احتساب قادیانیت جلد 54 · مولانا سید اسعد مدنی
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 54 · Maulana Syed Asad Madani
PDF 1

ردّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

جلد ٥٤

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 061-4783486

PDF 2

ردّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

٥٤

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ٣

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد چون (٥٤) مصنفین : حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ حضرت مولانا عبدالواحد خان رامپوریؒ حضرت مولانا محمد مظہر الدین رمداسیؒ حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ جناب نمائندہ اخبار سراج الاخبارؒ مکرم جناب عبدالرؤف دہلویؒ مکرم جناب ڈاکٹر عبدالقادرؒ حضرت مولانا غلام احمد امرتسریؒ حضرت مولانا ابوسلمان عبدالرحمن دہلویؒ حضرت مولانا ملا محمد بخش حنفی چشتی قادریؒ حضرت مولانا محمد اعجاز دیوبندیؒ جناب محترم ڈاکٹر محمد عظیم پارس ایرانی حضرت مولانا کرم الدین صاحب دبیر جہلمیؒ مکرم جناب امجد نصیر حضرت مولانا عبدالواحد مخدومؒ

صفحات : ٦٣٢ قیمت : ٤٠٠ روپے مطبع : ناصر آرٹ پریس لاہور طبع اول : دسمبر ٢٠١٣ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت

اسمبلی کے تاریخی فیصلے تک

صفحہ ٣

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

احتساب قادیانیت جلد چون (٥٤)

حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ حضرت مولانا عبدالواحد خان رامپوریؒ حضرت مولانا محمد مظہر الدین رنداسیؒ حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ جناب نمائندہ اخبار سراج الاخبار مکرم جناب عبدالرؤف دہلویؒ مکرم جناب ڈاکٹر عبدالقادرؒ حضرت مولانا غلام احمد امرتسریؒ حضرت مولانا ابوسلمان عبدالرحمن دہلویؒ حضرت مولانا محمد بخش خفی چشتی قادریؒ حضرت مولانا محمد اعجاز دیوبندیؒ جناب مکرم ڈاکٹر محمد عظیم پارس ایرانی حضرت مولانا کرم الدین صاحب بھیںؒ مکرم جناب امجد نصیر حضرت مولانا عبدالواحد مخدومؒ

٢٤٠ روپے شیر ربانی پریس لاہور ستمبر ٢٠١٣ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٥٤

☆...... عرض مرتب حضرت مولانا اللہ وسایا ٤ ١...... خطبہ صدارت، تحفظ ختم نبوت کانفرنس دہلی امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ ٩ ٢...... مناظرۂ دلپسند ١٣٣٦ھ مولانا عبدالواحد خان رامپوریؒ ٢٣ ٣...... خاتم المرسلین ﷺ مولانا محمد مظہر الدین رنداسیؒ ٣٥ ٤...... قادیانیت، جھوٹے دعویٰ نبوت سے قومی حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ ٧١ اسمبلی کے تاریخی فیصلے تک ٥...... مرزا قادیانی کی موت کا عبرتناک نظارہ نمائندہ اخبار سراج الاخبار جہلم ٨٧ ٦...... قادیانیت اور اس کے خدوخال جناب عبدالرؤف صاحب دہلوی ٩٥ ٧...... پیغام حق محترم ڈاکٹر عبدالقادر صاحب گجراتی ١٤١ ٨...... مرزا کی قلعی کھل گئی یعنی سری نگر کشمیر اور مسیح قادیانی مولانا غلام احمد امرتسریؒ ١٥٣ ٩...... تنویر السراج فی کیفیۃ المعراج مولانا ابوسلمان عبدالرحمن دہلویؒ ١٦١ ١٠...... درّہ محمدی جناب ملا محمد بخش خفی چشتی قادریؒ ١٨٥ ١١...... لاہوری ظلی نبوت اور مرزا غلام احمد قادیانی حضرت مولانا محمد اعجاز دیوبندیؒ ٢٠٣ ١٢...... آئینہ قادیان جناب ڈاکٹر محمد عظیم پارس ایرانی ٢٥٥ ١٣...... تازیانہ عبرت (حقیقی قادیانی قانونی شکنجہ میں) مولانا کرم الدین دبیرؒ ٢٧٥ ١٤...... مرزا قادیانی کی دوزبانیں مکرم جناب امجد نصیر صاحب ٤٩٧ ١٥...... کذبات مرزا مولانا عبدالواحد مخدومؒ ٥٣٩

صفحہ ٤

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

عرض مرتب

الحمد لله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى . اما بعد!

الله رب العزت کے فضل وکرم سے احتساب قادیانیت کی جلد چون (٥٤) پیش خدمت ہے۔ اس میں مندرجہ ذیل حضرات کے رسائل و کتب شامل اشاعت ہیں:

٢٠ جون ١٩٩٨ء کو عید گاہ ویلکم جعفر دہلی کے عظیم الشان گراؤنڈ میں آل انڈیا تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا صدارتی خطبہ امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی (م ٦ فروری ٢٠٠٦ء) صدر جمعیت علماء ہند نے ارشاد فرمایا۔ اس جلد میں یہ پیش خدمت ہے۔

فرار مرزائی (١٣٤٦ھ) (لقب ثانی) حیات ممدوح جہاں سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ١٣٤٦ھ: اس کا تعارف طبع کے اوّل ٹائٹل پر یہ لکھا ہے: ”حضرت مولانا عبد الواحد خان رامپوری کے ساتھ ایک مرزائی نے حیات وممات عیسیٰ مسیح میں بحث کی اور بڑے دعوٰی کے ساتھ وفات عیسیٰ علیہ السلام کو ثابت کرنا چاہا۔ مگر حق غالب رہا اور مرزائی دلائل مثل تار عنکبوت کے ٹوٹ گئے اور مولانا نے حیات عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن وحدیث سے ثابت کر دیا ۔“ ہمارے یہ رسالہ اوّلاً شائع ہوا۔

مولانا محمد مظہر الدین رمداہی کا مرتب کردہ ہے۔

مخدومی شہید اسلام حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ (شہادت ٩ اکتوبر ٢٠٠٤ء) نے ایک مضمون تحریر فرمایا جو روزنامہ جنگ ٩ ستمبر ١٩٩٤ اسے پمفلٹ کی شکل میں شائع کر دیا ۔ زہے سعادت کہ

جہلم سے سراج الاخبار شائع ہوا کرتا تھا۔ ملعون قادیان کی وفات ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو ہوئی۔ اس م کی موت کی کیفیت پر خامہ فرسائی کی گئی ۔ ایک سوچ خوشی کے ٹھکانہ کا ادراک کر سکتا ہے؟

الفلاح جامعہ نگر دہلی سے جناب عبدالرؤ اس جلد میں شامل اشاعت ہے۔

یہ رسالہ محترم ڈاکٹر عبدالقادر کا مرتب کر کی انگریز پرستی کے حوالہ جات پر یہ مشتمل ہے۔ محترم امیر تھے۔ آپ نے یہ رسالہ شائع کیا۔ اس پر نمبر ا موصوف شائع کرنا چاہتے تھے۔ ہوئے یا نہ؟ البتہ ہم

مرزا قادیانی نے اپنے ایک درزی مریدا کی ۔ محلہ خانیار میں یوز آسف کی قبر ہے جو مسیح علیہ ا امرتسر سے اہالیان سری نگر کشمیر کے سرکردہ حضرات نے جھوٹ بولا ہے۔ اس کے مرید کی تحریر میں جن ان کے اپنے رسالہ میں سے نام نکال دیئے۔ جن

صفحہ ٥

نے ایک مضمون تحریر فرمایا جو روزنامہ جنگ ٩؍ستمبر ١٩٩٤ء کو شائع ہوا۔ بعد میں صدیقی ٹرسٹ نے اسے پمفلٹ کی شکل میں شائع کر دیا۔ زہے سعادت کہ اس جلد میں اسے شائع کر رہے ہیں۔

جہلم سے سراج الاخبار شائع ہوا کرتا تھا۔ جناب فقیر محمد صاحب مالک وایڈیٹر تھے۔ ملعون قادیان کی وفات ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو ہوئی۔ اس موقعہ پر آخر مئی میں نظم ونثر میں مرزا قادیانی کی موت کی کیفیت پر خامہ فرسائی کی گئی۔ ایک سو چھ سال بعد دوبارہ شائع کرنے پر کوئی ہماری خوشی کے ٹھکانہ کا ادراک کر سکتا ہے؟

الفلاح جامعہ نگر دہلی سے جناب عبدالرؤف صاحب نے ١٩٩٩ء میں اسے شائع کیا جو اس جلد میں شامل اشاعت ہے۔

یہ رسالہ محترم ڈاکٹر عبدالقادر کا مرتب کردہ ہے۔ سن طبع معلوم نہ ہو سکا۔ مرزا قادیانی کی انگریز پرستی کے حوالہ جات پر یہ مشتمل ہے۔ محترم ڈاکٹر صاحب مجلس احرار الاسلام گجرات کے امیر تھے۔ آپ نے یہ رسالہ شائع کیا۔ اس پر نمبر ١ درج ہے۔ لگتا ہے کہ بعد میں دوسرے نمبر بھی موصوف شائع کرنا چاہتے تھے۔ ہوئے یا نہ؟ البتہ ہمیں دستیاب نہ ہو سکے۔

مرزا قادیانی نے اپنے ایک درزی مرید سے ایک عبارت بنوا کر رسالہ الہدیٰ میں درج کی۔ محلہ خانیار میں یوز آسف کی قبر ہے جو مسیح علیہ السلام کی قبر ہے۔ مولانا غلام مصطفےٰ صاحب نے امرتسر سے اہالیان سری نگر کشمیر کے سرکردہ حضرات کو خط لکھا۔ انہوں نے تحریر کیا کہ مرزا قادیانی نے جھوٹ بولا ہے۔ اس کے مرید کی تحریر میں جن علماء نے تغلیط کی۔ مرزا قادیانی نے دجل سے ان کے اپنے رسالہ میں سے نام نکال دیئے۔ جن کے نام لکھے وہ نانبائی قلچہ یا جوتا فروش ہیں۔

صفحہ ٧

مرزا قادیانی خود یا اس کا نمائندہ آ کر اپنے رسالہ میں درج شدہ فقط کوئی دو گواہ پیش کرے جو یہ کہیں کہ یہ قبر مسیح کی قبر ہے۔ لیکن مرزائیت پر ایسی اوس پڑی کہ گویا سانپ سونگھ گیا۔ اس رسالہ میں تفصیل ہے اور یہ مولانا غلام احمد امرتسری کا مرتب کردہ ہے جسے خواجہ محمد عبدالعزیز دبیر انجمن نصرۃ الحق حنفیہ امرتسر نے شائع کر کے تقسیم کیا۔

یہ رسالہ جناب مولانا ابوسلمان عبدالرحمن دہلویؒ کا مرتب کردہ ہے۔ سن تالیف معلوم نہیں ہو سکا۔ مصنف نے ٹائٹل پر اس رسالہ کا یہ تعارف درج کیا ہے: ”رسالہ ہذا میں معراج جسمانی کا ثبوت بدلائل عقلیہ ونقلیہ دیا گیا اور مخالفین کے شبہات کا عموماً اور مرزا قادیانی کے شکوک کا خصوصاً جواب دیا گیا ہے۔“ سب سے اوّل میں یہ رسالہ دفتر اہل حدیث امرتسر سے شائع ہوا۔

یہ رسالہ ملا محمد بخش حنفی چشتی قادری منیجر اخبار ہنٹر وسیکرٹری انجمن حامیٔ اسلام لاہور کا مرتب کردہ ہے۔ یکم اپریل ١٩١٢ء کو شائع کیا گیا۔ جب لاہوری مرزائیوں کا نفس ناطقہ لندن قادیانیت کی تبلیغ کے لئے گیا۔ اس کتابچہ کے ٹائٹل پر ”نمبر اوّل“ درج ہے۔ اس کے بعد بھی اس نمبر شائع ہوئے۔ معلوم نہیں۔ مگر ہمیں نہ ملے۔ سو سال بعد دوبارہ اس رسالہ کی اشاعت سے دلی خوشی حاصل ہوئی۔

لاہوری مرزائیوں کے رد میں مولانا محمد اعجاز دیوبندیؒ جو بعد میں جامع مسجد صدر بازار راولپنڈی کے خطیب بنے۔ آپ نے اس رسالہ کو ١٤؍ مارچ ١٩٣٣ء کو شائع کیا جو بہت علمی دستاویز ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے متضاد بیانات کا حیرت انگیز مجموعہ ڈاکٹر محمد عظیم پارس ایرانی انچارج پارس فری ہسپتال لاہور نے ١٩٣٧ء میں شائع کیا۔

مولانا کرم الدین دبیرؒ (وفات ١٧؍ جولائی ١٩٤٦ء) نامور احمد علی محدث سہارنپوریؒ اور دوسرے حضرات سے شرف تلمذ حاصل کیا تحریر، مناظرہ ومباحثہ کے شناور تھے۔ آپ نے رفض کے رد میں ایک لکھی۔ رد قادیانیت پر آپ کی یہ کتاب ایک شاہکار ہے۔ اس جلد میں خوشی ہو رہی ہے۔

امجد نصیر کی مرتب کردہ ہے۔ بحالتیکہ میں ان کے والد گرامی ان کا نام نصیر صاحب تھا۔ وہ مولانا محمد حیات فاتح قادیانؒ کے تربیت یا نے ١٩٧٤ء سے قبل یہ کتابچہ تحریر کیا تھا۔

مولانا عبدالواحد مخدومؒ ڈاور علاقہ چناب نگر کے باسی مسلم کالونی چناب نگر کے ابتدائی پڑھنے والوں میں تھے۔ آپ تضاد بیانیوں، ایک صد جھوٹ اور درجن بھر جھوٹی پیش گوئیوں ترتیب دی جو مارچ ١٩٨٦ء میں شائع ہوئی۔ اب دوبارہ اسے احتسا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

غرض احتساب قادیانیت کی جلد ہذا (یعنی چون (٥٤) ١٥ رسائل و کتب محفوظ ہو گئے ہیں جن کی فہرست پر ایک بار پھر نظر ڈال

صفحہ ٧

کہ اپنے رسالہ میں درج شدہ فقط کوئی دو گواہ پیش کرے جو یہ مرزائیت پر ایسی اوس پڑی کہ گویا سانپ سونگھ گیا۔ اس رسالہ امرتسری کا مرتب کردہ ہے جسے خواجہ محمد عبدالعزیز دبیر انجمن نے تقسیم کیا۔

آیۃ المعراج: مسلمان عبدالرحمن دہلوی کا مرتب کردہ ہے۔ سن تالیف معلوم اس رسالہ کا یہ تعارف درج کیا ہے: ”رسالہ ہذا میں معراج دیا گیا اور مخالفین کے شبہات کا عموماً اور مرزا قادیانی کے شکوک سے اوّل میں یہ رسالہ دفتر اہل حدیث امرتسر سے شائع ہوا۔

منشی قادری منیجر اخبار ہند و سیکرٹری انجمن حامی اسلام لاہور کا کو شائع کیا گیا۔ جب لاہوری مرزائیوں کا نفس ناطقہ لندن ٹائپ کے ٹائٹل پر ”نمبر اوّل“ درج ہے۔ اس کے بعد بھی اس ا نہ ملے۔ سو سال بعد دوبارہ اس رسالہ کی اشاعت سے دلی

مرزا غلام احمد قادیانی: میں مولانا محمد اعجاز دیوبندی جو بعد میں جامع مسجد صدر بازار نے اس رسالہ کو ١٤ / مارچ ١٩٣٣ء کو شائع کیا جو بہت علمی

متضاد بیانات کا حیرت انگیز مجموعہ ڈاکٹر محمد عظیم پارس ایرانی ١٩٣٧ء میں شائع کیا۔

مولانا کرم الدین دبیر (وفات ١٧؍جولائی ١٩٤٦ء) نامور عالم دین تھے۔ مولانا احمد علی محدث سہارنپوری اور دوسرے حضرات سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ آپ بیک وقت تقریر و تحریر، مناظرہ و مباحثہ کے شناور تھے۔ آپ نے رفض کے رد میں ایک کتاب آفتاب ہدایت لکھی۔ رد قادیانیت پر آپ کی یہ کتاب ایک شاہکار ہے۔ اس جلد میں شائع کرنے پر ڈھیروں خوشی ہو رہی ہے۔

امجد نصیر کی مرتب کردہ ہے۔ محکمہ میں ان کے والد گرامی ریلوے اسٹیشن ماسٹر تھے۔ ان کا نام نصیر صاحب تھا۔ وہ مولانا محمد حیات فاتح قادیان کے تربیت یافتہ تھے۔ امجد نصیر صاحب نے ١٩٧٤ء سے قبل یہ کتابچہ تحریر کیا تھا۔

مولانا عبدالواحد مخدوم ڈاور علاقہ چناب نگر کے پاس تھے۔ مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے ابتدائی پڑھنے والوں میں تھے۔ آپ نے مرزا قادیانی کے کردار، تضاد بیانیوں، ایک صد جھوٹ اور درجن بھر جھوٹی پیش گوئیوں کے مجموعہ پر مشتمل یہ کتاب ترتیب دی جو مارچ ١٩٨٦ء میں شائع ہوئی۔ اب دوبارہ اسے احتساب قادیانیت کی اس جلد کا حصہ بنایا جارہا ہے۔

غرض احتساب قادیانیت کی جلد ہٰذا (یعنی چون (٥٤) جلد) میں ١٥ حضرات کے ١٥ رسائل و کتب محفوظ ہو گئے ہیں جن کی فہرست پر ایک بار پھر نظر ڈال لیں۔

صفحہ ٨

گویا ١٥ حضرات کے کل ١٥ رسائل و کتب احتساب قادیانیت کی جلد (٥٤) میں شامل اشاعت ہیں۔ حق تعالیٰ شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ آمین ٭ بحرمۃ خاتم النبیین!

محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا! یکم صفر الخیر ١٤٣٥ھ، بمطابق ٥؍ دسمبر ٢٠١٣ء

ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبیین

لا نبی بعدی

خطبہ صدارت

تحفظ ختم نبوت کانفرنس

امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی

PDF 10

کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ ی ١ کتاب کا ١ رسالہ ی ١ کتاب

١٥ رسائل و کتب شاعت ہیں۔ حق تعالیٰ شرف قبولیت

دعاء: فقیر اللہ وسایا! ١٤٣٥ھ، بمطابق ٥؍دسمبر ٢٠١٣ء

اَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

خطبہ صدارت

تحفظ ختم نبوت کانفرنس دہلی

امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی رحمۃ اللہ علیہ

صفحہ ١١

بسم الله الرحمن الرحيم "الحمد لله رب العالمين، والصلوة والسلام على سيدنا محمد خاتم الانبياء والمرسلين، وعلى آله واصحابه اجمعين . اما بعد!"

حاضرین گرامی مرتبت، حضرات علماء کرام اور سامعین عظام!

دہلی کے باغیرت اور باحمیت مسلمان قابل مبارکباد ہیں جن کی توجہ اور دینی فکرمندی کی بدولت آج دوسری عظیم الشان "تحفظ ختم نبوت کانفرنس" کا انعقاد عمل میں آ رہا ہے۔ اس عظیم دینی کانفرنس کی صدارت کے گراں قدر اعزاز سے مجھے نواز کر آپ حضرات نے جس محبت وخلوص کا ثبوت دیا ہے۔ اس پر میں تہہ دل سے مشکور ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ہمارا یہ دینی اجتماع اپنے مسلمان بھائیوں میں صحیح اسلامی عقائد کی اشاعت اور غلط اور باطل قسم کے نظریات سے حفاظت کا ذریعہ بنے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ! اللہ رب العزت اسے ہر اعتبار سے مقبول فرمائے۔ آمین!

حضرات گرامی! آج مجھے مختصر وقت میں کانفرنس کے اصل موضوع سے متعلق کچھ بنیادی اور اصولی باتیں عرض کرنی ہیں۔ جن کا لحاظ کرنے سے قادیانیوں کے بے سروپا شبہات وتلبیسات کا بآسانی ازالہ ہو سکتا ہے۔

مذہب اسلام کے حدود وشرائط

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ دنیا میں ہر جماعت اور اہل مذہب کو یہ فطری حق حاصل ہے کہ وہ اپنی جماعت کے حدود وشرائط متعین کریں۔ کسی دوسرے کو اس میں خواہ مخواہ دخل اندازی کا حق نہیں ہوتا۔ اسلام نے بھی اسی فطری حق کا استعمال کرتے ہوئے اپنے حدود خود متعین کئے ہیں اور اعلان کیا ہے کہ جو ان حدود کا پابند رہے گا وہ تو مسلمان کہلائے گا اور جو ان شرائط کا خیال نہیں رکھے گا وہ مسلمان نہیں کہلایا جاسکتا۔ ان حدود وشرائط کا خلاصہ قرآن کریم میں اس طرح بیان فرمایا گیا: ”يا ايها الذين آمنوا آمنوا بالله ورسوله والكتب الذي نزل على رسوله والكتب الذي انزل من قبل ومن يكفر بالله وملئكته وكتبه ورسله واليوم الآخر فقد ضل ضلالاً بعيداً (النساء:١٣٦)“ ﴿اے ایمان والو! یقین لاؤ اللہ پر اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو نازل کی تھی پہلے اور جو یقین نہ رکھے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور کتابوں پر اور رسولوں پر اور قیامت کے دن پر وہ بہک کر بہت دور جا پڑا۔﴾

(حضرت شیخ الہندؒ)

٢

یعنی ایمان کے لئے ضروری ہے کہ تمام ضروریات دین کو دل کتاب وسنت سے ثابت شدہ متواتر اور قطعی احکامات پر یقین رکھا جائے ایک قطعی عقیدہ پر بھی ایمان نہ رہے تو پھر آدمی مؤمن نہیں رہ سکتا۔ دسویں (جنہیں خود قادیانی بھی مجدد تسلیم کرتے ہیں) ملا علی قاریؒ ارشاد فرماتے المراد باهل القبلة الذين اتفقوا على ماهو من ضروریات الـ وحشر الاجساد وعلم الله تعالى بالكليات والجزئيات وما الـ المهمات (شرح فقه اكبر : ١٨٥) ﴿جاننا چاہئے کہ اہل قبلہ (مسلما کے ضروری عقائد سے متفق ہوں۔ مثلاً دنیا کا حادث ہونا، اور میدان حشر کیا جانا، اور اللہ تعالیٰ کا علم تمام جزئیات وکلیات کو محیط ہونا، اور ان مسائل۔﴾

محض کلمہ پڑھنا کافی نہیں

سامعین گرامی ! اس وضاحت سے صاف معلوم ہو گیا کہ مسلما کلمہ طیبہ زبان سے پڑھ لینا کافی نہیں ہے۔ بلکہ تمام ایمانیات پر یقین

قادیانی جماعت کے لوگ عام مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے زبانی طو اپنی دوکانوں، نشست گاہوں وغیرہ پر کلمہ کے اسٹیکر لگا کر اپنے کو مسلمان شکوہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: "دیکھئے کلمہ پڑھنے کے باوجود ہمیں دائر جارہا ہے۔" اس لئے یہ بات ہر مسلمان کو معلوم ہو جانی چاہئے کہ آدمی کا ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھ لینا اس وقت تک مفید نہیں ہو سکتا جب تک اسے دل سے قبول نہ کرے اور ان تقاضوں میں ایک اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بلا تاویل وتوجیہہ کے اطاعت کی جائے۔ عقیدۂ ختم نبوت کو تسلیم کئے بغیر کلمہ پڑ

عقیدۂ ختم نبوت جزوایمان ہے

سامعین عالی مقام ! خود پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد رسول الـ عقیدۂ ختم نبوت کا جزو ایمان اور ضروری ہونا معلوم ہوتا ہے۔ جو آپ حارثہؓ کے واقعہ کے ضمن میں ارشاد فرمایا۔ واقعہ یہ تھا کہ حضرت زیدؓ کو اغوا کر کے مکہ میں لاکر بیچ دیا تھا۔ شدہ شدہ آپ آنحضرت ﷺ کی غلـ

٣

صفحہ ١١

یعنی ایمان کے لئے ضروری ہے کہ تمام ضروریات دین کو دل سے تسلیم کیا جائے اور کتاب وسنت سے ثابت شدہ متواتر اور قطعی احکامات پر یقین رکھا جائے۔ اگر ان میں سے کسی ایک قطعی عقیدہ پر بھی ایمان نہ رہے تو پھر آدمی مؤمن نہیں رہ سکتا۔ دسویں صدی کے مشہور عالم (جنہیں خود قادیانی بھی مجدد تسلیم کرتے ہیں) ملا علی قاریؒ ارشاد فرماتے ہیں: ”اعلم ان المراد باهل القبلة الذين اتفقوا على ماهو من ضروریات الدين كحدوث العالم وحشر الاجساد وعلم الله تعالىٰ بالكليات والجزئيات وما اشبه ذلک المسائل المهمات (شرح فقه اكبر:١٨٥)“ ”جاننا چاہئے کہ اہل قبلہ (مسلمان) وہ لوگ ہیں جو دین کے ضروری عقائد سے متفق ہوں۔ مثلاً دنیا کا حادث ہونا، اور میدان حشر میں دوبارہ اجساد کا جمع کیا جانا، اور اللہ تعالیٰ کا علم تمام جزئیات وکلیات کو محیط ہونا، اور ان کے مشابہ دین کے اہم مسائل۔

محض کلمہ پڑھنا کافی نہیں

سامعین گرامی! اس وضاحت سے صاف معلوم ہوگیا کہ مسلمان ہونے کے لئے محض کلمہ طیبہ زبان سے پڑھ لینا کافی نہیں ہے۔ بلکہ تمام ایمانیات پر یقین رکھنا لازم ہے۔ آج قادیانی جماعت کے لوگ عام مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے زبانی طور پر کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں۔ اپنی دوکانوں، نشست گاہوں وغیرہ پر کلمہ کے اسٹیکر لگا کر اپنے کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور علماء کا شکوہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ”دیکھئے کلمہ پڑھنے کے باوجود ہمیں دائرہ اسلام سے خارج کیا جارہا ہے۔“ اس لئے یہ بات ہر مسلمان کو معلوم ہو جانی چاہئے کہ آدمی کا کلمہ طیبہ ”لا اله الا الله محمد رسول الله “ پڑھ لینا اس وقت تک مفید نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ کلمہ کے تقاضوں کو قبول نہ کرے اور ان تقاضوں میں ایک اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت بلا کسی تاویل وتوجیہہ کے قبول کی جائے۔ عقیدہ ختم نبوت کو تسلیم کئے بغیر کلمہ پڑھنا بے سود ہے۔

عقیدہ ختم نبوت جزو ایمان ہے

سامعین عالی مقام! خود پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ایک ارشاد سے عقیدہ ختم نبوت کا جزو ایمان اور ضروری ہونا معلوم ہوتا ہے۔ جو آپ ﷺ نے حضرت زید ابن حارثہؓ کے واقعہ کے ضمن میں ارشاد فرمایا۔ واقعہ یہ تھا کہ حضرت زیدؓ کو کچھ شرارت پسندوں نے اغوا کر کے مکہ میں لا کر بیچ دیا تھا۔ شدہ شدہ آپ آنحضرت ﷺ کی غلامی میں آگئے۔ کسی طرح

٣

صفحہ ١٣

حضرت زید کے قبیلہ والوں کو خبر ہوئی کہ زید مکہ میں ہیں تو آپ کو لینے کے لئے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ آپ جتنی دیت چاہیں لے لیں۔ مگر ہمارے لڑکے زید کو ہمارے حوالے کر دیں۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا: ” اسألكم ان تشهدوا ان لا اله الا الله وانی خاتم انبیائه ورسله وارسله معكم (مستدرک حاکم ج ٣ ص ٢١٤) ” میں تم سے صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم یہ گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ شہادت دو کہ میں ( آنحضرت ﷺ) تمام انبیاء اور رسولوں کے سلسلہ کو ختم کرنے والا ہوں۔ پھر میں زید کو تمہارے ساتھ بھیج دوں گا۔ (یہ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد کا واقعہ ہے ) ﴾

دیکھئے کس وضاحت سے حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عقیدۂ ختم نبوت کو کلمہ شہادت میں شامل فرمایا ہے۔ اس لئے یہ عقیدہ ایسا نہیں ہے کہ اسے یوں ہی نظر انداز کر دیا جائے۔ آنحضرت ﷺ کی اس وضاحت کے بعد قادیانیوں کی ان ساری کوششوں کا قلع قمع ہو جاتا ہے جو وہ اس عظیم عقیدہ کی اہمیت گھٹانے کے لئے عموماً سادہ لوح مسلمانوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

علامہ اقبال مرحوم کا تجزیہ

حضرات گرامی! یہاں میں مناسب سمجھتا ہوں کہ مشہور مفکر اور دانشور علامہ محمد اقبال مرحوم کا ایک وقیع تجزیہ پیش کروں۔ جس سے مسئلہ کی نوعیت اور اہمیت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔ علامہ موصوف فرماتے ہیں: ”اسلام لازماً ایک دینی جماعت ہے جس کے حدود مقرر ہیں۔ یعنی وحدت الوہیت پر ایمان، انبیاء پر ایمان اور رسول کریم ﷺ کی ختم رسالت پر ایمان، دراصل یہ آخری یقین ہی وہ حقیقت ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وجہ امتیاز ہے اور اس امر کے لئے فیصلہ کن ہے کہ فرد یا گروہ ملت اسلامیہ میں شامل ہے یا نہیں۔ مثلاً برہمو سماج خدا پر یقین رکھتے ہیں اور رسول کریم کو خدا کا پیغمبر مانتے ہیں۔ لیکن انہیں ملت اسلامیہ میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ قادیانیوں کی طرح وہ انبیاء کے ذریعہ وحی کے تسلسل پر ایمان رکھتے ہیں اور رسول کریم کی ختم نبوت کو نہیں مانتے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے کوئی اسلامی فرقہ اس حد فاصل کو عبور کرنے کی جسارت نہیں کر سکا۔ ایران میں بہائیوں نے ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلایا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ الگ جماعت ہیں اور مسلمانوں میں شامل نہیں ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ اسلام بحیثیت دین کے خدا کی طرف سے ظاہر ہوا۔ لیکن اسلام بحیثیت سوسائٹی یا ملت کے رسول

٤

کریم کی شخصیت کا مرہون منت ہے۔ میری رائے میں قادیانیوں کے سام وہ بہائیوں کی تقلید کریں یا ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو پور کر لیں۔ ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ اس سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔“

قادیانیوں کی تکفیر کیوں؟

حاضرین گرامی! اس تفصیل سے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارا کام خواہ مخواہ لوگوں کو کافر بناتے رہیں۔ کوئی بھی جماعت اپنی عددی طاقت ہماری ذمہ داری صرف حفاظت دین کی ہے۔ یعنی ہم اس پر نگاہ رکھیں کہ کہیں سامان کفر کو فروغ نہیں دیا جا رہا ہے؟ اگر کہیں ایسا ہوتا ہے تو ہر مسلمان بالح ہے کہ وہ واضح لفظوں میں اعلان کر دیں کہ فلاں چیز اصلی ہے اور فلاں ن سامنے رکھ کر آج ساری امت اس بات پر متفق ہے کہ قادیانی جماعت جو ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کی قائل ہے وہ دائرہ اسلام سے بالک ہے کہ قادیانیوں کے کفر پر امت میں جیسا اتفاق ہے اس کی مثال شاذ و نادر

علماء اسلام کے بعض فتاویٰ

حضرات سامعین! مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوۂ نبوت ١٩٠١ء زمانہ میں اور ہر طبقہ کے علماء و مفتیان نے قادیانیوں کے کفر سے متعلق

مناظر اسلام حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے فرمایا: ”مرزا غلام احمد ق خارج ہے۔“

امام ربانی قطب عالم حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی نے فر دجال اور شیطان ہے۔“

اکابر علماء دیوبند شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی، حکیم اشرف علی تھانوی، امام العصر حضرت علامہ انور شاہ کشمیری، مفتی ا عزیز الرحمٰن صاحب دیوبندی، مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ ص ہند وغیرہ حضرات نے ایک متفقہ فتویٰ پر دستخط کئے جس کا پہلا جز یہ تھا: ”م جملہ معتقدین درجہ بدرجہ مرتد، زندیق، ملحد، کافر اور فرقہ ضالہ میں یقیناً داخل

صفحہ ١٣

کریم کی شخصیت کا مرہون منت ہے۔ میری رائے میں قادیانیوں کے سامنے صرف دو راہیں ہیں یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں یا ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو پورے مفہوم کے ساتھ قبول کر لیں۔ ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ اسلام میں ہو۔ تاکہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔“

(حرف اقبال ص ١٣٦، ١٣٧)

قادیانیوں کی تکفیر کیوں؟

حاضرین گرامی! اس تفصیل میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارا کام ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم خواہ مخواہ لوگوں کو کافر بناتے رہیں۔ کوئی بھی جماعت اپنی عددی طاقت کو کم کرنا نہیں چاہتی۔ ہماری ذمہ داری صرف حفاظت دین کی ہے۔ یعنی ہم اس پر نگاہ رکھیں کہ کہیں اصلی کا لیبل لگا کر جعلی سامان کو تو فروغ نہیں دیا جارہا ہے؟ اگر کہیں ایسا ہوتا ہے تو ہر مسلمان بالخصوص علماء کا یہ دینی فرض ہے کہ وہ واضح لفظوں میں اعلان کردیں کہ فلاں چیز اصلی ہے اور فلاں چیز نقلی ہے۔ اسی بات کو سامنے رکھ کر آج ساری امت اس بات پر متفق ہے کہ قادیانی جماعت جو عقیدہ ختم نبوت کی منکر ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کی قائل ہے وہ دائرہ اسلام سے بالکلیہ خارج ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ قادیانیوں کے کفر پر امت میں جیسا اتفاق ہے اس کی مثال شاذ و نادر ہی ملتی ہے۔

علماء اسلام کے بعض فتاویٰ

حضرات سامعین! مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوۂ نبوت ١٩٠١ء سے لے کر آج تک ہر زمانہ میں اور ہر طبقہ کے علماء ومفتیان نے قادیانیوں کے کفر سے متعلق فتوے دیئے ہیں۔ مثلاً مناظر اسلام حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے فرمایا: ”مرزا غلام احمد قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

امام ربانی قطب عالم حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے فرمایا: ”مرزا قادیانی کافر دجال اور شیطان ہے۔“

اکابر علماء دیوبند شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ دیوبندی، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، امام العصر حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ، مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمٰنؒ صاحب دیوبندی، مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علماء ہند وغیرہ حضرات نے ایک متفقہ فتویٰ پر دستخط کئے جس کا پہلا جز یہ تھا: ”مرزا غلام احمد اور اس کے جملہ معتقدین درجہ بدرجہ مرتد، زندیق، ملحد، کافر اور فرقہ ضالہ میں یقیناً داخل ہیں۔“

صفحہ ١٥

جمعیت علماء ہند نے ١٩٥٦ء میں ایک فتویٰ جاری کیا جس میں کہا گیا: ”قادیانی جماعت مع اپنے بانی اور تمام ان پارٹیوں کے جو مرزا صاحب پر اعتقاد رکھتی ہیں۔ اسلام سے خارج ہے اور مرتد کے حکم میں ہیں۔ نہ ان سے رشتہ مناکحت جائز ہے، نہ رشتہ موانست ومودت، نہ انہیں مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنا جائز ہے، نہ ان سے وہ معاملات وتعلقات رکھنے جائز ہیں جو مسلمانوں سے رکھے جاسکتے ہیں۔“

اس فتویٰ پر شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ، مجاہد ملت حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ، محدث کبیر حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی وغیرہ علماء کے دستخط ہیں۔ اسی طرح کے فتاویٰ مظاہر علوم اور ندوۃ العلماء لکھنؤ سے جاری کئے گئے۔

مشہور اہل حدیث عالم مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ نے فتویٰ دیا: ”مرزا صاحب اور ان کی جماعت چونکہ عقائد باطلہ کی حامل ہے اور اصول اسلام سے منحرف ہے۔ اس لئے وہ کافر ہے اور دین محمدی ﷺ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔“

مشہور بریلوی عالم مولانا احمد رضا خاںؒ نے فتویٰ دیتے ہوئے کہا: ”علماء کرام حرمین شریفین نے قادیانی کی نسبت بالاتفاق فرمایا کہ جو اس کے کافر ہونے کے بارے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ اس صورت میں فرض قطعی ہے کہ تمام مسلمان موت وحیات کے سب علاقے اس سے قطع کریں۔“

علاوہ ازیں عالم اسلام کے ممتاز مفتیان اور دینی اداروں کی طرف سے بھی قادیانیوں کی تکفیر کے فتاویٰ اور فیصلے جاری کئے گئے۔ جامعہ ازہر نے ١٩٣٩ء میں تحقیقات کے بعد قادیانیوں کے کفر وارتداد کا اعلان کیا اور حکم جاری کر دیا کہ آئندہ کسی قادیانی کو جامعہ ازہر میں داخلہ نہ دیا جائے۔

١٩٧٤ء میں ایک سو چار مسلم ملکوں کی نمائندہ تنظیم رابطہ عالم اسلامی نے بھی ایک طویل تجویز منظور کر کے قادیانیوں کے کفر وارتداد اور ان کی سیاسی و سماجی تخریب کاریوں کو واشگاف کیا۔

اسی طرح سعودی عرب کے سب سے اعلیٰ اختیاراتی فقہی ادارے المجمع الفقہی نے فیصلہ کرتے ہوئے یہ دوٹوک الفاظ لکھے: ”عقیدہ قادیانیت جو احمدیت کے نام سے بھی موسوم ہے اسلام سے مکمل خارج ہے۔ اس کے پیروکار کافر اور مرتد ہیں۔ اگرچہ یہ لوگ مسلمانوں کو گمراہ

کرنے اور دھوکہ دینے کے لئے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتے کرتی ہے کہ مسلمانوں کے ذمہ خواہ وہ حکمراں ہوں یا علماء، مصنفین، خطیب کہ اس گمراہ ٹولے کا سختی سے مقابلہ کریں اور دنیا میں جہاں کہیں اس با اس کا قلع قمع کرنے کے لئے کمر بستہ ہو جائیں۔“

الغرض قادیانیوں کی تکفیر پر اس وقت امت مسلمہ کا اتفاق پاکستان ہی سے نہیں ہے بلکہ دنیا کے ہر خطے میں رہنے والے مسلمان اظہار کرتے ہیں اور یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسلامی شعائر استعمال کر

حضرات گرامی! قادیانیوں کا یہ پروپیگنڈہ قطعاً جھوٹ اور میں ان کا تعاقب پاکستان کی شہ پر کیا جارہا ہے۔ ہم یہ واضح کر دینا چ عقائد کا تعلق کسی خاص علاقے یا ملک سے نہیں ہے اور نہ ہمیں اس سلسلہ سیاست سے کوئی سروکار ہے۔ ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ جو لوگ اسل نہیں اترتے۔ وہ اسلام کا نام استعمال کرنا بند کردیں۔ اگر آج بھی ق لگیں تو ہمیں ان کے تعاقب یا تعرض کی کوئی ضرورت نہ ہوگی۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی

حضرات گرامی! جماعت احمدیہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی موعود ہونے) کے بڑے بلند بانگ دعوے کئے ہیں۔ مثلاً:

(اربعین نمبر ٣ ص

(دافع البلا

(حقیقت الوحی ص

(نزول المسیح

صفحہ ١٥

کرنے اور دھوکہ دینے کے لئے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتے ہیں اور فقہی کمیٹی یہ اعلان کرتی ہے کہ مسلمانوں کے ذمہ خواہ وہ حکمراں ہوں یا علماء، مصنفین، خطیب ہوں یا داعی، فرض ہے کہ اس گمراہ ٹولے کا سختی سے مقابلہ کریں اور دنیا میں جہاں کہیں اس باطل ٹولے کا وجود نظر آئے اس کا قلع قمع کرنے کے لئے کمربستہ ہو جائیں۔“

الغرض قادیانیوں کی تکفیر پر اس وقت امت مسلمہ کا اتفاق ہے اور اس کا تعلق صرف پاکستان ہی سے نہیں ہے بلکہ دنیا کے ہر خطے میں رہنے والے مسلمان قادیانیوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں اور یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسلامی شعائر استعمال کرنے سے باز آ جائیں۔

حضرات گرامی! قادیانیوں کا یہ پروپیگنڈہ قطعاً جھوٹ اور فریب ہے کہ ہندوستان میں ان کا تعاقب پاکستان کی شہ پر کیا جارہا ہے۔ ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہمارے دینی عقائد کا تعلق کسی خاص علاقے یا ملک سے نہیں ہے اور نہ ہمیں اس سلسلہ میں کسی دوسرے ملک کی سیاست سے کوئی سروکار ہے۔ ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ جو لوگ اسلامی حدود و شرائط پر پورے نہیں اترتے۔ وہ اسلام کا نام استعمال کرنا بند کردیں۔ اگر آج بھی قادیانی اپنے کو غیر مسلم کہنے لگیں تو ہمیں ان کے تعاقب یا تعرض کی کوئی ضرورت نہ ہوگی۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی

حضرات گرامی! جماعت احمدیہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی نبوت اور (مسیح موعود ہونے) کے بڑے بلند بانگ دعوے کئے ہیں۔ مثلاً:

اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)

(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢١١)

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

”انبیاء گرچہ بودہ اند بسے من بعرفاں نہ کمتر زکسے“

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

٧

صفحہ ١٧

(ترجمہ: اگر چہ دنیا میں بہت سارے نبی ہوئے ہیں۔ لیکن علم وعرفان میں میں کسی سے کم نہیں ہوں)

سامعین گرامی! اس طرح کے دعاوی سے مرزا غلام احمد کی تحریرات بھری پڑی ہیں جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ یہاں میں صرف اس جانب توجہ دلانا چاہوں گا کہ کسی بھی دینی منصب پر فائز ہونے والے کے لئے کم از کم کن صفات کا حامل ہونا ضروری ہے اور اس طرح کے کسی منصب پر فائز ہونے کا دعویٰ کرنے والے کے لئے سب سے پہلے کس طرح کا ثبوت پیش کرنا ضروری ہے۔

آنحضرت ﷺ کا اسوۂ مبارکہ

سامعین عظام! سید الاولین والآخرین سیدنا ومولانا محمد رسول اللہ ﷺ کا شاندار اسوۂ مبارکہ ہمارے پیش نظر ہے۔ آپ نے اعلانِ نبوت سے پہلے اور بعد میں ایسی صاف ستھری زندگی اور کمالِ اخلاق کا مظاہرہ فرمایا کہ آپ ﷺ کا بڑے سے بڑا دشمن بھی آپ کے ذاتی کردار اور صدق وامانت پر انگلی اٹھانے کی جرأت نہ کر سکا۔ آپ ﷺ نے جب صفا کی پہاڑی سے پہلی مرتبہ مکے والوں کو توحید کا پیغام سنایا تو اس سے پہلے اپنی تصدیق بھی کرائی اور جب سب نے بیک آواز کہہ دیا کہ ”ما جربنا علیک الا صدقاً (بخاری شریف ص ٧٠٢)“ یعنی ہمارے تجربے میں آپ ہمیشہ سچے ہی ثابت ہوئے تو آپ نے ان میں توحید ورسالت کا اعلان فرمایا۔ اب ہمیں مرزا غلام احمد قادیانی کے بلند بانگ دعاوی کا بھی اسی تناظر میں جائزہ لینا چاہئے کہ جب مرزا قادیانی نعوذ باللہ! خود کو آنحضرت ﷺ کا ظل اور بروز کہتا ہے ”اور اپنی بعثت کو آنحضرت ﷺ ہی کی بعثت ثانیہ قرار دیتا ہے۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٨٠، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٠)

تو یہ بحث تو بعد میں کی جائے گی کہ ظلی بروزی نبی ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں یا نہیں؟ اور امام مہدی ظاہر ہو چکے ہیں یا نہیں؟ پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ اس طرح کے دعوے کرنے والا سچا بھی ہے یا نہیں؟ اگر سچا ثابت ہو جائے تو بحث آگے بڑھ سکتی ہے اور اگر جھوٹا ثابت ہو تو اگلی بحث بے کار ہے۔ کیونکہ جھوٹ کے ساتھ نبوت و ولایت کا کوئی درجہ بھی جمع نہیں ہو سکتا۔ خود مرزا قادیانی نے ایک جگہ لکھا ہے: ”ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“

(چشمۂ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)

دوسری جگہ لکھتا ہے: ”جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا

(تتمہ حق

ایک جگہ اور وضاحت کرتا ہے: ”ایسا آدمی جو ہر ر ایک بات تراشتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ یہ خدا کی وحی ہے جو مجھ کتوں اور سؤروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے۔“

(ضمیمہ براہین احـ

مرزا قادیانی کے جھوٹ

حضرات گرامی! اسی اصل نکتہ کو سامنے رکھ کر جب تو ہماری حیرت کی انتہاء نہیں رہتی کہ مرزا قادیانی جو بظاہر جھو ہے خود اس برائی سے اس کی تحریرات بھر پور ہیں۔ میں بطور نـ جن سے آپ بخوبی مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کا اندازہ

گیارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے اور وہ سب کے سب فوت ہو گئے

(چـ

یہ بالکل کھلا ہوا جھوٹ ہے اور مرزا کی من گھڑ گیارہ صاحبزادے آج تک کسی ایک بھی مؤرخ نے نـ آپ ﷺ کے صرف تین صاحبزادے قاسم، عبداللہ (جن ثابت ہیں اور غیر معتبر اقوال زیادہ سے زیادہ سات تک ملتے

ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان۔“

(از

یہ بھی سفید جھوٹ ہے۔ قرآن پاک میں کہیں بـ

جوابھم“ (ان (علماء) نے مجھے ہر طرح کی گالیاں دیں

صفحہ ١٧

دوسری جگہ لکھتا ہے: ”جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں اور کوئی برا کام نہیں۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٩)

ایک جگہ اور وضاحت کرتا ہے: ”ایسا آدمی جو ہر روز خدا پر جھوٹ بولتا ہے اور آپ ہی ایک بات تراشتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ یہ خدا کی وحی ہے جو مجھ کو ہوئی ہے۔ ایسا بدذات انسان تو کتوں اور سوروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٢٦، خزائن ج ٢١ ص ٢٩٢)

مرزا قادیانی کے جھوٹ

حضرات گرامی! اسی اصل نکتہ کو سامنے رکھ کر جب ہم قادیانی لٹریچر کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہماری حیرت کی انتہاء نہیں رہتی کہ مرزا قادیانی جو بظاہر جھوٹ بولنے کو دنیا کی بدترین برائی سمجھتا ہے خود اس برائی سے اس کی تحریرات بھر پور ہیں۔ میں بطور نمونہ صرف تین تحریریں پیش کرتا ہوں جن سے آپ بخوبی مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کا اندازہ لگا سکیں گے۔

گیارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے اور وہ سب کے سب فوت ہو گئے تھے۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٨٦، خزائن ج ٢٣ ص ٢٩٩)

یہ بالکل کھلا ہوا جھوٹ ہے اور مرزا کی من گھڑت بات ہے۔ آنحضرت ﷺ کے گیارہ صاحبزادے آج تک کسی ایک بھی مؤرخ نے ثابت نہیں کئے۔ بلکہ معتبر قول میں آپ ﷺ کے صرف تین صاحبزادے قاسم، عبداللہ (جن کا نام طیب اور طاہر بھی تھا) اور ابراہیم ثابت ہیں اور غیر معتبر اقوال زیادہ سے زیادہ سات تک ملتے ہیں۔ اس سے زیادہ نہیں۔

(سیرۃ المصطفیٰ)

ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠ حاشیہ)

یہ بھی سفید جھوٹ ہے۔ قرآن پاک میں کہیں بھی قادیان کا نام نہیں آیا۔

جوابھم“ (ان (علماء) نے مجھے ہر طرح کی گالیاں دیں۔ مگر میں نے ان کو جواب نہیں دیا۔)

(مواہب الرحمٰن ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ٢٣٦)

٩

صفحہ ١٩

ایک طرف تو یہ دعویٰ کہ میں نے کسی گالی دینے والے کو جواب نہیں دیا، دوسری طرف مرزا کی کتابیں اپنے مخالفین کو مغلظات قسم کی گالیاں دینے سے بھری پڑی ہیں۔ یہ گالیاں ایسی گندی اور رکیک ہیں کہ شریف آدمی انہیں زبان پر لانا بھی گوارا نہیں کر سکتا۔

مرزا کی گالیاں

مثلاً ایک جگہ اپنے دشمنوں کو اور ان کی بیویوں کو اس طرح کوستا ہے: ”ان السعداء صاروا خنازير الفلا ونساؤهم من دونهن الاکلب“

(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

ترجمہ: ہمارے دشمن جنگلوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں۔

مشہور عالم مولانا عبدالحق غزنوی پر اس طرح گالیوں کے پھول برستے ہیں: ”مگر تم نے حق کو چھپانے کے لئے جھوٹ کا گوہ کھایا ...... پس اے بدذات ، خبیث، دشمن اللہ رسول کے.....“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٣٣٤)

مولانا سعد اللہ صاحب کو تو مرزا نے ایسی کھل کے گالیاں دی ہیں کہ گالیوں کے موجد کی روح بھی شاید شرما گئی ہوگی۔ ملاحظہ کریں مرزا کہتا ہے:

”ومن اللئام ارى رجيلاً فاسقا
غولاً لعيناً نطفة السفهاء “

ترجمہ: اور کمینوں میں سے ایک حقیر فاسق مرد کو دیکھتا ہوں جو شیطان، ملعون، بے وقوفوں کا نطفہ ہے۔

”شکس، خبيث، مفسد و مزور
نحس يسمى السعد في الجهلاء“

ترجمہ: بدگو ہے، خبیث فتنہ پرداز اور ملمع ساز ہے، منحوس ہے جس کا نام جاہلوں نے سعد اللہ رکھا ہے۔

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٤)

یہ تو صرف چند نمونے ہیں ورنہ ایسی ہرزہ بانیاں مرزا قادیانی کی تحریروں میں جا بجا نظر آتی ہیں اور اس کی ہر بدزبانی اس کے اس دعویٰ کو جھوٹا قرار دیتی ہے کہ اس نے اپنے مخالفوں کو جواب نہیں دیا۔

جھوٹی پیش گوئیاں

سامعین عالی مقام! پھر کسی مدعی نبوت کی سچائی جاننے کے لئے ایک بڑا معیار اس کی

١٠

پیش گوئیاں ہوتی ہیں کہ وہ درست نکلیں یا نہیں۔ چنانچہ خو لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق و کذب جانچنے کے لئے ہما امتحان ( معیار آزمائش) نہیں ہو سکتا۔“

(آئینہ کما

ایک اور جگہ لکھتا ہے: ”کسی انسان کا اپنی پیش سے بڑھ کر رسوائی ہے۔“

(تر

اب ہمیں چاہئے کہ ہم دیگر کسی موضوع پر گفتگ ہوئے معیار امتحان یعنی پیش گوئیوں کے وقوع کی جانچ کر فیصلہ کریں۔ چنانچہ جب ہم مرزا کی پیش گوئیوں کا جائزہ کہ اس کی سبھی ادعائی پیش گوئیاں وقوع سے محروم رہیں زیادہ زور صرف کیا وہی پوری نہ ہو کے رہی۔ مثلاً چند نمو

میں“

حالانکہ موت تو کجا کبھی مرزا کو ان مقامات مق اس کی موت کا واقعہ لاہور میں پیش آیا۔

نکاح دوسرے شخص سے کر دیا تو مرزا قادیانی نے بڑے نکاح سے ڈھائی سال کے اندر اندر اس لڑکی کا باپ ا میرے نکاح میں آئے گی اور جوش میں کہا کہ: ”من ا گردانم۔“

ترجمہ: میں اس (پیش گوئی) کو اپنے صد مگر خدا کا کرنا کہ مرزا قادیانی دنیا سے مح

یہ پیش گوئی پوری نہ ہوسکی اور وہ خود اپنے معیار کے ڈھائی سال میں تو کیا مرتا مرزا قادیانی کے مرنے وفات پائی۔

١١

صفحہ ١٩

پیش گوئیاں ہوتی ہیں کہ وہ درست نکلیں یا نہیں۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی نے لکھا ہے: ”بدخیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق و کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان (معیار آزمائش) نہیں ہو سکتا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٨)

ایک اور جگہ لکھتا ہے: ”کسی انسان کا اپنی پیش گوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٢)

اب ہمیں چاہئے کہ ہم دیگر کسی موضوع پر گفتگو کے بجائے خود مرزا قادیانی کے بتائے ہوئے معیار امتحان یعنی پیش گوئیوں کے وقوع کی جانچ کر کے ہی مرزا قادیانی کے صدق و کذب کا فیصلہ کریں۔ چنانچہ جب ہم مرزا کی پیش گوئیوں کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ اس کی سبھی ادعائی پیش گوئیاں وقوع سے محروم رہیں اور عجیب بات ہے کہ جس پیش گوئی پر زیادہ زور صرف کیا وہی پوری نہ ہو کر رہی۔ مثلاً چند نمونے ملاحظہ فرمائیں:

میں۔“

(تذکرہ ص ٥٩١، طبع سوم)

حالانکہ موت تو کجا کبھی مرزا کو ان مقامات مقدسہ کی زندگی میں زیارت بھی نہ ہوسکی اور اس کی موت کا واقعہ لاہور میں پیش آیا۔

نکاح دوسرے شخص سے کر دیا تو مرزا قادیانی نے بڑے زور وشور سے اشتہارات شائع کرائے کہ نکاح سے ڈھائی سال کے اندر اندر اس لڑکی کا باپ اور شوہر مرجائیں گے اور یہ کہ وہ لڑکی ضرور میرے نکاح میں آئے گی اور جوش میں کہا کہ: ”من ایں را برائے صدق خود یا کذب خود معیاری گر دانم ۔“

(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ٢٢٣)

ترجمہ: میں اس (پیش گوئی) کو اپنے صدق و کذب کے لئے معیار قرار دیتا ہوں۔

مگر خدا کا کرنا کہ مرزا قادیانی دنیا سے محمدی بیگم سے نکاح کی حسرت لئے چلا گیا۔ مگر یہ پیش گوئی پوری نہ ہوسکی اور وہ خود اپنے معیار کے مطابق کاذب قرار پایا اور محمدی بیگم کا شوہر ڈھائی سال میں تو کیا مرتا مرزا قادیانی کے مرنے کے بھی ٤٠ سال بعد زندہ رہا اور ١٩٤٨ء میں وفات پائی۔

١١

صفحہ ٢١

ہوئے ”آخری فیصلہ“ کے عنوان سے مرزا نے ایک تحریر میں یہ پیش گوئی کی تھی: ”اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٧٩)

اللہ کی قدرت کہ اس اعلان کے ٹھیک ایک سال ایک ماہ گیارہ دن بعد مرزا قادیانی بمرض ہیضہ وفات پا کر بقلم خود اپنے کذاب و مفتری ہونے کی سند دے گیا اور حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اس کے بعد ٣٠ سال تک باحیات رہ کر مرزائیوں کو ناکوں چنے چبواتے رہے۔

حضرات گرامی! مجھے خاص طور پر یہ تفصیلات اس لئے بتانی پڑ رہی ہیں کہ عموماً قادیانی مبلغین ہمارے سادہ لوح بھائیوں کے پاس آ کر ختم نبوت کے معنی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کے عقیدہ کے متعلق فضول قسم کی باتیں اور رکیک تاویلات پیش کرنی شروع کر دیتے ہیں جس سے سننے والا شک اور شبہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ایسے موقع پر ہمارے لئے قابل غور بات یہ ہونی چاہئے کہ جس شخص کو نبی یا مسیح یا مہدی بتایا جا رہا ہے آیا وہ خود اس قابل بھی ہے یا نہیں کہ اس کو ایسے عظیم منصب پر فائز مانا جائے؟ اس کے بغیر سب بحثیں قطعاً بے معنی ہیں اور علماء اسلام نے مرزا قادیانی کی تحریرات اور دعاوی کا مطالعہ کر کے مرزا قادیانی کے جھوٹ کو اتنا آشکارا کر دیا ہے کہ اب اس میں کسی قسم کے شک اور شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ گئی ہے۔ بلکہ خود مرزا کی اپنی تحریرات سے اس کا کاذب اور مفتری ہونا واضح ہے۔

انگریزی نبوت

حضرات گرامی! قادیانی جماعت کی تاریخ پڑھنے سے یہ بات بھی کھل کر سامنے آتی ہے کہ اس کی مکمل ساخت اور پرداخت انگریزی حکومت کے زیر سایہ ہوئی ہے اور حکومت برطانیہ نے ملت اسلامیہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے اور تحریکات جہاد کو سبوتاژ کرنے کے لئے مرزا قادیانی کی صورت میں جھوٹے مدعی نبوت کو کھڑا کیا تھا۔ چنانچہ فریضہ جہاد کو منسوخ کر کے مرزا نے باحسن وجوہ برطانوی مفادات کی تکمیل کی اور اپنی تحریرات میں جابجا انگریز سے مکمل وفاداری کا اقرار کیا۔

بعض تحریرات ملاحظہ ہوں:

١٢

سکتا ہوں، نہ مدینہ میں، نہ روم میں، نہ شام میں، نہ ایران میں، (انگریزی) میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔“

(تبلیغ رسالت ج٦ ص٦٩)

گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھا کی جائیں تو پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔“

(تریاق القلوب ص١٥)

تالیف کی ہیں کہ گورنمنٹ محسنہ (برطانیہ) سے ہرگز جہاد درست نہیں ہے بلکہ سچے دل سے اطاعت ہر ایک مسلمان کا فرض ہے۔“

(تبلیغ رسالت ج٦ ص٦٥)

اس طرح کی بے شمار عبارتیں قادیانی لٹریچر میں موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جماعت دنیا میں انہی اسلام دشمن طاقتوں کے سہارے پروان چڑھی اور انہی کی آلہ کار ہے۔

بنیادی اختلاف

حضرات گرامی! میں یہاں اس غلط فہمی کا ازالہ کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کا اختلاف محض جزئی اور فروعی نہیں ہے۔ جیسا کہ قادیانی مبلغین تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا قادیانیوں سے اصولی اور بنیادی اختلاف ہے۔ قادیانیت، اسلام کے متوازی ایک الگ دین ہے۔ اس کو دیگر فروعی اختلافات کی طرح کا کوئی اختلاف ہرگز نہیں رکھا جا سکتا اور یہ بات خود مرزا قادیانی اور اس کے جانشینوں نے بھی تسلیم کی ہے۔

مرزا بشیر الدین محمود اپنے والد مرزا غلام احمد قادیانی کی سیرت پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ (مرزا صاحب) نے فرمایا کہ یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریمﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتلایا کہ ایک ایک چیز میں ہم ان سے اختلاف رکھتے ہیں۔

(الفضل قادیان مورخہ ٣٠ جولائی ١٩٣١ء)

١٣

صفحہ ٢١

سکتا ہوں، نہ مدینہ میں، نہ روم میں، نہ شام میں، نہ ایران میں، نہ کابل میں۔ مگر اس گورنمنٹ (انگریزی) میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔"

(تبلیغ رسالت ج ٨ ص ٦٩، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٧٠)

گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھا کی جائیں تو پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔"

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

تالیف کی ہیں کہ گورنمنٹ محسنہ (برطانیہ) سے ہرگز جہاد درست نہیں بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے۔"

(تبلیغ رسالت ج ١ ص ٦٥، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٦٦)

اس طرح کی بے شمار عبارتیں قادیانی لٹریچر میں موجود ہیں اور آج تک قادیانی جماعت دنیا میں انہی اسلام دشمن طاقتوں کے سہارے پروان چڑھ رہی ہے۔

بنیادی اختلاف

حضرات گرامی! میں یہاں اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمارا اور قادیانیوں کا اختلاف محض جزئی اور فروعی نہیں ہے۔ جیسا کہ قادیانی لوگ عوام کو جا کر سمجھاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا قادیانیوں سے اصولی اور بنیادی اختلاف ہے۔ قادیانیت اسلام کے متوازی ایک الگ دین ہے۔ اس کو دیگر فروعی اختلاف رکھنے والے فرقوں کے درجہ پر ہرگز نہیں رکھا جاسکتا اور یہ بات خود مرزا قادیانی اور اس کے خلفاء کی تحریروں سے واضح ہے۔ مرزا بشیر الدین محمود اپنے والد مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ فیصلہ کن وضاحت نقل کرتا ہے: "آپ (مرزا صاحب) نے فرمایا کہ یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتلایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔"

(الفضل قادیان مورخہ ٣٠ جولائی ١٩٣١ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص ٥٥٢، جدید ایڈیشن)

١٣

صفحہ ٢٢

اسی اختلاف کو سامنے رکھ کر مرزا قادیانی نے اپنے نہ ماننے والے تمام مسلمانوں کو کافر اور جہنمی کہا ہے۔

(اشتہار معیار الاخیار ص ٨، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)

اور مرزا محمود احمد خلیفہ دوئم کہتا ہے: ”ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں۔“

(انوار خلافت ص ٩٠)

اب غور کرنے کی بات صرف یہ ہے کہ جب دین کے کسی بھی معاملہ میں ہمارا قادیانیوں سے اتحاد نہیں ہے اور قادیانیوں کے نزدیک ان کے علاوہ سب مسلمان کافر ہیں تو آخر پھر ہمیں کیوں مجبور کیا جاتا ہے کہ ہم زبردستی قادیانیوں (احمدیوں) کو مسلمان سمجھیں۔ ہماری اور قادیانیوں کی راہیں بالکل الگ الگ ہیں۔ ان کا خود ساختہ دین خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے لائے ہوئے دین سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔ اس لئے انہیں اپنے آپ کو مسلمان یا شریعت محمدی کا تابعدار کہنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ قادیانیوں سے ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ وہ اسلام کا نام لینا چھوڑ دیں۔ یا پھر با قاعدہ اسلام کے تمام عقائد کو تسلیم کر کے تجدید ایمان کر لیں اور مرزا غلام احمد کو کافر مان لیں۔

ہندوستان میں اس فتنہ کے تعاقب کی ضرورت

حضرات گرامی! گذشتہ ١٢ سال سے یہ فتنہ ہندوستان میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے اور تمام تر مادی وسائل کے ذریعہ اس ارتدادی تحریک کی سرگرمیاں بالخصوص جہالت زدہ علاقوں میں جاری ہیں۔ الحمد للہ! کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند اور جمعیت علماء ہند اپنے محدود وسائل کے مطابق کام کر رہی ہیں اور بفضلہ تعالیٰ اس کی محنتوں سے رائے عامہ بیدار ہوئی ہے اور عوام و خواص کو مسئلہ کی نوعیت سمجھنے کا موقع فراہم ہوا ہے۔ خدا کرے کہ یہ کوششیں مزید بار آور ہوں۔ ہمارے مسلمان بھائی ہر طرح کے باطل فتنوں سے محفوظ رہیں اور اللہ تعالیٰ ہمارے دین و ایمان کی مکمل حفاظت فرمائے۔ آمین!

آخر میں طویل سمع خراشی پر معذرت کرتے ہوئے امید کرتا ہوں کہ یہ چند بکھری ہوئی باتیں اصولی طور پر موضوع کو سمجھنے میں معاون ہوں گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ!

”وآخر دعوانا ان الحمدلله رب العالمين“

١٤

بسم الله الرحمن الرحيم

نحمده ونصلی علی رسوله الکریم

مناظرہ دلپسند ٦

ملقب بدو لقب

(لقب اول) فتح مسیح فرار مرزا

(لقب ثانی) حیات ممدوح جہاں

ابن مریم علیہ السلام

حضرت مولانا عبدالواحد خان

PDF 24

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

مناظرہ دلپسند ١٣٤٦ھ

ملقب بدو لقب تاریخی

(لقب اوّل) فتح مسیح فرار مرزائی ١٣٤٦ھ

(لقب ثانی) حیات ممدوح جہاں سیدنا عیسیٰ

ابن مریم علیہ السلام ١٣٤٦ھ

حضرت مولانا عبدالواحد خان رامپوری رحمۃ اللہ علیہ

صفحہ ٢٥

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

”نحمده ونصلی علیٰ رسولہ الکریم ۔ اما بعد!“

عاجز محمد عبدالرزاق بہاری ساکن موضع لکھی چک، اہل حق کی خدمات میں عرض کرتا ہے۔ یہاں کلکتہ میں ایک پنجابی مرزائی اپنی انجمن کے اشتہار و ماہواری رسالے تاجروں کو دکھا دکھا کر مرزائی بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ تاجروں سے وہ ہمیشہ کہتا تھا کہ اگر تم کو میری تقریر اور اس رسالے واشتہارات کے مضمون میں کچھ شک ہو تو ہم کو اپنے عالم کے پاس لے چلو۔ ہم اپنی اس تحریر و تقریر کو سچا ثابت کر دیں اور تمہارے عالم سے اقرار کرالیں تو تم مرزا صاحب کی نبوت کے معتقد اور جماعت احمدیہ میں شریک ہو جانا۔ چنانچہ ٢؍رمضان المبارک ١٣٤٦ھ بروز جمعہ دو شخص دکاندار اس مرزائی کو ساتھ لے کر مولانا عبدالواحد خان صاحب رام پوری مقیم کلکتہ کے پاس آئے۔ اس وقت جانبین سے جو سوال و جواب ہوا اس کو یہ عاجز قلم بند کر کے عوام اہل حق کی ہدایت کے واسطے شائع کرتا ہے۔

مولانا...... آپ مرزا صاحب کو کیا سمجھتے ہیں؟

مرزائی...... نبی سمجھتا ہوں۔

مولانا...... اس دعویٰ پر آپ کیا دلیل پیش کرتے ہیں؟

مرزائی...... پہلے حیات و ممات ابن مریم میں گفتگو ہو جائے بعد ازاں مرزا صاحب کی نبوت میں ثابت کروں گا۔

مولانا...... ہم کو حیات و ممات مسیح علیہ السلام سے اس وقت کوئی غرض نہیں۔ آپ مرزا صاحب کی نبوت کے مدعی ہیں اپنے دعویٰ کو دلیل سے ثابت کیجئے یا صاف اقرار کیجئے کہ مرزا صاحب کی نبوت پر کوئی دلیل نہیں۔

مرزائی...... حیات و ممات ابن مریم کا مسئلہ طے ہونے پر ہم اپنی دلیل پیش کریں گے۔

مولانا...... یہ مسئلہ حیات و ممات کا علیحدہ اور مرزا صاحب کی نبی یا غیر نبی ہونے کا مسئلہ علیحدہ۔ آپ اپنے دعویٰ کو دلیل سے ثابت کیجئے۔

مرزائی...... جی نہیں۔ جب تک یہ مسئلہ حیات و ممات کا طے نہیں ہوگا ہم اپنا دعویٰ ثابت نہیں کرسکتے۔

مولانا...... اچھا آپ کی خاطر سے پانچ منٹ کے واسطے وفات عیسیٰ علیہ السلام کا اقرار ہم کرتے ہیں۔

٢

مرزائی...... نہیں جناب! آپ سچے دل سے وفات عیسیٰ مسیح دعویٰ دلیل سے ثابت کرتے ہیں یا نہیں۔

مولانا...... میں قرآن وحدیث کے خلاف ہرگز وفات عیسیٰ کو دعویٰ ہے تو وفات مسیح علیہ السلام کو ثابت کیجئے۔

مرزائی...... دیکھئے! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ یعیسیٰ انی متوفیک

مولانا...... توفی کا معنی بلا قرینہ کسی جگہ موت کا نہیں آیا ہے کل نفس ما کسبت وھم لا یظلمون

(بقرہ: ٢٨١)

نے کمایا ہے اور وہ ظلم نہیں کئے جائیں گے۔﴿ یہاں توفی

اسی سورۃ انعام میں ہے۔”وھو الذی یتوفکم بالنهار ثم یبعثکم فیہ لیقضیٰ اجل مسمیٰ ثم تعملون (الانعام: ٦٠) “ ﴿اور اللہ وہ ہے جو قبضہ کر لیتا ہو دن میں پھر اٹھاتا ہے تم کو دن میں تاکہ پوری کی جا طرف تمہارا پلٹنا ہے۔ پھر خبر دے گا تم کو جو تم کرتے تھے جائے تو معنیٰ یہ ہوگا کہ اللہ رات کو مارتا ہے اور دن کو زندہ کو سوائے مرزائیوں کے اور کون صحیح کہہ سکتا ہے۔

اور سورۃ زمر: ٤٢ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے والتي لم تمت فی منامھا فیمسک التی ق الیٰ اجل مسمیٰ “ ﴿یعنی اللہ قبضہ کر لیتا ہے جانوں ان کو نیند میں پس روک لیتا ہے ان کو جن پر موت کا حکم تک۔﴿ اس آیت میں لفظ توفی سے اگر موت مراد ہو بعض جانوں کو اللہ تعالیٰ روک لیتا ہے اور بعض جانوں معنی صریح غلط و باطل اور خلاف مشاہدہ ہے۔ کیونکہ نہیں ہوتا۔ پس توفی کا معنی موت یہاں ہرگز صحیح

براہین احمدیہ میں متوفیک معنی (میں تجھ کو پوری

اور بھی مرزا صاحب اپنی الہامی کتاب

صفحہ ٢٥

مرزائی...... نہیں جناب! آپ سچے دل سے وفات عیسیٰ مسیح کے معتقد ہو جائیے۔ پھر دیکھئے ہم اپنا دعویٰ دلیل سے ثابت کرتے ہیں یا نہیں۔

مولانا...... میں قرآن وحدیث کے خلاف ہرگز وفات عیسیٰ علیہ السلام کا اعتقاد نہیں رکھ سکتا۔ آپ کو دعویٰ ہے تو وفات مسیح علیہ السلام کو ثابت کیجئے۔

مرزائی...... دیکھئے! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیٰ...... الخ!

مولانا...... توفی کا معنی بلا قرینہ کسی جگہ موت کا نہیں آیا ہے۔ حق تعالیٰ کا قول ہے ’’ثم توفی کل نفس ما کسبت وہم لا یظلمون (بقرہ:٢٨١)‘‘ ﴿پھر پورا دیا جائے گا ہر نفس جو اس نے کمایا ہے اور وہ ظلم نہیں کئے جائیں گے۔﴾ یہاں توفی کا معنی موت کس طرح کہہ سکتے ہیں۔

اسی سورۃ انعام میں ہے ’’وهو الذي يتوفكم بالليل ويعلم ما جرحتم بالنهار ثم يبعثكم فيه ليقضى اجل مسمى ثم اليه مرجعكم ثم ينبئكم بما كنتم تعملون (الانعام:٦٠)‘‘ ﴿اور اللہ وہ ہے جو قبضہ کر لیتا ہے تم کو رات میں اور جانتا ہے جو کما چکے ہو دن میں پھر اٹھاتا ہے تم کو دن میں تا کہ پوری کی جائے مدت معین (یعنی موت) پھر اسی کی طرف تمہارا پلٹنا ہے۔ پھر خبر دے گا تم کو جو تم کرتے تھے۔﴾ اگر اس آیت میں توفی بمعنی موت لیا جائے تو معنیٰ یہ ہوگا کہ اللہ رات کو مارتا ہے اور دن کو زندہ کر دیتا ہے اور یہ معنی صریح باطل ہے۔ اس کو سوائے مرزائیوں کے اور کون صحیح کہہ سکتا ہے۔

اور سورۃ زمر:٤٢ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’الله يتوفى الانفس حين موتها والتی لم تمت فی منامها فيمسك التي قضى عليها الموت ويرسل الاخرىٰ الیٰ اجل مسمیٰ ‘‘ ﴿یعنی اللہ قبضہ کر لیتا ہے جانوں کو اس کی موت کے وقت اور جو نہیں مرے ان کو نیند میں پس روک لیتا ہے ان کو جن پر موت کا حکم کیا اور چھوڑ دیتا ہے۔ قسم ثانی کو مدت معین تک۔﴾ اس آیت میں لفظ توفی سے اگر موت مراد ہو تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ موت کے بعد بعض جانوں کو اللہ تعالیٰ روک لیتا ہے اور بعض جانوں کو ایک مدت معین تک چھوڑ دیتا ہے اور یہ معنی صریح غلط و باطل اور خلاف مشاہدہ ہے۔ کیونکہ موت کے بعد سوائے روک لینے کے چھوڑنا نہیں ہوتا۔ پس توفی کا معنی موت یہاں ہرگز صحیح نہیں ہو سکتا۔ خود آپ کے مرزا صاحب نے براہین احمدیہ میں متوفیک معنی (میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا) لکھا ہے۔

(براہین احمدیہ ص٥٢٠، خزائن ج١ ص٦٢٠)

اور بھی مرزا صاحب اپنی الہامی کتاب (توضیح المرام ص٣، خزائن ج٣ ص٥٢) میں لکھتے

٣

صفحہ ٢٧

ہیں۔ ”اب ہم صفائی بیان کے لئے یہ لکھنا چاہتے ہیں کہ بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کے رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے۔ وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جن کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے اور دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“

خدا کی قدرت مقتداء کا یہ قول اور مقتدیوں کا یہ ڈول اب بتائیے آپ سچے ہیں یا مرزا صاحب کو سچا سمجھتے ہیں۔ دو میں سے ایک کو ضرور جھوٹا کہنا ہوگا۔

مرزائی....... وفات مسیح پر دلیل قرآن کی دوسری آیت ہے۔ ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل (آل عمران: ١٤٤) “ اس سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ سے پہلے کے سب رسول وفات پاچکے۔

مولانا...... خلا کا معنی موت ہرگز نہیں۔ دیکھو صراح وغیرہ کتب لغت ، علاوہ اس کے اگر خلا کا معنی موت لیویں تو آیت کریمہ ”وان من امة الا خلا فیها نذیر (فاطر: ٢٤) “ کا معنی یہ ہوگا کہ کوئی امت ایسی نہیں کہ اس میں ایک نبی کی موت نہ ہوئی ہو۔ حالانکہ یہ ضروری نہیں کہ ہر نبی نے اپنی امت میں وفات پائی ہو۔ صراح میں خلا کا معنی مضیٰ اور ارسل لکھا ہے۔ یعنی گزرا اور بھیجا گیا اور گزرتے اور بھیجے جانے کو موت لازم نہیں۔ راستے کو بھی گزرگاہ کہتے ہیں۔ اگر تسلیم بھی کر لیں کہ ”قد خلت من قبله الرسل (آل عمران: ١٤٤) “ کا معنی ہے کہ آپ سے پہلے رسول وفات پاچکے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین پر جتنے رسول تھے وہ وفات پاچکے۔ اس آیت کو حضرت عیسیٰ کی وفات سے کیا تعلق۔ وہ تو زمین پر موجود نہ تھے۔

مرزائی....... آپ لوگ حیات عیسیٰ کے کس طرح معتقد ہیں۔ کیا اتنی مدت تک کوئی شخص زندہ رہ سکتا ہے۔

مولانا...... ”ان الله على كل شئ قدیر“ بے شک اللہ ہرشئ پر قادر ہے۔ ایک لحظہ کی عمر اور ہزار برس عمر دینا یا زیادہ اس سے جہاں تک ہو سب اس کے نزدیک برابر ہے۔ جبرائیل و میکائیل وحور و غلمان وغیرہا بھی تو زندہ ہیں۔ ان سب کو بھی تو خدا ہی کی دی ہوئی عمر ہے۔ حضرت خضر اور حضرت الیاس کی حیات تو احادیث سے ثابت۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ کی حیات بھی احادیث صحیحہ سے ثابت۔

مرزائی....... اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”فیها تحیون وفیها تموتون ومنها تخرجون (اعراف: ٢٥) “ زمین ہی میں زندہ رہو گے اور اسی میں مرو گے اور اسی سے اٹھائے جاؤ گے۔ اس سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ وفات پاچکے اور آپ اس آیت کے خلاف عقیدہ رکھتے ہیں۔

٤

مولانا...... حیات عیسیٰ علیہ السلام ہرگز اس آیت شریفہ بـ حضرت عیسیٰ دنیا میں تشریف لا کر چالیس برس زندہ رہیں گے خدا ﷺ کے روضہ شریفہ کے اندر دفن ہوویں گے اور قیامت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ ایک جب زمین میں چالیس برس زندہ رہ کر زمین ہی میں وفات ہوئیں گے اور زمین ہی سے اٹھیں گے۔ پھر آیت کے خلاف کے ذہن میں ”فیها تحیون“ کا معنی کیا یہ ہے کہ زمین میں سے جب علیحدہ ہوئے تو زندگی رخصت۔ اگرچہ آپ کے بایں ہمہ یہ تو بتائیے کہ جو لوگ ہوائی جہاز یا غبارہ میں بیٹھے جاتے ہیں اور دو دو چار چار روز تک یا کچھ کم یا زیادہ زمین سے زندہ ہوتے ہیں یا مردہ۔ اگر کہئے آخر کسی وقت تو اترتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کسی وقت تو آسمان سے زمین پر اتریں گے۔

مرزائی....... ایک آیت یہ ہے۔ ”الم نجعل الارض (المرسلات: ٢٥) “ کیا ہم نے زمین زندوں اور مردوں

مولانا...... اس کا جواب تو ہو چکا۔ دوہرانا کیا ضرور؟ علیہ السلام سے کیا تعلق؟

مرزائی....... سورہ نحل کی آیت یاد نہیں۔ ترجمہ یہ ہے بعض کو بعض کو ارذل العمر تک پہنچایا جاتا ہے۔ انجام کار ان کا علم ہے۔ اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے تم کو ضعف سے پیدا قوت کے بعد بھی ضعف اور بڑھاپا اسی نے مقرر کیا۔ ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ انسانی جسم ہمیشہ تغیر پذیر رہتا وہ پیر فرتوت نہ ہوگئے ہوں گے؟ اگر کہئے کہ ان پر کوئی تغیر

مولانا...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب تک زمین میں رہا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا آسمانی طبع عطا فرمائی۔ جس طرح آسمانیوں کو تغیر نہیں۔ اسی طرح طرح مؤمنین جنت میں داخل ہونے کے بعد ہمیشہ

٥

صفحہ ٢٧

مولانا ...... حیات عیسیٰ علیہ السلام ہرگز اس آیت شریفہ کے خلاف نہیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ دنیا میں تشریف لا کر چالیس برس زندہ رہیں گے۔ پھر وفات پائیں گے اور رسول خدا ﷺ کے روضہ شریفہ کے اندر دفن ہوویں گے اور قیامت کے روز حضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ ایک ہی روضہ مطہرہ سے اٹھیں گے۔ تو جب زمین میں چالیس برس زندہ رہ کر زمین ہی میں وفات پائیں گے۔ زمین ہی میں دفن ہوئیں گے اور زمین ہی سے اٹھیں گے۔ پھر آیت کے خلاف کیونکر ہوا؟ اور یہ تو فرمائیے کہ جناب کے ذہن میں ”فیھا تحیون“ کا معنی کیا یہ ہے کہ زمین میں جب تک ہیں تب تک زندہ اور زمین سے جب علیحدہ ہوئے تو زندگی رخصت۔ اگر چہ آپ کے اس خیال کا رد فیما تموتون کر رہا ہے۔ بایں ہمہ یہ تو بتائیے کہ جو لوگ ہوائی جہاز یا غبارہ میں بیٹھ کر کرۂ زمین سے دور اور بہت بلند ہو جاتے ہیں اور دو دو چار چار روز تک یا کچھ کم یا زیادہ زمین پر نہیں اترتے تو جناب کے خیال میں یہ زندہ ہوتے ہیں یا مردہ۔ اگر کہئے آخر کسی وقت تو اترتے ہیں تو یہی جواب ہماری طرف سے ہے کہ حضرت عیسیٰ کسی وقت تو آسمان سے زمین پر اتریں گے۔

مرزائی ...... ایک آیت یہ ہے۔ ”الم نجعل الارض کفاتا احیاء وامواتا (المرسلات: ٢٥)“ کیا ہم نے زمین زندوں اور مردوں کے سمیٹنے کے لئے کافی نہیں بنائی۔

مولانا ...... اس کا جواب تو ہو چکا۔ دوہرانا کیا ضرور؟ علاوہ اس کے اس آیت کو وفات عیسیٰ علیہ السلام سے کیا تعلق؟

مرزائی ...... سورہ نحل کی آیت یاد نہیں۔ ترجمہ یہ ہے بعض تم میں سے جلد فوت کر لئے جاتے ہیں اور بعض کو ارذل العمر تک پہنچایا جاتا ہے۔ انجام کار ان کا علم جہل سے بدل جاتا ہے اور سورہ روم میں ہے۔ اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے تم کو ضعف سے پیدا کیا۔ پھر اس ضعف کے بعد قوت دی اور قوت کے بعد بھی ضعف اور بڑھاپا اسی نے مقرر کیا۔ جیسا چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ وہ علیم قدیر ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ انسانی جسم ہمیشہ تغیر پذیر رہتا ہے۔ تو حضرت مسیح کو زندہ کہا جائے تو کیا وہ پیر فرتوت نہ ہو گئے ہوں گے؟ اگر کہئے کہ ان پر کوئی تغیر نہیں تو ان میں اور خدا میں کیا فرق ہے۔

مولانا ...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب تک زمین میں تھے تب تک آپ کا جسم مبارک تغیر پذیر رہا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا آسمان والوں ، فرشتوں اور حور وغلمان کی صفت ان کو عطا فرمائی۔ جس طرح آسمانیوں کو تغیر نہیں۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ کو تغیر سے محفوظ رکھا اور جس طرح مومنین جنت میں داخل ہونے کے بعد ہمیشہ ایک حالت پر رہیں گے اسی طرح حضرت

٥

صفحہ ٢٩

عیسیٰ بھی ہیں اور جب زمین پر تشریف لائیں گے اس وقت دنیوی تغیر آپ میں ہوگا اور جناب نے جو آیت کا ترجمہ پڑھا کہ خدا جیسا چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ علیم وقدیر ہے۔ اس آیت کو وفات عیسیٰ کی دلیل میں آپ پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ آیت حیات عیسیٰ کی دلیل اور آپ کے کل اعتراضات کا جواب ہے کہ ماوشما اس کی حکمتوں کو کیا جانیں۔ خدا اپنی حکمتوں کو جانتا اور قدرت رکھتا ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ آپ اس کی مشیت میں دخل دینے والے اور قدرت سے روکنے والے کون۔ اگر وہ کسی مصلحت سے لاکھ دو لاکھ برس یا کم و زیادہ کسی شخص کو زندہ رکھنا چاہے تو منع کرنے والا کون اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ رہنا آپ پر بار گراں کیوں ہے؟ یہی بات ہے تا کہ جب تک ابن مریم علیہما السلام کی وفات نہ ثابت کریں تب تک مرزا صاحب عیسیٰ کس طرح بن سکتے ہیں۔ مگر یاد رہے کہ مرزائی کبھی وفات عیسیٰ علیہ السلام نہیں ثابت کر سکتے۔ ’’ولو کان بعضهم لبعض ظهیرا‘‘

مرزائی...... اور ایک دلیل وفات عیسیٰ کی سنئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’وما جعلناهم جسدا لا یا کلون الطعام وما کانوا خالدین (انبیاء: ٨)‘‘ ہم نے ان کا جسم ایسا نہیں بنایا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ وہ بہت لمبے عرصہ تک زندہ رہنے والے تھے۔

مولانا...... آپ عالم نہیں ہیں۔ اس وجہ سے خالدون کا ترجمہ غلط کیا ہے۔

مرزائی...... ایک دو ورقی تحریر نکال کر یہ دیکھئے۔ ہماری جماعت کے عالم انجمن احمدیہ قادیان کے سیکرٹری مولوی فاضل اللہ دتہ جالندھری نے اپنی انجمن کے ٹریکٹ نمبر ١٥ میں لکھا ہے۔

مولانا...... ایسے ہی موقع پر عوام بولتے ہیں لکھے نہ پڑھے نام مولوی فاضل، لغت دیکھو خلود کا معنی ہے ہمیشہ رہنا تو یہاں آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ہمیشہ رہنے والے نہ تھے۔ اس سے وفات عیسیٰ علیہ السلام کسی طرح نہیں ثابت ہو سکتی۔ اہل کتاب تحریف لفظی کرتے تھے اور آپ لوگ تحریف معنوی، اور ابن مریم کے کھانا کھانے سے یہاں انکار کسی کو ہے؟ مگر بات یہ ہے جب تک دنیا میں جو رہے گا دنیا کا کھانا کھائے اور جنت میں جائے گا تو جنت کا کھانا کھائے گا۔ جیسے حضرت آدم وحوا جنت کے میوے وغیرہ کھاتے تھے۔ بلکہ سب انبیاء کرام اپنی قبروں میں روزی دیئے جاتے ہیں۔ (دیکھو مشکوۃ باب الجمعہ اور شہیدوں کو رزق دیا جانا) تو قرآن ہی سے ثابت ہے۔

مرزائی...... (اپنی قادیانی انجمن کا ٹریکٹ نمبر ١٥ دیکھ کر) جب کفار مکہ نے آنحضرت ﷺ سے مطالبہ کیا کہ تو آسمان پر جا کر وہاں سے کتاب لے آ۔ تب ہم تجھے سچا رسول مان لیں گے تو

٦

اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا ان کو کہہ دے کہ میرا رب پاک

مولانا...... جناب نے اس آیت میں اپنا تصرف کیا۔ اوّل جملے ’’لا تقربوا الصلوٰۃ ‘‘ کی طرح اپنی مطلب برآر اسرائیل میں ہے کہ کفار قریش نے کہا ہم ایمان نہیں لائیں کریں ہمارے لئے ایک بڑا چشمہ پانی بھرا ہوا یا آپ کے درمیان آپ نہریں جاری کریں۔ یا ہمارے اوپر آسمان گ ہے یا خدا اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لاؤ یا سونے کا گھر ہ اور آسمان پر آپ کے چڑھ جانے پر بھی ہم ایمان نہیں لائیں کتاب کہ اس کو ہم پڑھیں (اور اس میں آپ کی تصدیق ہ پاک ہے۔ (اس سے کہ اس پر تحکم اور زبردستی کریں یا اس کام خدا کا ہے) نہیں ہوں میں مگر آدمی رسول (سورہ بنی اس کلام کو قطع برید کر کے کفار کا مطالبہ آسمان پر چڑھنے کا اور آ میں ایک بشر رسول ہوں اس قدر لے لیا اور باقی ہضم ہاضم مفہوم صحیح پیدا ہوتا اور مرزائیوں کا مطلب فوت ہو جاتا۔ ا اس امر کا اظہار ہے کہ معجزات کا ظہور بارادہ الٰہی ہوتا ہے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’ان الحکم الا للہ (انعام: ٥٧)‘‘ الرعد میں ہے۔ ’’وما کان لرسول، ان یأتی بآیۃ الا آیت شریفہ کا یہ ہے کہ کسی پیغمبر کو یہ قدرت نہ تھی کہ م حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھا لیا جانا بارادہ الٰہی رات کے وقت۔ اگر دن میں سب کے سامنے اٹھائے ج ان کی رسالت کا انکار ہوتا۔ مگر شرع میں ایمان بالغیب م کے بعد ایمان لایا تو ایمان بالغیب نہ رہا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اس کا مصداق نہ ہوتا اور ظاہر نشانیاں دیکھنے ک فرمان واجب الایمان ہے۔ ’’ھل ینظرون الا ان او یأتی بعض ایات ربک یوم یأتی بعض ا تکن امنت من قبل او کسبت فی ایمانها خ

٧

صفحہ ٢٩

اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا ان کو کہہ دے کہ میرا رب پاک ہے۔ میں تو ایک بشر رسول ہوں۔ مولانا...... جناب نے اس آیت میں اپنا تصرف کیا۔ اوّل آخر سے آیت قطع برید کر کے ایک دو جملے ”لا تقربوا الصلوۃ“ کی طرح اپنی مطلب برآری کے واسطے بیان کر دیئے۔ سورہ بنی اسرائیل میں ہے کہ کفار قریش نے کہا ہم ایمان نہیں لائیں گے آپ پر۔ یہاں تک کہ آپ جاری کریں ہمارے لئے ایک بڑا چشمہ پانی بھرا ہوا یا آپ کے ساتھ جنت ہو خرما و انگور کی اور اس کے درمیان آپ نہریں جاری کریں۔ یا ہمارے اوپر آسمان کے ٹکڑے گرائیں۔ جیسا آپ کا گمان ہے یا خدا اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لاؤ یا سونے کا گھر ہو آپ کا یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور آسمان پر آپ کے چڑھ جانے پر بھی ہم ایمان نہیں لائیں گے۔ یہاں تک کہ نازل کریں ایسی کتاب کہ اس کو ہم پڑھیں (اور اس میں آپ کی تصدیق ہو اللہ تعالیٰ نے فرمایا) کہہ دو کہ میرا رب پاک ہے۔ (اس سے کہ اس پر تحکم اور زبردستی کریں یا اس کی قدرت میں کسی کو شریک کریں۔ یہ کام خدا کا ہے) نہیں ہوں میں مگر آدمی رسول (سورہ بنی اسرائیل) مگر چالاکی جناب پر ختم ہے کہ کلام کو قطع برید کر کے کفار کا مطالبہ آسمان پر چڑھنے کا اور آپ کا جواب کہ میرا رب پاک ہے اور میں ایک بشر رسول ہوں اس قدر لے لیا اور باقی ہضم بات یہ ہے کہ پوری آیت بیان کرنے سے مفہوم صحیح پیدا ہوتا اور مرزائیوں کا مطلب فوت ہو جاتا۔ اصل مقصود اس جواب سے اللہ و رسول کو اس امر کا اظہار ہے کہ معجزات کا ظہور بارادۂ الٰہی ہوتا ہے۔ بشر کے ارادہ اور خواہش سے نہیں ہوتا۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ان الحكم الا لله (انعام:٥٧)“ یعنی نہیں ہے حکم سوائے خدا کے اور سورہ الرعد میں ہے۔ ”وما كان لرسول ان ياتى باية الا باذن الله (الرعد:٣٨)“ مطلب اس آیت شریفہ کا یہ ہے کہ کسی پیغمبر کو یہ قدرت نہ تھی کہ بے حکم خدا کے کوئی معجزہ و نشان لائے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھا لیا جانا بارادۂ الٰہی ہوا اور وہ بھی کفار کی آنکھ سے چھپا کر رات کے وقت۔ اگر دن میں سب کے سامنے اٹھائے جاتے تو ظاہر آسمان پر جاتے دیکھ کر کس کو ان کی رسالت کا انکار ہوتا۔ مگر شرع میں ایمان بالغیب معتبر ہے اور جب اس قسم کی نشانیاں دیکھنے کے بعد ایمان لایا تو ایمان بالغیب نہ رہا اور اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کی صفت میں یؤمنون بالغیب جو فرمایا ہے اس کا مصداق نہ ہوتا اور ظاہر نشانیاں دیکھنے کے بعد ایمان لانا نفع نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان واجب الایمان ہے۔ ”هل ينظرون الا ان تاتيهم الملائكة اوياتى ربک اوياتى بعض ايات ربک يوم ياتى بعض ايات ربک لا ينفع نفسا ايمانها لم تكن امنت من قبل او كسبت فی ايمانها خيرا (انعام: ١٥٨)“ کیا انتظار کرتے ٧

صفحہ ٣١

ہیں کفار مکہ مگر یہی کہ آویں ان کے پاس فرشتے یا تمہارا رب آئے یا تمہارے رب کی بعض نشانیاں آئیں۔ جس روز تمہارے رب کا کوئی نشان آئے گا نہیں نفع دے گا کسی نفس کو اس کا ایمان جو پہلے سے ایمان نہ لایا تھا یا اپنے ایمان میں کچھ نیکی نہیں کی تھی۔ ﴿ اور سورہ غافر میں ہے "فلما رأوا بأسنا قالوا امنا بالله وحده وكفر نا بما کنا به مشرکین فلم یک ینفعهم ايمانهم لما رأوا بأسنا (غافر: ٨٥) " ﴿ پھر جب دیکھا انہوں نے ہمارا عذاب ۔ کہا ہم ایمان لائے۔ اللہ کے ساتھ کہ وہ اکیلا ہے اور چھوڑیں جو چیزیں ہم شریک بناتے تھے اللہ کے ساتھ ، پس نہ تھا کہ نفع دے ان کو ایمان ان کا جب دیکھا ہمارا عذاب ۔﴿ اسی سبب سے ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت نے جو کہا تھا کہ اے موسیٰ ہم ایمان نہ لائیں گے جب تک خدا کو ظاہر آنکھ سے نہ دیکھ لیں تو آسمان سے ایک کڑک پہنچی کہ وہ سب مر گئے ۔

وجہ یہ تھی کہ خدا کو ظاہر دیکھ لینے کے بعد ایمان بالغیب نہ رہتا۔ اسی سبب سے ہے کہ مغرب کی طرف سے آفتاب طلوع ہونے کے بعد کسی کا ایمان مقبول نہیں۔ اسی طرح کفار مکہ نے جو نشانیاں حضرت علیہ الصلوۃ والسلام سے طلب کی تھیں کہ خدا و فرشتوں کو سامنے لاؤ اور سونے کا گھر اور جنت تمہارے ساتھ ہو اور آسمان پر چڑھ جاؤ اگر یہ نشانیاں ان کی آنکھوں کے سامنے ہوتیں تو ایمان بالغیب نہ رہتا اور اگر ان کی نظروں سے غائبانہ ہوتیں تو وہ کب مانتے۔ جیسے معراج جسمانی سے کافروں نے انکار کیا ۔

مرزائی ....... شب معراج میں بھی رسول اللہ ﷺ کا آسمان پر جانا ثابت نہیں، بخاری میں واقعہ معراج کے بعد لکھا ہے کہ پھر آپ جاگ اٹھے اور آپ مسجد الحرام ہی میں تھے۔

مولانا ...... حضرت علیہ الصلوۃ والسلام کو معراج جسم مبارک کے ساتھ مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک قرآن شریف سے ثابت ہے۔ منکر اس کا کافر ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کی شروع آیت ہے۔ "سبحن الذی اسرى بعبده لیلاً من المسجد الحرام الى المسجد الاقصى الذي باركنا حوله لنريه من ايتنا (بنی اسرائیل: ١) " ﴿ یعنی پاک ذات ہے وہ جو لے گیا اپنے بندے کو ایک رات مسجد حرام سے طرف مسجد اقصیٰ کے وہ مسجد کہ اس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ دکھائیں اپنے بندے کو اپنی قدرت کی نشانیاں ۔﴿ اور بیت المقدس سے عرش معلیٰ تک تشریف لے جانا اور پروردگار عالم سے راز کی

٨

باتیں ہونا امت کے واسطے نماز روزہ میں تخفیف کرانا، آسما وجنت ملاحظہ فرمانا وغیر ہا سب احادیث صحیحہ سے ثابت ہ

ہوئی ہے اور ایک مرتبہ جسد مبارک کے ساتھ آسمانوں پر تشری

امام قسطلانی لکھتے ہیں۔ معراجیں آنحضرت ﷺ ایک مرتبہ جسم کے ساتھ اور باقی روحی معراجیں خواب میں ہ

مرزائی ....... (ٹریکٹ نمبر ١٥ دیکھ کر ) قرآن میں بھی تو اس بنی اسرائیل میں ہے۔ "وما جعلنا الرؤيا الت اسرائیل: ٦٠) " ﴿ گویا معراج ایک اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔

مولانا ...... اس آیت میں خواب و کشف مراد نہیں ہے۔

بخاری وغیرہ میں حضرت ابن عباسؓ و دیگر صحابی سے رؤیا ب واقعہ معراج کو اگر خواب سمجھتے تو ان کو زیادہ موقع انکار کا م دکھایا جا سکتا ہے اور وہ لوگ مسجد اقصیٰ کی نشانیاں نہ پوچھت طرف سے مکہ کو آ رہا تھا اس کا حال نہ پوچھتے تو جب کفا پوچھا تو ضرور کفار بھی حالت بیداری میں جسم کے ساتھ معراج کی تصدیق کرتے تھے اور کفار اسی جسمی معراج ک

مرزائی ....... آپ حیات عیسیٰ قرآن سے ثابت کر سکتے ہ

مولانا ...... بیشک قرآن وحدیث سے حیات عیسیٰ ابن م سننے والا ایماندار منصف مزاج ہو۔ دیکھو سورہ نساء میں الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيام اور نہ بچے گا کوئی اہل کتاب (یہود و نصاریٰ سے) مگ موت سے پہلے اور عیسیٰ قیامت کے دن ان پر گواہ السلام کی وفات سے پہلے کل اہل کتاب ان پر ایما سے حدیث ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا۔ قسم ہ البتہ قریب ہے کہ نازل ہوئیں گے عیسیٰ ابن مریم ع

٩

صفحہ ٣١

باتیں ہونا امت کے واسطے نماز روزہ میں تخفیف کرانا، آسمانوں ، عجائب وغرائب اور دوزخ وجنت ملاحظہ فرمانا وغیرہا سب احادیث صحیحہ سے ثابت۔ منکر اس کا فاسق ہے اور بخاری کی حدیث ہمارے قول کے خلاف نہیں۔ اس لئے کہ خواب میں بھی بہت مرتبہ حضور ﷺ کو معراج ہوئی ہے اور ایک مرتبہ جسد مبارک کے ساتھ آسمانوں پر تشریف لے گئے ہیں۔ امام قسطلانی لکھتے ہیں۔ معراجیں آنحضرت ﷺ کو سب چونتیس مرتبہ ہوئی ہیں۔ ایک مرتبہ جسم کے ساتھ اور باقی روحی معراجیں خواب میں۔

(مواہب لدنیہ ج ٢ ص ٣)

مرزائی...... (ٹریکٹ نمبر ١٥ دیکھ کر ) قرآن میں بھی تو اس واقعہ معراج کو رؤیا قرار دیا ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل میں ہے۔ ”وما جعلنا الرؤيا التي ارينك الا فتنة للناس (بنى اسرائیل:٦٠)“ گویا معراج ایک اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔

مولانا...... اس آیت میں خواب و کشف مراد نہیں ہے۔ بلکہ رؤیا عین، آنکھ کا دیکھنا مراد ہے۔ بخاری وغیرہ میں حضرت ابن عباسؓ و دیگر صحابہؓ سے رؤیت عین یعنی آنکھ کا دیکھنا لکھا ہے۔ کفار مکہ واقعہ معراج کو اگر خواب سمجھتے تو ان کو زیادہ موقع انکار کا نہ تھا۔ اس لئے کہ انسان کو ہر قسم کا خواب دکھایا جاسکتا ہے اور وہ لوگ مسجد اقصیٰ کی نشانیاں نہ پوچھتے اور کفار قریش کا قافلہ جو بیت المقدس کی طرف سے مکہ کو آ رہا تھا اس کا حال نہ پوچھتے تو جب کفار نے مسجد اقصیٰ کی نشانیاں اور قافلہ کا حال پوچھا تو ضرور کفار بھی حالت بیداری میں جسم کے ساتھ معراج سمجھتے تھے اور صحابہ کرام اسی جسمی معراج کی تصدیق کرتے تھے اور کفار اسی جسمی معراج کی تکذیب و انکار۔

مرزائی...... آپ حیات عیسیٰ قرآن سے ثابت کر سکتے ہیں۔

مولانا...... بیشک قرآن وحدیث سے حیات عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام ثابت کر سکتے ہیں۔ بشرطیکہ سننے والا ایماندار منصف مزاج ہو۔ دیکھو سورۂ نساء میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا (النساء: ١٥٩)“ اور نہ بچے گا کوئی اہل کتاب (یہود ونصاریٰ سے) مگر یہ کہ عیسیٰ کے ساتھ ایمان لائے گا۔ عیسیٰ کی موت سے پہلے اور عیسیٰ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوگا۔ خلاصہ اس آیت کا یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے کل اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔ بخاری ومسلم میں ابوہریرہؓ سے حدیث ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا۔ قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ البتہ قریب ہے کہ نازل ہوئیں گے عیسیٰ ابن مریم حاکم عادل ہو کر توڑیں گے صلیب کو اور قتل کریں

صفحہ ٣٣

گے خنزیر کو اور موقوف کریں گے جزیہ۔ (یعنی کافر سے سوائے اسلام کے کچھ قبول نہ فرمائیں گے) اور مال کی کثرت ہوگی۔ یہاں تک کہ نہ قبول کرے گا مال کوئی شخص یہاں تک کہ ایک سجدہ تمام دنیا اور اس کی سب چیزوں سے بہتر ہوگا۔ یہ حدیث بیان کر کے ابو ہریرہؓ کہتے ہیں۔ (اس حدیث کی تصدیق) چاہو تو آیت کریمہ پڑھو۔ ”وان من اهل الکتاب“ (آخر تک) (مشکوٰۃ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام) ابن مریم علیہ السلام کا زندہ رہنا اور قبل قیامت کے نازل ہونا اس آیت کریمہ سے اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے سے پہلے سوائے حضرت یحییٰ اور حواریین اور بعض اشخاص کے اور کوئی شخص حضرت عیسیٰ پر ایمان نہیں لایا اور آپ کے مرزا صاحب پر بھی ان کی زندگی میں ایک بھی اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) ایمان نہیں لایا تو اب یقیناً ماننا پڑے گا کہ عیسیٰ ابن مریم زندہ ہیں اور قرب قیامت میں آسمان سے نازل ہوں گے اور آپ کی وفات سے پہلے کل اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) آپ پر ایمان لے آئیں گے۔

مرزائی...... آسمان کا لفظ اپنی طرف سے کیوں بڑھا دیا حدیث میں تو آسمان کا لفظ مذکور نہیں۔

مولانا...... اس حدیث میں لفظ آسمان نہیں تو دوسری حدیث میں تو لفظ آسمان موجود ہے۔ ان دونوں حدیثوں میں اجمال اور تفصیل کا فرق ہے۔ ایک حدیث دوسری حدیث کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔ دوسرے یہ کہ نازل ہونا تو اوپر سے اترنے کو کہتے ہیں۔ اگر چہ اترنا عام ہے کہ مکان و درخت سے اترے یا ٹیلے اور پہاڑ پر سے لیکن اس حدیث میں مراد آسمان سے نازل ہونا ہے۔

مرزائی...... اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”انزلنا الحدید فیه باس شدید“ تو لوہا کیا آسمان سے اترتا ہے۔

مولانا...... لوہا معدنی چیز ہے۔ لیکن کہہ سکتے ہیں کہ آسمان سے نازل ہوا ہے۔ اس لئے کہ بجلی سے اس کی پیدائش ہے۔ علامہ نورالدین ابو سعید بورانی نے کتب سیر سے پیدائش حاکم کے بیان میں لکھا ہے کہ ایک بجلی پہاڑوں میں پہنچی۔ اس سے معادن پیدا ہوئے۔ علاوہ اس کے لوہے وغیرہ کے ساتھ آسمان سے اتارنے کا ذکر نہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا حدیث میں صراحتاً مذکور ہے تو جو شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کا منکر ہے۔ وہ درحقیقت حدیث کا منکر ہے۔ آپ ایک مجمع کیجئے اور حکم مقرر ہوں اور ہماری اور آپ کی گفتگو ہو تب حق اور باطل ظاہر ہو جائے۔

مرزائی...... مجمع کی ضرورت نہیں ہے۔ حاضرین جلسہ کو مجمع سمجھ لیجئے۔

١٠

مولانا...... ان لوگوں کا فیصلہ تو آپ کو منظور نہ ہوگا۔ بہتر یہ ہوں اور جو لوگ حکم مقرر ہوں وہ بھی ذی علم ومنصف مزاج ہ ساتھ دیکھیں کہ ایمان وانصاف کے ساتھ فیصلہ دیں۔ مجمع خا کر لینا۔

مرزائی...... اس کی ضرورت نہیں۔

مولانا...... آپ کا بے سروپا دعویٰ کہ غیر عیسیٰ کو عیسیٰ موعود لیں۔ یہ تو ہر ذی علم جانتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نام چراغ بی بی ہے تو مرزا صاحب ابن مریم کس طرح ہو نہیں مان سکتا۔

مرزائی...... اللہ تعالیٰ نے نوح پیغمبر کی عورت اور لوط پیغمبر کو ایک حکم میں رکھا اور آسیہ زن فرعون اور عیسیٰ مسیح کی والد سے ایک حکم میں رکھا تو ہمارے مرزا صاحب کی والدہ بھ مرزا صاحب کی والدہ کو بھی مریم کہہ سکتے ہیں۔

مولانا...... جب یہی قاعدہ ہے کہ ہر مومنہ کو مریم کہہ ہیں۔ مرزا صاحب کی خصوصیت کیا ہے؟ میری والدہ بھی اور مرزا صاحب کے ساتھ جو اعتقاد ہے میرے ساتھ بھی

مرزائی...... آپ دعویٰ کرتے ہیں ابن مریم ہونے کا۔ م

مولانا...... آپ کے قاعدہ کی رو سے ہر مومنہ کا فرزند ا

مرزائی...... اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جن کو لوگ اللہ کے سوا پکا بلکہ وہ خود پیدا شدہ ہیں۔ زندہ نہیں اور انہیں یہ معلوم نہیں

مولانا...... بت پرستوں کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے پیدا کر نہیں سکتے۔ حالانکہ وہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔ ہیں ذی روح نہیں ہیں۔ ان بتوں کو یہ بھی معلوم نہیں ک

اس آیت کو وفات عیسیٰ علیہ السلام سے ک میں اس قدر انہماک ہے کہ قرآن میں جس جگہ موت طرف منتقل ہو گیا اور بتکلف کھینچ تان کر حضرت عیسیٰ

١١

صفحہ ٣٣

مولانا ...... ان لوگوں کا فیصلہ تو آپ کو منظور نہ ہوگا۔ بہتر یہ ہے کہ دونوں جانب کے اہل علم جمع ہوں اور جو لوگ حکم مقرر ہوں وہ بھی ذی علم ومنصف مزاج ہوں اور جانبین کی تقریر کو خوب غور کے ساتھ دیکھ سن کر ایمان وانصاف کے ساتھ فیصلہ دیں۔ مجمع سے مراد یہی ہے نہ کہ چند آدمیوں کو جمع کر لینا۔

مرزائی ...... اس کی ضرورت نہیں۔

مولانا ...... آپ کا بے سر و پا دعویٰ کہ غیر عیسیٰ کو عیسیٰ موعود ٹھہراتے ہیں۔ اس کو ہم کس طرح مان لیں۔ یہ تو ہر ذی علم جانتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم تھے اور آپ کے مرزا صاحب کی ماں کا نام چراغ بی بی ہے تو مرزا صاحب ابن مریم کس طرح ہو سکتے ہیں۔ ادنیٰ عقل والا آدمی بھی اس کو نہیں مان سکتا۔

مرزائی ...... اللہ تعالیٰ نے نوح پیغمبر کی عورت اور لوط پیغمبر کی عورت کو کافر ہونے کی وجہ سے دونوں کو ایک حکم میں رکھا اور آسیہ زن فرعون اور عیسیٰ مسیح کی مان مریم کو ان دونوں کو مؤمنہ ہونے کی وجہ سے ایک حکم میں رکھا تو ہمارے مرزا صاحب کی والدہ بھی مؤمن تھیں۔ لہٰذا اس پر قیاس کر کے مرزا صاحب کی والدہ کو بھی مریم کہہ سکتے ہیں۔

مولانا ...... جب یہی قاعدہ ہے کہ ہر مومنہ کو مریم کہہ سکتے ہیں تو ہر مسلمان کو ابن مریم کہہ سکتے ہیں۔ مرزا صاحب کی خصوصیت کیا ہے؟ میری والدہ بھی مؤمنہ تھیں۔ آپ مجھ کو ابن مریم فرمائیے اور مرزا صاحب کے ساتھ جو اعتقاد ہے میرے ساتھ بھی وہی اعتقاد رکھئے۔

مرزائی ...... آپ دعویٰ کرتے ہیں ابن مریم ہونے کا۔

مولانا ...... آپ کے قاعدہ کی رو سے ہر مومنہ کا فرزند ابن مریم ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔

مرزائی ...... اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جن کو لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں انہوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔ بلکہ وہ خود پیدا شدہ ہیں۔ زندہ نہیں اور انہیں یہ معلوم نہیں کب اٹھائے جائیں گے۔ (نحل: ٢٠، ٢١)

مولانا ...... بت پرستوں کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ غیر اللہ کو پوجتے ہیں۔ وہ تو کچھ پیدا کر نہیں سکتے۔ حالانکہ وہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔ (پتھر وغیرہ سے لوگ بناتے ہیں) وہ تو مردہ ہیں ذی روح نہیں ہیں۔ ان بتوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ لوگ کب اٹھائے جائیں گے۔

اس آیت کو وفات عیسیٰ علیہ السلام سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن آپ لوگوں کا وفات مسیح میں اس قدر انہماک ہے کہ قرآن میں جس جگہ موت کا لفظ آیا تو مرزائیوں کا ذہن وفات عیسیٰ کی طرف منتقل ہو گیا اور بتکلف کھینچ تان کر حضرت عیسیٰ پر چسپاں کرنا چاہا۔ خلاصہ آپ کے اجتہاد کا

١١

صفحہ ٣٤

یہ ہے کہ جب غیر خدا کو کسی نے خدا اور معبود جانا تو وہ غیر خدا اس وقت مردہ و بے جان ہوتا ہے اور لوگ اس کو خدا و معبود سمجھتے ہیں اور نصاریٰ بھی حضرت عیسیٰ کو خدا یا خدا کا بیٹا سمجھتے ہیں۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ بھی مردہ ہیں زندہ نہیں۔ لیکن یہ اجتہاد جناب کے ذہن نارسا کا نتیجہ ہے۔ ورنہ غیر اللہ کو معبود سمجھنا غیر اللہ کی موت کو مستلزم نہیں۔ اگر آپ اپنے اجتہاد کو صحیح سمجھتے ہیں تو آپ کل مخالفین مرزا کو تھوڑی دیر کے لئے معبود مان لیجئے۔ جب کل مخالفین مرجائیں تو سب کو چھوڑ کر پھر مرزا صاحب کو پکڑ لیجئے۔ مخالفین پر کامیابی کا یہ نہایت آسان طریقہ ہے اور یہ تو بتائیے کہ شداد و فرعون وغیرہما نے خدائی کا جو دعویٰ کیا اور ان کی قوم نے ان کو خدا مانا تو قوم کے خدا ماننے کے وقت فرعون وغیرہ فوراً مر گئے تھے یا زندہ رہے تھے۔ اگر زندہ رہے اور یقیناً صدہا برس زندہ رہے اپنی عمر پوری کرنے کے بعد مرے تو اسی طرح نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا یا خدا کا بیٹا سمجھا کریں۔ حضرت عیسیٰ آسمان پر اس وقت زندہ ہیں جب منظور خدا ہوگا آسمان سے اتر کر اپنی عمر پوری کر کے وفات پائیں گے اور مدینہ طیبہ میں حضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روضہ شریف کے اندر دفن کئے جائیں گے۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ کہئے جناب آپ کا اجتہاد غلط ٹھہرا یا ابھی آپ کو اپنی غلط فہمی میں شک ہے۔

مرزائی...... محمد مصطفےٰ کو سید الانبیاء مانتے ہیں وہ تو زمین میں دفن ہوں اور عیسیٰ ابن مریم کے ساتھ یہ اعتقاد کہ وہ آسمان پر ہیں اس میں رسول اللہ کی کس قدر کسر شان ہے؟

مولانا...... حضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جسم مبارک کے زمین میں رونق افروز ہونے اور عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر ہونے سے نہ رسول خدا ﷺ کا مرتبہ کم ہو سکتا ہے اور نہ حضرت عیسیٰ کا مرتبہ رسول خدا ﷺ سے زیادہ۔ حور و غلمان و فرشتے بھی تو آسمان پر ہیں تو کیا ان کا مرتبہ حضرت سے زیادہ یا حضرت کے مثل ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ مکان کی چھت میں اور درختوں پر پرندے آشیانہ بنا کر رہتے ہیں اور انسان نیچے۔ تو کیا پرندے سے انسان کا مرتبہ کم ہو گیا۔ دریا میں حباب پانی کے اوپر ہوتا ہے اور موتی پانی کے نیچے تو کیا حباب کی قدر و قیمت موتی سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ ہرگز نہیں۔ اسی پر قیاس کرو حضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام کا زمین میں تشریف رکھنا اور حضرت عیسیٰ کا آسمان پر رہنا۔

مرزائی...... بہت دیر ہوگئی ہم کو اور دوسری ضرورتیں بھی اب ہم جاتے ہیں۔ السلام علیکم!

مولانا...... وعلیکم! جناب پھر بھی ملاقات کیجئے گا۔ مرزائی صاحب مع اپنے ہمراہیوں کے ایسے گئے کہ ایک مہینہ گزر گیا۔ اب تک نہیں پلٹے۔

١٢

وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین

خاتم المرسلین

مولانا محمد مظہر الدین

PDF 36

انا خاتم النبیین لا نبي بعدي

خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

مولانا محمد مظہر الدین رمداسی رحمۃ اللہ علیہ

صفحہ ٣٧

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ط

عرض حال

”نحمده ونصلی علیٰ رسولہ الکریم ٠ اما بعد!“ قبل اس کے کہ میں اپنے فرسودہ خیالات کا اظہار کرنے کے لئے ایک ضعیف قلم کو جنبش دوں۔ ان رہنمایان مذہب و ملت کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے اس قابل سمجھ کر ارشاد فرمایا کہ میں مسئلہ ختم نبوت کے موضوع پر عام فہم زبان میں ایک ایسا رسالہ لکھوں جس میں اپنے دلائل پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مرزائیوں کے جملہ دلائل کے دندان شکن جوابات بھی مذکور ہوں۔ ان بزرگوں میں سے ان کرم فرماؤں کے اسمائے گرامی خاص اہمیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔

ناظم مرکزی انجمن حزب الاحناف ہند، لاہور

اس مقام پر اس حقیقت کا انکشاف بھی غیر مبہم الفاظ میں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ میں جو دلائل و براہین ہدیۂ ناظرین کرنا چاہتا ہوں وہ میری دماغی کاوشوں کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ وہی دلائل ہیں جو میں نے استاذی علامہ ابوالبرکات زاد عزہ، صدر المدرسین علامہ صوفی مہر الدین صاحب مدرس مدرسہ حزب الاحناف ہند لاہور اور والد ماجد سلطان المناظرین علامہ صوفی نواب الدین صاحب مصنف تحقیق الادیان فی اعجاز القرآن کو مخالفین کے سامنے پیش کرتے ہوئے دیکھا ہے اور خود بارہا مناظروں میں پیش کئے ہیں۔ لہٰذا اگر آپ کو ان میں کوئی مفید مطلب بات نظر آئے تو اس کو انہیں بزرگوں کا فیض صحبت سمجھے اور اگر اس میں کوئی غلطی معلوم ہو تو اس کو میری کم مائیگی پر محمول کرتے ہوئے مطلع فرمائیں تاکہ آئندہ ایڈیشن میں اس کو درست کر لیا جائے۔

ختم نبوت کا مسئلہ نصوص قرآنیہ و حدیثیہ قطعیہ تعینیہ صریحیہ سے ثابت ہونے کے سبب قرون اولیٰ سے مذہب اسلام کا سنگ بنیاد رہا ہے۔ اس لئے جمہور مسلمان اس کو مذہب اسلام کا جزو لاینفک سمجھتے رہے ہیں۔ کسی صحابی، تابعی، تبع تابعی، امام، مجتہد، محدث، مجدد وغیرہ نے اس میں شک کرنے کی جرأت نہیں کی۔ مگر کچھ مدت سے بعض ناپاک ارواح نے اس کو محل نظر بنایا اور ان کی بدولت اس اجماعی مسئلہ نے نزاعی صورت اختیار کر لی۔ حالانکہ نصوصات شرعیہ قطعیہ نظر و فکر کا محل نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ اہل شرع کے نزدیک ویسے ہی ہوتے

٢

ہیں جیسے اہل منطق کے نزدیک بدیہیات اور علوم میں اس رسالہ کو نہایت ہی عدیم الفرصتی کے زمانہ میں جس م ارباب رائے نے اس کی اشاعت میں میری حوصلہ افزائ ارادوں میں کامیاب ہو سکوں جو کہ مذہب حقہ کی تبل ہیں۔ ”وما توفیقی الا باللہ“

ہدیہ تشکر و امت

میں اپنے محترم دوست، فاضل جلیل، عالم صاحب گجراتی کا نہایت شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی م باعث خیر و برکت ہوئی۔ خدا تعالیٰ انہیں جزائے خیر ع

ختم نبوت از قرآن

”ما کان محمد ابا احد من رج (الاحزاب:٤٠) ”اس آیت کا ترجمہ ہم خود نہیں ترجمہ ہی پیش کرتے ہیں تاکہ ان پر قطعی حجت ہو۔ کسی مرد کا باپ نہیں مگر وہ رسول اللہ ہے۔ ختم کرنے بعد ہمارے نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آ

”ولکن رسول اللہ وخاتم النبی سمّی نبینا ﷺ خاتم الانبیاء بغیر است قوله لا نبی بعدی ببیان واضح للطالبین“

ترجمہ: کیا تم نہیں جانتے۔ ”اے نبی ﷺ کو بغیر کسی استثناء کے خاتم الانبیاء قرار دیا ہے بعدی کے ساتھ فرمائی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہو

مرزا قادیانی نے اس آیت کی تفسیر بی خاتم النبیین لا نبی بعدی (مشکوۃ کت میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔

صفحہ ٣٧

ہیں جیسے اہل منطق کے نزدیک بدیہیات اور علوم میں بدیہات پر بحث نہیں کی جاتی۔ میں نے اس رسالہ کو نہایت ہی عدیم الفرصتی کے زمانہ میں جس جانفشانی اور عرق ریزی سے لکھا ہے۔ اگر ارباب رائے نے اس کی اشاعت میں میری حوصلہ افزائی کی تو بہت ممکن ہے میں اپنے ان مبارک ارادوں میں کامیاب ہوسکوں جو کہ مذہب حقہ کی تبلیغ کے سلسلہ میں میرے شکستہ دل میں موجود ہیں۔ ”وما توفیقی الا بالله“ حافظ محمد مظہر الدین رمداسی !

ہدیہ تشکر و امتنان

میں اپنے محترم دوست ، فاضل جلیل ، عالم بے عدیل حضرت مولانا مولوی غلام الدین صاحب گجراتی کا نہایت شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی معاونت اس رسالہ کی تکمیل میں میرے لئے باعث خیر و برکت ہوئی۔ خدا تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین !

ختم نبوت از قرآن

”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (الاحزاب : ٤٠)“ اس آیت کا ترجمہ ہم خود نہیں کرتے بلکہ مرزائیوں کے مطاع و امام کا کیا ہوا ترجمہ ہی پیش کرتے ہیں تا کہ ان پر قطعی حجت ہو۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں : ”محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں مگر وہ رسول اللہ ہے۔ ختم کرنے والا نبیوں کا۔“ یہ آیت صاف بتلا رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔

(ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١)

”ولكن رسول الله وخاتم النبيين الا تعلم ان الرب الرحيم المتفضل سَمَّى نبينا ﷺ خاتم الانبياء بغير استثناء وفسره نبينا صل الله عليه وسلم في قوله لا نبي بعدى ببيان واضح للطالبين“

(حمامة البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)

ترجمہ : کیا تم نہیں جانتے ۔ ”اے بے سمجھ مرزائیو!“ کہ خدا رحیم و کریم نے ہمارے نبی ﷺ کو بغیر کسی استثناء کے خاتم الانبیاء قرار دیا ہے اور ہمارے نبی ﷺ نے خاتم النبیین کی تفسیر لا نبی بعدی کے ساتھ فرمائی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور طالبین حق کے لئے یہ بات واضح ہے۔

مرزا قادیانی نے اس آیت کی تفسیر میں جس حدیث کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے۔ ”انا خاتم النبيين لا نبى بعدى (مشكوة كتاب الفتن)“ میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

٣

صفحہ ٣٩
شکر اللہ کہ میان من واو صلح فتاد
حوریاں رقص کناں ساغر مستانہ زدند

(حافظ شیرازی)

اگرچہ ہم نے آیت خاتم النبیین کی تفسیر مرزا قادیانی کی زبان و قلم سے کی ہوئی پیش کر دی ہے جس کے بعد کسی مرزائی کو ہمارے ساتھ خاتم کے معنوں میں الجھنے کا مطلقاً استحقاق باقی نہیں رہتا۔ مگر ہم اتمام حجت کے لئے لفظ خاتم کے معنی لغات سے پیش کرتے ہیں۔ وهو هذا!

لفظ خاتم کی تشریح

”خاتم النبيين لا نه ختم النبوة اى تممها بمجيئه“ یعنی حضور کو خاتم النبیین اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ نے نبوت کو کمال و اتمام تک پہنچا دیا۔ اس صورت میں آپ ﷺ نے نبوت کو ختم کردیا۔

النبوة بمجيئه“ اور آپ ﷺ کے ناموں میں سے ہے خاتم اور خاتم اور وہ وہ ہے جس نے آکر نبوت ختم کردی۔

ای اخرهم“ اور خاتم اور خاتم قوم کے سب سے آخر کو کہا جاتا ہے اور انہیں معنوں میں ارشاد خداوندی ہے۔ خاتم النبیین یعنی آخر النبیین۔

مذکورۃ الصدر حوالہ جات سے ثابت ہو گیا کہ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں نہ کہ افضل واعلیٰ کے۔

سر خدا کہ عابد و زاہد بہ کس نہ گفت
در حیرتم کہ بادہ فروش از کجا شنید

(حافظ شیرازی)

مرزائیوں کا ایک ناجائز مطالبہ

مرزائی کہتے ہیں کہ لفظ خاتم فتحہ تا کے ساتھ جب جمع کے صیغہ کی طرف مضاف ہو تو اس کے معنی ہمیشہ افضل کے ہوتے ہیں۔ مرزاائیو! اوّل تو تمہارا یہ مطالبہ ہی صحیح نہیں۔ کیونکہ جب ہم آیت خاتم النبیین کے متعلق مرزا قادیانی کا کیا ہوا ترجمہ پیش کر آئے ہیں تو تمہیں بغیر کسی حیل

٤

وحجت کے اس کو تسلیم کر لینا چاہئے۔ مگر خیر ہم تمہاری کرتے ہیں۔ ”لعلكم تعقلون“ لیجئے! مرزا پیدائش ہوئی۔ یعنی جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں میرے تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ سے نکلی تھی اور بعد میں اس کے گھر میں اور کوئی لڑکا یا لڑکی نہیں ہوئی اور میں ان

”بنی اسرائیل کے خاتم الانبیاء کا نام جو عیسیٰ

(خاتمۃ ثمرۃ الحق ضمیم

مرزاائیو! ذرا ہوش سے کام لو؎

تہ خنجر بھی منہ موڑا نہ قا
تڑپنے کو کہا تڑپے ٹھہ

یہ معنی کیوں نہیں ہوسکتے؟

یہاں حقیقت مہجور و متروک نہیں اس لئے وہی مراد ہ ہوتی ہے اور وہ یہاں نہیں۔ یہ اسی طرح ہے جیسے آ ادیب ہے تو اس کے معنی عام طور پر یہی ہوتے ہی عیسائی کہے کہ پھر جب بے نظیر کے معنی افضل واع کے یہ معنی کیوں نہیں ہوسکتے کہ وہ سب سے اعلیٰ استعمال مجازی ہے اور اللہ کے متعلق حقیقی۔ اس ل الشعرا وغیرہ میں مجازی استعمال ہے اور خاتم النبیین

جواب ثانی

خاتم النبیین کو خاتم الشعراء اور خاتم ا لئے کہ خاتم النبیین جمع مذکر سالم ہے اور یہ قاعد سالم پر الف لام داخل ہو تو اس وقت استغراق

صفحہ ٣٩

حجت کے اس کو تسلیم کر لینا چاہئے ۔ مگر خیر ہم تمہاری ناز برداری کرتے ہوئے یہ مطالبہ بھی پورا کرتے ہیں۔ ” لعلكم تعقلون “ لیجئے ! مرزا قادیانی ہی رقمطراز ہیں۔ ” اسی طرح پر میری پیدائش ہوئی ۔ یعنی جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ سے نکلی تھی اور بعد میں اس کے میں نکلا تھا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکا یا لڑکی نہیں ہوئی اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا ۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٧ ، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)

” بنی اسرائیل کے خاتم الانبیاء کا نام جو عیسیٰ ہے۔“

(خاتمہ ثمرۃ الحق ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ب ، خزائن ج ٢١ ص ٤١٢)

مرزا ! ذرا ہوش سے کام لو

تہ خنجر بھی منہ موڑا نہ قاتل کی اطاعت سے
تڑپنے کو کہا تڑپے ٹھہرنے کو کہا ٹھہرے

(امیر مینائی)

سوال ...... جب خاتم الشعراء یا خاتم الاطباء وغیرہ کے معنی افضل واعلیٰ کے ہیں تو پھر خاتم الانبیاء کے یہ معنی کیوں نہیں ہو سکتے؟

جواب ...... یہ استعمال مجازی ہے۔ پہلے حقیقی معنی ہوتے ہیں اگر وہ نہ ہو سکیں تو پھر مجازی ، چونکہ یہاں حقیقت مہجور و متروک نہیں اس لئے وہی مراد ہوگی ۔ مجازی کے لئے قرائن خارجیہ کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ یہاں نہیں ۔ یہ اسی طرح ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلاں بے نظیر شاعر اور فلاں بے نظیر ادیب ہے تو اس کے معنی عام طور پر یہی ہوتے ہیں کہ وہ دوسروں سے اچھا ہے اور اگر کوئی مخالف عیسائی کہے کہ پھر جب بے نظیر کے معنی افضل واعلیٰ کے ہیں تو جب خدا کو تم بے نظیر کہتے ہو تو اس کے یہ معنی کیوں نہیں ہو سکتے کہ وہ سب سے اعلیٰ کے ہیں نہ کہ وہ احد محض ہے تو ہم کہیں گے کہ یہ استعمال مجازی ہے اور اللہ کے متعلق حقیقی ۔ اس لئے کہ اس کا واقعی کوئی شریک نہیں ۔ اسی طرح خاتم الشعراء وغیرہ میں مجازی استعمال ہے اور خاتم النبیین میں حقیقی یعنی آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔

جواب ثانی

خاتم النبیین کو خاتم الشعراء اور خاتم الاطباء وغیرہ پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔ اس لئے کہ خاتم النبیین جمع مذکر سالم ہے اور یہ قاعدہ جمہور نحویوں کے نزدیک مسلم ہے کہ اگر جمع مذکر سالم پر الف لام داخل ہو تو اس وقت استغراق حقیقی مراد ہوتا ہے۔ بہ خلاف خاتم الشعراء وغیرہ

٥

صفحہ ٤١

کے۔ کیونکہ وہ جمع مذکر سالم نہیں ہیں۔ نیز کلام خداوندی کو کلام الناس پر قیاس کرنا بھی قیاس مع الفارق ہے۔

سوال...... خاتم کے معنی زینت کے بھی ہو سکتے ہیں۔ تو پھر خاتم النبیین کے معنی زینت الانبیاء کیوں نہیں ہو سکتے؟

جواب...... خاتم کا لفظ انگوٹھی کے معنی میں ضرور استعمال ہوتا ہے۔ لیکن اس میں حضور ﷺ کی توہین ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام انبیاء تو بمنزلہ عروس کے ہیں اور حضور کی حیثیت محض انگوٹھی کی ہے اور ظاہر ہے کہ انگوٹھی پہننے والے سے انگوٹھی کی حیثیت کم ہوتی ہے۔ لہذا یہ معنی متروک ہیں۔

جواب ثانی

انگوٹھی کا وجود بالتبع ہوتا ہے۔ یعنی اپنے قیام میں غیر کی محتاج ہوتی ہے اور انگوٹھی والے کا وجود بالذات ہوتا ہے۔ یعنی اپنے تحقق و قیام میں غیر کی طرف محتاج نہیں ہوتا۔ پس اس صورت میں لازم آئے گا کہ حضور پرنور ﷺ کا وجود بالتبع ہو اور دوسرے انبیاء کرام کا وجود بالذات ہو۔ ”وھو باطل“ کیونکہ کوئی مسلمان صحیح الدماغ اس کا قائل نہیں کہ تمام انبیاء کرام کا وجود بالذات ہو اور حضور علیہ السلام کا وجود بالتبع اور بالعرض ہو۔

سوال...... خاتم کے معنی مہر کے کیوں نہیں۔ یعنی وہ جس پر مہر کر دیں وہ نبی ہو جائے؟

جواب...... خاتم مہر کو بھی اس لئے کہتے ہیں کہ وہ صحیفہ کو کامل کرنے کے واسطے آخر میں لگائی جاتی ہے۔ اس لئے اس صورت میں معنے یہ ہوں گے کہ صحیفہ نبوت کے آخری کلمات آپ ﷺ ہیں۔ یہ نہیں کہ وہ جس پر مہر لگا دیں وہ نبی ہو جائے۔ یہ معنی غیر عربی اور غیر صحیح ہیں۔ جیسا کہ حوالہ جات میں گزر چکا ہے۔

دوسری اور تیسری آیت

حضرت عیسیٰ انجیل میں فرماتے ہیں کہ میں بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ مجھے دوسری قوموں سے سروکار نہیں۔ قرآن شریف میں یہ نہیں لکھا کہ آنحضرت ﷺ صرف قریش کے واسطے بھیجے گئے۔ بلکہ لکھا ہے کہ ”قل يايها الناس انى رسول الله اليكم جميعا (الاعراف: ١٥٨)“ ﴿اے حبیب ان کو فرما دیجئے کہ میں تمام دنیا کے واسطے بھیجا گیا ہوں۔﴾ ”وما ارسلنک الا رحمة للعالمين (الانبیاء: ١٠٧)“ یعنی ہم نے کسی خاص قوم پر رحمت کر کے نہیں بھیجا بلکہ اس لئے بھیجا ہے کہ تمام جہان پر رحمت کی جاوے۔ پس جیسا کہ خدا تمام جہان کا خدا ہے۔ ایسا ہی آنحضرت ﷺ تمام جہان کے رسول ہیں اور تمام جہان کے

٦

واسطے رحمت ہیں۔

پس جس طرح دوسرا خدا ماننے والا مشرک ہے نئی نبوت کو ماننے والا مشرک ہے اور حضور سید عالم کی رحمت و شفقت سے محروم ہو رہا ہے۔

چوتھی آیت

”ليكون للعلمين نذيرا“ یعنی ہم نے اس کو تمام جہان والوں کے لئے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے تاکہ وہ ڈرائے۔

جب کہ حسب قرآن مجید تمام دنیا کے لئے محمد ﷺ نذیر ہیں تو مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ ”دنیا میں ایک نذیر ہی آیا۔“ صریح منافی قرآن ہے۔

پانچویں آیت

”وما ارسلناک الا كافة للناس بشيرا ونذيرا ولكن اكثر الناس لا يعلمون (سبا: ٢٨)“ یعنی ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے بشیر (خوشخبری سنانے والا) اور نذیر (ڈرانے والا) بنا کر بھیجا ہے۔ لیکن اکثر لوگ (مرزائی) نہیں جانتے کہ آپ تمام دنیا کے لئے ہیں۔ جس میں مرزا بھی شامل ہے۔

چھٹی آیت

”تبارک الذى نزل الفرقان على عبده ليكون للعالمين نذيرا (الفرقان: ١)“ وہ ذات بڑی عالی شان ہے جس نے اپنا قرآن مجید اپنے بندے (یعنی) خاص محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل فرمایا ۔ تاکہ وہ تمام دنیا (جن و انس) وغیرہ کے لئے ڈرانے والا ہو۔

ساتویں آیت

”واذ اخذ الله ميثاق النبين لما اتيتكم من كتب وحكمة ثم جاءكم رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به ولتنصرنه (آل عمران: ٨١)“ اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت دوں پھر تمہارے زمانہ میں میرا رسول آئے گا جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرے گا تو تم پر لازم ہے کہ اس پر ایمان لا کر اس کی تصدیق اور مدد کرنی ہوگی۔

٧

صفحہ ٤١

واسطے رحمت ہیں۔

(ضمیمہ چشمہ معرفت ص ١٦، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٨)

پس جس طرح دوسرا خدا ماننے والا مشرک ہے ایسا ہی آنحضرت ﷺ کے بعد مدعی نبوت کو ماننے والا مشرک ہے اور حضور سید عالم کی رحمت عامہ میں حائل ہو کر لعنت میں گرفتار ہو رہا ہے۔

چوتھی آیت

”لیکون للعلمین نذیرا“ یعنی ہم نے تجھ کو بھیجا تا کہ تو دنیا کی تمام قوموں کو ڈرائے۔

(نورالقرآن نمبر ١ ص ٥، خزائن ج ٩ ص ٣٣٦)

جب کہ حسب قرآن مجید تمام دنیا کے لئے محمد رسول اللہ ﷺ نذیر ہیں تو کسی کا یہ کہنا کہ : ”دنیا میں ایک نذیر ہی آیا۔“ صریح منافی قرآن ہے۔

پانچویں آیت

”وما ارسلناک الا کافۃ للناس بشیرا ونذیرا ولكن اکثر الناس لا یعلمون (سبا: ٢٨)“ یعنی ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے واسطے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا۔ لیکن اکثر لوگ (مرزائی) نہیں جانتے لفظ ناس اطلاق عربی میں جن کو بھی شامل ہے۔

چھٹی آیت

”تبارک الذی نزل الفرقان علی عبده لیکون للعلمین نذیراً (الفرقان: ١)“ ”وہ ذات بڑی عالی شان ہے جس نے یہ فیصلہ کی کتاب یعنی قرآن مجید اپنے بندہ خاص محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل فرمائی۔ تا کہ وہ تمام دنیا و جہان والوں کے واسطے یعنی جن و انسان وغیرہ کے لئے ڈرانے والا ہو۔

ساتویں آیت

”واذ اخذ الله میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب وحکمة ثم جاءکم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن به ولتنصرنه (آل عمران: ٨١)“ ”اور یاد کر جب خدا نے تمام رسولوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت دوں پھر تمہارے پاس آخری زمانہ میں میرا رسول آئے گا جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرے گا۔ تمہیں اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس پر ایمان لا کر اس کی تصدیق اور مدد کرنی ہوگی۔

(حقیقت الوحی ص ١٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٣٣)

٧

صفحہ ٤٣

مفہوم واضح ہے خدا نے اور رسول بھیجے اور کتابیں بھیجیں اور سب کے آخر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بھیجا جو خاتم الانبیاء اور خیر الرسل ہے۔

(حقیقت الوحی ص ١٤١، خزائن ج ٢٢ ص ١٤٥)

مرزا جیو! کیا یہاں بھی جو قول مرزا ہے آخر کے معنے افضل واعلیٰ کے ہیں۔ حالانکہ زمانے کو جس قدر حضور ﷺ سے بعد ہو رہا ہے اسی قدر اس سے خیر و خوبی اٹھتی جارہی ہے۔ ”کما ورد فی الحدیث“

اس آیت میں لفظ ثم خاص قابل غور ہے جو کہ عربی زبان میں تراخی (مہلت) کے لئے آتا ہے۔ مثلاً اگر کہا جائے کہ ”جاءنی القوم وثم عمر“ تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ پہلے تمام قوم آئی اس کے بعد عمر آیا اسی طرح اس آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ تمام انبیاء کے تشریف لانے کے بعد سرور انبیاء تشریف لائیں گے۔ چنانچہ حضرت علیؓ اور ابن عباسؓ اس آیت کی تفسیر فرماتے ہیں۔ ”ما بعث اللہ نبیا من الانبیاء الا اخذ علیہ المیثاق لئن بعث اللہ محمد او ھو حی لیؤمنن بہ ولینصرنہ وامر ان یاخذ المیثاق علیٰ امتہ لئن بعث محمد وھو احیاء لیؤمنن بہ ولینصرنہ“

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو مبعوث کیا اس سے یہ وعدہ لیا کہ اگر اس کی زندگی میں اللہ نے حضور ﷺ کو مبعوث کیا تو اس کو حضور پر ایمان لانا چاہئے اور ضرور نصرت کرنی چاہئے اور اسی طرح اس نبی کو حکم دیا کہ وہ اپنی امت سے پختہ عہد لے کہ اگر ان کی زندگی میں نبی محترم ﷺ مبعوث ہوں تو ان کو آپ ﷺ پر ضرور ایمان لانا چاہئے اور نصرت کرنی چاہئے۔

(تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٥٨)

اس آیت میں رسول کا لفظ نکرہ ہے مگر اس کی تخصیص ابن عباس اور علیؓ نے کر دی۔ اگر اس سے انکار کیا جاوے تو ”ربنا وابعث فیھم رسول“ اور ”لقد جاءکم رسول“ وغیرہ وغیرہ میں تخصیص کس طرح ہو گی۔

آٹھویں آیت

”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (المائدہ : ٣)“ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ قرآن شریف نے تورات وانجیل کی طرح کسی دوسرے نبی کا حوالہ نہیں دیا۔ بلکہ اپنی کامل تعلیم کا تمام دنیا میں اعلان کر دیا اور فرمایا۔ ”الیوم اکملت لکم دینکم“

(براہین احمدیہ ص ٢٠٣، خزائن ج ١ ص ٢٢٧)

اس آیت میں اکمال دین بھی آ گیا اور اتمام نعمت بھی اور اس کے بعد رضیت بھی فرمایا ٨

گیا۔ اس لئے آپ ﷺ خاتم النبیین ہوئے اور آپ ﷺ کے بـ منصب نبوت عطا ہو ورنہ معاذ اللہ آپ ﷺ کے دین اور تعلیم کو ناقص صورت میں زبردست استحاله لازم آتا ہے۔ علامہ ابن کثیر اس آیت کـ اکبر من نعم اللہ تعالیٰ علی ھذہ الامۃ حیث اکمل اللہ لـ الیٰ دین غیرھم ولا الیٰ نبی غیر نبیھم صلوت اللہ وسلـ خاتم الانبیاء“

ترجمہ: یہ اللہ پاک کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اس واسطے ان کے دین کو کامل فرما دیا۔ اب وہ کسی اور دین کے محتاج نہیں اپنے نبی کے۔ یہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو خاتم الانبیاء بنا دیـ حاجة لنا الیٰ نبی بعد محمد ﷺ“

(مباحثہ الـ

پاکٹ بک احمدیہ کے مصنف نے اس آیت ”الیوم ا جواب دیا ہے کہ تورات بھی تمام تھی مگر اس کے بعد بھی کتاب آئـ یوسف علیہ السلام پر بھی نعمت پوری کی گئی۔ انعام صرف نبوت پـ صدیقیت شہادت صالحیت سب انعام ہیں۔ کیا یہ بھی بند ہیں ۔“ جـ جواب....... تورات بے شک فی نفسہ تمام تھی مگر اپنے وقت اور قـ قوموں کی طرف مبعوث ہوتے تھے۔ ”وکان النبی یبعث الیٰ قومہ خاصۃ وبعثت ا

پہلے نبی اپنی اپنی قوم کی طرف آئے اور میں تمام دنیا کـ ہاں تورات اپنی ذات میں تمام تھی مگر کامل دین الہی نـ سے ناقص تھی۔ اب قرآن شریف اور دوسری کتابوں میں فرق کے خلل سے محفوظ بھی رہتیں۔ پھر بھی بہ وجہ ناقص ہونے تعلیم بـ آئے۔ مگر قرآن شریف کے واسطے اب یہ ضرورت درپیش نہیں نہیں۔ تو نئی شریعت اور نئے الہام نازل ہونے میں امتناع عقل میں خاتم الرسل ہیں۔

(براہین

٩

صفحہ ٤٣

گیا۔ اس لئے آپ ﷺ خاتم النبیین ہوئے اور آپ ﷺ کے بعد کوئی ایسا شخص نہیں جس کو منصب نبوت عطا ہو ورنہ معاذ اللہ آپ ﷺ کے دین اور تعلیم کو ناقص و نامکمل ماننا پڑے گا اور اس صورت میں زبردست استحالہ لازم آتا ہے۔ علامہ ابن کثیر اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: ”هذا اکبر من نعم الله تعالیٰ علی هذه الامة حیث اکمل الله تعالیٰ دینهم ولا یحتاجون الی دین غیرهم ولا الی نبی غیر نبیهم صلوات الله وسلامه علیه ولهذا جعله الله خاتم الانبیاء“

(ابن کثیر ج٣ ص٢٦)

ترجمہ: یہ اللہ پاک کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اس امت پر کہ اس نے ان کے واسطے ان کے دین کو کامل فرمادیا۔ اب وہ کسی اور دین کے محتاج نہیں اور نہ کسی دوسرے نبی کے سوا اپنے نبی کے۔ یہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو خاتم الانبیاء بنادیا۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں: ”فلا حاجة لنا الی نبی بعد محمد ﷺ“

(حمامۃ البشریٰ ص٤٩، خزائن ج٧ ص٢٤٣)

پاکٹ بک احمدیہ کے مصنف نے اس آیت ”الیوم اکملت لکم دینکم“ کا یہ جواب دیا ہے کہ تورات بھی تمام تھی مگر اس کے بعد بھی کتاب آگئی۔ قرآن شاہد ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام پر بھی نعمت پوری کی گئی۔ انعام صرف نبوت ہی نہیں آیت کی رو سے نبوت صدیقیت شہادت صالحیت سب انعام ہیں۔ کیا یہ بھی بند ہیں۔“

(ملخص ص ٥٦٠)

جواب: ....... تورات بے شک فی نفسہ تمام تھی مگر اپنے وقت اور قوم کے واسطے گذشتہ نبی مخصوص قوموں کی طرف مبعوث ہوتے تھے۔

(مرزائی پاکٹ بک ص٤٣٣)

”وكان النبی یبعث الی قومه خاصة وبعثت الی الناس عامة“

(بخاری و مسلم باب فضائل سید المرسلین)

پہلے نبی اپنی اپنی قوم کی طرف آئے اور میں تمام دنیا کی طرف۔

ہاں تورات اپنی ذات میں تمام تھی مگر کامل دین الٰہی اور اتمام نبوت اور تعلیم عالمگیر کی رو سے ناقص تھی۔ اب قرآن شریف اور دوسری کتابوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی کتابیں اگر ہر طرح کے خلل سے محفوظ بھی رہتیں۔ پھر بھی بوجہ ناقص ہونے تعلیم کے ضرور تھا کہ کسی وقت کامل تعلیم آئے۔ مگر قرآن شریف کے واسطے اب یہ ضرورت درپیش نہیں۔ کیونکہ کمال کے بعد اور کوئی درجہ نہیں۔ تو نئی شریعت اور نئے الہام نازل ہونے میں امتناع عقل لازم آیا۔ آنحضرت ﷺ حقیقت میں خاتم الرسل ہیں۔

(براہین احمدیہ حاشیہ ص١١٠، خزائن ج١ ص١٠١)

٩

صفحہ ٤٥

ملخصاً بلفظہ: اور حضرت یوسف پر جو نعمت تمام ہوئی وہ اسی طرح کا اتمام تھا۔ ”کما اتمها علیٰ ابویک (یوسف)“ جیسا کہ آپ کے باپ داد پر ہوا تھا۔ یعنی وقتی اور حسب ضرورت زمانہ جیسا کہ ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں۔ نبوت صدیقیت شہادت اور صالحیت بلاشبہ انعام ہے۔ اسی طرح صاحب شریعت نبی ہونا بھی انعام ہے۔ جب کہ روز آفرینش میں ہی خدائے لایزال نے تاج نبوت کو مزین و آراستہ کر کے حضور سید عالم رحمۃ اللعالمین راحت العاشقین فداہ امی وابی روحی وجسدی کے سر پر رکھ دیا تو اب ناحق جلنا اور کڑھنا بد باطنوں اور خبیث روحوں کا کام ہے۔ سچ ہے۔

مہ فشاند نور سگ عو عو کند

آیت ”وما ارسلنک الا رحمۃ اللعالمین . کافۃ للناس . انی رسول الله الیکم جمیعا“ کا جواب یہ دیا ہے کہ حضرت موسیٰ تمام بنی اسرائیل کی طرف رسول تھے۔ کیا ان کے بعد بنی اسرائیل کے لئے حضرت داؤد، سلیمان علیہما السلام نبی ہو کر نہیں آئے؟

جواب...... ہم پہلے ثابت کر آئے ہیں کہ وہ شریعت ناتمام و ناقص تھی۔ اس لئے وقتی ضروریات کے لئے انبیاء کا آنا ضرور تھا اور تو رات کے متعلق قرآن شریف میں ہرگز ہرگز حضرت موسیٰ کا یہ دعویٰ موجود نہیں کہ تمام بنی اسرائیل کے لئے صرف میں اکیلا ہی رسول ہوں۔ برخلاف اس کے کہ قرآن شریف کامل ومکمل غیر مبدل اٹل قانون اور محمد رسول اللہ ﷺ تمام دنیا کے لئے اکیلے رسول ہونے کے مدعی ہیں۔ ”ارسلت الی الخلق کافۃ وختم بی النبیون“

(صحیح مسلم ج ١ ص ١٩٩)

میں تمام دنیا جہان کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ میرے ساتھ نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔ ”انا رسول من ادرکت حیا ومن یولد بعدی“

(کنز العمال ج ٢ ص ٢٢٩ ، طبقات ج ٢ ص ١٠١)

خدا نے سب دنیا کے لئے ایک ہی نبی بھیجا۔

(چشمہ معرفت ص ١٤٦، خزائن ج ٢٣ ص ١٥٤)

مذکورہ بالا آٹھ آیات قرآنی اور اقوال مرزا سے بغیر کسی طرح کی کھینچ تان کے یہ عبارت النص ثابت ہو گیا کہ حضور سید عالم ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ اگر چہ قرآن شریف میں اور متعدد آیات ایسی ہیں جن سے مسئلہ ختم نبوت ثابت ہوتا ہے۔ مگر ہم انہیں مذکورہ بالا آیات پر اکتفا کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ مختصر رسالہ ان کا متحمل نہیں جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو۔ اس کے لئے ایک آیت بھی کافی ہے اور بے ایمانوں کے واسطے تمام قرآن بھی ناکافی۔ اب ہم احادیث نبویہ ﷺ کا ذکر کرتے ہیں۔ ناظرین غور سے پڑھیں اور ایمان تازہ کریں۔ ١٠

ختم نبوت از احادیث

حدیث اوّل: "وعن ثوبانؓ الیٰ قولہ انہ سیکون کلھم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی

”ضرور میری امت

ترمذی ج ٢ ص ٤٥، مشکوۃ کتاب الفتن)

پیدا ہوں گے۔ ہر ایک ان میں سے نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ حالانکہ ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔ معلوم ہوا کہ امت محمدیہ میں ہے۔ جیسا کہ مرزا غلام احمد وغیرہ ۔

اعتراض: مرزائی کہتے ہیں کہ حدیث میں تیس کی تعین کی گئی ہے، میں کچھ سچے بھی آویں گے۔

جواب...... یہ احتمال ناشئ عن الدلیل نہیں۔ اس لئے مردود ہے نیز الفاظ ہی کافی ہیں۔ ”لا نبی بعدی“

اعتراض: سین فعل مضارع پر داخل ہو کر استقبال کے معنوں میں اس حدیث کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ کذاب وغیرہ عنقریب پیدا ہوں

جواب...... اس امر کا تو مرزا قادیانی کو بھی اعتراف ہے کہ وہ دجال گے۔ کیا مرزا قادیانی علوم عربی سے نابلد تھے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ” دنیا کے آخیر تک تیس کے قریب تک دجال پیدا ہوں گے ۔“

(ازالہ

جواب ثانی

اس میں شک نہیں کہ سین فعل مضارع پر داخل ہو کر ا دیتا ہے۔ مگر حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ کاذب حضور ﷺ آجائیں گے۔ اس لئے کہ قرب وبعد امور اضافیہ میں سے ہیں ۔ قریب ہوتی ہے اور دوسرے کی نظروں میں بعید۔ جیسا کہ حضور ﷺ کی انگلیوں کو ملا کر فرمایا۔ ”انا والساعة کهاتین“

(بخاری

میں اور مجھ میں اس طرح اتصال ہے۔)

تو جس طرح حضور ﷺ کی بالغ نظری کے لحاظ سے نگاہی کے لحاظ سے بعید ایسے ہی ان کذابوں کا آنا حضور ﷺ ہمارے لحاظ سے بعید۔ اس قسم کی مثالیں قرآن مجید میں بکثرت ١١

صفحہ ٤٥

ختم نبوت از احادیث

حدیث اوّل: " وعن ثوبانؓ الیٰ قولہ انہ سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلہم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (ابوداؤد ج ٢ ص ١٢٧، ترمذی ج ٢ ص ٤٥، مشکوٰۃ کتاب الفتن) " ﴿ضرور میری امت میں تیس کذاب (جھوٹے) پیدا ہوں گے۔ ہر ایک ان میں سے نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ حالانکہ میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔ معلوم ہوا کہ امت محمدیہ میں جو شخص مدعی نبوت ہو وہ کذاب ہے۔ جیسا کہ مرزا غلام احمد وغیرہ۔﴾

اعتراض: مرزائی کہتے ہیں کہ حدیث میں تیس کی تعیین کی گئی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں کچھ سچے بھی آئیں گے۔

جواب...... یہ احتمال ناشئ عن الدلیل نہیں۔ اس لئے مردود ہے نیز اس کے متعلق حدیث کے یہ الفاظ ہی کافی ہیں۔ ’’لا نبی بعدی‘‘

اعتراض: سین فعل مضارع پر داخل ہو کر استقبال کے معنوں میں کر دیتا ہے۔ اس صورت میں اس حدیث کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ کذاب وغیرہ عنقریب پیدا ہوں گے۔

جواب...... اس امر کا تو مرزا قادیانی کو بھی اعتراف ہے کہ وہ دجال قیامت کے قریب تک ہوں گے۔ کیا مرزا قادیانی علوم عربی سے نابلد تھے۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔ ’’آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ دنیا کے اخیر تک تیس کے قریب تک دجال پیدا ہوں گے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

جواب ثانی

اس میں شک نہیں کہ سین فعل مضارع پر داخل ہو کر اس کو مستقبل قریب کے معنے میں کر دیتا ہے۔ مگر حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ کاذب حضور ﷺ کے زمانہ کے ساتھ فوراً ہی آ جائیں گے۔ اس لئے کہ قرب و بعد امور اضافیہ میں سے ہیں۔ ایک چیز ایک شخص کی نظروں میں قریب ہوتی ہے اور دوسرے کی نظروں میں بعید۔ جیسا کہ حضور پرنور ﷺ نے ایک دفعہ اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو ملا کر فرمایا۔ ’’انا والساعۃ کھاتین (بخاری ج ٢ ص ٩٦٣) ‘‘ ﴿یعنی قیامت میں اور مجھ میں اس طرح اتصال ہے۔﴾

تو جس طرح حضور ﷺ کی بالغ نظری کے لحاظ سے قیامت قریب ہے اور ہماری کم نگاہی کے لحاظ سے بعید ایسے ہی ان کذابوں کا آنا حضور ﷺ کے لحاظ سے بالکل قریب ہے اور ہمارے لحاظ سے بعید۔ اس قسم کی مثالیں قرآن مجید میں بکثرت موجود ہیں۔

١١

صفحہ ٤٧

"سيدخلون جهنم داخرين (غافر: ٦٠) ﴿عنقریب وہ جہنم میں ذلیل ہوتے ہوئے داخل ہوں گے۔﴾ "فسیحشرهم اليه جميعاً (النساء: ١٧٢) ﴿عنقریب ان کو اپنی طرف اکٹھا کرے گا۔﴾ "وسیعلم الذین ظلموا (الشعراء: ٢٢٧) ﴿عنقریب ظالم لوگ جان لیں گے۔﴾

دیکھئے ان آیات میں سین فعل مضارع پر داخل ہوا ہے اور قیامت کا ذکر ہے۔ اس جگہ بھی قیامت کی نسبت جب ذات واجب الوجود کی طرف کی جاوے تو قیامت بالکل قریب ہے اور اگر ہماری طرف کی جاوے تو بعید۔

اعتراض: یہ دجال آج سے پہلے پورے ہوچکے ہیں۔ جیسا کہ اکمال الاکمال میں لکھا ہے۔

جواب...... صریح حدیث کے مقابل اکمال الاکمال والے کا ذاتی خیال سند نہیں حدیث میں قیامت کی شرط ہے۔ بعض دفعہ انسان ایک چھوٹے دجال کو بڑا سمجھ لیتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے تعداد پوری سمجھ لی۔ حالانکہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت نے وضاحت کردی کہ ابھی اس کی تعداد میں کمی ہے۔

اعتراض: اس حدیث کو فتح الملہم میں حافظ ابن حجر نے ضعیف لکھا ہے۔

جواب...... یہ سراسر دروغ بے فروغ ہے۔ لیجئے ہم حافظ ابن حجر کی اصل کتاب کی عبارت جس کا حوالہ دیا گیا ہے پیش کرتے ہیں۔ "وفی روایة عبدالله ابن عمر وعند الطبرانی لا تقوم الساعة حتى يخرج سبعون كذابا وسنده ضعيف وعند ابى يعلى من حديث انس نحوه وسنده ضعيف (ايضاً فتح البارى شرح صحيح مطبوعه دهلى جزو ٢١ ص ٥٦٣) "طبرانی میں عبداللہ بن عمر کی ستر دجال والی حدیث کی سند ضعیف ہے اور ایسا ہی ابو یعلیٰ میں جو انس کی روایت ستر دجال والی ہے وہ ضعیف ہے۔ حاصل یہ ہے کہ حافظ ابن حجر نے ستر دجال والی روایت کو جو دو طریق سے مروی ہے ضعیف لکھا ہے نہ کہ تیس دجال والی کو۔

فائدہ: اس حدیث میں حضور سید عالم ﷺ نے مطلقاً مدعی نبوت کو کاذب فرمایا ہے۔ تشریعی اور غیر تشریعی کی کوئی قید نہیں اور علم اصول کا مشہور قاعدہ ہے کہ "المطلق یجری علی اطلاقہ" یعنی مطلق اپنے اطلاق اور عموم پر جاری رہتا ہے۔ لہٰذا مرزائیوں کا مطلق کو مقید کرنا ان کی جہالت کی دلیل ہے۔

حدیث دوم

"عن العرباض بن سارية عن رسول اللہ ﷺ انه قال انی عند اللہ

١٢

مكتوب خاتم النبيين وان آدم لمنجدل فی طينته (شر فضائل النبی ﷺ ص ٥١٣) "آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آ کی ہیئت میں تھے میں اس وقت بھی خدا کے نزدیک نبیوں کا ختم کر

حدیث سوم

"وعن جابر ان النبی ﷺ قال انا قائد الم النبيين ولا فخر (مشكوة ص ٥١٣) "میں قائد انبیاء ہوں میں فخر سے نہیں کہتا ( بلکہ اظہار حقیقت ہے)﴾

حدیث چہارم

"ان لى اسماء انا محمد وانا احمد المی بعدی نبی (ترمذی ج ٢ ص ١١١) "فرمایا میرے کئی ن اور عاقب سے مراد یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔﴾

اعتراض: عاقب کے معنی جو حدیث میں بیان کئے گئے ہیں حدیث کے اپنے الفاظ نہیں۔

جواب..... یہ راوی کا ذاتی خیال نہیں یہ قطعاً غلط ہے۔ بلکہ عا کئے ہیں۔ چنانچہ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔ "وفی روایة مر وغیره بلفظ الذى ليس بعدى نبى (فتح البارى جزو عینیہ کی مرفوع حدیث میں امام ترمذی وغیرہ کے نزدیک یہ ا بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔﴾

حدیث پنجم

"وعن ابی هريرة ان رسول اللہ ﷺ اعطيت جوامع الكلم ونصرت بالرعب واحلت مسجداً وطهورا وارسلت الى الخلق کا ص ١٩٩) "آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں چھ باتوں (١) مجھے کلمات جامع ملے۔ (٢) میں رعب کے ساتھ غنیمتیں حلال کی گئی ہیں۔ (٣) تمام دنیا میرے لئے پاک کافۃ الناس کی طرف رسول بنایا گیا ہوں۔ (٦) میرے ساتھ

١٣

صفحہ ٤٧

مکتوب خاتم النبيين وان آدم لمنجدل في طينته (شرح السنه واحمد ومشكوة باب فضائل النبی ﷺ ص ٥١٣) ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آدم جس زمانہ میں گوندھی ہوئی مٹی کی ہیئت میں تھے میں اس وقت بھی خدا کے نزدیک نبیوں کا ختم کرنے والا لکھا ہوا تھا۔“

حديث سوم

"وعن جابر ان النبى ﷺ قال انا قائد المرسلين ولا فخر وانا خاتم النبيين ولا فخر (مشكوة ص ٥١٤) ”میں قائد انبیاء ہوں، میں خاتم الانبیاء ہوں۔ یہ بات میں فخر سے نہیں کہتا ( بلکہ اظہار حقیقت ہے)“

حديث چهارم

"ان لی اسماء انا محمد وانا احمد الى قوله وانا العاقب الذي ليس بعدی نبی (ترمذی ج ٢ ص ١١١) ”فرمایا میرے کئی نام ہیں۔ میں محمد ہوں، عاقب ہوں اور عاقب سے مراد یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔“

اعتراض : عاقب کے معنی جو حدیث میں بیان کئے گئے ہیں یہ راوی کا اپنا خیال ہے۔ ورنہ یہ حدیث کے اپنے الفاظ نہیں۔

جواب...... یہ راوی کا ذاتی خیال نہیں یہ قطعا غلط ہے۔ بلکہ عاقب کے معنی خود آنحضرت ﷺ نے کئے ہیں۔ چنانچہ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔ ”وفي رواية سفيان ابن عيينة عند الترمذی وغيره بلفظ الذي ليس بعدی نبی (فتح الباری جزو ١٤ ص ٤١٣) ”امام سفیان ابن عینیہ کی مرفوع حدیث میں امام ترمذی وغیرہ کے نزدیک یہ لفظ ہیں کہ میں عاقب ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔“

حدیث پنجم

"وعن ابی هريرة ان رسول الله ﷺ قال فضلت على الانبياء بست اعطيت جوامع الكلم ونصرت بالرعب واحلت لي الغنائم وجعلت لي الارض مسجداً وطهورا وارسلت الى الخلق كافة وختم بي النبيون (مسلم ج ١ ص ١٩٩) ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں چھ باتوں میں جملہ انبیاء پر فضیلت دیا گیا ہوں۔ (١) مجھے کلمات جامع ملے۔ (٢) میں رعب کے ساتھ فتح دیا گیا ہوں۔ (٣) میرے لئے غنیمتیں حلال کی گئی ہیں۔ (٤) تمام دنیا میرے لئے پاک سجدہ گاہ بنائی گئی ہے۔ (٥) میں تمام کافۃ الناس کی طرف رسول بنایا گیا ہوں۔ (٦) میرے ساتھ انبیاء ختم کئے گئے۔“

١٣

صفحہ ٤٩

حدیث ششم

"كانت بنی اسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبى خلفه نبى وانه لا نبى بعدى وسيكون خلفاء فيكثرون (بخاری ج ١ ص ٤٩١) ”بنی اسرائیل کی عنان سیاست انبیاء کے ہاتھوں میں رہی ۔ جب ایک نبی فوت ہوتا اس کا جانشین نبی ہی ہوتا ۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ عنقریب خلفاء کا سلسلہ شروع ہوگا۔ پس بکثرت ہوں گے اس حدیث کی تشریح قول مرزا سے یوں ہوتی ہے کہ ”وحی اور رسالت ختم ہوگئی۔ مگر ولایت و امامت و خلافت کبھی ختم نہ ہوگی۔“

(مکتوبات احمدیہ جدید ج ٢ ص ١٥٠،

تشحیذ الاذہان ج ١ ص ١ نمبر ١)

اس حدیث میں نبوت غیر تشریعی کے انقطاع پر دو صریح قرینے موجود ہیں۔ پہلا قرینہ یہ ہے کہ حضور ﷺ نے بنی اسرائیل کے نبیوں کا ذکر فرمایا ہے جو صاحب شریعت مستقلہ نبی نہ تھے۔ کیونکہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد سینکڑوں نبی آئے ہیں جو شریعت موسویہ کے متبع تھے اور ان نبیوں کے متعلق آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل کے امور کا انتظام یکے بعد دیگرے فرماتے تھے۔ ان کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”انه لا نبي بعدی“ یعنی میرے بعد کوئی نبی میری امت کے امور کا انتظام کرنے والا نہیں ہوگا۔ جیسا کہ انبیاء بنی اسرائیل اور وہ غیر مستقل ہوتے تھے۔ لہٰذا نبی غیر مستقل کی نفی کی تصریح ہوگئی۔ دوسرا قرینہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کا اپنے بعد نبی کا مطلقاً نفی کرنے کے بعد صرف خلفاء کا اثبات فرمانا نبی غیر مستقل کی نفی کا صریح قرینہ ہے۔ "الحمد لله على ذالك"

حدیث ہفتم

"عن ابى هريرة قال قال رسول الله ﷺ مثلى ومثل الانبياء كمثل قصر احسن بنيانه وترك منه موضع لبنة فطاف به النظار يتعجبون من حسن بنيانه الا موضع تلک اللبنة فكنت انا سددت موضع البنة ختم بى البنيان وختم بى الرسل وفي رواية فانا اللبنة وانا خاتم النبيين (مشكوة ص ٥١١، باب فضائل النبی ﷺ) ”ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری اور سابقہ انبیاء کی ایک ایسے محل کی مثال ہے جس کی عمارت اچھی بنائی گئی ہو۔ مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی ہو۔ لوگ اس کے اردگرد گھومتے ہیں اور حسن عمارت پر تعجب کرتے ہیں۔ مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی دیکھ کر حیران ہوتے ہیں سو میں وہ مبارک اینٹ ہوں۔ جس نے اس جگہ کو پر کیا۔ میری ذات کی وجہ

١٤

سے نبوت کے محل کی تکمیل ہوگئی ہے۔ بدیں صورت ایک روایت میں ہے کہ نبوت کی آخری اینٹ میں ہوں۔﴾

مرزائیوں کا اعتراض

غیر احمدی کہتے ہیں کہ اگر حضور ﷺ سے تھا۔ صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی۔ جس کو آپ ﷺ آنحضرت ﷺ پیدا نہ ہوتے تو نظام کائنات نہ بنایا جواب....... مرزائیو! اس ابلہ فریبی کا کیا کہنا۔ کیا خو

بہ ہر رنگے کہ خوا
من انداز قدت

لیجیے ہم تمہارا ایمان ظاہر کرتے ہیں خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢) پر یوں کہتے ہیں کہ ”لولاک ہوتا تو میں آسمان پیدا نہ کرتا۔ مرزائیو! ذرا انصاف ہے یا مرزا علیہ ماعلیہ کے متعلق۔ ذرا سمجھ سوچ کر

بہ خود ثناء وفا ہا
بہ من حساب جفا

اعتراض : جب نبوت کے محل میں کسی نبی کی تشریف لانا کس طرح ممکن ہو سکتا ہے۔

جواب....... مثلاً اگر کہا جاوے کہ مرزا قادیانی ا کا یہ مطلب ہے کہ ان کی پیدائش کے ساتھ ہی تو حضور ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے یہ ک ہوگئی ہے یا عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا ختم نبو ہوئے اور اپنے والدین کے گھر میں خاتم الاولا بھائی کسی ملک میں گیا ہوا تھا وہ قادیان میں مرزا قادیانی کے خاتم الاولاد ہونے کے منافی

صفحہ ٤٩

سے نبوت کے محل کی تکمیل ہوگئی ہے۔ بدیں صورت میری ذات پر رسولوں کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ نبوت کی آخری اینٹ میں ہوں اور میں ہی نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں۔

مرزائیوں کا اعتراض

غیر احمدی کہتے ہیں کہ اگر حضورﷺ مبعوث نہ ہوتے تو قصر نبوت وغیرہ مکمل ہو چکا تھا۔ صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی۔ جس کو آپﷺ نے آ کر پر کیا۔ مگر ہمارا ایمان ہے کہ اگر آنحضرتﷺ پیدا نہ ہوتے تو نظام کائنات نہ بنایا جاتا۔ جواب....... مرزائیو! اس ابلہ فریبی کا کیا کہنا۔ کیا خوب رنگ بدلا ہے مگر یاد رہے ۔

بہ ہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش
من انداز قدت را می شناسم

لیجئے ہم تمہارا ایمان ظاہر کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص٩٩، خزائن ج٢٢ص١٠٢) پر یوں کہتے ہیں کہ ”لولاک لما خلقت الافلاک“ اے مرزا اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمان پیدا نہ کرتا۔ مرزائیو! ذرا انصاف سے بتانا کہ تمہارا حضورﷺ کے متعلق یہ ایمان ہے یا مرزا علیہ ماعلیہ کے متعلق۔ ذرا سمجھ سوچ کر جواب دینا ۔

بہ خود شمار وفا ہائے من ز مردم پرس
بہ من حساب جفا ہائے خویشتن یاد آر

(غالب)

اعتراض : جب نبوت کے محل میں کسی نبی کی گنجائش نہیں رہی تو آخر زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا کس طرح ممکن ہو سکتا ہے۔

جواب ....... مثلاً اگر کہا جاوے کہ مرزا قادیانی اپنے والدین کے گھر میں خاتم الاولاد ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ ان کی پیدائش کے ساتھ ہی ان کے والدین کے تمام بچے مر گئے ہیں۔ اگر نہیں تو حضورﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے یہ کس طرح لازم آیا کہ پہلے تمام انبیاء پر موت طاری ہو گئی ہے یا عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا ختم نبوت کے منافی ہے۔ مثلاً جس وقت مرزا قادیانی پیدا ہوئے اور اپنے والدین کے گھر میں خاتم الاولاد قرار پا چکے اور ان کی پیدائش سے قبل ان کا ایک بھائی کسی ملک میں گیا ہوا تھا وہ قادیان میں آ گیا تو اس کے آنے کو کوئی صحیح الدماغ انسان مرزا قادیانی کے خاتم الاولاد ہونے کے منافی نہیں سمجھے گا۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی کے بھائی کی

١٥

صفحہ ٥١

پیدائش ان سے پہلے ہو چکی تھی تو جس طرح مرزا کے بھائی کا اس ملک کو چھوڑ کر قادیان میں آنا مرزا کے خاتم الاولاد ہونے کے منافی نہیں۔ ایسے ہی عیسیٰ علیہ السلام کا اس وقت تشریف لانا حضور پر نور ﷺ کی خاتمیت کے منافی نہیں۔ اس لئے کہ ان کو پہلے نبوت مل چکی ہے۔ فقط!

باقی رہا یہ کمینہ عذر کہ معاذ اللہ مسلمان آنحضرت ﷺ کو اینٹ سے تشبیہ دیتے ہیں۔ سو مرزائیوں کو یہ بات کہتے ہوئے شرمانا چاہئے۔ اس لئے کہ اگر اس پر کوئی اعتراض ہو سکتا ہے تو وہ حدیث پر نہ کہ اس شخص پر جو اس کو نقل کر رہا ہے۔ حضور ﷺ کی غرض اس حدیث کے بیان فرمانے سے محض اپنی امت کی تفہیم مقصود ہے۔ مگر مرزائی یہودی صرف ایک وقتی اعتراض کر کے عہدہ برآ ہونا چاہتا ہے۔ سچ ہے ؎

بے حیا باش ہر چہ خواہی کن

حدیث ہشتم

”قال رسول اللہ ﷺ لعلیّ انت منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی (بخاری ج٢ ص٦٣٣ ، مسلم ج٢ ص٢٧٨ ، باب مناقب علیؓ) ”اے علی تیرے اور میرے درمیان وہ نسبت ہے جو کہ موسیٰ اور ہارون کے درمیان تھی۔“

سوال یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان کون سی نسبت تھی۔ ظاہر ہے کہ وہ نسبت دو امور پر مشتمل تھی۔ ایک قائم مقامی دوسرے اشتراک فی النبوۃ۔ اب حضرت علیؓ کو انہیں دو امور کے متعلق اشتباہ ہو سکتا تھا۔ یعنی قائم مقامی واشتراک فی النبوۃ حالانکہ حضور ﷺ کو ایک امر کا اثبات اور ایک کا انقطاع فرمانا مقصود تھا۔ لہٰذا حضور ﷺ نے یہ خیال فرما کر کہ کہیں حضرت علیؓ یہ نہ سمجھ لیں کہ جس طرح حضرت ہارون علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں ان کے قائم مقام تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام مستقل نبی تھے اور حضرت ہارون علیہ السلام ان کے تابع ہو کر نبی تھے۔ ایسا ہی میں بھی حضور ﷺ کی عدم موجودگی میں آپ ﷺ کا قائم مقام ہوں اور آپ ﷺ کے تابع ہو کر نبی ہوں۔ اس لئے حضور ﷺ نے ایک امر کا اثبات فرما دیا۔ یعنی قائم مقامی کا اور دوسرے کے متعلق ”لا نبی بعدی“ کہہ کر اس نبوت کی نفی کر دی جو کہ حضرت ہارون علیہ السلام میں تھی یعنی غیر تشریعی۔

حدیث نہم

”قال النبیّ لو کان بعدی نبی لکان عمر ابن الخطاب (ترمذی ج٢ ص٢٠٩) ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔“

١٦

اگر آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت باقی ہوتی تو فرماتے نہ کہ نفی کرتے۔ پس آپ ﷺ کے مطلقاً ن کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا۔

کوئی مستقل نبی ہونا ہوتا تو حضرت عمرؓ ہوتا۔ اس صو ہے۔ کیونکہ حضور ﷺ نے حضرت عمرؓ کو منصب نبو سے مانع صرف نبوت کا ختم ہونا فرمایا ہے۔ پس ج سے کوئی مانع نہیں۔ لہٰذا وہ ضرور نبی ہونے چاہئی نبوت ضرور کرتے۔ کیونکہ نبی کے لئے دعویٰ نبو نبوت نہیں کیا اور نہ ہی اہل اسلام میں سے کسی اب آپ غور فرماسکتے ہیں کہ جو سب سے زیادہ کی زبان مبارک سے ثابت ہو اس کو تو نبوت نہ م یہ امر عقلاً محال ہے۔

حدیث دہم

”ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقط

یعنی رسالت اور نبوت منقطع ہو چک ہوگا۔ اس کی بابت مرزا قادیانی فرماتے ہیں: منقطع ہے۔“

نیز (آئینہ کمالات ص٣٧٧، خزائن ج نبیا بعد نبینا خاتم النبیین وما کان ا یہ ہرگز نہیں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے خاتم النبی نبوت کو اس کے منقطع ہو جانے کے بعد پھر ج

مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ: ”قد انقطع ال آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہوگئی ہے ا

صفحہ ٥١

الف...... حضور ﷺ نے یہ قول حضرت عمرؓ کی مدح میں فرمایا ہے اور مقام مدح کا تقاضا یہ تھا کہ اگر آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت باقی ہوتی تو آپ ﷺ حضرت عمرؓ کے لئے اس کا اثبات فرماتے نہ کہ نفی کرتے۔ پس آپ ﷺ کے مطلقاً نفی فرمانے سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا۔

ب...... اگر حدیث میں نبی مستقل کی قید لگائی جائے اور معنی یہ کئے جائیں کہ اگر میرے بعد کوئی مستقل نبی ہونا ہوتا تو حضرت عمرؓ ہوتا۔ اس صورت میں حضرت عمرؓ کا نبی غیر مستقل ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ حضور ﷺ نے حضرت عمرؓ کو منصب نبوت کے قابل و مستحق بنایا ہے اور نبوت کے ملنے سے مانع صرف نبوت کا ختم ہونا فرمایا ہے۔ پس جب نبوت غیر مستقل ختم نہیں ہوئی تو اس کے ملنے سے کوئی مانع نہیں۔ لہٰذا وہ ضرور نبی ہونے چاہئیں۔ حالانکہ وہ نبی نہیں تھے۔ اگر ہوتے تو دعوٰی نبوت ضرور کرتے۔ کیونکہ نبی کے لئے دعوٰی نبوت کا اخفاء قطعاً جائز نہیں۔ جب انہوں نے دعوٰی نبوت نہیں کیا اور نہ ہی اہل اسلام میں سے کسی نے ان کو نبی مانا ہے تو معلوم ہوا کہ وہ نبی نہ تھے۔ تو اب آپ غور فرماسکتے ہیں کہ جو سب سے زیادہ مستحق نبوت ہو اور جس کا مستحق ہونا رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے ثابت ہو اس کو تو نبوت نہ ملے اور منشی غلام احمد صاحب قادیانی نبی بن جاویں یہ امر عقلاً محال ہے۔

حدیث دائم

"ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی بعدی"

(ترمذی شریف ج ٢ ص ٥٣)

یعنی رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی ہے۔ پس میرے بعد کوئی رسول اور کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اس کی بابت مرزا قادیانی فرماتے ہیں ۔ ”ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ وحی رسالت تابہ قیامت منقطع ہے۔“

(ازالۃ اوہام مطبوعہ لاہور ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢)

نیز (آئینہ کمالات ص ٣٧٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً) پر لکھتے ہیں : "ما کان الله ان يرسل نبيا بعد نبينا خاتم النبيين وما كان ان يحدث سلسلة النبوة ثانيا بعد انقطاعها"

یہ ہر گز نہیں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے خاتم النبیین کے بعد کسی کو نبی کر کے بھیجے اور نہ یہ ہوگا کہ سلسلہ نبوت کو اس کے منقطع ہو جانے کے بعد پھر جاری کرے۔ (حمامتہ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠) پر مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ : "قد انقطع الوحى بعد وفاته وختم الله به النبيين" بے شک آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔

١٧

صفحہ ٥٣

اور (حقیقت الوحی ص ٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩ ضمیمہ عربی) میں لکھتے ہیں: ”وان رسولنا خاتم النبيين وعليه انقطعت سلسلة المرسلين “ تحقیق ہمارے رسول خاتم النبیین ہیں اور ان پر رسولوں کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔

حدیث یاز دہم

” حدثنا اسمعيل قلت لابن ابي اوفی رایت ابراهيم ابن النبى ﷺ قال مات صغيرا ولو قضى ان يكون بعد محمد ﷺ نبي لعاش ابنه ولكن لا نبي بعده “ اسماعیل جو سند میں مذکور ہیں۔ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفی سے دریافت کیا کہ آپ نے حضور پرنور ﷺ کے صاحبزادہ صاحب ابراہیم کو دیکھا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ وہ تو چھوٹے ہی رحلت فرما گئے تھے اور اگر یہ فیصلہ ازل میں ہو چکا ہوتا کہ محمد ﷺ کے بعد کسی کو منصب نبوت عطاء ہوگا تو آپ کے صاحبزادے زندہ رہتے۔ لیکن آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ لہٰذا ان کو زندہ نہیں رکھا گیا۔

حدیث دوازدہم

” انا اخر الانبياء وانتم اخر الامم (ابن ماجه باب فتنة دجال ص ٣٠٧) “ ﴿میں سب نبیوں کا پچھلا نبی ہوں اور تم تمام امتوں کی پچھلی امت ہو۔﴾ اگرچہ مذکورہ سات آیات قرآنی اور بارہ احادیث نبوی ﷺ سے مسئلہ ختم نبوت بغیر کسی کی کھینچ تان کے آفتاب نیمروز سے زیادہ تر واضح ہو گیا ہے۔ مگر ہم مزید وضاحت کے لئے مذکورہ مسئلہ کو اجماع امت اور دلائل عقلیہ سے ثابت کرتے ہیں۔ ناظرین بغور پڑھیں۔

اجماع امت

حضرت ابو بکرؓ فرماتے ہیں کہ ”قد انقطع الوحی وتم الدین “ ترجمہ: کہ وحی منقطع ہو گئی اور دین مکمل ہو گیا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے آپ کی وفات پر کہا ”بابی انت وامی یا رسول الله قد بلغ من فضيلتك عنده ان بعثك اخر الانبياء “ یعنی میرے ماں باپ قربان آپ ﷺ کو خدا نے آخری نبی بھیجا تھا۔

(مواہب الرحمن ج ٢ ص ٢٩٦)

حضرت علیؓ فرماتے ہیں۔ ”وهو خاتم النبيين “ کہ آپ ﷺ نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔

(شمائل ترمذی ص ٢)

حضرت انسؓ فرماتے ہیں: ”لان نبيكم خاتم الانبياء “ کہ آپ آخری نبی ہیں۔

(تلخیص التاریخ جلد ١ ص ٢٩٤)

١٨

” وكونه ﷺ خاتم النبيين مم واجمعت عليه الامة فيكفر مدعى خل ص ٦٥) “ یعنی آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہون کتابیں ناطق ہیں اور احادیث نبویہ بہ وضاحت بیا پس اس کے خلاف کا مدعی کافر ہے۔ اگر توبہ نہ کر ہیں۔ ” ومن اعتقد وحيا بعد محمد ﷺ ك مکی) “ یعنی جو شخص آپ ﷺ کے بعد کسی وحی کا ” ودعوى النبوة بعد نبينا ﷺ كفر با ہمارے نبی ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت بالاجماع کفر شفاء قاضی عیاضؒ میں مرقوم ہے: ” ا واخبر عن الله تعالى انه خاتم النبيـ الكلام على ظاهره وان مفهومه المراد فى كفر هولاء الطوائف كلها قطعا ا آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ ﷺ کے بع خبر دی ہے کہ آپ ﷺ انبیاء کے ختم کرنے و بالکل اپنے ظاہر پر محمول ہے اور جو اس کا مفہو تاویل و تخصیص کے مراد ہے۔ پس ان لوگوں قطعی اور اجماعی عقیدہ ہے۔

امام غزالیؒ کی شخصیت کسی تعارف جن پر حضور سید عالم ﷺ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ ہیں کہ میری امت میں غزالی جیسی ہستیاں ہیں ”شیخ ابوالحسن شاذلیؒ کہ قطب زم رسالت ﷺ با موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام مفاخر بہ تقریر بعضے منکراں غزالی امر فرمود۔“ یعنی واقعہ دیکھا اس کی یوں خبر دی ہے کہ حضرت ساتھ امام غزالیؒ کے بارے میں فخر ومباہات

صفحہ ٥٣

"وکونه ﷺ خاتم النبیین مما نطقت به الکتاب وشهدت به السنة واجمعت علیه الامة فیکفر مدعی خلافه ویقتل ان اصر (روح المعانی ج٧ ص٦٥) ”یعنی آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ان مسائل میں سے ہے جس پر تمام آسمانی کتابیں ناطق ہیں اور احادیث نبویہ بہ وضاحت بیان کرتی ہیں اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے۔ پس اس کے خلاف کا مدعی کافر ہے۔ اگر توبہ نہ کرے تو قتل کر دیا جائے۔ علامہ ابن حجر مکی فرماتے ہیں ۔ ”ومن اعتقد وحیا بعد محمد ﷺ کفر باجماع المسلمین (فتاوی ابن حجر مکی) ”یعنی جو شخص آپ ﷺ کے بعد کسی وحی کا معتقد ہو وہ کافر ہے۔ ملا علی قاری فرماتے ہیں ۔ "ودعوی النبوة بعد نبینا ﷺ کفر بالاجماع (شرح فقه اکبر ص ٢٠٢) ”یعنی ہمارے نبی ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت بالاجماع کفر ہے۔

شفاء قاضی عیاض میں مرقوم ہے۔ ”اخبر انه ﷺ خاتم النبیین ولا نبی بعده واخبر عن الله تعالی انه خاتم النبیین واجمعت علیه الامة علی حمل هذا الکلام علی ظاهره وان مفهومه المراد به بدون تاویل ولا تخصیص فلاشک فی کفر هولاء الطوائف کلها قطعا اجماعا وسمعا“ ”یعنی آپ ﷺ نے خبر دی کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دی ہے کہ آپ ﷺ انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں اور اس پر امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام بالکل اپنے ظاہر پر محمول ہے اور جو اس کا مفہوم ظاہری الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے۔ وہی بغیر کسی تاویل و تخصیص کے مراد ہے۔ پس ان لوگوں کے کفر میں کوئی شبہ نہیں ہے جو اس کا انکار کریں اور یہ قطعی اور اجماعی عقیدہ ہے۔

امام غزالی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں کون نہیں جانتا کہ یہ وہی بزرگ ہیں کہ جن پر حضور سید عالم ﷺ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کے رو برو فخر و مباہات کرتے اور فرماتے ہیں کہ میری امت میں غزالی جیسی ہستیاں ہیں۔ چنانچہ عبارت ذیل ہے۔ (کلمات الانس ص ٣٣٥) " شیخ ابو الحسن شاذلی کہ قطب زمان بود از واقعہ ئی که دیده چنیں خبر داده است که حضرت رسالت ﷺ با موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام مفاخرت و مباہات کرده است بغزالی و حضرت رسالت ﷺ بہ تعزیر بعضے منکراں غزالی امر فرمود۔ “ یعنی شیخ ابوالحسن شاذلی کہ قطب زمان تھے۔ انہوں نے جو واقعہ دیکھا اس کی یوں خبر دی ہے کہ حضرت رسالت ﷺ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کے ساتھ امام غزالی کے بارے میں فخر و مباہات کرتے تھے اور حضور نے امام غزالی کے منکرین کو تعزیر ١٩

صفحہ ٥٥

فرماتی ہے۔ مذکورۃ الصدر عبارت سے معلوم ہو گیا کہ امام غزالی کی دربار رسالت میں کس قدر مقبولیت ہے۔ اب ممدوح کا عقیدہ سنئے! فرماتے ہیں ۔

”پس بہ آخر ہمہ رسول مارا ﷺ فرستاد و نبوت وے بدرجہ کمال رسانیدہ ہیچ زیادت را بہ آں راہ نبود و بہ ایں سبب اورا خاتم الانبیاء کرد کہ بعد از وے ہیچ پیغمبر نباشد۔“

(کیمیائے سعادت ص ٦١)

ترجمہ : پھر سب پیغمبروں کے بعد ہمارے رسول ﷺ کو خلق کی طرف بھیجا اور آپ کی نبوت کو ایسا کمال کے درجہ تک پہنچایا کہ اب اس پر زیادتی محال ہے۔ اسی واسطے آپ کو خاتم الانبیاء کہا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ (شرح فقہ اکبر ملا علی قاری ص ٢٩) میں ہے۔ ”اولہم آدم و آخرہم محمدﷺ“ ﴿اول الانبیاء آدم ہیں اور آخر الانبیاء محمدﷺ۔﴾

(شرح عقائد نسفی ص ٩٩) میں ہے۔ ”واول الانبیاء آدم و آخرہم محمدﷺ“ ﴿اول الانبیاء آدم ہیں اور آخر الانبیاء محمدﷺ۔﴾

ایضاً ( فتوحات مکیہ شریف ص ٥١ ج ٣) میں حضرت محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں ۔ ”فما بقی للاولیاء بعد ارتفاع النبوۃ الا التعریفات وانسدت ابواب الاوامر والنواہی فمن ادعاہا بعد محمدﷺ فہو مدع شریعۃ اوحی الیہ سواء وافق بہا شرعنا اوخالف “ ﴿ نبوت مرتفع ہو چکی امر و نواہی کا دروازہ بند ہو گیا جو حضور ﷺ کے بعد یہ دعویٰ کرے کہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی تو وہ مدعی شریعت کا ہے۔ خواہ وہ ہماری شریعت کے مخالف ہو یا موافق ۔﴾

حضرت امام شعرانی اس عبارت کے ساتھ اور اضافہ فرماتے ہیں۔ ”فان کان مکلفا ضربنا عنقہ والا ضربنا عنہ صفحا (الیواقیت ج ٢ ص ٣٤) “صاحب شریعت ہونے کا مدعی ہو۔ (جیسے مرزا ہے) اپنی امر و نہی بتانے والا (جیسے مرزا نے کہا) اگر عاقل ہو تو بہ وجہ ارتداد اس کی گردن اڑا دیں گے اور اگر کوئی پاگل مراقی سودائی ایسی باتیں کرے گا تو مجنوں سمجھ کر چھوڑ دیں گے۔ اسی طرح حضرت ابن عربی (فتوحات مکیہ ج ٢ ص ٢٦) میں فرماتے ہیں۔ ”اسم النبی زال بعد محمدﷺ “ ﴿ حضور ﷺ سید الکونین کے بعد نبی کا لفظ ہی کسی پر اطلاق کرنا جائز نہیں۔﴾

ان مشتے نمونہ از خروارے حوالوں سے اصل مسئلہ کی کافی وضاحت ہو جاتی ہے اور نبوت کا بالاجماع کمال کو پہنچ کر ختم ہو جانا کسی مزید بیان کا منت گذار نہیں رہتا۔ لہٰذا میں رسالہ کی

٢٠

ضخامت کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہیں حوالہ جات پر ا کرتا ہوں :

دوش از مسجد سوئے میخانہ آمد پیر ما

دلائل عق

دلیل اوّل

نظام کائنات ایک درسگاہ ہے اور انبیاء آ اعلیٰ کی تعلیم سب کے آخر میں ہوتی ہے۔ اس لئے آ لئے جاویں معلم اعلیٰ کی تعلیم کا حاصل کرنا دائرہ امکا سید عالم ﷺ کو جملہ انبیاء کے آخر بھیجا گیا۔

دلیل دوم

کسی نبی کے بعد دوسرے نبی کے آ کسی صیغہ کی تعلیم غیر مکمل رہ گئی ہو تو اس کی تکمیل وجہ یہ ہے کہ پہلے نبی کی تعلیم میں تحریف ہو گئی ہو، صحیح تعلیم دے کر بھیج دیا جاتا ہے۔ تا کہ لوگ صح تعلیم کے بعد نہ تو کوئی صیغہ تعلیم غیر مکمل رہا ہے دیا جائے اور نہ ہی آپ کی تعلیم میں تحریف واقع نبی کو صحیح تعلیم کے لئے بھیجنے کی ضرورت ہو۔ کیونک تک محفوظ رکھنے کا اعلان فرما دیا ہے جو سورۃ حجر ک لحافظون “ میں مذکور ہے۔ یعنی ہم نے ہی تقریباً ساڑھے تیرہ سو سال کا مشاہدہ اس پر تبدیلی بھی نہیں ہوئی۔ حروف و کلمات کی تبدیلی کے بعد کسی نبی کے بھیجنے کی کیا ضرورت ہے۔

دلیل سوم

آپ کے بعد مستقل نبی کا نہ آنا ت صرف نبی غیر مستقل کا آنا ہے۔ لہٰذا اس کے

صفحہ ٥٥

ضخامت کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہیں حوالہ جات پر اکتفا کرتا ہوں اور دلائل عقلیہ کی طرف رجوع کرتا ہوں:

دوش از مسجد سوئے میخانہ آمد پیر ما چیست یاران طریقت بعد ازیں تدبیر ما

دلائل عقلیہ

دلیل اوّل

نظام کائنات ایک درسگاہ ہے اور انبیاء کرام بہ منزلہ معلمین کے ہیں اور ظاہر ہے کہ معلم اعلیٰ کی تعلیم سب کے آخر میں ہوتی ہے۔ اس لئے کہ جب تک تعلیم کے ابتدائی مراتب حاصل نہ کر لئے جاویں معلم اعلیٰ کی تعلیم کا حاصل کرنا دائرہ امکان سے خارج ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے سید عالمﷺ کو جملہ انبیاء کے آخر بھیجا گیا۔

دلیل دوم

کسی نبی کے بعد دوسرے نبی کے آنے کی دو وجہ سے ضرورت ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ کسی صیغہ کی تعلیم غیر مکمل رہ گئی ہو تو اس کی تکمیل کے لئے کوئی دوسرا نبی بھیج دیا جاتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ پہلے نبی کی تعلیم میں تحریف ہو گئی ہو، دنیا میں اس کی صحیح تعلیم باقی نہ رہ گئی ہو تو دوسرا نبی صحیح تعلیم دے کر بھیج دیا جاتا ہے۔ تا کہ لوگ صحیح تعلیم سے محروم نہ رہیں۔ لیکن رسول اللہﷺ کی تعلیم کے بعد نہ تو کوئی صیغہ تعلیم غیر مکمل رہا ہے۔ جس کی تکمیل کی غرض سے کسی دوسرے نبی کو بھیج دیا جائے اور نہ ہی آپ کی تعلیم میں تحریف واقع ہوئی ہے اور نہ قیامت تک ہوگی۔ جو کسی دوسرے نبی کو صحیح تعلیم کے لئے بھیجنے کی ضرورت ہو۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کو تحریف سے قیامت تک محفوظ رکھنے کا اعلان فرما دیا ہے جو سورۃ حجر کی آیت ”انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون“ میں مذکور ہے۔ یعنی ہم نے ہی کلام مجید کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں اور تقریباً ساڑھے تیرہ سو سال کا مشاہدہ اس پر شاہد ہے کہ کلام الٰہی میں آج تک ایک حرکت کی تبدیلی بھی نہیں ہوئی۔ حروف و کلمات کی تبدیلی تو درکنار رہی، تو اب آپ غور فرماویں کہ آپﷺ کے بعد کسی نبی کے بھیجنے کی کیا ضرورت ہے۔

دلیل سوم

آپ کے بعد مستقل نبی کا نہ آنا تو فریق مخالف کے نزدیک بھی مسلّم ہے۔ متنازعہ فیہ تو صرف نبی غیر مستقل کا آنا ہے۔ لہٰذا اس کے متعلق مرزائیوں سے چند امور دریافت طلب ہیں۔

٢١

صفحہ ٥٧

الف ...... یہ مسئلہ اپنی اہمیت کے اعتبار سے ایسا نہیں کہ اس میں صرف رائے زنی سے کام لیا جاوے۔ بلکہ اس کے اثبات کے لئے نصوص قطعیہ کا ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا کوئی ایسی نص پیش کیجئے جو نبوت غیر مستقلہ کے عدم انقطاع پر صراحتاً دال ہو۔

ب ...... نبوت غیر مستقلہ کے ملنے کا دارو مدار کیا چیز ہے۔ اس کی تعین و دلیل تعین، دونوں کے بیان کرنے کے بعد بتلائیے کہ وہ چیز صحابہ کرامؓ میں بھی تھی یا کہ نہیں۔ اگر تھی تو ان کو نبوت کیوں نہ ملی اور اگر نہیں تھی تو یہ بات اجماع امت کے خلاف ہے۔ کیونکہ صحابہ کرامؓ کا تمام امت میں افضل ہونا مجمع علیہ ہے اور صورت مفروضہ میں غیر صحابی کا صحابہؓ سے افضل ہونا لازم آتا ہے۔ لہٰذا یہ شق جو مستلزم ہے خلاف اجماع کو۔ یہ مردود ہے اور قابل تسلیم نہیں اور علاوہ اس کے یہ بات فیصلہ عقل کے بھی خلاف ہے۔ کون سا عاقل اس بات کو تسلیم کر سکتا ہے کہ منشی غلام احمد جیسوں میں ایسی خوبی پائی جاوے جس سے ابو بکر صدیقؓ جیسے حضرات بھی محروم رہے ہوں۔ العیاذ باللہ!

ج ...... کیا حضور سید یوم النشور ﷺ کے بعد ساڑھے تیرہ سو سال میں کوئی نبی مبعوث ہوا ہے یا نہیں۔ اگر ہوا ہے تو اس کا حوالہ عنایت ہو اور اگر نہیں ہوا تو اس کی وجہ بیان فرما دیجئے کہ باوجود نبوت منقطع نہ ہونے کے اس قدر زمانہ دراز تک لوگوں کو اس نعمت عظمیٰ سے کیوں محروم رکھا گیا؟

دلیل چہارم

نبوت اور رسالت اور نبی یہ تینوں کلیاں ہیں۔ خواہ از جنس متواطی ہوں یا از جنس مشکک۔ ان تینوں پر لائے نفی جنس واقع ہوا ہے جو مفید استغراق ہوتا ہے عند النحاۃ۔ پس نبوت کی نفی سے تمام افراد نبوت کی نفی ہوگئی اور رسالت کی نفی سے تمام افراد رسالت کی نفی ہوگئی اور نبی کی نفی سے تمام افراد نبی کی نفی ہوگئی اور نبوت غیر تشریعی بھی افراد نبی سے ہے۔ پس اس کی بھی نفی ہوگئی۔ لہٰذا حضور سید یوم النشور ﷺ کے بعد نبی غیر تشریعی بھی نہیں آسکتا۔

اجرائے نبوت پر مرزائی دلائل اور ان کے جوابات

پہلی دلیل

”اللہ یصطفی من الملئکۃ رسلا ومن الناس (الحج:٧٥)“ اللہ ہی چنتا ہے یا چنے گا فرشتوں میں سے رسول اور انسانوں میں سے۔ اس آیت میں یصطفی مضارع کا صیغہ ہے جو حال اور استقبال دونوں کے لئے آتا ہے۔ پس یصطفی کے معنی ہیں چنتا ہے یا چنے گا مگر اس آیت میں یصطفی سے حال مراد نہیں لیا جا سکتا۔ کیونکہ لفظ رسل جمع ہے اس سے مراد

٢٢

آنحضرت ﷺ واحد نہیں ہو سکتے۔ پس ماننا پڑے ہے اور یصطفی مستقبل کے لئے ہے۔

جواب ...... مرزائیو! ہوش کرو کہاں مسئلہ ختم نبوت تحریفات۔ ”اذا فاتک الحیا فافعل ماشئ کہ آنحضرت ﷺ چونکہ واحد ہیں۔ وہ اس کے م مصداق کس طرح بن جاوے گا کیا وہ جمع ہے؟ ہونے والے فرشتے کو بھی تو جمع کے صیغے سے ؟ اترتے تھے؟ انبیاء تو پھر بھی ہزارہا ہوئے ہیں۔ ہے۔ جیسا کہ تمہاری (پاکٹ بک ص ٥٣٢) پر ۔ ہیں۔ ان کے سوا کوئی دوسرا فرشتہ اس کام پر مقرر علی قلبک باذن اللہ “ جبرائیل نے اس قرآ ”رسولوں کی تعلیم اور اعلام کے لئے جبرائیل علیہ السلام کے اور بہ ذریعہ آیات ربانی

پس جب کہ پیغام رساں فرشتے کو کیا گیا ہے تو پھر آنحضرت ﷺ پر اس کا استعما الحمد للہ ! کہ مرزائیوں کے اعتراض ہے۔ اس لئے آنحضرت واحد مراد نہیں لئے مرزائی کرتے ہیں۔ یعنی اللہ ہی چنے گا فرشتوں اس صورت میں چنتا ہے نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ فصول اکبری تک یہی لکھا ہے کہ مضارع یا حا اٹھا۔ تو معلوم ہو گیا کہ اگر یصطفی کا ترجمہ چ میں آیت مذکورہ کے معنے یہ ہوں گے کہ اللہ غلط ہے۔ کیونکہ سرور انبیاء اس وقت موجود ۔ ترجمہ عقلاً و نقلاً مردود ہے۔ اس آیت کا ترجمہ چنے گا، کرنے

صفحہ ٥٧

آنحضرت ﷺ واحد نہیں ہو سکتے۔ پس ماننا پڑے گا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت جاری ہے اور یصطفی مستقبل کے لئے ہے۔

جواب...... مرزائیو! ہوش کرو کہاں مسئلہ ختم نبوت کے صریح دلائل اور کہاں اس قسم کی یہود یانہ تحریفات۔ ”اذا فاتک الحیا فافعل ماشئت“ تم یصطفی کا حال اس لئے ترجمہ نہیں کرتے کہ آنحضرت ﷺ چونکہ واحد ہیں۔ وہ اس کے مصداق نہیں بن سکتے۔ یہ تو بتاؤ کہ پھر مرزا اس کا مصداق کس طرح بن جاوے گا کیا وہ جمع ہے؟ پھر یہ دیکھئے کہ آیت مذکورہ میں انبیاء پر نازل ہونے والے فرشتے کو بھی تو جمع کے صیغے سے بیان کیا گیا ہے۔ کیا انبیاء پر دو دو چار چار فرشتے اترتے تھے؟ انبیاء تو پھر بھی ہزار ہا ہوئے ہیں۔ لیکن ان پر نازل ہونے والا فرشتہ تو صرف ایک ہی ہے۔ جیسا کہ تمہاری ( پاکٹ بک ص ٥٣٤) پر ہے۔ ” جبرائیل انبیاء کی طرف وحی لانے پر مقرر ہیں۔ ان کے سوا کوئی دوسرا فرشتہ اس کام پر مقرر نہیں ۔“ قرآن پاک میں یہی شاہد ہے کہ ”نزلہ علیٰ قلبک باذن اللہ “ جبرائیل نے اس قرآن کو تیرے قلب پر اتارا ہے۔

”رسولوں کی تعلیم اور اعلام کے لئے یہی سنت اللہ قدیم سے جاری ہے جو بہ واسطہ جبرائیل علیہ السلام کے اور بذریعہ آیات ربانی کلام رحمانی کے سکھائے جاتے ہیں ۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٣٤، خزائن ج ٣ ص ٣٨٧ ملخص)

پس جب کہ پیغام رساں فرشتے کو باوجود واحد ہونے کے جمع کے صیغہ رسل سے ذکر کیا گیا ہے تو پھر آنحضرت ﷺ پر اس کا استعمال کیوں ناجائز ہے۔

الحمد للہ ! کہ مرزائیوں کے اعتراض کی حقیقت تو واضح ہو گئی کہ آیت میں جمع کا صیغہ ہے۔ اس لئے آنحضرت واحد مراد نہیں لئے جا سکتے اور اگر آیت کا وہی ترجمہ کیا جائے جو کہ مرزائی کرتے ہیں۔ یعنی اللہ ہی چنے گا فرشتوں میں سے رسول اور انسانوں میں سے تو ظاہر ہے کہ اس صورت میں چنتا ہے نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ علم صرف کی کتابوں میں میزان الصرف سے لے کر فصول اکبری تک یہی لکھا ہے کہ مضارع یا حال یا استقبال کے لئے آتا ہے نہ کہ دونوں کے لئے اکٹھا۔ تو معلوم ہو گیا کہ اگر یصطفی کا ترجمہ چنے گا، کیا جائے تو چنتا ہے کرنا نا جائز ہو گا اس صورت میں آیت مذکورہ کے معنے یہ ہوں گے کہ اللہ رسول کو چنے گا۔ اب تک چنا نہیں۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ سرور انبیاء اس وقت موجود تھے اور آیت بھی انہیں پر نازل ہوئی۔ معلوم ہوا کہ یہ ترجمہ عقلاً ونقلاً مردود ہے۔

اس آیت کا ترجمہ چنے گا، کرنے میں دوسرا استحالہ یہ لازم آتا ہے کہ اس صورت میں

٢٣

صفحہ ٥٩

کلام الٰہی میں تعارض لازم آئے گا۔ اس لئے کہ ہم پہلے متعدد آیات قرآنی سے حضور کا خاتم النبیین ہونا ثابت کر آئے ہیں اور حالت تعارض میں کلام ربانی کا من جانب اللہ ہونا محال ہے۔ جیسا کہ خداوند تعالیٰ نے خود فرمایا ہے۔ ”لو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیراً (النساء: ٨٢)“ اگر قرآن مجید غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو اس میں مخالف و تناقض پایا جاتا۔ تو باری تعالیٰ نے عدم مخالف کو اس کے من جانب اللہ ہونے کی دلیل ٹھہرایا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ اس میں مخالف و تناقض نہیں اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ جب ہم آیت کا ترجمہ یونہی کریں۔ ”فالحمد لله علی ذالک“

آیت کا مفہوم تو صرف اس قدر ہے جو کہ سیاق و سباق کلام سے واضح ہے کہ جب منکرین اسلام کے روبرو کلام خداوندی پڑھا جاتا تو وہ نہ صرف بگڑتے بلکہ مارنے کو دوڑتے۔ خدا نے فرمایا کہ تم اس قدر کیوں بگڑتے اور برہم ہوتے ہو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ تمہاری مرضی کے مطابق رسول بنا کر بھیجا جاتا۔ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ”اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ (الانعام: ١٢٤)“ اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ اپنی رسالت کو کہاں رکھے۔ اس میں تمہاری عقل نارسا کو کوئی دخل نہیں۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ اللہ ہی چنتا ہے فرشتوں میں سے رسول جو اس کے احکام انبیاء کے پاس لاتے ہیں اور انسانوں میں رسول چنتا ہے جو تبلیغ کا کام کرتے ہیں۔ الغرض اس آیت میں آئندہ رسولوں کے آنے کا کوئی ذکر نہیں اور اگر بہ فرض محال ہو بھی تو نبی تشریعی کا نہ کہ غیر تشریعی کا۔

اتنی سی بات تھی جسے افسانہ کر دیا

دلیل دوسری

”یابنی آدم اما یاتینکم رسل منکم (الاعراف: ٣٥)“ اے بنی آدم البتہ ضرور آویں گے تمہارے پاس رسول۔ یہ آیت آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی اس میں تمام انسانوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ یہاں یہ نہیں لکھا کہ ہم نے گذشتہ زمانہ میں یہ کہا تھا سب جگہ آنحضرت اور آپ کے بعد کے زمانہ کے لوگ مخاطب ہیں۔

(پاکٹ بک احمدیہ ص ٥٠٤)

جواب ...... صحیح ترجمہ یہ ہے۔ اے بنی آدم اگر تمہارے پاس تم میں سے میری طرف سے رسول آئیں میری آیات تم پر پڑھیں پس جو شخص تقویٰ اختیار کر لے اور صلاحیت کو عمل میں لاوے تو ایسے لوگوں کو کوئی خوف و خطرہ نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ کسی قسم کا حزن و غم پاویں گے۔

٢٤

اقوال مرزا

رسول سے ہر جگہ مراد خدا کا رسول نہیں ہے۔ مرزا غلام احمد کہتا ہے۔

جس میں رسول اور نبی اور محدث داخل ہیں۔“

ہوتا۔ رسولوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ ک رسول یا محدث یا مجدد ہوں۔“

نبیوں کا نام مرسل رکھا۔ ایسا ہی محدثین کا نام مرسل میں ’و قفینا من بعدہ بالرسل‘ آیا ہے اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسل سے مراد مرسل چونکہ ہمارے سید و رسول خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آ شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے ہیں

بہ چشم خویش گر
چہ گویمت کہ چشما

یہ امر آفتاب نیمروز کی طرح واضح ہو النبی ﷺ کے برگزیدہ بندے اور مقبول انسان کو مضر۔ اگر یہ فرض محال آیت مذکورہ سے ج غیر تشریعی کا، جو امر نبی تشریعی کے آنے سے ما ”فما جوابکم فھو جوابنا“ ”اما یاتینکم رسل منکم“ یاتینکم منی ھدی “ میں دوامی طور پر ہدا رسول آ سکتے ہیں تو قرآن مجید کے بعد کتاب بھ

صفحہ ٥٩

اقوال مرزا

رسول سے ہر جگہ مراد خدا کا رسول نہیں کیونکہ اس لفظ میں محدث اور مجدد بھی شامل ہے۔ مرزا غلام احمد کہتا ہے۔

جس میں رسول اور نبی اور محدث داخل ہیں۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

ہوتا۔ رسولوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے جاتے ہیں۔ خواہ نبی ہوں یا رسول یا محدث یا مجدد ہوں۔“

(ایام صلح حاشیہ ص ١٧١، خزائن ج ١٤ ص ٤١٨)

نبیوں کا نام مرسل رکھا۔ ایسا ہی محدثین کا نام مرسل رکھا اور اسی اشارہ کی غرض سے قرآن شریف میں ”وقفينا من بعدہ بالرسل“ آیا ہے اور یہ نہیں آیا ”وقفينا من بعده بالانبیاء“ پس یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسل سے مراد مرسل ہیں۔ خواہ وہ رسول ہوں یا نبی یا محدث ہوں۔ چونکہ ہمارے سید ورسول خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت کے کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ اس لئے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے ہیں۔“

(شہادۃ القرآن ص ٢٨، خزائن ج ٦ ص ٣٢٤، ٣٢٣)

بہ چشم خویش نگر اینک آستینم را
چہ گوئمت کہ چشماں بار باری گریم

(مظہر ہدیٰ)

یہ امر آفتاب نیمروز کی طرح واضح ہو گیا کہ مذکورہ آیت میں الرسل سے حضور سید یوم النشور ﷺ کے برگزیدہ بندے اور مقبول انسان مراد ہیں۔ یہ آیت نہ مرزائیوں کو مفید ہے نہ ہم کو مضر۔ اگر بہ فرض محال آیت مذکورہ سے جریان نبوت کا ثبوت ملتا ہے تو نبوت تشریعی کا نہ کہ غیر تشریعی کا، جو امر نبی تشریعی کے آنے سے مانع ہے وہی غیر تشریعی نبی کے آنے سے مانع ہے۔ ”فما جوابكم فهو جوابنا“ ”اما ياتينكم رسل منكم“ میں اگر ہمیشہ رسولوں کے آنے کا وعدہ ہے تو ”اما ياتينكم منى هدى“ میں دوامی طور پر ہدایتوں کے آنے کا وعدہ ہے۔ اگر آپ ﷺ کے بعد رسول آسکتے ہیں تو قرآن مجید کے بعد کتاب بھی آ سکتی ہے۔

٢٥

صفحہ ٦١

منشی غلام احمد کا قول: ”(خدا) وعدہ کر چکا ہے کہ بعد آنحضرت کے کوئی رسول بنا کر نہیں بھیجا جائے گا۔“

(ازالہ اوہام ص ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١)

دلیل تیسری

”اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت عليهم (الفاتحہ: ٥، ٦)“ مرزائیوں کے استنباطات عجیبہ سے ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے سورۃ فاتحہ سے جریان نبوت کی دلیل پکڑی ہے۔ صورت استدلال یوں بیان کی ہے کہ جن لوگوں پر خدائے تعالیٰ کے انعامات ہیں وہ چار ہیں۔ چنانچہ لکھا ہے: ”ومن يطع الله والرسول فاولئک مع الذين انعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين وحسن اولئک رفيقاً (النساء: ٦٩)“ یعنی جو لوگ خدا اور رسول کے کہنے پر چلے تو ان کو ان لوگوں کا ساتھ نصیب ہوگا۔ جن پر خدا نے انعام کیا ہے اور وہ انبیاء ہیں اور صدیقین ہیں اور شہید ہیں اور صالحین ہیں اور یہ سب اچھے رفیق ہیں۔

مرزائی کہتے ہیں کہ جب ہم اللہ اور رسول کی اطاعت بھی کرتے ہیں اور ”صراط الذين انعمت عليهم“ سے دعا بھی کرتے ہیں اور اس سے ہم صدیقیت اور شہادت اور صالحیت کے مقام پر ترقی کر سکتے ہیں تو ان سب کے ساتھ انبیاء کی رفاقت کا بھی ذکر ہے تو اگر آنحضرت کے بعد نبوت بالکل بند ہو اور کوئی شخص بھی نبی نہ بن سکے تو یہ دعا بھی اکارت جائے گی اور اطاعت بھی بے ثمر رہے گی۔ پس لازم ہے کہ اس دعا کی قبولیت اور اس کی اطاعت کا ثمر درجہ نبوت کی عطا کی صورت میں بھی ہو۔

(اعجاز المسیح ص ١٧٠، ١٧١، خزائن ج ١٨ ص ١٧٥)

جواب....... مرزائیوں کا یہ استنباط و استدلال بہ چند وجوہ از سر تا پا باطل محض ہے۔ اس لئے کہ:

ہے اور جو استنباط قرآن وحدیث کے خلاف ہو وہ باطل ہوتا ہے۔ نیز اس آیت میں دنیا کے اندر نبوت وغیرہ کے مقام ملنے کا کوئی ذکر نہیں۔ بلکہ یہ ہے کہ جو شخص مؤمن ہے وہ آخرت میں انبیاء وصدیق و شہداء و صالحین کے ساتھ ہوگا۔ چنانچہ اگلے الفاظ ”اولئک حسن رفیقا“ رفاقت پر دال ہیں اور آیت میں مع کا لفظ بھی موجود ہے۔ جس کے معنی ہیں ”ساتھ کے“ خود مرزائی مانتا ہے کہ مع کے معنی ساتھ کے بھی ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ”ان الله مع المتقین“ کہ خدا نیک لوگوں کے ساتھ ہے۔

(پاکٹ بک ص ٥٠٢)

مرزائی کہتے ہیں کہ اگر اس جگہ مع کے معنی ساتھ کے کئے جاویں تو مسلمانوں کو کوئی درجہ

٢٦

بھی نہ ملا نہ صدیقیت کا نہ شہادت کا نہ صالحیت کا یہ محض ان کے سا

جواب....... مرزائیو! اس آیت میں درجات کے ملنے کا ذکر نہ یہاں تو صرف قیامت میں نیک رفاقت کی خوشخبری ہے۔ ہاں دوسرے مقام پر یوں ذکر کیا گیا ہے۔ ’والذین آمنوا وعم الصالحین (العنکبوت:٩) ”جو لوگ ایمان لائے اور ا کئے جاویں گے۔ ﴿

میں ”منعم علیهم“ کی راہ پر چلنے کی دعا ہے نہ کہ نبی بن ہدایتوں پر عمل کریں اور ان کے طریق عمل کو نمونہ بنائیں۔ جیس رسول الله اسوة حسنة (الاحزاب: ٢١) ”یعنی تمہار نمونہ ہیں۔ اگر انبیاء کے راستے کا یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ ہم ن پیروی سے ہم خدا بھی بن سکیں گے؟ دیکھئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے فاتبعوه (الانعام: ١٥٣) ”یعنی میرا راستہ ہے اس کی پیروی

اگر نبوت کا ملنا دعاؤں پر اور التجاؤں پر موقوف ہوتا تو یہ صحاب میں آیت مذکورہ پڑھا کرتے تھے۔

غور طلب نتائج

بھی مانگی۔ بلکہ یہ دعا مانگنا آپ ﷺ نے ہی امت کو سکھایا مانگی جب آپ ﷺ نبی منتخب ہو چکے تھے اور آپ ﷺ پر قر کہ آپ ﷺ اس دعا سے نبی نہیں ہوئے پھر اس دعا کا فائد

کہ اب جدید شریعت یا کتاب اس لئے نازل نہیں ہو سکتی ک ہے تو اسی طرح اب کوئی نبی اور رسول نہیں آسکتا۔ اس لئ کبریا محمد مصطفی ﷺ پر کامل ہوچکی ہے۔

٢٧

صفحہ ٦١

بھی نہ ملا نہ صدیقیت کا نہ شہادت کا نہ صالحیت کا یہ محض ان کے ساتھ جوتیاں چٹخاتے پھریں گے۔ جواب ...... مرزائیو! اس آیت میں درجات کے ملنے کا ذکر نہیں اور نہ ہی درجات کی نفی ہے۔ یہاں تو صرف قیامت میں نیک رفاقت کی خوشخبری ہے۔ ہاں کلام مقدس میں درجات کے ملنے کا دوسرے مقام پر یوں ذکر کیا گیا ہے۔ ”والذین آمنوا وعملوا الصالحات لندخلنہم فی الصالحین (العنکبوت:٩)“ جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے وہ صالحین میں داخل کئے جاویں گے۔

میں ”منعم علیھم“ کی راہ پر چلنے کی دعا ہے نہ کہ نبی بننے کی۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ ان کے ہدایتوں پر عمل کریں اور ان کے طریق عمل کو نمونہ بنائیں۔ جیسا کہ فرمایا: ”لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ (الاحزاب:٢١)“ یعنی تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ قابل اقتداء نمونہ ہیں۔ اگر انبیاء کے راستے کا یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ ہم نبی بن جائیں تو کیا خدا کے راستے کی پیروی سے ہم خدا بھی بن سکیں گے؟ دیکھئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے: ”وان ھذا صراطی مستقیما فاتبعوہ (الانعام:١٥٣)“ یعنی میرا راستہ ہے اس کی پیروی کرنا۔

اگر نبوت کا ملنا دعاؤں پر اور التجاؤں پر موقوف ہوتا تو یہ صحابہ کرامؓ کو ضرور ملتی۔ کیونکہ وہ بھی ہر نماز میں آیت مذکورہ پڑھا کرتے تھے۔

غور طلب نتائج

بھی مانگی۔ بلکہ یہ دعا مانگنا آپ ﷺ نے ہی امت کو سکھایا۔ لیکن یہ دعا آپ ﷺ نے اس وقت مانگی جب آپ ﷺ نبی منتخب ہو چکے تھے اور آپ ﷺ پر قرآن مجید اترنا شروع ہو گیا تھا۔ ظاہر ہوا کہ آپ ﷺ اس دعا سے نبی نہیں ہوئے پھر اس دعا کا فائدہ کیا ہوا۔

کہ اب جدید شریعت یا کتاب اس لئے نازل نہیں ہو سکتی کہ شریعت قرآن مجید پر آ کر کامل ہو گئی ہے تو اسی طرح اب کوئی نبی اور رسول نہیں آ سکتا۔ اس لئے کہ نبوت اور رسالت سرور انبیاء حبیب کبریا محمد مصطفیٰ ﷺ پر کامل ہو چکی ہے۔

٢٧

صفحہ ٦٣

دلیل چوتھی

"وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا (بنی اسرائیل:١٥) " ﴿جب تک کوئی رسول نہ بھیج لیں ہم عذاب نازل نہیں کرتے۔﴾ موجودہ عذاب اس امر کا مقتضیٰ ہے کہ خدا نے کوئی نہ کوئی رسول ضرور بھیجا ہے۔

جواب ..... اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ موجودہ عذاب منشی غلام احمد کے انکار کی وجہ سے ہے تو جو عذاب مرزا قادیانی سے قبل نازل ہوتا رہا ہے وہ کس کے انکار کی وجہ سے تھا۔ اگر کہو کہ وہ عذاب حضور سرور عالم ﷺ کے انکار کی وجہ سے تھا تو موجودہ عذاب حضور ﷺ کے انکار کی وجہ سے کیوں نہیں ہو سکتا۔ حضور سید یوم النشور ﷺ چونکہ تمام جہان کی طرف رسول ہیں۔ اس لئے تمام عذاب حضور ﷺ کے انکار کی وجہ سے ہے۔ (جیسے کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے ) "خدا وعدہ کر چکا ہے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی رسول بنا کر نہیں بھیجے گا ۔"

(ازالۃ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١)

دلیل پانچویں

"فی ذریتہ النبوۃ والکتاب (العنکبوت:٢٧) " ﴿ہم نے اس کی (ابراہیم کی) کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی۔﴾ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت جاری ہے۔

جواب ...... اگر اس آیت سے نبوت جاری معلوم ہوتی ہے تو کتاب بھی جاری معلوم ہوتی ہے جو امر کتاب کے جاری ہونے سے مانع ہے۔ وہی نبوت کے جاری ہونے سے مانع ہے۔

دلیل چھٹی

"واذا بتلی ابراہیم ربہ بکلمت فاتمہن قال انی جاعلک للناس اماما قال ومن ذریتی قال لا ینال عہدی الظالمین (البقرہ:١٢٤) " ﴿اور جس وقت ابراہیم کے رب نے اس کو کئی باتوں کے ساتھ آزمایا۔ ان کو پورا کیا ، کہا میں تجھ کو لوگوں کے واسطے امام کرنے والا ہوں ۔ کہا میری اولاد سے، کہا میرا عہد ظالموں کو نہ پہنچے گا۔﴾ اگر نبوت کو بند مانا جائے تو لازم آئے گا کہ امت ظالم ہے۔

جواب ...... اگر آیت کا مفہوم یہ ہو کہ ہر غیر ظالم کو نبوت ضرور ملے گی تو کیا صحابہ کرام سے لے کر اب تک یہ امت ظلم کرتی رہی ہے۔ ہاں! اگر حضور ﷺ کے بعد نبوت جاری ہوتی تو غیر ظالم کو مل سکتی تھی۔ مگر خدائے لایزال نے فرما دیا کہ "و لکن رسول اللہ وخاتم النبیین (الاحزاب:٤٠) " (مرزا قادیانی لکھتے ہیں) "یہ آیت صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی اکرم کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آوے گا۔"

(ازالۃ اوہام ص ٦١٤ خزائن ج ٣ ص ٤٣١)

٢٨

حضرت ابراہیم نے دعا مانگی تھی جو قبول ہوئی۔ مگر

دلیل ساتویں

"ولقد جاءکم یوسف من قبل بـ جاءکم بہ حتی اذا ہلک قلتم لن یبعث الـ ﴿اے باشندگان مصر ) تمہارے پاس حضرت یوسف آئے۔ پس تم اس سے جو وہ لے کر آئے شک ہی میں ر کہنے لگے کہ خداوند تعالیٰ اس کے بعد اب ہرگز رسول نہ بـ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کفار مصر حـ تھے۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ ختم نبوت کا عقیدہ کفار

جواب ...... یہ ان لوگوں کا مقولہ ذکر کیا گیا ہے جو حضرت جیسا کہ "فما زلتم فی شک" سے ظاہر ہے۔ انہو ایک عقیدہ قائم کر لیا تھا کہ حضرت یوسف خاتم النبیین انبیاء باقی تھے اور نہ ہی حضرت یوسف علیہ السلام نے خلاف اس کے حضور خاتم النبیین ہونے کے مدعی ہیں کے منکر تھے۔ یہ رسالت کے کس طرح قائل ہو سکتے قیاس مع الفارق ہے۔

ف ..... جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کی مدعی نہ تھے (یعنی ختم نبوت ) کافروں کا کام ہے۔ ایـ کے آپ مدعی ہیں کافروں کا کام ہے۔

دلیل آٹھویں

"یا ایہا الرسل کلوا من الطیـ ﴿اے رسولو ! پاک کھانے کھاؤ اور نیک کام کرو۔ ﴾ یہ جملہ اسمیہ ہے حال اور استقبال پر دالـ سے زیادہ رسولوں کو چاہتا ہے اور آنحضرت تو اکیلے نہ تھا۔ لہٰذا ماننا پڑے گا کہ آپ کے بعد رسول آئیں ہے کہ اٹھو کھانے کھاؤ۔

٢٩

صفحہ ٦٣

حضرت ابراہیم نے دعا مانگی تھی جو قبول ہوئی۔ مگر حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

دلیل ساتویں

"ولقد جاءکم یوسف من قبل بالبینات فما زلتم فی شک مما جاءکم بہ حتی اذا ھلک قلتم لن یبعث اللہ من بعدہ رسولا

(المؤمن:٣٤)

﴿(اے باشندگان مصر) تمہارے پاس حضرت یوسف علیہ السلام اس سے قبل روشن دلائل لے کر آئے۔ پس تم اس سے جو وہ لے کر آئے شک ہی میں رہے۔ حتیٰ کہ جس وقت وہ فوت ہوگئے تو تم کہنے لگے کہ خداوند تعالیٰ اس کے بعد ہرگز رسول نہ بھیجے گا۔﴾

اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کفار مصر حضرت یوسف علیہ السلام پر نبوت کو ختم سمجھتے تھے۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ ختم نبوت کا عقیدہ کفار کا ہے۔

جواب ...... یہ ان لوگوں کا مقولہ ذکر کیا گیا ہے جو حضرت یوسف علیہ السلام پر ایمان نہ لائے تھے۔ جیسا کہ ”فما زلتم فی شک“ سے ظاہر ہے۔ انہوں نے از روئے کفر وعناد خداوندی کے خلاف ایک عقیدہ قائم کر لیا تھا کہ حضرت یوسف خاتم النبیین ہیں۔ حالانکہ خدا کے علم میں ابھی سینکڑوں انبیاء باقی تھے اور نہ ہی حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ میں خاتم النبیین ہوں۔ بہ خلاف اس کے حضور خاتم النبیین ہونے کے مدعی ہیں۔ نیز یہ لوگ (آل فرعون) توحید خداوندی کے منکر تھے۔ یہ رسالت کے کس طرح قائل ہو سکتے تھے۔ لہٰذا اہل اسلام کو کافروں پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔

ف ....... جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کی طرف سے اس امر کا اثبات کرنا جس کے وہ مدعی نہ تھے (یعنی ختم نبوت) کافروں کا کام ہے۔ ایسے ہی حضور ﷺ سے اس امر کا سلب کرنا جس کے آپ مدعی ہیں کافروں کا کام ہے۔

دلیل آٹھویں

"یاایھا الرسل کلوا من الطیبات واعملوا صالحا

(المؤمنون:٥١)

﴿اے رسولو! پاک کھانے کھاؤ اور نیک کام کرو۔﴾

یہ جملہ اسمیہ ہے حال اور استقبال پر دلالت کرتا ہے اور لفظ رسل صیغہ جمع کم از کم ایک سے زیادہ رسولوں کو چاہتا ہے اور آنحضرت تو اکیلے رسول تھے۔ آپ کے زمانہ میں کوئی اور رسول نہ تھا۔ لہٰذا ماننا پڑے گا کہ آپ کے بعد رسول آئیں گے۔ ورنہ کیا خدا وفات یافتہ رسولوں کو کہہ رہا ہے کہ اٹھو کھانے کھاؤ۔

(پاکٹ بک مرزائیہ)

٢٩

صفحہ ٦٤

جواب....... لفظ واحد کو جمع کے صیغے سے تعبیر کرنا صحیح ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آیا ہے۔ ہم اختصاراً ایک آیت نقل کرتے ہیں۔ ”واذ قالت الملئكة يا مريم “ اور جب کہا ملائکہ نے (یعنی جبرائیل ) اے مریم! اس آیت میں جبرائیل واحد ہے مگر اس پر ملائکہ کا اطلاق کیا گیا ہے جو کہ جمع ہے نیز مرزائی اپنی شب و روز کی بول چال میں تحریر و تقریر میں مرزا کے واحد ہونے کے باوجود جب بھی اس کا نام لیتے ہیں تو جمع کے صیغے سے لیتے ہیں۔ اگر ان سے سوال کیا جائے کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو تو یہی کہیں گے کہ ہم مرزا کا نام تعظیماً جمع کے صیغے سے لیتے ہیں۔ مرزائیو! شرم کا مقام ہے کہ مرزا پر تو جمع کا اطلاق تعظیماً صحیح ہو مگر سید کونین ﷺ پر ممنوع ۔ شرم، شرم، شرم!

پای ارباب وفا جز ره عشق اش نه روند
شرم بادا که ازین راه قدم باز کشی

(جامی)

چنانچہ علامہ اسماعیل حقیؒ مذکورہ آیت کے تحت میں لکھتے ہیں: ”انه خطاب لرسول الله ﷺ وحده على داب العرب فى مخاطب الواحد بلفظ الجمع للتعظيم فيه ابانة لفضله وقيامه مقام الكل في حيازاة كمالاتهم“

(تفسیر روح البیان ج٢ ص٨٧)

ترجمہ: اس آیت میں لفظ جمع کے ساتھ حضور ﷺ واحد تعظیماً مخاطب کئے گئے ہیں اور اس مخاطبہ میں حضور ﷺ کے فضائل اور کمالات کا اظہار مقصود ہے تا کہ معلوم ہو جاوے کہ حق جل مجدہ نے جتنے کمالات جمیع انبیاء کرام صلوات اللہ علیہم اجمعین کو انفرادی صورت میں عطا فرمائے ہیں وہ سب کے سب حضور سرور عالم ﷺ کو اجتماعی صورت میں عطا فرما دیئے ہیں۔

حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

(جامی)

ان دلائل سے اس حقیقت کا انکشاف ہو گیا کہ اس آیت میں حضور ﷺ سے مخاطبہ فرمایا گیا ہے۔ یہ آیت کسی جدید نبی کے آنے کی مقتضی نہیں۔

تحریف اوّل از احادیث: ”لوعاش ابراهيم لكان صديقاً نبيا (ابن ماجه)“ اگر ابراہیم زندہ ہوتے تو ضرور وہ سچے نبی ہوتے۔

(پاکٹ بک مرزائیہ ص ٢٥١)

جواب...... یہ حدیث ہی صحیح نہیں۔ اس لئے کہ محدثین نے اس کی صحت میں ایک طویل کلام کیا

٣٠

صفحہ ٦٥

ہے۔ جہاں سے مرزائیوں نے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ (یعنی ابن ماجہ) اس کے حاشیہ پر ہی لکھا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ اس لئے کہ اس کا راوی ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان ہے۔ شیخ عبدالغنی دہلوی مدنی محشی ابن ماجہ فرماتے ہیں۔ ”وقد تکلم بعض الناس فی صحة هذا الحدیث کما ذکره السید جمال الدین المحدث“ یعنی بعض محدثین نے اس کی صحت میں کلام کیا ہے۔ جیسا کہ سید جمال الدین محدث نے اس کو ذکر کیا ہے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ فرماتے ہیں۔ ”در سند ایں حدیث ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان واسطی است و وے ضعیف است۔“

(مدارج النبوة ص٢٦٧)

یعنی اس حدیث کی سند میں ابراہیم بن عثمان واسطی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی تہذیب التہذیب میں ابراہیم بن عثمان کے متعلق فرماتے ہیں۔ ”قال احمد ويحيى وابوداؤد ضعيف“ احمد، یحییٰ اور ابو داؤد نے کہا کہ وہ ضعیف ہے۔ ”وقال يحيى ايضا ليس بثقة“ یحییٰ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ثقہ نہیں۔ ”وقال البخاري سكتوا عنه“ یحییٰ اور بخاری نے کہا ہے کہ محدثین نے اس سے سکوت کیا ہے۔ ”وقال الترمذي منكر الحديث“ اور ترمذی نے کہا ہے کہ وہ منکر الحدیث ہے۔ ”وقال النسائي متروك الحديث“ اور نسائی نے اس کو متروک الحدیث کہا ہے۔ ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں۔ ”وفى سنده ابوشيبة ابراهيم ابن عثمان الواسطي وهو ضعيف“

(مرقاۃ ج٥ ص٣٩٥، ہکذا فی مواہب لدنیہ ج١ ص٢٠)

یعنی اس حدیث کی سند میں ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان آتا ہے اور وہ ضعیف ہے اور مرقات کے اسی صفحہ پر ہے۔ نیز (مواہب لدنیہ ج١ ص٢٠) پر ”وقال النووى في تهذيبه واما ماروى عن بعض المتقدمين حديث لو عاش ابراهيم لكان صديقا نبيا فباطل“ یعنی علامہ نوویؒ اپنی کتاب تہذیب میں فرماتے ہیں کہ بعض متقدمین سے جو حدیث روایت کی گئی ہے کہ اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے ، یہ باطل ہے اور مرقات کے اسی صفحہ پر اور ابن ماجہ میں اس حدیث کے حاشیہ پر اور (مدارج النبوة ج٢ ص٢٦٧) اور (مواہب لدنیہ ص٢٠) پر ہے: ”قال عبدالبر لا ادرى ماھذا“ ابن عبدالبر نے کہا ہے کہ میں نہیں جانتا کہ یہ روایت کیسی ہے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ فرماتے ہیں۔ ”ودر روضة الاحباب ایں را ایں چنیں نقل کرده گفته که آن چه از سلف منقول است که ابراهیم پسر پیغمبرﷺ درحالت صغر وفات یافت اگرمی زیست پیغمبر بشود به صحت نه رسیده واعتباری

٣١

صفحہ ٦٧

ندارد“

(مدارج النبوۃ ص ٢٦٧)

روضۃ الاحباب میں ہے کہ وہ روایت جو سلف سے منقول ہے کہ حضور علیہ السلام کے صاحبزادے ابراہیم زمانہ طفولیت میں ہی رحلت فرما گئے اگر وہ زندہ رہتے تو نبی ہوتے ۔ صحت کو نہیں پہنچی اور اعتبار نہیں رکھتی۔

مرزائیو! اگر ساتھ والی حدیث جو کہ ابن ماجہ ہی میں آئی ہے اس کو بھی نقل کر لیتے تو کیا حرج تھا۔ مگر نقل کرتے بھی کس طرح ۔ جب کہ تمہارے منحوس وجود کی غرض و غایت ہی مخلوق خدا کو گمراہ کرنا ہے۔ لیجئے ہم اس حدیث کو نقل کرتے ہیں جس سے تمہاری ابلہ فریبی کی حقیقت واضح ہو جائے گی۔ حضرت اسماعیل بن خالد نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے فرمایا۔ ”رایت ابراهیم ابن رسول الله ﷺ“ کیا آپ نے حضور علیہ السلام کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کو دیکھا ہے تو انہوں نے فرمایا: ”مات وهو صغير ولو قضى ان يكون بعد محمد ﷺ نبی لعاش ابنه ولكن لا نبی بعده“

(ابن ماجہ مطبوعہ فاروقی دہلی ص ١٠٩)

وہ بچپن ہی میں رحلت فرما گئے۔ اگر قضائے الٰہی میں یہ ہوتا کہ حضور علیہ السلام کے بعد کوئی نبی ہو تو البتہ وہ زندہ رہتے۔ لیکن حضور کے بعد چونکہ کوئی نبی نہیں اس لئے ان کو زندہ نہیں رکھا گیا۔ یہ حدیث بخاری شریف میں بھی ہے۔ (ص ٦١٣) یہ حدیث صحیح ہے۔ چنانچہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں۔ ”الذي اخرجه البخاري في باب تسمى باسماء الانبياء صحيح لاشك في صحته وقد اخرج المولف ايضا بهذا لطريق من حديث محمد ابن عبدالله ابن نمیر“

(برحاشیہ ابن ماجہ ص ١٢)

یعنی اس حدیث کا بخاری نے ”باب تسمى باسماء الانبياء “ میں اخراج کیا ہے وہ صحیح ہے۔ اس کی صحت میں کوئی شک نہیں اور اس حدیث کا محمد ابن عبداللہ بن نمیر سے اسی طریق سے ابن ماجہ نے بھی اخراج کیا۔ اس قدر تصریحات کے باوجود مذکورہ حدیث سے جریان نبوت کی دلیل پکڑنی حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔

خطایت چیست تو بہر تماشا صیقلش کردی دل و جانم بہ نوک خنجرت چسپید نادیده

(کیش)

اگر یہ صحیح ہے کہ ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے تو حضرت عمر فاروق زندہ رہ کر نبی کیوں نہ ہو گئے؟ حالانکہ ان کے متعلق حضور ﷺ کا فرمان موجود ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوسکتا تو عمر ہوتا۔

٣٢

تحریف دوم: ”قولوا انه خاتم الانبياء ولا تقولـ

یعنی حضور کو خاتم الانبیاء تو کہو مگر یہ نہ کہو کہ ان جواب ...... یہ قول منقطع ہونے کی وجہ سے قابل قبول نہی کہ: ”لانبی بعدی“ ”اگر ”لانبی بعده“ کہنا ناجائـ صدیقہ پر افتراء و بہتان ہے۔ ان کا یہ قول ہرگز نہیں ہـ معاذ اللہ کوئی جدید نبی آ سکتا ہے اور وہ یہ خیال فاسد کر عالم ﷺ نے کثیر التعداد احادیث میں فرما دیا کہ میر ہوسکتا تو عمر ہوتا۔ میرے بعد جو مدعی نبوت ہوگا وہ دجال

مرزائیو! تمہیں ام المؤمنین پر افتراء باندھـ طرح جب کہ تم اللہ اور رسول پر افتراء باندھتے ہو عقیدہ ہے جو کہ جمہور اہل اسلام کا ہے۔ چنانچہ حضـ فرماتی ہیں: ”عن عائشة عن النبي ﷺ انـ المبشرات قالوا يا رسول الله ما المبشرات یری له (مسند احمد)“ حضرت عائشہ فرماتی ہـ نبوت میں سے کوئی جزو باقی نہیں رہے گا۔ سوائے مبشـ اللہ مبشرات کیا چیز ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اچھـ کوئی اور دیکھے۔

تحریف سوم: ”فانا آخر الانبياء وان مسجـ

ہوں اور میری مسجد آخر المساجد ہے۔ اگر حضور ﷺ آخر المساجد ہونے کے منافی نہیں تو آپ ﷺ کے کے منافی کیوں ہوگا۔

جواب ...... حدیث کے صحیح الفاظ یہ ہیں: ”انا خا الانبیاء (کنز العمال) “ یعنی میں خاتم الانبـ آخری مسجد ہے۔ یعنی نہ کوئی نبی حضور ﷺ کے نبی کی مسجد ہے۔

تحریف چہارم: ”عن شهاب مرسلا قـ

٣٣

صفحہ ٦٧

تحریف دوم: ”قولوا انه خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعده“

(مجمع البحار ص ٨٥)

یعنی حضور کو خاتم الانبیاء تو کہو مگر یہ نہ کہو کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔

جواب...... یہ قول منقطع ہونے کی وجہ سے قابل قبول نہیں۔ اس لئے کہ حضور ﷺ خود فرماتے ہیں کہ: ”لا نبی بعدی“ اگر ”لا نبی بعدہ“ کہنا ناجائز ہوتا تو حضور یہ کبھی نہ کہتے۔ یہ محض حضرت صدیقہؓ پر افتراء و بہتان ہے۔ ان کا یہ قول ہرگز نہیں نہ ہی ان کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد معاذ اللہ کوئی جدید نبی آسکتا ہے اور وہ یہ خیال فاسد کر بھی کس طرح سکتی تھیں۔ جب کہ حضور سرور عالم ﷺ نے کثیر التعداد احادیث میں فرما دیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوسکتا تو عمرؓ ہوتا۔ میرے بعد جو مدعی نبوت ہوگا وہ دجال اور کذاب ہوگا۔ وغیرہ، وغیرہ!

مرزائیو! تمہیں ام المؤمنینؓ پر افتراء باندھتے ہوئے شرم نہیں آئی۔ آخر آتی بھی تو کس طرح جب کہ تم اللہ اور رسول پر افتراء باندھتے ہوئے نہیں شرماتے۔ سنئے! ام المؤمنینؓ کا وہی عقیدہ ہے جو کہ جمہور اہل اسلام کا ہے۔ چنانچہ حضرت صدیقہؓ ہی حضور ﷺ سے مرفوعاً روایت فرماتی ہیں: ”عن عائشة عن النبی ﷺ انه قال لا یبقیٰ بعدہ من النبوة الا المبشرات قالوا یا رسول الله ما المبشرات قال الرؤیا الصالحة یراها المسلم او یریٰ له (مسند احمد)“ ﴿حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد نبوت میں سے کوئی جزو باقی نہیں رہے گا۔ سوائے مبشرات کے صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ مبشرات کیا چیز ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اچھے خواب جو کوئی مسلمان دیکھے یا اس کے لئے کوئی اور دیکھے۔﴾

تحریف سوم: ”فانا آخر الانبیاء وان مسجدی آخر المساجد“ ﴿میں آخر الانبیاء ہوں اور میری مسجد آخر المساجد ہے۔﴾ اگر حضور ﷺ کی مسجد کے بعد مسجدوں کا بننا حضور ﷺ کے آخر المساجد ہونے کے منافی نہیں تو آپ ﷺ کے بعد نبی کا آنا آپ ﷺ کے آخر الانبیاء ہونے کے منافی کیوں ہوگا۔

جواب...... حدیث کے صحیح الفاظ یہ ہیں: ”انا خاتم الانبیاء و مسجدی خاتم المساجد الانبیاء (کنز العمال)“ ﴿یعنی میں خاتم الانبیاء ہوں اور میری مسجد انبیاء کی مساجد میں سے آخری مسجد ہے۔﴾ یعنی نہ کوئی نبی حضور ﷺ کے بعد پیدا ہوگا اور نہ ہی یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ فلاں نبی کی مسجد ہے۔

تحریف چہارم: ”عن شهاب مرسلا قال رسول الله ﷺ اظعن یا عم فانک

٣٣

صفحہ ٦٩

خاتم المهاجرین" اس حدیث میں حضورﷺ نے اپنے چچا حضرت عباسؓ کو خاتم المهاجرین فرمایا ہے کہ اب ہجرت بند ہے۔ جس طرح حضرت عباسؓ کے بعد ہجرت کرنا ان کے خاتم المہاجرین ہونے کے منافی نہیں۔ اسی طرح آنحضرتﷺ کے بعد کسی نبی کا آنا حضورﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے کے منافی نہیں۔

جواب ....... اس روایت کو اگر صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو پھر بھی ہمیں مضر نہیں۔ بلکہ ہماری مؤید ہے اس لئے کہ حضورﷺ نے حضرت عباسؓ کو جن مہاجرین کا خاتم فرمایا ہے وہ وہی ہیں جنہوں نے خدا اور رسول کے ارشاد کے مطابق ہجرت کی تھی۔ سب سے آخر میں حضرت عباسؓ نے ہجرت کی تھی۔ اس لئے حضورﷺ نے ان کو خاتم المہاجرین فرمایا۔ اس کی مزید وضاحت طبرانی، ابونعیم، ابن عساکر، ابویعلیٰ اور ابن نجار کی روایت میں یوں مرقوم ہے کہ حضرت عباسؓ نے جب ہجرت کرنے کا ارادہ کیا تو حضورﷺ نے فرمایا : "یا عم اقم مکانک انت به فان الله قد ختم بک الهجرة کما ختم بی النبیون " (چچا آپ ابھی ہجرت نہ کریں اپنے مکان میں ٹھہریں۔ عنقریب اللہ تعالیٰ اس ہجرت کے سلسلہ کو آپﷺ سے ختم کرے گا۔ جیسا کہ اس نے نبوت کے سلسلے کو مجھ پر ختم کیا ہے۔)

دوسری روایت تفسیر صافی کی پیش کی ہے جس میں حضرت علیؓ کو خاتم الاولیاء کہا گیا ہے۔ یہ تفسیر چونکہ شیعہ کی ہے۔ اس لئے اس روایت کی بھی وہی حیثیت ہے جیسے کہ ابن جریر جیسی روایات کی۔ لہٰذا اس کا جواب بھی انہیں سے طلب کیجئے اور اگر بالفرض والتقدیر اس روایت کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو یہ احادیث متواترہ کے سامنے کوئی وقعت نہیں رکھتی۔ لہٰذا قابل اعتبار نہیں۔

اصل میں بات یہ ہے کہ مرزائی کچھ عجیب اوندھی کھوپڑی والے انسان ہیں۔ ان کی ہر حرکت عقل و دانش سے دور، فہم وفراست سے بعید ہے۔ اگر کثیر التعداد احادیث متواترہ صحیحہ کے مقابل کوئی ایک آدھ بے سند اور غیر معتبر کتاب کی روایت مل جائے تو عقل کی بات ہے کہ اس بے سند روایت کے ایسے معنے کئے جائیں گے جو تمام احادیث صحیحہ کے مطابق ہوں۔ مگر مرزائیوں کو ایک بے سند روایت بھی مل جائے تو اس کے ایسے معنے کرتے ہیں جو تمام احادیث کے خلاف ہوں۔

بریں عقل و دانش بباید گریست

مرزائی

بعض صوفیائے کرام و بزرگانِ عظام کی عبارات کو قطع و برید کر کے اجرائے نبوت پر دلیل پکڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اکابرین امت حضورﷺ کے بعد نبی غیر تشریعی کے آنے کے

٣٤

قائل تھے۔ اگرچہ رسالہ کی ضخامت اس امر سے مانع کریں۔ مگر تاہم نہایت اختصار سے اس حقیقت کو بے نقا

چشم آستین بردار و

ایک شہادت حضرت مجدد الف ثانی کی پیش مرتاضین را بطریق تبعیت و وراثت بعد از بعثت خا کمالات نبوت کا حصول پیروؤں کے لئے پیروی اور ح بعد اس کے خاتم ہونے کے منافی نہیں۔ مرزائیوں ک حماقت ہے یا دیدہ دلیری، ہم حیران ہیں حماقت کہیں ی

ناروا کہئے تا
کہئے کہئے انہیں

عبارت بالکل صاف ہے یعنی مجدد صا حضور کی خاتمیت کے منافی نہیں ۔" اور مرزائی اس آسکتا ہے۔" خدا جانے یہ کس لفظ کا ترجمہ ہے۔

مرزائیو ! اگر کوئی ادنیٰ درجہ کا قاری دانس نبوت حاصل کرنے سے انسان نبی بن سکتا ہے۔ تو جائے گا۔ اس لئے کہ ارشاد ہوتا ہے۔ "تخلقوا باخ جو شخص اخلاق اللہ سے موصوف ہو جائے اسے خدا بن

اگر یہ صحیح ہے کہ انسان کمالات نبوت حا پوچھتے ہیں کہ یہ کمالات نبوت حضرت صدیقؓ اور ح کئے تھے اور یقیناً کئے تھے تو وہ نبی کیوں نہ بن گئے پائے جانے کے معترف تھے۔ انہوں نے دعویٰ نبو

امام شعرانی کا قول : دوسری شہادت امام شعرانی "لم يرتفع وانما ارتفع نبوة التشريعي “ اٹھائی گئی ہے۔ اس جگہ بھی خیانت مجرمانہ سے کا پیش کرنا جس سے اصل مطلب ظاہر نہ ہوتا دیانت

٥

صفحہ ٦٩

قائل تھے۔ اگرچہ رسالہ کی ضخامت اس امر سے مانع ہے کہ ہم اس موضوع پر مفصل بحث و تمحیص کریں۔ مگر تاہم نہایت اختصار سے اس حقیقت کو بے نقاب کیا جاتا ہے۔

زچشم آستین بردار وگوہر را تماشا کن

ایک شہادت حضرت مجدد الف ثانیؒ کی پیش کرتے ہیں۔ ”پس حصول کمالات نبوت متابعین را بطریق تبعیت و وراثت بعد از بعثت خاتم الرسل منافی خاتمیت او نیست۔“ یعنی کمالات نبوت کا حصول پیروؤں کے لئے پیروی اور حصول کے طریق پر خاتم الرسل کی بعثت کے بعد اس کے خاتم ہونے کے منافی نہیں۔ مرزائیوں کا اس عبارت کو اپنی تائید میں پیش کرنا یا تو حماقت ہے یا دیدہ دلیری، ہم حیران ہیں حماقت کہیں یا دیدہ دلیری۔ خیر دونوں ہی کہہ لیتے ہیں۔

ناروا کہئے نا سزا کہئے
کہئے کہئے انہیں برا کہئے

عبارت بالکل صاف ہے یعنی مجدد صاحب فرماتے ہیں۔ ”کمالات نبوت کا حصول حضور کی خاتمیت کے منافی نہیں ۔“ اور مرزائی اس کا ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ ”حضور کے بعد نبی آسکتا ہے ۔“ خدا جانے یہ کس لفظ کا ترجمہ ہے۔

مرزائیو! اگر کوئی ادنیٰ درجہ کا فارسی دان بھی سن پائے گا تو تمہیں کیا کہے گا۔ کیا کمالات نبوت حاصل کرنے سے انسان نبی بن سکتا ہے۔ پھر تو اخلاق اللہ حاصل کرنے سے خدا بھی بن جائے گا۔ اس لئے کہ ارشاد ہوتا ہے ۔ ”تخلقوا باخلاق اللہ “ یعنی اخلاق اللہ میں رنگے جاؤ۔ تو جو شخص اخلاق اللہ سے موصوف ہو جائے اسے خدا بن جانا چاہئے۔

اگر یہ صحیح ہے کہ انسان کمالات نبوت حاصل کرنے سے نبی بن جاتا ہے تو ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ یہ کمالات نبوت حضرت صدیقؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ نے حاصل کئے تھے کہ نہیں اگر کئے تھے اور یقیناً کئے تھے تو وہ نبی کیوں نہ بن گئے۔ نیز مجدد صاحب یہ کمالات نبوت اپنے میں پائے جانے کے معترف تھے۔ انہوں نے دعویٰ نبوت کیوں نہ کیا۔

امام شعرانیؒ کا قول: دوسری شہادت امام شعرانیؒ کی پیش کی جاتی ہے کہ: ”فان مطلق النبوة لم يرتفع وانما ارتفع نبوة التشريع“ یعنی مطلق نبوت نہیں اٹھائی گئی۔ بلکہ نبوت تشریعی اٹھائی گئی ہے۔ اس جگہ بھی خیانت مجرمانہ سے کام لیا گیا ہے۔ عبارت کو اس طرح قطع و برید سے پیش کرنا جس سے اصل مطلب ظاہر نہ ہو قادیانیوں کا خاصہ ہے۔ اصل عبارت یہ ہے :”وهذا

٣٥

صفحہ ٧٠

كان يؤل به رؤياه وهذا ما ابقاه الله تعالىٰ على الامة من اجزاء النبوة فان مطلق النبوة لم يرفع وانما ارتفع نبوة التشريعى كما يؤيده حديث من حفظ للقرآن فقد ادركت النبوة بين جنبيه (اليواقيت والجواهر) ”اور اسی لئے اس کے ساتھ آپ کے رؤیا کی تاویل کی جاتی ہے اور یہ رویا وہ چیز ہے جو اجزائے نبوت میں سے اللہ تعالیٰ نے امت پر باقی رکھی ہے۔ کیونکہ مطلق نبوت نہیں اٹھائی گئی۔ بلکہ نبوت تشریعی اٹھائی گئی ہے۔ جیسا کہ اس کی تائید یہ حدیث کرتی ہے کہ جو شخص قرآن کی حفاظت کرتا ہے۔ نبوت اس کے دونوں پہلوؤں میں داخل کی جاتی ہے۔ اجزائے نبوت کو کون بند مانتا ہے۔ مگر جس شخص میں اجزائے نبوت پائے جاتے ہیں کیا وہ نبی بن جاتا ہے؟

مرزائیو! پھر تو بڑی دقت پیش آئے گی اس لئے کہ اس صورت میں قرآن کے حافظوں اور ان لوگوں کو جن کو سچی خوابیں آتی ہیں۔ تمام کو نبی ماننا پڑے گا۔ کیونکہ حفاظت قرآن رؤیا صادقہ بھی اجزائے نبوت سے ہیں۔ لہذا جس شخص میں یہ چیزیں پائی جاویں مرزائیوں کو چاہئے کہ اس کو نبی تسلیم کریں۔ مگر یاد رہے کہ یہ دونوں چیزیں راقم الحروف میں علی وجہ الاکمل پائی جاتی ہیں۔ یعنی میں حافظ قرآن بھی ہوں اور کئی دفعہ سچی خوابیں بھی آتی ہیں۔ کیا مرزائیو! مجھ کو بھی نبی مانو گے؟ ہاں تم جیسے احمقوں سے یہ بھی کوئی بعید نہیں۔ اس لئے کہ تم نے اس شخص کو نبی مقدس تسلیم کر لیا جس کو نہ صحت جسمانی حاصل تھی نہ روحانی اور خدا کے فضل و کرم سے مجھ کو یہ دونوں حاصل ہیں۔ مزید برآں میں حافظ قرآن بھی ہوں اور مرزا قادیانی اس نعمت عظمیٰ سے قطعی محروم تھے۔

ہم اجماع امت کے بیان میں امام شعرانی کی اصل عبارت نقل کر آئے ہیں۔ جس میں امام موصوف فرماتے ہیں کہ حضور کے بعد مدعی نبوت اگر مراقی وغیرہ نہ ہو تو اس کی گردن اڑادی جائے گی اور اگر مراقی ہو تو معذور سمجھ کر چھوڑ دینا چاہئے۔ علاوہ ازیں مرزائی حضرت محی الدین ابن عربی اور ملا علی قاری کی عبارات پیش کرتے ہیں۔ مگر پہلے ہم ثابت کر آئے ہیں کہ یہ بزرگ بھی ہر مدعی نبوت کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں:

”وآخر دعوانا ان الحمدلله رب العالمين وصلى الله تعالىٰ على رسوله خاتم النبيين وآله وصحبه اجمعين“

گفتگو آئین درویشی نہ بود
ورنہ با تو ما جرہا داشتیم

٣٦

قادیانیہ

جھوٹے دعویٰ ن

قومی اسمبلی کے تا

شہید اسلام حضرت مولانا مفتی

PDF 72

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

صلی اللہ علیہ وسلم

قادیانیت،

جھوٹے دعوائے نبوت سے

قومی اسمبلی کے تاریخی فیصلے تک

شہید اسلام حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان شہید رحمۃ اللہ علیہ

صفحہ ٧٣

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قادیانیت

جھوٹے دعویٰ نبوت سے قومی اسمبلی کے تاریخی فیصلے تک

نبی آخر زمان حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب اور آخری نبی کی حیثیت سے آپ ﷺ کی بعثت سے لے کر قیامت تک تمام جہانوں کے لئے رسول اور نبی بنا کر بھیجا اور قرآن مجید میں ایک سو سے زائد آیات کریمہ میں نبی اکرم ﷺ کے آخری نبی ہونے کی حیثیت کی وضاحت بھی فرمادی۔ قرآن مجید کی ان آیات کریمہ کے علاوہ خود آنحضرت ﷺ نے اپنی ختم نبوت کی حیثیت کو مختلف انداز اور مثالوں سے واضح فرمادیا۔

ان تمام دلائل قطعیہ کی بنا پر امت نے اس عقیدہ ختم نبوت کو اسلام کی بنیاد قرار دیا اور اس سلسلے میں معمولی سی گنجائش کی اجازت بھی نہیں دی۔ اس لئے جب حضور ﷺ کی اس دنیا سے تشریف بری کے بعد مسیلمہ کذاب نے پہلے جھوٹے نبی کی حیثیت سے سر اٹھایا تو خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیقؓ نے تمام تر مشکلات اور اندرونی و بیرونی فتنوں کے باوجود مسیلمہ کذاب کے خلاف اعلان جہاد کیا۔ مختلف محاذوں پر لشکر اسلام برسر پیکار تھے اور نوجوان مجاہدین کی کمی تھی۔

حضرت صدیق اکبرؓ نے اسلام کے اس سب سے بڑے جہاد کے لئے محدثین کرام مفسرین کرام حفاظ اور قراء کرام، اسلام کے سب سے پہلے جہاد غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے بدری صحابہ کرام کو جمع کیا اور حضرت خالد بن ولیدؓ کی سربراہی میں ان کو مسیلمہ کذاب، جھوٹے مدعی نبوت کے لشکر کے خلاف جہاد کے لئے روانہ کیا۔ سچے نبی کے لشکر اور جھوٹے مدعی نبوت کے لشکر کے درمیان عظیم معرکہ ہوا۔ لشکر اسلام کے بارہ سو مجاہدین نے جام شہادت نوش فرمایا۔ جس میں سات سو حفاظ اور قراء اور محدثین و مفسرین کرام تھے۔ کسی بھی جہاد میں اتنے بڑے بڑے صحابہ کرام شہید نہیں ہوئے جتنے اس جہاد میں ہوئے تھے۔ عجیب بات یہ ہے کہ نبی آخر الزمان ﷺ کے تمام غزوات میں شہید ہونے والوں کی تعداد پونے تین سو سے زائد نہیں۔ جب کہ صرف اس جہاد میں ١٢ سو صحابہ کرام شہید ہوئے۔ خلیفہ اوّل سیدنا صدیق اکبرؓ کا اس جہاد کو اتنی زیادہ اہمیت دینے سے اس عقیدہ کی عظمت اور بنیادی ہونے کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ مسیلمہ کذاب کا لشکر مع جھوٹے نبی کے جہنم رسید ہوا اور اس طرح نبی اکرم ﷺ کے عقیدہ ختم نبوت کی عظمت بلند ہوئی اور صدیق اکبرؓ

٢

کی یہ سنت امت کے لئے جاری ہو گئی کہ امت مسلمہ کی ہے۔ اس لئے اس عقیدہ کے خلاف جب بھی کوئی جھوٹا مد کچل دیا جائے۔ تاریخ اسلام کا جب ہم مطالعہ کرتے ہ کے خلاف امت مسلمہ کا طرز عمل صدیقی سنت کے مطاب حکومت میں مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے اور ا جہاد کو سرد کرنے کے لئے انگریز اور اس کے پٹھوؤں نے غلامی سے نجات نہ حاصل کر سکیں اور آپس میں دست و

بڑا فتنہ جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کا فتنہ تھا۔ مرکزیت کو ختم کرنا اور جذبہ جہاد سے مسلمانوں کو عاری اس بات کی تہہ کو پہنچ چکی تھی کہ جب تک برصغیر کے مسل کریں گے اور ان کے دلوں سے جذبہ جہاد کو نہیں نکالی ان دو مقاصد کے لئے ان کی نظر انتخاب مرزا غلام احمد انگریز سرکار کی وفاداری میں پیش پیش تھا۔ انگریز سرکار لئے مرزا غلام احمد قادیانی نے تدریجی طور پر کام شرو تعارف پیش کرنے کے لئے عیسائیوں اور آریوں سے شہرت دینے کے ساتھ ان میں بعض پیشین گوئیوں کا اع کی نشانی بنایا۔ ١٨٧٩ء میں مرزا غلام احمد قادیانی نے زیادہ تشہیر کی اور اس کتاب کو اسلام کی حقانیت کی ایک ان پیشین گوئیوں اور براہین احمدیہ کی تشہیر کے حوالے اس سلسلے میں مرزا غلام احمد سے بات چیت اور تحریری و علماء کرام نے اس طرز عمل کو دیکھ کر مرزا غلام احمد قادی

مرزا غلام احمد قادیانی نے براہین احمدیہ مکمل کی، تو ا چودھویں صدی کے مجدد کی حیثیت سے پیش کیا اور ١٨٨٨ء میں بحیثیت مجدد لوگوں سے بیعت لینی شرو ہونے کے دعویٰ اور انبیاء کرام علیہم السلام کی شان می لدھیانہ نے متفقہ طور پر مرزا غلام احمد قادیانی کے خلا

٣

صفحہ ٧٣

کی یہ سنت امت کے لئے جاری ہو گئی کہ امت مسلمہ کی وحدت عقیدۂ ختم نبوت کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس لئے اس عقیدہ کے خلاف جب بھی کوئی جھوٹا مدعی نبوت سر اٹھائے اس کو ٹھکرا کر اس کا سر کچل دیا جائے۔ تاریخ اسلام کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ہر دور میں جھوٹے مدعی نبوت کے خلاف امت مسلمہ کا طرز عمل صدیقی سنت کے مطابق نظر آتا ہے۔ برصغیر میں انگریزی دور حکومت میں مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے اور انگریزوں کے خلاف مسلمانوں میں جذبہ جہاد کو سرد کرنے کے لئے انگریز اور اس کے پٹھوؤں نے طرح طرح کے فتنے اٹھائے تاکہ مسلمان غلامی سے نجات نہ حاصل کر سکیں اور آپس میں دست و گریبان رہیں۔ ان فتنوں میں سب سے بڑا فتنہ جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کا فتنہ تھا۔ جس کا سب سے بڑا مقصد امت مسلمہ کی مرکزیت کو ختم کرنا اور جذبہ جہاد سے مسلمانوں کو عاری کرنا تھا۔ کیونکہ انگریز قوم طویل تجربہ سے اس بات کی تہہ کو پہنچ چکی تھی کہ جب تک برصغیر کے مسلمانوں کا رشتہ محمد رسول اللہ ﷺ سے ختم نہیں کریں گے اور ان کے دلوں سے جذبہ جہاد کو نہیں نکالیں گے۔ اس قوم کو مکمل ختم کرنا ممکن نہیں۔ ان دو مقاصد کے لئے ان کی نظر انتخاب مرزا غلام احمد قادیانی پر پڑی جس کا خاندان پیشگی طور پر انگریز سرکار کی وفاداری میں پیش پیش تھا۔ انگریز سرکار کے منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی نے تدریجی طور پر کام شروع کیا۔ پہلے مرحلے میں قوم کے سامنے اپنا تعارف پیش کرنے کے لئے عیسائیوں اور آریوں سے مناظروں کا آغاز کیا اور ان مناظروں کو شہرت دینے کے ساتھ ان میں بعض پیشین گوئیوں کا اعلان کیا اور ان پیشین گوئیوں کو اپنی صداقت کی نشانی بتایا۔ ١٨٧٩ء میں مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی ایک تصنیف ”براہین احمدیہ“ کی بہت زیادہ تشہیر کی اور اس کتاب کو اسلام کی حقانیت کی ایک بہت بڑی دلیل اور نشانی کے طور پر پیش کیا۔ ان پیشین گوئیوں اور براہین احمدیہ کی تشہیر کے حوالے سے علماء کرام کو تشویش ہوئی اور علماء کرام نے اس سلسلے میں مرزا غلام احمد سے بات چیت اور تحریری سوال و جواب کا سلسلہ شروع کیا۔ بعض قریبی علماء کرام نے اس طرز عمل کو دیکھ کر مرزا غلام احمد قادیانی سے کنارہ کشی اختیار کی۔ ١٨٨٤ء میں مرزا غلام احمد قادیانی نے براہین احمدیہ مکمل کی ، تو اس میں اپنے آپ کو مسلمانوں کے سامنے چودھویں صدی کے مجدد کی حیثیت سے پیش کیا اور براہین احمدیہ کو تجدید دین کا کارنامہ ظاہر کیا۔ ١٨٨٨ء میں بحیثیت مجدد لوگوں سے بیعت لینی شروع کی۔ براہین احمدیہ میں مجدد اور مسیح موعود ہونے کے دعوٰی اور انبیاء کرام علیہم السلام کی شان میں توہین آمیز الفاظ کی بناء پر ١٨٩٠ء میں علماء لدھیانہ نے متفقہ طور پر مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف کفر کا فتویٰ صادر کیا۔ یہ فتویٰ بعد میں اس

صفحہ ٧٥

وقت کے سب سے بڑے فقیہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی خدمت میں توثیق کے لئے لے جایا گیا۔ حضرت گنگوہیؒ نے مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریر کو دیکھا اور دعویٰ مجددیت کی تفصیلات معلوم کیں اور بعد ازاں مرزا کے کفریہ عقائد کی بناء پر اس کفر کے فتویٰ کی تصدیق وتوثیق کی۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی طرف سے فتویٰ کے بعد اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ آپ کے اس فتویٰ پر تمام ہندوستان کے علماء کرام نے مہر تصدیق ثبت کی یہاں تک کہ حرمین شریفین کے علماء کرام نے بھی مرزا غلام احمد قادیانی کے ان کفریہ عقائد اور جھوٹے دعویٰ نبوت کی بناء پر کفر کا فتویٰ دیا۔

حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے صرف فتویٰ پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ علماء لدھیانہ اور دیگر علماء کرام کو حکم دیا کہ وہ ہر محاذ پر شریعت اسلامیہ کی روشنی میں جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف جہاد کریں۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ نے اپنے خلفاء کو حکم دیا کہ وہ بھی جھوٹے مدعی نبوت کے مقابلہ میں کام کریں۔ اسی بناء پر حضرت پیر مہر علی صاحب گولڑہ والےؒ مدینہ منورہ سے واپس ہوئے اور مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف کام شروع کر دیا۔ ابتداء میں علماء کرام نے مناظروں اور مباہلوں اور تحریری خط و کتابت کے ذریعہ مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنے اس جھوٹے عقیدے سے رجوع کرنے اور توبہ کرنے کی دعوت دی۔ بہت سارے مناظرے اور مباحثے ہوئے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو اس میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ مباہلوں میں مرزا غلام احمد قادیانی نے راہ فرار اختیار کی۔ مولانا عبدالحق سے مباہلہ ہوا اور مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعویٰ کے مطابق اس مباہلے میں عبرتناک شکست سے دوچار ہوا۔ لیکن اس کے باوجود اپنے دعویٰ سے تائب نہیں ہوا۔ بلکہ انگریزی حکومت کی سرپرستی میں اپنے اس ناپاک مشن عقیدہ ختم نبوت میں زک لگانے کی جدوجہد کو تیز کر دیا۔ انگریزی حکومت کی ایماء پر علماء کرام پر جو جدوجہد آزادی میں ہر اول دستہ کا فریضہ انجام دے رہے تھے۔ پہلے ہی اذیت اور انتقام کے دروازے کھلے ہوئے تھے۔ اب ان کے خلاف مرزا غلام احمد قادیانی کے مقابلے میں کام کرنے کی پاداش میں جیل اور مقدمات کے دروازے کھل گئے۔ لیکن ان تمام صبر آزما حالات کے باوجود مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف جہاد کو جاری رکھا۔

١٩٣٠ء میں جب علماء کرام نے محسوس کیا کہ یہ فتنہ علماء کرام کی انفرادی کوششوں کے باوجود مسلمانوں میں گمراہی اور فتنہ کا سبب بن رہا ہے تو محدث العصر ولی کامل مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے برصغیر کے چیدہ چیدہ اکابر علماء کو دیو بند طلب کیا اور ان کے سامنے بہت ہی دلسوزی ٤

اور اہمیت کے ساتھ عقیدہ ختم نبوت ﷺ کی عظمت بیان کی جھوٹے دعویٰ نبوت اور انگریز کی سرپرستی کی بناء پر اس پ اثرات سے آگاہ کیا۔ آپ نے آبدیدہ ہو کر فرمایا کہ چو بچاؤ میں مصروف ہوں اور میری آنکھوں سے نیند غائب ہ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ علماء کرام کی ایک مشترکہ اجتماعی طور پر مشن بنا کر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے وقت جو بھی جھوٹی نبوت کے مقابلے میں حضور اکرم ﷺ ک کام کرے گا قیامت کے دن اس کو حضور ﷺ کی شفاع عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کسی ایک عالم کو امیر مخ علماء کرام کی رائے ہوئی کہ آپ ہم سب میں بڑے او کے دست مبارک پر ہم سب بیعت کرتے ہیں۔ لیکن آ بہت طویل جدوجہد کا متقاضی ہے اور میں عمر کے آخری سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ (جن کی سحر بیانی اور انگریزوں ک برصغیر میں جہاد کا سماں پیدا کر دیا تھا) کو امیر شریعت م ہوں۔ مولانا انور شاہ کشمیریؒ کی اس تجویز سے تمام عل بخاریؒ کے دست مبارک پر بیعت کی اس طرح ١٩٣٠ء م احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے مشترکہ جدوجہد کا آغا آزادی میں بھی سرگرم عمل تھی دوسری طرف اس کا شعب ہو گیا۔ تھوڑے ہی عرصہ میں پورے ملک میں قادی انگریزی حکومت کی سرپرستی کی وجہ سے لوگ کھلے عام م مجلس احرار اسلام کے رضا کاروں کی حوصلہ افزائی ۔ نے اس ارتداد کے فتنہ کو روکنے کے لئے جدوجہد شرو اس تحریک ختم نبوت کو روکنے کے لئے ہر ممکن جدوجہد ک اسلام کے رضا کاروں کے لئے عام سی بات ہو گئی۔ ال فرار اختیار کرنے والوں کے لئے جینا دو بھر کر دیا ۔ ا ہوئے فیصلہ کیا کہ قادیان میں دفتر قائم کیا جائے۔ اس ط ٥

صفحہ ٧٥

اور اہمیت کے ساتھ عقیدہ ختم نبوت ﷺ کی عظمت بیان کی اور مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے جھوٹے دعویٰ نبوت اور انگریز کی سرپرستی کی بناء پر اس فتنے کے تیزی کے ساتھ پھیلتے ہوئے مضر اثرات سے آگاہ کیا۔ آپ نے آبدیدہ ہوکر فرمایا کہ چھ ماہ سے میں اس فتنہ کے بابت مسلسل سوچ بچار میں مصروف ہوں اور میری آنکھوں سے نیند غائب ہے اور اس چھ ماہ کے سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ علماء کرام کی ایک مشترکہ جماعت ہو جو اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے اجتماعی طور پر مشن بنا کر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کام کرے۔ میں ضمانت دیتا ہوں کہ اس وقت جو بھی جھوٹی نبوت کے مقابلے میں حضور اکرم ﷺ کی عظمت اور ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کام کرے گا قیامت کے دن اس کو حضور ﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی اور میری رائے ہے کہ ہم عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کسی ایک عالم کو امیر منتخب کر کے اس کے ہاتھ بیعت کرلیں۔ تمام علماء کرام کی رائے ہوئی کہ آپ ہم سب میں بڑے اور ہم سب کے مقتداء اور مرشد ہیں۔ آپ کے دست مبارک پر ہم سب بیعت کرتے ہیں۔ لیکن مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے فرمایا نہیں یہ کام بہت طویل جدوجہد کا متقاضی ہے اور میں عمر کے آخری حصہ میں پہنچ چکا ہوں۔ اس لئے میں مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ (جن کی سحر بیانی اور انگریزوں اور قادیانیوں کے خلاف تقاریر نے پورے برصغیر میں جہاد کا سماں پیدا کر دیا تھا) کو امیر شریعت مقرر کر کے ان کے ہاتھ پر خود بیعت کرتا ہوں۔ مولانا انور شاہ کشمیریؒ کی اس تجویز سے تمام علماء کرام نے اتفاق کیا اور مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے دست مبارک پر بیعت کی اس طرح ١٩٣٠ء میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے مشترکہ جدوجہد کا آغاز کیا۔ مجلس احرار اسلام ایک طرف جدوجہد آزادی میں بھی سرگرم عمل تھی دوسری طرف اس کا شعبہ تبلیغ ، قادیانیت کے خلاف جہاد میں مصروف ہو گیا۔ تھوڑے ہی عرصہ میں پورے ملک میں قادیانیت کے عزائم مسلمانوں پر ظاہر ہو گئے۔ انگریزی حکومت کی سرپرستی کی وجہ سے لوگ کھلے عام قادیانیت کے خلاف کام نہیں کر سکتے تھے۔ مجلس احرار اسلام کے رضا کاروں کی حوصلہ افزائی سے ان میں بھی ہمت پیدا ہوئی اور مسلمانوں نے اس ارتداد کے فتنہ کو روکنے کے لئے جدوجہد شروع کر دی۔ قادیانیوں نے مجلس احرار اسلام کی اس تحریک ختم نبوت کو روکنے کے لئے ہر ممکن جدوجہد کی۔ قتل و غارت جیل اور مقدمات مجلس احرار اسلام کے رضا کاروں کے لئے عام سی بات ہو گئی۔ ادھر قادیان میں قادیانیوں یا مرزائیت سے راہ فرار اختیار کرنے والوں کے لئے جینا دو بھر کر دیا۔ مجلس احرار اسلام نے ان واقعات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ قادیان میں دفتر قائم کیا جائے۔ اس سلسلے میں رضا کار گئے تو قادیانیوں نے ان

٥

صفحہ ٧٧

رضا کاروں کو بہت مارا پیٹا۔ بڑی مشکل سے یہ رضا کار جان بچا کر واپس ہوئے۔ کئی ماہ ہسپتال میں ان رضا کاروں کو رہنا پڑا ۔ اس واقعہ کے بعد تو ضروری ہو گیا کہ قادیان میں مرکز قائم ہو۔ آخر کار بڑی مشکل سے ١٩٣٥ء میں مجلس احرار اسلام نے اپنا دفتر قائم کیا اور مولانا عنایت اللہ چشتی کو اس کا نگران مقرر کیا۔ اس طرح قادیان میں کام شروع ہوا۔ دفتر کے قیام کے بعد قادیان میں تبلیغ کانفرنس قادیان کے نام سے ایک عظیم الشان جلسے کا اعلان کر دیا گیا۔ کانفرنس بہت زیادہ کامیاب ہوئی۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے مرکز قادیانیت میں قادیانیت کے عزائم کو بے نقاب کیا۔ قادیانیوں کی شکایت پر مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری کو گرفتار کر کے مقدمہ چلایا گیا۔ پہلے مرحلے میں چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔ لیکن سیشن جج مسٹر کھوسلہ کی عدالت میں اپیل دائر کی جس نے شاہ صاحب کی سزا ختم کر کے ان کو بری کیا اور مرزائیت کے متعلق مسٹر کھوسلہ نے تاریخی فیصلہ سنایا اور شاہ صاحب کی تقریر کو مرزا، قادیانیوں کی طرف سے اشتعال انگیزی کا جواب قرار دیتے ہوئے شاہ صاحب کی سزا کو تا برخاست عدالت محدود کر دیا۔ مجلس احرار کی اس کامیابی نے مسلمانوں کے لئے فتح و نصرت کے دروازے کھول دیئے اور قادیان کے اطراف میں اور زیادہ تیزی سے تحریک شروع ہوگئی۔ تحریک آزادی کی وجہ سے فیصلہ کن تحریک کا مرحلہ بہت مشکل تھا۔ لیکن مجلس احرار اسلام کی وجہ سے قادیانیت کا تیزی سے پھیلاؤ ہوا فتنہ ارتداد محدود ہو گیا اور مسلمانوں کو قادیانیت کی حقیقت سے واقفیت ہوگئی۔

قیام پاکستان کے بعد عام تاثر یہ تھا کہ یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے۔ اس لئے اس میں اسلامی تعلیمات وقوانین کا نفاذ ہوگا اور قادیانیوں کے بارے میں مسلمانوں کے مطالبات تسلیم کئے جائیں گے۔ لیکن بدقسمتی سے کلیدی آسامیوں اور فوج کے اہم عہدوں پر قادیانی افسران فائز ہو گئے۔ وزارت خارجہ کے منصب پر سر ظفر اللہ کو بٹھایا گیا۔ یہ افسران حاکم بعد میں، قادیانی پہلے تھے۔ انہوں نے اپنے عہدوں سے قادیانیت کی تبلیغ شروع کی اور حکومت کو اپنے دائرہ اثر میں لے لیا۔ مسلم لیگ نے پہلے انتخابات میں بہت سارے قادیانیوں کو اپنا امیدوار نامزد کیا۔ لیکن مجلس احرار اسلام کی کوششوں سے یہ تمام امیدوار ناکام ہو گئے ۔ قادیانیوں نے مختلف شہروں میں جلسے کرنے کی کوشش کی۔ مجلس احرار اسلام نے ان کو ناکام بنا دیا۔ ١٩٣٩ء میں مرزا محمود نے اپنے پیروکاروں کو حکم دیا کہ پاکستان کو قادیانی اسٹیٹ بنانے کی مہم شروع کی جائے اور سنہ ١٩٥٢ گزرنے نہ پائے کہ قادیانیوں کے دشمن مسلمانوں پر قادیانیوں کی فتح ہو جائے اور قادیانیوں کے دشمنوں سے انتقام لیا جائے ۔ خصوصاً احرار اسلام کے قائدین سے بھر پور انتقام لیا

جائے اور پہلے مرحلے پر بلوچستان کو احمدی صوبہ اور کشم شروع کی جائے۔ ادھر سر ظفر اللہ اور دیگر کلیدی عہدوں چنیوٹ کے قریب ایک خطہ پر قبضہ کر کے اس کو قا غیر قادیانی کو اس میں بسنے کی اجازت نہیں تھی۔ حتیٰ کہ ممکن نہیں تھا۔ دارالخلافہ کراچی ہونے کی بناء پر کراچی قبضہ جمایا ہوا تھا۔ ادھر مجلس احرار اسلام کی سیاسی حیثی تھی۔ مسلم لیگ اس کو اپنا حریف سمجھتی تھی اور قادیانی سے بھر پور فائدہ اٹھاتے تھے۔ اس صورتحال کے پیش بخاری نے مجلس احرار اسلام کا اجلاس طلب کیا اور یہ ت اب یکسوئی کا متقاضی ہے۔ سیاسی چپقلش سے اس م لئے ہم صرف قادیانی فتنہ ارتداد کے خلاف اجتماعی ط حضرات سیاسی میدان کے شہسوار ہیں وہ مسلم لیگ لوگ مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے صرف غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کے لئے اپنی جدوجہد کو کریں گے ۔ یہ تجویز اگر چہ سیاسی کارکنوں کے لئے خاتمہ تھا، لیکن مجلس احرار اسلام میں اطاعت امیر ک جواب دیا کہ جو آپ کی رائے وہ ہمارے لئے قبول سیاسی حیثیت ختم کر دی گئی اور قادیانیت کے سدبا مذہبی پلیٹ فارم تشکیل پایا۔ امیر شریعت سید عطاء ال امیر قرار پائے۔ قاضی احسان احمد شجاع آبادی، وغیرہ نے سیاست کو خیر آباد کہہ کر تبلیغ عقیدہ ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر سیاسی عملی جدوجہد کے لئے شری زندگی اختیار کر لی۔

مجلس تحفظ ختم نبوت نے قادیانیت کے مختلف حصوں میں جلسوں کا انعقاد کیا۔ لاہور اور بنایا۔ پشاور یونیورسٹی میں قادیانیوں کے جلسے کو مسل

صفحہ ٧٧

جائے اور پہلے مرحلے پر بلوچستان کو احمدی صوبہ اور کشمیر کو احمدی ریاست میں تبدیل کرنے کی مہم شروع کی جائے۔ ادھر سر ظفر اللہ اور دیگر کلیدی عہدوں پر فائز افسران کی بدولت قادیانیوں نے چنیوٹ کے قریب ایک خطہ پر قبضہ کر کے اس کو قادیانی اسٹیٹ کی شکل دے دی تھی اور کسی غیر قادیانی کو اس میں بسنے کی اجازت نہیں تھی۔ حتیٰ کہ غیر قادیانی افسران کا تقرر بھی اس قصبہ میں ممکن نہیں تھا۔ دارالخلافہ کراچی ہونے کی بناء پر کراچی پر بھی عملی طور پر قادیانیوں نے ایک حد تک قبضہ جمایا ہوا تھا۔ ادھر مجلس احرار اسلام کی سیاسی حیثیت اس کے کام میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ مسلم لیگ اس کو اپنا حریف سمجھتی تھی اور قادیانی مسلم لیگ اور مجلس احرار اسلام کی اس لڑائی سے بھر پور فائدہ اٹھاتے تھے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ١٩٤٩ء میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے مجلس احرار اسلام کا اجلاس طلب کیا اور یہ تجویز پیش کی کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا کام اب یکسوئی کا متقاضی ہے۔ سیاسی چپقلش سے اس مشن اور کاز کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اس لئے ہم صرف قادیانی فتنہ ارتداد کے خلاف اجتماعی طور پر کام کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اس لئے جو حضرات سیاسی میدان کے شہسوار ہیں وہ مسلم لیگ یا کوئی سیاسی پلیٹ فارم استعمال کریں۔ ہم لوگ مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے صرف قادیانی سرگرمیوں کو روکنے اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کے لئے اپنی جدوجہد کو سیاسی مفادات سے بالائے طاق رکھ کر کام کریں گے۔ یہ تجویز اگرچہ سیاسی کارکنوں کے لئے قبول کرنا بہت مشکل مرحلہ اور سیاسی کیرئیر کا خاتمہ تھا، لیکن مجلس احرار اسلام میں اطاعت امیر کی بہت زیادہ اہمیت تھی تمام شرکاء نے متفقہ جواب دیا کہ جو آپ کی رائے وہ ہمارے لئے قبول۔ اس طرح ١٩٤٩ء میں مجلس احرار اسلام کی سیاسی حیثیت ختم کر دی گئی اور قادیانیت کے سدباب کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام سے مذہبی پلیٹ فارم تشکیل پایا۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری حسب سابق اس جماعت کے بھی امیر قرار پائے۔ قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین اختر وغیرہ نے سیاست کو خیر آباد کہہ کر تبلیغ عقیدہ ختم نبوت کے کام کو سنبھالا۔ بعض دیگر رہنما مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر سیاسی عملی جدوجہد کے لئے شریک سفر ہو گئے۔ بعض احباب نے گوشہ نشینی کی زندگی اختیار کر لی۔

مجلس تحفظ ختم نبوت نے قادیانیت کے خلاف تبلیغی سرگرمیاں شروع کیں اور ملک کے مختلف حصوں میں جلسوں کا انعقاد کیا۔ لاہور اور سیالکوٹ میں قادیانیوں کی کانفرنسوں کو ناکام بنایا۔ پشاور یونیورسٹی میں قادیانیوں کے جلسے کو مسلمانوں کے جلسہ میں تبدیل کیا۔ لیکن حکومت کی

٧

صفحہ ٧٩

سرپرستی کی وجہ سے قادیانیوں کے حوصلے بہت بڑھ گئے۔ خصوصاً سر ظفر اللہ نے تو قادیانیت کی تبلیغ کو ایک مشن بنالیا۔ ١٩٥٢ء میں مرزا محمود نے پھر اس اعلان کا اعادہ کیا کہ بلوچستان صوبہ کو احمدی صوبہ بنانے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ ادھر مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت چنیوٹ میں سالانہ جلسہ ہوا۔ ٣١؍دسمبر کی رات کو عطاء اللہ شاہ بخاری کی تقریر شروع ہوئی۔ جب رات بارہ بجے کے بعد ١٩٥٣ء کا سال شروع ہوا تو امیر شریعت نے اعلان کیا۔

مرزا محمود تم نے دعویٰ کیا تھا ١٩٥٢ء گزرنے نہ پائے۔ سن لو ١٩٥٢ء گزر گیا۔ اب انشاء اللہ ١٩٥٣ء مجلس تحفظ ختم نبوت اور ختم نبوت کے شیدائیوں کا سال ہے۔ اس ملک میں اب محمد رسول اللہ ﷺ کی عظمت گونجے گی۔ جھوٹے نبی کے دجل و فریب کا پردہ چاک ہوگا۔ پاکستان اسلامی ملک ہے یہ مسلمانوں کا ملک رہے گا۔ خدا نے ہمیں تیرے قدموں میں گرنے سے بچالیا ہے۔ اب ١٩٥٣ء ہمارا ہے۔ دیکھ اب ہمارا خدا تجھ سے اور تیری جماعت سے کیا معاملہ کرتا ہے۔

ادھر حکومت نے جداگانہ انتخابات کا اعلان کر دیا۔ جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت کی فہرست میں درج نہیں کیا۔ جس سے ظاہر ہوا کہ حکومت کے نزدیک ان کی حیثیت مسلم فرقہ کی ہے۔ دوسری طرف قادیانیوں نے ١٧، ١٨؍مئی ١٩٥٢ء کو کراچی میں ایک جلسہ کا اعلان کر دیا۔ جس میں سر ظفر اللہ نے زندہ اسلام (قادیانیت) کے موضوع پر تقریر کرنی تھی۔ سرکاری سرپرستی میں جلسہ کا اہتمام کیا گیا۔ بڑے بڑے قد آدم پوسٹر چسپاں کئے گئے۔ تقریر میں سر ظفر اللہ نے اسلام کو مردہ (نعوذ باللہ) اور قادیانیت کو زندہ اسلام کہہ دیا۔ مسلمان موجود تھے۔ احتجاج شروع ہوا۔ لاٹھی چارج کے بعد جلسہ درہم برہم ہو گیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس واقعہ کا سنجیدگی سے نوٹس لیا اور ٢؍جون ١٩٥٢ء کو تمام جماعتوں پر مشتمل ایک نمائندہ اجلاس بلایا جس میں سید سلیمان ندوی، مفتی محمد شفیع، مولانا حامد بدایونی، مفتی محمد یوسف کلکتوی، مفتی داؤد، مولانا سلطان احمد، علامہ احمد شاہ نورانی، مولانا لال حسین اختر، الحاج ہاشم گزدر، مفتی جعفر حسین، مولانا احتشام الحق تھانوی شریک ہوئے۔ اجلاس میں تین مطالبے تجویز ہوئے۔ قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جائیں۔ چوہدری ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ کے عہدے سے برطرف کیا جائے۔ تمام کلیدی آسامیوں سے قادیانی افسران کو علیحدہ کیا جائے۔

اس اجلاس میں ایک بورڈ تشکیل دیا گیا جس کے ذمہ آل پاکستان مسلم پارٹیز کنونشن کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ١٣؍جولائی ١٩٥٢ء کو اس بورڈ نے کنونشن کا فیصلہ کیا اور درج ذیل جماعتوں کو دعوت دینے کا فیصلہ کیا۔ جمعیت علماء اسلام پاکستان، جمعیت علماء پاکستان، مجلس تحفظ ختم نبوت،

٨

مجلس احرار اسلام، تنظیم اہل سنت والجماعت، جمعیت اہل مشرقی پاکستان، ادارہ تحفظ حقوق شیعہ۔

١٥؍اگست کو مشترکہ میٹنگ میں فیصلہ ہوا کہ کنونشن کے دعوت نامے جاری کر دیئے جائیں۔ اس فی دیئے گئے۔ اس کنونشن کی تیاری اور سرظفر اللہ کی کراچی گرفتاریوں کے خلاف پورے ملک میں جلسوں کا سلسلہ ش جلوسوں کو روکنے کے لئے تمام ملک اور ملک کی تمام مساجد اور لاٹھی چارج کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ پوری حکو بچانے کے لئے سرگرم عمل ہو گئی۔ کراچی کنونشن بہت کا بڑے علماء کرام شریک ہوئے اور درج ذیل قراردادیں من

خواجہ ناظم الدین مطالبات تسلیم نہیں کر رہے قادیانیوں کے ساتھ کامل مقاطعہ کیا جائے، سرظفر اللہ خا الدین استعفیٰ دیں۔

ان فیصلوں کی روشنی میں مطالبات کی منظور ملک میں شروع ہو گیا۔ ایک ماہ کا حکومت کو نوٹس دیا گیا کی سردمہری اپنی جگہ باقی تھی۔ ٢١؍فروری کو خواجہ نا رہنماؤں نے محسوس کیا کہ مطالبات کی منظوری کی بجا اور رہنماؤں میں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی جا دیا۔ اس سلسلے میں ٢٣؍فروری کو کراچی میں آخری جل کا طریقہ کار طے کر کے ٥، ٥ رضا کاروں کی گرفتار جلسہ کے بعد لاہور میں عظیم الشان جلسہ ہوا۔ مرکزی میں ٹھونس دیا۔ مولانا ابوالحسنات، مولانا عطاء اللہ شا جیل بھر دیئے گئے۔ لاہور میں جلوس کے شرکاء پر گولی فوج کے حوالے کر کے جزوی مارشل لاء نافذ کر دیا لئے تشدد کا سخت ترین راستہ اختیار کیا گیا۔ تمام رہ

٩

صفحہ ٧٩

مجلس احرار اسلام، تنظیم اہل سنت والجماعت، جمعیت اہل حدیث، جماعت اسلامی، حزب اللہ مشرقی پاکستان، ادارہ تحفظ حقوق شیعہ۔

١٥ اگست کو مشترکہ میٹنگ میں فیصلہ ہوا کہ ١٦ تا ١٨ جنوری ١٩٥٣ء کو کراچی میں کنونشن کے دعوت نامے جاری کر دیئے جائیں۔ اس فیصلہ کی روشنی میں دعوت نامے جاری کر دیئے گئے۔ اس کنونشن کی تیاری اور سر ظفر اللہ کی کراچی کی تقریر اور مسلمانوں پر لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کے خلاف پورے ملک میں جلسوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ حکومت نے ان جلسوں اور جلوسوں کو روکنے کے لئے تمام ملک اور ملک کی تمام مسجدوں میں دفعہ ١٤٤ نافذ کر دی۔ گرفتاریوں اور لاٹھی چارج کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ پوری حکومت مجلس تحفظ ختم نبوت کی تحریک کو ناکام بنانے کے لئے سرگرم عمل ہو گئی۔ کراچی کنونشن بہت کامیاب رہا اور تمام مکاتب فکر کے بڑے بڑے علماء کرام شریک ہوئے اور درج ذیل قراردادیں منظور کی گئیں۔

خواجہ ناظم الدین مطالبات تسلیم نہیں کر رہے ہیں۔ اس لئے راست اقدام ناگزیر ہے، قادیانیوں کے ساتھ کامل مقاطعہ کیا جائے، سرظفر اللہ برطرف نہیں کئے گئے۔ اس لئے خواجہ ناظم الدین استعفیٰ دیں۔

ان فیصلوں کی روشنی میں مطالبات کی منظوری کے لئے پرامن تحریک کا سلسلہ پورے ملک میں شروع ہو گیا۔ ایک ماہ کا حکومت کو نوٹس دیا گیا۔ نوٹس کی مدت قریب آ رہی تھی اور حکومت کی سرد مہری اپنی جگہ باقی تھی۔ ٢١ فروری کو خواجہ ناظم الدین سے ملاقات کے بعد مجلس کے رہنماؤں نے محسوس کیا کہ مطالبات کی منظوری کی بجائے تحریک کو ناکام بنانے کے لئے علماء کرام اور رہنماؤں میں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس لئے راست اقدام کا فیصلہ کر لیا۔ اس سلسلے میں ٢٤ فروری کو کراچی میں آخری جلسہ ہوا۔ جس میں پورے ملک میں گرفتاریوں کا طریقہ کار طے کر کے ٥، ٥ رضا کاروں کی گرفتاری کا پرامن مرحلہ شروع کیا گیا۔ کراچی کے جلسہ کے بعد لاہور میں عظیم الشان جلسہ ہوا۔ مرکزی حکومت نے رہنماؤں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ٹھونس دیا۔ مولانا ابوالحسنات، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری اور دیگر رہنماء اور رضا کاروں سے جیل بھر دیئے گئے۔ لاہور میں جلوس کے شرکاء پر گولی چلا کر ہزاروں نوجوانوں کو شہید کر دیا۔ شہر کو فوج کے حوالے کر کے جزوی مارشل لاء نافذ کر دیا۔ پورے ملک میں نہتے مسلمانوں کو کچلنے کے لئے تشدد کا سخت ترین راستہ اختیار کیا گیا۔ تمام رہنماؤں کو شہروں کی جیل سے نکال کر سندھ کی

٩

صفحہ ٨١

خطرناک جیلوں میں منتقل کر دیا گیا۔ ٢٦؍ جنوری سے ١٠؍ مارچ تک تحریک تیزی کے ساتھ چلتی رہی۔ اس کی شدت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ اس مدت کے دوران ایک لاکھ سے زائد تحفظ ختم نبوت کے رضا کاروں نے گرفتاریاں پیش کیں اور دس ہزار سے زائد جانثارانِ ختم نبوت نے جام شہادت نوش کیا۔ پورا ملک اس دوران بدامنی کا شکار رہا۔ آخر کار حکومت نے فوج کی مدد سے اس تحریک کو دبا دیا۔ مجلس احرار اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام دفاتر سیل کر کے ریکارڈ ضبط کر لیا گیا۔ رہنماؤں کو دو سال سے زائد جیلوں میں بند رکھا۔ اگر چہ تحریک ظاہری اعتبار سے ناکام ہوئی اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے مطالبات منظور نہیں ہوئے۔ لیکن اس تحریک کے نتیجے میں پورے ملک میں قادیانیوں کے عزائم بے نقاب ہو گئے اور قادیانیوں کی طرف سے پاکستان یا کشمیر اور بلوچستان کو قادیانی اسٹیٹ بنانے کے خواب کی تعبیر پوری نہ ہوسکی۔ اس تحریک کو کچلنے میں سکندر مرزا، جنرل اعظم، مسٹر جی احمد، مسٹر پی ایم احمد کا سب سے زیادہ ہاتھ تھا۔ جب کہ خواجہ ناظم الدین کی کمزوری اور دیگر مسلمان وزراء کی مصلحت پسندی کا اس میں بہت زیادہ دخل تھا۔

رہنماؤں کے جیل میں ہونے کی وجہ سے احتجاجی کام میں رخنہ پڑا اور ایک دور میں ایسا محسوس ہونے لگا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا وجود ہی سرے سے ختم ہو گیا۔ لیکن جیسے جیسے رہنما رہا ہوتے رہے کام کا آغاز شروع ہوا اور غور و فکر شروع ہوا کہ دوبارہ کس انداز سے کام شروع کیا جائے۔ اس سلسلے میں ٢٠، ٢١؍ اپریل ١٩٥٤ء کو امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے یہاں قائدین کا اجلاس ہوا۔ جس میں ماسٹر تاج الدین انصاری، مولانا محمد علی جالندھری، قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا سید عطاء المنعم بخاری، مولانا تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری، شیخ حسام الدین، مولانا مجاہد الحسینی شریک ہوئے۔ طے پایا کہ شیخ حسام الدین اور ماسٹر تاج الدین انصاری مجلس احرار اسلام کے سربراہ اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا محمد علی جالندھری، مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ ہوں گے اور اسی اجلاس میں فریقین نے دفاتر وغیرہ تقسیم کر لئے۔ اس طرح ١٩٥٤ء میں اس تجویز کی عملی شکل ظہور میں آئی۔ جس کا اعلان ١٩٣٩ء میں کر دیا گیا تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کا پہلا اجلاس ٣، ٥؍ ستمبر ١٩٥٤ء کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہوا۔ جس میں جماعت کے دستور وغیرہ کی تیاری شروع ہوئی۔ ٣؍ دسمبر ١٩٥٤ء کو جماعت کا پہلا انتخاب ہوا۔ جس میں امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاری، امیر؛ مولانا محمد علی جالندھری، ناظم اعلیٰ مقرر ہوئے اور ملتان میں صدر دفتر تجویز ہوا اور اتفاق رائے سے مجلس تحفظ

١٠

ختم نبوت کا دستور منظور کیا گیا۔ جس کی سب سے اہم شق یہ تھی۔

مجلس تحفظ ختم نبوت کا دائرہ عمل صرف تبلیغ دین اور ا مجلس کے ارکان و مبلغین ملک کی مروجہ سیاست یعنی انتخابی سیا حیث الجماعت قطعاً کوئی حصہ نہیں لیں گے۔

اس دستور کی روشنی میں مجلس تحفظ ختم نبوت نے پورے رضا کاروں کے ذریعے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت ایک محاذ پر کام شروع کیا اور حکومتی محاذ پر مطالبات کے ذری دلوانے کا مرحلہ شروع کیا۔

٢١؍ اگست ١٩٦١ء کو امیر شریعت سید عطاء اللہ ش ٥، ٦ ، ٧؍ اکتوبر ١٩٦١ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے اجلاس میں م لئے امیر کے فرائض انجام دینے کی تجویز منظور ہوئی۔ ١٣؍ ا احسان احمد شجاع آبادی کو باضابطہ امیر جماعت منتخب کیا گیا قاضی احسان احمد شجاع آبادی امیر مرکزیہ کی وفات کے ب انتخابات تک کے لئے امیر تجویز کیا گیا۔ ٩؍ مارچ ١٩٦٧ء م محمد علی جالندھری کو مستقل امیر منتخب کیا گیا۔ ٢٤؍ صفر ١٣٩١ھ م تو ٢٨؍ اپریل ١٩٧١ء کے اجلاس میں مولانا لال حسین اختر ک مولانا لال حسین اختر کے انتقال کے بعد مولانا محمد حیات ک کیا گیا۔ یکم؍ مارچ ١٩٧٤ء کے اجلاس میں جماعت کے م مولانا سید محمد یوسف بنوری کو کنوینر مقرر کیا گیا۔ ٩؍ اپری یوسف بنوری کو امیر ، مولانا خواجہ خان محمد صاحب کو نائب ام مولانا سید محمد یوسف بنوری نے امیر منتخب ہو ک کرنے کی ہدایت کی اور عرب ممالک میں بھی حکمرانوں ک کیا۔ پاکستان میں تبلیغی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کیا گیا۔ ا قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد منظور کی گ کی حمایت کی اور قادیانیت کے کفر پر مہر تصدیق ثبت ک قادیانیوں نے خطرہ محسوس کر لیا کہ اب پاکستان میں ا

١١

صفحہ ٨١

ختم نبوت کا دستور منظور کیا گیا۔ جس کی سب سے اہم شق یہ تھی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کا دائرہ عمل صرف تبلیغ دین اور اشاعت اسلام تک محدود ہوگا۔ اس مجلس کے ارکان و مبلغین ملک کی مروجہ سیاست یعنی انتخابی سرگرمیوں اور جنگ اقتدار میں من حیث الجماعت قطعاً کوئی حصہ نہیں لیں گے۔

اس دستور کی روشنی میں مجلس تحفظ ختم نبوت نے پورے پاکستان میں اپنے مبلغین اور رضا کاروں کے ذریعے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کی اسلام دشمن سرگرمیوں کے خلاف ایک محاذ پر کام شروع کیا اور حکومتی محاذ پر مطالبات کے ذریعہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کا مرحلہ شروع کیا۔

٢١؍ اگست ١٩٦١ء کو امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے انتقال کے بعد ٥، ٦، ٧؍ اکتوبر ١٩٦١ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے اجلاس میں مولانا محمد علی جالندھریؒ کو آئندہ کے لئے امیر کے فرائض انجام دینے کی تجویز منظور ہوئی۔ ١٣؍ شوال ١٣٨٢ھ کے اجلاس میں قاضی احسان احمد شجاع آبادی کو باضابطہ امیر جماعت منتخب کیا گیا۔ ١٠؍ دسمبر ١٩٦٦ء کے اجلاس میں قاضی احسان احمد شجاع آبادی امیر مرکزیہ کی وفات کے بعد مولانا محمد علی جالندھریؒ کو نئے انتخابات تک کے لئے امیر تجویز کیا گیا۔ ٩؍ مارچ ١٩٦٧ء کے اجلاس میں اتفاق رائے سے مولانا محمد علی جالندھریؒ کو مستقل امیر منتخب کیا گیا۔ ٢٤؍ صفر ١٣٩١ھ کو مولانا محمد علی جالندھریؒ رحلت فرما گئے تو ٢٨؍ اپریل ١٩٧١ء کے اجلاس میں مولانا لال حسین اخترؒ کو امیر مقرر کیا گیا۔ ١١؍ جون ١٩٧٣ء کو مولانا لال حسین اخترؒ کے انتقال کے بعد مولانا محمد حیات صاحب کو نئے انتخابات تک امیر مقرر کیا گیا۔ یکم؍ مارچ ١٩٧٤ء کے اجلاس میں جماعت کے نئے انتخابات کے لئے محدث العصر مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کو کنوینر مقرر کیا گیا۔ ٩؍ اپریل ١٩٧٤ء کے اجلاس میں مولانا محمد یوسف بنوریؒ کو امیر، مولانا خواجہ خان محمد صاحب کو نائب امیر منتخب کیا گیا۔

مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نے امیر منتخب ہوتے ہی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کام کو تیز کرنے کی ہدایت کی اور عرب ممالک میں بھی حکمرانوں اور مسلمانوں کو اس فتنہ ارتداد سے آگاہ کیا۔ پاکستان میں تبلیغی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کیا گیا۔ ٢٩؍ اپریل ١٩٧٣ء کو آزاد کشمیر اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد منظور کی۔ رابطہ عالم اسلامی نے کشمیر کی اس قرارداد کی حمایت کی اور قادیانیت کے کفر پر مہر تصدیق ثبت کی۔ آزاد کشمیر کی اس قرارداد کے بعد قادیانیوں نے خطرہ محسوس کر لیا کہ اب پاکستان میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی تحریک کامیاب ہو

١١

صفحہ ٨٣

جائے گی۔ اس لئے انہوں نے مختلف ہتھکنڈوں سے مسلمانوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔

مختلف مقامات پر ہنگامہ آرائی کی مرزا ناصر جو اس وقت اپنے آپ کو جھوٹے نبی کا خلیفہ کہلاتے تھے انہوں نے اس قرار داد پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کی، انہی دنوں میں مرزا ناصر کے حکم پر فضائیہ کے ایک بڑے اسکواڈ نے سالانہ جلسہ کے موقع پر مرزا ناصر کو سلامی دی۔ آزاد کشمیر اسمبلی کی تقلید میں قومی اسمبلی میں مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک، مولانا عبد الحکیم راولپنڈی نے قرار داد پیش کی۔ لیکن اسپیکر نے منظور نہیں کی۔ سندھ اسمبلی میں جناب ظہور الحسن بھوپالی نے پہلے قرار داد اور اس کے ایجنڈے پر نہ آنے پر تحریک التواء پیش کی۔ اسپیکر کی طرف سے اجازت نہ دینے پر واک آوٹ کیا۔ انہی دنوں میں قادیانیوں کی طرف سے فوجی بغاوت کی بھی کوشش کی گئی۔ فرقانی فورس کے نام سے پرائیویٹ فوج قائم کی گئی۔ تاکہ قادیانیوں کو تحفظ دیا جاسکے۔ ربوہ میں قادیانیوں نے اپنے سیکرٹریٹ اور سرکاری دفاتر پر اپنے جھنڈے لہرا دیئے۔ اپوزیشن لیڈروں مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، نوابزادہ نصر اللہ خان، خان عبدالولی خان، چوہدری ظہور الٰہی کے قتل کی کوشش کی گئی۔ الغرض بالکل ایسی صورتحال پیدا کر دی گئی جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ قادیانی اپنی الگ ریاست قائم کرنے یا پاکستان کو سیکولر اور قادیانی اسٹیٹ بنانے کے درپے ہو گئے ہیں۔ ادھر قادیانی یہ سوچ رہے تھے اور اس کے لئے ہر قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ ادھر رب العزت کی طرف سے مسلمانوں کے حق میں فیصلہ کا وقت آگیا۔

٢٢ مئی ١٩٧٤ء کو ایک ایسا واقعہ پیش آیا۔ جس نے قادیانیوں کے خلاف تاریخی فیصلہ کے لئے راہ ہموار کر دی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مطالبہ پورا ہونے کی راہ ہموار کر دی۔ نشتر میڈیکل کالج کے طلباء نے سوات جانے کا تفریحی پروگرام ترتیب دیا۔ خیبر میل میں بوگی مخصوص کرانے کی کوشش کی۔ خیبر میل کی بجائے چناب ایکسپریس میں بوگی دستیاب ہوئی۔ طلباء اس کے ذریعہ پنڈی کے لئے روانہ ہوئے۔ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر لڑکے اشیاء ضرورت کی خریداری کے لئے اترے تو مرزائیوں نے ان کو قادیانیت کی تبلیغ شروع کی اور ”الفضل“ رسالہ پکڑا دیا۔ طلباء میں اضطراب پیدا ہوا اور انہوں نے ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگائے۔ اس سے قبل کہ تصادم ہوتا طلباء کے بڑوں اور قادیانیوں کے بڑوں نے معاملہ رفع دفع کرا دیا۔ بات ختم ہو گئی۔ لیکن ایک بات واضح ہوئی کہ قادیانیوں کے اب عزائم اتنے بلند ہو گئے ہیں کہ وہ سرعام تبلیغ سے بھی نہیں چوکتے تھے۔ دن گزرتے گئے طلباء اپنی تفریح میں مشغول ہو گئے۔

١٢

٢٨ مئی کو طلباء نے واپسی میں بھی خیبر میل بکنگ ملتان سے ہی تھی۔ اس لئے چناب ایکسپریس کی نوجوان طلباء کی بوگی میں سوار ہوئے۔ جس سے طلباء کو ا ربوہ اسٹیشن پر چناب ایکسپریس پہنچتے ہی سینکڑوں افرا سریوں سے لیس تھے۔ طلباء کی بوگی پر حملہ کر دیا اور ان تک یہ ہجوم وحشیانہ انداز میں طلباء پر لاٹھیاں اور سریہ جس نے بچانے کی کوشش کی ان کو بھی زدوکوب کیا میدان بنا ہوا تھا۔ جب طلباء زخموں سے چور چور ہو گ فرار ہو گیا۔ ربوہ اسٹیشن سے فیصل آباد تک طلباء اسی اسٹیشن پر حکام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما اطلاع ملنے پر پہنچ گئے تھے۔ یہ خبر پورے ملک میں فوراً

مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما محدث پاکستان کے علماء کرام کا اجلاس طلب کیا۔ پورے م احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ ہر مسلمان اس وا والے ملک میں ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگانے وال یہاں تک کہ محمدیت مردہ باد، (نعوذ باللہ) کے نعرے لے لیا کہ پوری حکومت کی مشینری ناکام ہوگئی۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ حنیف رامے نے جسٹس کے دی گئی کہ وہ سانحہ ربوہ اسٹیشن کی غیر جانبدارانہ تح کہ اس ٹریبونل کی رپورٹ شائع کی جائے گی ل ٹریبونل نے کام شروع کیا ادھر پورے پاکستان بنوری نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس شوریٰ اور مذہبی جماعتوں کو طلب کیا اور اس موقعہ کے بالاتفاق تجویز منظور ہوئی کہ قادیانیوں کو غیر مس اجتماعی مسئلہ ہے۔ اس کو حل کرانے کے لئے نبوت تشکیل دے کر اس پلیٹ فارم پر مشترکہ

صفحہ ٨٣

٢٨ مئی کو طلباء نے واپسی میں بھی خیبر میل کی کوشش کی۔ لیکن چناب ایکسپریس کی بکنگ ملتان سے ہی تھی۔ اس لئے چناب ایکسپریس کی بوگی دستیاب ہوئی۔ سرگودھا اسٹیشن پر کچھ نوجوان طلباء کی بوگی میں سوار ہوئے۔ جس سے طلباء کو اندیشہ ہوا کہ قادیانی کچھ گڑ بڑ کریں گے۔ ربوہ اسٹیشن پر چناب ایکسپریس پہنچتے ہی سینکڑوں افراد پر مشتمل ہجوم نے جو لاٹھیوں، ہاکیوں، سریوں سے لیس تھے۔ طلباء کی بوگی پر حملہ کر دیا اور ان نہتے طلباء کو مارنا شروع کر دیا۔ آدھے گھنٹہ تک یہ ہجوم وحشیانہ انداز میں طلباء پر لاٹھیاں اور سریئے برساتا رہا۔ کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ جس نے بچانے کی کوشش کی ان کو بھی زدوکوب کیا گیا۔ ان طلباء کے لئے ربوہ اسٹیشن کربلا کا میدان بنا ہوا تھا۔ جب طلباء زخموں سے چور چور ہو کر ادھ موئے ہو گئے تو ہجوم ربوہ شہر کی طرف فرار ہو گیا۔ ربوہ اسٹیشن سے فیصل آباد تک طلباء اسی زخمی حالت میں لے جائے گئے۔ فیصل آباد اسٹیشن پر حکام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا تاج محمود اور دیگر علماء کرام واقعہ کی اطلاع ملنے پر پہنچ گئے تھے۔ یہ خبر پورے ملک میں فوری طور پر پھیل گئی۔

مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما محدث العصر مولانا سید محمد یوسف بنوری نے تمام پاکستان کے علماء کرام کا اجلاس طلب کیا۔ پورے ملک میں احتجاج کی لہر دوڑ گئی۔ جلسے جلوس اور احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ ہر مسلمان اس واقعہ پر غمزدہ تھا۔ اسلام کے نام پر حاصل ہونے والے ملک میں ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگانے والوں پر اس طرح کھلے عام ظلم اور ربوہ اسٹیشن پر ببانگ دہل محمدیت مردہ باد، (نعوذ باللہ) کے نعروں نے پورے ملک کو اس طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا کہ پوری حکومت کی مشینری ناکام ہو گئی۔ آخر کار وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی ہدایت پر پنجاب کے وزیر اعلیٰ حنیف رامے نے جسٹس کے ایم صمدانی پر مشتمل ٹربیونل قائم کیا جس کو ہدایت دی گئی کہ وہ سانحہ ربوہ اسٹیشن کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے، وزیر اعظم پاکستان نے اعلان کیا کہ اس ٹربیونل کی رپورٹ شائع کی جائے گی اور مجرمین کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ ادھر ٹربیونل نے کام شروع کیا ادھر پورے پاکستان میں تحریک نے شدت پکڑ لی۔ مولانا محمد یوسف بنوری نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس شوریٰ اور مولانا مفتی محمود کے مشورے سے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو طلب کیا اور اس موقعہ کے پس منظر میں قادیانیوں کے عزائم سے باخبر کیا۔ بالاتفاق تجویز منظور ہوئی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کا مسئلہ امت مسلمہ کا مشترکہ اجتماعی مسئلہ ہے۔ اس کو حل کرانے کے لئے تمام جماعتوں پر مشتمل آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت تشکیل دے کر اس پلیٹ فارم پر مشترکہ جدوجہد کی جائے۔ اتفاق رائے سے محدث العصر

١٣

صفحہ ٨٥

مولانا محمد یوسف بنوریؒ کو اس کا امیر مقرر کیا گیا۔ تمام جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل مجلس شوریٰ کا قیام عمل میں آیا۔ اس پلیٹ فارم کے تحت قومی اسمبلی اور پورے پاکستان میں ”تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء“ کا آغاز ہوا۔ قادیانیوں سے سماجی بائیکاٹ تحریک کا پہلا مرحلہ تھا۔ دوسرے مرحلہ میں ہڑتالوں اور اجتماعی جلوسوں کی ہمہ گیری نے تحریک کو تقویت دی۔ جب کہ تیسرے مرحلہ میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے فیصلے کی روشنی میں قائد حزب اختلاف مولانا مفتی محمود نے اپنے ٣٦ اراکین اسمبلی کے دستخطوں سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد ٣٠؍ جون ١٩٧٤ء کو قومی اسمبلی میں پیش کی قائد اہل سنت علامہ شاہ احمد نورانی نے اسمبلی میں پرائیویٹ بل پیش کیا۔ اس بل پر قومی اسمبلی کے ٢٨ معزز ممبران کے دستخط تھے۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے مسئلہ کی نزاکت اور اہمیت کو بھانپ لیا تھا۔ انہوں نے سانحہ ربوہ کے لئے قائم کردہ ٹربیونل کی رپورٹ اور حزب اختلاف کی قرارداد اور پرائیویٹ بل پر غور کرنے کے لئے پوری قومی اسمبلی کو خصوصی کمیٹی کا درجہ دیتے ہوئے اپنے وزیر قانون جناب عبدالحفیظ پیرزادہ کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلہ میں سرکاری بل بھی ایوان میں پیش کریں۔ اس طرح سرکاری بل بھی وزیر قانون نے ایوان میں پیش کیا۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر صاحبزادہ فاروق علی خان کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا خفیہ اجلاس شروع ہوا۔ جس میں حزب اختلاف کی پیش کردہ بل اور قرارداد اور حکومت کے پیش کردہ بل پر بحث شروع ہوئی۔ قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں نے محضر نامے پیش کئے۔

مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی زیر نگرانی مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا محمد حیات، مولانا تاج محمودؒ، مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، مولانا محمد تقی عثمانی، سینیٹر مولانا سمیع الحق نے ”ملت اسلامیہ“ کا مؤقف کے عنوان سے مسلمانوں کا نقطہ نظر تیار کیا جسے قائد حزب اختلاف مولانا مفتی محمودؒ نے اسمبلی میں پڑھ کر سنایا۔ مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے لاہوری مرزائیوں کے محضر نامہ کے جواب میں مسلمانوں کا مؤقف بہت اچھے انداز میں تحریری طور پر پیش کیا۔ پاکستان کے اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار نے حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے بہت اچھے انداز میں تمام فریقوں پر جرح کی اور اراکین اسمبلی کو صحیح فیصلہ کرنے میں مدد دینے کے لئے مسئلہ کو اجاگر کیا۔

قادیانی جماعت کے اس وقت کے سربراہ مرزا ناصر کو قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے طلب کیا اور ان کے محضر نامہ پر جرح کی گئی۔ ٥؍ اگست تا ١١؍ اگست اور ٢٠، ٢١؍ اگست کو کل گیارہ دن مرزا ناصر پر تفصیلی جرح کی گئی جس میں اس نے اقرار کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ

نبوت کیا تھا اور قادیانی اس کو نبی مانتے ہیں اور اس ل خارج ہیں۔ حتیٰ کہ یہ اراکین اسمبلی بھی مرزا غلام احمد ق دن لاہوری گروپ کے نمائندگان صدرالدین عبد ٥، ٦ ستمبر ١٩٧٤ء کو اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار صا مسئلہ کی تمام تفصیلی جزئیات کی وضاحت کے ساتھ ب دوران اسپیکر جناب صاحبزادہ فاروق علی خان نے ایو اتنے اہم اور نازک مسئلہ پر بحث کے باوجود کوئی ناخ ممبران کے سامنے مسئلہ واضح ہو کر آگیا اور تمام اراکی بقایا حزب اقتدار سے، قادیانی امت کے بارے میں ا مدنظر نہیں رکھا۔ بلکہ نبی کریم ﷺ کی عظمت وعقیدت ک دیتے ہوئے قائد حزب اختلاف مولانا مفتی محمود اور قا شاہ احمد نورانی کا پیش کردہ پرائیویٹ بل اور حکومت ک حصہ لیتے ہوئے فیصلہ دیا کہ قادیانیوں کو ملت اسلام قرار دیا جائے۔ ٧؍ ستمبر کو کارروائی کے بعد وزیر اعظم ج فیصلہ قادیانیوں کے خلاف ہو گیا ہے۔ اب صرف آ منظوری کا مرحلہ باقی ہے اور انہوں نے قائد حزب ا

محمد یوسف بنوریؒ، ممتاز صحافی جناب شورش کاشمیری ا اور تفصیل سے ان حضرات کے نقطہ نگاہ اور پاکستا

جناب شورش کاشمیری نے بھٹو صاح کی عظمت کا حوالہ دیا۔ ٦ اور ٧؍ ستمبر کی رات فیص نگاہیں قومی اسمبلی کے ٧؍ ستمبر کے اجلاس کی طرف ل لئے تیار کئے بیٹھے تھے۔ افواہ یہ گرم تھی کہ بھٹو ص خوف سے اس مسئلہ کو حل کرنے کی جرأت نہیں کر س مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ خود اس مسئلہ کو حل کر دیں گے ی کے خصوصی اجلاس کا وقت ہوا اور قائد ایوان ج

صفحہ ٨٥

نبوت کیا تھا اور قادیانی اس کو نبی مانتے ہیں اور اس کے نہ ماننے والے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ حتیٰ کہ یہ اراکین اسمبلی بھی مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے کی بناء پر مسلمان نہیں۔ دو دن لاہوری گروپ کے نمائندگان صدرالدین عبدالمنان عمر اور مسعود بیگ پر جرح ہوئی۔ ٥، ٦ ستمبر ١٩٧٤ء کو اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار صاحب نے بہت ہی مدلل اور واضح انداز میں مسئلہ کی تمام تفصیلی جزئیات کی وضاحت کے ساتھ بحث کو سمیٹا خصوصی کمیٹی کی تمام کارروائی کے دوران اسپیکر جناب صاحبزادہ فاروق علی خان نے ایوان کو بہت ہی اچھے انداز میں چلایا جس سے اتنے اہم اور نازک مسئلہ پر بحث کے باوجود کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ آخر کار اسمبلی کے ممبران کے سامنے مسئلہ واضح ہو کر آگیا اور تمام اراکین نے چاہے ان کا تعلق حزب اختلاف سے تھا یا حزب اقتدار سے، قادیانی امت کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت پارٹی مفادات یا ہدایات کو مدنظر نہیں رکھا۔ بلکہ نبی کریم ﷺ کی عظمت و عقیدت کے پیش نظر اسلام کو ترجیح دی اور حق کا ساتھ دیتے ہوئے قائد حزب اختلاف مولانا مفتی محمود اور ان کے ساتھیوں کی پیش کردہ قرارداد اور مولانا شاہ احمد نورانی کا پیش کردہ پرائیویٹ بل اور حکومت کے پیش کردہ سرکاری بل پر رائے شماری میں حصہ لیتے ہوئے فیصلہ دیا کہ قادیانیوں کو ملت اسلامیہ سے خارج کیا جائے اور ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ ٦ ستمبر کو کاروائی کے بعد وزیراعظم پاکستان نے محسوس کیا کہ رائے شماری میں فیصلہ قادیانیوں کے خلاف ہو گیا ہے۔ اب صرف قائد ایوان اور وزیر اعظم کی حیثیت سے ان کی منظوری کا مرحلہ باقی ہے اور انہوں نے قائد حزب اختلاف مولانا مفتی محمودؒ، محدث العصر مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ، ممتاز صحافی جناب شورش کاشمیریؒ اور دیگر رہنماؤں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی اور تفصیل سے ان حضرات کے نقطہ نگاہ اور پاکستان کے حالات کو سنا۔

جناب شورش کاشمیریؒ نے بھٹو صاحب کے قدموں میں اپنی ٹوپی رکھ کر نبی اکرم ﷺ کی عظمت کا حوالہ دیا۔ ٦ اور ٧ ستمبر کی رات فیصلہ کن رات تھی۔ پاکستان کے تمام مسلمانوں کی نگاہیں قومی اسمبلی کے ٧ ستمبر کے اجلاس کی طرف مرکوز تھیں۔ قائدین اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے تیار کئے بیٹھے تھے۔ افواہ یہ گرم تھی کہ بھٹو صاحب غیر ملکی دباؤ اور قادیانیت کی سازشوں کے خوف سے اس مسئلہ کو حل کرنے کی جرأت نہیں کر رہے ہیں۔ دوسری طرف پوری قوم تیار تھی کہ اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ خود اس مسئلہ کو حل کر دیں گے۔ آخر کار ٧ ستمبر کی صبح طلوع ہوئی۔ قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس کا وقت ہوا اور قائد ایوان جناب ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے قرارداد کی

١٥

صفحہ ٨٦

منظوری کی ہدایت جاری ہوئی اور تمام اراکین اسمبلی نے مندرجہ ذیل آئینی ترمیم منظور کر کے مسلمانوں کی ٩٠ سالہ جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ الحمدللہ !

آئین پاکستان میں ترمیم کے لئے ایک بل

ہرگاہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعد ازیں درج اغراض کے لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید ترمیم کی جائے۔ لہذا بذریعہ ہذا حسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے۔

١...... مختصر عنوان اور آغاز نفاذ

٢...... آئین کی دفعہ ١٠٦ میں ترمیم

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں جسے بعد ازیں آئین کہا جائے گا۔ دفعہ ١٠٦ کی شق (٣) میں لفظ فرقوں کے بعد الفاظ اور قوسین اور قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) درج کئے جائیں گے۔

٣...... آئین کی دفعہ ٢٦٠ میں ترمیم

آئین کی دفعہ ٢٦٠ میں شق (٢) کے بعد حسب ذیل نئی شق درج کی جائے گی۔ یعنی

ایمان نہیں رکھتا جو حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے، وہ آئین یا قانون کے اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔

بیان اغراض و وجوہ

جیسا کہ تمام ایوانوں کی خصوصی کمیٹی کی سفارش کے مطابق قومی اسمبلی میں طے پایا ہے۔ اس بل کا مقصد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں اس طرح ترمیم کرنا ہے تا کہ ہر وہ شخص جو حضرت محمد ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو شخص محمد ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے، اسے غیر مسلم قرار دیا جائے۔

(عبدالحفیظ پیرزادہ ...... وزیر انچارج)

١٦

مرزا قادیانی کی

کا عبرتناک

نمائندہ اخبار سراج

PDF 88

خاتم النبیین

مرزا قادیانی کی موت

کا عبرتناک نظارہ

نمائندہ اخبار سراج الاخبار جہلم

صفحہ ٨٩

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ !

مرزا قادیانی کی موت کا عبرت ناک نظارہ

افسوس مر گئے ہیں مرزائے قادیانی پیغمبری کی آخر سب مٹ گئی کہانی
دارالاماں بنا کیا ماتم کدہ ہے دیکھو بچے ہیں چیختے اب روتی ہے میرزانی
کہتے تھے میرزا جی دشمن تباہ ہوں گے تھے دھمکیاں سناتے اور کرتے لن ترانی
معلوم یہ نہیں تھا آئے گا وقت ایسا کر دے گی کام جلدی یوں موت ناگہانی
نظارہ بھائیو ہے عبرت کا یہ سراسر مت کیجو بھروسہ دنیا سراء فانی

آہ! ناچیز انسان تو کیا اور تیری حقیقت کیا جس وقت تیرے جسم میں جان اور بدن میں توان ہوتی ہے تو فرعون بے سامان بن کر انا ولا غیری کا دم بھرتا اور لاف وگزاف سے زمین وآسمان کے قلابے ملا دیتا ہے۔ اس وقت تجھے کچھ نہیں سوجھتا کہ جس وقت تجھے فرشتہ موت آ پکڑے گا۔ تمام شوخی کرکری ہو جائے گی۔ آن کے آن میں قصہ تمام کر دے گا۔ پھر باقی زندہ رہنے والے لوگ تیری ان لن ترانیوں پر مضحکہ کریں گے۔ بھائیو! جائے عبرت اور مقام غور ہے کہ ملک عجم میں مغلوں کے گھر ایک گمنام بستی قادیان میں ایک شخص پیدا ہوا جس کا نام والدین نے سندھی بیگ رکھا تھا۔ پھر غلام احمد کے نام سے مشہور ہوا۔ معمولی نوشت و خواند کی استعداد حاصل کر کے ملازمت سرکار حاصل کی اور محرر کی اسامی پر کوئی عرصہ مارا مارا پھرا۔ دل میں جاہ طلبی اور حصول ثروت کا خیال تھا۔ قانون کتب کا مطالعہ شروع کیا تا کہ وکیل یا بیرسٹر بن کر دراہم و دنانیر جمع کرے۔ لیکن امتحان میں ناکام رہنے پر اس سلسلہ سے منہ موڑا اور درویشانہ صورت اختیار کر کے عزلت گزین ہوا۔ ابتداء میں معمولی درویش بنا رہا۔ پھر مجددیت کا خرقہ پہنا۔ پھر مہدویت اور مسیحیت کے القاب حاصل کئے۔ رفتہ رفتہ نبوت ورسالت بلکہ الوہیت کا بھی مدعی بنا اور دنیا بھر کے علماء عظام صوفیائے کرام کو مقابلہ کے لئے بلایا۔ سب نے تکذیب کی تو ان کو پانی پی پی کر کوسنا

شروع کیا اور مندر پیش گوئیوں کی دھمکیاں سنائیں۔ و دیتا۔ اگر کسی گوشے سے اس کے کسی مخالف کی موت کی وغیرہ حوادث ارضی و سماوی کو مکذبین کی شامت قرار دیت گویا دل میں سے اپنے مرنے کے خیال کو بالکل محو کر چ کے انتہائی درجہ کے غرور و پندار پر غیرت آئی اور اس دارالامان کہتا تھا نکال کر لاہور جیسے شہر میں جو اس کے بے بسی کی حالت میں بڑی ذلت و رسوائی کی ناگہانی م ایک بیباک اور مغرور دشمن دین حق انسان کا انجام بول

ہر کہ گردن بہ دعویٰ افرازد
ہیچ ہے! کل شئی ہالک الا وجہہ
کیا بھروسہ ہے زندگانی کا

یوں تو ہر ایک شخص نے ایک دن مرنا ہے ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی موت کا سوال اس وقت ا پیرووں نے جن کی تعداد بقول ان کے لاکھوں تک تک مرزا کے سب مشہور مخالف مرزا کی آنکھوں کے ذریت بقاع الارض میں پھیل نہ جائے گی۔ جب پڑھ لیں گے۔ جب تک مرزا کی آسمانی منکوحہ محمدی مولوی محمد حسین بٹالوی اس کے مرید نہ بن جائیں۔ مرزا کی اس ناگہانی اور بے وقت موت نے ثابت کر مریدوں کو کہہ رہا تھا اور ان کا نام الہام رکھا ہوا تھا۔ ش الشيطان الا غروراً ! خدا کی قدرت ہے کہ جو

٣

صفحہ ٨٩

شروع کیا اور منذر پیش گوئیوں کی دھمکیاں سنائیں۔ دنیا میں کوئی حادثہ ہوتا تو اس کو اپنا نشان قرار دیتا۔ اگر کسی گوشے سے اس کے کسی مخالف کی موت کی خبر آتی تو اس پر عید مناتا۔ طاعون و زلازل وغیرہ حوادث ارضی و سماوی کو مکذبین کی شامت قرار دیتا۔ ہر ایک مخالف شخص کو مباہلہ کا چیلنج دیتا اور گویا دل میں سے اپنے مرنے کے خیال کو بالکل محو کر چکا ہوا تھا کہ یکا یک خدائے جبار، قہار کو اس کے انتہائی درجہ کے غرور و پندار پر غیرت آئی اور اس کو اپنے آرامگاہ (قادیان) سے جس کو وہ دارالامان کہتا تھا نکال کر لاہور جیسے شہر میں جو اس کے ہزاروں مخالفین کا مورد و مسکن تھا۔ بیکسی اور بے بسی کی حالت میں بڑی ذلت و رسوائی کی ناگہانی موت (ہیضہ) سے ہلاک کر کے ثابت کیا کہ ایک بیباک اور مغرور دشمن دین حق انسان کا انجام یوں ہوتا ہے۔

ہر کہ گردن بہ دعوٰی افرازد خویشتن را بگردن اندازد

سچ ہے! کل شی ہالک الا وجہہ۔

کیا بھروسہ ہے زندگانی کا آدمی بلبلا ہے پانی کا

یوں تو ہر ایک شخص نے ایک دن مرنا ہے اور سوائے ذات حی و قیوم کے سب نے فنا ہونا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی موت کا سوال اس وقت اس لئے قابل بحث ہے کہ اس نے اور اس کے پیروؤں نے جن کی تعداد بقول ان کے لاکھوں تک پہنچ چکی ہے۔ دل میں یہ ٹھان لی تھی کہ جب تک مرزا کے سب مشہور مخالف مرزا کی آنکھوں کے سامنے مر نہ جائیں گے۔ جب تک مرزا کی ذریت اقطاع الارض میں پھیل نہ جائے گی۔ جب تک تمام اہل ارض مرزا کی رسالت کا کلمہ نہ پڑھ لیں گے۔ جب تک مرزا کی آسمانی منکوحہ محمدی بیگم اس کے نکاح میں نہ آئے گی۔ جب تک مولوی محمد حسین بٹالوی اس کے مرید نہ بن جائیں گے۔ مرزا نہ مرے گا اور کبھی نہ مرے گا۔ لیکن مرزا کی اس ناگہانی اور بے وقت موت نے ثابت کر دیا کہ یہ ساری چکنی چپڑی باتیں جو مرزا اپنے مریدوں کو کہہ رہا تھا اور ان کا نام الہام رکھا ہوا تھا۔ شیطانی وساوس تھے اور بس۔ وما یعدہم الشیطان الا غروراً ! خدا کی قدرت ہے کہ جب سے مرزا جی نے مہدویت و مسیحیت، نبوت

٣

صفحہ ٩١

و رسالت کے دعاوی پر کمر باندھی اور الہامات و پیشین گوئیوں کی اشاعت کا طریق جاری کیا۔ کوئی ایک بات بھی آپ کی پوری نہ ہونے پائی۔ حالانکہ بسا اوقات منجموں اور رمالوں، قیافہ شناسوں کی بھی کئی باتیں پوری ہو جایا کرتی ہیں۔ لیکن مرزا جی ہمیشہ ناکامی ہی کا منہ دیکھتے رہے۔ جب کبھی انہوں نے زلزلہ یا طاعون کی پیش گوئی شائع کی، خدا نے اپنا فضل کر دیا اور ان کو رسوائی ہوئی۔ قادیان میں طاعون نہ آنے کی پیشین گوئی کی تو طاعون کود کر وہاں جا پہنچی۔ پھر یہ کہا کہ بربادی آنگن نہ ہوگی۔ ایسا بھی ہوا۔ پھر کہا چار دیواری میں نہ آئے گی۔ وہاں بھی گئی۔ کہا مخلص مرید نہ مریں گے۔ وہ بھی مرے۔ الہام سنایا۔ لا یموت احد من رجالکم!

(تذکرہ ص ٤٥٨ طبع ٣)

عبدالکریم جیسے مخلص ناطقہ کی موت دیکھی۔ مبارک احمد پیارے بیٹے کی موت کا صدمہ پہنچا لیکن افسوس کہ باوجود ان تمام باتوں کے آپ کو ہوش نہ آئی اور اس مہلت سے جو خدا نے توبہ کے لئے دے رکھی تھی فائدہ نہ اٹھایا۔ جب خاتمہ کے دن قریب آگئے تو اتمام حجت کے لئے فرشتہ موت آپ کو لاہور پکڑ لایا اور علمائے کرام کے دلوں میں تحریک پیدا ہوئی کہ قہر کے کنارہ پر پہنچنے والے بڈھے کو تبلیغ کرو۔ شاید سمجھے اور ضد سے باز آئے۔ علماء نے دعوت دی اور ہزاروں روپے کی طمع بھی دی۔ لیکن شقاوت ازلی غالب ہوئی۔ کچھ فائدہ نہ ہوا۔ آخر ”ان بطش ربک لشدید“ کا وقت آ پہنچا اور وہ مسکین انسان جو بڑے بڑے دعاوی سنا رہا تھا ٢٦ مئی ١٩٠٨ء روز سہ شنبہ وقت ١٠ بجے دن کے دفعۃً ہیضہ میں مبتلا ہو کر راہی ملک عدم ہو گیا۔ افسوس ! مرزا جی جو اپنے مخالفوں کی موت کا نظارہ دیکھنے کے ہر وقت متمنی رہتے تھے آخر حسب مقولہ ۔

چاہ کن را چاہ درپیش

خود موت کے کنوئیں میں ایسے گرے کہ قیامت سے پہلے نکلنا محال ہے۔

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

خدا کی شان! مرزاجی اپنی ساری تمنائیں اور حسرتیں دل میں لے کر خاک ہو گئے اور ان کے مخالفین کو خدا نے صحیح و سلامت رکھ کر ان کا انجام دکھا دیا۔

٤

ہم تو جاتے ہیں اب
کرو جو کچھ تمہارا

آہ مرزا! یہ بساط تھی تو کیوں اتنا شور و شغب تہلکہ مچا دیا۔ مرزائیو! کیا اب بھی تمہیں کچھ شک ہے انکا جھوٹا ہونا روز روشن کی طرح ظاہر ہو گیا۔

اس وقت ہمارے سامنے اخبار بدر مطبو مرزاجی کے ایک صحابی ماسٹر ہدایت اللہ گجراتی کا ایک یہ ہے کہ وہ دنیا سے نہیں رخصت ہوتا۔ جب تک کہ کر ظاہر کرے حالانکہ وہ خدا کی طرف سے نہ ہو؟ خائب اور ذلیل و رسوا ہوتا ہے اور اس کا کارخانہ جلد کذب روز روشن کی طرح کھل جاتا ہے۔

اب ذرہ مضمون نگار صاحب خدا کو حا خاسر و خائب الی آخرہ کا مضمون پورا ہو گیا یا نہیں؟ پوچھتے ہیں کہ مہربانی سے بتائیں کہ جیسا کہ مرزا پیشگوئیاں کرتے رہے کیا اپنی موت کے متعلق بھی مرنے سے پہلے اپنی موت سے کچھ آگاہی حاصل سے پہلے اپنی موت کی خبر بتا دیتے اور بسا اوقات محا عجیب ملہم تھے کہ ان کو اور تو ساری دنیا کی موت وحیا وقت سے متعلق اطلاع نہ ملی۔ مرزا قادیانی نے ا تھا۔ ولنحیینک حيوة طيبة ثمانين حوا (اربعین نمبر ٣ ص ٣٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٢) ترجمہ: ”

صفحہ ٩١
ہم تو جاتے ہیں اب قبر میں رقیب
کرو جو کچھ تمہارا جی چاہئے

آہ مرزا! یہ بساط تھی تو کیوں اتنا شور وشغب کیا۔ اپنے جھوٹے دعاوی سے دنیا میں تہلکہ مچادیا۔ مرزائو! کیا اب بھی تمہیں کچھ شک ہے کہ مرزا کے سارے دعاوی جھوٹے تھے اور انکا جھوٹا ہونا روز روشن کی طرح ظاہر ہو گیا۔

اس وقت ہمارے سامنے اخبار بدر مطبوعہ ٢٣ جنوری ١٩٠٥ء پڑی ہے جس میں مرزاجی کے ایک صحابی ماسٹر ہدایت اللہ گجراتی کا ایک مضمون لکھا ہے کہ ”مامور من اللہ کی شناخت یہ ہے کہ وہ دنیا سے نہیں رخصت ہوتا۔ جب تک کہ اپنا کام نہ کرے اور مفتری علی اللہ جو الہام بنا کر ظاہر کرے حالانکہ وہ خدا کی طرف سے نہ ہو تو ایسا شخص قرآن کریم کی رو سے جلد خاسر و خائب اور ذلیل ورسوا ہوتا ہے اور اس کا کارخانہ جلد درہم و برہم ہو کر ملیا میٹ ہو جاتا ہے اور اس کا کذب روز روشن کی طرح کھل جاتا ہے۔“

اب ذرہ مضمون نگار صاحب خدا کو حاضر و ناظر جان کر بتادیں کہ بقول آپ کے خاسر و خائب الیٰ آخرہ کا مضمون پورا ہو گیا یا نہیں؟ کہہ دیجئے بلاشک فیہ! ہم مرزائی صاحبان سے پوچھتے ہیں کہ مہربانی سے بتائیں کہ جیسا کہ مرزا جی آپ کو الہامات سناتے رہے اور وقتاً فوقتاً پیشگوئیاں کرتے رہے کیا اپنی موت کے متعلق بھی انہوں نے کوئی ایک آدھ الہام تمہیں سنایا تھا یا مرنے سے پہلے اپنی موت سے کچھ آگاہی حاصل ہوئی تھی۔ حالانکہ معمولی نیک بندے بھی مرنے سے پہلے اپنی موت کی خبر بتا دیتے اور بسا اوقات ٹھیک روز اور وقت بھی بتا دیتے ہیں۔ لیکن مرزاجی عجیب ملہم تھے کہ ان کو اور تو ساری دنیا کی موت وحیات کے الہام ہو جاتے تھے لیکن اپنی وفات کے وقت سے مطلق اطلاع نہ ملی۔ مرزا قادیانی نے اپنی عمر کے متعلق مدتوں سے یہ الہام شائع کر رکھا تھا۔ ولنجينك حيوة طيبة ثمانين حولا او قريباً من ذالك او تزيد عليه سنيناً (اربعین نمبر ٣ ص ٣٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٢) ترجمہ: ”ہم تجھے پاک زندگی دیں گے۔ اسی سال کی یا اس

٥

صفحہ ٩٣

کے قریب یا اس سے زیادہ کئی سال۔“ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس الہام کے مطابق آپ نے کب مرنا تھا۔ سو واضح ہو کہ مرزا قادیانی نے ٦ جولائی ١٩٠٣ء کو اپنے حلفی بیان میں لالہ آتارام صاحب مجسٹریٹ کی عدالت میں لکھایا تھا کہ ان کی عمر اس وقت ٦٥ سال کی ہے۔ اسی حساب سے ٢٦ مئی ١٩٠٨ء روز وفات کو آپ کی عمر ٦٩ سال سے بھی ٢ ماہ کم تھی۔ اسی (٨٠) سال میں ابھی گیارہ سال باقی تھے اور زیادہ سالوں کی پیش گوئی کے مطابق ابھی بیس سال سے بھی زیادہ جیتے رہنا چاہئے تھا۔ اپنی الہامی عمر سے ١١ سال پہلے مر جانا صریح دلیل ہے کہ مرزا قادیانی کے الہام رحمانی نہیں تھے۔ بلکہ شیطانی تھے اور اب مرزائیوں کو اس کے ماننے سے چارہ نہیں ہے۔ علاوہ اس کے

مرزا صاحب نے ٥ نومبر ١٩٠٧ء کو ایک اشتہار بعنوان ”تبصرہ“ جلی قلم سے لکھوا کر ہزاروں کی تعداد میں شائع کیا اور اپنی جماعت کے لوگوں کو تاکید کی کہ اس کی بہت اشاعت کی جائے اور تمام جگہ درو دیوار پر چسپاں کئے جاویں۔ اس اشتہار کی ضرورت اس لئے پیش آئی تھی کہ ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب نے اپنا الہام مرزا کی موت کی نسبت شائع کر دیا تھا کہ وہ چودہ ماہ تک مرجائیں گے۔ بجواب اس کے مرزا جی نے اس تبصرہ میں الہامات شائع کر کے دعویٰ کیا کہ میں تو نہیں مروں گا۔ بلکہ عبدالحکیم اور میرے اور دشمن میری آنکھوں کے سامنے مرجائیں گے اور صدق وکذب کا یہی معیار ہوگا۔ اس تبصرہ سے چند الفاظ بجنسہ درج ذیل ہیں۔

”اپنے دشمن کو کہہ دے کہ خدا تجھ سے مواخذہ لے گا اور پھر آخر میں اردو میں فرمایا کہ میں تیری عمر کو بڑھا دوں گا۔ یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ صرف جولائی ١٩٠٧ء چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیش گوئی کرتے ہیں ان سب کو میں جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو بڑھا دوں گا تا کہ معلوم ہو کہ میں خدا ہوں اور ہر ایک میرے اختیار میں ہے۔ یہ عظیم الشان پیش گوئی ہے جس میں میری فتح اور دشمن کی شکست اور میری عزت اور دشمن کی ذلت اور میرا اقبال اور دشمن کا ادبار بیان فرمایا ہے اور دشمن پر غضب اور عقوبت کا وعدہ ہے۔ مگر میری نسبت لکھا ہے کہ دنیا میں تیرا نام بلند کیا جائے گا اور نصرت و فتح تیرے شامل حال رہے گی اور دشمن جو تیری ٦

موت چاہتا ہے وہ خود میری آنکھوں کے رو برو اصحاب فیل کی

مرزائی صاحبان! اب انصاف سے کہیں کہ کون سچا کی فتح اور کس کی شکست کس کی عزت اور کس کی ذلت کس کا پیش گوئی من جانب اللہ ہوتی تو ضرور مرزا قادیانی کی عمر بڑھ ڈاکٹر عبدالحکیم کے الہام سچے ہو گئے۔ چنانچہ جولائی ١٩٠٧ء مرزا قادیانی کا خاتمہ ہو گیا۔ اسی طرح ڈاکٹر عبدالحکیم کا وہ تازہ ہے کہ مرزا ٢١ ساون آئندہ تک مر جاوے گا۔ حرف بحرف پورا سکتا ہے؟ ڈاکٹر عبدالحکیم کی یہ پیش گوئی بھی اب سچی ہو گئی کہ ہوگا۔ دیکھئے پیش گوئی اس کو کہتے ہیں اور صداقت اس کا نام اخبار بدر ١٩ ستمبر ١٩٠٧ء ص ٦ کالم ٣ میں لکھا ہے کہ کسی مرزائی چودہ ماہ والی پیش گوئی میں کوئی تاویل تو نہیں جس کے جواب والی پیش گوئی میں کوئی تاویل نہیں۔ صاف الفاظ ہیں کوئی گو پوری ہوگی۔ ڈاکٹر کی پیش گوئی کے اصل الفاظ یہ ہیں۔ مرزا ہوا۔ آج سے ١٤ ماہ تک بسزا موت ہاویہ میں گرایا جاوے گا۔ کالم ٢، اخبار بدر ٢٤ مئی ١٩٠٨ء) میں لکھا ہے کہ ”کسی شخص نے مرزا قادیانی کہنے لگے کل یعمل علی شاکلتہ! اللہ تعالیٰ ظاہر

بہر حال اب پبلک کو ڈاکٹر کی صداقت اور مرزا کے جھوٹا ہو کسی امر کی تحقیقات کی ضرورت نہیں۔ ہے۔ جب کہ جانبین تھا کہ جو پہلے مر گیا وہ جھوٹا ہوگا اور ایسا ہی ہونا چاہئے تھا امرتسری کے مقابلہ میں بھی مرزا قادیانی نے اشتہار شائع کر ٧

صفحہ ٩٣

موت چاہتا ہے وہ خود میری آنکھوں کے روبرو اصحاب فیل کی طرح نابود کیا جاوے گا۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩١)

مرزائی صاحبان! اب انصاف سے کہیں کہ کون کس کی آنکھوں کے سامنے مرا اور کس کی فتح اور کس کی شکست کس کی عزت اور کس کی ذلت کس کا اقبال اور کس کا ادبار نمودار ہوا؟ اگر پیش گوئی من جانب اللہ ہوتی تو ضرور مرزا قادیانی کی عمر بڑھا دی جاتی ۔ لیکن معاملہ برعکس ہوا۔ ڈاکٹر عبدالحکیم کے الہام سچے ہوگئے۔ چنانچہ جولائی ١٩٠٧ء سے لے کر ١٤ماہ سے پہلے ہی مرزا قادیانی کا خاتمہ ہوگیا ۔ اسی طرح ڈاکٹر عبدالحکیم کا وہ تازہ الہام بھی جو پیسہ اخبار میں چھپ چکا ہے کہ مرزا ٢١ ساون آئندہ تک مرجاوے گا ۔ حرف بحرف پورا ہو گیا۔ کیا کوئی اب اس سے انکار کر سکتا ہے؟ ڈاکٹر عبدالحکیم کی یہ پیش گوئی بھی اب سچی ہو گئی کہ دجالی فتنہ میرے ہاتھ سے پاش پاش ہوگا ۔ دیکھئے پیش گوئی اس کو کہتے ہیں اور صداقت اس کا نام ہے ۔ سچ ہے کہ لکل فرعون موسیٰ ۔ پھر اخبار بدر ١٩ ستمبر ١٩٠٧ء ص ٦ کالم ٣ میں لکھا ہے کہ کسی مرزائی نے ڈاکٹر صاحب سے سوال کیا کہ چودہ ماہ والی پیش گوئی میں کوئی تاویل تو نہیں جس کے جواب میں آپ نے صاف لکھا کہ چودہ ماہ والی پیش گوئی میں کوئی تاویل نہیں ۔ صاف الفاظ ہیں کوئی گولائی نہیں ۔ انشاء اللہ العزیز ! لفظ بلفظ پوری ہوگی ۔ ڈاکٹر کی پیش گوئی کے اصل الفاظ یہ ہیں ۔ مرزا کی نسبت ١٢ جولائی ١٩٠٧ء کو الہام ہوا ۔ آج سے ١٤ماہ تک بسزا موت ہاویہ میں گرایا جاوے گا ۔“ (اخبار بدر مطبوعہ ٢٢ اگست ١٩٠٧ء ص ٢ کالم ٣ ، اخبار بدر ٢٣ مئی ١٩٠٨ء) میں لکھا ہے کہ ”کسی شخص نے ڈاکٹر صاحب کی پیش گوئی کا ذکر کیا تو مرزا قادیانی کہنے لگے کل یعمل علی شاکلتہ ! اللہ تعالیٰ ظاہر کر دے گا کہ راست باز کون ہے ۔“ بہر حال اب پبلک کو ڈاکٹر کی صداقت اور مرزا کے جھوٹا ہونے کی نسبت فیصلہ کرنے کے لئے اور کسی امر کی تحقیقات کی ضرورت نہیں ہے۔ جب کہ جانبین سے صدق و کذب کا معیار ہی یہ رکھا گیا تھا کہ جو پہلے مر گیا وہ جھوٹا ہوگا اور ایسا ہی ہونا چاہئے تھا۔ اسی طرح مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے مقابلہ میں بھی مرزا قادیانی نے اشتہار شائع کر رکھا تھا کہ صادق کی زندگی میں کاذب

٧

صفحہ ٩٤

مرجائے گا جو ایسا ہی ہوا۔ الحاصل مرزا قادیانی کی یہ ناگہانی موت سارے جھگڑے کا فیصلہ بڑی صفائی سے کرگئی۔ امید ہے کہ مرزائی صاحبان کی بھی اب آنکھیں کھل جائیں گی اور سمجھ لیں گے کہ ہم کو ایک شخص نے جھوٹے وعدوں سے اس قدر عرصہ دھوکا دے رکھا تھا پھر موت بھی ایسی جو بقول مرزا قادیانی اعلیٰ طبقہ کے پاک بندوں کے لئے نہیں ہوا کرتی۔ دیکھو اخبار بدر ١٦؍ مئی ١٩٠٧ء ص ٣ کالم ٢۔ مرزا قادیانی کے وہ کلمات طیبات بھی غور کے لائق ہیں جو بدر ١٦؍ جنوری ١٩٠٨ء ص ٨ کالم ١ میں اس طرح پر درج ہیں۔ ’’ہلاکت شیطان کا وقت ہے۔ یہ لوگ جو چاہیں سو کرلیں۔ اب تو خدا تعالیٰ کا ارادہ ہوچکا ہے کہ شیطان کو ہلاک کیا جائے۔ شیطان کی یہ آخری جنگ ہے اور وہ ضرور ہلاک ہوگا۔ وہ ضرور قتل کیا جائے گا۔‘‘

اور تو اور سب سے زیادہ رنج و افسوس کی بات تو یہ ہے کہ محمدی بیگم کے نکاح کا سوداء مرزا قادیانی کو قبر میں بھی نہیں سونے دے گا اور مریدان باصفا اب خبر دیتے رہ جائیں گے کہ ملہم کے ساتھ ہی وہ الہام بھی خاک میں مل گیا جو بڑی تحدی سے کہا جاتا تھا کہ زمین و آسمان ٹل جائیں پر خدا کی باتیں نہ ٹلیں گی اور الہامات کے کلمات یہ تھے۔ ’’ویردہا الیک لا مبدل لکلمات اللہ وان وعد اللہ حق وان ربک فعال لما یرید . قل ای وربی انہ لحق ولاتکن من الممترین انا زوجنکہا‘‘

(تذکرہ ص ٣٧١ طبع سوم)

بھائیو! غور کرو۔ اگر یہ کلمات خدائے پاک کی طرف سے ہوتے تو بالضرور پورے ہوکر رہتے۔ لیکن چونکہ یہ اضغاث احلام سے تھے۔ اس لئے ہوا میں اڑ گئے۔ پس جب کہ روزِ روشن کی طرح کھل گیا کہ مرزا قادیانی کے دعاوی الہام نبوت وغیرہ سب من گھڑت تھے۔ جو آخر کار غلط ثابت ہوئے تو اب مرزائی صاحبان ان کو چاہئے کہ اس واقعہ سے عبرت حاصل کر کے مرزائی دعاوی سے جلدی تائب ہو جائیں۔ خدائے رؤف رحیم کی مہربانی ہے کہ اس نے آپ پر آسمانی فیصلہ کے ذریعہ اصلیت کا انکشاف کر دیا اور آپ کو یہ مہلت ملی۔ اس سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہئے۔ ورنہ پچھتاؤ گے۔ وما علینا الا البلاغ!

(مطبوعہ سراج الاخبار جہلم ٢٨؍ مئی ١٩٠٨ء)

٨

PDF 96

خاتم النبیین لا نبی بعدی

سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم

قادیانیت اور

اس کے خدوخال

جناب عبدالرؤف صاحب دہلوی رحمۃ اللہ علیہ

صفحہ ٩٧

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ !

پیش لفظ !

تقسیم ملک کو نصف صدی سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ لیکن اس کے مکروہ اثرات ابھی تک موجود ہیں۔ پنجاب، ہریانہ اور ہماچل پردیش کے بعض علاقوں میں اب تک ایسے لوگ موجود ہیں جو حالات سے مجبور ہو کر دین حق سے دور ہو گئے تھے۔ ہر چند کہ اصلاح و تبلیغ کا کام تقسیم کے فوراً بعد شروع ہو گیا تھا مگر واقعہ یہ ہے کہ اس کا حق ادا نہ ہو سکا۔ قادیانی جو ایک منصوبے کے تحت اپنے مرکز قادیان (پنجاب) میں مجموع ومحفوظ رہ گئے تھے، حالات سازگار پا کر اپنا جال بچھانے میں مصروف ہو گئے اور دین سے ناواقف بچے کھچے لوگوں کو اپنا شکار بنانے لگے۔ ان کی سرگرمیوں کا اصل مرکز تو پاکستان تھا لیکن وہاں انہیں سخت دشواریوں اور رسوائیوں کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ پوری ملت اسلامیہ جناب نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی شخص کو خدا کا رسول اور نبی تسلیم نہیں کرتی ہے۔ چنانچہ ١٩٧٤ء میں سرکاری طور پر انہیں پاکستان میں غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ آج پوری دنیائے اسلام دینی اور مذہبی طور پر انہیں اسلام سے خارج سمجھتی ہے۔ چونکہ پاکستان میں کام کرنا ان کے لئے ممکن نہ رہا تھا۔ لہٰذا انہوں نے اپنی سرگرمیوں کا رخ ہندوستان اور بالخصوص پنجاب کی طرف پھیر دیا۔ سابقہ مشرقی پنجاب کے بھولے بھٹکے لوگ جو ان کی اصلیت سے ناواقف تھے انہیں مسلمان سمجھ کر بہت جلد ان کے جھانسے میں آ گئے۔ قادیانی لوگ مسلم معاشرہ کے اندر گھس کر اپنے آپ کو ایک مخلص مسلمان کے روپ میں پیش کرتے ہیں اور اپنے عزائم کو چھپائے رکھتے ہیں۔ انہیں پہچان لینا ہر ایک کے بس کا روگ نہیں۔ زیر نظر کتاب اس مقصد سے مرتب کی گئی ہے کہ عوام الناس قادیانیت کا حقیقی چہرہ دیکھ سکیں اور ان کے اصل ارادوں سے جو بہت بھیانک اور خوفناک ہیں، واقف ہوسکیں۔

کتاب ترتیب دیتے وقت مولانا سید ابوالحسن ندوی مدظلہ، مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، مولانا محمد عبد الغنی پٹیالویؒ، مولانا محمد عبد اللہ معمار امرتسریؒ، پروفیسر محمد الیاس برنیؒ، علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ، مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تصانیف و مساعی سے استفادہ کیا گیا ہے اور زیادہ تر حوالہ جات انہیں کی کتب سے منقول ہیں۔ خدا تعالیٰ ان بزرگوں کی جملہ مساعی اور مجاہدے کو شرف قبولیت بخشے اور دنیا و آخرت میں ان کے درجات بلند فرمائے۔ ٢

جناب مولانا محمد فاروق خاں صاحب، ڈاکٹر تاج عزیز خالد کفایت نے اپنے مفید مشوروں سے نوازا اور ہر حضرات کے تئیں سپاس گزاری کا اظہار میرا فرضِ منصبی ہے سے دوسرے دوست بھی برابر میری حوصلہ افزائی فرماتے رہے خدا سے دعا ہے کہ جس جذبے اور احساس کے تحت یہ کتاب امت مسلمہ اس فتنہ عظیم سے محفوظ و مامون رہے۔ ”رَبَّنَا الْعَلِيْم“ امید وار شفاعت خاتم النبیین ﷺ! اسلام آبا

تعارف !

زیر نظر تالیف ”قادیانیت اور اس کے خدوخال ذوق مطالعہ، تحقیقی فکر اور علم دوستی کا ثبوت تو ہے ہی۔ لیکن اس تئیں ان کی انتہائی وابستگی کی مظہر بھی ہے۔ اس تالیف کی ع علمی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ آج ہر شخص سے متعلق لٹریچر کا بھر پور مطالعہ کر سکے۔ اس لحاظ سے یہ تا رکھتی ہے۔ جس کے آئینہ میں قادیانیت کے خدوخال اس ہیں۔ اس جہان فانی میں حق و باطل کی کشمکش روزِ ازل س انجام کار باطل کو شکست نصیب ہوئی ہے۔

ستیزہ کار رہا ہے ازل
چراغ مصطفویٰ سے

یہی شرار بولہبی مختلف زمانوں میں مختلف ان نبرد آزما رہا ہے۔ مگر بحمد اللہ ہر بار ذلت و رسوائی اس نصیب ہوئی ہے۔ برصغیر میں قادیانیت کے فتنے نے نے اپنی اپنی بضاعت و ہمت اور وسائل کے مطابق ن زمانے میں بھی عاشقان محمدؐ وقفے وقفے سے قادیانیت رہے ہیں۔ فی زمانہ قادیانیت کی تحریک جس انداز س ٣

صفحہ ٩٧

جناب مولانا محمد فاروق خاں صاحب، ڈاکٹر تابش مہدی، جناب نسیم غازی اور برادر عزیز خالد کفایت نے اپنے مفید مشوروں سے نوازا اور ہر ممکن تعاون فرمایا جس کے لئے ان حضرات کے تئیں سپاس گزاری کا اظہار میرا فرض منصبی ہے۔ مذکورہ بالا حضرات کے علاوہ بہت سے دوسرے دوست بھی برابر میری حوصلہ افزائی فرماتے رہے۔ مجھے ان کا بھی شکریہ ادا کرنا ہے۔ خدا سے دعا ہے کہ جس جذبے اور احساس کے تحت یہ کتاب مرتب کی گئی ہے وہ رو بہ کار آئے اور امت مسلمہ اس فتنہ عظیم سے محفوظ و مامون رہے۔ ”ربنا تقبل منا انك انت السميع العلیم“ امیدوار شفاعت خاتم النبیین ﷺ! محمد عبدالرؤف اسلام آباد، مالیر کوٹلہ (پنجاب) ٦ ستمبر ١٩٩٩ء

تعارف!

زیر نظر تالیف ”قادیانیت اور اس کے خدوخال“ برادر محترم مولانا محمد عبدالرؤف کے ذوق مطالعہ، عمیق فکر اور علم دوستی کا ثبوت تو ہے ہی۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر یہ عقیدہ ختم نبوت کے تئیں ان کی انتہائی وابستگی کی مظہر بھی ہے۔ اس تالیف کی علمی وتحقیقی حیثیت خواہ کچھ بھی ہو، اس کی علمی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ آج ہر شخص کو ایسے وسائل میسر نہیں کہ اس فتنہ عظیم سے متعلق لٹریچر کا بھر پور مطالعہ کر سکے۔ اس لحاظ سے یہ تالیف ایک Compact کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس کے آئینہ میں قادیانیت کے خدوخال اس کی تمام جزئیات کے ساتھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس جہان فانی میں حق و باطل کی کشمکش روز ازل سے موجود رہی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انجام کار باطل کو شکست نصیب ہوئی ہے۔

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفویٰ سے شرار بولہبی

یہی شرار بولہبی مختلف زمانوں میں مختلف انداز سے اور مختلف شکلوں میں نور محمدیؐ سے نبرد آزما رہا ہے۔ مگر بحمد اللہ ہر بار ذلت ورسوائی اس کا مقدر ہوا ہے اور حق وانصاف کو ہمیشہ فتح نصیب ہوئی ہے۔ برصغیر میں قادیانیت کے فتنے نے سر اٹھایا تو ہمارے اسلاف اور بزرگان دین نے اپنی اپنی بضاعت وہمت اور وسائل کے مطابق اس کا قلع قمع کرنے کی کوشش کی، اور موجودہ زمانے میں بھی عاشقان محمدؐ وقتاً فوقتاً اس قادیانیت سے نبرد آزمائی کے لئے میدان میں آتے رہے ہیں۔ فی زمانہ قادیانیت کی تحریک جس انداز سے ایک بار پھر اپنے پاؤں پسار رہی ہے اس کا

٣

صفحہ ٩٩

تعاقب کرنے کے لئے برادر مکرم جناب محمد عبدالرؤف صاحب نے شبانہ روز محنت کر کے قادیانی کتب اور رسائل سے ہی اقتباسات نقل کر کے اس کا اصلی چہرہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔ خدا ان کی اس کوشش کو قبول فرمائے اور جس مقصد کے لئے یہ کتاب سامنے لائی جارہی ہے اس میں کامیابی بخشے۔ آمین!

بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است

خالد کفایت یکم اکتوبر ١٩٩٩ء ...... عصمت منزل، مالیرکوٹلہ

مرزا قادیانی کی زندگی کا مختصر تعارف

پیدائش و خاندان

مرزا غلام احمد قادیانی ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں ضلع گورداسپور (پنجاب) کے قصبہ قادیان میں پیدا ہوئے۔ ١٨٩١ء میں مسیح موعود ہونے کا اور ١٩٠١ء میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ ١٩٠٨ء میں لاہور میں موت ہوئی اور قادیان میں دفن ہوئے۔ ان کے والد کا نام غلام مرتضیٰ اور والدہ کا نام چراغ بی بی تھا۔ آپ کا تعلق مغل قوم برلاس سے ہے۔

تعلیم

مرزا قادیانی کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ انہوں نے قرآن مجید اور مختصر فارسی کی تعلیم اپنے گھر پر ہی مولوی فضل الٰہی سے حاصل کی، اور اپنی سیالکوٹ کی ملازمت کے دوران چند منشیوں سے انگریزی کی تعلیم بھی حاصل کی۔ (سیرت المہدی حصہ اوّل ص ١٥٥، روایت نمبر ١٥٠) مرزا نے مسمریزم کی تعلیم بھی حاصل کی اور اس میں مہارت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن بعد میں اس کو ترک کر دیا تھا۔

جوانی (لڑکپن) کی بات

”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلے گئے، جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے

٤

قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود ا تمہارے دادا کا منشاء رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جا کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہوگئے۔“

(سیرت المہدی حصہ ا

لباس

”مرزا قادیانی عام طور پر گرم لباس پہنتے۔ بھی پاجامہ اور صدری گرم رکھتے تھے۔ سر پر عمامہ باند

مرغوب خوراک

”ان کو شیرینی اور شیریں کھانے بہت م

جیب کے ڈھیلے

”اگرچہ ذیابیطس کا مرض بھی آپ کو لاح اسی زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض دفعہ جیب م بھی رکھ لیا کرتے تھے۔ اسی قسم کی اور بہت سی باتی اپنے یار ازل کی محبت میں ایسی محویت تھی کہ جس ک تھے۔“

(مرزا قادیانی کے حالات مرز

جسمانی حالت

”بچپن میں چوٹ لگ جانے کی وجہ تو لے جاتے تھے لیکن پانی کا برتن منہ تک نہ بائیں ہاتھ سے سنبھالنا پڑتا تھا۔“

مرزا قادیانی کی آنکھیں

”مرزا قادیانی کی آنکھیں ہمیشہ نیم چھوٹی تھی۔ ایک دفعہ مرزا قادیانی مع چند خدام عرض کیا کہ حضور ذرا آنکھیں کھول کر دیکھیں و

صفحہ ٩٩

قادیان لانے کے بہانے لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا، پھر جب آپ نے روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے اور چونکہ تمہارے دادا کا منشاء رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں۔ اس لئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہو گئے۔"

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٤٣، روایت نمبر ٤٩، مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد)

لباس

"مرزا قادیانی عام طور پر گرم لباس پہنتے تھے جس میں اوور کوٹ شامل تھا۔ گرمیوں میں بھی پاجامہ اور صدری گرم رکھتے تھے۔ سر پر عمامہ باندھتے تھے اور یہ سب کچھ بیماری کی وجہ سے تھا۔"

مرغوب خوراک

"ان کو شیرینی اور شیریں کھانے بہت مرغوب تھے۔"

جیب کے ڈھیلے

"اگرچہ ذیابیطس کا مرض بھی آپ کو لگا ہوا تھا اور کثرت بول کے بھی آپ مریض تھے اسی زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض دفعہ جیب میں ہی رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے۔ اسی قسم کی اور بہت سی باتیں ہیں جو اس بات پر شاہد و ناطق ہیں کہ آپ کو اپنے یار ازل کی محبت میں ایسی محویت تھی کہ جس کے باعث سے اس دنیا سے بالکل بے خبر ہو رہے تھے۔"

(مرزا قادیانی کے حالات مرتبہ معراج الدین عمر مینیجر انجمن احمدیہ حصہ اول ص ٦٧)

جسمانی حالت

"بچپن میں چوٹ لگ جانے کی وجہ سے آپ کا دایاں ہاتھ کمزور تھا۔ آپ لقمہ منہ تک تو لے جاتے تھے لیکن پانی کا برتن منہ تک نہ لے جاسکتے تھے۔ نماز میں بھی آپ کو دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ سے سنبھالنا پڑتا تھا۔"

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٢١٧، روایت نمبر ١٨٧)

مرزا قادیانی کی آنکھیں

"مرزا قادیانی کی آنکھیں ہمیشہ نیم بند رہتی تھیں اور ایک آنکھ دوسری کے مقابلے میں چھوٹی تھی۔ ایک دفعہ مرزا قادیانی مع چند خدام کے فوٹو کھنچوانے گئے تو فوٹو گرافر نے آپ سے عرض کیا کہ حضور ذرا آنکھیں کھول کر رکھیں ورنہ تصویر اچھی نہیں آئے گی اور آپ نے اس کے

٥

صفحہ ١٠١

کہنے پر ایک دفعہ تکلیف کے ساتھ آنکھوں کو کچھ زیادہ کھولا بھی مگر وہ پھر اسی طرح نیم بند ہوگئیں۔"

(سیرۃ المہدی ص٧٧، حصہ دوم، روایت ٤٠٣،٤٠٤، مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد)

عصبی کمزوری

مرزا قادیانی عصبی کمزوری کے سلسلے میں بذات خود تحریر فرماتے ہیں جو درج ذیل ہے: "مخدومی اخویم (مولوی نور الدین صاحب) السلام علیکم! یہ عاجز پیر کے دن ٩/مارچ ١٨٩١ء کو مع اپنے اہل وعیال کے لدھیانہ کی طرف جائے گا اور چونکہ سردی اور دوسرے تیسرے روز بارش بھی ہو جاتی ہے اور اس عاجز کو مرض اعصابی ہے، سرد ہوا اور بارش سے بہت ضرر پہنچتا ہے۔ اس وجہ سے یہ عاجز کسی صورت سے اس قدر تکلیف اٹھا نہیں سکتا کہ اس حالت میں لدھیانہ پہنچ کر پھر جلدی لاہور میں آوے۔ طبیعت بیمار ہے، لاچار ہوں، اس لئے مناسب ہے کہ اپریل کے مہینے میں کوئی تاریخ مقرر کی جائے۔ والسلام!" خاکسار غلام احمد

(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم، نمبر ٢ص٩٠، مؤلفہ یعقوب علی عرفانی قادیانی، مکتوبات احمدیہ ج ٢ص ١٠٩،١٠٨ جدید)

خرابی حافظہ

مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”میرا حافظہ بہت خراب ہے، اگر کئی دفعہ کسی سے ملاقات ہو تب بھی بھول جاتا ہوں۔ یاد دہانی عمدہ طریقہ ہے۔ حافظہ کی یہ ابتری ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔"

(مکتوبات احمدیہ ج ٥ ص ٢١، نمبر ٣، مکتوبات احمدیہ ج ٢ص ٣٨٣ جدید)

مرزا قادیانی کے دانت

مرزا قادیانی کے دانت آخری عمر میں بہت خراب ہو گئے تھے۔ یعنی کیڑا بعض داڑھوں کو لگ گیا تھا جس سے کبھی کبھی تکلیف ہو جاتی تھی۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک داڑھ کا سرا ایسا نوکدار ہو گیا تھا کہ اس سے زبان میں زخم پڑ گیا تو ریتی کے ساتھ گھسوا کر برابر بھی کرایا تھا مگر کبھی کوئی دانت نکلوایا نہیں۔

(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ١٢٥ روایت نمبر ٤٣٤)

بوٹ کا تحفہ

ایک دفعہ ایک شخص نے بوٹ تحفہ میں پیش کیا۔ مرزا قادیانی نے اس کی خاطر اسے پہن لیا مگر اس کے دائیں بائیں کی شناخت نہ کر سکتے تھے۔ دایاں پاؤں بائیں طرف کے بوٹ میں اور بایاں پاؤں دائیں طرف میں پہن لیا۔ آخر اس غلطی سے بچنے کے لئے ایک طرف کے بوٹ پر ٦

سیاہی سے نشان لگانا پڑا۔

کثرتِ بول (پیشاب کا کثرت سے آنا)

پیشاب کا کثرت سے آنا مرزا قادیانی بذات میں سو مرتبہ سے بھی زیادہ پیشاب آتا ہے جس سے ضعف

پھر تو مرزا قادیانی بے چارے پیشاب ہی ک بعد پیشاب۔ پھر پیشاب میں چار پانچ منٹ بھی لگتے ہو

دائم المرض

”میں ایک دائم المرض آدمی ہوں۔ ہمیشہ در بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ سو، سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس کثرت ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔“

افیون

مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”ایک دفعہ مج کے لئے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ

میاں محمود خلیفہ قادیان لکھتے ہیں کہ حضر دوا خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا ایک کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اوّل (حکیم نور الد دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دو

(اف

برانڈی

برانڈی جو مشہور شراب ہے مرزا قادیا ایک مرتبہ اپنے خادم خاص مہدی حسن سے کہا: ” ے

صفحہ ١٠١

سیاہی سے نشان لگانا پڑا۔

(سیرت المہدی ج ١ ص ٢٧ روایت نمبر ٨٢)

کثرت بول (پیشاب کا کثرت سے آنا)

پیشاب کا کثرت سے آنا مرزا قادیانی بذات خود بیان کرتے ہیں: ”مجھے بعض دن میں سو مرتبہ سے بھی زیادہ پیشاب آتا ہے جس سے ضعف بڑھ جاتا ہے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧١)

پھر تو مرزا قادیانی بے چارے پیشاب ہی میں لگے رہتے ہوں گے۔ ہر پندرہ منٹ بعد پیشاب۔ پھر پیشاب میں چار پانچ منٹ بھی لگتے ہوں گے۔

دائم المرض

”میں ایک دائم المرض آدمی ہوں۔ ہمیشہ درد سر اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسا اوقات سو، سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔“

(ضمیمہ اربعین نمبر ٣ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧١)

افیون

مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے صلاح دی کہ ذیابیطس کے لئے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی۔“

(نسیم دعوت ص ٦٧، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٤، ٤٣٥)

میاں محمود خلیفہ قادیان لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے تریاق الہی دوا خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا ایک بڑا جزو افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اوّل (حکیم نور الدین) کو (مرزا قادیانی) چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوروں کے وقت استعمال کرتے رہے۔

(اخبار الفضل ج ٧ نمبر ٢٦ ص ٢، مورخہ ١٩ جولائی ١٩٢٩ء)

برانڈی

برانڈی جو مشہور شراب ہے مرزا قادیانی اپنے دوستوں کے لئے منگوا کر دیتے تھے۔ ایک مرتبہ اپنے خادم خاص مہدی حسن سے کہا: ”دو بوتل برانڈی پلمر منظور محمد کے لئے لیتے آنا۔

٧

صفحہ ١٠٣

جب تک تم بوتلیں برانڈی کی نہ لے لو لاہور سے روانہ نہ ہونا۔ میں سمجھ گیا کہ اب میرے لئے لانا لازمی ہے۔ میں نے پلومر کی دکان سے دو بوتلیں خرید کر لادیں۔ (جواب خادم)“

(اخبار الحکم قادیان ج ٣٩ نمبر ٢٥، مورخہ ٧ نومبر ١٩٣٦ء)

ٹانک وائن

ٹانک وائن جو بہت ہی نفیس ولایتی شراب ہے مرزا قادیانی نے اپنی اشیاء خوردنی کے ساتھ میاں یار محمد صاحب کے ذریعہ لاہور سے منگوائی۔

(اخبار الحکم قادیان ، مذکورہ بالا)

خطوط بنام غلام ص ٥، مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی بنام حکیم محمد حسین قریشی صاحب قادیانی ..... رفیق الصحت لاہور۔

ٹانک وائن کا فتویٰ

پس ان حالات میں اگر مسیح موعود برانڈی اور رم کا استعمال بھی اپنے مریضوں سے کرواتے یا خود بھی مرض کی حالت میں کر لیتے ہوں تو وہ خلاف شریعت نہ تھا۔ چہ جائیکہ ٹانک وائن ایک دوا ہے۔ اگر اپنے خاندان کے کسی ممبر یا دوست کے لئے جو کسی لمبے مرض سے اٹھا ہو اور کمزور ہو یا بالفرض محال خود اپنے لئے بھی منگوائی ہو اور استعمال بھی کی ہو تو اس میں کیا حرج ہو گیا۔ آپ کو ضعف کے دورے ایسے شدید پڑتے تھے کہ ہاتھ پاؤں سرد ہو جاتے تھے۔ نبض ڈوب جاتی تھی۔ میں نے خود ایسی حالت میں آپ کو دیکھا ہے۔ نبض کا پتا نہیں ملتا تھا تو اطباء یا ڈاکٹروں کے مشورے سے آپ نے ٹانک وائن کا استعمال اندریں حالات میں کیا ہو تو عین مطابق شریعت ہے۔

(ڈاکٹر بشارت احمد قادیانی فریق لاہوری مندرجہ اخبار پیغام صلح ج ٢٣ ص ١٥، مورخہ ٤ مارچ ١٩٣٥ء)

ناظرین! مندرجہ بالا عبارات کو ذہن میں رکھیں اور غور فرمائیں کہ شراب کے سلسلے میں قادیانیوں کے مؤقف میں کہاں تک درستی ہے اور وہ کہاں تک اسلام کے احکام کے مطابق ہے؟۔

حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا: "ہر نشہ آور چیز خمر (شراب) ہے اور ہر خمر (شراب) حرام ہے۔"

(مسلم)

اللہ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "شراب دوا نہیں بیماری ہے۔" اللہ کے نبی ﷺ نے شراب کے سلسلے میں دس آدمیوں پر لعنت فرمائی ہے۔ (١) شراب نچوڑنے والا۔ (٢) نچڑوانے والا۔ (٣) پینے والا۔ (٤) اٹھانے والا۔ (٥) وہ جس کے لئے اٹھا کر لے جائی جائے۔ (٦) پلانے والا۔ (٧) فروخت کرنے والا۔ (٨) اس کی قیمت کھا جانے والا۔ (٩) خریدنے والا۔ (١٠) اور جس کے لئے خریدی جائے۔

٨

نبوت اور حسن سیرت

اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی ﷺ کـ جناب نبی کریم ﷺ کی نورانی صورت کو دیکھ کر ا لوگ آپ ﷺ کی سیرت اور حسن اخلاق سے مـ کلام ایمان لانے کا سبب بن گیا۔

پسر نیک بخت کا جنازہ

مرزا فضل احمد صاحب، مرزا غلام ا قادیانی اپنے اس بیٹے کی اطاعت شعاری اور خد نے اپنے بیٹے کی نماز جنازہ اس لئے نہیں پڑھی منکر تھا اور آخری وقت تک سرور کائنات رحمت ا اس سے بڑھ کر اور کیا شقاوت قلبی ہو سکتی ہے۔ کـ

کھلا ہوا ظلم

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے بڑے بـ نے محمدی بیگم سے مرزا قادیانی کا رشتہ کرانے میـ اور اپنے دوسرے بیٹے مرزا فضل احمد کی بیوی کـ بیک محمدی بیگم کے والد کی بھانجی تھی۔ طلاق شر فعل ہے۔ کیا اس فعل بدتر طلاق دلوانے کا مـ ہو سکتا ہے؟

ختم نبوت اور عقائد مرزا

مرزا غلام احمد قادیانی شروع میں المسلمین ہیں اور وہ ختم نبوت کے وہی معنی لیتے کریم ﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا اور آ آپ ﷺ نے نبوت کے دروازے کو ہمیشہ ”قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل علیہ

صفحہ ١٠٣

نبوت اور حسن سیرت

اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی ﷺ کو جس صورت وسیرت سے نوازا تھا، کتنے لوگ جناب نبی کریم ﷺ کی نورانی صورت کو دیکھ کر آپ ﷺ کی نبوت پر ایمان لے آئے اور کتنے لوگ آپ ﷺ کی سیرت اور حسن اخلاق سے متاثر ہوئے اور کتنے لوگوں کے لئے آپ ﷺ کا کلام ایمان لانے کا سبب بن گیا۔

پسر نیک بخت کا جنازہ

مرزا فضل احمد صاحب، مرزا غلام احمد قادیانی کے نہایت صالح فرزند تھے۔ مرزا قادیانی اپنے اس بیٹے کی اطاعت شعاری اور خدمت گزاری کا اعتراف کرتے ہیں۔ لیکن انہوں نے اپنے بیٹے کی نماز جنازہ اس لئے نہیں پڑھی کہ وہ اپنے باپ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا منکر تھا اور آخری وقت تک سرور کائنات رحمت اللعالمین حضرت محمد ﷺ کی نبوت سے وابستہ رہا۔ اس سے بڑھ کر اور کیا شقاوت قلبی ہوسکتی ہے۔ کیا کوئی شقی القلب نبی ہوسکتا ہے؟۔

کھلا ہوا ظلم

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے بڑے بیٹے سلطان احمد کو محض اس لئے عاق کر دیا کہ اس نے محمدی بیگم سے مرزا قادیانی کا رشتہ کرانے میں ان کی مدد نہیں کی بلکہ آپ نے مخالفین کا ساتھ دیا اور اپنے دوسرے بیٹے مرزا فضل احمد کی بیوی کو اس جرم میں طلاق دلوایا کہ ان کی بیوی مرزا احمد بیگ محمدی بیگم کے والد کی بھانجی تھی۔ طلاق شریعت اسلامیہ میں حلال کاموں میں سب سے بدتر فعل ہے۔ کیا اس فعل بدتر طلاق دلوانے کا مرتکب (مزید براں انتقامی جذبہ کے تحت ہو) نبی ہوسکتا ہے؟

ختم نبوت اور عقائد مرزا

مرزا غلام احمد قادیانی شروع میں ختم نبوت کے اسی طرح قائل تھے، جس طرح عامتہ المسلمین ہیں اور وہ ختم نبوت کے وہی معنی لیتے تھے جس پر پوری امت کا اتفاق ہے کہ جناب نبی کریم ﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ گویا آپ ﷺ نے نبوت کے دروازے کو ہمیشہ کے لئے بند فرما دیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل علیہ السلام ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی

٩

صفحہ ١٠٥

رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ رسول تو آوے مگر سلسلۂ وحی رسالت نہ ہو۔“

(ازالہ اوہام ص٧١١، خزائن ج ٣ ص ٥١١، مرزا غلام احمد قادیانی)

”ہر ایک دانا شخص سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ آپ جبرائیل علیہ السلام کو بعد وفات رسول ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا۔ یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی ﷺ کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔“

(ازالہ اوہام ص٥٧٧، خزائن ج ٣ ص ٤١٢، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

”کیا تو نہیں جانتا کہ پروردگار رحیم صاحب فضل نے ہمارے نبی ﷺ کا بغیر کسی استثناء کے خاتم النبیین نام رکھا اور ہمارے نبی ﷺ نے اہل طلب کے لئے اسی کی تفسیر اپنے قول ”لا نبی بعدی“ میں واضح طور پر فرمادی اور اگر ہم اپنے نبی ﷺ کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز قرار دیں تو گویا ہم باب وحی بند ہوجانے کے بعد اس کا کھلنا جائز قرار دیں گے، اور یہ صحیح نہیں۔ جیسا کہ مسلمانوں پر ظاہر ہے اور ہمارے نبی ﷺ کے بعد نبی کیوں کر آسکتا ہے۔ درآں حالے کہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر نبیوں کا خاتمہ کردیا۔“

(حمامتہ البشریٰ ص٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠، مرزا غلام احمد قادیانی)

”آنحضرت ﷺ نے بار بار فرمایا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث ”لا نبی بعدی“ ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ، لفظ قطعی ہے آیت کریمہ ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ سے بھی تصدیق ہوتی ہے کہ فی الحقیقت ہمارے نبی ﷺ پر نبوت ختم ہوچکی ہے۔“

(کتاب البریہ ص١٨٤، خزائن ج ١٣ ص ٢١٧)

ختم نبوت کا منکر کافر اور کاذب

مرزا غلام احمد قادیانی اس شخص کو کافر و کاذب قرار دیتے ہیں جو ختم نبوت کا قائل نہیں ہے۔ اس سلسلے میں ہم ان کے درج ذیل اقوال نقل کرتے ہیں: ”میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن وحدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا ومولانا محمد ﷺ وخاتم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت ورسالت کو کاذب وکافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠ مورخہ ١٢؍اکتوبر ١٨٩١ء)

١٠

”ان تمام امور میں میرا وہی مذہب ہے جو ا اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے اس صاف اقرار کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاء ﷺ کی کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھت بیان جو بتاریخ ٢٣؍اکتوبر ١٨٩١ء جامع مسجد دہلی کے جلس

(مجموعہ اشتہارات

”کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت کا د ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے النبیین“ کو خدا کا کلام یقین کرتا ہے وہ کہہ سکتا ہے ک نبی ہوں؟“

”میں جانتا ہوں کہ ہر وہ چیز جو مخالف ہے میں کس طرح نبوت کا دعویٰ کروں جب کہ میں مسلمانو

”میں نہ نبوت کا مدعی ہوں اور نہ معجزات و مولانا حضرت محمد ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے ہوں۔“

(تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢٢، مجمو

”مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت کا د کافروں کی جماعت سے جاملوں۔“

”اے لوگو! دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم ا کرو۔ اس خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کی

مجددیت اور ولایت کی طرف پیش قدمی

مندرجہ بالا اقتباسات میں مرزا غلام احم کو خاتم الانبیاء تسلیم کرتے ہوئے اس شخص کو کاذب

١١

صفحہ ١٠٥

"ان تمام امور میں میرا وہی مذہب ہے جو دیگر اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے۔ اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے اس خانہ خدا (جامع مسجد دہلی) میں صاف صاف اقرار کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاء ﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔" (مرزا غلام احمد قادیانی کا تحریری بیان جو بتاریخ ٢٣؍ اکتوبر ١٨٩١ء جامع مسجد دہلی کے جلسے میں دیا گیا)

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥ مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٤٤)

"کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت "وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ" کو خدا کا کلام یقین کرتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں؟"

(انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٢٧)

"میں جانتا ہوں کہ ہر وہ چیز جو مخالف ہے قرآن کے وہ کذب، الحاد و زندقہ ہے۔ پھر میں کس طرح نبوت کا دعویٰ کروں جب کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔"

(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

"میں نہ نبوت کا مدعی ہوں اور نہ معجزات اور ملائکہ اور لیلۃ القدر وغیرہ سے منکر اور سیدنا و مولانا حضرت محمد ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب و کافر جانتا ہوں۔"

(تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢٢، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠، مورخہ ٢٢؍ اکتوبر ١٨٩١ء)

"مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں کی جماعت سے جاملوں۔"

(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

"اے لوگو! دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو۔ اس خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔"

(آسمانی فیصلہ ص ١٥، خزائن ج ٤ ص ٣٢٥)

مجددیت اور ولایت کی طرف پیش قدمی

مندرجہ بالا اقتباسات میں مرزا غلام احمد نے صاف اور واضح الفاظ میں نبی کریم ﷺ کو خاتم الانبیاء تسلیم کرتے ہوئے اس شخص کو کاذب اور کافر قرار دیا ہے جو نبی کریم حضرت محمد ﷺ

١١

صفحہ ١٠٦

کے بعد کسی کو نبی یا رسول مانتا ہے اور وہ بار بار اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ میرا عقیدہ وہی ہے جو تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اب اللہ کے آخری نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا۔ اس کے خلاف آپ ﷺ کے بعد میں کسی کو نبی اور رسول مان کر کیسے اسلام سے خارج ہوسکتا ہوں۔ اس واضح اقرار کے بعد غور فرمائیے کہ مرزا قادیانی کس طرح عقیدہ نبوت سے دور ہوتے چلے گئے۔ بالآخر انہوں نے ایک ظلی نبی، پھر مستقل نبی و رسول ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ بلکہ آخر میں اپنے آپ کو افضل الانبیاء ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی۔

چنانچہ آپ لکھتے ہیں: ”ان پر واضح رہے کہ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں اور وحی نبوت نہیں بلکہ وحی ولایت جو زیر سایہ نبوت محمدیہ اور بہ اتباع آنجناب ﷺ سے اولیاء اللہ کو ملی ہے۔ اس کے ہم قائل ہیں اور اس سے زیادہ جو شخص مجھ پر الزام لگائے وہ تقویٰ اور دیانت کو چھوڑتا ہے۔ غرض نبوت کا دعویٰ نہیں صرف ولایت اور مجددیت کا دعویٰ ہے۔“

(اشتہار مرزا مورخہ ٢٠/شعبان ١٣١٤ھ ، تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٢٧٢ ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧، ٢٩٨)

”اور خدا کلام و خطاب کرتا ہے اس امت کے ولیوں کے ساتھ اور ان کو انبیاء کا رنگ دیا جاتا ہے۔ مگر وہ حقیقت میں نبی نہیں ہوتے کیونکہ قرآن کریم نے شریعت کی تمام حاجتوں کو مکمل کر دیا۔“

(مواہب الرحمٰن ص ٦٦ ، خزائن ج ١٩ ص ٢٨٥)

”میرا نبوت کا کوئی دعویٰ نہیں، یہ آپ کی غلطی ہے یا آپ کسی خیال سے کہہ رہے ہیں۔ کیا یہ ضروری ہے کہ جو الہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ نبی بھی ہو جائے۔ میں تو محمدی اور کامل طور پر اللہ اور رسول کا متبع ہوں اور ان نشانوں کا نام معجزہ رکھنا نہیں چاہتا بالکل ہمارے مذہب کی رو سے ان نشانوں کا نام کرامات ہے جو اللہ اور رسول کی پیروی سے دیئے جاتے ہیں۔“

(جنگ مقدس ص ٦٧، خزائن ج ٦ ص ١٥٦)

”اوّل تو اس عاجز کی بات کو یاد رکھیں کہ ہم لوگ معجزہ کا لفظ اسی محل پر بولا کرتے ہیں جو کوئی خوارق عادت کسی نبی یا رسول کی طرف منسوب ہو۔ لیکن یہ عاجز نہ نبی ہے نہ رسول ہے۔ صرف نبی معصوم ﷺ کا ایک ادنیٰ خادم اور پیرو ہے اور رسول مقبول کی برکت اور متابعت سے یہ انوار اور برکات ظاہر ہو رہے ہیں سو اس جگہ کرامت کا لفظ موزوں ہے نہ کہ معجزے کا۔“

(اخبار الحکم قادیان ج ٥ نمبر ٣٣ بحوالہ از قمر الہدیٰ ص ٥٨، مؤلفہ قمر الدین جہلمی قادیانی)

١٢

صفحہ ١٠٧

”صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کا استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اسی کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں ہے۔ مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکہ لگ جانے کا احتمال ہے۔“

(انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٢٧)

”یہ سچ ہے کہ وہ الہام جو خدا نے اس بندے پر نازل فرمایا۔ اس میں اس بندے کی نسبت نبی اور رسول مرسل کے لفظ بکثرت موجود ہیں، سو یہ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہے۔ ’ولکن ان یصطلح“ سو خدا کی یہ اصطلاح ہے جو اس نے ایسے لفظ استعمال کئے۔ ہم اس بات کے قائل اور معترف ہیں کہ نبوت کے حقیقی معنوں کی رو سے بعد آنحضرت ﷺ کے نہ کوئی نیا نبی آ سکتا ہے اور نہ پرانا قرآن ایسے نبیوں کے ظہور سے مانع ہے۔ مگر مجازی معنوں کی مدد سے خدا کا اختیار ہے کہ کسی ملہم کو نبی کے لفظ سے یا رسول کے لفظ سے یاد کرے۔“ (سراج منیر ص ٣، خزائن ج ١٢ ص ٥)

”حال یہ ہے کہ اگرچہ بیس سال سے متواتر اس عاجز کو الہام ہوا ہے اکثر دفعہ اس میں نبی یا رسول کا لفظ آ گیا ہے۔ لیکن وہ شخص غلط کہتا ہے جو ایسا سمجھتا ہے۔ اس نبوت اور رسالت سے مراد حقیقی نبوت اور رسالت ہے۔ چونکہ ایسے لفظوں سے جو محض استعارہ کے رنگ میں ہیں اسلام میں فتنہ پڑتا ہے اور اس کا نتیجہ سخت بد نکلتا ہے۔ اس لئے اپنی جماعت کی معمولی بول چال اور دن رات کے محاورات میں یہ لفظ نہیں آنے چاہئیں۔“ (مرزا غلام احمد قادیانی کا خط مندرجہ اخبار الحکم قادیان نمبر ٢٩ ج ٣، مورخہ ١٧ اگست ١٨٩٩ء منقول از رسالہ مسیح موعود اور ختم نبوت ص ١٦، مولوی محمد علی لاہوری)

محدثیت سے نبوت کی طرف ترقی

”ہمارے سید ورسول ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت ﷺ کوئی نبی نہیں آسکتا۔ اس لئے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے ہیں۔“

(شہادت القرآن ص ٢٨، خزائن ج ٦ ص ٣٢٤، ٣٢٣)

”میں نبی نہیں ہوں بلکہ اللہ کی طرف سے محدث اور اللہ کا کلیم ہوں تاکہ دین مصطفےٰ کی تجدید کروں۔“ (آئینہ کمالات ص ٣٨٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

”میں نے ہرگز نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ میں نے انہیں کہا ہے کہ میں نبی ہوں۔ لیکن ان لوگوں نے جلدی کی اور میرے قول کے سمجھنے میں غلطی کی ہے۔ لوگوں نے سوائے اس کے

١٣

صفحہ ١٠٩

جو میں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے اور کچھ نہیں کہا کہ میں محدث ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے اس طرح کلام کرتا ہے جس طرح محدثین سے۔"

(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٦، ٢٩٧)

"لوگوں نے میرے قول کو نہیں سمجھا ہے اور کہہ دیا ہے کہ یہ شخص نبوت کا مدعی ہے اور اللہ جانتا ہے کہ ان کا قول قطعاً جھوٹ ہے جس میں سچ کا شائبہ نہیں اور نہ اس کی اصل ہے۔ ہاں میں نے یہ ضرور کہا ہے کہ محدث میں تمام اجزائے نبوت پائے جاتے ہیں۔ لیکن بالقوت بالفعل نہیں تو محدث بالقوہ نبی ہے اور نبوت کا دروازہ بند نہ ہو جاتا تو وہ بھی نبی ہو جاتا۔"

(حمامۃ البشریٰ ص ٨١، ٨٢، خزائن ج ٧ ص ٣٠٠)

"نبوت کا دعویٰ نہیں محدثیت کا دعویٰ ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ محدثیت بھی ایک شعبہ قویہ نبوت کا اپنے اندر رکھتی ہے۔"

(ازالۃ الاوہام ص ٤٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠)

"اس (محدثیت) کو اگر ایک مجازی نبوت قرار دیا جائے یا ایک شعبہ قویہ نبوت کا ٹھہرایا جائے تو کیا اس سے نبوت کا دعویٰ آ گیا۔"

(ازالۃ الاوہام ص ٤٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢١)

"محدث جو مرسلین میں سے امتی بھی ہوتا ہے اور ناقص طور پر نبی بھی۔ امتی وہ اس وجہ سے کہ وہ بہ کلی تابع شریعت رسول ﷺ اور مشکوٰۃ رسالت سے فیض پانے والا ہوتا ہے اور نبی اس وجہ سے کہ خدا تعالیٰ نبیوں کا سا معاملہ اس سے کرتا ہے اور محدث کا وجود انبیاء اور امم میں بطور برزخ کے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے وہ اگر چہ کامل طور پر امتی ہے۔ مگر ایک وجہ سے نبی بھی ہوتا ہے اور محدث کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی نبی کا مثیل ہو اور خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی نام پاوے جو اس نبی کا نام ہے۔"

(ازالۃ الاوہام ص ٥٦٩، خزائن ج ٣ ص ٤٠٧)

"ماسوا اس کے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث ایک معنی میں نبی ہی ہوتا ہے۔ گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں مگر تاہم جزوی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے۔ امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور رسولوں ونبیوں کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے اور مغز شریعت اس پر کھولا جاتا ہے اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہو کر آتا ہے اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا

١٤

ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے اور نبوت کے معنی بجز اس میں پائے جائیں۔"

"یہ کہنا کہ نبوت کا دعویٰ کیا ہے کس قدر جہا خروج ہے۔ اے نادانو! میری مراد نبوت سے یہ نہیں ک کھڑا ہو کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہ مکالمت ومخاطبت الہیہ ہے جو آنحضرت ﷺ کی اتباع ب لوگ بھی قائل ہیں۔ پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی یعنی رکھتے ہیں میں اس کی کثرت کا نام بموجب حکم الہی نبوت

)

نبی اللہ

"مسیح موعود آنے والا ہے۔ اس کی علامت سے وحی پانے والا۔ لیکن اس جگہ نبوت تامہ کاملہ مراد نہیں بلکہ وہ نبوت مراد ہے جو محدثیت کے مفہوم تک محدود ہ ہے سو یہ نعمت خاص طور پر اسی عاجز کو دی گئی ۔"

مرزا غلام احمد قادیانی وقتاً فوقتاً اپنا موق محدثیت سے نبوت کی طرف کمال طریقہ سے پیش قد تھے۔ آہستہ آہستہ اس کے اقرار کی طرف بڑھتے ر دوسرے کو حاصل نہیں ہو سکا۔ سب سے پہلے مسیح موعو

"اول تو جاننا چاہئے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا جُز یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بل ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ جس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی

"اگر یہ اعتراض پیش کی جائے کہ مسیح کا

١٥

صفحہ ١٠٩

ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے اور نبوت کے معنی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں۔“

(توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠)

”یہ کہنا کہ نبوت کا دعویٰ کیا ہے کس قدر جہالت، کس قدر حماقت اور کس قدر حق سے خروج ہے۔ اے نادانو! میری مراد نبوت سے یہ نہیں کہ میں نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کے مقابل کھڑا ہو کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں۔ صرف مراد میری نبوت سے کثرت مکالمت ومخاطبت الٰہیہ ہے جو آنحضرت ﷺ کی اتباع سے حاصل ہے۔ سو مکالمہ ومخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔ پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ اور مخاطبہ رکھتے ہیں میں اس کی کثرت کا نام بموجب حکم الٰہی نبوت رکھتا ہوں ولکل ان یصطلح!“

(تتمۃ حقیقۃ الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

نبی اللہ

”مسیح موعود آنے والا ہے۔ اس کی علامت یہ لکھی ہے کہ وہ نبی اللہ ہوگا یعنی خدا تعالیٰ سے وحی پانے والا۔ لیکن اس جگہ نبوت تامہ کاملہ مراد نہیں کیونکہ نبوت کاملہ، تامہ پر مہر لگ چکی ہے۔ بلکہ وہ نبوت مراد ہے جو محدثیت کے مفہوم تک محدود ہے جو مشکوٰۃ شریعت محمدیہ سے نور حاصل کرتی ہے سو یہ نعمت خاص طور پر اسی عاجز کو دی گئی۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٨١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٨)

مرزا غلام احمد قادیانی وقتاً فوقتاً اپنا مؤقف بدلتے رہے۔ انہوں نے ولایت اور محدثیت سے نبوت کی طرف کمال طریقہ سے پیش قدمی کی۔ جس بات کا وہ صریحاً انکار کر چکے تھے۔ آہستہ آہستہ اس کے اقرار کی طرف بڑھتے رہے۔ یہ صرف آپ ہی کا ملکہ تھا، شاید کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہو سکا۔ سب سے پہلے مسیح موعود کا سرسری طور پر ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”اوّل تو جاننا چاہئے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہمارے ایمانیات کا کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیش گوئیوں میں سے ایک پیشین گوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ جس زمانہ تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی اس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہو گیا۔“

(ازالہ اوہام طبع اوّل ص ١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١)

”اگر یہ اعتراض پیش کی جائے کہ مسیح کا مثیل بھی نبی چاہئے۔ کیونکہ مسیح نبی تھا تو اس کا

١٥

صفحہ ١١١

جواب اوّل تو یہی ہے کہ آنے والے مسیح کے لئے ہمارے سید ومولا نے نبوت شرط نہیں ٹھہرائی بلکہ صاف طور پر یہی لکھا ہے کہ وہ ایک مسلمان ہوگا اور عام مسلمانوں کے موافق شریعت فرقانی کا پابند ہوگا اور اس سے زیادہ کچھ بھی ظاہر نہیں کرے گا کہ میں مسلمان ہوں اور مسلمانوں کا امام ہوں۔“

(توضیح المرام ص ١٧، ١٨، خزائن ج ٣ ص ٥٩، ٦٠)

مثیل مسیح بننے کی کوشش

مثیل مسیح کے تعلق سے مرزا قادیانی کے خیالات ملاحظہ فرمائیے: ”اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح ابن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں اور ایک کو دوسرے سے بہ شدت مناسبت اور مشابہت ہے۔“

(اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١ ص ١٥، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٤)

”جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعے ظہور میں آئے گا اور جب مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔ لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کی رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی تشابہ واقع ہوئی ہے۔ گویا ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں اور بہ حدے اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی باریک امتیاز ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ٤٩٩، حصہ ٤، خزائن ج ١ ص ٥٩٣، حاشیہ در حاشیہ ٣)

”مجھے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں اور نہ ہی میں تناسخ کا قائل ہوں بلکہ مجھے تو فقط مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے جس طرح محدثیت نبوت سے مشابہ ہے۔ ایسا ہی میری روحانی حالت مسیح ابن مریم کی روحانی حالت سے اشد درجہ کی مشابہت رکھتی ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣١، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢١)

”اس عاجز نے جو مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج میرے منہ سے سنا گیا ہو بلکہ یہ وہی پرانا الہام جو میں نے خدا تعالیٰ سے پا کر براہین احمدیہ کے کئی مقامات پر بتصریح درج کر دیا تھا۔ جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا ہوگا۔ میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم

١٦

ہوں۔ جو شخص یہ الزام میرے پر لگائے وہ سراسر مفتری سات، آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہو رہا ہے کہ مثیل مسیح بعض روحانی خواص طبع اور عادت اور اخلاق وغیرہ کے ل رکھے ہیں۔“

”یہ بات سچ ہے کہ اللہ جل شانہ کی وحی اور الہام کیا ہے۔ میں اسی الہام کی بناء پر اپنے تئیں وہ موعود مثیل آ مسیح موعود کہتے ہیں۔ مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ میر ہو۔“

(مجموعہ اشتہا

حقیقت ظاہر ہو گئی

ناظرین کرام! غور فرمائیں، مندرجہ بالا بیانا مثیل مسیح ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور اس بات کا ش ہیں۔ بلکہ ایسا سمجھنے اور کہنے والے کو مفتری اور کذاب بتا کہ اپنے آپ کو محض مثیل مسیح ظاہر کرتا شخص پھر مسیح بن م مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”مگر جب وقت آگیا تو وہ اس میرے اس دعویٰ مسیح موعود ہونے میں کوئی نئی بات نہیں بار بار بتصریح لکھا جا چکا ہے۔“

آگے لکھتے ہیں: ”اور یہی عیسیٰ ہے جس کا ا عیسیٰ سے میں ہی مراد ہوں۔ میری نسبت ہی کہا گیا ہے ک یہ وہی عیسیٰ بن مریم ہے جو آنے والا تھا جس میں لوگ ش یہی ہے اور شک محض نافہمی سے ہے۔“

”سو چونکہ خدا جانتا تھا کہ اس نکتہ پر علم ہونے گو اس نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں، میں نے پرور کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ ۔

صفحہ ١١١

ہوں۔ جو شخص یہ الزام میرے پر لگائے وہ سراسر مفتری اور کذاب بلکہ میری طرف سے عرصہ سات، آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہورہا ہے کہ مثیل مسیح ہوں یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعض روحانی خواص طبع اور عادت اور اخلاق وغیرہ کے خدائے تعالیٰ نے میری فطرت میں بھی رکھے ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ١٩٠،خزائن ج ٣ص١٩٢)

”یہ بات سچ ہے کہ اللہ جل شانہ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ میں اسی الہام کی بناء پر اپنے تئیں وہ موعود مثیل سمجھتا ہوں جس کو لوگ غلط فہمی کی وجہ سے مسیح موعود کہتے ہیں۔ مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ میرے سوا کوئی اور مثیل مسیح بھی آنے والا ہو۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٧٠، اشتہار ٢٠؍فروری ١٨٩١ء)

حقیقت ظاہر ہوگئی

ناظرین کرام! غور فرمائیں، مندرجہ بالا بیانات میں مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو مثیل مسیح ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور اس بات کا شدت سے انکار کیا ہے کہ وہ عیسیٰ بن مریم ہیں۔ بلکہ ایسا سمجھنے اور کہنے والے کو مفتری اور کذاب بتایا۔ نہ معلوم وہ کیا ضرورت اور مجبوری تھی کہ اپنے آپ کو محض مثیل مسیح ظاہر کرتا تھا، پھر مسیح بن مریم کا دعویٰ دار بن کر کھڑا ہو گیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”مگر جب وقت آ گیا تو وہ اسرار مجھے سمجھایا گیا تب میں نے معلوم کیا میرے اس دعویٰ مسیح موعود ہونے میں کوئی نئی بات نہیں۔ یہ وہی دعویٰ ہے جو براہین احمدیہ میں بار بار بتصریح لکھا جا چکا ہے۔“

(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ص ٥١)

آگے لکھتے ہیں: ”اور یہی عیسیٰ ہے جس کا انتظار تھا اور الہامی عبارتوں میں مریم اور عیسیٰ سے میں ہی مراد ہوں۔ میری نسبت ہی کہا گیا ہے کہ اس کو نشان بناویں گے اور نیز کہا گیا کہ یہ وہی عیسیٰ بن مریم ہے جو آنے والا تھا جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔ یہی حق ہے اور آنے والا یہی ہے اور شک محض نافہمی سے ہے۔“

(کشتی نوح ص ٤٨، خزائن ج ١٩ص ٥٢)

”سو چونکہ خدا جانتا تھا کہ اس نکتہ پر علم ہونے سے یہ دلیل ضعیف ہو جائے گی اس لئے گو اس نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں، میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشونما پاتا رہا۔ پھر مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی

صفحہ ١١٣

مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٥٥٦ میں درج ہے، مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا اور خدا نے براہین احمدیہ کے وقت میں اس سِرّ مخفی کی مجھے خبر نہ دی۔“

(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

”مکاشفات اکابر اولیاء بالاتفاق اس بات پر شاہد ہیں کہ مسیح موعود چودھویں صدی سے پہلے چودھویں صدی کے سر پر ہوگا اور اس سے تجاوز نہ کرے گا۔ چنانچہ ہم نمونے کے طور پر کسی قدر اس رسالہ میں لکھ بھی آئے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے اور کوئی شخص دعوے دار اس منصب کا نہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٨٥، خزائن ج ٣ ص ٤٦٩)

”ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت جو ظہور موعود کا وقت ہے کسی نے بجز اس عاجز کے دعوٰی نہیں کیا کہ میں مسیح موعود ہوں بلکہ اس مدت تیرہ سو برس میں کبھی کسی مسلمان کی طرف سے ایسا دعوٰی نہیں ہوا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ یقیناً سمجھو کہ نازل ہونے والا ابن مریم یہی ہے جس نے عیسیٰ بن مریم کی طرح اپنے زمانے میں کسی ایسے شیخ والد روحانی کو نہ پایا جو اس کی روحانی پیدائش کا موجب ٹھہرتا تب خدا تعالیٰ خود اس کا متولی ہوا اور تربیت کی، کنار میں لیا اور اس بندہ کا نام ابن مریم رکھا۔ پس امکانی طور پر یہی عیسیٰ بن مریم ہے جو بغیر باپ کے پیدا ہوا۔ کیا تم ثابت کر سکتے ہو کیا تم ثبوت دے سکتے ہو کہ تمہارے سلاسل اربعہ میں سے کسی سلسلے میں داخل ہے۔ پھر یہ اگر ابن مریم نہیں تو کون ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ١٥٩، خزائن ج ٣ ص ٤٥٦)

نبوت کا اعلان

اس ضمن میں خود مرزا قادیانی کیا فرماتے ہیں۔ ملاحظہ کیجئے: ”جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ سے ہم کلامی سے مشرف ہوں اور وہ میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا ہے اور آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جب تک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا اور ان ہی امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا، سو میں خدا کے حکم کے مطابق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیوں کر انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں ۔ اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں ۔“ (مرزاغلام احمد قادیانی کا خط مورخہ ٢٣ مئی ١٩٠٨ء ، بنام اخبار عام لاہور، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧، حقیقت النبوۃ ص ٢٧٠، ٢٧١)

١٨

محمد مصطفیٰ ہیں، عین محمد ہیں

مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو مسیح موعود ثاب مصطفیٰ ﷺ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے فرماتے میں اذان دی جاتی ہے اور شروع ہی میں اس کو خدا اور ر بات میرے ساتھ ہوئی۔ میں ابھی احمدیت میں بطور بچہ کہ مسیح موعود ( محمد است و عین محمد است)“

”میں اس سے بالکل بے بہرہ تھا کہ مسیح موعود باشد! پھر میں اس مشکل سے بے علم تھا کہ خدا کا ہر برگز بڑے زور سے دعوٰی کرتا ہے کہ میں بروزی طور پر وہی ص ٥) ”پھر مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ اولو العزم نبی حضرت مس جماعت میں داخل ہو گیا ہوں۔ حالانکہ وہ خدا کا نبی جماعت میں شامل ہوا۔ دراصل میرے سردار خیر المرسلین

مرزا غلام احمد قادیانی رسول اللہ ﷺ سے افض

مرزائیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادی بھی فضیلت حاصل ہے۔ مرزا محمود اپنی کتاب ذکر الہٰی حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اس قدر رسول کریم کیا استاد اور شاگرد کا ایک مرتبہ ہو سکتا ہے۔ گو شاگرد ب تاہم استاد کے سامنے زانوئے ادب خم کر کے ہی بیٹھے موعود میں ہے۔“

(تقریر

”اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقد خدا تعالیٰ کے حکم سے۔ بس خدا تعالیٰ کی حکمت نے چ کرے جو شارع کی رو سے بدر کے مشابہ ہو۔ یعنی چودھو ہے خدا تعالیٰ کے اس قول میں کہ لقد نصرکم اللہ

١٩

صفحہ ١١٣

محمد مصطفیٰ ہیں، عین محمد ہیں

مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو مسیح موعود ثابت کرنے کے بعد اب اپنے آپ کو محمد مصطفیٰ ﷺ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ادھر بچہ پیدا ہوا اور اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے اور شروع ہی میں اس کو خدا اور رسول پاک کا نام سنایا جاتا ہے۔ بعینہ یہ بات میرے ساتھ ہوئی۔ میں ابھی احمدیت میں بطور بچہ کے ہی تھا جو میرے کان میں یہ آواز پڑی کہ مسیح موعود (محمد است و عین محمد است)“

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢١ اکتوبر ١٩٣١ء)

”میں اس سے بالکل بے بہرہ تھا کہ مسیح موعود پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ مَیں محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشم! پھر میں اس مشکل سے بے علم تھا کہ خدا کا ہر برگزیدہ نبی اپنے آپ کو بروز محمد کہتا ہے اور بڑے زور سے دعویٰ کرتا ہے کہ میں بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں ۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٥) ”پھر مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ اولوالعزم نبی حضرت مسیح موعود کو ماننے سے خدا کے نزدیک صحابہ کی جماعت میں داخل ہوگیا ہوں۔ حالانکہ وہ خدا کا نبی الہامی الفاظ میں کہہ چکا تھا کہ جو میری جماعت میں شامل ہوا۔ دراصل میرے سردار خیرالمرسلین ﷺ کے صحابہ میں داخل ہوا ۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٧١، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٨)

مرزا غلام احمد قادیانی رسول اللہ ﷺ سے افضل

مرزائیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ صرف انبیاء بلکہ سیدالمرسلین ﷺ پر بھی فضیلت حاصل ہے۔ مرزا محمود اپنی کتاب ذکر الٰہی ص ١٩ پر لکھتے ہیں: ”پس میرا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اس قدر رسول کریم ﷺ کے نقش قدم پر چلے کہ نبی ہوگئے۔ لیکن کیا استاد اور شاگرد کا ایک مرتبہ ہوسکتا ہے۔ گو شاگرد علم کے لحاظ سے استاد کے برابر بھی ہوجائے تاہم استاد کے سامنے زانوئے ادب خم کرکے ہی بیٹھے گا۔ یہی نسبت آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود میں ہے۔“

(تقریر میاں محمود خلیفہ قادیانی اخبار الحکم ١٨ اپریل ١٩١٤ء)

”اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا انجام کار آخر زمانہ میں بدر ہو جائے خدا تعالیٰ کے حکم سے۔ پس خدا تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اختیار کرے جو شمار کی رو سے بدر کے مشابہ ہو۔ یعنی چودھویں صدی۔ پس ان ہی معنوں کی طرف اشارہ ہے خدا تعالیٰ کے اس قول میں کہ لقد نصرکم الله ببدر“

(خطبہ الہامیہ ص ١٨٢، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٥)

١٩

صفحہ ١١٥

”آنحضرت ﷺ کی بعثت اوّل میں آپ کے منکروں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا۔ لیکن ان کی بعثت ثانی میں آپ کے منکروں کو داخل اسلام سمجھنا یہ آنحضرت ﷺ کی ہتک اور آیات اللہ سے استہزاء ہے۔ حالانکہ خطبہ الہامیہ میں مسیح موعود نے آنحضرت ﷺ کی بعثت اوّل اور ثانی کی باہمی نسبت کو ہلال اور بدر کی نسبت سے تعبیر فرمایا ہے۔“

(اخبار الفضل قادیان ج ٣ ص ١٠، مورخہ ١٥ جولائی ١٩١٥ء)

مشہور قادیانی شاعر قاضی اکمل کے اشعار ملاحظہ فرمائیے جو انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی شان میں ان کی موجودگی میں پڑھے اور مرزا قادیانی نے ان اشعار کو پسند فرمایا۔

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(اخبار بدر ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء)

گویا مرزا غلام احمد قادیانی نہ صرف ہو بہو محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں بلکہ اپنی شان کے اعتبار سے محمد مصطفیٰ ﷺ سے بڑھ کر ہیں۔ نعوذ باللہ من ذالك!

امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو مختلف شخصیتیں

یہ بات احادیث سے واضح طور پر ثابت ہے کہ امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو مختلف شخصیتیں ہیں۔ امام مہدی کا ظہور پہلے ہوگا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بعد میں ہوگا۔ جب کہ مرزا قادیانی اس بات کے مدعی ہیں کہ وہ امام مہدی بھی ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام (موعود) بھی۔ آنحضور ﷺ اور اس کے بعد اصحاب رسول ﷺ میں سے کوئی شخص بھی اس بات کا قائل نہ تھا کہ حضرت امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دونوں ایک ہی شخصیت ہیں۔ عہد صحابہؓ کے بعد تابعینؒ تبع تابعینؒ حتیٰ کہ اس وقت تک سوائے مرزا قادیانی کے کوئی بھی شخص اس بات کا قائل نہیں۔ غرض احادیث نبویہ اور آثار سے یہ بالکل واضح اور ظاہر ہے۔

مرزا قادیانی نزول مسیح کے قائل نہ تھے بلکہ اس کو شرک سے تعبیر کرتے تھے۔ مرزائیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہیں۔ ان کو زندہ سمجھنا شرک ہے اور قیامت کے قریب ہرگز تشریف نہیں لائیں گے اور جو عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نازل ہونے والے ہیں وہ مرزا قادیانی ہیں: ”تم یقین جانو عیسیٰ ابن مریم فوت ہو گیا ہے۔ کشمیر سری نگر محلہ خان یار میں اس کی قبر ہے۔“

(کشتی نوح ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ٧٦)

٢٠

یہاں بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ حضر مرزا قادیانی، مرزا غلام مرتضیٰ کے اور حضرت عیسیٰ علیہ ال سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور حدیثوں میں جس مسیح ا امام مہدی کے کافی دیر بعد نازل ہوگا اور وہی مسیح ابن مثیل مسیح بنایا ہے۔ حالانکہ احادیث وقرآن میں کہیں بھ بات کی صراحت فرمائی گئی کہ امام مہدی دمشق کی جامع م ہوں گے۔ یکا یک منارہ مشرقی پر عیسیٰ علیہ السلام کا نزو مہدی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر مصلیٰ سے ہٹ جا آپ امامت کرائیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرما تمہارے لئے کہی گئی ہے۔ امام مہدی نماز پڑھائیں گ یہ معلوم ہو جائے کہ رسول ہونے کی حیثیت سے نازل ہونے کی حیثیت سے آئے ہیں۔

ناظرین! غور فرمائیں حضرت عیسیٰ علیہ ال پہلے سے موجود ہوگا نہ کہ اپنے نزول کے بعد اپنی موجو سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اما مرزا قادیانی بیک وقت مہدی اور مسیح موعود ہونے کا م

مرزا غلام احمد نہ مہدی نہ مسیح موعود

احادیث میں امام اور حضرت عیسیٰ علیہ ال زندگی ان سے خالی نظر آتی ہے۔ امام مہدی، حسن مغل خاندان سے تھے، سید نہ تھے۔ امام مہدی کا نا غلام احمد، باپ کا نام غلام مرتضیٰ اور والدہ کا نام چ ہوں گے اور پھر مکہ آئیں گے۔ مرزا غلام احمد نے سے محروم رہے۔

امام مہدی روئے زمین کے بادشاہ

٦

صفحہ ١١٥

یہاں بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مریم کے بیٹے ہیں اور مرزا قادیانی، مرزا غلام مرتضیٰ کے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بحکم خداوندی حضرت مریم کے پیٹ سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور حدیثوں میں جس مسیح ابن مریم کے نزول کا ذکر آیا ہے وہ حضرت امام مہدی کے کافی دیر بعد نازل ہوگا اور وہی مسیح ابن مریم ہوگا۔ مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو مثیل مسیح بنایا ہے۔ حالانکہ احادیث وقرآن میں کہیں بھی مثیل مسیح کا ذکر نہیں بلکہ احادیث میں اس بات کی صراحت فرمائی گئی کہ امام مہدی دمشق کی جامع مسجد میں صبح کی نماز کے لئے مصلیٰ پر کھڑے ہوں گے۔ یکا یک منارہ مشرقی پر عیسیٰ علیہ السلام کا نزول دو فرشتوں کے سہارے پر ہوگا اور امام مہدی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر مصلیٰ سے ہٹ جائیں گے اور عرض کریں گے کہ اے نبی اللہ آپ امامت کرائیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے کہ تم ہی نماز پڑھاؤ، یہ اقامت تمہارے لئے کہی گئی ہے۔ امام مہدی نماز پڑھائیں گے اور حضرت عیسیٰ اقتداء فرمائیں گے تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ رسول ہونے کی حیثیت سے نازل نہیں ہوئے بلکہ امت محمدیہ کے تابع اور مجدد ہونے کی حیثیت سے آئے ہیں۔

(العرف الوردی ص ٧٢)

ناظرین! غور فرمائیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام جس منارے سے نزول فرمائیں گے، وہ پہلے سے موجود ہوگا نہ کہ اپنے نزول کے بعد اپنی موجودگی میں تعمیر کرائیں گے۔ ان سب تفصیلات سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی دو جدا گانہ شخص ہوں گے۔ جب کہ مرزا قادیانی بیک وقت مہدی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

مرزا غلام احمد نہ مہدی نہ مسیح موعود

احادیث میں امام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جو علامتیں بتائی گئی ہیں مرزا غلام احمد کی زندگی ان سے خالی نظر آتی ہے۔ امام مہدی، حسن بن علی کی اولاد سے ہوں گے اور مرزا قادیانی مغل خاندان سے تھے، سید نہ تھے۔ امام مہدی کا نام محمد، والد کا نام عبداللہ ہوگا۔ مرزا قادیانی کا نام غلام احمد، باپ کا نام غلام مرتضیٰ اور والدہ کا نام چراغ بی بی تھا۔ امام مہدی مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے اور پھر مکہ آئیں گے۔ مرزا غلام احمد نے مکہ مدینہ کی شکل بھی نہیں دیکھی اور حج بیت اللہ سے محروم رہے۔

امام مہدی روئے زمین کے بادشاہ ہوں گے اور دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دیں

٤١

صفحہ ١١٧

گے۔ مرزا قادیانی تو اپنے پورے گاؤں کے بھی چوہدری نہ تھے۔ جب کبھی زمین کا کوئی جھگڑا پیش آتا تو گورداسپور کی کچہری میں جا کر فریاد کرتے تھے۔ امام مہدی ملک شام میں جا کر دجال کے لشکر سے جنگ کریں گے اور مرزا قادیانی کو دمشق اور بیت المقدس کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ مکہ مکرمہ میں مسلمان مقام ابراہیم اور حجر اسود کے درمیان ان سے بیعت کریں گے اور ان کو اپنا امام تسلیم کریں گے۔ امام مہدی بیت المقدس میں وفات پائیں گے اور وہیں دفن ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کی نماز جنازہ پڑھائیں گے۔ جب کہ مرزا قادیانی لاہور میں فوت ہوئے اور قادیان میں دفن ہوئے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے پیدا ہوئے اور مرزا قادیانی کے والد غلام مرتضیٰ اور والدہ چراغ بی بی تھیں۔ احادیث مبارکہ میں آنے والے مسیح کی صفات بیان کرتے ہوئے بتایا گیا کہ وہ حاکم وعادل ہوں گے اور شریعت محمدیہ کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ جب کہ مرزا قادیانی کو تو اپنے گاؤں قادیان کی حکومت بھی حاصل نہ تھی۔ مرزا قادیانی جب کبھی محسوس کرتے کہ ان پر ظلم ہو رہا ہے اور ان کی حق تلفی ہو رہی ہے تو اس کے لئے انگریزی عدالت کے حکمرانوں سے گورداسپور جا کر فریاد کرتے۔ اس طرح مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کرنا کہ آنے والے مسیح سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے، حدیث سے کھلا ہوا مذاق اور اس کی کھلی توہین ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آیا ہے کہ وہ صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا۔ یعنی عیسائیت کا خاتمہ ہو جائے گا اور کوئی خنزیر کھانے والا باقی نہ رہے گا۔ اب یہ بات تو مرزا قادیانی کی امت بتائے گی کہ مرزا قادیانی نے کتنی صلیبیں توڑیں اور کتنے سور قتل کئے۔ واقعہ یہ ہے مرزا قادیانی کی آمد سے صلیب اور صلیب پرستوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ بلکہ مرزا قادیانی ساری عمر صلیب پرستوں کی ترقی وبلندی درجات کے لئے دعا گو رہے اور ان کی ہر ممکن مدد کرتے رہے۔

وہ لڑائی کو اٹھا دے گا اور ایک جگہ آیا ہے کہ وہ جزیہ کو ختم کر دے گا۔ یعنی سب لوگ مسلمان ہو جائیں گے۔ کوئی خدا اور رسول اور دین اسلام کا دشمن باقی نہ رہے گا۔ جن سے جہاد وقتال کیا جائے اور جزیہ وصول کیا جائے۔ وہ یعنی آنے والا مسیح جہاد و جزیہ کو منسوخ نہ کرے گا بلکہ ٢٢

اس کی ضرورت ہی باقی نہ رہے گی۔ بلکہ یہ شریعت محمدیہ نافذ فرمائیں گے۔

مرزا قادیانی بے چارے جزیہ تو کیا منسوخ گزار رہے اور انکم ٹیکس معاف کرانے کے لئے ان سے طرح بہا دے گا اور کوئی صدقہ خیرات قبول کرنے والا نہ کوئی سائل اور ضرورت مند باقی نہ رہے گا۔ مرزا قادیان مسلمان انگریزوں کے محکوم ہو گئے۔ وہ غربت وافلاس اپنے خانگی اخراجات، لنگر خانہ و پریس اور کتب خانہ چلا ہونا پڑا۔

حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول کے وقت کے مقابلہ میں دنیا و مافیہا کی دولت حقیر معلوم ہوگی بجائے دنیا پرستی وعیش وعشرت کا غلبہ ہوا۔ حتیٰ کہ مرزا لوگوں نے مرزا قادیانی کے اہل بیت کو اندر سے جا کر د کے خلیفہ مرزا محمود کے گھرانہ اور فرنگی تہذیب اور اس کی

حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق، شام کی جا ہوں گے۔ نازل ہونے کے بعد مقام لد پر دجال کو قت وعمرہ کریں گے۔ مکہ مکرمہ آئیں گے اور پھر مدینہ منور درود وسلام بھیجیں گے۔ حدیث میں ہے کہ نزول کے ب میں وفات پائیں گے اور حضور نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک

مسیح علیہ السلام جس منارہ پر نزول فرمائیں مرزا قادیانی نے نازل ہونے سے پہلے لوگوں سے چـ رکھا۔ معلوم نہیں وہ کون سا دجال ہے جس کو مرزا قادیان نہ حج کی توفیق ملی اور نہ عمرہ کی تو وہ روضہ پاک پر حاضر دعویٰ نبوت کے چند سال بعد لاہور میں مر گئے اور قاد ٢٣

صفحہ ١١٧

اس کی ضرورت ہی باقی نہ رہے گی۔ بلکہ یہ شریعت محمدیہ کا ہی حکم ہوگا جس کو حضرت مسیح علیہ السلام نافذ فرمائیں گے۔

مرزا قادیانی بے چارے جزیہ تو کیا منسوخ کرتے وہ ساری عمر انگریزوں کے باج گزار رہے اور انکم ٹیکس معاف کرانے کے لئے ان سے التجائیں کرتے رہے۔ وہ مال کو پانی کی طرح بہادے گا اور کوئی صدقہ خیرات قبول کرنے والا نہ ملے گا یعنی سب لوگ غنی ہو جائیں گے اور کوئی سائل اور ضرورت مند باقی نہ رہے گا۔ مرزا قادیانی کے زمانہ میں اس کے برعکس ہوا۔ ہندی مسلمان انگریزوں کے محکوم ہو گئے۔ وہ غربت وافلاس کا شکار ہوئے۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی کو بھی اپنے خانگی اخراجات ، لنگر خانہ و پریس اور کتب خانہ چلانے کے لئے لوگوں سے چندہ مانگنے پر مجبور ہونا پڑا۔

حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول کے وقت عبادت اتنی لذیذ ہو جائے گی کہ ایک سجدہ کے مقابلہ میں دنیا ومافیہا کی دولت حقیر معلوم ہوگی۔ مرزا قادیانی کے زمانے میں خدا پرستی کی بجائے دنیا پرستی و عیش و عشرت کا غلبہ ہوا۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی کا گھرانہ بھی محفوظ نہ رہ سکا۔ جن لوگوں نے مرزا قادیانی کے اہل بیت کو اندر سے جا کر دیکھا ان کی روایت کے مطابق مرزا قادیانی کے خلیفہ مرزا محمود کے گھرانہ اور فرنگی تہذیب اور اس کی معاشرت کے درمیان فرق کرنا ممکن نہ تھا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق ، شام کی جامع مسجد کے مشرقی منارہ پر آسمان سے نازل ہوں گے۔ نازل ہونے کے بعد مقام لد پر دجال کو قتل کریں گے ایک حدیث میں ہے کہ وہ حج وعمرہ کریں گے۔ مکہ مکرمہ آئیں گے اور پھر مدینہ منورہ آئیں گے اور روضہ مبارک پر حاضر ہو کر درود و سلام بھیجیں گے۔ حدیث میں ہے کہ نزول کے بعد چالیس سال زندہ رہیں گے۔ مدینہ منورہ میں وفات پائیں گے اور حضور نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک کے قریب مدفون ہوں گے۔

مسیح علیہ السلام جس منارہ پر نزول فرمائیں گے وہ منارہ پہلے سے موجود ہوگا۔ جب کہ مرزا قادیانی نے نازل ہونے سے پہلے لوگوں سے چندہ مانگ کر منارہ بنایا جس کا نام منارۃ المسیح رکھا۔ معلوم نہیں وہ کون سا دجال ہے جس کو مرزا قادیانی نے قتل کیا اور کہاں قتل کیا؟ مرزا قادیانی کو نہ حج کی توفیق ملی اور نہ عمرہ کی تو وہ روضہ پاک پر حاضری دے کر سلام کیا پیش کرتے۔ مرزا قادیانی دعویٰ نبوت کے چند سال بعد لاہور میں مر گئے اور قادیان میں دفن ہوئے۔

٢٣

صفحہ ١١٨

ناظرین! آپ نے مسیح علیہ السلام کی وہ علامتیں پڑھیں جو احادیث کی معتبر کتابوں میں وارد ہوئی ہیں۔ ان میں کوئی علامت بھی مرزا قادیانی میں نہیں پائی جاتی۔ ان صریح احادیث کی مرزا جی جو تاویلیں چاہیں کرلیں لیکن حق کو چھپایا نہیں جاسکتا۔ اب جس کو جی چاہے حق کو قبول کرے اور جس کا جی چاہے جھوٹ ومکر وفریب کی پیروی کرے۔ وما علینا الا البلاغ! (ہمارے ذمہ سیدھی سچی راہ دکھانے کے سوا کچھ نہیں)

تحریفات، الہامات، تاویلات اور دعوے

قرآن مجید میں تحریفات

قرآن مجید میں مرزا قادیانی نے جو تحریفات کی ہیں، اس کا سلسلہ بہت لمبا ہے۔ آپ نے قرآن مجید کی ان آیات کو جن میں نبی کریم حضرت محمدﷺ کے مناقب بیان ہوئے ہیں اور جن آیات میں نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے مخاطب فرمایا ہے، بڑی چالاکی سے اپنے اوپر منطبق کرنے کی کوشش کی ہے اور قرآن مجید کی آیات کی تحریف کر ڈالی ہے۔ سورۂ صف کی وہ آیت جو بہت مشہور ہے جس میں رب العالمین نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ: ’’میں رسول اللہ ہوں اور تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اپنے بعد آنے والے رسول کی بشارت دینے والا ہوں۔ جن کا نام احمد ہوگا۔‘‘ مرزائی حضرات بھولے بھالے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے قرآن کی اس آیت کریمہ کا غلط مطلب پیش کر کے یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مرزا قادیانی کے نبی ہونے کی بشارت دی ہے۔ جب کہ قرآن مجید حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان مبارک سے اس بات کا اعلان کرا رہا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور اپنے سامنے موجود تورات کی تصدیق کرتا ہوں اور اپنے بعد آنے والے رسول کی بشارت دیتا ہوں جن کا نام احمد ہوگا۔

قابل غور بات یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت محمد ﷺ تشریف لائے یا مرزا قادیانی؟۔ اگر نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ اور مرزا قادیانی کے درمیان کوئی فصل نہ ہوتا تو شاید بعض نادانوں کو دھوکہ دینے کے لئے یہ فریب کام کر جاتا۔ جب کہ قرآن مجید کی عبارت صاف بتا رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت دی ہے۔ سیرت کی کتابوں میں یہ بات بصراحت بتائی گئی ہے کہ جناب نبی کریم ﷺ کا نام ’’محمد‘‘ آپ کے دادا

٢٤

صفحہ ١١٩

محترم عبدالمطلب نے اور آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کا نام ”احمد“ رکھا۔ قرآن مجید میں اور کئی دوسرے ناموں سے بھی اللہ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کو پکارا گیا ہے۔

یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا نام ”غلام احمد“ ہے نہ کہ ”احمد“ اور اسی احمد کی نسبت سے قادیانی اپنے آپ کو قادیانی یا مرزائی کہلانے کے بجائے احمدی کہلاتے ہیں۔ یہ کتنا بڑا دھوکہ اور فریب ہے جس میں قادیانی خود مبتلاء ہیں اور دوسروں کو بھی مبتلا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو آیتیں جناب نبی کریم ﷺ کی شان مبارک میں نازل فرمائی ہیں، مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ان کا مصداق میں ہوں۔ اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔

”وما ارسلنٰك الا رحمة للعلمین“

(تذکرہ ص ٨١، ٣٨٥، طبع ٣)

”ورفعنا لك ذكرك“

(تذکرہ ص ٩٤، ٢٧٩، طبع ٣)

”یٰسٓ والقرآن الحکیم انك لمن المرسلین“

(تذکرہ ص ٤٧٩)

”یایھا المدثر قم فانذر و ربك فکبر“

(تذکرہ ص ٥١، طبع ٣)

”قل انما انا بشر مثلكم یوحٰی الی انما الھكم الٰہ واحد“

(تذکرہ ص ٤٣٥، ٢٧٨، ٣٦٥، ٣٤٦، ١٣٩، طبع ٣)

”قل یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً“

(البشریٰ ج ٢ ص ٥٦، تذکرہ ص ٣٥٢، طبع ٣)

اس سے بڑھ کر اور کیا جسارت ہوسکتی ہے جس پر ماتم کیا جائے! کاش قادیانی اس پر غور کرتے، لیکن ایسا ممکن نہیں۔ مرزا قادیانی اگر پورے قرآن مجید کے بارے میں بھی فرما دیتے کہ یہ میرے اوپر اترا ہے تو ان سے کیا بعید تھا؟ چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد۔ افسوس صد افسوس!

کلمہ کی لفظی اور معنوی تحریف

کہنے کو تو قادیانی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارا کلمہ دیگر مسلمانوں سے جدا نہیں لیکن مسلمانوں کے نزدیک ”لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کا اقرار ایمان لانے کے لئے کافی ہے جس کا مطلب ہے ”اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول

٢٥

صفحہ ١٢١

ہیں ۔‘‘ لیکن قادیانیوں کے نزدیک کسی بھی شخص کا ایمان اس وقت تک معتبر نہیں جب تک وہ اللہ کی ربوبیت کے اقرار و حضرت محمد ﷺ کی رسالت کے ساتھ مرزا غلام احمد کو خدا کا نبی اور رسول تسلیم نہ کرے۔ یہ کلمے میں کتنی بڑی کھلی تحریف معنوی اور توہین ہے۔ کلمہ شریف کی اس سے بھی بڑھ کر تحریف کی ہے جو لفظی ہے۔ مرزا ناصر کے دورۂ افریقہ پر تصویری کتاب "Africa Speaks" پر احمدیہ سنٹرل مسجد نائیجیریا کا فوٹو موجود ہے، جس پر یہ کلمہ لکھا ہوا ہے ۔ ’’لا اله الا الله احمد رسول الله‘‘ اس تحریف شدہ کلمہ میں محمد کا لفظ حذف کر دیا گیا اور احمد کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

الہامات مرزا

قرآن مجید کے اصول کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اپنے ہر نبی کو اسی قوم کی زبان میں وحی بھیجی جس قوم کی طرف وہ نبی بنا کر بھیجا گیا ۔’’وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومه ليبين لهم‘‘ ﴿اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان میں ہی تا کہ انہیں کھول کر بتائے﴾ قرآن مجید کے اس صاف اصول کے خلاف مرزا قادیانی کو مختلف زبانوں میں الہام ہوئے ،حق تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو پنجابی زبان میں وحی ہوتی۔ کیونکہ وہ پنجاب کے رہنے والے تھے ۔ لیکن پنجابی زبان اس شرف سے محروم ہی رہی ۔ یہ کتنی غیر معقول بات ہے کہ نبی تو پنجابی ہو اور اس کا الہام کسی دوسری زبان میں ہو ۔ چنانچہ مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں: ’’یہ بات غیر معقول اور بیہودہ ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص ٢٠، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)

مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میری وحی اور الہامات قرآن پاک کی طرح ہیں۔ لیکن اگر آپ مرزا قادیانی کے الہامات کا سرسری جائزہ لیں گے تو یہ بات کھل کر سامنے آئے گی کہ مرزا قادیانی کے کتنے ہی الہامات ایسے ہیں جن کو وہ خود بھی نہ سمجھ سکتے تھے۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ’’زیادہ تر تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ واقفیت نہیں جیسے انگریزی سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔‘‘

(نزول مسیح ص ٥٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥)

غور فرمائیے! مرزا قادیانی جس زبان کو خود نہیں جانتے اس زبان کے الہام کو کیا سمجھتے

٢٦

اور دوسروں کو کیا سمجھاتے ہوں گے؟ یہی بات نہیں کہ سکتے ہوں ۔ بلکہ بہت سے اردو اور عربی الہامات ایسے تھے۔ جس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں :’’ پیٹ پھٹ نہیں یہ کس کے متعلق ہے۔‘‘

’’لاہور میں ایک بے شرم۔‘‘ (کون؟ معـ ’’ایک دانہ کس کس نے کھانا۔‘‘ (لا یعنی

گپت الہام

بہت سے گپت الہامات ٢٨٠ ، ٢٧٠ ، ٢ ٢٧٢ وغیرہ وغیرہ۔

(البشریٰ ج ٢ ص ١٧، مجموعـ

ان الہامات کی حقیقت مرزا قادیانی پر بـ عاجی ہے۔ عاجی کے معنی ابھی تک معلوم نہیں ہو سکے عشم عشم عشم۔

کیا یہی الہامات ہیں جن پر قادیانی نبوـ

تاویلات مرزا

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی نبوت کـ کے خاتم النبیین ہونے کا مطلب اس کے سوا اوـ ہیں۔ قرآن مجید کا سیاق و سباق ، احادیث مبارکہ اـ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ۔ تمام امـ لغت بھی اسی مفہوم کی صراحت کرتی ہے۔ لیکن مرزـ نبیوں کی مہر لیتے ہیں اور اس کا یہ مطلب بیان کرـ بھی آئیں گے وہ آپ ﷺ کی مہر لگنے سے ہی بنـ کرتا ہے کہ ’’نبوت کا دروازہ تو کھلا ہوا ہے البتـ آپ ﷺ افضل الانبیاء ہیں۔‘‘ مرزا قادیانی تاوـ

صفحہ ١٢١

اور دوسروں کو کیا سمجھاتے ہوں گے؟ یہی بات نہیں کہ مرزا قادیانی غیر زبانوں کے الہامات کو نہ سمجھ سکتے ہوں ۔ بلکہ بہت سے اردو اور عربی الہامات ایسے بھی ہیں جن کو مرزا قادیانی بھی نہ سمجھ سکتے تھے۔ جس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں: ”پیٹ پھٹ گیا ۔“ دن کے وقت الہام ہوا ہے۔ معلوم نہیں یہ کس کے متعلق ہے۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ١١٩، تذکرہ ص ٧٢٦ طبع ٣)

”لاہور میں ایک بے شرم ۔“ (کون؟ معلوم نہیں)

(البشریٰ ج ٢ ص ١٢٦، تذکرہ ص ٧٠٤، طبع ٣)

”ایک دانہ کس کس نے کھانا ۔“ (لا یعنی بات)

(البشریٰ ج ٢ ص ١٢٧، تذکرہ ص ٥٩٥ طبع ٣)

گپت الہام

بہت سے گپت الہامات ٢٨٠، ٢٧٠، ١٤٠، ٢٠، ٢٠٦، ٢٢٦، ٢٢٨، ٢٣، ١٥، ١١١، ٢٧٢ وغیرہ وغیرہ۔

(البشریٰ ج ٢ ص ١٧، مجموعہ الہامات مرزا قادیانی، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣٠١)

ان الہامات کی حقیقت مرزا قادیانی پر بھی نہ منکشف ہوسکی۔ ”ربنا عاج “ ہمارا رب عاجی ہے۔ عاجی کے معنی ابھی تک معلوم نہیں ہو سکے۔

(البشریٰ ج ١ ص ٤٣، تذکرہ ص ١٠٢ طبع ٣)

عشم، عشم، عشم۔

(البشریٰ ج ٢ ص ٥٠، تذکرہ ص ٤٦٩ طبع ٣)

کیا یہی الہامات ہیں جن پر قادیانی نبوت کی بنیاد رکھی گئی ہے؟۔

تاویلات مرزا

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی نبوت کی پہلی اینٹ ہی تاویل پر رکھی۔ حضرت محمد ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ قرآن مجید کا سیاق و سباق، احادیث مبارکہ اور صحابہ کرامؓ اسی بات پر متفق ہیں کہ اب حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔ تمام امت مسلمہ کا بھی اسی بات پر اجماع ہے اور عربی لغت بھی اسی مفہوم کی صراحت کرتی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی اور ان کے امتی خاتم النبیین کا مطلب نبیوں کی مہر لیتے ہیں اور اس کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں: ”حضرت نبی کریم ﷺ کے بعد جو نبی بھی آئیں گے وہ آپ ﷺ کی مہر لگنے سے ہی نبی بنیں گے۔“ ایک دوسری تاویل قادیانی گروہ یہ کرتا ہے کہ ”نبوت کا دروازہ تو کھلا ہوا ہے البتہ کمالات نبوت حضرت محمد ﷺ پر ختم ہو گئے اور آپ ﷺ افضل الانبیاء ہیں۔“ مرزا قادیانی تاویل کرنے میں بڑے ماہر استاد ہیں۔ موقع بموقع

٢٧

صفحہ ١٢٣

اپنا موقف بدلتے رہتے ہیں۔ یہی حال ان کی امت کا ہے، قرآن مجید کی آیات کا جیسا مطلب چاہا نکال لیا۔ جس حدیث کو چاہا قبول کر لیا اور جس کو چاہا رد کر دیا۔

ذیل میں ہم ان کی چند عجیب و غریب تاویلات کا ذکر کریں گے۔

ان کی وفات کے بھی اور فرماتے ہیں کہ جس عیسیٰ بن مریم کے تم منتظر ہو، جس کی خبر احادیث نے دی ہے وہ یہ عاجز (غلام احمد قادیانی) ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور دجال کے خروج کی بے شمار حدیثیں بیان ہوئی ہیں جو مرزا قادیانی پر منطبق نہیں ہوتیں۔ ان کو اپنے پر منطبق کرنے کے لئے بے دھڑک تاویل کر ڈالی جو آج تک کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ آئی۔ فرماتے ہیں کہ ”نزول مسیح سے مراد ان کا آسمان سے اترنا نہیں بلکہ مرزا قادیانی کا اپنے گاؤں قادیان میں پیدا ہونا مراد ہے“۔

حدیث میں مسیح علیہ السلام کا دمشق کے سفید مشرقی منارہ پر اترنا آیا ہے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”دمشق سے مراد ان کا گاؤں قادیان ہے اور مشرقی منارہ سے مراد وہ منارہ ہے جو مرزا قادیانی کی سکونتی جگہ قادیان کے مشرقی کنارہ پر واقع ہے“۔ (جسے مرزا قادیانی نے اپنے نازل ہونے کے بعد بنوایا)

”حدیث میں جس دجال کا ذکر آیا ہے اس سے مراد شیطان اور عیسائی قومیں ہیں“۔

(تاویل مرزا قادیانی)

”حدیث میں دجال کے جس گدھے کا ذکر ہے اس سے مراد ریل گاڑی ہے“۔

اسی ریل گاڑی پر سوار ہو کر مرزا قادیانی لاہور جایا کرتے تھے اور مرنے کے بعد آپ کی لاش کو دجال کے اسی گدھے پر لاد کر لایا گیا۔ حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد دجال کو لد کے مقام پر قتل کریں گے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”لد سے مراد لدھیانہ ہے اور دجال کے قتل سے مراد لیکھرام کا قتل ہے“۔

حدیث میں آیا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے تو وہ دو زرد چادریں پہنے ہوں گے۔ مرزا قادیانی نے اس کی تاویل اس طرح فرمائی کہ: ”مسیح موعود دو زرد چادروں میں اترے گا ایک چادر بدن کے اوپر کے حصہ میں ہوگی دوسری چادر بدن کے نیچے کے

٢٨

حصہ میں ہوگی۔ سو میں نے کہا اس طرف اشارہ تھا کہ مسیح مو کے علم میں زرد کپڑے سے مراد بیماری ہے اور وہ دونوں بیماری (مراق، مالیخولیا) دوسری کثرت پیشاب اور دستوں ک

(تذکر

مرزا قادیانی کے دعوے

مرزا قادیانی کی تاویلوں کی طرح ان کے دعو متضاد دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی کئی کئی پینترے بدلے ہوں۔ مرزا قادیانی کی نبوت پ ایمان بھی۔ ایک چیز کا اقرار بھی اور انکار بھی۔ جیسا وقت پھنس گئے تو تاویل کا سہارا لے کر نکل گئے۔ ان کے نز خود مدعی نبوت بھی۔ وہ کبھی ظلی و بروزی نبی بنتے ہیں بیٹھے۔ وہ مریم بھی ہیں اور ابن مریم بھی، امام مہدی بھی ایک وقت میں ہندوؤں کو دھوکہ دینے کے جال میں پھنسانے کے لئے موسیٰ اور عیسیٰ بھی بنے۔ یہ آسکے۔ البتہ مسلمانوں میں سے بھولے بھالے لوگ کاری سے واقف نہ تھے۔ کلمہ گو سمجھ کر ان کے جال میں رہے اور در پردہ اس کے بنیادی عقائد پر تیشہ چلاتے خدا کا شکر ہے جوں جوں لوگ قادیانیت پر واضح ہو رہا ہے تو جو بھولے بھالے لوگ سادگی میں طرف لوٹ رہے ہیں۔

مرزا قادیانی حاملہ ہو گئے

مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”مریم ا استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور کئی م الہام کے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ بس میں اس

٩

صفحہ ١٢٣

حصہ میں ہوگی۔ سو میں نے کہا اس طرف اشارہ تھا کہ مسیح موعود دو بیماریوں کے ساتھ ظاہر ہوگا، تعبیر کے علم میں زرد کپڑے سے مراد بیماری ہے اور وہ دونوں بیماریاں مجھ میں ہیں۔ یعنی ایک سر کی بیماری (مراق، مالیخولیا) دوسری کثرت پیشاب اور دستوں کی بیماری۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص٤٣، ٤٤، خزائن ج٢٠ ص ٤٦)

مرزا قادیانی کے دعوے

مرزا قادیانی کی تاویلوں کی طرح ان کے دعوے بھی بے شمار ہیں۔ وہ ایک وقت میں متضاد دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص گزرا ہو جس نے ایک وقت میں کئی کئی پینترے بدلے ہوں۔ مرزا قادیانی کی نبوت کے تھیلے میں ہر چیز موجود ہے۔ کفر بھی ہے ایمان بھی۔ ایک چیز کا اقرار بھی اور انکار بھی۔ جیسا وقت ہوا ویسا اپنا ہتھیار استعمال کر لیا اور اگر پھنس گئے تو تاویل کا سہارا لے کر نکل گئے۔ ان کے نزدیک ختم نبوت کا منکر کاذب و دجال ہے اور خود مدعی نبوت بھی۔ وہ کبھی ظلی و بروزی نبی بنتے ہیں اور کبھی مستقل نبی اور پھر افضل الانبیاء بن بیٹھے۔ وہ مریم بھی ہیں اور ابن مریم بھی، امام مہدی بھی ہیں اور مسیح موعود بھی۔

ایک وقت میں ہندوؤں کو دھوکہ دینے کے لئے کرشن جی بنے اور یہود و نصاریٰ کو اپنے جال میں پھنسانے کے لئے موسیٰ اور عیسیٰ بھی بنے۔ یہود و عیسائی اور ہندو تو ان کے جھانسے میں نہ آسکے۔ البتہ مسلمانوں میں سے بھولے بھالے لوگ اور بعض تعلیم یافتہ نوجوان جو ان کی فریب کاری سے واقف نہ تھے۔ کلمہ گو سمجھ کر ان کے جال میں پھنس گئے۔ وہ ظاہر میں تو اسلام کا نام لیتے رہے اور درپردہ اس کے بنیادی عقائد پر تیشہ چلاتے رہے۔ جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔

خدا کا شکر ہے جوں جوں لوگ قادیانیت کے عزائم سے آگاہ ہو رہے ہیں اور حق ان پر واضح ہو رہا ہے تو جو بھولے بھالے لوگ سادگی میں قادیانیت کا شکار ہو گئے تھے۔ وہ اسلام کی طرف لوٹ رہے ہیں۔

مرزا قادیانی حاملہ ہو گئے

مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ الہام کے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس میں اس طور سے ابن مریم ٹھہرا۔“

(کشتی نوح ص ٤٦، ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

٢٩

صفحہ ١٢٥

مرزا قادیانی خدا کی بیوی

قاضی یار محمد قادیانی لکھتے ہیں کہ ”حضرت مسیح موعود نے ایک موقع پر اپنی یہ کیفیت ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا۔ سمجھنے والوں کے لئے اشارہ کافی ہے۔“

(ٹریکٹ ٣٤، اسلامی قربانی ص ١٢، مصنفہ قاضی یار محمد )

لیکن مرزا قادیانی نے یہ نہیں بتایا کہ خدا نے رجولیت کی قوت کا اظہار کس طرف سے فرمایا۔ نعوذ باللہ! غالباً مرزا قادیانی کو مغالطہ ہو گیا ہوگا۔ مرزا قادیانی کو کشف کے ذریعہ جو کچھ محسوس ہوا وہ شیطانی ہیولہ ہوگا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کی ذات ان عیوب سے پاک و صاف ہے جو مشرکین اس سے منسوب کرتے ہیں۔ ”سبحان اللہ عما یشرکون“

مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں

مرزا قادیانی کے نزدیک پیش گوئیوں کی حیثیت

مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں: ”ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کوئی تخلف ہو۔“

(چشمہ معرفت ص ٨٣، خزائن ج ٢٣ ص ٩١)

”ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر کوئی محک امتحان نہیں۔“

(آئینہ کمالات ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

”لہٰذا ہم بلکہ ہر دانا انسان یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ جس شخص مدعی الہام کی کوئی پیش گوئی غلط ثابت ہو جائے وہ خدا کا ملہم اور مخاطب نہیں بلکہ مفتری علی اللہ ہے۔ کیونکہ ممکن نہیں نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔“

(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)

گویا مرزا قادیانی کا کذب و صدق معلوم کرنے کے لئے پہلا اور سب سے بڑا ثبوت ان کی پیش گوئیاں ہیں۔ چنانچہ ذیل میں ہم مرزا کی چند مشہور پیش گوئیاں پیش کرتے ہیں۔ پیشین گوئیوں کے سلسلے میں مرزا کے بیان کردہ معیار کو سامنے رکھتے ہوئے ناظرین مرزا قادیانی کے صادق یا کاذب ہونے کا خود ہی فیصلہ فرمائیں۔

عبداللہ آتھم کی موت کی پیش گوئی

مرزا قادیانی نے جب مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو عیسائیوں سے خوب مناظرہ بازی

٣٠

ہوئی۔ نوبت گالی گلوچ، اشتہار بازی اور مقدمات تک جا زیادہ مشہور واقعہ عبداللہ آتھم پادری کا ہے۔ مرزا قادیانی نے کی کہ وہ فلاں تاریخ تک مر جائے گا۔ چنانچہ مرزا قادیانی ص٢٩١، ٢٩٢) میں لکھتے ہیں: ”میں اس وقت اقرار کرتا ہو فریق جو خدا کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ وہ پندرہ ماہ کے عرصہ ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کو تیار ہوں۔ م میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے۔ مجھ کو پھانسی دی جا میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ضرور ایسا ہی ہو و آسمان تو ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔“

عبداللہ آتھم، پیشین گوئی کی آخری تاریخ ١٥ قادیانیوں کے چہرے فق ہو گئے۔ اول پیش گوئی کے طعنوں اور ذلت و رسوائی کا غم۔ قادیان میں ساری رات روتے رہے اور دعائیں کرتے رہے۔ یا اللہ! آتھم کو خداوند! ہمیں رسوا نہ کیجئے۔ لوگوں کو یقین تھا کہ آج سور مگر جب سورج غروب ہو گیا تو لوگوں کے دل ڈوبنے قادر بخش یہ بیان کرتے ہیں۔ اس وقت مجھے کوئی گھب تھی۔ لیکن جس وقت حضور نے تقریر فرمائی اور ابتلاؤں انشراح صدر پیدا ہوگا اور ایمان تازہ ہو گیا۔ ماسٹر قادر نے امرتسر جا کر عبداللہ آتھم کو خود دیکھا۔ عیسائی اس کو سے بازاروں میں لئے پھرتے تھے۔ لیکن اسے دیکھ کر اس کا جنازہ لئے پھرتے ہیں۔ آج نہیں تو کل مر جا

جب مخالفین نے شور مچایا اور لعنت و ملامت پیش گوئی پوری نہ ہوئی اور آتھم صحیح سلامت زندہ ہے تو

٣١

صفحہ ١٢٥

ہوئی۔ نوبت گالی گلوچ، اشتہار بازی اور مقدمات تک جا پہنچی۔ ان تمام معرکوں میں سب سے زیادہ مشہور واقعہ عبداللہ آتھم پادری کا ہے۔ مرزا قادیانی نے اس سے مناظرہ کیا اور پھر یہ پیش گوئی کی کہ وہ فلاں تاریخ تک مر جائے گا۔ چنانچہ مرزا قادیانی (جنگ مقدس ص ١٨٨، ١٨٩، خزائن ج ٦ ص ٢٩١، ٢٩٢) میں لکھتے ہیں: ”میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کو تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے اور رسوا کیا جائے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے۔ مجھ کو پھانسی دی جائے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ضرور ایسا ہی کرے گا، ضرور کرے گا، ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔“

عبداللہ آتھم، پیشین گوئی کی آخری تاریخ ٥ ستمبر ١٨٩٤ء تک صحیح و سلامت زندہ رہا۔ قادیانیوں کے چہرے فق ہو گئے۔ اوّل پیش گوئی کے غلط ہونے کا رنج ، دوسرے غیروں کے طعنوں اور ذلت و رسوائی کا غم۔ قادیان میں ساری رات کہرام مچا رہا۔ لوگ چیخ چیخ کر نمازوں میں روتے رہے اور دعائیں کرتے رہے۔ یا اللہ! آتھم کو مار دے، یا اللہ! آتھم کو مار دے۔ اے خداوند! ہمیں رسوا نہ کیجئے۔ لوگوں کو یقین تھا کہ آج سورج غروب نہیں ہوگا کہ آتھم مر جائے گا۔ مگر جب سورج غروب ہو گیا تو لوگوں کے دل ڈوبنے لگے۔ رحیم بخش ایم،اے اپنے والد ماسٹر قادر بخش سے بیان کرتے ہیں۔ اس وقت مجھے کوئی گھبراہٹ نہیں تھی۔ ہاں! فکر اور حیرانی ضرور تھی۔ لیکن جس وقت حضور نے تقریر فرمائی اور ابتلاؤں کی حقیقت بتائی تو طبیعت بشاش ہو گئی اور انشراح صدر پیدا ہو گیا اور ایمان تازہ ہو گیا۔ ماسٹر قادر بخش صاحب مزید بیان کرتے ہیں کہ میں نے امرتسر جا کر عبداللہ آتھم کو خود دیکھا۔ عیسائی اس کو گاڑی میں بٹھائے ہوئے بڑی دھوم دھام سے بازاروں میں لئے پھرتے تھے۔ لیکن اسے دیکھ کر یہ سمجھ گیا کہ واقعہ میں یہ مر گیا ہے اور صرف اس کا جنازہ لئے پھرتے ہیں۔ آج نہیں تو کل مر جائے گا۔“

(الحکم قادیان ج ٢٥ نمبر ٣٤، مورخہ ٧ ستمبر ١٩٢٣ء)

جب مخالفین نے شور مچایا اور لعنت و ملامت کی کہ مرزا قادیانی کی آتھم کے بارے میں پیش گوئی پوری نہ ہوئی اور آتھم صحیح سلامت زندہ ہے تو مرزا قادیانی نے اس کی یہ تاویل فرمائی۔

٣١

صفحہ ١٢٧

”چونکہ آتھم نے اپنے دل میں اسلام قبول کر لیا۔ اس لئے نہیں مرا۔“ اس پر آتھم نے خط لکھا جو اخبار وفادار ماہ ستمبر ١٨٩٤ء میں چھپا۔ ”میں خدا کے فضل سے زندہ اور سلامت ہوں۔ میں آپ کی توجہ کتاب (نزول مسیح ص ٨١، ٨٢) کی طرف دلانا چاہتا ہوں جو میری نسبت اور دیگر صاحبان کی موت کی نسبت پیش گوئی ہے۔ اس سے شروع کر کے جو کچھ کڑوا ان کو معلوم ہے اور مرزا قادیانی کہتے تھے کہ آتھم نے اسلام قبول کر لیا۔ اس لئے میں نہیں مرا۔ خیر ان کو اختیار ہے جو چاہیں سو تاویل کریں۔ کون کس کو روک سکتا ہے۔ میں دل سے اور ظاہر سے بھی عیسائی تھا اور اب بھی عیسائی ہوں۔ اس پر خدا کا شکر ادا کرتا ہوں۔“

جب آتھم کا انتقال ہو گیا تو قادیانی شور مچانے لگے۔ بعض نادان کہتے ہیں کہ آتھم اپنے میعاد میں نہیں مرا لیکن وہ جانتے ہیں کہ مر تو گیا۔ میعاد اور غیر میعاد کی مدت فضول ہے۔ بالآخر مر تو گیا۔ (گویا اگر مرزا قادیانی کی پیش گوئی نہ ہوتی تو آتھم نہ مرتا، ہرگز نہ مرتا اور کبھی نہ مرتا!)

پسر موعود کی پیش گوئی

١٨٨٦ء میں مرزا قادیانی کی بیوی حاملہ تھی۔ اس وقت انہوں نے پیش گوئی کی: ”خداوند کریم نے جو ہر چیز پر قادر ہے، مجھ کو اپنے الہام سے فرمایا کہ میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں۔ خدا نے کہا تا دین اسلام کا شرف کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہوتا۔ لوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں تا کہ وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تا کہ انہیں جو خدا، خدا کے دین، اس کی کتاب، اس کے رسول کو انکار کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایک کھلی نشانی ملے ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ وہ تیرے ہی تخم، تیری ہی ذریت سے ہوگا خوب صورت، پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ اس کا نام بشیر بھی ہے۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے، اس کے ساتھ فضل ہے، وہ بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ علوم ظاہری اور باطنی سے پر کیا جائے گا۔ وہ تین کو چار کرنے والا ہے۔“

(ملخص اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٦ء مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١ ص ٥٨، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠١)

اس اشتہار میں جس زور وشور کے ساتھ مذکورہ لڑکے کی پیشین گوئی کرتے ہوئے، اسے خدائے اسلام اور رسول خدا اور خود مرزا کے صاحب الہام ہونے بلکہ خدا تعالیٰ کے قادر و توانا ہونے کی زبردست دلیل گردانا گیا ہے، وہ محتاج تشریح نہیں ہے۔ مگر افسوس کہ اس حمل سے

مرزا قادیانی کے گھر لڑکی پیدا ہوئی، مزید افسوس کہ اس کے بعد نہیں ہوا جسے مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی کا مصداق ٹھہـ مرزا قادیانی نے اس کے مصلح موعود ہونے کا عملاً یا قولاً اقرار کیا لیکن مرزا قادیانی اپنے بیانات میں صراحت کر پیدائش ہونے والی ہے جس کی بشارت دے رہے تھے۔ لیکن سے یہ کہہ کر گزر گئے کہ میں نے کب کہا تھا کہ لڑکا اس حمل سے

مبارک احمد کے بارے میں پیش گوئی

مرزا قادیانی کا چوتھا لڑکا مبارک احمد ایک دفعہ لکھا گیا: ”میاں مبارک صاحب جو سخت بیمار ہیں اور بعض ابھی تک بیمار ہیں۔ ان کی نسبت آج الہام ہوا ہے۔ قبول قبول ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ، میاں صاحب موصوف کو شفا دے اس سخت بیماری میں جو مایوس کن تھی مرزا قادیانی خدا اسے کامل صحت دے اور میری دی ہوئی خبریں سچی ثابت مرزا قادیانی نے فرمایا تھا۔ مصلح موعود، بیماروں کو شفا دینے لمبی عمر پانے والا، فتح وظفر کی کلید، قربت و رحمت کا نشان کناروں تک۔ مرزا قادیانی کی دعائیں جو بارگاہ الٰہی میں تک شہرت پانے والا، قوموں کو بابرکت کرنے والا گویا حامل مالک بنایا تھا۔

یہ پیش گوئی بالکل جھوٹی ثابت ہوئی جس پر صاحبزادہ میاں مبارک صاحب صحت مند نہ ہوئے بلکہ کسر تھی۔ مرزا قادیانی اس بچے کے متعلق وقت وقتاً اللہ تعالیٰ نے عارضی طور پر صحت کا رنگ اور پھر بیماری ہمکنار کر دیا اور مرزا قادیانی کی پیشین گوئی دھری کی دھری

قادیان میں پلیگ

١٩٠٢ء میں ہندوستان کے متعدد صوبوں اس کی لپیٹ میں آگئے۔ ابھی اس وبا کی ابتدائی تھی

صفحہ ١٢٧

مرزا قادیانی کے گھر لڑکی پیدا ہوئی، مزید افسوس کہ اس کے بعد مرزا قادیانی کے یہاں کوئی لڑکا ایسا نہیں ہوا جسے مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی کا مصداق ٹھہرایا ہو اور وہ زندہ رہا ہو۔ یا خود مرزا قادیانی نے اس کے مصلح موعود ہونے کا عملاً یا قولاً اقرار کیا ہو۔

لیکن مرزا قادیانی اپنے بیانات میں صراحت کر چکے تھے کہ عنقریب اس لڑکے کی پیدائش ہونے والی ہے جس کی بشارت دے رہے تھے۔ لیکن لڑکی کے پیدا ہونے پر کمال ڈھٹائی سے یہ کہہ کر گزر گئے کہ میں نے کب کہا تھا کہ لڑکا اس حمل سے پیدا ہوگا۔

مبارک احمد کے بارے میں پیش گوئی

مرزا قادیانی کا چوتھا لڑکا مبارک احمد ایک دفعہ بیمار ہوا۔ اس کے متعلق اخبار بدر میں لکھا گیا: ”میاں مبارک صاحب جو سخت بیمار ہیں اور بعض دفعہ بیہوشی تک نوبت پہنچ جاتی ہے اور ابھی تک بیمار ہیں۔ ان کی نسبت آج الہام ہوا ہے۔ قبول ہوگئی نودن کا بخار ٹوٹ گیا۔ یعنی یہ دعا قبول ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ میاں صاحب موصوف کو شفا دے۔“

(اخبار بدر مورخہ ٢٩ اگست ١٩٠٧ء)

اس سخت بیماری میں جو مایوس کن تھی مرزا قادیانی نے جو دعا مانگی وہ یہی ہو سکتی ہے کہ خدا اسے کامل صحت دے اور میری دی ہوئی خبریں سچی ثابت کردے۔ اس لڑکے کے بارے میں مرزا قادیانی نے فرمایا تھا۔ مصلح موعود، بیماروں کو شفا دینے والا، اسیروں کو راست گاری بخشنے والا، لمبی عمر پانے والا، فتح وظفر کی کلید، ایک رحمت کا نشان، صاحب شکوہ و عظمت و دولت زمین کے کناروں تک۔ مرزا قادیانی کی دعائیں جو بارگاہ الٰہی میں قبول ومقبول ہوئیں۔ زمین کے کناروں تک شہرت پانے والا، قوموں کو بابرکت کرنے والا گویا خدا آسمان سے اتر آیا وغیرہ صفات عالیہ کا حامل بنایا تھا۔

یہ پیش گوئی بالکل جھوٹی ثابت ہوئی جس میں میاں مبارک کی صحت کی خبر دی گئی تھی۔ صاحبزادہ میاں مبارک صاحب صحت مند نہ ہوئے جن کا پیمانہ عمر لبریز ہو چکا تھا۔ صرف ٹھوکر کی کسر تھی۔ مرزا قادیانی اس بچے کے متعلق وقت وقت پر الہام سناتے رہے تاکہ لوگوں کو تسلی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے عارضی طور پر صحت کا رنگ اور پھر بیماری کا غلبہ دکھا کر ١٦ ستمبر ١٩٠٧ء کو موت سے ہمکنار کردیا اور مرزا قادیانی کی پیشین گوئی دھری کی دھری رہ گئی۔

قادیان میں پلیگ

١٩٠٢ء میں ہندوستان کے متعدد صوبوں میں پلیگ پھیل گئی۔ بہت سے شہر اور قصبات اس کی لپیٹ میں آگئے۔ ابھی اس وبا کی ابتدا ہی تھی۔ مرزا قادیانی نے مختلف پیشین گوئیاں شروع

٣٣

صفحہ ١٢٩

کر دیں۔ رفتہ رفتہ یہ مرض زور پکڑتا گیا۔ لیکن قصبہ قادیان ابھی تک محفوظ تھا اور وہاں وبا کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ مرزا قادیانی نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ چونکہ مرزا قادیانی کی نبوت کو جھٹلایا جا رہا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ عذاب بھیجا ہے اور قادیان چونکہ مرزا قادیانی کا مسکن اور ان کی نبوت کا مرکز ہے۔ اس لئے وہاں عذاب نہیں آیا اور نہ آئے گا بلکہ کوئی باہر کا آدمی قادیان میں آ جائے تو وہ بھی اس عذاب سے بچا رہے گا اور مزید دعویٰ کیا کہ جن، جن بستیوں میں مرزا قادیانی کے مرید موجود ہیں وہ سارے مقامات اور ان کے باشندے اس بلائے عظیم سے محفوظ رہیں گے۔ آپ نے بڑے اعتماد اور یقین کے ساتھ یہ دعویٰ فرمایا: ”جہاں ایک بھی راست باز قادیانی ہوگا اس جگہ کو خدا تعالیٰ ہر غضب سے بچالے گا۔“

آگے فرماتے ہیں: ”(اے مخالفو!) تم لوگ بھی مل کر ایسی پیش گوئی کرو جن سے قادیان کے پیغمبر کا دعویٰ باطل ہو جائے اور اس کی دو ہی صورتیں ہیں، یا یہ کہ لاہور اور امرتسر طاعون کے حملہ سے محفوظ رہیں یا یہ کہ قادیان طاعون میں مبتلا ہو جائے۔ خدا نے اس اکیلے صادق (مرزا قادیانی) کے طفیل قادیان کو جس میں اقسام اقسام کے لوگ تھے اپنی خاص حفاظت میں لے لیا۔“

(الہامات مرزا ص ١٠٩، ١١٢، ١١٣)

مرزا قادیانی کے اس پروپیگنڈہ نے طاعون سے ڈرے اور سہمے ہوئے لوگوں کو قادیانیت کی طرف کھینچنے میں بڑا کام کیا۔ اسی دوران انہوں نے ایک کتاب لکھی جس کا نام کشتی نوح رکھا، جس سے یہ بتانا مقصود تھا کہ جو کوئی میری نبوت کو تسلیم کرے گا وہ اس کشتی میں سوار ہو کر طوفان نوح کی طرح اس عذاب سے محفوظ رہے گا۔

لیکن خداوند تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اسی طاعون کے ذریعہ ہی اللہ تعالیٰ مرزا قادیانی کی تکذیب کا انتظام کر چکا تھا۔ طاعون کی بلا نے بڑھتے بڑھتے قادیان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مرزا قادیانی کے پرغرور اور بلند دعوؤں کے باوجود پلیگ نے قادیان کی صفائی شروع کر دی۔

دسمبر ١٩٠٢ء کا اجتماع محض طاعون کی وجہ سے موقوف کرنا پڑا۔ پھر مئی ١٩٠٤ء میں قادیانی اسکول طاعون کی وجہ سے بند کرنا پڑا۔ طاعون کی شدت کا یہ حال تھا کہ لوگ پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ لوگوں نے اپنے گھر چھوڑ کر کھیتوں میں ڈیرے لگائے تھے۔

٣٤

تمام قصبہ قادیان اجڑا ہوا نظر آتا تھا۔ جیسے عذاب الٰہی سے سے قادیان کے بچے رہنے کی پیشین گوئی بھی جھوٹ نکلی جو بق ہوئی دلیل ہے۔

مرزا قادیانی کی حسرت جو دل ہی دل میں رہ گئی

مرزا قادیانی کے قریبی رشتہ داروں میں ایک ا نوعمر بچی محمدی بیگم تھی۔ اسی بچی سے نکاح کی خواہش مرزا قا کہ ان کا دعویٰ تھا کہ محمدی بیگم سے ان کا نکاح ہونا ایک خدا گا۔ احمد بیگ (محمدی بیگم کے والد) اپنے ایک خانگی کام ک حاضر ہوئے۔ اس وقت تو مرزا قادیانی نے ان کو یہ کہہ کر ٹال اللہ کی مرضی معلوم کئے بغیر نہیں کرتے۔ کچھ دن بعد مرزا معاوضہ ان کی دختر کلاں محمدی بیگم کا رشتہ اپنے لئے مانگا۔ احم کی تھی۔

اس نے نہ صرف بڑی نفرت سے مرزا قادیانی میں مرزا قادیانی کی جو رہی سہی عزت تھی وہ بھی خاک میں م رشتہ والا خط اخبارات میں شائع کرا دیا۔ چونکہ اس خط کی ع وہ ذیل میں درج کیا جا رہا ہے۔

”خدا تعالیٰ نے اپنے کلام پاک سے میرے پ رشتہ میرے ساتھ منظور نہ کریں گے تو آپ کے لئے دوس انجام درد، تکلیف اور موت ہوگی۔ یہ دونوں طرف برکت ا کے بعد میرا صدق یا کذب معلوم ہو سکتا ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٠،٢٧٩ خزائن ج ٥ ص

اپنے اس خدائی دعویٰ کا ذکر مرزا قادیانی نے ا نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (مرزا احمد بیگ) کی دختر کلاں ک جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروت تمہا تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہو گ پاؤ گے جو اشتہار مورخہ ٢٢؍ فروری ١٨٨٨ء میں درج ہے

٣٥

صفحہ ١٢٩

تمام قصبہ قادیان اجڑا ہوا نظر آتا تھا۔ جیسے عذاب الٰہی سے تباہ شدہ بستیاں۔ غرض یہ کہ طاعون سے قادیان کے بچے رہنے کی پیشین گوئی بھی جھوٹ نکلی جو بقول مرزا قادیانی ان کے کذب کی کھلی ہوئی دلیل ہے۔

مرزا قادیانی کی حسرت جو دل ہی دل میں رہ گئی

مرزا قادیانی کے قریبی رشتہ داروں میں ایک احمد بیگ ہوشیار پوری تھے جن کی ایک نوعمر بچی محمدی بیگم تھی۔ اسی بچی سے نکاح کی خواہش مرزا قادیانی دل ہی دل میں لے گئے۔ جب کہ ان کا دعویٰ تھا کہ محمدی بیگم سے ان کا نکاح ہونا ایک خدائی الہام کے مطابق ہے، جو ہو کر رہے گا۔ احمد بیگ (محمدی بیگم کے والد) اپنے ایک خانگی کام کے لئے مرزا قادیانی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس وقت تو مرزا قادیانی نے ان کو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ہم کوئی کام بغیر استخارہ کے اور اللہ کی مرضی معلوم کئے بغیر نہیں کرتے۔ کچھ دن بعد مرزا قادیانی نے اس سلوک اور مروت کا معاوضہ ان کی دختر کلاں محمدی بیگم کا رشتہ اپنے لئے مانگا۔ اس وقت مرزا قادیانی کی عمر پچاس سال کی تھی۔

اس نے نہ صرف بڑی نفرت سے مرزا قادیانی کے اس مطالبہ کو ٹھکرایا اور اس کے دل میں مرزا قادیانی کی جو رہی سہی عزت تھی وہ بھی خاک میں مل گئی، بلکہ احمد بیگ نے مرزا قادیانی کا رشتہ والا خط اخبارات میں شائع کرا دیا۔ چونکہ اس خط کی عبارت کا تعلق پیش گوئی سے تھا اس لئے وہ ذیل میں درج کیا جا رہا ہے:۔

"خدا تعالیٰ نے اپنے کلام پاک سے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ اگر آپ اپنی دختر کلاں کا رشتہ میرے ساتھ منظور نہ کریں گے تو آپ کے لئے دوسری جگہ کرنا ہرگز مبارک نہ ہوگا اور اس کا انجام درد، تکلیف اور موت ہوگی۔ یہ دونوں طرف برکت اور موت کی راہیں ہیں کہ جن کو آزمانے کے بعد میرا صدق یا کذب معلوم ہوسکتا ہے۔"

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٧٩، ٢٨٠، خزائن ج ٥ ص ایضاً، اخبار نور افشاں مورخہ ١٠ مئی ١٨٨٨ء)

اپنے اس خدائی دعویٰ کا ذکر مرزا قادیانی نے اس طرح کیا: "اس خدائے قادر المطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (مرزا احمد بیگ) کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کے نکاح کے لئے سلسلۂ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور ان تمام رحمتوں اور برکتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار مورخہ ٢٠ فروری ١٨٨٨ء میں درج ہے۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی

٣٥

صفحہ ١٣١

کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے ڈھائی سال تک، اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیان زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہیت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔"

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٧،١٥٨)

مرزا قادیانی کی یہ پیشین گوئی بھی سراسر جھوٹ اور غلط ثابت ہوئی۔ جس پیش گوئی کو مرزا قادیانی نے اپنے صدق و کذب کا معیار بنایا تھا۔ اس کا انجام بالکل واضح طور پر کھل کر سامنے آ گیا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ مرزا قادیانی اپنے کہنے کے مطابق پیشین گوئی کے غلط ثابت ہونے پر تائب ہو کر امتی کا طریقہ اختیار کرتے لیکن یہ ان کی قسمت میں نہ تھا۔ تاویلات کا غلط سہارا لے کر اپنے آپ اور مریدوں کو مطمئن کرنے لگے۔

خوش نصیب رہی محمدی بیگم جس کو اللہ تعالیٰ نے پچاس سالہ بوڑھے کی رفاقت کی اذیت سے بچالیا۔ جو دنیا میں کثیر امراض خبیثہ کا شکار تھا اور سوکن کی موجودگی میں حسرت و تنگی کی زندگی گزارنی پڑتی اور مرزا قادیانی کی موت کے بعد ایک لمبا عرصہ بیوگی کے مصائب برداشت کرنے پڑتے اور آخرت کی مار ان سب مصائب سے بڑھ کر ہوتی۔ اس کے برعکس محمدی بیگم نے اپنے شوہر سلطان محمد کے ساتھ مدت العمر خوشحالی کے ساتھ پرسکون زندگی بسر کی جو کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ سلطان محمد ایک صحت مند اور ایک خوبرو نوجوان تھا اور فوج کے اچھے عہدے پر فائز تھا۔ اس کے ایک دوست سید محمد شریف صاحب ساکن گھڑیالہ ضلع لائل پور نے اس کے حالات ١٩٣٠ء میں دریافت کئے تو اس نے جواب میں لکھا: "السلام علیکم ! میں تادم تحریر تندرست اور بفضلہ تعالیٰ اچھا ہوں۔ خدا کے فضل سے فوجی ملازمت کے وقت بھی تندرست رہا ہوں۔ میں اس وقت بعہدہ رسالداری پنشن پر ہوں۔ ایک سو پینتیس روپے ماہوار پنشن ملتی ہے۔ گورنمنٹ کی طرف سے پانچ مربع اراضی عطا ہوئی ہے۔ قصبہ پٹی میں میری جدی زمین بھی میرے حصہ میں آئی ہے جو قریباً سو بیگھہ ہے۔ ضلع شیخوپورہ میں بھی تین مربع زمین ہے۔ میرے دو لڑکے ہیں جن میں سے ایک لائل پور میں پڑھتا ہے۔ حکومت کی طرف سے اس کو پچپن روپے ماہوار وظیفہ ملتا ہے۔ دوسرا لڑکا پٹی میں تعلیم پاتا ہے۔ میں خدا کے فضل سے اہل سنت والجماعت ہوں۔ میں احمدی (قادیانی) مذہب کو برا سمجھتا ہوں۔ اس کا پیرو نہیں ہوں۔ اس کا دین جھوٹا سمجھتا ہوں۔ والسلام ! تابعدار سلطان بیگ، پنشنر پٹی ضلع لائل پور۔"

(مطبوعہ اہل حدیث مورخہ ١٤ نومبر ١٩٣٠ء)

"فاعتبروا یا اولی الابصار"

٣٦

مرزا قادیانی کی آخری دعا اور مولانا ثناء اللہ

مولانا محمد حسین بٹالوی اور ان کے ساتھیوں

ثناء اللہ امرتسریؒ مرزا غلام احمد قادیانی کی تکذیب اور ا تھے۔ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ نے مرزائیوں سے ہر میدا دی اور ان کی جھوٹی نبوت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ حد درجہ تنگ آگئے تھے۔ ان کا جینا دوبھر ہوچکا تھا۔ ا نے آخری بازی لگادی۔ انہوں نے اخبارات میں آ امرتسر مورخہ ٢٦ اپریل ١٩٠٧ء کی اشاعت میں شائع مخاطب کیا:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ نحمده ونصلی علی يستنبئونك احق هو

بخدمت مولوی ثناء اللہ! ال

مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث ہے۔ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں کذاب، دجال میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری موجود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ س دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے پر مامور ہوں ا میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیو جن سے بڑھ کر کوئی لفظ غلیظ نہیں ہوسکتا۔ اگر میں اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرت گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی ب ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہ ہے۔ تاکہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو خدا

صفحہ ١٣١

مرزا قادیانی کی آخری دعا اور مولانا ثناء اللہ امرتسری سے آخری فیصلہ

مولانا محمد حسین بٹالوی اور ان کے ساتھیوں کی طرح مناظر اسلام حضرت مولانا ابوالوفا ثناء اللہ امرتسریؒ مرزا غلام احمد قادیانی کی تکذیب اور ان کے مقابلہ کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ نے مرزائیوں سے ہر میدان میں مقابلہ کیا اور ان کو ہمیشہ شکست فاش دی اور ان کی جھوٹی نبوت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ مرزا قادیانی اور ان کے ساتھی مولانا سے حد درجہ تنگ آگئے تھے۔ ان کا جینا دوبھر ہو چکا تھا۔ اپنا سب کچھ برباد ہوتے دیکھ کر مرزا قادیانی نے آخری بازی لگا دی۔ انہوں نے اخبارات میں ایک پرفریب اشتہار دیا جو اخبار اہل حدیث امرتسر مورخہ ٢٦؍ اپریل ١٩٠٧ء کی اشاعت میں شائع ہوا جس کی عبارت نیچے درج ہے۔ مولانا کو مخاطب کیا:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نحمده ونصلى على رسولہ الكريم
يستنبونك احق هو قل ای وربی انه الحق
بخدمت مولوی ثناء اللہ! السلام علی من اتبع الهدٰی!

مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری، کذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے پر مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں اور تہمتوں اور ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ غلیظ نہیں ہو سکتا۔ اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی۔ آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے۔ تاکہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب و مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ آپ سنت اللہ کے

٣٧

صفحہ ١٣٣

مواقف مکذبین کی سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون و ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی وحی یا الہام کی بناء پر پیشین گوئی نہیں بلکہ محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ میرے مالک بصیر وقدیر جو علیم و خبیر ہے، جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر دے اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ (آمین) مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے۔ حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بدنامیوں سے توبہ کرے جن کو فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھ کو دکھ دیتا ہے (آمین یا رب العالمین ) میں ان کے ہاتھوں بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بدزبانی حد سے گزرگئی۔ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں۔ جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے تہمتوں اور بدزبانیوں میں لاتقف مالیس لک بہ علم پر بھی عمل نہیں کیا اور تمام دنیا سے مجھ کو بدتر جانتا ہے اور دور، دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص درحقیقت مفسد، ٹھگ اور دوکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بدآدمی ہے۔ سو اگر ایسے کلمات، حق کے طالبوں پر بداثر ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا رہا۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ انہیں تہمتوں کے ذریعہ سے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لئے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی ہی زندگی میں دنیا سے اٹھالے یا کسی اور نہایت آفت میں جو موت کے برابر ہو سکتی ہے ( میں مبتلا ) کر۔ اے میرے آقا! پیارے مالک تو ایسا ہی کر (آمین ثم آمین )

بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو

٣٨

چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں اور اب فیصلہ خدا کے ہاتھ الراقم ! احقر عافاہ اللہ وایدہ مرقو

مرزا قادیانی کی یہ دعا خدائے ذوالجلال ک کے مرض میں مبتلا ہو کر عبرتناک حالت میں اس دنی ابوالوفا ثناء اللہ امرتسریؒ ایک لمبی مدت تک بخیر وعافی مشغول رہے۔ مرزا قادیانی کی موت کے تقریباً چالیس

قادیانی مسلمانوں ک

قادیانی! جن کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہے، کا ڈھنڈورا بڑے زور و شور سے پیٹتے ہیں کہ ان کی ہوئے۔ جبکہ ان کی کوششوں کا اٹل ہدف مسلم معاش مسلمان تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ غیر مسلم مما بن کر یہ جتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ مسلمان تھ نہیں اور ہمارے غیر مسلم بھائی بھی بہت جلد ان ک ہو جاتے ہیں۔ جب کہ قادیانی اپنے اصل عزائم اپنے دلوں میں رکھتے ہیں۔ ذیل میں ہم ان عقائد کے متعلق لکھتے ہیں۔

غیر قادیانیوں سے متعلق مرزا قادیانی

مرزا قادیانی بیان کرتے ہیں : ”جو میں داخل نہیں ہو گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی ک

رنڈیوں کی اولاد

”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان مح فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق ک عورتوں ) کی اولاد میری تصدیق نہیں کرتی ہے

صفحہ ١٣٣

چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں اور اب فیصلہ خدا کے ہاتھ ہے۔“ الراقم عبداللہ الصمد مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود عفا اللہ عنہ، مرقومہ یکم ربیع الاول ١٣٢٥ھ، ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء

مرزا قادیانی کی یہ دعا خدائے ذوالجلال کی بارگاہ میں مقبول ہوئی۔ مرزا قادیانی ہیضہ کے مرض میں مبتلا ہو کر عبرتناک حالت میں اس دنیا سے رخصت ہوئے اور مناظر اسلام مولانا ابوالوفا ثناء اللہ امرتسریؒ ایک لمبی مدت تک بخیر و عافیت زندہ رہے اور قادیانیت کی سرکوبی میں مشغول رہے۔ مرزا قادیانی کی موت کے تقریباً چالیس سال بعد آپ نے وفات پائی۔

قادیانی مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں؟

قادیانی جن کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہے، جھوٹ بولنے میں بڑے ماہر ہیں۔ وہ اس بات کا ڈھنڈورا بڑے زور و شور سے پیٹتے ہیں کہ ان کی کوشش سے سینکڑوں لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ جبکہ ان کی کوششوں کا اصل ہدف مسلم معاشرہ ہے۔ بھولے بھالے ناواقف مسلمانوں کو مسلمان تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ غیر مسلم بھائیوں میں بھی یہ قادیانی بہت معصوم اور مظلوم بن کر یہ جتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ مسلمان ہم پر ظلم کر رہے ہیں اور ہمیں مسلمان ماننے کو تیار نہیں اور ہمارے غیر مسلم بھائی بھی بہت جلد ان کے فریب کا شکار ہو کر ان کی حمایت کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ جب کہ قادیانی اپنے اصل عزائم کو چھپائے رکھتے ہیں جو مسلمانوں کے متعلق وہ اپنے دلوں میں رکھتے ہیں۔ ذیل میں ہم ان عقائد کا ذکر کریں گے جو وہ غیر قادیانی، یعنی مسلمانوں کے متعلق رکھتے ہیں۔

غیر قادیانیوں سے متعلق مرزا قادیانی کا بیان

مرزا قادیانی بیان کرتے ہیں: ”جو شخص میری پیروی نہیں کرے گا اور میری جماعت میں داخل نہیں ہو گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“

(تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٢٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)

رنڈیوں کی اولاد

”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے۔ مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد میری تصدیق نہیں کرتی ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، ٥٤٨، خزائن ج ٥)

٣٩

صفحہ ١٣٤

حرامزادے

"جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں ہے۔"

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)

مرد سور، عورتیں کتیاں

"میرے مخالف جنگلوں کے سور ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں۔"

(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

مرزا غلام احمد قادیانی کے مندرجہ بالا بیانات کی رو سے گویا نعوذ باللہ تمام مسلمان جو مرزا غلام احمد قادیانی کی تصدیق نہ کریں وہ جہنمی اور حرامزادے، جنگل کے سور اور رنڈیوں کی اولاد ہیں اور مسلمان خواتین حرامزادیاں، رنڈیاں اور جنگل کی کتیاں اور جہنمی ہیں۔

ناظرین غور فرمائیں! یہ ہے وہ زبان اور اندازِ بیان جو مرزا غلام احمد قادیانی اپنے مخالفین اور منکرینِ قادیانیت کے بارے میں استعمال کرتے ہیں۔ تاریخ انسانی گواہ ہے کہ کسی نبی، ولی، رشی، منی یا عظیم شخصیت نے ایسی گندی زبان کبھی استعمال نہیں کی۔ خدا رسیدہ بزرگوں کا تو کیا ذکر، ایک عام شریف انسان بھی اس انداز کی زبان تحریر و تقریر میں استعمال نہیں کرتا۔ البتہ غیر ذمہ دار حضرات کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے۔ سوچئے تو سہی اس طرح کی فحش کلامی کرنے والا شخص کیا نبی ہو سکتا ہے؟ نبی ہونا تو درکنار اس کا شمار تو شرفاء میں بھی نہیں کیا جانا چاہئے۔

غیر مرزائی کے پیچھے نماز جائز نہیں

مرزا قادیانی نے سختی سے تاکید فرمائی: "احمدی کو غیر احمدی کے پیچھے نماز نہ پڑھنی چاہئے۔"

(انوار خلافت ص ٨٩)

مسیح موعود فرماتے ہیں: "غیر احمدی کا جنازہ نہ پڑھو اور غیر احمدی رشتہ داروں کو رشتہ نہ دو۔"

(الفضل ١٤ اپریل ١٩٠٨ء)

غیر احمدی بچے کی نماز جنازہ

ایک صاحب نے سوال کیا کہ غیر احمدی بچے کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے جب کہ وہ معصوم ہوتا ہے۔ اس پر مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا: "جس طرح عیسائی بچوں کا جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا۔ اگرچہ وہ معصوم ہی ہوتا ہے اسی طرح ایک غیر احمدی کے بچے کا جنازہ بھی نہیں پڑھا جاسکتا۔"

(مرزا محمود احمد الفضل مورخہ ٢٣ اکتوبر ١٩٢٢ء)

٤٠

١٣٥

گویا مرزائیوں کے نزدیک تمام مسلمان کافر

دعا مت کرو

سوال ...... کیا کسی ایسے شخص کی وفات پر جو سلسلہ احم مرحوم کو جنت نصیب کرے؟

جواب ...... غیر احمدیوں کا کفر بینات سے ثابت ہے اور ا

مکمل بائیکاٹ

"غیر احمدیوں سے ہماری نماز الگ کی گئی، ا جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا جو ہما تعلقات ہوتے ہیں ایک دینی دوسرے دنیوی۔ دینی تعل ہے اور دنیوی تعلق کا بھاری ذریعہ رشتہ ناطہ ہے۔ سو ی اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو می اجازت ہے۔"

مسلمانوں اور قادیانیوں کی تقویم (قاد سال محرم سے شروع ہوتا ہے اور قادیانیوں کا صلح س ربیع الاوّل، ربیع الثانی، جمادی الاوّل، جمادی الثان ذی الحجہ ہیں اور قادیانیوں کے مہینوں کے نام ان ک صلح، تبلیغ، امان، شہادت، ہجرت، احسان، وفا، ظہور علامت ہے کہ قادیانی الگ امت ہے اور امت مس ختمِ نبوت اور پھر دیگر امور میں قدم قدم پر اختلاف ہ

مرزا قادیانی او

مرزا قادیانی زندگی بھر حج نہ کر سکے جب کہ خداوند تعالیٰ تو ہمیں اپنے گھر کی زیارت نصی کے حج کرنے کا ذکر کیا تو مرزا قادیانی نے جوا

صفحہ ١٣٥

گویا مرزائیوں کے نزدیک تمام مسلمان کافر ہیں۔

دعا مت کرو

سوال ...... کیا کسی ایسے شخص کی وفات پر جو سلسلہ احمدیہ میں شامل نہیں، یہ کہنا جائز ہے کہ خدا مرحوم کو جنت نصیب کرے؟

جواب...... غیر احمدیوں کا کفر بینات سے ثابت ہے اور کفار کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں۔

(الفضل ٧ فروری ١٩٢١ء ج ٨ نمبر ٥٩)

مکمل بائیکاٹ

”غیر احمدیوں سے ہماری نماز الگ کی گئی۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام کیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا جو ہم ان کے ساتھ مل کر رہ سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں ایک دینی دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلق کا بھاری ذریعہ رشتہ ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی بھی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے۔“

(کلمتہ الفصل ص ١٦٩)

مسلمانوں اور قادیانیوں کی تقویم (قادیانیوں کا کلنڈر) بھی الگ ہے۔ مسلمانوں کا سال محرم سے شروع ہوتا ہے اور قادیانیوں کا صلح سے ......مسلمانوں کے سال کے مہینے محرم، صفر، ربیع الاول، ربیع الثانی، جمادی الاول، جمادی الثانی، رجب، شعبان، رمضان، شوال، ذی قعدہ، ذی الحجہ ہیں اور قادیانیوں کے مہینوں کے نام ان کے کلنڈر میں اس طرح درج کئے جاتے ہیں۔ صلح، تبلیغ، امان، شہادت، ہجرت، احسان، وفا، ظہور، تبوک، اخاء، نبوت، فتح۔ یہ اس بات کی کھلی علامت ہے کہ قادیانی الگ امت ہے اور امت مسلمہ ایک الگ امت ہے جن میں بنیادی طور پر ختم نبوت اور پھر دیگر امور میں قدم قدم پر اختلاف پایا جاتا ہے۔

مرزا قادیانی اور حج بیت اللہ

مرزا قادیانی زندگی بھر حج نہ کر سکے جس کے لئے ہر مسلمان اللہ سے دعائیں کرتا ہے کہ خداوند تعالیٰ تو ہمیں اپنے گھر کی زیارت نصیب فرما۔ جب لوگوں نے مولانا محمد حسین بٹالوی کے حج کرنے کا ذکر کیا تو مرزا قادیانی نے جواب میں کہا: ”میرا پہلا کام خنزیروں کا قتل کرنا اور

٤١

صفحہ ١٣٧

صلیب کی شکست ہے۔ ابھی تو میں خنزیروں کو قتل کر رہا ہوں۔“

(ملفوظات احمدیہ حصہ پنجم ص ٤٦٣، ٤٦٤)

مرزا قادیانی اچھی طرح واقف تھے کہ مسیلمہ کذاب کا کیا انجام ہوا۔ جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔ مسیلمہ کذاب اور ان کے ساتھیوں کو خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیقؓ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے واصل جہنم کیا۔ کیا مرزا قادیانی کو اس بات کا شعور نہیں تھا کہ مدعی نبوت کا انجام سر زمین حجاز میں کیا ہوتا ہے؟ مسیلمہ کذاب جیسا حشر ہوگا اسی لئے زیارت بیت اللہ سے محروم رہے جو ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے۔

پھر خدا تعالیٰ نے غلام احمد قادیانی کو حج جیسی عظیم عبادت سے محروم کر کے امام مہدی اور عیسیٰ مسیح ہونے کے ان تمام دعووں کو مٹی میں ملا دیا۔ کیونکہ امام مہدی مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے۔ ان کا نام محمد ہوگا اور والد محترم کا اسم عبداللہ اور حجر اسود و مقام ابراہیم کے درمیان بیعت لیں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے مشرقی منارہ کے قریب دو فرشتوں کے سہارے سے نزول فرمائیں گے اور سید المرسلین و خاتم النبیین ﷺ کی قبر کے نزدیک مدفون ہوں گے۔ اب یہ بات تو مرزا غلام احمد قادیانی کے امتی قادیانی ہی بتائیں گے کہ ان کے نبی نے کتنے سور قتل کئے اور کتنی صلیبیں توڑیں۔

مرزا قادیانی اور جہاد فی سبیل اللہ

جہاد فی سبیل اللہ ایک اہم فریضہ ہے جس کو منسوخ کرانے کے لئے قادیانی نبوت و رسالت کی بنیاد رکھی گئی۔ ورنہ تکمیل دین کے بعد اب کسی نبی اور رسول کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ گئی تھی اور انسانی زندگی کا کون سا ایسا حصہ باقی رہ گیا تھا جس کی طرف رسول اکرم خاتم النبیین ﷺ نے رہنمائی نہ فرمائی ہو اور نہ ہی دین میں کوئی ایسی گرانی پائی جارہی تھی جس کا منسوخ کیا جانا ضروری تھا۔ قادیانیت کے سارے تانے بانے جہاد کو منسوخ کرانے کے لئے بنے گئے۔ انگریز جب ہندوستان میں آئے تو ان کی حکومت کے استحکام کے لئے ضروری تھا کہ یہاں کے عوام ان کی اطاعت کو وفاداری کے ساتھ قبول کر لیتے۔ لیکن ان کو اس سلسلے میں کامیابی نظر نہیں آ رہی تھی۔ اس کے لئے ضروری تھا کہ مسلمانوں کے دل سے جذبۂ جہاد کی عظمت کا خاتمہ کیا جاتا۔ یہ کام ایک ایسی شخصیت ہی کر سکتی تھی جس کو مسلمانوں کا حد درجہ اعتماد حاصل ہوتا۔

٤٢

ہندوستان میں سید احمد شہید و مولانا اسماعیل شہید دل جذبۂ جہاد سے سرشار تھے، اسلام کی حفاظت و اقامت کے ہزاروں کی تعداد میں ان کے گرد جمع ہونے لگے۔ ان کی کوش سبیل اللہ کا جذبہ بھڑک اٹھا اور وہ ہر طرح کی قربانی دینے کے انگریزوں کے اندر تشویش کا پیدا ہونا ایک لازمی بات تھی۔ اس سوڈانی لے کر اٹھے جس سے سوڈان میں انگریزوں کا اقتدار افغانی کی تحریک اتحاد اسلامی انگریزوں کے لئے کم تشویش کا جائزہ لینے کے بعد انگریز اس نتیجہ پر پہنچے کہ مسلمانوں کے ج ہے کہ مذہبی طور پر ان کو حکومت کی وفاداری پر آمادہ کیا جا طرف سے خطرہ باقی نہ رہے اور وہ اطمینان سے حکمرانی کر س نے مرزا غلام احمد قادیانی کو سب سے موزوں و مفید پایا۔

مرزا قادیانی ایک ذہنی مریض تھے جیسے مالخولیا خیالات موجزن تھے کہ وہ دنیا کی ایک عظیم شخصیت کے رو ماننے والوں کی تعداد کثیر ہو۔ ان کو وہی مقام حاصل ہو ج اپنے زعم باطل کو حاصل کرنے کے لئے انہوں نے اپنے آ کی کوشش کی، پھر امام مہدی بنے، اس کے بعد مثیل مسیح، بیٹھے۔

انگریزوں کی راہ میں چونکہ جہاد و اتحاد اسلامی ا جذبہ سب سے بڑی رکاوٹیں تھیں۔ لہٰذا انگریز یہی چاہتا ت ان کے راستے کی ساری رکاوٹیں صاف کرے۔ مرزا انگریزوں کی اس خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کی۔ اپنی ک کرتے ہیں: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریز ممانعت جہاد اور انگریز کی اطاعت کے بارے میں اس کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچا نے ایسی کتابوں کو عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک

٤٣

صفحہ ١٣٧

ہندوستان میں سید احمد شہید و مولانا اسماعیل شہید اور ان کے رفقاء و جان نثار جن کے دل جذبۂ جہاد سے سرشار تھے، اسلام کی حفاظت و اقامت کے لئے سرتا پا مجاہد نظر آتے تھے۔ لوگ ہزاروں کی تعداد میں ان کے گرد جمع ہونے لگے۔ ان کی کوششوں سے مسلمانوں کے اندر جہاد فی سبیل اللہ کا جذبہ بھڑک اٹھا اور وہ ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار ہو گئے۔ اس صورتحال میں انگریزوں کے اندر تشویش کا پیدا ہونا ایک لازمی بات تھی۔ ایسی ہی ایک تحریک سوڈان میں شیخ احمد سوڈانی لے کر اٹھے جس سے سوڈان میں انگریزوں کا اقتدار ڈگمگانے لگا۔ پھر علامہ جمال الدین افغانی کی تحریک اتحاد اسلامی انگریزوں کے لئے کم تشویش کا باعث نہ تھی۔ ان سارے کارناموں کا جائزہ لینے کے بعد انگریز اس نتیجہ پر پہنچے کہ مسلمانوں کے جذبات پر قابو پانے کے لئے ضروری ہے کہ مذہبی طور پر ان کو حکومت کی وفاداری پر آمادہ کیا جائے تاکہ ان کے بعد ان کو مسلمانوں کی طرف سے خطرہ باقی نہ رہے اور وہ اطمینان سے حکمرانی کر سکیں۔ اس خدمت کے لئے انگریزوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو سب سے موزوں و مفید پایا۔

مرزا قادیانی ایک ذہنی مریض تھے جیسے مالیخولیا، مراق وغیرہ۔ آپ کے دل میں یہ خیالات موجزن تھے کہ وہ دنیا کی ایک عظیم شخصیت کے روپ میں ابھریں۔ دنیا کے اندر ان کے ماننے والوں کی تعداد کثیر ہو۔ ان کو وہی مقام حاصل ہو جو جناب نبی کریم ﷺ کو حاصل ہے۔ اپنے زعم باطل کو حاصل کرنے کے لئے انہوں نے اپنے آپ کو عالم دین پھر مجدد دین کا درجہ دینے کی کوشش کی، پھر امام مہدی بنے، اس کے بعد مثیل مسیح، پھر مسیح موعود اور آخر میں مستقل نبی بن بیٹھے۔

انگریزوں کی راہ میں چونکہ جہاد و اتحاد اسلامی اور اس راستے میں جان و مال کی قربانی کا جذبہ سب سے بڑی رکاوٹیں تھیں۔ لہٰذا انگریز یہی چاہتا تھا کہ ایک شخص ان کا مؤید اور مددگار ہو جو ان کے راستے کی ساری رکاوٹیں صاف کرے۔ مرزا قادیانی نے کمال خوبصورتی کے ساتھ انگریزوں کی اس خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کی۔ اپنی کوششوں کا ذکر مرزا قادیانی ان الفاظ میں کرتے ہیں: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور ممانعت جہاد اور انگریز کی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

٤٣

صفحہ ١٣٩

وضاحت

"یہ التماس ہے کہ سرکار دولتمدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس سال کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جان نثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کی خیر خواہ اور خدمت گزار ہے۔ اس خود کاشتہ پودہ کی نسبت نہایت حزم واحتیاط اور تحقیق وتوجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائیے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھے۔"

(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)

ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں: "میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک تقریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں تا کہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیر دوں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط جہاد وغیرہ کو دور کر دوں جو ان کی دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔"

(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ١٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١)

یہ ہے اس شخص کا کردار جو صلیب توڑنے کا دعویٰ کرتا ہے اور صلیب برداروں کی غلامی میں مرا جاتا ہے۔

آخری بات

اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ جناب نبی کریم حضرت محمد ﷺ رہتی دنیا تک کے لئے اللہ کے آخری نبی ورسول ہیں اور جن وانس کے لئے اسوۂ کامل اور عملی نمونہ ہیں۔ اللہ کی طرف سے جو دین آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ تمام زمانوں اور ملکوں میں بسنے والے سب انسانوں اور جنوں کے لئے کافی ہے۔ اب انسانی زندگی کا کوئی بھی مسئلہ ایسا باقی نہیں رہا جس کا حل نبی کریم خاتم الانبیاء ﷺ نے نہ بتا دیا ہو۔ آپ ﷺ پر نازل ہونے والی اللہ کی آخری کتاب قرآن مجید تمام تحریفات سے محفوظ کر دی گئی ہے اور اس کی حفاظت بھی اللہ نے خود اپنے ذمہ لی ہے۔ "انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون (الحجر:٩) " (ہم نے ہی اس ذکر (قرآن مجید) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ بھی ہیں۔)

٤٤

اسی لئے قرآن مجید آج بھی اپنی اسی شکل میں موجو اسی طرح سے جناب نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ یعنی آ آپ ﷺ کے خصائل وعادات آپ ﷺ کی نشست و و عبادات، آپ ﷺ کی گھریلو زندگی ہمارے سامنے پوری آپ ﷺ سے پہلے کے انبیاء کرام کو حاصل نہیں تھی۔ اسی جناب نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری پر نبوت کا سلسلہ خت والے سب انسانوں کے لئے قیامت تک ایک ہی ضابط جناب نبی کریم ﷺ کی پاک زندگی گواہ ہے۔ لہٰذا آپ ﷺ کی ضرورت ہے نہ گنجائش!

اسلام دنیا میں مختلف آزمائشوں سے گزرا ہے گئی ہیں۔ آج کے دور میں اسلام کے خلاف نئی نبوت کا فتنہ کے لئے امت مسلمہ کو متحد ومتفق ہو کر سنجیدگی سے غور کرنے نبوت کا دعویٰ کرنے کا سلسلہ تو یہود و نصاریٰ میں بھی جار سے ہی جاری ہے۔ جس کی پہلی مثال مسیلمہ کذاب ہے ج تھی کہ آپ ﷺ کی زندگی میں آپ ﷺ کی نبوت ہم قبو نبوت ہمارے سپرد کر دی جائے۔ اس وقت جناب نبی کر میں ایک چھڑی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا "( نبوت وخلاف سے یہ چھڑی بھی مانگے گا تو کبھی تجھے نہ دوں گا۔"

آج کے دور میں مرزا غلام احمد قادیانی کا دعو بڑا فتنہ اور بہت بڑا چیلنج ہے جس کا سدباب ضروری ہ بزرگوں نے بڑی بڑی قربانیاں پیش کی ہیں۔ اللہ ا اپنے بزرگوں کی پیروی کرتے ہوئے بنیان مرصوص ب ضرورت ہے۔

قادیانی جو اپنے آپ کو احمدی مسلمان کہتے ہی

٤٥

صفحہ ١٣٩

اسی لئے قرآن مجید آج بھی اپنی اسی شکل میں موجود ہے جس شکل میں نازل کیا گیا اور اسی طرح سے جناب نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ یعنی آپ ﷺ کے اقوال، اعمال، احوال آپ ﷺ کے خصائل وعادات آپ ﷺ کی نشست وبرخاست، آپ ﷺ کے معاملات وعبادات، آپ ﷺ کی گھریلو زندگی ہمارے سامنے پوری طرح موجود ومحفوظ ہے۔ یہ خصوصیت آپ ﷺ سے پہلے کے انبیاء کرام کو حاصل نہیں تھی۔ اسی لئے پے در پے رسول آتے رہے۔ مگر جناب نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری پر نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔ چونکہ اب دنیا میں بسنے والے سب انسانوں کے لئے قیامت تک ایک ہی ضابطۂ حیات موجود ہے جس کی صداقت پر جناب نبی کریم ﷺ کی پاک زندگی گواہ ہے۔ لہٰذا آپ ﷺ کے بعد نہ کسی نبی ورسول کے آنے کی ضرورت ہے نہ گنجائش!

اسلام دنیا میں مختلف آزمائشوں سے گزرا ہے۔ اس کے خلاف بڑی سنگین سازشیں کی گئی ہیں۔ آج کے دور میں اسلام کے خلاف نئی نبوت کا فتنہ ایک بہت بڑی سازش کا نتیجہ ہے جس کے لئے امت مسلمہ کو متحد ومتفق ہوکر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جھوٹے نبیوں کا فرضی نبوت کا دعویٰ کرنے کا سلسلہ تو یہود ونصاریٰ میں بھی جاری تھا۔ مگر امت محمدیہ میں تو زمانہ نبوت سے ہی جاری ہے۔ جس کی پہلی مثال مسیلمہ کذاب ہے جس نے نبی کریم ﷺ سے درخواست کی تھی کہ آپ ﷺ کی زندگی میں آپ ﷺ کی نبوت ہم قبول کرتے ہیں۔ لیکن آپ ﷺ کے بعد یہ نبوت ہمارے سپرد کردی جائے۔ اس وقت جناب نبی کریم خاتم الانبیاء ﷺ کے دست مبارک میں ایک چھڑی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا "(نبوت وخلافت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا) اگر تو مجھ سے یہ چھڑی بھی مانگے گا تو بھی تجھے نہ دوں گا۔"

آج کے دور میں مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت امت مسلمہ کے لئے ایک بہت بڑا فتنہ اور بہت بڑا چیلنج ہے جس کا سد باب ضروری ہے۔ اس فتنہ کے مقابلہ کے لئے ہمارے بزرگوں نے بڑی بڑی قربانیاں پیش کی ہیں۔ اللہ ان کی قبروں کو منور فرمائے۔ لہٰذا ہمیں بھی اپنے بزرگوں کی پیروی کرتے ہوئے بنیان مرصوص بن کر اس بلائے عظیم کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

قادیانی جو اپنے آپ کو احمدی مسلمان کہتے ہیں اور مسلمانوں کو بتاتے ہیں کہ ہمارا کلمہ،

٤٥

صفحہ ١٤٠

نماز، قرآن مجید وہی ہے جو مسلمانوں کا ہے مگر وہ اپنے اصل عزائم دلوں میں پوشیدہ رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک کلمہ طیبہ کے مفہوم میں یہ بات شامل ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی خدا کا نبی ورسول تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے قرآن مجید کی لفظی اور معنوی تحریف کرنے کی ناپاک جسارت کر ڈالی۔ انہوں نے مسلمانوں کے متفق علیہ عقیدہ ختم نبوت کی بنیادوں پر تیشہ چلا کر اسلام کی مضبوط عمارت کو منہدم کرنے کی مذموم کوشش کی۔ وہ چاہتے ہیں کہ جناب نبی کریم ﷺ کا اسم گرامی تو باقی رہے اور مسلمان آپ پر بھی اس طرح ایمان رکھیں جس طرح پہلے انبیاء کرام، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام پر رکھتے ہیں۔ لیکن ان کے لئے اسوۂ کامل مرزا غلام احمد قادیانی ہوں اور وہ ساری محبتیں، عقیدتیں، وفاداریاں اور جاں نثاریاں جو حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مخصوص ہیں وہ مرزا غلام احمد قادیانی سے منسوب ہو جائیں اور نبوت ورسالت محمد کی مضبوط عمارت ڈھے کر رہ جائے۔

قادیانیت ایک مستقل مذہب اور قادیانی ایک الگ امت ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ہر ذی فہم شخص اس بات سے اتفاق کرے گا کہ معاشرہ میں ہر کسی فرد یا گروہ کو یہ حق حاصل ہے کہ جس مذہب کو چاہے وہ اختیار کرے اور جہاں تک ممکن ہو اس کی تبلیغ واشاعت کے لئے کام کرے۔ لیکن کسی ایسے گروہ کو جو خود کو مسلمان کہے ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی کہ اپنے اقوال واعمال کے ذریعہ اسلام کے بنیادی عقائد کو مسخ کرنے کی کوشش کرے اور اگر یہ فرد یا گروہ اسلام کے بنیادی عقائد کو تسلیم نہیں کرتا تو بہتر ہے کہ وہ دائرہ اسلام سے نکل جانے کا اعلان کر کے جس مذہب کو چاہے اختیار کرلے یا کوئی نیا مذہب ایجاد کرلے۔ جو شخص اللہ کے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتا تو ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ وہ ایک چھوڑ دس نبیوں کی نبوت پر ایمان رکھے، ہم مسلمانوں کو اس سے کیا واسطہ۔

جس طرح کوئی بھی مسلمان مسجد نبوی کے انہدام کو برداشت نہیں کر سکتا اسی طرح یہ بات اس کے ایمان سے بعید تر ہے کہ وہ یہ برداشت کر لے کہ اس کے سامنے اسلام کا نام لے کر اسلام کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کی جائے اور اسلام کے مضبوط قلعہ عقیدہ ختم نبوت کو منہدم کر کے اس کی جگہ نئی عمارت تعمیر کرنے کی جسارت کی جائے۔

اللهم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعه
وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه

☆.......................☆ ٤٦

خاتم النبیین ﷺ

پیغام

محترم ڈاکٹر عبدالقادر صاحب

PDF 142

خاتم النبیین لا نبی بعدی

صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم

پیغام حق

محترم ڈاکٹر عبدالقادر صاحب گجراتی رحمۃ اللہ علیہ

صفحہ ١٤٢

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

پیغام حق

الحمدلله رب العالمين والصلوة والسلام على سيد المرسلين وخاتم النبيين سيدنا ومولانا محمد ﷺ ، اما بعد!

برادران اسلام کی آگاہی اور مرزائی دوستوں کی ہدایت کے لئے ہم مسئلہ ختم نبوت اور جہاد پر نیز مرزا غلام احمد قادیانی کا نصرانی حکومت یعنی حکومت برطانیہ کا ایجنٹ ہونے پر قرآن وحدیث اور مرزا غلام احمد قادیانی کے اپنے مذہب کی رو سے پوری وضاحت کے ساتھ بیان پیش کرتے ہیں۔ تاکہ عامۃ الناس کو کسی قسم کی غلط فہمی نہ رہے۔

ختم نبوت فی القرآن

"اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دينا (قرآن حکیم) ”آج کے دن میں نے تمہارا دین تمہارے لئے مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور میں دین اسلام پر راضی ہوا۔“

"ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبیین“ ”محمد تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ وہ خدا تعالیٰ کے رسول ہیں اور سلسلہ انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں۔“

"وما ارسلنك الا رحمة للعالمين “ اور نہیں بھیجا آپ ﷺ کو مگر سارے جہان کے لئے رحمت۔“

ختم نبوت فی الحدیث

"ان مثلي ومثل الانبياء من قبلي كمثل رجل بنى بيتاً واجمله الا موضع لبنة من زاوية فجعل الناس يطوفون ويعجبون له ويقولون هلا وضعت هذه اللبنة قال فانا اللبنة وانا خاتم النبيين (بخاری ج ١ ص ٥٠١، مسلم ج ٢ ص ٢٤٨) ”میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کوئی گھر بنایا ہو اور اس کو آراستہ پیراستہ کیا ہو۔ مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ہو۔ لوگ اس کے پاس چکر لگا رہے ہوں اور خوش ہوتے ہوں اور کہتے ہوں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی۔

٢

١٤٣

(کہ عمارت مکمل ہو جاتی) فرمایا آنحضرت ﷺ نے کہ میں خاتم النبیین ہوں۔“

"لا تقوم الساعة حتى يبعث دجال وانا خاتم النبيين لا نبي بعدي (ابو داؤد ج ”قیامت اس وقت تک واقع نہیں ہو سکتی جب تک بہت س جن میں سے ہر ایک یہ کہتا ہوگا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں خ پیدا نہ ہوگا۔“

"انا آخر الانبياء وانتم آخر الامم ( سب نبیوں سے آخر آنے والا ہوں اور تم سب سے آخری ام

اقوال مرزا

"میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی ع جماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن سیدنا و مولانا محمد مصطفےٰ احمد مجتبےٰ ﷺ خاتم المرسلین کے بعد کسی اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت ا رسول اللہ محمد مصطفےٰ ﷺ پر ختم ہوگئی۔“

(مرزا قادیانی کا اشتہار مورخہ ٢ اکتوبر ١٨٩١ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج

"اے لوگو! دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم النبیین ک کرو۔ اس خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گ

"ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔ لا الہ ا قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان لاتے ہی

(اشتہار مرزا قادیانی مورخہ ٢٠ شعبان ١٣١٤ھ، مندرجہ تبلیغ رسالت

"کیا ایسا بد بخت مفتری جو خود رسالت اور ن ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایما آنحضرت ﷺ کے بعد نبی اور رسول ہوں۔“

٣

صفحہ ١٤٣

(کہ عمارت مکمل ہو جاتی) فرمایا آنحضرت ﷺ نے کہ میں ہی آخری اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔

”لا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى (ابوداؤد ج ٢ ص ١٢٧، ترمذی ج ٢ ص ٤٥) “ قیامت اس وقت تک واقع نہیں ہو سکتی جب تک بہت سے دجال اور کذاب نہ اٹھائے جائیں جن میں سے ہر ایک یہ کہتا ہوگا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔

”انا آخر الانبياء وانتم آخر الامم (كنز العمال ج ٥ ص ٢٩٤) “ میں سب نبیوں سے آخر آنے والا ہوں اور تم سب سے آخری امت۔

اقوال مرزا

”میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ سنت جماعت کا عقیدہ ہے ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا و مولانا محمد مصطفے احمد مجتبے ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت ورسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفے ﷺ پر ختم ہوگئی۔“

(مرزا قادیانی کا اشتہار مورخہ ٢؍اکتوبر ١٨٩١ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠، ٢٣١)

”اے لوگو! دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو۔ اس خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔“

(آسمانی فیصلہ ص ١٥، خزائن ج ٣ ص ٤٣٥)

”ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔ 'لا الہ الا الله محمد رسول الله' کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان لاتے ہیں۔“

(اشتہار مرزا قادیانی مورخہ ٢٠؍شعبان ١٣١٤ھ، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٢، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧)

”کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے یہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد نبی اور رسول ہوں۔“

(انجام آتھم حاشیہ ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٢٧)

٣

صفحہ ١٤٥
ہست او خیر الرسل خیر الانام
ہر نبوت را بروشد اختتام

(درثمین فارسی ص ١١٤)

”ابھی لکھ چکا ہوں کہ میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد میں اس کے میں نکلا تھا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر اور کوئی لڑکا لڑکی نہیں ہوا اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)

مرزا قادیانی کے ان بیانات کو بار بار اور غور سے پڑھ کر ذہن نشین کریں کہ مرزا قادیانی ایک مسلمان ہونے کی حیثیت میں آنحضرت ﷺ کے آخری نبی ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا کذاب، دجال اور مفتری خارج از اسلام کافر کا فتویٰ صادر فرمایا۔ ایک پہلو تو یہ ہے۔ اب دوسرا پہلو ملاحظہ فرمائیں۔

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

(منقول از خط بنام اخبار عام مورخہ ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧)

(اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤)

(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٦)

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفان نہ کمتر ز کسے
آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

یہ ہیں بڑے میاں اب چھوٹے میاں کی سنئے! فرماتے ہیں: ”اگر میری گردن پر دونوں طرف تلوار رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔“

(انوار خلافت ص ٦٥)

”انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہی نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ ورنہ ایک نبی کیا، میں کہتا ہوں ہ

مرزا محمود کا دعویٰ

”جس طرح مسیح موعود کا انکار انبیاء کا انکار ہے انکار ہے۔ جنہوں نے میری خبر دی، میرا انکار رسول اللہ ﷺ میرا انکار شاہ نعمت اللہ ولی کا انکار ہے۔ جنہوں نے میر جنہوں نے میرا نام محمود رکھا اور مجھے موعود بیٹا ٹھہرا کر میر

(تقریر مرزا محمود

ایک نہ شد دو شد

مرزائی دوستو اور مسلمانو! دو قسم کے بیانوں کو پورے غور سے خدا کو حاضر ناظر جان کر پڑھو اور فیصلہ دو مذکورہ بالا مرزا قادیانی کے بیانات پڑھنے کے بعد میں فیصلہ کیا دوں۔ اگر اسلام کی تعلیم کے حق میں فیصلہ دوں تو وہ اسلام سے خارج ۔ اگر مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کو دیکھوں تو ان کی تعلیم کو لغو یا غلط ماننا پڑتا ہے۔

پس لا محالہ خدا پرست ہونے کی حیثیت سے خدا کے رسول محمد ﷺ کا ارشاد صحیح، قرآن کا حکم درست جان کر اپنے فتویٰ کی رو سے کافر، دجال، مفتری، دائ

اب غور طلب بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ جسارت کیوں کی؟ اس سوال کے حل کرنے کے لئے مرزا قادیانی کا کیا مقصد تھا اور جو انگریز کی حکومت نے ان کے سپرد کیا

تھا؟ ”میرا باپ اسی طرح خدمات میں مشغ تھا اور سفر آخرت کا وقت آ گیا اور اگر ہم ان کی تمام

صفحہ ١٤٥

”انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے۔ ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی قدر کو ہی نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ ورنہ ایک نبی کیا، میں کہتا ہوں ہزاروں نبی ہوں گے۔“

(انوار خلافت ص ٦٢)

مرزا محمود کا دعویٰ

”جس طرح مسیح موعود کا انکار انبیاء کا انکار ہے اسی طرح میرا انکار انبیاء بنی اسرائیل کا انکار ہے۔ جنہوں نے میری خبر دی، میرا انکار رسول اللہ ﷺ کا انکار ہے۔ جنہوں نے میری خبر دی میرا انکار شاہ نعمت اللہ ولی کا انکار ہے۔ جنہوں نے میری خبر دی، میرا انکار مسیح موعود کا انکار ہے۔ جنہوں نے میرا نام محمود رکھا اور مجھے موعود بیٹا ٹھہرا کر میری تعیین کی۔

(تقریر مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل ج ٥ نمبر ٢٣)

ایک نہ شد دو شد !

مرزائی دوستو اور مسلمانو ! دو قسم کے بیانوں ”ختم نبوت اور اجرائے نبوت“ کو پڑھو اور پورے غور سے خدا کو حاضر ناظر جان کر پڑھو اور فیصلہ دو؟

مذکورہ بالا مرزا قادیانی کے بیانات پڑھنے کے بعد ہر شخص اس مشکل میں پڑ جاتا ہے کہ میں فیصلہ کیا دوں۔ اگر اسلام کی تعلیم کے حق میں فیصلہ دوں تو مرزا قادیانی کافر دجال، دائرہ اسلام سے خارج۔ اگر مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کو دیکھوں جو کس ترتیب اور حکمت سے کیا ہے تو اسلام کی تعلیم کو لغو یا غلط ماننا پڑتا ہے۔

لامحالہ خدا پرست ہونے کی حیثیت سے یہ فیصلہ دینا پڑتا ہے کہ خدا کا کلام برحق، اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد صحیح، قرآن کا حکم درست اور مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ کرنے کے باعث اپنے فتویٰ کی رو سے کافر، دجال، مفتری، دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

اب غور طلب بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اسلام کے خلاف یہ بغاوت اختیار کیوں کی؟ اس سوال کے حل کرنے کے لئے مرزا قادیانی کے اس مشن کا مطالعہ کریں جو ان کی زندگی کا مقصد تھا اور جو انگریز کی حکومت نے ان کے سپرد کیا تھا۔ ملاحظہ فرمائیں:

”میرا باپ اسی طرح خدمات میں مشغول رہا۔ یہاں تک کہ پیرانہ سالی تک پہنچ گیا اور اور سفر آخرت کا وقت آگیا اور اگر ہم ان کی تمام خدمات لکھنا چاہیں تو اسی جگہ سما نہ سکیں۔ ہم لکھتے

(انوار خلافت ص ٦٥)

٥

صفحہ ١٤٦

سے عاجز رہ جائیں۔ پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرا باپ سرکار انگریزی کے مراحم کا ہمیشہ امیدوار رہا اور عند الضرورت خدمتیں بجالاتا رہا۔ یہاں تک کہ سرکار انگریزی نے اپنی خوشنودی کی چٹھیات سے اس کو معزز کیا اور ہر ایک وقت اپنے عطاؤں کے ساتھ اس کو خاص فرمایا اور اس کی غمخواری فرمائی اور اس کی رعایت رکھی اور اس کو اپنے خیر خواہوں اور مخلصوں سے سمجھا۔ پھر جب میرا باپ وفات پا گیا تب ان خصلتوں میں اس کا قائمقام میرا بھائی ہوا جس کا نام مرزا غلام قادر تھا اور سرکار انگریزی کی عنایات ایسی ہی اس کے شامل حال ہوگئیں۔ جیسی کہ میرے باپ کے شامل حال تھیں اور میرا بھائی چند سال بعد اپنے والد کے فوت ہوگیا۔ پھر ان دونوں کی وفات کے بعد میں ان کے نقش قدم پر چلا اور ان کی سیرتوں کی پیروی کی۔ لیکن میں صاحب مال اور صاحب املاک نہیں تھا۔ سو میں اس کی مدد کے لئے اپنے قلم اور ہاتھ سے اٹھا اور خدا میری مدد پر تھا اور میں نے اسی زمانہ سے خدا تعالیٰ سے عہد کیا کہ کوئی مبسوط کتاب بغیر اس کے تالیف نہیں کروں گا۔ جس میں احسانات قیصرہ ہند کا ذکر نہ ہو۔ نیز اس کے ان تمام احسانوں کا ذکر ہو جس کا شکر مسلمانوں پر واجب ہے۔

(نور الحق حصہ اول ص ٢٩، خزائن ج ٨ ص ٣٩)

”دوسرا امر قابل گزارش یہ ہے کہ میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو تقریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں۔ تا مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں جو ان کو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں پر میری تحریروں کا بہت ہی اثر ہوا ہے اور لاکھوں انسانوں میں تبدیلی پیدا ہو گئی ہے اور میں نے نہ صرف اسی قدر کام کیا کہ برٹش انڈیا کے مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی اطاعت کی طرف جھکایا بلکہ بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کر کے ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطلع کیا کہ ہم لوگ کیونکر امن اور آرام اور آزادی سے گورنمنٹ انگلشیہ کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔“ (درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ، منجانب خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان مورخہ ٢٤؍ فروری ١٨٩٨ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١)

”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور اطاعت میں گذرا ہے اور میں

صفحہ ١٤٧

نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارہ میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابیں تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیں۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

”پھر میں پوچھتا ہوں کہ جو کچھ میں نے سرکار انگریزی کی امداد اور حفظ امن اور جہادی خیالات کے روکنے کے لئے برابر سترہ سال تک پورے جوش سے پوری استقامت سے کام لیا۔ کیا اس کام کی اور اس خدمت نمایاں کی اور اس مدت دراز کی دوسرے مسلمانوں میں جو میرے مخالف ہیں کوئی نظیر ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٤٠)

”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہ ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرے۔ دوسرے اس سلطنت انگریزی کی جس نے امن قائم کیا جس نے ظالموں کے ہاتھوں سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔ سو اگر گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔“

(گورنمنٹ کی توجہ کے لائق، شہادۃ القرآن ص ج ، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)

”میرے اس دعوے پر کہ میں گورنمنٹ برطانیہ کا سچا خیرخواہ ہوں۔ دو ایسے شاہد ہیں کہ اگر سول ملٹری جیسا کہ لاکھ پرچہ بھی ان کے مقابلے پر کھڑا ہو۔ تب بھی وہ دروغ گو ثابت ہوگا۔ اول یہ کہ علاوہ اپنے والد مرحوم کی خدمت کے میں سولہ برس سے برابر اپنی تالیفات میں اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ مسلمانان ہند پر اطاعت گورنمنٹ برطانیہ فرض اور جہاد حرام ہے۔ اشتہار لائق توجہ گورنمنٹ جو ملکہ معظمہ و گورنر جنرل ہند گورنر پنجاب و دیگر حکام کے ملاحظہ کے شائع کیا۔“

(مرزا غلام احمد قادیانی مورخہ ١٠؍دسمبر ١٨٩٤ء، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٢٨)

خودکاشتہ پودا

”میرا اس درخواست سے جو حضور کی خدمت میں مع اسماء مریدین روانہ کرتا ہوں مدعا

صفحہ ١٤٨

یہ ہے کہ اگرچہ میں ان خدمات خاصہ کے لحاظ سے جو میں نے اور میرے بزرگوں نے محض صدق دل اور اخلاص اور جوش وفاداری سے سرکار انگریزی کی خوشنودی کے لئے کی ہے۔ عنایت خاص کا مستحق ہوں۔ صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس سال کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جان نثار خاندان ثابت کرچکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیرخواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خودکاشتہ پودے کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔ لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم خدمات گزشتہ کے لحاظ سے سرکار دولت مدار کی پوری عنایات اور خصوصیت توجہ کی درخواست کریں۔“ (درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ، منجانب خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان مورخہ ٢٤؍ فروری ١٨٩٨ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢١، ٢٢)

”یاد رہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے۔ بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا۔“

(مرزا غلام احمد قادیانی کا اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت ج٦ ص٨٢، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٣٥٧)

”چونکہ میں نے دیکھا کہ بلاد اسلامی روم مصر وغیرہ کے لوگ ہمارے واقعات سے مفصل طور پر آگاہ نہیں ہیں اور جس قدر ہم نے گورنمنٹ سے آرام پایا۔ اس کے عدل و رحم سے فائدہ اٹھایا۔ وہ اس سے بے خبر ہیں اس لئے میں نے عربی اور فارسی میں بعض رسائل تالیف کر کے بلاد شام و روم اور مصر اور بخارا وغیرہ کی طرف روانہ کئے اور ان میں اس گورنمنٹ کے تمام اوصاف حمیدہ درج کئے اور بخوبی ظاہر کردیا کہ اس محسن گورنمنٹ کے ساتھ جہاد قطعاً حرام ہے اور ہزار ہا روپیہ خرچ کر کے وہ کتابیں مفت تقسیم کیں اور بعض شریف عربوں کو وہ کتابیں دے کر بلاد شام و روم کی طرف روانہ کیا اور بعض عربوں کو مکہ اور مدینہ کی طرف بھیجا اور بعض بلاد فارس کی

٨

صفحہ ١٤٩

طرف بھیجے گئے اور اسی طرح مصر میں بھی کتابیں بھیجیں اور یہ ہزار ہا روپیہ کا خرچ تھا جو محض نیک نیتی سے کیا گیا۔ شاید اس جگہ ایک نادان سوال کرے گا کہ اس قدر خیر خواہی غیر ممکن ہے کہ ہزار ہا روپیہ گرہ سے خرچ کر کے اس گورنمنٹ کی خوبیوں کو تمام ملکوں میں پھیلایا جائے۔ لیکن ایک عقل مند جانتا ہے کہ احسان ایک ایسی چیز ہے کہ جب ایک شریف اور ایماندار آدمی اس سے تمتع اٹھاتا ہے تو بالطبع اس میں عشق و محبت کے رنگ میں ایک جوش پیدا ہوتا ہے کہ اس احسان کا معاوضہ دے۔ ہاں کمینہ آدمی اس طرف التفات نہیں کرتا۔ پس مجھے طبعی جوش نے ان کاروائیوں کے لئے مجبور کیا۔“

اشتہار لائق توجہ گورنمنٹ جو جناب ملکہ معظمہ قیصر ہند اور جناب گورنر جنرل ہند اور لیفٹیننٹ گورنر پنجاب اور دیگر معزز حکام کے ملاحظہ کے لئے شائع کیا گیا۔ (منجانب خاکسار مرزا غلام احمد قادیانی مورخہ ١٠ دسمبر ١٨٩٣ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٣ ص ١٩٦، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٢٦، ١٢٧)

”سو میں نے اس مضمون کی کتابوں کو شائع کیا ہے اور تمام ملکوں اور تمام لوگوں میں ان کو شہرت دی ہے اور ان کتابوں کو میں نے دور دور کی ولایتوں میں بھیجا ہے۔ جن میں سے عرب اور عجم اور دوسرے ملک ہیں۔ تاکہ کج طبیعتیں ان نصیحتوں سے براہ راست آجائیں اور تاکہ وہ طبیعتیں اس گورنمنٹ کا شکر کرنے اور اس کی فرمانبرداری کے لئے صلاحیت پیدا کریں اور مفسدوں کی بلائیں کم ہو جائیں اور تاکہ وہ لوگ جانیں کہ یہ گورنمنٹ ان کی محسن ہے اور محبت سے اس کی اطاعت کریں۔ میں نے اس گورنمنٹ کا شکر کیا اور جہاں تک بن پڑا اس کی مدد کی اور اس کے احسانوں کو ملک ہند سے بلاد عرب اور روم تک شائع کیا اور لوگوں کو اٹھایا تا اس کی فرمانبرداری کریں اور جس کو شک ہو وہ میری کتاب براہین احمدیہ کی طرف رجوع کرے اور اگر وہ اس شک کے دور کرنے کے لئے کافی نہ ہو تو میری کتاب تبلیغ کا مطالعہ کریں اور اگر اس سے بھی مطمئن نہ ہو تو پھر میری کتاب حمامۃ البشریٰ کو پڑھے اور اگر پھر بھی کچھ شک رہ جائے تو پھر میری کتاب شہادۃ القرآن میں غور کرے اور اس پر حرام نہیں کہ اس رسالہ کو بھی دیکھے تاکہ اس پر کھل جائے کہ میں نے کیونکر بلند آواز سے کہہ دیا ہے کہ اس گورنمنٹ سے جہاد حرام ہے اور جو لوگ ایسا خیال کرتے ہیں وہ خطاء پر ہیں۔ پس اے آنکھوں والو! تم سوچو کہ میں نے یہ کام کیوں کئے اور کیوں یہ کتابیں جن میں جہاد کی سخت ممانعت لکھی ہے ملک عرب اور دوسرے اسلامی ملکوں میں بھیجیں۔ کیا میں ان تحریروں سے ان لوگوں کے انعام کی امید رکھتا تھا۔۔۔۔۔ اس کے بعد کس غرض نے مجھ کو اس

٩

صفحہ ١٠

کام پر آمادہ کیا۔ کیا میرے لئے ان کتابوں کو ایسے ملکوں میں بھیجنے میں جو حکومت انگریزی میں داخل نہیں تھے۔ بلکہ وہ اسلامی ملک تھے اور ان کے خیال بھی اور تھے۔ کچھ اور فائدہ تھا..... اور میرا عربی کتابوں کا تالیف کرنا تو انہیں عظیم الشان غرضوں کے لئے تھا اور میری کتابیں عرب کے لوگوں کو برابر پے در پے پہنچتی رہیں۔ یہاں تک کہ میں نے ان میں تاثیر کے نشان پائے اور بعض عرب میرے پاس آئے اور بعضوں نے خط و کتابت کی اور بعضوں نے بدگوئی کی اور بعض صلاحیت پر آگئے اور موافق ہوگئے۔ جیسا حق کے طالبوں کا کام ہے اور میں نے ان امدادوں میں ایک زمانہ طویل صرف کیا ہے۔ یہاں تک کہ گیارہ برس ان ہی اشاعتوں میں گذر گئے اور میں نے کچھ کوتاہی نہیں کی۔“

(انوار الحق حصہ اوّل ص ٣٢، ٣٣، خزائن ج ٨ ص ٤٢، ٤٣)

”پس میں یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ میں ان خدمات میں یکتا ہوں اور میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں ان تائیدات میں یگانہ ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس گورنمنٹ کے لئے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک پناہ کے ہوں کہ جو آفتوں سے بچاوے اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ خدا ایسا نہیں کہ ان کو دکھ پہنچاوے اور تو ان میں ہو۔ پس اس گورنمنٹ کی خیر خواہی اور مدد میں کوئی دوسرا شخص میری نظیر اور مثیل نہیں۔“

(نور الحق ص ٤٢، ٤٣، خزائن ج ٨ ص ٤٤، ٤٥)

”جناب عالی! دنیا کی اس مذہبی خدمت کے ذکر کرنے کا یہ موقع نہیں جو ہمارے سلسلہ کے بانی (مرزا غلام احمد قادیانی) نے کی ہے۔ مگر ہم سمجھتے ہیں کہ جناب اس خدمت کو معلوم کر کے خوش ہوں گے جو انہوں نے دنیا کے امن کے قیام کے لئے کی ہے۔ جس وقت آپ نے دعویٰ کیا ہے۔ اس وقت تمام عالم اسلامی جہاد کے خیالات سے گونج رہا تھا اور عالم اسلامی کی ایسی حالت تھی کہ وہ پٹرول کے پیپے کی طرح بھڑکنے کے لئے صرف ایک دیا سلائی کا محتاج تھا۔ مگر بانی سلسلہ نے اس خیال کی لغویت اور خلاف اسلام اور خلاف امن ہونے کے خلاف اس قدر زور سے تحریک شروع کی کہ ابھی چند سال نہیں گزرے تھے کہ گورنمنٹ کو اپنے دل میں اقرار کرنا پڑا کہ وہ سلسلہ جسے وہ امن کے لئے خطرے کا موجب خیال کر رہی تھی۔ اس کے لئے ایک غیر معمولی اعانت کا موجب تھا۔“

(قادیانی جماعت ایڈریس بخدمت ہز ایکسیلنسی لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند مندرجہ اخبار

الفضل قادیان ج ٩ نمبر ١، مورخہ ٤ جولائی ١٩٢١ء)

”ایک دوست لکھتے ہیں کہ ایک شخص جو کچھ مدت ایک احمدی کے پاس رہتا تھا ملازمت کے لئے ایک برطانوی افسر کے پاس گیا۔ جب افسر مذکور نے درخواست کنندہ کے حالات دریافت کئے اور پوچھا کہ کہاں رہتے ہو تو اس نے جوا

اس پر حسب ذیل مکالمہ ہوا:

افسر....... کیا تم بھی احمدی ہو۔ امیدوار....... نہیں صاحب۔ افسر....... افسوس تم اتنی دیر احمدی کے پاس رہا ب احمدی بنو پھر فلاں تاریخ کو آنا۔“

(اخبار الفضل قادیان م

فتح بغداد

”حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ میں وہ مہدی م وہ تلوار ہے جس کے مقابلہ میں ان علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی ب احمدیوں کو اس فتح سے کیوں خوشی نہ ہو۔ عراق، عرب ہو یا ش چاہتے ہیں۔ فتح بغداد کے وقت ہماری فوجیں مشرق سے داخ فتح کی خبر دی گئی ہماری گورنمنٹ برطانیہ نے جو بصرہ کی طرف کو جمع کر کے اس طرف بھیجا دراصل اس کے محرک خدا تعالیٰ کی مدد کے لئے اس نے اپنے وقت پر اتارنا تھا کہ وہ لوگوں پ کی مدد کے لئے تیار کریں۔“

(اخبار الفضل

مذکورہ بالا بیانات مرزا غلام احمد کے مطالعہ کرنے رستہ بالکل صاف ہو جاتا ہے اور اس کی پوزیشن روز روشن کی نہ آپ نبی تھے۔ نہ مجدد اور نہ محدث بلکہ آپ حکومت برط رکن تھے جس کی شہادت آپ کے مذکور بالا بیانات دے لوح عوام کو دھوکا دے کر اپنے اس پر فریب دام میں پھسا ت برطانیہ کی پولیٹیکل خدمت جو ہندوستان اور بلاد اسلام م شیرازہ کو پراگندہ کرنا تھا۔ جس پر مرزا کی ساری زندگی صرف ترجمان حقیقت علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ مرزا غلام کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں ۔

شیخ او کرد فرنگی را مرید
گفت دیں را رونق از محکومی است
صفحہ ١٥١

حالات دریافت کئے اور پوچھا کہ کہاں رہتے ہو تو اس نے جواب دیا کہ فلاں احمدی کے پاس، اس پر حسب ذیل مکالمہ ہوا:

افسر...... کیا تم بھی احمدی ہو۔ امیدوار...... نہیں صاحب۔ افسر...... افسوس تم اتنی دیر احمدی کے پاس رہا۔ مگر سچائی کو اختیار نہیں کیا۔ جاؤ پہلے احمدی بنو پھر فلاں تاریخ کو آنا۔"

(اخبار الفضل قادیان ج ٦ نمبر ٩٢،٩٣، مورخہ ٣، ٧/ جون ١٩١٩ء)

فتح بغداد

"حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ میں وہ مہدی معہود ہوں اور گورنمنٹ برطانیہ میری وہ تلوار ہے جس کے مقابلہ میں ان علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ اب غور کرنے کا مقام ہے کہ پھر ہم احمدیوں کو اس فتح سے کیوں خوشی نہ ہو۔ عراق، عرب ہو یا شام ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔ فتح بغداد کے وقت ہماری فوجیں مشرق سے داخل ہوئیں۔ دیکھئے اُس زمانہ میں اس فتح کی خبر دی گئی ہماری گورنمنٹ برطانیہ نے جو بصرہ کی طرف چڑھائی کی اور تمام اقوام سے لوگوں کو جمع کر کے اس طرف بھیجا دراصل اس کے محرک خدا تعالیٰ کے وہ فرشتے تھے جن کو اس گورنمنٹ کی مدد کے لئے اس نے اپنے وقت پر اتارا تا کہ وہ لوگوں کے دلوں کو اس طرف مائل کر کے ہر قسم کی مدد کے لئے تیار کریں۔"

(اخبار الفضل قادیان ج ٦ نمبر ٤٤، مورخہ ٧/ دسمبر ١٩١٨ء)

مذکورہ بالا بیانات مرزا غلام احمد کے مطالعہ کرنے کے بعد مرزا قادیانی کو سمجھنے کے لئے رستہ بالکل صاف ہو جاتا ہے اور اس کی پوزیشن روز روشن کی طرح عیاں ہو کر سامنے آ جاتی ہے کہ نہ آپ نبی تھے۔ نہ مجدد اور نہ محدث بلکہ آپ حکومت برطانیہ کے پولیٹیکل محکمہ کے ایک کامیاب رکن تھے جس کی شہادت آپ کے مذکور بالا بیانات دے رہے ہیں اور مذہب کا لبادہ محض سادہ لوح عوام کو دھوکا دے کر اپنے اس پر فریب دام میں پھنسا کر اپنا کام نکالنا تھا۔ اصل مقصد حکومت برطانیہ کی پولیٹیکل خدمت جو ہندوستان اور بلاد اسلام میں جہاد کو حرام کرنے اور دین اسلام کا شیرازہ کو پراگندہ کرنا تھا۔ جس پر مرزا کی ساری زندگی صرف ہوئی۔

ترجمان حقیقت علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق ایک مرزائی وکیل کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں۔

شیخ او کرد فرنگی را مرید گرچہ گوید از مقام بایزید
گفت دیں را رونق از محکومی است زندگانی از خودی محرومی است

١١

صفحہ ١٥٢
دولت اغیار را رحمت شمرد رقصہا گرد کلیسا کرد مرد

اب ہم قرآن حکیم سے فتویٰ طلب کرتے ہیں کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو حکومت نصاریٰ کا ایجنٹ ہونے پر کیا فتویٰ صادر کرتا ہے۔ملاحظہ ہو:

”يٰايها الذين آمنوا لا تتخذوا اليهود والنصارىٰ اولياء بعضهم اولياء بعض ومن يتولهم منكم فانه منهم ان الله لايهدى القوم الظلمين “

﴿اے لوگو! جو ایمان لائے ہو مت پکڑو یہود کو اور نصاریٰ کو دوست بعض ان کے دوست ہیں۔ بعض کے وہ جو کوئی دوست پکڑے ان کو تم میں سے پس تحقیق وہ ان میں سے ہے تحقیق اللہ نہیں ہدایت کرتا قوم ظالموں کو۔﴾

اب اس قرآنی فیصلہ کے بعد مرزا قادیانی کی کیا پوزیشن رہتی ہے۔ نبی اور مجدد ومحدث کیا مسلمان بھی نہیں رہتے۔ نصاریٰ کی دوستی کے باعث قوم نصاریٰ میں سے ہوگئے اور مرزا قادیانی کا یہ الہام پورا ہو گیا ۔ ”کمترین کا بیڑہ غرق۔“

(تذکرہ ص٦٨٤ طبع سوم)

افسوس! ملک سے غداری کی، قوم سے غداری کی، مذہب سے غداری کی، خدا رسول سے غداری کی محض نصاریٰ حکومت برطانیہ کی خاطر ؎

ننگ آدم ننگ دیں ننگ وطن

اسی لئے اپنے متعلق یہ شعر موزوں کیا۔

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(درثمین اردو ص ٦٨)

اے فریب خوردہ سادہ لوح عوام مرزائیو! ہمیں معلوم ہے کہ تم نہ اسلام کی تعلیم سے واقف ہو اور نہ تم نے مرزا غلام احمد کے لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے۔ تم اپنی سادہ لوحی سے دام ہمرنگ زمین دیکھ کر پھنس گئے ہو۔ خدا سے ڈرو، دجال کی پیروی چھوڑ کر اسلام میں واپس آ جاؤ۔ اس دن سے ڈرو قبل اس کے کہ تم پر موت آئے۔ نادانو! تمھیں معلوم نہیں غلام احمد سے پہلے بھی تیرہ سو سال کے اندر بہت سے لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اپنے گرد بہت لوگوں کو جمع کر لیا۔ فریب خوردگان کی اس جمعیت سے بعض نے اتنی طاقت حاصل کر لی کہ وقت کی حکومتوں کو شکست دے کر حکمران ہوگئے۔ آخر ایسے مٹے کہ اب تاریخ کے سوا ان کا نام لیوا دنیا میں موجود نہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ نبوت جو نصاریٰ حکومت کے بل بوتے پر کھڑی کی گئی ۔ کب تک قائم رہے گی۔ انشاء اللہ جلد مٹ جائے گی۔ داعی الی الخیر ! ( ڈاکٹر ) عبدالقادر صدر مجلس احرار اسلام گجرات !

١٢

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

مرزا کی قلعی کھل

یعنی سری نگر

مسیح قاد

مولانا غلام احمد امر

PDF 154

بسم الله الرحمن الرحيم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

مرزا کی قلعی کھل گئی،

یعنی سری نگر کشمیر

اور مسیح قادیانی

مولانا غلام احمد امرتسری رحمۃ اللہ علیہ

صفحہ ٢

بسم الله الرحمن الرحيم

حامداً ومصلياً

جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقاً

ناظرین رسالہ پر مخفی نہ رہے کہ پچھلے دنوں مرزا سندھی بیگ عرف غلام احمد قادیانی نے ایک عربی کتاب تالیف کی تھی جس کا نام اس نے (بقولے برعکس نہند نام زنگی کافور) ”الھدیٰ“ رکھا تھا اس نے اپنی عادت قدیمہ کے مطابق اس کتاب میں جو دروغ بیانی کی ہے اس کی تصریح کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ایسی دروغ بیانیوں کی تردید بارہا ہوچکی ہے لیکن کتاب مذکور کے اخیر میں سخت بیباکی سے یہ ظاہر کیا ہے کہ اہل کشمیر نے شہادت دی ہے کہ خانیار میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے اور شاہدین کی فہرست میں مشاہیر علماء اور دیگر کے نام لکھے ہیں۔ ”چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد۔“ اس میں کچھ شک نہیں کہ مرزا کو نہ خوف خدا ہے نہ وہ شرم کرتا ہے۔ پھر بھی تعجب ہے کہ وہ اتنا بھی خیال نہیں کرتا کہ ایسے کذب اور بہتان کے ظاہر ہونے پر جو رسوائی اور ذلت ہوگی اس کا کیا علاج۔ آخر بے شرمی اور بے حیائی کی کوئی حد بھی ہے۔ جناب مولانا مولوی پیر ابو الحسن غلام مصطفے صاحب دام برکاتہ نے ایک خط بہ دریافت اس امر کے کہ آیا مرزا کا یہ بیان صحیح ہے؟ حاجی محی الدین شاہ صاحب ساکن سری نگر محلہ سرائے بل کو لکھا۔ اس کے جواب میں ایک طویل تحریر معہ دستخط و مشاہیر علماء و سادات کشمیر وغیرہ مولوی صاحب موصوف کی خدمت میں روانہ کی جو رسالہ کی صورت میں ہدیہ ناظرین ہے۔

ناظرین! پر یہ ظاہر کر دینا بھی ضروری ہے کہ خانیار میں ایک شخص مسمی (یوز آسف) کی قبر ہے جس کی نسبت کشمیر میں مختلف روایات مشہور ہیں۔ جیسا کہ رسالہ ہذا کے مطالعہ سے ظاہر ہوگا مگر اصل بات یہ ہے کہ یہ شخص شولاپت نامی مقام کا رہنے والا تھا اور ایک راجہ کا بیٹا تھا جو سیر کرتے کرتے کشمیر میں پہنچا تھا۔ اس کی سوانح عمری عربی زبان میں لکھی جا چکی تھی۔ جس کا اردو ترجمہ بنام یوز آسف ہی مطبع حیدر آباد میں طبع ہوا۔ مگر مرزا خواہ مخواہ اس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام بتاتا ہے۔ جس کی کوئی سند نہیں۔

اگر اصل تحریر کشمیر کی کوئی صاحب دیکھنا چاہیں تو جناب مولانا ابوالحسن غلام مصطفے صاحب کی خدمت میں بمقام محلہ کمہاراں جا کر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ التمس: غلام احمد، عافاہ اللہ وابیہ، امرتسری۔ مورخہ یکم رجب ١٩٠٢ء ٢

سری نگر کشمیر میں مسیح ق

بذریعہ مسکین حاجی محی الدین ساکن محلہ سر

پہلی اطلاع

ہر خاص و عام کو اس معاملہ کی اصلیت سے واقف مسمی خلیفہ نور الدین جلد ساز (جو کہ مرزا غلام احمد قادیانی قریب دو تین سال کا عرصہ ہوا کہ کشمیر میں آیا تھا۔ اس نے اس مضمون پر پیش کیا کہ محلہ روضہ بل میں کس کی قبر ہے۔ لوگوں کو سوائے اس کے کچھ علم نہیں کہ خواجہ اعظم صاحب در ”در ذکر سید نصیر الدین خانیاری“ کے اس قدر لکھا ہے کہ ( نام مدفون است) اور یہی نور الدین کے استفتا کا جواب اندرابی نے جو یہاں کے مشاہیر سادات و علماء سے ہیں کے عبارت سے مفہوم ہوتا ہے یا ہم لوگوں کو علم ہے اس ہوسکتا اور لفظ (گویند) سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خود یقین اور اعتبار نہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ اور اختلاف اقوال جو آئندہ سطروں میں اختصار کے طور پر لکھا جائے گا۔

یہ گذارش لائق دیکھنے اور سننے کے ہے۔ ع سری نگر کشمیر بخدمت ساکنان ہند و پنجاب وغیرہ ظاہر رسالہ موسومہ (الہدیٰ والتبصرۃ لمن یریٰ) چھپوایا ہے۔ لوگ کشمیر کے باشندے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی محلہ ہیں۔ امر طرفہ یہ ہے کہ اکثر وہ لوگ جنہوں نے اس پ ناواقف و ناخواندہ ہیں۔ ان کے نام یہاں درج ہوئے ٣

صفحہ ٣

سری نگر کشمیر میں مسیح قادیانی

بذریعہ مسکین حاجی محی الدین ساکن محلہ سرائے بل ضلع امیر اکدال

پہلے اطلاع

ہر خاص و عام کو اس معاملہ کی اصلیت سے واقف و آگاہ کرنا ضروری ہے کہ ایک شخص مسمی خلیفہ نور الدین جلد ساز (جو کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور حکیم نور الدین کا خاص چیلا ہے) قریب دو تین سال کا عرصہ ہوا کہ کشمیر میں آیا تھا۔ اس نے یہاں کے لوگوں کے پاس ایک استفتا اس مضمون پر پیش کیا کہ محلہ روضہ بل میں کس کی قبر ہے۔ یعنی کسی نبی کی ہے یا غیر کی؟ یہاں کے لوگوں کو سوائے اس کے کچھ علم نہیں کہ خواجہ اعظم صاحب دیدہ مری اپنی تاریخ میں اس بارہ کے اندر ”در ذکر سید نصیر الدین خانیاری“ کے اس قدر لکھا ہے کہ (میگویند کہ در آنجا پیغمبرے یوز آصف نام مدفون است) اور یہی نور الدین کے استفتا کا جواب لکھا گیا۔ بلکہ میر کمال الدین صاحب اندرابی نے جو یہاں کے مشاہیر سادات و علماء سے ہیں۔ اسی استفتاء پر لکھا ہے کہ جس قدر تاریخ کی عبارت سے مفہوم ہوتا ہے یا ہم لوگوں کو علم ہے اس سے کوئی خاص پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام مراد نہیں ہو سکتا اور لفظ (گویند) سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خود مورخ کو بھی یوز آصف کی قبر ہونے میں یقین اور اعتبار نہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ اور اختلاف اقوال جو در حق یوز آصف تواریخوں میں درج ہے آئندہ سطروں میں اختصار کے طور پر لکھا جائے گا۔

یہ گذارش لائق دیکھنے اور سننے کے ہے۔ عالمان علماء و سادات و مشائخان و اشراف سری نگر کشمیر بخدمت ساکنان ہند و پنجاب وغیرہ ظاہر کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے ایک عربی رسالہ موسومہ (الہدیٰ والتبصرۃ لمن یریٰ) چھپوایا ہے۔ اس میں ایک فہرست درج کی ہے کہ بعض لوگ کشمیر کے باشندے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی محلہ روضہ بل میں قبر ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ اما طرفہ یہ ہے کہ اکثر وہ لوگ جنہوں نے اس کاغذ استفتا پر مہر یا نشان ثبت کیا ہے بالکل ناواقف و ناخواندہ ہیں۔ ان کے نام یہاں درج ہوتے ہیں۔ (١) عبدالجبار معروف جبار خان

صفحہ ١٥٦

ملازم خواجہ شاہ اللہ شال، (٢) احد خان ناستواری اسلام آبادی، (٣) محمد سلطان معروف میرزا سلطان جویر کدلی، (٤) صمد جوزیرہ زردآلو فروش صراف کدلی، (٥) محمد عظیم معروف عظیم جوشیدہ محمد بیگ سکن مدینہ صاحب، (٦) احمد کلہ ہند بلی، (٧) حبیب جلد ساز متصل مسجد جامع، (٨) عبداللہ شیخ ڈڈ کدلی، (٩) حبیب بیگ میوہ فروش حبہ کدلی، (١٠) احمد نانبائی زینہ کدلی، (١١) مہدہ زرگر سومہ کچہ بلی، (١٢) عبداللہ شالہ پرونٹھی چٹنی والا ساکن شیر گڈا، (١٣) خضر میوہ فروش عالیکدلی، (١٤) جلی وانی بوہ کدلی، (١٥) عبدالرحیم نابالغ عرف ڈار ساکن کہوٹہ، (١٦) خضر جوتا فروش رعنا داری، (١٧) عبداللہ ناستوار فروش بچہ اکبر درویش، (١٨) محمد شاہ ڈڈی کدلی، (١٩) محمد حجام ڈکسن یار، (٢٠) غنی جوتا ید کدلی پیشہ رگریز، (٢١) قمرالدین ناستواری زینہ کدلی، (٢٢) اسمال جوابی، (٢٣) صدیق پاپوش دوز شمس واری، (٢٥) قادر وانی اندر واری، (٢٦) سکندر جو ایضاً، (٢٧) لسہ بٹ ایضاً، (٢٨) محمد حاجی کلال دوری اسمال مسگر وری بلی، (٢٩) مسگر وری بلی قادر جو کیوہ، (٣٠) احمد چمٹ ساز کلال دوری، (٣١) محمد جوز وگر فتحکدلی، (٣٢) عزیز مسگر اندر واری ، (٣٣) احمد مسگر وری بلی، (٣٤) محمد جووری بلی، (٣٥) اسد جوزینہ کدلی۔

یہ اشخاص مذکور عبارت استفتاء سے بالکل بے خبر ہیں۔ درحالت بے علمی و ناواقفی ان لوگوں نے مہر اور نشانی کی ہے۔ علاوہ اس کے رسالہ مذکورہ کو دیکھ کر ان لوگوں سے اس بارہ میں استفسار کیا گیا۔ کسی ایک متنفس نے اس پر اقرار نہیں کیا کہ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قبر ہونے پر مہر یا نشانی یا تصدیق کیا ہے۔ جیسا کہ مرزا رسالہ الہدیٰ میں تحریر کرتا ہے۔ یوز آصف سے عیسیٰ مسیح علیہ السلام مراد ہے۔ یہ صاف وسفید قادیانی کا جھوٹ اور جھوٹا ہونا معلوم ہوتا ہے۔ ” فلعنۃ الله علیٰ الکاذبین “ اور جھوٹی تہمت اہل کشمیر کی نسبت ہے اور دیکھو یہ امر کس قدر خلاف صداقت و دیانت ہے کہ یہاں کے باشندوں کو ناحق بدنام کیا جاوے۔ اگر مرزا خود یہاں آ کر یا اس کے پیروں میں سے کوئی حاضر ہو کر ایک بھرے مجمع میں دو گواہ جن کے نام مرزا نے رسالہ مذکورہ میں شائع کئے ہیں ثبوت میں پیش کرے۔ یعنی وہ یہ کہہ دیں کہ ہم نے بلا شک وشبہ

٤

صفحہ ١٥٧

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہونے پر محلہ مذکور میں مہر یا نشانہ کیا ہے تو ہم سب باشندگان کشمیر حلفاً کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے دعوے کو تسلیم کرلیں گے۔ ورنہ ایسی شرمناک کاروائیوں اور عبارت کے تغیر وتبدل و تردید کرنے سے یا خود پسند باتیں اڑانے سے مرزا عیسیٰ نہیں بن سکتا۔ نعم ما قیل! بنمائے بصاحب نظرے گوہر خود را! عیسیٰ نتوان گشت بتصدیق خرے چند۔ کشمیری نظم : ان پر بارہ وچھپو پنن مہنژھ تہ پز ہارن کوئی کہاہ۔

اقوال مختلفہ، تواریخ : در کتاب اسرار الاخبار نقل است کہ شخصے از سلاطین زادہ ہا بود چون راہ زہد و تقویٰ پیمود، برسالت مردم کشمیر مبعوث شد پس در کشمیر آمدہ بدعوت خلائق اشتغال نموده بعد رحلت در محلہ انزمرہ آسود نامش یوز آصف پیغمبر۔ اما صاحب وقائع ملک کشمیر کہ در عہد سلطان زین العابدین بود۔ روایت میکند کہ سلطان از جانب خود سید عبداللہ بیہقی را با تحائف و نفائس فراوان بطور سفارت نزد خدیو مصر فرستاد بابت استحکام رابطہ محبت و اخلاص سلسلۂ جنبانی نمود پس خدیو مصر از جانب خود یوز اسف۔ نام شخصے را کہ از احفاد حضرت موسیٰ علیہ السلام کہ بکمالات صوری و معنوی فرید دہر یگانہ عصر بود۔ نزد سلطان زین العابدین بطریق رسالت مامور ساخت چون سفیر مذکور وارد خطہ دلپذیر گشت با سلطان رابطہ اخلاص درست کردہ و مراسم رسالت بجا آوردہ واپس بوطن خود رجعت نمود بعد چند گاہ بمرافقت سید نصیر الدین بیہقی کہ از احفاد سید علاؤ الدین بیہقی است۔ از طرف سلطان در نزد شریف کہ بطور رسالت و وکالت رفتہ بود باز آمدہ از جانب شریف کہ بنام سلطان نامہ کہ از پند و نصائح مشحون بود آوردند و در میان نامہ سورۂ واقعہ بخط کوفی کہ مملو از خوف و رجاست ملفوف بود کہ مطابق مضمون ہمین سورۂ عمل باید کرد پس یوز اسف بموانست و مجالست سید نصیر الدین عمر خود در ینجا بسر برد، فقط و از مرقد شریف او بپائے عقیدت و مردم شیعہ اعتقادے دارند کہ یوز آصف از اولاد حضرت امام جعفر صادق است رضی اللہ عنہ موجب ان در آنجا آمد و رفت میدارند به نسبت او قصہ ہائے می نگارند و بعضی میگویند کہ پائین قبر شریف سید نصیر الدین قبر خلیفہ ایشان است۔

باوجود اختلاف اقوال کے مرزا قادیانی نے تاریخ خواجہ اعظم شاہ صاحب دیدہ دلیری پر بھروسہ کر کے ایک نقشہ قبر بھی جو محلہ روضہ بل میں واقع ہے اپنی کتاب الہدیٰ میں دکھلایا ہے اور ان کو یہ معلوم نہیں

٥

صفحہ ١٥٨

کہ یہ استدلال بھی ان کا ریت کی دیوار کی طرح قائم نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ اسی تاریخ میں یوز آصف کے بیان میں لکھا ہے کہ قبر یوز آصف محلہ انزی مر میں برلب نالہ مار واقع ہے اور محلہ روضہ بل سے محلہ انزی مر تک کئی محلہ درمیان ہیں اور طرفہ یہ ہے کہ میرزا کی محولہ قبر برلب نالہ مار بھی واقع نہیں۔ ذرا عینک لگا کر تاریخ مذکورہ ملاحظہ فرماویں۔ اگر اس سے معذور ہوں تو حکیم نورالدین سے دریافت فرمالیں کہ وہ عرصہ دراز تک یہاں رہے ہیں اور عبداللہ لون سے یہ اشتہار دلوانا اگر اہل کشمیر مرزا کو مسیح موعود تسلیم نہ کریں گے تو ان کو گھبراہٹ میں ڈالنا کیا قانونی جرم نہیں ہے۔ پچھلے واقعات یاد کر کے ان کو ایسی کاروائیوں میں محتاط رہنا چاہئے۔

اغلاط مرزا قادیانی کی

جو کتاب الہدیٰ صفحہ ١١٧ سطر ٨ میں یوز آصف یا یوز اسپ است جیسا کہ تاریخ اعظمی وغیرہ تاریخوں میں درج ہیں مرزا نے خود غرضی سے اپنا مطلب پورا کرنے کی غرض سے یوز آصف لکھا ہے۔ بجائے حرف صاد کے حرف سین لکھا ہے بجائے لفظ اسپ حرف پے کے بدل حرف فا قرار دیا ہے۔ صاحبان علم و ہنر غور سے دیکھیں کہ آصف اور اسپ اور آسف کے معنی میں کتنی تفاوت ہے۔ ایضاً صفحہ ١١٧ سطر ١٨ میں "وُدْفِنَ فِیْ مَحَلَّہ خَانِیَار مَعَ بَعْضِ الْاَحِبَّہ" یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کشمیر میں جا کر فوت ہوا۔ محلہ خانیار میں سات چند یار کے مدفون ہے۔ محولہ خانیار میں کوئی زیارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نہیں ہے۔ فقط محلہ مذکورہ میں سوائے زیارت سید شاہ محمد فاضل قادریؒ اور ان کے احفاد کے اور مولوی مبارک محبوب سبحانی حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانیؒ موجود ہیں اور ص ١١٨ نقشہ مقام روضہ بل کا دکھا دیا ہے۔ یعنی ایک قبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوسری ان کے اصحابی کے باوجود اس کے سب تاریخوں میں لکھا ہے کہ اس روضہ میں سید نصیر الدین بیہقی مدفون ہے۔ اگر مرزا کا لکھنا تسلیم کیا جاوے تو اس کو سید نصیر الدین کی قبر بھی دکھانی ضروری ہے کہ ان کی قبر کہاں واقع ہے اور بیرون روضہ سید نصیر الدین مذکور عام لوگوں کا مزار ہے اور مرزا نے ص ١١٩ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر تصدیق کرنے والوں کے نام لکھے ہیں۔ جن صاحبوں نے کاغذ استفتا پر جو خلیفہ نورالدین نے پیش کیا تھا۔ ان میں سے بعض صاحبوں نے اپنی

صفحہ ١٥٩

مہر کے نیچے عبارت تاریخ اعظمی کی نسبت تردید لکھی ہے۔ ان کا نام درج فہرست ص ١١٩ میں نہیں کیا ہے۔ حالانکہ وہ صاحبان بہت مشہور ہیں۔ مثل میر کمال الدین صاحب اندرابی و میر محمد سعید صاحب اندرابی و پیر انور شاہ صاحب کادی کدلی و مفتی غلام محمد حسین وعلی شاہ ناستواری ونورالدین چشتی و مولوی محمد شاہ صاحب ترابی، حاجی عبدالرحیم احمد کدلی، شاہ حسین کانٹ، اب ہم اہل کشمیر کی شہادت دیتے ہیں کہ کشمیر میں ہرگز عیسیٰ علیہ السلام کی قبر نہیں اور اپنی مہریں اور دستخط کرتے ہیں۔

(مہر) غلام یاسین حسن قادری، (مہر) محمد محی الدین صاحب، (مہر) میر واعظ رسول صاحب کشمیری، (مہر) نورالدین چشتی ساکن کاوہ دارہ، (مہر) واعظ احمد اللہ برادر میر واعظ درج فہرست رسالہ ہدای، (مہر) سید سیف الدین صاحب ابن حضرت سید سعید اندرابی محدث کشمیری، (مہر) محمد سعید اندرابی عفی عنہ، (مہر) مفتی شریف الدین عفی عنہ درج رسالہ ہدای، (مہر) ملک غلام مصطفیٰ، (مہر) مولوی محمد اسد اللہ صاحب دار ساکن محلہ حاجی کدل، (مہر) مفتی محمد شاہ جامعی، (مہر) فقیر عبدالسلام ، (مہر) محمد سیف الدین عفی عنہ ملک دلاور شاہ گماشتہ میر حسن صاحب، (مہر) ملک نامدار شاہ، خواجہ غلام حسن ہانڈی متولی زیارت حضرت بل، (مہر) میر کمال الدین ، محمد سعدالدین عتیق، (مہر) علی شاہ زینہ کدلی، (مہر) سید مصطفیٰ ساکن پل حاجی راتھر (مہر) سید لطف اللہ پل حاجی راتھر، (مہر) محمد عبدالغنی علوی ملارٹہ، العبد سید ولی اللہ بیہقی، پل حاجی راتھر، (مہر) عبداللہ دوکاندار گنج بازار، العبد مولوی غلام محمد وفائی مفتی محلہ اتر مرہ، (مہر) اسد میر نسوار فروش زینہ کدلی، العبد منشی ثناء اللہ محلہ اتر مرہ (مہر) احد اللہ کوٹھی دار نوہٹہ، (مہر) غلام الدین مخدومی ، العبد مولوی احمد اللہ ترابی، عبدالکریم مخدومی العبد فقیر محمد ملا شہور ، (مہر) پیر جو ہمسایہ روضہ بل، (مہر) پیر محمد افضل ساکن زینہ کدل، (مہر) پیر حمید اندرواڑی درج فہرست رسالہ ہدیٰ، (مہر) واعظ غلام احمد ساکن محلہ سرائے بل العبد حسین شاہ زیرک مدرس مدرسہ نصرۃ الاسلام بقلم خود، العبد بندہ مسمی جعفر علی بقلم خود۔

(مہر) مولوی نورالدین امام غرضمرہ مدرس شاخ مدرسہ نصرۃ الاسلام بقلم خود، (مہر) میر حکیم بیگ ساکن اتر مرہ، العبد مولوی سلام الدین نحوی عفی عنہ، مدرس شاخ مدرسہ نصرۃ الاسلام ملکہار غرضمرہ وامام مسجد محلہ الحسن یار بقلم خود، العبد حسام الدین محمد مدرس شاخ مدرسہ

صفحہ ١٦٠

نصرۃ الاسلام ساکن امیر بابا گوجواری محلہ کہ درج رسالہ ہذا است بقلم خود، العبد غلام محی الدین امام مسجد روضہ بل ، (مہر) حافظ غلام محمد صاحب امام ساکن خانقاہ معلیٰ ، (مہر) خواجہ نصیر جو تاجر ساکن روضہ بل ، العبد رحیم جو ددی مجاور روضہ بل بقلم خود، العبد فقیر محمد بہاء الدین قریشی ساکن ہٹہ ، (مہر) عبدالرحیم عرف کنائی کوٹھی دار متولی مقام روضہ بل ، (مہر) غفار ساکن نور باغ ، العبد غلام نبی نقشبندی ساکن خانقاہ معلیٰ بقلم خود، العبد نورالدین وکیل ساکن عید گاہ ، درج رسالہ ہذا بقلم خود، (مہر) مولوی حبیب اللہ ساکن خانقاہ معلیٰ، (مہر) لالہ میر متولی ، (مہر) غلام محمد خانقاہی ، (مہر) واعظ عبداللہ متصل مرزا کامل بیگ خان بدخشی ، (مہر) محمد حسین امام مسجد مقام زین العابدین محلہ کاڈیار ، (مہر) واعظ عبدالقادر ساکن محلہ بہاء الدین صاحب ، العبد محمد علی نوری زینہ کدلی عفی عنہ بقلم خود، العبد غلام علی عفی عنہ بقلم خود، العبد نبی شاہ امام مسجد گاؤ کدل درج رسالہ ہذا العبد واعظ احسن شاہ ساکن راجوری کدل بقلم خود، (مہر) غلام محمد متولی ساکن خانیار معرف نامہ ، (مہر) عبدالغنی واعظ ساکن امیر کدال ، (مہر) غلام علی ساکن مدینہ صاحب ، العبد واعظ عزیز اللہ ساکن محلہ خانیار بقلم خود، العبد قادر شاہ امثالی بقلم خود، العبد پیر حبیب اللہ قریشی ساکن عبد کلال ، العبد غلام محمد زرگر ساکن ونزہ پورہ بقلم خود، (مہر) علی شاہ صاحب العبد محمد شاہ از احفاد سجادہ نشین میر نازک نیازی قادری علیہ الرحمۃ بقلم خود، مہر حافظ عزیز الدین ساکن محلہ کرگلوی مہر عبد القادر دوکاندار مہاراج گنج ، مہر غلام محی الدین صاحب تاجر ورئیس مہر خواجہ محمد شاہ ہانڈی العبد محمد حسین وفائی مفتی مہر خلیل مہر احد اللہ کوشیدار ساکن نوہٹہ ، العبد سعید الدین احمد عفی عنہ امام خانقاہ فیض حضرت نقشبندیہ بقلم خود، مہر محمد سیف الدین خواجہ بازاری شہری خانیار ، از کتب تاریخ معلوم نمی شود کہ حضرت عیسیٰ مسیح در کشمیر مدفون است اگر کسی دعوی آن کند دعوی او باطل است بلکہ از نص قرآن و احادیث معلوم و ثابت است کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بر آسمان زندہ اند و در آخر زمان نزول فرمایند مہر خضر جو ساکن نوہٹہ ، العبد محمد شاہ امام خانقاہ حضرت شیخ العالم قدس سرہ بقلم خود، العبد غلام محمد کوٹھی دار دوکاندار گاڈیار بقلم خود، العبد عبدالغنی عفی عنہ قلاشپور بقلم خود، العبد انور شاہ عفی عنہ، العبد مولوی حمید اللہ عبداللہ عفی عنہ بقلم خود، العبد حافظ غلام رسول مہر سلام الدین العبد عبد الکریم عفی عنہ، العبد محمد جلال الدین عفی عنہ ، احمد کدلی بقلم خود ، العبد غلام نبی نقشبندی وغیرہ وغیرہ !

٨

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

تنویر الاسرار

کیفية المسیح

حضرت مولانا ابوسلمان عبدال

PDF 162

یہی است بقلم خود، العبد غلام محی الدین کن خانقاہ معلی، (مہر) خواجہ میر جو تاجر خود، العبد فقیر محمد بدرالدین قریشی ساکن روضہ بل، (مہر) غفار ساکن نور باغ، بدر الدین وکیل ساکن عید گاہ، درج ن خانقاہ معلی، (مہر) لالہ میر متولی، کامل بیگ خان بدخشی، (مہر) محمد حسین القادر ساکن محلہ بہاؤالدین صاحب، عنہ بقلم خود، العبد نبی شاہ امام مسجد گاؤ اجوری کدل بقلم خود، (مہر) غلام محمد کن امیر کدل، (مہر) غلام علی ساکن خود، العبد قادر شاہ امثالی بقلم خود، العبد اکن ونزہ پورہ بقلم خود، (مہر) علی شاہ قادری علیہ الرحمۃ بقلم خود، مہر حافظ ج بخیر گنج، مہر غلام محی الدین صاحب تی مہر خلیل، مہر احمد اللہ کوشیدار ساکن ی نقشبندیہ بقلم خود، مہر محمد سیف الدین حضرت عیسیٰ مسیح موعود در کشمیر مدفون نص قرآن و احادیث معلوم و ثابت نزول فرمائید مہر فخر جو ساکن نوہٹہ، العبد غلام محمد کوٹھی دار و دکاندار گاؤ یار ہ عفی عنہ، العبد مولوی حمید اللہ عبداللہ لعبد عبدالکریم عفی عنہ، العبد محمد جلال وغیرہ وغیرہ!

خاتم النبیین لا نبی بعدی

صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم

تنویر السراج فی

کیفیۃ المعراج

حضرت مولانا ابوسلمان عبدالرحمٰن دہلوی رحمۃ اللہ علیہ

صفحہ ١٦٢

پہلے اسے ملاحظہ فرما لیجئے

حضرات! امر الٰہی (نبوت وغیرہ) کے ظہور کے وقت دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں:

ہوتے ہیں۔

رسول عربیﷺ (روحی فداہ) کی بعثت کے وقت دنیا میں دونوں قسم کے لوگ موجود تھے؛ گو صداقت کی روشنی اور نور اسلام نے عناد کی تاریکیوں کو اپنی ضیاء پاشیوں سے مغلوب کر رکھا تھا، تاہم ہنوز خبیث طینتیں اپنی کجروی اور ایذا رسانی کی فراوانی میں سرگرم عمل تھیں۔ حق بات چاہے کیسی ہی سچّی اور کھری ہوتی لیکن معاندین اور مشرکین مکّہ اپنی مسلّمہ عادت (انکار حق) کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ معمولی سے معمولی بات کو بھی بغیر انگشت نمائی کئے نہ چھوڑنا گویا ان کی طبیعت بن چکی تھی۔

جب معمولی باتوں میں ان کی یہ حالت اور پوزیشن تھی؟ تو بھلا معراج جیسے عظیم الشّان مسئلے کو بلا چون و چرا تسلیم کرنا تو ان کے لئے باعث زحمت و خجالت ہی تھا۔ اسی واسطے جب انہوں نے آپﷺ سے یہ تعجب انگیز واقعہ سنا اور اس کا غلغلہ بھی کافی طور پر بہم پہنچ چکا تو نہایت ہی تمسخرانہ لہجے سے ہٰذا ساحر کذّاب کہہ کر اس کو درہم برہم کر دیا۔ یہ تو حالت تھی کفار مکّہ کی کہ انہوں نے بھی اسراء اور معراج کے وقوع کو محالات عقلیہ میں سے گردان کر ان کی صداقت اور وقوع کا انکار کیا، لیکن آہ! شومی قسمت سے اہل اسلام کے بعض افراد اور خدائی طاقت وقدرت کے اقراریوں نے بھی اس جگہ سخت ٹھوکر کھائی اور قدرت الٰہیہ کے مسلّمہ اصول کو نظر انداز کرتے ہوئے محض توہمات کے چکروں اور بھول بھلیوں میں پڑ کر ”اسلام“ کو بھی بٹہ لگایا۔ لہٰذا برائے افادۂ عوام و خیر خواہیٔ مسلمانان چند سطور محرر ہیں۔ نکتہ چیں اور مخلص دوست موافقین اور مخالفین ذرا ٹھنڈے دل سے ملاحظہ فرما کر اپنی غیرت ایمانی کا ثبوت دیں اور اپنی روحانی و جسمانی یا عملی و اعتقادی حالت کو درست کر کے اجر دارین کے مستحق ہوں۔ واللہ الموفق للصواب والیہ المرجع والمآب! خاکسار! عبدالرحمن!

٢

صفحہ ١٦٤

تمہید :

الحمد لوليه والصلوۃ والسلام علیٰ رسولہ : اما بعد !

حضرات ! معراج جسمانی کی حقیقت کا انکشاف مذہبی دنیا میں مدت دراز سے ہو رہا ہے ۔ موافق اور مخالف ہر دو نے اپنے اپنے مذاق کے مطابق مسئلہ ہذا کو بے نقاب کرنے میں مختلف پہلو اختیار کئے ۔ گو مغربی خیالات کی سطح سے متجاوز ہونے والوں اور یورپ کے دماغی اختراع کو دنیا کے فاتح ، ریفارمر ، مصلح اعظم ، نبی اکرم محمد مصطفےٰ ﷺ کے فرمان سے ٹکرانے والوں کا زیادہ تر رجحان عقلی امور پر ہوتا جا رہا ہے اور روایتی امور کو عقل کی میزان میں توازن کرنے کا خیال ان کے دماغوں میں سرعت کے ساتھ گھس رہا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلامی احکام کے سیلاب عظیم نے ان عقلی حیلوں کی سفیہانہ چالوں کو بے حقیقت ثابت کر دیا ۔ آج دنیا میں بہت سے امور آپ دیکھتے ہیں جو بظاہر حیرت زا ہیں ۔ لیکن چونکہ ان نئی اشیاء کا رواج ترقی پکڑ گیا اور لوگ ان کے دیکھنے سنتے استعمال میں لانے کے خوگر اور عادی ہو گئے ۔ لہذا وہ چیزیں تحیر عقلی کے دائرہ سے متجاوز ہو کر حقیقتاً ایک "عادی شئے" کی مانند تصور کی جانے لگیں ۔ اب نہ تو ان نو ایجاد چیزوں کے سننے ہی سے کوئی حیرت ہوتی ہے اور نہ ان کے انکاری ہونے کی کوئی سبیل نکالی جاتی ہے ۔ غرض کہ جن چیزوں کو ہم بدیہی سمجھتے ہیں ان کی حقیقتیں ایسی نظری ہیں کہ ان کے ادراک سے اب تک ہما شما کی عقلیں حیران ہیں ۔ ہما شما تو بجائے خود رہے جب کہ بڑے بڑے حکماء اور فلاسفر بھی ان کی حقیقت کے ادراک سے عاجز نظر آتے ہیں ۔ یہاں بطور تفہیم کے چند مثالیں لکھی جاتی ہیں ۔ بغور ملاحظہ ہوں ۔

٣

صفحہ ١٦٤

لوحوں سے جب چاہے قرآن شریف سنے یا غزل یا گانا۔

ایک جست کے تار کے ذریعہ باہم کلام کر لیتے ہیں۔ اس کی حقیقت کیا ہے۔

صاحبان! اس قسم کی مثالیں آپ کو ہزاروں دی جاسکتی ہیں۔ لیکن بخوف طوالت ان ہی پر اکتفاء کرتا ہوا میں آپ سے دریافت کرتا ہوں کہ جب انسانی عقلیں ان ظاہری اشیاء کے سمجھنے سے قاصر ہیں اور ان کی عقلیں ان چیزوں کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتیں تو بھلا اس شہنشاہ دو جہان علام غیوب کی بتائی ہوئی بات پر کس منہ سے اعتراض کرتے ہیں؟ اور اس کی بات پر کس اصول کے اعتبار سے اپنی عقل کو دخل دیتے ہیں؟ بات اصل یہ ہے کہ جس چیز کا انسان کا مشاہدہ نہیں ہوتا اور وہ اس کی اصلیت سے لاعلم ہوتا ہے تو وہ اس چیز کے وقوع کو ایک موہومی شے سے زیادہ وقعت نہیں دیتا۔ مثلاً اگر کسی مادر زاد نابینا کے سامنے نور (روشنی) کا حال بیان کیا جائے تو وہ بھی کہے گا کہ ایسی چیز کا وجود محال ہے یا اگر فرضا کوئی شخص آپ کے سامنے ایک ایسے شخص کا تذکرہ کرے جس کے تین تو ہاتھ ہوں اور چار ٹانگیں اور چار ہی آنکھیں تو کیا آپ اس شخص کا یہ ذکر بغیر تفتیش کئے ماننے پر تیار ہوں گے؟ نہیں کبھی نہیں۔ کیوں! اس لئے کہ آپ نے اس شخص بیان کنندہ کے بیان سے پہلے نہ تو کبھی ایسے شخص کا مشاہدہ کیا اور نہ ہی کسی اور سے سنا۔ ٹھیک! اسی طرح جب کفار مکہ اور عقلی پتلوں نے معراج جسمانی جیسے عظیم الشان وقوع کا حال سنا تو بعض نے تو محض عناد اور از راہ تعصب اس کا انکار کیا اور بعض بوجہ عقل کے مطابق نہ معلوم ہونے کے اس کے منکر ہوئے۔ اگر معراج جسمانی یا اس جیسا کوئی اور واقعہ قبل و بعد وقوع معراج کے ہوتا رہتا تو یقینا نہ تو عام لوگ ہی اس کے منکر ہوتے اور نہ صحابہ کرام کے بعض افراد ہی مرتد ہوتے۔ گو قادر مطلق نے بانی اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ہاتھوں بہت سے ایسے بعید از عقل امور وجود پذیر کرائے۔ جیسا کہ امام نووی فرماتے ہیں: ”هذا دليل على ان الله تعالى يجعل فيما يشاء من الجماد تميزا ونظيره قول الله تعالى وان منها لما يهبط من خشية الله وقوله تعالى وان من شئ الا يسبح بحمده ولكن لا تفقهون تسبيحهم وقوله ﷺ انى لا عرف حجرا بمكة كان يسلم على وحديث الشجرتين اللتين اتتاه ﷺ وحديث حنين الجزع وتسبيح الطعام وفرار حجر موسى بثوبه ورجفان حراء واحد (م یعنی اس حدیث میں دلیل ہے اس میں (بھی) عقل وشعور کا مادہ عنایت کر دیتا ہ (پہاڑ کے پتھروں میں سے) بعض پتھر ایسے بھ ہیں۔ (اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) کہ روئے کرتی ہو۔ لیکن (اے انسانو! تم بوجہ عقل کا ق رسول اللہ ﷺ کا (مندرجہ ذیل) فرمان بھی فرماتے ہیں کہ میں اس پتھر کو پہچانتا ہوں کہ ج حدیث (بھی دال ہے) جو رسول اللہ ﷺ کے تھے اور حدیث کھجور کے تنے والی (جس کا سہ فرمایا کرتے تھے۔ لیکن ممبر بننے کے بعد جب لگا اور تسبیح پڑھنا ، کھانے پینے کی چیزوں کا اور کے وقت کپڑے اتار کر رکھے تھے) اور (پہا پر) حرکت کرنا یہ تمام نظیریں دلیل ہیں اللہ تع (بے حس چیزوں کو) نطق عطا کیا جو ظاہر عقل کیا وہ حی قیوم اپنے نبی ﷺ کو خلاف معمول ”بل وانا على ذالك من الشاهدين گزشتہ، موجودہ اور آئندہ زمانے میں ملتا ا نفس مضمون پر کچھ خامہ فرسائی کرنی چاہتا ہو

اسراء اور معراج

مکہ معظمہ سے مسجد اقصیٰ تک آ الذي اسرى بعبده“ سے ثابت ہے او المقدس سے آسمانوں پر جانے کو معراج ک يفهم من تفسير مدارك وغيره“

٤

صفحہ ١٦٥

موسى بثوبه ورجفان حراء واُحد (مسلم ج ١ ص ١٨٠ مع نووی)“ یعنی اس حدیث میں دلیل ہے اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ جمادات (بے حس چیزوں) میں (بھی) عقل و شعور کا مادہ عنایت کر دیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ (پہاڑ کے پتھروں میں سے) بعض پتھر ایسے بھی ہیں کہ جو اللہ کی خشیت سے (زمین پر) گر پڑتے ہیں۔ (اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) کہ روئے زمین پر کوئی شے ایسی نہیں جو اللہ کی حمد و ثناء نہ بیان کرتی ہو۔ لیکن (اے انسانو! تم بوجہ عقل کا کلی مادہ نہ رکھنے کے) ان کی تسبیح و تہلیل نہیں سمجھتے اور رسول اللہ ﷺ کا (مندرجہ ذیل) فرمان بھی بعض جمادات کے عقل و شعور پر دال ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں اس پتھر کو پہچانتا ہوں کہ جو مجھ کو مکہ میں سلام کیا کرتا تھا اور ان دو درختوں کی حدیث (بھی دال ہے) جو رسول اللہ ﷺ کے بلانے پر اپنی جگہ سے ہٹ کر آپ کے پاس آ گئے تھے اور حدیث کھجور کے تنے والی (جس کا سہارا لے کر) رسول اللہ ﷺ منبر بننے سے پہلے وعظ فرمایا کرتے تھے۔ لیکن منبر بننے کے بعد جب آپ ﷺ نے اس کا سہارا لگانا چھوڑ دیا تو وہ رونے لگا اور تسبیح پڑھنا، کھانے پینے کی چیزوں کا اور بھاگنا اس پتھر کا (جس پر موسیٰ علیہ السلام نے نہانے کے وقت کپڑے اتار کر رکھے تھے) اور (پہاڑ) حراء واُحد کا (رسول اللہ ﷺ وغیرہ کے چڑھنے پر) حرکت کرنا یہ تمام نظیریں دلیل ہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر جب خدا تعالیٰ نے ان جمادات (بے حس چیزوں کو) نطق عطا کیا جو ظاہر بینوں کی نظر میں سراسر قانون قدرت کے خلاف ہے تو کیا وہ حی قیوم اپنے نبی ﷺ کو خلاف معمول قلیل مدت میں آسمانوں کی سیر کرانے پر قادر نہیں؟ ”بل وانا على ذالك من الشاهدين“ لیکن حقیقت یہ ہے کہ معراج جیسے عظیم الشان کا وجود گزشتہ، موجودہ اور آئندہ زمانے میں ملنا محال در محال ہے۔ پس اس ضروری تمہید کے بعد میں نفس مضمون پر کچھ خامہ فرسائی کرنی چاہتا ہوں امید کہ قارئین کرام! بغور ملاحظہ فرمائیں گے۔

اسراء اور معراج

مکہ معظمہ سے مسجد اقصیٰ تک آپ ﷺ کا تشریف لے جانا کلام اللہ کی آیت ”سبحن الذى اسرى بعبده“ سے ثابت ہے اور صرف اسی قدر کے سفر کو ”اسراء“ کہتے ہیں اور بیت المقدس سے آسمانوں پر جانے کو معراج کہتے ہیں جو حدیث سے (بھی) ثابت ہے۔ ”هكذا يفهم من تفسير مدارك وغيره“

٥

صفحہ ١٤٧

معراج کی تاریخ اور وقت

اس میں اختلاف ہے مشہور اور اصل بات یہ ہے کہ آپ ﷺ کو معراج جسمانی بعد نبوت کے ہوئی۔ مبعوث ہونے سے قبل والا قول شاذ اور بے اصل ہے۔ چنانچہ حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں ”فقیل کان قبل المبعث وهو شاذ الا ان حمل على انه وقع حينئذ في المنام (فتح الباری ج ٨ ص ٥٤)“ یعنی اور کہا گیا ہے کہ آپ ﷺ کو معراج جسمانی نبوت کے شرف حاصل ہونے سے پہلے ہوئی۔ لیکن یہ قول بے اصل ہے۔ ہاں! اگر قبل نبوت کی معراج کو معراج روحانی سے تعبیر کیا جائے تو ممکن ہے۔ بلکہ حافظ صاحب ص٤٥٤ پر فرماتے ہیں: ”واما كونه قبل المبعث فلا يثبت “ لیکن نبوت سے قبل والا قول قطعا ثابت ہی نہیں۔ امام نوویؒ فرماتے ہیں۔ ”ومنها قوله وذالك قبل ان يوحى اليه وهو غلط (تفسير لباب التاويل ج ١ ص ١٠)“ اور بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کو معراج جسمانی نبوت سے پہلے ہوئی سو یہ قول غلط ہے۔ اب جس طرح وقت معراج میں اختلاف ہے اسی طرح تعین ماہ میں بھی اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک آپ کو معراج ربیع الاول میں ہوئی اور بعض کے نزدیک ربیع الآخر میں اور بعض کے نزدیک رجب میں اور بعض کے نزدیک رمضان میں ہوئی۔ بعض کے نزدیک آپ کو معراج شوال میں ہوئی۔ لیکن علامہ ابن حزم اور ابن عبدالبر اور امام نووی رجب ہی کے قائل ہیں۔

(فتح الباری ص ٤٥٣)

ہاں اختلاف اقوال سے اصل قصہ کے بے اصل ہونے پر شبہ نہ کرنا چاہئے۔ کیونکہ تعدد معراج کے صحیح مان لینے پر تمام اختلاف رفع ہوسکتا ہے۔ (اور یہی ٹھیک ہے)

معراج جسمانی کے نقلی دلائل

یہاں سب سے اول قرآن شریف کے استدلال کو مقدم کیا جاتا ہے۔ گو یہ استدلال اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک نیا اور انوکھا استدلال ہے اور ممکن بلکہ بہت ہی قرین قیاس ہے کہ بعض کوتاہ بین اپنی تنگ نظری کے باعث اس استدلال پر اعتراض قائم کردیں۔ لیکن میں ایسے حضرات پر واضح کردینا چاہتا ہوں کہ استدلال اور کل مضمون کو اوّل سے آخر تک پڑھنے کے بعد جو آپ کا جی چاہے اعتراض کریں۔ لیکن للہ مضمون ختم کرنے سے قبل کسی اعتراض کو اپنے دل میں جگہ دینے کی خواہش نہ کریں۔ لیجئے اب سنئے!

٩

قرآن شریف سے معراج جسمانی کا ثبوت

قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَی (بنی اسر جس نے راتوں رات اپنے بندے (محمد ﷺ) کو مسجد حرام سے اس آیت اسراء میں قادر مطلق ذوالجلال نے لفظ عبد مقرر ہے۔ جسد مع روح سے یعنی۔ عبد جس کے معنی ہیں۔ اگر انسان اسی لفظ عبد کو بغور ملاحظہ کرے تو فقط اسی سے ہے۔ کیونکہ ارواح مجردہ بغیر تعلق بالبدن کے قابل تسمیہ بعبد نہیں قادر مطلق نے قرآن شریف میں جس جگہ لفظ عبد استعمال فرما یا ہے۔ چنانچہ سورۂ مریم میں فرمایا :

پر ہوئی۔ یہاں لفظ عبد سے حضرت زکریا روح مع جسم مراد ہیں

اللہ“ یعنی جب اللہ کا بندہ خدا کو پکارنے کھڑا ہوتا ہے اس آیت میں عبد سے حضرت رسول اللہ ﷺ کی روح مع جسم مراد ہیں۔ کیونکہ صرف روح نہیں کھڑی ہوتی تھی اور کفار صرف آپ

وازدجر “ یعنی ان کفار مکہ سے پہلے نوح کی قوم نے بندے کو جھٹلایا اور کہہ دیا کہ یہ تو دیوانہ اور دھتکارا ہوا۔ علیہ السلام کی صرف روح ہی نہیں بلکہ روح اور جسم دونوں

ما اوحی“ اپنے بندے پر وحی کرنی تھی کری۔ اس آیت میں بھی عبد سے روح مع جسم مراد ہے۔ کیونکہ وحی صرف آپ ﷺ کی روح پر

عبدا اذا صلی“ ان کو بھی دیکھا جو بندے کو نماز سے روکتا ہے۔ اس آ

٧

صفحہ ١٦٧

قرآن شریف سے معراج جسمانی کا ثبوت

قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصٰی (بنی اسرائیل:١) ”یعنی پاک ہے وہ ذات کہ جس نے راتوں رات اپنے بندے (محمدﷺ) کو مسجد حرام سے مسجد اقصٰی تک سیر کرائی۔“

اس آیت اسراء میں قادر مطلق ذوالجلال نے مزید توضیح و تفہیم کے لئے عبدہ فرمایا اور لفظ عبد مفرد ہے۔ جسد مع روح سے یعنی۔ عبد جس کے معنی ہیں بندہ کے روح و جسم دونوں کو کہتے ہیں۔ اگر انسان اسی لفظ عبد کو بغور ملاحظہ کرے تو فقط اسی لفظ سے رفع جسد مع روح ثابت ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ارواح مجردہ بغیر تعلق با البدن کے قابل تسمیہ نہیں ہوتیں۔ ”فافھم“ اس وجہ سے قادر مطلق نے قرآن شریف میں جس جگہ لفظ عبد استعمال فرمایا ہے اس سے مراد روح اور جسم دونوں ہیں۔ چنانچہ سورۂ مریم میں فرمایا:

پر ہوئی۔ یہاں لفظ عبد سے حضرت زکریا روح مع جسم مراد ہیں۔

لِبَدًا“ یعنی جب اللہ کا بندہ خدا کو پکارنے کھڑا ہوتا ہے تو لوگ اس پر جھمگٹا کرنے لگتے ہیں۔ اس آیت میں عبد سے حضرت رسول اللہﷺ مع جسم و روح مراد ہیں۔ کیونکہ نماز پڑھنے صرف رسول اللہﷺ کی روح نہیں کھڑی ہوتی تھی اور کفار صرف آپ کی روح پر ازدحام نہیں کرتے تھے۔

وَّازْدُجِرَ“ یعنی ان کفار مکہ سے پہلے نوح کی قوم بھی جھٹلا چکی ہے۔ پس انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہہ دیا کہ یہ تو دیوانہ اور دھتکارا ہوا ہے۔ اس جگہ بھی عبد سے مراد حضرت نوح علیہ السلام کی صرف روح ہی نہیں بلکہ روح اور جسم دونوں مراد ہیں۔

اپنے بندے پر وحی کرنی تھی کر لی۔ اس آیت میں بھی عبدہ سے مراد حضرت نبی کریمﷺ کا جسم مع روح مراد ہے۔ کیونکہ وحی صرف آپﷺ کی روح پر نہیں ہوا کرتی تھی۔

ان کو بھی دیکھا جو بندے کو نماز سے روکتا ہے۔ اس آیت میں بھی انہیں خاتم النبیین سراج منیر کا

صفحہ ١٦٩

جسم مع روح مراد ہے۔ کیونکہ ابو جہل صرف آپ کی روح کو نماز پڑھنے سے نہیں روکتا تھا۔ اسی طرح اور بیسیوں ایسے مقامات ہیں جہاں لفظ عبد سے روح مع جسد مراد ہے۔ میں انہیں چند مقامات پر اکتفاء کرتا ہوں۔ آیت مذکورہ الصدر سے معراج جسمانی کے استدلال پر مزید روشنی ڈالتا ہوں۔ سو واضح رہے کہ آیت مذکورہ کا مفہوم اسراء ہی سے تعلق رکھتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ متقدمین کا اس میں اختلاف ہے کہ اسراء اور معراج دونوں ایک ہی ساتھ ہوئیں یا الگ الگ۔ درصورت اوّل تو ہمارا استدلال بالکل صاف اور ظاہر ہے۔ لیکن درصورت ثانیہ واقعی ہمارے استدلال میں بالکل مباینت و مفارقت ہے۔ قطع نظر اختلاف متقدمین کے واضح رہے کہ الحمدللہ! ہمارا استدلال صورت اوّل ہی سے تعلق رکھتا ہے۔ لیجئے! اب اس کی دلیل بھی سنتے جائیے۔

امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں باب بایں الفاظ باندھا ہے کہ ”باب کیف فرضت الصلوة ليلة الاسراء “ یعنی باب ہے اس مسئلہ کا کہ جس رات رسول اللہ ﷺ کو سیر کرائی گئی اس میں نماز کیونکر فرض ہوئی؟ حافظ ابن حجرؒ باب مذکور کے الفاظ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔ ” والصلوة انما فرضت فى المعراج تدل على اتحاد هما عنده وانما افرد وكلا منهما بترجمة لان كلا منهما على قصة مفردة وان كان واقعا معاً (فتح البارى ص ٤٥١) “ یعنی نماز تو معراج میں فرض ہوئی تھی۔ لیکن امام بخاریؒ کے نماز کی فرضیت کو اسراء سے تعبیر کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاریؒ کے نزدیک معراج اور اسراء دونوں ایک ہی رات میں واقع ہوئیں اور امام بخاریؒ نے اسراء اور معراج کا اس لئے الگ الگ باب باندھا ہے کہ ہر ایک ان دونوں میں سے اپنے اندر ایک مستقل قصہ رکھتا ہے۔ اگرچہ معراج اور اسراء کا وقوع معاً ایک ہی رات میں ہوا۔ لیکن الگ الگ باب باندھنے پر وہی مصلحت پیش نظر ہے جو مذکور ہوئی اسی طرح حافظ ابن حجرؒ ایک اور جگہ رقمطراز ہیں۔ ” ان الاسراء وقع مرتين مرة على انفراده ومرة مضموماً اليه المعراج وكلاهما فى اليقظة (فتح البارى ص ٤٥٢) “ یعنی رسول اللہ ﷺ کو دو مرتبہ سیر کرائی گئی۔ ایک مرتبہ معراج کے ساتھ اور ایک مرتبہ بغیر معراج کے۔ لیکن دونوں ہی مرتبہ حالتِ یقظہ (بیداری) میں ہوئی۔ یہی حافظ صاحب ایک اور جگہ رقمطراز ہیں۔ ” وايراد هذا الحديث فى باب المعراج عما يؤيد ان المصنف يرى اتحاد ليلة

٨

الاسراء والمعراج (فتح البارى ص ٤٠٣) باب میں لانے سے یہ مقصد معلوم ہوتا ہے کہ امام رات میں معاً واقع ہوئی ہیں۔ حافظ ابن حجرؒ کے کلام سے واضح ہو گیا میں ہوا۔ آیت مذکورۃ الصدر میں جو قادر ذوالجلال نے تو اس ذکر نہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ معراج ذکر عدم شئی کو مستلزم نہیں، اردو زبان میں اس کی مثا اور شہر تشریف لے جائیں اور آپ کے وہاں سے کریں کہ جناب کہاں تشریف لے گئے تھے، آپ تھا۔ دیکھئے! حالانکہ آپ بمبئی سے آگے تک تشریف آپ نے بمبئی کے آگے کے سفر کو حذف کر دیا۔ جس دلیل نہیں ہو سکتا کہ آپ وہاں تک گئے ہی نہیں۔ ا کے عدم وقوع پر دلالت نہیں کر سکتا۔

پس جب معراج اور اسراء کا معاً ایک سجدہ سے استدلال کرنا بھی ٹھیک ہوا۔ فالحمدلله

معراج جسمانی کا ثبوت احادیث سے

معراج جسمانی کے اثبات میں بکثرت کا استقصاء کیا جائے جو موضوع رسالہ پر دال ہیں کو مضمون پورا کرنا دشوار ہو جائے گا۔ لہٰذا چند احاد اور عقلی دلائل سے بالکل صاف کئے دیتا ہوں۔

مردويه وابونعيم فى الدلائل وا صحيح عن ابن عباس قال قال ر فاصبحت فى مكة فظعت وعرفت ان ال

صفحہ ١٦٩

الاسراء والمعراج (فتح الباری ص ٤٠٣) ”یعنی امام بخاری کا اس حدیث کو معراج کے باب میں لانے سے یہ مقصد معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاریؒ کے نزدیک الاسراء اور معراج ایک ہی رات میں معا واقع ہوئی ہیں۔

حافظ ابن حجرؒ کے کلام سے واضح ہو گیا کہ معراج اور اسراء کا وقوع معا ایک ہی رات میں ہوا۔ آیت مذکورۃ الصدر میں جو قادر ذوالجلال نے صرف اسراء کا ذکر کیا ہے اور معراج کا نہیں تو اس ذکر نہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ معراج کا وقوع اسراء کے ساتھ ہوا ہی نہیں۔ کیونکہ عدم ذکر عدم شئی کو مستلزم نہیں، اردو زبان میں اس کی مثال یوں سمجھئے کہ مثلاً اگر آپ بمبئی سے آگے کسی اور شہر تشریف لے جائیں اور آپ کے وہاں سے واپس آنے پر کوئی آپ کے دوست دریافت کریں کہ جناب کہاں تشریف لے گئے تھے، آپ ان کو جواب دیتے ہیں۔ اجی! یہیں بمبئی تک گیا تھا۔ دیکھئے! حالانکہ آپ بمبئی سے آگے تک تشریف لے گئے تھے۔ لیکن بیان کرنے کے وقت آپ نے بمبئی کے آگے کے سفر کو حذف کر دیا۔ جس طرح آپ کا اگلے سفر کو ذکر نہ کرنا اس بات کی دلیل نہیں ہو سکتا کہ آپ وہاں تک گئے ہی نہیں۔ اسی طرح رب العزت کا معراج کو ذکر نہ کرنا اس کے عدم وقوع پر دلالت نہیں کر سکتا۔

پس جب معراج اور اسراء کا معا ایک ہی رات میں واقع ہونا ثابت ہو چکا تو اب لفظ بعبدہ سے استدلال کرنا بھی ٹھیک ہوا۔ فالحمد للہ علی ذالك!

معراج جسمانی کا ثبوت احادیث سے

معراج جسمانی کے اثبات میں بکثرت احادیث وارد ہوئی ہیں۔ اگر ان تمام جزئیات کا استقصاء کیا جائے جو موضوع رسالہ پر دال ہیں تو مضمون میں اتنی طوالت آ جائے گی کہ ناظرین کو مضمون پورا کرنا دشوار ہو جائے گا۔ لہٰذا چند احادیث پر ہی اکتفا کرتا ہوا نفس مضمون کو اقوال علماء اور عقلی دلائل سے بالکل صاف کئے دیتا ہوں۔

مردویہ وابونعیم فی الدلائل والضیاء فی المختارة وابن عساکر بسند صحیح عن ابن عباسؓ قال قال رسول الله ﷺ لما کان لیلة اسری بی فاصبحت فی مكة فظعت وعرفت ان الناس مکذبی فقعدت معتزلا حزینا فمر

٩

صفحہ ١٧١

به عدو الله ابوجهل فجاء حتى جلس اليه فقال له كالمستهزئ هل كان من شئ قال نعم قال وما هو قال انى اسرى بي الليلة فقال الى اين قال الى بيت المقدس قال ثم اصبحت بين ظهر انينا قال نعم فلم يرد ان يكذبه مخافة ان يجحده الحديث ان دعا قومه اليه قال ارايت ان دعوت قومك اتحدثهم بما حدثتنى قال نعم قال هيا يا معشر بني كعب بن لؤي فانقضت اليه المجالس وجاءوا حتى جلسوا اليها قال حدث قومك بما حدثتني فقال رسول الله ﷺ اني أسرى بي الليلة قالوا الى اين قال الى بيت المقدس قالوا ايليا قال نعم قالوا ثم أصبحت بين ظهرا نينا قال نعم، قال فمن بين مصفق ومن بين واضع يده على راسه متعجبا قالوا: وتستطيع ان تنعت المسجد وفى القوم من قد سافر اليه قال رسول الله ﷺ فذهبت انعت فما زلت انعت حتى التبس على بعض النعت فجئ بالمسجد وانا انظر اليه حتى وضع دون دار عقيل او عقال فنعته وانا انظر اليه فقال القوم اما النعت فوالله لقد اصاب - (در منثور ص ٤٠ ج ٤) یعنی ابن ابی شیبہ احمد و نسائی بزار اور طبرانی ابن مردویہ اور ضیاء اور ابن عساکر نے صحیح سند کے ساتھ ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں رات میں بیت المقدس جا کر صبح مکہ میں واپس آگیا مجھے یقین ہوا کہ لوگ اس واضح بیان کرنے سے میری تکذیب ضرور کریں گے میں اسی خیال میں ایک طرف غمگین بیٹھا تھا کہ دشمن خدا ابو جہل آ کر میرے پاس بیٹھ گیا اور بطور استہزاء مجھ سے دریافت کرنے لگا کہ کیوں کیا کوئی نئی بات ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں ! اس نے کہا کیا نئی بات ہے فرمایا آج رات مجھے یہاں سے لے جا کر سیر کرائی گئی۔ اس نے کہا کہاں تک، آپ نے فرمایا بیت المقدس تک ۔ پھر اس نے کہا کہ رات کو اتنی دور کی مسافت طے کر کے پھر صبح ہم لوگوں میں موجود ہو گئے؟ آپ نے فرمایا ہاں! ابو جہل نے جب یہ سنا تو اس خیال سے رسول اللہ ﷺ کے قول کی تکذیب نہ کی کہ مبادا رسول اللہ ﷺ لوگوں کے سامنے بھی اس کا انکار نہ کر جائیں اور کہا کہ آپ یہ بات لوگوں کے سامنے بھی بیان کر سکیں گے؟ آپ نے فرمایا ضرور ! ابو جہل نے یہ سنتے ہی بآواز بلند پکارا۔ اے گروہ بنی کعب بن لؤی ! لوگ یہ سنتے ہی ابو جہل کی آواز پر ٹوٹ پڑے۔ پھر ابو جہل نے رسول اللہ ﷺ سے کہا جو بات آپ نے مجھ سے بیان فرمائی تھی وہ ان لوگوں سے بھی کہہ دیجئے ۔ آپ نے فرمایا

صفحہ ١٧٢

کہ آج رات مجھے یہاں سے فرشتے لے گئے تھے۔ لوگوں نے پوچھا، کہاں! آپ نے فرمایا بیت المقدس، لوگوں نے کہا کیا ایلیا؟ آپ نے فرمایا ہاں ! کہا پھر آپ صبح کے وقت ہم لوگوں میں موجود ہوگئے! آپ نے فرمایا ہاں ! یہ سنتے ہی لوگوں کی یہ کیفیت ہو گئی کہ کوئی تو تالیاں بجانے لگا اور کوئی تعجب سے سر پر ہاتھ رکھنے لگا۔ پھر انہوں نے کہا آپ مسجد کا حال بیان کر سکتے ہیں۔ حالانکہ ان میں وہ لوگ بھی موجود تھے جو بیت المقدس کا سفر کر چکے تھے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں مسجد کا حال ان کے سامنے بیان کرنے لگا۔ یہاں تک کہ بعض علامتوں میں کچھ اشتباہ سا ہو گیا۔ معاً میرے سامنے مسجد ورے دار عقیل رکھی گئی۔ جس کو میں دیکھ دیکھ کر بیان کرنے لگا۔ ان لوگوں نے جب پوری علامتیں سن لیں تو بے ساختہ پکار اٹھے کہ واللہ علامتیں تو سب برابر بتلائیں۔ انتہی !

اس روایت میں چند امور قابل نوٹ ہیں۔

بسند صحیح مروی ہو تو کس پایہ اور اعتبار کی ہوگی۔

بات پر کہ یہ واقعہ خواب کا نہ تھا۔ کیونکہ خواب میں اکثر عجیب و غریب، خلاف عقل واقعات دیکھے جاتے ہیں۔ مگر کسی کو یہ فکر نہیں ہوتا کہ لوگ اس خواب پر میری تکذیب کریں گے۔

رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ کا گمان غالب تھا۔ لوگ اس خلاف عقل واقعہ کی ضرور تکذیب کریں گے۔ اگر صرف یہ خواب ہی تھا تو غمگین ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ خواب میں تو اس سے بھی کئی حصہ زیادہ انسان خلاف عقل واقعات دیکھتا ہے۔ مگر کوئی بھی مخبر ان کو دیکھنے سے غمگین اور حزین نہیں ہوتا۔

مکہ اپنی کامیابی اس میں سمجھتے تھے کہ الصادق المصدوق کو اس واقعہ میں جھوٹا ثابت کر دکھائیں۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ خلاف عقل خواب سننے سے طبیعتوں میں جوش ہرگز پیدا نہیں ہوتا۔ زیادہ سے زیادہ ان خلاف عقل خوابوں پر اضغاث احلام (یعنی پریشان خواب) کا فتویٰ لگا سکتے ہیں۔ حالانکہ ایسا کسی حدیث سے ثابت نہیں کہ مشرکین نے اس واقعہ کو سن کر پریشان خواب کہا ہو۔

صفحہ ١٧٣

سے واپس ہو کر صبح ہم میں موجود ہو گئے؟ تو آپ نے اس کی تصدیق کی تو اس تصدیق سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آپ جسم کے ساتھ حالت بیداری میں تشریف لے گئے تھے۔ ورنہ جواب میں فرما دیتے کہ یہ تو خواب تھا میں جسم کے ساتھ گیا ہی کب تھا جو مجھ سے پوچھا جاتا ہے۔ ”ثم اصبحت بین اظھرنا“ یعنی صبح یہاں ہم میں موجود ہو گئے۔

خواب بیان کرنے والے کا یہ دعویٰ ہی نہیں ہوتا کہ جو میں نے دیکھا ہے وہ واقع کے مطابق ہے۔ اسی وجہ سے تو اس میں تعبیر کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے کفار کے یہ ذہن نشین کرایا جاتا کہ یہ واقعہ خواب میں دیکھا گیا ہے تو نہ ان کو علامات پوچھنے کا موقع ملتا اور نہ رسول اللہ ﷺ کو جواب دینے کی ضرورت ہوتی اور نہ ہی طبیعت کو اتنی الجھنوں کا سامنا کرنا پڑتا۔

الحاصل! حدیث مذکور میں غور کرنے سے یہ بات یقینی طور پر ثابت ہو سکتی ہے کہ یہ واقعہ حالت بیداری میں ہوا۔ خواب سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ چنانچہ اس کی تصدیق ایک اور روایت سے بھی ہو سکتی ہے جہاں لکھا ہے:

فی الدلائل وصححہ عن شداد بن اوس رضی اللہ عنہ قال قلنا یا رسول اللہ کیف اسری بک فقال صلیت باصحابی العتبة بمکة معتماً فاتانی جبریل بدابةٍ بیضاء فوق الحمار ودون البغل (الی ان قال) ثم انصرف بی فمررنا بعیر قریش بمکان کذا وکذا وقد اضلوا بعیر لہم قد جمعہ فلان فسلمت علیہم فقال بعضہم ہذا صوت محمد ثم اتیت اصحابی قبل الصبح بمکة فاتانی ابوبکر فقال یا رسول اللہ این کنت اللیلة قد التمستک فی مکانک فقلت اعلمت انی اتیت بیت المقدس اللیلة فقال یا رسول اللہ انہ مسیرة شہر فصفہ لی قال ففتح لی صراط کانی انظر الیہ لا تسألونی عن شئ الانباءتکم عنہ فقال ابوبکر رضی اللہ عنہ اشہد انک رسول اللہ وقال المشرکون انظروا الی ابن ابی کبشة زعم انہ اتی بیت المقدس اللیلة فقال

١٢

ان من ایة ما اقول لکم انی مررت بعیر لکم بمکان کذا وکذا وقد اضلوا بعیرا لہم فجمعہ فلان وان مسیرہم ینزلون بکذا وکذا ویاتونکم یوم کذا وکذا ویقدمہم جمل ادم علیہ شیخ اسود وغرارتان سوداوان فلما کان ذالک الیوم اشرف القوم ینظرون حتی کان قریبا من نصف النہار اقبلت العیر یقدمہم ذالک الجمل الذی وصفہ رسول اللہ ﷺ (درمنثور، ص: ٢٢٦، ج: ٤)“

یعنی شداد بن اوسؓ کہتے ہیں کہ ہم صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کو بیت المقدس کس طرح لے گئے آپ نے جواباً فرمایا کہ میں جب صحابہ کے ساتھ تھا عشاء کے وقت جبرائیل علیہ السلام میرے لئے سواری لائے پھر تمام واقعہ بیان فرمایا کہ جب میں واپس بیت المقدس سے لوٹے تو فلاں فلاں مقام میں ہمارا ایک قافلہ پر گزر ہوا ان قریش کے قافلے والوں کا ایک اونٹ گم ہو گیا جس کو فلاں شخص نے پکڑ لیا میں نے ان کو سلام کیا تو قافلے والوں کے بعض افراد نے کہا کہ یہ تو آواز محمد (ﷺ) کی ہے۔ پھر میں مکہ میں اپنے صحابہ کے پاس پہنچ گیا۔ پھر ابوبکر میرے پاس آئے اور فرمایا یا رسول اللہ! کہاں تشریف لے گئے تھے؟ میں نے آپ کو آپ کے مقام پر تلاش کیا تھا۔ میں نے کہا تمہیں معلوم بھی ہے کہ میں رات بیت المقدس گیا تھا۔ ابوبکر نے کہا وہ تو ایک ماہ کی مسافت کا راستہ ہے۔ (آپ کس طرح ایک رات میں وہاں سے واپس آسکتے ہیں؟) آپ ذرا مجھے اس کی تفصیل کیجئے۔ آپ نے فرمایا بیت المقدس ایک مہینہ کی مسافت پر ہے مگر اللہ نے میرے لئے ایک راستہ ایسے نزدیک کا دکھلایا کہ بیت المقدس گویا میری آنکھوں کے سامنے ہے وہاں کی جو بات تم مجھ سے پوچھو گے میں تمہیں بتا دوں گا۔ (مطلب یہ تھا کہ میں تمہارے پوچھنے کی کوئی غرض نہیں میں تو گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں) اور مشرکین مکہ یہ کہہ کر دیکھو ابن ابی کبشہ (یہ از راہ عناد رسول اللہ ﷺ کو کہا کرتے تھے) کا گمان ہے کہ وہ رات بیت المقدس سے واپس ہو کر مکہ میں آگیا۔ آپ نے فرمایا میری سچائی کی دلیل یہ بھی ہے کہ میں آکر فلاں مقام میں تمہارے قافلہ پر ایسے وقت گزرا کہ وہ اپنا ایک اونٹ گم کر رہے تھے اتنے میں فلاں شخص نے اسے گھیر لیا۔ تمہارے قافلے والے فلاں مقام پر اتریں گے فلاں دن فلاں فلاں مقام پر قیام کریں گے۔ اس کے بعد ان کے قافلے والے یہاں آئیں

١٣

صفحہ ١٧٣

ان من اية ما اقول لكم انى مررت بعير لكم بمكان كذا وكذا وقد اضلوا بعيرا لهم فجمعه فلان وان مسيرهم ينزلون بكذا وكذا وياتونكم يوم كذا وكذا ويقدمهم جمل ادم عليه شيخ اسود وغرارتان سوداوان فلما كان ذلك اليوم اشرف القوم ينظرون حتى كان قريبا من نصف النهار قدمت العير يقدمهم ذلك الجمل الذى وصفه رسول الله ﷺ (درمنثور ج ٥ ص ١٦٧)

یعنی شداد بن اوسؓ کہتے ہیں کہ ہم صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ ﷺ کو بیت المقدس کس طرح لے گئے؟ آپ نے جواباً فرمایا کہ میں جب صحابہ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھ چکا تو جبرائیل علیہ السلام میرے لئے سواری لائے پھر تمام واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ جب ہم بیت المقدس سے لوٹے تو فلاں فلاں مقام میں ہمارا ایک قافلہ پر گزر ہوا جو مکہ کو جارہا تھا۔ ان قافلے والوں کا ایک اونٹ گم ہوگیا جس کو فلاں شخص نے پکڑ لیا اسی حالت میں میں نے ان پر سلام کیا تو قافلے والوں کے بعض افراد نے کہا کہ یہ تو آواز محمد (ﷺ) کی ہے۔ غرضیکہ صبح سے پہلے میں مکہ میں اپنے صحابہ کے پاس پہنچ گیا۔ پھر ابوبکر میرے پاس آئے تو کہا یا رسول اللہ آپ رات کو کہاں تشریف لے گئے تھے؟ میں نے آپ کو آپ کے مقام پر تلاش کیا۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم بھی ہے کہ میں رات بیت المقدس گیا تھا۔ ابوبکرؓ نے کہا یا رسول اللہ وہ تو ایک مہینہ کا راستہ ہے۔ (آپ کس طرح ایک رات میں وہاں سے واپس ہوکر واپس تشریف لے آئے) ذرا اس کی تفصیل کیجئے۔ آپ نے فرمایا بیت المقدس ایک مہینہ کی راہ پر واقع ہے۔ مگر خدا تعالیٰ نے میرے لئے ایک راستہ ایسے نزدیک کا کھول دیا کہ بیت المقدس بالکل ہی میرے پیش نظر ہوگیا۔ وہاں کی جو بات تم مجھ سے پوچھو گے میں تمہیں بتا دوں گا۔ ابوبکرؓ نے کہا یا رسول اللہ مجھے علامت پوچھنے کی کوئی غرض نہیں میں تو گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور مشرکین نے کہا کہ دیکھو ابن ابی کبشہ (یہ ازراہ عناد رسول اللہ ﷺ کو کہا کرتے تھے) یہ کہتا ہے کہ میں آج راتوں رات بیت المقدس سے واپس ہوکر مکہ میں آگیا۔ آپ نے فرمایا کہ میں اس کی تم کو ایک نشانی بتاتا ہوں کہ میرا گزر فلاں مقام میں تمہارے قافلہ پر ایسے وقت ہوا کہ وہ اپنے گم شدہ اونٹ کو تلاش کر رہے تھے اتنے میں فلاں شخص نے اسے گھیر لیا۔ تمہارے قافلہ کی رفتار سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ فلاں دن فلاں فلاں مقام پر قیام کریں گے۔ اس کے بعد فلاں مقام میں اور فلاں روز وہ یہاں

١٣

صفحہ ١٧٤

پہنچ جائیں گے (قافلہ کی علامت یہ ہے) کہ ان کے آگے ایک سفید اونٹ ہے جس کی پیٹھ پر دو کالے کجاوے تھے اور اس پر ایک سن رسیدہ شخص سیاہ رنگ سوار ہے (جو دن رسول اللہ ﷺ کے قافلہ کے آنے کا مقرر کیا تھا) جب وہ دن آیا تو لوگ اس قافلہ کو دیکھنے نکلے۔ چنانچہ وہ قافلہ دوپہر کے قریب آ پہنچا اور جس طرح رسول اللہ ﷺ نے قافلہ کی علامت بتلائی تھی اسی طرح قافلہ کے آگے وہ سفید اونٹ تھا اور ویسا ہی سن رسیدہ شخص۔

اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اشارۃً بیان فرمایا صدیق اکبرؓ نے رسالت کی شہادت دے کر اس کی تصدیق کرلی۔ کیونکہ جب رسالت کا اقرار کرلیا جائے تو اس کے لوازمات اپنے آپ مان لئے جاتے ہیں۔

دیکھئے لفظ: "انصرفت ثم اتيت قبل الصبح بمكة" سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس رات مکہ میں تشریف نہیں رکھتے تھے اور اس پر قوی دلیل یہ ہے کہ ابوبکرؓ نے آپ کو اس رات تلاش کیا لیکن آپؓ نہ ملے اگر رسول اللہ ﷺ مکہ ہی میں ہوتے تو فرما دیتے کہ اے ابوبکرؓ میں گیا ہی کہاں تھا میں تو مکہ ہی میں تھا لیکن ابوبکرؓ کے سوال پر آپ کا یہ فرمانا: کہ میں بیت المقدس گیا تھا بآواز بلند پکار رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ مع جسم تشریف لے گئے تھے۔

علاوہ ازیں آپ کا ایسی تاریکی کی حالت میں قافلے والوں پر سلام کرنا اور ان کا آپ کو جواب دینا اسی غرض سے تھا تاکہ معراج کی خبر سن کر ان کے دل معراج کی صحت کی گواہی دیں۔ کیونکہ انہوں نے اپنے کانوں سے رسول اللہ ﷺ کی آواز سن لی تھی۔

جب منکروں نے رسول اللہ ﷺ کے بیت المقدس جانے کے دعوے پر یقین ہو گیا کہ محمد (روحی فداہ) کا واقعی یہی دعویٰ ہے کہ وہ بیت المقدس گئے تھے؟ اس پر آپ کا یہ فرمانا کہ لو مجھ سے بیت المقدس کی علامتیں دریافت کرلو میں تمہیں بتاتا یہ لفظ علانیہ طور پر ثابت کر رہا ہے کہ آپ نے ان کے قول کو صحیح تسلیم کرتے ہوئے مقامی علامتیں بتانے کا بھی عزم کر لیا تھا اور یہ جب ہی ہوتا کہ جب کوئی شخص آنکھ سے تمام واقعات دیکھ لے اور معلوم کرے۔ ورنہ خواب دیکھنے والے کو نہ تو دعویٰ تام ہی ہوتا ہے اور نہ وہ مقامی علامتیں بتانے پر قادر۔ چنانچہ ایک اور واقعہ میں اس سے بھی زیادہ تصریح کی گئی ہے۔ حضرت ابن عباسؓ آیت "وما جعلنا الرؤيا التى" کی تفسیر میں فرماتے ہیں: "حدثنا الحميدى قال حدثنا سفين قال حدثنا عمرو عن

١٢٢

صفحہ ١٧٧

عكرمة عن ابن عباس في قوله تعالى وما جعلنا الرءيا التي اريناك الا فتنة للناس قال هى رؤيا عين اريها رسول الله ﷺ ليلة اسرى به الى بيت المقدس وليست برؤيا منام (البخاري مع فتح الباري ص٤٦٢، در منثور ج٤ ص١٧٠) ”یعنی حبر الامة حضرت ابن عباسؓ آیت (وما جعلنا الرؤيا التي...) الخ کی یہ جو کچھ ہم نے تم کو اے محمدﷺ دکھایا ہے، سو اسی واسطے تھا تاکہ لوگوں کی آزمائش ہو جائے۔ اس کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ رویا سے مراد اس جگہ رویت چشم ہے خواب میں دیکھنا مراد نہیں۔ یعنی شب معراج جو رسول اللہ ﷺ کو بیت المقدس اور آسمان وغیرہ میں نشانیاں دکھلائی گئیں تھیں ۔ وہ خواب کی حالت نہ تھی بلکہ آپ نے چشم خود یہ تمام واقعات دیکھے ہیں غور کیجئے کہ باوجودیکہ رویا خواب کے معنوں میں کثیر الاستعمال ہے، لیکن رئیس المفسرین حضرت ابن عباسؓ کا رویا کی تفسیر رویت چشم سے کرنا دلیل ہے۔ اس بات پر کہ صاحب موصوف (ابن عباسؓ) نہ صرف معراج جسمانی کے قائل تھے بلکہ معراج جسمانی کے وقوع وصحت کا انہیں پورے طور سے یقین کامل تھا۔ اگر حضرت ابن عباسؓ کو وقوع معراج جسمانی میں ذرا بھی تامل ہوتا تو خدا کی قسم قرآن مجید کی آیت کی تفسیر اس جزم کے ساتھ کبھی بھی نہ کرتے "كيف ينطق به وقد قال له رسول الله ﷺ اللهم علمه الحكمة وتاويل الكتاب"

چنانچہ حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں: ”ان مراد ابن عباس هنا برؤية العين المذكورة جميع ما ذكره ﷺ فى تلك الليلة من الاشياء التي تقدم ذكرها (فتح الباري ص٤٦٢ ج١٥) “ یعنی ابن عباسؓ کی مراد لفظ رویا کی تفسیر عین سے کرنے کی یہ ہے کہ آپ نے جن اشیاء مذکورہ (براق، نماز کے فرض ہونے کی کیفیت، کفار مکہ کے قافلہ سے ملاقات کرنا وغیرہ) کا ذکر صحابہ کرامؓ کے سامنے کیا تھا وہ رویت عینی (بچشم خود) دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے جن چیزوں کا ذکر صحابہ کرامؓ کے سامنے کیا تھا وہ چیزیں آپ نے خواب کی حالت میں نہ دیکھی تھیں بلکہ ان کا تعلق بیداری کی حالت میں تھا۔ چنانچہ ذیل کی روایت سے بھی اس کی تصریح ہوتی ہے۔

”واخرج الطبرانى وابن مردويه عن ام هانى قالت بات رسول الله ﷺ ليلة اسرى به فى بيتى ففقدته من الليل فامتنع عنى النوم مخافة ان

٢٥

صفحہ ١٧٦

يكون عرض له بعض قريش فقال رسول الله ﷺ (الى ان قال) وانا اريد ان اخرج الى قريش فاخبرهم ما رأيت فاخذت بثوبه فقلت انى اذكرك الله انك تأتى قوما يكذبونك وينكرون مقالتك فاخاف ان يسطوا بك قالت فضرب ثوبه من يدى ثم خرج اليهم فاتاهم وهم جلوس فاخبرهم (درمنثور ج ٥ ص ١٨١) ”یعنی ام ہانیؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو جس رات معراج ہوئی آپ اس رات میرے ہی گھر تشریف رکھتے تھے۔ (عشاء کی نماز تو پڑھ کر آپ سو گئے لیکن رات کے کچھ حصہ گزرنے پر جب میری آنکھ کھلی تو) میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے بستر پر نہ پایا۔ مجھے مارے خوف کے باقی رات نیند ہی نہ آئی کہ مبادا قریش مکہ آپ کے ساتھ کسی بدسلوکی سے پیش نہ آئے ہوں (میں اسی خیال میں تھی کہ رسول اللہ ﷺ سے ملاقات ہونے پر میں نے کہا کہ یا رسول اللہ آپ کہاں تشریف لے گئے تھے؟) میرے دل میں تو یہ خیالات آ رہے تھے آپ نے اپنے جانے کا تمام واقعہ بیان کر کے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ جو کچھ میں نے رات دیکھا ہے وہ سب قریش سے بیان کر دوں۔ (ام ہانیؓ کہتی ہیں) کہ میں نے حضرت کا دامن پکڑ کر کہا کہ خدا کے لئے آپ یہ کیا غضب کرتے ہیں۔ وہ تو پہلے ہی سے آپ کی تکذیب اور آپ کی باتوں کے انکار پر تلے بیٹھے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ واقعہ سن کر آپ پر حملہ نہ کر بیٹھیں رسول اللہ ﷺ نے جھٹکا مار کر دامن چھڑا لیا اور کفار کے مجمع میں جا کر تمام واقعہ بیان فرما دیا۔

ناظرین! غور کیجئے کہ اگر یہ واقعہ روحانی یا منامی حیثیت اپنے اندر رکھتا تو ام ہانیؓ کا رسول اللہ ﷺ کو واقعہ بیان کرنے سے روکنا اور آپ کا اس (واقعہ) کے اظہار اور بیان پر اصرار کرنا ایک عبث اور بیہودہ قرار پاتا ہے۔ "فهذا لا يليق للمؤمن الكامل فكيف يظن بالنبي المرشد العادل"

علاوہ بریں حضرت ام ہانیؓ کا رسول اللہ ﷺ کو آپ کی جگہ میں باوجود تلاش کرنے کے نہ ملنا صریح دلیل ہے اس بات پر، کہ آپ اس رات ملاء اعلیٰ میں انوار قدس الہیہ کے نظاروں سے متاثر ہو رہے تھے اور اگر تھوڑی دیر کے لئے تسلیم بھی کر لیا جائے کہ پیغمبر خدا ﷺ کا دامن معراج جسمانی سے خالی۔ لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ اس معراج روحانی کے وقوع سے صحابہ کرام (رضوان اللہ اجمعین) کی ایک جماعت کیوں مرتد ہوئی۔ کیا روحانی یا منامی واقعہ اپنے اندر اتنی ہی اہمیت

١٦

١٧٧

رکھتا ہے کہ مجرد اس کے سننے سے ایک سچے مذہب میں دا الوداعی سلام کہہ دیں۔ دیکھئے!

بعض لوگ معراج جسمانی کو بعید از عقل سمجھ کر

چنانچہ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں:- ”اسر

ثم جاء من ليلته فحدثهم بمسيره وبعلامة بيت نصدق محمدا بما يقول فارتدوا كفارا

(در منثور ص ١٨٨ ج ٥) ”یعنی جب رسول اللہ ﷺ یہ لے آئے اور آپ نے جانے کا واقعہ اور بیت المقدس فرمایا تو بہت سے لوگوں نے (اس کے وقوع کو مستبعد سمجھ کی ہرگز تصدیق نہیں کر سکتے۔ چنانچہ وہ مرتد ہو گئے او گئی۔ اسی روایت کے قریب قریب حضرت قتادہؓ سے بھی

چنانچہ لکھا ہے: "واخرج ابن جرير

اريناك الا فتنة للناس يقول اراه من المقدس نكرلنا ان ناسا ارتدوا بعد اسل

(در منثور ج ٥ ص ٢٧١) ”یعنی حضرت قتادہؓ کہتے ہی اريناك" سے وہ نشانیاں مراد ہیں جو بیت المق گئیں۔ جب آپ نے وہ حالات بیان کئے تو بہت س تو ایسی بعید از عقل باتیں کرتے ہیں کہ میں ایک ہی مہینے کی ہے) جا کر واپس آ گیا۔ باوجودیکہ وہ لوگ معراج سن کر مرتد ہو گئے۔ ان روایات سے ظاہر ہ ان مسلمانوں کے دل میں جگہ نہ پکڑ سکا اور نہ وہ اس پروردگار نے ان کے دلوں سے ایمان سلب کر لیا۔ غ قدر خلاف عقل تھا کہ مسلمان اس کے سننے کی تاب بیٹھے۔ یاد رکھئے! عقل اس بات کی کبھی تائید نہیں کر

٧

صفحہ ١٧٧

رکھتا ہے کہ مجرد اس کے سننے سے ایک سچے مذہب میں داخل ہونے والے اپنے پاک مذہب کو الوداعی سلام کہہ دیں۔ دیکھئے!

بعض لوگ معراج جسمانی کو بعید از عقل سمجھ کر مرتد ہو گئے

چنانچہ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں ۔ ”اسرى بالنبيﷺ الى بيت المقدس ثم جاء من ليلة فحدثهم بمسيره وبعلامة بيت المقدس وبعيرهم فقال ناس لا نصدق محمداً بما يقول فارتدوا كفاراً فضرب الله رقابهم مع ابي جهل (درمنثور ص١٨٨ ج٥) ”یعنی جب رسول اللہ ﷺ بیت المقدس جاکر اسی رات واپس تشریف لے آئے اور آپ نے جانے کا واقعہ اور بیت المقدس کی علامتیں اور کفار کے قافلہ کا حال بیان فرمایا تو بہت سے لوگوں نے (اس کے وقوع کو مستبعد سمجھ کر کہا) کہ ہم ان امور میں رسول اللہ ﷺ کی ہرگز تصدیق نہیں کر سکتے۔ چنانچہ وہ مرتد ہو گئے اور آخر ابو جہل کے ساتھ ان کی گردن ماری گئی۔ اسی روایت کے قریب قریب حضرت قتادہؒ سے بھی مروی ہے۔

چنانچہ لکھا ہے : ”واخرج ابن جرير عن قتادة وما جعلنا الرويا التي اريناك الا فتنة للناس يقول اراه من الايات والعبر فى مسيره الى بيت المقدس ذكر لنا ان ناسا ارتدوا بعد اسلامهم حين حدثهم رسول الله ﷺ (درمنثور ج٥ ص٢٧١) ”یعنی حضرت قتادہؒ کہتے ہیں کہ آیت ”وما جعلنا الرويا التي اريناك“ سے وہ نشانیاں مراد ہیں جو بیت المقدس جانے کے وقت رسول اللہ ﷺ کو دکھلائی گئیں۔ جب آپ نے وہ حالات بیان کئے تو بہت سے لوگوں نے براہ انکار آپ سے کہا کہ آپ تو ایسی بعید از عقل باتیں کرتے ہیں کہ میں ایک ہی رات میں بیت المقدس (جس کی مسافت دو مہینے کی ہے) جا کر واپس آگیا۔ باوجودیکہ وہ لوگ حلقہ اسلام میں داخل ہو چکے تھے۔ لیکن واقعہ معراج سن کر مرتد ہو گئے۔ ان روایات سے ظاہر ہے کہ واقعہ ظاہراً خلاف عقل ہونے کی وجہ سے ان مسلمانوں کے دل میں جگہ نہ پکڑ سکا اور نہ وہ اس کی تصدیق کی طرف مائل ہوئے۔ اسی وجہ سے پروردگار نے ان کے دلوں سے ایمان سلب کر لیا۔ غور کیجئے کہ کیا خواب میں بیت المقدس جانا اس قدر خلاف عقل تھا کہ مسلمان اس کے سننے کی تاب نہ لا سکے بلکہ سنتے ہی اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یاد رکھئے! عقل اس بات کی کبھی تائید نہیں کرتی اور نہ مشاہدہ اس کا مؤید ہے۔ کیونکہ حالت

١٧

صفحہ ١٧٨

منامی میں انسان ایک بیت المقدس کیا بلکہ اگر ہزاروں بیت المقدس جتنی مسافت ہو طے کرلے جب بھی کوئی اسے بعید از عقل نہ سمجھے گا۔ خلاف عقل اسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ واقعہ مذکورہ کو عالم بیداری سے تعبیر کیا جائے۔ اس واسطے رسول اکرم ﷺ نے واقعہ اسراء لوگوں کے سامنے بیان کیا تو سوا صدیق اکبرؓ کے کسی نے بھی آپ کے بیان کی تائید نہ کی اور اس تائید و تصدیق کرنے کی بدولت اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکرؓ کو صدیق جیسے بہترین لقب سے ملقب کیا۔

حضرت ابوبکرؓ کا لقب صدیق معراج ہی کی تصدیق سے ہوا

چنانچہ حضرت ام ہانیؓ نے معراج کا واقعہ بیان کر کے کہا ہے کہ: ’’قال المطعم کل امرك قبل اليوم كان امما غير قولك اليوم انا اشهد انك كاذب نحن نضرب اكباد الابل الى بيت المقدس مصعدا شهرا ومنحدرا شهرا تزعم انك اتيته فى ليلة واللات والعزى لا اصدقك فقال ابوبكر يا مطعم بئس ما قلت لا بن اخيك جبهته وكذبته انا اشهد انه صادق فقالوا يا محمد صف لنا بيت المقدس قال دخلته ليلا وخرجت منه ليلا فاتاه جبريل عليه السلام فصوره فى جناحه فجعل يقول باب منه كذافى موضع كذا وباب منه كذافى موضع كذا وابى بكر يقول صدقت صدقت فقال رسول الله ﷺ يومئذ يا ابابكر ان الله قد سماك الصديق (درمنثور ج ٥ ص ١٨٢) ‘‘جب رسول اللہ ﷺ نے کفار کے آگے معراج کا واقعہ بیان کیا تو مطعم نے کہا کہ اب تک تو آپ کا معاملہ ٹھیک رہا۔ لیکن آج جو آپ یہ انوکھی بات سنا رہے ہیں اس سے معلوم ہو گیا کہ آپ جھوٹے ہیں۔ غضب ہے کہ ہم تو اونٹوں کو مار مار کے دو مہینے میں بیت المقدس سے واپس آئیں لیکن آپ یہ فرماتے ہیں کہ میں ایک ہی رات میں بیت المقدس سے واپس آگیا۔ لات عزیٰ کی قسم یہ بات تو میں آپ کی ہرگز نہ مانوں گا۔ ابوبکرؓ نے کہا کہ اے مطعم ! تم نے تو بڑا گستاخانہ کلمہ اپنی زبان سے نکالا (اور علاوہ اس کے) تم نے اپنے بھتیجے (رسول اللہ ﷺ کو) شرمندہ کیا اور آپ کی تکذیب کی (واللہ ) میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے رسول سچے ہیں۔ (ابوبکرؓ یہ بات کہنے پائے تھے) کہ کفار نے کہا کہ اے محمد ! (ﷺ) ذرا بیت المقدس کا حال تو بیان کیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں رات کے وقت اس میں داخل ہوا تھا اور رات ہی کو وہاں سے آیا۔ (مجھے اچھی طرح وہاں کی علامتیں یاد نہیں۔ آپ ابھی یہ فرما ہی رہے تھے کہ ) جبرائیل علیہ السلام آئے اور اپنے بازو میں بیت المقدس کا نقشہ

١٨

صفحہ ١٧٩

ل بیت المقدس جتنی مسافت ہو طے کر لے ی وقت ہو سکتا ہے جب کہ واقعہ مذکورہ کو عالم ﷺ نے واقعہ اسراء لوگوں کے سامنے بیان کیا تائید نہ کی اور اس تائید و تصدیق کرنے کی ق لقب سے ملقب کیا۔

تصدیق سے ہوا ن کر کے کہا ہے کہ: ”قال المطعم کل انا اشهد انك كاذب نحن نضرب را ومنحدرا شهرا تزعم انك اتيته وبکرؓ یا مطعم بئس ما قلت لا بن ق فقالوا يا محمد صف لنا بيت ه ليلا فاتاه جبريل عليه السلام انی موضع كذا وباب منه كذا فی ت فقال رسول الله ﷺ یومئذٍ یا ہ ص١٨٢) ”جب رسول اللہ ﷺ نے اب تک تو آپ کا معاملہ ٹھیک رہا۔ لیکن کیا کہ آپ جھوٹے ہیں۔ غضب ہے کہ ں آئیں لیکن آپ یہ فرماتے ہیں کہ میں ڑکی کی قسم یہ بات تو میں آپ کی ہرگز نہ کلمہ اپنی زبان سے نکالا (اور علاوہ اس ر آپ کی تکذیب کی (واللہ ) میں گواہی چے پائے تھے ) کہ کفار نے کہا کہ اے ﷺ نے فرمایا کہ میں رات کے وقت اچھی طرح وہاں کی علامتیں یادنہیں۔ اور اپنے بازو میں بیت المقدس کا نقشہ

پیش نظر کر دیا۔ جس کو دیکھ دیکھ کر آپ مقامی علامتیں بتانے لگے کہ فلاں دروازہ فلاں مقام میں ہے اور فلاں دروازہ فلاں مقام میں۔ ( آپ تمام علامتیں بتاتے جاتے تھے ) اور حضرت ابوبکرؓ اس کی تصدیق کرتے جاتے تھے۔ اس روز آپ ﷺ نے ابوبکرؓ سے فرمایا کہ اے ابوبکرؓ! اللہ نے بوجہ اس عظیم الشان واقعہ کی تصدیق کے آج سے تمہارا نام صدیق رکھا۔

الحاصل! اسلام میں معراج کا واقعہ گویا محک امتحان ہے جس نے اس کی تصدیق کی وہ دولت ایمانی سے مالا مال اور نور اسلام سے منور ہوا اور جس نے اس کا انکار کیا اور اس کے وقوع کو مستبعد سمجھا اس کی شقاوت ازلی کا پردہ چاک اور دائمی بدبختی کا ستارہ بلند ہوا۔ اس سے بڑھ کر اور کیا بدبختی ہوگی کہ سب جانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی بیت المقدس کی شکل تک نہیں دیکھی اور پھر باوجود یکہ جو جو نشانیاں پوچھتے گئے آپ نے بلا کم وکاست سب بیان فرمادیں۔ قافلہ والوں کا حال بھی دریافت کرنے پر بالکل ٹھیک اور سچ بتا دیا۔ لیکن آہ! پھر بھی منکروں نے دیگر معجزات کی طرح ہذا ساحر کذاب کہہ کر اپنا پیچھا چھڑا لیا۔

گو میں اپنے نقطۂ خیال سے مضمون ہذا کو بے نقاب کر چکا ہوں اور حقیقتاً بات بھی یہی ہے کہ خدا اور اس کے رسول کا کلام جب کسی مسلم کے کان میں پڑ جائے اس کو نہ تو کسی غیر کے کلام کی چاہت کا ولولہ ہی بے چین کرتا ہے اور نہ ہی اس کو یہ بات بھائے لیکن چونکہ طبیعتیں مختلف خواہش جدا جدا اور الگ الگ واقع ہوئی ہیں۔ لہٰذا ضروری ہوا کہ جن طبیعتوں کا زیادہ تر رجحان اقوال علماء اور کلام آئمہ پر ہے ان کی تفہیم کے لئے ذیل میں چند اقتباسات درج کئے جائیں۔ شاید کہ خدائے تعالیٰ ان کو نیک سمجھ عنایت کرے۔

معراج جسمانی کے اثبات میں علمائے متقدمین کے ارشادات

حضرت امام ابو حنیفہؒ کا مذہب

چنانچہ فقہ اکبر کی شرح میں لکھا ہے: "(وخـبـر الـمـعـراج) ای بـجـسـده المصطفى ﷺ يقظة الى السماء ثم الى ماشاء الله تعالى في المقامات العلى (حق) ای حديثه ثابت بطريق متعددة (فمن ردّه) ای ذلك ولم يؤمن بمعنى ذلك الاثر (فهو مبتدع ضال) ای جامع بين الضلالة والبدعة (شرح فقه اكبر ص١٢٥) ”یعنی رسول اللہ ﷺ کو بیداری کی حالت میں مع آپ کے جسم کے آسمان تک پھر جہاں تک اللہ تعالیٰ نے چاہا بلند مقاموں تک معراج کا ہونا احادیث متعددہ سے ثابت ہے جس

١٩

صفحہ ١٨١

نے اس کے وقوع کا انکار کیا اور اس کے صحیح ہونے کا انکار کیا وہ گمراہ اور بدعتی ہے یعنی اس میں بدعت اور گمراہی دونوں جمع ہیں۔

جمہور علمائے محدثین کا مذہب

خاتمۃ الحفاظ حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں: ”فمنهم من ذهب الى ان الاسراء والمعراج وقعا فى ليلة واحدة فى اليقظة بجسد النبىﷺ وروحه بعد المبعث والى هذا ذهب الجمهور من علماء المحدثين والفقهاء والمتكلمين وتواردت عليه ظواهر الاخبار الصحيحة (فتح الباری ص ٤٥١ پ ١٠) “ یعنی سلف میں سے بعض لوگ اس طرف گئے ہیں کہ آپ کو اسراء اور معراج بیداری کی حالت میں مع روح اور جسم کے ایک ہی رات میں معا واقع ہوئی ہیں اور اسی طرف گئے ہیں علماء محدثین میں سے اور فقہاء اور متکلمین میں سے اور اسی پر ظاہر اخبار صحیحہ کا وارد ہونا پایا جاتا ہے۔

علامہ ابن القیم کا مذہب

آپ فرماتے ہیں: ”ثم اسری برسول اللهﷺ بجسده على الصحيح الخ (زاد المعاد ج ١ ص ٣٠٠) “ یعنی صحیح مذہب یہ ہے کہ آپ کو اسراء (اور معراج) اسی جسم کے ساتھ ہوئیں۔

علامہ قاضی عیاض کا بیان

آپ فرماتے ہیں: ”والحق ...... انه اسری بالجسد والروح فى القصة كلها وعليه تدل الاية وصحيح الاخبار والاعتبار ولا يعدل عن الظاهر والحقيقة الى التاويل الا عند الاستحالة (شفاء ص ٨٠) “ یعنی تمام قصہ میں صحیح قول یہی ہے کہ اسراء (اور معراج) روح اور جسم دونوں کے ساتھ تھی۔ اس پر آیت قرآنیہ اور احادیث صحیحہ اور اعتبار دلالت کرتے ہیں اور ایک کھلی ہوئی حقیقت اور ظاہری بات کی بغیر اشکال کے تاویل کرنی جائز نہیں۔

مولانا عبدالحق دہلوی کا بیان

آپ فرماتے ہیں: ”صحیح آنست کہ وجود اسراء معراج ہمہ در حالت بیداری و بجسد بود جمہور علماء از صحابہ و تابعین و اتباع من بعدہم از محدثین و فقہاء متکلمین برایں متوارد است براں احادیث صحیحہ واخبار صحیحہ۔“ (مدارج النبوۃ) یعنی صحیح بات یہی ہے کہ رسول اللہﷺ کو معراج

٢٠

حالت بیداری میں معہ جسم کے ہوئی۔ جمہور علماء صحابہ تابعین اور متکلمین اسی عقیدہ پر ہیں اور صحیح حدیثیں اور خبریں اسی

مولانا شاہ ولی اللہ کا بیان

حضرت مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرما الاقصى ثم الى سدرة المنتهى والى ماشاء ا الله البالغه ج ٢ ص ١٩٠) “ یعنی (اسی اثناء میں) آ سدرۃ المنتہیٰ اور جہاں تک خدا کی مرضی تھی سیر کرائی گئی ساتھ واقع ہوئے۔

یہاں تک علمائے متقدمین کے ارشادات گئے۔ اب یہاں سے عقلی پتلیوں کی خاطر چند دلائل عقلیہ ہر حال میں ترجیح دینے والے ہیں وہ بغور ملاحظہ فرماویں

معراج جسمانی کے عقلی دلائل

الاجسام ہونے کے جو ہوا (آسمان کی فضاء او پر) میں رسول اللہﷺ کو آسمانوں کی سیر کرانے پر قادر نہیں؟

بازو سے پتھر جیسی ثقیل اور بوجھل شئی کو اوپر پھینک سکتا جب انسان ضعیف البنیان اپنی خداداد طاقت سے زمی لیتا ہے تو کیا وہ مالک الملک جبار و قہار حضرت محمد مص نہیں لے جا سکتا؟

چار پر دیئے ہیں) اور ان کے نزول وصعود (اتر اترتے اور چڑھتے بھی ہیں) تو کیا وہ مالک عزیز و سید البشر کو اوپر لے جانے پر قادر نہیں؟ (بلیٰ وه

ناظرین! معراج جسمانی کے مختصر عقلی چاہتا ہے کہ مخالفین کے عقلی اور نقلی شبہات کا بھی مخ

٢١

صفحہ ١٨١

حالت بیداری میں معہ جسم کے ہوئی۔ جمہور علماء صحابہ تابعین اور تبع تابعین اور ان کے بعد کل فقہاء اور متکلمین اسی عقیدہ پر ہیں اور صحیح حدیثیں اور خبریں اسی پر متوارد ہیں۔

مولانا شاہ ولی اللہ کا بیان

حضرت مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں: ”واسرى به الى المسجد الاقصى ثم الى سدرة المنتهى والى ماشاء الله وكل ذالك بجسده ﷺ (حجة الله البالغه ج ٢ ص ١٩٠)“ یعنی (اسی اثناء میں) آپ کو مسجد اقصیٰ کی سیر کرائی گئی پھر وہاں سے سدرۃ المنتہیٰ اور جہاں تک خدا کی مرضی تھی سیر کرائی گئی۔ یہ تمام امور حالت بیداری میں جسم کے ساتھ واقع ہوئے۔

یہاں تک علمائے متقدمین کے ارشادات معراج جسمانی کے اثبات میں تحریر کئے گئے۔ اب یہاں سے عقلی پہلوؤں کی خاطر چند دلائل عقلیہ لکھے جاتے ہیں۔ جو اصحاب عقلی امور کو ہر حال میں ترجیح دینے والے ہیں وہ بغور ملاحظہ فرمائیں اور فیصلہ اپنے دلوں پر چھوڑ دیں۔

معراج جسمانی کے عقلی دلائل

الجسم ہونے کے جو سماء (آسمان کی فضاء (اوپر)) میں اڑتے پھرتے ہیں کیا وہ حی قیوم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو آسمانوں کی سیر کرانے پر قادر نہیں؟

بازو سے پتھر جیسی ثقیل اور بوجھل شے کو اوپر پھینک سکتا ہے تو کیا یہ پتھر کا پھینکنا اس امر کا مشعر نہیں کہ جب انسان ضعیف البنیان اپنی خداداد طاقت سے زمین کی اتنی بڑی اور بے حد طاقت کو مغلوب کر لیتا ہے تو کیا وہ مالک الملک جبار وقہار حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کو مع آپ کے جسم کے آسمانوں پر نہیں لے جاسکتا؟

چار پر دیئے ہیں) اور ان کے نزول وصعود (اترنے اور چڑھنے کو کوئی شئی مانع نہیں۔ چنانچہ وہ اترتے اور چڑھتے بھی ہیں) تو کیا وہ مالک عزیز، قادر ذوالجلال حضرت خاتم الانبیاء، سراج منیر سید البشر کو اوپر لے جانے پر قادر نہیں؟ (بلی وهو علی کل شئ قدیر)

ناظرین! معراج جسمانی کے مختصر عقلی اور نقلی دلائل (مگر مکمل) بیان کرنے کے بعد جی چاہتا ہے کہ مخالفین کے عقلی اور نقلی شبہات کا بھی مختصراً صحیح جواب لکھوں تاکہ سادہ لوح طبیعتیں ان

٢١

صفحہ ١٨٢

شبہات سے متاثر ہو کر اپنے سچے اور پاک مذہب اسلام کو بٹہ نہ لگائیں ۔ نیز یاد رہے کہ لفظ مخالفین سے ہماری مراد مرزا قادیانی اور آپ کے ہم مشرب ہیں گو لفظ مخالفین کا اطلاق اس کی عمومیت کے اعتبار سے ہر اس شخص پر ہوسکتا ہے کہ جو مسئلہ زیر بحث کا منکر ہو لیکن قادیانی نبوت کا خاصہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ اس خاصہ کی حق ادائی میں ہم بھی مرزا قادیانی کے دوش بدوش ہوں ۔ فافہم ! چنانچہ آئندہ سے ہم لفظ مخالفین کے کلی افراد کے ذکر کو ترک کرتے ہوئے صرف مرزا قادیانی کی ذات مبارک کو ترجیح دیں گے اور آپ ہی کے نام نامی واسم گرامی سے یہ عنوان قائم کرتے ہیں۔

مرزا قادیانی کے نقلی شبہات کا جواب

چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ: ”باوجودیکہ آنحضرت ﷺ کے رفع جسمی کے بارے میں کہ وہ جسم کے سمیت شب معراج آسمان کی طرف اٹھائے گئے تھے۔ تقریبا تمام صحابہ کا یہی اعتقاد تھا لیکن پھر بھی حضرت عائشہ اس بات کو تسلیم نہیں کرتیں اور کہتی ہیں کہ رویا ئے صالحہ تھی۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٢٨٩، خزائن ج ٣ ص ٢٤٧، ٢٤٨)

صاحبان! مرزا قادیانی کی عبارت مذکورہ سے دو باتیں ثابت ہوئیں :

مرزا قادیانی کے لفظ تقریبا کو اگر حذف کر دیا جائے (جس کا اطلاق زیادتی کیا جاتا ہے) تب بھی بقول مرزا قادیانی یہ بات معلوم ہوئی ایک لاکھ صحابہ معراج جسمانی کا اعتقاد رکھتے تھے ۔ کیونکہ ماہرین کتب رجال پر یہ امر پوشیدہ نہیں کہ صحابہ کرام کی مجموعی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی ۔ اب زیادتی حذف کر دینے پر ایک لاکھ ہی صحابہ کرام کی تعداد رہی نہ؟ جب زیادتی حذف کر دینے پر ایک لاکھ صحابہ رہے اور یہ ایک لاکھ صحابہ معراج جسمانی کے وقوع کا اعتقاد رکھتے تھے ۔ (کما مر انفا) تو اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جس بات پر ایک لاکھ صحابہ کا اعتقاد ہو وہ اسلام میں کس درجہ قابل وقعت ہوگی ۔

رہا یہ امر کہ حضرت عائشہ صدیقہ معراج جسمانی کی منکر تھیں ۔ سو واضح رہے کہ مرزا قادیانی کی یہ صریح دھوکہ دہی ہے ۔ حضرت عائشہ معراج جسمانی کی ہرگز منکر نہ تھیں ۔ بلکہ آپ معراج جسمانی کی قائل ہیں ۔ چنانچہ درمنثور میں ہے: ”عن عائشة قالت لما اسرى بالنبي ﷺ الى المسجد الاقصى اصبح بحديث الناس بذالك الى آخره (درمنثور) “یعنی حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جس رات نبی ﷺ بیت المقدس جاکر واپس

٢٢

تشریف لائے اس کی صبح کو وہ واقعہ لوگوں سے پر ایمان لا کر ہر طرح کی تصدیق کر چکے تھے ) کہ کیا اب بھی آپ اپنے رفیق محمد ﷺ کی تصدیق کہ میں آج رات بیت المقدس جا کر واپس آ فرمایا ہے؟ کہنے لگے کہ ہاں! ابوبکر نے کہا کہ ہے ۔ کفار نے کہا کہ کیا محمد کی اس بات میں تصدیق جاکر واپس آگئے ۔ ابوبکر نے کہا کہ کیوں نہیں کرتا ہوں ۔ یعنی صبح شام جو آسمانی خبریں بیان ہیں کہ اس وجہ سے ابوبکر کا لقب صدیق رکھا کہ حضرت عائشہ معراج جسمانی کی قائل تھیں عائشہ کے نزدیک یہ واقعہ خواب کا ہوتا تو ضرور سمجھا کہ یہ واقعہ تو خواب سے تعلق رکھتا ہے ۔ ہیں ۔ پھر ان نو مسلموں کو یہ کیا سوجھی انہوں نے کر دائمی لعنت کا طوق اپنی گردنوں میں ڈالا کفار ناہنجار سے اتنی مغز سرائی کیوں کر رہے خواب میں تو اکثر ایسے خلاف عقل واقعات نما جدال کر کے کیوں تضیع اوقات کے سنگین جر تصدیق پر حضرت ابوبکر کا لقب صدیق سے کیونکہ خلاف عقل خواب کی تصدیق تو ہر ایک کرنا چہ معنی دارد ہے؟

ناظرین! یہ تو معلوم ہو ہی گیا کہ اب وہ روایت بھی سن لیجئے کہ جس سے مرزا ہیں ۔ ”وعن عائشة انها قالت واللہ بروحہ (تفسیر انوار التنزیل واسرار خدا کی قسم ! رسول اللہ ﷺ کا جسم مبارک نہیں

صفحہ ١٨٣

تشریف لائے اس کی صبح کو وہ واقعہ لوگوں سے بیان فرمایا جس سے بہت لوگ (جو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لا کر ہر طرح کی تصدیق کر چکے تھے) مرتد ہو گئے۔ پھر کفار ابوبکر کے پاس آکر کہنے لگے کہ کیا اب بھی آپ اپنے رفیق محمد ﷺ کی تصدیق کریں گے؟ لیجئے ! آپ ﷺ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ میں آج رات بیت المقدس جاکر واپس آگیا۔ ابوبکر نے کہا کیا واقعی رسول اللہ ﷺ نے یہی فرمایا ہے؟ کہنے لگے کہ ہاں! ابوبکر نے کہا کہ اگر واقعی رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا ہے تو یقیناً سچ ہے۔ کفار نے کہا کہ کیا محمد کی اس بات میں تصدیق کرتے ہو کہ ایک ہی رات میں بیت المقدس جاکر واپس آگئے۔ ابوبکر نے کہا کہ کیوں نہیں میں تو بیت المقدس سے اوپر کی باتوں کی بھی تصدیق کرتا ہوں۔ یعنی صبح شام جو آسمانی خبریں بیان فرماتے ہیں۔ میں ان کو سچ جانتا ہوں۔ عائشہ فرماتی ہیں کہ اس وجہ سے ابوبکر کا لقب صدیق رکھا گیا۔ اس روایت سے روز روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ حضرت عائشہؓ معراج جسمانی کی قائل تھیں۔ ادنیٰ تامل کے بعد معلوم ہو سکتا ہے کہ اگر حضرت عائشہؓ کے نزدیک یہ واقعہ خواب کا ہوتا تو ضرور فرماتیں کہ ان بیوقوفوں (مرتدوں) نے اتنا بھی نہ سمجھا کہ یہ واقعہ تو خواب سے تعلق رکھتا ہے۔ جو عادۃً ایسے خلاف عقل خواب ہر شخص کو ہوا کرتے ہیں۔ پھر ان نو مسلموں کو یہ کیا سوجھی انہوں نے جو اپنے پاک اور سچے مذہب اسلام کو طلاق دے کر دائمی لعنت کا طوق اپنی گردنوں میں ڈالا۔ نیز ابوبکرؓ کو فرمادیتیں کہ اے والد بزرگوار! آپ ان کفار ناہنجار سے اتنی مغز سرائی کیوں کر رہے ہیں۔ بس ان کو دو حرفی جواب عنایت کر دیجئے کہ خواب میں تو اکثر ایسے خلاف عقل واقعات ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ تم مجھ سے اتنا بے موضوع جدال کر کے کیوں تضیع اوقات کے سنگین جرم کے مرتکب ہوتے ہو۔ علاوہ بریں صرف خواب کی تصدیق پر حضرت ابوبکرؓ کا لقب صدیق سے ملقب ہونا شان کبریائی کو کتنا بد نما داغ لگاتا ہے۔ کیونکہ خلاف عقل خواب کی تصدیق تو ہر ایک کر سکتا ہے۔ پھر حضرت ابوبکرؓ کو لقب صدیق سے مختص کرنا چہ معنی دارد ہے؟

ناظرین ! یہ تو معلوم ہو ہی گیا کہ حضرت عائشہؓ صدیقہ معراج جسمانی کی قائل تھیں۔ اب وہ روایت بھی سن لیجئے کہ جس سے مرزا قادیانی کو دھوکا لگا ہے۔ اس کے الفاظ اس طرح پر ہیں۔ ”وعن عائشة انها قالت والله ما فقد جسد رسول الله ﷺ ولکن عرج بروحه (تفسیر انوار التنزیل واسرار التاویل ج ٤ ص ٣)“ یعنی حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ خدا کی قسم ! رسول اللہ ﷺ کا جسم مبارک کہیں گم نہیں ہوا لیکن اللہ نے آپ کی روح کو معراج کرائی۔

٢٣

صفحہ ١٨٤

اس کے متعلق واضح رہے کہ بعض علماء کے نزدیک تو یہ حدیث ہی موضوع ہے۔ چنانچہ علامہ زرقانی فرماتے ہیں: ”وقال ابن دحية في التنوير انه حديث موضوع لها“ (شرح مواہب لدنیہ ج٦ ص٦٣) یعنی امام ابن دحیہ نے اپنی کتاب التنویر میں کہا ہے کہ حضرت عائشہؓ والی حدیث موضوع ہے اسی طرح علامہ قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں ”فليس حديث عائشه بالثابت والاحاديث الاخر اثبت (شفاء)“ یعنی حضرت عائشہؓ والی حدیث ثابت نہیں۔

صاحبان! قطع نظر اس کے کہ ہم حدیث مذکورہ کے موضوع یا غیر موضوع ہونے پر مزید روشنی ڈالیں۔ یہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی مایہ ناز حدیث (جس کا ابھی آپ حال معلوم کرچکے ہیں) کو صحیح تسلیم کرتے ہوئے آپ کے سامنے اس کے وہ صحیح معنے پیش کریں کہ جو علماء محقّقین پیش کرگئے ۔ سو واضح رہے کہ آپ یہ تو معلوم کرہی چکے ہیں کہ معراج کا وقوع متعدد بار ہوا۔ (چنانچہ عنوان قرآن شریف سے معراج جسمانی کا ثبوت میں فتح الباری وغیرہ کے حوالہ سے بالتفصیل گذرچکا۔ ایسا ہی تفسیر روح البیان اور شفاء وغیرہ میں بھی ہے) تو جب معراج کا وقوع متعدد بار ثابت ہوچکا تو حضرت عائشہؓ کی حدیث منقولہ کا معنی بھی غالباً بالکل صاف ہوگیا ہوگا۔ یعنی چونکہ حضرت عائشہؓ سے دو قسم کی حدیثیں مروی ہیں۔

معراج روحانی سے۔ یعنی جب معراج جسمانی ہوئی تو لامحالہ آپ کا جسم بھی آپ کے ساتھ ہوگیا۔ اور جب روحانی ہوئی تو یقیناً جسد رسول بھی زمین ہی پر رہا۔ چنانچہ یہی معنی پانچویں صدی کے ایک مشہور عالم بھی کرچکے ہیں جن کا نام نامی و اسم گرامی مولانا مولوی احمد بن موسیٰ المعروف بہ خیالی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ”والاولی ان يجاب ان المعراج كان مكررا مرة بشخصه مرة بروحه وقول عائشة حكاية عن الثانية“ (حاشیہ خیالی ص٢٠٦) یعنی حضرت عائشہؓ کی حدیث (مذکورہ) کا یہ مطلب بیان کرنا بہت اولیٰ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو دو مرتبہ معراج ہوئی۔ ایک مرتبہ جسم کے ساتھ اور دوسری مرتبہ روح کے ساتھ پس حضرت عائشہؓ کا قول اسی روحانی معراج سے تعلق رکھتا ہے۔ حضرات! مرزا قادیانی نے جو حضرت عائشہؓ پر الزام انکار معراج جسمانی کا کیا تھا اس کی حقیقت غالباً آپ پر آشکارا ہوچکی ہوگی کہ حضرت عائشہؓ پر انکار معراج کا الزام لگانا سراسر بہتان و افتراء ہے۔

٢٤

PDF 186

ت ہی موضوع ہے۔ چنانچہ علامہ زرقانی حدیث موضوع لها “ (شرح مواہب میں کہا ہے کہ حضرت عائشہؓ والی حدیث پس حدیث عائشه بالثابت والی حدیث ثابت نہیں ۔ کے موضوع یا غیر موضوع ہونے پر مزید حدیث (جس کا ابھی آپ حال معلوم ں کے وہ صحیح معنے پیش کریں کہ جو علماء ا چکے ہیں کہ معراج کا وقوع متعدد بار ت میں فتح الباری وغیرہ کے حوالہ سے میں بھی ہے) تو جب معراج کا وقوع عنی بھی غالباً بالکل صاف ہو گیا ہوگا۔

ج جسمانی سے متعلق ہے اور قسم ثانی آپ کا جسم بھی آپ کے ساتھ ہو گیا۔ چنانچہ یہی معنی پانچویں صدی کے ایک مولوی احمد بن موسیٰ المعروف بہ خیالی عراج كان مكررا مرة بشخصه حاشیہ خیالی ص ٢٠٦) یعنی حضرت عائشہ سول اللہ ﷺ کو دومرتبہ معراج ہوئی ۔ ں حضرت عائشہؓ کا قول اسی روحانی حضرت عائشہؓ پر الزام انکار معراج گی کہ حضرت عائشہؓ پر انکار معراج کا

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم

درّہ محمدی

جناب ملا محمد بخش حنفی چشتی قادری رحمۃ اللہ علیہ

صفحہ ١٨٧

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

اہل اسلام اور عیسائی صاحبان توجہ فرماویں!

اور چونکہ اس وقت مرزائی جماعت کا ایک ممتاز لیڈر گویا پنجابی مسیح قادیانی کا نائب سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے ہم نے بھی مجبوراً مناسب سمجھا کہ عیسائیوں اور مسلمان بھائیوں کو پنجابی مسیح قادیانی کی لچر گندی اور تہذیب سے گری ہوئی تحریرات کا ایک ادنیٰ نمونہ بطور مشتے نمونہ از خروارے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کی نسبت جس کی باکمال ذات کے ساتھ متفقہ عیسائیوں کی نجات کے انحصار کے علاوہ اہل اسلام کا ایمان بھی وابستہ ہے اس کی چند باتیں معہ حوالہ جات آپ لوگوں کے سامنے پیش کریں۔

و تبلیغ ...... وغیرہ میں لکھی ہے کہ: ”عیسیٰ ابن مریم جن کی خبر اناجیل اور اہل اسلام کی کتابوں میں پائی جاتی ہے کہ وہ قریب قیامت آئیں گے وہ میں ہوں ۔“

وہ آسمانوں سے نازل ہوں گے ۔ وہ اپنے زمانہ میں مر گئے اور ان کی قبر سری نگر (کشمیر) محلہ خانیار میں ہے۔“ (رسالہ الہدیٰ ص ١١٧، خزائن ج ١٨ ص ٣٢١، ٣٢٢) حالانکہ (انجیل مرقس باب: ١٦، آیت: ١٩، انجیل لوقا باب: ٢٤، آیت: ٥١، اعمال باب اول آیت: ٢،١) سے ظاہر ہے کہ وہ زندہ آسمانوں پر اٹھائے گئے اور اسی طرح قرآن شریف (النساء:١٥٧) سے ثابت ہے کہ وہ اوپر اٹھائے گئے اور ان کا دوبارہ آنا بھی (انجیل متی باب: ٢٤، آیت ٢٤، مرقس باب: ١٣، آیت ٢٦) بلکہ اعمال کی کتاب باب اوّل آیت ٦ تا ١١ سے ایسا ثابت ہے کہ وہی مسیح جو آسمانوں پر اٹھایا گیا ہے آوے گا نہ کہ کوئی دوسرا۔ جیسا کہ پنجابی مسیح نے دعویٰ کیا ہے...... اور جس کا یہ کمال الدین خواجہ بھی پیرو ہے اور قبر کی نسبت اہل کشمیر نے خود تردید کر دی کہ کوئی ایسی قبر کشمیر میں نہیں ہے۔ (دیکھو رسالہ مرزا کی قلعی کھل گئی) اور احادیث کی دیگر کتب کے علاوہ بخاری شریف کے ص ٣٩٠ پر حدیث ابی ہریرہؓ سے منقول ہے

٢

جس کا ترجمہ یہ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا سے) اور یہ پنجابی مسیح قادیانی اس کے خلاف اپنی کتا لکھتا ہے کہ: ”مسیح ابن مریم کا آسمانوں پر جانا ایک لغو لکھا ہے۔

(اخبار الحکم

نہیں دے سکتے ۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیا جائے ۔“

قادیانی مسیح کا ایک ایسے اولوالعزم رسول گردانی کرنا ہے۔ دیکھو (سورہ بقرہ آیت ٢٥٣، سورہ الما ذیل ہے۔ ”یہ سب رسول ہیں ایک سے ایک بڑا۔ بـ دیئے معجزات اور زور دیا روح پاک سے۔ مسیح جو ہے اس کے رسول کو اور بولا مسیح بن مریم میں بندہ ہوں اللہ

دوسری جگہ پر پنجابی مسیح نے لکھا ہے:

(اخبار ا

پنجابی مسیح کا ایسا لکھنا قرآن کے صریح بنایا مجھ کو اللہ نے برکت والا اور نہیں بنایا مجھ کو زبردسـ

حسن و جمال کا تذکرہ کر بیٹھا تو استاد نے اسے عاق

(کھلیا راجہ رام چندر کی والدہ کا نام ۔

صفحہ ١٨٧

جس کا ترجمہ یہ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا کہ مسیح ابن مریم نازل ہوں گے (آسمانوں سے) اور یہ پنجابی مسیح قادیانی اس کے خلاف اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦) پر لکھتا ہے کہ: ”مسیح ابن مریم کا آسمانوں پر جانا ایک لغو خیال ہے۔“ اور پھر عیسیٰ ابن مریم کی نسبت لکھا ہے۔

(اخبار الحکم مورخہ ٢١ فروری ١٩٠٣ء، ملفوظات ج ٣ ص ١٣٦)

نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیا جائے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)

قادیانی مسیح کا ایک ایسے اولوالعزم رسول کی نسبت ایسا لکھنا محض قرآن شریف سے رو گردانی کرنا ہے۔ دیکھو (سورہ بقرہ آیت ٢٥٣، سورہ النساء آیت ١٧١، سورہ مریم آیت ٣٠) ترجمہ حسب ذیل ہے۔ ”یہ سب رسول ہیں ایک سے ایک بڑا۔ بلند کئے بعضوں کے درجے اور عیسیٰ بن مریم کو دیئے معجزات اور زور دیا روح پاک سے۔ مسیح جو ہے عیسیٰ بیٹا مریم کا رسول ہے اللہ کا، مانو اللہ کو اور اس کے رسولوں کو اور بولا میں بندہ ہوں اللہ کا اس نے دی مجھ کو کتاب اور نبی کیا۔“

دوسری جگہ پر پنجابی مسیح نے لکھا ہے:

(اخبار الحکم مورخہ ٢١ فروری ١٩٠٣ء، ملفوظات ج ٣ ص ١٤٧)

پنجابی مسیح کا ایسا لکھنا قرآن کے صریح برخلاف ہے۔ (سورہ مریم آیت ٣١، ٣٢) ترجمہ بنایا مجھ کو برکت والا اور نہیں بنایا مجھ کو زبردست بدبخت۔

حسن و جمال کا تذکرہ کر بیٹھا تو استاد نے اسے عاق کر دیا۔“

(الحکم مورخہ ٢١ فروری ١٩٠٣ء، ملفوظات ج ٣ ص ١٤٧)

(انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٤١)

(کوشلیا راجہ رام چندر کی والدہ کا نام ہے)

٣

صفحہ ١٨٩

نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہ پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔“

(دافع البلاء ٹائٹل پیج، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)

گویا عیسیٰ ابن مریم بقول پنجابی مسیح نعوذ باللہ فاحشہ عورتوں سے ان کی کمائی کا عطر ملوایا کرتے اور بے تعلق جوان عورتیں آپ کے پاس آیا کرتیں اور آپ کی خدمت کرتیں تھیں۔ یہ ہے پنجابی مسیح اور اس کے مریدوں وغیرہ کا ایمان خدا کے سچے اور پاک رسول پر۔ افسوس!

تھا اور کس طرح ایک بازاری عورت سے عطر ملواتا تھا۔“

(قادیانی مسیح کا اخبار الحکم مورخہ ٢١؍ فروری ١٩٠٢ء، ملفوظات ج ٣ ص ١٤٧)

ہوتا ہے یا تو قدرت نے آپ کو زیرکی سے بہت حصہ نہیں دیا تھا یا استاد کی یہ محض شرارت تھی کہ اس نے آپ کو محض سادہ لوح رکھا۔ بہرحال آپ علمی اور عملی قویٰ میں بہت کچے تھے۔ اسی وجہ سے ایک مرتبہ شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔“

خدا سے منکر ہونے کے لئے تیار ہو گئے۔“

یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

یہ ہے قادیانی مسیح اور اس کی امت کا ایمان خدا کے پاک رسول (مسیح) پر جس کی نسبت خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔

٤

سکھلاوے گا اس کو کام کی باتیں توریت اور انجیل، اور

...... ناظرین خدارا انصاف فرماویں کہ قرآن شـ نسبت فرماتا ہے۔ زور دیا اس کو روح پاک سے۔ مریـ ہے نیک بختوں میں۔

دار نے یہ حال دیکھ کے خدا کی تعریف کی اور کہا بے شک

قرآن شریف اور انجیل کا ایک ایک کلمہ قـ مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریر پاک نوشتوں کے خلاف کـ منکر ہونے کو تیار ہو گیا۔ وہ پاگل تھا۔ جوان بے تعلق ا ان کی کمائی کا عطر ملواتا تھا۔ ایک خوبصورت لڑکی پر عا ان تحریروں سے انکار کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں اور کیا کمال کی نسبت اس کے رسول (پنجابی مسیح) نے لکھی ہیں قرآ

آپ نے (مسیح بن مریم) پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مـ چرا کر لکھا اور پھر ایسا ظاہر کیا کہ گویا میری تعلیم ہے شرمندہ ہیں۔ آپ نے یہ حرکت شاید اس لئے کی ہو کریں۔ لیکن اس بیجا حرکت سے عیسائیوں کی بہت ر کہ وہ تعلیم بھی کچھ عمدہ نہیں۔ عقل اور کانشنس دونوں ا

اس تحریر سے تین باتیں معلوم ہوئیں:

نام انجیل رکھا۔“

٥

صفحہ ١٨٩

سکھلاوے گا اس کو کتاب و حکمت اور توریت اور انجیل، اور ہوگا رسول بنی اسرائیل کی طرف۔

(آل عمران: ٤٨، ٤٩)

نسبت فرماتا ہے۔ زور دیا اس کو روح پاک سے۔ مرتبہ والا دنیا میں وہ مقربین میں سے ہے۔ وہ ہے نیک بختوں میں۔

دار نے یہ حال دیکھ کے خدا کی تعریف کی اور کہا بے شک یہ آدمی راست باز تھا۔“

(انجیل لوقا باب ٢٣، آیت ٤٧، ٤٨)

قرآن شریف اور انجیل کا ایک ایک کلمہ مسیح ابن مریم کی نسبت قابل توجہ ہے اور ادھر مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریر پاک نوشتوں کے خلاف کہ مسیح کو تین مرتبہ شیطانی الہام ہوا۔ خدا سے منکر ہونے کو تیار ہو گیا۔ وہ پاگل تھا۔ جوان بے تعلق نامحرم بازاری عورتوں سے خدمت کراتا اور ان کی کمائی کا عطر ملواتا تھا۔ ایک خوبصورت لڑکی پر عاشق ہو گیا۔ قابل غور ہے کیا خوجہ کمال دین ان تحریروں سے انکار کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں اور کیا کمال دین بتا سکتا ہے کہ یہ باتیں جو عیسیٰ بن مریم کی نسبت اس کے رسول (پنجابی مسیح) نے لکھی ہیں قرآن شریف کی کن کن آیات کا ترجمہ ہے؟

آپ نے (مسیح بن مریم) پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا اور پھر ایسا ظاہر کیا کہ گویا میری تعلیم ہے۔ لیکن جیسے یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔ آپ نے یہ حرکت شاید اس لئے کی ہو کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھا کر رسوخ حاصل کریں۔ لیکن اس بیجا حرکت سے عیسائیوں کی بہت روسیاہی ہوئی۔“ اور پھر لکھا ہے: ”افسوس ہے کہ وہ تعلیم بھی کچھ عمدہ نہیں۔ عقل اور کانشنس دونوں اس تعلیم کے منہ پر طمانچے مار رہی ہیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

اس تحریر سے تین باتیں معلوم ہوئیں:

نام انجیل رکھا۔“

٥

صفحہ ١٩٠

اس سے عیسائی بہت شرمندہ ہیں اور نیز اپنی اس بیجا حرکت سے عیسائیوں کی سخت روسیاہی ہوئی۔“

پنجابی مسیح کے اس فاسد عقیدہ سے دو اور اہم سوال پیدا ہوئے ہیں:

پھر قرآن شریف میں کیوں اور کس لئے خدا نے فرمایا: ”اور دی ہم نے مسیح کو انجیل ۔“ حالانکہ بقول مسیح پنجابی وہ یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر خود مسیح بن مریم نے لکھی تھی۔

لئے قرآن میں انجیل کی نسبت خدا نے فرمایا: ”اس میں نور اور ہدایت ہے۔“

(مائدہ:٤٦)

اب انصافا اگر عیسائی پنجابی مسیح اور اس کے گروہ سے یہ سوال کریں کہ کیا یہ آیات قرآن شریف کی دربارہ انجیل سچی ہیں یا پنجابی مسیح کی تحریر؟ تو دیکھیں مرزائی فرقہ کی طرف سے کیا جواب سنایا جاوے۔ ہمارے خیال میں تو وہ یہی جواب دیں گے کہ خدا نے غلطی کھائی ہے۔ (معاذ اللہ) لیکن قادیانی مسیح کی تحریر پتھر پر لکیر ہے۔ آج کل کے نوجوان مسلمانو! برائے خدا پنجابی مسیح کی تحریر کا قرآن شریف سے مقابلہ کر کے دیکھو اور اس فریق سے دریافت کرو کہ جب قرآن شریف کا نزول چھ سو برس بعد عیسیٰ بن مریم کے ہوا ہے تو پنجابی مسیح کن کن آیات قرآنیہ کا یہ ترجمہ تمہارے اور ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ اگر تمہارا خدا کے کلام قرآن شریف پر ایمان ہے تو ضرور آپ عمدہ نتیجہ پر پہنچیں گے۔

منعطف کراتے ہیں۔ جی تو نہیں چاہتا کہ ایسی گندی مکروہ اور فحش تحریر کو آپ لوگوں کے سامنے جن کو مہذب ہونے کا دعویٰ ہے پیش کیا جائے اور بیشک آپ مہذب بھی ہیں۔ اس لئے ہمیں بھی پوری امید ہے کہ آپ ضرور انصاف سے چشم پوشی نہ فرمائیں گے۔ نقل کفر کفر نباشد، مسیح پنجابی حضرت مسیح ابن مریم کی نسبت لکھتا ہے۔

”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک و مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا اور آپ کا کنجریوں سے میلان اور

٦

صفحہ ١٩١

محبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

اس جگہ پنجابی مسیح کی چالاکی جو اس نے کی ہے اس کا ذکر کر دینا بھی بے محل نہ ہوگا۔ چنانچہ اس جگہ بجائے لفظ مسیح کے اب یسوع لکھ دیا ہے۔ جس کا جواب پنجابی مسیح اور مرزائی مسلمانوں کا منہ بند کرنے کے لئے یہ دیتے رہے ہیں کہ یہ جو کچھ لکھا ہے یسوع کی نسبت لکھا ہے۔ تو یہ جواب محض غلط ہے۔ کیونکہ خود پنجابی مسیح دوسری جگہ (نور القرآن نمبر ٢ ص ١٢، خزائن ج ٩ ص ٣٩٤) میں عیسائیوں کو مخاطب کر کے لکھتا ہے: ”ہاں! مسیح کی دادیوں اور نانیوں کی نسبت جو اعتراض ہے اس کا جواب کبھی بھی آپ نے سوچا ہوگا ۔“ دیکھو اس جگہ لفظ مسیح لکھا ہے۔ اسی طرح (تحفہ قیصریہ ص ٢١، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٣) پر یسوع اور مسیح کو خود پنجابی مسیح نے ایک شخص واحد لکھا ہے۔ اب اگر کوئی مرزائی اس کی تاویل کرے تو اس کو چاہئے کہ سب سے پہلے وہ لکھ دے کہ پنجابی مسیح کی تمام کتابوں کو دیکھ کر یہ تحریر شائع کرتا ہے۔ جناب قاضی فضل احمد صاحب کورٹ انسپکٹر لدھیانہ نے لفظ یسوع کی جو تحقیقات کی ہے اس کی نسبت ان کی کتاب کلمہ فضل رحمانی بجواب اوہام قادیانی کا ص ٧١ ملاحظہ ہو۔

بموجودگی ایسی گستاخانہ تحاریر اگر پنجابی مسیح اور اس کا گروہ مسلمانی کا دعویٰ کرے تو کیا یقین کے لائق ہے؟ اور افسوس ان مسلمانوں پر جو خدا کے ایک پاک رسول اور پیارے نبی مسیح ابن مریم جس کی خود اللہ تعالیٰ تعریف کرتا ہے پنجابی مسیح کی توہین کرنے پر قرآن شریف کی ذرا بھی پرواہ نہ کر کے کچھ غیرت نہیں کرتے اور فراخدلی سے قادیانی گروہ کو چندوں سے مدد دیتے ہیں کہ پنجابی مسیح کا گروہ کھائے اور پیئے اور پھر دل کھول کر ان کے پیشواؤں اور بزرگان دین پر پنجابی مسیح کی تحریروں کے مطابق صلواتیں سنائے اور یہ بے غیرت بن بن کر بز اخفش کی طرح سن سن کر اور سر ہلا ہلا کر آمنا وصدقنا کہتے جاتے ہیں۔

قادیانی گروہ نے تو اپنا پنجابی مسیح تلاش کر لیا۔ اب مسیح ابن مریم پر جس قدر بہتان اور الزام لگائیں تھوڑے ہیں۔ ہم بھی دیکھ رہے ہیں کہ کن کن نام کے مسلمانوں کے نام چندہ

٧

PDF 193

دہندگان کی فہرست میں درج ہیں۔ جو اپنے آپ ہی خدا اور اس کے رسول کے پکے دشمن بن کر اپنے ہی ہاتھوں دوزخ کے کندے بن رہے ہیں۔ واہ رے بے غیرتی! اگر ان کے ماں باپ کو کوئی ایسی گندی بیہودہ فحش مغلظ گالیاں دے تو شاید عدالت ہائیکورٹ تک پیچھا نہ چھوڑیں۔ بلکہ پھانسی پر لٹکوا کر بھی دل ٹھنڈا نہ ہو۔ صاحبو! اس پنجابی مسیح اور اس کے گروہ کی کتابیں کھول کر پڑھو اور تصدیق کرو اور ان کے منہ کی لفاظیوں کی طرف مت جاؤ۔ جیسا کہ اب پیغام صلح مورخہ ١١ ستمبر ١٩١٣ء میں فقط چندہ بٹورنے کے لئے تحریر کیا گیا ہے۔ ایک تن ہو کر خواجہ صاحب کا ہاتھ بٹاؤ اور اپنے اندرونی تفرقوں کو کچھ مدت کے لئے لپیٹ رکھو۔ اس کے بعد جب تمہاری جیبیں خالی ہو جاویں وہی مرغی کی ایک ٹانگ ، کیا سچ مچ تمہاری حمیت اسلامی اب یہی رہ گئی ہے کہ یہ قادیانی گروہ تمہارے چندوں سے پیٹ پالے اور تمہارے پیشوایان دین پر یہ بیہودہ اور گندے الزام لگائے اور تم کروٹ تک نہ بدلو۔ ابھی تو ہم نے محض حضرت مسیح بن مریم کی ہی نسبت جو الزام پنجابی مسیح نے لگائے ہیں ان کا ایک شمہ تحریر کیا ہے تاکہ اس فرقہ کے اندرونی خیالات جو عیسائی مذہب اور اہل اسلام کے ساتھ وابستہ ہیں۔ معلوم ہو جاویں۔ کیونکہ مرزائی فرقہ کا ایک فرد کمال دین نامی آج کل لندن میں تبلیغ اسلام کی آڑ میں مرزائی مذہب پھیلا رہا ہے اور جب ہم نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور دیگر انبیاء کی نسبت مرزائی عقیدہ ان کی تحریروں سے ہی لکھا تو دیکھنا کیا کیا گل کھلیں گے۔ مگر نام کے مسلمانوں کو اسلام سے کیا کام۔ یہ تو وسعت خیالی اور صلح کلی کی راگنی الاپتے رہتے ہیں۔

ہم بڑے حیران تھے کہ کمال دین جس کو علم دین سے کچھ بھی مس نہیں اور اس نے کسی دینی درسگاہ مثل مدرسہ نعمانیہ لاہور یا دیو بند وغیرہ میں باضابطہ دینی تعلیم حاصل ہی نہیں کی اور جو قرآن اور احادیث وغیرہ علوم دینیات سے محض نا آشنا اور کورا ہے۔ کس طرح سے لارڈ ہیڈلے کو جس کی نسبت مسلمان ہونا بیان کیا جاتا ہے اپنے زیر اثر کر لیا۔ مگر ہماری اس حیرانی کو خود مرزائی (اخبار پیغام صلح مورخہ ١٦ دسمبر ١٩١٣ء ، مکتوبات احمدیہ جدید ج ١ ص ٣٩٥) نے رفع کر دیا ہے۔ لارڈ ہیڈلے اپنی تحریر میں لکھتے ہیں: ”ممکن ہے کہ میرے بعض احباب یہ خیال کریں کہ میں مسلمانوں کے دباؤ کے نیچے آ گیا ہوں۔ حالانکہ یہ محض غلط ہے۔ لیکن میرے موجودہ خیالات میرے کئی سالوں کی تحقیقات اور تفتیش کا نتیجہ ہیں۔ تعلیم یافتہ مسلمانوں کے ساتھ مذہب کے بارہ میں میری اصلی خط

٨

و کتابت چند ہی ہفتہ قبل شروع ہوئی اور یہ بات تمام خیالات اسلام کے عین مطابق نکلے۔ میر کوشش مجھے اپنے زیر اثر لانے کی نہیں کی۔“

لارڈ ہیڈلے نے جو خیال اپنے آ ہے قابل غور ہے۔ بیشک اس سے پیشتر بھی مسل ہی دوسرے نامی گرامی اصحاب کا دوسری دلائل کی طرح کئی سالوں کی تحقیقات اور تفتیشوں عیسائیوں کو کیا خاک مسلمان بنائے گا۔ جس کیا پنجابی مسیح جس کا یہ کمال دین پیرو ہے کسی ہرگز نہیں اور جھوٹی پیش گوئیاں کرتا مر گیا۔

دیکھو! پنجابی مسیح کیا پیش گوئی کر کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید پھیلا

(الر

دیکھو! صوبہ پنجاب میں ہی ہند تو ذکر ہی نہیں۔ عیسائیت کو کس قدر ترقی ہ تعداد ٢٧٦٩٥ تھی اور ١٩١١ء میں ١٦٣٠٩٤

اب اگر پنجابی مسیح کے گروہ میں مسیح کو جھوٹا کہیں گے اور اسی طرح پنجابی بقول بیکر صاحب پانچ لاکھ تک صرف ہند

کیا پنجابی مسیح کا گروہ ہم کو ب قادیانی مشن کے زیر اثر ہوئے۔ اب الہ اس پر بغلیں بجانا اور سیکڑوں تحریریں اسلا

صفحہ ١٩٤

وکتابت چند ہی ہفتہ قبل شروع ہوئی اور یہ بات میری دلی خوشی اور مسرت کا باعث ہوئی کہ میرے تمام خیالات اسلام کے عین مطابق نکلے۔ میرے دوست خواجہ کمال الدین صاحب نے ذرہ بھر کوشش مجھے اپنے زیر اثر لانے کی نہیں کی۔“

لارڈ ہیڈلے نے جو خیال اپنے آپ کو کمال دین کے زیر اثر لانے کی نسبت ظاہر کیا ہے قابل غور ہے۔ بیشک اس سے پیشتر بھی مسٹر جان ڈیون پورٹ صاحب جیسوں نے انگلینڈ اور ایسا ہی دوسرے نامی گرامی اصحاب کا دوسری ولایتوں میں اسلامی دائرہ میں منسلک ہونا لارڈ ہیڈلے کی طرح کئی سالوں کی تحقیقات اور تفتیشوں کا نتیجہ قرار دیا ہے اور واقعی یہ سچ ہے کہ کمال دین عیسائیوں کو کیا خاک مسلمان بنائے گا۔ جس کی نسبت لارڈ ہیڈلے نے بھی اپنا خیال ظاہر کر دیا۔ کیا پنجابی مسیح جس کا یہ کمال دین پیرو ہے کسی ایک فرد کو بھی مذاہب غیر میں سے اپنے زیر اثر لا سکا؟ ہرگز نہیں اور جھوٹی پیش گوئیاں کرتا مر گیا۔

دیکھو! پنجابی مسیح کیا پیش گوئی کرتا ہے۔ ”میں اس لئے آیا ہوں کہ عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑوں اور بجائے تثلیث کے توحید پھیلاؤں۔ اگر میں مر گیا اور یہ کام پورا نہ ہوا تو میں جھوٹا ۔“

(البدر مورخہ ١٩؍ جولائی ١٩٠٢ء، مکتوبات احمدیہ جدید ج ١ ص ٤٩٥)

دیکھو! صوبہ پنجاب میں ہی ہندوستان کے دیگر صوبہ جات کے علاوہ اور دیگر ممالک کا تو ذکر ہی نہیں۔ عیسائیت کو کس قدر ترقی ہوئی۔ مردم شماری ١٩٠١ء میں پنجاب میں عیسائیوں کی تعداد ٣٧٢٩٥ تھی اور ١٩١١ء میں ١٦٢٦٩٤ یعنی عرصہ دس برس میں ١٢٥٣٩٩ کی بیشی ہوئی۔

(سراج الاخبار جہلم مورخہ ٢؍ دسمبر ١٩١٣ء)

اب اگر پنجابی مسیح کے گروہ میں ایک رائی کے دانہ برابر بھی انصاف ہوگا تو ضرور پنجابی مسیح کو جھوٹا کہیں گے اور اسی طرح پنجابی مسیح کی دوسری تحریر ملاحظہ ہو۔ ”اس صدی کے اواخر میں بقول ہنٹر صاحب پانچ لاکھ تک صرف ہندوستان میں ہی کرسٹان لوگوں کی نوبت پہنچ گئی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٩١، خزائن ج ٣ ص ٣٦٤)

کیا پنجابی مسیح کا گروہ ہم کو بتا سکتا ہے کہ اسی عرصہ میں اس کی کوشش سے کتنے عیسائی قادیانی مشن کے زیر اثر ہوئے۔ اب ان دنوں ایک یا دو کا ولایت میں مسلمان ہونے کا راگ سنانا اس پر بغلیں بجانا اور سیکڑوں تحریریں اسلام کی آڑ میں چندہ مانگنے پر لکھ کر اخباروں کے کالم کے کالم

٩

صفحہ ١٩٤

سیاہ کر ڈالنا اسی گروہ کا کام ہے۔ افسوس ہزاروں تو کیا لاکھوں پنجابی مسیح کی برکت سے اپنے ہی ملک کے بھائی آپ سے علیحدہ ہو کر عیسائی ہو گئے تو ان کی کچھ پروا نہیں کی گئی اور ذرا غم نہیں کیا گیا۔ افسوس اگر مرزائی ہوں تو ایسے ہی ہوں۔ ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند! آپ کو تو چندہ سے کام ہے اور اسی بناء پر لکھا جاتا ہے۔ خواجہ صاحب کا ہاتھ بٹاؤ اور اپنے اندرونی تفرقوں کو کچھ مدت کے لئے لپیٹ رکھو۔ اب دیکھیں مردم شماری کی بابت جو تعداد عیسائیوں کی سرکاری کاغذات میں درج ہے اور جس نے پنجابی مسیح کی پیش گوئی پر پانی پھیر دیا اس کی نسبت مرزائی گروہ کی طرف سے کیا گل فشانیاں ظہور میں آتی ہیں۔ مگر یاد رہے۔

گیا ہے سانپ نکل اب لکیر پیٹا کر

ناظرین! اس جملہ معترضہ کو چھوڑ کر اصلی مدعا پر آتا ہوں اور آپ کی توجہ اس تحریر کی طرف منعطف کراتا ہوں جو پنجابی مسیح نے حضرت مسیح کی ایسی ناپاک اور گندی تحریر کی قرآن شریف سے ہی تردید ظاہر ہے۔ قرآن مجید میں لکھا ہے: ”تحقیق اللہ نے پسند کیا آدم کو اور نوح کو اور ابراہیم کے گھر کو سارے جہان والوں سے کہ اولاد تھی ایک دوسرے کی اور اللہ سنتا جانتا جب بولی عورت عمران کی کہ اے رب میں نے نذر کیا تیری جو میرے پیٹ میں ہے۔ آزاد، سو تو مجھ سے قبول کر تو ہی سب سنتا جانتا اور پھر اس کو جنی۔ بولی اے رب میں یہ لڑکی جنی اور اللہ کو بہتر معلوم ہے جو کہ جنی اور بیٹا نہ ہوا جیسی وہ بیٹی اور جنی اس کا نام رکھا مریم اور میں تیری پناہ میں دیتی ہوں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے۔ پھر قبول کیا اس کو اس کے رب نے۔ اچھی طرح کا قبول اور ٹھہرایا اس کو اچھی طرح ٹھہرانا۔“ یہ تو ہے قرآن کی تعلیم یعنی خدا تعالیٰ مسیح ابن مریم کے نانا عمران اور اس کے سب گھر والوں کو پسند کرتا ہے اور مسیح ابن مریم کی نانی کا دعا مانگنا اور حضرت مریم اور اس کی اولاد کو خدا کی پناہ میں دینا اور شیطان سے بچانا اور خدا کا اس دعا کو قبولیت کا شرف بخشنا۔ قرآن سے صاف ظاہر ہے اور پنجابی مسیح کا اس کے برخلاف لکھنا کہ مسیح ابن مریم شیطان کے پیچھے چلے گئے اور ان کی دادیاں اور نانیاں معاذ اللہ! زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ کفر اور الحاد نہیں تو اور کیا ہے؟ اے نام کے مسلمانوں کیا اسی کی حمایت میں چندہ دیتے ہو۔ کیا پنجابی مسیح کے پیرو کمال دین نے اپنے مشن کی طرف سے ان باتوں کو عیسائیوں پر ولایت میں ظاہر کیا اور ان کو قائل کیا کہ واقعی پنجابی مسیح کی تحریر کے مطابق مسیح ابن مریم ایسا ہی تھا۔ اگر ان تحریروں کو ظاہر نہیں کیا تو کیوں؟

١٠

افسوس! جب کہ مسیح ابن مریم کی کو کر لیا گیا۔ کیونکہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔

الف ...... دیکھو قرآن شریف ”تحقیق عیسیٰ

سے پھر کہا اس کو ہو جا وہ ہو گیا۔“

ب ...... اور دوسری جگہ پر: ”کہاں سے

اسی طرح پیدا کرتا ہے اللہ جو چاہے جب حک جاتا ہے۔“

ج ...... اسی طرح اناجیل میں بھی مسطور

...... (انجیل متی باب اول آیت ١٨) جس

کی دادی کہاں سے آ گئی۔ لیکن پنجابی مسیح لکھتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے کا کام بھی کرتے رہے۔

د ...... اور یہ جو پنجابی مسیح نے (مکتوب

پرستی کے ستون کو توڑوں گا اور بجائے ح تثلیث پرستی کا دعویٰ بڑے زور و شور سے اولادی، انت منی وانا منك“ اور ”خدا کہتا ہے تو میرے ۔ سے ۔“ جس کا صاف مطلب بلا کسی تاو بلکہ خدا کا باپ بھی۔ کیا کمال الدین نے ان ب رسالہ جات سے حوالہ دار درج کی ہیں کچھ کام نہ کیا۔ لارڈ ہیڈلے صاحب اخبار پیغام صلح سے ظاہر ہے کہ خواجہ ص

صفحہ ١٩٥

افسوس! جب کہ مسیح ابن مریم کی کوئی دادی نہ تھی تو اسے اس الزام میں کس طرح شامل کر لیا گیا۔ کیونکہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔

سے پھر کہا اس کو ہو جا وہ ہو گیا۔“

(سورہ آل عمران آیت: ٥٩)

اسی طرح پیدا کرتا ہے اللہ جو چاہے جب حکم کرتا ہے ایک کام کو۔ یونہی کہتا ہے اس کو کہ ہو، وہ ہو جاتا ہے۔“

(سورہ آل عمران آیت: ٤٧)

(انجیل لوقا باب اول آیت ٢٦ تا ٣١ اور آیت ٣٤، ٣٧)

کی دادی کہاں سے آگئی۔ لیکن پنجابی مسیح قرآن اور اناجیل کے خلاف یوسف نجار کو اس کا باپ لکھتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف نجار کے ساتھ ٢٢ برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے۔

(ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤ حاشیہ)

پرستی کے ستون کو توڑوں گا اور بجائے تثلیث کے توحید پھیلاؤں گا۔ اسی طرح کے خلاف خود تثلیث پرستی کا دعویٰ بڑے زور وشور سے کیا۔ دیکھو اس کا عربی الہام: ”انت منی بمنزلة اولادی، انت منی وانا منك“ اور خود ترجمہ بھی کرتا ہے۔

”خدا کہتا ہے تو میرے لئے ایسا ہے جیسا کہ اولاد، تو مجھ میں سے اور میں تجھ میں سے“۔ جس کا صاف مطلب بلا کسی تاویل کے یہ ہے کہ پنجابی مسیح خدا کا بیٹا بھی ہے اور خدا بھی بلکہ خدا کا باپ بھی۔

(دافع البلاء ص ٦ ، ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)

کیا کمال الدین نے ان جملہ تحریرات کو جو ہم نے پنجابی مسیح کی کتابوں، اخباروں اور رسالہ جات سے حوالہ وار درج کی ہیں۔ آپ لوگوں پر ظاہر کی ہیں؟ اگر نہیں تو اس نے اپنے مشن کا کچھ کام نہ کیا۔ لارڈ ہیڈلے صاحب نے تو صاف کھلے الفاظ میں انکار کر دیا جیسا کہ خود مرزائی اخبار پیغام صلح نے ظاہر کیا ہے کہ خواجہ صاحب نے ان کو اپنے زیر اثر لانے کے لئے ذرا بھر کوشش

١١

صفحہ ١٩٦

نہیں کی اور اگر دیگر صاحبوں کی نسبت بھی اس کی کوششوں کا یہی حال ہے جو ایک حد تک ممکن ہے کہ صحیح ہو تو ہم نے پنجابی مسیح کے مشن کی طرف سے اس کے عقائد کو حضرت مسیح ابن مریم اور دیگر چند امور کی نسبت جن پر اس کے گروہ کا دل و جان سے ایمان ہے آپ پر ظاہر کر دیا تو شاید ہرج کی بات متصور نہ ہوگی۔

”اگر مسیح کے اصلی کاموں کو ان حواشی سے الگ کر دیا جائے جو محض افتراء کے طور پر یا غلط فہمی کی وجہ سے گھڑے گئے ہیں تو کوئی عجوبہ نظر نہیں آتا۔ بلکہ مسیح کے معجزات اور پیش گوئیوں پر جس قدر اعتراض اور شکوک پیدا ہوتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق یا پیش خبریوں میں کبھی ایسے شبہات پیدا ہوئے ہوں۔“

(ازالہ اوہام ص ٦، خزائن ج ٣ ص ١٠٦)

”مگر پھر بھی عوام الناس ایک انبار معجزات کا ان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٨ ، خزائن ج ٣ ص ١٠٨)

”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا ...... اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔ پھر افسوس کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦ ، ٧ ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠، ٢٩١)

حالانکہ قرآن شریف (سورۃ بقرہ: ٢٥٣، مائدہ: ١١٠، آل عمران: ٤٩) میں خداوند تعالیٰ صاف صاف اور کھلے کھلے الفاظ میں فرما رہا ہے کہ: ”ہم نے عیسیٰ بن مریم کو معجزات دیئے۔ وہ اندھوں کو آنکھیں دیتا، کوڑھی کو پاک صاف کر دیتا اور مردوں کو زندہ کرتا اللہ کے حکم سے۔“ اور اسی طرح سے ظاہر ہے اور علمائے اسلام مکہ معظمہ و مدینہ منورہ و ہندوستان وغیرہ نے پنجابی مسیح اور اس کے گروہ کو بباعث فحش تحریرات مخالف قرآن اور احادیث و بے ادبی و بے حرمتی وتوہین انبیاء علیہ السلام دائرہ اسلام سے خارج کر دیا ہے۔ نہ وہ مسلمان ہیں اور نہ ہم اہل اسلام سے ان کا کچھ واسطہ ہے اور جو شخص ایسا عقیدہ حضرت مسیح بن مریم کی نسبت رکھتا ہو جیسا کہ ہم نے پنجابی مسیح کی کتابوں سے ظاہر کیا ہے۔ ہم اس کو ہرگز مسلمان نہیں سمجھتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس گروہ کے کسی فرد کو بھی خواہ وہ کمال دین ہی کیوں نہ ہو۔ اہل اسلام کی طرف سے کوئی بھی حق نیابت یا لیڈری کا نہیں۔

١٢

صفحہ ١٩٧

اگر کوئی پنجابی مسیح کا پیرو یا ان کا کوئی ہم خیال یہ کہے کہ یہ یسوع کی نسبت کہا گیا ہے نہ کہ مسیح ابن مریم کی نسبت تو اس کو چاہئے کہ وہ مسیح کو یسوع کا غیر ثابت کر کے مبلغ تین سو روپیہ کا انعام ہمارے انعامی اشتہار مورخہ ٣؍ جولائی ١٩٠٧ء کے مطابق حاصل کرے۔ قریباً سات برس سے کسی مرزائی کو اتنی جرأت نہیں ہوئی کہ وہ مذکورہ بالا انعام حاصل کرتا۔ مرزائی جو لفظ یسوع اور مسیح کی نسبت دھوکا دیتے ہیں۔ اس سے بچو اور اس کی تحقیقات میں ’’رسالہ عدالت ہائیکورٹ آسمانی کا صفحہ ٤،٨‘‘ ملاحظہ کرو۔

قرآن شریف و احادیث اور اناجیل کے برخلاف الزام لگائے ہیں انکار کر سکتا ہے۔ ہرگز نہیں اور کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ وہ تحریریں اس کی نظر سے نہیں گزریں یا اس کو خبر نہیں۔ اس کی ان تحریروں کا بہت سا حصہ اس کتاب میں پایا جاتا ہے۔ جس میں یہ پنجابی مسیح نے اپنے خاص الخاص ١١٣ مریدوں کی ایک فہرست دی ہے۔ جس میں کمال الدین کا نمبر ٦٢ ہے۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٢، خزائن ج ١١ ص ٣٢٦)

بلکہ کمال دین کی تعریف بھی کرتا ہے۔ دیکھو وہی کتاب حاشیہ ص ٣١ کیا ہو سکتا ہے کہ کمال الدین انکار کرے۔

کوئی اس کی نبوت اور رسالت کا انکار کرے گا وہ مستوجب سزا ہوگا اور اس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ نبوت کا دروازہ قیامت تک کھلا رہے گا اور رسول آتے رہیں گے (توضیح مرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠ ملخص) اور وہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت کا قائل نہیں۔ منکر ہے قرآنی احکام کے آیت: ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا اور ختم کرنے والا نبوت کا ہے۔

اور اپنے آپ کو بعینہ محمد اور اس کا بروز (اوتار) کہتا ہے۔

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢، نومبر ١٩٠١ء)

وہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ کرشن کا اوتار بھی ہے۔

(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨)

وہ اپنے آپ کو آدم، ابراہیم، نوح، یوسف اور موسیٰ کا بھی بروز قرار دیتا ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٢٥٣، خزائن ج ٣ ص ٢٢٧، ٢٢٨)

١٣

صفحہ ١٩٩

قرآن شریف کی غلطیاں نکالنے کے لئے آیا ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٧٠٨، خزائن ج ٣ ص ٤٨٢ ملخص)

اور اسی بناء پر چند آیات قرآنی کو بڑھا گھٹا کر رسالہ اربعین میں لکھا۔ مقابلہ کرو (ص آیت: ٨٧، آل عمران آیت: ١٣٤، بقرہ آیت: ١٠٦، ٤١٠، ہود آیت: ٣٧، مؤمن آیت: ٧٧، یوسف آیت: ٨٧، حج آیت: ٢٢، فتح آیت: ٣، نمل آیت: ٤٥، یونس آیت: ٩١) جس کو اور زیادہ شوق ہو دیکھے

(ضمیمہ شحنہ ہند مورخہ ١٦، ٢٤ جولائی ١٩٠٢ء، نمبر ٢٧، ٢٨، ج ٢٠، ٢٢ ص ٢٢٦ تا ٢٣٠)

اے پنجابی مسیح کے گروہ پر جان فدا کرنے والو اور چندہ دینے والو کچھ تو غیرت کو کام میں لاؤ۔ اگر بقول پنجابی مسیح قرآن ہی غلطیوں سے منزہ (پاک) نہیں تو تم کیا خاک اس کی تبلیغ کے لئے ایڑیاں رگڑ رہے ہو؟ لیکن یاد رکھو جب کہ خود خدا تعالیٰ اپنے کلام کا محافظ ہے جیسا کہ ’انّا لہ لحافظون‘ سے ظاہر ہے تو پنجابی مسیح کا آیات قرآنی میں گھٹانا بڑھانا اور اس کی چوری جلد پکڑی گئی۔ یہ ہی اس کا ایمان اور اس کے گروہ کا خدا کے پاک نوشتوں پر۔

خواب آنے لگے۔ اب دیکھیں کہ پنجابی مسیح کے ان عقائد کی جو قرآن واحادیث نبویہ اور اناجیل کے برخلاف ہیں۔ جن کو ہم نے حوالہ وار اوپر درج کیا ہے۔ کون کون صاحب شرف قبولیت بخش کر پنجابی مسیح کے مشن کے زیر فرمان ہونا قبول کرتا ہے۔

اور فرانس میں مسلمان ہوئے ہیں تو ہم ان سے یہ پوچھنے کی ضرور جرأت کریں گے کہ کیا آپ نے مان لیا کہ پنجابی مسیح نے جس کا کمال دین مرید ہے جو کچھ حضرت مسیح ابن مریم کی نسبت قرآن واحادیث اور اناجیل کے خلاف اور جسے ہم پیچھے ظاہر کر چکے ہیں لکھا بالکل سچ اور صحیح ہے؟ اور پنجابی مسیح محمد رسول اللہ ﷺ کا بروز، کرشن کا اوتار، خدا کا بیٹا، بلکہ خدا کا باپ بھی ہے۔ اگر ان سب باتوں پر آپ ایمان لے آئے ہیں تو ہم بھی زور سے کہیں گے کہ آپ کا اور اسلام کا کچھ بھی تعلق نہیں۔ ہم روئے زمین کے نوے کروڑ مسلمان ایسے عقائد رکھنے والے کو ہرگز ہرگز مسلمان نہیں سمجھتے۔

ضمیمہ عقائد مسیح قادیانی

(ازالہ ص ١٢٨، ١٢٩، خزائن ج ٣ ص ١٦٦)

١٤

(الحکم رام کی موت کی نسبت اشتہار مورخہ ٥

سے ہوتا ہے اور کچھ نہیں۔"

(توضیح المرام صفحہ

(توضیح مرام

کی وحی نے خبر نہیں دی۔"

(ازالہ او

ہے۔"

صفحہ ١٩٩

(لیکھرام کی موت کی نسبت اشتہار مورخہ ١٥؍ مارچ ١٨٩٧ء، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٥٩)

سے ہوتا ہے اور کچھ نہیں۔“

(توضیح المرام ملخصاً من ص ٣٨، ٤٢، ٤٧ تا ٦٧، خزائن ج ٣ ص ٦٨)

(توضیح مرام ملخصاً من ص ٦٨، ٧٠، ٨٥، خزائن ج ٣ ص ٨٦)

(ازالہ اوہام ص ٦٦٨، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩)

(ازالہ اوہام ص ٦٨٨، ٦٨٩، خزائن ج ٣ ص ٤٧١)

کی وحی نے خبر نہیں دی۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٤)

(ازالہ اوہام ص ٣٩٥، خزائن ج ٣ ص ٣٦٦)

(ازالہ اوہام ص ٣٠٨، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧)

(ازالہ ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٣٩)

(ازالہ ص ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٣٨٦)

(ازالہ اوہام ص ٢٤٨، ٢٥٠، ٧٠٧، خزائن ج ٣ ص ٥٠٣، ٥٠٥ ملخص)

(ازالہ ص ٧٦، ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)

ہے۔“

(ازالہ ص ٧٦، ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)

١٥

صفحہ ٢٠١

مثیل حرم کعبہ ہے۔ ”و من دخله كان آمنا“۔ (براہین احمدیہ ص ٥٥٨، خزائن ج ١ص ٦٦٦)

المسجد الاقصیٰ الذی بارکنا حوله“ کا معنوی اور اصلی طور پر مصداق وہ مسجد ہے جو مرزا قادیانی کے والد نے بنائی اور مرزا قادیانی نے اس میں توسیع کی۔“

(اشتہار منارۃ المسیح ،مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٨، ٢٨٩ ملخص)

(ازالہ ص ٤٢٥، ٤٢٦، خزائن ج ٣ ص ٣٢٥)

”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے“

(درثمین اردو ص ٢٢)

مرزائی جماعت کی نسبت چند دلچسپ باتیں

متبرک داڑھی چٹ کرا بیٹھے اور کہ کوئی مہ جبیں لیڈی بھی آپ کے پاس رہتی ہے۔ افسوس کہ خواجہ صاحب بھی بایں ہمہ ریش فش شیدائے حسن فرنگ ہو گئے اور اپنی زینت چہرہ اسلامی علامت لمبی داڑھی کو کسی دشمن دین کی نذر کر بیٹھے۔ ڈر ہے کہ کہیں مرزائی دین کی تبلیغ کرتے کرتے خود ہی عیسائیت کے دام میں نہ پھنس جائیں۔ (سراج الاخبار)

١٦

مرزائی سال اور مہینے

مرزائی اخبار الحق اپنے یکم اگست ١٣ مرزائی جماعت کا سنہ بھی مرزا قادیانی کے نام پر ال نام حسب ذیل ہوں۔ (١) نور الدین۔ (٢) ظہور ا (٥) محی الدین۔ (٦) معین الدین۔ (٧) شمس ا (١٠) نصیر الدین۔ (١١) رفیع الدین۔ (١٢) کمال ا کون سی نئی بات کرتے ہیں جس سے مسلمان ان ک مسلمان نے ایسی جرات کی ہے کہ حضرت محمد رسو تجویز کرے؟ مگر مرزائی سچے ہیں کیونکہ جو تمام مسلما

سادہ لوح مسلمانو! شرم کرو اور سوچو ک نہیں۔ دیکھو نور الدین مرزائی جمہور اسلام کے خلا عقیدہ لکھتا ہے۔ ”میں مبشراً برسول یاتی موعود علیہ السلام کے متعلق مانتا ہوں کہ یہ صرف حض احمد رسول ہیں۔“

کیوں صاحب! اب بھی آپ نے حت

کی قبر کی بابت مرزا قادیانی کے متضاد بیانات۔

پہلی قبر: یسوع (مسیح) سو اس بات حواریوں نے) فقط ندامت کا کلنک اپنے منہ پر م ہوگی کہ رات کے وقت جیسا کہ ان پر الزام لگا تھا دوسری قبر میں رکھ دیا ہوگا اور پھر حسب مثل مشہو درخواست کرتے تھے یسوع زندہ ہو گیا۔ یہ قبر یروشلم میں ہے۔ جہاں یسوع صلی

صفحہ ٢٠١

مرزائی سال اور مہینے

مرزائی اخبار الحق اپنے یکم اگست ١٩١٣ء کے پرچہ میں یہ نئی تجویز پیش کرتا ہے کہ مرزائی جماعت کا سنہ بھی مرزا قادیانی کے نام پر ان کی وفات سے شمار ہونا چاہئے اور مہینوں کے نام حسب ذیل ہوں۔ (١) نور الدین۔ (٢) ظہور الدین۔ (٣) بشیر الدین۔ (٤) نذیر الدین۔ (٥) محی الدین۔ (٦) معین الدین۔ (٧) شمس الدین۔ (٨) قمر الدین۔ (٩) سراج الدین۔ (١٠) نصیر الدین۔ (١١) رفیع الدین۔ (١٢) کمال الدین۔ جو صاحبان کہا کرتے ہیں کہ مرزائی کون سی نئی بات کرتے ہیں جس سے مسلمان ان پر ناراض ہیں بتائیں کیا آج تک کسی قرن کے مسلمان نے ایسی جرأت کی ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے سال ہجرت کو چھوڑ کر نیا سال تجویز کرے؟ مگر مرزائی سچے ہیں کیونکہ جو تمام مسلمانوں کا اسلام ہے وہ ان کا اسلام نہیں ہے۔

(پیغام صلح مورخہ ١٨؍جنوری ١٩١٤ء)

سادہ لوح مسلمانو! شرم کرو اور سوچو کہ واقعی جو ہمارا اسلام ہے وہ مرزائیوں کا اسلام نہیں ۔ دیکھو نور الدین مرزائی جمہور اسلام کے خلاف آیت قرآن مجید اور مرزا کی نسبت اپنا کیا عقیدہ لکھتا ہے۔ ”میں مبشراً برسول یاتی من بعد اسمه احمد کی پیش گوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق مانتا ہوں کہ یہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق ہے اور وہی احمد رسول ہیں۔“

کیوں صاحب! اب بھی آپ نے عقل کے ناخن لئے یا نہیں۔ حضرت مسیح ابن مریم کی قبر کی بابت مرزا قادیانی کے متضاد بیانات۔

پہلی قبر: یسوع (مسیح) سو اس بات کو عقل قبول کرتی ہے کہ انہوں نے (یعنی حواریوں نے) فقط ندامت کا کلنک اپنے منہ پر سے اتارنے کی غرض سے ضرور یہ حیلہ بازی کی ہوگی کہ رات کے وقت جیسا کہ ان پر الزام لگا تھا یسوع کی نعش کو اس کی قبر میں سے نکال کر کسی دوسری قبر میں رکھ دیا ہو گا اور پھر حسب مثل مشہور کہ خواجہ کا گواہ ڈڈو کہہ دیا ہو گا کہ لو جیسا تم درخواست کرتے تھے یسوع زندہ ہو گیا۔

(ست بچن ص ١٦٢، خزائن ج ٢٠ ص ٤٨٦)

یہ قبر یروشلم میں ہے۔ جہاں یسوع صلیب دیا گیا۔ بقول مرزا۔

١٧

صفحہ ٢٠٢

دوسری قبر: ”ہاں بلاد شام میں حضرت عیسیٰ کی قبر کی پرستش ہوتی ہے اور مقررہ تاریخوں پر ہزار ہا عیسائی سال بسال اس قبر پر جمع ہوتے ہیں۔“

(ست بچن حاشیہ ص ١٦٤، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٩)

تیسری قبر: ”یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جاکر فوت ہوگیا۔ لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہو چکا تھا پھر زندہ ہو گیا۔“

(ازالہ اوہام مطبوعہ بار دوم ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)

چوتھی قبر: ”اور حضرت مسیح اپنے ملک سے نکل گئے اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کشمیر میں جاکر وفات پائی اور اب تک کشمیر میں ان کی قبر موجود ہے۔“

(ست بچن حاشیہ ص ١٦٤، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٨)

ناظرین! غور فرمائیں اور انصاف کریں کہ مسیح قادیانی کی کس بات کو سچا سمجھا جائے۔ پہلے وہ مسیح کی قبر یروشلم میں۔ پھر بلاد شام میں۔ پھر اپنے وطن گلیل میں اور پھر سری نگر کشمیر میں بتاتا ہے اور جب کہ وہ یروشلم کی قبر سے حضرت عیسیٰ کی نعش کا چرا لے جانا بتاتا ہے تو معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یروشلم میں فوت ہو کر دفن ہو چکے تھے۔ پھر مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اپنے وطن گلیل میں جا کر اور فوت ہو کر دفن کئے جانے کا بیان لکھتا ہے۔ بعد ازاں کشمیر میں جا کر وفات پانے اور دفن ہو جانے کا بیان کرتا ہے تو گویا بقول مرزا قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام چار دفعہ فوت ہوئے اور چار جگہ دفن کئے گئے۔ کیا یہ مرزا قادیانی کا خلل دماغ ہے یا کہ حضرت مسیح واقعی بار بار مرتے اور دفن ہوتے رہے ہیں؟ افسوس! پس مرزا قادیانی کا یہ عقیدہ وفات مسیح قرآن مجید وانجیل کے بالکل برخلاف ہے۔ مرزائی مشن کو تقویت دینے والو یعنی کمالدین کو لندن میں چندہ بھیجنے والو کچھ تو انصاف کرو اور غیرت سے کام لو اور بجائے اپنے مذہب کی توہین کرانے کے اور دشمنان دین کو چندے دے دے کر دوزخ خریدنے کے اپنے پاک مال میں سے ان لوگوں کو چندے دو جو مرزائی گروہ کی فتنہ پردازیوں، ابلہ فریبیوں کے اسرار کو طشت از بام کر رہے ہیں۔ یعنی انجمن حامی اسلام لاہور نے یہ عزم بالجزم کر لیا ہے کہ مختلف ٹریکٹوں کی صورت میں قادیانی فرقہ کے عقائد باطلہ کی تردید وغیرہ شائع کی جایا کرے۔ پس آپ انجمن مذکور کے سیکرٹری کی دامے درمے سخنے قلمی امداد کے لئے فوری کوشش فرمائیں۔ خادم الاسلام ملا محمد بخش سیکرٹری انجمن حامی اسلام لاہور نزد کٹڑہ ولی شاہ!

PDF 204

خاتم النبیین لا نبی بعدی

لاہوری ظلّی نبوت

اور

مرزا غلام احمد قادیانی

حضرت مولانا محمد اعجاز دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ

صفحہ ٢٠٥

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!

پہلے اس کو پڑھئے!

اس کتاب کے لکھنے کا اصل منشاء یہ ہے کہ لاہوری جماعت کے لوگ علمائے دین کو مطعون اور بدنام کرتے ہیں کہ مرزاغلام احمد نے قطعاً نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ مسلمانوں کو کافر کہا۔ مولوی صاحبان نے بلاوجہ مرزا قادیانی پر کفر کا فتویٰ لگا دیا۔ جدید تعلیم یافتہ اصحاب اس بات کو محض حسن ظن سے مان کر اپنے علماء سے بدگمان ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ علماء کا کوئی سر پھرا ہوا نہیں ہے کہ بلاوجہ لوگوں کو کافر بنا دیں اور اسلام سے خارج کریں۔ خود مرزا قادیانی بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں: ”پس ماننا پڑا کہ سچے مسیح اور مہدی کی نشانی ہی یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کی بہت سی حدیثوں سے منکر ہو۔ ورنہ یوں تو علماء کا سر پھرا ہوا نہ ہوگا کہ بے وجہ کافر کہہ دیں گے اور ان کی نسبت کفر کا فتویٰ دے دیں گے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٣، خزائن ج ١٧ص ١٦٠)

مرزا قادیانی خود تسلیم کرتے ہیں کہ مولوی لوگ بے وجہ کسی کو کافر نہیں کہتے۔ مجھے جو کافر کہا ہے۔ وجہ ضرور ہے۔ اس واسطے ہم نے وہ تمام عبارتیں جن سے مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت پایا جاتا ہے اور وہ عبارتیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے تمام اسلامی دنیا کو جو آپ کی نبوت و مسیحیت پر ایمان نہ لائے، کافر اور خارج از اسلام قرار دیا ہے۔ ہم نے وہ سب عبارتیں ایک جگہ جمع کر دی ہیں تاکہ مرزائیوں کو ونیز دیگر مسلمانوں کو خواہ وہ عالم ہوں یا غیر عالم محاکمہ کرنے کا موقعہ ملے کہ آیا علمائے دین کہاں تک کفر کا فتویٰ دینے میں حق بجانب ہیں۔ میرے خیال میں ہر ایک عالم کے پاس اس کتاب کا ایک نسخہ رہنا ضروری ہے۔ ہم نے اس واسطے کتاب کو نہایت مختصر رکھا ہے کہ طویل کتابیں لوگ پڑھتے نہیں اور اردو بھی اس کی نہایت آسان ہے۔ تاکہ ہر ایک آدمی سمجھ سکے۔ فقط: اعجاز احمد عفی عنہ!

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم! نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم ٠ اما بعد!

حضرات! مرزائیت کا وہ فتنہ جس نے قادیان سے جنم لیا تھا اس کی ایک خطرناک شاخ لاہور میں قائم ہو گئی ہے جو اسلام کے لئے قادیانیوں سے زیادہ تباہ کن ہے۔ اس جماعت کا طرزِ عمل چندہ بٹورنے کے لئے نہایت منافقانہ ہے۔ یہ جماعت مجددیت کے برقع میں مرزا قادیانی ٢

کی نبوت کی اشاعت کر رہی ہے۔ بھولے بھالے مسلمان ہیں۔ وہ ان کے دام فریب میں آ کر اپنا دین و ایمان تباہ وبرباد اصحاب اکثر ان کے جال کا شکار ہو رہے ہیں۔ ادھر مس قادیانیوں کی طرف زیادہ ہے اور لاہوری شاخ کو بالکل مسلمانوں میں مرزائیت کا زہر پھیلانے کا خوب موقعہ مل ر لاہوریوں کی تردید زیادہ ضروری ہے۔ اب تک کوئی مستق نظر سے نہیں گذری۔ اس واسطے مدت سے مجھ کو یہ خیال تھا ہونا ضروری ہے۔ اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لئے م کچھ ایسے اسباب پیدا ہو گئے کہ یہ کام ملتوی کرنا پڑا۔ آج اس خط کا خلاصہ جو فقیر محمد منظور الٰہی سیکرٹری جماعت احمدیہ میری نظر سے گذرا جس کے الفاظ یہ ہیں کہ: ”حضرت مجد پر یہ ثابت کرنا لازم ہے کہ حضرت نے نبوت کا دعویٰ کیا ثابت نہ کر سکیں گے تو ان کو چاہئے کہ اپنی زبان اور اپنے (اخبار زمیندار مورخہ ٩؍ فروری ١٩٣٣ء) فقیر محمد منظور الٰہی صاح رات کہے۔ اس مضمون کو پڑھنے کے بعد اسی وقت ہم نے مرزا غلام احمد کے دعوے کے متعلق لکھنا شروع کر دینا چاہ روشن کی طرح واضح ہو جائے اور آئندہ محمد منظور الٰہی صاح اور مسلمانوں کو بھی مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کے متعلق

مرزاغلام احمد کی جعلی مسیحیت ونبوت پر ایک ن

قبل اس کے کہ نبوت کے متعلق کچھ لکھوں۔ کرانا چاہتا ہوں۔ ”مرزا قادیانی عرصہ دراز سے اسی مق خدا تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا اور وہ اب تک زندہ موجو دراز تک خدا اور رسول کی ہتک کرتے رہے اور خدا تعالیٰ مگر تعجب تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی ذات میں یہ س والہام کی بارش بھی ہوتی رہتی ہے۔ ان عیوب کو وحی وا لیا جائے تو دنیا سے نیک و بد کی تمیز اٹھ جاتی ہے۔ جیسا ٣

صفحہ ٢٠٥

کی نبوت کی اشاعت کر رہی ہے۔ بھولے بھالے مسلمان جوان ان کے عقائد سے ناواقف ہیں۔ وہ ان کے دام فریب میں آ کر اپنا دین و ایمان تباہ و برباد کر لیتے ہیں، خصوصاً جدید تعلیم یافتہ اصحاب اکثر ان کے جال کا شکار ہو رہے ہیں۔ ادھر مسلمانوں کا رجحان تردید مرزائیت میں قادیانیوں کی طرف زیادہ ہے اور لاہوری شاخ کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔ اس جماعت کو مسلمانوں میں مرزائیت کا زہر پھیلانے کا خوب موقعہ مل رہا ہے۔ حالانکہ بہ نسبت قادیانیوں کے لاہوریوں کی تردید زیادہ ضروری ہے۔ اب تک کوئی مستقل کتاب لاہوریوں کی تردید میں میری نظر سے نہیں گزری۔ اس واسطے مدت سے مجھ کو یہ خیال تھا کہ ایک کتاب لاہوریوں کی تردید میں ہونا ضروری ہے۔ اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کچھ لکھنا شروع بھی کر دیا تھا۔ مگر بعد میں کچھ ایسے اسباب پیدا ہو گئے کہ یہ کام ملتوی کرنا پڑا۔ آج میں اخبار زمیندار پڑھ رہا تھا جس میں اس خط کا خلاصہ جو فقیر محمد منظور الٰہی سیکرٹری جماعت احمدیہ لاہور نے مدیر الفتح قادیان کے نام لکھا تھا۔ میری نظر سے گزرا جس کے الفاظ یہ ہیں کہ : ”حضرت مجدد مرزا غلام احمد کو متہم کرنے سے پہلے علماء پر یہ ثابت کرنا لازم ہے کہ حضرت نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ اگر وہ یہ ثابت نہ کر سکیں اور وہ ہرگز ثابت نہ کر سکیں گے تو ان کو چاہئے کہ اپنی زبان اور اپنے قلم کو حضرت مجدد کی شان میں روکیں۔“ (اخبار زمیندار مورخہ ٩ فروری ١٩٣٣ء) فقیر محمد منظور الٰہی صاحب کا یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جیسے کوئی دن کو رات کہے۔ اس مضمون کو پڑھنے کے بعد اسی وقت ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ آج ہی سے ایک کتاب مرزا غلام احمد کے دعوے کے متعلق لکھنا شروع کر دینا چاہئے کہ جس سے مرزا قادیانی کا دعویٰ روز روشن کی طرح واضح ہو جائے اور آئندہ محمد منظور الٰہی صاحب و نیز دیگر لاہوریوں کو گنجائش نہ رہے اور مسلمانوں کو بھی مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کے متعلق محاکمہ کرنے کا موقعہ مل جائے۔

مرزا غلام احمد کی جعلی مسیحیت و نبوت پر ایک نظر

قبل اس کے کہ نبوت کے متعلق کچھ لکھوں۔ پہلے آپ کو مرزا قادیانی کی مسیحیت کی سیر کرانا چاہتا ہوں۔ ”مرزا قادیانی عرصہ دراز سے اسی مشرکانہ خیال کے پابند تھے کہ حضرت مسیح کو خدا تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا اور وہ اب تک زندہ موجود ہیں۔ اسی نادانی میں مبتلا تھے۔ ایک مدت دراز تک خدا و رسول کی ہتک کرتے رہے اور خدا تعالیٰ کو ظالم ثابت کرتے رہے۔“ (معاذ اللہ) مگر تعجب تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی ذات میں یہ سب عیوب مذکورہ بالا جمع رہتے ہیں اور وحی والہام کی بارش بھی ہوتی رہتی ہے۔ ان عیوب کو وحی و الہام سے کیا نسبت۔ اگر اس بات کو صحیح مان لیا جائے تو دنیا سے نیک و بد کی تمیز اٹھ جاتی ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا محمود احمد ارشاد

٣

صفحہ ٢٠٦

فرماتے ہیں: ”پس نادان ہیں وہ لوگ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت مسیح کو خدا تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا اور وہ اب تک زندہ موجود ہیں۔ کیونکہ یہ عقیدہ نہ صرف قرآن کریم کے مخالف ہے۔ بلکہ مسیحیت کو اس سے طاقت حاصل ہوتی ہے اور رسول کریم ﷺ کی اس میں ہتک ہے۔ بلکہ خدا تعالیٰ کی بھی ہتک ہے۔ کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نعوذ باللہ! ظالم ہے۔“

(ندائے ایمان نمبر ٢ ص ٤)

پھر حقیقت النبوۃ میں لکھتے ہیں: ”گو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عقیدہ مشرکانہ ہے۔ حتیٰ کہ حضرت مسیح موعود باوجود مسیح کا خطاب پانے کے دس سال تک یہی خیال کرتے رہے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٤٢)

گویا مسیح بننے کے بعد بھی دس سال تک مشرک رہے۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کی مذہبی حالت کس قدر ردی اور گری ہوئی تھی۔ وہ تو خدا بھلا کرے سرسید احمد خان کا کہاں وہ تفسیر لکھیں اور مرزا قادیانی کی نجات ہو۔ سرسید صاحب نے تفسیر لکھی اس میں یہ بھی لکھا کہ مسیح فوت ہو گیا۔ جیسا کہ اس عبارت سے ثابت ہے ”پہلی تین آیتوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اپنی موت سے وفات پا جانا، علانیہ ظاہر ہے۔ مگر جو کہ علمائے اسلام نے بہ تقلید بعض فرق نصاریٰ کے قبل اس کے کہ مطلب قرآن مجید پر غور کریں۔ یہ تسلیم کر لیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر چلے گئے۔ اس لئے انہوں نے ان آیتوں کے بعض الفاظ کو غیر محقق تسلیم کے مطابق کرنے کی بیجا کوشش کی ہے۔ پہلی آیت میں صرف لفظ متوفیک کا واقعہ ہے۔ جس کے معنے عموماً ایسے مقام پر موت کے لئے جاتے ہیں۔ خود قرآن مجید سے اس کی تفسیر پائی جاتی ہے۔ جہاں خدا نے فرمایا: ’اللہ یتوفی الانفس حین موتھا‘ ابن عباس اور محمد بن اسحاق نے جیسا کہ تفسیر کبیر میں لکھا ہے: ”متوفیک“ کے معنی ممیتک کے کئے ہیں۔ یہی حال لفظ توفیتنی کا ہے۔ جو دوسری آیت میں ہے اور جس کے صاف معنے یہ ہیں کہ جب تو نے مجھے موت دی یعنی جب میں مر گیا اور ان میں نہیں رہا تو تو ان پر نگہبان تھا۔“

(تفسیر القرآن ج ٢ ص ٤٧)

اس تفسیر کو جب مرزا قادیانی نے پڑھا تو آنکھیں کھل گئیں اور مسیحیت کا راستہ صاف نظر آنے لگا اور وفات مسیح کے الہاموں کی بارش شروع ہو گئی۔ بجائے اصلی مسیح کے بروزی مسیح کے قائل ہو گئے۔ لیکن مرزا قادیانی نے یہ حکمت عملی کی کہ اپنے عقیدہ کو مولویوں کے خوف سے پوشیدہ رکھا اور کھلم کھلا اعلان نہیں کیا۔ البتہ (براہین احمدیہ حصہ سوم ص ٢٥٧) میں اس پوشیدہ عقیدہ کا بوجہ ایک شدید ضرورت کے اظہار کیا گیا ہے۔ مگر ایسے رنگ میں اظہار ہے کہ ہر شخص معمولی نظر سے اس کو

٤

صفحہ ٢٠٧

سمجھ نہیں سکتا۔ ناظرین کی دلچسپی کے لئے ہم اس کو نقل کئے دیتے ہیں۔ ملاحظہ ہو ’ایک پادری صاحب نے یہ پیش گوئی کی ہے کہ اب تین برس کے اندر اندر حضرت مسیح آسمان سے پادریوں کی مدد کے لئے اتریں گے۔ پھر شاید ایک مرتبہ ہم نے منشور محمدی یا کسی اور اخبار میں پڑھا ہے کہ ایک بنگلور کے پادری نے بھی کچھ ایسا ہی وعدہ کیا تھا۔ بہر حال مدت ہوئی کہ وہ تین برس کا وعدہ گزر بھی گیا۔ مگر آج تک مسیح کو آسمان سے اترتا کسی نے نہیں دیکھا اور یہ پیش گوئی پادریوں کی ایسی ہی جھوٹی ہوئی جیسا کہ بعض نجومی نومبر ١٨٨١ء کے مہینے میں قیامت کا قائم ہونا سمجھ بیٹھے تھے اور واضح رہے کہ ہم اس سے انکار نہیں کرتے کہ کسی پادری کو مسیح کے نازل ہونے کے بارہ میں خواب آئی ہو۔ مگر ہمارا یہ منشاء ہے کہ پادریوں کی خوابیں بباعث کفر و عداوت حضرت خاتم الانبیاء دروغ بے فروغ نکلتی ہیں۔ اگر کوئی خواب شاذ و نادر کسی قدر سچی ہو تو وہ مشتبہ اور مبہم ہوتی ہے۔ پس اگر مسیح کے بارہ میں کہ جو ان کو خواب آئی۔ اسی قسم دوئم میں داخل کریں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ مسیح سے مراد عالم رؤیا میں کوئی کامل فرد امت محمدیہ کا ہے۔ کیونکہ قدیم سے یہ تجربہ ہوتا چلا آیا ہے کہ جب کوئی عیسائی اپنی خواب دیکھتا ہے کہ اب مسیح آنے والا ہے کہ جو دین کو تازہ کرے گا یا اگر کوئی ہندو دیکھتا ہے کہ اب کوئی اوتار آنے والا ہے جس سے دھرم کی ترقی ہوگی تو ایسی خوابیں ان کی اگر بعض وقت سچی ہوں تو ان کی یہ تعبیر ہوتی ہے کہ اس مسیح اور اس اوتار سے مراد کوئی محمدی شخص ہوتا ہے کہ جو دین کی ترقی اور اصلاح کے لئے اپنے وقت پر ظہور کرتا ہے اور چونکہ وہ اپنی نورانیت میں تمام مقدسوں کا وارث ہوتا ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ سوم ص ٢٧٥، خزائن ج ١ ص ٢٨٦،٢٨٥)

یہ عبارت مرزا قادیانی کی جعلی مسیحیت کا پول کھول رہی ہے کہ آپ کیسی کیسی حکمتوں سے مسیح بنے ہیں۔ عیسائیوں کو خواب اور پیش گوئی کی جو تاویل بتلائی قابل غور ہے کہ اس آنے والے مسیح اور اوتار سے مراد کوئی کامل فرد امت محمدیہ کا ہے یعنی مسیح اور کرشن بروزی وجود کے ساتھ آئے گا۔ نہ اصلی وجود کے ساتھ۔ اس سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ سرسید کی تفسیر دیکھ کر مرزا قادیانی ان کی شاگردی اختیار کر چکے تھے اور اپنا پہلا عقیدہ چھوڑ کر براہین احمدیہ حصہ سوئم کی تصنیف کے وقت بروزی وجود کے قائل ہو چکے تھے۔ مگر اس کو پوشیدہ رکھا۔ پھر یہ اندازہ کر کے کہ اس وقت عیسائی لوگ مسیح کے منتظر ہیں اور مسیح کے آنے کی پیش گوئی بھی پادری لوگ کر چکے ہیں۔ ادھر ہندوؤں کی کتابوں میں بھی کسی اوتار کے آنے کی پیش گوئی پائی جاتی تھی اور مسلمانوں میں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی علیہ الرضوان وغیرہ کا آنا مسلم تھا ہی لیکن آپ کے مسیح اور کرشن بننے میں یہ بات سدراہ تھی کہ آپ محمدی شخص تھے تو اس کا ازالہ اس طرح کیا کہ عیسائیوں

٥

صفحہ ٢٠٨

اور ہندوؤں کو دعویٰ سے پہلے ہی خواب کی تعبیر بتلا کر کہ مسیح اور کرشن سے مراد کوئی محمدی شخص ہوتا ہے تیار کرلیا۔ تا کہ دعویٰ کرنے کے وقت دقت نہ ہو۔ اب رہ گئے مسلمان، مسلمانوں کو عیسائیوں کے ساتھ مذہبی جنگ میں مشغول کر کے ان سے مذہبی ہمدردی حاصل کی۔ اب یہ سوال ہوتا ہے کہ جب عقیدہ بدل چکے تھے تو پھر براہین حصہ چہارم میں مسیح کی آمد ثانی کا کیوں اقرار کیا؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں بڑی چالبازی اور حکمت عملی تھی۔ اگر مرزا قادیانی ایسا نہ کرتے تو آج قادیانی مسیحیت میں بالکل سناٹا ہوتا۔ نہ لاہوریوں کا وجود ہوتا نہ قادیانیوں کا۔ نہ ظلی نبوت ہوتی نہ حقیقی۔ مولوی لوگ فتویٰ لگا دیتے بنا بنایا کھیل بگڑ جاتا۔ مرزا قادیانی کی مسیحیت خاک میں مل جاتی۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی عبارت بھی ہمارے خیال کی تائید کرتی ہے۔ ملاحظہ ہو فرماتے ہیں: ”پس میں خدا کی حکمت عملیوں پر قربان کہ کیسے لطیف طور سے پہلے سے میری بریت کا سامان براہین میں تیار کر رکھا۔ اگر براہین میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا کچھ بھی ذکر نہ ہوتا اور صرف میرے مسیح موعود ہونے کا ذکر ہوتا تو وہ شور جو سالہا سال بعد پڑا اور تکفیر کے فتوے تیار ہوئے۔ یہ شور اسی وقت پڑ جاتا۔“

(اعجاز احمدی ص ٩، خزائن ج ١٩ ص ١١٥)

دیکھئے! حکمت عملیوں کا مرزا قادیانی کو خود اقرار ہے۔ یہ چال تھی جس نے براہین میں مسیح کی آمد ثانی کا ذکر کرا دیا۔ پھر دس سال تک خاموشی کے ساتھ درپردہ مسیحیت کا اڈہ جماتے رہے اور اس عقیدہ کی تبدیلی سے یہ فائدہ آپ کو پہنچا جو لوگ سرسید کے پیرو تھے۔ اکثر وہ لوگ مرزا قادیانی کے ساتھ شامل ہو گئے جب جماعت کافی ساتھ ہوگئی اور روپیہ بھی کافی فراہم ہو گیا۔ فوراً کھلم کھلا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ اب مسلمانوں نے کہا کہ حضرت جس مسیح کی بابت حدیث میں آنے کی پیش گوئی ہے وہ تو مسیح اسرائیلی ہے تو ان کو وہی جواب دیا جو عیسائیوں اور ہندوؤں کو خواب کی تعبیر بتلائی تھی۔ یعنی مسیح سے مراد کوئی کامل فرد امت محمدی کا ہے جو خواب کی تعبیر بتلائی تھی وہی حدیث کی تاویل کر دی۔ اب کیا ہوتا ہے سانپ نکل گیا لکیر پیٹتے رہو۔ جو لوگ مرزا قادیانی کے ساتھ مل چکے تھے ان کو مجبوراً تسلیم کرنا پڑا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”انسان جب ایک بات منہ سے نکال لیتا ہے یا ایک عقیدہ پر قائم ہو جاتا ہے تو پھر کیسی ہی خرابی اس عقیدہ کی کھل جائے اس کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔“

(مسیح ہندوستان میں ص ١٦، خزائن ج ١٥ ص ١٨)

جب آپ مسیح ہونے کا اعلان کر چکے تو ان عیسائیوں اور ہندوؤں کو جن کو براہین احمدیہ میں خواب کی تعبیر بتلا کر تیار کیا تھا ان کو اپنی مسیحیت پر ایمان لانے کی دعوت دی جاتی ہے۔ ملاحظہ

ہو۔ فرماتے ہیں: ”اور مسیحی لوگ تو اس وقت سے ذریعہ سے شائع کر چکے ہیں کہ تین برس تک تـ اس اترنے والے کا نشان دیا تو مسیحوں پر لازم ہـ پیش گوئی کے آپ مکذب نہ ٹھہریں۔“

اور ہندوؤں کو یوں دعوت دیتے ہیں وہ یہ کہ آخری زمانہ میں ایک اوتار آئے گا جو کہ پر ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ میں ہوں۔“

یہاں مرزا قادیانی نے اسی براہین دے کر عیسائیوں اور ہندوؤں کو ایمان لانے کـ حکمت عملی سے مسیحیت کو حاصل کیا۔ تکفیر کے ذکر کر کے مولویوں کو ٹھنڈا کر دیا۔ نہایت عمدگی چکا تھا۔

تحقیق دعویٰ نبوت مرزا

ہم کو بہت افسوس ہے کہ فقیر محـ ایمان نہیں لائے۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے سوا تمام اسلامی دنیا حتیٰ کہ قادیانی بھی یہی لاہوری بھی مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں بـ اصحاب سے استدعا کرتے ہیں کہ جو کچھ ہم سامنے رکھ دیں۔ آپ اس کو خالی الذہن ہـ نے ہم سے مرزا قادیانی کی نبوت کے متعلق ہم رفاہ عام کے لئے قلمبند کئے دیتے ہیں

ہمارا جواب۔ قولہ ....... مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ رو سے استعمال ضرور کیا ہے۔ کہیں انہوں

صفحہ ٢٠٩

ہو۔ فرماتے ہیں: ”اور مسیحی لوگ تو اس وقت سے دس برس پہلے اپنی یہ پیش گوئی بھی اخباروں کے ذریعہ سے شائع کر چکے ہیں کہ تین برس تک مسیح آسمان سے اترنے والا ہے۔ اب خدا تعالیٰ نے اس اترنے والے کا نشان دیا تو مسیحوں پر لازم ہے کہ سب سے پہلے وہی اس کو قبول کریں تا کہ اپنی پیش گوئی کے آپ مکذب نہ ٹھہریں۔“

(توضیح المرام ص ٧، خزائن ج ٣ ص ٥٤)

اور ہندوؤں کو یوں دعوت دیتے ہیں: ”ہندوؤں کی کتابوں میں ایک پیش گوئی ہے اور وہ یہ کہ آخری زمانہ میں ایک اوتار آئے گا جو کرشن کے صفات پر ہوگا اور اس کا بروز ہوگا اور میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ میں ہوں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٣٠، خزائن ج ١٧ ص ٣١٧، حاشیہ در حاشیہ)

یہاں مرزا قادیانی نے اسی براہین والی پیش گوئی کو اپنے اوپر چسپاں کر کے اسی کا حوالہ دے کر عیسائیوں اور ہندوؤں کو ایمان لانے کی دعوت دی ہے۔ دیکھا کس قدر جعل سازی اور کیسی حکمت عملی سے مسیحیت کو حاصل کیا۔ تکفیر کے فتوے کے خوف سے براہین میں مسیح کی آمد ثانی کا ذکر کر کے مولویوں کو ٹھنڈا کر دیا۔ نہایت عمدگی سے کرشن اور مسیح بن گئے۔ ورنہ عقیدہ تو پہلے ہی بدل چکا تھا۔

تحقیق دعویٰ نبوت مرزا

ہم کو بہت افسوس ہے کہ فقیر محمد منظور الٰہی صاحب آج تک مرزا قادیانی کی نبوت پر ایمان نہیں لائے۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے اردو زبان میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ لاہوریوں کے سوا تمام اسلامی دنیا حتیٰ کہ قادیانی بھی یہی سمجھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو نبوت کا دعویٰ تھا۔ دل سے لاہوری بھی مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ مگر ظاہراً مجدد کہہ دیا کرتے ہیں۔ خیر ہم تمام لاہوری اصحاب سے استدعا کرتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے مرزا قادیانی کی کتابوں سے سمجھا ہے وہ آپ کے سامنے رکھ دیں۔ آپ اس کو خالی الذہن ہو کر ملاحظہ کریں۔ لاہوری جماعت کے ایک صاحب نے ہم سے مرزا قادیانی کی نبوت کے متعلق گفتگو کی تھی۔ اس میں یہ چند سوالات کئے تھے۔ اس کو ہم رفاہ عام کے لئے قلمبند کئے دیتے ہیں۔ قولہ سے لاہوری صاحب مراد ہوں گے اور اقول سے ہمارا جواب۔

قولہ ...... مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ بالکل نہیں کیا۔ البتہ انہوں نے لفظ نبی لغوی معنوں کی رو سے استعمال ضرور کیا ہے۔ کہیں انہوں نے یہ نہیں کہا کہ مجھے نبوت کا دعویٰ ہے۔ بلکہ کثرت کے

٧

صفحہ ٢١١

ساتھ انکار کیا ہے۔ آپ کہیں ان کی عبارت میں لفظ دعویٰ دکھا سکتے ہیں؟ اور انہوں نے یہ بھی نہیں کہا کہ جو مجھے نہ مانے وہ کافر ہے۔ یہ تو مخالف مولوی صاحبان کا اتہام ہے یا مرزا محمود صاحب کا غلو ہے۔ وہ اپنے باپ کا مرتبہ بڑھاتے ہیں۔ اصطلاحی معنوں سے مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو کبھی نبی نہیں کہا۔ بلکہ ایسا دعویٰ کرنے والے کو کافر سمجھتے تھے۔ البتہ حدیث میں آیا ہے۔ ”لم یبق من النبوة الا المبشرات “ چونکہ نبوت کا ایک جزو باقی ہے۔ اس واسطے اپنے آپ کو جزوی نبی، ظلی نبی، بروزی نبی وغیرہ کہتے رہے۔ جو محدث ہی ہوتا ہے محدث کو مجازی طور پر نبی بھی کہہ دیتے ہیں اور یہی انہوں نے کہا ہے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔ ایسے دعوے تو پہلے بزرگوں نے بھی کئے ہیں جن کو آپ بھی بزرگ سمجھتے ہیں۔ چونکہ مبشرات جزو نبوت ہے۔ جزوکل میں داخل ہوتا ہے۔ جو قادیانی آج مرزا قادیانی کو حقیقی نبی بتا رہے ہیں یہ خود مرزا قادیانی کی زندگی میں محدث مانتے رہے ہیں۔

اقول ...... آپ نے تو ایک دم بہت سی باتیں کہہ ڈالیں۔ اس میں تو ایک ایک لفظ قابل جواب ہے۔ مرزا قادیانی کی نبوت بہت پیچیدہ ہے۔ لاہوریوں اور قادیانیوں کی ایک طویل جنگ بھی اس کا کوئی فیصلہ نہ کرسکی۔ بات اصل یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے جو چالاکی اور حکمت عملی مسیح بننے میں کی وہی نبوت میں پائی جاتی ہے۔ لاہوریوں اور قادیانیوں میں بھی اس مسئلہ کو خاص خاص لوگوں نے سمجھا ہے۔ عوام نے نہیں سمجھا۔ عام لوگ اپنے اپنے امیر کی تقلید کرتے ہیں جو انہوں نے بتلا دیا ہے وہ بیچارے اس کو رٹتے رہتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے شروع شروع میں لفظ نبی ورسول کا استعمال تو کیا مگر جماعت کے منتشر ہو جانے کے خوف سے و نیز دیگر مسلمانوں سے یہ خوف تھا کہ وہ نبوت کا دعویٰ سن کر ہماری جماعت میں شریک نہ ہوں گے۔ اس خوف کا ازالہ اس طرح کیا کہ غیر تشریعی نبوت اور محدثیت کو ایک چیز قرار دے دیا اور یہ سمجھا کہ لفظ نبی ورسول کو سنتے سنتے جب لوگوں کی اجنبیت دور ہو جائے گی تو پھر کوئی حیلہ حوالہ کردیں گے کہ نبوت کی تعریف سمجھنے میں غلطی ہوگئی تھی۔ اب خدا تعالیٰ نے بذریعہ الہام پوری اطلاع دے دی ہے۔ چنانچہ (حمامة البشریٰ ص ٨١، خزائن ج ٧ ص ٣٠٠) میں یہاں تک لکھ دیا : ”ان اجزاء النبوة توجد فى التحديث كلها“ یعنی محدث میں تمام اجزاء نبوت بالقوۃ پائے جاتے ہیں۔ حالانکہ نبی کریم تو فرماتے ہیں نبوت میں سے ایک ہی جزو باقی ہے۔ پھر یہ کہا کہ محدث کو نبی کہہ سکتے ہیں اور نبی کو محدث۔ پھر محدث میں تخم نبوت مان لیا۔ یہ قاعدہ ہے کہ تخم پرورش پا کر درخت بن جاتا ہے۔ پھر آپ نے چند من ٨

گھڑت اصطلاحیں بنائیں۔ شریعت والی نبوت کو تشریعی نبوت اور غیر تشریعی نبوت کو محدثیت، جزوی نبوت، والی نبوت، مجازی نبوت، ناقص نبوت، ولایت صغریٰ

اور مرزا قادیانی ساتھ ہی یہ بھی چالاکی وہ بتلاتے رہے۔ جو اصطلاحی تھے۔ یہ کاروائی تمام جیسا کہ اس عبارت سے ثابت ہے۔ بلکہ رسول کے پا کر پیش گوئی کرنے والا یا معارف پوشیدہ بتانے وا نبی یا بھیجا گیا کو کہتے ہیں۔ خدا کی بھی اس میں قید نہیں

اب اگر اہل علم حضرات کی طرف سے فرما دیتے یہ بات غلط ہے۔ محدثیت کا دعویٰ ہے بھی کہہ دیتے ہیں اور حقیقی نبوت کا مجھے کوئی دعوٰ مرزا قادیانی نے اپنے ایک دوست کو لکھا ہے: ”ب عاجز کو الہام ہوا ہے۔ اکثر دفعہ ان میں رسول یا ایسا سمجھتا ہے کہ اس نبوت ورسالت سے مراد صاحب شریعت کہلانا ہے۔ بلکہ رسول کے لفظی گوئی کرنے والا یا معارف پوشیدہ بتانے والا میں ہیں۔ اسلام میں فتنہ پڑتا ہے۔“

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ حقیقی انکار ہے اور غیر تشریعی کا اقرار ہے اور کہیں اس پڑتا ..... اسی نبوت کو محدثیت کا دعویٰ بتلا دیتے لوگوں کی اجنبیت دور نہ ہوئی یہ چالاکی برابر بدل دی اور مرزا قادیانی کی جماعت میں بھی الدین صاحب کے الفاظ اس بات کی شہادت بعض اصحاب کے سامنے اگر یہ کہا جائے کہ م تمیز نہیں کر سکتے۔ ان کے سامنے مجبوراً یہ کہنا

صفحہ ٢١١

گھڑت اصطلاحیں بنائیں۔ شریعت والی نبوت کو حقیقی اور اصطلاحی نبوت، بلا واسطہ نبوت کو مستقل نبوت اور غیر تشریعی نبوت کو محدثیت، جزوی نبوت، لغوی نبوت، ظلی نبوت، بروزی نبوت، امتی والی نبوت، مجازی نبوت، ناقص نبوت، ولایت صدیقیت وغیرہ!

اور مرزا قادیانی ساتھ ہی یہ بھی چالاکی کرتے رہے کہ لفظ نبی کے معنے لغت کی رو سے وہ بتلاتے رہے۔ جو اصطلاحی تھے۔ یہ کاروائی تمام اس لئے کی گئی کہ دعویٰ نبوت پر پردہ پڑا رہے۔ جیسا کہ اس عبارت سے ثابت ہے۔ بلکہ رسول کے لفظ سے اس قدر مراد ہے کہ خدا تعالیٰ سے علم پاکر پیش گوئی کرنے والا یا معارف پوشیدہ بتانے والا حالانکہ لغت کے لحاظ سے رسول صرف پیغام بر یا بھیجا گیا کو کہتے ہیں۔ خدا کی بھی اس میں قید نہیں۔

اب اگر اہل علم حضرات کی طرف سے یہ سوال اٹھتا کہ آپ کو نبوت کا دعویٰ ہے تو فرما دیتے یہ بات غلط ہے۔ محدثیت کا دعویٰ ہے جس کو مجازی طور پر استعارہ کے رنگ میں نبوت بھی کہہ دیتے ہیں اور حقیقی نبوت کا مجھے کوئی دعویٰ نہیں۔ جیسا کہ اس خط سے معلوم ہوتا ہے جو مرزا قادیانی نے اپنے ایک دوست کو لکھا ہے: ”حال یہ ہے کہ اگرچہ عرصہ بیس سال سے متواتر اس عاجز کو الہام ہوا ہے۔ اکثر دفعہ ان میں رسول یا نبی کا لفظ آ گیا ہے۔ لیکن وہ شخص غلطی کرتا ہے جو ایسا سمجھتا ہے کہ اس نبوت ورسالت سے مراد حقیقی نبوت اور رسالت ہے۔ جس سے انسان خود صاحب شریعت کہلاتا ہے۔ بلکہ رسول کے لفظ سے اسی قدر مراد ہے کہ خدا تعالیٰ سے علم پاکر پیش گوئی کرنے والا یا معارف پوشیدہ بتانے والا سو چونکہ ایسے لفظوں میں جو محض استعارہ کے رنگ میں ہیں۔ اسلام میں فتنہ پڑتا ہے۔“

(الحکم نمبر ٢٩ ج ٣، مورخہ ١٧؍اگست ١٨٩٩ء)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ حقیقی نبوت جس سے انسان صاحب شریعت کہلاتا ہے انکار ہے اور غیر تشریعی کا اقرار ہے اور کہیں اس غیر تشریعی نبوت کو محدثیت کہا ہے۔ جب زیادہ دباؤ پڑتا...... اسی نبوت کو محدثیت کا دعویٰ بتلادیتے تھے اور مراد غیر تشریعی نبوت رکھتے تھے۔ جب تک لوگوں کی اجنبیت دور نہ ہوئی یہ چالاکی برابر جاری رہی۔ جب مطلب حاصل ہو گیا ایک دم لائن بدل دی اور مرزا قادیانی کی جماعت میں بھی خاص لوگ اس بات کو سمجھتے تھے۔ چنانچہ خواجہ کمال الدین صاحب کے الفاظ اس بات کی شہادت دے رہے ہیں۔ فرماتے ہیں: ”لیکن غیر مسلم دہریہ منش اصحاب کے سامنے اگر یہ کہا جائے کہ مبشرات تو جاری ہیں البتہ نبوت نہیں تو وہ ان باتوں میں تمیز نہیں کر سکتے۔ ان کے سامنے مجبوراً یہ کہنا پڑے گا کہ نبوت آج بھی جاری ہے۔“

(مجدد کامل ص ٣٧)

صفحہ ٢١٢

کتنا ہی چھپاؤ سچی بات منہ سے نکل ہی جاتی ہے۔ خواجہ صاحب نے قادیانیوں اور لاہوریوں دونوں کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ گویا مرزا قادیانی کو نبی اس واسطے بنایا گیا تھا کہ غیر مسلموں اور دہریوں کو نبوت کے اجراء کا دھوکہ دے کر مسلمان بنایا جائے اور ان کو مصلحتاً کہا جائے کہ نبوت آج بھی جاری ہے۔ چاہے اسلام میں فتنہ پڑ جائے۔ پرانے مسلمان کافر ہو جائیں اور اسلام کا مسلمہ اصول خاتم النبیین لا نبی بعدی ٹوٹ جائے۔ بقول مسٹر محمد علی صاحب امیر: ”اور ختم نبوت کا عقیدہ جیسا کہ میں پہلے دکھا چکا ہوں۔ اسلام کا ایک زبردست اصول ہے۔“

(مسیح موعود ص ٩٩)

اور خود مرزا قادیانی ہی فرماتے ہیں: ”سو چونکہ ایسے لفظوں سے جو محض استعارہ کے رنگ میں ہیں۔ اسلام میں فتنہ پڑتا ہے۔“

(الحکم مورخہ ١٧ اگست ١٨٩٩ء)

سو وہ فتنہ پڑا اور قادیانی جماعت جو لاکھوں کی تعداد میں ہے تباہ ہو گئی جتنا کفر سے نکل گیا ہے اتنا باہر سے نہیں آیا۔ اتنے غیر مسلموں اور دہریوں کو تو آج تک بھی آپ مسلمان نہیں بنا سکے۔ جتنے مسلمانوں کو غیر مسلم بنا دیا ہے اور اس سے تو نعوذ باللہ خدا اور رسول کی نا قابلیت بھی ثابت ہو جاتی ہے کہ انہوں نے ایسا غلط اصول باندھا جو غیر مسلموں اور دہریوں کے اسلام قبول کرنے میں سد راہ ہے۔ جب تک اس اصول کو توڑا نہ جائے اور اس میں اصلاح نہ کی جائے تب تک کام نہیں چل سکتا۔ گویا مرزا قادیانی کی نبوت اس مصلحت کا نتیجہ تھی۔ پھر خدا کے الہام کو کیوں بدنام کرتے ہو۔ خدا اپنے باندھے ہوئے اصولوں کو نہیں توڑتا۔

وہ عبارتیں جن سے دعویٰ نبوت ثابت ہے

جب لوگوں کی اجنبیت دور ہو گئی اور جماعت کافی تعداد میں ساتھ ہو گئی تو اشتہار ایک غلطی کا ازالہ نکالا اور مرید کو ڈانٹا۔ اس میں فرماتے ہیں: ”چنانچہ چند روز ہوئے ہیں کہ ایک صاحب پر مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)

مرزا قادیانی مرید پر برس پڑے کہ ہمیں تو نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ ہے تم نے کیوں انکار کیا؟ تمہارا جواب صحیح نہیں۔ اگر مرزا قادیانی کو دعویٰ نہ تھا تو مرید کا جواب صحیح تھا۔ یہاں تو بحث ہی دعویٰ اور عدم دعویٰ کی ہے۔ دیکھئے کتنا صاف دعویٰ ہے۔ آپ جو کہتے تھے لفظ دعویٰ دکھاؤ سو موجود ہے۔

١٠

صفحہ ٢١٣

اور سنئے! فرماتے ہیں: ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ دراصل یہ نزاع لفظی ہے۔ خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو اور اس میں پیش گوئیاں بھی کثرت سے ہوں اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔ پس ہم نبی ہیں۔ ہاں! یہ نبوت تشریعی نہیں جو کتاب اللہ کو منسوخ کرے۔“

(بدر مورخہ ٥/ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)

اس عبارت میں لفظ دعویٰ موجود ہے اور نہایت تصریح کے ساتھ غیر تشریعی نبوت کا دعویٰ ہے، اور سنئے! فرماتے ہیں: ”اور چونکہ میرے نزدیک نبی اسی کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی و قطعی بکثرت نازل ہو۔ جو غیب پر مشتمل ہو۔ اس لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا۔ مگر بغیر شریعت کے، شریعت کا حامل قیامت تک قرآن شریف ہے۔“

(تجلیات الٰہیہ ص ٢٦، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)

یہ عبارت تفسیر ہے۔ بدر مورخہ ٥/ مارچ والے حوالہ کی اس میں بھی صراحت کے ساتھ اپنا نبی ہونا ظاہر کیا ہے، اور سنئے! فرماتے ہیں: ”قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً کہہ دے اے مرزا میں تم سب لوگوں کی طرف رسول اللہ ہو کر آیا ہوں۔“

(اشتہار معیار الاخیار مطبوعہ ١٦/ جون ١٨٩٩ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٠)

دیکھئے! جیسے نبی کریم تم لوگوں کی طرف رسول اللہ ہو کر آئے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں میں بھی تمام لوگوں کی طرف رسول اللہ ہو کر آیا، اور سنئے! فرماتے ہیں: ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

اس عبارت میں بھی اپنے آپ کو خدا کا رسول ظاہر کر رہے ہیں، اور سنئے! فرماتے ہیں: ”ہمارے نبی ہونے کے وہی نشانات ہیں جو تورات میں مذکور ہیں۔ میں کوئی نیا نبی نہیں۔ پہلے بھی کئی نبی گزرے ہیں۔ جن کو تم سچا مانتے ہو۔“

(بدر اخبار مورخہ ١٩/ اپریل ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ٤٢٧)

دیکھئے! مرزا قادیانی توریت والے نبیوں میں اپنے کو شمار کرتے ہیں، اور سنئے! فرماتے ہیں: ”کیونکہ میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ بموجب آیۂ ’وآخرین منہم لما یلحقوا بہم‘ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)

افسوس کی بات ہے کہ آپ حضرات اپنی ضد سے مرزا قادیانی کو محدث مجدد بناتے ہیں۔ ورنہ یہاں تو خاتم الانبیاء تک کا دعویٰ موجود ہے۔ بعض لاہوری کہہ دیا کرتے ہیں کہ بروزی

١١

صفحہ ٢١٤

طور پر کہا ہے۔ بروزی نبی نبی نہیں ہوا کرتا۔ یہ بات آپ کی غلط ہے۔ مرزا قادیانی کے نزدیک بروزی نبی بھی حقیقی نبی ہوتا ہے۔ لیجئے سنئے ! فرماتے ہیں : ”آنحضرت ﷺ البروزین ہیں یعنی آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بھی بروز ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بھی۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩٧، خزائن ج ١٧ ص ٢٥٦)

اگر بروزی نبی نبی نہ ہو تو ہمارے نبی ﷺ بھی نبی نہ ہوں۔ نعوذ باللہ! اسی طرح مرزا قادیانی بھی ذوالبروزین ہیں۔ یعنی نبی کریم ﷺ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دونوں کے بروز ہیں۔ سنئے ! مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”اور مہدی آخر الزمان کے لئے جس کا دوسرا نام مسیح موعود بھی ہے بوجہ ذوالبروزین ہونے کے ان دونوں صفتوں کا پایا جانا از بس ضروری ہے۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١١، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٨، ٣٥٩)

اور سنئے ! فرماتے ہیں: ”اور یہ حدیث کہ لا مہدی الا عیسیٰ ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف کرتی ہے کہ وہ آنے والا ذوالبروزین ہوگا اور دونوں شانیں مہدویت اور مسیحیت اس میں جمع ہوں گی۔“

(ایام الصلح ص ٤٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٣)

ان عبارتوں میں مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو ذوالبروزین کہا ہے۔ محمد ﷺ ذوالبروزین خاتم الانبیاء اور مرزا غلام احمد ذوالبروزین، خاتم الانبیاء فرق کیا ہے؟۔ دوستو! ضد اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ دو۔ ظل اور بروز مرزا قادیانی کے نزدیک حقیقت کے ساتھ جمع ہو سکتے ہیں، اور سنئے ! حضرت یحییٰ علیہ السلام حضرت الیاس علیہ السلام کے بروز ہیں۔

(اشتہار تبلیغ الحق، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٤٧)

کیا یحییٰ حقیقی نبی نہ تھے؟ اور سنئے ! فرماتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام کے بروز ہیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٠)

اگر بروزی نبی نبی نہیں ہوتا تو ان سب نبیوں کی نبوت ہاتھ سے جاتی ہے۔ قادیانی صاحبان کے لئے بھی یہ مسئلہ غور طلب ہے۔ حضور علیہ السلام بھی خاتم الانبیاء اور مرزا قادیانی بھی

١؎ ”آنحضرت ﷺ کی مکی زندگی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مشابہت رکھتی ہے اور مدنی زندگی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مشابہ ہے اور چونکہ تکمیل ہدایت کے لئے آپ نے دو بروزوں میں ظہور فرمایا تھا ایک بروز موسوی اور دوسری بروز عیسوی۔“

(تحفہ گولڑویہ طبع جدید ص ٩٧، خزائن ج ١٧ ص ٢٥٦)

١٢

صفحہ ٢١٥

خاتم الانبیاء۔ اب آئندہ نبی گیری کا کام دونوں کریں گے یا ایک۔ کس کی مہر سے اب نبی بنا کریں گے؟ کیونکہ مہر تو مرزا قادیانی نے بھی اڑالی ہے۔ پہلے تو مرزا قادیانی یہ فرمایا کرتے تھے: ”ایک وہی ہے جس کے مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں۔ سو خدا تعالیٰ نے ان معنوں سے آپ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠)

اب دو شخص ایسے ہو گئے جن کی مہر سے ایسی نبوت مل سکتی ہے اور تعجب نہیں کہ آئندہ اور بھی ہو جاویں۔ لہٰذا ختم نبوت جو حضورﷺ کی مخصوص صفت تھی وہ کالعدم ہو گئی۔ اب میں پھر اپنے اصلی مطلب کی طرف لوٹتا ہوں۔ چونکہ آپ نے فرمایا تھا کہ لفظ دعویٰ دکھاؤ۔ سو میں لفظ دعویٰ دکھا چکا ہوں۔ لیکن یہ فرمائش آپ کی بیجا تھی نبوت کے دعوے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ نبی یہ کہا کرے کہ میں نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں۔ یہ کچی باتیں مسٹر محمد علی صاحب کو اچھی معلوم ہوتی ہوں گی۔ اس طرح تو آپ خدا کی خدائی اور قرآن کا منجانب اللہ ہونا بھی ثابت نہ کر سکیں گے۔ کوئی آپ جیسا کہنے لگے کہ یہ دکھلاؤ کہ خدا نے کہا ہو کہ میں خدائی کا دعویٰ کرتا ہوں۔

لیجئے سنئے ! مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ” قرآن شریف نے بہت زور شور سے اس دعویٰ کو پیش کیا ہے کہ وہ خدا کا کلام ہے۔“

(نور القرآن ص ٢، خزائن ج ٩ ص ٣٤٣،٣٤٤)

اب کوئی مرزا قادیانی اور ان کی امت سے یہ سوال کرے کہ قرآن نے کس جگہ کہا کہ میں دعویٰ کرتا ہوں کہ میں خدا کا کلام ہوں۔ یہ الفاظ بعینہ دکھاؤ گے تو میں مانوں گا۔ ورنہ نہیں۔ لو مرزا قادیانی کی زبان سے سنو۔ نبوت کا دعویٰ کسے کہتے ہیں۔ فرماتے ہیں: ” صحیح معنی یہی ہیں کہ نبوت کے دعوے سے مراد دخل در امور نبوت اور خدائی کے دعویٰ سے مراد دخل در امور خدائی ہے۔ جیسا کہ عیسائیوں سے آج کل یہ حرکات ظہور میں آرہی ہیں۔ ایک فرقہ ان میں سے انجیل کو ایسا توڑ مروڑ رہا ہے کہ گویا وہ نبی ہے اور اس پر آیتیں نازل ہورہی ہیں۔“

(آئینہ کمالات ص ٣٤٥، خزائن ج ٥ ص ٣٤٥)

اس عبارت نے معاملہ صاف کر دیا کہ یہ ضروری نہیں کہ کسی چیز کا دعویٰ یا نبوت کا دعویٰ جب ہی سمجھا جائے گا کہ اس کے مدعی نے لفظ دعویٰ اپنی زبان یا قلم سے نکالا ہو اور یہاں تو لفظ دعویٰ بھی موجود ہے جو عبارت ہم اوپر پیش کر آئے ہیں ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی ورسول ہیں۔ اسی حوالہ کے متعلق جو (بدر مورخہ ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١ ص ١٢٧) کا ہے۔ مسٹر محمد علی صاحب امیر

١٣

صفحہ ٢١٦

جماعت لاہور نے جو جواب دیا ہے وہ نہایت رکیک ہے۔ کوئی عقلمند اس کو تسلیم نہیں کر سکتا۔ ملاحظہ ہو: ”اول اخبار بدر مورخہ ٥/ مارچ ١٩٠٨ء کے دوحوالے ہیں۔ جہاں کسی شخص نے حضرت صاحب کی کسی تقریر کو قلمبند کیا ہے۔ حالانکہ میرا مطالبہ حضرت صاحب کی کتب کے متعلق تھا۔“

(پیغام صلح مورخہ ٣/ مارچ ١٩٣١ء)

جواب تو آپ سے کچھ بنا نہیں تقریر کہہ کر چھوڑ دیا۔ واہ جناب! کیا آپ اخبار بدر نہیں پڑھا کرتے تھے؟ کیا مرزا قادیانی اخبار بدر نہیں پڑھا کرتے تھے۔ حکیم نورالدین صاحب اخبار بدر نہیں پڑھتے تھے؟ اخبار بدر میں مرزا قادیانی کی تقریر میں ایسے الفاظ جو اسلام کے لئے سخت تباہ کن ہوں شائع ہوجاتے ہیں۔ خود مرزا قادیانی اور ان کی امت پر خواب غفلت چھا جاتی ہے اور کسی کو اتنی جرأت نہیں ہوتی کہ مرزا قادیانی سے استفسار کرے کہ یہ الفاظ آپ کے ہیں یا کسی قلمبند کرنے والے کے۔ مسٹر محمد علی صاحب اپنے ایمان کو ٹٹول کر دیکھیں۔ مرزا قادیانی کی زندگی میں ان الفاظ کا ان کو علم نہیں ہوا اور اگر ہوا ہے اور ضرور ہوا ہے تو مرزا قادیانی سے تردید کیوں نہیں کرائی۔ امیر صاحب! آج دنیا نئی روشنی میں چل رہی ہے۔ ایسی کچی باتوں کو کون مانتا ہے؟ آپ کے مرید حسن ظن کی وجہ سے مان لیں تو ممکن ہے۔ بلکہ خود مسٹر محمد علی صاحب کی تحریرات بتلاتی ہیں کہ وہ خود عرصہ دراز تک مرزا قادیانی کی نبوت کی اشاعت کرتے رہے ہیں۔

سنئے فرماتے ہیں: ”یہ تمام پیش گوئیاں اس امر میں متفق ہیں کہ پیغمبر آخر الزمان کا نزول ایسے زمانہ میں ہوگا جب کہ دنیا پرستی اور طرح طرح کے مفاسد کی افواج ایسے زور شور سے جمع ہو جائیں گی۔ جس کی نظیر پہلے زمانہ میں نہ گذری ہو اور ہر ایک مذہب بیان کرتا ہے کہ موعود پیغمبر کے نزول کے ساتھ نیکی اور بدی میں خطرناک جنگ ہوگا۔“

(ریویو ج٦ نمبر ٣/ مارچ ١٩٠٧ء ص ٨١)

پھر فرماتے ہیں: ”حضرت مرزا غلام احمد قادیانی بوجہ آباواجداد فارس ہی سے آکر اس ملک میں آباد ہوئے تھے۔ جس پر تاریخ شاہد ہے۔ ان ابتدائی اور خارجی امور کے فیصلے سے ہم اب اس حالت میں ہو گئے ہیں کہ اس نبی آخر الزمان کے دعویٰ کی تصدیق کے لئے اندرونی شہادت پر غور کریں۔“

(ریویو مارچ ١٩٠٧ء)

دیکھئے! امیر صاحب کی اس عبارت میں لفظ دعویٰ بھی موجود ہے۔ کیسے کیسے لفظوں سے پیغمبر آخر الزمان نبی آخر زمان وغیرہ اس پر آپ علمائے اسلام کو مطعون کرنے کا حق رکھتے ہیں

١٤

صفحہ ٢١٧

کہ وہ مرزا قادیانی کو کافر کہتے ہیں۔ جب کہ آپ کی تحریرات میں ایسے الفاظ ملتے ہیں۔ یہ تحریرات ابھی دنیا سے گم نہیں ہوئیں۔ لہذا ہم علمائے اسلام کو بالکل معذور سمجھتے ہیں۔ اس پر آپ کے امیر صاحب کہتے ہیں کہ مرزا محمود نے باپ کو نبی بنادیا۔ خود مرزا قادیانی کی کتابوں میں کثرت سے اپنے نبی ہونے کا اعلان موجود ہے۔ اب ہم پھر وہی عبارتیں نقل کرتے ہیں۔ جن سے مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت ثابت ہوتا ہے۔ درمیان میں کچھ ایسی باتیں آ گئی تھیں کہ ان کا جواب دینا ضروری تھا۔

ایسی عبارتیں جن سے نبوت کا دعویٰ ثابت ہوتا ہے

مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نام سردار انبیاء نے نبی اللہ رکھا ہے۔“

(نزول المسیح ص ٤٨، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٦ ملخص)

اس عبارت کا یہ منشاء ہے کہ مجھ کو سردار انبیاء نے نبی اللہ کہا ہے۔ اگر سردار انبیاء موسیٰ علیہ السلام کو نبی اللہ کا نام دیں یا عیسیٰ علیہ السلام کو نبی اللہ کا نام دیں تو لاہوری ایمان لے آویں اور ان کو پورا نبی مانیں۔ اگر مرزا قادیانی کو سردار انبیاء نبی اللہ کا نام دیں تو لاہوری ایک ادھورا سا ہی نبی مانیں۔ یہ مرزا محمود کی مخالفت معلوم ہوتی ہے۔

اور سنئے! فرماتے ہیں: ”میری دعوت کی مشکلات میں سے ایک رسالت اور وحی الٰہی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تھا۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٣، خزائن ج ٢١ ص ٦٨)

اس عبارت میں مرزا قادیانی بتلاتے ہیں کہ میری دعوت کی مشکلات میں رسالت کا دعویٰ بھی تھا اور وحی الٰہی کا بھی دعویٰ تھا اور مسیح موعود کا دعویٰ تھا۔ گویا تین باتوں کا دعویٰ بیان کیا۔ قرآن شریف میں اللہ فرماتا ہے: ”الله اعلم حيث يجعل رسالته “ اس آیت کا ترجمہ مسٹر محمد علی فرماتے ہیں: ”اللہ خوب جانتا ہے کہ کہاں اپنی رسالت کو رکھے۔“ پھر تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”کہ منصب رسالت کسی کو کوشش سے یا دعا سے نہیں ملتا۔ بلکہ یہ ایک امر وہبی ہے جسے خدا چاہتا ہے دیتا ہے۔“

(بیان القرآن پارہ ولواننا ص ٧١٠)

پھر مرزا قادیانی کے دعویٰ میں رسالت کہاں سے آئی۔ یہی تو امر وہبی ہے اور حقیقی نبوت ہے۔ اس عبارت سے روز روشن کی طرح رسالت کا دعویٰ واضح ہے اور لفظ دعویٰ بھی موجود ہے اور براہین احمدیہ کتاب میں ہے۔ یہ دعویٰ کسی تقریر میں نہیں۔

فرماتے ہیں: ”اور میں اسی خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں

صفحہ ٢١٩

میری جان ہے۔ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨ ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

اور سنئے ! فرماتے ہیں کہ: ”بفرض محال کوئی کتاب الہامی مدعی نبوت کی نکل آوے جس کو وہ قرآن کی طرح جیسا کہ میرا دعویٰ ہے خدا کی ایسی وحی کہتا ہو جس کی صفت میں لاریب فیہ ہے جیسا کہ میں کہتا ہوں۔“

(تحفۃ الندوہ ص ٧ ، خزائن ج ١٩ ص ٩٩)

مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”میرا دعویٰ یہ ہے کہ میری وحی قرآن کی طرح ہے۔ جیسے قرآن کی صفت لاریب فیہ ہے۔ میری وحی کی صفت بھی لاریب فیہ ہے اور یہ ہی وحی نبی کی ہوتی ہے۔“

اور سنئے ! فرماتے ہیں: ”اور یہ کلام جو میں سناتا ہوں یہ قطعی اور یقینی طور پر خدا کا کلام ہے۔ جیسا کہ قرآن اور توریت خدا کا کلام ہے۔“

(تحفۃ الندوہ ص ٤ ، خزائن ج ١٩ ص ٩٥)

اس عبارت سے ظاہر ہے مرزا قادیانی جو کلام سناتے ہیں وہ قرآن اور توریت کی طرح قطعی اور یقینی خدا کا کلام ہے، اور سنئے ! فرماتے ہیں: ”کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور ضروری احکام کی تجدید بھی۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

امر اور نہی نبی کی وحی میں ہوا کرتا ہے۔ مرزا قادیانی کے کلام میں اس کا ثبوت ہے۔ فرماتے ہیں: ”یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

اس عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ امر اور نہی نبی ہی کی وحی میں ہوتا ہے اور سنئے ! فرماتے ہیں: ”صرف اتنا ہی نہیں کہ ملائک بعض وقت نظر آتے ہیں۔ بلکہ بسا اوقات ملائک کلام میں اپنا واسطہ ہونا ظاہر کر دیتے ہیں۔“

(برکات الدعاء حاشیہ ص ٢١، خزائن ج ٦ ص ١٦ ملخص)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ ملائک کے واسطے سے آپ پر کلام نازل ہوتا ہے اور ملائک کا واسطہ وحی نبوت میں ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی ہی کی عبارت سے ہم ثبوت پیش کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو، فرماتے ہیں: ”مثلاً ان کا یہ اعتقاد کہ وحی نبوت بجز اپنی ہی فطرت ملکہ کے اور کچھ چیز نہیں اور اس میں اور خدا تعالیٰ میں ملائکہ کا واسطہ نہیں۔ کس قدر خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کے مخالف ہے۔“

(برکات الدعاء ص ٢٠ ، خزائن ج ٦ ص ٢٥)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ وحی نبوت میں ملائکہ کا واسطہ ہونا ضروری ہے۔

١٦

اور سنئے ! فرماتے ہیں: ”جاءنی آئل و وعبداللہ فطوبی لمن وجد ورای“ ترجمہ: ”میرے پاس جبرائیل آیا اور اس نے یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آ گیا۔ پس مبارک وہ جو اس کو اس عبارت سے جبرائیل کا وحی لانا بھی ثا لئے شارع ہونا شرط نہیں۔ یہ صرف موہبت ہے، جس کہ میں اس مدت تک ڈیڑھ سو پیش گوئی کے قریب خدا صاف طور سے پوری ہو گئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسو

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ کی نبوت لئے کہ نبوت محض موہبت ہے۔“

اور سنئے ! مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”خ عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب و اخلاق کے س

پھر دوسری جگہ فرماتے ہیں: ”خدا وہ خد اور سچے دین کے ساتھ بھیجا۔ تاکہ اس کو ہر ایک قسم ک اس کو عطا کرے اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت ﷺ

ان دونوں عبارتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ م غلبہ مرزا قادیانی کو خدا نے عطا کیا۔ جو نبی کریم آ فرماتے ہیں: ”مگر ہدایت کا لانا ہر نبی کے لئے ضرو

پھر فرماتے ہیں: ”مگر ہر نبی اپنے س لائے۔“

خدا جانے مسٹر موصوف مرزا قادیانی تو کہتے ہیں کہ میں کامل ہدایت لایا ہوں اور رسول

٧

صفحہ ٢١٩

اور سنئے! فرماتے ہیں: ”جأنی آئل واختار وادار اصابعہ واشار الٰی وعداللہ فطوبٰی لمن وجد ورأی“

(حقیقت الوحی ص١٠٣، خزائن ج٢٢ ص١٠٦)

ترجمہ: ”میرے پاس جبرائیل آیا اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آ گیا۔ پس مبارک وہ جو اس کو پاوے۔“

اس عبارت سے جبرائیل کا وحی لانا بھی ثابت ہے، اور سنئے! فرماتے ہیں: ”نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں۔ یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعہ امور غیبیہ کھلتے ہیں۔ پس جب کہ میں اس مدت تک ڈیڑھ سو پیش گوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر چشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور سے پوری ہوگئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص٣، خزائن ج١٨ ص٢١٠)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ کی نبوت موہبت ہے۔ مسٹر محمد علی فرماتے ہیں: ”اس لئے کہ نبوت محض موہبت ہے۔“

(بیان القرآن ص٩)

اور سنئے! مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب و اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص٢٤، خزائن ج١٧ ص٧٣)

پھر دوسری جگہ فرماتے ہیں: ”خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا۔ تاکہ اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کرے۔ یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کرے اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا۔“

(چشمہ معرفت ص٨٣، خزائن ج٢٣ ص٩١)

ان دونوں عبارتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کامل ہدایت لے کر آئے اور عالمگیر غلبہ مرزا قادیانی کو خدا نے عطا کیا۔ جو نبی کریم کو بھی خدا نے عطا نہیں کیا۔ مسٹر محمد علی صاحب فرماتے ہیں: ”مگر ہدایت کا لانا ہر نبی کے لئے ضروری ہوا ۔“

(النبوۃ فی الاسلام ص٦)

پھر فرماتے ہیں: ”مگر ہر نبی اپنے ساتھ ہدایت لاتا ہے خواہ وہ شریعت لائے یا نہ لائے۔“

(النبوۃ فی الاسلام ص٧)

خدا جانے مسٹر موصوف مرزا قادیانی کی نبوت کا کیوں انکار کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی تو کہتے ہیں کہ میں کامل ہدایت لایا ہوں اور رسول بھی ہوں۔

١٧

صفحہ ٢٢١

مرزا قادیانی کا دعویٰ کہ میں ایسا نبی ورسول ہوں کہ دنیا کے لئے عذاب لایا

فرماتے ہیں: ”اور سخت عذاب بغیر نبی قائم ہونے کے آتا ہی نہیں۔ جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔"ماکنا معذبین حتی نبعث رسولاً " پھر کیا بات ہے کہ ایک طرف تو طاعون ملک کو کھا رہی ہے اور دوسری طرف ہیبت ناک زلزلے پیچھا نہیں چھوڑتے۔ اے غافلو! تلاش کرو۔ شاید تم میں خدا کی طرف سے کوئی نبی قائم ہو گیا ہے۔“

(تجلیات الٰہیہ ص ٨، ٩، خزائن ج ٢٠ ص ٤٠٠، ٤٠١)

مرزا قادیانی نے قرآنی فیصلہ پیش کر کے فرما دیا ہے کہ بغیر نبی ہرگز عذاب نہیں آسکتا۔ اگر میں نبی نہ تھا تو عذاب کیوں آیا۔ مرزا قادیانی نے اپنی نبوت پر زبردست دلیل پیش کی ہے اور سنئے ! فرماتے ہیں : ” اس وحی مقدس میں خدائے ذوالجلال نے میرا نام نذیر رکھا جو اصطلاح قرآنی میں اس کو کہتے ہیں جس کے ساتھ عذاب بھی آوے۔“

(نزول المسیح ص ٢١، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٩)

یہ عبارت بتلاتی ہے کہ نذیر قرآن کی اصطلاح میں اس نبی کو کہتے ہیں جو عذاب لادے تو آپ نذیر نبی ہوئے اور قرآن کی اصطلاح میں نبی ہوئے نہ لغوی نبی۔ اور سنئے ! فرماتے ہیں: ”اور ظاہر ہے کہ نذیر کا لفظ اسی مرسل کے لئے خدا تعالیٰ استعمال کرتا ہے جس کی تائید میں مقدر ہوتا ہے کہ اس کے منکروں پر کوئی عذاب نازل ہو گا۔ کیونکہ نذیر ڈرانے والے کو کہتے ہیں اور وہی ڈرانے والا نبی کہلاتا ہے۔ جس کے وقت میں کوئی عذاب نازل ہوتا ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٥٢، خزائن ج ٢٢ ص ٤٨٦)

اس عبارت سے ثابت ہے کہ نذیر ڈرانے والے نبی کو کہتے ہیں۔ غیر نبی کو نذیر نبی قرآنی اصطلاح میں کہیں نہیں کہا، اور سنئے ! فرماتے ہیں: ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولاً “ خدا تعالیٰ دنیا میں عذاب نازل نہیں کرتا۔ جب تک پہلے اس سے رسول نہیں بھیجتا۔ یہ ہی سنت اللہ ہے اور ظاہر ہے کہ یورپ اور امریکہ میں کوئی رسول نہیں پیدا ہوا۔ پس ان پر جو عذاب نازل ہوا صرف میرے دعوے کے بعد ہوا۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٥٣، خزائن ج ٢٢ ص ٤٨٧)

مرزا قادیانی بتلاتے ہیں کہ: ”سنت اللہ یہ ہے کہ جب تک کوئی نبی یا رسول نہ آوے عذاب اس کے منکروں پر ہرگز نہیں آسکتا اور یورپ اور امریکہ میں کوئی نبی ورسول پیدا نہیں ہوا جب میں نے نبی ورسول ہونے کا دعویٰ کیا تو میرے دعوٰی کے بعد میرے منکروں پر عذاب نازل ہوا۔“ اس عبارت میں بھی لفظ دعویٰ موجود ہے۔ گویا آپ کو نبی ورسول ہونے کا دعویٰ تھا، اور سنئے ! فرماتے ہیں: ”وما کنا معذبین حتی نبعث رسولاً سے صاف ظاہر ہے کہ اس قسم کے قہری عذاب

١٨

نازل ہونے سے پہلے خدا کی طرف سے کوئی رسول عذاب سے ڈراتا ہے اور یہ عذاب اس کی تصدیق ب بھی خدا کا ایک رسول تمہارے درمیان ہے جو مدت سوچو اور ایمان لاؤ تاکہ نجات پاؤ۔“

مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”میں ہی آ میں تم کو عذاب کی خبریں دے رہا ہوں۔ اگر عذاب

انبیاء پر فضیلت پانے کا دعویٰ

مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ” افضل من

یعنی بعض نبیوں سے میں افضل ہوں او سے مسیح موعود بھیجا۔ جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شا

اس عبارت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام النبی اطعموا الجائع والمعتر“ ترجمہ: ”اے نبی بھوکوں اور فاقہ کشوں خطاب ہے۔ جیسے قرآن میں نبی کریم ﷺ کو کہا۔ ”

مرزا قادیانی کی وحی کو کتاب کہا گیا

کتاب سجلناہ من عندنا۔ ترجمہ: یہ وہ ک لگادی۔ ”هذا کتاب مبارک فقوموا للا اس کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاؤ) اور سنئے ! فرماتے ہیں: ” اور انہیں ام ہے۔ سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔“

(پرچہ اخبار عام مو

قولہ ..... مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو محدث ا کیا ہے۔

١٩

صفحہ ٢٢١

نازل ہونے سے پہلے خدا کی طرف سے کوئی رسول ضرور مبعوث ہوتا ہے جو خلقت کو آنے والے عذاب سے ڈراتا ہے اور یہ عذاب اس کی تصدیق کے لئے قہری نشانات ہوتے ہیں۔ اس وقت بھی خدا کا ایک رسول تمہارے درمیان ہے جو مدت سے تم کو ان عذابوں کی خبر دے رہا ہے۔ پس سوچو اور ایمان لاؤ تاکہ نجات پاؤ۔“

(ٹریکٹ النداء ص٦، مجموعہ اشتہارات ج٣ص٥٣)

مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ:”میں ہی ایک نذیر رسول تمہارے درمیان موجود ہوں۔ میں تم کو عذاب کی خبریں دے رہا ہوں۔ اگر عذاب سے نجات پانا چاہتے ہو تو ایمان لے آؤ۔“

انبیاء پر فضیلت پانے کا دعویٰ

مرزا قادیانی فرماتے ہیں:”افضل من بعض الانبیاء“

(سراج منیرص٤،خزائن ج١٢ص٦)

یعنی بعض نبیوں سے میں افضل ہوں اور سنئے فرماتے ہیں:”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا۔ جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔“

(دافع البلاءص١٣،خزائن ج١٨ص٢٣٣)

اس عبارت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کلی فضیلت کا اقرار ہے اور سنئے:”يا ايها النبی اطعموا الجائع والمعتر“

(البشریٰ ج٢ص١٢٨، تذکرہ ص٤٢٦طبع٣)

ترجمہ:”اے نبی بھوکوں اور فاقہ کشوں کو کھانا کھلاوے“ آپ کی وحی میں اسی طرح خطاب ہے۔ جیسے قرآن میں نبی کریم ﷺ کو کہا۔ ”ياايها النبی بلغ“

مرزا قادیانی کی وحی کو کتاب کہا گیا

کتاب سجلناہ من عندنا۔ترجمہ: یہ وہ کتاب ہے جس پر ہم نے اپنے پاس سے مہر لگادی۔

(البشریٰ ج٢ص١٧٠، تذکرہ ص٤٩٤طبع٣)

”هذا کتاب مبارک فقوموا للاجلال والاکرام“ (یہ کتاب مبارک ہے۔ اس کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاؤ)

(البشریٰ ج٢ص٣٥، تذکرہ ص٤٣٠طبع٣)

اور سنئے! فرماتے ہیں:”اور انہیں امور کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔“

(پرچہ اخبار عام مورخہ ٢٦مئی ١٩٠٨ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ص٥٩٧)

قولہ ...... مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو محدث اور مجدد بھی تو کہا ہے اور نبی ہونے سے انکار بھی کیا ہے۔

صفحہ ٢٢٢

اقول ...... مرزا قادیانی نے تو اپنی نسبت محدث ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ جیسا کہ فرماتے ہیں: ”اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو بتلاؤ کس نام سے اسے پکارا جائے۔ اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں تحدیث کے معنے کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے۔ مگر نبوت اظہار امر غیب ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)

مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ مجھے محدث نہ کہو۔ میرے لئے نبوت کی کھڑکی کھل چکی ہے۔ جب جماعت کمزور تھی نبی اور محدث ایک چیز تھے۔ نبی کو محدث اور محدث کو نبی کہہ سکتے تھے۔ لیکن اب محدث اور نبی میں ہمیشہ کے لئے جدائی ہوگئی۔ بعض لاہوری جان بچانے کو کہا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے محدث کے لغوی معنی سے انکار کیا ہے۔ لاہوریوں نے مذہب کو کھلونا بنا رکھا ہے۔ کیا مرزا قادیانی پہلے لغوی معنی کی رو سے محدث تھے؟ بعض لاہوری کہا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے یہ بات بتلائی ہے کہ اصطلاحی محدث اور لغوی نبی ایک چیز ہوتے ہیں۔ یہ بھی غلط ہے مرزا قادیانی کے نزدیک ایسا نہیں۔ یہاں موقعہ نہیں اس کا جواب ہم آگے دیں گے ایک دوسری بحث میں۔ رہا آپ کا یہ فرمانا کہ مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو مجدد کہا ہے۔ بے شک مجدد بھی کہا ہے۔ مگر مجدد کہنے سے نبی کی نفی نہیں ہوتی۔ مرزا قادیانی کے نزدیک نبی مجدد بھی ہوتا ہے۔ سنئے! مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”یہ واقعہ صلیب اس وقت پیش آیا جب کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات پر چودھویں صدی گذر رہی تھی اور اسرائیلی شریعت کے زندہ کرنے کے لئے مسیح چودھویں صدی کا مجدد تھا۔“

(مسیح ہندوستان میں ص ٢٧، خزائن ج ١٥ ص ٢٩)

دیکھئے! حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو صاحب شریعت نبی تھے مرزا قادیانی ان کو بھی مجدد قرار دے رہے ہیں۔ حالانکہ وہ حقیقی نبی تھے۔ آپ کے مرزا قادیانی نے تو یہ امتیاز ہی اٹھا دیا۔ نبی ولی مجدد، محدث سب کو گڈ مڈ کر دیا۔ اب کوئی شناخت ہی ہمارے پاس نہیں رہی کہ نبی کون ہوتا ہے؟ ولی کون ہوتا ہے۔ مجدد کون ہوتا ہے محدث کون ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ نبوت سے انکار بھی کیا ہے۔ ایسا تو مسیح موعود ہونے سے بھی انکار کیا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”اے برادران دین و علماء شرع متین آپ صاحبان میری معروضات کو متوجہ ہو کر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔“

(ازالۃ الاوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)

اس عبارت میں جو لوگ آپ کو مسیح موعود خیال کرتے ہیں ان کو کم فہم بتلایا گیا ہے۔

٢٠

صفحہ ٢٢٣

مثیل موعود ہونے کا دعویٰ ہے اور مسیح موعود ابھی آئے گا۔ آج آپ بھی اس کم فہمی میں مبتلا ہیں کہ مرزا قادیانی کو مسیح موعود خیال کئے بیٹھے ہیں۔ گویا آپ موعود کے مثیل ہیں اور موعود کا آنا ابھی باقی ہے۔ لو مرزا قادیانی کے منہ سے خود سنو۔ انہوں نے کس نبوت کا انکار کیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ”اور جس جس جگہ میں نے نبوت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص٤، خزائن ج١٨ ص٢١٠)

اس میں تشریعی نبوت کا انکار ہے۔ مرزا قادیانی تو کہتے ہیں کہ مجھ کو غیر تشریعی نبوت نبی کریم کی پیروی سے ملی ہے۔

قولہ...... نبی تو سب تشریعی ہوتے ہیں۔ بغیر شریعت کے کوئی نبی نہیں ہوتا۔

اقول...... آپ کے موجودہ امیر مسٹر محمد علی صاحب فرماتے ہیں: ”انت منی بمنزلۃ ہارون موسیٰ“ چونکہ صرف اسی قدر کہنے سے یہ خیال گزر سکتا تھا کہ شاید جس طرح ہارون غیر تشریعی نبی تھے اور موسیٰ صاحب شریعت۔ اسی طرح حضرت علی بھی آپ ﷺ کے ساتھ ایک غیر تشریعی نبی ہوں تو اس امکان کے دور کرنے کے لئے فرمایا۔ ”الا انه لا نبی بعدی“ میرے بعد کوئی بھی نبی نہیں نہ تشریعی نہ غیر تشریعی۔“

(النبوۃ فی الاسلام طبع اول ص٨٨، ٨٩)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ پہلے غیر تشریعی نبی ہوتے رہے ہیں۔ اب سنئے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔ شریعت والا نبی کون نہیں آ سکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے۔ مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔“

(تجلیات الٰہیہ ص٢٥، خزائن ج٢٠ ص٤١٢)

دیکھئے مرزا قادیانی غیر تشریعی نبوت کو جاری مانتے ہیں، اور سنئے! مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”لیکن باوجود اس کے بعد توریت کے صد ہا نبی بنی اسرائیل سے آئے کہ کوئی نئی کتاب ان کی ساتھ نہیں تھی۔“

(شہادۃ القرآن ص٢٤، خزائن ج٦ ص٣٤٠)

ہاں! مسٹر محمد علی صاحب نے ایک اصول نیا وضع کیا۔ جو مرزا قادیانی کے برخلاف ہے۔ بلکہ اور مسلمانوں کے بھی خلاف ہے۔ وہ یہ ہے کہ کوئی نبی بغیر کتاب نہیں ہو سکتا۔ ہر نبی کے لئے کتاب لانا ضروری ہے۔ مرزا قادیانی تو کہتے ہیں کہ صد ہا نبی بغیر کتاب کے بنی اسرائیل میں آئے۔ پھر آپ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی اس عبارت کا ہم یہ مطلب لیں گے کہ کوئی نئی شریعت

٢١

صفحہ ٢٢٥

ان کے ساتھ نہیں تھی۔ مسٹر صاحب موصوف علم پر حکم بن گئے اپنی رائے سے۔ لیکن ہم مسٹر صاحب کو معذور خیال کرتے ہیں۔ اگر وہ یہ اصول نہ بناتے تو مرزا محمود صاحب کے سامنے ہتھیار ڈال دینے پڑتے اور مرزا قادیانی کو ملہم خلائق تسلیم کرنا پڑتا۔

اور سنئے ! مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٨، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦)

اس عبارت سے دو باتیں ثابت ہوئیں۔ نبی بغیر شریعت بھی ہو سکتا ہے اور نبی ایک صاحب شریعت رسول کا متبع بھی ہو سکتا ہے۔ جیسے مرزا قادیانی نبی ہو کر محمدﷺ کے متبع ہیں۔

قولہ ...... اس عبارت میں مرزا قادیانی نے نبی لغوی کو کہا ہے کہ وہ صاحب شریعت رسول کا متبع ہوتا ہے۔ نہ نبی اصطلاحی ایک حقیقی نبی دوسرے نبی کا متبع نہیں ہو سکتا۔

اقول ...... نبی اصطلاحی کو متبع کہا ہے۔ نہ لغوی کو یہی دھوکہ لاہوری جماعت کو لگا ہوا ہے۔ مرزا قادیانی نے تو یہ بات شروع میں حکمت عملی سے کی تھی۔ لاہوری آج اس کی آڑ لے رہے ہیں۔ اب ہم مرزا قادیانی ہی کے قول سے ثابت کر کے دکھاتے ہیں کہ یہاں کیا معنی ہیں۔ مرزا قادیانی کے قول کی مرزا قادیانی ہی کے قول سے تفسیر کرو۔ عبارت یہ ہے کہ : ”نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ اس کو ہم دوسری عبارتوں سے جانچتے ہیں۔“

سنئے فرماتے ہیں: ”تمام مسلمانوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ اس عاجز کے رسالہ فتح اسلام و توضیح المرام وازالہ اوہام میں جس قدر ایسے الفاظ ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محدثیت جزوی نبوت ہے یا یہ کہ محدثیت نبوت ناقصہ ہے۔ یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں۔ بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں کی رو سے بیان کئے گئے ہیں۔“

(اشتہار مورخہ ٣ فروری ١٨٩٣ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣١٣)

اس عبارت میں جو نبوت کے دعویٰ سے پہلے کی ہے حقیقی معنوں کے بالمقابل لغوی معنوں کا اقرار ہے۔ یہاں حقیقی معنوں سے مراد اصطلاحی معنی ہیں۔ لو ہم مسٹر محمد علی صاحب کے قول سے بھی ثابت کئے دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں: ”اس سے ظاہر ہے لغوی معنی میں حقیقت نبوت نہیں بیان کی گئی۔ کیونکہ لغوی معنی کو حضرت مسیح موعود نے یہاں حقیقی کے بالمقابل رکھا ہے۔“

(النبوۃ فی الاسلام ص ٢٢٣)

٢٢

اور سنئے ، مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”اب نہ کوئی ہے اور نہ کوئی قدیم ۔“

یہ عبارت بھی نبوت کے دعویٰ سے پہلے کی ہے اصطلاحی لیتے ہیں۔

اور سنئے ، مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”لیکن با ر مرسل یا رسول یا نبی کا میری نسبت آتا ہے وہ اپنے حقیقی معنوں

اس عبارت میں بھی اصطلاحی معنے مراد ہیں ۔

پہلے پہلے ان الفاظ کو جب استعمال کرتے تھے جماعت معنوں کی قید لگا کر مریدوں کو مطمئن کر دیتے تھے۔ جب اور یہ تو میرے ہی ایک دعویٰ کو مان لیتے ہیں تو اب نبی اصطلاحی معنوں پر لاہوری تحریف مشہور ہے۔ یہاں لغوی ہیں۔ نبی کے یہ معنے کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے و بلحاظ لغت نبی کے اتنے بڑے معنے کہاں ہو سکتے ہیں والے تھے اور شرف مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ سے بھی مشرف ہ معنے ہیں صرف خبر دینے والا۔ خدا کی بھی قید نہیں۔ لوسنو لغوی معنی صرف خبر دینے والے کے ہیں۔“

دیکھئے ! آپ کے امیر جماعت ہمارے مرزا قادیانی بھی ہمارے متفق ہو گئے۔ پہلے مرزا قادی تھے۔ جیسے پہلے نبی کو محدث اور محدث کو نبی کہہ دیا کر بدل دی ہے۔ اب لغت اور اصطلاح کے معنی علیحدہ ع ہیں: ”پھر نبی کے لفظ پر بحث کرتے ہیں اور کہتے ہیں لفظی نزاع ہے۔ نبی تو خبر دینے والے کو کہتے ہیں۔ ن

دیکھئے ! مرزا قادیانی اب نبی کے معنی

٢٣

صفحہ ٢٢٥

اور سنئے، مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ’’اب نہ کوئی جدید نبی حقیقی معنوں کی رو سے آ سکتا ہے اور نہ کوئی قدیم۔‘‘

(سراج منیر ص ٣، خزائن ج ١٢ ص ٥)

یہ عبارت بھی نبوت کے دعویٰ سے پہلے کی ہے۔ یہاں آپ بھی حقیقی معنوں سے مراد اصطلاحی لیتے ہیں۔

اور سنئے، مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ’’لیکن بار بار کہتا ہوں کہ ان الہامات میں جو لفظ مرسل یا رسول یا نبی کا میری نسبت آتا ہے وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل نہیں ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٢٧)

اس عبارت میں بھی اصطلاحی معنے مراد ہیں۔ مرزا قادیانی کی یہی تو حکمت عملی تھی۔ پہلے پہلے ان الفاظ کو جب استعمال کرتے تھے جماعت کے منتشر ہو جانے کے خوف سے حقیقی معنوں کی قید لگا کر مریدوں کو مطمئن کر دیتے تھے۔ جب دیکھا کہ مریدوں کی اجنبیت دور ہو گئی اور یہ تو میرے ہی ایک دعویٰ کو مان لیتے ہیں تو اب نبی کے حقیقی معنوں پر غور شروع ہو گیا۔ یعنی اصطلاحی معنوں پر لاہوری تحریف مشہور ہے۔ یہاں لغوی معنے مراد لے کر اپنا مطلب نکالنا چاہتے ہیں۔ نبی کے یہ معنے کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا اور شرف مکالمہ مخاطبہ سے مشرف ہو۔ بلحاظ لغت نبی کے اتنے بڑے معنے کہاں ہو سکتے ہیں۔ دیکھو نبی کریم بذریعہ وحی قرآن پانے والے تھے اور شرف مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ سے بھی مشرف تھے ورنہ نبی تو نباء سے مشتق ہے۔ جس کے معنے ہیں صرف خبر دینے والا۔ خدا کی بھی قید نہیں۔ لو سنو! مسٹر محمد علی صاحب فرماتے ہیں: ’’نبی کے لغوی معنی صرف خبر دینے والے کے ہیں۔‘‘

(تفسیر بیان القرآن ص ٧٢)

دیکھئے! آپ کے امیر جماعت ہمارے لغوی معنوں سے متفق ہیں اور اب تو مرزا قادیانی بھی ہم سے متفق ہو گئے۔ پہلے مرزا قادیانی اصطلاحی معنوں کو لغوی کہہ دیا کرتے تھے۔ جیسے پہلے نبی کو محدث اور محدث کو نبی کہہ دیا کرتے تھے۔ اب چونکہ مرزا قادیانی نے لائن بدل دی ہے۔ اب لغت اور اصطلاح کے معنی علیحدہ علیحدہ کرتے ہیں۔ سنئے! مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ’’پھر نبی کے لفظ پر بحث کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دعویٰ نبوت ہے۔ میں کہتا ہوں یہ تو نری لفظی نزاع ہے۔ نبی تو خبر دینے والے کو کہتے ہیں۔‘‘

(الحکم نمبر ٣٩، ج ٩، مورخہ ١٠ نومبر ١٩٠٥ء)

دیکھئے! مرزا قادیانی اب نبی کے معنی لغت کی رو سے صحیح بتلانے لگے ہیں۔ حکیم

٢٣

صفحہ ٢٢٦

نورالدین صاحب سے کسی نے سوال کیا جو الحکم میں سوال و جواب دونوں چھپے ہیں۔ وہ ہم ناظرین کے ملاحظہ کے لئے نقل کئے دیتے ہیں۔

سنئے ! ”سوال نمبر ٥ خاتم النبیین رسول اللہ ﷺ تھے تو پھر نبی ہونے کا دعویٰ کس طرح درست رہ سکتا ہے۔ جواب نمبر ٥ رسول کریم ﷺ خاتم النبیین ہیں اور ضرور ہیں۔ قرآن کریم میں لکھا ہے: ”پر تم جانتے ہو کہ نبی کریم صاحب شریعت تھے۔ اس لئے ضرور ہوا کہ کوئی شریعت جدید، قرآن یا نبی کریم کے سوائے ممکن نہیں اور نبی کا لفظ عربی زبان میں خبر دینے والے کے معنے رکھتا ہے۔ یا بڑے آدمی کے۔ اس معنے کی نفی شرعاً جائز نہیں اور نیز خاتمہ تو مہر کو کہتے ہیں۔ جب نبی کریم مہر ہوئے تو اگر ان کی امت میں کسی قسم کا نبی نہیں ہوگا تو وہ مہر کس طرح ہوئے یا مہر کس پر لگے گی۔ والسلام !“

(اخبار الحکم نمبر ٦ ج ٩، مورخہ ١٧ فروری ١٩٠٥ء)

اس عبارت سے چند باتیں معلوم ہوئیں۔ سائل نے پوچھا تھا نبوت کا دعویٰ کس طرح درست ہے تو حکیم صاحب نے یہ نہیں کہا کہ نبوت کا دعویٰ مرزا قادیانی کو نہیں ہے۔ بلکہ اس کو تسلیم کر کے تشریح کر دی کہ شریعت جدیدہ کا دعویٰ نہیں۔ نبی کے عربی زبان کے لحاظ سے صحیح معنی ہمارے موافق بتائے ہیں اور خاتمہ کے معنے مہر کر کے مرزا محمود قادیانی کی موافقت کی ہے۔ گویا آپ بھی نبی کریم کو نبی ہی سمجھتے تھے۔

اور سنئے ! مرزا قادیانی کیا فرماتے ہیں: ”البتہ ہمارے اوپر جو کلام الٰہی نازل ہوتا ہے اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ ہم نے کسی نئی اور تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ بلکہ مکالمہ مخاطبہ کی کثرت بلحاظ کمیت اور کیا بلحاظ کیفیت کی وجہ سے نبی کہا گیا ہے۔ اب اس مجلس میں اگر کوئی صاحب عبرانی یا عربی سے واقف ہے تو وہ جان سکتا ہے کہ نبی کا لفظ نباء سے نکلا ہے اور نباء کہتے ہیں خبر دینے کو اور نبی کہتے ہیں خبر دینے والے کو یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کلام پا کر جو غیب پر مشتمل یا زبردست پیش گوئیاں ہوں۔ مخلوق خدا کو پہچاننے والا ، اسلامی اصطلاح کی رو سے نبی کہلاتا ہے۔“

( تقریر مرزا موسومہ حجۃ اللہ ١٩٠٨ء ، بمقام لاہور ص ٢ ، کالم نمبر ٢ ، ملفوظات ج ١٠ ص ٢٦٧)

دیکھو ! اب اسلامی اصطلاح کے معنے الگ بتائے جاتے ہیں اور لغت کے الگ۔ لاہوریوں کے پاس سوائے تاویلوں کے اور کچھ نہیں۔ لیجئے ! ہم مرزا قادیانی کی ایک فیصلہ کن خط و کتابت پیش کرتے ہیں جس سے یہ معلوم ہو جائے کہ نبی کے اصطلاحی معنی کیا ہیں اور کسی لاہوری کو چون و چرا کی گنجائش نہ رہے۔ یہ خط و کتابت بھی الحکم میں موجود ہے۔

٢٤

٢٢٧

حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت

بسم اللہ الرحمٰن نحمده ونصلى على ر بخدمت جناب حضور حضرت اقدس خلیفۃ اللہ و رسول السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، ...... مرحمت فرمودہ برائے من عنایت نموده شود و آں ایں ا عام است پس ہر رسول نبی است و ہر نبی رسول نیست کہ رسول و نبی یک است۔ غرض نزول مسیح موعود و خاکسار غلام محمد افغان!

جواب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، ...... آنچه از قرآن شریف مستنبط میشود ہمیں است کہ ر از خدا تعالیٰ بدو وحی کرده شود۔ و نبی آنست کہ از تکلیف کرده اند و چیزے نیست! والسلام مرزا غلام

دیکھئے ! اس خط میں مرزا قادیانی نے اصطلاحی معنے بتلائے ہیں۔ لاہوری شاید ان کو مرزا قادیانی کے مرید خطوں میں مرزا قادیانی کو میں چھپتے تھے اور مرزا قادیانی نے جواب میں ۔ میں کوئی رسول اللہ ہوں؟ ۔ تم نے نبی کریم کی تو مسٹر محمد علی امیر جماعت لاہور اور ان کے ساتھی پڑھا کرتے تھے اور اگر پڑھا کرتے تھے تو اس نہ کہا کہ حضرت اب تو مرید لوگ خطوں میں ر میں فتنہ پڑنے کا اندیشہ ہے۔ آج مرزا محمود ۔ کے مقابلہ پر آپ کا یہ فرض نہ تھا۔ باقی ہم ناظر

صفحہ ٢٢٧

حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں ایک عریضہ اور اس کا جواب

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم!

بخدمت جناب حضور حضرت اقدس خلیفۃ اللہ ورسول اللہ مسیح موعود مہدی مسعود علیہ الصلوٰۃ والسلام!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، ...... عرض خاکسار چنیں است کہ بیان مسئلہ ذیل مرحمت فرمودہ برائے من عنایت نمودہ شود و آں ایں است کہ بعضے میگویند کہ رسول خاص است و نبی عام است پس ہر رسول نبی است و ہر نبی رسول نیست یعنی رسول افضل است از نبی و بعضے میگویند کہ رسول و نبی یک است۔ غرض نزدیک مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کدام صحیح و منظور است۔ یہ خاکسار غلام محمد افغان!

جواب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، ...... واضح باد کہ مارا باقوال دیگراں ہیچ تعلق نیست۔ آنچہ از قرآن شریف مستنبط میشود ہمیں است کہ رسول آن باشد کہ خدمت رسالت و پیغام رسانی از خدا تعالیٰ بدو سپرد کردہ شود۔ و نبی آنست کہ از خدا خبر ہائے غیب یابد و بمردم رساند۔ باقی ناحق تکلیف کردہ اند و چیزے نیست! والسلام مرزا غلام احمد عفی عنہ!

(الحکم نمبر ٢٥ ج ١٢، مورخہ ٦؍ اپریل ١٩٠٨ء ص ١)

دیکھئے! اس خط میں مرزا قادیانی نے قرآن سے استنباط پیش کیا ہے اور نبی ورسول کے اصطلاحی معنے بتلائے ہیں۔ لاہوری شاید ان کو بھی لغوی بنادیں۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مرزا قادیانی کے مرید خطوں میں مرزا قادیانی کو رسول اللہ نبی اللہ لکھتے تھے اور وہ خطوط اخباروں میں چھپتے تھے اور مرزا قادیانی نے جواب میں یہ بھی نہیں لکھا کہ تم نے مجھ کو رسول اللہ کیوں لکھا۔ میں کوئی رسول اللہ ہوں؟۔ تم نے نبی کریم کی توہین کیوں کی اور ساتھ ہی یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ مسٹر محمد علی امیر جماعت لاہور اور ان کے ساتھی اس وقت کہاں تھے؟۔ کیا وہ ان اخباروں کو نہیں پڑھا کرتے تھے اور اگر پڑھا کرتے تھے تو اس وقت کبھی اس کی تردید کی اور مرزا قادیانی سے کیوں نہ کہا کہ حضرت اب تو مرید لوگ خطوں میں رسول اللہ لکھنے لگ گئے ہیں اور ان لفظوں سے اسلام میں فتنہ پڑنے کا اندیشہ ہے۔ آج مرزا محمود کے مقابلہ پر تو یہ فرض ادا ہورہا ہے۔ کیا مرزا قادیانی کے مقابلہ پر آپ کا یہ فرض نہ تھا۔ باقی ہم ناظرین پر چھوڑتے ہیں وہ خود پڑھ کر فیصلہ کریں۔

٢٥

صفحہ ٩

ایک سوال

میرے دوستو! کیا بتلا سکتے ہو کہ آدم علیہ السلام سے لے کر مرزا قادیانی تک کوئی اور بھی لغوی نبی ہوا ہے۔ سید مدثر شاہ گیلانی تو اس کا جواب اثبات میں دیتے ہیں اور فرماتے ہیں: ”اس میں حضرت مسیح موعود اولیاء امت کو عموماً اور حضرت بایزید بسطامی کو خصوصاً ظلی بروزی نبی قرار دیتے ہیں۔“

(عقائد احمدیہ ص ٤٧)

قادیانیوں نے تو ایک نبی بنایا تھا۔ لاہوریوں نے بیشمار نبی بنا ڈالے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مرزا قادیانی سید مدثر شاہ صاحب کے فیصلہ سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں۔ سنئے مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”غرض اس حصہ کثیرہ وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور دوسرے تمام اس نام کے مستحق نہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

مرزا قادیانی تو فرماتے ہیں کہ دوسروں کا نام پانا در کنار ان کو اس کا استحقاق بھی نہیں۔

اور سنئے مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”جب کہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء تھے اور آپ کے بعد اور کوئی نبی نہیں تھا۔ اس لئے اگر تمام خلفاء کو نبی کے نام سے پکارا جاتا تو امر ختم نبوت مشتبہ ہو جاتا اور اگر ایک فرد کو بھی نبی کے نام سے نہ پکارا جاتا تو عدم مشابہت کا اعتراض باقی رہ جاتا۔ اس لئے حکمت الٰہی نے تقاضا کیا کہ پہلے بہت سے خلفاء کو برعایت ختم نبوت بھیجا جائے اور ان کا نام نبی نہ رکھا جائے اور یہ مرتبہ ان کو نہ دیا جائے۔ تا ختم نبوت پر یہ نشان ہو۔ پھر آخری خلیفہ یعنی مسیح موعود کو نبی کے نام سے پکارا جائے۔ تا خلافت کے امر میں دونوں سلسلوں کی مشابہت ہو جائے۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٤٣، خزائن ج ٢٠ ص ٤٥)

بقول لاہوری جماعت کہ: ”مرزا قادیانی کو لغوی نبی کا نام دیا گیا تو مرزا قادیانی جواب دیتے کہ اور کسی خلیفہ یا بزرگ کو لغوی معنی سے بھی نبی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ کیونکہ امر ختم نبوت مشتبہ ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ لغوی بروزی ظلی نبی ہر طرح ممنوع ہے۔“

مرزا قادیانی اپنی ذات کے علاوہ فرماتے ہیں کہ: ”یہ الفاظ ختم نبوت کو مشتبہ کرتے ہیں۔“ اب لاہوریوں کی خوشی ہے جسے چاہیں ظلی نبی، لغوی نبی بنا کر ختم نبوت کو مشتبہ کریں۔ بات بالکل صاف ہے نبی ایک ایسا لفظ ہے جس کو قرآن کریم نے لغت سے لے کر اصطلاحی طور پر ایک معنی کے لئے خاص کر دیا ہے۔ اصطلاحی امر میں لغت کی طرف رجوع کرنا حماقت ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی بھی ہماری تائید کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو فرماتے ہیں: ”دراصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم نے بعض الفاظ لغت سے لے کر اصطلاحی طور پر ایک معنی کے لئے خاص کر دیئے ہیں۔ جیسے

٢٦

صوم، صلوٰۃ، رحمانیت، رحیمیت، توفی اور ایسے ہی طرف رجوع کرنا حماقت ہے۔ قرآن شریف کی ہی معنے کا التزام رکھتا ہے یا متفرق معنی رکھتا ہے اختلاف کی حالت میں وہ گروہ حق پر ہوگا جن کی

اصطلاحی امر میں لغت کی رجوع کر نادانگی سے کہہ دیا کرتے ہیں کہ حضرت یوسف رسول کہتا ہے۔ لغوی معنوں سے خدا کے بستہ وق اترتی رہیں۔ اگر آج کوئی کہنے لگے قرآن میں ختم ہو چکی ہے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ او نبوت مشتبہ ہوتا ہے۔ اپنے حکم کی بات تو مانو۔

مرزا قادیانی کو صریح نبی کا خطاب مـ

”اسی طرح اوائل میں میرا یہی ا ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ مر تو یہ سمجھتے تھے کہ مجھ کو مسیح سے کیا نسبت۔ جائے جب وحی کی بارش زور وشور کے ساتھ خطاب لینا پڑا اور مسیح ابن مریم پر جلی فضـ اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ عزت کا خطـ دینا کیسا۔ مرزا قادیانی کو مجازی ظلی طور لاہوریوں کے ان اقوال کو مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”اس امت میں سابقہ بچـ عظمت کو ثابت کرتا ہے۔ جس کا فخر آ

صفحہ ٢٢٩

صوم، صلوٰۃ، رحمانیت، رحیمیت، توفی اور ایسے ہی اللہ کا لفظ اور کئی الفاظ سو اصطلاحی امر میں لغت کی طرف رجوع کرنا حماقت ہے۔ قرآن شریف کی قرآن شریف سے ہی تفسیر کرو اور دیکھو کہ وہ ایک ہی معنے کا التزام رکھتا ہے یا متفرق معنی رکھتا ہے اور اقوال سلف وخلف مستقل حجت نہیں اور ان کے اختلاف کی حالت میں وہ گروہ حق پر ہوگا جن کی رائے قرآن کریم کی مطابق ہے۔“

(ازالۃ اوہام خورد ص ٥٣٨، خزائن ج ٣ ص ٣٨٩)

اصطلاحی امر میں لغت کی رجوع کرنا مرزا قادیانی حماقت بتلاتے ہیں۔ بعض لاہوری ناواقفی سے کہہ دیا کرتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس جو قاصد آیا تھا اس کو بھی قرآن رسول کہتا ہے۔ لغوی معنوں سے خدا کے بندے قرآن میں تو یہ بھی لکھا ہے کہ پہلے نبیوں پر بھی کتابیں اترتی رہیں۔ اگر آج کوئی کہنے لگے قرآن میں لکھا ہے۔ لہٰذا کتابیں اب بھی اتریں گی چونکہ نبوت ختم ہو چکی ہے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اور خلیفوں کو اس وجہ سے یہ نام نہیں دیا گیا کہ امر ختم نبوت مشتبہ ہوتا ہے۔ اپنے حکم کی بات تو مانو۔

مرزا قادیانی کو صریح نبی کا خطاب ملا

”اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢، ١٥٣)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی پہلے اپنے آپ کو نبی نہ جانتے تھے۔ تب ہی تو یہ سمجھتے تھے کہ مجھ کو مسیح سے کیا نسبت۔ وہ نبی ہے۔ غیر نبی کو واقعی نبی سے کیا نسبت۔ مگر کیا کیا جائے جب وحی کی بارش زور و شور کے ساتھ ہونے لگی اور تمام کپڑے بھیگ گئے۔ تب آپ کو نبی کا خطاب لینا پڑا اور مسیح ابن مریم پر جلی فضیلت کا اقرار کرنا پڑا۔ لاہوری اس خطاب کا بڑا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ عزت کا خطاب ہے۔ ورنہ نبی کو نبی کا خطاب کیسا اور نبی کو نبی کا نام دینا کیسا۔ مرزا قادیانی کو مجازی ظلی طور پر نبی کا نام دے دیا اور مجازی نبی نبی نہیں ہوتا۔ اب ہم لاہوریوں کے ان اقوال کو مرزا قادیانی کی تحریرات سے جانچتے ہیں۔ سنئے! مرزا قادیانی کیا فرماتے ہیں: ”اس امت میں سابقہ مجددین اور مامورین کا نبی نہ پکارا جانا آنحضرت کی شان عظمت کو ثابت کرتا ہے۔ جس کا فخر آنحضرت ﷺ ہی کو ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو ہرگز نہیں ہے۔

٢٧

صفحہ ٢٣١

کیونکہ جب موسیٰ علیہ السلام کے بعد نبی کہلانے والے بار بار آئے اور صد ہزار آئے تو اس سے موسیٰ علیہ السلام کی کسر شان ہوئی کہ جو خطاب ان کا تھا وہی اوروں کو کثرت سے ملا۔ موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں خاتم النبیین کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔ مگر آنحضرت ﷺ کے حق میں ہوا ہے۔ اس لئے خدا نے اس امت میں یوں کیا کہ بہت سے ایسے پیدا کئے جن کو شرف مکالمہ تو دیا مگر آنحضرت ﷺ کی شان وعظمت کے لحاظ سے لفظ نبی کا ان کے حق میں نہ رکھا۔ لیکن اگر اس امت میں کوئی بھی نبی نہ پکارا جاتا تو مماثلت موسوی کا پہلو بہت ناقص ٹھہرتا اور من وجہ امت موسوی کو ایک فضیلت ہو جاتی۔ اس لئے یہ خطاب آنحضرت ﷺ نے خود اپنی زبان مبارک سے ایک شخص کو دے دیا۔ جس نے مسیح ابن مریم ہو کر دنیا میں آنا تھا۔ کیونکہ اس جگہ دو پہلو مدنظر تھے۔ ایک ختم نبوت کا۔ اسے اس طرح نبھایا کہ جو نبی کے لفظ کی کثرت موسوی سلسلہ میں تھی اسے اڑا دیا۔ دوسرے مشابہت اسے اس طرح پورا کیا کہ ایک کو نبی کا خطاب دے دیا۔ تکمیل مشابہت کے لئے اس لفظ کا ہونا ضروری تھا۔ سو پورا ہو گیا اور جو مصلحت یہاں مدنظر تھی وہ موسوی سلسلہ میں نہیں تھی۔ کیونکہ موسیٰ علیہ السلام خاتم نبوت نہیں تھے۔“

(البدر نمبر ١٣ ج ٢، مورخہ ٢٤؍اپریل ١٩٠٣ء)

اس عبارت سے ثابت ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو اور ان کے بعد کے نبیوں کو نبی کا خطاب ملا تھا اور اس امت میں مرزا قادیانی کو نبی کا خطاب ملا۔ کیا خطاب کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام کو نبی نہ سمجھا جائے۔ لاہوریوں کی جو منطق بھی ہوتی ہے وہ نرالی ہی ہوتی ہے۔ دوسری بات اس عبارت سے بڑی زبردست یہ ثابت ہوئی کہ باوجود اس کے کہ موسیٰ علیہ السلام خاتم نبوت بھی نہ تھے۔ موسیٰ علیہ السلام کے بعد دوسرے نبی آنے سے موسیٰ علیہ السلام کی کسر شان ہوئی۔ ہمارے نبی کریم ﷺ تو خاتم نبوت ہیں۔ ان کے بعد اگر مرزا قادیانی نبی کہلاویں تو حضور ﷺ کی کسر شان کیوں نہ ہوگی۔ دونوں جماعتوں کے لئے یہ مسئلہ غور طلب ہے۔

اور سنئے! مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”جب سے خدا نے مجھے مسیح موعود اور مہدی معہود کا خطاب دیا ہے میری نسبت جوش اور غضب ان لوگوں کا جو اپنے تئیں مسلمان قرار دیتے ہیں انتہا تک پہنچ گیا ہے۔“

(چشمہ معرفت ٹائٹل ص ١، خزائن ج ٢٣ ص ٢)

جب آپ مسیح اور مہدی تھے تو مسیح کا خطاب دینا کیا فائدہ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی مسیح مہدی کچھ بھی نہ تھے۔ یہ تو عزت کا خطاب تھا۔

اور سنئے! فرماتے ہیں: ”کئی مناسبتوں کے لحاظ سے اس عاجز کا نام مسیح رکھا گیا۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥ حاشیہ)

٢٨

جب آپ مسیح تھے ہی تو مسیح کا نام دینے سے بات کے بھی ہرگز مخالف نہیں کہ یہ عاجز مجازی اور رو وحدیث میں خبر دی گئی ہے۔“

دیکھئے! مرزا قادیانی مجازی مسیح ہیں۔ اگر ہوتا اور سنئے، فرماتے ہیں: ”ہاں اس رسالہ میں میں احمدیہ کے مضمون سے اس قدر زیادہ لکھا ہے کہ مسیح ابن نہ وہی اصلی مسیح۔“

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ ظلی تو مسیح نہیں ہوتا۔ یہ لاہوریوں کی بیجا تاویلات ہیں ہیں۔ مرزا قادیانی مسیح پر جزوی فضیلت کا عقیدہ ر دال کا بھاؤ سستا کر دیا اور فضیلتِ کلی کا عقیدہ رکھے موسوی سلسلہ کے قائم مقام ہے۔ مگر شان میں ہزار مریم ابن مریم سے بڑھ کر۔“ (کشتی نوح ص ١٦، خزائن

اب دیکھئے! مسیح علیہ السلام پر ہزار ہا ہیں: ”جیسے آنحضرت ﷺ اپنے مثیل موسیٰ سے اور موسیٰ آپ کے ظل تھے۔ اسی طرح مسیح موعود مو

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ یہاں اصل ہو گئے اور مسیح علیہ السلام ظل ہو گئے۔ غالباً ا بھی کسی غیر نبی کا ظل ہو جایا کرتا ہے؟۔ ان تمام اصطلاحی نبوت کے مدعی ہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی کے پیٹ میں ہی مل گئی تھی۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ” ربك فحدث“ اپنی نسبت بیان کرتا ہوں کہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش سے نہیں بلکہ شکر

یہ عبارت بتلاتی ہے کہ مرزا قادیا

صفحہ ٢٣١

جب آپ مسیح تھے ہی تو مسیح کا نام دینے سے کیا فائدہ؟ اور سنئے! فرماتے ہیں: ’’وہ اس بات کے بھی ہرگز مخالف نہیں کہ یہ عاجز مجازی اور روحانی طور پر وہی مسیح موعود ہے جس کی قرآن وحدیث میں خبر دی گئی ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٢٩٣، خزائن ج ٣ ص ٤٤٩)

دیکھئے! مرزا قادیانی مجازی مسیح ہیں۔ اگر مجازی نبی نبی نہیں ہوتا تو مجازی مسیح مسیح نہیں ہوتا اور سنئے، فرماتے ہیں: ’’ہاں اس رسالہ میں میں نے خدا تعالیٰ سے علم قطعی ویقینی پا کر براہین احمدیہ کے مضمون سے اس قدر زیادہ لکھا ہے کہ مسیح ابن مریم مثالی اور ظلی وجود کے ساتھ آئے گا۔ نہ وہی اصلی مسیح۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٢٩٣، خزائن ج ٣ ص ٤٥٠)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ ظلی مسیح ہیں۔ اگر ظلی نبی نبی نہیں ہوتا تو ظلی مسیح بھی مسیح نہیں ہوتا۔ یہ لاہوریوں کی بیجا تاویلات ہیں۔ پھر ہم اپنے اصلی مطلب کی طرف لوٹتے ہیں۔ مرزا قادیانی مسیح پر جزوی فضیلت کا عقیدہ رکھتے تھے۔ وحی کی بارش کی کثرت نے آٹے دال کا بھاؤ سستا کر دیا اور فضیلت کلی کا عقیدہ رکھنے لگے۔ سنئے! فرماتے ہیں: ’’اب محمدی سلسلہ موسوی سلسلہ کے قائم مقام ہے۔ مگر شان میں ہزار ہا درجہ بڑھ کر مثیل موسیٰ موسیٰ سے اور مثیل ابن مریم ابن مریم سے بڑھ کر۔‘‘ (کشتی نوح ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٤، الحکم نمبر ٣٣، ج ٦، مورخہ ٢٤؍ ستمبر ١٩٠٢ء)

اب دیکھئے! مسیح علیہ السلام پر ہزار ہا درجہ شان بڑھ گئی۔ سنئے! مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ’’جیسے آنحضرت ﷺ اپنے مثیل موسیٰ سے ہر پہلو میں بڑھے ہوئے تھے اور گویا آپ اصل اور موسیٰ آپ کے ظل تھے۔ اسی طرح مسیح موعود موسوی مسیح سے نسبت رکھتا ہے۔‘‘

(الحکم نمبر ٤٠، ج ٦، مورخہ ١٠؍ نومبر ١٩٠٢ء)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ یہاں تک مرزا قادیانی کی شان بڑھی کہ مرزا قادیانی اصل ہو گئے اور مسیح علیہ السلام ظل ہو گئے۔ غالباً لاہوری لوگ اس مسئلہ کو حل کریں گے کہ حقیقی نبی بھی کسی غیر نبی کا ظل ہو جایا کرتا ہے؟۔ ان تمام عبارتوں سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی حقیقی اور اصطلاحی نبوت کے مدعی ہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی نے تو یہاں تک فرما دیا ہے کہ نعمت نبوت مجھے ماں کے پیٹ میں ہی مل گئی تھی۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’اب میں بموجب آیۂ کریمہ ’واما بنعمت ربک فحدث‘ اپنی نسبت بیان کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ مجھے اس تیسرے درجہ میں داخل کر کے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی ہے۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠)

یہ عبارت بتلاتی ہے کہ مرزا قادیانی کی نبوت پیروی کا نتیجہ نہیں۔ ماں کے پیٹ میں

٢٩

صفحہ ٢٣٣

آپ نے کون سے نبی کی پیروی کی تھی۔ گویا آپ ماں کے پیٹ سے نبی پیدا ہوئے تھے۔ ماں کے پیٹ میں نبوت جیسا کمال حاصل کر لینا حقیقی نبی کی شان ہے اور آپ کی نبوت اکتسابی نہیں بلکہ موہبت ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ”نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں۔ یہ صرف موہبت ہے۔ جس کے ذریعہ سے امور غیبیہ کھلتے ہیں۔ پس جب کہ میں اس مدت تک ڈیڑھ سو پیش گوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیوں کر انکار کر سکتا ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)

آپ کی نبوت وہی ہے اکتسابی نہیں جو دوسرے لفظوں میں حقیقی نبوت ہے۔

لاہوریوں کی بڑی بھاری غلطی

لاہوری جماعت اصطلاحی محدث اور لغوی نبی یا جزوی نبی یا ظلی نبی یا امتی نبی وغیرہ کو ایک چیز سمجھ بیٹھے۔ مرزا قادیانی کے نزدیک محدثیت اور ظلی نبوت ایک چیز نہیں یہ ہی چیز ہے۔ اگر لاہوری حضرات اس میں غور کر لیں تو نبوت کا سارا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ لو سنو اور غور سے سنو۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”اللہ جل شانہ نے آنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی۔ کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اس وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔“

(حقیقت الوحی ص ٩٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)

یہ عبارت نہایت غور طلب ہے۔ نبوت اور محدثیت کے تنازعہ کے لئے فیصلہ کن ہے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو خدا تعالیٰ نے ایک ایسی مہر دی جو کسی نبی کو نہیں دی۔ یعنی نبی گری کی مہر۔ اگر اس مہر کو محدث گری کی مہر قرار دیا جائے تو ایسی مہر تو اور نبیوں کو بھی ملی تھی۔ جن کی توجہ روحانی سے دنیا میں بہت محدث بنے اور حضور ﷺ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے۔

١؂ لاہوری اکثر کہا کرتے ہیں کہ جزوی نبی حقیقی نبی نہیں ہوتا۔ یہ بھی بڑا دھوکہ ہے۔ بلکہ ان کا باطنی مذہب یہ ہے کہ جزوی نبی حقیقی نبی ہوتا ہے۔ ہم محمد احسن صاحب امروہی کا قول پیش کرتے ہیں۔ یہ مرزائی جماعت کے بڑے رکن مانے جاتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ”اگر حضرت یوسف علیہ السلام کو نبوت جزئی عطا ہوئی تو آنحضرت ﷺ کو خطاب ”وما ارسلناک الا رحمة للعالمین“ مرحمت ہوا۔“ (ریویو آف ریلیجنز ج ٦ نمبر ٢، فروری ١٩٠٧ء) محمد احسن صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام جزوی نبی تھے اور یہ مسلمہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام حقیقی نبی تھے تو معلوم ہوا کہ جزوی نبی بھی حقیقی نبی ہوتا ہے۔ ٣٠

نہ محدث تراش اگر محدث مانا جائے تو محدث تو سب ٹھہرے۔ یہ عبارت فیصلہ کرتی ہے کہ محدث اور ظلی محدث اور ظلی نبی کو ایک چیز قرار دو گے تو سب نبیوں کـ یہ قوت قدسیہ پائی جائے گی۔ حالانکہ مرزا قادیانی کے نہیں ہے اور محدث اور ظلی نبی ایک چیز ہوں تو گویا تمـ خاتم ٹھہرے۔ لہٰذا امتی نبی اور محدث ہرگز ایک چیز نہیں لاہور کے امیر فرماتے ہیں۔ ملاحظہ ہو: ”دوسری طرف محدثون“ یعنی ان میں جو تم سے پہلے گزر چکے ہوـ کہ پہلی امتوں میں بھی محدث تھے۔..... پس یہ تو یقیناً تھے۔ پھر نبی کریم ﷺ میں پہلے نبیوں سے بڑھ کر کیا بـ اس عبارت سے ثابت ہے کہ محدث گری محدث بناتے تھے اور سنئے! مرزا قادیانی فرماتے ہیں میں بھی ہوا کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ کی امت مـ ان عبارتوں سے ثابت ہے کہ پہلی امـ نزدیک محدث کو امتی نبی بھی کہتے ہیں تو کیا پہلی امتوں نبی گر اور صاحب خاتم ٹھہرے۔ اور سنئے، مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”بـ آئندہ اس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا۔ بلکہ ا کی مہر کے کوئی فیضان کسی کو نہیں پہنچ سکتا ہے اور بجـ تعالیٰ نے ان معنوں سے آپ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایـ ہوگئی اور ظلی نبوت جس کے معنے ہیں فیض محمدی سے

اس عبارت میں ظلی نبی کی پوری تصویـ خاتم الانبیاء بنایا کہ آپ ظلی نبی بنایا کریں گے اور محدث بنایا کرتے تھے اور ظلی نبی بنانے کی قوت اـ ٣١

صفحہ ٢٣٣

یہ محدث تراش اگر محدث مانا جائے تو محدث تو سب نبیوں نے بنائے اور سب نبی خاتم النبیین ٹھہرے۔ یہ عبارت فیصلہ کرتی ہے کہ محدث اور ظلی نبی کسی طرح ایک چیز نہیں ہو سکتے اور اگر محدث اور ظلی نبی کو ایک چیز قرار دو گے تو سب نبیوں کو خاتم النبیین ماننا پڑے گا اور سب نبیوں میں یہ قوت قدسیہ پائی جائے گی۔ حالانکہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی میں ہرگز نہیں ہے اور محدث اور ظلی نبی ایک چیز ہوں تو گویا تمام نبیوں نے ظلی نبی بنائے اور سب صاحب خاتم ٹھہرے۔ لہٰذا امتی نبی اور محدث ہرگز ایک چیز نہیں۔ چنانچہ مسٹر محمد علی صاحب جماعت احمدیہ لاہور کے امیر فرماتے ہیں۔ ملاحظہ ہو: ”دوسری طرف حدیث ”لقد كان فيما قبلكم محدثون“ یعنی ان میں جو تم سے پہلے گزر چکے محدث تھے۔ حدیث اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ پہلی امتوں میں بھی محدث تھے۔..... پس یہ تو یقین ہے کہ پہلی امتوں میں بھی محدث ہوتے تھے۔ پھر نبی کریم ﷺ میں پہلے نبیوں سے بڑھ کر کیا بات ہوئی۔“ (النبوۃ فی الاسلام طبع دوم ص ١٣٣)

اس عبارت سے ثابت ہے کہ محدث گری کی صفت تو اور نبیوں میں بھی تھی۔ سب نبی محدث بناتے تھے اور سنئے! مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”اس قدر معلوم ہوا کہ محدث پہلی امتوں میں بھی ہوا کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ کی امت میں بھی ہوں گے۔“ (النبوۃ فی الاسلام ص ١٢٠)

ان عبارتوں سے ثابت ہے کہ پہلی امتوں میں محدث ہوئے اور لاہوریوں کے نزدیک محدث کو امتی نبی بھی کہتے ہیں تو گویا پہلی امتوں میں بھی امتی نبی ہوئے تو وہ بھی سب انبیاء نبی گر اور صاحب خاتم ٹھہرے۔

اور سنئے، مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”وہ خاتم الانبیاء ہے مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا۔ بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحب خاتم ہے۔ بجز اس کی مہر کے کوئی فیضان کسی کو نہیں پہنچ سکتا ہے اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں۔..... سو خدا تعالیٰ نے ان معنوں سے آپ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا..... کیونکہ مستقل نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم ہوگئی اور ظلی نبوت جس کے معنے ہیں فیض محمدی سے وحی پانا وہ قیامت تک باقی ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠)

اس عبارت میں ظلی نبی کی پوری تصویر موجود ہے۔ حضور کو اللہ تعالیٰ نے اسی وجہ سے خاتم الانبیاء بنایا کہ آپ ظلی نبی بنایا کریں گے اور کسی نبی کو خاتم الانبیاء نہیں بنایا۔ کیونکہ پہلے نبی محدث بنایا کرتے تھے اور ظلی نبی بنانے کی قوت اللہ تعالیٰ نے ان کو دی ہی نہیں۔ وہ کہاں سے ظلی

٣١

صفحہ ٢٣٥

نبی بنا دیں۔ یہ عبارت بھی یہی فیصلہ دیتی ہے کہ ظلی نبی اور محدث ایک چیز نہیں۔ بلکہ دو جدا جدا چیزیں ہیں۔ بعض لاہوری جان بچانے کے لئے کہہ دیا کرتے ہیں کہ پہلی امتوں میں محدث کم ہوئے ہیں۔ جناب کیسے معلوم ہوا کہ کم ہوئے ہیں۔ حدیث میں تو پہلی امتوں کے لئے محدثوں بصیغہ جمع وارد ہے اور اس امت میں صرف حضرت عمر کا نام بتلایا ہے۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ حضرت عمر کے بعد اور بھی بہت محدث ہوئے ہیں۔ لو سنو! مرزا قادیانی کیا فرماتے ہیں؟: ”اور مختلف بلاد کے نبیوں اور مرسلوں اور محدثوں کو چھوڑ کر اگر صرف بنی اسرائیل کے نبیوں اور مرسلوں اور محدثوں پر ہی نظر ڈالی جائے تو ان کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ چودہ سو برس کے عرصہ میں یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے حضرت مسیح علیہ السلام تک ہزار ہا نبی اور محدث ان میں پیدا ہوئے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٣٦، خزائن ج ٦ ص ٣٣٢)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل ہی میں ہزاروں نبی اور محدث پیدا ہوئے اور امتوں کو مرزا قادیانی نے چھوڑ دیا ہے۔ ضد کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں۔ لیکن ہم نے ایک منصف مزاج آدمی کے لئے کافی دلائل پیش کر کے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ ظلی نبی یا امتی نبی محدث کو ہرگز نہیں کہہ سکتے۔

مسٹر شیر علی صاحب بی۔اے کی شہادت مرزا قادیانی کی زندگی میں کہ

مرزا قادیانی کو نبوت کا دعویٰ ہے

چنانچہ فرماتے ہیں: ”بحالات موجودہ بالا حضرت ممدوح کے صادق ومصدق نبی ہونے میں ذرا بھر شک نہیں رہتا۔ پس جب کہ ہر ایک پہلو سے ان کی نبوت کا دعویٰ سچا ثابت ہوتا ہے تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ انہیں مسیح موعود تسلیم نہ کیا جائے۔“

(ریویو آف ریلیجنز ج ٦ نمبر ١، جنوری ١٩٠٧ء ص ٢٥)

اور سنئے، فرماتے ہیں: ”لیکن چونکہ حضرت مسیح موعود کی تمام پیش گوئیاں بلا استثناء ہمیشہ پوری نکلتی رہیں۔ اس لئے اس کا نتیجہ صرف یہ ہے کہ وہ سچے نبی ہیں۔“

(ریویو مذکور ص ٢١)

اور سنئے، فرماتے ہیں: ”اگر آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان ہے تو آپ کو مرزا قادیانی کی نبوت پر بھی لازماً ایمان لانا پڑے گا۔“

(ریویو مذکور ص ٣٥)

دیکھئے! کیسی صاف عبارتوں کے ہوتے ہوئے خاک جھونکنا چاہتی ہے۔ یہ مضامین مرزا قادیانی خود پڑھ مسٹر محمد علی پڑھتے ہیں۔ محمد احسن امروہی اور خواجہ کمال الد ہیں۔ لیکن شیر علی کو کوئی نہیں ڈانٹتا کہ تو مرزا قادیانی پر ا مرزا قادیانی اپنے مرید شیر علی کو کہتے ہیں کہ بھلے مانس اتہام لگاتا ہے۔ غرضیکہ یہ اسلام شکن مضامین ان کی اخبار ہیں۔ تمام جماعت مرزائیہ کو معہ مرزا قادیانی سانپ سونگھ ہوتا ہے کہ سب کی ملی بھگت تھی۔ سب ان کو نبی سمجھتے ہ ماتحت ہے۔

حکیم نور دین صاحب بھی مرزا غلام احمد قادی

مسٹر محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور کے ایک عرصہ دراز تک مرزا قادیانی کو پیغمبر آخر زمان و نبی اب بھی پوشیدہ طور سے نبی مانتے ہیں۔ لیکن اب سیکر ہوں کہ وہ مرزا قادیانی کو کیا سمجھتے تھے۔ کیونکہ وہ مری خیال کئے جاتے ہیں۔ لاہوری اور قادیانی دونوں صاحب کے متعلق مرزا قادیانی کی زندگی کا آپ حضر ”حضرت اقدس نے اس قدر تقریر فرمائی تھی کہ مولانا کے نشہ سے سرشار ہو کر اٹھے اور کہا کہ میں اس وقت اللہ ﷺ کے حضور رضیت باللہ رباً وبمحمد صادق امام مسیح موعود اور مہدی معہود کے حضور وہی اقر اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ بہت میں نے ہمیشہ اس کو آداب نبوت کے خلاف سمجھا ہے اقرار کرتا ہوں۔ ”رضينا بالله ربا وبك مسيح اقدس نے بھی تقریر ختم کر دی۔“ اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ حکیم نور الد

صفحہ ٢٣٥

دیکھئے! کیسی صاف عبارتوں کے ہوتے ہوئے لاہوری جماعت دنیا کی آنکھوں میں خاک جھونکنا چاہتی ہے جو یہ مضامین مرزا قادیانی خود پڑھتے ہیں اور حکیم نورالدین پڑھتے ہیں۔ مسٹر محمد علی پڑھتے ہیں۔ محمد احسن امروہی اور خواجہ کمال الدین وغیرہ سب کی نظروں سے گزرتے ہیں۔ لیکن شیر علی کو کوئی نہیں ڈانٹتا کہ تو مرزا قادیانی پر نبوت کے دعوے کا اتہام لگاتا ہے۔ نہ مرزا قادیانی اپنے مرید شیر علی کو کہتے ہیں کہ بھلے مانس مجھے کون سا دعویٰ ہے۔ میرے پر کیوں اتہام لگاتا ہے۔ غرضیکہ یہ اسلام شکن مضامین ان کی اخباروں اور رسالوں میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ تمام جماعت مرزائیہ کو معہ مرزا قادیانی سانپ سونگھ جاتا ہے۔ ایک بھی تردید نہیں کرتا معلوم ہوتا ہے کہ سب کی ملی بھگت تھی۔ سب ان کو نبی سمجھتے تھے۔ اب جو انکار ہے وہ کسی مصلحت کے ماتحت ہے۔

حکیم نور دین صاحب بھی مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی سمجھتے تھے

مسٹر محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور کے متعلق تو ہم پیچھے ثابت کر آئے ہیں کہ وہ ایک عرصہ دراز تک مرزا قادیانی کو پیغمبر آخر زمان و نبی آخر زمان وغیرہ تسلیم کرتے رہے ہیں اور اب بھی پوشیدہ طور سے نبی مانتے ہیں۔ لیکن اب حکیم نور الدین صاحب کے متعلق یہ دکھلانا چاہتا ہوں کہ وہ مرزا قادیانی کو کیا سمجھتے تھے۔ کیونکہ وہ مرزا قادیانی کی جماعت کے ایک بڑے رکن خیال کئے جاتے ہیں۔ لاہوری اور قادیانی دونوں جماعتیں ان کو مانتی ہیں۔ ایک واقعہ حکیم صاحب کے متعلق مرزا قادیانی کی زندگی کا آپ حضرات کو دلچسپی کے لئے پیش کرتا ہوں۔ سنئے!

”حضرت اقدس نے اس قدر تقریر فرمائی تھی کہ مولانا نورالدین صاحب حکیم الامتہ جوش اور صدق کے نشہ سے سرشار ہو کر اٹھے اور کہا کہ میں اس وقت حاضر ہوا ہوں کہ حضرت عمرؓ نے بھی رسول اللہ ﷺ کے حضور رضیت باللہ رباً وبمحمد نبینا کہہ کر اقرار کیا تھا۔ اب میں اس وقت صادق امام مسیح موعود اور مہدی معہود کے حضور وہی اقرار کرتا ہوں کہ مجھے کبھی ذرا بھی شک نہیں گزرا اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ بہت سے اسباب ایسے ہیں جن کا ہمیں علم نہیں اور میں نے ہمیشہ اس کو آداب نبوت کے خلاف سمجھا ہے کہ کبھی کوئی سوال اس قسم کا کروں۔ میں حضور اقرار کرتا ہوں۔ ”رضینا باللہ ربا وبك مسيحاً ومهدياً “ اس تقریر کے ساتھ ہی حضرت اقدس نے بھی تقریر ختم کر دی۔“

(الحکم نمبر ٤٣، ج ٦ مورخہ ١٠؍ دسمبر ١٩٠٢ء)

اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ حکیم نور الدین کسی قسم کا سوال کرنا بھی مرزا قادیانی سے

٣٣

صفحہ ٢٣٧

اداب نبوت کے خلاف سمجھتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حکیم موصوف مرزا قادیانی کی ذات میں نبوت کو تسلیم کرتے تھے۔ ورنہ نبوت کا ادب کیسا۔ حکیم موصوف مرزا قادیانی کو نبی تسلیم کرتے ہیں۔ تب ہی تو سوال کرنے سے آداب نبوت مانع ہے۔ دوسرے کلمہ طیبہ کے کلمات میں سے نبی کریم ﷺ کو نعوذ باللہ خارج کر کے غلام احمد کا کلمہ پڑھا اور ان کی نبوت کو عروج دیا۔ آج لاہوری کہتے ہیں کہ مرزا محمود اپنے باپ کو نبی بتاتے ہیں۔ نبی تو دراصل حکیم نورالدین اور مسٹر محمد علی نے بنایا ہے۔

اور سنئے، حکیم صاحب فرماتے ہیں: ”یہ بات تو بالکل غلط ہے کہ ہمارے اور غیر احمدیوں کے درمیان کوئی فروعی اختلاف ہے۔ کیونکہ جس طرح پر وہ نماز پڑھتے ہیں ہم بھی اسی طرح نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ اور حج اور روزوں کے متعلق ہمارے اور ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ میری سمجھ میں ہمارے اور ان کے درمیان اصول فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ ایمان کے لئے یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان ہو۔ اس کے ملائکہ پر کتب سماویہ پر اور اس کے رسل پر۔ خیر وشر کے اندازہ پر اور بعث بعد الموت پر۔ اب غور طلب امر یہ ہے کہ ہمارے مخالف بھی یہ ہی امر مانتے ہیں اور اس کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن یہاں سے ہی ہمارا ان کا اختلاف شروع ہو جاتا ہے۔ ایمان بالرسل اگر نہ ہو تو کوئی شخص مومن مسلمان نہیں ہو سکتا اور اس ایمان بالرسل میں کوئی تخصیص نہیں، عام ہے۔ خواہ وہ نبی پہلے آئے یا بعد میں آئے۔ ہندوستان میں ہو یا اور ملک میں کسی مامور من اللہ کا انکار کفر ہو جاتا ہے۔ ہمارے مخالف مرزا قادیانی کی ماموریت کے منکر ہیں۔ بتاؤ کہ یہ اختلاف فروعی کیونکر ہوا۔ قرآن مجید میں تو لکھا ہے: ”لا نفرق بین احد من رسله“ اس لئے میں تو اپنے اور غیر احمدیوں کے درمیان اصولی فرق سمجھتا ہوں۔“

(الحکم نمبر ٨ ج ١٥، مورخہ ٧/ مارچ ١٩١١ء، مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٢٧٤)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ حکیم نورالدین مرزا غلام احمد کو ”لا نفرق بین احد من رسله“ میں داخل سمجھتے ہیں۔ یعنی مرزا قادیانی حقیقی نبی ہیں اور احمدیوں اور غیر احمدیوں میں اصولی فرق قرار دیتے ہیں۔ محض مرزا قادیانی کے انکار پر اصولی اختلاف تسلیم کیا ہے۔ نماز، روزہ، حج وغیرہ میں تو کوئی اختلاف نہیں۔ صرف مرزا قادیانی کی نبوت کا اختلاف ہے۔

مرزا قادیانی نے اپنی نبوت ومسیحیت منوانے کیلئے تمام اسلامی دنیا کو کافر قرار دیا اور اپنی جماعت کو حکم دیا کہ جو لوگ ہماری مسیحیت ونبوت سے منکر ہیں ان کے ساتھ

نماز پڑھنا تم پر حرام قطعی ہے اور ان سے قطع تعلق کرلو۔ چنا سامنے پیش کئے دیتے ہیں تاکہ آپ کسی نتیجہ پر پہنچ سکیں

مرزا قادیانی نے مسلمانوں پر کفر کا فتویٰ دیا ہے

”اور کفر دو قسم پر ہے۔ ایک یہ کفر کہ ایک آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جا کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے ہیں۔ کیونکہ جو شخص باوجود شناخت کر لینے کے خدا اور ر صریحہ قرآن اور حدیث کے خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا تعالیٰ کے نزدیک اوّل قسم کفر یا دوسری قسم کفر کی نسبت مواخذہ کے لائق ہوگا۔“ (حقیقت ا

اس عبارت سے ثابت ہے کہ جو شخص مرزا ہے۔ اس عبارت میں کوئی تاویل کی بھی گنجائش نہیں۔ کی اور کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے یہ کہا ہے کہ وہ قیامت معلوم ہوتا ہے کہ وہ کافر نہیں بلکہ بڑا گنہگار ہے۔ یہ ت کہتے ہیں کہ اوّل قسم کفر جس میں اسلام کا انکار اور آنح مسیح موعود کا انکار ہے۔ دونوں قسم کفر کی نسبت اگر ا قیامت کے دن مواخذہ کے لائق ہے۔ اب اگر مواخ قسم کفر والے بھی کبیرہ گناہ کے مرتکب ٹھہرے نہ کفر و انکار بھی کفر نہیں رہتا۔ بلکہ کبیرہ گناہ رہتا ہے۔ لہٰذا ا کے اور کچھ نہیں ہو سکتے۔ گویا مرزا قادیانی کے نزدیک نبی کریم ﷺ کا تو منکر نہیں بلکہ مسیح موعود مرزا قادیان قیامت کے دن مواخذہ کے لائق ہوگا۔ اب ناظرین معنے ہوں گے۔ اس عبارت کی تائید میں ہم مرزا قاد ان کے اور ان کے ایک مرید کے درمیان ہوئی ہے ج

٢٣٥

صفحہ ٢٣٧

نماز پڑھنا تم پر حرام قطعی ہے اور ان سے قطع تعلق کرلو۔ چنانچہ ہم وہ سب عبارتیں آپ حضرات کے سامنے پیش کئے دیتے ہیں تاکہ آپ کسی نتیجہ پر پہنچ سکیں۔

مرزا قادیانی نے مسلمانوں پر کفر کا فتویٰ دیا

”اور کفر دو قسم پر ہے۔ ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام ہی سے انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔ کیونکہ جو شخص باوجود شناخت کر لینے کے خدا اور رسول کے حکم کو نہیں مانتا وہ بموجب نصوص صریحہ قرآن اور حدیث کے خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا اور اس میں شک نہیں کہ جس طرح پر خدا تعالیٰ کے نزدیک اوّل قسم کفر یا دوسری قسم کفر کی نسبت اتمام حجت ہوچکا ہے وہ قیامت کے دن مواخذہ کے لائق ہوگا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٧٩، ١٨٠ خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥، ١٨٦)

اس عبارت سے ثابت ہے کہ جو شخص مرزا قادیانی کو مسیح موعود تسلیم نہیں کرتا وہ پکا کافر ہے۔ اس عبارت میں کوئی تاویل کی بھی گنجائش نہیں۔ بعض لاہوری ایک تاویل پیش کیا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے یہ کہا ہے کہ وہ قیامت کے دن مواخذہ کے لائق ہوگا جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کافر نہیں بلکہ بڑا گنہگار ہے۔ یہ تاویل لچر ہے۔ اس وجہ سے کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اوّل قسم کفر جس میں اسلام کا انکار اور آنحضرت ﷺ کا انکار ہے اور دوسری قسم کا کفر مسیح موعود کا انکار ہے۔ دونوں قسم کفر کی نسبت اگر اتمام حجت ہو چکا ہے تو نتیجہ ایک ہے۔ یعنی قیامت کے دن مواخذہ کے لائق ہے۔ اب اگر مواخذہ کے معنی کبیرہ گناہ کے لئے جائیں تو اوّل قسم کفر والے بھی کبیرہ گناہ کے مرتکب ٹھہرے نہ کفر کے۔ گویا اسلام کا انکار اور آنحضرت ﷺ کا انکار بھی کفر نہیں رہتا۔ بلکہ کبیرہ گناہ رہتا ہے۔ لہٰذا اس عبارت میں مواخذہ کے معنی سوائے کفر کے اور کچھ نہیں ہو سکتے۔ گویا مرزا قادیانی کے نزدیک وہ شخص جو نبی کریم ﷺ کا منکر ہے اور وہ جو نبی کریم ﷺ کا تو منکر نہیں بلکہ مسیح موعود مرزا قادیانی کا منکر ہے تو دونوں کا نتیجہ ایک ہے۔ یعنی قیامت کے دن مواخذہ کے لائق ہوگا۔ اب ناظرین خود اندازہ کرلیں کہ یہاں مواخذہ کے کیا معنی ہوں گے۔ اس عبارت کی تائید میں ہم مرزا قادیانی کی ایک خط و کتابت پیش کرتے ہیں جو ان کے اور ان کے ایک مرید کے درمیان ہوئی ہے جو اخبار البدر میں درج ہے۔

٣٥

صفحہ ٢٣٩

پہلا خط مرید کی جانب سے

بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلی على رسوله الكريم ! بخدمت بحضور فیض گنجور جناب مسیح موعود ومہدی مسعود امام الزمان حضرت اقدس مرزاغلام احمد صاحب سلمہ الرحمٰن ۔ ...... السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! خاکسار حضور علیہ السلام کو پورے یقین سے مسیح موعود مہدی مسعود مانتا ہے۔ آج کل کے زمانہ میں میری ناقص رائے میں کبھی بھی یہ بات نہیں آسکتی کہ حضور کا ہم پایہ کوئی انسان ہو سکے۔ میرا دل پوری پوری تسکین پکڑ گیا ہے کہ حضور اپنے دعویٰ میں بالکل سچے ہیں۔ حضور کے چہرہ مبارک سے ظاہر ہورہا ہے کہ آنجناب سچے مسیح موعود ہیں۔ مگر صرف دو ابتلاء در پیش ہیں۔ ان کو جناب رفع کردیں تو حضور علیہ السلام کی نہایت مہربانی ہوگی۔ میں اس لائق نہیں کہ جناب پر کوئی سوال کروں۔ مگر یہ جو میرے دل میں آیا ہے شاید کوئی شیطانی خیال ہی ہو۔ حضور کی پرورش سے دفع ہو جائے۔ شیطان مردود سے یہ عاجز ہر وقت پناہ مانگتا ہے۔ مگر پھر بھی انسان ہے اور یہ دشمن ہے ظاہر ۔ جناب من جو ابتلاء میں نے لکھے ہیں وہ یہ ہیں:

السلام کو برحق رسول نعوذ باللہ نہ مانتے تھے وہ تو دوزخ میں رہیں گے۔ کسی کو اس سے انکار نہیں۔ اب جو لوگ آنجناب کو مسیح موعود نہیں جانتے کیا وہ بھی ابدالآباد دوزخ میں رہیں گے؟

یاد نہیں رہا۔ مگر اتنا یاد ہے کہ "ربنا عاج" عاج کے معنے عاجی کئے ہیں اور لکھا ہے اس کے معنی مجھے اللہ تعالیٰ نے ابھی تک نہیں سمجھائے۔ اب اس میں عرض یہ ہے کہ کوئی ایسا ثبوت ہو نبی علیہ السلام پر کوئی آیت نازل ہوئی ہو اور پیغمبر علیہ السلام نے یہ فرمایا ہو کہ اس کے معنے ابھی تک مجھے نہیں سمجھائے گئے ۔"

(خاکسار م، ب مورخہ ٢٦؍ اپریل ١٩٠٣ء)

جواب حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،

رسول کے وصایا اور احکام کی سرکشی کرے گا وہ قیامت کو قابل مواخذہ ہوگا اور مجرموں میں شمار ٣٦

کیا جائے گا۔ "قال الله تعالیٰ ، اطیعوا الله واطیعوا الرسول" اور دوسری جگہ فرماتا ہے: "فانذرتكم ناراً تلظى لا یصلھا الا الاشقی الذی کذب وتولّی" اور فرمایا "ومن اظلم من افترٰی علی الله کذباً او کذب بآیاته" اور فرمایا: "تلفح وجوههم النار وهم فيها كالحون. الم تكن آياتي تتلى عليكم فكنتم بما تكذبون" پس مسیح موعود کا آنا خدا اور رسول کے وعدہ کے موافق ہے۔ پس جس کی اطاعت کے لئے وصیت تھی۔ اس سے انکار کوئی موجب ثواب تو نہیں۔ اب سمجھنا چاہئے کہ مسیح اور مہدی جب ظاہر ہوگا تو ہر ایک کو چاہئے کہ اس کے منکروں اور مخالفوں کے زمرہ سے نکل جانا پڑے اور آیا ہے کہ جو شخص اس کو تسلیم اور قبول نہیں کرے گا وہ خدا اور رسول کا نافرمان ہے۔ اب آپ کا یہ استفسار کہ خدا تعالیٰ جو کچھ کسی نبی یا رسول پر الہام کرتا ہے کیا اس کے معنے بھی بتاتا ہے۔ ایسا دعویٰ تو قرآن کے برخلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ قرآن شریف کی بعض آیات ہیں جن میں تصریح کی گئی ہے اور بعض متشابہات ہیں جن کے معنے سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا۔ جیسے مقطعات قرآنی ہیں اور احادیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات کہ فلاں وقت فلاں آیت کے معنے مجھ پر کھلے۔ پہلے معلوم نہ تھے۔ پس آپ کا یہ خیال سراسر غلط ہے کہ قرآن شریف میں بیشمار عجائبات ہیں جو وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتے رہیں گے اور اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نبی بھی بموجب آیت "لا علم لنا الا ما علمتنا" جب تک خدا نہ بتائے نہیں جان سکتے نہ کہ خدا کے برابر۔ والسلام!

اس جواب میں مرزا قادیانی نے گول مول بات کہہ کر سائل کی تسلی نہ کی اور یہ لکھ کر ٹالنے کی کوشش کی کہ وہ قیامت کو قابل مواخذہ ہوگا۔ دوزخ کا نام نہیں لیا۔ سائل مرزا قادیانی کی چالاکی کو سمجھ گیا اور پھر اس نے جواب

جواب الجواب از م، ب

بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلى على رسوله الكريم ! بخدمت بحضور فیض گنجور جناب مسیح موعود ومہدی مسعود امام الزمان حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب سلمہ الرحمٰن ۔ ...... السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!

٣٧

صفحہ ٢٣٩

کیا جائے گا۔ ”قال اللہ تعالیٰ ۔ اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم “ اور دوسری جگہ فرماتا ہے: ”فانذرتكم ناراً تلظى لا يصلاها الا الاشقى الذين كذب وتولى“ اور فرمایا ”ومن اظلم من افترى على الله كذبا“ اور ”كذب بآيته“ اور پھر فرمایا: ”تلفح وجوههم النار وهم فيها كالحون الم تكن آياتى تتلى عليكم فكنتم بها تكذبون“ پس مسیح موعود کا آنا خدا اور رسول کی طرف سے ایک خبر دی گئی تھی اور اطاعت کے لئے وصیت تھی۔ اس سے انکار کرنا موجب مواخذہ نہ ہو۔ ایسا ہی حدیثوں میں ہے کہ مسیح اور مہدی جب ظاہر ہوگا تو ہر ایک کو چاہئے کہ اس کی طرف دوڑے۔ اگرچہ گھٹنوں کے بل جانا پڑے اور آیا ہے کہ جو شخص اس کو تسلیم اور قبول نہیں کرے گا تو خدا اس سے مواخذہ کرے گا اور آپ کا یہ استفسار کہ خدا تعالیٰ جو کچھ کسی نبی یا رسول پر الہام کرتا ہے اس کے معنے کھول دیتا ہے۔ ایسا دعویٰ تو قرآن کے بر خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں صاف فرماتا ہے کہ بعض آیات بیّنات ہیں جن میں تصریح کی گئی ہے اور بعض متشابہات ہیں جن کی حقیقت کسی پر کھولی نہیں گئی۔ ایسا ہی مقطعات قرآنی ہیں اور احادیث سے ثابت ہے کہ بعض آیات کی نسبت آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ فلاں وقت فلاں آیت کے معنے مجھ پر کھلے۔ پہلے معلوم نہ تھے اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن شریف میں بیشمار عجائبات ہیں جو وقتاً فوقتاً ظاہر ہوں گے۔ ان تمام آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی بھی بموجب آیت ”لا علم لنا الا ما علمتنا “ ایک حد تک کتاب اللہ کا علم رکھتے تھے نہ کہ خدا کے برابر ۔ والسلام! خاکسار، مرزا غلام احمد عفی عنہ

اس جواب میں مرزا قادیانی نے گول مول پہلو اختیار کر کے صحیح جواب دینے سے گریز کیا اور یہ لکھ کر ٹالنے کی کوشش کی کہ وہ قیامت کو قابل مواخذہ ہوگا۔ لیکن مرید بہت ہوشیار تھا۔ مرزا قادیانی کی چالاکی کو سمجھ گیا اور پھر اس نے جواب الجواب لکھا کہ صحیح جواب دیجئے۔

جواب الجواب از، م. ب

بسم اللہ الرحمن الرحیم! نحمده ونصلى على رسوله الكريم! بخدمت منبع فیض و جود جناب مسیح موعود، مہدی مسعود، امام الزمان حضرت مرزا غلام احمد صاحب سلمہ الرحمٰن ۔ ...... السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!

٣٧

صفحہ ٢٤١

کرے گا اس کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مواخذہ کرے گا۔ کیونکہ وہ قابل مواخذہ ہے۔ یہ تو میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔ کیونکہ مثلاً ایک شخص اللہ تعالیٰ کو وحدہ لا شریک جانتا ہے اور محمد علیہ السلام کو برحق رسول مانتا ہے۔ قرآن پڑھتا ہے۔ صوم وصلوٰۃ ادا کرتا ہے۔ یعنی اکثر حکم اللہ اور رسول کے مانتا ہے اور ان پر عمل کرتا ہے مگر وہ کمبخت زانی ہے۔ یہ اس میں بڑا بھاری قصور ہے۔ کیا آپ اس شخص کے حق میں یہ فرما سکتے ہیں کہ یہ شخص ابدالآباد دوزخ میں رہے گا۔ کیا اس گناہ کے بدلہ کافروں کی طرح ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔ اگر اس شخص کو خدا ابدالآباد دوزخ میں رکھے گا تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بندہ اللہ کا بچے گا اور تو سب دوزخ میں جائیں گے۔ میرا تو سوال یہ ہے کہ وہ کافر ہے یا مسلم۔

حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ بعض آیات بینات ہیں جن میں تصریح کی گئی ہے اور بعض متشابہات ہیں جن کی حقیقت کسی پر کھولی نہیں گئی۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: "وما یعلم تاویلہ الا اللہ والراسخون فی العلم" اللہ تعالیٰ تو اس طرح فرماتا ہے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ متشابہات کی حقیقت کسی پر کھولی نہیں گئی ۔ اس بات کو میں نہیں سمجھ سکتا۔ ذرا کھول کر فرمائیں۔ نیز ایسے ہی مقطعات قرآنی ہیں مگر میں عرض کرتا ہوں کہ جس وقت جبرائیل علیہ السلام مقطعات لایا۔ مثلاً کہا الف لام میم تو پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا: "فھمت یا اخی جبرائیل" آگے آپ نے لکھا ہے کہ بعض آیات ایسی ہیں کہ ان کے بارہ میں پیغمبر صاحب نے خود فرمایا ہے کہ اس کے معنے مجھ پر کھولے نہیں گئے۔ حضور علیہ السلام نے اس کی کوئی دلیل تحریر نہیں فرمائی ۔ سوائے اس بات کے اور یہ فرمایا ہے کہ پیغمبر صاحب بموجب آیت "لا علم لنا الا ما علمتنا" ایک حد تک کتاب اللہ کا علم رکھتے تھے۔ اس بات کی دلیل جو آپ نے لکھی ہے کہ پیغمبر صاحب کو کتاب اللہ کا علم کل نہیں تھا۔ یہ وہ آیت ہے جو فرشتوں نے آدم علیہ السلام کے حق میں بولی تھی۔ والسلام!

(م۔ ب نزیل قادیاں)

حضرت اقدس کا مفصل جواب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

پہلے سوال کی نسبت میرا صرف یہ مطلب تھا کہ جو شخص "قال اللہ وقال الرسول" سے سرکشی کرے گا۔ وہ ضرور قابل مواخذہ ہوگا۔ پس جب کہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول نے صریح اور صاف لفظوں میں خبر دی ہے کہ اس امت میں سے مسیح موعود ہوگا اور وعید کے طور پر فرمایا ہے کہ

٣٨

جو شخص اس کو اپنا حکم نہیں ٹھہرائے گا۔ وہ عذاب اور مواخذہ الٰہی انکار کر سکتا ہے کہ مسیح موعود کو نہ ماننا موجب سخط اور غضب الٰہی یہ بات کہ ایسا شخص جو نماز پڑھتا اور آنحضرت ﷺ پر ایما سے ایماندار ہے یا کافر۔ اس کا جواب یہی ہے کہ خدا کے موجب کفر ہے۔ جو شخص مثلاً نماز پڑھتا ہے۔ مگر کہتا ہے کہ خ جھوٹ بولنا اور سور کھانا اور خون کرنا کچھ گناہ نہیں ہے۔ وہ ب احکام کی تکذیب کی اور ان سے انکار کیا۔ زنا کرنا اور شراب وہ سب گناہ ہیں مگر ان بدکاریوں کو حلال ٹھہرانا موجب کفر ہ کرنا اس وجہ سے کفر ہے کہ اس میں خدا اور رسول کے وعد ایسا مسئلہ ہے کہ ہر ایک مسلمان جو ادنیٰ علم بھی رکھتا ہو اس کافر نہیں کرتا بلکہ فاسق کرتا ہے۔ مگر خدا کے قول کے برخلا انکار نہیں اور امر دوم بھی صاف ہے۔ اسلام میں کوئی ایسا فر کے علم کے موافق ہوتا ہے یا خدا پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے پ ہاں! جس قدر حصہ کلام الٰہی کا تبلیغ کے لئے ضروری ہے۔ نہیں اس کا سمجھانا ضروری نہیں۔ یعقوب علیہ السلام کو چا تعبیر بھی نہ ہوئی کہ یوسف علیہ السلام کہاں ہے اور پہلی کت نہیں آئے گا عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نہیں آئے گا اور کسی مثیل ہے۔ جب عیسیٰ علیہ السلام آئے اور ان پر اعتراض ک نہیں آیا۔ تم کس طرح آگئے۔ تب خدا سے اطلاع پا کر ا یحییٰ علیہ السلام نبی ہے۔ اسی کو الیاس سمجھ لو اور ہمارے نبی اس سفر میں ناکامیاب رہیں گے اور آنحضرت ﷺ کو و ان کی ہجرت گاہ ہوگی۔ پس آپ ﷺ نے سمجھنے میں غلطی ک مدینہ تھا۔ ایسا ہی لکھا ہے اور غالباً تفسیر معالم میں بھی ہے ک آیۃ یعرضوا ویقولوا سحر مستمر " تو آں حض نہیں اور مقطعات کے معنوں میں آپ ﷺ کی طرف س آپ ﷺ کو ان کا علم دیا جاتا تو ضرور آپ فرما دیتے ماس

٣٩

صفحہ ٢٤١

کیونکہ وہ قابل مواخذہ ہے۔ یہ تو وحدہ لاشریک جانتا ہے اور محمد علیہ ۃ ادا کرتا ہے۔ یعنی اکثر حکم اللہ اور یہ اس میں بڑا بھاری قصور ہے۔ کیا وزخ میں رہے گا۔ کیا اس گناہ کے و خدا ابدالآباد دوزخ میں رکھے گا تو خ میں جائیں گے۔ میرا تو سوال یہ

رآن شریف کے برخلاف ہے اور ن میں تصریح کی گئی ہے اور بعض تا ہے: ”وما یعلم تاویلہ الا ہے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ سمجھ سکتا۔ ذرا کھول کر فرمائیں۔ نیز جبرائیل علیہ السلام مقطعات لایا۔ خی جبرائیل“ آگے آپ نے ب نے خود فرمایا ہے کہ اس کے معنے تحریر نہیں فرمائی۔ سوائے اس بات نا الا ما علمتنا“ ایک حد تک ا ہے کہ پیغمبر صاحب کو کتاب اللہ کا کے حق میں بولی تھی۔ والسلام! (م۔ب۔نزیل قادیاں)

”قال الله وقال الرسول“ ساتھ ائی اور اس کے رسول نے صریح ہوگا اور وعید کے طور پر فرمایا ہے کہ

جو شخص اس کو اپنا حکم نہیں ٹھہرائے گا۔ وہ عذاب اور مواخذہ الٰہی کا مستحق ہوگا۔ تو پھر کون دانا اس سے انکار کر سکتا ہے کہ مسیح موعود کو نہ ماننا موجب سخط اور غضب الٰہی اور خدا اور رسول کی نافرمانی ہے۔ رہی یہ بات کہ ایسا شخص جو نماز پڑھتا اور آنحضرت ﷺ پر ایمان لاتا ہے۔ وہ مسیح موعود کے نہ ماننے سے ایماندار ہے یا کافر۔ اس کا جواب یہی ہے کہ خدا کے احکام میں سے کسی حکم کو بھی نہ ماننا موجب کفر ہے۔ جو شخص مثلاً نماز پڑھتا ہے۔ مگر کہتا ہے کہ چوری کرنا اور زنا کرنا اور شراب پینا اور جھوٹ بولنا اور سور کھانا اور خون کرنا کچھ گناہ نہیں ہے۔ وہ کافر ہے۔ کیونکہ اس نے خدا تعالیٰ کے احکام کی تکذیب کی اور ان سے انکار کیا۔ زنا کرنا اور شراب پینا وغیرہ معاصی موجب کفر نہیں ہیں۔ وہ سب گناہ ہیں مگر ان بدکاریوں کو حلال ٹھہرانا موجب کفر ہے۔ پس اس طرح مسیح موعود سے انکار کرنا اس وجہ سے کفر ہے کہ اس میں خدا اور رسول کے وعدہ اور متواتر پیش گوئی سے انکار ہے۔ یہ ایسا مسئلہ ہے کہ ہر ایک مسلمان جو ادنیٰ علم بھی رکھتا ہو اس سے واقف ہے۔ خدا کی حدود کو توڑنا کافر نہیں کرتا بلکہ فاسق کرتا ہے۔ مگر خدا کے قول کے برخلاف بولنا کافر کرتا ہے۔ اس سے کسی کو بھی انکار نہیں اور امر دوئم بھی صاف ہے۔ اسلام میں کوئی ایسا فرقہ نہیں جس کا یہ عقیدہ ہو کہ نبی کا علم خدا کے علم کے موافق ہوتا ہے یا خدا پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے کلام کے تمام حقائق دقائق سمجھا دے۔ ہاں! جس قدر حصہ کلام الٰہی کا تبلیغ کے لئے ضروری ہے۔ وہ تو نبی کو سمجھایا جاتا ہے اور جو ضروری نہیں اس کا سمجھانا ضروری نہیں۔ یعقوب علیہ السلام کو چالیس برس تک باوجود متواتر دعاؤں کے خبر بھی نہ ہوئی کہ یوسف علیہ السلام کہاں ہے اور پہلی کتابوں میں لکھا تھا کہ جب تک الیاس نبی نہیں آئے گا عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نہیں آئے گا اور کسی نبی کو خبر نہ ہوئی کہ الیاس سے مراد اس کا مثیل ہے۔ جب عیسیٰ علیہ السلام آئے اور ان پر اعتراض کیا گیا۔ الیاس نبی تو اب تک آسمان سے نہیں آیا۔ تم کس طرح آ گئے۔ تب خدا سے اطلاع پا کر انہوں نے جواب دیا کہ الیاس سے مراد یحییٰ علیہ السلام نبی ہے۔ اسی کو الیاس سمجھ لو اور ہمارے نبی ﷺ کو حدیبیہ کے سفر میں خبر نہ ہوئی کہ اس سفر میں ناکام واپس آئیں گے اور آنحضرت ﷺ کو وحی ہوئی کہ پتھریلی اور کھجوروں والی زمین ان کی ہجرت گاہ ہوگی۔ پس آپ ﷺ نے سمجھنے میں غلطی کھائی اور خیال کیا وہ یمامہ ہے۔ حالانکہ وہ مدینہ تھا۔ ایسا ہی لکھا ہے اور غالباً تفسیر معالم میں بھی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ”وان یروا آیۃ یعرضوا ویقولوا سحر مستمر“ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کے معنے مجھے معلوم نہیں اور مقطعات کے معنوں میں آپ ﷺ کی طرف سے کوئی قطعی ویقینی تاویل مروی نہیں۔ اگر آپ ﷺ کو ان کا علم دیا جاتا تو ضرور آپ فرما دیتے ماسوا اس کے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے علم

٣٩

صفحہ ٢٤٣

پاتا ہوں۔ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی معلوم ہے کہ خدا پر حق واجب نہیں کہ ہر ایک بات نبی کو سمجھائے۔ اس کا اختیار ہے کہ بعض امور کو کسی وقت تک مخفی رکھے۔ دیکھو احد اور حنین کی لڑائی میں کیسے کیسے ابتلاء پیش آئے۔ اگر اللہ تعالیٰ پہلے سے اپنے نبی کو سمجھا دیتا تو کیوں وہ ابتلاء پیش آتے جو شخص نبی کا علم خدا تعالیٰ کے علم کی طرح غیر محدود سمجھتا ہے یا خدا تعالیٰ پر واجب سمجھتا ہے کہ ہر ایک امر اور ہر ایک مخفی حقیقت نبی کو بتلاوے۔ وہ گمراہ ہے اور قریب ہے کہ اس گمراہی پر اصرار کر کے کافر ہو جائے۔ ہاں ! جس قدر عقائد اور اعمال اور حدود کی تعلیم کے متعلق امور ہیں جو انسانوں کے لئے مدار نجات ہیں وہ نبی کو بتلائے جاتے ہیں۔ تا امت اور خود نفس اس کا ان احکام سے محروم نہ رہے۔ ایسے جاہلانہ خیالات سے توبہ کرو کہ ایمان ایک نازک چیز ہے۔ خبیث فرقہ نصاریٰ کا اس سے گمراہ ہو گیا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں اطراء کیا اور صفات میں خدا تعالیٰ کے برابر ٹھہرا دیا۔ انبیاء خدا تعالیٰ کے عاجز بندے ہیں۔ اسی قدر علم رکھتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے پاتے ہیں۔ ایسا انسان سخت جاہل بلکہ خبیث اور ناپاک طبع ہے جو خیال رکھتا ہے کہ ہر ایک ضروری غیر ضروری امر کا علم انبیاء کو دیا جاتا ہے۔ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” وان من شئ الا عندنا خزائنہ وما ننزلہ الا بقدر معلوم “ یعنی ہمارے پاس ہر ایک چیز کے خزانے ہیں۔ مگر ہم بقدر معلوم زمین پر اتارا کرتے ہیں۔ والسلام !

اب میں نے صاف صاف لکھ دیا ہے مجھ کو فرصت نہیں ہے کہ اس تفصیل کے بعد وقت ضائع کروں۔ اگر مادہ فہم کا ہے تو خود سمجھ لو ورنہ خیر (غلام احمد)

(اخبار البدر نمبر ٢٣، ج٢، مورخہ ٢٦ / جون ١٩٠٣ء)

مرزا قادیانی کا یہ آخری جواب فیصلہ کن ہے۔ مرید نے جواب الجواب میں یہ کہا تھا کہ آپ کا نہ ماننے والا کافر ہے یا مسلم ۔ یعنی مسیح موعود کا نہ ماننے والا مسلم ہے یا کافر۔ تو آپ نے نہایت تفصیل سے جواب دیا کہ مسیح موعود کا نہ ماننے والا اگرچہ آنحضرت ﷺ پر ایمان بھی رکھے اور نماز بھی پڑھے۔ تب بھی کافر ہے۔ اس خط میں جو خط کشیدہ الفاظ ہیں ان کو غور سے پڑھو اور اس عبارت کے معنے کہ قیامت کو قابل مواخذہ ہوگا۔ کفر کے معنے کئے ہیں اور ( حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥) عبارت کا بھی یہی مطلب ہے۔ مرزا قادیانی نے ڈنکے کی چوٹ تمام مسلمانان عالم کو کافر قرار دیا۔ لاہوری تاویلات کو بالکل بیکار کر دیا اور یہ تاویلیں تو چندہ وصول کرنے کے لئے ہیں۔ دل سے یہ بھی مرزا محمود قادیانی کی طرح نبی مانتے ہیں اور مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ صرف لفظی فرق کسی مصلحت کے ماتحت رکھ چھوڑا ہے۔ چنانچہ خواجہ کمال الدین جو ٤٠

لاہوری جماعت کے معزز ارکان میں شمار کئے جا ہے۔ فرماتے ہیں : ”لیکن آج ہمارے میاں صاح یہی کہتے ہیں کہ میرا عقیدہ وہی ہے جو خواجہ کا صرف دونوں جماعتوں کا ایک ہی عقیدہ ہے سنئے ، خواجہ کمال الدین صاحب فرماتے ہیں: ”م کہلانا تب تک غیر مسلم مخالفین نبوت کے کان کھڑ چکے تھے۔“

مرزا قادیانی کے نبی بنانے میں یہ م اسلام کا محکم اصول ختم نبوت توڑ دیا جاتا ہے اور م کے کان کھڑے کرنے کی غرض سے اسلام کے کا اسلام کا ہر ایک اصول توڑا جاسکتا ہے۔ مولوی م تب ہی تو انہوں نے اسلام کو محض قرآن میں مح مرزا محمود قادیانی کو کیوں مطعون کیا جاتا ہے۔ و کہلاتے ہوں گے۔ ان کو بھی مخالفوں کے کان مطلب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ بات ا اور اہل قبلہ مسلمانوں کو جو خدا کی توحید پر ایما ایمان رکھتے ہیں نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہے۔ ایک دم اسلام سے خارج کر دیا۔ محض اس نہیں کیا۔ اب مسلمان ہونے کے لئے یہ شرط جاوے۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ” ہ ایک وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔“

پھر اسی صفحہ پر فرماتے ہیں: ”یہ گ والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں۔ (م نزدیک ایک ہی قسم ہے۔“ مرزا قادیانی کے ہیں۔ یعنی ایک ہی طرح کے کافر ہیں۔

صفحہ ٢٤٣

لاہوری جماعت کے معزز ارکان میں شمار کئے جاتے ہیں۔ ان کا قول ہمارے خیال کی تائید کرتا ہے۔ فرماتے ہیں: ”لیکن آج ہمارے میاں صاحب نے اس بات کو دیکھ لیا۔ سنتا ہوں کہ وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ میرا عقیدہ وہی ہے جو خواجہ کا صرف لفظی فرق ہے۔ یہ سچ ہوگا۔“

(مجدد کامل ص ١٢٨)

دونوں جماعتوں کا ایک ہی عقیدہ ہے۔ لاہوری بھی مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں اور سنئے ، خواجہ کمال الدین صاحب فرماتے ہیں : ”میں لکھ چکا کہ جب تک اس صدی کا مجدد نبی نہ کہلاتا تب تک غیر مسلم مخالفین نبوت کے کان کھڑے نہ ہوتے ۔ وہ حقیقت نبوت سے ہی منکر ہو چکے تھے۔“

(مجدد کامل ص ٥١)

مرزا قادیانی کے نبی بنانے میں یہ مصلحت تھی۔ افسوس ایسی لغو مصلحتوں کے ماتحت اسلام کا محکم اصول ختم نبوت توڑ دیا جاتا ہے اور مسلمانوں میں فتنہ ڈال دیا جاتا ہے۔ مخالفین نبوت کے کان کھڑے کرنے کی غرض سے اسلام کے کان کاٹ ڈالے۔ ایسی لغو مصلحتوں کی آڑ لے کر تو اسلام کا ہر ایک اصول توڑا جاسکتا ہے۔ مولوی عبداللہ چکڑالوی کی بھی کوئی مصلحت ضرور ہوگی ۔ تب ہی تو انہوں نے اسلام کو محض قرآن میں محدود کر دیا اور حدیث کو اسلام سے خارج کر دیا۔ پھر مرزا محمود قادیانی کو کیوں مطعون کیا جاتا ہے۔ وہ بھی اسی مصلحت کے ماتحت اپنے والد ماجد کو نبی کہلاتے ہوں گے۔ ان کو بھی مخالفوں کے کان کھڑے کرنے کی ضرورت ہے۔ خیر ہم اپنے اصلی مطلب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مرزا قادیانی نے ان تمام کلمہ گو اور اہل قبلہ مسلمانوں کو جو خدا کی توحید پر ایمان رکھتے ہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں نماز پڑھتے ہیں ، روزہ رکھتے ہیں اور تمام اسلام کی باتوں پر ان کا عمل اور عقیدہ ہے۔ ایک دم اسلام سے خارج کر دیا۔ محض اس وجہ سے کہ انہوں نے مرزا قادیانی کو مسیح موعود تسلیم نہیں کیا ۔ اب مسلمان ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ مرزا قادیانی کی مسیحیت و نبوت پر ایمان لایا جاوے ۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”بہر حال جب کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ۔ جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا ۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)

پھر اسی صفحہ پر فرماتے ہیں : ”یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں۔ (صاحب لاہوری ہی ٹھہراتے ہیں ) حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے۔“ مرزا قادیانی کے نزدیک کافر کہنے والا اور نہ ماننے والا ایک ہی چیز ہیں۔ یعنی ایک ہی طرح کے کافر ہیں ۔

٤١

صفحہ ٢٤٤

مرزا قادیانی نے اپنی امت کے لئے مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھنے کو حرام قطعی قرار دیا اور تمام اسلامی فرقوں سے ترک موالات کا حکم دیا۔ سنئے ! مرزا قادیانی فرماتے ہیں : ” پس یاد رکھو کہ جیسا خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر و مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ اس کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ ” امــامــکــم مـنـکـم “ یعنی جب مسیح نازل ہو گا تو تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کر دینا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ پس تم ایسا ہی کرو کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہو جائیں اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو ۔ “

(اربعین نمبر ٣ حاشیہ ص ٢٨، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)

یہ عجیب قسم کا مسیح موعود آیا۔ مسلمانوں میں پھوٹ ڈال دی ۔ تمام مسلمانوں کو کافر قرار دے کر اسلام سے خارج کر دیا ۔ اب صرف اسلام قادیان میں محدود رہ گیا۔ اپنی جماعت پر مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنا حرام قطعی قرار دے دیا۔ رہا آپ کا یہ فرمانا کہ ایسے دعوے تو اور بزرگوں نے بھی کئے ہیں۔ یہ بالکل سفید جھوٹ ہے۔ ہاں! مسیلمہ کذاب نے ضرور ایسا دعویٰ کیا ہے۔ میرے دوست ایسی باتیں جاہلوں کو بہکانے کی ہیں۔ مرزا قادیانی سے پہلے آپ کوئی بزرگ ایسا نہیں پیش کر سکتے جس نے اپنی امت علیحدہ بنائی ہو۔ مرد سے عورت ، عورت سے مرد بن گیا ہو۔ جیسا کہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”اور اب ظاہر ہے کہ اس امت میں بجز میرے کسی نے اس بات کا دعویٰ نہیں کیا کہ میرا نام خدا نے مریم رکھا اور پھر اس مریم میں عیسیٰ علیہ السلام کی روح پھونک دی ۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٣٦، ٣٣٧، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥١)

کیا کسی بزرگ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میری وحی قطعی اور یقینی قرآن اور توریت کی طرح ہے جیسا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے۔ فرماتے ہیں : ” پس جیسا کہ میں نے بار بار بیان کر دیا ہے کہ یہ کلام جو میں سناتا ہوں یہ قطعی اور یقینی طور پر خدا کا کلام ہے۔ جیسا کہ قرآن اور توریت خدا کا کلام ہے ۔“

(تحفۃ الندوہ ص ٤، خزائن ج ١٩ ص ٩٥)

اب ظاہر ہے کہ قرآن اور توریت وحی نبوت ہے تو مرزا قادیانی کا کلام بھی وحی نبوت ہوا۔ اب سنئے ، مرزا قادیانی فرماتے ہیں : ” بغرض محال کوئی کتاب الہامی مدعی نبوت کی نکل آوے جس کو وہ قرآن شریف کی طرح جیسا کہ میرا دعویٰ ہے خدا کی ایسی وحی کہتا ہو جس کی صفت میں لا ریب فیہ ہے۔ جیسا کہ میں کہتا ہوں ۔“

(تحفۃ الندوہ ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ٩٩)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میری وحی کی صفت لا ریب فیہ

٤٢

جیسی قرآن کی صفت لا ریب فیہ ہے اور قرآ ہوتی ہے تو مرزا قادیانی کی وحی نبوت والی وحی

مرزا قادیانی کا دعویٰ دو

خدا تعالیٰ نے میر

دوستو! کیا کسی بزرگ نے یہ دعو میری اطاعت سب انسانوں پر فرض ہے۔ ج باقی رہا کہ اس زمانہ میں امام الزمان کون ہ خواب بینوں اور ملہموں کو کرنی خدا تعالیٰ کی طر دھڑک کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل وعنایت

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ مرز لئے فرض قرار دیا اور غرض کا منکر کافر ہوتا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر مح ان کی پیروی کو ان کی امتوں کے لئے خدا تع ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ ”وما اپنی تمام امت کے لئے مطاع ہوتا ہے۔ ال ہی دعویٰ مرزا قادیانی کا ہے کہ میں سب کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے امام الزمان سے نبی کی نفی تو نہیں ہوتی ۔ نبی بھی امام ہوتا شریف نبی کو بھی امام الزمان قرار دیتا ہے نے سید بدر شاہ صاحب کی کتاب ملفوظات نہیں پیش کر ا گیا ۔ بلکہ بعض بزرگوں کی چ ہے۔ اس معیار پر کسی بزرگ کا دعویٰ پیش مقابل یہ پیش کرنا کہ اکبر بادشاہ نے نبوت شخص نے دعویٰ کیا اور وہ ہلاک نہیں ہوئے چاہئے اور وہ الہام پیش کرنا چاہئے جو الہام

صفحہ ٢٤٥

جیسی قرآن کی صفت لاریب فیہ ہے اور قرآن وحی نبوت ہے اور وحی نبوت کی صفت لاریب فیہ ہوتی ہے تو مرزا قادیانی کی وحی نبوت والی وحی ہوئی۔ نہ غیر!

مرزا قادیانی کا دعویٰ دنیا کے تمام انسانوں کے لئے

خدا تعالیٰ نے میری پیروی کو فرض قرار دیا

دوستو! کیا کسی بزرگ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میری وحی کی صفت لاریب فیہ ہے اور میری اطاعت سب انسانوں پر فرض ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”اب بالآخر یہ سوال باقی رہا کہ اس زمانہ میں امام الزمان کون ہے۔ جس کی پیروی تمام عام مسلمانوں اور زاہدوں اور خواب بینوں اور ملہموں کو کرنی خدا تعالیٰ کی طرف سے فرض قرار دیا گیا ہے۔ سو میں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل وعنایت سے امام الزمان میں ہوں۔“

(ضرورت الامام ص ٢٤، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کی پیروی کو خدا تعالیٰ نے سب انسانوں کے لئے فرض قرار دیا اور فرض کا منکر کافر ہوتا ہے۔ جو مرزا قادیانی کی پیروی کا انکار کرے وہ کافر ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر محمد رسول اللہ ﷺ تک جتنے انبیاء دنیا میں تشریف لائے ان کی پیروی کو ان کی امتوں کے لئے خدا تعالیٰ نے فرض قرار دیا۔ یہ دعویٰ تو نبی کی خاص خصوصیت ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ”وما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن اللہ“ نبی اپنی تمام امت کے لئے مطاع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نبی کو امت کے لئے مطاع بنا کر بھیجتے ہیں۔ یہ ہی دعویٰ مرزا قادیانی کا ہے کہ میں سب انسانوں کے لئے مطاع ہوں۔ بعض لاہوری کہہ دیا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے امام الزمان کہا ہے۔ اپنے کو نبی تو نہیں کہا میں کہتا ہوں امام کہنے سے نبی کی نفی تو نہیں ہوتی۔ نبی بھی امام ہوتا ہے۔ دیکھو:”انی جاعلک للناس اماما“ قرآن شریف نبی کو بھی امام الزمان قرار دیتا ہے۔ غرضیکہ کسی بزرگ سے ایسے دعوؤں کا ثبوت نہیں۔ ہم نے سید مدثر شاہ صاحب کی کتاب ملفوظات اولیاء امت کا بغور مطالعہ کیا۔ کسی بزرگ کا ایسا دعویٰ نہیں پیش کیا گیا۔ بلکہ بعض بزرگوں کی جذبی و کشفی کیفیات کو نقل کر کے مسلمانوں کو دھوکہ دیا گیا ہے۔ اس معیار پر کسی بزرگ کا دعویٰ پیش کرو۔ جیسا کہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”اب اس کے مقابل یہ پیش کرنا کہ اکبر بادشاہ نے نبوت کا دعویٰ کیا یا روشن دین جالندھری نے دعویٰ کیا یا کسی اور شخص نے دعویٰ کیا اور وہ ہلاک نہیں ہوئے تو پہلے ان لوگوں کی خاص تحریر سے ان کا دعویٰ ثابت کرنا چاہئے اور وہ الہام پیش کرنا چاہئے جو الہام انہوں نے خدا کے نام پر لوگوں کو سنایا۔ یعنی یہ کہا کہ ان

٤٤

صفحہ ٢٤٧

لفظوں کے ساتھ میرے پر وحی نازل ہوئی ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ اصل لفظ ان کی وحی کے کامل ثبوت کے ساتھ پیش کرنے چاہئیں۔ کیونکہ ہماری بحث وحی نبوت میں ہے۔“

(ضمیمہ اربعین نمبر ٤،٣، ص ١١، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٧)

ایسا دعویٰ پیش کرو کہ اس بزرگ کی وحی میں اس کو نبی ورسول قرار دیا ہو۔ پھر اس نے اپنی امت علیحدہ بنائی ہو۔ اس نے اپنے منکروں پر کفر کا فتویٰ لگا کر تمام مسلمانوں کو اسلام سے خارج کر دیا ہو۔ اپنی وحی کو قرآن اور توریت کی طرح کہا ہو۔ اپنی وحی کو لاریب فیہ کہا ہو۔ اس کی پیروی کو خدا تعالیٰ نے دنیا کے تمام انسانوں کے لئے فرض قرار دیا ہو۔ اپنی وحی کو قرآن کی طرح قطعی ویقینی سمجھتا ہو۔ اس کے نہ ماننے والوں پر خدا تعالیٰ نے دنیا میں عذاب نازل کیا ہو اور اس نے یہ کہا ہو کہ یہ عذاب میرے پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے آیا۔ یا میری تکذیب کی وجہ سے نازل ہوا ہے۔ یہ تمام باتیں اس کی اپنی تحریر کے ہوں نہ مریدوں کی تحریر سے۔ اس نے خاتم الانبیاء ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہو۔ قیامت تک تم ایسا دعویٰ کسی بزرگ کا نہیں پیش کر سکتے۔ مرزا قادیانی نے تو بعض احکام کو بھی منسوخ کر دیا۔ جیسے جہاد وغیرہ اگر بالفرض کسی بزرگ کا ایسا دعویٰ پیش بھی کر دو تب بھی مرزا قادیانی کے لئے نبوت کے دعویٰ کا جواز ثابت نہ ہوگا۔ بلکہ کہا جاوے گا کہ اس بزرگ نے بھی کفر کیا۔ مرزا قادیانی سے ہم کو کوئی ذاتی عناد نہیں۔ شریعت کا قانون سب کے لئے ایک ہی ہے۔ خواہ وہ جنید بغدادی ہوں یا بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہم یا غلام احمد قادیانی!

مسٹر محمد علی امیر جماعت لاہور

”ہم ختم نبوت کو دلائل اور علم کی بنیاد پر مانتے ہیں۔ بابوں کا دعویٰ ہے کہ نبوت بلاشبہ آنحضرت ﷺ پر ختم ہوگئی اور باب بہاء اللہ نبی نہیں بلکہ مظہر اللہ ہیں۔ مگر یہ لفظی ایچ پیچیاں ہیں جو تمام ختم نبوت کا انکار کرنے والوں کو اختیار کرنی پڑتی ہیں۔ کوئی کہہ دیتا ہے کہ نبوت تو اب بھی ہے۔ مگر آنحضرت ﷺ کی اتباع سے ملتی ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ اس کا نام نبوت نہیں۔ مظہریت ہے۔“

(پیغام صلح لاہور مورخہ ٢٩ اگست ١٩٢٨ء ص ١١)

اقول ...... کوئی کہہ دیتا ہے کہ اس کا نام نبوت نہیں محدثیت ہے۔ ایچ پیچیاں ہی جو ٹھہریں۔

مرزا غلام احمد قادیانی کی لفظی ایچ پیچیاں ملاحظہ کریں

”خاتم النبیین کی آیت بتلا رہی ہے کہ جسمانی نسل کا انقطاع ہے نہ کہ روحانی نسل کا اس لئے جس ذریعہ سے وہ نبوت کی نفی کرتے ہیں۔ اسی سے نبوت کا اثبات ثابت ہے۔ آنحضرت ﷺ کی چونکہ کمال عظمت خدا تعالیٰ کو منظور تھی۔ اس لئے لکھ دیا کہ آئندہ نبوت آپؐ کی

٤٤

اتباع کی مہر سے ہوگی....... اور اگر آئندہ نبوت کو باطل قر گی۔ بلکہ کالانعام ہوگی۔“

اور ملاحظہ ہو، فرماتے ہیں: ”مگر ایک قسم کی نبـ ہے۔“

دیکھئے مرزا قادیانی بھی یہ ہی فرماتے ہیں: ” کی اتباع کی مہر یا کامل پیروی سے ملتی ہے۔ بقول مسٹر مـ

اور جناب نے یہ بھی فرمایا ہے کہ حدیث میں کل میں داخل ہوتا ہے۔ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ جز اطلاق کرتے ہیں اور یہ جائز نہیں۔ نہ جزو کل کے برابر پر کل کا اطلاق ہوتا ہے۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ مبشرات پر رؤیا صالحہ کا پانے والا ہے تو اس کو نبی کہنا جائز نہیں۔ کیـ دے رہے ہو اور جزو کو کل کے برابر قرار دے رہے ہو

مسٹر محمد علی صاحب امیر جماعت کا قول ہماری تائید کر دنیا نے اس کو اصول متعارفہ کے طور پر مانا ہے کہ جزو ہے۔“

اور آپ کی یہ مثال صحیح نہیں کہ ایک قطرہ پانـ بھی پانی کا اطلاق ہوتا ہے۔ کیونکہ جیسے سمندر کے پانی کے قطرہ میں بھی کل اجزاء مائیہ موجود ہیں۔ لہٰذا قطرہ کـ کہہ سکتے۔ جیسے نمک کو پلاؤ نہیں کہہ سکتے۔ رسی کو چار پا کسی ایک پرزہ کو موٹر نہیں کہہ سکتے۔ ایک اینٹ کو مکا

بعض لاہوری کہہ دیا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے جـ بولا۔ بلکہ مجازاً بولا ہے جیسے انسان کو شیر کہہ دیتے ہیں، ہے۔ کیونکہ امر ختم نبوت مشتبہ ہوتا ہے اور اسلام میں فـ

”سو چونکہ ایسے لفظوں سے جو محض استعارہ کے رنگ میـ

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ رسول اور نبی

٤٥

صفحہ ٢٤٧

اتباع کی مہر سے ہوگی ...... اور اگر آئندہ نبوت کو باطل قرار دو گے تو پھر یہ امت خیر الامت نہ رہے گی۔ بلکہ کالانعام ہوگی۔“

(اخبار بدر نمبر ١٣ج ٢، مورخہ ١٧ اپریل ١٩٠٣ء)

اور ملاحظہ ہو، فرماتے ہیں: ”مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں جو اس کی کامل پیروی سے ملتی ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٢٤، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٠)

دیکھئے مرزا قادیانی بھی یہ ہی فرماتے ہیں: ”کہ نبوت تو اب بھی ہے مگر آنحضرت ﷺ کی اتباع کی مہر یا کامل پیروی سے ملتی ہے۔ بقول مسٹر صاحب موصوف یہ سچائیاں ہیں۔“

اور جناب نے یہ بھی فرمایا ہے کہ حدیث میں آیا ہے۔ مبشرات جزو نبوت ہے اور جزو کل میں داخل ہوتا ہے۔ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ جزو کل میں داخل ہو۔ لیکن آپ تو جزو پر کل کا اطلاق کرتے ہیں اور یہ جائز نہیں۔ نہ جزو کل کے برابر ہوتا ہے۔ نہ جزو کل کا عین ہوتا ہے۔ نہ جزو پر کل کا اطلاق ہوتا ہے۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ مبشرات پر نبوت کا اطلاق درست نہیں۔ اگر کوئی شخص رؤیا صالحہ کا پانے والا ہے تو اس کو نبی کہنا جائز نہیں۔ کیونکہ جزو پانے والے کو کل کا پانے والا قرار دے رہے ہو اور جزو کو کل کے برابر قرار دے رہے ہو۔ مرزا قادیانی نے یہ غلطی کی ہے۔ چنانچہ مسٹر محمد علی صاحب امیر جماعت کا قول ہماری تائید کرتا ہے۔ فرماتے ہیں: ”کیونکہ آج تک کل دنیا نے اس کو اصول متعارفہ کے طور پر مانا ہے کہ جزو کل کا عین نہیں ہوتا نہ جزو کل کے برابر ہوتا ہے۔“

(النبوۃ فی الاسلام ص ١٦٠)

اور آپ کی یہ مثال صحیح نہیں کہ ایک قطرہ پانی پر بھی پانی کا اطلاق ہوسکتا ہے اور سمندر پر بھی پانی کا اطلاق ہوتا ہے۔ کیونکہ جیسے سمندر کے پانی میں کل اجزاء مائیہ موجود ہیں۔ ویسے ہی پانی کے قطرہ میں بھی کل اجزاء مائیہ موجود ہیں۔ لہٰذا قطرہ کو پانی کہہ سکتے ہیں۔ مگر مبشرات کو نبوت نہیں کہہ سکتے۔ جیسے نمک کو پلاؤ نہیں کہہ سکتے۔ رسی کو چارپائی نہیں کہہ سکتے۔ بٹن کو کوٹ نہیں کہہ سکتے۔ کسی ایک پرزہ کو موٹر نہیں کہہ سکتے۔ ایک اینٹ کو مکان نہیں کہہ سکتے۔ میخ کو کواڑ نہیں کہہ سکتے۔ بعض لاہوری کہہ دیا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے حقیقتاً مبشرات پانے والے پر نبی کا لفظ نہیں بولا۔ بلکہ مجازاً بولا ہے جیسے انسان کو شیر کہہ دیتے ہیں۔ یہ ہی تو غلطی ہے یہاں مجازاً بولنا بھی ناجائز ہے۔ کیونکہ امر ختم نبوت مشتبہ ہوتا ہے اور اسلام میں فتنہ پڑتا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”سو چونکہ ایسے لفظوں سے جو محض استعارہ کے رنگ میں ہیں۔ اسلام میں فتنہ پڑتا ہے۔“

(الحکم نمبر ٢٩ ج ٣، مورخہ ١٧؍اگست ١٨٩٩ء)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ رسول اور نبی کا لفظ مجاز اور استعارہ کے طور پر استعمال کرنا

٢٥

صفحہ ٢٤٨

بھی اسلام میں فتنہ ڈالتا ہے اور سنو مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”اگر تمام خلفاء کو نبی کے نام سے پکارا جاتا تو امر ختم نبوت مشتبہ ہو جاتا۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٤٣، خزائن ج ٢٠ ص ٤٥)

دیکھئے! جب خدا تعالیٰ نے یہ رعایت کی کہ اور خلفاء کو مجازاً بھی نبی نہیں کہا۔ کیونکہ امر ختم نبوت مشتبہ ہوتا تھا۔ لہٰذا بطور مجاز کے بھی ان الفاظ کے استعمال کو ناجائز قرار دیا جاوے گا۔ کیونکہ اسلام کا زبردست اصول ختم نبوت ٹوٹتا ہے اور نبی کریم ﷺ کی کسر شان بھی ہوتی ہے اور خاتم النبیین لا نبی بعدی کے بھی خلاف ہے۔ یہاں مرزائی یہ سوال بہت زور سے کرتے ہیں کہ جب خاتم النبیین اور لا نبی بعدی ہے تو حضرت عیسیٰ کیسے آسکتے ہیں۔ تب بھی اصول ختم نبوت ٹوٹ جاتا ہے۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ جناب حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آویں گے تو صرف محدث اور امام ہوں گے اور منصب نبوت پر نہ آئیں گے اور وہ نبی نہ کہلائیں گے۔ اس پر مسٹر محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا منصب نبوت و رسالت کیوں چھینا گیا۔ جیسا کہ اس عبارت سے ثابت ہے فرماتے ہیں: ”اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں تو لازماً منصب رسالت کے ساتھ آنے چاہئیں۔ کیونکہ ایک رسول کا منصب رسالت کسی صورت میں چھینا نہیں جاسکتا ...... ماننا پڑے گا کہ حضرت عیسیٰ کی نعوذ باللہ کسی نا قابلیت کی وجہ سے ان کا یہ منصب چھینا گیا ۔“

(تفسیر بیان القرآن پارہ پنجم ص ٥٢٦، ٥٢٧)

یہ خیال اکثر مرزا قادیانی کی کتابوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ بلکہ تمام مرزائیت کا اسی پر دارومدار ہے۔ اگر مرزائی صاحبان ذرا غور و فکر سے کام لیتے تو یہ سوال پیدا ہی نہ ہوتا۔ بات یہ ہے کہ جب جناب رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تو انبیاء سابقین کی نبوتیں بند ہو چکیں۔ جیسا کہ قرآن شریف کے بعد پہلی کتابیں بند ہو گئیں۔ حالانکہ توریت وغیرہ ابھی تک دنیا میں موجود ہے۔ مگر اس پر عمل جائز نہیں۔ قرآن کے بعد وہ منسوخ ہوگئیں۔ اسی طرح حضور علیہ السلام کے مبعوث ہونے کے بعد تمام انبیاء سابقین کا خواہ کوئی زندہ ہو یا مردہ ہو۔ منصب رسالت بند اور منسوخ ہوچکا۔ جیسا کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اگر موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو میری پیروی کرتے۔ گویا حضور علیہ السلام کے علم میں موسیٰ علیہ السلام کا منصب رسالت بند ہو چکا تھا۔ ورنہ ایسا نہ فرماتے اور مرزا قادیانی کی عبارت بھی ہماری تائید کرتی ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”کیونکہ اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔“

(تجلیات الٰہیہ ص ٢٥، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)

١۔ حضور علیہ السلام نے فیصلہ کر دیا کہ اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ بھی ہوتے۔ تب بھی وہ اپنے منصب کی پیروی نہیں کر سکتے تھے۔ کیونکہ ان کا منصب بند ہو چکا۔ بلکہ میرے منصب کی پیروی کرتے۔

٤٦

صفحہ ٢٤٩

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ حضور علیہ السلام کی نبوت کے سوا سب نبوتیں بند اور منسوخ ہیں ۔ اب وہی اعتراض جو مسٹر صاحب موصوف ہم پر کرتے ہیں ۔ مرزا قادیانی اور مسٹر صاحب دونوں پر لوٹ جاتا ہے کہ پہلے نبیوں میں نعوذ باللہ کچھ قابلیت نہ تھی ۔ جو ان کا منصب نبوت بند کیا گیا اور ان کی نبوت چھینی گئی ۔ اس عبارت سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے واضح طور پر یہ بات بتلادی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا منصب نبوت تو پہلے ہی سے بند ہے۔ یہاں آنے پر ان کا منصب بند نہ ہوگا۔ بلکہ وہ تو پہلے ہی سے بند ہے۔ اب جو وہ آئیں گے ۔ صرف امتی ہوں گے ۔ بعض مرزائی اصحاب بوجہ نادانستگی یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ حقیقی نبی امتی نہیں ہو سکتا۔ چونکہ عیسیٰ علیہ السلام حقیقی نبی ہے۔ امتی کیسے ہو جائے گا۔ یہ بھی مرزا قادیانی کی تعلیم سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ مرزا قادیانی کے نزدیک حقیقی نبی بھی امتی ہوتا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”یوں تو قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ“ پس اس طرح تمام انبیاء علیہم السلام آنحضرت ﷺ کی امت ہوئے ۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٤، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٠)

مرزا قادیانی نے از روئے قرآن یہ فیصلہ دیا کہ تمام سابق انبیاء حضور کے امتی ہیں ۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام امتی ہو گئے تو کیا خرابی لازم آگئی۔ وہ تو پہلے ہی سے امتی ہیں ۔

ان شبہات پر مرزائیت کی بنیاد ہے ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو اپنے کو ظلی بروزی لغوی نبی کچھ بھی نہ کہیں گے ۔ ختم نبوت کا اتنا ادب کریں گے ۔ قادیانی نبی کی طرح نہ ہوں گے جس نے مریدوں سے خطوں میں رسول اللہ لکھوایا ہے اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی سخت سے سخت توہین کی ہے ۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ بالکل امتی ہو کر آویں گے تو ختم نبوت میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔ یہ بالکل واضح ہے۔ بعض اصحاب یہ اعتراض بھی کیا کرتے ہیں کہ حدیث میں آنے والے عیسیٰ علیہ السلام کے لئے نبی اللہ کا لفظ بھی ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ منصب نبوت بھی ہوگا۔ یہ بھی غلط ہے اس طرح تو قرآن شریف میں موسیٰ ، ہارون ، ابراہیم ، ادریس، اسماعیل علیہم السلام ان سب کو نبی کے لفظ سے ذکر کیا ہے تو کیا ہم یہ سمجھ لیں کہ اس وقت بھی وہ منصب نبوت پر ہیں ۔ اگر وہ منصب نبوت پر ہوں تو پھر ان کی امتیں ان کی تعلیم پر عمل کریں اور حضور علیہ السلام کافۃ للناس نہیں رہتے ۔ قرآن شریف میں نبی کے لفظ سے ان کے سابق منصب کی طرف اشارہ ہے۔ اسی طرح حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے نبی اللہ سے سابق منصب کی طرف اشارہ ہے اور یہ ایک نشان ہے چونکہ جھوٹے لوگ بھی دعویٰ کرتے رہیں گے ۔

٤٧

صفحہ ٢٥١

اس واسطے یہ علامت بتلادی ہے کہ وہ عیسیٰ آنے والا ہے جو پہلے منصب نبوت پر رہ چکا ہے اور گو اب اس کا منصب نبوت بند ہے۔ اسی سے لوگ ہمیشہ جھوٹوں کو شناخت کرتے رہیں گے۔ خیر طوالت کے خوف سے ہم چھوڑے دیتے ہیں۔ جو کچھ ہم نے لکھا ہے وہ بہت کافی ہے۔

مرزا قادیانی اخلاق رذیلہ میں بھی گرفتار تھے

آپ کی تالیفات کو دیکھنے سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ آپ کا قلم فحش گوئی میں بہت تیز تھا۔ مرزا قادیانی کی تالیفات میں بیشتر حصہ دو چیزوں کا ہے ۔ اپنی مسیحیت ونبوت کے فضائل اور اپنے مخالفوں کو گالیاں، عام مسلمان اور علماء کرام وبزرگان دین یہاں تک کہ انبیاء کرام اور اصحاب رسول اللہ ﷺ بھی آپ کی سخت کلامی اور توہین آمیز کلمات سے نہ بچ سکے۔ عام مسلمان اور علماء وغیرہ کی نسبت تو یہ بھی ممکن ہو سکتا ہے کہ شاید سختی کی ابتداء ان کی طرف سے ہوئی ہے۔ مگر آپ نے اس کے جواب میں قلم توڑ ڈالے۔ الف سے ی تک کوئی سخت سے سخت کلمہ ایسا نہیں چھوڑا جو اپنے مخالفوں کو کہا نہ ہو۔ یہ باتیں کسی ایسے مدعی کی شان کے خلاف ہیں جس کا یہ دعویٰ ہو کہ میں نبی ہوں اور امام الزمان وغیرہ ۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’چونکہ اماموں کو طرح طرح کے اوباشوں اور سفلوں اور بد زبان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس لئے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے تا ان میں طیش نفس اور مجنونانہ جوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں ۔ یہ نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رزیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرا بھی تحمل نہ ہو سکے اور امام زمان کہلا کر ایسی کچی طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ بات میں جھاگ آتا ہے ۔ آنکھیں نیلی پیلی ہوتی ہیں۔ وہ کسی طرح امام زمان نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اس پر آیت ’’اِنَّكَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ‘‘ کا پورے طور پر صادق آ جانا ضروری ہے ۔‘‘

(ضرورۃ الامام ص ٨، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٨)

مرزا قادیانی خود اسی فتوے کے مستحق تھے۔ آپ میں تحمل بالکل نہ تھا۔ ذراسی بات پر منہ میں جھاگ لے آتے تھے۔ سخت گوئی اور فحش گوئی پر اتر آتے تھے۔ ایسا شخص امام زمان کیسے ہو سکتا ہے جو شخص خود اخلاق رزیلہ میں گرفتار ہو وہ دوسروں کا رہبر کس طرح ہو سکتا ہے۔ اصحاب رسول اللہ ﷺ تو مرزا قادیانی کے ہم زمانہ بھی نہ تھے۔ نہ انہوں نے آپ سے کوئی مناظرہ وغیرہ کیا۔ ان کے متعلق بھی مرزا قادیانی نے اپنی تصنیفات میں سخت گوئی اور تہذیب سے گرے ہوئے الفاظ استعمال کئے۔ چنانچہ اس کا نمونہ ملاحظہ ہو۔ فرماتے ہیں: ’’بعض نادان صحابی جن کو درایت سے کچھ حصہ نہ تھا۔ وہ بھی اس عقیدہ سے بخبر تھے کہ کل انبیاء فوت ہو چکے ہیں ۔‘‘ (ضمیمہ براہین حصہ ٤٨

پنجم ص ١٤٠، خزائن ج ٢١ ص ٢٨٥) اور سنئے ، فرماتے ہیں: ’’ چاہئے کہ ابو ہریرہؓ کے قول کو ایک ردی متاع کی طرح پھ

(ضمیمہ براہین احمدیہ

یہ تو اصحابی کالنجم کا حال ہے۔ ان کو نادان ردی متاع قرار دیا جاتا ہے۔

یسوع مسیح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سخت ت

چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں : ’’ آپ کا دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں ہوا۔‘‘

یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خاندان کی خون سے وجود پکڑا ہے اور ملاحظہ ہو، فرماتے ہیں: ’’ آ اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کو دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر ناپاک ہاتھ لگائے اور زن سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو س

عیسیٰ علیہ السلام پرہیز گار آدمی بھی نہ تھے مرزا قادیانی کے نزدیک اوباش مزاج تھے۔ ادھر قرآ مرزا قادیانی کی بات پر ایمان لائیں تو قرآن پر ایما قرآن خواہ مخواہ ایسے لوگوں کو بھی رسول اللہ قرار دیتا ہ ہو، فرماتے ہیں: ’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شرا عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیما

مرزا قادیانی کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام

مرزا قادیانی کی کفریہ عبارت حضرت عیسیٰ

فرماتے ہیں: ’’ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ( یعن شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی سنا نہیں گیا کہ کسی فاحشہ ع ٤٩

صفحہ ٢٥١

پنجم ص ١٢٠، خزائن ج ٢١ ص ٢٨٥) اور سنئے، فرماتے ہیں: ”جو شخص قرآن شریف پر ایمان لاتا ہے اس کو چاہئے کہ ابو ہریرہؓ کے قول کو ایک ردی متاع کی طرح پھینک دے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٣٤، ٢٣٥، خزائن ج ٢١ ص ٤١٠ ملخص)

یہ تو اصحابی کالنجم کا حال ہے۔ ان کو نادان کے لفظ سے یاد کیا جاتا ہے اور ان کے قول کو ردی متاع قرار دیا جاتا ہے۔

یسوع مسیح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سخت ترین توہین وتحقیر

چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خاندان کی تعریف ہے۔ نعوذ باللہ! آپ نے ناپاک خون سے وجود پکڑا ہے اور ملاحظہ ہو، فرماتے ہیں: ”آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر ناپاک ہاتھ لگائے اور زناکاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

عیسیٰ علیہ السلام پرہیز گار آدمی بھی نہ تھے۔ کنجریوں وغیرہ میں آپ کی صحبت تھی۔ یعنی مرزا قادیانی کے نزدیک اوباش مزاج تھے۔ ادھر قرآن ان کو رسول اللہ قرار دیتا ہے۔ اب اگر ہم مرزا قادیانی کی بات پر ایمان لائیں تو قرآن پر ایمان نہیں رہتا اور یہ خیال کیا جانا ضروری ہوگا کہ قرآن خواہ مخواہ ایسے لوگوں کو بھی رسول اللہ قرار دیتا ہے جو اوباش مزاج لوگ ہوتے ہیں اور ملاحظہ ہو، فرماتے ہیں: ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“

(کشتی نوح ص ٦٥، خزائن ج ١٩ ص ٧١)

مرزا قادیانی کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام شرابی بھی تھے۔ معاذ اللہ!

مرزا قادیانی کی کفریہ عبارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین اور خدا پر اتہام

فرماتے ہیں: ”بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی سنا نہیں گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے

٤٩

صفحہ ٢٥٣

سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں یا سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

(دافع البلاء حاشیہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)

تمام مرزائی دنیا کو کھلا چیلنج

دافع البلاء کی اس عبارت کو حل کر کے مرزا قادیانی کو کافر ہونے سے بچائیں۔ خلاصہ اس عبارت کا یہ ہے کہ: ”یحییٰ نبی شرابی نہیں تھا اور یحییٰ نبی کنجریوں اور بے تعلق جوان عورتوں سے تعلق نہ رکھتا تھا۔ چونکہ خدا تعالیٰ یحییٰ نبی کو ان دونوں عیبوں سے پاک سمجھتا تھا تو اسے قرآن میں حصور کہا۔ عیسیٰ علیہ السلام نبی شرابی تھے اور عیسیٰ نبی کنجریوں اور بے تعلق نوجوان عورتوں سے تعلق رکھتا تھا۔ چونکہ خدا تعالیٰ ان دونوں عیبوں کو عیسیٰ علیہ السلام کی ذات میں اپنے علم سے صحیح سمجھتا تھا۔ اسی وجہ سے قرآن میں اس کو حصور نہیں کہا اور یہ قصے یعنی عیوب خدا تعالیٰ کو مانع ہوئے۔ قرآن میں حصور کہنے سے۔“ اس عبارت میں جو کچھ ہے اگر اس کو صحیح مان لیا جائے تو خدا تعالیٰ سے بھی ایمان اٹھ جاتا ہے کہ خدا ایسے اوباشوں کو حصور تو نہیں کہتا مگر نبی بنا دیتا ہے۔ جب ایسے اوباش نبی ہوئے تو امت کو کیا ہدایت کریں گے۔ خدا کی پاک ذات پر بھی بڑا بھاری اتہام ہے۔ الامان الحفیظ!

مرزا قادیانی اپنے فتوے سے آپ کافر

فرماتے ہیں: ”اسی وجہ سے ائمہ اور اہل تصوف لکھتے ہیں کہ جن لغزشوں کا انبیاء علیہم السلام کی نسبت خدا تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ جیسا کہ آدم علیہ السلام کا دانہ کھانا اگر تحقیر کی راہ سے ان کا ذکر کیا جائے تو یہ موجب کفر اور سلب ایمان ہے۔ کیونکہ وہ مقبول ہیں۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٧١، خزائن ج ٢١ ص ٩١)

مرزا قادیانی تحقیر کی راہ سے جن لغزشوں کا ذکر کر رہے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت خدا نے تو ان کا کہیں ذکر نہیں کیا۔ جن لغزشوں کا خدا نے ذکر کیا ہے۔ اگر ان کو بھی تحقیر کی راہ سے ذکر کیا جائے تو سلب ایمان ہو جاتا ہے اور جن باتوں کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تحقیر کی راہ سے مرزا قادیانی ذکر کر رہے ہیں۔ یہ تو خدا کی بھی ذکر کردہ نہیں تو بدرجہ اولیٰ سلب ایمان ہوا۔ یقیناً مرزا قادیانی کافر ہو گئے اور ایمان سلب ہو گیا۔ بتلاؤ ایسا شخص نبی، مجدد، محدث کہلا سکتا ہے یہ تو ادنیٰ درجہ کا مسلمان بھی نہیں۔ بحر کفر میں غرق ہے۔

٥٠

نوٹ: مرزائی اصحاب یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ جواب دیا ہے۔ الزامی جواب کا یہ دستور ہے کہ اس کتاب ک علیہم السلام کے متعلق ایسا الزامی جواب دینا بھی جس سے ک یہاں تو قرآن میں حصور کہنے اور نہ کہنے کا ذکر ہے۔ یہود و تصدیق کرتے ہیں۔ یہ تو بالکل بلا تاویل صریح کفر ہے۔

مرزا قادیانی وعدہ خلاف اور عہد شکن بھی تھے

مرزا قادیانی نے شروع زمانہ میں اپنی دو تین کتا شروع کی تو آپ نے فتح اسلام، توضیح مرام میں یہ لکھنا شرو ہے۔ اس سے لوگوں کی اجنبیت کو دور کرنا تھا یا کہ محدثیت ک اور لوگوں میں شور مچا تو آپ نے مسلمانوں کو ٹھنڈا کرنے ک ج ١ ص ٣١٣) کو اقرار نامہ لکھ کر شائع کیا۔ جس کی عبارت ی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے م نبی ہوتا ہے یا محدثیت نبوت ناقصہ ہے) اور ان کے دلو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری ط مسلمانوں میں تفرقہ اور نفاق ڈالنا منظور نہیں ہے۔... تو م کے لئے اس لفظ کو دوسرے پیرایہ میں بیان کرنے سے کیا م بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور م فرمالیں ۔“

(تبلیغ رسالت ج

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے ا بنایا گیا ہے۔ نبی کو میں کاٹ دیتا ہوں۔ یعنی نبی نہیں بلکہ م محدث کہو اور مجھے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنا منظور نہیں اور م محدث ہی لکھا کروں گا۔ جب یہ اقرار نامہ شائع ہو گیا تو م کبھی اپنی کتابوں میں محدث کو ایک معنی سے نبی بنا کر مسلم نے یہ سمجھا کہ یہ شخص ملہم ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ وعدہ خلا اعتماد کر لیا۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مرزا قادیانی ن خیال نہ کیا اور اس عہد کو توڑ ڈالا اور محدث کو خاتم الانبیاء ب

٥١

صفحہ ٢٥٣

نوٹ: مرزائی اصحاب یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے عیسائیوں کو الزامی جواب دیا ہے۔ الزامی جواب کا یہ دستور ہے کہ اس کتاب کا حوالہ نقل کر دیتے ہیں۔ دوسرے انبیاء علیہم السلام کے متعلق ایسا الزامی جواب دینا بھی جس سے کسی نبی کی تحقیر ہوتی ہو کفر ہے۔ تیسرے یہاں تو قرآن میں حصور کہنے اور نہ کہنے کا ذکر ہے۔ یہودیوں کی باتوں کو مرزا قادیانی قرآن سے تصدیق کرتے ہیں۔ یہ تو بالکل بلا تاویل صریح کفر ہے۔

مرزا قادیانی وعدہ خلاف اور عہد شکن بھی تھے

مرزا قادیانی نے شروع زمانہ میں اپنی دو تین کتابوں میں جب نبوت کی داغ بیل ڈالنا شروع کی تو آپ نے فتح اسلام، توضیح مرام میں یہ لکھنا شروع کر دیا کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے۔ اس سے لوگوں کی اجنبیت کو دور کرنا تھا یا کہ محدثیت نبوت ناقصہ ہے۔ اس پر اعتراض ہوا اور لوگوں میں شور مچا تو آپ نے مسلمانوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے (٣؍فروری ١٨٩٢ء مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣١٤) کو اقرار نامہ لکھ کر شائع کیا۔ جس کی عبارت یہ ہے: ”سو میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں (یعنی محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے یا محدثیت نبوت ناقصہ ہے) اور ان کے دلوں پر یہ الفاظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں۔ کیونکہ کسی طرح مجھ کو مسلمانوں میں تفرقہ اور نفاق ڈالنا منظور نہیں ہے۔۔۔۔۔ تو پھر مجھے اپنے مسلمان بھائیوں کی دلجوئی کے لئے اس لفظ کو دوسرے پیرایہ میں بیان کرنے سے کیا عذر ہوسکتا ہے۔ سو دوسرا پیرایہ یہ ہے کہ بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور اس کو (یعنی لفظ نبی کو) کاٹا ہوا خیال فرمالیں“

(مسیح موعود ختم نبوت صفحہ ٥۔ طبع امیر جماعت لاہور ص ٣)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ عہد کیا کہ جن کتابوں میں محدث کو نبی بنایا گیا ہے۔ نبی کو میں کاٹ دیتا ہوں۔ یعنی نبی نہیں بلکہ میں بھی اس کو محدث سمجھوں گا اور تم بھی محدث کہو اور مجھے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنا منظور نہیں اور آئندہ پیرایہ بدل دوں گا۔ یعنی محدث کو محدث ہی لکھا کروں گا۔ جب یہ اقرار نامہ شائع ہو گیا تو لوگ مطمئن ہو گئے کہ مرزا قادیانی اب کبھی اپنی کتابوں میں محدث کو ایک معنی سے نبی بنا کر مسلمانوں میں تفرقہ نہ ڈالیں گے۔ مسلمانوں نے یہ سمجھا کہ یہ شخص ملہم ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ وعدہ خلافی اور عہد شکنی نہیں کر سکتا۔ اس وجہ سے اعتماد کر لیا۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مرزا قادیانی نے ”واوفوا بالعهد“ کا بھی کچھ خیال نہ کیا اور اس عہد کو توڑ ڈالا اور محدث کو خاتم الانبیاء تک ایک غلطی کے ازالہ میں بنا ڈالا۔ یا تو

٥١

صفحہ ٢٥٤

محدث ایک ہی معنی میں نبی تھا یا کل معنوں میں نبی بنا ڈالا۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

"بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں۔"

(ایک غلطی کا ازالہ ص٥، خزائن ج١٨ ص ٢١٢)

بعد کی اکثر کتابوں میں محدث کو پھر نبی رسول لکھا ہے۔ کیا لاہوری ہمارے اس سوال پر روشنی ڈالیں گے کہ مرزا قادیانی وعدہ خلافی اور عہد شکنی کے مرتکب کیوں ہوئے۔ بقول تمہارے اب اس کے یہ معنے ہوں گے کہ میں ہوں تو محدث مگر محدث ایک معنی سے نبی خاتم الانبیاء ہے۔ مگر عہد شکنی کے مرتکب تو ہو گئے۔ فقط!

٤/ ذیقعد ١٣٥١ھ

مرزا قادیانی نے دینی جہاد کو حرام قرار دیا

جہاد کو نبی کریم ﷺ نے رأس الامر للاسلام فرمایا ہے۔ مرزا قادیانی اس کی نسبت فرماتے ہیں کہ: "اور یاد رکھو کہ اسلام میں جو جہاد کا مسئلہ ہے میری نگاہ میں اس سے بدتر اسلام کو بدنام کرنے والا اور کوئی مسئلہ نہیں ہے۔"

(اشتہار مورخہ ٧/مئی ١٩٠٧ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٨٤)

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آسماں سے نور خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

(تحفہ گولڑویہ ص٢٦، خزائن ج١٧ ص٧٧، ٧٨)

اشتہار انعامی دو سو روپے

لاہوری اصحاب سے ہماری استدعا ہے کہ اس کتاب کو ضد اور تعصب سے خالی ہو کر پڑھیں اور محاکمہ کریں کہ علمائے دین کہاں تک کفر کا فتویٰ دینے میں حق بجانب ہیں۔ اگر لاہوری اصحاب میں سے کوئی شخص اس کتاب کا جواب لکھے اور وہ جواب صحیح ہو۔ یعنی اس کتاب کی مکمل تردید ہو اور ثالثوں کے فیصلہ سے یہ بات ثابت ہو جائے کہ تردید صحیح اور مکمل ہے۔ تو ہم اس جواب لکھنے والے کو دو سو روپے انعام پیش کریں گے اور اگر ہم انعام دینے سے انکار کریں تو وہ بذریعہ عدالت لینے کا حقدار ہو گا اور ہمیں کوئی عذر نہ ہو گا۔ یہ تحریر اس وقت سند ہو گی۔ لیکن ہم کو زبانی جواب الجواب کا حق ہو گا۔ ثالثوں کو ہم اس کے جواب میں (اگر کوئی نئی بات ہے تو) تشریح کر کے سمجھا سکیں۔ چونکہ اس کتاب کو مختصر لکھا گیا ہے اور اس انعام کی میعاد ایک سال ہے۔ یعنی مارچ ١٩٣٤ء تک میعاد ختم ہو جائے گی۔

اعجاز احمد خطیب جامع مسجد صدر بازار راولپنڈی ....... ٨/ مارچ ١٩٣٣ء

٥٢

PDF 256

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

آئینہ قادیان

جناب ڈاکٹر محمد عظیم پارس ایرانی رحمۃ اللہ علیہ

صفحہ ٢٥٧

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ !

تمہید !

یہ خاکسار کوئی مولوی یا مناظر نہیں بلکہ ایک طبیب ہے۔ ایک طبیب کے شایان شان نہیں کہ وہ ایسے جھگڑوں میں پڑے۔ مگر پھر بھی جب کہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ معلومات اسے ہوں یا ہو سکیں جن پر عمل پیرا ہو کر اگر کچھ لوگ گمراہی کے گڑھے سے نکل سکتے ہوں تو ایک طبیب کے لئے اس سے بہتر کامیاب علاج کیا ہے۔ جہاں تک میرے دماغ اور عقل نے کام کیا ہے میں نے کوئی بات بھی اپنے پاس سے تحریر نہیں کی۔ میں نے بیشتر مضامین خود مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں سے منقول کئے ہیں اور کچھ مرزا قادیانی کے صاحبزادگان کی طرف سے اور کچھ ان کے مریدان کی کتابوں سے غرض کہ میرے جملہ مضامین کا خلاصہ قادیانی جماعت کے امام یا ان کے متعلقین سے وابستہ ہیں۔ میں نے اپنی طرف سے کوشش کی ہے کہ ہر مرزائی اور مسلمان کو حق اور باطل کی تمیز ہو سکے اور ہر صاحب بصیرت کو معلوم ہو جائے کہ نئی دنیا کی نئی ایجاد مرزا غلام احمد قادیانی کیا ہیں۔ وما علینا الا البلاغ ! خیر اندیش: محمد عظیم پارس ایرانی، فقیر بیرا لا ہور!

مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی اور ان کے ارتقائی مدارج

متضاد بیانات کا حیرت انگیز مجموعہ

ایک عرصہ سے مجھے خیال تھا کہ مرزائیوں کے عقائد کے متعلق ایک مکمل مضمون لکھوں۔ لیکن قلت وقت اور گونا گوں مصروفیات نے خاموش کر دیا۔ اس کے علاوہ ایک یہ بھی خیال رہا کہ جب دوسرے بھائی کام کر رہے ہیں تو پھر مجھے علیحدہ آواز بلند کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ لیکن یکا یک ہاتف غائب کا اشارہ ہوا کہ ایک نحیف و ناتوان آواز اگر یقین و ایمان سے مخمور ہو تو زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔ چنانچہ اٹھے اور کلک صداقت کو جنبش دے کر قوم کو یہ پیغام پہنچا دیجئے کہ مرزائیت جو ابتداء میں بے حقیقت قطرہ آب کی حیثیت رکھتی تھی رو بہ ترقی ہے۔ جس کا سیل بہتیرے غفلت زدہ لوگوں کو بہا لے جائے گا۔ اے قوم غفلت کی نیند سے جاگ اور بتا کہ تو نے اپنے بچوں اور عورتوں کو اس قسم کی تعلیم کیوں نہ دلائی کہ وہ اسلام اور مرزائیت میں امتیاز کر سکیں۔ اے لوگو! ہوش میں آؤ! کیونکہ خدا تعالیٰ قرآن پاک میں خود فرماتا ہے کہ کفار سے راہ و رسم نہ رکھو۔ کیونکہ تمہارے ایمان کمزور ہو جائیں گے۔

٢

مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی کا دور اوّل

میں چاہتا ہوں کہ اس مضمون میں مرزا غلام کردوں تاکہ مسلمانوں کو معلوم ہو جائے کہ وہ پہلے کیا تھ زندگی کے دور اوّل میں تو نہایت خوش عقیدہ نظر آتے بھرتے ہیں۔ چنانچہ وہ ایک جگہ کہتے ہیں کہ: ”میرا اعتق میں کوئی کتاب بغیر قرآن کے نہیں رکھتا اور میرا کوئی محب جن پر خدا نے رحمتیں اور برکتیں نازل کی ہیں اور اس تمسک قرآن شریف ہے اور رسول اللہ ﷺ کی ہدی کرتا ہوں اور تمام باتوں کو قبول کرتا ہوں جو کہ خیر القر ان پر کوئی زیادتی کرتا ہوں اور نہ کمی اور اسی اعتقاد پر اور ہر شخص ذرہ بھر بھی شریعت محمدیہ میں کمی بیشی کرے اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو ۔“

(مرزا غلام احمد کا مکتوب عربی بنام مشار

موصوف نے یہ کہا ہے ”ان تمام امور کا جیسا کہ اہل سنت الجماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں الثبوت ہیں اور سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم رسالت کے منکر کو کافر اور کاذب جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوئی۔ اس میری تحریر پر

(اعلان مورخہ ٢ اکتوبر ١٨٩١ء م

ایک اور مقام پر کہتے ہیں کہ: ”ہم اس کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سچا اور راست باز نبی م کتاب میں کوئی ایسا لفظ بھی نہیں جو ان کی شان بزا

صفحہ ٢٥٧

مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی کا دور اوّل

میں چاہتا ہوں کہ اس مضمون میں مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد تدریجی وارتقائی بیان کر دوں تا کہ مسلمانوں کو معلوم ہو جائے کہ وہ پہلے کیا تھے اور بعد میں کیا ہوگئے۔ مرزا قادیانی اپنی زندگی کے دور اوّل میں تو نہایت خوش عقیدہ نظر آتے ہیں۔ انبیاء اور اولیاء سب کی عظمت کا دم بھرتے ہیں۔ چنانچہ وہ ایک جگہ کہتے ہیں کہ : ”میرا اعتقاد یہ ہے کہ کوئی دین اسلام کے بغیر نہیں اور میں کوئی کتاب بغیر قرآن کے نہیں رکھتا اور میرا کوئی محمد مصطفےٰ ﷺ کے نہیں جو خاتم النبیین ہیں۔ جن پر خدا نے رحمتیں اور برکتیں نازل کی ہیں اور اس کے دشمن پر لعنت بھیجی ہے۔ گواہ رہ کہ میرا تمسک قرآن شریف ہے اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث جو کہ چشمہ حق و معرفت ہے۔ میں پیروی کرتا ہوں اور تمام باتوں کو قبول کرتا ہوں جو کہ خیر القرون میں باجماع صحابہ صحیح قرار پائی ہیں۔ نہ ان پر کوئی زیادتی کرتا ہوں اور نہ کمی اور اسی اعتقاد پر زندہ رہوں گا اور اسی پر میرا خاتمہ وانجام ہوگا اور ہر شخص ذرہ بھر بھی شریعت محمدیہ میں کمی بیشی کرے یا کسی اجماعی عقیدہ کا انکار کرے۔ اس پر خدا اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو“

(مرزا غلام احمد کا مکتوب عربی بنام مشائخ ہند مندرجہ انجام آتھم ص ١٤٤، خزائن ج ١١ ص ٣٤٤)

موصوف نے یہ کہا ہے ”ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں۔ جیسا کہ سنت الجماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن وحدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کافر اور کاذب جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوئی۔ اس میری تحریر پر ہر ایک شخص گواہ رہے۔“

(اعلان مورخہ ٢ اکتوبر ١٨٩١ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٢ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣١)

ایک اور مقام پر کہتے ہیں کہ: ”ہم اس بات کے لئے بھی خدا کی طرف سے مامور ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سچا اور راست باز نبی مانیں اور ان کی نبوت پر ایمان لائیں اور ہماری کتاب میں کوئی ایسا لفظ بھی نہیں جو ان کی شان بزرگ کے خلاف ہو۔“

(ایام صلح ٹائٹل ص ٢، خزائن ج ١٤ ص ٢٢٨)

٣

صفحہ ٢٥٨

اس قسم کا اولیاء و دیگر انبیاء پر ایمان کامل رکھنے کے ثبوت میں مرزا غلام احمد قادیانی نے (ازالہ اوہام ص ١٤٨، خزائن ج ٣ ص ١٧٠) میں اقرار کیا ہے۔ پھر مرزا غلام احمد قادیانی (اخبار الحکم قادیان اگست ١٨٩٩ء، ملفوظات ج ١ ص ٣٢٦) میں اس بات پر فخر کرتا ہے کہ وہ صحابہؓ کا خاک پا و مداح ہے۔ اس کے بعد آسمان و زمین کو اس بات کو گواہ رکھتا ہے کہ اس کا بھی وہی مذہب ہے جو زمانہ سلف کے صالحین و خوش اعتقاد بزرگوں کا تھا۔

(ایام الصلح ص ٨٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٣ ملخص)

اس کے بعد خود مرزا قادیانی کہتا ہے کہ: ”تو نہیں جانتا کہ پروردگار رحیم و صاحب فضل نے ہمارے نبی ﷺ کا بغیر کسی استثناء کے خاتم النبیین نام رکھا اور ہمارے نبی ﷺ نے اہل طلب کے لئے اس کی تفسیر اپنے قول لا نبی بعدی میں فرمادی اور اگر ہم اپنے نبی ﷺ کے بعد کسی نبی کے ظہور کو جائز قرار دیں تو گویا ہم باب وحی بند ہو جانے کے بعد اس کا کھلنا جائز قرار دیں گے اور یہ صحیح نہیں جیسا کہ مسلمانوں پر ظاہر ہے اور ہمارے رسول ﷺ کے بعد کیونکر نبی آسکتا ہے۔ حالانکہ آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس پر نبیوں کا خاتمہ فرما دیا۔“

(حمامۃ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)

اس کے بعد اس بات کی تائید میں کہ حضرت رسول کریم ﷺ کے بعد نبی نہیں آئے گا اور حضور ﷺ کی وفات کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام کا آنا بند ہو چکا ہے۔ جب کہ اکثر جگہ پر خود مرزا قادیانی نے اقرار کیا ہے۔

(کتاب البریہ ص ١٨٤، خزائن ج ١٣ ص ٢١٧، ازالہ اوہام ص ٥٧٧، ٥٣٤، ٦١١، خزائن ج ٣ ص ٤٣١، ٣٨٧، ٥١١)

پھر مرزا غلام احمد قادیانی نے خود بھی لکھا ہے کہ: ”یہ خدا کی شان کے خلاف ہے کہ ایک وعدہ کرے کہ محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور پھر سلسلہ رسالت شروع کر دے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٧٧، خزائن ج ٥ ص ٣٧٧)

ارشاد ہوا ہے کہ: ”اگر دوبارہ سلسلۂ وحی شروع ہو جائے اور دوبارہ جبرائیل کو بھیج کر وحی رسالت کی آمد و رفت ہو جائے اور ایک نئی کتاب اللہ جو مضمون میں قرآن شریف سے توارد رکھتی ہو پیدا ہو جائے اور جو امر مستلزم محال ہو وہ محال ہوتا ہے۔“ (ازالہ اوہام ج ٢ ص ٥٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤١٤، حمامۃ البشریٰ ص ٣٩، خزائن ج ٧ ص ٢٣٣، ٢٣٢، آئینہ کمالات اسلام ص ٢١، خزائن ج ٥ ص ٢١، اشتہار مورخہ ٢؍اکتوبر ١٨٩١ء، تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠، ٢٢٦، تقریر بتاریخ ٢٣؍اکتوبر ١٨٩١ء جامع مسجد دہلی، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٤٤، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥، انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١

٤

صفحہ ٢٥٩

ص ٢٧، حمامۃ البشریٰ ص ٩٦، ٩٧، آسمانی فیصلہ ص ٢٨، اشتہار مورخہ ٢٠؍ شعبان ١٣١٤ھ، مندرجہ تبلیغ رسالت ج٢ ص ٢١، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص ٢٩٧، ختم نبوت اور اسلام مضمون مندرجہ پیغام صلح اخبار مورخہ ٣١؍ مارچ ١٩٣٣ء)

اس کے بعد (شہادت القرآن ص ٢٨، خزائن ج ٦ ص ٣٢٣، ٣٢٤، آئینہ کمالات اسلام ص ٣٨٣، خزائن ج ٥ ص ٣٨٢، البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧) میں اس بات پر سخت زور دیا ہے کہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ ہرگز نہیں کیا۔ بلکہ محدث ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور لوگوں نے غلط فہمی سے سمجھ لیا ہے کہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ لیکن چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مراق کا مرض تھا۔ جیسے آگے چل کر اس کے حوالے بھی دیئے جائیں گے۔ ان ہی کتابوں میں یہاں نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کو گالیاں دے رہے تھے۔ کہیں کہیں نبوت کا ذکر بھی کرتے گئے۔ (ازالہ اوہام ص ٤٢١، ٤٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠) میں کہتے ہیں کہ محدث بھی ایک شعبہ قویہ نبوت کا اپنے اندر رکھتی ہے۔

متضاد بیانات

ان پر غور کرنا اور سوچنا چاہئے کہ وہی شخص جو ایک ہی جگہ پر ایک ہی وقت میں مختلف زبانیں بدلے اور گوناگوں دعوے کرے اس کا دماغ کہاں تک درست کہلانے کا مستحق ہوگا؟ وہ خود ہی مسیح کی عزت کرتا ہے اور خود ہی مسیح کے دوبارہ دنیا میں نازل ہونے کا انکار کرتا ہے اور خود ہی مسیح موعود ہونے کا دعویدار ہے اور کہتا ہے کہ جیسا کہ خدا نے مسیح کے نزول کا مقام دمشق کے مینار پر اترنا بتایا تھا۔ وہی دمشق قادیان سے مراد تھا۔ چنانچہ میں ہی مسیح ہوں پھر خود ہی مسیح کو گالیاں دیتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ روح القدس نہ تھا۔ بلکہ اس کی والدہ مریم علیہ السلام نعوذ باللہ ایک بدکار عورت تھی۔ مسیح کی دادیاں، نانیاں فاحشہ عورتیں تھیں۔ لیکن خود ہی اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اس کو خود ہی حالات پیش آئے جو حضرت مریم علیہ السلام کے متعلق بیان کئے جاتے ہیں۔

(توضیح المرام ص ١٧، خزائن ج ٣ ص ٥٩ ملخص) پر لکھا ہے کہ اگر مسیح آئے گا تو اس کے متعلق رسول اللہ کی پیشین گوئی ہے کہ وہ مسلمان ہوگا نہ کہ مسیح کا مثیل ایک نبی ہی چاہئے۔ اب ذرا آگے چل کر غور و خوض سے دیکھا جائے گا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیح ہونے اور اپنے آپ مسیح کی صفات رکھنے کا دعویٰ کس زور سے کیا ہے۔ لیکن آگے چل کر مسیح کے متعلق کیا فرمایا ہے۔

(اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١ ص ١٥، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٢) پر مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔ اس کے بعد لکھا ہے کہ: ”اس عاجز نے جو مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس کو لوگ مسیح موعود

صفحہ ٢٦١

خیال کر بیٹھے ہیں۔ یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں بلکہ وہی پرانا ہے جو آج سے آٹھ سال قبل کرتا رہا ہے۔ لیکن اس کا دعویٰ نہیں کہ مسیح ابن مریم ہے اور جو اس پر یہ الزام لگائے وہ مفتری و کذاب ہے۔ بلکہ آٹھ سال سے برابر یہی دعویٰ رہا کہ مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعض روحانی خواص طبع خداتعالیٰ نے اس کی فطرت میں رکھے ہیں۔ اس کے بعد یہ بات سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحی الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ میں اسی الہام کی بناء پر اپنے تئیں مسیح موعود سمجھتا ہوں۔ جس کو دوسرے لوگ غلط فہمی سے مسیح موعود کہتے ہیں۔ مجھے اس بات سے بھی انکار نہیں کہ میرے بعد کوئی اور مسیح موعود آنے والا ہو ۔“

(اشتہار مرزاغلام احمد قادیانی مورخہ ١١؍فروری ١٨٩١ء، تبلیغ رسالت ج ١ ملحقہ ج ٢ ص ١٦٢، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٧٧ کے علاوہ مرزاغلام احمد قادیانی کا خط بنام مولوی عبدالجبار مورخہ ١١؍فروری ١٨٩١ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١ ملحقہ ج ٢ ص ١٥٩، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٧٠، ازالۃ الاوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧، کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥١) اس کے بعد کہتا ہے اور یہی عیسیٰ تھے جس کا انتظار تھا اور الہامی عبارتوں میں مریم اور عیسیٰ سے میں ہی مراد ہوں اور میری نسبت کہا گیا ہے کہ ہم اس کو نشان بنائیں گے اور نیز کہا گیا ہے کہ یہ وہی عیسیٰ ابن مریم ہے جس میں لوگ شک کرتے تھے۔“

(کشتی نوح ص ٤٨، خزائن ج ١٩ ص ٥٢)

ان کے بعد لکھتا ہے: ”دو برس تک میں نے صفت مریمیت میں پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا پھر مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی۔ استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو کہ دس ماہ سے زیادہ نہیں مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔“

(کشتی نوح ص ٤٦، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

اس کے بعد کہتا ہے کہ: ”مجھے اس خدا کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس پر افتراء کرنا لعنتیوں کا کام ہے کہ اس نے مجھے مسیح بنا کر بھیجا ہے۔“

(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)

اس کے بعد نبوت کا نشہ چڑھتا ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں ”جس آنے والے مسیح کا حدیثوں سے پتہ چلتا ہے۔ اس کا ان ہی حدیثوں سے نشان دیا گیا ہے۔ وہ نبی ہوگا اور امتی بھی۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٣٨٩،٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦، ٤٠٧، ١٥٤) پر فرماتے ہیں ۔ ”حدیث

٦

نبویہ میں پیشین گوئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ا کہلائے گا اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا ا طرح سے میں نبی بھی اور امتی بھی ہوں۔“

دعویٰ نبوت

اس سے پہلے ہم لکھ آئے ہیں کہ آنحضر مرزا لعنت بھیجتا رہا۔ اس کے بعد خود پاؤں پھیلا دعویٰ کر دیا ہے۔ ”جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہ ہمکلامی کا مشرف ہوں۔ خدا مجھ سے بولتا اور کلا ظاہر کرتا ہے اور آئندہ زمانے کے وہ راز میر ساتھ اس سے قرب حاصل نہ ہو دوسرے پر اس رکھا۔ سو خدا کے حکم کے موافق میں نبی ہوں اور ا

(خط مورخہ ٢٣؍مئی ١٩٠٨

اس کے بعد فرمایا ہے کہ: ”میں اس میں اپنی نسبت نبی یا رسول ہونے سے کیونکر ان لئے اس قدر نشان دکھلائے کہ وہ ہزار نبیوں پر جو لوگ انسانوں میں شیطان ہیں نہیں مانتے ۔

(چشمہ معرفت ص ٣٢٧، خزائن ج ٢٣

ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے میرا نام نبی

پھر کہتا ہے کہ: ”کیونکر ممکن ہے زرتشت دانیال نبی رکھیں۔ ہزاروں سالوں باوجود اتنی شہادتوں کے پھر وہ پھر بھی غیر نبی کا ”نبی کا نام پانے کے لئے میں نہیں۔“

مرزاغلام احمد قادیانی نے جابجا

صفحہ ٢٦١

نبویہ میں پیشین گوئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی امت سے ایک شخص پیدا ہوگا جو عیسیٰ ابن مریم کہلائے گا اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا اور صریح طور پر یہ خطاب مجھے دیا گیا ہے کہ اس طرح سے میں نبی بھی اور امتی بھی ہوں۔“

دعویٰ نبوت

اس سے پہلے ہم لکھ آئے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والوں پر مرزا لعنت بھیجتا رہا۔ اس کے بعد خود پاؤں پھیلانے شروع کر دیئے ہیں اور آخر کار اعلانیہ نبوت کا دعویٰ کر دیا ہے۔ ”جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں۔ وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا سے ہمکلامی کا شرف رکھوں۔ خدا مجھ سے بولتا اور کلام کرتا ہے اور بہت ساری غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا ہے اور آئندہ زمانے کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے۔ جب تک انسان کو خصوصیت کے ساتھ اس کے قرب حاصل نہ ہو دوسرے پر اسرار نہیں کھولتا۔ ان امور کی کثرت نے میرا نام نبی رکھا۔ سو خدا کے حکم کے موافق میں نبی ہوں اور اگر اس سے انکار کروں تو گنہگار ہوں۔“

(خط مورخہ ٢٣ مئی ١٩٠٨ء، بنام اخبار عام لاہور، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧)

اس کے بعد فرمایا ہے کہ: ”میں اس مدت میں ڈیڑھ سو پیشین گوئی ٹھیک پاچکا ہوں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول ہونے سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔ خدا تعالیٰ نے یہ ثابت کرنے کے لئے اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ وہ ہزار نبیوں پر تقسیم ہوں تو ان کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن پھر جولوگ انسانوں میں شیطان ہیں نہیں مانتے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)

”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے میرا نام نبی رکھا اور مسیح موعود کہہ کر پکارا۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

پھر کہتا ہے کہ: ”کیونکر ممکن ہے کہ ایک شخص کا نام قرآن کریم آنحضرت ﷺ، کرشن زرتشت دانیال نبی رکھے۔ ہزاروں سالوں سے ان کے آنے کی خبریں دی جا رہی ہوں۔ لیکن باوجود اتنی شہادتوں کے پھر وہ پھر بھی غیر نبی کا غیر نبی رہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٩٨)

”نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص تھا اور دوسرے تمام لوگ اس کے مستحق نہیں۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦، ٤٠٧)

مرزا غلام احمد قادیانی نے جابجا یہ ظاہر کیا ہے کہ: ”جس طرح قرآن، انجیل، توریت کو

٧

صفحہ ٢٦٣

خدائی الہامات مانتے اور ان پر یقین رکھتے ہیں۔ اسی طرح وہ ان الہامات پر بھی جو ان پر نازل ہوتے ہیں، یقین رکھتے ہیں۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠، اربعین نمبر ٣ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٥، تبلیغ رسالت ج ٨ ص ٦٤، اشتہار مورخہ ٣ اکتوبر ١٨٩٩ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٥٤، نیز الفضل قادیان مورخہ ٢٠ اپریل ١٩١٥ء) میں لکھا ہے کہ: ”قرآن کریم اور الہامات مسیح موعود دونوں خدا تعالیٰ کا کلام ہیں۔ لیکن ان دونوں میں اختلاف نہیں ہوسکتا۔ اس لئے قرآن شریف کو مقدم رکھنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا اور مسیح موعود نے جو باتیں کہیں وہ حدیث کی روایت سے معتبر ہیں۔“

پھر کہا ہے: ”نبوت محمدیہ میرے آئینہ نفس میں منعکس ہو گئی اور ظلی طور پر مجھے نام بتا دیا گیا تا کہ آنحضرت ﷺ کے فیوض کا کامل نمونہ ٹھہروں۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٢٥، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٠)

پھر ارشاد ہوا: ”بارہا بتا چکا ہوں بموجب آیۂ ’وآخرین منھم لما یلحقوا بھم‘ بروزی طور پر وہی نبی (خاتم الانبیاء) ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے۔“ (نزول مسیح ص ٤، ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٠، ٣٨١ حاشیہ) اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں خدا نے پھر محمد رسول اللہ ﷺ کو اتارا تا کہ اپنا وعدہ پورا کرے۔

(کلمۃ الفصل ص ١٠٥، اخبار الحکم قادیان مورخہ ٣٠؍ نومبر ١٩٠١ء)

”ہمارے نزدیک نہ نیا نبی نہ پرانا بلکہ خود محمد رسول اللہ ﷺ کی چادر دوسرے نبی کو پہنائی گئی اور وہی آئے۔“

(ملفوظات ج ٢ ص ٤٠٤)

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٩؍ جون ١٩١٥ء) ”مسیح موعود کو احمد نبی تسلیم نہ کرنا اور اس کو امتی قرار دینا کفر عظیم اور کفر بعد کفر ہے۔“ (حقیقۃ الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨) میں کہتے ہیں ”جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو نہیں مانتا۔۔۔ یعنی رسول اللہ ﷺ نے خبر دی ہے کہ میں مسیح ابن مریم کو معراج کی رات میں نبیوں میں دیکھ آیا ہوں اور خدا نے میری سچائی کے واسطے تین لاکھ سے زائد نشان دیے۔ پھر جو باوجود نشانوں کے مجھے مفتری ٹھہراتا ہے۔ وہ کیونکر مؤمن ہوسکتا ہے۔“

پھر کہا ہے: ”خدا نے مجھ کو آدم بنایا ہے اور اس میں بھید یہ تھا کہ خدا نے ابتداء سے ارادہ فرمایا تھا کہ آدم کو پیدا کرے گا کہ آخری زمانہ میں خاتم الخلفاء ہوگا۔“

(خطبۃ الہامیہ ص ١٦٧، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٤)

٨

”اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قد ہی شخص کے وجود میں وہ سب نمونے ظاہر کئے جائی

)

”ہندوؤں کا اوتار، ہند میں کرشن نام ا

”خدا کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں میرے ظہور سے پیدا ہوا مجھے مجملہ اور الہاموں کے مہا گیتا میں لکھی ہے۔“

)چ(

”مجھے یہ بھی مدت سے الہام ہو چکا ہ میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ قادیان کا لفظ قرآ

خدا کا تصور

”ہم فرض کر سکتے ہیں کہ ’قیوم الع ہاتھ پیر اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہیں کہ تع تیندوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو کہا کہ: ” سوتا ہوں۔“

بڑے ادب سے خدا تعالیٰ نے مرزا سے خدا تعالیٰ نے مجھ کو پکارا ہے۔ مرزا نہیں بلکہ سیکھیں اور دوسرا یہ کہ چاہئے تھا کہ الہام میں میر شرم دامنگیر ہوئی اور شرم کے غلبہ نے اس کی زبا نام مرزا صاحب اور کوئی مرزا صاحب کے نام س

(حقیقۃ الوحی ص ٨٦،٣٥٦، خزائن ج

میرے فرزند کے ہے۔“ (البشریٰ ص ٤٩ ج اوّل ہیرے جیسے بن۔ اے چاند اور خورشید تو مجھ سے

صفحہ ٢٦٣

”اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر راست باز اور مقدس نبی گزر چکے ہیں۔ ایک ہی شخص کے وجود میں وہ سب نمونے ظاہر کئے جائیں۔ وہ میں ہوں۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٩٠، خزائن ج٢١ ص١١٧،١١٨)

”ہندوؤں کا اوتار، ہند میں کرشن نام ایک نبی گزرا ہے۔ یہ نام بھی مجھ کو دیا گیا ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص٨٥، خزائن ج٢٢ ص٥٢١)

”خدا کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اس کا بروز یعنی اوتار پیدا کرے گا۔ سو یہ وعدہ میرے ظہور سے پورا ہوا مجھے منجملہ اور الہاموں کے یہ بھی الہام ہوا تھا۔ اے کرشن رودر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی ہے۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص٣٣، خزائن ج٢٠ ص٢٢٩، نومبر ١٩٠٤ء)

”مجھے یہ بھی مدت سے الہام ہو چکا ہے کہ ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ قادیان کا لفظ قرآن میں بھی لکھا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص٧٦، خزائن ج٣ ص١٤٠)

خدا کا تصور

”ہم فرض کر سکتے ہیں کہ ”قیوم العالمین“ ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے بیشمار ہاتھ پیر اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہیں کہ تعداد سے خارج اور لا انتہاء عرض طول رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں۔“

(توضیح المرام ص٧٥، خزائن ج٣ ص٩٠)

اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو کہا کہ: ”میں نماز پڑھوں گا اور روزہ رکھوں گا۔ جاگتا اور سوتا ہوں۔“

(البشریٰ ج٢ ص٧٩، تذکرہ ص٣٦٠، طبع٣)

بڑے ادب سے خدا تعالیٰ نے مرزا کو پکارا۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں تعجب کہ ایسے ادب سے خدا تعالیٰ نے مجھ کو پکارا ہے۔ مرزا نہیں بلکہ مرزا صاحب کہا ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ سے ادب سیکھیں اور دوسرا یہ کہ چاہئے تھا کہ الہام میں میرا نام لیا جائے۔ لیکن خدا تعالیٰ کو میرا نام لینے میں شرم دامنگیر ہوئی اور شرم کے غلبہ نے اس کی زبان پر میرا نام لانے سے روک دیا۔ کیا دنیا میں میرا نام مرزا صاحب اور کوئی مرزا صاحب کے نام سے نہیں پکارا جاتا۔

(حقیقت الوحی ص٨٦،٤٥٦، خزائن ج٢٢ ص٨٩،٤٧٩) پر خدا فرماتا ہے کہ: ”تو بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔“ (البشریٰ ص٤٩ ج اول) میں مرزا قادیانی کو مخاطب کیا ہے۔ ”اے میرے بیٹے سن۔ اے چاند اور خورشید تو مجھ سے اور میں تجھ سے۔“

(حقیقت الوحی ص٧٤، خزائن ج٢٢ ص٧٧)

صفحہ ٦٥

پھر خدا مرزا قادیانی کو کہتا ہے۔ ”انت من مائنا وهم من فشل“ (انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥) اسی صفحہ پر لکھا ہے۔ ”خدا عرش پر تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔ خدا قادیان میں نازل ہوگا۔“

(البشریٰ ج ١ ص ٥٦، تذکرہ ص ٤٣٧)

”ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جو حق اور بلندی کا مظہر ہوگا۔ گویا خدا ہی آسمان سے اتر آیا۔“

(الاستفتاء ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٢)

مرزا اور مرزائی

میرا یقین نہیں کہ مرزائی درحقیقت ان باتوں کو صحیح سمجھتے ہیں۔ کیونکہ کوئی صاحب عقل انسان ان تمام کتابوں کو پڑھ کر کبھی اس فیصلہ پر قائم نہیں رہ سکتا کہ مرزا قادیانی نبی یا محدث تھا بلکہ اس کو تو ایک معمولی دنیا دار مسلمان بھی سمجھنا قرین قیاس نہیں۔ ہاں! باوجود مرزا قادیانی کے متعلق میرے دل میں بہت نفرت ہے۔ تاہم میں خود بھی اسے ایک حد تک معذور سمجھتا ہوں۔ وہ کیوں! اس کا جواب بھی سن لیجئے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی تصانیف اس بات کی شاہد ہیں کہ وہ مراقی ہے۔ اس لئے یہ اس کا قصور نہیں کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا۔

یقین کیجئے کہ ان مرزائیوں میں تقریباً ٨٠ فیصدی وہ مرزائی ہیں جنہوں نے مرزا قادیانی کی ایک کتاب بھی نہیں پڑھی اور مرزائی مولویوں کے کہنے پر مرزائی ہو گئے اور باقی ٢٠ فیصدی وہ مرزائی ہیں جنہوں نے ان کی تصانیف تو پڑھی ہیں لیکن محض اپنی روٹی کمانے یا چند پیسے پیدا کرنے کے لئے یہ پاکھنڈ بنا رکھا ہے۔ ورنہ ویسے یہ لوگ بھی اس حقیقت کو خوب سمجھتے ہیں۔ مگر جیسے آپ نے کئی بار دیکھا ہے کہ چوری ڈاکہ وغیرہ کاموں کی برائی سے ہر شخص واقف ہے۔ لیکن جن لوگوں کا پیشہ ہو چکا ہے وہ ان افعال سے باز نہیں آتے۔ اسی طرح مرزائی بھی اپنے مذہب کی حقیقت کو خوب جانتے ہیں۔ لیکن دنیوی مفاد کی خاطر باز نہیں آتے۔

مجھے اندیشہ ہے کہ اگر مرزائیت جیسے فتنے اسلامی تنظیم کے شیرازہ بکھیرنے میں مصروف کار رہے تو مسلمانوں کی کمزور قوم جو نہ صرف اقتصادی مصائب میں پھنسی ہوئی ہے۔ بلکہ ایک غیر قوم کی محکوم ہے۔ مشکل سے ان کا انسداد کر سکے گی۔ اب والدین کا اولین فرض ہے کہ اولاد کو مذہبی اصولوں سے واقف کریں۔ اس لئے تمام قوم کا یہ فرض ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی تمام تصانیف کے اہم حصے اخبارات اور رسائل میں شائع کریں اور ساتھ ہی ہر محلہ کی مسجد میں جمعہ کے روز عورتوں کے لئے پردہ کا انتظام کیا جائے۔ وہاں مرزائیت کے اصولوں پر بحث ہو اور عورتوں کو ١٠

بتایا جائے کہ اسلام اور مرزائیت میں کیا فرق ہے وہ یہ تو نہیں جانتیں کہ مرزائیت کیا بیویوں سے یہ سن رکھا ہے کہ مرزائی نہایت خلوص اب ذیل میں مرزا غلام احمد قادیانی کی الہامات درج کرتا ہوں۔ وہ فرماتے ہیں: ”اسی میری ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خدا تعالیٰ نے مجھ بمنزلہ اطفال اللہ کے ہے۔“

(نور القرآن نمبر ١ ص ٣٢، خزائن ج ٩ ص

ص ١٦، خزائن ج ٩ ص ١٨) پر مرزائیات کے طعن اور کیا ہے۔ ”تین دادیاں نانیاں آپ کی بدکار و ظہور پذیر ہوا۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان کسی کنجری لگاوے۔“

پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجز معمولی تدبیر سے کسی شب کور کو اچھا کیا ہو۔ مگر موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہو معجزہ ظاہر ہوا تو آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا کے کچھ نہ تھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١

”یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد گناہ میں پھونک مار کر سچ مچ کا جانور بنا دیتا ہے۔“

اگر مرزا قادیانی کے پیروؤں کو کوئی مرزا قادیانی نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیوں ک متعلق پیش گوئی ہوئی تھی کہ عیسیٰ آئے گا۔

ہندوستان کی تخصیص

اس کے بعد خود مرزا قادیانی اس با

صفحہ ٢٦٥

بتایا جائے کہ اسلام اور مرزائیت میں کیا فرق ہے۔

وہ یہ تو نہیں جانتیں کہ مرزائیت کیا چیز ہے۔ البتہ انہوں نے مرزائی مولویوں کی بیویوں سے یہ سن رکھا ہے کہ مرزائی نہایت خلوص سے اس کی خدمت کر رہے ہیں۔

اب ذیل میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تصانیف کے حوالوں سے ان کے عجیب وغریب الہامات درج کرتا ہوں۔ وہ فرماتے ہیں: ”اسی طرح میں بابو الہی بخش کی نسبت یہ الہام ہے کہ وہ میری ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خدا تعالیٰ نے مجھے انعامات دکھائے گا اور وہ بچہ ہوگا جو ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ کے ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)

(نورالقرآن نمبر ١ ص ٣٢، خزائن ج ٩ ص ٣٧٠، اعجاز احمدی ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٢٠، کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨) پر مرزائیت کے طنز اور طعنہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہ ظاہر کیا ہے۔ ” تین دادیاں و نانیاں آپ کی بدکار و کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور محبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان کسی کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کو ناپاک ہاتھ لگاوے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١ حاشیہ)

پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں کے متعلق ارشاد ہے۔ ”ممکن ہے آپ نے معمولی تدبیر سے کسی شب کور کو اچھا کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اس زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے اور اسی تالاب سے فیصلہ کر دیا کہ اگر کوئی معجزہ ظاہر ہوا تو آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے۔ آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر وفریب کے کچھ نہ تھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

”یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد گمان اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی سے پرند بنا کر اس میں پھونک مار کر سچ مچ کا جانور بنا دیتا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣ حاشیہ)

اگر مرزا قادیانی کے پیروؤں کو کوئی پوچھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی نہیں تھے تو خود مرزا قادیانی نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیوں کیا۔ ایک جگہ کہا ہے کہ میں ہی تو عیسیٰ تھا جس کے متعلق پیش گوئی ہوئی تھی کہ عیسیٰ آئے گا۔

ہندوستان کی تخصیص

اس کے بعد خود مرزا قادیانی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ: ”اس کی تحریک سوائے

١١

صفحہ ٢٦٧

سرزمین ہندوستان کے کہیں اور نہیں پھیل سکتی تھی۔ میں اپنے اس کام کو نہ مکہ میں چلا سکتا ہوں۔ نہ مدینہ میں، نہ روم میں، نہ شام میں، نہ ایران میں، نہ کابل میں۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔“

(اشتہار مورخہ ٢٢/ مارچ ١٨٩٧ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٧٩، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٧٠)

”میرا یہ دعویٰ ہے کہ تمام دنیا میں گورنمنٹ برطانیہ کی طرح کوئی دوسری ایسی گورنمنٹ نہیں جس نے زمین پر ایک امن قائم کیا ہو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ ہم پوری آزادی سے اس گورنمنٹ کے تحت میں اشاعت کر سکتے ہیں یہ خدمت ہم مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں بھی بیٹھ کر نہیں انجام دے سکتے ۔“

(ازالۃ اوہام ص ٥١٦ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٣٠)

اس کے بعد گورنمنٹ کی خدمت میں توجہ کی آرزو کرتا ہے اور کہتا ہے کہ: ”جہاد کے برخلاف احقر نے کئی کتابیں لکھی ہیں۔ تاکہ رعایا کے دل میں جہاد کا خیال نہ آئے۔ بلکہ اگر وہ قادیانی مذہب پر عمل پیرا ہوں تو جہاد کو منسوخ سمجھ لیں ۔“

(اشتہار مورخہ ١٨/نومبر ١٩٠١ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ٢٨، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٣٣)

مسلمانوں کی تکفیر

”مسیح موعود نے اس شخص کو بھی کافر ٹھہرایا ہے جو اسے نبی مانتا تو ہے مگر ابھی اس کو بیعت کرنے میں تامل ہے ۔“

(مندرجہ ضمیمہ الاذہان ج ٦ نمبر ٤، اپریل)

”اس کے علاوہ کل وہ مسلمان جنہوں نے مرزا کی بیعت نہیں کی خواہ انہوں نے مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا کافر ہیں ۔“

(آئینہ صداقت ص ٣٥)

”مجھے الہام ہوا جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا۔ وہ خدا اور رسول کا نافرمان کرنے والا جہنمی ہے ۔“ (معیار الاخیار مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٢٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣) جو مرزا قادیانی پر ایمان نہ لائے گا۔ ”اس کی جڑ کاٹ دی جائے گی ۔“

(اخبار قادیان مورخہ ١٩/جنوری ١٩٠٦ء)

”ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ وہ ہمارے نزدیک خدا کے دین اور نبی کے منکر ہیں ۔“

(انوار خلافت ص ٩٠)

”احمدی کو مسلمانوں کا نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ۔“

(انوار خلافت ص ٩٣)

”اس کے علاوہ اگر کوئی ایسا شخص جس کو احمدیت کی تعلیم نہیں ملی ہے تو اس کا نماز جنازہ بھی جائز نہیں ۔“

(اخبار الفضل مورخہ ١٩ / جولائی ١٩١٥ء)

١٢

”اور ایک ایسا شخص جو مرزا قادیانی کو اچھا ما بھی جائز نہیں ۔“

مراق کا مرض

مرزا قادیانی نے اپنی تصانیف میں جابجا اس ان کے اور ان کے پیروؤں کی تصانیف کے چند اقت مرزا قادیانی کو موروثی نہ تھا۔ بلکہ خارجی اثرات کے ماتح غم اور دماغی محنت اور سؤہضم تھا۔

ڈاکٹر شاہ نواز صاحب قادیانی (ریویو قادیان ہو چکی تو پھر اگلی نسل میں یہ مرض منتقل ہوتا ہے۔ ہاتھ پا ک عضو میں یہ مادہ ہوتا ہے اس سے بخارات اٹھ کر دماغ کو

وو کنگ مسجد مرزائیوں کی نہیں

پچھلے دنوں میں نے اپنے ایک مضمون میں شائع ہوا۔ برلن ولندن کی مسجدوں کے قالینوں و پردوں کی جیبوں پر مرزائیوں کے ڈاکہ کا ذکر کیا تھا۔ لیکن آج معلوم نہیں یہ غلط خیال ہندوستان میں کس طرح پھیل گیا کردہ ہے۔ یہ مسجد سرکار بھوپال کے روپیہ سے تیار ہوئی جنگ حیدرآباد کی یادگار ہے۔

اور دونوں کی تعمیر ایک جرمن عالم ڈاکٹر لائی اسلام سے بڑا انس تھا اور عوام کا خیال تھا کہ وہ دل سے میں ملازم تھے۔ کچھ عرصہ کے لئے انسپکٹر آف سکولز اور ان کا خیال تھا کہ انگلستان میں بھی ہندوستان کا ایک نشا

لندن میں مرزائیوں کی تبلیغ کی حقیقت

ان ہی ایام میں خواجہ کمال الدین کو ایک پر چالیس سال سے مسلمان تھے۔ لیکن مسلمانوں کی مجلس

١٣

صفحہ ٢٦٧

"اور ایک ایسا شخص جو مرزا قادیانی کو اچھا مانتا ہے لیکن بیعت نہیں اس کا نماز جنازہ بھی جائز نہیں۔"

(اخبار الفضل مورخہ ١٩؍ مئی ١٩١٥ء)

مراق کا مرض

مرزا قادیانی نے اپنی تصانیف میں جابجا اعتراف کیا ہے کہ انہیں مراق کا مرض تھا۔ ان کے اور ان کے پیروؤں کی تصانیف کے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیے۔ مراق کا مرض مرزا قادیانی کو موروثی نہ تھا۔ بلکہ خارجی اثرات کے ماتحت پیدا ہوا تھا۔ اس کا باعث سخت تفکرات غم اور دماغی محنت اور سوء ہضم تھا۔

ڈاکٹر شاہ نواز صاحب قادیانی (ریویو قادیان اگست ١٩٣٠ء) ”جب خاندان سے ابتداء ہو چکی تو پھر اگلی نسل میں یہ مرض منتقل ہوتا ہے۔ مالیخولیا کی ایک قسم ہے جس کو مراق کہتے ہیں۔ جس عضو میں یہ مادہ ہوتا ہے اس سے بخارات اٹھ کر دماغ کو چڑھتے ہیں۔“

(شرح اسباب ج ١ ص ٧٤، نولکشور پریس لکھنؤ)

ووکنگ مسجد مرزائیوں کی نہیں

پچھلے دنوں میں نے اپنے ایک مضمون میں جو شاید دسمبر ١٩٣٢ء یا جنوری ١٩٣٥ء میں شائع ہوا۔ برلن ولندن کی مسجدوں کے قالینوں وپردوں کے لئے چندے جمع ہونے اور مسلمانوں کی جیبوں پر مرزائیوں کے ڈاکہ کا ذکر کیا تھا۔ لیکن آج تفصیل سے میں اس پر کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ معلوم نہیں یہ غلط خیال ہندوستان میں کس طرح پھیل گیا کہ ووکنگ مسجد لاہوری مرزائیوں کی تعمیر کردہ ہے۔ یہ مسجد سرکار بھوپال کے روپیہ سے تیار ہوئی تھی اور مسجد کے ساتھ رہائش کا مکان سالار جنگ حیدر آباد کی یادگار ہے۔

اور دونوں کی تعمیر ایک جرمن عالم ڈاکٹر لائٹنر کے اہتمام میں ہوئی تھی۔ ڈاکٹر لائٹنر کو اسلام سے بڑا انس تھا اور عوام کا خیال تھا کہ وہ دل سے مسلمان تھے۔ ہندوستان میں سررشتہ تعلیم میں ملازم تھے۔ کچھ عرصہ کے لئے انسپکٹر آف سکولز اور پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار مقرر ہوئے۔ ان کا خیال تھا کہ انگلستان میں بھی ہندوستان کا ایک نشان قائم کر دیا جائے۔

لندن میں مرزائیوں کی تبلیغ کی حقیقت

ان ہی ایام میں خواجہ کمال الدین کو ایک پرانے مسلمان لارڈ ہیڈلے مل گئے۔ وہ قریباً چالیس سال سے مسلمان تھے۔ لیکن مسلمانوں کی مجلس نہ ملنے کی وجہ سے وہ طریق اسلام کے اظہار

١٣

صفحہ ٢٦٩

نتیجہ یہ ہوا کہ ایک ایک کر کے سب نو مسلم انگریز مصطفےٰ خاں نے قطعاً پرواہ نہ کی۔ یہ ہے ووکنگ مشن جس پر

ووکنگ مسجد کے متعلق ایک ترک کے تاثرات

ایک ترک نے ووکنگ مسجد کو دیکھ کر جو رائے قا ظاہر ہوتی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ ایک بات قابل ذکر ہے۔ کہ مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس آتا ہے کہ مجھے بڑی مایوسی ہوئی۔ میں تو باغیچہ لگا ہوا تھا اور امام کا مکان وسیع تھا۔ لیکن مسجد میں سنسان پڑی تھی۔ نہ مؤذن نہ مصلے حالانکہ نماز کا وقت آچک میں احتیاطاً امام کے گھر گیا جو بالکل قریب ہی ہے۔ وہاں اس وقت ریڈیو کا گانا ہو رہا تھا۔ دروازہ پر کچھ انتظار کرنے رہا تھا۔ میں نے السلام علیک کہا۔ لیکن وہ حیران رہ کر منہ تکنے اسلامی اخلاق کے مطابق یہ بھی نہ کہا کہ آئیے کھڑے جواب دے کر رخصت کر دیا اور دروازہ بند کر لیا۔ یہاں مسجد بنانے کا کیا فائدہ۔ دوسری غیر اسلامی بات یہ نظر آ ایک کتاب پڑی ہوئی تھی جو آئے اس میں اپنا نام لکھ جائے صورت ترکی میں کہیں نظر آتی تو تمام دنیا کے مسلمان کیا کچھ کے واسطے پانی کا کوئی انتظام نہیں۔ صحن میں ایک مختصر حوض تھا سے معلوم ہوتا تھا کہ اس میں بہت کم پانی رہتا ہے۔ جمعہ کا دن ہوا کہ اس سے بڑھ کر مسلمانوں کی کیا بدنامی ہو گی۔ کتا لوگوں کے دستخط تھے۔ یہ حالت دیکھ کر اندازہ ہوا کہ یہاں اس

مرزائیوں کے سبز باغ

صرف جلسوں کے فوٹو دیکھ کر اور اخبارات میں سماتے۔ چندے کی جو اپیلیں شائع ہوتی ہیں ان میں بہت اگرچہ متعلقین بہت جھنجھلاتے اور مخبروں کو بہت جھٹلاتے خالد شیلڈرک ایک انگریز مسلمان نے برلن کی مسجد کے حالا مسجد مسلمانوں کے روپے سے بنی تھی اور یہ کون لوگ ہیں۔

١٥

صفحہ ٢٦٩

نتیجہ یہ ہوا کہ ایک ایک کر کے سب نو مسلم انگریز ان لوگوں سے علیحدہ ہو گئے۔ لیکن مصطفےٰ خاں نے قطعاً پرواہ نہ کی۔ یہ ہے ووکنگ مشن جس پر قوم کا روپیہ تباہ کر دیا گیا۔

ووکنگ مسجد کے متعلق ایک ترک کے تاثرات

ایک ترک نے ووکنگ مسجد کو دیکھ کر جو رائے قائم کی وہ اس کے مندرجہ ذیل خط سے ظاہر ہوتی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ ایک بات قابل ذکر ہے۔ گزشتہ دنوں میں ووکنگ مسجد میں گیا۔ مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس آتا ہے کہ مجھے بڑی مایوسی ہوئی۔ جب میں نے دیکھا کہ امام کے مکان میں تو باغیچہ لگا ہوا تھا اور امام کا مکان وسیع تھا۔ لیکن مسجد میں پچاس آدمیوں کی جگہ بھی نہ تھی۔ بالکل سنسان پڑی تھی۔ نہ مؤذن نہ مصلے حالانکہ نماز کا وقت آچکا تھا۔ جب مجھے وہاں کوئی نظر نہ آیا تو میں احتیاطاً امام کے گھر گیا جو بالکل قریب ہی ہے۔ وہاں بے شک لوگ موجود تھے۔ کیونکہ وہاں اس وقت ریڈیو کا گانا ہو رہا تھا۔ دروازہ پر کچھ انتظار کرنے کے بعد نو عمر طالب علم لڑکا آیا جو پان چبا رہا تھا۔ میں نے اسلام علیک کہا۔ لیکن وہ حیران رہ کر منہ تکنے لگا۔

اسلامی اخلاق کے مطابق یہ بھی نہ کہا کہ آئیے تشریف لائیے بلکہ وہاں ہی کھڑے کھڑے جواب دے کر رخصت کر دیا اور دروازہ بند کر لیا۔ میں نے کہا اگر یہی صورت ہے تو پھر یہاں مسجد بنانے کا کیا فائدہ۔ دوسری غیر اسلامی بات یہ نظر آئی کہ مسجد میں کرسیاں بچھی ہوئی تھیں۔ ایک کتاب پڑی ہوئی تھی جو آئے اس میں اپنا نام لکھ جائے۔ مسجد میں کرسیاں خیال کیجئے۔ اگر یہ صورت ترکی میں کہیں نظر آتی تو تمام دنیا کے مسلمان کیا کچھ نہ کہتے۔ پھر یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ وضو کے واسطے پانی کا کوئی انتظام نہیں۔ صحن میں ایک مختصر حوض تھا لیکن وہ بھی خشک۔ بلکہ اس کی حالت سے معلوم ہوتا تھا کہ اس میں بہت کم پانی رہتا ہے۔ جمعہ کا دن اور مسجد اس قدر ویران یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ اس سے بڑھ کر مسلمانوں کی کیا بدنمائی ہوگی۔ کتاب کھول کر دیکھی تو کثرت سے انگریز لوگوں کے دستخط تھے۔ یہ حالت دیکھ کر اندازہ ہوا کہ یہاں اسلام کی کیا تبلیغ ہو سکتی ہے۔

مرزائیوں کے سبز باغ

صرف جلسوں کے فوٹو دیکھ کر اور اخبارات میں رپورٹ پڑھ کر مسلمان پھولے نہیں سماتے۔ چندے کی جو اپیلیں شائع ہوتی ہیں ان میں بہت دلفریب سبز باغ دکھلائے جاتے ہیں۔ اگرچہ متعلقین بہت جھنجھلاتے اور مخبروں کو بہت جھٹلاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہی ہے پچھلے دنوں خالد شیلڈ رک ایک انگریز مسلمان نے برلن کی مسجد کے حالات لکھتے ہوئے یہی لکھا تھا کہ برلن کی مسجد مسلمانوں کے روپے سے بنی تھی اور یہ کون لوگ ہیں۔ چنانچہ مرزائیوں نے جا کر ان لوگوں کو

١٥

صفحہ ٢٧١

ہاتھوں پر ڈال لیا اور وہاں قبضہ جما لیا اور یہاں عجیب سبز باغ دکھائے۔ برلن کی مسجد کے قالینوں کے لئے چندہ جمع کرتے رہے اور کہتے رہے کہ وہاں سردی زیادہ ہوتی ہے۔ اس لئے قالینوں پر نماز پڑھی جاتی ہے۔ لندن کی مسجد کے پردوں کے لئے روپوں کی ضرورت ظاہر کی جاتی رہی۔ مگر وہاں یہ سب روپے جو مرزائیوں کے نہیں بلکہ مسلمانوں کی جیبوں سے مرزائی نکال لیتے ہیں جا کر سوٹوں اور کھیلوں اور تفریحوں پر صرف کئے جاتے ہیں۔

ایک نیک مشورہ

اس لئے ہندوستان کے مسلمانوں کو چاہئے کہ غیروں کو چندہ نہ دیں۔ بلکہ اگر سب مسلمان مل کر ایک آنہ ماہوار فی کس کے حساب سے ایک فنڈ میں جمع کر دیا کریں تو ہندوستان کے آٹھ کروڑ سے اوپر مسلمانوں کے آٹھ کروڑ آنہ کی رقم سے کون سا بڑے سے بڑا ہسپتال، یتیم خانہ، بیوہ خانہ، مسافر خانہ یا سکول قائم نہیں ہو سکتا۔ یقیناً صرف اس طریقہ سے دو تین سال ایک ایک آنہ جمع کرنے سے مسلمان دنوں میں اس قابل ہو جائیں گے کہ پھر یہ قوم کبھی گری نہ سکے گی۔

مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئیوں کے نتائج

مسلمانوں کی ذہنیت اس قدر ناقص ہو چکی ہے کہ وہ مرزائیوں کے پیچھے فوراً لگ جاتے ہیں اور ان کی باتوں کا فوری یقین کر لیتے ہیں اور نہیں دیکھتے کہ یہ کس شخص کے پیروکار ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی دعاؤں کو خدا کے حضور جو قبولیت حاصل تھی اس کے ثبوت میں اس کی چند پیش گوئیاں اور ان کے نتائج درج ہیں۔

مرزا قادیانی نے (اشتہار مورخہ ٥؍ اپریل ١٩٠٧ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٧٨،٥٧٩) میں بہت لمبی چوڑی دعا اور پیش گوئی شائع کی کہ اے خدا اگر میں سچا نبی ہوں تو مولوی ثناء اللہ صاحب کو تو مرض ہیضہ یا طاعون میں مبتلا کر کے مجھ سے پہلے موت دے دے۔ چنانچہ مرزا قادیانی اسی سال کے اندر مرض ہیضہ میں مبتلا ہو کر مر گئے۔ حالانکہ مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی تھی کہ لعنتی اور مطعون طاعون اور ہیضہ سے مرے گا۔ اس کے بعد مرزا قادیانی کے متعلق ڈاکٹر عبدالحکیم خان نے جو تقریباً بیس سال تک ان کے مریدوں میں شامل رہے بلکہ بعد میں مرزائیت سے توبہ کر کے سچے مسلمان بن گئے۔ مرزا قادیانی کے لئے پیش گوئی کی کہ مرزا تین سال کے اندر فوت ہو جائے گا۔ ادھر مرزا قادیانی نے کہا کہ اگر تو سچا ہو گا تو میں تین سال کے اندر مر جاؤں گا اور اگر میں سچا ہوا تو مجھ سے پہلے مر جائے گا۔ غلام احمد قادیانی کا اشتہار بعنوان خدا سچے کا حامی ہو۔

(مورخہ ١٦؍ اگست ١٩٠٦ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج١٠ص١٠٠، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٥٥ تا ٥٥٩)

١٦

اس کے بعد ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کی پیش گو موصوف کے سامنے تین سال کے اندر مر گیا۔ اس کے ط پوری نہ ہوئی۔ یعنی محمدی بیگم سے نکاح کے بارے میں م دعوے کئے کہ آخر میرے نکاح محمدی بیگم کے متعلق تمام طلاق دے دیں۔ کیونکہ ان کے ایماء سے محمدی بیگم ص٣٩٦، خزائن ج٣ ص٣٠٥، ضمیمہ انجام آتھم ص١٢، خزائ ١٨٨٨ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج اول ص١١٥، مجموعہ اشتہارات ج

محمدی بیگم کو لالچ اور دھمکی دی گئی کہ شادی

خزائن ج٥ ص ایضاً ملخص)...... (خط بنام مرزا علی شیر بیگ، لف اقبال گنج مورخہ ١٤؍ مئی ١٨٩١ء، تیسرا خط مرزا احمد بیگ کے نام مو الرحمانی ص١٢٣ تا ١٢٨، مورخہ ٢٨؍ ستمبر ١٨٩١ء، مکتوبات احمدیہ ج رسالت ج٣ص ١٦٦ حاشیہ دوم، مجموعہ اشتہارات ج٢ص٩٥) (حقیقت الوحی ص١٩١، خزائن ج٢٢ ص١٩٨) ج

احمد کو مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت نہ ماننے اور محمدی الزام میں عاق کر دیا۔ اس کے بعد محمدی بیگم سے نکاح تک کہ اس کے شوہر کی موت کی بھی پیش گوئی کر دی گئی

حسب ذیل ہیں: (انجام آتھم ص٢٢٣، خزائن ج١١ ص ایض ج٢ص٨٥، مجموعہ اشتہارات ج١ص٣٠١، اعلان مورخہ ٦؍ م مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٣٩ تا ٤٤، انجام آتھم ص٣١، خز ٢٧؍ اکتوبر ١٨٩٣ء، تبلیغ رسالت ج٣ص١٨٦، مجموعہ اشتہارا ص٣٠٦، ریویو قادیان بابت ١٩٠٨ء ص٧٩) آخر میں ناکامی نظر آتی ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ محمدی بیگم کا نکا

مرزائے قادیان اور خدائی سیاہی کے داغ

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ایک مخلص دوسر ظاہر ہوا۔ مجھے کشفی طور پر دکھلایا گیا کہ میں نے بہت

١٧

صفحہ ٢٧١

اس کے بعد ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کی پیش گوئی کے مطابق مرزا قادیانی ڈاکٹر صاحب موصوف کے سامنے تین سال کے اندر مر گیا۔ اس کے علاوہ مرزا کی ایک اور پیش گوئی تھی جو قبر تک پوری نہ ہوئی۔ یعنی محمدی بیگم سے نکاح کے بارے میں مرزا قادیانی نے حسب ذیل موقع پر بار بار دعوے کئے کہ آخر میرے نکاح محمدی بیگم کے متعلق تمام خویش و اقارب کو حکم ہو گیا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دیں۔ کیونکہ ان کے ایماء سے محمدی بیگم کا نکاح کسی اور جگہ ہو گیا تھا۔ (ازالہ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥، ضمیمہ انجام آتھم ص ١٢، خزائن ج ١١ ص ٢٩٧ حاشیہ، اشتہار مورخہ ١٠ جولائی ١٨٨٨ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج اول ص ١١٥، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨، ١٥٩)

محمدی بیگم کو لالچ اور دھمکی دی گئی کہ شادی کرے۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٤، ٥٧٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً ملخص) ...... (خط بنام مرزا علی شیر بیگ، لدھیانہ اقبال گنج مورخہ ٢؍مئی ١٨٩١ء، دوسرا خط از اقبال گنج مورخہ ١٢؍مئی ١٨٩١ء، تیسرا خط مرزا احمد بیگ کے نام مورخہ ١٧؍جولائی ١٨٩٢ء بموجب نقول از رسالہ کلمۃ الفضل الرحمانی ص ١٢٤ تا ١٢٨، مورخہ ٢٨؍ ستمبر ١٨٩١ء، مکتوبات احمدیہ ج ٥ ص ٤٣ تا ٤٤، اشتہار انعامی چار ہزار مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٣ ص ١٢٦ حاشیہ دوم، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٩٥)

(حقیقت الوحی ص ١٩١، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٨) مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے بیٹے سلطان احمد کو مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت نہ ماننے اور محمدی بیگم سے نکاح ہونے کی رکاوٹ کرنے کے الزام میں عاق کر دیا۔ اس کے بعد محمدی بیگم سے نکاح ہونے کا دعویٰ بدستور قائم رہا۔ بلکہ یہاں تک کہ اس کے شوہر کی موت کی بھی پیش گوئی کر دی گئی۔ ان مختلف دعوؤں اور الہاموں کے ثبوت حسب ذیل ہیں: (انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً، الہام مورخہ ٢٧؍ستمبر ١٨٩١ء مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٨٥، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣٠١، اعلان مورخہ ٦؍ستمبر ١٨٩٤ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٣ ص ١١٥، ١١٦، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٩ تا ٤٤، انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ٣١، انعامی چار ہزار اشتہار مورخہ ٢٧؍اکتوبر ١٨٩٤ء، تبلیغ رسالت ج ٣ ص ١٨٦، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٩٥، ازالہ اوہام ص ٣٩٨، خزائن ج ٣ ص ٣٠٦، ریویو قادیان بابت ١٩٠٨ء ص ٢٧٩) آخر میں مرزا قادیانی کو مایوس ہو کر جب ناکامی ہی ناکامی نظر آتی ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ محمدی بیگم کا نکاح میرے ساتھ آسمان پر پڑھا گیا۔

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٩)

مرزائے قادیان اور خدائی سیاہی کے داغ

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ایک مخلص دوست عبداللہ نام پٹواری کے سامنے نشان الٰہی ظاہر ہوا۔ مجھے کشفی طور پر دکھلایا گیا کہ میں نے بہت سے احکام قضا و قدر اہل دنیا کی نیکی بدی کے

١٧

صفحہ ٢٧٣

متعلق نیز اپنے اور اپنے دوستوں کے لئے لکھے تھے۔ پھر تمثیل کے طور پر خداوند تعالیٰ کو دیکھا اور وہ کاغذ اس کے سامنے رکھ دیا۔ تاکہ خداوند تعالیٰ اس پر دستخط کر دیں۔ خدا نے سرخی کی سیاہی سے دستخط کر دیئے۔ چونکہ نوک پر سرخی زیادہ تھی اس لئے خدا نے جب قلم جھاڑی تو اس سرخ سیاہی کے ترہتر قطرے میرے اور عبداللہ کے کپڑوں پر پڑ گئے۔

مرزا قادیانی کے انگریزی الہامات

پھر خدا نے انگریزی میں مرزا قادیانی کو مندرجہ ذیل الہام کئے۔ ان الہامات میں مرزا قادیانی کے خدا کی کوثر میں دھلی ہوئی زبان ملاحظہ ہو:

I love you. I am with you, Yes I am happy life of pins. I shall help you. I can what I can do. God is comming by his army, He is what you to kill enemy. The days will come when God shall help you. Glory bo to the God makers of earth and Heaven.

(براہین احمدیہ ص ٤٨٠، خزائن ج ١ ص ٥٧١، ٥٧٢، ٥٧٥ حاشیہ)

پھر مرزا قادیانی خود ہی کہتے ہیں کہ: ”یہ بالکل بیہودہ اور غیر معقول امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی اور ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)

اس کے بعد ٢٧؍ دسمبر ١٨٩١ء میں مرزا قادیانی کو گیت الہام ہوا جو ہندوؤں کی صورت میں تھا۔ نمونہ کے طور پر ٢٢، ٢٨، ٣٤، ٤٢، ٤٧۔

(البشریٰ ج ٢ ص ١٧، مجموعہ الہامات)

انبیائے کرام کے متعلق مرزا قادیانی کے خیالات

مرزا قادیانی چونکہ مراق کے مریض تھے اور میں بار بار بتا آیا ہوں کہ یہ مرزا قادیانی کے بس کی بات نہ تھی۔ اس لئے ان باتوں کو طوالت سے نہیں لکھا۔ کیونکہ اتنا وقت نہ تھا۔ ذیل میں پھر تھوڑے سے ایسے ضروری حوالے درج کرتا ہوں کہ حضرت امام حسینؓ و صحابہ کرامؓ کے متعلق مرزا قادیانی کیا کہتا ہے۔ یعنی مرزا قادیانی خود کو حضرت امام حسینؓ سے بھی رتبہ میں بڑھ کر ظاہر کرتا ہے۔

(نزول مسیح ص ٤٥ تا ٥٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٣ تا ٤٢٨)

١٨

حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر فضیلت۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ پر فضیلت۔

(حقیقۃ الوحی ص ١٥٢، معیار الاخبار اشتہار مندرجہ تبلیغ ر

تمام انبیاء پر فضیلت۔ (در ثمین فارسی مرزا بشیر ایم۔اے، حقیقۃ الوحی ص ٢٥٧، استفتاء ص ٨٧، خزا

حضرت آدم علیہ السلام پر فضیلت۔ حضرت نوح علیہ السلام پر فضیلت۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت۔ (ح ص ٢٣، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٤، حقیقۃ الوحی ص ١٥٢، خزائن

انبیاء کی ہتک۔ (بشیر الدین محمود کی تقریر تم کہتے ہو میں نے حضرت عیسیٰ کی ہتک رسول اللہ ﷺ کی عزت کروں۔ اوّل یہ تو ہے غلط عزت کرتے ہیں۔ لیکن اگر ایسا کرنے میں کسی کی ہتک

پیغمبر اسلام پر مرزا قادیانی کی برتری ثاب

پھر مرزا بشیر الدین (انوار خلافت ص ١٨ ایمان ہے کہ احمد کا لفظ قرآن کریم میں مسیح موعود پ الفصل ص ١١٣) میں لکھتا ہے۔ ”پس ظلی نبوت نے بڑھا دیا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو کر دیا۔“

مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے: ”نبی ہوا اور مجھ سے چاند اور سورج دونوں کا۔“

”مسیح موعود کا منکر اگر کافر نہیں تو نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں۔“ (ریویو

”حضرت مسیح موعود کا ذہنی ارتقاء آ ترقی زیادہ ہوئی اور یہ جزوی فضیلت ہے۔ حضو کی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور بوجہ تمدن کے نقص

صفحہ ٢٧٣

کے طور پر خداوند تعالیٰ کو دیکھا اور وہ ویں۔ خدا نے سرخی کی سیاہی سے ب قلم جھاڑی تو اس سرخ سیاہی کے

ل الہام کئے۔ ان الہامات میں

I love you. I am with yo I shall help God is com to kill enemy. The days w Glory bo to the G

٤، خزائن ج١ ص ٥٧، ٧٥ حاشیہ)

ور غیر معقول امر ہے کہ انسان کی وہ سمجھ نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں

قت ص ٢٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢١٨)

الہام ہوا جو ہندوؤں کی صورت

بشری ج ٢ ص ١٧، مجموعہ الہامات)

ہ بتایا ہوں کہ یہ مرزا قادیانی کیونکہ اتنا وقت نہ تھا۔ ذیل میں ام حسینؓ و صحابہ کرامؓ کے متعلق ا سے بھی رتبہ میں بڑھ کر ظاہر

٥٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٣، ٤٣٨)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر فضیلت۔

(اخبار الحکم قادیان نومبر ١٩١٢ء)

حضرت ابوبکر صدیق پر فضیلت۔

(حقیقت الوحی ص١٥٢، معیار الاخبار اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٣٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨)

تمام انبیاء پر فضیلت۔

(درثمین فارسی ص١٣٨، ١٧١، ١٧٢) (کلمۃ الفصل ص١١٣ مصنفہ

مرزا بشیر ایم۔اے، حقیقت الوحی ص٢٥٧، استفتاء ص٨٧، خزائن ج٢٢ ص٧١٥)

حضرت آدم علیہ السلام پر فضیلت۔

(خطبۃ الہامیہ ص ت، خزائن ج١٦ ص٣١٢)

حضرت نوح علیہ السلام پر فضیلت۔

(تتمہ حقیقت الوحی ص١٣٧، خزائن ج٢٢ ص٥٧٥)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت۔

(حقیقت الوحی ص١٤٨، خزائن ج٢٢ ص١٥٢، چشمہ مسیحی

ص٢٢، خزائن ج٢٠ ص٣٥٤، حقیقت الوحی ص١٥٣، خزائن ج٢٢ ص١٥٧)

انبیاء کی ہتک۔

(بشیر الدین محمود کی تقریر لائل پور مندرجہ اخبار الفضل مورخہ ٢٥ مئی ١٩٣٣ء)

تم کہتے ہو میں نے حضرت عیسیٰ کی ہتک کی ہے۔ یاد رکھو میرا مقصد یہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت کروں۔ اوّل یہ تو ہے غلط کہ ہم کسی نبی کی ہتک کرتے ہیں۔ ہم تو سب کی عزت کرتے ہیں۔ لیکن اگر ایسا کرنے میں کسی کی ہتک ہوتی ہے تو ہو۔

پیغمبر اسلام پر مرزا قادیانی کی برتری ثابت کرنے کی کوشش

پھر مرزا بشیر الدین (انوار خلافت ص ١٨) پر لکھتا ہے۔ ’’میرا یقین بڑھتا جاتا ہے اور میرا ایمان ہے کہ احمد کا لفظ قرآن کریم میں مسیح موعود کے متعلق ہے۔‘‘ پھر مرزا بشیر احمد ایم۔ اے (کلمۃ الفصل ص ١١٣) میں لکھتا ہے۔ ’’پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کا قدم پیچھے نہیں ہٹایا اور اس قدر آگے بڑھا دیا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو کر دیا۔‘‘

مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے۔ ’’نبی کریم سے تو صرف نشان چاند کے گرہن کا ظاہر ہوا اور مجھ سے چاند اور سورج دونوں کا۔‘‘

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

’’مسیح موعود کا منکر اگر کافر نہیں تو نبی کریم ﷺ کا منکر بھی کافر نہیں۔ کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں۔‘‘

(ریویو قادیان منقول از جماعت مباہلین کے عقائد صحیحہ ص٣٢)

’’حضرت مسیح موعود کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا۔ اس زمانہ میں تمدنی ترقی زیادہ ہوگی اور یہ جزوی فضیلت ہے۔ حضرت مسیح موعود کو آنحضرت پر حاصل ہے۔ نبی کریم کی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور بوجہ تمدن کے نقص کے نہ ہوا۔ ورنہ قابلیت تھی۔‘‘

(ریویو قادیان ١٩٣٥ء)

١٩

صفحہ ٢٧٤

”اگر محمد ﷺ زندہ ہوتے تو انہیں چارہ نہ تھا۔ سوائے اس کے کہ وہ مسیح موعود کی اتباع کرتے۔ یعنی مسیح موعود آقا ہوتے اور رسول اللہ ﷺ (نعوذ باللہ) تبع اور غلام ہوتے۔“

(ڈاکٹر بشارت احمد لاہوری کا مضمون مندرجہ اخبار پیغام صلح لاہور ٧؍ جون ١٩٣٢ء)

جے سنگھ بہادر

”صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور انجیل اور دانیل اور دوسرے نبیوں کی کتابوں میں جہاں میرا ذکر کیا گیا ہے وہاں میری نسبت نبی کا لفظ بولا گیا اور بعض نبیوں کی کتابوں میں بطور استعارہ فرشتہ کا لفظ آگیا ہے۔ دانیل نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی زبان میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں۔ (خدا کی مانند)“

(اربعین نمبر ٣ حاشیہ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)

(البشریٰ ج ١ ص ٥٦، تذکرہ ص ٣٨١ طبع ٣) مرزا غلام احمد کرشن جی رُودر گوپال ہے۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١١٨، تذکرہ ص ٦٧٢ طبع ٣) پر مرزا غلام احمد قادیانی امین الملک جے سنگھ بہادر ہے۔

اب آپ خود ہی غور کر لیں جو خدا کی مانند بن چکا ہے اور جس نے کہیں تو خدا کو اپنا خاوند بتایا ہے۔ کہیں کہا ہے۔ میں تو خدا کی مانند ہوں۔ کہیں کہا ہے خدا نے مجھے الہام کیا ہے کہ تمہارے گھر ایسا لڑکا دوں گا جیسے خود خدا اتر آیا۔ کہیں کچھ، اس شخص پر کون سا احمق ہوگا جو یقین کرے گا۔

نبی کی تو پہلی نشانی یہ ہے کہ وہ سچا، سنجیدہ اور مدبر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اپنے سے پہلے تمام نبیوں کی عزت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ خود کو خدا کے برابر نہیں سمجھتا۔ لیکن مرزا قادیانی ان سب باتوں کے خلاف نظر آتا ہے۔ اگر مرزا قادیانی ایسا نہ بھی کرتا تو نبوت کا دعویٰ ہم کسی صورت میں ماننے کو تیار نہیں۔ کیونکہ شریعت بالکل مکمل آچکی ہے اور اس مذہب میں کسی زمانہ میں کسی موقع محل کے مطابق کوئی نقص نہیں اور کوئی بات ایسی ادھوری نہیں رہ گئی۔ جس کو پورا کرنے کے لئے کسی نبی کی ضرورت ہو۔

ولی ہر وقت آسکتے ہیں مگر مرزا قادیانی میں ولیوں کی سی کوئی صفت نہ تھی تو ہم مرزا قادیانی کو معمولی مسلمان بھی شمار نہیں کر سکتے۔ پھر اس کی جماعت اور پیروؤں کو مسلمان کیونکر سمجھ سکیں۔

٢٠

خاتم النبیین

تازیانہ ٦

(متنبی قادیان قانون

مولانا کرم الدین

PDF 276

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

تازیانہ عبرت

(متنبی قادیان قانونی شکنجہ میں)

مولانا کرم الدین دبیر رحمۃ اللہ علیہ

صفحہ ٢٧٦

نذر مُحَقَّر!

میں اپنی اس ناچیز تصنیف کو خلوص قلب سے بندگان عالی حضرت قبلہ خواجہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ سجادہ نشین گولڑہ شریف کے اسم گرامی سے معنون کرتا ہوں۔ ماشاء اللہ! آپ اوج فضل و کمال کے نیر تاباں اور سپہر علم و عرفان کے مہر درخشاں ہیں۔ اسلام و اسلامیان کو آپ کی ذات والا پر فخر و ناز ہے۔ آپ ہی وہ مقدس ہستی ہیں جن کو شرف حسب و نسب کے علاوہ جملہ علوم ظاہریہ و باطنیہ میں کمال حاصل ہے۔ خلق خدا آپ کے چشمۂ فیض سے سیراب ہو رہی ہے اور عقیدت مندان دربار آپ کے سایۂ عاطفت میں دینی و دنیوی برکات سے مالا مال ہو رہے ہیں۔ اس کتاب کو آپ کے نام نامی سے معنون کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جن مقدمات کا کتاب ہذا میں تذکرہ ہے ان میں خاکسار کو کامیابی اور مخالف فریق کو شرمناک شکست خدا کے فضل اور آپ ہی کی دعا و برکت کا نتیجہ ہے۔

آپ ہی نے لاہور شاہی مسجد میں رونق افروز ہو کر حق کا جھنڈا بلند کیا اور دعویدار نبوت و رسالت مرزائے قادیان کو میدان میں مقابلہ کے لئے للکارا۔ لیکن آپ کے علمی تبحر اور مسلم الثبوت کمالات سے دہشت زدہ ہو کر قادیانی کو سوائے قادیان کی چار دیواری میں مخفی ہونے کے چارہ نظر نہ آیا۔ اسی روز سے مرزائیت کا طلسم ٹوٹ کر دجالی فتنہ کا استیصال ہو چکا تھا۔ قادیانی کا رہا سیاہ پردہ مقدمہ بازی میں فاش ہو کر اس کے دجل و فریب کا پول کھل گیا اور اس کے مکر و تلبیس کا خاتمہ ہو گیا۔

ایزد متعال ہمارے غوث وقت قطب زمان حضرت پیر صاحب کا ظل ہمایوں دیر تک متوسلین دربار کے سروں پر قائم و دائم رکھے۔

ایں دعا از من واز جملہ جہاں آمیں باد

اخیر میں خاکسار اپنی یہ نذر محقر بامید قبولیت بارگاہ عالی میں پیش کرنے کی جسارت کرتا ہے۔

گر قبول افتد زہے عز و شرف

خاکسار مصنف

٢

صفحہ ٢٧٧

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

باعث اشاعت کتاب !

آج سے قریباً اٹھائیس سال پہلے چند فوجداری مقدمات میرے اور مرزائیوں کے مابین جہلم و گورداسپور میں ہو گزرے ہیں۔ ان میں سے ایک مقدمہ خاکسار کی جانب سے مرزا غلام احمد قادیانی بانی سلسلۂ مرزائیت کے خلاف ازالۂ حیثیت عرفی کا تھا۔ اس مقدمہ میں مرزا قادیانی قریباً دو سال تک سرگردان رہے اور ہر قسم کی تکالیف کا نشانہ بنے رہے۔ آخر عدالت سے سزایاب ہوگئے اور اپیل میں بڑے مصارف کے بعد ایک انگریز وکیل کی خدمات حاصل کر کے بمشکل سزا سے رہائی حاصل ہوئی۔ ان مقدمات کی روئیداد اکثر اخبارات بالخصوص سراج الاخبار جہلم میں شائع ہوتی رہی تھی۔ پھر احباب کے اصرار پر علیحدہ کتابی صورت میں بھی چھاپی گئی جو اسی وقت ہاتھوں ہاتھ بک گئی۔ چونکہ نتائج مقدمہ مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کے حسب مراد نہ تھے۔ اس لئے مرزائیوں نے مقدمات کی کوئی روائیداد شائع نہ کی۔ لیکن بعد میں مرزا قادیانی نے حسب عادت خود اپنی تصانیف نزول المسیح اور حقیقت الوحی میں ان مقدمات کو بھی اپنی پیش گوئیوں اور نشانات کی فہرست میں داخل کیا۔ ان کے حواری مولوی محمد علی ایم۔اے اور مرزا محمود نے بھی اپنی بعض کتابوں میں ان مقدمات کا تذکرہ اسی پیرایہ میں کیا۔ چونکہ مرزا قادیانی تھوڑے عرصہ کے بعد رہگور عالم جاودانی ہو گئے تھے۔ اس لئے ہم نے اس بارہ میں سکوت اختیار کیا۔ لیکن بعض احباب نے جب مرزائیوں کی وہ لن ترانیاں سنیں انہوں نے اصرار کیا کہ روئیداد مقدمات دوبارہ شائع کی جاکر پبلک کو اصل حقیقت سے آگاہ کردیا جائے کہ مقدمات کے نتائج وعواقب مرزا اور ان کی جماعت کے حق میں باعث کامیابی نہیں بلکہ انتہائی ذلت کا باعث تھے۔ اگر صحیح کیفیت دوبارہ نہ شائع کی جاوے تو بہت سے ناواقف اشخاص کو بہت کچھ مغالطہ ہوگا۔ اس امر کا مشورہ دینے والوں میں میرے مخلص دوست مولوی حکیم غلام محی الدین صاحب دیالوی صاحب تو عرصہ سے مصر ہورہے تھے۔ ایک دفعہ انجمن شباب المسلمین بٹالہ میں جناب مولوی سید مرتضیٰ حسن صاحب (دیوبندی) سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بھی بڑی سخت تاکید فرمائی کہ روئیداد ضرور شائع ہونی چاہئے۔ اس لئے اب یہ روئیداد مکرر بہت سی ترمیم اور ایزادی مضامین کے ساتھ شائع کی جاتی ہے۔ غالباً کتاب کا مطالعہ ناظرین کی دلچسپی کا باعث ہوگا اور ممکن ہے کہ کوئی طالب حق مرزائی اس کو پڑھ کر راہ راست پر آجائے۔ واللّٰه هو الهادی! خاکسار: مصنف

صفحہ ٢٧٩

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

متنبی قادیان قانونی شکنجہ میں

گورداسپور کے فوجداری مقدمات

نحمده ونصلى على رسوله الكريم!

متنبی قادیان یعنی مرزاغلام احمد ولد مرزاغلام مرتضیٰ ملک پنجاب قریہ قادیان میں مغلوں کے گھر پیدا ہوئے۔ اردو، فارسی کے علاوہ کسی قدر علوم عربیہ کی تعلیم بھی حاصل کی۔ علم طب میں بھی کچھ دخل تھا۔ پہلے آپ سیالکوٹ میں ایک ادنیٰ ملازمت (محرر جرمانہ) کی اسامی پر نوکر تھے۔ پھر آپ کو قانون پڑھ کر وکیل بننے کی ہوس ہوئی۔ قانونی کتب کی رٹ لگا کر امتحان مختاری میں شامل ہوئے۔ جس میں کامیابی نہ ہوئی۔ بالآخر بہت کچھ سوچ بچار کے بعد یہ بات سوجھی کہ بحث ومباحثہ کا سلسلہ چھیڑ کر پہلے شہرت حاصل کی جائے ۔ازیں بعد ملہمیت مجددیت وغیرہ دعاوی کی اشاعت کر کے کچھ لوگ اپنے معتقد بنا لئے جائیں اور عوام کو دام تزویر میں پھنسا کر خوب لوٹا جائے۔ زمانہ آزادی کا تھا۔ شہرت وناموری حاصل کرنے کے لئے پریس قوی ذریعہ موجود تھا۔ بحث ومباحثہ کی طرح ڈال کر آریاؤں عیسائیوں سے چھیڑ خانی شروع کر کے اشتہار بازی کی گئی۔ جب پبلک کی ادھر کسی قدر توجہ ہوئی تو ایک لمبا چوڑا اشتہار دیا گیا کہ حقانیت اسلام کے متعلق ایک کتاب تصنیف کی گئی ہے۔ (براہین احمدیہ) جو تین سو جزو کی ہے اور اس میں تین سو زبردست دلائل صداقت اسلام کے لکھے گئے ہیں۔ اس کی قیمت فی جلد پچیس روپیہ مشتہر کی گئی۔ لوگ اشتہار دیکھ کر فریفتہ ہو گئے اور دھڑا دھڑ روپے آنے شروع ہو گئے۔ حتیٰ کہ تھوڑے دنوں میں دس ہزار روپیہ مرزا قادیانی کے پاس جمع ہو گیا۔ کتاب بمشکل پینتیس جزو کی لکھی جاسکی۔ لیکن دلائل کا نمبر ایک سے بڑھ نہ سکا اور یہ ٣٥ جز بھی اس طرح پورے ہوئے کہ صفحہ پر جلی قلم سے چند سطور لکھ کر صفحہ پورا کر دیا گیا۔ خریدار اس انتظار میں رہے کہ ضرور تین سو جزو کتاب میں تین سو زبردست دلائل حقانیت اسلام وافضلیت قرآن کریم کا مطالعہ کریں گے اور مرزا قادیانی لطائف الحیل سے وعدہ وعید بھی کرتے رہے۔ چنانچہ اپنی آخری کتاب میں لکھا کہ ٢٣ واں سال ختم نہ ہوگا کہ ٣ سو نشان لکھ دیئے جائیں گے۔ لیکن یہ سب کچھ دروغبانی اور طفل تسلی تھی نہ کتاب کے تین سو جزو پورے ہوئے۔ نہ تین سو دلائل لکھے جاسکے۔

٤

آخر دلائل کی جگہ ان نشانات نے لے ل روز ہمیں اتنے روپے وصول ہو گئے۔ فلاں روز ہما پھسل گیا۔ فلاں فلاں لڑکا حرم سراء میں پیدا ہو گیا۔

ذلك من الخرافات ! ان نشانات پر ہم کسی قدر تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ چنانچہ آخری یہی نمبر تتمہ حقیقۃ

مناسب تو یہ تھا کہ مرزا قادیانی کی اس ہوشیار ہو جاتے اور سمجھ لیتے کہ یہ سب دکانداری

لیکن دنیا میں بہت سے عقل کے اندھے ایسے بھی بازوں کی دکان کی گرم بازاری کا باعث بنتے ہیں میں داخل ہو گئے۔ مرزا قادیانی کا اس سے حوصل لگے۔ پہلے صرف ملہمیت اور مجددیت کا دعویٰ ہوئے۔ بالآخر کامل ومکمل نبی ورسول ہونے کا دعو اور نئی زمین کی خالقیت کا بھی دم بھرنے لگے اور تراشنے گئے۔ (ان کی تفصیل آگے آئے گی)

مرزا قادیانی کا جہاد

اگرچہ مرزا قادیانی (عصمت بی بی باعث انگریزوں کو خوش کرنے کے لئے حرمت جہاد

اب چھوڑ دو جہاد
دیں کے لئے حرام

لیکن آپ کے جہاد باللسان والقلم ک بچ سکی۔ بلکہ سچ پوچھو تو انبیاء کرام بالخصوص نبی آ کی بدگوئی کا نشانہ بنے۔

(مرزا محمود قادیانی) نے ایک پوری کمپنی جنگ عظیم سے جنگ کریں۔ نیز جس روز تعداد انصاری کے

صفحہ ٢٧٩

آخر دلائل کی جگہ ان نشانات نے لے لی جو حقیقت الوحی میں لکھے گئے ہیں کہ فلاں روز ہمیں اتنے روپے وصول ہو گئے۔ فلاں روز ہماری طبیعت علیل ہو گئی۔ فلاں دن لڑکے کا پاؤں پھسل گیا۔ فلاں فلاں لڑکا حرم سراء میں پیدا ہو گیا۔ فلاں مقدمہ میں ہمیں جیت ہوئی۔ وغیرہ ذلك من الخرافات ! ان نشانات پر ہم کسی قدر روشنی ڈالیں گے۔ لیکن ان نشانات کا نمبر بھی ٢٠٥ تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ چنانچہ آخری یہی نمبر تتمہ حقیقت الوحی میں درج ہو کر خاتمہ ہو گیا ہے۔

مناسب تو یہ تھا کہ مرزا قادیانی کی اس صریح دھوکہ بازی اور ابلہ فریبی کو دیکھ کر مسلمان ہوشیار ہو جاتے اور سمجھ لیتے کہ یہ سب دکانداری ہے اور روپیہ ٹھگ بٹورنے کا سامان ہے اور بس۔ لیکن دنیا میں بہت سے عقل کے اندھے ایسے بھی موجود ہیں کہ اپنی خوش اعتقادی سے ایسے ٹھگ بازوں کی دکان کی گرم بازاری کا باعث بنتے ہیں۔ چنانچہ کئی ایک اشخاص آپ کے حلقہ مریدی میں داخل ہو گئے۔ مرزا قادیانی کا اس سے حوصلہ بلند ہو گیا۔ وہ طرح طرح کے دعاوی کرنے لگے۔ پہلے صرف ملہمیت اور مجددیت کا دعویٰ کیا۔ پھر ظلی و بروزی نبی کے بھیس میں جلوہ گر ہوئے۔ بالآخر کامل و مکمل نبی و رسول ہونے کا دعویٰ فرمایا۔ بلکہ الوہیت کا جامہ پہن کر نیا آسمان اور نئی زمین کی خالقیت کا بھی دم بھرنے لگے اور ابن اللہ بلکہ معاذ اللہ ابو اللہ ہونے کے بھی الہام تراشنے لگے۔ (ان کی تفصیل آگے آئے گی)

مرزا قادیانی کا جہاد

اگرچہ مرزا قادیانی (عصمت بی بی از بے چادری) جہاد بالسیف کی قدرت نہ رکھنے کے باعث انگریزوں کو خوش کرنے کے لئے حرمت جہاد کا فتویٰ دے کر یوں گہر افشانی کرنے لگے؎

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)

لیکن آپ کے جہاد باللسان والقلم کی زد سے ہندو، مسلمان عیسائی وغیرہ کوئی قوم بھی نہ بچ سکی۔ بلکہ سچ پوچھو تو انبیاء کرام بالخصوص نبی آخر الزمان ﷺ اور آپ کی آل اطہار تک بھی مرزا کی بدگوئی کا نشانہ بنے۔

١؎ والد ماجد (مرزا قادیانی) نے تو حرمت جہاد کا فتویٰ دے دیا۔ لیکن فرزند ارجمند (مرزا محمود قادیانی) نے ایک پوری کمپنی جنگ عظیم کے موقعہ پر بھرتی کرا دی تاکہ وہ مسلمانوں (ترکوں) سے جنگ کریں۔ نیز جس روز بغداد نصاریٰ کے ہاتھ پر فتح ہوا۔ مرزائیوں نے چراغاں کیا۔

٥

صفحہ ٢٨٠

توہین انبیاء

سب سے اول آپ کی دشنام طرازی کا تختہ مشق حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام بنے۔ جن کے آپ جانشین اور مثیل بھی بنتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک کنجری (کسبی) کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر ناپاک ہاتھ لگائے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

یہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات کی توہین ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ”وجیہاً فی الدنیا والآخرة ومن المقربین“ فرما کر ان کی توصیف کی ہے۔ پھر ان کے معجزات کی تحقیر کی جن کی شہادت صریح طور پر قرآن میں پائی جاتی ہے۔ چنانچہ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) پر رقمطراز ہیں: ”ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شبکور کو اچھا کیا ہو یا کسی اور بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اس زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا۔ جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے اور کچھ نہ تھا۔“

ایسا ہی (ازالہ اوہام ص ٣٠٢، حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) میں لکھا ہے: ”جو لوگ فرعون کے وقت مصر میں ایسے ایسے کام کرتے تھے جو سانپ بنا کر دکھلا دیتے تھے اور کئی قسم کے جانور تیار کر کے ان کو زندہ جانوروں کی طرح چلا دیتے تھے۔ وہ حضرت مسیح کے وقت عام طور پر یہودیوں میں پھیل گئے اور یہودیوں نے ان کے بہت سے ساحرانہ کام سیکھ لئے تھے۔ سو تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور پر ایسے طریق (یعنی سحر اور جادوگری) پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسا پرندہ پرواز کرتا ہے۔“

صفحہ ٢٨١

دوسری جگہ (ازالۃ الاوہام ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧) میں ارشاد ہوتا ہے: ”اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن و حکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب (مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا ہو تو خدا تعالیٰ کے فضل سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“

اسی کتاب کے (ص ٣٠٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤ حاشیہ) پر درج ہے: ”مسیح اپنے باپ لے یوسف کے ساتھ بائیس برس تک نجاری کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایسا ہے جس میں کلوں کی ایجاد میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔ پس کچھ تعجب نہیں کہ مسیح نے دادا سلیمان کی طرح یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو ایسا معجزہ عقل سے بعید بھی نہیں۔ حال کے زمانہ میں بھی اکثر صناع ایسی ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ بولتی بھی ہیں ہلتی بھی ہیں۔ دم بھی ہلاتی ہیں اور میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں۔ بمبئی اور کلکتہ میں ایسے کھلونے بہت بنتے ہیں۔“

جائے غور ہے کہ اللہ تعالیٰ تو حضرت مسیح کے معجزات کو ان کی فضیلت اور کمال نبوت کا نشان قرار دے کر یوں بیان فرمائے: ”انی قد جئتکم بایۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کہیئۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیراً باذن اللہ وابرئ الاکمہ والابرص واحی الموتیٰ باذن اللہ وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم انّ فی ذلک لایۃ لکم ان کنتم مؤمنین“ (بیشک میں تمہارے پاس تمہارے رب سے یہ معجزات لے کر آیا ہوں کہ میں مٹی سے پرند کی سی صورت بنا کر اس میں پھونک مارتا ہوں۔ پس وہ خدا کے حکم سے پرند ہو جاتی ہے اور میں بحکم خدا مادر زاد اندھے کو بینا کرتا اور مردے زندہ کرتا ہوں اور تمہیں بتا دیتا ہوں جو تم کھاتے اور جو گھروں میں ذخیرہ بنا رکھتے ہو۔ بیشک اس میں تمہارے لئے بڑا معجزہ ہے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو۔)

لیکن مثیل مسیح (مرزا قادیانی بزعم خود) چونکہ اصل مسیح کی طرح ایسے معجزات و کرامات دکھانے سے قاصر تھے اس لئے کمال جسارت سے حضرت مسیح کے ان کھلے معجزات کو جس کی تصدیق قرآن کریم کے کھلے لفظوں میں ہے۔ صاف جھٹلاتے اور ان کو صرف کھیل تماشا اور شعبدہ

لے حالانکہ عیسیٰ کا بے پدر پیدا ہونا مسلمانوں کا مسلمہ عقیدہ ہے اور قرآن کی نص صریح اس کی شاہد ہے۔ مرزا قادیانی نے بھی متعدد جگہ اس کو تسلیم کیا ہے۔

صفحہ ٢٨٢

بازی اور سراسر مکر و فریب سے تعبیر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں ایسی باتوں کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھوں تو مسیح سے بڑھ کر ایسے معجزات دکھلا سکتا ہوں۔ کیا یہ قرآن پاک کی صاف تکذیب نہیں ہے۔ پھر مرزا قادیانی کے ان اقوال اور قول کفار میں کیا امتیاز ہے جو معجزات انبیاء علیہم السلام کو دیکھ کر کہہ دیا کرتے تھے کہ یہ تو سحر اور مکر وفریب ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ہے: ”فقال الذین كفروا ان هذا الا سحر مبین“ (یعنی جب کفار نے یہ معجزات دیکھے تو کہنے لگے یہ تو صریح جادو ہے۔)

یہ بات قابل غور ہے کہ ایک اولوالعزم نبی اللہ کی یوں توہین اور اس کے معجزات اور نشانات کی اس قدر تحقیر اور آیات قرآن کی ایسی تکذیب کرنے والا شخص مسلمان بھی رہ سکتا ہے۔ چہ جائیکہ وہ ملہم، مجدد، نبی، رسول اور کیا کیا ہو۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!

خیر مسیح سے تو رقابت تھی ان پر جس قدر برستے اس کی ایک وجہ ہو سکتی تھی۔ لیکن آپ نے تو باقی تمام انبیاء بالخصوص نبی آخر الزمان کی تنقیص شان میں بھی کچھ کسر باقی نہیں چھوڑی۔ چنانچہ الہامات ذیل پر غور کیجئے۔

بھیجا ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)

(حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢)

(مرزا قادیانی) کو رات کی سیر (معراج) کرائی۔

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٧٠)

(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)

(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)

رسول پاک کے لئے خسوف قمر ہوا تو کیا۔ میرے لئے خسوف قمر وشمس ہوا۔ کیا تو انکار کر سکتا ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

٨

(مرزا قادیانی) کی جو بعد میں آئے گا اور ا

(مرزا قادیانی) کو ہدایت کے ساتھ بھیجا۔

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص

معجزے ظاہر ہوئے۔“

اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں آیا ہوں۔ خدا نے جلالی رنگ کو منسوخ کر کے اسمہ احم

غور کیجئے! نمبر اول میں مرزا ق سے مختص ہے کے غاصب بنتے ہیں۔ نمبر ہے کہ مرزانہ ہوتے تو حضور اکرم ﷺ بھی میں جو حضور ﷺ کے لئے مخصوص تھا۔ ش دعویٰ ہے۔ حتیٰ کہ محمد مصطفےٰ ﷺ سے بھی بلند ہے۔ حتیٰ کہ رسالت مآب سے بھی لئے صرف خسوف قمر ہوا تو کیا، میرے کہ آیت اسمہ احمد میں آنحضرت ﷺ کی نہیں بلکہ ہدایت خلق کے لئے مرزا رسول کے صرف چند سو چند ہزار نشان تھے۔ لیک جبکہ نمبر ١٠ میں تصریح ہے کہ مرزا پ اللہ ) نمبر ١١ میں حضور ﷺ کی نبوت و شری کرنوں کی طرح اذیت دینے والی ( جلا کرنوں کی طرح ٹھنڈک پہنچانے والی ج دنیا میں جلوہ گر ہوا ہے۔

صفحہ ٢٨٣

(مرزا قادیانی) کہ جو بعد میں آئے گا اور اس کا اسم احمد ہوگا۔ (ازالہ ص٦٧٣، خزائن ج٣ ص٤٦٣)

(مرزا قادیانی) کو ہدایت کے ساتھ بھیجا۔ (ازالہ اوہام ص١٩٣، خزائن ج٣ ص١٩٣)

(تحفہ گولڑویہ ص٤٠، خزائن ج١٧ ص١٥٣) میں لکھا ہے کہ "آنحضرت ﷺ سے تین ہزار معجزے ظاہر ہوئے۔"

اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں آیا ہوں۔ اب اسم احمد کا نمونہ ظاہر کرنے کا وقت ہے۔ اس لئے خدا نے جلالی رنگ کو منسوخ کر کے اسم احمد کا نمونہ ظاہر کرنا چاہا۔"

(اربعین ج٤ ص١٣، خزائن ج١٧ ص٤٣٥، ٤٣٦)

غور کیجئے! نمبر اوّل میں مرزا قادیانی حضور ﷺ کے خطاب رحمۃ للعالمین کے جو آپ سے مختص ہے کے غاصب بنتے ہیں۔ نمبر ٢ میں آپ باعث تکوین عالم بنتے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ مرزا نہ ہوتے تو حضور اکرم ﷺ بھی نہ ہوتے۔ (معاذ اللہ) نمبر ٣ میں معراج کے رتبہ اعلیٰ میں جو حضور ﷺ کے لئے مخصوص تھا۔ شریک بنتے ہیں۔ نمبر ٤ میں تمام چیزوں سے برتری کا دعویٰ ہے۔ حتیٰ کہ محمد مصطفےٰ ﷺ سے بھی۔ نمبر ٥ میں یہ ادعا ہے کہ مرزا کا تخت (رتبہ) سب سے بلند ہے۔ حتیٰ کہ رسالت مآب سے بھی (استغفر اللہ) نمبر ٦ میں یہ ڈینگ ہے کہ حضور ﷺ کے لئے صرف خسوف قمر ہوا تو کیا، میرے لئے شمس و قمر دونوں کا خسوف ہوا۔ نمبر ٧ میں یہ ادعا ہے کہ آیت اسمہ احمد میں آنحضرت ﷺ کی نہیں بلکہ میری بشارت ہے۔ نمبر ٨ میں یہ کہ حضور ﷺ نہیں بلکہ ہدایت خلق کے لئے مرزا رسول مبعوث ہوا ہے۔ نمبر ٩ کا یہ مدعا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے صرف چند سو چند ہزار نشان تھے۔ لیکن مرزا کے تین لاکھ نشان ہیں۔ ان نشانات کا کچھ پتہ؟ جواب صفحہ نمبر ١٠ میں تصریح ہے کہ مرزا پر ایسے حقائق کھلے جو حضور ﷺ پر نہیں کھل سکے۔ (معاذ اللہ) نمبر ١١ میں حضور ﷺ کی نبوت و شریعت کی منسوخی کی تصریح ہے کہ آپ کی کرنیں سورج کی کرنوں کی طرح اذیت دینے والی (جلانے والی) ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کی شعاعیں چاند کی کرنوں کی طرح ٹھنڈک پہنچانے والی ہیں اور مرزا ہی اسمہ احمد کا مصداق جمالی رنگ میں ہو کر دنیا میں جلوہ گر ہوا ہے۔

٩

صفحہ ٢٨٥

دیکھئے! ان خرافات میں کس قدر توہین رسول پاکؐ اور مرزا قادیانی کی انانیت کی بانگ دی گئی ہے۔ کیا رسول خدا سے فضیلت و برتری کا مدعی آپ کی شان ارفع کی تنقیص کرنے والا شخص بھی مسلمانوں میں شمار ہوسکتا ہے؟ اگر درخانہ کس است ہمین حرف بس است!

آل رسولؐ کی تذلیل

جب مرزا قادیانی رسول پاکؐ کی ہتک شان سے نہیں ٹلے تو آل رسولؐ کی ان کے دل میں کیا عزت ہوسکتی تھی۔ صاف کہنے لگے کہ ”ایک تم میں ہے (یعنی مرزا قادیانی) جو علیؓ سے افضل ہے۔“ (ملفوظات ج٢ ص ١٤٢) دوسری جگہ فرماتے ہیں ؎

کربلائیست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

دیکھئے! حضرت امام حسینؓ کی کیسی تحقیر کی گئی ہے۔ اسی پر اکتفاء نہیں اور لیجئے! حضرت امام حسینؓ نے معرکہ کربلا میں اپنے مبارز کے سامنے یہ معنی خیز رجز پڑھی تھی۔

انا ابن علی الخیر من آل ہاشم
كفانى بهذا مفخراً حين افخر

میں علیؓ سردار بنی ہاشم کا فرزند ہوں۔ یہ فخر میرے لئے کافی ہے جب میں فخر کروں۔

”وجدى رسول اكرم مما مشىٰ ونحن سراج الله فى الناس يظهر“

میرے جد پاک رسول اکرمؐ تمام کائنات کے سردار ہیں اور ہم لوگوں کے لئے خدا کی طرف سے چراغ ہدایت ہیں۔

”وفاطمة امى سلالة احمد وعمى يدعى ذاالجناحين جعفر“ میری

والدہ فاطمہؓ جگر گوشہ رسولؐ ہیں اور میرے چچا جعفر طیارؓ ہیں۔

چونکہ آپ کا یہ بیان مبنی برحقیقت تھا اس لئے مخالفین (یزیدیوں) کو اس کا کوئی جواب دینے کی جرأت نہ ہوئی۔ لیکن افسوس کہ چودھویں صدی کے یزیدی صفت متنبّی قادیان (مرزا قادیانی) نے اس کی کمی کو پورا کیا۔ اسی بحر و قافیہ میں اس کا معاوضہ یوں کیا گیا ہے ؎

وانى قتيل الحب لكن حسينكم
قتيل العدىٰ والفرق اجلىٰ واظهر

(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

میں محبت کا قتیل ہوں۔ لیکن تمہارا حسین

”فوالله ليست فيه منى زيادة و

بخدا حسین کو مجھ سے کوئی فضیلت نہیں۔ سوچو تو سہی۔

”وشتان مابينى وبين حسينك

مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے۔ ”واما حسين فاذكروا دشت كربلا ۔ لیکن حسین تم دشت کربلا کو یاد کرلو۔ آ گستاخی، حضور علیہ السلام نے حسینؓ کو سید شب مرزا قادیانی ہے کہ مسلمان کہلا کر آل رسول کی یوں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حسین مسلمانوں کا ہے کفار کو مؤمنوں سے کیا تعلق؟ رسول پاکؐ اور آل کی ہتک و توہین سے دریغ نہیں کیا۔

توہین خدا

الہامات ذیل پر غور کرنے سے معلوم ہ بلکہ خدا سے اعلیٰ اور افضل بننے کے مدعی ہیں۔

اے سورج اے چاند تو مجھ سے ہے اور

زمین و آسمان تیرے (مرزا کے) ایسے

صفحہ ٢٨٥

میں محبت کا قتیل ہوں۔ لیکن تمہارا حسین قتیل اعداء تھا۔ یہ فرق ظاہر ہے۔ ”فوالله ليست فيه منى زيادة وعندى شهادات من الله فانظروا“

(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

بخدا حسین کو مجھ سے کوئی فضیلت نہیں۔ میرے پاس اس کے متعلق الہی شہادات ہیں سوچو تو سہی۔ ”وشتان مابينى وبين حسينكم فانى اويد كل آن وانصر“

(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے۔ کیونکہ مجھے ہر آن تائید الہی حاصل ہوتی ہے۔ ”واما حسين فاذكروا دشت كربلا۔ الى هذه الايام تبكون فانظروا“

(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

لیکن حسین تم دشت کربلا کو یاد کرلو۔ آج کے دن تک تم رو رہے ہو۔ معاذ اللہ! ایسی گستاخی، حضور علیہ السلام نے حسین کو سید شباب اهل الجنة فرما کر تعریف کی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی ہے کہ مسلمان کہلا کر آل رسول کی یوں ہتک شان کر رہا ہے۔ حسینکم (تمہارا حسین) جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حسین مسلمانوں کا ہے۔ مرزا قادیانی کو اس سے کچھ لگاؤ نہیں۔ سچ کہا کفار کو مومنوں سے کیا تعلق؟ رسول پاک اور آل اطہار تو کیا مرزا قادیانی نے تو خدائے قدوس کی ہتک و توہین سے دریغ نہیں کیا۔

توہین خدا

الہامات ذیل پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی خدا کے شریک ہی نہیں۔ بلکہ خدا سے اعلیٰ اور افضل بننے کے مدعی ہیں۔

(حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)

اے سورج اے چاند تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

زمین و آسمان تیرے (مرزا کے) ایسے ہی تابع ہیں جیسے میرے (خدا) کے تابع ہیں۔

١١

صفحہ ٢٨٦

جب کسی چیز کو کہہ دے ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔

(حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)

ناتمام ناقص رہے گا۔

(تذکرہ ص ٥١ طبع ٣)

ص ٦٦٢)

(دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)

(حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦)

میں (خدا) رسول (مرزا قادیانی) کے ساتھ ہو کر جواب دیتا ہوں۔ خطا بھی کرتا ہوں اور صواب بھی۔

(حقیقت الوحی ص ٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ٨١)

خدا تیری حمد کرتا ہے اور تیری طرف چل کر آتا ہے۔

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣)

تو (مرزا قادیانی) میرے پانی سے ہے اور دوسرے خشکی سے۔

(توضیح المرام ص ٦٥، خزائن ج ٣ ص ٨٤)

اس کی تاریں ہیں۔“

(توضیح المرام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠)

(تحفہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٣١)

میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں تو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی۔ پھر میں نے منشائے حق کے مطابق اس کی ترتیب اور تفریق کی اور میں دیکھتا ہوں کہ میں اس کی خلق پر قادر ہوں۔ پھر

میں نے آسمان و دنیا کو پیدا کیا اور کہا ”انا زین اب انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں۔“

خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ نے وقت قلم کو چھڑکا تو سرخی کے قطرے میرے وقت میرے پاؤں دبا رہا تھا۔“

الہامات بالا پر غور کرنے سے م مصر سے بھی نمبر لے گئے۔ بلکہ آج تک ایس

دونوں کا تعلق باہم باپ بیٹے کا ہے۔

بیٹا ہے اور مرزا قادیانی اس کا قائم مقام ہے ہے اور جس نے فرمایا: ”تكاد السمٰوات هذا ان دعوا للرحمن ولداً“ اب ا بجائے بنا دیتا ہے۔

مرزا قادیانی کے تابع ہیں۔ استغفر اللہ !

کی طرح یہ بھی کسی کو کہے کہ ہو جا تو پیدا ہو

نے پہلے بھی ایسا کہا؟)

صفحہ ٢٨٧

میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا ”انا زينا السماء الدنيا بمصابيح“ پھر میں نے کہا آؤ اب انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں۔“

(کتاب البریہ ص ٧٨، ٧٩ خزائن ج ١٣ص ١٠٤ تا ١٠٥)

(حقیقت الوحی ص ٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٩٨، ٩٩)

خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تأمل کے سرخی کی قلم سے دستخط کئے۔ اس وقت قلم کو چھڑکا تو سرخی کے قطرے میرے کرتے اور عبداللہ سنوری کی ٹوپی پر بھی گرے جو اس وقت میرے پاؤں دبا رہا تھا۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)

(حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)

الہامات بالا پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کلمات شرک میں فرعون مصر سے بھی نمبر لے گئے۔ بلکہ آج تک ایسے کلمات کفر کسی انسان کے منہ سے نہ نکلے ہوں گے۔ نمبر اوّل! میں یہ تصریح ہے کہ مرزا قادیانی خدا سے اور خدا مرزا قادیانی سے ہے۔ یعنی دونوں کا تعلق باہم باپ بیٹے کا ہے۔

نمبر٢! میں یہ اقرار ہے کہ مرزا قادیانی خدا کے بیٹے کی بجائے ہے یعنی خدا کا ضرور کوئی بیٹا ہے اور مرزا قادیانی اس کا قائم مقام ہے۔ کیا وہی خدا جس کی تعریف ”لم يلد ولم يولد“ ہے اور جس نے فرمایا: ”تكاد السمٰوت يتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال هداً ان دعوا للرحمن ولداً“ اب ان آیات کو منسوخ کر کے مرزا قادیانی کو اپنا بیٹا یا بیٹے کی بجائے بنا دیتا ہے۔

نمبر٣! میں یہ دعویٰ ہے کہ زمین و آسمان جیسے خدا کے تابع ہیں۔ ویسے ہی بلا کم و کاست مرزا قادیانی کے تابع ہیں۔ استغفر اللہ!

نمبر٤! کا یہ مفہوم ہے کہ مرزا قادیانی خدا کی صفت خالقیت میں اس کا شریک ہے۔ خدا کی طرح یہ بھی کسی کو کہے کہ ہو جا تو پیدا ہو جاتی ہے۔

نمبر٥! میں اپنے نام کو کامل اور خدا کے نام کو ناقص ثابت کیا گیا ہے۔ (کیا کسی کافر نے پہلے بھی ایسا کہا؟)

نمبر٦! میں خدا کو مجسم ہاتھی دانت یا گوبر سے بنا ہوا بت قرار دے دیا۔ (خدایا تیری پناہ)

١٣

صفحہ ٢٨٨

قرار دیتا ہے۔ (اللہ رے جرات)

اس پانی سے کیا مراد ہے؟ ویسے تو خدا فرماتا ہے کہ ہم نے ہر ایک چیز کو پانی سے بنایا ہے۔

ہے۔ ( کیا یہ الہام رحمانی ہیں یا شیطانی )

جاتا ہے جو خدا تعالیٰ کی صفات مختصہ سے ہیں۔

عملی طور پر بھی کل کائنات کی تخلیق اپنے ہاتھ سے کر دینے کی لاف زنی کی گئی ہے۔ (کیا مرزائی ایسا آسمان و زمین جو مرزا نے بنائے ہیں کہیں دکھا بھی سکتے ہیں )

باپ ہوا۔ (معاذ اللہ )

وقت قلم جھاڑ کر اپنے اور بیگانے کپڑے خراب کر دیا کرتا ہے۔ (کیا مرزائیو! مرزا قادیانی کے اس فلسفہ کی داد دو گے؟ غالباً تم لوگوں نے بھی اس کرتے اور اس ٹوپی کے درشن کئے ہوں گے۔

باتیں کہہ کر اس کی تنقیص شان کی ہے۔ کیا کوئی ادنیٰ عقل والا انسان بھی ایسے خرافات سن کر پھر مرزا قادیانی کو نہ مسلمان بلکہ ایک عاقل انسان بھی قرار دے سکتا ہے؟ ایسی زطلیات تو پاگل بھی نہیں ہانکا کرتے۔ مرزائیو! خدارا ہوش کرو۔

مرزا قادیانی کا ادعائے نبوت

مرزا قادیانی کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے کے لئے ان کا ادعائے نبوت ہی کافی دلیل ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بڑے بڑے جلیل القدر صحابی تھے۔ کسی نے نبوت کا دعویٰ کرنے

١٤

صفحہ ٢٨٩

کی جرأت نہ کی۔ آپؐ کے بعد بڑے بڑے پایہ کے اولیائے کرام حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ جیسے سرخیل اولیاء کرام ہو گزرے ہیں۔ ختم نبوت کی مہر توڑنے کا کسی کو حوصلہ نہ ہوا۔ چودھویں صدی کا مغل زادہ جس کے حسب نسب کا پتہ ان کا ایک محرم راز ہموطن حسب ذیل رباعی میں دیتا ہے۔ رباعی!

یک قاطع نسل ویک مسمائے زمان یک مہتر لال حکیمان دوران

(مرزا کمال الدین) (مرزا قادیانی) (مرزا امام الدین)

افتد چوگزر بقادیان نگاہے ایں خانہ تمام آفتاب است بدان

پہلے مبلغ اسلام کی حیثیت میں اٹھتا ہے۔ پھر ملہم و مجدد و محدث کا خطاب حاصل کر کے حجت مہدی۔ پھر مثیل مسیح پھر یک لخت اصل مسیح بن جاتا ہے۔ پھر اس سے ترقی کر کے نبی ظلی بروزی کا جامہ پہنتا۔ پھر کامل و مکمل نبی و رسول بن کر دنیا کو للکارتا ہے کہ میری رسالت کا کلمہ پڑھو۔ ورنہ تم سب کافر ہو۔ کیا ادعائے نبوت کوئی معمولی دعویٰ ہے۔ اگر سلطنت اسلام ہوتی تو پہلے ہی روز اس مدعی رسالت کا قصہ تمام کر دیا جاتا۔ کیا مسیلمہ کذاب، اسود عنسی کلمہ توحید کے قائل نہ تھے۔ کیا سجاح نے کوئی اور جرم کیا تھا کہ سب کام چھوڑ کر حضرت صدیق اکبرؓ نے ان سے جہاد کی ٹھانی اور سیف اللہ الجبار خالد جرار کو ان مرتدین کے استیصال کے لئے روانہ کیا۔ صرف ان لوگوں کا جرم ادعائے نبوت تھا۔ جس کی وجہ سے خلیفہ اوّل کو ان پر فوج کشی کرنی پڑی اور ان لوگوں کی طاقت مرزائے قادیان سے کم نہ تھی۔ نہ ان کی جماعت مرزا قادیانی کی جماعت سے کمزور تھی۔ مرزا قادیانی تو اپنی امت کی تعداد بلا ثبوت لکھوکھہا بیان کرتا ہے۔ (اس کے متعلق کچھ آگے ذکر آئے گا) لیکن مسیلمہ کذاب کے ماننے والوں کی تعداد فی الواقع لکھوکھہا تھی۔ چنانچہ کتب تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ جس وقت حضرت خالدؓ سے اس کی نبرد آزمائی ہوئی اس وقت صرف مقدمۃ الجیش میں مسیلمہ کے چالیس ہزار سوار کا شمار کیا گیا تھا۔ آخر کار ان مدعیان نبوت کا خاتمہ کیا جاکر آئندہ کے لئے ادعائے نبوت کا سدباب کر دیا گیا اور آج تک کسی بطال کو دعویٰ نبوت کرنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ چونکہ یہ زمانہ کفر و الحاد کا ہے۔ نبی و رسول تو کیا کوئی الوہیت کا مدعی بھی ہو، کوئی نہیں پوچھتا کہ تمہارے منہ میں کے دانت ہیں۔ اسی لئے مرزا قادیانی کو ادعائے نبوت کی جرأت ہوئی۔ چنانچہ اسی لئے مرزا قادیانی حکومت وقت کے ہمیشہ مدح و ثنا میں رطب اللسان رہے۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام حصہ دوم ص ٥٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣) میں رقمطراز ہیں: ”اس لئے ہر ایک سعادت مند مسلمان کو دعا کرنا چاہئے کہ انگریزوں کی فتح ہو (خواہ سلطنت اسلامی سے مقابلہ کیوں نہ ہو۔

١٥

صفحہ ٢٩٠

مصنف) کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں۔ (یہ کیا کم احسان ہے کہ آپ رسالت بلکہ الوہیت کے مدعی بن کر بھی صحیح و سلامت رہے۔ مصنف)“

دوسری جگہ فرماتے ہیں: ”سخت جاہل اور سخت نادان وہ مسلمان ہے جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے۔ اگر ہم ان کا شکریہ نہ کریں تو پھر ہم خدا تعالیٰ کے شکر گزار نہیں۔ کیونکہ ہم نے جو اس گورنمنٹ کے زیر سایہ آرام پایا۔ (خلق خدا کو لوٹا اور مزے اڑائے۔ مصنف) اور پارہے ہیں وہ ہم کسی اسلامی سلطنت میں بھی نہیں پاسکتے۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٥٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣)

سچ ہے اسلامی گورنمنٹ کب گوارا کر سکتی تھی کہ آپ نبی و رسول کہلا کر اپنے مسکن کو دارالامان اپنے کنبہ کو اہل بیت اپنی مستورات کو امہات المؤمنین کے خطابات عطا کریں۔ اونچی مسجد کو مسجد اقصیٰ سے تعبیر کریں۔ تمام انبیاء و رسل پر اپنا تفوق ظاہر کر کے لکھیں ۔

آنکہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

غرض مرزا قادیانی عجیب ذوفنون شخص تھے ان کی ہر ایک بات ذومعنی ہوتی تھی جو کلام کرتے اس کے دونوں پہلو ملحوظ رکھا کرتے۔ چنانچہ دعویٰ نبوت میں بھی دونوں پہلو ملحوظ خاطر رہے۔ ادعائے نبوت بھی کیا اور انکار نبوت بھی کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیچاری امت بھی ایسی پیچ دار کلام کے باعث بھول بھلیاں میں پڑی ہوئی ادھر ادھر بھٹکتی پھرتی ہے۔ ایک جماعت لاہوری کہتی ہے کہ مرزا قادیانی نے ہرگز نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ جو ان کو مدعی نبوت سمجھے جھوٹا ہے دجال ہے۔ دوسرا گروہ قادیانی کہتا ہے کہ مرزا قادیانی حقیقی نبی تھے۔ انہوں نے کھلے لفظوں میں نبی و رسول ہونے کا دعویٰ کیا جو ان کو نبی و رسول نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں وہ صاف کافر ہے۔ اب ہم مرزا قادیانی کی کتابوں سے ادعائے نبوت اور انکار نبوت ہر دو امور پر بتصریح عبارات روشنی ڈالتے ہیں۔

ادعائے نبوت

مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت و رسالت پر ان کے حسب ذیل ارشادات شاہد عدل ہیں:

(حقیقت الوحی ص ٧١، خزائن ج ٢٢ ص ٧٤)

١٦

گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کی تخت گاہ ہے

ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے۔"

کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ اسی وجہ سے

آخرت میں ملعون ہوگا۔"

(ہم نے تجھے تمام دنیا پر ر

میرے رسول ڈرا نہیں کرتے)

رسولاً" ہم نے تمہاری طرف گیا تھا۔

صفحہ ٢٩١

(ازالہ اوہام ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣)

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کی تخت گاہ ہے۔"

(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٥٠٣)

(اخبار بدر ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)

ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے۔"

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨ ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ اسی وجہ سے نبی کا نام پانے سے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں۔"

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦، ٤٠٧)

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

(اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤)

آخرت میں ملعون ہوگا۔"

(حقیقت الوحی ص ٣٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٣٩٠)

(حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)

(ہم نے تجھے تمام دنیا پر رحمت کرنے کے لئے بھیجا ہے)

میرے رسول ڈرا نہیں کرتے)

(حقیقت الوحی ص ٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٩٤)

رسولاً " ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے۔ اس رسول کی مانند کہ فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔

(حقیقت الوحی ص ١٠١، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)

١٧

صفحہ ٢٩٢

دوں گا۔ خطا بھی کروں گا اور صواب بھی۔

(حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦)

گا۔ افطار کروں گا اور روزہ بھی رکھوں گا۔"

(حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٧)

یہ ایسے کھلے الفاظ وکلمات ہیں کہ ان کو دیکھ کر کوئی ذی بصیرت مرزا قادیانی کے ادّعا نبوت ورسالت میں شک وشبہ نہیں کر سکتا۔ لیکن تعجب ہے کہ باوجود ان تصریحات کے مرزا قادیانی کی امت کا ایک فریق لاہوری جماعت اس پر پردہ ڈالنے کی سعی بے سود کر رہے ہیں اور لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے ہرگز نبوت ورسالت کا دعویٰ نہیں کیا۔ امت بیچاری کا کیا قصور

چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد

مرزا قادیانی خود ایسے خدا کے بندے ہیں کہ ایسے الہامات ودعاوی کے ہوتے ہوئے پھر دعویٰ نبوت ورسالت سے انکار بھی کرتے ہیں۔

دوگنہ رنج وعذاب است جان مجنوں را
بلائے صحبت لیلیٰ وفرقت لیلیٰ

انکار دعویٰ نبوت

عبارات ذیل میں جو مرزا قادیانی کی تصانیف میں ہیں دعویٰ نبوت سے صاف انکار کیا گیا ہے اور یہ کہ مدعی نبوت کافر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٤٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠)

(ازالہ اوہام ص ٥٦٩، خزائن ج ٣ ص ٤٠٧)

(پھر ایسا گھٹیا نبی بننے سے کیا فائدہ۔ مصنف!)

(ازالہ اوہام ص ٥٧٥، خزائن ج ٣ ص ٤١٠)

(یعنی مرزا قادیانی کا امتی ہو کر نبی بننا اجتماع نقیضین ہے جو محال ہے۔ مصنف)

(ازالہ اوہام ص ٥٨٦، خزائن ج ٣ ص ٤١٦)

(خدا تعالیٰ کے دعویٰ میں تخلف نہیں ہو سکتا۔ اس لئے مرزا قادیانی ہرگز نبی نہیں ہوسکتا۔ مصنف)

١٨

صفحہ ٢٩٣

(مرزا قادیانی امتی ہو کر نبی بننے کے اہل نہیں)

(مرزا قادیانی نے خاتم النبیین کا معنی خود کر دیا ہے۔ اب اس کے خلاف تاویلات قابل سماعت نہیں)

كافرين وها اننى لا اصدق الهاماً من الهاماتى الا بعد، ان اعرضه على كتاب الله اعلم ان كلما يخالف القرآن فهو كذب والحاد زندقه فكيف ادعى النبوة وانا من المسلمين‘‘ (حمامة البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

میرے لئے کب روا ہے کہ نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے خارج ہو کر کافروں میں داخل ہو جاؤں۔ خبردار میں اپنے کسی الہام کو سچا نہیں سمجھتا۔ جب تک اس کو کتاب اللہ (قرآن) پر پیش نہ کرلوں۔ یہ معلوم ہو کہ جو دعویٰ قرآن کے مخالف ہو وہ الحاد اور زندقہ (بے دینی) ہے۔ پھر میں کس طرح نبوت کا دعویٰ کر سکتا ہوں۔ حالانکہ میں مسلمان ہوں۔

اس عبارت میں مرزا قادیانی نے بڑی صفائی سے فیصلہ کر دیا ہے کہ دعویٰ نبوت کرنا کسی مسلمان کی جرأت نہیں ہے۔ بلکہ یہ دعویٰ خلاف قرآن ہونے کی وجہ سے کفر، الحاد اور زندقہ ہے اور مدعی نبوت کافر دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ گویا ؎

کیا لطف کہ غیر پردہ کھولے
جادو وہ جو سر پر چڑھ کے بولے

مرزا قادیانی نے اپنے ہاتھ سے اپنے کفر کا فتویٰ لکھ دیا ہے۔ یعنی دعویٰ نبوت کفر ہے اور مرزا قادیانی مدعی نبوت ہیں۔ اس لئے وہ بفتویٰ خود کافر، ملحد اور زندیق ہیں۔

ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا میرے حق میں
زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعان کا

مرزائیو! اپنے مرشد کا فتویٰ اور قطعی فیصلہ سن لیا۔ کیا اب بھی کچھ شک وشبہ باقی ہے۔ کلا وحاشا! ہر کہ شک آرد کافر گردد!

الله كما يكلم المحدثين‘‘ میں نے لوگوں سے وہی بات کہی جو اپنی کتابوں میں لکھ دیا کہ میں

١٩

صفحہ ٢٩٤

نبی نہیں بلکہ محدث ہوں۔ مجھ سے خدا کلام کرتا ہے جیسا محدثین سے کرتا ہے۔“

(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

پھر مرزا قادیانی کے قادیانی مریدوں اور مرزا محمود کو کیا ہو گیا ہے کہ مرشد کی مخالفت کر کے ان کو حقیقی نبی ورسول کہہ رہے ہیں۔ کیا یہ مرشد کی صریح نافرمانی نہیں ہے۔

بند کر دیا ۔“

(ایام الصلح ص ١٥٢، خزائن ج ١٤ ص ٤٠٠)

(فیصلہ آسمانی ص ٤، خزائن ج ٣ ص ٣١٣)

ناظرین! غور کریں مرزا قادیانی کی اس دورنگی چال کا کیا کہنا ۔ کھلے الفاظ میں نبوت ورسالت کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ پھر اس سے صاف انکار بھی کرتے ہیں اور اپنی نسبت اپنے ہاتھ سے فتویٰ تکفیر بھی صادر کرتے ہیں۔ اب مرزائیوں کے لئے سخت مشکل کا سامنا ہے ان کو نبوت کا مدعی قرار دیں تو ان کے دیئے ہوئے فتوے پر ایمان لا کر ان کو کافر، ملحد، زندیق بھی ماننا پڑتا ہے۔ اگر ان کو نبی ورسول نہ مانیں تو احمدیت سے خارج سمجھے جاتے ہیں اور نیز ان الہامات و دعاوی کا انکار کرنا پڑتا ہے۔ جن میں نبوت ورسالت کا صاف اعلان کیا گیا ہے۔ بلکہ آپ نے تو یہاں تک لکھ دیا ہے۔

منم مسیح زماں ومنم کلیم خدا
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد

(درثمین ص ١٣٨ فارسی)

بہتر صورت یہی ہے کہ ان کے اعلان نبوت کو بھی درست سمجھیں اور ان کے مدلل فتوے کی بنا پر ان کے فتوے تکفیر پر مہر کر دیں۔

مرزا قادیانی کی اخلاقی حالت

نبی، ولی، مجدد، محدث تو کیا ہر ایک شریف انسان کی شرافت کا معیار اس کی اخلاقی حالت سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے نبی آخر الزمان ﷺ کو کفار کی طرف سے کس قدر اذیات وتکالیف پہنچیں۔ راستوں میں کانٹے بچھائے جاتے ، نماز پڑھتے ہوئے آپ کی گردن مبارک پر مُرداروں کا گلا سڑا معدہ (اوجھڑی) پھینکی جاتی۔ آپ ﷺ کے گلوئے مبارک میں کپڑا ڈال کر گلا گھونٹا جاتا۔ آپ ﷺ کے مبارک جسم کو پتھراؤ کر کے لہولہان کیا جاتا اور ہر قسم کی اذیتیں دی

٢٠

صفحہ ٢٩٥

جاتیں۔ لیکن آپ کی زبان مبارک سے برا تو کیا کلمہ بددعا بھی نہ نکلتا۔ بلکہ فرمایا کرتے ”اللهم اهد قومى انهم لا يعلمون“ (اے خدا میری قوم کو ہدایت کر دے یہ تیرے نبی کی شان جانتے نہیں) سبحان اللہ! یہی خلق عظیم تھا جس نے بیگانوں کو اپنا اور دشمن کو دوست بنا دیا اور بڑے بڑے گردن کش گبر بھی اس سے متاثر ہو کر کلمہ طیبہ پڑھ کر اسلام کے آغوش میں آ جانے پر مجبور ہو گئے۔ لیکن مرزا قادیانی عجیب رسول ہیں کہ بجائے رحمت کے سارے جہاں کے لئے زحمت ثابت ہوئے۔ کسی متنفس کے لئے آپ کے منہ سے کبھی کلمہ خیر نہ نکلا۔ بلکہ ہر ایک کو سب وشتم کا نشانہ بنایا اور یہی کہتے رہے کہ میری وجہ سے ملک میں وبا، طاعون نازل ہوئی۔ میرا ہی وجود مسعود باعث زلازل وحوادث ہوا۔ میری ہی ذات موجب بربادی ملک و تباہی خلق ہوئی۔ واہ چہ خوش:

قوت نیکی نداری بد مکن

آپ کے کلمات طیبات میں سے مشتے نمونہ از خروارے چند کلمات درج ذیل ہیں۔

کہ لاف برابری بامن زند (آج تک دنیا میں کوئی متنفس لاف زنی میں آپ کا ہمتا نہیں ہے) من آشکار میگویم ہرگز باک ندارم! (آپ کو کیا خوف ہے گورنمنٹ برطانیہ کا ظل عاطفت آپ کے سر پر ہے) اے اہل اسلام درمیان شما جماعتی باشند کہ گردن بدعویٰ محدثیت ومفسریت برمیفرازند و گروہی اند کہ از نازش ادب پا بر زمین نگذارند، و گروہی اند کہ دم از خدا شناسی زنند خود را چشتی و قادری و سہروردی و نقشبندی و چہا چہا گویند ایں جملہ طوائف را نزد من بیارید!“

(ایام الصلح ص ١٥٩، خزائن ج ١٤ ص ٤٠٧)

چیلنج تو بڑے زور سے دیا جاتا ہے۔ لیکن جب ایک مردِ خدا سرتاج چشتیاء (پیر صاحب گولڑوی) آپ کے مقابلہ کے لئے لاہور میں جاتے ہیں۔ تو جری اللہ کو قادیان کی چار دیواری سے نکلنا موت ہو جاتا ہے۔

مرزا قادیانی ہرزہ درائی اور بد کلامی میں استاذِ زمانہ مانے گئے ہیں۔ آپ کی بدگوئی سے نہ کوئی چھوٹا بچا ہے نہ بڑا۔ دیکھئے! غوثِ وقت قطبِ دوران حضرت پیر صاحب گولڑویؒ کی نسبت اپنی کتاب مواہب الرحمٰن میں کیسی ہرزہ سرائی کی ہے۔ لکھا ہے: ”خبيث وخبيث ما يخرج من فيه “ (یہ شخص خود بھی پلید ہے اور اس کے منہ سے جو کچھ نکلتا ہے وہ بھی پلید ہے) ٹھیک ہے: ”المرء يقيس على نفسه اور كل اناء يترشح بمافيه“ اب دیکھئے سراپا اخلاق حضرت

٢١ ١

صفحہ ٢٩٦

پیر صاحب اس کے جواب میں خلق محمدی کا کیا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں۔

بدم گفتی وخورسندم عفاک اللہ نکو کردی
جواب تلخ می زیبد لب لعل شکر خارا

”بندہ خدا مجھے تو جو چاہو کہہ لو۔ لیکن میرے منہ سے تو اسم خدا بھی نکلتا ہے۔ اس کی نسبت ایسا لفظ استعمال کرنا اندیشہ ہے کہ قیامت میں اس کا مواخذہ نہ ہو۔“ یہ ہوتے ہیں اخلاق بزرگان دین کے جس کی وجہ سے خلق خدا ان کے قدموں میں گرتی ہے۔

ایسا ہی مرزا قادیانی نے تمام ایسے مسلمانوں کو جو زمانہ نبوی اور خیر القرون کے بعد مرزا قادیانی کے وقت تک گزر چکے ہیں۔ ان سب کو فیج اعوج (باطل گروہ) قرار دیا ہے۔

(تحفہ گولڑویہ ص ٨٠، خزائن ج١٧ ص٢٢٤)

پھر جو مسلمان آپ کے دعاوی قبول نہیں کرتے یعنی آپ کی رسالت کا کلمہ نہیں پڑھتے ان کو بلا استثناء ذریۃ البغایا ( ولد الحرام ) کہہ کر اپنے حسن اخلاق کا ثبوت دیتے ہیں۔ (کتاب تبلیغ ص٥٤٧، ٥٤٨، خزائن ج٥ ص ایضاً) میں عبارت ذیل: "تلك كتب ينظر اليها كل مسلم بعين المحبة والمودة وينتفع من معارفها ويقبلنى ويصدق دعوتى الا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يقبلونني “ یہ کتابیں ہیں جن کو ہر ایک مسلمان عین محبت سے دیکھتا اور ان کے معارف سے مستفید ہوتا اور مجھے قبول کرتا اور میرے دعاوی کی تصدیق کرتا ہے۔ مگر کنجریوں کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر کر دی ہے۔ پس وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔ جب اپنے ہم مذہب مسلمانوں سے مرزا قادیانی کا یہ سلوک ہے تو غیر مذاہب ہندو، سکھ، آریہ، عیسائی کی نسبت تو جتنا بھی برا کہیں تھوڑا ہے۔ (رسالہ شحنہ حق ص ٥٢، خزائن ج ٢ ص٣٩٥) میں رقمطراز ہیں: ”اے آریو! مبارک باد تمہارے پرمیشر کی ساری حقیقت کھل گئی اور خود دیانند کی گواہی سے ثابت ہو گیا کہ تمہارے پرمیشر کا ایک رقیق جسم ہے جو دوسرے روحوں کی طرح زمین پر گرتا ہے اور ترکاری کی طرح کھایا جاتا ہے۔ وہ کبھی کچھوہ تھا۔ کبھی کرشن اور کہیں مچھ اور ایک مرتبہ تو خوک یعنی سور بن کر اور سوروں کے موافق لطیف غذائیں کھا کر اپنے درشن کرنے والوں کو خوش کر دیا۔“

١؎ ماشاء اللہ! آپ اس درجہ کو تو پہنچ گئے اس کے اوپر ترقی نہ کرنا۔

٢٢

صفحہ ٢٩٧

اس رسالہ کے ص ٥٩ ، ٦٠ میں بعض آریوں کے خطاب میں حلال زادہ اور ولد الزنا کنجر، مادری خصلت وغیرہ الفاظ استعمال کئے ہیں اور ایک ہندو کو صرف یہ بات کہنے پر کہ مرزا قادیانی قرضدار ہے۔ لکھتے ہیں کہ جو شخص اپنی دختر کی نسبت ناطہ کسی سے کرنا چاہتے ہیں وہ اس کی جائداد و مالی حیثیت کو دیکھا کرتے ہیں۔

کیا ایسے اخلاق کا شخص نبی رسول یا مجدد ملہم ومحدث یا ولی ہو سکتا ہے۔ یا ایسے شخص کو ایک شریف انسان بھی کہا جا سکتا ہے۔ شرفاء کا قاعدہ ہے کہ گالیاں سن کر ایسے گزر جاتے ہیں گویا ان سے کسی نے خطاب ہی نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ "والذين هم عن اللغو معرضون" اور "اذا خاطبهم الجاهلون قالوا سلاماً" حضرت علی المرتضیٰ کا قول ہے۔

"ولقد مررت علی اللئیم یسبنی
فمضیت ثم قلت لا یعنینی"

میں ایک سفلہ کے پاس سے گزرا جو مجھے برا بھلا کہہ رہا تھا۔ میں وہاں سے گزر گیا یہ کہہ کر کہ اس کا خطاب کسی اور شخص سے ہے۔

نبی ، رسول ، ولی ، مؤمن بلکہ شریف انسان کبھی جھوٹ نہیں بولا کرتے۔ مرزا قادیانی کے جھوٹوں کی فہرست لکھنے لگیں تو ایک کتاب تیار ہو جائے۔ ذیل میں چند ایک صریح غلط بیانیاں آپ کی لکھی جاتی ہیں۔

مرزا قادیانی کی غلط بیانیاں

بمقدمہ انکم ٹیکس آپ نے تعداد مریدان کل ٣١٨ لکھائی۔ تحصیلدار نے اپنی رپورٹ میں یہی تعداد لکھی جس کی نقل (ضرورة الامام ص ٤٣، خزائن ج ١٣ ص ٥١٤) میں درج ہے۔

اے مرزائیو! مرشد کی تہذیب کی داد دینا اور ان کا یہ شعر بھی پڑھنا؎

گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو
رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے

(درثمین ص ١١٤ اردو)

رحم کے جوش میں اس حالت کو پہنچ گئے۔ غیظ میں آجاتے تو زمین و آسمان کو زیر وزبر کر دیتے۔ ع ناخن نہ دے خدا تجھے اے پنجہ جنوں ...... ورنہ تو قبائے عقل کے بخیے ادھیڑ تو۔

٢٣

صفحہ ٢٩٩

(تحفہ غزنویہ ص ١٧، خزائن ج ١٥ ص ٥٤٧، مطبوعہ اکتوبر ١٩٠٢ء) میں مرزا قادیانی نے تعداد مریدان ٣٠ ہزار لکھی۔ (گویا صرف دو سال میں ٣١٨ سے ٣٠ ہزار تک اضافہ ہو گیا)

اور سنئے: (تحفۃ الندوہ ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٩٧، مطبوعہ ٦ اکتوبر ١٩٠٢ء) میں آپ نے تعداد مریدان ایک لاکھ سے زیادہ درج فرمائی۔ (دونوں کتابیں ایک ہی سنہ ایک ہی ماہ میں طبع ہوئیں۔ کہاں ٣٠ ہزار اور کہاں ایک لاکھ سے بھی زیادہ۔ کیا ان کی کوئی تطبیق ہو سکتی ہے۔ ایسا سفید جھوٹ۔ الامان!)

(مواہب الرحمٰن ص ١٢٠، خزائن ج ١٩ ص ٣٤٠) میں بھی تعداد مریدان ایک لاکھ سے زیادہ بتائی۔ (گویا اکتوبر ١٩٠٢ء سے جنوری ١٩٠٣ء تک اضافہ صفر)

پھر (الحکم مورخہ ١٧ مئی ١٩٠٣ء) میں تعداد لاکھ بتائی گئی۔ (صرف تین ماہ میں ایک لاکھ کا اضافہ یا للعجب!)

پھر (الحکم مورخہ ١٠ جولائی ١٩٠٣ء) میں جو تقریر مرزا قادیانی کی چھپی ہے۔ اس میں تعداد مریدان تین لاکھ بتائی گئی ہے۔ طرفہ یہ کہ ٩ جولائی ١٩٠٣ء میں جب ہمارے مقدمہ میں آپ نے اپنا حلفی بیان دیا۔ اس میں تعداد مریدان صرف دو لاکھ بتائی۔ (عجیب بات ہے کہ ایک سال کے بعد ایک لاکھ کا خسارہ کیسے ہو گیا؟)

حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ لغو بیانی اور نرا جھوٹ تھا۔ عدالت میں جب آپ پر سوال ہوا کہ آپ کے پاس کوئی رجسٹر ہے جس سے تعداد مریدان معلوم ہو سکے۔ تو آپ نے فرمایا میرے پاس کوئی رجسٹر نہیں ہے۔ لیکن مولوی عبدالکریم نے ایک رجسٹر ١٠؍ ماہ سے بنوایا تھا۔ مگر مرزا قادیانی کے کاتب الوحی مولوی عبدالکریم کا جب ١٦؍ جولائی ١٩٠٣ء کو بمقدمہ حکیم فضل الدین بنام مولوی کرم الدین بیان حلفی ہوا تو آپ نے مرزا قادیانی کی تکذیب کرتے ہوئے اپنے پاس ایسا رجسٹر ہونے سے انکار کر کے لکھایا کہ: ”مرزا قادیانی کے مریدوں کا ایک رجسٹر ہے جو اور صاحب کے سپرد ہے۔“ ان بیانات سے ثابت ہوا کہ تعداد مریدان کا نہ کوئی رجسٹر ہے نہ حساب کتاب جس نے چاہا ہڑ ہانک دی۔ درحقیقت تعداد مریدان لاکھوں کی نہیں صرف ہزاروں کی تعداد میں ہو تو ہو۔ باقی سب مبالغہ جھوٹ اور دروغ بانی ہے۔

حیوۃ طیبۃ ثمانین حولاً او قریباً من ذلک“ (اربعین نمبر ٣ ص ٣٢، خزائن ج ١٧ ص ٤١٨)

پھر (حقیقت الوحی) میں ہے ۔ ”اطال اللہ بقائک“ اسی (٨٠) یا اس پر پانچ چار

٢٤

زیادہ یا پانچ چار کم ۔“ گویا مرزا قادیانی کے خدا کو پانچ چار

اشتہار تبصرہ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩١) میں تیری موت کی پیش گوئی کرنے والوں کو تباہ کر دوں گا۔“ مولوی ثناء اللہ زندہ رہے اور آپ تباہ ہو گئے)

بمقدمہ یعقوب علی ایڈیٹر الحکم بنام مولوی مرزا قادیانی نے اپنے حلفی بیان میں اپنی عمر ٦٥ سال ہو گیا۔ اس حساب سے آپ کی عمر کل ٦٩ سال کی ہوتی پانچ کم یا زیادہ کی پیشین گوئی کو خاک میں ملا دیتی ہے۔

ہاں! ہم مرزا قادیانی کی کذب بیانی کا آنجناب نے اپنی عمر ٩٥ سال لکھی۔ بتائیے حضرت جی

”مسیح اپنے وطن گلیل میں فوت ہوا ۔“ (کشتی نوح ص ٧٣

کہ: ”مسیح کشمیر میں فوت ہوا۔ سری نگر محلہ خانیار میں اس (اتمام الحجۃ حاشیہ ص ٢١، خزائن ج ٨ ص ٢٩٩) میں

ایک گرجہ میں قبر مریم ہے۔“ فرمائیے! حضرت جی کے میں سے کون سا سچا کون سا جھوٹا ہے؟۔

نے لکھا ہے کہ: ”قرآن شریف میں بلکہ تورات ۔ موعود کے وقت میں طاعون پڑے گی۔ بلکہ حضرت ہے۔“

آؤ! قرآن کریم کی ورق گردانی کرو۔ کی کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ (یہ کیسا تورات انجیل میں بھی ہرگز ایسا نہیں لکھا ہوا۔ مرزا قادی

احادیث میں آیا ہے کہ آنے والے مسیح کی ایک

٢٥

صفحہ ٢٩٩

زیادہ یا پانچ چار کم ۔“ گویا مرزا قادیانی کے خدا کو پانچ چار کی کمی بیشی کے متعلق اشتباہ ہی رہا۔

(حقیقۃ الوحی ص ٩٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)

اشتہار تبصرہ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩١) میں درج ہے: ”تیری عمر کو بڑھادوں گا اور تیری موت کی پیش گوئی کرنے والوں کو تباہ کردوں گا۔“ (پیشین گوئی کرنے والے ڈاکٹر عبدالحکیم مولوی ثناء اللہ زندہ رہے اور آپ تباہ ہو گئے)

”بمقدمہ یعقوب علی ایڈیٹر الحکم بنام مولوی کرم الدین مورخہ ٦ جولائی ١٩٠٤ء کو مرزا قادیانی نے اپنے حلفی بیان میں اپنی عمر ٦٥ سال لکھائی۔ آپ کا انتقال ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو ہو گیا۔ اس حساب سے آپ کی عمر کل ٦٩ سال کی ہوتی ہے۔ جو ثمانین حولاً اور اسی (٨٠) سال یا پانچ کم یا زیادہ کی پیشین گوئی کو خاک میں ملا دیتی ہے۔“

ہاں! ہم مرزا قادیانی کی کذب بیانی کا ذکر کر رہے تھے۔ (اخبار الحکم ١٩٠٣ء) میں آنجناب نے اپنی عمر ٩٥ سال لکھی۔ بتائیے حضرت جی کا کون سا بیان سچا اور کون سا جھوٹا ہے۔“

”مسیح اپنے وطن گلیل میں فوت ہوا۔“ (کشتی نوح ص ٥٣، ٥٤، خزائن ج ١٩ ص ٥٨، ٥٧) میں درج ہے کہ: ”مسیح کشمیر میں فوت ہوا۔ سری نگر محلہ خانیار میں اس کی قبر موجود ہے۔“

(اتمام الحجۃ حاشیہ ص ٢١، خزائن ج ٨ ص ٢٩٩) میں ہے: ”قبر مسیح بلدۂ اقدس میں ہے۔ اس پر ایک گرجا میں قبر مریم ہے۔“ فرمائیے ! حضرت جی کے تین بیان ہیں جن میں تناقض صریح ہے ان میں سے کون سا سچا کون سا جھوٹا ہے؟۔

نے لکھا ہے کہ: ”قرآن شریف میں بلکہ تورات کے بعض صحف میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں طاعون پڑے گی۔ بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے انجیل میں بھی یہ خبر دی ہے۔“

آؤ! قرآن کریم کی ورق گردانی کرو۔ کہاں کس پارہ کس رکوع کس آیت میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ (یہ کیسا افتراء علی اللہ) اور ڈبل جھوٹ ہے۔ ایسا ہی تورات انجیل میں بھی ہرگز ایسا نہیں لکھا ہوا۔ مرزا قادیانی کی یہ سب دروغ بیانی ہے۔

احادیث میں آیا ہے کہ آنے والے مسیح کی ایک یہ بھی نشانی ہوگی کہ وہ ذوالقرنین ہوگا۔“ ہم

٢٥

صفحہ ٣٠١

مرزائیوں کو چیلنج : ایسی کوئی حدیث کسی کتاب حدیث سے دکھلائیں۔ ہرگز ایسی کوئی حدیث نہیں ہے۔ یہ افتراء علی الرسول اور کذب محض ہے۔

ج ٣ ص ١٤٠ حاشیہ) میں ہے: ”قادیان کا نام قرآن شریف میں موجود ہے۔“ دکھلاؤ قرآن میں کس پارہ کس رکوع کس آیت میں قادیان کا نام لکھا ہے؟ ۔(ایسے دروغ گو کا کیا کہنا)

چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد

القادیان“ قرآن کے دائیں صفحہ پر میں نے دیکھا۔“ (کون سے قرآن میں، اس قرآن میں تو دائیں بائیں ایسی من گھڑت آیت کا کوئی نشان نہیں ملتا)

ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)

مکہ مدینہ کا ذکر تو قرآن شریف میں موجود ہے۔ قادیان کا نام کوئی مرزائی دکھلا دے اور من مانگا انعام حاصل کرے۔ یا اپنے مرشد کی کذب بیانی پر مہر کردے۔

اور کواکب اپنے اپنے قالبوں کے متعلق ایک ایک روح رکھتے ہیں۔ جن کو لغوی کواکب سے بھی نامزد کر سکتے ہیں۔“ (بتاؤ قرآن میں یہ کہاں لکھا ہے کس آیت کا یہ ترجمہ ہے۔ قرآن میں ہرگز کہیں ایسا نہیں لکھا۔ یہ بھی سفید جھوٹ ہے)

ہیں جن کا ذکر مفصل اوپر کیا جا چکا ہے۔ ان دونوں میں سے کون سی بات سچی کون سی جھوٹی ہے؟ ۔ دروغ گو را حافظہ نباشد!

مسیح موعود کا نہیں۔ اگر کوئی شخص مجھے مسیح موعود کہتا ہے تو وہ مجھ پر افتراء کرتا ہے۔“ پھر اسی کتاب (ص ٢٦١، خزائن ج ٣ ص ٢٣١) میں ہے: ”یہ عاجز مجازی طور پر اور روحانی طور پر وہی مسیح موعود ہے جس کے آنے کی خبر قرآن وحدیث میں درج ہے۔ میں نے براہین میں صاف لکھا ہے کہ میں روحانی طور پر وہی مسیح موعود ہوں جس کی اللہ اور رسول نے پہلے سے خبر دے رکھی ہے۔“

(بتاؤ ان دونوں باتوں سے کہ میں مسیح موعود نہیں جو ایسا سمجھتا ہے وہ مجھ پر افتراء کرتا

٢٦

ہے اور پھر یہ کہ میں ہی وہ مسیح موعود ہوں جس کے آ سچ ہے اور کون سی جھوٹ ہے۔؟)

میں گم شدہ بھیڑیں نام رکھا گیا ہے۔ ان ملکوں (ہندو مؤرخ کو اختلاف نہیں ہے۔ اس لئے ضروری تھا کہ شدہ بھیڑوں کو خدا کا پیغام دیتے۔“

(بتاؤ! کس تاریخ میں مسیح کا ہندوستان

کر کے بودم مر
من عجب تر از

اس شعر میں مسیح کے بے پدر ہونے کا ا خزائن ج ٩ ص ٢٨٩ تا ٢٩١) میں بھی مسیح کا بے باپ ہو پھر (ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢ السلام اپنے والد یوسف نجار کے ساتھ نجاری کا کا اقوال سے کون سا قول سچ ہے کہ کون سا جھوٹ ہے

”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے اس میں وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ ظ میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اس نیز اسی کتاب (ص ٥٠٥، خزائن ج ١ ص اور احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق جو محض دلا رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے یعنی زمانہ شدت اور غضب اور قہر اور سختی کا استعمال کرے ساتھ دنیا پر اتریں گے۔ تمام راہوں اور سڑکوں و ناراست کا نام و نشان نہ رہے گا اور جلال الٰہی گم

صفحہ ٣٠١

ہے اور پھر یہ کہ میں ہی وہ مسیح موعود ہوں جس کے آنے کی خبر قرآن وحدیث میں ہے کون سی بات سچ ہے اور کون سی جھوٹ ہے۔؟)

میں گم شدہ بھیڑیں نام رکھا گیا ہے۔ ان ملکوں (ہندوستان) میں آگئے تھے جن کے آنے میں کسی مؤرخ کو اختلاف نہیں ہے۔ اس لئے ضروری تھا کہ حضرت مسیح اس ملک کی طرف سفر کرتے اور گم شدہ بھیڑوں کو خدا کا پیغام دیتے۔“

(بتاؤ! کس تاریخ میں مسیح کا ہندوستان میں آنا اور کشمیر میں فوت ہونا لکھا ہے؟۔)

کرمے بودم مرا کر دی بشر
من عجب تر از مسیح بے پدر

اس شعر میں مسیح کے بے پدر ہونے کا اقرار ہے۔ نیز کتاب (مواہب الرحمٰن ص ٧٠، ٧١، خزائن ج ١٩ص ٢٨٩، ٢٩١) میں بھی مسیح کا بے باپ ہونا تسلیم کیا گیا ہے۔

پھر (ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) میں اس کے خلاف لکھا ہے کہ: ”مسیح علیہ السلام اپنے والد یوسف نجار کے ساتھ نجاری کا کام کر کے چڑیاں بناتا تھا۔“ (فرمائیے) دونوں اقوال سے کون سا قول سچ ہے کہ کون سا جھوٹ ہے؟۔

”ہو الذی ارسل رسولہ بالھدٰی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ “ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ دین اسلام کا اس میں وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔

نیز اسی کتاب (ص ٥٠٥، خزائن ج ١ ص ٦٠١) میں ہے: ”یعنی اگر طرق رفق ونرمی ولطف اور احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق جو محض دلائل اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے یعنی زمانہ مسیح ومہدی موعود جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور غضب اور قہر اور سختی کا استعمال کرے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے۔ تمام راہوں اور سڑکوں کو خس وخاشاک سے صاف کر دیں گے اور کج وناراست کا نام ونشان نہ رہے گا اور جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہر سے نیست ونابود کر دے گا

٢٧

صفحہ ٣٠٢

اور یہ زمانہ اس زمانہ کے لئے بطور ارہاص واقع ہوا ہے۔ یعنی جلالی طور پر اور جسمانی طور پر خدا تعالیٰ اتمام حجت کرے گا۔ اب بجائے اس کے جمالی طور پر رفق و احسان سے اتمام حجت کر رہا ہے۔“

اس عبارت میں نص آیت قرآن سے استدلال کرتے ہوئے مرزا قادیانی جسمانی طور پر مسیح علیہ السلام کے نزول وجلال کی خبر دے رہے ہیں اور اب قرآنی استدلال کے رو سے اس کے خلاف مسیح کے نزول اور جسمانی طور پر آنے کا شدومد سے انکار کر رہے ہیں۔ اب بتایا جائے مرزا قادیانی کا کون سا بیان سچا اور کون سا جھوٹا ہے؟ ۔ بہتر یہی ہے کہ براہین والے بیان کو سچا قرار دیا جائے تاکہ جمہور اہل اسلام کے عقیدہ سے تطابق ہو جائے اور حال کے بیان کو بالکل جھوٹ قرار دیا جائے۔ جس میں یہ خود غرضی پائی جاتی ہے کہ مسیح کو فوت کر کے اپنے لئے جگہ خالی کرنا منظور ہے۔

مرزا قادیانی کے عجیب و غریب اقوال

عورت بن کر حاملہ ہو جانا اور بچہ جننا

چونکہ آپ مسیح موعود ہونے کے مدعی ہیں۔ حالانکہ آنے والے مسیح کا نام عیسیٰ بن مریم ہے اور آپ کا یہ نام نہیں نہ مریم کے بیٹے ہیں۔ اس لئے آپ نے عیسیٰ بن مریم بننے کی ایسی توجیہہ فرمائی کہ پڑھ کر ہنسی آتی ہے۔ فرماتے ہیں جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں پرورش فرمائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزرے تو جیسا کہ براہین احمدیہ میں ہے۔ مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور کئی مہینہ بعد جو دس مہینہ سے زیادہ نہیں مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ اس طور سے میں عیسیٰ بن مریم ٹھہرا؟۔

(کشتی نوح ص ٤٦، ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

عیسائیوں کی تثلیث تو سنا کرتے تھے۔ مرزا قادیانی ان سے بھی بڑھ گئے۔ آپ مرد سے عورت بن گئے۔ دو سال تک عورت کی صفت میں پرورش پائی۔ پھر آپ کو حمل بھی ہو گیا۔ جو دس مہینے رہا۔ پھر بچہ (عیسیٰ) جنا۔ مرزا قادیانی تھے تو ایک مگر آپ ہی مرد (غلام احمد) آپ ہی عورت (مریم) آپ ہی بچہ (عیسیٰ) ہیں۔ سبحان اللہ ! این چہ بوالعجبی است خود کوزہ و خود کوزہ گر و خود گل کوزہ۔ بھلا ان رازوں کو کون سمجھے۔

کوئی جانے تو کیا جانے کوئی سمجھے تو کیا سمجھے

٢٨

صفحہ ٣٠٣

ایک عجیب فرشتہ

مرزا قادیانی بقول شخصے جیسی روح ویسے فرشتے خود بدولت پنجابی نبی ہیں۔ الہام تو عربی، انگریزی، اردو ہوتے ہیں البتہ فرشتے کبھی پنجابی بھی آجاتے ہیں اور وحی بھی پنجابی ہوتی ہے۔ فرماتے ہیں: ”٥ مارچ ١٩٠٥ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا میرے پاس آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔ میں نے اس کا نام پوچھا اس نے کہا کوئی نام نہیں۔ میں نے کہا آخر کچھ نام تو ہونا چاہئے۔ اس نے کہا میرا نام ٹیچی ٹیچی ہے۔ پنجابی میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں یعنی عین وقت ضرورت پر آنے والا۔ جب میری آنکھ کھل گئی بعد اس کے خدا تعالیٰ کی طرف سے کیا ڈاک کے ذریعہ سے اور کیا براہ راست لوگوں کے ہاتھ سے اس قدر مالی فتوحات ہوئیں جن کا خیال و گمان بھی نہ تھا اور کئی ہزار روپیہ آیا۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦)

کیا آج تک کسی نے فرشتہ کا یہ انوکھا نام ٹیچی ٹیچی سنا؟ مرزا قادیانی نبی بنیں تو فرشتوں کے ایسے ایسے عجیب وغریب نام بتائیں۔ واہ کیا کہنا! مرزا قادیانی کا یہ الہام نہیں اضغاث احلام ہیں۔ پنجابی میں مثل مشہور ہے۔ بلی کا خواب چھچھڑے۔! مرزا قادیانی کو روپوں ہی کے خواب آتے ہیں اور ایسے ایسے فرشتوں کا نزول ہوتا ہے کہ نام سن کر ہی دنگ رہ جائیں۔ تعجب ہے کہ مرزائی صاحبان لکھے پڑھے ہو کر ایسے خرافات دیکھ سن کر بھی ایسے مخبطی شخص کو اپنا پیشوا بنائے ہوئے ہیں۔

مرزا قادیانی کو حیض آتا ہے

مرزا قادیانی کا ایک اور عجیب الہام ہے۔ ”یریدون ان یروا طمثک“ یعنی بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ پر خدا تعالیٰ تجھے انعامات دکھلائے گا اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے۔ ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔“ مرزائیو! مرشد کے الہامات کی داد دینا۔ مرزا قادیانی کو حیض آیا پھر وہ بچہ ہو گیا۔ بچہ بھی ایسا جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)

(ان هذا لشرک عظیم)

مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں

مرزا قادیانی چونکہ مدعی نبوت تھے۔ اس لئے ضروری تھا کہ پیش گوئیاں بھی کرتے جو

٢٩

صفحہ ٣٠٤

لوازم نبوت سے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے آپ کی کوئی پیش گوئی بھی صحیح نہ نکلی۔ منجموں، رمالوں، جفاروں اور اٹکل پچوؤں کی پیش گوئیاں کبھی کبھی درست نکل آتی ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کی کبھی کوئی پیش گوئی درست نہ نکلی۔ چند ایک کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے۔

ڈپٹی عبداللہ آتھم کی پیش گوئی

آپ نے ڈپٹی مذکور کی نسبت ٥ جون ١٨٩٣ء کو پیش گوئی کی تھی کہ: ”وہ ١٥ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی وہ پندرہ ماہ کے عرصے میں سزائے موت سے ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے روسیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے۔ مجھ کو پھانسی دیا جائے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا کرے گا، ضرور کرے گا، ضرور کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔“

(جنگ مقدس ص ١٨٨، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣)

افسوس! پندرہ ماہ گزر گئے۔ آتھم نہ مرا۔ عیسائیوں نے خوشیاں منائیں طرح طرح کے بکواس کئے۔ مگر کیا ہو سکتا تھا۔ خود کردہ را علاجے نیست! ہاں! حسب دستور مرزا قادیانی کہنے لگے کہ آتھم نے حق کی طرف رجوع کر لیا اور موت ٹل گئی۔ رجوع کیسے کیا۔ کیا مسلمان ہو گیا اور اپنے اسلام لانے کا اعلان کر دیا۔ کلا وحاشا! عیسائی کا عیسائی ہی رہا عیسائیت پر ہی اس کا خاتمہ ہوا۔ مرزا قادیانی کی یہ گندی تاویل ؎

دل کے بہلانے کو تو غالب یہ خیال اچھا ہے

”اگر میں کذاب ومفتری ہوں جیسا آپ کہتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨)

مرزا قادیانی مر گئے۔ مولوی ثناء اللہ اب تک زندہ ہیں۔ کیا اس پیش گوئی کی رو سے مرزا قادیانی کے مفسد اور مفتری کذاب ہونے میں کچھ شک ہے؟۔ مرزائیو! کیا کہتے ہو۔ کیا اپنے مرشد کو جھٹلاؤ گے؟

”ڈاکٹر عبدالحکیم اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی نسبت خدا تعالیٰ نے مجھے الفاظ ذیل میں اطلاع دی ہے۔“

٣٠

خدا کے مقدسوں میں قبولیت کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ان پر کوئی غالب نہیں آ تو نے وقت کو نہ پہچانا۔ نہ دیکھا نہ جانا ”رب فا مصلح وکاذب“

(اشتہار خدا سچے کا حامی ص ٢، خزائن

خدا تعالیٰ کا یہ فقرہ کہ: ”وہ سلامت سے عبدالحکیم خاں کے اس فقرہ کا رد ہے کہ جو ساتھ شریر فنا ہو جائے گا۔ گویا میں کاذب ہو خدا تعالیٰ اس کے رد میں فرماتا ہے کہ جو خدا ہیں۔ ذلت کی موت اور ذلت کا عذاب ا اور صادق و کاذب میں کوئی امر فارق نہ رہے

غرض یہ کہ عبدالحکیم خاں مرزا قا مرزا قادیانی کاذب، شریر، مفتری سب کچھ زندگی میں فوت ہو کر اپنے لکھے ہوئے خ مورخہ ١٢ جولائی ١٩٠٦ء کہ مرزا تین سال سے ١٤ ماہ تک سزائے موت ہاویہ میں گرایا ہو کر قصہ پاک کر گئے۔

سے تیری شادی ہوگی۔ ”انا زوجنکھا ”فسیکفیکہم اللہ یردہ

غرض اس کے متعلق آپ ہوئیں لیکن محمدی بیگم دوسرے شخص سلطا گئی۔ آخر وقت تک آپ کو اس کی ہوس جاسوئے۔ ان کی منکوحہ آسمانی دوسر

صفحہ ٣٠٥

خدا کے مقدسوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ان پر کوئی غالب نہیں آ سکتا فرشتوں کی کھنچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے پر تو نے وقت کو نہ پہچانا۔ نہ دیکھا نہ جانا ”رب فرق بین صادق و کاذب انت تری کل مصلح و کاذب“

(اشتہار خدا سچے کا حامی ص ٢، خزائن ج ٢٢ ص ٤١١ حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٥٩،٥٦٠)

خدا تعالیٰ کا یہ فقرہ کہ: ”وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے عبد الحکیم خاں کے اس فقرہ کا رد ہے کہ جو مجھے کاذب اور شریر قرار دے کر لکھا ہے کہ صادق کے ساتھ شریر فنا ہو جائے گا یہ گویا میں کاذب ہوں اور وہ صادق اور وہ مرد صالح ہے اور میں شریر اور خدا تعالیٰ اس کے رد میں فرماتا ہے کہ جو خدا کے خاص لوگ ہیں وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ذلت کی موت اور ذلت کا عذاب ان کو نصیب نہیں ہوتا۔ اگر ایسا ہو تو دنیا تباہ ہو جائے اور صادق و کاذب میں کوئی امر فارق نہ رہے۔"

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٥٩ حاشیہ)

غرض یہ کہ عبدالحکیم خاں مرزا قادیانی کی زندگی میں مر جائے گا۔ اگر اس کے عکس ہوا تو مرزا قادیانی کاذب، شریر، مفتری سب کچھ ہوں گے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا قادیانی عبد الحکیم خاں کی زندگی میں فوت ہو کر اپنے لکھے ہوئے خطاب کے مصداق ہو گئے۔ عبد الحکیم خان کی پیش گوئی مورخہ ١٢ جولائی ١٩٠٦ء کہ مرزا تین سال تک ہلاک ہو جائے گا اور پھر یکم جولائی ١٩٠٧ء کہ آج سے ١٤ ماہ تک سزائے موت ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ پوری ہوئیں کہ آپ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو فوت ہو کر قصہ پاک کر گئے۔

سے تیری شادی ہوگی۔ ”انا زوجنکھا“

(تذکرہ ص ٣٧١ طبع ٣)

”فسیکفیکہم اللہ یردّہا الیک لا تبدیل لکلمات اللہ“

(انجام آتھم ص ٢١٦، خزائن ج ١١ ص ٢١٦)

غرض اس کے متعلق آپ کو بڑے دھڑلے کے الہام ہوتے رہے۔ کوششیں بھی ہوئیں لیکن محمدی بیگم دوسرے شخص سلطان محمد سے بیاہی گئی۔ پھر یہ کہا کہ بیوہ ہو کر ضرور واپس ملے گی۔ آخر وقت تک آپ کو اس کی ہوس رہی۔ لیکن مرزا قادیانی یہ حسرت دل میں لے کر قبر میں جا سوئے۔ ان کی منکوحہ آسمانی دوسرے کی آغوش میں دھڑا دھڑ بچے جن رہی ہے۔ مرزا کی

٣١

صفحہ ٣٠٦

بیچارے دیکھ دیکھ کر کڑھ رہے ہیں۔ لیکن اللہ رے خوش اعتقادی کہ اب بھی ایسے جھوٹے شخص کو مرشد سمجھا ہوا ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار! کہاں تک شمار کیا جائے۔ ہم چو قسم کی اور بھی کئی پیش گوئیاں کی گئیں جو جھوٹی نکلیں۔ مثلاً:

(تذکرہ ص ٣٥ طبع ٣)

گا۔“ (ندارد)

(تذکرہ طبع ٣ ص ٤٠، الحکم مورخہ ١٠؍جون ١٩٠٦ء)

(تذکرہ ص ٥١٣ طبع ٣)

بہت ہوگی۔“

(اشتہار ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٢)

کوئی خاتون نصیب نہ ہوئی۔ نہ اس سے نسل بڑھی۔ غرض آپ کی کوئی پیش گوئی بھی پوری نہ ہوئی۔ لیکن پھر بھی آپ صادق، مصدوق، مہدی مسعود، مسیح موعود بنے رہے اور مریدان خوش اعتقاد سر تسلیم خم کرتے رہے۔ (یا للعجب)

مرزا قادیانی کی تصانیف

مرزائی صاحبان مرزا قادیانی کے کمال نبوت ورسالت پر ایک یہ بھی دلیل پیش کیا کرتے ہیں کہ آپ نے بہت سی کتابیں عربی، فارسی، اردو میں تصنیف کی ہیں اور عربی قصیدے بھی لکھے ہیں جن کا کوئی جواب نہیں دے سکا۔ واضح ہو کہ مرزائی صاحبان نے مینڈک کی طرح صرف کنواں تک ہی اپنی نگاہ کو محدود کیا ہوا ہے۔

چواں کرم کہ در سنگے نہاں است
زمین و آسمان او ہماں است

کاش وہ متقدمین فضلاء کی تصانیف دیکھتے تو یہ رکیک استدلال پیش کرنے کی جرات نہ کرتے۔ کیا ان کو معلوم نہیں ہے کہ فقہاء کرام ومحدثین نے کس قدر ضخیم کتابیں لکھ کر ان میں علوم ومعارف بھر دیئے۔ مبسوط سرخسی تیس ضخیم جلدوں میں ہے جس میں فقہ کے مسائل کی تشریح کی گئی ہے۔ علامہ ابن عابدین معروف شامی نے پانچ بڑی بڑی جلدوں میں درمختار کی شرح، ردالمحتار تصنیف کی اس کے علاوہ ان کی اور بھی بہت سی تصانیف موجود ہیں۔ امام فخر الدین رازی کی تفسیر کبیر دیکھو۔ ایسا ہی روح البیان وغیرہ!

٣٢

چند مصنفین اسلام

شمس الدولہ والئی گورگاں نے اس کو عہد مریضوں کا ہاتھ دیکھ کر کھانا کھایا کرتا تھا۔ محصول ٢٠ جلد، البر والاثم، ٨ جلد، اسی کی و ریاضی میں ١٥ اور سیاست وموسیقی میں سا

شہر امل واقعہ طبرستان میں ٢٢٥ھ میں پیدا الادباء میں لکھا ہے کہ طبری نے چالیس سا لکھا کرتا تھا اور نظر ثانی نہ کرتا تھا۔ اس س اپنے دوستوں سے پوچھا تم اس بات س سے آج تک کے واقعات ہیں۔ اس ک مطالعہ کے لئے بڑی عمر چاہئے۔ طبری ہ کیا۔ جامع البیان فی تاویل القرآن ٢٥ قلمی موجود ہے۔ تاریخ الملوک والام ٣١٠ھ میں فوت ہوا اور بعدہ اپنے گھر می

مرزائی صاحبان بتائیں کہ ہے۔ انہوں نے کون سی تفسیر قرآن یا کی تمام کتابوں میں یا دوسرے لوگو مہدی مسعود، میں نبی ورسول، میں را ایسا، میں ویسا ہوں۔

مرزا قادیانی کی فصاحت وبلاغت

مرزا قادیانی کی فصاحت (حقیقت الوحی) میں لکھا ہے کہ کسی من حضور عالی اردو میں پنجابی الفاظ گھسیڑ

صفحہ ٣٠٧

چند مصنفین اسلام

شمس الدولہ والیٔ گورگاں نے اس کو عہدہ وزارت پر سرفراز فرمایا۔ وزارت کے ایام میں ١٢٠ مریضوں کا ہاتھ دیکھ کر کھانا کھایا کرتا تھا۔ علم طب میں ٢٦ کتابیں، فقہ اور توحید میں ١٢٠ حاصل محصول ٢٠ جلد، البر والاثم، ٨ جلد، اس کی تصانیف سے ہیں۔ لغت میں چار، منطق میں ٦ ،طبعی و ریاضی میں ١٥ اور سیاست و موسیقی میں سات تصانیف ہیں۔

شہر آمل واقعہ طبرستان میں ٢٢٥ھ میں پیدا ہوا۔ فن تاریخ میں کامل مہارت تھی۔ علامہ حموی نے معجم الادباء میں لکھا ہے کہ طبری نے چالیس سال تک تصنیف و تالیف کا سلسلہ قائم رکھا۔ ہر روز ٤٠ ورق لکھا کرتا تھا اور نظر ثانی نہ کرتا تھا۔ اس نے کل ٥ لاکھ ٥٨ ہزار ٤ سو ورق لکھے۔ ایک روز اس نے اپنے دوستوں سے پوچھا تم اس بات سے خوش ہو کہ میں نے ایک تاریخ لکھی ہے جس میں آدم سے آج تک کے واقعات ہیں۔ اس کی ضخامت ٣٠ ہزار ورق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے مطالعہ کے لئے بڑی عمر چاہئے۔ طبری نے کہا افسوس تمہاری ہمتیں پست ہو گئیں۔ پھر اس کو مختصر کیا۔ جامع البیان فی تاویل القرآن ٣٠ جلد اس کی تصنیف ہے۔ جو اب بھی کتب خانہ خدیویہ میں قلمی موجود ہے۔ تاریخ الملوک والامم ١١ جلد لندن میں چھاپی گئی ہے۔ مؤرخ موصوف شوال ٣١٠ھ میں فوت ہوا اور بعدہ اپنے گھر میں دفن ہوا۔

مرزائی صاحبان بتائیں کہ آپ کے مرزا کی ان مصنفین کے مقابلہ میں کیا حقیقت ہے۔ انہوں نے کون سی تفسیر قرآن یا فن فقہ اصول اور حدیث میں کوئی کتاب تصنیف کی؟ آپ کی تمام کتابوں میں یا دوسرے لوگوں کو گالیاں یا اپنی خودستائی درج ہے کہ میں مسیح موعود، میں مہدی مسعود، میں نبی ورسول، میں رام چندر، میں کرشن، میں شری کلنک بھگوان کا اوتار، میں ایسا، میں ویسا ہوں۔

مرزا قادیانی کی فصاحت و بلاغت

مرزا قادیانی کی فصاحت و بلاغت کا یہ حال ہے کہ اردو تک بھی صحیح نہ تھی۔ چنانچہ (حقیقت الوحی) میں لکھا ہے کہ کسی من چلے مرید نے آپ کی بودی اردو دیکھ کر اعتراض کر دیا کہ حضور عالی اردو میں پنجابی الفاظ گھسیڑ دیا کرتے ہیں تو فرمانے لگے کیوں نہ ہو۔ آخر پنجابی ہوں۔

٣٣

صفحہ ٣٠٩

جب عربی فارسی الفاظ اردو میں ملے جلے ہیں تو پنجابی الفاظ کی ملاوٹ پر کیا اعتراض ہے۔ واہ کیا عمدہ جواب ہے۔

بدین نکته زار می بباید گریست

عربی عبارت کا تو کیا کہنا۔ اعجاز المسیح نام ایک کتاب تصنیف فرمائی جس کو قرآن کا ہم پلہ بتلایا گیا۔ اس میں اکثر عبارات مقامات حریری کی سرقہ کر کے لکھی گئیں۔ جیسا کہ عدالت میں آپ کے مخلص مرید حکیم فضل دین بھیروی کو حلفی بیان دیتے وقت جب وہ عبارتیں دکھائی گئیں تو سوائے تسلیم کے چارہ نہ ہوا۔ آخر توارد کا عذر لنگ پیش کر دیا۔ چنانچہ بیان یوں ہے : ”اعجاز المسیح میں مقامات حریری سے عبارتیں نقل کی گئیں ہیں۔ حوالہ نقل کا نہیں ہے حوالہ نہ دینے سے اعجاز المسیح سرقہ کا ملزم نہیں ہے۔ (خود بخود بیان کیا کہ جن عبارتوں کے سرقہ کا الزام لگایا گیا ہے ) اعجاز المسیح پر وہ عبارتیں سرقہ نہیں کہی جاسکتیں۔ اس لئے کہ بعض وقت توارد کے طور پر دوسرے مصنف کا فقرہ لکھ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ فقرہ پہلے مصنف کا نہیں ہوتا اپنا طبعزاد ہوتا ہے۔ اس لئے میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ کل عبارتیں اصل ہیں یا نقل۔“

(بیان حکیم فضل الدین مستغیث مورخہ ٢٤؍ جون ١٩٠٢ء، بعدالت صیغہ آتمارام مجسٹریٹ درجہ اول گورداسپور)

مخلص مرید کا مرشد کی کتاب میں مقامات حریری کی بجنسہ عبارات دیکھ کر مبہوت ہو جانا اور یہ بودی دلیل پیش کرنے پر مجبور ہونا کہ یہ توارد بھی ہو سکتا ہے۔ قابل توجہ ہے کیا اسی بناء پر مرزا قادیانی اپنی اس کتاب کی نسبت لکھتے ہیں : ”ان کلامی ھذا قد جعل من المعجزات“ (این کلام من بطور معجزہ گردانیده شد) ”والی معجزة اعظم من اعجاز قد وقع ظل القرآن وشابه كلام الله فى كونه ابعد من طاقة الانسان“ (وکدام معجزه از ان معجزه بزرگ تر خواهد بود که قرآن را ہم چوں ظل واقع شدہ و کلام الہی را در خارق عادت بودن مماثل گشته، اعجاز المسیح ص ٤٥، ٤٦، خزائن ج ١٨، ص ٤٧، ٤٨) اگر عبارات اعجاز المسیح باوجود مسروقہ ہونے کے معجزہ ہیں تو مسروق منہ مقامات حریری کی عبارات کو کیوں نہ سب سے بڑا معجزہ مانا جائے۔

علاوہ ازیں جس قدر اغلاط کی بھر مار اس کتاب مماثل قرآن (اعجاز المسیح ) میں پائی جاتی ہیں۔ اس کی تفصیل سیف چشتیائی مؤلفہ حضرت پیر صاحب گولڑوی میں درج ہے۔ آپ کی کسی عربی کتاب کا کوئی صفحہ اٹھا کر دیکھو۔ درجنوں اغلاط پائی جائیں گی۔ چنانچہ آگے چل کر ہم معزز ناظرین کو مرزا قادیانی کی وہ عبارت مندرجہ مواہب الرحمن دکھائیں گے۔ جس کی بناء پر خاکسار کی طرف سے مرزا قادیانی پر استغاثہ ہوا۔ نمونہ کے طور پر آپ کے ایک الہام کی طرف توجہ

٣٤

دلائی جاتی ہے ۔ "الارض والسماء معك كما هـ ہونے کے علاوہ ایسا غلط ہے کہ ایک مبتدی بھی اس کی غ ضمیر واحد غائب ہے۔ جو ارض و سماء دو چیزوں کی طرف ضمیر تثنیہ ہونی چاہئے۔ اگر واحد کی ضمیر بھی ہو تو چونکہ لئے ضمیر واحد مؤنث ہی ہونی چاہئے تھی۔ واہ جی واہ اس یہ بات کہ آپ کے قصائد عربیہ کا کسی نے سے دینا کون بھلا مانس پسند کر سکتا ہے۔ چنانچہ آپ کے ذیل کئے جاتے ہیں۔ (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤، خزائن ج ٢

ومن اللئام ارى
غولا لعينانا

اور لئیموں میں سے ایک فاسق مرد کو دیکھتا ہ

شكس خبيث
نحس يسمى السـ

بدگو ہے اور خبیث اور مفسد اور جھوٹ کـ جاہلوں نے سعد رکھا ہے۔

بتائیے ! ایسی بیہودہ اور فحش گالیوں کے ہو سکتی ہے؟ علاوہ ازیں علماء وفضلاء کے پاس مرزا کو شائع کرتے رہیں۔ میرے پاس کئی قلمی تحریر مرزا قادیانی کی تردید میں لکھیں جن کی مرزا قادیان سے رہ گئیں۔

ہاں! اخویم علامہ دہر جناب ابوالفیض لفظ حروف میں آپ نے لکھ کر سیالکوٹ میں مرزا مبہوت ہو گئے تھے۔ سراج الاخبار جہلم رسالہ اعجـ ہوا موجود ہے۔ باوجود عرصہ ممتد گزر جانے کے قدرت نہ ہوئی۔ یہ قصیدہ ہم آگے چل کر درج کـ

صفحہ ٣٠٩

دلائی جاتی ہے۔ ”الارض والسماء معك كما هو معي“ (تذکرہ طبع ٣ ص ٦٥) یہ الہام کفریہ ہونے کے علاوہ ایسا غلط ہے کہ ایک مبتدی بھی اس کی غلطی نکال سکتا ہے۔ چنانچہ اس میں ”هو“ ضمیر واحد غائب ہے جو ارض و سماء دو چیزوں کی طرف راجع ہے۔ اس لئے ”هو“ نہیں ”هما“ ضمیر تثنیہ ہونی چاہئے۔ اگر واحد کی ضمیر بھی ہو تو چونکہ لفظ ارض و سماء مؤنثات سماعیہ سے ہیں۔ اس لئے ضمیر واحد مؤنث ہی ہونی چاہئے تھی۔ واہ جی واہ! مرزا قادیانی کی فصاحت و بلاغت کا کیا کہنا۔

یہ بات کہ آپ کے قصائد عربیہ کا کسی نے جواب نہیں لکھا۔ سو گالیوں کا جواب گالیوں سے دینا کون بھلا مانس پسند کر سکتا ہے۔ چنانچہ آپ کے پاکیزہ کلام کے دو شعر نمونہ کے طور پر درج ذیل کئے جاتے ہیں۔ (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٥) میں درج ہیں:

ومن اللئام ارے رجلاً فاسقاً
غولاً لعيناً نطفة السفهاء

اور لئیموں میں سے ایک فاسق مرد کو دیکھتا ہوں کہ ایک شیطان ملعون ہے سفیہوں کا نطفہ۔

شکس خبیث مفسد ومزور
نحس یسمی السعد فی الجهلاء

بدگو ہے اور خبیث اور مفسد اور جھوٹ کو ملمع کر کے دکھانے والا۔ منحوس ہے جس کا نام جاہلوں نے سعد رکھا ہے۔

بتائیے! ایسی بیہودہ اور فحش گالیوں کے جواب میں قلم اٹھانے کی کسی شریف کو جرأت ہو سکتی ہے؟ علاوہ ازیں علماء و فضلاء کے پاس مرزا قادیانی کی طرح پریس نہیں تا کہ وہ اپنے قصائد کو شائع کرتے رہیں۔ میرے پاس کئی قلمی تحریریں عربی نظم و نثر ایسی پڑی ہیں جو علماء نے مرزا قادیانی کی تردید میں لکھیں جن کی مرزا قادیانی کے مریدوں کو سمجھ بھی نہیں آ سکتی۔ مگر وہ چھپنے سے رہ گئیں۔

ہاں! اخویم علامہ دہر جناب ابو الفیض مولوی محمد حسن صاحب فیضی کا وہ قصیدہ جو بے نقط حروف میں آپ نے لکھ کر سیالکوٹ میں مرزا قادیانی کے پیش کیا تھا جس کو دیکھ کر مرزا قادیانی مبہوت ہو گئے تھے۔ سراج الاخبار جہلم رسالہ انجمن نعمانیہ لاہور روئیداد مقدمات قادیانی میں چھپا ہوا موجود ہے۔ باوجود عرصہ ممتد گزر جانے کے مرزا قادیانی یا کسی مرزائی کو اس کا جواب لکھنے کی قدرت نہ ہوئی۔ یہ قصیدہ ہم آگے چل کر درج کریں گے اور مرزائیوں کو چیلنج دیں گے کہ اب بھی

٣٥

صفحہ ٣١٠

اگر قدرت ہے تو اس کا جواب دیں۔ علامہ ممدوح نے سورہ فاتحہ کی ایک مکمل تفسیر بے نقط حروف میں لکھی تھی قلمی موجود ہے۔ نیز آپ کی ایک کتاب علم فرائض میں عربی نظم میں اشعار کی چھپی ہوئی ہے جس کو دیکھنے سے علامہ ممدوح کے تبحر علمی کا اور علم ادب میں قابلیت کا پتہ چلتا ہے۔ ہاں! مرزائی صاحبان نے علامہ فیضی فیاضی (وزیر دربار اکبری) کی تفسیر سواطع الالہام تو ضرور دیکھی ہوگی۔ جو ایک ضخیم تفسیر قرآن بے نقط حروف میں ہے۔ پھر انصاف کریں کہ مرزا قادیانی کی تصانیف کی اس کے مقابلہ میں کیا حقیقت ہے۔ غرض مرزا قادیانی کی ایسی اناپ شناپ اغلاط سے بھر پور تصانیف کبھی ان کی نبوت رسالت یا صداقت کی ہرگز دلیل نہیں ہوسکتیں۔ جن پر مرزائی ناز کر رہے ہیں۔

مرزا قادیانی کے نشانات

مرزا قادیانی خدا کا خوف نہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ”میری تائید میں اس نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ آج کی تاریخ سے جو ١٦؍فروری ١٩٠٦ء ہے۔ اگر میں ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں اور اگر کوئی میری قسم کا اعتبار نہ کرے تو میں اس کو ثبوت دے سکتا ہوں ۔“

(حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠)

پھر (تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) پر لکھا ہے کہ ”رسول اللہ سے ٣ ہزار معجزے ظاہر ہوئے۔“

اس سے ثابت ہوا کہ معاذ اللہ معجز نمائی میں آپ کو رسول اللہ ﷺ پر بھی فضیلت ہے۔ ہاں! جناب آپ کی قسم پر اعتبار کر کے تو ایسا جھوٹ جو زمین و آسمان میں نہیں سما سکتا کون تسلیم کر سکتا ہے۔ ہم آپ سے اس پر ثبوت مانگتے ہیں۔ بتلائیے ! وہ کیا ہے آپ نے اپنی آخری تصنیف حقیقت الوحی میں جو اپنے نشانات کی فہرست دی ہے۔ باوجود یکہ ایک ایک واقعہ کو دس دس بارہ بارہ دفعہ بیان کر کے تعداد بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ پھر بھی نشانات کا آخری نمبر ٢٠٥ تک پہنچ سکا ہے ۔ اگر تین لاکھ نشان تھے تو کم سے کم تین ہزار اگر یہ بھی نہیں تو تین سو تو پورے کرتے۔ (جھوٹ کی حد ہوگئی)

آپ نے (اعجاز احمدی ص ١، خزائن ج ١٩ ص ١٠٧) میں یہ بھی تحریر فرمایا ہے: ”میری پیشین گوئیوں کے مصدق ١٠ لاکھ ہیں۔“ ذرا ان کا اتہ پتہ ہی بتا دیا ہوتا۔

تا سیاہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد

٣٦

ہاں ہم! آپ کے بعض ان نشانات درج فرمائے ہیں۔ جن میں متعدد نمبر مقدمات ج سے ہم کو اب دوبارہ روئیداد مقدمات شائع کر ذلت کے چمکتے ہوئے نشان تھے عزت و صداق ہے۔ بلکہ آپ کے خلیفہ محمود اور عینی گواہ مولو معجزات میں شمار کر کے بہت کچھ خامہ فرسائی دوست سے نبرد آزما ہوں اور گڑے مردے اکھیڑ شوخ چشمی اور احباب کے اصرار سے اب یہ ب منکشف ہو جائے کہ مقدمات میں مرزا قادیانی م وہ ذلت اور شکست دی جس کو قبر میں بھی نہ بھو ایک بہت مقدار تو حرم سراء میں لڑکوں اور لڑکیوں مہیا کی گئی ہے۔ جن کی تفصیل ترتیب وار درج ذی

رکھا گیا۔ جس کے عقیقہ کے روز بکرا مارا گیا ب

المحفوظ رکھا گیا۔ یہ زندہ ہے۔

بشیر احمد، شریف احمد، مبارک احمد ( پورا گنڈا پیدا

طبع ٣ ص ٣٢٧) (بے معنی) الہام ہوا۔ لڑکا دوسر

صفحہ ٣١١

ہاں ہم! آپ کے بعض ان نشانات پر نظر کرتے ہیں جو آپ نے حقیقت الوحی میں درج فرمائے ہیں۔ جن میں متعدد نمبر مقدمات جہلم و گورداسپور کے بھی دیئے گئے ہیں اور اسی وجہ سے ہم کو اب دوبارہ روئیداد مقدمات شائع کرنی پڑی ہے کہ آپ نے ان واقعات کو جو آپ کی ذلت کے چمکتے ہوئے نشان تھے عزت و صداقت کے نشان قرار دے کر پبلک کو دھوکہ دینا چاہا ہے۔ بلکہ آپ کے خلیفہ محمود اور عینی گواہ مولوی محمد علی نے بھی ان مقدمات کو مرزا قادیانی کے معجزات میں شمار کر کے بہت کچھ خامہ فرسائی کی ہے۔ دل نہ چاہتا تھا کہ اپنے مرے ہوئے دوست سے نبرد آزما ہوں اور گڑے مردے اکھیڑنے کی سعی کریں۔ مگر مرزا اور ان کے مریدوں کی شوخ چشمی اور احباب کے اصرار سے اب یہ روئیداد لکھی جارہی ہے تاکہ مسلمانوں پر اصلیت منکشف ہو جائے کہ مقدمات میں مرزا قادیانی مظفر منصور ہوئے ہیں یا ان میں اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ ذلت اور شکست دی جس کو قبر میں بھی نہ بھولے ہوں گے۔ سو نشانات مندرجہ حقیقت الوحی کی ایک بہت مقدار تو حرم سراء میں لڑکوں اور لڑکیوں کی پیدائش وفات یا بیماری یا تیمارداری وغیرہ سے مہیا کی گئی ہے۔ جن کی تفصیل ترتیب وار درج ذیل ہے۔

رکھا گیا۔ جس کے عقیقہ کے روز لیکھرام مارا گیا۔

الحفیظ رکھا گیا۔ یہ زندہ ہے۔

بشیر احمد، شریف احمد، مبارک احمد (پورا کنبہ پیدا ہوئے)

طبع ٣ ص ٣٢٧) (بے معنی) الہام ہوا۔ لڑکا دوسرے دن شفایاب ہو گیا۔

٣٧

صفحہ ٣١٢

نشان نمبر ٨٥...... مجھے قولنج ہو گیا۔ سولہ دن پاخانہ سے خون آتا رہا۔ دریا کی ریت طبع دورود پڑھ کر ملی گئی آرام ہو گیا۔ نشان نمبر ٨٦...... میرے دانت کو درد ہو گیا القا ہوا ”فَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْ“ (تذکرہ طبع ٣ ص ٣٣٧) درد سے آرام ہو گیا۔ نشان نمبر ٨٧...... دہلی میں شادی رچائی سامان عروسی کا فکر تھا۔ الہام ہوا؎

هر چه باید نو عروسی راهمه سامان کنم

(تذکرہ طبع ٣ ص ٤٨)

ایک جگہ سے پانسو اور دوسری جگہ سے تین سو روپیہ قرضہ مل گیا۔ سامان عروسی تیار ہو گیا۔ نشان نمبر ١٨١....... ایک لڑکی عاشق پیدا ہو کر مرگئی۔ نشان نمبر ١٨٥....... خواب میں دیکھا کہ مبارک احمد کا پاؤں پھسل گیا ہے۔ اپنی عورت سے یہ کشف بیان کیا۔ تھوڑی دیر بعد لڑکا ایک طرف سے دوڑا آیا۔ جب چٹائی کے پاس آیا پاؤں پھسل گیا۔ پیش گوئی پوری ہوئی۔ پیش گوئی کرنے والے مرزا قادیانی خود بدولت گواہ اپنی جورو۔ نشان نمبر ١٨٦....... مبارک احمد کو پیاس لگی۔ کہا اب پانی۔ میں نے دوڑ کر کنوئیں سے پانی پلا دیا الہام پورا ہو گیا۔ (حقیقت الوحی ص ٢١٧، ٢١٨، ٢٢٩، ٢٣٤، ٢٣٥، ٣٨١ تا ٣٨٥، خزائن ج٢٢ ص ٢٢٧، ٢٣٠، ٢٤٥، ٢٤٦، ٣٩٥ تا ٤٠٠)

غور فرمائیے یہ پندرہ نشانات گھر ہی سے مل گئے۔ ہمیشہ انسان کے گھر اولاد پیدا ہوتی رہتی ہے۔ بالخصوص ایسے شخص کے ہاں جس نے مقوی ادویہ مشک عنبر یاقوتیاں، اپنی روزانہ خوراک بنا رکھی ہوں۔ پھر جب آثار حمل ظاہر ہوئے تو پیش گوئی جڑ دی لڑکا ہو گا یا لڑکی۔ آخر کچھ تو ہو گا جو کچھ بھی پیدا ہوا نشان پورا ہو گیا۔ گواہ بھی گھر کے آدمی ہیں جھٹلائے گا کون؟ جتنے لڑکے یا لڑکیاں پیدا ہوئیں زندہ رہیں تو بہتر ، مر جائیں تو بلا سے آخر نشان تو ہو گیا۔ ایسا ہی مرزا قادیانی کو قبض ہو کر پھر پاخانہ آگیا تو بھی نشان پورا ہو گیا۔ ڈاڑھ درد کرنے لگی پھر درد سے آرام ہو گیا۔ (ہر ایک شخص کو ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں) بس نشان پورا ہو گیا۔ شادی رچائی معمولی آدمیوں کو بھی ایسی تقاریب پر قرضے مل جاتے ہیں۔ سات آٹھ سو روپیہ قرضہ مل گیا۔ سامان عروسی تیار ہو گیا۔ شادی کی شادی اور نشان کا نشان ایسے نشانات کا کیا کہنا۔ گھر میں کسی لڑکے نے ہگ دیا۔ یا موتا یا پاؤں پھسل گیا یا پانی مانگا۔ باباجی کا نشان بن گیا۔ خوب؎

ایں کرامات پیر ما چه عجب گر به شاشید گفت باران شد
صفحہ ٣١٣

حضور والا ! ان الہامات کو تو ہضم کر گئے۔ جو صاف جھوٹے ہو کر ملہم کی کذب بیانی پر مہر کر گئے۔ مثلاً غلام حلیم کی بشارت جو بمنزلہ مبارک احمد ہوگا۔ یحییٰ کی بشارت جو زندہ رہے گا۔ عالم کباب کی بشارت جس کی پیدائش سے جہان درہم برہم ہو جائے گا۔ شوخ و شنگ لڑکا کی بشارت جو لڑکی کی شکل میں نمودار ہوا۔

خواتین مبارکہ کی بشارت جو نصرت جہاں بیگم کے بعد ہوں گی اور اس سے نسل بہت بڑھے گی۔ (عمارہ) محمدی بیگم کی بشارت جس کا آسمان پر نکاح بھی پڑھا گیا۔ مرزا قادیانی اسی ہوس میں مر گئے وہ رقیب کے پاس چین اڑا رہی ہے۔ مرزا قادیانی عمر بھر یہی کہتے رہے۔

رقیب آزار ہا فرمود و جائے آشتی نگذاشت
کہ بس عمریست کیں بیمار سر بر آستان دارد

مقدمات کے نشان

مرزا قادیانی کے خلاف دو استغاثے ہوئے۔ ایک جہلم میں جو ایک قانونی بنا پر خارج ہو گیا۔ آپ نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ پیش گوئیوں کی بھر مار کر دی۔ نادانی سے جوش میں آ کر جہلم میں ایک کتاب مطبوعہ مواہب الرحمٰن تقسیم کی گئی۔ جس میں میرا نام لکھ کر گالیاں دی گئیں ۔ اس کی بناء پر دوسرا استغاثہ کیا گیا جو آپ کے لئے بلائے بے درماں ثابت ہوا ۔ قریباً دو سال اس میں سرگرداں رہے جو تکالیف برداشت کیں ان کا ذکر آئے گا۔ آخر عدالت ماتحت آتمارام صاحب سے آپ کو پانچ سو روپیہ جرمانہ یا ٦ ماہ قید کی سزا ہوئی۔

آپ کے مخلص مرید حکیم فضل دین صاحب بھیروی کو اسی مقدمہ میں دو سو روپیہ جرمانہ یا پانچ ماہ قید کی سزا ہوئی۔ آخر عدالت سیشن کورٹ میں اپیل کرنے پر بصد مشکل رہائی ہوئی۔ صرف اس ایک واقعہ کی بناء پر آپ نے کتنے نمبر نشانات مشتہر کئے۔ ان کی تفصیل سنئے۔ (حقیقت الوحی ص ٢١٤، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٤) سے ان نشانات کا اندراج شروع ہوتا ہے جو درج ذیل ہیں۔

شی خادمک فاحفظنی و انصرنی وارحمنی“ (اس عبارت میں مقدمہ فوجداری یا بریت کا کوئی ذکر نہیں ) خدا نے مجھے اس مقدمہ سے بری کیا۔

گورداسپور میں دائر تھا۔

٣٩

صفحہ ٣١٥

نشان نمبر ٢٧ ...... کرم دین جہلمی کی سزایابی کی نسبت پیش گوئی تھی جو مواہب الرحمٰن میں درج ہے۔ اس میں وہ سزا پا گیا۔ (حالانکہ بیانات حلفی میں مقدمہ کی نسبت پیش گوئی سے انکار کرتے رہے۔ اس کا ذکر آئے گا)

نشان نمبر ٢٨ ...... آتارام کی اولاد کی موت کی نسبت پیش گوئی تھی۔ بیس دن میں اس کے دو لڑکے مر گئے۔ (ہرگز یہ پیش گوئی کسی کتاب اخبار یا اشتہار میں شائع نہیں کی گئی۔ بعد از واقعہ یہ پیش گوئی گھڑی گئی اور آتارام کی اولاد کے مرنے سے فائدہ کیا ہوا۔ آتارام نے آپ کو طرح طرح تکالیف میں مبتلا کرنے کے بعد پانچ سو روپیہ جرمانہ یا ٦ ماہ قید کی سزا بھی دے دی۔ فائدہ تو جب تھا کہ آتارام مر گیا ہوتا اور مرزا قادیانی سزا سے بچ جاتے)

نشان نمبر ٢٩ ...... لالہ چندو لال مجسٹریٹ کے تنزل کی پیش گوئی تھی۔ چنانچہ وہ گورداسپور سے تبدیل ہو کر ملتان منصفی پر چلا گیا۔ (کلا وحاشا کسی کتاب یا اخبار یا اشتہار میں اس پیش گوئی کا نام و نشان نہیں۔ اگر مرزا قادیانی کو علم ہوتا کہ ان کی پیش گوئی کے مطابق مجسٹریٹ نے تبدیل ہو جانا ہے تو انتقال مقدمات کی زحمت چیف کورٹ تک کیوں گوارہ کی جاتی۔ پھر لالہ چندو لال کی تبدیلی سے مرزا قادیانی کو کیا فائدہ ہوا۔ ان کے دو مقدمات جو خاکسار کے خلاف دائر تھے۔ وہ خارج کر گئے اور ان کے وقت تو مرزا قادیانی پیشی مقدمہ کے وقت آرام سے کرسی پر بیٹھے رہتے تھے۔ ان کی تبدیلی پر ایک ایسا جابر حاکم مسمی آتارام آ گیا کہ جس نے عدالت میں روزانہ ٦ ، ٦ گھنٹہ مرزا قادیانی کو ملزموں کے کٹہرے پر پاؤں پر کھڑا رکھا۔ آخر پانچ سو روپیہ جرمانہ ورنہ ٦ ماہ قید کی سزا بھی دے دی۔ فائدہ تو تب ہوتا کہ لالہ چندو لال کی تبدیلی پر مرزا قادیانی کا کوئی مخلص مرید مجسٹریٹ یہاں آ جاتا اور مرزا قادیانی کو بری کر دیتا)

نشان نمبر ٦٣ ...... براہین احمدیہ میں فتح مقدمات کی پیش گوئی تھی مجھے فتح ہوتی رہی۔

نشان نمبر ١٠١ ...... کرم دین کے فوجداری مقدمہ کے لئے جہلم جا رہا تھا تو الہام ”.......... بركات من كل طرف جهلم“ میں مجھے قریباً دس ہزار آدمی دیکھنے آیا۔ ١٠٠ مرد اور دو سو عورت نے بیعت کی۔ (جھوٹ سفید جھوٹ اس کے متعلق ہم آگے چل کر بحث کریں گے) مقدمہ میں مجھے بریت ہوئی۔

نشان نمبر ١١٨ ...... کرم دین جہلمی کے مقدمہ فوجداری کے لئے گورداسپور گیا تو مجھے الہام ہوا۔ ”يسئلونك عن شانك قل الله ثم ذرهم في خوضهم يلعبون“ اپنی جماعت کو یہ الہام سنا دیا۔ خواجہ کمال الدین اور مولوی محمد علی بھی موجود تھے۔ (خواجہ کے گواہ ڈڈو) کچہری میں

٤٠

گئے تو فریق ثانی کے وکیل نے سوال کیا۔ کیا آپ کی شر میں لکھا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ خدا کے فضل سے بچ ہے۔ تب وہ صبح کا الہام پورا ہو گیا۔ (یہ ہے حضرت اقدس حلفی آگے بعینہ درج ہوں گے۔ ان میں نہ اس سوال کا ایسے اقوال کا کیا کہنا۔ پیغمبر تو جھوٹ نہیں کہا کرتے۔ مر جھوٹ ہی جھوٹ ہے۔

نشان نمبر ١٧٠ ...... ٢٩؍ جون ١٩٠٣ء کو رات کے وقـ کیا انجام ہوگا۔ الہام ہوا ”ان الله مع الذين اتقوا و مقدمات کا فیصلہ ہمارے حق میں ہوا۔

نشان نمبر ١٧٩ ...... مولوی کرم دین کے مقدمہ میں کذاب کے معنے سنگین بیان کرتا تھا۔ ہم خفیف ان دنوں

معنی دیگر نہ بـ

آخر فیصلہ میں ہمارے معنے پسند کئے گئے۔

نشان نمبر ١٨٠ ...... ایک دفعہ ١٩٠٢ء میں الہام ہوا۔ ويتخطفوا عرضك رانى معك ومع اهلك “ ہیکڑ سنڈھے (پنجابی اردو) مجھے مارنے کو کھڑے ہیں دیا پھر دوسرے نے حملہ کیا وہ بھی ہاتھ سے ہٹا دیا۔ تیسرا لگ کر کھڑا ہو گیا اور میں اس کے ساتھ رگڑ کر (پنجابی ”رب كل شئ خادمك“ اس سے سمجھا کہ کوئی بـ مجھ پر مقدمہ کیا۔ مقدمہ سخت تھا۔ میرے کشف کے مو میں تین نہیں بلکہ سات وکیل تھے۔ البتہ جس وقت وکلا تھے۔ یہی بات ذہن میں تھی۔ کشف ”بن گیا“ آخر خارج ہونے کو کتنے نمبروں میں بار بار بیان کر کے نشان

ناظرین غور فرمائیں! صرف دو مقدمات گیارہ نشانات بنائے گئے ہیں۔ بات کا بتنگڑ اسی کو کہـ

٤١

صفحہ ٣١٥

گئے تو فریق ثانی کے وکیل نے سوال کیا۔ کیا آپ کی شان اور مرتبہ ایسا ہے جیسا تریاق القلوب میں لکھا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ خدا کے فضل سے یہی مرتبہ ہے جو اس نے یہ مرتبہ مجھے عطا کیا ہے۔ تب وہ حج کا الہام پورا ہو گیا۔ (یہ ہے حضرت اقدس کا سفید جھوٹ) آپ کے ہر دو بیانات حلفی آگے بلفظہ درج ہوں گے۔ ان میں نہ اس سوال کا ذکر ہے نہ جواب کا۔ ایسے الہامات اور ایسے اقوال کا کیا کہنا۔ پیغمبر تو جھوٹ نہیں کہا کرتے۔ مرزا قادیانی عجیب نبی ہیں کہ تانا بانا سب جھوٹ ہی جھوٹ ہے۔

نشان نمبر ١٧١...... ٢٩ / جون ١٩٠٣ء کو رات کے وقت یہ فکر ہو رہی تھی کہ مقدمات کرم دین کا کیا انجام ہوگا۔ الہام ہوا ”ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون“ نتیجہ یہ ہوا کہ مقدمات کا فیصلہ ہمارے حق میں ہوا۔

نشان نمبر ١٧٦...... مولوی کرم دین کے مقدمہ میں جو گورداسپور میں ہوئے کرم دین لئیم اور کذاب کے معنے سنگین بیان کرتا تھا۔ ہم خفیف ان دنوں الہام ہوا۔

معنی دیگر نہ پسندیم ما

(تذکرہ طبع ٣ ص ٥١٤)

آخر فیصلہ میں ہمارے معنے پسند کئے گئے۔

نشان نمبر ١٨٠...... ایک دفعہ ١٩٠٢ء میں الہام ہوا۔ ”یريدون ليطفوا نورك ويتخطفوا عرضك انی معك ومع اهلك“ ان دنوں میں نے خواب دیکھا کہ تین قوی ہیکل سنڈھے (پنجابی اردو) مجھے مارنے کو کھڑے ہیں۔ ایک نے ان سے مجھ پر حملہ کیا میں نے ہٹا دیا پھر دوسرے نے حملہ کیا وہ بھی ہاتھ سے ہٹا دیا۔ تیسرا بڑی شدت سے آیا قریب آیا تو دیوار سے لگ کر کھڑا ہو گیا اور میں اس کے ساتھ رگڑ کر (پنجابی) اس کے پاس سے گزر گیا۔ پھر القا ہوا۔ ”رب کل شئی خادمک“ اس سے سمجھا کہ کوئی مجھ پر مقدمہ ہوگا۔ آخر کرم دین نے جہلم میں مجھ پر مقدمہ کیا۔ مقدمہ سخت تھا۔ میرے کشف کے مطابق اس میں تین وکیل تھے۔ (اس مقدمہ ہذا میں تین نہیں بلکہ سات وکیل تھے۔ البتہ جس وقت وکلاء مرزا قادیان نے مسل دیکھی اس وقت تین تھے۔ یہی بات ذہن میں تھی۔ کشف بن گیا) آخر کار مقدمہ خارج ہو گیا۔ (غور کیجئے مقدمہ خارج ہونے کو کتنے نمبروں میں بار بار بیان کر کے نشان کے نمبروں میں اضافہ کیا گیا ہے)

ناظرین غور فرمائیں! صرف دو مقدمات (جہلم و گورداسپور) کا بار بار اعادہ کر کے گیارہ نشانات بنائے گئے ہیں۔ بات کا بتنگڑ اسی کو کہتے ہیں۔ بیچارے کیا کریں۔

٤١ براہین احمدیہ

صفحہ ٣١٦

کے خریدار تین سو دلائل حقانیت اسلام مانگتے ہیں ۔ وہ تو نہ لکھے جاسکے ان کو نشانات کی شکل میں لاکر خریداروں کی آنکھ میں خاک جھونکنے کی کوشش کی گئی ۔ ایک ایک واقعہ کے بارہ بارہ پندرہ پندرہ نمبر دکھلائے گئے ۔ پھر بھی تین سو کی تعداد پوری نہ ہوئی ۔ خسر الدنيا والآخرة !

مرزا قادیانی کی پیش گوئی مقدمات سے انکار

اب جب جناب والا کو مقدمات سے ہرگز نجات ملی۔ پیش گوئیوں کی بھرمار ہونے لگی ہے۔ لیکن دوران مقدمہ میں ایسی کوئی پیش گوئی ہونے سے صاف انکار فرماتے رہے ۔ چنانچہ آپ نے جو بیان حلفی بمقدمہ حکیم فضل دین بنام مولوی کرم الدین جرم ٤٢٠ تعزیرات ہند عدالت لالہ چندو لال صاحب مجسٹریٹ میں بحیثیت گواہ صفائی لکھایا۔ اس میں صاف بیان کیا۔ ”(مواہب الرحمٰن جنوری ١٩٠٣ء) میں شائع ہوئی۔ اس سے پہلے لکھی گئی تاریخ لکھنے کی یاد نہیں ہے۔ کیونکہ بشریت ساتھ ہے۔ اچھی طرح یاد نہیں ہے کہ کتاب کب چھپی ہے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ کب لکھی گئی اور کب شروع ہوئی ۔ البتہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ جب جہلم گیا تھا تو اس وقت یہ کتاب ساتھ گئی تھی۔ یعنی چھپی ہوئی تھی۔ (مواہب الرحمٰن ص ١٢٩، خزائن ج ١٩ ص ٢٥٠) میں نے دیکھی اس میں کرم الدین کا حوالہ ہے۔ مقدمہ کا ذکر نہیں ہے۔ مگر اگلے (ص ١٣٠، خزائن ج ١٩ ص ٢٥١) پر استغاثہ کا ذکر ہے جو کرم الدین کی طرف سے ہوا۔“

اس بیان میں آپ نے کتنے ہیر پھیر کئے۔ پہلے صاف فرمایا کہ ص ١٢٩ پر مقدمہ کا ذکر نہیں ہے۔ حالانکہ اب اسی صفحہ کی عبارت کو مقدمہ کی پیش گوئی بتایا جاتا ہے۔ آخر مجبور ہو کر دبی زبان سے کہنا پڑا کہ ص ١٣٠ پر استغاثہ کا ذکر ہے۔ اگر یہ پیش گوئی منجانب اللہ تھی تو کیوں نہ صاف صاف فرما دیا۔ یہ تو مقدمہ فوجداری کرم الدین کی نسبت پیش گوئی تھی جو پوری ہوئی اور مقدمہ خارج ہو گیا۔

اب دیکھئے! قادیانی حکیم الامۃ مولانا نور الدین خلیفہ اوّل اس عبارت کے متعلق کیا فرماتے ہیں۔ آپ نے جو بیان حلفی بمقدمہ مولوی کرم الدین بنام مرزا غلام احمد بحیثیت گواہ صفائی بعدالت لالہ آتمارام صاحب مجسٹریٹ درجہ اوّل گورداسپور میں لکھایا۔ اس میں صاف لکھاتے ہیں کہ ”اس میں مقدمات کا کچھ تعلق نہیں۔ نہ تین حامیوں سے مراد تین وکیل ہیں بیان یوں ہے۔ میں نے یہ کتاب مواہب الرحمٰن پڑھی ہے۔ مثل عربی خوانوں کے جو اس کتاب کو سمجھ سکتے ہیں میں سمجھا کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ مجھے خدا نے خبر دی ہے۔

٤٢

صفحہ ٣١٧

کہ کس بات کی بابت یہ بیان ہے۔ کرم دین کے نام سے بھی یقین نہیں ہوتا۔ اگر واقعات اور اخباروں کو مدنظر نہ رکھا جاوے۔ ص ١٣٠ پر استغاثہ کا پتہ لگتا ہے۔ بعد آخری سطر ص ١٢٩ کے یہ پتہ لگتا ہے کہ کرم دین نے سلب امن کا ارادہ کیا ہے اور وکلاء کے لئے کچھ مال رکھا ہے اور کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ ملایا ہے۔ واقعات کے لحاظ سے میں یہ سمجھا کہ لئیم اور بہتان باندھنے والا خطوط اور سراج الاخبار سے پیدا ہوگا اور آبرو ریزی کا ارادہ انہی خطوط و اخباروں کا نتیجہ ہے۔“

پھر آخر میں فرماتے ہیں۔ ”ذلک اشارہ واحد ہے۔ اس کی تعیین خواب میں نہیں ہوئی۔ واقعات نے تصریح نہیں کی کہ کیا ہیں۔ واقعات کے قرائن نے بتلایا کہ شہاب الدین، پیر صاحب اور ایڈیٹر سراج الاخبار یہ تین مددگار ہیں۔ ارادہ توہین ہوا بذریعہ خطوط اخبار اور مقدمہ بمقام جہلم کتاب سے کسی مددگار کا پتہ نہیں چلتا۔ وکیل مددگار نہیں ہوا کرتے۔ بجواب وکیل ملزمان جس غرض کے لئے کرم دین نشانہ بنا تھا اس سے نجات نہیں ہوئی۔ اس سے مراد یہ ہے کہ خطا اور مضمون کرم دین کا قرار دیا گیا۔“

دیکھئے! خلیفہ اوّل نے کیسا صاف الفاظ میں ساری پیش گوئی پر پانی پھیر کر مرشد کی ساری کاروائی کو غارت کر دیا۔ آبرو ریزی سے مراد مقدمہ نہیں خطوط و اخبار بیان کئے اور تین مددگار وکیل نہیں بلکہ شہاب الدین پیر صاحب اور ایڈیٹر سراج الاخبار قرار دیئے گئے اور کھلے الفاظ میں مرزا قادیانی کے قول کی تکذیب کرتے ہوئے فرما دیا کہ وکیل مددگار نہیں ہوا کرتے اور کرم دین کا نشانہ بننے سے یہ مراد نہیں کہ مقدمہ میں سزا ہوئی۔ بلکہ یہ کہ خط و اخبار کا مضمون اس کے قرار دیئے گئے۔ کیا مرزائی صاحبان خلیفہ اوّل حکیم الامۃ کے اس بیان کی تصدیق کرتے ہوئے تسلیم کریں گے کہ مقدمات کے متعلق پیش گوئی ہونا اور ثلث حماۃ (تین مددگار) سے تین وکیل مراد ہونا قطعاً غلط ہے۔ نہ کوئی پیش گوئی تھی نہ کوئی الہام تھا۔ ایسے گول مول الہامات اور پیش گوئیاں تو ارذل پوپو بھی کر دیا کرتے ہیں اور واقعات کے بعد ان کو اپنے مطلب کے مطابق کرنے کی کوشش کیا

٤٣

صفحہ ٣١٩

کرتے ہیں۔ اب مرزا قادیانی کے حلفی بیان اور مولانا نورالدین کے حلفی بیان کے بعد یہ ساری بنیاد جو نشانات کی تعمیر کے لئے قائم کی گئی تھی بالکل متزلزل ہو جاتی ہے۔

فیضی کی وفات کی پیش گوئی

اسی طرح مرزا قادیانی نے حسب عادت وفات فیضی کو بھی دو نمبروں میں بیان کر کے نشانات کی تعداد بڑھائی ہے۔ چنانچہ (حقیقت الوحی ص ٢٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٩) میں ہے۔

نے مفصل اپنی کتاب مواہب الرحمٰن میں لکھا ہے۔

اللہ علی الکاذبین لکھ کر اپنے تئیں مباہلہ میں ڈالا۔ چنانچہ اس تحریر پر ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ مر گیا۔“ (ایضاً ص ٣٥٦) (تعجب ہے کہ صرف لعنۃ اللہ علی الکاذبین ) لکھنے والا جس میں مرزا قادیانی کا نام تک نہیں ہے مباہلہ کی زد میں آ گیا۔ لیکن مولوی ثناء اللہ جن سے شدومد سے مباہلہ کیا گیا اور ڈاکٹر عبدالحکیم جو اس سے سخت سنگین کلمات مرزا قادیانی کی نسبت استعمال کرتے رہے۔ ان کا بال بھی بیکا نہ ہوا۔ بلکہ مرزا قادیانی ان سے پہلے خود چل بسے۔

عدالت میں اس پیش گوئی سے انکار

لیکن تعجب تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے عدالت میں مولوی محمد حسن کی نسبت پیش گوئی کرنے سے بھی صاف انکار کیا۔ اب کس منہ سے ان کو اپنی پیش گوئی کا مصداق قرار دے رہے ہیں۔ مگر شرم چہ سگی است کہ پیش مرداں بیاید!

بمقدمہ حکیم فضل دین بنام مولوی کرم الدین مرزا قادیانی کا جو حلفی بیان بحیثیت گواہ صفائی عدالت لالہ چندو لال صاحب مجسٹریٹ میں ہوا اس میں یوں ارشاد ہے۔

”الہام ’انی مہین من اراد اہانتک‘ کئی سال پہلے مجھ کو ہوا تھا۔ یعنی مقدمات سے کئی سال پہلے۔ پیش گوئی ”من قام للجواب وتنمر فسوف یریٰ انہ تندم وتدمر“ فیضی کی نسبت نہیں ہے۔ پھر آگے چل کر فرماتے ہیں۔ سوال یہ دونوں الہام آپ کے سچے ہوئے کہ نہیں؟ یہ متعلق مولوی محمد حسن اور پیر مہر علی شاہ !“ جواب پہلے میں نے قبل سراج الاخبار شائع ہونے کے خیال کیا تھا کہ یہ دونوں الہام سچے ہوگئے ہیں۔ مگر سراج الاخبار کے شائع ہونے کے بعد میں نے یقین کر لیا کہ یہ میری رائے غلط نکلی۔ کیونکہ پیش گوئیوں کا مصداق قائم کرنا اکثر رائے سے ہوا کرتا ہے۔ یہ بات صرف رائے کے متعلق ہے۔ نفس پیش گوئیوں کو اس سے کچھ تعلق نہیں۔“ ٤٤

پھر اب اس حلفی بیان کے خلاف مرزا قا کے مطابق فوت ہوا ہے کس قدر ڈھٹائی ہے؟

مرزائیوں کی مقدمہ بازی

اب ہم اس قدر تمہید لکھنے کے بعد اپنے مقدمہ بازی کا سلسلہ پہلے مرزا قادیانی کے حکم سے واشتہارات میں جھاڑ رکھا۔ گویا یہ ان کا قانونی جہا لوٹا۔ چنانچہ آخری روز فیصلہ کے دن خواجہ کمال ا سر عدالت تسلیم کیا کہ مقدمہ بازی میں ہمارے تئیں مرزا قادیانی نے جیسا کہ ان کے بیانات سے ظاہر فریق مقدمات فضل الدین بھیروی یا شیخ یعقوب روپیہ کے مصارف پورے کرتے یہ سارا بوجھ مرزا کیا اور پبلک کا ناحق روپیہ اس فضول کام (مقدمہ سو یہ بات کہ یہ ناگوار سلسلہ مقدمہ باز ہم غور کرتے ہیں درحقیقت یہ سلسلہ حسب منشاء قد قدرت کے عجیب عجیب کرشمے نمودار ہوتے رہے بہادر اور ان کے اراکین دولت تھے اور انہوں ن رعب قائم کریں گے اور اپنے جلیس قانونی مشیرو جوش جماعت کی متفقہ طاقت سے چشم زدن میں خو دنیا میں بجادیں گے۔ لیکن ان کو کیا علم تھا کہ ۔

ما در چہ خیالیم
اس چھیڑ خانی کا نتیجہ ان کے حق میں ؟

ہمارے لئے وبال جان ہو جائے گی تو ہر گز اس کا طاقت کا دکھلانا اور مرزائی پندار و غرور کو خاک میں سامنے زور وزر اور تمام انسانی طاقتیں پرکاہ کی سی

١؎ جبکہ اخبار الحکم قادیان ٣١؍ جولا کالم ٣ میں درج ہے اور دوسرا اخوان ہمارے مقد

صفحہ ٣١٩

پھر اب اس حلفی بیان کے خلاف مرزا قادیانی کا یہ کہنا، مولوی محمد حسن میری پیش گوئی کے مطابق فوت ہوا ہے کس قدر ڈھٹائی ہے؟

مرزائیوں کی مقدمہ بازی

اب ہم اس قدر تمہید لکھنے کے بعد اپنے اصل مقصود کی طرف آتے ہیں۔ سو واضح ہو کہ مقدمہ بازی کا سلسلہ پہلے مرزا قادیانی کے حکم سے مرزائیوں نے چھیڑا۔ اس کا نام اخبارات واشتہارات میں جہاد لکھا۔ گویا یہ ان کا قانونی جہاد تھا اور اس جہاد کے بہانہ سے مریدوں کو خوب لوٹا۔ چنانچہ آخری روز فیصلہ کے دن خواجہ کمال الدین صاحب بی اے وکیل مرزا قادیانی نے سر عدالت تسلیم کیا کہ مقدمہ بازی میں ہمارے تیس ہزار روپے صرف ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے جیسا کہ ان کے بیانات سے ظاہر ہوگا اپنی گرہ سے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا نہ ہی فریق مقدمات فضل الدین بھیروی یا شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم کی یہ حیثیت تھی کہ تیس ہزار روپیہ کے مصارف پورے کرتے یہ سارا بوجھ مرزا قادیانی کے خوش اعتقاد مریدوں نے برداشت کیا اور پبلک کا ناحق روپیہ اس فضول کام (مقدمہ بازی) میں پانی کی طرح بہایا گیا۔

سو یہ بات کہ یہ ناگوار سلسلہ مقدمہ بازی مابین فریقین کیوں شروع ہوا۔ سو جہاں تک ہم غور کرتے ہیں در حقیقت یہ سلسلہ حسب منشاء قدرت ایزدی جاری ہوا اور اثنائے مقدمات میں قدرت کے عجیب عجیب کرشمے نمودار ہوتے رہے۔ ہر چند اس سلسلہ کو چھیڑنے والے مرزا قادیانی بہادر اور ان کے اراکین دولت تھے اور انہوں نے اس غرض سے یہ سلسلہ چھیڑا تھا کہ دنیا پر اپنا رعب قائم کریں گے اور اپنے جلیس قانونی مشیروں (وکلاء) کی قانونی قابلیت اور افراط زر اور گرم جوش جماعت کی متفقہ طاقت سے چشم زدن میں مخالف فریق کو نیست و نابود کر کے لمن الملک کا نقارہ دنیا میں بجا دیں گے۔ لیکن ان کو کیا علم تھا کہ ؎

مادر چہ خیالیم وفلک درچہ خیال

اس چھیڑ خانی کا نتیجہ ان کے حق میں آخر کیا نکلے گا۔ اگر ان کو یہ علم ہوتا کہ یہ مقدمہ بازی ہمارے لئے وبال جان ہو جائے گی تو ہرگز اس کا نام نہ لیتے۔ لیکن خدائے علیم و خبیر کو اپنی زبردست طاقت کا دکھلانا اور مرزائی پندار و غرور کو خاک میں ملانا منظور تھا اور یہ کہ اس کی طاقت و جبروت کے سامنے زور وزر اور تمام انسانی طاقتیں پرکاہ کی سی بھی ہستی نہیں رکھتیں وہ چاہے تو بڑے بڑے

١؎ جبکہ اخبار الحکم قادیان ٣١؍ مئی ١٩٠٣ء ایک مضمون بعنوان جہاد کی فلاسفی ص ٧ کالم ٣ میں درج ہے اور دوسرا بعنوان ہمارے مقدمات ص ١١ کالم ٣ میں اس کی تصریح ہے۔

٤٥

صفحہ ٣٢٠

طاقتور اور شہ زور انسانوں کو پکڑوا کر ایک ضعیف سے ضعیف انسان کے پاؤں میں ڈال دے۔ سچ ہے۔ ” وتعز من تشاء وتذل من تشاء بيدك الخير انك على كل شئ قدير “

مرزائیوں کا پہلا مقدمہ فوجداری

سو واضح ہو کہ سب سے پہلے مرزا قادیانی کے حکم سے ان کے مخلص مرید حکیم فضل دین بھیروی نے مجھ پر زیر دفعہ ٤١٧ تعزیرات ہند (دغا) گورداسپور میں استغاثہ دائر کیا۔ یہ مقدمہ ١٤؍ نومبر ١٩٠٢ء کو رائے گنگا رام صاحب اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر و مجسٹریٹ درجہ اوّل گورداسپور میں حکیم مذکور نے معرفت خواجہ کمال الدین و مولوی محمد علی وکلاء دائر کیا رائے گنگا رام صاحب تھوڑے عرصہ کے بعد وہاں سے تبدیل ہو گئے۔ پھر یہ مقدمہ ان کے جانشین لالہ چندو لال صاحب اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر و مجسٹریٹ درجہ اوّل کی عدالت میں چلتا رہا۔ اس مقدمہ میں استغاثہ کی طرف سے علاوہ دیگر گواہان کے مرزائی جماعت کے اعلیٰ ارکان مولوی نورالدین صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب کی بھی شہادتیں گزریں اور نیز بابو غلام حیدر تحصیلدار کی بھی شہادت ہوئی اور صفائی کی طرف سے اس مقدمہ میں بانی سلسلہ مرزائیہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی کی بھی شہادت گزری۔ اس مقدمہ میں فتح ونصرت کے الہامات بارش کی طرح نازل ہوتے رہے۔ لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ مقدمہ (مرزائیاں) خارج اور ملزم (مولانا کرم الدین) عزت کے ساتھ بری کر دیا گیا۔ مرزا قادیانی کے الہامات کے پرخچے اڑ گئے اور دنیا میں فریق مقابل کی فتح وظفر کا نقارہ بج گیا۔ یہ فیصلہ عدالت لالہ چندو لال صاحب مجسٹریٹ درجہ اوّل سے ١٦؍ مارچ ١٩٠٣ء کو صادر ہوا۔ مرزائیوں کو اس مقدمہ میں بڑی بڑی مصیبتوں کا سامنا ہوا اور بے انداز روپیہ صرف ہوا نتیجہ مقدمہ کے متعلق ہم وہ مضمون درج ذیل کرتے ہیں۔ جو اس موقعہ پر سراج الاخبار جہلم مطبوعہ ١٨؍ جنوری ١٩٠٤ء میں شائع ہوا۔

١؎ رائے گنگا رام صاحب خواجہ کمال الدین کے کلاس فیلو تھے اور ان مقدمات میں مرزائیوں کی بہت کچھ پاسداری کرتے تھے۔ چنانچہ ہم نے ان کی عدالت سے منتقلی کرنے کے لئے چیف کورٹ میں درخواست بھی کی تھی۔ اسی اثناء میں گورداسپور سے تبدیل ہو گئے۔ اس لئے اگر ہمارا دعویٰ بھی نہ ہوتا تو جیسا کہ مرزا قادیانی نے کہا کہ رائے چندو لال ہماری پیش گوئی کے مطابق تبدیل ہوئے ہیں تو ہم بھی کہہ سکتے کہ رائے گنگا رام ہماری دعا سے تبدیل ہو گئے۔ لالہ چندو لال تو مرزائیوں کے دو مقدمات خارج کر کے مرزا قادیانی پر فرد جرم لگا کر تبدیل ہوئے۔ رائے گنگا رام بدون کاروائی کے چلے گئے۔

٤٦

صفحہ ٣٢١

مولوی کرم الدین صاحب کی فتح

”١٤؍ جنوری ١٩٠٣ء کو مرزائیوں کا وہ الہامی مقدمہ فوجداری جو منجانب حکیم فضل دین مرزا قادیانی کے خاص حکم سے برخلاف مولوی صاحب موصوف دائر کیا گیا تھا اور جو ١٤ ماہ سے چل رہا تھا اور جس کی نسبت مرزا قادیانی کو متواتر نصرت و فتح کے الہامات بارش کی طرح برس رہے تھے۔ آخر کار انصاف مجسم حاکم جناب بابو چندو لال صاحب بی۔اے مجسٹریٹ درجہ اول گورداسپور کی عدالت سے خارج ہو گیا اور مولوی صاحب عزت سے بری ہو گئے۔ اس تاریخ کو بہت سے احمدی جماعت کے ممبر دور دور سے مسافت طے کر کے آخری حکم سننے کے لئے جمع ہو گئے تھے اور منتظر تھے کہ مرزا قادیانی کا تازہ نشان (فتح مقدمہ) دیکھیں۔ لیکن صاحب مجسٹریٹ کا یہ حکم سن کر سب کے رنگ فق ہو گئے اور وہ سب امیدیں جو مرشد جی نے مدت دراز سے فتح اور ظفر کی دلا رکھی تھیں۔ خاک میں مل گئیں اور مرزا قادیانی کے الہام کی قلعی کھل گئی۔

کیوں جی مرزائی صاحبان سچ بتائیے گا۔ وہ الہام ”جاءك الفتح ثم جاءك الفتح“ (تذکرہ ص ٤٧٦ طبع ٣) کیا ہوا اور وہ مجموعہ فتوحات کا وعدہ کہاں اڑ گیا اور انجام مقدمات کی پیشین گوئی کیا ہوئی اور ان تازہ الہامات مشتہرہ الحکم ٢٧؍ تا ٣٠؍ نومبر ١٩٠٣ء ہماری فتح، ہمارا غلبہ ”ظفر من الله وفتح مبین“ وغیرہ وغیرہ کا کیا حشر ہوا۔ آپ کے حضرت حجۃ اللہ نے تو جیسا کہ الحکم مذکور میں چھپا خواب میں اصحاب القبور (مردگان) کے سامنے بھی ہاتھ جوڑے اور دعائیں کرائیں۔ لیکن افسوس کہ وہ سب محنت اکارت گئی۔ سچ ہے ”وعنده مفاتح الغیب لا يعلمها الا هو“ کیا مرزائی صاحبان اس معاملہ پر غور نہیں فرماویں گے۔ یارو خدارا انصاف! الیس منکم رجل رشید! ذرا مرزا قادیانی سے یہ تو پوچھئے گا کہ آپ نے خود انجام مقدمات کی پیش گوئی اس آیت سے فرمائی تھی۔ ”ان الله مع الذين اتقوا والذين هم محسنون“ اب آپ ہی فرمائیے۔ اہل تقویٰ آپ بنے یا آپ کے مخالف؟ میدان تو مولوی صاحب جیت گئے۔ خدا کی نصرت ان کی یاور ہوئی۔ پھر یا تو آپ کو اپنے ملہم پر صاف بدظن ہو جانا چاہئے یا اس کا فیصلہ مان لیجئے کہ حق آپ کے خلاف ہے۔ ایک اور آیت بھی آپ نے الحکم میں اس مقدمہ کی پیش گوئی میں شائع فرمائی تھی۔ ”الم تركيف فعل ربك باصحاب الفيل الم يجعل كيدهم فى تضليل وارسل عليهم طيراً ابابيل ترميهم“ سو اب آپ ہی تشریح فرمائیے کہ اصحاب الفیل اس موقعہ پر کون ہیں اور ان کے مقابلہ میں مظفر و منصور کون؟ ہم تو گورداسپور میں جہاں تک دیکھتے رہے۔ آپ کی ہی پارٹی بڑے کڑوفر سے رتھوں اور گاڑیوں پر سوار ہو کر آتی تھی۔ پھر آپ

٤٧

صفحہ ٣٢٢

کی نسبت طیر ابابیل کا خیال کرنا تو نہایت بے ادبی ہے۔ البتہ پہلی شق کی کوئی وجہ نکل سکتی ہے تو براہ مہربانی اس الہام کی پوری تفسیر کر دیجئے گا۔ مرزائی صاحبان مانیں یا نہ مانیں۔ دنیا میں تو اب مولانا مولوی محمد کرم الدین صاحب کی فتح کا ڈنکا بج گیا اور مرزا قادیانی کا وہ طلسم اعجاز دعویٰ (الہام) ٹوٹ گیا۔ ”الحق یعلو ولا یعلی “ اب تو مرزائی صاحبان کو مرزا قادیانی سے صاف کہہ دینا چاہئے ۔

بس ہو چکی نماز مصلے اٹھائیے

افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کے جری سپاہی خواجہ کمال الدین صاحب وکیل کی یکسالہ محنت اکارت گئی اور برخلاف ان کے فاضل وکلاء جناب سید میر احمد شاہ صاحب پلیڈر بٹالہ اور شیخ نبی بخش صاحب پلیڈر گورداسپور بابو مولا ل صاحب بی۔اے وکیل گورداسپور نے میدان جیت لیا۔ ہم ان وکلاء صاحبان کو تہہ دل سے مبارک باد دیتے ہیں اور ان کی محنت کا اعتراف کرتے ہیں اور پھر صد ہا مبارک باد مولانا صاحب مولوی محمد کرم الدین صاحب کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک زبردست فتح حاصل کی ۔“

(راقم ایک گورداسپوری)

اس مقدمہ میں بہت بڑی زک مرزائیوں کو ایک یہ ملی تھی کہ مقدمہ صرف اس غرض سے چھیڑا گیا تھا کہ حضرت پیر صاحب گولڑوی مدظلہ (جن کے باعث مرزا قادیانی لاہور کی بحث سے انکار کے باعث سخت شرمندگی اٹھا چکے تھے اور پھر سیف چشتیائی کے باعث مرزا قادیانی کی علمی پردہ دری ہو چکی تھی) کو عدالت میں بلوایا جائے اور جرح وغیرہ سے ان کو بے وجہ تکلیف دی جائے۔ لیکن باوجود مرزائیوں کی بے انتہاء کوششوں اور درخواست پر درخواستیں گزارنے کے پیر صاحب عدالت میں نہ طلب ہو سکے۔ جو پیر صاحب کی کرامت کا بہت بڑا نشان اور مرزا کی ناکامیابی کا بھاری نمونہ قیامت تک یادگار مقدمہ رہے گا۔

مرزائیوں کا دوسرا مقدمہ فوجداری

دوسرا مقدمہ بھی مرزا قادیانی کے اسی مخلص جان نثار نے ٢٩؍ جون ١٩٠٣ء کو بذریعہ مسٹر ادگار من بیرسٹر بار ایٹ لاء لاہور و خواجہ کمال الدین وکیل عدالت لالہ چندولال صاحب مجسٹریٹ میں دائر کیا اور اس مقدمہ کی بناء اس سے شروع ہوئی کہ حکیم فضل الدین کا بیان بمقدمہ ٤١٧ تعزیرات ہند ہو رہا تھا۔ جرح کے وقت اس کے ایک بیان کی تردید کے لئے ہم نے کتاب نزول المسیح کے چند اوراق پیش کر دیئے۔ چونکہ اس سے اس کے پہلے بیان کی تکذیب ہوتی تھی۔ اس لئے اس نے اس وقت اس کتاب کی ملکیت سے صاف انکار کیا۔ چنانچہ لکھایا کہ کتاب نزول

٤٨

صفحہ ٣٢٣

المسیح جو ملزم نے پیش کی ہے اور جس پر نشان اے نمبر اے کا ہے۔ اس کا پہلا ورق ہمارے مطبع کا معلوم ہوتا ہے۔ باقی اوراق کی نسبت میں نہیں کہہ سکتا کہ ہمارے مطبع کے چھپے ہوئے ہوں۔ پھر لکھایا کہ نزول المسیح کی کاپی جو ملزم کی طرف سے پیش ہوئی ہے۔ جس پر میں اعتبار نہیں کرتا۔ ممکن ہے کہ ہمارے مطبع کے کاتب سے مل کر لکھائی ہو یا کسی اور کاتب سے لکھائی ہو۔ جس کا خط ایسا ہی ہو استاد کاتبوں کے خط مشابہ ہوتے ہیں۔

یہ بیان ٢٢؍ جون ١٩٠٣ء کا ہے۔ پھر ٢٩؍ جون ١٩٠٣ء کو بعد صلاح و مشورہ ان اوراق کو مال مسروقہ ظاہر کر کے زیر دفعہ ٤١١ تعزیرات ہند استغاثہ دائر کیا گیا اور لکھایا کہ یہ کاپی ہماری ملکیت ہمارے ہی مطبع کی چھپی ہوئی اور ہمارے ہی کاتبوں نے لکھا ہے۔ یہ ہے صداقت مرزائی اراکین کی؟

یہ مقدمہ کیوں دائر کیا گیا

یہ بے وجود بے بنیاد بے حیثیت مقدمہ ٢٩؍ جون ١٩٠٣ء کو رائے چندو لال صاحب بہادر مجسٹریٹ درجہ اول گورداسپور کی عدالت میں حکیم فضل دین کی طرف سے بذریعہ مسٹر ادگارمن صاحب بیرسٹر ایٹ لاء و خواجہ کمال الدین صاحب وکیل دائر کیا گیا اور اس کی تحقیقات میں ناحق عدالت کے قیمتی اوقات میں سے قریباً ٩ ماہ صرف ہوئے۔ چونکہ ٤١١ والے مقدمہ کی کمزوری گواہان استغاثہ کے بیانات سے ظاہر ہو چکی تھی اور مرزائیوں کو اپنے اس مقدمہ میں کامیابی کی امید قریباً منقطع ہو چکی تھی اور ادھر مرشد جی کی طرف سے بہت سے الہامات فتح ونصرت کے پیش از وقت شائع ہو چکے تھے۔ اس لئے بمصداق ”الغریق یتشبث بالحشیش“ انہوں نے یہ دوسرا مقدمہ بے حقیقت دائر عدالت کر دیا۔ باوجودیکہ وہ خوب جانتے تھے کہ چند اوراق نزول المسیح جن کی قیمت چار آنے بھی نہیں ہو سکتی، کی چوری کرنے یا کرانے کی فریق ثانی کو کیا ضرورت تھی اور اتنے دور دراز فاصلہ سے ایسے ناچیز مال کی چوری کرنا یا کرانا کس طرح باور کیا جا سکتا ہے اور طرفہ یہ کہ فضل دین جو مقدمہ ہذا میں مستغیث گردانا گیا پہلے اپنے حلفی بیان میں اس کتاب کی ملکیت سے انکار کر چکا تھا۔ جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔

لیکن ان کے نقطہ خیال میں یہ تھا کہ دفعہ مقدمہ ہذا ایسی ہے کہ محض مقدمہ دائر کر دینے سے ہی فریق ثانی کو بہت کچھ نقصان پہنچا سکتی ہے۔ جرم ناقابل ضمانت ہے۔ مستغاث علیہ زیر حراست رہے گا اور بقولے تا تریاق از عراق آوردہ شود مارگزیدہ مردہ شود۔ جب تک کہ تحقیقات میں مقدمہ کی حقیقت کھلے گی اس سے پہلے ہی مرشد جی کا مشہور الہام ”انی مہین من اراد اہانتک“ کا کرشمہ ظاہر ہو جائے گا۔

صفحہ ٣٢٤

لیکن خداوند کریم کا ہزار شکر ہے کہ عنان اختیار ایک ایسے متدین نکتہ رس انصاف مجسم حاکم بابو چندولال صاحب بی اے مجسٹریٹ کے ہاتھ میں تھی۔ جنہوں نے ہر حال میں انصاف کو اپنا جزو ایمان سمجھا ہوا تھا۔ انہوں نے مقدمہ کی حقیقت پر نگاہ ڈال کر اپنے مجسٹریٹی اختیارات کو جائز طور پر استعمال فرمایا اور اس بے وجود مقدمہ میں بجائے اجرائے وارنٹ بلا ضمانت کے وارنٹ ضمانتی جاری فرمایا۔ تاہم مرزائی جماعت نے یہ بھی غنیمت سمجھا اور وارنٹ دستی حاصل کر کے تعمیل کے لئے ایک مخلص حواری شیخ یعقوب علی تراب ایڈیٹر الحکم کو مامور کر دیا کہ خود فریق ثانی کے دیہہ مسکن میں ذریعہ پولیس پہنچ کر تعمیل کرائے۔ تاکہ وہاں کے باشندگان یہ کارروائی دیکھیں اور اس کی خفت ہو۔ لیکن خداوند کریم کو چونکہ یہی منظور تھا کہ شیخی باز پارٹی اپنے تمام منصوبوں میں ناکام رہے اور فریق ثانی پر اس کا کوئی جادو نہ چل سکے۔ اتفاق سے مستغاث علیہ ان دنوں میں اپنے دیہہ مسکن میں موجود نہ تھا۔ اس لئے مسٹر تراب صاحب دور دراز فاصلہ کی صعوبات سفر برداشت کر کے موضع بھین میں پہنچے اور ہر چند وہاں دشوار گزار کھنڈرات میں دن بھر بھٹکتے اور خاک چھانتے پھرے۔

اے افسوس کہ مسٹر تراب نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ مختلف مقاصد کے لئے اس وحشتناک سفر میں مبتلا ہوئے اور کبھی چکوال کبھی ڈہمن کبھی بھین اور کبھی بادشاہاں ادھر ادھر صحرا نوردی فرماتے رہے۔ لیکن ایک دفعہ بھی فائز المرام نہ ہوئے اور ہر ایک دفعہ بہت سی تکالیف برداشت کر کے یوں ہی واپس ہونا پڑا۔ کاش مرزا قادیانی کا ملہم پہلے ہی سے ان کو آگاہ کر دیتا کہ میاں کاہے کو تکلیف اٹھاتے ہو تم نے اپنے ارادوں میں نامراد ہی رہنا ہے اور یا اگر اس ملہم میں کوئی طاقت تھی تو ان کی مدد کرتا اور فورا ان کا مطلب پورا کر دیتا۔ نہایت تعجب ہے کہ مقدمات کی اتنی لمبی دوڑ میں فریق ثانی کو ایک دفعہ بھی قادیان جانے کی ضرورت پیش نہ آئی اور مرزائی جماعت کو کم سے کم چھ سات دفعہ موضع بھین کی زیارت طوعاً و کرہاً کرنی پڑی اور "يَاتُوْنَ اِلَيْكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ " کا الہام بجائے دارالامان قادیان کے الٹا موضع بھین پر صادق آتا رہا۔ یہ سن کر ناظرین کو تعجب ہوگا کہ مرزائی جماعت کے بعض صاحبان کئی رنگ بدل بدل کر بھین میں مقدمہ کا مصالحہ لینے کے لئے گئے۔ چنانچہ ایک جہنمی مرید ایک دفعہ پٹھانوں کے لباس میں بدا بچھو اٹھا کر ہینگ فروشی کے بہانہ سے کوبکو در بدر خراب ہوتا رہا اور کئی دنوں تک نگر گدائی کرتا رہا۔ لیکن جو بیچارہ وہ بھی ساحل مقصود پر نہ پہنچا اور پھر ایک دفعہ وہی شخص سارجنٹ پولیس بن کر رات کو موضع بھین میں گیا۔ لیکن آخر بمصداق؎

بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش من انداز قدت را می شناسم

آخر تاڑنے والے تاڑ گئے کہ کشمیری بچہ سوانگ بھر رہا ہے۔ کیا ایک راست باز کے متبعین کو ایسی چالبازیاں کرنا جائز ہیں۔ ہرگز نہیں۔ عبرت، عبرت، عبرت!

٥٠

صفحہ ٣٢٥

لیکن دل کی امنگ پوری نہ ہوئی۔ مستغاث علیہ کا پتہ نہ ملا۔ آخر اپنے ارادہ میں ناکام اور پشیمان ہو کر بے نیل و مرام برجعت قہقری اپنے دارالامان قادیان میں بصد حسرت دارالامان لوٹ آئے۔ الغرض یہ بے اصل استغاثہ دائر ہونے اور اس کی کارروائی شروع ہو جانے پر مرزائی جماعت بڑی خوشیاں منارہی تھی اور بڑی بے صبری سے انتظار کیا جارہا تھا کہ اگر پہلے نہیں تو اختتام شہادت پر مستغاث علیہ ضرور زیر حراست ہوگا اور مرزائیوں کے دل ٹھنڈے ہوں گے۔ چنانچہ اختتام شہادت کے موقعہ پر اخبار الحکم نے صاف اعلان کر دیا تھا کہ اگر خدا نے چاہا تو ٢٤ اگست کا پرچہ ایک خاص پرچہ ہوگا۔ دیکھو الحکم ! لیکن ہم اس ذات پاک جل وعلا شانہ کی کمال قدرت پر قربان ہیں جس نے اس زبردست پارٹی کو باوجود ان کی انتہائی سعی و طاقت خرچ ہونے کے اپنے ارادوں میں ناکام یاب رکھ کر اپنی پاک کلام ”وتعز من تشاء وتذل من تشاء بيدك الخیر انك على كل شئ قدیر “ کی تصدیق کرادی اور ان کے سارے دعوئی اور پندار خاک میں ملا دیئے۔ ایسی نظائر سے گورنمنٹ عالیہ کے قابل قدر قوانین کی بھی داد دینی پڑتی ہے کہ اس نے اپنی روشن ضمیری سے قانونی اختیارات کے برتنے والوں (حکام) کو مجاز کر دیا ہوا ہے کہ وہ محل کو دیکھ کر جیسا کہ موقع دیکھیں اختیار برتیں۔ ورنہ ایک شخص کے لئے کیسا آسان طریق ہے کہ کسی بے گناہ شریف شخص کے ذمے اپنی ذاتی عداوت کی وجہ سے کسی سنگین تر الزام کو تھوپ کر اس کی عزت کو غارت کر دے۔ قابل تعریف ہیں وہ حکام جو اختیارات عطا شدہ کو بر محل اور جائز طور پر استعمال میں لاتے ہیں۔

اس استغاثہ کی تائید میں جتنے گواہ گزرے ہیں وہ سارے کے سارے مرزا قادیانی کے مخلص مرید حکیم فضل دین مستغیث کے پیر بھائی تھے جو اس جہاد (مقدمہ بازی) میں حصہ لینے کی غرض سے بدوں طلبی عدالت مختلف دور دراز شہروں سے تشریف لا کر تائید استغاثہ میں گواہ بنے تھے اور یہ سن کر ان سب کو افسوس ہوا ہوگا کہ ان کی شہادت نے ان کے مرشد بھائی کو کچھ فائدہ نہ پہنچایا اور مقدمہ خارج ہو گیا۔ گواہان استغاثہ حسب ذیل تھے۔

خلیفہ نورالدین، شیخ نور احمد ، کرم علی ، مفتی محمد صادق، ظفر احمد، حبیب الرحمن ریاست کپور تھلہ، نیاز احمد وزیر آباد، عبداللہ کشمیری امرتسر، شیخ رحمت اللہ صاحب مالک بمبئے ہاؤس وغیرہ احمد دین اپیل نویس گوجرانوالہ، حکیم محمد حسین لاہوری۔ ان گواہوں کی بالعموم یہی شہادت تھی کہ وہ مرزا قادیانی کی تصانیف کے خریدار ہیں اور مدت سے حکیم فضل دین کی معرفت کتابیں منگوایا کرتے ہیں اور کتاب نزول المسیح متنازعہ ان کے پاس نہیں پہنچی۔

٥١

صفحہ ٣٢٦

ان گواہوں کے متعلق صرف اس قدر کہہ دینا ضروری ہے کہ بالعموم اپنے بیانات میں انہوں نے لکھایا کہ نو دس سال کے زائد عرصہ سے مرزا قادیانی کی تصانیف حکیم فضل دین ہی سے کتب مؤلفہ مرزا قادیانی منگوایا کرتے ہیں اور اسی کو قیمت بھیجا کرتے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی اپنے بیان میں (بمقدمہ ٤١٧) صاف لکھاتے ہیں کہ ١٩٠١ء سے پہلے جو دفتر میں کتابیں تھیں۔ ان کی فروخت کسی میرے آدمی کی معرفت ہوتی تھی۔ مگر ١٩٠١ء کے بعد پھر میں نے یہ انتظام کیا کہ یہ تمام کتابیں حکیم فضل دین کے سپرد کر دیں کہ وہ فروخت کرے۔ ملاحظہ ہو صفحہ ٤٢، مقدمہ ١٢٠، سطر ٧، ٨۔ لیکن گواہان، ١٩٠١ء سے پہلے کئی سالوں سے برخلاف قول مرزا قادیانی فضل دین ہی سے کتابیں لینا بیان کرتے ہیں اور طرفہ یہ کہ بیان قیمت کتب میں بعض گواہان نے سخت ٹھوکریں کھائیں۔ چنانچہ حکیم محمد حسین گواہ نے اعجاز المسیح ایک تازہ تصنیف کی قیمت ٤ آنے بیان کی جس کی قیمت بقول حکیم فضل دین ایک روپیہ ہے۔ غرض یہ مقدمہ بھی ٤١٧ والے مقدمہ کی طرح خارج ہو کر مرزا اور مرزائیوں کی رسوائی کا باعث ہوا۔

مرزائیوں کا تیسرا مقدمہ فوجداری

تیسرا مقدمہ شیخ یعقوب علی تراب ایڈیٹر اخبار الحکم کی طرف سے بحکم مرزا قادیانی میرے اور مولوی فقیر محمد صاحب کے خلاف زیر دفعہ ٥٠٠ تعزیرات ہند ازالہ حیثیت عرفی دائر کیا گیا۔ اس مقدمہ میں صاحب مجسٹریٹ نے مستغاث علیہما کو چالیس اور پچاس روپے کا جرمانہ کیا۔ جس کی اپیل نہیں کی گئی۔ اس مقدمہ میں بھی عجیب عجیب انکشافات ہوئے۔ مرزا قادیانی کو بھی شہادت صفائی میں پیش کر کے آپ پر زبردست جرح کی گئی۔ (یہ بیان درج ہوگا) شیخ یعقوب علی تراب قادیان میں تو بڑے رکن رکین اور جنٹلمین بنے ہوئے تھے۔ لیکن ہم کو بتانے والوں نے جب آپ کا اتا پتہ بتایا تو معلوم ہوا کہ آپ ذات کے مراسی ہیں۔ جب سوالات جرح میں آپ سے سوال کیا گیا کہ آپ کی ذات مراسی ہے تو خواجہ کمال الدین صاحب بڑے خفا ہو کر عدالت سے کہنے لگے کہ یہ دوسرا لائیبل ہے۔ عرض کی گئی کہ آپ گھبرائیں نہیں ہمارے پاس اس کا ثبوت ہے اور اس کے متعلق ہم تراب صاحب کے والد ماجد کو طلب کرا کر آپ کو ان کی زیارت کرائیں گے اور ان کے منہ سے اس امر کی کہ آپ مراسی ہیں تصدیق کرائیں گے۔ تراب صاحب دراصل ضلع جالندھر میں ایک موضع جاڈلہ کے باشندہ ہیں۔ پیدا ہوتے ہی برخوردار کا نام ”چھجو“ رکھا گیا۔ آپ کے والد کا نام چنو اور دادا کا نام تانا تھا اور ذات شریف میراسی تھی۔

٥٢

صفحہ ٣٢٧

سوالات جرح میں تراب صاحب سے جو ذات پوچھی گئی تو آپ نے اپنے حلفی بیان میں اپنی ذات سے لاعلمی ظاہر کی اور لکھایا کہ نہیں معلوم میری قوم کیا ہے۔ یہ بھی پوچھا گیا کہ آپ شیخ کیوں کہلاتے ہیں تو کہا کہ مسلمان کی حیثیت سے میں نے اپنے آپ کو شیخ لکھایا ہے۔ نہ بلحاظ قومیت کے۔ یہ بھی پوچھا گیا کہ آپ کے والد صاحب کا نام چٹو ہے یا نہیں۔ اس کے جواب میں فرمایا کہ میں نے نہیں سنا کہ میرے باپ کا نام چٹو تھا۔ گواہان صفائی میں آپ کے والد ماجد کو طلب کرایا گیا جن کے نام کا سمن اس پتہ پر تعمیل ہو کر آیا۔ بنام چٹو ولد تانا عرف سلطان بخش ذات مراسی ساکن جاڈلہ ضلع جالندھر۔ جب میاں چٹو عدالت میں وٹنس بکس پر شہادت کے لئے کھڑے ہوئے تو باپ بیٹے پر نور (سیاہی) گھٹا باندھے دکھائی دینے لگا تو حاضرین مارے ہنسی کے لوٹ پوٹ ہو گئے۔ جب ان کی شہادت شروع ہوئی تو انہوں نے اپنی عرف چٹو تسلیم کی اور ذات شیخ لکھائی۔ حالانکہ یعقوب علی صاحب قوم شیخ ہونے سے انکار کر چکے تھے۔ جرح میں آپ سے سوال کیا گیا کہ اگر شیخ ہے تو مراسی آپ کو کیوں کہا جاتا ہے۔ چنانچہ سمن بھی اسی پتہ پر تعمیل ہوا تو اس کے جواب میں وجہ یہ ظاہر فرمائی کہ میرے ایک بزرگ نے میراثیوں کے گھر شادی کر لی تھی۔ علاوہ ازیں بابو محمد افضل ایڈیٹر البدر گواہ استغاثہ نے اپنی شہادت میں صاف لکھایا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یعقوب علی ذات کے مراسی ہیں اور بھی بہت بڑی جرح ہوتی رہی۔ بہت طول طویل بیان ہوا۔ اس وقت تراب صاحب ”یٰلیتنی کنت ترابا“ کا ورد کر رہے تھے۔ خواجہ صاحب بھی یہ حالات دیکھ سن کر دنگ رہ گئے۔ اس مقدمہ میں بھی مرزائیوں کا بڑا روپیہ صرف ہوا۔ بڑے بڑے ایڈیٹران اخبار اور تحصیلدار ڈپٹی گواہان گزرے۔ آخر نتیجہ کیا ہوا۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ تراب صاحب کی عزت کی قیمت چالیس اور پچاس روپے پڑی۔ دوران مقدمہ کی صعوبتیں اور ذلتیں مفت کی۔

مرزا قادیانی پر فوجداری مقدمہ

اب ہم اس معرکہ کے مقدمہ کا ذکر کرتے ہیں جو زیر دفعات ٥٠٠، ٥٠١، ٥٠٢ تعزیرات ہند میری طرف سے مرزا قادیانی اور ان کے مخلص مرید حکیم فضل دین بھیروی ثم القادیانی کے خلاف ازالہ حیثیت عرفی کا مواہب الرحمٰن کی عبارت مندرجہ ص ٢٩، ٣٠ کی بنا پر دائر کیا گیا تھا اور جس میں مرزا قادیانی دو سال تک سرگردان و پریشان رہے۔ آخر عدالت مہتہ آتمارام صاحب مجسٹریٹ درجہ اوّل گورداسپور سے مرید و مرشد کو سات سو روپیہ جرمانہ ورنہ چھ و پانچ ماہ قید کی سزا ہوئی اور سینکڑوں روپے اپیل پر خرچ ہو کر بمشکل جرمانہ معاف ہوا۔

٥٣

صفحہ ٣٢٨

وجہ دائری مقدمہ

ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ مرزا قادیانی کی بدزبانی سے کسی ملت کسی فرقہ کا کوئی متنفس نہ بچا ہوگا جو کہ ان کی گالیوں کا نشانہ نہ بنا ہو۔ بعض نے آپ کو ترکی بہ ترکی سنائیں اور بعض سنجیدہ مزاجوں نے اپنی عالی وقاری سے مطلق سکوت کیا جوں جوں دوسری طرف سے خاموشی ہوتی گئی۔ مرزا قادیانی کا حوصلہ بلند ہوتا گیا اور گالیوں میں مشاق ہوتے گئے۔ حتیٰ کہ گویا فن گالیوں کے آپ پورے امام بن گئے اور گالیوں کی ایجاد میں آپ نے وہ یدطولیٰ حاصل فرمایا کہ اس علم کے آپ استاذ اور ادیب مانے جانے لگے اور دنیا قائل ہوگئی کہ کوئی شخص امام الزمان کا مقابلہ اس فن میں کرنے کی قابل نہیں رہا ہے۔

آخر رفتہ رفتہ یہ معاملہ حکام وقت کے سامنے پیش آیا اور مختلف مواقع پر آپ کی وہ تصنیفات جو مغلظات کا ایک مجموعہ تھیں دفتر عدالت میں پیش ہوگئیں۔ چنانچہ بعض بیدار مغز حکام نے مرزا قادیانی کو ڈانٹا کہ مرزا قادیانی منہ کو سنبھالئے اور گورنمنٹ انگلشیہ کے اصول امن پسندی کو نظر انداز نہ فرمائیے۔ عامہ خلائق کی دل آزاری اور ایذا رسانی سے باز آئیے ورنہ معاملہ دگرگوں ہو جائے گا۔ وہاں مرزا قادیانی عدالت کے تیور بدلے ہوئے دیکھ کر آئندہ کے لئے قسم کھانے لگے کہ معاف کیجئے آئندہ ایسا نہ ہوگا۔ اس موقعہ پر مناسب ہے کہ ناظرین کی آگاہی کے لئے اس حلفی معاہدہ کی جو مرزا قادیانی نے مسٹر ڈوئی صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر گورداسپور کی عدالت میں داخل کیا۔ بعینہ نقل کی جاوے اور اس کے بعد مسٹر ڈگلس صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر کے فیصلہ کی نقل بھی درج کی جاوے۔

نقل حلفی اقرار نامہ

”میں مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو بحضور خداوند تعالیٰ حاضر جان کر باقرار صالح اقرار کرتا ہوں کہ آئندہ:

حقارت (ذلت) سمجھی جاوے یا خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد ہو، شائع کرنے سے اجتناب کروں گا۔

کہ کسی شخص کو حقیر (ذلیل) کرنے کے واسطے جس سے ایسا نشان ظاہر ہو کہ وہ شخص مورد عتاب الٰہی بنے یا یہ ظاہر کرے کہ مباحثہ مذہبی میں کون صادق اور کون کاذب ہے۔

٥٤

صفحہ ٣٢٩

ہوتا یا مورد عتاب الٰہی ہونا ظاہر ہو یا ایسے ظاہر کے وجوہ پائے جاتے ہوں۔

پیرو کے برخلاف گالی گلوج کا مضمون یا تصویر لکھوں یا شائع کروں جس سے کہ اس کو درد پہنچے۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ اس کے یا اس کے دوست یا پیرو کے برخلاف اس قسم کے الفاظ استعمال نہ کروں گا۔ جیسا کہ دجال، کافر، کاذب، بطالوی۔ میں کبھی اس کی آزادانہ زندگی یا خاندانی رشتہ داروں کے برخلاف کچھ شائع نہ کروں گا۔ جس سے اس کو آزار پہنچے۔

لئے بلاؤں۔ اس امر کے ظاہر کرنے کے لئے کہ مباحثہ میں کون صادق اور کون کاذب ہے نہ میں اس محمد حسین یا اس کے دوست یا پیرو کو اس بات کے لئے بلاؤں گا کہ وہ کسی کے متعلق کوئی پیش گوئی کریں۔

ترغیب دوں گا۔ جیسا کہ میں نے فقرہ نمبر ١، ٢، ٣، ٤، ٥ میں اقرار کیا ہے۔ ٢٤ فروری ١٨٩٩ء

دستخط صاحب مجسٹریٹ ضلع دستخط بحروف انگریزی دستخط مرزا غلام احمد قادیانی بحروف انگریزی مسٹر ڈوئی کمال الدین پلیڈر بقلم خود‘‘

نقل حکم مسٹر ڈگلس صاحب بہادر

نقل حکم مورخہ ٢٣؍اگست ١٨٩٧ء اجلاس جی.ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور، زیر دفعہ ١٠٧ ضابطہ فوجداری۔

”مرزا غلام احمد قادیانی کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ اگرچہ بمقدمہ ڈاکٹر کلارک صاحب ان کے برخلاف کافی شہادت نہیں ہے کہ ان سے ضمانت حفظ امن کی لی جاوے۔ لیکن جو تحریرات عدالت میں پیش کی گئی ہیں ان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ فتنہ انگیز ہے۔ درآں حالیکہ کوئی شہادت اس کے باور کرنے کے واسطے نہیں ہے کہ مرزا قادیانی خود یا کسی دیگر شخص کی معرفت نقض امن کریں گے۔ مگر ان کی تحریرات اس قسم کی ہیں کہ انہوں نے بلاشبہ طبائع کو اشتعال کی طرف مائل کر رکھا ہے اور مرزا قادیانی کو ذمہ دار ہونا چاہئے کہ یہ تحریرات ان کے مریدان پر کیا اثر رکھیں گی۔ پس مرزا قادیانی کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ملائم اور مناسب الفاظ میں اپنی تحریرات کو استعمال کریں۔ ورنہ بحیثیت صاحب مجسٹریٹ ضلع ہم کو مزید کارروائی کرنی پڑے گی۔

دستخط صاحب مجسٹریٹ ضلع مسٹر ڈگلس صاحب دستخط مرزا غلام احمد بقلم خود“

٥٥

صفحہ ٣٣١

سو یہ دونوں مرحلے جو مرزا قادیانی کو ہر دو صاحبان ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور کی عدالتوں میں مختلف اوقات میں پیش آئے۔ مرزا قادیانی کو آئندہ عبرت دلانے کے لئے کافی تھے۔ لیکن خدا کے جری (مرزا قادیانی) کی شان والا سے بمراحل بعید تھا کہ آپ تحریرات کے پابند رہتے۔ افسوس کہ نہ تو آپ نے اس بات کی پرواہ کی کہ انہوں نے حضور گورنمنٹ عالیہ کے ذمہ دار افسروں کے سامنے معاہدہ کیا ہے جو دراصل گورنمنٹ کے سامنے تھا اور سلطان وقت کے حکم کی اطاعت کرنا فرض ہے اور نہ ہی اس بات کا خیال کیا کہ وہ نہ صرف مسٹر ڈوئی صاحب کے سامنے معاہدہ کر رہے تھے۔ بلکہ احکم الحاکمین کو حاضر ناظر جان کر (جیسا کہ شروع میں لکھا ہے) حلفاً اقرار کیا تھا جو درحقیقت خدائے پاک سے معاہدہ تھا اور ایفائے عہد ایک ضروری امر ہے اور عہد کا توڑنے والا بزرگ تو بجائے خود مسلمان کہلانے کے قابل بھی نہیں رہتا۔ بلکہ علامات منافق میں داخل ہے۔ ”اذا عاہد غدر“ اور قیامت میں عہد شکن جو (خدا سے گویا غدر کرنے والے ہیں) اس سزا کے مستوجب ہوں گے جو رسول اللہ نے فرمایا ہے۔ ”لکل غادر لواء عند استه یوم القیامة“ یعنی غادر (عہد شکن) کے چوتڑوں میں قیامت کے روز جھنڈا ہو گا جو اس امر کی منادی کے لئے ہو گا کہ یہ عہد شکن غادر تھا۔

الغرض مرزا قادیانی نے ہرگز اس اپنے معاہدہ حلفی کا پاس نہ کیا اور نہ ہی مسٹر ڈگلس صاحب کی تنبیہ کا ہی کچھ خوف کیا۔ بے دھڑک اسی پیمانہ پر آپ کی تحریرات شائع ہوتی رہیں اور خلق خدا کو ایذا پہنچاتی رہیں۔ اس بات کی نظائر بے تعداد ہیں جو مرزا قادیانی کی تصانیف پڑھنے والوں پر اظہر من الشمس ہیں۔ لیکن ہم اس موقعہ پر صرف ایک ہی نظیر کی طرف ناظرین کو توجہ دلائیں گے جس سے وجہ دائری مقدمات فریقین بھی ظاہر ہوگی۔

موضع بھین تحصیل چکوال ضلع جہلم میں ایک بے نظیر فاضل ابوالفیض مولوی محمد حسن صاحب فیضی تھے جو کہ اعلیٰ درجہ کے ادیب اور جملہ علوم عربیہ کے مسلم فاضل اور مرزا قادیانی کے عقائد کے مخالف تھے۔ مولوی صاحب موصوف تقدیر الٰہی سے ١٨؍ اکتوبر ١٩٠١ء کو اس جہان فانی سے رہسپار عالم جاودانی ہو گئے۔ جب مرزا قادیانی کو فاضل مرحوم کی وفات کی خبر پہنچی تو آپ حسب عادت خلاف معاہدہ حلفی دنیا میں ڈینگ لگانے لگے کہ فاضل مرحوم ان کی بددعا سے بہت بری موت سے فوت ہوئے ہیں اور مرزا قادیانی کی پیش گوئی والہام کا نشانہ ہوئے ہیں۔ یہ مضامین آپ نے کشتی نوح، تحفہ ندوہ، نزول المسیح اپنی تصانیف میں خود بھی شائع کئے اور اپنے راسخ الاعتقاد مرید ایڈیٹر الحکم قادیان سے بھی اخبار میں شائع کرائے۔ ٨٦

فاضل مرحوم مولانا فیضی سے مرزا قادیانی کی ناراضی

یہ امر کہ مرزا قادیانی کا فاضل مرحوم نے کیا نقصان بھلا کہنے پر مستعد ہوئے۔ واضح ہو کہ فاضل مرحوم ایک مہند کے کہ مرزا قادیانی کے عقائد کے مخالف تھے۔ کبھی کسی تحریر یا تق اختلاف ظاہر کرتے ہوئے کبھی بھی سخت کلامی نہ کی تھی۔ ان دفعہ حسب تجویز چند اکابر اسلام آپ سیالکوٹ میں مرزا قا کمالات (جن کا ان کو ہمیشہ دعویٰ رہتا تھا) کی قلعی یوں کھولی مرزا قادیانی کے پیش کیا کہ آپ اس کا جواب دیں۔ مرزا قا کہ قصیدہ میں کیا لکھا ہے نہ کوئی جواب دے سکے۔ مولوی اعتقاد ہو کر واپس آئے اور اخبارات کے ذریعہ ساری کیا اسلامی رسالہ انجمن نعمانیہ لاہور میں شائع کر دیا۔ جس کو شا ہے۔ اب تک مرزا قادیانی یا ان کے کسی حواری کو جواب کیفیت کی جو اخبارات میں شائع ہوئی کسی مرزائی نے کرتے؟) ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ وہ قصیدہ ہدیہ ناظرین فضیلت کا اندازہ اس قصیدہ سے لگا سکیں گے اور اس قصید قصائد سے مقابلہ کرنے سے ہر دو صاحبان کی قادر الکلامی گے اور بمصداق مشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید مرزا قادیانی اس کے جواب دینے سے عاجز ہیں اور اس اور پیشتر اس کے کہ وہ قصیدہ لکھا جاوے (سراج الاخبار کرتے ہیں جو کہ فیضی مرحوم نے سیالکوٹ والی کیفیت کرائی تھی۔ وھو ھذا!

نقل مضمون سراج الاخبار ٩؍ مئی ١٨٩٩ء مشت

”ناظرین! مرزا قادیانی کی حالت پر نہایت علمی بھی جیسا کہ چاہئے نہیں رکھتے۔ کس قدر قرآن و ح ایک احباب جانتے ہوں گے کہ ١٣؍ فروری ١٨٩٩ء کو الدین صاحب میں مرزا قادیانی سے ملا تو ایک قصید ٥٧

صفحہ ٣٣١

فاضل مرحوم مولانا فیضی سے مرزا قادیانی کی ناراضگی

یہ امر کہ مرزا قادیانی کا فاضل مرحوم نے کیا نقصان کیا تھا اور کیوں ان کو بعد وفات برا بھلا کہنے پر مستعد ہوئے۔ واضح ہو کہ فاضل مرحوم ایک مہذب اور عالی ظرف تھے۔ باوجود اس کے کہ مرزا قادیانی کے عقائد کے مخالف تھے۔ کبھی کسی تحریر یا تقریر میں آپ نے مرزا قادیانی سے اختلاف ظاہر کرتے ہوئے کبھی بھی سخت کلامی نہ کی تھی۔ ان سے قصور صرف یہ سرزد ہوا کہ ایک دفعہ حسب تجویز چند اکابر اسلام آپ سیالکوٹ میں مرزا قادیانی سے جاملے اور آپ کے علمی کمالات (جن کا ان کو ہمیشہ دعویٰ رہتا تھا) کی قلعی یوں کھولی کہ ایک بے نقط قصیدہ عربیہ منظومہ خود مرزا قادیانی کے پیش کیا کہ آپ اس کا جواب دیں۔ مرزا قادیانی سخت گھبرائے اور کچھ سمجھ نہ سکے کہ قصیدہ میں کیا لکھا ہے نہ کوئی جواب دے سکے۔ مولوی صاحب مرحوم مرزا قادیانی سے بے اعتقاد ہو کر واپس آئے اور اخبارات کے ذریعہ ساری کیفیت کھول دی اور وہ قصیدہ بھی ایک اسلامی رسالہ انجمن نعمانیہ لاہور میں شائع کر دیا۔ جس کو شائع ہوئے قریباً ٦ سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اب تک مرزا قادیانی یا ان کے کسی حواری کو جواب لکھنے کی طاقت نہ ہوئی اور نہ ہی اس کیفیت کی جو اخبارات میں شائع ہوئی کسی مرزائی نے تردید لکھی۔ (سچی بات کی تردید کیا کرتے؟) ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ وہ قصیدہ ہدیہ ناظرین کر دیں۔ اہل علم ناظرین مرحوم کی علمی فضیلت کا اندازہ اس قصیدہ سے لگا سکیں گے اور اس قصیدہ کو مرزا قادیانی کے مدعی اعجاز کلامی کے قصائد سے مقابلہ کرنے سے ہر دو صاحبان کی قادر الکلامی اور فصاحت و بلاغت کا بھی وزن کرسکیں گے اور مقولہ مشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید! قصیدہ خود اس کی شہادت دے گا کہ مرزا قادیانی اس کے جواب دینے سے عاجز ہیں اور اس کا جواب دینا ان کے امکان سے باہر ہے اور پیشتر اس کے کہ وہ قصیدہ لکھا جاوے (سراج الاخبار ٩ مئی ١٨٩٩ء ص ٧) سے ہم وہ مضمون نقل کرتے ہیں جو کہ فیضی مرحوم نے سیالکوٹ والی کیفیت اپنے قلم سے لکھ کر اخبار مذکور میں شائع کرائی تھی۔ وھو ھذا!

نقل مضمون سراج الاخبار ٩ مئی ١٨٩٩ء مشتہرہ فیضی مرحوم

’’ناظرین! مرزا قادیانی کی حالت پر نہایت ہی افسوس آتا ہے کہ وہ باوجودیکہ لیاقت علمی بھی جیسا کہ چاہئے نہیں رکھتے۔ کس قدر قرآن وحدیث کا بگاڑ کر رہے ہیں۔ سیالکوٹ کے کئی ایک احباب جانتے ہوں گے کہ ١٣ فروری ١٨٩٩ء کو جب یہ خاکسار سیالکوٹ میں مسجد حکیم حسام الدین صاحب میں مرزا قادیانی سے ملا تو ایک قصیدہ عربی بے نقط منظومہ، خود مرزا قادیانی کے

٥٧

صفحہ ٣٣٢

ہدایہ کیا۔ جس کا ترجمہ نہیں کیا ہوا تھا۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی خود بھی عالم ہیں اور ان کے حواری بھی جو اس وقت حاضر محفل تھے۔ ماشاء اللہ! فاضل ہیں اور قصیدہ میں ایسا غریب لفظ بھی کوئی نہیں تھا اور پھر اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ اگر آپ کو الہام ہوتا ہے تو مجھے آپ کی تصدیق الہام کے لئے یہی کافی ہے کہ اس قصیدہ کا مطلب حاضرین مجلس کو واضح سنادیں۔ مزید برآں مسائل مستحدثہ مرزا قادیانی کی نسبت استفسار تھا۔ مرزا قادیانی اس کو بہت دیر تک چپکے دیکھتے رہے اور مرزا قادیانی کو اس کی عبارت بھی نہ آئی۔ باوجودیکہ عربی خوش خط لکھا ہوا تھا۔ پھر انہوں نے ایک فاضل حواری کو دیا جو بعد ملاحظہ فرمانے لگے کہ اس کا ہم کو تو پتہ نہیں ملتا۔ آپ ترجمہ کر کے دیں۔ خاکسار نے واپس لے لیا۔ پھر زبان سے عرض کیا تو مرزا قادیانی کلمہ شہادت اور آمنت باللہ مجھے سناتے رہے اور فرماتے رہے کہ میں نبی نہیں نہ رسول ہوں۔ نہ میں نے یہ دعویٰ کیا فرشتوں کو لیلۃ القدر کو معراج کو، احادیث کو، قرآن کریم کو مانتا ہوں۔ مزید برآں عقائد اسلامیہ کا اقرار کرتے رہے۔ دوسرے دن حضرت مسیح کی وفات کی نسبت دلیل مانگی تو آیۃ ”فلما توفیتنی“ اور ”انی متوفیک“ پڑھ سنائی معنے کے وقت علم عربی سے عجز ظاہر ہوا۔ یہ پوچھا گیا کہ آپ کیوں مثیل مسیح موجود ہیں۔ آپ سے بہتر آج کل بھی اور پہلے کئی ایک ولی عالم گزرے ہیں۔ وہ کیوں نہیں، اور آپ کیوں ہیں تو فرمایا میں گندم گوں ہوں اور میرے بال سیدھے ہیں۔ جیسے کہ مسیح اللہ کا حلیہ ہے۔ افسوس اس لیاقت پر یہ غل! جناب مرزا قادیانی وقت ہے تو بہ کر لیجئے۔ آخیر پر میں مرزا قادیانی کو اشتہار دیتا ہوں کہ اگر وہ اپنے عقائد میں سچے ہوں تو آئیں! صدر جہلم میں کسی مقام پر مجھ سے مباحثہ کریں میں حاضر ہوں۔ تحریری کریں یا تقریری۔ اگر تحریر ہو تو نثر میں کریں یا نظم میں۔ عربی ہو یا فارسی یا اردو۔ آئیے! سنئے اور سنائیے۔ راقم ابوالفیض محمد حسن فیضی حنفی ساکن بھین ضلع جہلم

نقل قصیدہ عربیہ مہملہ منظومہ فیضی مرحوم مشتہرہ رسالہ انجمن نعمانیہ لاہور

مطبوعہ فروری ١٨٩٩ء

بسم الله الرحمن الرحيم!

الحمدلله علم آدم الاسماء کلها

لمالك ملکه حمد سلام على مرسوله علم الكلال
حموداً احمد و محمد و طهور مع اولاً وال

٥٨

٣٣

اما مملوك احمد اهل علم
لودك كم مدی همع الدموع
على مر المدى دمع الموده
هواك الدهر مادار السماء
اطاعك عالم طوعاً وسهلا
محامدك الا واسع هم امالح
هداك الله مسلك اهل ود
وكم مر اسعوا ورا واحلاك
وكم مدحوك لما هم اطاعوا
حكوا الملامع الكلم المدلل
رسائل حرروا سطر واحلاك
وهم علموك موعود الرسول
اما الدهر مرسول الاله
دعوا اعلى الدعاء الا هلموا
رسائلك الرسائل للهداه
كلامك للدعاه لهم دواء
وما ارواحهم الا ودادك
وهم رهط اولو ورع وحلم
وكم عادوك ماوالوك اصلاً
راوا الهامك الولع الموسوس
وسموك الماؤل للمصارع
وهاكم اهوا راه العدول
عدول مرسلى المسعود سهل
محمود عطاء العالم اسما
اوائله الكرام امام سلم
علومهم كامطار الدهور
صفحہ ٣٣٣

زا قادیانی خود بھی عالم ہیں اور ان کے حواری ں اور قصیدہ میں ایسا غریب لفظ بھی کوئی نہیں تا ہے تو مجھے آپ کی تصدیق الہام کے لئے واضح سنا دیں۔ مزید برآں مسائل مستحدثہ ں کو بہت دیر تک چپکے دیکھتے رہے اور بی خوش خط لکھا ہوا تھا۔ پھر انہوں نے ایک م کو تو پتہ نہیں ملتا۔ آپ ترجمہ کر کے دیں۔ زا قادیانی کلمہ شہادت اور آمنت باللہ مجھے وں ۔ نہ میں نے یہ دعویٰ کیا فرشتوں کو لیلۃ مزید برآں عقائد اسلامیہ کا اقرار کرتے ماگی تو آیة ”فلما توفیتنی“ اور ”انی ر ہوا۔ یہ پوچھا گیا کہ آپ کیوں مثیل مسیح فی عالم گزرے ہیں ۔ وہ کیوں نہیں، اور ل سیدھے ہیں۔ جیسے کہ مسیح اللہ کا حلیہ وقت ہے توبہ کر لیجئے ۔ آخیر پر میں سچے ہوں تو آمین ! صدر جہلم میں کسی یا تقریری ۔ اگر تحریر ہو تو بنٹر میں کریں یا راقم ابوالفیض محمد حسن فیضی حنفی ساکن

دہ رسالہ انجمن نعمانیہ لاہور

ہ کلھا خ مرسوله علم الكلال نور متبع اولاً وآل

اما نملوک احمد اهل علم والهام وحلاک السوال
لودک کم مدی همع الدموع وطاطأ راس اعلام عوال
علی مر المدی وکع الموده وحمل اهلها ادهی الحمال
هواک الدهر مادار السماء ورامک اهله روم العسال
اطاعک عالم طوعاً وسهلا رأوک معلما سهل المنال
محامدک الا واسع هم امالح وطوراً کلها منعسل حال
هداک الله مسلک اهل ود واعلم کل اسرار الکمال
وکم مر أسعوا ورا واحلاک وکم وادوک معدومو الوصال
وکم مدحوک لما هم اطاعوا الی دعواک الوالا کدال
حکو الملامح الکلم المدلل مکارمک ألمها لسما معال
رسائل حر رواسطر واحلاک وعدوک المندی اولی اوال
وهم علموک موعود الرسول وملهم مالک مولی الموال
اما الدهر مرسول الاله ومصلح اهل عصر ملحمال
دعوا اعلی الدعاء الا هلموا روالموعود مسعود المسال
رسائلک الرسائل للهداء لهم ولهمهم مرااک سال
کلامک للدواه لهم دواء مرور ذی مباللروع صال
وما ارواحهم الا ودادک علی اسمک ورد کل کل حال
وهم رهط اولو ورع وحلم عمائد اهل کرم والکحال
وکم عادوک ماوالوک اصلاً وکم لا موک ملوم الملال
راوا الهامک الولع الموسوس وعدوک الملمع لطمع مال
وسموک الماقل للصرائح وراد مسلم الرهط الاوال
وهاکم لهوا راه العدول الی کم لطم داماء المحال
عدول مرسلی المسعود سهل موارده امام اولی المحال
محمود عطاء العالم اسما همام اهل امرو العدال
اوائله الکرام امام سلم مکارمهم کاعداد الرمال
علومهم کامطار الدهور وعلم الدهر طراً کالطلال

٥٩

صفحہ ٣٣٥
ذرامك دارهم كحل المدارك، وكحل سوائهم دك الهلال
عصامهم الحسام لكل عدو حسامهم السلام لكل حال
فدى اعماله اعلام علم واعلاه الهدى وسط الضلال
ممد للاولاء العلوم ومعط اهلها اعدا دمال
اما والله اسئلك المسائل اسل هلم سلى اولى لسوال
الاهل صار دعوتك الرساله كموحى الله معصوم المحال
ام اصطادوا معادوك هواء املهم الهوى سوء الملال
وما املاكه ملك العلوم وملهم واحد وهدى كسال
وهل كلم الرسول اصول علم كمسطور الاله على الاصال
وهل كلهم الهدى مدلولها ما درى العلماء ملمع الدلال
ام اسرار ومسلكه معنى وما اطلع العوام على المثال
كلام الله هل محوى العلوم ادراها الاله بكل وال
كما ادراك ام لا علم كلا
سوى العلام محمود وعال

اب ہم بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی اس قصیدہ کا جواب اس صنعت کے عربی قصیدہ کے ذریعہ ایک ماہ تک لکھنے کی طاقت رکھتے ہیں یا نہیں۔ ہر دو قصائد کا موازنہ پبلک خود کر لے گی۔ لیکن تہذیب و متانت سے جواب دیا جائے۔

اس کے بعد پھر دوسری خطا فیضی مرحوم سے یہ ہوئی کہ ایک مطبوعہ چٹھی کے ذریعہ مرزا قادیانی کو بڑی متانت سے ان کے اس ادعا پر کہ ان کے کلام میں قرآن کریم جیسا اعجاز ہے متنبہ کیا کہ آپ کا دعویٰ بوجوہ غلط ہے اور نیز چیلنج کیا کہ اگر آپ میں عربی لکھنے کی طاقت ہے تو جہاں آپ مجھے بلاویں مقابلہ کے لئے حاضر ہوں۔ اس چٹھی کا جواب بھی مرزا قادیانی کی طرف سے فیضی مرحوم کی زندگی میں ہرگز نہ ملا۔ نہ مرزا قادیانی کو طاقت مقابلہ ہوئی وہ چٹھی بھی سراج الاخبار میں چھپی۔ جس کی نقل درج ذیل ہے۔

نقل چٹھی فیضی مرحوم مطبوعہ سراج الاخبار ١٣ اگست ١٩٠٠ء ص ٦

مکرمی مرزا صاحب زید اشفاقہ! والسلام علی من اتبع الھدی ! آپ ٢٠ اور ٢٢؍ جولائی ١٩٠٠ء کے مطبوعہ اشتہار ٦٠

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٤٥ تا ص ٣٤١) کے ذریعہ پیر مہـ دیگر علماء کو یہ دعوت کرتے ہیں کہ لاہور میں آ کر میرے میں قرآن کریم کی چالیس آیات یا اس قدر سورۃ کی تفـ نہ ملے اور ہر دو تحریرات ٢٠ ورق سے کم نہ ہوں۔ آپ بے تعلق علماء کے حوالہ کر دیا جائے گا۔ جس تحریر کو وہ حلفـ جھوٹا ہوگا۔ آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہر دو فریق کی تحـ سہو و نسیان پر محمول نہیں کی جاویں گی۔ بلکہ واقعی اس گی۔ مجھے آپ کے اس معیار صداقت پر بعض شکوک

وفصاحت کی دوسری عبارت معارضہ کے طور پر نہیں آ خاصہ تھا۔ بشر کا کلام اعجاز کے حد پر نہیں پہنچ سکتا۔ جـ بھی اپنے کلام کی نسبت یہ دعویٰ نہیں کیا اور نہ معار جائے کہ بجز کلام خدا کے دوسرے کلام بھی حد اعجاز بندہ کے کلام میں مایہ الامتیاز کیا رہا؟

عربی میں موجود ہیں اور ان کے عربی قصائد اور شعـ غیر مسلم عالم قرآن کریم کے حافظ گزرے ہیں۔ بـ نے اپنے ایک مضمون میں دیئے ہیں جو ١٨٩٩ صدی کے کئی پرچوں میں چھپا ہے۔

ایک عالم بھی آپ کے لئے کافی ہے اور یوں تو جائیں تو دنیا کے علماء آپ کے دعویٰ کی تصد رسالت کا معیار عربی نویسی کسی طرح بھی تسلیم نہیـ

ص٣٣٦) پر تحریر فرماتے ہیں کہ مقابلہ کے وقت سہو و نسیان پر محمل نہیں کی جاوے گی۔ مگر افسوس

صفحہ ٣٣٥

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٢٥ تا ص ٤٤١) کے ذریعہ پیر مہر علی شاہ صاحب سجادہ نشین گولڑہ شریف اور دیگر علماء کو یہ دعوت کرتے ہیں کہ لاہور میں آ کر میرے ساتھ پابند با شرائط مخصوصہ فصیح و بلیغ عربی میں قرآن کریم کی چالیس آیات یا اس قدر سورۃ کی تفسیر لکھیں۔ فریقین کو ٧ گھنٹہ سے زیادہ وقت نہ ملے اور ہر دو تحریرات ٢٠ ورق سے کم نہ ہوں ۔ آپ تجویز کرتے ہیں کہ ان ہر دو تحریرات کو تین بے تعلق علماء کے حوالہ کر دیا جائے گا۔ جس تحریر کو وہ حلفاً فصیح و بلیغ کہہ دیں گے وہ فریق سچا اور دوسرا جھوٹا ہوگا۔ آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہر دو فریق کی تحریرات کے اندر جس قدر غلطیاں نکلیں گی وہ سہو ونسیان پر محمول نہیں کی جاویں گی۔ بلکہ واقعی اس فریق کی نادانی اور جہالت پر محمول کی جاویں گی۔ مجھے آپ کے اس معیار صداقت پر بعض شکوک ہیں۔ جن کو میں ذیل میں درج کرتا ہوں ۔

وفصاحت کی دوسری عبارت معارضہ کے طور پر نہیں لکھ سکتا۔ آج سے پہلے صرف قرآنی عبارت کا خاصہ تھا۔ بشر کا کلام اعجاز کے حد پر نہیں پہنچ سکتا۔ حتیٰ کہ افصح العرب حضرت سید الرسل ﷺ نے بھی اپنے کلام کی نسبت یہ دعویٰ نہیں کیا اور نہ معارضہ کے لئے فصحائے عرب کو بلایا۔ اگر مان لیا جائے کہ بجز کلام خدا کے دوسرے کلام بھی حد اعجاز تک پہنچ جاتے ہیں تو پھر فرمائیے کہ الٰہی کلام اور بندہ کے کلام میں مابہ الامتیاز کیا رہا؟

عربی میں موجود ہیں اور ان کے عربی قصائد اور نثر اعلیٰ درجہ کے فصیح وبلیغ مانے گئے ہیں۔ کئی ایک غیر مسلم عالم قرآن کریم کے حافظ گزرے ہیں۔ بعض غیر مسلم شاعروں کے قصائد کے نمونے میں نے اپنے ایک مضمون میں دیئے ہیں جو ١٨٩٩ء کے رسالہ انجمن نعمانیہ میں پھر اخبار چودھویں صدی کے کئی پرچوں میں چھپا ہے۔

ایک عالم بھی آپ کے لئے کافی ہے اور یوں تو چالیس علماء بھی بالفرض اگر آپ کے مقابلہ میں ہار جائیں تو دنیا کے علماء آپ کے دعویٰ کی تصدیق نہیں کریں گے ۔ کیونکہ مجددیت، مھدویت، رسالت کا معیار عربی نویسی کسی طرح بھی تسلیم نہیں ہو سکے گی ۔

ص٤٣٦) پر تحریر فرماتے ہیں کہ مقابلہ کے وقت پر جو عربی تفسیریں لکھی جاویں گی ان میں کوئی غلطی سہو ونسیان پر حمل نہیں کی جاوے گی۔ مگر افسوس کہ آپ خود اسی اشتہار میں لفظ محصنات کو جو قرآن

٦١

صفحہ ٣٣٧

کریم میں مذکور ہونے کے علاوہ ایک معمولی اور مشہور لفظ ہے دو دفعہ محسنات لکھتے ہیں۔ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٢٩ وص ٣٣٦)۔ پس اوس کی تمیز نہ ہونا اتنے بڑے دعویدار عربیت کے حق میں سخت ذلت کا نشان ہے۔ یہ لفظ اگر ایک دفعہ لکھا ہوتا تو شاید سہو پر محمول کیا جاسکتا مگر دو دفعہ غلط لکھا اور پھر شرط یہ ٹھہراتے ہیں کہ دوسروں کی غلطیوں کو سہو اور نسیان پر محمول نہیں کیا جائے گا۔

اخیر میں میرا التماس ہے کہ میں آپ کے ساتھ ہر ایک مناسب شرط پر عربی نظم ونثر لکھنے کو تیار ہوں۔ تاریخ کا تقرر آپ ہی کر دیجئے اور مجھے اطلاع کر دیجئے کہ میں آپ کے سامنے اپنے آپ کو حاضر کروں۔ مگر یاد رہے کہ کسی طرح بھی عربی نویسی کو مجددیت یا نبوت کا معیار تسلیم نہیں کیا گیا۔ ”والسلام علی من اتبع الھدیٰ“

راقم محمد حسن حنفی! بھین ضلع جہلم تحصیل چکوال۔ مدرس دارالعلوم نعمانیہ لاہور ٥ اگست ١٩٠٠ء

علاوہ ازیں فیضی صاحب مرحوم سے مرزا قادیانی کی ناراضگی کی یہ بھی وجہ تھی کہ جب مرزا قادیانی کے چیلنج تفسیر نویسی کے مطابق حضرت پیر صاحب گولڑوی مدظلہ العالی بمعہ بہت سے جلیل القدر علماء و فضلاء کے لاہور تشریف لے گئے تھے اور باوجود دعوت پر دعوت ہونے کے مرزا قادیانی کو اپنے بیت الامن کی چاردیواری سے باہر نکلنے کی جرات نہ ہوئی تھی۔ بالآخر شاہی مسجد میں علماء و فضلاء کا جلسہ ہوا۔ جس میں مسلمانان لاہور بھی کثرت سے شامل تھے۔ اس جلسہ میں علامہ فیضی مرحوم نے مناسب حال حسب ذیل زبردست تقریر کی تھی۔ جو روئیداد جلسہ میں چھپی ہوئی ہے۔

مولانا ابوالفیض مولوی محمد حسن فیضی مدرس دارالعلوم نعمانیہ لاہور کی تقریر

حضرات ناظرین! مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک مطبوعہ چٹھی بصورت اشتہار مطبوعہ ٢٠ جولائی ١٩٠٠ء مشتہر ٢٠ جولائی ١٩٠٠ء بذریعہ رجسٹری مولانا المعظم و مطاعنا المکرم عالی جناب حضرت خواجہ سید مہر علی شاہ صاحب چشتی سجادہ نشین گولڑہ شریف ضلع راولپنڈی کے نام نامی پر بشمولیت دیگر علماء کرام و مشائخ عظام ایدہم اللہ تعالیٰ و کثرہم کے بھیجی جس کے پہلے دو صفحوں پر مرزا قادیانی نے اپنی عادت کے مطابق اپنے مرسل، مامور من اللہ اور پھر مجدد مہدی مسیح ہونے کے ثبوت میں بخیال خود دلائل پیش کئے اور عالی جناب حضرت پیر صاحب موصوف اور دیگر علماء و فضلاء اسلام کو لکھا کہ میرے دعاوی کی تردید میں کوئی دلیل اگر آپ کے پاس ہے تو کیوں پیش نہیں کرتے ہو۔ اس وقت مفاسد بڑھ گئے ہیں۔ اس لئے مجھے مصلح کے عہدہ میں بھیجا گیا ہے۔ آخیر پر آپ تحریر فرماتے ہیں کہ اگر پیر صاحب ضد سے باز نہیں آتے یعنی نہ وہ میرے

٦٢

دعاوی کی تردید میں کوئی دلیل پیش کرتے ہیں اور نہ مجھے رفع کرنے کے واسطے ایک طریق فیصلہ کی طرف دعوت کر میرے مقابلہ پر دارالسلطنت پنجاب (لاہور) میں چالیس چالیس آیات قرآنی کا انتخاب بذریعہ قرعہ اندازی کر گھنٹوں کے اندر بیس ورق پر لکھی جاوے اور میں (مرزا آیات کی تفسیر لکھوں گا۔ ہر دو تفسیریں تین ایسے علماء کی خد جو فریقین سے ارادت و عقیدت کا ربط نہ رکھتے ہوں۔ حلف لیا جاوے جو قذف محصنات کے بارہ میں مذکور ہے فریقین کے تفسیروں کی بابت صادر فرمادیں۔ وہ فریق ہوں گے۔ فریقین کی تفسیروں کے متعلق یہ فیصلہ کرنا ہو کی تفسیر میں صحیح اور زیادہ ہیں اور عربی عبارت کس کی مقابلہ نہ کریں تو اور چالیس علماء مل کر میرے مقابلہ تفسیریں اور میری ایک تفسیر اسی طرح تین علماء کو فیصلہ چٹھی تو ١٢ صفحہ کی ہے۔ مگر اس کی دلخراش گالیاں ناسمجھ جائے تو اس کا تمام ماحصل اور خلاصہ صرف یہی ہے الہام کا دعوٰی ہے نہ وحی کا مگر یہ قیاس غالب ہے کہ مخاطب کرنا دو وجہ سے تھا۔

اوّل ...... یہ کہ صوفیائے کرام کا طریق و مشرب م عمر کا بسر کرنا غنیمت سمجھتے ہیں۔ کسی کی دل شکنی انکو کے دینی مشاغل و مصروفیت سے بھی یہی قیاس ہو طرح سے ترجیح دیں گے اور اس طریق فیصلہ کو جو نہیں تھا۔ پسند نہیں فرمائیں گے جو ظاہر بینوں کی آ نیز دوسرے علماء کرام کے ساتھ تحریری معارضہ کو کوئی بتا سکتا ہے کہ مرزا قادیانی چالیس سے کم علم کی وجہ صرف یہی ہے کہ اس کو جھوٹی شیخی اور مبا دعوٰی اور ہدایت علماء مقصود ہوتی تو اس خاکسار

صفحہ ٣٣٧

دعاوی کی تردید میں کوئی دلیل پیش کرتے ہیں اور نہ مجھے مسیح وغیرہ مانتے ہیں تو اس ضد ہٹ کے رفع کرنے کے واسطے ایک طریق فیصلہ کی طرف دعوت کرتا ہوں اور وہ طریق یہ ہے کہ پیر صاحب میرے مقابلہ پر دارالسلطنت پنجاب (لاہور) میں چالیس آیات قرآنی کی عربی تفسیر لکھیں اور ان چالیس آیات قرآنی کا انتخاب بذریعہ قرعہ اندازی کر لیا جاوے۔ یہ تفسیر فصیح عربی میں سات گھنٹوں کے اندر بیس ورق پر لکھی جاوے اور میں (مرزا قادیانی) بھی ان ہی شرائط سے چالیس آیات کی تفسیر لکھوں گا۔ ہر دو تفسیریں تین ایسے علماء کی خدمت میں فیصلہ کے لئے پیش کی جائیں گی جو فریقین سے ارادت وعقیدت کا ربط نہ رکھتے ہوں۔ ان علماء سے فیصلہ سنانے سے پہلے وہ مغلظ حلف لیا جاوے جو قذف محصنات کے بارہ میں مذکور ہے۔ اس حلف کے بعد جو فیصلہ یہ ہر سہ علماء فریقین کے تفسیروں کی بابت صادر فرمادیں۔ وہ فریقین کو منظور ہوگا۔ ان ہر سہ علماء کو جو حکم تجویز ہوں گے۔ فریقین کی تفسیروں کے متعلق یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ قرآن کریم کے معارف اور نکات کس کی تفسیر میں صحیح اور زیادہ ہیں اور عربی عبارت کس کی بامحاورہ اور فصیح ہے۔ اگر پیر صاحب خود یہ مقابلہ نہ کریں تو اور چالیس علماء ملکر میرے مقابلہ پر شرائط مذکورہ سے تفسیر لکھیں تو ان کی چالیس تفسیریں اور میری ایک تفسیر اسی طرح تین علماء کو فیصلہ کے لئے دی جائیں گی۔ مرزا قادیانی کی یہ چٹھی تو ١٢ صفحہ کی ہے۔ مگر اس کی دلخراش گالیاں ناجائز نامشروع اور بیہودہ بدظنیوں کو حذف کر دیا جائے تو اس کا تمام ماحصل اور خلاصہ صرف یہی ہے جو اوپر کی چند سطروں میں لکھا گیا ہے۔ ہمیں نہ الہام کا دعویٰ ہے نہ وحی کا مگر یہ قیاس غالب ہے کہ اس خط میں حضرت پیر صاحب کو علی الخصوص مخاطب کرنا دو وجہ سے تھا۔

اول ..... یہ کہ صوفیائے کرام کا طریق ومشرب مرنج ومرنجان کا ہوتا ہے۔ یہ لوگ گوشہ تنہائی میں عمر کا بسر کرنا غنیمت سمجھتے ہیں۔ کسی کی دل شکنی انہیں منظور نہیں ہوتی ۔ پھر حضرت صاحب ممدوح کے دینی مشاغل ومصروفیت سے بھی یہی قیاس ہو سکتا تھا کہ آپ عزلت نشینی اور علمی مصروفیت کو ہر طرح سے ترجیح دیں گے اور اس طریق فیصلہ کو جو حقیقتاً مرزا قادیانی کے دعاوی کی تصدیق کا فیصلہ نہیں تھا۔ پسند نہیں فرمائیں گے جو ظاہر بینوں کی نظروں میں مرزا قادیانی کی فتح یابی کا نشان ہوگا۔ نیز دوسرے علماء کرام کے ساتھ تحریری معارضہ کو چالیس والی شرط کے ساتھ گانٹھنا یہی راز رکھتا تھا۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ مرزا قادیانی چالیس سے کم علماء کے ساتھ کیوں ایسا تحریری مباحثہ نہیں کرتا۔ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ اس کو جھوٹی شیخی اور بیہودہ تعلی دکھانی مطلوب تھی۔ ورنہ اگر صرف تصدیق دعویٰ اور ہدایت علماء مقصود ہوتی تو اس خاکسار نے جو ١٤ اگست ١٩٠٠ء کو سراج الاخبار جہلم میں یہ

٦٣

صفحہ ٣٩

تسلیم جملہ شرائط مرزا قادیانی کو میدان مباحثہ میں بلایا تھا اور بعدازاں خط بھی ارسال کیا تھا اور صاف لکھا تھا کہ مجھے بلا کم و کاست آپ کی جملہ شرائط منظور ہیں۔ آئیے! جس صورت پر چاہئے مقابلہ کر لیجئے۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی ایسے بیخود ہوئے کہ اب تک کروٹ نہیں بدلے۔ وہ مضمون ہی اڑا دیا اور وہ خط ہی غائب کر دیا۔

دوم....... یہ کہ مرزا قادیانی حسب عادت مستمرہ خود (اس لئے کہ فقط اس کو اپنی شہرت ہی مطلوب ہے) ہمیشہ نامی اشخاص کے مقابلہ میں مباحثہ کا اشتہار دے دیا کرتا ہے اور اس طور پر دوسرے اشخاص کے مصارف سے اپنی شہرت کروا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس چٹھی میں بھی حضرت صاحب موصوف سے استدعا کرتا ہے کہ وہ جوابی چٹھی کی پانچ ہزار کاپی چھپوا کر اس مباحثہ کی شہرت دور دراز ملکوں میں کرا دیں اور یہ کاپیاں مختلف اطراف میں بھجوا دیں۔

لیکن فخر الاصفیاء والعلماء حضرت پیر صاحب نے ایسے نازک وقت میں کہ اسلام کو ایک خطرناک مصیبت کا سامنا تھا۔ مرزا قادیانی کے مقابلہ میں آنے کو عزلت نشینی پر ترجیح دی اور حسب الدرخواست مرزا قادیانی جواب قبولیت دعوت بصورت اشتہار ٢٥؍جولائی ١٩٠٠ء کو طبع کرا کر بذریعہ رجسٹری بتاریخ ٤؍اگست ١٩٠٠ء ارسال فرمایا اور لکھ دیا کہ وہ خود ٢٥؍اگست ١٩٠٠ء کو (اس لئے کہ مرزا قادیانی نے تقرر تاریخ کا اختیار حضرت پیر صاحب کو دیا تھا) لاہور آجاویں گے۔ آپ بھی تاریخ مقررہ پر تشریف لے آویں۔ چونکہ مرزا قادیانی نے ٢٠؍جولائی ١٩٠٠ء کی چٹھی میں اس طریق فیصلہ کی طرف دعوت کرنے سے پہلے اپنے دعاوی پر اور کئی استدلال پیش کئے تھے۔ چنانچہ آپ نے لکھا ہے کہ کسی حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کبھی اور کسی زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے یا کسی آخری زمانہ میں جسم عنصری کے ساتھ نازل ہوں گے۔ اگر لکھا ہے تو کیوں ایسی حدیث پیش نہیں کرتے۔ ناحق نزول کے لفظ کے الٹے معنی کرتے ہیں۔ ”انا انزلنہ فی لیلۃ القدر“ اور ”ذکرا رسولا“ کا راز نہیں سمجھتے۔ میری مسیحیت ومہدویت کا نشان رمضان میں کسوف وخسوف کا دیکھ چکے ہیں۔ پھر نہیں مانتے۔ صدی سے ستر سال گزر چکے ہیں پھر مجھے مجدد نہیں مانتے۔ یہ تمام استدلالات مرزا قادیانی نے اس طریق فیصلہ کی طرف دعوت کرنے سے پہلے اس چٹھی میں تحریر کئے ہیں اور صرف ایک ہی فیصلہ پر اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ ہر دو باتیں علی الترتیب پیش کی ہیں۔ اس لئے حضرت ممدوح نے بھی ہر دو طریق فیصلہ کو علی الترتیب ہی تسلیم کیا اور پسند فرمایا کہ مرزا قادیانی سے اس کے اپنے استدلالات جو اس نے اپنی چٹھی میں تحریری فیصلہ سے پہلے پیش کئے ہیں۔ سن لئے جائیں

٦٢

اور مسیح علیہ السلام کا جسم عنصری کے ساتھ آسمان الدلالت نص پیش کی جاوے کہ اگر مسیح کا جسد م سے ثابت نہ ہو تو پھر کیا کرنا چاہئے۔ حدیث میں نزول کے وہ معنی جو اب تک تیرہ سو سال سے مج نہیں سمجھے وہ کیا ہوں گے اور یہ بھی سمجھ نہیں آتا ہوا ہے۔ وہ کیونکر آپ کی مسیحیت کا نشان ہ الممدوح مرزا قادیانی کی اپنی زبانی سننا ضروری فیصلہ کی طرف رجوع کر لیا جاوے اور مرزا قادی

اس عرصہ میں آج تک مرزا قادیا بعض حواریوں کی طرف سے اشتہارات نکـ نہیں۔ لیکن ان تحریرات کو اس لئے بے معنی تھـ مشتہرہ ٢٠؍جولائی ١٩٠٠ء میں جیسا کہ اوپر ذکر ایک اشتہار میں مولوی غازی صاحب نے ط صاحب صرف اس صورت میں قلم اٹھا دیں مرزا خود میدان میں آوے یا کچھ تحریر کرے مطبوعہ ٢٥؍ جولائی ١٩٠٠ء خاص مرزا قادیانی دینا چاہئے تھا۔ لیکن اس نے باوجو دانتضا بلکہ اپنے طریق عمل سے یہ تسلیم کر لیا کہ وہ اس

اس کے بعد حافظ محمد الدین صا لاہور نے ایک ضروری چٹھی رجسٹری شدہ مـ کے نام پر بھیجی اور عام مشتہر بھی کی۔ اس کے نمبر ٢ اور چھاپ کر مرزا قادیانی کو روانہ کی ا کہ کچھ جواب دیتا۔

تاہم اس رہا سہا عذر دفع کر نـ نے (جس کی طرف سے پہلے متعلق مباح اشتہار بذریعہ جوابی رجسٹری مرزا قادیانی ک

صفحہ ٣٣٩

اور مسیح علیہ السلام کا جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر جانے کی بابت حدیث بلکہ قرآن کریم کی قطعی الدلالت نص پیش کی جاوے کہ اگر مسیح کا بجسدہ العنصری آسمان پر جانا قرآن کریم کی نص صریح سے ثابت نہ ہو تو پھر کیا کرنا چاہئے۔ حدیث ہی کی جستجو کی جائے یا کیا؟ نیز سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ نزول کے وہ معنی جو اب تک تیرہ سو سال سے مجتہدین اور محدثین بلکہ صحابہ کرام اور اہل بیت نے نہیں سمجھے وہ کیا ہوں گے اور یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ رمضان میں کسوف و خسوف جن تاریخوں میں ہوا ہے۔ وہ کیونکر آپ کی مسیحیت کا نشان ہے۔ یہ سب امور احقاق حق کی غرض سے حضرت الممدوح مرزا قادیانی کی اپنی زبانی سننا ضروری خیال کرتے تھے اور بعدازاں بہ قرار واقعی کہ تحریر فیصلہ کی طرف رجوع کر لیا جاوے اور مرزا قادیانی کی قرار داد شرائط کے موافق تفسیر لکھی جاوے۔

اس عرصہ میں آج تک مرزا قادیانی کی طرف سے کوئی جواب نہ نکلا۔ البتہ ان کے بعض حواریوں کی طرف سے اشتہارات نکلے اور شائع ہوئے کہ تقریری مباحثہ کی کوئی شرط نہیں۔ لیکن ان تحریرات کو اس لئے بے معنی خیال کیا گیا تھا کہ خود مرزا قادیانی نے اپنے اشتہار مشتہرہ ٢٠ جولائی ١٩٠٠ء میں جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ہے۔ ہر دو فیصلے علی الترتیب مطلوب تھے اور پہلے ایک اشتہار میں مولوی غازی صاحب نے صاف طور پر مرزائی جماعت کو مطلع کر دیا تھا کہ پیر صاحب صرف اس صورت میں قلم اٹھاویں گے یا کوئی مباحثہ کریں گے۔ جب کہ بالمقابل مرزا خود میدان میں آوے یا کچھ تحریر کرے، ورنہ نہیں۔ پس حضرت پیر صاحب کی جوابی چٹھی مطبوعہ ٢٥ جولائی ١٩٠٠ء خاص مرزا قادیانی کے نام پر تھی۔ بصورت انکار مرزا کو بذات خود جواب دینا چاہئے تھا۔ لیکن اس نے باوجود اقتضائے عرصہ مدید ایک ماہ کے کوئی انکار شائع نہیں کرایا۔ بلکہ اپنے طریق عمل سے یہ تسلیم کر لیا کہ وہ اس پر راضی ہے کہ ہر دو طرح سے مباحثہ ہو جاوے۔

اس کے بعد حافظ محمد الدین صاحب تاجر کتب مالک ومہتمم کارخانہ مصطفائی پریس لاہور نے ایک ضروری چٹھی رجسٹری شدہ مرزا قادیانی کے سکوت پر چھاپ کر خاص مرزا قادیانی کے نام پر بھیجی اور عام مشتہر بھی کی۔ اس کے بھی کچھ جواب نہ آنے پر انہوں نے رجسٹری شدہ چٹھی نمبر ٢ اور چھاپ کر مرزا قادیانی کو روانہ کی اور عام تقسیم کر دی۔ مگر مرزا قادیانی کو کہاں ہوش و تاب کہ کچھ جواب دیتا۔

تاہم اس رہا سہا عذر دفع کرنے کے لئے حکیم سلطان محمود صاحب ساکن حال پنڈی نے (جس کی طرف سے پہلے متعلق مباحثہ کئی ایک اشتہارات شائع ہوئے تھے) ایک مطبوعہ اشتہار بذریعہ جوابی رجسٹری مرزا قادیانی کے پاس ارسال کر دیا۔ جس کا آخری مضمون یہ تھا کہ اگر

٦٥

صفحہ ٣٤٠

مرزا قادیانی کی علمی و عملی کمزوریاں اس کو اپنی من گھڑت شرائط کے احاطہ سے باہر نہیں نکلنے دیتیں اور اسے ضد ہے کہ تم ان ہماری ہی پیش کردہ شرائط کو تسلیم کرو تو ہم بحث کریں گے۔ ورنہ نہیں تو خیر لو یہ بھی سہی۔

پیر صاحب تمہاری سب پیش کردہ شرطیں بعینہ جس طرح سے تم نے پیش کیں ہیں۔ منظور کر کے تمہیں چیلنج کرتے ہیں کہ تم مقررہ تاریخ ٢٥؍ اگست ١٩٠٠ء کو لاہور آ جاؤ۔ یہ اعلان عام طور پر مشتہر کر دیا گیا تھا۔ علاوہ اس اعلان کے جناب پیر صاحب نے بنظر تاکید مزید حافظ محمد دین صاحب مالک مطبع مصطفائی پریس لاہور کو بھی ایسا فرما دیا کہ ہماری طرف سے مرزا قادیانی کی تمام شرائط کی منظوری کا اعلان کر دو۔ چنانچہ حافظ صاحب موصوف نے بذریعہ اشتہار مطبوعہ ٢٣؍ اگست ١٩٠٠ء مشتہر کر دیا کہ آج بروز جمعہ ٤ بجے شام کی ٹرین میں بوجہ ہمدردی اسلام پیر صاحب مرزا قادیانی کی تمام شرائط منظور کر کے لاہور تشریف فرما ہوں گے اور محمدن ہال انجمن اسلامیہ واقعہ موچی دروازہ لاہور میں بغرض انتظار مرزا قیام فرمائیں گے۔ چنانچہ وہ اسی شام کی گاڑی میں معہ دو تین سو علماء و مشائخ وغیرہ ہمراہیوں کے تشریف فرما لاہور ہوئے۔

حضرت ممدوح کی زیارت واستقبال کے لئے اس شوق و ولولہ سے لوگ گئے کہ اسٹیشن لاہور اور بادامی باغ پر شانہ سے شانہ چھلتا تھا۔ شوق دیدار سے لوگ دوڑتے اور ایک دوسرے پر گرتے چلے جاتے تھے۔ حضرت ممدوح اسٹیشن سے باہر ایک باغ میں چند منٹ تک استراحت کر کے محمدن ہال موچی دروازہ میں مقیم ہوئے۔ لاہور کے علمائے کرام جو آپ کی تشریف آوری کے منتظر تھے آپ کے ساتھ شامل ہو گئے۔ نیز اور بھی علماء مشائخ و معززین اسلام اضلاع پشاور، پنڈی، جہلم، سیالکوٹ، ملتان، ڈیرہ جات، شاہ پور، گجرات، گوجرانوالہ، امرتسر وغیرہ وغیرہ مقامات سے بغرض شمولیت مجلس مناظرہ مصارف کثیرہ کے متحمل ہو کر آ پہنچے۔ مرزا قادیانی کے لاہوری پیروؤں نے مرزا قادیانی کے نام خطوط تاریں اور ضروری قاصد روانہ کئے۔ مگر بعض گرم جوش چیلے نہایت مضطرب حالت میں قادیان پہنچے اور ہر چند اپنے پیر و مرشد مرزا کو لاہور لانے کے لئے منت وسماجت کی، پاؤں پکڑے، مگر مرزا قادیانی کی دلی کمزوری نے ان کو اپنے فدائی پیروؤں کی درخواست منظور کرنے کی طرف مائل نہ کیا اور وہ بیت الفکر میں ہی داخل دفتر رہا۔

حضرت پیر صاحب ٢٤؍ اگست سے آج تک لاہور میں رونق افروز ہیں اور مرزا قادیانی کا ہر ایک ٹرین میں بڑے شوق سے انتظار ہو رہا ہے۔ مگر ادھر سے صدائے برخاست کا معاملہ ہوا۔ یہ حقیقت میں خود مرزا قادیانی کے اپنے قول کے مطابق ایک الٰہی عظمت و جلال کا

٦٦

صفحہ ٣٤١

کھلا کھلا نشان تھا جس نے مرزا قادیانی کی جھوٹی و بیجا شیخی کو کچل ڈالا اور آپ کے حواس کی وہ گت ہوئی کہ مقابلہ و مباحثہ لاہور تو درکنار آپ کو سوائے اپنے بیت المقدس کے تمام دنیا و مافیہا کی خبر نہ رہی اور ”وقذف فی قلوبہم الرعب بما کفروا“ کا مضمون دوبارہ دنیا کے صفحہ پر معرض ظہور پر آیا۔ برخلاف اس کے حضور پرنور حضرت پیر صاحب ممدوح کے دست مبارک پر خداوند کریم نے وہ نشان ظاہر کر دیا جس کا آیہ ”وکان حقاً علینا نصر المؤمنین“ میں وعدہ دیا گیا تھا۔ خداوند عالم نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی مقدس و بابرکت ذات پر نبوت اور رسالت کے تمام مدارج ختم کر دیئے ہیں جس طرح پہلے سینکڑوں جھوٹے رسولوں کو الٰہی غیرت اور خود ان کے اپنے کفر و غرور نے انہیں ذلیل و خوار کر دیا ہے۔ ایسا ہی اس نے مرزا قادیانی کی جھوٹی مہدویت رسالت و مسیحیت کا بھی خاتمہ کر دیا اور آج دنیا پر بخوبی روشن ہو گیا کہ سیدنا و مولانا محمد رسول اللہ ﷺ کے مخصوصہ مناصب اور مراتب کے اندر بیجا مداخلت کرنے والا اس طرح سے علی رؤوس الاشہاد روسیاہ ہوتا ہے اور اپنے ہاتھوں خود ذبح ہو جاتا ہے۔ کیا غور و عبرت کا مقام نہیں ہے کہ مرزا قادیانی نے بلا کسی تحریک کے خود بخود حضرت پیر صاحب اور نیز ہند و پنجاب کے تمام مسلم الثبوت مشائخ و علماء کو تحریری اور تقریری مباحثہ کی دعوت کا وہ اعلان کیا جس کی ہزارہا کاپیاں ہند و پنجاب کے تمام اضلاع واطراف میں مرزا نے خود تقسیم کیں اور اپنی عربی وقرآن دانی میں وہ لاف زنی کی جس کا وہ خواب میں بھی خیال کرنے کا مستحق نہیں تھا۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے لکھا کہ اگر میں پیر صاحب اور علماء کے مقابلہ پر لاہور نہ پہنچوں تو پھر میں مردود، جھوٹا اور ملعون ہوں۔ اس شدومد کے اشتہار کے بعد جب اس کو پیر صاحب نے اور دیگر علمائے کرام نے بمنظوری شرائط لاہور میں طلب کیا تو مرزا قادیانی کی طرف سے سوائے بہانہ گریز کے اور کوئی کارروائی ظہور میں نہ آئی۔ سخت افسوس کا موقعہ ہے کہ مرزا قادیانی کے مرید انہی دنوں میں جب کہ پیر صاحب خاص لاہور میں سینکڑوں علماء و فضلاء اور ہزاروں مریدوں کے ساتھ تشریف رکھتے ہیں۔ اس قسم کے اشتہارات شائع کر رہے ہیں کہ پیر صاحب مباحثہ سے بھاگ گئے اور شرائط سے انکار کر گئے۔ سبحان اللہ ڈھٹائی اور بے شرمی ہو تو ایسی کہ دروغ گویم بر روئے شماء!

اس موقعہ پر مرزا قادیانی کی مسیحی تعلیم پر سخت افسوس آتا ہے۔ کیا امام زمان کی تعلیم کا یہی اثر ہونا چاہئے کہ ایسا سفید جھوٹ لکھ کر مشتہر کیا جائے اور زیادہ افسوس اس پر ہے کہ ہندو اخبارات بھی مرزائیوں کی اس ناشائستہ حرکت پر نفرین کر رہے ہیں اور ہنسی اڑا رہے ہیں۔ میں میں از جانب اہالیان جلسہ جن کی تعداد کئی ہزار ہے اور پنجاب کے مختلف اضلاع کے رہنے والے

٦٧

صفحہ ٣٤٣

ہیں ۔ اس امر کا صدق دل سے اعتراف کرتا ہوں کہ پیر صاحب نے معہ ان علمائے کرام و مشائخ عظام کے جو آپ کے ساتھ شامل ہیں اسلام کی ایک بے بہا خدمت کی ہے اور مسلمانوں کو بے انتہاء مشکور فرمایا ہے اور ہزار ہزار شکر ہے کہ آئندہ کو بہت سے مسلمان بھائی مرزا قادیانی کے اس سلسلہ حرکات سے ان کی دام تزویر میں گرفتار ہونے سے بچ گئے ۔ الیٰ آخرہ!“

آخر میں مولانا صاحب نے ایک پرزور تقریر میں بالتفصیل یہ بھی بیان کیا جو بوجہ طوالت یہاں درج نہیں ہو سکا جس کا ماحصل یہ ہے کہ اس سے پہلے بھی دنیا میں مرزا قادیانی جیسے بلکہ اس سے بڑھ کر بہت سے جھوٹے نبی، مسیح، مہدی بننے کا دعویٰ کرنے والے پیدا ہو کر اور اپنے کیفر کردار کو پہنچ کر حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔ مرزا قادیانی کا بھی یہی حشر ہوگا۔

انجمن نعمانیہ نے مولانا مولوی محمد حسن صاحب کی تائید کی اور مرزا قادیانی کے چند اشتہارات سے ان کی اس قسم کی کارروائیوں پر نہایت تہذیب اور شائستگی سے نکتہ چینی کی۔

صاحبان! بس صرف یہی خطا تھی کہ فیضی مرحوم نے مرزا قادیانی کو ان کی غلطیوں پر متنبہ کیا اور ان کو مقابلہ سے عاجز کر دیا۔ مرزا قادیانی سے یہ تو نہ ہو سکا کہ مرحوم کو ان کی زندگی میں جس متانت سے انہوں نے ان کو چٹھیاں لکھیں جواب باصواب دیتے یا مقابلہ کے لئے بلاتے جب آپ کو معلوم ہوا کہ فیضی مرحوم فوت ہو چکے ہیں اور اب میدان خالی ہے۔ آپ نے اپنی گندہ کلامی سے مرحوم کی روح کو ستانا شروع کیا اور ان کے پسماندگان کی دل آزاری کے لئے اپنی تصانیف مرحوم کے عم زاد برادر ابو الفضل مولوی کرم الدین صاحب بھیں (جو اس مقدمہ میں مستغیث تھے) کے پاس موضع بھیں میں روانہ کیں۔

مولوی صاحب کو مرزا قادیانی کی یہ بے وجہ سخت کلامی ان سے نئے جدا ہوئے ہوئے پیارے بھائی کے حق میں سخت شاق گزری۔ انہوں نے مرزا قادیانی کو نوٹس بھیجا کہ آپ پر اس امر کی نالش فوجداری کی جاوے گی کہ آپ نے ان کے مرحوم بھائی کی توہین کر کے ان کی دل آزاری کی ہے۔

اس پر قادیان میں عجیب کھلبلی مچی اور قانونی مشیروں کے مشورہ سے پیش بندی کر کے مولوی صاحب کے برخلاف مقدمہ فوجداری حکیم فضل دین حواری کے ذریعہ زیر دفعہ ٤٢٠ تعزیرات ہند گورداسپور میں دائر کرا دیا اور اس کے بعد کچھ عرصہ مولوی صاحب نے فیضی مرحوم کی توہین کا مقدمہ جہلم میں رائے سنسار چند صاحب کی عدالت میں دائر کر دیا۔ اس مقدمہ میں مرزا قادیانی

٦٨

بذریعہ وارنٹ بضمانت ایک ہزار روپیہ طلب ہوئے بذریعہ وارنٹ بلائے گئے۔ اس مقدمہ کی نسبت قانوناً مرحوم کے پسران کی طرف سے ہونا چاہئے تھا۔ ان پہنچتا۔ اس پر مرزا قادیانی کا حوصلہ بندھ گیا اور جہلم مواہب الرحمن میں جو اس وقت زیر تصنیف تھی اس میں اور جہلم میں آ کر کتاب تقسیم کر دی۔ اس کتاب میں درج کئے گئے جو آپ پر اس استغاثہ کی دائری کا باعث پیشی ہوئی اور خدا کے جری، متوکل علی اللہ، امام الزمان نکلتے ایک جتھا وکلاء کا اپنی نجات کا وسیلہ بنالائے۔ جن اس مذہب عیسائی کے تھے جن کی نسبت دجال وغیرہ بالآخر وکلاء نے وہی اعتراض اٹھایا

اعتراض سن کر استغاثہ داخل دفتر کیا۔ بس پھر کیا تھا پر اٹھا لیا اور لمبے چوڑے اشتہاروں میں مرزا قادیانی دے کر مبارک بادیاں دی گئیں۔ اس موقعہ پر اخبار مرزائیوں کے اس غیر معمولی جوش پر ایڈیٹر اخبار میں ناظرین ہوگا۔

نقل مضمون اخبار چودھویں صدی راولپنڈی

"مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک مقدمہ مرزا قادیانی کے مراتب کو اور بھی بلند فرما دیا ہے۔ فتح پر ان کو مبارک باد دی گئی ہے اس میں سے قادیانی برگزیدہ رسول الحق خدا تیرے ساتھ کھڑا ہوا ہے بشارة تلقاها النبيون من یوم العهد کو دی گئی نے اس مقدمہ کے متعلق کئے تھے۔ پورے ہوئے اور تیری قوم کو مبارک باد دیتے ہیں۔“

ہم نے تو ایک سابقہ پرچہ میں یہ ضرورت نہیں تھی کہ مرزا قادیانی کو آج کل

صفحہ ٣٤٣

بذریعہ وارنٹ بضمانت ایک ہزار روپیہ طلب ہوئے اور نیز آپ کے چند مرید بھی آپ کے ساتھ بذریعہ وارنٹ بلائے گئے۔ اس مقدمہ کی نسبت قانونی مشیروں نے یہ اعتراض سوچا کہ مقدمہ فیضی مرحوم کے پسران کی طرف سے ہونا چاہئے تھا۔ ان کی موجودگی میں مستغیث کو حق نالش کا نہیں پہنچتا۔ اس پر مرزا قادیانی کا حوصلہ بندھ گیا اور جہلم میں روانہ ہونے سے پہلے اپنی ایک کتاب مواہب الرحمن میں جو اس وقت زیر تصنیف تھی اس مقدمہ کی نسبت کچھ تذکرہ چھاپ کر ہمراہ لائے اور جہلم میں آ کر کتاب تقسیم کر دی۔ اس کتاب میں مولوی صاحب کی نسبت سخت ہتک کے الفاظ درج کئے گئے جو آپ پر اس استغاثہ کی دائری کا باعث ہوئے۔ ١٧؍جنوری ١٩٠٣ء کو اس مقدمہ کی پیشی ہوئی اور خدا کے جری، متوکل علی اللہ، امام الزمان بجائے اس کے کہ سینہ سپر ہو کر تنہا مقابلہ میں نکلتے ایک جتھا وکلاء کا اپنی نجات کا وسیلہ بنا لائے۔ جن میں سے ایک صاحب انگریز بیرسٹر بھی تھے جو اس مذہب عیسائی کے تھے جن کی نسبت دجال وغیرہ کے القاب آپ استعمال فرمایا کرتے ہیں۔

بالآخر وکلاء نے وہی اعتراض اٹھایا۔ جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے اور حاکم نے وہ اعتراض سن کر استغاثہ داخل دفتر کیا۔ بس پھر کیا تھا مرزائیوں نے فتح فتح کے نعروں سے آسمان سر پر اٹھا لیا اور لمبے چوڑے اشتہاروں میں مرزا قادیانی کو خدا کا برگزیدہ رسول اور نبی اللہ کے خطاب دے کر مبارک بادیاں دی گئیں۔ اس موقعہ پر اخبار چودھویں صدی میں ایک مختصر پر مغز مضمون جو مرزائیوں کے اس غیر معمولی جوش پر ایڈیٹر اخبار موصوف نے لکھا تھا۔ درج کر دینا موجب دلچسپی ناظرین ہوگا۔

نقل مضمون اخبار چودھویں صدی راولپنڈی مطبوعہ یکم؍فروری ١٩٠٣ء صفحہ کالم اوّل

’’مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک مقدمہ میں فتح کی خوشی میں ان کے مریدان باصفا نے مرزا قادیانی کے مراتب کو اور بھی بلند فرما دیا ہے۔ چنانچہ اخبار الحکم کے ضمیمہ میں جو اس عظیم الشان فتح پر ان کو مبارک باد دی گئی ہے اس میں سے ذیل کے الفاظ ہم نقل کرتے ہیں: ’’اے خدا کے برگزیدہ رسول الحق خدا تیرے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔ اے نبی اللہ تجھے وہ بشارت ملی ہے جس کا وعدہ بشارة تلقاھا النبیون میں یوم العید کو دیا گیا۔ لاریب خدا تعالیٰ کے وہ سارے وعدہ جو اس نے اس مقدمہ کے متعلق کئے تھے۔ پورے ہوئے ان تمام پیشین گوئیوں کے پورا ہونے پر تجھ کو اور تیری قوم کو مبارک باد دیتے ہیں۔‘‘

ہم نے تو ایک سابقہ پرچہ میں پیش گوئی کر دی تھی اور اس کے واسطے کسی الہام کی ضرورت نہیں تھی کہ مرزا قادیانی کو آج کل جو الہامات ہو رہے ہیں ان کی تعبیر عنقریب ان

٤٩

صفحہ ٣٤٥

مقدمات کے نتائج سے کی جاوے گی۔ مقدمہ جو مرزا قادیانی اور ان کے دوستوں کے برخلاف تھا۔ وہ جہاں تک ہم نے سنا ہے اس امر کا تھا کہ مولوی محمد حسن صاحب جو موضع بھیں ضلع جہلم کے رہنے والے تھے ان کی نسبت کچھ ناملائم اور ناشائستہ الفاظ انہوں نے یا ان کے کسی دوست نے لکھے تھے ان الفاظ کی بناء پر مولوی محمد حسن صاحب مرحوم کے ایک رشتہ دار مولوی کرم الدین صاحب نے مرزا قادیانی وغیرہ پر ازالہ حیثیت عرفی کی نالش کر دی تھی۔ عدالت کے سامنے سوال یہ تھا کہ آیا مولوی کرم الدین مولوی محمد حسن صاحب مرحوم کا اتنا قریبی رشتہ دار ہے کہ متوفی مولوی صاحب کو برا کہا جانے کی وجہ سے نالش کرنے کا مستحق ہے۔ عدالت نے یہ قرار دیا ہے کہ مولوی کرم الدین اتنا قریبی رشتہ دار مرحوم کا نہیں ہے کہ وہ دعویٰ کر سکے۔

اس مقدمہ کے متعلق وضاحت سے جو الہام مرزا قادیانی کو ہوئے ہیں وہ دوران مقدمہ میں ہوئے ہیں۔ جب کہ ان کو ان کے وکلاء، قانونی مشورہ دے چکے تھے اور اس واسطے ہم جانتے ہیں کہ ان الہامات کے معنے کیا ہیں۔ لیکن ہم کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس تقریب پر مرزا قادیانی کے مراتب اور مناقب میں کوئی ترقی ہونے والی ہے اور غالباً خود مرزا قادیانی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ اس عظیم الشان فتح کی خوشی میں خدا کے برگزیدہ رسول اور نبی اللہ ہو جائیں گے اور خاتم الانبیاء ختم الرسل کی تعریفات جو آنحضرت ﷺ (فداك روحی یا رسول الله) کے مبارک اور پیارے نام کے ساتھ گزشتہ تیرہ سو برس میں استعمال ہوتی رہی ہیں۔ ان کے مٹانے کی کوشش کی جائے گی۔ لیکن اگر مرزا قادیانی اس ترقی کے مستحق ثابت ہوئے ہیں تو ہماری رائے میں ان وکیلوں کی جنہوں نے مرزا قادیانی کو اس مقدمہ میں چھڑایا ہے۔ نہایت حق تلفی کی گئی ہے۔ مقدمہ سے چھوٹنے والا تو امام سے برگزیدہ رسول اور نبی ہو جائے اور مقدمہ سے چھڑانے والے بیچارے کوئی خاص اور چھوٹے والے سے بہتر رتبہ کے مستحق نہ قرار دیئے جائیں۔ حالانکہ حالات نے مرزا قادیانی کے وکلاء کو انعام میں ایک خاص ترقی دینے کا موزوں موقعہ پیدا کر دیا تھا۔ یعنی مرزا قادیانی کے تین وکلاء تھے۔ ان تینوں میں سے جن سے وہ راضی ہوتے ایک کو خدا دوسرے کو خدا کا بیٹا، تیسرے کو روح القدس بنا دیا جاتا اور پھر تینوں مل کر خدا بنا دیئے جاتے اور مرزا قادیانی کے دین کے لحاظ سے یہ کوئی نئی یا اچھوتی بات نہ ہوتی۔ مرزا قادیانی نے اپنے مضمون کشتی نوح میں تحریر فرمایا ہے کہ وہ مریم بنا دیئے گئے تھے اور پھر ان کو حمل ہو گیا تھا اور جب ان کو درد زہ ہوا تو وہ کھجور کے درخت کے نیچے چلے گئے اور وہاں جا کر انہوں نے بچہ جنا اور وہ بچہ جننے کے بعد ان کو آخر کار کسی وقت معلوم ہوا کہ وہ دونوں ماں اور بچہ وہ خود ہی ہیں۔ تو جس دین میں یہ عجائبات ظہور

٧٠

پذیر ہو سکتے ہیں وہاں چند الہاموں کے الٹ پھیر سے الـ جس کے وہ مستحق تھے اور امید ہے کہ مرزا قادیانی اور ان ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔ مرزا قادیانی کے برخلاف چل سکا تو اب سنا ہے کہ مولوی محمد حسن صاحب مرحوم اب بھی وہی رائے ہے جو پہلے تھی کہ مسلمانوں کے چاہیے۔ دونوں فریق میں اگر کوئی عاقبت اندیش بز مقدمہ بازی کو چھوڑ دیں۔

الحاصل ! ادھر تو بیچارے وکلاء نے اس عذ نہیں چل سکتا۔ مرزا قادیانی کو نجات دلائی ادھر مرزا قـ مستغیث کو خود ایک دوسرے استغاثہ کا مصالحہ تیار کر کے مواہب الرحمٰن میں مستغیث کا صریح نام لکھ کر اس کو کو تقسیم کیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی مبارک بادیاں لیـ گے کہ ادھر کتاب مذکور کی بناء پر دوسرا استغاثہ ٢٦ رجـ کی عدالت میں دائر ہو گیا اور مرزا قادیانی اور ان پھر طلب ہو گئے۔ اس خبر پر قادیان دارالامان میں اس مقدمہ کو ایک معمولی سمجھ کر اس کے متعلق یہ الـ ”سنكرمك اكراماً عجيباً“

(الہام مر

اس الہام کا یہ منشاء تھا کہ دیکھو ابھی تم کو ”سنكرمك“ کا سین قابل غور ہے۔ لیکن غیور خـ کی بیخ کنی منظور تھی۔ اس معمولی مقدمہ نے مرزا قـ کوئی مصیبت کوئی ذلت نہ ہوگی جو کہ اکرام عجیب

لے یہ امر کہ مرزا قادیانی کے الہام کـ جاوے گی۔ ان کی اس درخواست سے بخوبی ظاہـ میں مرزا قادیانی کی طرف سے استثناء حاضری امید نہیں کہ استغاثہ ابتدائی مراحل سے آگے چل

صفحہ ٣٤٥

پذیر ہو سکتے ہیں وہاں چند الہاموں کے الٹ پھیر سے ان بیچارے وکلاء کو بھی ترقی دی جاسکتی تھی۔ جس کے وہ مستحق تھے اور امید ہے کہ مرزا قادیانی اور ان کے دوست اس سہو پر غور کر کے اس موقعہ کو ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔ مرزا قادیانی کے برخلاف مولوی کرم الدین صاحب کا استغاثہ نہیں چل سکا تو اب سنا ہے کہ مولوی محمد حسن صاحب مرحوم کے لڑکے استغاثہ کرنے والے ہیں۔ ہماری اب بھی وہی رائے ہے جو پہلے تھی کہ مسلمانوں کے مذہبی جھگڑوں کو عدالتوں میں نہیں گھسیٹنا چاہئے۔ دونوں فریق میں اگر کوئی عاقبت اندیش بزرگ ہیں تو وہ ان کو یہی صلاح دیں گے کہ مقدمہ بازی کو چھوڑ دیں۔

الحاصل! ادھر تو بیچارے وکلاء نے اس عذر پر کہ استغاثہ اس مستغیث کی طرف سے نہیں چل سکتا۔ مرزا قادیانی کو نجات دلائی ادھر مرزا قادیانی ایسے ناعاقبت اندیش موکل ہیں کہ اسی مستغیث کو خود ایک دوسرے استغاثہ کا مصالحہ تیار کر کے خود ہی اس کے ہاتھ دے گئے۔ یعنی کتاب مواہب الرحمٰن میں مستغیث کا صریح نام لکھ کر اس کو گالیاں دیں اور جہلم کے احاطہ کچہری میں اس کو تقسیم کیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی مبارک بادیاں لیتے خوشیاں مناتے۔ قادیان میں پہنچے ہی ہوں گے کہ ادھر کتاب مذکور کی بناء پر دوسرا استغاثہ ٢٦؍جنوری ١٩٠٣ء کو اسی حاکم لالہ سنسار چند صاحب کی عدالت میں دائر ہو گیا اور مرزا قادیانی اور ان کے حواری حکیم فضل دین بذریعہ وارنٹ وغیرہ پھر طلب ہو گئے۔ اس خبر پر قادیان دارالامان میں پھر ماتم برپا ہو گیا۔ ہر چند قادیانی صاحب نے اس مقدمہ کو ایک معمولی سمجھ کر اس کے متعلق یہ الہام اخبار الحکم میں اسی وقت شائع کر دیا تھا۔

"سنکرمک اکراماً عجیباً"

(الحکم مورخہ ٢٤؍فروری ١٩٠٣ء، تذکرہ ص ٤٧٥، ٦٤٢ طبع سوم)

اس الہام کا یہ منشاء تھا کہ دیکھو! ابھی تم کو عجیب اعزاز ملتا ہے یعنی استغاثہ خارج ہوتا ہے۔ ”سنکرمک“ کا سین قابل غور ہے۔ لیکن غیور خدائے ذوالجلال کو چونکہ مرزا قادیانی کے الہاموں کی بیخ کنی منظور تھی۔ اس معمولی مقدمہ نے مرزا قادیانی کو ایسا جکڑا کہ دو سال تک پیچھا نہ چھوڑا اور کوئی مصیبت کوئی ذلت نہ ہوگی جو کہ اکرام عجیب کے منتظر کو اثنائے مقدمہ میں نصیب نہ ہوئی ہو۔

١؎ یہ امر کہ مرزا قادیانی کے الہام کا یہی منشاء تھا کہ ابتداء ہی میں آپ کو نجات مل جاوے گی۔ ان کی اس درخواست سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے جو کہ لالہ سنسار چند صاحب کی عدالت میں مرزا قادیانی کی طرف سے استثنائے حاضری کے لئے گزری تھی۔ اس میں صاف درج تھا کہ امید نہیں کہ استغاثہ ابتدائی مراحل سے آگے چل سکے۔

٧١

صفحہ ٣٤٧

آخر دو سال کے بعد ٢٣؍ اکتوبر ١٩٠٤ء کو مرزا قادیانی عدالت لالہ آتما رام صاحب مجسٹریٹ گورداسپور سے اکرام عجیب کا یہ تمغہ ملا کہ آپ پانچ سو روپیہ جرمانہ ادا کریں۔ ورنہ ٦ ماہ قید محض بھگتیں۔ بیشک مرزا قادیانی کے لئے یہ اکرام عجیب تھا جو عمر بھر میں آپ کو اس سے پہلے نہیں ملا تھا۔

مقدمہ بازی میں مرزا قادیانی کو شکست فاش

مقدمہ بازی فریقین کا خاتمہ جس قدر کہ ہو چکا ہے اس کے مجموعی حالات پر غور کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ قادیانی اور اس کی جماعت اس مقدمہ بازی میں ہرگز فتح یاب نہیں ہوئے۔ جیسا کہ ان کے مرید ظاہر کر رہے ہیں بلکہ اس مقدمہ بازی نے ان کی وقعت اور ان کی صداقت کی ساری قلعی کھول دی ہے۔ سوچنے والے مجموعی نتائج پر غور کر کے صاف قائل ہوں گے کہ مرزا اور اس کے گروہ نے اس مقدمہ بازی میں سخت شکست کھائی اور اس مقدمہ بازی کے ذریعہ پبلک کو مرزا سے سخت بے اعتقادی حاصل ہوئی اور روز روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ مرزا قادیانی کے دعاوی ملہمیت، مسیحیت، نبوت وغیرہ سب غلط ہیں۔

اس بارہ میں امور ذیل قابل توجہ ہیں:

سے چھیڑا گیا اور اس سلسلہ کے چھیڑنے سے وہ اعتراضات ذیل کا نشانہ بنے ہیں۔

نہ تھا کہ وہ فیصلہ نزاع کے لئے اور کسی حکم کے محتاج ہوتے۔ کیا کسی حدیث سے ثبوت ملتا ہے کہ مسیح موعود اپنے ظہور کے وقت عدالتوں میں مقدمات بھی لڑیں گے۔

اللہ والرسول“ یعنی اگر تم مسلمانوں میں کسی امر میں تنازع ہو تو خدا اور اس کے رسول کے سپرد کرو۔ پھر مرزا قادیانی نے کیوں اس آیت قرآنی کا خلاف کر کے حکیم فضل دین مخلص حواری کو ہدایت فرمائی کہ بجائے اس کے کہ معاملہ کو خدا اور رسول کے سپرد کریں۔ رائے گنگا رام صاحب مجسٹریٹ کی عدالت کی طرف رجوع کریں۔

مبتلا رہی اور خداوند عالم نے فرمایا ہے: ”والفتنة اشد من القتل“ مرزا قادیانی مسیح موعود ہوتے تو بجائے اس کے کہ مسلمانوں میں امن اور صلح قائم کریں۔ یہ بدامنی ہرگز نہ پھیلاتے جو کہ

٧٢

سخت گناہ میں داخل ہے۔ قرآن کریم میں ہے: ”ان الـ ثم لم یتوبوا فلهم عذاب جهنم ولهم عذاب ڈالتے اور توبہ سے پہلے مر جاتے ہیں ان کے لئے سخت عذا

مقدمہ بازی بدامنی پھیلے اور ان کا روپیہ مفت برباد ہو۔ سو ا برباد ہوا یا مسلمانوں کو بدنی تکالیف پہنچیں ان سب کے ذ مقدمہ بازی کو پہلے شروع کیا۔ ”والبادی اظلم“

میں بڑے زور شور سے دائر کیا گیا تھا اور علاوہ دیگر گواہ نور دین اور عبد الکریم بھی گواہ بنائے گئے تھے۔ اس مق الہاموں کی بھر مار ہو رہی تھی اور اس مقدمہ کے بنانے پر کہ مولوی کرم الدین صاحب بری اور مقدمہ خارج۔ مر اور دنیا میں فریق مقابل کی فتح اور ظفر کا نقارہ بج گیا۔ ا میں تھے گویا کہیں ان کا نشان ہی نہیں اور تمام اخبارات کی شکست کے مضمون شائع ہو گئے۔ کہئے! مرزا قادیا یہ حشر ہوگا۔ تم روپے کیوں برباد کر رہے ہو؟ اس مقدمہ اور ان کی جماعت کے ذمہ رہے گا اور یہ حسرت انک جماعت نے ناخنوں تک زور لگایا مگر فریق مقابل کا بال

مولوی صاحب کے خلاف قائم کیا گیا تھا اور ایک ن عدالت میں پیش کیا گیا تھا جن میں شیخ رحمت اللہ صا داخل تھے اور مسٹر ڈاگارمن صاحب بیرسٹر اس کی پی لئے بھی طرح طرح کے الہامات تھے۔ لیکن اس کا نتیج مولوی صاحب رہا۔ اس شکست بعد شکست نے قادی کسی سے بات تک کرنے سے بھی شرمندہ ہوتے (معاذ اللہ) نے اسی امید پر دائر کرایا تھا کہ باوجود

٧٣

صفحہ ٣٤٧

سخت گناہ میں داخل ہے۔ قرآن کریم میں ہے: ”ان الذین فتنوا المؤمنین والمؤمنات ثم لم یتوبوا فلہم عذاب جہنم ولہم عذاب الحریق“ جو لوگ مسلمانوں میں فتنہ ڈالتے اور توبہ سے پہلے مر جاتے ہیں ان کے لئے سخت جلانے والا عذاب (جہنم) تیار ہے۔

٤....... گورنمنٹ کی امن پسند پالیسی بھی اس امر کے مانع ہے کہ اس کی رعایا میں بذریعہ مقدمہ بازی بدامنی پھیلے اور ان کا روپیہ مفت برباد ہو، سو اس مقدمہ میں جس قدر مسلمانوں کا روپیہ برباد ہوا یا مسلمانوں کو بدنی تکالیف پہنچیں ان سب کے ذمہ دار مرزا قادیانی ہیں جنہوں نے سلسلہ مقدمہ بازی کو پہلے شروع کیا۔ ”والبادی اظلم“

دوم....... سب سے پہلا مقدمہ جو مسیح الزمان کے خاص حکم سے بذریعہ حکیم فضل دین عدالت میں بڑے زور شور سے دائر کیا گیا تھا اور علاوہ دیگر گواہوں کے مرزائی جماعت کے اعلیٰ ممبر حکیم نور دین اور عبدالکریم بھی گواہ بنائے گئے تھے۔ اس مقدمہ کی فتح یابی کے متعلق مرزا قادیانی کو الہاموں کی بھر مار ہو رہی تھی اور اس مقدمہ کے بنانے پر بہت کچھ روپیہ خرچ کیا گیا۔ آخر نتیجہ یہ ہوا کہ مولوی کرم الدین صاحب بری اور مقدمہ خارج۔ مرزا قادیانی کے الہامات کے پرخچے اڑ گئے اور دنیا میں فریق مقابل کی فتح اور ظفر کا نقارہ بج گیا۔ اس وقت قادیانی اخبارات ایسے عالم سکوت میں تھے گویا کہیں ان کا نشان ہی نہیں اور تمام اخبارات میں مولوی صاحب کی فتح اور مرزا قادیانی کی شکست کے مضمون شائع ہو گئے۔ کہئے! مرزا قادیانی کو یہ بھی کہیں الہام ہوا تھا کہ اس مقدمہ کا یہ حشر ہوگا۔ تم روپیہ کیوں برباد کر رہے ہو؟ اس مقدمہ کی شکست کا دھبہ قیامت تک مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کے ذمہ رہے گا اور یہ حسرت انکو مرتے دم تک رہے گی کہ خدا کی برگزیدہ جماعت نے ناخنوں تک زور لگایا مگر فریق مقابل کا بال بیکا نہ ہوا۔

سوم....... پھر دوسرا مقدمہ فوجداری جو کہ زیر دفعہ ٤١١ تعزیرات ہند (مال مسروقہ کو پاس رکھنا) مولوی صاحب کے خلاف قائم کیا گیا تھا اور ایک دن جن گواہوں کو اس کے ثبوت کے لئے عدالت میں پیش کیا گیا تھا جن میں شیخ رحمت اللہ صاحب مالک بمبئی ہاؤس جیسے معزز اشخاص بھی داخل تھے اور مسٹر اوگاسمن صاحب بیرسٹر اس کی پیروی کے لئے بلائے گئے تھے اس مقدمہ کے لئے بھی طرح طرح کے الہامات تھے۔ لیکن اس کا نتیجہ بھی یہی ہوا کہ استغاثہ بعدم ثبوت ڈسمس اور مولوی صاحب رہا۔ اس شکست بعد شکست نے قادیانی جماعت تک کو مذبذب کر دیا تھا اور مرزائی کسی سے بات تک کرنے سے بھی شرمندہ ہوتے تھے۔ کیا یہ مقدمہ بھی خدا کے برگزیدہ رسول (معاذ اللہ) نے اسی امید پر دائر کرایا تھا کہ باوجود کثیر مصارف برداشت کرنے کے اور گواہان کو

٧٣

صفحہ ٣٤٩

تکالیف شہادت پہنچنے کے بعد فریق مخالف صاف نکل جائے اور مرزائی بیچارے آہ و فغان کرتے رہ جائیں۔ اگر مرزا قادیانی ملہم ہوتے تو ان کو اوّل ہی بذریعہ الہام خبر مل جانی چاہئے تھی کہ مقدمہ بے وجود ہے۔ اس کو چھیڑ کر اپنی تخفیف نہ کراؤ۔ کیا اس کا کوئی جواب مرزائیوں کے پاس ہے؟

مقدمہ زیر بحث یعنی قادیانی کا مقدمہ جس کے متعلق کارروائی عدالت اپیل پر مرزائی اخبارات شور مچا رہے ہیں اور ان کی جماعت والے مارے خوشی کے جامے میں پھولے نہیں سماتے سو اس مقدمہ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کے سارے اسرار کو طشت از بام کرنے والا اور سارے دعاوی کی قلعی کھولنے والا یہی مقدمہ ہے جو کہ صفحہ دہر پر بہت دیر تک یادگار رہے گا۔ اس کے متعلق امور ذیل قابل غور ہیں۔

جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں مرزا قادیانی نے اس مقدمہ کو بالکل معمولی تصور کیا اور اپنے قیاس کے موجب الہام بھی جلدی فتح یاب ہونے کا کر دیا۔ لیکن ان کے قیاس اور الہام کو غلط کرنے کے لئے قضاء قدر نے اس کو اس قدر طول دے کر مرزا قادیانی کو طرح طرح کے مصائب کا نشانہ بنایا جس کی نظیر اس سے پہلے نہیں ملے گی۔

اس مقدمہ میں مرزا قادیانی کے ادعائے ریاست و کرسی نشینی کی بھی ساری حقیقت کھل گئی۔ ہمیشہ کرسی کرسی کی پکار سنا کرتے تھے اور اسی کو گویا معیار صداقت قائم کیا جاتا تھا کہ دیکھو فلاں موقعہ پر ہم کو کرسی ملی اور مخالف فریق کو کرسی نہ ملی اور الہام ”انی مهین من اراد اهانتك ومعين من اراد اعانتك“ (تذکرہ ص ٤٠٠ طبع سوم) وغیرہ کا ظہور ہوا۔ لیکن خدائے تعالیٰ نے اس شیخی باز کو مقدمہ میں وہ دن دکھائے کہ چھ چھ گھنٹہ عدالت میں کھڑا رہنا پڑا اور کرسی کا نام لینے تک کی جرات نہ ہوئی۔ جب تک رائے چندو لال صاحب مجسٹریٹ کی عدالت میں مقدمہ رہا اس وقت تک ہر دو فریق یعنی مولوی صاحب مستغیث و مرزا قادیانی کو بالمساوات کرسی ملتی رہی۔ لیکن جب سے کہ مرزا قادیانی نے دعوات سحری کے ذریعہ (جیسے کہ ان کے مرید کہتے ہیں) صاحب موصوف کو تبدیل کرایا اور بجائے ان کے لالہ آتارام صاحب ایک با رعب پابند ضابطہ مجسٹریٹ آگئے تو کرسی کی رعایت موقوف ہو گئی۔ ہر دو فریق کو بالمقابل عدالت میں کھڑا ہونے کا حکم ملا۔ مولوی صاحب تو آخر نوجوان تھے۔ اس بات کی کم پرواہ رکھتے تھے۔ لیکن مرزا قادیانی کی حالت پر رحم آتا تھا۔ جب کہ بیچارے ملزموں کے کٹہرے پر تکیہ لگائے پشت دوتا کئے گھنٹوں پاؤں پر کھڑے نظر آتے تھے۔

مرزا قادیانی کے مرید ہر چند اس بات پر پھولیں کہ آخر کار مرزا قادیانی کا جرمانہ

٧٣

معاف ہوا۔ لیکن در حقیقت مرزا قادیانی کے لئے جو مرزا قادیانی کو مشکل سے وہ زمانہ بھولے گا۔ جو آپ وہ دارالامان قادیان کی عیش وعشرت اور کہاں گورد دربدر بھٹکتے پھرے۔ گورداسپور میں آپ کو بمعہ حضو میں بھی اس بات کا اعتراف کیا گیا اور پھر عدالت درخت جامن کے نیچے بیٹھے بیٹھے دروازہ عدالت کثرت کام عدالت کے باعث پچھلے پہر بلا کر خ مرزا قادیانی کے اس زمانہ کا نقشہ ایک دلکش نظم میں پیشتر ہمیں اخبار میں درج کرنے کے لئے دی گئی تھ

نظم

ارے او میرزائے قادیانی
کہاں تیری وہ کرسی ہائے کرسی
کھڑا کیوں پاؤں پر ہے دست بستہ
کٹہرا ملزموں کا تیری جا ہے
کہاں وہ کیوڑا صندل کے شربت
زمین و آسمان تھے تیرے تابع
زمانہ نے یہ کیا پلٹا ہے کھایا
رلایا دربدر تجھ کو خدا نے
وہ بیت الفکر بیت الذکر بھولے
نہ مرزا قادیان ہی نکلے خود وطن سے
عیال اطفال سارے دربدر ہیں
یہ ساری ذلتیں جو دیکھتے ہو
عدالت میں تیری پیشی ہے ہر روز
کمالی زور سے آ کر پکارے
صفحہ ٣٤٩

معاف ہوا۔ لیکن درحقیقت مرزا قادیانی کے لئے جو سزا قدرت نے مقدر کی تھی وہ بھگت چکے۔ مرزا قادیانی کو مشکل سے وہ زمانہ بھولے گا۔ جو آپ نے اس مقدمہ کے دوران میں دیکھا۔ کہاں وہ دارالامان قادیان کی عیش وعشرت اور کہاں گورداسپور کے ایام غربت زن و بچہ سمیت آپ دربدر بھٹکتے پھرے۔ گورداسپور میں آپ کو بصد مشکل مکان بھی رہنے کے لئے ملا۔ جیسا کہ الحکم میں بھی اس بات کا اعتراف کیا گیا اور پھر عدالت میں روزانہ حاضری احاطہ عدالت کے سامنے درخت جامن کے نیچے بیٹھے بیٹھے دروازہ عدالت کی طرف ٹکٹکی باندھے دن بھر گزر جاتا تھا۔ کثرت کام عدالت کے باعث پچھلے پہر بلا کر حکم دیا جاتا تھا کہ کل حاضر ہو۔ ایک شاعر نے مرزا قادیانی کے اس زمانہ کا نقشہ ایک دلکش نظم میں کھینچا تھا جو ذیل میں ہدیہ ناظرین کیا جاتا ہے۔ یہ نظم ہمیں اخبار میں درج کرنے کے لئے دی گئی تھی۔

نظم دلکش

ارے او میرزاے قادیانی بتا تیری کہاں وہ لن ترانی
کہاں تیری وہ کرسی ہائے کرسی ہمیشہ سنتے تھے تیری زبانی
کھڑا کیوں پاؤں پر ہے دست بستہ جھکا کر پیٹھ باصد نا توانی
کٹہرا ملزموں کا تیری جا ہے کہاں وہ راحت دارالامانی
کہاں وہ کیوڑا صندل کے شربت نہ ملتا آپ کو ہے آج پانی
زمین و آسمان تھے تیرے تابع تجھے حاصل تھی نصرت آسمانی
زمانہ نے یہ کیا پلٹا ہے کھایا پڑی تجھ پر بلائے ناگہانی
رلایا دربدر تجھ کو خدا نے نہیں حاصل تجھے اب شادمانی
وہ بیت الفکر بیت الذکر بھولے ہے اب گورداسپور کی خاک چھانی
نہ مرزا قادیانی ہی نکلے خود وطن سے مسافر ہوگئی ہے میرزانی
عیال اطفال سارے دربدر ہیں یہ بوڑھے باپ کی ہے مہربانی
یہ ساری ذلتیں جو دیکھتے ہو ہے مرزا جی سزائے آسمانی
عدالت میں تیری پیشی ہے ہر روز مصیبت ہے یہ گویا جاودانی
کمالی زور سے آ کر پکارے او فاجر جلد مرجا کادیانی

٧٥

صفحہ ٣٥٠
ہیں حاکم یاں کے لالہ آتمارام عدالت جن کی ہے نوشیروانی
دکھا دیتا ہے آخر دودھ کا دودھ انہوں نے صاف اور پانی کا پانی

دوران مقدمہ میں مرزا قادیانی اور ان کے ساتھی (فضل دین ) طرح طرح کی آفات سماوی اور امراض مہینہ میں مبتلا ہوتے رہے۔ لیکن فریق ثانی کو ان ایام میں سر درد کی تک بھی لاحق نہ ہوئی۔ جو اس بات کی روشن دلیل ہے کہ تائید آسمانی فریق ثانی کے شامل حال تھی۔ مولوی صاحب جس مردانگی اور حوصلہ سے دوران مقدمہ میں ثابت قدم رہے اور باوجود بے وطن اور تن تنہا ہونے کے ہر ایک مرحلہ پر استقلال سے لڑتے رہے۔ بجز تائید ایزدی کے یہ امر بالکل دشوار ہے۔ کیا مرزائیوں کو وہ وقت یاد ہے۔ جب کہ حکیم فضل دین، اثناء تحقیقات مقدمہ میں ایک ناگہانی سخت بیماری میں مبتلا ہو گئے تھے اور ان کے پیر بھائی اسی حالت میں چارپائی اٹھا کر ان کو کمرہ عدالت میں لائے تھے اور دن بھر بیچارے کمرہ میں لیٹے رہے۔ اس روز بجائے ”انی مهین من اراداهانتك“ کے ”انی مهین من اراداعانتك“ کا مضمون برابر صادق آتا تھا۔ لیکن فریق ثانی کو خدا نے ایسے ابتلاؤں سے بالکل محفوظ رکھا اور نہ مرزا قادیانی کی کرامت منائی جاتی اور پھر وہ زمانہ بھی آپ کو یاد ہوگا۔ جب کہ مرزا قادیانی بیماری سکتہ ہی وغیرہ میں مبتلا ہو کر غشی پر غشی کھاتے رہے۔ ان بیماریوں کی تصدیق مسل میں موجود ہے۔

مسیحا سے شفا پاتے تھے بیمار مثیل اس کا مرض میں خود گرفتار
نہ سمجھے ہم ہیں یہ راز نہانی غشی کھا کر گرا کیوں قادیانی
عجب ان کو ہے تائید الہی مقابل میں کھڑا ہے اک سپاہی
پچھاڑا سامنے اس کے کئی بار خدا نے میرزا کو کر کے بیمار
کرشمے تھے یہ قدرت کے نرالے کہ سمجھیں راز اصلی ہوش والے
کہ مرزاجی کے دعوے سچ نہیں ہیں غلط فہمی میں ان کے تابعین ہیں

عبده “ (تذکرہ ص ٢٥ ، طبع سوم ) کے تسلی یافتہ ہیں۔ لیکن مقدمہ میں جو حوصلہ آپ نے دکھلایا اس سے معلوم ہوا کہ یہ ساری کہنے کی باتیں تھیں۔ یوں تو آپ نے الحکم میں یہ الہام بھی چھپوا دیا تھا کہ خدا نے مجھے کہا ہے ۔ ”لا اله الا انا فلتخذنی وکیلا “ (تذکرہ ص ٣٨١، طبع سوم ) لیکن جری اللہ فی حلل الانبیاء کو ایک دن بھی عدالت میں تنہا پیش ہونے کا حوصلہ نہ ہوا۔ جب تک کہ دائیں بائیں آگے پیچھے وکلاء کی جماعت نہ ہوتی تھی عدالت میں جانا محال تھا۔ اگر خدا کی طرف سے تسلی مل چکی

٧٦

٣٥١

تھی کہ آپ فتح یاب ہوں گے اور یہ بھی کہ خدا ہی تمہا میں ہی خدا ہوں مجھے وکیل بنانا تو پھر مرزا قادیانی کو و یہ تو صریح خدا کی نافرمانی ٹھہری اور پھر یہ بھی نہیں جماعت وکلاء تھی۔ بلکہ سچ پوچھو تو آیت مذکورہ پر مولو موقع پر اکیلے پیش ہوتے رہے۔ ادھر جماعت وکلا ہو کر مقابلہ کرتا تھا۔ پھر ناظرین خود انصاف کر سکتے اللہ کون ٹھہرا؟ اور نیز اگر بجز وکلاء کے حوصلہ نہ بندھت صاحب اور مولوی محمد علی صاحب ہی کافی تھے۔ ان اور پٹیل صاحب اور بالآخر مسٹر پنچی صاحب کو بھی ا خوب غور کرو۔

مثنو

ہر کہ را باشد توکل برالہ
میرزا را گفت چوں رب جلیل
حاجت خواجہ کمال الدین چہ بود
ایں عجب مرشد گرفتار بلاست
دیں عجب ترچوں مسیحائے زمان
اورئیل او گارمن کردن وکیل
حل ایں عقدہ نیاید درخیال
ہست ایں رمزے شگرف ای دوستاں
مے شود عیسیٰ گرفتار وذلیل

کہ آپ تقریر سے عاجز ہیں۔ باوجودیکہ مخالف سے مخالف و موافق کو اپنی قابلیت کا قائل کر دیا۔ کے جواب میں تقریر کر سکیں۔ سچ پوچھو تو اگر مرز مقدمہ کے پیروکار نہ ہوتے تو مرزا قادیانی مخالفو

صفحہ ٣٥١

تھی کہ آپ فتح یاب ہوں گے اور یہ بھی کہ خدا ہی تمہاری امداد کو کافی ہے اور پھر صریح فرمان ہے کہ میں ہی خدا ہوں مجھے وکیل بنانا تو پھر مرزا قادیانی کو کیا ضرورت تھی کہ وکلاء کی امداد حاصل کرتے۔ یہ تو صریح خدا کی نافرمانی ٹھہری اور پھر یہ بھی نہیں تھا کہ آپ کے مقابل فریق کے ساتھ کوئی جماعت وکلاء تھی۔ بلکہ سچ پوچھو تو آیت مذکورہ پر مولوی صاحب مستغیث نے پورا عمل کیا کہ ہر ایک موقع پر اکیلے پیش ہوتے رہے۔ ادھر جماعت وکلاء کی ہوتی تھی اور ادھر وہ مرد خدا اکیلا سینہ سپر ہو کر مقابلہ کرتا تھا۔ پھر ناظرین خود انصاف کر سکتے ہیں کہ فریقین میں سے متوکل علی اللہ ومؤید من اللہ کون ٹھہرا؟ اور نیز اگر بجز وکلاء کے حوصلہ نہ بندھتا تھا تو پھر اپنے دونوں حواری خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب ہی کافی تھے۔ ان پر بھی بھروسہ نہ کیا۔ مسٹر اوگارمن صاحب مسٹر اورینٹل صاحب اور بالآخر مسٹر بیٹی صاحب کو بھی اپنا مددگار بنانا پڑا۔ بھائیو! یہ سوچنے کا مقام ہے خوب غور کرو۔

مثنوی

ہر کہ را باشد توکل برالہ غیر را ہرگز نیارد در پناہ
میرزا را گفت چون رب جلیل من خدائم بس مرا میدان وکیل
حاجت خواجہ کمال الدین چہ بود راست گو مرزا توکل ایں چہ بود
ایں عجب مرشد گرفتار بلاست حامی وشافع مرید باصفاست
ویں عجب تر چوں مسیحائے زمان از نصاریٰ جوید امداد واماں
اورینٹل اوگارمن کردن وکیل روئے پیچیدن زفرمان جلیل
حل ایں عقدہ نیاید در خیال ہست از مرزائیاں مارا سوال
ہست ایں رمزے شگرف ای دوستان ہین بیاں سازید اے مرزائیاں
مے شود عیسیٰ گرفتار وذلیل بہر خود دجال را سازد وکیل

کہ آپ تقریر سے عاجز ہیں۔ باوجودیکہ مخالف فاضل مولوی نے اثناء مقدمہ دھواں دھار تقریروں سے مخالف و موافق کو اپنی قابلیت کا قائل کر دیا۔ لیکن مرزا قادیانی سے ایک دن بھی نہ ہو سکا کہ اس کے جواب میں تقریر کر سکیں۔ سچ پوچھو تو اگر مرزا قادیانی کے قابل وکیل خواجہ کمال الدین صاحب مقدمہ کے پیروکار نہ ہوتے تو مرزا قادیانی مخالف کی پرزور تقریروں کی دہشت سے حواس باختہ ہو

٧٧

صفحہ ٥٣

جاتے۔ مولوی صاحب کو کچھ ایسی تائید ایزدی تھی کہ جرح گواہوں پر خود کی اور گواہوں کو حیرت زدہ بنا دیا۔ حالانکہ مرزا قادیانی کے گواہ بڑے بڑے لائق وکیل، ڈپٹی، جج، عالم فاضل مولوی تھے اور تقریروں کے موقعہ پر اپنی لیاقت کے وہ جوہر دکھائے کہ موافق ومخالف عش عش کر اٹھے اور خود خواجہ کمال الدین صاحب ایسے تجربہ کار مخالف وکیل نے ہمارے روبرو کئی دفعہ سر اجلاس مولوی صاحب کی فاضلانہ تقریروں کی داد دی۔

ہمیں خوب یاد ہے کہ جب ٣؍ جنوری ١٩٠٤ء کو رائے چندو لال صاحب کے اجلاس میں تائید استغاثہ میں مولوی صاحب نے تقریر کی تھی۔ مرزا قادیانی بھی خود سن رہے تھے تو مولوی صاحب نے اپنی حیثیت کا مقابلہ مرزا قادیانی کی حیثیت سے بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے اس بات کا کافی ثبوت پیش کر دیا ہے کہ میں بہت سی جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کا مالک ہوں اور مرزا قادیانی اپنی تمام جائیداد بیوی کے نام منتقل کر کے نرے ہیچ ہی رہ گئے ہیں اور آپ اب اس حالت میں ہیں کہ اگر خدانخواستہ مریدان خوش اعتقاد برگشتہ ہو جائیں تو پھر مرزا قادیانی روٹی کے لئے بھی سخت محتاج ہو جائیں اور چونکہ تمام مخلوق کو آپ نے ستایا ہوا ہے امید نہیں کہ گدا کرنے پر بھی آپ کو خیر ملے۔ مستغیث نے تو ورثہ پدری کے علاوہ اور جائیداد حاصل کی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کا مکان رہائشی تو ایسا بے حیثیت ہے کہ دو روپیہ کرایہ ماہوار پر بھی اس کو کوئی نہیں لے سکتا۔ (دیکھو! بیان مرزا بمقدمہ انکم ٹیکس) نیز مستغیث کی عزت اپنے ضلع و تحصیل کے حکام کی ان اسناد سے جو شامل مسل کرائی گئی ہیں ظاہر ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی وقعت جو حکام ضلع کے نزدیک ہے وہ یہ ہے کہ وہ فتنہ انگیز ہے۔ (دیکھو! فیصلہ مسٹر ڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور) ایسا ہی اپنی علمی فضیلت وغیرہ پر پر زور دلائل دے کر اخیر میں مولوی صاحب نے جرم استغاثہ کہ وہ بذمہ ملزمان ایسی زبردست دلائل سے ثابت کیا کہ مرزا قادیانی کو بھی گویا یقین ہو گیا کہ جرم سے بچنے کی کوئی سبیل باقی نہیں رہی۔

اس زبردست تقریر نے مرزا قادیانی کے دل پر ایسا رعب ڈالا ایسے دہشت زدہ ہوئے کہ ڈیرہ پر جاتے ہی آپ کو سخت بخار ہو گیا۔ چنانچہ دوسرے روز سرٹیفکیٹ بیماری پیش کیا اور مدتوں عدالت میں حاضری سے ٹال مٹول ہوتی رہی اور بالخصوص اس روز تو مرزا قادیانی کی علمی لیاقت کی قلعی ہی کھل گئی جب کہ بوقت شہادت مولوی برکت علی صاحب منصف بٹالہ گواہ استغاثہ کے اس پرچہ کے جواب میں جو کہ لغات مغلقہ غریبہ جمع کر کے گواہ کے سامنے وکیل مرزا قادیانی نے رکھا تھا کہ اس کا ترجمہ کر دیں اور عدالت نے فضول سمجھ کر رد کر دیا تھا۔ مولوی صاحب نے چند اشعار ٧٨

عربیہ منظومہ خود سر اجلاس مرزا قادیانی کے پیش ک کریں اور ترجمہ نہیں تو صرف ان کو پڑھ کر ہی سن آپ کی بیعت کرتا ہوں۔ مرزا قادیانی نے وہ پر گئے۔ اگر آپ فصیح و بلیغ فاضل تھے اور پھر آپ ک کے للکارنے پر اٹھ نہ کھڑے کہ لاؤ ہم پڑھتے ہی لوگ گواہ ہیں جو اجلاس میں اس وقت موجود تھے کے مقابلہ میں بڑے بڑے دعاوی کا مدعی مرزا علمی

لیاقت وہ جو میداں میں عیاں ہو
وگرنہ گھر میں کہہ لینا ہے آساں
اگر مرزا میں کچھ تھی قابلیت
پکارا مولوی نے جب کئی بار
ابھی یہ ختم ہو جاتی ہے تکرار
نہ ہرگز مرزا نے لب ہلائی
مسیحا نے تو ایسا سر جھکایا
کرشمہ تھا یہ قدرت ایزدی کا

مرزا قادیانی نے دکھائی تھی وہ اس بات کی صریح ان کو اللہ تعالٰی سے کوئی الہام ہوتا ہے۔ آپ اس کے سامنے ہونا آپ نے موت کے برابر سمجھ لیا خدا ان کا مددگار ہے تو پھر ایک مجازی حاکم کے سا سرٹیفکیٹ بھیجتے رہے اور بیماری کے عذرات ہو درخواست صاحب ڈپٹی کمشنر کے ہاں گزاری آ گا۔ اس درخواست کے لئے لاہور سے مسٹر ا کچھ روپیہ خرچ کیا گیا۔ آخر بمقام علیوال ص درخواست نامنظور، مقدمہ اسی عدالت میں ر میں مرافعہ کیا گیا۔ وہاں سے بھی ناکامی حاص

صفحہ ٣٥٣

عربیہ منظومہ خود سر اجلاس مرزا قادیانی کے پیش کئے تھے اور للکار کر کہا کہ آپ ان اشعار کا ترجمہ کریں اور ترجمہ نہیں تو صرف ان کو پڑھ کر ہی سنادیں تو میں سارے مقدمے چھوڑ کر اس وقت آپ کی بیعت کرتا ہوں ۔ مرزا قادیانی نے وہ پرچہ دیکھ کر اپنا سر نیچے کر لیا اور بالکل سکتہ میں رہ گئے۔ اگر آپ فصیح و بلیغ فاضل تھے اور پھر آپ کو امداد الٰہی بھی تھی تو پھر کیوں ایسے موقعہ پر مخالف کے للکارنے پر اٹھ نہ کھڑے کہ لاؤ ہم پڑھتے ہیں اور ترجمہ سناتے ہیں۔ اس واقعہ کے وہ سب لوگ گواہ ہیں جو اجلاس میں اس وقت موجود تھے۔ اس روز حاضرین کو یقین ہو گیا کہ فاضل مولوی کے مقابلہ میں بڑے بڑے دعاوی کا مدعی مرزا علمی میدان میں نکلنے کے ہرگز قابل نہیں ہے۔

لیاقت وہ جو میداں میں عیاں ہو ظہور علم وقت امتحاں ہو
وگرنہ گھر میں کہہ لینا ہے آساں نہیں مجھ سا کوئی عالم میں انساں
اگر مرزا میں کچھ تھی قابلیت مخالف کو دکھا دیتے فضیلت
پکارا مولوی نے جب کئی بار کہ پڑھ کر تم سنا دو میرے اشعار
ابھی یہ ختم ہو جاتی ہے تکرار ہوں مرزاجی کی بیعت کو بھی تیار
نہ ہرگز مرزا نے لب ہلائے کہ لاؤ سامنے اشعار بھائی
مسیحا نے تو ایسا سر جھکایا کہ حیراں رہ گیا اپنا پرایا
کرشمہ تھا یہ قدرت ایزدی کا کہ توڑا ادّعا اس مدعی کا

مرزا قادیانی نے دکھائی تھی وہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ آپ کو اپنے خدا پر کچھ بھروسہ نہ تھا۔ نہ ان کو اللہ تعالیٰ سے کوئی الہام ہوتا ہے۔ آپ اس مرحلہ پر ایسے گھبرائے کہ رائے چندولال صاحب کے سامنے ہونا آپ نے موت کے برابر سمجھ لیا۔ اگر خدا سے مرزا قادیانی کو اطلاع مل چکی تھی کہ خدا ان کا مددگار ہے تو پھر ایک مجازی حاکم کے سامنے آنے سے گھبراہٹ کی کیا وجہ تھی؟ آپ متواتر سرٹیفکیٹ بھیجتے رہے اور بیماری کے عذرات ہوتے رہے اور پھر اس عدالت سے انتقال مقدمہ کی درخواست صاحب ڈپٹی کمشنر کے ہاں گزاری کہ اس حاکم سے مجھے ڈر ہے کہ میری مخالفت کرے گا۔ اس درخواست کے لئے لاہور سے مسٹر اورٹیل صاحب بیرسٹر ایٹ لاء بلائے گئے اور بہت کچھ روپیہ خرچ کیا گیا۔ آخر بمقام عدالت صاحب بہادر نے فیصلہ کیا کہ عذرات فضول ہیں۔ درخواست نامنظور، مقدمہ اسی عدالت میں رہے گا۔ پھر اس پر بھی صبر نہ کیا گیا۔ بلکہ چیف کورٹ میں مرافعہ کیا گیا۔ وہاں سے بھی ناکامی حاصل ہوئی تو دو متواتر شکستیں اٹھا کر مرزا قادیانی کے

٧٩

صفحہ ٣٥٤

وکیل پھر اسی عدالت میں پیش ہوئے اور مرزا قادیانی کی غیر حاضری میں فرد جرم سنائی گئی۔ مرزا قادیانی کے مرید کہتے ہیں کہ رائے چندولال صاحب مرزا قادیانی کی دعا سے یہاں سے تبدیل ہوئے۔ حالانکہ رائے صاحب کی اپنی درخواست تھی کہ ان کو یہاں سے تبدیل کیا جائے اور پھر اگر دعا پر کوئی بھروسہ تھا تو حکام کے سامنے درخواستوں پر اتنا روپیہ برباد کر کے ناکامی کی شرمندگی اٹھانے کی کیا ضرورت تھی۔

اگر مرزا کو تھی نصرت خدا سے تسلی تھی حضور کبریا سے
عدالت سے وہ بھاگے کیوں بھلاتے وہ ہتھکڑی میں کیوں پھر مبتلا تھے
جو ان کے ساتھ وہ نعم المعین تھا اور ان کو نصرت کا یقین تھا
تو چندولال صاحب سے ڈرے کیوں وہ اس دہشت سے غش کھا کر گرے کیوں
انہیں باتوں سے کھل جاتے ہیں اسرار سمجھ لیتا ہے دانا مرد ہشیار
کہ عالم میں جو مردان خدا ہیں وہ ہر حالت میں راضی بالرضا ہیں
کسی حالت میں وہ ڈرتے نہیں ہیں نہ وہ ایسے خدا سے بے یقیں ہیں
یہ مرزا جی تو کورے صاف نکلے وہ دعوے سب گزاف ولاف نکلے

بالکل روشن ہو گیا کہ مرزا قادیانی ایک معمولی انسان جیسا بھی دل وگردہ نہیں رکھتے ان کی سخت مضطربانہ حالت اور بدحواسی اس بات کا یقین دلاتی تھی کہ بزدلی میں مسیح الزمان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ ہونٹ خشک ہوتے جاتے تھے۔ چہرہ زرد تھا۔ بار بار پیشاب کی حاجت ہوتی تھی۔ چونکہ صاحب مجسٹریٹ نے اس روز انتظام یہ کیا تھا کہ ایک سالم گارڈ پولیس معہ ایک سارجنٹ وڈپٹی انسپکٹر کے بلوالئے تھے جو کالی مہیب وردی پہنے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لئے کمرہ عدالت میں ٩ بجے صبح سے ادھر ادھر ٹہل رہے تھے۔ مرزا قادیانی کیا ان کی ساری جماعت کو یقین ہو گیا تھا کہ حالت نازک ہے۔ بلکہ جہاں تک ہم نے سنا ہے۔ داروغہ جیل کو بھی بعض مرزائی مل آئے تھے کہ مسیح الزمان کی رونق افروزی پر ان کی رعایت کرنا کیا اس روز تک یہ خبر وحی نے بند رکھی تھی کہ گھبراؤ نہیں جرمانہ ہوگا اور روپے تمہارے پاس کافی ہیں اور پھر اس وقت کی حالت بالخصوص مشاہدہ کے قابل تھی۔ جب اردلی نے مرزا قادیانی کو زور سے پکارا کہ مرزا غلام احمد حاضر۔ مرزا قادیانی عدالت کی طرف جو چلے تو سچ مچ آپ ان اشعار کے مصداق نظر آتے تھے۔

٨٠

عجائب چال سے ظالم تیرا دیوانہ آتا
یہیں ہیں خشک لب چہرے پہ زردی چھا رہی
قدم اٹھتا نہیں جلدی گھٹا جاتا ہے دم
تماشا دیکھنے آئی ہے خلقت آج مہدی
جو پہنچے پاس کمرہ کے کہا پولیس والوں
نمونہ حشر کا برپا تھا مرزا کے لئے
نکالو پانچ سو ورنہ تو بھگتو قید ششما
اٹھا کر اپنا جثہ نکل بھاگے مسیحا
مبارک آپ کو حضرت یہ تحفہ مجرمی
یہ رکھنا یاد دن حضرت نہ ہرگز بھولنا ا

پھولے ہوئے جاموں میں نہیں سماتے ہیں اور مرزائی اخبارات اس دھن میں ہیں۔ ادھر میاں عبدالکریم تمام معزز اح صلواتیں سناتے ہیں۔ (دیکھو الحکم مور سخت تعجب آتا ہے کہ کیوں اتنی جلدی اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر چکے تھے ا رہا تھا۔ کیا صرف اتنی بات سے کہ مر اور مصائب جو بھگت چکے تھے۔ جن لئے قدرت کی طرف سے جو سزائیں گئی۔ پھر اپیل سے جرمانہ معاف ہو اپیل میں چھوٹ جایا کرتے ہیں تو زور سے آج سے پہلے کئی برسوں ا ہو۔ فرد جرم لگنے کے بعد کی بریت ک میں ہم تریاق القلوب مؤلفہ مرزا قاد

(نقل مہاس

صفحہ ٣٥٥
عجائب چال سے ظالم تیرا دیوانہ آتا ہے اڑاتا خاک سر پر جھومتا مستانہ آتا ہے
لبیں ہیں خشک اور چہرے پہ زردی چھا رہی دیکھو جری اللہ کیوں اب بزدلی ایسی دکھاتا ہے
قدم اٹھتا نہیں جلدی گھٹا جاتا ہے دم کیسا نہیں سولی دھری پھر کیوں مسیحا خوف کھاتا ہے
تماشا دیکھنے آئی ہے خلقت آج مہدی کا کہ دیکھیں فیصلہ مرزا کو کیا حاکم سناتا ہے
جو پہنچے پاس کمرہ کے کہا پولیس والوں نے رہیں سارے حواری یاں اکیلا مرزا جاتا ہے
نمونہ حشر کا برپا تھا مرزا کے لئے گویا نہ حامی رہ سکے کوئی جو نازک وقت آتا ہے
نکالو پانچ سو ورنہ تو بھگتو قید ششماہہ یہ مرزا جی کو حاکم حکم اپنا پڑھ سناتا ہے
بنا کر اپنا جملہ نکل بھاگے مسیحا تب بنے مجرم ہیں مرزا ہر کوئی یہ غل مچاتا ہے
مبارک آپ کو حضرت یہ تحفہ مجرمیت کا ہے لائق اس سزا کے جو کسی کا دل دکھاتا ہے
یہ رکھنا یاد دن حضرت نہ ہرگز بھولنا ان کو تمہارا حافظہ کمزور جلدی بھول جاتا ہے

پھولے ہوئے جاموں میں نہیں سماتے اور نعرہائے شادمانی بلند کئے ہوئے گویا آسمان پھاڑ رہے ہیں اور مرزائی اخبارات اس دھن میں طرح طرح کے راگ گاتے اور لوگوں کو برا بھلا سناتے ہیں۔ ادھر میاں عبدالکریم تمام معزز اخبارات کو کوستے اور سارے صوفیائے کرام اور علمائے عظام کو صلواتیں سناتے ہیں۔ (دیکھو! الحکم مورخہ ١٧؍جنوری ١٩٠٥ء) سو ہم کو مرزائیوں کی اس بیجا تعلی پر نہایت سخت تعجب آتا ہے کہ کیوں اتنی جلدی وہ ساری ذلتیں اور شکستیں بھول گئے جو مرشد جی کی نسبت اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر چکے تھے اور ان کے سارے الہامات کی تکذیب کا کوئی دقیقہ باقی نہیں رہا تھا۔ کیا صرف اتنی بات سے کہ مرزا قادیانی کا جرمانہ اپیل میں معاف ہو گیا۔ وہ ساری شدائد اور مصائب جو بھگت چکے تھے۔ جن کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ نسیاً منسیاً ہو گئے۔ صاحبان مرزا کے لئے قدرت کی طرف سے جو سزائیں مقدر تھیں وہ بھگت چکے۔ دنیا میں ان کے الہامات کی قلعی کھل گئی۔ پھر اپیل سے جرمانہ معاف ہوگیا تو کون سی انوکھی بات ہو گئی۔ بڑے بڑے ڈاکو، چور، خونی اپیل میں چھوٹ جایا کرتے ہیں تو پھر کیا ان کی عزت ہو جاتی ہے؟ اور مرزا قادیانی نے تو بڑے زور سے آج سے پہلے کئی برسوں اس امر کا فیصلہ کر دیا ہوا ہے کہ بریت وہ ہے جو فردِ جرم سے پہلے ہو۔ فردِ جرم لگنے کے بعد کی بریت کسی کام کی نہیں۔ وہ تو عدالت کا رحم ہے۔ چنانچہ اس کی تصدیق میں ہم تریاق القلوب مؤلفہ مرزا قادیانی کی اصل عبارت درج ذیل کرتے ہیں۔

(نقل عبارت تریاق القلوب مؤلفہ مرزا قادیانی ص٨٤، خزائن ج١٥ ص٣٦١،٣٦٢)

٨١

صفحہ ٣٥٦

بری وہ ہے جس پر جرم ثابت نہیں اور اس کے مجرم ٹھہرانے کے لئے کوئی وجہ پیدا نہیں ہوئی اور مبراء وہ ہے جو اس کے مجرم ٹھہرانے کے لئے وجوہ پیدا تو ہوئیں مگر صفائی کی وجوہ نے ان کو توڑ دیا اور ان پر غالب آ گئیں۔ لہٰذا یہ امر محقق اور فیصلہ شدہ اور قطعی اور یقینی ہے کہ ڈسچارج کا ترجمہ بری ہے اور ایکٹ کا ترجمہ مبرا۔ دوسرے قسم کے بری پر جو انگریزی ایکٹ کہلاتا ہے۔ یہ زمانہ آ گیا کہ وہ مجرم بھی قرار دیا گیا اور اس پر فرد قرار داد لگایا گیا۔ (جیسا کہ مرزا قادیانی پر یہ زمانہ آچکا بلکہ اس سے بڑھ کر یہ بھی کہ سزائے قید یا جرمانہ کا حکم بھی سنایا گیا) اور شاید وہ ایک مدت تک حوالات میں رہا اور شاید ہتھکڑی بھی پڑی یا یوں کہو کہ وہ مدت تک گھر سے جلاوطن رہا اور عدالت کے سامنے روزانہ کئی گھنٹوں تک کھڑا رہنے سے ٹانگیں کمزور ہو گئیں اور اس پر یہ وقت بھی آیا کہ پانی طلب کرنے پر نہ مل سکا اور کہ قید یا جرمانہ کا حکم ہو جانے سے وہ حوالات میں گویا ہو چکا اور ہتھکڑی بھی گویا پڑ گئی۔ مگر یہ شخص جو ڈسچارج کیا گیا۔ اس کی نیک چلنی کی چمک نے ان تمام ذلتوں سے محفوظ رکھا۔‘ انتہیٰ ملخصاً! افسوس نہ تو مرزا قادیانی ڈسچارج کئے گئے اور نہ ان کی نیک چلنی کی چمک نے ان کو ان تمام ذلتوں سے محفوظ رکھا۔

تو پھر جب مرزا قادیانی خود لکھ چکے ہیں کہ بریت وہی ہوتی ہے جو فرد جرم سے پہلے ہو تو پھر حسب مقولہ مذکور مدعی سست گواہ چست مرزائی اب کیوں مرزا قادیانی کے اس مقررہ اصول کی مخالفت کر کے اپیل میں جرمانہ معاف ہونے پر ان کو اس ناقص بریت پر مبارکبادیاں دیتے اور ان کی فتح مناتے ہیں۔ جب کہ مرزا قادیانی پر فرد جرم بھی لگ چکی اور اس کے بعد سزا بھی ہو چکی تو پھر عند الاپیل معافی جرمانہ کو داخل بریت سمجھنا مرزا قادیانی کی سخت تکذیب کرنا ہے۔ کیا مرزا قادیانی کا قرار دادہ اصول محولہ تریاق القلوب غلط اور جھوٹ ہے اور مرزائی سچے ہیں۔

ایں خیال است و محال است و جنوں

غالباً مرزائیوں کو مرزا قادیانی کی کتاب تریاق القلوب کی عبارت بھول چکی تھی اور مرزا قادیانی کا حافظہ کمزور ہے ہی۔ اب ہم نے آپ کو یاد دلا دیا ہے۔ امید ہے کہ من بعد ہرگز مرزائی صاحبان اپنے مرشد جی سے ہرگز یہ گستاخی روا نہ رکھیں گے۔ وہ تو فرمائیں کہ فرد جرم لگنے کے بعد اگر کوئی چھوٹ جائے تو وہ بری سمجھے جانے کے لائق نہیں۔

١؎ اس عبارت میں سوائے ان چند نوٹوں کے جو خطوط وحدانیہ کے اندر ہماری طرف سے ہیں باقی سب عبارت مرزا قادیانی کی مصنفہ کتاب تریاق القلوب کی اصل عبارت ہے۔

٨٢

ہاں ! اس کو مبرا کہو تو کہو مرزا قادیانی بری سمجھے جائیں گے۔ نہیں ہو سکتی ۔ جو خود تریاق میں ہیں لکھ چکے مرزا صراحتاً تو کیا حاصل اپیلوں سے جو جرمانہ یہ کیوں تکذیب مرشد کی ہیں کرتے ! تعجب ہے کہ مرزاجی ہیں جھوٹے ملی جو ذلتیں مرزا کو کیا کم تھی یہ نہ مرزاجی کو بھولے گا زمانہ وہ الحاصل مرزا قادیانی کا اور نہ ہی اپیل میں کامیاب ہونے متعلق صراحت سے بعد از فیصلہ مقد مہربانی پیش کریں اور یہ بھی فرمائیں دو مقدمات میں بری ہو چکے تھے۔ ٩....... بہت بڑی بات جو ان جماعت جن کو خدا کی برگزیدہ جماع کلمہ ہر وقت جاری رہتا ہے۔ کہا متعدد تصانیف کے ذریعہ دنیا کے س میں انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا سچے ہیں۔ لیکن ان مقدمات نے ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنے حلفی بیا جھوٹ بولے ہیں جن کی ہم مکمل ہی ان کے بعض ارکان نے جو مک گے۔ تا کہ پبلک اس امر سے پو بولے۔ وہ کبھی بھی خدا کا راست

صفحہ ٣٥٧

ہاں! اس کو مبرا کہو تو کہو اور مرزائی یہ کہیں کہ نہیں فرد جرم تو کیا سزایابی کے بعد بھی مرزا قادیانی بری سمجھے جائیں گے۔ مرشد جی کے قول کے مقابل مریدوں کے قول کی کچھ وقعت نہیں ہو سکتی ۔

جو خود تریاق میں ہیں لکھ چکے مرزا صراحت سے کہ بعد از فرد کچھ عزت نہیں ہرگز بریت سے
تو کیا حاصل اپیلوں سے جو جرمانہ ہوا واپس کہ مرزا جی سزا بھی پاچکے پہلے عدالت سے
یہ کیوں تکذیب مرشد کی ہیں کرتے احمدی ہو کر عقیدت سے نہ یہ کہنا ہے بلکہ ہے عداوت سے
تعجب ہے کہ مرزا جی ہیں جھوٹے اور تم سچے یہ گستاخی بڑی ہے باز آؤ ایسی جرات سے
ملی جو ذلتیں مرزا کو کیا کم تھی سزا اس کو سزا تو ہوچکی تھی جو مقدر ہوئی قدرت سے
نہ مرزا جی کو بھولے گا زمانہ وہ کبھی ہرگز بچائی جان بیچارہ نے مر مر کر مصیبت سے

الحاصل مرزا قادیانی کا اپیل میں کامیاب ہونا ان کی کسی کرامت یا فتح کی دلیل نہیں اور نہ ہی اپیل میں کامیاب ہونے کی بابت مرزا قادیانی نے کوئی الہام کیا ہوا تھا۔ اگر اپیل کے متعلق صراحت سے بعد از فیصلہ مقدمہ مرزا قادیانی کا کوئی الہام کسی اخبار میں شائع ہوا ہے تو براہ مہربانی پیش کریں اور یہ بھی فرمائیں کہ اگر مقدمہ سے بریت کرامت نشانی ہے تو مولوی صاحب دو مقدمات میں بری ہو چکے تھے۔ ان کی کرامت کیوں نہیں مانی جاتی۔

جماعت جن کو خدا کی برگزیدہ جماعت کا خطاب دیا جاتا ہے اور جن کے منہ پر صداقت صداقت کا کلمہ ہر وقت جاری رہتا ہے۔ کہاں تک اپنے دعویٰ صداقت میں سچے ہیں۔ مرزا قادیانی اپنی متعدد تصانیف کے ذریعہ دنیا کے سامنے یہ دعویٰ زور سے کر چکے ہیں کہ عمر بھر میں کسی معاملہ دنیوی میں انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور اس لئے مان لینا چاہئے کہ وہ اپنے روحانی دعاوی میں بھی سچے ہیں۔ لیکن ان مقدمات نے بہت بڑا راز جو کھولا وہ مرزا قادیانی کی صداقت کی قلعی کھولنا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنے حلفی بیانات میں جو عدالت میں انہوں نے لکھائے ہیں۔ بہت سے جھوٹ بولے ہیں جن کی ہم مکمل فہرست اس روئیداد کے آخیر پر ہدیہ ناظرین کریں گے اور ساتھ ہی ان کے بعض ارکان نے جو کچھ اپنے بیانات میں غلط بیانیاں کی ہیں ان کی بھی فہرست دیں گے۔ تاکہ پبلک اس امر سے پورا فائدہ اٹھائے کہ جو شخص عدالت میں حلفی بیانات میں جھوٹ بولے۔ وہ کبھی بھی خدا کا راست باز بندہ یا ولی، امام، نبی وغیرہ نہیں ہو سکتا ہے۔ ہم ان بیانات کا

٨٣

صفحہ ٣٥٩

جھوٹا ہونا مرزا قادیانی کے اپنے ہی دوسرے بیانات یا تصنیفات سے اور ان کے اپنے حواریوں کے بیانات سے ثابت کریں گے۔ تاکہ سوچنے والوں کو مرزا قادیانی کے ادعائے مسیحیت، مہدویت نبوت وغیرہ کے صدق و کذب کا معیار مل جاوے۔ ایسے مقدمات میں جرمانہ کا ہونا یا نہ ہونا یا معاف ہو جانا کوئی بڑی باتیں نہیں ہیں۔ ایسے واقعات ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں۔ سب سے اہم بات ایسے مواقع پر کذب و صدق کا پرکھنا ہوتا ہے جو کہ ان مقدمات میں ظاہر ہو چکا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ عنقریب وہ فہرست ہدیہ ناظرین ہوگی اور اس سے ہمارا مطلب بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ پبلک کو فائدہ پہنچے اور وہ مرزا قادیانی کے معاملہ میں غور کرنے کے وقت اس فہرست سے استفادہ حاصل کریں۔

اب ہم روئداد مقدمہ کو لکھنا شروع کرتے ہیں۔ چونکہ اس مقدمہ میں بیانات مستغیث و گواہاں فریقین مکرر سہ کرر جرح ہونے کے باعث اس قدر طویل ہوئے ہیں کہ ایک ایک بیان قریباً بیس تیس ورق پر نقل ہوا ہے۔ اس لئے ان بیانات کی نقل کی یہاں بالکل گنجائش نہیں اور نہ ہی ان کا اندراج چنداں باعث دلچسپی ناظرین ہوگا۔ اصل مقصود اندراج کیفیت مقدمہ سے مرزا قادیانی (مدعی نبوت) اور ان کے حواریوں کے کارناموں کا دکھلانا ہے جو مقدمہ ہذا سے ظہور میں آئے اور پبلک کو بھی اسی بات کے دیکھنے کا اشتیاق ہے کہ اتنے بڑے دعوٰی (نبوت) کے مدعی اور اس کے خاص الخاص حواریوں نے اس نازک موقع پر کیا کچھ نمونہ دکھلایا۔ اس لئے ہم واقعات مقدمہ کے دکھلانے کے لئے نقل استغاثہ کے علاوہ لالہ آتمارام صاحب مجسٹریٹ درجہ اوّل گورداسپور کے فیصلہ لکھ دینے پر اکتفا کریں گے جنہوں نے تمام واقعات کو اپنے فیصلہ میں تفصیل سے بیان کر دیا ہے اور عدالت اپیل نے بھی اس تفصیل کا حوالہ اپنے فیصلہ میں دیا ہے اور سوائے تنسیخ حکم سزا اور چند ایک امور کے باقی امور مندرجہ فیصلہ عدالت ماتحت سے اتفاق کیا ہے اور ان کاغذات کی نقول درج ہوں گی جو مرزا قادیانی کی ذات کے متعلق ہیں۔ مثلاً ان کے عذرات بیماری اور سرٹیفکیٹ پیش کردہ کی نقول اور ان درخواستوں کی نقلیں جو انتقال مقدمہ کے متعلق گزریں اور نقل حکم عدالت جس کے ذریعہ سے درخواستیں نامنظور ہوئیں۔ وغیرہ وغیرہ! نیز مرزا قادیانی کے ان بیانات کی نقل جو بمقدمہ ایڈیٹر الحکم و مقدمہ ٤١٧ تعزیرات ہند بشہادت ڈیفنس ہوا بھی یہاں ہی درج کی جائے گی۔ کیونکہ فہرست صداقت قادیانی میں جو اس مقدمہ کے اخیر میں لکھی جائے گی ان بیانات سے بھی حوالے دیئے جاویں گے اور یا ان بیانات کی نقول درج

٨٤

کریں گے جو مرزا قادیانی کے خاص الخاص حوار ہوئے۔ ان کے بعد نقل موجبات اپیل اور فیصلہ عدا قبل اس کے کہ اس مقدمہ کے متعلقہ رکن اعظم حکیم الامت مولوی نور الدین صاحب عذرداری انکم ٹیکس کے متعلق ہیں درج کئے جا مقدمات سے نہیں ہے۔ لیکن چونکہ ان بیانات کا مقابلہ کرنا ہے جو ٤١٧ والے مقدمات میں ہوئے گیا ہے۔ اس وقت ان بیانات پر مقدمہ ھذا ئرہ تعالیٰ! بعد انفصال مقدمہ اس پر مفصل ریمارک مقدمہ معہودہ سے تعلق نہیں رکھتے۔ ناظرین کی جاتے ہیں۔

مرزا قادیانی کا بیان متعلقہ عذرداری انکم

نقل بیان مرزا غلام احمد بمع

ایف ٹی ڈکسن صاحب

روبروئے منشی تاج الدین

مرجوعہ ٢٠ / جون ١٨٩٨ء فیصلہ ١٧ / مثل عذرداری انکم ٹیکس سمی مرزا غلام تحصیل بٹالہ

بیان مرزا غلام احمد صاحب۔ مرزا غلا

١؎ مرزا قادیانی کے اس بیان پڑھنے کھل گئی۔ مدت سے ہمیں رئیس سنا کرتے تھے

بہت شور سنتے
جو چیرا تو اک

آخر ریاست کا راز عومی ہی نکلا۔

صفحہ ٣٥٩

کریں گے جو مرزا قادیانی کے خاص الخاص حواریوں مثلاً مولوی نور الدین بھیروی وغیرہ کے ہوئے۔ ان کے بعد نقل موجبات اپیل اور فیصلہ عدالت اپیل درج کیا جائے گا۔

قبل اس کے کہ اس مقدمہ کے متعلقہ بیانات لکھے جاویں۔ مرزا قادیانی اور ان کے رکن اعظم حکیم الامت مولوی نور الدین صاحب بھیروی کے بیانات جو ایک دوسرے مقدمہ عذرداری انکم ٹیکس کے متعلق ہیں درج کئے جاتے ہیں۔ اگرچہ ظاہراً ان بیانات کا تعلق ان مقدمات سے نہیں ہے۔ لیکن چونکہ ان بیانات کا آخیر میں ریویو کے وقت ان کے بیانات سے مقابلہ کرنا ہے جو ١٨٩٧ء والے مقدمات میں ہوئے ۔ اس واسطے ان کو پہلے درج کر دینا مناسب سمجھا گیا ہے۔ اس وقت ان بیانات پر مقدمہ ہذا کے متعلق رائے زنی نہیں کی جاسکتی۔ انشاء اللہ تعالیٰ ! بعد انفصال مقدمہ اس پر مفصل ریمارک ہوگا۔ ہاں! ان بیانات کے متعلق وہ نوٹس جو مقدمہ معہودہ سے تعلق نہیں رکھتے ۔ ناظرین کی دلچسپی کے لئے مختصراً ساتھ ساتھ عرض کر دیئے جاتے ہیں۔

مرزا قادیانی کا بیان متعلقہ عذرداری انکم ٹیکس

نقل بیان مرزا غلام احمد بمقدمہ عذرداری ٹیکس اجلاس

ایف ٹی ڈکسن صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر گورداسپور

روبروئے منشی تاج الدین صاحب تحصیلدار بٹالہ

مرجوعہ ٢٠؍ جون ١٨٩٨ء فیصلہ ١٧؍ ستمبر ١٩٠٠ء نمبر بستہ قادیان نمبر مقدمہ ٥٥

مثل عذرداری انکم ٹیکس مسمی مرزا غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ ذات مغل سکنہ قادیان

تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور

بیان مرزا غلام احمد صاحب ۔ مرزا غلام احمد ولد مرزا غلام مرتضیٰ ذات مغل ساکن

١؎ مرزا قادیانی کے اس بیان پڑھنے سے ان کی ریاست اور زمینداری کی آمدنی کی قلعی کھل گئی۔ مدت سے رئیس رئیس سنا کرتے تھے لیکن ؎

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرۂ خون نہ نکلا

آخر ریاست کا نرا دعویٰ ہی نکلا ۔

٨٥

صفحہ ٦١

قادیان عمر ٦٠ سال تخمینا پیشہ زمینداری باقرار صالح میرے تین گاؤں تعلقہ داری کے ہیں۔ مسمی خنگل دکھارا، ان کی آمدنی سالانہ تخمیناً بیاسی روپیہ ١٠ آنے ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ میری اراضی قریباً اسی گھماؤں غیر موروثی ہے اور کچھ موروثی ہے جس کی آمدنی مل ملا کر تخمیناً تین سو روپیہ سالانہ ہوتی ہے۔ میرا باغ بھی ہے۔ اس کی آمدنی مختلف ہوتی ہے۔ چنانچہ کسی سال میں دوسو کسی سال میں تین سو کسی میں چار سو حد درجہ پانچ سو روپیہ سالانہ ہے۔ ان آمدنیوں کے علاوہ میری کوئی آمدنی نہیں۔ میرا کوئی گھر ایسا نہیں ہے جس کا مجھے کرایہ آتا ہو۔ اس گاؤں میں یا کسی اور جگہ۔ اگر میرا سکونتی مکان کرایہ پر دیا جاوے تو تخمیناً دو روپیہ ماہوار کرایہ کی آمدنی ہو۔ میرا نقد روپیہ اس قسم کا کوئی نہیں ہے جس کی مجھے آمدنی ہو۔ بینک وغیرہ میں کوئی روپیہ نہیں ہے۔ میری زوجہ کے زیورات قریباً چار ہزار روپیہ کے ہوں گے لیکن وہ میری ملکیت نہیں ہیں۔

کی تعلقہ داری رکھتے ہیں۔ لیکن پھر اس کے ساتھ یہ پڑھ کر کہ ان کی آمدنی سالانہ تخمیناً بیاسی روپے دس آنہ ہوتی ہے تو صاف ظاہر ہو گیا کہ ایک ادنیٰ زمیندار کی سی آمدنی بھی نہیں تھی۔ شک تھا کہ اس تعلقہ داری کے علاوہ کوئی اور معقول حصہ جائیداد زرعی کا ہو گا۔ لیکن وہ شک بھی رفع ہو گیا جب یہ پڑھا اس کے علاوہ میری اراضی قریباً اسی گھماؤں غیر موروثی ہے اور کچھ موروثی جس کی آمدنی مل ملا کر تخمیناً تین سو روپیہ سالانہ ہوتی ہے۔ بس ریاست کی پونجی ختم ہو گئی۔

سالانہ کچھ بڑی بات نہیں۔ لیکن آگے چل کر معلوم ہوتا ہے کہ ان باغات کی ملکیت تو آپ کی زوجہ محترمہ کے نام منتقل ہو چکی ہے اور آپ نرے مہدی ہی رہ گئے ہیں۔

اور کبھی بھرے منہ سے ان کو ام المومنین کا خطاب اور علیہا الصلوٰۃ والسلام کا تحفہ دیا جاتا ہے۔ کیا امہات المومنین بھی زینت دنیا کی دلدادہ اور زیورات غالیہ کی شیدا تھیں؟ کلا وحاشا! اور کیا عورت کو چار ہزار روپے کا زیور پہنانا اسراف نہیں ہے اور آیت ”ان المبذرین“ کا مضمون یہاں صادق نہیں آئے گا؟ اگر آپ سچے رسول ہوتے تو عورت کی اس زیور طلبی پر فوراً وہ ڈانٹ بتاتے جو ہمارے سید مولیٰ سچے نبی (فداہ امی وابی) نے فرمائی تھی۔ ”ان کنتن تردن الحیوۃ والدنیا وزینتہا فتعالین امتعکن واسرحکن سراحاً جمیلاً“

٨٦

میں نے اپنا باغ اپنی زوجہ کے پاس رہن کر دیا ۔ ہوا۔ لیکن قبضہ باغ کا دے دیا ہوا ہے۔ اس کے نے وصول پایا ہے۔ یہ زر رہن ابھی تک میں نے دو ہزار کا زیور میری زوجہ کا ان کی والدہ نے دیا تھ میں نے اپنی زمینداری کی آمدنی سے ڈالا ہوا میں کر چکا تھا۔ میرے مریدوں سے مجھے تخمیناً پان مجھے اس سال میں ہوئی۔ جس کی بابت انکم ٹیکس ہزار روپیہ کی ہوتی ہے۔ یہ تخمینہ میں نے یاد دا پاس کوئی نہیں ہے۔ اس میں سے میں اپنے ذات ہے۔ میرا کم از کم ذاتی خرچ تو سات آٹھ روپیہ ماہ ہوتا ہے جس میں سے بڑی مد لنگر خانہ ہے۔ لنگر ریہہ اور موضع پارووال اور بٹالہ ساہوکاران اور موضع ریہہ میں مہر سنگھ اور مہتاب سنگھ سے اور موضع پارووال میں ٹھیکہ دار کا نام یاد نہیں ولد گنڈا مل سے لیتے رہے ہیں جس سال کی بابت

امامت نبوت بلکہ خدائی کا دعویدار اور گھر والوں دیتی ہیں کہ جائیداد پہلے رجسٹری کرالی جاتی ہے

تھی۔ جس کے عوض اپنی جدی میراث اپنے ہا صیغہ میں خرچ ہوا ہے۔

زیورات کی نذر کر دی۔ البتہ ان کی سرمایہ کی پرا ہی سنبھال لی۔

افواہ کی بھی کچھ اصلیت ہے تو وہ کس ”مد“ میں خرچ

صفحہ ٣٦١

میں نے اپنا باغ اپنی زوجہ کے پاس رہن کر دیا ہے۔ ابھی تک رجسٹری ہوئی ہے داخل خارج نہیں ہوا۔ لیکن قبضہ باغ کا دے دیا ہوا ہے۔ اس کے عوض چار ہزار کا زیور اور ایک ہزار روپیہ نقد میں نے وصول پایا ہے۔ یہ زر رہن ابھی تک میں نے کہیں لگایا نہیں ہے۔ میرے پاس پڑا ہے۔ تخمیناً دو ہزار کا زیور میری زوجہ کا ان کی والدہ نے دیا تھا اور باقی کا جو دو ہزار روپیہ کا زیور چودہ سال میں میں نے اپنی زمینداری کی آمدنی سے ڈالا ہوا تھا۔ یہ دو ہزار کا زیور بھی میں اپنی زوجہ کی ملکیت میں کر چکا تھا۔ میرے مریدوں سے مجھے تخمیناً پانچ ہزار دوسو روپیہ سالانہ کی آمدنی ہے۔ یہ آمدنی مجھے اس سال میں ہوئی۔ جس کی بابت انکم ٹیکس لگائی ہوئی ہے اور اوسط سالانہ آمدنی قریباً چار ہزار روپیہ کی ہوتی ہے۔ یہ تخمینہ میں نے یادداشت سے لکھوایا ہے۔ تحریری یادداشت میرے پاس کوئی نہیں ہے۔ اس میں سے میں اپنے ذاتی خرچ میں کچھ بھی نہیں لاتا اور نہ مجھے ضرورت ہے۔ میرا اپنا ذاتی خرچ تو سات آٹھ روپیہ ماہوار میں ہو سکتا ہے۔ یہ روپیہ مختلف مدوں میں خرچ ہوتا ہے جس میں سے بڑی مد لنگر خانہ ہے۔ لنگر خانہ میں جو آٹا خرچ ہوتا ہے۔ اس کا حساب موضع رہیہ اور موضع پارووال اور بٹالہ ساہوکاران اور مالکان گھراٹ سے دریافت ہو سکتا ہے۔ موضع رہیہ میں مہر سنگھ اور مہتاب سنگھ اور اٹل سنگھ سے اور اس کے حصہ دار اور ٹھیکہ داران سے اور موضع پارووال میں ٹھیکہ دار کا نام یاد نہیں ہے۔ وہاں سے اور قصبہ بٹالہ میں ویر بھان بانیہ ولد گنڈا مل سے لیتے رہے ہیں جس سال کی بابت انکم ٹیکس تشخیص ہوا ہے۔ اس سال میں آٹا بٹالہ

امامت نبوت بلکہ خدائی کا دعویدار اور گھر والوں کے نزدیک ایسا بے اعتبار کہ بیوی صاحبہ قرضہ تب دیتی ہیں کہ جائیداد پہلے رجسٹری کرالی جاتی ہے۔

تھی۔ جس کے عوض اپنی جدی میراث اپنے ہاتھ سے کھو بیٹھے اور وہ روپیہ کن ضروریات دنیویہ یا دینیہ میں خرچ ہوا ہے۔

زیورات کی نذر کر دی۔ البتہ ان کی سردمہری پر افسوس ہے کہ آپ کو قرضہ دیتے وقت ساری جائیداد ہی سنبھال لی۔

افواہ کی بھی کچھ اصلیت ہے تو وہ کس ”مد میں خرچ شمار ہوگا ۔“

٨٧

صفحہ ٣٦٣

میں دیر بھان ولد گنڈامل بانیہ سے اور دھاریوال میں مہتاب سنگھ وٹھل سنگھ ٹھیکہ داران گھوراٹ سکنائے امرتسر سے لیا گیا ہے۔ حساب آمد آٹا کا ان کے پاس ہے ہمارے پاس مفصل نہیں ہے۔ البتہ دیر بھان کی زبانی اتنا درج ہے کہ اس سال دیر بھان سے تخمیناً چار سو کا آٹا آیا ہے۔ دھاریوال کے آٹا کا کوئی حساب معلوم نہیں ہے۔ یہ وہاں سے دریافت ہو سکتا ہے۔ اس سال آٹا کے علاوہ مندرجہ بالا کے گندم دکان باغ کھتری آڑھتی ساکن قادیان سے ٢٧ من بحساب ساڑھے سولہ سیر فی روپیہ کی تخمیناً مد ایک سو ساٹھ روپیہ کی خریدی۔ اسی سال میں دھنپت آڑھتی سکنہ قادیان سے گندم تخمیناً تین سو روپیہ کی خریدی۔ میں نے خرچ آٹا وغیرہ یعنی گوشت مصالح روغن زرد چاول، چاء دودھ، تیل مٹی و چار پائی مصری کھنڈ کا کھاتے میں نقل کر کے داخل کیا ہوا ہے۔ وہ تخمیناً لکھا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو سکتا ہے مہمان خانہ میں جو عمارتیں مہمانوں کے اترنے کے لئے پختہ اور خام بنی ہیں۔ ان پر تخمیناً ١٧٦٣ روپیہ خرچ اس سال میں ہوا ہے۔ جو آمدنی مدرسہ کی مد پر آتی ہے وہ اس آمدنی کے علاوہ ہے اور اس کا خرچ بھی اس خرچ کے علاوہ ہے۔ میں نے انتظاماً وہ کام مولوی نور الدین صاحب کے سپرد کر رکھا ہے۔ وہی حساب و کتاب رکھتے ہیں اور بذریعہ اشتہار چندہ دہندگان کو اطلاع دی گئی ہے کہ اس کا روپیہ براہ راست مولوی نور الدین کے نام ارسال کریں۔ میں نے اپنی آمدنی پانچ ہزار دو سو روپیہ سالانہ مریدوں کے ذریعہ ٹھہرائی ہے۔ اس میں مدرسہ کی آمدنی درج نہیں ہے اور وہ اس لحاظ سے کہ وہ آمدنی براہ راست مولوی نور الدین صاحب کے سپرد ہو کر ان کو پہنچتی ہے۔ اس آمدنی اور خرچ مدرسہ کا حساب و کتاب ان کے پاس ہے۔ وہ حساب و کتاب بضابطہ ہے۔ اس سال میں اکیس اشتہار مشتہر کئے گئے۔ جن میں سے بعض کی تعداد سات سو اور بعض کی چودہ سو اور بعض کی دو ہزار ہے۔ ان پر صرف ڈاک کا خرچ اس سال میں دو سو روپیہ تخمیناً ہوا ہے۔ جواب خطوط رجسٹری وغیرہ پر اس سال میں تخمیناً دو سو چالیس روپیہ خرچ ہوا ہے۔ خرچ مطبع اس سال میں تخمیناً ایک ہزار روپیہ ہوا ہے جس کا حساب کوئی نہیں ہے۔ اس میں مدات ذیل ہیں۔

رولیا ماہوار چار روپے، اسفنجیا ماہوار چھ روپے چھ آنہ، کل کش ماہوار چھ روپے چھ آنہ، پریسمین ماہوار آٹھ روپے، سنگساز ماہوار دس روپے، کاپی نویس ماہوار پندرہ روپے، کاغذ ماہوار سینتالیس روپے، سائر خرچ ماہوار چار روپے۔

آمدنی مطبع کی حسب ذیل اس سال میں ہوئی ہے۔ آمدنی فروخت کتب چار سو اٹھاسی روپیہ دس آنہ۔ چنانچہ اس حساب سے خرچ مطبع آمدنی سے تخمیناً پانچ سو روپیہ کے قریب

سے زیادہ آتا ہے ماہوار ہے۔ یہ خرچ دوسری مدات طرف سے مجھے اجازت ہے کہ حسب ضرورت ایک مد جو بچت سال گزشتہ کی کبھی ہوتی ہے تو میں حسب ضرو دینی ضرورت میں خرچ کیا جاتا ہے۔ میرے ذاتی خر حاجت نہیں کہ میں مریدوں کا روپیہ اپنے خرچ میں لاؤ زمینداری سے ہوتی ہے اور کسی قسم کی آمدنی نہیں ہے مذکورہ بالا میں خرچ کر دیتا ہوں۔ میری ذاتی آمدنی ہے۔ وہ میں کسی دینی خدمت میں خرچ کر دیتا ہوں۔ ہو خرچ نہیں کرتا اور کچھ بیان نہیں کیا۔ ٥؍ اگست ١٨٩٨ دستخط مرزا غلام احمد

مولوی نورالدین صاحب کا بیان

نقل بیان حکیم نور الدین روبروئے نا باختیار اسسٹنٹ کلکٹر درج مشمولہ مسل عدالت مال باجلاس صاحب ڈپٹی کمشن مرجوعہ ٢٠؍ جون ١٨٩٨ء فیصلہ ٤؍ اکت تعداد ٹیکس مشخصہ : ایک سو اٹھاسی روپے آٹھ آنے تعداد ٹیکس بعد فیصلہ با معاف ہ مثل عذرداری انکم ٹیکس مسمی مرزا غلام احمد و تحصیل بٹالہ ضلع بیان حکیم نور الدین ولد غلام رسول ذات قریشی ق ٥ سال سے میں مرزا صاحب کی خدمت زمین سے ہے۔ لوگ جو باہر سے بھیجتے ہیں وہ روپیہ روپیہ مرزا صاحب کو علاوہ اپنی آمدنی کے باہر سے آت

١؎ وہی باغ جو رہن ہو چکا ہے۔ پھر اس ٨٩

صفحہ ٣٦٣

سے زیادہ آتا ہے ماہوار ہے۔ یہ خرچ دوسری مدات میں سے دیا جاتا ہے۔ کیونکہ مریدوں کی طرف سے مجھے اجازت ہے کہ حسب ضرورت ایک مد سے دوسری مد میں روپیہ خرچ کر لیا جاوے جو بچت سال گزشتہ کی کبھی ہوتی ہے تو میں حسب ضرورت آئندہ سال اس کو خرچ کر دیتا ہوں۔ دینی ضرورت میں خرچ کیا جاتا ہے۔ میرے ذاتی خرچ سے اس خرچ کو تعلق نہیں ہے۔ مجھے کوئی حاجت نہیں کہ میں مریدوں کا روپیہ اپنے خرچ میں لاؤں میرا خرچ میری آمدنی ذاتی سے جو صرف زمینداری سے ہوتی ہے اور کسی قسم کی آمدنی نہیں ہے کم ہے۔ میں اپنی ذاتی آمدنی سے بھی مدات مذکورہ بالا میں خرچ کر دیتا ہوں۔ میری ذاتی آمدنی جس قدر مجھے باقی بعد از منہائی خرچ بچتی ہے۔ وہ میں کسی دینی خدمت میں خرچ کر دیتا ہوں۔ تجارت وغیرہ کسی کام میں جہاں سے آمدنی ہو خرچ نہیں کرتا اور کچھ بیان نہیں کیا۔ ٥؍ اگست ١٨٩٨ء، (دستخط حاکم) دستخط مرزا غلام احمد بقلم خود

مولوی نورالدین صاحب کا بیان

نقل بیان حکیم نورالدین روبروئے تاج الدین صاحب تحصیلدار

باختیار اسسٹنٹ کلکٹر درجہ دوم پرگنہ بٹالہ

مشمولہ مسل عدالت مال باجلاس صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر صاحب کلکٹر بہادر ضلع گورداسپور مرجوعہ ٢٠؍ جون ١٨٩٨ء فیصلہ ١٣؍ ستمبر ١٨٩٨ء نمبر بستہ نمبر مقدمہ ٥٥ تعداد ٹیکس مشخصہ ایک سو اٹھاسی روپے آٹھ آنے تعداد ٹیکس بوجہ فیصلہ عذرداری تعداد ٹیکس بعد فیصلہ اپیل (اگر ہوا) معاف شد مثل عذرداری انکم ٹیکس مسمی مرزا غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ ذات مغل ساکن قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور بیان حکیم نورالدین ولد غلام رسول ذات قریشی فاروقی ساکن بھیرہ ضلع شاہپور باقرار صالح

٥ سال سے میں مرزا صاحب کی خدمت میں ہوں۔ مرزا صاحب کا اپنا گزارہ باغ اور ١؎ زمین سے ہے۔ لوگ جو باہر سے بھیجتے ہیں وہ روپیہ مرزا صاحب اپنے ذاتی خرچ میں نہیں لاتے جو روپیہ مرزا صاحب کو علاوہ اپنی آمدنی کے باہر سے آتا ہے۔ اس کو وہ پانچ مدوں میں خرچ کرتے ہیں۔

١؎ وہی باغ جو رہن ہو چکا ہے۔ پھر اس کی آمدنی میں مرزا قادیانی کو کیا دخل؟

٨٩

صفحہ ٦٥

اول جو مہمان باہر سے آتے ہیں ان کی مہمان نوازی پر خرچ ہوتا ہے۔ یہ مہمان خاص مرزا قادیانی کے پاس آتے ہیں جہاں تک مجھے علم ہے کل مہمان مرزا قادیانی کے پاس علم دین سیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ کبھی ایسے مہمان بھی آجاتے ہیں جن کا ان سے محض دوستانہ تعلق ہے اور دین کی وجہ سے نہیں آتے۔ بعض صورتوں میں مرزا قادیانی کو لوگوں سے ہدایت ہوتی ہے کہ ان کا روپیہ مہمان نوازی میں خرچ ہو اور بعض صورتوں میں ایسی ہدایت نہیں ہوتی اور مرزا قادیانی خود بخود مہمان نوازی میں روپیہ صرف کرتے ہیں۔ جس روپیہ کی باہر کے لوگ تخصیص نہیں کرتے۔ اس کی نسبت مرزا قادیانی کو اختیار ہے کہ پانچ مدوں میں سے جس مد میں چاہیں خرچ کریں۔ مرزا قادیانی نے اول کتاب فتح اسلام اور توضیح مرام میں ان پانچوں مدوں کا ذکر کیا ہے۔ میں مرزا قادیانی کو اپنی گرہ سے روپیہ دیا کرتا ہوں۔ لیکن تخصیص نہیں ہوتی کہ وہ ان پانچ مدوں میں سے فلاں مد میں خرچ کریں جو روپیہ میں دیتا ہوں وہ ان مدوں میں ضرور خرچ ہوتا ہے۔

دوسری مد خط و کتابت کی ہے، تیسری کتابوں کی، چوتھی قیام مدرسہ، پانچویں بیمار اور مساکین کی امداد کے لئے۔ ان باقی ماندہ مدوں میں جو روپیہ خرچ ہوتا ہے کبھی بھیجنے والے تخصیص کر دیتے ہیں۔ کبھی تخصیص نہیں کرتے۔ مرزا قادیانی کی رائے پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ان پانچوں مدوں کے متعلق جس قدر روپیہ مرزا قادیانی کے پاس آتا ہے وہ خیرات کا ہے لنگر خانہ میں سے مرزا قادیانی خود کھانا اکثر کھا لیا کرتے ہیں۔ کیونکہ انکا اپنا روپیہ بھی ان مدوں میں خرچ ہوتا ہے۔ ان مدوں کے روپیہ میں سے مرزا قادیانی اپنا کپڑا نہیں بناتے۔ لوگ مرزا قادیانی کو ان کے اپنے خرچ کے لئے بطور ہدیہ کے پیری مریدی کے طور پر دیا کرتے ہیں۔ لیکن میں نہیں کہہ سکتا کہ اس کی آمدنی تخمیناً سالانہ کتنی ہے۔ مجھے معلوم نہیں ہے کہ ایسی آمدنی سالانہ پانچ سو روپیہ سے کم ہے یا زیادہ ہے۔ مرزا قادیانی کے بال بچے ہیں۔ تین لڑکے اور ایک لڑکی ایک لڑکا پڑھتا اور دو چھوٹے ہیں۔ ان کے لئے مرزا قادیانی کی اپنی آمدنی کافی ہے۔ مرزا قادیانی کے دولڑ کے اور بھی ہیں۔ لیکن ان سے مرزا قادیانی کا کوئی تعلق نہیں۔ ابھی چھوٹے لڑکے کی تعلیم پر جو پڑھ رہا ہے کچھ خرچ نہیں ہوتا۔ لڑکی بھی دودھ پینے والی بچی ہے۔ مرزا قادیانی کے خسر پینشن پاتے ہیں اور آسودہ حال ہیں۔ نواب لوہارو کے رشتہ دار ہیں۔ معلوم نہیں کہ قریبی یا بعیدی۔ اس وقت مرزا قادیانی کی ایک عورت ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ ان کے خسر نے کیا زیور دیا۔ میں ساتھ نہیں گیا تھا۔ مجھے معلوم نہیں کہ ان کی عورت کا اس وقت کس قدر زیور ہے۔ مجھے علم نہیں کہ اس سال میں یا کبھی پہلے کوئی زیور اُن کی عورت کا بنا ہو۔ مرزا قادیانی بیوپار وغیرہ نہیں کرتے۔ ٥ اگست ١٨٩٨ء، دستخط حاکم!

٩٠

۔ ناظرین کی تمہید سے اس امر کا علم ہ مواہب الرحمٰن ہے جو ١٧؍ جنوری ١٩٠٣ء کو جہل ٢٦؍ جنوری ١٩٠٣ء جہلم میں بعدالت لالہ سنسار ہوا۔ جس کی نقل ذیل میں ہے۔

نقل استغاثہ بابت کتاب مواہب الرحم

ابوالفضل مولوی محمد کرم الدین ساکن بھیں تحصیل چکوال ضلع جہلم مستغیث جرم دفعہ ٥٠٠، ١٠٩ تمہید استغا جناب عالی!

اور امتیاز رکھتا ہے۔

نسبت اس ہتک و توہین کے جو انہوں نے بذر حسن فیضی مرحوم کی کی تھی۔ عدالت لالہ سنسار ہوا تھا۔ جس کی تاریخ پیشی ١٧؍ جنوری ١٩٠٣ء

مواہب الرحمٰن کے ص ١٢٩ (خزائن ج ١٩ ص میں ایک تحریر شائع کی جس میں میرا صریح نام عرفی کا ازالہ کیا گیا ہے۔ اس نیت سے کہ ا عزت کو جو مسلمانوں کے دلوں میں ہے صدمہ مذکور کے فقرات ذیل قابل غور ہیں۔

العظيم “ ترجمہ و از جملہ نشانہائے من ا اوخبر داد ص ١٢٩۔

صفحہ ٣٦٥

ناظرین کی تمہید سے اس امر کا علم ہو چکا ہے کہ بناء استغاثہ مرزا قادیانی کی کتاب مواہب الرحمٰن ہے جو ١٧؍ جنوری ١٩٠٣ء کو جہلم میں تقسیم کی گئی تھی۔ سو اس کی بناء پر استغاثہ ٢٦؍ جنوری ١٩٠٣ء جہلم میں بعدالت لالہ سنسار چند صاحب ایم، اے مجسٹریٹ درجہ اوّل جہلم دائر ہوا۔ جس کی نقل ذیل میں ہے۔

نقل استغاثہ بابت کتاب مواہب الرحمٰن

ابوالفضل مولوی محمد کرم الدین ساکن بھیں مرزا غلام احمد وحکیم فضل دین مالک مطبع بنام تحصیل چکوال ضلع جہلم مستغیث ضیاء الاسلام قادیان سکنائے قادیان ملزمان جرم دفعہ ٥٠٠، ٥٠١، ٥٠٢ تعزیرات ہند تمہید استغاثہ یوں ہے۔

جناب عالی!

اور امتیاز رکھتا ہے۔

نسبت اس ہتک وتوہین کے جو انہوں نے بذریعہ تحریرات مطبوعہ میرے بھائی دینیوی مولوی محمد حسن فیضی مرحوم کی کی تھی۔ عدالت لالہ سنسار چند صاحب مجسٹریٹ درجہ اوّل ضلع جہلم میں دائر کیا ہوا تھا۔ جس کی تاریخ پیشی ١٧؍ جنوری ١٩٠٣ء مقرر تھی۔

مواہب الرحمٰن کے ص ١٢٩ (خزائن ج ١٩ ص ٣٥٠) پر مقدمہ مذکور کی نسبت پیش گوئی کے پیرایہ میں ایک تحریر شائع کی جس میں میرا صریح نام لکھ کر میری سخت تحقیر وتوہین کی گئی اور میری حیثیت عرفی کا ازالہ کیا گیا ہے۔ اس نیت سے کہ اس مضمون کی اشاعت پر مستغیث کی نیک نامی اور عزت کو جو مسلمانوں کے دلوں میں ہے صدمہ پہنچے اور میری وقار و آبرو کو نقصان پہنچے۔ چنانچہ تحریر مذکور کے فقرات ذیل قابل غور ہیں۔

العظیم" ترجمہ واز جملہ نشانہائے من اینست کہ خدا مرا دربارہ معاملہ شخص لئیم و بہتان بزرگ او خبر داد ص ١٢٩۔

91

صفحہ ٣٦٦

اس فقرہ میں رجل لئیم جس کے معنے کمینہ شخص ہے اس سے ملزم نے مراد مستغیث کو رکھا ہے اور یہ لفظ مستغیث کی نسبت سخت توہین و تحقیر کا کلمہ ہے اور بہتان عظیم کے لفظ سے ملزم نے میرے ذمے یہ خلاف واقعہ اتہام لگایا کہ میں جھوٹے بہتان باندھنے والا ہوں اور ایسا اتہام میرے ذمے میری سخت بے عزتی کا باعث ہے۔ کیونکہ جھوٹا بہتان باندھنا ایک اخلاقی اور شرعی جرم ہے۔

پڑے گی جو کذاب (بہت ہی جھوٹا) اور اہانت کنندہ ہے۔“ (ایضاً) اس فقرہ میں مستغیث کی نسبت کذاب کا لفظ لکھا گیا ہے۔ جس کا معنی بہت ہی جھوٹا ہے اور یہ ایک سخت تحقیر کا کلمہ ہے جس سے کوئی زیادہ مزیل حیثیت عرفی اور دل آزار کلمہ نہیں ہو سکتا۔ خصوصاً ایک مسلمان اور مولوی کی نسبت ایسا اتہام کہ وہ بہت جھوٹ بولنے والا ہے۔ اس کی نیک نامی اور عزت کو بالکل غارت کر دینے والا ہے۔

ظاہر شد تقدیر خدا تعالیٰ بر دست دشمن صریح کہ نام او کرم الدین است۔ (ایضاً) اس فقرہ میں تصریح ہے کہ الفاظ مذکورہ فقرہ جات بالا کا مصداق مستغیث ہی ہے۔

١٩٠٣ء کو خاص شہر جہلم میں جو حد سماعت عدالت ہٰذا میں ہے۔ کثرت سے شائع کی گئی اور خاص احاطہ کچہری میں یہ کتاب بہت لوگوں میں ملزمان نے مفت تقسیم کی۔ بلکہ ایک مجمع عظیم میں جس میں مستغیث موجود تھا مولوی محمد ابراہیم سیالکوٹی کو جو ہمارے فرقہ کا ایک عالم شخص ہے ملزم نمبر ١ نے بمعرفت محمد دین کمپوڈر شفاخانہ جہلم جو اس کا مرید ہے بھیجی۔ جس سے ملزم مذکور کی یہ نیت تھی کہ اس مجمع میں یہ کتاب پڑھی جانے سے مستغیث کی نیک نامی اور عزت کو نقصان پہنچے گا اور عام مسلمانوں میں اس کی خفت ہوگی۔

حیثیت عرفی کا ازالہ ہوا۔

ہے۔ اپنے مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں جس کا وہ مالک و منیجر ہے چھاپا اور اس کو شہر جہلم میں جو حد سماعت عدالت ہٰذا میں ہے بھیج کر شائع کیا۔

٩٢

صفحہ ٣٦٧

تعزیرات ہند میں ہے۔ اس لئے استغاثہ ہے کہ بعد تحقیقات ان کو سزا دی جائے اور اگر واقعات سے ملزمان کسی اور جرم کے بھی مرتکب ثابت ہوں تو اس میں بھی ان کو سزا دی جائے۔

عرضے

فدوی مولوی کرم الدین ولد مولوی صدر الدین ذات آوان ساکن بھیں تحصیل چکوال ضلع جہلم

مورخہ ٢٦؍ جنوری ١٩٠٣ء

بعد قلم بند ہونے بیان سرسری مستغیث کے لالہ سنسار چند صاحب مجسٹریٹ نے حکیم فضل دین ملزم کے نام وارنٹ ضمانتی پانچ صد روپیہ اور مرزا غلام احمد ملزم کے نام سمن (جس میں اصالتاً حاضری کا حکم لکھا گیا) جاری کیا اور تاریخ حاضری ١٦؍ مارچ ١٩٠٣ء مقرر ہوئی۔ قادیان میں اس کی اطلاع پہنچنے پر مرزا قادیانی کے وکیل خواجہ کمال دین صاحب نے ٢؍ مارچ ١٩٠٣ء کو ایک تحریری درخواست منجانب مرزا غلام احمد ملزم گزاری جس میں استدعا کی گئی کہ ملزم مذکور کو زیر دفعہ ٢٠٥ ضابطہ فوجداری اصالتاً حاضری سے معاف فرمایا جاوے۔ مجسٹریٹ نے بعد غور کے درخواست کو منظور کیا اور حکم دیا کہ تا حکم ثانی ملزم کو ذاتی حاضری سے معاف کیا جاتا ہے۔ اس کی جانب سے اس کا وکیل پیروی کرے۔

١٦؍ مارچ تاریخ سماعت مقدمہ پر فضل دین ملزم اصالتاً حاضر ہوا اور مرزا قادیانی کی طرف سے اس کا وکیل پیش ہوا۔ ملزمان کی طرف سے زیر دفعہ ٥٢٦ ضابطہ فوجداری درخواست بغرض التوائے مقدمہ دی گئی کہ وہ چیف کورٹ میں درخواست انتقال مقدمہ ہذا کرنا چاہتے ہیں۔ عدالت نے ٢٨؍ اپریل ١٩٠٣ء تک مہلت دی۔

١٤؍ اپریل ١٩٠٣ء کو عدالت عالیہ چیف کورٹ میں درخواست انتقال گزری جو آخر کار نامنظور ہو کر مقدمہ بدستور سپرد عدالت لالہ چندو لال صاحب مجسٹریٹ درجہ اوّل گورداسپور ہوا۔

مرزا قادیانی کی طرف سے یہ پہلی حیلہ جوئی تھی ان کے نقطۂ خیال میں تھا کہ مستغیث ایک دور دراز سفر کی تکلیف اٹھا کر غیر ملک غیر ضلع میں کہاں تک مقابلہ کر سکے گا۔ آخر تھک کر رہ جائے گا اور مرزا قادیانی کے الہامات کا نقارہ بجے گا۔ لیکن وہ کام جو مشیت ایزدی سے ہوں ایسے انسانی منصوبوں سے کبھی رک نہیں سکتے۔ مستغیث کے دل میں حق تعالیٰ نے ایک فوق العادت ہمت پیدا کر دی اور وہ طرح طرح کی تکالیف سفر دیکھ کر بھی اپنی ہمت کو نہ ہارا۔

رائے چندو لال صاحب کی عدالت سے طلبی ملزمان بجہت حاضری ١٨؍ اگست ١٩٠٣ء کا

٩٣

صفحہ ٣٦٨

حکم صادر ہوا اور تاریخ مذکور پر مرزا قادیانی اور فضل دین ملزمان اصالتاً حاضر عدالت ہوئے حاضر ہوتے ہی ایک تحریری درخواست مرزا قادیانی کی طرف سے ان کے وکیل خواجہ کمال الدین صاحب نے پیش کی کہ ملزم کو زیر دفعہ ٢٠٥ ضابطہ فوجداری اصالتاً حاضری سے معاف فرمایا جاوے۔ اس پر وکلاء طرفین کی بحث ہوئی۔ وکیل ملزم اس بات پر زور دیتا تھا کہ لالہ سنسار چند صاحب مجسٹریٹ جہلم نے بھی ملزم کو اصالتاً حاضری سے معاف کیا تھا اور عدالت مذکور کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔ ادھر سے شیخ نبی بخش صاحب اور بابو مولال صاحب وکلاء منجانب استغاثہ پیروکار تھے۔ انہوں نے بالتفصیل بیان کیا کہ ملزم کو اصالتاً حاضری سے معاف کرنے کی کوئی وجہ نہیں جب کہ مستغیث اور اس کے گواہان ایک دور دراز ضلع جہلم سے آتے ہیں تو ملزم کو یہاں سے ١٢ کوس (قادیان) سے آنے میں کون سی مصیبت ہے۔ اگر لالہ سنسار چند صاحب نے اس کو اس بنا پر حاضری سے مستثنیٰ کیا تھا کہ اس کو جہلم میں ایک دور جگہ ضلع گورداسپور سے آنا پڑتا ہے تو اب وہ علت موجود نہیں بلکہ اب تو ملزم کی نسبت مستغیث کو دقت ہے کہ وہ بعید مسافت طے کر کے یہاں آتا ہے۔ الغرض اس تاریخ کو بڑے معرکہ کی بحث وکلاء طرفین میں ہوئی اور مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کو یقین تھا کہ حاضری عدالت کی مصیبت سے ضرور مخلصی ملے گی۔ لیکن جو بات قدرت نے حاکم عدالت لالہ چندولال صاحب کے دل پر ڈالی وہ یہ تھی کہ اس شخص سے یہ رعایت ہونا منشاء الٰہی کے خلاف ہے۔ قدرت کی طرف سے یہ سلسلہ اس لئے شروع ہوا کہ زمین و آسمان بنانے کے مدعی (آئینہ کمالات ص ٥٦٥، خزائن ج ١٥ ص ایضاً) کو ایک مجازی حاکم کی جوتیوں میں کھڑا کر کے اس کو قائل کیا جائے کہ تو ایسا نہیں جیسا ادّعا کرتا ہے۔ بلکہ تو ایک حقیر عاجز انسان ہے اور یہ تیرا افتراء ہے جو تو کہتا ہے کہ: ”الارض والسماء معک کما ھو معی“ (تذکرہ طبع ٣ ص ٦٥) کیا جس کے ساتھ زمین و آسمان ایسے ہوں جیسے خدائے ذی الجبروت کے تو وہ کچہریوں بیچاری سے ایک مجازی حاکم کے سامنے پکڑا ہوا آ سکتا ہے اور اس کے آگے چیخ چیخ کر روتا ہے کہ اب مجھے حاضر رہنے کی تکلیف سے بچائیے۔

الغرض بموجب اس فیصلہ کے جو آسمانی عدالت (بارگاہ رب العالمین) سے صادر ہوا۔ حاکم مجازی (مجسٹریٹ) نے یہی فیصلہ کیا کہ ملزم کو حاضر رہنا پڑے گا اور اس کی درخواست نامنظور ہے۔ حاضری کے لئے مچلکہ فوراً اس سے لیا جاوے۔ یہ حکم سنتے ہی مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کے اوسان خطا ہو گئے اور اس ابتدائی شکست نے ان کے دلوں کو شکستہ کر دیا۔ آخر حسب حکم عدالت مچلکہ داخل کیا گیا اور آئندہ پیشی کی تاریخ ٢٣ ستمبر ١٩٠٣ء مقرر ہوئی اور مستغیث کو حکم ٩٤

ہوا کہ گواہان استغاثہ کو طلب کرائے۔ چنانچہ گوا

تاریخ مقررہ پر پھر مقدمہ پیش ہوا آئے۔ اس تاریخ کو جری اللہ (مرزا قادیانی) بھی کچھ ہدایت کی ہو) کہ آج درخواست اس مرزائی مقدمات کے ملتوی رہے۔ چنانچہ درخو مرید خواجہ کمال الدین صاحب وکیل نے بڑی مقدمہ کو ان مقدمات سے بڑا تعلق ہے جو مبح سے مستغیث مقدمہ (مولوی کرم الدین) پر د ملتوی رہے۔ حاضرین اس درخواست اور بحث نکل سکتا ہے؟ کیوں نہیں مرزا قادیانی سینہ سپر کے اپنی بزدلی ظاہر کرتے ہیں۔ الغرض بعد مفصل بحث میں اس درخواست کے فضول ا مقدمہ کو ان مقدمات سے کیا واسطہ۔ یہ مجیس غریب الوطن مولوی کرم الدین ان مقدمات رہے اور ان مقدمات کے انفصال پر اس مقد فی الجملہ بعد بحث وکلاء فریقین اس درخواست ہوا تھا۔ عدالت نے کہا مقدمہ چلے گا۔ ملزم کو اس دوسری شکست نے تو جری ا کی طرف اور وکلاء مرزا قادیانی کے منہ کو دیک

چرا کارے کند

اب سوال یہ ہے کہ اگر مرزا قا کرتی ہے تو کیوں فضول درخواستیں کر کے خ نہ ہوا کہ تمہاری یہ محنت رائیگاں جائے گی۔ ظاہر ہو گیا کہ مرزا قادیانی ملہمیت نبوت ف حدیث شریف میں آیا ہے ۔ ”اتقوا فر مؤمن کی فراست سے ڈرنا چاہئے کہ وہ اس

صفحہ ٣٦٩

ہوا کہ گواہان استغاثہ کو طلب کرائے۔ چنانچہ گواہان استغاثہ بادخال خرچہ طلبانہ طلب کرائے گئے ۔ : تاریخ مقررہ پر پھر مقدمہ پیش ہوا۔ مرزا قادیانی وفضل دین ملزمان معہ وکلاء خود حاضر آئے۔ اس تاریخ کو جری اللہ (مرزا قادیانی بہادر) نے ایک اور منصوبہ سوچا (شاید اپنے ملہم نے بھی کچھ ہدایت کی ہو) کہ آج درخواست اس مضمون کی ہونی چاہئے کہ یہ مقدمہ تا انفصال دیگر مرزائی مقدمات کے ملتوی رہے۔ چنانچہ درخواست پیش کی گئی اور اس پر بھی مرزا قادیانی کے مخلص مرید خواجہ کمال الدین صاحب وکیل نے بڑی لمبی بحث کی اور قانون چھانٹے اور زور لگایا کہ اس مقدمہ کو ان مقدمات سے بڑا تعلق ہے جو حکیم فضل دین اور یعقوب علی (مرزائیوں) کی طرف سے مستغیث مقدمہ (مولوی کرم الدین) پر دائر ہیں۔ جب تک ان کا فیصلہ نہ ہولے یہ مقدمہ بھی ملتوی رہے۔ حاضرین اس درخواست اور بحث پر تعجب کرتے تھے کہ ایسے فضول حیلوں سے کیا کام نکل سکتا ہے؟ کیوں نہیں مرزا قادیانی سینہ سپر ہو کر سیدھے میدان میں نکلتے اور فضول ٹال مٹول کر کے اپنی بزدلی ظاہر کرتے ہیں۔ الغرض بعد اختتام تقریر وکیل ملزمان کے وکلاء استغاثہ نے اپنی مفصل بحث میں اس درخواست کے فضول اور بے بنیاد ہونے پر دلائل دیئے اور ثابت کیا کہ اس مقدمہ کو ان مقدمات سے کیا واسطہ۔ یہ عجیب بات ہے کہ مرزائیوں کے مقدمے تو چلتے رہیں اور غریب الوطن مولوی کرم الدین ان مقدمات میں خراب ہوتے رہیں۔ لیکن ان کا مقدمہ داخل دفتر رہے اور ان مقدمات کے انفصال پر اس مقدمہ کی تحقیقات پر ایک مدید زمانہ اور خرچ کیا جاوے۔ فی الجملہ بعد بحث وکلاء فریقین اس درخواست کا وہی حشر ہوا جو مرزا قادیانی کی سابق درخواست کا ہوا تھا۔ عدالت نے کہا مقدمہ چلے گا۔ ملزم کی درخواست نامعقول ہے نامنظور کی جاتی ہے۔

اس دوسری شکست نے تو جری اللہ کے حوصلہ کو اور بھی پست کر دیا۔ مرزا قادیانی وکلاء کی طرف اور وکلاء مرزا قادیانی کے منہ کو دیکھنے لگے اور دل میں کہنے لگے؎

چرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی

اب سوال یہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی کے کان میں ہر وقت آسمان سے ندا (وحی) پہنچا کرتی ہے تو کیوں فضول درخواستیں کر کے خواہ مخواہ اپنی خفت کرائی۔ کیا اس بارہ میں پہلے کوئی الہام نہ ہوا کہ تمہاری یہ محنت رائیگاں جائے گی۔ ایسی عبث درخواستیں کر کے اپنی سبکی مت کراؤ۔ اس سے ظاہر ہو گیا کہ مرزا قادیانی ملہمیت نبوت تو بجائے خود ایک مؤمن کی سی بھی فراست نہیں رکھتے۔ حدیث شریف میں آیا ہے۔ ”اتقوا فراسة المؤمن فان المؤمن ینظر بنور ربہ“ مؤمن کی فراست سے ڈرنا چاہئے کہ وہ اپنے خدا کے نور سے دیکھتا ہے۔

٩٥

صفحہ ٣٧١

اگر مرزا قادیانی کو نور فراست سے بھی کچھ ذرہ ملا ہوا ہوتا تو وہ اپنی خداداد فراست سے بھی سمجھ لیتے کہ یہ فضول عذرات ہیں۔ خلاصہ یہ کہ درخواست نامنظور ہو کر حکم ہوا کہ مقدمہ ١٧؍ اکتوبر کو پیش ہو اور اس تاریخ کو گواہان استغاثہ بھی حاضر آئیں۔ ١٧؍ اکتوبر کو پھر مقدمہ پیش ہوا۔ ملزمان بھی اصالتاً حاضر آئے۔ اس تاریخ کو مستغیث کا بیان قلمبند ہوا اور مولوی برکت علی صاحب بی۔اے گواہ استغاثہ کی شہادت ہوئی۔ وکلاء ملزمان نے جرح محفوظ رکھی۔ چونکہ دوسرے گواہوں کی اطلاع یابی نہ ہوئی تھی۔ مکرر طلب ہوئے اور تاریخ پیشی ١٢، ١٣، ١٤؍ نومبر ١٩٠٣ء مقرر ہوئی۔ ١٢؍ نومبر کی تاریخ پر ایک عجیب نظارہ پیش آیا۔ جس وقت فریقین کو پکار ہوئی تو مستغیث حاضر ہوا اور ملزمان میں سے صرف مرزا قادیانی حاضر آئے۔ فضل دین نہ آیا۔ وکیل نے کہا کہ فضل دین سخت بیمار ہے۔ حاضری سے اس کو آج کی تاریخ کے لئے معاف کیا جائے۔ وکلاء استغاثہ نے اعتراض کیا کہ ملزم زیر ضمانت ہے۔ اس کو ضرور حاضر ہونا پڑے گا۔ آخر عدالت نے حکم دیا کہ ملزم کو آنا پڑے گا۔ اگر یوں نہیں آ سکتا تو چارپائی پر اٹھا کر لے آؤ۔ آخر مجبوراً مرزا قادیانی کے مخلص حواری حکیم فضل دین ملزم کو ان کے پیر بھائی چارپائی پر اٹھا کر لے آئے۔ اس وقت ایک عجیب اداسی کا عالم مرزائیوں میں چھایا ہوا تھا۔ کیونکہ مرزا قادیانی ان کو ہمیشہ سنایا کرتے تھے ’’انی معین من اراد اعانتک‘‘ لیکن یہاں کچھ اور ہی نقشہ باندھا ہوا ہے۔ حکیم جی زبانِ حال سے کہہ رہے ہیں۔

میں حاضر ہوں گو سخت بیمار ہوں جو چاہو سزا دو سزاوار ہوں
اجی مرزا جی بتاؤ ذرا میں کیوں اس بلا میں گرفتار ہوں
ہوں مخلص حواری تیرا جاں نثار تو پھر اس قدر کیوں ہوا خوار ہوں
کہاں وہ اعانت کے دعوے ہوئے میں الہاموں سے تیرے بیزار ہوں

الغرض فضل دین ملزم بحکم عدالت کمرہ عدالت کے باہر لٹائے گئے اور شہادت گواہان قلمبند ہونی شروع ہوئی۔ بیان گواہان ذیل قلمبند ہوئے۔ مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے وکیل ملک تاج دین صاحب واصل باقی نویس جہلم، مولوی ابوالوفا ثناء اللہ صاحب مولوی فاضل امرتسر، مولوی عبدالسبحان صاحب ساکن مسانیاں، مولوی اللہ دتہ ساکن سوہل، وکیل ملزمان نے کہا کہ وہ گواہان پر جرح محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ حاکم نے کہا کہ پھر آپ کو چارج لگنے سے پہلے جرح کرنے کا حق نہیں ہوگا۔ وکیل نے کہا کہ نہیں مجھے حق ہونا چاہئے۔ لیکن حاکم نے کہا کہ اگر جرح کرنی ہے تو کرو ورنہ بعد فرد جرم لگنے کے جرح کا موقعہ ملے گا۔ اس پر وکیل صاحب نے کہا کہ آج تیار نہیں

٩٦

ہوں۔ کل جرح کروں گا۔ عدالت نے حکم دیا کہ کل لسٹ دخل کی گئی۔ آخر وکیل ملزمان نے خرچہ گواہان مقدمہ ملتوی ہوا۔

١٣؍ نومبر کو مولوی محمد کرم الدین صاح تک جاری رہی اور ١٦ کو ختم ہوئی۔ سوالات کی ترتی تھی۔ مرزا قادیانی سے لے کر ان کے سارے مع صاحب کو پرزہ کاغذ دیا جاتا تھا اور وکیل صاحب مرتب کیا جاتا تھا اور بڑا پیچیدہ اور لاینحل خیال ساری جماعت شش و پنج میں پڑ جاتی تھی اور حوا کہ ہماری ساری محنت رائیگاں جاتی ہے۔ چونکہ سوائے طوالت کے کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے ہم ناظرین کرتے ہیں جو کہ مرزا قادیانی نے اپنے ان کے بالمقابل استفسار کیا تھا۔ اس فہرست سے کہ استفسار عقائد میں باوجودیکہ مخالف کو ذک و و دل ‘‘جوابات ملنے پر وہ کوشش بھی سب خاک

فہرست عقائ

مشمولہ مسل فوجداری بعدالت رائے چت مولوی محمد کرم الدین ساکن بھیں مستغیث

(١٠٥٠٠)

عقائد مرزا غلام احمد قادیانی

چڑھائے گئے تھے اور غشی کی حالت میں زندہ اتارے گئے تھے

صفحہ ٣٧١

ہوں، کل جرح کروں گا۔ عدالت نے حکم دیا کہ کل کا خرچہ گواہاں آپ کو دینا پڑے گا۔ پہلے تو کچھ لیت ولعل کی گئی۔ آخر وکیل ملزمان نے خرچہ گواہان دوسرے روز کا دینا تسلیم کیا اور دوسرے روز پر مقدمہ ملتوی ہوا۔

١٣/نومبر کو مولوی محمد کرم الدین صاحب مستغیث پر جرح شروع کی گئی۔ جو ١٤، ١٥ تک جاری رہی اور ١٦ کو ختم ہوئی۔ سوالات کی ترتیب دینے پر گویا مرزائیوں کی ساری کمیٹی متعین تھی۔ مرزا قادیانی سے لے کر ان کے سارے مولویوں کے مشورے سے سوال مرتب ہو کر وکیل صاحب کو پرزہ کاغذ دیا جاتا تھا اور وکیل صاحب سوال کرتے تھے۔ سوال اگر چہ بڑی سوچ سے مرتب کیا جاتا تھا اور بڑا پیچیدہ اور لاینحل خیال کیا جاتا تھا۔ لیکن مولوی صاحب کا جواب سن کر ساری جماعت شش و پنج میں پڑ جاتی تھی اور حیران رہ جاتی تھی کہ اس شخص کی طبیعت بھی بلا کی ہے کہ ہماری ساری محنت رائیگاں جاتی ہے۔ چونکہ بیان بہت بڑا طویل ہے۔ اس کے نقل کرنے سے سوائے طوالت کے کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے ہم اس بیان میں سے صرف اس فہرست کی نقل ہدیہ ناظرین کرتے ہیں جو کہ مرزا قادیانی نے اپنے عقائد کی فہرست تحریری دے کر مولوی صاحب سے ان کے بالمقابل استفسار کیا تھا۔ اس فہرست سے مرزا قادیانی کے عقائد کا بھی پتہ چلے گا اور یہ بھی کہ استفسار عقائد میں باوجودیکہ مخالف کو زک دینے کے لئے سعی بلیغ کی گئی تھی۔ لیکن ”مفصل و مدلل“ جوابات ملنے پر وہ کوشش بھی سب خاک میں مل گئی۔ وہو ھذا!

فہرست عقائد مرزا قادیانی

مشمولہ مسل فوجداری بعدالت رائے چندو لال صاحب مجسٹریٹ درجہ اوّل گورداسپور مولوی محمد کرم الدین ساکن بھیں مستغیث بنام مرزا غلام احمد وحکیم فضل دین ساکن قادیان (٥٠٠، ١٠ تعزیرات ہند)

عقائد مرزا غلام احمد قادیانی مستغیث کا جواب

عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں

چڑھائے گئے تھے اور غشی کی حالت میں زندہ ہی اتارے گئے تھے نہیں

٩٧

صفحہ ٣٧٢

گئے

آسمان سے اتریں گے۔ اگر لڑائی کی ضرورت ہوگی تو لڑائی کریں گے۔ اگر امن کا زمانہ ہوا تو نہیں کریں گے

مہدی علیہ السلام آئیں گے اور ایسے زمانہ میں آئیں گے جب بدامنی اور فساد دنیا میں پھیلا ہوا ہوگا۔ فسادیوں کو مٹا کر امن قائم کریں گے

اس زمانہ میں برٹش انڈیا میں جہاد کرنا حرام ہے۔ کیونکہ زمانہ امن کا ہے۔

یہ مسئلہ بحث طلب ہے

میں نہیں مانتا

مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں اور نہ وہ کسی سے افضل ہے

مرزا قادیانی نہ مسیح موعود ہیں اور نہ ان میں اوصاف نبوت میں سے کوئی ہیں

بحث طلب ہے

مہدی موعود قریش کے خاندان سے ہوگا

٩٨

٣٧٣

دستخط حاکم (بحروف مرزا غلام احمد

منجملہ ان فوائد کے جو اس مقدمہ سے م فہرست مذکورہ صدر سے مل گیا۔ یوں تو مرزا قادیا اور ان کے مرید ہمیشہ موقعہ بموقعہ اپنے عقائد بدل اور پھر دوسرے موقعہ پر اس سے انکار کر دیتے تھے نے خود مرتب کر کے داخل کر دی ہے اور جس کی اب اس سے انکار کرنا ان کو مشکل ہے اور اگر اب کر دینا کافی ہوگا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ایسے عقائد مرزا قا یا نہیں؟ اور یہ عقائد کہاں تک شریعت غراء کی بنیا میں رخنہ کرنے والے۔ انبیاء عظام اور اولیائے کر قرآن کریم کی صریح تکذیب کرنے والے ہیں۔

اگر چہ اس موقعہ پر اس فہرست پر ہ مسلمان بھائیوں کو توجہ دلانے کے لئے ذیل میں مختصر بحث کی جاتی ہے۔ امید ہے کہ ناظرین غور

صفحہ ٣٧٣

(١٣) امت محمدیہ کا مسیح اور اسرائیلی مسیح دو الگ مسیح ایک ہے اور وہ اسرائیل ہے الگ شخص ہیں اور مسیح محمدی اسرائیلی مسیح سے افضل ہے (١٤) حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کوئی حقیقی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مردہ زندہ کئے ہیں مردہ زندہ نہیں کیا (١٥) آنحضرت ﷺ کا معراج جسم عنصری کے آنحضرت کا معراج جسم عنصری کے ساتھ ہوا ساتھ نہیں ہوا (١٦) خدا کی وحی آنحضرت ﷺ کے ساتھ منقطع ہوگئی منقطع نہیں ہوئی

دستخط حاکم (بحروف انگریزی)

مرزا غلام احمد محمد کرم الدین

منجملہ ان فوائد کے جو اس مقدمہ سے ہوئے یہ بھی ہے کہ اب عقائد قادیانی کا پورا پتہ فہرست مذکورہ صدر سے مل گیا۔ یوں تو مرزا قادیانی کے عقائد کا پورا پتہ نہ چلتا تھا۔ مرزا قادیانی اور ان کے مرید ہمیشہ موقعہ بموقعہ اپنے عقائد بدل لیا کرتے تھے۔ کہیں ایک عقیدہ ظاہر کرتے اور پھر دوسرے موقعہ پر اس سے انکار کر دیتے تھے۔ لیکن یہ فہرست عقائد جو عدالت میں انہوں نے خود مرتب کر کے داخل کر دی ہے اور جس کی نقل مصدقہ عدالت ہو بہو درج کر دی گئی ہے۔ اب اس سے انکار کرنا ان کو مشکل ہے اور اگر اب انکار کریں گے تو یہ آئینہ ان کے منہ کے سامنے کر دینا کافی ہوگا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ایسے عقائد مرزا قادیانی کے سوا پہلے بھی کسی مسلمان کے ہوئے ہیں یا نہیں؟ اور یہ عقائد کہاں تک شریعت غراء کی بنیاد کو اکھیڑنے والے اسلام کی مضبوط اور محکم دیوار میں رخنہ کرنے والے۔ انبیاء عظام اور اولیائے کرام کی توہین کا کوئی دقیقہ باقی نہ چھوڑنے والے۔ قرآن کریم کی صریح تکذیب کرنے والے ہیں۔

اگرچہ اس موقعہ پر اس فہرست پر بسط سے کلام کرنے کی گنجائش نہیں۔ لیکن پھر بھی مسلمان بھائیوں کو توجہ دلانے کے لئے ذیل میں کسی قدر فہرست مندرجہ بالا کے بعض نمبرات پر مختصر بحث کی جاتی ہے۔ امید ہے کہ ناظرین غور فرمائیں گے۔

٩٩

صفحہ ٣٧٤

عقیدہ نمبر ٢!

مرزا قادیانی نے یہ لکھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے اور غشی کی حالت میں زندہ ہی اتارے گئے۔ سو واضح ہو کہ یہ عقیدہ علاوہ اس کے کہ احادیث رسول اکرم ﷺ اقوال مفسرین اجماع جمیع مسلمین کے خلاف ہے۔ اس سے قرآن کریم کی آیات کی بھی سخت تکذیب ہوتی ہے۔ خدائے پاک نے تو صلیب پر چڑھانے کی صریح الفاظ میں نفی فرمائی ہے۔ ”وما صلبوہ“ انہوں نے اس کو صلیب پر نہیں چڑھایا۔ دیکھو ترجمہ مولانا شاہ رفیع الدین صاحب اور آپ اس کے خلاف کہتے ہیں کہ صلیب پر چڑھائے گئے۔ حتیٰ کہ غشی کی بھی نوبت پہنچی۔ اس خیال باطل کی تعلیم سے کہ یہودی اپنے منصوبہ شرارت میں یہاں تک کامیاب ہوئے کہ انہوں نے خدا کے سچے رسول (عیسیٰ) کو پکڑ کر صلیب پر کھینچ دیا اور جان کندن کی حالت کو پہنچا دیا۔ گو کسی حیلہ سے آخر وہ زندہ بچ گئے تو خدا کے اس برگزیدہ رسول کی کمال درجہ کی توہین اور یہودیوں کی فتح ثابت ہوتی ہے۔ ایسی زندگی سے تو مر جانا اچھا تھا۔ جب کہ دشمن نے ان کو سخت ایذائیں پہنچائیں۔ ان کو صلیب دے کر نیم مردہ کر دیا تو پھر مسیح کی عزت اور رب العزت کا کمال قدرت کیا ثابت ہوا۔ خدائے پاک تو مسیح سے وعدہ کرے کہ میرے حضور میں تیری اس قدر عزت ہے کہ تیرے تابعین بھی تیرے مخالفین (یہود وغیرہ کفار) پر قیامت تک غالب رہیں گے۔ ”وجاعل الذین اتبعوك فوق الذین کفروا الی یوم القیامة“ اور ادھر تابع تو کہاں متبوع کی یہ گت دشمن کے ہاتھ سے ہوتی ہے کہ الامان!

مرزا قادیانی کو سچا کہیں یا آپ کو۔ اس فاسد عقیدہ سے تو قرآن کریم کی سراسر تکذیب ہوتی ہے اور دیکھئے خدائے کریم کا یہ بھی مسیح علیہ السلام سے وعدہ ہے۔ ”ومطهرك من الذین کفروا“ میں تجھے پاک رکھنے والا ہوں کفار سے۔

تو جب مسیح علیہ السلام ان ناپاک ہاتھوں (یہودیوں کے پنجہ میں) پھنسا دیئے گئے تو وعدہ تطہیر کہاں گیا۔ قرآن کریم نے فیصلہ کر دیا ہے۔ ”انما المشرکون نجس“ تو پھر ان نجس ہاتھوں میں عیسیٰ علیہ السلام کو اسیر کر دینا ”ومطهرك“ کے مضمون کے بالکل منافی ہے۔ نیز ایک اور صریح آیت بھی اس عقیدہ کا ابطال کرتی ہے جو خدائے پاک نے فرمایا ”واذ کففت بنی اسرائیل عنك“ میں نے بنی اسرائیل کے ہاتھ تجھے ایذا پہنچانے سے روک دیئے۔ اس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل صلیب پر کھینچنا تو کجا مسیح علیہ السلام کو ہاتھ

١٠٠

صفحہ ٣٧٥

تک نہ لگا سکے۔ کف کا معنے ہی ہاتھ کو روک لینا ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔

"اذهم قوم ان يبسطوا اليكم ايديهم فكف ايديهم عنكم “ (جس وقت قصد کیا ایک جماعت نے کہ دراز کریں طرف تمہارے ہاتھ اپنے کو پس بند کئے ہاتھ ان کے تم سے) اب یہ کہنا کہ یہودی مسیح کو پکڑ کر لے گئے اور صلیب پر کھینچ کر ان کو سخت اذیتیں پہنچائیں اور ان کو آدھ موا کر دیا وغیرہ وغیرہ! یہ سب باطل خیالات ان آیات مذکورہ بالا کی تکذیب کرتے ہیں۔ پھر افسوس ہے کہ ایسی صریح نصوص قرآنی پڑھنے کے بعد بھی مرزائی صاحبان مرزا قادیانی کے فاسد عقیدہ کو تسلیم کئے بیٹھے ہیں۔

چونکہ مرزائی صاحبان مسلمانوں کو مسیح علیہ السلام کے ”نزول من السماء“ کے متعلق طرح طرح کے اعتراضات سے دق کیا کرتے ہیں۔ اس لئے اس مسئلہ پر قدرے روشنی ڈالی جاتی ہے۔ مرزا قادیانی اور ان کے مرید کہتے ہیں کہ اگرچہ بعض احادیث سے مسیح علیہ السلام نازل ہونا ثابت ہے۔ لیکن اس سے مراد نزول من السماء نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ کسی حدیث میں لفظ ”من السماء“ نہیں ہے۔ سو یہ ایک دجل اور فریب اور مغالطہ ہے۔ ”من السماء “ کا لفظ احادیث میں موجود ہے۔ جیسا کہ عبارات ذیل سے ثابت ہوگا۔

قردة وخنازير فاجتمعت اليهود على قتله فاجاره الله بانه رفعه الله الى السماء وطهره من اليهود (روح المعانی ج ٣ جز ٦ ص ٩)“

ابن مريم فيكم وامامكم منكم (بیہقی ج ٣ ص ٥٩)“

القيامة (ابن کثیر، درمنثور ج ١ص ٣٦٦)“

يدفن عيسے بن مريم مع رسول الله وصاحبيه فيكون قبره رابعاً“

(در منثور ج ٢ ص ٣٤٦)

١٠١

صفحہ ٣٧٧

ان احادیث میں تصریح ہے کہ یہود نے بغض وعناد کی وجہ سے مسیح علیہ السلام کے لئے صلیب تیار کی اور ارادہ قتل کیا۔ لیکن خدا نے ان کو آسمان کی طرف اٹھا لیا اور یہود کے پلید ہاتھ ان کو چھونے نہ پائے اور کہ وہ ابھی زندہ ہیں۔ قیامت سے پہلے ان کا نزول اجلال ہوگا اور جب ان کی وفات ہوگی تو روضہ رسول میں دفن ہوں گے۔

مرزا قادیانی خود بدولت براہین احمدیہ میں لکھ چکے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے اور آیت "والذی ارسلہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ" کی تکمیل ہوگی۔

نیز مرزا قادیانی "انی متوفیک" کا معنی وہی لکھ چکے ہیں جو جمہور اہل اسلام نے کیا ہے۔ میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور بلند کرنے والا ہوں اپنی طرف۔

(براہین احمدیہ ص ٥٢٠، خزائن ج ١ ص ٦٢٠)

ایسا ہی آپ کی الہامی کتاب (توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢) میں درج ہے۔

(خلاصہ) اب ہم صفائی بیان کے لئے لکھنا چاہتے ہیں کہ دو نبی ایلیا اور مسیح ابن مریم آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور یہ احادیث کے مطابق ہے۔

ایسا ہی (ازالۃ الاوہام ص ٢٩٤، ٢٩٥، خزائن ج ٣ ص ٢٥١) میں ہے۔ میں مانتا ہوں اور بار بار مانتا ہوں کہ ایک کیا دس ہزار سے بھی زیادہ مسیح آسکتے ہیں اور ممکن ہے کہ ظاہری جلال واقبال کے ساتھ آوے اور ممکن ہے کہ اوّل دمشق میں ہی نازل ہو۔ اسی کتاب (ص ٢٩٨) میں ہے۔ ممکن ہے اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے کہ جس پر حدیثوں کے ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔

اب جب کہ مرزا قادیانی خود توفی کا معنی پوری نعمت دینا یا پورا لینا اور بلند کرنا کر چکے ہیں اور یہ بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ احادیث کے ظاہری الفاظ سے مسیح علیہ السلام کا نزول من السماء ثابت ہے اور یہ ناممکن بھی نہیں تو پھر یہ ضد کہ مسیح علیہ السلام کا اتنی مدت دراز زندہ رہنا، آسمان پر جانا پھر نازل ہونا بالکل ناممکن اور محال ہے۔ کہاں تک حق بجانب ہے؟

صرف کشف اور الہامات کی بناء پر احادیث نبویہ کی تکذیب اور جمہور اہل اسلام کے عقیدہ راسخہ بلکہ خود اپنے عقیدہ کی مخالفت ٹھیک نہیں ہے۔ کیونکہ آپ خود فرماتے ہیں:

رسول اللہ ﷺ کے طریق کے خلاف ہو۔ شیطانی القاء ہے۔"

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢١)

١٠٢

ہو سمجھ لینا چاہئے کہ شیطان اس سے کھیلتا ہے۔"

جس کے سب الہام سچے ہوں۔" (توضیح مرام ص

مرزا قادیانی کے اکثر الہامات مثلاً محمدی بیگم کے نکاح مرزا قادیانی کی زندگی میں مرجانے کا الہام، بنام حمـ مبارکہ کا الہام۔ وغیرہ وغیرہ جھوٹے ثابت ہوچکے ہـ کے رو سے آپ سچے ملہم نہیں ہیں۔

یہ بات کہ عیسیٰ علیہ السلام اتنی مدت دراز ز عدم ایمان کی دلیل ہے۔ دنیا میں بڑی بڑی عمر والے السلام کی عمر دو ہزار سال تھی۔ ایک ہزار سال جنت میـ جو بشہادت قرآن مثیل مسیح ہیں۔ ان کی عمر پر اعتر ٥٠ کم ایک ہزار سال تھی۔ ملائکہ کی عمر کتنی لمبی ہے۔ جـ حتیٰ کہ نبی آخر الزمان تک منجانب اللہ وحی لاتے رہے میں کس کو کلام ہے۔ پھر مسیح علیہ السلام جو بشری اور مـ اعتراض معترض کی جہالت کی دلیل ہے۔

ایک لطیف فلسفیانہ بحث

مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ اہل علم کہـ جائے اور لوٹ آئے۔ یہ سنت اللہ کے بھی خلاف ہـ جانا بالکل محال ہے۔

جواب...... اہل علم سے مراد اگر علم جدید کے عالم تصدیق کرتے ہوئے قرآن کی پیروی چھوڑ دیں نہیں ہیں۔ حالانکہ قرآن کے رو سے قرب قـ "فاذا انشقت السماء فكانت وردة كالدهـ

اور اگر اہل علم سے مراد اہل یورپ ہیں پھر فرمائیے علم مغرب کا کون سا اصول رفع جسم کا مـ

صفحہ ٢٧٧

ہو سمجھ لینا چاہئے کہ شیطان اس سے کھیلتا ہے۔"

(آئینہ کمالات اسلام ص٢١، خزائن ج ٥ ص٢١)

جس کے سب الہام سچے ہوں۔" (توضیح مرام ص٨٥،٨٤، خزائن ج٣ ص٩٥ ملخص) تو چونکہ مرزا قادیانی کے اکثر الہامات مثلاً محمدی بیگم کے نکاح کا الہام مولوی ثناء اللہ اور ڈاکٹر عبدالحکیم کا مرزا قادیانی کی زندگی میں مرجانے کا الہام، ثمانین حوّلا کا الہام، شوخ و شنگ لڑکا کا الہام، خواتین مبارکہ کا الہام۔ وغیرہ وغیرہ! جھوٹے ثابت ہو چکے ہیں۔ اس لئے آپ کے بتائے ہوئے معیار کے رو سے آپ سچے ملہم نہیں ہیں۔

یہ بات کہ عیسیٰ علیہ السلام اتنی مدت دراز زندہ کس طرح رہ سکتے ہیں۔ قدرت ایزدی پر عدم ایمان کی دلیل ہے۔ دنیا میں بڑی بڑی عمر والے انسان گزر چکے ہیں۔ چنانچہ ابوالبشر آدم علیہ السلام کی عمر دو ہزار سال تھی۔ ایک ہزار سال جنت میں اور ایک ہزار سال زمین میں رہے تو پھر مسیح جو بشہادت قرآن مثیل مسیح ہیں۔ ان کی عمر پر اعتراض کیوں ہے۔ نوح علیہ السلام کی عمر بھی تو آخر ٥٠ کم ایک ہزار سال تھی۔ ملائکہ کی عمر کتنی لمبی ہے۔ جبرائیل علیہ السلام ہر ایک نبی ورسول کے پاس حتیٰ کہ نبی آخرالزمان تک منجانب اللہ وحی لاتے رہے۔ ملک الموت قابض الارواح کی درازی عمر میں کس کو کلام ہے۔ پھر مسیح علیہ السلام جو بشری اور ملکوتی صفات کے جامع تھے ان کی درازی عمر پر اعتراض معترض کی جہالت کی دلیل ہے۔

ایک لطیف فلسفیانہ بحث

مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ اہل علم کبھی تسلیم نہیں کرتے کہ کوئی خاکی جسم آسمان پر جائے اور لوٹ آئے۔ یہ سنت اللہ کے بھی خلاف ہے۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کا بجسد عنصری آسمان پر جانا بالکل محال ہے۔

جواب ...... اہل علم سے مراد اگر علم قدیم کے عالم اہل یونان مراد ہیں تو پھر آپ ان کے علوم کی تصدیق کرتے ہوئے قرآن کی پیروی چھوڑ دیں۔ کیونکہ وہ افلاک میں خرق والتیام کے بھی قائل نہیں ہیں۔ حالانکہ قرآن کے رو سے قرب قیامت میں آسمان کا پھٹ جانا ثابت ہے۔ "فاذا انشقت السماء فكانت وردة كالدهان" اور اگر اہل علم سے مراد اہل یورپ ہیں اور آپ مغربی علوم کو وحی من السماء سمجھے ہوں تو پھر فرمائیے علم مغرب کا کون سا اصول رفع جسم کا مانع ہے۔

١٠٣

صفحہ ٣٧٩

آپ فرمائیں گے کہ ہر چیز کی کشش اس سمت کو ہوتی ہے جہاں اس کی اصل ہو اور جسم انسانی کی اصل زمین ہے۔ اس لئے وہ اس کو اپنی طرف جذب کر لیتی ہے اور اوپر جانے نہیں دیتی۔ جواب...... زمین کی اصل بھی آسمان ہے۔ زمین اور اس کے ملحقات کو بواسطہ کائنات کھینچ رہی ہیں۔ سبع سموات کے تو آپ بھی قائل ہوں گے جن کا وسط فلک چہارم ہے۔ جس کے دونوں طرف تین تین فلک ہیں اور چہارم ان کے بیچ میں ہے۔ چھ افلاک میں جس قدر سیارے ہیں۔ سورج ان کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ دن بدن اس کی طرف کھنچے جا رہے ہیں اور قریب ہورہے ہیں۔ ان ہی سیاروں میں زمین بھی ہے۔ رفتہ رفتہ اس قدر نزدیک آجائے گی کہ سوا نیزے پر سورج ہوگا۔ خلاصہ یہ کہ تمام اجسام جن کی عظمت زمین سے بھی زیادہ ہے۔ چوتھے آسمان کی طرف کھنچے جا رہے ہیں تو پھر انسان بے مقدار کا کیا کہنا۔

چونکہ ہم سب زمین کے پاس ہیں۔ اس لئے ہم پر اس کی کشش قوی ہے۔ لیکن فی الحقیقت جسم انسان دو جزو سے مرکب ہے۔ جسم اور روح، جسم کی کشش نیچے کو اور روح کی کشش اوپر کو ہے۔ پھر ان دونوں میں سے جس کی قوت زیادہ ہوگی۔ دوسری کو کھینچ لے گا۔ چونکہ ہم میں صرف ایک ہی جزو (روح) لطیف ہے۔ اس کے مقابل دو کثیف ہیں۔ ایک مادری دوسرے پدری۔ اس لئے ہم پر جذب زمین غالب ہے اور جذب علوی کا زور نہیں چل سکتا۔ لیکن اگر ان میں سے ایک کی کثافت کم ہو جائے یا دونوں لطیف ہوں تب ملائکہ کی طرف پرواز فلک سہل ہو جائے۔ چونکہ عیسیٰ علیہ السلام کی طرف مادری جزو کثیف تھی۔ لیکن پدری نہیں اس لئے لطافت میں کمال نہ ہونے کے باعث چرخ چہارم تک جاسکے۔

لطافت جسم رسول

آنحضرت ﷺ کے ہر دو اجزاء مادری و پدری بحکم ایزد متعال لطیف ہوگئے تھے۔ اس لئے آپ کی پرواز بروز معراج فلک الافلاک تک پہنچ گئی۔ حضور علیہ السلام کی لطافت جسمی بدرجہ غایت پہنچی ہوئی تھی۔ جس پر حسب ذیل شواہد موجود ہیں۔

حالت وہی معمولی رہی۔

بول و براز کہیں نظر نہ آئے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ کا بول و براز زمین نگل لیتی تھی۔ حقیقت

١٠٤

میں بول و براز کی صورت ہی نہ تھی۔

آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔

پایا۔ آپ کی شان اس سے ارفع تھی کہ مکڑی کے ریشمی جال ہم نشین کے پرتو پڑنے سے وہی لطافت پیدا ہوگئی۔ ٹوٹنے نہ پایا۔

دیکھ نہ سکے۔ حالانکہ دونوں ان کو دیکھ رہے تھے۔

کھڑے ہوئے تھے دیکھ نہ سکا۔

آئے۔ بے نیل مرام واپس چلا گیا۔ "فاذا قرأت القرآن لا يؤمنون بالاخرة حجابا مستورا"

چونکہ آپ مجسم روح تھے۔ اس لئے چھوٹا بڑا ہو جانا کچھ دشوار نہ تھا۔

معلّی تک جا پہنچے۔

رفع جسمی پر اعتراض اور اس کا جواب

جواب...... یہ صرف یونانیوں کا خیال ہے۔ قرآن مجید سے الوان نعمت کا مہیا ہونا ثابت ہے۔ پھر قرآن کو پس مسلمان کا کام نہیں۔ دوم علوم جدیدہ بھی قرآن پاک کی دوربین لگا کر دیکھا تو چاند اور مریخ میں پہاڑیاں دریا وغیرہ

١٠٥

صفحہ ٣٧٩

میں بول و براز کی صورت ہی نہ تھی۔

رفع جسمی پر اعتراض اور اس کا جواب

جواب...... یہ صرف یونانیوں کا خیال ہے۔ قرآن میں وہاں انہار اور جنات کا موجود ہونا اور الوان نعمت کا مہیا ہونا ثابت ہے۔ پھر قرآن کو پسِ پشت ڈال کر فلسفہ یونان سے تمسک ایک مسلمان کا کام نہیں۔ دوم علوم جدیدہ بھی قرآن پاک کی تائید کر رہے ہیں۔ ہیئت دانوں نے جب دوربین لگا کر دیکھا تو چاند اور مریخ میں پہاڑیاں دریا اور آگ سب کچھ نظر آئے۔ پھر وہاں ہوا

١٠٥

صفحہ ٨١

اور پانی سے کیونکر انکار کیا جاسکتا ہے۔ مریخ میں چھوٹے چھوٹے خطوط نظر آتے ہیں۔ جو نہریں خیال کی جاتی ہیں ایام بارش میں وہ چوڑی نظر آتی ہیں۔ پھر باریک ہو جاتی ہیں غرض فلکیات میں آب و ہوا ہر جگہ موجود ہے جس سے انکار کرنا سخت نادانی ہے۔

ہے؟

جواب ...... شب معراج رفع جسم رسول اللہ کی نوعیت سے آپ واقف نہیں۔ آپ کی سرعت رفتار کی یہ حالت تھی کہ جب واپسی ہوئی زنجیر در ہل رہی تھی اور بستر ویسا ہی گرم تھا۔ باوجود اس قدر بعد مسافت اور پیشی رب جلیل حاصل ہونے کے گویا برق صفت ہشت افلاک کو چیر کر پھر واپس آگئے ۔ نہ سانس لینے کی ضرورت نہ زمہریر کا کچھ اثر ہوا۔

دم زدن میں طے کیا نیلی رواق برق سے بھی تیز تھا بیشک براق
کچھ نہ ہوئی بے ہوائی آپ کو سانس کی نوبت نہ آئی آپ کو

ایسا ہی رفع عیسیٰ علیہ السلام بھی ہوا۔ بجلی کی طرح ان کا گزر ہوا۔ کتب اسلامیہ میں لکھا ہے کہ واپسی بھی ایسی ہی ہو گی۔ جیسے بجلی کی چمک شرق سے غرب کو ہوتی ہے۔

جواب ...... یہ درست ہے کہ آگ کا خاصہ اور اثر جلانے کا ہے اور دوسری چیزوں کا خاصہ آگ میں جا کر جلنا ہے۔ مگر یہ تب ہے کہ کسی چیز کے خواص اس سے جدا نہ ہو سکتے ہوں۔ ہم کہتے ہیں کہ ہو سکتے ہیں۔ آگ کے دو خاصے ہیں۔ جلانا اور روشن کرنا۔ دوسری اشیاء میں جلنا اور روشن ہو جانا رکھا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ آگ ایک خاصہ کے ساتھ پائی جائے۔ یعنی صرف روشنی باقی رہے۔ دوسرا خاصہ جلانا مفقود ہو جائے۔ جیسے ولایتی جاپانی پھول جھڑی یا دوسری آتش بازیاں کہ ان میں آگ روشن ہے ۔ مگر اصلاً کسی چیز کو جلا نہیں سکتی۔ ایسا ہی بعض اشیاء سے جلنے کا اثر جاتا رہتا ہے۔ مثلاً سمندر ( کیڑا ) آگ میں ہی پیدا ہوتا اور آگ میں ہی رہتا ہے۔ سعدی فرماتے ہیں۔

بدریا نہ خواہد شدن بط غریق
سمندر چہ داند عذاب الحریق

انسانوں میں ایسے کئی شعبدہ باز ہیں جو دہکتے انگاروں پر چلتے ہیں۔ آگ اپنے جسم پر ڈالتے اور آگ سے کھیلتے ہیں۔ چنانچہ ابھی ماہ نومبر ١٩٣١ء میں لاہور اسلامیہ کالج میں ایک سید

١٠٦

زادہ نے آگ میں کھیل دکھلایا تھا۔ پرنسپل صاحب جلائی گئیں۔ سید زادہ صاف قدم قدم آگ میں باز کے جسم کو آگ جلا نہیں سکتی تو ایک مجسم روح خطرہ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کفار کی جلتی آگ خلیل اللہ کا بال بیکا نہ ہونا۔ مشہور معجزہ ہے جس کی نار کونی برداً وسلاماً علیٰ ابراهیم " تھے۔ لقد جاءکم من اللہ نور وکتاب م ہی روح اللہ سمجھئے۔ علاوہ ازیں آج کل محققین یو ہے۔ پھر جب سورج کی گرمی میں مخلوق زندہ رہ رفع جسمی کے منکر اپنے پرانے اعتراضات پر کیو

عرصہ گزر جانے پر کھانے پینے کے سوا کس طرح

جواب ...... عیسیٰ علیہ السلام کا رفع بوجہ اپنی ملکی ھ ہیں اور جو ان کی غذا ہے وہی عیسیٰ علیہ السلام کی عند ربی هو يطعمني ويسقينی "گائڈ عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی بغیر طعام کے کیوں ہے۔ جو تین سو نوے سال غار میں بغیر کھائے اصحاب کہف کو تین سو نوے سال بغیر خوراک کے پر بغیر کھانے پینے کے زندہ نہیں رکھ سکتا۔

سوال ...... مرزا قادیانی قرآنی آیات سے د قرآن سے کیا ثبوت ہے؟

جواب ...... آیت وان من اهل الكتـ السلام پر نص صریح ہے۔ وفات مسیح اس وقت ایمان لائیں گے۔ مضارع پر لام تاکید ی مفتو کہ بوقت مرگ اہل کتاب مسیح علیہ السلام پر قرآن ایسا ایمان کالعدم ہوتا ہے۔ نیز اگر ایہ

صفحہ ٣٨١

زادہ نے آتشی کھیل دکھلایا تھا۔ پرنسپل صاحب موجود تھے۔ آگ سلگائی گئی۔ بڑی بڑی لکڑیاں جلائی گئیں۔ سید زادہ صاف قدم قدم آگ میں سے گزر گیا۔ کچھ اثر نہ ہوا۔ پھر جب ایک شعبدہ باز کے جسم کو آگ جلا نہیں سکتی تو ایک مجسم روح اولوالعزم رسول کی آگ سے گزر جانے کا کیا خطرہ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کفار کا جلتی آگ میں پھینک دینا آگ کا گلزار ہو جانا حضرت خلیل اللہ کا بال بیکا نہ ہونا۔ مشہور معجزہ ہے جس کی تصدیق قرآن کریم سے بھی ہوتی ہے۔ ”قلنا یا نار کونی برداً وسلاماً علی ابراهيم“ غرض نور کو نار سے کیا ضرر۔ پیغمبر علیہ السلام محض نور تھے۔ ”لقد جاءکم من الله نور وکتاب مبین“ پھر آگ کو کیا طاقت کہ نور کو جلا سکے۔ ایسا ہی روح اللہ سمجھئے۔ علاوہ ازیں آج کل محققین یورپ اس امر کے قائل ہیں کہ سورج میں مخلوق آباد ہے۔ پھر جب سورج کی گرمی میں مخلوق زندہ رہ سکتی ہے تو آنحضرت ﷺ اور عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمی کے منکر اپنے پرانے اعتراضات پر کیوں اترا رہے ہیں۔

عرصہ گزر جانے پر کھانے پینے کے سوا کس طرح زندہ رہ سکتے ہیں؟

جواب...... عیسیٰ علیہ السلام کا رفع بوجہ اپنی ملکی صفت کے ہوا اور ملائک آسمان پر زندگی بسر کر رہے ہیں اور جو ان کی غذا ہے وہی عیسیٰ علیہ السلام کی سمجھئے۔ آنحضرت ﷺ کی حدیث ہے۔ ”ابیت عند ربی ھو یطعمنی ویسقینی“ گاندھی جیسا شخص بغیر طعام کے کئی دن زندہ رہ سکتا ہے تو عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی بغیر طعام کے کیوں ممکن نہیں؟ اصحاب کہف کا قصہ قرآن میں موجود ہے۔ جو تین سو نو سال غار میں بغیر کھانے پینے کے زندہ رہے۔ پھر وہی خدائے قدیر جو اصحاب کہف کو تین سو نو سال بغیر خوراک کے زندہ رکھ سکتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کو کیوں آسمان پر بغیر کھانے پینے کے زندہ نہیں رکھ سکتا۔

سوال...... مرزا قادیانی قرآنی آیات سے وفات مسیح پر استدلال کرتے ہیں۔ ان کی زندگی کا قرآن سے کیا ثبوت ہے؟

جواب...... آیت ”وان من اهل الکتاب الا لیؤمنن به قبل موته“ حیات مسیح علیہ السلام پر نص صریح ہے۔ وفات مسیح اس وقت ہوگی جب ان کی آمد ثانی پر کل اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے۔ مضارع پر لام تاکیدی مفتوح استقبال کی علامت ہے۔ مرزا قادیانی کا یہ معنی کہ بوقت مرگ اہل کتاب مسیح علیہ السلام پر ایمان لاتے ہیں۔ قطعاً غلط ہے۔ کیونکہ بصراحت قرآن ایسا ایمان کالعدم ہوتا ہے۔ نیز اگر ایسا ہو تو کوئی یہودی یا عیسائی وقت مرگ اپنے ورثاء کو

١٠٧

صفحہ ٣٨٣

بتایا جائے کہ میں مسیح کو رسول خدا اور اس کا بندہ مانتا ہوں۔ (بسا اوقات انسان کے آخری دم تک حواس قائم رہتے ہیں اور سانس بند ہونے تک بات چیت کر سکتے ہیں) نیز یہ بات قرآن کے بھی خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”بل طبع الله بكفرهم فلا يؤمنون الا قليلاً“

سوالات

صحیح ہو سکتا ہے؟

کتاب مومن نہ ہوئے۔

فوق الذين كفروا ۔ الخ! والقينا بينهم العداوة والبغضاء الى يوم القيامة“ ۔

جوابات

موجود ہوں گے۔

کے بعد جو موجود ہوں گے سب عیسیٰ پر ایمان لائیں گے۔

قریب القیامہ مراد ہے۔

حالانکہ امت محمدیہ کو جملہ انبیاء پر ایمان لانا ضروری ہے۔ ”لا نفرق بين احد من رسله“

دوسری آیت

”وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه“ بمعنی حیات مسیح علیہ السلام پر نص صریح ہے۔ یہ قاعدہ مسلمہ ہے کہ بل کا ماقبل و بعد ہمیشہ ذہن متکلم میں متضاد ہوتے ہیں۔ اب اگر رفع روحانی مراد ہو تو تضاد بین الکلمتین اور رفع الروح باقی نہیں رہتا۔

سوال....... آیت ”انی متوفیک ورافعک الی“ سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت

١٠٨

ہو گئے ہیں اور رفع روحانی ہوا۔ کیونکہ توفی کا معنی موت

جواب....... توفی کا معنی بروئے لغت کسی چیز کو پورا لینے درج ذیل ہیں۔

آیات: ”هو الذی یتوفکم بالليل“ ”والتى لم تمت في منامها“ تاج العروس وغیرہ

توفی کا اصل معنی کسی چیز کو پورا لینے کے ہیں۔ موت تو معنی مراد ہوگا۔ جہاں قرینہ نہیں وہاں وہی حقیقی معنی الـ متوفیک“ میں ہے۔

اس آیت کا نزول اس وقت ہوا۔ جب اس کا معنی وفات کا لیا جائے تو بجائے اس کے کہ عیسیٰ چاہئے۔ گویا عیسیٰ کو تسلی دی جاتی ہے کہ یہود کیا ہیں ہو گئی۔ مارنا تو بہر صورت خدا کے ہاتھ میں تھا۔ انبیاء پس یہودی کامیاب ہو گئے۔

نہیں معنے آیت کا یہ ہے کہ ہم تجھے پور طرف اٹھائیں گے اور ان کا منصوبہ خاک میں ملائیں ، ”عزیزاً حکیماً“ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا کر کام کے سہل کرنے کے لئے آتا ہے۔

علاوہ ازیں اگر متوفیک کا معنیٰ موت نے فوت ہو جانا ہے اور ظاہر ہے کہ واو حرف عطف امثلہ درج ہیں۔

انبیاء سے پہلے الہام اور وحی ہوئی۔

صفحہ ٣٨٣

ہو گئے ہیں اور رفع روحانی ہوا۔ کیونکہ توفی کا معنے موت کے ہیں۔ جواب....... توفی کا معنی بروئے لغت کسی چیز کو پورا لینے کے ہیں۔ چنانچہ کتب لغت کے حوالہ جات درج ذیل ہیں۔

العدو فلا توفا رسول الکریم : ودمت العينان فی الجفن"

آیات: ”هو الذی یتوفکم باللیل الله یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا تاج العروس ومن المجاز الموت“ اس سے معلوم ہوا کہ توفی کا اصل معنی کسی چیز کو پورا لینے کے ہیں۔ موت نیند وغیرہ سب مجاز ہیں۔ جیسا قرینہ ہوگا۔ ویسا معنی مراد ہوگا۔ جہاں قرینہ نہیں وہاں وہی حقیقی معنی اخذ الشی وافر ا مراد ہوگا۔ جیسا کہ آیت "انی متوفیک“ میں ہے۔

اس آیت کا نزول اس وقت ہوا۔ جب یہودی مسیح کے قتل کا مشورہ کر رہے تھے تو اگر اس کا معنی وفات کا لیا جائے تو بجائے اس کے کہ عیسیٰ کی اس سے تسلی ہو ان کو اور پریشانی لاحق ہونی چاہئے۔ گویا عیسیٰ کو تسلی دی جاتی ہے کہ یہود کیا ہم خود تم کو مار دیں گے۔ پھر یہود کی غرض تو پوری ہوگئی۔ مارنا تو بہرصورت خدا کے ہاتھ میں تھا۔ انہوں نے اسباب مہیا کر دیئے۔ خدا نے مار دیا۔ پس یہودی کامیاب ہو گئے۔

نہیں معنے آیت کا یہ ہے کہ ہم تجھے یہود مردود کے ناپاک ہاتھوں سے بچا کر آسمان کی طرف اٹھائیں گے اور ان کا منصوبہ خاک میں ملا دیں گے۔ اسی لئے اس سے پہلے "وکان الله عزیزاً حکیما“ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا کرنے پر قادر ہے۔ کیونکہ قرآن میں یہ کلمہ کسی مشکل کام کے سہل کرنے کے لئے آتا ہے۔

علاوہ ازیں اگر متوفیک کا معنی ممیتک بھی ہو تو ہمارے مخالف نہیں۔ ایک دن ضرور آپ نے فوت ہو جانا ہے اور ظاہر ہے کہ واو حرف عطف میں ترتیب شرط نہیں ہے۔ جیسے کہ ذیل میں چند امثلہ درج ہیں۔

انبیاء سے پہلے الہام اور وحی ہوئی۔

١٥٩

صفحہ ٣٨٤

السلام پہلے سجدہ پھر رکوع کیا کرتی تھیں۔

شرک ہوگا۔

غرض آیت ”انی متوفیک“ وفات مسیح کی ہرگز دلیل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس سے آپ کا زندہ بجسدہ آسمان پر اٹھایا جانا ثابت ہوتا ہے۔ جیسا کہ جمہور اہل اسلام کا عقیدہ متفقہ ہے۔

سوال...... آیت ”فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم“ سے وفات مسیح ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر رفع سماوی مانا جائے تو آیت کے معنے راست نہیں ہوتے۔

جواب...... معنے آیت یہ ہے کہ جب تک میں قوم میں رہا۔ ان کا نگران حال رہا۔ جب تو نے مجھے لے لیا۔ یعنی رفع جسمانی ہو گیا۔ پھر ان کے حال کا تو ہی واقف ہے۔ آیت میں ”مادمت فیہم“ ہے۔ ”مادمت حیاً فیہم“ نہیں ہے۔

ایک دوسری آیت سے بھی رفع جسمی کا ثبوت ملتا ہے۔ ”واذكر فى الكتاب ادريس انه كان صديقاً نبياً ورفعناه مكاناً عليا“ اس میں تصریح ہے کہ حضرت ادریس کا رفع بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح بجسدہ العنصری ہوا۔ کیونکہ اگر اس سے رفع روحانی مراد ہو تو پھر ادریس علیہ السلام کا بالخصوص ذکر بے فائدہ ہے۔ جب کہ ہر ایک نبی ولی بلکہ ہر ایک مؤمن کا رفع روحانی بالیقین ہوا کرتا ہے اور جب خصوصیت سے حضرت ادریس کا مکان علیا میں مرفوع ہونا بیان کیا گیا ہے تو سوائے رفع جسمی اور کچھ مراد نہیں ہو سکتا۔

رفع جنات

یہ بھی تو مسلم ہے کہ جنات جن کی خلقت نار سے ہے۔ وہ بھی ارضی مخلوق ہونے کے باوجود آسمان تک پہنچ سکتے تھے۔ اگرچہ بعثت رسول کے بعد اس سے روک دیئے گئے۔ پھر اشرف المخلوق انسان جس کے سر پر لقد کرمنا بنی آدم کا تاج ہے۔ اس کا رفع کیوں محال ہے۔

قرآن سے اس بات کا بھی ثبوت ملتا ہے کہ قطر سماء وارض سے انسان کا عبور ممکن ہے جب کہ فضل ایزدی (سلطان) شامل حال ہو۔ جیسا کہ فرمایا۔ ”یمعشر الجن والانس ان استطعتم ان تنفذوا من اقطار السمٰوٰت والارض فانفذوا لا تنفذون الا بسلطان “ الا بسلطان کا استثناء بتا رہا ہے کہ اقطار السمٰوٰت والارض سے انسان کا گزر ہو سکتا ہے۔ جب حق تعالیٰ اس کو قوت و قدرت عطا فرمائے۔ جس کو اللہ تعالیٰ بطور ایک نعمت

١١٠

صفحہ ٣٨٥

کے یاد دلاتا ہے۔

غرض حضرت مسیح علیہ السلام کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا پھر قرب قیامت میں ان کا نازل ہونا جمہور اہل اسلام کے مسلمات سے ہے۔ زمانہ آنحضرت ﷺ سے لے کر تیرہ سو صدیوں تک مسلمانوں میں یہ عقیدہ مسلم چلا آیا ہے۔ صحابہ، تابعین، تبع تابعین، اولیاء، ابدال، اقطاب سب اسی عقیدہ پر قائم رہے۔ بقول مرزا قادیانی ہر صدی پر ایک مجدد ہوتا ہے۔ کسی مجدد سے بھی اس عقیدہ کا انکار ثابت نہیں۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی کا ابتدائی عقیدہ بھی یوں ہی تھا۔ پھر اس اجماعی یقینی اور قطعی مسئلہ سے انکار کرنا صاف الحاد زندقہ اور بے دینی ہے۔

علاوہ ازیں آیت ”وانہ لعلم الساعة“ بھی اس کی بین دلیل ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ قرب قیامت ان کا نزول ہوگا۔ بعد میں وفات ہوگی۔ اگر مسیح علیہ السلام کو فوت شدہ مان لیا جائے تو وہ علامات قیامت میں کس طرح شمار ہو سکتے ہیں۔ جب کہ ان کے گزشتہ دور حیات سے قیامت بہت ہی دور ہے۔

کے جوابات میں حریف بڑی دشواری میں پڑے گا۔ لیکن جوابات سن کر پھر حیرت میں رہ گئے۔ وہ ہمیشہ اس بات کی سعی کیا کرتے ہیں کہ گورنمنٹ کو مسلمانوں سے بدظن کریں کہ وہ ایسے مہدی و مسیح کے منتظر ہیں کہ جو آ کر عیسائیوں اور دیگر مذاہب والوں کو تہ تیغ کر کے اسلام کو غلبہ دے گا اور خود بدولت گورنمنٹ پر احسان جتلایا کرتے ہیں کہ آپ ہی ہیں جو گورنمنٹ کی خیر خواہی میں مسلمانوں کو ایسے مسیح یا مہدی کے انتظار سے روکتے ہیں اور خود ہی مہدی خود ہی مسیح ہیں۔ یہی غرض اس موقع پر تھی کہ اگر مولوی صاحب یہ کہیں گے کہ مہدی و مسیح وہ ہوں گے جو اسلام کو تلوار کے زور سے پھیلائیں گے اور عیسائیوں اور غیر مذاہب کے لوگوں کو نیست و نابود کر دیں گے تو گورنمنٹ کو بھی بدظنی ہوگی اور مجسٹریٹ کو جو کہ ہندو مذہب ہے بھی ناراضگی ہوگی۔ لیکن آفرین ہے اس شخص کی قابلیت پر جوابات میں کس لیاقت سے چالباز حریف کے منصوبہ کو خاک میں ملا دیا۔ آپ نے جو جواب لکھائے ان کا مطلب یہ ہے کہ یہ غلط بات ہے جو مرزا قادیانی گورنمنٹ اور دیگر مذاہب والوں کو کہہ کر مسلمانوں سے بدظن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہرگز نہیں کہ مہدی و مسیح خواہ مخواہ بے وجہ تلوار چلاتے پھریں گے اور غیر مذاہب والوں کو قتل کرتے پھریں گے۔ ہاں ! اگر فساد اور بدامنی کا زمانہ ہوگا تو شر مٹانے اور امن قائم کرنے کے لئے ان کو یہ کرنا پڑے گا کہ ایسے فسادیوں کو مٹا کر امن قائم کر دیں اور یہی ہر ایک باانصاف سلطنت کا اصول انصاف

١١١

صفحہ ٣٨٦

ہے۔ مرزا قادیانی ہمیشہ مغالطہ دیا کرتے ہیں کہ مسلمان خونی مہدی اور خونی عیسیٰ کے منتظر ہیں۔ لیکن نہایت افسوس ہے کہ خونی کا لفظ کہاں سے انہوں نے لگا لیا۔ کسی حدیث میں یہ لفظ ان کی صفتوں میں نہیں آیا اور نہ مسلمانوں کا یہ اعتقاد ہے۔ بلکہ ان کی اوصاف تو حکم عدل احادیث میں لکھی ہیں اور یہ کہ وہ زمانہ جور و جفا کو امن وصلح سے بدل دیں گے۔ پھر مرزا قادیانی کو کچھ تو خوف خدا کرنا چاہئے کہ وہ کیوں مسلمانوں کے ذمے ایک بیہودہ تہمت لگاتے ہیں۔ علاوہ بریں گورنمنٹ پر مرزا قادیانی ہر چند احسان شماری کریں اور مسلمانوں سے بدظن کرنے کی کوشش کریں۔ ان کے اس قول بے اصل کی کچھ بھی وقعت ہماری جزرس اور بیدار مغز گورنمنٹ کے سامنے نہیں ہوگی۔ گورنمنٹ کو اپنی وفادار مسلمان رعایا پر اطمینان ہے اور گورنمنٹ کو خوب معلوم ہے کہ مرزا قادیانی جیسے مہدی مسیح وغیرہ بننے والے ہی کوئی نہ کوئی آفت سلطنت میں برپا کیا کرتے ہیں۔ مسلمان تو یہ زمانہ مہدی ومسیح کا قرار ہی نہیں دیتے۔ کیونکہ یہ امن اور انصاف وعدل کا زمانہ ہے اور خلق خدا کو ہر طرح سے اس سلطنت کے سایہ میں امن اور آسائش حاصل ہے اور مہدی اور مسیح کے آنے کی جب ضرورت ہوگی کہ عنان سلطنت سخت ظالم اور جفا پیشہ بادشاہ کے ہاتھ میں ہوگی اور روئے زمین پر کشت وخون اور فتنہ وفساد کا طوفان برپا ہوگا۔ اس وقت اس کی ضرورت ہوگی کہ الہ العالمین اپنی مخلوق کی حفاظت اور آسائش وامن گستری کے لئے کسی انصاف مجسم امام بادشاہ اسلام (مہدی ومسیح) کو مبعوث فرمائیں۔ لیکن مرزا قادیانی نے تو مسلمانوں میں یہ خیال پیدا کر دیا ہے کہ مہدی و مسیح کا یہی زمانہ ہے اور قادیان ضلع گورداسپور میں وہ مہدی ومسیح بیٹھا ہوا ہے۔ وہ کسر صلیب کے لئے مبعوث ہوا ہے۔ تاکہ عیسویت کو محو کر کے اسلام کو روشن کرے اور یہ بھی برملا کہتا ہے کہ خدا نے اسے بتلا دیا ہے کہ سلطنت بھی اسی کو ملنے والی ہے۔ چنانچہ اس نے اپنی متعدد تصانیف میں یہ الہام وکشف سنایا ہے کہ خدا نے اسے بتلا دیا ہے کہ بادشاہ اس کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ بلکہ یہ بھی لکھ دیا ہے کہ وہ بادشاہ اسے دکھائے بھی گئے ہیں اور یہ

صفحہ ٣٨٧

و بغاوت برپا کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزا قادیانی نے مسلمانوں کو نصاریٰ سے سخت بدظن اور مشتعل کر رکھا ہے۔ وہ دجال سمجھتے ہیں تو نصاریٰ کو، خردجال کہتے ہیں تو ریلوے کو، اب سوال یہ ہے کہ یہ ریلوے کس نے جاری کر رکھی ہے؟ جب یہ خردجال ہے تو اس کے چلانے والے بادشاہ وقت کو ہی یہ دجال کہتے ہیں اور مسلمانوں کو اس کے برخلاف سخت مشتعل کر رہے ہیں۔ گورنمنٹ کو ایسے اشخاص کا ہر وقت خیال رکھنا چاہئے۔ یہاں گنجائش نہیں ہم کسی وقت اس بارہ میں مفصل بحث کر کے گورنمنٹ کو اس کے خطرناک خیالات سے مطلع کریں گے۔

دعویٰ کر دیا ہے اور ظلی کی قید جو یہاں لگائی ہے یہ محض مصلحت وقت کے لئے ہے۔ ورنہ اس مقدمہ میں یہ صاف طور پر مرزا قادیانی نے کہہ دیا ہے کہ وہ نبی اللہ اور رسول بلاکسی قید کے ہے۔ چنانچہ اپنی تحریری بحث میں جو اس نے انگریزی میں داخل کی ہے یہ بھی ایک عذر کیا گیا تھا کہ چونکہ مرزا قادیانی مدعی نبوت ہے اور نبوت کے مدعی کو کذاب کہنے والا کذاب ہوتا ہے۔ اس لئے مستغیث کو جو اس کے دعویٰ کو جھوٹا سمجھتا ہے اس نے کذاب کہا۔ چنانچہ اس کی عبارت کا ترجمہ حسب ذیل ہے۔

”اصول اسلام کے بموجب اس معاملہ کی ایک اور حالت ہے وہ شخص جو ایک شخص مدعی رسالت کو جھوٹا جانتا ہے کذاب ہے اور یہ بات شہادت استغاثہ سے مانی گئی ہے۔ اب مستغیث پورے طور پر جانتا ہے کہ ملزم نمبر ١ نے اس حیثیت (یعنی نبوت رسالت) کا دعویٰ کیا ہے اور باوجود اس کے مستغیث نے اس کی تکذیب کی۔ پس مذہبی اصطلاح کے رو سے مستغیث کذاب تھا۔“

اب دیکھئے ! اس موقعہ پر دعویٰ رسالت کا بلاکسی قید کے بالصراحت اعتراف کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اسی وجہ سے وہ نبی رسول ہے اور اپنے جھٹلانے والے کو کذاب کہنے کا حق رکھتا ہے اور ایسا ہی اس کے مخلص حواری اور وکیل مولوی محمد علی صاحب ایم اے پلیڈر نے اپنی شہادت میں یوں لکھایا ہے۔ مکذب مدعی نبوت کذاب ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی ملزم مدعی نبوت ہیں۔ اس کے مرید اس کو دعویٰ میں سچا اور دشمن اس کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔ پھر آگے چل کر گواہ مذکور اپنے بیان میں یوں لکھاتا ہے: ”مرزا قادیانی دعویٰ نبوت کا اپنی تصانیف میں کرتے ہیں۔“ اب یہ بات نہایت وضاحت سے ثابت ہو گئی کہ مرزا قادیانی مدعی نبوت ورسالت ہے۔ اب اگر مرزا قادیانی یا ان کے مرید جو ہمیشہ ایسا کیا کرتے ہیں کہ جب ان کو کہا جائے کہ مرزا قادیانی رسالت ونبوت کا مدعی

١١٣

صفحہ ٣٨٨

ہے تو وہ صاف کانوں پر ہاتھ دھرتے ہیں اور مرزا قادیانی کا یہ مصرعہ پیش کر دیا کرتے ہیں۔

من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب

لیکن اس مقدمہ میں یہ بات صاف ظاہر ہو گئی کہ مرزا قادیانی رسالت و نبوت کا کھلے طور سے مدعی ہے۔ جیسا کہ فہرست عقائد اور تحریری بحث اور مولوی محمد علی کی شہادت سے ثابت ہو گیا اور ظاہر ہے کہ یہ عقیدہ آیت صریح ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین (احزاب:٤٠)“ کی صریح تکذیب ہے اور ١٤ سو سال سے جو مسلمانوں کا بالتواتر جو مسلمہ عقیدہ چلا آیا ہے اس کی مخالفت ہے اور ایسی گستاخی اور سخت جرات ہے جو کسی شخص نے آنحضرت ﷺ کے بعد آج تک نہیں کی۔ صحابہ کرام نے (باوجود کثرت فضائل ) دروازہ نبوت کو ہرگز نہ کھٹکھٹایا۔ بڑے بڑے اولیائے کرام صاحب کرامات و خوارق ہو گزرے۔ لیکن کسی کو یہ جرات نہ ہوئی کہ منصب رسالت کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے۔ آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام کو کہہ دیا کہ اگر کوئی میرے بعد نبی ہوتا تو فلاں میرے صحابی ہوتے۔ لیکن نبوت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ لیکن اللہ رے دلیری یہ گستاخی کی تو چودھویں صدی کے ایک مغل زادہ (مرزا غلام احمد قادیانی) نے جو ختم نبوت کی مہر توڑنے لگا۔ منصب رسالت کی بے ادبی کرنے لگا۔ ”انا لله وانا الیه راجعون“ مرزا قادیانی کے مریدوں کی تو اب یہ حالت ہے کہ اگر روز روشن کو وہ رات کہہ دے تو مرزائی باوجود دیکھنے آفتاب عالمتاب کے یہی کہیں گے کہ بیشک اس وقت رات ہی ہے۔ دیکھو تو ہمارے مرشد مولا، خدا کے سچے ملہم جو کہہ رہے ہیں۔ پھر اس ہٹ اور ضد کا کیا علاج ہے۔ لیکن اس موقعہ پر میں مناسب سمجھتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے اس دعویٰ نبوت کی نسبت ان کا اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک فتویٰ کفر ناظرین کے سامنے کردوں۔ تا کہ حسب مقولہ مشت خود در بان خود مرزا قادیانی کی اپنی تحریر ان کو الزام دے اور فتویٰ کسی ایسے زمانہ کا ہے جس وقت آپ نبوت اور رسالت کا کھلے طور پر دعویٰ کرنے سے ڈرتے تھے اور صرف ملہمیت اور محدثیت کے القاب اس وقت اپنے حق میں استعمال کرتے تھے۔ اب جوں جوں مریدان خوش اعتقاد ان کے دعاوی پر آمنا وصدقنا کہتے گئے ۔ آپ کا حوصلہ وسیع ہوتا گیا اور آپ نے کھلے طور پر دعویٰ نبوت اور رسالت کا کر دیا۔

تمام گزشتہ اولیاء سے افضل ہیں تو گویا آپ صحابہ کرام تابعین تبع تابعین اور حضرت غوث الثقلین وغیرہ اولیاء کرام سے افضل ہیں۔ نعوذ باللہ من ذلک! سارے مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ رسول ١١٤

صفحہ ٣٨٩

محمدﷺ کے بعد افضل البشر حضرت ابوبکر صدیقؓ ہیں پھر آپ کے دیگر صحابہ کرام درجہ بدرجہ اس پر نہ صرف احادیث رسول مقبولﷺ ہی شاہد ہیں بلکہ قرآن کریم بھی صحابہ کرام کے فضائل پر ناطق ہے۔ چنانچہ اس سے انکار کرنا گویا روز روشن میں آفتاب عالمتاب سے انکار کرنا ہے۔ پھر کتنا بڑا غضب ہے کہ مرزا قادیانی نے تمام اسلامی عقائد کو ملیا میٹ کر کے کھلے طور پر دعویٰ کر دیا کہ وہ تمام صحابہ کرام اور اولیاء اللہ سے افضل ہے۔ بھلا کوئی اس اپنے منہ میاں مٹھو بننے والے سے یہ تو پوچھے کہ آپ نے کون سی خدمت اسلام کی کی ہے۔ جس کے عوض تمہیں یہ کہنے کا حق پیدا ہو گیا ہے کہ تم آنحضرتﷺ کے جان نثار آپ کے یاران غار صحابہ کرام (جنہوں نے اسلام کی خدمت اور ہادی اسلام کی محبت میں اپنے املاک اپنی جانیں قربان کر دیں) سے افضل ہو گئے ہو۔ مرزا قادیانی! کاش آپ کو ایسی گستاخی سے شرم آتی۔ خدا کا خوف کیا ہوتا۔ بھلا تمہارے جیسے نفسانی شخص یاقوتیاں اور عنبر اڑانے والے پلاؤ زردے، مرغے، انڈے کھانے والے حضرت صدیق اکبرؓ جیسے تمام مال و جائداد خدا کے راستہ میں لٹا کر ایک کمبل پہن لینے والے اور سات سات روز فاقہ سے گزار دینے والے اور حضرت عمر فاروقؓ جیسے دلق پوش نفس کش اور دیگر صحابہ کرامؓ سے دعویٰ افضلیت کا حق رکھتے ہیں۔ افسوس صد ہزار افسوس۔

مسلمانو! مرزا قادیانی کے اس عقیدہ نمبر ٩ کو پڑھ کر انصاف کرنا اور پھر ذرا مرزا قادیانی کے مریدوں کے سامنے یہ عقیدہ رکھ کر ان سے پوچھنا کہ بھائیو ١٤ سو سال سے اس قسم کی جرأت کسی مسلمان نے مسلمان کہلا کر کی ہے کہ وہ امت محمدیہ کے تمام گزشتہ اولیاء (جن میں صحابہ کرامؓ اور دیگر اولیاء عظام سب داخل ہیں) سے افضل ہونے کا علی رؤس الاشہاد دعویٰ کرے۔ بھلا یہ تو بتلانا کہ حضرت عمر فاروقؓ نے تو دریائے نیل کو رقعہ لکھ کر بھیجا تھا اور دریا نے گردن اطاعت خلیفہ المومنین کے فرمان کے سامنے رکھ دی تھی۔ آپ کا کہنا تو معمولی انسانوں (ان حکام نے جن کی جوتیوں میں آپ کو کھڑا رہنا نصیب ہوا) بھی نہ مانا۔ آپ نے پانی مانگا اور نہ ملا۔ پھر حضرت عمر فاروقؓ نے خطبہ پڑھتے ہوئے منبر پر کھڑے ہو کر ساریہ کو جب وہ کفار کے نرغہ میں گھر گیا تھا پکارا یا ساریۃ الجبل اور وہ ان کی آواز سینکڑوں کوسوں پر ساریہ کے کانوں میں جا پہنچی اور اس نے آپ کے ارشاد کی تعمیل کرنے پر پہاڑ کی آڑ لے لی اور کفار کے ہاتھ سے بچ گیا۔ لیکن مرزا قادیانی کے مخلص مرید عبداللطیف کے کانوں میں آپ کی ندا دیار کابل میں ہرگز نہ پہنچی تا کہ اس کی جان بچ جاتی۔ پھر آپ کہتے ہیں کہ ان صحابہ کرامؓ سے آپ افضل ہیں۔ ہاں! مرزا قادیانی صحابہ کرامؓ کا درجہ تو بہت بلند تر ہے ان کا ذکر رہنے دیجئے۔ دیگر اولیائے کرام کی کرامات بھی آپ کو معلوم ہی

١١٥

صفحہ ٩١

ہیں۔ حضرت ابراہیم ادہم کا بھی آپ نے قصہ مثنوی مولانا رومؒ میں پڑھا ہے کہ آپ نے اپنی سوزن دریا میں پھینک کر مچھلیوں کو جب پکارا تو ؎

صد ہزاراں ماہیے الہٰی سوزن زر در لب ہر ماہی
سر برون کردند از دریائے حق کہ بگیر اے شیخ سوزنہائے حق

ذرہ آپ بھی تو کبھی ایک آدھ ہی خارق عادت کرامت دکھا دیتے۔ لیکن آپ کے پاس تو بجز ادعا ہی دعویٰ ہے۔ پھر آپ کے اس نرے دعویٰ کو آپ کے مریدان خوش اعتقاد شاید مان ہی جائیں (گو دل سے تو وہ بھی نہیں مانتے ہوں گے) لیکن دیگر مسلمانوں کو تو آپ کے ان عقائد نے آپ سے سخت متنفر کر دیا ہے اور آپ کے ایسے دعاوی پر جسے پیشوایان مذہب (صحابہ کرام) کی سخت توہین ہوتی ہے۔ جو کچھ ان کے دلوں کو صدمہ پہنچ رہا ہے۔ اس کا اندازہ درد مندان اسلام سے ہی پوچھئے۔ والی اللہ المشتکیٰ!

لیکن عقیدہ نمبر ١٠ میں تو آپ نے یہ کہہ کر کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) میں خدا تعالیٰ نے تمام انبیاء کی صفات اور فضائل جمع کر دیئے ہیں۔ انبیاء عظام کی بھی سخت تحقیر کی ہے۔ یعنی انبیاء میں تو فردا فردا کچھ کچھ صفات وفضائل تھے اور بعض سے بعض فضیلت میں برتر تھے۔ ”تلك الرسل فضلنا بعضهم علی بعض “ لیکن مرزا قادیانی میں تمام انبیاء کے صفات اور فضائل جمع کر دیئے گئے ہیں۔ یعنی وہ سب انبیاء سے افضل ہے۔ حالانکہ آج سے پہلے مسلمانوں کے اعتقاد کے رو سے حضرت ختم المرسلینؐ کے لئے یہ درجہ حاصل تھا کہ جملہ انبیاء کے فضائل خدا نے آپ کو دیئے ہیں اور آپ افضل الرسل ہیں۔

آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

چاہئے۔ حالانکہ رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں: ”المهدی من عترتی من ولد فاطمة (ابو داؤد ج ٢ ص ١٣١) “ یعنی مہدی میرے اہل بیت بنی فاطمہؓ سے ہوگا۔ اب کہئے مرزا قادیانی آپ سچے ہیں یا رسول خدا؟ آپ یہ تو فرمائیے کہ آپ کے ہاتھ میں اس امر پر کیا ثبوت ہے کہ مہدی موعود قریش کے خاندان سے نہیں ہونا چاہئے اور مرزائیوں کے خاندان سے ہونا چاہئے۔ جن لوگوں کو اپنے صادق ومصدوق ختم المرسلین نبی برحق پر ایمان ہے وہ کبھی بھی آنحضرت ﷺ کے قول پاک کی تکذیب کر کے آپ کی یہ بات نہ مانیں گے کہ مہدی موعود بنی فاطمہ سے نہ ہونا

١١٦

چاہیے۔ بلکہ اولاد فاطمہ سے ہونا چاہیے۔ علاوہ نے یہ پتہ دیا ہے کہ وہ عرب کے بادشاہ ہوں گے . رجل من اهل بيتى يواطئ اسمه اسـ جب تک یہ نہ ہو کہ عرب کی بادشاہت اس شخص اور اس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا۔ لیکن آپ مہدی موعود ہیں تو آپ کو قادیان (پنجاب لے جانا چاہئے اور عرب کی بادشاہت بھی حاصل کامیاب ہو جائیں گے تو پھر مسلمان اس امر پر ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ دوسری تعریف مہـ ”يملأ الارض قسطاً وعدلاً كما ملئـ سے بھر دے گا۔ جیسی کہ وہ ظلم وبدامنی سے پر ہو (مرزا قادیانی! مسلمان اس مہدی کو عدل وانصاف وامن سے پر کردیں گے۔ مسلمان خونی مہدی کے قائل ہیں۔ کیا آپ مہدی کی تعریف میں خونی کہیں دکھلائیں گے حالانکہ مرزا قادیانی نے تو دنیا میں ہے۔ پھر کس طرح مانا جائے کہ وہ مہدی مو موعود کی رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی ہے۔ ظالم اور جفا کار بادشاہوں کے ہاتھ سے نالا اس وقت مہدی معہود اس فتنہ وفساد کو دور کر پر ایک ایسے امن پسند بادشاہ (ملک معظم قیصـ شمشیر کے مخالف وموافق قائل ہیں اور مـ فرائض بجالاتے ہیں۔ جمعے، عیدین اطمینان ہوئے ہیں۔ یعنی ہم کو اپنے مذہبی امور کی ا زمانہ میں کسی مہدی کی ضرورت سمجھیں تو و کرنے والے ٹھہرتے ہیں۔

صفحہ ٣٩١

چاہیے۔ بلکہ اولاد فاطمہ سے ہونا چاہئے۔ علاوہ اس کے مہدی موعود کی نسبت تو آنحضرت ﷺ نے یہ پتہ دیا ہے کہ وہ عرب کے بادشاہ ہوں گے۔ ”لا تذهب الدنيا حتى يملك العرب رجل من اهل بيتى يواطئ اسمه اسمى (ترمذی ج ٢ ص ٤٧)“ دنیا ختم نہیں ہوگی جب تک یہ نہ ہو کہ عرب کی بادشاہت اس شخص (مہدی) کو حاصل ہو جو میرے اہل بیت سے ہوگا اور اس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا۔ لیکن مرزا قادیانی تو عرب کا نام سن کر کانپتے ہیں۔ اگر آپ مہدی موعود ہیں تو آپ کو قادیان (پنجاب) میں نہیں بیٹھ رہنا چاہئے۔ بلکہ عرب میں تشریف لے جانا چاہئے اور عرب کی بادشاہت بھی حاصل کرنا چاہئے۔ پھر اگر آپ عرب کی ملک گیری میں کامیاب ہو جائیں گے تو پھر مسلمان اس امر پر غور کریں گے کہ آپ کو مہدی کہلانے کا حق حاصل ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ دوسری تعریف مہدی موعود کی آنحضرت ﷺ نے یہ بتلائی ہے۔ ”يملاء الارض قسطاً وعدلاً كما ملئت ظلما وجوراً“ زمین کو عدل و انصاف و امن سے بھر دے گا۔ جیسی کہ وہ ظلم و بدامنی سے پر ہوگی۔

(مرزا قادیانی ! مسلمان اس مہدی کے معتقد و منتظر ہیں جس کی تعریف یہ ہے کہ وہ دنیا کو عدل وانصاف و امن سے پر کر دیں گے۔ حالانکہ آپ گورنمنٹ کو مغالطہ دے رہے ہیں کہ مسلمان خونی مہدی کے قائل ہیں۔ کیا آپ برخلاف اس تعریف کے جو اس تعریف میں ہے مہدی کی تعریف میں خونی کہیں دکھلائیں گے)

حالانکہ مرزا قادیانی نے تو دنیا میں شور و شرارت بدامنی سے نمونہ قیامت برپا کر دیا ہے۔ پھر کس طرح مانا جائے کہ وہ مہدی موعود ہیں۔ اس تعریف سے جو حدیث بالا میں مہدی موعود کی رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی ہے۔ بعثت مہدی علیہ السلام کا زمانہ ہی وہ ہوگا جب کہ دنیا ظالم اور جفا کار بادشاہوں کے ہاتھ سے نالاں ہوگی اور زمین پر بدامنی اور فساد پھیلا ہوا ہوگا اور اس وقت مہدی معہود اس فتنہ و فساد کو دور کر کے امن قائم کریں گے۔ حالانکہ اس وقت ہمارے سر پر ایک ایسے امن پسند بادشاہ (ملک معظم قیصر ہند) کا ہاتھ ہے جس کے انصاف و عدل اور امن گستری کے مخالف وموافق قائل ہیں اور مسلمان اس کے سایہ میں امن وامان سے اپنے مذہبی فرائض بجالاتے ہیں۔ جمعے وعیدین اطمینان سے پڑھتے ہیں اور بیوت اللہ (مساجد) کو آباد کئے ہوئے ہیں۔ یعنی ہم کو اپنے مذہبی امور کی بجا آوری سے بالکل آزادی ہے۔ پھر اگر مسلمان اس زمانہ میں کسی مہدی کی ضرورت سمجھیں تو وہ حدیث رسولی (جو اوپر ذکر ہو چکی ہے) کی تکذیب کرنے والے ٹھہرتے ہیں۔

١١٧

PDF 393

اب فرمائیے کہ مہدی علیہ السلام کے متعلق جو عقیدہ ہم مسلمانوں کا ہے گورنمنٹ کے نزدیک قابل اطمینان ہے یا وہ عقیدہ جو آپ نے پھیلا رکھا ہے کہ مہدی و مسیح اس وقت ہندوستان میں اور خاص قادیان ضلع گورداسپور میں بیٹھا ہوا ہے۔ مسلمان اس کے ساتھ ہولیں تا کہ کسرِ صلیب کا کوئی انتظام کیا جاوے اور دجال کا خروج بھی ہو چکا ہے۔ وہ کون نصاریٰ (انگریز) ہیں اور ان کی ریل دجال کا گدھا ہے اور عنقریب بادشاہت اسی مہدی کے گروہ میں آنے والی ہے اور خدا نے اس مہدی سے کہہ دیا ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اور ان بادشاہوں کی صورتیں بھی خدا نے اس مہدی کو دکھا دی ہیں۔ سو یہ ایک خطرناک عقیدہ ہے جو قادیانی مہدی نے مسلمانوں میں پھیلانے کی کوشش کی ہے اور لوگوں کو طرح طرح کی دھمکیاں دے کر یہ عقیدہ منوانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کسی کو موت کی دھمکی دی جاتی ہے اور کسی کو سخت ذلت کی۔ کہیں زلزلوں کے حوادث سے ڈرایا جاتا ہے اور کہیں طاعون کا تازیانہ دکھایا جاتا ہے۔ بہر حال مرزا قادیانی کا ہندوستان میں اس زمانہ امن میں ضرورت مہدی اور ظہور مہدی کا عقیدہ قائم کرنا ایک خوفناک عقیدہ ہے۔ جس سے کسی آنے والے فتنہ کا سخت خوف ہے۔ "اللهم احفظنا من الفتن واهدنا الصراط المستقيم"۔

سے افضل ہونے کا کھلے طور پر دعویٰ کیا ہے۔ حالانکہ کوئی شخص غیر رسول، رسول سے افضل نہیں ہو سکتا۔ خواہ وہ کیسا ہی عارف زاہد صاحب کمالات کیوں نہ ہو۔ ( یہ مسلمانوں کا عقیدہ مسلمہ ہے ) اور پھر ایسے رسول سے جو صاحب شریعت و کتاب ہو اور جس کے فضائل پر قرآن شریف شاہد ہو اور جس کے معجزات کی ایک دنیا معترف ہو اور ادھر افضلیت کے مدعی کی یہ حالت ہو کہ اس کی منکوحہ آسمانی (محمدی بیگم) اغیار کے ہم آغوش ہو اور مسیحیت کا دعویدار دیکھ دیکھ کر خون جگر کھا رہا ہو اور آسمانی عدالت میں اس کی اس قدر بھی شنوائی نہ ہو کہ وہاں سے عزرائیل (ملک الموت) ایک مسلح سپاہی کے ہاتھ ایک وارنٹ گرفتاری بھیج کر اس کے رقیب کو فوراً عالم برزخ کی جوڈیشل حوالات میں دیا جا کر اپنے برگزیدہ نبی (معاذ اللہ ) کی منکوحہ اس کو واپس دلائی جائے۔ مرزا قادیانی جب تک آپ کا محمدی بیگم والا الہام پورا نہ ہو۔ کون عقلمند ہوگا جو آپ کو رسولوں سے افضل صاحب کرامت و معجزہ تسلیم کرلے۔ آپ خدا سے گڑ گڑا کر دعا مانگو اور رو رو کر درخواست کرو کہ آپ کی آسمانی منکوحہ جلد تر بموجب الہام آپ کو عطا ہو۔ ایسا نہ ہو کہ خدانخواستہ آپ اپنے ایام زندگی کو بسر کر کے آنجہاں کو چل دیں اور آپ کی دلی آرزو آپ کے ساتھ ہی خاک میں مل

١١٨

جائے۔ پھر آپ کے مرید تو شاید یہ کہہ کر و بیگم دوسروں کے قبضہ میں رہی۔ آخر اس ب آہی جائے گی۔ لیکن مرزا قادیانی کی تربت

جب مر چکے
پتھر پڑیں مت

زندہ نہیں کیا۔ حالانکہ قرآن شہادت دیتا مردوں کو خدا کے اذن سے زندہ کرتے آیت قرآن پیش کر دیتے ہیں۔ ”وابرئ میں مادر زاد اندھوں کو تندرست کرتا ہوں او

اب ناظرین اس نص قرآنی کرنے کی ہمیں ضرورت ہو صرف آیت۔ عیسیٰ حقیقی مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ خدا للذكر“ تو پھر اگر موتی کے معنی کی نسب طرف دوڑیں تو پھر یسرنا القرآن کے کی بن جائیں گے۔ حالانکہ ایسا خیال کرنا مرزا قادیانی تاویل کرتے ہیں وہ لوگ مراد کہ ان میں ایمان واسلام کی روح ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اس ص اور علماء ربانیین کا کام ہے کہ وہ مردہ دلو اور آیت موصوفہ میں اس وصف احیاء م خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ”ان فی ذلک ہے اگر تم مومن ہو۔

آیت (نشان) وہی ہوتا ہے کہ ١٣٠٠ سال سے مسلمان متفقہ عقیدہ رک زندہ کئے جیسا کہ مولانا شاہ عبدالقادر ص

صفحہ ٣٩٣

جائے۔ پھر آپ کے مرید تو شاید یہ کہہ کر دل کو تسکین دے دیں کہ کیا مضائقہ ہے جو دنیا میں محمدی بیگم دوسروں کے قبضہ میں رہی۔ آخر اس نے بھی مرنا ہے اور پھر اس جہان میں تو مسیح کے قابو میں آہی جائے گی۔ لیکن مرزا قادیانی کی تربت سے تو اس وقت یہی ندا آئے گی؎

جب مر چکے تو آئے ہمارے مزار پر
پتھر پڑیں صنم تیرے ایسے پیار پر

٨....... عقیدہ نمبر ١٥ میں مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کوئی حقیقی مردہ زندہ نہیں کیا۔ حالانکہ قرآن شہادت دیتا ہے کہ احیاء موتی کا معجزہ حضرت عیسیٰ کو دیا گیا تھا اور وہ مردوں کو خدا کے اذن سے زندہ کرتے تھے۔ اس بارہ میں ہم قرآن کریم کو ہی حکم کرتے ہیں اور آیت قرآن پیش کر دیتے ہیں۔ ”وابرئ الاکمہ والابرص واحی الموتی باذن الله“ میں مادر زاد اندھوں کو تندرست کرتا ہوں اور کوڑھی کو اور مردوں کو خدا کے حکم سے زندہ کرتا ہوں۔

اب ناظرین اس نص قرآنی کو پڑھیں اور بدون اس کے کہ کسی تفسیر کی طرف رجوع کرنے کی ہمیں ضرورت ہو صرف آیت کے صریح معانی کو ہی لینے سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ عیسیٰ حقیقی مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ خدا تعالیٰ نے فرما دیا ہے۔ ”ولقد يسرنا القرآن للذکر“ تو پھر اگر موتی کے معنی کی نسبت اس کے صریح اور حقیقی معنے کو چھوڑ کر ہم مجازی معانی کی طرف دوڑیں تو پھر یسرنا القرآن کے کیا معنے ہوں گے۔ پھر تو قرآن کے الفاظ ایک معما لاینحل بن جائیں گے۔ حالانکہ ایسا خیال کرنا بالکل واہی ہے۔ مردوں سے مراد اگر یہاں پر جیسا کہ مرزا قادیانی تاویل کرتے ہیں وہ لوگ ہوں جن کے دل مردہ ہوں اور ان کو زندہ کرنے سے یہ مراد کہ ان میں ایمان واسلام کی روح پھونک دی جاتی ہے تو یہ ہر ایک نبی کی صفت میں آسکتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اس صفت کو مخصوص کرنا چہ معنی دارد! یہ تو سارے انبیاء بلکہ اولیاء اور علماء ربانیین کا کام ہے کہ وہ مردہ دلوں کو اپنے انفاس مقدسہ کی برکت سے نئی زندگی بخشتے ہیں اور آیت موصوفہ میں اس وصف احیاء موتی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف نسبت فرما کر آگے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ”ان فی ذلک لایة لکم ان کنتم مؤمنین“ یہ تمہارے لئے نشان ہے اگر تم مومن ہو۔

آیت (نشان) وہی ہوتا ہے جو خارق عادت اور غیر معمولی ہو اور علاوہ ازیں اس بات پر ١٤ سو سال سے مسلمان متفقہ عقیدہ رکھتے چلے آئے ہیں کہ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مردے زندہ کئے جیسا کہ مولانا شاہ عبدالقادر صاحب موضح القرآن میں لکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ نے چودہ

١١٩

صفحہ ٣٩٥

مردے جلائے تھے۔ ان میں سے ایک حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے بھی تھے۔ جن کی وفات کو چار ہزار برس گزرے تھے۔“

مرزا قادیانی کا اپنی نسبت اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا فتویٰ کفر

ہم اب اس فتوے کو لکھتے ہیں جس کا وعدہ صفحہ کے اخیر پر کیا گیا تھا اور یہ وہ فتویٰ ہے جو مرزا قادیانی نے گویا اپنے ہاتھ سے لکھ کر اپنے کفرنامہ پر مہر کر دی ہے اور اب مسلمانوں کو کوئی ضرورت نہیں ہے کہ امام الزمان (مرزا قادیانی) کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے فتوے تکفیر کے مقابلہ میں دوسرے علماء سے فتوے پوچھتے پھریں کہ مرزا قادیانی کافر ہیں یا نہ۔

یہ پہلے لکھا جاچکا ہے کہ مرزا قادیانی نے اب صریح طور پر دعویٰ نبوت ورسالت کر دیا ہے۔ جیسا کہ اثنائے مقدمہ میں انہوں نے اپنی بحث تحریری میں لکھ دیا ہے اور پھر ان کے مخلص حواری مولوی محمد علی وکیل نے اپنی شہادت میں کہہ دیا ہے اور پھر فہرست عقائد میں بھی رسالت کا دعویٰ کیا گیا۔ گو بروزی کی قید ہی سہی لیکن مرزا قادیانی پر ایک ایسا زمانہ بھی تھا جس وقت آپ کو دعویٰ نبوت ورسالت پر ان کی کانشس ملامت کرتی تھی اور آیات قرآنی آپ کو اس بیجا ادعاء پر ڈانٹ پلاتی تھیں۔ اس زمانہ میں آپ پکار پکار کر کہتے تھے کہ مجھے اللہ جل شانہ کی قسم ہے میں کافر نہیں ”لا الہ الا اللہ محمد رسول “ میرا عقیدہ ہے اور ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ پر آنحضرتﷺ کی نسبت میرا ایمان ہے۔

(کرامات الصادقین ص ٢٥، خزائن ج ٧ ص ٤٢)

بلکہ آپ نے صاف طور پر لکھ دیا تھا ”اعلم یا اخی انی ما ادعیت النبوۃ وما قلت لھم انی نبی“

(حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

ترجمہ: بھائی میں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور ان کو نہیں کہا کہ میں نبی ہوں۔

اور پھر اسی کتاب کے صفحہ مذکور پر دعویٰ نبوت کرنے کو کفر لکھا اور خود کو ایسے دعویٰ کفر سے بری کیا۔ ان کی وہ عبارت عربی بمعہ ترجمہ درج ذیل کر کے اس کا ترجمہ دیا جاتا ہے۔ ”وما کان لی ان ادّعی النبوۃ واخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین وھا اننی لا اصدّق الہاماً من الہاماتی الا بعد ان اعرضہ علی کتاب اللہ واعلم انہ کلما یخالف القرآن فھو کذب والحاد وزندقہ فکیف ادّعی النبوۃ وانا من المسلمین“ (حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧) مجھے کیا حق ہے کہ نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے خارج ہوں اور قوم کفار میں شامل ہوں اور میں اپنے کسی الہام کو سچا نہیں کہتا جب تک اس کو کتاب اللہ پر پیش نہ کروں اور واضح ہو کہ جو کچھ قرآن کے مخالف ہے وہ جھوٹ ہے الحاد و بے

١٢٠

دینی ہے۔ پھر میں کیوں کر دعویٰ نبوت کر سکتا ہوں، جبکہ

اب ناظرین سے باادب التماس ہے

پڑھیں ۔ ایک دفعہ نہیں بلکہ دو تین مرتبہ پڑھیں اور دیکھیں جو ہم نے بلا کم و کاست نقل کیا ہے یا اس پر ا اس بات کا خود فیصلہ کریں کہ یہ عبارت آپ کی نسبت کر دیا ہے ۔ کیا فتویٰ تجویز کرتی ہے ۔ صاف کہنا پڑ ادعاء نبوت، کفر، الحاد، زندقہ، خروج عن الاسلام لحر عبارت بالا جو قدرت نے کسی زمانہ

مسائل ذیل کا تصفیہ کرتی ہے۔

کے مخالف ہونے کی وجہ سے ناقابل تسلیم ہیں۔“ و

کلما یخالف القرآن“ اس لئے مرزا قادیانی

النبوة وانا من المسلمین“ اب مرزا قادی کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی نسبت فتویٰ تکفی کوئی ضرورت باقی رہتی ہے یا ان کے وجوہات ہے؟ ہر گز نہیں بلکہ مرزا قادیانی کی تحریر مندرجہ میں فتوے کفر کے لئے یہ ان کا اپنا ناطق فیصلہ مو ہے کہ امام الزمان کے اس فیصلہ کو رد کرے اور کرنا پڑے گا۔

مردم از دس
قادیانی ز مس
صفحہ ٣٩٥

دینی ہے۔ پھر میں کیوں کر دعویٰ نبوت کر سکتا ہوں۔ حالانکہ میں مسلمان ہوں۔

اب ناظرین سے بادب التماس ہے کہ مرزا قادیانی کی اس عبارت کو غور سے پڑھیں ۔ ایک دفعہ نہیں بلکہ دو تین مرتبہ پڑھیں اور جو حضرات عربی نہیں جانتے وہ ترجمہ اردو کو دیکھیں جو ہم نے بلا کم و کاست کیا ہے یا اس پر اعتبار نہ ہو تو کسی عربی دان سے ترجمہ کرا لیں اور پھر اس بات کا خود فیصلہ کریں کہ یہ عبارت آپ کی نسبت زمانہ حال میں جب کہ آپ نے دعویٰ نبوت کر دیا ہے۔ کیا فتویٰ تجویز کرتی ہے۔ صاف کہنا پڑے گا کہ آپ کی یہ تحریر آپ کے برخلاف بوجہ ادعاء نبوت، کفر، الحاد، زندقہ، خروج عن الاسلام، لحوق بالکفار کا فتویٰ تجویز کرتی ہے۔

عبارت بالا جو قدرت نے کسی زمانہ میں مرزا قادیانی کے اپنے ہاتھ سے لکھائی ہے مسائل ذیل کا تصفیہ کرتی ہے۔

کے مخالف ہونے کی وجہ سے ناقابل تسلیم ہیں۔ ”وہا اننی لا اصدق الہاما“

کلما یخالف القرآن“ اس لئے مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت جھوٹ، الحاد، بے دینی ہے۔

النبوۃ وانا من المسلمین“ اب مرزا قادیانی اور ان کے مرید اور تمام مسلمان انصاف سے کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی نسبت فتویٰ تکفیر کے لئے کسی اور مفتی کی طرف رجوع کرنے کی کوئی ضرورت باقی رہتی ہے یا ان کے وجوہات کفر پر کسی اور دلیل دینے کی ضرورت باقی رہتی ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ مرزا قادیانی کی تحریر مندرجہ بالا ہی اس بارہ میں کافی حجت ہے اور ان کے حق میں فتوے کفر کے لئے یہ ان کا اپنا ناطق فیصلہ موجود ہے۔ کیا مرزا قادیانی کا کوئی مرید جرأت کر سکتا ہے کہ امام الزمان کے اس فیصلہ کو رد کرے اور مرزا قادیانی کو تو اب اپنی تحریر دیکھ کر اس شعر کا ورد کرنا پڑے گا۔

مردم از دست غیر نالہ کنند
قادیانی ز دست خود فریاد

١٢١

صفحہ ٣٩٦

١٥/ دسمبر ١٩٠٣ء کی پیشی

مستغیث پر جرح ہونے کے بعد آئندہ تاریخ پیشی ١٥/ دسمبر ١٩٠٣ء قرار پائی تھی۔ اس تاریخ پر گواہان استغاثہ بھی حاضر آئے اور مرزا قادیانی بھی معہ اپنے حواری کے اصالتاً حاضر تھے۔ مولوی غلام محمد صاحب قاضی تحصیل چکوال کی شہادت شروع ہوئی۔ اثناء شہادت گواہ موصوف میں عدالت نے مناسب سمجھا کہ مرزا غلام احمد ملزم سے کچھ استفسار کیا جائے۔ چنانچہ مرزا قادیانی سے کہا گیا کہ آپ سے استفسار ہوتا ہے۔ آپ سامنے ہو کر لکھائیں مرزا قادیانی ادھر ادھر جھانکنے لگے۔ آپ کے وکیل نے کہا کہ میں مشورہ نہیں دیتا کہ میرا موکل بیان لکھائے۔ مجسٹریٹ نے کہا کہ ہم ضرور پوچھیں گے۔ کیوں مرزا قادیانی جواب دو گے یا نہیں۔ مرزا قادیانی کے اعضاء پر کچھ رعشہ سا آ گیا اور مجسٹریٹ کا رعب کچھ ایسا چھایا کہ آپ کو وکیل کے مشورے کے خلاف عدالت کے حکم کی تعمیل کرنی پڑی اور آپ کا بیان قلمبند کیا گیا جس کی نقل حسب ذیل ہے۔

بیان مرزا غلام احمد ملزم

سوال...... کیا مواہب الرحمٰن آپ کی تصنیف ہے؟ جواب...... میری تصنیف ہے۔ سوال...... یہ الفاظ لئیم کذاب، بہتان عظیم مندرجہ صفحہ ١٢٩ کلمات تحقیر ہیں کہ نہیں؟ جواب...... جو شخص ان الفاظ کا مصداق نہ ہو اس کی نسبت تحقیر کے کلمات ہیں۔ سوال...... صفحہ ١٢٩ کا مضمون مستغیث کی نسبت ہے یا کیا؟ جواب...... ہاں مستغیث کی نسبت ہے۔ سوال...... کیا آپ مستغیث کو ان الفاظ کا مصداق سمجھتے تھے؟ جواب...... ہاں سمجھتا تھا۔ سوال...... کیا آپ نے یہ کتاب جہلم میں تقسیم کی؟ جواب...... جہلم میں یہ کتاب تقسیم ہوئی تھی جو میرے سامنے میرے آدمیوں نے شائع کی تھی۔ مفصل بیان میں تحریری بذریعہ وکیل دینا چاہتا ہوں جو بعد میں دیا جائے گا۔ سوال...... کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ص ١٢٩ مواہب الرحمٰن جس میں الفاظ لئیم وغیرہ آئے ہیں کس تاریخ کو آپ نے لکھا اگر ٹھیک تاریخ یاد نہیں ہے تو قریباً قریباً تاریخ اس صفحہ کی تحریر کی کونسی ہے۔ جواب...... ١٢، ١٣، ١٤/ جنوری ١٩٠٣ء کو یہ صفحہ میں نے لکھا تھا۔ مختلف صفحوں کا مضمون مختلف تاریخوں پر لکھتا رہا ہوں۔ جیسا کہ مضمون بنتا گیا ویسا لکھتا گیا۔ تاریخوں کی کوئی یادداشت میرے

١٢٢

پاس نہیں ہے۔ مگر زبانی یادداشت سے مجھ کو یہ بتا سوال...... کیا آپ نے اس کتاب کا کوئی مضمو جواب...... میں اس کو اچھی طرح سے بیان نہیں کہ لکھا ہو یا نہ لکھا ہو۔ العبد مرزا غلام احمد بحروف فارسی ،

مولوی برکت علی صاحب منصف کی ط

ملزم کا بیان لکھا جانے کے بعد پھر ہوئی۔ دوسرے روز ١٦/ دسمبر کو جناب مولوی ہوئی۔ چونکہ مولوی صاحب ایک بڑے لائق ا لئے بہت سے لوگ اہل کاران وغیرہ جمع ہو مرزا قادیانی کے لائق وکلاء نے بامداد مرزائی رکھے تھے اور ان کا خیال تھا کہ زبردست جرح اور اگر چہ منصف صاحب کی قابلیت علم انگریز آپ کی لیاقت عربی علوم میں کیسی ہے اور با ہونے تھے اور الفاظ استغاثہ کردہ جو عربی تھے تھی۔ اس لئے مرزائی سمجھے ہوئے تھے کہ گو لیکن جس وقت خواجہ کمال الدین صاحب و قابلیت اور لیاقت سے فاضل گواہ نے جوابا عدالت میں موجود تھے سن کر حیرت زدہ ہو گ صرف دعوے کے جس وقت بیان کی تو سوالات پیش نہ جاسکی۔ آخر تھک کر رہ گئے اور جرح حیثیت اور الفاظ استغاثہ کردہ کے سخت عر حیثیت عرفی ہونے کے متعلق تھی۔ منصف لاگ شہادت تھی) عدالت کو معلوم ہو گیا کہ کی حیثیت کا ازالہ کرتے ہیں۔ یہ بات بھی نے ایک چھپی ہوئی عربی تحریر (جس کو مر

صفحہ ٣٩٧

پاس نہیں ہے۔ مگر زبانی یادداشت سے مجھ کو یہ تاریخیں یاد ہیں۔ سوال ...... کیا آپ نے اس کتاب کا کوئی مضمون ٦؍اکتوبر ١٩٠٢ء سے پہلے بھی لکھا تھا؟ جواب ...... میں اس کو اچھی طرح سے بیان نہیں کرسکتا۔ یعنی مجھ کو یہ یاد نہیں ہے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ لکھا ہو یا نہ لکھا ہو۔ مورخہ ١٥؍دسمبر ١٩٠٣ء العبد مرزا غلام احمد بحروف فارسی ، میں نے خود پڑھ کر دستخط کئے دستخط حاکم

مولوی برکت علی صاحب منصف کی شہادت

ملزم کا بیان لکھا جانے کے بعد پھر مولوی غلام محمد صاحب کی شہادت ہو کر جرح ختم ہوئی۔ دوسرے روز ١٦؍دسمبر کو جناب مولوی برکت علی صاحب منصف بٹالہ کی شہادت شروع ہوئی۔ چونکہ مولوی صاحب ایک بڑے لائق اور فاضل مشہور شخص ہیں۔ آپ کی شہادت سننے کے لئے بہت سے لوگ اہل کاران وغیرہ جمع ہوگئے اور کمرہ عدالت میں ایک خاصہ ہجوم ہوگیا۔ مرزا قادیانی کے لائق وکلاء نے بامداد مرزائی جماعت مولویوں کے بہت کچھ سوالات جرح لکھ رکھے تھے اور ان کا خیال تھا کہ زبردست جرح سے فاضل گواہ کی شہادت میں سقم پیدا کردیں گے اور اگرچہ منصف صاحب کی قابلیت علم انگریزی میں تو مسلّم تھی لیکن کسی کو اس بات کا علم نہ تھا کہ آپ کی لیاقت عربی علوم میں کیسی ہے اور اس شہادت میں سوالات عربی علم، ادب کے متعلق ہونے تھے اور الفاظ استغاثہ کردہ جو عربی تھے ان کی تشریح لغت گرامر اور علم ادب کے رو سے ہونی تھی۔ اس لئے مرزائی سمجھے ہوئے تھے کہ گواہ سوالات جرح کے جوابات میں چکر کھا جائے گا۔ لیکن جس وقت خواجہ کمال الدین صاحب وکیل ملزم نے گواہ مذکور پر جرح کرنی شروع کی تو اس قابلیت اور لیاقت سے فاضل گواہ نے جواب دینے شروع کئے کہ تمام عربی دان فضلاء جو کمرۂ عدالت میں موجود تھے سن کر حیرت زدہ ہوگئے۔ آپ نے الفاظ استغاثہ کردہ کی تشریح بموجب علم صرف ونحو کے جس وقت بیان کی تو سوالات (وکیل جرح کنندہ) کو ساری جرح بھول گئی اور کچھ پیش نہ جاسکی۔ آخر تھک کر رہ گئے اور جرح ختم کردی۔ منصف صاحب کی گواہی مستغیث کی اعلیٰ حیثیت اور الفاظ استغاثہ کردہ کے سخت مزیل حیثیت الفاظ ہونے اور ان سے مستغیث کی ازالہ حیثیت عرفی ہونے کے متعلق تھی۔ منصف صاحب کی شہادت سے (جو بالکل آزادانہ اور بے لاگ شہادت تھی) عدالت کو معلوم ہوگیا کہ واقعی الفاظ بنائے استغاثہ سخت سنگین ہیں اور مستغیث کی حیثیت کا ازالہ کرتے ہیں۔ یہ بات بھی ذکر کرنے کے قابل ہے کہ اثناء جرح میں وکیل ملزمان نے ایک چھپی ہوئی عربی تحریر (جس کو مرزا قادیانی نے مشکل لغات جمع کرکے مرتب کیا تھا)

١٢٣

صفحہ ٩٩

منصف صاحب کے سامنے رکھی کہ آپ اس کا ترجمہ کریں۔ منصف صاحب اس کا ترجمہ کرنے پر تیار ہو گئے۔ لیکن عدالت نے یہ سوال فضول سمجھ کر رد کر دیا کہ اس کا ترجمہ کرانے کی گواہ سے کچھ ضرورت نہیں۔ اس وقت مستغیث نے ایک عربی نظم ہاتھ میں لے کر مرزا قادیانی سے درخواست کی کہ اگر معیار لیاقت عربی تحریروں کے ترجمہ کرنے پر ہے تو آپ جو عربی میں فاضل وقت ہونے کے مدعی ہیں اس نظم کا ترجمہ کر دیں۔ میں آپ کا اس وقت مرید بنتا ہوں اور مقدمات چھوڑتا ہوں۔ لیکن جیسا کہ تمہید میں ذکر ہو چکا ہے۔ مرزا قادیانی نے سر نیچے کر دیا اور زبان تک نہ کھولی کہ لاؤ ہم ترجمہ کرتے ہیں۔

مولوی ثناء اللہ صاحب کی شہادت

١٧؍ دسمبر ١٩٠٣ء کو مرزا قادیانی کے مشہور مقابل (فاتح قادیان) مولوی ابوالوفا ثناء اللہ صاحب مولوی فاضل امرتسری کی شہادت پر جرح ہونی تھی اور اس تاریخ کو بہت سے مرزائی دور دور سے آئے ہوئے تھے اور علاوہ ان کے اور بھی بہت سے لوگ جمع ہوئے تھے۔ کیونکہ مرزائیوں میں یہ مشہور ہو رہا تھا کہ دیکھو تو مولوی ثناء اللہ صاحب اب ہمارے قابو آیا ہے۔ جرح سے اس کی ہوش مار دیں گے اور تمام مسائل متنازعہ وفات مسیح وغیرہ سب اسی شہادت میں صاف کرالئے جائیں گے۔ مولوی صاحب پر جرح شروع ہوئی اور بہت سی جماعت مرزائی مولویوں کی امداد کے لئے پاس بٹھائی گئی۔ جن میں مولوی محمد احسن صاحب امروہی بھی تھے۔ متفقہ امداد سے سوالات مرتب ہوتے اور فاضل گواہ کے پیش کئے جاتے۔ لیکن جواب سننے پر مرزائیوں کی غشی آجاتی تھی۔ مولوی فاضل گواہ نے بھی مرزائی جماعت کی کچھ پیش نہ جانے دی۔ ١٧ سے شروع ہو کر ١٩ تک جرح ہوتی رہی۔ لیکن مرزائیوں کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ آخر غیر متعلق سوالات کا سلسلہ چھیڑنا چاہا تو عدالت نے فضول سمجھ کر جرح سے روک دیا اور حیات وفات مسیح کی بحث وغیرہ کا منصوبہ دل کا دل ہی میں رہ گیا۔ الغرض شہادت استغاثہ ختم ہو چکی اور آئندہ پیشی کی تاریخ ١٣؍ جنوری ١٩٠٤ء بغرض سماعت بحث فریقین مقرر ہوئی۔

بحث استغاثہ

١٣؍ جنوری کو بحث فریقین سننے کے لئے کمرہ عدالت میں جم غفیر شرفاء شہر گورداسپور اور اہلکاران وغیرہ مردمان کا جمع ہو گیا اور پہلے استغاثہ کی طرف سے بحث شروع ہوئی۔ ١١؍ بجے سے بحث منجانب استغاثہ شروع ہوئی۔ چنانچہ پہلے بابو سولا مل صاحب وکیل نے قانونی بحث نہایت قابلیت سے کی۔ بعد ازاں خود مولوی محمد کرم الدین صاحب مستغیث نے واقعات کی بحث

١٢٤

کی اور اس لیاقت وقابلیت سے تقریر کی کہ موافق اصالتاً حاضر تھے اور بحث سن رہے تھے۔ مولوی رعب پڑا اور ایسی دہشت پڑی کہ ڈیرہ پر پہنچت مرزا قادیانی عدالت میں حاضر نہ آئے اور ان ک فضل الدین ملزم کی طرف سے وکیل نے درخوا ملتوی کیا جائے۔ کیونکہ ملزم عدالت ہذا سے مقد کرنا چاہتا ہے۔ وکلاء استغاثہ نے اعتراض کیا نے ان کی درخواست کو سن کر حسب ذیل حکم کے

نقل حکم ظہری درخواست ملزمان نسبت

آج یہ درخواست وکیل ملزم فضل الد وکیل مستغیث اس امر کی بحث ختم ہو چکی ہے کہ طرف سے آج بحث ہونی تھی کہ فرد جرم مر درخواست دی کہ ہم مقدمہ انتقال کرانا چاہت اعتراض کرتا ہے کہ مہلت مل جاوے۔ فریق ہو سکتی۔ مگر دفعہ ٥٢٦ میں حکم ہے کہ ایسی د چاہئے۔ اس لئے حکم ہوا کہ ایک ماہ کی مہلت التواء کا لاویں۔ مقدمہ ٤؍ فروری ١٩٠٤ء کو پیش

اس کے بعد ٤؍ فروری ١٩٠٤ء ک درخواست انتقال مقدمہ کی گئی جو کہ بذریعہ ذیل ہے۔

نقل درخواست انتقال مقدمہ

جناب عالی! وجوہات درخواست

کہ مستغیث ہی ان خطوط کا لکھنے والا ہے اور نیز وہ ان چٹھیوں کا بھی لکھنے والا تھا جو کو مقدمہ ہذا شروع ہی میں خارج کر دینا

صفحہ ٣٩٩

کی اور اس لیاقت وقابلیت سے تقریر کی کہ موافق ومخالف عش عش کر اٹھے۔ چونکہ مرزا قادیانی بھی اصالتاً حاضر تھے اور بحث سن رہے تھے۔ مولوی صاحب کی زبردست تقریر کا ان کے دل پر سخت رعب پڑا اور ایسی دہشت پڑی کہ ڈیرہ پر پہنچتے ہی تپ شدید میں مبتلا ہو گئے اور دوسرے روز مرزا قادیانی عدالت میں حاضر نہ آئے اور ان کے وکیل نے بیماری کا سرٹیفکیٹ پیش کیا اور ساتھ ہی فضل الدین ملزم کی طرف سے وکیل نے درخواست دی کہ زیر دفعہ ٥٢٦ ضابطہ فوجداری مقدمہ کو ملتوی کیا جائے۔ کیونکہ ملزم عدالت ہذا سے مقدمہ انتقال کرانے کی درخواست عدالت عالیہ میں کرنا چاہتا ہے۔ وکلاء استغاثہ نے اعتراض کیا کہ اس مرحلہ پر اب التواء نہیں ہو سکتا۔ مگر مجسٹریٹ نے ان کی درخواست کو سن کر حسب ذیل حکم کے ذریعہ ١٤ فروری ١٩٠٤ء تک مقدمہ ملتوی کیا۔

نقل حکم ظہری درخواست ملزمان نسبت التوائے مقدمہ

آج یہ درخواست وکیل ملزم فضل الدین نے پیش کی شہادت استغاثہ ختم ہو چکی اور بحث وکیل مستغیث اس امر کی بھی ختم ہو چکی ہے کہ آیا ملزمان پر فرد جرم مرتب ہووے یا نہ اور ملزمان کی طرف سے آج بحث ہونی تھی کہ فرد جرم مرتب کی جاوے یا نہ کی جاوے کہ وکیل ملزم نے یہ درخواست دی کہ ہم مقدمہ انتقال کرانا چاہتے ہیں۔ مہلت مل جاوے فریق ثانی اس درخواست پر اعتراض کرتا ہے کہ مہلت مل جاوے۔ فریق ثانی اس درخواست پر اعتراض کرتا ہے کہ مہلت نہیں ہو سکتی۔ مگر دفعہ ٥٢٦ میں حکم ہے کہ ایسی درخواست کی صورت میں التواء لازمی طور پر کر دینا چاہئے۔ اس لئے حکم ہوا کہ ایک ماہ کی مہلت ملزمان کو دی جائے کہ درخواست انتقال کر کے حکم التواء کا لاویں۔ مقدمہ ٤ فروری ١٩٠٤ء کو پیش ہووے۔ مورخہ ٤ جنوری ١٩٠٤ء (دستخط حاکم)

اس کے بعد ٤ فروری ١٩٠٤ء کو عدالت صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپور میں درخواست انتقال مقدمہ کی گئی جو کہ بذریعہ مسٹر اوریئل صاحب ایڈووکیٹ گزری جس کی نقل درج ذیل ہے۔

نقل درخواست انتقال مقدمہ

جناب عالی ! وجوہات درخواست حسب ذیل ہیں۔

کہ مستغیث ہی ان خطوط کا لکھنے والا ہے۔ جن میں مبینہ دستخطی نوٹ محمد حسن فیضی متوفی کا ذکر ہے اور نیز وہ ان چٹھیوں کا بھی لکھنے والا تھا جو اس کے مضمون سراج الاخبار میں شائع ہوئیں۔ مجسٹریٹ کو مقدمہ ہذا شروع ہی میں خارج کر دینا چاہئے تھا۔

١٢٥

صفحہ ٤٠١

اور اپنا مصمم ارادہ ملزمان پر فرد جرم لگانے اور مجرم قرار دینے کا ظاہر کیا۔

معاف ہو چکی تھی اور مقدمہ خفیف سے خفیف تھا اور ان کی اصالتاً حاضری بالکل غیر ضروری تھی۔

کہ اس استفسار کی غرض استغاثہ کی شہادت کی کمی کو پورا کرنا تھا۔

صحت خطرناک حالت میں تھی۔

بے صبری ظاہر کرنا۔

بیان میں یہ دکھایا گیا تھا کہ ان کے برخلاف کوئی جرم نہیں۔

ہے۔ باوجودیکہ زبانی حکم کے ذریعہ اس کے برخلاف خود فیصلہ عدالت نے کر دیا تھا۔

شہادت استغاثہ و بیان مرزا غلام احمد قادیانی پر ملزم کو بری کیا وہ بیانات مثل میں نہیں۔

صاحب ہو سکے۔ لہٰذا درخواست ہے کہ مقدمہ عدالت حضور میں انتقال ہو۔

عرضی

فضل دین حکیم سائل ٤ فروری ١٩٠٣ء

اس درخواست کے گزرنے پر صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے مستغیث کے نام نوٹس جاری کیا اور تاریخ پیشی مقدمہ ١٢ فروری ١٩٠٣ء قرار پائی۔ اس تاریخ کو مقدمہ بمقام علیوال (جہاں صاحب موصوف دورہ پر تھے) پیش ہوا۔ اس تاریخ پر بہت سے مریدان باصفا آ پہنچے تھے اور علاوہ خواجہ کمال الدین صاحب ومولوی محمد علی صاحب وکلاء کے مسٹر اورٹیل صاحب بہادر

١٢٦

بیرسٹر ایٹ لاء بھی آ گئے تھے اور ادھر سے مستغیث گئے تھے اور علیوال اور ان کے اردگرد کے بے تعدا استقبال کے واسطے پہلے ہی منتظر کھڑے تھے اور موا بھی پہلے ہی یہاں پہنچ چکے تھے۔ مولوی صاحب علاوہ بہت سی کرسیاں بھی مہیا کر رکھی تھیں۔ چنانچہ خاص دوستوں کے کرسیوں پر اور دیگر مسلمان فر طرف سے یہاں کوئی انتظام فرش و کرسیوں وغیر کے معززوں کو بڑی تکلیف ہوئی۔ صرف ایک دستیاب ہوئی۔ دوسرے متقاضیوں نے کھڑے بجے کے مقدمہ بلایا گیا اور صاحب بہادر نے ا ملزمان کی طرف سے مسٹر اورٹیل صاحب نے سے مقدمہ ضرور انتقال ہونا چاہئے۔ دوسری نے بڑی معقولیت سے اس کی تردید کی اور ثا مقدمہ کی صورت میں مستغیث کو سخت تکلیف تکلیف میں ڈالنے کے واسطے ہی انتقال مقد دو فریق کے صاحب بہادر نے مرزائیوں کی مقدمات سماعت ہوں گے۔ اس وقت م حسرت کے آثار چہروں سے نمودار ہو رہے بہادر کے فیصلہ کا ترجمہ درج کرتے ہیں۔

ترجمہ چٹھا انگریزی صاحب ڈپٹی

بحث وکلاء کے فریقین سنی گئی کرتا ہے کہ یہ مقدمات ایک مجسٹریٹ ۔ آتا ہے اس کو دوبارہ گواہوں کے بلانے کیا کوئی وجوہات ہیں جن کا فیصلہ سوچ لیا ہوا ہے۔ میں ایسا خیال ہنوز ان مقدمات میں فرد نہیں لگائی۔ ث

صفحہ ٤٠١

بیرسٹر بار ایٹ لاء بھی آ گئے تھے اور ادھر سے مستغیث اور ان کے وکیل بابو مولا مل صاحب بھی پہنچ گئے تھے اور علیوال اور ان کے ارد گرد کے بے تعداد مسلمان یہاں مولوی کرم الدین صاحب کے استقبال کے واسطے پہلے ہی منتظر کھڑے تھے اور مولوی اللہ دتہ صاحب و مولوی محمد علی صاحب سوہلی بھی پہلے ہی یہاں پہنچ چکے تھے۔ مولوی صاحب اور ان کی جماعت کے واسطے فرش و فروش کے علاوہ بہت سی کرسیاں بھی مہیا کر رکھی تھیں۔ چنانچہ مولوی صاحب اور انکے وکیل صاحب معہ اپنے خاص دوستوں کے کرسیوں پر اور دیگر مسلمان فرش پر بیٹھ گئے لیکن افسوس کہ مرزائی جماعت کی طرف سے یہاں کوئی انتظام فرش و کرسیوں وغیرہ کا نہ کیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے ان کی جماعت کے معززوں کو بڑی تکلیف ہوئی۔ صرف ایک کرسی بھی صاحب بہادر کے لئے بڑی مشکل سے دستیاب ہوئی۔ دوسرے چٹھیوں نے کھڑے کھڑے ادھر ادھر ٹہل کر وقت گزارا۔ قریب گیارہ بجے مقدمہ بلایا گیا اور صاحب بہادر نے ایک گھنٹہ تک وکلائے فریقین کی تقریریں سن لیں۔ ملزمان کی طرف سے مسٹر اور ٹیل صاحب نے بڑی بحث کی کہ رائے چندولال صاحب کی عدالت سے مقدمہ ضرور انتقال ہونا چاہئے۔ دوسری طرف سے بابو مولا مل وکیل صاحب وکیل مستغیث نے بڑی معقولیت سے اس کی تردید کی اور ثابت کیا کہ انتقال مقدمہ کی کوئی وجہ نہیں ہے اور انتقال مقدمہ کی صورت میں مستغیث کو سخت تکلیف ہوگی جو کہ دور دراز ضلع سے آتا ہے اور ملزمان اس کو تکلیف میں ڈالنے کے واسطے ہی انتقال مقدمات کی درخواستیں کر رہے ہیں۔ بعد سماعت بحث ہر دو فریق کے صاحب بہادر نے مرزائیوں کی درخواست کو نامنظور کیا اور حکم دیا کہ اسی عدالت میں مقدمات سماعت ہوں گے۔ اس وقت مرزائیوں کی حالت دیکھنے کے قابل تھی۔ ندامت اور حسرت کے آثار چہروں سے نمودار ہو رہے تھے۔ ذیل میں ہم میجر بی ایم ڈالس صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے فیصلہ کا ترجمہ درج کرتے ہیں۔

ترجمہ چٹھی انگریزی صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپور

بحث وکلائے فریقین سنی گئی۔ کرم الدین کا وکیل انتقال کی بابت اس وجہ پر اعتراض کرتا ہے کہ یہ مقدمات ایک مجسٹریٹ نے ایک حد تک سماعت کئے ہیں۔ میرا موکل جو جہلم سے آتا ہے اس کو دوبارہ گواہوں کے بلانے سے بلاوجہ سخت حرج اور تکلیف ہوگی۔ یہ درست ہے۔ کیا کوئی وجوہات ہیں جن سے فرض کیا جائے کہ مجسٹریٹ نے پہلے ہی سے اس مقدمہ کا فیصلہ سوچ لیا ہوا ہے۔ میں ایسا خیال نہیں کرتا اس نے ان مقدمات کو بہت کچھ سن لیا ہے۔ لیکن ہنوز ان مقدمات میں فرد نہیں لگائی۔ تینوں مقدمے ایک ہی حد تک پہنچے ہوئے ہیں۔ یعنی استغاثہ

١٢٧

صفحہ ٤٠٣

کی شہادتیں ختم ہو گئی ہیں۔ صرف وکلاء کی بحث کا انتظار ہے۔ پس یہ ممکن نہیں کہ اس حد پر یہ کہا جاسکے کہ مجسٹریٹ فرد لگانا چاہتا ہے یا نہیں۔ یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس نے فیصلہ کرنے میں بہت دیر لگائی ہے۔ اس واسطے یہ وجوہات ہیں جن سے پایا جاتا ہے کہ مرزا کی جماعت کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ مگر یہ بات نہیں دیکھتا۔ یہ توقف طویل بحث اور جرح طرفین کے باعث سے ہوئی ہے اور بیماری کی وجہ سے التواء کی درخواستیں کرنے کے باعث اور آخر کار انتقال کی یہ درخواستیں دینے پر میں نہیں دیکھتا کہ ایک طرف کو دوسرے کی نسبت زیادہ الزام دوں مقدمات کی کیفیت کی بابت مجھے کچھ تعلق نہیں ہے اور نہ ان کی نسبت کوئی رائے ظاہر کر سکتا ہوں جو کچھ مجھے کرنا ہے وہ ان مقدمات کے انتقال کی بابت ہے میں نہیں دیکھتا کہ مجسٹریٹ نے مرزا غلام احمد یا فضل دین کی بابت کوئی کمی کی ہو۔ مرزا عدالت کی حاضری سے جب تک کہ اس کی حاضری ضروری ہو معاف کیا گیا ہے اور پھر دوسرے فریق کی درخواست پر اس کو بلایا گیا ہے۔ جب تک کہ ڈاکٹر کے سرٹیفکیٹ سے نہیں دکھایا گیا کہ وہ بوجہ بیماری حاضری سے معذور ہے۔ حکیم فضل دین نے درخواست کی کہ وہ بیمار ہے۔ اس کو باہر لیٹنے کی اجازت دی جائے۔ کیونکہ وہ عدالت میں کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اسے یہ اجازت دی گئی۔ مجسٹریٹ نے ان دونوں مدعاعلیہم کی بابت ہر ایک رعایت کی ہے۔ لیکن ان مقدموں کے انتقال کرنے سے انکار کرنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مجھے انصافاً یہ مناسب معلوم ہوا ہے کہ یہ تمام مقدمات اسی مجسٹریٹ کو فیصل کرنے چاہئیں اور خاص کر جب کہ اس نے ان مقدمات کو اس قدر سن لیا ہے۔ ان مقدمات میں سے جو جہلم میں دائر کیا گیا تھا۔ چیف کورٹ کے حکم سے اس ضلع میں تبدیل کیا گیا ہے اور معزز ججوں نے یہ لکھا ہے کہ ان کا ایک ہی جج فیصلہ کرے اور مجھے اس بات کا اطمینان نہیں ہے کہ مجسٹریٹ نے کوئی تعصب کیا ہے۔ میں اس موقعہ پر اور زیادہ اس امر کو مناسب سمجھتا ہوں کہ یہ مقدمات یہی مجسٹریٹ فیصلہ کرے اور ان کا فیصلہ جہاں تک ممکن ہو جلدی کیا جائے۔ مذکورہ بالا دلائل سے انتقال کی درخواستیں تینوں مقدمات کی بابت نامنظور ہیں۔

علیوال ١٢ فروری ١٩٠٤ء دستخط: صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر گورداسپور

جب صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کی عدالت سے درخواست انتقال نامنظور ہو کر عدالت رائے چندو لال صاحب میں مسلیں واپس آئیں تو عدالت موصوف نے ١٦ فروری ١٩٠٤ء تاریخ پیشی مقدمہ مقرر کر کے فریقین کو نوٹس روانہ کئے کہ تاریخ معہود پر حاضر عدالت ہو کر پیروی مقدمہ کریں۔

١٢٨

تاریخ مذکور سے ایک روز پہلے مرزا قادیانی لیکن یہاں پہنچ کر پھر ایسی لاچاری ہوئی کہ کچہری تک میں کچھ ایسی نحوست ہو گئی کہ باوجودیکہ ١٤ کوس کے مرزا قادیانی کو نہ روکا۔ لیکن گورداسپور میں آتے ہی با کہ کچہری تک جانے سے خطرہ جان پیدا ہو گیا۔ چنا سرٹیفکیٹ طبی پیش کیا کہ مرزا قادیانی ایک سخت بیما عدالت سے معذور ہیں۔ مجبوراً عدالت نے ایک ماہ ر کیا اور وکیل نے ان کی طرف سے پیروی کرنے ک صاحب کا تار آیا کہ انہوں نے چیف کورٹ میں منتق کر دی۔ اس واسطے عدالت نے کارروائی مقدمہ کو ا جہاں چیف کورٹ نے بھی درخواست انتقال مقد ٢٣؍ فروری کو مرزائی جماعت پھر اسی عدالت میں مقدمہ مقرر کی۔ اس تاریخ پر مقدمہ پیش ہوا۔ خوا استغاثہ میں تقریر کی اور استغاثہ کی طرف سے ٨ ١٠؍ مارچ کو داخل کر دی۔ صاحب مجسٹریٹ نے کر کے سنادی اور فضل دین ملزم کا جواب بھی لیا گ واسطے طلب کیا گیا۔ اس فرد جرم کے لگنے سے م طاری ہو گیا۔ کیونکہ مرزا قادیانی اپنی تصانیف م جانے کو ہی بریت کہتے ہیں۔ بعد فرد جرم لگنے ک ادھر بھاگے پھرے۔ مریض بھی بنے۔ سرٹیفکیٹ ہی کیا۔ ذیل میں ہم فرد قرار داد جرم کی نقل درج کر

نقل فرد جرم بنام مرزا غلام احمد قادیا

”میں لالہ چندو لال صاحب مجسٹر حسب تفصیل ذیل الزام قائم کرتا ہوں کہ تم ہ جس میں صفحہ ١٢٩ میں مستغیث کی نسبت الفا توہین کرتے ہیں اور یہ کہ تم نے تاریخ ٧؍ مار

صفحہ ٤٠٣

تاریخ مذکور سے ایک روز پہلے مرزا قادیانی معہ اپنے سٹاف کے گورداسپور میں آگئے۔ لیکن یہاں پہنچ کر پھر ایسی لاچاری ہوئی کہ کچہری تک جانا محال ہو گیا۔ گورداسپور کی آب و ہوا میں کچھ ایسی نحوست ہو گئی کہ باوجودیکہ ١٤ کوس کے فاصلہ کے سفر کرنے سے کسی بیماری نے مرزا قادیانی کو نہ روکا۔ لیکن گورداسپور میں آتے ہی بیماری دامنگیر ہو گئی اور ایسی حالت پر پہنچا دیا کہ کچہری تک جانے سے خطرہ جان پیدا ہو گیا۔ چنانچہ عدالت میں مرزا قادیانی کے وکیل نے سرٹیفکیٹ طبی پیش کیا کہ مرزا قادیانی ایک سخت بیماری قلب میں مبتلا ہیں۔ اس واسطے حاضری عدالت سے معذور ہیں۔ مجبوراً عدالت نے ایک ماہ تک مرزا قادیانی کو اصالتاً حاضری سے معاف کیا اور وکیل نے ان کی طرف سے پیروی کرنے کا اقرار کیا۔ اتنے میں لاہور سے مسٹر اور نیل صاحب کا تار آیا کہ انہوں نے چیف کورٹ میں منجانب ملزمان درخواست انتقال مقدمات داخل کر دی۔ اس واسطے عدالت نے کارروائی مقدمہ کو ملتوی رکھا اور ٢٣؍فروری تاریخ مقرر کی ادھر جہاں چیف کورٹ نے بھی درخواست انتقال مقدمات کو نامنظور کر دیا اور شکست پر شکست اٹھا کر ٢٣؍فروری کو مرزائی جماعت پھر اسی عدالت میں حاضر ہوئی۔ عدالت نے ٨؍مارچ تاریخ پیشی مقدمہ مقرر کی۔ اس تاریخ پر مقدمہ پیش ہوا۔ خواجہ کمال الدین صاحب وکیل ملزمان نے تردید استغاثہ میں تقریر کی اور استغاثہ کی طرف سے ١٨؍ورق کی تحریری بحث مستغیث نے جواب میں ١٠؍مارچ کو داخل کر دی۔ صاحب مجسٹریٹ نے بعد غور کے فرد قرار داد جرم دونوں ملزمان پر مرتب کر کے سنادی اور فضل دین ملزم کا جواب بھی لیا گیا۔ مرزا قادیانی کو جواب کے لئے ١٤؍مارچ کے واسطے طلب کیا گیا۔ اس فرد جرم کے لگنے سے مرزائیوں کے چھکے چھوٹ گئے۔ سخت اداسی کا عالم طاری ہو گیا۔ کیونکہ مرزا قادیانی اپنی تصانیف میں لکھ چکے تھے کہ ”فرد جرم لگنے سے پہلے چھوٹ جانے کو ہی بریت کہتے ہیں۔ بعد فرد جرم لگنے کے چھوٹ جانا داخل بریت نہیں ۔“ اس واسطے ادھر ادھر بھاگے پھرے۔ مریض بھی بنے۔ سرٹیفکیٹ بھی پیش ہوئے۔ لیکن آخرکار فرد جرم کا داغ لگ ہی گیا۔ ذیل میں فرد قرار داد جرم کی نقل درج کی جاتی ہے۔

نقل فرد جرم بنام مرزا غلام احمد قادیانی

”میں لالہ چندو لعل صاحب مجسٹریٹ اس تحریر کی رو سے تم مرزا غلام احمد قادیانی ملزم پر حسب تفصیل ذیل الزام قائم کرتا ہوں کہ تم نے کتاب مواہب الرحمن تصنیف کر کے شائع کی۔ جس میں صفحہ ١٢٩ میں مستغیث کی نسبت الفاظ لئیم بہتان عظیم اور کذاب استعمال کئے جو اس کی توہین کرتے ہیں اور یہ کہ تم نے تاریخ ١٧؍ماہ جنوری ١٩٠٣ء کو یا اس کے قریب موقعہ جہلم میں شائع

١٢٩

صفحہ ٤٠٤

کئے۔ لہٰذا تم اس جرم کے مرتکب ہوئے۔ جس کی سزا مجموعہ تعزیرات ہند کی دفعہ ٥٠٠، ٥٠١، ٥٠٢ میں مقرر ہے اور جو میری سماعت کے لائق ہے اور میں اس تحریر کے ذریعہ حکم دیتا ہوں کہ تمہاری تجویز بربنائے الزام مذکور عدالت موصوفہ کے (یا ہمارے) روبرو عمل میں آئی۔ عدالت صاحب مجسٹریٹ درجہ اول ضلع گورداسپور مورخہ ١٠؍مارچ ١٩٠٤ء (مہر عدالت)

دستخط: رائے چندو لال صاحب مجسٹریٹ درجہ اول، بحروف انگریزی

نوٹ…… ملزم عدالت کی اجازت سے غیر حاضر ہے۔ اس کو واسطے جواب کے بتقرر ١٤؍مارچ ١٩٠٤ء طلب کیا جاوے۔ دستخط حاکم!

١٤؍مارچ کو امید تھی کہ اب تو مرزا قادیانی ضرور تشریف لائیں گے۔ لیکن اس تاریخ کو بھی آپ نہ آئے اور بیماری کا سرٹیفکیٹ پیش کیا گیا۔ وکلاء استغاثہ نے اعتراض کیا کہ یہ روزمرہ کے عذرات بیماری محض مقدمہ کو تعویق میں ڈالنے کے لئے ہیں۔ اگر مرزا قادیانی کی حالت واقعی خطرناک ہے تو سول سرجن صاحب کی شہادت پیش کی جانی چاہئے۔ بہت سے بحث ومباحثہ کے بعد سول سرجن صاحب کی شہادت لئے جانے کا فیصلہ ہوا۔ چنانچہ کپتان مور صاحب سول سرجن گورداسپور کی شہادت حسب ذیل گزری۔

نقل بیان کپتان پی سی مور صاحب سول سرجن گورداسپور

”میں نے بمقام قادیان مرزا غلام احمد کا ملاحظہ کر کے ١٣؍مارچ ١٩٠٤ء والا سرٹیفکیٹ دیا تھا۔ جو کچھ سرٹیفکیٹ میں لکھا تھا۔ اس پر میری رائے اب تک قائم ہے۔ میری رائے میں مرزا غلام احمد قادیانی اب بھی گورداسپور تک سفر کرنے کے ناقابل ہے۔ گورداسپور تک سفر کرنا اس کی صحت کے لئے خطرناک ہے۔ جرح! اس سے قبل دو دفعہ میں نے اس کا ملاحظہ کیا تھا۔ گورداسپور میں ہی دیکھا تھا جب میں نے پہلی دفعہ اس کو دیکھا تھا۔ اس کو دمہ کا عارضہ ہو گیا ہے۔ جب دوسری دفعہ اس کو ١٦؍فروری ١٩٠٤ء میں دیکھا۔ اس کو اس وقت پرانی کھانسی کی تیزی کا دورہ تھا۔ میں نے سرٹیفکیٹ میں بیماری کا نام نہیں لکھا۔ جس میں اب مبتلا ہے۔ اس کی عام جسمانی صحت کی حالت سے میری یہ رائے ہے کہ وہ عدالت میں آنے کے قابل نہیں۔ خطرناک کہنے سے میرا یہ مطلب ہے کہ سردی یا کمزوری کے باعث ممکن ہے کہ وہ مرجائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس جگہ صحیح و سلامت حاضر ہو سکے۔ ١٥؍مارچ ١٩٠٤ء“ دستخط حاکم! دستخط کپتان مور صاحب سول سرجن

ڈاکٹر صاحب کی اس شہادت پر کہ مرزا قادیانی کے گورداسپور تک سفر کرنے میں ان

صفحہ ٤٠٥

کے مرجانے کا امکان ہے۔ عدالت کو مجبوراً تاریخ بدلنی پڑی۔ چنانچہ ١٠؍اپریل تک مقدمہ کی تاریخ بڑھا دی گئی۔

اب ہم اس موقعہ پر اہل انصاف کو توجہ دلاتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی کو خدا کی طرف سے تسلی مل چکی تھی کہ خدا ان کے ساتھ ہے اور کوئی شخص ان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا اور کہ اس مقدمہ میں آخر انہوں نے بچ جانا ہے تو پھر یہ حیلہ بازیاں اور عذر سازیاں کیوں ہوئیں۔ سینکڑوں روپے ڈاکٹروں کی فیسوں پر اڑ گئے۔ سول سرجن صاحب کو قادیان میں ڈبل سفر خرچ اور فیس دے کر بلانا اور پھر اخیر تک سرٹیفکیٹ پیش ہوتے رہنا یہ ہرگز ایسے شخص سے نہ ہونا چاہئے تھا۔ ان باتوں سے صاف واضح ہو گیا کہ مرزا قادیانی بہت ڈرپوک کمزور دل شخص ہیں۔ رائے چندو لال صاحب کی عدالت کے رعب نے ان کو ایسا خوفزدہ کیا کہ ساری دنیا کی امراض مسیح الزمان کو لاحق ہو گئیں۔ کہیں سنکاپنی (دل کے فعل کا رک جانا) کا حملہ ہو جاتا تھا۔ کبھی کرانک برنکائس (پرانی کھانسی کی تیزی) کا دورہ ہو جاتا ہے اور کبھی گورداسپور تک سفر کرنا حضور والا کی موت کا امکان دلاتا تھا۔ باوجودیکہ آپ کو خدا نے اطلاع دی ہوئی تھی کہ ابھی آپ کی عمر کے سال پورے نہیں ہوئے۔ پھر کیوں ایسی گھبراہٹ تھی۔ مرزا قادیانی اگر متوکل علی اللہ ہوتے تو سیدھے میدان میں نکلتے اور ہرگز بیماری کے عذرات نہ کرتے۔

فی الجملہ مرزا قادیانی کا مرض دور نہ ہوا۔ جب تک کہ آپ کو یہ خبر نہ پہنچی کہ رائے چندو لال صاحب یہاں سے تبدیل ہو گئے ہیں اور ان کی جگہ رائے آتما رام صاحب آگئے ہیں۔

رائے چندو لال صاحب کی تبدیلی

اگرچہ مرزا قادیانی نے خود کسی جگہ نہیں لکھا۔ لیکن مرزائی عموماً کہتے ہیں کہ رائے چندو لال صاحب کی تبدیلی مرزا قادیانی کی بددعا کی وجہ سے ہوئی اور حضرت جی کا یہ بڑا بھاری معجزہ ہوا اور یہ بھی کہتے ہیں کہ رائے چندو لال صاحب تنزل ہو کر گورداسپور سے تبدیل ہوئے۔ سو واضح ہو کہ صاحب موصوف کی تبدیلی بموجب ان کی اپنی درخواست کے ہوئی تھی۔ مرزا قادیانی کی دعا یا بددعا کا کوئی اثر نہیں تھا اور پھر اسی تنخواہ پر وہ گورداسپور سے ملتان کو تبدیل ہوئے اور وہاں ان کو اختیارات جج عدالت مطالبہ خفیفہ بھی عطاء ہوئے۔

پس مرزائیوں کا یہ کہنا کہ مرزا قادیانی کی بددعا کا اثر ہوا۔ ایک خیال باطل ہے جب ایک شخص کی اپنی خواہش اور استدعا سے کوئی امر وقوع میں آئے تو اس میں اس کی کوئی سبکی متصور نہیں ہو سکتی اور پھر مرزا قادیانی کی دعا نے ان کو فائدہ کیا بخشا کہ جس بات کا ان کو اس حاکم سے

١٤١

صفحہ ٤٠٧

خوف تھا وہی سلوک ان سے دوسرے حاکم نے بھی کیا۔ یعنی آخر کار فرد جرم کی تکمیل کی اور پھر سزا بھی دے دی۔ ہاں مرزا قادیانی کی کرامات کے ہم بھی قائل ہو جاتے۔ اگر رائے چندو لال صاحب کی تبدیلی پر کوئی مرزا قادیانی کا مخلص مرید یہاں آجاتا اور وہ آتے ہی مرزا قادیانی کو مصیبت مقدمہ سے مخلصی بخش کر ان کو رخصت کر دیتا۔ لیکن یہاں تو یہ معاملہ ہوا کہ جو آرام و آسائش مرزا قادیانی کو پہلے حاکم کے وقت حاصل تھے دوسرے حاکم نے وہ سب سلب کر دیئے۔ پہلے آپ مزے سے کرسی پر ڈٹ کر بیٹھتے تھے۔ ٹھنڈے شربت اور دودھ نوش کرتے رہتے تھے۔ دوسرے حاکم نے کٹہرا پر کھڑا رہنے کا حکم دے دیا۔ پانی تک پینے کی اجازت نہ دی۔ مرزا قادیانی کی دعا کا اثر تو الٹا پڑا۔ پھر یہ کیوں نہ سمجھا جائے کہ مرزا قادیانی کی دعا کا اثر نہیں بلکہ ان کو ان آسائشوں کی ناشکری کی سزا ملی کہ خدا نے ان پر ایسا بارعب حاکم مسلط کیا کہ جس کی نسبت وہ خود اعتراف کرتے ہیں کہ ہر ایک طرح کی تکلیف ان کو دی گئی۔ حاکم کا کیا قصور یہ تو قدرت کی طرف سے سزا تھی جو ان کو ملی۔ "لئن شکرتم لا زيدنكم ولئن كفرتم ان عذابی لشديد"

لالہ آتمارام صاحب کی عدالت میں پہلی پیشی

نئے حاکم کے اجلاس میں ٨ مئی ١٩٠٣ء کو مقدمہ پیش ہوا۔ مرزا قادیانی بھی حاضر آئے۔ چونکہ وکلاء ملزمان نے درخواست کی تھی کہ کارروائی از سر نو شروع ہو۔ اس لئے عدالت نے دوبارہ شہادت لینی شروع کی اور مرزا قادیانی ملزموں کے کٹہرے میں معہ اپنے حواری فضل دین کے کھڑے کئے گئے۔ مولوی محمد علی گواہ استغاثہ کی شہادت شروع ہوئی۔ ١١ بجے سے شروع ہو کر ٤ بجے تک مقدمہ پیش رہا اور اتنا عرصہ مرزا قادیانی پاؤں پر کھڑے رہے۔

رائے آتمارام صاحب نے یہ قاعدہ کر لیا کہ مقدمہ پیش ہوا کرے۔ مرزا قادیانی روزمرہ احاطہ عدالت میں حاضر باش رہتے تھے۔ ایک درخت جامن کے نیچے برلب سڑک ڈیرہ ڈال رکھا تھا۔ دن بھر وہاں پڑے رہنا پڑتا اور مقدمہ پیش ہو کر پھر حکم ہو جاتا کہ کل حاضر ہو۔ الغرض اسی طرح روزانہ حاضری فریقین ہوتی رہی اور شہادت گواہان ذیل منجانب استغاثہ ماہ اگست ١٩٠٣ء تک ختم ہوئی۔ مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے وکیل مولوی ثناء اللہ صاحب فاضل امرتسری، مولوی محمد جی صاحب قاضی تحصیل جہلم مولوی غلام محمد صاحب قاضی تحصیل چکوال۔

فرد جرم کی تکمیل

ہر چند مرزا قادیانی اور ان کے حواری امیدوار تھے کہ مقدمہ اسی مرحلہ پر خارج ہو جائے گا اور مرزا قادیانی کی فتح ونصرت کا دنیا میں ڈنکا بج جائے گا۔ چنانچہ اخبار الحکم ٢٣؍ جولائی

١٣٢

١٩٠٢ء میں حسب ذیل الہامات بھی اسی امید پر شائع کر دئے۔ ......١ مبارک سو مبارک۔ ٢......

لیکن آخر کار پردہ غیب سے جو بات ظہور میں آئی میں ملا دیا۔ یعنی لالہ آتمارام صاحب مجسٹریٹ کی عدالت ہو گئی اور مرزا قادیانی کا جواب بھی قلمبند ہو گیا۔ اس روز م ہوئی تھی۔ انہوں نے جواب دیتے ہوئے چلا کر کہا کہ میں جو ہونا تھا ہو گیا۔ فرد جرم سنا کر مرزا قادیانی سے شہادت صفا آپ گواہان استغاثہ کو بھی طلب کرانا چاہتے ہیں یا نہیں طوالت دینے کی خاطر اور مستغیث کو تنگ کرنے کی غرض درخواست کر دی۔ باوجودیکہ جرح وغیرہ میں کچھ کسر نہ ر حق ہوتا ہے کہ گواہان استغاثہ کو طلب کرائیں۔ اس درخواست سے بعض گواہان استغاثہ کو دوبارہ طلب کیا اور مولوی ثناء اللہ صاحب، مولوی محمد جی صاحب، مولوی صاحب ایم اے وکیل گواہان استغاثہ پر جرح مکرر کا م گواہان صفائی کی نوبت پہنچی۔ ملزمان کی طرف سے ا گئی۔ جس میں ٢٢ گواہان دور دراز فاصلہ سے بلوانے عہدہ دار بھی درج کئے گئے تھے اور حضرت پیر صاحب کہ پیر صاحب کو ضرور طلب کیا جائے۔ اس سے مقصو پورا نہیں ہوا تو اب ضرور ہی کامیابی ہوگی۔ جب ملزما مجبور ہوتی ہے کہ اس گواہ کو بلائے۔ لیکن خدا کی قدرت ہوئی۔ حاکم نے تمام دور دراز فاصلہ کے گواہوں کو بو گیارہ گواہ جو قریب فاصلہ کے تھے اور جن کے آنے افسوس کہ مرزائیوں کو پیر صاحب کو بلوانے کی نسب ان کا کوئی چارہ باقی نہیں رہا اور طوعاً وکرہاً ان کو راضی

ولو انه قد
لسارعت ط
صفحہ ٤٠٧

١٩٠٤ء میں حسب ذیل الہامات بھی اسی امید پر شائع کر دیئے گئے تھے۔

١...... مبارک سو مبارک ۔ ٢...... میں تجھے ایک معجزہ دکھاؤں گا۔

لیکن آخر کار پردۂ غیب سے جو بات ظہور میں آئی اس نے ان کی سب امیدوں کو خاک میں ملا دیا۔ یعنی لالہ آتما رام صاحب مجسٹریٹ کی عدالت سے ٦ اگست ١٩٠٤ء کو فرد جرم کی تعمیل ہو گئی اور مرزا قادیانی کا جواب بھی قلمبند ہو گیا۔ اس روز مرزا قادیانی کی گھبراہٹ انتہائی درجہ کو پہنچی ہوئی تھی۔ انہوں نے جواب دیتے ہوئے چلا کر کہا کہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ وغیرہ وغیرہ! لیکن جو ہونا تھا ہو گیا۔ فرد جرم سنا کر مرزا قادیانی سے شہادت صفائی وغیرہ طلب کی گئی اور پوچھا گیا کہ کیا آپ گواہان استغاثہ کو بھی طلب کرانا چاہتے ہیں یا نہیں۔ مرزا قادیانی نے کچھ دن اور مقدمہ کو طوالت دینے کی خاطر اور مستغیث کو تنگ کرنے کی غرض سے گواہان استغاثہ کو دوبارہ طلب کرنے کی درخواست کر دی۔ باوجودیکہ جرح وغیرہ میں کچھ کسر نہ رہ گئی تھی۔ چونکہ قانوناً فرد جرم کے بعد ملزم کا حق ہوتا ہے کہ گواہان استغاثہ کو طلب کرائیں۔ اس لئے مجبوراً عدالت نے بموجب ان کی درخواست کے بعض گواہان استغاثہ کو دوبارہ طلب کیا اور حسب ذیل گواہوں پر دوبارہ جرح کی گئی۔ مولوی ثناء اللہ صاحب، مولوی محمد جی صاحب، مولوی برکت علی صاحب منصف بٹالہ مولوی محمد علی صاحب ایم اے وکیل گواہان استغاثہ پر جرح مکرر کا مرحلہ بھی طے ہو چکا تو اب مرزا قادیانی کے گواہان صفائی کی نوبت پہنچی۔ ملزمان کی طرف سے ٢٦ اگست کو ایک لمبی چوڑی فہرست داخل کی گئی۔ جس میں ٢٣٣ گواہان دور دراز فاصلہ سے بلوانے کی استدعا تھی گواہوں میں کئی سیشن جج اور اعلیٰ عہدہ دار بھی درج کئے گئے تھے اور حضرت پیر صاحب گولڑوی کو بھی لکھایا گیا تھا اور بڑا زور دیا گیا تھا کہ پیر صاحب کو ضرور طلب کیا جائے۔ اس سے مقصود یہ تھا کہ اگر پہلے پیر صاحب کی طلبی کا منصوبہ پورا نہیں ہوا تو اب ضرور ہی کامیابی ہوگی۔ جب ملزم اپنی صفائی میں ایک گواہ کو بلواتا ہے تو عدالت مجبور ہوتی ہے کہ اس گواہ کو بلائے۔ لیکن خدا کی قدرت کہ اس مرحلہ پر بھی مرزائیوں کی مراد پوری نہ ہوئی۔ حاکم نے تمام دور دراز فاصلہ کے گواہوں کو چھوڑ دیا اور پیر صاحب کو بھی ترک کیا گیا۔ صرف گیارہ گواہ جو قریب فاصلہ کے تھے اور جن کے آنے میں زیادہ دقت نظر نہ آتی تھی بلانا منظور کیا۔ افسوس کہ مرزائیوں کو پیر صاحب کو بلوانے کی نسبت یہ آخری ناکامی ہوئی اور قطعاً مایوسی ہوگئی۔ اب ان کا کوئی چارہ باقی نہیں رہا اور طوعاً و کرہاً ان کو راضی بالرضا ہونا پڑا۔

ولو انہ قال مت حسرة
لسارعت طوعاً الی امرہ

١٤٣

صفحہ ٤٠٩

شہادت گواہان صفائی

١٠؍ستمبر سے شہادت گواہان صفائی شروع ہو گئی جن اصحاب کی شہادت قلمبند ہوئی۔ ان میں سے حسب ذیل اصحاب کے نام ہمیں یاد ہیں۔ ڈاکٹر محمد الدین صاحب لاہوری، بخشی رام لبھایا صاحب مالک اخبار دوست ہند بھیرہ، چوہدری نصر اللہ خان صاحب پلیڈر سیالکوٹ، مولوی غلام حسن سب رجسٹرار پشاور، شیخ علی احمد صاحب پلیڈر گورداسپور، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب، مولوی فیروز دین صاحب ڈسکوی، سید محمد شاہ صاحب پلیڈر، منشی احمد دین اپیل نویس گوجرانوالہ، ڈاکٹر محمد حسین صاحب، خان محمد علی خان صاحب مالیرکوٹلہ، مفتی محمد صادق بھیروی، مولوی حکیم نور الدین صاحب بھیروی، شیخ نور احمد صاحب وکیل منشی عزیز الدین صاحب پنشنر تحصیلدار میاں حسین بخش صاحب پنشنر ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر۔ ١٩؍ستمبر تک شہادت گواہان صفائی ختم ہوگئی۔ صفائی اس امر کے متعلق تھی کہ الفاظ استغاثہ سنگین نہیں۔ خفیف ہیں کہ مستغیث کی نسبت ملزمان کو ایسا کہنے کا حق تھا۔ گواہان اگرچہ بڑے بڑے قابل شخص وکیل ڈپٹی وغیرہ تھے۔ لیکن اس بات کے موافق ومخالف معترف ہوگئے کہ مولوی کرم الدین صاحب مستغیث جس وقت جرح کرتے تھے گواہان حیرت میں رہ جاتے تھے۔ مولوی فیروز الدین صاحب ڈسکوی کی شہادت کے وقت یہ عجیب لطف ہوا کہ جو معانی آپ نے شہادت میں حسب مدعاء ملزمان لکھائے۔ ان کے برخلاف ان ہی کی مصنفہ کتاب لغات فیروزی سے فاضل مستغیث نے معنے دکھا کر ان کی تردید کی اور مجسٹریٹ صاحب نے مولوی فیروز دین سے پوچھا کہ آپ کے یہ معنے صحیح ہیں جو اب لکھائے ہیں یا وہ جو کہ لغات فیروزی میں ہیں۔ اس وقت بیچارہ مولوی کچھ دیر تو سکوت میں رہا۔ آخر بتایا کہ یہ صحیح ہیں جو میں نے اب لکھائے ہیں۔ (اپنی کتاب کے لکھے ہوئے کو شہادت کی خاطر اپنے منہ سے غلط کہنا پڑا) ایسا ہی بعض دیگر گواہوں کی شہادت میں عجیب لطیفے ہوتے رہے۔ چونکہ گواہوں کے بیانات بہت ہی طویل ہوئے ہیں۔ ان کے نقل کرنے سے طوالت ہوتی ہے۔ اس لئے باقی گواہوں کے بیانات کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہاں! حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب کا بیان ضرور لکھنے کے قابل ہے اور اس کے پڑھنے سے ناظرین بہت کچھ دلچسپی اٹھائیں گے۔ اس لئے ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔

نقل بیان مولوی نور الدین صاحب

نور الدین ولد غلام رسول قریشی عمر ٦٥ سال پیشہ طبابت سکنہ قادیان بجواب وکیل ملزمان میں بارہ سال سے قادیان میں رہتا ہوں۔ اس سے پیشتر بھوپال وجموں میں نوکر تھا۔ ١٣٤

طبیب تھا جموں میں میری تنخواہ ماہوار ٦٠٠ روپے تک تھی کے معلومات میری اس حد تک ہیں۔ جس کا نام مدارک تدریس کرتا ہوں۔ ہر ایک قسم کے علوم جو عربی میں پڑھے بروزن فعال مفعال بھی مبالغہ کا وزن ہے۔ اگر ایک جـ جائے تو اس کے لئے فعال آتا ہے۔ اگر عادت کے طو ہے۔ (بروئے شرح حماسہ تبریزی) اس کو علم نحو ولغت بہتان کے معنے بیجا الزام کے ہیں۔ لئیم کے معنے بخیل لفظ کو محدود معنوں میں استعمال کیا ہے۔ کریم کے معنے بہتان لگانا خلاف تقویٰ ہیں۔ لئیم صفت مشبہ ہے۔ صـ کو اسم فاعل کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہو۔ صفت مشبہ اس کے وزن پر آتا ہے۔ سہ حرفی لفظوں میں جو فاعل دوسرا صفت مشبہ میں زمانہ حال میں وہ معنے موجود ہو

١؎ مولوی صاحب نے اپنے اس بیان میں تنخواہ ٥٧٥ روپے لکھائی تھی۔ (ملاحظہ ہو صفحہ ٧ مقدمہ کا صریح جھوٹ ہے۔ اس بیان میں حکیم الامت کے بھـ

٢؎ ہر ایک انسان کے معلومات کی کوئی حد علیم ”صرف الہ العالمین کی صفت ہے۔ مولوی صـ کی نسبت کیوں نہ کہا جائے کہ ان کا وجود ہی نہیں۔

٣؎ ہم کیوں انکار کریں کہ مدینہ بلکہ کہیں گے۔ لیکن آخری تعلیم نے جو قادیان میں آپ نے نمک انت نمک شد!

٤؎ کتب صرف بالتمام اس مسئلہ میں صفت مشبہ میں ثبوت پھر اس کے الٹ یہ کہنا کہ ہے۔ ماضی واستقبال میں وصف ہو یا نہ ہو۔ کتب قادیانی درسگاہ کی تعلیم کا فیضان ہے۔ ٥

صفحہ ٤٠٩

مقیم تھا جموں میں میری تنخواہ ماہوار ٦٠٠ ١ روپے تک تھی۔ یعنی دو سو سے چھ سو تک ہوگئی۔ عربی کے معلومات میری اس حد تک ہیں ٢۔ جس کا نام ندارد، مکہ، مدینہ، یمن وغیرہ میں تعلیم پائی ٣۔ تدریس کرتا ہوں۔ ہر ایک قسم کے علوم جو عربی میں پڑھاتا ہوں۔ کذاب کے معنے جھوٹا ہے۔ بروزن فعال مفعال بھی مبالغہ کا وزن ہے۔ اگر ایک فعل ایک وقت کے بعد دوسرے وقت کیا جائے تو اس کے لئے فعال آتا ہے۔ اگر عادت کے طور پر کیا جاوے تو اس کے لئے مفعال آتا ہے۔ (بروئے شرح حماسہ تبریزی) اس نے علم نحو ولغت میں معرفت تامہ بہم پہنچا لی ہے۔ بہتان کے معنے بیجا الزام کے ہیں۔ لئیم کے معنے بخیل وغیرہ کمینہ کے ہیں۔ اسلام نے لئیم کے لفظ کو محدود معنوں میں استعمال کیا ہے۔ لئیم کے معنے خلاف تقویٰ ہے۔ غیر متقی ، جھوٹ بولنا، بہتان لگانا خلاف تقویٰ ہیں۔ لئیم صفت مشبہ ہے۔ صفت مشبہ اس صفت مشتق کو کہتے ہیں جس کو اسم فاعل کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہو۔ صفت مشبہ اور اسم فاعل میں یہ فرق ہے۔ اوّل فاعل کے وزن پر آتا ہے۔ سہ حرفی لفظوں میں جو فاعل کے وزن پر نہ ہو وہ صفت مشبہ ہوتا ہے۔ دوسرا صفت مشبہ میں زمانہ حال میں وہ معنے موجود ہو ماضی و ٤ استقبال میں ہوں یا نہ ہوں۔

١ مولوی صاحب نے اپنے اس بیان میں جو بمقدمہ ٤٩٧ تعزیرات ہند لکھایا تھا۔ اپنی تنخواہ ٥٠ / ٧٥ روپے لکھائی تھی۔ (ملاحظہ ہو صفحہ ٧ مقدمہ مذکور ) اب چھ سو روپے لکھاتے ہیں۔ یہ صریح جھوٹ ہے۔ اس بیان میں حکیم الامۃ کے جھوٹوں کا یہ نمبر ١ سمجھنا چاہئے۔

٢ ہر ایک انسان کے معلومات کی کوئی حد ہوتی ہے۔ ”لا یحیطون بشئ من علمہ “ صرف الہ العالمین کی صفت ہے۔ مولوی صاحب کے عربی معلومات (جن کا نام ندارد) کی نسبت کیوں نہ کہا جائے کہ ان کا وجود ہی نہیں۔

٣ ہم کیوں انکار کریں کہ مدینہ بلکہ بیت المقدس میں بھی آپ تعلیم پاتے رہے ہوں گے۔ لیکن آخری تعلیم نے جو قادیان میں آپ نے پائی سب کو کان لم یکن کر دیا۔ ھر که درکان نمك رفت نمك شد!

٤ کتب صرف بالتمام اس مسئلہ میں متفق ہیں کہ اسم فاعل میں حدوث ہوتا ہے اور صفت مشبہ میں ثبوت پھر اس کے لئے یہ کہنا کہ صفت مشبہ کا اطلاق زمانہ حال کے رو سے ہوتا ہے۔ ماضی واستقبال میں وصف ہو یا نہ ہو۔ مکہ، مدینہ، یمن وغیرہ کی تعلیم کے رو سے نہیں بلکہ قادیانی درسگاہ کی تعلیم کا فیضان ہے۔

١٣٥

صفحہ ٤١١

سراج الاخبار میں نے پہلے پڑھا ہے۔ غالباً دو سال ہوئے کاتب مضمون کا چال وچلن مجھے بہت ناپسند ہوا اور افسوس ہوا۔ کیا بہ لحاظ الفاظ کے اور کیا بہ لحاظ کارروائی کے وہ الفاظ کذاب لئیم بہتان باندھنے والا کا مصداق بھی میری رائے میں ہے۔

(الحکم مورخہ ١٧؍اکتوبر ١٩٠٢ء ص ٤، ٥ دکھائے گئے)

دوسال سے زائد عرصہ ہوا میں نے یہ خطوط قادیان میں پڑھے تھے۔ تاریخ رسید خطوط کی معلوم نہیں نہ یہ کہ کتنے دن بعد پہنچے۔ ٦، ١٣، ١٧؍اکتوبر کے سراج الاخبار پہنچنے کے بعد اکثر ذکر آتا تھا۔ میں نے یہ کتاب مواہب الرحمٰن پڑھی ہے۔ مثل عربی خوانوں کے جو اس کتاب کو سمجھ سکتے ہیں میں کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ مجھے خدا نے خبر دی ہے۔

کہ کس بات کی بابت یہ بیان ہے۔ کرم الدین کے نام سے بھی یقین نہیں ہوتا۔ اگر واقعات اور اخباروں کو مدنظر نہ رکھا جاوے ص ١٣٠ پر استغاثہ کا پتہ لگتا ہے بعد آخری سطر ص ١٢٩ کے یہ پتہ لگتا ہے کہ کرم دین نے سلب امن کا ارادہ کیا ہے اور اس ارادہ کے بعد اس نے استغاثہ کی تجویز کی ہے اور وکلاء کے لئے کچھ مال رکھا گیا ہے اور کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ ملایا ہے۔ واقعات کے لحاظ سے میں نے یہ سمجھا کہ لئیم اور بہتان باندھنے والا خطوط اور سراج الاخبار سے پیدا ہوتا ہے اور آبرو ریزی کا ارادہ انہی خطوط و اخباروں کا نتیجہ ہے۔ آخر وہ نشانہ بنا ہے۔ اس مقدمہ سے جو اس پر

١؎۔ مولوی صاحب اپنے اس بیان میں جو بمقدمہ ٤١٧ لکھایا مضمون سراج الاخبار کا صرف مرزا قادیانی کی مجلس میں ذکر ہونا بیان کرتے ہیں اور کہ انکو یاد تک نہیں کہ اخبار مرزا قادیانی کی مجلس میں پڑھا بھی گیا یا نہیں۔ ملاحظہ ہو ص ٤٨ مقدمہ مذکور۔ اب آپ لکھاتے ہیں کہ انہوں نے خود پڑھا تھا۔ یہ ہے جھوٹ نمبر ٢!

٢؎۔ مولوی صاحب پہلے بیان میں لکھاتے ہیں کہ میں نے اس وقت خط کو نہیں دیکھا۔ اس خط کا مضمون جو پڑھا گیا تھا یہی ہے اور جس کو میں نے اب پڑھا ہے۔ (ص ٤٢، مقدمہ ٤١٧) اب آپ اس کے برخلاف فرماتے ہیں کہ میں نے یہ خطوط قادیان میں پڑھے تھے۔ یہ ہے جھوٹ نمبر ٣۔

١٣٦

کیا گیا ہے۔ مرزا قادیانی جہلم گئے تھے۔ آخر نجات مقدمہ ہے جس کا ذکر صفحہ ١٢٩ پر ہے اور نیز خطوط و اخبار انباء کے معنے ضمیر واحد ہے۔ انباء جمع ہے۔ اس لفظ سے کم سے کم تین بھی آسکتے ہیں۔ بعض انباء ظاہر ہوچکی ہیں۔ ص ١٢٩ پر مقدمہ

اس پیشین گوئی کے متعلق ہے جو پہلے بیان کی گئی ہے ہیں۔ (ف) کے معنے پس ہیں۔

بجواب مستغیث

میں نے جو شق مستغیث کے مخالف کی طرح کہ وہ مقدمہ خارج ہوگیا۔ جموں میں مجھے حکم دیا گیا نے عربی کا کوئی امتحان نہیں دیا۔ میرے وقت میں کہ عادی جھوٹے کو کذاب کہتے ہیں۔ ایسے شخص کو نے ابن خلقان میں بھی دیکھا ہے۔ میرے نزدیک کتاب تبریزی میں اس کا ترجمہ وقتاً بعد وقت جھوٹ خصوصیت رکھتا ہے۔ کاذب تھوڑا یا بہت بولنے والے سے زیادہ، کذاب دو دفعہ جھوٹ بولنا ضرور ہے کذاب بھی ہے کریم رحیم خدا کی صفات ہیں۔

١؎ جس مقدمہ کی نسبت خود بدولت گواہ مستغیث ہو اور جس کی نسبت فتح و نصرت کے الہامات میں مرزا قادیانی آپ کے مرشد نے ٥، ٤ گھنٹہ کھڑے آپ کو پورا علم نہ ہو۔ کیوں حضرت اس کو سفید جھوٹ ہونے پر قادیان میں کئی روز سوگ رہا ہوگا اور آپ کی حاضری ہوتی ہے۔ پھر یہ کس طرح سچ مان لیا جائے

٢؎ افسوس کہ جس ملازمت کا یہ انجام اندر ہاراں پتھروں سے نکل جاؤ اور اس کا بار بار تذکرہ

صفحہ ٤١١

کیا گیا ہے۔ مرزا قادیانی جہلم گئے تھے۔ آخر نجات مقدمہ کے بعد دی گئی۔ قضیہ سے مراد وہ معاملہ ہے جس کا ذکر صفحہ ١٢٩ پر ہے اور نیز خطوط و اخبار انباء کے معنے خبر دینا ہے۔ انباء واحد ہے۔ پھر کہا ہے کہ ضمیر واحد ہے۔ انباء جمع ہے۔ اس لفظ سے کم سے کم تین پیشین گوئیاں ہو سکتی ہیں۔ کسی محاورہ میں دو بھی آ سکتے ہیں۔ بعض انباء ظاہر ہو چکی ہیں۔ ص ١٢٩ پر مقدمہ کے متعلق پیشین گوئیاں یہ ہیں۔ ......١ آبرو ریزی مقدمہ کے ذریعہ۔ ......٢ کرم الدین کا مدعا علیہ ہونا۔ ......٣ مرزا قادیانی کا اس محکمہ میں حاضر کیا جانا صفحہ ١٣٠ پر قضیہ جس کا ترجمہ مقدمہ ہے۔ وہ اس پیشین گوئی کے متعلق ہے جو پہلے بیان کی گئی ہے۔ یعنی یہ پیشین گوئیاں لفظ ثم کے معنے پھر کے ہیں۔ (ف) کے معنے پس ہیں۔

بجواب مستغیث

میں نے پیشتر مستغیث کے مخالف کی طرف سے گواہی دی تھی۔ اس کا پورا علم نہیں ہے کہ وہ مقدمہ خارج ہو گیا۔ جموں میں مجھے حکم دیا گیا تھا کہ چلے جاؤ۔ شاید تین دن کے اندر، میں نے عربی کا کوئی امتحان نہیں دیا۔ میرے وقت میں کوئی امتحان نہ تھے۔ میں نے یہ کہیں نہیں دیکھا کہ عادی جھوٹے کو کذاب کہتے ہیں۔ ایسے شخص کو کذاب بولیں گے۔ ابن خلقان نے کہا ہے میں نے ابن خلقان میں بھی دیکھا ہے۔ میرے نزدیک دو دفعہ جھوٹ بولنے سے کذاب ہو جاتا ہے۔ کتاب تبریزی میں اس کا ترجمہ وقتاً بعد وقت جھوٹ بولے، کاذب کا لفظ وسیع ہے اور کذاب کا خصوصیت رکھتا ہے۔ کاذب تھوڑا یا بہت بولنے والے کو کہیں گے۔ خواہ جھوٹ بولے یا ایک یا دو سے زیادہ، کذاب دو دفعہ جھوٹ بولنا ضرور ہے جو شخص سو دفعہ جھوٹ بولے وہ بھی کاذب ہے اور کذاب بھی ہے کریم رحیم خدا کی صفات ہیں۔

١؎ جس مقدمہ کی نسبت خود بدولت گواہ ہوں اور آپ کا ہم وطن مخلص بھائی فضل دین بھیروی مستغیث ہو اور جس کی نسبت فتح و نصرت کے الہامات روز بروز دائری مقدمہ سے برس رہے ہوں اور جس میں مرزا قادیانی آپ کے مرشد نے ٤، ٥ گھنٹہ کھڑے ہو کر شہادت دی ہو اس کے خارج ہونے کی نسبت آپ کو پورا علم نہ ہو۔ کیوں حضرت اس کو سفید جھوٹ سے تعبیر کیوں نہ کیا جائے۔ اس مقدمہ کے خارج ہونے پر قادیان میں کئی روز سوگ رہا ہو گا اور آپ خود لکھا چکے ہیں کہ مرزا قادیانی کی مجلس میں روزانہ آپ کی حاضری ہوتی ہے۔ پھر یہ کس طرح سچ مان لیا جائے کہ آپ کو اس کے خارج ہونے کا پورا علم نہیں ہو گا۔

٢؎ افسوس کہ جس ملازمت کا یہ انجام ہوا ہو کہ ملازم کے خلاف شاہی حکم صادر ہو کہ تین دن کے اندر ہماری سرحدوں سے نکل جاؤ اور اس کا بار بار تذکرہ کر کے ایک فراموش شدہ ذلت کو ازسرنو تازہ کیا جائے۔

١٣٧

صفحہ ٤١٣

یہ لفظ صفت مشبہ ہیں۔ خدا کو کریم بلحاظ حال کے کہا جاتا ہے۔ صرف لفظ کریم سے دوام نہیں نکلتا۔ یوسف کو پیغمبر صاحب نے اپنی حدیث میں کریم بلحاظ حال کے کہا ہے۔ قبل و بعد کا تعلق نہیں ہے۔ پیغمبر صاحب کے وقت میں یوسف موجود تھے۔ کذاب لئیم بہتان بڑے سخت

شخص بھی اس بات سے واقف ہوگا کہ خدا تعالیٰ زمانہ حال میں ہی کریم نہیں بلکہ پہلے بھی تھا اور آئندہ بھی رہے گا۔ جیسا کہ اس کی ذات ازلی ابدی ہے۔ ویسا ہی اس کی صفات پاک بھی ازلی ابدی ہیں۔ پھر اس سے بڑھ کر جھوٹ کیا ہوگا کہ خدائے پاک کو صرف بلحاظ زمانہ حال کریم کہا جائے۔ جس کا صاف یہ معنے ہے کہ پہلے کریم نہیں تھا اور آئندہ بھی نہیں ہوگا۔ کیوں حضرت! یہ مکہ مدینہ یمن کی تعلیم کا اثر ہے یا درسگاہ دارالامان قادیان کا؟ آپ ایسے فاضل وقت کے منہ سے ایسا کلمہ نکلنا نہایت ہی سخت افسوس کے قابل ہے۔ آپ کو یہ مجبوری صرف اس لئے پیش آئی کہ صفت مشبہ کی نسبت آپ نے الٹا قاعدہ ایجاد کیا کہ اس کا اطلاق موصوف پر بلحاظ زمانہ حال کے ہوتا ہے۔ اس لئے آپ یہ کہہ کر کفر بکنے پر مجبور ہو گئے کہ خدا کو بھی کریم بلحاظ زمانہ حال کے کہا جاتا ہے۔ اس کے خلاف اگر کہتے کہ خدا تعالیٰ ہر زمانہ میں کریم ہے تو قاعدہ مخترعہ ٹوٹتا تھا۔ مولوی صاحب نے یہ خیال کر کے کہ خواہ راستی کا خون ہو ایمان کو نقصان پہنچے۔ لیکن قاعدہ موضوعہ نہ ٹوٹے ایسا کلمہ کہنے کی جرات کی ہے۔ مرزائیو انصاف سے کہنا۔ کیا اب بھی مولوی صاحب سے اس قول پر آپ بھی متفق ہوں گے کہ خدا تعالیٰ صرف بلحاظ زمانہ حال کے ہی کریم ہے۔ افسوس مولوی صاحب کی اس جرات پر رونا چاہئے یہ ہے جھوٹ نمبر ٥۔

پہلے فوت ہو چکے تھے۔ پھر آپ ان کو کریم بلحاظ زمانہ حال کے کس طرح کہتے تھے۔ مگر مولوی صاحب کیا کرتے قاعدہ کو تو قائم رکھنا تھا۔ گودنیا آپ کی ایسی بے تکی باتوں پر کیوں نہ ہنسے۔ شرم، یہ ہے جھوٹ نمبر ٦۔

جرح نے ایسا رعب ڈالا کہ حکیم الامۃ صاحب کے ہوش ٹھکانے نہ رہے۔ مولانا یوسف علیہ السلام پیغمبر صاحب کے زمانہ میں موجود نہیں تھے۔ بلکہ ان کو فوت ہوئے کئی قرن گزر چکے تھے۔ آپ کی تبحر علمی کا تو سارا پردہ ہی فاش ہو گیا۔

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرۂ خون نہ نکلا

یوسف علیہ السلام کا پیغمبر صاحب کے وقت میں موجود ہونے کا ادّعا تو ایک ایسا جھوٹ ہے جو ہزار جھوٹوں سے بھی زیادہ وزن رکھتا ہے۔ یہ ہے جھوٹ نمبر ٧۔

١٣٨

توہین کے کلمات ہیں۔ میں سراج الاخبار کا خریدار نہیں ہ میں یاد نہیں۔ میں نے اخبار سنا اور پڑھا تھا۔ خطوط ضمیمہ اخبار سے پہلے دیکھے تھے۔ تعداد خطوط یاد نہیں۔ کرم دین ظاہر ہوئی۔ وہ تقدیر وہ ہے جس کا ذکر پہلی سطروں می مرزا قادیانی کو ظاہر ہوئی۔ امور متذکرہ خواب میں عدال کا ظہور بھی اسی کرم دین کے ہاتھ پر ہوا۔ عدالت می ہے۔ اب پتہ لگ گیا کہ کرم دین وہ ہے جس ن مرزا قادیانی عدالت میں گئے۔ آگ میں جلانا اور دن مقدمہ و خطوط و اخبار کے پتے معلوم کرنے کے وقت بھ واقعات کے لحاظ سے استغاثہ سطر ٢ ص کیا گیا تھا۔ بوقت تصنیف اس کتاب مواہب الر مراد یہ ہے کہ اس پر کوئی بات آنے والی اور وہ آ گیا۔ ١٤؍ جولائی ١٩٠٣ء کو واقعات کے رو سے کر ایک مقدمہ کیا گیا تھا۔ مرزا قادیانی کو نجات ہوئی نجات نہیں ہوئی۔ ص ١٢٩ پر ذلک اشارہ واحـ واقعات نے تصریح نہیں کی کہ کیا ہیں۔ واقعا صاحب اور ایڈیٹر سراج الاخبار یہ تین مددگار مقدمہ بمقام جہلم کتاب سے کسی مددگار کا پتہ نہیں

اب اخبار سنا اور پڑھا تھا۔ کہنا اس کے تناقض س

ہوتا ہے۔ اس بات پر کسی دلیل دینے کی ضرور الامت صاحب فرماتے ہیں کہ دلیل مددگار نہیں

صفحہ ٤١٣

توہین کے کلمات ہیں۔ میں سراج الاخبار کا خریدار نہیں ہوں۔ تاریخ پہنچنے سراج الاخبار کی قادیان میں یاد نہیں۔ میں نے اخبار سنا اور پڑھا تھا۔ خطوط سٹیمس نے دیکھے تھے۔ تاریخ یاد نہیں۔ خطوط اخبار سے پہلے دیکھے تھے۔ تعداد خطوط یاد نہیں۔ کرم دین وہ لکھا ہے جس کے ہاتھ پر تقدیر خدا کی ظاہر ہوئی۔ وہ تقدیر وہ ہے جس کا ذکر پہلی سطروں میں ہے۔ یعنی جو خواب کے ذریعہ سے مرزا قادیانی کو ظاہر ہوئی۔ امور متذکرہ خواب میں عدالت میں پکڑے ہوئے جانا شامل ہے۔ اس کا ظہور بھی اسی کرم دین کے ہاتھ پر ہوا۔ عدالت میں پکڑے ہوئے جانا بذریعہ استغاثہ کے ہوتا ہے۔ اب پتہ لگ گیا کہ کرم دین وہ ہے جس نے استغاثہ مرزا قادیانی پر کیا اور اس میں مرزا قادیانی عدالت میں گئے۔ آگ میں جلانا اور دن کو رات کرنا متعلق ارادہ ہیں۔ جو ارادہ متعلق مقدمہ و خطوط واخبار کے ہے معلوم کرنے کے وقت بھی آدمی جمع کئے جاتے ہیں۔

واقعات کے لحاظ سے استغاثہ سطر ٢ ص ١٣٠ سے مراد اس استغاثہ کی ہے جو جہلم میں کیا گیا تھا۔ بوقت تصنیف اس کتاب مواہب الرحمٰن کے وہ استغاثہ دائر تھا۔ نشانہ بننے سے مراد یہ ہے کہ اس پر کوئی آفت آنے والی اور وہ آبرو ریزی کے بعد یہ معنے نہیں ہیں کہ نشان بن گیا۔ ١٤؍ جولائی ١٩٠٣ء کو واقعات کے رو سے کرم دین نشانہ بن چکا تھا۔ یعنی اس کے اوپر بھی ایک مقدمہ کیا گیا تھا۔ مرزا قادیانی کو نجات ہوئی۔ کرم دین کو جس غرض کا نشان بنانا تھا اس سے نجات نہیں ہوئی۔ ص ١٤٩ پر ذلک اشارہ واحد ہے۔ اس کی تعیین خواب میں نہیں ہوئی۔ واقعات نے تصریح نہیں کی کہ کیا ہیں۔ واقعات کے قرائن نے بتلایا کہ شہاب الدین پیر صاحب اور ایڈیٹر سراج الاخبار یہ تین مددگار ہیں۔ ارادہ توہین ہوا بذریعہ خطوط اخبار اور مقدمہ بمقام جہلم کتاب سے کسی مددگار کا پتہ نہیں لگتا۔ وکیل ٣؎ مددگار نہیں ہوا کرتے۔

١؎ حالانکہ آپ پہلے بیان بمقدمہ ١٤٧ صرف اخبار کے مضمون کا ذکر سننا لکھا چکے ہیں۔ اب اخبار سنا اور پڑھا تھا۔ کہنا اس کے مناقض ہے۔ جھوٹ نمبر ٨۔ ٢؎ یہ قول آپ کا آپ کے بیان مذکورہ مندرجہ ص ٢٢ کے خلاف ہے۔ جھوٹ نمبر ٩۔ ٣؎ یہاں ایک بدیہی امر کا انکار کیا گیا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ وکیل مؤکل کا مددگار ہوتا ہے۔ اس بات پر کسی دلیل دینے کی ضرورت نہیں۔ لیکن مکہ مدینہ یمن وغیرہ کے تعلیم یافتہ حکیم الامت صاحب فرماتے ہیں کہ وکیل مددگار نہیں ہوتے۔ یہ جھوٹ نمبر ١٠۔ "تلك عشرۃ کاملہ"

١٣٩

صفحہ ١٥

اگر کوئی ساری عمر میں تین جھوٹ بولے تو اس کو کذاب کہیں گے۔

بجواب وکیل ملزمان

یوسف کو کریم بلحاظ حال کے سمجھ کر کہا گیا۔ عربی میں ظہور کے معنے مشاہدہ کے نیچے آجانا۔ کرم دین کا تعین واقعات کے رو سے میں نے کہا ہے۔ متعلق عدالت میں حاضر ہونے کے جس غرض کے لئے کرم دین نشانہ بنا تھا اس سے نجات نہیں ہوئی۔ اس سے مراد یہ ہے کہ خط اور مضمون اخبار کرم دین کا قرار دیا گیا۔

(العبد نور الدین، دستخط حاکم!)

بجواب عدالت

جب کوئی عربی لفظ اردو میں استعمال کیا جاوے تو کبھی اس کے معنوں میں فرق پڑے گا اور کبھی نہیں۔ ہر لفظ کی نسبت ایسا نہیں ہے۔ میں مرزا قادیانی کا مرید ہوں۔ قریباً ٢٠ سال سے اردو قواعد دانوں نے عربی کی اصلاحیں کی ہیں اور بہت کچھ عربی کے مطابق کرنے کی کوشش کی۔۔

(العبد نور الدین، دستخط حاکم!)

اب ہم مولوی صاحب کا وہ حلفی بیان بھی درج کر دینا مناسب سمجھتے ہیں جو آپ نے بمقدمہ ٤١٧ تعزیرات ہند بحیثیت گواہ استغاثہ عدالت میں دیا۔

نقل بیان مولوی نور الدین صاحب گواہ استغاثہ مقدمہ ٤١٧ تعزیرات ہند

مورخہ صیغہ نمبر بستہ نمبر مقدمہ ٢١ جنوری ١٩٠٣ء متفرقہ ٥١/٢

بمقدمہ کرم دین ولد فضل دین سکنہ موضع بھیں تحصیل بھیرہ ضلع شاہپور مستغیث بیان گواہ استغاثہ باقرار صالح۔ نور الدین ولد غلام رسول قوم قریشی سکنہ قادیان عمر چونسٹھ سال پیشہ طبابت قریباً بارہ سال سے میں قادیان میں مقیم ہوں۔ اس سے پہلے میں بھیرہ ضلع شاہ پور میں تھا۔ وہی میرا اصلی وطن تھا۔ پہلے میں جموں میں ملازم تھا۔ خاندان شاہی کا طبیب تھا۔

١؎ حضرت بے ادبی معاف۔ جب ساری عمر میں تین دفعہ جھوٹ بولنے والا کذاب ہوتا ہے تو آپ نے صرف ایک روز میں (اور شاید ایک گھنٹہ کے اندر) عشرہ کاملہ تک نمبر حاصل کئے ہیں۔ پھر آپ کے لئے کون سا خطاب تجویز کیا جائے۔ جو کذاب سے کچھ زیادہ فضیلت رکھتا ہو؟ اور ابھی آپ کے پہلے بیان حلفی کے نمبر شمار میں نہیں آئے۔ ان کی گنتی انشاء اللہ تعالیٰ! اس فہرست اکاذیب میں آئے گی جو آخر میں درج ہوگی۔

١٤٠

پندرہ سال طبیب شاہی رہا۔ تخمیناً ہزار روپیہ م تھی۔ اس سے پہلے ریاست بھوپال میں ملازم جب سے میں قادیان میں رہتا ہوں بہت سی ب سے بہاولپور کی ریاست ہے وہ مجھ کو بطور تنخواہ تھی۔ میں نے منظور نہیں کیا۔ صرف اس وجہ س کرم دین سے میں واقف ہوں۔ ان دنوں جب ملزم میرے پاس تشریف لائے تھے۔ میرے پڑتا ہے آئے تھے۔ جب میں قادیان میں آ خطوط کی جو ان کی طرف سے آئے تعداد نہیں اپنے خطوط کے جو میں ان کو لکھتا تھا لمبے ہو قادیان سے نکلتا ہے جو کچھ اس اخبار میں میر ١٨٩٩ء ہے) میں کرم دین کے دستخط پہچان ہے۔ پی نمبر ٩، پی نمبر ١١، پی نمبر ١٢، پی نمبر ١٣ بھی مولوی کرم دین کے دستخطی ہے۔ پی نمبر خط موضع بھیں سے قادیان میں آیا ہوا ہے تھا۔ مولوی عبد الکریم نے پڑھا تھا۔ میں نے گیا تھا یہی ہے جو پی نمبر ٤ میں ہے اور عملدرآمد ہوا۔ اس خط کو یقینی سمجھا گیا۔ اس

١؎ حکیم الامۃ صاحب مع مرزا قادیانی کی تحریک اور حکم سے حکیم فضل اس وقت مرزا قادیانی نے کہا کہ ان کے جائے۔ مرزا قادیانی کی اس خواہش کی سطر ١٠، ١١۔ لیکن مرزا قادیانی اپنے بیان ’’اس خط کے مضمون کی تصدیق کے وا حکیم فضل دین نے کہا کہ اس کارروائی آپ جائیں۔‘‘ فرمائیے! ہر سہ اصحاب

صفحہ ٤١٥

پندرہ سال میں طبیب شاہی رہا۔ تخمیناً ہزار روپیہ ماہوار میری آمدنی تھی۔ تنخواہ سرکاری ٧٥٥ روپیہ تھی۔ اس سے پہلے ریاست بھوپال میں ملازم تھا۔ وہاں بھی خاص بیگم صاحب کا طبیب تھا۔ جب سے میں قادیان میں رہتا ہوں بہت سی ریاستوں نے مجھ کو ملازمت کے لئے کہا۔ منجملہ ان کے بہاولپور کی ریاست ہے وہ مجھ کو بطور تنخواہ کے ٥٠٠ روپیہ ماہوار اور بہت سی زمین دینا چاہتی تھی۔ میں نے منظور نہیں کیا۔ صرف اس وجہ سے کہ میں مرزا قادیانی کے پاس رہنا چاہتا تھا۔ ملزم کرم دین سے میں واقف ہوں۔ ان دنوں جب میں جموں میں تھا اور الگ ہونے والا تھا کرم دین ملزم میرے پاس تشریف لائے تھے۔ میرے پاس کچھ دن رہے۔ طبابت پڑھنے کے واسطے، یاد پڑتا ہے آئے تھے۔ جب میں قادیان میں آیا تو گاہے گاہے وہ مجھ کو خط لکھا کرتے تھے۔ میں خطوط کی جو ان کی طرف سے آئے تعداد نہیں بتا سکتا۔ ان کی طرف سے جو خطوط آتے تھے بمقابلہ اپنے خطوط کے جو میں ان کو لکھتا تھا لمبے ہوتے تھے۔ یہ اخبار میں نے دیکھا الحکم ہے۔ یہ اخبار قادیان سے نکلتا ہے جو کچھ اس اخبار میں میری نسبت لکھا ہے وہ بہت صحیح ہے۔ (یہ اخبار ٧/ دسمبر ١٨٩٩ء ہے) میں کرم دین کے دستخط پہچان سکتا ہوں۔ پی نمبر ٤ مولوی کرم دین کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔ پی نمبر ٩، پی نمبر ١١، پی نمبر ١٢، پی نمبر ١٣ کا معہ لفافہ مولوی کرم دین کے دستخطی ہیں۔ پی نمبر ١٤ کا بھی مولوی کرم دین کے دستخطی ہے۔ پی نمبر ١٤ اور پی نمبر ١٤ ایک ہی ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں جو ایک خط موضع بھیں سے قادیان میں آیا ہوا ہے۔ مجلس میں پڑھا گیا۔ یہ مولوی کرم دین کی طرف سے تھا۔ مولوی عبدالکریم نے پڑھا تھا۔ میں نے اس وقت خط کو نہیں دیکھا۔ اس خط کا مضمون جو پڑھا گیا تھا یہی ہے جو پی نمبر ٤ میں ہے اور جس کو میں نے اب پڑھا ہے۔ اس خط کے مضمون پر عملدرآمد ہوا۔ اس خط کو یقینی سمجھا گیا۔ اس وقت مرزا قادیانی نے کہا کہ کسی کو جانا چاہئے۔

١؎ حکیم الامۃ صاحب معہ اپنے بھائی بھیروی (مستغیث) کے تو متفق ہیں کہ مرزا قادیانی کی تحریک اور حکم سے حکیم فضل دین بھیں کو گئے۔ جیسا کہ مستغیث کا یہی بیان ہے۔ اس وقت مرزا قادیانی نے کہا کہ ان کے مریدوں میں سے کوئی ایسا ہے جو مولوی کرم دین کے پاس جائے۔ مرزا قادیانی کی اس خواہش کی تعمیل میں میں نے اپنی خدمات پیش کیں۔ دیکھو ص ١٠، سطر ١٠، ١١۔ لیکن مرزا قادیانی اپنے بیان مورخہ ١٩؍ اگست میں اس کے برخلاف یوں لکھاتے ہیں۔ ”اس خط کے مضمون کی تصدیق کے واسطے میں نے کوئی آدمی نہیں بھیجا۔ مگر مشورہ کے طور پر مجھ سے حکیم فضل دین نے کہا کہ اس کارروائی میں میرا فائدہ ہے۔ میں نے ان کو کہا کہ آپ کا اختیار ہے کہ آپ جائیں۔“ فرمائیے! ہر سہ اصحاب میں سے کس کا قول سچا مانا جائے۔ تناقض صریح ہے۔

١٤١

صفحہ ٤١٧

تب حکیم فضل دین ایک ہمارے بھائی ہیں جو مقدمہ میں مستغیث ہیں۔ انہوں نے کہا اس خدمت کو میں اپنے ذمے لیتا ہوں۔ پھر وہ چلے گئے۔ اس سے پہلے حکیم فضل دین کا ارادہ قادیان کو چھوڑنے کا نہیں تھا۔ جس طرح سے میں اپنا رہنا وہاں ضروری سمجھتا ہوں اس طرح سے اس کا رہنا وہاں ضروری ہے۔ حکیم فضل دین قادیان میں مستقل رہتے ہیں۔ مطبع ضیاء الاسلام کا مالک حکیم فضل دین ہے۔ جہاں تک مجھ کو معلوم ہے اس مطبع کے نفع نقصان سے اور کسی کو کچھ تعلق نہیں ہے۔ ایک کتاب نزول المسیح اس مطبع میں چھپی تھی کن ایام میں چھپی تھی معلوم نہیں ہے۔

سرقہ تصنیف میں اس کو کہتے ہیں کہ کسی ایسے شخص کا کلام جو وہ مشہور نہ ہو اور اس کا کلام بھی مشہور نہ ہو۔ ایسی جماعت میں پیش کیا جاوے جو اس پیش کرنے والے کی نسبت خیال کر سکیں کہ اسی متکلم کا کلام ہے۔ اس نے کسی اور سے نہیں لیا۔ لیکن جب کوئی کلام اس متکلم کے سوا کسی اور شخص کا کلام مشہور ہو اور وہ متکلم بھی مشہور ہو تو پھر اس کلام کو اپنی کلام کے اندر لانا سرقہ نہیں ہو سکتا۔ متکلم کا ذکر کرنا خوبی نہیں ہوتا ہے۔ ملزم کے مضمون مندرجہ سراج الاخبار مورخہ ٦؍اکتوبر میں جو فقرات عربی اور فارسی کے درج کئے گئے ہیں ان کو سرقہ نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ وہ فقرے مشہور ہیں اور ان کے متکلم مشہور ہیں۔ میں نے سیف چشتیائی پی آر نمبر ٥ اور اعجاز المسیح پی نمبر ٦ کے نوٹوں کا مقابلہ کیا۔ ان نوٹوں کی نقل سیف چشتیائی میں قریباً برابر ہے۔ سیف چشتیائی کے چھپنے سے پہلے وہ مضمون جو نوٹوں میں ہے میں نے قطعاً کہیں نہیں دیکھا۔

سوال...... اعجاز المسیح کے نوٹ اگر سیف چشتیائی کے مصنف کے نہ ہوں اور یہ فرض کیا جاوے کہ ان کے لکھنے والا مصنف چشتیائی نہیں ہے تو یہ سرقہ ہے کہ اقتباس؟

جواب...... سرقہ ہے کیونکہ وہ کلام مشہور نہیں ہے۔

١؎ مولانا آپ کی لیاقت وفضیلت کی تو ایک دنیا قائل تھی۔ لیکن سرقہ کی یہ نرالی تعریف کر کے آپ نے ہمیں سخت غیر معتقد کر دیا۔ ہم نے تو بیان ومعانی کی ساری کتابیں چھان ماریں۔ آپ کی یہ تعریف اور شہرت وعدم شہرت کی قیود نہیں ملتیں۔ آپ نے مطول اکبر مرشدی کا نام لیا تھا۔ سو مطول میں تو یہ تعریف ہرگز نہیں۔ مرشدی کی سمجھ نہیں آئی کہ اس کا معنے آپ کے مرشد مرزا قادیانی مراد ہیں یا کسی کتاب کا نام ہے۔ اکبر کوئی کتاب معانی کی دنیا میں نہیں ہے۔ مولانا پر فرض ہے کہ مرشدی اور اکبر اگر کوئی کتابیں ہیں اور ان میں سرقہ کی یہ من گھڑت تعریف ہے تو دکھائیں اور اپنے ذمہ سے یہ غلط بیانی کا دھبہ اٹھائیں۔

١٤٢

جرح ...... میں نے اپنے وطن کی سکونت بالکل ترک مستغیث ہیں ترک کر دی ہے۔ میں نے اپنی مذہبی قادیان میں رہوں۔ وطن میں وہ اصلاح نہیں ہو سکتی

سوال ...... وکیل ملزم یہاں کیا اصلاح ہوتی ہے۔

فیصلہ ...... یہ سوال بہت مبہم ہے اور اس کا جواب کے رشتہ داروں سے میں مرزا قادیانی کو بڑھ کر سمجھتا ہوتا ہوں۔ ان کے ساتھ چار نمازوں میں بھی شریک ہونے کا موقعہ ملتا ہے۔ ان دو وقتوں میں میں مرزا قادیانی شریک تھے۔ مجھ کو اس بات کا پورا شادی کرائی۔ میں مرزا قادیانی کا مرید ہوں اور

میں مرزا قادیانی کے احکام کی تعمیل جسمانی سخت ضرورتوں کی ماتحت پسند کرتا ہو مرزا قادیانی نے مجھ کو کوئی خطاب عطاء نہیں مرزا قادیانی کو جو لوگ برا کہتے ہیں ان کو میں پڑھتا۔ سلامٌ علیک گو ان سے کرتا ہوں۔ ا مرزا قادیانی کی ہدایت کے مطابق پڑھوں گا نہیں پڑھوں گا۔ مرزا قادیانی کے الہام اور اور پیش گوئیوں کو منجانب اللہ سمجھتا ہوں۔ میں پاس جاتا ہوں۔ خطوں کا قاعدہ یہ ہے خط کو

١؎ پھر مرزا قادیانی کا وہ قول درج درج فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنا مال و جا ضروریات کو آپ نے اپنے رسول (مرزا قا صدیقی اور فاروقی ایمان کے رتبہ کو تو نہ پہنچا

٢؎ پھر آئینہ کمالات اسلام میں اور حکیم الامۃ کی قید تو الحکم کے ہر پرچہ میں

٣؎ سلام علیک کرنے میں آی سے نہ سلام دو نہ لو۔ دیکھو الحکم!

صفحہ ٤١٧

جرح ...... میں نے اپنے وطن کی سکونت بالکل ترک کر دی ہے اور فضل دین صاحب نے بھی جو مستغیث ہیں ترک کر دی ہے۔ میں نے اپنی مذہبی اصلاح کے لئے بہت ضرورت سمجھی کہ یہاں قادیان میں رہوں۔ وطن میں وہ اصلاح نہیں ہو سکتی تھی جو یہاں ہو سکتی تھی اور ہوتی ہے۔

سوال ...... وکیل ملزم یہاں کیا اصلاح ہوتی ہے۔ وکیل مستغیث اعتراض کرتے ہیں؟

فیصلہ ...... یہ سوال بہت مبہم ہے اور اس کا جواب طول طویل بحث ہوگا۔ اس لئے نامنظور۔ دنیا کے رشتہ داروں سے میں مرزا قادیانی کو بڑھ کر سمجھتا ہوں۔ مرزا قادیانی کے پاس دو دفعہ میں حاضر ہوتا ہوں۔ ان کے ساتھ چار نمازوں میں بھی شریک ہوتا ہوں۔ ان میں سے دو دفعہ زیادہ حاضر ہونے کا موقعہ ملتا ہے۔ ان دو وقتوں میں میں اس کو وہاں دیکھتا ہوں۔ میری شادی ثانی میں مرزا قادیانی شریک تھے۔ مجھ کو اس بات کا پورا علم نہیں ہے کہ مرزا قادیانی نے تحریک کر کے یہ شادی کرائی۔ میں مرزا قادیانی کا مرید ہوں اور مستغیث بھی ان کا مرید ہے۔

میں مرزا قادیانی کے احکام کی تعمیل خدائی حکموں اور محمد رسول اللہ کے حکموں اور اپنی جسمانی سخت ضرورتوں کی ماتحت پسند کرتا ہوں۔ اگر ماتحت نہ ہوں تو تعمیل ضروری سمجھتا ہوں۔ مرزا قادیانی نے مجھ کو کوئی خطاب عطاء نہیں کئے ہیں۔ حکیم امت خطاب میرا نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کو جو لوگ برا کہتے ہیں ان کو میں اچھا نہیں سمجھتا۔ میں ایسے مسلمان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا۔ سلام علیک گو ان سے کرتا ہوں۔ ایسے شخص کا جنازہ جو مرزا قادیانی کو برا کہتا ہے میں مرزا قادیانی کی ہدایت کے مطابق پڑھوں گا۔ یعنی اگر مرزا قادیانی فرما دیں گے تو پڑھوں گا۔ ورنہ نہیں پڑھوں گا۔ مرزا قادیانی کے الہام اور پیشین گوئیوں کو میں سچا سمجھتا ہوں اور ان کو یعنی الہام اور پیش گوئیوں کو منجانب اللہ سمجھتا ہوں۔ میں شام کے وقت اور ظہر کے وقت ضرور مرزا قادیانی کے پاس جاتا ہوں۔ خطوں کا قاعدہ یہ ہے خط کئی قسم کے آتے ہیں۔ بعض خطوں کا جواب مرزا قادیانی

درج فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنا مال و جان و عزت مرزا قادیانی پر قربان کر دی ہوئی ہے۔ جسمانی ضروریات کو آپ نے اپنے رسول (مرزا قادیانی) کے احکام پر مقدم رکھا تو پھر آپ کا ایمان ان سے صدیقی اور فاروقی ایمان کے رتبہ کو تو نہ پہنچا۔

اور حکیم الامۃ کی قید تو الحکم کے ہر پرچہ میں لگی ہوئی ہوتی ہے۔

سے نہ سلام دو نہ لو۔ دیکھو الحکم!

١٤٣

صفحہ ٤١٨

گھر کے اندر دیتے ہیں اور ہمیں اس کی اطلاع کبھی نہیں ہوتی۔ اکثر خطوط مولوی عبدالکریم کے سپرد کرتے ہیں۔ جن کو پڑھنے کا میں عادی نہیں ہوں۔ جو خط مرزا قادیانی کے نام خطوط ہوتے ہیں سب ان کو ملتے ہیں۔ بعض خطوط بغیر پڑھنے کے اور بعض پڑھ کر مولوی عبدالکریم کے سپرد کرتے ہیں۔ وہ جواب لکھتے ہیں۔ ان کی اطلاع مجھ کو نہیں ہوتی۔ بعض بعض خطوط کا مجلس میں ذکر آتا ہے جو ذکر مرزا قادیانی یا مولوی عبدالکریم کرتے ہیں۔ بعض وقت زبانی ذکر ہوتا ہے اور بعض وقت خط بھی پڑھا جاتا ہے۔ یہ خط اکثر ظہر کے وقت پڑھے جاتے ہیں۔ بعض خطوط کا تذکرہ شام کو بھی آتا ہے۔ قادیان میں میں دو کام کرتا ہوں۔ ایک طبابت کا کام، دوسرا درس تدریس میری طبابت کی فیس سالانہ پانچ چھ سو روپیہ کے قریب ہوتی ہے۔ یہ سال گزشتہ کی آمدنی بتائی ہے۔ محرم سے لے کر محرم ایک سال سمجھتا ہوں۔ مدرسہ کا کام مرزا قادیانی نے میرے ذمہ نہیں ڈالا ہوا۔ مدرسے کے چندہ کا کام جب سے مدرسہ ہوا ہے کبھی میرے سپرد نہیں ہوا۔ چندہ میرے نام کبھی نہیں آتا۔ ایک شخص محمد رضوی نامی کبھی میری معرفت چندہ بھیجتا ہے۔ مرزا قادیانی کو جو چندے آتے ہیں ان کا مجھ کو کچھ علم نہیں ہے۔

١ے ناظرین! مولوی صاحب کا یہ بیان بغور پڑھیں اور پھر بیان مرزا صاحب متعلقہ عذرداری انکم ٹیکس مندرجہ صفحہ ١٤ سطر ١١ لغایت ١٥ بھی پڑھیں۔ جس میں مرزا قادیانی مدرسہ کی آمدنی کی نسبت لکھاتے ہیں: ”میں نے انتظاماً وہ کام مولوی نور دین کے سپرد کر رکھا ہے۔ وہی حساب و کتاب رکھتے ہیں اور بذریعہ اشتہار چندہ دہندگان کو اطلاع دی گئی ہے کہ اس کا روپیہ براہ راست مولوی نور دین کے نام ارسال کریں۔ وہ آمدنی براہ راست مولوی نور الدین صاحب کے سپرد ہو کر ان کو پہنچتی ہے۔ اس آمدنی اور مدرسہ کا خرچ کا حساب و کتاب ان کے پاس ہے۔ وہ حساب و کتاب باضابطہ ہے۔“ اور یہاں مولانا فرماتے ہیں کہ مدرسہ کا کام مرزا قادیانی نے میرے ذمہ نہیں ڈالا ہوا۔ مدرسہ کا کام جب سے مدرسہ ہوا ہے میرے سپرد نہیں ہوا۔ چندہ میرے نام نہیں آتا۔ کوئی صورت تطبیق کی ہو سکتی ہے تو کیجئے!

٢ے بے شک آپ کو علم نہ ہوگا۔ لیکن مولانا آپ نے اپنے بیان متعلقہ عذرداری انکم ٹیکس میں تو چندوں کی نسبت اپنا پورا علم لکھا دیا ہے اور پانچ مدوں کا تذکرہ کر کے تمام چندہ کی تفصیل بھی بتائی ہے اور یہاں بالکل بے علمی، کیا وہ بات تو نہیں۔ لکیلا یعلم بعد علم شیئا ! ناظرین! مولوی صاحب کا بیان مندرجہ ص ٦٠٥ ملاحظہ فرما کر داد دیں کہ مولوی صاحب کی کون سی بات سچی ہے؟

١٤٤

خطوط جو مجلس میں پڑھے جاتے ہیں ان اور ان آدمیوں کے نام بھی یاد رہ جاتے ہیں مجھ دن کرم الدین کا خط مجلس میں پڑھا گیا یا اس کے ساتھ کسی شخص کا خط مجلس میں پڑھا گیا ہو میں پڑھے گئے ان کے مضمون ان تاریخوں س ہمارے دوست عبدالرحمان کا خط آیا اور مجلس میں کہہ سکتا۔ ایک خط اور ایک بار ان ہی گزشتہ مو متعلق آئے تھے اور مجلس میں ان کا ذکر آیا تھ میرے پاس جموں میں پڑھتے رہے۔ ان م ہیں جو ہمیشہ میرے پاس رہتے تھے آٹھ دس جاتا تھا۔ آٹھ دس وہ تھے جو ہمارے یہاں پ ایسے پانچ چار طالب علم رہتے تھے۔ ان دونو جو اس وقت جب کرم دین میرے پاس آ میرے پاس پڑھتے رہے۔ کرم دین نے کو پاس ٹھہرے تھے۔ کچھ دن وہ ٹھہرے تھے نے کبھی کچھ نہیں لکھا تھا۔ اس کے بعد کرم د کرم دین کا میرے پاس کب آیا۔ یہ بھی ن کرم دین کے خطوط کی تعداد یاد نہیں ہے میرے پاس پڑھتے۔ بعضوں کے خط میر غلام محمد جو پشاور میں رہتا ہے۔ ان دو کا ب ہیں اور کسی کا یاد نہیں ہے جو مریضوں کے بھی یاد نہیں رکھتا۔ کیونکہ ضروری نہیں سمجھ جن کے خط میرے پاس آئے ہوں او سامنے آوے تو میں اس کو اچھی طرح پہچ سوال...... جو خط آپ کے پاس آئے لیتے ہو؟

صفحہ ٤١٩

خط جو مجلس میں پڑھے جاتے ہیں ان کے مطالب بعض یاد رہ سکتے ہیں اور رہ جاتے ہیں اور ان آدمیوں کے نام بھی یاد رہ جاتے ہیں مجھ کو اس طرح سے کوئی خط یاد نہیں ہے کہ اس دن جس دن کرم الدین کا خط مجلس میں پڑھا گیا یا اس سے آٹھ دن پہلے یا آٹھ دن بعد ایسے خطوط تاریخوں کے ساتھ کسی شخص کا خط مجلس میں پڑھا گیا ہو۔ میں جنوری ١٩٠٣ء یا فروری ١٩٠٣ء میں جو خط مجلس میں پڑھے گئے ان کے مضمون ان تاریخوں کے ساتھ قید لگا کر نہیں بتا سکتا۔ اپریل اور مئی گزشتہ میں ہمارے دوست عبدالرحمان کا خط آیا اور مجلس میں اس کا ذکر کیا گیا۔ اپریل میں آیا یا مئی میں آیا یہ نہیں کہہ سکتا۔ ایک خط اور ایک بار ان ہی گزشتہ مہینوں میں ڈاکٹر اسمعیل اور ان کے خسر کی بیماری کے متعلق آئے تھے اور مجلس میں ان کا ذکر آیا تھا۔ کل خط کتنے آئے تھے۔ مجھ کو یاد نہیں ہے جو لڑکے میرے پاس جموں میں پڑھتے رہے۔ ان میں سے بہتوں کے نام یاد ہیں اور بہتوں کے یاد نہیں ہیں جو ہمیشہ میرے پاس رہتے تھے آٹھ دس لڑکے تھے۔ کبھی کوئی چلا بھی جاتا تھا اور کبھی نیا آ بھی جاتا تھا۔ آٹھ دس وہ تھے جو ہمارے یہاں پرورش پاتے تھے۔ باقی بھی میرے یہاں کھانا کھاتے۔ ایسے پانچ چار طالب علم رہتے تھے۔ ان دنوں کے طالب علموں کے نام اس وقت مجھ کو یاد نہیں ہیں جو اس وقت جب کرم دین میرے پاس آئے۔ میرے پاس تھے یہ بھی یاد نہیں کہ وہ کتنی مدت میرے پاس پڑھتے رہے۔ کرم دین نے کوئی کتاب شروع نہیں کی تھی چھ مہینے سے کم کرم دین میرے پاس ٹھہرے تھے۔ کچھ دن وہ ٹھہرے تھے۔ جس کی تعداد مجھ کو یاد نہیں ہے۔ میرے سامنے کرم دین نے کبھی کچھ نہیں لکھا تھا۔ اس کے بعد کرم دین پھر مجھ کو کبھی نہیں ملا۔ مجھ کو تاریخ یاد نہیں کہ آخری خط کرم دین کا میرے پاس کب آیا۔ یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ کتنی مدت ہوئی کہ ان کا آخری خط آیا مجھ کو کرم دین کے خطوط کی تعداد یاد نہیں ہے جو میرے پاس ان کے آئے ان طالبعلموں میں سے جو میرے پاس پڑھتے۔ بعضوں کے خط میرے پاس آئے۔ غلام محمد جو گلگت میں رہتا ہے اور ایک غلام محمد جو پشاور میں رہتا ہے۔ ان دو کا مجھ کو یقین ہے کہ ان کے خطوط میرے پاس اب تک آتے ہیں اور کسی کا یاد نہیں ہے جو مریضوں کے خط بھی میرے پاس آویں اور ان کو نسخے بھیجوں ان کے نام بھی یاد نہیں رکھتا۔ کیونکہ ضروری نہیں سمجھتا۔ اگر چاہوں تو یاد رکھ سکتا ہوں بہت سے ایسے آدمی ہیں جن کے خط میرے پاس آئے ہوں اور بعد میں سلسلہ بند کیا گیا ہو تو پھر اگر ان کا لکھا ہوا میرے سامنے آوے تو میں اس کو اچھی طرح پہچان لیتا ہوں اور پہچان سکتا ہوں۔

سوال ...... جو خط آپ کے پاس آتے ہیں ان کی دوائر شکلیں کششیں وغیرہ اپنے دماغ میں جما لیتے ہو؟

١٤٥

صفحہ ٤٢٠

جواب ...... قرائن مجموعی ہیئت اور مضامین مجمل طور پر میرے دماغ میں جم جاتی ہے۔ جن کو مکرر دیکھنے سے میں یقین کرتا ہوں کہ اس پہلے آدمی کا خط ہے۔ سطروں کلمات کی بندش عبارت کا طرز اور حروف کی صفائی یا ان کا بالکل بدخط ہونا یا خوشخط ہونا ذہن میں رہ جاتے ہیں۔ بعض بعض آدمیوں کے دوائر اور کششیں بھی یاد رہ جاتی ہیں اور بعض کے نہیں رہتے۔ جس کے ساتھ کوئی خصوصیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ان کے یاد رہ جاتے ہیں۔ خطوط کے ملانے کا مجھ کو موقعہ ہوا ہے۔ چند میرے دوستوں نے میری طرز پر لکھنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن میں ان کے خطوط کو تمیز کر سکتا ہوں۔ خطوط کی پہچان کے لئے ایک دفعہ میں سیالکوٹ میں مبصر کے طور پر ایک سیشن جج کے روبرو بلایا گیا تھا۔ بخشی رام بہاولیا مدعی تھا اور وکٹوریہ پیپر کا ایڈیٹر مدعا علیہ تھا۔ کئی ہزار روپیہ کا مقدمہ تھا یاد نہیں کئی سال ہوئے نتیجہ اس کا وہی ہوا جو میں نے بتایا تھا۔ جن خطوط کا اس مقدمہ میں مقابلہ کرنا تھا ۔ میں نے دیکھے ہوئے تھے۔ کیونکہ ان لوگوں کے خط میرے پاس آتے جاتے تھے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ میرے سامنے ہی لکھتے جو طالب علم میرے پاس پڑھتے تھے۔ ان کے خطوط کی مجموعی ہیئت بھی یاد ہے۔ سامنے آجاوے تو پہچان لوں۔ ان کا نام بھی نہ لکھا ہوا ہو دے تو بھی پہچان لوں۔ بعض کو پہچان لوں۔ خط نمبر ٧ کی حیثیت مجموعی کو میں نے دیکھا میں نے پہچانا نہیں کہ کس کا ہے۔ اس خط کے نیچے میری دستخطی کچھ لکھا ہوا ہے۔ اعجاز المسیح پی نمبر ٦ کے ص ١ کے حاشیہ پر جو تحریر ہے۔ میں نہیں پہچان سکتا کہ کس کا ہے۔ پی نمبر ٢ سے پی نمبر ١٠ تک میں نے پہلے نہیں دیکھے۔ اخیر کے تین خط پی نمبر ١١، پی نمبر ١٢ اور پی نمبر ١٣ دیکھے تھے۔ پی نمبر ١٤، پی نمبر ١٥ میں نے پہلے عدالت میں نہیں دیکھے۔ میں نے پی نمبر ١١، پی نمبر ١٢، پی نمبر ١٣ کا میلان خط کیا ہے۔ ان کے مضمون کی بندش کلموں کی پختگی اور طرز ادائے مطلب دیکھ لیا ہے اور یہ تینوں خط ایک کے ہی معلوم ہوتے ہیں۔ ہر ایک شخص کے لئے کلموں کی پختگی علی العموم مخصوص ہوتی ہے بعض مل جاتے یعنی بعضے خط مل جاتے ہیں۔ اے نمبر ١٨ اور اے نمبر ٩ دونوں کارڈ شاید مولوی عبدالکریم کے ہوں جو قادیان میں رہتا ہے۔

١؎ اے نمبر ٧ ایک چٹھی ہے۔ منجانب مولوی نورالدین صاحب بنام مولوی کرم الدین

٢؎ مولوی صاحب پہلے اپنے بیان میں لکھا چکے ہیں کہ پی نمبر ٢ سے ١٤ تک سب دستخطی مولوی کرم الدین ہیں۔ اب سوائے پی نمبر ١١، پی نمبر ١٢، پی نمبر ١٣ باقی کے دیکھنے سے بھی انکار فرماتے ہیں؂ "ان ھذا شئ عجاب"

٣؎ اے نمبر ٨ ایک کارڈ ہے۔ منجانب قاضی فضل احمد صاحب ایڈیٹر اخبار چودھویں صدی بنام مولوی کرم الدین اور اے نمبر ٩ ایک کارڈ ہے۔ منجانب خادم حسین بنام مولوی کرم الدین۔

١٣٦

صفحہ ٤٢١

کیونکہ مجھ کو ان کے خط کی ہیئت مجموعی سے خیال آتا ہے کہ یہ کارڈ ان کے ہوں۔ مجھے ان کے بہت دفعہ خط دیکھنے کا موقعہ ملا ہے۔ ان کے خط کی ہیئت مجموعی سے مجھے آگاہی ہے۔ اے نمبر ١١ وا کارڈ یقیناً مولوی فضل دین مستغیث کا ہے۔ اے نمبر ١١ مولوی فضل دین کا معلوم ہوتا ہے۔ مگر میں ٹھیک نہیں کہہ سکتا۔ اے نمبر ٨، اے نمبر ٩، اے نمبر ١٠، اے نمبر ١١ ان چاروں کارڈوں کے صرف پتے دکھائے گئے ہیں۔

نزول المسیح اے نمبر ١ پیش کردہ ملزم اور نزول پیش کردہ مستغیث ان دونوں کا خط ایک ہے۔ ٹائٹل پیج سے بظاہر ایک معلوم ہوتا ہے۔ مگر صفحہ ٨٠ دونوں کا جو میں نے مقابلہ کیا وہ ایک معلوم نہیں ہوتا۔ نیز اس صفحہ پر ایک ہی فٹ نوٹ دیا ہوا ہے اور دوسرے میں نہیں ہے۔ دونوں کاپیوں کا کاتب ص ٤٠ میں ایک ہی معلوم ہوتا ہے۔ صفحہ ٨٠ اور ٧٩ کے کاتب دونوں کاپیوں کے الگ الگ ہیں۔ اب وقت تنگ ہوگیا ہے۔ خزانہ کے کام کا وقت ہے۔ کل پیش ہووے۔

دستخط حاکم مورخہ ٢٤؍ جون ١٩٠٣ء

اگر کوئی کتاب پہلے تھوڑی تعداد میں چھپنی منظور ہووے اور چھپنی شروع ہو جائے اور پھر زیادہ تعداد کی چھپائی منظور ہو تو میں نہیں کہہ سکتا کہ کاتبوں اور حرفوں میں فرق پڑ جاوے گا یا نہیں۔ قادیان میں میرے خیال میں شاید تین چار مطبع ہیں۔ سوائے ضیاء الاسلام کے ایک الحکم کا مطبع ہے۔ جس کا نام انوار احمدیہ ہے۔ البدر کا اپنا مطبع ہے۔ جس کا نام یاد نہیں ہے اور ایک شیخ نور احمد کا مطبع ہے۔ جس کا نام بھی مجھ کو معلوم نہیں۔ سب سے پہلے ضیاء الاسلام جاری ہوا۔ ان کے جاری ہونے کی ترتیب مجھ کو معلوم نہیں۔ کیونکہ ایسی باتوں سے مجھ کو دلچسپی نہیں ہے۔ یہ نہیں کہہ سکتا کہ الحکم کا مطبع الحکم کے ساتھ جاری ہوا کہ کب۔ البدر کا مطبع البدر کے بعد جاری ہوا۔ مرزا قادیانی کو کام کی جب کثرت ہوتی ہے تو شیخ نور احمد کو تلاش کرتے ہیں۔ اس واسطے اس نے ایک کل چھاپہ کی رکھ چھوڑی ہے۔ حضرت صاحب اس کو کئی دفعہ بلاتے تھے۔ حضرت صاحب کی کتابیں مستغیث حکیم فضل دین کے مطبع میں چھپتی ہیں اور ان کے اشتہار بھی حکیم فضل دین کے مطبع میں چھپتے ہیں۔ مجھ کو علم نہیں ہے کہ اجرت کے بارہ میں ان کا آپس میں کیا معاملہ ہے۔

١؎ اے نمبر ١٠ ایک کارڈ ہے جس کے نیچے خاکسار نورالدین لکھا ہے۔ بنام مولوی کرم الدین اور اے نمبر ١١ خادم حسین کا لکھا ہوا ہے۔ بنام مولوی کرم الدین۔

١٤٧

صفحہ ٤٢٢

حضرت صاحب کا اپنا مطبع کوئی نہیں ہے۔ جموں میں جتنی دیر میں رہا اس کی سند یا تحریر میرے پاس کوئی نہیں ہے۔ جموں کے حاکم اعلیٰ کا حکم میرے پاس پہنچا تھا کہ ریاست سے چلے جاؤ۔ جب مستغیث قادیان سے چکوال کی طرف گیا معلوم نہیں کتنے دن بعد واپس آیا۔ جو باتیں عام جماعت مرزا قادیانی کے متعلق ہوتی ہیں ان کا ذکر زیادہ تر مغرب اور عشاء کے درمیان ہوتا ہے اور کچھ ظہر کی نماز کے وقت مستغیث نے واپسی پر حضرت صاحب سے اپنی واپسی کا تذکرہ کس وقت کیا۔ مجھ کو معلوم نہیں یہ پہلا خط جب پڑھا گیا مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ بلکہ دو دفعہ اس کا ذکر آیا۔ ظہر اور مغرب کے وقت جب بہت سے آدمیوں نے اس خط کی بابت اٹھے تو میں نے بھی توجہ کی۔ اس وقت ٧٠، ٨٠، ٩٠ کے درمیان تعداد حاضرین کی ہوگی۔ خط کا ذکر پہلی دفعہ ظہر کے وقت ہوا۔ جب پہلی دفعہ میں نے سنا خبر نہیں ہے کہ حکیم صاحب کے جانے کا اوّل دفعہ ذکر ظہر کے وقت آیا یا مغرب کے پھر کہا اوّل دفعہ ان کے جانے کا ذکر ظہر کے وقت ہوا تھا۔ پھر مغرب اور عشاء کے درمیان۔ حکیم صاحب کے جانے کا حکم حضرت صاحب نے کس وقت دیا۔ یہ مجھ کو اس وقت یاد نہیں۔ حکیم صاحب جو کچھ وہاں سے لائے عدالت میں آنے سے پہلے چھوٹی مسجد میں ظہر کے وقت دیکھا۔ میں نے منگوا کر الگ دیکھے تھے ١٧؍ جولائی کو میں نے اس وقت دیکھا تھا اور کچھ نہیں دیکھا تھا۔ الحکم کو جو میرے مضمون کے متعلق ہوا یا اس مضمون کو جو مرزا قادیانی نے فرمایا ہو اور میں اس وقت موجود نہ ہوں تو میں اس مضمون کو پڑھ لیتا ہوں۔ سارا اخبار پڑھنے کی مجھ کو عادت نہیں ہے۔ ١٧؍ اکتوبر ١٩٠٣ء کا الحکم میں نے پڑھا تھا کہ نہیں مجھ کو یاد نہیں۔ جمعہ کے مضمون کی کاپیاں الحکم دیکھ لیتا تھا۔ چھپنے سے پہلے جو پرچہ الحکم ١٤؍ فروری ١٩٠٣ء میں حکیم الامت کا لفظ جو میری نسبت لکھا ہوا ہے میں نے نہیں کاٹا۔ یہ خطاب مرزا قادیانی کا دیا ہوا نہیں ہے۔

١٦؍ اکتوبر ١٩٠٣ء کے سراج الاخبار میں جو مضمون کرم دین کا چھپا ہے مجھ کو یاد نہیں ہے کہ مرزا قادیانی کی مجلس میں پڑھا گیا کہ نہیں۔ حضرت کی مجلس میں اس مضمون کا ذکر آیا اور آپ نے فرمایا تھا کہ مجھے افسوس ہے کہ یہ لوگ تقویٰ سے کام نہیں لیتے جو مضمون الحکم میں مرزا قادیانی کے موافق یا مخالف ہو اس کے پڑھنے کا میں عادی نہیں ہوں اور نہ اس کی ضرورت سمجھتا ہوں۔

١ حضرت صاحب اپنے بیان متعلقہ انکم ٹیکس میں مطبع کی آمدنی وخرچ کا حساب بالتفصیل لکھا چکے ہیں اور ملازمان پریس کی فہرست معہ تنخواہ وغیرہ کے مفصل لکھا چکے ہیں اور باوجود اس کے بقول حکیم الامت حضرت صاحب خود بدولت مالک مطبع بھی نہیں ہیں۔ پھر رجسٹر اشٹام ہا وغیرہ کا ذکر کیوں۔ حالانکہ حکیم فضل دین کے مطبع کا تو بقول اس کے کوئی رجسٹر اشٹام ہا ہے ہی نہیں۔

١٤٨

صفحہ ٤٢٣

جو نوٹس کرم دین نے مرزا قادیانی کو اگر دیا ہو اس کا ذکر میرے سامنے مجلس میں کبھی نہیں آیا۔ مجھ کو یاد نہیں ہے کہ جہلم کے مقدمات کا مجلس میں کبھی ذکر آیا کہ نہیں۔ ان مقدمات کا جو اس وقت دائر ہیں مرزا قادیانی کی مجلس میں میرے سامنے کبھی ذکر نہیں آیا۔ یہ مجھ کو یاد نہیں ہے کہ خواجہ کمال دین کو مشورہ کے لئے بلایا ہو۔ حکیم صاحب جب کبھی سفر میں جاتے ہیں تو مجھ کو کبھی خبر ہوتی ہے اور کبھی نہیں ہوتی۔ جب وہ لکھنو کو سفر پر گئے تھے تو مجھ کو خبر نہیں تھی اور نہ وہ مجھ کو کہہ کر گئے۔ جب وہ جہلم گئے تھے تو انہوں نے مجھ کو کہا کہ وہاں کی کوئی فرمائش ہو تو لاؤں۔ ایک بیوی ان کی قادیان میں رہتی ہے۔ کئی مہینے ہوئے کہ ان کی دو بیویاں یہاں تھیں۔ سال کے اندر کی بات ہے کہ ان کی دو بیویاں یہاں تھیں۔ معلوم نہیں ہے ان کی دوسری بیوی آج کل کہاں ہے۔ سرقہ کی تعریف جو میں نے کی ہے وہ مرشدی اور دیگر بیان کی کتابوں میں پائی جاتی ہے۔ جیسے مطول اور مختصر معانی ایک چھوٹی کتاب ہے۔ مگر بہت مختصر ہے جو تعریف سرقہ کی میں نے سنائی تھی۔ وہ نثر کے لئے عام طور پر ہے اور نظم میں بھی آتی ہے۔ ہر قسم کی نثر میں بھی آتی ہے۔ مختصر معانی میں عام سرقہ کی تعریف اس جگہ نہیں لکھی جو مجھ کو وکیل ملزم نے دکھائی ہے۔ اعجاز المسیح پی نمبر ٦ اور سیف چشتیائی پی نمبر ٥ کا آپس میں مقابلہ کیا۔ یعنی پی نمبر ٥ کے ١٨٧ صفحہ تک اور پی نمبر ٥ کے ص ٧٠ سے ص ٨٠ تک اکثر مقام بعینہ ہیں۔ یعنی جیسے سیف چشتیائی میں ویسے ہی اعجاز المسیح میں کہیں کہیں تھوڑی سی عبارت سیف چشتیائی میں زیادہ ہے اور کہیں کہیں اعجاز المسیح کے حاشیوں میں زیادہ ہے۔ یعنی کہیں کہیں بہت خفیف کم وبیشی ہے۔ لفظوں کی کم وبیشی ہے وہ بھی بہت کم اعجاز المسیح کے صفحہ ایک کے نوٹ سیف چشتیائی میں نہیں ہیں۔

سوال ..... سیف چشتیائی پی نمبر ٥ کے ص ٧٣ سے ص ٧٦ کے اخیر تک جو عبارت ہے وہ اعجاز المسیح کے نوٹوں میں کہیں ہے؟

جواب ..... یہ عبارت اعجاز المسیح پی نمبر ٦ کے حاشیہ پر نہیں ہے۔

١؎ کاہے کو ذکر ہونا تھا۔ جہلم کے مقدمات کون سی اتنی بڑی بات تھی۔ لیکن حضرت مسیح کے سر پر تو اس وقت قیامت برپا تھی اور دن رات ایک ہو گئے تھے۔ جیسا کہ مواہب الرحمٰن میں لکھا ہے۔ ”یجعل نہارنا اغسی من لیلۃ داجیۃ الظلم“ ادھر حواری ہیں کہ ان کو خبر تک بھی نہیں۔ اچھا یوں ہی سہی۔

٢؎ پھر تو مضمون بلکہ ورقوں کا فرق نکل آیا۔ آپ تو لفظوں کی کم وبیشی اور وہ بھی بہت کم فرماتے تھے۔

١٤٩

صفحہ ٤٢٤

سوال ...... (نزول المسیح ص ٧٢، خزائن ج ١٨ ص ٤٥٠ حاشیہ ) پر جو نوٹ ہے۔ آٹھ سطروں کا وہ آپ پڑھ کر اور نیز (الحکم مورخہ ١٧؍ستمبر ١٩٠٢ء ص ٣) پر جو نوٹ قبل از خطوط کے تیسرے کالم میں درج ہے اس کو پڑھ کر بتائیے کہ دونوں ایک ہیں کہ نہیں؟ جواب ...... دونوں ایک ہیں۔ نزول المسیح ابھی شائع نہیں ہوئی اور الحکم شائع ہوچکی ہے۔ پس جس جماعت میں نزول المسیح جائے گی جس میں الحکم پہلے خوب طرح شہرت پا چکی ہے اس لئے سرقہ نہیں ہے۔ سوال ...... مشہور اور شہرت سے آپ کی کیا مراد ہے؟ جواب ...... قرآن کا کوئی کلمہ ان لوگوں کے سامنے جو قرآن جانتے اور حدیث کا کوئی فقرہ جو حدیث جانتے ہیں۔ شعراء کا کلام ان لوگوں میں جو اس قسم کے اشعار کو پڑھتے ہیں اور ادیب لوگوں کے فقرے اور کسی زبان کی ضرب المثلیں ان لوگوں میں جو اس زبان کی ضرب المثلوں اور کلمات سے واقف ہوں اور اسی طرح کسی حکیم کا فقرہ ان لوگوں میں جو حکماء کے فقروں سے آگاہ ہوں۔ بلا اس کے کہ مصنف کا نام بھی نہ مشہور ہوتا ہے۔ اسی طرح سے کوئی کلام جب کسی قوم میں شہرت پا جاوے۔ وہ کلام مشہور کہلاتا ہے۔ ایک فقرہ کی نسبت دو نقطہ چینوں کو یا شارحین کو ممکن ہے کہ توارد ہو جائے۔ اعجاز المسیح کو میں معجزہ مانتا ہوں۔ وہ علی العموم مرزا قادیانی کا کلام ہے۔ کہیں کہیں فقرہ خاص کوئی الہام کا بھی ہوگا۔ جو شرائط مرزا قادیانی نے معجزہ کے واسطے بیان کی ہوں۔ ان شرائط کی پابندی سے وہ سارا کلام نہیں ہو سکتا۔ معجز نما کلاموں میں بھی دوسرے مصنفوں کی عبارات اور فقرات داخل ہو جاتے ہیں۔ جرح ختم ہوئی۔ مورخہ ٢٥؍ جون ١٩٠٣ء، دستخط حاکم گواہ نے کل اظہار پڑھ کر ہر ایک صفحہ پر اپنی العبدی اور صفحہ ١٥٥ اور صفحہ ٥٦ پر پنسل کے نوٹ کر دیئے اور ریڈر کے سامنے نوٹ کئے گئے۔ جن کے مواجہ میں گواہ نے اظہار پڑھا۔ (دستخط حاکم)

الحاصل! شہادت گواہان صفائی ملزمان ختم ہونے پر عدالت نے حکم دیا کہ ٢٠؍ستمبر کو بحث سنی جائے گی۔ چنانچہ ٢٠ کو ١٠؍بجے سے خواجہ کمال الدین صاحب وکیل ملزمان نے بحث شروع اور ٤؍بجے کو ختم کی۔ مرزائی جماعت خواجہ صاحب کی تقریر پر فدا ہو رہے تھے اور ان کے ہر ایک فقرہ پر جھوم جھوم کر واہ واہ اور سبحان اللہ سبحان اللہ کی آواز ان کے منہ سے نکلتی تھی۔ گو اونچی آواز نکالنے سے رعب حاکم مانع تھا۔ ٢١ کو ٩؍بجے صبح سے شروع کر کے ایک بجے تک مولوی محمد کرم الدین صاحب مستغیث نے نہایت قابلیت سے واقعات کی بحث کی عدالت نے مولوی ١٥٠

صاحب کی تقریر کا فقرہ فقرہ نوٹ کر لیا۔ سا قائل ہو گئے کہ لیاقت اسی کا نام ہے۔ مرزائی سن رہے تھے جن میں سے بعض قانون پیشہ تقریر سے ساری مجلس متاثر ہورہی تھی۔ مول پلیڈر نے قانونی بحث تائید استغاثہ میں بہ جائے گا۔ لیکن یکم؍ اکتوبر کو چونکہ فیصلہ مکمل ن کے لئے مقرر کی۔ ١٨؍ اکتوبر کو خلق خدا دور دور کے تمام لوگ بھی اپنی اپنی دکانیں وغیرہ بند منگوائی۔ جنہوں نے سویرے ہی کرۂ عدال ہو کی ہاتھوں میں چھتریاں لی ہوئیں تھیں۔ مرزا قادیانی معہ اپنی جماعت کے ١٠؍ بجے حالت قابل دید تھی۔ بار بار پیشاب کا دور قریب فریقین کو بلایا گیا۔ مرزا قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی ملزم پانچ سو روپیہ ج روپیہ جرمانہ دے یا پانچ ماہ قید محض میں ر اور ایسی نرالی سزا ملی کہ کسی الہام کی بھی تو رکھا تھا کہ ”انک لانت یوسف“ لیکی ہوسکی۔ کیا کسی نبی کو آج تک سزائے مج صاحب مجسٹریٹ کا فیصلہ، بیان کی نقل ہی ذیل میں درج کریں ج کیونکہ اس بیان کا ذکر اس فہرست میں لیکن اس بیان کی نقل کرنے سے پہل کرائی تھی نقل کی جاتی ہے۔ کیونکہ بیا اس کے پڑھنے سے معلوم ہوسکتا ہے بندے ہیں اور یہی چاہتے ہیں کہ ہر ا نے بہت سے ایسے جھوٹ لکھے ہیں ج

صفحہ ٤٢٥

صاحب کی تقریر کا فقرہ فقرہ نوٹ کر لیا۔ سامعین مستغیث کی تقریر سن کر حیران ہوئے اور سب قائل ہو گئے کہ لیاقت اسی کا نام ہے۔ مرزائی جماعت کے بہت سے ارکان بھی بیٹھے ہوئے تقریر سن رہے تھے جن میں سے بعض قانون پیشہ اور بعض عہدہ داران سول بھی تھے۔ مولوی صاحب کی تقریر سے ساری مجلس متاثر ہو رہی تھی۔ مولوی صاحب کی تقریر ختم ہونے پر بابو مولال صاحب پلیڈر نے قانونی بحث تائید استغاثہ میں بہت پر زور کی۔ عدالت نے حکم دیا کہ یکم؍ اکتوبر کو حکم سنایا جائے گا۔ لیکن یکم؍ اکتوبر کو چونکہ فیصلہ مکمل نہ ہو چکا تھا۔ اس لئے عدالت نے ١٨؍ اکتوبر حکم سنانے کے لئے مقرر کی۔ ١٨؍ اکتوبر کو خلق خدا دور دور سے آخری فیصلہ سننے کے لئے آ گئی اور شہر گورداسپور کے تمام لوگ بھی اپنی اپنی دکانیں وغیرہ بند کر کے آگئے۔ صاحب مجسٹریٹ نے ایک گارد پولیس منگوائی۔ جنہوں نے سویرے ہی کمرہ عدالت کے ارد گرد گھومنا شروع کر دیا۔ سب نے وردی پہنی ہوئی ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لی ہوئیں تھیں۔ جنہوں نے ایک عجیب ہیبت ناک نظارہ قائم کر دیا تھا۔ مرزا قادیانی معہ اپنی جماعت کے ١٠؍ بجے کے قریب احاطہ عدالت میں آپہنچے۔ مرزا قادیانی کی حالت قابل دید تھی۔ بار بار پیشاب کا دورہ ہوتا اور چہرہ پر مردنی چھائی ہوئی تھی۔ آخر ٣؍ بجے کے قریب فریقین کو بلایا گیا۔ مرزا قادیانی کو پیش ہوتے ہی صاحب مجسٹریٹ نے حکم سنایا کہ مرزا غلام احمد قادیانی ملزم پانچ سو روپیہ جرمانہ ادا کرے یا چھ ماہ قید محض بھگتے اور فضل دین ملزم دوسو روپیہ جرمانہ دے یا پانچ ماہ قید محض میں رہے۔ ہر طرف غل مچ گیا کہ مرزا قادیانی سزا یاب ہو گئے اور ایسی نرالی سزا ملی کہ کسی الہام کی بھی تصدیق نہ ہو۔ مرزا قادیانی نے ایک یہ الہام بھی شائع کر رکھا تھا کہ ”انک لانت یوسف“ لیکن چونکہ جرمانہ کی سزا ہوئی۔ اس لئے مشابہت یوسفی بھی نہ ہوسکی۔ کیا کسی نبی کو آج تک سزائے مجرمانہ ہوئی ہے؟

صاحب مجسٹریٹ کا فیصلہ لکھنے سے پیشتر ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے اس بیان کی نقل ہی ذیل میں درج کریں جو بمقدمہ ایڈیٹر الحکم انہوں نے بحیثیت گواہ ڈیفنس لکھایا۔ کیونکہ اس بیان کا ذکر اس فہرست میں ہونا ہے جس کا آخیر میں لکھا جانے کا وعدہ ہم کر چکے ہیں۔ لیکن اس بیان کی نقل کرنے سے پہلے مرزا قادیانی کی وہ چٹھی جو انہوں نے اخبار عام میں شائع کرائی تھی نقل کی جاتی ہے۔ کیونکہ بیان میں اس چٹھی کا حوالہ ہے۔ یہ چٹھی پڑھنے کے قابل ہے۔ اس کے پڑھنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی محض ایک نفسانی شخص، ہوا و ہوس کے بندے ہیں اور یہی چاہتے ہیں کہ ہر وقت انہی کی تعریفیں ہوتی رہیں۔ اس چٹھی میں مرزا قادیانی نے بہت سے ایسے جھوٹ لکھے ہیں جن کی تکذیب ان کے مریدان باصفا کی تحریرات بلکہ ان کے

صفحہ ٤٢٧

بیان مصدقہ عدالت سے بھی ہوتی ہے۔ اس چٹھی کے لکھنے کی ضرورت آپ کو اس لئے عائد ہوئی کہ سراج الاخبار جہلم مطبوعہ ١٩؍ جنوری ١٩٠٣ء کے پرچہ لوکل میں ایک مختصر مضمون حسب ذیل شائع ہوا تھا۔

"١٧؍ جنوری کو جہلم میں اس معرکہ کے مقدمہ کی پیشی تھی جس میں مولوی محمد کرم الدین صاحب مستغیث اور مرزا غلام احمد قادیانی وغیرہ مستغاث علیہ تھے۔ مرزا قادیانی کی جماعت ١٦ کو ٢؍ بجے کی گاڑی پر پہنچ گئے ہوئے تھی۔ اس مقدمہ کو سننے کے لئے بے حد خلق خدا جہلم میں جمع ہوگئی تھی۔ بازاروں اور سڑکوں پر آدمی ہی آدمی نظر آتا تھا۔ مولوی محمد کرم الدین صاحب معہ اپنے معزز گواہان کے ١٠؍ بجے بگھی کی سواری میں ہمراہی چوہدری غلام قادر خان سب رجسٹرار جہلم و راجہ محمد خاں صاحب رئیس سنگھوئی کچہری کی طرف روانہ ہوئے۔ خلق خدا شہر سے شروع ہو کر کچہری تک دو رویہ صف بستہ مولوی صاحب موصوف کے دیدار کے لئے کھڑی ہوئی تھی۔ سب لوگ آپ کی زیارت سے مشرف ہوتے رہے۔ اس مضمون کی نقل اخبار عام مطبوعہ ٢٧؍ جنوری میں شائع ہوئی اور مرزا قادیانی اس میں اپنے فریق مقابل (مولوی محمد کرم الدین صاحب) کا ذکر پڑھ کر نار حسد سے ایسے جل بھن گئے کہ ایڈیٹر اخبار عام کے نام اپنی دستخطی ایک چٹھی لکھی کہ آپ نے یہ بینظیر جھوٹ شائع کیا ہے کہ جہلم میں لوگ مقدمہ سننے کے لئے جمع ہوئے تھے اور کرم الدین کے دیدار کو بھی آتے تھے۔ بلکہ یہ سب لوگ تو میرے دیکھنے کے لئے آئے تھے۔ وغیرہ، وغیرہ!"

اب ناظرین خیال فرماویں کہ جولوگ اہل اللہ ہوں وہ ایسے خواہشات نفسانیہ کے کب مغلوب ہوتے ہیں اور دنیوی اعزاز کو وہ بمقابلہ اس سچی عزت کے جو بارگاہ الٰہی میں ان کو حاصل ہوتی ہے۔ بالکلیہ ہیچ سمجھتے ہیں۔ خودستائی اور تعلی ان سے کبھی سرزد نہیں ہوتی۔ لیکن مرزا قادیانی ہی وہ شخص ہیں جو چاہتے ہیں کہ دینی اور دنیوی عزتیں انہی کو حاصل ہوں اور ان کے سامنے کسی دوسرے شخص کا نام تک نہ لیا جائے۔ امید ہے کہ ناظرین اس چٹھی کو غور سے پڑھ کر اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ مرزا قادیانی کو روحانیت سے مس تک نہیں اور وہ نفسانیت کے زنجیر میں از سرتاپا جکڑے ہوئے ہیں۔

مرزا قادیانی کی چٹھی اخبار عام میں

"مقدمہ جہلم کی غلط فہمی ایڈیٹر صاحب بعد ماوجب آج آپ کے پرچہ اخبار عام

١٥٢

مورخہ ٢٧؍ جنوری ١٩٠٣ء میں وہ خبر پڑھ کر جو جہلم کے ہوا۔ ہم نے آپ کے اخبار کا خریدار اس خیال سے منظو مگر آج کے اخبار میں جس قدر صریح جھوٹ کو آپ نظیر ہو یا نہ ہو۔ اخبار نویس کا فرض ہے کہ گو یہ منقولاً ہ اس کی تحقیق کرلے۔ کیونکہ ہر ایک روایت قابل اعتبا لوگ دہریہ طبع ہوگئے ہیں۔ ہر ایک راست پسند کا فر اخبار کی عزت پر بٹہ نہ لگاویں۔ اب میں آپ پر ظاہ جس کو جہلم کے خودغرض اخبار نے اس قدر اوپر چڑھای

١؂ آپ یوں کیوں نہیں کہتے کہ آپ کے ہماری نبوت ومسیحیت کی تشہیر میں مدد دیں اور آپ ہوا کرے گا۔ لیکن آپ کے اخبار میں تو ہمارے مخال پابندی ، سو اس سے جب مسیح الزمان کو ہی کچھ غرض ن قلعی اسی چٹھی سے کھلتی ہے۔ جیسا کہ آگے آتا ہے۔

٢؂ جس مضمون میں آپ کے مخالفین ک نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ لیکن جس مضمون می اس میں تمام جہان کی صداقتیں بھر جاتی ہیں۔

٣؂ بس وہی روایت قابل اعتبار ہے ہوں یا ان کی امت سے کوئی ہو۔ خواہ مرشد ومری تکذیب کر رہے ہوں۔ کما سیاتی!

٤؂ آج کوئی جاکر حضرت جی سے پو نے حضور انور کو دو سال تک آرام نہ لینے دیا اور جہ بھی معترف ہوگئے۔

٥؂ فرمائیے حضرت! کیا آپ کو بھی نے اس وقت حاکم سے کیوں استدعا نہ کی۔ جب میں دن بھر کھڑے رہنے سے آپ کی ٹانگیں تھک

صفحہ ٤٢٧

مورخہ ٢٧؍جنوری ١٩٠٣ء میں وہ خبر پڑھ کر جو جہلم کے اخبار سے آپ نے لکھی ہے سخت افسوس ہوا۔ ہم نے آپ کے اخبار کا خریدنا اس خیال سے منظور کیا تھا کہ اس میں سچائی کی پابندی ہوگی۔ مگر آج کے اخبار میں جس قدر صریح جھوٹ ١؎ کو آپ نے شائع کیا ہے۔ شاید دنیا میں اس کی کوئی نظیر ہو یا نہ ہو۔ اخبار نویس کا فرض ہے کہ گو غیر معقولات ٢؎ کچھ درج کرے۔ تاہم جہاں تک ممکن ہو اس کی تحقیق کرلے۔ کیونکہ ہر ایک روایت قابل اعتبار ٣؎ نہیں۔ خاص کر اس زمانہ میں جب کہ اکثر لوگ دہریہ طبع ہو گئے ہیں۔ ہر ایک راست پسند کا فرض ہے کہ بے تحقیق خلاف واقعہ لکھ کر اپنے اخبار کی عزت پر بٹہ نہ لگاویں۔ اب میں آپ پر ظاہر کرتا ہوں کہ حال واقعی یہ ہے کہ کرم الدین ٤؎ جس کو جہلم کے خود غرض اخبار نے اس قدر اوپر چڑھا دیا ہے۔ ایک معمولی آدمی ہے نہ گورنمنٹ ٥؎

ہماری نبوت و مسیحیت کی تشہیر میں مدد دیں اور آپ کے اخبار کے ہر ایک کالم میں ہمارا ہی ذکر خیر ہوا کرے گا۔ لیکن آپ کے اخبار میں تو ہمارے مخالفین کا بھی ذکر ہونے لگا ہے۔ رہی سچائی کی پابندی، سو اس سے جب مسیح الزمان کو ہی کچھ غرض نہ ہو تو اخبار نویس پر کیا الزام۔ آپ کی سچائی کی قلعی اس چٹھی سے کھلتی ہے۔ جیسا کہ آگے آتا ہے۔

نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ لیکن جس مضمون میں آپ کی مسیحیت نبوت کی بانگ دی جائے۔ اس میں تمام جہان کی صداقتیں بھر جاتی ہیں۔

ہوں یا ان کی امت سے کوئی ہو۔ خواہ مرشد ومریدین اس روایت میں خود ہی ایک دوسرے کی تکذیب کر رہے ہوں۔ کما سیاتی!

نے حضور انور کو دو سال تک آرام نہ لینے دیا اور جس کی لیاقت وقابلیت کے آپ اور آپ کے وکلاء بھی معترف ہوگئے۔

نے اس وقت حاکم سے کیوں استدعا نہ کی۔ جب گورداسپور میں لالہ آتارام صاحب کے اجلاس میں دن بھر کھڑے رہنے سے آپ کی ٹانگیں خشک ہو جاتی تھیں۔

١٥٣

صفحہ ٤٢٩

میں اس کو کرسی ملتی ہے اور نہ قوم نے اس کو اپنا امام یا سردار مانا ہوا ہے۔ محض عام لوگوں میں سے ایک شخص ہے۔ ہاں اپنے گاؤں میں مولوی کر کے مشہور ہے۔ جس طرح امرتسر لاہور وغیرہ میں بھی بہت سے لوگ مولوی کر کے پکارے جاتے ہیں۔ ہر ایک مسجد کے ملا یا واعظ کو لوگ مولوی کہہ دیا کرتے ہیں۔

مگر بقول جہلم کے اخبار کے گویا ہزار ہا مخلوق کرم دین کے دیدار اور زیارت کے لئے اور مقدمہ کے تماشا کے لئے اکٹھے ہوئے تھے۔ یہ ایک بے نظیر جھوٹ ہے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ یہ تمام لوگ جو تخمیناً تیس ہزار یا چونتیس ہزار کے قریب ہوں گے۔

١؎ بیشک مولوی صاحب کو قوم اپنا پیشوا سمجھتی ہے۔ جیسا کہ آپ کے معزز گواہان استغاثہ اس مقدمہ میں بیان کر چکے ہیں اور نیز ان کاغذات سے ظاہر ہوتا ہے جو اسلامی انجمنوں کے اشتہارات شامل مسل ہوئے ہیں۔ ہاں ایسے امام اور سردار قوم آپ ہی ہیں جن پر عرب و عجم کے مسلمانوں نے فتویٰ تکفیر لگا کر دائرہ اسلام سے بھی خارج کیا ہوا ہے۔ ایسی امامت وسرداری آپ کو مبارک ہو۔

٢؎ امرتسر لاہور وغیرہ میں جو لوگ مولوی کر کے پکارے جاتے ہیں (جن سے آپ کی مراد آپ کے مخالف مولوی ہیں) دنیا ان کی عزت و تعظیم کرتی ہے۔ ہاں! وہ عزت جس کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔ ان کو حاصل نہیں۔ اس عزت کا تمغہ مسیح الزمان کو ہی سجتا ہے اور بس۔

٣؎ جو کچھ اخبار جہلم نے لکھا تھا وہ بالکل صحیح تھا۔ اگر مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کے سوائے کوئی ایک شخص بھی جہلم کا باشندہ اس کی تکذیب کرے تو ہم جوابدہ ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس روز ہزار ہا لوگ مولوی صاحب کی زیارت کے لئے آئے تھے اور دیکھنا چاہتے تھے کہ وہ کون بہادر شخص ہے جس نے ایک ایسے بڑے دعویٰ نبوت کے مدعی کو گرفتار کرا کر جہلم میں منگایا ہے۔ اس بات کو جھوٹ کہنا ایسا بینظیر جھوٹ ہے جس کی تصدیق سوائے مرزا قادیانی کے کوئی دوسرا نہیں کرتا۔

٤؎ یہ ایک سفید جھوٹ ہے جو امام الزمان (مرزا قادیانی) کے قلم سے نکلا ہے جس کو عقل بھی باور نہیں کر سکتی۔ بھلا جہلم کے محدود احاطہ کچہری میں ٣٠ یا ٤٠ ہزار آدمی کس طرح سما سکتے ہیں اور پھر طرفہ یہ کہ مرزا قادیانی اپنے بیان میں جو آگے آئے گا اپنے منہ سے اس کی تردید کرتے ہیں۔ چنانچہ وہاں لکھاتے ہیں کہ میری دانست میں دس ہزار آدمی جمع ہوئے تھے۔ اگر مرزا قادیانی کا حلفی بیان سچا ہے تو آپ کے قلم نے ٢٤ ہزار کا جھوٹ لکھا ہے۔ کیا اتنے بڑے جھوٹ لکھنے والا بھی امام مہدی، مسیح کہلانے کے قابل ہو سکتا ہے؟ یہ ہے مسیح الزمان کا جھوٹ نمبر ١۔

١٥٤

یہ سب محض میلے دیکھنے کے لئے آئے تھے۔ جنہوں نے ہر ایک سٹیشن پر مجمع پائے۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ جہلم قریب لوگ میرے راہ گزر اسٹیشنوں پر جمع ہوئے صاحب کی کوٹھی میں اترا اور قریب سات سو کے میرے اور گجرات اور دوسرے اضلاع سے اس قدر مخلوق ہو نے بہت غور کر کے اندازہ لگایا۔ وہ بیان کرتے ہیں ہوں گے۔ جب میں کچہری جاتا تھا اور جب کوٹھی آتا چنانچہ حکام نے اس کثرت کو دیکھ کر دو تھے کہ کوئی امر مکروہ واقع نہ ہو اور خاص جہلم کے ض رہے اور دیوی سنگھ صاحب ڈپٹی انسپکٹر بھی اس خدمت

١؎ یہ آپ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ تھے۔ کیا آپ نے یک بیک کو بلا کر پوچھ لیا تھا اور وہ صرف آپ کی زیارت کے لئے آئے تھے۔ یہ الصدور ہے۔ پھر بلا کسی ثبوت کے آپ کا یہ لکھنا جھوٹ صریح ہے جھوٹ نمبر ٢۔

٢؎ کیوں حضرت کیا وجہ کہ لاہور سے دیکھنے جمع ہو گئے اور لاہور سے ورے کوئی بھی سٹیشن کے لوگ تو سمجھتے ہیں کہ آپ ایک معمولی شخص ہیں ہیں۔ ہاں لاہور سے آگے بھولے بھالے لوگ آئے تو اس سے کیا حاصل، عزت تو وہ ہوتی ہے

٣؎ یہ بھی اس پہلے جھوٹ کا ہم پلہ ہزار کی تعداد لاہور سے جہلم تک سٹیشنوں پر سنی ہے وہی پہلا جھوٹ آپ کے قلم چاہئے۔ جھوٹ نمبر ٣۔

صفحہ ٤٢٩

یہ سب محض میلے دیکھنے کے لئے آئے تھے۔ جیسا لاہور سے آگے میرا گزر ہوا تو صد ہا لوگ میں نے ہر ایک سٹیشن پر جمع پائے۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ جہلم کے سٹیشن پر پہنچنے سے پہلے چالیس ہزار کے قریب لوگ میرے راہ گزر اسٹیشنوں پر جمع ہوئے ہوں گے اور پھر جہلم میں سردار ہری سنگھ صاحب کی کوٹھی میں اترا اور قریب سات سو کے میرے ساتھ میرے مخلص دوست تھے۔ تب جہلم اور گجرات اور دوسرے اضلاع سے اس قدر مخلوق میرے دیکھنے کے لئے جمع ہوئی کہ جن لوگوں نے بہت غور کر کے اندازہ لگایا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ چونتیس ہزار یا تیس ہزار کے قریب لوگ ہوں گے۔ جب میں کچہری جاتا تھا اور جب کوٹھی آتا تھا تو وہ لوگ ساتھ ہوتے تھے۔

چنانچہ حکام نے اس کثرت کو دیکھ کر دس یا پندرہ کانسٹیبل اس خدمت پر مقرر کر دیئے تھے کہ کوئی امر مکروہ واقع نہ ہو اور خاص جہلم کے تحصیلدار غلام حیدر خاں اس خدمت میں سرگرم رہے اور دیوی سنگھ صاحب ڈپٹی انسپکٹر بھی اس خدمت پر لگے ہوئے تھے۔ ان لوگوں میں سے

تھے۔ کیا آپ نے یک بیک سب کو بلا کر پوچھ لیا تھا اور انہوں نے آپ کے پاس یہ بیان لکھوا دیا تھا کہ وہ صرف آپ کی زیارت کے لئے آئے تھے۔ ان کے دل کا حال خدا کو معلوم ہے جو علیم بذات الصدور ہے۔ پھر بلا کسی ثبوت کے آپ کا یہ لکھنا کہ یہ سب محض میرے دیکھنے کے لئے آئے تھے جھوٹ صریح ہے جھوٹ نمبر ٢۔

دیکھنے جمع ہو گئے اور لاہور سے ورے کوئی بھی سلامی نہ ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ لاہور سے ورے کے لوگ تو سمجھتے ہیں کہ آپ ایک معمولی شخص ہیں اور پیٹ کی خاطر کچھ کی کچھ باتیں بناتے رہتے ہیں۔ ہاں لاہور سے آگے بھولے بھالے لوگ آپ کو ایک غیر معمولی شخص سمجھ کر آپ کو دیکھنے چلے آئے تو اس سے کیا حاصل، عزت تو وہ ہوتی ہے جو گھر میں اور پڑوس میں ہو۔

ہزار کی تعداد لاہور سے جہلم تک سٹیشنوں پر سمانے کی بھی گنجائش رکھتی ہے۔ ہرگز نہیں۔ جھوٹ نمبر ٣

چاہئے۔ جھوٹ نمبر ٤۔

١٥٥

صفحہ ٤٣١

قریب لے باراں سو آدمی یہیں بیعت میں داخل ہوئے۔ یعنی میرے مرید ہوئے اور باقی کل ؎٢ مریدان کی طرح تھے اور نذریں دیتے تھے اور نماز پیچھے پڑھتے تھے۔ آخر جب مقدمہ پیش ہوا تو میں اپنے وکیلوں کے ساتھ گیا۔ اس وقت میں نے ایک شخص سیاہ ؎٣ لنگی سر پر حاکم عدالت کے سامنے کھڑا ہوا دیکھا۔ معلوم ہوا کہ وہی کرم دین ہے۔

لے جہلم میں بارہ سو مردمان کا داخل بیعت ہونا بھی ڈبل جھوٹ ہے۔ جس کی تردید مرزا قادیانی کے اپنے مخلص مرید کرتے ہیں۔ اخبار الحکم مطبوعہ ٢١ جنوری ١٩٠٣ء میں لکھا ہے کہ ”تمام سفر جہلم میں جس قدر زن ومرد نے مرزا قادیانی کے ہاتھ پر بیعت کی ان کی تعداد آٹھ سو کے قریب ہے“ اور رسالہ ریویو آف ریلیجنز مطبوعہ ٢٠ فروری ١٩٠٣ء کے صفحہ ٨٠ پر بیعت کنندگان جہلم کی تعداد ٦ سو درج ہے۔ اب ان شاہدان عدل کی شہادت سے صاف ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کا بیعت کنندگان جہلم کی تعداد باراں سو لکھنا ایک سفید جھوٹ ہے۔ جھوٹ نمبر ٥۔

؎٢ یہ بھی صریح جھوٹ ہے جو لوگ اس روز دور دراز سے یہاں مقدمہ کا تماشہ دیکھنے آئے تھے ان میں سے بجز معدودے چند اشخاص کے جو مرزا قادیانی کے مرید ہوں باقی کل آپ کے عقیدہ کے مخالف لوگ تھے۔ پھر آپ کا یہ کہنا کہ باقی کل مریدان کی طرح تھے اور نذریں دیتے تھے اور نماز پیچھے پڑھتے تھے۔ کیسا صریح جھوٹ ہے اور باقی بعض یا اکثر کی قید ہوتی تو بھی کچھ صداقت کا احتمال ہوتا۔ باقی کل کی قید تو ضروری اس جملہ کو جھوٹا بنا دیتی ہے۔ حضرت جی! یہ تو بتائیں کہ وہ ٣٠، ٤٠ ہزار خلقت کس میدان میں جمع ہو کر آپ کے پیچھے نماز پڑھ سکتی تھی۔ اس میدان کا بھی پتہ بتایا ہوتا۔ چونکہ حضور والا نے یہ چٹھی ایسے وقت میں لکھی جب غصہ کے غلبہ نے عقل و ہوش ٹھکانے نہ رہنے دیئے تھے۔ اس لئے ایسی دور از قیاس باتیں لکھ کر آپ نے ناحق راستی کا خون کیا۔ جھوٹ نمبر ٦۔

؎٣ جناب والا! اس روز آپ کے مخالف مولوی نے نہ سیاہ بلکہ سفید زری لنگی سر پر باندھی ہوئی تھی۔ لیکن صرف حضرت اقدس کی آنکھوں میں فوجداری مقدمہ کی ہیبت سے سارا جہان سیاہ نظر آتا تھا۔ جیسا کہ آپ نے اپنی کتاب مواہب الرحمان میں اعتراف کیا ہے۔ ”و ان یجعل نھارنا اغسق من لیل داجیۃ الظلم “ (مولوی کرم دین نے چاہا کہ ہمارے روز روشن کو شب دیجور سے تاریک تر کر دے) اس لئے آپ نے سفید لنگی کو بھی سیاہ ہی سمجھا۔ اس لئے آپ کو اس بارہ میں معذور سمجھ کر اس غلط بیانی کا مزید نمبر نہیں دیا جاتا۔

١٥٦

مگر تعجب ہے کہ حاکم نے مجھے دیکھتے ہی کرسی لے دی۔ لیکن وہ کہ ہزار ہا آدمی اس کو سجدہ کرتے تھے۔ اس کو قریبا چار گھنٹ اور آخر دونوں مقدمے اس کے خارج کئے اور پھر غلام آدمی دکھلائے جو میرے دیکھنے کے لئے موجود تھے۔ جس ساتھ تھے۔ گویا میری کوٹھی کے ارد گرد ایک لشکر اترا ہوا تھ آدمی کی دعوت سے جو نہایت مکلف دعوت تھی ثواب کا بڑ

لے ہائے کرسی ہائے کرسی! افسوس آپ کا یہ فخر بتائیے گا لالہ آتارام صاحب مجسٹریٹ گورداسپور کی عد پڑا، منشی سنسار چند صاحب نے تو نہ صرف آپ کو بلکہ تم بچھوادی تھیں۔ جن پر ہر کہ ومہ بیٹھے ہوئے تھے۔

؎٢ یہ بھی سفید جھوٹ ہے۔ مولوی صاحب لکھانے کے وقت کھڑے ہوئے تھے۔ جس پر چار مز ایسا جھوٹ ہے جس کی تصدیق کوئی شخص بھی نہ کرے

؎٣ اس کی تردید منشی غلام حیدر صاحب ۔ ایڈیٹر الحکم نے بھی صاف طور پر کر دی ہے۔ اس لئے کیا ہے ) کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی اس تحریر مرزا قادیانی نے خود اپنے حلفی بیان میں لکھایا ہے عدالت کو میرے مرید دکھائے تھے۔ جھوٹ نمبر ٧۔

؎٤ یہ بھی بالکل جھوٹ ہے۔ سردار ہری کہ منشی غلام حیدر خان صاحب نے اپنے بیان میں کی۔ بلکہ تین دن مرزا قادیانی جہلم میں ٹھہرے کی۔ چنانچہ ایڈیٹر الحکم نے اپنے اشتہار میں صاف نوازی کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے تیج فیاضی سے انتظام کیا۔ سو یہ بڑی بے انصافی ہے کو پلاؤ زردے کھلائے ان کا نام ہی ندارد۔ مفت

صفحہ ٤٣١

مگر تعجب ہے کہ حاکم نے مجھے دیکھتے ہی کرسی دی۔ لیکن وہ شخص جو بقول اخبار جہلم اس قدر معزز تھا کہ ہزار ہا آدمی اس کو سجدہ کرتے تھے۔ اس کو قریباً چار گھنٹہ تک حاکم نے اپنے سامنے کھڑا رکھا اور آخر دونوں مقدمے اس کے خارج کئے اور پھر غلام حیدر خاں نے حاکم عدالت کو دہ ہزار آدمی دکھلائے جو میرے دیکھنے کے لئے موجود تھے۔ جب میں واپس کوٹھی میں آیا وہ سب میرے ساتھ تھے۔ گویا میری کوٹھی کے ارد گرد ایک لشکر اترا ہوا تھا اور سردار ہری سنگھ صاحب نے سات سو آدمی کی دعوت سے جو نہایت مکلف دعوت تھی ثواب کا بڑا حصہ لیا۔

بتائیے گا لالہ آتارام صاحب مجسٹریٹ گورداسپور کی عدالت میں کتنے کتنے گھنٹے آپ کو کھڑا رہنا پڑا۔ منشی سنسار چند صاحب نے تو نہ صرف آپ کو بلکہ تمام حاضرین کمرہ کے لئے کرسیاں اور بنچیں بچھوا دی تھیں۔ جن پر ہر کہ و مہ بیٹھے ہوئے تھے۔

لکھانے کے وقت کھڑے ہوئے تھے۔ جس پر چار منٹ بھی نہ خرچ ہوئے تھے۔ ٤ گھنٹہ کھڑا رہنا ایسا جھوٹ ہے جس کی تصدیق کوئی شخص بھی نہ کرے گا۔ جھوٹ نمبر ٧۔

ایڈیٹر الحکم لکھایا۔ صاف طور پر کر دی ہے۔ اس لئے ہم ایک معزز گواہ (جس کو مرزائیوں نے پیش کیا ہے) کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی اس تحریر کو سچا نہیں سمجھ سکتے اور نیز اس لئے بھی کہ مرزا قادیانی نے خود اپنے حلفی بیان میں لکھایا ہے کہ مجھ کو اچھی طرح یاد نہیں کہ غلام حیدر نے عدالت کو میرے مرید دکھائے تھے۔ جھوٹ نمبر ٨۔

کہ منشی غلام حیدر خان صاحب نے اپنے بیان میں لکھایا ہے۔ کوئی دعوت سردار صاحب نے نہیں کی۔ بلکہ تین دن مرزا قادیانی جہلم میں ٹھہرے تھے۔ تینوں دن ان کے مریدوں نے ہی دعوت کی۔ چنانچہ ایڈیٹر الحکم نے اپنے اشتہار میں صاف کہا ہے۔ مختصراً ہم اپنی جہلم کی جماعت کی مہمان نوازی کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے تین دن تک ڈیڑھ ہزار آدمیوں کی روزانہ دعوت کا فیاضی سے انتظام کیا۔ سو یہ بڑی بے انصافی ہے کہ جن غریبوں نے زر کثیر خرچ کر کے مرزا قادیانی کو پلاؤ زردے کھلائے ان کا نام ہی ندارد۔ مفت کا ثواب ملتا ہے تو سردار صاحب کو۔ جھوٹ نمبر ٩

١٥٧

صفحہ ٤٣٢

یہ واقعات ہیں جن کو عمداً چھپایا گیا ہے۔ آپ پر اعتراض صرف اس قدر ہے کہ آپ نے فراست سے کام نہ لیا کہ کرم دین اس قدر شہرت کا آدمی تھا تو آپ کو ایک مدت سے اس کا حال معلوم ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ جس کو ہزار ہا انسان سجدہ کرتے ہیں وہ چھپ نہیں سکتا۔ اخبار جہلم ١؎ نے بڑا گندہ جھوٹ بولا ہے اور واقعات ٢؎ کو عمداً چھپایا ہے۔ آپ کو چاہئے کہ اس جھوٹی نقل کا کچھ تدارک کریں۔ میرے نزدیک اس طرح پر پورے یقین تک پہنچ سکتے ہیں کہ آپ بلا توقف جہلم چلے جائیں اور غلام حیدر خاں اور ڈپٹی انسپکٹر دیوی سنگھ صاحب اور منشی سنسار چند صاحب ایم۔اے مجسٹریٹ جن کے پاس مقدمہ تھا اور صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع اور تمام پولیس کے سپاہیوں اور شہر کے معزز رئیسوں اور بازار کے معزز مہاجنوں سے دریافت فرماویں کہ اس قدر مخلوقات کس کے لئے جمع ہوئی تھی۔ تب آپ پر اصل حقیقت کھل جائے گی اور میں ٣؎ آپ کو اگر جہلم جائیں آمد ورفت کا کرایہ اپنی گرہ سے دے دوں گا۔ انٹر ٤؎ میڈیٹ کے حساب سے جو کرایہ ہوگا آپ کو بھیج دوں گا اور اگر آپ پوری تحقیقات کے بعد اس خبر کو رد نہیں کریں گے تو پھر آپ کے اخبار

١؎ اخبار جہلم کو جھوٹ کہنے والے صرف مرزا قادیانی ہیں۔ جس پر اور کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں لیکن مرزا قادیانی کے جھوٹ جس قدر اس چٹھی میں ہیں اس کا جھوٹ ہونا ان کے اپنے بیان یا مخلص حواریوں کی تحریرات وغیرہ سے ظاہر ہے۔ پھر آپ خود انصاف کریں کہ گندہ جھوٹ بولنے والا اخبار جہلم ہے یا حضرت مسیح الزمان والاشان دام اقبالہ۔

٢؎ بیشک جن فرضی واقعات کے لکھنے کی آپ نے جرأت کی اخبار جہلم ان کی گھڑت سے معذور تھا۔

٣؎ افسوس کہ ایڈیٹر اخبار عام نے امام الزمان کے حکم کی تعمیل نہ فرمائی۔ ورنہ جہلم میں آکر دریافت کرنے سے ان کو معلوم ہو جاتا کہ بے نظیر جھوٹ وہ ہے جو اخبار عام نے سراج الاخبار سے نقل کیا ہے یا وہ چٹھی جو حضور انور نے اخبار عام میں شائع کرائی ہے۔

٤؎ لیجئے! جناب اب آپ اور کیا چاہتے ہیں۔ مرزا قادیانی تو یہاں تک فیاضی دکھاتے ہیں کہ ایڈیٹر اخبار عام کو آمد ورفت کا کرایہ بھی عنایت کئے دیتے ہیں اور وہ بھی انٹر میڈیٹ کے حساب سے فراخدلی اسی کا نام ہے۔

١٥٨

صفحہ ٤٣٣

سے ہمیں دستکش ہونا پڑے گا۔ آپ کو واضح ہو کہ ایڈیٹر اخبار جہلم اس گروہ میں سے ہے جو مجھ سے سخت دشمنی رکھتا ہے۔ دوسرے حال میں میری جماعت میں سے اس پر ایک نالش فوجداری کر رکھی ہے۔ اس لئے قابل شرم جھوٹ اس نے شائع کیا ہے۔ تعجب ہے کہ جس روز کرم دین نے جہلم میں نالش کی اس دن اس کی زیارت کے لئے کوئی نہ آیا اور پھر جس دن بذریعہ وارنٹ وہ جہلم میں ہی پکڑا گیا۔ اس دن بھی ایک آدمی نے بھی اس کو سجدہ نہ کیا اور کئی بار وہ جہلم میں آیا۔ مگر کسی نے نہ پوچھا۔ لیکن جس دن میں جہلم میں پہنچا تب ہزارہا آدمی اس کو سجدہ کرنے کے لئے موجود ہو گئے۔ حالانکہ وہ جہلم کے ضلع کا باشندہ ہے اور اکثر ضلع میں رہتا ہے۔ اب میں ختم کرتا ہوں اور منتظر رہوں گا کہ آپ اس جھوٹ کا دفعیہ کس پختہ طریق سے کرتے ہیں۔“

(آپ کا ہمدرد، خیر خواہ مرزا غلام احمد ٢٨ جنوری ١٩٠٣ء)

نقل بیان مرزا غلام احمد قادیانی

بمقدمہ یعقوب علی تراب ایڈیٹر و مالک اخبار الحکم بنام ابوالفضل مولوی کرم الدین دبیر، و مولوی فقیر محمد مالک سراج الاخبار۔

مرزا غلام احمد ولد مرزا غلام مرتضیٰ مغل عمر ٦٥ سال پیشہ زمینداری سکنہ قادیان۔

کی تردید نہ ہوئی تو پھر اپنی جانی اخبار بند کر دیں گے۔ پس آپ کے اخبار بند کرنے کی وجہ ہے کہ مالک اخبار کا رزق بند ہو جائے گا۔ اس سے عالی جناب کی وسیع الظرفی کا پتہ ملتا ہے۔ ایسی دھمکیاں تو معمولی حوصلہ کے دنیا دار بھی نہیں دیا کرتے۔

اور اب آپ کو دوسروں کی نسبت طنز کرنے سے شرم آئے گی۔

چھاپ دی۔ جس نے حضور اقدس کی صداقت کی ساری قلعی کھول دی ہے۔

میں عبداللہ آتھم سے مباحثہ ہونے کے وقت آپ کی عمر اس کی عمر کے برابر تھی اور اس کی عمر ٦٤ سال اس وقت تھی تو پھر نہایت تعجب ہے کہ اس وقت سے قریباً ١٢ سال کے بعد پھر آپ کی عمر ٦٥ سال ہے۔ گویا ١٢ سال میں آپ کی عمر میں صرف ایک سال کا اضافہ ہوا۔ ”وهذا شئ عجیب “ بہر حال یا اعجاز احمدی کی تحریر جھوٹی ہے یا یہ بیان جھوٹ۔ جھوٹ نمبر ١٠۔

١٥٩

صفحہ ٤٣٤

بجواب کرم الدین ۔ میں مستغیث کو دس یا گیارہ سال سے جانتا ہوں ۔ وہ میرا مرید ہے۔ الحکم اخبار مستغیث کی ہے۔ اس کے اپنے پریس سے نکلتا ہے۔ اس پریس کا نام معلوم نہیں ہے۔ (الحکم ٣١ مئی ١٩٠٣ء دکھایا گیا) یہ اخبار مطبع انوار احمدیہ سے نکلتا ہے۔ یہ مطبع میرے نام پر منسوب ہے۔ بحیثیت مسیح و مہدی کے میرا لقب حکم بھی ہے۔ نام اخبار میں وہی الفاظ ہیں (روئیداد جلسہ مورخہ ٢٧ دسمبر ١٨٩٢ء اے نمبر ١٣، مقدمہ دفعہ ٤٢٠ کا ص ٣ دکھایا گیا) اس کے سطر ١٣ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی اخبار جاری کرنے کی تجویز ہوئی تھی۔ نیز مطبع کے ص٢٠۔ سے ظاہر ہے کہ مطبع کے لئے چندہ جمع ہوا تھا۔ ص ١٩ سے ظاہر ہے کہ ایک پرچہ اخبار بھی شائع ہوا کرے گا۔ اس تجویز کے بعد پہلے الحکم قادیان سے جاری ہوا اور بعدہ البدر یاد نہیں کتنا عرصہ بعد الحکم کے البدر جاری ہوا۔

١؎ ناظرین غور فرمائیں کہ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ پریس کا نام معلوم نہیں ہے۔ یہ کہاں تک سچ ہو سکتا ہے۔ یہ ہرگز ممکن نہیں کہ انوار احمدیہ پریس جس میں الحکم چھپتا ہے اس سے مرزا قادیانی لا علم ہوں ۔ کیونکہ اس میں آپ کی متعدد تصانیف شائع ہوئیں اور اخبار الحکم جس میں آپ کے دربار صبح و شام کی کیفیت روزانہ چھپتی ہے۔ اس پریس سے ہفتہ وار نکلتا ہے۔ یہ لاعلمی صرف اس لئے ظاہر کی گئی تھی کہ آپ اخبار اور پریس سے بالکل بے تعلق ثابت ہوں ۔ جھوٹ نمبر ١١

٢؎ پہلے ہی کیوں نہ بتا دیا جب آپ جانتے تھے کہ زبردست سوالات (جرح کنندہ) نے زبردستی سے بھی کہلا لینا ہے۔

٣؎ ذرہ غور فرمائیے گا۔ امام الزمان کس ہیر پھیر کے ساتھ سوال کا جواب دیتے ہیں ۔ بجائے اس کے کہ صاف طور پر کہہ دیتے کہ اخبار میرے ہی لقب حکم پر نامزد ہوا ہے۔ آپ جواب لکھاتے ہیں تو کس طرز سے کہ نام اخبار میں وہی الفاظ ہیں ۔ اس جواب سے حضرت جی کی علمی لیاقت کی بھی قلعی کھلتی ہے۔ حکم ایک لفظ ہے نہ بہت الفاظ۔ پھر آپ کا فرمانا کہ نام اخبار میں وہی الفاظ ہیں اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کو مفرد اور جمع کی تمیز بھی نہیں ۔ بھلا اس سے بڑھ کر علمی پردہ دری اور ذلت کیا ہوگی۔ بوڑھے میاں باایں ریش وفش جرح کے چکر میں آ کر ہوش وحواس ایسے کھو بیٹھے کہ حکم ایک لفظ کو الفاظ سے تعبیر کرنے لگے ۔ اگر وہی حروف کہتے تو کوئی وجہ ہوتی وہی الفاظ کہنا تو ایک شرمناک غلطی ہے۔ (مرزائیو! کوئی جواب دے سکتے ہو؟ )

٤؎ اس سے تو صاف ثابت ہے کہ چندہ کر کے آپ نے ہی یہ اخبار جاری کیا۔ حالانکہ آپ فرماتے ہیں کہ الحکم اخبار مستغیث کا ہے اور اس کے اپنے پریس سے نکلتا ہے۔

١٦٠

صفحہ ٤٣٥

میں نہیں کہہ سکتا کہ البدر کو جاری ہوئے کتنا عرصہ گزرتا ہے۔ (نوٹ: ١ پہلے گواہ نے کہا تھا کہ شاید آج سے دو سال پیشتر البدر جاری ہوا تھا۔ معلوم ٢ نہیں الحکم کا مطبع کبھی میرے مکان میں رہا ہو۔

کسی ٣ پریس واقع قادیان سے میرا ذاتی تعلق نہیں ہے۔ الحکم سے میرا کسی طرح کا تعلق نہیں ہے۔ میں الحکم میں الہامات شائع ٤ نہیں کراتا۔ عام طور پر لوگ شائع کر دیتے ہیں۔

تک آپ کی سچائی کو ظاہر کرتا رہے گا۔ آپ خود فرما چکے ہیں کہ حق الیقین عدالت کے ذریعہ ہوتا ہے۔ (دیکھو بیان مرزا قادیانی بمقدمہ فضل دین ) اب عدالت نے آپ کی نسبت صاف نوٹ کیا ہے کہ آپ ایسے راست باز ہیں کہ عدالت کے سامنے صراحتاً اس پہلے یہ کہہ کر شاید آج سے دو سال پیشتر البدر جاری ہوا تھا۔ پھر اس سے صاف مکر گئے اور کہا کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ البدر کو جاری ہوئے کتنا عرصہ گزرا ہے۔ کیوں حضرت راست بازی اسی کا نام ہے اور پھر آپ کو صداقت صداقت کہتے شرم نہیں آئے گی۔ جھوٹ نمبر ١٢!

کہ ایک شخص کے مکان میں کوئی کارخانہ جاری رہا ہو اور اس کو علم تک نہ ہو کہ اس کے مکان میں کارخانہ رہا یا نہیں۔ الحکم کا مطبع پہلے مرزا قادیانی کے مکان میں ہی جاری ہوا اور ایک عرصہ رہا اور اسی لئے جرح کنندہ نے یہ ثابت کرنے کے لئے یہ کارخانہ درحقیقت آپ ہی کا ہے یہ سوال اٹھایا تھا۔ جس کا جواب بالکل غلط دیا گیا۔ جھوٹ نمبر ١٣!

صاحب تحصیلدار کے سامنے لکھایا تھا۔ صاف ثابت ہے کہ مطبع ضیاء الاسلام واقع قادیان آپ ہی کا مطبع ہے۔ چنانچہ آپ نے اس کی آمد و خرچ کی وہاں تفصیل بھی بتادی ہے۔ پھر اگر آپ کا وہ بیان درست ہے تو آپ کا یہ فرمانا کہ کسی پریس واقع قادیان سے آپ کا تعلق نہیں ہے۔ صاف جھوٹ ہے۔ جھوٹ نمبر ١٥!

میں کوئی الہام بھی خود شائع نہیں کراتا۔ لوگ ہی شائع کر دیتے ہیں۔ لیکن جب مولوی صاحب جرح کنندہ کے ہاتھ میں کتاب مواہب الرحمن دیکھی تو آپ کو وہ فقرہ یاد آ گیا۔ ثُمَّ اشعت کلما رایت فی جریدۃ یسمی الحکم ! تو پھر یہ کہہ دیا کہ شاذ و نادر کوئی مضمون میں کبھی کبھی شائع کر دیتا ہوں۔ کہئے راست بازوں کا یہی وطیرہ ہوتا ہے ۔ افسوس!

١٦١

صفحہ ٤٣٧

شاذ و نادر کوئی مضمون میں کبھی کبھی شائع کر دیتا ہوں۔ (مواہب الرحمن ص ١٢٩ دکھایا گیا) سطر ٧ میں درج ہے کہ میں نے شائع کیا جو مجھ پر خواب آئی اور مجھے الہام ہوا۔ اس کے ظہور سے پہلے اخبار الحکم میں۔ میں اخبار نویسی کو معزز اور راست بازی کا پیشہ سمجھتا ہوں۔ کسی ایڈیٹر کی نسبت جس نے کوئی امر خلاف واقعہ نہیں لکھا۔ یہ کہنا کہ اس نے جھوٹ لکھا ہے۔ اس سے اس کی توہین ہوتی ہے اور اگر خلاف واقعہ لکھا ہے تو یہ کہنا کہ اس نے خلاف واقعہ لکھا ہے۔ اس کی کوئی توہین نہیں ہے۔ جو ایڈیٹر سچے واقعات لکھتا ہے اور دوسرا جھوٹے واقعات لکھتا ہے۔ دونوں کی حیثیت میں فرق ہوگا۔ اوّل الذکر قابل عزت ہوگا۔ آخر الذکر قابل عزت نہیں ہے جو ایڈیٹر جھوٹے واقعات عمداً لکھنے میں شہرت پا چکا ہے۔ اس کی نسبت یہ کہنا کہ تو نے جھوٹے واقعات لکھے ہیں۔ اس کی توہین نہیں ہوتی۔ یہ مقدمہ غالباً ١؎ میرے مشورہ سے دائر ہوا ہوگا۔ گو اچھی طرح یاد نہیں ہے دینی امور میں میرے مشورہ سے کام کرتے ہیں۔ خانگی امور میں اپنی مرضی سے کام کرتے ہیں۔ میں ٢؎ نے اس مقدمہ کے لئے کوئی چندہ اپنی طرف سے نہیں دیا۔ لیکن جو چندہ سلسلہ میں وصول ہوتا ہے۔ اس میں سے کسی نے دے دیا ہو تو مجھے خبر نہیں ہے۔ اس امید پر کہ مستغیث میرا مرید ہے۔ میں نے لکھا ہے کہ وہ مقدمہ داخل دفتر کرانے کی بابت میرا کہنا مان لے گا۔“ (اشتہار ١٤؍ جون ١٩٠٢ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٥١٣، ٥١٤)

١؎ لیکن آپ اپنی کتاب الہدیٰ میں اس کے برخلاف تحریر فرماچکے ہیں۔

٢؎ مقدمہ کا مشورہ دینے کی نسبت غالباً کی قید لگانا اور کہنا گو اچھی طرح یاد نہیں ہے۔ بھی بالکل غلط ہے۔ ساری خلقت جانتی ہے کہ مقدمہ آپ نے دائر کرایا اور وکیل وکلاء سب آپ کے حکم سے پیروی کے لئے گئے۔ پھر آپ کیوں صاف نہیں فرماتے۔ یقیناً میرے مشورہ سے مقدمہ دائر ہوا۔ جھوٹ نمبر ١٦!

٣؎ شاید آپ کا یہ کہنا کہ میں نے اس مقدمہ کے لئے کوئی چندہ اپنی طرف سے نہیں دیا۔ تو شاید مان لیا جائے۔ کیونکہ آپ اپنی جیب خاص سے ایک پائی بھی خرچ کرنے والے نہیں۔ لیکن آپ کا یہ کہنا بالکل جھوٹ ہے کہ جو چندہ سلسلہ میں وصول ہوتا ہے۔ اس میں سے کسی نے دے دیا ہو تو مجھے خبر نہیں ہے۔ کیونکہ یہ امر محال ہے کہ جو چندہ سلسلہ میں وصول ہو وہ آپ کی بے اجازت دیا جائے اور آپ کو اس کی خبر نہ ہو۔ جھوٹ نمبر ١٧!

١٦٢

مدخلہ ملزم میری طرف سے ہے۔ اس مستغیث حال بھی ملزم تھا۔ میں نے سنا تھا کہ غلا ڈپٹی کمشنر آیا تھا۔ میری دانست میں دس ہزار آدمی میرے مرید ہو گئے تھے۔ غلام حیدر مرید نہیں ہوا کو میرے مرید دکھائے تھے یا نہیں۔ اس کے ص ٥، ٤ پر مضمون مقدمہ جہلم تحصیلدار غلام حیدر نے حاکم عدالت کو دہ ہزار تھے۔ لوگ کہتے تھے کہ قریباً ٣٠ ہزار کے آدمی ہ ہوں گے۔

١؎ یہ سنا تھا کہتا اس غرض سے ہے کہ مطبوعہ اخبار عام میں صاف طور پر لکھا چکے ہ ہزار ہا آدمی دکھائے جو میرے دیکھنے کے ل آیت ”ولا تكتموا الشهادة“ کی تعمیل ہے

٢؎ حالانکہ چٹھی میں آپ تیس پینتی

٣؎ اب جب چٹھی دکھائی گئی او چاہتے ہیں لوگ کہتے تھے کہ قریباً ٣٠ ہزار آدم جن لوگوں نے بہت غور کر کے اندازہ لگایا ۔ اپنے بیان میں دس ہزار کی تعداد بتلاتے ہیں میں آپ نے کیوں شائع کرایا اور صحیح انداز ”كفى بالمرء كذبا ان يحدث بكل م

٤؎ تعداد مریدان کی نسبت مر گڑبڑ ہے اور اس قدر مبالغہ اور جھوٹ ہے میں جب منشی تاج الدین صاحب تحصیلدا گئے۔ ان کے سامنے تعداد مریدان ٣٨ مرزا قادیانی ٣٠ ہزار لکھی۔ جیسا کہ اپنے اب

صفحہ ٤٣٧

مدخلہ ملزم میری طرف سے ہے۔ اس نے میرے اوپر جہلم میں مقدمہ کیا تھا۔ اس میں مستغیث حال بھی ملزم تھا۔ میں نے سنا تھا کہ غلام حیدر تحصیلدار واسطے انتظام کے بحکم صاحب ڈپٹی کمشنر آیا تھا۔ میری دانست میں دس ہزار آدمی جمع ہوئے تھے۔ کئی سو آدمی مرد و عورت جہلم میں میرے مرید ہو گئے تھے۔ غلام حیدر مرید نہیں ہوا۔ مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ غلام حیدر نے عدالت کو میرے مرید دکھائے تھے یا نہیں۔

(اخبار عام ٢ فروری ١٩٠٢ء دکھایا گیا)

اس کے ص ٥،٤ پر مضمون مقدمہ جہلم کی غلط فہمی میرا ہے۔ اس میں یہ فقرہ لکھا ہے کہ پھر تحصیلدار غلام حیدر نے حاکم عدالت کو دہ ہزار ہا آدمی دکھلائے جو میرے دیکھنے کے لئے موجود تھے۔ لوگ کہتے تھے کہ قریباً ٣٠ ہزار کے آدمی ہوں گے۔ اس وقت میرے مرید دو لاکھ سے زائد ہوں گے۔

(تحفہ غزنویہ مطبوعہ اکتوبر ١٩٠٢ء دکھایا گیا)

١؎ یہ سنا تھا کہنا اس غرض سے ہے کہ غلام حیدر سے بے لگاؤ ہونا ثابت ہو۔ حالانکہ چٹھی مطبوعہ اخبار عام میں صاف طور پر لکھ چکے ہیں کہ پھر تحصیلدار غلام حیدر نے حاکم عدالت کو دہ ہزار ہا آدمی دکھائے جو میرے دیکھنے کے لئے موجود تھے۔ ناظرین! انصاف کریں کہ کیا یہی آیت ’’ولا تکتموا الشهادة‘‘ کی تعمیل ہے۔

٢؎ حالانکہ چٹھی میں آپ تیس پینتیس ہزار آدمی شائع کر چکے ہیں۔ شرم، شرم!

٣؎ اب جب چٹھی دکھائی گئی اور آپ کی آنکھ کھلی تو آپ گویا تطبیق اس طرح دینا چاہتے ہیں لوگ کہتے تھے کہ قریباً ٣٠ ہزار آدمی ہوں گے۔ حالانکہ وہاں بڑے وثوق سے کہا گیا کہ یہ جن لوگوں نے بہت غور کر کے اندازہ لگایا۔ وہ کہتے تھے کہ تیس پینتیس ہزار ہوں گے۔ جب آپ اپنے بیان میں دس ہزار کی تعداد بتلاتے ہیں تو پھر لوگوں کے غلط اندازہ تیس پینتیس ہزار کو اخبار عام میں آپ نے کیوں شائع کرایا اور صحیح اندازہ سے اس کو کیوں تعبیر کیا۔ حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ ’’کفٰی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ماسمع‘‘

٤؎ تعداد مریدان کی نسبت مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کے بیانات میں عجیب گڑبڑ ہے اور اس قدر مبالغہ اور جھوٹ سے کام لیا گیا ہے۔ جس کی کوئی نظیر بمشکل مل سکے۔ ١٩٠٠ء میں جب منشی تاج الدین صاحب تحصیلدار انکم ٹیکس کے مقدمہ کی تحقیقات کے لئے قادیان میں گئے۔ ان کے سامنے تعداد مریدان ٣١٨ بتائی۔ چنانچہ انہوں نے اپنی رپورٹ میں تعداد مریدان مرزا قادیانی ٣٠ ہزار لکھی۔ جیسا کہ اپنے اس بیان میں تصدیق کرتے ہیں۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

صفحہ ٤٣٩

اس کے (تحفہ غزنویہ ص ١٧، خزائن ج ١٥ ص ٥٤٧) پر درج ہے کہ ٣٠ ہزار آدمی کی جماعت اب میرے ساتھ ساتھ ہے۔ یہ کتاب میری تصنیف ہے۔ (تحفہ گولڑویہ مطبوعہ ستمبر ١٩٠٢ء ص ٥٣، خزائن ج ١٧ ص ٧٧ دکھایا گیا) اس میں لکھا ہے کہ ’’میری امت میں سے تیس ہزار کا نام خر دجال رکھا ہے۔ اس وقت تیس ہزار آدمی میرے مرید تھے۔‘‘ (تحفۃ الندوہ مطبوعہ ٦ اکتوبر ١٩٠٢ء ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٩٧) اس میں لکھا ہے ’’تعداد مریدان ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ مختلف مقامات میں یہ کتاب بھی میری تصنیف ہے۔‘‘ نیز تحفہ گولڑویہ (مواہب الرحمٰن ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ٢٤٠ دکھایا گیا) اس میں لکھا ہے کہ جماعت ہماری ان تین برسوں میں ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہ کتاب ١٤ جنوری ١٩٠٣ء کی ہے اور میری تصنیف ہے۔ (الحکم ٢٤ اکتوبر ١٩٠٢ء ص ١٠ دکھایا گیا) اس میں بروئے مردم شماری کے کاغذات کے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری جماعت تین سو تیرہ ہیں یا ایک لاکھ کے قریب میں نے کاغذات دیکھے۔ میں نے اندازاً کہا ہے (الحکم ١٧ مئی ١٩٠٣ء ص ١ دکھایا گیا) اس میں لکھا ہے کہ

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) لیکن کتاب (تحفۃ الندوہ مطبوعہ ٦ اکتوبر ١٩٠٢ء) میں تعداد مریدان ایک لاکھ سے زیادہ بتائی گئی۔ اب اگر تحفہ غزنویہ کی تحریر سچ ہے تو تحفۃ الندوہ کی تحریر صریح جھوٹ ہے۔ کیونکہ دونوں کتابیں ایک ہی سنہ اور ایک ہی ماہ اکتوبر ١٩٠٢ء میں طبع ہوئی ہیں۔ پھر مواہب الرحمٰن میں جو ١٤ جنوری ١٩٠٣ء میں تصنیف اور طبع ہوئی۔ اس میں بھی وہی تعداد ایک لاکھ سے زائد بتائی گئی۔ پھر الحکم ١٧ مئی ١٩٠٣ء میں دولاکھ کی تعداد بتائی گئی۔ گویا تین ماہ میں ایک لاکھ کی تعداد بڑھ گئی۔ لیکن یہ عجیب تماشہ ہے کہ الحکم ١٠ جولائی ١٩٠٣ء میں جو مرزا قادیانی کی تقریر چھپی ہے اس میں تعداد مریدان تین لاکھ بتائی گئی ہے۔ مگر ٦ جولائی ١٩٠٢ء جس روز مرزا قادیانی کا یہ بیان ہوا۔ آپ تعداد مریدان دولاکھ بتاتے ہیں۔ اب اگر یہ بیان درست ہے تو اس سے ایک سال پہلے الحکم ١٠ جولائی ١٩٠٣ء میں ٣ لاکھ تعداد بتانا ایک بے نظیر جھوٹ ہے اور بائہمہ جب آپ سے سوال کیا گیا کہ یہ تعداد کس بناء پر آپ بتاتے ہیں۔ کیا آپ کے پاس کوئی رجسٹر ہے تو آپ فرماتے ہیں کہ میرے پاس کوئی رجسٹر مریدان نہیں ہے۔ اس موقعہ پر اکاذیب کے نمبر بےتعداد ہو جاتے ہیں۔ لیکن ہم رعایتاً ایک نمبر اس جھوٹ کا لگاتے ہیں جو تحفہ غزنویہ اور تحفۃ الندوہ کے تعارض سے پیدا ہوا۔ دوسرا وہ جو مرزا قادیانی کے بیان حال اور الحکم ١٠ جولائی والی تحریر کے سخت تعارض ظاہر ہوتا ہے اور تیسرا نمبر وہ شمار کرتے ہیں جو آپ کے اس بیان سے کہ میرے پاس کوئی رجسٹر مریدان نہیں ہے اور پھر باوجود عدم ثبوت کے تعداد بیان کرنے سے ثابت ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے آپ کے جھوٹوں کی تعداد کا آخری نمبر ٢٠ ہو گیا۔

١٠ فیصدی بھی الحکم لینے والے ہوں تو دولاکھ کی چاہئے۔ (الحکم ١٠ جولائی ١٩٠٣ء ص ٨ دکھایا گیا) اس میں ہے۔ (الحکم مذکور دکھایا گیا) اس میں بطور تقریر میری میں تعداد مریدان دولاکھ سے زیادہ لکھی ہے۔ یہ پاس نگوٹی رجسٹر مریدان نہیں ہے۔ لیکن مولوی عبدا شاید ١٠ ماہ سے بنوایا ہے۔ مریدان آمدہ سے تعل بھگیں میں میری مریدی ظاہر کرتا ہے۔ وہ ملزم کا الدین مریدی کے خط بنام مولوی عبدالکریم بھیجتا آیا۔ نہ اس نے مجھے مریدی کا خط لکھا ہے۔ (ا شہاب الدین سکنہ بھگیں کا نام زیر بیعت درج (ا سکنہ بھگیں کے درج ہیں۔ جن کو میں نہیں جانتا۔‘‘

فضل دین ١٦ جولائی ١٩٠٣ء کو لکھا یا۔ آپ کے اس سے لکھا دیا کہ مرزا قادیانی کے مریدوں کا ایک رجس مقدمہ اولیٰ۔ تو اب اگر عبدالکریم سچا ہے تو مرزا قاد کہنے میں کہ میرے پاس کوئی رجسٹر مریدان نہیں س ہے۔ تیسرا یہ کہ ١٠ ماہ سے وہ رجسٹر بنا ہے۔ حالانک ایک سال لکھا گیا اور اس وقت وہ رجسٹر کا موجود ہو کے جھوٹوں کا نمبر ٢٣ تک پہنچ گیا۔

میں اس کا نام بیعت کنندگان میں شائع کرانا ایک نہیں کہ بغیر اجازت آپ کے وہ کسی کا نام مری طرف ہی منسوب ہوگا۔ جھوٹ نمبر ٢٤!

ناموں کے کوئی آدمی موضع بھگیں میں ہرگز نہیں ہ کہ بھگیں میں ان ناموں کے کوئی آدمی ہیں تو ہم یہ جھوٹ صریح جو الحکم میں شائع ہوا یہ بھی آپ کی

صفحہ ٤٣٩

١٠ فیصدی بھی الحکم لینے والے ہوں تو دولاکھ کی جماعت میں الحکم کی اشاعت بیس ہزار ہونی چاہئے۔ (الحکم ١٠ جولائی ١٩٠٣ء ص ٨ دکھایا گیا) اس میں تعداد ہماری جماعت کی قریباً تین لاکھ لکھی ہے۔ (الحکم مذکور دکھایا گیا) اس میں بطور تقریر میری کے لکھی ہے۔ (ایک واقعہ کا اظہار دکھایا گیا) اس میں تعداد مریدان دولاکھ سے زیادہ لکھی ہے۔ یہ ١٤؍ جون ١٩٠٣ء کی تصنیف میری ہے۔ میرے پاس کوئی رجسٹر مریدان نہیں ہے۔ ١؎ لیکن مولوی عبدالکریم نے ایک ایسا رجسٹر چند ماہ سے بنوایا تھا شاید ١٠ ماہ سے بنوایا ہے۔ مریدان آمدہ سے تعداد معلوم ہوتی ہے۔ مسمی شہاب الدین موضع بھین میں میری مریدی ظاہر کرتا ہے۔ وہ ملزم کا شاگرد ہے۔ میں نے صرف سنا ہے کہ شہاب الدین مریدی کے خط بنام مولوی عبدالکریم بھیجتا رہا ہے۔ شہاب الدین قادیان میں ہرگز نہیں آیا۔ نہ اس ٢؎ نے مجھے مریدی کا خط لکھا ہے۔ (الحکم مورخہ ٣١ جولائی ١٩٠١ء ص ١٦ دکھایا گیا) اس میں شہاب الدین سکنہ بھین کا نام زیر بیعت درج (الحکم ١٧ مئی ١٩٠٣ء ص ١٦ دکھایا گیا) اس میں چند نام سکنہ بھین ٣؎ کے درج ہیں۔ جن کو میں نہیں جانتا۔'' دستخط حاکم ! مورخہ ٦؍ جولائی ١٩٠٣ء

١؎ لیکن آپ کا خاص الخاص حواری مولوی عبدالکریم اپنے اس بیان میں جو اس نے بمقدمہ فضل دین ١٦؍ جولائی ١٩٠٣ء کو لکھایا۔ آپ کے اس بیان کو جھوٹا ثابت کرتا ہے۔ چنانچہ اس نے صراحت سے لکھا دیا کہ مرزا قادیانی کے مریدوں کا ایک رجسٹر ہے جو دوسرے کے سپرد ہے۔ ملاحظہ ہو کیفیت مقدمہ اولیٰ۔ تو اب اگر عبدالکریم سچا ہے تو مرزا قادیانی نے اس بیان میں ٣ جھوٹ بولے ہیں۔ پہلا یہ کہتے ہیں کہ میرے پاس کوئی رجسٹر مریدان نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہتے ہیں کہ مولوی عبدالکریم نے رجسٹر بنایا ہے۔ تیسرا یہ کہ ١٠ ماہ سے وہ رجسٹر بنا ہے۔ حالانکہ مولوی عبدالکریم کا بیان آپ کے اس بیان سے پہلے ایک سال لکھا گیا اور اس وقت وہ رجسٹر کا موجود ہونا اور دوسرے کے سپرد ہونا بیان کر چکا ہے۔ اب آپ کے جھوٹوں کا نمبر ٢٣ تک پہنچ گیا۔

٢؎ جب اس نے آپ کے نام مریدی کا کوئی خط نہیں لکھا تو پھر آپ کا الحکم ٣١ جولائی ١٩٠١ء میں اس کا نام بیعت کنندگان میں شائع کرانا ایک بہت بڑا جھوٹ ہے اور چونکہ ایڈیٹر الحکم کی یہ جرأت نہیں کہ بغیر اجازت آپ کے وہ کسی کا نام مریدوں میں شائع کرے۔ اس لئے یہ جھوٹ بھی آپ کی طرف ہی منسوب ہوگا۔ جھوٹ نمبر ٢٤!

٣؎ جن آدمیوں کے نام الحکم ١٧؍ مئی ١٩٠٣ء میں لکھے گئے اور ان کی سکونت بھین لکھی گئی ان ناموں کے کوئی آدمی موضع بھین میں ہرگز نہیں ہیں۔ اگر مرزا قادیانی یا اس کا کوئی مرید ثابت کر دیوے کہ بھین میں ان ناموں کے کوئی آدمی ہیں تو ہم ان کو پانچ سو روپیہ انعام دینے کا مؤکدہ وعدہ کرتے ہیں یہ جھوٹ صریح جو الحکم میں شائع ہوا یہ بھی آپ کی ہی طرف منسوب ہوگا۔ جھوٹ نمبر ٢٥!

١٦٥

صفحہ ٤٤٠

الحکم مورخہ ١٧ / اکتوبر ١٩٠٢ء ص ١١ کالم اول پر جس خط کا ذکر ہے معلوم نہیں کہ یہ خط میرے نام آیا تھا یا مولوی عبد الکریم کے نام ١؎ (پہلے کہا تھا کہ یہ خط مجھے پہنچا تھا) مجھے یاد نہیں کہ یہ میں نے کہا یا نہیں کہ اس کو کہہ دو کہ تمہاری دھمکی تم پر ہی پڑے گی یا دوسرے مولویوں پر۔ جو دوسرے مولویوں پر پڑا ہے وہی تم پر پڑے گا۔ الحکم ٣١ / اکتوبر ١٩٠٢ء ص ٦ پر جو واقعہ درج ہے مجھے ٢؎ یاد نہیں کہ صحیح ہے یا نہیں۔ میں سراج الاخبار کا خریدار نہیں ہوں۔ ٦ تا ١٣ / اکتوبر ١٩٠٢ء کے سراج الاخبار کے پرچے یعقوب علی کے نام پہنچے تھے اور میرے روبرو پڑھے گئے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی چونکہ پہلے کرم الدین نے ایک خط میرے نام لکھا تھا جو ٢١ / جولائی ١٩٠٢ء کا تھا کہ پیر مہر علی شاہ نے جو کتاب سیف چشتیائی بنائی ہے وہ مولوی محمد حسن بھیں کے نوٹ چرا کر بنائی گئی ہے۔ اب ٦ / اکتوبر ١٩٠٢ء کا مضمون جو کرم دین نے شائع کیا ایسا ہی ١٣ / اکتوبر ١٩٠٢ء کا اس میں یہ لکھا گیا تھا کہ وہ خطوط جعلی ہیں۔ میری طرف سے نہیں ہیں۔ جب کرم دین کے نام سے وہ مضمون تھا تو یقین کیوں نہ ہوتا مجھے کوئی نظیر یاد نہیں ہے کہ ایک اخبار کا ایک شخص نامہ نگار بھی ہو اور ہفتہ وار اخبار بھی نکلتا ہو۔ پھر دوسرا شخص اس کے نام پر مضمون چھپادے اور وہ اس حال تک خاموش رہے۔ کتاب حقیقت المہدی میری بنائی ہوئی ہے۔ ص ١٥ اس کا میں نے دیکھ لیا ہے۔ عبارت ذیل اس میں درج ہے اور گندی گالیوں کے مضمون اپنے ہاتھ سے لکھے اور محمد بخش جعفر زٹلی لاہوری اور ابوالحسن تبتّی کے نام سے چھپوا دیئے۔ ایسا کرنے والا محمد حسین تھا۔

١؎ عدالت کا یہ نوٹ آپ کے لئے دوسرا تمغہ صداقت ہے کہ آپ ایسے راست باز ہیں کہ عدالت میں پہلے کچھ کہتے ہیں اور پھر برخلاف اس کے کچھ اور کہہ کر اپنی راست بیانی کا ثبوت دیتے ہیں۔ لیجئے! ہزار مبارک بصد مبارک۔ جھوٹ نمبر ٢٦!

٢؎ دیکھنا حضرات مسیح الزمان کا یہ یاد نہیں کا ورد کہاں تک ٹھیک ہے۔ جہاں آپ دیکھتے ہیں کہ کوئی بات برخلاف پڑتی ہے۔ وہاں یاد نہیں کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔ بہت اچھا! ہم یہ بات آپ کے ایمان پر چھوڑتے ہیں۔ حالانکہ آپ کے اخبار الحکم میں آپ کی طرف سے ایسا کہنا چھپا ہوا موجود ہے۔ پھر آپ فرماتے ہیں یاد نہیں۔

٣؎ اس یاد نہیں کی نسبت پھر وہی عرض ہے جو پہلے لکھا جا چکا ہے۔ اتنا بڑا واقعہ ہو اور دوسرے مرید اپنی شہادت میں اس کی تصدیق بھی کریں۔ لیکن آپ یاد نہیں کہہ کر اظہار حق سے کنارہ کش ہوں۔ افسوس ہے۔

ایں کار از تو آید مردان چنیں کنند

١٦٦

صفحہ ٤٤١

(نزول المسیح ص ٤٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٥) پر عبارت ذیل حاشیہ پر درج ہے۔ میں نے بھی اسی قدر مضمون لکھا تھا کہ مجھے آج ٢٦/ جولائی ١٩٠٢ء کو موضع بھیں سے میاں شہاب الدین دوست مولوی محمد حسن بھیں کا خط ملا۔ اس خط کا لفافہ مولوی عبدالکریم کے نام تھا۔ مجھے یاد نہیں کہ یہ خط مولوی عبدالکریم نے مجھے دیا یا نہیں، پڑھا گیا تھا۔

(نزول المسیح ص ٧٢، خزائن ج ١٨ ص ٤٥٠) پر درج ہے کہ شہاب الدین کچھ ارادت ١؎ رکھتا ہے۔ اس لئے پیر مہر علی کے سرقہ کے برآمد کرانے کے لئے کوشش کی۔ اس خط کے علاوہ میرے نام اور کوئی خط نہیں آیا۔ مجھے یاد نہیں ہے۔ ملزم کرم دین کا خط میرے نام آیا تھا اور اس کا لفافہ میرے نام تھا۔ وہ خط پڑھ کر میں نے مولوی عبدالکریم کو دے دیا۔

(سراج الاخبار مورخہ ٦/اکتوبر ١٩٠٢ء ص ٦ کالم اوّل) میں راقم مضمون لکھتا ہے کہ الحکم کا پرچہ ایڈیٹر نے اس کے پاس نہیں بھیجا۔ اس بات سے نتیجہ نکلتا ہے کہ جھوٹے اور فرضی خط میرے اور میرے شاگرد میاں شہاب الدین کے نام سے اس اخبار میں درج کئے ہیں۔ اسی اخبار کے ص ٦ سطر ٣ میں لفظ اور کا کلمہ ابتداء کے واسطے ہے۔ عطف ٢؎ کے واسطے نہیں۔ پچھلے فقرہ کے ساتھ اور نہ کسی بعد کے فقرہ کا تعلق ہے۔ میں ٣؎ نہیں جانتا کہ اور کس قسم کا ہے۔ اگر اور کا کلمہ عطف کا ہو تو اس کے مابعد کا جملہ معطوف اور یہ جملہ معطوف علیہ ہوگا۔ ہر حال ٤؎ میں معطوف تابع معطوف علیہ کا نہیں ہوتا۔ سطر تین میں اور کے لفظ کے مابعد کا جملہ پہلے جملہ کا تابع نہیں ہے۔ مابعد والے میں زیادہ بیان ہے۔ ماقبل میں حکم عطف اور اقتضاء کلام کے مفہوم سے تعلق رکھتا ہے جو انہیں الفاظ سے نکالا جاتا ہے۔

والی تحریر کو جھوٹ کہیں یا بیان کو دونوں تو سچے نہیں ہو سکتے۔ جھوٹ نمبر ٢٧!

ہیں۔ کیوں اس لئے کہ اگر حرف عطف مانیں تو مستغیث کے استغاثہ میں سقم آتا ہے۔ واہ صاحب واہ چہ خوش!

یہ بھی نہیں جانتے کہ اور کس قسم کا ہے: ”بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا۔ جو چیرا تو اک قطرہٴ خون نہ نکلا“

ہے کہ آپ یہ بھی نہیں جانتے کہ معطوف تابع معطوف علیہ کا ہوتا ہے: ”چو بانگ دہل ہولم از دور بود۔ بخیمہ درم عیب مستور بود“ مرزائیو! کیا اپنے مرشد کی یہ علمی پردہ دری دیکھ کر پھر بھی آپ کے اعتقاد میں کچھ فرق نہ آئے گا۔

١٦٧

صفحہ ٤٤٤

(اخبار سراج الاخبار ١٣ اکتوبر ١٩٠٢ء ص ٥) میں یہ شعر

کچھ جھوٹے خطوط گھڑ کے خود ہی یہ بات ہے ملک میں اڑائی
پہنچے ہیں خطوط مجھ کو کہیں سے فیضی کی ہتک جن میں پائی

ان میں خطوط کا ذکر ہے جن سے فیضی کی ہتک پائی گئی۔ ان دو شعروں میں انہیں دو خطوط کا گھڑنا لکھا ہے۔ ص ٥ میں جو اشعار ہیں ان میں صرف انہیں خطوط کا ذکر ہے جن میں فیضی کی ہتک پائی جاتی ہے۔

سوال...... جو خط شہاب الدین کا ١٣؍ اکتوبر ١٩٠٢ء کے سراج الاخبار ص ٦ پر چھپا ہوا ہے کہ ”مجھ کو نہایت افسوس ہے کہ کسی فتنہ باز نے محض شرارت سے یہ چال بازی کی تھی خداوند کریم کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں اس قسم کی عادت سے بیزار ہوں۔ میں نے کوئی خط نہیں لکھا جس میں یہ لکھا گیا ہو کہ مولوی صاحب مرحوم کی موت ایسی ہوگی۔“ تو اس عبارت میں راقم خط اس خط کو چالبازی قرار دیتا ہے اور اس کے لکھنے سے انکار کرتا ہے جو الحکم میں فیضی کی ہتک کے متعلق چھپایا نہیں۔ (وکیل استغاثہ) اس سوال کی نسبت اعتراض کرتا ہے۔ مگر جو حوالہ پیش کیا گیا ہے اس کی تائید میں وہ اس کی قطعی ممانعت نہیں کرتا۔ اس لئے سوال پوچھنے کی اجازت دی گئی۔

(حوالہ ج ٢، الہ آباد ص ٢٢٠)

جواب...... اس خط میں شہاب الدین اس بات سے انکار کرتا ہے کہ کوئی خط میرا بھیجا گیا ہو، جو الحکم میں درج کیا گیا۔ جس میں مولوی محمد حسن کی ہتک لکھی گئی ہو یا نہیں کہ جس وقت مضمون نظم بنایا گیا تھا اس وقت خط سنایا گیا کہ نہیں۔ میں نے شہاب الدین کو ملزم گردانے جانے کا مشورہ نہیں دیا۔ دستخط حاکم !

نوٹ...... اب پانچ بج گئے ہیں۔ اس لئے پرسوں یہ مقدمہ پیش ہوا ١٨؍ جولائی ١٩٠٣ء، دستخط حاکم!

١؎ اگرچہ آپ کا یہ کہنا مستغیث کے مفید مطلب نہ تھا اور آپ ایسا کبھی بھی کہنے والے نہ تھے۔ لیکن مولوی صاحب نے جب دیکھا کہ آپ کسی طرح راستی کی طرف جھکنے والے نہیں ہیں تو انہوں نے یہ سوال کیا کہ ان اشعار کی آپ ترکیب بتائیں۔ تب مرزا قادیانی نے سمجھا کہ ترکیب تو ہو سکے گی نہیں اور مفت کی پردہ دری ہوگی۔ چلو اس کے مفید مطلب بات کہہ کر جان چھڑا لو تب آپ یہ بیان کرنے پر مجبور ہو گئے۔

جادو وہ جو سر پہ چڑھ کے بولے

١٦٨

صفحہ ٤٤٤

نوٹ ...... ہماری آنکھوں میں درد ہے۔ اس لئے بوجہ عذر سماعت خود مستغیثاں سے بیان تحریر کرایا۔ دستخط حاکم ! ٢٠ جولائی ١٩٠٣ء فریقین حاضر، مولوی کمال الدین و منشی محمد علی وکلاء استغاثہ! گواہ صفائی نمبر ١ ...... باقرار صالح، مرزا غلام احمد، میں نے کرم الدین ملزم کو کبھی لکھتے ہوئے نہیں دیکھا جس خط کا میں نے ذکر کیا ہے اس سے پہلے کوئی خط و کتابت ملزم کے ساتھ میری نہیں ہوئی۔ میں ملزم کے خط پہچان بھی نہیں سکتا ۔ بیان مورخہ ١٩ اگست ١٩٠٣ء بمقدمہ حکیم فضل دین بنام مولوی کرم الدین روبروئے رائے چندولال صاحب میں نے سن لیا وہ بیان میرا ہے اور درست ہے۔ اسی نمبر ٣ میں نے پڑھ لیا ہے۔ اس میں پہلا خط میرے نام ہے اور دوسرا مولوی عبدالکریم کے نام ۔ میں نے کوئی خط مشمولہ خط اوّل ہاتھ سے نہیں لکھا ہوا دیا تھا ۔ مولوی عبدالکریم نے لکھا اس واسطے میں نے کہا ہے کہ میرا قاعدہ ہے کہ انہیں سے یعنی مولوی عبدالکریم سے ہر ایک خط لکھوا لیا کرتا ہوں ۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے پہلے کوئی خط مولوی عبدالکریم سے لکھوایا ہو ۔ اگر لکھا ہو گا تو میری اجازت سے لکھا ہو گا ۔ مجھے یاد نہیں کہ کوئی خط میرے نام آیا کہ نہیں۔ کارڈ پی نمبر ٥ وہ کارڈ ہے جو مولوی کرم الدین کے خط میں مجھ کو ملا جو ٢١ جولائی ١٩٠٢ء کو لکھا ہے ۔ (پہلے یہ کہا تھا کہ یہ کارڈ پی نمبر ٥ پیر مہر علی شاہ کے خط میں پہنچا ) (نزول المسیح ص ٦٨ ، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٦) پر یہ عبارت مُندرج ہے ۔

١۔ یہ سبق آپ کو حکیم الامت صاحب کی شہادت سے ملا۔ ذرا آپ بھی خطوط شناسی کے دعویدار بنتے اور حکیم جی کی طرح آپ کی بصری کی قلعی بھی کھلتی۔ حکیم جی نے بہت بڑے ادّعا خطوط شناسی کے بعد جس قدر سخت ٹھوکریں خطوں کے پہچاننے میں کھائی تھیں ان کے بیان بمقدمہ فضل دین پڑھنے سے ظاہر ہے۔ حتّیٰ کہ عدالت نے اپنے فیصلہ میں بھی اس امر کا نوٹ کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ امام الزمان نے خطوط شناسی کا دعویٰ کرنے کی جرأت نہ کی۔

٢۔ حضرت کا یہ تیسرا تمغۂ صداقت ہے۔ جو عدالت کی طرف سے آپ کو عطا ہوا ہے۔ مبارک، مبارک، مبارک۔ آپ نے ٹھیک فرمایا تھا کہ حق الیقین عدالت کے ذریعہ ہوتا ہے۔ پس اب جب عدالت آپ کو تین تمغے صداقت کے بخشتی ہے تو پھر پبلک کو حق ہے کہ وہ حق الیقین کرے۔ آپ کو بیشک جھوٹ کہنے میں تامل نہیں ہے۔ حتّیٰ کہ سر اجلاس عدالت بھی آپ اس عادت سے باز نہ آئے۔ جھوٹ نمبر ٢٨!

صفحہ ٤٤٤

بلکہ اس نے خود پیر مہر علی شاہ کا دستخطی کارڈ بھیج دیا تھا۔ اُس فقرہ میں اس نے مراد شہاب دین ہے۔ اس کارڈ سے مراد پی نمبر ٥ ہے۔ ضلع جہلم میں میرے مرید ہیں۔ مجھے زبانی یاد نہیں کہ تحصیل چکوال میں میرے مرید ہیں یا نہیں۔ کتاب ضمیمہ رسالہ انجام آتھم میری کتاب ہے۔ یعنی میری تصنیف ہے۔ مضمون اس کا درست، پیسہ اخبار مورخہ ١٦ نومبر ١٩٠١ء میں جو مضمون عبدالعزیز نمبردار بٹالہ کی طرف سے ہے۔ یہ عبدالعزیز میرا مرید تھا۔ پھر برگشتہ ہو گیا جو اس کی طرف سے مضمون ہے۔ وہ میری توہین ہے۔ عبدالعزیز کا دوسرا نام نبی بخش ہے۔ (ضمیمہ رسالہ انجام آتھم ص ٤٢، خزائن ج ١١ ص ٣٢٦) پر فہرست مریدان میں ص ٧٦ پر وہی منشی چوہدری نبی بخش صاحب معہ اہل بیت بٹالہ درج ہے۔ تھوڑے دنوں سے اس نبی بخش نے پھر توبہ نامہ شائع کیا تھا۔ اب اس وقت باہر آیا ہوا ہے۔

١؎ نزول المسیح میں آپ لکھ چکے ہیں کہ وہ کارڈ اس نے (شہاب الدین نے) خود بھیجا تھا اور بیان میں آپ فرماتے ہیں کہ مولوی کرم الدین نے بھیجا ہوا تھا۔ یا آپ کی نزول المسیح والی تحریر جھوٹ ہے یا بیان جھوٹا ہے۔ اس لئے ہم مجبور ہیں کہ ایک اور نمبر آپ کے جھوٹوں میں ایزاد کر دیں۔ جھوٹ نمبر ٢٩!

منشی عبدالعزیز سابق قادیانی کا مرزا کی نسبت مضمون

٢؎ منشی عبدالعزیز یا نبی بخش نمبردار بٹالہ مرزا قادیانی کے وہ مقرب مریدین جن کا نام ضمیمہ انجام آتھم میں آپ نے ٣١٤ مریدوں میں درج فرمایا ہے۔ جن کو بمنزلہ اصحاب بدر قرار دیا ہے۔ اس بدری صحابی نے جو پوست کندہ حالات مرزا قادیانی اور ان کے درباریوں کے لکھے ہیں۔ ان سے مسیحیت کی نسبت کچھ قلعی کھلتی ہے۔ اس لئے اس مرید خاص کا وہ مضمون جو پیسہ اخبار مطبوعہ ١٦ نومبر ١٩٠١ء کے ص ٩، ١٠ پر ہے۔ باصلہا ہدیہ ناظرین کیا جاتا ہے۔ یہ پرچہ شامل مسل ہو چکا ہے۔ ”مکرمی ایڈیٹر صاحب پیسہ اخبار لاہور، السلام علیکم، الحکم کے ایڈیٹر نے آپ کے ریمارک حقیقت المہدی پر ناراض ہو کر بہت زہر اگلا ہے اور آپ سے بعض باتوں کے مطالبہ کے لئے زور دیا ہے۔ چونکہ ان میں ایسی باتیں بھی ہیں جن کا جواب میں اپنے ذمہ سمجھتا ہوں۔ اس لئے ان کو قلمبند کر کے ارسال خدمت کرتا ہوں۔ آپ براہ مہربانی ان کو اپنے قیمتی پرچہ میں جگہ دیں۔ تا کہ ایڈیٹر الحکم اور اس کے ہم خیالوں کے لئے تسلی کا موجب ہو۔ اوّل! اپنے راسخ الاعتقاد ہو چکنے کی نسبت جو کچھ میں کہنا چاہتا ہوں اس کے لئے میں امید نہیں کرتا کہ آپ کے پرچہ میں جگہ ہو۔ اس کا مفصل بیان رسالہ الہلال میں ہوگا۔ اس جگہ صرف اتنا بتا دینا کافی ہوگا کہ مرزا قادیانی نے کمال محبت کے باعث مجھے اپنے گھر میں وہ جگہ دی ہوئی تھی۔ جس میں نواب محمد علی خان صاحب مالیر کوٹلہ والے اترا کرتے تھے اور وہ مکان ان کے مکان (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

١٧٠

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) کی دیوار مرزا صاحب کی بیوی صاحبہ جو میری بیوی سے ک کرتی تھی۔ یہاں تک کہ جب ہم بٹالہ میں مرزا صاحب اور ان کے مریدوں کو بخوبی علم کہنا گوارا ہو گا تو انکار نہیں کرے گا۔ اگر میر فرق آگیا ہوتا اور اب گودہ جانتا ہے۔ موجو ہے جو ہمارے ملک میں مشہور ہے۔ لنگڑے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان کی ہر ایک با پاتے ہیں اور اپنے گھر والوں کو ہمارے ساتھ اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہے۔ مرزا صاح مرزا صاحب گورداسپور کے مقدمہ میں حلفاً کے لئے نکلتی تھیں تو ان کی حفاظت کا کام حفاظت کے لئے کوئی دوسرا مرد مقرر نہ ہ ایڈیٹر صاحب اس کا جواب دیں کہ مجھ سے بیوی صاحبہ عشا کو بھی کبھی کبھی اپنی ہم جولیوں بھی ہوتی تھی جو کوڈی کبڈی میں شامل ہوتی ہوئی ہوتی تھیں۔ ان کی حفاظت کا کام میر اگر اس کے دل میں خدا تعالیٰ کا ذرا خوف کی عمر دراز کرے موجود ہیں۔ چہارم! مرزا صاحب کا خیال ہے کہ ان کا وقت مرزا صاحب کی کتاب ضمیمہ انجام آتھم م اور بھی خصوصیت سے بیان کیا ہے۔ ا ایڈیٹر کو کوئی اطلاع نہ دی کہ مجھ میں کو کے ساتھ یہ محبت تھی کہ انہوں نے اپ بنایا۔ اس پر انہوں نے بھی خوشی کا اظہا

صفحہ ٤٤٥

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) کی دیوار بدیوار ہے اور بس۔ دیوار میں ایک دریچہ بھی ہے جس سے مرزا صاحب کی بیوی صاحبہ جو میری بیوی سے کمال محبت رکھتی تھی ہر روز آ کر رات تک اس مکان میں بیٹھا کرتی تھی۔ یہاں تک کہ جب ہم بٹالہ میں تھے تو بیوی صاحبہ دو دفعہ وہاں بھی تشریف لائیں۔ اس کا مرزا صاحب اور ان کے مریدوں کو بخوبی علم ہے۔ اس کی تصدیق ایڈیٹر الحکم سے بھی کر لیجئے۔ اگر اس کو سچ کہنا گوارا ہوگا تو انکار نہیں کرے گا۔ اگر میرے راسخ الاعتقاد ہونے میں کسی قسم کی شیطانی رگ کے ذریعہ فرق آ گیا ہوتا اور اب گو وہ جانتا ہے۔ موجودہ خاص الخاص مریدوں میں سے کس کس میں شیطانی رگ ہے جو ہمارے ملک میں مشہور ہے۔ لنگڑے یا کانے میں ایک رگ زیادہ ہوتی ہے تو مرزا صاحب جو ملہم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان کی ہر ایک بات وحی تصور کی جاتی ہے خدا تعالیٰ سے اس امر کی ضرور اطلاع پاتے ہیں اور اپنے گھر والوں کو ہمارے ساتھ رابطہ نہ کرنے دیتے۔ دوم ! میرے راسخ الاعتقاد ہونے کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہے۔ مرزا صاحب کی بیوی صاحبہ جب تمام جوان عورتوں کو جن کی نسبت مرزا صاحب گورداسپور کے مقدمہ میں حلفاً بیان کر چکے ہیں کہ وہ عمر رسیدہ عورتیں ہیں۔ صبح کو ہوا خوری کے لئے نکلتی تھیں تو ان کی حفاظت کا کام میرے سپرد ہوتا تھا اور ایک دفعہ بھی ان عورتوں کے ریوڑ کی حفاظت کے لئے کوئی دوسرا مرد مقرر نہ ہوا۔ اس ریوڑ میں ایڈیٹر الحکم کی بیوی بھی شامل ہوتی تھی۔ اب ایڈیٹر صاحب اس کا جواب دیں کہ مجھ سے بڑھ کر کون راسخ الاعتقاد سمجھا جاتا تھا؟ سوم! مرزا صاحب کی بیوی صاحبہ عشا کو کبھی کبھی بھی اپنی ہم جولیوں کے ساتھ باغ میں جایا کرتی تھیں اور ان میں ایڈیٹر کی بیوی بھی ہوتی تھی جو کوڑھ کوڑی میں شامل ہوتی تھی۔ ایسے پرخطر وقت میں جب کہ عورتیں زیورات سے لدی ہوئی ہوتی تھیں۔ ان کی حفاظت کا کام میرے ذمہ ہی ہوتا تھا۔ ان سب باتوں کا علم ایڈیٹر الحکم کو بھی ہے۔ اگر اس کے دل میں خدا تعالیٰ کا ذرا خوف بھی ہوا تو جھوٹ نہیں بولے گا۔ پھر جناب مرزا صاحب خدا ان کی عمر دراز کرے موجود ہیں۔ چہارم! میں ان کے ٣١٣ اصحاب کبار میں سے ہوں جن کی نسبت مرزا صاحب کا خیال ہے کہ ان کا وہی مرتبہ ہے جو جنگ بدر والوں کا تھا۔ ان ٣١٣ کی فہرست مرزا صاحب کی کتاب ضمیمہ انجام آتھم میں چھپ کر شائع ہو چکی ہے اور پھر میرے نام کو چند اور کے ساتھ اور بھی خصوصیت سے بیان کیا ہے۔ اس فہرست میں میرا نام درج کرنے کے وقت مرزا صاحب نے ایڈیٹر کو کوئی اطلاع نہ دی کہ مجھ میں کوئی شیطانی رگ باقی ہے۔ پنجم! مرزا صاحب کی بیوی کو میری بیوی کے ساتھ یہ محبت تھی کہ انہوں نے اپنے چھوٹے لڑکے کو میری بیوی کا بیٹا قرار دیا اور میرے لڑکے کو اپنا بیٹا بنایا۔ اس پر انہوں نے بھی خوشی کا اظہار کیا اور ہم نے زردے اور (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر) ١٧١

صفحہ ٤٤٦

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) نمکین پلاؤ کی دیگیں پکائیں اور تمام مریدین قادیان کو دعوت دی۔ ایڈیٹر الحکم نے بھی خوب پلاؤ گوشت سے پیٹ ٹھونسا اور اس وقت اسے ذرا خیال نہ آیا کہ مجھ میں کوئی شیطانی رگ باقی ہے۔ ششم! جب مرزا صاحب پر ہنری کلارک صاحب نے مقدمہ دائر کیا اور ڈگلس صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے بٹالہ میں قیام کیا اور مرزا صاحب نے سب مریدوں کو تار دیا اور سب نے بٹالہ آ کر کئی روز ڈیرہ کیا۔ اس وقت بندہ نے ہی سب کی مہمان نوازی کا ذمہ اٹھایا اور ہر طرح کے اخراجات کو گوارا کیا۔ اس کے علاوہ میرا گھر ہمیشہ مرزا صاحب کے مریدوں کے لئے ہوٹل رہا جو چاہتا قادیان جاتے وقت بھی ٹھہرتا اور جو چاہتا قادیان سے آتے وقت بھی وہاں ہی اترتا۔ خواجہ کمال الدین اور مفتی محمد صادق اور کئی ایسے معزز مریدوں کی بیویاں رات کو میرے ہی گھر میں آرام کرتی رہیں۔ اس وقت ایڈیٹر صاحب نے کسی اپنے پیر بھائی کو اطلاع نہ دی کہ مجھ میں کوئی شیطانی رگ باقی ہے۔ ہفتم! مرزا صاحب نے مجھے سرکاری طور پر اپنا مختار بھی کر دیا تھا۔ اگر ان کو مجھ پر کوئی شک و شبہ ہوتا تو یہ ذمہ داری کا کام میرے سپرد کیوں کیا جاتا۔ اس جگہ یہ منظور نہیں کہ میں اپنی خدمت گزاریاں جتاؤں۔ خدائے علیم بذات الصدور خوب جانتا ہے۔ اس قدر بیان کرنا صرف ایڈیٹر الحکم کے خیال کے مٹانے کو ضروری تھا۔ کاش وہ مضمون لکھتے وقت جناب مرزا صاحب کا مشورہ لیتے اور معقول بحث کی طرف توجہ فرماتے۔ گند کے چھانڑنے سے چیتھڑے ہی نکلیں گے۔ آئندہ احتیاط کو کام میں لائیں اور حسب شرائط حقیقت المہدی کا جواب لکھ کر دو صد روپیہ پائیں۔ اب رہا باغ کا معاملہ سو اس کا علم ایڈیٹر صاحب کو بخوبی حاصل ہے۔ خود مرزا صاحب نے اپنے خسر اور بیوی صاحبہ کے کہنے سے باغ کا اہتمام میرے ذمہ ڈالا اور یہ ضرورت ان کو اس واسطے پڑی کہ آپ کی بیوی صاحبہ کو عورتوں کے ہمراہ باغ میں جانے اور دل بہلانے کا شوق ہے اور جب وہ باغ میں جاتی تھیں تو ٹھیکہ دار باغ ان کو باغ کے اندر نہیں آنے دیتے تھے۔ کیونکہ وہ خود درختوں سے پھل پھول توڑنا چاہتی تھیں۔ اس لئے انہوں نے اپنے فائدہ کے لئے باغ میرے سپرد کیا اور جب تک باغ میرے پاس رہا مرزا صاحب کی بیوی صاحبہ تمام عورتوں کو ہمراہ لاتی رہیں۔ وہ اپنے ہاتھوں سے پھل پھول توڑتی رہی ہیں بلکہ آتے وقت ہر ایک عورت جھولیاں بھر کر خاوندوں کے لئے بھی لے جاتی رہی ہیں۔ ایڈیٹر الحکم کی بیوی نے بھی ان کے آگے کئی دفعہ میوہ جات نذر کئے ہوں گے۔ ایڈیٹر صاحب کو یہ بھی معلوم ہے کہ میں نے محض مرزا صاحب کی بیوی کی خاطر غیروں کے پاس باغ فروخت نہیں کیا۔ تاکہ ان کو اور ان کی ہمجولیوں کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ علاوہ اس کے پھل کے دنوں میں آموں کے ٹوکروں کے ٹوکرے عام مریدوں کے لئے بھی آتے رہے (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

١٧٢

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) رہے ۔ اس بات کی مرزا صاحب بھی تـ لگا کر برباد کر دئیے اور اپنی نمبر داری واقعات کے بعد بھی خیال نہ آیا کہ مرزا صاحب کی صحبت سے فائدہ اٹھـ معلوم ہو گیا کہ ان کے عقائد مخالف ہیں ۔ کیا یہ میرے لئے کافی نہیں ؟ مـ علمائے اسلام کے سب وشتم کے تحریـ عین فرض ہے اس کو ضروری نہیں متمول لوگوں کو قطعاً معاف کر دیا ۔ کس طرح ڈرتے ہیں ۔ زکوٰۃ بکـ ہے اور روزے تو جان بوجھ کر مـ تکلیف ہے تو روزوں کی معافی ۔ نماز پڑھنا میں بڑا ثواب سمجھتا ہو صاحب اور محمد احسن امروہی جیسـ کو امام بنایا جائے ۔ جس کے پیـ پڑھتا رہا ہوں ۔ اب ایڈیٹر الحکم وہی ہے جو مرزا صاحب کے بیـ شخص ہے وہ میرے نزدیک مـ ہوں جن کے معنے مرزا صاحـ المہدی بعد ترمیم جناب ایڈیٹـ مفصل بیان ہے۔ ایک ورق

صفحہ ٤٤٧

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) ہیں اور سب سے زیادہ لالچی آموں کے ایڈیٹر صاحب ہی ہوتے رہے۔ اس بات کی مرزا صاحب بھی تصدیق کر سکتے ہیں۔ میں نے مرزا صاحب کے باغ پر صدہا روپے لگا کر برباد کر دیئے اور اپنی نمبرداری اور زمینداری کا ذرا خیال نہیں کیا۔ کیا ایڈیٹر صاحب کو اس قدر واقعات کے بعد بھی خیال نہ آیا کہ میں قادیان میں فائدہ پہنچانے کو گیا تھا یا فائدہ اٹھانے کو؟ اب رہا مرزا صاحب کی صحبت سے فائدہ اٹھانا یا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سو مرزا صاحب کی صحبت سے تو مجھے معلوم ہو گیا کہ ان کے عقائد مخالف اسلام ہیں اور ان کا دعویٰ پیغمبری کا ہے اور اپنے منکروں کو کافر جانتے ہیں۔ کیا یہ میرے لئے کافی نہیں؟ رہی نماز سو خدا کے فضل سے کبھی ضائع نہ ہوئی۔ ہاں ! مرزا صاحب محض علمائے اسلام کے سب وشتم تحریر کرتے وقت ظہر عصر نمازیں جمع کر کے ضائع کر دیتے ہیں۔ بلکہ حج جو عین فرض ہے اس کو ضروری نہیں سمجھتے۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ رحمت اللہ صاحب اور مولوی نورالدین جیسے متمول لوگوں کو قطعاً معاف کر دیا ہے۔ شیخ صاحب کی طرف دیکھئے ولایت کو کس طرح بھاگتے اور حج سے کس طرح ڈرتے ہیں۔ زکوٰۃ کبھی مرزا صاحب نے نہیں دی۔ حالانکہ گھر میں ہزار ہا روپیہ کا زیور موجود ہے اور روزے تو جان بوجھ کر مریدوں سے چھڑوا دیتے ہیں۔ اگر کسی نے ذرا عذر کر دیا کہ مجھے فلاں تکلیف ہے تو روزوں کی معافی ہے۔ علاوہ اس کے کبھی آپ نے خود امامت نہیں کرائی جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا میں بڑا ثواب سمجھتا ہوں۔ لیکن اس بات کو میں ہمیشہ مکروہ خیال کرتا رہا ہوں کہ مولوی نورالدین صاحب اور محمد احسن امروہی جیسے فاضلوں کو امامت کے لئے اجازت نہ دی جائے اور ناقص الاعضاء شخص کو امام بنایا جائے۔ جس کے پیچھے نماز پڑھنا بھی مکروہ ہے۔ لیکن پھر بھی میں دیکھا دیکھی ان کے پیچھے نماز پڑھتا رہا ہوں۔ اب ایڈیٹر الحکم بتائیں کہ کتنی نمازیں میں نے ایسے امام کے پیچھے نہیں پڑھیں۔ میرا اعتقاد وہی ہے جو مرزا صاحب کے بیعت میں داخل ہونے سے پہلے تھا۔ میں خود پنج بناء اسلام پر قائم ہوں اور جو مقر ہے وہ میرے نزدیک مسلمان ہے۔ میں حدیث کا منکر نہیں ہوں۔ البتہ صرف ایسی حدیثوں کا منکر ہوں جن کے معنے مرزا صاحب من گھڑت کر کے اپنے اوپر لگاتے ہیں۔ ایک ورق ابتدائے حقیقت المہدی بصد تعظیم جناب ایڈیٹر صاحب پیسہ اخبار کی خدمت میں مرسل ہے۔ اس میں میرے عقیدہ کا مفصل بیان ہے۔ ایک ورق ایڈیٹر صاحب الحکم کو بھی بھیج دیا ہے۔

خاکسار مولوی عبدالعزیز نمبردار و رئیس بٹالہ ضلع گورداسپور۔

١٧٣

صفحہ ٤٤٨

نوٹ ...... فقیر محمد ملزم نے کوئی سوال نہیں کیا۔ بجواب وکیل استغاثہ خواجہ کمال الدین ! پی نمبر ٤ وہی خط ہے جو ڈاک میں میرے نام آیا اور مجھے ملا تھا۔ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں میں قسمیہ کہتا ہوں کہ یہ جعل میں نے نہیں کیا۔ اس میں یہ لکھا ہے۔ پیر صاحب کا ایک کارڈ جو مجھے پرسوں ہی پہنچا ہے باصلہا جناب کے ملاحظہ کے لئے روانہ کر دیا۔ جس میں انہوں نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مولوی محمد حسن کے نوٹ انہوں نے چرا کر سیف چشتیائی کی ردیف بڑھائی ہے۔ لفافہ اس کا میرے پاس نہیں ہے۔ خط پی نمبر ٤ میں لکھا ہے کہ کل میرے عزیز دوست میاں شہاب الدین طالب علم نے مجھے ایک خط رجسٹری شدہ مولوی عبدالکریم صاحب کی طرف سے دیا۔ جس میں پیر صاحب گولڑوی کی سیف چشتیائی کا ذکر تھا۔ میاں شہاب الدین کو خاکسار نے ہی اس امر کی اطلاع دی تھی اور آخر میں یہ لکھا ہے۔ میاں شہاب الدین کی طرف سے بعد السلام علیکم مضمون واحد ہے۔ پی نمبر ٣ میں درج ہے۔ دوسرے خط میں گولڑوی کا کارڈ ہے جو اس نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر مولوی کرم الدین صاحب کو روانہ کیا ہے۔ ملاحظہ ہو۔ پیر مہر علی شاہ سے براہ راست میری خط و کتابت نہیں۔ جو دو لاکھ یا زیادہ میں نے مرید لکھائے ہیں ان میں سے بہت تھوڑے یعنی دوسو یا تین سو سے کم ایسے مرید ہوں گے جن کو پوری طرح میں شناخت کرتا ہوں۔ کتاب تحفہ گولڑویہ میں نے ١٩٠٠ء میں لکھنی شروع کی اور اکثر حصہ اس سن میں چھپ گیا۔ یاد نہیں کس ماہ میں کتاب واقعات ضمیمہ مطبوعہ نومبر ١٩٠٠ء کا مؤلف منشی محمد صادق میرا مرید ہے۔

اشتہار جو ص ٥١، ٥٢ پر درج ہے۔ وہ میں نے دیا ہے۔ انہی دنوں میں یعنی ٢٥؍اگست ١٩٠٠ء میں اس میں یہ درج ہے میں نے پیر مہر علی شاہ کے لئے بطور تحفہ ایک رسالہ تالیف کیا ہے۔ جس کا نام میں نے تحفہ گولڑویہ رکھا ہے۔ (اخبار الحکم ٣١؍ اگست ١٩٠٠ء ص ٥ کالم ٢) پر فقرہ ذیل درج ہے۔ ”امام ہمام علیہ الصلوۃ والسلام کے رسالہ تحفہ گولڑویہ نے ہمیشہ کے لئے پورا کر دیا ہے۔“

لے یک نہ شد دو شد! جب آپ دوسو یا تین سو سے کم مریدوں کو پوری طرح سے شناخت کرتے ہیں تو پھر ضمیمہ انجام آتھم میں ٣ سو سے زائد مریدوں کے نام لکھ کر ان کو اصحاب بدر کے مثل قرار دینا آپ کا بے بنیاد اور رجماً بالغیب ہوا اور پھر ان ہزار ہا مریدوں کو جو آپ سے بیعت کئے جاتے ہیں اور چندوں پر چندے دیئے جاتے ہیں بیعت فسخ کر دینا چاہئے۔ جب مرشد جی دنیا میں ان کی پوری شناخت نہیں کرتے تو قیامت میں تو انہوں نے کان پر ہاتھ دھر کے اور صاف کہہ دینا ہے۔ ”لا تلومونی ولوموا انفسكم“ بھائیو! ذرا غور کرو اور پھر غور کرو۔

١٧٤

(تحفہ گولڑویہ ص ٥٣، خزائن ج ١٧ ص ١٧٧)

پر ذیل کی عبارت ہے۔ ”حضرت اقدس

ہیں۔ تحفہ مذکور ٤٤ صفحہ تک پریس میں

ہے۔“ تحفہ گولڑویہ عنقریب تیار ہوا جا

١٥؍ نومبر تک ختم ہو کر شائع ہوگا۔“ (الحکم

آج کل چند روز کے لئے ملتوی ہے

غزنویہ بھی ١٩٠٠ء میں لکھی گئی اور ١٩٠٢ء

ہے۔ ”عبدالحق غزنوی کے اشتہار کی

ایک رسالہ چھاپنا شروع فرمایا۔“ (الحکم

غزنوی امرتسری کے جواب میں لکھا جا

طبع ہو چکا ہے۔“

تریاق القلوب میری تصنیف

خزائن ج ١٥ ص ١٩٢) سے معلوم ہوتا ہے

کالم ٣) پر ایک مضمون شروع ہوتا ہے

عنوان ہے۔ تصنیفات و تالیفات ا

چھپنی شروع ہوئی۔ میرے مریدوں

١٩٠٣ء، ١٩٠٤ء میں ہوئی اور اعلان

(کتاب براہین احمدیہ ص ٥٥٧، خزائن

کا ہو گیا ہے۔ دنیا میں ایک نذیر آ

بڑے زور آور حملوں سے اس کی ہ

نمبر ١ ج ١ مورخہ ١٨؍ اکتوبر ١٨٩٧ء) اذ

جملہ خط و کتابت و ترسیل زر ڈاکخانہ

امرتسر کے نام ہونی چاہئے اور

٣١؍ اکتوبر ١٩٠٢ء کو شائع ہوا۔ پی

مخالفت ہوتی ہے۔ جعفر زٹلی ہمیشہ

صفحہ ٤٤٩

(تحفہ گولڑویہ ص ٥٣، خزائن ج ١٧، ص ١٧٧) پر ٣٠ ہزار آدمی کا ذکر کیا ہے۔ (الحکم ١٠؍ستمبر ١٩٠٠ء ص ١٠ کالم ٢) پر ذیل کی عبارت ہے۔ ’’حضرت اقدس وغیرہ وغیرہ اور تحفہ گولڑویہ کی تصنیف کے کام میں مصروف ہیں۔ تحفہ مذکور ٦٤ صفحہ تک پریس میں جا چکا ہے۔‘‘ (الحکم مورخہ ٢٤؍اکتوبر ١٩٠٠ء ص ١٤ کالم ٣) پر درج ہے۔ ’’تحفہ گولڑویہ عنقریب تیار ہوا چاہتا ہے۔ اب خاتمہ لکھا جا رہا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ ١٥؍نومبر تک ختم ہو کر شائع ہوگا۔‘‘ (الحکم ١٠؍دسمبر ١٩٠٠ء ص ٦ کالم ٢) پر درج ہے۔ ’’تحفہ گولڑویہ کا کام آج کل چند روز کے لئے ملتوی ہے۔ اس کے بعد بند پڑا رہا اور پھر ١٩٠٢ء میں شائع ہوا۔ تحفہ غزنویہ بھی ١٩٠٠ء میں لکھی گئی اور ١٩٠٢ء میں شائع ہوئی۔‘‘ (الحکم ١٦؍جولائی ١٩٠٠ء ص ٨ کالم ١) میں لکھا ہے۔ ’’عبدالحق غزنوی کے اشتہار کی حقیقت کھولنے کے لئے حضرت اقدس نے تحفہ غزنویہ نام ایک رسالہ چھاپنا شروع فرمایا۔‘‘ (الحکم ١٠؍ستمبر ١٩٠٠ء ص ١٠ کالم ٢) میں لکھا ہے۔ ’’تحفہ غزنویہ عبدالحق غزنوی امرتسری کے جواب میں لکھا گیا۔ ایک بینظیر رسالہ ہوگا۔ اس رسالے کا بھی بہت بڑا حصہ طبع ہو چکا ہے۔‘‘

تریاق القلوب میری تصنیف ہے۔ ٢٨؍اکتوبر ١٩٠٢ء کو شائع ہوئی۔ اس کے (ص ٣١، خزائن ج ١٥ ص ١٩٢) سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صفحہ ١٨٩٩ء میں لکھا گیا۔ (الحکم مورخہ ١٥؍جنوری ١٩٠٠ء ص ٣ کالم ٢) پر ایک مضمون شروع ہوتا ہے جس کا عنوان یہ ہے۔ ١٨٩٩ء پر ایک نذیر اس کے نیچے ایک عنوان ہے۔ تصنیفات وتالیفات اس میں یہ درج ہے۔ ایسا ہی کتاب تریاق القلوب وغیرہ وغیرہ چھپنی شروع ہوئی۔ میرے مریدوں کی تعداد ١٨٩٨ء میں بڑھنی شروع ہوئی اور کثرت خاص کر ١٩٠٣ء، ١٩٠٤ء میں ہوئی اور اعلان مریدوں کو بیعت میں داخل کرنے کا ٨٨ء، ٨٩ء میں کیا تھا۔ (کتاب براہین احمدیہ ص ٥٥٧، خزائن ج ٢١ ص ٦٦٥) میں یہ الہام ہے۔ جس کو عرصہ قریباً ٢٢ یا ٢٣ سال کا ہو گیا ہے۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہیں کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا۔ بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ حملوں سے مراد طاعون کا زمانہ ہے۔ (الحکم نمبر ١ ج ١ مورخہ ١٨؍اکتوبر ١٨٩٧ء) اوّل مرتبہ امرتسر سے شائع ہوا۔ اس کا ساتواں دستور العمل یہ ہے۔ جملہ خط و کتابت و ترسیل زر ڈاکخانہ کے قواعد کے مطابق شیخ یعقوب علی تراب ایڈیٹر و پروپرائٹر الحکم امرتسر کے نام ہونی چاہئے اور ان کی دستخطی رسید وغیرہ مصدقہ ہوگی۔ البدر نمبر ١ ج ١ مورخہ ٣١؍اکتوبر ١٩٠٢ء کو شائع ہوا۔ پیسہ اخبار ہمیشہ میری مخالفت کرتا ہے۔ ضمیمہ شحنہ ہند میں بھی میری مخالفت ہوتی ہے۔ جعفر زٹلی ہمیشہ کا مخالف ہے۔ ان اخباروں میں جو الحکم کی مخالفت ہوتی ہے۔ وہ

١٧٥

صفحہ ٢٥٠

میری مخالفت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ الحکم ٣١؍ اگست ١٩٠١ء ص ٣ کالم ٢، ٣ میں ”جو اعلان نسبت خارج ہونے نبی بخش نمبردار بٹالہ کا ہے۔ وہ درست ہے۔ پیسہ اخبار مورخہ ١٩؍نومبر ١٩٠١ء میں نبی بخش المعروف عبدالعزیز نے میری مخالفت میں لکھا ہے۔“ الحکم ١٣؍ستمبر ١٨٩٨ء ص ١٣ کالم ٣ پر جو جلی قلم سے جو اخبار الحکم کے متعلق ہر قسم کی خط و کتابت خواہ وہ ترسیل زر کے متعلق ہو یا کسی قسم کی شکایت پر مبنی ہو خواہ کسی اصلاح کاری کے لئے ہو۔ وہ خاکسار ایڈیٹر کے نام آنی چاہئے۔ حضرت اقدس کے نام مطلق نہ ہو۔ کیونکہ حضرت اقدس کو بحیثیت مالک یا منیجر ہونے کے اخبار سے تعلق نہیں ہے۔

بجواب کرم دین ملزم! پی نمبر ٤ کو میں مضمون کے لحاظ سے شناخت کرتا ہوں کہ یہ وہی خط ہے جو کرم دین نے میرے نام بھیجا اور جو نزول المسیح کے ص ٧٥، خزائن ج ١٨ ص ٤٥٣ پر درج ہے۔ لفافہ اس خط کا ضائع ہو گیا۔ یہ خط ٢١؍ جولائی ١٩٠٢ء کا لکھا ہوا تھا اور ٢٥، ٢٦؍ جولائی ١٩٠٢ء کو پہنچا ہوگا۔ جتنے پرچہ اخبار الحکم پیش ہوئے ہیں۔ مسودہ میرے سامنے طبع نہیں ہوئے۔ ١٨٩٨ء سے پہلے تعداد مریدان ایک ہزار سے بھی کم تھی اور پھر ١٨٩٩ء میں ١٠٠٠٠ کے قریب ہوئی اور ١٩٠٠ء میں ٣٠٠٠٠ کے قریب ہو گئی۔ کتاب (ضرورۃ الامام ص ٢٤، خزائن ج ١٣ ص ٥١٤) پر عبارت ذیل درج ہے۔ ”اس فرقہ میں حسب فہرست منسلکہ ہذا تعداد تین سو اٹھارہ آدمی ہے۔“ یہ کتاب میری تصنیف ہے۔ یہ نقل رپورٹ منشی تاج الدین صاحب تحصیلدار پرگنہ بٹالہ ضلع گورداسپور کا مقدمہ عذرداری انکم ٹیکس تاریخ فیصلہ ١٧؍ستمبر ١٨٩٨ء ہے۔

ا؂ یہ کہتے ہوئے شاید آپ کو شرم آتی ہے کہ کل تعداد مریدان ٣١٨ تھی۔ جیسا کہ منشی تاج الدین صاحب تحصیلدار نے بعد کامل تحقیقات کے اپنی رپورٹ میں ظاہر کیا اور جیسا کہ تھوڑی دیر آگے چل کر آپ کو اپنے منہ سے قائل ہونا پڑے گا اور نیز آپ کا مخلص حواری ایڈیٹر رسالہ ریویو آف ریلیجنز رسالہ مذکور ج ٢ نمبر ١ بابت جنوری ١٩٠٢ء کے ص ٤٨ میں لکھتا ہے کہ ”١٨٩٩ء میں اس فرقہ کی تعداد صرف چند سو تک تھی۔“

٢؂ کیا کوئی صاحب عقل تسلیم کر سکتا ہے کہ ایک مدت دراز کی کوشش کے بعد ١٨٩٨ء تک تو تعداد مریدان بمشکل ٣١٨ کو پہنچی۔ لیکن ١٨٩٩ء میں صرف چند ماہ کے بعد دس ہزار کے قریب ہوگئی۔ حالانکہ ٣١٣ کی تعداد اخیر ١٨٩٨ء یعنی ماہ ستمبر میں ثابت ہوئی تھی۔ دیکھو رپورٹ تحصیلدار موصوف یہ ایک صریح جھوٹ ہے۔ جھوٹ نمبر ٣٠!

١٧٦

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٢، خزائن ج ١١ ص ٣١٦)

١٨٩٧ء کو یہ تعداد درج ہوئی۔ مجھے ذاتی

اور اکثر حصہ چھپ جانے کے جو ١٩٠٠ء

ہے۔ (مواہب الرحمٰن ص ١٢٠، خزائن ج ١٩ ص

ابتدائی دنوں میں ٣٠ لاکھ کے قریب تھی۔ ا

١٩٠٠ء، ١٩٠١ء، ١٩٠٢ء میں ایک لاکھ سے

دستخط حاکم! یہ بیان گواہ نے خود پڑھ لیا اور

٣؂ آپ اپنے پہلے بیان میں

سے بھی کم تھی۔ پھر ٢٤؍ جنوری ١٨٩٧ء کو ضمیمہ

ہوا۔ جھوٹ نمبر ٣١!

٤؂ کیا لطف جو غیر پردہ کھو

ہے کہ واقعی ١٨٩٧ء اور ١٨٩٨ء، ١٨٩٩ء

کے ١٩٠٠ء سے شروع ہوئی اور اس سے پہ

بیان میں ابھی کہہ رہے تھے کہ ١٨٩٩ء میں

٥؂ اب اپنے منہ سے قائ

١٨٩٧ء کی تعداد بیان کردہ تعداد کے جو

مرزا قادیانی کی راست بازی کا اسی سے

سے آپ نے کام لیا اور اپنے بیان میں

بھی سارے کے سارے جھوٹے ہیں

راست بازی مشتبہ ہو جاتی ہے۔ کجا یہ

اور ایک بیان سے جو بمقدمہ یعقوب

دین ہوا ہے۔ اس میں اس سے بھی

مرزا قادیانی فخر کرتے ہیں اور بڑے

میں بھی کوئی جھوٹ نہیں کہا۔ ٤١ جھوٹ

آپ پھر بھی سچے اور راست باز ہیں!

٦؂ یہ بھی جھوٹ محض ہ

ہے۔ دیکھو رپورٹ سرکاری ص ٢٤

متعلق مرزا قادیانی کے سخت متناقض

صفحہ ٤٥١

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٢، خزائن ج ١١ ص ٣١٦) پر میرے مریدوں کی تعداد ٨٠٠٠ لکھی ہے۔ ٢٢؍ جنوری ١٨٩٧ء کو یہ تعداد درج ہوئی۔ مجھے ذاتی علم ہے۔ بنسبت تحفہ گولڑویہ اور تحفہ غزنویہ کے لکھے جانے اور اکثر حصہ چھپ جانے کے جو ١٩٠٠ء میں واقعہ ہوا طاعون کا حملہ قریب ٦ سال سے شروع ہوا ہے۔ (مواہب الرحمن ص ١٢٠، خزائن ج ١٩ ص ٣٤٠) کا ترجمہ ذیل ہے۔ ’’باوجود اس کے کہ وہ جماعت ابتدائی دنوں میں ٣٠٠ کے قریب تھی۔ اس سے اوپر یہ درج ہے کہ ہماری جماعت انہیں سالوں میں ١٩٠٠ء، ١٩٠١ء، ١٩٠٢ء میں ایک لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔‘‘ یہ کتاب ١٤؍ جنوری ١٩٠٣ء میں شائع ہوئی۔ دستخط حاکم ! یہ بیان گواہ نے خود پڑھ لیا اور پڑھ کر درست تسلیم کیا اور دستخط کر دیئے۔ دستخط حاکم!

سے بھی کم تھی۔ پھر ٢٢؍ جنوری ١٨٩٧ء کو ضمیمہ انجام آتھم میں تعداد مریدان آٹھ ہزار لکھنا ایک سیاہ جھوٹ ہوا۔ جھوٹ نمبر ٣١!

ہے کہ واقعی ١٨٩٧ء اور ١٨٩٨ء، ١٨٩٩ء میں تعداد مریدان ٣٠٠ کے قریب تھی۔ کیونکہ ترقی تو بقول آپ کے ١٩٠٠ء سے شروع ہوئی اور اس سے پہلے کے سال ابتدائی دنوں میں شمار ہیں۔ حالانکہ آپ تو اپنے حلفی بیان میں ابھی کہہ رہے تھے کہ ١٨٩٩ء میں دس ہزار کے قریب تھی اور پھر ١٩٠٠ء میں ٣٠ ہزار ہو گئی۔

١٨٩٧ء کی تعداد بیان کردہ تعداد کے جھوٹا ہونے کے تو آپ خود ہی قائل ہو گئے۔ شرم، شرم! حضرات! مرزا قادیانی کی راست بازی کا اسی سے قیاس کر لینا چاہئے کہ مریدوں کی تعداد بتانے میں کس قدر جھوٹ سے آپ نے کام لیا اور اپنے بیان میں ان کو اپنے جھوٹوں کو تسلیم کرنا پڑا۔ پھر ایسا ہی سمجھئے کہ ان کے دعاویٰ بھی سارے کے سارے جھوٹے ہیں۔ جب ایک امر میں ایک شخص کا جھوٹ ظاہر ہو جائے تو اس کی راست بازی مشتبہ ہو جاتی ہے۔ کجا یہ بات کہ جھوٹوں کے نمبر ٣٠ سے بڑھ جائیں۔ یہ تو صرف ایک چٹھی اور ایک بیان سے جو بمقدمہ یعقوب علی ہوا ہے۔ دکھائے گئے ہیں۔ جو آپ کا دوسرا بیان بمقدمہ فضل دین ہوا ہے۔ اس میں اس سے بھی زائد جھوٹ ثابت ہوتے ہیں۔ کیا یہی صداقت تھی جس پر ہمیشہ مرزا قادیانی فخر کرتے ہیں اور بڑے زور سے اپنی تصانیف میں دعویٰ کیا کرتے ہیں کہ انہوں نے عمر بھر میں کبھی کوئی جھوٹ نہیں کہا۔ ٣١ جھوٹ تو آپ کے تفصیل سے اوپر ثابت ہو چکے ہیں۔ اگر باایں ہمہ آپ پھر بھی سچے اور راست باز ہیں تو آپ کی راست بازی کو ہمارا سلام ہے۔

ہے۔ دیکھو رپورٹ سرکاری ص ١٤٣ پیراگراف ٣٩ اور سرکاری تحقیق کے مقابلہ میں تعداد مریدان کے متعلق مرزا قادیانی کے سخت متناقض اور اٹکل پچو اقوال کوئی وقعت نہیں رکھتے۔

١٧٧

صفحہ ٤٥٢

اب ہم حضرت جی کا وہ حلفی بیان درج کرتے ہیں جو آپ نے بمقدمہ ٤١٧ تعزیرات ہند بحیثیت گواہ صفائی عدالت میں دیا تھا۔

نقل بیان مرزا غلام احمد صاحب گواہ صفائی

حکیم فضل دین ساکن قصبہ قادیان تحصیل بٹالہ مستغیث بنام محمد کرم الدین ساکن بھیں تحصیل چکوال ضلع جہلم ملزم

جرم زیر دفعہ ٤٢٠ تعزیرات ہند بیان گواہ صفائی باقرار صالح

مرزا غلام احمد (چونکہ گواہ ملزم کا مخالف گواہ ہے اس لئے اس کو اجازت دی جاتی ہے کہ ۔ وہ سوالات بہ شکل جرح کرے)

میں مولوی کرم دین کو اس وقت سے جانتا ہوں اور دیکھا ہے جب مقدمہ جہلم میں کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے جب مولوی کرم دین کا ایک خط میرے نام آیا تھا اس وقت مجھ کو معلوم ہوا تھا کہ کرم دین ہے۔ مگر میں خط میں سے یہ نتیجہ نہیں نکالتا تھا کہ وہ اس کا خط ہے۔ میں نے کوئی ایسا طریقہ نہیں نکالا۔ جس سے معلوم ہوسکے کہ خط کے لکھنے والا وہی ہے جس کا وہ لکھا ہوا ہے۔ یہ الہام انی مہین من اراد اہانتک کئی سال پہلے مجھ کو ہوا تھا۔ یعنی ان مقدمات سے کئی سال پہلے ہوا۔ یہ پیشین گوئی ”من کلف للجواب وتنمر فسوف یری انہ تندم وتدمر“ فیضی کی نسبت نہیں ہے۔ یہ اس شخص کی نسبت ہے جو اعجاز المسیح کا جواب لکھے۔ پہلا الہام عام ہے۔ مگر جو شخص ہماری واقعی اہانت کرے اس کی نسبت وہ خاص الہام ہے۔ یعنی اس شخص سے نفس الامر میں ایک فعل اہانت کا صادر ہووے۔ فعل میں اہانت بذریعہ تحریر بھی داخل ہے۔ خط نمبر ٤ کے مضمون سے ان الہامات کا کچھ تعلق نہیں پایا جاتا۔ اس خط میں کوئی اہانت نہیں ہے اور نہ مقابلہ ہے۔ اس خط میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ہے جو ان الہامات سے کچھ تعلق رکھتا ہو۔ اس خط کے مضمون کی تصدیق کے

اے مرزائیو! غور کرنا آپ کے مرشد جی کیسے صاف مکر گئے۔ باوجود یکہ اخباروں اور تصنیفوں میں شور مچا چکے ہیں کہ فیضی ہماری دعا کا نشانہ ہو کر مر گیا۔ اب عدالت میں اس کی تسلیم سے چوکتے ہیں۔ کیا راست بازی اسی کو کہتے ہیں؟

١٧٨

صفحہ ٤٥٣

واسطے میں نے کوئی آدمی نہیں بھیجا۔ مگر مشورہ کے طور پر مجھ سے حکیم فضل دین نے کہا کہ اس کارروائی میں میرا فائدہ ہے۔ کیونکہ اس کتاب نزول المسیح میں زیادہ قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ میں نے ان کو کہا کہ آپ کا اختیار ہے کہ آپ جائیں۔ کتاب نزول المسیح کا مصنف میں ہوں۔ اس کی تصنیف میں اپنے طور سے اپنی طرف سے کرتا تھا۔ مگر اگر کوئی امر نیا پیش آوے جو میری کتاب کو زیادہ مفید بنا سکتا ہو میں اس کو بھی لیتا ہوں۔ سوال...... اس کتاب میں آپ نے اوروں سے اس طور سے مدد لی ہے جیسا کہ آپ نے اوپر بیان کیا ہے؟ جواب...... میں نے جب کرم دین کا خط آیا تھا تو اس خیال سے کہ اس کا خط صحیح ہوگا۔ وہ تذکرہ نزول المسیح میں کیا تھا۔ مگر جب سراج الاخبار (خود بخود ٢؂) میں اس نے اس کے برخلاف لکھا تو وہ میرا خیال قائم نہ رہا۔ بعض ٣؂ باتیں میرے حافظہ سے فرو ہو جاتی ہیں۔ میں ان کو بتلا نہیں سکتا۔

١؂ فضل دین مستغیث اور حکیم نورالدین گواہ مرشد جی کے بیان کی تکذیب میں صاف لکھاتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے حکم کی تعمیل کے لئے فضل دین بھیں کو گیا۔ دیکھو بیان مستغیث و بیان مولوی نورالدین گواہ۔ لیکن مرزا قادیانی بیان فرماتے ہیں۔ میں نے کسی کو نہیں بھیجا۔ مرشد و چیلوں میں یہ تناقض کیوں؟ کوئی منصف مرزائی بتائے ان میں سے سچا کون ہے اور جھوٹا کون۔

٢؂ صاحبان! سوال و جواب کو بغور دیکھئے اور پھر انصاف کیجئے کہ سوال از آسمان و جواب از ریسمان والا معاملہ ہے یا نہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ نزول المسیح میں آپ نے دوسروں سے مدد لی ہے یا نہ۔ لیکن مرزا قادیانی اس سوال کا جواب لا نعم سے نہیں دیتے۔ کچھ اور ہی راگ گانا شروع کیا۔ جواب کیوں دیں تصنیف کی قلعی کھلتی ہے اور جو الزام سرقہ کا دوسروں پر لگاتے ہیں۔ اس کے خود ملزم بنتے ہیں۔ ہائے غضب کیا راست بازوں کا یہی وطیرہ ہے اور ولا تکتموا الشھادۃ کی یوں ہی تعمیل کیا کرتے ہیں۔ چہ خوش!

٣؂ کورٹ کا خود بخود والا نوٹ قابل غور ہے۔ بے پوچھے مطلب کی باتیں ہانکی جاتی ہیں۔ لیکن سائل کے سوال پر التفات نہیں ہوتی۔

٤؂ کیا ایسے کمزور حافظہ والا نبوت کا استحقاق رکھتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ نبی کے لئے حافظہ کی قوت ضروری ہے۔ تا کہ تبلیغ میں فرق نہ آئے۔

١٧٩

صفحہ ٤٥٤

فرو ہو جانے کی وجہ استغراق روحانی اور ضعف دماغ ہے۔ سوال یہ دونوں الہام آپ کے سچے ہوئے یا نہیں؟ یہ متعلق مولوی محمد حسن اور پیر مہر علی شاہ؟ جواب پہلے میں نے قبل سراج الاخبار کے شائع ہونے کے خیال کیا تھا کہ یہ دونوں الہام سچے ہوگئے ہیں۔ مگر سراج الاخبار کے شائع ہونے کے بعد میں ١؎ نے یقین کر لیا کہ یہ میری رائے غلط نکلی۔ کیونکہ پیشین گوئیاں کا مصداق قائم کرنا اکثر رائے سے ہوا کرتا ہے۔ یہ بات صرف رائے کے متعلق ہے۔ نفس پیش گوئی کو اس سے کچھ تعلق نہیں ہے۔

سوال...... ان دو پیشین گوئیوں کا مصداق اور معیار آپ کی رائے ہے یا کہ اور کوئی چیز بھی ہے۔ جواب...... چونکہ یہ دونوں پیشین گوئیاں مجمل ہیں۔ اس لئے محض رائے سے خیال کیا گیا کہ ان کا مصداق اور معیار صرف رائے قرار دی گئی۔

سوال...... کس کی رائے؟ جواب...... یہ میری رائے تھی۔ کرم الدین کی تحریک سے اس وقت تک جب تک اس کا بیان مخالف سراج الاخبار میں شائع نہیں ہوا تھا۔

سوال...... جو مضمون (نزول المسیح حاشیہ ص ٦٧) سے لے کر (ص ٨١، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥ تا ٤٥٩) تک ہے۔ یہ آپ نے کس بناء پر لکھا۔ خطوں کی بناء پر یا کسی اور بناء پر؟ جواب...... کرم الدین کے خط اور شہاب الدین کے خط کی بناء پر لکھا اور ایک کارڈ کی بناء پر جو کرم الدین کے خط میں ملفوف تھا۔ جس کی نسبت ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ کارڈ پیر مہر علی کا ہے۔ مجھ کو یاد نہیں ہے کہ اعجاز المسیح کے حاشیہ کے نوٹوں کی نقلیں مجھ کو مل چکی تھیں کہ نہیں۔ مگر مجھ کو ان کی نسبت خبر مل چکی تھی۔ ص ٧٠ کی عبارت خطوں کی بناء پر ہے۔ خطوں ٢؎ پر یقین کر کے ایسا لکھا گیا۔ ان سے استنباط کیا گیا۔

١؎ ٹھیک فرمایا ضعف دماغ ہی نے تو یہ آفت دنیا میں برپا کی آپ کا دماغ صحیح ہوتا تو کبھی آپ مسیحیت و مہدویت وغیرہ کی سودا نہ کرتے خدا رحم کرے۔

٢؎ اس جواب میں ملہمیت کی ساری قلعی کھل گئی۔ واہ صاحب واہ ! الہام کیا ہے موم کی ناک جدھر چاہو پھیر دو۔

٣؎ جب آپ کو اپنے الہام کی غلطی پر یقین ہو گیا تو پھر مواہب الرحمٰن میں یہ الہام ١٤ جنوری کو شائع کرنا آپ کی دیانت پر حرف آتا ہے۔

٤؎ پہلے ابتدائی بیان میں آپ لکھا چکے ہیں کہ میں خط سے نتیجہ نہیں نکالتا تھا کہ وہ اسی کا خط ہے۔ اب یہاں آکر خطوں پر یقین ظاہر کرتے ہیں۔ کیا کریں حافظہ کا قصور اور ضعف دماغ کی مجبوری۔

١٨٠

٥٥

سوال...... وہ کون سے خطوط ہیں؟ جواب...... پی نمبر ١٣ اور پی نمبر ٤ خطوط سے استنباط

سوال...... ٦؍ اکتوبر کا سراج الاخبار آپ نے کس جواب...... میرے ١؎ پاس سراج الاخبار نہیں آتی ہوئی ہوگی۔ الحکم میں نہیں پڑھا کرتا۔

سوال تحفہ ندوہ ان واقعات کے بعد یعنی ١٩٠٢ء آپ نے لکھا تھا؟ جواب...... تحفہ ندوہ ٢؎ میں نے ٦؍ اکتوبر کو لکھا۔

١؎ فضل دین اور عبدالکریم سراج الا مجلس میں پڑھا جاتا بیان کرتے ہیں۔ مرزا قادیـ

٢؎ ہم اس جواب کی طرف ناظـ مرزا قادیانی کی صداقت کی قلعی انہی کی تحریر کتاب تحفہ ندوہ کی تصنیف لکھائی چھپائی، اشـ ہیں۔ لیکن تحفہ ندوہ پکار کر کہتی ہے کہ میرا مصنـ تصنیف تو ٢؍ اکتوبر کو شروع ہوئی ہے اور ٦؍ ص ١ شروع سطر میں صاف لکھا ہے۔ آج ٢ ہے۔ المؤلف مرزا غلام احمد ٣؍ اکتوبر ١٩٠٢ء ٦؍ اکتوبر ١٩٠٢ء۔ اس سے صاف ثابت ہـ ٦؍ اکتوبر تک پانچ دنوں میں صرف تصنیف چند دن درکار ہوں گے۔ لیکن باایں ہمہ مہد کـ ساری کارروائی بیان فرماتے ہیں۔ اب مـ مرزا قادیانی کے حلفی بیان کی تکذیب کر رہـ مرزا قادیانی کی صداقت پر حرف آتا ہے اردو کتاب پر مرزا قادیانی کے پانچ دن صـ اشعار عربی لکھے جاتے ہیں سب فرضی دعوـ

صفحہ ٤٥٥

سوال ...... وہ کون سے خطوط ہیں؟

جواب ...... پی نمبر ٣ اور پی نمبر ٤ خطوط سے استنباط کیا تھا۔

سوال ...... ٦؍ اکتوبر کا سراج الاخبار آپ نے کب پڑھا؟

جواب ...... میرے پاس سراج الاخبار نہیں آتی ہے۔ کچھ دیر کر کے آئی ہوگی اور پھر مجھ کو اطلاع ہوئی ہوگی۔ الحکم میں نہیں پڑھا کرتا۔

سوال ...... تحفہ ندوہ ان واقعات کے بعد یعنی واقعات مندرجہ سراج الاخبار مطبوعہ ٦؍ اکتوبر ١٩٠٢ء آپ نے لکھا کہ کیا؟

جواب ...... تحفہ ندوہ میں نے ٦؍ اکتوبر کو لکھا۔ ساتھ ہی چھپ گیا۔

١؎ فضل دین اور عبدالکریم سراج الاخبار ٦؍ اکتوبر کا دو تین دن کے بعد مرزا قادیانی کی مجلس میں پڑھا جانا بیان کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی یہاں کچھ مہلت نکالنا چاہتے ہیں۔

٢؎ ہم اس جواب کی طرف ناظرین با انصاف کو خاص توجہ دلانا چاہتے ہیں اور مرزا قادیانی کی صداقت کی قلعی انہی کی تحریر سے کھولنا چاہتے ہیں۔ اس موقعہ پر مرزا قادیانی کتاب تحفہ ندوہ کی تصنیف لکھائی چھپائی، اشاعت سب کی تاریخ ٦؍ اکتوبر کا دن بیان فرماتے ہیں۔ لیکن تحفہ ندوہ پکار کر کہتی ہے کہ میرا مصنف مقدمہ بنانے کے لئے جھوٹ لکھ رہا ہے۔ میری تصنیف تو ٢؍ اکتوبر کو شروع ہوئی ہے اور ٦؍ اکتوبر کو ختم۔ ملاحظہ ہو تحفہ الندوہ مطبوعہ ضیاء الاسلام ص ١ شروع سطر میں صاف لکھا ہے۔ آج ٢؍ اکتوبر ١٩٠٢ء کو ایک اشتہار مجھے ملا۔ پھر ص ٨ پر لکھا ہے۔ المؤلف مرزا غلام احمد ٤؍ اکتوبر ١٩٠٢ء اور اخیر ص ١١ پر لکھا ہے۔ المؤلف مرزا غلام احمد قادیانی ٦؍ اکتوبر ١٩٠٢ء۔ اس سے صاف ثابت ہوا کہ یہ ٥ ورق کی کتاب ٢؍ اکتوبر سے شروع ہوکر ٦؍ اکتوبر تک پانچ دنوں میں صرف تصنیف ہوئی ہے۔ پھر کاتب کی لکھائی اور چھپائی کے لئے بھی چند دن درکار ہوں گے۔ لیکن بزعمہ مہدی معہود مسیح موعود اپنے حلفی بیان میں صرف ایک دن کی ساری کارروائی بیان فرماتے ہیں۔ اب مرزائی صاحبان سے با ادب پوچھا جاتا ہے کہ بتائیں مرزا قادیانی کے حلفی بیان کی تکذیب کریں یا ان کی تحریرات مندرجہ تحفہ ندوہ کی دونوں صورتوں میں مرزا قادیانی کی صداقت پر حرف آتا ہے۔ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ جب تحفہ ندوہ جیسی ٥ ورقہ اردو کتاب پر مرزا قادیانی کے پانچ دن صرف ہوگئے تو پھر وہ ساری شیخیاں کہ چند دنوں میں کئی سو اشعار عربی لکھے جاتے ہیں سب فرضی دعوٰی ماننا پڑا۔

١٨١

صفحہ ٤٥٦

سوال ...... اس کتاب تحفہ ندوہ کی اشاعت ٦ اکتوبر کے سراج الاخبار کے مضمون کی اطلاع ہونے کے بعد ہوئی یا پہلے؟

جواب ...... ٦؍ اکتوبر ١٩٠٢ء کو کتاب تحفہ ندوہ شائع ہوئی۔ مواہب الرحمٰن جنوری ١٩٠٣ء میں شائع ہوئی ۔ اس سے پہلے لکھی گئی۔ تاریخ لکھنے کی یاد نہیں ہے۔ کیونکہ بشریت ساتھ ہے۔ مجھ کو اچھی طرح یاد نہیں ہے کہ کب یہ کتاب چھپی میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ کب لکھی گئی اور کب شروع ہوئی۔ البتہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ جب جہلم گیا تھا تو اس وقت یہ کتاب ساتھ گئی تھی۔ یعنی چھپی ہوئی تھی۔ ص ١٢٩ مواہب الرحمٰن میں نے دیکھا۔ اس میں کرم الدین کا حوالہ ہے مقدمہ کا ذکر نہیں ہے۔ مگر اگلے صفحہ ١٣٠ پر استغاثہ کا ذکر ہے جو کرم الدین کی طرف سے ہے۔

سوال ...... ابھی آپ نے فرمایا تھا کہ ٦؍ اکتوبر ١٩٠٢ء کے اخبار سراج الاخبار جہلم کا مضمون معلوم ہونے کے بعد مجھے یقین ہو گیا تھا کہ میری رائے یا میرا اجتہاد درباره صداقت الہامات کے غلط ہے تو کتاب مواہب الرحمٰن کے اندراج ص ١٢٦، ١٢٧ کا کیا جواب ہے۔

جواب ...... مجھے معلوم نہیں ہے کہ سراج الاخبار میرے پاس کب پہنچا اور کب اس کے مضمون سے مجھ کو اطلاع ہوئی۔ ماسوا اس کے جیسا کہ میں نے پہلے خطوط پر یقین کر لیا تھا۔ ایسا ہی سراج الاخبار پر ایک خیالی یقین تھا۔ اگر چہ وہ خیال غالب ہوا۔ مگر عدالت کے ذریعہ اس کا تصفیہ کرانا ضروری تھا۔ اس لئے قطعی طور پر مجھے انکار نہیں ہوا کہ شاید خطوط مرسلہ کرم الدین حقیقت میں سچے اور اس سے بھی انکار نہیں تھا کہ شاید مضمون سراج الاخبار سچا ہو ۔

١؎ یہاں تو آپ کی غرض سراج الاخبار ٦؍ اکتوبر سے تجاہل کی ہے۔ اس لئے فرماتے ہیں کہ مواہب الرحمٰن گو جنوری میں چھپی۔ لیکن لکھنے کی تاریخ یاد نہیں۔ یعنی ممکن ہے کہ سراج الاخبار ٦؍ اکتوبر کی اطلاع سے پہلے کی لکھی ہو۔ لیکن جبکہ بوقت دلائل کیس آپ کا استفسار بحیثیت ملزم ہوا تو پھر اس بات کی ضرورت پیش آئی کہ اس کتاب کے ص ١٢٩ کی تحریر جس کی بناء پر آپ پر استغاثہ دائر ہے۔ سراج الاخبار ٦؍ اکتوبر کی اطلاع کے بعد کی ثابت کی جاوے تو وہاں آپ نے لکھ دیا کہ یہ تحریر ١٢، ١٣ یا ١٤؍ جنوری کی لکھی ہوئی ہے۔ کیا ایسے ہیر پھیر کرنا راست بازی کا تقاضا ہے؟

٢؎ واہ حضرت واہ ! خیالی یقین کی قسم نرالی ہی ایجاد فرمائی ۔ ہم تو سنا کرتے تھے کہ جہاں یقین آجائے وہاں خیال و وہم کی گنجائش ندارد : ”بدرد یقین پردہ ہائے خیال“ لیکن چودھویں صدی کے بناوٹی مسیح نے جہاں دنیا کو اور نئے شگوفے سنائے یہ بھی خوب ہی نئی گھڑت سنائی ۔ مرزا جیو! مسیح صاحب کی اس قابلیت کی ضرور داد دی جائے گی۔

١٨٢

صفحہ ٤٥٧

سوال ...... یقین اور خیالی یقین کے کیا معنے ہیں۔ یقین تین قسم کا ہوتا ہے۔ اول علم الیقین جیسے ایک جگہ دھواں اٹھتے دیکھیں تو خیال ہوگا کہ یہاں آگ ہوگی۔ اس کو خیالی یقین کہتے ہیں۔ دوسری قسم عین الیقین جب ہم آگ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ تیسری قسم حق الیقین وہ یہ کہ آگ میں اپنا ہاتھ ڈال کر دیکھ لیں کہ جلانے والی شے ہے۔ پس عین الیقین اور حق الیقین عدالت ١؎ کے ذریعہ سے میسر آتے ہیں۔ کرم الدین کے جب خط آئے تھے ان کو میں نے خیالی یقین سے یقین کیا تھا۔

١؎ بہت اچھا کیا۔ ایک ملہم من اللہ مدعی رسالت بھی کسی دنیوی عدالت کا محتاج ہے۔ باوجود یکہ دعویٰ یہ ہے کہ آپ خود بدولت دنیا میں حکم عدل ہوکر آئے ہیں۔ مرزا قادیانی سچ فرمائے گا۔ شرعی امور کے فیصلہ کے لئے کتاب اللہ اور سنت الرسول کو چھوڑ کر کون سی عدالت میں رجوع فرمائے گا۔ حالانکہ خداوند تعالیٰ کا تو امر ہے۔ ”فان تنازعتم فی شئ فردوہ الی اللہ والرسول ومن لم یحکم بما انزل اللہ“ مرزا قادیانی یہاں تو آپ عدالت کو حق الیقین کا ہادی مانتے ہیں۔ لیکن تصنیفات سے کچھ اور ہی ظاہر ہے۔ جیسا کہ آپ کا مخلص حواری مولوی عبدالکریم اپنی کتاب سیرۃ المسیح میں عدالتوں اور اس کے متعلقین کی نسبت یوں رقمطراز ہیں۔ ”کچہریاں مقدمہ بازی نے تقویٰ، دیانت، امانت اور اخوت اور ہمدردی ان سب اخلاق فاضلہ کا خون کردیا ہے اور گھر گھر اور کوچہ بکوچہ اور گاؤں گاؤں اور شہر شہر میں بنی آدم کے لباس میں گرگ و پلنگ اور گیدڑ اور کتے پیدا کر دیئے ہیں۔ اپیل نویس اور عرضی نویس عموماً وکلاء بیرسٹر، مختار مقدمات کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان صورتوں میں کہاں خدا کا خوف دلوں میں سمائے۔ ہر ایک مکان میں (کاش آخر کار دارالامان بھی اس سے بچا نہ رہا) مقدمہ بازی کے لئے رات دن جھوٹے منصوبے اور مشورے ہوتے ہیں اور دین اور کار دین مہمل چھوڑا گیا۔ دیباچہ سیرۃ المسیح ص ٥٧، حکام اور سر برآوردہ لوگوں کا عام میلان الناس علیٰ دین ملوکہم۔ چونکہ حکام محض فسادی اور دنیا کے کیڑے ہیں اور خدا اور معاد سے ان کو ذرا بھی تعلق نہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ رعایا پر بھی وہی اثر پڑے۔ لاجرم اکثر افراد رعایا کے سراسر کلاب الدنیا ہوگئے ہیں۔“ ایضاً ص ٨ جائے غور ہے کہ دوسروں کو تو مقدمہ بازی سے منع کیا جاتا ہے اور حکام سے بدظن کیا جاتا ہے اور جب اپنی مقدمہ بازی کی نوبت آتی ہے تو اس کو جہاد سے تعبیر کیا جاتا ہے اور عدالتوں کے ذریعہ حق الیقین کی تلاش ہوتی ہے۔

١٨٣

صفحہ ٥٩

سوال...... جب ٦ راکتوبر کا سراج الاخبار آپ کو معلوم ہوا تو خطوں اور اخبار کی نسبت وزن کرنے یعنی مقابلہ کرنے میں آپ کا کیا خیال یعنی کیسا یقین پیدا ہوا۔ یعنی مقابلةً ان دونوں میں سے کون سچ ہے اور کون جھوٹ؟

جواب...... اگرچہ ہم سراج الاخبار کے شائع ہونے کے بعد قطعی فیصلہ نہیں کر چکے۔ بلکہ صرف کشمکش میں تھے۔ لیکن یہ ترجیح سراج الاخبار میں پائی گئی کہ جو خطوط مجھ کو بھیجے گئے تھے وہ ایک خفیہ کارروائی تھی جس کی نسبت کرم الدین نے بار بار تاکید کی تھی کہ اس کو ظاہر نہ کرنا۔ لیکن سراج الاخبار میں کھلے طور پر شائع کیا کہ میں نے ان کو دھوکہ دیا۔ اس لئے ہم کو سراج الاخبار کے مضمون کو مجبوراً ترجیح دینی پڑی۔ مجھ کو کچھ یاد نہیں ہے کہ دربار شام مندرجہ الحکم مورخہ ٣١؍اکتوبر ١٩٠٢ء میں کوئی ذکر نسبت مضمون مولوی کرم الدین کا ہوا کہ نہیں۔ کیونکہ صدہا باتیں ہوتی ہیں۔ الحکم میں دربار شام کی بابت کئی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ کچھ نا سمجھی سے سہو ہو جاتا ہے کہ ایک تقریر پوری یاد نہ رہے ادھوری لکھ دی مجھے یاد نہیں ہے کہ الحکم میں کبھی خلاف واقعہ دربار شام کی بابت لکھا ہووے۔ اگر درستی کرنا ضروری سمجھوں تو درستی کردوں۔ اگر ضروری نہ سمجھوں تو نہ۔

سوال...... الحکم مورخہ ٣١؍اکتوبر ١٩٠٢ء کے ص ١٠ پر جو مضمون نسبت وفات محمد حسن و پردہ دری پیر گولڑوی چھپا ہے جو کچھ اس میں آپ کی نسبت لکھا ہے کہ آپ نے فرمایا سچ ہے؟

جواب...... مجھ کو یاد نہیں ہے۔ تحفہ گولڑویہ میری تصنیف ہے۔ یکم ستمبر ١٩٠٢ء کو شائع ہوا۔ پھر مہر علی شاہ کے مقابلہ پر لکھی ہے۔ یہ کتاب سیف چشتیائی کے جواب میں نہیں لکھی گئی۔

سوال...... جن لوگوں کا ذکر صفحہ ٤٨ لغایت ٥٠ اس کتاب میں لکھا ہے۔ آپ ہی اس کا مصداق ہیں۔

١؎ آپ کا کمزور حافظہ اس موقعہ پر آپ کی یاد سے ایک بہت بڑا واقعہ زائل کرتا ہے جو کہ ٢١؍اکتوبر ١٩٠٢ء کے الحکم میں شائع ہو چکا ہے کہ خواجہ کمال الدین صاحب کا ایک لطیف مضمون سراج الاخبار ٦؍اکتوبر کی تردید میں شام کے دربار میں حضرت جی کو سنایا گیا اور آپ نے از بس پسند کیا۔ تعجب ہے کہ ایسا واقعہ مسیح الزمان کے حافظہ سے ایسا زائل ہو جاتا ہے کہ باوجود یاد دہانی کے بھی یاد نہیں آتا اور الحکم کے لکھے ہوئے پر بھی بے اعتباری ہے اور تو خیر مرزا قادیانی کے درباریوں خصوصاً ایڈیٹر الحکم سے با ادب پوچھا جاتا ہے کہ انصاف سے بتائیں کہ مرزا قادیانی کا یاد نہیں ہے۔ کا عذر آپ کے نزدیک بھی ٹھیک ہے؟

٢؎ بیشک ایسے موقعہ پر انجان بننے سے ہی کام نکلتا ہے۔ یاد کاہے کو ہو حافظہ جو کمزور ہوا۔

١٨٤

جواب...... خدا کے فضل اور رحمت سے میں اس

سوال...... ان روحانی طاقتوں کو کام میں لا کر گئے۔ آپ نے کرم الدین کے دونوں خطوں کو جہلم اور نیز نوٹ ہائے مندرجہ حاشیہ اعجاز المسیح؟

جواب...... میں نے نہ ان صفحات میں اور نہ کسی

سوال...... ص ٢٩ پی نمبر ١ سطر ٦ سے جو مضمون

جواب...... میں اس مضمون کو اپنی طرف منسو نسبت لکھا ہے۔

سوال...... بہ لحاظ اندراج صفحات ٢٩ ، ٣٠ ، ٨ خطوں کو اور محمد حسن کی تحریر کو پرکھا؟

جواب...... ایسی عام طاقت کا میں نے کبھی دع

سوال...... جو طاقت چند پیسوں کے کھوٹے کئے گئے تھے وہ عام تھی یا خاص؟

جواب...... وہ خاص طاقت تھی۔ کبھی انسان تک پہنچ جاتا ہے۔

سوال...... روحانی طاقت سے جو کچھ غیب رسالہ دینی جہاد کی ممانعت کا فتویٰ ص ٦ پر بات میں یا میری اخبار غیب میں جو خدا کی ط کر لو؟

جواب...... میں نے چیلنج کیا ہے۔ مگر اس ہوں۔ مقابلہ کے وقت میں ضرور خدا مجھ کو

سوال...... یہ جو آپ نے لکھا ہے کہ پیر م تمام و کمال کا سارق بن گیا۔ یہاں آپ

١؎ افسوس سوال کا جواب ہر گز

٢؎ یہاں بھی سوال کا جواب

صفحہ ٤٥٩

جواب....... خدا کے فضل اور رحمت سے میں اس کا مصداق ہوں۔

سوال....... ان روحانی طاقتوں کو کام میں لا کر جس سے جھوٹے اور سچے ہیرے شناخت کئے گئے۔ آپ نے کرم الدین کے دونوں خطوں کو پرکھا۔ یعنی پی نمبر ٤ اور مضمون مندرجہ سراج الاخبار جہلم اور نیز نوٹ ہائے مندرجہ حاشیہ اعجاز المسیح ؟

جواب....... میں نے نہ ان صفحات میں اور نہ کسی اور جگہ کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ میں عالم الغیب ہوں۔

سوال....... ص ٢٩ پی نمبر ١ سطر ٦ سے جو مضمون چلتا ہے وہ آپ نے اپنی نسبت لکھا ہے؟

جواب....... میں اس مضمون کو اپنی طرف منسوب کرتا ہوں۔ ص ٨٩ پر بھی جو کچھ لکھا ہے وہ اپنی نسبت لکھا ہے۔

سوال....... بہ لحاظ اندراج صفحات ٢٩، ٣٠، ٤٨، ٤٩، ٥٠، ٨٩ تحفہ گولڑویہ آپ نے کرم دین کے خطوں کو اور محمد حسن کی تحریر کو پرکھا؟

جواب....... ایسی عام طاقت ١؎ کا میں نے کبھی دعویٰ نہیں کیا۔

سوال....... جو طاقت چند پیسوں کے کھوٹے ہیروں پر برتی گئی تھی اور جس سے وہ ہیرے شناخت کئے گئے تھے وہ عام تھی یا خاص؟

جواب....... وہ خاص طاقت تھی۔ کبھی انسان دھوکہ کھا لیتا ہے اور اپنی فراست سے ایک بات کی تہہ تک پہنچ جاتا ہے۔

سوال....... روحانی طاقت سے جو کچھ غیب ظاہر ہوتا ہے اس میں غلطی ہوتی ہے۔ آپ نے اپنے رسالہ دینی جہاد کی ممانعت کا فتویٰ ص ٦ پر بہ سطر ٨ تمام دنیا کو چیلنج کیا ہے یا نہیں؟ کہ اگر تم کو میری بات میں یا میری اخبار غیب میں جو خدا کی طرف سے مجھ کو پہنچتے ہیں شک ہے تو میرے ساتھ مقابلہ کر لو؟

جواب....... میں نے چیلنج کیا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ہر ایک بات میں عالم الغیب ہوں۔ مقابلہ کے وقت میں ضرور خدا مجھ کو غلبہ دے گا۔

سوال....... یہ جو آپ نے لکھا ہے کہ پیر مہر علی شاہ بجائے اس کے مجھ پر الزام سرقہ لگاتا ہے۔ خود تمام و کمال کا سارق بن گیا۔ یہاں آپ نے کسی اطلاع پر لکھا تھا یا خود ہی فیصلہ نوٹوں کا کیا تھا۔ ٢؎

١؎ افسوس سوال کا جواب ہرگز نہیں دیا گیا۔

٢؎ یہاں بھی سوال کا جواب نہ دیا۔

١٨٨

صفحہ ٤٦١

جواب...... میں نے میاں کرم الدین کی اطلاع پر لکھا تھا۔ مجھے نوٹوں کے مقابلہ کرنے کا موقعہ نہیں ملا اور نہ مجھے فرصت تھی۔ میں نے اعجاز المسیح میں کئی جگہ پیر مہر علی شاہ کو چیلنج کیا ہو گا کہ وہ اس کا جواب لکھیں۔ میں نے ص ١٩ ، ٢٢ میں یہ چیلنج کیا ہے۔ مطبع ضیاء الاسلام میرے خیال میں ١٨٩٥ء سے جاری ہوا۔ میں نے جاری نہیں کیا۔ حکیم فضل دین اس کا مالک تھا۔ ١٨٩٥ء سے لے کر آج تک وہ ہی مالک ہے۔ اس کے نفع اور نقصان کا وہ ہی ذمہ دار ہے۔ صرف یہ بات ہے چونکہ وہ میرا مرید ہے۔ اس لئے بغیر نفع لینے کے میری کتابیں اصل لاگت پر چھاپ دیا کرتا ہے۔ اشتہارات مفت چھاپ دیتا ہے۔ ابتداء سے ایسا ہی چلا آتا ہے۔ کسی مطبع کے ساتھ قادیان میں سوائے چھپوائی کے اور کوئی تعلق نہیں ہے۔ اجنبی پریسوں میں نفع بھی دینا پڑتا ہے۔ ١٨٩٢ء میں ایک دفعہ اشتہار دیا تھا کہ لوگ مطبع کے لئے چندہ دیں۔ تا کہ مطبع تیار کیا جاوے اور کچھ روپیہ بھی آیا تھا۔ مگر وہ بات ملتوی رہی۔ وہ روپیہ کسی اور جگہ خرچ کیا گیا۔ جو بیان میرا روبرو تحصیلدار صاحب بٹالہ بمقدمہ عذر داری انکم ٹیکس ( آر نمبر ١٦) میں نے پڑھا۔ اس میں جو مطبع کا ذکر ہے اس سے مراد ہی یہ ہے کہ جو مطبع میں کتابیں چھپوائی جاتی ہیں۔ مطبع " عربی لفظ ہے جس کے معنے چھپوائی ہے اور جائے طبع بھی ہے۔ لفظ مطبع جو اس بیان میں آتا ہے اس سے مراد چھپوائی ہے۔ آمدنی مطبع سے مراد کتابوں کی فروخت کی آمدنی ہے۔ آمدنی مطبع سے مراد آمدنی فروخت کتب سے ہے۔

ہے تو بتائیے۔

مرزا قادیانی کا تھا۔ حالانکہ وہ ثقہ حواری ہیں۔

حساب و کتاب لکھایا ہے اور پھر اس بیان سے مقابلہ کریں۔

تک کسی لغت میں آپ نے بھی یہ نرالا معنی سنا یا اس لفظ کو اس معنے سے کہیں کسی نے استعمال کیا۔ مرزا قادیانی تناقض بیانات کو رفع کرنے کے لئے غضب کی چالاکی کیا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ مجلس میں بڑے بڑے فاضل موجود ہیں۔ وہ آپ کی اس لغو تاویل پر افسوس کرتے ہیں۔ اچھا یہ بھی سہی۔ مطبع کا معنی چھپوائی ہی لیجئے۔ لیکن اس بیان میں تو آپ نے رولیا۔ اسفنجیا، سنگسار، کاپی نویس، پریس مین وغیرہ کی تنخواہوں کی میزان بھی لگائی ہوئی ہے۔ اس کی کیا تاویل فرمائیں گے؟

١٨٦

١٩٠١ء سے پہلے جو دفتر میں کتابیں تھیں ان ہوتی تھی۔ مگر ١٩٠١ء کے بعد پھر میں نے یہ انتظام کیا کہ اور ان کو یہ فہمائش کی کہ میں ان کتابوں کی قیمت آپ فروخت کر کے اپنے مطبع کو جو ہمارے سلسلہ کی خدمت کتابیں مطبع ضیاء الاسلام میں چھپتی تھیں اور میری لاگت ضیاء الاسلام میں جہاں تک میرا علم اور خیال ہے میر کتابیں بھی چھاپتے ہوں اور اس کا مجھ کو علم نہیں ہے فروخت ہوتی تھیں۔ میں ان کے نام نہیں بتا سکتا۔ خ واسطے لکھ دیتے تھے اور بعض مجھ کو لکھ دیتے تھے۔ کتابوں ہوتی تھی۔ نزول المسیح کی چھپوائی کے واسطے سید ناصر جو میری طرف سے چھپتی تھیں۔ پانچ سو روپیہ یا کم و تھا۔ یہ روپیہ بھی آیا تھا۔ میں یہ تخمینہ نہیں کر سکتا کہ ا آتی۔ میری نیت یہ تھی کہ نزول المسیح مفت شائع کر دیا لے لیتا ہوں اور اشاعت پر ہی خرچ کرتا ہوں۔ اشاعت پر خرچ ہو جاتا ہے۔ مجھ کو تاریخ یاد نہیں ہے نہیں ہے کہ جو مضمون میں نے سرقہ شدہ نوٹوں پر لکھ ہے یا ان کے خود آنے کے بعد۔ میں اور مسودہ تیا دے دیتا ہوں اور وہ کبھی اور کا اور لکھا جاتا ہے۔ نزول المسیح کے چند صفحات میں بھی مجھے اس لئے د علی صاحب کے بیان کو اپنے لفظوں میں لکھا تھا حرف بحرف شائع کئے جائیں۔ تا کہ کسی کو شک ن لکھا گیا تھا کہ میاں کرم الدین کو بارہ روپیہ تھے۔ اس غلطی کی اصلاح بھی ضروری تھی۔ ایک م

ناصر نے دیا۔

٧

صفحہ ٤٦١

١٩٠١ء سے پہلے جو دفتر میں کتابیں تھیں ان کی فروخت میرے کسی آدمی کے ذریعہ ہوتی تھی۔ مگر ١٩٠١ء کے بعد پھر میں نے یہ انتظام کیا کہ تمام کتابیں حکیم فضل دین کے سپرد کر دیں اور ان کو یہ فہمائش کی کہ میں ان کتابوں کی قیمت آپ سے نہیں چاہتا۔ تم ان کتابوں کی وقتاً فوقتاً فروخت کر کے اپنے مطبع کو جو ہمارے سلسلہ کی خدمت کرتا ہے ترقی دو۔ ١٩٠١ء سے پہلے میری کتابیں مطبع ضیاء الاسلام میں چھپتی تھیں اور میری لاگت سے چھپتی تھیں۔ ١٩٠١ء سے پہلے مطبع ضیاء الاسلام میں جہاں تک میرا علم اور خیال ہے میری ہی کتابیں چھاپتے تھے۔ شاید اور کوئی کتابیں بھی چھاپتے ہوں اور اس کا مجھ کو علم نہیں ہے۔ مختلف آدمیوں کی معرفت میری کتابیں فروخت ہوتی تھیں۔ میں ان کے نام نہیں بتا سکتا۔ خریداران اکثر حکیم فضل دین کو کتاب کے واسطے لکھ دیتے تھے اور بعض مجھ کو لکھ دیتے تھے۔ کتابوں کی چھپوائی پر مریدوں کی آمدنی سے خرچ ہوتی تھی۔ نزول المسیح کی چھپوائی کے واسطے سید ناصر نے صرف اُن کتابوں کی چھپوائی کے لئے جو میری طرف سے چھپتی تھیں۔ پانچ سو روپیہ یا کم و بیش دیا تھا۔ کچھ اور روپیہ بھی اس پر لگایا گیا تھا۔ یہ روپیہ بھی آیا تھا۔ میں یہ تخمینہ نہیں کر سکتا کہ اگر ٢٩٠٠ جلد تیار ہو جاتی تو اس پر کیا لاگت آتی۔ میری نیت یہ تھی کہ نزول المسیح مفت شائع کروں۔ مگر اگر متمول آدمی قیمت دے دیں تو میں لے لیتا ہوں اور اشاعت پر ہی خرچ کرتا ہوں۔ کبھی کوئی روپیہ بچ گیا تو دوسری کتاب کی اشاعت پر خرچ ہو جاتا ہے۔ مجھ کو تاریخ یاد نہیں ہے کہ نزول المسیح کب چھپنی شروع ہوئی۔ مجھ کو علم نہیں ہے کہ جو مضمون میں نے سرقہ شدہ نوٹوں پر لکھا ہے وہ فضل دین کے کسی خط کے آنے پر لکھا ہے یا ان کے خود آنے کے بعد۔ میں اور مسودہ تیار کرتا ہوں اور کاتب کو جو میرے پاس ہوتا ہے دے دیتا ہوں اور وہ کبھی اور کا اور لکھا جاتا ہے۔ کبھی باقی رہ گیا تو اس کے ساتھ اور دے دیا۔ نزول المسیح کے چند صفحات میں بھی مجھے اس لئے درستی کرنی پڑی کہ ایک صفحہ میں میں نے پیر مہر علی صاحب کے بیان کو اپنے لفظوں میں لکھا تھا۔ پھر مجھے مناسب معلوم ہوا کہ انہی کے لفظ حرف بحرف شائع کئے جائیں۔ تاکہ کسی کو شک نہ ہو اور ساتھ ہی یہ غلطی معلوم ہوئی کہ ایک جگہ لکھا گیا تھا کہ میاں کرم الدین کو بارہ روپے دیئے گئے۔ مگر دراصل چھ روپے دیئے گئے تھے۔ اس غلطی کی اصلاح بھی ضروری تھی۔ ایک دو سطر میں کچھ الفاظ مجھے سخت معلوم ہوئے۔

١؎ غلط ہے۔ الحکم ١٠؍اگست ١٩٠٢ء میں چھپ چکا ہے کہ سارا خرچ اس رسالہ کا سید ناصر نے دیا۔

١٨٧

صفحہ ٤٦٢

ان کی تبدیلی بھی ضروری معلوم ہوئی۔ اس لئے دو یا تین صفحے جتنے تھے مجھے بدل دینے پڑے ہیں۔ میں ہر ایک کتاب پر چھپنے کے وقت نظر ثانی کر لیا کرتا ہوں۔ بعض وقت کاپی کو دیکھ کر بعض وقت پروف کو دیکھ کر اور بعض وقت چھپ چکے کاغذ کو دیکھ کر بدلنا پڑتا ہے۔

سوال....... کاپی، پروف اور چھپنے کے بعد آپ تینوں حالتوں میں کتاب کو دیکھتے ہیں یا کہ ایک حالت میں۔

جواب....... بعض وقت تینوں دیکھتا ہوں۔ کیونکہ بعض وقت کاپی سے غلطی معلوم ہو جاتی ہے۔ بعض وقت پروف سے اور بعض وقت چھپی ہوئی کتاب سے۔ غرضیکہ تینوں حالتوں میں دیکھنا پڑتا ہے۔ حکیم فضل دین سے معلوم ہوا تھا کہ کرم دین نے اول بارہ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ مگر بعد میں معلوم ہوا تھا کہ صرف چھ روپے دیئے گئے۔ شہاب الدین کا سب سے پہلا خط جو اس بارہ پہنچا ہے۔ میرے پاس نہیں ہے۔ مولوی عبدالکریم کی تحویل میں خط رہتے ہیں۔ میں نہیں بیان کر سکتا کہ اس عرصہ میں کہ حکیم فضل دین بھین کو گئے اور وہاں سے واپس آئے۔ مجھ کو کوئی الہام ہوا کہ نہیں ہوا۔ نوٹوں کے ایک دو صفحے دیکھے تھے مقابلہ نہیں کیا۔ مولوی محمد حسن کے خط سے میں واقف نہیں ہوں۔ میں ٢؎ نے اس نالش کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس ٣؎ مقدمہ کا خرچ مستغیث کرتا ہے۔ غالباً ٤؎ اس مقدمہ کے خرچ کے واسطے اس آمدنی سے دیا ہوگا۔ جو خود ان لوگوں کے ایک چندہ کی آمدنی ہے۔ اپنی ذات سے میں ٥؎ نے ایک پیسہ نہیں دیا۔

١؎ حکیم فضل دین ایک ہی شخص ہے جو کبھی ١٢ بتاتا ہے کبھی ٦ اس کے کس قول پر اعتبار کیجئے گا؟

٢؎ حواری تو اس راز کو اپنے بیانات میں مخفی کرتے رہے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی نے بھانڈا پھوڑ دیا اور مان لیا ہے کہ میرے ہی مشورہ سے یہ نالش ہوئی ہے۔

٣؎ بھلا کوئی مان سکتا ہے کہ مقدمہ کے اخراجات فضل دین کے خرچ سے پورے ہوئے ہیں۔ وہی فضل دین جو بقول عبدالکریم صاحب لنگر کی روٹیاں توڑا کرتے ہیں۔ چندہ دینے والو! گو ہمیں نہ بتاؤ۔ آپس میں بیٹھ کر تو غور کرو کہ مرشد جی کیا کہتے ہیں۔ کیا یہ سچ ہے؟

٤؎ ادھر غالباً (ترجیح کا حکم) کی قید اور ادھر دیا ہوگا۔ (کلمہ شک) عجیب جملہ ہے۔ افسوس راست گوئی بہت مشکل ہے۔

٥؎ ہاں! یہ مان لیں گے۔ آپ کی ذات کاہے کو پیسہ دے گی۔ آپ پیسے لینے والے ہیں نہ دینے والے۔

١٨٨

صفحہ ٤٦٣

میں وثوق لے سے نہیں کہہ سکتا کہ کچھ روپیہ اس مقدمہ کے واسطے دیا ہے کہ نہیں۔ مقدمات ٢؎ کے خرچ کیواسطے کوئی چندہ نہیں آتا۔ مجھے اختیار ہے کہ اور چندوں میں سے مقدمہ کے خرچ کے واسطے دوں یا نہ دوں۔ چندوں کی آمدنی کا کوئی حساب کتاب نہیں ہے جو لوگ بیعت کرتے ہیں وہ جان و مال قربان کرتے ہیں۔ تھوڑے عرصہ سے مولوی عبدالکریم نے ایک رجسٹر آمدنی چندہ کا بنایا ہے۔ یہ نہیں کہہ سکتا کب سے میرے پاس چندہ کی کوئی یادداشت نہیں ہے اور نہ میں لایا ہوں۔ عبدالکریم والی کتاب عبدالکریم لایا ہے۔ میں نہیں لایا۔ جرح، وکیل مستغیث جرح نہیں کرتے۔ ١٩؍ اگست ١٩٠٣ء! دستخط رائے چندو لعل صاحب مجسٹریٹ درجہ اوّل العبد مرزا غلام احمد

فیصلہ

بعدالت لالہ آتارام مہتہ بی۔ اے اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر مجسٹریٹ درجہ اوّل ضلع گورداسپور مولوی کرم الدین ولد مولوی صدرالدین قوم اعوان ساکن موضع بھیں تحصیل چکوال ضلع جہلم مستغیث بنام مرزا غلام احمد و حکیم فضل دین مالک مطبع ضیاء الاسلام قادیان، تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور مستغاث علیہم جرم زیر دفعہ ٥٠٠، ٥٠١، ٥٠٢ تعزیرات ہند

یہ مقدمہ ٢٦؍ جنوری ١٩٠٣ء کو جہلم میں دائر کیا گیا تھا اور اس ضلع میں بموجب حکم چیف کورٹ ٢٩؍ جون ١٩٠٣ء کو منتقل ہوا۔ اس مقدمہ میں ایک غیر معمولی عرصہ تک طول کھینچا۔ کسی قدر تو مجسٹریٹوں کی تبدیلیوں کی وجہ سے طوالت ہوئی اور زیادہ تر فریقین کی کارروائی کی طوالت کے باعث یہ مقدمہ ازالہ حیثیت عرفی کا زیر دفعہ ٥٠٠ تعزیرات ہند ملزم نمبر ١ پر ہے اور زیر دفعہ ٥٠١، ٥٠٢ تعزیرات ہند ملزم نمبر ٢ پر۔ فریقین مسلمان ہیں اور مذہبی اختلاف کی وجہ سے شمشیر بکف

لے غالباً کہہ کر پھر وثوق اڑ گیا۔ مسیح الزمان کا بیان بھی عجیب مزے کا ہے۔ کوئی بات بھی ٹھکانے کی نہیں ہوتی۔

٢؎ اس کی تصدیق کے لئے مرزائی صاحبان ہی منصف بن کر فرمائیں۔ کیا آپ لوگوں نے مقدمات کے خرچ کے واسطے چندہ نہیں دیا۔ حالانکہ شیخ رحمت اللہ صاحب اپنے بیان میں مقدمہ کے لئے چندہ دینا تسلیم کر گئے ہیں۔

١٨٩

صفحہ ٤٦٤

میں مستغیث اس فرقہ سے ہے جس کا سرپرست پیر مہر علی شاہ (صاحب) ساکن گولڑہ ضلع راولپنڈی میں ایک مشہور آدمی ہے۔ یہ فرقہ اپنے پرانے مذہبی اعتقادات کا پورا معتقد ہے۔ ملزم نمبر ١ ایک نئے فرقہ کا جس کو عام احمدی یا مرزائی کہتے ہیں بانی اور مذہبی پیشوا ہے اور اس کے بہت سے مرید ہیں۔ اس کا دعویٰ ہے کہ میں پیغمبر مسیح موعود ہوں اور خداوند تعالیٰ سے مجھے مکالمہ حاصل ہے اور مجھے الہام یا وحی اس کی طرف سے اترتی ہے۔ اپنے اس دعویٰ کی تائید میں وہ وقتاً فوقتاً پیش گوئیاں کرتا رہتا ہے۔ ملزم نمبر ٢ ملزم نمبر ١ کے خاص مریدوں میں سے ہے۔ نیز مطبع ضیاء الاسلام واقع قادیان ضلع گورداسپور کا مالک ہے۔ دوسرا فریق ملزم نمبر ١ اور اس کے معاونین کے دعاوی کی تردید کرتا رہتا ہے۔ ١٩٠١ء میں ملزم نمبر ١ یعنی مرزا غلام احمد نے ایک کتاب عربی زبان میں جس کا نام اعجاز المسیح (مسیح کا معجزہ) ہے طبع کی۔ اس میں اس نے کل دنیا کو مخاطب کیا کہ اس کی فصاحت کے برابر کوئی شخص کتاب لکھ دے اور ساتھ ہی بطور پیش گوئی کے یہ دھمکی دی کہ جو شخص ایسی کتاب لکھنے کا ارادہ کرے گا وہ زندہ نہیں رہے گا۔ مگر اس کے مقابلہ میں پیر مہر علی شاہ (صاحب) ساکن گولڑہ نے ایک کتاب مسمی بہ سیف چشتیائی (چشتی کی تلوار) تالیف کی اور شائع کی۔ اس کی تردید میں مرزا غلام احمد نمبر ١ نے ایک کتاب لکھنی شروع کی جس کا نام نزول المسیح (مسیح کا اترنا) رکھا۔ ١٤؍ جنوری ١٩٠٣ء کو مرزا غلام احمد ملزم نے ایک اور کتاب شائع کی جس کا نام مواہب الرحمٰن ہے جو ملزم نمبر ٢ کے مطبع واقع قادیان میں چھپی۔ یہ کتاب مقدمہ کی اصل بناء ہے یہ کتاب عربی زبان میں مذہبی رنگ میں لکھی گئی ہے اور بین السطور فارسی میں ترجمہ کیا ہوا ہے۔ مضمون بناء استغاثہ ص ١٣٩ پر درج ہے اور ذیل کا اقتباس جو لیا گیا ہے مضمون بنا استغاثہ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس میں ملزم نمبر ١ اس طرح لکھتا ہے: ”میری نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ نے مجھے ایک لئیم آدمی اور اس کے بہتان عظیم سے اطلاع دی ہے اور مجھے الہام کیا کہ مذکورہ بالا آدمی میری عزت کو نقصان پہنچائے گا اور مجھے یہ خوشخبری بھی دی گئی تھی کہ وہ بدی لوٹ کر میرے دشمن پر پڑے گی جو کہ الکذاب المہین “ ہے۔ لئیم اور بہتان عظیم کے الفاظ اس عربی کتاب کی ١٩٠

صفحہ ٤٦٥

پانچویں اور آٹھویں سطر میں ہیں۔ بیان کیا گیا ہے کہ یہ مستغیث کی ازالہ حیثیت عرفی کرتے ہیں اور ملزم نے مستغیث کی عزت کو نقصان پہنچانے کی نیت سے چھاپے ہیں۔ ملزم نمبر ١ نے اقرار کیا ہے کہ وہ اس کتاب کا مصنف ہے اور یہ کہ ١٤ جنوری ١٩٠٣ء کو چھاپی گئی اور ١٧ جنوری کو جہلم میں تقسیم کی گئی اور یہ بھی اقرار کیا ہے کہ الفاظ زیر بحث مستغیث کی نسبت استعمال کئے گئے ہیں اور یہ الفاظ بعینہ مزیل حیثیت ہیں۔ ملزم نمبر ٢ تسلیم کرتا ہے کہ یہ کتاب اس کے مطبع میں اور اس کے زیر اہتمام چھاپی گئی اور اس نے اس کی جلدیں فروخت کیں۔ فرد قرارداد جرم برخلاف ملزمان زیر دفعہ ٥٠٠، ٥٠١، ٥٠٢ تعزیرات ہند مرتب کی گئی۔ ہر دو ملزم ارتکاب جرم سے انکاری ہیں اور وہ حسب ذیل صفائی پیش کرتے ہیں۔

الف...... یہ کہ مستغیث نے اپنے آپ کو جھوٹا اور دھوکہ باز جعلساز بہتان گو وغیرہ سراج الاخبار جہلم کے مضمونوں میں جو اس نے ٦ اور ١٣ اکتوبر ١٩٠٣ء کو اخبار مذکور میں دیئے ،مشہور کرنے سے اپنی تمام عزت ضائع کر دی ہے اور یہ کہ جب اس کی کوئی عزت باقی نہیں تو مستغیث کا کوئی حق نہ تھا کہ وہ کہتا کہ عوام میں اس کی عزت کم ہو گئی ہے۔ کیونکہ کوئی عزت باقی نہ رہی تھی جو کم ہوتی۔

ب...... بفرض محال اگر مستغیث کی کچھ عزت ہے بھی جس کا ازالہ ہو سکتا تھا۔ تاہم زیر مستثنیات نمبر ١، ٢، ٣، ٩ دفعہ ٤٩٩ تعزیرات ہند ملزم کا یہ کام درست اور حق بجانب ہے۔

ج...... الفاظ زیر بحث ان الفاظ کے جواب میں کہے گئے ہیں جو مستغیث نے خود سراج الاخبار میں استعمال کئے ہیں۔ آئندہ واقعات کے انکشاف اور مقدمہ کو آسان کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایک مختصر بیان ان واقعات کا لکھا جاوے جو فریقین کے درمیان واقع ہوئے۔ نزول المسیح کی تالیف کے اثناء میں مرزا اور اس کے دو مریدوں کو بھیں سے چند خطوط پہنچے جو مستغیث کی جائے سکونت ہے۔ جو خطوط ایک دوسرے مقدمہ کی مسل میں شامل ہیں۔ (فضل دین بنام کرم دین جرم زیر دفعہ ٤٢٠ تعزیرات ہند) اور جو بظاہر ثابت ہوا ہے کہ بعض تو اسی مستغیث کے لکھے ہوئے تھے اور کچھ مستغیث کے شاگرد شہاب الدین کے لکھے ہوئے تھے۔ (دیکھو فیصلہ عدالت ہذا بمقدمہ یعقوب علی بنام کرم دین وغیرہ )

١٩١

PDF 467

یہ خطوط حقیقت میں ایک بڑی حکمت عملی پر مبنی تھے۔ جو مرزا قادیانی کی پیشین گوئیوں

لے عدالت کا یہ نوٹ قابل غور ہے مرزا قادیانی کا مقدمہ بازی کا سوانگ کھڑا کرنے سے اصل منصوبہ یہ تھا کہ حضرت پیر صاحب گولڑوی مدظلہ کی نسبت یہ اتہام ثابت ہو کہ آپ نے کتاب سیف چشتیائی میں مضامین فیضی کا سرقہ کیا ہے۔ مقدمہ بازی کی ساری تکالیف برداشت کرنے اور اخراجات کثیر کا زیر بار ہونے کو مرزائی پارٹی نے صرف اس غرض کے لئے گوارا کیا تھا اور عدالت سے اسی امر کا فیصلہ کرنا مطلوب تھا اور اس امر کے ثبوت میں وہ خطوط شامل مسل کرائے گئے تھے۔ جو مولوی محمد کرم الدین صاحب کی طرف سے منسوب کئے جاتے تھے۔ (گو مولوی صاحب موصوف کو ان کے لکھنے سے انکار تھا) لیکن ہمیں سخت افسوس ہے کہ مرزا قادیانی اور ان کی امت نے اس مدعا میں سخت ناکامی حاصل کی۔ عدالت نے یہ تو فیصلہ کیا کہ خطوط مولوی صاحب کے لکھے ہوئے ہیں۔ گو عدالت کا ایسا قرار دینا بھی محض قیاسات پر مبنی تھا۔ لیکن ساتھ ہی اس امر کا بھی فیصلہ فرما دیا کہ ان خطوط میں یہ لکھا جانا کہ پیر صاحب نے فیضی کے کسی مضمون کو سیف چشتیائی میں نقل کیا ہے۔ محض مرزا قادیانی کے الہام اور پیش گوئیوں کے امتحان کی غرض سے تھا۔ اس کے الہام اس کو اصلیت کا بھی کچھ پتہ دیتے ہیں یا نہیں۔ اب مرزائی دوست خود ہی اس امر کا فیصلہ کریں کہ ان کے پیرو مرشد اس مقدمہ بازی میں جیتے یا ہارے؟ فیصلہ عدالت سے پیر صاحب کا سرقہ ثابت نہ ہوا اور مرزا قادیانی طرح طرح کی مصائب میں دو سال تک مارے مارے پھرے۔ آخر عدالت نے پیر صاحب کو اتہام سرقہ سے پاک قرار دیا اور خطوط میں سرقہ کی شکایت محض بغرض امتحان قرار دی عدالت اپیل نے بھی اس کی کوئی تردید نہیں کی بلکہ اپنے فیصلہ میں واقعات کی نسبت تفصیل فیصلہ ماتحت کو ہی صحیح سمجھ کر اس کا حوالہ دینا کافی سمجھا اور مرزا قادیانی اپنے حلفی بیان میں مان چکے ہیں کہ حق الیقین عدالت کے ذریعہ ہی حاصل ہوتا ہے۔ اب ان کو بروئے فیصلہ عدالت قائل ہونا چاہئے کہ پیر صاحب کی نسبت اتہام سرقہ لگانے میں وہ جھوٹے تھے اور ان کو اس امر کی معافی پیر صاحب سے مانگنا چاہئے۔ الغرض یہ ناکامی مرزا قادیانی اور ان کے جماعت کو ایسی حاصل ہوئی کہ جس کی حسرت گور میں بھی ان کے ساتھ جائے گی۔ ادھر حضرت پیر چشتی کی کرامت شمس نصف النہار کی طرح روشن ہوگئی۔ مخالف نے منصوبہ تو اٹھایا تھا۔ آپ کو عدالت کے ذریعہ تکلیف پہنچانے کا لیکن خیر الحافظین نے حضرت والا کو ہر طرح سے محفوظ رکھا اور ان کے مخالفین کو طرح طرح کی مصائب میں گرفتار کر دیا۔ سچ ہے وتعز من تشاء وتذل من تشاء بيدك الخير!

١٩٢

اور الہاموں کے دعاوی کو آزمانے کے لئے یہ پیر مہر علی شاہ کی تصنیف سیف چشتیائی کے مطب مرزا قادیانی نے اس وجہ سے اپنی کتاب نو مرزا قادیانی کا مرید ہے اور ایڈیٹر بھی ہے اس نام پر شائع کر دیئے۔ اس اخبار میں ایک م مستغیث کا بہنوئی اور تایا زاد بھائی ہے رنجی الاخبار جہلم میں ٦ اور ١٣ اکتوبر ١٩٠٢ء کو دو میں تھا دوسرا نظم میں ۔ جو ١٧؍ دسمبر ١٩٠٢ء کے مقدمات کرا دیئے۔ اس کے تھوڑا ہی عرصہ فریقوں میں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ایک خ اور ایک اور آدمی تھا اور دوسری طرف مبارک معلوم ہوتا تھا کہ اس علمی جھگ آگ پر اور لکڑیاں ڈالیں۔ اکتوبر ١٩٠٢ء م نام ایک گمنام کارڈ بھیجا جس میں ان کو دھ اخبار میں لکھا ہے عدالت میں کھینچوں گا استغاثہ بنام مستغیث زیر دفعہ ٤٢٠، ٤٣٠، ٥ ٩؍ دسمبر ١٩٠٢ء کو مستغیث نے موجودہ مستغیث و فقیر محمد جو کہ ایڈیٹر و مال مستغیث کے مقدمات جہلم میں پیش ہو اشاعت کی اس سے پہلے کہ ان عذرات لے لیجئے مرزائی صاحبان ! آپ عدالت سے اس امر کا بھی ناطق فیصلہ کرا جہلم کے اہل سنت والجماعت بھائیوں سنت والجماعت جہلم کی اس فتح یابی میں ہے اور مرشد جی حلفاً اقرار کر چکے ہیں کہ

صفحہ ٤٦٧

اور الہاموں کے دعاوی کو آزمانے کے لئے برتی گئی۔ گو بظاہر ان سے یہ غرض معلوم ہوتی تھی کہ پیر مہر علی شاہ کی تصنیف سیف چشتیائی کے علمی سرقہ کے ظاہر کرنے میں معاون ہوں۔ یہ خطوط مرزا قادیانی نے اس وجہ سے اپنی کتاب نزول المسیح میں شائع کئے اور یعقوب علی نے جو مرزا قادیانی کا مرید ہے اور ایڈیٹر بھی ہے اپنے اخبار الحکم مورخہ ١٧؍ ستمبر ١٩٠٢ء میں کاتبوں کے نام پر شائع کر دیئے۔ اس اخبار میں ایک مضمون بھی تھا جس میں محمد حسن فیضی کی وفات پر جو مستغیث کا بہنوئی اور تایا زاد بھائی ہے رنجیدہ لفظوں میں نکتہ چینی کی گئی تھی۔ اس کے بعد سراج الاخبار جہلم میں ٦ اور ١٣؍ اکتوبر ١٩٠٢ء کو دو مضمون مستغیث کی دستخطی سے چھاپے گئے۔ ایک نثر میں تھا دوسرا نظم میں۔ جو ١٧ اور ٢٤ نومبر ١٩٠٢ء کے الحکم کی تردید میں تھے انہوں نے فریقین کے درمیان مقدمات کرا دیئے۔ اس کے تھوڑا ہی عرصہ پہلے یعنی ٢٦؍ اگست ١٩٠٢ء کو بمقام جہلم ان دو مخالف فریقوں میں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ایک مذہبی مباحثہ ہوا ہے اس مباحثہ میں ایک طرف مستغیث اور ایک اور آدمی تھا اور دوسری طرف مبارک علی اور ایک اور کوئی تھا۔

معلوم ہوتا تھا کہ اس علمی جھگڑے میں آخرالذکر کو شکست ہوئی۔ اس شکست نے جلتی آگ پر اور لکڑیاں ڈالیں۔ اکتوبر ١٩٠٢ء میں مستغیث نے ملزم نمبر ١ یا یعقوب علی ایڈیٹر الحکم کے نام ایک گمنام کارڈ بھیجا جس میں ان کو دھمکی دی کہ میں تم کو اس مضمون کی وجہ سے جو تم نے اپنے اخبار میں لکھا ہے عدالت میں کھینچوں گا۔ ١٤؍ نومبر ١٩٠٢ء کو فضل دین نے جو ملزم نمبر ٢ ہے ایک استغاثہ بنام مستغیث زیر دفعہ ٥٠٠، ٤٢٠ تعزیرات ہند گورداسپور میں دائر کیا۔

٩؍ دسمبر ١٩٠٢ء کو مستغیث نے دو استغاثے زیر دفعہ ٥٠٠، ٥٠١، ٥٠٢ تعزیرات ہند بنام موجودہ مستغیث و فقیر محمد جو کہ ایڈیٹر و مالک سراج الاخبار جہلم ہے دائر کیا۔ ١٧؍ جنوری ١٩٠٣ء کو مستغیث کے مقدمات جہلم میں پیش ہوئے۔ جہاں کہ ملزم نمبر ١ نے کتاب مواہب الرحمٰن کی اشاعت کی اس سے پہلے کہ ان عذرات پر جو صفائی کی طرف سے پیش ہوئے ہیں۔

لے لیجئے مرزائی صاحبان! آپ کے پیر و مرشد (مرزا قادیانی) نے مقدمہ بازی کر کے عدالت سے اس امر کا بھی ناطق فیصلہ کرا لیا کہ مباحثہ جہلم میں مرزائی جماعت شکست یاب ہوئی۔ جہلم کے اہل سنت والجماعت بھائیوں کو یہ فتح مبارک ہو۔ جہلم کے مرزائی فرمائیں۔ ان کو علماء سنت والجماعت جہلم کی اس فتح یابی میں کسی قسم کی کلام کی گنجائش باقی ہے؟ کیونکہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اور مرشد جی حلفاً اقرار کر چکے ہیں کہ حق الیقین عدالت کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔

صفحہ ٦٩

بحث کی جائے یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ الفاظ استغاثہ کردہ کے معنی صاف کئے جائیں۔ تمام الفاظ جو استغاثہ کردہ ہیں وہ برے معنوں میں استعمال کئے گئے ہیں۔ اس بات کو فریقین مانتے ہیں۔ اختلاف صرف اس میں ہے کہ کسی درجہ کی برائی کی حد کو وہ پہنچتے ہیں۔ مستغیث تو ان کے معنوں کی تعبیر مبالغہ آمیز طرز میں کرتا ہے اور ملزم ان کے معمولی معنے بیان کرتا ہے۔ مثلاً لئیم کا لفظ ایک فریق بیان کرتا ہے کہ اس کے معنے کمینہ اور پیدائشی کمینہ کے ہیں۔ دوسرا فریق اس کے معنے صرف کمینہ کرتا ہے۔ بہتان عظیم کے معنے بڑا اور حیران کرنے والا جھوٹ ہے اور ایک بڑا بہتان لگانے والا یا افتراء کرنے والا ہے اور کذب المہین کے معنے ایک بڑا اور عادی جھوٹا اور بہتان باندھنے والا ہے اور جھوٹا اور اہانت کرنے والا ہے۔ دونوں طرف سے سندات پیش ہوئی ہیں جو ہر ایک فریق کے معنے کی تائید کرتے ہیں۔ ہم ان الفاظ کو سخت معنوں میں لینے کی طرف مائل ہیں اور یہ صرف ویسی عربی سندات کی بناء پر ہی نہیں (ڈکشنریاں اور قواعد کی کتابیں جن کا حوالہ مستغیث نے دیا ہے) بلکہ ان معنوں کی بنیاد پر بھی جن میں خود کتاب کے مصنف نے ان الفاظ کو اور جگہ بھی استعمال کیا ہے اور نیز مصنف کے دل کی اس حالت کی بنیاد پر بھی جس وقت مصنف اس کتاب کو لکھ رہا تھا۔ لفظ لئیم ایک بڑی حقارت کا لفظ ہے۔ ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جس میں تمام برائیاں مستقل طور پر پائی جاتی ہوں اور یہ لفظ ملزم نمبر ١ نے مصر کے فرعون کی بابت استعمال کیا ہے۔ جس نے اپنے آپ کو خدا مشہور کیا اور شیطان اور گدھے کی نسبت بھی بہتان عظیم بلحاظ اپنے ماخذ کے اس آدمی کو کہتے ہیں۔ جو جھوٹے اور سخت قسم کے الزام لگانے کا عادی ہو۔ کذاب کا لفظ مبالغہ کے صیغہ کا ہے اور یہ بڑے یا عادی جھوٹے کے معنے ظاہر کرتا ہے۔ المہین کے معنے اہانت کنندہ یعنی توہین کرنے والا ہے۔ مضمون مندرجہ (ص ١٤٨، ١٤٩ خزائن ج ١٩ ص ٣٥٠، ٣٥١) کو غور سے پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ مصنف نے جب ان دونوں صفحوں کو لکھا اس وقت سخت رنج وغصہ اور کینہ میں مبتلا تھا۔ جیسا کہ آگے چل کر بتلایا جائے گا۔ فریقین میں اس وقت سخت دشمنی تھی اور کوشش کرتے تھے کہ ایک دوسرے کا گلا کاٹ ڈالیں۔ ایسے حالات میں یہ امید نہیں ہو سکتی کہ مصنف اعتدال اور صفائی کو برتتا۔ اب صفائی کے عذرات وغیرہ اس امر کے فرض کر لینے پر مبنی ہیں کہ سراج الاخبار کے ٦ اور ١٣؍ اکتوبر ١٩٠٢ء کے مضمون اور (ص ١٤٨، ١٤٩ خزائن ج ١٩ ص ٣٥٠، ٣٥١) مواہب الرحمٰن کے متن کو باہم تعلق ہے۔ دراصل یہ عذر اٹھایا گیا ہے کہ الفاظ

١٩٤

استغاثہ کردہ جو مواہب الرحمٰن میں ہیں ان الفاظ لکھ کر ملزم نمبر ١ اور اس کی جماعت پر حملے کئے ہیں دلائل ان عذرات کی تردید کرتے ہیں۔

الاخبار ١٣؍اکتوبر ١٩٠٢ء) میں ہیں یا ان کے مدعا

کے لئے یا اپنے چال چلن کو ان الزاموں سے پا ہے۔ اگر غیر ممکن نہ ہو کہ مصنف بالکل کوئی اشار نہ کرتا۔ جو الحکم میں شائع ہوئے۔

نے محمد حسن فیضی کی موت کو بطور پیش گوئی کے ہے۔ اگر سراج الاخبار کا مضمون اس کے دل بیان کی تردید کر دی گئی تھی۔ دیکھو ملزم کا بیان ج کی مسل میں شامل ہے جو زیر دفعہ ٤٢٠ تعزیرات

سراج الاخبار میں چھپے ہیں۔ درست ہیں۔ ا خیالات کے ظاہر کرنے کی جرأت کرتا جو اس میں ہیں۔ جیسا کہ اس نے ظاہر کئے ہیں۔

مضمونوں کے مصنف کا قرار دینا زیر بحث تھا نہ کیا تھا۔

مزیل حیثیت عبارت ہے۔ قریباً چار ماہ کے گئے تھے تو یہ ضروری تھا کہ اس سے بہت پہ

صفحہ ٤٦٩

استغاثہ کردہ جو مواہب الرحمن میں ہیں ان الفاظ پر مبنی ہیں جو کہ مستغیث نے اپنے مضمونوں میں لکھ کر ملزم نمبر ١ اور اس کی جماعت پر حملے کئے ہیں۔ لیکن واقعہ میں یہ بات نہیں ہے۔ ذیل کے دلائل ان عذرات کی تردید کرتے ہیں۔

الاخبار ١٣؍ ١٦؍ اکتوبر ١٩٠٢ء) میں ہیں یا ان کے مدعا کی طرف۔

کے لئے یا اپنے چال چلن کو ان الزاموں سے پاک کرنے کے لئے ضروری تھی۔ یہ بہت غیر اغلب ہے۔ اگر غیر ممکن نہ ہو کہ مصنف بالکل کوئی اشارہ صریحاً یا معنی ان کی طرف یا ان خطوط کی طرف نہ کرتا۔ جو الحکم میں شائع ہوئے۔

نے محمد حسن فیضی کی موت کو بطور پیش گوئی کے بیان کیا ہے۔ لیکن ایسا بیان ممکن نہیں ہے کہ وہ لکھتا ہے۔ اگر سراج الاخبار کا مضمون اس کے دل میں ہوتا۔ کیونکہ سراج الاخبار کے مضامین میں اس بیان کی تردید کر دی گئی تھی۔ دیکھو ملزم کا بیان جو اس نے ٢٩؍ اگست ١٩٠٣ء کو دیا ہے جو اس مقدمہ کی مسل میں شامل ہے جو زیر دفعہ ٤٢٠ تعزیرات ہند ہے۔

سراج الاخبار میں چھپے ہیں۔ درست ہیں۔ اپنے دل کی ایسی حالت میں مصنف ممکن نہ تھا۔ ایسے خیالات کے ظاہر کرنے کی جرأت کرتا جو اس کتاب کے (ص ١٢٩، ١٣٠، خزائن ج ١٩ ص ٣٥٠، ٣٥١) میں ہیں۔ جیسا کہ اس نے ظاہر کئے ہیں۔

مضمونوں کے مصنف کا قرار دینا زیر بحث تھا اور یہ امر عدالت نے فیصلہ کرنا تھا جو ابھی عدالت نے نہ کیا تھا۔

مذکورہ بالا عبارت ہے۔ قریباً چار ماہ کے بعد نکلے۔ اگر یہ صفحے ان مضامین کے جواب میں لکھے گئے تھے تو یہ ضروری تھا کہ اس سے بہت پہلے لکھے جاتے۔

١٩٥

صفحہ ٤٧٠

ہفتم ..... اب کتاب پر غور کرو اور دیکھو کہ وہ کیا کہتی ہے۔ یہ ملزم کے بیان کی تردید کرتی ہے۔ (ص ١٢٩، ١٣٠ خزائن ج ١٩ ص ٣٥٠، ٣٥١) کے متن سے اس امر کی کافی شہادت ہے کہ یہ سراج الاخبار کے خطوط کے جواب میں نہیں لکھی گئی۔ کیونکہ اس عبارت میں ان کی بابت کوئی ذرہ بھی اشارہ نہیں ہے۔ بلکہ ان مقدمات کی طرف اشارہ ہے جو مستغیث نے جہلم میں دائر کئے۔ (ص ١٢٩، خزائن ج ١٩ ص ٣٥٠) میں مقدمات کا صاف حوالہ ہے۔ (عربی یا فارسی) جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ میں (ملزم نمبر ١) ایک عدالت میں گرفتاروں کی طرح حاضر ہوگا۔ کیونکہ ملزم کے نام وارنٹ جاری ہوا تھا اور سطر ٢ اور ٨ ص ١٣٠ میں مستغیث نے جو مقدمہ دائر کیا تھا اس کا صاف ذکر ہے اور مستغیث کا نام ص ١٢٩ کی سطر ١٠ میں لکھ دیا ہے اور ١٢٩ میں ان تین وکلاء کا حوالہ دیا ہے جو مستغیث نے کئے تھے اور پھر (ص ١٣٠، خزائن ج ١٩ ص ٣٥١) میں بھی ذکر ہے اور (ص ١٢٩، خزائن ج ١٩ ص ٣٥٠) میں مقدمات دائر کرنے کی غرض منجانب مستغیث لکھی ہے اور اس صفحہ کی سطر ٥ میں وکلاء کرنے کی غرض مندرج ہے اور استغاثوں کی فتح یابی سے جو نتائج ہونے ممکن تھے ان کی طرف اشارہ (ص ١٢٩، خزائن ج ١٩ ص ٣٥٠) کی اخیر سطر میں اور (ص ١٣٠، خزائن ج ١٩ ص ٣٥١) کی پہلی سطر میں ہے۔ مقدمہ کا نتیجہ (یعنی اپنی آخری فتح) (ص ١٢٩ خزائن ج ١٩ ص ٣٥٠) میں بیان کی گئی ہے۔ کیونکہ مقدمے خارج ہو چکے تھے۔ (ص ١٢٩، خزائن ج ١٩ ص ٣٥٠) کے سطر ١٠ میں استغاثہ دائر کرنے کا وقت ایک سال بعد اس پیش گوئی کے بیان کیا گیا ہے۔ یہ پیش گوئی ٣١؍ نومبر ١٩٠١ء کو شائع کی گئی اور یہ مقدمات ٩؍ دسمبر ١٩٠٢ء کو دائر کئے گئے ۔ ص ١٣٠ کی سطر ٧ میں مصنف بڑی خوشی سے شائع کرتا ہے کہ وہ جیل خانہ میں نہیں جائے گا اور نہ ہی کالے پانی کو بھیجا جائے گا اور آخری سطر میں وہ تسلیم کرتا ہے کہ مستغیث کی اس حرکت سے اس کو غصہ آگیا تھا۔

ہشتم ..... ایک اور امر بھی ہے جو میرے نتیجہ کی تائید کرتا ہے۔ مستغیث نے اپنے مقدمات جہلم میں ٩؍ دسمبر ١٩٠٢ء کو دائر کئے اور ملزم نمبر ١ نے اپنی کتاب کے صفحات ١٢٩، ١٣٠ ، ١٢، ١٣ یا ١٤؍ جنوری ١٩٠٣ء کو تالیف کی اور یہ کتاب ١٤؍ مارچ کو شائع کی اور ١٧؍ ماہ مذکور کو جہلم میں تقسیم کی۔ یعنی اس دن جب کہ مقدمات کی پیشی تھی۔ یہ سب باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ ان مقدمات اور اس کتاب میں باہمی تعلق ہے۔ مستغیث کے مقدمات برخلاف ملزم دائر تھے۔ ملزم وارنٹ کے ذریعہ گرفتار ہو کر عدالت جہلم میں حاضر ہوا اور یہ توہین تکلیف تردد، بے عزتی، ذلت وغیرہ کے موجبات موجود

١٩٦

تھے۔ ان سب امور کی شکایت کی گئی ہے

نہم ...... مستغیث کے استغاثہ جات کہ کتاب کے ان صفحات اور (سراج الاخبار اور اس غرض کے لئے دھینگا زوری کی گواہوں کے بیانات کے اختلاف ۔ الرحمن کی مجمل حیثیت عبارت اور سرایا وجہ سے صفائی کا پہلا عذر بالکل خاک جس مستغیث پر بھروسہ کیا گیا ہے وہ

الف ....... ان تمام استغاثوں پر اختیار جہلم کے مضامین کی بنیاد پر ہے۔ اس پہنچی۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔

ب ....... پہلی استثناء کی بابت یہ ض ہونی چاہئے اور اس سے پبلک کا فائ اخبار کے علاوہ کوئی دوسرا امر نہیں ۔ جس کے رو سے اس کی بطور شریف ا کا مستحق ہو گیا ہے جو اس پر لگائے ۔ اشاعت سے کون سا پبلک کا فائدہ م

ج ....... سراج الاخبار کے علاوہ نسبت رائے لگانے کا حق حاصل ہ

د ....... پہلی استثناء کے علاوہ ذ کے واقعات ہے نیک نیتی کا نہ ہو مستغیث کی ملزم کے ساتھ دوستی لیکن اس کا یہ وعدہ الٹا نکلا ۔ ٢٦ ایک مذہبی مباحثہ جہلم میں واقع

صفحہ ٤٧١

تھے۔ ان سب امور کی شکایت کی گئی ہے۔

نہم....... مستغیث کے استغاثہ جات جہلم کے جواب میں ملزم مضحکہ خیز اور سفلہ جرأت کرتا ہے کہ کتاب کے ان صفحات اور (سراج الاخبار ١٣ و ١٦؍ اکتوبر ١٩٠٢ء) کے درمیان تعلق ثابت کیا جاوے اور اس غرض کے لئے دھینگا زوری کی دور از قیاس تاویلات پیش کرتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گواہوں کے بیانات کے اختلاف سے بہت قابل ذلت ناکامی کا منہ ملزم نے دیکھا۔ مواہب الرحمٰن کی حزیل حیثیت عبارت اور سراج الاخبار کے مضامین یا خطوط میں مطلقاً تعلق نہ ہونے کی وجہ سے صفائی کا پہلا عذر بالکل خاک میں مل جاتا ہے۔ اب دوسرے عذر کی بابت ذکر ہوتا ہے جن مستثنیات پر بھروسہ کیا گیا ہے وہ ایک، تین، چھ، نو ہیں۔

الف....... ان تمام مستثنیات پر اعتبار کرنے سے یہ فرض کرنا پڑتا ہے کہ ملزم کا فعل سراج الاخبار جہلم کے مضامین کی بنیاد پر ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ لیکن صفائی سے یہ بات پایہ ثبوت کو نہیں پہنچی۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔

ب....... پہلی استثناء کی بابت یہ ضرورت ہے کہ وہ عبارت جس میں الزام لگایا گیا ہے وہ سچی ہونی چاہئے اور اس سے پبلک کا فائدہ ہو۔ اس امر کو صفائی سے ملزم ثابت نہیں کر سکا۔ جہلم کے اخبار کے علاوہ کوئی دوسرا امر نہیں ہے جس سے ثابت ہو کہ مستغیث کسی ایسی بدحرکت کا مرتکب ہوا جس کے رو سے اس کی بطور شریف اور راست باز آدمی کے اب عزت نہیں رہی اور وہ ان خطابات کا مستحق ہو گیا ہے جو اس پر لگائے گئے ہیں اور یہ خیال کرنا ایک امر محال ہے کہ ایسی حزیل حیثیت اشاعت سے کون سا پبلک کا فائدہ نکلا ہے۔

ج....... سراج الاخبار کے علاوہ کوئی دیگر حوالہ نہیں دیا گیا۔ جس کی وجہ سے عوام کو مستغیث کی نسبت رائے لگانے کا حق حاصل ہو گیا ہے۔

د....... پہلی استثناء کے علاوہ دیگر مستثنیات میں نیک نیتی ایک بڑی ضروری جزو ہے۔ ذیل کے واقعات سے نیک نیتی کا نہ ہونا اور بد نیتی کا پایا جانا ثابت ہوتا ہے۔ اوپر بیان ہو چکا ہے کہ مستغیث کی ملزم کے ساتھ دوستی تھی اور اس نے اس کو چند خطوط مدد کا وعدہ کرتے ہوئے لکھے۔ لیکن اس کا یہ وعدہ الٹا نکلا۔ ٢٦؍ اگست ١٩٠٢ء کو مستغیث اور ملزم نمبر ١ کے مریدوں کے درمیان ایک مذہبی مباحثہ جہلم میں واقع ہو گیا۔ جس میں آخرالذکر غالباً شکست یاب ہوئے۔ ١٧؍ ستمبر

١٩٧

صفحہ ٤٧٢

١٩٠٢ء کے الحکم میں جو ملزم کا ایک آرگن ہے اس میں چند خطوط مستغیث کی طرف سے چھپے۔ نیز ایک مضمون رنجیدہ الفاظ میں جس میں رشتہ دار مستغیث مسمی فیضی کی موت کا ذکر تھا نکلا۔ ملزم نمبر ١ نے یہ خطوط نزول المسیح میں مستغیث کے نام پر چھاپ دیئے۔ یہ سب کچھ مستغیث کی ہدایت کے برخلاف کیا گیا۔ کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا نام ظاہر کیا جاوے۔ اکتوبر ١٩٠٢ء میں مستغیث نے دو مضمون سراج الاخبار جہلم میں الحکم کی تردید میں دیئے۔ یہ مضامین مرزا اور اس کی جماعت کو بڑی ناپسند اور رنجیدہ ثابت ہوئے۔ مستغیث نے ایک گمنام کارڈ بھی قادیان میں بھیجا کہ جس میں ملزم کو عدالت میں کھینچنے کی دھمکی دی۔ اس کے بعد ١٤؍نومبر ١٩٠٢ء کو ملزم نمبر ٢ نے ایک مقدمہ زیر دفعہ ٤٢٠ تعزیرات ہند دائر کیا۔ ٩؍دسمبر ١٩٠٢ء کو مستغیث نے دو مقدمہ جہلم میں زیر دفعہ ٥٠٠، ٥٠١ تعزیرات ہند ملزم اور دیگران پر دائر کئے۔ ١٩؍دسمبر ١٩٠٢ء کو یعقوب علی ایڈیٹر الحکم نے ایک مقدمہ مستغیث اور فقیر محمد ایڈیٹر سراج الاخبار پر دائر کیا۔ فریقین کے درمیان مقدمہ بازی کی نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی۔ جب کہ مواہب الرحمٰن تالیف کی گئی اور دنیا کے سامنے پیش کی گئی۔ ١٧؍جنوری ١٩٠٣ء کو مستغیث کے مقدمات کی پیشی مقرر ہو گئی اور ملزم کو بذریعہ وارنٹ حاضر ہونے کا حکم ہوا۔ وہ مستغیث کی ان حرکات پر نہایت مایوس اور آزردہ ہوئے۔ جس کو انہوں نے پہلی غلطی سے بڑا مفید اور معاون دوست خیال کیا تھا۔ لیکن آخر کار اس کو خوف ناک دشمن بھیس بدلے ہوئے پایا۔ یہ سب باتیں مصنف کے دل میں کھٹک رہی تھیں۔ جب کہ اس نے یہ حزیل حیثیت مضمون لکھا اور چھاپا اور جلدی جو مصنف نے تالیف کی تکمیل میں ١٤؍جنوری کو دکھائی۔ اس غرض کے واسطے کہ وہ ١٧؍جنوری کو جہلم میں لوگوں کو ان گروہوں کے درمیان تقسیم کرے جو ان مقدمات کو دیکھنے آئے ہوئے تھے۔ اس سے اس کی اصلی منشاء کا پتہ ملتا ہے جس نے اس کو اس کام پر آمادہ کیا تھا۔ مذکورہ بالا مقدمات کے بعد اور مقدمہ بازی بڑھی۔ ٢٦؍جنوری ١٩٠٣ء کو مستغیث نے یہ مقدمہ دائر کیا اور جون ١٩٠٣ء کو ملزم نمبر ٢ نے ایک استغاثہ زیر دفعہ ٤١١ تعزیرات ہند مستغیث کے برخلاف دائر کیا۔ ملزم کے دل کی حالت اس امر سے معلوم کی جاسکتی ہے کہ اس نے مستغیث کے وکلاء کو ٹوڈوں سے اور ان کے محنتانہ کو گھاس سے (مواہب الرحمٰن ص ١٣٠، خزائن ج ١٩ ص ٣٥٠، ٣٥١) میں نسبت دی ہے۔ ان تمام باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین ایک دوسرے کا گلا گھونٹنے کو دوڑ رہے تھے۔ نیک نیتی کہاں تھی؟ باقی تمام مقدمے ڈسمس ہو چکے ہیں۔ یہ ملزم کا کام تھا کہ نیک نیتی

١٩٨

صفحہ ٤٧٣

ثابت کرتا۔ قانون میں نیک نیتی کے معنی مناسب احتیاط و توجہ لکھے ہیں۔ لیکن نیک نیتی کی بابت کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ سوائے سراج الاخبار کے حوالہ کے جو کہ بیجا رنج دینے کی وجہ تھی۔ فریقین کے باہمی تعلقات کی کشیدگی کے لحاظ سے اس امر کی توقع کرنا غیر ممکن اور دور از قیاس تھا۔ بحث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ملزم نمبر ١ سراج الاخبار کے مضمونوں کو سچا سمجھتا تھا۔ کیونکہ دیر تک مستغیث نے اس کی تردید نہیں کی اور یہ کہ اس یقین پر مستغیث کے بارے میں اس نے ہتک آمیز الفاظ کو استعمال کیا۔ یہ حجت بالکل غلط ہے۔ ملزم نمبر ١ کے اپنے بیان سے جو اس نے ١٩ اگست ١٩٠٣ء کو جو کہ مقدمہ ٥٠٠ تعزیرات ہند کی مسل میں ہے۔ اس کی تردید ہوتی ہے۔ اس بیان میں اس نے تسلیم کر لیا ہے کہ سراج الاخبار ٦، ١٣/ اکتوبر ١٩٠٢ء کے مضامین شائع ہونے کے بعد اس کو معلوم ہوا کہ میرا وہ اعتبار اور یقین غلط تھا۔ پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک سمجھ دار آدمی ہتک آمیز عبارت اس اعتبار پر لکھے جو کہ چار ماہ پہلے ہی غلط ثابت ہو چکا ہو۔ پھر وہ آدمی کس طرح نیک نیتی کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ جس نے انہی الفاظ پر جو زیر استغاثہ ہیں۔ اکتفا نہ کر کے اپنی دشمنی کو صاف طور پر ظاہر کر دیا ہے اور تین جگہوں میں کہتا ہے کہ وہ میرا سخت دشمن ہے اور اس کے علاوہ (مواہب الرحمٰن ص ١٣٠، خزائن ج ١٩ ص ٣٥٠، ٣٥١) میں اور الفاظ بھی جو ہتک آمیز ہیں استعمال کرتا ہے۔ مثلاً شریر، جاہل، غبی، شقی۔ ملزم نمبر ١، اسی صفحہ کی اخیر سطر میں تسلیم کرتا ہے کہ مستغیث نے مجھے غصہ دلایا۔ علاوہ ازیں ملزم نمبر ١ نے شہادت کے اثناء میں مقدمہ زیر دفعہ ٥٠٠ تعزیرات ہند میں بیان کیا کہ میں مستغیث کو صرف اس وقت سے جانتا ہوں کہ جب سے اس کو کمرہ عدالت میں دیکھا۔ یہ موقعہ پہلی دفعہ ١٧/ جنوری ١٩٠٣ء کو بمقام جہلم ہوا۔ اس بیان سے پایا جاتا ہے کہ ملزم مستغیث سے اس تاریخ سے پہلے کوئی ذاتی واقفیت نہیں رکھتا تھا۔ ١٤/ جنوری ١٩٠٣ء کو جو اس کتاب کی تصنیف کی تاریخ ہے اس کو کیونکر معلوم ہوا کہ مستغیث لئیم بے ایمان عظیم کذاب المہین تھا۔ البتہ نبوت اور وحی کی طاقت سے وہ اس بات کی واقفیت کا دعویٰ کر سکتا تھا۔ لیکن ایسا بیان تک نہیں کیا گیا۔ ثابت کرنا تو کجا رہا۔ جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ہے اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ باہم دشمنی ہے اور ملزم دفعہ ٤٩٩ تعزیرات ہند کی مستثنیات کے مفاد سے محروم ہوتا ہے۔ صفائی کا تیسرا عذر بھی پہلے عذر کے ساتھ خاک میں مل جاتا ہے۔ حسب تجویز بالا علاوہ ازیں یہ کہنا درست نہیں ہے کہ الفاظ زیر استغاثہ سراج الاخبار کے جواب میں لکھے گئے ہیں۔ کیونکہ یہ الفاظ وہاں واقع ہی نہیں ہیں۔ یہ ثابت

١٩٩

صفحہ ٤٧٤

کیا گیا ہے کہ مستغیث اپنے علاقہ میں ایک معزز آدمی ہے اور یہ کہ مولوی ہے۔ عربی علم، ادب اور علوم دینیہ کا فاضل ہے اور جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کا مالک ہے اور حکام اس کی عزت کرتے ہیں۔ ایک مذہبی کتاب میں جو مسلمانوں کے استعمال کے واسطے چھاپی گئی ہے اس کو ایک ایسے آدمی کے طور پر ظاہر کرنا جو پیدائشی کمینہ ہو بڑا ہی عادی جھوٹا ہو بڑا بہتان لگانے والا۔ یہ ایک سخت قسم کا الزام ہے جس سے اس پر ہمیشہ کے لئے دھبہ لگتا ہے کہ وہ کمینہ بدچلن آدمی ہے۔ یہ بیان کیا گیا ہے کہ جہاں الفاظ مزیل حیثیت استعمال کئے گئے ہیں اور جن سے ظاہر جرم قائم ہو سکتا ہو تو ان کا چھاپنا ہی ظاہر کرتا ہے کہ باہم دشمنی تھی۔ جو اصول استثناء نمبر ٤ میں قائم کیا گیا ہے۔ وہ مقدمہ ہذا کے متعلق نہیں۔ بلکہ ایسے موقعہ پر عائد ہو سکتا ہے جہاں کہ الفاظ کے معنوں میں شک ہو۔

(ج ١٩ الہ آباد ص ٤٢٠)

تعزیرات ہند نیلسن ص ٥٨٨، لیکن اس مقدمہ میں الفاظ استغاثہ کردہ کے معنوں کی بابت کوئی شبہ نہیں ہے۔ دفعہ ٤٩٩ کے بموجب صریح مزیل حیثیت ہیں اور یہ کہ جلدی یا غصہ میں لکھے گئے ہیں۔ ملزمان اس کے بالکل جوابدہ ہیں۔ پھر ضابطہ فوجداری کے (ص٢٧٢، ٢٧٣) میں لکھا ہے کہ جب کوئی آدمی کوئی تحریر چھاپے جو کہ درست نہ ہو جیسا کہ اس مقدمہ میں ہے تو قانون یہ خیال کرے گا کہ اس نے دشمنی سے ایسا کیا ہے اور یہ جرم ہوگا۔ یہ غیر ضروری ہے کہ اس بارہ میں زیادہ ثبوت نیت کا دیا جاوے۔ تعزیرات ہند کے بموجب یہ خیال کیا جاوے گا کہ اس نے نقصان پہنچانے کے ارادہ سے یا جان بوجھ کر یا اس بات کا یقین کر کے کہ یہ مستغیث کی عزت کو ضرور نقصان پہنچائے گا۔ ایسا ہی مین صاحب اپنی تعزیرات ہند کے ص ٨٧٦ پر بیان کرتا ہے کہ ہر ایک آدمی قیاس کیا گیا ہے کہ اپنے قدرتی اور معمولی کاموں کے نتیجہ کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اگر تشہیر کا میلان مستغیث کو نقصان دہ ہوا تو قانون خیال کرے گا کہ ملزم نے اس کے چھاپنے سے ارادہ کیا ہے کہ اس سے مستغیث کو نقصان پہنچے۔ پھر یہی مصنف ص ٩٠١ پر لکھتا ہے کہ کسی کی ذاتیات اور پرائیویٹ رائے رفاہ عام میں داخل نہیں۔ پبلک میں ثابت شدہ افعال پر رائے زنی کرنا یا سرکاری ملازم کی کارروائی پر سختی سے نکتہ چینی کرنا ایک اور بات ہے اور بدچلنی کے افعال کا اسے مجرم بیان کرنا ایک دوسری شے ہے۔ پھر رتن لعل رام چند داس اپنے قانون میں جو اس نے لائیبل پر لکھا ہے۔ اس کے ص ٢٠٤ میں ذیل کے فقروں میں یہی لکھتا ہے کہ کوئی اشارہ کمینگی یا شریر منشاء کا یا

٢٠٠

نامعقول یا بدچلن کا بغیر کسی بنیاد کے نہیں ہو سچے طور پر یقین کرتا تھا کہ یہ الزام سچا ہے رائے یا خیالات پر نکتہ چینی کرے۔ لیکن ہتک آمیز ریمارک کرے۔ لعل چند اپنی ہے۔ کسی آدمی کے افعال اچھے ہوں یا برے دار در ہوں۔ کسی کو حق نہیں ہے کہ ان کو لو ہے کہ جو کچھ اس کے متعلق ہے اسی سے اخلاقی افعال ہوں۔ آخر اپنے لائیبل اور ذاتیات پر بلاضرورت حملہ کرے تو وہ حیثیت ہو تو لائیبل ہو جاتا ہے۔ ایک از ہو سکتا ہے اور ملزم کو ان مستثنیات کی حفا بیان کیا گیا ہے۔ نیلسن اپنی تعزیرات ہند جاوے یا چھاپ دیا جاوے جو پبلک - والے کو مفاد مستثنیات سے محروم کر سکتا لئے ہو یعنی یہ کہ عوام الناس کے ایک کالعدم ہو جاتی ہے۔ اگر واقعات مذ واقعات پہنچائے جائیں۔ ایسے رویہ فائدہ کے لئے نہ تھا۔ جن کے روبرو کے ص ٦٣٦ میں اسی رائے کی تائید شخص اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے مقدمات مدراس میں ہوا ہے تو یہ نہیں نیتی سے مشتہر کیا گیا تھا۔ جس سے سے نہ از روی کینہ کے لکھا گیا تھا۔ بغ گئی ہے وہ غیر ضروری ہے اور اپنی ہ

صفحہ ٤٧٥

نامعقول یا بد چلن کا بغیر کسی بنیاد کے نہیں ہونا چاہئے۔ یہ کوئی صفائی نہیں ہے کہ ملزم ایمانداری سے سچے طور پر یقین کرتا تھا کہ یہ الزام سچا ہے۔ ایک نکتہ چین کو ہر وقت اختیار ہے کہ وہ مصنف کی رائے یا خیالات پر نکتہ چینی کرے۔ لیکن اس کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی آدمی کے چال چلن پر ہتک آمیز ریمارک کرے۔ لعل چند اپنی تعزیرات ہند میں اس طور پر ذیل کی سطور میں لکھتا ہے۔ کسی آدمی کے افعال اچھے ہوں یا برے اپنی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب تک کہ وہ اس پر دارو مدار ہوں۔ کسی کو حق نہیں ہے کہ ان کو لوگوں کے سامنے پیش کرے۔ ہر ایک آدمی قانونی حق رکھتا ہے کہ جو کچھ اس کے متعلق ہے اسی کے متعلق ہے۔ خواہ وہ روپے ہوں یا خیالات ہوں۔ خواہ اخلاقی افعال ہوں۔ آڈگر اپنے لائیل اور سلنڈر میں ص ٥٦ پر لکھتا ہے۔ اگر کوئی آدمی مستغیث کے ذاتیات پر بلاضرورت حملہ کرے تو وہ جوابدہ نہیں ہو سکتا۔ کونٹر چارج ہو جاتا ہے اور اگر مضر حیثیت ہو تو لائیل ہو جاتا ہے۔ ایک اخبار میں تشہیر کرنے کی طرف سے نیک نیتی کا سوال پیدا ہو سکتا ہے اور ملزم کو ان مستثنیات کی حفاظت کے مفاد سے محروم کر سکتا ہے۔ ذیل کے اقتباس میں بیان کیا گیا ہے۔ نیلسن اپنی تعزیرات ہند کے ص ٥٩١ میں لکھتا ہے کہ ایک سچا الزام یا جھوٹا الزام لگایا جاوے یا چھاپ دیا جاوے جو پبلک کے فائدہ کے واسطے ہو تو وہ بھی بوجہ طرز تشہیر و اخبارات لکھنے والے کو مفاد مستثنیات سے محروم کر سکتا ہے۔ اس صورت میں بھی کہ جب کہ یہ تشہیر مفاد عام کے لئے ہو یعنی یہ کہ عوام الناس کے ایک طبقہ کے مفاد کے لئے تو بھی مستثنیات اول کی رعایت کالعدم ہو جاتی ہے۔ اگر واقعات مذکورہ کو مستغیثین کی نسبت زیادہ وسیع دائرہ ناظرین تک وہ واقعات پہنچائے جائیں۔ ایسے رویہ سے یہ تجویز قرار پاسکتی ہے کہ بیان مذکورہ عوام الناس کے فائدہ کے لئے نہ تھا۔ جن کے روبرو بیان مذکور پیش کرنا مطلوب تھا۔ لال چند اپنی تعزیرات ہند کے ص ٦٣٦ میں اسی رائے کی تائید کرتا ہے جو حسب ذیل الفاظ میں ظاہر کی گئی ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے کوئی بیان مضر حیثیت عرفی کسی اخبار میں چھپوائے جیسا کہ مقدمات مدراس میں ہوا ہے تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ بیان مذکور اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے نیک نیتی سے مشتہر کیا گیا تھا۔ جس سے کہ مستغیث کی حیثیت کو نقصان پہنچانا بے احتیاطی یا لاپروائی سے نہ از روی کینہ کے لکھا گیا تھا۔ مقدمات مدراس میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ جو طرز تشہیر کی اختیار کی گئی ہے وہ غیر ضروری ہے اور اپنی رعایت قانونی سے بڑھ کر قدم مارا گیا ہے اس لئے ملزم محفوظ ٢٠١

صفحہ ٤٧٦

نہیں ۔ دیکھو مدراس ج ٥ ص ٢١٤ ، ج ٦ ص ٣٨١ اس رائے کی تائید جلد ١٩ بمبئی ص ٧٠٣ سے ہوتی ہے۔ جہانکہ یہ قرار دیا گیا ہے کہ تشہیر سے مفاد عامہ مقصود نہ تھا۔ کیونکہ اخبار میں تشہیر کی گئی تھی۔ مقدمہ ہذا میں جملہ ضروری اجزاء جرم ازالہ حیثیت عرفی موجود ہیں۔ اتہامات سخت قسم کے لگا کر مستغیث کی چال و چلن پر مشتہر بایں ارادہ کئے گئے ہیں کہ اس کی حیثیت عرفی کو نقصان پہنچے۔ کھلے کھلے طور پر وہ بیانات مزیل حیثیت عرفی ہیں اور ہم وطنوں کی نگاہ میں مستغیث کی قدرومنزلت کو ان سے نقصان پہنچتا ہے۔ یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور از راہ کینہ لگائے گئے ہیں اور ایک مذہبی کتاب میں جو عام مسلمانوں کے استعمال کے لئے ہے مشتہر کئے گئے ہیں۔ نیک نیتی ان میں بالکل نام کو نہیں۔ القصہ ١٣؍ جنوری ١٩٠٣ء کو ملزم نمبر ١ نے ایک کتاب مواہب الرحمٰن تصنیف کی اور اسے مشتہر کیا۔ ملزم نمبر ٢ نے اسے چھاپ کر فروخت کیا۔ ١٧؍ جنوری ١٩٠٣ء کو کتاب مذکور بمقام جہلم تقسیم کی گئی۔ جہان کہ مستغیث نے ملزمان کے برخلاف مقدمات کئے ہوئے تھے اور ان کی سماعت ہورہی تھی۔ ملزمان بذریعہ وارنٹ وہاں حاضر ہوئے تھے۔ اس کتاب میں ایسے الفاظ موجود ہیں جن کو سادہ سادہ معنوں میں اگر لیا جاوے تو بھی مزیل حیثیت عرفی ہیں۔ کیونکہ سخت قسم کے اتہام چال چلن مستغیث پر ان میں لگائے گئے ہیں۔ بروئے رعایات تشریح ومستثنیات دفعہ ٤٩٩ تعزیرات ہند جو صفائی پیش کی گئی ہے وہ بالکل ناکام رہتی ہے۔ بموجب سند کتاب اوجر در بارہ لائبل صفحہ ١٥ ایسے الفاظ قابل مواخذہ ہوا کرتے ہیں۔ اگر وہ الفاظ جھوٹے اور مزیل حیثیت ہوں خواہ سہواً یا اتفاقیہ طور پر ان کی تشہیر ہو جائے یا خواہ نیک نیتی کے ساتھ ان کو سچا سمجھ کر ان کی تشہیر کی جاوے۔ صفحہ ١٨٤ کتاب مذکور میں مندرج ہے کہ اگر کسی شخص کو ایک خط بدیں اختیار ملے کہ اس کی تشہیر کی جائے تو تشہیر کنندہ بری الذمہ نہ ہوگا۔ اگر اسے کسی اخبار میں مشتہر کرے جب کہ الفاظ لائبل والے اس میں ہوں۔ پس ثابت ہوا کہ ملزم نمبر ١ مجرم زیر دفعہ ٥٠٠ اور ملزم نمبر ٢ زیر دفعہ ٥٠١، ٥٠٢ تعزیرات ہند ہے اور ان کو ان جرائم کا مجرم تحریر ہذا کی رو سے قرار دیا جاتا ہے۔ اب فیصلہ کرنا نسبت سزا کے رہا۔ مدعا سزا سے صرف یہی نہیں ہوتا کہ مجرم کو بدلہ اس کے فعل کا دیا جائے۔ بلکہ اس کو آئندہ کے لئے ایسے جرم سے روکنے کا منشاء ہوتا ہے۔ صورت ہذا میں ایک خفیف جرمانہ سے یہ مطلب حاصل نہیں ہوسکتا۔ خفیف رقم جرمانہ کی مؤثر اور رکاوٹ پیدا کرنے والی نہ ہوگی اور غالباً ملزم اسے محسوس نہ کرے گا۔ ہر روز اسے بیشمار چندہ پیروؤں سے آتا

٢٠٢

صفحہ ٤٧٧

ہے جو ملزم نمبر ١ کے لئے ہر قسم کے ایثار کرنے کو تیار ہیں۔ ان حالات میں تھوڑا سا جرمانہ کرنے سے ایک خاص گروہ کو جو بیگناہوں کا ہے سزا ہوگی۔ دراصل اصلی مجرمان پر اس کا کچھ اثر نہیں پڑے گا۔ ملزم نمبر ١ کی عمر اور حیثیت کا خیال کر کے ہم اس کے ساتھ رعایت برتیں گے۔ ملزم نمبر ١ اس امر میں مشہور ہے کہ وہ سخت اشتعال دہ تحریرات اپنے مخالفوں کے برخلاف لکھا کرتا ہے۔ اگر اس کے اس میلان طبع کو بر محل نہ روکا گیا تو غالباً امن عامہ میں نقص پیدا ہوگا۔ ١٨٩٧ء میں کپتان ڈگلس صاحب نے ملزم کو ہجو قسم تحریرات سے باز رہنے کے لئے فہمائش کی تھی۔ پھر ١٨٩٩ء میں مسٹر ڈوئی صاحب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے اس سے اقرار نامہ لیا کہ ہجو قسم نقض امن والے فعلوں سے باز رہے گا۔ نظر بر حالات بالا ایک معقول تعداد جرمانہ کی ملزم نمبر ١ پر ہونی چاہئے اور ملزم نمبر ٢ پر اس سے کچھ کم۔ لہذا حکم ہوا کہ ملزم نمبر ١ ٥٠٠ روپیہ جرمانہ دے اور ملزم نمبر ٢ ٢٠٠ روپیہ ورنہ اوّل الذکر چھ ماہ اور آخر الذکر ٥ ماہ قید محض میں رہیں۔ حکم سنایا گیا۔ ٨ر اکتوبر ١٩٠٤ء دستخط حاکم!

مرزا قادیانی کی اپیل

اگرچہ مرزا قادیانی کا شان مسیحائی تو اس امر کا متقاضی تھا کہ وہ اپنی ان تکالیف مالی و بدنی کا جو ان کو اس مقدمہ کے طفیل نصیب ہوئیں۔ بدلہ عالم عقبی پر چھوڑ دیتے اور اپنی مصائب کا شکوہ بارگاہ احکم الحاکمین میں پیش کرتے۔ کیونکہ یہ سب حادثات قدرت کی طرف سے ان کو حاصل ہوئے تھے۔ لیکن آپ وہ مسیح نہیں جن کا بھروسہ محض آسمانی عدالت پر ہو اور نہ آپ ان پاک نفوس سے ہیں جو ہر حال میں دکھ درد کے وقت یہ کہہ کر "انما اشکوا بثي وحزني الی الله" معاملہ کو حوالہ باخدا کرتے ہیں۔ بلکہ آپ تو مجازی حکام کی عدالتوں کے ذریعہ حق الیقین سمجھتے ہیں اور اپنے تنازعات کو ”فردوه الی الله والرسول “ کے مصداق بنانے کے بجائے عدالت حکام مجاز کو ہی مرجع و مآب قرار دیتے ہیں۔ آخر کار آپ نے بعدالت مسٹر بری صاحب سیشن جج بہادر قسمت امرتسر ٥ر نومبر ١٩٠٤ء کو اپیل داخل کیا اور اپیل میں علاوہ دیگر عذرات کے بڑی عاجزی سے اپنی کبرسنی اور واجب الرحم حالت جتا کر ان مصائب کا جو دوران مقدمہ میں آپ کو نصیب ہوئیں شکوہ کیا اور اس بات کا بہت کچھ رونا روئے کہ صاحب مجسٹریٹ نے دوران مقدمہ میں ان کے بڑھاپے پر کوئی رحم نہیں کیا اور طرح طرح کی صعوبات میں مبتلا رکھ کر آخر کار ایک سنگین سزا

٢٠٣

صفحہ ٤٧٨

بھی دے دی۔ اپیل کی آخری پیشی ٧؍ جنوری ١٩٠٥ء کو قرار پائی۔ سیشن جج نے مستغیث کو بھی نوٹس دے دیا تھا۔ چنانچہ مستغیث اصالتاً اور ملزمان کی طرف سے مسٹر پینی صاحب ایڈووکیٹ و خواجہ کمال الدین صاحب وکیل پیش ہوئے۔ جانبین کی بحث سننے کے بعد صاحب سیشن جج نے اپیل ملزمان منظور کیا اور واپسی جرمانہ کا حکم دیا۔

لیکن جو ذلتیں قدرت کی طرف سے مقدر تھیں۔ وہ دوران مقدمہ میں حاصل ہو چکی تھیں اور وہ کبھی واپس نہیں ہو سکتی تھیں۔ نیز جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے۔ مرزا قادیانی بموجب اپنی اصطلاح کے جو تریاق القلوب میں کئی سال پہلے اپنے قلم سے لکھ چکے تھے۔ سزا کی منسوخی اور جرمانہ کی واپسی سے لفظ بری کے مصداق نہیں ہو سکتے۔ گو سیشن جج اپنی اصطلاح میں ان کو بری ہی کیوں نہ لکھے۔ مرزا قادیانی لکھ چکے ہیں کہ بری وہ ہے جس کے ذمے فرد جرم عائد نہ ہو اور پہلے ہی مخلصی حاصل کر لے جس پر فرد جرم لگ گئی ہو۔ وہ ہرگز بری نہیں کہلا سکتا۔ زیادہ سے زیادہ اس کو مجرم کہہ سکتے ہیں۔ مقدمہ ہذا میں فرد جرم لگنے کے علاوہ سزا بھی ہو چکی تھی۔ پھر مرزا قادیانی کے مرید بر خلاف تحریر مرشد کے (جو تریاق القلوب میں لکھی جا چکی ہے) کس منہ سے کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی بری ہو گئے اور یہ ان کا ایک معجزہ ظاہر ہوا۔ چونکہ فیصلہ اپیل کو قبل ازیں مرزائیوں نے کثرت سے چھاپ کر ملک میں شائع کر دیا ہوا ہے۔ اس لئے اب یہاں درج کرنا تحصیل حاصل ہے۔

خاتمہ کتاب

پہلے ہم اس قادر ذوالجلال رب مستعان کا ہزار ہزار شکریہ بجالاتے ہیں جس نے اس عظیم الشان معرکہ میں ابتداء سے انتہاء تک محض اپنے فضل و کرم سے ہماری مدد کی۔ مرزائی لشکر نے اپنی پوری طاقت سے ہم پر دھاوا کیا اور ان کے غلط خیال میں تھا کہ ہم پل کے پل میں ان کو نیست و نابود کر دیں گے۔ لیکن ہمارے قادر و قدیر مولیٰ ذات کبریاء نے ان کے اس پندار و غرور کو آخر خاک میں ملا دیا اور اپنے ضعیف اور ناتوان بندگان کو وہ ہمت و استقلال بخشا کہ کسی مرحلہ میں بھی ہمارا حوصلہ پست نہ ہوا اور ہر ایک میدان میں زبردست حریف ہمارے مقابلہ میں منہ کے بل گرتا رہا۔ ابتداء میں جب یہ معرکہ شروع ہوا تو مرزائی جماعت کی طاقت اور ان کے اتفاق اور ان

٢٠٤

صفحہ ٤٧٩

کی لاف و گزاف کو سن کر ہر ایک شخص ہمیں خوف دلاتا تھا کہ مقابلہ بہت مشکل نظر آتا ہے۔ تمہارا دشمن بہت قوی ہے۔ اس کے پاس مال وزر وافر ہے۔ ان کی جماعت میں قابل تعریف اتفاق ہے۔ قانون پیشہ اصحاب ( وکلاء و بیرسٹر ) ان کے گھر کے ہیں۔ ڈپٹی ، جج ، وکیل وغیرہ ان کے فدائی اور حلقہ مریدین میں داخل ہیں۔ اس وقت ہماری طرف سے یہی جواب ہوتا تھا کہ دشمن اگر قوی است نگہبان قوی تر است ۔ اگر خدا کو منظور ہے تو دنیا دیکھ لے گی کہ مقابلہ یوں ہوا کرتا ہے۔

چنانچہ آخر ایسا ہی ہوا کہ مخالف کو معلوم ہو گیا کہ ؎

کہ عشق آسان نمود اوّل ولے افتاد مشکلہا

چھیڑ تو بیٹھے تھے لیکن آخیر میں اپنے منہ سے کہتے تھے کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ ہم یوں خراب ہوتے ہیں تو مقدمہ بازی کا نام تک نہ لیتے ۔ بہر حال یہ تائید ایزدی تھی۔ ورنہ ہم کیا تھے اور ہماری طاقت کیا۔ ہم ایزد متعال کی عنایت اور مہربانی کا شکریہ کس طرح ادا کر سکتے ہیں۔

اگر ہر موئے من گردد زبانم

ادائے شکر مولیٰ کے بعد ہم ان مخلص احباب واخوان اور مہربانوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس نازک وقت میں محض اخوت اسلامی سے ہم سے ہمدردی کی اور حتی الوسع قلبی جانی مالی معاونت سے دریغ نہ فرمایا۔ جزاہم اللہ خیر الجزاء! چونکہ فریق مخالف کے جانباز مرید اس موقعہ پر روپوں کا مینہ برسا رہے تھے اور ہر طرف سے ہزاروں کی تعداد میں ان کو دھڑا دھڑ درہم ودینار آ رہے تھے۔ اس لئے ہم اپنی اکیلی مالی طاقت سے ان کا مقابلہ کس طرح کر سکتے تھے۔ لیکن پھر بھی ہم نے کسی صاحب کے سامنے دست سوال دراز ہر گز نہ کیا اور جو کچھ اپنے پاس تھا۔ اس کو بے دریغ خرچ کرتے رہے۔ لیکن خدائے کریم نے بعض ہمدردان اسلام کے دلوں میں تحریک پیدا کردی۔ وہ بدوں ہمارے کہنے کے ہماری مدد کرنے لگے اور جس طرح سے ہو سکا انہوں نے ہماری معاونت کی۔ ذیل میں چند حضرات کا بالخصوص تذکرہ کر کے باقی تمام ان حضرات کا جنہوں نے ہم سے ہمدردی فرمائی ہم تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور حق تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ان کو جزاء خیر عطاء فرمادے۔

سلطان راجہ جہانداد خان صاحب سی آئی ای

راجہ صاحب ممدوح الشان جن کے نام نامی سے اسلامی دنیا عموماً واقف ہے اور جو

٢٠٥

صفحہ ٤٨٠

بلحاظ حسبی نسبی فضائل کے مستغنی من التعریف والتوصیف ہیں۔ آپ دنیوی اقتدار کے رو سے ممتاز زمانہ ہونے کے علاوہ علمی کمالات میں بھی اعلیٰ پایہ رکھتے ہیں۔ خصوصاً علم عربی میں آپ کو پوری مہارت حاصل ہے۔ قرآن کریم کے لغات اور معارف بیان کرنے لگیں تو سننے والے کو حیرت میں ڈال دیتے تھے۔ مسلمان رؤسا میں سے میں نے علوم عربیہ کا ایسا کوئی فاضل پنجاب میں نہیں دیکھا۔ یہی باعث ہے کہ آپ اہل علم کی قدر کرتے ہیں اور علماء دین کی تعظیم فرماتے ہیں۔ اوائل میں جب مرزا قادیانی نے اپنی چند کتابیں تائید اسلام میں شائع کیں اور اپنا دعویٰ صرف ملہمیت مجددیت تک محدود رکھا تو راجہ صاحب کو مرزا قادیانی سے حسن ظن تھا اور انہوں نے ان کو بہت کچھ مالی امداد بخشی تھی۔ مرزا قادیانی بھی اس زمانہ میں آپ کے مداح تھے اور اپنی چند تصانیف میں انکو ملہم من اللہ مانتے رہے۔ لیکن راجہ صاحب نے جب مرزا قادیانی کا دعویٰ رسالت ونبوت ان کی بعض مصنفات میں کھلے طور سے لکھا ہوا دیکھا تو فوراً کہہ اٹھے۔ ”انا بری منه ومن معتقدته“ اس وقت سے آپ مرزا قادیانی کے دعاوی سے سخت متنفر ہیں۔ جناب ممدوح کو ہمارے خاندان سے خاص محبت و شفقت ہے اور ہم پر ہمیشہ نظر عنایت رکھتے ہیں۔ میرے فاضل بھائی مولانا ابوالفیض مولوی محمد حسن فیضی مرحوم سے آپ کو خاص محبت تھی اور مرحوم کے کئی ایک عربی، فارسی قصائد میں آپ کا ذکر خیر پایا جاتا ہے۔ اس وقت مرحوم کے خلف الصدق عزیز مولوی فیض الحسن صاحب طال عمرہ جو دارالعلوم نعمانیہ میں تعلیم پاتے ہیں۔ راجہ صاحب کی طرف سے وقتاً فوقتاً ان کو بھی کافی مدد پہنچتی رہتی ہے۔

ممدوح الصدر کی طرف سے ہمیں سب سے بڑھ کر مقدمات کے اثناء میں مالی مدد پہنچتی رہی اور نیز آپ کے قابل قدر مشوروں سے ہم مستفید ہوتے رہے۔ ہم صاحب ممدوح کا شکریہ ادا کرنے کے لئے کافی الفاظ نہیں پاتے، رب العزت سے یہی دعا ہے۔ ”اللهم ابد اقباله واحفظ اله وعياله“ افسوس کہ راجہ صاحب ممدوح کا اب انتقال ہو چکا ہے۔ خدا غریق رحمت فرمائے اور پسماندگان کو با اقبال کرے۔

شکریہ معاونین

جن مسلمان بھائیوں نے اس موقعہ پر اسلامی ہمدردی کے رو سے ہماری مالی اعانت کی

٢٠٦

ان میں مسلمانان جہلم و لاہور اور مسلمانان گوجـ شکریہ ادا کرتے ہیں۔ بالخصوص مسلمانان گورداسـ

مسلمانان گورداسپور

ہم گورداسپور کے مسلمانوں کی مہـ بہت اچھا سلوک کیا اور ہم باوجود مسافرت کے میں جب مقدمات جہلم سے منتقل ہو کر گورداسـ قدر دور دراز مسافت پر جانا ایک سخت مصیبـ امن و آرام حاصل ہوگا۔ لیکن گورداسپوریوں وہاں آرام و راحت معلوم ہوتی تھی اور مرزا قـ اخبار میں لکھنا پڑا کہ مکان تک ان کو وقت پـ اور شیخ نبی بخش صاحب وکیل گورداسپور ۔ رہے گا۔ صاحب مقدم الذکر اپنے خرچ پـ کرتے رہے۔ ایسا ہی صاحب مؤخر الذکـ میں کئی کئی دن اجلاس عدالت میں گزارتے کے زمرہ میں داخل ہو کر مروت واحسان کـ تعارف نہ تھا۔ کسی قسم کے طمع اور فائدہ کـ ہمدردی دکھائی۔ ہم ان کی عنایات کا کسی طر احسن الجزاء“ ایک اور صاحب لالـ برائے نام فیس پر پیروی مقدمات میں ایک صاحب خواجہ عبدالرحمن صاحب اکـ اس کا شکریہ ہم سے ادا نہیں ہو سکتا۔ ہمـ لئے کھانا پکانے کی تکلیف آپ کے ذمـ

صفحہ ٤٨١

ان میں مسلمانان جہلم و لاہور اور مسلمانان گورداسپور کا نمبر اوّل ہے۔ ہم ان کا صدق دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ بالخصوص مسلمانان گورداسپور کی ہمدردی و اعانت قابل ذکر ہے۔

مسلمانان گورداسپور

ہم گورداسپور کے مسلمانوں کی مہربانی کا شکریہ ادا نہیں کر سکتے کہ انہوں نے ہم سے بہت اچھا سلوک کیا اور ہم باوجود مسافرت کے گورداسپور میں وطن سے زیادہ باآرام رہے۔ ابتداء میں جب مقدمات جہلم سے منتقل ہو کر گورداسپور میں گئے تو ہمارے دلوں کو سخت تشویش تھی کہ اس قدر دور دراز مسافت پر جانا ایک سخت مصیبت ہے اور ہمارے فریق مخالف کو ہر طرح سے وہاں امن و آرام حاصل ہوگا۔ لیکن گورداسپوریوں نے ہم سے وہ حسن سلوک کیا کہ ہم کو گھر سے بڑھ کر وہاں آرام و راحت معلوم ہوتی تھی اور مرزائی پارٹی کو وہاں اس قدر تکالیف کی شکایت تھی کہ الحکم کو اخبار میں لکھنا پڑا کہ مکان تک ان کو دقت سے کرایہ پر ملا۔ جناب میر احمد شاہ صاحب وکیل بٹالہ اور شیخ نبی بخش صاحب وکیل گورداسپور نے اسلامی اخوت کا وہ نمونہ دکھایا کہ مدۃ العمر ہمیں یاد رہے گا۔ صاحب مقدم الذکر اپنے خرچ پر گورداسپور میں جاتے رہے اور بلا فیس وغیرہ پیروی کرتے رہے۔ ایسا ہی صاحب مؤخر الذکر اپنے سب مقدمے چھوڑ کر بلا فیس ہمارے مقدمات میں کئی کئی دن اجلاس عدالت میں گزارتے رہے۔ الغرض دونوں حضرات نے قانون پیشہ اصحاب کے زمرہ میں داخل ہو کر مروت و احسان کا ایک اعلیٰ نمونہ دکھایا۔ باوجودیکہ ہم سے کسی قسم کا سابقہ تعارف نہ تھا۔ کسی قسم کے طمع اور فائدہ کی توقع نہ تھی۔ لیکن ہمیں غریب الوطن سمجھ کر صرف للہی ہمدردی دکھائی۔ ہم ان کی عنایات کا کسی طرح سے بھی شکریہ ادا نہیں کر سکتے۔ ”جزاہم اللّٰہ احسن الجزاء“ ایک اور صاحب لالہ مولا مل صاحب وکیل نے بھی ہماری بہت مدد کی اور صرف برائے نام فیس پر پیروی مقدمات میں انہوں نے کمال سرگرمی دکھلائی۔ خدا ان کو خوش رکھے۔ ایک صاحب خواجہ عبدالرحمن صاحب ایجنٹ شیخ علی احمد صاحب وکیل نے جو کچھ ہم سے ہمدردی کی اس کا شکریہ ہم سے ادا نہیں ہو سکتا۔ ہماری جماعت کے جس قدر اشخاص ہوتے تھے۔ سب کے لئے کھانا پکانے کی تکلیف آپ کے ذمہ تھی اور چارپائیاں بستر وغیرہ کا سارا انتظام ان کے سپرد تھا

٢٠٧

صفحہ ٤٨٣

اور بھی کئی تکالیف ان کے ذمہ تھیں۔ لیکن اس جوانمرد نے اس کام کو ایسی خوبی سے اخیر تک نبھایا کہ باید و شاید جزاہ اللہ خیرا! خواجہ صاحب کا ایک فرزند رشید خواجہ عبدالحئی صاحب جو اس وقت اسلامیہ سکول میں تعلیم پاتا تھا۔ اب تکمیل علوم عربیہ کے بعد جامعہ ملیہ دہلی میں شیخ التفسیر ہے۔ ہم عزیز خواجہ کی ترقی عزت اور ترقی مراتب کے لئے دست بدعا ہیں۔ اللهم زد فزد!

اور دو صاحبان مولوی اللہ دتہ و مسمی محمد خیاط سوہل ضلع گورداسپور کی ہمدردی کے بھی ہم مشکور ہیں۔ جتنا عرصہ مقدمہ رہا آپ اپنا سب کام چھوڑ کر وہاں ہی رہے اور حتی الوسع ہمارے ممد و معاون بنے رہے۔ (اے خدا تو ان کو جزائے خیر عطا فرما)

ایک مولوی صاحب مولوی عبدالسبحان صاحب ساکن گلیانہ ضلع گجرات جو مسانیاں تحصیل بٹالہ میں معلم سادات کرام تھے ان کی مہربانیوں کا شکریہ ہم ہرگز ادا نہیں کر سکتے۔ سب کاروبار چھوڑ کر ہمارے ساتھ رہے اور آخیر تک رفاقت کا نبھایا ہم عمر بھر میں ان کو یاد رکھیں گے۔ جزاہ اللہ رب الجزاء! علاوہ ازیں گورداسپور کے تمام ہندو اور مسلمان اصحاب نے ہم سے پوری ہمدردی دکھائی۔ تمام ادنیٰ واعلیٰ ہمارے خیر خواہ تھے اور سب کی زبان پر یہی دعا تھی کہ خدا تم کو کامیاب کرے۔ اگر چہ وہ زمانہ گزر گیا۔ لیکن گورداسپوریوں کی محبت کا اثر ہمارے دلوں سے کبھی زائل نہ ہوگا۔

ہم وطن احباب

دوران مقدمہ میں چند مخلص ہم وطن احباب گورداسپور میرے رفیق و ہمدم رہے۔ ان میں سے مولانا مولوی غلام محمد صاحب قاضی تحصیل چکوال اور مولوی محمد حسن جی صاحب قاضی تحصیل جہلم بطور گواہان استغاثہ اور مولوی پیر منور شاہ صاحب ساکن ٹلہ پیراں تحصیل جہلم و مولوی حکیم غلام محی الدین صاحب ساکن دیالی (سرگودھن) بطور گواہان صفائی مطلب کرائے گئے تھے۔

افسوس ان میں سے اوّل الذکر ہر سہ احباب کا انتقال ہو چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی ارواح کو جنت الفردوس میں اپنی نعماء وافرہ سے بہرہ یاب فرمائے اور ان کے پسماندگان کو حوادث دہر سے محفوظ و مامون رکھے۔

٢٠٨

مولوی غلام محی الدین صاحب دیالوی تصنیف ان ہی کے اصرار سے اشاعت پذیر ہو رہی آپ کو علمی کتابوں سے خاص شغف ہے اور مطب اخبارات و رسائل کے عاشق ہیں۔ غرض ان کا کتب افسوس کہ آپ کی معہ اپنے معزز بھائی نہیں ہے۔ البتہ برخوردار مولوی فضل کریم مدرس نو مولود مسعود بخشا ہے۔ خدا اس کو عمر خضر جیسی عطاء امیدیں اسی نور نظر سے وابستہ ہیں۔ ”اللهم احفظ

توجہ مشائخ کرام

ہمارے اصلی معین و مددگار ہمارے م علی شاہ صاحب سجادہ نشین گولڑہ شریف کی خا برکت سے ہمارے جملہ مراحل کامیابی سے طے ہوئے تو میں حضرت والا کی خدمت میں باریاب طرف سے ہر قسم کے منصوبے قائم ہو رہے ہیں دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان کے مخالف نال بات سے تم بالکل بے فکر رہو۔ انشاء اللہ تعالیٰ کرے اس مقابلہ میں ہزیمت ہی اٹھائے گا خاص وقت دعا کے لئے مخصوص رہے گا اور م گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ایسے ایسے مشکل معرکہ تھا۔ لیکن حضرت پیر چشتی مدظلہ کی کرامت او جس وقت مرزا قادیانی کی جماعت کے بعض کر لے گئے تھے مرزائی اچھلتے کودتے پھر

صفحہ ٤٨٣

مولوی غلام محی الدین صاحب دیانوی جو میرے محرم راز دوست ہیں اور یہ دوبارہ تصنیف ان ہی کے اصرار سے اشاعت پذیر ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے۔ آپ کو علمی کتابوں سے خاص شغف ہے اور مطبوعات جدیدہ سے خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔ اخبارات ورسائل کے عاشق ہیں۔ غرض ان کا کتب خانہ قابل دید گویا ایک خاصہ لائبریری ہے۔ افسوس کہ آپ کی معہ اپنے معزز بھائی صوبیدار فضل الدین صاحب کوئی اولاد نرینہ نہیں ہے۔ البتہ برخوردار مولوی فضل کریم مدرس نور مڈل سکول سرگودھا کے گھر میں خدا تعالیٰ نے مولود مسعود بخشا ہے۔ خدا اس کو عمر خضر عطاء فرمائے۔ اب حکیم صاحب اور تمام گھر والوں کو امیدیں اسی نور نظر سے وابستہ ہیں۔ ”اللهم احفظه من بليات الزمن وحوادث الفتن“

توجہ مشائخ کرام

ہمارے اصلی معین و مددگار ہمارے حضرات مشائخ عظام تھے۔ حضرت اقدس پیر مہر علی شاہ صاحب سجادہ نشین گولڑہ شریف کی خاص توجہ ہمارے شامل حال تھی اور آپ ہی کی دعا برکت سے ہمارے جملہ مراحل کامیابی سے طے ہوتے رہے۔ ابتداء میں جب مقدمات شروع ہوئے تو میں حضرت والا کی خدمت میں باریاب ہوا اور عرض کی کہ اب دعا کا وقت ہے۔ دوسری طرف سے ہر قسم کے منصوبے قائم ہو رہے ہیں اور ادھر مرزا قادیانی کو یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان کے مخالف تکالیف میں مبتلا ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اس بات سے تم بالکل بے فکر رہو۔ انشاء اللہ تعالیٰ! تم کامیاب ہو گے اور مرزا جس قدر زور خرچ کرے اس مقابلہ میں ہزیمت ہی اٹھائے گا۔ میں عہد کرتا ہوں کہ جب تک یہ معرکہ ہے ایک خاص وقت دعا کے لئے مخصوص رہے گا اور حق تعالیٰ سے نصرت و کامیابی کی دعا کی جایا کرے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ایسے ایسے مشکل معرکہ پیش آئے کہ ہر طرح سے مایوسی کا سامنا نظر آتا تھا۔ لیکن حضرت پیر چشتی مدظلہ کی کرامت اپنا ایسا کرشمہ دکھاتی تھی کہ عقل حیران رہ جاتی تھی۔ جس وقت مرزا قادیانی کی جماعت کے بعض اشخاص حضرت والا کی اطلاع یابی سمن شہادت پر کرا کر لے گئے تھے مرزائی اچھلتے کودتے پھرتے تھے کہ دیکھو پیر گولڑوی عدالت میں حاضر ہونے

٢٠٩

صفحہ ٨٥

سے کس طرح بچ سکتا ہے۔ لیکن آپ کو خدا نے حاضری عدالت کی تکلیف سے بالکل محفوظ رکھا۔ حالانکہ مرزائیوں نے اس کے متعلق ناخنوں تک زور لگا لیا۔ کیا یہ پیر چشتی کی ایک روشن کرامت نہیں ہے۔ ایسا ہی دیگر مراتب میں بھی مرزائی جماعت کو ناکامی حاصل ہوتی رہی۔ ہم حضرت اقدس پیر صاحب مدظلہ کی اس باطنی توجہ کے کمال مشکور ہیں اور دعا ہے کہ ایزد تعالیٰ آپ کے ظل فیض کو دیر تک ممدود رکھے۔

ایک دوسرے حضرت اہل کمال جناب مولانا مولوی فتح محمد صاحب ساکن جنڈی شریف ضلع گورداسپور تھے۔ (جن کا افسوس کہ اب انتقال ہو گیا ہے) آپ فی الواقعہ ایک خدا رسیدہ اہل باطن کامل بزرگ تھے۔ آپ کی صحبت سے ایسی لذت اور حظ حاصل ہوتا تھا کہ تمام لذات دنیوی اس کے مقابلہ میں ہیچ ہیں۔ آپ علاوہ ظاہری علوم میں متبحر ہونے کے باطنی علوم (تصوف وسلوک) کے ایک دریا تھے۔ ایسے ایسے نکات اور معارف بیان فرماتے تھے کہ سن کر دل کو وجد ہوتا تھا۔ گورداسپور کے نواح کے لوگ تو آپ کی ذات والا پر فدا تھے اور بھی دور دراز اضلاع سے لوگ کثرت سے آ کر آپ کے فیض سے مستفید ہوتے تھے۔ آپ کو ہمارے حال پر خاص توجہ تھی اور ہمیشہ دعا فرماتے تھے۔ آپ کی طرف سے ہمیں مالی امداد بھی معقول ملتی رہی۔ خدا حضرت مغفور کو غریق لجہ رحمت فرمائے اور ان کے پس ماندگان کو برکت کثیر بخشے۔ اس وقت آپ کے جانشین خلیفہ مولوی محمد شاہ صاحب ہیں جو بہت بابرکت بزرگ ہیں۔

ایک مجذوب فقیر

جن دنوں چیف کورٹ (لاہور) میں درخواست ہائے انتقال مقدمات جانبین سے گزر رہی تھیں۔ مرزائیوں کی درخواست تھی کہ مقدمات گورداسپور میں ہوں اور ہماری درخواست تھی کہ جہلم میں ہوں۔ اتفاقاً انارکلی میں مجھے ایک مجذوب فقیر مل گئے۔ جن کے بدن کے کپڑے میلے کچیلے پہنے پرانے اور سر کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ مجھ سے السلام علیک کہہ کر پوچھنے لگے کہ جوان تم کون ہو۔ کہاں کے رہنے والے یہاں کیا کام ہے۔ چونکہ میں متفکر تھا۔ دوسرے روز چیف کورٹ میں پیشی تھی۔ کچھ سا جواب دے کر ٹالنا چاہا کہ فقیر میں جہلم کا رہنے والا

ہوں۔ یہاں کچھ اپنا کام ہے۔ فرمانے لگے کام ہے۔ چیف کورٹ میں تمہاری درخواستیں ہیں۔ ق گورداسپور میں ہو تمہاری درخواست نامنظور ہو منظور ہے کہ مفتری علی اللہ کو اس کے گھر میں ذلیل یاد رکھو آخر کار تم فتح یاب ہوگے۔ ا تمہارے لئے دست بدعا ہیں۔ یہ تمہارا اور مر ہے۔ دیکھو! مرزا قادیانی نہ نبی ہے نہ مہدی، نہ سوتا تھا اور اس کی بیوی دوسری چٹائی پر۔ مرزا قا کرتی ہے۔ سونے کے خلخال پہنتی ہے۔ یہ د ہے کہ زمین و آسمان اس کا کہنا مانتے ہیں۔ م جب اس میں فرعون داخل ہوا تو کہا مل جائی وسلامت پار ہو گیا۔ مرزا قادیانی کو طاقت سخت تکلیف میں ہے۔

یہ بھی خیال مت کرو کہ وہ مہد آمد کی اطلاع اہل اللہ کو دی جائے گی۔ و حلقہ میں ہوں گے۔ تم دیکھتے ہو سوائے نو دنیا کا کیڑا اور نورالدین بھی۔ تمام اہل ہیں۔ خبردار! گھبرانا مت، تائید الہی تمہ مخالف طرح طرح کی مصائب میں مبتلا عارضہ لاحق نہ ہوا۔ مرزا قادیانی غش کھا میں لایا گیا ۔ ”فاعتبروا یا اولی الا

مذکورہ بالا واقعات تو جناب

صفحہ ٤٨٥

ہوں۔ یہاں کچھ اپنا کام ہے۔ فرمانے لگے کام ہے۔ ہم سے چھپاتے ہو تمہارا قادیانی سے مقدمہ ہے۔ چیف کورٹ میں تمہاری درخواستیں ہیں۔ تم چاہتے ہو کہ مقدمہ جہلم میں ہو وہ چاہتے ہیں۔ - گورداسپور میں ہو تمہاری درخواست نامنظور ہوگی اور مقدمات گورداسپور میں ہوں گے۔ خدا کو منظور ہے کہ مفتری علی اللہ کو اس کے گھر میں ذلیل کیا جائے۔

یاد رکھو آخر کار تم فتح یاب ہوگے۔ اس کو ذلت بعد ذلت ہوگی۔ اس وقت تمام اہل اللہ تمہارے لئے دست بدعا ہیں۔ یہ تمہارا اور مرزا قادیانی کا مقابلہ نہیں بلکہ یہ اسلام و کفر کا مقابلہ ہے۔ دیکھو! مرزا قادیانی نہ نبی ہے نہ مہدی، نہ مجدد، نہ ولی، نبی کی تو یہ شان تھی کہ وہ ایک چٹائی پر سوتا تھا اور اس کی بیوی دوسری چٹائی پر۔ مرزا قادیانی کی بیوی سیکنڈ اور فرسٹ کلاس ریلوے میں سفر کرتی ہے۔ سونے کے خلخال پہنتی ہے۔ یہ دنیا طلبوں کا کام ہے۔ نبی اللہ کو یہ طاقت بخشی جاتی ہے کہ زمین و آسمان اس کا کہنا مانتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے دریا کو کہا پھٹ جا پھٹ گیا۔ پھر جب اس میں فرعون داخل ہوا تو کہا مل جا ایسا ہی ہوا۔ دشمن تباہ اور نبی اللہ معہ اپنے رفقاء کے صحیح و سلامت پار ہو گیا۔ مرزا قادیانی کو طاقت ہو تو تمہارے دل پر قابو حاصل کرے۔ اس وقت وہ سخت تکلیف میں ہے۔

یہ بھی خیال مت کرو کہ وہ مہدی ہے مہدی علیہ السلام جب آئیں گے تو پہلے ان کی آمد کی اطلاع اہل اللہ کو دی جائے گی۔ وہ سب ان کے ساتھ ہولیں گے۔ حفاظ و علماء ان کے حلقہ میں ہوں گے۔ تم دیکھتے ہو سوائے نور الدین کے اس کے ساتھ کون ہے۔ مرزا قادیانی بھی دنیا کا کیڑا اور نور الدین بھی۔ تمام اہل باطن اور علماء اسلام مرزا قادیانی کے دعاوی کے مخالف ہیں۔ خبردار! گھبرانا مت، تائید الٰہی تمہارے شامل حال رہے گی۔ تم کو کوئی تکلیف نہ ہوگی۔ مخالف طرح طرح کی مصائب میں مبتلا ہوگا۔ ایسا ہی ہوا۔ اس اثناء میں مجھے کبھی سر درد تک کا عارضہ لاحق نہ ہوا۔ مرزا قادیانی غش کھا کر کچہری میں گرے۔ فضل دین چارپائی پر اٹھا کر کچہری میں لایا گیا۔ "فاعتبروا یا اولی الابصار"

مذکورہ بالا واقعات تو جناب مرزائے قادیان کے دور حیات کے ہیں۔ ناانصافی ہوگی۔

٢١١

صفحہ ٤٨٦

اگر ہم اپنے دوست کے حالات وفات سے ناظرین کو محروم رکھیں۔ اس لئے آپ کی وفات کے متعلق بھی کسی قدر خامہ فرسائی کی جاتی ہے۔

وفات مرزا

ہر چند مرزا قادیانی دوسروں کی وفات کی خبریں سن کر خوش ہوتے اور اپنے کسی مخالف شخص کی مرگ سے اپنے نشانات اور پیش گوئیوں کے نمبرات میں اضافہ فرمایا کرتے تھے۔ مگر آخر کار بحکم ”کل نفس ذائقة الموت“ ایک دن وہ بھی آ پہنچا کہ بڑے بڑے دعاوی کے مدعی (مرزا قادیانی) عین ایام غربت میں دارالامان قادیان سے دور فاصلہ (شہر لاہور) میں ایک مہلک بیماری کالرا میں مبتلا ہو کر بہت ہی جلدی شکار نہنگ اجل ہو گئے۔ کسی شخص کی نیکی یا بدی یا اس کی بزرگی وغیرہ کا ثبوت اس کی وفات کے بعد بھلی یا بری شہرت سے ملتا ہے۔ جو نیک ہوتے ہیں۔ زبان خلق پر ان کی نیک شہادت ہوتی ہے۔ مقدس نفوس کی وفات کے بعد ان کی میت کی خاص عزت اور احترام ہوتی ہے۔ جس طرح زندگی میں ان سے فیض حاصل کرنے کے لئے مخلوق خدا حاضر ہو کر ان کے قدموں پر گرتی ہے۔ ان کی وفات پر ان کی میت کی زیارت کے لئے خلق خدا اطراف واکناف سے ٹوٹ پڑتی ہے۔ ان کے جنازہ میں شمولیت باعث سعادت سمجھی جاتی ہے اور ہر ایک زبان پر ان کا ذکر خیر جاری ہوتا ہے اور ہر ایک آنکھ ان کے غم میں خون کے آنسو بہاتی ہے۔

چند مقدس نفوس

اس کے ثبوت کے لئے چند ایک مقدس ہستیوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جن کی وفات کے بعد ان کے جنازہ کی عزت اور میت کا احترام کیا گیا۔

طرح نہ نکل سکتا تھا۔ آخر حاکم وقت نے فوج بھیجی اور اس کے اہتمام سے جنازہ نکلا۔

سے ان کا لباس پارہ پارہ ہو گیا۔

٢١٢

بند ہو گئے اور جامع مسجد کا منبر جس پر بیٹھ کر

لاکھ ہوا۔

یہودی مسلمان ہو گئے تھے۔

اس قدر تھا کہ نماز جنازہ باہر پریڈ میں پ موقوف کر کے شمولیت جنازہ کی۔

افسر وغیرہ شریک جنازہ ہوئے۔

ہونے کے قریباً پچاس ہزار نفوس شامل

کس قدر احترام ہوا۔ کس کس اہتمام گئی۔ جس کے تقدس و تبرک پر امت جو استقبال ہوا۔ اخبار بین حضرات ا کی اردل میں تھے۔ ہجوم خلائق کے نہیں لگایا جا سکا۔

صفحہ ٤٨٧

بند ہو گئے اور جامع مسجد کا منبر جس پر بیٹھ کر خطبہ پڑھتے تھے توڑ دیا گیا۔

لاکھ ہوا۔

یہودی مسلمان ہو گئے تھے۔

اس قدر تھا کہ نماز جنازہ باہر پریڈ میں پڑھی گئی۔ کارخانوں کے مزدوروں نے اس روز مزدوری موقوف کر کے شمولیت جنازہ کی۔

سر وغیرہ شریک جنازہ ہوئے۔

ہونے کے قریباً پچاس ہزار نفوس شامل ہوئے۔

کس قدر احترام ہوا۔ کس کس اہتمام واحتیاط سے کس پاک جگہ (بیت المقدس) میں پہنچا کر دفن کی گئی۔ جس کے تقدس و تبرک پر آیت قرآن بارکنا حولہ گواہ ہے۔ بیت المقدس میں میت کی آمد پر جو استقبال ہوا۔ اخبار بین حضرات اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔ سول وملٹری کے معزز افسران میت کی اردل میں تھے۔ ہجوم خلائق کے باعث شانہ سے شانہ چھلتا تھا۔ شرکاء جنازہ کی تعداد کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔

٢١٣

صفحہ ٤٨٩

مرزا قادیانی کا جنازہ

اب ہم مرزا قادیانی کے بعد از وفات حالات پر نظر ڈالتے ہیں۔ آپ کی موت وطن سے بہت دور اس وقت ہوئی۔ جب مقابلہ کے لئے آپ کے مخالف علماء آپ کو چیلنج کر رہے تھے اور میدان میں نکلنے کی پرزور دعوت دی جارہی تھی۔ یکا یک آپ ایک موذی مرض ہیضہ میں مبتلا ہو کر رہ گرائے عالم جاودانی ہو گئے۔ شرکاء جنازہ ڈیڑھ درجن سے زائد نہ تھے۔ عوام الناس نقلیں اتار کر مرنے والے کی تضحیک کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ پھر آپ کی نعش کو کس مپرسی کی حالت میں خردجال (مالگاڑی) پر لاد کر قادیان میں پہنچایا گیا۔ افسوس! مرنے والا بہت سی حسرتیں دل میں لے کر لحد میں جا سویا۔ ابھی تو دولہا بننا تھا۔ محمدی بیگم بیاہ لانی تھی۔ بوڑھے میاں اپنے پیارے صنم کو خوش نصیب رقیب (مرزا سلطان محمد) کے ہاتھ میں چھوڑ کر دنیا سے چل بسے۔ هيهات ثم هيهات ۔

جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا
ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا

متصل حالات وفات کے متعلق ذیل میں چند مضامین نثر و نظم سراج الاخبار جہلم مطبوعہ ٢/ جون و یکم ستمبر ١٩٠٨ء سے درج کئے جاتے ہیں۔

مرزا قادیانی کی ناگہانی موت

ہائے مرزا قادیانی مر گیا تہلکہ مرزائیوں میں ہے پڑا
سرنگوں ہے آج مینار المسیح قادیاں دارالحزن اب ہے بنا
دشمنوں کی موت پر ہنستے تھے کل آج اپنے گھر میں ہے ماتم بپا
کل شی هالک الاوجهه دوستو! انسان کی ہستی ہے کیا

افسوس! مرزا غلام احمد قادیانی مہدویت و مسیحیت اور نبوت ورسالت کے دعویدار جو ان دنوں اپنے آرامگاہ (قادیان) سے نکل کر شہر لاہور میں اقامت پذیر تھے اور بڑے زور وشور

٢١٤

سے لیکچروں اور وعظوں کے جلسے منا رہے تھے۔ یکا میں مبتلا ہو کر دن کے دس بجے اس دار فانی سے عالم راجعون ”لاہور سے ایک نامہ نگار اطلاع دیتے میں اسٹیشن ریلوے پر پہنچایا گیا اور اس وقت صرف نعش قادیان پہنچائی گئی۔ اللہ اکبر! اس واقعہ عبرت آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے۔ مرزا قادیانی ہوئے۔ علماء دنیا کو گھور رہے اور ان کو موت کی دعو ہی آدبوچا۔

مادر چہ خیالیم وا
کارے کہ خدا ک

آن کی آن میں کام تمام ہو گیا مرزا کہ اہل بصیرت اس کی طرف آنکھ کھول کر دیخ ونبوت بلکہ الوہیت) کا مدعی تھا جو کہتا تھا کہ خدا ب مؤطن“

”انى انا الرحمن اصرف عن .

یعنی میں (خدا) ہر موقع میں تیر برے مقدر کو پھیر دوں گا۔ ایسی بے کسی اور الہامات کو جھوٹا کر کے اگلے جہان کو چل دیا۔ راسخ مرید جو ہر وقت آپ کے ساتھ تھے۔ یک لاکھ مرید اس اڑے وقت میں کچھ حمایت کر سکا

صفحہ ٤٨٩

سے لیکچروں اور وعظوں کے جلسے منا رہے تھے۔ یکا یک ٢٦ مئی ١٩٠٨ء بروز سہ شنبہ مرض ہیضہ میں مبتلا ہو کر دن کے دس بجے اس دارفانی سے عالم جاودانی کو سدھار گئے۔ ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ لاہور سے ایک نامہ نگار اطلاع دیتے ہیں۔ پانچ بجے آپ کا جنازہ پولیس کی حفاظت میں اسٹیشن ریلوے پر پہنچایا گیا اور اس وقت صرف پچیس تیس آدمی جنازہ کے ساتھ تھے۔ آپ کی نعش قادیان پہنچائی گئی۔ اللہ اکبر! اس واقعہ عبرت افزاء سے دنیا نا پائیدار کی بے ثباتی کا نقشہ آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے۔ مرزا قادیانی تو کس دھن میں اپنے لن ترانیوں میں لگے ہوئے۔ علماء دنیا کو گھور رہے اور ان کو موت کی دھمکیاں دے رہے تھے کہ ناگاہ اجل نے ان کو خود ہی آ دبوچا۔

ما در چہ خیالیم و فلک در چہ خیال
کارے کہ خدا کند فلک را چہ مجال

آن کی آن میں کام تمام ہو گیا مرزا قادیانی کی موت کا عبرت ناک نظارہ اس قابل ہے کہ اہل بصیرت اس کی طرف آنکھ کھول کر دیکھیں وہ انسان جو بہت بڑے دعاوی (رسالت ونبوت بلکہ الوہیت) کا مدعی تھا جو کہتا تھا کہ خدا نے مجھے پکار کر کہہ دیا ہے کہ ”انی معک فی کل مؤطن“

(بدر مورخہ ٢٣ جنوری ١٩٠٨ء، تذکرہ ص ٧٤٨ طبع سوم)

(بدر مورخہ ٧ جنوری ١٩٠٨ء، تذکرہ ص ٦٩٢ طبع سوم)

یعنی میں (خدا) ہر موقع میں تیرے ساتھ ہوں۔ (٢) میں رحمان تیری طرف سے برے مقدر کو پھیر دوں گا۔ ایسی بے کسی اور بے بسی کی حالت میں جان دے کر اپنے ان تمام الہامات کو جھوٹا کر کے اگلے جہان کو چل دیا نہ تو الہام کنندہ نے رد تقدیر کیا نہ حاذق حکیم اور ڈاکٹر خاص مرید جو ہر وقت آپ کے ساتھ تھے۔ کچھ مدد کر سکے نہ شان مسیحیت نے ہی کچھ شفا بخشی نہ کئی لاکھ مرید اس اڑے وقت میں کچھ حمایت کر سکے۔ آخر موت کا پیالہ پینا پڑا اور موت بھی وہ جس کی

٢١٥

صفحہ ٤٩٠

نسبت آپ مدتوں سے الہام سنا رہے تھے کہ ایسی بیماریوں سے میں نے بالکل محفوظ رہنا ہے۔ کیونکہ ایسی موت کسی نبی صدیق ولی کے پاس تک نہیں آسکتی۔

(دیکھو بدر ١٦؍مئی ١٩٠٧ء)

طرفہ یہ کہ آپ بڑی تحدی سے پیش گوئیاں کر رہے اور الہام سنا رہے تھے کہ جب تک میرے تمام دشمن میری آنکھوں کے سامنے مر نہ جائیں میں نہیں مروں گا۔ ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب نے ٢؍ جولائی ١٩٠٧ء کو پیش گوئی کی تھی کہ مرزا چودہ ماہ تک مر جائے گا اور مرزا قادیانی نے اشتہار تبصرہ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩١) میں کھلے طور پر اعلان کر دیا تھا کہ ایسا ہرگز نہ ہوگا۔ بلکہ اس کے برعکس عبدالحکیم نے ہماری آنکھوں کے سامنے مرنا ہے اور ہماری عظیم الشان پیش گوئی پوری ہونی ہے۔ لیکن چونکہ یہ ساری باتیں اٹکل پچو تھیں اور منجانب اللہ نہ تھیں۔ سب بیکار گئیں۔ جیسا کہ عبدالحکیم نے الٰہی تفہیم سے پیش گوئی کی تھی وہ حرف بحرف پوری ہو کر لکل فرعون موسیٰ کے مضمون کو ثابت کر گئی اور مرزا قادیانی کے دعاوی منجانب اللہ نہ ہونے پر مہر ہو گئی۔ ”جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقا“ مرزا قادیانی ہر چند اپنی زندگی میں اس بات کے مدعی تھے کہ آپ دین اسلام کی حمایت اور مخالف ادیان کے قلع قمع کے لئے مبعوث ہوئے ہیں۔ لیکن دین اسلام کو آپ کے وجود مسعود سے کچھ فائدہ نہ پہنچا۔ مخالف ادیان کے لوگوں کو اسلام سے مشرف کرنا تو بجائے خود رہا آپ نے کروڑہا مسلمانان روئے زمین کو جو آپ کی رسالت کا کلمہ نہ پڑھیں ۔ اسلام سے خارج کر دیا اور کافر کہہ دیا اور اس بات پر اپنی موت سے پہلے تین چار روز بھی جب مسٹر فضل حسین بیرسٹر لاہور نے اس بارہ میں آپ سے گفتگو کی۔ بضد قائم رہے۔ تفرقہ ایسا پھیلایا کہ بھائی کو بھائی سے باپ کو بیٹا سے الگ کر دیا۔ اپنی جماعت کے آدمیوں کو مسجدوں میں جاکر باقی مسلمانوں کے ساتھ جماعت نماز میں شامل ہونے سے روکا۔ بلکہ ایک دوسرے کو سلام علیک کہنے سے بھی روک دیا۔ حج و زکوٰۃ کی ادائیگی آپ کے ماننے والوں سے قطعی چھوٹ گئی۔ نماز میں تخفیف دو تین کوس جانے سے بھی قصر نماز اور افطار روزہ کی اجازت عام تھی اور ذکر واذکار مجاہدات وریاضت کثرت عبادت کے تمام طریقے جو سلف صالحین میں زمانہ نبوت سے شروع ٢١٦

صفحہ ٤٩١

ہو کر آج کل چلے آتے تھے۔ بدعت ضلالت میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔ فخر و تعلی کا یہ حال تھا کہ خود کو حضرت علی اور امام حسن و حسین سے افضل سمجھتے تھے۔ عموماً مرزائی اخبارات میں ایسے کلمات آپ کی طرف سے ہمیشہ شائع ہوا کرتے تھے کہ ایک تم میں ہے جو علی سے بہتر ہے اور کہ صد حسین ست در گریبانم!

حالانکہ آج تک امت محمدیہ سے کسی بزرگ اسلام کو ایسا کہنے کی جرات نہ ہوئی تھی۔ یہاں تک ہی بس نہ تھی۔ بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بھی افضلیت کا ادعا تھا اور پکار کر کہتے تھے۔

اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بمنبرم

(درثمین فارسی ص ٧٩)

اور کہ

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(درثمین اردو ص ٢٢)

مرزا قادیانی کے دعاوی شرک جلی سے اعلیٰ تک پہنچ چکے تھے اور کہتا تھا کہ زمین و آسمان میرے تابع ایسے ہیں جیسے خدا کے تابع اور کہ میں خدا سے ہوں اور خدا مجھ سے اور میں خدا کی اولاد کے بمنزلہ ہوں۔ وقس علیٰ ذلک!

حالانکہ قرآن کریم نے ایسی باتوں کی بزور تردید کر دی ہوئی تھی۔ خیر جیسے دعاوی زبردست تھے۔ ایسا ہی مرزا قادیانی کا خاتمہ بھی نرالے طور پر ہوا۔ دارالامن (قادیان) سے جلاوطن ہو کر دار غربت لاہور میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ ہیضہ کی موت (جس کو کتے کی موت سے تعبیر کیا کرتے تھے) سے مرنا ڈاکٹروں، حکیموں کی تدابیر کا خاک میں مل جانا علماء کرام کا بار بار دعوت مناظرہ دینا پانچ ہزار روپیہ بھی پیش کرنا۔ مرزا کا میدان میں نہ نکلنا۔ حضرت حاجی صوفی سید جماعت علی شاہ صاحب دام برکاتہم کا بائیس مئی کو ہزارہا آدمیوں کے روبرو شاہی

٢١٧

صفحہ ٤٩٢

مسجد میں پیش گوئی کرنا کہ مرزا قادیانی بہت جلدی عذاب سے ہلاک ہوگا اور اس کے بعد چار دن کو تمام مخالف علماء کی موجودگی پر ہی یوں ناگہانی مہلک اور عذابدہ بیماری میں مبتلا ہو کر مر جانا یہ ایسے واقعات ہیں جو مرنے والے کے برخلاف زبردست اس امر کو پیش کر رہے ہیں کہ وہ مفتری علی اللہ تھا۔ اس نے دانستہ خدا پر جھوٹ باندھا اور اس کی سزا میں یہ واقعات اس کو پیش آئے۔ ”فاعتبروا یا اولی الابصار“

مرزا قادیانی کے وہ وعدے اب کہاں ہیں کہ محمدی بیگم ضرور میرے نکاح میں آئے گی۔ کیونکہ میرا اور اس کا آسمان پر نکاح ہو چکا ہے اور یہ ایسی اٹل پیش گوئی ہے کہ زمین و آسمان ٹل جائیں اور یہ نہ ٹلے اور کہ مولوی محمد حسن ضرور ضرور میری زندگی میں میرا مرید بن جائے گا اور کہ مولوی ثناء اللہ جو میرے برخلاف لکھا کرتا ہے میری زندگی میں مر جائے گا۔ وغیرہ، وغیرہ!

مرنے والا تو اب ان تمام باتوں کی جوابدہی سے عاجز ہو کر لحد میں جا سویا ہے۔ کیا اس کا کوئی حواری اب جواب دینے کی جرات کر سکتا ہے۔ ہمارے خیال میں جواب دینا تو قیامت تک بھی محال ہے۔ اب مرزائی دوستوں سے ہم با ادب کہتے ہیں۔

اب ہو چکی نماز مصلیٰ اٹھائیے

دیر کرنے کا اب موقعہ نہیں۔ مرزائی دعاوی سے تائب ہو کر جلدی اسلام قدیم کا دامن پکڑ لیں۔ والحق احق بالاتباع!

تاریخ وفات مرزا غلام احمد قادیانی

ہائے! ظالم موت تو نے کیا کیا آن کی اک آن میں کیا غم دیا
بیٹھے بٹھلائے یہ کیا صدمہ دیا راحت و آرام سب کا کھو گیا
صد ہزاران بندگان دہر کو خاک میں پامال تو نے کر دیا
جو کیا کرتے تھے بس دعوے بڑے اب کہیں ان کا نہیں ملتا پتا
بادشاہ مصر وہ فرعون بھی جو کہا کرتا تھا میں ہی ہوں خدا

٢١٨

آخرش پنجہ سے اے ظالم تیرے
ایسے ہی نمرود اور شداد کو
آہ! وہ ہامان باسامان بھی
کر دیا اے موت تو نے کام وہ
ہائے یعنی قادیان کا وہ رسول
جو کہ بن بیٹھا تھا مہدی اور مسیح
جس کی سچائی میں تھا لاکھوں نشاں
جس کی اب ادنیٰ سی خفگی سے جہان
زلزلوں کی اس قدر کثرت ہوئی
تیرے پنجے میں پھنسا ایسا کہ وہ
کہتے ہیں اب تو حواری ہائے ہائے
یہ بلائے ناگہانی کا الم
جو ہمارے میرزا کی روح کو
چل بسا تو خود تو دنیا سے ولیک
ہم نے جانا قادیاں دار الاماں
ہم نے مانے آپ کے الہام سب
تو کرشن اور مہدی اور مسیح
کہہ دیا جو کچھ کہ تو نے الغرض
تیرے مرنے پر جو رسوا ہم ہوئے
اب مخالف کہتے ہیں سارے ہمیں
ہو گئے الہام جھوٹے آپ کے
صفحہ ٤٩٣
آخرش پنجہ سے اے ظالم تیرے وقت آنے پر نہ ہرگز بچ سکا
ایسے ہی نمرود اور شداد کو تو نے چپکے دم کے دم میں آ لیا
آہ! وہ ہامان باسامان بھی چھوڑ کر دنیائے فانی چل بسا
کر دیا اے موت تو نے کام وہ جس کا تھا مجھ کو ہمیشہ سے مزا
ہائے یعنی قادیان کا وہ رسول جس کا تھا شہرہ جہاں میں مچ رہا
جو کہ منصبہائے مہدی اور مسیح زور بازو سے تھا حاصل کر چکا
جس کی سچائی میں تھا لاکھوں نشاں آسماں صبح ومسا دکھلا رہا
جس کی اب ادنیٰ سی خفگی سے جہان مبتلائے رنج طاعون ہو گیا
زلزلوں کی اس قدر کثرت ہوئی ہو گئی عالم میں اک محشر بپا
تیرے پنجہ میں پھنسا ایسا کہ وہ تا قیامت ہو نہیں سکتا رہا
کہتے ہیں اب تو حواری ہائے ہائے ہم پہ کیا قہر خدا نازل ہوا
یہ بلائے ناگہانی کالرہ آ گیا لاہور میں بن کر قضاء
جو ہمارے میرزا کی روح کو لے کے سوئے عالم برزخ اڑا
چل بسا تو خود تو دنیا سے ولیک ہم ہیں رنج وغم میں تیرے مبتلا
ہم نے جانا قادیاں دار الاماں اور مانا تجھ کو اپنا مقتداء
ہم نے مانے آپ کے الہام سب اور تیقن تیری باتوں پر کیا
تو کرشن اور مہدی اور مسیح آ گیا دنیا میں بن کر رہنما
کہہ دیا جو کچھ کہ تو نے الغرض ہم نے آمنا وصدقنا کہا
تیرے مرنے پر جو رسوا ہم ہوئے اس کو یا ہم جانتے ہیں یا خدا
اب مخالف کہتے ہیں سارے ہمیں پیشوا وہ اب تمہارا کیا ہوا
ہو گئے الہام جھوٹے آپ کے جھوٹ نکلا آخرش دعویٰ تیرا

٢١٨

صفحہ ٥
کر رہی دنیا ہے جن پر اعتراض ایک بھی جن سے نہیں سچا ہوا
وہ نشان غضب رب عالم کذاب جس کی پیدائش کا اک الہام تھا
دیر تک ہم منتظر اس کے رہے آج تک لیکن نہیں پیدا ہوا
وہ نکاح آسمانی دل پذیر جس کا سہرا تم نے باندھا بارہا
گردش قسمت سے اے جان جہاں یہ تیرا ارمان دل میں ہی رہا
میرزا اور میرزانی کو ہوئی نوجوانی کب بڑھاپے میں عطا
ہے مبارک کا کہاں نعم البدل تبصرہ میں ذکر ہے جس کا لکھا
عمر اسی سال تیری کب ہوئی کب زلازل آئے یہاں محشر نما
بچ رہے گا قادیاں طاعون سے سچ کہو تم ہی کہ کب وہ بچ رہا
تو نے کب تکمیل کی مینار کی خرچ جس پر تھا ہزاروں تک ہوا
تیرے کپڑوں سے ہیں ڈھونڈی برکتیں بادشاہان جہان نے کب بھلا
ہیں مخالف جاگتے جیتے تمام دن بدن ہے جوش ان کا بڑھ رہا
چھوڑتا پیچھا نہیں امرتسری منہ دکھا سکتے نہیں اس کو ذرا
لے گیا میدان بازی ڈاکٹر ہم رہے پڑھتے تیرا وہ تبرا
بن نہیں پڑتی مقابل غیر کے کرتے ہیں گو عقل سوزی دائما
قادیاں مشہور تھا دارالامان چلتی تھی یہاں شادمانی کی ہوا
بن گیا دارالاماں دار الحزن چل گئی کیسی الہی یہ ہوا
بوستان قادیان کا ہر شجر سرنگوں باد مخالف سے ہوا
ہے غرض گرداب میں کشتی قوم اس کو اب اے ناخدا لینا بچا
اے مسیحا ایک دم کے واسطے حال دیکھو اس دل بیمار کا
حرقت فرقت سے سینہ چاک ہوں آتش غم سے ہے دل جلتا مرا

٢٢٠

رات دن بے تاب ہے جان حزیں
چھوڑ دے اے دل نہ کر شور و شغب
مئی کی چھبیسویں منگل کا دن
گردش گردوں دوں سے دوستو
فکر سال فوت جب مجھ کو ہوئی
ہاتف غیبی نے فوراً کہہ دیا

اب کتاب ختم ہے۔ امید ہے کہ گمراہ فرقے سے مجتنب رہ کر سواد اعظم مسلما اہل حق ہیں۔ قیامت تک غالب رہیں گے۔

قدرت سے تیری مولیٰ حیرت میں ہے خدائی
ہے کون جو کہ تجھ بن عظمت کی لاف مارے
کس زور سے تھے نکلے میداں میں میرزا
ٹھہرے مقابلہ میں طاقت بھلا ہے کس
چھیڑا مقدمہ کا یہ سلسلہ انہوں نے
بس ایک دو ہی دن میں میدان جیت لیں گے
لیکن نہ جانتے تھے منظور ہے خدا
بخشی حریف کو پس اللہ نے استقامت
صفحہ ٤٩٥
رات دن بے تاب ہے جان حزین بیکلی دل میں ہے ہر دم حسرتا
چھوڑ دے اے دل نہ کر شور و شغب کر بیان اب اصل اپنا مدعا
مئی کی چھبیسویں منگل کا دن اور مہینہ ربیع الثانی کا تھا
گردش گردوں دوں سے دوستو جب چراغ قادیان گل ہو گیا
فکر سال فوت جب مجھ کو ہوئی سال رحلت کو کرے پورا وکیل
ہاتف غیبی نے فوراً کہہ دیا صادق و کاذب کا بس جھگڑا چکا
راقم! چرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی

اب کتاب ختم ہے۔ امید ہے کہ ناظرین اس سے سبق عبرت حاصل کر کے اس کھلے گمراہ فرقے سے مجتنب رہ کر سواد اعظم مسلمانوں کی بڑی جماعت کا ساتھ نہ چھوڑیں گے۔ یہی اہل حق ہیں۔ قیامت تک غالب رہیں گے۔ "الا ان حزب الله هم الغلبون" والسلام! راقم خاکسار: ابوالفضل محمد کرم الدین عفا عنہ دبیر متوطن بھیں ضلع جہلم ، اپریل ١٩٣٢ء

نظم دلکش

قدرت سے تیری مولیٰ حیرت میں ہے خدائی جلوے ہیں نت نرالے واہ شان کبریائی
ہے کون جو کہ تجھ بن عظمت کی لاف مارے جس نے کیا ہے دعویٰ اس نے ہے منہ کی کھائی
کس زور سے تھے نکلے میداں میں میرزائی کہتے تھے کوئی دم میں کر دیں گے سب صفائی
ٹھہرے مقابلہ میں طاقت بھلا ہے کس کی کر دیں تباہ پل میں جس پر کریں چڑھائی
چھیڑا مقدمہ کا یہ سلسلہ انہوں نے سمجھے کہ اس سے حاصل ہوگی بہت بڑائی
بس ایک دو ہی دن میں میدان جیت لیں گے بج جائے گی جہاں میں اک فتح کی دہائی
لیکن نہ جانتے تھے منظور ہے خدا کو دکھلائے اپنی قدرت تا دیکھ لے خدائی
بخشی حریف کو پس اللہ نے استقامت میداں میں شیر غراں دینے لگا دکھائی
صفحہ ٤٩٦
پس منہ کو دیکھ اس کے مرزائی تھر تھرائے کہنے لگے کہ آفت سر پر ہے کیا یہ آئی
سمجھے تھے اک تماشا برپا ہوئی ہے آفت مشکل ہے اس بلا سے ملتی ہمیں رہائی
ہر مرحلہ میں غالب اس کو کیا خدا نے مرزائیوں کی شوخی مٹی میں سب ملائی
رسوائی سخت آخر مرزا کو ہوئی حاصل دو سال پورے ذلت حضرت نے بس اٹھائی
دارالاماں سے نکلے اہل و عیال لے کر گورداسپور میں جا کر تھی بوریا بچھائی
ہر روزہ حاضری کی بھگتے سزا بہت دن ہر قسم کی مصیبت حضرت کے سر پہ آئی
کرسی کے مدعی کو دن بھر کھڑا ہی رہنا ہا پیری و ضعیفی عبرت بڑی تھی بھائی
جرمانہ پانچ سو یا چھ ماہہ قید کی پھر آخر سزا جو ہوئی ذلت تھی انتہائی
دعوی تھا یہ کہ لگتا چارج ہی ہے سزا بس بعد اس کے کالعدم ہے ہو بھی اگر رہائی
ہوتی ہے وہ بریت جو فرد سے ہو پہلے تریاق میں لکھا ہے پڑھ دیکھیں میرزائی
اور یا تو فرد لگ کر تھی مل چکی سزا بھی پھر دعوائے بریت کرنا نہیں بھلائی
گرچہ اپیل منظور آخر کو ہو گیا ہے حضرت کی اس سے ہوتی ہرگز نہیں صفائی
عبرت کا سبب ہے یہ اے بھائیو نرالا قدرت کا ہے کرشمہ یہ ساری کارروائی
افراط سیم و زر پر تھا اک طرف بھروسہ اور کثرت جماعت کی تھی مچی دہائی
اور اک طرف توکل پر ناؤ چل رہی تھی میداں میں ایک تنہا تھا لڑ رہا سپاہی
مرزا جی کر رہے تھے الہامی گولہ باری ناکارہ گرچہ نکلی بس توپ میرزائی
تھی دوسری طرف کو امداد پیر چشتی اور دعا ہی غضب تھی کیا سیف چشتیائی
آخر شکست کھائی مرزائیوں نے بھاری میداں میں چشتیوں نے فتح عظیم پائی
مجموعہ ہے عجب یہ پڑھ کر تو دیکھو اس کو اسرار ہوں گے ظاہر کھل جائے گی سچائی
"وفق لنا الہی بالخیر کل آن واحفظ لنا دواما عن شر ذی الغوا"

☆..............................☆

٢٢٢

PDF 498
لگے کہ آفت سر پر ہے کیا یہ آئی
ا ہے اس بلا سے ملتی ہمیں رہائی
نوں کی شوخی مٹی میں سب ملائی
سا پورے ذلت حضرت نے بس اٹھائی
سپور میں جا کر تھی بوریا بچھائی
کی مصیبت حضرت کے سر پہ آئی
ی ڈھیٹ بنی عبرت بڑی تھی بھائی
سزا جو ہوئی ذلت تھی انتہائی
کے کلعدم ہے ہو بھی اگر رہائی
میں لکھا ہے پڑھ دیکھیں میرزائی
وائے بیعت کرنا نہیں بھلائی
کی اس سے ہوتی ہرگز نہیں صفائی
کا ہے کرشمہ یہ ساری کارروائی
ت جماعت کی تھی مچی دہائی
میں ایک تنہا تھا لڑ رہا سپاہی
گرچہ نکلی بس توپ میرزائی
رہی غضب تھی کیا سیف چشتیائی
میں چشتیوں نے فتح عظیم پائی
ں گے ظاہر کھل جائے گی سچائی

واما عن شر ذی الغوا"

انی خاتم النبیین لا نبی بعدی

مرزا قادیانی کی

دو زبانیں

مکرم جناب امجد نصیر صاحب

صفحہ ٩

انتساب!

میں اس کتابچہ کو اپنے جدا مجد شیخ شاہ دین مرحوم گورداسپوری کے نام سے منسوب کرتا ہوں۔ نیز ان سعید فطرت انسانوں کے نام جو اس کتابچہ کے مطالعہ کے بعد مرزائیت کے دجل وفریب سے نکل کر محسن اعظم حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کا دین قبول کریں۔ امجد نصیر!

پیش لفظ!

مرزائی صاحبان عام طور پر کہا کرتے ہیں کہ ہم بھی کلمہ گو ہیں۔ ہماری نماز، ہمارے روزے، ہماری شکل وصورت الغرض ہمارے تمام اطوار مسلمانوں جیسے ہیں تو پھر ہم کو کافر سمجھنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ گذارش ہے کہ بنی نوع انسان ہمیشہ سے دو گروہوں میں تقسیم ہوتے چلے آئے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: ” هـو الـذي خـلـقـكـم فمنكم كافر و منكم مؤمن “ ﴿ خدا نے تم کو پیدا کیا تم میں سے کچھ کافر اور کچھ مؤمن ۔﴾

اللہ کے نبی کی اطاعت کرنے والے مسلمان اور منکر کافر، حضرت نوح علیہ السلام کو ماننے والے مسلمان اور نہ ماننے والے کافر، حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والے مسلمان اور نہ لانے والے کافر، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اطاعت کرنے والے مسلمان اور منکرین کافر، بالآخر حضور پرنور محمد مصطفےٰ احمد مجتبے ﷺ پر ایمان لانے والے مسلمان اور منکر کافر ٹھہرے اور یہی قاعدہ کلیہ ہے۔

حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام خاص علاقوں اور قوموں کی اصلاح کے لئے آتے رہے۔ مگر محمد مصطفےٰ ﷺ تمام علاقوں ، تمام قوموں ، تمام جہانوں اور قیامت تک کے لئے رحمتہ للعالمین بنائے گئے۔ اب مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کی وجہ سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس پر ایمان لانے والے کافر؟ یا اس کا انکار کرنے والے کافر؟ مگر وہ مرزا ضرور کافر ہے۔ القصہ حضور محمد ﷺ کے بعد مدعی نبوت جب کافر ٹھہرا تو اس کے ماننے والے بھی کافر ہی ٹھہرے۔

مسلمان کی تعریف

يوقنون (بقره:٤)“﴿اور جو لوگ کہ ایمان لاتے ہیں ساتھ اس چیز کے کہ اتاری گئی ہے طرف تیری اور جو کچھ اتاری گئی ہے پہلے تجھ سے اور ساتھ آخرت کے وہ یقین رکھتے ہیں۔﴾

٢

وملئكته وكتب ورسله لا نفرق بي غفرانك ربنا واليك المصير (بقره:٢٨ گئی ہے طرف اس کے پروردگار اس کے س فرشتوں اس کے کے اور کتابوں اس کی کے درمیان کسی کے پیغمبروں اس کے سے اور کہا مانگتے ہیں ہم تیری اے رب ہمارے اور طرف

واسحق ويعقوب والاسباط وما نفرق بين احد منهم ونحن له مس ساتھ اللہ کے اور اس چیز کے کہ اتاری گئی او السلام) کے اور اسماعیل (علیہ السلام) کے کے اور اولاد اس کی کے اور جو دئے گئے موسیٰ پروردگار ان کے سے ۔ نہیں جدائی ڈالتے ت فرمانبردار ہیں۔ ﴾

رسـولـه والـكـتـاب الـذي انـزل من ق الآخر فقد ضل ضلالاً بعيداً (نسـ اور رسول اس کے کے اور کتاب کے جو اتا پہلے اس سے اور جو کوئی کفر کرے ساتھ الل رسولوں اس کے کے اور دن پچھلے کے پس

قادیانی دائر

مؤتمر عالم ا

”قادیانیت وہ باطل مذہب اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے۔ اس ک

صفحہ ٤٩٩

وملئكته وكتبه ورسله لا نفرق بين احد من رسله وقالوا سمعنا واطعنا غفرانك ربنا واليك المصير (بقره:٢٨٥)“ ﴿ایمان لایا پیغمبر ساتھ اس چیز کے کہ اتاری گئی ہے طرف اس کے پروردگار اس کے سے اور مسلمان ہر ایک ایمان لایا ساتھ اللہ کے اور فرشتوں اس کے کے اور کتابوں اس کی کے اور رسولوں اس کے کے۔ نہیں جدائی ڈالتے ہم درمیان کسی کے پیغمبروں اس کے سے اور کہا انہوں نے سنا ہم نے اور اطاعت کی ہم نے بخشش مانگتے ہیں ہم تیری اے رب ہمارے اور طرف تیرے ہے پھر آنا۔﴾

واسحق ويعقوب والاسباط وما اوتى موسى وعيسى والنبيون من ربهم لا نفرق بين احد منهم ونحن له مسلمون (آل عمران:٨٤)“ ﴿کہہ ایمان لائے ہم ساتھ اللہ کے اور اس چیز کے کہ اتاری گئی اوپر ہمارے اور اس چیز کے کہ اتاری گئی اوپر ابراہیم (علیہ السلام) کے اور اسماعیل (علیہ السلام) کے اور اسحق (علیہ السلام) کے اور یعقوب (علیہ السلام) کے اور اولاد اس کی کے اور جو دی گئی موسیٰ (علیہ السلام) کو اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور نبیوں کو پروردگار ان کے سے۔ نہیں جدائی ڈالتے ہم درمیان کسی کے ان میں سے اور ہم واسطے اس کے فرمانبردار ہیں۔﴾

رسوله والكتاب الذى انزل من قبل ومن يكفر بالله وملئكته ورسله واليوم الآخر فقد ضل ضلالا بعيدا (نساء:١٣٦)“ ﴿اے ایمان والو! ایمان لاؤ ساتھ اللہ کے اور رسول اس کے کے اور کتاب کے جو اتاری ہے اوپر رسول اپنے کے اور کتاب کے جو اتاری ہے پہلے اس سے اور جو کوئی کفر کرے ساتھ اللہ کے اور فرشتوں اس کے کے اور کتابوں اُس کی کے اور رسولوں اس کے کے اور دن پچھلے کے پس تحقیق گمراہ ہوا گمراہی دور کی۔﴾

قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں

مؤتمر عالم اسلام مکہ مکرمہ کی قرارداد

”قادیانیت وہ باطل مذہب ہے جو اپنے ناپاک اغراض ومقاصد کی تکمیل کے لئے اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے۔ اس کی اسلام دشمنی ان چیزوں سے واضح ہے۔

٣

صفحہ ٥٠٠

قادیانیت برطانوی استعمار کی پروردہ ہے اور انہیں کے زیر سایہ سرگرم عمل ہے۔ قادیانیوں نے امت مسلمہ کے مفادات سے ہمیشہ غداری کی ہے اور استعمار اور صہیونیت سے مل کر اسلام دشمن طاقتوں سے تعاون کیا ہے اور یہ طاقتیں بنیادی اسلامی عقائد میں تحریف و تغیر اور ان کی بیخ کنی میں مختلف طریقوں سے مصروف عمل ہیں۔

کے سرمائے سے تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور قادیانی مختلف زبانوں میں قرآن مجید کے تحریف شدہ ترجمے شائع کر رہے ہیں۔ ان خطرات کے پیش نظر کانفرنس نے مندرجہ ذیل قرارداد منظور کی ہے۔

مقامات میں جہاں وہ سیاسی سرگرمیوں میں مشغول ہیں۔ ان کا محاسبہ کریں اور ان کے پھیلائے ہوئے جال سے بچنے کے لئے عالم اسلام کے سامنے ان کو پوری طرح بے نقاب کیا جائے۔

بائیکاٹ کیا جائے۔ ان کے کفر کے پیش نظر ان سے شادی بیاہ کرنے سے اجتناب کیا جائے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے۔

کے متبعین کی ہر قسم کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ نیز ان کے لئے اہم سرکاری عہدوں کی ملازمتیں ممنوع قرار دی جائیں۔

قرآن کا شمار کر کے لوگوں کو ان سے متنبہ کیا جائے اور ان تراجم کی ترویج کا سدباب کیا جائے۔

(روزنامہ الندوہ (سعودی عربیہ)

مورخہ ١٤؍ اپریل ١٩٧٤ء

٤

غلام احمد قادیانی، علامہ اقبال کی

عصر من پیغمبرے ہم آفر

میرے زمانے نے ایک نبی بھی پیدا

تن پرست وجاہ مست وکم

خود پسند، عزت چاہنے والا کوتاہ

در حرم زاد و کلیسا را

مسلمان کے گھر پیدا ہوا اور عیسائیوں کا قبل

دامن او گرفتن، ابلیسی ا

اس سے عقیدت رکھنا حماقت

الحذر! از گرمی گفتار

اس کی چرب زبانی سے

شیخ آورد فرنگی را

اس کا پیر شیطان اور وہ فرنگی کا غلا

گفت دین را رونق از محکومی

وہ کہتا ہے کہ غلامی میں ہی دین کی رو

دولت اغیار را رحمت

غیروں کی دولت کو وہ رحمت جا

ہے اور یہ لبرل حکومت اس جماعت اطاعت اور وفاداری کا یقین دلاو کے حق میں اس پالیسی کا مطلب، لیا تھا۔ جب اس نے اپنے مزاعی

صفحہ ٥٠١

غلام احمد قادیانی، علامہ اقبالؒ کی نظر میں

عصر من پیغمبرے ہم آفرید آنکہ در قرآن بجز خود را ندید
میرے زمانے نے ایک نبی بھی پیدا کیا جس کو اپنے سوا قرآن میں کچھ نظر نہ آیا
تن پرست وجاہ مست و کم نگاہ اندروش بے نصیب از لا الہ
خود پسند، عزت چاہنے والا کوتاہ نظر اس کا دل لا الہ سے خالی ہے
در حرم زاد و کلیسا را مرید پردۂ ناموس ما را بردرید
مسلمان کے گھر پیدا ہوا اور عیسائیوں کا غلام بنا اس نے ہماری عزت کے پردے کو چاک کر لیا
دامن او گرفتن ابلیسی است سینہ او از دل روشن تہی است
اس سے عقیدت رکھنا حماقت ہے اس کا سینہ دل کی روشنی سے خالی ہے
الحذر از گرمی گفتار او الحذر از حرف پہلو دار او
اس کی چرب زبانی سے بچو اس کی چالبازانہ باتوں سے بچو
شیخ او کورو فرنگی را مرید گرچہ گوید از مقام بایزید
اس کا پیر شیطان اور فرنگی کا غلام ہے اگرچہ وہ کہتا ہے کہ میں بایزید کے مقام سے بول رہا ہوں
گفت دین را رونق از محکومی است زندگانی از خودی محرومی است
وہ کہتا ہے کہ غلامی میں ہی دین کی رونق ہے اس کی زندگی خودی سے محروم ہے
دولت اغیار را رحمت شمرد رقصہا گرد کلیسا کرد و مرد
غیروں کی دولت کو وہ رحمت جانتا ہے اس نے گرجا کے گرد رقص کیا اور مر گیا

٥

صفحہ ٥٠٢
گورنمنٹ کی خیر مناؤ انا الحق کہو اور پھانسی نہ پاؤ

(حرف اقبال ص ١١٧)

الگ جماعت تسلیم کر لے۔ یہ قادیانیوں کی پالیسی کے عین مطابق ہوگا اور مسلمان ان سے ویسی رواداری سے کام لے گا جیسے باقی مذاہب کے معاملہ میں اختیار کرتا ہے۔“ (حرف اقبال ص ١١٩، ١٢٠)

نیا انکشاف

”ماہ صفر اسلامی سال کا چوتھا مہینہ ہے۔“ (تریاق القلوب ص ٤١، خزائن ج ١٥ ص ٢١٨) (نوٹ: قارئین غور فرمادیں کہ یہ مہینہ اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہے۔ مؤلف!)

مرزا غلام احمد کے دعاوی

هذا من الرحمن يا حزب العدا لا فعل شامى ولا رفقائى
ایں املا از خدا تعالیٰ است اے گروہ دشمنان نہ کار شامی است نہ کار رفیقان من

”یہ کتابیں خدا نے لکھوائی ہیں نہ کہ کسی شامی یا رفیق کار نے۔“

(انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

”مگر میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“ (حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)

”قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٥٩)

”وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى اور نہیں بولتا وہ اپنی خواہش سے لیکن وہ جو وحی کی جاتی ہے۔“ (اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)

منم مسیح زمان ومنم کلیم خدا منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)

”خلاصہ یہ کہ میرے کلام میں تناقض نہیں۔ میں تو خدا تعالیٰ کی وحی کی پیروی کرنے والا ہوں۔ جب تک مجھے اس سے علم نہ ہو میں وہی کہتا رہا جو اوائل میں میں نے کہا اور جب مجھ کو اس کی طرف سے علم ہوا تو میں نے اس کے مخالف کہا۔“ (حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)

٦

صفحہ ٥٠٣

ایک زبان

”اس عاجز نے سنا ہے کہ اس شہر کے بعض اکابر علماء میری نسبت یہ الزام مشہور کرتے ہیں کہ یہ شخص نبوت کا مدعی، ملائک کا منکر، بہشت دوزخ کا انکاری اور ایسا ہی وجود جبرائیل اور لیلۃ القدر اور معجزات اور معراج نبوی سے بھی منکر ہے۔ لہٰذا میں اشتہار عام وخاص اور تمام بزرگوں کی خدمت میں گذارش ہے کہ یہ الزام سراسر افتراء ہے...... اور جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن وحدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور محمد مصطفےٰ خاتم المرسلین ﷺ کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ رسالت کی وحی حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفےٰ ﷺ پر ختم ہو گئی۔“

(تبلیغ رسالت حصہ دوم ص ١٦، اشتہار دہلی مورخہ

٢؍ اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠، ٢٣١)

”میں عامۃ الناس پر ظاہر کرتا ہوں کہ مجھے اللہ جل شانہ کی قسم ہے کہ میں کافر نہیں ہوں۔ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ میرا عقیدہ ہے ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ پر آنحضرت ﷺ کی نسبت میرا ایمان ہے۔“

(کرامات الصادقین ص ٢٥، خزائن ج ٧ ص ٦٧)

دوسری زبان

ناواقف ہیں اور مخالفین کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ جو وحی مجھ پر ہوئی ہے اس میں سینکڑوں دفعہ مجھے مرسل، رسول اور نبی کہا گیا ہے۔“

نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)

قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

(دفع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

مجھے بھی ملا۔“

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اس ”خدا“ نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اس نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦، ٤٠٧)

٧

صفحہ ٥٠٤

”افتراء کے طور پر ہم پر تہمت لگاتے ہیں کہ گویا ہم نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔“

(کتاب البریہ ص١٨٢، خزائن ج١٣ ص٢١٥)

”میں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ میں نے انہیں کہا ہے کہ میں نبی ہوں۔ لیکن ان لوگوں نے غلطی کی ہے اور میرے قول کے سمجھنے میں غلطی کی ہے۔“

(حمامۃ البشریٰ ص٨٣، خزائن ج٧ ص٣٠٢ ملخص)

کے بعد نبی بھیجے اور نہیں شایاں کہ سلسلہ نبوت کو از سر نو شروع کر دے بعد اس کے کہ اسے قطع کر چکا ہو۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص٣٧٧، خزائن ج٥ ص٣٧٧)

غلطی ہے۔“

(جنگ مقدس ص٦٧، خزائن ج٦ ص١٥٦)

و رسالت کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے۔ اگر قرآن پر اس کا ایمان ہے تو کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ بعد خاتم الانبیاء کے میں بھی نبی ہوں۔“

(انجام آتھم ص٢٧ حاشیہ، خزائن ج١١ ص٢٧)

”قادیان طاعون سے اس لئے محفوظ رکھی گئی ہے کہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔“

(دفع البلاء ص٥، خزائن ج١٨ ص٢٢٦)

”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں“۔

(اخبار بدر مورخہ ٣ مارچ ١٩٠٨ء ، ملفوظات

ج١٠ ص١٢٧ مندرجہ حقیقت النبوۃ حصہ اول ص٢٧٢)

”اگر مجھ سے ٹھٹھا کیا گیا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ۔ دنیا میں کوئی رسول نہیں آیا۔ جس سے ٹھٹھا نہیں کیا گیا۔“

(چشمہ معرفت ص٣١٨، خزائن ج٢٣ ص٣٣٣)

”ولکن رسول اللّٰہ وخاتم النبیین“ اس آیت میں ایک پیش گوئی ہے جس کی ہمارے مخالفوں کو خبر نہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد پیش گوئیوں کے دروازے قیامت تک بند کر دیئے گئے اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہندو یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کر سکے۔ نبوۃ کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں۔ مگر ایک کھڑکی سیرۃ صدیقی کی کھلی ہے۔ یعنی فنا فی الرسول کی۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر ذاتی طور پر وحی نبوۃ کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوۃ محمدی کی چادر ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص٢، خزائن ج١٨ ص٢٠٧، ٢٠٨)

”ایک دفعہ کسی قدر شدت سے طاعون قادیان میں ہوئی۔“

(حقیقت الوحی ص٢٣٢، خزائن ج٢٢ ص٢٤٣)

”نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے۔ جو خدا کے حکم سے کیا گیا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص٤٢٢، خزائن ج٣ ص٣٢٠)

”اول تو یہ جاننا چاہئے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں جو ہماری ایمانیات کی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیش گوئیوں میں سے یہ ایک پیش گوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔“

(ازالہ اوہام ص١٤٠، خزائن ج٣ ص١٧١)

”میرے دعویٰ کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہو سکتا۔“

(تریاق القلوب ص١٣٠، خزائن ج١٥ ص٤٣٢)

علماء ہند کی خدمت میں نیاز نامہ

”اس عاجز نے جو مثل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔ میں نے ہرگز دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں۔“

”جو شخص یہ الزام لگاوے وہ مفتری اور کذاب ہے۔ میں مثیل مسیح ہوں۔“

(ازالہ اوہام ص١٩٠، خزائن ج٣ ص١٩٢)

مسیح موعود سمجھ لینے والے مرزا قادیانی کے نزدیک کم فہم ٹھہرے۔ مگر وہ موعود اور ابن مریم کا دعویٰ کرنے والا کون ہو

(مؤلف!)

صفحہ ٥٠٥

"نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے۔ جو خدا کے حکم سے کیا گیا ہے۔"

(ازالۃ اوہام ص٤٢٢، خزائن ج٣ ص٣٢٠)

"اگر غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو بتاؤ وہ کس نام سے پکارا جائے۔ اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت میں اظہار غیب کے نہیں۔"

(ایک غلطی کا ازالہ ص٣، خزائن ج١٨ ص٢٠٩)

"اوّل تو یہ جاننا چاہئے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں جو ہماری ایمانیات کی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیش گوئیوں میں سے یہ ایک پیش گوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔"

(ازالۃ اوہام ص١٤٠، خزائن ج٣ ص١٧١)

"اوّل ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے۔"

(حقیقت الوحی ص١٧٩، خزائن ج٢٢ ص١٨٥)

"میرے دعویٰ کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہو سکتا۔"

(تریاق القلوب ص١٣٠، خزائن ج١٥ ص٤٣٢)

"جو کوئی مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔"

(حقیقت الوحی ص١٦٣، خزائن ج٢٢ ص١٦٨)

علماء ہند کی خدمت میں نیاز نامہ "اس عاجز نے جو مثل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔ میں نے ہرگز دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں۔" "جو شخص یہ الزام لگاوے وہ مفتری اور کذاب ہے۔ میں مثیل مسیح ہوں۔"

(ازالۃ اوہام ص١٩٠، خزائن ج٣ ص١٩٢)

"حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امتی قرار دینا ایک کفر ہے۔"

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص١٩١، خزائن ج٢١ ص٣٦٤)

مسیح موعود سمجھ لینے والے تو مرزا قادیانی کے نزدیک کم فہم ٹھہرے۔ مگر مسیح موعود اور ابن مریم کا دعویٰ کرنے والا کون ہوا؟ (مؤلف!)

قرآن کریم میں وعدہ دیا گیا ہے وہ عاجز ہی ہے۔"

(ازالۃ اوہام ص٦٨٢، خزائن ج٣ ص٤٦٨)

خلیفہ اور مسیح موعود ہوں اب تم سوچ لو۔"

(نزول المسیح ص٤٨، خزائن ج١٨ ص٤٢٦ ملخص)

٩

صفحہ ٧

"بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اس وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ دو ہی ہیں۔"

بھی ہے۔

کہتے ہیں۔"

(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)

"خدا تعالیٰ کا قانون قدرت ہرگز نہیں بدل سکتا۔"

(کرامات الصادقین ص ٨، خزائن ج ٧ ص ٥٠)

"سچ ہے کہ جھوٹے شیطان کے مصاحب ہوتے ہیں۔"

(نور القرآن حصہ دوئم ص ٢١، خزائن ج ٩ ص ٤٠٨)

"سچا اور کھرا اور صاف دل انسان کے کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں! اگر کوئی پاگل اور مجنون یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو اس کا کلام بے شک متناقض ہو جاتا ہے۔"

(ست بچن ص ٣٠، خزائن ج ١٠ ص ١٤٢)

"اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کی حالت ہے جو کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔"

(حقیقت الوحی ص ١٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٩١)

"میں بے دھڑک کہتا ہوں کہ میں خدا کا مسیح موعود ہوں۔"

(نزول المسیح ص ٤٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٧)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور ان کا زندہ آسمان پر مع جسم عنصری اور اب تک زندہ ہونا اور پھر کسی وقت زمین پر آنا یہ سب ان پر تہمتیں ہیں۔" (ضمیمہ

براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٣٠، خزائن ج ٢١ ص ٤٠٦)

"خدا تعالیٰ اپنے خاص بندوں کے لئے قانون بھی بدل لیتا ہے۔ مگر وہ بدلنا بھی اس کے قانون میں ہی داخل ہے۔"

(چشمہ معرفت ص ٩٦، خزائن ج ٢٣ ص ١٠٢)

"مگر کیا یہ لوگ قسم کھالیں گے؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔"

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٢٥، خزائن ج ١١ ص ٣٠٩)

"اور حضرت مسیح علیہ السلام کی چڑیاں باوجودیکہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے۔ مگر پھر بھی مٹی کی مٹی ہی تھیں۔"

(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

"جو شخص شیطانی الہام کا منکر ہے یعنی یہ نہیں مانتا کہ شیطانی الہام کا وجود ہے وہ انبیاء علیہم السلام کی تمام تعلیموں کا انکاری ہے اور نبوۃ کے تمام سلسلہ کا منکر ہے۔ بائبل میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ چار سو نبیوں کو شیطانی الہام ہوا

١٠

"کہہ دو اے مرزا! اگر یہ کاروبار اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتا تو تم اس میں بہت اختلاف پاتے۔"

(البشریٰ ج ٢ ص ٢٠، تذکرہ ص ١٧٦، ٣٩٤ طبع ٣)

"قرآن، انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ ہرگز قسم نہ کھاؤ۔"

(کشتی نوح ص ٢٧، خزائن ج ١٩ ص ٢٩)

"اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح کے پرندوں کا پرواز قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں۔ جب کہ ان کا ہلنا اور جنبش کرنا بھی بہ پایہ ثبوت نہیں پہنچتا۔" (ازالہ اوہام

ص ٣٠٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٦، ٢٥٧)

"اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہوتا ہے۔ گو اس کے لئے نبوۃ تامہ نہیں مگر تاہم جزئی طور پر ایک نبی ہی ہے۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے اور امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطانی سے منزہ (پاک) کیا جاتا ہے۔"

(توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠)

نوٹ: ظاہر ہے کہ مرزا قادیان کے تمام الہامات اور پیش گوئیوں میں ہ شیطان کا دخل تھا۔ مؤلف!

صفحہ ٥٠٧

"کہہ دو اے مرزا! اگر یہ کاروبار اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتا تو تم اس میں بہت اختلاف پاتے۔"

(البشریٰ ج ٢ ص ٢٠، تذکرہ ص ١٧٦، ٣٩٢، طبع ٣)

"قرآن، انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ ہرگز قسم نہ کھاؤ۔"

(کشتی نوح ص ٢٧، خزائن ج ١٩ ص ٢٩)

"اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح کے پرندوں کا پرواز قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں۔ جب کہ ان کا ہلنا اور جنبش کرنا بھی بہ پایہ ثبوت نہیں پہنچتا۔" (ازالہ اوہام

ص ٣٧٠ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٦، ٢٥٧)

"اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہوتا ہے۔ گو اس کے لئے نبوۃ تامہ نہیں مگر تاہم جزئی طور پر ایک نبی ہی ہے۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے اور امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطانی سے منزہ (پاک) کیا جاتا ہے۔"

(توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠)

نوٹ: ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے تمام الہامات اور پیش گوئیوں میں بھی شیطان کا دخل تھا۔ مؤلف!

تھا اور انہوں نے الہام کے ذریعہ سے جو ایک سفید جن کا کرتب تھا ایک بادشاہ کی فتح کی پیش گوئی کی آخر وہ بڑی ذلت سے مارا گیا۔"

(ضرورۃ الامام ص ١٧، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٨)

"آج پیسہ اخبار ٢٧؍ اگست ١٩٠٣ء کے پڑھنے سے مجھے معلوم ہوا کہ حکیم مرزا محمود ایرانی لاہور میں فروکش ہیں۔ وہ بھی ایک مسیحیت کے مدعی کے حامی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور مجھ سے مقابلہ کے خواہشمند ہیں۔" (تقریروں کا مجموعہ لیکچر لاہور ص ٹائٹل پار ٢،

خزائن ج ٢٠ ص ١٤٦)

"اور لطف تو یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بلاد شام میں قبر موجود ہے اور ہم زیادہ صفائی کے لئے اس جگہ اخویم سید مولوی محمد السعیدی طرابلسی کی شہادت درج کرتے ہیں اور وہ طرابلس بلاد شام کے رہنے والے ہیں اور انھیں کی حدود میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔"

(اتمام الحجۃ ص ١٨ حاشیہ، خزائن ج ٨ ص ٢٩٦، ٢٩٧)

"اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلدۃ قدس میں ہے اور اب تک موجود ہے۔"

(اتمام الحجۃ ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ٨ ص ٢٩٩)

....... "مثلاً صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کے لباس کا رنگ زرد رنگ کا ہوگا۔" (ازالہ اوہام ص ٨١، خزائن ج ٣ ص ١٤٢)

11

صفحہ ٥٠٨

آنحضرتﷺ نے پیش گوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح جب آسمان سے اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوں گی۔"

(رسالہ تحفۃ الاذہان جون ١٩٠٦ء ص ٥)

"مسیح تیرہویں صدی میں پیدا ہوگا۔ حدیث الآیات بعد المأتین کی تشریح...... معنی اس حدیث کے کہ مہدی اور مسیح کی پیدائش جو آیات کبریٰ میں سے ہے تیرہویں صدی میں ہوگی اور چودھویں صدی میں اس کا ظہور ہوگا۔"

(تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ١٣٠)

"اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)

"مسیح کے ہاتھ میں سوائے مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔" (نعوذ باللہ)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

"ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ نبی قرار دیں۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣ حاشیہ)

"اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت جو ظہور مسیح موعود کا وقت ہے کسی نے بجز اس عاجز کے دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ بلکہ اس مدت تیرہ سو برس میں کسی ایک مسلمان کی طرف سے ایسا دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ ہاں! عیسائیوں نے مختلف زمانوں میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔"

(ازالہ اوہام ص ٦٨٤، خزائن ج ٣ ص ٤٦٩)

"حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی تین برس کی تبلیغ کے بعد صلیبی فتنوں سے نجات پا کر ہندوستان کی طرف ہجرت کی اور یہودیوں کی دوسری قوموں کو جو بابل کے تفرقہ کے زمانہ سے ہندوستان اور کشمیر اور تبت میں آئے ہوئے تھے۔ خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا کر آخر کار خاک کشمیر جنت نظیر میں انتقال فرمایا اور سری نگر خان یار میں دفن کئے گئے۔"

(تریاق القلوب ص ٥٢، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)

"اور پھر پنجاب کی طرف لوٹ کے کشمیر کا قصد کیا اور بقیہ عمر سری نگر میں گزاری اور وہیں فوت ہوئے اور سری نگر محلہ خانیار کے قریب دفن کئے گئے۔"

(تریاق القلوب ص ٥٢، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)

میں آسمان سے اترنے کا کہیں بھی ذکر نہیں۔"

(ازالہ اوہام ص ٢٨٣، خزائن ج ٣ ص ٢٤٣)

١٢

مریم کے نزول کا لفظ پایا جاتا ہے۔ ج... حدیث میں یہ نہیں پاؤ گے کہ اس کا نزول سے ہوگا۔" (حمامۃ البشریٰ ص ا...

ج ٧ ص ٢٠٢)

سے یہی خیال کرتی ہے کہ وہ آسمان سے گا اور آسمان کا لفظ اپنی طرف سے ایزاد ہیں اور کسی حدیث میں اس کا کوئی اث... نہیں۔"

(حمامۃ البشریٰ ص ١٨ حاشیہ، خزائن ج ٧ ص ...

نوٹ: مرزا قادیانی نے خ... لیا ہے کہ مسیح علیہ السلام آسمان سے اتر... مولا نے سچ بات ان کے منہ سے کہلو... جھوٹا کر دیا۔ مؤلف!

اس ضمن میں چند احادی... فرمائیں۔

کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قس... ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جا... ضرور اتریں گے تمہارے درمیان... (چراغ بی بی کا لڑکا نہیں۔ مؤلف) بن کر۔" (بخاری کتاب الانبیاء باب نزو... باب بیان نزول عیسیٰ علیہ السلام)

"قیامت نہ ہوگی جب تک عیسیٰ ابن ...

صفحہ ٥٠٩

مریم کے نزول کا لفظ پایا جاتا ہے۔ لیکن کسی حدیث میں یہ نہیں پاؤ گے کہ اس کا نزول آسمان سے ہوگا۔“

(حمامۃ البشریٰ ص ٤١، خزائن ج ٧ ص ٢٠٢)

سے یہی خیال کرتی ہے کہ وہ آسمان سے اترے گا اور آسمان کا لفظ اپنی طرف سے ایزاد کر دیتے ہیں اور کسی حدیث میں اس کا کوئی اثر ونشان نہیں ۔“

(حمامۃ البشریٰ ص ١٨ حاشیہ ،خزائن ج ٧ ص ١٩٧)

نوٹ: مرزا قادیانی نے خود تسلیم کر لیا ہے کہ مسیح علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔ مولا نے سچ بات ان کے منہ سے کہلوا کر ان کو جھوٹا کر دیا۔ مؤلف!

اس ضمن میں چند احادیث ملاحظہ فرمائیں۔

کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ ضرور اتریں گے تمہارے درمیان ابن مریم (چراغ بی بی کا لڑکا نہیں۔ مؤلف) حاکم عادل بن کر۔“ (بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسیٰ مسلم باب بیان نزول عیسیٰ علیہ السلام)

”قیامت نہ ہوگی جب تک عیسیٰ ابن مریم (غلام

”مسیح کا چال چلن ایک کھاؤ پیو، شرابی، متکبر، نہ زاہد، نہ عابد، نہ حق کا پرستار۔ خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“ (مکتوبات احمدیہ ج ٣

ص ٢٣، ٢٤، مکتوبات احمدیہ ج ١ ص ١٨٩ جدید)

طاعون قادیان میں ہوئی۔ بعد اس کے کم ہوتی گئی ۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٤٤)

میں طاعون زور تھا میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوا ۔“

(حقیقت الوحی حاشیہ ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)

الى الدنيا الى يوم يبعثون ومن قال متعمدا خلاف ذالك فهو من الذين هم بالقرآن يكفرون “ یہ یاد رکھو بلکہ وہ (عیسیٰ) مر چکا ہے اور قیامت تک واپس نہیں آئے گا اور جو شخص اس کے خلاف کہے وہ ان لوگوں میں سے جو قرآن کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔“

(حقیقت الوحی استفتاء ص ٤٤، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٦)

١٣

صفحہ ٥١٠

وعقیدة نزوله باب من ابواب الاضلال ولا يتوقع “ اس میں شک نہیں کہ حیات عیسیٰ اور ان کے نزول کا عقیدہ گمراہی کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور اس سے سوائے قسم قسم کے مصیبتوں کے اور کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔"

(حقیقت الوحی استفتاء ص ٤٧، خزائن ج ٢٢ ص ٦٧٠)

"مجدد سرہندیؒ نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ و مخاطبہ الہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے۔ لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف کیا جائے وہ نبی کہلاتا ہے۔"

(حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

عیسیٰ الاصل ہوگا۔"

(حقیقت الوحی ص ٢٠١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٩)

کہ اس خاندان میں ترک کا خون ملا ہوگا۔ ہمارا خاندان جو اپنی شہرت کے لحاظ سے مغلیہ خاندان کہلاتا ہے اس پیش گوئی کا مصداق ہے۔"

(حقیقت الوحی ص ٢٠١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٩)

مرتضیٰ کا لڑکا غلام احمد قادیانی نہیں۔ مؤلف ) نازل نہ ہولیں ۔" (بخاری باب کسر صلیب)

کہ : "میں نے سنا رسول اللہ ﷺ سے کہ پھر عیسیٰ ابن مریم (انگریزی نبی غلام احمد نہیں۔ مؤلف) نازل ہوں گے ۔ مسلمانوں کا امیر کہے گا آیئے نماز پڑھائیے ۔"

(مسلم باب نزول عیسیٰ)

خدا تعالیٰ نے یسوع کی مثال بیان کرنے کے وقت آدم ہی کو پیش کیا۔ جیسا کہ فرمایا ہے: ”ان مثل عيسى عند الله کمثل آدم “

(چشمہ معرفت ص ٢١٨، خزائن ٢٣ ص ٢٢٧)

"مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی تھا۔"

(البشریٰ ج ١ ص ٢٤)

"ہم تو قرآن شریف کے فرمودہ کے مطابق حضرت مسیح کو سچا نبی مانتے ہیں۔"

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠١، خزائن ج ٢١

ص ٢٦٤،٢٦٣)

مرزا قادیانی کو اپنا ہی منہ شیشے میں نظر آ رہا ہے۔ مؤلف !

حلیم اور عاجز اور بے نفس بندے تھے۔"

(مقدمہ براہین احمدیہ حاشیہ ص ١٠٤، خزائن ج ١ ص ٩٤)

١٤

١١

سے کاملوں اور راست بازوں پر زبان دراز کرتا ہے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ کوئی انسان حسین جیسے یا حضرت عیسیٰ ایسے راست باز پر بد زبانی کر کے ایک رات بھی زندہ نہیں رہ سکتا ۔"

"قادیان کے چاروں طرف دو دو میل کے فاصلہ پر طاعون کا زور رہا۔ مگر قادیان طاعون سے پاک ہے۔ بلکہ آج تک جو شخص طاعون زدہ باہر سے قادیان میں آیا وہ بھی اچھا ہو گیا۔"

(دافع البلا، خورد ص ٥ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٦)

نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں جو ہمارے ایمانیات کی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیش گوئیاں ان سے یہ ایک پیش گوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ جس زمانہ تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی۔ اس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہو گیا۔"

(ازالہ اوہام ص ١٤٠، خزائن ج ٣ ص)

بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله " یہ آیت جسمانی اور سیاست کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی اور جس غلبہ کاملہ، دین اسلام کا وعدہ دیا گیا

صفحہ ٥١١

سے کاملوں اور راست بازوں پر زبان دراز کرتا ہے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ کوئی انسان حسین جیسے یا حضرت عیسیٰ ایسے راست باز پر بدزبانی کر کے ایک رات بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔"

"قادیان کے چاروں طرف دو دو میل کے فاصلہ پر طاعون کا زور رہا۔ مگر قادیان طاعون سے پاک ہے۔ بلکہ آج تک جو شخص طاعون زدہ باہر سے قادیان میں آیا وہ بھی اچھا ہو گیا۔"

(دافع البلاء خورد ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٦٦)

نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں جو ہمارے ایمانیات کی جُزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صد ہا پیش گوئیوں میں سے یہ ایک پیش گوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ جس زمانہ تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی۔ اس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہو گیا۔"

(ازالۃ اوہام ص ١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١)

بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله "یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ، دین اسلام کا وعدہ دیا گیا

لئے اس سے چارہ نہیں کہ میرے دعوٰی کو اس طرح مان لے۔ جیسا کہ اس نے آنحضرت ﷺ کی نبوت کو مانا ہے۔"

(تذکرۃ الشہادتین ص ٣٨، خزائن ج ٢٠ ص ٤٠)

شریف اور چند فارسی کتابیں میں نے فضل الٰہی سے پڑھیں۔ دس سال کی عمر میں فضل احمد عربی خواں مولوی میری تربیت کے لئے مقرر کیا گیا۔ سترہ اٹھارہ سال کی عمر میں میں نے گل علی شاہ سے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ پڑھا۔ طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد سے پڑھیں۔"

(کتاب البریہ ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ١٣ ص ١٨٠

حاشیہ)

مکتب تھے۔"

(تریاق القلوب ص ٦٨، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٣)

١٥

صفحہ ٥١٢

ہے ۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“

(براہین احمدیہ جلد اول ص ٤٩٨، خزائن ج ١ص ٥٩٣)

”میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعویٰ کے انکار سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہوسکتا۔“

(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)

نوٹ: مرزا قادیانی نے اپنے کہے کے مطابق قرآن سے کفر کیا اور گمراہی کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کے اندر داخل ہوگئے۔ کیا مرزا قادیانی کے بعد یا ان کی زندگی میں اسلام کو کوئی فائدہ پہنچا؟ یا اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیلا؟ حالانکہ ان کو مرے ہوئے بھی نصف صدی سے زائد عرصہ ہوچکا ہے۔

”اس کثرت فیضان کی کسی نبی میں نظیر نہیں مل سکتی۔“ (جس قدر مرزا غلام احمد میں مل رہی ہے)

(حقیقت الوحی ص ٤٨ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠)

”یہ بھی سمجھ لو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر ونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہوگیا...... میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

”امام ربانی (حضرت مجدد سرہندیؒ) اپنے مکتوبات میں صاف لکھتے ہیں کہ غیر نبی بھی مکالمات حضرت احدیت سے مشرف ہوجاتا ہے اور ایسا شخص محدث کے نام سے موسوم ہوتا ہے اور انبیاء کرام کے مرتبہ سے اس کا مرتبہ قریب واقع ہوتا ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٤٦، خزائن ج ١ ص ٦٥٢)

١...... ”مرزا صاحب نے صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ بھی کر دیا۔“ (نعوذ باللہ)

”صوفیاء عظام کے ایک بزرگ شیخ ابن عربیؒ نے اپنی کتاب فصوص الحکم میں پیش گوئی کی ہے کہ بنی نوع انسان میں ایک آخری لڑکا ہوگا جس کے بعد نسل انسانی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ لوگ اس وقت بکثرت نکاح کریں گے۔ مگر بوجہ مرضِ عقم کوئی اولاد نہ ہوگی۔ اس لڑکے کے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوگی جو اس سے

١٦

صفحہ ٥١٣

پہلے نکلے گی اور وہ بعد پیدا ہوگا۔ اس کا سر اس لڑکی کے پاؤں کے ساتھ ملا ہوگا۔ وہ لڑکا ملک چین میں پیدا ہوگا اور اس کی بولی چینی ہوگی۔ وہ لوگوں کو خدا کی طرف بلائے گا۔ کوئی نہ مانے گا۔‘‘

(تریاق القلوب ص١٥٨، خزائن ج١٥ ص٤٨٦)

’’میرا کوئی استاد نہیں۔ میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں نے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی کسی انسان سے نہیں پڑھا۔‘‘

(ایام الصلح ص١٤٧، خزائن ج١٤ ص٣٩٤)

’’علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص١٦٣، خزائن ج٢٢ ص١٦٨)

’’میرا کوئی حق نہیں کہ رسالت یا نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے خارج ہو جاؤں۔‘‘

(حمامۃ البشریٰ ص٧٩، خزائن ج٧ ص٢٩٧)

ملاحظہ فرماویں دو حوالہ جات جن میں مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔

احمد قادیانی) نے فرمایا۔ ’’لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی‘‘ یعنی اے مؤمنو! اپنی آوازوں کو نبی کی آواز کے سامنے بلند نہ کیا کرو۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ دوئم ص٣٠، حکایت نمبر ٣٣٣)

قادیانی) نے فرمایا کہ اس طرح کسی کو مارنا بہت ناپسندیدہ فعل ہے اور یہ بری حرکت کی گئی ہے۔

١٧

صفحہ ٥١٤

مولوی عبدالکریم صاحب نے فلاسفر کے گستاخانہ رویہ اور اپنی بریت کے متعلق کچھ عرض کیا۔ مگر حضرت صاحب نے غصہ سے فرمایا کہ یہ نہیں یہ بہت ناواجب بات ہوئی ہے۔ جب خدا کا رسول آپ لوگوں کے اندر موجود ہے تو آپ کو خود بخود اپنی رائے سے کوئی فعل نہیں کرنا چاہئے۔“

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ١٠٦، روایت نمبر ٣٣٣)

”شریعت والا کوئی نبی نہیں بغیر شریعت کے نبی ہوسکتا ہے۔ مگر وہ جو پہلے امتی ہو۔“

(تجلیات الٰہی ص ٢٥، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)

صاحبان! مرزا قادیانی نے ہمیشہ یہ تاثر دیا کہ حضورﷺ کی اطاعت اور فرمانبرداری سے اور آپﷺ کی امت میں رہ کر نبی بن سکتا ہے۔ لیجئے! اب امتی نبی کے متعلق حدیث شریف کا ارشاد سنئے: ”سیکون فی امتی ثلاثون کذابون کلھم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (ترمذی ج ٢ ص ١١٦) ”میری امت میں تیس جھوٹے نبوت کے دعوے دار ہوں گے۔ حالانکہ میں ہی آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔“

مرزا کا دعویٰ

”دجال کے لئے ضروری ہے کہ کسی نبی برحق کا تابع ہو کر پھر سچ کے ساتھ باطل ملاوے۔“

(تبلیغ رسالت ج ٣ ص ٢٠٠، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٣١)

گویا مرزا قادیانی نے حضورﷺ کی امت میں رہ کر نبوت کا دعویٰ کیا اور حدیث شریف کے ارشاد کے مطابق نبوت کے جھوٹے دعویدار ٹھہرے۔ مؤلف!

قول مرزا

(سلسلہ تصنیفات ج ٧ ص ٢٣٤٦)

١٨

عورتوں کے ہاتھ بھی نہیں ملاتے تھے لئے آتی تھیں۔ بلکہ دور بٹھا کر صرف

دیکھو کہ یہ بدتقویٰ کا پیش خیمہ ہے

عمل مرزا

حضرت صاحب نے فرمایا ہوا تھـ دن کا واقعہ ہے کہ میں نے آپ وقت رات کے بارہ بجے تھے گوجرانوالہ اور اہلیہ بابو شاہ دین

”مجھ سے میری الـ السلام کی خدمت میں رہی ہو اوقات ایسا ہوتا کہ نصف رات کسی قسم کی تھکان اور تکلیف آیا کہ عشاء کی نماز سے لـ نے فرمایا کہ زینب اس قدر

”حضرت صا خوب سردی پڑ رہی تھی حضـ یہ پتہ نہ لگا کہ جس چیز کو دیر بعد حضرت صاحب تھاؤ ہی تھاں لکڑی وانگر ہـ

صفحہ ٥١٥

عورتوں کے ہاتھ بھی نہیں ملاتے تھے جو پاک دامن اور نیک بخت ہوتی تھیں اور بیعت کرنے کے لئے آتی تھیں۔ بلکہ دور بٹھا کر صرف زبانی تلقین توبہ کرتے تھے۔“

(نورالقرآن نمبر ٢ ص ٤٧، خزائن ج ٩ ص ٤٣٩)

دیکھو کہ یہ بدتقوائی کا پیش خیمہ ہے۔“

(نورالقرآن نمبر ٢ ص ٤٦، خزائن ج ٩ ص ٤٣٧)

عمل مرزا

حضرت صاحب نے فرمایا ہوا تھا کہ اگر میں سوتے میں کوئی بات کیا کروں تو مجھے جگا دیں۔ ایک دن کا واقعہ ہے کہ میں نے آپ کی زبان پر کوئی لفظ جاری ہوتے ہوئے سنے اور آپ کو جگایا۔ اس وقت رات کے بارہ بجے تھے۔ ان ایام میں عام طور پر پہرہ پر مائی فجو پنشنی اہلیہ منشی محمد دین گوجرانوالہ اور اہلیہ بابو شاہ دین ہوتی تھیں۔“

(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ٢١٣، روایت نمبر ٧٨٦)

”مجھ سے میری لڑکی زینب نے بیان کیا۔ میں تین ماہ کے قریب حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں رہی ہوں۔ گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اور اسی طرح کی خدمت کرتی تھی۔ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ نصف رات یا اس سے زیادہ مجھ کو پنکھا ہلاتے گزر جاتی تھی۔ مجھ کو اس اثناء میں کسی قسم کی تھکان اور تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ خوشی سے دل بھر جاتا تھا۔ دو دفعہ ایسا موقعہ آیا کہ عشاء کی نماز سے لے کر صبح اذان تک مجھے ساری رات خدمت کرنے کا موقع ملا...... حضور نے فرمایا کہ زینب اس قدر خدمت کرتی ہے۔ ہمیں اس سے شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔“

(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ٢٧٣، روایت نمبر ٩١٠)

”حضرت صاحب کے ہاں ایک بوڑھی ملازمہ مسماۃ بھانو تھی وہ ایک رات جب کہ خوب سردی پڑ رہی تھی حضور کو دبانے بیٹھی۔ چونکہ وہ لحاف کے اوپر سے دباتی تھی۔ اس لئے اسے یہ پتہ نہ لگا کہ جس چیز کو میں دبا رہی ہوں وہ حضور کی ٹانگیں نہیں ہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے۔ تھوڑی دیر بعد حضرت صاحب نے فرمایا، بھانو! آج بڑی سردی ہے۔ بھانو کہنے لگی ”جی ہاں! بڑے تے تہاڈی لتاں لکڑی وانگر ہویاں ہویاں ایں۔“

(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ٢١٠، روایت نمبر ٧٨٠)

١٩

صفحہ ٥١٦

٤...... دوکنواریاں

”جب میاں ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی پہلی بیوی فوت ہوگئی اور ان کو دوسری بیوی کی تلاش ہوئی تو ایک دفعہ حضرت صاحب نے ان سے کہا کہ ہمارے گھر میں دولڑکیاں رہتی ہیں ان کو میں لاتا ہوں۔ آپ ان کو دیکھ لیں پھر ان میں سے جو آپ کو پسند ہو اس سے آپ کی شادی کر دی جاوے۔ چنانچہ حضرت صاحب گئے اور ان دولڑکیوں کو بلا کر کمرے کے باہر کھڑا کر دیا اور پھر اندر آ کر کہا کہ وہ باہر کھڑی ہیں آپ چک کے اندر سے دیکھ لیں۔ چنانچہ میاں ظفر احمد صاحب نے ان کو دیکھ لیا اور پھر حضرت صاحب نے ان کو رخصت کر دیا اور اس کے بعد میاں ظفر احمد صاحب سے پوچھنے لگے کہ اب بتاؤ تمہیں کون سی لڑکی پسند ہے۔ وہ نام تو کسی کا جانتے نہ تھے اس لئے انہوں نے کہا کہ جس کا منہ لمبا ہے وہ اچھی ہے۔ اس کے بعد حضرت صاحب نے میری رائے لی۔ میں نے عرض کیا کہ حضور میں نے تو نہیں دیکھا۔ پھر آپ خود فرمانے لگے کہ ہمارے خیال میں تو دوسری لڑکی بہتر ہے جس کا منہ گول ہے۔ پھر فرمایا جس شخص کا چہرہ لمبا ہوتا ہے وہ بیماری وغیرہ کے بعد عموماً بدنما ہو جاتا ہے۔ لیکن گول چہرہ کی خوبصورتی قائم رہتی ہے۔“

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ٢٥٩ روایت نمبر ٢٦٨)

٥...... عائشہ

”حضور کو مرحومہ کی خدمت پاؤں دبانے کی بہت پسند تھی۔ حضور نے ایک دفعہ مرحومہ کو دعا دے کر فرمایا کہ اللہ تجھے اولاد دے۔ حضور کی دعا سے مرحومہ کے چھ بچے ہوئے۔ ایک لڑکی اور پانچ لڑکے۔“

(الفضل مورخہ ٢٠/ مارچ ١٩٢٨ء)

نوٹ: عائشہ کنواری دوشیزہ تھی اور پندرہ سال کی عمر میں مرزا قادیانی کی خدمت میں آئی تھی۔ بعد میں مرزا قادیانی نے اس کی شادی اس شرط پر کی کہ اسے قادیان سے باہر نہ لے جایا جائے۔ کیونکہ وہ منظور نظر تھی۔ مؤلف!

ایک زبان

”یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی اور ہو اور الہام کسی اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسان کی سمجھ سے بالاتر ہو۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)

٢٠

دوسری زبان

”بعض الہامات مجھے الـ انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔ بے جا نہ ہوگا اگر چند نمـ دیئے جائیں۔ مؤلف!

١...... اردو زبان

تمام حوالے تذکرہ عر

رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی

٢...... پنجابی

٣...... فارسی

صفحہ ٥١٧

دوسری زبان

”بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔“

(نزول المسیح ص ٥٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥)

بے جا نہ ہوگا اگر چند نمونے ان الہامات کے جن کے مرزا قادیانی مدعی ہیں دے دیئے جائیں۔ مؤلف!

١...... اردو زبان

تمام حوالے تذکرہ عرف وحی مقدس مصنفہ مرزا غلام احمد سے ہیں۔

(تذکرہ ص ٧٩٥، طبع سوم)

(تذکرہ ص ٦٨٣، طبع سوم)

(تذکرہ ص ٧٠٤، طبع سوم)

(تذکرہ ص ٣٣٦، طبع سوم)

(تذکرہ ص ٣٣٩، طبع سوم)

٢...... پنجابی

(تذکرہ ص ٤٧٨، طبع سوم)

(تذکرہ ص ٧٠٩، طبع سوم)

(تذکرہ ص ٤٣٢، طبع سوم)

(تذکرہ ص ٤٧١، طبع سوم)

٣...... فارسی

(تذکرہ ص ٧٦٦، طبع سوم)

(تذکرہ ص ١٣٦، طبع سوم)

(تذکرہ ص ١٤٩، طبع سوم)

٢١

صفحہ ٥١٨

(تذکرہ ص ٤٩٩، طبع سوم)

(تذکرہ ص ٥١٢، طبع سوم)

٤.......عربی

(تذکرہ ص ٦١٢، طبع سوم)

(تذکرہ ص ٨١، طبع سوم)

(تذکرہ ص ٥١، طبع سوم)

(تذکرہ ص ٢٧٥، طبع سوم)

(تذکرہ ص ٢٧٩، طبع سوم)

٥.......سنسکرت

(تذکرہ ص ٣٨٠، طبع سوم)

(تذکرہ ص ٣٨٠، طبع سوم)

مرزا قادیانی کا جھوٹ کے متعلق فرمان

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٣ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٥٦)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ٣٤٣)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٤، خزائن ج ١١ ص ٣٢٤)

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٩)

(شحنہ حق ص ٤٦، خزائن ج ٢ ص ٣٨٦)

کہ یہ خدا کی وحی ہے جو مجھ کو ہوئی ہے۔ ایسا بدذات انسان تو کتوں اور سوروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے۔"

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٢٦، خزائن ج ٢١ ص ٢٩٢)

٢٢

٥١٩

اعتبار نہیں رہتا۔"

مرزا قادیانی کے جھوٹ مشتے نمونہ از خروا

اپنی بڑی لڑکی (محمدی بیگم) کا نکاح مجھ سے کرا لئے معیار قرار دیتا ہوں اور یہ خدا سے خبر پانے ۔

سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو جاوے۔ مجھے روسیاہ (کالا منہ) کیا جاوے۔" ہوں۔"

نتیجہ

"مرزا غلام احمد قادیانی احمدیہ بلا اور قادیان میں دفن ہوئے۔"

ونا مراد رہے۔"

١٩٦٦ء کو فوت ہوئی۔"

"میں چھوٹا بچہ تھا۔۔۔۔۔ مگر مجھے دن آیا تو کتنے کرب واضطراب سے دعا دیکھا۔۔۔۔۔۔ ہر ایک کی زبان پر یہ دعا جاری کہرام اور آہ وزاری کے نتیجے میں آتھم فوت۔۔۔۔۔۔ یہاں یہ بتا دینا بھی دلچسپی اور اہل وعیال مرزا غلام احمد نے نہ صر بلکہ ان سب نے ٹوٹے ٹوکے (جادو)

صفحہ ٥١٩

اعتبار نہیں رہتا۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)

مرزا قادیانی کے جھوٹ مشتے نمونہ از خروارے

(تذکرہ ص ٥٩١، طبع سوم)

اپنی بڑی لڑکی (محمدی بیگم) کا نکاح مجھ سے کر دو۔ میں اس پیش گوئی کو اپنے صدق وکذب کے لئے معیار قرار دیتا ہوں اور یہ خدا سے خبر پانے کے بعد کہہ رہا ہوں۔

(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے۔ مجھے روسیاہ (کالا منہ) کیا جاوے۔ مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔“

(جنگ مقدس ص ١٨٩، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣)

نتیجہ

”مرزا غلام احمد قادیانی احمدیہ بلڈنگ برانڈرتھ روڈ لاہور میں ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء مرے اور قادیان میں دفن ہوئے۔“

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص ١٠٩)

و نامراد رہے۔“

١٩٦٦ء کو فوت ہوئی۔“

(ہفت روزہ الاعتصام مورخہ ٢٥؍ نومبر ١٩٦٦ء)

”میں چھوٹا بچہ تھا..... مگر مجھے وہ نظارہ خوب یاد ہے کہ جب آتھم کی پیش گوئی کا آخری دن آیا تو کتنے کرب واضطراب سے دعائیں کی گئیں۔ میں نے تو محرم کا ماتم بھی کبھی اتنا سخت نہیں دیکھا...... ہر ایک کی زبان پر یہ دعا جاری تھی کہ یا اللہ آتھم مرجائے یا اللہ آتھم مرجائے۔ مگر اس کہرام اور آہ وزاری کے نتیجے میں آتھم تو نہ مرا۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٠؍ جولائی ١٩٤٠ء)

نوٹ...... یہاں یہ بتا دینا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ خود مرزا غلام احمد مصاحبین مرزا غلام احمد اور اہل وعیال مرزا غلام احمد نے نہ صرف آتھم کی موت کے لئے دعائیں کیں اور بددعائیں بلکہ ان سب نے ٹونے ٹوٹکے (جادو) بھی کئے۔

٢٣

صفحہ ٥٢٠

ثبوت

”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب آتھم کی میعاد میں صرف ایک دن باقی رہ گیا تو حضرت مسیح موعود نے مجھ سے اور میاں حامد علی سے فرمایا کہ اتنے چنے لے لو اور ان پر فلاں سورۃ کا وظیفہ اتنی تعداد میں پڑھو...... ہم نے ساری رات صرف کر کے وظیفہ ختم کیا اور وہ دانے حضرت صاحب کے پاس لے گئے...... حضرت صاحب ہم دونوں کو قادیان سے باہر غالباً شمال کی طرف لے گئے اور فرمایا۔ دانے کسی غیر آباد کنوئیں میں ڈالے جائیں اور فرمایا کہ جب دانے کنوئیں میں پھینک دوں تو ہم سب کو سرعت کے ساتھ منہ پھیر کر واپس لوٹ آنا چاہئے اور مڑ کر نہیں دیکھنا چاہئے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔“ (سیرت المہدی حصہ اول ص ١٧٨، روایت نمبر ١٦٠)

کی عیسائی ہو گئی۔ جن میں سے ایک شخص محمد یوسف خان جو ایک معزز آدمی ہے اور پرہیزگار دیندار سمجھا جاتا تھا اور سیکرٹری دائرہ مباحثہ کا رہا تھا عیسائی ہو گیا۔

ہوا۔“ (کتاب البریہ ص ١٣٣، خزائن ج ١٣ ص ١٧٣)

اپنے ہر ایک پرچہ (اہل حدیث) میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی ہی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت وحسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں بھی ناکام اور ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہو جانا ہی بہتر ہوتا ہے تا کہ بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ (مولوی ثناء اللہ) کذابین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں (یعنی قتل کیا جانا) بلکہ خدا کے ہاتھوں سے یعنی طاعون۔ ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیش گوئی نہیں۔ محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک! اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور

٢٤

تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا ک ہلاک کر اور میری موت سے ان (مولوی ثناء اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثنا میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہو مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون، ہیضہ کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کریں۔ جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے

(اشتہار مورخہ ٥؍اپریل ١٩٠٧ء، تبلیغ رسا

سال ایک ماہ اور اکیس دن کے بعد مولانا ثنا ہیضہ میں مبتلا رہ کر واصل جہنم ہوئے اور بفض کے بعد بتاریخ ١٥؍مارچ ١٩٤٨ء یعنی تقر خالق حقیقی سے جاملے۔ ”انا للہ وانا الی

کی نسبت طاعون اور زلزلوں وغیرہ حوادث ک زمانہ میں جبکہ آسمان اور زمین میں طرح طر

ہے۔

نشان آسمان پر ظاہر ہوگا۔“

صفحہ ٥٢١

تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان (مولوی ثناء اللہ) کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین ! مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے۔ حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ان (مولوی ثناء اللہ) کو نابود کر مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون ، ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بد زبانیوں سے توبہ کریں۔ جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ آمین ! یا رب العالمین !!!

(اشتہار مورخہ ١٥ اپریل ١٩٠٧ء، تبلیغ رسالت حصہ دہم ص ١٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨، ٥٧٩)

نتیجہ...... مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ بالا اپنی ہی دعا کے نتیجہ میں ٢٦ مئی ١٩٠٨ء یعنی ایک سال ایک ماہ اور اکیس دن کے بعد مولانا ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں اپنے منہ مانگے مرض وبائی ہیضہ میں مبتلا رہ کر واصل جہنم ہوئے اور بفضلہ تعالیٰ مولانا ثناء اللہ علیہ الرحمۃ مرزا قادیانی کی موت کے بعد بتاریخ ١٥ مارچ ١٩٤٨ء یعنی تقریباً چالیس سال بعد بمقام سرگودھا اپنی طبعی موت سے خالق حقیقی سے جاملے ۔ ” انا للہ وانا الیہ راجعون“ کردن خویش آمدن پیش۔

(حیات ثنائی خورد ص ١٤)

کی نسبت طاعون اور زلزلوں وغیرہ حوادث کی پیش گوئی بھی کی ہے اور صریح طور پر فرمایا ہے کہ آخری زمانہ میں جبکہ آسمان اور زمین میں طرح طرح کے خوفناک حوادث ظاہر ہوں گے ۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٩٨)

نوٹ...... قرآن شریف کے سیپارہ اور آیت کا حوالہ دیں۔ کیونکہ یہ قرآن پر صریح جھوٹ ہے۔

نشان آسمان پر ظاہر ہوگا ۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٨، خزائن ج ١٧ ص ١٥١)

نوٹ...... صریح جھوٹ ہے۔

٢٥

صفحہ ٥٢٢

تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا وہ اس کو کافر قرار دیں گے ۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤)

نوٹ....... سیپارہ اور آیت کا حوالہ دیں کیونکہ یہ صریح جھوٹ ہے۔

ذکر کیا گیا ہے وہاں میری نسبت نبی کا لفظ بولا گیا ہے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٥ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٤)

گئی ہے خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے آواز آئے گی کہ ”ھذا خلیفة الله المهدی“ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو ”اصح الکتب بعد از کتاب اللہ“ ہے۔“

(شہادة القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)

نوٹ....... بخاری شریف میں کوئی حدیث نہیں ہے۔ ثابت کرنے والے کو منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔ مؤلف!

قرآن شریف کے بارے میں مرزا قادیانی کا دعویٰ

سماوی ہے اور ایک شوشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتا، نہ کم ہو سکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا۔ جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کو تبدیل یا تغیر کر سکتا ہے اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مؤمنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ١٣٧، خزائن ج ٣ ص ١٧٠)

لوگوں کا کام ہے جو سخت شریر اور بدمعاش اور گنڈے کہلاتے ہیں۔“

(چشمہ معرفت ص ١٩٥، خزائن ج ٢٣ ص ٢٠٢، ٢٠٣)

لیجئے ! تبدیل شدہ اور سرکٹی ہوئی آیات ملاحظہ فرماویں۔

صحیح آیت

تبدیل شدہ آیت

ولا نبى الا اذا تمنى القى الشيطان فى امنية“

”وما ارسلنا من رسول ولا نبی اذا تمنی القی الشیطان فی امنیة“

(ازالۃ اوہام ص ٦٢٩، طبع پنجم ص ٤٥٧)

٢٦

نتیجہ....... قرآن کے الفاظ ”من قبلك“

ورسوله فان له نار جهنم خالداً ف ذالك الخزى العظيم“

نتیجہ....... ”فان له نارجهنم“ نکال

فى ظلل من الغمام“ یکسر آیت بدل ہے۔

اضافہ کر دیا ہے۔

على ان يأتوا بمثل هذا ال لاياتون بمثله“

جلهم هذا سحر مبين“

اسرائيل)“

والقرآن العظيم (الحجر)“

صفحہ ٥٢٣

نہ سے دکھ اٹھائے گا وہ اس کو کافر قرار دیں

(اربعین نمبر ٣ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤)

جھوٹ ہے۔

اور دوسرے نبیوں کی کتابوں میں جہاں میرا

(اربعین نمبر ٤ ص ٢٥ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)

آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی

ہے کہ آسمان سے آواز آئے گی کہ ”ھذا

پایا اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج

(شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)

ثابت کرنے والے کو منہ مانگا انعام دیا

کا دعویٰ

ن رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب

احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتا، نہ کم

ہیں ہو سکتا۔ جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ

خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت

(ازالہ اوہام ص ١٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٧٠)

مطلب کے موافق بنا کر پیش کر دینا ان

تے ہیں۔“

مہ معرفت ص ١٩٥، خزائن ج ٢٣ ص ٢٠٤، ٢٠٣)

فرماویں۔

تبدیل شدہ آیت

ارسلنا من رسول ولا نبی اذا

القی الشیطان فی امنیۃ“

(ازالہ اوہام خورد ص ٦٢٩، طبع پنجم ص ٤٥٧)

نتیجہ...... قرآن کے الفاظ ”من قبلك“ نکال دیئے گئے ہیں۔

(٢) ”الم يعلموا انه من يحاد دالله ورسوله فان له نار جهنم خالداً فيها ذالك الخزى العظيم“

”الم يعلموا انه من يحادد الله ورسوله يدخله ناراً خالداً فيها ذالك الخزى العظيم“

(حقیقت الوحی ص ١٣٠)

نتیجہ...... ”فان له نار جھنم“ نکال کر ”يدخله نار“ داخل کر دیا گیا ہے۔

(٣) ”هل ينظرون الا ان يأتيه الله فی ظلل من الغمام“ یکسر آیت بدل دی ہے۔

”يوم يأتى ربك فی ظلل من الغمام“

(حقیقت الوحی ص ١٥٢)

(٤) ”ذالك الفوزا العظيم“ ”هو“ لفظ کا اضافہ کر دیا ہے۔

”ذالك هو الفوز العظيم“

(براہین ص ٢٣٥)

(٥) ”فان لم تفعلوا ولن تفعلوا“

”وان لم تفعلوا ولن تفعلوا“

(براہین احمدیہ، ١٩٠١ء، پریس لاہور ض ٢٤٠، ٣٩٥، سرمہ چشمہ آریہ ص ١٢ حاشیہ، نور الحق حصہ اول ص ١٠٩، طبع ١ ص ١١٢ طبع ٢، حقیقت الوحی ص ٢٣٨)

(٦) ”قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یأتوا بمثل ھذا القران لاياتون بمثله“

”قل لئن اجتمعت الجن والانس ياتوا بمثل ھذا القران لا ياتون بمثله“

(جنگ مقدس ص ٤، ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٩٣٦، طبع پنجم ص ٢٨٣، نور الحق حصہ اول ص ١٠٩، طبع ١ ص ١١٢ طبع ٢)

(٧) ”قال الذين کفروا للحق لما جاءھم ھذا سحر مبین“

”ان ھذا الا سحر مبین“

(براہین احمدیہ ص ١٩٦ حاشیہ نمبر ١١، جزو نمبر ٢٦)

(٨) ”عسٰی ربکم ان یرحمکم (بنی اسرائیل)“

”عسٰی ربکم ان یرحم علیکم“

(براہین احمدیہ ص ٥٠٥ حاشیہ)

(٩) ”ولقد آتینك سبعاً من المثانی والقرآن العظیم (الحجر)“

”انا اتيناك سبعاً من المثانی والقرآن العظیم“

(براہین احمدیہ ص ٤٨٨ حاشیہ)

٢٧

صفحہ ٥٢٤

"كان" ہضم کر لیا۔ (مؤلف)

"فمن يرجوا لقاء ربه"

(براہین احمدیہ ص ٤٢٨ حاشیہ)

"ربهم" کا اضافہ کر دیا۔ مؤلف!

"وهم من خشيته ربهم مشفقون"

(براہین احمدیہ ص ٤٢٨ حاشیہ)

يستنقذوه منه ضعف الطالب والمطلوب" لفظ "منه" ہضم کر لیا ہے۔

"وان ليسلبهم الذباب شيئاً لا يستنقذوه ضعف الطالب والمطلوب" (براہین احمدیہ ص ٤٢٩ حاشیہ)

وخلقهم وخرقوا له بنين وبنات بغير علم" لفظ "خلقهم" ہضم کر لیا ہے۔

"وجعلوا لله شركاء الجن وخرقوا له بنين وبنات بغير علم"

(براہین احمدیہ ص ٤٢٩ حاشیہ)

سبحانه" لفظ "من" ہضم کر لیا ہے۔

"ملكان لله ان يتخذوا ولد سبحانه"

(براہین احمدیہ ص ٤٢٩ حاشیہ)

"من" ہضم کر لیا ہے۔

"ولا يجب داعى الله"

(براہین احمدیہ ص ٤٣٢)

أنت قلت للناس" الفاظ "ابن مريم" ہضم کر لئے۔

"واذ قال الله يا عيسىٰ انت قلت للناس" (ازالۃ الاوہام ص ٦٠٢، طبع پنجم ص ٤٤٨،

مواہب الرحمٰن ص ٧٣)

المرسلين" لفظ "من" کا اضافہ کر دیا گیا ہے

"وما ارسلنا من قبلك من المرسلين" (ازالۃ الاوہام مطبوعہ ص ١٩٠٨ء ریاض

ہند پریس امرتسر ص ٦١٢، طبع پنجم ص ٢٥٢)

فى سبيل الله (توبه)" "أن يجاهدوا باموالهم وانفسهم (توبه)"

"أن يجاهدوا فى سبيل الله باموالهم وانفسهم" (جنگ مقدس ص ١٧٦)

ربك ذو الجلال والاكرام"

"كل شئ فان ويبقى وجه ربك ذو الجلال والاكرام" (ازالۃ الاوہام ص ١٣٦)

٢٨

٥

مبين (المائده)"

نوٹ ...... بندہ کے پاس تحریف فی القرآن کی جائیں گی۔ آیت ٹھیک لکھی مگر ترجمہ غلط پیش کی

صحیح ترجمہ

یہ کتاب ہے نہیں شک اس میں ہدایت ہے پرہیزگاروں کے لئے وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں بغیر دیکھے اور نماز قائم کرتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں۔ اس چیز سے جو ہم نے ان کو عطا فرمائی اور وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں اس چیز کے ساتھ جو نازل کی گئی۔ طرف آپ کی اور جو نازل کی گئی آپ سے پہلے اور ساتھ آخرت کے وہ یقین رکھتے ہیں۔ یہی لوگ ہدایت پر ہیں۔ اپنے رب کی طرف سے اور یہی وہ لوگ ہیں فلاح پانے والے۔

ترجمہ ...... "بالآخرة هم يوقنون" کا کریں گے۔

حدیث

اصل حدیث

"قال ابن عباس قال رسو ابن مريم من السماء على جبل افيق مربوغا ....."

تبدیل شدہ حدیث

"وكذالك اختلف فى مو

صفحہ ٥٢٥

(٢٠) "قد جاءكم من الله نور وكتاب مبين (المائده)"

"قدجاءكم نور من الله" (رسالہ سراج دین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ص ٤٦ طبع، ص ٥٨ طبع ٢)

نوٹ....... بندہ کے پاس تحریف فی القرآن کی ٤٥ اور مثالیں موجود ہیں جو پھر کبھی پیش کر دی جائیں گی۔ آیت ٹھیک لکھی مگر ترجمہ غلط پیش کیا۔

صحیح ترجمہ

یہ کتاب ہے نہیں شک اس میں ہدایت ہے پرہیز گاروں کے لئے وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں بغیر دیکھے اور نماز قائم کرتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں۔ اس چیز سے جو ہم نے ان کو عطا فرمائی اور وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں اس چیز کے ساتھ جو نازل کی گئی۔ طرف آپ کی اور جو نازل کی گئی آپ سے پہلے اور ساتھ آخرت کے وہ یقین رکھتے ہیں۔ یہی لوگ ہدایت پر ہیں۔ اپنے رب کی طرف سے اور یہی وہ لوگ ہیں فلاح پانے والے۔

غلط ترجمہ

یہ کتاب جو شکوک اور شبہات سے پاک ہے۔ متقیوں کے لئے ہدایت نامہ ہے اور متقی وہ لوگ ہیں جو خدا پر (جس کی ذات مخفی درخفی ہے) ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں اور اپنے مالوں میں سے خدا کی راہ پر کچھ دیتے ہیں اور اسی کتاب پر ایمان لاتے ہیں۔ جو تیرے پر نازل ہوئی اور نیز ان کتابوں پر ایمان لاتے ہیں جو تجھ سے پہلے نازل ہوئیں۔ وہی لوگ خدا کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی نجات پائیں گے۔

(حقیقت الوحی ص ١٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٣٥)

نتیجہ...... "بالآخرة هم يوقنون" کا ترجمہ اور ساتھ آخرت کے وہ یقین رکھتے ہیں، ہضم کر گئے۔

حدیث میں خیانت

اصل حدیث

"قال ابن عباس قال رسول الله ﷺ فعنده ذالك ينزل اخى عيسى ابن مريم من السماء على جبل افيق اماماً هاديا وحكماً وعادلاً عليه برنس له مربوغا......."

(منتخب کنز العمال حاشیہ مسند احمد ج ٦ ص ٥٦)

تبدیل شدہ حدیث

"وكذالك اختلف في موضع نزوله وفى حديث ابن عباس قال

صفحہ ٥٢٦

لسمعت رسول اللہ ﷺ یقول ینزل اخی عیسیٰ ابن مریم علی جبل افیق اماماً هادياً حكما عادلاً بیده حربة يقتل الدجال.........“

(حمامۃ البشریٰ ص ٨٨، خزائن ج ٧ ص ٣١٢)

نوٹ....... الفاظ ”من السماء“ اور ”علیہ برنس لہ“ نہیں لکھے۔

قرآن کا حکم

کسی نبی کے واسطے یہ لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے۔

چنانچہ اپنے ہی فتویٰ کے تحت جماعت مؤمنین سے خارج، ملحد، کافر، شریر، بدمعاش اور گنڈے (غنڈے) ٹھہرے۔ (مؤلف)

نبیوں کی تحقیر

قول مرزا ”اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کرنا کفر ہے۔.... کسی نبی کی اشارہ سے بھی تحقیر کرنا سخت معصیت ہے اور موجب نزول غضب الٰہی۔“

(ضمیمہ چشمہ معرفت ص ١٨، خزائن ج ٢٣ ص ٣٩٠)

عمل مرزا ”آپ (یسوع مسیح) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں ان کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

نعوذ باللہ!

قرآن کا ارشاد

اور وہ (مسیح) پیدا ہوئے ہیں اور پنگھوڑے میں لوگوں سے باتیں کرے گا اور وہ صالحین میں سے ہوگا:

بھول کر دیتی نہیں گالی شریفوں کی زبان
یہ کمینوں کی علامت ہے رذیلوں کا نشاں

مرزا قادیانی کی بکواس

”ہاں! آپ (مسیح) کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آ جاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہ سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیتے تھے۔“

(انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

صفحہ ٥٢٧

بن ابن مریم علی جبل افیق .......

مامات البشریٰ ص ٨٨، خزائن ج ٧ ص ٣١٦)

میں لکھے۔

ہو، خارج ملہ، کافر، شریر، بدمعاش اور

عمل مرزا وع مسیح) کا خاندان بھی نہایت ار ہے ۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ ر کی عورتیں تھیں ان کے خون سے ظہور پذیر ہوا۔"

ام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

لوگوں سے باتیں کرے گا اور وہ

کی علامت ہے رذیلوں کا نشاں

کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ اور بیہودہ بہانے سے کسر نکال لیتے

م آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

قرآن

مرزا

"واذ علمتك الكتاب والحكمة والتوراة والانجيل" "اور جب کہ میں نے اے عیسیٰ علیہ السلام تجھے کتاب (قرآن۔ مؤلف) اور دانائی اور توراۃ اور انجیل سکھائی۔﴾

(١) "حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا استاد ایک یہودی تھا جس سے انہوں نے ساری بائبل پڑھی اور لکھنا سیکھا۔"

(اربعین نمبر ٣ ص ١١، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٨)

(٢) "آپ کا ایک یہودی استاد تھا جس سے آپ نے توراۃ سبقاً سبقاً پڑھا تھا۔ معلوم ہوتا ہے یا قدرت نے آپ کو زیرکی سے کچھ بہت حصہ نہیں دیا تھا یا اس استاد کی یہ شرارت تھی کہ اس نے محض آپ کو سادہ لوح رکھا۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

"اني قد جئتكم بآية من ربكم اني اخلق من الطين كهيئة الطير فانفخ فيه فيكون طيراً باذن الله وابرئ الاكمه والابرص واحی الموتی باذن الله وانبئكم بما تأكلون وما تدخرون في بيوتكم ان في ذلك لاية لكم ان كنتم مؤمنين" "تحقیق لایا ہوں میں تمہارے پاس نشانی تمہارے رب کی طرف سے تحقیق پیدا کرتا ہوں تمہارے لئے مٹی سے مانند پرندہ کی۔ پس پھونکتا ہوں میں اس میں اور ہو جاتا ہے پرندہ اللہ کے حکم سے اور ٹھیک کرتا ہوں میں بھینگے کو اور زندہ کرتا ہوں مردوں کو اللہ کے حکم سے اور خبر دیتا ہوں تم کو جو تم کھاتے ہو اور جو تم ذخیرہ کرتے ہو اپنے گھروں میں تحقیق اس میں نشانیاں ہیں۔ تمہارے لئے اگر تم مؤمن بن جاؤ۔﴾

(١) "یہ اعتقاد بالکل غلط ہے اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر ان میں پھونک کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ نہیں! بلکہ صرف عمل التراب (مسمریزم) تھا۔"

(ازالہ اوہام ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)

(٢) "مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے اور بے رونق، بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے پہلے مظہر عجائبات تھا۔ میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم، مفلوج، مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے۔"

(ازالہ اوہام ص ٣٢١، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)

(٣) "اب جاننا چاہئے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کا معجزہ حضرت سلیمان کے معجزہ کی طرح صرف عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دنوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی

٣١

صفحہ ٥٢٨

قسم ہیں۔ دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠٦ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)

”یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح علیہ السلام جسمانی بیماریوں کو اس عمل کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے۔ مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کاروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا ہے کہ قریب قریب ناکام سے رہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣١٠، ٣١١، خزائن ج ٣ ص ١٥٨)

”چونکہ قرآن شریف اکثر استعارات سے بھرا ہوا ہے۔ اس لئے اُن آیات کے روحانی طور پر یہ معنی بھی کر سکتے ہیں کہ مٹی کی چڑیوں سے مراد وہ امتی اور نادان لوگ ہیں جن کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے رفیق بنایا۔ گویا اپنی صحبت میں لے کر پرندوں کی صورت کا خط کر کھینچا۔ پھر ہدایت کی روح ان میں پھونک دی جس سے وہ پرواز کرنے لگے۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٠٤ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)

نوٹ...... مرزا غلام احمد نے قرآن پاک کی غلط تفسیر کر کے اللہ سے سرکشی کی۔ آپ اگلی آیات ملاحظہ فرمادیں۔ ”ولأحلّ لكم بعض الذی حرّم علیکم “ تاکہ حلال کروں بعض ایسی چیزیں جو تم پر حرام کی گئی ہیں۔

مندرجہ بالا آیات کا مرزائی کیا استعارہ گھڑیں گے؟ دراصل مرزا قادیانی نے مسیح ابن مریم علیہا السلام کو اپنے راستہ سے ہٹانے کی خاطر کہا۔

مبرز ہے تولد پا کر مدت تک بھوک اور پیاس اور درد اور بیماری کا دکھ اٹھاتا رہا۔“

(براہین احمدیہ ص ٣٧٩، خزائن ج ١ ص ٤٣١ حاشیہ)

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

حضرت محمدﷺ کی توہین

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں

٣٢

صفحہ ٥٢٩
محمد جس نے دیکھنے ہوں اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(اخبار بدر قادیان نمبر ٤٣ ج ٢ مورخہ ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء ص٤)

نعوذ باللہ!

مرزائی اکثر کہتے ہیں کہ یہ قصیدہ ایک شاعر اکمل نے پڑھا تھا۔ مرزا قادیانی کا یہ کلام نہیں ہے۔ حضرات! دراصل مرزا قادیانی کے روبرو یہ قصیدہ پڑھا گیا تھا اور مرزا قادیانی نے شاعر اکمل کو خراج تحسین پیش کیا اور قطعہ خوشی خوشی اپنے گھر لے گئے۔

ثبوت ...... مرزا غلام احمد کے سامنے ان کے ایک مرید قاضی اکمل نے ایک قصیدہ پیش کیا جس کے جواب میں مرزا قادیانی نے فرمایا کہ ”جزاکم اللہ تعالیٰ“ اور یہ کہ اس خوشخط قطعہ کو اپنے ساتھ اندر لے گئے۔

(الفضل مورخہ ٢٢ اگست ١٩٤٤ء)

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)

”میرے نشانات کی تعداد دس لاکھ ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ١١، خزائن ج ٢١ ص ١٤٨)

چربی اس میں پڑتی ہے۔“ (نعوذ باللہ من ذلک۔مؤلف!)

(مکتوب اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٢ فروری ١٩٢٤ء)

آنحضرت ﷺ کا وجود ہی قرار دیا ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)

نعوذ باللہ! چہ نسبت خاک را بعالم پاک۔ مؤلف!

حضرت علیؓ شیر خدا کی توہین

”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑ دو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی (غلام احمد قادیانی) تم میں موجود ہے۔ اس کو تم چھوڑتے ہو اور مردہ علی (علیؓ شیر خدا۔مؤلف) کی تلاش کرتے ہو۔“

(ملفوظات ج ٢ ص ١٤٢)

توہین فاطمۃ الزہراؓ

”ایک دن میں جب شام کی نماز کے فرضوں اور سنتوں سے فارغ ہوا میں جاگتا تھا

٣٣٤

صفحہ ٥٣١

مولانا رشید احمد گنگوہیؒ

ہیں وہ امروہی کی طرح بدبخت ہے۔“

عوام الناس مسلمانوں کے متعلق

اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میرے دعویٰ کی تو وہ کنجریوں کی اولاد ہیں اور ان کے دلوں پر اللہ نے مہر

(آئینہ

(ذری

آذیتنی خبثا فلست بصادق ”تو نے اپنی خباثت سے بہت دکھ پہنچ ساتھ تیری موت نہ ہو ۔ اے نسل بدکاراں !“ (نجم

شخص خبیث مفسد و مزور بدگو ہے اور خبیث اور مفسد اور جھوٹا جاہلوں نے سعد اللہ رکھا ہے۔

ذریۃ البغایا کا ترجمہ مرزا قادیانی ک ج ١٦ ص ٢٩، انجام آتھم ص ٢٨٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً

ثبوت ...... (الف) ”واتشوق الیٰ رقصو کی طرف۔

صفحہ ٥٣١

مولانا رشید احمد گنگوہیؒ

ہیں وہ امروہی کی طرح بدبخت ہے۔“

(انجام آتھم ص٢٥٢، خزائن ج١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص٢٥٢، خزائن ج١١ ص ایضاً)

عوام الناس مسلمانوں کے متعلق

(نجم الہدیٰ ص١٠، خزائن ج١٤ ص٥٣)

اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میرے دعویٰ کی تصدیق کرتا ہے۔ مگر وہ لوگ جو مجھے نہیں مانتے وہ کنجریوں کی اولاد ہیں اور ان کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، ٥٤٨، خزائن ج٥ ص ایضاً)

(نور الحق جز اول ص ١١٨ تا ١٢٢، خزائن ج٨ ص ١٥٨ تا ١٦٢)

آذیتنی خبثاً فلست بصادق ان لم تمت بالخزی یا بن بغاء

”تو نے اپنی خباثت سے بہت دکھ پہنچایا ہے۔ پس میں سچا نہیں ہوں گا۔ اگر ذلت کے ساتھ تیری موت نہ ہو۔ اے نسل بدکاراں!“ (تتمہ حقیقۃ الوحی ص١٤، ١٥، خزائن ج٢٢ ص ٤٣٥، ٤٣٦)

شکس خبیث مفسد و مزور نحس یسمی السعد فی الجہلاء

بدگو ہے اور خبیث اور مفسد اور جھوٹ کو ملمع کر کے دکھانے والا۔ منحوس ہے جس کا نام جاہلوں نے سعداللہ رکھا ہے۔

ذریۃ البغایا کا ترجمہ مرزا قادیانی کی زبانی کنجریوں کا بیٹا۔ (خطبۃ الہامیہ ص٧١، خزائن ج١١ ص ٤٩، انجام آتھم ص٢٨٢، خزائن ج١١ ص ایضاً، نور الحق حصہ اول ص١٢٣، خزائن ج٨ ص ١٦٣)

ثبوت...... (الف) ”واتشوق الیٰ رقص البغایا“ اور شوق کرنا، بازاری عورتوں کے رقص کی طرف۔

(خطبۃ الہامیہ ص٧١، خزائن ج١١ ص ٤٩)

صفحہ ٥٣٢

مرزا غلام احمد کے دعاوی کی غرض وغایت

انگریزوں نے جنگ آزادی ١٨٥٧ء جیت تو لی مگر محسوس کیا کہ مسلمانان ہندوستان ان کے پیر جمنے نہیں دیتے اور ہمہ وقت جہاد کے لئے تیار رہتے ہیں۔ لہٰذا کسی جاسوس اور ایجنٹ کو ہاتھ میں لے کر جہاد کی روح کو ان کے ذہنوں سے ختم کر دینا چاہئے۔

١٨٦٩ء میں ایک کمیشن ہندوستان آیا۔ اس نے ایک سال کی انتھک کوشش کے بعد ١٨٧٠ء میں لنڈن وائٹ ہال میں کانفرنس کر کے رپورٹ پیش کی اور دی ارائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا (The Araival of British Empire in India) کے نام سے شائع کی اور بتایا کہ:

میسر آجائے اور نبوت کا دعویٰ کرنے کو تیار ہو جاوے تو ان مسلمانوں کو مطیع اور فرمانبردار بنایا جا سکتا ہے۔“

وزیر اعظم انگلستان گلیڈسٹون نے پارلیمنٹ میں تقریر کی اور مندرجہ بالا دونوں باتوں پر عمل کرنے کا عہد کیا۔ خطۂ پنجاب کے پادریوں کی نظر مرزا غلام احمد پر پڑی جو اس وقت سیالکوٹ میں ایک معمولی مشاہرہ پر ملازم تھے۔ معاملات طے ہو گئے۔ یوں تو مرزا قادیانی کا خاندان پہلے ہی انگریز کا پٹھو ٹوڈی اور جھولی چک تھا۔ مگر اس تازہ معاہدہ کے تحت وہ ہمہ تن انگریزی حکومت کی مضبوطی میں لگ گئے۔“

ثبوت

یہ کہوں کہ میں اس حکومت کے لئے تعویذ اور ایسا قلعہ ہوں جو اس کو آفات و مصائب سے محفوظ رکھنے والا ہے۔“

(نور الحق حصہ اوّل ص ٣٢، ٣٣ ، خزائن ج ٨ ص ٤٥)

متواتر تجربہ سے ایک وفادار، جانثار ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز

٣٦

صفحہ ٥٣٣

حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے خیر خواہ اور خدمت گزار ہے اس خودکاشتہ پودے کی نسبت حزم اور احتیاط سے تحقیق وتوجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔“

(تبلیغ رسالت ج٧ ص١٩، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢١)

ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھیں ہیں کہ اگر وہ اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابیں تمام ممالک عرب، مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری یہ ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ روئے زمین کے مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں۔“

(تریاق القلوب ص١٥، خزائن ج١٥ ص١٥٥)

حماقت کا ہے۔ کیونکہ جس کے احسانات کا شکریہ فرض اور واجب ہے اس سے جہاد کیسا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔

اپنے سائے میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص٣، خزائن ج٦ ص٣٨٠)

کی عمر تک پہنچا ہوں اپنی زبان اور قلم سے اہم کام میں مشغول ہوں کہ تا مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ دور کروں۔“

(تبلیغ رسالت ج٦ ص١٠، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١١)

معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھ کو مسیح اور مہدی جان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار ہے۔“

(اشتہار تبلیغ رسالت ج٧، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٩)

٣٧

صفحہ ٥٣٤

ہند پر اطاعت گورنمنٹ برطانیہ فرض ہے اور جہاد حرام ہے۔“

(اشتہار مورخہ ١٠/دسمبر ١٨٩٤ء، تبلیغ رسالت ج ٣ ص ٣٠٠، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٢٨)

ممانعت ہے اسلامی ملکوں میں ضرور بھیج دیا کروں۔“

(تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٢٦، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣٣)

(تلخیص از تبلیغ رسالت ص ١٠٧)

گورنمنٹ محسنہ سے ہرگز جہاد درست نہیں۔ بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ ..... جو لوگ میرے ساتھ مریدی کا تعلق رکھتے ہیں وہ ایک ایسی جماعت تیار ہوتی جاتی ہے کہ جس کے دل اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی سے لبالب ہیں۔“

(تبلیغ رسالت ص ٦٥، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٦٦، ٣٦٧)

بھائیو! مرزا غلام احمد قادیانی نے نہ صرف اپنی کتابیں دیگر مسلم ممالک میں بھیجیں بلکہ ہر ممکن کوشش کی کہ ہندوستان کی طرح دیگر مسلم ممالک بھی ظالم انگریز کے زیر نگین آ جائیں۔

مرزائیوں کی اس ضمن میں کوششوں کے ثبوت:

گرویدہ ہو چکے تھے اور لوگوں کو اس عقیدہ کی تلقین کر کے انہیں اصلاح کی راہ سے بھٹکا رہے تھے..... مجرم ثابت ہو کر عوام کے ہاتھوں پنجشنبہ ١١ رجب کو عدم آباد پہنچائے گئے۔ ان کے خلاف مدت سے ایک اور دعوٰی دائر ہو چکا تھا اور مملکت افغانیہ کے مصالح کے خلاف غیر ملکی لوگوں کے سازشی خطوط ان کے قبضے سے پائے گئے۔ ان سے پایا جاتا تھا کہ وہ افغانستان کے دشمنوں کے ہاتھ بک چکے تھے۔“

(مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ١٢ نمبر ٩٦، مورخہ ٣/ مارچ ١٩٢٥ء)

گیا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دیتے تھے اور حکومت افغانستان کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ اس سے

٣٨

٥

افغانوں کا جذبہ حریت کمزور پڑ جائے گا اور اس

احمدیہ کے مسلک کو بیان نہ کرتے تو شرعی طور پر سنگسار ہو گئے جو انہیں حکومت برطانیہ کے متعلق قادیان سے لے کر گئے تھے۔“

اسماعیلی فرقہ کے خلاف مرزائیوں کی

مرزائی اکثر یہ کہا کرتے ہیں کہ ” دیتے ہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک اسماعیلی بھ

اسماعیلی فرقہ کے بانی آغا خان کا بیا

”گواہ رہو کہ اللہ ایک ہے اور م ہے کعبہ سب کا قبلہ ہے۔ تم مسلمان ہو او السلام علیکم کہہ کر ملو۔ اپنے بچوں کے اسلام پڑھو۔ پابندی سے روزے رکھو۔ اسلامی قا سے اپنے بھائیوں کی طرح برتاؤ کرو۔“

پھر بتاؤ کہ مندرجہ بالا اعتقاد غضب سے ڈرنا اور جھوٹ سے اجتناب کر

کچھ مراق، ذیابیطس

مراقی عورت ۔

”مگر یہ بات یا تو بالکل جھوٹ

مراق کی تشریح

صفحہ ٥٣٥

افغانوں کا جذبہ حریت کمزور پڑ جائے گا اور اس پر انگریزوں کا اقتدار چھا جائے گا۔

(الفضل مورخہ ٦ اگست ١٩٢٥ء)

احمدیہ کے مسلک کو بیان نہ کرتے تو شرعی طور پر ان پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ مگر وہ اس بڑھے جوش کا شکار ہو گئے جو انہیں حکومت برطانیہ کے متعلق تھا اور اس ہمدردی کی وجہ سے مستحق سزا ہو گئے۔ جو قادیان سے لے کر گئے تھے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٦ اگست ١٩٢٥ء)

اسماعیلی فرقہ کے خلاف مرزائیوں کی ہرزہ سرائی

مرزائی اکثر یہ کہا کرتے ہیں کہ ”مسلمانوں کا یہ شیوہ ہے کہ وہ ہر ایک کو کفر کا فتویٰ دے دیتے ہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک اسماعیلی بھی کافر ہیں۔“

اسماعیلی فرقہ کے بانی آغا خان کا پیغام اپنے مریدوں کے نام

”گواہ رہو کہ اللہ ایک ہے اور محمد ﷺ اس کے آخری رسول ہیں۔ قرآن اللہ کی کتاب ہے کعبہ سب کا قبلہ ہے۔ تم مسلمان ہو اور مسلمانوں کے ساتھ زندگی بسر کرو۔ مسلمانوں سے السلام علیکم کہہ کر ملو۔ اپنے بچوں کے اسلامی نام رکھو۔ مسلمانوں کے ساتھ مسجد میں باجماعت نماز پڑھو۔ پابندی سے روزے رکھو۔ اسلامی قانون نکاح کے مطابق اپنی شادیاں کرو۔ تمام مسلمانوں سے اپنے بھائیوں کی طرح برتاؤ کرو۔“

(اسٹار الہ آباد مورخہ ١٢ مارچ ١٩٢٣ء)

پھر بتاؤ کہ مندرجہ بالا اعتقاد رکھنے والوں کو کون کافر کہہ سکتا ہے۔ مرزائیو! خدا کے غضب سے ڈرنا اور جھوٹ سے اجتناب کرنا شرافت کی نشانی ہے۔ مؤلف!

کچھ مراق، ذیابیطس اور دوران سر کے بارے میں

مراقی عورت کے متعلق مرزا قادیانی کا دعویٰ

”مگر یہ بات یا تو بالکل جھوٹا منصوبہ اور یا کسی مراقی عورت کا وہم تھا۔“

(کتاب البریہ ص ٢٣٩ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ٢٧٤)

مراق کی تشریح

٣٩

صفحہ ٥٣٦

ہے اور معدہ کے نیچے واقع ہوتا ہے اور فعل ہضم میں کام آتا ہے۔ پرانے سوء ہضم کی وجہ سے اس پردے میں تشنج سا ہو جاتا ہے۔ بدہضمی اور اسہال اس مرض میں پائے جاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس مرض میں تخیل بڑھ جاتا ہے اور مرگی اور ہسٹیریا والوں کی طرح مریض کو اپنے جذبات اور خیالات پر قابو نہیں رہتا۔"

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ٦)

تو اس کے دعوٰی کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیتی ہے۔"

(رسالہ ریویو ج٢٥ نمبر ٨، ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ٦)

(رسالہ ریویو ماہ نومبر ١٩٢٦ء ، ص ٩)

قابو نہیں رہتا اور تخیل بڑھ جاتا ہے۔"

(رسالہ ریویو ج ٢٥ نمبر ٨ ص ٥)

مرزا قادیانی کو مندرجہ بالا اقسام کے دورے

حضرت مسیح موعود کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹیریا کا دورہ بشیر اوّل (ہمارا ایک بڑا بھائی......) کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔۔۔۔ آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے۔"

وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دوزرد چادریں اس نے پہنی ہوں گی تو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی ۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔" (رسالہ تشحیذ الاذہان ج ٣ ص ٥، ماہ جون ١٩٠٦ء، اخبار بدر قادیان ج ٢ نمبر ٢٣ مورخہ ٧ جون ١٩٠٦ء ص ٥، کالم ٢)

مرزا قادیانی کی بیماریوں کی فہرست

(١)مراق۔ (٢)دوران سر۔ (٣)سردرد۔ (٤)کثرت پیشاب (یعنی ذیابیطس) سوسو بار پیشاب آنا۔

(ضمیمہ اربعین نمبر ٣، ٤ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧١)

٤٠

آج کل کی مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو بیٹھا اس کام کو کرتا رہتا ہوں۔ حالانکہ زیادہ مـ کا دورہ ہو جاتا ہے۔ تاہم میں اس بات کی پر

(اخبار الحکم قادیان ج ٥ نمبر ٤٠، مـ

مرزا قادیانی کی شخصیت ان کی اپنی

کرم خاکی ہوں میر
ہوں بشر کی جائـ

(درثـ

نوٹ....... اردو ادب کا کلیہ قاعدہ ہے کہ لفـ معنی دیتا ہے۔ لغوی اردو ترجمہ: میرے پیارے نہ میں مٹی کـ (عورت اور مرد) کی نفرت والی جگہ ہوں اور پنجابی ترجمہ: نہ تے میں مٹی دا کیڑا ہاں تے دی شرمگاہ ہاں۔ تے نالے میں انسانیت دا مرزائی حضرات کہا کرتے ہیں یہی عاجزی حضرت داؤد علیہ السلام نے زبور

صفحہ ٥٣٧

(ریویو ج ٢٥ نمبر ٨ ص ٦)

(اربعین نمبر ٣، ٤ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧١)

(نسیم دعوت ص ٦٩ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٩)

(فتح اسلام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ١٧)

(ریویو ج ١٥ نمبر ٨ ص ٦)

(اخبار الحکم قادیان ج ٥ نمبر ٣٠، مورخہ ٣١ اکتوبر ١٩٠١ء ص ٦ کالم نمبر ١، ملفوظات ج ٢ ص ٣٧٦)

مرزا قادیانی کی شخصیت ان کی اپنی زبانی

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(درثمین ص ٩٤، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ١٢٧)

نوٹ...... اردو ادب کا کلیہ قاعدہ ہے کہ لفظ ”نہ“ اگر درمیان ہو تو دونوں طرف کے متعلق نفی کے معنی دیتا ہے۔

لفظی اردو ترجمہ: میرے پیارے نہ میں مٹی کا کیڑا ہوں اور نہ میں آدم کی اولاد ہوں۔ میں انسان (عورت اور مرد) کی نفرت والی جگہ ہوں اور ننگ انسانیت ہوں۔

پنجابی ترجمہ: نہ تے میں مٹی دا کیڑا ہاں تے نہ ای میں بندے دا پتر ہاں۔ میں مرداں تے زنانیاں دی شرمگاہ ہاں۔ تے نالے میں انسانیت دا منہ چڑاون والا ہاں!

مرزائی حضرات کہا کرتے ہیں کہ یہ مرزا قادیانی کی انکساری اور عاجزی تھی اور ایسی ہی عاجزی حضرت داؤد علیہ السلام نے زبور میں بیان کی ہے۔

صفحہ ٥٣٨

لیجئے ! زبور کے الفاظ ملاحظہ فرمائیے : ” پر میں کیڑا ہوں انسان نہیں۔ آدمیوں میں انگشت نما ہوں اور لوگوں میں حقیر۔ وہ سب ہی مجھے دیکھتے ہیں۔ میرا مضحکہ اڑاتے ہیں وہ منہ چڑاتے ہیں۔“

(زبور باب ٢٢، آیت نمبر ٧،٦)

اعتراض کا جواب

صحت کی کوئی ضمانت نہیں۔

اس کا اپنا کوئی کلام نہیں ہوا کرتا۔ ورنہ وہ کتاب کتاب اللہ نہیں کہلاتی۔

ثابت ہوا کہ زبور میں حضرت داؤد علیہ السلام کا کلام نہیں ہے۔ نہ ہی وہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو فرمایا ہے کہ اے نبی کہہ دو کہ میں مٹی کا کیڑا ہوں۔ انسان نہیں۔ وغیرہ وغیرہ!

مرزا قادیانی کہتے ہیں:

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)

(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ١ ص ٣١، مکتوبات احمدیہ ج ٥ ص ٧٢، مکتوب نمبر ١٥)

(حقیقت الوحی ص ٨٠، الاستفتاء خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٦)

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

(خطبہ الہامیہ ص ١٨١، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٢)

(تریاق القلوب ص ٣٦، خزائن ج ١٥ ص ٢٠٤)

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٢١٣)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)

(حقیقت الوحی ص ٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٩٩)

٤٢

PDF 540

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم

کذبات مرزا

مولانا عبدالواحد مخدوم رحمۃ اللہ علیہ

صفحہ ٥٤٠

انتساب !

سفیر ختم نبوت، فاتح ربوہ، عالم باعمل، مناظر اسلام، استاذ محترم حضرت مولانا علامہ منظور احمد صاحب چنیوٹی کے نام منسوب کرتا ہوں۔ جن کی کوششوں اور محنتوں سے ہمیں فتنہ مرزائیت کی حقیقت کا انکشاف ہوا۔ مرزائیت، قادیانیت کے تابوت کو بکھیرنے والے مشہور و معروف علماء کرام کی طرف سے کتاب ہذا کا

تعارف و تصدیقات

عالم حقانی، محقق جلیل، فاضل لبیب، امیر الموحدین، رئیس المناظرین، رئیس المجاہدین، سفیر ختم نبوت، استاذ محترم حضرت مولانا علامہ منظور احمد صاحب چنیوٹیؒ، ایم۔ پی۔ اے چنیوٹ۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الحمدلله وحده الصلوة والسلام على من لا نبي بعده اما بعد !

نبوت باطلہ، قادیانیت کا شجرہ خبیثہ جسے اسلام کے ازلی دشمن بد بخت انگریز نے اپنے ناپاک استعماری مقاصد کی خاطر ہندوستان میں کاشت کیا تھا۔ ملت اسلامیہ کے لئے یہ ایک خطرناک ناسور ہے۔ علماء ربانی نے اوّل یوم سے ہی اس کا تعاقب شروع کر دیا تھا۔ مرزا قادیانی کی حیات ہی میں مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا کرم دین جہلمی، مولانا ثناء اللہ امرتسری اور پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور دیگر علماء ربانی نے مرزا قادیانی کا تعاقب شروع کر دیا اور ہر طرح اس کا ناطقہ بند کرنے کی اپنی مساعی جاری رکھیں۔ پھر مرزا غلام احمد قادیانی کی وفات کے بعد سید انور شاہ کشمیریؒ جیسے محدثِ زمانہ، ڈاکٹر علامہ اقبالؒ اور مولانا ظفر علی خانؒ، جیسے بلند پایہ شاعر اور صحافی، امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ جیسے خطیبِ بے مثال، فاتحِ قادیان استاذ محترم مولانا محمد حیات اور مولانا لال حسین اخترؒ جیسے مناظر، زندگی بھر نظم و نثر تحریر و تقریر ہر طریقہ سے ان کا علمی اور سیاسی محاسبہ کرتے رہے۔ الحمدللہ! ان علماء ربانی کی مخلصانہ محنتوں، کاوشوں سے قادیانیت اپنے آخری انجام کو پہنچ رہی ہے۔ ١٩٧٤ء کی تحریک کے نتیجہ میں قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم کافر تسلیم کر لیا گیا۔ پھر دس سال کی جدوجہد کے بعد ١٩٨٤ء میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کے ذریعہ اسلامی اصطلاحات و شعائر کے استعمال سے قانوناً روک دیا گیا۔ اسلام کے نام پر ان کی کفر و ارتداد کی تبلیغ پر پابندی لگا دی گئی۔ وہ اب اپنے کو مسلمان نہ لکھ سکتے ہیں نہ کہہ سکتے ہیں۔ اشارۃً کنایۃً یا نقوش

٢

کے ذریعہ بھی اگر وہ اپنے آپ کو مسلمان یا اسے لئے تین سال کی سزا ہے۔۔ دنیا اسلام میں بھی ا سمجھ چکے ہیں کہ یہ لوگ اسلام کے لباس میں ک بدترین دشمن یہود و نصاریٰ کے ایجنٹ ہیں۔ ی اسلامی بلکہ دنیا بھر میں ان کے مکروہ چہرے ب ہے۔ اب تو ان کے اپنے آقا و مربی جس کا یہ ا خبیثہ کو اپنے مقاصد فاسدہ اور اغراض مشئومہ ک و افتراق پیدا کیا جائے مسلمانوں کے دلوں س تھا۔ اب اس ملک میں بھی ان کی قلعی کھل چکی ہ اور ١٥ اگست ١٩٨٥ء لندن میں ہ جب قادیانیت نے ”احمدیہ مسلم ایسوسی ایشن ک تو وہاں کے مسلمان باشندوں نے انتظامیہ کو اساسی عقیدہ اسلام کے بھی منکر ہیں۔ اگر انہو عنوان پر کوئی کانفرنس کی تو فساد ہوگا۔ ہم انہیں کی حکومت نے ان کو اجازت دی ہوئی کینسل ک نہیں کر سکے۔ اب ان کا موجودہ سربراہ ملک تاریک سے تاریک تر ہوتا جا رہا ہے اور دنیا اس صدی جس میں یہ اپنی صد سالہ جوبلی منانا چاہ ثابت ہوگی۔ لیکن جب تک یہ فتنہ موجود ہے رہیں۔ یہ کتابچہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ ترتیب دیا ہے۔ جس میں مرزا قادیانی کی ک درجن کے قریب جھوٹی پیشین گوئیاں (اور اس ہے۔ اندازِ تحریر بالکل سادہ اور عام فہم ہے۔ ا حوالہ جات تمام کے تمام مستند ہیں اور ان سے چار کی طرح مسلم حقیقتیں ہیں۔ میری دعا ہے فرما دیں اور اللہ تعالیٰ اسے گمراہ اور بھٹکے ہو

صفحہ ٥٤١

کے ذریعہ بھی اگر وہ اپنے آپ کو مسلمان یا اپنے مذہب کو اسلام ظاہر کریں تو وہ مجرم ہیں۔ ان کے لئے تین سال کی سزا ہے۔ دنیا اسلام میں بھی ان کے اسلام کا جھوٹا طلسم ٹوٹ چکا ہے اور مسلمان سمجھ چکے ہیں کہ یہ لوگ اسلام کے لباس میں اسلام کے بدترین دشمن ہیں اور اسلام کے ازلی اور بدترین دشمن یہود و نصاریٰ کے ایجنٹ ہیں۔ رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کی تنظیم نے پورے عالم اسلامی بلکہ دنیا بھر میں ان کے مکروہ چہرے سے نقاب الٹ کر ان کے اصلی چہرے کو اجاگر کر دیا ہے۔ اب تو ان کے اپنے آقا و مربی جس کا یہ خود کاشتہ پودا ہے یعنی انگریز بہادر جس نے اس شجرہ خبیثہ کو اپنے مقاصد فاسدہ اور اغراض مشئومہ کی غرض سے کاشت کیا تھا تاکہ مسلمانوں میں انتشار وافتراق پیدا کیا جائے مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد ختم کیا جائے۔ جس سے انگریز خائف تھا۔ اب اس ملک میں بھی ان کی قلعی کھل چکی ہے۔

اور ١٩٨٥ء ٢٤ اگست لندن میں ہماری انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس منعقد کرنے کے بعد جب قادیانیت نے ”احمدیہ مسلم ایسوسی ایشن کی طرف سے“ ختم نبوت کانفرنس کرنے کا اعلان کیا تو وہاں کے مسلمان باشندوں نے انتظامیہ کو خبردار کیا کہ یہ مسلمان نہیں ہیں اور یہ ختم نبوت کے اساسی عقیدہ اسلام سے بھی منکر ہیں۔ اگر انہوں نے مسلم ایسوسی ایشن کے نام پر ”ختم نبوت“ کے عنوان پر کوئی کانفرنس کی تو فساد ہوگا۔ ہم انہیں اس دھوکہ کی اجازت نہیں دے سکتے۔ چنانچہ وہاں کی حکومت نے ان کو اجازت دی ہوئی کینسل کردی اور یہ لوگ ”مسلم“ کے نام سے اپنی کانفرنس نہیں کر سکے۔ اب ان کا موجودہ سربراہ ملک چھوڑ کر فرار ہو چکا ہے۔ پاکستان میں ان کا مستقبل تاریک سے تاریک تر ہوتا جا رہا ہے اور دنیا اسلام بھی ان کے لئے تنگ ہو رہی ہے۔ یہ پندرھویں صدی جس میں یہ اپنی صد سالہ جوبلی منانا چاہتے تھے۔ انشاء اللہ یہی صدی ان کے خاتمہ کی صدی ثابت ہوگی۔ لیکن جب تک یہ فتنہ موجود ہے علماء کا فرض ہے کہ ان کا ہر طرف سے تعاقب کرتے رہیں۔ یہ کتابچہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ جسے عزیزم محترم مولانا عبدالواحد نے بڑی محنت سے ترتیب دیا ہے۔ جس میں مرزا قادیانی کی کتابوں سے ایک صد جھوٹ جمع کئے ہیں (اور ایک درجن کے قریب جھوٹی پیشین گوئیاں) اور اس کی ناپاک سیرت اور گندے کریکٹر پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ انداز تحریر بالکل سادہ اور عام فہم ہے۔ اس میں کوئی ادبی چاشنی اور الفاظ کی شوخی نہیں۔ لیکن حوالہ جات تمام کے تمام مستند ہیں اور ان سے جن نتائج کا استنباط کیا ہے وہ بالکل واضح اور دو اور دو چار کی طرح مسلم حقیقتیں ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عزیز کی اس ابتدائی محنت کو قبول فرماویں اور اللہ تعالیٰ اسے گمراہ اور بھٹکے ہوئے مرزائیوں کے لئے ذریعہ ہدایت بنائیں۔ مجھے

٣

صفحہ ٥٤٢

یقین ہے کہ مرزائی دوست اگر ہٹ دھرمی اور تعصب سے ذرا بالا تر ہو کر اس کا مطالعہ کریں گے اور پھر ان حوالہ جات کی اپنی کتب میں مراجعت بھی کر لیں گے تو وہ یقیناً مرزا قادیانی کو مکار، دھوکہ باز، کذاب و دجال، اللہ اور اس کے رسول پر بہتان وافتراء کرنے والا، علماء کرام اور عام مسلمانوں کو گالیاں دینے اور بد زبانی کرنے والا جو ایک عام شریف انسان سے بھی بعید ہے۔

دشمن اسلام، انگریز کا مداح ثناء خوان اور ان کا خدمت گزار پائیں گے۔ مجدد، مہدی، مسیح اور نبی تو دور کی باتیں ہیں وہ تو اپنی تحریرات کی روشنی میں ایک شریف صحت مند سچا انسان بھی ثابت نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ حق کو قبول کرنے اور اس پر استقامت کی توفیق عطاء فرمائیں۔

الراقم : منظور احمد عفا اللہ عنہ

"واللہ یھدی السبیل"

نمبر ٢....... نمونہ سلف بقیۃ الخلف عالم باعمل

حضرت مولانا عبد الواحد صاحب ایم۔اے

مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان (چیچہ وطنی)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ !

الحمدللّٰه وحده الصلوة والسلام علٰی من لا نبی بعده اما بعد!

خاندان مخدوم کے ایک مخدوم جو نسبی طور پر خواجہ خواجگان حضرت بہاؤالدین زکریاؒ سے متعلق ہیں نہ صرف خاندانی نسبت بلند رکھتے ہیں بلکہ ایک علمی خاندان کے چشم و چراغ ہونے کے ساتھ ساتھ خود بھی علم کے آفتاب ہیں۔

اپنے علم و عمل سے ہر وقت امت مسلمہ کو مستفید فرماتے رہتے ہیں اور اس افادہ علمی کو دور دراز تک پہنچانے کے لئے انہوں نے قلم کا سہارا لیا ہے۔ فتنہ قادیانیت اس دور کا سب سے بڑا فتنہ ہے جس طرح اس کا بانی سب سے بڑا دجال و کذاب تھا۔ علماء نے ہر دور میں ہر میدان میں، تقریر، تحریر، مناظرہ تبلیغ سے اس کا رد اور مقابلہ کیا اور علمی طور پر اس کا محاسبہ کیا۔

ضرورت تھی کہ عوام الناس اور سادہ لوح اہل اسلام کو اس فتنہ سے باخبر کیا جائے۔ چنانچہ مخدوم صاحب نے علمی موضوعات ختم نبوت اور حیات عیسیٰ علیہ السلام کے بجائے کذبات مرزا کے موضوع کو اختیار فرمایا اور نہایت ہی سادہ اور عام فہم زبان میں موضوع کا حق ادا کیا ہے۔

پورا رسالہ کذبات مرزا، حقائق اور دلچسپ حوالہ جات کا مرقع ہے اور اس قابل ہے کہ ہر مسلمان نہ صرف خود اس کے مطالعہ سے مستفید ہو بلکہ جہاں تک ممکن ہے اسے دوسروں تک

م

پہنچائے۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ اس رسالہ ک زادِ آخرت بنائے اور لوگوں کو اس سے زیادہ س آمین۔ دعاء از من وا

احقر: حافظ عبدالواحد ا مبلغ مجلس تحفظ ختم نبو شیخ المعقول والمنقول

حضرت مولانا حکیم

سہروردی، ڈا

بِسْمِ اللّٰهِ ال

الحمدلله رب العالمين والصلوة وال

وعلى اله واصح

میرے عزیز عبدالواحد ابن غلام م کے بعد دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ میر مسلمانوں کے لئے (خصوصاً مرزائیوں کے

استاذ العلماء، رأس المحققین،

حضرت مولانا حا

مدرس جا

عزیز محترم جناب حافظ قاری ع بعض المعروف به کذبات مرزا " باوجود اوائل عمر کے قادیانیت پر گہری نظر مناظر حق گو سے کم نہیں ہیں۔ مجھے خود بعض ان کے علم و عمل میں برکت عطاء فرمائے جوہر دکھلائے ہیں۔ خیال ہے کہ یہ تحریر قا

صفحہ ٥٤٣

پہنچائے۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ اس رسالہ کو مخدومنا مخدوم قاری عبدالواحد صاحب کے لئے زاد آخرت بنائے اور لوگوں کو اس سے زیادہ سے زیادہ نفع پہنچائے۔

آمین. دعاء از من واز جملہ جہان آمین باد!

احقر : حافظ عبدالواحد ایم. اے عربی ، فاضل مدینہ یونیورسٹی مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ، یکم صفر ١٤٠٥ھ

شیخ المعقول والمنقول ، عالم بے مثل ، حامی سنت، ماحی بدعت، استاذ محترم

حضرت مولانا حکیم احمد بخش صاحب مخدوم

سہروردی ، ڈاور (نزد چناب نگر )

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الحمدلله رب العالمين والصلوة والسلام على سيد الانبياء وخاتم النبيين وعلى آله واصحابه اجمعين . اما بعد!

میرے عزیز عبدالواحد ابن غلام عباس مخدوم ساکن مخدوم طاہر والہ کے رسالہ کو دیکھنے کے بعد دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے عزیز کو جزائے خیر عطاء فرمائے اور اس رسالہ کو تمام مسلمانوں کے لئے (خصوصاً مرزائیوں کے لئے ) اسے مفید و مبارک بنائے ۔ آمین ثم آمین !

احقر : احمد بخش مخدوم عفا اللہ عنہ، از ڈاور !

استاذ العلماء، رأس المحققین ، مصنف کتاب الصرف ونحو ، عالم باعمل

حضرت مولانا حافظ عبدالرحمن صاحب ظفر

مدرس جامعہ عثمانیہ شورکوٹ

باسمہ تعالیٰ!

عزیز محترم جناب حافظ قاری عبدالواحد مخدوم کی کتاب ” ظلمات بعضها فوق بعض المعروف به کذبات مرزا “ کو دیکھنے کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت قاری صاحب باوجود اوائل عمر کے قادیانیت پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس میدان میں کسی مناظر حق گو سے کم نہیں ہیں ۔ مجھے خود بعض معلومات کا انہیں سے فائدہ حاصل ہوا ۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل میں برکت عطاء فرمائے ۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنی تحقیقات کے خوب جوہر دکھلائے ہیں ۔ خیال ہے کہ یہ تحریر قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا ۔ اہل علم

٥

صفحہ ٥٤٤

بھی اس کو دلچسپی سے پڑھیں اور میری خواہش ہے کہ اہل اسلام کی لائبریری اس سے خالی نہ رہے۔ والسلام! احقر: عبدالرحمن ظفر، جامعہ عثمانیہ شورکوٹ ضلع جھنگ

پیش لفظ!

بہت طویل عرصہ سے خواہش تھی کہ ایک کتاب ایسی ہونی چاہئے کہ جس میں صرف مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی کے کذبات، جھوٹ جمع کئے جائیں۔ جن کے پڑھنے سے کسی مرزائی کو بھی مرزا دجال کے جھوٹے ہونے میں شک وشبہ باقی نہ رہے اور مرزاغلام احمد قادیانی دجال کو چھوڑ کر امام الانبیاء خاتم الانبیاء محمد مصطفےٰ احمد مجتبیٰ نبی کریم ﷺ سے وابستہ ہو جائیں اور آخرت میں جہنم کی دہکتی ہوئی آگ سے بچ جائیں۔

چنانچہ میں نے اس کتاب میں کسی حد تک حیات مسیح اور ختم نبوت کے مسائل کو بھی حل کر دیا ہے اور اس کتاب میں مرزا قادیانی کی تضاد بیانیاں، سیاہ جھوٹ، جھوٹی پیش گوئیاں، علماء اسلام اور انبیاء علیہم السلام کو گالیاں اور اس دجال کی سیرت و کریکٹر پر مرزا ہی کی زبانی کسی قدر مفصل و مدلل بحث کی ہے اور حدیث نبوی ”انہ سیکون فی امتی ثلاثون کذابون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی“

(صحیح جامع ترمذی ج٢ ص٤٥، ازالہ اوہام ص١٩٩، خزائن ج٣ ص١٩٧)

کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ مرزا دجال ان تیس کذابوں اور دجالوں میں سے ایک ہے۔ مجھے بہت امید ہے کہ اگر اس کتاب کو کوئی مرزائی بغور پڑھ لے گا تو اس کو بھی مرزا قادیانی دجال کے جھوٹا اور کذاب ہونے میں شک وشبہ باقی نہ رہے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ! اہل علم حضرات سے التماس ہے کہ اس رسالہ سے خود بھی فائدہ اٹھائیں اور اس کو آگے پہنچانے کی کوشش فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ میری اس حقیر سی محنت کو قبول و منظور فرمائے اور آخرت میں میرے لئے ذریعہ نجات بنائے۔ آمین! احقر الناس: مخدوم محمد عبد الواحد مخدوم عفا اللہ عنہ

مقدمہ

الحمدلله وحده والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ ، اما بعد! اللہ تعالیٰ کا ہم پر بڑا فضل واحسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے محبوب امام الانبیاء خاتم الانبیاء محمد ﷺ کی امت میں سے پیدا فرمایا اور آپ پر تمام مراتب نبوت کی تکمیل کردی اور فرمایا:

٦

”قل یایھا الناس انی رسول اللہ محبوب اعلان فرمادو کہ میں تم سب کی طرف اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

بعدی (کنزالعمال ج٦ ص١٠١)“ ہیں اور ان کا بھی جو میرے بعد پیدا ہوں اور حضور نبی کریم ﷺ نے ار

سیکون فی امتی ثلاثون کذا نبی بعدی (جامع ترمذی ج٢ کذاب پیدا ہوں گے اور ہر ایک کا یہ د ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“

تو اس حدیث میں حضور نبی ک امت میں سے ہوں گے اور امتی اور محمدی سے ظاہر ہے اور ان کے جھوٹا ہونے کی و واضح ہوا کہ امتی نبی ہونے کا دعویٰ بھی آ قسم کا کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ پس یہ بھی واض

اسی وجہ سے ہر مدعی نبوت لکھتا ہے کہ: ”یہ اپنے علم اور درائت اور کی خداداد قوت فیصلہ ایسی بڑھی ہوئی تھی ان کی قوت مدرکہ کو قرآن شریف کے سمجھ ایک خاص مناسبت تھی اور عرفان کے اع

کہ: ”جو مسلمان کسی مدعی کے مطالبہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے دیکھئے!

اردو ترجمہ موسوم بہ جواہر ا

صفحہ ٥٤٥

"قل یایھا الناس انی رسول الله الیکم جمیعاً (اعراف:١٥٨)" ﴿کہ اے میرے محبوب اعلان فرمادو کہ میں تم سب کی طرف رسول بن کر آیا ہوں۔﴾

اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: "انا رسول من ادرکه حیاً ومن یولد بعدی (کنز العمال ج ٦ ص ١٠١) " ﴿یعنی میں ان تمام لوگوں کا بھی رسول ہوں جو اب زندہ ہیں اور ان کا بھی جو میرے بعد پیدا ہوں گے۔﴾

اور حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کی راہنمائی فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: "انه سیکون فی امتی ثلاثون کذابون کلھم یزعم انه نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (جامع ترمذی ج ٢ ص ٤٥) " ﴿کہ تحقیق میری امت میں تیس بڑے بڑے کذاب پیدا ہوں گے اور ہر ایک کا یہ گمان ہوگا کہ وہ اللہ کا نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔﴾

تو اس حدیث میں حضور نبی کریم ﷺ نے تصریح فرمائی کہ جھوٹے مدعیان نبوت میری امت میں سے ہوں گے اور امتی اور محمدی ہونے کے مدعی ہوں گے۔ جیسا کہ لفظ "فی امتی" سے ظاہر ہے اور ان کے جھوٹا ہونے کی دلیل یہ بیان فرمائی کہ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ پس واضح ہوا کہ امتی نبی ہونے کا دعویٰ بھی آیت خاتم النبیین کے خلاف ہے اور حضور ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ پس یہ بھی واضح ہے کہ :"لا نبی بعدی میں لا نفی عام ہے۔"

(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٣)

اسی وجہ سے ہر مدعی نبوت کے متعلق امام اعظمؒ نے فرمایا جن کے متعلق مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: "یہ اپنے علم اور وراثت اور فہم وفراست میں ائمہ ثلاثہ باقیہ سے افضل واعلیٰ تھے اور ان کی خداداد قوت فیصلہ ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ وہ ثبوت عدم ثبوت میں بخوبی فرق کرنا جانتے تھے اور ان کی قوت مدرکہ کو قرآن شریف کے سمجھنے میں ایک خاص دستگاہ تھی اور ان کی فطرت کو کلام الٰہی سے ایک خاص مناسبت تھی اور عرفان کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ چکے تھے۔

(ازالۃ اوہام ص ٥٣٠، ٥٣١، خزائن ج ٣ ص ٣٨٥)

کہ: "جو مسلمان کسی مدعی نبوت سے معجزہ طلب کرے وہ بھی کافر ہے۔" کیونکہ اس کے مطالبہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے میں شک ہے۔

دیکھئے!

(خیرات الحسان مطبوعہ مصر ص ٥٠، سطر نمبر ٩)

اردو ترجمہ موسوم بہ جواہر البیان ص ١٠٣ اور فتاویٰ عالمگیری ج ٢ ص ٢٦٣ پر موجود ہے

٧

صفحہ ٥٤٧

کہ: ”اگر ایک شخص اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ رسول اکرم ﷺ آخری نبی ہیں وہ مسلمان نہیں ہے اور اگر دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اللہ کا رسول یا پیغمبر ہے تو اسے کافر قرار دے دیا جائے گا،، اور فتاویٰ عالمگیری وہ جو شہنشاہ عالمگیر اورنگزیب کے حکم سے ترتیب دیا گیا تھا اور مرزا قادیانی نے اورنگزیب عالمگیر کو گیارھویں صدی کا مجدد لکھا ہے۔ دیکھئے مرزا قادیانی کی مصدقہ کتاب (عسل مصفیٰ ص١١٧) تو آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو میرے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ کذاب اور دجال ہے۔ تو ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کئی جھوٹے مدعی نبوت ہو گزرے ہیں اور چودھویں صدی میں مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور یہ بات بھی واضح ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کسی نے صرف نبوت کا دعویٰ کیا۔ کسی نے صرف مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ کسی نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا۔ کسی نے خدا ہونے کا دعویٰ کیا۔ غرض کسی نے دو دعوے کئے۔ کسی نے تین دعوے کئے۔ لیکن جو ہمارے زمانہ میں دجال پیدا ہوا جس نے امت محمدیہ کو پریشان کیا اس نے قریباً دوسو دعوے کئے ہیں خدائی کا دعویٰ اس نے کیا۔ خدا کے بیٹے ہونے کا دعویٰ اس نے کیا۔ خدا کے باپ ہونے کا دعویٰ اس نے کیا۔ خدا کی بیوی ہونے کا دعویٰ اس نے کیا۔ مہدی ہونے کا دعویٰ اس نے کیا۔ مسیح ہونے کا دعویٰ اس نے کیا۔ مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ اس نے کیا۔ مسیح بن مریم ہونے کا دعویٰ اس نے کیا۔ خالق کائنات ہونے کا دعویٰ اس نے کیا۔ مارنے اور زندہ کرنے کا دعویٰ اس نے کیا۔ خدا کا نطفہ ہونے کا دعویٰ اس نے کیا۔ خاتم الانبیاء ہونے کا دعویٰ اس نے کیا۔ آنحضرت ﷺ سے افضل ہونے کا دعویٰ اس نے کیا۔ سید ہونے کا دعویٰ اس نے کیا۔ مجدد ہونے کا دعویٰ اس نے کیا۔ کرشن ہونے کا دعویٰ اس نے کیا۔ کرم خاکی ہونے کا دعویٰ اس نے کیا۔ بشری جامے پہننے کا دعویٰ اس نے کیا۔ غرض کوئی اس نے ایسا دعویٰ نہیں چھوڑا جو آنحضرت ﷺ کے بعد کسی جھوٹے مدعیان نبوت نے تو کیا ہو لیکن اس نے نہ کیا ہو۔ (اس کے تمام دعوؤں کو قادیانی عقائد وعزائم کے آخر میں باحوالہ درج کیا جا چکا ہے۔ وہاں دیکھ لیں) تو حضور نبی کریم ﷺ نے جو آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرلے۔ دجال کا بہترین لقب اس کو عطاء کیا۔

مرزادجال اسی لفظ دجال کی تشریح کرتا ہے لکھتا ہے کہ:

ملادے۔“

(تبلیغ رسالت ج٣ ص٢٠٠، مجموعہ اشتہارات ج٢ص١٣١)

میں تحریف کرنے والا ہو اس کو دجال کہتے ہیں۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص٢٤ حاشیہ، خزائن ج٢٢ ص٤٥٦)

تو اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ جن جھوٹے مدعیوں ہے۔ وہ آپ ﷺ کی رسالت کو مانتے اور خود کو حضور ﷺ کے ساتھ پھر وہ اپنے غلط دعویٰ نبوت کو ملا کر حق و باطل کو خلط ادا کریں گے۔ اس لئے آنحضرت ﷺ نے دجال کا لفظ ہوتا ہے جیسا کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ دجال کے لیے پھر سچ کے ساتھ باطل ملادے۔ مرزادجال بھی بعینہ اسی میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔“

)

اور یہ بھی لکھتا ہے کہ: ”ہمارا نبی اس درجہ کا ہے اور عیسیٰ کہلا سکتا ہے۔ حالانکہ وہ امتی ہے۔“

)

”اور جانتا ہوں کہ تمام نبوتیں اس پر ختم ہیں

ان تین عبارتوں میں یہ اقرار کرتا ہے کہ حضو ہے کہ میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔ اچھا اگر یہ امتی ہے بڑھ سکتا۔ یہ تو سب پر بات عیاں ہے۔

اب اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ مرزا قا ہے تو امید ہے کہ مرزائی حضرات بھی مرزا قادیانی کو دج

”آنحضرت ﷺ کے معجزات تین ہزار ہیں اور اپنے اشتہارات ص٤١، خزائن ج٢٠ ص٤٣، نصرت الحق ص٥٦، م نہیں ہے تو اور کیا ہے؟

”آنحضرت ﷺ کے لئے چاند کے خسوف کا نشان کا۔“ کیا اس میں حضور سے بڑھنے کا دعویٰ نہیں ہے

ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكماً قبضہ میں محمد کی جان ہے کہ تم میں حضرت عیسیٰ ابن

صفحہ ٥٤٧

تو اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ جن جھوٹے مدعیان نبوت کی آنحضرت ﷺ نے خبر دی ہے ۔ وہ آپ ﷺ کی رسالت کو مانتے اور خود کو حضور ﷺ کی امت قرار دیتے ہوں گے اور اس سچ کے ساتھ پھر وہ اپنے غلط دعویٰ نبوت کو ملا کر حق و باطل کو خلط ملط کر کے حقیقی معنوں میں دجل کا حق ادا کریں گے ۔ اس لئے آنحضرت ﷺ نے دجال کا لفظ ذکر فرمایا اور دجال کے لفظ سے ہی معلوم ہوتا ہے جیسا کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ دجال کے لئے ضروری ہے کہ کسی نبی برحق کا تابع ہو کر پھر سچ کے ساتھ باطل ملا دے۔ مرزا دجال بھی بعینہ اسی طرح دعویٰ کرتا ہے ۔ چنانچہ لکھتا ہے کہ میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔“

(ضمیمہ نصرت الحق ص ١٨٩، خزائن ج ٢١ ص ٣٦١)

اور یہ بھی لکھتا ہے کہ : ”ہمارا نبی اس درجہ کا نبی ہے کہ اس کی امت کا ایک فرد نبی ہو سکتا ہے اور عیسیٰ کہلا سکتا ہے ۔ حالانکہ وہ امتی ہے۔“

(ضمیمہ نصرت الحق ص ١٨٤، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٥)

”اور جانتا ہوں کہ تمام نبوتیں اس پر ختم ہیں اور اس کی شریعت خاتم الشرائع ہے ۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٢٤، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٠)

ان تین عبارتوں میں یہ اقرار کرتا ہے کہ حضور ﷺ پر تمام نبوتیں ختم ہیں اور پھر یہ بھی کہتا ہے کہ میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی ۔ اچھا اگر یہ امتی ہے تو امام الانبیاء خاتم الانبیاء سے تو قطعاً نہیں بڑھ سکتا۔ یہ تو سب پر بات عیاں ہے ۔

اب اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ مرزا قادیانی نے حضور ﷺ سے بڑھنے کا دعویٰ کیا ہے تو امید ہے کہ مرزائی حضرات بھی مرزا قادیانی کو دجال کہنے سے گریز نہیں کریں گے ۔

”آنحضرت ﷺ کے معجزات تین ہزار ہیں اور اپنے معجزات دس لاکھ بتاتا ہے۔“ دیکھئے ! (تذکرہ الشہادتین ص ٤١، خزائن ج ٢٠ ص ٤٣، نصرت الحق ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢) کیا یہ حضور ﷺ سے بڑھنا نہیں ہے تو اور کیا ہے؟

”آنحضرت ﷺ کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔“ کیا اس میں حضور سے بڑھنے کا دعویٰ نہیں ہے ۔

لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا “ کہ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میں محمد کی جان ہے تم میں حضرت عیسیٰ ابن مریم حاکم عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے

صفحہ ٥٤٨

تو اس حدیث کو مرزا قادیانی نے بھی صحیح تسلیم کیا ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٢٠١، خزائن ج ٣ ص ١٩٨)

تو اب اس حدیث میں تاویل وغیرہ نہیں چل سکتی۔ اس لئے کہ اس حدیث میں قسم ہے یہ بات خود مرزا قادیانی کو بھی مسلم ہے کہ جو بات قسم سے بیان ہو اس میں تاویل نہیں چل سکتی۔ چنانچہ لکھتا ہے: ”والقسم يدل على ان الخبر محمول على الظاهر لا تاويل فيه ولا استثناء“

(حمامة البشریٰ ص ١٤، خزائن ج ٧ ص ١٩٢ حاشیہ)

قسم اس بات کی دلیل ہے کہ خبر اپنے ظاہر پر محمول ہے اس میں نہ کوئی تاویل ہے اور نہ استثناء اب دوسری طرف مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ”ہم کہہ سکتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت اور یاجوج ماجوج اور دابۃ الارض کی حقیقت منکشف نہ ہوئی ہو۔“ دیکھئے!

(ازالہ اوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)

یہ مرزا قادیانی نے کیوں کہا کہ حضور امام الانبیاء پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت منکشف نہ ہوئی۔ سو ظاہر بات ہے کہ مرزا قادیانی کو معلوم تھا کہ اگر حضور ﷺ کی بات پر یقین کیا جائے تو میں مسیح نہیں ہوسکتا۔

کیونکہ اس لئے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا۔ جیسا کہ دوسری احادیث سے ثابت ہے اور مرزا قادیانی تو عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا اور ظاہر ہے کہ عورت کے پیٹ کا نام آسمان نہیں ہے اور حضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ ابن مریم یعنی بیٹا مریم کا ہوگا۔ جو بغیر باپ کے پیدا ہوا ہے اور مرزا قادیانی کی والدہ بھی ہے جس کا نام چراغ بی بی ہے اور اس کا باپ بھی ہے جس کا نام غلام مرتضیٰ ہے اور عیسیٰ بن مریم حاکم اور عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے اور مرزا قادیانی ساری عمر انگریز لعین کا غلام رہا۔ جس انگریز کی اطاعت کے لئے بقول مرزا قادیانی نے پچاس الماریاں کتابوں کی لکھیں اور ان میں یہ لکھا کہ انگریز کی اطاعت مجھ پر فرض ہے۔ جیسا کہ (ازالہ اوہام ص ٥٥، ٥٦، خزائن ج ٣ ص ١٤٠، تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥) وغیرہ پر لکھا ہے اور حضور ﷺ نے فرمایا کہ مہدی میری اولاد فاطمہ کی نسل سے ہوگا اور مرزا قادیانی خود کہتا ہے کہ میں فارسی النسل ہوں اور عیسیٰ علیہ السلام حج کریں گے۔ لیکن مرزا قادیانی کو مکہ اور مدینہ دیکھنا بھی نصیب نہ ہوا اور حضور نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم میرے ساتھ میرے روضہ اطہر میں مدفون ہوگا اور مرزا قادیانی مرا لاہور میں اور مدفون قادیان میں ہوا اور حضرت عیسیٰ بن مریم کے نزول سے پہلے دجال کا خروج ہوگا۔ اس کی پیشانی پر کافر ، اس صورت میں لکھا ہوگا ک۔ ف۔ ر۔ وہ بائیں آنکھ سے کانا ہوگا اور داہنی آنکھ میں سخت ناخنہ ١٠

ہوگا تمام دنیا میں پھر جائے گا۔ کوئی جگہ باقی اس کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ مکہ معظمہ دجال کو اندر نہ گھسنے دیں گے۔ (مسند احمد البتہ مرزا قادیانی اس مسیح دجال کے کچھ مشا دعویٰ کیا وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ مرزا قا ہوگا۔ مرزا قادیانی بھی ایک آنکھ سے کا چھوٹے بھائی ہیں۔

تو نبی کریم ﷺ نے وہ نشانیاں مرزا قادیانی میں نہیں پائی جاتی۔ اس لئے کہہ دیا کہ مسیح بن مریم کی حقیقت اور دجال پر منکشف نہ ہوئی۔ (اور اس دجال پر سب مرزائی مرزا قادیانی کی سیرت اپنا سر چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ بات یاد رکھیں کہ اصل بحث اگر اس کی سیرت و کریکٹر بے داغ ہو تو پہلے اپنی سیرت قوم کے سامنے پیش کرت پہاڑی پر چڑھ کر اپنی چالیس سالہ زندگی مرزا قادیانی کی زندگی اور کریکٹر کو ان کی رو سے ایک پاکیزہ سیرت، شریف، دیان اور دعاوی کو مان لیں گے اور دوسرے ص ہوگی اور اگر وہ کسی ایک بات میں جھوٹا ث رہے گا۔

چنانچہ خود مرزا قادیانی تحریر ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں

لہٰذا پہلے ہم مرزا قادیانی کی

صفحہ ٥٤٩

ہوگا تمام دنیا میں پھر جائے گا۔ کوئی جگہ باقی نہ رہے گی جس کو وہ فتح نہ کرے۔ البتہ حرمین مکہ و مدینہ اس کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ کے ہر راستہ پر فرشتوں کا پہرہ ہوگا۔ جو دجال کو اندر نہ گھسنے دیں گے۔ (مسند احمد ) اور مرزا قادیانی کے وقت کوئی ایسا دجال ظاہر نہیں ہوا البتہ مرزا قادیانی اس مسیح دجال کے کچھ مشابہ ہے وہ نبوت کا دعویٰ کرے گا اور مرزا نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ مرزا قادیانی نے بھی خدائی کا دعویٰ کیا۔ وہ ایک آنکھ سے کانا ہوگا۔ مرزا قادیانی بھی ایک آنکھ سے کانے تھے۔ گویا کہ مرزا قادیانی اس بڑے دجال کے چھوٹے بھائی ہیں۔

تو نبی کریم ﷺ نے وہ نشانیاں جو عیسیٰ ابن مریم کی بتائی ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی مرزا قادیانی میں نہیں پائی جاتیں۔ اس لئے مرزا قادیانی دجال نے بالکل سرے سے انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ مسیح بن مریم کی حقیقت اور دجال اور دابۃ الارض اور یاجوج ماجوج کی حقیقت آپ ﷺ پر منکشف نہ ہوئی۔ (اور اس دجال پر سب کچھ منکشف ہو گیا۔ العیاذ باللہ ! )

مرزائی مرزا قادیانی کی سیرت و کریکٹر کو چھپانے کے لئے عموماً دوسرے مسائل میں اپنا سر چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ بات یاد رکھیں کہ اصل بحث کسی مدعی ماموریت کی سیرت و کریکٹر ہی ہونا چاہئے۔ اگر اس کی سیرت و کریکٹر بے داغ ہو تو پھر دوسرے مسائل کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ ہر مدعی پہلے اپنی سیرت قوم کے سامنے پیش کرتا ہے۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے اہل مکہ کے سامنے صفا پہاڑی پر چڑھ کر اپنی چالیس سالہ زندگی پیش کی۔ اس لئے ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہم سب سے پہلے مرزا قادیانی کی زندگی اور کریکٹر کو ان کی اپنی تحریروں کے آئینہ میں دیکھیں۔ اگر وہ اپنی تحریروں کی رو سے ایک پاکیزہ سیرت، شریف، دیانت دار اور سچا انسان ثابت ہو جائے تو اس کے تمام مسائل اور دعاوی کو مان لیں گے اور دوسرے مسائل میں بحث کرنے اور وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہ ہوگی اور اگر وہ کسی ایک بات میں جھوٹا ثابت ہو جائے تو بقول اس کے اس کی کسی بات کا اعتبار نہیں رہے گا۔

چنانچہ خود مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں: ”ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)

لہٰذا پہلے ہم مرزا قادیانی کی سیرت کو دیکھتے ہیں۔ ہم بلا خوف تردید یہ کہہ سکتے ہیں کہ

١١

صفحہ ٥٥١

کسی مرزائی کے اندر یہ جرات نہیں ہے کہ وہ مرزا قادیانی کو اس کی اپنی تحریروں کی رو سے ایک سچا اور شریف انسان ثابت کر سکے۔ ہم آگے چل کر مشت نمونہ از خروارے اس کے کذاب ہونے کے چند دلائل پیش کریں گے۔ لیکن اس بحث سے قبل ہم اپنی تائید میں مرزا قادیانی کے دونوں خلفاء کی تحریریں پیش کرتے ہیں۔

حوالہ نمبر ١...... ”جب یہ ثابت ہو جائے کہ ایک شخص فی الواقع مامور من اللہ ہے تو پھر اجمالاً اس کے تمام دعاوی پر ایمان لانا واجب ہو جاتا ہے۔ الغرض اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ مدعی ماموریت فی الواقع سچا ہے یا نہیں۔ اگر اس کی صداقت ثابت ہو جائے تو اس کے تمام دعاوی کی صداقت بھی ساتھ ہی ثابت ہو جاتی ہے۔ اگر اس کی سچائی ہی ثابت نہ ہو تو اس کے متعلق تفصیلات میں پڑنا وقت کو ضائع کرنا ہے۔“

(دعوة الامیر ص ٤٩، ٥٠)

حوالہ نمبر ٢...... ”خاکسار (بشیر احمد ایم، اے) عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل (حکیم نورالدین) فرماتے ہیں کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مولوی صاحب کیا نبی کریم ﷺ کے بعد بھی کوئی نبی ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا نہیں۔ اس نے کہا کہ اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو پھر؟ میں نے کہا پھر ہم یہ دیکھیں گے کہ کیا وہ صادق اور راست باز ہے یا نہیں۔ اگر صادق ہے تو بہر حال اس کی بات کو قبول کریں گے۔“

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص ٩٨، روایت نمبر ١٠٩)

ان دونوں حوالوں سے بخوبی معلوم ہو گیا کہ اصل بحث صدق و کذب پر ہونی چاہئے۔ اگر وہ ہو ہی جھوٹا تو پھر اس کے دعاوی وغیرہ پر بحث کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ اب ہم اس بات پر دلائل دیں گے کہ وفات حیات مسیح پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔

حوالہ نمبر ٣...... ”اوّل تو یہ جاننا چاہئے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہمارے ایمانیات کی کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیش گوئیوں میں سے یہ ایک پیش گوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ جس زمانہ تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی اس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہو گیا۔“ (ازالہ اوہام ص ١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١) اس حوالہ سے یہ چند امور واضح ہوئے۔

١٢

حوالہ نمبر ٤...... ”یہ حیات مسیح کی غلطی درا آنحضرت ﷺ کے تھوڑے ہی عرصہ بعد یہ غلطی لو یہی خیال تھا اگر یہ کوئی ایسا اہم امر ہوتا تو خدا تعالیٰ

اس حوالہ سے یہ چند امور واضح ہوتے

حوالہ نمبر ٥...... ”اگر مسیح موعود کے ظہور سے پ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے جو اسرائیلی نبیوں سے بھی بعض پیش گوئیوں کے مج

اس حوالہ سے یہ چند امور واضح ہو

حوالہ نمبر ٦...... ”ہماری یہ غرض ہرگز نہیں کہ مباحثے کرتے پھرو۔ یہ ایک ادنیٰ سی بات ہے

اس حوالہ سے یہ واضح ہو گیا کہ:

سو ہم کہتے ہیں کہ جب یہ مسئلہ مر کے رکنوں میں سے ان کے نزدیک کوئی رکن ن نہیں۔ جب اس کے بیان کرنے یا نہ کر آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے بعد جلد ہی پھیل

صفحہ ٥٥١

حوالہ نمبر ٤...... ”یہ حیات مسیح کی غلطی دراصل آج نہیں پڑی بلکہ میں جانتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے تھوڑے ہی عرصہ بعد یہ غلطی پھیل گئی تھی اور کئی خواص اور اولیاء اور اہل اللہ کا یہی خیال تھا اگر یہ کوئی ایسا اہم امر ہوتا تو خدا تعالیٰ اس زمانہ میں اس کا ازالہ کر دیتا۔“

(رسالہ احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ص٢)

اس حوالہ سے یہ چند امور واضح ہوتے ہیں:

حوالہ نمبر ٥...... ”اگر مسیح موعود کے ظہور سے پہلے اگر امت میں سے کسی نے یہ خیال بھی کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔ صرف اجتہادی خطا ہے جو اسرائیلی نبیوں سے بھی بعض پیش گوئیوں کے سمجھنے میں ہوتی رہی ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٠ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢)

اس حوالہ سے یہ چند امور واضح ہوئے:

حوالہ نمبر ٦...... ”ہماری یہ غرض ہرگز نہیں کہ مسیح علیہ السلام کی وفات وحیات پر جھگڑے اور مباحثے کرتے پھرو۔ یہ ایک ادنیٰ سی بات ہے۔“

(ملفوظات احمدیہ ج ٢ ص ٤١٤)

اس حوالہ سے یہ واضح ہو گیا کہ:

سو ہم کہتے ہیں کہ جب یہ مسئلہ مرزائیوں کے ایمانیات کی جڑ نہیں ہے۔ جب یہ دین کے رکنوں میں سے ان کے نزدیک کوئی رکن نہیں ہے۔ جب اسلام کی حقیقت سے اس کا کچھ تعلق نہیں۔ جب اس کے بیان کرنے یا نہ کرنے سے اسلام میں کچھ فرق نہیں پڑتا۔ جب یہ مسئلہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے بعد جلد ہی پھیل گیا تھا۔ جب یہ عقیدہ کئی خواص کا تھا، اولیاء کا تھا اور

١٣

صفحہ ٥٥٢

اہل اللہ کا تھا اور جب یہ کوئی خاص امر نہیں ہے جب اس کا ازالہ خدا نے ضروری نہیں سمجھا۔ جب اس کے عقیدہ رکھنے والے پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ جب یہ محض اجتہادی خطا ہے۔ جب اس قسم کی خطائیں سابقہ انبیاء سے بھی ہوتی رہیں۔ جب آپ کی غرض اس پر مباحثہ کرنے کی نہیں اور جب یہ ادنیٰ سی بات ہے تو اس مسئلہ پر بحث کرنے کی کوئی ضرورت اور اہمیت باقی نہ رہی۔ لہذا ہم سب سے پہلے مرزا قادیانی کی سیرت و کریکٹر پر بحث کریں گے جو کہ انتہائی ضروری ہے۔

ایک اہم نقطہ

اگر کوئی شخص حضرت عیسیٰ کو فوت شدہ مانے مگر مرزا قادیانی کو نبی نہ مانے تو مرزائیوں کے نزدیک وہ پھر بھی کافر ہے معلوم ہوا کہ اصل مدار:

مرزا قادیانی کو نبی نہ مانے تب بھی وہ مرزائیوں کے ہاں مسلمان نہیں ہے۔

معلوم ہوا کہ اصل مدار مرزا کی ذات ہے۔ اس لئے سب سے پہلے مرزا قادیانی کی ذات وسیرت پر بحث ہوگی۔ جیسا کہ بہائی فرقہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا بھی قائل ہے اور نبوت بھی جاری مانتا ہے۔ مگر مرزائیوں کے نزدیک وہ پھر بھی کافر ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتا۔ اس لئے معلوم ہوا کہ اصل محل نزاع مرزا کی ذات ہے اور اسی پر ہم بحث کرنا چاہتے ہیں اور اس کتاب میں ہم نے مرزا غلام احمد قادیانی کے کذبات پر مفصل و مدلل بحث کی ہے۔ جس کے مطالعہ کے بعد کسی مرزائی کو بھی مرزا قادیانی کے دجال ہونے میں شک وشبہ باقی نہیں رہے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ! احقر الناس: محمد عبد الواحد مخدوم عفی عنہ! مدرس مدرسہ فتح العلوم ریلوے روڈ چنیوٹ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شئ عليما!

”یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا ہے نبیوں کا۔“ (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے) (ازالۃ الاوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١)

”قال النبي ﷺ لو کان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب (ترمذی

١٤

صفحہ ٥٥٣

ج ٢ ص ٢٠٩، مشکوة ص ٥٠٨، باب مناقب عمرؓ) ”نبی کریم نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا۔

(ازالۃ اوہام ص ٢٣٦ حصہ اوّل، خزائن ج ٣ ص ٢١٩)

”سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلهم یزعم انه نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (ترمذی ج ٢ ص ٤٥، ابوداؤد ج ٢ ص ١٢٧)“ میری امت میں تیس جھوٹے مدعی پیدا ہوں گے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ حالانکہ میں نبیوں کے ختم کرنے والا ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

کذبات کے متعلق مرزا قادیانی کے فتاوے

آریہ میں اس قدر بھی شرم نہ رہی۔“

(شحنہ حق ص ٤٦، خزائن ج ٢ ص ٣٨٦)

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٠، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٧، تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٥٦)

(حقیقت الوحی ص ٢٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٥)

(کشتی نوح ص ٤٦، خزائن ج ١٩ ص ٤٨)

(تریاق القلوب، حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست ص ١، خزائن ج ١٥ ص ٤٩٥)

(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ٢٨، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣١)

بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)

ہے کہ یہ خدا کی وحی ہے جو مجھ کو ہوئی ہے۔ ایسا بدذات انسان تو کتوں اور سوروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٢٦، خزائن ج ٢١ ص ٢٩٢)

لعنت ہے مفتری پر خدا کی کتاب میں
عزت نہیں ہے ذرہ بھی اس کی جناب میں

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١، خزائن ج ٢١ ص ٤١)

نوٹ...... یہ ہیں مرزا غلام احمد قادیانی دجال کے فتاوے جن کی رو سے مرزا قادیانی قطعاً سچا نہیں

١٥

صفحہ ٥٥٤

سکتے۔ گذشتہ عبارات سے یہ بات ظاہر ہے کہ اگر مرزا قادیانی کا ایک بھی جھوٹ ثابت ہو گیا تو پھر مرزا قادیانی کی کسی بات پر بھی اعتبار نہیں رہے گا اور یہ تمام فتوے مرزا قادیانی پر پڑ جائیں گے۔

مرزا قادیانی کے نزدیک پچاس اور پانچ میں کوئی فرق نہیں

مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ مسیحیت و نبوت و مہدی کرنے سے پہلے ایک کتاب لکھنی شروع کی اور اشتہار دیا کہ میں کتاب لکھ رہا ہوں جس کی پچاس جلدیں لکھوں گا۔ اس پر خرچ بہت زیادہ آئے۔ اس لئے جنہوں نے کتاب خریدنی ہے وہ اپنی رقم پہلے جمع کروائیں۔ چنانچہ لوگوں نے لاکھوں روپے مرزا قادیانی کے ہاں جمع کروادیئے۔ ادھر مرزا غلام احمد قادیانی بھی چونکہ دعویٰ نبوت کرنے کو تیار تھا اس لئے اس نے کتاب کے صرف چار حصے لکھ کر کتاب لکھنی بالکل بند کر دی اور جو وعدہ تھا مرزا قادیانی کا وہ اس نے پورا نہ کیا اور تیس برس تک مرزا قادیانی نے کتاب کو ہاتھ تک نہ لگایا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ جن کی مرزا قادیانی نے رقم کھائی ہوئی تھی وہ کہاں خاموش رہنے والے تھے۔ انہوں نے تو سرعام مرزا قادیانی کو گالیاں دینا شروع کر دیں اور کہا کہ ہماری رقم واپس کرو تو پھر مجبوراً مرزا قادیانی کو پانچویں جلد بھی لکھنی پڑی اور پھر اس پر یہ لکھ دیا کہ: "پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفاء کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔"

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٧، خزائن ج ٢١ ص ٩)

مرزا غلام احمد قادیانی کے اس میں تین جرم ثابت ہوئے۔

اوّل ...... لوگوں کا ناحق مال کھایا جو حرام ہے۔ دوم ...... وعدہ خلافی کی۔ سوم ...... جھوٹ بولا۔

ظاہر ہے کہ جو نبی ہو وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا اور جو وعدہ خلافی کرے وہ نبی نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح نبی جھوٹ بھی نہیں بولتا اور نبی حرام مال بھی نہیں کھا سکتا اور جو یہ کام کرے اور کہے کہ میں نبی ہوں وہ دجال تو ہو سکتا ہے لیکن نبی نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اگر کوئی ایسا انسان ہو جس کی زندگی بے داغ ہو وہ بھی دعویٰ کرے تو وہ بھی حدیث نبوی ...... متواترہ کے مطابق دجال ہی ہو گا۔ لیکن یہ مرزا غلام احمد قادیانی ایک ایسا شخص ہے جس کا کریکٹر ہی ہر ایک گند سے بھرا ہوا ہے۔ زنا کرنا اس کا کام تھا۔ شراب پینا اس کا کام تھا اور جھوٹ کے بارے میں تو پوچھنا ہی کیا اسی کتاب سے اس کا گند سب کو نظر آجائے گا۔

مرزائی عذر

یہ جو آپ نے لکھا ہے کہ مرزا قادیانی نے پچاس کا وعدہ کیا۔ پھر پانچ لکھیں۔ یہ تو اللہ

١٦

پاک کی سنت ہے جس پر مرزا قادیانی پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا۔ اگر مرزا

جواب نمبر: ١...... یہ قیاس مع الفارق حیثیت ایک نہیں۔

جواب نمبر: ٢...... اللہ تعالیٰ نے فرما پچاس لیتا ہے اور پانچ دیتا ہے۔ رقم پو

جواب نمبر: ٣...... قرض خواہ قرض چاہے تو معاف کر دے چاہے نہ کر تھا۔ مرزا قادیانی تو معاف نہیں کروا سکت

جواب نمبر: ٤...... اس قاعدہ کو مرزا قاعدہ مقرر کردہ ہے۔ مرزائیوں کو چا کریں۔ جب اپنے لئے مرزائی اس

مرزا قادیانی کا بخاری شریف

جھوٹ نمبر: ٢...... "اگر حدیث کے صحت اور وثوق میں اس حدیث پر گما آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبتا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسا وہ حدیث جو معترض صاحب نے پیش کلام ہے۔"

نوٹ ...... بخاری میں یہ حدیث نہیں ایک ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔ وصول کرے اور مرزا قادیانی بھی ا اٹھے گا نہ تو اران سے۔ یہ بازو میر

مرزائی عذر

مرزائی کہا کرتے ہیں

صفحہ ٥٥٥

پاک کی سنت ہے جس پر مرزا قادیانی نے عمل کر دیا۔ اللہ پاک نے پچاس نمازیں فرض کیں پھر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا۔ اگر مرزا قادیانی نے بھی ایسا کیا ہے تو کوئی ایسی بات نہیں۔

جواب نمبر:١...... یہ قیاس مع الفارق ہے۔ شرعی لحاظ سے بھی ناجائز ہے۔ خالق اور مخلوق کی حیثیت ایک نہیں۔

جواب نمبر:٢...... اللہ تعالیٰ نے فرمایا پانچ دو پچاس لو۔ مرزا قادیانی الٹ کہتا ہے۔ مرزا قادیانی پچاس لیتا ہے اور پانچ دیتا ہے۔ رقم پچاس کی لی اور پانچ دیں۔

جواب نمبر:٣...... قرض خواہ قرض معاف کر سکتا ہے نہ کہ مقروض۔ قرض لینے والے کی مرضی چاہے تو معاف کر دے چاہے نہ کرے۔ مقروض پر تو حق پورا ہی رہتا ہے۔ مرزا تو مقروض تھا۔ مرزا قادیانی تو معاف نہیں کروا سکتا۔

جواب نمبر:٤...... اس قاعدہ کو مرزائی نہیں مانتے۔ یہ تو ان کے باپ مرزا غلام احمد قادیانی کا قاعدہ مقرر کردہ ہے۔ مرزائیوں کو چاہئے کہ جب کوئی ان سے پچاس روپے لے تو پانچ پر اکتفا کریں۔ جب اپنے لئے مرزائی اس قاعدہ کو پسند نہیں کرتے تو اوروں کے لئے کیسے جائز ہے؟۔

مرزا قادیانی کا بخاری شریف پر افتراء

جھوٹ نمبر:٢...... ”اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی کہ ’هذا خليفة الله المهدى‘ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔ لیکن وہ حدیث جو معترض صاحب نے پیش کی علماء کو اس میں کئی طرح کا جرح ہے اور اس کی صحت میں کلام ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٤١ جدید، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)

نوٹ...... بخاری میں یہ حدیث نہیں ہے۔ اگر کوئی قادیانی بخاری میں یہ حدیث دکھا دے تو اس کو ایک ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔ ہے کوئی قادیانی جو بخاری میں یہ حدیث دکھا دے اور انعام وصول کرے اور مرزا قادیانی بھی اس جھوٹ کی زد سے بچ جائیں۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے۔ یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں۔

مرزائی عذر

مرزائی کہا کرتے ہیں کہ فلاں امام نے فلاں حدیث کو بحوالہ بخاری لکھا ہے جو اس میں

١٧

صفحہ ٥٥٦

نہیں ہے۔ لہٰذا یہ بھی اسی طرح کی غلطی ہے۔

جواب ...... اس کا یہ ہے کہ ان کا دعویٰ مرزا قادیانی کی طرح یہ نہیں تھا کہ وہ نبی ہیں اور مرزا قادیانی کا تو دعویٰ ہے کہ: ”روح القدس کی قدسیت ہر وقت میرے اندر ہر لحظہ بلافصل ملہم (خود بدولت) کے اندر کام کرتی رہتی ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام حاشیہ ص٩٣، خزائن ج٥ ص٩٣)

امام الانبیاء پر بہتانِ عظیم

جھوٹ نمبر:٣ ...... ”ایسا ہی احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا اور وہ چودھویں صدی کا مجدد ہوگا۔ سو یہ تمام علامات بھی اس زمانہ میں پوری ہوگئیں اور لکھا تھا کہ وہ اپنی پیدائش کی رو سے دوصدیوں میں اشتراک رکھے گا اور دو نام پائے گا اور اس کی پیدائش دو خاندان نے اشتراک رکھے گی اور چوتھی دو گونہ صفت یہ کہ پیدائش میں بھی جوڑے کے طور پر پیدا ہوگا۔ سو یہ سب نشانیاں ظاہر ہوگئیں۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص١٨٨، خزائن ج٢١ ص٣٥٩)

اس عبارت میں مرزا قادیانی کے چھ عدد جھوٹ ہیں اور یہاں جمع کثرت ہے۔ اس لئے مرزائی حضرات کو چاہئے کہ کم از کم وہ دس احادیث ایسی پیش کریں جن میں یہ باتیں موجود ہوں۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ اگر وہ دس احادیث ایسی نہیں پیش کر سکتے تو ہم صرف پانچ حدیثوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر وہ پانچ حدیثیں بھی پیش نہیں کر سکتے تو ہم صرف ایک صحیح حدیث نبوی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن ہم بلاخوف تردید کہہ سکتے ہیں کہ ایک صحیح حدیث تو درکنار ضعیف حدیث بھی قیامت تک نہیں دکھا سکتے اور پھر حضور ﷺ پر جھوٹ بولنے والا شخص جہنمی ہے۔ جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”من کذب علی متعمداً فلیتبوأ مقعدہ من النار (رواہ البخاری)“ اور یہ حدیث حضور ﷺ سے تواتر کے ساتھ منقول ہے۔

(مقدمہ موضوعات کبیر)

جھوٹ نمبر:٤ ...... ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔ ورنہ وہ خدا سے لڑائی کرنے والے ٹھہریں گے۔“

(ریویو ج٢ نمبر٩ ص ٣٦٥، بابت ستمبر ١٩٠٧ء)

جھوٹ نمبر:٥ ...... ”مسیح موعود کی نسبت تو آثار میں یہ لکھا ہے کہ علماء اس کو قبول نہیں کریں گے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص١٨٦، خزائن ج٢١ ص٣٥٧)

آثار کا لفظ کم از کم تین احادیث پر بولا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ مضمون کسی حدیث میں نہیں آیا۔ یہ محض مرزا قادیانی کا اپنا افتراء اور جھوٹ ہے۔

جھوٹ نمبر:٦ ...... ”چونکہ حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ مہدی معہود کے پاس ایک چھپی ہوئی کتاب

١٨

ہوگی جس میں اس کے تین سو تیرہ اصحاب پیشین گوئی آج پوری ہوگئی۔“

نوٹ ...... چھپی ہوئی کتاب کا مضمون کس جھوٹ نمبر:٧ ...... ”جاننا چاہئے کہ اگر ثابت ہوچکی ہے کہ خدا تعالیٰ اس امت رہے گا جو اس کے دین کو تازہ کرے گا۔ میں جو ایک عظیم الشان مہدی چودھویں صدی ہیں جو ان سے کوئی طالب حق منکر نہیں ہو کرے گا تو علماء اس کے کفر کا فتویٰ دیں

نوٹ ...... یہ بھی ایک بہت بڑا شاندار جھوٹ نمبر:٨ ...... ”افسوس کہ وہ حد موجود کے زمانہ کے علماء ان سب لوگوں

نوٹ ...... ایسی کوئی حدیث نہیں ہے ج جھوٹ نمبر:٩ ...... ”اے عزیزو! تم اور اُس شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے د خواہش کی تھی۔“

جھوٹ نمبر:١٠ ...... ”لیکن بڑی توج مہدی کے ظہور کا زمانہ وہی قرار دیا ہ ہے۔“

نوٹ ...... چودھویں صدی کا ذکر کسی مکر و فریب ہے۔

جھوٹ نمبر:١١ ...... ”اب واضح ہو ک امت میں سے ایک شخص پیدا ہوگا جو گا۔“

صفحہ ٥٥٧

ہوگی جس میں اس کے تین سو تیرہ اصحاب کا نام درج ہوگا۔ اس لئے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ وہ پیشین گوئی آج پوری ہوگئی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٠، خزائن ج ١١ ص ٣٢٤)

نوٹ...... چھپی ہوئی کتاب کا مضمون کسی حدیث میں نہیں ہے۔

جھوٹ نمبر:٧...... ”جاننا چاہئے کہ اگرچہ عام طور پر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہ حدیث صحیح ثابت ہو چکی ہے کہ خدا تعالیٰ اس امت کی اصلاح کے لئے ہر ایک صدی پہ ایسا مجدد مبعوث کرتا رہے گا جو اس کے دین کو تازہ کرے گا۔ لیکن چودھویں صدی کے لئے بھی اس بشارت کے بارہ میں جو ایک عظیم الشان مہدی چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا۔ اس قدر بشارات نبویہ پائی جاتی ہیں جو ان سے کوئی طالب حق منکر نہیں ہوسکتا۔ ہاں! اس کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ جب وہ ظہور کرے گا تو علماء اس کے کفر کا فتویٰ دیں گے اور نزدیک ہے کہ اس کو قتل کر دیں۔“

(نشان آسمانی ص ١٦، خزائن ج ٤ ص ٣٧٨)

نوٹ...... یہ بھی ایک بہت بڑا شاندار مرزا دجال کا جھوٹ اور رسول اللہ پر افتراء ہے۔

جھوٹ نمبر:٨...... ”افسوس کہ وہ حدیث بھی اس زمانہ میں پوری ہوئی جس میں لکھا تھا کہ مسیح موعود کے زمانہ کے علماء ان سب لوگوں سے بدتر ہوں گے جو زمین پر رہتے ہوں گے۔“

(اعجاز احمدی ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٢٠)

نوٹ...... ایسی کوئی حدیث نہیں ہے جس میں یہ لکھا ہو یہ بھی مرزا قادیانی کا افتراء جھوٹ ہے۔

جھوٹ نمبر:٩...... ”اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٢)

جھوٹ نمبر:١٠...... ”لیکن بڑی توجہ دلانے والی یہ بات ہے کہ خود آنحضرت ﷺ نے ایک مہدی کے ظہور کا زمانہ وہی قرار دیا ہے جس میں ہم ہیں اور چودھویں صدی کا اس کو مجدد قرار دیا ہے۔“

(نشان آسمانی ص ١٠، خزائن ج ٤ ص ٣٧٠)

نوٹ...... چودھویں صدی کا ذکر کسی حدیث میں نہیں ہے۔ یہ محض مرزا قادیانی کی جہالت یا مکر و فریب ہے۔

جھوٹ نمبر:١١...... ”اب واضح ہو کہ حدیث نبویہ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں سے ایک شخص پیدا ہوگا جو عیسیٰ بن مریم کہلائے گا اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

١٩

صفحہ ٥٥٨

یہ بھی مرزا قادیانی دجال کا دجل ہے کوئی ایسی حدیث نہیں ہے جس میں یہ لکھا ہو کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں ایک شخص پیدا ہو گا اور عیسیٰ ابن مریم کہلائے گا اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔ کتنا بڑا بہتان ہے آنحضرت ﷺ پر۔ خدا کی پناہ، خدا کی پناہ!

جھوٹ نمبر: ١٢...... ”مگر ضرور تھا کہ وہ مجھے کافر کہتے اور میرا نام دجال رکھتے۔ کیونکہ احادیث صحیحہ میں پہلے سے یہ فرمایا گیا تھا کہ اس مہدی کو کافر ٹھہرایا جائے گا اور اس وقت کے شریر مولوی اسی کو کافر کہیں گے اور ایسا جوش دکھلائیں گے کہ اگر ممکن ہوتا تو اس کو قتل کر ڈالتے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٨، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)

جھوٹ نمبر: ١٣...... ”اور اس میں ایک اور عظمت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی بھی اس کے پورے ہونے سے پوری ہو گئی۔ کیونکہ آپ نے فرمایا تھا کہ عیسائیوں اور اہل اسلام میں آخری زمانہ میں ایک جھگڑا ہوگا۔ عیسائی کہیں گے کہ ہم حق پر ہیں اور مسلمان کہیں گے کہ حق ہم میں ظاہر ہوا۔ اس وقت عیسائیوں کے لئے شیطان آواز دے گا کہ حق آل عیسیٰ کے ساتھ ہے اور مسلمانوں کے لئے آسمانوں سے آواز آوے گی کہ حق آل محمد ﷺ کے ساتھ ہے۔ سو یادرہے کہ یہ پیش گوئی آنحضرت ﷺ کی آتھم کے قصہ سے متعلق ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٧، ٢٨٨)

جھوٹ نمبر: ١٤...... ”انبیاء گذشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگا دی کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہو گا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا۔“

(اربعین نمبر ٢ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٣٧١)

نوٹ ...... کسی نبی کا ایسا کشف موجود نہیں جس میں یہ لکھا ہو۔

جھوٹ نمبر: ١٥...... ”آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی تو آپ نے فرمایا کہ آج کی تاریخ سے سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آجائے گی۔“

(ازالۃ الاوہام ج ١ ص ٢٥٣، خزائن ج ٣ ص ٢٢٧)

نوٹ ...... یہ بھی صریح جھوٹ ہے۔ بہتان عظیم ہے۔ کسی حدیث میں نہیں کہ تمام بنی آدم پر سو سال تک قیامت آجائے گی۔ بلکہ حدیث میں تو اس طرح ہے کہ سو سال نہیں گزرے گا کہ آج کے زندوں میں سے کوئی بھی زندہ جان باقی ہو۔

(کنز العمال ج ٦ ص ١٢٠)

جھوٹ نمبر: ١٦...... ”سورج گرہن کے ذکر میں لکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے پاک نبی ابتداء سے خبر دیتے آئے ہیں کہ مہدی کے انکار کی وجہ سے سماوی نشان آسمان پر ظاہر ہوگا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٨، خزائن ج ١٧ ص ١٥١)

٩ نوٹ ..... یہ بھی خدا کے پاک نبیوں پر سیاہ تہم کے انکار کی وجہ سے کسوف وخسوف ہوگا۔ آنحضرت ﷺ نے تو فرمایا جو مجھ پر جھوٹ بو میں نے نہیں کہی تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانہ کی ہیں جن میں مرزا قادیانی نے حضور نبی کری مطابق کیا مرزا قادیانی جہنمی نہیں ثابت ہوا ؟ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں تو پھر کیا مرزا قاد کیوں نبی سمجھ رہے ہو؟ کچھ ہوش کرو۔ مجھ س لکھ دیا کہ جب کوئی ایک بات میں جھوٹا ثاب نہیں رہتا تو پھر کیا وجہ ہے کہ مرزا قادیانی اب مرزادجال یہ بھی لکھ دیں کہ لعنت ہے مفتر لعنت نہ پڑے کیا وجہ ہے؟ اور یہ بھی یاد رکھو

ابھی تک تو ابتدا
آگے آگے

مرزا قادیانی کے قرآن وحدیث

جھوٹ نمبر: ١٧...... ” یہ ضرور تھا کہ قرآ تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہو گا تو اسلامی گے۔ اس کے قتل کے لئے فتوے دیئے دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کر

اب مرزائی حضرات بتائیں میں موجود ہیں وہ کس آیت میں موجو رکھیں کہ یہ مرزا قادیانی دجال کا قرآ

مرزا قادیانی نے چھ عدد اکٹھے جھوٹ بو

جھوٹ نمبر: ١٨ ...... ”اللہ تعالیٰ نے زمانہ کی نسبت طاعون اور زلزلوں وغیر

صفحہ ٥٥٩

نوٹ ...... یہ بھی خدا کے پاک نبیوں پر سیاہ نہیں سفید افتراء ہے۔ ورنہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ مہدی کے انکار کی وجہ سے کسوف وخسوف ہوگا۔ اب میں مرزائی حضرات سے پوچھتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ نے تو فرمایا جو مجھ پر جھوٹ بولے یعنی ایسی بات کی نسبت میری طرف کرے جو میں نے نہیں کہی تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے تو میں نے پندرہ عبارات ایسی پیش کی ہیں جن میں مرزا قادیانی نے حضور نبی کریم ﷺ پر بہتان عظیم باندھے ہیں تو حدیث نبوی کے مطابق کیا مرزا قادیانی جہنمی نہیں ثابت ہوا؟ اور جب کہ مرزا قادیانی نے یہ بھی لکھ دیا ہے جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں تو پھر کیا مرزا قادیانی خود جھوٹ بول کر مرتد نہیں ہوا؟ اور تم مرتد شخص کو کیوں نبی سمجھ رہے ہو؟ کچھ ہوش کرو۔ سمجھ سے کام لو۔ عقل سے کام لو اور پھر مرزا قادیانی نے یہ بھی لکھ دیا کہ جب کوئی ایک بات میں جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا تو پھر کیا وجہ ہے کہ مرزا قادیانی اتنے جھوٹ بول دیں تو پھر بھی ان پر اعتبار کیا جائے اور مرزا دجال یہ بھی لکھ دیں کہ لعنت ہے مفتری پر خدا کی کتاب میں تو پھر بھی مرزا قادیانی پر خدا کی لعنت نہ پڑے کیا وجہ ہے؟ اور یہ بھی یاد رکھو کہ ؎

ابھی تک تو ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

مرزا قادیانی کے قرآن وحدیث پر بہتان

جھوٹ نمبر: ١٧...... ”یہ ضرور تھا کہ قرآن واحادیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے۔ اس کے قتل کے لئے فتوے دیئے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٧١، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤)

اب مرزائی حضرات بتائیں کہ یہ باتیں کہ جو مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ قرآن شریف میں موجود ہیں وہ کس آیت میں موجود ہیں اور کون سا پارہ ہے اور کون سی سورۃ ہے؟۔ لیکن یاد رکھیں کہ یہ مرزا قادیانی دجال کا قرآن وحدیث دونوں پر افتراء ہے اور اس عبارت میں مرزا قادیانی نے چھ عدد اکٹھے جھوٹ بول دیئے ہیں۔

جھوٹ نمبر: ١٨...... ”اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں بڑا فتنہ عیسیٰ پرستی کا فتنہ ٹھہرایا ہے اور اس زمانہ کی نسبت طاعون اور زلزلوں وغیرہ حوادث کی پیش گوئی بھی کی ہے اور صریح طور پر فرمایا ہے کہ

٢١

PDF 561

آخری زمانہ میں جب کہ آسمان اور زمین میں طرح طرح کے خوفناک حوادث ظاہر ہوں گے۔ وہ عیسیٰ پرستی کی شامت کی وجہ سے ہوں گے۔"

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٢، خزائن ج ٢٢ ص ٤٩٨، ٤٩٩)

یہ بھی قرآن کریم پر بہتان اور افتراء ہے کہ قرآن کریم کی کسی آیت میں یہ نہیں لکھا ہے۔

جھوٹ نمبر ١٩: ...... "چودھویں صدی کے سر پر مسیح موعود کا آنا جس قدر حدیثوں سے قرآن سے اولیاء کے مکاشفات سے بپایہ ثبوت پہنچتا ہے حاجت بیان نہیں۔ پھر جو دعویٰ اپنے محل اور موقع پر ہے اس کے رد کرنے سے تو ایک متقی آدمی کا بدن کانپ جاتا ہے۔"

(شہادۃ القرآن ص ٧٠، خزائن ج ٦ ص ٣٦٥)

نوٹ: ...... یہاں مرزا قادیانی نے چودھویں صدی میں مسیح موعود کا آنا قرآن میں لکھا ہے۔ حالانکہ چودھویں صدی کا ذکر نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں۔

جھوٹ نمبر ٢٠: ...... "دیکھو! خدا تعالیٰ قرآن کریم میں صاف فرماتا ہے کہ میرے پر جو افتراء کرے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں اور جلد مفتری کو پکڑتا ہوں اور اس کو مہلت نہیں دیتا۔"

(شہادۃ القرآن ص ٣٣، خزائن ج ٦ ص ٣٩٧)

ایسا ہی (انجام آتھم ص ٥٠، ٦٢) میں لکھا ہے۔ حالانکہ قرآن پاک میں کہیں نہیں لکھا ہے کہ میں مفتری کو جلد پکڑتا ہوں یا جلد ہلاک کرتا ہوں۔ بلکہ اس کے الٹ ہے۔ ارشاد ہے ۔ "ان الذین یفترون علی الله الکذب لا یفلحون متاع فی الدنیا (یونس)" کہ جو لوگ خدا پر افتراء کرتے ہیں وہ نجات نہیں پائیں گے۔ یہ دنیا میں تھوڑا سا نفع ہے۔ ماسوا اس کے کہ مرزا قادیانی کو خود اقرار ہے کہ: ”مفتری کو ٢٣ سال تک مہلت مل سکتی ہے۔ زیادہ نہیں مل سکتی۔“ ملاحظہ ہو۔

(اربعین نمبر ٣ ص ٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٣١)

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

جھوٹ نمبر ٢١: ...... "یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں یہ خبر دی ہے۔"

(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)

"مسیح موعود کے وقت میں طاعون کا پڑنا بائبل کی ذیل کتابوں میں موجود ہے۔"

(زکریا باب ١٤ نمبر ١٢، انجیل متی باب ٨ نمبر ٢٤، مکاشفات باب ٨ نمبر ٢٢، کشتی نوح ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ٥)

نوٹ: ...... اس عبارت میں ایک جھوٹ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی چار آسمانی کتابوں پر چار عدد جھوٹ ہیں۔

٢٢

جھوٹ نمبر ٢٢: ...... "میرے ہو قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور یـ قریباً من القادیان "تو میں بـ لکھا ہوا ہے۔ تب انہوں نے کہا کـ ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تر قرآن شریف میں درج ہے اور میـ درج کیا گیا ہے مکہ اور مدینہ اور قاد

نوٹ: ...... مرزا قادیانی دجال ۔ ہے اور لکھا ہے کہ "انا انزلناہ شریف اس عبارت سے پاک ۔ سے سرزد نہیں ہوا اور یہ بھی مرزا قرآن شریف میں درج ہے۔ کـ قرآن پاک کو دن رات پڑھتے آیا۔ مرزا قادیانی نے کہاں سے کی اپنی آنکھ کا قصور ہوگا۔ یہا شیطان مقرر ہے اس کا قصور ہے وہ بجا کہتے ہیں۔

جھوٹ نمبر ٢٣: ...... مرزا قادی کرنے کا انکار کرتا ہے جو کہ قرآ قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہی

نوٹ: ...... یہ بھی مرزا غلام احمد لفظوں میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلا علیہ السلام کو اپنے احسانات کا ذ الطیر باذنی فتنفخ فیهـ

صفحہ ٥٦١

جھوٹ نمبر:٢٢....... ”میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے۔ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے مکہ اور مدینہ اور قادیان۔“

(ازالۃ اوہام ص ٧٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)

نوٹ....... مرزا قادیانی دجال نے یہاں بہت بڑا افتراء جھوٹ اور بہتان قرآن شریف پر باندھا ہے اور لکھا ہے کہ ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ قرآن میں لکھا ہوا ہے۔ حالانکہ قرآن شریف اس عبارت سے پاک ہے اور یہ مرزا قادیانی کا ہی اپنا افتراء اور جھوٹ ہے جو اور کسی سے سرزد نہیں ہوا اور یہ بھی مرزا قادیانی دجال نے لکھا ہے کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج ہے۔ مکہ، مدینہ اور قادیان۔ ہم مرزائی حضرات سے پوچھتے ہیں کہ ہم قرآن پاک کو دن رات پڑھتے پڑھاتے ہیں۔ ہمیں تو قادیان کا لفظ قرآن شریف میں نظر نہیں آیا۔ مرزا قادیانی نے کہاں سے دیکھا ہے۔ لیکن یاد رکھیں کہ کوئی شخص دن کو رات کہہ دے تو اس کی اپنی آنکھ کا قصور ہوگا۔ یہاں بھی مرزا قادیانی کی آنکھ دل اور زبان اور مرزا قادیانی پر جو شیطان مقرر ہے اس کا قصور ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جو مرزا قادیانی کو کانا نبی کہتے ہیں وہ بجا کہتے ہیں۔

جھوٹ نمبر:٢٣....... مرزا قادیانی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے معجزہ پرندوں کو خدا کے حکم سے زندہ کرنے کا انکار کرتا ہے جو کہ قرآن پاک کے خلاف ہے۔ لکھتا ہے کہ: ”ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ ان کا ہلنا اور جنبش کرنا بھی پایہ ثبوت نہیں پہنچتا۔“

(ازالۃ اوہام ص ٣٠٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٦، ٢٥٧)

نوٹ....... یہ بھی مرزا غلام احمد قادیانی دجال کا قرآن کریم پر کھلم کھلا افتراء ہے۔ قرآن کریم کھلے لفظوں میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا یہ معجزہ بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمائیں گے۔ ”واذ تخلق من الطين كهيئة الطير باذنى فتنفخ فيها فتكون طيراً باذنی (المائدہ)“ ﴿اور جس وقت بناتا تھا تو

٢٣

صفحہ ٥٦٢

مٹی سے جیسے صورت جانور کی ، ساتھ حکم میرے کے پس پھونکتا تھا تو بیچ اس کے پس ہو جاتا پرندہ ساتھ حکم میرے کے۔

پس قرآن کریم صاف اعلان کرتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا یہ عظیم معجزہ تھا۔ لیکن مرزا قادیانی دجال کو قرآن کریم سے کیا تعلق؟ اس کا اگر تعلق ہے تو قرآن پر جھوٹ بولنے سے ہے اور مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔ پس مرزا قادیانی تو اپنے فتوے سے ہی مرتد ہو گیا۔

نہ تم صدمے ہمیں دیتے نہ ہم فریاد یوں کرتے
نہ کھلتے راز سربستہ نہ رسوائیاں ہوتیں

جھوٹ نمبر : ٢٣ ...... مرزا غلام احمد ابن چراغ بی بی لکھتے ہیں کہ: ”قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)

نوٹ ...... یہاں مرزا قادیانی دجال قرآن شریف کو اپنے منہ کی باتیں کہہ رہا ہے۔ نعوذ بالله من ذالك !

مرزا قادیانی کے مختلف کذبات

جھوٹ نمبر : ٢٥ ...... ( میری پیش گوئی عبداللہ آتھم) ”میں یہ بیان تھا کہ فریقین میں سے جو شخص اپنے عقیدہ کی رو سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو مجھ سے وہ پہلے مر گیا۔“

(کشتی نوح ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ٦)

حالانکہ پیش گوئی میں تھا کہ جو شخص غلط عقیدہ پر ہے وہ پندرہ ماہ میں مر جائے گا۔ مگر مرزا قادیانی اس جگہ پندرہ ماہ کی قید اڑا کر پیش گوئی کو وسیع کر رہے ہیں اور واضح جھوٹ بول رہے ہیں۔ میں مرزائیوں سے پوچھتا ہوں کیا یہ ڈبل جھوٹ نہیں ہے اور انصاف سے کہئے کہ کسی کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے اس سے زیادہ اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ اس کے جھوٹ ثابت کئے جائیں۔ ورنہ جھوٹ بول کر بھی انسان جھوٹا ثابت نہ ہو تو پھر اسے جھوٹا کس طرح ثابت کیا جائے۔ جب کہ خود مرزا قادیانی کو اقرار ہے کہ: ”جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)

جھوٹ نمبر : ٢٦ ...... ”اوّل تم میں سے مولوی اسماعیل علی گڑھی نے میرے مقابل پر کہا کہ ہم میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو دس سال کے قریب ہو چکے وہ مر گیا۔“

(نزول المسیح ص ٤١، خزائن ج ١٨ ص ٤٠٩، اربعین نمبر ٣ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤)

٢٤

صفحہ ٥٦٣

مولوی اسماعیل نے یہ کہیں نہیں لکھا اور نہ ہی کہا۔ ثبوت بذمہ مدعی۔

جھوٹ نمبر: ٢٧...... ”تفسیر ثنائی میں لکھا ہے کہ ابو ہریرہ فہم قرآن میں ناقص تھا اور اس کی درایت پر محدثین کو اعتراض ہے۔ ابو ہریرہ میں نقل کرنے کا مادہ تھا اور درایت اور فہم سے بہت ہی کم حصہ رکھتا تھا۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، خزائن ج ٢١ ص ٤١٠)

یہ بھی ایک گندہ اور ناپاک جھوٹ ہے۔ ہرگز تفسیر ثنائی میں یہ نہیں لکھا ہے۔

جھوٹ نمبر: ٢٨...... ”تین ہزار بار یا اس سے بھی زیادہ اس عاجز کے الہامات کی مبارک پیش گوئیاں جو امن عامہ کے مخالف نہیں پوری ہو چکی ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤١)

حالانکہ اس کے بعد ١٩٠١ء میں مرزا قادیانی، (ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠) پر لکھتے ہیں: ”پس میں جب کہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیش گوئی کے قریب خدا کی طرف سے پاکر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہو گئیں۔“

جھوٹ نمبر: ٢٩...... ”مجھے اکیلے کو وہ سب کچھ دیا گیا ہے جو سب نبیوں کو دیا گیا تھا۔“

(اعجاز احمدی، حقیقت الوحی ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٥)

یہ بھی بہت بڑا جھوٹ ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”میں حقیقی نبی نہیں ہوں۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٩، خزائن ج ٢١ ص ٢٦٠ حاشیہ)

میں امتی نبی ہوں۔ پھر یہ تمام نبیوں سے کیسے بڑھ گیا۔ جبکہ دوسری جگہ یہ لکھا ہے کہ: ”میں نبی نہیں ہوں۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

اور تیسری جگہ یہ لکھا ہے کہ: ”ہمارے ہاتھ میں بجز دعا کے اور کیا ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٨٦، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)

جھوٹ نمبر: ٣٠...... ”مجھ کو فنا کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے اور یہ صفت خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو ملی ہے۔“

(خطبۃ الہامیہ ص ٢٣، خزائن ج ١٦ ص ٥٥، ٥٦)

اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں فرماتا ہے ”انا احی وامیت“ کہ میں ہی زندہ کرنے والا ہوں اور میں ہی مارنے والا ہوں۔ معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کا یہ بھی جھوٹ ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ مرزا قادیانی نے سلطان محمد ساکن پٹی ضلع لاہور کے بارے میں مرنے کی پیش گوئی کی کہ اڑھائی سال تک مر جائے گا۔ اگر نہ مرا تو میری زندگی میں تو ضرور مرے گا۔ لیکن مرزا قادیانی ہی اس کی زندگی میں مر گئے اور وہ ٤٥ سال تک مرزا قادیانی کے بعد زندہ رہا اور مرزا قادیانی نے

٢٥

صفحہ ٥٦٤

عبداللہ آتھم کے متعلق پیش گوئی کی کہ وہ ١٥؍ ماہ تک مرجائے گا۔ مگر پیش گوئی جھوٹی ہوگئی اور وہ نہ مرا اور مرزا قادیانی نے اپنے ایک اور حریف مولانا ثناء اللہ مرحوم کے مقابلہ میں بددعا کی کہ جھوٹا سچے کے سامنے ہلاک ہو جائے اور مولانا ثناء اللہ صاحب کے دیکھتے دیکھتے مرزا قادیانی ہلاک ہو گئے اور مرزا قادیانی اپنے ایک اور حریف ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب کو مرزا قادیانی نے فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار دکھائی اور دعا کی کہ اے میرے رب سچے اور جھوٹے کے درمیان فیصلہ کر دے۔ مگر ڈاکٹر صاحب کے دیکھتے دیکھتے مرزا قادیانی تباہ ہوگئے اور ان کے جھوٹ نے ان کو ہلاک کر دیا اور سنئے! مرزا قادیانی کا مولانا عبدالحق غزنوی سے مباہلہ ہوا اور مرزا قادیانی اپنے حریف کے دیکھتے دیکھتے تباہ ہوگئے اور ان کے جھوٹ نے ان کو ہلاک کر دیا تو مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ مجھے فانی کرنے (مارنے) اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے۔ محض باطل ہے۔

جھوٹ نمبر: ٣١....... ”ایسا ہی ولید مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کی سخت الفاظ (قرآن شریف میں) جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں استعمال کئے ہیں۔“

(ازالۃ اوہام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ١١٦)

مسلمانوں کا متفقہ فیصلہ اور عقیدہ ہے کہ جو قرآن پاک کے بارے میں ایسا عقیدہ رکھے نعوذ باللہ! اس میں گندی گالیاں بھری ہیں تو وہ کافر اور قرآن کا منکر ہے اور یہ مرزا قادیانی کا قرآن پاک پر افتراء ہے۔ قرآن پاک ایسی باتوں سے پاک ہے۔ ’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ اور آگے چل کر پھر مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”مجھے کسی بزرگ نے کہا کہ عیسیٰ اب جوان ہو گیا ہے اور لدھیانہ میں آکر قرآن کی غلطیاں نکالے گا اور قرآن کی رو سے فیصلہ کرے گا....... پھر میں نے پوچھا کہ عیسیٰ اب کہاں ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ بیچ قادیان کے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٧٠٨، خزائن ج ٣ ص ٤٨٢)

جھوٹ نمبر: ٣٢....... (حدیثوں میں) ”کہا گیا ہے کہ آخری زمانہ میں قرآن آسمان پر اٹھایا جائے گا۔ پھر انہی حدیثوں میں لکھا ہے کہ پھر دوبارہ قرآن کو زمین پر لانے والا ایک فارسی الاصل ہوگا۔“

(ازالۃ اوہام ص ٧٢٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٤٩٣)

اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ قرآن پاک زمین سے اٹھ گیا تھا اور مرزا قادیانی قرآن کو آسمان سے لائے ہیں۔ نعوذ بالله من ذلك!

جھوٹ نمبر: ٣٣....... ”یسوع (مسیح بن مریم) درحقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہو گیا تھا۔“

(ست بچن ص ١٧١، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٥ حاشیہ)

٢٦

صفحہ ٥٦٥

جو شخص کبھی نبی کو دیوانہ کہے اس کے دجال ہونے میں کون سا تردد ہو سکتا ہے؟۔

جھوٹ نمبر:٣٣....... مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”سلف صالح میں سے بہت سے صاحب مکاشفات مسیح کے آنے کا وقت چودھویں صدی کا شروع سال بتلا گئے تھے۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی قدس سرہ کی بھی یہی رائے ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ١٨٤، خزائن ج ٣ ص ١٨٨، ١٨٩)

یہ بھی مرزا قادیانی کا کھلم کھلا شاہ ولی اللہ پر افتراء ہے۔ شاہ ولی اللہ کا قطعاً کوئی ایسا کشف نہیں ہے جس میں چودھویں صدی میں مسیح موعود کے آنے کا بیان ہو۔ ”لعنت ہے مفتری پر خدا کی کتاب میں۔ عزت نہیں ہے ذرا بھی اس کی جناب میں۔“

(نصرت الحق ص ١١، خزائن ج ٢١ ص ٢١)

کیا یہ مرزا قادیانی کا اعلیٰ فرمان نہیں ہے۔ کیا یہ ان پر ابھی تک وارد نہیں ہوا: ”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٥٦)

”جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٥)

جھوٹ نمبر: ٣٥....... ”ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)

”جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا رسول کو بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)

”اب دیکھو! خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥ حاشیہ)

اے مرزا! ”جو شخص تیری پیروی نہ کرے گا اور بیعت میں داخل نہ ہوگا وہ خدا رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“

(رسالہ معیار الاخبار ص ٨، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)

نوٹ ...... یہ بھی مرزا قادیانی کا جھوٹ ہے۔ مرزا قادیانی کی زبانی ہی سن لیجئے۔ لکھتے ہیں: ”ابتداء سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہوسکتا۔“

(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)

آگے لکھتے ہیں کہ: ”واقعی میرا یہی مذہب ہے کہ میں کسی مسلمان کو کافر نہیں جانتا۔“

(تریاق القلوب ص ١٣١، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٣، ٤٣٤)

٢٧

صفحہ ٥٦٦

جھوٹ نمبر: ٣٦...... "وقد سبونی بکل سب فما زدت علیهم جوابهم"

(مواہب الرحمٰن ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ٢٣٦)

میں نے جواب طور پر بھی کسی کو گالی نہیں دی۔ بالکل جھوٹ ہے مرزا قادیانی نے خود اقرار کیا ہے کہ: "میرے سخت الفاظ جوابی طور پر ہیں۔"

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٦٦)

مرزا قادیانی کی گالیوں کے چند نمونے

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)

(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

کہ دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔

معاذ اللہ!

صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے۔ حرامزادہ کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔"

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)

(رسالہ آریہ دھرم ص ٥٥، خزائن ج ١٠ ص ٦٣)

میں کھلائی۔"

(نزول المسیح ص ٧٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٨ حاشیہ)

"کذاب دروغ گو، مزور، خبیث، بچھو کی طرح نیش زن اے گولڑہ کی زمین تجھ پر خدا کی لعنت تو ملعون کے سبب ملعون ہوگئی۔"

(اعجاز احمدی ص ٧٥، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨)

"فرومایہ، کمینہ، گمراہی کے شیخ، دیو، بدبخت۔"

(اعجاز احمدی ص ٧٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨، ١٨٩)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٨)

"کفن فروش۔"

(اعجاز احمدی ص ٢٣، خزائن ج ١٩ ص ١٣٢)

"کتا۔"

(اعجاز احمدی ص ٢٣، خزائن ج ١٩ ص ١٣٢)

٢٨

صفحہ ٥٦٧

”کتے مردار خور۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٢٥، خزائن ج ١١ ص ٣٠٩)

فاسقاً“ اور لئیموں میں سے ایک فاسق آدمی کو دیکھتا ہوں۔

”غولاً لعيناً نطفة السفهاء“ کہ ایک شیطان ملعون ہے سفیہوں کا نطفہ۔

”شکس خبيث مفسد ومزور“ بدگو ہے اور خبیث اور مفسد اور جھوٹ کو ملمع کر کے دکھانے والا۔

”نحس یسمی السعد فی الجھلاء“ منحوس ہے جس کا نام جاہلوں نے سعد اللہ رکھا ہے۔

”اذیتنی خبثاً فلست بصادق“ تو نے اپنی خباثت سے مجھے بہت دکھ دیا ہے۔ پس میں سچا نہیں ہوں گا۔

”ان لم تمت بالخزی یا ابن بغاء“ اگر ذلت کے ساتھ تیری موت نہ ہو (اے حرامی)

(ضمیمہ حقیقت الوحی للاستفتاء ص ١٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ٧٣٢)

جھوٹ نمبر: ٣٧...... ”کل مسلم یقبلنی ویصدق دعوتی الا ذریة البغایا“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

کل مسلمانوں نے مجھے مان لیا ہے اور تصدیق کی ہے۔ مگر کنجریوں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔

نوٹ...... یہ بھی مرزا قادیانی کا جھوٹ ہے جو مجھے نہیں مانتا وہ نعوذ باللہ کنجریوں کی اولاد ہے۔ ملاحظہ کیجئے:

ہے۔

سب کنجریوں کی اولاد ہیں۔ تو پھر ہمیں ذرا یہ بتائیں کہ مرزا قادیانی کا بڑا لڑکا فضل احمد مرزا قادیانی پر ایمان نہیں لایا اور مرزا قادیانی کو اس نے نہیں مانا اور مرزا قادیانی کی زندگی ہی میں مر گیا اور پھر مرزا قادیانی نے اس کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی۔

(الفضل قادیان مورخہ ٢ مئی ١٩٣١ء)

مرزائی حضرات ذرا بتائیں اور اچھی طرح سوچ بھی لیں کہ فضل احمد کون تھا؟ اور اس کی ماں کیسی تھی اور جس گھر میں ایسی پاکیزہ عورت تھی وہ حضرت کیسے تھے؟ ماشاء اللہ! کیسا مطہر

٢٩

صفحہ ٥٦٨

خاندان ہے۔

جھوٹ نمبر:٣٨...... ”اسلامی مہینوں میں سے چوتھا مہینہ لیا۔ یعنی ماہ صفر اور ہفتہ کے دونوں میں سے چوتھا دن لیا۔ یعنی چارشنبہ۔“

(تریاق القلوب ص ٤١، خزائن ج ١٥ ص ٢١٨)

یہاں تو مرزا قادیانی کے علم کا بھی پتہ چل گیا۔ جو صفر کے مہینے کو چوتھا مہینہ لکھ مارا ہے معمولی لکھا پڑھا آدمی بھی اسلامی مہینوں کو جانتا ہے۔ آگے مرزا قادیانی نے چارشنبہ کو چوتھا دن لکھ دیا ہے۔ حالانکہ وہ پانچواں دن ہے۔

جھوٹ نمبر:٣٩...... ”صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور انجیل اور دانی ایل اور دوسرے نبیوں کی کتابوں میں بھی جہاں میرا ذکر کیا گیا ہے وہاں میری نسبت نبی کا لفظ بولا گیا ہے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)

صحیح بخاری، مسلم اور انجیل اور دانی ایل میں مرزا قادیانی کا تو کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کے ذکر میں صحیح مسلم شریف میں عیسیٰ نبی اللہ کا لفظ آیا ہے۔ باقی رہی صحیح بخاری، انجیل اور دانی ایل کی کتاب یا دوسرے نبیوں کی کتب۔ ان میں نبی کا لفظ ہرگز ہرگز مذکور نہیں۔ غرض صحیح بخاری شریف وغیرہ پر مرزا قادیانی کا کھلا افتراء ہے۔

جھوٹ نمبر:٤٠...... ”اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح نے تو صرف مہد میں باتیں کیں۔ مگر اس لڑکے نے پیٹ ہی میں دو مرتبہ باتیں کیں۔

(تریاق القلوب ص ٤١، خزائن ج ١٥ ص ٢١٧)

یہ بھی مرزا قادیانی نے جھوٹ بولا ہے کہ میرے بیٹے مبارک احمد نے پیٹ ہی میں دو مرتبہ باتیں کی ہیں۔ میں مرزائی امت سے پوچھتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ پر تو بہتان لگا۔ جس کو دور کرنے کے لئے عیسیٰ بن مریم نے تو بچپن ہی میں باتیں کیں۔ مگر مرزا قادیانی کے لڑکے نے تو پیٹ ہی میں باتیں کرنی شروع کر دیں اور پیٹ میں باتیں کرنے کی کیا ضرورت پڑ گئی تھی؟ اور پھر کیا کیا باتیں کیں؟ ذرا ہمیں بھی راز بتا دیجئے۔

جھوٹ نمبر:٤١...... ”میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٩، خزائن ج ٢١ ص ٣٦١)

یہ بھی مرزا قادیانی کا جھوٹ ہے۔ وہ خود لکھتے ہیں کہ: ”میں نبوت کا مدعی نہیں۔ بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“

(آسمانی فیصلہ ص ٣، خزائن ج ٤ ص ٣١٣)

مزید لکھتے ہیں کہ: ”ہم مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔ وحی نبوت نہیں بلکہ وحی ولایت کے ہم قائل ہیں۔“ (تبلیغ رسالت ص ١٢، ج٦، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧) اور (ازالہ اوہام ص ٤٢٢،

٣٠

صفحہ ٥٦٩

خزائن ج ٣ ص ٣٢٠) پر لکھتا ہے کہ : ” نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خدا کے حکم سے کیا گیا ہے۔“

جھوٹ نمبر : ٤٢...... ”مرزا قادیانی اپنی کتاب تحفۃ الندوہ میں اکٹھے پانچ جھوٹ بول جاتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ:

١...... ” اگر میں صاحب کشف نہیں تو میں جھوٹا ہوں ۔ ٢ ...... اگر قرآن سے ابن مریم کی وفات ثابت نہیں تو میں جھوٹا ہوں۔٣...... اگر حدیث معراج نے ابن مریم کو مردہ روحوں میں نہیں بیٹھا دیا تو میں جھوٹا ہوں۔ ٤...... اگر قرآن نے سورۃ نور میں نہیں کہا کہ اس امت کے خلیفے اسی امت میں ہوں گے تو میں جھوٹا ہوں۔ ٥...... اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔“

(تحفۃ الندوہ ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٩٨،٩٧)

ان دعوؤں میں سے ہر دعویٰ جھوٹا ہے۔

جھوٹ نمبر:٤٣...... ”اگر وہ بلاشبہ دجال معہود ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ٧٢٢، خزائن ج ٣ ص ٤٨٨)

اب آگے مرزا قادیانی کی زبانی سنئے ! لکھتے ہیں کہ: ”ازانجملہ ایک بھاری علامت دجال کی اس کا گدھا ہے جس کے بین الاذنین کا اندازہ ستر باع کیا گیا ہے اور ریل کی گاڑیوں کا اکثر اسی کے موافق سلسلہ طولانی ہوتا ہے اور اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ وہ دخان کے زور سے چلتی ہیں۔ جیسے بادل ہوا کے زور سے تیز حرکت کرتا ہے۔ اس جگہ ہمارے نبی ﷺ نے کھلے کھلے طور پر ریل گاڑی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ چونکہ یہ عیسائی قوم کا ایجاد ہے جن کا امام و مقتداء یہی دجالی گروہ ہے۔ اس لئے ان گاڑیوں کو دجال کا گدھا قرار دیا گیا۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٣٦، خزائن ج ٣ ص ٤٩٣)

اور اس کے خلاف (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٥٤، خزائن ج ٥ ص ایضا) پر لکھا ہے کہ:”دجال سے مراد خواہشات دجالیہ ہیں۔“

جھوٹ نمبر : ٤٤...... ” ان المراد من دابة الارض علماء السوء ۔ دابۃ الارض سے مراد علمائے سو ہیں۔“

(حمامة البشریٰ ص ٨٥ ، خزائن ج ٧ ص ٣٠٨)

دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ : واخرجنا لهم دابة من الارض تکلم ”یعنی جب ایسے دن آئیں گے جو کفار پر عذاب نازل ہو اور ان کا وقت مقدر آ جائے گا تو ہم ایک گروہ دابۃ الارض کا زمین سے نکالیں گے وہ گروہ متکلمین کا ہوگا۔ جو اسلام کی حمایت میں تمام ادیان باطلہ پر

٣١

صفحہ ٥٧٠

حملہ کرے گا۔ یعنی وہ علماء ظاہر ہوں گے۔ جن کو علم کلام اور فلسفہ میں یدطولا ہو گا۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٠٤، خزائن ج ٣ ص ٣٧٠)

تیسری جگہ لکھتے ہیں: ”تب میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہی طاعون ہے اور یہی وہ دابۃ الارض ہے جس کی نسبت قرآن شریف میں وعدہ تھا۔“ (نزول مسیح ص ٣٨، خزائن ج ١٨ ص ٤١٥، ٤١٦)

جھوٹ نمبر: ٤٥...... ”ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور یاجوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کما ہی ہی ظاہر فرمائی گئی۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)

مرزا قادیانی دجال کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال اور یاجوج ماجوج اور دابۃ الارض کی ماہیت حقیقت نہ کھلی اور مجھ پر سب کچھ منکشف ہو گیا۔ العیاذ باللہ!

جھوٹ نمبر: ٤٦...... ”دیکھو! زمین پر خدا کے حکم سے ہر روز ایک ساعت میں کروڑ ہا انسان مر جاتے ہیں اور کروڑ ہا اس کے ارادے سے پیدا ہو جاتے ہیں۔“

(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥١)

اس قول میں حضرت قابض الارواح جل شانہ کی صفت ہلاک کا جس انتہائی مبالغہ آرائی سے اظہار کیا گیا ہے اس کی نظیر انبیاء صادقین کی تحریروں میں تو کہاں ملے گی کسی افسانہ گو شاعر کی تالیفات میں بھی شاذ و نادر نظر آئے گی۔ خدا نہ کرے کسی وقت فی الواقع ارادہ الٰہی بموجب تحریر مرزا قادیانی ظہور کرے۔ اگر ایسا ہو جائے تو غالباً بلکہ یقیناً دو تین دن کے اندر ہی سب جانداروں کا صفایا ہو جائے۔ رہ جائیں دو دو تین تین دن کے چھوٹے بچے سو وہ بھی ایک دو دن میں بلبلاتے ہوئے بحر فنا میں غرق ہو جائیں اور ربع مسکون پر ایک متنفس بھی جیتا جاگتا چلتا پھرتا نظر نہ آئے۔ (پناہ بخدا)

جھوٹ نمبر: ٤٧...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

تشریح ملاحظہ کیجئے۔ مرزا قادیانی نے گذشتہ عبارت میں کہا ہے کہ میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا۔ ایسے اور مرزا قادیانی اپنے متعلق اسی کتاب

٣٢

صفحہ ٥٧١

(تریاق القلوب، اشتہار واجب الاظہار ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ٥٢٣) پر لکھتے ہیں کہ: ”میں انگریزی سلطنت کے ماتحت مبعوث کیا گیا“ اور مرزا قادیانی نے (تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١) پر یہ لکھ دیا ہے کہ: ”میں سرکار انگریزی کا خودکاشتہ پودا ہوں“ اور پھر (شہادۃ القرآن، اشتہار گورنمنٹ کی توجہ کے لائق ص ٣، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠) پر بھی مزید تشریح موجود ہے۔ لکھتے ہیں کہ: ”سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“

الحاصل ! یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت خدا داد نہیں تھی بلکہ انگریزوں نے اسے نبی بنایا تھا۔ اس لئے انگریزوں کی حمایت کے لئے مرزا قادیانی نے پچاس الماریاں کتابوں کی لکھ کر تمام ممالک اسلامیہ میں وہ کتابیں شائع کیں اور دوسری بات یہ بھی یاد رکھیں کہ مرزا قادیانی نے ٨٢ کے قریب کتابیں اور اشتہار شائع کئے ہیں جن سے بمشکل ایک الماری بھرے۔ لیکن مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ میں نے اتنی کتابیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ کھلم کھلا مکر اور جھوٹ ہے۔

جھوٹ نمبر: ٤٨...... مرزا قادیانی اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص ٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣١) پر رقم طراز ہیں کہ: ”یہ غیر معقول بات ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ لوگ نماز کے لئے مساجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا اور جب عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا اور شراب پیئے گا اور سور کھائے گا اور اسلام کے حلال و حرام کی کچھ پرواہ نہ کرے گا۔“ اس عبارت میں چھ فقرے ہیں جو سب کے سب جھوٹے ہیں۔ مسلمانوں کا عقیدہ ١٤٠٠ برس سے یہ چلا آتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مکرر نزول کے بعد شریعت محمدی پر عمل کریں گے۔ پھر معلوم نہیں کہ اس کے خلاف مرزا قادیانی نے کس کتاب سے یہ فقرے نقل کر دیئے۔ کیا کوئی مرزائی بتا سکتا ہے۔ ہر گز نہیں پس یہ سب جھوٹی باتوں کا مجموعہ محض ہرزہ سرائی ہے اور مرزا قادیانی اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص ٢٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٥) پر لکھتے ہیں کہ: ”جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔“ اب آپ حضرات فیصلہ کریں کہ مرزا قادیانی نے گوہ کھایا ہے یا نہیں؟

جھوٹ نمبر: ٤٩...... ریویو بابت ماہ ستمبر ١٩٠٢ء کے ص ٢٣٠ میں قول مرزا مسطور ہے: ”اب تک

٣٣

صفحہ ٥٧٢

میرے ہاتھ پر ایک لاکھ کے قریب انسان بدی سے توبہ کر چکے ہیں۔“ اس تحریر کے تین سال پانچ ماہ گیارہ دن بعد لکھتے ہیں: ”میرے ہاتھ پر چار لاکھ کے قریب لوگوں نے معاصی سے توبہ کی۔“

(تجلیات الٰہیہ ص ٢، خزائن ج ٢٠ ص ٣٩٧، مرقومہ ١٥ مارچ ١٩٠٦ء)

کس قدر مبالغہ ہے کہ ستمبر ١٩٠٢ء سے مارچ ١٩٠٦ء تک تین لاکھ انسانوں نے بیعت کی۔ یعنی مرزا قادیانی متواتر ساڑھے تین سال صبح ٦ بجے سے شام ٦ بجے تک ہر روز لگاتار بیعت ہی لیتے رہے تھے۔ جس کا حساب یوں لگایا جاسکتا ہے کہ آپ ہر ماہ میں ٧١٤٣ یا ہر دن میں ٢٣٨ یا فی گھنٹہ ١٩ یا ہر تین منٹ کے عرصہ میں دس شرائط بیعت سنا کر اور ان پر عمل کرنے کا وعدہ لے کر ایک مرید پھانستے رہے۔

جھوٹ نمبر: ٥٠...... مرزا قادیانی اپنے مرنے سے قریباً ساڑھے چار سال پہلے فرماتے ہیں کہ: ”میں وہ شخص ہوں جس کے ہاتھ پر صد ہا نشان ظاہر ہوئے۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٤٣، خزائن ج ٢٠ ص ٤٦، اکتوبر ١٩٠٣ء)

مگر مرزا قادیانی کی کتنی بڑی کرامت ہے کہ اس کے بعد انہوں نے دو تین منٹ کے اندر ہی اسی کتاب میں اسی صفحہ میں دو سطر بعد صد ہا نشان کے دولاکھ بنا ڈالا۔ آگے چل کر ص ٤١، خزائن ج ٢٠ ص ٤٤ پر جو مشین مبالغہ کے کل پرزوں کو حرکت دی تو ایک جنبش قلم، دس لاکھ تک نوبت پہنچادی۔

مرزا قادیانی دجال کہتے ہیں کہ میرا دنیا میں کوئی استاذ نہیں

جھوٹ نمبر: ٥١...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا ہے سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن وحدیث میں کسی استاذ کا شاگرد نہیں ہوگا۔ سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی ہے کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن وحدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے یا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہے۔“

(ایام الصلح ص ١٤٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٤)

یہ بھی صاف جھوٹ ہے۔ مرزا قادیانی نے خود دوسری کتاب میں اپنے استاذوں کے نام اور ان سے جو کتابیں پڑھی ہیں اقرار کیا ہے۔ ملاحظہ کیجئے:

(کتاب البریہ ص ١٣٨، ١٣٩، خزائن ج ١٣ ص ١٨٠، ١٨١)

اور مرزا قادیانی (دافع البلاء ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٤) پر لکھتے ہیں کہ: ”میرے استاذ ایک بزرگ شیعہ تھے“ اور مرزا قادیانی دجال کے لڑکے مرزا بشیر احمد نے سیرۃ المہدی میں اور ٣٤

مرزا بشیر الدین نے سیرت مسیح مو سے اقرار کیا ہے اور مرزا قادیانی انسان سے ایک سبق بھی نہیں پڑھا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ج جھوٹ نمبر: ٥٢...... ”ہمارے نبی پڑھا۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام او علیہ السلام نے ایک یہودی استاذ یہ بھی صریح جھوٹ ہے تعلیم حاصل کی؟ یہ انبیاء پر بہتان حضرت عیسیٰ نے کون سے یہودی ا لیکن یاد رکھو کہ مرزا قادیانی نے ا انبیاء تو براہ راست خدا ہی سے علم ہے۔ لیکن موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام پر ”ویعلمہ الکتاب والحکمة تعلیم دوں گا۔ پھر اسی طرح قیامت والحکمة والتوراة والانج طرف کی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ہ جھوٹ نمبر: ٥٣...... ”لیکن مسیح بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نب نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت س اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن م اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“ اس گندی عبارت میں ....... وہ شراب پیتے تھے۔

صفحہ ٥٧٣

مرزا بشیر الدین نے سیرت مسیح موعود میں اپنے باپ دجال مرزا غلام احمد کے استاذوں کا بڑا زور سے اقرار کیا ہے اور مرزا قادیانی ایام الصلح کتاب میں قسم کھا کر کہہ رہے ہیں کہ میں نے کسی انسان سے ایک سبق بھی نہیں پڑھا۔ لعنة الله علیٰ الکاذبین!

حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بہتان

جھوٹ نمبر: ٥٢..... ”ہمارے نبی کریم ﷺ نے اور نبیوں کی طرح ظاہری علم کسی استاذ سے نہیں پڑھا۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام مکتبوں میں بیٹھتے تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایک یہودی استاذ سے تمام توراة پڑھی تھی۔“ (ایام الصلح ص ١٤٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٤)

یہ بھی صریح جھوٹ ہے۔ حضرت موسیٰ وعیسیٰ علیہما السلام نے کون سے مکتبوں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کی؟ یہ انبیاء پر بہتان اور صریح الزام ہے میں مرزائی حضرات سے پوچھتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ نے کون سے یہودی عالم سے توراة پڑھی تھی؟ قرآن اور حدیث صحیحہ سے ثابت کرو۔ لیکن یاد رکھو کہ مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو بچانے کے لئے انبیاء پر بہتان عظیم باندھا ہے۔ انبیاء تو براہ راست خدا ہی سے علم پاتے ہیں۔ جیسا کہ اسی عبارت میں مرزا قادیانی نے تسلیم کیا ہے۔ لیکن موسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام پر بہتان لگا کر قرآن کی مخالفت کی ہے۔ قرآن پاک میں ہے۔ ويعلمه الكتاب والحكمة والتورة والانجیل (آل عمران) ”یعنی میں خود ان کو تعلیم دوں گا۔“ اسی طرح قیامت کے دن خدا تعالیٰ فرمائیں گے ۔ ” واذ علمتك الكتاب والحكمة والتوراة والانجیل (المائدہ) ”اس میں بھی تعلیم کی نسبت خدا تعالیٰ نے اپنی طرف کی ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بہتان عظیم اور آپ کی عزت پر حملہ

جھوٹ نمبر: ٥٣..... ”لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا۔ یا ہاتھوں، اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

(دافع البلاء ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠ حاشیہ)

اس گندی عبارت میں مرزا دجال نے عیسیٰ علیہ السلام پر یہ بہتان باندھا ہے کہ

٣٥

صفحہ ٥٧٤

میں حصور رکھا۔ مگر عیسیٰ کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔ مگر اس دجال کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بڑی شان بیان کی گئی ہے۔

جس وقت کہ فرشتوں نے کہا کہ اے مریم ” ان الله يبشرك بكلمة منه اسمه المسيح عيسى ابن مريم وجيها في الدنيا والاخرة ومن المقربين (آل عمران:٤٥) “کہ بے شک اللہ تعالیٰ تم کو بشارت دیتے ہیں ایک کلمہ کی جو منجانب اللہ ہوگا۔ اس کا نام (ولقب) مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا۔ با آبرو ہوں گے دنیا میں اور آخرت میں اور منجملہ مقربین کے ہوں گے۔ (حضرت تھانوی) اور مرزا قادیانی نے یہ بھی لکھا ہے کہ: ”اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے۔....کسی نبی کی اشارہ سے بھی تحقیر کرنا سخت معصیت ہے اور موجب نزول غضب الٰہی۔“

(ضمیمہ چشمہ معرفت ص١٨، خزائن ج٢٣ ص٣٩٠)

اور حصور کا لفظ تو ابراہیم علیہ السلام کے لئے بھی نہیں آیا نہ حضور ﷺ کے لئے اور اس عبارت سے مرزا قادیانی دجال کا فتویٰ تو تمام انبیاء پر عائد ہوتا ہے۔ (خدا کی پناہ)

ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص٧، خزائن ج١١ ص٢٩١)

آپ حضرات غور کریں کہ ایسا گندے، بھرا ہوا ناپاک اور بدترین عقیدہ سچے نبی کے متعلق سوائے کذاب اور دجال کے کس کا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ بقول شخصے کہ: ”ہر ایک برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس کے اندر ہے۔“

اب تو دجال مرزا قادیانی مسیلمہ پنجاب کی قلعی کھل گئی اور سب کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ مرزادجال ہی کذاب، مفتری، مرتد، جھوٹا، مدعی نبوت، مدعی شریعت، انبیاء علیہم السلام کو گالیاں دینے والا کمینہ اور منافق ہے۔

پیشین گوئیاں صاف جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کرسکے۔ غرض حضرت مسیح کا یہ اجتہاد غلط نکلا۔ اصل وحی صحیح ہوگی۔ مگر سمجھنے میں غلطی کھائی۔ افسوس ہے کہ جس قدر حضرت عیسیٰ کے اجتہاد میں غلطیاں ہیں۔ اس کی نظیر کسی نبی میں نہیں پائی جاتی۔ شاید خدائی کے لئے یہ بھی

٣٦

ایک شرط ہوگی۔“

ٹھٹھا کر کے یہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شراب (

عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔

مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ہم کہتے ہیں یہ بھی مرزا دجال کا جھوٹ کوئی جھوٹی ہوجائے تو پھر سچی کس کی بـ کے جھوٹا ہونے کا عملی طور پر اقرار کیا ہے گوئیاں ٹل جائیں۔“ اور یہ بھی لکھا ہے کہ عیسیٰ کی ہوا کہ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السـ گوئیاں جھوٹی نکلیں اور نبی کی پیشین گـ ہے کہ مرزا قادیانی چھپ کر افیون بھی فتنہ سے سب کو بچائے۔ آمین!

دجال کا تذکرہ کر بیٹھا تو استاذ نے اس مریم نوجوان عورتوں سے ملتا تھا اور کس

کبابی ہے اور یہ خراب چال چلن نہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا ایک نتیجہ تھـ

سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان میں ہـ

صفحہ ٥٧٥

ایک شرط ہوگی۔"

(اعجاز احمدی ص ١٣، ٢٥، خزائن ج ١٩ ص ١٤١، ١٤٥)

ٹھٹھا کر کے یہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔"

(ریویو بابت اپریل ١٩٠٣ء ، نسیم دعوت ص ٦٧ ، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٥)

عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔"

(کشتی نوح ص ٦٦، خزائن ج ١٩ ص ٧١ حاشیہ)

مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشین گوئیاں صاف جھوٹی نکلیں۔ ہم کہتے ہیں یہ بھی مرزا دجال کا جھوٹ ہے۔ نبی کی پیش گوئی جھوٹی نہیں ہو سکتی۔ اگر نبی کی پیش گوئی جھوٹی ہو جائے تو پھر سچی کس کی نکلے گی۔ اس عبارت میں مرزا دجال نے اپنی پیشین گوئیوں کے جھوٹا ہونے کا عملی طور پر اقرار کیا ہے اور مرزا دجال نے لکھا ہے کہ : ”ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔"

(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)

اور یہ بھی لکھا ہے کہ عیسیٰ کی تین پیشین گوئیاں صاف جھوٹی نکلیں تو اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی بھی نہیں مانتا تھا۔ اس لئے کہ عیسیٰ کی تین پیشین گوئیاں جھوٹی نکلیں اور نبی کی پیشین گوئی جھوٹی نہیں ہو سکتی اور دوسری عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی چھپ کر افیون بھی کھاتا تھا۔ یہ ہے مرزا دجال کا کریکٹر۔ خدا تعالیٰ اس دجالی فتنہ سے سب کو بچائے۔ آمین!

و جمال کا تذکرہ کر بیٹھا تو استاذ نے اس کو عاق کر دیا...... یہ بات پوشیدہ نہیں کہ کس طرح وہ مسیح بن مریم نوجوان عورتوں سے ملتا تھا اور کس طرح ایک بازاری عورت سے عطر ملواتا تھا۔“

(الحکم مورخہ ٢١؍فروری ١٩٠٢ء، ملفوظات ج ٣ ص ١٤٧)

کبابی ہے اور یہ خراب چال چلن نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتدا ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ خدائی کا دعویٰ شرابخوری کا ایک نتیجہ تھا۔“

(ست بچن ص ١٧٢، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٦)

سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان میں ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک کنجری کو یہ موقع نہیں دے ٣٧

صفحہ ٥٧٦

سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ اگر آپ سے کوئی معجزہ ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦، ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠، ٢٩١)

اور مرزا قادیانی دجال نے اپنی کتاب (آئینہ کمالات اسلام ص ٦٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً) پر مسیح علیہ السلام کے معجزوں کا اقرار کیا ہے۔ لکھتا ہے کہ حضرت مسیح کی چڑیاں باوجود یکہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے اور سنئے! لکھتے ہیں کہ: ”سچ صرف اس قدر ہے کہ یسوع مسیح نے بھی بعض معجزات دکھلائے۔ جیسا کہ نبی دکھلاتے تھے۔“ (ریویو ماہ ستمبر ١٩٠٢ء ص ٣٤٢)

لیا۔ جس نے کروڑہا انسانوں کو جہنم کی آگ کا ایندھن بنا دیا۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٠٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٢)

شامت کی وجہ سے کئی لاکھ مسلمان اس زمانہ میں مرتد ہوچکے ہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٩٤)

شاید اس کی نظیر کسی دوسرے نبی کے واقعات میں بہت ہی کم ملے گی۔“

(دافع الوساوس ص ٢٠٠، خزائن ج ٥ ص ٢٠٠)

(اعجاز احمدی ص ٢٤، خزائن ج ١٩ ص ١٣٣، ازالہ اوہام ص ٧، خزائن ج ٣ ص ١٠٦)

”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے“

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

٣٨

بہت بڑھ کر ہے اور اس نے دوسر

نوٹ...... اب ذرا مرزا قادیانی چکا کہ مرزا قادیانی ہی دجال، کذا گالیاں دینے والا، کنجریوں سے السلام واللہ ایسے کاموں سے پاک دیئے گئے ہیں یہ وہی ہیں جو مرزا جہاں کہیں مرزا قادیانی نے یسوع عیسیٰ بن مریم ہی ہیں۔ ملاحظہ کیجئے یسوع، مسیح ابن مریم ہی کے

عیسیٰ، حضرت موسیٰ کے بعد میں

یسوع یعنی عیسیٰ ابن مریم ہے۔“

اور اس حجت کو یاد دلاتا ہوں جو ا

صفحہ ٥٧٧

بہت بڑھ کر ہے اور اس نے دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

نوٹ...... اب ذرا مرزا قادیانی کی اداؤں پر نظر ڈالیں اور پھر ان عبارتوں کو پڑھیں تو یہ ثابت ہو چکا کہ مرزا قادیانی ہی دجال، کذاب، جھوٹا، چالباز، شرابی، شریر آدمی، فریبی، فتنہ پرداز، انبیاء کو گالیاں دینے والا، کنجریوں سے آشنائی کرنے والا۔ انسانوں سے بدتر اور پلید ہے۔ انبیاء علیہم السلام واللہ ایسے کاموں سے پاک ہوتے ہیں یہ بھی یادرہے کہ یہ جو بہترین القاب مرزا قادیانی کو دیئے گئے ہیں یہ وہی ہیں جو مرزا قادیانی نے اولیاء اور علماء اور انبیاء کو دیئے ہیں۔ یہ بھی یاد رہے جہاں کہیں مرزا قادیانی نے یسوع کا نام لے کر یسوع کی توہین کی ہے تو یسوع سے مراد حضرت عیسیٰ بن مریم ہی ہیں۔ ملاحظہ کیجئے!

یسوع، مسیح ابن مریم ہی کے نام ہیں

(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)

(چشمہ مسیحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٦)

عیسیٰ، حضرت موسیٰ کے بعد میں چودھویں صدی میں مدعی نبوت تھا۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٨، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٩ حاشیہ)

یسوع یعنی عیسیٰ ابن مریم ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٢٠، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٩)

اور اس حجت کو یاد دلاتا ہوں جو آپ لوگ اپنے زعم میں حضرت یسوع ابن مریم سے رکھتے ہیں۔“

(دعوت حق ملحقہ حقیقت الوحی ص ٨، خزائن ج ٢٢ ص ٦٢٠)

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٧٥، خزائن ج ٢١ ص ٢٣٤)

٣٩

صفحہ ٥٧٨

مریم نے زبردستی اس کو الیاس ٹھہرا دیا۔“

(براہین پنجم ص ٤٢٤، خزائن ج ٢١ ص ٤١٣)

حضرت مریم علیہا السلام پر بہتان عظیم

عزت کرتا ہوں۔ کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں۔ نہ صرف اسی قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں۔ کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔“

(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨)

مرزا قادیانی کے دجال ہونے کا ایک اور بڑا ثبوت

ایسی عبارت کہ جس سے مسلمان آدمی کا جگر پھٹ جائے

کرے۔ لیکن جب چھ سات مہینے کا حمل نمایاں ہو گیا۔ تب حمل کی حالت میں ہی قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نام ایک نجار سے نکاح کر دیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ کے بعد مریم کے بیٹا پیدا ہوا۔ وہی عیسیٰ یسوع کے نام سے موسوم ہوا۔“

(چشمہ مسیحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٥، ٣٥٦)

اس گندی عبارت کے آگے مزید کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ اس کی ضد خود مرزا قادیانی کے قلم سے ہم پیش کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ: ”خدا نے مسیح کو بن باپ پیدا کیا تھا۔“

(البشریٰ ج ٣ ص ٦٨، تذکرہ ص ٤١١ طبع سوم)

ولادت کے بارے میں زبان بندی کر دی اور ان کو تعلیم دی کہ تم یہی کہو کہ وہ بے باپ پیدا ہوا۔“

(ریویو اپریل ١٩٠٢ء ص ١٥٩)

٤٠

صفحہ ٥٧٩

٣...... "آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کی خصوصیت کے بارے میں صرف ایک بات پیش کی تھی کہ وہ بغیر باپ پیدا ہوا ہے تو خدا تعالیٰ نے فی الفور اس کا جواب دیا اور فرمایا "ان مثل عيسى عند الله كمثل آدم خلقه من تراب ثم قال له كن فيكون" یعنی خدا تعالیٰ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی مثال ہے۔ خدا نے اس کو مٹی سے بنایا۔ پھر کہا کہ ہو جا پس وہ زندہ جیتا جاگتا ہو گیا۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا بے باپ ہونا کوئی امر خاص اس کے لئے نہیں تا خدا ہوتا۔ اس کا لازم آوے۔ آدم کے باپ اور ماں دونوں نہیں۔ پس جس حالت میں خدا تعالیٰ کی غیرت نے یہ تقاضا کیا کہ حضرت عیسیٰ میں بے پدر ہونے کی خصوصیت پڑی۔ تا ان کی خدائی کے لئے کوئی دلیل نہ ٹھہرائی جائے۔" (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٢٦، خزائن ج ص )

٤...... "ہر ایک نبی مس شیطان سے پاک ہوتا ہے۔ لیکن خدا نے جو اس جگہ اپنے رسول کے فرمودہ کے ذریعہ سے حضرت عیسیٰ کا مع اس کی والدہ کے مس شیطان سے پاک ہونا ذکر فرمایا...... آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ وہ دونوں (یعنی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ مریم ) مس شیطان سے پاک ہیں۔ یعنی زنا ایک شیطانی فعل ہے اور عیسیٰ اور مریم اس شیطانی فعل سے محفوظ ہیں۔"

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم حاشیہ ص ٢٢٧، خزائن ج ٢١ ص ٣٩٦)

یہ چار عبارتیں جو ہم نے نقل کی ہیں ان میں مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بے باپ ہونا اور مس شیطان سے پاک ہونا تسلیم کیا ہے اور استدلال بھی قرآن سے کیا ہے اور پہلی دو عبارتیں جو ہم نے نقل کی ہیں ان میں عیسیٰ کا باپ ہونا مرزا قادیانی نے لکھا ہے اور پھر بہت گندا الزام بھی لگایا ہے اور جب یہ الزام لگایا اس وقت بھی مرزا قادیانی کو نبوت کا دعویٰ تھا اور جب بے باپ ہونا لکھا اس وقت بھی نبوت کا مدعی تھا۔ اب ان دونوں باتوں کا فیصلہ خود مرزا قادیانی دجال ہی سے کرا لیتے ہیں۔ وہ اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص ١٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٩١) پر رقمطراز ہیں کہ: "اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس شخص کی حالت ہے۔ جو ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔" اور (ست بچن ص ٣٠، خزائن ج ١٠ ص ١٤٢) پر لکھا ہے کہ: "صاف ظاہر ہے کہ کسی سچے اور صاف دل انسان کے کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں! اگر کوئی پاگل اور مجنون یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو تو اس کا کلام بے شک متناقض ہو جاتا ہے۔" اور (ست بچن ص ٢٨، خزائن ج ١٠ ص ١٤١) کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ: "جو پرلے درجے کا جاہل ہو جو اپنے کلام میں متناقض بیانوں کو جمع کرے۔" اب تو یہ فیصلہ مرزا قادیانی دجال کی زبانی ہو گیا کہ خود مرزا قادیانی پرلے درجے کا جاہل پاگل اور مجنون اور منافق ہے۔

٤١

صفحہ ٥٨٠

انجیل کی تعلیم منجانب اللہ نہ تھی

تعلیم ناقص جس پر انہوں نے آپ بھی عمل نہ کیا۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو سکتی ہے؟" (یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں)

(چشمہ مسیحی ص ١١، خزائن ج ٢٠ ص ٣٤٦)

اس عبارت کے خلاف قرآن کریم میں صاف اعلان ہے کہ قیامت کے دن اللہ پاک اپنے نبی عیسیٰ بن مریم سے فرمائیں گے کہ اے عیسیٰ ابن مریم اس وقت کو یاد کرو جب کہ میں نے تجھے کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کی تعلیم دی۔ اب ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی دجال نے قرآن کریم کی اس آیت کی مخالفت کی ہے۔ کیا قرآن کریم کی مخالفت کرنے والا بھی مسلمان ہو سکتا ہے؟

مسیح نیک نہیں تھا

شرابی کبابی ہے اور خراب چال چلن۔"

(ست بچن ص ١٧٢ حاشیہ، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٦)

تھی۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

(ریویو آف ریلیجنز ج ١ ص ١٣٢، ١٩٠٢ء)

بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔"

(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٣، ٢٤، مکتوبات احمدیہ ج ١ ص ١٨٩ جدید)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ نبی قرار دیں۔" (یعنی مسیح بن مریم نبی ہی نہیں ہیں)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)

اب ان عبارتوں کے خلاف عبارتیں ملاحظہ کیجئے۔

(البشریٰ ج ١ ص ٤٢، تذکرہ ص ٧٦ طبع سوم)

٤٢

صفحہ ٥٨١

٢...... "حضرت مسیح خدا کے متواضع اور حلیم اور عاجز اور بے نفس بندے تھے۔"

(مقدمہ براہین احمدیہ حاشیہ ص ١٠٤، خزائن ج ١ص٩٢ حاشیہ)

١...... "حضرت مسیح کی حقیقت نبوت کی یہ ہے کہ وہ براہ راست بغیر اتباع آنحضرت ﷺ کے ان کو حاصل ہے۔"

(اخبار بدر نمبر ٦٨ ، مورخہ ٨؍ رمضان ١٣٢٦ھ)

٢...... "حضرت مسیح کو جو بزرگی ملی وہ بوجہ تابعداری حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ملی۔"

(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ١٢، مکتوبات احمدیہ ج ١ ص ١٧٦ جدید)

جھوٹ نمبر:٦٢...... "وہ ابن مریم جو آنے والا ہے کوئی نبی نہیں ہوگا۔"

(ازالۃ الاوہام ص ٤٢١، خزائن ج ٣ ص ٣٢٩)

اب دوسری طرف مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: "جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ چلتا ہے۔ اس کا انہیں حدیثوں سے یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی ہوگا۔"

(حقیقت الوحی ص ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣١)

جھوٹ نمبر:٦٣...... "حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امتی قرار دینا ایک کفر ہے۔"

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٩٢، خزائن ج ٢١ ص ٣٦٤)

اب اس کے خلاف ملاحظہ کیجئے: "یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح بن مریم اس امت کے شمار میں آ گئے ہیں۔"

(ازالۃ الاوہام ص ٦٢٤ حصہ دوم، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩)

حیات مسیح علیہ السلام کے متعلق متضاد باتیں

جھوٹ نمبر:٦٤...... "حضرت عیسیٰ فوت ہو چکے ہیں اور ان کا زندہ آسمان پر مع جسم عنصری جانا اور اب تک زندہ ہونا اور پھر کسی وقت مع جسم عنصری زمین پر آنا یہ سب ان پر تہمتیں ہیں۔"

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج پنجم ص ٢٤٠، خزائن ج ٢١ ص ٤٠٦)

اس کے خلاف اور حیات عیسیٰ کا اقرار

"اب ہم صفائی کے ساتھ بیان کرنے کے لئے یہ لکھنا چاہتے ہیں کہ بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جن کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے اور دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔"

(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)

٢...... "حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے۔"

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٣٦١، خزائن ج ١ ص ٤٢٦)

٤٣

صفحہ ٥٨٢

شيا من الارض مالهم لا يشعرون“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٤٠٩، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“

(ازالہ اوہام ص ٨١، خزائن ج ٣ ص ١٤٢)

ہے۔ جس کو سب نے باتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔“

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٥٥٧، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠)

”تواتر ایک ایسی چیز ہے کہ غیر قوموں کی تواریخ کی رو سے بھی پایا جائے تو تب بھی ہمیں قبول کرنا پڑتا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٥٦، خزائن ج ٣ ص ٣٩٩)

جھوٹ نمبر: ٦٥...... ”ہاں! بعض احادیث میں عیسیٰ ابن مریم کے نزول کا لفظ پایا جاتا ہے۔ لیکن کسی حدیث میں یہ نہیں پاؤ گے کہ ابن مریم کا نزول آسمان سے ہوگا۔“

(حمامة البشریٰ ص ٧٧، وحاشیہ ازالہ ص ١٤٩، خزائن ج ٣ ص ١٤٩)

مريم من السماء فيكم وامامكم منكم (كتاب الاسماء والصفات الامام البيهقي ص ٤٠٣، ٤٠١)“ ﴿حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا تم کیسے (اچھے حال میں ہوگے) جب تم میں عیسیٰ بن مریم آسمان سے اتریں گے اور اس وقت تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا۔﴾

اس حدیث میں آسمان سے نازل ہونے کی تصریح خود آنحضرت ﷺ کے الفاظ طیبہ میں موجود ہے۔ یہ ”عن عباس في حديث طويل فعند ذالك ينزل اخي عيسى بن مريم من السماء (مختصر كنز العمال برحاشيه مسند احمد) “ ﴿(ایک لمبی حدیث میں حضرت) ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب یہ باتیں واقع ہوں گی تو اس وقت میرا بھائی عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوگا۔﴾

اس حدیث میں بھی آسمان سے نازل ہونے کی صراحت موجود ہے۔ ”وعــــــن الحسن قال قال رسول الله ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة (درمنثور ج ٢ ص ٣٦، ابن جرير ج ٣ ص ٢٨٩)“ ﴿حضرت حسنؓ

٤٤

صفحہ ٥٨٣

بصریٰ نے کہا کہ آنحضرت ﷺ نے یہود کو مخاطب کر کے فرمایا۔ تحقیق عیسیٰ فوت نہیں ہوا۔ ”لاریب“ وہ تمہاری طرف اترے گا قیامت سے قبل۔“ یہ حدیث ابن جریر نے بھی نقل کی ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی ان کے متعلق لکھتا ہے کہ: ”جریر نہایت معتبر اور ائمہ حدیث میں سے ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٥٠، خزائن ج ٢٣ ص ٢٦١ حاشیہ)

اور رئیس المفسرین بھی کہا ہے۔ دیکھئے! (آئینہ کمالات اسلام ص ١٦٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً) اب مزید مرزا قادیانی سے بھی سن لیجئے۔ لکھتے ہیں:

(تشحیذ الاذہان ماہ جون ١٩٠٦ء)

گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“

(ازالۃ اوہام حصہ اول ص ٨١، خزائن ج ٣ ص ١٤٢)

کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔ کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا۔“

(ازالۃ اوہام ص ٢٠٠، خزائن ج ٣ ص ٢٥٢)

مدفون ہو۔“

(ازالۃ اوہام ص ٤٧٠، خزائن ج ٣ ص ٣٥٢)

جھوٹ نمبر:٦٦...... مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ”میں نے جو عقیدہ حیات مسیح کا لکھا ہے وہ محض رسمی طور پر لکھ دیا گیا ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣، کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

یہ بھی مرزا قادیانی کا دجل اور جھوٹ ہے۔ مرزا قادیانی نے اس کے ثبوت میں آیات قرآنی پیش کی ہیں۔ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ عقیدہ رسمی طور پر نہیں لکھا بلکہ قرآنی طور پر لکھا ہے۔ حوالہ جات ملاحظہ کیجئے:

شریف میں پیش گوئی موجود ہے۔“

(ازالۃ اوہام حصہ دوم ص ٦٧٥، خزائن ج ٣ ص ٤٦٤)

کله“ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح

٤٥

صفحہ ٥٨٤

علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔"

(براہین احمدیہ جلد چہارم ص ٤٩٩، خزائن ج ١ص ٥٩٣)

"عسی ربكم ان يرحمكم وان عدتم عدنا وجعلنا جهنم للكافرين حصيراً "یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے۔ یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضحہ اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کر دیں گے۔"

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٥٠٥، خزائن ج ١ص ٦٠١)

نوٹ ...... مرزا قادیانی دجال نے جب یہ عقیدہ حیات عیسیٰ کا لکھا تھا اس وقت مرزا قادیانی خدا کی طرف سے ملہم اور مامور تھا اور اس کتاب پر دس ہزار کا اشتہار بھی دیا۔

( تبلیغ رسالت ج ١ص ١٤، مجموعہ اشتہارات ج ١ص ٢٣، سرمہ چشم آریہ اشتہار ص ١، خزائن ج ٢ص ٤١٩)

اب تو مرزا قادیانی کے ہاتھوں وفات مسیح کے عقیدہ پر پانی پھر گیا۔ کیا مرزائیو! اب بھی کہتے ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ جب کہ مرزا قادیانی نے قرآن کریم سے ثابت کیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ کیا یہ قرآن کی آیات نہیں ہیں؟ کیا ان سے مرزا قادیانی نے حیات مسیح ثابت نہیں کی؟ کیا مرزا قادیانی دجال اس وقت ملہم نہیں تھا؟ کیا اس وقت مرزا قادیانی نے کتاب براہین احمدیہ کی کسی دلیل کے توڑنے والے کو دس ہزار روپیہ کا اشتہار نہیں دیا؟ کیا یہ کتاب بقول مرزا قادیانی، حضورﷺ کے ہاتھوں ؎١ میں پہنچ چکی ہے یا نہیں؟

١؎ مرزا قادیانی اپنی کتاب براہین احمدیہ کے متعلق ایک واقعہ لکھتے ہیں۔ وہ واقعہ (براہین احمدیہ حصہ سوم ٢٣٩، خزائن ج ١ص ٢٧٥) پر یوں درج ہے کہ: "جناب خاتم الانبیاءﷺ کو خواب میں دیکھا اور اس وقت اس عاجز کے ہاتھ میں ایک دینی کتاب تھی کہ جو خود اس عاجز کی تالیف معلوم ہوتی تھی۔ آنحضرتﷺ نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی میں پوچھا کہ تو نے اس کتاب کا کیا نام رکھا ہے۔ خاکسار نے عرض کیا کہ اس کا نام میں نے قطبی رکھا ہے جس کے نام کی تعبیر اب اس اشتہاری کتاب کی تالیف ہونے پر یہ کھلی کہ وہ ایسی کتاب ہے کہ جو قطب سیارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٤٦

اور مرزا قادیانی نے اس کتا طرف سے کوئی دلیل نہیں لکھی۔ بلکہ خدا ک "ہم نے فقط اپنے ہی قیاس بجز وہ سب آیات کہ جن سے ہماری دلالت

جھوٹ نمبر: ٦٧ ...... "مسیح صلیب پر گویا وہ موت ہی ہے۔"

(کشتی نوح ص ٥٤، خزائن ج

"مسیح پر جو مصیبت آئی ک گئیں جن سے وہ غشی کی حالت میں ہو

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) جس کے کاٹ غرض آنحضرتﷺ نے وہ کتاب م ہاتھ میں آئی تو آنجناب کا ہاتھ مبارک جو امرود سے مشابہ تھا۔ مگر بقدر خربوزہ قاش قاش کرنا چاہا تو اس قدر اس میں الحاصل یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ہ طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے جس س ہے۔ (براہین احمدیہ ص ٢٣٩، خزائن ج ١ ہاتھ میں پہنچ چکی ہے۔ اگر اس کتاب کہ اس کتاب میں حیات عیسیٰ علیہ السل کہ حیات مسیح کے مسئلے کی تصدیق کرن سے شہد نکلا۔ پھر اگر حیات عیسیٰ کا م دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ: "جھوٹ بولن تو اگر اس کتاب میں حیات مسیح کا مسئل معلوم ہوا کہ حیات مسیح کا مسئلہ اس کتا

صفحہ ٥٨٥

اور مرزا قادیانی نے اس کتاب کے متعلق لکھا ہے کہ میں نے اس کتاب میں اپنی طرف سے کوئی دلیل نہیں لکھی۔ بلکہ خدا کی طرف سے اس میں سب کچھ لکھا گیا ہے۔ ملاحظہ کیجئے: ”نہ ہم نے فقط اپنے ہی قیاس سے کوئی دلیل لکھی ہے اور نہ کوئی دعویٰ کیا ہے۔ چنانچہ جا بجا وہ سب آیات کہ جن سے ہماری دلائل اور دعاوی ماخوذ ہیں درج کرتے گئے ہیں۔“

(براہین احمدیہ حصہ دوم ص ١٣٧، خزائن ج ١ ص ١٤٠ ملخص)

جھوٹ نمبر: ٦٧...... ”مسیح صلیب پر چڑھایا گیا اور شدت درد سے ایک ایسی سخت غشی میں آ گیا گویا وہ موت ہی ہے۔“

(کشتی نوح ص ٥٣، خزائن ج ١٩ ص ٥٧، ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٠٠، خزائن ج ٢١ ص ٢٦٢ حاشیہ)

گئیں جن سے وہ غشی کی حالت میں ہو گیا۔ یہ مصیبت در حقیقت موت سے کچھ کم نہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٩٢، خزائن ج ٣ ص ٣٠٢)

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) جس کے کامل استحکام کو پیش کر کے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا گیا ہے۔ غرض آنحضرت ﷺ نے وہ کتاب مجھ سے لے لی اور جب وہ کتاب حضرت مقدس نبوی کے ہاتھ میں آئی تو آنجناب کا ہاتھ مبارک لگتے ہی ایک نہایت خوش رنگ اور خوبصورت میوہ بن گئی کہ جو امرود سے مشابہ تھا۔ مگر بقدر تربوز تھا۔ آنحضرت ﷺ نے جب اس میوہ کو تقسیم کرنے کے لئے قاش قاش کرنا چاہا تو اس قدر اس میں شہد نکلا کہ آنجناب کا ہاتھ مبارک مرفق تک شہد سے بھر گیا۔“ الحاصل! یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے خود اس کتاب کے متعلق لکھا ہے کہ یہ کتاب قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے جس کے کامل استحکام کو پیش کر کے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا گیا ہے۔ (براہین احمدیہ ص ٢٣٩، خزائن ج ١ ص ٢٧٥) اور پھر یہ کتاب بقول مرزا قادیانی حضور ﷺ کے ہاتھ میں پہنچ چکی ہے۔ اگر اس کتاب میں حیات عیسیٰ کا مسئلہ غلط لکھا ہوتا تو حضور ﷺ فرما دیتے کہ اس کتاب میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ صحیح نہیں۔ پھر اس پر حضور ﷺ کا خاموش رہنا گویا کہ حیات مسیح کے مسئلے کی تصدیق کرنا ہے اور پھر حضور ﷺ نے اس کو قاش قاش کرنا چاہا تو اس میں سے شہد نکلا۔ پھر اگر حیات عیسیٰ کا عقیدہ غلط ہوتا تو شہد نہیں نکلنا چاہئے تھا۔ کیونکہ مرزا قادیانی دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ: ”جھوٹ بولنا گوہ کھانا ہے۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ٣٤٣) تو اگر اس کتاب میں حیات مسیح کا مسئلہ جھوٹا لکھا ہوا تھا تو نہیں نکلنا چاہئے تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ معلوم ہوا کہ حیات مسیح کا مسئلہ اس کتاب میں صحیح ہے۔

٤٧

صفحہ ٥٨٦

......١ یہ بھی مرزا قادیانی کا افتراء اور جھوٹ ہے۔ مرزا قادیانی کی قرآن سے جہالت کا اعلیٰ ثبوت ہے۔ قرآن اس غلط عقیدہ کی مخالفت کرتا ہے۔ ”قال اللہ تعالیٰ واذ کففت بنی اسرائیل عنک اذ جئتہم بالبینٰت (المائدہ)“ (اے عیسیٰ! اس وقت کو یاد کرو) جب کہ میں نے بنی اسرائیل کو تم سے دور رکھا۔ جب تم ان کے پاس روشن دلائل لے کر آئے تھے۔ اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھا کر طمانچے مارنا اور زخمی کرنا تو درکنار انہیں ہاتھ بھی نہیں لگا سکے۔

......١ ”یہود قتل کا ارادہ رکھتے تھے۔ میں نے تجھ سے روک دیا۔“

(نزول المسیح ص ١٥١، خزائن ج ١٨ ص ٥٢٩)

......٢ اور مزید اقرار کرتے ہیں کہ: ”یہود نے حضرت مسیح (کے لئے قتل و) صلیب کا حیلہ سوچا تھا۔ خدا نے مسیح کو وعدہ دیا کہ میں تجھے بچاؤں گا اور تیرا اپنی طرف رفع کروں گا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤)

جھوٹ نمبر: ٦٨ ...... مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ”عیسیٰ ابن مریم فوت ہو گیا اور اس کی قبر کشمیر سری نگر محلہ خانیار میں ہے۔“

(کشتی نوح ص ١٥، خزائن ج ١٩ ص ١٦)

نوٹ ...... یہ بھی مرزا قادیانی کا سیاہ نہیں سفید جھوٹ ہے کہ آپ کی قبر کشمیر میں ہے۔

......٢ دوسری جگہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا۔ لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہو چکا تھا پھر زندہ ہو گیا۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)

......٣ تیسری جگہ لکھتے ہیں کہ: ”حضرت عیسیٰ کی قبر تو یروشلم میں ہے۔ جہاں حضرت یسوع مسیح کو صلیب ہوئی۔“

(تحفۃ الندوہ ص ١٠، خزائن ج ١٩ ص ١٠٣)

......٤ چوتھی لکھتے ہیں کہ: ”ہاں بلاد شام میں حضرت عیسیٰ کی پرستش ہوتی ہے اور مقررہ تاریخوں میں ہزار ہا عیسائی سال بہ سال اس قبر پر جمع ہوتے ہیں۔“

(ست بچن ص ١٦٤، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٩)

اب ناظرین! ہر چہار اقوال پر غور کر کے خود ہی نتیجہ نکال لیں کہ مرزا قادیانی کی کون سی بات کو سچ مانا جائے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ مسیح کی قبر ان کے اپنے وطن گلیل میں ہے اور پھر یروشلم میں پھر بلاد شام میں اور پھر ان تینوں مقامات کو چھوڑ کر سری نگر کشمیر میں۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام چار جگہ مرے؟ اور چار مقامات پر مدفون ہوئے؟ یہ مختلف باتیں الہامی دماغ سے منسوب

٤٨

ہو سکتی ہیں یا خلل دماغ ہے؟

جھوٹ نمبر: ٦٩ ...... ”میرا یہ دعویٰ ہے کہ تمام پاک کتابوں میں پیش گوئیاں ہیں کہ

اس کے خلاف مرزا قادیانی نـ موجود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو ہم قـ

جھوٹ نمبر: ٧٠ ...... ”مجھے عیسیٰ بن مریم ہـ

”میں غریبی حالت سے ترقـ

اس کے خلاف مرزا قادیانی ا ہیں کہ: ”میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔ بلکہ میری تـ ہو رہا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں۔“

جھوٹ نمبر: ٧١ ...... ”یعنی محمد ﷺ پر مـ ہیں۔“

یہ بھی مرزا غلام احمد قادیانی کا ا ہو چکے ہیں۔ اب مرزا قادیانی ہی کی زبانی اور وہ نہیں مرے۔ ملاحظہ کیجئے: ”هذا هو الى حياته وفرض علينا ان نـ الميتين“ یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے جـ فرض ہو گیا۔ تاکہ ہم اس بات پر ایمان لا نہیں۔“

نہ تم صدمے ہمیں د
نہ کہتے راز ہر ا
صفحہ ٥٨٧

ہو سکتی ہیں یا خلل دماغ ہے؟

جھوٹ نمبر: ٦٩ ...... ”میرا یہ دعویٰ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیش گوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١١٨، خزائن ج ١٧ ص ٤٩٥)

اس کے خلاف مرزا قادیانی ہی کی زبانی سنئے! لکھتے ہیں کہ: ”اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں ۔“

(ازالہ اوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)

جھوٹ نمبر: ٧٠ ...... ”مجھے عیسیٰ بن مریم کے نام سے موسوم کیا گیا۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٩٠، خزائن ج ٢١ ص ٣٦٢)

”میں مریمی حالت سے ترقی کر کے عیسیٰ بن گیا۔“

(براہین احمدیہ ص ١٨٩، خزائن ج ٢١ ص ٣٦١)

اس کے خلاف مرزا قادیانی اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢) پر رقمطراز ہیں کہ: ”میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں جو شخص یہ الزام میرے پر لگا دے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔ بلکہ میری طرف سے عرصہ سات یا آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہو رہا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں ۔“

جھوٹ نمبر: ٧١ ...... ”یعنی محمد ﷺ پر صرف ایک نبی ہیں ان سے پہلے سب نبی فوت ہو چکے ہیں ۔“

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٦٠٦، خزائن ج ٣ ص ٤٢٧)

یہ بھی مرزا غلام احمد قادیانی کا جھوٹ ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پہلے تمام رسول فوت ہو چکے ہیں۔ اب مرزا قادیانی ہی کی زبانی سنئے۔ وہ لکھتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور وہ نہیں مرے۔ ملاحظہ کیجئے: ”هذا هو موسیٰ فتیٰ الله الذی اشار الله فی كتابه الی حياته وفرض علينا ان نؤمن بانه حی فی السماء ولم يمت وليس من الميتين“ ”یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا۔ تا کہ ہم اس بات پر ایمان لاویں کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے اور مردوں میں سے نہیں ۔“

(نور الحق حصہ اول ص ٥٠، خزائن ج ٨ ص ٦٨، ٦٩)

نہ تم صدمے ہمیں دیتے نہ ہم فریاد یوں کرتے
نہ کھلتے راز سربستہ نہ یہ رسوائیاں ہوتیں

٤٩

صفحہ ٥٨٨

جھوٹ نمبر ٧٢...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”فمن سوء الادب ان يقال ان عيسى ما مات ان هو الا شرك عظيم“ یعنی حیات مسیح کا عقیدہ تو ایک شرک عظیم ہے۔

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٤٦٠، دافع البلاء ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥ ملخص)

اقدس نے پہلے خود مسیح کے آسمان سے آنے کا عقیدہ ظاہر فرمایا اور بعد کی تحریروں میں لکھا ہے کہ یہ ایک شرک ہے۔“

احمدیہ میں میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح بن مریم آسمان سے نازل ہوگا۔“

پھیر دیا اور میں ١٢ برس براہین احمدیہ کی اس وحی کو نہ سمجھ سکا جو مجھے مسیح موعود بناتی تھی...... اور خدا کی وحی کے مخالف لکھ دیا...... درحقیقت میرے دل کو اس وحی الٰہی کی طرف سے غفلت سی رہی جو میرے مسیح موعود ہونے کے بارے میں براہین میں موجود تھی۔ اس لئے میں نے ان متناقض باتوں کو براہین احمدیہ میں جمع کر دیا۔“

بن مریم بنایا گیا ہے اور میں ان کی جگہ پر نازل ہوا ہوں۔ لیکن میں تاویل کر کے چھپاتا رہا۔ بلکہ میں نے اپنا عقیدہ نہیں بدلا اور اسی پر تمسک کرتا رہا اور دعویٰ کے اظہار میں میں نے دس برس توقف کیا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٥١، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

خطاب پانے کے دس سال تک یہی خیال کرتے رہے کہ مسیح آسمان پر زندہ ہے۔“

نوٹ...... قرآن مجید میں ہے: ”لا ينال عهدي الظالمين“ یعنی یہ نبوت کا عہد ظالموں کو حاصل نہ ہوگا اور شرک تو سب سے بڑا ظلم ہے۔

”ان الشرك لظلم عظيم“ جب مرزا قادیانی سن بلوغ سے ١٨٩١ء تک ظالم مشرک حیات مسیح کے معتقد تھے تو اللہ تعالیٰ ایسے ظالم مشرک کو منصب نبوت کے لئے ہرگز پسند نہیں فرماتا اور پھر ایسے غبی کہ ١٠ سال وحی الٰہی کو جو مسیح موعود بناتی تھی نہ سمجھ سکے۔ بلکہ وحی الٰہی کی مخالفت کرتے رہے اور شرک میں مبتلا رہے۔ کوئی ایسا نبی نہیں ہوا اور نہ ہو سکتا ہے جو مشرک رہا ہو اور نہ ایسا کہ جو جھوٹ بولنے میں سب سے آگے ہو۔ نبی عقیدہ شرک سے مبرا ہوتے ہیں۔ تو مرزا

٥٠

صفحہ ٥٨٩

قادیانی اپنے بیان سے بھی مسیح موعود نہیں ہو سکتے۔ بلکہ اپنے اقوال سے جھوٹے ثابت ہوئے اور مرزا قادیانی (کشتی نوح ص ٤٦، خزائن ج ١٩ ص ٢٨) پر لکھتے ہیں کہ: ”تم جھوٹ نہ بولو کہ جھوٹ بھی ایک حصہ شرک ہے۔“ تو ہم نے کتنے جھوٹ ثابت کر دیئے ہیں۔ کیا پھر بھی مرزا قادیانی مشرک اور جھوٹے ثابت نہیں ہوئے۔ کیا مشرک اور جھوٹ بولنے والا بھی نبی یا مسیح ہو سکتا ہے؟

ختم نبوت اور مرزا قادیانی دجالی روپ میں

عن ثوبان قال قال رسول الله ﷺ انه سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلہم یزعم انه نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (جامع ترمذی ج٢ ص ٤٥)“ حضرت ثوبانؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ قریب ہے کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے۔ جن میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ لے

بغرض اختصار صرف ایک حدیث نبوی درج کی گئی ہے۔ ورنہ دو سو کے قریب احادیث ہیں۔ جن میں ختم نبوت کی تفسیر اور تشریح موجود ہے۔ اب مرزا قادیانی کی تضاد بیانیاں ملاحظہ کریں:

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٩، خزائن ج ٢١ ص ٣٦٠، ٣٦١ ملخص)

بھیجا ہے اور اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

”حق یہ ہے کہ خدا کی وہ پاک وحی جو میرے اوپر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ١، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦، حقیقت الوحی ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠، نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧) وغیرہ کتابوں میں بکثرت موجود ہے۔

لے اس حدیث نبوی کو مرزا غلام احمد قادیانی بھی تسلیم کرتا ہے۔ لکھتا ہے: ”آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ دنیا کے اخیر تک قریب تیس کے دجال پیدا ہوں گے۔ اب ظاہر ہے کہ جب تیس دجال کا آنا ضروری ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

٥١

صفحہ ٥٩٠

اس کے خلاف اور ختم نبوت کا اقرار

کرنا یہ شرارت ہے۔ حدیث 'لا نبي بعدي' میں نفی عام ہے۔“

(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٣)

ہوں کہ تمام نبوتیں اس پر ختم ہیں اور اس کی شریعت خاتم الشرائع ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٠)

کافرین“ مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوۃ کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں سے جاملوں۔

(حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧)

یا پرانا ہو۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول آوے۔ مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔“

(ازالۃ اوہام حصہ دوم ص ٧٦١، خزائن ج ٣ ص ٥١١)

کی وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمدورفت شروع ہو جائے اور ایک نئی کتاب اللہ کو مضمون میں قرآن شریف سے توارد رکھتی ہو پیدا ہو جائے اور جو امر مستلزم محال ہو وہ محال ہو جاتا ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٥٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤١٣)

حاصل کرے اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٦١٥، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢)

سلسلہ نبوت کو دوبارہ ازسرنو شروع کر دے۔ بعد اس کے کہ اسے قطع کر چکا ہو۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٧٧، خزائن ج ٥ ص ٣٧٧)

٥٢

صفحہ ٥٩١

......9 "ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے۔ کہ اب جبرائیل بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت کے لانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔"

(ازالۃ الاوہام ص ٥٧٨، خزائن ج ٣ ص ٤١٢)

"ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین الا تعلم ان الرب الرحیم المتفضل سمّی نبینا صلعم خاتم الانبیاء بغیر استثناء وفسره نبینا فی قوله لا نبی بعدی"

(حمامة البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)

یہ چند حوالہ جات بطور نمونہ کے پیش کئے گئے ہیں۔ ورنہ سینکڑوں عبارتیں اثبات اور نفی میں موجود ہیں۔ کیا ایسی سخت تضاد بیانی سوائے دجال کے کوئی اور کرسکتا ہے؟

مرزائیوں کے نزدیک زانی اور چور بھی نبی ہوسکتا ہے

جھوٹ نمبر: ٧٤...... "مثلاً ایک شخص جو قوم کا چوہڑہ یعنی بھنگی ہے اور ایک گاؤں کے شریف مسلمانوں کی تیس چالیس سال سے یہ خدمت کرتا ہے کہ دو وقت ان کے گھروں کی گندی نالیوں کو صاف کرنے آتا ہے اور ان کے پاخانوں کی نجاست اٹھاتا ہے اور ایک دو دفعہ چوری میں بھی پکڑا گیا ہے اور چند دفعہ زنا میں بھی گرفتار ہوکر سخت رسوائی ہوچکی ہے اور چند سال جیل خانہ میں قید بھی رہ چکا ہے اور چند دفعہ ایسے برے کاموں پر گاؤں کے نمبرداروں نے اس کو جوتے بھی مارے ہیں اور اس کی ماں اور دادیاں اور نانیاں ہمیشہ سے ایسے ہی نجس کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مردار کھاتے اور گوہ اٹھاتے ہیں۔ اب خدا تعالیٰ کی قدرت پر خیال کر کے ممکن تو ہے کہ وہ اپنے کاموں سے تائب ہو کر مسلمان ہو جائے اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایسا فضل اس پر ہو کہ وہ رسول اور نبی بھی بن جائے اور اسی گاؤں کے شریف لوگوں کی طرف دعوت کا پیغام لے کر آوے اور کہے کہ جو شخص تم میں سے میری اطاعت نہیں کرے گا خدا اسے جہنم میں ڈالے گا۔ لیکن باوجود اس امکان کے جب سے یہ دنیا پیدا ہوئی ہے۔ کبھی خدا نے ایسا نہیں کیا۔"

(تریاق القلوب ص ٦٧، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٦،٢٨٧)

مرزا قادیانی کہتا ہے کہ باوجود اس امکان کے جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے۔ کبھی خدا نے ایسا نہیں کیا۔ اب مرزا قادیانی کی تحریر ملاحظہ کریں۔ جو اس نے عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق بکواس کیا ہے۔

٨٣

صفحہ ٥٩٢

دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج١١ ص ٢٩١)

کرے۔ لیکن جب چھ سات مہینے کا حمل نمایاں ہو گیا۔ تب حمل کی حالت میں ہی قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نام ایک نجار سے نکاح کر دیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ کے بعد مریم کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ وہی عیسیٰ یا یسوع کے نام سے موسوم ہوا۔“

(چشمہ مسیحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٥، ٣٥٦)

نوٹ...... یہ بات مسلم ہے کہ جتنے بھی نبی گزرے ہیں سب اعلیٰ خاندان میں سے تھے۔ اگر نبی میں ایسے عیب ہوں تو اس کی بات کون سنے گا۔ یہ بات مرزا قادیانی کو بھی تسلیم ہے۔ چنانچہ انہوں نے لکھا ہے کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کبھی خدا نے ایسا نہیں کیا۔ لیکن پھر مرزا قادیانی نے جو عیسیٰ کے متعلق بکواس کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ وہ مرزا قادیانی دجال ہی کا بہتان اور افتراء ہے۔ تمام نبی ایسے کاموں سے پاک تھے۔ چنانچہ اللہ پاک نے قرآن پاک میں سورہ الانعام میں ١٨ نبیوں کا یک جا تذکرہ فرمایا ہے اور ان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بھی اسم گرامی ہے۔ فرمایا ہے کہ ہم نے ان کو چن لیا۔ تمام لوگوں سے اور ہدایت دی اور یہی لوگ ہیں کہ ہم نے ان کو کتاب اور حکمت اور نبوت دی اور ہم بلند کرتے ہیں درجوں میں جن کو چاہتے ہیں۔

اب آپ حضرات مرزا قادیانی کے متعلق فیصلہ فرمائیں کہ کیا وہ دجال نہیں ہے۔ کیا دجال کے سوا کوئی اور بھی سچے نبی کے متعلق ایسی باتیں لکھ سکتا ہے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ مہدی میری اولاد میں سے ہوگا۔ لیکن اس میں تو یہ نشانی بھی موجود نہیں کہ کوئی بھی نشانی مہدی کی جو حضور ﷺ نے فرمائی ہیں۔ اس میں نہیں پائی جاتی۔ اس کا دعویٰ مہدی کا بھی ہے تو پھر یہ مہدی کیسے ہوا۔ چنانچہ مرزا قادیانی کو بھی تسلیم ہے۔ لکھتے ہیں کہ: ”میرا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ میں وہ مہدی ہوں جو مصداق من ولد فاطمہ ومن عترتی وغیرہ ہے۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٦)

اور یہ بھی مسلم ہے کہ مہدی اور شخص ہے اور مسیح اور شخص ہے۔ دیکھئے! مرزا قادیانی نے بھی تسلیم کیا ہے۔ لکھتا ہے کہ: ”اس لئے ماننا پڑا کہ مسیح موعود اور مہدی اور دجال تینوں مشرق میں

٥٤

ہی ظاہر ہوں گے۔“

توہین نبی کریم ﷺ

آیت کا مصداق ہے: ”ھو الذی الدین کلہ“ یہ بھی مرزا قادیانی کا جھو اور مذکورہ آیت نازل حضور پر ہوئی ہوں اور حضور نہیں ہیں۔ جو صریح کفر

رسول بھی۔“

بخشے ہیں۔

خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری

کے لئے بھیجا۔

نوٹ...... اسی طرح اور بیسیوں آ میں نازل فرمائی ہیں۔ ان کو مرزا ذریعے اپنے اوپر منطبق کر لیا اور کہ میرے پر بھی خدا نے نازل کر دیں

ہزار معجزات بتاتے ہیں۔“

صفحہ ٥٩٣

ہی ظاہر ہوں گے۔"

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٧، خزائن ج ١٧ ص ١٦٧)

توہین نبی کریم ﷺ

آیت کا مصداق ہے: ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ“

(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

یہ بھی مرزا قادیانی کا جھوٹ ہے کہ مرزا قادیانی کی خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور مذکورہ آیت نازل حضور پر ہوئی اور یہ تیرہ سو سال بعد دعویٰ کرتا ہے کہ اس آیت کا مصداق میں ہوں اور حضور نہیں ہیں۔ جو صریح کفر ہے۔ العیاذ باللہ!

رسول بھی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)

بخشے ہیں۔

(انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً، تذکرہ ص ٦٠٢، طبع ٣)

خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت رکھے۔

(انجام آتھم ص ٥٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً، تذکرہ ص ٣٥٢ طبع ٣)

کے لئے بھیجا۔

(حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥، تذکرہ ص ٨١ طبع ٣)

(تذکرہ ص ٣٧٨، طبع ٣)

(حقیقت الوحی ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)

نوٹ ...... اسی طرح اور بیسیوں آیات قرآنی جو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی شان میں نازل فرمائی ہیں۔ ان کو مرزا غلام احمد قادیانی دجال نے اپنے بناوٹی اور شیطانی الہام کے ذریعے اپنے اوپر منطبق کر لیا اور کہا کہ یہ میری شان میں تیرہ سو سال پہلے نازل ہو چکی ہیں اور پھر میرے پر بھی خدا نے نازل کردیں۔ العیاذ باللہ! ولعنۃ اللہ علی الکاذبین!

ہزار معجزات بتاتے ہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)

٥٥

صفحہ ٥٩٤

”مگر اپنے دس لاکھ نشان۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٤١، خزائن ج ٢٠ ص ٤٣، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢)

یاد رہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک نشان اور معجزہ ایک ہی چیز ہے چنانچہ لکھتے ہیں: ”سچا مذہب اور حقیقی راست باز ضرور اپنے ساتھ امتیازی نشان رکھتا ہے اور اسی کا نام دوسرے لفظوں میں معجزہ اور کرامت اور خارق عادت امر ہے۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٠، خزائن ج ٢١ ص ٦٤ ملخص)

مطلب واضح ہے کہ مرزا قادیانی دجال، آنحضرت ﷺ سے شان میں بڑھے ہوئے ہیں۔ سبحان اللہ!

بت کریں آرزو خدائی کی
شان ہے تیری کبریائی کی

جھوٹ نمبر: ٧٧.......

له خسف القمر المنير وان لی
غسا القمر ان المشرقان اتنکر

اس کے لئے (آنحضرت ﷺ کے لئے) چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

اور (چشمہ معرفت ص ٤١، خزائن ج ٢٣ ص ٤١) پر ہے: ”قرآن شریف میں مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ کی انگلی کے اشارہ سے چاند دو ٹکڑے ہو گیا۔“ قرآن شریف میں انگلی کا اشارہ مذکور نہیں ہے۔ یہ قرآن شریف پر جھوٹ ہے اور اعجاز احمدی میں آنحضرت ﷺ کے معجزہ شق القمر کو کسوف خسوف قرار دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے اس معجزہ کو از قسم کسوف خسوف کہنا۔ اس کی عظمت کو کم کرنا ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کو بھی اقرار ہے۔ لکھتے ہیں: ”اگر آج شق القمر کا معجزہ ہو تو ہیئت و طبیعی کے ماہر اور سائنس کے دلدادہ فی الفور اس کو کسوف خسوف میں داخل کر کے اس کی عظمت کو کم کرنا چاہیں گے۔“

(رپورٹ جلسہ قادیان ص ١٥٨، ١٨٩٧ء)

جھوٹ نمبر: ٧٨....... مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ”میں مثیل مسیح ہوں۔“

(ازالۃ اوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)

”اور حضور کریم ﷺ مثیل موسیٰ ہیں۔“

(ازالۃ اوہام ص ٢٥٧، خزائن ج ٣ ص ٣٩٤)

٥٦

صفحہ ٥٩٥
خیال زاغ کو بلبل سے برتری کا ہے
غلام زادے کو دعویٰ پیغمبری کا ہے

جھوٹ نمبر:٧٩...... "مگر پھر بھی بعض پیش گوئیوں کی نسبت آنحضرت ﷺ نے خود اقرار کیا ہے کہ میں نے ان کی اصل حقیقت سمجھنے میں غلطی کھائی ہے۔"

(ازالہ اوہام ص ٤٠٠، خزائن ج ٣ ص ٣٠٧)

٢...... "آپ ﷺ نے امت کے سمجھانے کے لئے بعض پیش گوئیوں کے سمجھنے میں خود اپنا غلطی کھانا بھی ظاہر فرمایا۔"

(ازالہ اوہام ص ٤٠٧، خزائن ج ٣ ص ٣١١)

یہ بھی مرزا غلام احمد قادیانی کا نبی کریم ﷺ پر بہتان اور جھوٹ ہے۔ خود مرزا قادیانی دوسری کتاب میں لکھتا ہے کہ: ”انبیاء کو ان کے دعویٰ میں غلطی نہیں ہو سکتی۔“

(اعجاز احمدی ص ٢٦، خزائن ج ١٩ ص ١٣٥)

اور (کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥) پر ہے کہ: "ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔" اور اسی کتاب (ازالہ اوہام ص ٤٠٤، خزائن ج ٣ ص ٣٠٩) پر ہے کہ: "علاوہ اس کے جن پیش گوئیوں کو مخالف کے سامنے دعویٰ کے طور پیش کیا جاتا ہے۔ وہ ایک خاص طور کی روشنی اور ہدایت اپنے اندر رکھتی ہے اور فہم لوگ حضرت احدیت میں خاص طور پر توجہ کر کے ان کا زیادہ تر انکشاف کر لیتے ہیں۔" تو معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نے آنحضرت ﷺ پر جھوٹ بولا ہے۔

جھوٹ نمبر:٨٠...... "تمام نبیوں نے ابتداء سے آج تک میرے لئے خبریں دی ہیں۔"

(تذکرۃ الشہادتین ص ٦٢، خزائن ج ٢٠ ص ٦٤)

کسی نبی کی کتاب میں مرزا قادیانی کے آنے کی خبر نہیں ہے۔ یہ بھی محض فریب اور سیاہ جھوٹ ہے۔

جھوٹ نمبر:٨١......

روضۂ آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١٢، خزائن ج ٢١ ص ١٤٤)

٢...... "اس مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) کو دنیا میں بھیجا۔ جس کا آنا اسلامی عمارت کی تکمیل کے لئے ضروری تھا۔"

(کشتی نوح ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٤)

٣...... "کیونکہ میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ بموجب آیت ’وَاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ‘ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں۔"

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)

٥٧

PDF 597

ان عبارات میں مرزا قادیانی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اسلام کی تکمیل مجھ پر ہوئی ہے اور نبوت کا سلسلہ بھی مجھ پر ختم ہے۔ حالانکہ یہ تمام مراتب اللہ پاک نے اپنے نبی کریم ﷺ کو عطاء کئے ہیں اور آپ پر تمام مراتب نبوت ختم ہیں۔ اب دوسری طرف مرزا قادیانی کا اقرار ہے۔ لکھتا ہے:

(مواہب الرحمٰن ص ٦٨، خزائن ج ١٩ ص ٢٨٧)

نبوتیں اس پر ختم ہیں اور اس کی شریعت خاتم الشرائع ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٢٤، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٠)

الاسلام دینا“ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی ہے اور میں اسلام کو تمہارا دین مقرر کر کے خوش ہوا سو قرآن شریف کے بعد کسی کتاب کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں۔“

(چشمہ معرفت ص ٧٢، خزائن ج ٢٣ ص ٨٠)

جھوٹ نمبر : ٨٢...... ”لولاک لما خلقت الافلاک“

(الاستفتاء حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٢، ٧١٣، تذکرہ ص ٦١٢، ص ٦٥٤ طبع ٣)

”یعنی اے مرزا! اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا ہی نہ کرتا۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ١٢٧)

میں تفریق کرتا ہے۔ اس نے مجھے نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے۔“

حتیٰ کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“

(ڈائری خلیفہ قادیان مطبوعہ اخبار الفضل مورخہ ١٧؍ جولائی ١٩٢٢ء)

آگے بڑھایا کہ نبی کریم ﷺ کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔“

(کلمۃ الفضل ص ١١٣)

لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔“

(کلمۃ الفضل ص ١٥٨)

آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)

غلام احمد رسول اللہ ہے

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم
محمد دیکھنے ہوں جس نے
خدا سے تو خدا مجھ سے ہے
منم مسیح زمان و منم کلیم

یعنی میں اس زمانے کا مسیح

ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہ میں موسیٰ ہوں، میں عیسیٰ ابن مریم ہوں

کہ اس پیش گوئی کو پورا کرے اور آخری آخری اینٹ ہوں۔“

جھوٹ نمبر : ٨٣...... ”آنحضرت ﷺ

کہ اس میں سور کی چربی پڑتی ہے۔“

(مکتوب مرزا

جھوٹ نمبر : ٨٤...... ”اب رہی یہ

مسیح کے اترنے کی حقیقت دجال کی نے ان کو معرفت کے مقام پر پہنچا د اور حضور علیہ السلام کے حقیقت اور یاجوج ماجوج اور دابۃ ال

صفحہ ٥٩٧
غلام احمد رسول اللہ ہے برحق شرف پایا ہے نوع انس و جان میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
خدا سے تو خدا مجھ سے ہے واللہ تیرا رتبہ نہیں آتا بیان میں

(اخبار بدر قادیان مورخہ ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء)

منم مسیح زمان و منم کلیم خدا منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)

یعنی میں اس زمانے کا مسیح ہوں اور کلیم خدا ہوں اور میں محمد احمد مجتبیٰ ہوں۔ العیاذ باللہ!

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)

(خطبہ الہامیہ ص ١٧، ١٨، ٧١، خزائن ج ١٦ ص ١٢٢)

جھوٹ نمبر: ٨٣...... ’’آنحضرت ﷺ عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے۔ حالانکہ مشہور تھا کہ اس میں سور کی چربی پڑتی ہے۔‘‘ (العیاذ باللہ!)

(مکتوب مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٢ فروری ١٩٢٤ء)

جھوٹ نمبر: ٨٤...... ’’اب رہی اپنی جماعت خدا کا شکر ہے کہ انہوں نے دمشق کے منارے پر مسیح کے اترنے کی حقیقت دجال کی حقیقت۔ ایسا ہی دابۃ الارض (وغیرہ کے بارے میں) خدا نے ان کو معرفت کے مقام پر پہنچا دیا۔‘‘

(فتاویٰ احمدیہ ص ٥١)

اور حضور علیہ السلام کے متعلق لکھتا ہے کہ: ’’آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت اور یاجوج ماجوج اور دابۃ الارض کی حقیقت منکشف نہ ہوئی۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)

٥٩

صفحہ ٥٩٨

اور پھر یہ بھی کہتا ہے کہ: ”مجھ کو نبوت حضور ﷺ کی کامل پیروی سے ملی ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٢٤، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٠)

ظاہر ہے کہ حضور ﷺ پر تمام کمال ختم ہیں۔ تمام مراتب نبوت ختم ہیں۔ آپ سے زیادہ خدا کے بعد کسی کا علم نہیں۔ ایک اور جگہ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ”آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد مستقل طور پر کوئی نبوت نہیں اور نہ کوئی شریعت ہے اور اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے تو بلاشبہ بے دین اور مردود ہے ...... اور میں ظلی طور پر نبی ہوں نہ کہ اصلی طور پر۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٢٥، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٠)

بقول مرزا قادیانی کے کہ آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال اور دابۃ الارض وغیرہ کی حقیقت نہ کھلی تو اس دجال پر کیسے کھل گئی۔ معلوم ہوا کہ یہ بھی مرزا قادیانی کا دجل اور جھوٹ ہے۔

علم غیب پانے میں بے نظیر

جھوٹ نمبر: ٨٥...... ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جس کثرت اور صفائی سے غیب کا علم حضرت جل شانہ نے اپنے ارادہ خاص سے مجھے عنایت فرمایا ہے۔ اگر دنیا میں اس کثرت تعداد اور انکشاف تام کے لحاظ سے کوئی اور بھی میرے ساتھ شریک ہے تو میں جھوٹا ہوں۔“

(تریاق القلوب ص ٧٤، خزائن ج ١٥ ص ٢٩٧)

نوٹ...... یہ بھی مرزا قادیانی کا جھوٹ ہے۔ اگر مرزا قادیانی کو علم غیب تھا تو محمدی بیگم والی پیش گوئی کیوں کی؟ جب کہ اس نے پورا ہی نہیں ہونا تھا۔ اگر مرزا قادیانی کو علم غیب تھا تو عبداللہ آتھم کے پندرہ ماہ میں مرنے کی پیش گوئی کیوں کی۔ جب کہ اس نے پندرہ ماہ میں نہیں مرنا تھا۔ اگر مرزا قادیانی کو علم غیب تھا تو مکہ اور مدینہ میں اپنے مرنے کی پیش گوئی کیوں کی۔ جب کہ اس نے مکہ اور مدینہ میں نہیں مرنا تھا تو معلوم ہوا کہ یہ سب مرزا قادیانی کے دجل اور جھوٹ ہیں۔ جن کی حقیقت سوائے جھوٹ کے اور کچھ نہیں۔

صحابہ کے متعلق بکواس

جھوٹ نمبر: ٨٦...... ”ابو ہریرہ غبی تھا اور درائت اچھی نہیں رکھتا تھا۔“

(اعجاز احمدی ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٢٧)

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٢٠، خزائن ج ٢١ ص ٢٨٥)

٦٠

ظاہر ہے۔“

اپنی طرف سے یہ باتیں کہتا ہوں تو میں جھوٹا ہو

کربلائے است
صد حسین
میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔

ہے۔ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کتنی د

نوٹ...... اس عبارت میں امام حسینؓ کے ذک

ہے۔ اس کو تم چھوڑتے ہو اور مردہ علی (حضرت

ابو ہریرہؓ ان کے سمجھنے میں ٹھوکر کھاتا ہے۔“

نوٹ...... اللہ تبارک و تعالیٰ ان صحابہ عنہ ﴿ البینہ: ٨، والتوبہ: ١٠٠ ہوئے۔﴾ اور امام الانبیاء ﷺ نے فرمایا

صفحہ ٥٩٩

(اعجاز احمدی ص ١٨، خزائن ج١٩ص١٢٦، ١٢٧)

(ازالۃ اوہام ص ٥٩٦، خزائن ج٣ص٤٢٢)

ظاہر ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج١٩ص١٩٣)

اپنی طرف سے یہ باتیں کہتا ہوں تو میں جھوٹا ہوں۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج١٨ص٢٣٣)

کربلائے است سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔ میرے گریبان میں سو حسین ہیں۔

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

ہے۔ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٨٢، خزائن ج١٩ص١٩٤)

نوٹ...... اس عبارت میں امام حسین کے ذکر کو گوہ کے ڈھیر سے تشبیہ دی ہے۔ (معاذ اللہ)

ہے۔ اس کو تم چھوڑتے ہو اور مردہ علی (حضرت علیؓ) کی تلاش کرتے ہو۔“

(ملفوظات احمدیہ ج٢ ص ١٤١)

ابو ہریرہ ان کے سمجھنے میں ٹھوکر کھاتا ہے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٣٤، خزائن ج ٢١ ص ٣٩٠)

نوٹ...... اللہ تبارک و تعالیٰ ان صحابہؓ کے متعلق فرماتے ہیں: ”رضی الله عنہم ورضوا عنہ (البینہ: ٨، والتوبہ: ١٠٠)“ کہ میں ان صحابہؓ سے راضی ہوا اور وہ مجھ سے راضی ہوئے۔﴾

اور امام الانبیاء ﷺ فرماتے ہیں: ”اصحابی کالنجوم فبایہم اقتدیتم

٦١

صفحہ ٦٠٠

اهتديتم "کہ میرے اصحاب مثل تاروں کے ہیں۔ تم ان میں سے جن کسی کی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے تو جن کی یہ شان ہو ۔ ان کے متعلق ایسے گندے الفاظ کہنا اور زبان درازی کرنا ایک کذاب آدمی کا ہی کام ہوسکتا ہے۔

حضرت فاطمہؓ کی توہین

جھوٹ نمبر: ٨٧ ...... "حضرت فاطمہؓ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں ۔"

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢١٣ حاشیہ، تریاق القلوب ص ٣٥، خزائن ج ١٥ ص ٢٠٢)

نبی کریم ﷺ کی پیاری بیٹی حضرت فاطمۃ الزہراؓ کی ایسی توہین دجال کے سوا کون کر سکتا ہے؟ اور پھر یہ بھی کہتا ہے کہ : ” میرا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ میں وہ مہدی ہوں جو مصداق من ولد فاطمه ومن عترتی وغیرہ ہے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٦) اور یہ بھی کہتا ہے کہ: ” ہماری قوم مغل برلاس ہے۔“

(کتاب البریہ ص ١٣٤ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ١٦٢)

حضرت نوح علیہ السلام کی توہین

جھوٹ نمبر: ٨٨ ...... ” خدا تعالیٰ میرے لئے ایسے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے ۔“ (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥) نوٹ...... یہ بھی مرزا قادیانی کا سیاہ جھوٹ ہے۔ اس عبارت میں یہ بھی دعویٰ ہے کہ خدا میرے لئے بہت نشان دکھلا رہا ہے۔ ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ تمام نشان جن کو مرزا قادیانی نے اپنے صدق و کذب کا معیار ٹھہرایا تھا تمام جھوٹے ہوئے۔ جیسا کہ مثالیں گزر چکی ہیں اور مزید مدلل ان کا تذکرہ ہم آگے چل کر کریں گے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی توہین

جھوٹ نمبر : ٨٩ ...... ” حضرت موسیٰ نے کئی لاکھ بے گناہ بچے مار ڈالے۔“

(نورالقرآن ص ١٨ حاشیہ، خزائن ج ٩ ص ٣٥٣ حاشیہ)

نوٹ...... یہ بھی جھوٹ ہے اور اسی عبارت میں مرزا قادیانی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بہتان عظیم باندھ کر ان کی سخت توہین کی ہے اور یہ بھی اقرار کیا ہے کہ: ”اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے۔... کسی نبی کی اشارہ سے بھی تحقیر کرنا سخت معصیت ہے اور موجب نزول غضب الٰہی۔“

(چشمہ معرفت ص ١٨، خزائن ج ٢٣ ص ٣٩٠)

٦٢

عجیب دعوے

جھوٹ نمبر: ٩٠ ...... ” ورأيتني في المنام آپ کو خواب میں دیکھا کہ میں خدا ہوں اور مـ

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خـ

نوٹ...... مرزا غلام احمد قادیانی کبھی نبی ہـ ہے۔ کیا کبھی کسی نبی نے خدا ہونے کا دعـ مرزائی اس کے جواب میں کہا کرتے ہیں کـ نہیں تو اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ مرزا قادیـ ہے۔“

جھوٹ نمبر : ٩١ ...... "أنت منى بمنزلـ

(حقیقۃ الوحی ص ٨٦، خـ

٢ ...... ” خاطبنى الله بقوله أنـ اللہ تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کـ اولادی “ (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٦٤، یعنی اے مرزا تو میرے بیٹے کـ نوٹ...... ان عبارتوں میں خدا کا بیٹا ہو نـ ہے کہ : " خدا تعالیٰ بیٹوں سے پاک ہے ۔ “

جھوٹ نمبر: ٩٢ ...... "أنما أمرك اذا أر اد شيئاً أن يقول له كن فيـ (مرزا کہتا ہے کہ ) خدا نے مـ جس وقت تم کسی چیز کے ہو نـ گے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کا یہ الہام ہے : صدہا ہلاک کر دیئے۔ سوائے ان ـ پیش گوئیاں مرزا قادیانی کی پوری ہو جاتیں۔ـ

مرزا قادیانی کو حمل بھی ہوا

جھوٹ نمبر : ٩٣ ...... ” مریم کی طرح عیسـ

صفحہ ٦٠١

عجیب دعوے

جھوٹ نمبر: ٩٠...... "ورأیتنی فی المنام عین الله وتیقنت اننی هو" میں نے اپنے آپ کو خواب میں دیکھا کہ میں خدا ہوں اور میں نے یقین کرلیا کہ بیشک میں وہی ہوں۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً، کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)

نوٹ...... مرزا غلام احمد قادیانی کبھی نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور کبھی خدا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ کیا کبھی کسی نبی نے خدا ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور کیا یہ دعویٰ نمرود اور فرعون جیسا نہیں ہے۔ مرزائی اس کے جواب میں کہا کرتے ہیں کہ یہ ایک کشف یا خواب ہے۔ لہٰذا کشف اور خواب معتبر نہیں تو اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ : "پیغمبر کا کشف اور خواب ایک وحی ہوتا ہے۔"

(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ص)

جھوٹ نمبر: ٩١...... "انت منی بمنزلة ولدی" تو مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩، تذکرہ ص ٥٢٦، ٦٢٤، ص ٤٩٩ طبع سوم)

٢...... "خاطبنی الله بقوله اسمع یا ولدی" (البشریٰ ج اول ص ٤٩)

اللہ تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے یہ کہا کہ اے میرے بیٹے سن۔ "انت منی بمنزلة اولادی" (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٤، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١، دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) یعنی اے مرزا تو میرے نزدیک بمنزلہ اولاد کے ہے۔

نوٹ...... ان عبارتوں میں خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ ہے۔ اب مرزاجی کی زبانی سنئے۔ یہ بھی لکھتا ہے کہ : "خدا تعالیٰ بیٹوں سے پاک ہے۔"

(دافع البلاء ص ٧، حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)

جھوٹ نمبر: ٩٢...... "انما امرك اذا اردت شيئا ان تقول له كن فيكون"

(حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨، تذکرہ ص ٥٢٧ طبع سوم)

(مرزا کہتا ہے کہ) خدا نے مجھے فرمایا کہ اے مرزا حکم محض آپ ہی کا ہے۔ جس وقت تم کسی چیز کے ہونے کا ارادہ کرنا چاہو تو اس کو کہہ دیجئے ہو جا بس ہو جائے گی۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کا یہ الہام ہے۔ اگر ایسا ہی مرزا قادیانی کے بس میں ہوتا تو سب کو مرزا قادیانی ہلاک کر دیتے۔ سوائے ان کے کہ جنہوں نے مرزا قادیانی کو مان لیا ہوتا اور تمام پیش گوئیاں مرزا قادیانی کی پوری ہو جاتیں۔

مرزا قادیانی کو حمل بھی ہوا

جھوٹ نمبر: ٩٣...... "مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی۔

٦٣

صفحہ ٦٠٢

(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠، ٥١)

مرزا قادیانی کا اپنے متعلق فتویٰ

ہے کہ یہ خدا کی وحی ہے جو مجھ کو ہوئی ہے۔ ایسا بدذات انسان تو کتوں اور سوروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٢٦، خزائن ج ٢١ ص ٢٩٢)

نہیں ہوتا۔“

(ست بچن ص ٣٠، خزائن ج ١٠ ص ١٤٢)

(تحفہ گولڑویہ ص ١٣ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٥٦)

مرزائی خود فیصلہ کریں

بقول مرزا جس کے کلام میں تناقض ہو کہ کبھی تو مریم ہونے کا دعویٰ کرے۔ کبھی عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کرے۔ کبھی درد زہ ہونے کا۔ کبھی خدا کے بیٹا ہونے کا۔ کبھی نبی ہونے کا۔ کبھی خدا ہونے کا۔ کبھی بشر کی جائے نفرت ہونے کا۔ کبھی عرش ہونے کا۔ کبھی خدا کی بیوی ہونے کا۔ کبھی نطفہ خدا ہونے کا۔ کبھی کرشن ہونے کا۔ کبھی کرم خاکی ہونے کا۔ کیا ایسا انسان کتوں اور سوروں اور بندروں سے بدتر نہیں ہوتا؟ کیا ایسا انسان سچیار عقل مند اور صاف دل انسان ہو سکتا ہے؟ اور جو اتنے دعوے کرے کیا اس کے مرتد ہونے میں شک ہو سکتا ہے؟

مرزا قادیانی دجالی روپ میں

دے۔ مگر ان پڑھے لکھوں سے ایک ہندو بھی دکھائی نہ دے گا۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٢، خزائن ج ٣ ص ١١٩)

اے قادیانیو! اس میں عنقریب کی کیا تاویل کرو گے۔ کیا اب ہندوستان میں کوئی کافر نہیں۔ ہندو مسلمان کیا ہوتے بلکہ کئی مسلمان اچھے بھلے خدا اور اس کے رسول کے ماننے والے۔ مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ”انا للہ وانا الیہ راجعون“

٦٣

صفحہ ٦٠٣

انسان مفعول بہ ہو تو ہمیشہ اس جگہ توفی کے معنی مارنے اور روح قبض کرنے کے آتے ہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٥، خزائن ج ١٧ ص ١٦٢)

کوئی صاحب علم قادیانی یا لاہوری مرزائی یہ نہیں دکھا سکتا کہ علم نحو میں یہ قاعدہ کہاں لکھا ہے؟۔ مرزا قادیانی کا یہ سیاہ جھوٹ ہے۔

جھوٹ نمبر: ٩٦...... ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ سے دوسرے ملکوں کے انبیاء کی نسبت سوال کیا گیا تو آپ نے یہی فرمایا کہ ہر ایک ملک میں خدا کے نبی گزرے ہیں اور فرمایا کہ ”کان فی الهند نبیاً اسود اللون اسمه کاهنا “ کہ ہند میں ایک نبی گزرا ہے جو سیاہ رنگ کا تھا اور نام اس کا کاہن تھا۔ یعنی کنہیا جس کو کرشن کہتے ہیں۔“

(چشمہ معرفت ص ١٠، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨١)

یہ امام الانبیاء خاتم الانبیاء نبی کریم ﷺ پر خالص افتراء ہے۔ ایسی کوئی حدیث نبوی نہیں ہے اگر ہو تو پیش کرو۔ ورنہ توبہ کرلو۔ مرزا قادیانی کے پیچھے لگنے سے کیا فائدہ۔ ایسے جھوٹ بولنے والے سے کنارہ پکڑلو۔ نجات پا جاؤ گے۔

جھوٹ نمبر: ٩٧...... ”بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت سے نبی آئے۔ مگر ان کی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کا اس میں ایک ذرہ کچھ دخل نہ تھا۔“

(حقیقت الوحی ص ٩٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)

دیکھئے حضرات! کس زور سے ثابت کر رہا ہے کہ اگلے نبیوں کی نبوت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا۔ حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ دروغ گو را حافظہ نہ باشد (الحکم مورخہ ٢٣ نومبر ١٩٠٢ء ص ٥) پر لکھتے ہیں کہ: ”حضرت موسیٰ کی اتباع سے ان کی امت میں ہزاروں نبی آئے۔“

جھوٹ نمبر: ٩٨...... ”صاحب نبوت تامہ ہرگز امتی نہیں ہو سکتا اور جو شخص کامل طور پر رسول اللہ کہلاتا ہے اس کا کامل طور پر دوسرے نبی کا امتی اور مطیع ہو جانا نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کی رو سے بالکل ممتنع ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”وما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن الله “

(ازالۃ اوہام حصہ دوم ص ٥٦٩، خزائن ج ٣ ص ٤٠٧)

مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ان کے اپنے فرزند کی زبان سے سنو: ”بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ ایک نبی دوسرے نبی کا متبع نہیں ہو سکتا اور اس کی دلیل یہ ہے ”وما ارسلنا من رسول الی آخرہ “ لیکن یہ سب قلت تدبر ہے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٥٥)

مدینہ کی طرف سے مکہ تک ریل کی سواری

جھوٹ نمبر: ٩٩...... مرزا قادیانی مولانا محمد حسین بٹالوی کو طعنہ دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ:

٦٥

صفحہ ٦٠٥

”(حدیثوں میں) لکھا تھا کہ مسیح موعود کے وقت میں اونٹنیاں بیکار ہو جائیں گی اور اس میں یہ بھی اشارہ تھا کہ اس زمانہ میں مدینہ کی طرف سے مکہ تک ریل کی سواری جاری ہو جائے گی۔ مگر آپ کے نزدیک یہ حدیث بھی غلط۔ پس جبکہ پیغمبر ﷺ کی حدیثیں آپ کے نزدیک غلط ہیں۔ تو میری پیش گوئی کو غلط کہنے کے وقت آپ کیوں شرم کرنے لگے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٠٦، خزائن ج ٢٣ ص ٣٢١، ٣٢٢ ملخص)

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١٦، خزائن ج ٢١ ص ٢٨١) میں لکھتا ہے کہ : ”یہ سب حدیثیں آپ کے نزدیک غلط ہیں ۔“ کیونکہ ان سے میرے دعوٰی کا ثبوت ملتا ہے۔

مرزائیو! سوچو ہم ان حدیثوں کو غلط نہیں کہتے۔ ہماری توبہ اگر ہم ان حدیثوں کو غلط کہیں۔ ہم پیارے پیغمبر ﷺ کی جملہ احادیث کو سر آنکھوں پر رکھتے ہیں۔ مگر گستاخی معاف۔ انہی احادیث سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کاذب ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے وقت نہ اونٹنیاں بیکار ہوئیں۔ نہ مکہ اور مدینہ کے درمیان آج تک ریل چلی۔

مرزا قادیانی کا حج

بیت اللہ کرے گا۔ کیونکہ بموجب حدیث صحیح کے وہی وقت مسیح موعود کے حج کا ہوگا۔“

(ایام الصلح اردو ص ١٦٨، ١٦٩، خزائن ج ١٤ ص ٤١٦)

یہ بھی مرزا قادیانی کا دلچسپ جھوٹ ہے کہ ہمارا حج تو اس وقت ہو گا کہ جب دجال بھی کفر سے باز آ کر طواف بیت اللہ کرے گا۔ نہ دجال کفر سے باز آیا نہ مرزا قادیانی دجال نے حج کیا۔ چونکہ صحیح حدیث کے مطابق حج مسیح موعود کی نشانی ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں بلکہ کاذب ثابت ہوئے۔

یہ چند جھوٹ ہم نے بطور نمونہ کے پیش کئے ہیں۔ ورنہ مرزا قادیانی کی ایک ایک کتاب میں سینکڑوں جھوٹ جمع ہیں۔ اگر ان کو ایک جگہ جمع کرنا چاہیں تو کئی ہزار تک نوبت پہنچ جائے گی۔ لیکن عقل والوں کو تو یہی انبار نظر آئے گا۔ کسی نے کیا خوب ہی کہا ہے۔

عاقل نوں اک نقطہ کافی لوڑ نہیں اس نوں دفتر دی
بے عقلاں نوں اثر نہ کردی پند نبی سرور دی

مرزا قادیانی کی جھوٹی پیش گوئیاں

اس بحث سے پہلے کہ ہم مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کو جھوٹا ثابت کریں۔ پہلے خود

٦٦

مرزا قادیانی ہی کے قلم سے لکھے ہوئے چند ایک اصول

بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں۔

وہ ایک خاص طور کی روشنی اور ہدایت اپنے اندر رکھتی طور پر توجہ کر کے ان کا زیادہ تر انکشاف کرالیتے ہیں۔

”ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلف

”اُن تین اصولوں کے بعد ہم کہتے ہیں کہ جس کو اس نے دشمن کے سامنے بطور دعویٰ پیش کیا ہو ایک میں بھی سچا نہیں ہوا اور بقول اپنے ذلیل اور رسوا ص ٣٨٢) پر لکھا ہے : ”اور باوجود میرے اس اقرار کے پیش گوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر اس سے معلوم ہوا کہ اس کی رسوائی کے ثابت ہو جائے۔ بفرض محال اس کی کچھ پیش گوئیاں دلیل نہیں ہوسکتیں۔ ایسے تو بہت سے نجومیوں کی پیش پیش گوئی کا جھوٹا نکلنا اس کے کاذب ہونے کی صریح ہے۔ لکھتا ہے کہ : ”اگر ثابت ہو جائے کہ میری سو پیش کرلوں گا کہ میں کاذب ہوں۔“

مزید پیش گوئیوں کے متعلق لکھتا ہے کہ یہی قرآن کی تعلیم ہے اور یہی تورات کی ۔“ ( اور (استفتاء ص ٢، خزائن ج ١٢ ص ١١١) پر ہے صرف پیش گوئیوں کو قرار دیا ہے۔“ (یہ مرزا قادیا بقول اس کے ہم اس کی پیش گوئیوں کو ہی دیکھ لیتے ہیں

٦٧

صفحہ ٦٠٥

مرزا قادیانی ہی کے قلم سے لکھے ہوئے چند ایک اصول ملاحظہ فرمائیں۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ٢٨٨)

(ازالہ اوہام ص ٤٠٤، خزائن ج ٣ ص ٣٠٩)

(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)

”ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلف ہو۔“

(چشمہ معرفت ص ٨٣، خزائن ج ٢٣ ص ٩١)

”ان تین اصولوں کے بعد ہم کہتے ہیں کہ کوئی ایک پیش گوئی مرزا قادیانی کی پیش کرو جس کو اس نے دشمن کے سامنے بطور دعویٰ پیش کیا ہو، اور پھر پوری ہوئی ہو۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ وہ ایک میں بھی سچا نہیں ہوا اور بقول اپنے ذلیل اور رسوا ہوا۔ چنانچہ (تریاق القلوب ص ٢٧، خزائن ج ١٥ ص ٣٨٦) پر لکھا ہے: ”اور باوجود میرے اس اقرار کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی انسان کا اپنی پیش گوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔“

اس سے معلوم ہوا کہ اس کی رسوائی کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ ایک پیش گوئی میں جھوٹا ثابت ہو جائے۔ بفرض محال اس کی کچھ پیش گوئیاں سچی بھی نکلیں تو وہ اس کے دعویٰ کی صداقت کی دلیل نہیں ہوسکتیں۔ ایسے تو بہت سے نجومیوں کی پیش گوئیاں بھی سچی نکلتی رہتی ہیں۔ ہاں! کسی ایک پیش گوئی کا جھوٹا نکلنا اس کے کاذب ہونے کی صریح دلیل ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کو بھی اقرار ہے۔ لکھتا ہے کہ: ”اگر ثابت ہو جائے کہ میری سو پیش گوئی میں سے ایک بھی جھوٹی نکلی تو میں اقرار کرلوں گا کہ میں کاذب ہوں۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٥ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٦١)

مزید پیش گوئیوں کے متعلق لکھتا ہے کہ: ”مدعی کاذب کی پیش گوئی پوری نہیں ہوتی۔ یہی قرآن کی تعلیم ہے اور یہی تورات کی۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٦، خزائن ج ٥ ص ٣٢٦)

اور (استفتاء ص ٣، خزائن ج ١٢ ص ١١١) پر ہے کہ: ”تورات اور قرآن نے بڑا ثبوت نبوت کا صرف پیش گوئیوں کو قرار دیا ہے۔“ (یہ مرزا قادیانی کا تورات اور قرآن دونوں پر افتراء ہے) تو بقول اس کے ہم اس کی پیش گوئیوں کو ہی دیکھ لیتے ہیں۔

٦٧

صفحہ ٦٠٦

پیش گوئی اوّل: بکر و ثیب

مرزا قادیانی کو ١٨٨١ء میں ایک الہام ہوا تھا۔ ”بکر و ثیب“ اس الہام کی تشریح مرزا قادیانی اپنی کتاب تریاق القلوب میں کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا ایک بکر ہوگی اور دوسری بیوہ۔ چنانچہ یہ الہام جو بکر کے متعلق تھا پورا ہو گیا اور اس وقت بفضلہ تعالیٰ چار پسر اس بیوی سے موجود ہیں اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے۔“

(تریاق القلوب ص ٣٣، خزائن ج ١٥ ص ٢٠١)

مزید تاکید کے لئے مرزا قادیانی (ضمیمہ انجام آتھم ص ١٤، خزائن ج ١١ ص ٢٩٨) پر لکھتے ہیں کہ: ”مقدر یوں ہے کہ میری پہلے شادی ایک کنواری عورت سے ہوگی۔ پھر ایک بیوہ سے۔“ ہم قادیانی امت سے صرف یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ کون سی ایسی بیوہ عورت تھی جس سے مرزا قادیانی کا نکاح ان کے الہام کے مطابق ہوا؟ اور اس بیوہ عورت کے خاوند کا نام کیا تھا؟ اور کب فوت ہوا؟ اور وہ بیوہ عورت مرزا قادیانی کی زوجیت میں کب آئی؟ قادیانی امت کا جو فرد بھی ایسی نشان دہی کر دے اس کو ایک ہزار روپیہ بطور انعام کے دیا جائے گا۔ ہے کوئی قادیانی مرزا قادیانی کے اس الہام کو سچا ثابت کر دے اور انعام وصول کرے۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ ؎

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

دوسری پیش گوئی: مکہ یا مدینہ میں مروں گا

آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں: ”فیدفن معی فی قبری“ کہ مسیح بن مریم میرے ساتھ یعنی میرے روضہ میں مدفون ہوگا تو مرزا قادیانی نے کہا کہ وہ میں ہی ہوں۔ میں وہیں دفن ہوں گا۔ مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی بہت ہی مشہور ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ: ”آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن ہوگا۔ یعنی وہ میں ہی ہوں۔“

(کشتی نوح ص ١٥، خزائن ج ١٩ ص ١٦)

دوسری جگہ مزید تاکید کے لئے لکھتے ہیں کہ: ”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔“

(البشریٰ ص ١٠٥، تذکرہ ص ٥٩١ طبع سوم)

یہ پیش گوئی بھی جھوٹی ہوئی۔ مرزا قادیانی کا مکہ میں مرنا تو درکنار مکہ اور مدینہ کی ہوا بھی نصیب نہ ہوئی اور مرے تو لاہور میں، مگر وہاں بھی کوئی اچھی جگہ نہ ملی۔ ملی تو وہ بھی دستوں والی جگہ۔ پھر مرزا قادیانی کو وہیں لاہور میں مدفون ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ نبی ٦٨

وہیں مدفون ہوتا ہے جہاں وفات پاتا ہے کیا گیا۔ اس سے بڑی مرزا قادیانی کے کاذب

تیسری پیش گوئی: طاعون اور قادیان

”خدا قادیان کو طاعون کی تباہی س رکھی گئی کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں مرزا قادیانی کی زندگی میں طاعو قادیان میں طاعون ہرگز نہ ہوگی۔ پس مرزا طاعون نے آ دبوچا اور مرزا قادیانی کی یہ پیش کہ: ”پھر طاعون کے دنوں میں جب طاعون

دوسری جگہ چیخ کر لکھتے ہیں کہ: طاعون کو اٹھا لے۔“

چوتھی پیش گوئی: پیر منظور کا لڑکا

”پیر محمد منظور کے ہاں لڑکا پیدا ہو ہوگا بہت جلد ہونے والا ہے اور اس کے لئے بیگم کو لڑکا پیدا ہوگا۔ اس زلزلے کے ظہور کے

یہ پیر محمد منظور اس کا خاص مرید تھا پیش گوئی جڑ دی کہ اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا ہوگئی۔ پھر مرزا قادیانی نے یہ کہا کہ اس سے تم کبھی لڑکا پیدا ہو سکتا ہے۔ مگر ہوا یہ کہ وہ عورت نکلی۔ نہ اس عورت کا لڑکا پیدا ہوا اور نہ ہی زلزل

پانچویں پیش گوئی: مولانا ثناء اللہ امر

مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری خزائن ج ١٩ ص ١٤٨) پر مرزا قادیانی دجال نے

صفحہ ٦٠٧

وہیں مدفون ہوتا ہے جہاں وفات پاتا ہے۔ پھر مرزا قادیانی کی لاش کو قادیان لے جا کر دفن کیا گیا۔ اس سے بڑی مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی کون سی دلیل چاہئے؟

تیسری پیش گوئی: طاعون اور قادیان

”خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ تا تم سمجھو کہ قادیان اسی لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔“ (دافع البلاء ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٥، ٢٢٦)

مرزا قادیانی کی زندگی میں طاعون پڑی تو مرزا قادیانی نے یہ پیش گوئی کر دی کہ قادیان میں طاعون ہرگز نہ ہوگی۔ پس مرزا قادیانی کی پیش گوئی کرنے کی دیر تھی کہ قادیان کو بھی طاعون نے آ دبوچا اور مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی بھی صاف جھوٹی نکلی۔ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ: ”پھر طاعون کے دنوں میں جب طاعون زور پر تھا میرا لڑکا شریف بیمار ہو گیا۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧ حاشیہ)

دوسری جگہ چیخ کر لکھتے ہیں کہ: ”میں دعا کرتا ہوں کہ خدا ہماری جماعت سے اس طاعون کو اٹھا لے۔“

(بدر مورخہ ٤ مئی ١٩٠٥ء)

چوتھی پیش گوئی: پیر منظور کا لڑکا

”پیر محمد منظور کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا۔ پہلے یہ وحی الٰہی ہوئی تھی کہ وہ زلزلہ جو نمونہ قیامت ہوگا بہت جلد ہونے والا ہے اور اس کے لئے نشان دیا گیا تھا کہ پیر محمد منظور لدھیانوی کی بیوی محمدی بیگم کو لڑکا پیدا ہوگا۔ اس زلزلے کے ظہور کے لئے ایک نشان ہوگا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٠٠ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٣)

یہ پیر محمد منظور اس کا خاص مرید تھا۔ مرزا قادیانی کو معلوم ہوا کہ اس کی بیوی حاملہ ہے۔ پیش گوئی جڑ دی کہ اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا۔ مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ بجائے لڑکے کے لڑکی پیدا ہوگئی۔ پھر مرزا قادیانی نے یہ کہا کہ اس سے تھوڑا ہی مراد ہے کہ اسی حمل سے لڑکا پیدا ہوگا۔ آئندہ کبھی لڑکا پیدا ہو سکتا ہے۔ مگر ہوا یہ کہ وہ عورت ہی مر گئی اور اس طرح یہ پیش گوئی بھی صاف جھوٹی نکلی۔ نہ اس عورت کا لڑکا پیدا ہوا اور نہ ہی زلزلہ آیا اور یوں مرزا قادیانی ذلیل و رسوا ہوئے۔

پانچویں پیش گوئی: مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اور قادیان

مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے قادیان آنے کی بابت رسالہ (اعجاز احمدی ص ٣٧، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨) پر مرزا قادیانی دجال نے لکھا ہے کہ: ”وہ ہرگز قادیان میں نہیں آئیں گے۔“

٦٩

صفحہ ٦٠٨

مگر مولوی صاحب نے ١٠؍ جنوری ١٩٠٣ء کو قادیان پہنچ کر یہ پیش گوئی غلط ثابت کر دی۔

چھٹی پیش گوئی: خواتین مبارکہ

”اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس (نصرت بیگم) کے بعد پائے گا۔ تیری نسل بہت ہوگی۔“

(اشتہار مورخہ ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٢)

اس الہام کے بعد نہ کوئی نکاح ہوا نہ خواتین مبارکہ یا نامبارکہ حاصل ہوئیں اور نہ اولاد۔ محمدی بیگم والا نکاح شاید اس الہام کو سچ کر دیتا۔ مگر اللہ نے نہ چاہا کہ جھوٹ کو سچ کر دکھائے۔

ساتویں پیش گوئی: مبارک احمد کی صحت

”ڈائری ٢٧؍ اگست ١٩٠٧ء صاحبزادہ مبارک احمد صاحب سخت تپ سے بیمار ہیں اور بعض دفعہ بیہوشی تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ ان کی نسبت آج الہام ہوا قبول ہوگئی۔ نو دن کا بخار ٹوٹ گیا۔ یعنی دعا قبول ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ میاں موصوف کو شفا دے۔“

(میگزین ستمبر ١٩٠٧ء تذکرہ ص ٧٢٨، طبع سوم)

”یہ لڑکا ١٦؍ ستمبر ١٩٠٧ء کو صبح کے وقت فوت ہو گیا۔“

(میگزین اکتوبر ١٩٠٧ء)

اس لئے صحت کا الہام غلط ہوا۔

آٹھویں پیش گوئی: مولانا بٹالوی کا قادیانی ہونا

مولانا محمد حسین بٹالویؒ کے متعلق مرزا قادیانی نے ایک پیش گوئی کر رکھی تھی کہ: ”ہم اس کے ایمان سے ناامید نہیں ہوئے۔ بلکہ امید بہت ہے۔ اسی طرح خدا کی وحی خبر دے رہی ہے کہ (اے مرزا) تجھ پر خدا تعالیٰ تیرے دوست محمد حسین کا مقسوم ظاہر کر دے گا۔ سعید ہے پس روز مقدر اس کو فراموش نہیں کرے گا اور خدا کے ہاتھوں سے زندہ کیا جاوے گا اور خدا قادر ہے اور رشد کا زمانہ آئے گا اور گناہ بخش دیا جائے گا۔ پس پاکیزگی اور طہارت کا پانی اسے پلائیں گے اور نسیم صبا خوشبو لائے گی اور معطر کر دے گی۔ میرا کلام سچا ہے میرے خدا کا قول ہے جو شخص تم میں سے زندہ رہے گا دیکھ لے گا۔“

(اعجاز احمدی ص ٥٠، ٥١، خزائن ج ١٩ ص ١٦٢)

الفاظ مرقومہ بالا سے صاف عیاں ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالویؒ ایک نہ ایک دن ضرور مرزا قادیانی پر ایمان لے آئیں گے۔ حالانکہ یہ پیش گوئی بھی صاف جھوٹی ہوئی۔

٧٠

عذر ....... مرزائی کہا کرتے ج ١٣ ص ١٣٠ حاشیہ) پر لکھا ہے کہ: ”معلوم پرہیزگاروں کی طرح۔“

جواب ...... یہ تحریر ١٨٩٧ء کی کو دورنگی میں ڈالا تھا۔ مگر اس کے بعد جب کر دی ہے کہ محمد حسین کا ایمان سعید لوگوں میں موجود ہے۔ تو اب ایک سابقہ مردود

نویں پیش گوئی..... عمر مرزا

مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ : ” عمر اسی برس کی ہوگی اور یا یہ کہ پانچ چ کے متعلق ہیں وہ تو چہتر اور چھیاسی کے ا

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٧

اب مرزا قادیانی کی تاریخ پی ہے کہ: ”میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء

دوسرا قرینہ یہ ہے کہ اسی کتا ١٦ برس یا ١٧ برس میں تھا۔“

مرزا قادیانی کے مرنے کے اور یہ عظیم الشان نشان بھی مرزا قادیانی مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد مرزائی ٦٨ سال یا ٦٩ سال بنتی ہے اور پیش گوئی چہ

مرزا بشیر الدین محمود نے لکھا ہ میں ہوئی۔“

مگر پھر بھی عمر پیش گوئی مو ”حضرت کی پیدائش ١٨٣٦ء میں ہوئی۔“

پھر ایک اور تحقیق کی گئی کہ: ” اس لحاظ سے سبھی ٧٤ سال نہیں بنتے۔ پھر م

صفحہ ٦٠٩

عذر...... مرزائی کہا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (استفتاء ص٢٢، خزائن ج١٢ ص ١٣٠ حاشیہ) پر لکھا ہے کہ: ”معلوم نہیں کہ وہ ایمان (محمد حسین کا) فرعون کی طرح ہوگا یا پرہیزگاروں کی طرح۔“

جواب...... یہ تحریر ١٨٩٧ء کی ہے۔ بے شک اس وقت مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی کو دورنگی میں ڈالا تھا۔ مگر اس کے بعد جب کہ انہوں نے صاف اور واضح الفاظ میں بوحی اللہ تعیین کر دی ہے کہ محمد حسین کا ایمان سعید لوگوں کی طرح ہوگا۔ جیسا کہ اوپر کی عبارت جو ١٩٠٣ء کی ہے میں موجود ہے۔ تو اب ایک سابقہ مردودہ تحریر کو پیش کر کے فریب دینا بعید از شرافت ہے۔

نویں پیش گوئی ..... عمر مرزا

مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ”خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس کی ہوگی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم اور جو ظاہر الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں وہ تو چھہتر اور چھیاسی کے اندر اندر کی تعیین کرتے ہیں۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٩٧، خزائن ج٢١ ص٢٥٨، حقیقت الوحی ص٩٦، خزائن ج٢٢ ص١٠٠)

اب مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش معلوم کرنا ضروری ہے۔ مرزا قادیانی نے خود لکھا ہے کہ: ”میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں ہوئی۔“

(کتاب البریہ ص١٤٦، خزائن ج١٣ ص١٧٧)

دوسرا قرینہ یہ ہے کہ اسی کتاب میں آگے مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”١٨٥٧ء میں ١٦ برس یا ١٧ برس میں تھا۔“

(کتاب البریہ ص١٤٦، خزائن ج١٣ ص١٧٧)

مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی صاف جھوٹی ثابت ہوگئی اور یہ عظیم الشان نشان بھی مرزا قادیانی کے کذب کا عظیم الشان اور زندہ جاوید ثبوت بن گیا۔ مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد مرزائی سخت پریشان ہوئے۔ کیونکہ اس حساب سے اس کی عمر ٦٨ سال یا ٦٩ سال بنتی ہے اور پیش گوئی جھوٹی ثابت ہوتی ہے۔

مرزا بشیر الدین محمود نے لکھا کہ: ”میری تحقیق میں مرزا قادیانی کی پیدائش ١٨٣٧ء میں ہوئی۔“

(سیرت مسیح موعود ص١)

مگر پھر بھی عمر پیش گوئی موافق نہیں بنتی۔ پھر مرزا بشیر احمد ایم اے نے کہا کہ: ”حضرت کی پیدائش ١٨٣٩ء میں ہوئی۔“

(سیرت المہدی حصہ دوم ص١٥٠، روایت نمبر ٣٦٧)

پھر ایک اور تحقیق کی گئی کہ: ”پیدائش مرزا قادیانی کی ١٨٣٥ء، ١٢؍ فروری میں ہوئی۔ اس لحاظ سے بھی ٧٤ سال نہیں بنتے۔ پھر مولوی محمد علی لاہوری نے مرزا قادیانی کی سیرت پر کتاب

٧١

صفحہ ٦١٠

لکھی جس کا نام مجدد اعظم رکھا۔ اس نے تحقیق کی کہ حضرت کی پیدائش ١٨٣٤ء میں ہوئی۔ ایک اور ان کا مولوی تھا اس نے تحقیق کی کہ حضرت ١٨٣٠ء میں پیدا ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ اس کی تاریخ پیدائش میں مرنے کے بعد اس قدر اختلاف کیوں رونما ہوا؟۔ یہی اس کے جھوٹے ہونے کی صریح دلیل ہے۔ ایک کا ابطال دوسرے کو لازم ہے۔ مرزائی خود فیصلہ کریں مرزا قادیانی سچے ہیں یا ان کے چیلے؟ اور مرزا قادیانی کا اپنا بیان کتاب البریہ والا قوی ہے۔ کیونکہ یہ اس کا عدالتی بیان ہے۔ اس عدالتی بیان کی رو سے اس کی عمر ٦٨ یا ٦٩ سال بنتی ہے۔ مرزا قادیانی نے لکھا ہے ظاہر ہے جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)

دسویں پیش گوئی ....... پانچواں لڑکا

ماہ جنوری ١٩٠٣ء میں جب کہ مرزا قادیانی کی بیوی حاملہ تھی۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (مواہب الرحمٰن ص ١٤٩، خزائن ج ١٩ ص ٣٦٠) پر یہ پیش گوئی کی کہ ”الحمدلله الذی وهب لی علی الکبر اربعة من البنین وبشرنی بخامس“ ”سب تعریف خدا کو ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں چار لڑکے دیئے اور پانچویں کی بشارت دی۔“ افسوس کہ مرزا قادیانی کی مراد پوری نہ ہوئی اور اس حمل سے مورخہ ٢٨؍جنوری ١٩٠٣ء کو لڑکی پیدا ہوئی۔ جو صرف چند ماہ عمر پا کر فوت ہو گئی۔

(اخبار الحکم ٣؍دسمبر ١٩٠٣ء)

اعتراض ....... موجودہ حمل کی تخصیص نہیں تھی۔

الجواب ....... اس وقت حمل موجود تھا اور زمانہ وضع حمل بھی قریب تھا۔ لہٰذا بظاہر قرینہ اسی حمل سے لڑکے کی ولادت سمجھی جاتی ہے۔ بفرض محال اگر مان بھی لیا جائے تو بھی اعتراض بحال ہے۔ کیونکہ اس کے بعد مرزا قادیانی کے گھر کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوا۔

گیارہویں پیش گوئی ....... ڈپٹی عبداللہ آتھم امرتسری

یہ پیش گوئی بڑی دلچسپ ہے جس نے مرزا قادیانی کو بہت ہی ذلیل کیا۔ یہ پیش گوئی ڈپٹی عبداللہ امرتسری کے بارے میں ہے۔ ١٨٩٣ء میں امرتسر کے اندر مرزا قادیانی کا عیسائیوں کے ساتھ توحید و تثلیث کے موضوع پر مباحثہ ہوا۔ مباحثہ ١٥؍دن تک ہوتا رہا۔ اس مباحثہ میں مرزا قادیانی ہار گئے اور اپنے مد مقابل پر فتح نہ پاسکے تو شرمندگی اتارنے کو آخری دن یہ پیش گوئی گھڑ دی کہ: ”آج رات جو مجھ پر کھلا ہے وہ یہ ہے کہ جب کہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے

٧٢

جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں دیا کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنات مہینہ لے کر یعنی ١٥ ماہ تک ہاویہ میں طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر

اس پیش گوئی کی مزید ت ”میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش پندرہ ماہ کے عرصے میں آج کی تار ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیا میں رسا ڈال دیا جاوے۔ مجھ کو پھا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ضرور وہ ایسا جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔ اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیاد

الفاظ مذکورہ بالا صا ٥؍ستمبر ١٨٩٤ء تک مر جائے گا۔ ایسا نہ ہوا تو مرزا قادیانی ویسے تھے۔ اس لئے پوری نہ ہوئی اور

مرزائی عذر نمبر :١ ”آتھم کی موت کی ش ہے اور پیشین گوئی کے دنوں میں ہے۔“

الجواب....... مرزا قادیانی کی پیش ہیں کہ: ”نفسِ پیش گوئی تو اس کی ”الہامی عبارت میں

صفحہ ٦١١

حضرت کی پیدائش ١٨٣٣ء میں ہوئی۔ ایک اہ میں پیدا ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ اس کی یوں رونما ہوا؟۔ یہی اس کے جھوٹے ہونے ہے۔ مرزائی خود فیصلہ کریں مرزا قادیانی سچے ب البریہ والا فتویٰ ہے۔ کیونکہ یہ اس کا عدالتی ٦٩ سال بنتی ہے۔ مرزا قادیانی نے لکھا ہے ئے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار

(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)

انی کی بیوی حاملہ تھی۔ مرزا قادیانی نے اپنی یہ پیش گوئی کی کہ ”الحمدلله الذی وهب بخامس“ ”سب تعریف خدا کو ہے جس نے شارت دی۔“ افسوس کہ مرزا قادیانی کی مراد ١٩ء کو لڑکی پیدا ہوئی۔ جو صرف چند ماہ عمر پا کر

(اخبار الحکم ٣؍ دسمبر ١٩٠٣ء)

مل بھی قریب تھا۔ لہذا بظاہر قرینہ اسی حمل سے ن بھی لیا جائے تو بھی اعتراض بحال ہے۔ نہیں ہوا۔

قسم امر تیسری

مرزا قادیانی کو بہت ہی ذلیل کیا۔ یہ پیش گوئی ء میں امرتسر کے اندر مرزا قادیانی کا عیسائیوں ۔ مباحثہ ١٥ دن تک ہوتا رہا۔ اس مباحثہ میں کھے تو شرمندگی اتارنے کو آخری دن یہ پیش گوئی کہ جب کہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے

جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز تیرے بندے ہیں تو اس نے مجھے نشان دیا کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ وہ انہیں دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی ١٥ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی عزت ظاہر ہوگی۔‘‘

(جنگ مقدس ص ١٨٨، ١٨٩، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢)

اس پیش گوئی کی مزید تشریح اگلے صفحہ پر مرزا قادیانی کی طرف سے یوں درج ہے: ’’میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلے یعنی وہ فریق جو خدا کے نزدیک جھوٹ پر ہے پندرہ ماہ کے عرصے میں آج کی تاریخ ٥؍ جون ١٨٩٣ء سے سزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے۔ روسیاہ کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسا ڈال دیا جاوے۔ مجھ کو پھانسی دی جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔ اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ضرور وہ ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی…… اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو اور شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔‘‘

(جنگ مقدس ص ١٨٩، ١٩٠، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣)

الفاظ مذکورہ بالا صاف ہیں کہ ڈپٹی عبداللہ آتھم ٥؍ جون ١٨٩٣ء سے ١٥ ماہ مورخہ ٥؍ ستمبر ١٨٩٤ء تک مر جائے گا۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔ (مسلمان نہ ہو جائے) اگر ایسا نہ ہوا تو مرزا قادیانی ایسے اور ویسے۔ چونکہ مرزا قادیانی یہ پیش گوئی کرنے میں مفتری علی اللہ تھے۔ اس لئے پوری نہ ہوئی اور مسٹر عبداللہ آتھم بچ گیا۔

(انوار الاسلام ص ٢، خزائن ج ٩ ص ٢)

مرزائی عذر نمبر : ١

’’آتھم کی موت کی پیش گوئی ہماری ذاتی رائے تھی۔ اصل پیش گوئی میں ہاویہ کا لفظ ہے اور پیشین گوئی کے دنوں میں عبداللہ کا ڈرتے رہنا اور شہر بہ شہر بھاگتے پھرنا۔ یہی اس کا ہاویہ ہے۔‘‘

(مفہوم انوار الاسلام ص ٤، ٥، خزائن ج ٩ ص ٤، ٥)

الجواب…… مرزا قادیانی کی پیش گوئی کے الفاظ پر نظر ڈالو کس قدر زور ہے اور مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ’’نفس پیش گوئی تو اس کی موت تھی۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ١٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٣)

’’الہامی عبارت میں شرطی طور پر عذاب موت کا وعدہ تھا۔‘‘

(انوار الاسلام ص ٤، خزائن ج ٩ ص ٥)

٧٣

صفحہ ٦١٢

مرزائی عذر نمبر : ٢

"عبداللہ آتھم نے اس مجلس میں ساٹھ ستر آدمیوں کے سامنے نبی کریم کو دجال کہنے سے رجوع کر لیا تھا۔"

(حقیقۃ الوحی ص ٧١ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٤٢٦)

الجواب ...... اگر اس وقت اس نے رجوع کر لیا تھا تو مرزا قادیانی کو اس وقت اسی مجلس میں اعلان کر دینا چاہئے تھا کہ چونکہ اس نے رجوع کر لیا ہے۔ اس لئے میری پیش گوئی میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ بلکہ پوری ہوگی۔ حالانکہ مرزا قادیانی کو بھی یقین نہیں تھا کہ یہ پوری ہوگی۔ تب ہی تو وظیفے کرائے اور دعائیں کیں اور واویلا کیا۔ وغیرہ!

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ١٧٨، روایت نمبر ١٦٠)

مرزا بشیر الدین محمود اس اعتراض کے جواب میں کہ تیری دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ لکھتا ہے کہ: "حضرت صاحب (مرزا قادیانی) کی بھی قبول نہیں ہوتی تھیں۔"

(الفضل مورخہ ٢؍ جولائی ١٩٤٠ء)

مرزائی عذر نمبر : ٣

"فریق سے مراد صرف عبداللہ آتھم نہیں۔ بلکہ تمام عیسائی ہیں۔" جیسا کہ مرزا قادیانی نے (انوار الاسلام ص ٢، ٨، خزائن ج ٩ ص ٢، ٨) میں لکھا ہے۔

الجواب ...... مرزا قادیانی نے پہلے خود تسلیم کر لیا ہے کہ فریق سے مراد صرف عبداللہ آتھم ہے: "عبداللہ آتھم کے متعلق ہم نے شرطیہ پیش گوئی کی تھی۔"

(کتاب البریہ ص ٢١، خزائن ج ١٣ ص ٤١ ملخص)

بہر حال یہ پیش گوئی بھی صاف جھوٹی نکلی اور مرزا قادیانی یوں رسوا اور ذلیل ہوئے اور مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: "ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔"

(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)

بارھویں پیش گوئی

١٠؍ جولائی ١٨٨٨ء کو مرزا قادیانی نے الہامی پیش گوئی کا اشتہار دیا کہ: "اس قادر مطلق نے مجھ سے فرمایا ہے کہ اس شخص (مرزا احمد بیگ) کی دختر کلاں (محترمہ محمدی بیگم) کے سلسلہ جنبانی کر ...... اگر (احمد بیگ نے اس) نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی۔ وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا۔ پھر ان دنوں زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے بار بار توجہ

٧٢

کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ایک مانع دور کرنے کے بعد اس عاجز کے نکاح

"بدخیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہما سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔"

نتیجہ ...... مرزا قادیانی نے اپنے سچا یا جھوٹا سے ان کا سچ جھوٹ پرکھا جائے۔ پس اپریل ایک عزیز جناب سلطان محمد ساکن پٹی ضلع لاہ کے مطابق۔

مرزا قادیانی کی نظر بد سے اسے محفوظ رکھا۔ مرزا قادیانی کی زندگی میں اور اٹھائیس برس کا زمانہ پایا۔ مگر وہ مرزا قادیانی کے الہامی ن تقریباً نوے برس ہوئی۔ انتقال ١٩٦٦ء میں

تک زندہ رہا۔

سب کو خوش و خرم چھوڑ کر گیا۔

خدا نے تمام موانع دور کر کے اس

افسوس کہ خدا نے اس سلسلہ میں مرزا قادیان کوشش کی۔ مگر ناکام رہے۔ بالآخر ٢٦؍ مئی لے کر دنیا سے رخصت ہو گیا۔

مرزا قادیانی بدخیال لوگ ہیں۔

تھا اس کی پیشانی پر یہ قطعہ تحریر فرمایا۔

صفحہ ٦١٣

جلس میں ساٹھ ستر آدمیوں کے سامنے نبی کریم کو دجال کہنے

(حقیقت الوحی ص ٢٧٠ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٦)

رجوع کر لیا تھا تو مرزا قادیانی کو اس وقت اسی مجلس میں اعلان رجوع کر لیا ہے۔ اس لئے میری پیش گوئی میں کوئی فرق نہیں مرزا قادیانی کو بھی یقین نہیں تھا کہ یہ پوری ہوگی۔ تب ہی تو ملا گیا۔ وغیرہ!

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ١٧٨، روایت نمبر ١٦٠)

اعتراض کے جواب میں کہ تیری دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ قادیانی) کی بھی قبول نہیں ہوتی تھیں۔“

(الفضل مورخہ ٢؍جولائی ١٩٣٠ء)

را خط آتھم نہیں۔ بلکہ تمام عیسائی ہیں۔“ جیسا کہ مرزا قادیانی ٨٠) میں لکھا ہے۔ و تسلیم کر لیا ہے کہ فریق سے مراد صرف عبداللہ آتھم ہے: پیش گوئی کی تھی۔“

(کتاب البریہ ص ٢١، خزائن ج ١٣ ص ٤١ ملخص)

اف جھوٹی نکلی اور مرزا قادیانی یوں رسوا اور ذلیل ہوئے اور کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔“

(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)

اقادیانی نے الہامی پیش گوئی کا اشتہار دیا کہ : ”اس قادر ں (مرزا احمد بیگ) کی دختر کلاں (محترمہ محمدی بیگم) کے اس) نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ئے گی۔ وہ روزِ نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد گا۔ پھر ان دنوں زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے بار بار توجہ

کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے کہ مکتوب الیہ (یعنی احمد بیگ) کی دختر کلاں کو ہر ایک مانع دور کرنے کے بعد اسی عاجز کے نکاح میں لائے گا۔“

”بدخیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق و کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئیوں سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٧، ١٥٩)

نتیجہ ....... مرزا قادیانی نے اپنے سچا یا جھوٹا ہونے کی یہ بہت ہی آسان کسوٹی مقرر کی تھی۔ جس سے ان کا سچ جھوٹ پرکھا جائے۔ ٧؍اپریل ١٨٩٢ء کو احمد بیگ نے اپنی صاحبزادی کا نکاح اپنے ایک عزیز جناب سلطان محمد ساکن پٹی ضلع لاہور سے کر دیا۔ اب مرزا قادیانی کی الہامی پیش گوئی کے مطابق۔

مرزا قادیانی کی نظر بد سے اسے محفوظ رکھا۔ ٥٧ سال یہ جوڑا خوش و خرم آباد رہا۔ (١٦ برس تک مرزا قادیانی کی زندگی میں اور اکتالیس برس بعد تک) ١٩٤٩ء سے ١٩٦٦ء تک محمدی بیگم نے بیوگی کا زمانہ پایا۔ مگر وہ مرزا قادیانی کے الہامی شکنجے سے اکتالیس برس پہلے نکل چکی تھی۔ مرحومہ کی عمر تقریباً نوے برس ہوئی۔ انتقال ١٩٦٦ء میں ہوا۔

تک زندہ رہا۔

سب کو خوش و خرم چھوڑ کر گیا۔

خدا نے تمام مواقع دور کر کے اس عظیم خاتون کو مرزا قادیانی کے نکاح میں لانا تھا۔ مگر افسوس کہ خدا نے اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کی کوئی مدد نہ کی۔ مرزا قادیانی نے بذات خود خاصی کوشش کی۔ مگر ناکام رہے۔ بالآخر ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو مرزا ناکامی و محرومی کا داغ حسرت، سینے میں لے کر دنیا سے رخصت ہو گیا۔

مرزا قادیانی بدخیال لوگ ہیں۔

تھا اس کی پیشانی پر یہ قطعہ تحریر فرمایا۔

صفحہ ٦١٤
پیش گوئی کا جب انجام ہویدا ہوگا
قدرت حق کا عجب ایک تماشا ہوگا
سچ اور جھوٹ میں جو ہے فرق وہ پیدا ہوگا
کوئی پا جائے گا عزت اور کوئی رسوا ہوگا

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٣)

نتیجہ...... پیش گوئی کا انجام ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو (مرزا قادیانی کی موت کے دن) کھل کر سب کے سامنے آ گیا۔ قدرت حق کا عجب تماشا بھی اس دن سب نے دیکھ لیا کہ بیس سال کی مسلسل دوڑ دھوپ کوشش الہام بازی اور یقین دہانی کے باوجود مرزا قادیانی محمدی بیگم سے محروم ہو گئے۔ یوں سچ اور جھوٹ کا فرق کھل گیا۔ بتائیے کس کو عزت ملی اور کون رسوا ہوا؟ کون سچا نکلا اور کون جھوٹا؟

٣...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ نے اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)

٤...... مرزا قادیانی محمدی بیگم کے بارے میں الہامی پیش گوئی کر چکے تھے۔ مگر اس کے اولیاء نے پیش گوئی کے علی الرغم رشتہ دوسری جگہ طے کر دیا تو مرزا قادیانی کے سینے پر سانپ لوٹ گئے۔ مرزا قادیانی نے لڑکی کے پھوپھا جناب مرزا علی شیر بیگ صاحب کو (جو مرزا قادیانی کے نسبتی برادر اور سمدھی تھے) لکھتے ہیں: ”اب میں نے سنا ہے کہ عید کی دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے۔..... اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں۔ بلکہ میرے کیا دین کے سخت دشمن ہیں۔ عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں...... ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے دین کی کچھ پروا نہیں رکھتے۔ اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس کو خوار کیا جائے۔ روسیاہ کیا جائے۔ یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں۔ اب مجھ کو بچا لینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور مجھے بچائے گا اور چاہتے ہیں کہ خوار ہو اور یہ روسیاہ ہو۔ خدا بے نیاز ہے۔ جس کو چاہے روسیاہ کرے۔ مگر آپ تو مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔“ خط مرزا قادیانی بحوالہ کلمہ فضل رحمانی

٧٦

نتیجہ...... آہ! محمدی بیگم کے التفاتی و سرد مہری۔ افسوس! خو نکاح کی تلوار سے ان کا جگر شو ذلیل و خوار کر کے ان پر جگ مرزا اعلان کرتے ہیں کہ اگر بچایا۔ گویا خدا نے گواہی دے

٥...... سلطان محمد مقرب ہوئے کہا کہ خبر اڑ جائی سائ یا نہ مرنے کو اپنے سچا یا جھوٹ کہا کہ یہ قصہ یہیں ختم ہو گیا صرف اسی پر ختم ہوگئی، محمدی مرزا قادیانی کے حیلہ ء مقدم ٹال سکتا۔ یہ خدائے بزرگ خدا کی قسم جس نے حضرت حق ہے اور عنقریب تم اس ٹھہراتا ہوں اور میں نے کھا

نتیجہ...... مرزا قادیانی۔ سلطان محمد مرزا کی زندگی میں بھی مرزا قادیانی جھوٹے جناب سلطان محمد صاحب

٦...... سلطان محمد کی جزو پوری نہ ہوئی۔ ( بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعد ارادوں کو کوئی روک نہیں

صفحہ ٦١٥

نتیجہ...... آہ! محمدی بیگم کے لئے مرزا قادیانی کی بیقراری بے چینی اور ان کے اقرباء کی بے التفاتی و سردمہری۔ افسوس! خدا کے دشمن، رسول کے دشمن، دین کے دشمن، مرزا قادیانی کے دشمن، نکاح کی تلوار سے ان کا جگر شق کر رہے ہیں۔ مرزا قادیانی کو آتش فرقت میں ڈال رہے ہیں اور ذلیل وخوار کر کے ان پر جگ ہنسائی کا موقعہ فراہم کر رہے ہیں۔ مگر خدا مرزا کی کوئی مدد نہیں کرتا۔ مرزا اعلان کرتے ہیں کہ اگر میں اس کا ہوں تو مجھے ضرور بچائے گا۔ مگر خدا تعالیٰ نے انہیں نہیں بچایا۔ گویا خدا نے گواہی دے دی کہ مرزا قادیانی اس کی طرف سے نہیں۔

ہوئے کہا کہ خیر اڑھائی سال میں نہ سہی میری زندگی میں تو ضرور مرے گا اور میں اس کے مرنے یا نہ مرنے کو اپنے سچا یا جھوٹا ہونے کی کسوٹی قرار دیتا ہوں۔ لکھتے ہیں: ”پھر میں نے تم سے یہ نہیں کہا کہ یہ قصہ یہیں ختم ہو گیا ہے اور آخری نتیجہ بس یہی تھا جو ظہور میں آچکا اور پیش گوئی کی حقیقت صرف اسی پر ختم ہوگئی، نہیں! بلکہ اصل بات (سلطان محمد کا مرنا اور اس کی منکوحہ کا بیوہ ہو کر مرزا قادیانی کے حبالہ عقد میں آنا) اپنے حال پر قائم ہے اور کوئی شخص کسی حیلہ کے ساتھ اسے نہیں ٹال سکتا۔ یہ خدائے بزرگ کی طرف سے تقدیر مبرم ہے اور عنقریب اس کا وقت آئے گا۔ پس اس خدا کی قسم جس نے حضرت محمدﷺ کو مبعوث کیا اور آپ کو تمام مخلوق سے افضل بنایا۔ یہ پیش گوئی حق ہے اور عنقریب تم اس کا انجام دیکھ لو گے اور میں اس کو اپنے صدق اور کذب کے لئے معیار ٹھہراتا ہوں اور میں نے نہیں کہا۔ مگر بعد اس کے کہ مجھے اپنے رب کی جانب سے خبر دی گئی۔“

(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ٢٢٣)

نتیجہ...... مرزا قادیانی نے سلطان محمد کی موت کو اپنے صدق یا کذب کا معیار ٹھہرایا تھا۔ یعنی اگر سلطان محمد مرزا کی زندگی میں مرجائے تو مرزا قادیانی سچے ورنہ جھوٹے۔ مگر افسوس کہ اس معیار پر بھی مرزا قادیانی جھوٹے ہی ثابت ہوئے۔ کیونکہ مرزا قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو خود چل بسے اور جناب سلطان محمد صاحب ان کے بعد اکتالیس سال تک زندہ سلامت رہے۔

جزو پوری نہ ہوئی۔ (یعنی احمد بیگ کا داماد مرزا قادیانی کی زندگی میں نہ مرا۔ ناقل) تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔ وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)

صفحہ ٦١٦

نتیجہ....... چونکہ سلطان محمد صاحب کا انتقال مرزا قادیانی کی زندگی میں نہیں ہوا۔ اس لئے مرزا قادیانی بقول خود ہر بد سے بدتر ٹھہرے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ یہ پیش گوئی بقول مرزا قادیانی کے انسان کا افتراء اور کسی مفتری خبیث کا کاروبار تھا۔ اگر یہ خدا کا سچا وعدہ ہوتا تو ناممکن تھا کہ ٹل جاتا۔ کیونکہ رب ذوالجلال کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔ جو شخص اتنی موٹی بات کو بھی نہ سمجھے۔ مرزا قادیانی اسے احمق کا خطاب دیتے ہیں۔

کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ اسے ضرور پورا کرے گا۔“

(انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ٣١)

نتیجہ....... افسوس ! مرزا قادیانی کی زندگی میں احمد بیگ کا داماد نہیں مرا۔ اس لئے مرزا قادیانی کی یہ بات بالکل صحیح نکلی کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔

ہیں: ”اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ نے بھی پہلے سے پیش گوئی فرمائی ہوئی ہے۔ ’یتزوج ویولد له‘ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں۔ بلکہ تزوج سے مراد خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

نتیجہ....... مرزا قادیانی کو اس خاص نکاح اور خاص اولاد سے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ محروم رکھا۔ جس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ غلط ہے اور یہ کہ آنحضرت ﷺ کی پیش گوئی ان پر صادق نہیں آتی۔ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں ہے کہ جب وہ زمین پر دوبارہ نزول فرمائیں گے تو شادی بھی کریں گے اور ان کی اولاد بھی ہوگی۔ جو لوگ ان کی تشریف لانے کے منکر ہیں۔ انہی کے بارے میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔

تنبیہ....... اس پیش گوئی کے متعلق ہم بہت بحث کر چکے ہیں۔ مزید چند ایک الہام جو محمدی بیگم کے متعلق ہیں درج کرتے ہیں۔ چنانچہ عربی میں الہام یہ ہے۔

٧٨

تبديل لكلمات الله ان ربك فا ربك مقاماً محموداً‘ یعنی انہوں خدا تعالیٰ نے سب کے تدارک انجام کار اس کی اس لڑکی کو تمہاری طر رب وہ قادر ہے کہ جو چاہے وہی ہوجا

کے میرے نکاح میں آنا۔

اب آپ ایمان سے کہیں تھام کر سوچ لیں۔ کیا ایسی پیش گوئی ق

ایک اور الہام مرزا قادیانی نکاح محمدی بیگم کے ساتھ کر دیا۔ الہام

ص ٢٨٠ و تبلیغ سوم) پر بھی موجود ہے۔

نتیجہ....... مرزا قادیانی اس پیش گوئی جس کو اپنی صداقت کا نشان ٹھہرایا تھا او اس پیش گوئی میں چھ دعوے تھے۔ جن ثابت نہیں ہوا اور مرزا قادیانی ٢٦ مئی

صفحہ ٦١٧

تبدیل لکلمات اللہ ان ربک فعال لما یرید انت معی وانا معک عسی ان یبعثک ربک مقاماً محمودا“ ”یعنی انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور پہلے سے ہنسی کر رہے تھے۔ سو خدا تعالیٰ ان سے سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں تمہارا مددگار ہوگا اور انجام کار اس کی اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو چاہے وہی ہو جاتا ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٦ ، ٢٨٧، خزائن ج ٥ ص ٢٨٦ ، ٢٨٧)

کے میرے نکاح میں آنا۔

اب آپ ایمان سے کہیں کہ کیا یہ باتیں انسان کے اختیار میں ہیں اور ذرا اپنے دل کو تھام کر سوچ لیں۔ کیا ایسی پیش گوئی سچ ہونے کی حالت میں انسان کا فعل ہو سکتا ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

ایک اور الہام مرزا قادیانی کا سنئے! کہتے ہیں کہ: ”خدا نے مجھے کہا ہے کہ ہم نے تیرا نکاح محمدی بیگم کے ساتھ کر دیا۔ الہام یہ ہے۔ ”انا زوجنکھا“ (تذکرہ ص ٢٤٤، طبع سوم)

ص ٢٨٠، طبع سوم) پر بھی موجود ہے۔

جس کو اپنی صداقت کا نشان ٹھہرایا تھا وہ اس کے جھوٹے ہونے کا واضح اور کھلا نشان ثابت ہوا اور اس پیش گوئی میں چھ دعوے تھے۔ جن میں پورے طور پر جھوٹا ہوا۔ کوئی ایک دعویٰ بھی اس کا سچا ثابت نہیں ہوا اور مرزا قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو محمدی بیگم کے فراق میں چل بسا۔ اس کا حریف

صفحہ ٦١٨

سلطان محمد جو محمدی بیگم کا خاوند تھا جس کو بمطابق پیش گوئی مرزا اڑھائی سال میں مرنا تھا یا کم از کم مرزا قادیانی کی زندگی میں مرنا تھا بقیہ حیات رہا اور مرزا قادیانی کے مرنے کے چالیس سال بعد تک زندہ رہا۔ یعنی ١٩٤٨ء میں فوت ہوا اور محمدی بیگم جو مرزا قادیانی کے کذب کا کھلا نشان اور منہ بولتا ثبوت تھی۔ ١٩٦٥ء میں بحالت اسلام فوت ہوئی۔ بس خدا کو منظور ہی یہی تھا کہ اس دجال کو ذلیل ورسوا کیا جائے۔ اس کے بعد میں مرزائی حضرات کو دعوت دیتا ہوں کہ ایسے کذاب اور دجال انسان کو کہ جس نے انبیاء کو گالیاں دی ہوں علماء اسلام کو گالیاں دی ہوں اور جس کا کریکٹر ہی ایسا گندہ ہو کہ جو شریف انسان ہی ثابت نہ ہو سکے اور جس نے آنحضرت ﷺ پر بہتان عظیم باندھ کر اپنا ٹھکانا جہنم بنا لیا ہو۔ ایسے شخص کو چھوڑ دیں اور امام الانبیاء خاتم الانبیاء ﷺ سے وابستہ ہو جائیں ۔ تاکہ قیامت کے دن ذلیل رسوا نہ ہوں۔ اب میں آپ حضرات کے سامنے اس ختم نبوت کے ڈاکو مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی کذاب و دجال کی سیرت و کریکٹر پر چند حوالہ جات انہی کی کتب سے درج کرتا ہوں۔ تا کہ حقیقت بالکل واضح ہو جائے۔

مرزا قادیانی کی ذات پر ایک نظر

”اب میرے سوانح اس طور پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد ، میرے والد کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا صاحب کا نام گل محمد صاحب تھا اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کہ ہماری قوم مغل برلاس ہے اور میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے جو اب تک محفوظ ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے تھے۔“

(کتاب البریہ ص ١٣٤، خزائن ج ١٣ ص ١٦٢)

اس کے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی جو اس (مرزا قادیانی) سے پہلے نکلے گی اور وہ اس کے بعد نکلے گا اور اس کا سر دختر کے پیروں سے ملا ہوا ہو گا : ”یعنی دختر معمولی طور سے پیدا ہوگی کہ پہلے سر نکلے گا اور پھر پیر اور اس کے پیروں کے بعد بلا توقف اس پسر کا سر نکلے گا۔ جیسا کہ میری ولادت اور میری توام ہمشیرہ کی اسی طرح ظہور میں آئی۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٨، خزائن ج ١٥ ص ٣٨٢، ٣٨٣)

”میں توام پیدا ہوا تھا اور میرے ساتھ ایک لڑکی تھی جس کا نام جنت تھا اور یہ الہام کہ

”یا آدم اسكن انت وزوجك الـ درج ہے۔ اس میں جو جنت کا لفظ ہے ساتھ پیدا ہوئی اس کا نام جنت تھا اور

”اس مریم (مرزا قادیا پھونکنے کے بعد اس مریم سے عیسیٰ پید گزرا اور پھر جب وہ مریم کی حالت خد پھونکی گئی۔ اس روح پھونکنے کے بعد ع

”اور درحقیقت میرے اور جانتی اور مجھے خدا سے ایک نہانی تعلق

”حضرت مسیح موعود نے آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گو فرمایا۔ سمجھنے والے کے لئے اشارہ کا

”مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور عیسیٰ بنایا گیا۔ دردزہ مجھ کو کھجور کی طر

”بابو الہی بخش چاہتا ہے خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھا ہے۔ ایسا بچہ جو بمنزل اطفال اللہ

صفحہ ٦١٩

”ياآدم اسکن انت وزوجك الجنۃ“ جو آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ ص ٤٩٦ میں درج ہے۔ اس میں جو جنت کا لفظ ہے۔ اس میں یہ ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ لڑکی کہ جو میرے ساتھ پیدا ہوئی اس کا نام جنت تھا اور یہ لڑکی صرف سات ماہ تک زندہ رہ کر فوت ہوگئی تھی۔“

(تریاق القلوب ص١٥٦، ١٥٧ خزائن ج ١٥ص٢٧٩)

نمبر: ٤...... مریم سے عیسیٰ

”اس مریم (مرزا قادیانی) میں خدا تعالیٰ کی طرف سے روح پھونکی گئی اور روح پھونکنے کے بعد اس مریم سے عیسیٰ پیدا ہو گیا...... کیونکہ ایک زمانہ میرے پر صرف مریمی حالت کا گزرا اور پھر جب وہ مریمی حالت خدا تعالیٰ کو پسند آگئی تو پھر مجھ میں اس کی طرف سے ایک روح پھونکی گئی۔ اس روح پھونکنے کے بعد میں مریمی حالت سے ترقی کر کے عیسیٰ بن گیا۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٩، خزائن ج ٢١ص ٣٦١)

نمبر: ٥...... خدا سے نہانی تعلق

”اور درحقیقت میرے اور میرے خدا کے درمیان ایسے باریک راز ہیں جن کو دنیا نہیں جانتی اور مجھے خدا سے ایک نہانی تعلق ہے جو قابل بیان نہیں۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٦٣، خزائن ج ٢١ص ٨١)

نمبر: ٦...... رجولیت کی طاقت

”حضرت مسیح موعود نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا۔ سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔“

(اسلامی قربانی ص ١٢، ٹریکٹ نمبر ٣٤)

نمبر: ٧...... دس ماہ حالت حمل

”مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخری مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں۔ مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ درد زہ مجھے کھجور کی طرف لے آئی۔“

(کشتی نوح ص ٤٧، ٤٨، خزائن ج ١٩ص٥٠، ٥١)

نمبر: ٨...... حیض سے بچہ

”بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ بن گیا ہے۔ ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨٨)

٨١

صفحہ ٦٢٠

اب مزید کچھ وضاحت کی ضرورت نہیں۔ حوالہ جات سے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ مرزا قادیانی عورت تھے اور مرزا قادیانی کو حمل ہو گیا اور جیسے حمل ہوا حوالہ جات سے ظاہر ہے۔ ماشاءاللہ! یہ مرزائیوں کے نبی ہیں۔

نمبر:٩...... جائے نفرت

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ١٢٧)

مرزا قادیانی مسیلمہ کذاب پنجاب کہتے ہیں کہ میں آدم کی اولاد سے نہیں ہوں۔ اگر آدم کی اولاد سے نہیں تو نبی کیسے بن گیا؟۔ جبکہ جتنے نبی آئے ہیں آدم علیہ السلام کی اولاد سے تھے۔ اچھا اگر یہ آدم کی اولاد سے ہے تو اس نے جھوٹ بولا ہے۔ اور جھوٹ بولنے والا دجال تو ہو سکتا ہے۔ لیکن نبی نہیں ہو سکتا۔ تو بقول اسی دجال کے اس کی کسی بات پر بھی اعتبار نہیں رہتا اور ان الفاظ کو کہ ہوں بشری کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار۔ ان الفاظ کی تشریح مرزائی خود ہی کر دیں کہ وہ بدن انسانی میں سے کون سا مقام ہے جو مرزا قادیانی مسیلمہ پنجاب نے اپنا لقب پسند کیا ہے؟ ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی۔

دیکھنا صیاد آنکھیں کھول کر
تیر کا تیرے نشانہ کون ہے

نمبر:١٠...... بچپن کا واقعہ

”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت (مرزا) قادیانی سناتے تھے کہ جب میں بچہ ہوتا تھا تو ایک دفعہ بعض بچوں نے مجھے کہا کہ جاؤ گھر سے میٹھا لاؤ۔ میں گھر میں آیا اور بغیر کسی سے پوچھنے کے ایک برتن میں سے سفید بورا (چینی) اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی۔ پس پھر کیا تھا میرا دم رک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی۔ کیونکہ معلوم ہوا کہ جسے میں نے سفید بورا سمجھ کر جیبوں میں بھرا تھا وہ بورا نہ تھا بلکہ پسا ہوا نمک تھا۔“

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص ٢٣٣، روایت نمبر ٢٤٢)

نمبر:١١...... سقاوہ کی ٹونٹی

”اگر کبھی اتفاق سے ان سے (مرزا غلام احمد قادیانی کے والد غلام مرتضیٰ سے) کوئی دریافت کرتا کہ مرزا غلام احمد کہاں ہے؟ تو وہ یہ جواب دیتے تھے کہ مسجد میں جاکر سقاوہ کی ٹونٹی

٨٢

میں تلاش کرو۔ اگر وہاں نہ ملے تو باہر گوشہ میں تلاش کرنا اگر وہاں بھی نہ دیکھنا کہ کوئی اس کو لپیٹ کر کھڑا کر گی میں لپیٹ دے تو وہ آگے سے حرکت حضرت مسیح موعود کے حض

نمبر:١٢...... مرزا قادیانی کے

”حضرت مسیح موعود علی چوہا آپ کے سامنے سے نکلتا ۔ آ جاتے۔ پھر کوئی ٹکڑا اٹھا کر منہ میں ڈ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام صاحب یہ تلاش کرتے ہیں کہ ان کی نہیں۔“ (مرزا محمود احمد قادیانی کا خطبہ ج

مجلہ سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ١٣٠، ١٣١)

نمبر:١٣...... مرغوبات مرزا

بیان کیا مجھ سے والدہ صا دفعہ بچپن میں حضرت صاحب نے ای کوئی چیز شاید گڑ بتایا کہ یہ لے لو۔ حضر بتائی۔ حضرت صاحب نے اس پر کھ تھیں۔ سختی سے کہنے لگیں کہ جاؤ پھر د گئے اور گھر میں ایک لطیفہ ہو گیا۔“

نمبر:١٤...... جیب سے مٹی ک

آپ کو شیرینی سے بہت زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وق رکھ لیا کرتے تھے۔“

صفحہ ٦٢١

میں تلاش کرو۔ اگر وہاں نہ ملے تو مایوس ہو کر واپس مت آنا۔ مسجد کے اندر چلے جانا اور وہاں کسی گوشہ میں تلاش کرنا اگر وہاں بھی نہ ملے تو پھر بھی ناامید ہو کر واپس لوٹ مت آنا۔ کسی صف میں دیکھنا کہ کوئی اس کو لپیٹ کر کھڑا کر گیا ہوگا۔ کیونکہ وہ تو زندگی میں مرا ہوا ہے اور اگر کوئی اسے صف میں لپیٹ دے تو وہ آگے سے حرکت بھی نہیں کرے گا۔“

حضرت مسیح موعود کے مختصر حالات ص٧٧ مرتبہ معراج الدین (عمر احمدی) ملحقہ۔

(براہین احمدیہ چہارم حصص قدیم)

نمبر:١٢......مرزا قادیانی کے روٹی کھانے کا طریقہ

”حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب آپ اٹھتے تو روٹی کے ٹکڑوں کا بہت سا چورہ آپ کے سامنے سے نکلتا۔ آپ کی عادت تھی کہ روٹی توڑتے اور اس کے ٹکڑے کرتے جاتے۔ پھر کوئی ٹکڑا اٹھا کر منہ میں ڈال لیتے اور باقی ٹکڑے دستر خوان پر رکھے رہتے۔ معلوم نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایسا کیوں کیا کرتے تھے۔ مگر کئی دوست کہا کرتے کہ حضرت صاحب یہ تلاش کرتے ہیں کہ ان کی روٹی کے ٹکڑوں میں کون سا تسبیح کرنے والا ہے اور کون سا نہیں ۔“ (مرزا محمود احمد قادیانی کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج٢٣ نمبر١٠٥ مورخہ ٣ مارچ ١٩٣٥ء،

ملخصاً سیرۃ المہدی حصہ دوم ص١٤٠،١٤١)

نمبر:١٣......مرغوبات مرزا

بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ بعض بوڑھی عورتوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ بچپن میں حضرت صاحب نے اپنی والدہ سے روٹی کے ساتھ کچھ کھانے کو مانگا۔ انہوں نے کوئی چیز شاید گڑ بتایا کہ یہ لے لو۔ حضرت نے فرمایا کہ نہیں میں یہ نہیں لیتا۔ انہوں نے کوئی اور چیز بتائی۔ حضرت صاحب نے اس پر بھی وہی جواب دیا۔ وہ اس وقت کسی بات پر چڑی ہوئی بیٹھی تھیں۔ سختی سے کہنے لگیں کہ جاؤ پھر راکھ سے روٹی کھا لو۔ حضرت صاحب روٹی پر راکھ ڈال کر بیٹھ گئے اور گھر میں ایک لطیفہ ہو گیا۔“

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص٢٤٥ روایت نمبر٢٦٥)

نمبر:١٤......جیب سے مٹی کے ڈھیلے اور گڑ

آپ کو شیرینی سے بہت پیار ہے اور مرض بول بھی عرصہ سے آپ کو لگی ہوئی ہے۔ اس زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں ہی رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے۔“

(حضرت مسیح موعود کے مختصر حالات ملحقہ براہین ص٦٧)

٨٣

صفحہ ٦٢٢

نمبر: ١٥...... افیون

افیون دواؤں میں کثرت سے استعمال ہوتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا قادیانی) فرمایا کرتے تھے کہ بعض اطباء کے نزدیک وہ نصف طب ہے۔ پس دواؤں کے ساتھ افیون کا استعمال بطور دوا نہ کہ بطور نشہ کسی رنگ میں بھی قابل اعتراض نہیں۔ ہم میں سے ہر ایک شخص نے علم کے ساتھ یا بغیر علم کے ضرور کسی نہ کسی وقت افیون کا استعمال کیا ہوگا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تریاق الٰہی (دوا) خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا ایک بڑا جزو افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اوّل (حکیم نور الدین) کو حضور (مرزا قادیانی) چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوروں کے وقت استعمال کرتے رہے۔“

(مضمون مرزا محمود احمد مندرجہ اخبار الفضل ج ١٧ نمبر ٧٦ مورخہ ١٩؍ جولائی ١٩٢٩ء بحوالہ قادیانی مذہب)

نمبر: ١٦...... انگلی پر چھری پھیر دینا

”خاکسار (مرزا بشیر احمد) کے ماموں ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ گھر میں ایک مرغی کے چوزے کو ذبح کرنے کی ضرورت پیش آئی اور اس وقت گھر میں کوئی اور اس کام کو کرنے والا نہ تھا۔ اس لئے حضرت (مرزا قادیانی) اس چوزہ کو ہاتھ میں لے کر خود ذبح کرنے لگے۔ مگر بجائے چوزہ کی گردن پر چھری پھیرنے کے غلطی سے اپنی انگلی کاٹ ڈالی۔ جس سے بہت خون بہہ گیا اور آپ توبہ توبہ کرتے ہوئے چوزہ کو چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور پھر وہ چوزہ کسی اور نے ذبح کیا...... حضرت مرزا قادیانی نے چونکہ کبھی جانور وغیرہ ذبح نہ کئے تھے اس لئے بجائے چوزہ کی گردن کے انگلی پر چھری پھیر لی۔“

(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ٤٤ روایت نمبر ٣٠٧)

نمبر: ١٧...... دایاں ہاتھ

”بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے نے کہ ایک دفعہ والد صاحب (مرزا غلام احمد) اپنے چوبارے کی کھڑکی سے گر گئے اور دائیں بازو پر چوٹ آئی۔ چنانچہ آخر عمر تک وہ ہاتھ کمزور رہا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ آپ کھڑکی سے اترنے لگے تھے۔ سامنے اسٹول رکھا تھا وہ الٹ گیا اور آپ گر گئے اور دائیں ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور یہ ہاتھ آخر عمر تک کمزور رہا۔ اس ہاتھ سے آپ لقمہ تو منہ تک لے جاسکتے تھے مگر پانی کا برتن وغیرہ منہ تک نہیں اٹھاسکتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ نماز میں

٨٤

کبھی آپ کو دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ

نمبر: ١٨...... دندان مبارک

”دندان مبارک آ تھے۔ یعنی کیڑا بعض ڈاڑھوں کو ایک داڑھ کا سرا اتنا نوک دار گھسوا کر برابر کروایا تھا۔ مگر ک (شاید دیر میں شروع کی ہو گی

نمبر: ١٩...... چشم نیم ب

”مولوی شیر علی آپ کی آنکھیں ہمیشہ نیم بند فوٹوگرافر آپ سے عرض کر اور آپ نے اس کے کہنے پر بند ہو گئیں۔“

نمبر: ٢٠...... لباس مرز

”آپ کا لباس صدری اور پاجامہ گرمیوں موافق نہ تھی۔ اس لئے آپ کو تھا۔ بجائے گرم کرنے کے سردی کی زیادتی کے دنوں جرابیں آپ سردیوں میں دو جرابیں اوپر تلے چڑھا کبھی تو سرا آگے لٹکتا رہت سیدھی دوسری الٹی۔

صفحہ ٦٢٣

بھی آپ کو دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے سہارے سے سنبھالنا پڑتا تھا۔“

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ٤٦، ٤٧، روایت نمبر ١٨)

نمبر:١٨....... دندان مبارک

”دندان مبارک آپ کے (مرزاغلام احمد قادیانی کے) آخر عمر میں کچھ خراب ہوگئے تھے۔ یعنی کیڑا بعض ڈاڑھوں کو لگ گیا تھا۔ جس سے کبھی کبھی تکلیف ہو جاتی تھی۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک داڑھ کا سرا ایسا نوک دار ہو گیا تھا کہ اس سے زبان میں زخم پڑ گیا تھا۔ تو ریتی کے ساتھ اس کو گھسوا کر برابر کرایا تھا۔ مگر کبھی کوئی دانت نکلوایا نہیں۔ مسواک آپ اکثر فرمایا کرتے تھے۔“ (شاید دیر میں شروع کی ہوگی ورنہ کیڑا نہ لگتا۔ مؤلف!)

(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ١٢٥، روایت نمبر ٤٣٤)

نمبر:١٩....... چشم نیم باز

”مولوی شیر علی نے بیان کیا کہ (باہر مردوں میں بھی مرزا قادیانی کی یہ عادت تھی کہ آپ کی آنکھیں ہمیشہ نیم بند رہتی تھیں) ایک دفعہ مرزا قادیانی مع چند خدام کے فوٹو کھچوانے لگے تو فوٹو گرافر آپ سے عرض کرتا تھا کہ حضور ذرا آنکھیں کھول کر رکھیں۔ ورنہ تصویر اچھی نہیں آئے گی اور آپ نے اس کے کہنے پر ایک دفعہ تکلیف کے ساتھ آنکھوں کو کچھ کھولا بھی مگر وہ پھر اسی طرح بند ہوگئیں۔“

(سیرۃ المہدی حصہ دوّم ص ٧٧، روایت نمبر ٤٠٤)

نمبر:٢٠....... لباس مرزا

”آپ کا لباس آخر عمر میں چند سال سے بالکل گرم وضع کا ہی رہتا تھا۔ یعنی کوٹ اور صدری اور پاجامہ گرمیوں میں بھی گرم رکھتے تھے اور یہ علالت طبع کے باعث تھا۔ سردی آپ کو موافق نہ تھی۔ اس لئے اکثر گرم کپڑے رکھا کرتے تھے۔ البتہ گرمیوں میں نیچے کرتا ململ کا رہتا تھا۔ بجائے گرم کرتے کے صدری گھر میں اکثر پہنے رہتے۔ مگر عموماً باہر جاتے وقت ہی پہنتے اور سردی کی زیادتی کے دنوں میں اوپر تلے دو دو کوٹ بھی پہنا کرتے۔ بلکہ بعض اوقات پوستین بھی۔ جرابیں آپ سردیوں میں استعمال فرماتے اور ان پر مسح فرماتے ۔ بعض اوقات زیادہ سردی میں دو دو جرابیں اوپر تلے چڑھا لیتے۔ مگر بارہا جراب اس طرح پہن لیتے کہ وہ پیر تک ٹھیک نہ چڑھتی۔ کبھی تو سرا آگے لٹکتا رہتا اور کبھی جراب کی ایڑی کی جگہ پیر کی پشت پر آجاتی اور کبھی ایک جراب سیدھی دوسری الٹی۔

(سیرۃ المہدی حصہ دوّم ص ١٢٦ ، ١٢٧ ، روایت نمبر ٤٣٤)

٨٥

صفحہ ٦٢٣

نمبر : ٢١...... الٹے بٹن کاج میں، الٹی جراب

”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جسمانی عادات میں ایسے سادہ تھے کہ بعض دفعہ جب حضور جراب پہنتے تھے تو بے توجہی کے عالم میں اس کی کھری پاؤں کے تلے کی طرف نہیں بلکہ اوپر کی طرف ہو جاتی تھی اور بارہا ایک کاج بٹن دوسرے کاج میں لگا ہوا ہوتا تھا اور بعض اوقات دایاں پاؤں بائیں میں ڈال لیتے تھے اور بایاں دائیں میں ۔ اسی طرح کھانا کھانے کا یہ حال تھا کہ خود فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں تو اس وقت پتہ لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں ۔ جب کھاتے کھاتے کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت کے نیچے آجاتا ہے۔“

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ٥٨ ، روایت نمبر ٤٧٥)

نمبر : ٢٢...... الٹی گرگابی

”ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لئے گرگابی لے آیا اور آپ نے پہن لی۔ مگر اس کے الٹے اور سیدھے پاؤں کا پتہ نہیں چلتا تھا۔ کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے...... والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی سہولت کے لئے الٹے سیدھے پاؤں کی شناخت کے لئے نشان لگا دیئے تھے۔ باوجود اس کے آپ الٹے سیدھے پہن لیتے تھے۔“

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ٦٧، روایت نمبر ٨٣)

نمبر : ٢٣...... صدری کے بٹن کوٹ میں

”بارہا دیکھا گیا کہ بٹن اپنا کاج چھوڑ کر دوسرے ہی میں لگے ہوتے تھے۔ بلکہ صدری کے بٹن کوٹ کے کاجوں میں لگائے گئے دیکھے گئے ۔“

(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ١٢٦، روایت نمبر ٤٣٤)

نمبر : ٢٤......

”اگر ایک جراب کہیں سے پھٹ جاتی تو مسح جائز رکھتے ...... جوتی اگر تنگ ہوتی تو ایڑی بٹھا لیتے ۔“

(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ١٢٧، ١٢٨، روایت نمبر ٤٣٤)

نمبر : ٢٥...... گھڑی دیکھنا

”بیان کیا مجھ سے عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ کسی شخص نے حضرت کو ایک جیبی گھڑی تحفہ دی ۔ حضرت صاحب اس کو رومال میں باندھ کر جیب میں رکھتے تھے۔ زنجیر نہیں لگاتے تھے اور جب وقت دیکھنا ہوتا تھا تو گھڑی نکال کر ایک کے ہندسے یعنی عدد سے گن کر وقت کا پتہ لگاتے تھے اور انگلی رکھ کر ہندسہ گنتے تھے اور منہ سے بھی گنتے جاتے تھے۔ میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ آپ کا جیب سے گھڑی نکال کر اس طرح وقت شمار کرنا مجھے بہت ہی پیارا

٨٦

معلوم ہوتا تھا ۔“

نمبر : ٢٦...... مرزا قادیانی

” مجھے دو مرض دامن دوران خون کم ہو کر ہاتھ پیر س پیشاب کثرت سے آتا اور اک

نمبر : ٢٧...... سو دفعہ

”میں ایک دائم ال دل کی بیماری دورہ کے ساتھ پ اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب

نمبر : ٢٨......

”مجھے مرض ذیابیطس تھا ۔“ (نزول المسیح ص ٢٢٣، خزائن ج الوحی ص ٣٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ٣٧

مرزائیوں سے ایک سوال

یہ انسان کا بچہ تھا یا م واٹر ٹینک کی ضرورت نہ ہوتی ت کر جاؤ ۔ واہ رے خرد چال تیر شاعر اہل سنت اللہ دتہ صاحب

نالے کچھ چ
لکھدے ۔
مٹی دے ڈ
کدی بھل ن
صفحہ ٦٢٥

معلوم ہوتا تھا۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ١٨٠، روایت نمبر ١٦٥)

نمبر: ٢٦...... مرزا قادیانی اور کثرت پیشاب

”مجھے دو مرض دامن گیر ہیں۔ ایک جسم کے اوپر کے حصہ میں کہ سر درد اور دوران سر اور دوران خون کم ہو کر ہاتھ پیر سرد ہو جانا، نبض کم ہو جانا اور دوسرے جسم کے نیچے کے حصہ میں کہ پیشاب کثرت سے آنا اور اکثر دست آتے رہنا۔ یہ دونوں بیماریاں قریب تیس برس سے ہیں۔“

(نسیم دعوت ص ٦٨، خزائن ج ١٩ ص ٣٣٥)

نمبر: ٢٧...... سو دفعہ پیشاب

”میں ایک دائم المرض آدمی ہوں...... ہمیشہ درد سر اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے۔ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔“

(ضمیمہ اربعین نمبر ٣ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧١، ٤٧٢)

نمبر: ٢٨......

”مجھے مرض ذیابیطس کے سبب بہت تکلیف تھی کئی دفعہ سو سو مرتبہ دن میں پیشاب آتا تھا۔“ (نزول مسیح ص ٤٣، خزائن ج ١٨ ص ٤١٣، ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٠١، خزائن ج ٢١ ص ٣٧٣، حقیقت الوحی ص ٣٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣٧٧)

مرزائیوں سے ایک سوال

یہ انسان کا بچہ تھا یا میونسپل کمیٹی کا واٹر ٹینک؟ قادیان کی میونسپل کمیٹی کو چھڑکاؤ کے لئے واٹر ٹینک کی ضرورت نہ ہوتی ہوگی۔ جہاں ضرورت پڑتی مرزا قادیانی کو بلاتے کہ آؤ پیشاب کر جاؤ۔ واہ رے خر دجال تیرے سے کیا کہنے۔ مرزائیوں کو مبارک ہو۔ اب اس کی مختصر تشریح شاعر اہل سنت اللہ دتہ صاحب شتر کی زبانی پنجابی اشعار میں ملاحظہ کیجئے:

نالے کچھ بچیاں دے وانگوں مڑ مڑ کے گڑ بھی کھاندا سی
کہندے نے مرزا صاحب نوں پیشاب زیادہ اندا سی
مٹی دے ڈھیلے گڑ بھی کٹھے جیباں وچ رکھی رہندا سی
کدی بھل کے مٹی دے روڑے گڑ سمجھ کر منہ وچ پاندا سی

٨٧

صفحہ ٦٢٦
گڑنال پیشاب سکایا ہے لا حول ولا لا حول ولا
اینوں کس نے نبی بنایا ہے لا حول ولا لا حول ولا

نمبر:٢٩...... مراق مرزا

”دیکھو میری بیماری کی نسبت آنحضرت ﷺ نے بھی پیش گوئی کی تھی جو اس طرح ظہور میں آئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر ہے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوں گی تو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی یعنی مراق اور کثرت بول۔“ (ارشاد مرزا قادیانی مندرجہ ضمیمہ الاذہان قادیان ماہ جون ١٩٠٦ء، اخبار

بدر قادیان ج٢ نمبر ٢٣، مورخہ ١٩٠٦ء ص ٥، ملفوظات ج ٨ ص ٤٤٥)

نمبر:٣٠...... مصروفیت اور مراق

”میرا تو حال یہ ہے کہ دو بیماریوں میں ہمیشہ مبتلا رہتا ہوں۔ تاہم آج کل کی مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کر کے بڑی بڑی رات تک بیٹھا اس کام کو کرتا رہتا ہوں۔ حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی ہے اور دوران سر کا درد زیادہ ہو جاتا ہے۔ تاہم میں اس بات کی پروا نہیں کرتا اور اس کام کو کئے جاتا ہوں۔“

(ارشاد مرزا مندرجہ اخبار الحکم قادیان ج ٥ نمبر ٤٠، مورخہ ١٤ اکتوبر ١٩٠١ء، ملفوظات ج ٢ ص ٣٧٦)

نمبر:٣١......

”باوجود یکہ مجھے اسہال کی بیماری ہے اور ہر روز کئی کئی دست آتے ہیں۔ مگر جس وقت پاخانے کی بھی حاجت ہوتی ہے تو مجھے افسوس ہی ہوتا ہے کہ ابھی کیوں حاجت ہوئی؟ اسی طرح جب روٹی کھانے کے لئے کئی مرتبہ کہتے ہیں تو بڑا جبر کر کے جلد جلد چند لقمے کھا لیتا ہوں۔ بظاہر تو میں روٹی کھاتا ہوا دکھائی دیتا ہوں۔ مگر میں سچ کہتا ہوں کہ مجھے پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کہاں جاتی ہے اور کیا کھا رہا ہوں۔ میری توجہ اور خیال اسی طرف لگا ہوا ہوتا ہے۔“ (یعنی پیشاب کرنے کی طرف۔ للمؤلف!)

نمبر:٣٢...... مراقی نبی نہیں ہو سکتا

کہ: یہ بات تو بالکل جھوٹا منصوبہ ہے اور یا کسی مراقی عورت کا وہم۔“

(کتاب البریہ ص ٢٣٨، خزائن ج ١٣ ص ٢٧٤ حاشیہ)

٨٨

متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو کے لئے کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں عمارت کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیتی ہے۔“

جذبات اور خیال پر قابو نہیں رہتا۔“

غیب دان سمجھتا ہے اور اکثر ہوئے یہاں تک ترقی کر جاتا ہے کہ اس کو الہـ

(شرح اسبـ

باتیں کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تلقین

نمبر:٣٣...... تعلیم مرزا

”بچپن کے زمانہ میں مـ ایک قاری خواں معلم میرے لئے مـ مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام عربی خواں مولوی صاحب میری تربیـ

نمبر:٣٤...... ناکامی کا داغ

”چونکہ مرزا قادیانی ملاز امتحان کی تیاری شروع کر دی اور بـ ہوئے اور کیوں کر ہوتے؟ وہ دنیوی

صفحہ ٦٢٧

متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا یا مالیخولیا یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایک ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیتی ہے۔

جذبات اور خیال پر قابو نہیں رہتا۔"

(ریویو ص ٦، ماہ اگست ١٩٢٦ء)

(ریویو بابت ماہ مئی ١٩٢٧ء)

غیب دان سمجھتا ہے اور اکثر ہونے والے امور کی پہلے ہی خبر دیتا ہے...... اور بعض میں یہ فساد یہاں تک ترقی کر جاتا ہے کہ اس کو اپنے متعلق یہ خیال ہوتا ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔"

(شرح اسباب والعلامات امراض مصنفہ برہان الدین نفیس بحوالہ قادیانی مذہب)

باتیں کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تبلیغ کرتا ہے۔"

(اکسیر اعظم جلد اول ص ١٨٨)

نمبر:٣٣...... تعلیم مرزا

"بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن وحدیث اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الہیٰ تھا اور جب میری عمر قریباً دس برس کی ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔"

(کتاب البریہ ص ١٤٨، ١٤٩، خزائن ج ١٣ ص ١٧٩، ١٨٠)

نمبر:٣٤....... ناکامی کا داغ

"چونکہ مرزا قادیانی ملازمت کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ اس واسطے آپ نے مختاری کے امتحان کی تیاری شروع کر دی اور قانونی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا۔ پر امتحان میں کامیاب نہ ہوئے اور کیوں کر ہوتے؟ وہ دنیوی اشغال کے لئے بنائے نہیں گئے تھے۔"

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ١٥٦، روایت نمبر ١٥٢)

٨٩

صفحہ ٦٢٨

نمبر: ٣٥...... مرزا کی جوانی مستانی

”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلے گئے ۔ جب آپ نے پنشن وصول کرلی تو آپ کو پھسلا کر دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔ پھر جب آپ نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے اور چونکہ تمہارے دادا کا منشا رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں۔ اس لئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہو گئے۔ والدہ صاحب بیان کرتی ہیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہمیں چھوڑ کر پھر مرزا امام الدین ادھر ادھر پھرتا رہا۔ آخر اس نے چارے کے ایک قافلہ پر ڈاکہ مارا اور پکڑا گیا۔ مگر مقدمہ میں رہا ہو گیا۔“

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٤٣، روایت نمبر ٤٩)

اس حوالہ کی مختصر تشریح میرے استاذ المکرم مناظر اعظم قاطع مرزائیت علامہ منظور احمد صاحب چنیوٹی کی زبانی سنئے: ”واضح ہو کہ مرزا قادیانی کی عمر اس وقت ٢٤، ٢٥ سال تھی۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی نے خود لکھا ہے کہ میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی اور میں ١٨٥٧ء میں سولہ برس کا یا سترھویں برس میں تھا۔“

(کتاب البریہ حاشیہ ص ١٤٦، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧)

اور تاریخ ملازمت حسب تحریر (سیرۃ المہدی ص ١٥٤، روایت نمبر ١٥٠، ١٨٦٤ء) ہے۔ نیز: ”واضح ہو کہ یہ پنشن کی رقم معمولی رقم نہ تھی۔ بلکہ سات صد روپیہ تھی جو آج کل کے ساٹھ لاکھ کے برابر ہے۔“

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ١٣١، روایت نمبر ١٤٢)

اب مرزا قادیانی کی عمر کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور اتنی خطیر رقم بھی ذہن میں رکھتے ہوئے الفاظ پر غور فرمائیں کہ اتنی رقم کہاں کہاں خرچ ہوئی۔ کیا حضرت صاحب اس وقت بچے تھے کہ وہ آپ کو بہلا پھسلا کر اور دھوکہ دے کر کہیں اور لے گیا اور ادھر ادھر پھرانے کا کیا مطلب؟ غور فرمائیں کہ یہ لفظ کہاں کہاں کی غمازی کرتا ہے۔ پھر یہ بھی سوچیں کہ روپیہ کوئی نیک کام میں کسی مسجد و مدرسہ میں خرچ نہیں ہوا۔ بلکہ اڑا گیا اور اڑانا وہاں ہی بولا جاتا ہے جہاں کار خیر نہ ہو۔

ہم مرزائیوں سے سوال کرتے ہیں کہ آپ اس سات صد روپیہ کا حساب دیں کہ کہاں کہاں خرچ ہوا؟ بصورت دیگر آپ کے نبی کی عصمت باقی نہیں رہتی۔

٩٠

نمبر: ٣٦...... ٹیچی ٹیچی فرشتہ

”٥ / مارچ ١٩٠٥ء کو میں سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ کہا کچھ نہیں۔ میں نے کہا آخر کچھ وقت مقررہ کو کہتے ہیں۔ یعنی عین ضرو

ایک دوسری جگہ مرزا قا ہے۔“

تو بقول مرزا قادیانی ہے کہ میرا نام کچھ نہیں اور دوسری مرتبہ غلط۔ اور اگر نام صحیح بتایا ہے تو پہلے کہ نہیں ہو سکتا۔ جس پر جھوٹا فرشتہ آئے نے اپنی طرف سے فرضی نام بتا

نمبر: ٣٧...... انگریزی فرشتہ

شکل انگریزوں کی تھی اور میز کرس خوبصورت ہیں۔ اس نے کہا کہ ہاں

اس وقت ایک ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہو

نمبر: ٣٨...... مرزا شرابی تھا

”مرزا قادیانی ایک ٹانک دینے والا شراب) تھا اور ایک موقع اسے بھیج دے۔ دوسرے ایک یا دو

صفحہ ٦٢٩

نمبر: ٣٦...... ٹچی ٹچی فرشتہ

’’٥؍مارچ ١٩٠٥ء کو میں نے خواب دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا میں نے اس کا نام پوچھا۔ اس نے کہا کچھ نہیں۔ میں نے کہا آخر کچھ نام تو ہو گا۔ اس نے کہا میرا نام ہے ٹچی ٹچی۔ پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں۔ یعنی عین ضرورت کے وقت آنے والا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦)

ایک دوسری جگہ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ’’حق کو چھپانا بے ایمانوں اور لعنتیوں کا کام ہے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٢٤، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٢)

تو بقول مرزا قادیانی سچی بات کو چھپانے والا لعنتی ہے تو مرزا قادیانی کے فرشتہ نے کہا کہ میرا نام کچھ نہیں اور دوسری مرتبہ ٹچی ٹچی کہا۔ اگر پہلی بات ٹھیک ہے تو دوسری بات یعنی نام غلط۔ اور اگر نام صحیح بتایا ہے تو پہلے کہا کہ کچھ نہیں۔ ایک بات غلط ہے تو ایسا چالاک اور جھوٹا فرشتہ نہیں ہو سکتا۔ جس پر جھوٹا فرشتہ آئے وہ دجال تو ہو سکتا ہے لیکن نبی نہیں ہو سکتا۔ اگر مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے فرضی نام بتایا ہے تو سچی بات کو چھپا کر خود مرزا لعنت کا مستحق ٹھہرا۔

نمبر: ٣٧...... انگریزی فرشتہ

مثل انگریزوں کے تھی اور میز کرسی لگائے بیٹھا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ بہت ہی خوبصورت ہیں۔ اس نے کہا کہ ہاں میں درشنی ہوں۔‘‘ (تذکرہ ص ٤٦، مجموعہ الہامات ومکاشفات)

اس وقت ایک ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا ہوا بول رہا ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٨١، خزائن ج ١ ص ٥٧٦ حاشیہ در حاشیہ)

نمبر: ٣٨...... مرزا شرابی تھا

’’مرزا قادیانی ایک ٹانک استعمال کیا کرتا تھا جس کا نام پلمر کی ٹانک وائن (طاقت دینے والا شراب) تھا اور ایک موقعہ پر اس نے اپنے ایک دوست کو لکھا کہ وہ لاہور سے خرید کر اسے بھیج دے۔ دوسرے ایک یا دو خطوط میں یاقوتی کا ذکر ہے۔ موجودہ مرزا (بشیر الدین محمود)

٩١

صفحہ ٦٣٠

نے خود اعتراف کیا ہے کہ اس کے باپ (مرزا غلام احمد قادیانی) نے پلومر کی ٹانک وائن ایک دفعہ استعمال کی تھی۔"

(روزنامہ الفضل قادیان مورخہ ١٥؍ جون ١٩٣٥ء)

نمبر: ٣٩...... مرزا زانی بھی تھا

"ایک لاہوری مرزائی نے ایک خط میں مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں صاف لکھ دیا تھا۔ ہمیں مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض نہیں۔ کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے۔ ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ (بشیر الدین محمود) پر ہے۔ کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔"

(الفضل قادیان مورخہ ٣١ اگست ١٩٣٨ء)

اسی لئے مرزا قادیانی دجال کا غیر محرم عورتوں سے تعلق تھا اور :"غیر محرم عورتوں سے پاؤں دباتے تھے۔"

(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ٢١٠، روایت نمبر ٧٨٠، الفضل ٢٠؍ مارچ ١٩٢٨ء)

"اور پاخانہ میں لوٹا رکھنے کے کام پر بھی غیر محرم عورت مامور تھی۔"

(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ٢٣٣، روایت نمبر ٨٤٧)

"اور عام طور پر پہرہ پر مائی فجو جٹیانی اہلیہ محمد دین گوجرانوالہ اور اہلیہ بابو شاہ دین ہوتی تھیں۔"

(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ٢١٣، روایت نمبر ٧٨٦)

"اور غیر محرم لڑکی زینب بیگم ساری ساری رات مرزا قادیانی کی خصوصی خدمت کیا کرتی تھی اور غیر محرم لڑکیوں کو گھر میں رکھ کر ان کی شادی کیا کرتے تھے۔"

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٢٥٩)

مرزائیوں سے ہمارا سوال ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا غیر محرم عورتوں سے پاؤں دبوانے کا کیا مطلب تھا؟ کیا مرد کوئی نہیں ملتا تھا؟ کیا لوٹا رکھنے کے لئے مرید کوئی نہیں ملتا تھا؟ کیا مرزا کی اولاد مرزا بشیر احمد اور بشیر الدین اور حکیم نور الدین وغیرہ سارے مر چکے تھے؟ دنیا سے رخصت ہو چکے تھے؟ اور غیر محرم لڑکیوں کو گھر میں رکھنے کا کیا مطلب تھا۔ کیا ایسا بدترین کریکٹر والا انسان شریف انسان ہو سکتا ہے؟۔ آگے سنئے! مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میرا کنجریوں سے ذاتی تجربہ بھی ہو چکا ہے کہ ان کے بعض خواب سچے ہو جاتے ہیں۔ حوالہ جات ملاحظہ کیجئے۔ (حقیقت الوحی ص ٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥) پر لکھتا ہے کہ : " یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ بعض عورتیں جو قوم کی چوہڑی یعنی بھنگن تھیں جن کا پیشہ مردار کھانا، ارتکاب جرائم تھا۔ انہوں نے ہمارے روبرو بعض خوابیں

٩٢

بیان کیں اور وہ سچی نکلیں ۔ اس سے بھی عجیب رات زنا کاری کا اہتمام ان کو دیکھا گیا کہ بعض اور (توضیح المرام ص ٨٥، خزائن ج آچکا ہے۔ بعض اوقات ایک نہایت درجہ کی تمام جوانی بدکاری میں ہی گذری ہے کبھی اور (تجلیات الٰہیہ ص ٣١، خزائن ج کہ بعض وقت ایک کنجری کو بھی جس کا دن و میں مرزائیوں سے یہ پوچھتا ہ تھا وہ کسی کنجر خانہ میں جا کر کیا تھا؟ یا ان کو ا

نمبر: ٤٠...... مرزا قادیانی کی موت

"حضرت مسیح موعود (مرزا قا حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھا آپ کے پاؤں دباتے رہے اور آپ بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور فا لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ظ آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چار پا لئے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صا ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آ تھے۔ اس لئے میں نے چارپائی کے پاس پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہ آیا اور پھر آپ کو قے آئی۔ جب آپ ۔ لیٹے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آ ہو گئی۔"

یہ واضح رہے کہ مرزا قادیانی خارج عادت عذاب سے ہلاک ہو گا تو وہ

صفحہ ٦٣١

بیان کیں اور وہ سچی نکلیں ۔ اس سے بھی عجیب تر یہ کہ بعض زانیہ عورتیں اور قوم کے کنجر جن کا دن رات زنا کاری کام تھا ان کو دیکھا گیا کہ بعض خوابیں انہوں نے بیان کیں اور وہ پوری ہوگئیں۔“

اور (توضیح المرام ص ٨٥، خزائن ج ٣ ص ٩٥) پر لکھتا ہے کہ: ”میں مانتا ہوں کہ تجربہ میں آچکا ہے۔ بعض اوقات ایک نہایت درجہ کی فاحشہ عورت جو کنجریوں کے گروہ میں سے ہے جس کی تمام جوانی بدکاری میں ہی گذری ہے کبھی سچی خواب دیکھ لیتی ہے۔“

اور (تجلیات الٰہیہ ص ٣١، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٦) پر لکھتا ہے کہ: ”ہمارا تجربہ تو یہاں تک ہے کہ بعض وقت ایک کنجری کو بھی جس کا دن رات زنا کاری پیشہ ہے سچے خواب آسکتے ہیں۔“

میں مرزائیوں سے یہ پوچھتا ہوں کہ یہ تجربہ جو کنجریوں کے ساتھ مرزا قادیانی نے کیا تھا وہ کسی کنجر خانہ میں جا کر کیا تھا؟ یا ان کو اپنے گھر میں بلا کر کیا تھا؟

نمبر : ٤٠...... مرزا قادیانی کی موت

”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی وفات کا ذکر آیا تو والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے اور میں بھی سوگئی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا تو اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا۔ میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چار پائی پر ہی لیٹ گئے اور میں آپ کے پاؤں دبانے کے لئے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا کہ تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا نہیں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا۔ مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے۔ اس لئے میں نے چار پائی کے پاس ہی انتظام کردیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹے پشت کے بل چار پائی پر گر گئے اور آپ کا سر چار پائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہوگئی۔“

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ١١، روایت نمبر ١٢)

یہ واضح رہے کہ مرزا قادیانی نے ایک شخص لیکھرام کے متعلق پیش گوئی کی تھی کہ وہ خارج عادت عذاب سے ہلاک ہوگا تو وہ پیش گوئی صاف جھوٹی ہوئی۔ البتہ اس کے بالمقابل اس

٩٣

صفحہ ٦٣٢

لیکھرام نے بھی مرزا قادیانی کے متعلق پیش گوئی کی تھی کہ مرزا قادیانی تین سال کے اندر ہیضہ کی موت مر جائے گا۔ (جو پوری ہو گئی)

(نزول مسیح ص٧٧، خزائن ج١٨ ص٥٥٥ ملخص)

ناظرین کرام! قے اور دست جب دونوں اکٹھے ہوں تو اسی کو ہیضہ کہتے ہیں۔ جس سے مرزا قادیانی کی موت واقع ہوئی۔

مرزائی اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ اگرچہ مرزا قادیانی ہیضے سے مرے ہیں۔ مگر مقررہ وقت کے بعد مرے ہیں۔ لہٰذا لیکھرام کی پیش گوئی سچی نہ ہوئی تو اس کا جواب یہ ہے کہ لیکھرام کی نفس پیش گوئی ہیضے کے ساتھ مرنے کی تھی اور وہ پوری ہو گئی اور مرزا قادیانی ہیضے کی موت ہی مرے۔ اس کا ثبوت ہم سیرۃ المہدی کے حوالہ سے درج کر چکے ہیں۔ مزید مرزا غلام احمد قادیانی کے خسر میر ناصر نواب کی کتاب حیات ناصر کو دیکھئے۔ مرزا قادیانی کا اپنا اقرار ہے کہ: ”میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔“

(حیات ناصر ص١٤)

رہی مدت کی بات تو مدت کے بارے میں خود مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ وقتوں میں کبھی استعارہ کا بھی دخل ہوتا ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے خاوند سلطان محمد داماد احمد بیگ کے متعلق پیش گوئی کی تھی کہ وہ اڑھائی سال کے اندر مر جائے گا اور جب وہ اڑھائی سال کے اندر نہ مرا تو مرزا قادیانی نے کہا: ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو پیش گوئی پوری نہیں ہو گی اور میری موت آ جائے گی۔ اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی پورا کرے گا اور وقتوں میں کبھی استعارہ کا بھی دخل ہوتا ہے۔“

(انجام آتھم حاشیہ ص٤١، خزائن ج١١ ص٤١)

اب میں مرزائیوں کو دعوت دیتا ہوں کہ اس دجال کو چھوڑ دو۔ ورنہ خدا کی قسم تمہارا جہنم کے سوا اور کوئی ٹھکانا نہیں۔ اپنی آخرت دنیا ہی میں بنالو اور امام الانبیاء خاتم الانبیاء نبی کریم ﷺ کے سچے عاشق بن جاؤ اور آپ کے تمام ارشادات پر پختہ ایمان لے آؤ۔

اگر عافیت منظور ہے ...... ورنہ آخر میں رسوائی ضرور ہے۔ مصطفیٰ منزل مقصود ہے۔ جس نے اس سے سر پھیرا وہ خاسر و مردود ہے۔

”وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين ، وصلى الله تعالى على خير خلقه محمد وآله واصحابه اجمعين الى يوم الدين آمين يا رب العالمين“

احقر العباد: محمد عبد الواحد مخدوم عفی اللہ عنہ

٩٤