردہ سازشوں سے پردہ نے ایک دینی وملی تحفظ کی خاطر اپنی نچہ نوخیز و نو رسق

تحفظ حرمت رسول پر منظوم کلام

کی سزا موت ہے بس موت

موت
موت
زنداں میں حقیقت سے وہ بھاگا ہوا قیدی
اب اس کے لئے آب و ہوا موت ہے بس موت
کوئی گولی
بس موت
قرآن سے سزا گستاخ ملعون پوچھی
ہر آیہء قرآں نے کہا موت ہے بس موت
وہ اپنے
ہے موت
کفار سے کتنی ہی سفارش وہ کرالے
اس کے لئے آغوش موت ہے بس موت
ماری کو بلاتا ہے جہنم
ن کی غذا موت ہے بس موت

(مظفر وارثی)

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ تحفظ حرمت رسول پر منظوم کلام

مت کرو مجبور ہم کو

تف ہے اہل دہر اس آزادی اظہار پر
جو عمل کیچڑ اچھالے سید ابرار پر
اب خدائی فیصلے کے منتظر ہیں اہل حق
حملہ آور پیروئے ابلیس ہے سرکار پر
فرض ہے فی الفور امراض اہانت کا علاج
قرض ہے یہ اک، غلامان شہ ابرار پر
دشمنان شاہ دیں کا ہو مسلسل بائی کاٹ
ہے گراں وار معیشت مجمع کفار پر
ہستی پرنور کی توہین پر خوں روئے گا
پیش ہوگا شاتم ختم الرسل جب نار پر
کر رہے ہیں ہم زباں پر اور قلم پر اکتفا
مت کرو مجبور ہم کو زور پر تلوار پر
پھر مقابل اہل حق کے ملت واحد ہے کفر
ہے جبھی چشم عنایت اس کے حق دار پر
احتجاج عالم اسلام ہے فطری عمل
شیر نر بپھرے نہ کیوں، روباہ کی یلغار پر
حال ہمدردان ملت ماورائے فہم ہے
تند خو اپنوں کے حق میں، رحم دل اغیار پر
میرے بازو، میرا سر، جب تک سلامت ہے اثر
کوئی کیوں انگلی اٹھائے گا میرے سرکار پر

(اثر جون پوری)

صفحہ 500

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ تحفظ حرمت رسول پر منظوم کلام

گوارہ کر نہیں سکتا

شہ جن و بشر پر شر، گوارا کر نہیں سکتا
کہ حملہ ذات عالی پر گوارا کر نہیں سکتا
گو اپنی ذات پر تو ہر ستم سہ جائے گا مسلم
مگر تنقید آقا پر گوارا کر نہیں سکتا
چھبے سرکار کے پیروں میں گر کانٹا بھی تو مومن
سلامت اپنا سر، گوارا کر نہیں سکتا
دل نقاد آقا کی شقاوت، قابل ماتم
کہ ایسی بات تو پتھر گوارا کر نہیں سکتا
ہے گو زیر خنجر سر مرا، تسلیم ہے لیکن
عقیدت پر چلے نشتر، گوارا کر نہیں سکتا
نشانہ رطب و یابس کا بنائے شاہ بطحا کو
وہی جو خود پہ خشک و تر گوارا کر نہیں سکتا
خود اپنی موت کو روباہ بزدل نے پکارا ہے
کہ یہ للکار، شیر نر گوارا کر نہیں سکتا
میں اپنی جان لٹا سکتا ہوں ناموس رسالت پر
مگر گستاخی سرور، گوارا کر نہیں سکتا
امام الانبیا کی شان اقدس میں یہ بے باکی
صحافت اس قدر خود سر گوارا کر نہیں سکتا
اثر میں جسم خاکی کو تو کر سکتا ہوں زیر خاک
مگر گرد رخ انور گوارا کر نہیں سکتا

اثر جون پوری

صفحہ 501

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ تحفظ حرمت رسول پر منظوم کلام

اس شاتم سرکار کو مٹی میں ملا دو

وہ رحمت عالم کا بناتا رہے خاکہ
سب بیٹھے ہوئے خاموش کیوں دیکھیں تماشہ
کیا ہے یہی آقا کی غلامی کا تقاضا
اس مجرم بیباک کو تم خاک چٹا دو
اس شاتم سرکار کو مٹی میں ملا دو
ڈنمارک کا شیطان ہے مغضوب زمانہ
آزادی اظہار کا کرتا ہے بہانہ
اے غیرت مسلم تجھے کہتا ہے زمانہ
ملعون کو صفحہ ہستی سے مٹا دو
اس شاتم سرکار کو مٹی میں ملا دو
ناموس رسالت سے جو کھیلا ہے وہ بد ذات
ملتے ہیں کہیں اور سے اس کو اشارات
ورنہ کہاں بدبخت کہاں اس کی یہ اوقات؟
تم قوت ایمان ذرا دشمن کو دکھا دو
اس شاتم سرکار کو مٹی میں ملا دو
گستاخ رسالت کو یوں جینے نہیں دینا
طوفان صلیبی کو بھی یوں بڑھنے نہیں دینا
صیہونی خباثت کو پنپنے نہیں دینا
تم کفر کے ایوان میں اب آگ لگا دو
اس شاتم سرکار کو مٹی میں ملا دو
صفحہ ۵۰۲

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ توہین منصب رسول پر حکم اعدام

اللہ کے بندوں کا یہی عہد وفا ہے
سو جاں بھی اگر ہو تو سب آقا پہ فدا ہے
آقا کے غلاموں کی یہی آج صدا ہے
اس اخبث خناس کو سولی پہ چڑھا دو
اس شاتم سرکار کو مٹی میں ملا دو

(مولانا ولی اللہ صدیقی ، مدینہ منورہ)

صفحہ ۵۰۳

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ تحفظ ناموس رسالت بحکم حکام

ہم نے ڈبو لئے ہیں کفن خون کے رنگ میں

درود و سلام بھیجتا ہے رب جلیل ان پر
کون و مکاں کے باسی اور جبرائیل ان پر
جس کے حضور کرتے ہیں لعین زبان درازی
انسانیت کے قائد ہیں سالار وہ حجازی
شاہ امم ہیں خاتم الرسل میرے رسول
مدثر، نذیر، طہٰ، مزمل میرے رسول
سراج منیر بھی ہیں طاہر بشیر بھی ہیں
قرآن کی مجسم منزہ تصویر بھی ہیں
محمدؐ کی شان عظمیٰ میں ان کی زبان درازی
لگادیں گے ان کی حرمت پہ ہم اپنی جان کی بازی
جو میلی نظر اٹھائے وہ آنکھ پھوڑ دیں گے
ہر دست بے ادب کی کلائی مروڑ دیں گے
ابوجہل و ابولہب کے بیٹے نہ بچ سکیں گے
ہم دست انتقام سے ان کو دبوچ لیں گے
ہے بیعت اپنی موت کے ہاتھوں پہ یاد رکھنا
ذلت لکھی ہے تمہارے ماتھوں پہ یاد رکھنا
طوفاں ہمارے غیض و غضب کا نہیں رکے گا
فرعون ڈوب کر ہی اس سیل میں رہے گا
ہم نے ڈبو لئے ہیں کفن خون کے رنگ میں
اب ہونگے اپنے فیصلے میدان جنگ میں
قربان میرے پیارے مری جاں حضورؐ پر
امت کے سب نثار غیور و جواں حضورؐ پر

(ام حماد)

صفحہ ۵۰۲

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تحفظ حرمت رسولؐ پر منظوم کلام

آنچ آنے نہیں دیتے غلام آقاؐ کی عزت پر

ہے شاہد آج بھی تاریخ زندہ اس حقیقت پر
کہ آنچ آنے نہیں دیتے غلام آقاؐ کی عزت پر
ہوا ہرزہ سرا جب بھی کوئی شانِ رسالت میں
گیا بچ کر نہ زندہ پھر وہ اپنی اس جسارت پر
دکھاتا ہے کوئی جانباز رہ اس کو جہنم کی
جھپٹتا ہے کوئی دیوانہ اس ابلیسِ فطرت پر
دیے ہر دور میں عشاق نے جانوں کے نذرانے
کیا سب کچھ تصدق اپنا ناموسِ رسالتؐ پر
اگرچہ راستہ روکا کیے دار و رسن ان کا
مگر چلتے رہے اہلِ وفا راہِ عزیمت پر
کبھی زنجیر سے الجھے کبھی شمشیر سے کھیلے
ہے ناز اسلام کو ان نثارانِ نبوت پر
لٹا دیتے ہیں سر اپنے لٹا دیتے ہیں گھر اپنے
خدا رحمت کرے ان عاشقانِ پاک طینت پر
ہے شرطِ اوّل ایمان محبت سرورِ دیںؐ کی
تحفظ فرض ہے ناموسِ پیغمبرؐ کا امت پر

(ضیاء محمود ضیاء)

صفحہ ۵۰۵

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟

تحفظ ناموس رسالت پر منظوم کلام

سلام ان پر قربان ہوئے جو ناموس رسالت پر

سلام ان پر قربان ہوئے جو ناموس رسالت پر
خدا کی رحمت ہو ان شہیدان محبت پر
ہوئے ہیں ایک پل میں جنت الفردوس کے راہی
نشان پا کو ان کے چومتی ہے عظمت شاہی
بجھائی زندگی شمع رسالت کو کیا روشن
نبوت کا کیا شاداب اپنے خون سے گلشن
عظیم الشان مقصد کے لئے تھی ان کی قربانی
دکھاتی ہے یہی جوہر اگر ہو روح ایمانی
مبارکباد دیتے ہیں فرشتے حق کے پیاروں کو
وفا کیشوں، شہیدوں ، غازیوں، طاعت گزاروں کو
ہوئی ان کشتگان عشق کو حق کی رضا حاصل
میسر آگئی ان کو سکون و امن کی منزل
ملا انعام حق ان کو، نوید جاں فزا پائی
فدا ان جانثاروں پر ہوئی جنت کی رعنائی
متاع غیر فانی ہے وہ اک لمحہ شہادت کا
چمکتا ہو تصور جس میں ناموس رسالت کا
ملے گا تا ابد ہر ایک دل میں احترام ان کا
قیامت تک رہے گا زندہ و پائندہ نام ان کا

(حافظ لدھیانوی)

صفحہ ۵۰۶

تحفظ ناموس رسولؐ پر منظوم کلام تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟

تیری سیرت کا شمع دان تھامے

اے گنبد خضراء !
ملول روحوں کو نغمہ رحمت پلانے والے
وہ مکیں جو تجھ میں مکاں ہوئے ہیں
تو ان کی خدمت میں عرض کرنا !
ہجر میں تیرے تڑپتی روحیں
تیری آبرو کو بچانے کی خاطر
رقص جنوں اب دکھانے کی خاطر
بحر ظلم میں اتر پڑی ہیں
تو عرض کرنا !
ان عہد کرتے قافلوں کی
جو ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے
تیری سیرت کا شمع دان تھامے
ہر تاریک و تیرہ راہ گزر سے
ہر سنگ راہ کو ہٹاتے ہوئے
گرداب و طوفاں سے ٹکراتے ہوئے
تیری گود میں سر چھپانے کی خاطر
تیرا وصل پانے کی خاطر
راہ میں وہ تیری چل پڑے ہیں
اے مسکن مکیں! ذرا جھکنا تو ان کے قدموں میں
سلام ہمارا پھر پیش کرنا
اور عرض آخر، تو یہ بھی کرنا
دور افق کی پلکوں پہ
جو دھندلکا سا چھایا ہے
تیرے نام کی روشنی سے ہم نے
اسے سحر میں بدل دینا ہے!

(امۃ الرب)

صفحہ ۵۰۷

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ تحفظ مرتبہ رسول پر حکم حکام

فقط اک نام محمدؐ سے محبت کی ہے

ہم نے ہر دور میں تقدیس رسالت کے لیے
وقت کی تیز ہواؤں سے بغاوت کی ہے
توڑ کر سلسلہ رسم سیاست کا فسوں
فقط اک نام محمدؐ سے محبت کی ہے
ہم نے بدلا ہے زمانے میں محبت کا مزاج
ہم نے ہر دل کو نئی راہ وفا بخشی ہے
مرحلے بند و سلاسل کے کئی طے کر کے
چہرہ دار و رسن کو بھی ضیا بخشی ہے

(حفیظ رضا سہروردی)

حرمت دین محمدؐ کے نگہبانو اٹھو
شعلہ سامانی دکھاؤ شعلہ سامانو اٹھو
فتنہ یہ اُٹھا ہے ہنگامہ اٹھانے کے لیے
مشعل نور محمدؐ کو بجھانے کے لیے
یہ بلا آئی ہے تم سب کو جگانے کے لیے
غیرت دینی تمہاری آزمانے کے لیے
تم ہو ناموس محمدؐ کے نگہباں یاد رہے
تم مسلماں ہو مسلماں ہو مسلماں یاد رہے

(سید امین گیلانی)

صفحہ ۵۰۸

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ ۞ ۞ ۞ تحفظ حرمت رسول پر منظوم کلام

اپنے خدا سے مانگ محمدؐ سے انتساب
ان کے حضور عشق کے دیپک جلائے جا
آئے گی موت واقعۃً ایک دن ضرور
پھر موت کیا ہے کچھ نہیں غیرت دکھائے جا
ناموس مصطفیٰؐ کا تقاضا ہے ان دنوں
مہر و وفا کے نام پہ گردن کٹائے جا

(شورش کاشمیری)

نبیؐ کی عزت و حرمت پہ مرنا عین ایمان ہے
سر محفل بھی ان کا ذکر کرنا عین ایمان ہے
جو فتنہ ملت بیضا کی بنیادوں سے ٹکرائے
میرے نزدیک اس کا سر کچلنا عین ایمان ہے

(فیروز فتح آبادی)

نبیؐ کے نام پر مٹنا سند ہے خلد پانے کی
فدا ہونا شہ کونین پر پیغام جنت ہے
تحفظ ہو سکے ہم سے نہ گر ناموس احمدؐ کا
تو پھر یہ زندگی سراسر ایک تہمت ہے

(پروفیسر محمد اکرم رضا)

شاتم سید کونین کا خون جائز ہے
آج تک بھی یہ جذبہ ہے مسلمانوں میں
دوستو! آؤ محمدؐ پہ نچھاور کر دیں
تار جتنے بھی بقایا ہیں گریبانوں میں

(شورش کاشمیری)

صفحہ ۵۰۹

تحفظ ناموس رسالت کیوں اور کیسے؟ تحفظ ناموس رسالت پر منظوم کلام

زندہ ہیں ہم خادمان شاہِ دیں
اہلِ دنیا کو بتانا چاہئے
تاکہ اترے اہلِ باطل کا خمار
اہلِ حق کو جاگ جانا چاہئے

(حاصل تسنائی)

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

صفحہ ۵۱۰

تحفظ ناموس رسالتؐ کیوں اور کیسے؟ تحفظ حرمت رسولؐ پر منظوم کلام

تمت بالخیر و الحمدللہ

PDF 511

ہے، جس کی بدولت نبی کے طور پر بیان کیا گیا چنانچہ سیرت نبوی کا کرداری طہارت اور دوری میں خدوخال ش کا کامیاب ہو سکیں للہ رب العالمین ہے میں قدم ڈگمگائے ہوں ان کے آبا و اجداد مسلمانان عالم پر یہ سطح اور زاویے سے انفرادی زندگی میں کی آویزش اور کفار تعلیمات کو اجاگر کیا نے ایک دینی وملی سازشوں سے پردہ تحفظ کی خاطر اپنی کے عقیدتوں پر

قرآن مجید میں ق

(۱) إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ عَذَاباً مُّهِيناً

"بلاشبہ جولوگ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کی طرف سے پھٹکار ہے اور ان کے لیے

(۲) وَ الَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ

"اور جولوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو

(التوبہ۔۶۱)

حدیث شریف میں

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک ۔ قاضی عیاضؒ نے اس طرح کے آٹھ واقعات ایک واقعہ یہ بھی درج کیا ہے کہ ایک شخص نے ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون ہے حضرت زبیرؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں ح گستاخی کی سزا دی ۔

(الشفاء)

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں

ناشر

مکتبہ الحرمین اردو بازار لاہور ۰۳۲۱-۴۳۹۹۳۱۳

ملنے کے پتے

مکتبہ مجددیہ اردو بازار لاہور مکتبہ قاسمیہ اردو بازار لاہور ادارہ اسلامیات انارکلی لاہور مکتبہ ندوہ قاسم سنٹر اردو بازار کراچی المصباح اردو بازار لاہور زم زم پبلشرز اردو بازار کراچی مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہور قدیمی کتب خانہ آرام باغ کراچی مکتبہ حقانیہ ملتان کتب خانہ رشیدیہ راولپنڈی بیت العلوم انارکلی لاہور ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان مکتبہ امدادیہ ملتان مکتبہ اسلامیہ فیصل آباد + لاہور مکتبہ سید احمد شہید اردو بازار لاہور مکتبہ العارفی فیصل آباد مکتبہ مکیہ اسٹیشن لاہور کتاب سرائے الحمد مارکیٹ اردو بازار لاہور مکتبہ سید احمد شہید اکوڑہ خٹک ادارة الحرم، رائیونڈ مکتبہ علمیہ اکوڑہ خٹک

PDF 512

تحفّظِ ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

کیوں اور کیسے؟

اپنے خدا سے مانگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے انتساب
ان کے حضور عشق کے دیپک جلائے جا
آئے گی موت واقعہ ایک دن ضرور
پھر موت کیا ہے کچھ نہیں غیرت دکھائے جا
ناموس مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضا ہے ان دنوں
مہر و وفا کے نام پہ گردن کٹائے جا

(شورش کاشمیری)

مکتبۃ الحرم

اردو بازار لاہور