تحریک ختم نبوت کی یادیں · محمد طاہر رزاق
Tahreek Khatm-e-Nubuwwat ki Yadain · Tahir Abdul Razzaq
PDF 1

تحریک ختم نبوّت

کی یادیں

ترتیب و تحقیق محمد طاہر رزّاق

صفحہ 28
PDF 3

تاریخ

تحفظ ختم نبوت

سیریز 4

تحریک

ختمِ نبوّت

کی یادیں

محمّد طاہر رزّاق

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ، حضوری باغ روڈ ، ملتان

صفحہ 28
PDF 5

انتساب

جو کاروان ختم نبوت کے حدی خواں اور علمائے لدھیانہ کے جہاد ختم نبوت کے پرچم بردار ہیں

جن کے دلائل کا سیلاب قادیانی دجل و تلبیس کو تنکوں کی طرح بہالے جاتا ہے۔

جن کی جرنیلی حکمت عملی کے سامنے قادیانیت تگنی کا ناچ ناچتی ہے۔

جن کی علمی ہیبت سے مرزا طاہر اور دیگر قادیانی دجال تھر تھر کانپتے ہیں۔

جن کے جذبہ عمل نے لاکھوں مسلمانوں کے دلوں میں جہاد ختم نبوت کی روح پھونک دی ہے ...... اور انہیں قادیانیت کے خلاف شمشیر بکف مجاہد بنادیا ہے۔

جن کا نام نامی قادیانیت کے لئے کڑکتی ہوئی صاعقہ اور لپکتا ہوا شعلہ ہے۔

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ

کے نام

PDF 6

حرف سپاس

ابتدائے کتاب سے لے کر تکمیل کتاب تک تمام مرحلوں میں میرے محترم دوست جناب محمد فیاض اختر ملک‘ جناب محمد متین خالد‘ جناب محمد صدیق شاہ بخاری‘ جناب سید علمدار حسین شاہ بخاری‘ جناب طارق اسماعیل ساگر‘ جناب حافظ شفیق الرحمٰن‘ جناب عبدالرؤف روفی‘ جناب ممتاز اعوان‘ جناب محمد سلیم ساقی کا تعاون ہردم مجھے میسر رہا اور ان دوستوں کی جدوجہد اور دعاؤں سے یہ کتاب منصہ شہود پر طلوع ہوئی۔ میں ان تمام دوستوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور بدست دعا ہوں کہ اللہ پاک انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ (آمین)

میں ممنون ہوں خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد مدظلہ‘ خطیب ختم نبوت حضرت مولانا محمد اجمل خان مدظلہ‘ نمونہ اسلاف حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ‘ فدائے ختم نبوت حضرت مولانا سید نفیس شاہ الحسینی مدظلہ‘ جانثار ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل مدظلہ‘ پروانہ ختم نبوت جناب ارشاد احمد عارف مدظلہ‘ مجاہد ختم نبوت صاحبزادہ طارق محمود مدظلہ کا جن کی سرپرستی کا سحاب کرم میرے سر پر چھایا رہا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام بزرگوں کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھے۔ (آمین ثم آمین)

محمد طاہر رزاق

صفحہ 7

فہرست مضامین

مولانا محمد سلیمان طارقؒ 24 میں نے مرزا قادیانی کو خواب میں کس حالت میں دیکھا؟ 25 خطیب اسلام مولانا محمد اجمل خان کا ایمان پرور خطاب 27 حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اور فتنہ قادیانیت 33 میں نے ربوہ دیکھا! 35 حضرت امیر شریعتؒ کا ایمان افروز واقعہ 41 آہ! حضرت مولانا زریں احمد خان (مرحوم) 43 جب مرزائی غیر مسلم قرار دیے گئے 47 مولانا جالندھریؒ کی یاد 49 قادیانی خلیفہ دوم اور اٹلی کی حسینہ مس روفو 51 گورداسپور کے فدائیان ختم نبوت 52 توجہ مشائخ کرام 54 ایک مجذوب فقیر 55 مولانا نواب الدین ستکوہی 56 جماعت تحفظ ختم نبوت کا مقام 62 جب تحفظ ختم نبوت کے لیے جیل گئے 66

صفحہ 8

کمیشن مل گیا 71 حضرت مولانا مفتی محمودؒ 74 حضورؐ کی توجہ 75 بھارت 75 قبولیت 76 فیصلہ آسمانی 76 احرار رضاکار 78 مخبوط الحواس 79 معاملہ عشق 80 بیروزگاری اور علاج 80 لمحہ فکریہ 80 خان عبدالرحمان خان والی افغانستان 81 نبیوں کے ساتھ طواف 81 حضرت شاہ عبدالقادر رائپوریؒ 82 حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ 83 جب مرزا قادیانی کا نام لو 83 علم انوری 84 جھوٹے حکمران 84 شاہ جیؒ کی یاد 85

صفحہ 9

رٹ اور رہائی 86

مولانا عبدالستار خان نیازی اور تحریک تحفظ ختم نبوت 87

قادیان میں اعلان حق 110

شاہ جی کی قید 110

شیخ بنوریؒ کا عہد زریں 111

جو مانے گا نہیں وہ اس قابل بھی نہیں کہ اسے منہ بھی لگایا جائے 112

ٹائم بم 112

شاہ فیصل شہید کو مولانا یوسف بنوریؒ کا خط 113

حضرت انور شاہ کشمیریؒ بہاول پور کی عدالت میں 114

اے مسلمان ہوشیار! 116

مطمئن 117

بخاریؒ اور ان کے ساتھیوں کے متعلق 117

ایک عاشق رسولؐ کے آنسو 118

راجپال کی گستاخانہ جسارت پر احتجاج 119

شاہ جی کی ساحرانہ خطابت 121

حضرت صوفی برکت صاحبؒ اور آغا شورش کاشمیریؒ 121

باعث نجات 122

مفتی محمد شفیع صاحبؒ کے والد کی بیماری اور حضرت کشمیریؒ کی دعا 123

آغا شورش کاشمیریؒ کے آخری ایام 124

صفحہ 10

حضرت کشمیریؒ کی پکار 125 مرزا قادیانی جہنمی ہے۔ شیخوپورہ میں مناظرہ 127 مرزا قادیانی جھوٹا، کذاب اور دجال ہے 128 داڑھی سے جوتیاں صاف کروں گا 129 سامان آخرت 130 مولانا ظفر علی خانؒ کے دورے کا اثر 131 انشاء اللہ قادیانیت تباہ ہوگی 131 علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی درخواست 132 علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا جلال 132 انتہائے ظلم 134 جانباز مرزاؒ کی روداد 135 عصمت کے چیلوں کی ٹھکائی 136 قصر خلافت میں اہم میٹنگ 138 حضرت شاہ جیؒ کی تاریخی تقریر 138 قادیان کی نبوت 138 مولانا ظفر علی خانؒ 140 مولانا تاج محمودؒ اور ڈاکٹر عبدالسلام کا نوبل پرائز 141 اگر دعاؤں سے کام چل سکتا تو 143 احرار کی معرکہ آرائیاں 143

صفحہ 11

امیر شریعت کی اہل لاہور کو یقین دہانی 144

سول نافرمانی کی تحریک 145

چودھری افضل حق کی رائے 145

امیر شریعت کا فیصلہ اور بحث کا خاتمہ 146

جلسہ عام کا نفاذ اور دفعہ 144 کا نفاذ 146

عزم امیر شریعت 147

چودھری افضل حق” اور مجسٹریٹ کے درمیان گفتگو 148

سول نافرمانی کا فیصلہ اور شاہ جیؒ کی تقریر 148

شاہ جیؒ کی تقریر 149

شاہ جیؒ کا پولیس سے خطاب 150

شاہ جیؒ کی گرفتاری 150

ایک دیوانہ 151

خانقاہ سراجیہ کا نسخہ 152

حضرت رائے پوریؒ اور حضرت امیر شریعتؒ 152

شاہ جیؒ اور ٹوپی 154

عشق رسول ﷺ 156

میں اور قادیان 157

یہ فکر مندیاں۔ زہے نصیب 184

مولانا جالندھریؒ کا انداز تقریر 184

صفحہ 12

جیم کی مناسبت 185 ائیر مارشل ظفر چوہدری قادیانی کی فضائیہ سے علیحدگی 185 جرات اظہار 187 باعث نجات 188 اہل اللہ کی نظر 188 خواجہ حسن نظامی کی للکار 189 عجب حکمت عملی 191 بہادر ماں 191 اور جج لاجواب ہو گیا 192 ختم نبوت کی تبلیغ 193 تاکید و نصیحت 193 تلقین 194 یہ وفاداریاں یہ وفا شعاریاں 194 حضرت رائے پوریؒ کی مجاہدین ختم نبوت سے محبت 195

صفحہ 13

ہماری قبریں ہمارا انتظار کر رہی ہیں!

مسلمانو! ذرا اپنے جسم پر اللہ کی نعمتوں پر نظر ڈالو۔۔۔۔۔ تو

یہ اللہ کی ایسی نعمتیں ہیں۔۔۔۔۔ جن کی صحیح قدر و قیمت وہی جان سکتا ہے۔۔۔۔۔ جو ان میں سے کسی بھی نعمت سے محروم ہے۔۔۔۔۔ آخرت میں ان نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا۔۔۔۔۔!!!

آئیے دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔ کہ منعم حقیقی کی طرف سے ہمیں یہ ملی ہوئی نعمتیں ۔۔۔۔۔ اللہ

صفحہ 14

کے پیارے نبی جناب محمد عربی ﷺ کی ختم نبوت ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے بھی کبھی کام آئیں ۔۔۔۔۔

ہوئے؟

سوچا؟

بولو ۔۔۔۔۔ ورنہ کل ہر عضو بولے گا ۔۔۔۔۔

مسلمانو! ایک وقت وہ تھا کہ ہم اس دنیا میں نہیں تھے ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ پھر ایک وقت آئے گا ۔۔۔۔۔ ہم اس دنیا میں نہیں ہوں گے ۔۔۔۔۔ ہم سے پہلے آنے والے اپنی معینہ زندگیاں بسر کر کے عدم آباد کے مسافر ہوئے ۔۔۔۔۔ اور ہمارے لیے یہ دنیا خالی کر گئے ۔۔۔۔۔ اب ہمیں بھی اپنی مقررہ عمریں پوری کر کے یہ نشستیں خالی کر کے آخرت کے سفر پر روانہ ہونا ہے ۔۔۔۔۔ ہماری قبریں ہمارا انتظار کر رہی ہیں ۔۔۔۔۔ عمیق و گہری قبریں ۔۔۔۔۔ تاریک اور اندھیری قبریں ۔۔۔۔۔ ہولناک اور المناک قبریں ۔۔۔۔۔

آؤ! ان اندھیری قبروں میں عشق رسولؐ کے چراغ جلائیں ۔۔۔۔۔ یہ چراغ کیسے روشن ہوں گے؟ جب رسول اللہ ﷺ سے ہمارا عشق و وفا کا رشتہ ہو گا ۔۔۔۔۔ یہ رشتہ کیسے قائم ہو گا؟

رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت کا تحفظ کرنے سے ۔۔۔۔۔ رسول اللہ ﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کرنے سے ۔۔۔۔۔ سارقان ختم نبوت قادیانیوں سے برسر پیکار ہونے سے ۔۔۔۔۔

صفحہ 15

شاتمان رسول‘ قادیانیوں کی سرکوبی کرنے سے ۔۔۔۔۔ آئیے!۔۔۔۔۔ ہم آج ہی اس عظیم مشن کا آغاز کرتے ہیں۔۔۔۔۔ کیونکہ یہی عشق رسول کی پکار ہے۔۔۔۔۔ یہی محبت رسول کی صدا ہے۔۔۔۔۔ اور یہی ایک مومن کی پہچان ہے۔

شہید عشق نبی ہوں، میری لحد پہ شمع قمر جلے گی
اٹھا کے لائیں گے خود فرشتے چراغ خورشید کے جلا کر

O

لحد میں عشق رخ شاہ‘ کا داغ لے کر چلے
اندھیری رات سنی تھی چراغ لے کر چلے

خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر رزاق لاہور ١٠ جون ١٩٩٩ء

صفحہ 16

قادیانی نبوت ۔۔۔۔۔ انگریزی اقتدار کے

دوام کا منصوبہ

عقیدہ ختم نبوت کو اسلام میں بنیادی اہمیت حاصل ہے جس سے انحراف اسلامی عقائد اور تعلیمات سے انکار اور مسلم امہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے مترادف ہے۔

در حقیقت مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت بحیثیت مسلمان ہمارے زوال کی علامت ہے۔ کیونکہ یہ فتنہ ایسے وقت میں برپا ہوا، جب اس خطے کے مسلمان غلامی کی زنجیروں میں بری طرح جکڑے ہوئے تھے۔ اس کے باوجود مسلمان انگریزوں کے اقتدار کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ بجا طور پر یہ سمجھتے تھے کہ جب تک مسلمانوں میں ایمان، جذبہ جہاد اور شوق شہادت کی چنگاری موجود ہے، ان کے اقتدار کے سر پر تلوار لٹکتی رہے گی۔ انگریز مکار اور عیار تھا۔ اس نے اس کا حل ایک جھوٹے مدعی نبوت کی صورت میں نکالا۔ ایک ایسا نبی جسے وہ ریموٹ کنٹرول سے چلا سکیں۔ مرزا قادیانی کی نبوت در حقیقت براعظم ایشیا میں انگریز کے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے تخلیق کی گئی تھی۔

ہم مسلمانوں کی انتہائی بدقسمتی ہے کہ ایک عام مسلمان آج بھی مرزائیت کو مسلک کا اختلاف سمجھتا ہے اور اس فتنے کی حشر سامانیوں سے ناواقف ہے۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم پر یہ لازم آتا ہے کہ عام مسلمانوں کو اس فتنے کی حقیقت سے آگاہ کیا جائے اور پڑھے لکھے نوجوانوں میں اس کا شعور پیدا کیا جائے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اس سے

صفحہ 17

محفوظ رہ سکیں اور ہم قیامت کے روز نبی آخر الزماں ﷺ کے حضور ندامت و پشیمانی سے بچ سکیں۔

ستائش کے لائق ہیں وہ لوگ جو اس سلسلے میں عملی کام کر رہے ہیں۔ برادر محترم محمد طاہر رزاق صاحب نے اس سلسلے میں مختلف واقعات کو بڑی خوبصورتی سے یکجا کر کے قادیانیت کے مکروہ چہرے سے نقاب اتارنے کی سعی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین)

خادم تحریک ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل

صفحہ 18

آتش رفتہ کا سراغ

مسلمانوں کے دین و ایمان اور عقائد و نظریات کا اولین مرجع و ماخذ قلب محمد ﷺ پہ نازل ہونے والا کلام ربانی ہے۔ اور ہر اہم مسئلہ میں اس کی طرف رجوع مسلمانوں کی لیے اک فطری امر بن چکا ہے۔ اگر کوئی شخص یہ جاننا چاہے کہ کیا کوئی ایسی شخصیت بھی ہے جس کا ادب و احترام ، عشق و محبت اور اطاعت و اتباع مسلمانوں کے لیے اک لازمی امر ہے تو اسے بھی اس کلام الہٰی کی طرف مراجعت کرنا ہوگی اور وہ یہ دیکھ کر یقیناً حیران رہ جائے گا کہ قرآن مجید کے تیس پاروں میں اگر کسی ہستی کی اطاعت و اتباع، اس کی محبت اور اس کے ادب و احترام کے بارے میں تاکید در تاکید موجود ہے تو وہ ایک ہی ہستی ہے اور وہ ہے محمد رسول اللہ ﷺ اور اگر اس شخص میں فہم و ادراک اور عقل و شعور کی کچھ رمق ہوگی تو اسے یہ جاننے میں بھی دقت نہ ہوگی کہ یہی وہ حقیقت ہے، جس کی وجہ سے مسلمان ناموس محمد ﷺ کے بارے میں ہر زمانے میں حساس رہے ہیں۔ اس دعوے کی دلیل قرآن مجید کے وہ اسالیب ہیں، جو اس نے محبت رسولؐ ، اطاعت رسولؐ اور عظمت رسولؐ کو بیان کرتے ہوئے اختیار فرمائے ہیں۔ ذرا اک نظر آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:

ماعنتم حریص علیکم بالمومنین رؤف رحیم

(التوبہ، ع۱۶)

"بے شک آگئے ہیں تمہارے پاس ایک رسول تمہیں میں سے گراں گزرتی ہے ان پر ہر چیز جس سے تم تکلیف پاؤ وہ حریص ہیں تمہارے اوپر اور

صفحہ 19

ایمان والوں پر تو بڑے ہی شفیق و مہربان ہیں"۔

رسولا من انفسهم يتلوا عليهم اياته و يزكيهم و يعلمهم الكتاب والحكمه وان كانوا من قبل لفى ضلال مبين (آل عمران ‘ ع ۱۷)

"اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا ہے جو ان کے درمیان ایک رسول بھیجا انہیں میں سے جو انہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں سنوارتا ہے اور انہیں تعلیم دیتا ہے کتاب اور حکمت کی اور گو وہ اس سے قبل صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے"۔

"ہم نے آپ کو بھیجا ہی ہے رحمت بنا کر جہانوں کے لیے"۔

من يطع الرسول فقد اطاع الله (النساء ‘ ع ۱۱)

"جس نے اطاعت کی رسول کی اس نے عین اطاعت کی اللہ کی"۔

وما اتكم الرسول فخذوه ومانهكم عنه فانتهوا (الحشر ‘ ع ۱)

"اور رسول جو کچھ تمہیں دیں وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تمہیں روک دیں اس سے رک جاؤ"

لقد كان لكم فى رسول الله اسوه حسنه (الاحزاب ‘ ع ۳)

"بے شک تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں ایک اچھا نمونہ موجود ہے"۔

قل اطيعوا الله والرسول (النساء ‘ ع ۸)

"اور اطاعت کرو اللہ اور رسول کی"۔

يايها الذين امنوا اطيعوا الله واطيعوا الرسول

صفحہ 20

(النساء’ ع ۵)

”اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی“۔ فان تنازعتم فی شیئ فردوہ الی اللہ والرسول ”اگر تمہارے آپس میں کسی معاملہ میں اختلاف ہو جائے تو حوالہ کر دیا کرو اس امر کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف“۔ اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول (المائدہ’ ع ۱۷) واطیعوا اللہ ورسولہ ان کنتم مومنین (الانفال) یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ ورسولہ (الانفال) قل اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول (النور’ ع ۷) واطیعوا الرسول لعلکم ترحمون (النور ع ۷) ان تمام آیات میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر مختلف انداز سے زور دیا گیا ہے۔

قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ

(آل عمران’ ع ۴)

”آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میرا اتباع کرو اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا“۔

قد جاء کم من اللہ نور و کتاب مبین (المائدہ’ ع ۳) ”لوگو تمہارے پاس آگیا ہے اللہ کے یہاں سے ایک نور اور ایک واضح کتاب بھی“۔

ورفعنا لک ذکرک (الانشراح) ”ہم نے آپ کے لیے آپ کا آوازہ بلند کر دیا“۔

وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی (النجم) ”اور آپ اپنی خواہش نفس سے باتیں نہیں بناتے بلکہ ان کا ارشاد وحی ہی ہوتا ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے“۔

صفحہ 21

انك لعلی خلق عظیم

(القلم)

"بے شک آپ اخلاق کے عظیم پیمانہ پر ہیں"۔

ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین

(الاحزاب)

"محمد اللہ کے رسول ہیں اور انبیاء کے خاتم بھی"۔

فلا وربك لا یومنون حتی یحكموك فی ما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت و یسلموا تسلیما

(النساء)

"تو قسم ہے آپ کے پروردگار کی کہ انہیں ایمان نصیب نہ ہو گا جب تک یہ نہ ہو کہ ان کے آپس کے جو جھگڑا واقع ہو اس میں یہ لوگ فیصلہ آپ سے کرائیں اور آپ کے فیصلہ سے اپنے دلوں میں تنگی نہ پائیں اور اسے پوری طرح تسلیم کریں"۔

یا ایہا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجہروا لہ بالقول کجہر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لا تشعرون ان الذین یغضون اصواتہم عند رسول اللہ اولئك الذین امتحن قلوبہم للتقوی لہم مغفرہ و اجر عظیم

(الحجرات ۴-۲)

"اے لوگو جو ایمان لائے ہو اپنی آواز کو نبی کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ نبی کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو جس طرح کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ جو لوگ رسولؐ کے حضور بات کرتے ہوئے اپنی آواز پست رکھتے ہیں وہ در حقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے جانچ لیا ہے۔ ان کے لیے مغفرت ہے اور اجر عظیم"۔

یہ وہ اک ہلکی سی جھلک تھی کہ اللہ کریم نے کس کس انداز سے مسلمانوں کے دلوں

صفحہ 22

میں عظمت پیغمبر اور ناموس رسالت کو واضح فرمایا ہے۔ اس موضوع کا اگر یہ ایک مثبت و ایجابی پہلو ہے تو اس مضمون کا منفی و سلبی پہلو بھی اللہ پاک نے خوب اجاگر فرمایا ہے۔ مثلاً: ومن يعص الله ورسوله / من يحاددالله ورسوله / من يشاقق الرسول / ان الذين يحادون الله ورسوله / والذين يوذون رسول الله لهم عذاب علیم اس باب کا پہلا اگر ترغیبی و بشارتی پہلو ہے تو یہ ترہیبی و تہدیدی پہلو ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ خالق کائنات‘ حامل خلق عظیم صاحب صدق و یقین ﷺ کی عظمت و ناموس کا کوئی پہلو اور گوشہ بھی تشنہ چھوڑنا نہیں چاہتا۔

اس طرح گستاخان رسول پہ عذاب الیم و عظیم کی وعیدوں کے ساتھ ساتھ جو لعنتیں برسائی گئی ہیں‘ قرآن کے اوراق ان پہ بھی شاہد ہیں۔ مثلاً ابو جہل کے بارے میں سورہ دخان کی آیات ۴۳ سے ۵۰‘ ابولہب کے بارے میں پوری سورۂ لہب‘ امیہ بن خلف کے بارے میں سورۂ حمزہ‘ ابی بن خلف کے بارے میں سورۂ یٰسین کی آیات ۷۸ سے ۸۳‘ عقبہ بن ابی معیط کے بارہ میں سورۂ فرقان کی آیت ۲۷ سے ۳۱‘ ولید بن مغیرہ کے بارہ میں سورۂ زخرف کی آیت نمبر ۳۱ اور ۳۲‘ اور سورۂ القلم کی آیت ۸ سے ۱۶‘ نضر بن حارث کے بارہ میں سورۂ لقمان کی آیات ۶ اور ۷‘ عاص بن وائل سہمی کے بارہ میں سورۂ الکوثر کی تیسری آیت نازل فرمائی گئی۔

قرآن مجید کے یہی وہ اسالیب ہیں جنہوں نے حضورؐ کے بارے میں یہ ایمان راسخ کر دیا ہے کہ

لوح بھی تو‘ قلم بھی تو‘ تیرا وجود الکتاب
گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
شوق تیرا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب! میرا سجود بھی حجاب

قرآن مجید کے اس روشن سرمائے کے ہوتے ہوئے بھی اگر اک مسلمان ناموس رسالت‘ محبت رسولؐ‘ ادب و احترام رسولؐ اور تعلق رسولؐ میں پیچھے ہٹ جائے تو یقیناً وہ قرآن کا منکر ہو جائے گا اور کوئی بھی مسلمان بقائمی ہوش و حواس و برضا و رغبت ایسا

صفحہ 23

ہونے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان کے لیے ہر دور میں جاں دینی تو آسان رہی ہے‘ مگر محبت رسولؐ میں کمی مشکل رہی ہے۔ اس کی روشن مثالیں برصغیر کی تاریخ میں جابجا بکھری پڑی ہیں اور اس راہ کے سنگ میل ۱۹۵۳ء پھر ۱۹۷۴ء ہیں جہاں مسلمانوں نے جسم و جاں کی ساری صلاحیتیں حضورؐ پہ نثار کر کے یہ ثابت کر دیا کہ قرآن پہ ایمان کا مطلب حضورؐ سے محبت ہے اور حضورؐ سے محبت کا مطلب قرآن پہ ایمان ہے۔

عشق و محبت کی یہی روشن داستانیں آپ تک پہنچا کر آپ کے دلوں کو گرمانا اس کتاب کا مقصد ہے اور یہ تو یقیناً آپ کو معلوم ہی ہو گا کہ یہ لافانی داستانیں اس وقت وجود میں آئی تھیں جب قادیانیت نے مسلمانوں کا تعلق حضورؐ سے منقطع کر کے مرزا قادیانی علیہ لعنۃ سے استوار کرنے کی کوشش کی تھی۔ عشق و محبت اور جرأت و استقامت کی یہ تاریخ مرتب کر کے اگرچہ محمد طاہر رزاق نے اک اور سعادت اپنے لیے ذخیرہ آخرت کر لی ہے مگر ان کا اک سوال اپنے قارئین سے بہر حال تشنہ جواب ہے اور وہ یہ ہے کہ

”کیا نہیں اور ”غزنوی“ کارگہ حیات میں
بیٹھے ہیں کب سے منتظر ”ربوہ“ کے سومنات“

یہ کتاب پڑھ کر اگر آپ کی روح اک اور ”غزنوی“ کی تلاش میں چل نکلی تو صاحب کتاب کی دیرینہ آرزو پوری ہو جائے گی اور ہمیں آتش رفتہ کا سراغ مل جائے گا۔

خاک پائے مجاہدین ختم نبوت محمد صدیق شاہ بخاری

صفحہ 24

مولانا محمد سلیمان طارق

مولانا مرحوم کا واقعہ ہے کہ سنہ ۷۰ء سے پہلے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جلسہ تھا۔ مولانا نے اس میں ختم نبوت کے موضوع پر زبردست تقریر کی۔ مرزا قادیانی کو دعوائے نبوت کرنے کی وجہ سے کافر کہا اور مجمع سے بھی کہلوایا۔ ان کی تقریر سے مرزائی سٹپٹا گئے اور انہوں نے پولیس کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ یہ وہ دور تھا جب قادیانیوں کی چلتی تھی۔ وہ ذرا سا اشارہ کرتے‘ انتظامیہ فوراً حرکت میں آجاتی‘ مولانا کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ ابھی صبح نہیں ہوئی تھی کہ مولانا کو پابند سلاسل کرکے جیل میں بند کر دیا۔ پندرہ بیس دن جیل میں رہے۔ پھر انہیں رہا کر دیا گیا۔ مولانا جمعیت علماء اسلام سے متعلق تھے۔ اس لیے جمعیت کی ایک حریف جماعت نے یہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ جمعیت کے ایک بہت بڑے خطیب معافی مانگ کر جیل سے باہر آگئے۔ اس کے چند ہی دن بعد لاہور میں جمعیت کے زیر اہتمام بہت بڑی آئین شریعت کانفرنس منعقد ہونا تھی جس میں جمعیت کے کارکنوں نے قافلوں کی شکل میں پہنچنا تھا۔ اس صورت حال سے فیصل آباد والوں نے فائدہ اٹھایا اور ایک دن پہلے دھوبی گھاٹ میں کانفرنس رکھ لی۔ کانفرنس میں وزیرستان‘ ڈیرہ اسمعیل خان‘ لیہ‘ بھکر‘ ضلع فیصل آباد اور شہر سے کم و بیش پچاس ہزار افراد نے شرکت کی۔ اس میں مولانا محمد سلیمان طارقؒ نے بھی تقریر کی۔ تقریر وہی کی جو ٹوبہ میں کی تھی۔ انتظامیہ پھر حرکت میں آگئی۔ گرفتاری کا آرڈر ہو گیا۔ جب پولیس مولانا کو گرفتار کرنے کے لیے پہنچی تو مولانا نے یہ کہہ کر ہاتھ آگے بڑھا دیئے۔

ادھر آ پیارے ہنر آزمائیں
تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں !!

(”ہفت روزہ ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ۱۱‘ شمارہ ۱۲)

صفحہ 25

میں نے مرزا قادیانی کو خواب میں کس حالت میں دیکھا؟

میں حلفاً بیان کرتا ہوں کہ میں نے خواب میں مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے کے منہ سے غلاظت، ٹیوب ویل کے پانی کی طرح جاری دیکھی۔ تفصیل درج ہے:-

سنہ ۵۹ کا واقعہ ہے کہ میں موضع کھڑپیز گیا۔ وہاں قادیانیوں نے اپنی عبادت گاہ جو کہ مسلمانوں کی مسجد کی طرح بنی ہوئی تھی، اس پر کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات لکھی ہوئی تھیں اور ساتھ بیت الذکر احمدیہ بھی لکھا ہوا تھا۔ میں اپنے ساتھ مسلمان ساتھیوں کو لے کر گیا اور ان سے کہا کہ تم قانون کے مطابق کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات نہیں لکھ سکتے اور نہ ہی مسجد بنا سکتے ہو جس کے جواب میں قادیانیوں کے مربی اعجاز، سیکرٹری اسلم، صدر مقبول نے کہا کہ یہ کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات لکھی ہوئی ہیں اگر تم میں طاقت ہے تو مٹا کر دکھاؤ۔ ہم مرزائیت کی تبلیغ کریں گے، تم روک کر دکھاؤ۔ ہم کسی قانون کو نہیں مانتے، جہاں زور لگتا ہے لگالو۔ جس پر میں نے ثبوت کے طور پر مسجد پر لکھی ہوئی قرآنی آیات اور کلمہ طیبہ کی فوٹو اتروائیں اور ایک درخواست لکھ کر تصویر ایس پی صاحب کو دی کہ قادیانیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ میری درخواست متعلقہ تھانے گنڈاسنگھ آئی اور کافی مرتبہ تھانے جاتا رہا۔ ایس ایچ او صاحب تقریباً چار ماہ تک ٹالتا رہا۔ آخر کار وہ ایس ایچ او تبدیل ہو گیا اور دوسرا ایس ایچ او رانا محمد یوسف آگیا۔ میں نے ملاقات کرکے تمام حالات عرض کیے۔ جس پر رانا صاحب نے مرزائیوں کو بلایا اور میری درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ دتہ مجاہد سے اپنا معاملہ صاف کرلو ورنہ میں قانونی کارروائی کروں گا۔ مرزائیوں کی طرف سے اس روز دو آدمی آئے۔ ایک کا نام اقبال مرزائی تھا جس نے کہا کہ ہم اپنے بڑوں سے پوچھ کر تین روز بعد بتادیں گے۔

ایس ایچ او صاحب نے مجھے کہا کہ تم تین روز کے بعد آکر پتہ کرلینا کہ وہ تمہارے ساتھ معاملہ ختم کرتے ہیں یا نہیں، ورنہ میں قانونی کارروائی کروں گا۔ قادیانی اپنے گھر واپس چلے گئے اور میں اپنے گھر قصور واپس آگیا۔ نماز پڑھی اور اللہ کریم سے دعا کی کہ اے مولائے کریم یہ تیرے محبوب ﷺ کی ختم نبوت کا معاملہ ہے تو اس میں میری مدد فرما اور

صفحہ 26

اس سوچ میں سو گیا اور اس روز تقریباً ایک بجے رات میری نیند کھل گئی۔ میں اٹھا‘ وضو کیا اور نماز تہجد شروع کر دی۔ نماز سے فارغ ہوا اور درود شریف کافی دیر پڑھتا رہا۔ آخر میں اپنے لیے اور اپنے والدین‘ رشتہ داروں حتیٰ کہ تمام مسلمانوں کے لیے راہ ہدایت اور بخشش کی دعا کر رہا تھا کہ اچانک دل میں خیال آیا کہ یا اللہ مرزا قادیانی کے ماننے والوں کو بھی ہدایت فرما۔ یہ بھی مرزا قادیانی کے چنگل سے نکل کر تیرے نبی کریم ﷺ کا کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جائیں اور جہنم سے بچ جائیں۔ اس دعا پر میں اس قدر رویا اور بڑی عاجزی کے ساتھ دعا کر رہا تھا کہ پھر مرزا قادیانی کے متعلق خیال آیا کہ اللہ کریم مجھے ایک ذرہ برابر بھی شک نہیں کہ مرزا قادیانی واقعتاً ہی جہنم کی آگ میں جل رہا ہے۔ اے اللہ تو نے اپنے برگزیدہ نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا قبول کر کے ان کے دل کی تسلی کی تھی۔ مجھے بھی مرزا قادیانی کی اصل حقیقت سمجھا دے اور دکھا دے کہ وہ مرزا قادیانی کس حال میں ہے تاکہ میرے دل کو مزید تسلی ہو جائے۔ یہ میں رو رو کر بڑی عاجزی کے ساتھ کہتا رہا۔ آخر کار میں پھر درود شریف پڑھتا پڑھتا وہیں پر سو گیا۔ خواب میں دیکھتا ہوں کہ اقبال قادیانی جو مرزائیوں کی درخواست کی پیروی کے لیے تھانے آیا تھا۔ اس کی شکل دیکھی کہ اس کے منہ سے‘ منہ کے خلا کی مقدار کے مطابق ٹیوب ویل کے فوارے کی طرح غلاظت جاری تھی۔ میرے دل میں خیال آیا کہ یا اللہ میں نے تو مرزا قادیانی کے متعلق عرض کی تھی۔ چند لمحے بعد کیا دیکھتا ہوں کہ عین مرزا قادیانی کی شکل نظر آئی۔ میں نے اسے فوراً پہچان لیا کیونکہ ربوہ میں ایک دکان پر میں مرزا قادیانی کی تصویر دیکھ چکا تھا کہ اس کے منہ سے بھی ٹیوب ویل کے پانی کی دھار کی طرح غلاظت جاری تھی۔ اچانک میری نیند پھر کھل گئی کہ صبح کی اذان ہو رہی تھی۔ میں اٹھا‘ وضو کیا اور شکرانہ کے نفل ادا کیے اور مسجد میں باجماعت نماز ادا کی۔ اللہ کا شکر ادا کیا کہ اللہ کریم نے میری دعا قبول کرتے ہوئے مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والوں کی حقیقت دکھا کر میرے دل کو ختم نبوت کے ایمان پر پہلے سے زیادہ مضبوط کر دیا۔ (منجانب اللہ دتہ مجاہد‘ جنرل سیکرٹری عالمی مجلس تحفظ نبوت‘ قصور)

صفحہ 27

خطیب اسلام مولانا محمد اجمل خان کا ایمان پرور خطاب

ما ان مدحت محمدا بمقالتی
ولکن مدحت مقالتی بمحمد
لکل نبی فی الانام فضیلتہ
وجملتہا مجموعتہ لمحمد
حق جلوہ گر ز طرز بیان محمد است
آرے کلام حق بزبان محمد است
ہر حال میں حق کا اظہار کریں گے
منبر نہیں ہوگا تو سر دار کریں گے
جب تک ہے دہن میں زباں سینہ میں دل ہے
کذاب کی نبوت کا ہم انکار کریں گے
سر سے لے کر پاؤں تک تنویر ہی تنویر ہے
جیسے منہ سے بولتا قرآن وہ تقریر ہے

میں تقریر نہیں کر سکتا، ابھی ہسپتال سے آیا ہوں لیکن بات یہ ہے نبی اکرم ﷺ کا ذکر مبارک بوڑھوں کو جوان کر دیتا ہے، مردوں کو زندہ کر دیتا ہے۔

در فشانی نے تیری قطروں کو دریا کر دیا
دل کو روشن کر دیا آنکھوں کو بینا کر دیا
خود نہ تھے جو راہبر دنیا کے ہادی بن گئے
کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کر دیا

میرے بزرگ حضرات فرما رہے تھے کہ بس مجمع کے سامنے کھڑے ہو کر اعلان کر دو کہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کے عقیدہ ختم نبوت کے مشن اور تحریک میں برابر کا شریک ہوں اور یہ مشن جس نہج پر چل رہا ہے وہ بالکل ٹھیک ہے۔ میں کہتا ہوں، ‘

صفحہ 28

ٹھیک نہیں بلکہ بہت ہی ٹھیک ہے۔ لیکن کیا کیا جائے۔ اختصار ہے۔ ایجاز ہے۔ میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتا ہوں۔ زندگی کا کوئی پتہ نہیں اپنے زمانہ کا ایک علامہ ابن حجر عسقلانی علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ بہاولپور جب تشریف لائے تھے۔ سخت بیماری کے باوجود تو وہاں پر دوسرے ظالم لوگ (قادیانی گروہ) بھی موجود تھے۔ حضرت کے ساتھ علماء کرام شاگرد موجود تھے۔ ان کی شاگردی سے کون انکار کر سکتا ہے وہ اپنی ذات میں انجمن تھے۔ تحریک تھے۔ وہ بہت کچھ تھے۔ وقت اجازت نہیں دیتا ورنہ۔

وسعت دل ہے بہت وسعت صحرا کم ہے
اس لیے مجھ کو تڑپنے کی تمنا کم ہے

انہوں نے ایک جملہ کہا تھا۔ ان کے شاگرد حضرات علماء کرام نے کہا (جس طرح اس وقت میرے مخدوم و مکرم حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب فرما رہے ہیں کہ بس ہو گیا ہے۔ حضرت سے بھی کہا گیا ۔ ) حضرت شاہ صاحب آپ بہت بیمار ہیں۔ ضعف کی شدت ہے تو اس پر فرمایا۔ بات یہ ہے کہ بیمار تو واقعی ہوں لیکن میں اس مقدمہ کے سلسلہ میں بذات خود اس لیے جا رہا ہوں کہ دوسری طرف جھوٹی نبوت کے طرف دار آئے ہوئے ہیں۔ محمد عربی ﷺ کا طرفدار بن کر جا رہا ہوں۔ (نعرے ہی نعرے) ہم بھی اسی جذبہ کے تحت آئے ہیں۔ ہمارا یہ ولولہ ہے۔ الفت ہے۔ فریفتگی ہے۔ شیفتگی ہے۔ اس وارفتگی میں اللہ تعالیٰ اضافہ فرمائیں اللہ تعالیٰ دنیا میں ختم نبوت کے عقیدے پر موت نصیب فرمائے اور اس ختم نبوت کے پرچم تلے۔ آقائے دو عالم ﷺ کے جھنڈے کے نیچے لواء احمد کے اٹھائے اور آخری نبی ﷺ کے دست شفقت سے حوض کوثر پر پانی عطا فرمائے۔ (نعرے ہی نعرے)۔ سامعین کی طرف سے شعر سے خراج تحسین۔

نادر کاروان ہے میر حجاز اپنا
اس نام سے ہے باقی آرام جاں ہمارا
سر سے لے کر پاؤں تک تنویر ہی تنویر ہے
جیسے منہ سے بولتا قرآن وہ تقریر ہے

کان خلقه القرآن۔ گویا آپ ﷺ مجسمہ قرآن مجید تھے۔

صفحہ 29

اور صحابہ کرام ؓ کا کیا کہنا ہو گا۔ جنہوں نے مزے لوٹے۔ حضرت حسان ؓ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی موجودگی میں اٹھ کر اشعار کے ذریعہ خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ رباعی پیش کرتے ہیں۔ شاعر نبوت ہے۔ اگر مبالغہ ہوتا ذرا بھی شاعرانه بات ہوتی۔ حضور ﷺ ٹوک دیتے لیکن نہیں ٹوکا تو دلیل یہ ہے کہ سچ کہتے ہو۔ کیا کہا ہے۔

و احسن منک لم تر قط عین
و اجمل منک لم تلد النساء

کسی آنکھ نے آج تک ایسا حسن دیکھا ہی نہیں ہے اور کسی ماں نے آج تک ایسا بیٹا جنم دیا ہی نہیں ہے جو آمنہ نے محمد ﷺ کو جنم دے دیا۔

خلقت مبراء من کل عیب
کانک قد خلقت کما تشاء

اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا پیدا فرمایا۔ جس طرح آپ چاہتے تھے۔

سوچتی ہے دل میں دنیا مصطفیٰؐ کو دیکھ کر
وہ مصور کیسا ہوگا جس کی یہ تصویر ہے

جس پر پروردگار نازاں ہے۔ فرحاں ہے۔ شاداں ہے۔ سانچہ توڑ دیا۔ نہ پہلے بنایا ہے اور نہ قیامت تک بنائے گا۔ اس جذبہ کے تحت ہم آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ ہماری نجات کا سامان فرمادے۔ حضرات علماء کرام نے تقاریر فرمائیں اور آپ نے سنیں اور بھی سنیں گے۔ اللہ تعالیٰ سننے سنانے، پڑھنے پڑھانے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) احباب نے یہاں طویل مضامین پڑھے لیکن میری زبان کا حصہ تھا مختصر۔

میں نے تو بزم نعت میں اتنا ہی کہہ دیا
بعد از خدا توئی قصہ مختصر

نام محمدؐ۔ آپ نے سب کی باتیں سنیں۔ میں ذرا نام پر بات کہہ دوں۔ جدت ہو جائے۔ ایسا نام تجویز فرمایا کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں سے کسی کا بھی نہیں۔ ایسا نام

صفحہ 30

دنیا میں کسی کا نہیں ہے جو اس کی ساری زندگی کا آئینہ دار ہو۔ سوائے آمنہ کے لال حضرت محمد ﷺ کے۔ دادا نام رکھتا ہے۔ سارا خاندان حیران ہے کہ محمد ﷺ نام۔ کیوں؟ پوچھتے ہیں، یہ کیا ۔ اوپر کسی کا نہیں ہے۔ نیچے کسی کا ہو گا یا نہیں ہو گا۔ پوری تاریخ میں نہیں ہے۔ جواب دیتے ہیں۔ الہامی نام ہے۔ ثبوت رجاء ان یحمد فی السماء والارض میں نے یہ نام اپنے نو مولود یتیم پوتے کا کیوں رکھا ہے۔ محمد ۔ محمد حمد سے ہے۔ اور حمد تعریف کو کہتے ہیں۔ یہ عرض کرتا ہوں۔ تھوڑی دیر کے لیے ۔ پہلا نام محمد نہیں ہے، آسمانوں میں پہلا نام احمد ہے، بعد میں دنیا میں نام محمد ﷺ ہے۔ دلیل۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لا رہے ہیں۔ جب رات ختم ہونے لگی۔ رات میں ستارے چمکے، چاند چمکا، روشنی آئی لیکن رات ختم نہیں ہوئی۔ لیکن جب صبح صادق آئی۔ مبشر بن کر آئی کہ آفتاب آ رہا ہے۔ وہ کون ہے صبح صادق ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ومبشرا برسول یاتی من بعد اسمه احمد اور آپ عیسیٰ علیہ السلام خوشخبری دیتے ہی رہے۔ بعد میں آنے والے پیغمبر کی جن کا نام نامی ہو گا احمد ۔ محمد نہیں۔ علماء اور مفسرین نے لکھا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اعلان کر رہے ہیں۔ احمد ۔ احمد اسم تفضیل سپرلیٹیو ڈگری ہے۔ سب سے زیادہ تعریف کرنے والا۔ مجھ سے ۔ پہلوں سے بھی۔ سب سے زیادہ تعریف محمد عربی نے کی ہے۔ اس لیے احمد کہا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ تعریف کی تو احمد الحامدین لربہ تو پروردگار نے نام رکھا محمد ﷺ اور یہی قیامت کے دن ہو گا۔ میرے دوستو! اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حضور ﷺ کے جھنڈے تلے اٹھائے۔ کیا ہو گا۔ پہلے حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کی تعریف فرمائیں گے۔ جب ساری مخلوق پریشان ہوگی۔ شفاعت کا مسئلہ سنا ہے آپ نے۔ تمام انبیاء کرام علیہم السلام انکار کر دیں گے۔ حضور ﷺ فرمائیں گے۔ انا لها۔ انا لها میں شفاعت کے لیے ہوں، میں تمہارے لیے ہوں۔ اور جا کر اللہ تعالیٰ کے دربار میں آپ کی حمد اور ثناء بیان فرمائیں گے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ وہ تعریف کروں گا جو دنیا میں کسی نے نہیں کی ہوگی۔ میرے رب نے اس وقت آپ کے دل میں اپنی وہ ثناء القا کی ہو گی۔ اس وقت آپ

صفحہ 31

"احمد" کا پورا مظہر ہوں گے۔ کیونکہ سب سے زیادہ تعریف‘ سارے نبیوں سے زیادہ‘ ساری مخلوق میدان محشر میں ہوگی۔ حضور ﷺ سے بڑھ کر تعریف کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ مسئلہ شفاعت کا حل ہو جائے گا۔ ساری مخلوق حضور ﷺ کی تعریف میں رطب اللسان بیک وقت ہو جائے گی تو پہلے احمد مظہر اتم اور پھر محمد کا مظہر اتم بن جائیں گے۔ احمد جس نے سب سے زیادہ تعریف کی ہے۔ محمد جس کی سب سے زیادہ تعریف کی گئی ہو۔ آج کوئی جگہ خالی نہیں ہے کہ جہاں نام محمد نہ ہو ﷺ ۔ کسی بزرگ نے لکھا ہے‘ جب تک دونوں ہونٹ جڑ کر بوسہ نہ دیں نام محمد نکلتا ہی نہیں ہے۔ ﷺ ۔ آپ ﷺ کے صاحبزادگان تشریف لے گئے۔ کافروں نے کہا ابتر نسل ختم۔ مالک کائنات نے جواب دے دیا۔ طعنیں کسنے والا ابتر ہے۔ اس کی نسل ختم ہو گئی‘ جس نے کہا۔ اس کے بیٹے آپ ﷺ کے صحابی بنیں گے۔ آپ ﷺ کا نام روشن کریں گے۔ آپ ﷺ کا تذکرہ کریں گے۔ تفاسیر میں لکھا ہے۔ میں نے اولاد اس لیے اٹھائی کہ اگر زندہ رہے۔ (قاسم‘ عبداللہ‘ طیب و طاہر کو) تو پھر دعویٰ نبوت کا کریں گے یا نہیں۔ اگر دعویٰ نبوت کا کرتے ہیں تو ختم نبوت کا باب نہیں رہتا۔ اگر نہیں کرتے تو لوگ کہیں گے۔ بڑے باپ کے بیٹے قابل نہیں نکلے۔ مالک نے فرمایا۔ ہم بچپن میں اولاد اٹھا لیتے ہیں۔ اولاد نام روشن کیا کرتی ہے۔ مالک نے کہا پیارے تیرا نام روشن اولاد کیا کرے گی۔ میں خالق دو جہاں خود ذمہ داری لیتا ہوں۔

ورفعنا لک ذکرک۔ میں ذمہ داری لیتا ہوں جہاں میرا نام لیا جائے گا۔ تیرا نام بھی لیا جائے گا۔ یورپ میں بھی لیا جائے گا‘ افریقہ میں بھی لیا جائے گا‘ امریکہ میں بھی لیا جائے گا‘ اسلامی ممالک میں بھی لیا جائے گا‘ خالص کفر گڑھ میں بھی تیرا نام لیا جائے گا‘ جہاں میرا نام ہوگا وہاں تیرا نام بھی ہوگا۔ مرزائی پنپ نہیں سکتے۔ بچ نہیں سکتے۔ امتحان ہے مسلمانوں کا۔ انشاء اللہ ان کا انجام مسیلمہ کذاب جیسا ہوگا۔ ایسی بات نہیں۔ ہم بھی مسلمان کسی لیڈر کے لیے‘ کسی پلیڈر کے لیے‘ کسی ریفارمر کے لیے‘ کسی فلاسفر کے لیے جان دینے کو گولی کھانے کو تیار نہیں‘ نبی ﷺ کے ناموس کی بات ہے‘ آج فاسق و فاجر‘ شرابی کبابی‘ زانی‘ بدمعاش‘ غنڈہ مسلمان بھی نبی کے ناموس پر اپنی جان دینے کو تیار ہے۔

صفحہ 32
ہری ہے شاخ تمنا ابھی جلی تو نہیں
دبی ہے آگ جگر کی مگر بجھی تو نہیں
جفا کی تیغ سے گردن وفا شعاروں کی
کٹی ہے برسر میدان مگر جھکی تو نہیں

میں لاہور سے آیا ہوں۔ دس ہزار مسلمانوں نے جان دی ہے۔ آج بھی نبی اکرم ﷺ کے ناموس پر کٹ مرنے کو تیار ہیں۔ انشاء اللہ رہے گا یہ سلسلہ۔ کوئی اس کو ٹوک نہیں سکتا۔ کوئی روک نہیں سکتا۔ یہ نام بڑا پیارا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ اس نام پر مٹنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس نام کے مسمی کی عزت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ میں چلتے ہوئے ایک بات کہتا جاؤں۔ اس نام میں ۳۱۳ رسولوں کا عدد موجود ہے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے ہیں۔ اس میں تمام نبی ہیں۔ ۳۱۳ رسول ہیں پر نام ایسا رکھا محمد ﷺ میں ۳۱۳ ہیں۔ دعویٰ ہے۔ ایسا نام ہے۔

رخ مصطفیٰ ہے وہ آئینہ اب ایسا دوسرا آ ہی نہیں سکتا۔ نہ ہمارے قیاس میں‘ نہ دھیان میں‘ نہ سانس میں محمد ﷺ احمد ﷺ ۔ احمد سب سے زیادہ تعریف کرنے والا۔ محمد جس کی سب سے زیادہ تعریف کی گئی ہو۔ احمد اسم تفضیل ۔ محمد اسم مفعول۔

ہوں لاکھوں سلام اس آقا پر
بت لاکھوں جس نے توڑ دیے
دنیا کو دیا پیغام سکون
طوفانوں کے رخ موڑ دیے
اس محسن عالم کے احساں
کیا کیا نہ دیا انسانوں کو
منشور دیا دستور دیا
کچھ راہیں دیں کچھ موڑ دیا

اللہ تعالیٰ سے دعا کہ ہمارے اندر حضور ﷺ کا عشق پیدا کر کے اپنی محبت پیدا فرمائے اور ہمارا خاتمہ ایمان کامل پر فرمائے۔ اس یورپ کو اور تمام کفر کو‘ دنیا کو ان

صفحہ 33

مرزائیوں اور ظالموں کی دست برد سے بچائے۔ میں موازنہ نہیں کرتا اور نہ ہی اس ظالم (مرزا غلام احمد قادیانی ملعون) کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔ ابھی ایک مقرر تذکرہ کر رہے تھے وہ ایسا تھا‘ وہ ایسا تھا۔ مگر میرے خیال میں اس کا ذکر کرنا ہی کیا ہے‘ وہ توہین ہے حضور ﷺ کا مقابلہ ۔

چہ نسبت خاک را با عالم پاک

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اور فتنہ قادیانیت

مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کا ظریفانہ انداز مجالس مناظرہ ہی تک محدود نہیں تھا۔ اس خصوصیت کا ظہور ہر طرح کی مجالس میں ہوتا تھا۔ بیجا نہ ہو گا اگر آپ کی ظرافت کے بھی ایک آدھ واقعات درج کر دیئے جائیں۔

قادیانیوں کی لاہوری پارٹی کا جلسہ تھا۔ مولانا چونکہ نہایت وسیع الظرف تھے اور تمام فرقوں کے اکابر سے..... مناظرہ‘ نوک جھونک کے باوجود نہایت اچھے‘ دوستانہ اور فیاضانہ مراسم رکھتے تھے۔ اس لیے منتظمین جلسہ نے آپ کو بھی تقریر کے لیے مدعو کیا۔ آپ اپنے احباب کی ایک مجلس میں تشریف فرما تھے کہ آپ کو اچانک دعوت نامہ ملا۔ آپ فوراً احمدیہ بلڈنگس کی طرف روانہ ہو گئے۔ لاہوریوں نے آپ کو دیکھ کر مسیح موعود زندہ باد اور احمدیت پائندہ باد کے پرجوش نعرے لگائے۔ درحقیقت یہ محسوس کر رہے تھے کہ مولانا کو دام فریب کے اندر پھانسنے میں وہ کامیاب ہو چکے ہیں۔ چنانچہ صدر جلسہ نے کہا کہ ہم نے آپ کو اس لیے زحمت دی ہے کہ آپ حضرت مرزا صاحب کے اخلاق و عادات پر کچھ ارشاد فرمائیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ آپ موقع کی مناسبت سے مرزا صاحب کی کچھ نہ کچھ مدح و توصیف کر ہی دیں گے۔ لیکن مولانا بھی غضب کے موقع شناس‘ معاملہ فہم اور برجستہ گو تھے۔ اٹھے اور حمد و صلوٰۃ کے بعد فرمایا۔

احمدی دوستو! میں اپنے پڑوسی کے خصائل و فضائل کیا بیان کروں۔ جہاں تک مجھے

صفحہ 34

یاد ہے۔۔۔۔۔۔ ان کے محاسن و محامد کی نسبت یہی کہہ سکتا ہوں کہ؟

مرے معشوق کے دو ہی نشاں ہیں

مولانا نے اس مصرع کو چند بار دو انگلیاں اٹھا کر دہرایا جب مرزائی سامعین دوسرے مصرع کے لیے سراپا انتظار بن گئے تو پورا شعر یوں ادا فرمایا۔

میرے معشوق کے دو ہی نشاں ہیں
زباں پر گالیاں مجنوں سی باتیں

یہ سنتے ہی مرزائیوں کی آنکھیں بجھ گئیں اور آپ اپنی قیام گاہ واپس آگئے۔

مولوی کو پیشاب کی حاجت ہوئی۔ وہ باہر گئے اور فارغ ہو کر ازار بند پکڑے ہوئے جلسہ گاہ میں آگئے۔ حاضرین جلسہ کو ’ان کی اس حرکت سے گدگدی سی ہونے لگی۔ مولانا نے حاضرین کی کیفیت تاڑ لی۔ اٹھے اور فرمایا کہ آپ لوگ مولوی صاحب کی اس حرکت پر پریشان کیوں ہیں۔ موصوف تو اپنے پیغمبر کی پیشگوئی پر مہر تصدیق ثبت کر رہے ہیں۔ یہ شاعر قادیان ہی کا ارشاد ہے کہ۔

اک برہنہ سے نہ یہ ہوگا کہ تا باندھے ازار

اس پر سامعین لوٹ پوٹ ہو گئے اور مولوی صاحب اس طرح روپوش ہوئے کہ پھر ان کا سراغ نہ مل سکا۔

وفات مسیح کو موضوع بحث بنانے پر مصر تھے اور مولانا آسمانی نکاح بابت محمدی بیگم کو زیر بحث لانا چاہتے تھے۔ قادیانی مناظر نے طنزاً کہا۔ میں نہیں سمجھتا مولوی ثناء اللہ کا محمدی بیگم سے کیا رشتہ ہے کہ انہیں اتنی حمایت مقصود ہے۔ مولانا نے فوراً فرمایا کہ محمدی بیگم زیادہ سے زیادہ ہماری اسلامی بہن ہو سکتی ہے۔ مگر وہ تو تمہاری (قادیانی امت کی) ماں ہے۔ اگر غیور ہو تو اپنی ماں کو گھر بٹھاؤ ”دوسرے گھروں میں کیوں پھر رہی ہے“ اس ظریفانہ نکتہ چینی اور حاضر جوابی پر پوری مجلس قہقہ زار بن گئی اور فریق مقابل بہت خفیف ہوا۔

صفحہ 35

نے گورداسپور میں ملکی اتحاد و اتفاق کی تلقین کے لیے ایک جلسہ منعقد کیا۔ اور تقریر کے لیے مولانا کو بھی مدعو کیا۔ آپ نے اس وقت کے حالات کی نوعیت کا لحاظ کرتے ہوئے نہایت پر اثر تقریر فرمائی۔ دوران تقریر آپ کی رگ ظرافت پھڑکی۔ اور آپ نے سکھوں سے کہا کہ وہ ہز ہائینس مہاراجہ صاحب قادیان کا احترام کریں اور ان کی امت کے ساتھ ادب سے پیش آئیں کیونکہ پیغمبر قادیان بھی سکھوں سے کچھ نہ کچھ تعلق رکھتے ہیں۔ اس پر قادیانی سامعین بھڑک اٹھے اور شور مچایا کہ اپنے الفاظ واپس لیجئے اور تحریری معافی مانگئے ورنہ آپ کے خلاف دعویٰ دائر کیا جائے گا۔

مولانا مسکرائے اور فرمایا میں نے مرزا صاحب کو مہاراجہ اور سکھوں کے قریبی تعلق رکھنے والا کہا ہے تو کچھ بیجا نہیں کہا ہے۔ بلکہ ان کے ایک الہامی نام کی مناسبت سے کہا ہے۔ آپ نے البشریٰ جلد دوم ص ۱۱۸ میں لکھا ہے کہ خدا نے آپ کا نام ”امین الملک جے سنگھ بہادر“ رکھا ہے۔ اگر میرا یہ حوالہ غلط ہے تو الفاظ واپس لینے اور تحریری معافی مانگنے کو تیار ہوں۔

سماجی سے فرمایا۔ بھئی توبہ کرو اور مرزائیوں سے نہ جھگڑو کیونکہ یہ تمہارے فرماں روا ہیں۔ آپ کی اس بات پر دونوں کو حیرت ہوئی۔ آپ نے فرمایا بھئی تعجب کیوں کرتے ہو؟ مرزا صاحب نے البشریٰ جلد ۱ ص ۲۵ میں اپنے آپ کو آریوں کا بادشاہ لکھا ہے۔ یہ سن کر سماجی تو ہنس پڑا اور مرزائی کو بہت خفت ہوئی۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ۹‘ شمارہ ۳۶۰)

میں نے ربوہ دیکھا

اس سال ربوہ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ ملا۔ ربوہ پہلی مرتبہ جانے کا اتفاق ہوا۔ پوری کانفرنس میں بڑی گہما گہمی رہی۔ ملک کے ہر گوشے سے علماء کرام‘ دانشور‘ صحافی‘ طلبہ اور عوام کی کثیر تعداد آئی ہوئی تھی۔ تمام مقررین نے مرزائیوں کی

صفحہ 36

بڑھتی ہوئی شرانگیزیوں اور ملک دشمن سرگرمیوں پر مختلف پہلوؤں سے روشنی ڈالی اور ان کی روک تھام کے لیے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا۔ کانفرنس کے حاضرین میں غضب کا جوش و خروش پایا جاتا تھا۔ جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ حاضرین جلسہ نے یہ اعلان کیا کہ امیر مجلس تحفظ ختم نبوت ہم کو اشارہ تو کریں ہم ربوہ کے مرزائیوں کو ایسا سبق سکھائیں گے کہ ان کی پشتیں یاد رکھیں گی۔ اس جوش و خروش کا ایک بڑا سبب مولانا اسلم قریشی کا اغوا تھا جو ان کے سربراہ کی ایک گھناؤنی سازش ہے۔ لیکن امیر صاحب نے ملکی حالات کے پیش نظر تشدد سے باز رہنے کی تلقین کی۔

کانفرنس کے اختتام کے اگلے دن اجتماع گاہ واقع مسلم کالونی ربوہ سے (اسٹیشن والی) محمدیہ مسجد تک تانگے سے سفر کیا۔ تانگہ ایک مسلمان نوجون چلا رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ میرے تانگے میں ایک اسکول کی مرزائی استانی سفر کرتی تھی۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا کہ تم ہماری انجمن میں شامل ہو جاؤ۔ ہم تمہیں روپیہ اور مکان دیں گے اور مرزائی لڑکی سے تمہاری شادی بھی کریں گے۔ اس نے بتایا کہ جب اس کانفرنس کے دوران لوگ نعرے لگاتے ہوئے ربوہ میں داخل ہوتے تو مرزائی اپنے گھروں میں گھس جاتے تھے اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک فروٹ کی ریڑھی والا اپنی ریڑھی بھگا کر ایک کونے میں لے گیا اور ایک کونے میں جاکر چھپ گیا۔ ایک دوسرے تانگے والے نے بتایا کہ ربوہ میں مرزائیوں کے گھروں میں کڑوا پانی نکلتا ہے اور مسلمانوں کے گھروں میں میٹھا پانی نکلتا ہے۔ اس صورت میں وہ پینے کے لیے پانی مسلمانوں کے گھر سے لیتے ہیں۔

شام کو ربوہ کے مقامی ساتھی بھائی صاحب اور صوفی صاحب ربوہ شہر دکھانے لے گئے۔ جب ہم نام نہاد بہشتی مقبرے میں داخل ہوئے تو وہاں عجیب ویرانی محسوس کی۔ واللہ میرا دل اندر سے رو رہا تھا کہ کتنے ہی نادان لوگ سیدھی راہ سے بھٹک کر ایسی راہ پر چل نکلے جو سوائے جہنم کی تہہ کے کسی اور طرف نہیں جاتا اور تمام منازل میں سے پہلی منزل ہے۔ وہاں تین سوالوں میں سے ایک سوال حضرت خاتم النبین ﷺ کے بارے میں بھی ہو گا تو اس وقت قادیانی کیا جواب دے سکیں گے؟

اس کے بعد کے حشر کا تو ہم تصور ہی نہیں کر سکتے۔ اس خیال کے آتے ہی میری

صفحہ 37

زبان سے نکلا ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا سامنے ایک چہار دیواری پر نظر پڑی۔ اندر جا کر دیکھا تو وہاں خواص کی قبریں تھیں۔ جن میں مرزا ناصر کی قبر سب سے آخر میں تھی۔ وہاں ایک بورڈ پر لکھا تھا کہ اگر موقع ملے تو ان لاشوں کو نکال کر قادیان میں دفن کر دیا جائے۔ قبرستان میں ایک ٹیلیفون نصب تھا تو ہمارے ساتھی نے از راہ مذاق کہا کہ ہو سکتا ہے کہ ربوہ کے قبرستان میں مدفون مرزائیوں کا قادیان کے قبرستان والوں سے فون پر رابطہ ہو۔ قبرستان میں جہاں بھی نگاہ ڈالی وہاں کے درختوں کے پتے ایسے مرجھائے تھے۔ جیسے اہل قبرستان پر ماتم کرتے کرتے نڈھال ہو چکے ہوں۔ ابھی ہم قبرستان سے باہر نکل کر آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ پیچھے سے ایک مرزائی نمودار ہوا۔ داڑھی چھدری اور سر پر بھاری ٹوپی اور انگریزوں کا پسندیدہ لباس پینٹ کوٹ پہنے ہوئے۔ آتے ہی بولا کہ دین میں تو اختلافات ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ میں اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتا۔ آپ یہ بتائیے کہ اس جگہ آنے کے بعد اور یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد آپ کیا محسوس کر رہے ہیں۔ ہم نے موقع غنیمت جان کر کہا کہ ہمارے ذہنوں میں کچھ سوالات ابھر رہے ہیں۔ اس نے موقع کی مناسبت سے کہا ضرور پوچھئے، جس پر میں نے جھٹ یہ سوال کر دیا۔

میں: یہ بتائیے کہ آپ کی انجمن ہر مرزائی سے اس کی دولت کا دسواں حصہ کیوں طلب کرتی ہے اور اسے کہاں صرف کرتی ہے؟

مبلغ: پہلی بات تو یہ ہے کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنی محبوب چیزوں کو میری راہ میں خرچ کرو۔ جہاں تک خرچ کرنے کا سوال ہے تو ہم رقم غریبوں اور ناداروں پر خرچ کرتے ہیں اور آپ کے لوگوں (غیر مرزائیوں) کو بھی دیتے ہیں۔

بھائی صاحب!: مثال دے کر بتائیے کہ ربوہ میں آپ کس غیر مرزائی کی مدد کرتے ہیں؟

مبلغ: (تھوڑی دیر سوچ کر) مثلاً ریلوے اسٹیشن پر رہنے والے ایک بیمار بوڑھے کی مدد کی گئی۔

بھائی صاحب: میں تو بہت عرصے سے اسٹیشن والی مسجد کے پاس رہتا ہوں۔ میں نے کوئی ایسا بوڑھا نہیں دیکھا۔ نیز یہ بتائیں آپ کے ہاں اگر کوئی بہت پرہیز گار ہو۔ لیکن

صفحہ 38

غریب ہو یا کوئی مرزائی کسی مجبوری یا کنجوسی کی وجہ سے آپ کی انجمن کے لیے اپنی دولت کا مطلوبہ حصہ وقف نہ کرے تو آپ اسے کیا ”بہشتی مقبرے“ میں دفن ہونے دیں گے۔

میں نے پوچھا: کیا دولت کا یہ دسواں حصہ آپ کی انجمن جبراً لیتی ہے؟

مبلغ: نہیں۔ بلکہ جو ”بہشتی مقبرے“ میں جگہ لینا چاہتا ہو وہ خوشی سے دیتا ہے۔

بھائی صاحب: چونکہ میں ربوہ کا رہنے والا ہوں۔ میں نے کچھ عرصہ پہلے دیکھا کہ بیرون ربوہ سے ایک لاش آئی۔ اس مرزائی نے انجمن کو مطلوبہ پوری رقم ادا نہیں کی تھی۔ اس لیے اس کو اس وقت تک بہشتی مقبرے میں دفن ہونے نہیں دیا گیا۔ جب تک کہ اس کا مکان فروخت کر کے مطلوبہ رقم حاصل نہ کرلی گئی یہ تو مرنے والے کی رقم جبراً لی گئی۔ ممکن ہے وہ رقم اس نے اپنی اولاد وغیرہ کے نام کر دی ہو اور انجمن کو ادا کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔ بصورت دیگر اگر آپ نے رقم لینی تھی تو پہلے اسے دفنا تو دیتے۔ بعد میں اس کے مکان کا حساب کتاب ہوتا رہتا۔ جب آپ نے اپنے مردے کے ساتھ یہ سلوک کیا تو پتہ نہیں زندہ لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہوں گے؟

مبلغ: میں اس وقت یہاں موجود نہ تھا۔ مجھے اس واقعے کا علم نہیں۔

شاہد: اس قبرستان کا نام ”بہشتی مقبرہ“ رکھا گیا ہے۔ آپ کو کیسے یقین ہے کہ اس میں داخل ہونے والے جنتی ہیں۔

مبلغ: ۔ (لاجواب ہو کر) اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید تو کی جاسکتی ہے۔

ہمارے ساتھی صوفی صاحب نے کہا کہ آپ اپنی مخصوص جگہیں دکھانا پسند کریں گے۔ مبلغ نے کہا چلئے۔ پہلے نام نہاد قصر خلافت پہنچے۔ وہاں ایک بڑی کوٹھی بنی ہوئی تھی۔ باہر ہی سے بڑے بڑے شیشے کے دروازے اور کھڑکیاں نظر آرہی تھیں اور ان پر مخمل کے پردے پڑے ہوئے تھے۔ اس میں موجودہ خلیفہ مرزا طاہر قیام پذیر ہے۔ قصر خلافت کے در ودیوار رنگ و روغن سے محروم تھے۔ اس پر میں نے مبلغ سے پوچھا کہ کیا یہ آپ کے خلیفہ کی سادگی ہے؟ اس پر وہ کھسیانا ہو کر رہ گیا۔ قصر خلافت کے برابر سیکرٹریٹ اور سامنے قادیانی معبد تھا۔ قادیانی معبد پہنچے تو میں اپنی جوتی لے کر اندر جانے لگا تو اس نے کہا جوتی یہیں رہنے دیجئے چوری نہیں ہو گی۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ جو قوم نبوت پر ڈاکہ ڈال

صفحہ 39

سکتی ہے۔ وہ یقیناً جوتی بھی چوری کر سکتی ہے کیونکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کوئی قوم اپنی اصلیت نہیں بھولا کرتی۔ مبلغ نے بتایا کہ مرزا طاہر جب یہاں ہوتا ہے تو امامت بھی کرتا ہے۔

قادیانی عبادت گاہ کافی بڑی تھی۔ وہاں ایک جگہ کلمہ لکھا ہوا تھا۔ مبلغ نے میری توجہ اس طرف پھیری کہ دیکھو پورا کلمہ لکھا ہوا ہے۔ میں نے کہا ہاں مسیلمہ کذاب بھی پورا کلمہ پڑھتا تھا۔

سڑک پر نکلے تو ایک جنازہ جا رہا تھا اور تابوت چار پہیوں والے ریڑھے کی طرح بنا ہوا تھا۔ اور اسے چلا کر لے جایا جا رہا تھا۔ مبلغ نے کہا کہ دیکھو اس تابوت کے اوپر چھت بنی ہوئی ہے تاکہ ہر طرح کے گرد و غبار اور بارش سے محفوظ رہے اور کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ میں نے سوچا کہ ایک تو مردہ اپنے ساتھیوں کے کندھے دینے سے محروم رہ گیا۔ دوسرا یہ کہ یہاں کی گرد و غبار اور بارش وغیرہ سے اگر یہ محفوظ کر بھی لیں گے لیکن آنے والی تکالیف سے تو نہیں بچا سکتے۔

اس کے بعد بیرون ممالک سے آنے والے مبلغین اور مہمانوں کے ٹھہرنے کی جگہ بتائی اور اس نے بتایا کہ اس وقت چار پانچ مبلغ ہمارے مہمان ہیں۔ یہاں سے نکل کر ”دار الاقامہ“ کی طرف گئے۔ جہاں اندرون ملک سے آنے والوں کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس نے بتایا کہ یہاں ہمارے مہمانوں کے علاوہ اگر کوئی ربوہ میں بھولا بھٹکا مسافر آجائے یا قرب و جوار میں کوئی حادثہ ہو جائے تو متاثرین کو بطور مہمان ٹھہراتے ہیں اور پھر پھانس کر مرزائی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہاسٹل گیٹ میں داخل ہوتے ہی سامنے استقبالیہ ہے۔ جہاں اسٹاف اپنے کام میں مصروف تھا۔ آگے چل کر دیکھا کچھ کمرے بنے ہوئے ہیں اور ہر کمرے کے باہر گتے کے بورڈ پر پاکستان کے چار پانچ شہروں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ میرے پوچھنے پر بتایا کہ انصار اللہ کا اجتماع ہو رہا ہے (جو چالیس سال سے زیادہ عمر کے قادیانی افراد کی انجمن ہے) اور اس میں شریک مہمانوں کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ میں نے فوراً سوال کیا کہ ایک کمرے میں کتنے پلنگ ہیں؟ اس نے کہا دو پلنگ۔ میں نے کہا کہ اگر ایک شہر سے دس آدمی آئے تو پانچ شہروں سے پچاس ہوئے اور دو پلنگ پر پچاس آدمی کیسے سو سکتے ہیں؟

صفحہ 40

وہ میری توجہ ہٹانے کے لیے ”دار الضیافت“ کی طرف لے گیا۔ کھانے کے کمرے میں گھستے ہی بدبو سی محسوس ہوئی۔ اپنے آقاؤں کی وفاداری کا یہ عالم کہ کھانے کے کمرے میں جہاں نگاہ ڈالئے میز کرسیاں بچھی ہوئی نظر آتی تھیں۔

چونکہ میں اس کی باتوں میں بہت دلچسپی لے رہا تھا اس لیے جب واپسی ہونے لگی تو اس نے کہا کہ دین میں تو اختلافات ہوتے ہی رہتے ہیں۔ ہمیں ان باتوں میں نہیں پڑنا چاہیے ہمیں ایک دوسرے کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہیے اور آپس میں مل کر ملکی ترقی کے لیے کام کرنا چاہیے۔ مبلغ نے مجھ کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ تو ابھی ربوہ میں ٹھہریں گے۔ آپ مجھ سے کل ملئے۔ تفصیلی بات کریں گے اور آپ کے اشکالات بھی دور کریں گے۔

اگلے دن لاہور روانہ ہونے کے لیے اسٹیشن پہنچا تو دیکھا کہ بہت سے نوجوان مرزائی لڑکے لڑکیاں ٹرین کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ ٹرین میں مجھے ایک بڑے میاں ملے۔ لمبی سی داڑھی تھی۔ مجھ سے پوچھا کہ کہاں سے آ رہے ہو۔ میں نے کہا ”ربوہ سے“ یہ سنتے ہی چونک اٹھے، پہلے تو مجھے اوپر سے نیچے تک بڑے غور سے دیکھا۔ پھر پوچھنے لگے ”تیرا ایمان کیا ہے؟“ میں نے کہا الحمد اللہ مسلمان ہوں۔ ربوہ کانفرنس میں شرکت کے لیے گیا تھا۔ یہ سن کر انہوں نے با آواز بلند مرزا صاحب کی جھوٹی نبوت کی ساری قلعی اتارنی شروع کر دی۔ برابر میں مرد و زن بیٹھے ہوئے تھے۔ بڑے میاں کی باتوں سے لال پیلے ہو رہے تھے اور بڑے میاں کی طرف دیکھ دیکھ کر کچھ کہہ رہے تھے۔ ایک مرزائی برداشت نہ کر سکا اور اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ سچائی تو ایسی خوشبو ہے جو چھپائے نہیں چھپتی اور ایک دم میری زبان سے بے ساختہ نکلا۔

فرما گئے ہیں ہادی
لا نبی بعدی

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد ۲‘ شمارہ ۲۸‘ از قلم: محمد شاہد)

صفحہ 41

حضرت امیر شریعتؒ کا ایمان افروز واقعہ

لاہور کے قریب رائے ونڈ میں ہر سال تبلیغی اجتماع ہوتا ہے۔ پوری دنیا سے لوگ جان و مال اور وقت کی قربانی دے کر اس میں شرکت کرتے ہیں۔ میرے اندازے میں تقریباً پچیس تیس لاکھ کا مجمع تھا۔ چوتھے روز دعا سے فارغ ہو کر میں لاہور روانہ ہو گیا کیونکہ لاہور میں میرے کافی عزیز ہیں‘ سوچا کہ جب اتنی دور سے آیا ہوں تو ان سے بھی ملتا چلوں۔ ایک دن میں لاہور میں اپنے عزیز کے ہاں بیٹھا ہوا تھا ان کے ایک دوست بھی ان سے ملنے کے لیے ان کے گھر تشریف لائے ہوئے تھے۔ میرے عزیز نے اپنے دوست سے میرا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ شاہ جی! یہ میرے عزیز ہیں اور کراچی میں رہتے ہیں۔ یہاں رائے ونڈ میں سالانہ تبلیغی اجتماع ہوتا ہے۔ اسی میں شرکت کے لیے آئے ہیں تو شاہ صاحب جن کا نام سید افتخار احمد شاہ ہے‘ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ خالصتاً اسی کام کے لیے آئے تھے‘ تو وہ بہت خوش ہوئے۔ میں نے ان سے کہا کہ شاہ جی میں تو کراچی سے آیا ہوں جو کہ پاکستان کا ہی ایک شہر ہے۔ اس اجتماع میں تو لوگ دنیا کے آخری کونے سے اپنے جان و مال اور وقت کی قربانی دے کر ہر سال شریک ہوتے ہیں۔ شاہ صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کراچی میں کیا کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ دفتر ختم نبوت میں ایک خادم کی حیثیت سے کام کرتا ہوں اس پر شاہ صاحب چونک اٹھے۔ تو شاہ صاحب نے کہا کہ اس مسئلے میں جتنی قربانی شاہ صاحب نے دی ہے اس کا بیان کرنا مشکل ہے۔ میں چونکا اور افتخار شاہ صاحب سے پوچھا آپ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے بارے میں کچھ جانتے ہیں تو انہوں نے کہا ہاں۔ میں نے شاہ صاحب سے کہا ان کا کوئی واقعہ اگر آپ کے ذہن میں ہو تو بتائیں انہوں نے کہا ایک مرتبہ شاہ جی ریاست پٹیالہ میں تقریر کرنے آئے۔ اس وقت میری عمر تقریباً ۱۸ برس تھی۔ میں شاہ جی کی تقریر بڑے شوق سے سنتا تھا۔ مجھے اگر معلوم ہو جاتا کہ شاہ جی کی تقریر فلاں جگہ ہے تو میں وہاں ضرور جاتا‘ چاہے مجھے پیدل ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ میں نے شاہ جی کے جلسے میں شرکت کے لیے بیس بیس میل پیدل سفر کیا ہے۔ ریاست پٹیالہ میں تقریر شروع ہوئی۔ جلسہ میں ہندوؤں اور سکھوں کی کثرت تھی۔ مجمع میں ایک سردار

صفحہ 42

بل بیر سنگھ ایس پی سپرنٹنڈنٹ جو کہ باوردی تھے۔ وہ بھی شرکت کے لیے آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے سوچا کہ چلیں ہم بھی دیکھتے ہیں کہ شاہ جی کون ہیں ایسے ہی لوگ شاہ جی شاہ جی کہتے ہیں۔ آج بھرے مجمع میں ایسا سوال کروں گا کہ لوگ شاہ جی کہنا بھول جائیں سو اس نے ویسا ہی کیا اور اسٹیج پر چڑھ کر شاہ صاحب سے سوال کیا شاہ جی میں نے سنا ہے کہ آپ سید ہیں تو شاہ صاحب نے فرمایا نہیں۔ بھائی میں تو سیدوں کی جوتیاں سیدھی کرنے والا ہوں۔ اتنے میں ایس پی سپرنٹنڈنٹ سردار بل بیر سنگھ نے کہا کہ شاہ جی میں نے سنا ہے کہ جو سید ہو اسے آگ نہیں جلاتی تو مجمع میں شور برپا ہو گیا۔ قاضی احسان احمد صاحب بھی شاہ صاحب کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے سردار بل بیر سنگھ سے کہا کہ مجمع میں کرامت دکھانے کی اجازت نہیں ہے تو شاہ جیؒ نے مولانا احسان احمد صاحب سے کہا کہ مولانا صاحب آپ خاموش رہیں اگر یہ سوال کوئی مسلمان کرتا تو اور بات تھی۔ یہ ایک غیر مسلم نے سوال کیا ہے اور کیا بھی مجھ سے ہے۔ اس کا جواب بھی میں ہی دوں گا چنانچہ شاہ صاحب نے سردار بل بیر سنگھ سپرنٹنڈنٹ کے آگے اپنے دونوں ہاتھ کر دیے اس نے اپنے ایک محافظ سے کہا کہ آگ لے کر آؤ۔ وہ آگ لے کر آیا اس نے آگ سے دہکتے ہوئے انگارے شاہ صاحب کے ہاتھ پر رکھ دیئے۔ شاہ صاحب انگارے دونوں ہاتھوں میں لیے کھڑے رہے۔ سارا مجمع حیران رہ گیا اور اس وقت تک ہاتھ نہیں جھاڑے جب تک سردار بیر سنگھ نے نہیں کہا۔ تقریباً پانچ منٹ بعد سردار بل بیر سنگھ نے کہا کہ اب انگارے پھینک دیں اور مجھے اپنے ہاتھ دکھائیں شاہ صاحب نے دونوں ہاتھ سردار بل بیر سنگھ کے سامنے کر دیے وہ فوراً ہاتھوں کو چوم کر شاہ صاحب کے گلے لگ گیا اور کہا کہ شاہ جی میرے سینے میں بھی آگ لگی ہوئی ہے۔ خدا کے لیے اسے بھی ٹھنڈا کر دیں اور مجھے کلمہ پڑھا دیں۔ شاہ صاحب نے اسی وقت اس کو کلمہ پڑھایا اور وہ سردار بل بیر سنگھ سپرنٹنڈنٹ اسی وقت مسلمان ہو گیا۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۵، شمارہ ۳۸، از قلم: رانا محمد انور)

صفحہ 43

آہ! حضرت مولانا زریں احمد خان (مرحوم)

۷ مئی ۱۹۹۳ء جمعرات بوقت شام حضرت مولانا زریں احمد خان مرحوم اپنے گاؤں چک R - ۱۰ \ ۲۶ کچا کھوہ ضلع خانیوال میں انتقال فرما گئے ۔ انا لله وانا اليه راجعون

حضرت مولانا زریں احمد خان مرحوم چھچھ ضلع اٹک کے رہنے والے تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم رئیس الموحدین حضرت مولانا حسن علیؒ واں بھچراں ضلع میانوالی سے حاصل کی۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ سے بیعت کا تعلق تھا۔

تعلیم سے فراغت کے بعد اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا تو حضرت چوہدری افضل حق مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی، شیخ حسام الدین، ماسٹر تاج الدین، مولانا عبد القیوم سرحدی، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، نوابزادہ نصر اللہ خان سے آپ کے نیاز مندانہ مثالی تعلقات تھے ۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے آپ خادم خاص تھے۔ میاں غلام محمد کپتان اور مولانا زریں احمد خان مرحوم کو یہ شرف حاصل تھا کہ انہوں نے بیماری کے دوران حضرت امیر شریعتؒ کی خدمت کی سعادت حاصل کی ۔

حضرت امیر شریعت سے آپ نے ایک عصا تبرک کے طور پر حاصل کیا۔ جسے وہ خاص مہمات میں اپنے ساتھ بطور تبرک رکھا کرتے تھے۔ قادیانیوں سے مناظرہ ہو تا تو وہ آپ کے ساتھ ہو تا تھا۔ ایک موقع پر ایک قادیانی سے گفتگو کے دوران میں قادیانی شاطر کی عیاریاں دیکھ کر جلال میں آگئے اور عصا کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ آپ اس عصا کو معمولی عصا نہ سمجھیں۔ یہ امیر شریعت کا عصا ہے۔ پٹھان کے ہاتھ میں ہے۔ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی سنت پر عمل ہوا تو یہ سانپ بن کر سانپوں کو کھا جائے گا۔ آپ کی اس پٹھانی للکار کا قادیانی پر ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ دم دبا کر بھاگ گیا۔

حضرت امیر شریعتؒ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد رکھی۔ ان دنوں پرانے بزرگوں کی طرز پر مولانا زریں احمد خان مفت تبلیغ اسلام کا فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔

صفحہ 44

گزر بسر کے لیے سائیکل پر منیاری کا سامان رکھتے اور دیہاتوں میں تبلیغ کے لیے نکل جاتے ظہر و عصر جہاں نماز پڑھی وہاں بیان کر دیا اور پھر پھیری لگائی سامان بیچا۔ رزق حلال کمایا۔ گھر تشریف لائے۔ عرصے سے آپ کا یہ معمول جاری تھا اور سامان خریدنے کے لیے ملتان تشریف لائے تو حضرت امیر شریعتؒ نے فرمایا ”خان“ سامان یہاں رکھ دو جو گھر ہے لے آؤ۔ فروخت کا انتظام کرتے ہیں۔ تمہاری تبلیغی میدان میں ضرورت ہے۔ آپ کے کہنے پر مولانا زرین احمد خان نے منیاری کا بکس رکھا اور قادیانی رد قادیانی کتب کا بکس اٹھایا اور تبلیغ و تحفظ ختم نبوت کے لیے وقف ہو گئے۔

مجلس کے پلیٹ فارم سے خدمات سرانجام دینا شروع کیں۔ مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا عبدالرحمٰن میانوی کی طرح آپ جماعت کے مبلغین حضرات کی پہلی صف میں شریک تھے۔ مولانا ابو الکلام آزادؒ، مولانا احمد سعید دہلویؒ، مفتی کفایت اللہ اور دیگر اکابرین آزادی کے دل و جان سے فدا تھے۔ ان کی زیارت و مجالس میں حاضری اور بیانات کو سننے کے لیے میلوں پیدل یا سائیکل پر دشوار گزار سفر کر کے جانا اپنے لیے قابل فخر گردانتے تھے۔

ذکر و فکر کی مجلسوں کی آبرو تھے۔ عابد‘ زاہد‘ متقی بزرگ تھے۔ مطالعہ کا از حد شوق تھا۔ قیمتی سے قیمتی کتب جمع کرنے کا محبوب مشغلہ آخری وقت تک جاری رہا۔

مجلس تحفظ ختم نبوت کے اوائل سے لے کر دم واپسی تک عالمی مجلس کے ساتھ ۴۵ سال وابستہ رہے۔ گرمی‘ سردی‘ دکھ سکھ کی پروا کیے بغیر جماعت کے تبلیغی نظام کو مخلصانہ مساعی سے جاری و ساری رکھا۔ امانت و دیانت کا پیکر تھے۔ خلوص و ایثار کا قدرت نے آپ کو قابل رشک حصہ عطا فرمایا تھا۔ چک R-۱۰ \ ۲۶ کچا کھوہ ضلع خانیوال میں منتقل ہوئے تو صبح بچوں کو پڑھاتے۔ دن چڑھے تبلیغ کے لیے نکل جاتے‘ یوں تعلیم و تبلیغ کا سلسلہ ساری زندگی جاری رکھا۔ علاقہ میں آپ کے شاگردوں کی خاصی تعداد آباد ہے۔ پٹھان برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ جوانی کے زمانہ سے آپ کی صحت و جوانی رنگ و روپ کو دیکھ کر ہیبت طاری ہو جاتی تھی۔ عالم دین ذاکر‘ عابد‘ پٹھان‘ گورا چٹا گٹھا جسم سبحان اللہ‘ قدرت نے کیا کیا خوبیاں ان میں جمع کر دی تھیں۔ اور مرحوم کا کمال دیکھو کہ ان تمام

صفحہ 45

خوبیوں کو دین اسلام کی ترویج اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے لٹا دیا۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں خانیوال‘ وہاڑی‘ میاں چنوں‘ چیچہ وطنی کے دیہاتوں اور شہروں میں کام کیا‘ گرفتار ہوئے‘ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں کو آباد کیا۔ ۹ ماہ تک جیل میں رہے۔ آپ پر جو مقدمہ دائر کیا گیا۔ اس کی ایف آئی آر میں درج تھا کہ آپ نے ایک تقریر کی۔ اس میں ایک خواب سنا کر مرزا غلام احمد قادیانی کی اہانت کی۔ تحریک ختم ہو گئی۔ رفقاء رہا ہو گئے۔ آپ پر مقدمہ باقی تھا۔ ضمانت پر رہائی آپ کی عظمت کے خلاف تھا۔ مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی۔ جج نے خواب سن کر پوچھا آپ نے فرمایا کہ حضرت مولانا پیر خورشید احمد گیلانیؒ خلیفہ مجاز شیخ الاسلام حضرت مدنیؒ کی مجلس میں میں نے خواب سنایا تھا اور اس کی تعبیر پوچھی تھی۔ جج نے خواب پوچھا۔ آپ نے کہا کہ میں نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ مرزا قادیانی کے حصہ اسفل پیٹ کی جانب جائے مخرج سے گندگی جاری ہے۔ اونٹ جس طرح اپنے پیشاب اور مینگنیوں پر دم مار کر ان کو گرد بدتمیزی سے بکھیرتا ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی جائے مخرج پر پیٹ کی جانب الٹا اپنا ہاتھ مار کر چاروں طرف لوگوں پر اپنی تعفن غلاظت بکھیر رہا ہے۔

حضرت پیر خورشید احمد مرحوم نے اس کی تعبیر یہ بتائی کہ مرزا قادیانی سراپا غلاظت تھا۔ وہ اپنی زبان و بیان‘ قلم و ہاتھ سے بے دینی کی غلاظت زندگی بھر پھیلاتا رہا۔ خواب اور تعبیر سن کر جج کھلکھلا اٹھا اور لکھا کہ خواب اپنی طاقت سے نہیں آتا اور اس کی تعبیر پوچھنا کوئی جرم نہیں لہٰذا آپ بری۔ چنانچہ آپ رہا ہو گئے اور پھر سفر شروع کر دیا۔

۱۹۷۷ء کی تحریک ختم نبوت میں مثالی خدمات سرانجام دیں۔ مولانا زرین احمد خان اس لحاظ سے بڑے نصیب والے تھے کہ آپ نے عالمی مجلس کے پلیٹ فارم سے کام شروع کیا اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوا کر دم لیا جو پودا لگایا تھا۔ اسے اپنے خون جگر سے سینچا اور اس کے ثمرات سے امت کو بہرہ ور ہوتے دیکھا۔ جوانی میں آپ کے خطاب میں زیادہ تر فرقہ باطلہ کی تردید ہوتی تھی۔ آخری عمر میں وعظ کہتے تھے۔ وعظ کے دوران میں آپ پر رقت طاری ہو جاتی۔ خود روتے اور سامعین کو رلاتے تھے۔ یہی انداز حضرت مولانا گل شیر مرحوم کا تھا۔ آخر کیوں نہ ہو کہ مولانا زریں احمد خان بھی مولانا گل شیر

صفحہ 46

مرحوم پر دل و جان سے فدا تھے۔ عالمی مجلس کے سالانہ اجتماع ربوہ میں تشریف لے جاتے تو نام و نمود سے کوسوں دور ایک کونے میں پڑے کارروائی دیکھتے رہتے۔ جب ساری دنیا سو جاتی۔ یہ اٹھ کر اللہ رب العزت کے حضور جھولی پھیلا دیتے۔ سال میں ایک بار اپنے علاقہ مکھڈ تشریف لے جاتے تو اٹک بھکر میانوالی وغیرہ کے علاقوں کا بھی دورہ فرماتے۔ بالکل پرانی طرز کے بزرگ تھے۔ ایک دفعہ جو اپنے لیے کام کی لائن متعین کرلی۔ پھر ساری زندگی اس پر گامزن رہے۔ اس دور میں تمام مبلغین ختم نبوت کے مربی و محسن اور مشفق کا ان کو درجہ حاصل تھا۔ ملکی حالات کی شکست و ریخت کا منظر دیکھتے تو دل پسیج کر رہ جاتا۔ عراق نے امریکہ کو للکارا تو پھولے نہ سماتے تھے۔ فرماتے تھے کم از کم کوئی مسلم ملک تو ہے جو امریکہ کو گھورتا ہے۔ امریکہ کے ازلی ابدی دشمن تھے۔ کیوں نہ ہوتے کہ اپنے بزرگوں سے یہی سبق پڑھا تھا۔ تقریباً ہر ماہ دفتر مرکزیہ ملتان تشریف لاتے ان کے آنے پر دفتر میں بہار آجاتی۔ رفقاء سے ملتے‘ کام کی رپورٹ سنتے اور باغ باغ ہو جاتے۔ وفات سے ایک یوم پہلے دفتر میں رہ کر گئے تھے۔ معمولی درجہ کی تھکاوٹ و حرارت محسوس کرتے تھے۔ مگر وہ عمر کا تقاضا تھا۔ گھر گئے‘ دن گزارا عشاء کی نماز باجماعت مسجد میں ادا کی۔ نماز پڑھ کر واپس تشریف لائے۔ ہاتھ میں تسبیح‘ زبان پر ذکر اور دل میں یاد الٰہی۔ اس حالت میں معمولی درد ہوا اور دل ہار گئے۔ اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائیں۔

آپ کی وفات کی خبر دفتر مرکزیہ موصول ہوئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم‘ ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ کے امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جناب محمد متین خالد کی والدہ مرحومہ کی تعزیت کرکے واپس تشریف لائے ہی تھے۔ خبر سنتے ہی جنازہ میں شرکت کے لیے مولانا زریں احمد خان مرحوم کے گاؤں تشریف لے گئے۔ آپ کا فرمانا ہے کہ حافظ عبد الرشید صاحب کچا کھوہ کا کہنا تھا کہ زندگی بھر پچاس سالہ دور امامت میں مولانا کے چہرے پر جتنی رونق علم و عمل کی بہار اور پٹھانی جلال دیکھا تھا۔ اس سے کہیں زیادہ وفات کے بعد چہرہ پر رونق ہے۔ رخسار اور پیشانی پر خوبصورتی اور سرخی جھلک رہی تھی۔ لبوں پر مسکراہٹ و تبسم تھا۔ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ راہی ملک عدم بڑے سکون و وقار‘

صفحہ 47

آرام و اطمینان و یکسوئی کے ساتھ اپنی آخری منزل کی جانب بڑھنے کے لیے تیار ہے۔ جنازہ میں علاقہ کے ہزارہا لوگوں نے شرکت کی اور یوں ۸ / مئی ۹۳ء جمعہ کے روز قبل از جمعہ رحمت حق کے سپرد کر دیے گئے۔

مرحوم کی وفات ان کے صاحبزادگان و عزیزان‘ اہل خانہ‘ علاقہ اور عالمی مجلس کے لیے بہت بڑا سانحہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔ مولانا زریں احمد خان‘ خود تو چلے گئے۔ ہمیں اس بے رحم دنیا میں اکیلا چھوڑ گئے۔ حق تعالیٰ آپ کے ساتھ اپنے رحم کا معاملہ فرمائیں۔ آپ کی وفات سے بزرگوں کی وفیات کے صدموں کو تازہ کر دیا ہے۔ ہر ایک جو آیا ہے‘ اس نے جانا ہے۔ اس دنیا میں ثبات صرف ذات باری تعالیٰ کو ہے۔ حق تعالیٰ شانہ ان کے نقش قدم پر چلنے کی‘ ان جیسی محنت و ایثار کی ہمیں بھی توفیق بخشیں۔ (آمین)

بحرمتہ النبی الامی الکریم

(ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد‘ جلد ۳۰‘ شمارہ ۸۰‘ از قلم: مولانا اللہ وسایا)

جب مرزائی غیر مسلم قرار دیے گئے

پچھلے دنوں ایک روزنامہ میں جناب میاں نظیر احمد صاحب کا ایک ایمان افروز مضمون بعنوان ”جنگ افغانستان‘ کچھ باتیں امور تکوینی کی“ شائع ہوا تھا۔ اس میں ایک خواب کا ذکر تھا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ فتح بالآخر مجاہدین کے قدم چومے گی۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور احادیث نبوی ﷺ سے بھی ثابت ہے کہ رویا صالح کو دین میں خاص اہمیت حاصل ہے۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نبوت کے آثار میں سے اب کچھ باقی نہیں رہا مگر مبشرات (یعنی نبوت میرے بعد ختم ہو جائے گی اور آئندہ ہونے والے واقعات معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ مبشرات) کے سوا باقی نہ رہے گا۔ صحابہ کرام ؓ نے دریافت کیا کہ مبشرات کیا ہیں؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ

صفحہ 48

اچھے خواب (یعنی خوشخبری دینے والے خواب)

رویا صالح کے حوالے سے میں ایک خواب کو جو مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے متعلق ہے قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں ممکن ہے کہ چند سطور پڑھ کر کسی کی قسمت جاگ اٹھے۔

میری ایک رشتہ دار عمر رسیدہ نیک سیرت خاتون ہیں۔ نماز روزہ کی پابند ہیں اور حج کی سعادت حاصل کر چکی ہے۔ وہ اس لحاظ سے بڑی خوش قسمت ہیں کہ انہیں خواب میں سید المرسلین خاتم النبین ﷺ کی زیارت بابرکت کا شرف حاصل ہوا۔ جس رات انہوں نے یہ مبارک خواب دیکھا اس سے اگلی صبح مجھے کہنے لگیں۔

”گزشتہ شب میں خواب میں آپ کو مسجد نبوی میں پاتی ہوں۔ وہاں تھوڑی دیر قیام کے بعد دیکھتی ہوں کہ بعض نمازی آپس میں الجھ رہے ہیں۔ وجہ معلوم کی تو پتہ چلا کہ مسجد کے صحن میں جو قالین بچھے ہوئے ہیں، ان کے پاس کوئی شخص ایک میلی کچیلی دری بچھا گیا ہے۔ بعض حضرات چاہتے ہیں کہ اس دری کو ہٹا دیا جائے، جبکہ بعض کا خیال ہے کہ یہ ایک طرف پڑی رہے۔ ابھی تکرار جاری تھی کہ نبی اکرم ﷺ تشریف لاتے ہیں۔ حضور ﷺ کے چہرہ اقدس سے نور کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں۔ پاس ادب سے میری نظریں حضور ﷺ کے مبارک قدموں پر جمی رہیں۔ حضور ﷺ نے دریافت فرمایا کہ آپ کس بات پر جھگڑ رہے ہیں؟ ایک صاحب نے واقعہ بیان کیا اور وہ غلیظ دری بھی دکھائی جو پچھلی جانب پڑی تھی۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ دری کو اٹھا کر مسجد سے باہر پھینک دیا جائے۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔“

محترمہ موصوف جب خواب بیان کر چکیں تو مجھ سے اس کی تعبیر پوچھی۔ میں علم تعبیر کی ابجد سے بھی واقف نہ تھا۔ لیکن ان دنوں کے واقعات کے تناظر میں جب میں نے اس خواب پر غور کیا تو اس کی تعبیر بہت سہل نظر آئی۔

ان دنوں مسٹر بھٹو کا دور اقتدار تھا۔ ختم نبوت کی تحریک کو عوام کی زبردست حمایت حاصل ہو چکی تھی۔ قومی اسمبلی میں یہ مسئلہ زیر بحث تھا کہ مرزائی اپنے عقائد کے اعتبار سے دائرہ اسلام سے خارج ہیں یا نہیں۔ ان واقعات کی روشنی میں خواب میں جو اشارہ موجود

صفحہ 49

تھا وہ نہایت واضح تھا۔ میں نے خواب کی تعبیر بتائی کہ مرزائی حضرات انشاء اللہ عنقریب غیر مسلم قرار دیئے جائیں گے۔ میں نے ان ایام میں یہ خواب اپنے کئی عزیزوں اور دوستوں کو سنایا اور اس کی تعبیر بھی بتائی، لیکن اس خواب کو صفحہ قرطاس پر منتقل کرنے کا فریضہ اب سرانجام دے رہا ہوں۔ ابھی تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ حکومت نے ایک تاریخ ساز فیصلہ صادر کیا جس کی رو سے مرزائی غیر مسلم قرار دیئے گئے۔ اس فیصلہ نے خواب کی سچائی اور تعبیر کی درستگی پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ (ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، از قلم: میاں محمد شفیع)

مولانا جالندھریؒ کی یاد

انہوں نے مجلس کے بانی راہنما اور امیر شریعتؒ کے دست راست، مجاہد ملت حضرت مولانا جالندھریؒ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ انتہائی سادہ بزرگ تھے۔ مخلص اور مدبر راہنما تھے۔ میں نے جب شروع شروع میں میدان خطابت میں قدم رکھا تو پابندیاں لگنا شروع ہو گئیں۔ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا مبلغ تھا اور مولانا مجھ پر بہت شفقت فرمایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ مجھے ڈی سی مظفر گڑھ نے بلایا۔ میں دفتر پہنچا اور ڈی سی صاحب سے پوچھا کہ کیا آپ نے مجھے بلایا ہے۔ اس نے پہلے تو انکار کیا اور جب میں نے تفصیل بتائی تو انہوں نے کہا۔ ہاں! بلایا ہے اور پھر انہوں نے تقریر شروع کر دی کہ آپ تقریریں چھوڑ دیں۔ یہ دیکھو آپ نے پشاور میں اشتعال انگیزی کی ہے اور وہاں سے یہ نوٹس آیا ہے کہ آپ پشاور نہیں جا سکتے۔ یہ ایوب خان کا دور تھا۔ ڈی سی صاحب سے کچھ نوک جھونک بھی ہوئی تاہم میں نے تعمیل کر دی اور مولانا صاحب جالندھریؒ کو اس کی اطلاع دے دی۔ انہوں نے مجھے واپسی جواب دیا کہ آپ فوراً ایک نوٹس بھیج دیں جس میں یہ لکھیں کہ ایک ہفتہ کے اندر یا تو یہ آرڈر واپس لو ورنہ اتنے ہزار روپیہ میرے ماہانہ اخراجات ہیں وہ ادا کرو۔ میں نے بادل ناخواستہ نوٹس بھیج دیا لیکن ساتھ بوریا بستر بھی تیار کر لیا کہ اس نوٹس کے بعد اب جیل ہی میں جانا ہو گا۔ خدا کی شان کچھ دن گزرے تو رات کو کسی نے

صفحہ 50

دروازے پر دستک دی۔ میں نے دیکھا تو پولیس کے سپاہی تھے۔ میں نے بیوی سے کہا کہ لو تمہارے ابا جی (مولانا لقمان صاحب کی بیگم صاحبہ مولانا جالندھری کو ابا جی کہتی تھیں) نے مجھے گرفتار کروا ہی دیا۔ وہ دیکھو پولیس آئی کھڑی ہے۔ آخر دروازہ کھولا تو اس وقت معلوم ہوا کہ آرڈر واپس کئے جانے کی اطلاع دینے آئے ہیں۔ حضرت مولانا جالندھریؒ ہماری یوں راہنمائی اور حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ مولانا محمد لقمان نے کہا کہ مولانا جہاں بھی تقریر کرنے کا وعدہ کرتے تو خواہ کتنی ہی مشکلات اور رکاوٹیں پیدا ہوتیں‘ وہ وعدہ پر پہنچتے تھے۔

عرصہ کی بات ہے کہ بہاولپور میں پیلی کے مقام پر جلسہ تھا۔ پیلی سمہ سٹہ سے ۲۶ میل دور ایک قصبہ ہے۔ مولانا کے میزبان محمد علی شاہ نے کچھ نوجوانوں کو بھیجا کہ وہ سائیکل پر مولانا کو لے آئیں۔ مولانا صبح چھ بجے گاڑی سے اترے تو سادہ سی ٹوپی‘ سادہ سا کرتہ اور تہبند۔ کوئی نہ پہچان سکا کہ یہ مولانا جالندھریؒ ہیں۔ شاید جو لینے کے لیے آئے تھے۔ انہیں خیال ہو گا کہ بڑا سا کلاہ سر پر ہو گا۔ چھ سات صندوق درجنوں بوتلیں۔ خدام اور ۲۸ / عطر کی شیشیاں ہوں گی۔ لیکن مولانا سادہ سا لباس پہنے ہوئے تھے۔ ہمارے سارے بزرگ ایسے ہی تھے۔ جیسے آج کل ہمارے ناظم اعلیٰ مولانا محمد شریف جالندھری ہیں‘ انہیں بھی کوئی نہیں پہچان سکتا کہ یہ مولوی جماعت ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ ہیں۔

۔ بہرحال مولانا جالندھریؒ نے اپنی سادہ سی ٹوکری اٹھائی اور پیدل چل پڑے۔ جو لوگ سائیکل پر مولانا کو ریلوے اسٹیشن سے لینے آئے ہوئے تھے‘ کافی دیر ادھر ادھر مولانا کو تلاش کیا اور بالاخر مایوس ہو کر چل دیے۔ مولانا جالندھریؒ جو پیدل رواں دواں ہیں۔ وہ سائیکلوں والے ان کے پاس سے گزر کے چلے گئے لیکن نہ پہچان سکے۔ جب وہ خالی وہاں پہنچے تو میزبان پیر محمد علی شاہ نے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔ خالی آگئے‘ مولانا کو لے کر نہیں آئے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے بہت تلاش کیا‘ مولانا نہیں آئے۔ تو پیر محمد علی شاہ نے کہا کہ : ”یہ ناممکن ہے کہ مولانا جالندھریؒ جلسہ کے لیے وقت دیں اور نہ پہنچیں۔ ظہر کی نماز کے بعد جلسہ تھا۔ ادھر اذان ہوئی ادھر مولانا پہنچ گئے۔ پیر محمد علی شاہ بڑے پشیمان ہوئے

صفحہ 51

کہ مولانا کو سمہ سٹہ سے پپلی تک ۲۲ میل کا سفر پیدل کرنا پڑا اور انہوں نے جب اپنی پشیمانی کا اظہار کیا تو مولانا نے فرمایا شاہ جی!

”آنحضرت ﷺ نے تبلیغ اسلام کے لیے اپنے دندان مبارک شہید کرائے، اگر میں نے ۲۲ میل کا سفر پیدل کر لیا تو کیا ہو گیا۔ کیا آپ اس پر خوش نہیں کہ آج مجھ سے حضور ﷺ کی ایک سنت پوری ہو گئی؟“

آپ نے کھانا کھایا، نہ آرام کیا، فوراً وضو کیا، نماز پڑھی اور نماز کے بعد کھڑے ہو کر تین گھنٹے تقریر کی۔

(تقریر مولانا لقمان علی پوری، ہفت روزہ ”لولاک“ جلد ۱۹، شمارہ ۲۵)

قادیانی خلیفہ دوم اور اٹلی کی حسینہ مس روفو!

ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ مسز فیرارو، جو مونڈیل کے ساتھ نائب صدر کی امیدوار تھیں، ناکامی کے بعد اب ستر ہزار ڈالر سالانہ کی اس رقم سے بھی محروم ہو گئی ہے جو انہیں کانگرس وومن کی طرف سے ملا کرتی تھی۔ ساتھ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ مسز جیرالڈائن فیرارو اٹلی کے تارکین وطن میں سے ہے، اٹلی کے ذکر پر ہمیں بے ساختہ اٹلی کی ایک اور تارکہ وطن مس روفو یاد آگئیں جو ایک انگریز کرنل کے بلاوے پر بطور گورنس یہاں پہنچی تھیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ کرنل سے ملاقات کریں ۔ کرنل صاحب ایک وصیت کی بنا پر سونے کی ایک کان کے مالک ہو کر آسٹریلیا چلے گئے۔ مس روفو کے پاس نہ تو واپسی کے لیے رقم تھی نہ آسٹریلیا جانے کے لیے ۔ مجبوراً وہ سیسل ہوٹل میں ٹھہر گئیں اور بلیئرڈ کھیلنے والوں کی خدمت کے معاوضہ میں جو کچھ مل جاتا، اس پر گزر کرنے لگیں۔ سیسل ہوٹل کے ساتھ ایک کوٹھی تھی۔ جس میں چودھری ظفر اللہ خان بیرسٹر مقیم تھے ۔ ایک مرتبہ ان کے پیشوا مرزا بشیر الدین محمود قادیان سے اردو کانفرنس کے سلسلے میں لاہور آئے تو پتھر والی کوٹھی میں ٹھہرے۔ شام کو چہل قدمی کے لیے نکلے تو ادھر سے وہ نوخیز اطالوی حسینہ بھی سڑک پر نکل آئی۔ مرزا صاحب نے اس کے حسن و جمال سے متاثر ہو کر ظفر اللہ خان سے پوچھا کہ

صفحہ 52

یہ قتالہ عالم کون ہے۔ ظفر اللہ خان نے پوچھ گچھ کے بعد اس کا حال بتایا تو مرزا صاحب نے اسے اپنے بچوں کی گورنس بن جانے کی پیشکش کی اور اچھے خاصے معاوضے پر اسے ساتھ لے گئے۔ مولانا ظفر علی خان کو خدا ایسا موقع دے انہوں نے ایک مرصع نظم اس واقعہ پر کہہ کر زمیندار میں شائع کی ہے۔

اے کشور اطالیہ کے باغ و بہار
لاہور کا دامن ہے ترے فیض سے چمن
رونق ہے ہوٹلوں کی ترا حسن بے حجاب
تجھ پر فدا ہے شیخ تو لٹو ہے برہمن
پیمانہ نشاط تری ساق صندلیں
میخانہ سرور تیرا مرمریں بدن
پروردہ فسوں ہے تری چشم سرمہ سا
آوردہ جنوں ہے تری بوئے پیرہن!
پیغمبر نشاط تری چھبیلی ادا
پروردگار عشق ترا دل ربا حسن
جب قادیاں پہ تیری نشیلی نظر پڑی
سب نشہ نبوت نقلی ہوا ہرن!
میں بھی تیری چشم فسوں سحر کا معترف!
جادو وہی ہے آج جو ہو قادیاں شکن

(بشکریہ ”نوائے وقت ۱۹۸۲ء ص ۱۱۔ ۱۳)

گورداسپور کے فدائیان ختم نبوت

ہم گورداسپور کے مسلمانوں کی مہربانی کا شکریہ ادا نہیں کر سکتے کہ انہوں نے ہم سے بہت اچھا سلوک کیا اور ہم باوجود مسافرت کے گورداسپور میں وطن سے زیادہ با آرام

صفحہ 53

رہے۔ ابتداء میں جب مقدمات جہلم سے منتقل ہو کر گورداسپور میں گئے تو ہمارے دلوں کو سخت تشویش تھی کہ اس قدر دور دراز مسافت پر جانا ایک سخت مصیبت ہے اور ہمارے فریق مخالفین کو ہر طرح سے وہاں امن و آرام حاصل ہو گا۔ لیکن گورداسپوریوں نے ہم سے وہ حسن سلوک کیا کہ ہمیں گھر سے بڑھ کر وہاں آرام و راحت معلوم ہوتی تھی اور مرزائی پارٹی کو وہاں اس قدر تکالیف کی شکایت تھی کہ ”الحکم“ کو اخبار میں لکھنا پڑا کہ مکان تک ان کو وقت سے کرایہ پر نہ ملا۔ جناب میر احمد شاہ صاحب وکیل بٹالہ اور شیخ نبی بخش صاحب وکیل گورداسپور نے اسلامی اخوت کا وہ نمونہ دکھایا کہ مدۃ العمر ہمیں یاد رہے گا۔ صاحب مقدم الذکر اپنے خرچ پر گورداسپور میں جاتے رہے اور بلافیس وغیرہ پیروی کرتے رہے۔ ایسا ہی صاحب موخر الذکر اپنے سب مقدمے چھوڑ کر بلافیس ہمارے مقدمات میں کئی کئی دن اجلاس عدالت میں گزارتے رہے۔ الغرض دونوں حضرات نے قانون پیشہ اصحاب کے زمرہ میں داخل ہو کر مروت و احسان کا ایک اعلیٰ نمونہ دکھایا۔ باوجودیکہ ہم سے کسی قسم کا سابقہ تعارف نہ تھا۔ کسی قسم کے طمع اور فائدہ کی توقع نہ تھی۔ لیکن ہمیں غریب الوطن سمجھ کر صرف مذہبی ہمدردی دکھائی۔ ہم ان کی عنایات کا کسی طرح بھی شکریہ ادا نہیں کر سکتے۔ جزاھم اللہ احسن الجزاء۔ ایک اور صاحب لالہ مولا مل صاحب وکیل نے بھی ہماری بہت مدد کی اور صرف برائے نام فیس پر پیروی مقدمات میں انہوں نے کمال سرگرمی دکھلائی خدا ان کو خوش رکھے۔ ایک صاحب خواجہ عبدالرحمن صاحب ایجنٹ شیخ علی احمد صاحب وکیل نے جو کچھ ہم سے ہمدردی کی اس کا شکریہ ہم سے ادا نہیں ہو سکتا۔ ہماری جماعت کے جس قدر اشخاص ہوتے تھے سب کے لیے کھانا پکانے کی تکلیف آپ کے ذمہ تھی اور چارپائیاں بستر وغیرہ کا سارا انتظام ان کے سپرد تھا اور بھی کئی تکالیف ان کے ذمہ تھیں لیکن اس جوانمرد نے اس کام کو ایسی خوبی سے اخیر تک پہنچایا کہ باید و شاید

جزاء اللہ خیراً (”تازیانہ عبرت“ ص ۱۹۸۔۱۹۹ از مولانا کرم الدین دبیرؔ)

ریاض خلد کے پھولوں سے بہتر اس کو سمجھوں گا
کوئی کانٹا جو چبھ جائے گا طیبہ کے بیاباں میں (مولف)
صفحہ 54

توجہ مشائخ کرام

ہمارے اصلی معین و مددگار ہمارے حضرات مشائخ عظام تھے۔ حضرت اقدس پیر مہر علی شاہ صاحب سجادہ نشین گولڑہ شریف کی خاص توجہ ہمارے شامل حال تھی اور آپ ہی کی دعا اور برکت سے ہمارے جملہ مراحل کامیابی سے طے پاتے رہے۔ ابتداء میں جب مقدمات شروع ہوئے تو میں حضرت والا کی خدمت میں باریاب ہوا۔ عرض کی کہ اب دعا کا وقت ہے دوسری طرف سے ہر قسم کے منصوبے قائم ہو رہے ہیں اور ہر مرزائی کو یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان کے مخالف تکالیف میں مبتلا ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اس بات سے تم بالکل بے فکر رہو، انشاء اللہ تعالیٰ تم کامیاب رہو گے اور مرزا جس قدر زر خرچ کرے گا۔ اس مقابلہ میں ہزیمت ہی اٹھائے گا۔ میں عہد کرتا ہوں کہ جب تک یہ معرکہ رہے، ایک خاص وقت دعا کے لیے مخصوص رہے گا اور حق تعالیٰ سے نصرت و کامیابی کی دعا کی جایا کرے گی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ایسے مشکل معرکے پیش آئے کہ ہر طرف مایوسی کا سامنا نظر آتا تھا۔ لیکن حضرت پیر چشتی مدظلہ کی کرامت اپنا ایسا کرشمہ دکھاتی تھی کہ عقل حیران رہ جاتی تھی۔ جس وقت مرزا کی جماعت کے بعض اشخاص حضرت والا کی اطلاع یابی سمن شہادت پر کرا کر لے گئے تھے۔ مرزائی اچھلتے کودتے پھرتے تھے کہ دیکھو پیر گولڑوی عدالت میں حاضر ہونے سے کس طرح بچ سکتا ہے لیکن آپ کو خدا نے حاضری عدالت کی تکلیف سے بالکل محفوظ رکھا، حالانکہ مرزائیوں نے اس کے متعلق ناخنوں تک زور لگا لیا۔ کیا یہ پیر چشتی کی ایک روشن کرامت نہیں ہے۔ ایسا ہی دیگر مراتب میں بھی مرزائی جماعت کو ناکامی حاصل ہوتی رہی۔ ہم حضرت اقدس پیر صاحب مدظلہ کی اس باطنی توجہ کے کمال مشکور ہیں اور دعا ہے کہ ایزد تعالیٰ آپ کے ظل فیض کو دیر تک ممدود رکھے۔

ایک دوسرے حضرت اہل کمال جناب مولانا مولوی فتح محمد صاحب ساکن جنڈی شریف ضلع گورداسپور تھے۔ (جن کا افسوس کہ اب انتقال ہو گیا ہے) آپ فی الواقعہ ایک خدا رسیدہ اہل باطن کامل بزرگ تھے۔ آپ کی صحبت سے ایسی لذت اور حظ حاصل ہوتا تھا کہ تمام لذات دنیوی اس کے مقابلہ میں ہیچ ہیں۔ آپ ظاہری علوم میں متبحر ہونے کے باطنی علوم

صفحہ 55

(تصوف سلوک) کے ایک دریا تھے۔ ایسے ایسے نکات اور معارف بیان فرماتے تھے کہ سن کر دل کو وجد ہوتا تھا۔ گورداسپور کے نواح کے لوگ تو آپ کی ذات والا پر فدا تھے اور بھی دور دراز اضلاع کے لوگ کثرت سے آکر آپ کے فیض سے مستفید ہوتے تھے۔ آپ کو ہمارے حال پر خاص توجہ تھی اور ہمیشہ دعا فرماتے تھے۔ آپ کی طرف سے ہمیں مالی امداد بھی معقول ملتی رہی۔ خدا حضرت مغفور کو غریق بحر رحمت فرمائے اور ان کے پس ماندگان کو برکت کثیر بخشے اس وقت آپ کے جانشین خلیفہ مولوی محمد شاہ صاحب ہیں جو بہت بابرکت بزرگ ہیں۔ -(”تازیانہ عبرت“ ص ۲۰۰’ از قلم: مولانا کرم الدین بشیرؒ)

ایک مجذوب فقیر

جن دنوں چیف کورٹ (لاہور) میں درخواستہائے انتقال مقدمات جانبین سے گزری ہوئی تھیں۔ مرزائیوں کی درخواست تھی کہ مقدمات گورداسپور میں ہوں اور ہماری درخواست تھی کہ جہلم میں ہوں۔ اتفاقاً انار کلی میں مجھے ایک مجذوب فقیر مل گئے۔ جن کے بدن کے کپڑے میلے کچیلے پھٹے پرانے اور سر کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ مجھ سے اسلام علیکم کہہ کر پوچھنے لگے کہ جوان تم کون ہو؟ کہاں کے رہنے والے ہو؟ یہاں کیا کام ہے؟ چونکہ میں متفکر تھا۔ دوسرے روز چیف کورٹ میں پیشی تھی۔ کچھ سادہ جواب دے کر ٹالنا چاہا کہ فقیر میں جہلم کا رہنے والا ہوں۔ یہاں کچھ اپنا کام ہے۔ فرمانے لگے۔ کام ہے‘ ہم سے چھپاتے ہو۔ تمہارا قادیانی سے مقدمہ ہے‘ چیف کورٹ میں درخواستیں ہیں۔ تم چاہتے ہو کہ مقدمہ جہلم میں ہو‘ وہ چاہتے ہیں گورداسپور میں ہو۔ تمہاری درخواست نامنظور ہوگی اور مقدمات گورداسپور میں ہوں گے۔ اس کو ذلت بعد ذلت ہوگی۔ اس وقت تمام اہل اللہ تمہارے لیے دست بدعا ہیں۔ یہ تمہارا اور مرزا کا مقابلہ نہیں بلکہ اسلام و کفر کا مقابلہ ہے۔ دیکھو مرزا نہ نبی ہے نہ مہدی‘ نہ مجدد ہے نہ ولی۔ نبی کی تو یہ شان تھی کہ وہ ایک چٹائی پر سوتا تھا اور اس کی بیوی دوسری چٹائی پر۔ مرزا کی بیوی سیکنڈ اور فرسٹ کلاس ریلوے میں سفر کرتی ہے۔ سونے کے خلخال پہنتی ہے۔ یہ دنیا طلبوں کا کام ہے۔ نبی

صفحہ 56

اللہ کو یہ طاقت بخشی جاتی ہے کہ زمین و آسمان اس کا کہنا مانتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے دریا کو کہا پھٹ جا۔ پھٹ گیا۔ پھر جب اس میں فرعون داخل ہوا تو کہا مل جا‘ ایسا ہی ہوا اور دشمن تباہ ہو گیا اور نبی اللہ معہ اپنے رفقاء کے صحیح و سلامت پار ہو گیا۔ مرزا کو طاقت ہو تو تمہارے دل پر قابو حاصل کرے اس وقت وہ سخت تکلیف میں ہے۔

یہ بھی خیال مت کرو کہ وہ مہدی ہے۔ مہدی علیہ السلام جب آئیں گے تو ان کی آمد کی اطلاع اہل اللہ کو دی جائے گی وہ سب ان کے ساتھ ہولیں گے۔ حفاظ و علماء ان کے حلقہ میں ہوں گے۔ تم دیکھتے ہو سوائے نور الدین کے اس کے ساتھ کون ہے۔ مرزا بھی دنیا کا کیڑا ہے اور نور الدین بھی۔ تمام اہل باطن اور علماء اسلام مرزا کے دعویٰ کے مخالف ہیں۔۔ خبردار گھبرانا مت۔ تائید الٰہی تمہارے شامل حال رہے گی تو تم کو کوئی تکلیف نہ ہو گی۔ مخالف طرح طرح کے مصائب میں مبتلا ہو گا۔ ایسا ہی ہوا۔ اس اثناء میں مجھے کبھی کسی سر درد تک کا عارضہ لاحق نہ ہوا۔ مرزا جی غش کھا کر کچہری میں گرے۔ فضل دین چارپائی پر اٹھا کر کچہری میں لایا گیا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار

(”تازیانہ عبرت“ ص ۲۰۰۔۲۰۱‘ از مولانا کرم الدین دبیرؒ)

مولانا نواب الدین ستکوہی

میرے والد ماجد مولانا نواب الدین صاحب قصبہ مڈھار ضلع امرتسر کے تھے۔ والد صاحب چونکہ حضرت خواجہ سراج الحق کے خلیفہ اعظم تھے اور غیر معمول اوصاف و کمالات کے حامل۔ اس لیے انہیں قادیان کے خطرناک محاذ ستکوہا پر متعین کیا گیا۔ جو قادیان سے تین کوس کے فاصلے پر تھا اور بٹالہ سے اگلے اسٹیشن ”چھینا“ سے اتر کر قادیان جانے والوں کی راہگزر میں ایک اہم مقام کی حیثیت رکھتا تھا۔

تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد جب والد صاحب قادیان پر حملہ آور ہوتے تو تیزی سے دیہات میں خبر پھیل جاتی کہ مولوی صاحب مرزا سے مناظرہ کرنے جا رہے ہیں اور دیہاتی عوام اپنے ہل چھوڑ کر ساتھ ہو جاتے۔ یہ واقعہ میری پیدائش سے چند سال پہلے کا

صفحہ 57

- ہے۔ مرزا غلام احمد اور حکیم نور الدین سے گفتگو کا سلسلہ صرف علمی مباحث تک ہی محدود نہ رہتا بلکہ والد صاحب اسے شدید مطعون بھی کرتے۔ یہ خبریں تو مجھ تک عینی شاہدوں کے ذریعے بکثرت پہنچی ہیں کہ مرزا غلام احمد دق ہو کر عجز و انکسار کی راہ اختیار کر لیتا اور اپنے دعوؤں کی تاویلیں کرنے لگتا۔ مرزا کی موت کے بعد مناظروں کا دور شروع ہوا تو والد صاحب پنجاب کے عظیم مناظر ہونے کی حیثیت سے ان کا مقابلہ کرنے لگے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے مناظروں کی تعداد کتنی ہے؟ سینکڑوں یا ہزاروں‘ بہر حال مناظروں میں زبانی کلامی ہی باتیں نہ ہوتی تھیں‘ بلکہ جہاد فی سبیل اللہ کا آغاز بھی ہو جاتا تھا۔

غالباً ۱۹۲۹ء کا واقعہ ہے کہ پاکپتن شریف کی درگاہ میں والد صاحب کے پیر و مرشد کی درگاہ تھی۔ اس وقت پاکپتن شریف کی جامع مسجد کے خطیب ایک متجر عالم دین مولانا عبدالحق صاحب تھے جو یہیں کے ایک زمیندار بھی تھے۔ مرزائیوں سے شرائط مناظرہ طے کرنے کے لیے مولانا تشریف لے جانے لگے تو میں بھی ان کے ساتھ ہو گیا۔ مرزائی بڑے کر و فر کے ساتھ آئے تھے۔ میں ان کی کتابوں کے انبار اور ان کا کرو فر دیکھ کر مرعوب ہو گیا۔ دل میں یہ خیال گزرنے لگا کہ میرے والد صاحب کے پاس تو کوئی کتاب نہیں‘ وہ کیسے مناظرہ کریں گے! چنانچہ میں نے اپنے اس تاثر کا والد صاحب سے اظہار کیا تو وہ ہنس پڑے اور مولانا عبدالحق صاحب سے فرمانے لگے کہ دیکھو! مظہر کیا کہہ رہا ہے۔ پھر مولانا نے فرمایا۔ اس لڑکے کو سمجھاؤ کہ مناظرہ کتابوں سے نہیں تائید ربانی سے ہوتا ہے اور الحمد للہ یہ میرے شامل حال رہی ہے۔ میں نے زندگی میں ارباب باطل سے تمام مناظرے کتاب کے بغیر کیے ہیں۔

یہاں یہ ذکر بھی خالی از دلچسپی نہ ہو گا کہ مرزائیوں نے عام دستور کے خلاف پاکپتن شریف کے مناظرے میں والد ماجد کے مقابلے کے لیے سال اور کرگان باران دیدہ کی بجائے نوجوان مناظروں کو بھیجا جو والد ماجد کے تبحر علمی‘ زور خطابت‘ شخصیت‘ ذہانت و فطانت اور شجاعت و بہادری سے قطعی طور پر نا آشنا تھے۔ ان نوجوانوں کے سرخیل تین مناظروں کا نام تو مجھے اب تک یاد ہے۔ جلال الدین شمس‘ عبدالرحمٰن اور سلیم۔ الحمد للہ اسی مناظرے میں ۱۳۰ آدمیوں نے مرزائیت سے توبہ کی اور والد صاحب کے حلقہ ارادت

صفحہ 58

میں شامل ہو گئے۔

O

محمدی بیگم کے قصبہ "پٹی" میں جب والد صاحب کا مناظرہ ہوا تو فریق مخالف آنکھ ملا کر بات کرنے سے گریز کر رہا تھا۔ والد ماجد نے متعدد بار کڑک کر کہا کہ ادھر دیکھو! لیکن وہ آنکھ چرا رہا تھا۔ اسٹیج پر بیٹھے ہوئے بعض لوگوں نے کہا کہ حضرت! ان لوگوں کا خیال ہے کہ آپ جادوگر ہیں اور آپ کی آنکھوں میں سحر ہے۔ یہ سن کر والد صاحب ہنس پڑے اور اپنے مخصوص انداز میں فرمایا:

تم نے جادوگر اسے کیوں کہہ دیا
دہلوی ہے داغ، بنگالی نہیں

O

ضمناً یہ بات بھی سن لیجئے جو میں نے والد ماجد کی زبانی سنی ہے۔ فرمایا کہ ایک روز قادیان سے گزر ہوا تو میں نے احباب سے کہا کہ مرزا غلام احمد سے ملے بغیر یہ سفر ناتمام رہے گا۔ آؤ مرزا سے ملتے چلیں۔ جب میں گیا تو مرزا صاحب اور حکیم نور الدین صاحب چند لوگوں کے سامنے مثنوی مولانا روم کے اشعار پڑھ رہے تھے۔ مرزا کی زبان سے مولانا روم کی تعریف و توصیف سن کر میں نے کہا کہ مولانا روم تو حیات مسیح کے قائل ہیں۔ فرماتے ہیں۔

عیسیٰ و ادریس چوں ایں راز یافت
بر فراز گنبد چارم شتافت
عیسیٰ و ادریس بر گردو شدند
زاں کہ از جنس ملائک آمدند

مرزا نے جواب دیا کہ یہ ان کی انفرادی رائے ہے۔ میں نے کہا کہ ان کی رائے انفرادی نہیں، یہ اجتماعی ہے۔ مرزا نے جھٹ حکیم نور الدین سے کہا کہ بھئی! مولانا کے لیے چائے لاؤ۔ ایک صاحب نے جھٹ پوچھا کہ حضرت! آپ نے چائے پی؟ فرمایا: "استغفر اللہ، یہ کیسے ممکن تھا"۔

صفحہ 59

O

یہاں مجھے بے اختیار ایک واقعہ یاد آگیا اور وہ یہ کہ والد صاحب نے اپنی موت سے ہفتہ عشرہ پہلے مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ مظہر! اللہ کریم مجھے بخش دے گا۔ تھوڑے سے وقفے کے بعد فرمانے لگے کہ اعمال کے باعث نہیں، اعمال کا محاسبہ ہوا تو مجھے جہنم کا کوئی مناسب گوشہ بھی نہیں ملے گا۔ میں نے زندگی میں مرزائیوں کو بہت مارا ہے، اسی لیے امید ہے کہ اللہ کریم مجھے بخش دے گا۔

O

جب مرزا ایک مقدمے میں ماخوذ ہو کر گورداسپور کی کچہری میں آیا تو والد صاحب بھاگم بھاگ کچہری پہنچ گئے اور مرزا کے گرد لوگوں کا حلقہ توڑ کر مرزا کا بازو پکڑ لیا۔ بازو کو ایک جھٹکا دے کر فرمانے لگے کہ مردود! نبوت اگر جاری ہوتی اور اللہ تعالیٰ اس علاقے میں کوئی نبی بھیجتا تو بتا! کہ مجھ جیسے وجیہہ انسان کو بھیجتا یا تجھ جیسے بیجو کو؟ یہ سن کر حاضرین کے انبوہ سے ایک قہقہہ بلند ہوا اور مرزا پر سکتہ کا عالم طاری ہو گیا۔

والد صاحب کی روانگی کے وقت ہی خواجہ سراج الحق صاحب کو یہ معلوم ہو گیا تھا کہ مولوی صاحب مرزا سے باتیں کرنے کے لیے گئے ہیں، چنانچہ بہت جلد حضرت بھی پہنچ گئے اور والد صاحب کو اپنے ساتھ لے آئے۔

O

میری عمر بہت چھوٹی تھی کہ ہمارے خاندان میں سے ایک خاتون کا رشتہ ایک مرزائی سے ہو گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ شخص مرزائی ہے تو والد صاحب کو بہت صدمہ ہوا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ کافر سے مسلمان خاتون کا رشتہ جائز نہیں، لیکن میرے ماموں چوہدری ابراہیم تحصیلدار جو مشہور ناول نگار نسیم حجازی کے والد تھے۔ اگرچہ مرزا کے بہت خلاف تھے اور مرزا کے رد میں بالعموم یہی دلیل دیا کرتے تھے کہ میں نے اور مرزا غلام احمد نے سیالکوٹ میں پٹوار کا امتحان دیا، وہ فیل ہو گیا اور میں پاس ہو گیا، جو شخص پٹواری نہ بن سکے وہ فرستادہ خدا کیسے ہو سکتا ہے؟ مگر وہ کہہ رہے تھے کہ کوئی ایسی صورت ہونی چاہیے کہ ہمارے خاندان کی لڑکی عدالت میں نہ جائے، چنانچہ والد صاحب نے یہ کہہ کر موصوفہ سے

صفحہ 60

نکاح کر لیا کہ عدالت کا معاملہ میں خود نمٹ لوں گا۔ مرزائیوں کو جب اس نکاح کی اطلاع ملی تو انہوں نے گورداسپور کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ یہ مقدمہ سات سال تک جاری رہا۔ انجام کار والد صاحب کو فتح ہوئی اور میری دوسری والدہ مرزا بشیر الدین اور چوہدری ظفر اللہ خان کی انتہائی سعی و کوشش کے باوجود ایک بار بھی عدالت میں پیش نہ ہو سکیں۔ جب مرزا بشیر الدین بطور گواہ عدالت میں آیا تو ظفر الدین نے یہ مسئلہ کھڑا کر دیا کہ بشیر الدین کو عدالت میں کرسی ملنی چاہیے۔ ادھر سے یہ تقاضا تھا کہ کرسی ملے تو دونوں کو۔ ورنہ دونوں کھڑے رہیں۔ والد صاحب بیٹھنے پر کھڑا رہنے کو ترجیح دے رہے تھے۔ کافی بحث کے بعد یہی فیصلہ ہوا کہ دونوں کھڑے رہیں۔ بشیر الدین اور ظفر اللہ خان پر والد صاحب کی جرح دیدنی تھی۔ جس کا تھوڑا سا تصور اب بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے۔ والد صاحب کہہ رہے تھے کہ برخوردار! تیرے والد کو حیض آتا تھا؟ اور ظفر اللہ خان سٹپٹا رہا تھا۔ مختصر یہ کہ تنسیخ نکاح کا یہ پہلا مقدمہ تھا جو والد صاحب نے جیتا۔ مقدمہ بہاولپور بہت بعد کی بات ہے۔

تحریک ختم نبوت کے دوران تنسیخ نکاح کے سلسلے میں جتنی تحریریں میرے سامنے آئی ہیں، ان میں کہیں بھی یہ مذکور نہیں کہ تنسیخ کا پہلا مقدمہ مولانا نواب الدین سکھوی نے جیتا تھا۔ حالانکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔

O

یہاں میں ایک ضروری بات کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ جب مرزا غلام احمد قادیانی نے محمدی بیگم سے اپنے آسمان پر نکاح ہونے کا دعویٰ کیا تو والد صاحب محمدی بیگم کے قصبہ "پٹی" پہنچ گئے۔ یہاں پہنچ کر انہوں نے اپنی سحربیانی اور روحانی قوت سے "پٹی" کے مغلوں کو اپنے حلقہ ارادت میں شامل کر لیا۔ محمدی بیگم کا خاندان والد صاحب کا مرید ہو گیا۔ یوں مرزا غلام احمد کا آسمانی نکاح زمین پر نہ ہو سکا۔ یہ والد صاحب کا مرزا پر سیاسی حملہ تھا۔ پٹی میں والد صاحب کے ورود مسعود کی داستان ان کے ایک مرید مشہور صحافی اور شاعر حاجی لق لق مرحوم کے قلم سے چند سال پیشتر ہفت روزہ "چٹان" میں چھپ چکی ہے۔

آج سے تقریباً نصف صدی پیشتر کے اسلامی اجتماعات کے اشتہارات کو اگر دیکھا

صفحہ 61

جائے تو ان میں والد ماجد کے نام کے ساتھ فاتح قادیان کے الفاظ ملیں گے ۔ یہ خطاب علمائے اسلام نے والد صاحب کو اس لیے دیا تھا کہ انہوں نے تنسیخ نکاح کا پہلا مقدمہ جیتا تھا، ورنہ مناظر تو اس عہد میں اور بھی تھے۔

O

غالباً ۱۹۲۵ء کا واقعہ ہے کہ مرزائیوں نے ریاست جموں و کشمیر کو اپنی تخریبی سرگرمیوں کی آماجگاہ بنا لیا۔ چنانچہ حضرت پیر جماعت علی شاہ صاحبؒ نے اس فتنے کے سدباب کے لیے جموں میں ایک تبلیغی کانفرنس منعقد کی اور مشاہیر علمائے اسلام کو دعوت نامے بھیجے۔ ان میں والد صاحب کا نام بھی تھا۔ یہ وہ عہد تھا کہ والد صاحب اپنے آبائی وطن ردان ضلع امرتسر میں تشریف لا چکے تھے۔ اس وقت ہمارا عظیم الشان مکان زیر تعمیر تھا اور والد صاحب کی ساری توجہ مکان کی تعمیر پر مرکوز تھی۔ اسی دوران میں حضرت امیر ملت کا دعوت نامہ آگیا اور والد صاحب تمام کام چھوڑ کر جموں روانہ ہو گئے۔ روانگی کے وقت مجھے خطاب کرکے فرمایا کہ تم بھی چلو گے! لیکن اس عہد طفولیت میں میری تمام تر توجہ اپنے کبوتروں پر مرکوز تھی۔ میں نے جواب دینے میں ذرا تامل کیا، تو مسکرا کر فرمانے لگے کہ تیرے کبوتروں کی حفاظت کے لیے میں خاص آدمی مقرر کر دیتا ہوں۔ جموں میں میں مرزائیوں کو جو پٹخیاں دوں گا وہ تیرے کبوتروں کی قلابازیوں سے بہتر ہوں گی، مزا نہ آیا تو کسی کے ساتھ واپس بھیج دوں گا۔ یہ سن کر میں ہنس پڑا اور ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گیا۔

اس منظر کو دیکھنے والے لوگ ابھی تک بقید حیات ہیں۔ کانفرنس میں زیادہ تر والد ماجد کی تقریریں ہوتی تھیں۔ اس معرکے سے خوش ہو کر حضرت پیر جماعت علی شاہ صاحب والد صاحب کو اپنے ساتھ علی پور لے گئے۔ علی پور میں والد صاحب کا قیام طویل سے طویل تر ہوتا گیا۔ ہر روز رات کو والد صاحب کی تقریر ہوتی تھی اور دن علمی و عرفانی باتوں میں گزرتا تھا۔ ایک بچے کے لیے ایسے ماحول میں زیادہ دیر ٹھہرنا مشکل ہوتا ہے، چنانچہ میں گاؤں میں گھومنے پھرنے لگا، بلکہ حضرت امیر ملت خود فرمادیتے کہ مظہرا جاؤ مسجد، مدرسہ اور تہہ خانے دیکھ آؤ! ایک روز میں واپس آیا تو حضرت نے فرمایا کہ مسجد اور مدرسہ پسند آیا۔ میں نے اثبات میں جواب دیا، تو فرمانے لگے کہ بس تعلیم کے لیے یہیں آجاؤ۔ مختصر یہ کہ

صفحہ 62

یہیں سے صاحبزادگان سے تعلقات کی ابتدا ہوئی۔ مجھے زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ مرزائیوں نے حضرت پیر جماعت علی شاہ صاحب، مولانا دیدار علی شاہ صاحب اور والد ماجد کا جموں و کشمیر میں داخلہ قانوناً رکوا دیا۔ اس سے عوام نے اور بھی خوشگوار اثر لیا۔ وہ سمجھنے لگے کہ مرزائی، مسلمان علماء کی تاب نہیں لا سکتے۔

میرے عنفوان شباب میں والد صاحب کے مرزائیوں سے جو مناظرے ہوئے انہی کا یہ نتیجہ تھا کہ مجھے تمام سوالات و جوابات یاد ہو گئے۔ جنہیں قلم بند کر کے خاتم النبیین ﷺ کے نام سے شائع کر دیا۔ یہ میری پہلی تصنیف تھی جس پر استاد محترم ابو البرکات سید احمد صاحب والد ماجد اور مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش نے تقریظیں لکھیں۔

(”مولانا نواب الدین بگھوی“ ماہنامہ ضیائے حرم، ختم نبوت نمبر، ص ۸۰ تا ۸۳، از

حافظ مظہر الدین)

جماعت تحفظ ختم نبوت کا مقام

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

”یا ایہا الذین آمنوا من یرتد منکم عن دینہ فسوف یاتی اللہ بقوم یحبہم ویحبونہ اذلہ علی المومنین اعزہ علی الکافرین یجاہدون فی سبیل اللہ ولا یخافون لومتہ لائم ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ واسع علیم ۔ (سور ۃ مائدہ)

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

صفحہ 63

اے ایمان والو ! جو کوئی مرتد ہو اپنے دین سے، پس جلد ہی اللہ تعالیٰ ان (مرتدین) کے لیے ایک قوم کو کھڑا کرے گا: (اس قوم کی نشانیاں کیا ہوں گی؟) (فرمایا) اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرے گا اور وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کریں گے ۔ مومنین کے سامنے پست رہیں گے اور کافروں کے مقابلے میں دبدبے والے ۔ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے یہ اللہ کا فضل ہے، دے دیتا ہے، جس کو چاہتا ہے، اور اللہ خوب اچھی طرح جاننے والا ہے:

مذکورہ بالا آیات میں اللہ کریم نے چند پیشین گوئیاں بیان فرمائی ہیں:

غزوہ خیبر کے موقع پر آنحضرت نے ایک جملہ ارشاد فرمایا تھا ۔

”میں کل جھنڈا ایسے آدمی کے ہاتھ دوں گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہو گا اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ اس سے محبت کرتے ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر (کل) خیبر کو فتح کرے گا ۔

صحابہ کرام ؓ فرماتے ہیں کہ دوسرے روز ہر شخص ایڑی اونچی کر کے اپنے

صفحہ 64

آپ کو اس لیے نمایاں کر رہا تھا کہ یہ فضیلت اسے نصیب ہو۔

امیر المومنین سیدنا فاروق اعظم ؓ ارشاد فرماتے ہیں: اللہ کی قسم میں نے امیر بننے کو کبھی پسند نہیں کیا سوائے اس دن کے۔

جاننا چاہیے کہ امیر بننا مقصود نہ تھا بلکہ بارگاہ رسالت سے یہ جو خطاب ملا تھا۔ يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله۔ اس سعادت کو حاصل کرنا مقصود تھا۔

صحابہ کرام ؓ میں سے کوئی یہ نہ جانتا تھا کہ یہ تاج کس کے سر پر سجایا جانے والا ہے اور یہ تحفہ فضیلت کس کو عطا کیا جانے والا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے یکایک فرمایا: علی کہاں ہیں؟

صحابہ ؓ نے عرض کیا 'یا رسول اللہ ﷺ وہ اپنے ڈیرے میں ہیں، ان کی آنکھوں میں آشوب ہے۔

حکم ہوا: ان کو بلاؤ۔

جس طرح نابینا کو ہاتھ پکڑ کر لایا جاتا ہے۔ اسی طرح حضرت علی المرتضیٰ ؓ کا ہاتھ پکڑ کر بارگاہ نبوت میں لاتے تھے۔

آنحضرت ﷺ نے لعاب دہن آپ ؓ کی آنکھوں پر لگایا۔ اسی وقت ساری تکلیف جاتی رہی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں۔ اللہ کی قسم: اس روز کے بعد مجھے کبھی آنکھوں کی تکلیف نہیں ہوئی۔

آنحضرت ﷺ نے جھنڈا آپ ؓ کے ہاتھ میں دیا اور فرمایا۔ جاؤ اللہ کے نام سے جہاد کرو اور اللہ کے دشمنوں سے مقابلہ کرو۔

حضرت علی ؓ چل پڑے۔ چند قدم چلے تو بات پوچھنا مقصود ہوا۔ الٹے پاؤں لوٹے جس طرف حضور ﷺ نے رخ کر دیا تھا۔ وہ نہیں پھیرا۔ قریب آ کر پوچھا: یا رسول اللہ ﷺ ایک بات پوچھنا بھول گیا تھا کہ جنگ سے پہلے کفار سے کیا کہوں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: انہیں اسلام کی دعوت دو اگر ایک آدمی کو بھی اللہ نے تمہاری وجہ سے اسلام کی توفیق دے دی تو تمہارے لیے دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے۔ جب تک

صفحہ 65

آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو جھنڈا عطا نہیں فرمایا تھا۔ اس وقت تک کسے معلوم تھا کہ یہ اعزاز اور دستار فضیلت کسے عطا کی جانے والی ہے اور جب آنحضرت نے جھنڈا حضرت حیدر کرار ؓ کو عطا فرما دیا تو حضرت علی ؓ کی فضیلت فاتح خیبر کی حیثیت سے سب پر نمایاں اور واضح ہو گئی اور یوں یہ سند محبت اور محبوبیت آپ ؓ کے حصے میں آئی۔ علی ؓ کی محبت ایمان ہے اور حضرت علی ؓ کے چہرے کو دیکھنا عبادت قرار پا گیا۔ محبت و محبوبیت کا ایک اور معیار حق تعالیٰ نے یوں قائم فرمایا:

ارشاد ہوا:

قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله۔

کہہ دیجئے! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو (تب) اللہ تم سے محبت کرے گا۔

یعنی پہلی محبت اور اتباع کا بار انسان کے ذمے رہا، تب بندہ محبوب خدا ہوا، مگر مذکورہ آیات میں فضیلت کے درجات عشق کی منازل تک پہنچا کر تڑپ اور لگن کو دو آتشہ کر دیا گیا۔

وہاں فرمایا: يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور جواباً اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔

یہاں فرمایا اللہ اپنے بندے کو پہلے محبوب رکھتا ہے، پھر بندہ اللہ سے محبت کرتا ہے۔ یہ تو وہی بات ہوئی جو صحابہ کرام حضرت عمر ؓ کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ ہم آئے ہیں، وہ لائے گئے ہیں۔ ہم مرید ہیں وہ مراد ہیں اور آنحضرت ﷺ کا لعاب دہن حضرت علی ؓ کی آنکھوں میں لگتا ہے اور وہی لعاب غار ثور میں جب صدیق اکبر ؓ کو کیڑا کاٹتا ہے تو آپ ؓ کے پاؤں میں لگ کر باعث شفا ہوتا ہے۔ عشق کی ان منازل کا ادراک اہل قلوب کے دل کا قرار ہے۔ ان قلبی کیفیات کے درجات علیم بذات الصدور خوب جانتا ہے اور یوں ان کیفیات کے بدلے چاہتوں کے جو انمول عطیات بندے کو عطا کیے جاتے ہیں وہ انہی اہل قلوب کا حصہ ہیں۔ (رزقنا الله منها)

اس زاویہ نظر سے مقام انبیاء کا فرق بھی یوں سامنے آگیا۔

صفحہ 66

تلک الرسل فضلنا بعضهم علی بعض ۔ رب شرح لی صدری اور الم نشرح لک صدرک ایک جو التجا کر کے مانگتے ہیں، ایک کو بن مانگے عطا ہوتا ہے۔ یہ فرق بس نظر الہی کا محتاج ہے۔ وہ محبت اور محبوبیت کسبی ہے۔ یہ محبوبیت اور محبت وہبی ہے۔ اور جب چاہنے والا خود خالق اکبر ہو تو محبوب کی وہ کون سی ادا ہو گی جو حسن نظارہ اور لطف بہاراں سے پر نہ ہو گی۔

جب یہ آیات نازل ہوئیں تو کوئی نہ جانتا تھا کہ ان بشارتوں کا مصداق کون ہے اور یہ پیشین گوئی حق تعالیٰ کس قوم کے لیے فرما رہے ہیں، مگر جب نبی اکرم ﷺ کی وفات کے بعد مسلمہ کذاب کا فتنہ اٹھا تو سیدنا صدیق اکبر ؓ کی سربراہی میں اللہ کریم نے اس کی سرکوبی کے لیے انہیں کھڑا کیا اور مذکورہ چھ عظیم صفات کے اولاً انعام یافتہ حضرات صحابہ کرام ؓ ابو بکر صدیق ؓ کی قیادت میں قرار پائے:

لاہور موچی دروازے میں امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ کا جلسہ تھا۔ شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے مذکورہ بالا آیات تلاوت فرمائیں اور کہا کل ان آیات کا مصداق حضرت ابو بکر صدیق ؓ اور ان کی جماعت تھی اور آج ان آیات کا مصداق حضرت امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ اور ان کی جماعت ہے۔

(مولف کے نام، مجاہد ختم نبوت جناب ساجد اعوان صاحب کا مکتوب)

جب تحفظ نبوت کے لیے جیل گئے

یکم اگست 1993ء کو ضلع کچہری ایبٹ آباد میں رزم حق و باطل بپا ہوا۔ سرگودھا وغیرہ سے قادیانی ویگن بھر کر آئے تھے۔ بشیر شاہ قادیانی کے کیس کی سماعت تھی۔ 298 سی اور 295 سی کے تحت مقدمہ درج تھا۔ پنچ پیر چوک کے قریب ہمارے ساتھی ابرار خان اور

صفحہ 67

آصف خان پر قادیانیوں نے فائرنگ کی اور وہ زخمی ہوئے، جواباً نذیر شاہ قادیانی اور ڈاکٹر ..... کو خون میں لت پت ضلع کچہری سے اٹھایا گیا۔

دونوں طرف سے مقدمات درج ہوئے۔ قادیانیوں نے راقم کے علاوہ وقار گل، احمد ندیم قاضی، ادریس خان، شکیل انجم اور توقیر الاسلام کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔ ہم نے تین دن کے بعد ضمانت قبل از گرفتاری کروالی۔ چونکہ ضلع بھر کے حالات نہایت کشیدہ تھے اور لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہو سکتا تھا۔ قادیانی جیل میں تھے۔ تمام دینی اور دینی سیاسی جماعتیں ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانی غنڈہ گردی کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو چکی تھیں۔ علماء کرام بھی قائدانہ بصیرت کے ساتھ میدانِ عمل میں تھے اور ہمارے قابل احترام دوست اور لیگل ایڈوائزر جناب سلطان احمد جمشید ایڈووکیٹ، سید فرزند علی شاہ ایڈووکیٹ، سردار معظم ایڈووکیٹ، سردار مشتاق ایڈووکیٹ، سردار اعظم ایڈووکیٹ اور سردار شفیق ایڈووکیٹ صاحبان نے بھی اس دوران مثالی کردار ادا کیا اور اپنے ماہرانہ مشوروں سے بہرہ ور فرماتے رہے۔

منہاج القرآن کے سید کمال مصطفےٰ نے بھی اس دوران جس اپنائیت کا اظہار کیا وہ بھی قابل تعریف ہے۔

ہر ایک، ایک دوسرے سے بڑھ کر عشقِ نبوی ﷺ کا اظہار کر رہا تھا۔ اب ہمیں ضمانت کی کنفرمیشن کے لیے سیشن کورٹ لے جایا گیا۔ مگر ضمانتیں کینسل ہوگئیں۔ علماء کرام کی قیادت میں اور ایسے جذبات میں جس صبر اور ضبط کا مظاہرہ کیا وہ جذبہ حب الوطنی کے لیے ایک سند کی حیثیت رکھتا ہے۔

ہمیں تھانہ کینٹ لایا گیا۔ تھانہ میں پہلے چائے اور بسکٹس سے تواضع کی گئی۔ پولیس کانسٹیبلز نے حوالات کی صفائی کی اور اپنے کمبل بچھائے اور اگر بتیاں جلائیں۔

ایس ایچ او سید فرمان علی شاہ صاحب نے کہا۔ دل تو نہیں چاہتا مگر مجبوری ہے، ہم سب اٹھ کر حوالات کی طرف چل دیئے۔ ایس ایچ او نے شکریہ ادا کیا۔ ہم جوتے اتار رہے تھے اور اندر کی صفائی دیکھ کر خوش تھے۔ ہم اندر داخل ہونے لگے اور منہاج القرآن کے امانت اللہ خان اور ڈاکٹر لیاقت علی ظفر ہمارے پیچھے کھڑے تھے۔ جب ہم نے انہیں دیکھا تو

صفحہ 68

رو رہے تھے۔ ہم انہیں دیکھ کر ہنسنے لگے اور ان کے آنسو صاف کرتے ہوئے تسلی دی تو کہنے لگے : تم لوگ جیت گئے ہو یار۔

ان حضرات کی بھیگی بھیگی پلکیں دیکھ کر ہمیں اپنے مقدر پر ناز ہونے لگا: وہ بھی تھوڑی دیر کے لیے ہمارے ساتھ حوالات میں آکر بیٹھ گئے اور اس مراقبہ میں ہمارے ساتھ شامل ہو گئے۔ ظہر کے بعد اس سلسلے میں اجلاس تھا۔ علماء کرام، ڈپٹی کمشنر ریاض خان سے ملنے گئے ہوئے تھے۔ تھانے کے گیٹ سے داخل ہوتے ہی دائیں بائیں بالمقابل حوالات تھیں۔ ہم داخل ہوتے وقت بائیں طرف تھے اور نکلتے ہوئے دائیں جانب۔ جو بھی اے ایس آئی اندر داخل ہوتے ہمیں دیکھتے دعا سلام کرتے اور کھانے کی پیشکش کرتے۔ کسی کی طرف سے کھانا، کوئی شام کی چائے اور کسی نے رات کے کھانے کے لیے آفر دی۔ امان اللہ خان اور لیاقت علی ظفر یہ سب کچھ دیکھ کر کہنے لگے: اب ہمیں پتہ چلا ہے کہ آپ اندر آتے ہوئے کیوں خوش تھے او قار گل نے کہا اور ہمیں اب پتہ چلا ہے کہ آپ باہر کھڑے کیوں رو رہے تھے کہ باہر آپ کو گرمی میں کام کرنا پڑے گا اور دعوتیں ہم یہاں ٹھنڈی جگہ بیٹھ کر اڑائیں گے۔ سب ہنس پڑے۔

امان اللہ خان اور لیاقت علی ظفر نے کہا اجلاس کی تیاری کرنی ہے۔ ہمیں چلنا چاہیے۔ وہ حضرات اٹھے۔ قاضی شکیل انجم نے سنتری سے کہا کہ دروازہ کھولے۔ اس نے حوالات کا دروازہ کھولا اور لیاقت علی ظفر اور امان اللہ خان اٹھ کر کام سے چلے گئے۔ ہم سب لیٹ گئے: کوئی اخبار پڑھنے لگا تو کوئی سچ مچ سو گیا۔

ایک بجے کھانا آگیا: سب کو اٹھایا۔ کھانا کھانے لگے تو مظہر خان آگئے۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس سے متعلق جہاں جہاں اطلاع کرنا تھی، کر دی گئی ہے۔ گرمی سے ان کا برا حال تھا۔ سنتری بادشاہ کو ایک بار پھر زحمت دی۔ انہوں نے لاک کھولا، مظہر خان کو اندر بلا لیا۔ انہوں نے بھی ہمارے ساتھ مل کر کھانا کھایا۔ بعد میں چائے آگئی۔ امان اللہ خان اور لیاقت علی ظفر بھی آگئے۔ انہیں بھی اندر بلا لیا۔ سب نے مل کر چائے پی اور پھر تینوں اجلاس میں شرکت کے لیے چلے گئے۔ اور ہم نے بھی باہر نکل کر وضو کیے اور ظہر کی نماز ادا کی اور واپس آکر سو گئے:

صفحہ 69

عصر کے قریب ساتھی آئے اور اجلاس کی کارگزاریاں بیان کی اور بتایا کہ کل انشاء اللہ ضمانت ہو جائے گی۔

سلطان احمد جمشید صاحب ایڈووکیٹ بھی تشریف لائے اور تسلی دے کر چلے گئے: الغرض شام تک حوالات کے گیٹ سے تانتا بندھا رہا۔ کبھی ایک جماعت کے ورکر آتے، کبھی دوسری کے عہدیدار ، کبھی کسی کے نمائندے ، کبھی میرے رشتے دار ، کبھی دوسروں کے تعلق دار اور ہم عصر کے بعد اٹھ اٹھ اور بیٹھ بیٹھ کر چور ہو گئے تھے۔

عصر کی نماز بھی باہر تھانہ کے لان میں پڑھی اور مغرب بھی۔ مغرب کے بعد سید کمال مصطفیٰ شاہ صاحب کھانا لے آئے: کھانا کھایا اور پولیس والے اپنی اپنی جگہ ناراض ہوتے رہے کہ ہم نے دعوتیں دے رکھی تھیں اور آپ کھانے اور چائے باہر سے منگوا رہے ہیں۔ ہم نے انہیں بتایا کہ ہمیں معلوم نہیں کھانے کہاں سے آ رہے ہیں اور چائے کدھر سے آ رہی ہے ، اس لیے آپ ناراض نہ ہوں۔ مہمان تو ہم آپ ہی کے ہیں۔

مغرب کے بعد ڈی ایس پی عبدالمالک خان بھی آ گئے۔ ہم حوالات میں موم بتیاں جلا کر بیٹھے تھے کہ سنتری نے لاک اپ کھول دیا اور کہا کہ سب باہر آ جائیں ہم باہر آ گئے تو عبدالمالک خان نے کہا آپ حضرات کے لیے یہ کمرہ سیٹ کروا دیا ہے۔ یہاں آ جائیں ، پنکھا بھی ہے اور صاف بستر بھی۔

ہم نے کہا۔ نہیں بھئی اس تکلف کی کیا ضرورت ہے۔ ٹھیک ہیں ہم بس۔ ڈی ایس پی صاحب نے کہا۔ نہیں حوالات میں بہت مچھر ہوتے ہیں۔ یہاں آرام سے آپ سو سکیں گے۔ ہم سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے: مچھر؟

نہیں جی ہم نے تو صبح سے اب تک ایک مچھر بھی نہیں دیکھا۔ بالکل آرام سے سوتے رہے ہیں ، ظہر کے بعد۔

ڈی ایس پی کی آنکھیں نمناک ہو گئیں اور کہنے لگے۔ آپ کو مچھر کچھ کہہ بھی نہیں سکتے۔ آخر آپ مہمان کس کے ہیں۔

بہر کیف ہمیں دوسرے کمرے میں شفٹ کر دیا گیا۔ صاف ستھرے بستر تھے اور پنکھا بھی چل رہا تھا۔ عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر سو گئے۔ صبح کی نماز کے وقت اٹھے ، نماز ادا کی

صفحہ 70

اور پھر سو گئے۔ صبح آٹھ بجے پھر اٹھایا گیا‘ ناشتہ دیا گیا۔ ضابطہ کی کارروائی کی اور ہمیں مجسٹریٹ درجہ اول حفیظ الرحمان کے سامنے پیش کیا گیا۔ انہوں نے ضابطہ کے مطابق جوڈیشل لاک اپ بھیج دیا۔ ہم جیل چلے گئے۔

جیلر صاحب کے دفتر میں داخل ہوئے۔ بخاری شریف اور دوسری مذہبی کتابیں پڑی تھیں۔ انہوں نے چائے سے تواضع کی اور پندرہ بیس منٹ وعظ کیا۔ اور ایس خان جو ہم سے پہلے جیل آگئے تھے۔ ضمانت پر رہا ہو چکے تھے۔ جیل کے اندر ہی نذیر شاہ سے رو رو کر توبہ کر چکے تھے۔ جیلر صاحب نے ہم سے امن کے ساتھ رہنے کی اپیل کی اور بتایا کہ نذیر شاہ کو جیل بند کر دیا گیا ہے۔

ہم اندر چلے گئے‘ سب سے صاف بیرک ۵ نمبر تھی۔ ہمیں وہیں لے جایا گیا۔ وہاں پہنچے تو ہر قیدی کے سرہانے ختم نبوت کا لٹریچر موجود تھا۔ قیدی مرزائیت سے شدید ترین نفرت لیے ہوئے تھے۔

ہم پہنچے تو ہمارا خوب استقبال کیا گیا۔ مرغے باہر سے منگوا لیے گئے۔ چونکہ بیرک میں کھانے پکانے کی سہولت موجود تھی۔ اس لیے متمول قیدی اپنا کھانا پکانا خود ہی کیا کرتے تھے۔ ارشد صاحب ہمارے جاننے والے ۳۰۲ میں قید تھے۔ جب انہیں ہماری آمد کی اطلاع ملی تو سندیسہ دے کر بلوا لیا اور چائے اور فروٹ سے خوب تواضع کی۔ انہیں جیل میں بی کلاس ملی ہوئی تھی۔

واپس آئے‘ دوسرے دوستوں نے بتایا کہ چونکہ اب وقت کم تھا اس لیے مرغ نہیں پکوائے‘ رات کو پکالیں گے اس وقت عربیاں پکوائی ہیں‘ نوش کریں۔

شیخ البانڈی کے ایک پرویز ماما تھے۔ انہوں نے عربیاں پکائیں‘ اتنی لذیذ تھیں کہ شاید مرغی بھی اتنا مزہ نہ دیتی۔

کھانے کے بعد ہم سب ظہر کی نماز کے لیے مسجد چلے گئے۔ جیل کی مسجد بھی خوب بڑی تھی اور خاصی گہما گہمی تھی۔ وہاں پندرہ پندرہ‘ سولہ سولہ سال کے ۳۰۲ کے ملزم دکھائے گئے۔ نماز سے فارغ ہو کر اپنی بیرک میں پہنچے تو سندیسہ آگیا کہ چلیں آپ کی ضمانتیں ہو چکی ہیں۔

صفحہ 71

جیل کی فارمیلٹی کے بعد باہر نکلے تو دوست منتظر تھے۔ سب نے باری باری گلے لگایا اور مبارک بادیں دیں اور امان اللہ خان نے کہا۔ آپ کی یہ قربانی ہزار مراقبوں سے بہتر ہے اور واقعتاً ہم اپنے قلوب میں ایمان کو جلا پاتے محسوس کر رہے تھے۔ (مجاہد ختم نبوت جناب ساجد اعوان کا مکتوب ‘ راقم کے نام)

کمیشن مل گیا

گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ایبٹ آباد میں تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس کی تشکیل نو کے سلسلہ میں اجلاس بلایا گیا فرسٹ ائر اور سیکنڈ ائر کے نئے ساتھی بھی اجلاس میں آ گئے۔ ان کی ذہن سازی کے لیے عقیدہ ختم نبوت کی حقانیت اور اہمیت پر بیانات ہوئے اور تنظیم نو کر دی گئی۔

اجلاس کے بعد چند دنوں کے بعد بازار میں ایک دوست ملے ‘ اشتیاق احمد نام بتایا۔ انہوں نے بتایا کہ کالج میں پڑھتا ہوں۔ اس روز آپ نے ختم نبوت کے سلسلہ میں بڑی مفید باتیں بتائیں اور ختم نبوت کے لیے قربانیاں دینے والوں کے جو ایمان پرور واقعات سنائے ان سے ایمان تازہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا ‘ میں ہاسٹل میں رہتا ہوں۔ کسی وقت بھی کسی قسم کی قربانی کی ضرورت پڑے تو میں حاضر ہوں اور مجھے چھوٹا بھائی سمجھ کر حکم فرمایا کریں۔

اشتیاق احمد کا جذبہ قابل تعریف تھا۔ اس محبت اور شفقت کا رد عمل جماعت کی طرف سے بھی ان کے ساتھ رہا اور انہوں نے ایف اے کے دو سالوں میں حقیقی معنوں میں ختم نبوت کے لیے کالج کی سطح پر خود کام کیا۔

کالج میں کانفرنس ہو یا کسی اجتماعی جلوس یا مظاہرہ کا پروگرام ‘ اشتیاق احمد پیش پیش رہے۔ کالج کے ان دوستوں میں ایسے بھی دیکھے جو خود جھاڑو لے کر ختم نبوت کانفرنس ہال صاف کرتے تھے۔

کالج کی زندگی۔ چڑھتے سال اور پھر نفس کو مار کر یوں خدمت سر انجام دینا:

صفحہ 72
مقام شوق تیرے قدسیوں کے بس کا نہیں
یہ انہی کا کام ہے جن کے حوصلے ہیں زیاد

ایف اے کا امتحان دینے کے بعد انہی اشتیاق احمد کو ایک روز بازار سے گزرتے ہوئے کپڑے کی مشہور اور بڑی دکان ("بلے دی ہٹی" کے نام سے مشہور ہے) وہاں دیکھا کہ وہ سیلز مین کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔

ٹھیک ہے، بیکار سے بیگار بھلا۔ مگر اشتیاق کا یہ روپ دل میں اتر گیا۔ نگاہوں سے نگاہیں ملیں تو دونوں نے اپنے اپنے زخم چھپا کر مسکراتے ہوئے مصافحہ کیا اور سلام دعا ہوئی۔

اشتیاق کا کندھا تھپتھپا کر انہیں حوصلہ دیا۔ نہ جانے کیا الفاظ کہے تھے مگر دلی کیفیت زبان کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔

اشتیاق کی شوخ نگاہوں میں ندامت کا رنگ میں برداشت نہ کر سکا اور خداحافظ کہہ کر نکل آیا۔ چند دن تو اس بازار سے جاتے ہوئے ٹیڑھی نگاہ سے اشتیاق کو دیکھتا رہا۔ ایک دن شام کے وقت سربن سکوائر میں کالج کے ایک دوست ساتھ مل گئے۔ بڑے تپاک سے ملے اور بتایا کہ بی اے میں داخلہ لیا ہے اور پاکستان ملٹری اکیڈمی میں کمیشن حاصل کرنے کے لیے ٹیسٹ اور میڈیکل کروا آیا ہوں۔ دعا فرمائیں، سلیکٹ ہو جاؤں، میری زندگی کا انحصار اس میں ہے۔

اشتیاق احمد بڑی اپنائیت سے گفتگو کر رہے تھے۔ اپنے گھریلو حالات کے بارے میں اور اپنی خود انحصاری سے متعلق۔ انہوں نے جو کچھ بتایا، واقعی وہ مردانگی تھی۔ مگر عمر کے اس جذباتی اور ناتجربہ کار دور میں جب کوئی تھک کر گرتا ہے تو پھر اٹھتا نہیں۔ اس کا اعتراف بھی انہوں نے اپنے الفاظ میں کیا۔

میں انہیں تسلی دیتا رہا۔ مگر ان کی بھیگی پلکیں مجھے اندر سے ہلا رہی تھیں۔ بارش ہو رہی تھی، سردی کا موسم تھا اور ہم تینوں شیڈ کے نیچے کھڑے دکھ درد بانٹ رہے تھے۔ دراصل یہ رشتہ حضور ﷺ کی ختم نبوت اور آپ ﷺ کے نام سے جڑا تھا۔ اس کی حلاوت اور مٹھاس دونوں دلوں میں موجزن تھی اور اسی وجہ سے وہ بڑے پیار اور

صفحہ 73

معصومیت سے اپنا حق جان کر مجھ سے محو گفتگو تھے۔ میں انہیں تسلی دینے کے علاوہ اور کیا کر سکتا تھا۔ بس دل کی دھڑکن ہی تھی جو ان کے لیے دعا کر رہی تھی۔

اشتیاق نے کہا۔ آپ میرے لیے دعا کرنے کا وعدہ کریں اور میری دلی دعا یہ ہے کہ ہم آئندہ جب ملیں تو مجھے کمیشن مل چکا ہو اور میں یونیفارم میں ہوں‘ میں نے دھڑکتے دل سے وعدہ کیا۔ الوداع کہا اور رخصت ہو گئے۔ مگر اس تعلق اور ملاقات کا اثر قلب پر شدید تر تھا۔

رات عشاء کی نماز کے بعد دامن دل کو وسعت دے کر اشتیاق کی معصوم خواہش رب ذوالجلال کی بارگاہ میں قبولیت کے لیے پیش کی۔ جس تڑپ سے اشتیاق التجا کرتے رہے۔ وہی اثر اب میرے دل میں اتر آیا تھا۔ نہ جانے اشتیاق کی علیحدگی کے وقت قلبی کیفیت کیا تھی؟

مگر مجھے ہاتھ چہرے پر پھیرنے سے پہلے اطمینان قلب عطا کر دیا گیا تھا۔ وقت گزرتا رہا۔ ذہن سے بھی بات نکل گئی اور دل سے بھی اثر جاتا رہا۔ نئے ساتھی مل گئے۔ نئی محفلیں جمنے لگیں۔

ایک دن ختم نبوت یوتھ فورس گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ایبٹ آباد کے نو منتخب صدر توقیر الاسلام صاحب کے ساتھ صدر بازار سے اوپر آ رہے تھے۔ بوندا باندی ہو رہی تھی۔ مین مسجد بازار کے چوک میں دو لڑکے ہمارے سامنے آکر کھڑے ہوگئے۔

کالے بوٹ‘ وسٹڈ کی پینٹ‘ سفید جراب کرمزن ٹائی اور برساتی اوپر لیے ہمارے سامنے اشتیاق احمد اور ان کے دوسرے کولیگ (ہمراہی) کھڑے تھے۔

میری نظریں اشتیاق کے چہرے پر جم گئیں۔ میرے دیکھتے دیکھتے ان کے آنسو نکل آئے‘ گرم جوشی سے ملے۔ توقیر بھائی سے تعارف کروایا۔ انہوں نے اپنے روم میٹ سے ملوایا۔ جب آخری بار ملے تھے تو بھی بارش ہو رہی تھی۔ آج بھی بارش ہو رہی تھی۔ اس روز بھی دونوں کی پلکیں بھیگی تھی۔ آج بھی پلکیں پرنم تھیں۔ مجھے اشتیاق کے وہ الفاظ یاد آگئے جو انہوں نے آخری ملاقات کے وقت کہے تھے کہ میری دعا یہ ہے کہ جب ہم آئندہ ملیں تو مجھے کمیشن مل چکا ہو اور میں یونیفارم میں ہوں۔

صفحہ 74

عطائے رب کے اس عظیم الشان ہار سے دونوں کے ضبط کے بندھن ٹوٹے جا رہے تھے کہ ایک بار پھر ہاتھ ملائے اور جدا ہو گئے۔

(مجاہد ختم نبوت جناب ساجد اعوان کا خط راقم کے نام)

حضرت مولانا مفتی محمودؒ

موصوف کا وجود ملت اسلامیہ کے لیے قدرت کا عطیہ تھا۔ آپؒ کو قدرت نے بے شمار خوبیوں سے سرفراز فرمایا تھا اور آپؒ کی تمام تر خوبیاں اور صلاحیتیں خدمت اسلام کے لیے وقف تھیں۔ ۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں آپؒ ملتان سے گرفتار ہوئے۔ ۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں آپؒ نے قائدانہ کردار ادا کیا۔ اسمبلی سے باہر ملت اسلامیہ کی رہنمائی شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں جلیل القدر علماء و رہنماؤں نے کی اور قومی اسمبلی میں ختم نبوت کی وکالت آپؒ نے کی۔ اسمبلی کے معزز ممبران اور علماء کرام کی حمایت و تعاون آپؒ کو حاصل تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے مرزا ناصر قادیانی اور صدر الدین لاہوری مرزائیوں کے جواب میں جو محضر نامہ تیار کیا گیا جس کا نام ملت اسلامیہ کا موقف ہے۔ جس کے اردو، انگلش میں مجلس نے کئی ایڈیشن شائع کیے ہیں۔ اس محضر نامے کو اسمبلی میں پڑھنے کا شرف اللہ رب العزت نے حضرت مولانا مفتی محمودؒ کو بخشا۔ آپؒ اسمبلی میں ملت اسلامیہ کی متفقہ آواز تھے۔ آپؒ کی وفات کے بعد ایک عقیدت مند نے آپؒ کو خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ فرمائیے کیسے گزری۔

اس پر آپؒ نے فرمایا کہ ساری زندگی قرآن وحدیث کے تعلم میں گزری۔ اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے کوشش و کاوش کی۔ وہ سب اللہ رب العزت کے ہاں بحمدہ تعالیٰ قبول ہوئیں مگر نجات اس محنت کی وجہ سے ہوئی جو قومی اسمبلی میں مسئلہ ختم نبوت کے لیے کی تھی۔ ختم نبوت کی خدمت کے صدقہ میں اللہ تعالیٰ نے بخشش فرمادی۔ ("تذکرہ مجاہدین ختم نبوت" ص ۳۷۳، از مولانا اللہ وسایا)

صفحہ 75
اب تمہاری یاد سے پڑتے ہیں یوں دل میں بھنور
جیسے کنکر پھینک دے کوئی بھرے تالاب میں

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ

ضلع سرگودھا کے پہاڑی علاقہ میں غیر مسلموں کا ایک آشرم تھا جو قادیانیوں نے الاٹ کرا لیا تھا اور وہاں اپنی تبلیغی سرگرمیاں جاری کر دیں۔ حضرت امیر شریعتؒ کو جب علم ہوا تو اس علاقہ میں موضع جابہ کے قریب سالانہ کانفرنس منعقد کرنے کا حکم دیا یہ کانفرنس دو روز کے لیے تقریباً ۱۶\۱۵ سال سے مرکزی جماعت تحفظ ختم نبوت کے خرچ پر ہر سال ماہ ستمبر میں ہوتی ہے۔ ۸۲ھ میں بعض مجبوریوں کی بنا پر ایک میل دور ضلع اٹک کی حدود میں نئی جگہ یہ کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس سے چند روز قبل تلہ گنگ کے حاجی محمد ابراہیم (ملک وال) نے خواب دیکھا کہ خود حاجی صاحب اور مولانا فضل احمد صاحب مع دیگر احباب کانفرنس میں شرکت کے لیے اس نئی جگہ آئے۔ جب پہنچے تو دیکھا اس میدان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے ہیں اور فرما رہے ہیں۔ دیر ہو رہی ہے‘ جلسہ جلدی شروع کرو۔ محمد علی جالندھری سے کہو کہ جلسہ میں دیر نہ کیا کرے۔

(”روئیداد مجلس“ ۸۲ھ ص ۸۳)

بشارت

مصنف کلمہ فضل رحمانی‘ جناب مکرم قاضی فضل احمد تحریر فرماتے ہیں کہ جمادی الثانی ۱۳۱۵ھ میں جب اپنی اس کتاب کی تکمیل سے فارغ ہوا تو رات کو خواب دیکھا کہ ایک مجلس میں علماء تشریف فرما ہیں اور عوام بھی۔ ان کے ایک طرف مرزا قادیانی پاؤں دراز کئے پڑا ہوا ہے۔ مرزا کا سر ننگا ہے اور درمیان سے لے کر پیشانی تک سر استرے سے منڈا ہوا ہے‘ دونوں طرف سر کے بال باقی ہیں‘ داڑھی قینچی سے کٹی ہوئی ہے۔ اس کی اس ہیئت

صفحہ 76

کو دیکھ کر حیران ہوا کہ سر کے بال ہندوؤں کی طرح اور داڑھی فیشنی طرز کی‘ دونوں کام خلاف شرع تو دل کو اطمینان ہوا کہ میری کتاب کی تکمیل سے اس خواب کے ذریعے مجھے بشارت دی گئی ہے کہ مرزا قادیانی کی شریعت سے رو گردانی کو واضح کرنے میں یہ کتاب مرکزی کردار ادا کرے گی۔ صبح ساڑھے چار بجے یہ خواب دیکھا۔

("تذکرہ مجاہدین ختم نبوت" ص ۲۳۲‘ از مولانا اللہ وسایا)

قبولیت

"کلمہ فضل رحمانی" مصنف نے تحریر کی تو اس زمانہ کے اخبار "وفادار" کے ایڈیٹر نے ایک رات دو بجے نماز تہجد کے وقت اللہ رب العزت کے حضور دعا کی کہ "کلمہ فضل رحمانی" کے مصنف کا موقف صحیح ہے یا مرزا قادیانی کا۔ اس پر گڑگڑاتے ہوئے بڑی لمبی چوڑی دعا کی‘ رو رو کر طبیعت نڈھال ہو گئی۔ اتنے میں سو گئے۔ خواب میں دیوان حافظ کا ایک شعر ان کو دکھایا۔ خواب میں انہوں نے وضاحت چاہی تو ان کو کتاب تھمادی گئی۔ دیکھا تو وہ "کلمہ فضل رحمانی" تھی۔ فرماتے ہیں کہ دل کو تسلی ہو گئی کہ مرزا قادیانی کذاب و دجال کے بارے میں "کلمہ فضل رحمانی" کے مولف کا موقف صحیح ہے اور مرزا واقعتاً مردود و ملعون ہے۔

("تذکرہ مجاہدین ختم نبوت"‘ ص ۲۳۲۔۲۳۳‘ مصنفہ مولانا اللہ وسایا)

فیصلہ آسمانی

مولانا کی سب سے پہلی تصنیف "فیصلہ آسمانی" ہے جو قادیانیوں کے حق میں واقعی فیصلہ آسمانی ثابت ہوئی۔ یہ تین جلدوں میں ہے۔ اس کے تین ایڈیشن مولانا کی زندگی ہی میں شائع ہو گئے۔ لیکن کسی قادیانی کو اس کا جواب دینے کی ہمت نہ ہوئی۔ مولانا کی وفات کے بعد بھی کسی قادیانی نے اس کا جواب دینے کی جرات نہ کی۔ قادیانیت کے خلاف

صفحہ 77

سارے لٹریچر میں، جو اب تک لکھا گیا ہے۔ یہ کتاب ایک خاص امتیاز رکھتی ہے اور محکم طرز استدلال، اسلوب کی وضاحت اور صفائی، صحیح و طاقتور گرفت کے اعتبار سے بہت کم کتابیں اس معیار پر پوری اترتی ہیں۔ اس راہ کے نشیب و فراز کو دیکھتے ہوئے اور اس کے ایک بڑے مبصر کی رائے یہ ہے کہ قادیانیت کی رد میں لکھی ہوئی اکثر کتابوں میں بعض بعض جگہ احتمال کی گنجائش نکل آتی ہے، لیکن اس کتاب میں کسی جگہ احتمال کی گنجائش یا استدلال میں کوئی خامی اور کمزوری نظر نہیں آتی۔

مرزا صاحب نے اپنے کمال و اعجاز کے لیے ”اعجاز احمدی“ لکھی یا لکھوائی تھی۔ اور اس کا دعویٰ کیا تھا کہ اس رسالہ اور قصیدہ اعجازیہ کی ادبی بلاغت اور فنی کمال کی نظیر کوئی دوسرا پیش نہیں کر سکتا۔ مولانا نے اس قصیدہ کا بہت پر لطف قصہ بیان کیا ہے اور اس سارے جال کا تار و پود بکھیر دیا ہے۔ جو مرزا صاحب نے علماء اور عام مسلمین دونوں کو بیک وقت فریب دینے کے لیے پھیلایا تھا۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ وہ اس جال میں خود ہی گرفتار ہو گئے اور تدبیر ان کے لیے الٹی پڑ گئی۔ مرزا صاحب نے ۵ نومبر ۱۸۹۹ء میں یہ اعلان کیا تھا۔ اے میرے مولیٰ اگر میں تیرے حضور میں سچا ہوں تو ان تین رسالوں کے اندر جو جنوری ۱۹۰۰ء میں سے آخر دسمبر ۱۹۰۲ء تک ختم ہو جائیں گے کوئی ایسا نشان دکھلا جو انسانی ہاتھوں سے بالا تر ہو۔ اگر تین برس کے اندر میری تائید اور تصدیق میں کوئی نشان نہ دکھلاوے تو میں نے اپنے لیے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری یہ دعا قبول نہ ہوئی تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں جیسا کہ مجھے سمجھا گیا۔ مولانا لکھتے ہیں کہ اس دعا کے بعد مرزا صاحب تین برس اسی فکر و تجویز میں رہے کہ کوئی نشان تراش کر مسلمانوں کو دکھایا جائے۔ میرے خیال میں انہوں نے یہ تدبیر سوچی کے ہندوستان میں عربی ادب کا مذاق نہیں ہے۔ اس لیے ایک عربی قصیدہ لکھوا کر اور اس کی تمہید اردو میں لکھ کر رسالہ شائع کر کے اعجاز کا دعویٰ کیا جائے۔ اس زمانہ میں ایک عرب، طرابلس کے رہنے والے، ہندوستان میں آئے ہوئے تھے، جا بجا وہ پھرتے رہے اور حیدر آباد میں ان کا قیام زیادہ رہا ہے۔ یہ عربی شاعر تھے اور مزاج میں آزادی بھی شاعروں کی سی رکھتے تھے۔ اس شہر میں مرزائی زیادہ ہیں۔ انہوں نے مرزا صاحب سے رابطہ کرا دیا اور خط و کتابت

صفحہ 78

ہونے لگی، انہوں نے قصیدہ کی فرمائش کی، عرب صاحب نے روپیہ لے کر قصیدہ لکھ دیا، مولانا محمد سہول صاحب بھاگلپوری مفتی دارالعلوم دیوبند کہتے ہیں کہ حیدر آباد میں، میں نے ان سے ادب کی کتابیں پڑھی ہیں۔ بڑے ادیب تھے۔ کہتے تھے کہ مجھے روپیہ کی ضرورت پیش آئی تھی۔ میں نے مرزا کو لکھا۔ اس نے قصیدہ لکھوایا، میں نے لکھ دیا۔ اس نے مجھے روپے دیے۔ (فیصلہ آسمانی ۵۹)

اس شخص نے جان بوجھ کر کچھ ایسی غلطیاں بھی قصیدے میں شامل کر دیں جو اہل زبان سے مستبعد ہیں۔ اس کے متعلق مولانا لکھتے ہیں۔

”سعید (شاعر کا نام) مرزا کو جھوٹا جانتا تھا۔ اور یہ بھی جانتا تھا کہ عربی ادب سے مرزا کو مس نہیں ہے۔ اس لیے اس نے قصداً غلطیاں رکھیں تاکہ اہل علم اس سے واقف ہو کر اس کی تکذیب کریں۔ چونکہ عرصہ تک ہند میں رہا ہے اور بعض علوم عقلیہ اس نے یہاں پڑھے ہیں۔ اس لیے وہ ہندی محاورات سے بھی واقف تھا۔ اس لیے مرزا صاحب کو فریب دیا اور بعض ہندی الفاظ بھی قصیدہ میں داخل کر دیے۔ اس کا الحاصل یہ قصیدہ مرزا صاحب کا اعجاز نہیں ہے۔ اگر اعجاز کہا جائے تو سعید شامی کا اعجاز ہوگا۔ (ایضاً) حضرت مونگیری کی اس سعی پیہم اور آہ سحر گاہی نے بہار کا بالخصوص نقشہ پلٹا اور پھر سے لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔

احرار رضاکار

یہ احرار رضاکار مجھے اپنے بچوں سے بھی زیادہ پیارے اور عزیز ہیں۔ نخل احرار کو سایہ دار بنانے کے لیے سینکڑوں نوجوانوں نے اپنا خون دیا۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، سینوں پر گولیاں کھائیں، تختہ دار پر لٹک گئے۔ خود باطل سے ٹکرا گئے۔ دریاؤں میں کود گئے۔ اور پہاڑیوں کی چوٹیوں پر احرار کا سرخ ہلالی پرچم لہرا گئے۔ وہ شیروں کی طرح جبر و تشدد کے طوفان اور سیلابوں میں دیو استبداد کے مقابلے میں سینہ سپر رہے، وہ بیڑیوں اور زنجیروں کی کھڑکھڑاہٹ اور جھنکار پر رقص کرتے رہے، انہیں کوئی مصیبت،

صفحہ 79

کوئی مشکل اور کوئی لالچ جماعت کے دامن سے الگ نہ کر سکا۔ انہوں نے بھوکا رہ کر بھی جماعت کو زندہ رکھا۔ مصائب و آلام برداشت کیے اور جماعت کے اعلان پر بڑی سے بڑی جبروتی اور قہرانی طاقت سے ٹکرا گئے۔ ان کی سرخ روئی خون شہادت کی آئینہ دار ہے‘ میں ان لوگوں کو کیسے فراموش کر دوں‘ میں ان کا ساتھ کیسے چھوڑ دوں‘ میں ان ننگے بھوکوں سے کیسے منہ موڑوں‘ یہی تو میری متاع عزیز ہیں‘ یہی وہ ہیں جو کسی لالچ کے بغیر صرف جذبہ ایمان کے تحت میرا ساتھ دیتے رہے ہیں۔ آزادی کے طویل سفر میں اگر کسی سے میں نے خدا کے بعد اپنی امیدوں کو وابستہ کیا تو وہ یہی عاشقان حق و صداقت تھے۔

(خطاب: امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری)

مخبوط الحواس

ستم دیکھئے‘ یہ لوگ کس قدر بے بصیرت ہیں‘ کتنے عاقبت نااندیش ہیں کہ لباس نبوت کس کے بدن پر مزین کرنے کی سعی میں مصروف ہیں جسے گڑ اور کلوخ میں تمیز نہیں جسے جوتا پہننے کا سلیقہ نہیں۔ دایاں بائیں میں اور بایاں دائیں میں۔ گڑ سے استنجا کیا جا رہا ہے‘ اور مٹی کھائی جارہی ہے۔

دیکھا‘ میاں محمد ﷺ کی عزت پر ہاتھ ڈالا تھا خدائے غیور نے عقل ہی سلب کر لی اور مخبوط الحواس بنا دیا۔ یہ عقل کے مسلوب ہونے کی علامت ہی ہے کہ مرزا قادیانی ملکہ وکٹوریہ کو خط لکھتا ہے جیسے ایک غلام آقا کو خطاب کرتا ہے‘ کہتا ہے:

”میں اور میرا خاندان سلطنت انگلینڈ کے دیرینہ غلام ہیں۔ نیز اے ملکہ معظمہ ادام اللہ بقائہا و خلد اللہ ملکہا۔ تو زمین کا نور اور میں آسمان کا نور۔ پس تجھ زمین کے نور نے مجھ آسمان کے نور کو اپنی طرف کھینچ لیا اور میرے پاس جو کچھ ہے تیرے ہی وجود کی برکت سے ہے۔“

(خطاب: امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)

صفحہ 80

معاملہ عشق

”تم ناموس مصطفیٰ ﷺ کا تحفظ کرو، میں تمہارے کتے پالنے کو تیار ہوں۔ میں تمہارے سور چراؤں گا۔ میں کہتا ہوں مسلم لیگ نے پاکستان بنایا۔ ملک تقسیم کرایا۔ یہ انجمن احمدیہ نے تو نہیں بنایا۔ مرزا بشیر الدین اور سر ظفر اللہ کا پاکستان سے کیا تعلق؟ یہ دم بریدہ سگاں برطانیہ اب پاکستان میں دندنا رہے ہیں۔ ہم ان کی یہ غدارانہ سرگرمیاں ہرگز برداشت نہیں کر سکیں گے اور پاکستان کو مرزائی اسٹیٹ نہیں بننے دیں گے۔

(خطاب: امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)

بیروزگاری اور علاج

”عجیب بات ہے کہ یورپ، ایشیا اور ربع مسکون کے کسی دوسرے خطہ پر اس قسم کا کوئی نبی نہیں آیا۔ یہ شرف حاصل ہوتا ہے تو ہندوستان بلکہ صرف پنجاب کو اور لطف یہ ہے کہ ایک نہ دو پورے ایک درجن کے قریب مدعیان نبوت کھڑے ہو گئے ہیں۔ الغرض جس شخص کو کوئی روزگار نہیں ملتا، وہ نبی بن جاتا ہے۔ مرزا غلام احمد بھی فیل ہو گیا تھا۔

(خطاب: امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری)

لمحہ فکریہ

مسلمانو! لیلائے آزادی سے ہمکنار ہونے کی تمنا ہے تو سب سے پہلے فرنگی کی خانہ ساز نبوت کے قصر قادیاں کو مسمار کرو اور فرنگی کے اس خود ساختہ پودے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکو۔ میرے نزدیک مرزائیت اور عیسائیت ہندوستان میں ایک وجود نامسعود کے دو نام ہیں۔ انہوں نے صرف ہمارے ملک و سلطنت کو تاراج نہیں کیا بلکہ مسلمانوں کے دین و ایمان کی متاع عزیز، آبروئے خدا، محمد ﷺ کی ردائے نبوت پر قزاقانہ حملہ کیا ہے:

صفحہ 81
یتیم مکہ محمد ﷺ کہ آبرو خدا است
کسے کہ خاک رہش نیست بر سر خاک است

جو نام نہاد مسلمان نبوت کے ان ڈاکوؤں سے حسن سلوک کے قائل ہیں یا ان سے رواداری پر مائل ہیں اور انگریز کو اولی الامر بھی جانتے اور مانتے ہیں۔ وہ حرماں نصیب روز محشر شفیع امت حضور ﷺ کے سامنے کیا منہ لے کر آئیں گے۔

(خطاب : امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ )

خان عبدالرحمان خان والی افغانستان

والی افغانستان کو مرزا قادیانی نے اپنی نبوت و مسیحیت کا خط لکھا۔ جس کے جواب میں آپ نے صرف اتنا تحریر کیا۔

اے پنجابیا جس کا پنجابی میں ترجمہ ہے۔ ”اوتھے آ (سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ فرماتے تھے کہ مرزا چلا جاتا تو اس کی گردن اڑا دیتے۔ اے جابرو۔ جہنم میں دفع ہو جاؤ۔

(”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ ص ۲۲۲‘ از مولانا اللہ وسایا)

چاہے وہ کوئی ہو مرا فتویٰ ہے یہ قتیل
ظالم سے انتقام ستم لینا چاہیے

نبیوں کے ساتھ طواف

مولانا قاری محمد حنیف صاحب ملتانی اپنی ایک تقریر میں فرماتے ہیں کہ میں حج کے لئے مکہ مکرمہ گیا۔ میری ملاقات ایک ولی اللہ مولانا خیر محمد صاحب سے ہوئی جو بہاولپور میں رہتے تھے۔ سارا دن اپنے ہاتھوں سے کام کرتے اور شام کو طالب علموں کو حدیث پڑھایا کرتے تھے۔ مولانا خیر محمد صاحب نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ بیت اللہ کا طواف ہو رہا ہے۔ خلیل اللہ طواف کر رہے ہیں۔ کلیم اللہ طواف کر رہے ہیں۔ آدم ذبیح اللہ‘

صفحہ 82

یعقوب، یوسف اور حضرت ایوب علیہ السلام موجود ہیں۔ انبیاء کرام علیہ السلام کی جماعت طواف کر رہی ہے اور پیچھے پیچھے سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ چل رہے ہیں۔ مولانا خیر محمد صاحب فرماتے ہیں۔ میں نے پوچھا۔ شاہ جیؒ! یہ مرتبہ کیسے ملا کہ انبیاء کرام کے ساتھ بیت اللہ کا طواف، تو شاہ جی فرمانے لگے، بس اللہ تعالیٰ نے یوں کریمی فرمادی کہ عطاء اللہ شاہؒ تم نے میرے محبوب ﷺ کی ختم نبوت کے لیے زندگی جیل میں کاٹ دی۔ مصیبتوں اور دکھوں میں گزار دی۔ آجا نبیوں کے ساتھ طواف کر تا رہ۔

(”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ ص ۲۰۲۔۲۰۳‘ از مولانا اللہ وسایا)

اس کو ناقدری عالم کا صلہ کہتے ہیں
مر گئے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا

حضرت شاہ عبدالقادر رائپوریؒ

مولانا عبدالرحمن صاحب میانوی مشہور مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت نے فرمایا کہ ایک بار موسم گرما میں ماہ رمضان المبارک گزارنے کے لیے حضرت مری تشریف رکھتے تھے۔ میں بھی ایک شدید مرض سے افاقہ کے بعد مری چلا گیا اور حضرت کی صحبت میں رہنے لگا۔ ایک روز تبلیغی جماعت کے ایک صاحب سے میری کچھ بحث چل پڑی، اس میں کچھ تلخی کی باتیں بھی ہو گئیں۔ دوسرے روز حضرت وضو فرمانے لگے تھے کہ ان صاحب نے میری شکایت کی۔ حضرت وضو سے رک گئے۔ اور رنجیدہ لہجہ میں فرمایا: مجھ سے ان حضرات کی شکایت نہ کیا کرو۔ آج کے زمانہ میں حضور ﷺ کی عزت و ناموس پر ان کی طرح جان نثار کرنے والا کون ہے۔ حضور ﷺ کی محبت میں ان کو میں صحابہ ؓ کے نقش قدم پر دیکھ رہا ہوں، آئندہ کوئی اس جماعت کی مجھ سے شکایت نہ کرے۔

(”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ ص ۱۷۷۔۱۷۸‘ از مولانا اللہ وسایا)

تیرا عمر بھر انتظار کر لیں گے!
مگر یہ رنج رہے گا کہ زندگی کم ہے (مولف)
صفحہ 83

حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ

میرپور خاص سندھ کے ڈاکٹر احمد اللہ ہمدانی مدینہ طیبہ گئے ۔ روضہ طیبہ پر درود و سلام پڑھا اور دعا کی کہ اے آقائے نامدار ﷺ آپ کا جو بہت پیارا امتی ہے۔ اس بزرگ کی مجھے آج زیارت ہو جائے ۔ یہ دعا کر کے مواجہ شریف سے پیچھے ہٹے تو ایک دوست نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب پاکستان سے مولانا خواجہ خان محمد صاحب تشریف لائے ہوئے ہیں ۔ آپ زیارت کے لیے چلیں گے‘ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ آج تو میری دعا نقد قبول ہو گئی ۔ میں گیا اور جا کر مولانا خواجہ خان محمد صاحب سے ملاقات و زیارت کی۔

(”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ ص ۱۴۳‘ از مولانا اللہ وسایا)

صحن چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز تھا
وہ آ گئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے (مولف)

جب مرزا قادیانی کا نام لو

مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمتہ اللہ علیہ کی عادت تھی کہ جب کبھی گفتگو یا درس کے دوران مرزا قادیانی کا نام آتا تو طبیعت میں جلال آجاتا ۔ کذاب‘ لعین‘ مردود‘ شقی‘ بد بخت ازلی‘ محروم القسمت‘ دجال‘ کذاب‘ شیطان کہہ کر مرزا کا نام لیتے اور اس کے بعد بدعائیہ جملے ارشاد فرما کر اس قول کو نقل کرتے ۔ کسی خادم نے پوچھا شیخ آپ جیسا نفیس الطبع آدمی اور جب مرزا قادیانی کا نام آتا ہے تو اس طرح سیخ پا ہو جاتے ہیں ۔ اس پر آپ نے فرمایا ! میاں میرا ایمان ہے کہ جس طرح حضور علیہ السلام سے محبت رکھنا ایمان ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ کے دشمنوں سے بغض رکھنا بھی ایمان ہے۔ آپ ﷺ کا سب سے بڑا دشمن مرزا بد بخت تھا۔ اس لیے اس مردود کو گالی دے کر اس سے جتنا بغض ہو گا۔ اتنا زیادہ حضور علیہ السلام کا قرب نصیب ہو گا۔ میں یہ اس لیے کرتا ہوں۔ بھلا تم اپنے باپ

صفحہ 84

کے دشمن کو اور حکومت اپنے باغیوں کو برداشت نہیں کرتی تو میں حضور علیہ السلام کے دشمن کو کس طرح برداشت کرلوں۔

(”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“، ۲۰۔۲۱‘ از مولانا اللہ وسایا)

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

علم انوری

مولوی محمد حیات صاحب مرحوم نے بیان کیا کہ حضرت شاہ صاحب نے مقدمہ بہاولپور میں مرزائیوں کے مقابلہ میں یہ ثابت کیا کہ کسی زمانہ میں بھی کوئی دو مسلمان عالم ایسے نہیں گزرے جو ممات پر متفق ہوئے ہوں اور اس طرح حیات مسیح کے عقیدہ پر امت کا اجماع ثابت کیا۔ جو کتاب اس بحث میں مرزائی عالم شمس (شمس مرزائی نے مسلم الثبوت میں کی تھی) نے پیش کی۔ اس میں سے شاہ صاحب نے اس کتاب کے مصنف کا حیات مسیح کا قائل ہونا ثابت کیا۔ ایک کتاب کا مولانا نے نام لیا جو مجھے یاد نہیں رہی کہ وہ وہاں شمس مرزائی کے پاس تھی۔ جب وہ اس میں سے اپنا استدلال کرچکا تو حضرت شاہ صاحب نے اس سے وہ کتاب لے کر چند منٹ دیکھ کر اس کے مصنف کا بھی حیات مسیح کا قائل ہونا جج کو دکھایا۔

(”مجالس حضرت رائے پوریؒ“، ص ۸۴‘ از مولانا حبیب الرحمٰن رائے پوری)

جھوٹے حکمران

گرفتاریوں کے قریباً پندرہ روز بعد لاہور سے سی آئی ڈی کے دو ذمہ دار افسر کراچی جیل میں رہنما ختم نبوت سے ملنے آئے اور کہا: ”اگر آپ حضرات یہ کہہ دیں کہ تحریک ختم نبوت‘ دولتانہ کے ایماء پر چلائی گئی ہے

صفحہ 85

تو حکومت آپ کو رہا کر دے گی۔“ ممکن ہے نکہت باد بہاری کی اس پیش کش پر قفس کی تیلیوں سے آزادی پرواز کے شوق میں موسم گل سے نامہ و پیام کرتے کہ امیر شریعتؒ درمیان میں بول اٹھے۔ ”یہ جھوٹ ہے‘ دولتانہ ایک دنیا دار انسان ہے‘ اور تحریک ختم نبوت پاک جذبات کی محرک‘ اس کی ذمہ داری کسی فاسق و فاجر پر نہیں ڈالی جا سکتی‘ جاؤ اپنی حکومت سے کہہ دو یہ تحریک میں نے چلائی ہے‘ اور اس کا ذمہ دار بھی میں ہوں۔“

(”حیات امیر شریعت“‘ ص ۳۶۴‘ از جانباز مرزاؒ)

شاہ جیؒ کی یاد

۷۲ سال کی عمر پوری کر کے شاہ نے ۲۱ اگست کی شام کو جان جان آفرین کے سپرد کی اور ۲۲/ کو بعد ظہر تقریر و خطابت کے اس بادشاہ کو منوں مٹی کے نیچے دبا دیا گیا۔ شاہ کی موت پر ایک تاریخ ختم ہو گئی‘ ایک عہد گزر گیا‘ ایک دور پورا ہو گیا۔ ایک چمن اجڑ گیا۔ ایک بہار لٹ گئی۔ تقریر و خطابت کی رونق ختم ہو گئی۔ جرات و شجاعت کا شیرازہ بکھر گیا اور خلوص و دیانت پر افسردگی چھا گئی‘ اب نہ کبھی شاہ نظر آئیں گے‘ نہ ان کی تقریریں سننے کا موقع ملے گا‘ لیکن جب بادل گرجے گا‘ بجلی چمکے گی‘ موسلا دھار بارش ہو گی‘ طوفان اور سیلاب آئیں گے‘ جب کبھی صبح ہو گی اور جب کبھی شام آئے گی۔ جب کبھی پھول کھلیں گے‘ اور کلیاں مسکرائیں گی‘ جب کبھی باد صبا پھولوں اور کلیوں سے چھیڑ چھاڑ کرتی چمن سے گزرے گی‘ جب کبھی کوئی قرآن پڑھے گا‘ اور جب کوئی رات کی آخری اور خنک ساعتوں میں لاکھوں اور ہزاروں کے مجمع کے سامنے تقریر کرے گا‘ جب کوئی جرم حق گوئی کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتیں سہے گا۔ جب کوئی مرد حق اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی عظمت کے لیے اپنے جسم و جان کا نذرانہ وقت کے کسی ظالم اور قاہر کے سامنے پیش کرے گا۔ مجھے اس وقت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ضرور یاد آئیں گے کہ ان سب چیزوں میں مجھے عطاء اللہ شاہ بخاری کی شباہت ملے گی۔ عطاء اللہ شاہ کی کچھ ادھوری

صفحہ 86

سی نقل، سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی ۷۳ سالہ مجاہدانہ زندگی، اس کے خلوص و دیانت، اس کی تقریر و شعلہ بیانی، اس کی حسین جوانی، اس کے پروقار بڑھاپے کو، اس کے لاکھوں عقیدت مندوں کی طرف سے ہزاروں سلام۔ رحمہ اللہ رحمہ واسعہ و غفر لہ اللہ مغفرہ کاملہ

(”یادگار زمانہ ہیں یہ لوگ“، ص ۷۲‘ از ازہر شاہ قیصر)

وہ گل کی لطافت تھا، بہاروں کا ترنم
وہ عزم کی چٹان تھا، موجوں کا تلاطم

رٹ اور رہائی

مسٹر محمود علی قصوری نے حضرت شاہ صاحبؒ ، مولانا ابو الحسنات، صاحبزادہ فیض الحسن اور ماسٹر تاج الدین انصاری کی نظر بندی کے خلاف رٹ دائر کر دی۔ جسٹس ایس اے رحمن نے قانونی غلطی کا فائدہ دے کر ۸/ فروری ۱۹۵۴ء کو انہیں رہا کر دیا۔ نتیجتاً حضرت شاہ صاحب اور ان کے محولہ بالا ساتھی ۸/ فروری ۱۹۵۴ء کو لاہور سنٹرل جیل سے رہا ہو گئے۔

رہائی کے فوراً بعد شاہ جی نے ملتان میں ایک استقبالیہ سے خطاب کیا۔ عمر بھر کی روایت کے خلاف آغاز تقریر میں خطبہ مسنونہ کی تلاوت نہ کی۔ لوگ ششدر رہ گئے۔ فرمایا لیڈیز اینڈ جنٹلمین ! مجمع کھلکھلا اٹھا، کسی نے کہا۔

شاہ جی یہ کیا؟

فرمایا کچھ نہیں، قرآن اس لیے نہیں پڑھوں گا۔ مبادا جسٹس منیر توہین عدالت میں بلوا لیں۔ رہا لیڈیز اینڈ جنٹلمین، تو جسٹس منیر نے انکوائری رپورٹ میں لکھ دیا ہے کہ مسلمان کی کوئی تعریف نہیں۔ اب یہ ملک مسلمانوں اور مسلمات کا نہیں لیڈیز اینڈ جنٹلمین کا ہے۔

(”سید عطاء اللہ شاہ بخاری“، ص ۲۵۰‘ از شورش کاشمیری)

صفحہ 87

مولانا عبدالستار خان نیازی

اور

تحریک تحفظ ختم نبوت

از: مولانا عبدالستار خان نیازی

پہلی ختم نبوت تحریک کا سبب چودھری سر ظفر اللہ خاں کی ایک تقریر بنی جو انہوں نے دسمبر ۱۹۵۲ء میں کراچی میں کی تھی۔ اسی سے سارا جھگڑا پیدا ہوا۔ اس تقریر کے دوران کسی شخص نے ظفر اللہ خاں سے پوچھا کہ آپ نے قائد اعظمؒ کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا۔ اس پر چوہدری ظفر اللہ خاں نے جواب دیا:

”یوں سمجھ لیجئے کہ ایک کافر نے مسلمان کا جنازہ نہیں پڑھا یا ایک مسلمان نے کافر کا جنازہ نہیں پڑھا۔“

اس سے مسلمان مشتعل ہو گئے۔ پنجاب میں اس پر بہت شور شرابا ہوا۔ اس وقت چودھری ظفر اللہ بدستور پاکستان کے وزیر خارجہ تھے۔ اس بیان پر غور کرنے کے لئے ۱۹۵۳ء کے اوائل میں برکت علی اسلامیہ ہال لاہور میں ایک کنونشن ہوا، جس میں علماء اور مشائخ ختم نبوت کے سلسلے میں جمع ہوئے۔ جنوری ۱۹۵۳ء میں اسی قسم کا ایک کنونشن کراچی میں ہوا۔ جس میں پنجاب سے تیرہ افراد نے شرکت کی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی میں قائم کی گئی۔ اس سلسلے میں ایک آل پاکستان لیول کا کنونشن ہوا تھا۔ اس کنونشن میں شرکت کے لئے مجھے جان بوجھ کر نظر انداز کر دیا گیا۔ کنونشن بلانے والوں کا خیال تھا کہ یہ گرم آدمی ہے۔ دھم پڑاس کر کے رکھ دے گا۔ وہ چاہتے تھے کہ نرم روی سے چلیں۔ حالانکہ اس

صفحہ 88

کنونشن میں شرکت کے لئے پنجاب سے میرا نام بھی گیا تھا۔

اتفاق ایسا ہوا کہ جن دنوں ختم نبوت کنونشن منعقد ہوا تو میں کسی کام کے سلسلے میں پہلے ہی سے کراچی موجود تھا۔ ہم نے وہاں اخوان المسلمون کی طرز پر اجتماع کیا تھا، جس میں پنجاب، اندرون سندھ اور سرحد سے کارکنوں نے شرکت کی تھی۔ میں کراچی سے واپس آ گیا۔ اس کنونشن میں کچھ مطالبات مرتب کئے گئے:۔

مطالبات کا یہ سلسلہ چلتا رہا۔ مولانا ابراہیم علی چشتی ان دنوں ادارہ اسلامیات کے ڈائریکٹر تھے۔ انہوں نے اپنے طور پر گورنمنٹ کی مرضی کے بغیر علماء کو تحریک ختم نبوت کے لئے فضا سازگار کرنے کی غرض سے ملک کے مختلف علاقوں کے دورہ پر روانہ کیا۔ چونکہ ابراہیم علی چشتی خود تحریک ختم نبوت کے شدید مبلغ، حامی اور موید تھے۔ اس لئے انہوں نے اپنی ذاتی حیثیت میں اس تحریک کو کامیاب بنانے کی غرض سے علماء کو سفر کے اخراجات دیئے۔ اور دیگر ہر طرح سے تعاون کیا۔ میں اپنے خرچ پر علیحدہ دورے کرتا رہا، تحریک خلافت پاکستان کی طرف سے۔

قصہ کوتاہ، ۲۵ فروری ۱۹۵۳ء کو فیصلہ کیا گیا کہ لاہور سے جتھے جائیں اور دارالحکومت کراچی جا کر گرفتاریاں دیں۔ لوگ کراچی جانے کے لئے ٹرین میں سوار ہوتے تھے، لیکن پولیس انہیں راستے میں ہی اتار دیتی تھی۔ بہت کم لوگ کراچی پہنچ رہے تھے۔ نتیجتاً تحریک فیل ہو رہی تھی۔ لوگوں نے اس سلسلے میں مجھ سے بات کی۔ مجھے یاد ہے۔ وہ جمعہ ۲۷ فروری کا دن تھا۔ لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا ہم لوگوں کو کراچی جاکر گرفتاریاں دینی چاہئیں؟ میں نے کہا میں نہ اس کی مخالفت کرتا ہوں نہ حمایت۔ پنجاب گورنمنٹ مرکزی حکومت کے ماتحت ہے۔ اگر کرنا ہے تو یہاں کی گورنمنٹ کا نظام معطل کر دو۔ اس مرکزی حکومت پر خود بخود دباؤ پڑے گا۔ میں نے کہا میری سکیم تو یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی ہاؤس کا گھیراؤ کر لو اور ارکان اسمبلی کو مجبور کر دو کہ قادیانیوں سے متعلق بل پاس کرایا جائے۔ دولتانہ سے جواب طلب کرو۔ اس موقع پر میں نے یہ شعر پڑھا تھا۔

صفحہ 89
پاس خیبر بھی ہے اور علی مسجد بھی
دور کیوں جاتے ہو مرحب سے یہیں بات کرو

اسی رات موچی دروازہ لاہور میں میں نے تقریر کی۔ اس میں میں نے اسی بات پر زور دیا۔ ۲۸ فروری ۱۹۵۳ء تک تحریک ختم نبوت کے تقریباً تمام لیڈروں کو گرفتار کیا جاچکا تھا اور تحریک بغیر امام کے رہ گئی تھی۔ اس موقع پر میں نے مولانا مودودی صاحب کو فون کیا کہ تمام لیڈر گرفتار ہو چکے ہیں، بس میں اور آپ باقی رہ گئے ہیں۔ اب کیا کیا جائے؟ تو مولانا مودودیؒ نے کہا کہ ہاں اور لوگوں نے بھی اسی طرح کی بات کی ہے۔ آپ صبح نو بجے میرے پاس آ جائیں۔ اسی شام مجھے مولانا غلام غوث ہزاروی کا فون آیا کہ میں آپ کے پاس آ رہا ہوں۔ میں نے کہا آجائیے۔ میں ان دنوں ممبر پنجاب اسمبلی کی حیثیت سے پیپلز ہاؤس کے بی بلاک، کمرہ نمبر ۴ میں مقیم تھا۔ ہم نے ایک دوست کی کار لی اور دونوں مولانا مودودی صاحبؒ کے پاس چلے گئے وہاں مولانا ارشد پناہوی، میاں طفیل احمد، مولانا ابوالحسناتؒ کے فرزند امین الحسنات، اور کچھ دوسرے لوگ موجود تھے۔ وہاں ہم نے کہا کہ سب لوگ تو گرفتار ہو چکے ہیں، اس تحریک کو زندہ رکھنے کے لئے اب کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے تو مولانا مودودیؒ نے کہا کہ ان حالات میں کچھ لوگوں کو انڈر گراؤنڈ چلے جانا چاہئے اور باقیوں کو اوپر رہ کر کام کرنا چاہئے۔ میں نے کہا، مولانا، آدمی تو بس یہی ہیں جو یہاں بیٹھے ہیں۔ ان میں سے انڈر گراؤنڈ کتنے جائیں گے اور اوپر کتنے رہیں گے؟ ہاں، اگر زیادہ آدمی ہوتے تو پھر اور بات تھی۔ اس پر انہوں نے کہا۔ ”میں تو جب تحریک فیل ہونے لگے گی تب اسے سنبھالوں گا۔“ میں نے کہا پھر آپ اسے سنبھال نہیں سکیں گے۔ سنبھالنا ہے تو اسے اب سنبھالئے۔ جب یہ بغیر لیڈر کے اور بغیر قیادت کے ہے۔“

خیر ہم مایوس ہو کر واپس لوٹ آئے۔ واپس آ کر ہم نے دوستوں سے مشورہ کیا کہ اب کیا کیا جائے؟ ان دوستوں میں مولوی ابراہیم علی چشتی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ وہ صدق دل سے چاہتے تھے کہ یہ مسئلہ حل ہو۔ پھر حکیم محمد انور بابری تھے۔ ان سے بھی مشورہ کیا گیا۔ ان کا خیال تھا کہ تحریک اسی افراتفری میں ختم ہو جائے گی جس سے بڑی بدنامی ہوگی۔ چنانچہ میں نے اس تحریک کو قدرے سیاسی رنگ دینے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ ہمارا خیال تھا کہ خالصتاً مذہبی تحریک کو دبانا انتظامیہ کے لئے نسبتاً آسان تھا۔ چنانچہ ۲۸ فروری

صفحہ 90

۱۹۵۳ء کو میں نے ایک بیان جاری کیا کہ ”ختمیت امام‘ رسالت نظریہ پاکستان کی اساس ہے۔ اگر اسے ختم کر دیا گیا تو پھر پاکستان کا تصور بھی ختم ہو جائے گا۔ اس کا انکار غداری ہے۔“

پھر ہم نے تحریک ختم نبوت کے رضا کاروں کے لئے ہدایات مرتب کی کہ آپ لوگوں نے پر امن اور منظم رہنا ہے۔ گڑ بڑ نہیں کرنی۔ املاک کو نقصان نہیں پہنچانا۔ نعرے مثبت ہونے چاہیں۔ مثلاً ظفر اللہ خاں کو ہٹایا جائے۔ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ آئین میں ترمیم کی جائے۔ قادیانیوں کو کلیدی اسامیوں سے ہٹایا جائے۔

ختم نبوت کے سلسلے میں کراچی میں ایک مجلس عمل تشکیل دی گئی تھی جس نے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین سے ملاقات کی اور اپنے مطالبات کو دہرایا۔ مگر خواجہ ناظم الدین نے یہ مطالبات ماننے سے انکار کر دیا۔ مذاکرات ناکام ہو گئے۔ اس پر راست اقدام کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس موقع پر مولانا مودودی کراچی میں موجود تھے۔ فیصلہ جو ہوا‘ متفقہ ہوا۔ مگر مولانا مودودی نے بعد میں اس بات سے انکار کیا کہ انہوں نے راست اقدام کے فیصلے کی تائید کی تھی۔ لیکن سید عطاء اللہ شاہ بخاری‘ تمام اور دوسرے تمام لوگوں کا کہنا ہے کہ مولانا مودودی نے اس فیصلے کی تائید کی تھی۔ میں تو اس مجلس عمل میں شامل نہیں تھا۔ کیونکہ مجھے اس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تھی۔ البتہ پنجاب سے تیرہ لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا۔

پنجاب سے جو لوگ کراچی گئے تھے ان میں مولانا ابو الحسنات محمد احمد صاحب جامع مسجد وزیر خان‘ جمعیت علمائے پاکستان کے صدر وغیرہ۔ مجھے ایک تو دولتانہ کی ناراضگی کے ڈر سے نہیں بلایا گیا۔ دوسرے انہیں اندیشہ تھا کہ نیازی گرم آدمی ہے‘ ٹکرا دے گا حکومت کے ساتھ۔ یہ میرا اندازہ ہے کہ مجھے جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا۔ ممکن ہے ان لوگوں کے نزدیک اس کی کوئی اور وجہ ہو۔ ۲۰ جنوری ۱۹۵۳ء کو جب کراچی میں ختم نبوت کانفرنس ہو رہی تھی تو میں وہاں آل پاکستان پولیٹیکل ورکرز کنونشن کے سلسلے میں موجود تھا۔ وہاں مولانا سید عطاء شاہ صاحب بخاری سے میری ملاقات بھی ہوئی مگر انہوں نے یہ بات مجھ سے اخفاء میں رکھی۔ بہر حال مجھے اس کا ان سے گلہ نہیں ہے۔

راست اقدام کا فیصلہ کئے جانے کے بعد حکومت نے تحریک ختم نبوت کی مجلس عمل

صفحہ 91

کے تمام ارکان کو کراچی ہی میں گرفتار کر لیا۔ ان مذہبی رہنماؤں کی گرفتاری کے ردعمل کے طور پر لوگوں نے لاہور سے جتھوں کی صورت میں کراچی جا کر گرفتاریاں دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ ۲۷ فروری ۱۹۵۳ء کو میں داتا گنج بخشؒ کی مسجد میں تقریر کر رہا تھا کہ حاضرین میں سے کسی کا رقعہ آیا کہ آپ اعلان کر دیجئے کہ تحریک ختم نبوت کے تمام رضا کار نماز جمعہ کے بعد دہلی دروازہ کے باہر پہنچ جائیں۔ میں نے رقعہ پڑھ کر سنا دیا اور ساتھ ہی میں نے کہا تحریک ختم نبوت کے تو ہم سب رضا کار ہیں۔ اس سلسلے میں میرا موقف یہ ہے کہ کراچی جا کر گرفتاریاں دینے کے بجائے اس مقصد کے لئے ہم اپنے اپنے علاقوں میں جدوجہد کریں تب کوئی نتیجہ نکلے گا۔ پھر اسی رات میں نے موچی دروازے میں جلسے سے خطاب کیا اور اس میں لوگوں کو اسمبلی ہاؤس کا گھیراؤ کرنے کا مشورہ دیا تاکہ اراکین اسمبلی کو اس سلسلے میں ریزولیوشن پاس کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

مسجد وزیر خان کو ہم نے اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ ۲۸ فروری، یکم اور ۲ مارچ ۱۹۵۳ء کو میں مسجد وزیر خان آتا جاتا رہا۔ اس سے قبل میں نے کراچی میں تحریک ختم نبوت کے کارکنوں اور دوسری صف کے رہنماؤں سے رابطہ قائم کیا۔ اس تحریک کی خاص بات یہ تھی کہ پرامن طور پر حکومت کا کام معطل کر کے رکھ دیا جائے۔ حکومت کے خلاف پرامن جلوس نکالے جائیں۔ اس تجویز کی مرکزی قیادت نے جیل سے خصوصی پیغام بھیج کر تائید کی۔

ہم نے اجتماعات کے لئے دو مراکز بنا رکھے تھے۔ ایک دہلی دروازہ جہاں دن کو جلسہ ہوتا تھا۔ دوسرے مسجد وزیر خان جہاں نماز ظہر کے بعد جلسہ ہوتا تھا۔ لوگ پنجاب اور سرحد سے قافلہ در قافلہ مسجد وزیر خاں میں آ رہے تھے۔ میں نے صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد مسجد وزیر خاں میں ایک مجلس عمل قائم کر دی۔ تاکہ تحریک کو موثر بنایا جا سکے۔ کراچی میں ایک سویلین سرکاری افسر سے ہمارا رابطہ تھا جو تحریک کے متعلق ہمیں حکومت کے عزائم اور پالیسیوں سے قبل از وقت خبردار کر دیتا تھا۔ وہ صاحب محکمہ خوراک میں ایک اعلیٰ سرکاری افسر تھے۔ انہی نے ہمیں یہ پیغام بھیجا کہ نیازی سے کہو کہ یہاں کراچی میں پانچ آدمیوں کی گرفتاریاں پیش کرنے کی بجائے لاہور میں، پنجاب میں تحریک چلائیں۔ مسجد وزیر خان کا گیٹ لوہے کا تھا۔ رات کو ہمارے کچھ کارکن اس میں برقی رو

صفحہ 92

چھوڑ دیتے تاکہ کوئی اندر داخل نہ ہو سکے۔ پہرے کے لئے باری باری لوگوں کی ڈیوٹیاں لگتی تھیں۔ میں مسجد کے اندر جاکر بھیس بدل لیتا تھا۔ مسجد کے مینار کے اندر اوپر جاکر ایک بڑی عجیب مگر کشادہ جگہ بنی ہوئی تھی۔ وہاں میرا ڈیرہ تھا۔ پھر ہم نے کوڈ ورڈز بھی بنا رکھے تھے تاکہ رات کو آنے والوں کی شناخت کی جاسکے اور صرف تحریک کے لوگ ہی مسجد کے اندر داخل ہو سکیں۔ مولانا ابراہیم علی چشتی میرے پاس پیغامات بھیجا کرتے تھے۔ پھر مولانا غلام غوث ہزاروی سے بھی میرا رابطہ ہو گیا۔ وہ بھی لاہور میں موجود تھے۔ مگر انڈر گراؤنڈ چلے گئے تھے۔

۴ مارچ ۱۹۵۳ء کی صبح میں نے ایک ایک سو رضا کاروں کے تین جتھے روانہ کئے ایک سول سیکرٹریٹ کی جانب، دوسرا ضلع کچہری کی طرف اور تیسرا گورنمنٹ ہاؤس کی طرف۔ جتھے کی صورت یہ ہوتی تھی کہ پچھتر آدمی اس کے اندر ہوتے تھے۔ اور ان کے گرد پچیس آدمیوں کا گھیرا ہوتا تھا تاکہ کوئی غیر آدمی اندر آکر تخریبی کارروائی نہ کرسکے۔ میں نے ان جتھوں کے لئے مثبت نعرے تیار کئے انہیں ہدایت کی کہ آپ لوگوں نے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا ورد کرتے جانا ہے۔ اگر لاٹھی چارج کیا جائے تو لاٹھیاں کھاؤ۔ مگر بڑھتے جاؤ۔ گولی چلے تو منتشر ہو کر گلیوں کے اندر چلے جاؤ اور اگلے چوک میں پھر جمع ہو جاؤ۔ چنانچہ ایک جتھہ بخیر و عافیت ضلع کچہری پہنچ گیا۔ سول سیکرٹریٹ والا جتھہ بھی کچھ گرفتاریوں کے بعد اپنی منزل تک پہنچ گیا اور انہوں نے وہاں کام بند کرا دیا۔ گورنمنٹ ہاؤس جانے والا جتھہ جب چوک دالگراں میں پہنچا تو پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ اس جتھے میں سید خلیل احمد بھی شامل تھے۔ انہوں نے میرے علم اور ہدایت کے بغیر وہاں ایک بات کہہ دی کہ جب لاٹھی چارج ہو تو سب زمین پر لیٹ جائیں۔ چنانچہ جب لاٹھی چارج ہوا تو جتھے میں شامل سب رضا کار زمین پر لیٹ گئے۔ فردوس شاہ ڈی ایس پی تھا۔ اس نے رضا کاروں کو ٹھڈے مارے۔ وہ ٹھڈے مار رہا تھا تو ایک لڑکے کی بغل میں حمائل شریف لٹکا ہوا تھا۔ فردوس شاہ نے ٹھڈا مارا تو حمائل شریف دور جاگری۔ اس پر لوگ مشتعل ہو گئے مگر پولیس نے انہیں منتشر کر دیا۔ یہ جتھہ گورنمنٹ ہاؤس تک نہ پہنچ سکا۔ اس واقعہ کے بعد نوجوان ڈی ایس پی فردوس شاہ کے پیچھے لگ گئے۔

حجرہ مسجد کے جنوبی حصے میں تھا۔ میرا معمول تھا کہ میں وہاں بیٹھ کر رضا کاروں کو

صفحہ 93

ہدایت دیا کرتا تھا۔ ان کی ڈیوٹیاں لگاتا تھا۔ مغرب کی نماز میں شریک ہونے والا آخری آدمی میں ہوتا تھا۔ پولیس والوں نے سکیم یہ بنائی کہ جب لوگ نماز پڑھ رہے ہوں تو نیازی پر ہلہ بول کر اسے گرفتار کیا جائے۔ اس سے تحریک خود بخود ختم ہو جائے گی۔

۴ مارچ کی شام میں حسب معمول رضا کاروں کو ہدایت دے رہا تھا کہ اس اثناء میں ایک شخص آیا اور اس نے حجرے کے اندر جھانک کر میری طرف دیکھا اور پھر آگے بڑھ گیا۔ میں نے رضا کاروں سے کہا یہ آدمی مشتبہ ہے اسے پکڑو۔ میری بات سن کر وہ بھاگا مگر رضا کاروں نے اسے پکڑ لیا اور بہت مارا اس واقعہ کے فوراً بعد ڈی ایس پی فردوس شاہ تھانیدار مظفر خاں پولیس کے پورے جتھے کے ساتھ مجھے پکڑنے کے لئے مسجد وزیر خان کی طرف بڑھے۔ وہ ابھی مسجد کے اندر داخل نہیں ہوئے تھے کہ ان لڑکوں نے جو اسی صبح گورنمنٹ ہاؤس بھیجے جانے والے رضا کاروں کے جتھے میں شامل تھے، فردوس شاہ کو پہچان لیا کہ اس شخص کے حکم سے پولیس والوں نے ہمیں ٹھڈے مارے تھے اور ایک رضا کار کی حمائل شریف دور جا پڑی تھی۔ چنانچہ لڑکوں نے فردوس شاہ کو مسجد کے سفید دروازے میں داخل ہونے سے قبل ہی پتھروں سے پچھاڑ ڈالا۔ جب باقی پولیس والے آگے بڑھے تو لڑکوں نے ان سے رائفلیں چھین لیں اور مسجد کے دروازے بند کر لئے۔

جب رضا کار میرے پاس آئے تو میں نے کہا یہ تم نے برا کیا کہ پولیس سے رائفلیں چھین لیں۔ پولیس نے مسجد کی پچھلی جانب سے سیڑھیاں لگا کر اندر اترنا چاہا تو مجھے رضا کاروں نے کہا کہ پولیس عقب سے سیڑھی لگا کر اندر آنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہمارے رضا کاروں کے پاس نقلی بندوقیں اور لوہے کی ٹوپیاں تھیں۔ میں نے کہا کہ اس وقت کوئی مسجد کے اندر نہ آنے پائے۔ رضا کار نوجوانوں نے سیڑھی پر چڑھ کر مسجد کے اندر آنے کی کوشش کرنے والے سپاہی کو سیڑھی سمیت پوری طاقت سے واپس دھکیلا۔ وہ سیڑھی سمیت نہ جانے کہاں گرا اور مر کھپ گیا۔ مجھے اسی روز اندازہ ہو چکا تھا کہ اب ہماری تحریک فیل ہو جائے گی، کیونکہ اس میں تشدد آ گیا تھا۔ ڈی ایس پی کے مارے جانے کے بعد کچھ لوگ تحریک کے ذریعہ اپنا سیاسی کیریئر بنانے کی کوشش کر رہے تھے اور اس قسم کا پروپیگنڈہ کر رہے تھے کہ نیازی نے اپنی متوازی حکومت قائم کر لی ہے۔ خلافت قائم کر لی ہے۔ حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں تھی۔

صفحہ 94

فردوس شاہ کے قتل کے بعد میں نے جلسہ میں اس کی تعزیت کی اور کہا کہ مسلمان افسر اگر ڈیوٹی کے دوران مارا جائے تو اس کی موت حق کی موت ہے۔ ہمیں اس کی موت کا افسوس ہے کہ وہ بیچارہ مارا گیا۔ اس کے باوجود ہمیں پتہ چل گیا کہ دولتانہ نے اس کے قتل کو ایکسپلائٹ کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ ہمارے ایک دوست ہوتے تھے ایم ایل اے رائے نصر اللہ خان جو پیپلز ہوسٹل میں میرے ساتھ والے فلیٹ میں قیام پذیر تھے۔ انہوں نے مجھے اطلاع دی کہ آپ کے خلاف فردوس شاہ کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ جو اللہ کو منظور ہے وہی ہو گا۔ ہم فردوس شاہ کی موت پر ایک تعزیتی ریزولیوشن منظور کر چکے تھے اور رضا کاروں کو بھی پرامن رہنے کی ہدایت کر دی گئی تھی۔

۵ مارچ کو ہم نے پھر جلوس نکالا۔ لوگ پرامن رہے ۶ مارچ کو ایک پوسٹر لگا کہ مولانا عبدالستار نیازی شاہی مسجد میں نماز جمعہ پڑھائیں گے۔ غالبا یہ حرکت سی آئی ڈی کی تھی کیونکہ یہ پوسٹر ہماری طرف سے نہیں چھپا تھا۔ میں نے اپنے ایک کارکن بشیر مجاہد سے کہا کہ اس پوسٹر کی تردید کرو۔ اس نے ٹیکسی لی‘ اس پر لاؤڈ سپیکر لگایا اور اس پوسٹر کی تردید کی۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ اعلان کیا گیا کہ جمعہ کی نماز بدستور مسجد وزیر خان میں ادا کی جائے گی۔ ۶ مارچ کی صبح خلیفہ شجاع الدین‘ بیگم سلمیٰ تصدق حسین اور چند دوسرے لوگ ہمارے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں گورنر (آئی آئی چندریگر) نے بھیجا ہے کہ نیازی کے ساتھ صلح کر لی جائے ہم نے کہا ہماری صلح یہی ہے کہ ہمارے گرفتار شدہ آدمیوں کو رہا کر دیا جائے۔ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ تسلیم کرو۔ مرکزی حکومت کو قائل کرنے کے لئے ایک آدمی ہمارا اور ایک پنجاب گورنمنٹ کا مرکزی حکومت کے ساتھ اس سلسلے میں مذاکرات کرے۔ اس پر انہوں نے بتایا کہ سنٹرل گورنمنٹ خود اپنا ایک وفد بنا کر بھیج رہی ہے تاکہ اس مسئلے پر مذاکرات کئے جاسکیں۔ آپ تحریک ختم کر دیں۔ ہم آدمی رہا کر دیں گے۔ اور پنجاب کی حکومت آپ کے مطالبات تسلیم کر لے گی۔

لوگوں میں اس وقت اتنا مذہبی جوش تھا کہ بیگم سلمیٰ تصدق حسین کے لئے ہم نے برقعہ منگوایا اور اسے پہنا کر رخصت کیا۔ ورنہ ڈر تھا کہ مذہبی لوگ بے پردگی کے باعث ان پر حملہ کر دیں گے۔ میں نے اپنے لوگوں کی حفاظت میں انہیں مسجد سے باہر پہنچایا۔ جمعہ کی نماز کے وقت میں نے ایک تحریری تقریر تیار کی جس میں میں نے اپنا موقف پیش کیا۔ اس

صفحہ 95

موقع پر مسجد کے اندر سی آئی ڈی کی بھاری نفری موجود تھی بلکہ انہوں نے سٹیج پر خود قبضہ کرنے اور مجھے سٹیج سے نیچے پھینکنے کی کوشش بھی کی۔ میں نے دیکھا کہ کچھ لوگوں نے سٹیج پر میرے گرد ایک گھیرا سا بنا لیا تھا۔ کچھ لوگ تحریک کے لئے پیسے دینے کے بہانے بار بار اسٹیج پر آرہے تھے حالانکہ ہمیں وہاں پیسے کی کیا کمی تھی۔ وہاں تو پکے پکائے کھانے آرہے تھے۔ ڈرموں کے ڈرم دودھ آرہا تھا۔ میں نے تقریر کی اور اپنا نقطہ نظر واضح کیا۔

جنرل اعظم خان لاہور کے جی او سی تھے۔ میں نے اپنی تقریر کے دوران ان پر واضح کیا کہ ہمارا عقیدہ ہمارے خون میں گردش کرتا ہے اور ہمارے خون کے اندر ہمارے بزرگوں کی شجاعت موجود ہے۔ ہمارے بزرگوں نے جو انگریز کے چودھویں رسالے میں شامل تھے انگریز کے حکم پر بغداد میں گولی چلانے سے انکار کر دیا تھا کہ ہم ہزاروں روپے خرچ کر کے پیران پیر کے دربار میں آتے ہیں اور تم ہمیں یہاں گولی چلانے کو کہتے ہو ہم یہاں گولی نہیں چلائیں گے۔ میں نے کہا، ہمارا عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا اور تم اس کی پاداش میں ہم پر تشدد کرنا چاہتے ہو۔ ہم نے مسجدوں کے میناروں پر لاؤڈ سپیکر باندھ دیئے تھے جس سے ہماری آواز لوگوں نے باغبانپورہ تک سنی۔ یہ ۵ مارچ کی بات ہے۔

اسی رات (۶ مارچ ۱۹۵۳ء) لاہور میں مارشل لاء لگا دیا گیا۔ اس سے ہمارے کارکنوں کے حوصلے پست ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے مسجد وزیر خان کی بجلی کاٹ دی۔ اس سے مقررین بھی گھبرا گئے۔ میں نے لوگوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے ایک واقعہ سنایا کہ جب ابرہہ مکہ کو فتح کرنے آیا تو اس کے ساتھ فوج کا بڑا لشکر اور ہاتھی تھے۔ اس نے کہا کہ مکہ کے سردار سے میری بات کراؤ۔ اس موقع پر حضور ﷺ کے جد امجد حضرت عبدالمطلب کی لوگوں نے اس سے بات کرائی۔ ترجمان کے ذریعہ گفتگو ہوئی۔ حضرت عبدالمطلب نے کہا کہ تیری فوج نے میرے اونٹ پکڑ لئے ہیں۔ میرے اونٹ واپس کر دو۔ ابرہہ نے حضرت عبدالمطلب سے کہا کہ میں تمہیں بڑا سمجھدار اور عقل مند آدمی سمجھتا تھا مگر آپ تو میری توقع کے خلاف نکلے ہیں۔ میں قریش کے مرکز اور تمہاری سعادت و عزت و احترام کا خاتمہ کرنے آیا ہوں اور تمہیں صرف اپنے اونٹوں کی فکر ہے۔ اس وقت حضرت عبدالمطلب نے ایک یادگار جواب دیا تھا کہ میں اپنے اونٹوں کا مالک ہوں اور اس گھر

صفحہ 96

کا بھی ایک مالک ہے وہ اس کی حفاظت خود کرے گا۔

میں نے یہ مثال دے کر لوگوں سے کہا کہ اللہ تعالیٰ ناموس رسالت کا خود محافظ ہے۔ تمہیں تو جانثاری اور وفاداری کے اظہار کا موقع ملا ہے۔ وہ تمہارا محتاج تو نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب نبی ﷺ کی عزت و ناموس کا خود محافظ ہے۔

۷ مارچ کو میں نے مارشل لاء دفعہ ۱۴۴ اور رات کو کرفیو کے باوجود گرفتاریاں دینے کے لئے چار چار افراد کی ٹولیاں روانہ کیں۔ ۸ مارچ کو بھی ایسا ہی کیا گیا۔ ۹ مارچ کو پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ہو رہا تھا اور میں پنجاب اسمبلی کا کارکن تھا۔ اس پر سب لوگوں نے کہا کہ آپ اسمبلی میں جا کر خود ختم نبوت ریزولیوشن پیش کریں۔

میرا طریقہ ان دنوں یہ تھا کہ مسجد وزیر خان میں رات کا جلسہ کر کے سب کارکنوں کو سلا کر، چوکی پہرہ بٹھا کر میں مسجد کے غربی جنوبی مینار سے سیڑھی کے ذریعے ایک ساتھ والے مکان میں اترتا اور ایک دوسری جگہ جا کر سوتا تھا۔ مارشل لاء کے نفاذ کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ ان حالات میں تحریک نہیں چل سکتی۔ ۹ مارچ کو فیصلہ ہوا کہ سب لوگ گرفتاریاں پیش کر دیں مگر وہ ڈرتے تھے کہ مسجد کے اندر اسلحہ ہے، تالاب میں۔ چنانچہ بعد میں جب مارشل لاء حکام مسجد کے اندر داخل ہوئے تو انہوں نے تالاب سے پانی نکال کر اس کی تلاشی لی۔ حجروں کی بھی تلاشی لی گئی۔ سب لوگ گرفتار ہو گئے۔

میرا پروگرام یہ تھا کہ میں گرفتاری دینے کے بجائے پنجاب اسمبلی میں جاؤں اور وہاں ختم نبوت کے سلسلے میں ارکان اسمبلی کو قائل کرنے کی کوشش کروں مگر ہوا یہ کہ اسمبلی کا اجلاس ایک ہفتہ تاخیر سے بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ یعنی ۹ کی بجائے ۱۶ مارچ کو اسمبلی کا اجلاس شروع ہونا تھا۔ اب سوال یہ تھا کہ گرفتاری سے بچنے کے لئے میں ایک ہفتہ کس طرح اور کہاں گزاروں؟

اندرون موچی دروازہ چینیاں والی مسجد کے پاس ایک سکول ہے۔ ہمارے ایک دوست میر یعقوب وہاں رہتے تھے۔ آج بھی ان سے رابطہ ہے۔ تقریریں کر کر کے میرا گلا بیٹھ گیا تھا۔ انہوں نے گرم گھی کی گدیاں میری گردن پر باندھ کر ٹکور کی۔ اس کے بعد انہوں نے کہا ہمارا مکان ایک قلعہ ہے۔ آپ یہیں آجائیں۔ یہیں سے ہم آپ کو پنجاب اسمبلی میں پہنچانے کا انتظام کر لیں گے۔ ۱۳ مارچ تک میں اس مکان میں رہا۔ اس روز خبر ملی

صفحہ 97

کہ اسمبلی کا اجلاس مزید ایک ہفتہ تک ملتوی کر دیا گیا اور اب یہ اجلاس ۲۲ مارچ کو ہو گا۔ میں نے یعقوب برادران سے کہا کہ کوئی صورت ایسی ہونی چاہئے کہ اسمبلی کے اجلاس کے دوران مجھے اسمبلی ہال میں پہنچا دیا جائے کیونکہ اسمبلی ہال سے پولیس کسی شخص کو گرفتار نہیں کر سکتی۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اسمبلی ہال کے باہر تو پولیس کا پہرہ ہے۔ اس لئے ایسا نہیں ہو سکتا۔ میں نے کہا پھر ایسا ہو کہ مجھے لاہور سے باہر نکالا جائے اور باہر سے لاہور آنے والی بس میں بٹھا دیا جائے۔ اس زمانے میں قصور وغیرہ سے آنے والی بسیں شارع فاطمہ جناح اور چیئرنگ کراس سے ہو کر اسمبلی ہاؤس کے سامنے سے گزرا کرتی تھیں۔ میرا پروگرام یہ تھا کہ میں اسمبلی ہاؤس کے بالکل سامنے اتر کر دوڑ کے اندر چلا جاؤں گا۔ پھر پولیس مجھے اسمبلی ہال کے اندر سے گرفتار نہیں کر سکتی اس طرح میں اسمبلی میں اپنا موقف پیش کر سکوں گا۔

میر یعقوب چار بھائی ہیں۔ میر اسلم، میر اکرم اور میر اشرف۔ ان کے علاوہ مسجد وزیر خان کے نواح میں ایک نمبردار میاں عبدالرحمن صاحب رہتے تھے ان سب سے آج بھی میرے تعلقات ہیں۔ انہوں نے باہر سے آنے والے گھسیاروں کے ساتھ مجھے لاہور سے باہر نکالنے کا منصوبہ بنایا۔ چنانچہ اس مقصد کے لئے ایک ریڑہ حویلی میاں خان کے باہر سڑک پر کھڑا کر دیا گیا۔ میں نے دیہاتیوں کی طرح چادر باندھ لی۔ پاؤں میں چپل تھی۔ اور سر پر میں نے منڈاسا باندھ لیا۔ اس طرح میں بالکل دیہاتی بن گیا۔

میں میر برادران کے گھر سے باہر نکلا تو میری چال میں لڑکھڑاہٹ تھی، لوگوں نے پوچھا کیا بات ہے؟ میر برادران نے جواب دیا ”ہمارا مہمان ہے بے چارہ بیمار ہے لوگوں نے کہا ”بڑا سوہنا جوان اے۔ کیہ ہو گیا وچارے نوں؟“

ریڑھے میں گھاس کے گٹھے کو سرہانہ بنایا اور چادر تان کر لیٹ گیا۔ کوچوان نے ریڑھے کو بانساں والے بازار کی طرف سے نکالا۔ پھر میو ہسپتال کے آؤٹ ڈور وارڈ کی جانب سے گزر کر ہم چوبرجی سے نکلے اور موضع ڈھولن وال کی طرف بڑھنے لگے۔ ہم ادھر جا رہے تھے کہ گاؤں والوں نے کہا آگے ملٹری ہے۔ یہ بات سن کر ہم کچے میں چلے گئے۔ چوہنگ کے قریب ایک گاؤں ہے شاہ پور۔ ہم وہاں پہنچ گئے۔ میرے ساتھ نمبردار عبدالرحمن کے علاوہ سائیکلوں پر چار مسلح نوجوان اور بھی تھے انہیں ہدایت تھی کہ اگر کوئی

صفحہ 98

نیازی کی طرف آئے تو بے دریغ فائر کھول دیں۔ وہاں سے ہم بس میں سوار ہو کر اوکاڑہ میں اپنے دوست چوہدری محبوب عالم کے پاس پہنچے۔ جب ہم ان کے مکان پر ٹھہرے تو انہوں نے بتایا کہ اوکاڑہ کے لوگ انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں کہ وہ مرزائیوں کے ہمنوا ہیں۔ پھر انہوں نے کہا کہ عجیب بات ہے کہ مرزائیوں کا کھلا دشمن نیازی میری پناہ میں ہے اور مجھ پر اعتماد کرتا ہے۔ کچھ دیر میں چوہدری محبوب عالم کے ہاں رہا۔ پھر وہاں سے میاں عبدالرحمن نمبردار کے ہمراہ اوکاڑہ سے پاکپتن شریف چلے گئے۔ پاکپتن شریف میں حضرت قبلہ میاں علی محمد خان صاحب سجادہ نشین بسی شریف کے آستانہ پر گئے۔ وہ موجود نہ تھے ان کے بھائی محمد حسین خان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے حضرت میاں صاحب کا پیغام دیا کہ میں نیازی صاحب سے نہیں ملوں گا اس لئے کہ اگر مجھ سے کسی نے آپ کی میرے ہاں موجودگی کے متعلق پوچھا تو میں سچی بات کروں گا۔ جھوٹ نہیں بولوں گا۔ چنانچہ پاکپتن شریف سے میں نے میاں عبدالرحمن نمبردار کو لاہور واپس بھیج دیا اور خود وہاں سے نکل کر ایک اور صاحب کے ہاں ٹھہرا جن کا نام شیخ محمد سعید تھا۔ وہ میاں صاحب بسی شریف کے پیارے مرید اور خصوصی کار دار تھے۔

۲۲ مارچ کو میں پاکپتن شریف سے لاہور واپسی کے خیال سے قصور پہنچا۔ دن میں نے قصور میں گزارا۔ ہمارا ایک سرگرم کارکن بشیر مجاہد بھی میرے پیچھے قصور پہنچ گیا۔ قصور میں ہم شیخ فضل دین کے مکان میں ٹھہرے۔ اس کے لڑکے نے جاسوسی کر دی کہ عبدالستار خان نیازی ہمارے ہاں موجود ہیں۔ میرا پروگرام تھا کہ ۲۳ مارچ کی صبح قصور سے نکلیں گے اور بس میں بیٹھ کر اسمبلی ہاؤس پہنچ جائیں گے۔ ۲۳ مارچ کی صبح ہم فجر کی نماز کے لئے اٹھے تو پولیس پہنچ گئی اور ہمیں گرفتار کر لیا۔ اس پر شیخ فضل دین کے لڑکے نے پولیس سے کہا اس کے ساتھ ایک دوسرا بھی موجود ہے اسے بھی گرفتار کر لو۔ چنانچہ بشیر مجاہد کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس ہمیں قصور اسٹیشن لے گئی۔ ناشتہ وغیرہ ہمیں وہیں کرایا۔ پھر ہمیں کار میں شاہی قلعہ لاہور لایا گیا۔ وہاں مجھے دس نمبر کوٹھڑی میں رکھا گیا۔ بشیر مجاہد کو دوسرے سیل میں رکھا گیا۔ ۲۳ مارچ سے لے کر ۱۹ اپریل تک میں اسی سیل میں رہا۔ وہاں پولیس والے میرا بیان ریکارڈ کرتے رہے۔ ایک رات انہوں نے مجھے ایک لمحے کے لئے بھی سونے نہ

صفحہ 99

دیا۔ ایس پی سی آئی ڈی چودھری محمد حسین جو بعد میں ڈائریکٹر جنرل سی آئی ڈی بنے میرا بیان ریکارڈ کرتے رہے۔ وہ مجھ سے پوچھتے کہ آپ نے فلاں فلاں تاریخ کو اپنی تقریر میں کیا کہا میں نے بتایا کہ میں نے یہ کہا، یہ کہا اور میرے دلائل ایسا کہنے کے یہ تھے۔ تیسرے روز وہ کہنے لگے۔ ”مولانا ان دلائل سے تو آپ دشمن کو بھی قائل کرلیں گے یہ لوگ احمدی نہیں بلکہ غلام احمدی ہیں۔

پھر میرے خلاف لوگوں کی گواہیاں ہوتی رہیں تو ایک ڈی ایس پی راجہ فضل داد مجھے بتا دیا کرتے تھے کہ فلاں فلاں لوگوں نے آپ کے متعلق یہ گواہیاں دی ہیں۔ ایک بار ایک ایس پی پولیس وہاں قلعہ میں گیا۔ اس نے اپنے ماتحتوں کو حکم دیا کہ اسے رات بھر جگائے رکھو۔ میں نوافل پڑھتے ہوئے سجدے میں جاؤں تو پولیس کے سپاہی مجھے ہلانا شروع کر دیں۔ ان کا خیال تھا کہ شاید میں سجدے میں جاکر سو جاتا ہوں۔ دراصل وہ یہ چاہتے تھے کہ میں انہیں کچھ اور بھی بتاؤں۔ مگر حقیقت تو میں ان لوگوں کو پہلے ہی بتا چکا تھا۔

ایک روز وہاں ملٹری کا کوئی بریگیڈئیر آگیا۔ وہ پولیس سے باتیں کرتا رہا۔ میں اپنی کوٹھڑی میں سے اس کی باتیں سننے کی کوشش کرتا رہا۔ اس نے میرے متعلق بھی پولیس سے کچھ کہا۔ اس پر میں نے اس بریگیڈئیر کو متوجہ کر کے کہا: ”جنٹلمین اگر تم میرے خلاف معاندانہ عزائم رکھتے ہو تو تمہیں جان لینا چاہئے کہ کوئی شخص میرے قریب آنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ اگر کسی نے میرے قریب آنے کی کوشش کی تو میں اسے گلا دبا کر ہلاک کر دوں گا۔“

اس پر اس نے معذرت کے انداز میں کہا کہ نہیں خان صاحب ہم آپ کی بات نہیں کر رہے ہیں۔

شاہی قلعہ سے مجھے لاہور جیل میں منتقل کر دیا گیا۔ مجھے اسی جگہ رکھا گیا جہاں بھگت سنگھ اور دت جیسے انقلابی باغیوں کو رکھا گیا تھا۔ سنٹرل جیل ایشیا میں سب سے بڑی جیل ہوتی تھی جس کا تین میل کا چکر تھا۔ شادمان کالونی اسی جگہ پر بنی ہے۔ اس احاطہ جیل کا نام ”بم کیس“ تھا۔

۱۶ اپریل ۱۹۵۳ء کو میرے خلاف فوجی عدالت میں ڈی ایس پی فردوس شاہ کے قتل اور بغاوت کا کیس چلا۔ الزام یہ تھا کہ عبد الستار نیازی نے پولیس کو مسجد وزیر خان کے اندر

صفحہ 100

داخل ہوتے دیکھ کر لوگوں سے کہا: ”پولیس کے کتے آگئے ہیں۔ اب جانے نہ پائیں۔“ استغاثہ نے خون آلود مٹی اٹھا کر عدالت میں پیش کی جس میں پولیس کے بقول فردوس شاہ کا خون جذب ہوا تھا۔ میں نے اپنی صفائی میں کہا کہ قتل مسجد وزیر خان کے دروازے پر ہوا ہے۔ اور میں موقع پر موجود نہیں تھا۔ میں تو مسجد کے اندر تھا وہ کون سا خطیب یا مقرر ہے جو مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو کر تقریر کر رہا ہو جبکہ مجمع مسجد کے اندر ہو؟ پھر لاؤڈ سپیکر بھی مسجد کے اندر نصب ہے جس کا سوئچ اندر محراب کے پاس ہے نہ کہ دروازے پر۔ اس لئے یہ الزام غلط ہے اور یہ پولیس کا پہلا جھوٹ ہے۔ پھر استغاثہ نے عدالت میں جو خون آلود مٹی پیش کی ہے یہ بھی فرضی ہے۔ کیونکہ جب جائے قتل کا معائنہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ فردوس شاہ کے مقام قتل پر مسجد کے باہر سیمنٹ کا فرش ہے۔ اس لئے مٹی کا ثبوت بھی جعلی ہے۔ استغاثہ اور صفائی دونوں جانب سے متعدد گواہ پیش ہوئے۔ یہ ساری کارروائی ۲۵ اپریل کو مکمل ہو گئی۔ یعنی دس دن میں۔

انہی دنوں مولانا مودودیؒ پر بھی مقدمہ چلا۔ انہوں نے ایک پمفلٹ شائع کیا تھا ”قادیانی مسئلہ“ اس میں انہوں نے اس مسئلہ پر روشنی ڈالی تھی کہ ہم قادیانیوں کو غیر مسلم کیوں سمجھتے ہیں اور کیوں انہیں اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس پمفلٹ کی اشاعت پر مولانا مودودی کو گرفتار کیا گیا۔ ان پر امن و امان تباہ کرنے اور بغاوت کا الزام تھا۔ مولانا مودودی اس بات سے تو متفق تھے کہ اس مسئلے کو حل کیا جانا چاہئے۔ مگر اس کا طریقہ مختلف تھا۔ وہ حکومت کے ساتھ گفتگو کر کے ایسا کرنے کے خواہاں تھے جبکہ ہمارا خیال تھا کہ بات چیت سے مسئلہ حل نہیں ہو سکے گا۔ بہرحال اپنے اپنے انداز میں ہم سب اسی مقصد کے لئے کوششیں کر رہے تھے۔

مجھے خرابی صحت کی بنا پر نیاز ہسپتال منتقل کر دیا گیا جو جیل کے اندر ہی تھا۔ ۷ مئی کو ملٹری والے مجھے فیصلہ سنانے کے لئے لینے آئے۔ سپرنٹنڈنٹ مجھے الگ لے آیا اور میرے ساتھ نو آدمی اور بھی تھے۔ ان میں میاں خلیل احمد بھی تھے ہم سب پر قتل کا الزام تھا۔ ملٹری والوں نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا: ”قتل کے الزام میں ہم آپ سب کو باعزت بری کرتے ہیں۔“ میرے علاوہ نو آدمی جو اس کیس میں ملوث تھے وہ چلے گئے۔ مجھے ملٹری

صفحہ 101

والوں نے روک لیا۔ مجھ سے یہ کہا گیا کہ آپ پر بغاوت کا بھی الزام ہے؟ میں نے جواب دیا۔ ”ہاں الزام تو ہے“ اس پر انہوں نے جیب سے ایک کاغذ نکالا کہ تمہارے متعلق یہ فیصلہ ہے:

تمہیں گردن میں رسی ڈال کر موت واقع ہونے تک پھانسی کے تختے پر لٹکایا جائے گا۔“

کسی کی زندگی میں اگر یہ مرحلہ آجائے تو معمولی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس وقت بہت حوصلہ دیا۔ اتنا کہ میں خود اس پر حیران ہوتا ہوں۔ یہ رب العالمین کا کرم تھا ورنہ موت کی سزا کوئی سنے اور اس پر بھی سنبھل جائے یہ کوئی عام بات نہیں ہے۔ جب انہوں نے کہا کہ تمہیں موت واقع ہونے تک گلے میں رسی ڈال کر پھانسی پر لٹکایا جائے گا تو میرے سامنے قرآن مجید کی یہ آیت آگئی:

”اللہ نے موت و حیات کو اس لئے پیدا کیا تاکہ یہ ظاہر کر دے کہ تم میں سے عمل کس کا نیک ہے۔“

(سورہ الملک)

میں نے اس وقت تصور کیا کہ خالق کائنات رب کائنات ہے۔ یہ لوگ کیا شے ہیں؟ یہ میرا رشتہ حیات اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر منقطع نہیں کر سکتے۔ میں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ تحفظ ناموس مصطفےٰ ﷺ کے لئے تحریک چلائی ہے۔ میں اپنے اقدام پر مطمئن ہوں۔

فوجی عدالت میں کون لوگ شامل تھے۔ ان کے نام اب یاد نہیں ہیں۔ بہرحال عدالت ایک میجر اور ایک لیفٹیننٹ کرنل پر مشتمل تھی۔ ایک آئی اے جی جج ایڈووکیٹ جنرل بھی تھا۔ سزا سنانے کے لئے ایک میجر آیا تھا۔ جب وہ سزا سنا چکا تو میں نے کہا میں نے سن لیا۔ اس نے کاغذ کا وہ ٹکڑا میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ ”برائے مہربانی اس پر دستخط کر دیجئے۔“ میں نے کہا ”میں اس پر اس وقت دستخط کروں گا جب پھانسی کا پھندا میرے گلے میں ڈالا جائے گا“ میں آپ کے پنجے میں جکڑا ہوا تو ہوں مجھے پھانسی کے تختے تک لے جاؤ اور لٹکا دو۔“ اس پر اس نے انگریزی میں کہا۔ بہرحال ”میرے آفیسر مجھ سے اس کے متعلق پوچھیں گے کہ کیا مولانا کو پھانسی کا نوٹس دے دیا گیا ہے یا نہیں؟ میں نے جواب دیا۔ اگر تم

صفحہ 102

اپنے افسروں سے اس قدر ڈرتے ہو تو میں تمہاری خاطر اس پر دستخط کر دیتا ہوں۔“ دستخطوں کے ساتھ میں نے تاریخ بھی درج کی ۷ مئی ۱۹۵۳ء پھر میں نے کاغذ اس میجر کو واپس کرتے ہوئے پوچھا۔ ”بس اتنا ہی؟ میں تو اس سے کہیں زیادہ کے لئے بھی تیار تھا۔ اگر میری ہزار جانیں ہوتیں تو میں انہیں بھی ناموس حضرت محمد ﷺ پر نثار کر دیتا۔“

موت کے پروانے پر میرے دستخط حاصل کرنے کے بعد اسی میجر نے انگریزی میں پوچھا ”تمہارا مورال کیا ہے؟“ میں نے بھی انگریزی میں جواب دیا: ”تم نے میرا مورال نہیں دیکھا؟ میرا مورال بے حد بلند ہے۔ آسمانوں تک بلند ۔“

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

جب سب لوگ چلے گئے اور میں اس وسیع و عریض کمرے میں اکیلا رہ گیا تو میں نے دل ہی دل میں خود سے کہا۔ ”نیازی۔ تو بڑی باتیں سنا رہا ہے۔ یہ تو فوجی ہیں۔ یہ تمہیں پکڑ کر پھانسی پر لٹکا دیں گے۔“ اس وقت مجھ پر موت کا تھوڑا سا خوف طاری ہوا۔ مگر پھر فوراً میری زبان پر یہ شعر آگیا

کشتگان خنجر تسلیم را
ہر زماں از غیب جانے دیگر است
جانے دیگر است....... جانے دیگر است.......
....جانے دیگر است....... جانے دیگر است...

اسی شعر سے خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ پر وجد کی کیفیت طاری ہو گئی۔ نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لئے اٹھتے اور پھر وہی حالت ہو جاتی تھی یہاں تک کہ انہوں نے اسی شعر کا ورد کرتے ہوئے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔

سزائے موت سننے کے بعد جب میں اس کمرے سے باہر نکلا تو جیل سپرنٹنڈنٹ محمد حیات ملا۔ اس نے کہا۔ ”نیازی صاحب! بری ہو گئے؟“ اس کا خیال تھا چونکہ فردوس شاہ کے قتل میں میرے ساتھ کے نو ملزم بری ہو گئے تھے۔ اس لئے میں بھی بری ہو گیا ہوں گا۔ میں اس کی بات سن کر مسکرایا اور میں نے کہا کہ ”نہیں میں اس سے بھی آگے نکل گیا“۔ ”کیا مطلب؟“ میں نے کہا ”انشاء اللہ تعالیٰ رسولؐ پاک کے غلاموں کی فہرست کے کسی کونے

صفحہ 103

شجرے میں عبداللہ نیازی کا نام بھی اب ضرور درج ہو گا"۔ اس نے پھر پوچھا "کیا مطلب؟" میں نے کہا: "اب خود ہی سمجھ لو کہ میری بات کا کیا مطلب ہے۔" اس پر اس نے اثبات میں سر ہلا دیا اور بولا "تو چلیں پھر یہ اچکن‘ طرہ اور پگڑی اتار دیں اور پھانسی کے قیدی کا لباس پہن لیں۔"

وہ مجھے اپنے ساتھ لے گیا۔ اچکن میں نے اتار دی۔ پگڑی الگ رکھ دی۔ کرتہ منگوایا تو وہ مجھ پر بے حد تنگ تھا۔ میں نے کہا کہ کھلا کرتہ لاؤ۔ دوسرا منگوایا تو وہ بھی تنگ نکلا۔ میں نے کہا۔ ”یارو‘ میرے جسم کے مطابق کرتہ لاؤ۔ یہ تو سب کے سب تنگ ہیں۔" اس پر جیل سٹاف کے ایک آدمی نے کہا۔ ”نیازی صاحب یہاں آکر تو بڑے بڑے پہلوان سکڑ جاتے ہیں اور آپ ہیں کہ پھیل رہے ہیں۔ کوئی کرتہ آپ کو فٹ ہی نہیں آرہا"۔ میں نے کہا۔ ”ہم نے موت خود خریدی ہے۔ اس لئے۔" میں نے یہ صورت حال دیکھ کر کہا کہ خیر آپ یہی کرتہ رہنے دیں اور پاجامہ ہی لا دیں۔ پاجامہ منگوایا گیا تو اس نے کہا کہ ہم اس میں ازار بند نہیں ڈالیں گے۔ میں نے کہا ”یہ کیا طریقہ ہے؟" اس نے جواب دیا۔ یہ اس لئے ہے کہ کہیں آپ ازار بند سے خودکشی نہ کرلیں۔ میں نے کہا ” نادانو! جسے شہادت مل رہی ہو وہ خود کشی بھلا کیوں کرے گا؟"

اس کے بعد میں نے پاجامہ نہیں پہنا بلکہ چادر باندھ لی‘ سنٹرل جیل لاہور میں اس وقت تین ساڑھے تین ہزار قیدی تھے۔ ان میں اکثر تحریک ختم نبوت کے رضا کار تھے۔ میری سزائے موت کا حکم سن کر لوگ زار زار روتے تھے۔ میں نے لوگوں کو پیغام بھجوایا کہ بھائی روتے کیوں ہو۔ میرے لئے استقامت کی دعا مانگو!

پھانسی کوٹھڑی میں قیام سے قبل میرے لئے کھانے پینے کا سامان وافر مقدار میں باہر سے آیا ہوا موجود تھا اس میں گھی چینی‘ دودھ اور شربت روح افزاء کی بوتلیں اور دوسری متعدد اشیائے خورد و نوش شامل ہوتی تھیں۔ یہ سارا سامان پھانسی کی کوٹھڑیوں کے نمبردار کے پاس منتقل ہو گیا۔ پھانسی کوٹھڑی میں جانے کے گھنٹہ دو گھنٹہ بعد ایک شخص دو چادریں‘ دو پاجامے اور تولیے لے کر آگیا۔ میں نے اس سے کہا کہ مجھے ان چیزوں کی ضرورت نہیں۔ اس پر وہ کہنے لگا کہ میں نے آپ کا مطلب پورا کر دیا ہے‘ میں نے پاجاموں کے اندر کپڑے کے بنے ہوئے ازار بند رکھ دیئے ہیں۔ میں نے پاجامہ پہن لیا۔ پھر جیل قوانین کے مطابق

صفحہ 104

میرے لئے سی کلاس کھانا آگیا۔ میں نے کہا رکھ دو۔ اس پر ہماری برابر کی کسی بیرک میں سے ایک شخص نے کہا۔ ”مولانا صاحب یہ کھانا نہیں کھائیں گے۔“ میں نے جواب دیا ”کب تک نہیں کھاؤں گا؟“ اس نے کہا ”ہم ہیں وعدہ معاف گواہ۔ ہمیں بھی ادھر دوسرے قیدیوں سے علیحدہ بند کیا ہوا ہے۔ ہمیں کچا راشن ملتا ہے۔ ہمارے پاس گھی، چینی، چائے، دودھ وغیرہ سب کچھ ہوتا ہے۔ برف بھی آجاتی ہے۔ سبزی بھی ملتی ہے۔ ہم آپ کو چائے بنادیں گے۔ سبزی تیار کردیں گے۔ گوشت بھی ہم کسی نہ کسی طرح منگوا لیتے ہیں۔“ چنانچہ میں نے وہ سی کلاس کھانا نہیں کھایا۔ جیل میں زیادہ تر نماز و نوافل اور درود اذکار میں مشغول رہتا تھا۔

میں ۷ مئی سے ۱۴ مئی تک پھانسی کی کوٹھڑی میں رہا۔ میری صحت جیسی ان دنوں اچھی رہی ویسی کبھی نہ رہی تھی۔ عین وقت پر فراغت ہوتی تھی۔ بے چارا جمعدار اس انتظار میں باہر کھڑا رہتا تھا۔ جونہی میں فارغ ہوتا۔ وہ فوراً ڈبہ باہر کھینچ لیتا اور فینائل چھڑک دیتا میں نے ایک بار اس کی مستعدی کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا ”میری اللہ تعالیٰ نے ڈیوٹی لگادی ہے کہ آپ کو بدبو نہ آئے۔“

جیل میں میں خود اذان دیتا تھا اور نماز پڑھتا تھا۔ وہاں تو لوگ پوری رات نہیں سوتے تھے۔ رات بھر آوازیں آیا کرتی تھیں ”اوفلاں کیا حال ہے۔ اللہ کرم کرے گا۔ او فلاں۔ اللہ بھلا کرے گا۔ اوفلاں۔“ رات بھر اسی طرح ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہتے تھے۔ ایک دوسرے کو لوگ دیکھ تو نہیں سکتے تھے۔ بس اس طرح باتیں ہو جایا کرتی تھیں۔ ایک دو نے میرا نام لے کر بھی پکارا۔ میں نے جواب میں کہا کہ مجھے حوصلے کی ضرورت نہیں۔ میں پڑھ رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے حوصلہ دیا ہے۔

۱۲ مئی کو میں مغرب کی نماز پڑھ کر کوٹھڑی کے اندر وظیفہ کر رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ کوٹھڑی کے اندر ٹہل رہا تھا کہ اتنے میں میں نے اپنی کوٹھڑی کے دروازے کی سلاخوں کے درمیان سے ایک آدمی کی پشت دیکھی۔ اس طرح جیسے کوئی اونچائی سے نشیب کی جانب لڑھک رہا ہو۔ تھوڑی دیر بعد پھانسی کی کوٹھڑیوں کا ایک نمبردار میرے پاس آیا اور کہنے لگا۔ ”نیازی صاحب“ اک ہور مولوی آگیا اے“ میں نے پوچھا کون ہیں“ اس نے جواب دیا۔ ”مودودی مودودی کہتے ہیں۔“ میں نے کہا ”وہ تو بڑے عالم ہیں۔ ادب کے ساتھ نام

صفحہ 105

لو۔" نمبردار کہنے لگا ”نیازی صاحب ہم تو صرف آپ کو جانتے ہیں، تحریک ختم نبوت میں آپ ہی کا نام نمایاں تھا۔" میں نے کہا ”وہ بہت بڑے عالم ہیں تمہیں ادب کرنا چاہئے۔"

مولانا مودودی نے پھانسی کی کوٹھڑی میں آنے کے تھوڑی دیر بعد پانی مانگا تو نمبردار مٹی کے آبخورے میں گھڑے کا پانی لے گیا۔ مولانا نے وہ پانی پینے سے انکار کر دیا۔ اس پر نمبردار میری کوٹھڑی کے آگے سے گزرتے ہوئے بولا۔ ”مولوی تے پانی نئیں پیندا۔" میں نے کہا کہ وہ نازک طبع آدمی ہیں۔ یہ میرے پاس روح افزاء شربت موجود ہے۔ بنوا کر انہیں دے آؤ۔" اس پر وہ بولا ”نیازی صاحب آپ چھوڑیں مہمان نوازی کو۔ آپ خود جیل میں پڑے ہیں۔" میں نے کہا نہیں مولانا کو شربت بنا کر پلاؤ۔"

پھانسی کے قیدیوں کی کوٹھڑیاں اس طرح ترچھے انداز میں بنی ہوتی ہیں کہ قیدی ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکتے۔ روزانہ عصر کے وقت سزائے موت کے قیدیوں کی کوٹھڑیاں تبدیل کر دی جاتی ہیں۔ جس کوٹھڑی میں قیدی ایک رات گزار دیتے ہیں اس میں وہ دوسری رات نہیں گزار سکتا۔ یہ قانون ہے جیل کا تاکہ قیدی کو نقب وغیرہ لگا کر جیل سے فرار ہونے میں مدد نہ دی جاسکے۔ کسی قیدی کو پتہ نہیں ہوتا کہ کل اسے کس کوٹھڑی میں رکھا جائے گا۔

اس روز جب پھانسی کے قیدیوں کی کوٹھڑیاں بدلی جا رہی تھیں تو مولانا مودودی سے علیک سلیک ہوئی۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ کے پاس کیا ہے؟ میں نے کہا اگر کچھ پڑھنے کا ارادہ ہو تو میرے پاس امام ربانی حضرت مجدد الف ثانیؒ کے مکتوبات موجود ہیں۔ اس کی ایک جلد ان کو پہنچا دی۔

اگلی صبح ۱۳ مئی میں نے مولانا مودودی کے لئے شربت بھجوایا، پھر چائے بھجوائی ان کا بڑا صاحبزادہ جیل میں ان سے ملنے کے لئے آیا۔ مولانا کے بعد جماعت اسلامی کے امیر چوہدری سلطان احمد صاحب تھے۔ وہ ان سے ملنے آئے۔ مولانا نے ان سے کہا کہ وہ مجھے بھی ملتے جائیں۔ چنانچہ یہ لوگ میرے پاس بھی آئے۔ میں نے مولانا کے صاحبزادے کو حوصلہ دیا کہ ”یہ بزدل ہمیں نہیں مار سکتے اور اگر ہمیں پھانسی پر لٹکا بھی دیا تو ہمیں حیات جاودانی حاصل ہوگی۔" بعد میں جماعت اسلامی کے کچھ لوگوں نے اس بات کی مختلف انداز میں توضیح کی اور مجھ سے یہ بات منسوب کی کہ میں نے مولانا کے صاحبزادے سے کہا تھا کہ

صفحہ 106

مولانا مودودیؒ تو بہت بڑے آدمی ہیں۔ یہ تو مجھے پھانسی نہیں دے سکتے۔ حالانکہ میں نے ایسی بات نہیں کہی تھی۔ میں نے تو ایک جنرل بات کی تھی۔ مولانا صاحب نے میرے پاس کسٹرڈ وغیرہ بھیجا جو لوگ ان کے کھانے کے لئے ساتھ لائے تھے۔

قیدی کی کوٹھڑی تبدیل کرنے کی اصطلاح میں ”اُڑدی لگنا“ کہا جاتا ہے۔ چنانچہ شام کو جب کوٹھڑیاں تبدیل کی جانے لگیں اور ہمیں باہر نکالا گیا تو مولانا مودودیؒ سے ایک بار پھر ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا سنائیے کیا حال ہے؟ ”کہنے لگے حال کیا ہے؟ نہ اُٹھ سکتا ہوں نہ بیٹھ سکتا ہوں۔ یہ پاجامہ ہے کمبختوں نے اس کے اندر ازار بند نہیں ڈالا۔ مجبوراً آگے گرہ لگائی ہوئی ہے۔ اس سے بڑی تکلیف ہے۔“ پھر میری طرف غور سے دیکھ کر بولے ”مگر آپ تو بڑے مزے سے کھڑے ہیں۔“ میں نے کہا ”میرا معاملہ ٹھیک ہے“ پھر میں نے کپڑے کا ڈورا ازار بند اور پنسل انہیں دی اور کہا کہ موقع ملتے ہی ازار بند ڈال لینا۔ مولانا نے مجھ سے اس موقع پر پوچھا کہ ان لوگوں نے ازار بند کیوں نہیں ڈالا میں نے بتایا کہ اس خوف سے کہ آپ خود کشی نہ کر لیں۔ یہ سن کر انہوں نے فرمایا ”کتنے احمق ہیں یہ لوگ۔ جس شخص کو شہادت کی موت نظر آ رہی ہو۔ وہ حرام موت کیوں مرے گا“۔

ملٹری والوں نے مجھے سزائے موت سناتے ہوئے بڑا ڈرامہ کیا۔ مجھ سے سزائے موت کے پروانے پر باقاعدہ دستخط کرائے گئے پھر اس کی عبارت خاصی خوفناک تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے صبر و استقامت بخش دی۔ بعد میں مجھے کسی نے بتایا کہ فوجیوں نے سزائے موت سنائے جانے کے بعد میرے مورال اور میرے رویے کی بہت تعریف کی۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ ہم نے ایسا بہادر آدمی آج تک نہیں دیکھا۔ اس نے سزائے موت کو پامردی سے سنا۔ ہمارے جرنیل بھی ایسے بہادر نہیں ہوتے۔ شاید اسی استقامت کے باعث ان لوگوں کا مجھ سے جذباتی لگاؤ ہو گیا تھا۔

جب سزائے موت کا حکم منسوخ ہوا تو مولانا مودودیؒ نے مجھے مبارکباد کا پیغام بھیجا۔ میں نے کہا ”مولانا کوٹھڑی دونوں کی چھوٹی ہے۔ آپ نے پمفلٹ لکھا ہم نے تحریک چلائی تحریک والے کی تو کوٹھڑی چھوٹ جائے۔ مگر آپ کی نہ چھوٹے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟“ پھر جماعت اسلامی کے کارکن اور رہنما تو شام تک بھاگ دوڑ کر کے کاغذات مکمل کرا لائے اور مولانا مودودیؒ اسی شام (۱۴ مئی ۱۹۵۳ء) کو پھانسی کی کوٹھڑی سے منتقل ہو گئے۔ مگر

صفحہ 107

ہمارے جذباتی لوگ ایک دوسرے کو مبارک دینے اور خوشیاں منانے میں مصروف رہے۔ کاغذات مکمل کرانے کی جانب کسی نے توجہ نہ دی۔ چنانچہ بیڑی کٹنے کے باوجود مجھے مزید ایک رات پھانسی کی کوٹھڑی میں رہنا پڑا۔ ۱۵ مئی ۱۹۵۳ء کو میں پھانسی کی کوٹھڑی سے گورا وارڈ میں منتقل ہوا۔

یہاں سزائے موت کو چودہ سال قید بامشقت میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ پھر گورنمنٹ نے ایک آرڈر نکالا جس کے تحت ہم اس سزا کے خلاف اپیل کر سکتے تھے۔ چنانچہ ہم نے اپیل نہ کی۔ جسٹس محمد شریف نے از خود ہمارے دونوں کے کیس کو دیکھا اور ہماری سزا کم کر کے تین سال کر دی گئی۔ ہمارے ساتھ فردوس شاہ کے قتل کے ملزموں میں سے آٹھ تو رہا ہو گئے مگر سید خلیل احمد کو سات سال قید کی سزا دی گئی۔ ان کے خلاف کئی اور کیس بھی تھے۔ گورا وارڈ میں ہمیں دو کمروں میں منتقل کیا گیا۔ بڑے کمرے میں مولانا مودودیؒ تھے اور ان کے ساتھ سید خلیل احمد، نقی علی اور ملک نصراللہ۔ یہ چاروں ایک کمرے میں تھے اور سائیڈ روم میں میں اکیلا تھا۔ غسل خانہ ہمارا مشترکہ تھا۔ جیل میں ہمیں اے کلاس دی گئی تھی۔ پھر ہمیں ایک اور جگہ منتقل کیا گیا۔ اسے بڑھی خانہ بھی کہتے تھے۔ اس میں دو بڑے کمرے تھے۔ یہ بہت بڑا وارڈ تھا۔ ہم وہاں بھی اکٹھے رہے یعنی مولانا مودودیؒ اور ہم۔ مولانا بڑی باغ و بہار طبیعت کے مالک تھے۔ خوب مجالس گرم رہتیں۔

سردیوں میں جیل کے اندر میرا معمول تھا کہ میں صبح چار بجے اٹھ جاتا تھا۔ تہجد کے نوافل ادا کر کے میں تلاوت میں مشغول ہو جاتا تھا۔ یہاں تک کہ نماز فجر کا وقت ہو جاتا۔ میرے اور مولانا مودودیؒ کے کمرے کے درمیان برآمدہ تھا۔ سائیڈ میں میرا کمرہ تھا۔ اس پر ہمارے ساتھیوں نے واویلا کیا کہ ہم نیازی کے قرآن مجید پڑھنے سے ڈسٹرب ہوتے ہیں۔ یہ ہمیں جگا دیتا ہے۔ اس لئے یہ قرآن حکیم اونچا نہ پڑھے۔ میں نے کہا جب فجر کی اذان ہو جائے گی تو اس کے بعد میں قرآن مجید اونچا پڑھوں گا اور آپ لوگوں کو ڈسٹرب نہیں کروں گا۔ ویسے بھی میں ان کے کمرے میں آہستہ آہستہ جاتا تھا۔ غسل خانہ چونکہ مشترکہ تھا اس لئے وضو بھی احتیاط سے کرتا تھا۔ ان کو اپنی آمد کا پتہ نہیں چلنے دیتا تھا۔ یہ میری روٹین تھی۔

جون ۱۹۵۴ء میں مولانا مودودیؒ کو ملتان اور مجھے راولپنڈی جیل میں منتقل کر دیا

صفحہ 108

گیا۔ فروری ۱۹۵۵ء میں مجھے پھر لاہور بھیج دیا گیا۔

اس کے بعد ہم نے عدالت میں رٹ کی کہ جس قانون کے تحت ہم لوگوں کو سزا دی گئی تھی اسے گورنر جنرل کی منظوری حاصل نہیں ہوتی کہ کانسٹی ٹیونٹ اسمبلی توڑ دی گئی اور اس طرح قانون غیر مؤثر اور منسوخ ہو گیا یہی صورت راولپنڈی سازش کیس کی تھی جس کے تحت فیض احمد فیض اور ان کے ساتھیوں پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔ چنانچہ ہم نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا کہ جس قانون کے تحت ہمیں سزا دی گئی ہے۔ وہ قانون‘ قانون ہی نہیں ہے۔ یوں ۲۹ اپریل ۱۹۵۵ء کو مولانا مودودیؒ کی اور ہماری ضمانت ہو گئی۔ پھر مئی ۱۹۵۵ء میں ہمیں اس کیس سے بری کر دیا گیا۔ اس طرح ہم ختم نبوت تحریک کے سلسلے میں تقریباً دو سال دوماہ اور کچھ دن جیل میں رہے۔

تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں گرفتاری کے دوران ہمارے ذمہ ایک کام یہ بھی تھا کہ ہم تحریک کے متعلق اپنا ایک بیان تیار کریں جو ہمیں ایک جائنٹ انکوائری کمیشن کے روبرو پیش کرنا تھا۔ اس کمیشن میں جسٹس منیر تھے ، جسٹس ایم آر کیانی تھے۔ بعد میں کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ شائع بھی ہوئی۔ کمیشن نے ہم سب لوگوں سے بیان لئے تھے۔ یہ ۱۹۵۴ء کے اواخر یا ۱۹۵۵ء کے اوائل کی بات ہے۔ میں نے کمیشن کے روبرو جو بیان دیا وہ ایک سو پچاس صفحات پر مشتمل تھا۔ یہ بیان میں نے جیل میں تیار کرکے بھجوایا تھا۔ کاتب اس کو خوشخط کر کے لکھتا تھا اس کے بعد میں اس کے ہر صفحے پر دستخط کرکے بھجواتا تھا۔

قادیانی مسئلہ کے بارے میں میرا بیان جائنٹ کمیشن کو پیش کیا گیا۔ ان دنوں چوہدری فضل الٰہی سرکاری وکیل ہوتے تھے جو بعد میں صدر پاکستان بنے۔ کمیشن کے روبرو ایک بار انہوں نے میرے بیان کے متعلق کوئی بات کہی۔ اس پر جسٹس منیر نے ان سے پوچھا ”کیا آپ نے وہ بیان پڑھا ہے؟“ چوہدری فضل الٰہی نے بیان دیا کہ اس کا کچھ حصہ پڑھا ہے۔ اس پر جسٹس منیر نے کہا ”اس بیان کا مطالعہ کریں۔ وہ ایک تاریخی دستاویز ہے اور معلومات کی کان ہے۔“

جب عدالت میں اس قسم کی گفتگو اور ریمارکس پاس ہوئے تو وہاں مبینہ طور پر مولانا مودودیؒ اور دوسرے لوگ بھی تھے۔ مگر انہوں نے اس سلسلے میں مجھے کچھ نہیں بتایا۔ ماسٹر تاج الدین انصاری سیکرٹری جنرل احرار جو اس وقت احاطہ بڑھی خانہ میں رہتے

صفحہ 109

تھے۔ مجھے خاص طور پر یہ بات بتانے کے لئے جیل میں ملنے آئے کہ آپ کے بیان کے متعلق جسٹس منیر نے یہ ریمارکس دیئے ہیں۔

تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں اس وقت کی حکومت نے کئی افواہیں پھیلائیں تاکہ میری شہرت اور ساکھ کو نقصان پہنچایا جاسکے اور لوگوں کو مجھ سے متنفر کیا جاسکے۔ مثلاً کچھ لوگوں نے کہا کہ جب مسجد وزیر خاں کو پولیس اور فوج نے گھیرے میں لے لیا تو میں داڑھی منڈوا کر اور برقعہ پہن کر مسجد سے فرار ہو گیا حالانکہ برقعہ پہن کر مسجد سے نکلنے کا سوال تو تب پیدا ہوتا ہے اگر میں لوگوں کے سامنے مسجد سے نکلتا۔ حقیقت یہ ہے جیسا کہ میں ذکر کر چکا ہوں کہ رات کو جب سب رضا کار مسجد کے اندر سو جاتے تھے تو جنوب مغربی مینار کے ساتھ سیڑھی لگتی تھی۔ وہاں سے میں ایک مکان پر اترتا تھا اور پھر وہاں سے بھی آگے منتقل ہو جاتا تھا۔ صبح پھر واپس آجاتا تھا جب ہم نے اسمبلی میں جاکر اراکین اسمبلی کو ختم نبوت کے مسئلے پر ہم خیال بنانے کا فیصلہ کیا تو اس رات میں مسجد سے بالکل چلا گیا۔ یعنی اس رات بھی میں مسجد کے اندر نہیں تھا۔ اس لئے برقعہ پہن کر نکلنے کی نوبت کیسے آتی؟ لوگوں کے کہنے کا کیا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ نیازی دیگ میں بیٹھ کر چلا گیا تھا۔ لاہور سے نکلتے وقت البتہ میں نے دیہاتیوں کا سا لباس پہن لیا تھا مگر داڑھی نہیں منڈوائی۔

فینسی ڈریس میں داڑھی کے بغیر میری جو تصویریں چھپی ہیں وہ میانوالی کے علاقائی لباس میں ہیں۔ ان میں میں نے چادر باندھی ہوئی ہے اور سر پر پگڑ ہے اور یہ تصویر تحریک سے پہلے کی ہے۔ داڑھی تو میں نے ۱۹۴۳ء میں رکھی ہے۔ چنانچہ بغیر داڑھی والی تصویر جو میرے دفتر سے میری گرفتاری کے بعد نکلی تو اس کے متعلق کہا گیا کہ میں نے مسجد وزیر خاں سے نکلنے کے لئے داڑھی منڈوا دی تھی جب مجھے گرفتار کر کے جیل لے جایا گیا تو وہاں تحریک کے بے شمار لیڈروں نے مجھے دیکھا۔ مگر ان میں سے کسی نے بھی میری منڈی ہوئی داڑھی نہیں دیکھی۔ حالانکہ اگر میں نے داڑھی منڈوائی ہوتی تو یہ بات چھپی کیسے رہ سکتی تھی؟ مگر کوئی شخص ایسا موجود نہیں جو یہ کہہ سکے کہ اس وقت میرے چہرے پر داڑھی نہیں تھی۔ تو یہ ساری باتیں محض پروپیگنڈہ اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔

صفحہ 110

قادیان میں اعلان حق

”اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی“ کے مصداق حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمہ اعلان حق کرنے کے لیے نیز قصبہ کی سرزمین کی خاطر کئی دفعہ قادیان تشریف لے گئے اور وہاں پبلک جلسہ کر کے اعلاء کلمۃ الحق کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔ مرزائیوں نے حکام سے مل کر بہت کوشش کی کہ ان جلسوں پر پابندی لگادی جائے۔ مگر یہ جلسے جس متانت اور سنجیدگی کے ساتھ ہوتے تھے۔ اس کی بناء پر پابندی کا کوئی جواز نہیں تھا۔ جب قادیانی جلسے بند کرانے میں کامیاب نہ ہوسکے تو پھر جلسہ سے قبل حضرت شاہ صاحب کو دھمکی آمیز خطوط لکھا کرتے کہ اگر تم یہاں آئے تو قتل کر دیئے جاؤ گے اور واپس نہ جاسکو گے اور یہ صرف دھمکی ہی نہ ہوتی بلکہ کئی ایک دفعہ عملاً کوشش بھی کی گئی۔

(”ہفت روزہ خدام الدین“ شیخ بنوریؒ نمبر‘ ص ۵۶)

شاہ جی کی قید

۶ دسمبر ۱۹۳۵ء کو شاہ جی مرزا بشیر الدین محمود کے اعلان مباہلہ کے بعد جماعتی فیصلہ کی بنا پر قادیان جا رہے تھے کہ راستے میں گرفتار کرلیے گئے۔ اور ایک ریلوے مجسٹریٹ نے انہیں تین ماہ قید بامشقت اور ایک سو روپے جرمانہ اور عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں مزید ایک ماہ قید بامشقت کی سزا سنا کر گورداسپور جیل میں بھیج دیا۔ جہاں سے ایک ہفتے کے بعد سنٹرل جیل میں منتقل ہوگئے۔ ۱۵ اپریل ۱۹۳۶ء کو رہائی ملی۔

(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ ملتان‘ امیر شریعت نمبر (حصہ اول)‘ ص ۴۶۸)

صفحہ 111

جو ”میاں“ صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں وہ اس قابل بھی نہیں

کہ اسے منہ بھی لگایا جائے

جو نام نہاد مسلمان نبوت کے ڈاکوؤں سے حسن سلوک کے قائل ہیں یا ان سے رواداری پر مائل ہیں وہ حرماں نصیب روز محشر شفیع امت حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا منہ لے کر جائیں گے۔ جو ”میاں“ صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں وہ اس قابل نہیں کہ اسے منہ بھی لگایا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب عالیہ پر ڈاکہ ڈالنے والا مسیلمہ کذاب کی طرح آج بھی واجب القتل ہے۔ ارتداد ایک ایسا جرم ہے جس کی معافی اسلام میں کہیں نہیں۔ ”مرزا“ اور اس کے ماننے والے دجال، کذاب، مرتد، واجب القتل اور جہنمی ہیں۔ بانی احرار مؤسس تحریک تحفظ ختم نبوت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری

(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ امیر شریعت نمبر (حصہ اول)‘ ص ۳۱۱)

ٹائم بم

تحریک تحفظ نبوت (۵۳ء) میں ہزاروں جوانان گل گوں قبا، سرخپوشان راہ بقا اور سرمستان عہد وفا کی قربانی و شہادت صلح حدیبیہ کی مثل ہے۔ میں تو زندہ نہیں رہوں گا مگر تم دیکھو گے کہ شہیدوں کا خون بے گناہی رنگ لا کر رہے گا۔ میں نے اس تحریک میں مسلمانوں کے دلوں میں ایک ٹائم بم رکھ دیا ہے۔ جو وقت آنے پر ضرور پھٹے گا اور اس کی تباہی سے مرزائیت کو کوئی نہیں بچا سکے گا۔

(خطاب : امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)

یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں (مؤلف)
صفحہ 112

شیخ بنوریؒ کا عہد زریں

سید بنوری قدس سرہ کے سہ سالہ دور امارت میں ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے تعمیراتی منصوبوں میں بھی حیرت افزا ترقی ہوئی، متعدد مسجدیں تعمیر ہوئیں۔ جماعتی مراکز کا افتتاح ہوا اور کئی مدارس کھلے۔ ان کی مختصر سی فہرست حسب ذیل ہے:

جماعت کے مبلغ جناب مولانا خدا بخش صاحب اور تدریس کی خدمات جناب حافظ شبیر احمد صاحب انجام دے رہے ہیں۔

کے وسیع کام اور مستقبل کے منصوبوں کے لیے ناکافی سمجھ کر دفتر کے لیے ایک نیا قطعہ اراضی خریدنے کا حکم فرمایا، جس میں مسجد، لائبریری، اشاعتی مکتبہ، پریس اور دیگر ضروریات کے علاوہ بیرونی ممالک کے مندوبین کے قیام کے انتظامات ہوں، چنانچہ ملتان میں حضوری باغ روڈ پر ایک قطعہ اراضی خرید لیا گیا۔ حضرت کے بعض مخلص احباب کی وساطت سے حق تعالیٰ نے اس کی تعمیرات کا انتظام بھی فرما دیا۔ اب یہ جدید مرکز تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جو انشاء اللہ حضرات کے لیے صدقہ جاریہ رہے گا۔

اپنے قیام یورپ کے زمانہ میں خریدی تھی، جماعت کا دفتر بھی اس عمارت میں تھا، مگر اس کی مکانیت دفتر کی ضروریات کے لیے موزوں نہیں تھی، جناب مولانا مقبول احمد صاحب وہاں تشریف لے گئے تو ان کی توجہ سے وہاں ایک صاحب خیر دوست نے مسجد، مدرسہ اور دفتر کی تعمیر کے لیے ایک قطعہ اراضی وقف کر دیا۔ بحمد اللہ اس کی تعمیرات بھی شروع ہیں۔

صفحہ 113

مسجد تعمیر کرنے کا حکم فرمایا مگر افسوس کہ اس کی تعمیر ابھی باقاعدہ شروع نہیں ہوئی تھی کہ حضرتؒ کا وصال ہو گیا۔

گیا۔ وہاں بھی ایک عظیم الشان مسجد، مدرسہ، لائبریری، دفتر، مہمان خانہ وغیرہ کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ رئیس المبلغین حضرت مولانا محمد حیات فاتح قادیان وہاں فروکش ہیں۔

کہ وہاں کسی موزوں جگہ پر قطعہ اراضی لے کر مسجد اور دفتر تعمیر کیا جائے، تاہم سردست دفتر کے لیے ایک مناسب عمارت خرید لی گئی۔

کراچی، لاہور اور حیدر آباد وغیرہ مرکزی شہروں میں دفاتر کی تعمیر کے لیے بھی حضرت فکر مند تھے۔ مگر حضرت کی یہ خواہش تشنہ تکمیل رہی۔

(”مقالات یوسفی“ ص ۱۰۸۔۱۰۹، مولانا محمد یوسف لدھیانوی)

ہمارے دل سے ہے روشن، یاد فکر و سخن
ہمارے بعد یہ گلیاں دھواں دھواں ہوں گی (مولف)

شاہ فیصل شہید کو مولانا یوسف بنوریؒ کا خط

سیدی و مولائی! آج پاکستان قادیانیت کی جانب سے عظیم خطرہ میں ہے۔ بحریہ کا سربراہ حفیظ قادیانی ہے، فضائیہ کا سربراہ چوہدری ظفر قادیانی ہے اور بری افواج میں ٹکا خان کے بعد سترہ جنرل لگاتار قادیانی ہیں۔ حکومت یا تو اس مہیب خطرہ سے غافل اور جاہل ہے، یا پھر استعماری قوتوں، برطانیہ و امریکہ کے ہاتھ کا کھلونا بنی ہوئی ہے۔ وہ مسلمانوں کو فوجی مناصب سے برطرف کر رہی ہے اور قادیانیوں کو بھرتی کر رہی ہے۔ لاریب کہ قادیانی اور ان کا امام متنبی کذاب۔ قبحہ اللہ، برطانیہ کا خودکاشتہ پودا اور برطانوی استعمار کا ساختہ و

صفحہ 114

پرداختہ تھا، قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ حکومت برطانیہ ”ظل اللہ فی الارض“ ہے۔ جہاد منسوخ ہے اور یہ کہ تمام مسلمانوں پر برطانیہ کی نصرت و حمایت فرض ہے۔ وغیر ذالک من الکفر والہذیان ۔

ان لوگوں کی کوشش ہے کہ کسی طرح برطانیہ کا عہد رفتہ واپس لوٹ آئے اور پاکستان ان قادیانیوں کے ہاتھ میں آکر اس کا آلہ کار بنے اور برطانیہ کو از سر نو بحر احمر پر تسلط حاصل ہو جائے۔ اس بدترین سازش کے ہولناک نتائج آنجناب سے مخفی نہیں ہیں۔ آنجناب سے توقع رکھتا ہوں کہ پاکستان کو قادیانیوں کے چنگل سے چھڑانے میں اس کی مدد کریں گے۔ صدر بھٹو کو ان ہولناک نتائج سے متنبہ فرمائیں اور اسے راہ راست پر لانے کی کوشش کریں کہ وہ ان لوگوں کو کلیدی مناصب سے الگ کر دیں، تاکہ یہ لوگ اسلام کے لیے اور اسلام سے پہلے خود بھٹو کے لیے خطرہ نہ بن جائیں۔ الغرض آپ اس نہایت خطرناک مصیبت کبریٰ میں پاکستان کو بچانے اور بھٹو کی کج روی کی اصلاح کے لیے ہر ممکن جہد بلیغ فرمائیں اور محض اللہ کی رضا کے لیے اللہ تعالیٰ کی عطا فرمودہ طاقت و قوت اور وسائل کے ذریعہ آپ وہ کردار ادا کریں جو واقعی ایک خلیفہ اور امام المسلمین کو فہم و بصیرت اور قوت کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔

(”مقالات یوسفی“، ص ۵۲-۵۱، مولانا محمد یوسف لدھیانوی)

حضرت انور شاہ کشمیری بہاولپور کی عدالت میں

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

شیخ الاسلام والمسلمین اسوہ السلف وقدوہ الخلف

حضرت مولانا سید محمد انور صاحب کشمیری قدس اللہ سرہ کی بلند ہستی کسی تعارف و توصیف کی محتاج نہیں۔ آپ کو مرزائی فتنے کے رد و استیصال کی طرف خاص توجہ تھی۔ حضرت شیخ الجامعہ صاحب کا خط شاہ صاحب کی خدمت میں دیوبند پہنچا تو حضرت ڈابھیل تشریف لے جانے کا ارادہ فرما چکے تھے اور سامان سفر باندھا جا چکا تھا۔ مگر مقدمہ کی اہمیت کو

صفحہ 115

ملحوظ فرما کر ڈابھیل کی تیاری کو ملتوی فرمایا اور ۱۹ اگست ۱۹۳۲ء کو بہاول پور کی سرزمین کو اپنی تشریف آوری سے مشرف فرمایا۔ حضرت کی رفاقت میں پنجاب کے بعض علماء مولانا عبد الحنان خطیب آسٹریلیا مسجد لاہور و ناظم جمعیت علماء پنجاب مولانا محمد صاحب لائل پوری فاضل دیو بند مولانا محمد زکریا صاحب لدھیانوی و غیر ہم بھی تشریف لائے‘ ریاست بہاولپور اور ملحقہ علاقہ کے علماء و زائرین اس قدر جمع ہوئے کہ حضرت کی قیام گاہ پر بعض اوقات بیٹھنے کی جگہ نہ ملتی تھی اور زائرین مصافحہ سے مشرف نہ ہو سکتے تھے۔ ۲۵؍ اگست ۱۹۳۲ء کو حضرتؒ کا بیان شروع ہوا۔ عدالت کا کمرہ امراء رؤساء ریاست و علماء کی وجہ سے پر تھا۔ عدالت کے بیرونی میدان میں دور دور تک زائرین کا اجتماع تھا۔ باوجودیکہ شاہ صاحب عرصہ سے بیمار تھے اور جسم مبارک بہت ناتواں ہو چکا تھا۔ مگر متواتر پانچ روز تک تقریباً پانچ پانچ گھنٹے یومیہ عدالت میں تشریف لا کر علم و عرفان کا دریا بہاتے رہے۔ مرزائیت کا کفر و ارتداد، دجل و فریب کے تمام پہلو آفتاب نصف النہار کی طرح روشن فرمائے۔ حضرت شاہ صاحبؒ کے بیان ساطع البرہان میں مسئلہ نبوت اور مرزا کے ادعا نبوت و وحی و مدعی نبوت کے کفر و ارتداد کے متعلق جس قدر مواد جمع ہے اور ان مسائل و حقائق کی توضیح و تفصیل کے لیے جو ضمنی مباحث موجود ہیں۔ شاید مرزائی نبوت کے رد میں اتنا علمی ذخیرہ کسی ضخیم کتاب میں یکجا نہیں ملے گا۔ حضرت شاہ صاحبؒ کے بیان پر تبصرہ خاکسار کی فکر کی رسائی سے باہر ہے۔ ناظرین بہرہ اندوز ہو کر حضرت شاہ صاحبؒ کے حق میں دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت مرحوم کو اعلیٰ علیین میں مدارج بلند فرمادیں۔ (آمین)

علماء اہل حدیث میں سے جو چوٹی کے علماء ہیں۔ وہ بھی حضرت شاہ صاحب کے فضل و کمال کے مداح تھے۔ مولانا ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی نے جب قادیان میں آپ کا بیان سنا تو فرمایا کہ اگر مجسم علم کسی کو دیکھنا ہو تو مولانا انور شاہ کو دیکھ لے۔

دوم: مولانا عبد التواب ملتانی تلمیذ رشید حضرت مولانا عبد الجبار غزنویؒ نے علماء اہل حدیث کے مجمع میں حضرت شاہ صاحب کے علمی کمالات اور بزرگی کا بر ملا اعتراف کیا۔ مولوی محمد اسمعیل صاحب گوجرانوالہ نے اس مجمع میں کہا تھا کہ مولانا انور شاہ صاحبؒ تو حافظ حدیث ہیں۔ مولانا ثناء اللہ صاحب مرحوم متعدد بار ملاقات فرما کر حضرت سے علمی

صفحہ 116

استفادات فرماتے رہے۔ حضرت شاہ صاحب امرتسر تشریف لاتے رہے۔ علماء اہل حدیث احناف کی نسبت زیادہ سے زیادہ تعداد میں حضرت کی مجالس میں شریک ہوا کرتے تھے اور اس کا اہتمام خصوصی رکھتے تھے۔

مولانا ثناء اللہ صاحب مرحوم نے اپنے اخبار "اہلحدیث" میں حضرت شاہ صاحب مرحوم کے وصال پر ایک طویل مقالہ سپرد قلم کیا ہے اور اس میں اپنے درد دل کا اظہار کیا ہے اور حضرت کے مناقب اور علمی فضائل بیان کیے ہیں اور محبت بھرے الفاظ میں متعدد ملاقاتوں کا ذکر کیا اور یہ کہا کہ بے نظیر عالم دین رخصت ہو گیا۔

("انوار انوری" ص ۱۷۵ تا ۱۷۷‘ مولانا محمد انوریؒ)

ہم سنگ سے ٹکرائیں تو شیشہ کی صدا ہیں
گل مد مقابل ہو تو شبنم کی صدا ہیں (مولف)

اے مسلمان ہوشیار

مسلمانو! مرزائیت کے یہی ناپاک ارادے مجھے گھر کی چار دیواری سے نکال کے تمہارے سامنے لے آئے ہیں۔ ورنہ اب تک میں تھک چکا ہوتا۔ رہی سہی کسر بیماری نے پوری کر دی‘ میں ایک عظیم خطرے سے پھر تمہیں آگاہ کرنے آیا ہوں۔ مرزائیوں کے ناپاک ارادے خدا جانے کیا رنگ لائیں گے۔ انگریز گورنر اپنی روحانی اولاد کو چناب کے اس پار جو قیمتی زمین کوڑیوں کے بھاؤ دے گیا ہے۔ (مراد ربوہ کی زمین ہے) یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔ انگریزوں کا یہ خودکاشتہ پودا پاکستان میں بیٹھ کر بھی برطانیہ کی جاسوسی کر رہا ہے۔ میری حکومت نے اگر اس طرف توجہ نہ دی تو مجھے ڈر ہے کہ اس ملک پر مرزائیوں کا قبضہ ہو جائے گا۔ میں اپنے پیارے وزیر اعظم کی خدمت میں گزارش کروں گا کہ وہ اس سیاسی ٹولے پر خصوصی نظر رکھیں۔

("حیات امیر شریعت" ص ۴۱۲ تا ۴۱۴‘ از جانباز مرزاؒ)

صفحہ 117

مطمئن

ایک مرتبہ شاہ جی نے جیل میں پھانسی خانے کو دیکھا۔ آپ نے تختہ دار پر قدم رکھا اور پھر اپنے آپ کو تولا کہ اگر اس راہ میں پھانسی آجائے تو میں اس پر تیار ہوں یا نہیں تو فرمایا کہ :

میں نے اپنے آپ کو مطمئن اور تیار پایا۔

(”شاہ جی کے علمی اور تقریری جواہر پارے“ اعجاز احمد خان سنگھانوی)

جو منافق تھا ملی مسند شاہی اس کو
مجھ کو سچائی سردار لیے پھرتی ہے (مولف)

بخاریؒ اور ان کے ساتھیوں کے متعلق

مولانا انورؒ صاحب ہی نے یہ بھی تحریر فرمایا۔ حضرت نے ایک دفعہ جمعہ کے خطبہ میں فرمایا کہ حکومت کہتی ہے کہ عطاء اللہ شاہ فساد پھیلاتا ہے۔ ان اللہ کے بندوں کو معلوم نہیں کہ اگر عطاء اللہ شاہ فساد پر آمادہ ہو جائے تو مرزائیت کا قلعہ قائم نہیں رہ سکتا۔ میں کہتا ہوں اگر شاہ بخاریؒ شام کو حکم دے دیں تو صبح ہونے سے پہلے ”ربوہ“ کی اینٹ سے اینٹ بج جائے۔ پھر فرمایا حکومت کی گولیوں اور بندوقوں میں وہ طاقت نہیں جو علماء کی زبان میں ہے۔ ہمارے ایک عطاء اللہ شاہ بخاری بحمد اللہ سب پر بھاری ہیں اور جب تک وہ زندہ ہیں‘ اسلام کو کوئی خطرہ نہیں۔ ایک مرتبہ تو حضرت نے شاہ جی کے متعلق یہاں تک ارشاد فرمایا۔ محشر کا دن ہوگا۔ رحمت دو عالم ﷺ جلوہ افروز ہوں گے۔ صحابہ کرام بھی ساتھ ہوں گے۔ بخاریؒ آئے گا۔ حضور نبی کریم ﷺ معانقہ فرمائیں گے اور کہیں گے۔ بخاری تیری ساری زندگی عقیدہ نبوت کی حفاظت میں گزری اور کتاب وسنت کی اشاعت میں صرف ہوئی۔ آج میدان حشر میں تیرا شفیع میں ہوں۔ تیرے لیے کوئی باز پرس نہیں‘ جا اور اپنے ساتھیوں سمیت جنت میں داخل ہو جا۔ تیری جماعت کے لیے جنت کے آٹھوں

صفحہ 118

دروازے کھلے ہیں۔ جس طرف سے چاہو کھلے بندوں جنت میں داخل ہو سکتے ہو۔

(”دو بزرگ“، ص ۱۸۔ ۱۹، مصنفہ سید امین گیلانی)

کیا تمازت، دھوپ کیسی اور کہاں کی حدتیں
ان کا دامن تھام لو پھر حشر تک سایہ بہت (مولف)

ایک عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو

دسمبر ۱۹۴۸ء میں ایک نجی محفل تھی۔ اس میں پاکستانی فوج کے ایک لیفٹیننٹ کرنل اپنے ایک سی ایس پی دوست کے ساتھ موجود تھے۔ وہ شاہ جی سے کہہ رہے تھے۔

”شاہ جی فی الواقع پاکستان سے پہلے ہم قادیانیت سے متعلق علماء کے تعاقب کو ایک فضول مذہبی جھگڑا سمجھتے تھے اور آپ لوگ جب قادیانیت کے بارے میں لمبے لمبے وعظ کرتے تو خیال ہوتا کہ یہ جھمیلے ملائیت کے منبر و محراب کی خصوصیت ہیں یا احرار کی افتاد طبیعت ہے کہ وہ ذہنی طور پر مشغول رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن پاکستان بن جانے کے بعد جو حقائق ہمارے مشاہدے میں آئے اور جن تحریروں سے ہم گزر رہے ہیں۔ وہ اتنے سنگین ہیں کہ پاکستان درجہ اول کی لیڈر شپ کے بعد :

ان تینوں میں جو شکل جس طرح قائم ہوگی۔ اس کے پس منظر میں مرزائی ہوں گے۔ اس غرض سے اندر خانہ وہ اپنے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔

شاہ جی نے فرمایا۔ پہلے بھی بعض ذمہ دار احباب نے اسی قسم کی خبریں دی ہیں اور مجھے مرزائیوں کے عزائم کا بخوبی اندازہ و علم ہے لیکن میرا کچھ کہنا یا کرنا اب شاید کوئی نتیجہ پیدا نہ کرے۔ آپ یہ سب باتیں ملک کے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے نوٹس میں لائیں اور انہیں بتائیں کہ پاکستان میں مرزائی امت کے ہاتھوں کیا ہو رہا ہے اور آئندہ اس امت

صفحہ 119

کے منصوبے کیا ہیں۔ وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ ہر دائرے سے رپورٹ منگوا کر براہ راست معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

کرنل صاحب نے کہا:

”شاہ جی! ہماری اصل مصیبت یہ ہے کہ حکمران جماعت دین سے معاشرتی دلچسپی رکھتی ہے‘ مذہبی نہیں۔ وہ اولاً اپنی ذات‘ پھر اپنی جماعت اور اس کی حدود میں اپنے مقاصد و مصالح دیکھتی ہے۔ اسے اسلام اور اس کی دعوت کے مضمرات و مقتضیات سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ کو بتائیں مرزائی کیا ہیں؟ آپ نے اس داستان کا نوٹس لیا اور اس طرح کوئی تحریک بن گئی تو لازماً حکمران جماعت آگاہ ہو گی۔ نتیجہ ۔ مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر کی بیداری سے قادیانی امت کو بھی احتساب کا اندیشہ ہو گا اور اس طرح وہ خطرہ جو ہم محسوس کرتے ہیں‘ ٹل جائے گا۔ اس وقت سوال مسلمان عوام اور مسلمان حکام کو اس فتنہ کے عمومی برگ و بار اور اس کی مخفی تگ و دو کے کے نقش و نگار سے مطلع کرنے کا ہے۔ میرے ساتھ یہ سی ایس پی افسر ہیں اور وزارت خارجہ میں اہم عہدہ پر فائز ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چودھری ظفر اللہ خان پاکستان کا وزیر خارجہ ہے۔ لیکن اس کے منصب کا فائدہ مرزائیت کو پہنچ رہا ہے۔ وہ بیرونی دنیا میں پاکستان کی نمائندگی کی بجائے اپنی جماعت کی نمائندگی کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ اس نے بیرونی ملکوں میں قادیانی امت کے لیے سیاسی و معاشی رابطے مہیا کیے ہیں۔ اگر مرزائی کامیاب ہو گئے تو بین الاقوامی رابطوں کی معرفت قادیانیت کو اندرون ملک تحفظ ملے گا۔“

شاہ جی نے یہ باتیں سن کر ٹھنڈی آہ بھری اور فرمایا:

راجپال کی گستاخانہ جسارت پر احتجاج

بدنام زمانہ اور جہنم واصل گستاخ رسول (نعوذ باللہ) راجپال کی اشتعال انگیز اور واہیات کتاب ”رنگیلا رسول“ کے خلاف زبردست احتجاج کی خاطر ۱۷ جولائی ۱۹۲۷ء کو بیرون دہلی دروازہ لاہور دفتر مجلس احرار کے قریب ہی واقع کٹہرے میں ایک فقید المثال اور عظیم

صفحہ 120

الشان اجتماع عام منعقد ہوا، لاکھوں فرزندان اسلام کے دوش بدوش ابو حنیفہ ہند مفتی کفایت اللہ اور مفسر قرآن مولانا احمد سعید دہلویؒ بھی موجود تھے۔

شاہ صاحب کی ایمان افروز تقریر پر لوگ سراپا غیرت و حمیت تھے، آپ نے فرمایا۔۔۔۔۔۔ آج مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید کے دروازے پر ام المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰ اور ام المومنین حضرت عائشہ ؓ تشریف لائیں اور فرمایا۔۔۔۔ ہم تمہاری مائیں ہیں۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ایک بدنام زمانہ ہندو گستاخ نے سید الکونین ﷺ کی عزت و ناموس پر حملہ کیا ہے۔۔۔۔!

ارے وہ دیکھو تو! ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کہیں سامنے دروازے پر تو نہیں کھڑی ہیں۔۔۔۔۔

(پورا مجمع دروازے کی جانب دیکھنے لگا) بس پھر کیا تھا، جلسہ گاہ میں کہرام مچ گیا، لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے، اور شاہ صاحب اپنے پورے جوش خطابت اور غیرت دینی کے جذبات میں سرشار گونجدار آواز میں فرما رہے تھے۔

دیکھو! دیکھو! سبز گنبد میں حضور رسول اللہ ﷺ تڑپ رہے ہیں، حضرت خدیجہ ؓ و حضرت عائشہ ؓ پریشان ہیں، امہات المومنین تم سے اپنے حق کا مطالبہ کرتی ہیں، عائشہ ؓ پکارتی ہیں۔ وہی عائشہ ؓ جنہیں رسول اللہ ﷺ پیار کے ساتھ حمیرا کہا کرتے تھے۔ وہی عائشہ ؓ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ (فداہ ابی و امی) کو رحلت کے وقت مسواک چبا کر پیش کی تھی۔ ان کے ناموس پر قربان ہو جاؤ! سچے بیٹے ماں کی عزت و ناموس کے لیے کٹ مرا کرتے ہیں۔۔۔۔۔!

غازی علم الدین شہید ۔۔۔۔۔! شاہ جی کی اسی تقریر سے متاثر ہو کر اٹھا تھا اور لوہاری دروازے کے ساتھ موچی دروازے کے اندر چوک میں واقع اپنی کتابوں کی دکان پر بیٹھے گستاخ رسول راجپال کو جہنم واصل کر کے خود یہ شعر پڑھتے ہوئے تختہ دار پر چڑھ کر حیات جاودانی حاصل کر گیا ۔

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
صفحہ 121

(خطابت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری” ص ۷۳۔ ۷۴‘ از مولانا مجاہد الحسینی)

شاہ جی کی ساحرانہ خطابت

ایک دفعہ نوساری ضلع سورت میں ہندوؤں اور سکھوں کی ایک مشترکہ دعوت پر تقریر منظور فرمائی۔ ایک تھیٹر ہال کا انتخاب ہوا۔ جامعہ ڈابھیل کے کل اساتذہ اور اکثر طلباء بھی شریک تھے۔ حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ بھی تشریف رکھتے تھے، اس تقریر کی تاثیر و حلاوت، فوق العادۃ کا کمال آج بھی آنکھوں کے سامنے ہے، اس کی شیرینی کام و دہن میں ہے۔ ہندوؤں اور سکھوں سے اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرے بلند کروائے تھے۔ اسلام کی حقانیت، اللہ تعالیٰ کی عظمت و توحید، گوشت خوری کے منافع، بت پرستی کی قباحت پر حیرت انگیز بیان تھا، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ زار و قطار رو رہے تھے۔ میں نے کبھی ان کو اتنا روتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ (ہفت روزہ ”چٹان“ شورش کاشمیریؒ نمبر ص ۴۸)

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں (مولف)

حضرت صوفی برکت صاحب مدظلہ اور آغا شورش کاشمیری

وفات سے چند ماہ قبل میں نے ان سے حضرت پیر برکت علی، دارالاحسان، سالار والا کا تذکرہ کیا۔ مجھے حضرت پیر برکت علی کی خدمت اقدس میں حاضر ہونے کا موقع ہوا۔ میں حضرت پیر صاحب کی کشف قلوب، روحانی کیفیت، جذب و شوق، خدمت خلق سے بے حد متاثر ہوا۔ آغا صاحب نے میری گفتگو بڑی توجہ سے سنی اور کہا کہ میں ایک معاملہ میں حضرت پیر صاحب کا ممنون احسان ہوں۔ کئی سال قبل ایک مجلس میں حضرت نے ارشاد فرمایا تھا کہ شورش خادم رسول ہے۔ جو اسے پریشان کرے گا وہ سزا پائے گا۔ اس سے میری پریشانی ختم ہو گئی۔ آغا صاحب نے مجھ سے حضرت پیر صاحب کا تذکرہ سنا تو انہیں پرانی

صفحہ 122

یاد تازہ ہو گئی۔ ایک روز شیخ ابرار احمد کے ہمراہ آستانہ عالیہ پر حاضر ہوئے کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد ملاقات ہوئی۔ حضرت پیر صاحب آغا صاحب کے لیے سراپا لطف و کرم تھے۔ آغا صاحب نے بیان کیا کہ سب سے حیرت کی بات یہ تھی کہ انہوں نے مجھے میرے سینکڑوں اشعار سنائے، مجھ پر عنایت کی بارش کر دی۔ اپنی خاص انگشتری عنایت کی۔ میرے لیے بار بار دعا کی۔ میں ایک بات کہنا چاہتا تھا۔ حضرت صاحب نے خود ہی میرے دل کی بات بیان کر دی اور فرمایا کہ انشاء اللہ یہ کام جلد ہو جائے گا۔ آغا شورش نے مجھ سے بیان کیا کہ دو ماہ کی مدت میں یہ کام ہو گیا حالانکہ برسوں سے اٹکا ہوا تھا۔ آغا شورش مرحوم کو حضرت پیر صاحب کی ذات سے بے حد عقیدت ہو گئی تھی۔ اپنی آخری علالت میں انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں حضرت صوفی صاحب کو تحریر کروں کہ ان کی صحت کے لیے دعا کریں۔ میں نے حضرت صوفی صاحب کو خط لکھا مگر میرا خط ملنے سے پہلے حضرت آغا صاحب کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔

(ہفت روزہ ”چٹان“ شورش کاشمیری نمبر، ص ۴۸)

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں (مولف)

باعث نجات

علماء کے بیانات مکمل ہوئے۔ نواب صاحب مرحوم پر گورنمنٹ برطانیہ کا دباؤ بڑھا۔ اس سلسلہ میں مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری مرحوم نے راقم الحروف سے بیان کیا کہ خضر حیات ٹوانہ کے والد نواب سر عمر حیات ٹوانہ مرحوم لندن گئے ہوئے تھے۔ نواب آف بہاول پور مرحوم بھی گرمیاں اکثر لندن گزارا کرتے تھے۔ نواب مرحوم سر عمر حیات ٹوانہ سے لندن میں ملے اور مشورہ طلب کیا کہ انگریز گورنمنٹ کا مجھ پر دباؤ ہے کہ ریاست بہاولپور سے اس مقدمہ کو ختم کرا دیں تو اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔ سر عمر حیات ٹوانہ نے کہا کہ ہم انگریز کے وفادار ضرور ہیں۔ مگر اپنا دین، ایمان اور عشق رسالت مآب ﷺ کا تو

صفحہ 123

ان سے سودا نہیں کیا۔ آپ ڈٹ جائیں اور ان سے کہیں کہ عدالت جو چاہے فیصلہ کرے‘ میں حق و انصاف کے سلسلہ میں اس پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہتا۔ چنانچہ مولانا محمد علی جالندھری نے یہ واقعہ بیان کر کے ارشاد فرمایا کہ ان دونوں کی نجات کے لیے اتنی ہی بات کافی ہے۔

(”مقدمہ مرزائیہ“ بہاولپور، صفحہ ۳۲‘ از میر عبد الماجد سید)

مفتی محمد شفیع صاحبؒ کے والد کی بیماری

اور حضرت کشمیریؒ کی دعا

مقدمہ بہاولپور : وہ پہلا مقدمہ تھا جس میں قادیانیوں کو عدالتی سطح پر غیر مسلم قرار دیا گیا چنانچہ اس مقدمے کا فیصلہ اپنے حق میں کرانے کے لیے قادیانیوں نے اپنا سارا زور صرف کر دیا تھا۔

ادھر جب حضرت شاہ صاحبؒ کو اس کی اطلاع ہوئی کہ ایسا مقدمہ زیر سماعت ہے تو آپ نے بہ نفس نفیس وہاں تشریف لے جانے کا ارادہ فرمایا اور اس غرض کے لیے آپ نے جو رفقاء منتخب فرمائے ان میں حضرت والد صاحبؒ بھی شامل تھے۔ اتفاق سے ان دنوں حضرت والد صاحبؒ اپنے والد ماجد (حضرت مولانا محمد یٰسین صاحب) کی علالت کی وجہ سے ذہنی طور پر مشوش اور فکرمند تھے۔ لیکن جب حضرت شاہ صاحبؒ نے بہاول پور جانے کے لیے فرمایا تو تیار ہو گئے ۔ لیکن قیام بہاولپور کے زمانے ہی میں اچانک والد صاحبؒ کے پاس دیوبند سے تار آیا کہ ”آپ کے والد کی طبیعت زیادہ خراب ہے‘ جلدی واپس آجائیں۔“

حضرت والد صاحبؒ یہ تار حضرت شاہ صاحبؒ کے پاس لے گئے۔ حضرت والد صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ اس وقت میں سخت تردد کی حالت میں تھا۔ ایک طرف والد ماجد کی صحت کی طرف سے پریشانی تھی اور اس تار کا تقاضا یہ تھا کہ ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر واپس چلا جاؤں۔

دوسری طرف ایسے اہم کام میں حضرت شاہ صاحبؒ کی رفاقت کی جو سعادت اللہ

صفحہ 124

تعالیٰ نے عطا فرمائی تھی اسے چھوڑتے ہوئے دل کٹ رہا تھا اور خیال یہی تھا کہ حضرت شاہ صاحبؒ اس تار کو دیکھ کر واپسی کی اجازت دے دیں گے کیونکہ ہمارے اکابر عام طور سے ان باتوں میں بہت رعایت فرماتے ہیں۔ لیکن اس روز حضرت شاہ صاحبؒ کی کرامت ظاہر ہوئی۔ حضرتؒ نے تار کا مضمون سننے کے بعد بڑے اعتماد کے ساتھ فرمایا:

”ہم آپ کے والد صاحبؒ کے لیے دعا کریں گے، انشاء اللہ وہ تندرست ہو جائیں گے، آپ بے فکر ہو کر یہاں اپنا کام کریں۔“

حضرت والد صاحبؒ فرماتے ہیں کہ حضرت شاہ صاحبؒ کی زبان سے یہ جملہ سن کر میرے دل میں ٹھنڈک پڑ گئی اور ساری تشویش اور پریشانی کافور ہو گئی۔ پھر حضرتؒ نے خود والد صاحبؒ کے نام اس مضمون کا تار روانہ کیا کہ :

”مولوی شفیع صاحب کی یہاں ضرورت ہے میں نے انہیں روک لیا ہے۔ ہم سب آپ کی صحت کے لیے دعا کر رہے ہیں۔“

اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے والد صاحب کی طبیعت بھی بہتر ہو گئی۔“

(”البلاغ“ مفتی اعظم نمبر، ص ۲۸۱۔ ۲۸۲)

آغا شورش کاشمیریؒ کے آخری ایام

میں نے علاج میں کسی قسم کی کمی نہ چھوڑی لیکن دراصل اب وہ علاج معالجہ کی سطح سے بلند ہو چکے تھے۔

مجھے کہنے لگے، ڈاکٹر صاحب دوا تو کیا اب تو شاید دعا کا مقام بھی گزر رہا ہے۔ اب آپ میری زندگی کے لیے کوئی کوشش نہ کریں، اس دن جو احباب بھی ان سے ملنے آئے، لگتا تھا جیسے ان کو خدا حافظ کہہ رہے ہوں۔

موت سے چند گھڑیاں پہلے انہوں نے صاف لفظوں میں مجھ سے کہہ دیا کہ ڈاکٹر صاحب اب مجھے میرے پروردگار نے طلب کر لیا ہے۔ مجھے اس بارگاہ میں حاضر ہونے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

صفحہ 125

اسی شام مرحوم نے مجھے کہا تھا کہ میرے گھر میں دیار رسول ﷺ کی تھوڑی سی مٹی پڑی ہے‘ وہ بھی میرے ساتھ میری لحد میں اتار دی جائے۔ (۳۰ اکتوبر ۱۹۷۸ء)

(ہفت روزہ ”چٹان“ جلد ۳۱‘ شمارہ ۴۴‘ ص ۳۸)

کب موت سے ڈرتے ہیں غلامان محمد
کہ اپنے غلاموں پہ ہے فیضان محمد (مولف)

حضرت کشمیریؒ کی پکار

حضرت کشمیریؒ نے اس اضطراب و بے چینی کا اظہار اپنے بعض قصائد میں بھی کیا ہے‘ ایک طویل عربی قصیدہ میں جو ”اکفار الملحدین“ میں طبع ہوا ہے‘ آپ نے قادیانی فتنہ کی شدت و گمراہی کی طرف امت اسلامیہ کو متوجہ فرمایا ہے۔ اس قصیدہ کا زور بیان‘ قلق و اضطراب آج بھی امت اسلامیہ کا خون گرما دینے کی صلاحیت رکھتا ہے:

الا یا عباد اللہ قوموا و قوموا
خطوباً المت مالھن بدان۔

اے اللہ کے بندو! اٹھو اور ان فتنوں کے کس بل نکال دو‘ جو ہر جگہ چھا رہے ہیں اور جن کے برداشت کرنے کی تب و تاب نہیں رہی۔

وقد کاد ینقض الھدی و منارہ
و زحزح خیر مالذاک تدان

ان فتنوں کی شدت سے ہدایت کے نشانات مٹنا چاہتے ہیں‘ خیر و صلاح سمٹ رہی ہے‘ اور پھر اس کے تدارک کی کوئی صورت نہیں پڑے گی۔

بسب رسول من اولی العزم فیکم
تکاد السماء والارض تنفطران

ایک اولوالعزم رسول (سیدنا عیسیٰ علیہ السلام) کو تمہارے سامنے گالیاں دی جا رہی ہیں قریب ہے کہ قہر الٰہی سے زمین اور آسمان پھٹ پڑیں۔

صفحہ 126
و حارب قوم ربهم و نبیه
فقوموا لنصر الله اذ هو دان

ایک ناہنجار قوم (مرزائیوں) نے اپنے رب اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی چھیڑ رکھی ہے، پس اللہ کی مدد کے بھروسے اٹھو کہ وہ بہت ہی قریب ہے۔

وقد عیل صبری فی انتهاک حدوده
فهل ثم داع او مجیب اذانی

حدود اللہ کو توڑتے دیکھ کر صبر کا دامن میرے ہاتھ سے چھوٹ چکا ہے۔ پس کیا اس بھری دنیا میں کوئی حدود الہی کے تحفظ کے لیے پکارنے والا یا میری دعوت پر لبیک کہنے والا ہے؟

واذ هز خطب جئت مستنصرا بکم
فهل ثم غوث یالقوم بدانی

اور جب مصیبت حد برداشت سے نکل گئی تب میں نے مدد کے لیے تمہارے دروازے پر دستک دی، پس اے قوم! کیا کوئی فریاد رس ہے جو آگے بڑھ کر میرے دکھ درد میں شریک ہو جائے؟

لعمری لقد نبهت من کان نائما
واسمعت من کانت لہ اذنان

بخدا! میں ان لوگوں کو جو خواب غفلت میں مست تھے، بیدار کر چکا ہوں اور ہر ایسے شخص کو، جسے قدرت نے سننے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے، سنا چکا ہوں۔

ونادیت قوما فی فریضتہ ربهم
فهل من نصیر لی من اهل زمان

اور میں قوم مسلم کو ان کے رب کی جانب سے عائد شدہ فریضہ کے سلسلہ میں پکار چکا ہوں، پس کیا اہل خانہ میں کوئی شخص میری مدد کو اٹھے گا؟

دعوا کل امر و استقیموا لمادهی
وقد عاد فرض العین عند عیان
صفحہ 127

سب کچھ چھوڑ کر اس فتنہ عظمیٰ کے مقابلہ میں کمربستہ ہو جاؤ اس لیے کہ اس فتنہ کا مشاہدہ ہو جانے کے بعد اس کا استیصال ہر شخص پر فرض عین ہو گیا ہے۔

الا فاستقيموا واستهيموا لدينكم
فموت عليه اكبر الحيوان

ہاں اٹھو! اور اپنے دین کی حفاظت کے لیے دیوانہ وار جان کی بازی لگا دو۔ بخدا! دین کی خاطر جان دے دینا ہی سب سے اعلیٰ واشرف زندگی ہے۔

و عند دعاء الرب قوموا و شمروا
حنانا عليكم فيه اثر حنان

اور جب تحفظ دین کے لیے رب تعالیٰ کی طرف سے پکارا جا رہا ہے تو دیر کیوں کرتے ہو، اٹھو اور کمر ہمت چست باندھ لو، اس راستے میں تم پر رحمتوں پر رحمتیں نازل ہوں گی۔

(ماہنامہ ”الرشید“ دارالعلوم دیوبند نمبر، ص ۶۸۹ - ۶۹۰)

میں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شرر فشاں ہو گئی آہ میری نفس میرا شعلہ بار ہو گا

مرزا قادیانی جہنمی ہے، شیخوپورہ میں مناظرہ

گوجرانوالہ میں ہی تشریف آوری کے دوران انہوں نے تقسیم ہند سے قبل شیخوپورہ میں ہونے والے ایک مناظرہ کی روداد بھی سنائی۔ یہ ایک علمی مناظرہ تھا جس کے لیے موضوع ”حیات مسیح“ مقرر کیا گیا تھا۔ مناظرہ صبح دس بجے سے ایک بجے تک ہوا۔ ایک بجے کھانے اور نماز ظہر کا وقفہ کیا گیا۔ مناظرہ جب دوبارہ شروع ہوا تو ایک دیہاتی کھڑا ہو گیا اور اس نے ہاتھ باندھ کر گزارش کی مولانا! میں صبح سے آ کر بیٹھا ہوا ہوں۔ مجھے تو کچھ بھی حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی میں سمجھ سکا ہوں کہ بات کیا ہے؟ میں نے قریب ہی کے گاؤں جانا ہے۔ میرے جانور بھوکے ہیں۔ میں نے انہیں جا کر چارہ وغیرہ دینا ہے۔ اجازت ہو تو میں ایک سوال کر کے چلا جاؤں۔ اس کے بعد اس نے مرزائیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے

صفحہ 128

کہا کہ میں نے صرف ایک ہی سوال کرنا ہے۔ اجازت ہو تو عرض کروں؟ انہوں نے اجازت دے دی‘ تو اس نے کہا:

”میں نے سنا ہے کہ مرزا صاحب کا محمدی بیگم نامی عورت سے قیامت کے دن نکاح ہو گا۔ کیا یہ درست ہے؟“

مرزائی ۔ ”ہاں۔“

دیہاتی ۔ ”ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ قیامت کے روز اللہ پاک میرا نکاح پڑھائیں گے اور فرشتے میری بارات میں ہوں گے ۔ کیا یہ درست ہے؟“

مرزائی ۔ ”ہاں“

دیہاتی ۔ ”مرزا صاحب کے مطابق محمدی بیگم اور اس کے والدین کافر ہیں اور کافر ہونے کے ناطے جہنم میں جائیں گے؟ اور محمدی بیگم کے والدین نے مطالبہ کر دیا کہ نکاح کے بعد مرزا صاحب کو گھر داماد رکھیں گے‘ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ مرزا صاحب تمام زندگی جہنم میں گزاریں گے۔“

اس کے ساتھ ہی شور و غل پڑ گیا اور نعرے لگنے لگے ”ختم نبوت زندہ باد‘ مرزا جہنمی مردہ باد۔“ اس طرح وہ مناظرہ ہم نے جیت لیا۔

(”تحریک کشمیر سے تحریک ختم نبوت تک“ ص ۲۹۴۔۲۹۵‘ از چوہدری غلام نبی)

”مرزا قادیانی جھوٹا‘ کذاب اور دجال ہے“

جسٹس منیر نے شاہ جی سے پوچھا‘ شاہ جی آپ بتائیے کہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو کیا سمجھتے ہیں؟ مولانا میکش نے بتایا کہ اس وقت عجیب سماں تھا۔ شاہ جی کا چہرہ سرخ ہو گیا اور وہ کرسی سے اٹھ کھڑے ہو گئے اور جسٹس منیر سے مخاطب ہو کر کہا۔

”سنو! کئی سال پہلے اسی عدالت میں مجھے پیش کیا گیا تھا اور میں اسی جگہ کھڑا تھا۔ جہاں آج کھڑا ہوں اور جس کرسی پر آپ بیٹھے ہیں۔ یہاں ایک انگریز بیٹھا تھا۔ اس وقت اس نے مجھ سے یہی سوال کیا تھا۔ اس وقت تو کچھ بچ جانے کی امید تھی‘ لیکن اب نہیں

صفحہ 129

ہے۔ میں اب بھی وہی بات دہراتا ہوں جو اس وقت کہی تھی، میں مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا‘ بے ایمان‘ کذاب‘ اور کافر سمجھتا ہوں اس کے بعد میں عام جلسوں میں کہتا رہا ہوں اور اب آپ کے سامنے بھی کہتا ہوں کہ وہ جھوٹا‘ بے ایمان‘ کذاب اور کافر تھا اور کہتا رہوں گا۔“

اس کے ساتھ ہی کمرہ عدالت نعرہ تکبیر، ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد، امیر شریعت زندہ باد، عطاء اللہ شاہ بخاری زندہ باد اور اس طرح کے دوسرے نعروں سے گونج اٹھا۔ شاہ جی نے لوگوں کو خاموش کرایا اور کہا:

”بھائی! یہ عدالت ہے، اس کا احترام ضروری ہے۔“

اس طرح لوگ خاموش ہو گئے۔ جسٹس منیر بری طرح گھبرا گیا اور اس نے شاہ جی سے کہا۔ ”شاہ جی! آپ بیٹھ جائیں۔“

اس وقت شاہ جی کے چہرے پر عجیب جلال اور آنکھوں میں چمک تھی کہ جسٹس منیر کو اور سوال کرنے کی جرات نہ ہوئی۔

(”تحریک کشمیر سے تحریک ختم نبوت تک“، ص ۲۰۹، از چوہدری غلام نبی)

تیرے دیوانوں کو خوف دار کیا؟
گل چنتے ہیں تو خوف خار کیا؟ (مولف)

”داڑھی سے جوتیاں صاف کروں گا“

رات کے دو بجے کا وقت ہوا تھا اور شاہ جی فرمارہے تھے۔

”اے ناظم الدین میری بات غور سے سنو! میں تجھے مسلمان کی حیثیت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ دیتا ہوں۔ یہ مطالبے (مجلس عمل کے مطالبات) مان لو۔ میں تیری مرغیوں کو ساری عمر دانہ ڈالوں گا اور تیری جوتیاں اپنی داڑھی سے صاف کروں گا۔“

شاہ جی کے ان الفاظ پر مجمع ہچکیاں لے کر رو رہا تھا اور پھر دعا کے ساتھ جلسہ کا اختتام

صفحہ 130

ہوا۔

("تحریک کشمیر سے تحریک ختم نبوت تک" ص ۱۴۷ از چوہدری غلام نبی)

سامان آخرت

خاتم النبین ﷺ ، جس کے تعارف کے لیے یہ چند سطور تحریر کی جارہی ہیں: حضرت استاذ شیخ الاسلام سید محمد انور شاہ قدس اللہ سرہ کی سب سے آخری اور نہایت محبوب تصنیف ہے۔ استاذ مرحوم کو تدریس حدیث کے غیر منفک مشغلہ کے ساتھ اسلام اور اس کے بنیادی عقائد کے خطرناک ترین حریف نبی قادیان کی ملحدانہ تعلیمات کے استیصال سے جو قدرتی شغف تھا‘ اس نے آپ کو بستر علالت پر بھی چین نہ لینے دیا۔ مرض کی غیر معمولی شدت اور تسلسل کے باعث اگرچہ تمام اعضاء صحت و توانائی کو آخری جواب دے چکے تھے‘ تاہم تحفظ دین محمدی کے جذبات میں ڈوبا ہوا یہ وجود مقدس دم واپسیں تک دین الہی کی خدمت میں اس شان سے منہمک رہا گویا علالت و نقاہت کا کہیں آپ کے پاس بھی گزر نہیں۔ وفات سے چند روز قبل رسالہ کی تالیف و تسوید سے فراغت ہوئی۔ ابھی تبییض کی بھی نوبت نہ آئی تھی کہ پیغام اجل آپہنچا۔ حضرت کی تمنا تھی کہ اس تحریر کو خاص اپنے مصارف سے طبع کرا کر کشمیر اور ان ممالک میں خصوصیت سے تقسیم فرمائیں جن میں فارسی زبان مروج ہے اور جہاں نادار اور مفلس مسلمانوں کی سادہ لوحی کے سبب قادیانی الحاد و ارتداد کے ناپاک جراثیم پھیلتے جا رہے ہیں۔ ایک دفعہ راقم الحروف کی موجودگی میں حضرت مرحوم نے مسودہ کی کتابت کے لیے ہمارے علاقہ کے ایک نامور کاتب کو طلب فرمایا۔ حضرت نے انتہائی ضعف کے باوجود کاتب صاحب کے سامنے جو رقت آفرین اور درد انگیز کلمات فرمائے ان میں ایک جملہ یہ تھا ”مولوی صاحب! اس وقت زندگی کی آخری منازل سے گزر رہا ہوں میرے پاس آخرت کا کوئی ذخیرہ نہیں‘ یہ دو چار تحریریں ہیں جو میرے لیے سامان آخرت ہیں‘ چاہتا ہوں کہ اس رسالہ کو ذاتی مصارف سے بہترین کتابت و طباعت کے ساتھ شائع کروں اور کتاب مفت تقسیم کی جائے۔

صفحہ 131

(”خاتم النبین ﷺ “ ص ۱۷-۱۸‘ از مولانا انور شاہ کشمیریؒ ‘ مقدمہ مولانا مفتی

عتیق الرحمٰن صاحب عثمانی)

مولانا ظفر علی خانؒ کے دورے کا اثر

مولانا کی تقاریر سننے اور حقائق سے آشنا ہونے کے بعد یونیورسٹی میں قادیانیت کا طلسم ٹوٹ گیا اور اس شان سے کہ جب کسی بحث و تمحیص میں ایک نوجوان دوسرے کی کج بحثی سے پریشان ہو جاتا تو کج بحث کو خاموش کرنے کے لیے طنزاً کہتا کہ ”تم انسان ہو یا قادیانی؟“ یا زیادہ بے تکلفی کے انداز میں ”ہٹ بے قادیانی کہیں کے!“ اس سے بھی بڑھ کر یہ رنگ دیکھا کہ کسی مجلس میں شامل کوئی فرد جب اٹھ کر قضائے حاجت کے لیے بیت الخلا جانے لگتا ہے تو یہ کہہ کر جاتا کہ ”بھئی میں ابھی آیا۔ ذرا قادیان تک ہو آؤں۔“

(”ظفر علی خان اور ان کا عہد“ ص ۴۶۵-۴۶۶‘ از عنایت اللہ نسیم سوہدرویؒ )

انشاء اللہ قادیانیت تباہ ہو گی

ختم نبوت کے اس عقیدہ کو جھٹلانے کی جرات اس ساڑھے تیرہ سو سال کے عرصہ میں اگرچہ متعدد پرستاران طاغوت کو ہوئی ہے‘ لیکن اس جرات کا سب سے بے باکانہ مظاہرہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی قلیل الانفار ذریت کی طرف سے ہوا۔ میرا پختہ یقین ہے کہ اس تکذیب کی پاداش میں طائفہ قادیان جس کے نیم جان جسم میں حکومت وقت کے سیاسی معالج نے تھوڑی بہت حرکت پیدا کر رکھی ہے۔ اپنے وقت پر گردش روزگار میں دب کر فنا ہو جائے گا۔ جس طرح اس سے پہلے مدعیان نبوت اور ان کی امتیں نابود ہو گئیں۔ (زمیندار ۹ مئی ۱۹۳۵ء)

(”ظفر علی خان اور ان کا عہد“ ‘ ص ۴۰۹‘ از عنایت اللہ نسیم سوہدرویؒ )

صفحہ 132
مرزائیت دور ہو گی سنت صدیقؓ سے
یہ فتنہ آخر دور ہوگا قتل زندیق سے (مولف)

علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی درخواست

قادیانیوں کے مقابلہ میں یہ جنگ خالصتاً وجہ اللہ کی جارہی ہے۔ یہ مذہبی اور سیاسی دونوں حیثیتیں رکھتی ہے۔ میں سیاسی پہلو کو بہت اچھا سمجھتا ہوں۔ اگرچہ کمزوری اعضاء کی وجہ سے جیل خانے کی سکت نہیں، مگر ان حضرات سے جنہوں نے مجھ سے حدیث کا سبق پڑھا ہے، خصوصاً اور عالم اسلام سے عموماً دست بستہ درخواست کرتا ہوں کہ لاہوری فدا کاروں کی طرح میرزائیت کے قصر بے بنیاد کو برباد کرنے میں ممکن سعی سے دریغ نہ فرمائیں۔ (زمیندار ۱۵ / مارچ ۱۹۳۳ء)

(”ظفر علی خان اور ان کا عہد“ ص ۴۰۱‘ از عنایت اللہ نسیم سوہدروی)

علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا جلال

ریاست بہاولپور میں قادیانیوں کے کفر و اسلام کا ایک مقدمہ چل رہا تھا۔ جب وہ آخری مراحل میں پہنچا تو شیخ الجامعہ حضرت مولانا محمد غوثؒ اور حضرت مفتی صادق صاحبؒ اور تمام علماء نے استدعا کی کہ حضرت شاہ صاحبؒ کا ایک علمی بیان عدالت میں ہونا چاہیے۔ شاہ صاحبؒ ان دنوں خونی بواسیر کے سخت مریض تھے۔ ڈاکٹروں حکیموں نے سفر سے بالکل روک دیا تھا۔ کمزوری بہت ہو چکی تھی۔ لیکن جونہی شاہ صاحبؒ کو دعوت پہنچی‘ آپ سفر کے لیے تیار ہو گئے۔ بہاولپور سے مفتی صادق صاحب خود انہیں لینے کے لیے دیوبند گئے تھے۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے فرمایا کہ اگر قیامت کے روز حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ سوال کر لیا کہ میری ختم نبوت کا مقدمہ پیش تھا‘ تجھے طلب کیا گیا اور تو نہیں گیا تو میں کیا جواب دوں گا۔ موت تو آنی ہی ہے‘ اگر اسی راستہ میں آگئی تو اس سے بہتر اور کیا

صفحہ 133

ہو گا‘ تو حکیموں کے روکنے کے باوجود آپ تشریف لے گئے ۔ جج صاحب جن کا نام محمد اکبر تھا۔ وہ شاہ صاحب کا بہت احترام کرتا تھا۔ آپ کو عدالت میں کرسی مہیا کی گئی اور حضرت شاہ صاحبؒ کا آخری معرکۃ الآرا بیان ہوا اور قادیانیوں کی طرف سے اس پر جرح ہوتی رہی اور شاہ صاحبؒ جواب دیتے رہے۔ جب حضرت شاہ صاحبؒ کا بیان اور جرح ختم ہوئی تو حضرت شاہ صاحبؒ نے قادیانیوں کے بڑے مناظر جلال الدین شمس کا ہاتھ پکڑا اور بڑے جوش سے فرمایا کہ جلال الدین اگر اب بھی تمہیں قادیانی کے کفر میں شبہ ہو تو آؤ میں تمہیں اسے جہنم میں جلتا ہوا دکھاؤں یہ سن کر اس نے جلدی سے ہاتھ چھڑا لیا اور کہنے لگا کہ اگر آپ دکھا بھی دیں تو میں کہوں گا کہ یہ استدراج یعنی کوئی شعبدہ ہے‘ حقیقت نہیں۔

ہمارے حضرات کہتے ہیں کہ وہ بد بخت تھا۔ اگر ہاں کر لیتا تو حضرت شاہ صاحبؒ پر اس وقت ایسی جذب کی حالت تھی کہ وہ اسے کشفا جہنم میں جلتا ہوا دیکھ رہے تھے اور دکھا بھی سکتے تھے۔

مقدمہ کی سماعت ہو جانے کے بعد جب حضرت شاہ صاحب دیو بند جانے لگے تو مولانا مفتی محمد صادقؒ اور دیگر علماء کو وصیت فرمائی کہ مقدمہ کا فیصلہ اگر تو میری زندگی میں ہو گیا تو میں سن لوں گا۔ اگر یہ فیصلہ میری وفات کے بعد ہو تو میری قبر پر آ کر سنایا جائے۔ چنانچہ حضرت کی واپسی کے بعد آپ کی جلد وفات ہو گئی اور یہ فیصلہ آپ کی وفات کے بعد ہوا اور حضرت مولانا محمد صادق صاحبؒ حضرت شاہ صاحب کی وصیت کے مطابق خصوصی طور پر دیو بند گئے اور شاہ صاحبؒ کی قبر پر کھڑے ہو کر یہ فیصلہ سنایا۔ الحمد للہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوا تھا۔ اس واقعہ سے آپ اندازہ لگائیں کہ حضرت شاہ صاحبؒ کو کتنی فکر اور کتنا لگاؤ اس مسئلہ سے تھا کہ وفات کے بعد بھی جبکہ وہ عالم برزخ میں چلے گئے تھے۔ وہاں بھی آپ کو اس کا انتظار تھا۔ یہ اس وقت کے مسلمانوں کو اس فتنہ کے استیصال کی طرف متوجہ کرنے کی ایک صدا تھی جو شاہ صاحبؒ نے وصیت کی شکل میں بلند کی۔

(”چراغ ہدایت میں“ ص ۳۴-۳۵‘ از مولانا محمد چراغ‘ تقریظ مولانا منظور احمد چنیوٹی)

ڈھونڈا تو بہت لیکن پایا نہ کوئی تجھ سا
اک مدت اسی کوشش میں دمساز گنوائی ہے
صفحہ 134

انتہائے ظلم

قاضی صاحب اپنے والد کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ان کا کوئی حقیقی بھائی نہ تھا۔ صرف ایک بہن تھی۔ بوڑھے ماں باپ کا واحد سہارا قاضی صاحب تھے۔ جب قاضی صاحب گرفتار ہوئے تو بوڑھا والد اب تک تو اکلوتے بیٹے کی گرفتاریوں، نظر بندیوں اور مقدمہ بازیوں کو سہتا چلا آ رہا تھا۔ مگر جب قویٰ نے جواب دے دیا اور عمر کے اس حصہ میں پہنچ گئے جہاں انسان خالق حقیقی سے ملنے کی خاطر مکمل آرام چاہتا ہے تو بیٹے کی گرفتاری ناقابل برداشت ہو گئی۔ اسی طرح قاضی صاحب کی والدہ بھی اب چلنے پھرنے کے قابل نہ رہیں۔ ادھر قاضی صاحب خود نرینہ اولاد سے محروم تھے۔ البتہ چھوٹی چھوٹی معصوم بچیاں تھیں۔ ان حالات میں آپ کے والد قاضی محمد امین کی ذمہ داریاں بڑھ گئیں۔ نہ صرف ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا بلکہ بیٹے کی جدائی اور فراق نے بھی دل پر گہرا اثر چھوڑا اور وہ اکلوتے بیٹے، بڑھاپے کی پونجی، اور زندگی کے آخری سہارے کے لیے تڑپ کر رہ گئے۔ اول اول جیل میں ملاقات کے لیے جاتے رہے۔ بعض اوقات ملاقات کی اجازت مل جاتی، لیکن بسا اوقات بیٹے سے ملاقات کی تڑپ و حسرت لے کر واپس آجاتے۔

قاضی صاحب ۲۷/۲۸ فروری ۱۹۵۳ء کی درمیانی شب گرفتار ہوئے۔ شجاع آباد سے انہیں گرفتار کر کے نیو سنٹرل جیل ملتان لایا گیا۔ تقریباً اٹھارہ روز بعد قاضی صاحب کے والد مرحوم نے ایک درخواست ڈپٹی کمشنر ملتان کو لکھی کہ مجھے اپنے بیٹے سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

اس ملاقات کی روئیداد خود قاضی صاحب سنایا کرتے تھے کہ جب جیل کی سلاخوں سے اپنے بوڑھے باپ کو دیکھا تو دل بھر آیا۔ میں نے ضبط کیا مگر باپ کی آنکھوں سے آنسو امنڈ پڑے۔ اور مجھے ”چاند چاند“ کہہ کر سلاخوں کے درمیان گلے لگالیا۔ قاضی صاحب کہتے تھے کہ دل کو دھکا سا لگا اور باپ کی مغموم صورت، جسمانی نقاہت اور حزن و ملال کے آثار دیکھ کر معا دل میں خیال آیا کہ میری گرفتاری کا اثر والد کے جسم و روح میں داخل ہو چکا

صفحہ 135

ہے‘ خدا خیر کرے۔

باپ‘ بیٹے سے ملنے کے بعد گھر واپس لوٹے۔ بڑھاپے میں بیٹے کی جدائی کی وجہ سے قوت برداشت جواب دے چکی تھی۔ اس لیے بستر پر دراز ہو گئے۔ دل کی بیماری نے جسم کو دبوچ لیا‘ اور یوں قاضی محمد امین موت کا انتظار کرنے لگے۔ بعض دوستوں نے اس پر ستم یہ کیا کہ مشہور کر دیا کہ قاضی احسان احمد کو پھانسی دی جائے گی۔ ظاہر ہے کہ اس خبر وحشت کا اثر کس قدر دل امین پر پڑا ہو گا۔

آخر باپ کی حالت زیادہ بگڑ گئی اور وہ وفات پا گئے۔ چند دوستوں نے مسلم لیگ کی حکومت کے ”شریف اور نیک نام“ وزیر اعظم الحاج خواجہ ناظم الدین سے ملاقات کا پروگرام بنایا۔ ملتان کے خواجہ عبدالقدوس‘ وزیر اعظم سے ملے اور ان سے تمام حالات بیان کر کے قاضی صاحب کے والد کی وفات کی خبر دے کر قاضی صاحب کو صرف ایک دن کے لیے پیرول پر رہا کرنے کی درخواست کی‘ تاکہ اکلوتا بیٹا اپنے باپ کے کفن دفن میں شریک ہو سکے اور زر ضمانت (Cash Security) کے طور پر ایک لاکھ روپے تک جمع کرانے کی پیش کش کی۔ مگر ”شریف و رحمدل وزیر اعظم“ نے ختم نبوت کے سپاہی قاضی احسان احمد کو صرف ایک دن کے لیے اپنے باپ کے جنازہ میں شرکت کی اجازت دینے سے انکار کر کے نہایت سفاکی‘ درندگی اور بربریت کا ثبوت دیا‘ اور اس طرح قاضی صاحب اپنے والد کے جنازہ میں بھی شرکت نہ کر سکے۔

(”قاضی احسان احمد شجاع آبادی“‘ ص ۷۷۔۷۸‘ محمد نور الحق قریشی)

دل کھول کے دنیا کے ستم مجھ پر کئے جا
دکھ سہنے کو اللہ نے بخشا ہے کلیجہ (مولف)

جانباز مرزا کی روداد

لوہے کی بوجھل بیڑیاں اور کمزور پاؤں۔ اس پر ستم یہ کہ ریلوے اسٹیشن تک پیدل چلنا ہو گا۔ راہ چلتی نگاہوں نے نہ جانے کن خیالات سے دیکھا۔ پابجولاں‘ موٹا گاڑھے کا

صفحہ 136

کرتہ‘ پولیس کے نرغے میں جب میں جالندھر کے بازاروں سے گزرا تو کسی نے کہا چور ہو گا‘ کسی نے کہا مسلمانوں کی اولاد ایسی بدمعاشیوں میں پکڑی جاتی ہے‘ کسی نے گرہ کٹ سمجھا۔ بچے تماشہ سمجھ کر ساتھ ہولیے۔ آشناؤں نے دانستہ منہ پھیر لیا۔ عزیزوں نے راستہ کاٹ کر دوسری طرف رخ کر لیا۔ راہ گیروں نے آوازے کسے۔ البتہ چند دوست جو واقف حال تھے گاڑی چھوٹنے سے پہلے اسٹیشن پر ملے۔ ان میں منور غوری بھی تھے۔ (اگر یہ جواں مرگ نہ ہو جاتے تو شاید دوسرے افضل حق ہوتے) بڑے سمجھدار اور مخلص نوجوان تھے۔ کاش موت انہیں کچھ دن زندگی کی مہلت دیتی۔ گاڑی میں سوار ہوتے وقت احساس ہوا کہ پاؤں میں بیڑیوں کے باعث زخم آچکے ہیں اور ان سے خون بہہ رہا ہے۔ آج اس واقعہ کو کئی برس بیت چکے لیکن زخموں کے نشان پر جب نظر پڑتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے‘ جیسے یہ پھر تازہ ہو رہے ہیں۔

(”کاروان احرار“ جلد دوم‘ ص ۳۲ از جانباز مرزا)

صیاد و نگہبان چمن پر ہے یہ روشن
آباد ہمیں سے ہے نشیمن بھی قفس بھی (مولف)

عصمت کے بیٹوں کی ٹھکائی

مجلس احرار اسلام نے بنام خدا چک جھمرہ میں جلسہ کا اعلان کر دیا۔ ماسٹر تاج الدین انصاری مرحوم کو تقریر کرنا تھی۔ جلسہ کے روز ماسٹر جی کے ساتھ سالار معراج کی قیادت میں پچاس رضا کار چک جھمرہ پہنچے۔ عصمت اللہ کے دو لڑکے اسٹیشن پر مال گاڑی میں مسلح چھپے بیٹھے تھے۔ پروگرام کے مطابق جونہی ماسٹر صاحب کو گاڑی سے نکلنا تھا‘ توں ہی ان پر گولیوں کی بوچھاڑ ہو جانی تھی‘ تاکہ وہ جلسہ گاہ تک پہنچنے کی بجائے اگلے جہان پہنچ جائیں۔ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ جونہی ماسٹر جی ٹرین سے اترے رضا کاروں نے اسٹیشن پر ہی انہیں رائفلوں سے سلامی دی۔ عصمت اللہ کے لڑکے ڈر کر بھاگے تو کسی نے آواز دی‘ وہ عصمت قادیانی کے بیٹے بھاگے جا رہے ہیں جو ماسٹر جی کو قتل کرنے آئے تھے‘ تو پھر کیا تھا؟

صفحہ 137

رضاکاروں نے فوراً ہی پیچھا کر کے انہیں پکڑ لیا اور ان کی خوب مرمت کی‘ حتیٰ کہ وہ پہچانے ہی نہیں جاتے تھے۔ ماسٹر جی نے رضاکاروں سے کہا کہ انہیں چھوڑ دو‘ یہ اپنے باپ کے پاس ہمارا اشتہار بن کر جائیں گے۔

("تحریک کشمیر سے تحریک ختم نبوت تک" ص ۸۹‘ از چوہدری غلام نبی)

اسماعیل ہیں۔ مرزا محمود کے ماموں جان۔ اور یہ سامنے دیکھئے منارۃ المسیح اور یہ ہے قادیان‘ اتنے میں ہماری بس قادیان کی بستی میں داخل ہو چکی تھی۔ حضرت شاہ جی کی قادیان میں آمد کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ مسلمان‘ ہندو اور سکھ گھروں سے نکل آئے۔ دوسری طرف مرزائیوں کے ہاں بھی کھلبلی مچ گئی۔ مسلمانوں کو یوں محسوس ہوا جیسے انتیس کو عید کا چاند نمودار ہو گیا ہو۔ چہل پہل شروع ہو گئی۔ تھانیدار دوڑا دوڑا ہانپتا کانپتا میرے پاس آیا‘ کہنے لگا کیا غضب کیا ہے۔ کسی کو کانوں کان خبر نہیں اور شاہ جی بلا اطلاع قادیان پہنچ گئے ہیں۔ ارے بھئی افسران بالا کو ہم کیا جواب دیں گے۔ بیچارہ بوکھلایا تھا۔ میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔ کوئی غضب نہیں ہوا۔ بس اک ذرہ سا پروگرام ہے۔ منہ ہاتھ دھو کر حضرت شاہ جی چائے کی ایک پیالی پی لیں۔ ابھی ایک آدھ گھنٹے میں تشریف لے جائیں گے۔ گھبراؤ نہیں۔ تھانے میں جا کر آرام سے بیٹھو۔ بے چارہ بے وقوف بن کر چلا گیا۔ ایک گھنٹہ کے بعد پھر آگیا‘ پوچھنے لگا۔ شاہ جی جانے کے لیے تیار ہو گئے؟ میں نے کہا رات بھر کے جاگے ہوئے تھے۔ سو گئے ہیں۔ ایک گھنٹہ آرام کر لیں۔ گھبرانے کی بات نہیں۔ وہ زیادہ دیر ٹھہریں گے نہیں‘ چلے جائیں گے۔ تھانیدار چکمہ کھا کر پھر واپس چلا گیا۔ مسلمانوں نے واقعی عید کی سی خوشی منائی۔ ایک بکرا ذبح ہوا۔ تنور گرم ہو گئے۔ روٹیاں پکنے لگیں۔ عورتیں‘ بچے‘ بوڑھے اور جوان خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے۔ شاہ جی جب دس بجے کے قریب سو کر اٹھے تو تھانیدار صاحب پھر وارد ہوئے مجھ سے دریافت کیا تو میں نے تھانیدار کو بتا دیا کہ اب شاہ جی واپس تشریف لے جانے سے قبل غسل فرمائیں گے۔ تب جائیں گے۔ تھانیدار پھر واپس ہو گیا۔ ایک گھنٹے بعد کھانا تیار ہو گیا۔ تھانیدار آیا اور دیکھ کر چلا گیا۔ اسے اطمینان ہو گیا کہ ایسے معزز مہمان کو کھانا کھلائے بغیر کون جانے دیتا ہے۔ کھانے سے فارغ ہوئے تو میں نے اپنے ایک رضاکار کو بلایا۔ اسے

صفحہ 138

کہا کہ ٹین کا کنستر بجا کر قادیان کے گلی کوچوں میں اعلان کر دو کہ ظہر کی نماز کے بعد حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ”مسجد شیخاں میں ختم نبوت کے موضوع پر تقریر کریں گے۔ اس اعلان سے قادیان میں ہڑبونگ مچ گئی۔ بھاگیو‘ دوڑیو‘ لپیٹو‘ پکڑیو‘ پولیس الگ بھاگی پھرتی تھی۔ مرزائیوں کی سی آئی ڈی الگ پریشان ہو رہی تھی۔

قصر خلافت میں اہم میٹنگ

مجھے نہیں معلوم کہ مرزا محمود کے قصر خلافت میں کیا مشورہ ہوا۔ مگر جو کچھ میرے سامنے آیا۔ میری آنکھوں نے جو نظارہ دیکھا اس سے جو نتیجہ اخذ ہو سکتا تھا۔ وہ یہی تھا کہ حضرت شاہ جی کو تقریر کا موقعہ نہ دیا جائے۔

حضرت شاہ جیؒ کی تاریخی تقریر

اعلان کے فوراً بعد پولیس گارڈ مسجد شیخاں کے موڑ پر پہرا جما کر کھڑی ہو گئی۔ اسے خیال تھا کہ حضرت شاہ جی بازار کے سیدھے راستے مسجد میں تشریف لائیں گے مگر میں کسی اور فکر میں تھا۔ چنانچہ میں نے حضرت شاہ جی سے عرض کیا کہ آپ میرے ساتھ آئیں میں آپ کو ایک ایسے راستے سے لے چلوں گا کہ آپ کا جی خوش

قادیان کی نبوت

انہی دنوں پنجاب لٹریری لیگ نے سر عبد القادر کی صدارت میں ایک مشاعرہ منعقد کیا۔ تمام اکابر شعراء موجود تھے۔ مولانا‘ مشاعروں میں شاذ ہی شریک ہوتے لیکن یہاں تشریف لے آئے۔ شعراء نے حسب مراتب کلام پڑھنا شروع کیا۔ مولانا کا نام اخیر میں پکارا گیا۔ تمہیداً فرمایا۔ آپ حضرات کو اخبارات سے معلوم ہو چکا ہو گا کہ قادیان کی نقلی

صفحہ 139

نبوت کے جان عالم جناب مرزا بشیر الدین محمود، سیسل ہوٹل لاہور سے مس روفو نام کی ایک اطالوی حسینہ اڑا کے لے گئے ہیں۔ میں نے اس دلفریب سانحہ کی صورت کشی چند اشعار میں کی ہے‘ سماعت فرمائیے:

اے کشور اطالیہ کے باغ کی بہار
لاہور کا دامن ہے تیرے فیض سے چمن
پیغمبر جمال تری دل ربا ادا!
پروردگار عشق ترا چلبلا چلن
الجھے ہوئے ہیں دل تری زلف سیاہ میں
ہیں جس کے ایک تار سے وابستہ سو ختن
پروردہ فسوں ہے تری آنکھ کا خمار
آوردہ جنوں ہے تری بوئے پیرہن
پیمانہ نشاط تری ساق صندلیں
بیعانہ سرور ترا مرمریں بدن
رونق ہے ہوٹلوں کی ترا حسن بے حجاب
جس پر فدا ہے شیخ تو لٹو ہے برہمن
جب قادیاں پہ تیری نشیلی نظر پڑی
سب نشہ نبوت جعلی ہوا ہرن
میں بھی ہوں تیری چشم پر افسوں کا معترف
جادو وہی ہے آج جو ہو قادیاں شکن

مولانا کی ابتدائی نثری تمہید پر بعض لوگ چیں بہ جبیں ہوئے تھے خصوصاً شیخ صاحب اسے مشاعرے کی سپرٹ کے منافی سمجھتے تھے۔ لیکن ان کی شخصیت کے خوف سے انہیں اشارتاً یا کنایۃً بھی کوئی کچھ نہ کہہ سکتا تھا۔ انہوں نے شعر پڑھنا شروع کیے تو تمام مشاعرہ لوٹ لیا۔ حاجی لق لق سر مشاعرہ ناچنے لگے۔ خود شیخ صاحب کا یہ عالم تھا کہ سراپا داد ہو کر رہ گئے تھے۔

صفحہ 140

(ظفر علی خان، ص ۶۶-۶۷‘ از شورش کاشمیریؒ )

مولانا ظفر علی خان

مولانا دفتر زمیندار سے نیچے تشریف لائے۔ اسٹیج پر گئے اور لوگوں سے للکار کر کہا کہ بیٹھ جائیے اور لوگ ایک دوسرے سے جڑ کر بیٹھ گئے۔ یہ پہلا دن تھا میں نے ظفر علی خان کو سنا۔۔۔۔۔ پہلے قرآن مجید کی کچھ آیتیں پڑھیں‘ پھر بولنا شروع کیا جو کچھ کہہ رہے تھے۔ اس کی گونج اور گرج ہی حافظہ میں باقی ہے لیکن مجمع کا رنگ بسرعت بدل گیا۔ مولانا نے ہاتھ اٹھوا کر لوگوں سے عہد کیا کہ :

۔۔۔۔۔ ”جب تک علم دین کی لاش جو میانوالی میں امانت کے طور پر دفن کی گئی ہے‘ لاہور نہیں آئے گی۔ ان پر خواب و خور حرام ہے اور وہ اس چرخ نیلی فام کے نیچے‘ فلک کج رفتار کی قبائے زر نگار پر جگمگاتی ہوئی قندیلوں کو گواہ بنا کر حلف اٹھاتے ہیں کہ انگریزی حکومت کے کارکنان قضا و قدر نے اگر کل شام تک علم دین کی لاش کو فرزندان توحید کے سپرد نہ کیا تو وہ سول نافرمانی کرتے ہوئے میانوالی جائیں گے اور وہاں سے لاش لا کر ہی دم لیں گے۔“

۔۔۔۔۔ ”نعرہ ہائے تکبیر۔۔۔۔۔ ظفر الملت والدین مولانا ظفر علی خان زندہ باد۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔ اور یہ مولانا کا انداز تقریر تھا‘ خطابت میں انشا کی اس دلاویزی پر مجمع لوٹ پوٹ ہو گیا۔ لوگوں کو اس سے غرض نہ تھی کہ مولانا نے جو فقرے کہے ہیں‘ انہیں (عوام) کتنے الفاظ کے معانی آتے ہیں لیکن مجمع عش عش کر اٹھا۔ ان کے لیے رب کعبہ‘ انگریزی حکومت‘ علم دین کی لاش اور فرزندان توحید جانی پہچانی حقیقتیں تھیں ”اور لے کر ہی دم لیں گے“ نعرہ مستانہ اس طویل و بلیغ فقرے کے معانی ان کی روح میں از خود پیوست ہو گئے۔ حکومت کو اگلے روز ہی سپر انداز ہونا پڑا۔ علم دین کی لاش لاہور لانے کا اعلان کر دیا گیا۔ سر محمد شفیع پنجاب میں برطانوی اعوان و انصار کے روح رواں تھے۔ حکومت نے ان کے سر سہرا باندھنا چاہا لیکن عوام میں ظفر علی خان ہی زندہ باد تھے۔ دادا ابا رات بھر‘

صفحہ 141

دوستوں کی منڈلی میں سماوار اور فنجان آگے رکھے‘ تبصرہ کرتے رہے:

۔۔۔۔۔ ”بھلا ظفر علی خان کی للکار کے آگے کون ٹھہرتا؟ ضیغم دھاڑتا ہے‘ دن چڑھا نہیں کہ لاش آگئی۔ یار لوگ خواہ مخواہ سر شفیع کو بانس پر چڑھا رہے ہیں۔۔۔۔۔“

۔۔۔۔۔ علم دین کی لاش کا فقید المثال جلوس نکالا گیا۔ میں شروع سے آخر تک مولانا کے پیچھے پیچھے جلوس میں شامل رہا۔ وہ ہمراہیوں سے باتیں کرتے جاتے اور میں ان کے چہرے پر نظریں گاڑے چل رہا تھا‘ اور یہ سوال میرے لاشعور میں بار بار ابھرتا رہا۔۔۔۔۔ بڑے آدمی کیونکر بنتے ہیں؟

مولانا نے میانی صاحب پہنچ کر قبر کی گہرائی دیکھی۔ اس میں اتر کر لیٹے‘ جائزہ لیا۔ پھر تھوڑی دیر وہاں ٹھہر کر دفتر چلے گئے۔ گھر پہنچتے ہی دادا جان سے سارا قصہ کہا‘ بہت خوش ہوئے اور دادی اماں سے کشمیری زبان میں کچھ کہنے لگے۔ میں نے دادی اماں سے پوچھا؟

بابا کیا کہتے ہیں؟ کہنے لگیں‘ کہتے ہیں:

۔۔۔۔۔ ظفر علی خان ویری ناگ کا چشمہ ہے۔

۔۔۔۔۔ اس کا پانی امرت ہے۔

۔۔۔۔۔ وہ ٹھنڈا بھی ہے اور مصفا بھی۔

۔۔۔۔۔ اس کے اشجار کی چھاؤں گلمرغ کے چناروں کی چھاؤں سے بھی خوشگوار ہے۔

(”ظفر علی خان“، ص ۲۰۔۲۱‘ از شورش کاشمیریؒ)

مولانا تاج محمودؒ اور ڈاکٹر عبدالسلام کا نوبل پرائز:

مولانا سب سے زیادہ غمگین اس وقت نظر آئے جب کہ ایک قادیانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل پرائز ملا اور حکومت نے سرکاری سطح پر اس کی پذیرائی کی۔ جمعہ کا روز تھا۔ مولانا حسب معمول تقریر جمعہ کے لیے تشریف لائے۔ منبر پر بیٹھے‘ کرب کے آثار چہرے سے ظاہر تھے۔ حکومت کے رویے کی بھرپور مذمت فرماتے ہوئے بولے! ہم

صفحہ 142

ضیاء الحق سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اس سے پہلے اس ملک میں فیض احمد فیض کو لینن پرائز ملا تھا۔ فیض احمد کو سرکاری سطح پر کوئی پذیرائی نہ ملی۔ حکومت کہہ سکتی ہے کہ فیض کمیونسٹ تھا۔ روس دشمن ملک ہے اس لیے ہم اس کی پذیرائی کیوں کرتے۔ لیکن کچھ عرصہ قبل مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کو شاہ فیصل ایوارڈ ملا ہے ان کو تو کسی نے اسلام آباد میں بلا کر استقبالیہ نہ دیا۔ آخر عبدالسلام کو کونسا سرخاب کا پر لگا ہے کہ پوری حکومت کی مشینری حرکت میں آ گئی ہے۔ جگہ جگہ سرکاری احکامات کے تحت استقبالیے دیئے جا رہے ہیں۔ ایک استقبالیہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں بھی دیا جانے والا ہے۔ میں نے فیصل آباد کی انتظامیہ پر اور زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر غلام رسول پر یہ بات واضح کر دی ہے کہ اگر عبدالسلام کو زرعی یونیورسٹی میں استقبالیہ دیا گیا تو ہم کالی جھنڈیاں لے کر وہاں پہنچیں گے اور مزاحمت کریں گے، اگر حالات بگڑے تو ذمہ داری انتظامیہ اور حکومت پر ہو گی۔

(مولانا کی تقریر کی وجہ سے انتظامیہ کو یہ استقبالیہ منسوخ کرنا پڑا۔ اسی تقریر میں مولانا نے فرمایا کہ نوبل پرائز کا ملنا ہمارے نزدیک کوئی اعزاز کی بات نہیں کیونکہ نوبل ایک یہودی تھا۔ یہ پرائز دینے والی انجمن بھی یہودیوں کی انجمن ہے وہ کبھی کسی مسلمان شخصیت کو یہ پرائز نہیں دیتے۔ ایک مرتبہ علامہ اقبال کا نام نوبل پرائز کے لیے تجویز ہوا تھا۔ فائنل اتھارٹی نے اس تجویز سے اتفاق نہ کیا اور علامہ اقبال کے بجائے پرائز ڈاکٹر رابندر ناتھ ٹیگور کو دیا گیا۔ کیا عبدالسلام علامہ اقبال سے بڑھ کر ہے؟ عبدالسلام گورنمنٹ کالج لاہور کا ایک عام لیکچرار تھا۔ اس کی A.C.R سالانہ خفیہ رپورٹ میں اس وقت کے پرنسپل نے لکھا کہ یہ شخص اپنے مضمون میں پوری دسترس نہیں رکھتا اور اپنا مضمون پڑھانے کے لیے نااہل ہے۔ اس زمانے میں پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی قادیانی ہوا کرتا تھا۔ پانچ وظائف باہر سے آتے تھے۔ قاعدہ کے مطابق ضروری تھا کہ ان وظائف کو اخبار میں مشتہر کیا جاتا اور اہل لوگوں کو وہ وظائف دیے جاتے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ان پانچ وظائف میں سے ایک وظیفہ قادیانی ہونے کے ناطے عبدالسلام کو تفویض کر دیا گیا اور اس طرح عبدالسلام کو چور دروازے سے اعلیٰ تعلیم کے لیے باہر بھجوا دیا گیا۔

صفحہ 143

(ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد، مولانا تاج محمود نمبر، ص ۵۸)

تھا تیرگی میں محبت کی وہ قندیل
سوئے ہوئے لوگوں کے لیے صور اسرافیل (مولف)

اگر دعاؤں سے کام چل سکتا تو.......

تحریک ختم نبوت کے زمانے میں شاہ جی سے کسی نے کہا۔ شاہ جی ایسے کام نہ کیجئے جن سے آپ کو تکلیف برداشت کرنا پڑے۔ اب آپ ضعیف ہیں۔ ضعیف العمری کا تقاضا ہے کہ اب آپ آرام کریں۔ شاہ جی نے بڑے جلال سے کہا۔ ناموس رسالت ﷺ خطرے میں ہے۔ اغیار، شمع رسالت بجھانے کے درپے ہیں اور تم مجھے آرام کرنے کا مشورہ دے رہے ہو؟ بھائی تم مجھے یہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ میں خود کشی کر لوں؟ بخاری زندہ ہو اور خاموش رہے؟ بھلا یہ کیسے ممکن ہے؟ ان صاحب کی یہ حالت تھی کہ...... کاٹو تو لہو نہیں بدن میں!

(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ امیر شریعت نمبر، حصہ دوم، ص ۵۰۶)

احرار کی معرکہ آرائیاں

دفتر احرار میں احرار رہنماؤں کا اجتماع:

بات کہیں سے کہیں نکل گئی، میں یہ کہہ رہا تھا کہ توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف احتجاج سے بھرا ہوا ایک ہجوم بے پناہ شاہ محمد غوث والی سڑک اور باغات میں جمع ہو گیا۔ گویا ایک تقاضا عام تھا کہ احرار اس احتجاج کو عملی شکل دینے میں قوم کی رہنمائی کریں۔ اس صورت حال میں مجلس احرار کے دفتر کی بالائی منزل پر احرار کے بڑے بڑے رہنما سراسیمگی اور پریشانی کے عالم میں جمع ہوئے اور مسلمانوں کے جذبات کو کم کرنے اور منظم کرنے کے وسائل پر غور کرنے لگے۔ اس موقعہ پر میری یاد کے مطابق منجملہ دیگر

صفحہ 144

احرار کے چودھری افضل حق‘ مولانا حبیب الرحمٰن‘ مولانا مظہر علی‘ مولانا داؤد غزنوی‘ شیخ حسام الدین‘ مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور مولانا غلام غوث ہزاروی اور سب سے اہم اور ممتاز سید عطاء اللہ شاہ بخاری موجود تھے۔ بحث کے جو نقاط تھے۔

اول: کہ توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مسئلہ کو عدالت میں لایا جائے۔

دوم: آریہ سماجیوں کی سرکوبی کے لیے حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی جائے۔

یہ بحث بڑے معرکے کی بحث تھی۔ ایک طرف وضع احتیاط کا انداز تھا اور دوسری طرف جرات غازیانہ کا مظاہرہ تھا۔ اندرون خانہ اس بحث میں ہر قسم کی باتیں ہوئیں اور یہ خصوصیت احرار میں ہی دیکھی گئی تھی کہ سخت سے سخت بحث کے باوجود احرار برادری کا احساس کبھی کمزور نہیں ہوتا تھا

امیر شریعت کی اہل لاہور کو یقین دہانی

شاہ محمد غوث والی سڑک پر ہجوم اور زیادہ ہوتا گیا اور اب شاید مخالفوں کے لوگ بھی ہجوم میں شامل ہو گئے تھے اور نعروں کا انداز کچھ ایسا تھا کہ گویا اگر کوئی جلد فیصلہ نہ ہوا تو دفتر احرار اور رہنمایان احرار کی بھی خیر نہیں۔

اسی شور و شغب کے عالم میں سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے بالکونی سے اپنا چہرہ دکھایا اور کہا:

”اے باشندگان لاہور! معاملہ عزت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور اس کے لیے ہماری جماعت ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس مقدس جہاد میں وہ لوگ شریک نہیں جن کو اپنے دعوے کے مطابق اب تک میدان میں آچکنا چاہیے تھا۔ ہم عزت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ مگر جاؤ ان رہنماؤں کو بھی لے آؤ جو ہم سے الگ مسلک رکھتے ہیں تاکہ یہ جہاد آخری جہاد ہو اور اس میں پوری قوم شریک ہو۔

صفحہ 145

سول نافرمانی کی تحریک

سید عالی مقام کی اس تجویز سے دو اثر مرتب ہوئے۔ بعضوں نے کہا کہ جھوٹ کہہ رہے ہیں، بعضوں نے کہا۔ آخر کار احرار ہی قوم کے کام آئی، یہ خان بہادر، سر اور نواب اب کہیں نظر نہیں آتے۔

احرار کی میٹنگ پھر شروع ہوئی، شاطروں کی پہلی چال ذرا سی ناکام رہی، مگر شاطروں کی قوم حوصلے والی قوم ہوتی ہے۔ ہجوم پھر مشتعل کر دیا گیا۔ میٹنگ کے اندر اب بحث اس نکتے پر آکر رک گئی کہ عدالت میں چارہ جوئی اب بہانہ جوئی کے مترادف سمجھی جائے گی۔ اس لیے سول نافرمانی کے بغیر کوئی چارہ نہیں مگر سوال یہ پیدا ہوا کہ ایسی سول نافرمانی میں پوری قوم کو شریک کیوں نہ کیا جائے مگر اس کے لیے پھر التوا ضروری تھا۔ اس لیے یہاں بحث بند ہو جاتی تھی۔

چودھری افضل حق کی رائے

چودھری افضل حق کا خیال تھا کہ سول نافرمانی کا مسئلہ طے شدہ ہے مگر شہر کے دوسرے رہنماؤں سے بھی اشتراک کی درخواست ضروری ہے تاکہ نقصان کی صورت میں یہی دوسرے رہنما قوم کو یہ کہہ کر نہ بھڑکائیں کہ دیکھا ہم عدالت کے ذریعے سارے مسائل حل کرا لیتے۔ یونہی مسلمانوں کا خون کرا دیا اور بات ٹھیک تھی مگر بڑا مسئلہ یہ تھا کہ باہر کے ہجوم کو کس طرح مطمئن کیا جائے۔ عالی مقام سید عطاء اللہ شاہ بخاری بڑے راست پسند آدمی تھے۔ مگر سیاست میں باہر کے شاطروں کی ماریں کھا کھا کر یہ ضرور جاننے لگے تھے کہ شاطروں کے بچھائے ہوئے جال میں پھنسنا نہیں چاہیے۔ تاہم مسئلہ کے حل کی جو صورت بھی سامنے آتی وہ خطرناک اور نازک معلوم ہوتی تھی۔

صفحہ 146

امیر شریعت کا فیصلہ اور بحث کا خاتمہ

اب سہ پہر ہو چکی ہے اور چار بجا چاہتے ہیں اور ہجوم اور بھی بڑھتا جا رہا ہے، نعروں کی آوازیں اتنی بلند اور گونج دار ہوتی جارہی ہیں کہ مجلسی بحث میں لوگ ایک دوسرے کی بحث کو سن بھی نہیں سکتے۔ دفعتاً سید صاحب اٹھ کھڑے ہوئے اور دوسرے کمرے میں چلے گئے اور دو رکعت نماز پڑھی اور دیر تک سجدے میں رہے اور جب سجدے سے اٹھے تو ان کی آنکھیں اشکبار تھیں اور زبان پر یہ الفاظ :

اللہم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم و علی آل ابراہیم انک حمید مجید

کہتے ہوئے پھر مجلس میں داخل ہوئے اور فرمایا ”آج ہمارا طریق کار صرف ایک ہی ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ شہر کے سرکاری رہنماؤں کو ان کے حال پر چھوڑ کر اور ہر مصلحت سے آنکھ بند کر کے ناموس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہر وہ اقدام کیا جائے جس کی ضرورت ہو۔ یہ فرمانے کے بعد فرمایا۔ بس میری یہی رائے ہے فقط۔“

جلسہ عام کا نفاذ اور دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ

حضرت سید صاحب کے اس نعرہ حق کے بعد بحث و استدلال کا چراغ گل ہو گیا اور ساری جماعت نے سید عالی مقام کی پیروی کرنے کا اعلان کیا اور فیصلہ ہوا کہ دہلی دروازے کے باہر جلسہ عام کی فوری منادی کرا دی جائے۔ میر علم دین (جن کی اسیری کی مدت میری دانست میں بالاقساط پندرہ برس سے کم نہ ہوگی) کی آنکھیں چمک اٹھیں اور چہرہ غیرت دینی سے تمتما اٹھا۔ ڈھنڈورا پیٹنے والے اطراف شہر میں پھیل گئے۔

اب ہجوم شہر کی کوتوالی سے لے کر اکبری دروازے تک پھیل گیا اور احرار کے

صفحہ 147

رضا کار باغ میں پلیٹ فارم جمانے میں مصروف ہو گئے۔ اب لوگ کوتوالی سے سرک سرک کر باغ میں پلیٹ فارم کے ارد گرد جمع ہونے لگے۔ اس اثناء میں شاطران شہر نے حکام سے مل کر ان پر اثر ڈالا کہ فرقہ وارانہ فساد کا سخت خطرہ ہے۔ جلسہ روکا جائے ورنہ بڑا خون خرابا ہوگا۔ احرار ابھی اپنے انتظامات درست کر ہی رہے تھے کہ پولیس ایک مسلح گارڈ (انگریز) کے سمیت اور شاید مسٹر فیلوس سٹی مجسٹریٹ کی معیت میں دفتر احرار کے سامنے پہنچی اور اپنے خاص ایلچی کے ذریعے احرار رہنماؤں کو مطلع کیا کہ حکومت کے نزدیک مجوزہ جلسہ عام نقص امن کا باعث ہوگا۔ اس لیے جلسہ ممنوعہ قرار دیا جا چکا ہے اور اس تاریخ سے ایک ماہ تک کے لیے دفعہ ۱۴۴ نافذ کی جاتی ہے۔

عزم امیر شریعت

اب احرار رہنماؤں کو ایک نئی مشکل پیش آئی۔ موضوع یہ تھا کہ اگر اس حکم کے باوجود جلسہ کیا جائے تو فائرنگ کا ہونا یقینی ہے اور اس صورت میں نقصان جان کی ذمہ داری کا سوال ہے۔ ایک تجویز یہ ہوئی کہ سارے احرار لیڈر اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کر دیں۔ مگر سوال پیدا ہوا کہ ہجوم کی تسکین کے علاوہ اس سے اصل مسئلہ کا حل کس طرح نکلے گا۔

بڑا پیچیدہ مسئلہ تھا۔ مگر اب عالی مقام فیصلہ کر چکے تھے۔ انہوں نے فرمایا آج جلسہ ہو گا اور ضرور ہو گا البتہ چودھری افضل حق کی تجویز پر یہ اتفاق ہوا کہ کھلی جگہ جلسہ کرنے کی بجائے وطن بلڈنگ کے احاطے میں جلسہ کیا جائے اور حکومت کے رویہ کے خلاف احتجاج کے علاوہ توہین رسول ﷺ کے مسئلہ پر مسلمان قوم کی کسی متحدہ روش کی تجویز پر غور کیا جائے۔

صفحہ 148

چودھری افضل حق اور مجسٹریٹ کے درمیان گفتگو

احرار رضا کار اس فیصلہ کو لے کر ہجوم میں پھیل گئے اور اب لوگوں کا اجتماع وطن بلڈنگ میں ہو تا گیا۔ شام ہو چکی تھی۔ احرار رہنماؤں نے مسجد شاہ محمد غوث میں نماز ادا کی اور بعد از نماز معمولی سی مشاورت کے بعد جلسہ گاہ کا رخ کیا۔ یہ رہنما احاطہ کے دروازے پر پہنچے ہی تھے کہ سٹی مجسٹریٹ نے احاطے کے اندر کے جلسہ کو بھی ممنوع قرار دے دیا۔ اس پر ان کے اور چودھری افضل حق کے درمیان دیر تک بحث مباحثہ ہو تا رہا۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ ہجوم سے بات کرنے کا موقع ضرور دیا جائے تاکہ لوگ پرامن طریقوں سے گھروں کو واپس چلے جائیں مگر مجسٹریٹ نے ضد کی۔

سول نافرمانی کا فیصلہ اور شاہ جیؒ کی تقریر

اس صورت حال کو دیکھ کر سید عالی مقام نے احرار رہنماؤں کو مشورہ دیا کہ اب حکومت سے ٹکراؤ ناگزیر ہو گیا ہے۔ چنانچہ سول نافرمانی کا فیصلہ کر لیا گیا اور بہر صورت جلسہ شروع ہو گیا جس کی صدارت چودھری افضل حق ایم۔ ایل۔ اے نے کی۔

میں نے مرحوم سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی بیسیوں تقریریں سنی ہیں مگر اس رات کی تقریر کچھ ایسی تھی جس کا نقش کبھی مٹ نہ سکے گا۔ مگر تقریر سے زیادہ سید صاحب کی تدبیر کا بھی اسی روز قائل ہوا، احاطہ مختصر تھا اور ہجوم زیادہ۔ اور خطرہ یہ تھا کہ باہر کا ہجوم کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھے جس سے پولیس کو فائرنگ کا بہانہ مل جائے۔ میں نے دیکھا کہ اکثر احرار رہنما (ہر چند کہ وہ بھی شعلہ بیان تھے) بے بسی کے عالم میں تھے۔ اس لیے صدر جلسہ نے اغراض اور صورت حال پر معمولی سی روشنی ڈالنے کے بعد فرمایا کہ آج ہماری باگ ڈور سید عالی مقام کے ہاتھ میں ہے اس لیے آپ انہی کے احکام کی سماعت کیجئے۔ سید صاحب نے سب سے پہلے باہر کے ہجوم سے خطاب کیا ”اے شمع رسالت کے پروانو! میں جانتا ہوں کہ آج تم شوق شہادت میں یہاں بے تابانہ آئے ہو، مگر حفاظت ناموس رسول ﷺ کی

صفحہ 149

لڑائی تم سے نظم و ضبط کا تقاضا کرتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ شہر لاہور بلکہ مسلمانان ہندوستان کا بچہ بچہ اپنی اپنی باری سے قربانی پیش کرے، لہٰذا جو لوگ دروازے پر باہر کھڑے ہیں۔ دو دو چار چار کی ٹولیاں بنا کر اور بکھر کر اپنے اپنے گھروں کو واپس ہو جائیں۔ ان کی باری کل آئے گی اور جو لوگ احاطے کے اندر ہیں وہ پولیس یا فائرنگ کے خوف سے اپنی جگہ سے سرک نہ جائیں اور ایک نظم اور قاعدہ کے تحت اپنے آپ کو قربانی کے لیے پیش کر دیں۔“

شاہ جی کی تقریر

دروازے پر غل ہوا، معلوم ہوا کہ شاطران شہر کے کچھ کارندے لوگوں کو سید صاحب کی تقریر کے خلاف مشتعل کر رہے تھے اور اس پر ملک لال دین اٹھے اور دروازے پر کھڑے ہو گئے اور باہر کے ہجوم کو سید صاحب کے اعلان سے باخبر کیا۔ ملک لال دین قیصر موقعہ پر گرفتار ہو گئے، مگر باہر کا ہجوم منتشر ہو گیا۔ اب سید صاحب کی تقریر شروع ہوئی۔ تقریر کیا تھی آنسوؤں اور شعلوں کا اجتماع تھا۔ جوش کی انتہا تھی اور آہ و کراہ کی آوازیں ہر طرف سے سنائی دے رہی تھیں۔ مجھے سید صاحب کی تقریر کے الفاظ یاد نہیں رہے مگر ایک دو فقرے ابھی تک دماغ میں کھبے ہوئے ہیں۔

”اے مسلمانان لاہور آج جناب رسول ﷺ کی آبرو تمہارے شہر کے ہر دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ اے امت رسول ﷺ آج ناموس محمدی کی حفاظت کا سوال درپیش ہے اور یہ سانحہ سقوط بغداد سے بھی زیادہ غمناک ہے۔ زوال بغداد سے ایک سلطنت پارہ پارہ ہو گئی تھی، مگر توہین رسولؐ کے سانحہ سے آسمانوں کی بادشاہت متزلزل ہو رہی ہے۔“

تقریر سید صاحب کی تھی مگر اس روز سید صاحب اپنی معمول کی تقریر کے موڈ میں نہ تھے اور یہ معلوم ہے کہ سید صاحب کی عام تقریروں میں ظرافت اور بذلہ کا عنصر اصل موضوع کے برابر ہوا کرتا تھا۔ مگر اس روز پانی اور آگ کی ترکیب سے یعنی سرد آہوں اور

صفحہ 150

گرم آنسوؤں کے ملاپ سے ان کی تقریر ڈھل رہی تھی یہ اور ہی طرح کی تقریر تھی۔

شاہ جی کا پولیس سے خطاب

احاطے کے اندر تقریر ہو رہی تھی اور باہر پولیس کی جمعیت زیادہ سے زیادہ صف آرا ہوتی جاتی تھی۔ رات گزری جا رہی تھی اور پولیس والوں کا دل قابو سے باہر ہوا جا رہا تھا۔ آخر سید صاحب نے پولیس والوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ”اے پولیس والو! ہم یہاں صرف اظہار غم کے لیے جمع ہوئے ہیں تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تم ہمیں گرفتار کرنا چاہتے ہو تو ہم حاضر ہیں اور اگر ہمارے ساتھ وہ سلوک مطلوب ہے جو ایک سید زادے کو وراثت میں ملا ہے تو ہمارے سینے اس کے لیے بھی حاضر ہیں۔“ اس پر جلسہ میں شدید زور کی لہر اٹھی اور لوگوں نے کہا کہ ہماری جانیں بھی حاضر ہیں شہر کا کوتوال زیرک آدمی تھا اس نے جلسہ گاہ کے قریب آکر سید صاحب سے کہا کہ آپ جلسہ جاری رکھیے ۔ دفعہ ۱۴۴ صرف باغ کی حدود تک ہے۔ مگر اب پبلک کا جوش بہت بڑھ چکا تھا۔ سینکڑوں آدمی شہادت کے شوق میں بے تابانہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس پر چودھری افضل حق نے کہا (جو آئینی حدود کا ہمیشہ خیال رکھتے تھے) صاحبو! وہ وقت بھی آنے والا ہے جب ہمیں تمہاری جانوں کی ضرورت ہوگی مگر ابھی وہ وقت آیا نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ سب سے پہلے ہم اس قانون کے پرخچے اڑا دیں جو ہمیں توہین رسول ﷺ پر اظہار غم سے روکتا ہے۔ چنانچہ عام سول نافرمانی کا اعلان ہو گیا۔

شاہ جی کی گرفتاری

دس دس اور پھر پانچ پانچ آدمیوں کے دستے پلیٹ فارم کے پاس جاتے تھے اور سید صاحب کی قدم بوسی کر کے باغ کی طرف جا کر گرفتار ہو جاتے تھے۔ ہزاروں آدمی اس شب گرفتار ہوئے۔ میرے پاس میرا دوست مولوی خدا بخش کھڑا تھا۔ اس کا بھائی اور اس کے

صفحہ 151

بھانجے سب گرفتار ہو چکے تھے۔ میں نے اس کو روک رکھا تھا کہ تمہارے لوگ جا چکے ہیں۔ تم سب لوگوں کے گھروں میں ایک مرد بھی اب باقی نہیں جو خبر گیری کرے۔ تمہارا جانا مناسب نہیں مگر وہ دیوانہ وار اٹھا اور سید محترم کے قدموں میں جا گرا اور پھر پانچ آدمیوں کے ہمراہ باہر چلا گیا اور گورے کا ڈنڈا کھانے کے بعد گرفتار ہو گیا اور میں (اس وقت بھی صید لاغر کی طرح بے مصرف ہی رہا)

مے خون ہو آنکھوں سے بہا تک نہ ہوا داغ
اے خون شدہ دل تو کسی کام نہ آیا!

جب سول نافرمانی کرنے والوں کی آخری ٹولی بھی چلی گئی تو احرار لیڈروں کی جماعت سید صاحب مرحوم کی سرکردگی میں باہر نکلی اور سید صاحب کے پر درد طریق سلام و صلوٰۃ کی گونج میں باغ کے قریب جا پہنچی اور وہیں گرفتار ہو گئی اور اس طرح یہ شب ختم ہو گئی اور میرے ذہن پر سید عالی مقام کا انمٹ نقش چھوڑ گئی۔

احرار کے بڑے بڑے لیڈر تو گرفتار ہو گئے مگر سول نافرمانی اضلاع میں پھیل گئی اور آخر یہ اثر ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے خلاف زبان کشائی کرنے والوں کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔

(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ ملتان‘ امیر شریعت نمبر‘ حصہ دوم‘ ص ۴۶۱ تا ۴۶۸)

جن کے جنوں پہ ناز تھا فصلِ بہار کو
وہ عاشقان چاک گریباں نہیں رہے (مولف)

ایک دیوانہ

میرے خسر حضرت الحاج سید محمد شفیع شاہ صاحب مرحوم و مغفور نے اباجی کی وفات کے بعد بتایا کہ:

جس دن بخاری صاحب فوت ہوئے ہیں۔ میں آیا تو اسٹیشن ملتان چھاؤنی پر ایک آدمی بینچ پر بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں اس روز کا اخبار تھا۔ وہ اخبار کھولتا‘ خبر پڑھتا اور

صفحہ 152

دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کر دیتا۔ کئی بار اس نے ایسا ہی کیا۔ میں اسے دیکھتا اور سوچتا رہا کہ اس شخص کا خاندانی تعلق تو کوئی نہیں محض بوجہ اللہ محبت سے اس کا یہ حال ہے۔

(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“، امیر شریعت نمبر، حصہ دوم، ص ۲۶۳)

جس کے نغموں نے خزاں میں پھونک دی روح بہار
باغ سے وہ بلبل شیریں نوا جاتا رہا (مولف)

خانقاہ سراجیہ کا نسخہ

سر سکندر والے کیس میں خانقاہ سراجیہ کندیاں والے حضرت مولانا احمد خاں صاحب کو جب اباجی نے دعاء کے لیے پیغام بھیجا تو انہوں نے وظیفہ پڑھنے کے لیے بتایا اور ساتھ فرمایا تھا ”جے میں ول ہوندا تے میرا اک رات دا کم سی ہن شاہ نوں آکھو تن راتاں پڑھے تے ہوئے گا تماشا“ پھر رپورٹر نے ہی جعلی تقریر کا بھانڈا بر سر عدالت پھوڑ دیا۔ اباجی فرمایا کرتے تھے کہ میں بیٹھا پڑھ رہا تھا آنکھیں بند کیں تو تلوار چلتی دیکھی۔

(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“، امیر شریعت نمبر حصہ دوم، ص ۲۶۱)

آتا ہے قلندروں کو جس وقت جلال
شاہوں کے سروں سے تاج گر پڑتے ہیں (مولف)

حضرت رائے پوری اور حضرت امیر شریعت

گو حضرت امیر شریعت ”حضرت رائے پوری“ کے مرید تھے مگر حضرت رائے پوری ان کو اہم مقام دیتے تھے اور امیر شریعت کے ساتھ انہیں خصوصی محبت اور لگاؤ تھا۔ حضرت امیر شریعت فرمایا کرتے تھے کہ جدوجہد آزادی میں کئی ایسے مشکل مقام آئے جہاں زندگی اور موت میں بہت تھوڑا فاصلہ رہ جاتا تھا۔ مگر حضرت رائے پوری کی خاص روحانی توجہ سے وہ مرحلے آسانی سے طے ہو جاتے۔ شاہ صاحب کو جب کبھی فرصت ملتی تو وہ

صفحہ 153

حضرت کی خدمت میں رائے پور تشریف لے جاتے اور ان کے فیضان نظر سے مستفید ہوتے رہتے۔

جب ۱۹۵۰ء میں حضرت رائے پوری بیماری کی حالت میں بغرض علاج لاہور تشریف لائے تو شاہ جی بھی ملتان سے لاہور پہنچ گئے اور شب و روز حضرت رائے پوری کی خدمت میں رہنے لگے۔ حضرت رائے پوری اکثر انہیں دعا کے لیے کہتے اور شاہ جی نظریں جھکا لیتے۔ میں ان دنوں لائل پور تعینات تھا۔ ایک دن قاضی جی (قاضی احسان احمد شجاع آبادی) بھاگے بھاگے آئے‘ فرمانے لگے۔ لاہور چلنا ہے۔ حضرت رائے پوری کی حالت تشویش ناک ہے۔ ہم بذریعہ کار لاہور پہنچے۔ حضرت کا قیام ڈیوس روڈ کے قریب اپنے ایک عقیدت مند حاجی عبدالمتین کے ہاں تھا۔ ہم وہاں پہنچے۔ حضرت چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے اور مشتاقان دید کا ہجوم اردگرد محو دعا تھا۔ اندر ایک کمرے میں شاہ جی اور شیخ حسام الدین بیٹھے گفتگو کر رہے تھے۔ ساتھ کے کمروں میں آغا شورش کاشمیری‘ ماسٹر تاج الدین‘ جناب عبد الوحید وزیر مغربی پاکستان‘ سابق جنرل حق نواز‘ مولانا احتشام الحق تھانوی‘ مولانا عبید اللہ انور‘ مولانا غلام غوث ہزاروی‘ مولانا ابو الحسن علی ندوی‘ مولانا عزیز الرحمن لدھیانوی اور دہلی سے آئے ہوئے کچھ اور بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔

میں باہر صحن میں بیٹھا تھا اور حضرت رائے پوری بستر علالت پر تھے۔ سب لوگ بارگاہ رب العزت میں حضرت کی صحت کی دعا کر رہے تھے۔ حضرت نے آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔ میں نے ایک بار یہ شعر پڑھا:

خواجہ من نگہدار
آبروئے گدائے خویش

میری حیرانی کی حد نہ رہی۔ کہ حضرت نے آنکھیں کھول کر میری طرف مختصراً دیکھا اور پھر محو استراحت ہوگئے۔ قاضی جی نے دیکھا تو حیران ہوئے۔ مجھ سے پوچھنے لگے۔ میں نے عرض کیا کہ یہ شعر پڑھا تھا۔ فرمانے لگے کہ یہ حضرت کا روحانی تصرف تھا۔ اب نہ پڑھنا۔ حضرت کو آرام کی ضرورت ہے۔ پھر میں اور قاضی صاحب۔ اندر شاہ جی کی خدمت میں جا بیٹھے۔ شاہ جی حضرت سے اپنے تعلق کے واقعات سنا رہے تھے۔ فرمانے

صفحہ 154

لگے:

آزادی برصغیر اور تحریک ختم نبوت کی مسلسل جدوجہد کے دوران انہوں نے محسوس کیا کہ جب وہ رات کے پچھلے پہر تہجد کے لیے اٹھتے ہیں یا اٹھنا چاہتے ہیں تو اکثر نیند کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ وہ اس سے ازحد پریشان تھے۔ انبالہ کی ایک ملاقات میں انہوں نے اپنی اس مشکل کا تذکرہ حضرت رائے پوری سے کیا تو انہوں نے پڑھنے کے لیے ایک وظیفہ بتا دیا۔ شاہ جی نے پڑھا تو اس کے بعد کیفیت یہ ہو گئی کہ نیند بالکل غائب ہو گئی۔ اور اشد ضرورت کے وقت بھی نیند نہ آتی تھی۔ رات گئے تقریر کے بعد جب قیام گاہ پر آتا تو بقیہ وقت کروٹیں بدل بدل کر گزر جاتا مگر تہجد ضرور ادا ہو جاتی۔ اس سے ازحد پریشانی رہی۔ کچھ دوائیاں بھی استعمال کیں مگر کچھ فائدہ نہ ہوا۔ جماعتی کاموں میں بے پناہ مصروفیت کے سبب حضرت رائے پوری سے جلد ملاقات نہ ہو سکی۔ آخر دو ماہ بعد سہارنپور میں ملاقات ہوئی تو میں نے اپنی اس مشکل کا ذکر کیا۔ فرمانے لگے کہ مجھے بھی اس کا بے حد فکر رہا۔ آپ (شاہ جی) کے اصرار پر وظیفہ بتا دیا تھا۔ وگرنہ اس کی ضرورت نہ تھی۔ حقیقتاً آپ کی جدوجہد اور تقریر ہی عبادت کا ایک ایسا ذریعہ ہے کہ کسی نفلی عبادت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ آپ کی تقریر ہی عبادت نفلیہ کی ضرورت پوری کر دیتی ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ تقریر کے بعد نماز فجر تک آرام کیا کریں۔ اس کے بعد نیند کی حالت معمول کے مطابق ہو گئی۔ میں سو بھی لیتا تھا۔ تہجد بھی ادا کر لیتا تھا اور بروقت نماز فجر کے لیے تیار بھی ہو جاتا تھا۔ تھکاوٹ یا نیند کی کمی کا پھر کبھی احساس نہ ہوا۔

(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ امیر شریعت نمبر، حصہ دوم، ص ۱۸۸۔ ۱۸۷)

وہی کچھ دیر میں راز نظام دل سمجھتے ہیں
جو تیرے عشق کو کونین کا حاصل سمجھتے ہیں (مولف)

شاہ جی اور ٹوپی

ایک مرتبہ شاہ جی بنگال کے ضلع دیناج پور کی جیل میں بھیجے گئے۔ وہاں اندرون جیل

صفحہ 155

مولانا عبد اللہ الباقی اور دیگر علماء اور رہنمایان بنگال پہلے سے موجود تھے۔ شاہ جی کے سر پر مراد آبادی ٹوپی تھی۔ ان لوگوں نے بھی دیکھا دیکھی مراد آبادی ٹوپیاں استعمال کرنا شروع کردیں۔

جیل کے انگریز افسروں کو یہ ٹوپیاں سخت ناگوار تھیں اور سب سیاسی قیدیوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ انگریزوں کو یہ ناگوار ہیں تو ہم ان کا استعمال ہرگز ترک نہ کریں گے۔

ایک دن سپرنٹنڈنٹ جیل اور مسٹر سمپسن (Simpson) انسپکٹر جیل خانہ جات معائنہ کے لیے آئے اور تمام سیاسی قیدیوں کو مخاطب کر کے کہنے لگے۔

یہ گاندھی کیپ ہیں، انہیں آپ لوگ نہ پہنا کریں۔

شاہ جی نے آگے بڑھ کر فرمایا:

یہ گاندھی کیپ نہیں بلکہ مراد آبادی کیپ ہیں۔

مگر گاندھی کیپ کے متعلق اصرار جاری رہا۔ شاہ جی نے غصہ میں فرمایا تو پھر یہ قمیض بھی گاندھی ہے اور یہ پاجامہ بھی۔

اس پر سمپسن بہت چڑا۔ اس نے سپرنٹنڈنٹ جیل کو حکم دیا کہ :

ان سب کی ٹوپیاں اتروا لو۔

یہ حکم سنتے ہی اکثر اصحاب نے ٹوپیاں خود بخود اتار کر حکام جیل کے حوالے کر دیں۔

سپرنٹنڈنٹ جیل شاہ جی کی طرف بڑھا اور کہا کہ :

آپ بھی ٹوپی اتار دیں۔

شاہ جی نے فرمایا : سر اترنے سے پہلے یہ ٹوپی نہیں اتر سکتی۔ پہلے سر اتارو پھر ٹوپی اتار لینا۔ شاہ جی نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اگر میری ٹوپی پر اس نے ہاتھ ڈالا تو دونوں افسروں کو گرا کر آج میں سمپسن کا خون پیوں گا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس وقت میرے سامنے بہادر شاہ ظفر کے بیٹوں کا خون تھا اور میری صحت بھی ماشاء اللہ بہت اچھی تھی۔

جب سپرنٹنڈنٹ جیل نے شاہ جی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو آپ نے اس کی کلائی پکڑ لی اس پر کچھ اس قسم کی ہیبت طاری ہوئی کہ چوٹی سے لے کر ایڑی تک وہ پسینہ میں لت پت ہو گیا اور وہ پیچھے ہٹنے لگا۔ شاہ جی نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور وہ دونوں افسر بڑ بڑاتے ہوئے

صفحہ 156

احاطے سے باہر چلے گئے۔

اس کے بعد ادھر تمام رفقاء جیل سمجھے کہ شاہ جی پر بڑی مصیبت کا پہاڑ ٹوٹنے لگا اور جب سمپسن دفتر پہنچا ابھی آرام سے بیٹھا بھی نہ تھا کہ دو پستولوں سے مسلح ٹیررسٹ جوان آئے اور انہوں نے سمپسن کو للکار کر کہا:

تیار ہو جاؤ مسٹر سمپسن (Ready mr.Simpson) پھر بیک وقت دونوں نے فائر کئے چشم زدن میں سمپسن خاک کا ڈھیر تھا۔ کچھ وقفہ کے بعد جب شاہ جی اور ان کے رفقاء کو اطلاع ملی تو شاہ جی نے مارے خوشی کے زور سے کہا۔ وہ مارا۔ ان کی اس گرج پر رفقاء گھبرا گئے کہ کہیں اس سازش میں ہم پر مقدمہ قائم نہ ہو جائے۔ شاہ جی نے فرمایا: ظالم دشمن مارا ہے۔ اب بھی خوشی نہ منائیں۔

(”شاہ جی کے علمی و تقریری جواہر پارے“ ص ۲۴۰ تا ۲۴۲‘ از اعجاز احمد سنگھانوی)

عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم

شاہ صاحب کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حد درجہ عشق تھا جو بات بات میں زبان پر آتا تھا۔ چنانچہ ایک موقعہ پر فرمایا:

”خدا کی عبادت‘ رسول کی اطاعت‘ انگریز کی بغاوت‘ یہ میرا ایمان ہے اور رہے گا۔ خدا معبود ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم محبوب اور انگریز مغضوب۔ خدا کو جو جی میں آئے کہو اس کا محاسبہ وہ خود کرے گا۔ مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سوچ لینا یہ معاملہ عقل و خرد کا نہیں‘ عشق کا ہے۔ عشق پر زور نہیں ہوتا اور نہ اپنے پر اختیار۔ پھر یہ نہیں سوچا جائے گا کہ قانون کیا کہتا ہے اور زمانہ کیا چاہتا ہے پھر جو ہونا ہو گا ہو جائے گا۔ جو ہو گا وہ دیکھا جائے گا۔ (امروز ص ۱۱‘ ۱۵ اکتوبر ۱۹۶۱ء)

(”شاہ جی کے علمی و تقریری جواہر پارے“ ص ۱۵۶۔۱۵۷‘ از اعجاز احمد سنگھانوی)

فاتح کون و مکاں ہے جذبہ عشق رسولؐ
کچھ نہیں ہوتا یہاں بے گرمی سوز بلالؓ (مولف)
صفحہ 157

میں اور قادیان

از سید عبد المجید شاہ امجد بخاری بٹالوی

ابھی میری عمر قریباً چھ برس تھی کہ مجھے پہلی دفعہ اپنے تایا صاحب سید نظام الدین رحمتہ اللہ کے ہمراہ قادیان جانے کا اتفاق ہوا۔ میرے تایا صاحب اور مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے درمیان بہت گہرے تعلقات تھے۔ اور اس موقعہ پر مرزا صاحب نے میرے تایا صاحب کو اپنے فرزند ارجمند کے عقیقہ کی تقریب پر مدعو کیا تھا‘ جو غالباً مرزا بشیر الدین کے بڑے بھائی تھے۔ میرے تایا صاحب اپنی اہلیہ کو اور مجھے ساتھ لے گئے مرزا صاحب کی اہلیہ بحالت زچگی زنانہ کمرے میں آرام فرما تھیں اور میرے تایا صاحب اور مرزا غلام احمد صاحب دیوان خانہ میں مصروف گفتگو رہے۔ گھر میں میری عمر کا ایک لڑکا تھا جو شاید ڈاکٹر اسماعیل تھا۔ ہم دونوں آپس میں اکٹھے کھیلا کرتے تھے۔ چنانچہ چند روز قادیان میں گزار کر ہم واپس بٹالہ آگئے۔ تایا صاحب مرحوم نے دہلی میں دینی تعلیم حاصل کی اور وہاں علمائے کرام اور بزرگان دین سے فیوض ظاہری اور باطنی حاصل کیے تھے۔

مرزا صاحب کو جب کبھی قادیان سے باہر جانا ہوتا تو وہ عام طور پر بٹالہ میں تایا صاحب سے مل کر جاتے۔ کیونکہ ان دنوں بٹالہ ہی سے گاڑی پر سوار ہونا پڑتا تھا۔ یہ ملاقاتیں اسی وقت تک تھیں جب تک کہ مرزا صاحب نے ابھی کسی قسم کا کوئی دعویٰ نبوت وغیرہ نہ کیا تھا۔ دعویٰ مسیحیت کے بعد جب وہ تایا صاحب کی ملاقات کے لیے آئے تو تایا صاحب نے فرمایا ‘کہ مرزا صاحب کل تک آپ مبلغ اسلام یا مناظر اسلام تھے‘ مجھے آپ سے اتفاق تھا مگر اب چونکہ آپ حدود شریعت سے تجاوز کر رہے ہیں‘ اب آپ کی اور میری نبھتی معلوم نہیں ہوتی۔ مرزا صاحب نے فرمایا کہ میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اس سے میری مراد یہ ہے کہ جس طرح مسیح مردوں کو

صفحہ 158

زندہ کیا کرتے تھے، اسی طرح میں ان مردہ دلوں کو زندہ کرتا ہوں جو اسلام سے دور جا رہے ہیں، اپنی وعظ و نصیحت سے زندہ کرتا ہوں۔ تایا صاحب نے فرمایا کہ مجھے آپ کی اس تاویل سے الحاد کی بو آ رہی ہے۔ اور شاید یہ فتنہ قیامت بن کے رہے۔ اس روز سے تایا صاحب نے مرزا صاحب سے ملنا جلنا ترک کر دیا۔

اس کے بعد میرا طالب علمی کا زمانہ شروع ہوا۔ مڈل پاس کرنے کے بعد جب میں انٹرنس میں داخل ہوا، تو میرے رشتے کے بھائی محترم سید شاہ چراغ صاحب قادیانی بھی بٹالہ تشریف لائے اور میرے ساتھ انٹرنس میں داخل ہوئے۔ ان کی رہائش بھی ہمارے ہاں ہی تھی۔ دو چار دفعہ رخصتوں کے موقعہ پر ان کے ساتھ بھی وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ اس کے بعد میری ابتدائی ملازمت سپرنٹنڈنٹ ڈاک خانہ امرتسر ڈویژن کے دفتر سے شروع ہوئی اور ملازمت کا کچھ عرصہ سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میں ہی گزارا۔

مرزا صاحب کی وفات

جس روز مرزا صاحب لاہور میں فوت ہوئے اس دن میں اتفاق سے رخصت پر بٹالہ آیا ہوا تھا۔ اسی روز صبح چھ بجے کے قریب تایا صاحب غریب خانہ پر تشریف لائے اور فرمایا، کہ میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں مگر تم کہو گے کہ تایا سترا پچہترا گیا ہے۔ اس وقت تایا کی عمر ایک سو پانچ (۱۰۵) برس کی تھی۔ میں نے کہا، کہ آپ وہ بات ضرور بتاویں۔ فرمایا، کہ مجھے رات ایسا معلوم ہوا ہے کہ مرزا غلام احمد لاہور سے بخیریت قادیاں واپس نہیں جائے گا۔ میرے چہرے پر کچھ مسکراہٹ کے آثار دیکھ کر فرمانے لگے، وہی بات ہوئی نہ۔ میرے ایک اور بزرگ پاس بیٹھے تھے۔ انہوں نے فرمایا، کہ یہ ابھی بچہ ہے۔ اسے کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایسے اسرار سے مطلع کر دیتا ہے۔ چنانچہ ابھی دن کے ساڑھے دس بجے تھے کہ شیخ عبدالرشید صاحب کو جو ہمارے پڑوسی اور مرزا صاحب سے عقیدت رکھنے والے تھے لاہور سے تار آیا کہ مرزا صاحب کا لاہور میں دن کے نو بجے انتقال ہو گیا ہے۔ ان کی نعش کو رات کی گاڑی بٹالہ لایا جا رہا ہے، اسے قادیان لے جانے کے لیے انتظام کر چھوڑیں۔

صفحہ 159

قادیان میں ملازمت

۱۹۱۰ء میں محکمہ کی طرف سے مجھے قادیان کے سب پوسٹ ماسٹر کا حکم ملا۔ میں نے سپرنٹنڈنٹ سے گزارش کی کہ قادیان کی فضا میری طبیعت اور حالات کے موافق نہیں، میرا وہاں کا تبادلہ منسوخ کیا جاوے۔ کیوں کہ پہلے تو امرتسر میں صبح کو استاذی حضرت حاجی الحرمین الشریفین مولانا مولوی نور احمد صاحب نور اللہ مرقدہ کے درس میں شامل ہوا کرتا تھا اور شام کو جب وہ طالب علموں کو حدیث و فقہ کی تعلیم دیا کرتے تھے، اس میں بھی شامل ہو جایا کرتا تھا۔ اس کے بعد حضرت مولانا مولوی غلام محی الدین صاحب نے مسجد خیر الدین میں صبح کے وقت درس قرآن کے علاوہ حدیث و فقہ کی تعلیم بھی شروع کر دی تھی، اور مولانا مولوی محمد حسن صاحب اس درس گاہ میں نائب مدرس تھے۔ ایسے حالات میں مجھے امرتسر چھوڑنا گوارہ نہ تھا۔ مگر حکم حاکم مرگ مفاجات سے کم نہیں ہوتا۔ مجھے دسمبر ۱۹۱۰ء کو امرتسر چھوڑنا پڑا۔

امرتسر سے فارغ ہو کر میں نے دو چار روز بٹالہ میں گزارے اور پھر بال بچوں کو ہمراہ لیے قادیان پہنچا۔ وہاں عبدالغنی شاہ صاحب سب پوسٹ ماسٹر تھے، ان کو فارغ کیا۔ ان دنوں مولوی نور الدین صاحب گھوڑی سے گر کر صاحب فراش تھے۔ ان کو چوٹوں کی وجہ سے بہت تکلیف تھی۔ ڈاکٹر محمد حسین، ڈاکٹر یعقوب بیگ، اور مرزا کمال الدین وغیرہ ان کی تیمارداری کرتے تھے۔ ایک روز میں بھی فرصت نکال کر بیمار پرسی کرنے کے لیے گیا، کہ بیمار پرسی کا ثواب حاصل کر سکوں۔ مگر ڈاکٹر صاحبان نے مولوی صاحب کو اطلاع کرنے سے معذوری کا اظہار کیا۔ چنانچہ میں واپس لوٹ آیا۔

مولوی نور الدین صاحب سے پہلی ملاقات

جناب مولوی صاحب کی حالت روز بروز بہتر ہونے لگی۔ چنانچہ ایک روز انہوں نے اپنے مریدین سے دریافت کیا کہ ہم نے عرصہ سے سب پوسٹ ماسٹر کو نہیں دیکھا، کیا بات ہے۔ چونکہ سید عبدالغنی شاہ سب پوسٹ ماسٹر ہر روز بلاناغہ مولوی صاحب کی خدمت میں جایا کرتے تھے اور وہ چونکہ ان کے بال بچے وہاں نہ تھے اس لیے روٹی بھی

صفحہ 160

انہیں لنگر سے جایا کرتی تھی۔ مریدین نے عرض کیا کہ پہلا پوسٹ ماسٹر یہاں سے تبدیل ہو گیا ہے اور اس کی جگہ ایک نیا شخص آیا ہے۔ چنانچہ مولوی صاحب نے ایک خاص آدمی میری طرف بھیجا‘ کہ حضرت صاحب آپ کو یاد کرتے ہیں۔ مجھے چونکہ سرکاری کام کی زیادتی تھی۔ میں نے کہلا بھیجا کہ اس وقت تو معذور ہوں۔ کل شام چھ بجے حاضر ہونے کی کوشش کروں گا۔

دوسرے روز حسب وعدہ مولوی صاحب کی خدمت میں پہنچا۔ اس وقت مولوی صاحب صحن میں چارپائی پر بیٹھے تھے۔ مرزا محمود صاحب ان کے پاس تشریف فرما تھے۔ علیک سلیک کے بعد مولوی صاحب کمال مہربانی سے کھڑے ہوگئے۔ مصافحہ کیا‘ مرزا صاحب چارپائی کی پائنتی کی طرف ہوگئے اور مولوی صاحب نے مجھے اپنے پاس بٹھا لیا۔ باقی اکابرین و حاضرین نیچے فرش پر بیٹھے تھے۔ مزاج پرسی کے بعد مولوی صاحب نے فرمایا‘ آپ کو قادیان میں آئے کتنا عرصہ ہو گیا ہے اور یہاں کسی قسم کی کوئی تکلیف تو نہیں‘ اگر کوئی تکلیف ہو تو بلا تامل بتا دو کہ اسے رفع کیا جاسکے۔ میں نے بعد از شکریہ عرض کی کہ میرے دو عزیز یہاں ہی رہتے ہیں ایک تو برادر محترم سید شاہ چراغ صاحب اور دوسرے میرے بزرگ محمد علی شاہ صاحب۔ چونکہ یہ دو گھر میرے اپنے ہی ہیں اس لیے میں اپنے آپ کو اپنے گھر میں ہی سمجھتا ہوں۔ مولوی صاحب کو محمد علی شاہ صاحب کا سن کر مسرت ہوئی‘ کیونکہ وہ ان کے خاص مریدین سے تھے۔

مولوی نور الدین صاحب کا درس

مکمل صحت ہونے پر مولوی صاحب نے حسب دستور درس قرآن حکیم شروع کیا۔ میرے مہربان دوست مجھے ہر روز مجبور کرتے کہ کسی روز مولوی کا درس سنوں۔ میں نے انہیں ہرچند ٹالا کہ میں بڑے بڑے علماء کا درس سن چکا ہوں اور دوسرے مجھے فرصت بھی کم ہے۔ مگر ان کے زیادہ اصرار پر ایک روز میں ان کے ہمراہ درس میں شامل ہوا۔ اس وقت مولوی صاحب حضرت زکریا کا بیان فرما رہے تھے‘ کہ جب حضرت زکریا بوڑھے ہوگئے تو دعا کی کہ یا الٰہی میں بوڑھا ہو گیا ہوں‘ قوٰی کمزور ہو چکے ہیں‘

صفحہ 161

ہڈیاں ست پڑ گئی ہیں، سر کے بال بھی سفید ہو چکے ہیں، تو اپنے رحم و کرم سے مجھے فرزند عطا فرما۔ جو میرا اور یعقوب کی اولاد کا وارث ہو۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”کہ تم دن رات تسبیح و تحلیل کرو، میں تم کو فرزند عطا کروں گا اور اس کا نام یحییٰ رکھنا اور اس نام کا پہلے کوئی پیغمبر نہیں گزرا۔

چنانچہ مولوی صاحب نے یہ تمام قصہ بیان کر کے فرمایا ”کہ میری طرف دیکھو کہ جب میں جوان تھا تو مجھے اولاد نرینہ نصیب نہ ہوئی، مگر اب بڑھاپے میں مرزا صاحب پر ایمان لا کر، تسبیح و تحلیل کی برکت سے، اللہ تعالیٰ نے مجھے دو فرزند عطا فرمائے۔ مولوی صاحب نے اسے مرزا صاحب کا معجزہ ثابت کیا۔ جس سے تمام حاضرین کے ایمان میں ایک تازگی محسوس ہونے لگی، اور سب جھومنے لگے۔ میں نے اپنے ہمراہی سے کہا، کہ قرآن حکیم میں صاف الفاظ ہیں کہ کانت امراتی عاقر (میری بیوی بانجھ ہے) مگر مولوی صاحب کی اہلیہ تو ماشاء اللہ ابھی نو عمر ہیں اگر اس کا بانجھ ہونا تم ثابت کر دو تو میں آج ہی تمہارا ہم خیال ہونے کو تیار ہوں۔ مگر ایسا ثابت کون کرتا۔ اس کا مجھے اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ پھر انہوں نے درس میں جانے کے متعلق کبھی گفتگو نہ کی اور مجھے معلوم ہو گیا کہ مولوی صاحب کس قدر غلط بیانیوں سے کام لیتے ہیں، اور کہ ان کو اپنے معتقدین کی کم علمی اور خوش فہمی کا خوب اندازہ ہے۔

قادیان میں پہلی نماز جمعہ

جمعہ کے روز جب میں مسلمانوں کی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے گیا۔ تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جمعہ مسجد میں صرف پانچ نمازی ہیں اور قاضی عنایت اللہ صاحب جو اس مسجد کے امام ہیں۔ مولوی عبدالکریم سیالکوٹی (قادیانی) کے مطبوعہ خطبے کے اشعار پڑھ رہے ہیں۔ نماز ختم ہونے پر ایک بڑے میاں کھڑے ہوئے اور فرمایا ” بھائیو! جب تک دس نمازی نہ ہوں نماز جمعہ جائز نہیں۔ میں دو تین جمعہ سے یہی حالت دیکھ رہا تھا۔ بہتر ہے کہ آئندہ سے نماز جمعہ ملتوی کر دو۔ (یہ بڑے میاں مرزا سلطان احمد افسر مال کے منشی تھے) جو مرزا صاحب کی پہلی بیوی سے تھے۔ اور مرزا صاحب پر عقیدہ

صفحہ 162

نہ رکھتے تھے۔ ان کے مرنے کے بعد یہ مشہور کیا گیا کہ آخر وقت وہ مرزا پر ایمان لے آئے تھے۔ (واللہ اعلم)

میں نے بڑے میاں سے عرض کیا کہ ہم سے تو حقہ نوش بھنگی اور شرابی ہی اچھے ہیں کہ چند روز میں کئی اپنے ہم خیال پیدا کر لیتے ہیں۔ کیا ہم میں سے ہر شخص دو دو چار چار نمازیوں کو ساتھ نہیں لا سکتا کہ تعداد پوری ہو جائے۔ اس وقت قادیان میں سوائے ڈاک خانہ کے کوئی دوسرا سرکاری محکمہ نہ تھا۔ نمازیوں کے لیے میری یہ عرض گویا ایک سرکاری حکم یا ان کی حوصلہ افزائی کا سبب ہوا۔ کیوں کہ قادیان کے غریب مسلمانوں پر قادیانی بھائیوں سے مختلف قسم کے دباؤ ڈال کر انہیں قریب قریب بے حس کر دیا ہوا تھا۔ الحمد اللہ کہ میری یہ آواز ضائع نہ گئی۔ اگلے جمعہ چھ سات آدمی میں ہمراہ لے گیا۔ باقی مقتدی بھی چند ایک مسلمانوں کو ہمراہ لے آئے۔ میں نے قاضی عنایت اللہ امام مسجد کی اجازت سے وہاں جمعہ میں ختم نبوت اور دعویٰ مسیحیت پر تقریر کا سلسلہ شروع کر دیا۔

تیسرے چوتھے جمعہ میں مسجد نمازیوں سے کھچا کھچ بھر گئی۔ اہل حدیث بھائی جو علیحدہ مسجد میں جمعہ پڑھا کرتے تھے وہ بھی سب ادھر آنا شروع ہو گئے۔ کیوں کہ میں فروعی مسائل میں نہ پڑتا تھا۔ چند جمعوں کے بعد یہ حالت ہو گئی کہ ہمیں مسجد کی توسیع کرنی پڑی۔ البتہ اس میں بھی قادیانی دوستوں نے بہت سی رکاوٹیں پیدا کیں، مگر الحمد اللہ کہ مسلمانوں کو اس میں کامیابی ہوئی۔

نانا جان

مرزا غلام احمد صاحب کے خسر میر ناصر نواب عجیب بامذاق انسان تھے۔ تمام قادیانی انہیں نانا جان کے لقب سے پکارتے تھے۔ ان دنوں انہوں نے دارالضعفاء کے لیے اپنی جماعت والوں سے چندہ کی اپیل کر رکھی تھی اور باہر سے چندہ کافی تعداد میں آ رہا تھا۔ ڈاک کی تقسیم کے وقت آپ بنفس نفیس ڈاک خانہ کی کھڑکی پر تشریف لاتے اور فرماتے کہ سائل حاضر ہے، کچھ ملے گا۔ چونکہ ڈاک خانہ کی عمارت ان کی

صفحہ 163

صاحبزادی یعنی مرزا صاحب کی بیوی کے نام تھی۔ جس کا کرایہ وہ خود اپنے دستخطوں سے وصول کیا کرتیں تھیں۔ اس لیے میں بھی اکثر یہ کہہ دیا کرتا تھا کہ آپ تو ڈاک خانہ کے مالک ہیں۔ ایک دفعہ آپ نے ایک شعر بطور نصیحت مجھے لکھوایا جو میں نے ان سے پہلے کسی سے سنا تھا اور نہ ان کے بعد۔ جس سے اس جماعت کی ذہنیت پورے طور پر نمایاں ہوتی ہے۔ وہ شعر یہ ہے۔

خوک باش و خرس باش یا سگ مردار باش
ہرچہ خواہی باش لیکن اندر کے زر دار باش

یعنی سور بن یا ریچھ بن اور کتے کی طرح مردار بن، جو کچھ دل چاہے بن لیکن تھوڑا سا زر دار ضرور ہو۔ ایک دن میں نے بھی ان سے مذاق ہی میں کہا کہ نانا جان آپ کو ضعیفوں کا فکر کیوں دامن گیر ہے۔ چندہ کافی آ رہا ہے بجائے دارالضعفاء کے آپ ناصر آباد یا ناصر گنج کی بنیاد رکھیں۔ اور یہ میری بھی ایک پیشین گوئی ہے کہ آپ اس قطعہ کا نام ان دونوں ناموں میں سے ایک رکھیں گے اور آپ ہی اس کے واحد مالک ہوں گے۔ چنانچہ بعد میں ایسا ہی ہوا۔

ماسٹر محمد یوسف صاحب ایڈیٹر ”نور“

ماسٹر صاحب (جہاں کہیں بھی وہ ہوں اللہ انہیں خوش رکھے)۔ بڑے خوش اخلاق، سنجیدہ مزاج اور صاف گو آدمی تھے۔ میری زیادہ تر نشست و برخاست ان کے ساتھ ہی تھی۔ صبح و شام اکثر سیر کو اکٹھے ہو جایا کرتے تھے۔ نانا جان اکثر انہیں کہتے کہ یوسف تمہیں سیر کے لیے کوئی اور دوست نہیں ملتا، جس کا جواب وہ اکثر یہی دیتے کہ آپ کو یہ برا کیوں محسوس ہوتا ہے۔ آخر سب پوسٹ ماسٹر ہیں کون سا عیب ہے کہ آپ مجھے اس سے ملنے سے منع کرتے ہیں۔ بہرحال وہ کسی نہ کسی طریقے سے انہیں خاموش کر دیتے۔ ماسٹر صاحب کی پہلی بیوی مولوی نور الدین صاحب کی پروردہ لڑکی تھی۔ میری اہلیہ اور ماسٹر صاحب کی بیوی میں بھی آپس میں خاصی انسیت تھی۔ جب مرحومہ کا آخری وقت قریب تھا تو مرزا صاحب کی بیوی تشریف لائیں اور کچھ اس انداز سے

صفحہ 164

مرحومہ کو کہا کہ کیوں گھبرا رہی ہو‘ تم ابھی نہیں مرتی۔ میری اہلیہ اور مرحومہ دونوں کو یہ بات خاص طور پر بری محسوس ہوئی۔ چنانچہ چند ہی منٹ کے بعد وہ اس دار فانی سے رخصت ہو گئیں۔ میری اہلیہ اس کے بچوں آصف‘ موسیٰ اور آمنہ کو گھر لے آئی کہ ان کا دل بچوں میں بہلا رہے اور وہ والدہ کی مفارقت کو محسوس نہ کریں۔

مولوی نور الدین صاحب کا زنانہ درس

مولوی صاحب مستورات کو بھی درس دیا کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ لیٹ جاتے اور مستورات ان کی ٹانگیں دباتیں اور ساتھ ہی خاوندوں کی شکایات شروع کر دیتیں۔ اس پر مولوی صاحب ان کے خاوندوں کو بلوا کر اکثر تو اپنے موعظہ و پند سے سمجھاتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا‘ کہ عورتیں تمہاری امانتیں ہیں ان کا خیال رکھو اور کبھی کبھار ان کو ڈانٹ ڈپٹ سے بھی کام لیتے۔ چنانچہ ایک دن ماسٹر صاحب کی بھی باری آئی۔ انہیں بلوا کر فرمایا‘ کہ دیکھو میں نے تمہیں اپنی لڑکی دی ہے مگر تم اس کی قدر نہیں کرتے اور اسے طرح طرح کی تکلیفیں دیتے ہو۔ مگر ماسٹر صاحب نے اپنی صاف گوئی سے کام لیا اور کہا‘ کہ حضرت آپ میاں بیوی کے معاملات میں دخل نہ دیا کریں۔ عورتیں اکثر غلط بیانی سے کام لے کر ہم کو آپ سے برا بنواتی ہیں۔ اس سے ہمارے تعلقات اور بھی خراب ہو جاتے ہیں۔ اگر واقعی آپ میری بیوی کو اپنی لڑکی ہی سمجھتے ہیں‘ تو آپ فرما دیں کہ جتنا جہیز آپ نے اپنی لڑکی کو دیا تھا کیا اسے بھی اسی قدر ہی دیا ہے۔ مرزا صاحب کو تو ہم نے مسیح موعود تسلیم کیا‘ مگر خلافت تو ہماری قائم کردہ ہے۔ خدا کی طرف سے نہیں چنانچہ اس کے بعد مولوی صاحب نے ان کے کسی معاملہ میں دخل نہ دیا۔ اور اس کے بعد ان میاں بیوی کے تعلقات آپس میں بہت اچھے ہو گئے۔

اخبارات

قادیان میں اخبارات تو کثرت سے نکلتے تھے۔ ان کا عشر عشیر بھی تمام ضلع گورداسپور سے نہ نکلتا تھا‘ اور یہی اخبارات اور رسالے مرزائیوں کی تبلیغ کا کام کر

صفحہ 165

دیتے ۔ وہ لوگ جن کو پہلے دین کا کچھ علم نہیں ہو تا وہ ان کو پڑھ کر اکثر اس جماعت میں شامل ہو جاتے ۔ میرے ایک مہربان شیخ یعقوب علی جو کسی زمانہ میں امر تسر میں وکیل اخبار میں کام کرتے تھے ۔ انہوں نے قادیان جا کر اخبار جاری کیا اور یہی ان کا سب سے پہلا اور معتبر اخبار تھا۔ اس کے صفحہ اول پر یہ شعر تحریر ہو تا تھا۔

بیا در بزم رنداں تا بہ بینی عالمے دیگر
بہشتے دیگر و ابلیس دیگر آدمے دیگر

بجائے بہشت کے بہشتی مقبرہ تو قادیان میں میں نے بھی دیکھا‘ باقی ابلیس و آدم یہ شیخ صاحب بہتر جانتے ہوں گے یا شاید قارئین اس کا کچھ اندازہ کر سکیں ۔ بہر کیف نور الدین صاحب خلیفہ اول ابوبکر ثانی‘ مرزا بشیر الدین محمود فضل عمر خلیفہ ثانی۔ اب دیکھیں خلیفہ سوئم اور چہارم کون ہو تا ہے اور جنگ جمل کب شروع ہوتی ہے۔

حرمت رمضان شریف اور قادیان

مرزا صاحب کا قول ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے ۔ قادیان خاندان نبوت کا یہ حال تھا‘ کہ نانا جان تو ہمیشہ رمضان شریف میں مسافر بن جاتے اور چندہ وصول کرنے کے لیے باہر چلے جاتے ۔ مرزا صاحب اور ان کی محترمہ والدہ اتفاق سے اسی مہینہ میں بیمار ہو جاتے‘ کبھی آشوب چشم کی شکایت ہو جاتی‘ کبھی درد سر ہو جاتا اور کبھی کسی دن دو چار چھینکیں آجاتیں تو مولوی محمد عارف صاحب امام مسجد اقصیٰ کو آرام ہو جاتا کہ دونوں وقت مرغن غذا میسر ہو جاتی ۔ ادھر دھرت رام برف والا دعائیں دیتا ۔ کہ نبوت خانہ میں اس کی برف کی خوب مانگ رہتی اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ خود مرزا صاحب بھی روزہ تو کجا مسافری میں رمضان شریف کا احترام تک بھی نہ فرماتے تھے ۔ چنانچہ امر تسر میں رمضان مبارک کے مہینے میں تقریر فرماتے ہوئے پانی کا گلاس چڑھا جانا ایک تاریخی واقعہ ہے ۔ جب خود جناب مرزا صاحب کا یہ حال تھا تو اہل بیت اور امتی تو جو کچھ کریں جائز ہے۔

صفحہ 166

مولانا محمد علی صاحب ایم۔اے

مولانا محمد علی صاحب جو کبھی ریاضی کے پروفیسر تھے، قادیان میں آکر اور مولوی نور الدین صاحب کے درس میں باقاعدہ شامل ہوتے رہنے کے باعث اب مولانا کا لقب حاصل کر چکے تھے۔ پہلے تو ریویو آف ریلیجنز (Review of Religions) کے ایڈیٹر رہے۔ پھر قرآن شریف کا انگریزی ترجمہ شروع کیا۔ ان دنوں وہ مولوی نور الدین صاحب کے درس کے نوٹس اور چند انگریزوں اور مسلمانوں کے جو قرآن کریم کے انگریزی میں ترجمے کیے تھے، ان کی مختلف قسم کی ڈکشنریوں کی مدد سے ایک علیحدہ کوٹھی میں جو سکول کے پاس تھی ترجمہ میں مصروف تھے۔ مولوی صاحب نے اپنے ترجمہ میں معجزات انبیاء کا جابجا انکار کیا ہے، حالانکہ خود مرزا صاحب بھی تمام انبیاء کے معجزات کے قائل تھے اور ان کے اس قسم کے اشعار بھی موجود ہیں کہ معجزات انبیاء کا جو انکار کرے وہ اشقیاء سے ہے۔ چنانچہ مولوی صاحب نے حضرت ایوب علیہ السلام کے متعلق لکھا کہ ارکض برجلك گھوڑے کو ایڑی لگانا ہے، یعنی خدا نے حضرت ایوب کو حکم دیا کہ اپنے گھوڑے کو ایڑی لگاؤ۔ آگے چل کر پانی ملے گا۔ حالانکہ حضرت ایوب جب اپنے امتحان میں ثابت قدم رہے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اركض برجلك یعنی اپنی ایڑیاں زمین پر مارو یہاں سے پانی نکلے گا جو ٹھنڈا ہو گا اور پینے اور غسل کے کام آوے گا۔ چنانچہ مولوی صاحب نے یہاں بھی اپنا رنگ نہ چھوڑا۔ حضرت موسیٰ فن انجینری میں ماہر تھے۔ انہیں اسی علم سے معلوم ہو گیا کہ اس جگہ دریا میں پانی کم ہے۔ وہاں سے اپنے ہمراہیوں کو لے کر دریا عبور کر گئے۔ مگر فرعون کو چونکہ اس کا علم نہ تھا۔ اس نے اپنے اور اپنے لشکر کو گہرے پانی میں ڈال دیا اور غرق ہو گیا۔

بہ بیں تفاوت راہ از کجاست تا بکجا

مولوی محمد علی صاحب تو ترجمہ میں مصروف رہے اور مرزا محمود احمد جو کچھ عرصہ مصر وغیرہ میں گزار آئے تھے۔ جمعہ کو خطبہ دیا کرتے اور چونکہ وہ ریویو ریلیجنز کے ایڈیٹر بھی رہ چکے تھے اس لیے انہیں تقریر و تحریر میں خاصی دسترس حاصل ہو چکی تھی۔ اس کے برعکس مولوی صاحب ایک قسم کے گوشہ نشین ہی ہو چکے تھے۔ مولانا کا خیال تھا کہ

صفحہ 167

مولوی نور الدین صاحب کے بعد وہ خلافت کی گدی پر متمکن ہوں گے، کیونکہ ایک خاصی پارٹی ان کی پشت پر تھی۔ مگر ان کی گوشہ نشینی قرآن کا ترجمہ اور دفتر محاسب کی منیجری ان کے کسی کام نہ آئی اور مرزا محمود احمد صاحب اپنے زور تقریر و تحریر نیز نانا جان کی فراست و سیاست کے باعث اپنا کام نکال لے گئے۔ اس کا مفصل ذکر بعد میں آئے گا۔

قادیان سے میرا تبادلہ

چونکہ قادیان میں عارضی طور پر لگا ہوا تھا۔ اس لیے چھ سات ماہ کے بعد میرا تبادلہ پھر امرتسر ہو گیا۔

بعثت ثانی

چونکہ قادیان میں میرے کام سے افسر بھی خوش تھے اور قادیان کے اکثر اصحاب سے میرے تعلقات بھی اچھے تھے۔ اس لیے 1916ء میں جب قادیان کی جگہ خالی ہوئی تو مجھے مستقل طور پر وہاں جانے کا حکم ہوا، یعنی سات سال کے انتقال کے بعد قادیان میں پھر بعثت ثانی ہوئی۔ مولوی نور الدین صاحب وفات پا چکے تھے۔ اور مرزا محمود تخت خلافت پر متمکن تھے۔ ان کے خلافت حاصل کرنے کا قصہ بھی لطف سے خالی نہیں۔ نانا جان جو پرانے سیاستدان اور دور اندیش آدمی تھے۔ انہوں نے مولوی احسن صاحب امروہوی کو ان کے لڑکے محمد یعقوب کی شادی پر کافی روپیہ بطور قرض دے کر اپنا مرہون احسان کر رکھا تھا۔ کہ بہ وقت ضرورت کام آئے گا۔ کیونکہ مرزا صاحب کا الہام تھا کہ ”آسمان سے میرا نزول دو فرشتوں کے کندھوں پر ہوا ہے۔ جن میں ایک مولوی نور الدین اور دوسرا مولوی محمد احسن امروہوی ہے“ اور یہ تھا بھی درست کیونکہ مرزا صاحب کا نزول ان دونوں مولویوں کا مرہون منت ہے۔ ورنہ نبوت تو کجا وہ ایک معمولی عالم کی حیثیت بھی نہ رکھتے تھے۔ خیر! مولوی نور الدین صاحب کے انتقال کے بعد جب خلافت کا جھگڑا شروع ہوا۔ تو لاہوری پارٹی مولوی محمد علی صاحب کے حق

صفحہ 168

میں تھی‘ اور جو لوگ میاں محمود احمد کے خطبات وغیرہ سن چکے تھے وہ میاں صاحب کے حق میں تھے۔

اس وقت نانا جان نے مولوی محمد احسن صاحب کو اپنا احسان جتایا اور مدد کی درخواست کی۔ مولانا محمد احسن صاحب نے غنیمت سمجھا کہ اس صورت میں قرض کی بلا تو سر سے ٹلے گی۔ چنانچہ وہ ایک سبز رنگ کا کپڑا لے کر جلسہ عام میں تشریف لے آئے اور فرمایا ”کہ بھائیو! تم کو مبارک ہو رات کو حضرت مرزا صاحب نے مجھے یہ فرمایا ہے کہ یہ سبز دستار میاں محمود احمد کے سر باندھ دو۔ وہ ہی ہمارا جانشین ہو گا۔ اب کون تھا جو اس فرشتے کی بات کا انکار کرتا۔ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی‘ حیران تھے یہ کیا ہو گیا مگر

اے زر تو خدا نہیں ولے بخدا
ستار العیوب و قاضی الحاجاتی

نانا جان کی دی ہوئی رقم کام کر گئی۔ اب مولوی محمد علی صاحب کو اس کے سوا چارہ ہی کیا تھا کہ اپنے رفقاء کو ساتھ لے کر قادیان سے رخصت ہوئے۔ چنانچہ وہ دفتر محاسب کے کچھ کاغذات اور کچھ روپیہ لے کر لاہور پہنچے اور امیرالمومنین کا لقب حاصل کر کے لاہور کو اپنا دارالخلافہ بنایا اور وہاں سے اخبار پیغام صلح جاری کر کے اپنا علیحدہ سلسلہ شروع کر دیا۔ مرزا صاحب کی نبوت کا انکار کر کے انہیں مجدد ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ نانا جان کی سیاست سے مرزا محمود احمد صاحب کے لیے قادیان کا میدان صاف ہو گیا اب دونوں پارٹیوں میں جنگ زرگری جاری ہے۔ اس دفعہ میرے قادیان آنے پر یہاں کا نقشہ بدل چکا تھا۔ مولوی نور الدین کی وفات کے بعد مرزا محمود احمد ہزہولی نس کا خطاب حاصل کر کے تخت خلافت پر جلوہ افروز ہو چکے تھے۔ گھر سے باہر نکلنا موقوف ہو چکا تھا۔ کسی غیر آدمی کو بغیر اجازت ملنا دشوار تھا۔ اور پوری شان خلافت سے قادیان میں حکومت کر رہے تھے۔ میرے جانے پر انہوں نے میرے پرانے رفیق ماسٹر محمد یوسف کو بھیج کر مجھے بلوایا۔ ہم دونوں وہاں پہنچے۔ مرزا محمود صاحب مکان کی دوسری منزل پر تشریف فرما تھے۔

علیک سلیک کے بعد آپ نے فرمایا ”کہ میں نے سنا ہے کہ آپ پہلے بھی یہاں رہ

صفحہ 169

چکے ہیں۔ میں اس تجاہل عارفانہ پر حیران تھا، کیونکہ مرزا صاحب صاحبزادگی کی حالت میں کئی مرتبہ ڈاک خانہ تشریف لائے اور کئی کئی منٹ تک میرے پاس بیٹھے تھے، مگر اب آپ کی کچھ عجب ہی شان تھی۔ پہلی ہی بات جو آپ نے مجھ سے دریافت کی یہ تھی کہ ‘ کیا قادیان میں بجائے ایک دفعہ کے ڈاک دو دفعہ نہیں آسکتی؟ میں نے جواب دیا کہ ڈاک کا ٹھیکیدار اب اسی (۸۰) روپے لیتا ہے۔ امید نہیں کہ محکمہ اور خرچ برداشت کر سکے۔ دوسری بات یہ دریافت کی کہ کیا یہاں تار گھر نہیں بن سکتا؟ میں نے کہا کہ آپ کی تمام مہینے میں بمشکل دس بارہ تاریں آتی ہیں۔ مگر آپ محکمے کو لکھ دیں شاید وہ دونوں باتوں کا انتظام کر دے۔ ان دو باتوں کے علاوہ آپ نے تیسری بات کوئی نہیں کی۔ چنانچہ میں اور ماسٹر محمد یوسف صاحب واپس آئے۔ راستہ میں نے ماسٹر صاحب سے کہا، کہ آپ مولوی نور الدین صاحب اور مرزا محمود صاحب کی ملاقاتوں کا اندازہ کریں کہ کتنا فرق ہے۔ انہوں نے جتنی باتیں کی تھیں سب میرے فائدہ کی تھیں اور مرزا صاحب نے سوائے اپنے مطلب کی بات کے کوئی اور بات ہی نہیں کی۔ مرزا صاحب ایک بادشاہ کی سی زندگی بسر کر رہے تھے۔ صرف بعد دوپہر مسجد میں درس دینے آتے اس میں قصبہ کی جماعت کے آدمی مدرسہ دینیات اور ہائی سکول کے طلباء شامل ہوتے۔

سکول کے طلباء اکثر ایک ہندو سے مٹھائی وغیرہ خریدا کرتے تھے اور کئی ایک کا ادھار بھی چلتا تھا۔ چنانچہ ایک روز ایک حلوائی نے اپنے ادھار کا تقاضا کیا، طالب علم بھی سختی سے پیش آیا۔ جانبین کے حمایتی اکٹھے ہو گئے۔ آپس میں لڑائی ہوئی۔ جس سے دونوں طرف سے چند آدمی زخمی ہوئے۔ اطلاع میاں صاحب تک پہنچی۔ میاں صاحب نے فوراً حکم جاری فرما دیا کہ کوئی مرزائی کسی غیر مرزائی سے سودا نہ خریدے اور اگر کوئی سودا خریدتا ہوا پایا گیا تو اسے پانچ روپیہ جرمانہ کیا جاوے گا۔ اب چونکہ ان کی جماعت کی اتنی دوکانیں نہ تھیں کہ ان کی ضروریات پوری ہو سکتیں اور ادھر میاں صاحب کے نادر شاہی حکم سے سرتابی کی جرات نہ تھی۔ لہٰذا وہ چوری چھپے اپنے غیر مرزائی دوستوں کے ذریعے سے اشیاء منگوا کر ضرورت پوری کرتے۔ میرے اکثر دوست میرے پاس آتے اور میں انہیں بازار سے اشیاء منگوا دیتا۔

صفحہ 170

دفتر محاسب میں چٹھی رسان کو زد و کوب

جمعہ کے روز قادیان کے دفاتر اور خصوصاً دفتر محاسب دو بجے تک بند رہتا تھا۔ دفتر والوں نے اپنے طور پر چٹھی رسان سے فیصلہ کر رکھا تھا کہ وہ دفتر کے منی آرڈر وہاں چھوڑ آتا اور ڈھائی بجے جاکر واپس لے آتا۔ اکثر اوقات دفتر کا کلرک دیر سے آتا تو چٹھی رسان کی واپسی میں تاخیر ہو جاتی جس کی وجہ سے ہمیں بھی دقت ہوتی۔ چنانچہ میں نے دو تین دفعہ چٹھی رسان کو تنبیہ کی کہ وقت پر واپسی دیا کرے۔ ایک جمعہ کو وہ تقریباً سوا تین بجے روتا ہوا دفتر میں آیا‘ اور بتایا کہ کلرک دفتر محاسب منی آرڈروں کی واپسی میں دیر کرتا ہے۔ آج میں نے اسے جلد واپس کرنے کو کہا‘ جس پر اس نے مجھے دفتر میں سب سٹاف کے روبرو مارا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اس دفتر کا کوئی آدمی تمہاری شہادت دے سکتا ہے۔ اس نے کہا مجھے امید نہیں کہ اس کلرک کے خلاف کوئی سچی شہادت بھی دے۔ میں نے اس سے تحریری بیان لے کر ناظم دفتر محاسب کو بھیج دیا۔ چونکہ محکمانہ کارروائی تو بغیر شہادت کے فضول تھی‘ میں نے یہ سوچا کہ ان کی دیانت و تقویٰ کا ہی امتحان ہو جائے گا۔ ڈاکٹر رشید الدین مرزا محمود صاحب کے خسر ان دنوں دفتر کے انچارج تھے۔ بیان کے ساتھ میں نے یہ بھی لکھ دیا کہ جب آپ اس معاملہ کی تحقیقات کریں تو چٹھی رسان کو اور مجھے بھی بلوائیں۔ میری دوبارہ یاد دہانی پر مجھے جواب ملا کہ میں خود تفتیش کر کے جواب دوں گا اور تم یہ بتلاؤ کہ تم اس مقدمے میں کس حیثیت سے پیش ہو سکتے ہو‘ نہ ہی تم موقعہ کے گواہ ہو اور نہ کوئی قانون دان کہ چٹھی رسان کی وکالت کر سکو۔ لہٰذا تمہارے آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

اس تحریر کے لہجہ سے میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ سرکاری عدالتوں میں بھی اتنی سختی سے کام نہیں لیا جاتا‘ کہ سوائے گواہوں اور وکیلوں کے کوئی کمرہ عدالت میں نہ جائے‘ مگر یہ قادیانی عدالت تھی۔ میں نے اس کا جواب ”خاموشی“ سے دیا اور غریب چٹھی رسان کا بھی کچھ نہ بنا۔

صفحہ 171

قادیان میں انجمن حمایت الاسلام

اس دفعہ بھی مسجد میں جمعہ میں ہی پڑھایا کرتا اور مسجد میں بھی اب خاصی رونق ہو جاتی تھی۔ مسلمانوں میں بیداری کے کچھ آثار پیدا ہو چکے تھے، ہم نے وہاں انجمن حمایت الاسلام کی بنیاد ڈالی۔ قاضی عنایت اللہ صاحب صدر مقرر ہوئے، مہرالدین سیکرٹری علی ہذا القیاس خزانچی وغیرہ۔ عید الاضحیٰ کا موقعہ قریب تھا، خیال ہوا کہ اس موقعہ پر چندہ اکٹھا کر کے اپنے علماء کو بلوا کر جلسہ کیا جائے کہ وہ ہمیں ہمارے صحیح عقائد سے آگاہ کریں۔ عید کے روز نصف شب سے بارش شروع ہوئی اور متواتر صبح تک ہوتی رہی، ہماری مسجد چھوٹی تھی جس میں عید کی نماز کی گنجائش مشکل تھی۔ مرزا محمود صاحب نے بارش کی وجہ سے بجائے اس ہماری عید گاہ کے جس پر انہوں نے جابرانہ قبضہ کر رکھا تھا، عید مسجد اقصیٰ میں پڑھائی۔ ان کا عید کی نماز پڑھنا تھا کہ زور کی آندھی آئی، بادل چھٹ گئے، موسم نہایت خوشگوار ہو گیا۔ لہٰذا ہم نے اسی عید گاہ میں نماز پڑھی۔ بیرونجات سے اس قدر نمازی اکٹھے ہوئے کہ مسلمانوں کا اتنا ہجوم قادیان میں اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ چنانچہ میں نے عید کی نماز پڑھائی اور انجمن کے مقاصد بیان کر کے چندہ کی اپیل کی۔ قریباً ایک سو روپیہ تو وہاں اکٹھا ہو گیا، چند روز کی کوشش سے تقریباً چار صد روپیہ جمع ہو گیا۔ حسن اتفاق سے گورداسپور میں ایک جلسہ منعقد ہو رہا تھا، جس میں علاوہ علمائے کرام کے اور بزرگان دین بھی شمولیت کر رہے تھے۔ مجھے احباب نے مجبور کیا کہ میں ان کے ساتھ وہاں چلوں اور وہیں قادیان کے جلسہ کے متعلق بھی ان لوگوں سے مشورہ کر کے ان کو دعوت دی جائے۔ میں نے محکمہ سے پانچ روز کی رخصت لی اور دوستوں کے ساتھ گورداسپور پہنچا، وہاں پہنچ کر مجھے معلوم ہوا کہ میرے محسن و کرم فرما حاجی حرمین الشریفین جناب پیر جماعت علی شاہ صاحب علی پوری بھی تشریف فرما ہیں۔ جب میں امرتسر میں دسویں جماعت میں تعلیم پاتا تھا، میرے بزرگ اور رشتہ دار مولانا سید احمد علی صاحب مسلم ہائی سکول میں شعبہ دینیات کے مدرس اعلیٰ تھے۔ ان کے تعلقات حضرت موصوف سے بہت گہرے تھے، ان کی وجہ سے حضرت صاحب مجھ سے خاص انس رکھتے تھے۔ بلکہ جب کبھی کہیں دعوت پر تشریف لے

صفحہ 172

جاتے تو اپنے خلیفہ خیر شاہ صاحب کو بھیج کر مجھے بلوا لیا کرتے تھے۔ غرضیکہ ان کی گورداسپور میں تشریف آوری کا سن کر مجھے یک گونہ اطمینان ہو گیا۔ نماز عصر کا وقت تھا‘ آپ مسجد حجاماں میں تشریف فرما تھے‘ میں اور میرے ساتھی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ مجھے عرصہ کے بعد دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور پوچھا کہ آج کل کہاں ہو‘ میں نے عرض کیا کہ قادیان میں مسکرا کر فرمایا‘ کہیں مرزائی تو نہیں ہوگئے‘ میں نے عرض کی‘ ابھی سوچ رہا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ آسمان سے ابھی اتریں گے اور وہاں عیسیٰؑ موجود ہے‘ نقد کو چھوڑ ادھار کون لے۔ خیر میں نے ان سے عرض حال کی‘ آپ نے اپنی حاضری کی تو معذرت فرمائی‘ اور اسی وقت اپنے چند خلفاء کو تحریر کر دیا کہ جس وقت قادیان سے انجمن حمایت الاسلام کی دعوت پہنچے وہ ضرور وہاں پہنچیں اور جلسہ کی کامیابی کے لیے دعا فرمائی۔ وہاں سے ہم حضرت مولانا سراج الحق صاحب کی قیام گاہ پر گئے‘ حضرت سراج الحق صاحب سے بھی میرے نیاز مندانہ تعلقات تھے۔ جب آپ کے والد صاحب بٹالہ میں تحصیلدار تھے تو آپ کے چھوٹے بھائی اور میں ہم جماعت تھے اور ہم دونوں اکثر ان کے حلقہ ذکر میں حاضر ہوتے تھے۔ اس لیے وہ مجھے بھی اپنے بھائی جیسا ہی سمجھتے تھے۔ چنانچہ آپ نے بھی مولوی حامد علی صاحب گمتھالوی اور ایک مولوی صاحب جو وہاں موجود تھے انہیں تاکید فرمائی اور مولوی نواب دین صاحب کو کہلوا بھیجا کہ قادیان سے اطلاع آنے پر وہ شامل جلسہ ہوں۔

گورداسپور سے فارغ ہو کر میں امرتسر پہنچا اور اپنے محسن و مربی استاذی حاجی الحرمین الشریفین جناب مولانا مولوی نور احمد صاحب نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت مولانا قادیان میں جلسہ کا سن کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا‘ اللہ تعالیٰ یہ نیک کام تم سے لینا چاہتے ہیں۔ میں نے کچھ رقم بطور کرایہ پیش کی‘ آپ نے فرمایا: عزیز تمہیں معلوم ہے کہ میں خود صاحب زکوٰۃ ہوں‘ میں صرف اس نیت سے وہاں جانا چاہتا ہوں کہ شاید میری وعظ و نصیحت سے کوئی راہ راست پر آجائے تو میری بخشش کا باعث ہو۔ پھر آپ نے فرمایا ‘ کہ اب مولوی ثناء اللہ صاحب کے پاس جاؤ‘ میرا سلام عرض کرو اور کہنا کہ وہ اس موقعہ پر ضرور قادیان پہنچیں‘ کیونکہ انہیں مرزا صاحب کی تصانیف پر مکمل عبور ہے۔ مولوی صاحب میرے بھی مہربان تھے‘ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا‘

صفحہ 173

حضرت مولانا کا پیغام بھی دیا۔ مولوی صاحب فرمانے لگے کہ میں تو عرصہ سے اس بات کا خواہاں ہوں کہ قادیان جاکر تقریر کروں۔ عرصہ ہوا، بٹالہ سے ایک پولیس کا سپاہی ساتھ لے کر وہاں گیا تھا کہ مرزا صاحب سے کچھ بات چیت کروں، مگر مجھے مرزا صاحب نے روبرو گفتگو کا موقعہ نہ دیا اور صرف دو ایک باتیں تحریری دریافت کرنے کی اجازت دی اور میں وہاں سے بے نیل و مرام واپس لوٹا۔ چونکہ میں نے مرزا صاحب سے مباہلہ بھی کیا تھا جس کی وجہ سے اب تک مرزائیوں سے میری چھیڑ چھاڑ ہے۔ مجھے خطرہ ہے کہ وہ مجھ پر حملہ نہ کریں یا کھانے میں کسی قسم کا زہر نہ ملا دیں۔

میں نے ان کی تسلی کی کہ اس بات کی ذمہ داری میں لیتا ہوں۔ آپ کے لئے کھانا میں اپنے گھر سے پکواؤں گا بلکہ خود آپ کے ساتھ کھایا بھی کروں گا۔ امرتسر سے فارغ ہو کر اگلے دن میں لاہور گیا، میرے بزرگ سید احمد علی شاہ صاحب جن کا ذکر میں نے پہلے بھی کیا ہے۔ ان دنوں لاہور اسلامیہ کالج کے عربی کے پروفیسر اور بادشاہی مسجد کے خطیب بھی تھے، ان سے سارا معاملہ بیان کیا۔ آپ بہت خوش ہوئے۔ فرمایا کہ اس بہانہ سے مجھے بہشتی مقبرہ دیکھنے کا موقع بھی مل جائے گا اور بچوں کو بھی دیکھ آؤں گا۔ وہاں سے فارغ ہو کر میں اپنے مہربان پیر بخش صاحب پوسٹل پنشنر سے ملنے چلا گیا، آپ اس وقت اپنے ماہوار رسالہ جو قادیان ہی کے متعلق ہوتا تھا، تحریر کرنے میں مصروف تھے، مل کر بہت خوش ہوئے اور قادیان آنے کا وعدہ کیا اور مجھے اپنا ایک رسالہ بھی دیا جس میں مرزا صاحب کے نکاح آسمانی کا سارا پول کھولا ہوا تھا۔ اس میں مرزا صاحب کے تمام دعاوی جو محمدی بیگم کے رشتہ داروں کو تحریر کئے تھے کہ اگر محمدی بیگم کا مجھ سے نکاح کر دو گے تو تم پر یہ برکات نازل ہوں گی۔ اور اگر انکار کرو گے تو عذاب الٰہی میں گرفتار ہو گے اور اپنے فرزند سلطان احمد (جو پہلی بیوی سے تھے) اس کے نام خطوط تھے کہ اگر محمدی بیگم کے رشتہ دار محمدی بیگم کا مجھ سے نکاح نہ کریں تو تم اپنی بیوی کو (جو محمدی بیگم کی قریبی رشتہ دار تھی) طلاق دے دو، ورنہ تمہیں عاق کر دیا جائے گا اور بھی بہت سے ایسے راز ہائے درون پردہ کا انکشاف کیا ہوا تھا۔ بہر کیف وہاں سے فارغ ہو کر میں اور محترمی مولانا احمد علی صاحب بعد دوپہر قاضی حبیب اللہ صاحب خوش نویس صاحب کے ہاں پہنچے۔ نہایت خوش مذاق آدمی تھے۔ وہاں ان کے ہاں ہی جلسہ کی تاریخ

صفحہ 174

مقرر کر کے اشتہارات کی لکھائی چھپوائی اور جہاں جہاں اشتہارات ارسال کرنے تھے سب انتظامات مکمل کر کے ہم واپس گھر آئے۔ دوسرے روز ہم مولانا ظفر علی خان صاحب کے ہاں پہنچے، اندر اطلاع کی گئی۔ ملازم نے ہم کو کرسی پر بٹھا دیا، چند منٹ بعد مولانا تشریف لائے۔ ان دنوں مولانا کی عجب شان تھی، نیلے رنگ کی سرج کا سوٹ زیب تن تھا۔ کالر، ٹائی، ڈاسن کا بوٹ، بل دار مونچھیں، مجھے تعجب ہوا کیونکہ میرے ذہن میں مولانا کے متعلق مولویوں کا سا نقشہ تھا کہ وہ جبہ و دستار سے آراستہ ہوں گے۔ بہرحال مولانا حضرت مولوی احمد علی صاحب سے نہایت خوش عقیدتی سے پیش آئے۔ مولوی صاحب نے تمام حال بیان کیا کہ اسے اپنے اخبار میں شائع کر دیں۔ مولانا نے فرمایا کہ مجھے اس کے متعلق کوئی عذر نہیں مگر میرا اخبار زمیندار چند دنوں سے بند ہے۔ اس کی جگہ میں ستارہ صبح نکال رہا ہوں اور وہ بھی سنسر ہوتا ہے۔ محکمہ سنسر میں چند مرزائی بھی ہیں۔ میں مضمون دے دوں گا اگر کسی نے کاٹ نہ دیا۔ بہرحال میں وہاں سے واپس قادیان آیا۔ چند روز کے بعد مولانا کا مضمون جلسہ کے متعلق اخبار ستارۂ صبح میں شائع ہو گیا، جس کا جواب اخبار ”الفضل“ قادیان میں بدیں مضمون شائع ہوا۔ ”کہ ہم کو اخبار ستارہ صبح میں قادیان میں جلسہ ہونے اور یہاں علمائے کرام کے تشریف لانے کا پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ ہم تبلیغ کے لیے اپنے آدمی دور دراز کے ملکوں میں بھیجتے ہیں۔ یہ تو ہماری خوش قسمتی ہوگی کہ علمائے کرام یہاں آئیں اور ہم ان سے تبادلہ خیالات کریں مگر ہم نے قادیان کی گلی گلی اور کوچہ کوچہ چھان مارا ہے کہ وہ ہستیاں ہمیں نظر آئیں جو قادیان میں جلسہ کرا رہی ہیں، مگر شاید وہ ابھی عالم بالا میں پرورش پا رہی ہیں۔

یہ مضمون ہمارے لوگوں کی نظر سے گزرا مگر ہم خاموش تھے۔ یہاں تک ہمارے اشتہارات جگہ جگہ پہنچ گئے اور قادیان کے بازاروں میں چسپاں کر دیئے گئے۔ اشتہارات دیکھ کر مرزائی صاحبان کے اوسان خطا ہو گئے۔ خصوصاً جب انہوں نے مولانا ثناء اللہ صاحب، مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی اور ستارہ ہند مولانا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے اسمائے گرامی دیکھے۔ اب انہیں فکر لاحق ہوئی کہ کسی طرح سے یہ جلسہ بند کرا دیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے مجلس شوریٰ بلوائی جس میں یہ طے ہوا کہ چند

صفحہ 175

معزز مرزائی ڈپٹی کمشنر کو ملیں اور اسے اپنی جماعت کی سرکار انگلشیہ سے وفاداری کے احسانات جتا کر اسے بتائیں کہ اس جلسہ میں ہر فرقہ کے علماء آ رہے ہیں۔ اس لیے خطرہ ہے کہ قادیان میں کسی قسم کا ہنگامہ نہ ہو جائے۔ چنانچہ مرزائیوں کا ایک وفد گورداسپور پہنچا۔ ڈپٹی کمشنر نے اس معاملہ پر غور کرنے کا وعدہ کیا۔ ہمارے آدمیوں کو بھی علم ہو گیا وہ لوگ بھی گورداسپور گئے۔

ڈپٹی کمشنر نیک دل پادری منش انگریز تھا۔ اس سے ملے اور قادیان کے حالات سنا کر بتایا کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔ مگر مرزا صاحب اپنے آپ کو مسیح موعود کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آسمان پر کوئی مسیح نہیں وہ مسیح میں ہوں۔ ڈپٹی کمشنر صاحب نے حیران ہو کر پوچھا، کہ کیا واقعی مرزا صاحب اپنے آپ کو مسیح کہتا ہے۔ ہم نے اس کی کتابوں کے حوالے دیے اور کہا کہ ہم یہی اپنے علماء سے سننا چاہتے ہیں کہ واقعی مرزا صاحب مسیح ہیں یا جسے ہم اور آپ مانتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے بڑے وثوق سے کہا کہ تم جا کر جلسہ کرو تمہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ قادیانیوں کو جب یہ معلوم ہوا تو ان کو اور زیادہ تشویش ہوئی۔ جلسہ کا دن قریب آ رہا تھا۔ دوبارہ ان کا وفد ڈپٹی کمشنر سے ملا اور اسے بتایا کہ یہ باہر کے لوگ محض فساد کرنے کی غرض سے آ رہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ میں نے سپرنٹنڈنٹ پولیس کو حکم دے دیا ہے کہ وہ پولیس کی کافی تعداد وہاں بھیج دے۔ مگر اس پر بھی تمہیں خطرہ ہے تو ایڈیشنل مجسٹریٹ کو بھی بھیج دوں گا اور اگر وقت ملا تو شاید میں خود بھی آؤں۔ مرزائی اپنا سا منہ لے کر واپس آ گئے۔ یہاں پر آ کر انہوں نے جلسہ کو ناکام بنانے کے لیے لمبے باقاعدہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا۔ کیوں کہ انہیں خطرہ تھا کہ قرب و جوار کے مسلمانوں پر جو انہوں نے مختلف قسم کے دباؤ ڈال رکھے تھے، یہ سب لوگ ان سے باغی نہ ہو جائیں۔

جلسہ سے چند روز پہلے قادیان کے ہندوؤں اور سکھوں نے مہمانوں کے لیے اپنے رہائشی مکان خالی کر دیے اور خود دو تین تین کنبوں نے مل کر گزارا کیا، کیونکہ ان پر بھی مرزائیوں نے بہت رعب ڈال رکھا تھا۔ سکھوں نے قادیان کے قصبہ کے قریب ہی اپنی جگہ پر جلسے کا انتظام کیا اور سٹیج وغیرہ بھی انہوں نے خود بنائی۔ ہمیں بٹالہ سے

صفحہ 176

دریوں اور شامیانوں کا بندوبست کرنا پڑا۔ خدا خدا کر کے جلسہ کا دن آیا۔ تاریخ مقررہ سے ایک روز قبل میرے استاد حضرت مولانا نور احمد صاحب اپنے دوست میاں نظام الدین صاحب میونسپل کمشنر امرتسر اور اپنے چند شاگردوں کے ساتھ تشریف لے آئے۔ مولوی عبدالعزیز صاحب گورداسپوری اسی روز آگئے۔ دوسرے روز علی الصبح میاں نظام الدین صاحب کی صدارت میں جلسہ کی کارروائی شروع ہوئی۔ قادیانیوں کا اور تو کوئی جادو نہ چل سکا۔ جلسہ کے ایک روز پہلے انہوں نے قادیان کے اطراف میں اپنے آدمی دوڑا دیئے اور مشہور کر دیا کہ جلسہ نہیں ہوگا۔ گورنمنٹ نے جلسہ کو روک دیا ہے۔ اس لیے حاضرین کی تعداد بہت کم تھی۔ جناب مولانا نور احمد کے ارشاد پر مولوی عبدالعزیز صاحب نے تلاوت قرآن کریم کے بعد اپنی تقریر شروع کی۔ مرزائی مذاق اڑاتے تھے کہ یہ جلسہ نہیں جلسی ہے۔ مگر جوں جوں قرب و جوار کے مسلمانوں کو علم ہوتا گیا کہ جلسہ ہو رہا ہے، وہ محض مرزائیوں کی شرارت تھی تو لوگ جوق در جوق آنے شروع ہو گئے۔ دوپہر کو لاہور سے جناب مولانا احمد علی صاحب ، ماسٹر پیر بخش صاحب اور تین چار اور عالم ، جو ان کے دوست تھے آگئے۔ دھاریوال سے مولوی نواب دین صاحب امرتسر سے مولوی ابو تراب صاحب۔ غرض کہ علماء کی آمد آمد شروع ہو گئی۔

جلسہ میں اس قدر رونق ہو گئی جس کی ہمیں بھی توقع نہ تھی۔ اور دور دور سے لوگوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی۔ مجسٹریٹ سری کرشن ، انسپکٹر ، سب انسپکٹر پولیس مع کافی عملہ کے موجود تھے۔ مرزائیوں نے کئی دفعہ جلسہ میں گڑ بڑ ڈالی اور فساد کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ آخر انہوں نے اس خوف سے کہ کلمہ حق کسی کے کان میں نہ پڑ جائے۔ اپنے لوگوں کو جلسہ میں آنے سے روکنا شروع کر دیا۔ سکول کے مسلمان طلبہ کو جلسہ میں شریک نہ ہونے دیا۔ حالانکہ تعلیم الاسلام ہائی سکول میں غیر حاضری کا کوئی جرمانہ نہ ہوتا تھا ، مگر ایام جلسہ میں آٹھ آنے فی غیر حاضری کا جرمانہ رکھ دیا۔ سقوں اور خاکروبوں کو مجبور کیا کہ وہ جلسہ کا کام نہ کریں۔

دشمن چہ کند چو مہربان باشد دوست

جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے۔ قادیان کے مسلمانوں نے سب

صفحہ 177

کام بڑی مستعدی سے کئے۔ تیسرے روز علی الصبح مولوی ثناء اللہ صاحب بھی تشریف لے آئے۔ مرزا صاحب کے مباہلہ وغیرہ کی وجہ سے لوگ ان کو دیکھنے اور ان کی تقریر سننے کے بڑے شائق تھے۔ یہ خبر ہوا کے ساتھ قادیان کے اطراف میں پھیل گئی۔ پھر تو جلسہ گاہ میں اس قدر ہجوم تھا کہ تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ بعد دوپہر مولوی صاحب نے اپنے خاص انداز میں تقریر شروع کی اور مرزا صاحب کا الہام پیش کیا، کہ میں نے دیکھا کہ زمین اور آسمان میں نے بنایا ہے۔ ان دنوں قادیان میں ریل نہیں جاتی تھی اور بٹالہ سے قادیان تک کچی سڑک تھی۔ قادیان سے میل ڈیڑھ میل کا ٹکڑا نہایت خستہ حالت میں تھا۔ جس کا نام ہی پہلو توڑ سڑک رکھا ہوا تھا کہ تین روز تک پسلیاں ہی درد کرتی رہتی تھیں۔ اور واقف کار لوگ اکثر یہ حصہ پیدل ہی طے کیا کرتے تھے۔ مولوی صاحب نے یہ الہام پیش کر کے فرمایا کہ مجھے یہ الہام پڑھ کر تو بہت خوشی ہوئی کہ میرے ایک مہربان نے آسمان اور زمین بنائے مگر یہ دیکھ کر بہت رنج ہوا کہ قادیان کی سڑک نہ بنائی۔ شاید انہیں معلوم تھا کہ مولوی ثناء اللہ اس سڑک پر سفر کرے گا۔ اس لیے دانستہ ہی اسے چھوڑ دیا ہو۔

پھر مرزا محمود کے سفر ہندوستان سے واپسی پر اور دریائے گنگا کے پل عبور کرنے پر جو مضمون الفضل نے شائع کیا تھا کہ گنگا نے مرزا صاحب کے پاؤں چومے۔ لہریں ان پر نثار ہوتی تھیں۔ اس پر بڑی پرلطف تنقید کی۔ پھر نکاح آسمانی اور محمدی بیگم کا قصہ شروع کیا۔ مرزائی صاحبان ذرا ذرا سی بات پر مجسٹریٹ کو توجہ دلاتے، کہ مولوی صاحب کو یہ بات کرنے سے روکا جائے۔ اس سے ہمارے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ مگر مولوی صاحب جو ان کے نبی سے دال روٹی بانٹتے تھے، بھلا ان کو خاطر میں کب لاتے ۔ انہوں نے مجسٹریٹ کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے کہا، کہ دین کا معاملہ ہے۔

مرزا صاحب نے مسلمانوں کے عقیدہ کے خلاف دعویٰ نبوت کیا اب ہمیں حق ہے کہ ہم اس دعویٰ کو پرکھ کر دیکھیں۔ اس وقت جلسہ کے صدر میرے ماموں جناب شیخ محمد صاحب، وکیل گورداسپور تھے۔ ان کو مخاطب کر کے مولوی صاحب نے کہا، کہ جب عدالت میں کوئی دعویٰ کرتا ہے تو کیا فریق ثانی کو قانون یہ حق نہیں دیتا کہ جواب دعویٰ پیش کرے۔ پھر ہمیں جواب دعویٰ سے کوئی روک نہیں سکتا۔ اور اگر دعویٰ

صفحہ 178

باطل ہو جاوے تو مقدمہ خارج ہوتا ہے۔ مرزا صاحب نے دعویٰ نبوت کر کے ہمیں چیلنج دیا۔ اب ہمیں اس کی تردید میں دلائل پیش کرنے کا حق پہنچتا ہے۔ اس بات سے نہ ہی ہمیں اخلاق روک سکتا ہے اور نہ ہی قانون۔ مگر مرزائی تھے کہ واویلا کر رہے تھے۔ مجسٹریٹ کو مجبوراً یہ کہنا پڑا کہ اگر آپ نے اسی طرح شور مچائے رکھا تو مجھ کو سختی کرنا پڑے گی۔ مولوی صاحب نے محمدی بیگم کے نکاح کو کچھ ایسے پیرایہ میں بیان کیا کہ سننے والوں کے پیٹ میں بل پڑ پڑ جاتے تھے۔ خیر جلسہ بخیر و خوبی ختم ہو گیا۔ دوران جلسہ پندرہ بیس دیہاتی مرزائی تائب ہو گئے۔ اور جن کے دلوں میں کچھ شبہات تھے۔ انہوں نے بھی توبہ کی۔ اگرچہ میں ملازمت کے باعث منظر عام پر نہ آیا تھا، اور نہ آ سکتا تھا مگر

کجا ماند آں رازے کزو سازند محفلھا

ہر جگہ یہ خبر پھیل گئی کہ جلسہ کا بانی یہاں کا پوسٹ ماسٹر ہے۔ باہر سے احباب کے مبارک باد کے خطوط آنے شروع ہو گئے۔ مگر ان تمام خطوط میں ایک خط ایسا تھا جس کو میں عمر بھر نہیں بھول سکتا۔ یہ خط جناب حضرت مولوی محمد علی صاحب سجادہ نشین مونگیر شریف کا تھا۔ جنہوں نے مرزا صاحب کے متعلق چند رسالے بھی شائع کئے تھے۔ اصلی خط تو دوران تقسیم بٹالہ میں ہی رہ گیا، مگر اس کا مضمون قریب قریب یہ تھا۔ محبی السلام وعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مجھے معلوم کر کے بہت خوشی حاصل ہوئی کہ آپ نے قادیان میں مسلمانوں کے جلسہ کی بنیاد رکھی ہے۔ خداوند کریم آپ کو اجر خیر دے۔ اگرچہ میں اب ضعیف ہوں مگر جب مرزا صاحب کے خلاف قلم اٹھاتا ہوں تو اپنے آپ کو جوان پاتا ہوں۔ امرتسر میں میرے دوست مولوی نور احمد صاحب اور مولوی ثناء اللہ صاحب موجود ہیں انہیں میری جانب سے سلام عرض کریں اور وقت بے وقت اگر کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہو تو انہیں کہہ دیا کریں۔ یہ خط میرے لیے باعث اطمینان و فخر تھا، کہ قابل قدر ہستی نے جس پر ہر دو مولوی صاحبان کو بھی ناز تھا۔ احقر کو یاد فرمایا۔

مجھے اس بات کا یقین ہے کہ اس تمام تگ و دو کی پشت پر میرے آقا مرشدی حضور حضرت خواجہ الہ بخش صاحب تونسوی رحمۃ اللہ کی روحانی امداد اور جناب پیر جماعت علی شاہ صاحب علی پوری اور دیگر بزرگان دین کی دعائیں تھیں۔ ورنہ میرے جیسے کم علم بے بضاعت اور ملازمت میں جکڑے ہوئے شخص کی اتنی ہمت و جرات کب

صفحہ 179

تھی۔ کہ سرکار انگلشیہ کے خود کاشتہ پودے کے خلاف کچھ کر سکے۔

ھذا من فضل ربی۔

اب مرزائیوں کو بھی پورے طور پر یقین ہو چکا تھا کہ پردہ زنگاری کے پیچھے سب پوسٹ ماسٹر کا ہاتھ ہے۔ قصر خلافت میں مشورے شروع ہوئے کہ سب پوسٹ ماسٹر کو قادیان سے تبدیل کرایا جاوے۔ چنانچہ یہ طے ہوا کہ پوسٹ ماسٹر جنرل کی شملہ سے واپسی پر ایک وفد اس کے پاس جاوے۔ اس دوران میں نانا جان جو ضرورت سے زیادہ حریص تھے۔ یہ خیال پیدا ہوا کہ مولوی محمد احسن سے جو کام لینا تھا وہ تو لے لیا اب مرزا محمود کی خلافت کو کسی قسم کا خطرہ بھی نہ تھا۔ کیوں کہ اسے ایک عرصہ گزر چکا تھا۔ چنانچہ انہوں نے مولوی صاحب سے اپنی رقم کا تقاضا کیا اور ایک لمبی چوڑی چٹھی لکھی‘ کہ مولوی صاحب آپ نے جو روپیہ اپنے صاحبزادہ محمد یعقوب کی شادی پر بطور قرض حسنہ لیا واپس کریں۔ مولوی صاحب اپنی دانست میں اس کا معاوضہ اس سے زیادہ ادا کر چکے تھے۔ مرزا محمود صاحب کو تخت نشین کرنا ان ہی کی کرامت تھی۔ انہوں نے نانا جان کو بہت سمجھایا کہ اب اس کا تقاضا کو چھوڑ دیں کہ میں کئی گنا زیادہ حق خدمت ادا کر چکا ہوں۔ نانا جان نے نہ ماننا تھا نہ مانے اور الٹی سیدھی سنانا شروع کیں۔ مولوی صاحب نے بھی تنگ آکر اخبار پیغام صلح اور دیگر اخبارات کا سہارا لے کر مرزا صاحب کی قلعی کھولنا شروع کی اور مرزا صاحب کے مبلغ علم کا سب کچا چٹھا لکھ مارا۔ جس پر انہیں منافق و مرتد کے خطابات ملنے شروع ہوگئے۔

اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کہ کجا تا بہ مسند پایہ ممبرم

نوجوان اس دام تزویر میں پھنس کر صراط مستقیم سے بھٹک گئے۔ پھر انہیں اپنے خود ساختہ دین کے رنگ میں پوری طرح سے رنگ دیا۔

پہلے جو پیغمبر آیا کرتے تھے وہ اس زمانہ کے فاسد و باطل خیالات و عقائد کی مخالفت کر کے اور تکلیفیں برداشت کر کے لوگوں کو راہ راست پر لاتے۔ مگر جناب مرزا صاحب نے زمانہ کی ہوا کا رخ دیکھا اور اس کے مطابق اپنی تعلیم کو جاری کیا‘ تاکہ بڑے بڑے سرکاری عہدے داروں پر قابو پایا جاسکے اور وہ حصول زر کا باعث بن سکیں۔

صفحہ 180

چنانچہ قادیان میں بہشتی مقبرہ۔ کہ اس میں دفن ہونے والے ہر شخص سے اس کی جائیداد کا دسواں حصہ وصول کرنا اور تنخواہ سے تا دورانِ ملازمت دسواں حصہ وصول کرتے رہنا۔ اس بہشتی رشوت کے علاوہ زکوٰۃ نذرانہ وغیرہ کی وصولی حصول زر کے ادنیٰ کرشمے ہیں۔

چنانچہ ایک معمر مرزائی جس کے سات لڑکے تھے اور ساتوں مسلمان تھے‘ وہ مرا تو اس نے وصیت کی کہ مجھے بہشتی مقبرے میں دفن کیا جائے۔ وہ ملازمت کے دوران تنخواہ کا دسواں حصہ ادا کرتا رہا۔ جب وہ مر گیا تو لڑکوں نے مرزا محمود سے کہا کہ یہ آپ کا مرید ہے۔ اس نے اپنی تنخواہ سے ہمارا پیٹ کاٹ کر بھی دسواں حصہ ادا کیا ہے۔ اب جائیداد اتنی نہیں کہ ہم بھائیوں کی گزران ہو سکے۔ اس لیے اس کی وصیت کے مطابق بہشتی مقبرہ میں دفن کیا جاوے۔ مگر دربار خلافت سے حکم ہوا کہ یہ ہمارے آئین کے خلاف ہے۔ اگر اسے بہشتی مقبرے میں داخل کرنا ہے‘ تو جائیداد کا دسواں حصہ لازمی دینا پڑے گا۔ اسی تکرار میں میت کو تین روز گزر گئے۔ گرمیوں کا زمانہ تھا۔ میت میں سڑاند پیدا ہو گئی۔ مگر مرزا محمود نے اپنے خدائی آئین کو نہ توڑا۔ آخر لڑکوں نے مجبور ہو کر جائیداد کا دسواں حصہ دے کر باپ کی وصیت کو پورا کیا۔

قادیان میں جلسہ کرانے سے میرا مقصد صرف اس قدر تھا۔ کہ وہ لوگ جن کے کانوں میں ابھی اسلام کے اصل عقائد کی آواز نہیں پہنچی۔ ممکن ہے ہمارے علمائے کرام کے وعظ اور نصیحت سے فائدہ اٹھا کر راہ راست پر آ جاویں۔ چنانچہ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے۔ جلسہ میں چند اصحاب نے اپنے عقائد سے توبہ کی اور قرب و جوار میں اس کا بہت اچھا اثر ہوا۔

کادیاں سے قادیاں

۱۹۰۴ء سے پہلے قادیان کو کادیاں کہا جاتا تھا۔ جس کے معنی مکار اور فریبی کے ہیں۔ اور ڈاک خانہ کی مہروں پر بھی لفظ "Kadian" کادیاں ہوتا تھا۔ جس کا اکثر اخبارات مذاق اڑایا کرتے تھے۔ آخر مرزائیوں نے تنگ آ کر اس کے متعلق قلمی جہاد

صفحہ 181

شروع کر دیا۔ اور بالاخر ڈاک خانہ کی مہروں پر لفظ K کی بجائے Q لکھوانے میں کامیاب ہو گئے۔

قادیاں ایک اجنبی شخص کے لیے بظاہر بڑا دل خوش کن اور دلفریب تھا۔ ہائی سکول اور بورڈنگ کی خوشنما عمارت، ہیڈ ماسٹر کا بنگلہ، مدرسہ کے اندر دینیات، لنگر، ظاہری اخلاق کی یہ حالت ہر وقت جزاک اللہ زبان زد۔ صبح و شام زنانہ و مردانہ درس۔ گویا یہ چیزیں ایک نووارد کو اکثر متاثر کر دیتی تھیں، مگر افسوس کہ اندرونی حالات کچھ اچھے نہ تھے اور مرزا محمود کے وقت کے واقعات تو کچھ ایسے تھے۔ جن کا تذکرہ کرتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔

حکومت وقت سے دھوکا

پہلی جنگ عظیم جو ۱۹۱۴ء میں شروع ہوئی اور پانچ سال تک جاری رہی۔ اس جنگ کے دوران میں حکومت انگلیہ نے عوام سے قرضہ لینے کا اعلان کیا۔ جس کی وصولی کے لیے ڈاک خانہ کے کیش سرٹیفکیٹ اجرا کئے جاتے تھے۔ تمام افسران ضلع کو ہدایت تھی کہ وہ اپنے اثر و رسوخ سے قرضہ وصول کریں۔ بڑے افسر جب دورہ پر جاتے تو ڈاک خانہ سے پوچھتے کہ یہاں کے لوگوں نے کتنے روپے کے کیش سرٹیفکیٹ خریدے ہیں۔ قادیان میں کسی متنفس نے کوئی کیش سرٹیفکیٹ نہ خریدا۔ کچھ عرصہ کے بعد ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور نے اپنی منزل قادیان میں رکھی۔ مرزائیوں کو یہ معلوم ہوا۔ تو ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین نے جو ان دنوں انچارج دفتر محاسب تھے قریباً پانچ ہزار کے کیش سرٹیفکیٹ دفتر محاسب کے نام کے خرید لیے جو ڈپٹی کمشنر کے آنے پر اسے بڑے فخر سے دکھائے گئے۔ مگر اس کی واپسی کے چند روز بعد ان کا روپیہ وصول کر کے خزانہ دفتر محاسب میں داخل کر دیا۔ جو قوم اپنے پروردگار سے ایسا دھوکا کرے اس پر کسی شریف آدمی کو کیا اعتبار ہو سکتا ہے۔ بہر حال گندم نما جو فروشی میں انہوں نے کمال کی انتہا کر دی۔ سیدھے سادے مسلمانوں کے دین و ایمان اور جیبوں پر شریفانہ ڈاکہ زنی میں انہیں خاصی مہارت حاصل ہے۔

صفحہ 182
خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ سلطانی بھی عیاری ہے درویشی بھی عیاری

قادیان سے ربوہ

یہ ایک مشہور روایت ہے۔ حضرت عیسیٰ کا نزول دمشق کے ایک مینار سے ہو گا۔ چنانچہ مرزا صاحب نے قادیان کو دمشق سے تشبیہ دی اور مینار سے یہ تاویل کی کہ عیسیٰ صاحب مینارہ ہوں گے۔ مسجد کا نام تو انہوں نے مسجد اقصیٰ رکھ ہی لیا تھا۔ اب سوال تھا مینار کا۔ چنانچہ انہوں نے مسجد اقصیٰ میں مینارہ کی بنیاد بھی رکھ دی۔ مسجد کے مشرق کی طرف جدھر مینارہ شروع کیا، ہندو برہمنوں کے چند مکانات تھے، جن میں ایک مکان ایک ہندو ڈپٹی کا بھی تھا۔ اس نے حکومت میں درخواست گزار دی کہ اس مینار کے بننے سے ہمارے تمام گھر بے پردہ ہو جائیں گے، لہٰذا اسے روک دیا جائے۔ چنانچہ حکومت نے مرزا صاحب کی اس پیشین گوئی میں رکاوٹ ڈال دی اور اس کی تعمیر بند ہو گئی۔ مرزا محمود کے وقت میں مرزائیوں نے ہندوؤں کو تنگ کرنا شروع کیا۔ چونکہ ان غریب ہندوؤں کے کچے مکانات کی چھتیں مسجد کی تہ زمین کے برابر تھیں، اس لیے نمازی شرارت سے اوپر چلے جاتے۔ بعض اوقات عورتیں بے پردہ نہا رہی ہوتیں تو انہیں تکلیف ہوتی۔ دربار خلافت میں کئی بار پکار ہوئی مگر وہاں تو ارادے ہی دوسرے تھے۔ چنانچہ ان کی عرض کا نتیجہ یہ نکلا کہ گائے کے گوشت کی ہڈیاں اوپر پھینکی جانے لگیں۔ آخر ان غریبوں نے مکانات مرزائیوں کے ہاتھوں میں بیچ دیئے۔ ڈپٹی کی اولاد سری رام وغیرہ بھی نالائق نکلے، وہ مکان بھی قادیانی دفتر بن گیا، اب کوئی رکاوٹ باقی نہ تھی۔ مینارہ کے ساتھ مسجد بھی فراخ ہو گئی، گو صاحب مینارہ کو منارہ دیکھنا نصیب نہ ہوا مگر:

پدر نتواند پسر تمام خواهد کرد

انقلاب زمانہ نے قادیانیوں کو بھی بادل نخواستہ دارالامان اور بہشتی مقبرہ کافروں کے سپرد کرنا پڑا۔ اگرچہ اب بھی ان کا بس چلے تو بھارت سے ساز باز کر کے شاید وہ جانے سے نہ رکیں، مگر چونکہ یہ امر فی الحال انہیں محال نظر آ رہا ہے۔ اس لیے اب

صفحہ 183

انہوں نے چنیوٹ کے قریب سستے داموں پر زمین خرید کر ربوہ یعنی بلند جگہ کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ عام مسلمانوں کو تو فی الحال اس نام کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں، مگر مرزا محمود اپنے باپ کی طرح دور اندیش ہیں۔ چند سال کے بعد اپنے مریدوں کو قرآن حکیم کے اٹھارہویں پارہ کی اس آیت کی طرف توجہ دلائیں گے: وجعلنا ابن مریم وامہ آیتہ واوینہا الی ربوہ ذات قرار ومکین ۔ یعنی ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ ؑ اور ان کی ماں کو بڑی نشانی بنایا اور ہم نے ان دونوں کو ایک بلند زمین پر لے جا کر پناہ دی جو ٹھہرنے کے قابل اور شاداب جگہ تھی۔ اس آیت کا حوالہ دے کر، مریدین کو فرماویں گے کہ خداوند تعالیٰ نے پہلے ہی مجھے بشارت دے دی تھی کہ تم قادیان چھوڑ کر ربوہ جاؤ گے۔ اور یہ ربوہ وہی جگہ ہے جس کے متعلق قرآن کریم میں صاف آچکا ہے کہ عیسیٰ ؑ اور اس کی والدہ یہاں پناہ لیں گے۔ عیسیٰ ؑ کی بجائے ابن مرزا اور والدہ کا بھی غالباً وہ کوئی لطیف نکتہ پیدا کر لیں گے اور شاید مرزا صاحب کا کوئی الہام بھی چسپاں ہو جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس نیت کو عمل میں کب لاتے ہیں۔

دعا

آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس فرقہ کو جو اپنی کسی لغزش یا ناواقفیت یا دنیاوی غرض کے ماتحت راہ مستقیم کو چھوڑ کر اسلام سے دور چلا گیا ہے، راہ راست پر لاوے اور اپنے حبیب پاک ﷺ کی طفیل انہیں صحیح اور سیدھے راستے پر چلاوے! آمین ثم آمین!

صفحہ 184

یہ فکر مندیاں - زہے نصیب

١٩٥٣ء کی تحریک کو مارشل لاء لگا کر ختم کر دی گئی اور اس کو فسادات کا نام دیا گیا لیکن یہی تحریک ١٩٧٤ء میں پھر چلی اور مرزائیت اپنے انجام کو پہنچی اور اللہ تعالیٰ نے یہ کام اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے لیا۔ حالانکہ مرزائیوں نے پیپلز پارٹی کی کامیابی کے لیے کروڑوں روپیہ خرچ کیا۔ لیکن اسی بھٹو سے اللہ تعالیٰ نے یہ کام لیا....... احرار کے رگ و ریشے میں یہ بات کس طرح رچ بس چکی تھی‘ اس کی ایک مثال مولانا مظہر علی اظہر کے بیٹے خاقان بابر کی ایک بات ہے جو انہوں نے اپنے والد کے مرنے پر آغا شورش کاشمیری سے کہی‘ میں اس وقت پاس بیٹھا تھا....... خاقان بابر نے کہا کہ ایک دفعہ ابا جی‘ (مولانا مظہر علی اظہر) نے گلو گیر لہجے میں کہا کہ بیٹا مجھ سے مرزائیت کے خد و خال اور اس کے متعلق تفصیلات از بر کر لو کہ ٢٥ سال کے بعد یہ تحریک پھر چلے گی۔ اس وقت یا تو تحریک کامیاب ہو جائے گی یا پھر اس میں ملک بھسم ہو جائے گا۔ اس وقت مرزائیت کے متعلق وکالت کرنے کی ضرورت ہو گی۔ جو کچھ ہم جانتے ہیں‘ پتہ نہیں اس وقت کوئی اس طرح جانتا ہو یا نہ ہو‘ ایسا نہ ہو کہ منکرین نبوت کے مقابلے میں محمد رسول اللہ ﷺ کی ”ختم نبوت“ کی وکالت کرنے والا کوئی نہ ہو۔ آغا صاحب یہ سن کر رونے لگے اور میرے بھی آنسو نکل آئے۔

(”بیس مردان حق“ ص ۱۵۲‘ از عبدالرشید ارشد)

مولانا جالندھریؒ کا انداز تقریر

آپ اپنی تقریر میں افہام و تفہیم کا خیال رکھتے تھے کہ سامعین کو آسانی سے بات سمجھ میں آجائے۔ فصاحت و بلاغت یا فقروں کی بناوٹ کا خیال نہیں فرماتے تھے کہ اصل مقصد تبلیغ تھی۔ جیسے سامعین ہوتے انہی کے ذہن و دماغ کے مطابق تقریر کرتے اور سامعین کی قلت و کثرت کی پرواہ نہ کرتے۔ دیہات میں ایسے لوگوں کے سامنے تقریر کرتے

صفحہ 185

کہ جو سب ان پڑھ ہوتے تو جیسا کہ گزرا‘ منقولات کو معقول انداز میں پنجابی میں ایسا سمجھاتے کہ اس سے بہتر سمجھانا کسی اور کے لیے مشکل ہوتا اور پنجابی میں کبھی کبھی اردو کے پیوند لگاتے اور شاید یہ کہنا بجا ہو گا۔ کہ آپ پنجابی کے سب سے بڑے خطیب تھے۔ لیکن بہت سادہ‘ جب سٹیج پر تشریف لاتے تو محسوس ہوتا کہ کوئی سادہ دیندار دیہاتی ہے۔ لیکن جب تقریر کرتے تو کئی دفعہ یوں محسوس ہوتا گویا قرن اول کا کوئی مجاہد تقریر کر رہا ہے۔ عوام کی بولی ٹھولی میں ختم نبوت اور سیاسی دینی مسائل سمجھانے میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔

جیم کی مناسبت

تحریک ختم نبوت میں میاں چنوں میں ایک مسلم لیگی لیڈر ماسٹر نذیر احمد مرحوم (جو بہت اچھے خطیب اور جذباتی مقرر تھے) نے تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے تین محمد علی پیدا کیے‘ پہلے مولانا محمد علی جوہر کہ جنہوں نے ہندوستان میں ہندو مسلمانوں میں آزادی کی تڑپ پیدا کی‘ دوسرے محمد علی جناح‘ جنہوں نے ہمیں دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک لے کر دیا۔ (اس وقت مشرقی اور مغربی پاکستان اکٹھے تھے) اور تیسرے مولانا محمد علی جالندھری کہ جنہوں نے تحفظ ناموس ختم نبوت کی خاطر تمام مسلمان فرقوں کو متحد کر دیا۔

(”بیس مردان حق“ ص ۱۶۳‘ از مولانا عبد الرشید ارشد)

ایئر مارشل ظفر چوہدری قادیانی کی فضائیہ سے علیحدگی

مولانا ہزارویؒ قومی اسمبلی : ۱۳۸۹ھ بمطابق ۱۹۷۰ء کے الیکشن میں جمعیت علماء اسلام کے ٹکٹ پر ضلع مانسہرہ سے کامیاب ہو کر قومی اسمبلی میں پہنچ گئے۔ یہاں آپ نے دوسری خدمات کے علاوہ جو سب سے بڑی اور تاریخی خدمت سرانجام دی وہ بھٹو حکومت سے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانا ہے۔ اس میں سب ہی علماء کرام‘ ممبران عظام‘ اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے ارکان و زعماء کی خدمات شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو جزائے

صفحہ 186

خیر اور اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین۔ سب نے اپنی اپنی توفیق اور بساط کے مطابق اس مسئلے کو حل کرنے میں اپنا وزن ڈال کر عاقبت سنوارنے کی کوشش کی ہے۔ مگر میرے خیال میں جہاں تک میری معلومات ہیں‘ سب سے بڑی بنیادی اور موثر کوشش مولانا ہزارویؒ کی ہے۔ آپ نے تحریک چلنے سے بہت پہلے ہی بھٹو مرحوم کی ذہن سازی شروع کر دی تھی اور اکثر ملاقاتوں میں اس کو مرزائی حرکات‘ مقاصد اور پروگرام سے مطلع کرتے رہتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ایئر مارشل چوہدری ظفر کو ہٹانے سے پہلے بھٹو مرحوم نے آپ سے مشورہ کیا۔ بھٹو مرحوم اس کے علیحدہ کرنے میں کچھ ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے۔ مگر مولانا نے فرمایا : اس کو دفع کرو‘ علیحدہ کر دو‘ کیوں سانپ پالتے ہو؟ یہ نہ آپ کے نہ کسی اور کے وفادار ہیں۔ یہ صرف اور صرف قادیانی خلیفہ اور اس کی ریاست کے وفادار ہیں۔ چنانچہ مسٹر بھٹو مرحوم نے ہمت اور جرات سے کام لے کر ۱۵ اپریل ۷۴ء میں اس کو علیحدہ کر دیا۔ اس اقدام سے ملک میں مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ مجاہد ختم نبوت شورش کاشمیریؒ نے ”چٹان“ میں اداریہ لکھا :

”ذوالفقار علی بھٹو زندہ باد۔“

(”بیس مردان حق“ ص ۶۳۰-۶۳۱‘ از مولانا عبد الرشید ارشد)

میں ہر افق سے طلوع ہو کر جہاں میں ظاہر ہوا ہوں ماہر
کہیں میرا طرز ناصحانہ‘ کہیں میرا رنگ عاشقانہ (مولف)
صفحہ 187

جرأت اظہار

یہ ۱۹۷۰ء تھا جب ملتان شہر میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی مقامی کانفرنس منعقد ہوئی۔ آپؒ نے تقریر کرتے ہوئے اپنا ایک واقعہ بیان فرمایا۔ ایک بار میں اور مولانا لال حسین اختر تحصیل کنری (سندھ) میں جماعت کے تبلیغی پروگرام کے سلسلہ میں گئے۔ تحصیل کنری میں مرزائیوں کی بہت زیادہ زمینیں اور علاقے ہیں۔ ان کی حیثیت وہاں کسی بھی نواب سے کم نہیں۔ ہمارے وہاں روانہ ہونے سے قبل ہمارے خیر خواہوں نے ہمیں بتا دیا کہ وہاں آپ کی جان کا خطرہ ہے۔ ہم نے کہا بھائی اب تو اعلان کیا جاچکا ہے۔ اب نہ جانا عہد ختم نبوت سے بے وفائی ہے۔ ہم گئے۔ وہاں کے لوگوں نے زمین پر گھاس پھوس بچھا کر تقریر کا پروگرام بنایا۔ مولانا لال حسین اختر نے دن کو تقریر کرنا تھی اور میں نے رات کو۔ جب مولانا کی تقریر شروع ہوئی تو ایک شخص آیا کہ ڈی ایس پی صاحب بلاتے ہیں۔ خیر ایک آدمی گیا۔ ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ڈپٹی کمشنر صاحب اس آدمی کے ساتھ تشریف لائے اور ہمارے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے ”مولانا آپ جو چاہیں تقریر فرمائیں مگر مرزا غلام احمد قادیانی کا نام نہ لیں“ میں نے مولانا لال حسین اختر سے عرض کیا کہ وہ تھوڑی دیر تک اپنی تقریر روک دیں اور میں بات کروں۔

میں نے عرض کیا ”ہم لوگ یہاں نماز روزہ کی بات کرنے نہیں آئے۔ وہ تو یہاں کے مقامی علماء بتاتے ہی رہتے ہیں۔ ہمیں پتہ چلا ہے کہ آپ کی سرزمین میں بھی قصر ختم نبوت کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کے لیے چوہے آگئے ہیں۔ میں ان کی گولیاں لے کر آیا ہوں۔ ڈپٹی کمشنر صاحب! یاد رکھیں جہاں جہاں مرزائی ہوں گے، اپنی جھوٹی نبوت کا پرچار کریں گے اور مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالیں گے وہاں میں خود مرزا قادیانی کی ذات پر بحث کروں گا۔ کیونکہ اس نے نبی بن کر اپنی ذات کو منوانے کی دعوت دی ہے اور جب نبی اپنی ذات منوانے کی بات کر رہا ہے تو اس کی ذات پر بحث کی جاتی ہے کہ وہ سچا ہے یا جھوٹا، دھوکہ باز

صفحہ 188

ہے یا مخلص۔ میں اس بات سے باز نہیں آسکتا۔ بے شک میری جان چلی جائے۔ کیونکہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وفا کا عہد باندھ رکھا ہے ” ڈپٹی کمشنر صاحب خاموشی سے چلے گئے اور ہم نے عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کو سمجھایا اور کسی نے ہمارا بال بیکا نہیں کیا۔

("حضرت مولانا محمد علی جالندھری" ص ۴۲۔ ۴۳' از پروفیسر ڈاکٹر نور محمد غفاری)

کب موت سے ڈرتے ہیں غلامان محمدؐ
یہ اپنے غلاموں پہ ہے فیضان محمدؐ

مؤلف

باعث نجات

بہاولپور میں حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ نے فرمایا تھا کہ ہمارا نامہ اعمال تو سیاہ ہے ہی۔ یہ بات یقین کے درجہ کو پہنچ چکی ہے کہ ہم سے تو گلی کا کتا بھی اچھا ہے۔ شاید یہ بات مغفرت کا سبب بن جائے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا جانبدار ہو کر بہاولپور میں آیا تھا۔ تمام مجمع چیخیں مار اٹھا۔ حضرت اقدس قدس سرہ پر اس واقعہ کو سن کر بہت رقت طاری ہوئی۔ فرمایا کہ واقعی شاہ صاحب تو آیۃ من آیات اللہ تھے۔

("حیات طیبہ" ص ۳۵۳' از: ڈاکٹر محمد حسین انصاری)

محمدؐ کی عزت پر جان دے کر
شفاعت روز جزا چاہتے ہیں

مؤلف

اہل اللہ کی نظر

حکیم نور الدین بھیروی ثم قادیانی ایک دفعہ حضرت میاں صاحب کے پاس مہاراجہ جموں کے لیے دعا کرانے کے لیے گیا۔ آپ نے دیکھتے ہی فرمایا نام نور الدین ہے۔ حکیم نے کہا ہاں۔ فرمایا قادیان میں ایک شخص غلام احمد نام کا پیدا ہوا ہے جو کچھ عرصہ بعد ایسے دعوے کرے گا جو نہ اٹھائے جائیں نہ رکھے جائیں اور تم لوح محفوظ میں اس کے مصاحب لکھے ہوئے ہو۔ اس سے تعلق نہ رکھنا' دور دور رہنا' ورنہ اس کے ساتھ ہی تم بھی دوزخ

صفحہ 189

میں پڑو گے۔ حکم صاحب سوچ میں پڑ گئے۔ فرمایا تم میں الجھنے کی عادت ہے۔ یہی عادت تم کو وہاں لے جائے گی۔ چنانچہ کچھ عرصہ بعد مرزا غلام احمد قادیان میں ظاہر ہوا اور دعویٰ نبوت کیا اور کبھی مسیح موعود بنا اور حکیم نور الدین اس کا خلیفہ اول بنا اور اس کے دین کو پھیلایا۔ یہ شخص بڑا عالم تھا۔ مرزا صاحب کو بہت کچھ سکھاتا تھا۔ اس کے ساتھ گمراہ ہوا۔

(”حیات طیبہ“ ص ۴۰۹‘ از ڈاکٹر محمد حسین انصاری)

خواجہ حسن نظامی کی للکار

میں تمہارے امیر المومنین مرزا محمود احمد کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اجمیر شریف میں آئیں۔ میں بھی دہلی سے وہاں حاضر ہو جاؤں گا۔ آستانہ خواجہ غریب نواز کی مسجد میں مرزا صاحب میرے ساتھ کھڑے ہوں اور اپنی باطنی قوت کے تمام حربے مجھ پر آزمائیں اور جب وہ اپنی ساری کرامت آزما چکیں تو مجھ کو اجازت دی جائے کہ میں صرف یہ کہوں: ”اے خدا بطفیل اس صاحب مزار کی حقانیت کے اپنی صداقت کو ظاہر کر اور ہم دونوں میں جو جھوٹا ہو اس کو اسی وقت اور اسی لمحہ ہلاک کر دے۔۔۔۔۔۔“۔ اور اس کے بعد مرزا محمود کو اجازت دی جائے کہ وہ اپنے الفاظ میں جو دعا چاہیں کریں۔ ایک گھنٹہ کی مدت مقرر کی جائے۔ یعنی دونوں آدمیوں میں سے ایک پر ایک گھنٹہ کے اندر اس دعا پر اثر ظاہر ہونا چاہیے۔

مرزا صاحب دیکھ لیں گے کہ قدرت کیا تماشا دکھاتی ہے۔ کون مرتا ہے اور کون زندہ رہتا ہے۔

مردانگی ہے۔۔۔۔ صداقت ہے تو آؤ اس آزمائش گاہ کی سیر کرو جہاں ایک گھنٹہ کے اندر سب کچھ نظر آجائے گا‘ ڈرو مت۔ میرے پاس اڑنے والا زہریلا گیس نہ ہوگی۔ نہ میں تم کو دیکھوں گا جس سے تم کو اندیشہ ہو کہ مسمریزم یا ہپناٹزم کے ذریعہ مار ڈالا۔ میں تم سے دس قدم کے فاصلہ پر تمہاری طرف سے منہ پھیر کر گنبد خواجہ کی جانب رخ کر کے کھڑا رہوں گا۔

صفحہ 190

اگر تم کو یہ مباہلہ منظور ہو تو ربیع الاول ۱۳۳۶ھ کی چھٹی تاریخ کو اپنے حواریوں کو لے کر اجمیر شریف آجاؤ اور مسجد میں پوری جماعت کے ساتھ آؤ اور میں بالکل اکیلا آؤں گا۔ مسجد میں بھی میرے پاس کسی دوسرے کو کھڑے ہونے کی اجازت نہ ہوگی تاکہ تم کو یہ اندیشہ نہ ہو کہ میرے آدمی تم پر حملہ کر کے مار ڈالیں گے۔

گورنمنٹ سے اجازت لینا اور انتظام کرنا یہ سب تمہارے ذمے ہوگا اور تم کو باضابطہ ایک تحریر دینی پڑے گی کہ اگر میں آج مر گیا تو میرے وارث حسن نظامی پر خون کا دعویٰ نہ کریں گے‘ نہ سرکار کو اس میں دخل دینے کا اختیار ہوگا—— ایسی ہی تحریر میں بھی اپنے وارثوں سے سرکار میں داخل کرا دوں گا۔

دیکھو! بہت آسان بحث ہے۔ بہت جلدی ہندوستان کی ایک مصیبت ختم ہو جائے گی جو تمہارے وجود سے پیدا ہو گئی ہے۔ اس میں دریغ نہ کرو۔ ایسا موقع قسمت ہی سے آیا کرتا ہے۔ دیر نہ کرو اور فوراً اس دعوت کو قبول کر لو۔

جب تم اس ارادہ سے اجمیر شریف آؤ تو اپنی والدہ صاحبہ سے دودھ بخشوا کر آنا اور ریلوے کمپنی سے ایک گاڑی کا بندوبست کرا لینا جس میں تمہاری لاش قادیاں روانہ ہو سکے اور نیز اپنی اہلیہ صاحبہ سے مہر بھی معاف کرا لینا اور قادیاں کو والد ماجد کی قبر سمیت ذرا غور سے دیکھ آنا کہ پھر تم کو زندگی میں وہ در و دیوار دیکھنے نصیب نہ ہوں گے--- اور ضرورت ہے کہ وصیت نامہ بھی مکمل کر دینا اور جانشین کے مسئلہ کو بھی طے کر کے آنا--- یہ میں اس واسطے کہتا ہوں کہ مجھے اپنے برحق ہونے اور تمہارے مرنے کا پورا یقین ہے۔ اس کے علاوہ کچھ اور وجوہات بھی ہیں جن کو میں جانتا ہوں اور میرا قبول کر لینے والا اور میری بات کا لاج رکھنے والا خدا جانتا ہے‘ جن کو بیان کرنا تمہاری طرح خودستائی کرنا ہے۔

اس پیام جنگ کا جلدی چاہنے والا حسن نظامی (نظام المشائخ)

(ہفت روزہ ”لولاک“ ۲۲ مارچ ۱۹۲۷ء)

صفحہ 191

عجب حکمت عملی

مولانا عزیز الرحمان فرماتے ہیں کہ جب آپ ملتان سے لاہور جیل میں منتقل ہوئے تو میں اور میرے بھائی حبیب الرحمان صاحب لاہور ملاقات کے لیے گئے تو مولانا نے فرمایا کہ آج مکئی کی چھلیاں کھانے کو دل کرتا ہے۔ آپ ایک بوری مکئی خرید کر ساڑھے تین بجے جیل کی ڈیوڑھی پر پہنچا دیں اور اگر سنتری اندر نہ آنے دے تو رکھ کر چلے جانا ٹھہرنا نہیں۔ ہم نے ایک بوری سٹے خریدے اور سنتری کے پاس لائے۔ اس نے مولانا کو بھجوانے سے انکار کیا تو ہم ڈیوڑھی پر بوری چھوڑ کر رکشہ پر چلے گئے۔ ہمارے جانے کے بعد مولانا نے جیل کا اندر سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ دروازہ کھلا تو جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے پاس گئے اور فرمایا کہ ہمارے لیے مکئی کے سٹے آئے ہیں، وہ اندر بھجوا دیں۔ اس نے کہا کہ وہ تو قانوناً اندر نہیں آ سکتے تو مولانا نے فرمایا کہ بہت اچھا جو آدمی لائے تھے، ان کو واپس کر دیں۔ ہم جا چکے تھے۔ بہتیرا تلاش کیا مگر ہم نہ ملے تو مولانا نے سپرنٹنڈنٹ سے فرمایا کہ دو ہی صورتیں ہیں یا ہمیں اندر سٹے پہنچوائیں یا مالکان کو واپس کریں۔ سپرنٹنڈنٹ پریشان ہوا اور بالآخر کہا کہ رات عشاء کے بعد جیل کے بند ہونے پر آپ کو سٹے پہنچ جائیں گے۔ یوں سٹے عشاء کے بعد اندر پہنچ گئے اور جیل میں تحریک کے رہنماؤں نے "سٹا جشن" منایا۔

("تحریک ختم نبوت" ۱۹۵۳ء ص ۴۸۸۔۴۸۹، از مولانا اللہ وسایا)

بہادر ماں

شاعر ختم نبوت سید امین گیلانی اپنی جیل کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: "ایک دن جیل کا سپاہی آیا اور مجھ سے کہا آپ کو دفتر میں سپرنٹنڈنٹ صاحب بلا رہے ہیں۔ میں دفتر پہنچا تو دیکھا کہ والدہ صاحبہ معہ میری اہلیہ اور بیٹے سلمان گیلانی کے، جس کی عمر اس وقت سوا ڈیڑھ سال کی تھی، بیٹھے ہوئے ہیں۔ والدہ محترمہ مجھے دیکھتے ہی اٹھیں اور سینے سے لگا لیا، ماتھا چومنے لگیں۔ حال احوال پوچھا، ان کی آواز گلو گیر تھی۔ سپرنٹنڈنٹ نے محسوس کر لیا کہ وہ رو رہی ہیں۔ میرا بھی جی بھر آیا، آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ یہ دیکھ کر

صفحہ 192

سپرنٹنڈنٹ نے کہا اماں جی! آپ رو رہی ہیں۔ بیٹے سے کہیں (ایک فارم بڑھاتے ہوئے) کہ اس پر دستخط کر دے تو آپ اسے ساتھ لے جائیں، ابھی معافی ہو جائے گی! میں ابھی خود کو سنبھال رہا تھا کہ اسے جواب دے سکوں۔ والدہ صاحبہ تڑپ کر بولیں کیسے دستخط، کہاں کی معافی، میں ایسے دس بیٹے حضورؐ کی عزت پر قربان کردوں۔ میرا رونا تو شفقت مادری ہے۔ یہ سن کر سپرنٹنڈنٹ شرمندہ ہوگیا اور میرا سینہ ٹھنڈا ہوگیا"۔

("تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء" ص ۵۳۲ ۔ ۵۳۳' از مولانا اللہ وسایا)

سرور کونین سے سر کا سودا ہوچکا
ہم نہ پوچھیں گے امین کیا بھاؤ ہے بازار کا

مولف

اور جج لاجواب ہوگیا

حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ نے قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ سے پوچھا کہ تحقیقاتی عدالت میں حضرت شاہ صاحب (سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ) نے مرزائیوں کے بارے میں کیا بیان دیا تھا۔ قاضی صاحب نے جواباً عرض کیا کہ جب چیف جسٹس مسٹر محمد منیر نے شاہ صاحبؒ سے پوچھا کہ کیا آپ مرزا غلام احمد کو کافر کہتے ہیں؟ تو شاہ صاحب نے فرمایا کہ جب مجھ پر لدھا رام والا مقدمہ چلایا گیا تھا اور لدھا رام کے بیان پر مجھے بری کردیا گیا تھا تو آخری پیشی پر سرکاری وکیل نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ یہ مرزا کو کافر کہہ کر منافرت پھیلاتے ہیں۔ اس پر انگریز چیف جسٹس مسٹر ینگ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا آپ مرزا غلام احمد کو کافر کہتے ہیں تو میں نے کہا تھا ہاں۔ میں نے ایک دفعہ نہیں کروڑوں دفعہ اسے کافر کہا ہے۔ اب بھی کہتا ہوں اور مرتے دم تک کہتا رہوں گا۔ یہ تو میرا دین و ایمان ہے۔ اس پر مسٹر ینگ نے سرکاری وکیل سے کہا تھا کہ لو ان سے اور سوال کرو۔ یہ کہہ کر اس نے مجھے کہا تھا کہ آپ تشریف لے جائیں۔ آپ کا مرزا کو کافر کہنا کوئی جرم نہیں ہے۔ یہ قصہ مسٹر محمد منیر کو سنا کر شاہ صاحبؒ نے کہا کہ عیسائی جج نے تو اس طرح کہا تھا۔ اب معلوم نہیں مسلمان عدالت کیا کہتی ہے۔ یہ سن کر مسٹر منیر نے بھی آپ کو یہی کہا کہ آپ تشریف لے جائیں۔

صفحہ 193

(”تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء“ ص ۵۳۵۔ ۵۴۶)

ظلم جو چاہیں ڈھائیں مرزا کافر ہے
سب منظور سزائیں مرزا کافر ہے
ہم تو کہیں گے کافر اس کو بے شک
ہتھکڑیاں پہنائیں مرزا کافر ہے

مولف

ختم نبوت کی تبلیغ

مولانا کو اس سنگین خطرہ کا جو مسلمانوں کے سروں پر منڈلا رہا تھا‘ پورا احساس تھا اور اس کے مقابلہ کا ان کو اس قدر زائد اہتمام تھا کہ یہ کہا کرتے تھے کہ :

”اتنا لکھو اور اس قدر طبع کراؤ اور اس طرح تقسیم کرو کہ ہر مسلمان جب صبح سو کر اٹھے تو اپنے سرہانے رد قادیانی کی کتاب پائے“۔

(”سیرت مولانا محمد علی مونگیری“ ص ۳۰۴‘ از سید محمد الحسنی)

ظلمت دہر میں ہر سمت اجالا کر دوں
کاش مل جائیں مجھے کوچۂ جاناں کے دیے

مولف

تاکید و نصیحت

حاجی لیاقت حسین بھاگلپوری کو ایک مفصل خط کے آخر میں لکھتے ہیں:

”تم کو چاہیے کہ اپنے تمام گاؤں کے بھائیوں اور جو لوگ تمہارے زیر اثر ہیں‘ ان کو اس کام میں نظام کے ساتھ متوجہ کرو۔ یہ میری تحریر معمولی نہیں ہے‘ یہ کام تو خدا چاہے گا اور ضرور ہوگا۔ دیکھئے کہ کون اس خدائی کام کو انجام دیتا ہے اور کون اس سے محروم رہتا ہے“۔

(”سیرت مولانا محمد علی مونگیری“ ص ۳۰۵‘ سید محمد الحسنی)

جو ختم نبوت کا طرف دار نہیں ہے
لاریب وہ جنت کا سزاوار نہیں ہے

مولف

صفحہ 194
خاموش رہے سن کے جو اسلام کی توہین
بے شرم ہے، بزدل ہے، وہ خوددار نہیں ہے

مولف

تلقین

مولانا عبدالرحیم صاحب کو ایک خط میں لکھتے ہیں:

”تم سے جہاں تک ہو سکے اس گمراہ کا پیچھا کرو، جہاں جہاں وہ جائے، تم بھی جاؤ اور دو باتیں کرو۔ اول یہ کہ جو غرباء و معذورین یہاں نہ آسکیں، ان کو ہماری طرف سے بیعت کرو اور سلسلہ رحمانیہ میں داخل کر کے انہیں ایسی ہدایات کرو کہ وہ اس سلسلہ کے عاشق ہو جائیں اور کسی گمراہ کی باتوں کا ان پر اثر نہ ہو۔ دوئم یہ کہ میں تم سے زبانی بھی کہہ چکا ہوں اور اس وقت خاص کر تم کو لکھ رہا ہوں تاکہ خوب مستعدی سے کام کرو اور دیکھو محض اللہ کے واسطے کرو، جب انسان اللہ کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سب کاموں کا کفیل ہو جاتا ہے“۔

(”سیرت مولانا محمد علی مونگیری“ ص ۳۰۶ - ۳۰۷، سید محمد الحسنی)

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمدؐ سے اجالا کر دے

مولف

یہ وفاداریاں یہ وفاشعاریاں

مجلس تحفظ ختم نبوت—— جو آپ کے زمانہ میں ایک عالمگیر تنظیم بن چکی تھی اور اہل حق کی تمام مذہبی تنظیموں میں سے امیر ترین تصور کی جاتی تھی—— کے میر مجلس ہونے کے باوجود سفر ہمیشہ تھرڈ کلاس میں کیا کرتے تھے۔ دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت سے ریلوے اسٹیشن ملتان تک اور اسٹیشن سے دفتر تک انہوں نے صرف اپنی ذات کی خاطر کبھی ٹیکسی یا تانگہ کرایہ پر نہیں لیا۔ ہمیشہ عام غریب مسلمانوں کے ساتھ تانگہ جو ان دنوں سستی ترین سواری

صفحہ 195

تھی۔۔۔ میں سوار ہو کر آتے جاتے۔

سردیوں میں بعض اوقات بھاری بستر ہمراہ لے کر جاتے اور کتابوں، ضروری سامان اور ادویات کے لیے ایک معمولی سا بیگ بھی ہوتا مگر ریل گاڑی میں سوار ہونے یا اتر کر تانگہ وغیرہ تک آنے کے لیے وہ پیرانہ سالی کے باوجود کبھی قلی نہیں لیا کرتے تھے اور سارا سامان سر اور کندھے پر اٹھائے پھرتے اور دعا کرتے رہتے: ”اے اللہ تو جانتا ہے میں بوڑھا ہوں، میرے قوٰی مضمحل ہو گئے ہیں، اگر میں قلی کی خدمات کرایہ پر لوں تو میری جماعت مجھے ضرور اجازت دے گی مگر میں یہ تکلیف اس لیے برداشت کرتا ہوں کہ میری جماعت ایک غریب جماعت ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس کا خرچ کم از کم کروں۔ اے اللہ یہ پیسے جو میں قلی کو اپنا سامان اٹھوانے کے لیے دیتا، وہ میری طرف سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے لیے بطور چندہ قبول کر لے“۔

(”حضرت مولانا محمد علی جالندھری“ ص ۱۷۹، از ڈاکٹر نور محمد غفاری)

ہوگی نہ اب کسی کو بھی دشواری سفر
روشن ہے میری آبلہ پائی سے رہگزر

مولف

حضرت رائے پوری کی مجاہدین ختم نبوت سے محبت

جب احقر محض حضرت اقدس کے حکم سے تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے دوران جیل گیا تو سرگودھا سے میرے گھر لائلپور تشریف لائے اور بچوں کو تسلی و تشفی دیتے رہے۔ مولانا واحد بخش نے کہا مولانا کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، وہ تو حضرت کے حکم کی دیر تھی، حضرت کا حکم ہوا فوراً جیل چلے گئے۔ اس پر حضرت اقدس پر بہت رقت طاری ہوئی۔ فرمایا وہ تو پہلے بھی میرے ہی کہنے پر ڈھاکہ تبلیغ کے لیے چلے گئے تھے۔ وہاں بھی ہم نے ہی بھیجا تھا۔

(”حیات طیبہ“ ص ۲۴۴، از ڈاکٹر محمد حسین انصاری)

وہ زیست بھی کیا ہے جو نہ ہو دار سے واقف
وہ لوگ بھی کیا ہیں جو غم دل نہیں رکھتے

مولف

صفحہ 196

مسلمانو! آؤ ہم بھی تحفظ ختم نبوت کا کام کر کے اللہ اور اس کے رسولؐ کو راضی کر لیں۔۔۔ اللہ اور اس کے پیارے رسولؐ سے اک محبت بھرا تعلق پیدا کر لیں۔۔۔ شفاعت رسولؐ کو اپنی جانب متوجہ کر لیں۔۔۔ عاشقان رسولؐ کی متبرک فہرست میں اپنا نام لکھوا لیں۔۔۔!!!

آؤ ہم عہد کریں کہ ہم روزانہ اپنے وقت میں سے وقت نکال کر عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت و اشاعت کریں گے۔

آؤ ہم وعدہ کریں کہ ہم ہر ماہ اپنے مال میں سے ایک مخصوص رقم قادیانیت کے خلاف جہاد میں صرف کریں گے۔

آؤ ہم پیمان باندھیں کہ ہم اپنی اولاد کو اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے تیار کریں گے۔

مسلمانو! اگر حکومت پاکستان کی طرف سے اعلان ہو کہ محکمہ تعلیم کے ہر ملازم کو حکومت کی جانب سے انعامات دیے جائیں گے۔ ان انعامات لینے والوں میں جہاں وائس چانسلرز، ڈائریکٹرز، پرنسپلز، پروفیسرز اور ہیڈ ماسٹرز وغیرہم کے نام آئیں گے وہاں محکمہ تعلیم کے چپڑاسیوں، مالیوں اور چوکیداروں کے نام بھی آئیں گے اور وہ بھی ان بڑوں بڑوں کے ساتھ انعامات حاصل کریں گے۔ اسی طرح جب حشر کے میدان میں اعلان ہو گا کہ میرے پیارے نبیؐ کی ختم نبوت کی حفاظت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج ان کے لیے بہت بڑے بڑے انعامات ہیں۔ ان انعام حاصل کرنے والوں میں جہاں سیدنا ابو بکر صدیقؓ، سیدنا عمر فاروقؓ، خالد بن ولید، وحشیؓ بن حرب، زیدؓ بن خطاب۔۔۔ کے اسمائے گرامی آئیں گے، جہاں سید انور شاہ کشمیریؒ، پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، حضرت عبدالقادر رائے پوریؒ، پیر جماعت علی شاہؒ، سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، شیخ یوسف بنوریؒ۔۔۔ کے نام نامی آئیں گے، وہاں اللہ کی رحمت سے ہمیں یہ بھی امید ہے کہ چپڑاسیوں، مالیوں اور چوکیداروں کی جگہ ہم گناہگاروں کے نام بھی آجائیں گے۔ (انشاء اللہ) اس دن ہم اپنے مقدروں پہ ناز کریں گے۔ وہ دن ہمارے لیے روز عید ہو گا۔ ایسی عید جس پر کروڑوں عیدیں قربان!!!