احتساب قادیانیت جلد 12 · بابو پیر بخش لاہوری
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 12 · Babu Pir Bakhsh
PDF 1

رَدِّ قادیانیت

رسائل

جناب بابو پیر بخشؒ لاہوری

اِحْتِسَابِ قادیانیت

دوازدہم

عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّة

حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 514122

PDF 2

ردّ قادیانیت

رسائل

جناب بابو پیر بخشؒ لاہوری

احتساب قادیانیت

دوازدہم

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون: 514122

PDF 3

خاتم النبیین لانبی بعدی

میں آخری نبی ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں

الاستدلال الصحیح

فی حیات المسیحؑ

جناب بابو پیر بخشؒ

صفحہ ٤

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!

تعارف!

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم ٠ اما بعد !

الحمدللہ ! محض اللہ رب العزت کے فضل وکرم احسان وتوفیق سے ”احتساب قادیانیت“ کی بارہویں جلد پیش خدمت ہے۔ جلد گیارہ کی طرح یہ جلد بھی محترم بابو پیر بخش لاہوریؒ کی ذیل کی کتب پر مشتمل ہے:

یہ کل بارہ کتب ورسائل ہیں جو احتساب قادیانیت کی جلد گیارہ اور بارہ میں شامل ہوئے۔ اس کے علاوہ (١)...... ”کاشف مغالطہ قادیانی“ بھی ان کی طرف منسوب ہے۔ لیکن یہ انتساب غلط ہے۔ اس لئے کہ ”بابو صاحبؒ “ اس کے ناشر تھے۔ اصل میں یہ رسالہ چوہدری محمد حسین کا مرتب کردہ ہے۔ (٢)...... ایک رسالہ: ”حافظ ایمان عن فتنۃ القادیان “ ہے۔ وہ عربی وفارسی میں ملا۔ اردو نہ مل سکا۔ اس لئے اسے شامل اشاعت نہیں کیا۔ (٣‘٤)...... ان کے دو اور رسالے بھی ہیں جو ”نومبر ١٩٢٢ء / جون ١٩٢٥ء“ کے ماہنامہ تائید الاسلام لاہور میں شائع ہوئے۔ افسوس کہ مطلوبہ شمارے نہ مل سکے۔ ورنہ ان کو شامل اشاعت کرنے کی سعادت حاصل کرتے۔ کسی دوست کے پاس ہوں اور وہ فوٹو مہیا کردیں تو کسی اور جلد میں شائع کرنے کا فخر حاصل کرسکیں گے۔ وما ذالک علیٰ اللہ بعزیز!

پروردگار عالم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اس خزانہ کو محفوظ کرنے کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ اور اس کام کے لئے ہم مسکینوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمالیا۔

فلحمدللہ اولاً و آخراً!

فقیر...... اللہ وسایا! ١٥ محرم الحرام ١٤٢٥ھ 7 مارچ 2004ء

صفحہ ٥

بسم اللہ الرحمن الرحیم

فہرست

١٠....... الاستدلال الصحیح فی حیات المسیح....... ٣ ١١....... تردید نبوت قادیانی فی جواب النبوة ....... ٢٧٧ ١٢....... تردید معیار نبوت قادیانی ....... ٥٠١

تفصیلی فہرست (استدلال الصحیح فی حیات المسیح)

حیات مسیح دلیل نمبر١....... وان من اهل الكتاب....... ١٥ حیات مسیح دلیل نمبر٢....... بل رفعه الله اليه....... ٢٠ حیات مسیح دلیل نمبر٣....... مکروا ومکر الله یا عیسیٰ انی متوفیک....... ٢١ حیات مسیح دلیل نمبر٤....... كنت عليهم شهيدا....... ٢٢ حیات مسیح دلیل نمبر٥....... يكلم النّاس فى المهد وكهلا....... ٢٣ حیات مسیح دلیل نمبر٦....... وانه لعلم للساعة....... ٢٧ حیات مسیح دلیل نمبر٧....... وما اتاكم الرسول....... ٣٢ حیات مسیح دلیل نمبر٨....... حديث فا قول كما قال....... ٣٣ حیات مسیح دلیل نمبر٩....... اثر ابن عباسؓ....... ٣٤ حیات مسیح دلیل نمبر١٠....... ان عیسٰی لم یمت....... ٣٦ حیات عیسٰیؑ....... از احاديث ....... ٣٨ حیات عیسٰیؑ....... از صحابہؓ....... ٣٩ تقديم وتاخير....... (ابن عباسؓ)....... ٤٥

صفحہ ٦

حیات عیسیٰؑ...... از تابعینؒ...... ٥٥ حیات عیسیٰؑ...... از محدثینؒ...... ٥٩ حیات عیسیٰؑ...... از مفسرینؒ...... ٦٢ حیات عیسیٰؑ...... از بزرگان دینؒ...... ٦٦ چشم دیدہ حالات...... از انجیل...... ٨٥ یدفن معی فی قبری کا جواب...... ٩٩

باب دوم...... ١٠٣

رفع عیسیٰؑ...... پہلی دلیل...... ١٠٩ رفع عیسیٰؑ...... خدا تعالیٰ آسمانوں پر کا جواب...... ١١٠ رفع عیسیٰؑ...... دوسری دلیل...... ١١٣ رفع عیسیٰؑ...... تیسری دلیل...... ١١٥ رفع عیسیٰؑ...... چوتھی دلیل...... ١١٦ رفع عیسیٰؑ...... پانچویں دلیل...... ١١٦ رفع عیسیٰؑ...... چھٹی دلیل (احادیث)...... ١١٨

اعتراض نمبر١...... رفع کا معنی بلندی درجات کا جواب...... ١٢١ اعتراض نمبر٢...... حضور ﷺ زمین پر عیسیٰؑ آسمان پر...... ١٢٣ اعتراض نمبر٣...... وجود عنصری آسمان پر کیسے کا جواب...... ١٢٧ اعتراض نمبر٤...... فیھا تحیون و فیھا تموتون ! کا جواب...... ١٢٩ اعتراض نمبر٥...... کرہ زمہریر پر کا جواب...... ١٣٣ اعتراض نمبر٦...... آسمانی آب و ہوا کا جواب...... ١٣٦ اعتراض نمبر٧...... بول و براز کہاں کرتے ہوں گے کا جواب...... ١٣٦

صفحہ ٧

اعتراض نمبر ٨...... مسیح کو اتارلائیں کا جواب...... ١٣٨

اعتراض نمبر ٩...... آسمان پر جانا کوئی فضیلت نہیں کا جواب...... ١٣٩

اعتراض نمبر ١٠...... عیسیٰ کے بغیر امت کی اصلاح کا جواب...... ١٤٠

اعتراض نمبر ١١...... عیسیٰ کا آنا ختم نبوت کے منافی کا جواب...... ١٤٤

اعتراض نمبر ١٢...... توفی کا معنی...... ١٤٦

اعتراض نمبر ١٣...... اقول کما قال کا جواب...... ١٥٠

آیت نمبر ١...... متوفیک...... کا جواب...... ١٥١

آیت نمبر ٢...... فلما تو فیتنی...... کا جواب...... ١٥٣

آیت نمبر ٣...... اأنت قلت للناس...... کا جواب...... ١٥٥

آیت نمبر ٤...... وان من اهل الکتاب...... کا جواب...... ١٦٣

آیت نمبر ٥...... قدخلت من قبله الرسل...... کا جواب...... ١٦٦

وکانا یاءکلان الطعام...... کا جواب...... ١٦٧

خلت کا معنی...... ١٧٠

آیت نمبر ٦...... وما جعلنا هم جسداً لا یاکلون الطعام...... ١٧٢

آیت نمبر ٧...... وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل ١٨٦

آیت نمبر ٨...... وما جعلنالبشر من قبلک الخلد...... ١٨٩

آیت نمبر ٩...... تلک امت قد خلت لها ماکسبت...... ١٩١

آیت نمبر ١٠...... اوصانی بالصلوۃ ولزکوۃ مادمت حیا...... ١٩٢

آیت نمبر ١١...... سلام علی یوم ولدت ویوم اموت...... ١٩٩

آیت نمبر ١٢...... ومنکم من یتوفی ومنکم من...... ٢٠٤

آیت نمبر ١٣...... ولکم فی الارض مستقرومتاع الی حین...... ٢٠٧

صفحہ ٨

آیت نمبر١٤...... ومن نعمره ننكسه فى الخلق...... ٢٠٩ آیت نمبر١٥...... انما مثل الحيوة الدنيا كماء انزلنا...... ٢١٠ آیت نمبر١٦...... انما مثل الحيوة الدنيا ...... ٢١٢ آیت نمبر١٧...... ثم انكم بعد ذالك لميتون...... ٢١٣ آیت نمبر١٨...... الم تر ان الله انزل من السماء...... ٢١٤ آیت نمبر١٩...... وما ارسلنا من قبلك ...... ٢١٥ آیت نمبر٢٠...... والذين يدعون من دون الله...... ٢١٧ آیت نمبر٢١...... ما كان محمد ابا احد من رجالكم...... ٢١٩ آیت نمبر٢٢...... فاسئلو اهل الذكر...... ٢٣٢ آیت نمبر٢٣...... يا ايتها النفس المطمئنه...... ٢٤٠ آیت نمبر٢٤...... الله الذى خلقكم ثم رزقكم...... ٢٤٣ آیت نمبر٢٥...... قل من عليها فان ...... ٢٤٧ آیت نمبر٢٦...... ان المتقين فى جنت ونهر...... ٢٤٩ آیت نمبر٢٧...... ان الذين سبقت لهم من الحسنى...... ٢٥٠ آیت نمبر٢٨...... اينما تكونوا يدرككم الموت...... ٢٥٢ آیت نمبر٢٩...... ما اتاكم الرسول...... ٢٥٤ آیت نمبر٣٠...... او ترقى فى السماء...... ٢٥٧

صفحہ ٩

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم ط

برادران اسلام!

چونکہ مرزا قادیانی کے دعوٰی کی بنیاد وفات مسیح پر ہے اس واسطے انھوں نے ابتدائی بحث ”وفات مسیح علیہ السلام“ پر رکھی ہوئی ہے اور لکھتے ہیں کہ:۔

”ہمارے اور مخالفین کے صدق و کذب آزمانے کے لیے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی حیات اور وفات ہے۔ اگر حضرت عیسٰی علیہ السلام درحقیقت زندہ ہیں تو ہمارے سب دعوے جھوٹے اور دلائل ہیچ۔ اور اگر وہ درحقیقت قرآن کے رو سے فوت شدہ ہیں تو ہمارے مخالف باطل پر ہیں۔“ (حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص ١٠٢ خزائن ج ١٧ ص ٢٦٣)

اسی واسطے مرزائی ”وفات مسیح علیہ السلام“ قرآن سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور مسلمان ان کے مقابل ”حیات مسیح علیہ السلام“ ثابت کرتے ہیں۔

اگر مرزا قادیانی کو مسیح موعود تسلیم کریں تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو (نعوذ باللہ) جھوٹا تسلیم کرنا ہو گا۔ کیونکہ صاف صاف لفظوں میں فرمایا کہ عیسٰی بیٹا مریم کا جس کو نبی اللہ رسول اللہ ﷺ اور روح اللہ بھی کہتے ہیں اور جو مجھ سے پہلے گزرا ہے وہ آنے والا ہے۔ اگر کوئی بدبخت یہ مان لے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ولد غلام مرتضیٰ قادیان پنجاب کے رہنے والا سچا مسیح موعود ہے تو اس کے صاف معنی یہ ہوں گے کہ (معاذ اللہ) حضرت خلاصہ موجودات محمد مصطفےٰ ﷺ نے سچی خبر نہ دی اور وہ مخبر صادق نہ تھا اور نہ اس کی وحی کامل تھی اور نہ اس کا علم سچا تھا کہ آنا تھا غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ قادیانی اور حضور

صفحہ ١٠

علیہ السلام نے امت کو غلط خبر دی کہ آنے والا عیسیٰ علیہ السلام بن مریم نبی ناصری ہے۔ پھر آنے والا قادیان میں آنا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دمشق میں نزول ہو گا۔ پھر اس نے ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آسمان سے نازل ہو گا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام بعد نزول فوت ہوں گے اور میرے مقبرہ میں مدفون ہوں گے مرزا قادیانی کہتا ہے نہیں۔ وہ تو فوت ہوچکے اور کشمیر میں جا دفن ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ دجال مقام لد جو بیت المقدس میں ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے مقتول ہو گا۔ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ نہیں دجال مقام لدھیانہ میں قتل ہو گا۔ اور قتل تلوار سے نہیں قلم سے ہو گا وغیرہ وغیرہ۔ غرض کہ ہر ایک بات میں رسول اللہ ﷺ سے مرزا قادیانی نے مخالفت کی ہے۔

مگر مرزا قادیانی کی دینداری دیکھئے کہ حدیثوں کی تصحیح اپنے الہام سے کرتے ہیں یعنی جو حدیث مرزا قادیانی کے الہام کے مطابق نہ ہو وہ ردی ہے، حالانکہ جمیع علما محدثین کا اتفاق ہے کہ امتی کا الہام وحی کا مرتبہ نہیں رکھتا کیونکہ وحی خاصہ ہے انبیاء علیہم السلام کا، اور امتی کا الہام ظنی ہے یقینی نہیں ہوتا اور مسلمانوں کو تجربہ ہو چکا ہے اور مرزا قادیانی کے الہامات موجود ہیں کہ ان کے مضامین پر از شرک اور غرور نفس پر مبنی ہیں۔ دیکھو انت منی بمنزلة بروزی (مرزا تو ہمارا بروز یعنی ظہور ہے)

(تجلیات الہیہ ص ١٢ خزائن ج ٢٠ ص ٤٠٤)

انت منی بمنزلة ولدی (مرزا تو ہمارے بیٹے کی جگہ ہے)

(حقیقة الوحی ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

یہ الہام اس خدا کی طرف سے ہرگز نہیں ہو سکتے جو قرآن اور محمد ﷺ کا خدا ہے جس نے قرآن شریف میں لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ فرمایا ہو اور مرزا قادیانی تو وہی ہیں جو براہین احمدیہ میں مسیح علیہ السلام کا دوبارہ آنا تسلیم کر چکے ہیں۔

(دیکھو براہین احمدیہ مصنفہ مرزا قادیانی اصل عبارت یہ ہے)

’’اور جب حضرت مسیح علیہ السلام اس دنیا میں دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘

(براہین احمدیہ ص ٤٩٩ خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

پھر اسی کتاب میں لکھتے ہیں۔

’’وہ زمانہ بھی آنے والا ہے جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لیے شدت اور قہر اور

صفحہ ١١

سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے۔" (براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ ص ٥٠٥ خزائن ج ١ ص ٦٠١)

مرزائی جواب دیں

بہر حال وہی الہام خدا کی طرف سے ہو سکتا ہے جو کہ قرآن شریف اور احادیث نبوی کے موافق ہے۔

اب دو الہام ہیں۔ ایک الہام قرآن شریف اور انجیل اور اجماع امت کے موافق ہے اور دوسرا الہام اناجیل و قرآن شریف اور اجماع امت کے برخلاف ہے پس جو مسلمان ہے اور جس کا دعویٰ ہے کہ وہ مومن کتب اللہ اور رسل اللہ ہے اور جو حضرت خاتم النبیین ﷺ پر ایمان رکھتا ہے اور ختم نبوت کا منکر نہیں وہ تو ہرگز ہرگز آسمانی کتابوں اور اجماع امت کے برخلاف یقین نہیں کر سکتا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا الہام خدا کی طرف سے ہے اور مسیح فوت ہو چکا ہے وہ نہیں آ سکتا اور اس کے رنگ میں مرزا غلام احمد قادیانی آ گیا کیونکہ اگر کوئی بدبخت یہ مان لے تو ذیل کے باطل عقائد اس کو تسلیم کرنے پڑیں گے۔

و رسول تھے جب غیر عیسیٰ کوئی آئے گا تو جدید نبی بعد از حضرت خاتم النبیین ﷺ آئے گا اور یہ کفر ہے۔

الانبیا وہی ہوں گے۔

نبوت کی تکمیل مرزا قادیانی سے ہو گی۔

کی وحی ہو گی۔ جیسا کہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں :۔

ہمچو قران منزہ اش دانم
از خطا ہا ہمیں ست ایمانم

(نزول المسیح ص ٩٩ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

صفحہ ١٢

(ہفتم)......حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ناقص نبی ثابت ہوں گے کیونکہ کامل کے بعد ناقص نہیں آتا۔ ناقص کے بعد کامل اس لیے آتا ہے کہ اس کے نقائص کی تکمیل کرے۔

(ہشتم)......دین اسلام ناقص ثابت ہوتا ہے کیونکہ جب نبی آتا ہے تو ضرورت ثابت ہوتی ہے اور ضرورت تب ہی ہوتی ہے کہ سابقہ دین ناقص ہوتا ہے۔

(نہم)......وفات مسیح علیہ السلام تسلیم کرنے سے کفر لازم آتا ہے کیونکہ نص قرآنی وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ (زخرف ٦١) سے ثابت ہے اور اصالۃً نزول اشراط الساعۃ سے ایک شرط ہے جب علامت قیامت سے انکار ہوگا تو اصل قیامت سے بھی انکار ہوگا کیونکہ جب شرط فوت ہو تو مشروط بھی فوت ہوتا ہے اور قیامت کا منکر کافر ہے۔

(دہم)......اگر نزول مسیح بروزی رنگ میں درست تسلیم کر لیں تو جتنے کاذب مسیح گزرے ہیں سب سچے تسلیم کرنے پڑیں گے کیونکہ وہ بھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے۔

کیسا بدبخت اور گمراہ کن بے ادب گستاخ دشمن جناب رسالتمآب ﷺ کا ہے وہ شخص کہ حضور علیہ السلام کو جھٹلا دے اور تمام افراد امت سے الگ ہو کر یہ اعتقاد بنا لے کہ حضرت سرور کائنات خلاصہ موجودات ﷺ کو (نعوذ باللہ) قرآن شریف سمجھ میں نہیں آیا تھا اور آپ ﷺ کا ذہن ایسا ناقص تھا کہ وفات مسیح ٣٠ دفعہ خدا تعالیٰ نے قرآن میں فرمائی اور وہ نہ سمجھے اور ہر ایک حدیث میں جو کہ ستر کے قریب ہیں سب میں عیسیٰ علیہ السلام بن مریم ہی فرماتے رہے۔ ایک جگہ بھی بروز و مثیل کا لفظ نہ فرمایا اور خدا تعالیٰ نے بھی ١٣ سو برس تک امت محمدی ﷺ کو گمراہ رکھا کہ بروزی نزول نہ بتایا حالانکہ سلسلہ نزول وحی جاری تھا اور خدا کا وعدہ بھی تھا کہ ”قرآن کا سمجھانا ہمارا کام ہے“ مگر خدا نے اپنا وعدہ پورا نہ فرمایا اور آنحضرت ﷺ کو نہ سمجھایا بلکہ مرزا قادیانی کو بھی براہین احمدیہ کے لکھنے کے وقت تک وفات مسیح علیہ السلام کا معتقد رکھا اور بقول مرزا قادیانی مشرک رکھا کسی شاعر نے خوب کہا ہے؎

سر بسر قول ترا اے بت خود کام غلط
دن غلط رات غلط صبح غلط شام غلط

مرزا قادیانی کا تمام کارخانہ غلط ہے۔ مسلمان ٹھوکر سے بچیں اور صراطِ مستقیم پر قائم رہیں۔

اب میں ذیل میں مولوی محمد بشیر صاحب کے وہ زبردست دلائل درج کرتا ہوں جو انھوں نے مباحثہ دہلی میں پیش کیے اور مرزا قادیانی سے کوئی ان کا جواب نہ بن

صفحہ ١٣

آیا اس لیے مرزا جی مباحثہ نامکمل چھوڑ کر بھاگ گئے۔ مرزا قادیانی نے بڑی بھاری غلطی یہ کی ہے کہ اپنے الہام کے مقابل انجیل و قرآن شریف اور احادیث نبوی و اجماع امت کو بے اعتبار بتایا ہے بلکہ یہاں تک لکھ دیا ہے کہ جو حدیث میرے الہام کے مطابق نہ ہو وہ ردی ہے۔ (اعجاز احمدی ص ٣٠ خزائن ج ١٩ ص ١٤٠) حالانکہ ہر اسلامی فرقہ کا اصولی مسئلہ یہ ہے کہ ہر ایک الہام قرآن شریف کے پیش کرنا چاہیے۔ اگر وہ اس کے مطابق ہے تو اس پر عمل کرنا چاہیے ورنہ وسوسہ شیطانی سمجھ کر رد کر دینا چاہیے مگر مرزا قادیانی الٹا قرآن شریف اور احادیث نبوی کو رد کرتے ہیں۔ قرآن شریف نے صاف فرما دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ مقتول ہوئے اور نہ مصلوب ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا جیسا کہ اس آیت میں ہے۔ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ۔ (نساء ١٥٧۔١٥٨) اب ظاہر ہے کہ رفع اسی کا ہوا جس کو قتل سے بچایا اور قتل سے جسم بچایا گیا کیونکہ روح کو نہ تو کوئی صلیب دے سکتا ہے اور نہ قتل کر سکتا ہے پس جس جسم کا رفع ہوا اسی کو قتل سے بچایا گیا اور جب ایک شخص قتل نہیں ہوا تو زندہ اٹھنا اس کا اظہر من الشمس ہے۔

مرزا قادیانی اور ان کے مرید مسلمانوں کو ایک سخت دھوکا دیتے ہیں کہ ہم ”وفات مسیح علیہ السلام“ اس واسطے ثابت کرتے ہیں تاکہ عیسائیوں کا خدا مارا جائے اور عیسویت کا کامل رد ہو۔ صرف وفات مسیح علیہ السلام کا ہی ایک مسئلہ ہے جو عیسویت کی جڑ کاٹنے والا ہے۔ مگر یہ ان کا کہنا سراسر غلط ہے کیونکہ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ جب مسلمانان قرون اولیٰ و تابعین و تبع تابعین حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعظیم کرتے تھے اور حیات مسیح کے قائل تھے تب تو لاکھوں اور کروڑوں عیسائی مسلمان ہوتے تھے اور جب سے مرزا قادیانی نے یہودیانہ روش اختیار کر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کرنی شروع کی اور ان کی وفات ثابت کرنے لگے تو عیسائیوں کا مسلمان ہونا تو درکنار لاکھوں کی تعداد میں مسلمان عیسائی ہو گئے۔ پس یہ سراسر غلط ہے کہ مرزائی وفات مسیح عیسویت کا رد کرنے کے واسطے ثابت کرتے ہیں۔ اگر عیسائیوں کا رد مقصود ہوتا تو نزول سے بھی انکار کرتے کیونکہ یہ خصوصیت مسیح کو کیوں حاصل ہو۔ اصل مقصد مرزا قادیانی کا یہ ہے کہ جب تک مسلمانوں کا یہ اعتقاد رہا کہ مسیح زندہ ہے اور حسب ارشاد رسول کریم ﷺ وہ اصالتاً نازل ہو گا۔ میں دوسرے مدعیان مسیحیت کی طرح ہرگز سچا مسیح نہیں ہو سکتا اس واسطے مرزا قادیانی نے تمام آسمانی کتابوں کے برخلاف اور اجماع کے برعکس یہ الہام تراشا کہ مسیح تو فوت ہو گیا ہے اور وعدہ کے موافق مسیح کے رنگ میں ہو کر تو آیا ہے۔

صفحہ ١٤

دوسرا اس پر جھوٹ یہ بولا کہ قرآن شریف سے صریح طور پر مسیح کا فوت ہو جانا ثابت ہے۔ تیسرا جھوٹ یہ تراشا کہ وعدہ کے موافق تو (یعنی مرزا قادیانی) آیا ہے۔ یہ تینوں جھوٹ ایسے تھے کہ عمر بھر مرزا قادیانی انہی کے ثابت کرنے میں لگے رہے مگر وفات ثابت نہ ہوئی۔ مرزا عقلی ڈھکوسلے لگاتے رہے کہ مسیح چونکہ مر چکا ہے اور مردے دوبارہ اس دنیا میں نہیں آ سکتے اس لیے مسیح کے رنگ میں بروزی طور پر امت محمدی ﷺ میں سے کوئی شخص مسیح موعود بنایا جائے گا مگر چونکہ یہ جاہلانہ منطق ہے کیونکہ حدیثوں میں صاف لکھا ہے کہ آنے والا نبی اللہ اور رسول اللہ ہے اور حضرت خاتم النبیین ﷺ کے بعد کوئی جدید نبی ہو نہیں سکتا۔ اس لیے مرزا قادیانی نے نبی و رسول ہونے کا بھی دعویٰ کیا اور اخبار بدر مارچ ١٩٠٨ء میں بلا کسی جھجھک کے صاف لفظوں میں لکھ دیا کہ ”میں خدا کے فضل سے نبی و رسول ہوں“ اور اسی سال ٢٦ مئی ١٩٠٨ء میں فوت ہو گئے اور ختم نبوت کے منکر ہونے کے باعث اپنے ہی فتوے سے کافر ہو کر امت محمدیہ ﷺ سے خارج ہوئے۔ ان کے اصلی الفاظ یہ ہیں۔ ”مجھے کہاں حق پہنچتا ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے خارج ہو جاؤں اور قوم کافرین سے جا کر مل جاؤں اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ میں مسلمان ہو کر نبوت کا دعویٰ کروں۔“

(دیکھو حمامۃ البشریٰ ص ٧٩ خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

افسوس! مرزا نبوت و رسالت کا دعویٰ کر کے مسیح موعود تو بن بیٹھے تھے مگر فرشتہ اجل نے اسی سال آ دبوچا اور دنیا فانی سے کوچ کر کے اپنے بھائیوں سے جا ملے، یعنی مسیلمہ کذاب سے لے کر مرزا قادیانی تک جس قدر کاذب مدعیان نبوت گزرے ہیں۔ مرزا قادیانی کے بعد آپ کے مرید ایڑی چوٹی تک کا زور لگاتے ہیں کہ کسی طرح مرزا قادیانی سچے مسیح ثابت ہوں۔ اس لیے ہر ایک شہر اور جلسہ میں وفات مسیح پر بحث کرتے ہیں اور کوئی دلیل شرعی پیش نہیں کر سکتے۔ غیر متعلق اور بے محل آیات قرآن کریم پیش کر کے نادم ہوتے ہیں اور آج تک کسی مسلمان کے مقابل جلسہ مناظرہ میں کامیاب نہیں ہوئے۔ مرزا قادیانی خود مولوی محمد بشیر صاحب سہوانی کے مقابلہ پر شکست کھا کر بھاگے۔ یہ کتاب بھی اسی واسطے لکھی ہے تاکہ مسلمان مرزائیوں کی غلط بیانیوں میں آ کر گمراہ نہ ہوں کیونکہ یہ بالکل غلط اور دروغ بے فروغ ہے کہ وفات مسیح قرآن شریف سے ثابت ہے۔ الحمد سے والناس تک دیکھ جاؤ آپ کو ایک آیت بھی نہ ملے گی جس میں لکھا ہو کہ حضرت عیسیٰؑ پر موت وارد ہو چکی ہے، جس قدر آیتیں مرزائی پیش کرتے ہیں سب سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ہر ایک انسان کے واسطے مرنا ضروری ہے جس سے کسی

صفحہ ١٥

انسان کو انکار نہیں ایسے ہی مسیح کے ہمیشہ زندہ رہنے کو کوئی مسلمان تسلیم نہیں کرتا ہر ایک کا اعتقاد ہے کہ حضرت عیسیٰؑ بعد نزول فوت ہوں گے اور بموجب حدیث ثم یموت فید فن معی فی قبری مدینہ منورہ میں دفن کیے جائیں گے۔ ساری بحث تو وفات قبل نزول میں ہے جو مرزا قادیانی اور ان کے مرید قرآن و حدیث سے ثابت نہیں کر سکتے بلکہ قرآن کریم کی ذیل کی آیات سے حیات مسیح علیہ السلام ثابت ہے وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ. وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ. وَاِذْ كَفَفْتُ بَنِيْ اِسْرَآئِيْلَ، عَنْكَ مَكَرُوْا، وَمَكَرَ اللّٰهُ، وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا بَل رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ. ثبوت حیات کا مفصل بیان کتاب ہذا میں آئے گا۔ لہٰذا مسیح باش از اعجاز لافہا میزن میاں دعویٰ و حجت ہزار فرسنگ است۔ خاکسار پیر بخش مؤلف۔

حیات مسیح پر دلائل

(از مولوی محمد بشیر صاحب سہسوانی)

دلیل اوّل

حیات مسیح علیہ السلام کے باب میں سورۂ نساء ١٥٩ کی یہ آیت ہے وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا. شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے اس آیت کا ترجمہ اس طرح پر کیا ہے۔ ”و نباشد ہیچکس از اہل کتاب الا البتہ ایمان آورد بہ عیسیٰ پیش از مردن عیسیٰ و روز قیامت باشد عیسیٰ گواہ برایشاں۔“ فائدہ میں یہ لکھا ہے۔ مترجم گوید یعنی یہودی کہ حاضر شوند نزول عیسیٰ را البتہ ایمان آرند۔ شاہ رفیع الدینؒ صاحب نے ترجمہ اس طرح پر کیا ہے۔ ”اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ اس کے پہلے موت اُس کی کے اور دن قیامت کے ہو گا گواہ اوپر ان کے۔ شاہ عبدالقادرؒ صاحب نے اس طرح ترجمہ کیا ہے۔ ”اور جو فرقہ ہے کتاب والوں میں سے سو اس پر یقین لائیں گے اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہو گا ان کا بتانے والا۔“ فائدہ میں یہ لکھا ہے۔ ”حضرت عیسیٰؑ ابھی زندہ ہیں جب یہود میں دجال پیدا ہو گا تب اس جہان میں آ کر اس کو ماریں گے اور یہود و نصاریٰ سب ان پر ایمان لائیں گے کہ یہ مرے نہ تھے۔“

یہ آیت قطعیۃ الدلالۃ حیات مسیح علیہ السلام پر ہے۔ بیان اس کا یہ ہے کہ موتہ کی ضمیر میں مفسرین کے دو ہی قول ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت عیسیٰؑ کی طرف پھرتی ہے۔

صفحہ ١٦

دوسرا یہ کہ اہل کتاب کی طرف پھرتی ہے۔ پہلی صورت میں تو قطعاً مطلب حاصل ہے کیونکہ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی مرے نہیں۔ لَیُؤْمِنَنَّ کو خواہ خالص مستقبل کے لیے لیجئے اور یہی صحیح ہے اور اسی پر اتفاق ہے سب نحویوں کا اور خواہ حال یا استمرار کے لیے لیجئے۔ جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں۔ اگرچہ اس تقدیر پر معنی فاسد ہوتے ہیں مگر ہمارا مطلب فوت نہیں ہوتا اور ماضی کے معنی میں لینا بالبداہت باطل ہے کیونکہ ایسا مضارع کہ جس کے اوّل میں لام تاکید اور آخر میں نون تاکید ہو بمعنی ماضی نہیں آتا ہے۔ ومن یدعی خلافه فعلیه البیان، اور ایسا ہی بہ کی ضمیر کو خواہ حضرت عیسیٰؑ کی طرف عائد کیجئے یا اللہ کی طرف یا آنحضرت ﷺ کی طرف۔ اگرچہ اوّل ہی صحیح ہے مگر ہمارا مطلب ہر صورت میں حاصل ہے۔ مفسرین کا اختلاف اس ضمیر میں ہمارے مطلوب میں کچھ خلل نہیں ڈالتا ہے۔ دوسرے قول پر یعنی ضمیر موتہ کی اہل کتاب کی طرف پھیری جائے تو بھی ہمارا مطلب حاصل ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اس وقت ہم پوچھتے ہیں کہ بہ کی ضمیر کسی کی طرف پھیرو گے؟ اگر آنحضرت ﷺ یا اللہ تعالیٰ کی طرف پھیرتے ہو تو یہ باطل ہے تین وجوہ سے۔ اوّل...... یہ کہ سب ضمیریں واحد کی جو اس کے قبل و بعد میں آئی ہیں بالاجماع حضرت عیسیٰؑ کی طرف پھرتی ہیں۔ پس ظاہر نص یہی ہے کہ ضمیر بہ کی بھی حضرت عیسیٰؑ کی طرف راجع ہو فان النصوص تحمل علی ظواہرہا و صرف النصوص عن ظاہرہا بغیر صارف قطعی الحاد۔ اور یہاں کوئی صارف قطعی پایا نہیں جاتا ہے۔ ومن یدعی فعلیه البیان. دوم...... ظاہر ضمیر غائب میں یہ ہے کہ غائب کی طرف پھرے اور آنحضرت ﷺ مخاطب ہیں اسی لیے اس رکوع میں اس آیت کے قبل و بعد جتنی ضمیریں آنحضرت ﷺ کی طرف پھرتی ہیں وہ سب ضمیریں مخاطب کی ہیں وہ یہ ہیں۔ یسئلک ان تنزل الیک من قبلک. اگر یہ ضمیر آنحضرت ﷺ کی طرف راجع ہوتی تو یوں کہنا مناسب تھا لیؤمنن بک علاوہ اس کے اس مقام پر آنحضرت ﷺ کے لیے کوئی اسم ظاہر نہیں آیا ہے کہ وہ مرجع اس ضمیر کا قرار دیا جائے اور اللہ تعالیٰ متکلم ہے اس لیے اس رکوع میں اس آیت کے قبل و بعد جتنی ضمیریں اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہیں وہ سب ضمیریں متکلم کی ہیں وہ یہ ہیں۔ فعفونا. اتینا. رفعنا. قلنا. قلنا. سوم...... اخذنا. حرمنا. اعتدنا. نوتیہم اگر یہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہوتی تو یوں کہنا مناسب تھا۔ لیؤمنن بی یا لیؤمنن بنا اور صرف عن الظاہر بغیر صارف قطعی غیر جائز ہے اور یہاں کوئی صارف قطعی

صفحہ ١٧

نہیں ہے ومن يدعى فعليه البيان، سوم....... اس تقدیر پر اس آیت میں کچھ ذکر حضرت عیسیٰؑ کا نہ ہو گا اور حالانکہ قبل و بعد حضرت عیسیٰؑ کا قصہ مذکور ہے اور اجنبی محض کا بلا فائدہ درمیان میں لانا خلاف بلاغت ہے اور اس اجنبی کا یہاں کوئی فائدہ نہیں ہے ومن يدعى فعليه البيان. پس ثابت ہوا کہ یہ کی ضمیر قطعاً حضرت عیسیٰؑ کی طرف عائد ہے۔

اس تمہید کے بعد میں کہتا ہوں کہ اس تقدیر پر سب ضمیریں واحد غائب کی موتِہ کے پہلے کی اور بعد کی راجع ہوئیں طرف حضرت عیسیٰؑ کے۔ پس ظاہر نص قرآنی یہی ہے کہ ضمیر موتہ بھی راجع ہو طرف حضرت عیسیٰؑ کے، اور صرف نص کا ظاہر سے بغیر معارض قطعی جائز نہیں اور یہاں کوئی صارف قطعی موجود نہیں۔ ومن يدعى فعليه البيان.

پس جس تقدیر پر ضمیر کا عائد ہونا کتابی کی طرف فرض کیا گیا تھا اس تقدیر پر بھی ضمیر کا عائد ہونا طرف حضرت عیسیٰؑ کے لازم آیا۔ یہ محذور اس سے ناشئ ہوا کہ ضمیر موتہ کی کتابی کی طرف پھیری گئی۔ پس ثابت ہوا کہ ارجاع ضمیر موتہ کا طرف کتابی کے باطل ہے۔ پس متعین ہوا کہ ضمیر موتہ کی حضرت عیسیٰؑ کی طرف راجع ہے۔ وہو المطلوب۔

دوسری وجہ اس بات کی کہ موتہ کی ضمیر کتابی کی طرف عائد کرنا باطل ہے یہ ہے کہ اس تقدیر پر ایمان سے جو لَيُؤْمِنَنَّ میں ہے کیا مراد ہے؟ آیا وہ ایمان جو زہوق روح کے وقت ہوتا ہے اور جو شرعاً غیر معتد بہ و غیر نافع ہے جیسا کہ مفسرین نے اس تقدیر پر اس کے ارادہ کی تصریح کی ہے تو یہ باطل ہے۔ اس لیے کہ استقراء آیاتِ قرآن مجید سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں سب جگہ لفظ ایمان سے وہ ایمان مراد ہے جو قبل زندگی روح کے ہوتا ہے اور جو شرعاً معتد بہ اور نافع ہے۔ مگر یہاں قرینہ صارفہ قطعیہ سے چند مقامات بطور نظیر لکھے جاتے ہیں۔ سورہ بقرہ۔ يؤمنون بالغيب . ايضاً. يؤمنون بما انزل اليك. ايضاً. لا يؤمنون. ايضاً. امنا بالله. ايضاً. وما هم بمؤمنين. ايضاً. يخادعون اللّٰه والذين امنوا. ايضاً. واذا قيل لهم امنوا كما امن الناس قالوا نومن كما امن السفهاء. ايضاً. واذا لقوا الذين امنوا قالو امنا. ايضاً. فاما الذين امنو فيعلمون انه الحق من ربهم. ايضاً. وامنو بما انزلت. ايضاً. ان الذين امنوا والذين هادوا والنصاریٰ والصائبين من امن بالله. ايضاً. واذا لقوا الذين امنو قالوا امنا. ايضاً. والذين امنوا و عملو الصالحات. ايضاً. واذا قيل لهم امنوا بما انزل اللّٰه قالو انؤمن بما انزل علينا. ايضاً. ان كنتم مؤمنين. ايضاً. قل بئسما يأمركم به ايمانكم ان كنتم مومنين. ايضاً. ولو انهم امنوا واتقوا. ايضاً. يا ايها

صفحہ ١٨

الذين امنوا لا تقولوا راعنا. ايضاً. ومن يتبدل الكفر بالايمان. ايضاً. لوير دونكم من بعد ايمانكم. ايضاً. اولئك يؤمنون به. ايضاً. وارزق اهله من الثمرات من امن بالله. ايضاً. قولوا امنا بالله. ايضاً. فان امنوا بمثل ما امنتم به. ايضاً. وما كان الله ليضيع ايمانكم. ايضاً. يا ايها الذين امنوا استعينوا بالصبر والصلوة. ايضاً. والذين امنوا اشد حبا لله. ايضاً. يا ايها الذين امنوا كلوا من طيبات مارزقنكم. ايضاً. ولكن البر من امن بالله. ايضاً. يا ايها الذين امنوا كتب عليكم الصيام. ايضاً. وليؤمنوا بي. ايضاً. يا ايها الذين امنوا ادخلوا في السلم. ايضاً. و يسخرون من الذين امنوا. ايضاً. والذين امنوا معه. ايضاً. ان الذين امنوا والذين هاجروا. ايضاً. ولا تنكحوا المشركات حتى يؤمن ولامته مومنة. ايضاً. ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا و لعبد مومن. ايضاً. و بشر المؤمنين. ايضاً. من كان منكم يؤمن بالله. ايضاً. ان كنتم مؤمنين. ايضاً. فمنهم من امن. ايضاً. ويومن بالله. ايضاً. الله ولى الذين امنوا. ايضاً. قال اولم تؤمن. ايضاً. يا ايها الذين امنوا لا تبطلوا. ايضاً. ولا يؤمن بالله. ايضاً. يا ايها الذين امنوا انفقوا. ايضاً. ان الذين امنوا و عملوا الصلحت. ايضاً. يا ايها الذين امنوا اتقوا الله و ذر وا مابقى من الربو ان كنتم مؤمنين. ايضاً. امن الرسول بما انزل اليه من ربه والمؤمنون كل امن بالله. پس ظاہر ایمان سے مراد وہ ایمان ہے جو قبل زہوق روح کے ہوتا ہے اور صرف نص کا ظاہر سے بغیر صارف قطعی جائز نہیں ہے اور یہاں کوئی صارف قطعی موجود نہیں ہے۔ ومن يدعى فعليه البيان. علاوہ اس کے اس وقت لفظ قبل کو ظاہر معنی سے صرف کر کے بمعنی عند یا وقت کے لینا پڑے گا۔ اور کوئی صارف قطعی یہاں موجود نہیں ہے۔ ومن يدعى فعليه البيان. اس وقت بجائے قَبْلَ مَوْتِہ کے عِنْدَ مَوْتِہ یا حین موتِہ یا وقت موتِہ کہنا مقتضائے حال تھا۔ اس سے عدول کرنے کی کیا وجہ ہے؟ یا مراد لَیُؤْمِنَنَّ میں ایمان سے وہ ہے جو قبل زہوق روح کے ہوتا ہے۔ پس اس صورت میں یا یہ حکم عام ہے ہر کتابی کے لیے تو حق تعالیٰ کے کلام میں کذب صریح لازم آتا ہے کیونکہ ہم بالبداہت دیکھتے ہیں کہ صدہا ہزارہا اہل کتاب مرتے ہیں اور اپنے مرنے سے پہلے یعنی قبل زہوق روح کے وہ ایمان شرعی جو معتدبہ اور نافع ہے نہیں لاتے۔ تعالیٰ الله عن ذلك علوًّا كبيرا. اور اگر کسی خاص زمانہ کے اہل کتاب کے لیے یہ حکم ہے تو قید قبل موتہ کی لاطائل ہوتی ہے یہ کلام تو بعینہ ایسا ہوا کہ کوئی کہے کہ

صفحہ ١٩

آج میں نے اپنی موت سے پہلے نماز پڑھ لی۔ آج میں نے اپنی موت سے پہلے کھانا کھا لیا۔ آج میں نے اپنی موت سے پہلے سبق پڑھ لیا۔ آج میں اپنی موت سے پہلے کچہری گیا۔ ظاہر ہے کہ یہ کلام مجنونانہ ہے۔ ایسا ہی اللہ تعالیٰ کے کلام کا کلام مجنونانہ ہونا لازم آتا ہے۔ تعالیٰ اللہ عما یقولہ الظالمون. مرزا قادیانی خود بھی اپنی کتاب توضیح المرام اور ازالۃ الاوہام کے چند مواضع میں ضمیر موتہ کا حضرت عیسیٰؑ کی طرف پھیرنا تسلیم کر چکے ہیں۔ اب اگر تسلیم کرتے ہیں تو مدعا ہمارا حاصل ہے اور اگر نہیں تسلیم کرتے تو اس کی وجہ بیان کریں کہ توضیح المرام اور ازالۃ الاوہام میں کیوں حضرت عیسیٰؑ کی طرف پھیری؟ اب بدلیل تحقیقی والزامی ثابت ہو گیا کہ مرجع ضمیر موتہ کا حضرت عیسیٰؑ ہیں اور اس تقدیر پر ہمارا مدعا یعنی حیات مسیحؑ قطعاً ثابت ہوا۔ فتح البیان میں ہے کہ سلف میں ایک جماعت کا یہی قول ہے اور یہی ظاہر ہے اور بہت سے تابعین و غیر ہم اسی طرف گئے ہیں۔ فتح الباری میں ہے۔ ابن جریر نے اس قول کو اکثر اہل علم سے نقل کیا ہے اور ابن جریر وغیرہ نے اس کو ترجیح دی ہے حدیث بخاری و مسلم سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو ہریرہؓ کا یہی قول ہے۔ ابن عباسؓ سے بھی بسند صحیح یہی منقول ہے اور اس کے خلاف جو روایت ان سے ہے وہ ضعیف ہے جیسا کہ فتح الباری وغیرہ میں مرقوم ہے ابن کثیر میں ہے کہ ابو مالک وحسن بصری وقتادہ وعبدالرحمٰن بن زید بن اسلم و غیر واحد کا یہی قول ہے اور یہی حق ہے۔ مرزا قادیانی کی طرف سے اس دلیل پر دو اعتراض ہوئے۔ ایک یہ کہ یہ آیت ذوالوجوہ ہے۔ چند احتمالات مفسرین نے اس کے معنی میں لکھے ہیں۔ پس یہ آیت کیسی قطعیۃ الدلالۃ ہو سکتی ہے؟ اس کا جواب دیا گیا ہے کہ آیت کا ذوالوجوہ ہونا اور اس کے معنی میں چند احتمالات کا ہونا منافی قطعیۃ نہیں ہے۔ کیونکہ ہم نے سب وجوہ و احتمالات مخالفہ کو دلیل الزامی و قطعی سے باطل کر دکھایا۔ دوسرا اعتراض یہ ہوا کہ اثر ابن عباسؓ و قرأت ابی بن کعبؓ اس پر دال ہے کہ مرجع موتہ کا کتابی ہے نہ حضرت عیسیٰؑ۔ اس کا جواب خاکسار کی طرف سے یہ ہوا کہ یہ اثر و قرأت مجروح ہیں احتجاج کے لائق نہیں ہیں چہ جائیکہ صارف قطعی ہوں۔ ایک طریق اثر مذکور میں ایک راوی ابو حذیفہ ہے۔ یہ ابو حذیفہ یا موسیٰ بن مسعود ہے یا یحییٰ بن ہانی بن عروہ کا شیخ ہے پہلا سئی الحفظ ہے۔ دوسرا مجہول ہے اور اس طریق میں عبداللہ بن ابی نجیح یسار المکی ہے وہ مدلس ہے اور عنعنہ مدلس کا مقبول نہیں ہے۔ دوسرے طریق میں محمد بن حمید رازی ہے وہ ضعیف ہے تیسرے طریق میں عتاب بن بشیر وخصیف واقع ہیں۔ روایات عتاب کے خصیف سے مناکیر ہیں

صفحہ ٢٠

اور ضعیف میں بہت جرح ہے۔ چوتھے طریق میں سلیمان بن داؤد طیالسی ہے وہ کثیر الغلط ہے ہزار احادیث کی روایت میں اس نے خطا کی ہے۔ قرأت ابی بن کعب کی روایت میں بھی عتاب و ضعیف واقع ہیں۔

(عبارات ان راویوں کے متعلق تحریر چہارم میں منقول ہیں۔ من شاء فلیراجع الیہ)

دوسری دلیل

سورۃ نساء ١٥٨/ ١٥٧ کی یہ آیت ہے۔ وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ وکان اللہ عزیزاً حکیما۔ شاہ ولی اللہ صاحب اس کے ترجمہ میں لکھتے ہیں ”یقین نہ کشتہ اند او را بلکہ برداشت او را خدا تعالیٰ بسوئے خود و ہست خدا غالب استوار کار۔“ شاہ رفیع الدین صاحب لکھتے ہیں۔ ”اور نہ مارا اس کو بیقین بلکہ اٹھا لیا اس کو اللہ نے طرف اپنے اور ہے اللہ غالب حکمت والا۔“ شاہ عبدالقادر صاحب لکھتے ہیں۔ ”اور اس کو مارا نہیں بیشک بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے طرف اپنے اور ہے اللہ زبردست حکمت والا۔“ فائدہ میں لکھتے ہیں۔ فرمایا کہ اس کو ہرگز نہیں مارا حق تعالیٰ نے اس کی ایک صورت ان کو بنادی اس صورت کو سولی پر چڑھایا۔“ انتہیٰ ملخصاً۔

وجہ استدلال یہ ہے کہ مرجع رفعہ کی ضمیر کا مسیح بن مریم رسول اللہ ہے اور مراد مرجع سے قطعاً روح مع الجسد ہے کیونکہ مورد قتل روح مع الجسد ہے نہ صرف روح، اور ایسا ہی ضمائر وما قتلوہ وما صلبوہ وما قتلوہ یقیناً سے بھی مراد قطعاً روح مع الجسد ہے اور جس کے قتل کا یہود دعویٰ کرتے تھے اسی کے قتل و صلب کی نفی اور رفع کا اثبات حق تعالیٰ کو منظور ہے۔ پس ظاہر نص قرآنی یہی ہے کہ رفعہ سے مراد رفع روح مع الجسد ہے۔ رفعہ کی ضمیر صرف روح کی طرف عائد کرنا یا مضاف مقدر ماننا یعنی تقدیر عبارت یوں کرنا بَلْ رَّفَعَ رُوْحَهُ صرف نص کا ظاہر سے ہے اور صرف نص کا ظاہر سے بغیر صارف قطعی کے جائز نہیں اور صارف قطعی یہاں غیر متحقق ہے۔ ومن یدعی فعلیہ البیان اور مؤید اس کی یہ بات ہے کہ بل رفعہ اللہ میں بل اضراب کا ہے پس وہ رفع مراد ہونا چاہیے جو مقابل ہو قتل کا۔ یعنی قتل کے ساتھ جمع نہ ہو سکے اور رفع روحانی قتل کے ساتھ جمع ہو سکتا ہے۔ عموماً اہل اسلام جانتے ہیں کہ شہداء جو اللہ کی راہ میں قتل ہوتے ہیں ان کے لیے بھی رفع روحانی ہوتا ہے۔ پس متعین ہوا کہ مراد رفع سے رفع روح مع الجسد ہے وہو المطلوب۔

اور یہ بات بھی اس کی مؤید ہے کہ رفع کا لفظ صرف دو نبیوں کے لیے آیا ہے ایک حضرت عیسیٰ دوسرے حضرت ادریس۔ اس تخصیص کی کیا وجہ ہے رفع روحانی کو تو کچھ ان

صفحہ ٢١

دونبیوں کے ساتھ خصوصیت نہیں ہے۔ یہ رفع تو سب نبیوں بلکہ عامہ صالحین کے لیے بھی ہوتا ہے۔ اثر صحیح ابن عباسؓ جس کے رجال صحیح ہیں اور حکماً وہ مرفوع ہے رفع الروح مع الجسد پر قطعی طور پر دلالت کرتا ہے اس کی عبارت آئندہ نقل کی جائے گی۔ فانظر۔

مرزا قادیانی نے اس دلیل کے جواب میں یہ لکھا کہ اس آیت میں اس وعدہ کے ایفاء کی طرف اشارہ ہے جو دوسری آیت میں ہو چکا ہے اور وہ آیت یہ ہے۔ یعیسیٰ انی متوفیک و رافعک الیٰ۔ گویا مرزا قادیانی نے آیۃ یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیٰ کو صارف ٹھہرایا ظاہر معنی وما قتلوه یقیناً بل رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ. سے۔ لیکن اس آیت کا صارف ہونا اس وقت ہو سکتا ہے کہ توفی سے مراد قطعاً موت ہو۔ اور یہ متوقف اس پر ہے کہ حقیقی معنی توفی کے موت کے ہوں بلا قرینہ یہ معنی متبادر ہوتے ہوں۔ حالانکہ ہم نے تحریر چہارم میں ثابت کر دیا کہ توفی کا استعمال جس جگہ بمعنی موت قرآن مجید میں آیا ہے وہاں قرینہ قائم ہے اور یہ بھی ثابت کر دیا کہ حقیقی معنی توفی کے اخذ الشی وافیا کے ہیں۔ یعنی کسی چیز کا پورا لینا۔ اس آیت کو اگرچہ خاکسار نے تحریر اول میں غیر قطعیۃ الدلالۃ لکھا ہے۔ مگر اب میری رائے یہ ہے کہ یہ آیۃ بھی قطعیۃ الدلالۃ ہے حیات مسیح ؑ پر۔

تیسری دلیل

سورۃ ال عمران ٥٤،٥٥ کی یہ آیت ہے۔ وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ. وَاللَّهُ خَيْرُ الماکرین. اذ قال الله یا عیسیٰ انی متوفیک و رافعک الی و مطہرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیمۃ۔ ترجمہ۔ شاہ ولی اللہؒ صاحب و بدسگالید ند کافران و بدسگالید خدا و خدا قوی تر است از ہمہ بدسگالان آنگاہ کہ گفت خدا اے عیسیٰ ہر آئینہ من برگیرندۂ توام و بردارندۂ توام بسوئے خود و پاک کنندۂ توام از صحبت کسانیکہ کا فرشدند و گردا نندۂ تابعانِ توام بالائے کافران تاروزِ قیامت۔ شاہ رفیع الدینؒ صاحب ”اور مکر کیا انھوں نے اور مکر کیا اللہ نے اور اللہ بہتر ہے مکر کرنے والوں کا۔ جس وقت کہا اللہ نے اے عیسیٰ تحقیق میں لینے والا ہوں تجھ کو اور اٹھانے والا ہوں تجھ کو طرف اپنی اور پاک کرنے والا ہوں تجھ کو ان لوگوں سے کہ کافر ہوئے اور کرنے والا ہوں ان لوگوں کو کہ پیروی کریں گے تیری اوپر ان لوگوں کے کہ کافر ہوئے قیامت کے دن تک۔“ شاہ عبدالقادر صاحبؒ۔ ”اور فریب کیا ان کافروں نے اور فریب کیا اللہ نے اور اللہ کا داؤ سب سے بہتر ہے۔ جس وقت کہا اللہ نے اے

صفحہ ٢٢

عیسیٰ میں تجھ کو بھرلوں گا اور اٹھالوں گا اپنی طرف اور پاک کر دوں گا کافروں سے اور رکھوں گا تیرے تابعوں کو منکروں کے اوپر قیامت کے دن تک۔“ فائدہ۔ ”یہود کے عالموں نے اس وقت کے بادشاہ کو بہکایا کہ یہ شخص ملحد ہے تورات کے حکم سے خلاف بتاتا ہے اس نے لوگ بھیجے کہ ان کو پکڑ لائیں۔ جب وہ پہنچے حضرت عیسیٰؑ کے یار سرک گئے اس شتابی میں حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور ایک صورت ان کی رہ گئی اسی کو پکڑ لائے پھر سولی پر چڑھایا۔“ انتہیٰ۔

وجہ استدلال کی یہ ہے کہ توفی کے اصلی وحقیقی معنی اَخْذُ الشی وافیاً کے ہیں جیسا کہ بیضاوی وقسطلانی وفخر رازی وغیرہم نے لکھا ہے۔ عبارات ان کی تحریر چہارم میں منقول ہیں اور موت توفی کے مجازی معنی ہیں نہ کہ حقیقی۔ اسی واسطے بغیر قیام قرینہ کے موت کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا ہے۔ تحقیق اس کی تحریر چہارم میں کی گئی ہے۔ اور یہاں کوئی قرینہ موت کا قائم نہیں۔ اس لیے اصل وحقیقی معنی یعنی اخذ الشی وافیا مراد لیے جائیں گے اور انسان کا وافیا لینا یہی ہے کہ مع روح وجسم کے لیا جائے۔ وہو المطلوب۔ یہ آیت بھی قطعیۃ الدلالۃ ہے حیات مسیح ؑ پر۔

مرزا قادیانی اور ان کے اتباع اس آیت کو قطعیۃ الدلالۃ وفات مسیح ؑ پر سمجھتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اس کا قطعیۃ الدلالۃ ہونا حیات مسیح ؑ پر، اس عاجز سے ثابت کرا دیا۔ وللّٰہ الحمد علی ذالک۔ اگر کہا جائے کہ توفی اس وقت عین رفع ہوئی تو قول اللہ تعالیٰ کا وَرَافِعُکَ تکرار ہوگا تو جواب اس کا یہ ہے کہ توفی کا لفظ چونکہ بمعنی موت ونوم بھی آتا ہے۔ اس لیے لفظ رَافِعُکَ سے تعیین مراد مقصود ہے۔ اب تکرار نہ ہوئی۔ جیسا کہ آیت ثُمَّ بَعَثْنٰکُمْ مِّنْ بَعْدِ مَوْتِکُمْ میں بعث کو موت کے ساتھ مقید کیا ہے اس لیے کہ بعث اغماء ونوم سے بھی ہوتا ہے اور جیسا کہ حَتّٰی یَتَوَفّٰہُنَّ الْمَوْتُ میں موت کا لفظ تعیین مراد کے لیے ہے۔

چوتھی دلیل

سورۂ مائدہ ١١٧ کی یہ آیت ہے۔ وَکُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْہِمْ۔ شاہ ولی اللہ صاحبؒ ۔”وبودم برایشاں نگہبان مادد میکہ درمیان ایشاں بودم پس وقتیکہ بر گرفتی مرا تو بودی نگہبان برایشاں“ اور فائدہ میں لکھتے ہیں ”یعنی بر آسمان بردی۔“ شاہ رفیع الدین صاحبؒ ۔”اور تھا میں اوپر ان کے شاہد جب تک رہا میں بیچ ان کے۔ پس جب قبض کیا تو نے مجھ کو تھا، تو ہی نگہبان اوپر ان کے۔“

صفحہ ٢٣

شاہ عبدالقادر صاحبؒ ۔ ”اور میں ان سے خبردار تھا جب تک ان میں رہا پھر جب تو نے مجھے بھر لیا تو تو ہی تھا خبر رکھتا ان کی۔“ انتہی۔

وجہ استدلال وہی ہے جو اوپر کی آیت میں گزری۔ یعنی معنی حقیقی توفی کے واخذ الشئ وافیاً ہیں۔ اور صرف حقیقت سے طرف مجاز کی بغیر صارف کے جائز نہیں اور صارف یہاں موجود نہیں ہے بلکہ ایک لفظ تعیین مراد کرنے والا یعنی رَافِعُکَ آیت ساتھ میں موجود ہے۔ مخفی نہ رہے کہ حق تعالیٰ نے آیت اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ میں توفی و رفع کو جمع کیا ہے اور بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ اِلَیْهِ میں رفع پر قصر کیا ہے۔ اس میں اشارہ ہے اس طرف کہ توفی و رفع ایک چیز ہے مقصود زیادت لفظ رفع سے صرف تعیین مراد ہے۔ یہ آیت بھی قطعیۃ الدلالۃ ہے حیاتِ مسیحؑ پر۔ مرزا قادیانی اور ان کے اتباع اس آیت کو بھی قطعیۃ الدلالۃ وفات پر سمجھتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے محض اپنی رحمت سے اس آیت کا قطعیۃ الدلالۃ حیات مسیح پر ہونا اب بحمدہ تعالیٰ ظاہر فرما دیا۔ والحمدللہ۔

پانچویں دلیل

سورۂ آل عمران ٤٦ کی یہ آیت ہے۔ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَ كَهْلاً وَّمِنَ الصّٰلِحِيْنَ۔ شاہ ولی اللہ صاحبؒ: ”وسخن گوید با مردمان درگہوارہ و وقت معمری و باشد از شائستگان“ شاہ رفیع الدین صاحبؒ: ”اور باتیں کرے گا لوگوں سے بیچ جھولے کے اور ادھیڑ اور صالحوں سے ہے ۔“ شاہ عبدالقادر صاحبؒ ”اور باتیں کرے گا لوگوں سے جب ماں کی گود میں ہوگا اور جب پوری عمر کا ہوگا اور نیک بختوں میں سے“

وجہ استدلال یہ ہے کہ اصل سن کہولت میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک تیس ہے اور بعض کے نزدیک بتیس اور بعض کے نزدیک تینتیس اور بعض کے نزدیک چالیس قسطلانیؒ نے شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے۔ وقال فی اللباب الکهل من بلغ من الكهولة واولها ثلثون او ثنتان و ثلثون او ثلث و ثلثون او اربعون واخرها خمسون او ستون ثم یدخل فی سن الشیخوخة۔ انتہی۔ شیخ زادہ حاشیہ بیضاوی میں لکھتا ہے۔ و اول سن الكهولة ثلثون وقيل اثنان و ثلثون وقيل ثلث و ثلثون وقيل اربعون و آخر سنها خمسون و قیل ستون ثم یدخل الانسان فى سن الشيخوخة۔ انتہی اور ہم مامور ہیں اس بات کے ساتھ کہ جب اختلاف ہو تو اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف رجوع کریں قال الله تعالیٰ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِىْ شَىْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ۔ موافق اس کے اب ہم رجوع حدیث کی طرف کرتے ہیں تو حدیث ابو ہریرہؓ میں اہل

صفحہ ٢٤

جنت کے حق میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ لا یفنی شبابہ (رواہ مسلم ج ٢ ص ٢٨٠ باب الجنۃ) اور حدیث ابو سعیدؓ و ابو ہریرہؓ میں ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ ایک ندا کرنے والا ندا کرے گا ان لکم ان تشبو فلاتہرموا ابدا رواہ مسلم (ایضاً) اور اس باب میں احادیث بکثرت ہیں۔ یہاں سے ثابت ہوا کہ اہل جنت کا شباب کبھی زائل نہ ہوگا اور حدیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ ٣٣ برس کی عمر کے ہوں گے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسٰیؑ ٣٣ برس کی عمر میں اٹھائے گئے۔ اس کے ثبوت کے لیے تفسیر ابن کثیر کی یہ عبارت کافی ہے۔ فانہ رفع ولہ ثلث و ثلثون سنۃ فی الصحیح وقد ورد فی حدیث فی صفۃ اھل الجنۃ انھم علی صورۃ آدم و میلاد عیسٰی ثلث و ثلثون سنۃ اور نیز تفسیر ابن کثیر میں سورۂ واقعہ کی تفسیر میں تحت آیت کریمہ اَتْرَابًا لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ کے مرقوم ہے وروی الطبرانی واللفظ لہ من حدیث حماد بن سلمۃ عن علی ابن زید بن جدعان عن سعید ابن المسیب عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ یدخل اھل الجنۃ الجنۃ جردا مردا بیضا جعادا مکحلین ابناء ثلاث و ثلثین وھم علی خلق آدم ستون ذراعا فی عرض سبعۃ اذرع وروی الترمذی من حدیث ابی داؤد الطیالسی عن عمران القطان عن قتادۃ عن شھر بن حوشب عن عبدالرحمن بن غنم عن معاذ بن جبل ان رسول اللہ ﷺ قال یدخل اھل الجنۃ الجنۃ جردا مردا مکحلین بنی ثلث و ثلثین سنۃ ثم قال حسن غریب۔ وقال ابن وھب اخبرنا عمرو بن الحارث ان دراجا ابا السمح حدثہ عن ابی الھیثم عن ابی سعید قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من مات من اھل الجنۃ من صغیر او کبیر یردون بنی ثلاث و ثلاثین فی الجنۃ لا یزیدون علیھا ابدا وکذالک اھل النار. و رواہ الترمذی عن سوید بن نصر عن ابن المبارک عن رشدین بن سعد عن عمرو بن الحارث وبہ قال ابوبکر بن ابی الدنیا حدثنا القاسم ابن ھاشم حدثنا صفوان ابن صالح حدثنا رواد ابن الجراح العسقلانی حدثنا الاوزاعی عن ھرون ابن رئاب عن انسؓ قال قال رسول اللہ ﷺ یدخل اھل الجنۃ الجنۃ علی طول آدم ستین ذراعا بذراع الملک علی حسن یوسف و علی میلاد عیسٰی ثلث و ثلثون سنۃ و علی لسان محمد جرد مرد مکحلون وقال ابوبکر بن ابی داؤد حدثنا محمد بن خالد و عباس بن الولید قالا حدثنا عمر من الاوزاعی عن ھرون ابن رائب عن انس ابن مالک قال قال رسول

صفحہ ٢٥

ان النبى ﷺ يبعث اهل الجنة الجنة على صورة آدم فى ميلاد ثلث و ثلثين جردا مردا مكحلين ثم يذهب بهم الى شجرة فى الجنة فيكسون منها لا تبلى ثيابهم ولا يفنى شبابهم. (ابن کثیر مع البغوی ص ١٩٥۔ ١٩٦ ج ٨) اور حافظ عبدالعظیم منذری لکھتے ہیں وعن المقدام ان رسول الله ﷺ قال ما من احد يموت سقطا ولا هرما و انما الناس فيما بين ذالك الا بعث ابن ثلث و ثلثين سنة فان كان من اهل الجنة كان على مسحة آدم و صورة يوسف و قلب ايوب ومن كان من اهل النار عظموا و فخموا كالجبال رواه البيهقى باسناد حسن انتهى. (الترغیب و الترہیب ج ٤ ص ٤٠١ حدیث ٥٤٤٧) پس اس سے صاف ثابت ہوا کہ ٣٣ برس کا سن سن شباب ہے نہ سن کہولت ورنہ فناء شباب اہل جنت لازم آتا ہے۔ وہو خلاف ما ثبت بالاحادیث الصحیحۃ ۔ پس ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰؑ سن شباب میں اٹھائے گئے نہ سن کہولت میں۔ علاوہ اس کے اصل معنی کہل کے من خالطه الشيب ورأيت له بجالة ہیں جیسا کہ قاموس و صحاح وغیرہما میں لکھا ہے یعنی کہل وہ شخص ہے جس کے بالوں میں سفیدی مخلوط ہو جائے اور دیکھی جائے اس کے لیے بزرگی اور اقوال مختلفہ جو اول سن کہولت میں منقول ہیں وہ فی الواقع مختلف نہیں ہیں بلکہ یہ اختلاف مبنی ہے اختلاف قویٰ اشخاص پر جو اعلیٰ درجہ کی قوت رکھتا ہے۔ اس کا اول سن کہولت چالیس یا قریب چالیس کے ہوتا ہے اور جو اوسط درجہ کی قوت رکھتا ہے اس کا اول کہولت ٣٢ یا ٣٣ برس ہوتا ہے اور جو ادنیٰ درجہ کی قوت رکھتا ہے اس کا اول کہولت بعد ٣٠ کے ہوتا ہے۔ اختلاف زمانہ کو اختلاف قویٰ میں بہت دخل ہے۔ جس قدر زمانہ کو خلق آدم سے بعد ہوتا جاتا ہے اسی قدر قویٰ ضعیف ہوتے جاتے ہیں۔ اس پر مشاہدہ و نصوص قرآنیہ و حدیثیہ ناطق ہیں۔ ان میں سے ہے حدیث ابی ہریرہؓ کی جو مرفوع اور متفق علیہ ہے۔ فلم يزل الخلق ينقص بعده حتى الآن. (مسلم ج ٢ ص ٣٨٠ باب الجنة ) یہ عمدہ صورت ہے اقوال مختلفہ میں توفیق کی۔

اس تمہید کے بعد میں کہتا ہوں کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کی عمر مبارک ساٹھ سے تجاوز کر گئی تھی لیکن آپ ﷺ کے سر مبارک اور ریش شریف میں گنتی کے بیس بال سے کم سفید تھے۔ انسؓ سے روایت ہے وتوفاه الله (على راس ستين سنة) و ليس فى رأسه ولحيته عشرون شعرة بيضاء (بخاری ج ١ ص ٥٠٢ باب صفۃ النبی ﷺ ) عن ابن سيرين قال سالت عن انس بن مالك هل كان رسول الله ﷺ خضب فقال لم يبلغ الخضاب كان فى لحيته شعرات بيض لو شئت

صفحہ ٢٦

ان اعد شمطاتہ فی لحیتہ. و فی رواية لو شئت ان اعد شمطات کن فی رأسہ فعلت متفق علیہ و فی رواية لمسلم قال انما کان البیاض فی عنفقتہ و فی الصدغین و فی الرأس. (مسلم ج ٢ ص ٢٥٩ باب شیبتہ ﷺ) مخفی نہ رہے کہ حدیث اول میں جو ستین کا لفظ آیا ہے دوسری احادیث میں اس کے خلاف آیا ہے۔ بعض میں ثلث و ستین اور بعض میں خمس و ستین ہے۔ قال العلماء الجمع بین الروایات ان من روی خمسا و ستین عد سنتی المولد والوفاۃ ومن روی ثلث و ستین لم یعدھما ومن روی ستین لم یعد الکسور کذافی تہذیب الاسماء اور آنحضرت ﷺ کے اس قدر بالوں کا اس عمر میں سپید ہو جانا اصحاب رسول اللہ ﷺ خلاف عادت سمجھتے تھے چنانچہ اس پر یہ حدیث دال ہے۔ عن ابن عباس قال قال ابوبکر یا رسول اللہ قد شبت قال شیبتنی ھود (رواہ الترمذی ج ٢ ص ١٦٥ باب تفسیر سورۃ الواقعہ) اور حضرت عیسیٰؑ آنحضرت ﷺ سے چھ سو برس پہلے تھے اور ظاہر ہے کہ اس زمانہ کے قوی بہ نسبت آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے ضرور قوی تر ہوں گے پس ہرگز یہ بات عقل میں نہیں آتی کہ ٣٣ برس کی عمر میں جو صحیح روایت رفع کے باب میں ہے حضرت عیسیٰؑ کے بالوں میں سپیدی مخلوط ہو گئی ہو بلکہ ظاہر یہی ہے کہ اس وقت بال ان کے بالکل سیاہ ہوں گے۔ تو تعریف کہل کی ان پر صادق نہ آئی اور مؤید اس کا ہے وہ لفظ جو اثر صحیح ابن عباسؓ میں کہ حکما مرفوع ہے وارد ہے۔ فقام شاب من احد ثھم سنا۔ ماسوا اس کے عبارت فتح الباری سے معلوم ہوتا ہے کہ قریب اربعین کا قول راجح و قوی ہے اور دیگر اقوال ضعیف ہیں۔ عبارت فتح الباری کی یہ ہے قال ابو جعفر النحاس ان ھذا لا یعرف فی اللغۃ وانما الکہل عندھم من ناھز الاربعین او قاربھا وقیل من جاوز الثلثین وقیل ابن ثلث و ثلثین انتہی۔ پس موافق اس قول راجح کے کہل ہونا حضرت عیسیٰؑ کا قبل رفع ثابت نہیں ہوتا ہے۔ یہ آیت اگرچہ قطعیۃ الدلالۃ حیات مسیحؑ پر نہیں لیکن ادلہ ظنیہ میں سے ایک قوی دلیل ہے اور یہ قول بعض مفسرین کا کہ یہ استدلال ضعیف ہے خطاء بیّن ہے کیونکہ ہم نے اوپر حدیث صحیح سے ثابت کر دیا کہ جس سن میں حضرت عیسیٰؑ اٹھائے گئے ہیں وہ سن شباب تھا نہ سن کہولت۔

مرزا قادیانی نے اس پر یہ اعتراض کیا کہ آپ کہل کے لفظ سے درمیان عمر کا آدمی مراد لیتے ہیں مگر یہ صحیح نہیں ہے۔ صحیح بخاری اور قاموس و تفسیر کشاف وغیرہ میں کہل کے معنی جوان مضبوط کے لکھے ہیں۔ اس کا جواب خاکسار کی طرف سے یہ ہوا کہ صحیح

صفحہ ٢٧

بخاری میں تو یہ ہے وقال مجاہد الکھل الحلیم۔

(بخاری ج ١ ص ٤٨٨ باب واذ قالت الملائکۃ یٰمریم ان اللہ یبشرک الخ)

جوان مضبوط اس سے کس طرح سمجھا جاتا ہے؟ اس کا جواب مرزا قادیانی نے یہ دیا کہ حلیم وہ ہے جو یبلغ الحلم کا مصداق ہو اور جو حلم کے زمانہ تک پہنچے وہ جوان مضبوط ہی ہوتا ہے۔ اس کا جواب خاکسار کی طرف سے یہ ہوا کہ یہ حصر غیر مسلم ہے کیونکہ حلیم قرآن مجید میں صفت غلام کی آئی ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ۔ اور غلام کے معنی کودک صغیر کے ہیں۔ کما فی الصراح، پس محتمل ہے کہ حلیم اس جگہ پر ماخوذ ہو حلم سے جو آہستگی اور بردباری کے معنی میں ہے۔ اس کا جواب مرزا قادیانی نے کچھ نہیں دیا۔

اب میں کہتا ہوں کہ حافظ نے فتح الباری میں لکھا ہے وقد قال ابو جعفر النحاس ان ھذا لا یعرف فی اللغۃ وانما الکھل عندھم من ناھز الاربعین او قاربھا وقیل من جاوز الثلثین وقیل ابن ثلث و ثلثین۔ انتھی۔ والذی یظھر ان مجاھدا فسرہ بلازمہ الغالب لان الکھل یکون غالبا فیہ وقار و سکینۃ۔ انتھی۔ قسطلانی لکھتا ہے۔ قول مجاھد فسرہ بلازمہ الغالب لان الکھل غالباً یکون فیہ وقار و سکینۃ۔ انتھی۔ قاموس میں ہے۔ الکھل من وخطہ الشیب ورأیت لہ بجالۃ او من جاوز الثلثین او اربعا و ثلثین الی احدی و خمسین۔ انتھی۔ کشاف میں ہے۔ ومعناہ ان یکلم الناس فی ھاتین الحالین کلام الانبیاء من غیر تفاوت بین حال الطفولۃ وحال الکھولۃ التی یستحکم فیھا العقل و یتنبأ فیھا الانبیآء انتھی۔ ان عبارات سے صاف ظاہر ہے کہ کہل کے معنی جوان مضبوط کے نہ صحیح بخاری میں ہیں اور نہ قاموس میں اور نہ کشاف میں اور کہل کے معنی جوان کے کیونکر ہو سکتے ہیں؟ حالانکہ شباب اور کہولت میں تضاد ہے۔ مصباح المنیر میں ہے شب الصبی یشب من باب ضرب شبابا شبیبۃ وھو شاب وذلک قبل سن الکھولۃ۔ انتھی اور ہر عاقل جانتا ہے کہ اجتماع ضدین محال ہے۔

چھٹی دلیل

سورۂ زخرف ٦١ کی یہ آیت ہے وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ ھٰذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ۔ شاہ ولی اللہ صاحبؒ: ’’وہر آئینہ عیسیٰ نشانہ است قیامت را پس شبہہ مکنید در قیامت و بگو یا محمد پیروی من کنید این است راہ راست۔‘‘ شاہ رفیع الدین

صفحہ ٢٨

صاحب: ”اور تحقیق وہ البتہ علامت قیامت کی ہے پس مت شک کرو ساتھ اس کے اور پیروی کرو میری یہ ہے راہ سیدھی۔“ شاہ عبدالقادر صاحب ”اور وہ نشان ہے اس گھڑی کا سو اس میں دھوکا نہ کرو اور میرا کہا مانو یہ ایک سیدھی راہ ہے۔“ فائدہ:۔ حضرت عیسیٰ کا آنا نشان ہے قیامت کا۔ انتہی۔

تفسیر ابن کثیر میں ہے وقولہ سبحان و تعالیٰ وَإِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ تقدم تفسیر ابن اسحق ان المراد من ذلك مايبعث به عيسى عليه الصلوة والسلام من احياء الموتى وابراء الاكمه والابرص وغير ذلك من الاسقام و فى هذا نظر و ابعد منه ماحكاه قتادة عن الحسن البصرى و سعيد ابن جبير ان الضمير فى و انه عائد الى القرآن بل الصحيح انه عائد الى عيسى عليه الصلوة والسلام فان السياق فى ذكره ثم المراد بذلك نزوله قبل يوم القيمة كما قال تبارك و تعالى و ان من اهل الكتاب اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ عليه السلام وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا ويؤيد هذا المعنى القرأة الاخرى و انه لعلم للساعة اى امارة و دليل على وقوع الساعة قال مجاهد وَإِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ اى آية الساعة خروج عيسى بن مريم عليه السلام قبل يوم القيمة وهكذا روى عن ابى هريرة وابن عباس و ابى العالية وابى مالكٍ و عكرمة والحسن و قتادة و ضحاك و غيرهم وقد تواترت الاحاديث عن رسول الله ﷺ انه اخبر بنزول عيسى عليه السلام قبل يوم القيامة امامًا عادلاً و حكما مقسطا. اور اسی میں ہے۔ وقال الامام احمد حدثنا هاشم بن القاسم حدثنا شيبان عن عاصم بن ابى النجود عن ابى رزين عن ابى يحيى مولى ابن عقيل الانصارى قال قال ابن عباس لقد علمت آية من القرآن ما سألنى عنها رجل ولا ادرى اعلمها الناس فلم يسألوا عنها ام لم يفطنو الها فيسألوا عنها فى حديث طويل فى آخره قال فانزل الله عزوجل وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلاً اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ قال يضحكون وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ قال هو خروج عيسى ابن مريم عليه السلام قبل يوم القيمة. (تفسیر ابن کثیر مع البغوی ص ٤٠٧ ٤٠٦) معالم میں ہے وانه يعنى عيسى عليه السلام لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ يعنى نزوله من اشراط الساعة يعلم به قربها و قراء ابن عباس وابوهريرة وقتادة وانه لعلم للساعة بفتح اللام والعين اى امارة و علامة و روينا عن النبى صلى الله عليه وسلم ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا يكسر

صفحہ ٢٩

الصلیب و یقتل الخنزیر و یضع الجزیة ویهلک فی زمانه الملل کلها الا الاسلام.“ فتح البیان میں ہے وانه لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ قال مجاهد والضحاک والسدی وقتادة ان المراد المسیح وان خروجه ای نزوله مما یعلم به قیام الساعة ای قربها لکونه شرطا من اشراطها لان الله سبحانه ینزله من السماء قبیل قیام الساعة کما ان خروج الدجال من اعلام الساعة وقال الحسن و سعید بن جبیر المراد القرآن لانه یدل علی قرب مجیئ الساعة وبه یعلم وقتها واهو الها واحوالها وقیل المعنی ان حدوث المسیح من غیر اب واحیاه للموتی دلیل علی صحة البعث وقیل الضمیر لمحمد ﷺ والاول اولیٰ قال ابن عباس ای خروج عیسیٰ بن مریم علیه السلام قبل یوم القیمة واخرجه الحاکم وابن مردویه عنه مرفوعا وعن ابی هریرة نحوه اخرجه عبد بن حمید. انتہی سیوطی اکلیل میں لکھتے ہیں فیه نزول عیسیٰ قربها روی الحاکم عن ابن عباس فی قوله وانه لعلم للساعة قال خروج عیسیٰ انتھی. کشاف میں ہے وانه وان عیسیٰ علیه السلام لعلم للساعة ای شرط من اشراطها تعلم به فسمی الشرط علما لحصول العلم به وقراء ابن عباس لعلم وهو العلامة و قرئ للعلم و قرأ ابی الذکر علی تسمیة مایذکر به ذکرا کما سمی ما یعلم به علما وفی الحدیث ان عیسیٰ علیه السلام ینزل علی ثنیة بالارض المقدسة یقال لها افیق و علیه ممصرتان و شعر رأسه دهن و بیده حربة وبها یقتل الدجال فیاتی بیت المقدس والناس فی صلوة الصبح والامام یؤم بهم فیتاخر الامام فیقدم عیسیٰ و یصلی علی شریعة محمد علیه السلام ثم یقتل الخنازیر و یکسر الصلیب و یخرب البیع والکنائس و یقتل النصاری الا من امن به. بیضاوی میں ہے وانه ان عیسیٰ لعلم للساعة لان حدوثه او نزوله من اشراط الساعة یعلم به دنوها او لان احیاءه الموتی یدل علی قدرة الله علیه و قرئ لعلم ای علامة ولذا علی تسمیة مایذکر به ذکرا و فی الحدیث ینزل عیسیٰ علی ثنیة بالارض المقدسة. تفسیر ابوالسعود میں ہے وانه وان عیسیٰ لعلم للساعة ای انه بنزوله شرط من اشراطها و تسمیته علما لحصوله به او بحدوثه بغیر اب او باحیاءه الموتیٰ دلیل علی صحة البعث الذی هو معظم ماینکرہ الکفرة من الامور الواقعة فی الساعة جلالین میں ہے وانه ای عیسیٰ لعلم للساعة تعلم بنزوله. جمل میں ہے والمعنی وان نزوله علامة علی قرب الساعة.

صفحہ ٣٠

انتہی. مدارک میں ہے ای و ان نزولہ علم الساعة. انتہی جامع البیان میں ہے وانہ عیسیٰ لعلم الساعة ای علامتها فان نزوله من اشراطها انتہی.

وجہ استدلال کی یہ ہے کہ انّہ کی ضمیر میں مفسرین نے تین احتمالات لکھے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ عائد ہے طرف حضرت عیسیٰؑ کے۔ دوسرا یہ کہ وہ عائد ہے طرف قرآن مجید کے۔ تیسرا یہ کہ وہ عائد ہے طرف آنحضرت ﷺ کے۔ احتمالین اخیرین بالبداہۃ باطل ہیں۔ کیونکہ قرآن مجید و آنحضرت ﷺ کا اوپر کہیں ذکر نہیں ہے۔ بخلاف حضرت عیسیٰؑ کے ان کا ذکر قبل و بعد موجود ہے۔ پس یہ بات متعین ہوئی کہ مرجع انّہ کا حضرت عیسیٰؑ ہیں اب یہاں تین احتمالات ہیں یا نزول مقدر مانا جائے یا معجزہ یا حدوث۔ احتمالین اخیرین صحیح نہیں ہیں اور ان کی عدم صحت کی وجہ تحریر اوّل خاکسار میں موجود ہے اور مرزا قادیانی نے اس کا کچھ جواب نہیں دیا۔ علاوہ اس کے یہ دونوں احتمال غیر ناشی عن الدلیل ہیں اور نزول کی مقدر ماننے پر دلیل موجود ہے۔ اوّل حدیث ابن عباس جس کو امام احمد نے موقوفاً اور حاکم اور ابن مردویہ نے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص ٢٩٠ طبع ملتان) دوسری حدیث حذیفہ بن الاسید غفاری قال اطلع النبی ﷺ علینا و نحن نتذاکر فقال ما تذکرون قالوا نذکر الساعة قال انها لن تقوم حتی ترون قبلها عشر آیات فذکر الدخان والدجال والدابة و طلوع الشمس من مغربها. و نزول عیسیٰ بن مریم (الحدیث رواہ مسلم ج ٢ ص ٣٩٣ کتاب الفتن واشراط الساعة) و دیگر احادیث صحیحہ بخاری و مسلم و غیر ہما کہ جو بکثرت نزول عیسیٰؑ میں وارد ہوئے ہیں اور یہی قول ابن عباسؓ و ابوہریرہؓ و مجاہدؒ و ابو العالیہ و ابو مالکؒ و عکرمہؒ و حسنؒ و قتادہؒ و ضحاکؒ و سدیؒ وغیرہم کا ہے اور سب مفسرین نے اس احتمال کو ترجیح دی ہے۔ یہ دلیل اگر قطعی نہیں ہے تو قریب قطعی کے تو ضرور ہے۔ مرزا قادیانی نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس آیت کو حضرت مسیح کے دوبارہ نزول سے شکّی طور پر بھی کچھ تعلق نہیں اور اگر خواہ نخواہ تحکّم کے طور پر اس جگہ نزول مسیح مراد لیا جائے اور وہی نزول ان لوگوں کے لیے جو آنحضرت ﷺ کے عہد میں تھے نشانِ قیامت ٹھہرایا جائے تو یہ استدلال وجود قیامت تک ہنسی کے لائق ہوگا اور جن کو یہ خطاب کیا گیا کہ مسیح آخری زمانہ میں نزول کر کے قیامت کا نشان ٹھہرے گا۔ اب تم باوجود اتنے بڑے نشان کے قیامت سے کیوں انکاری ہوتے ہو وہ عذر پیش کر سکتے ہیں کہ دلیل تو ابھی موجود نہیں پھر یہ کہنا کس قدر عبث ہے کہ اب قیامت کے وجود پر ایمان لے آؤ شک مت کرو ہم نے پختہ دلیل قیامت کے آنے کی بیان کر دی۔ انتہیٰ۔

صفحہ ٣١

میں کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ اس آیت کو حضرت مسیح کے دوبارہ نزول سے شکی طور پر بھی کچھ تعلق نہیں آنحضرت ﷺ و ابن عباس و ابو ہریرہ و مجاہد و ابو العالیہ و ابو مالک و عکرمہ و حسن و قتادہ و ضحاک و سدی و سائر مفسرین پر جنھوں نے اس آیت سے نزول عیسیٰؑ سمجھا ہے جہالت کا الزام لگانا ہے۔ اعاذنا اللہ منہ، اور مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ اگر نزول مسیح مراد لیا جائے تو یہ استدلال وجود قیامت تک ہنسی کے لائق ہوگا۔ الیٰ آخر ما قال ’’نہایت ہنسی کے لائق ہے۔ مرزا قادیانی آیت کا مطلب ہی نہیں سمجھے اور منشاء غلط یہ معلوم ہوتا ہے کہ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا میں جو فاء سببیہ آئی ہے وہ چاہتی ہے اس امر کو کہ اس کا ماقبل سبب ہو اور مابعد مسبب۔ پس نزول عیسیٰؑ کا قیامت کی نشانی ہونا سبب ہوا۔ قیامت میں نہ شک کرنے کا اور نزول ابھی متحقق ہی نہیں ہے۔ پس کیسے کہا جاسکتا ہے کہ قیامت میں شک نہ کرو؟ جواب اس کا یہ ہے کہ نفس تحقق نزول عیسیٰؑ قطع نظر اس سے کہ حق تعالیٰ نے اس کے علم ساعۃ ہونے کی خبر دی ہے کسی طرح پر قیامت یا قرب قیامت پر دلالت نہیں کرتا ہے۔ ہاں حق تعالیٰ کا یہ خبر دینا کہ نزول عیسیٰؑ علم ساعۃ ہے البتہ قطعاً وقوع قیامت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اگر قیامت کا وقوع ہی نہ ہو تو نزول عیسیٰؑ کا علم ساعۃ ہونا باطل ہو جاتا ہے۔ پس عیسیٰؑ کا علم ساعۃ ہونا اس جہت سے کہ حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ نے اس کی خبر دی ہے۔ بے شک سبب ہے عدم امتراء بالقیامۃ کا، اور اس کے نظائر قرآن مجید میں بکثرت ہیں کہ ماقبل فاء سببیت کا بنظر نفس ذات اپنی کے سبب نہیں ہے مابعد کا، لیکن اس اعتبار سے کہ حق تعالیٰ نے اس ماقبل کی خبر دی ہے وہ سبب ہے مابعد کا سورۂ بقر میں ہے اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ. (بقرہ ١٤٧) یہاں مراد استقبال کعبہ کا حق ہونا ہے اور یہ بغیر حق تعالیٰ کے اخبار کے سبب عدم امتراء کا نہیں ہوسکتا۔ سورۂ آل عمران میں ہے اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ. (آل عمران ٦٠) سورۂ نساء میں ہے اِنَّمَا الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَكَلِمَتُهُ اَلْقٰهَا اِلَى مَرْيَمَ وَرُوْحٌ مِّنْهُ فَآمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهِ وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ اِنْتَهُوْا خَيْرًا لَّكُمْ (نساء ١٧١) سورۂ شعراء میں ہے اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْنِ. سورۂ فاطر میں ہے اِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا. (فاطر ٦) سورۂ حم السجدہ میں ہے قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحَى اِلَيَّ اَنَّمَا اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِيْمُوْا اِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوْهُ. (حم سجدہ ٦) سورۂ تغابن میں ہے زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيْرٌ فَآمِنُوْا

صفحہ ٣٢

بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ وَالنُّوْرِ الَّذِيْ اَنْزَلْنَا. (تغابن ٧-٨) سورۂ کوثر میں ہے اَعْطَيْنٰکَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ (کوثر ١، ٢)

ساتویں دلیل

سورۂ حشر کی آیت ہے وَمَا اتٰكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا. (حشر ٧) شاہ ولی اللہ صاحبؒ۔ و ہر چہ بد ہد شما را پیغامبر بگیرید و بہر چہ منع کند شما را ازاں باز ایستید ۔ شاہ رفیع الدین صاحبؒ ”اور جو کہ دیوے تم کو رسول پس لے لو اس کو اور جو کچھ کہ منع کرے تم کو اس سے پس باز رہو۔“ شاہ عبدالقادر صاحبؒ ”اور جو دیوے تم کو رسول سو لے لو اور جس سے منع کرے سو چھوڑ دو۔“

موافق اس آیت کے جو احادیث صحیحہ کی طرف رجوع کی گئی تو بکثرت اس باب میں احادیث صحیحہ موجود ہیں جن کا تواتر مرزا قادیانی نے ازالۃ الاوہام کے صفحہ ٥٥٧ خزائن ج ٣ ص ٤٠٠ میں تسلیم کیا ہے ان میں سے ہے حدیث متفق علیہ ابوہریرہؓ کی قال قال رسول الله ﷺ والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا فيكسر الصليب و يقتل الخنزير ويضع الجزية و يفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا وما فيها ثم يقول ابو هريرة فاقروا ان شئتم وان مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ. (بخاری ج ١ ص ٤٩٠ باب نزول عیسی بن مریم) ترجمہ۔ کہا ابوہریرہؓ نے کہ فرمایا رسول مقبول ﷺ نے قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے البتہ بیشک قریب ہے یہ کہ اترے گا تم میں بیٹا مریم کا حاکم منصف ہو کر پھر توڑے گا صلیب کو اور قتل کرے گا سور کو اور موقوف کرے گا جزیہ اور بہے گا مال یہاں تک کہ نہ قبول کرے گا اس کو کوئی یہاں تک کہ ہو گا ایک سجدہ بہتر دنیا و مافیہا سے۔ پھر کہتے تھے ابوہریرہؓ پس پڑھو تم اگر چاہو تو یہ آیت وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ الآيَة یعنی اور نہیں ہو گا اہل کتاب میں سے کوئی مگر البتہ تحقیق وہ ایمان لائے گا عیسیٰ پر پہلے مرنے ان کے سے۔ تقریر استدلال کی یہ ہے کہ معنی حقیقی ابن مریم کے خود عیسیٰ بن مریم ہیں۔ قرآن مجید و احادیث صحیحہ میں بکثرت یہ لفظ وارد ہوا ہے اور سب جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مراد ہیں۔ مثیل ایک جگہ بھی مراد نہیں ہے۔ والنصوص تحمل على ظواهرها و صرف النصوص عن ظواهرها بغیر صارف قطعی الحاد اور یہاں کوئی صارف قطعی موجود نہیں ہے۔ پس ان احادیث سے نزول خود حضرت عیسیٰؑ کا قطعاً ثابت ہوتا ہے۔ مرزا

صفحہ ٣٣

قادیانی نے اس دلیل کا اپنی کسی تحریر میں جواب نہیں دیا اگر کہا جائے کہ اخیر کی تین دلیلوں سے نزول عیسیٰ بن مریمؑ ثابت ہوتا ہے اور مقصود ثبوت حیات تھا۔ پس تقریب تمام نہ ہوئی۔ تو جواب یہ ہے کہ مقصود بالذات اثبات نزول ہے اور حیات مقصود بالعرض ہے۔ پس اگر نزول موقوف حیات پر ہے اور مستلزم ہے حیات کو، تو ملزوم کے ثابت ہونے سے لازم خود ثابت ہو گیا، پس حیات ثابت ہوئی وہو المطلوب، اور اگر نزول حیات کو مستلزم نہیں ہے تو اگرچہ حیات اس دلیل سے ثابت نہ ہوئی لیکن جو مقصود بالذات تھا۔ یعنی نزول خود حضرت عیسیٰؑ، وہی ثابت ہو گیا جس کے لیے حیات عیسیٰ علیہ السلام ثابت کی جاتی تھی لہٰذا اثبات حیات کی کچھ حاجت نہ رہی۔

آٹھویں دلیل

صحیح بخاری کی یہ حدیث ہے عن ابن عباسؓ قال خطب رسول اللہ ﷺ فقال یا ایھا الناس انکم محشورون الی اللہ حفاۃ عراۃ غرلا ثم قال كَمَا بَدَاْنَا اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ وَعْدًا عَلَیْنَا اِنَّا كُنَّا فَاعِلِیْنَ. ثم قال الا وان اول الخلائق یکسی یوم القیمۃ ابراهیم الا وانه یجاء برجال من امتی فیوخذ بهم ذات الشمال فاقول یا رب اصیحابی فیقال انک لا تدری ما احدثوا بعدک فاقول کما قال العبد الصالح وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِىْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ فیقال ان هولاء لم یزالوا مرتدین علی اعقابهم منذ فارقتهم. (بخاری ج ٢ ص ٦٦٥ باب وقولہ کنت علیہم شہیدا) ترجمہ۔ روایت ہے ابن عباسؓ سے کہا کہ خطبہ پڑھا رسول اللہ ﷺ نے پس فرمایا اے لوگو بیشک تم جمع کیے جاؤ گے اللہ کی طرف ننگے پاؤں ننگے بدن بغیر ختنہ کے، پھر پڑھی یہ آیت كَمَا بَدَاْ نَا اَوَّلَ خَلْقٍ الآيۃ پھر فرمایا کہ آگاہ ہو جاؤ کہ سب مخلوق سے پہلے قیامت کے دن حضرت ابراہیمؑ کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔ آگاہ ہو جاؤ اور بے شک لائے جائیں گے چند مرد میری امت میں سے پھر لے جاویں گے ان کو بائیں طرف پھر کہوں گا میں اے رب میرے یہ میرے ساتھی ہیں پس کہا جائے گا بیشک تو نہیں جانتا ہے کہ کیا نئی چیزیں نکالیں انھوں نے بعد تیرے۔ پس کہوں گا میں مانند اس کی کہ کہا بندہ صالح یعنی عیسیٰؑ نے وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَادُمْتُ فِيْهِمْ الآيۃ پس کہا جائے گا کہ بیشک یہ لوگ پھر گئے اپنی ایڑیوں پر جب سے کہ چھوڑا تو نے ان کو۔ وجہ استدلال یہ ہے کہ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اپنے قول کو تشبیہ دی ساتھ قول حضرت عیسیٰؑ کے، اور یہ نہیں فرمایا کہ فاقول ما قال العبد الصالح یعنی

صفحہ ٣٤

پس کہوں گا میں جو کہا بندہ صالح نے، اور مشبہ اور مشبہ بہ میں مغائرت ہوتی ہے۔ نہ عینیت۔ پس معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے توفی اور حضرت عیسیٰؑ کے توفی میں مغائرت ہے نہ عینیت۔ اور آنحضرت ﷺ کے توفی تو قطعاً بذریعہ موت کے ہوئی۔ پس ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰؑ کی توفی بذریعہ موت کے نہیں ہوئی بلکہ بذریعہ رفع و اصعاد کے ہوئی جو مشابہ و بشکل موت کا ہے اور یہی مدعا تھا۔

نویں دلیل

اثر ابن عباس ہے جو حكماً مرفوع ہے۔ فتح البیان میں ہے اخرج سعيد بن منصور والنسائى وابن ابى حاتم وابن مردويه عن ابن عباس قال لما اراد الله ان يرفع عيسى الى السماء خرج الى اصحابه و فى البيت اثنا عشر رجلا من الحوارين فخرج عليهم من عين فى البيت و رأسه يقطر ماء فقال ان منكم من يكفر بى اثنى عشر مرة بعد ان امن بی ثم قال ايكم يلقى عليه شبهی فیقتل مکانی فیکون معى فى درجتى فقام شاب من احدثهم سنا فقال له اجلس ثم اعاد عليهم ثم قام الشاب فقال اجلس ثم اعاد عليهم فقام الشاب فقال انا فقال انت ذاك فالقى عليه شبه عيسى و رفع عيسى من روزنة فى البيت الى السماء قال وجاء الطلب من يهود فاخذوا الشبه فقتلوه ثم صلبوه فکفر به بعضهم اثنی عشر مرة بعد ان امن به وافترقوا ثلاث فرق فقالت طائفة كان الله فينا ماشاء ثم صعد الى السماء فهو لاء اليعقوبية وقالت فرقة كان فينا ابن الله ماشاء ثم رفعه الله اليه وهولاء النسطورية وقالت فرقة كان فينا عبدالله ورسوله و هولاء المسلمون فتظاهرت الكافرتان على المسلمة فقتلوها فلم يزل الاسلام طامساً حتى بعث الله محمد ﷺ فانزل الله عليه فَآمَنَتْ طَّائِفَةٌ مِّنْ بَنِى إِسْرَآئِيْلَ یعنی الطائفة التي آمنت فى زمن عيسى وَكَفَرَتْ طَائِفَة يعنى التي كفرت في زمن عیسى فَاَيَّدْنَا الَّذِيْنَ امَنُوْا فى زمن عيسى باظهار محمد دينهم على دين الكافرين. قال ابن كثير بعد ان ساقه بهذا اللفظ عند ابن ابی حاتم قال ثنا احمد بن سنان اثنا ابو معاوية عن الاعمش عن المنهال بن عمرو عن سعيد بن جبير عن ابن عباس فذکره و هذا اسناد صحيح الى ابن عباس وصدق ابن كثير فهولا كلهم من رجال الصحيح و اخرجه النسائى من حديث ابی كريب عن ابى معاوية نحوه ترجمہ: روایت کیا سعید بن منصور و نسائی و ابن ابی حاتم و ابن مردویہ

صفحہ ٣٥

نے ابن عباسؓ سے کہا انھوں نے (”جب ارادہ کیا اللہ نے یہ کہ اٹھائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف۔ نکلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے یاروں کی طرف اور گھر میں بارہ مرد تھے حواریوں میں سے، پس نکلے ان پر ایک چشمہ سے جو گھر میں تھا اور سر سے ان کے پانی ٹپکتا تھا پس فرمایا کہ تحقیق بعض تم میں سے وہ ہے کہ کفر کرے گا میرے ساتھ بارہ بار بعد اس کے کہ ایمان لایا مجھ پر پھر فرمایا کہ کون تم میں ہے کہ ڈالی جائے اس پر شبیہہ میری، پھر قتل کیا جائے وہ میری جگہ اور ہو میرے ساتھ میرے درجہ میں۔ پس کھڑا ہوا ایک جوان نو عمروں میں سے، پس فرمایا واسطے اس کے بیٹھ جا پھر اعادہ کیا ان پر اس بات کا پھر کھڑا ہوا وہی جوان پھر فرمایا کہ بیٹھ جا پھر اعادہ کیا ان پر اس بات کا پھر کھڑا ہوا وہی جوان۔ پس کہا اس نے میں۔ پس فرمایا کہ تو وہی ہے پس ڈالی گئی اس پر شبہ عیسیٰ علیہ السلام کی اور اٹھائے گئے عیسیٰ علیہ السلام روشندان سے جو گھر میں تھا آسمان کی طرف کہا اور آئے تلاش کرنے والے یہود کی طرف سے پس پکڑ لیا انھوں نے شبہ کو پس قتل کیا اس کو پھر سولی پر چڑھایا اس کو“) پس کفر کیا ساتھ ان کے بعض ان کے نے بارہ بار بعد اس کے کہ ایمان لایا ان پر اور متفرق ہو گئے تین فرقے، پس کہا ایک فرقہ نے کہا اللہ ہم میں جب تک کہ چاہا اس نے، پھر چڑھ گیا آسمان کی طرف پس یہ یعقوبیہ ہیں، اور کہا ایک فرقہ نے تھا ہم میں بیٹا اللہ کا جب تک کہ چاہا اس نے پھر اٹھا لیا اس کو اللہ نے اپنی طرف اور یہ نسطوریہ ہے۔ اور کہا ایک فرقہ نے تھا ہم میں بندہ اللہ کا اور رسول اس کا یہ اس زمانہ کے مسلمان تھے۔ پھر چڑھائی کی کافروں نے مسلمانوں پر پس قتل کیا ان کو پس ہمیشہ رہا اسلام مٹا ہوا یہاں تک کہ بھیجا اللہ نے محمد ﷺ کو پس اتاری اللہ نے ان پر یہ آیت فَآمَنَتْ طَّائِفَةٌ مِّنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ یعنی پس ایمان لایا ایک گروہ بنی اسرائیل میں سے یعنی وہ گروہ جو ایمان لایا حضرت عیسیٰؑ کے زمانہ میں اور کفر کیا ایک گروہ نے یعنی اس نے کہ کافر ہوا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں پس تائید کی ہم نے ان لوگوں کی کہ ایمان لائے زمانہ میں حضرت عیسیٰؑ کے، اس طرح کہ محمد ﷺ نے ان کے دین کو کافروں کے دین پر غالب کیا۔ کہا ابن کثیر نے بعد اس کے کہ چلایا اس حدیث کو اس لفظ سے نزدیک ابن ابی حاتم کے، کہا حدیث کی ہم کو احمد بن سنان نے حدیث کی ہم کو ابو معاویہ نے اعمش سے انھوں نے منہال بن عمرو سے انھوں نے سعید بن جبیر سے انھوں نے ابن عباسؓ سے پس ذکر کیا اس کو اور یہ سند صحیح ہے ابن عباسؓ تک اور سچ کہا ابن کثیر نے پس یہ کل رجال، رجال صحیح میں سے ہیں۔ اور روایت کیا۔ اس کو

صفحہ ٣٦

نسائی نے حدیث ابی کریب سے انھوں نے معاویہ سے مثل اسی کی۔ کہتا ہوں میں کہ اس ناچیز نے سب رجال کو دیکھا جو سب رجال بخاری و مسلم کے ہیں سوائے منہال بن عمرو کے کہ وہ صرف رجال بخاری سے ہے اور اس اثر کے حکماً مرفوع ہونے پر یہ عبارت سخاوی کی دال ہے۔ قال شيخنا فيه ان ابا هريرة لم يكن ياخذ عن اهل الكتاب وان الصحابى الذى يكون كذلك اذا اخبر بما لا مجال للرائ والاجتهاد فيه يكون للحديث حكم الرفع انتهى. وهذا يقتضى تقييد الحكم بالرفع بصدوره عن من لم يأخذ عن اهل الكتاب انتهى. اور بھی اس میں ہے واصرح منه منع ابن عباس له اى للكعب ولو وافق كتابنا وقال انه لا حاجة و كذا نهى عن مثله ابن مسعود و غيره من الصحابة. انتهى.

دسویں دلیل

حدیث مرسل حسن کی ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے وقال ابن ابی حاتم حدثنا ابى حدثنا احمد بن عبدالرحمن حدثنا عبدالله بن ابى جعفر عن ابيه حدثنا الربيع بن انس عن الحسن انه قال فى قوله تعالى إِنِّی مُتَوَفِّیْکَ يعنى وفاة المنام رفعه الله فى منامه قال الحسن قال رسول الله ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيمة. ترجمہ کہا حسنؒ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے یہود سے کہ تحقیق عیسیٰ نہیں مرے اور بیشک وہ رجوع کرنے والے ہیں تمہاری طرف دن قیامت سے پہلے۔ اگر کہا جائے کہ یہ حدیث مرسل ہے تو جواب یہ ہے کہ اس مرسل کی تقویت چند طرح پر ہو گئی ہے۔

اوّل...... یہ کہ حسن بصریؒ نے قسم کھا کر یہ بات کہی ہے کہ حضرت عیسیٰ زندہ ہیں۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے۔ وقال ابن جریر حدثنی یعقوب حدثنا ابن علیة حدثنا ابو رجاء عن الحسن وَإِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قبل موت عيسى والله انه لحى الان عند الله ولكن اذا انزل امنوا به اجمعون. انتھی. پس معلوم ہوا کہ یہ مرسل حسن کے نزدیک قوی ہے والا قسم نہ کھاتے۔

دوم...... تہذیب میں ہے وقال یونس بن عبید سألت الحسن قلت یا ابا سعید انک تقول قال رسول الله ﷺ وانک لم تدرکہ قال یا ابن اخی لقد سالتنى عن شئ ما سالنى عنه احد قبلك ولو لا منزلتك منى ما اخبرتك انى فى زمان كما ترى وكان فى عمل الحجاج كل شئ سمعتنى اقول قال رسول

صفحہ ٣٧

اللہ ﷺ فهو عن علی ابن ابی طالب غیر انی فی زمان لا استطیع ان اذکر علیا۔ انتہی۔ اور تہذیب میں ہے قال محمد ابن احمد بن محمد بن ابی بکر المقدمی سمعت علی بن المدینی یقول مرسلات یحیی بن ابی کثیر شبہ الریح و مرسلات الحسن البصری التی رواھا عنہ الثقات صحاح اقل ما یسقط منھا۔ انتھیٰ۔ خلاصہ میں ہے قال ابو زرعہ کل شئ قال الحسن قال رسول اللہﷺ وجدت لہ اصلا ملیا خلا اربعۃ احادیث۔ انتھیٰ۔ جامع ترمذی کی کتاب العلل میں ہے حدثنا سوار بن عبد اللہ العنبری قال سمعت یحیی بن سعید القطان یقول ما قال الحسن فی حدیثہ قال رسول اللہ ﷺ الا وجدنا لہ اصلا الا حدیثا او حدیثین۔ انتھیٰ۔

سوم ۔۔۔۔۔۔ یہ مرسل معتضد ہے ساتھ تین آثار ابن عباسؓ کے۔ ایک بیان میں کیفیت رفع عیسیٰ کی۔ دوسرا تفسیر آیت کریمہ وَ اِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ میں۔ تیسرا تفسیر آیت کریمہ وَ اِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ۔ میں۔ کما تقدم۔ اور ان آثار میں سے دو کے رجال، رجال صحیح ہیں اور ایک حکماً مرفوع ہے اور ایک کو بعض مخرجین نے مرفوع کیا ہے۔ اور معتضد ہے ساتھ اثر ابو ہریرہؓ کے جو سند کے ساتھ صحیح بخاری میں مذکور ہے۔ اور معتضد ہے ساتھ حدیث مرفوع ابن عباس کے جو مسنداً صحیح بخاری میں مروی ہے۔ اور معتضد ہے ساتھ آیت کریمہ وَ اِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ اور دیگر آیات شریفہ کے جو اثبات حیات کے لیے بیان کی گئی ہیں اور مرسل اس سے کم میں قابل احتجاج ہو جاتا ہے۔ الفیہ میں ہے لکن اذ اصح لنا مخرجہ بمسند او مرسل یخرجہ من لیس یروی عن رجال الاول فقبلہ۔ سخاوی فتح المغیث میں لکھتے ہیں وکذا یعتضد بما ذکر مع مذہب الشافعی کما سیاتی من موافقۃ قول بعض الصحابی او فتویٰ عوام اھل العلم۔ پس اس مرسل کے قوی و قابل احتجاج ہونے میں کیا شک باقی رہا۔ تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ۔ یہ پوری دس دلیلیں ہوئیں حیات مسیح علیہ السلام پر۔

مخفی نہ رہے کہ جو عبارات مفسرین کی تحریر چہارم میں نقل کی گئی ہیں ان سے صاف واضح ہے کہ سب اہل اسلام آنحضرت ﷺ کے وقت سے لے کر اس زمانہ تک صحابہ و تابعین و تبع تابعین و فقہاء اہلحدیث و عامہ مفسرین سب کا اعتقاد یہی ہے کہ حضرت عیسیٰؑ آسمان پر زندہ مع الجسد موجود ہیں یہ کوئی نہیں کہتا ہے کہ وہ مردہ ہیں اگرچہ

صفحہ ٣٨

اہل اسلام کا اس میں اختلاف ہے کہ اٹھائے جانے سے پہلے ان پر موت طاری ہوئی یا نہیں ۔ جمہور اہل اسلام کا یہ مذہب ہے کہ موت طاری نہیں ہوئی اور یہی صحیح ہے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ موت طاری ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ نے پھر زندہ کر کے مع الجسد اٹھا لیا۔ یہ کوئی بھی نہیں کہتا ہے کہ اب وہ مردہ ہیں۔ پس جو مذہب مرزا قادیانی نے احداث کیا ہے یہ قول کسی کا اہل اسلام میں سے نہیں ہے۔

(الحق الصریح فی حیات المسیح مولفہ مولوی محمد بشیر صاحب سہوانی)

اس کے بعد چند احادیث درج کی جاتی ہیں جن سے بالوضاحت حیات مسیح ثابت ہے۔

اثبات حیات مسیح بالاحادیث

عن ابن عباس قال قال رسول الله ﷺ وان من اهل الكتاب إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ. قال خروج عيسى عليه السلام.

(الحدیث۔ رواہ الحاکم فی المستدرک ج ٣ ص ٣٣ حدیث نمبر ٣٢٦٠ قال الحاکم صحیح علی شرط الشیخین)

”ابن عباسؓ سے روایت ہے کہا کہ اس نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے۔ اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر ضرور ایمان لائے گا ساتھ اس کے پہلے موت اس کی کے۔ کہا ابن عباسؓ نے اس کی مراد نکلنا عیسیٰؑ کا ہے۔ روایت کیا اس کو حاکم نے بیچ مستدرک کے اور کہا حاکم نے صحیح ہے شیخین کی شرط پر۔“

وروى ابن جرير وابن ابي حاتم عن الربيع قال ان النصارى اتوا النبی ﷺ فخاصموافى عيسى ابن مريم الى ان قال لهم النبی ﷺ الستم تعلمون ان ربنا حيى لايموت وان عيسى ياتى عليه الفناء. (الحديث ابن جرير ج ٣ ص ١٠٨ در منثور ج ٢ ص ٣) ترجمہ۔ روایت کی ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ربیع سے کہا اس نے تحقیق نصاریٰ آئے حضرت ﷺ کے پاس۔ پس جھگڑا کیا انھوں نے ساتھ حضرت ﷺ کے بیچ حق عیسیٰ بن مریمؑ کے، یہاں تک کہ فرمایا ان کو نبی ﷺ نے۔ کیا نہیں تم جانتے کہ تحقیق رب ہمارا زندہ ہے اور تحقیق عیسیٰؑ آئے گی اس پر فنا۔

وعن عبدالله بن مسعود قال قال رسول الله ﷺ لقيت ليلة اسرى بى ابراهيم و موسى و عيسى عليه السلام فتذاكروا امر الساعة فردوا امرهم الى ابراهيم فقال لا علم لى بها فردوا امرهم الى موسى فقال لا علم لى بها فردوا امرهم الى عيسى فقال اما وجبتها افلا يعلم بها احد الا الله و فيما عهد الى ربى

صفحہ ٣٩

عزوجل ان الدجال خارج و معی قضیبان فاذا ارانی ذاب کما یذوب الرصاص فیھلکہ اللہ اذا رانی۔ (الحدیث رواہ احمد وابن ابی شیبۃ وسعید بن منصور والبیہقی وابن ماجہ ص ٢٩٩ باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم الحاکم ایضاً ولفظہ فذکر خروج الدجال قال فانزل قتلہ)

ترجمہ۔ عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہا اس نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ملا میں معراج کی رات ابراہیمؑ کو اور موسیٰ ؑ کو اور عیسیٰؑ کو پس ذکر کیا انھوں نے قیامت کا پس پھیرا اس نے اپنا مسئلہ ابراہیمؑ کی طرف۔ پس کہا اس نے نہیں خبر مجھ کو ساتھ اس کے۔ پھر موڑا انھوں نے اپنا مسئلہ موسیٰ ؑ کی طرف پس کہا اس نے نہیں خبر مجھ کو ساتھ اس کے۔ پھر پھیرا انھوں نے اپنا کام عیسیٰؑ کی طرف پس کہا عیسیٰؑ نے نہیں جانتا اسے کوئی اللہ کے سوا۔ مگر جب دجال نکلے گا تو میرے ہاتھ سے قتل کیا جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا میرے ساتھ عہد ہے کہ میں بعد نزول دجال کو قتل کروں گا۔

اب ہم ذیل میں سلف صالحین کا مذہب لکھتے ہیں اور ہر ایک بزرگ کا نام بمعہ حوالہ کتاب تحریر کرتے ہیں تاکہ مسلمان بھائیوں کو معلوم ہو جائے کہ مرزائی بالکل جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ فوت ہو گئے اور ان کا آنا بروزی رنگ میں مرزا غلام احمد قادیانی میں ہوا کیونکہ وہ اپنے دعوے کے ثبوت میں امت محمدی ﷺ میں سے ایک شخص بھی پیش نہیں کر سکتے جس کا یہ مذہب ہو کہ حضرت عیسیٰؑ فوت ہو گئے ان کا نزول اصالتاً نہ ہو گا اور ان کے عوض کوئی ایک شخص امت محمدی ﷺ میں نبوت و رسالت کاذبہ کا مدعی ہو کر مسیح موعود ہو گا اگر کسی صاحب مذہب کا یہ عقیدہ ہو تو مرزائی پیش کریں۔ پیش کنندہ کو ہم ایک سو روپیہ انعام دیں گے۔

طبقہ صحابہ کرامؓ

(کنز العمال جلد ٧ ص ٢٠٢) جب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ایک جماعت صحابہؓ کے ساتھ ابن صیاد کے پاس تشریف لے گئے اور کچھ کچھ علامتیں ابن صیاد میں دجال کی پائی گئیں تو حضرت عمرؓ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ اجازت فرماتے ہیں کہ میں اس کو قتل کر دوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دجال کا قاتل عیسیٰ بن مریم ہے تو اس کا قاتل نہیں۔

(رواہ احمد عن جابرؓ مشکوٰۃ ص ٤٧٩ باب قصہ ابن صیاد)

اس حدیث کے مضمون سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت خلاصہ موجودات محمد

صفحہ ٤٠

رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کبار کا بھی یہی مذہب تھا کہ دجال کو حضرت عیسیٰؑ بعد نزول قتل کریں گے اور عیسیٰ بن مریم سے مراد مسیح ناصری رسول اللہ صاحب کتاب (انجیل) ہی رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کا مفہوم تھا۔ کیونکہ اگر آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کا یہ مذہب ہوتا کہ عیسیٰ فوت ہو کر کشمیر میں مدفون ہیں۔ تو آپ ﷺ یہ نہ فرماتے کہ دجال کا قاتل عیسیٰ بن مریم ہے۔

دوم...... حضرت عمرؓ جیسے جلیل القدر صحابی کہ جن کی فراست اور تدین ایسا تھا کہ وحی الہی ان کی رائے کے مطابق نازل ہوتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ سے یہ سن کر دجال کا قاتل عیسیٰ بن مریمؑ ہے خاموش رہنا کامل دلیل ہے۔ اس بات پر کہ حضرت عمرؓ کا بھی یہی مذہب تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی بحالت حیات ہوا اور نزول بھی جسمانی ہو گا اور حضرت عمرؓ عرض کرتے کہ یا رسول اللہ ﷺ ایسا اعتقاد کہ عیسیٰؑ قیامت تک زندہ رہے گا شرک ہے۔ آپ ﷺ کس طرح فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم دجال کا قاتل ہے جب کہ وہ فوت ہو چکا ہے اور مدت دراز گزر چکی ہے۔

سوم...... دوسری جماعت صحابہ کرامؓ کی خاموشی بھی اسی بات کو ثابت کرتی ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا فرمانا برحق تھا اور دجال کا قاتل حضرت عیسیٰؑ کو تسلیم کیا۔ جس سے رفع جسمانی و اصالتاً نزول ثابت ہوا۔ ورنہ صحابہ کرامؓ کی جماعت سے کوئی ایک تو عرض کرتا کہ یا رسول اللہ! حضرت عیسیٰ تو فوت ہو چکے۔ اگر اب تک زندہ آسمان پر ہیں تو اس میں آپ ﷺ کی ہتک ہے کہ مسیح ناصری نبی تو زندہ تا قیامت آسمان پر رہے اور حضور ﷺ زمین پر رہیں اور یہ بھی آپ ﷺ کی کسر شان ہے کہ اس جتنی عمر بھی آپ ﷺ کو نہ ملے۔ مگر کسی صحابی نے دم نہ مارا اور فرمانِ نبوی کے آگے سر تسلیم خم کر دیا اور ابن صیاد کو چھوڑ کر چلے آئے جس سے روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ صحابہ کرامؓ کا بھی یہی مذہب تھا جو ہم مسلمانوں کا ہے یعنی حضرت عیسیٰؑ اصالۃً نازل ہوں گے اور وہی سچے مسیح موعود ہوں گے جھوٹے مسیح تو بہت آئے اور آتے رہیں گے جیسا کہ مسیح ؑ اور محمد ﷺ کی پیشگوئی ہے۔

٢۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اسد اللہ الغالب

اخرج ابن المنادی فی مسنده عن علی ابن ابی طالب قال یقتله الله تعالیٰ بالشام علی عقبة یقال لھا عقبة رفیق لثلاث ساعات یمضین من النھار علی یدی عیسیٰ ابن مریم (کتاب الاشاعت ص ٢٨٥) یعنی دجال کو اللہ تعالیٰ قتل کرے گا

صفحہ ٤١

عیسیٰ بن مریم کے ہاتھ سے۔

٣۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ

عن عائشةؓ فينزل عيسى فيقتله الدجال .

(مسند احمد ج ٦ ص ٧٥ مصنف بن ابی شیبہ ج ٨ ص ٦٤٩ باب فتنة الدجال)

یعنی عیسیٰ نازل ہو گا اور دجال کو قتل کرے گا۔ ایک دوسری حدیث ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے رسول خدا ﷺ سے عرض کی کہ مجھ کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں آپ ﷺ کے بعد زندہ رہوں گی۔ پس آپ اجازت فرما دیں کہ آپ ﷺ کے پہلو میں دفن کی جاؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس سوائے میری قبر اور ابوبکرؓ و عمرؓ اور عیسیٰ بن مریم کی قبر کے کسی کی گنجائش نہیں۔ اس حدیث سے بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت عائشہؓ کا بھی یہی مذہب تھا کہ حضرت عیسیٰ زندہ ہیں مرے نہیں۔ اور بعد نزول اصالتاً دجال کو قتل کریں گے پھر فوت ہوں گے اور مدینہ منورہ میں دفن ہوں گے۔

(کنزالعمال ج ١٤ ص ٦٢٠ حدیث ٣٩٧٢٨)

٤۔ حضرت ابو ہریرہؓ

عن ابى هريرةؓ قال قال رسول الله ﷺ والذى نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلاً فيكسر الصليب و يقتل الخنزير و يضع الجزية و يقبض المال حتى لا يقبله احد و تكون السجدة الواحدة خير من الدنيا وما فيها ثم يقول ابو هريرةؓ فاقرؤا ان شئتم وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ. الآیۃ. (مشکوٰۃ ص ٤٧٩ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام) ترجمہ۔ روایت ہے ابو ہریرہؓ سے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تحقیق اتریں گے تم میں عیسیٰ بیٹے مریم کے درحالیکہ حاکم عادل ہوں گے۔ پس توڑیں گے صلیب کو اور قتل کریں گے خنزیر کو اور بہت ہوگا مال یہاں تک کہ نہ قبول کرے گا اس کو کوئی اور ہو گا ایک سجدہ بہتر دنیا سے اور ہر ایک چیز سے جو دنیا میں ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ اگر اس میں شک ہو تو پڑھو قرآن کی یہ آیت کہ (نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر وہ ایمان لائے گا عیسیٰؑ پر پہلے مرنے عیسیٰ علیہ السلام کے اور ان پر عیسیٰؑ دن قیامت کے گواہ ہوں گے) روایت کی یہ بخاری اور مسلم نے۔ حضرت ابو ہریرہؓ جلیل القدر صحابی ہیں ان کا مذہب بھی یہی تھا کہ حضرت عیسیٰؑ

صفحہ ٤٤

فوت نہیں ہوئے اور اصالتاً نزول فرما کر دجال کو قتل کریں گے اور پھر فوت ہوں گے اور قرآن کی آیت سے تمسک کر کے فرمایا کہ ”قَبْلَ مَوْتِہٖ“ سے مراد عیسیٰؑ ہے۔

٥۔ عبداللہ بن مسعودؓ

عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں معراج کی رات ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام سے ملا اور قیامت کے متعلق ذکر کیا۔ پہلے ابراہیمؑ سے دریافت کیا۔ انھوں نے کہا کہ لَا عِلْمَ لِیْ۔ پھر یہ امر موسیٰؑ کے حوالے کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ لَا عِلْمَ لِیْ، پھر آخر میں یہ امر عیسیٰؑ پر ڈالا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اصلی علم تو خدا کے سوا کسی کو نہیں مگر میرے ساتھ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ جب دجال نکلے گا تو میں نازل ہوں گا اور اس کو قتل کر دوں گا۔ الخ۔ اس حدیث سے عبداللہ بن مسعودؓ کا مذہب معلوم ہوا کہ وہ اصالتاً نزول عیسیٰ بن مریم نبی ناصری کے قائل تھے۔

(ابن ماجہ ص ٢٩٩ باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰؑ)

٦۔ عبداللہ بن عمرؓ

اخرج ابن ابی شیبۃ عن ابن عمرؓ قال ینزل المسیح بن مریم فاذا راہ الدجال ذاب کما تذوب الشحمۃ فیقتل الدجال۔

ترجمہ:۔ حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ عیسیٰؑ نازل ہوں گے تو ان کو جب دجال دیکھے گا تو اس طرح پگھلے گا جس طرح چربی (آگ پر) پگھلتی ہے۔ عیسیٰؑ دجال کو قتل کریں گے۔

(مصنف ابن ابی شیبہ ج ٨ ص ٦٥٣ باب فتنۃ الدجال)

٧۔ عبداللہ بن سلامؓ

اخرج البخاری فی تاریخہ عن عبداللہ ابن سلام۔ قال یدفن عیسیٰ مع رسول اللہ ﷺ و ابی بکرؓ و عمرؓ فیکون قبرا رابعاً۔ (درمنثور ج ٢ ص ٢٤٥) یعنی عبداللہ بن سلامؓ نے کہا دفن ہوں گے عیسیٰؑ ساتھ رسول اللہ ﷺ اور ابی بکرؓ و عمرؓ کے اور ان کی قبر چوتھی قبر ہو گی۔ اس حدیث سے بھی حیات مسیح ثابت ہے کیونکہ اب تک ایک قبر کی جگہ خالی ہے۔

٨۔ عبداللہ بن عباسؓ

اخرج ابن عساکر واسحق بن بشر عن ابن عباسؓ قال قولہ تعالیٰ عزوجل یا عیسیٰ انی متوفیک و رافعک الی قال انی رافعک ثم متوفیک فی

صفحہ ٤٣

اخر الزمان۔ (درمنثور ج ٢ ص ٣٦) یعنی ابن عباسؓ کا یہ مذہب تھا کہ پہلے میں اپنی طرف اٹھاؤں گا اور یہود کی ضرر رساں اور گندی صحبت سے پاک کروں گا اور پھر اخیر زمانہ میں بعد نزول و قتل دجال تم کو موت دوں گا۔

اس جگہ مرزائی سخت دھوکہ دیا کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ نے مُمِيْتُكَ کے معنی کیے ہیں۔ مگر آگے پیچھے کی عبارت ہضم کر جاتے ہیں۔ یعنی حضرت ابن عباسؓ کا مذہب جو تقدیم و تاخیر کا ہے۔ اس کو چھپاتے ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ کا یہ مذہب ہے کہ ”اے حضرت عیسیٰ پہلے تم کو اٹھاؤں گا اور بعد نزول موت دوں گا۔“ مگر مرزائی صرف ایک حصہ ”ممیتک“ تو بیان کرتے ہیں اور دوسرا حصہ ”ثُمَّ متوفيك فى آخر الزمان“ کو ظاہر نہ کر کے مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور شور مچاتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ وفات کے قائل تھے حالانکہ وہ وفات بعد نزول فی آخر الزماں کے قائل ہیں۔ اسی واسطے انھوں نے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي کے معنی رَفَعْتَنِيْ کے کیے ہیں۔ یعنی قیامت کے دن حضرت عیسیٰ جواب دیں گے کہ جب تو نے مجھ کو آسمان پر اٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگہبان تھا۔ ہم مفصل فیصلہ ابن عباسؓ دربارہ حیات مسیح ؑ درج کرتے ہیں۔ اخبرنا هشام بن محمد ابن السائب عن ابيه عن ابى صالح عن ابن عباسؓ قال كان بين موسى ابن عمران و عيسى ابن مريم الف سنة و تسعة مائة سنة فلم تكن بنيهم افترة..... وان عيسى عليه السلام حين رفع كان ابن اثنين و ثلاثين سنة وسته اشهر وكانت نبوته ثلاثون شهرا وان الله رفعه بجسده وانه حى الآن و سيرجع الى الدنيا فيكون فيها ملكا ثم يموت كما يموت الناس۔ (الطبقات الكبرى لابن سعد ج ١ ص ٤٥ طبع بيروت ذكر القرون والسنين اللتى بين آدم و محمد عليهما الصلوة والسلام) (یعنی خبر دی ہم کو ہشام بن محمد بن السائب نے اپنے باپ صالح سے اس نے ابن عباسؓ سے کہ کہا ابن عباسؓ نے کہ درمیان حضرت موسیٰ بیٹے عمرانؑ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیٹے مریم کے ایک ہزار نو سو برس اور چھ ماہ کے کوئی خالی زمانہ نبوت سے نہیں رہا اور تحقیق جب حضرت عیسیٰؑ اٹھائے گئے ان کی عمر ٣٣ برس کی تھی اور ان کی نبوت کا زمانہ تیس مہینہ کا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اٹھا لیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ساتھ جسم کے دراں حالیکہ وہ زندہ تھا اور تحقیق وہ جلد واپس آنے والا ہے دنیا میں اور ہو گا بادشاہ پھر مرے گا جس طرح کہ مرتے ہیں لوگ) اس روایت حضرت ابن عباسؓ سے مفصلہ ذیل امور ثابت ہوئے۔

صفحہ ٤٤

FC

باطل ہوا۔

مرزا قادیانی باطل ہوا۔

حضرت عیسیٰ مرے نہیں زندہ اٹھائے گئے۔ جس سے وفات مسیح کا مسئلہ جو کہ مرزا قادیانی کی مسیحیت و مہدویت کی بنیاد ہے غلط ثابت ہوا کیونکہ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ مسیح زندہ بجسد عنصری اٹھایا گیا۔

اصالتاً واپس آئیں گے کیونکہ یرجع کا لفظ بتا رہا ہے کہ وہی عیسیٰؑ دوبارہ واپس آئیں گے۔

حدیثوں میں لکھا ہے کہ جزیہ معاف کر دیں گے اور جزیہ وہی معاف کر سکتا ہے جو بادشاہ ہو۔

کی تعریف مرزا قادیانی نے خود کی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے صحابی اور چچا زاد بھائی تھے اور حضور علیہ السلام نے ان کے حق میں قرآن فہمی کی دعا کی تھی۔ پس حضرت ابن عباسؓ نے جب صاف صاف فرمایا کہ ثم یموت کما یموت الناس یعنی حضرت عیسیٰؑ بعد نزول فوت ہوں گے جس طرح اور لوگ فوت ہوتے ہیں جس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت ابن عباسؓ کا یہ عقیدہ ہرگز نہ تھا کہ حضرت عیسیٰؑ دوسرے نبیوں اور رسولوں انسانوں کی طرح فوت ہو گئے۔ اور یہ امر بھی ثابت ہوا کہ ممیتک کے معنی جو مارنے والا حضرت ابن عباسؓ نے کیے ان کا مطلب یہ تھا کہ مسیح بعد نزول طبعی موت سے مریں گے۔ اور ممیتک وعدہ ہے کہ اے عیسیٰ نہ تم صلیب دیے جاؤ گے اور نہ یہود کا ہاتھ تم تک پہنچنے دوں گا۔ اور نہ کوئی عذاب تم کو یہود دے سکیں گے اس میں صرف تقدیم و تاخیر ہے۔ یعنی پہلے تیرا رفع کروں گا اور یہود کی صحبت گندی اور تکلیف رساں سے پاک کر دوں گا اور تیرے ماننے والوں کو تیرے منکروں پر غالب کروں گا۔ اس تقدیم و تاخیر کے لحاظ سے حضرت ابن عباسؓ نے ممیتک معنی کیے۔ کہا جاتا ہے۔ تقدیم و تاخیر کلام الٰہی میں نہیں ہو سکتی اور مرزا حضرت ابن عباسؓ پر بھی خفا ہو گئے اور اپنا مطلب فوت ہوتا دیکھ کر (نعوذ باللہ) ان کو بھی گالیاں دینے لگے اور الحاد و کفر و یہودیت و لعنت کے مورد وغیرہ الفاظ ان

صفحہ ٤٥

کے حق میں استعمال کیے (دیکھو ازالہ اوہام مصنفہ مرزا قادیانی جس کا ذکر آگے آئے گا) صرف حضرت ابن عباسؓ کا ہی یہ مذہب نہیں بلکہ تقدیم و تاخیر کے اور بزرگان دین بھی معتقد ہیں جن سب کے حق میں مرزا نے بدزبانی کر کے اپنی دینداری اور خانگی نبوت کا ثبوت دیا ہے۔ مفصلہ ذیل بزرگان دین بھی حضرت ابن عباسؓ کے ساتھ تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں۔

تقدیم و تاخیر

عن ابن عباسؓ فی قولہ تعالیٰ یعیسٰے اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ قال رافعک الی ثم متوفیک فی اخرالزمان. یعنی اے عیسیٰ علیہ السلام پہلے تجھ کو اپنی طرف اٹھا لوں گا اور پھر تجھ کو آخر زمانہ میں فوت کروں گا۔

وَرَافِعُکَ میں تقدیم و تاخیر ہے۔ ایسا ہی تفسیر ابن کثیر جلد٢ ص ٢٢٩ میں ہے۔

و جماعة ان فی ھذا الایة تقدیما وتاخیرا. یعنی اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے۔

تقدیرہ انی رافعک وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا. متوفیک بعد انزالک یعنی پہلے تجھے اٹھاؤں گا اور پاک کروں گا کافروں سے اور بعد نازل ہونے تیرے کے تجھ کو ماروں گا۔

بعد نزولک من السماء فی اخر الزمان یعنی اے عیسیٰ علیہ السلام میں تیرے مارنے والا ہوں۔ بعد نزول کے آسمان سے آخر زمانہ میں۔ پس یہ وعدہ ہے وفات کا نہ کہ وقوعہ وفات کا۔

التاخیر الخ یعنی مصنف مجمع البحار کے نزدیک بھی تقدیم و تاخیر ہے۔

موخر یقول انی رافعک الی ثم متوفیک قابضک بعد النزول یعنی پہلے تجھ کو اپنی طرف اٹھاؤں گا اور بعد میں تجھ کو زمین پر اتاروں گا پھر قبض کروں گا۔

صفحہ ٤٦

من السماء یعنی تیرے مارنے والا ہوں آسمان سے نازل ہونے کے بعد۔ (نہم)...... تفسیر کبیر جلد ٢ ص ٤٦٥۔ لا تقتضی بالترتیب فلم یبق الا ان یقول فیھا تقدیم وتاخیر والمعنی انی رافعک الی و مطھرک من الذین کفروا و متوفیک بعد انزالی ایاک فی الدنیا. یعنی ترتیب الفاظ باقی نہ رہی بلکہ تقدیم و تاخیر ہوگئی اور معنی یوں ہوئے کہ میں تجھ کو (عیسیٰ) اٹھانے والا ہوں طرف اپنی اور پاک کرنے والا ہوں تجھ کو کفار سے اور پھر تجھ کو دنیا میں اتار کر فوت کرنے والا ہوں۔ (دہم)...... تفسیر خازن جلد اوّل ص ٢٤٩۔ ان فی الآیۃ تقدیما و تاخیرا. تقدیرہ انی رافعک الی و مطھرک من الذین کفروا و متوفیک بعد انزالک الی الارض. یعنی آسمان سے زمین پر نازل کرنے کے بعد تجھ کو وفات دوں گا۔

ناظرین...... حوالے تو بہت ہیں مگر اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ ایماندار طالب حق کے لیے اسی قدر کافی ہیں اور نہ ماننے والے کے واسطے ہزار حوالہ بھی کافی نہیں۔ غرض سب مفسرین کا اتفاق ہے کہ حضرت عیسیٰؑ بعد نزول فوت ہوں گے اور حضرت خلاصہ موجودات افضل الرسل محمد رسول اللہ ﷺ ینزل عیسیٰ ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولد لہ یمکث خمسا و اربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری الخ (عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہا اس نے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اترے گا عیسیٰ علیہ السلام بن مریم زمین کی طرف پس نکاح کرے گا اور اولاد ہوگی۔ اس کی اور جیتا رہے گا پینتالیس برس پھر مرے گا۔ پس دفن کیا جائے گا میرے مقبرہ میں میرے ساتھ رواہ ابن الجوزی فی کتاب الوفا کذا فی المشکوٰۃ۔

آنحضرت ﷺ کی اس حدیث سے بعبارۃ النّص ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰؑ زندہ آسمان پر موجود ہیں اور آخری زمانہ میں نازل ہوں گے۔ نکاح کریں گے اور پھر فوت ہوں گے اور مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کے مقبرہ میں مدفون ہوں گے۔ جب رسول اللہ کی حدیث سے بھی ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک نہیں فوت ہوئے۔ تو ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نے حضرت ابن عباسؓ و دیگر بزرگان دین کو ناحق گالیاں دیں اور برا کہا۔ اب ہم ذیل میں قرآن شریف کی آیات درج کرتے ہیں تاکہ مرزائی خوف خدا کریں اور مرزا قادیانی کی ہر ایک بات کو جو خلاف قرآن کریم ہے تسلیم نہ کریں۔ للترتیب ضروری ہیں۔

پہلی آیت: وَأَوْحَیْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَعِيلَ وَإِسْحَقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِیْسٰی

صفحہ ٤٧

وَأَيُّوْبَ وَيُوْنُسَ وَهَارُوْنَ وَسُلَيْمَانَ وَآتَيْنَا دَاوُدَ زَبُوْرًا (نساء ١٦٣) کوئی مرزائی بتا سکتا ہے کہ اس آیت میں ترتیب ہے اور داؤدؑ جو سب سے بعد مذکور ہوئے ہیں ان کو زبور تورات اور انجیل کے بعد دی گئی اور داؤدؑ پہلے تھے؟

دوسری آیت: كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌوَّ فِرْعَوْنُ ذُوا الْأَوْتَادِ وَثَمُوْدُ وَقَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْکَۃِ (سورہ ص ١٢۔١٣) اس میں قوم نوح کے بعد عاد وثمود ہوئے ان کے بعد اصحاب الیکہ پھر قوم لوط اور بعد اس کے فرعون ذوالاوتاد ہوا۔ اس آیت میں بھی ترتیب نہیں۔

تیسری آیت: وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِى سِتَّةِ اَيَّامٍ (سورہ ق ٣٨) اس آیت میں بھی ترتیب نہیں کیونکہ زمین پہلے بنی اور آسمان بعد میں بنا۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے خَلَقَ الْأَرْضَ فِیْ يَوْمَيْنِ ثُمَّ اسْتَوَى اِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ (حم سجدہ ١١۔٩)

ناظرین! چونکہ اختصار منظور ہے لہٰذا انہی تین آیات پر اکتفا کیا جاتا ہے ورنہ اور بہت سی آیات ہیں جن میں تقدیم و تاخیر موجود ہے۔ یہ مرزائیوں کی محض خود غرضی ہے کہ آیۃ اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ میں تقدیم و تاخیر نہیں مانتے۔ مگر جب حضرت ابن عباسؓ کے آدھے قول کو تو مانا جاتا ہے۔ یعنی مُمِيْتُكَ جو اس نے کہا ہے وہ تو درست ہے اور جو وہ تقدیم و تاخیر کہتے ہیں۔ یہ غلط ہے کیوں صاحب اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ۔ (بقرہ ٨٥) کے یہی معنی نہیں تو اور کیا ہیں؟

مگر افسوس مرزائیوں کو یہ سمجھ نہیں کہ جو مذہب انھوں نے اختیار کیا ہے۔ اس میں بھی تو ترتیب نہیں کیونکہ تطہیر پہلے ہوئی اور رفع اس کے ٨٧ برس بعد کشمیر میں ہوا۔ دوم غلبہ عیسائیوں کا پہلے ہوا اور تطہیر حضرت محمد ﷺ کے وقت چھ سو برس بعد ہوئی چنانچہ مرزا قادیانی قبول کرتے ہیں کہ ”ہمارے نبی کریم ﷺ کی گواہی سے تطہیر ہوئی۔“

(مسیح ہندوستان میں، ص ٥٤ خزائن ج ١٥ ص ایضاً)

تطہیر پہلے ہوئی بعد میں توفی

پھر مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”اور مطہرک کی پیشگوئی میں یہ اشارہ ہے کہ ایک زمانہ آتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان الزاموں سے مسیح کو پاک کرے گا اور وہ زمانہ یہی ہے۔“ (ایضاً) مرزا قادیانی کی اس عبارت سے ثابت ہے کہ تطہیر ١٩ سو برس کے بعد ہوئی اور رفع بقول مرزا قادیانی واقعہ صلیب کے ٨٧ برس بعد ہوا۔ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ مسیح کی تطہیر کا وعدہ پہلے تھا اور عیسائیوں کا غالب آنا بعد میں تھا اور اب بقول مرزا قادیانی عیسائیوں کو غلبہ پہلے ہوا اور تطہیر بعد میں مرزا قادیانی کے زمانہ میں ہوئی۔

صفحہ ٤٨

مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ ”حضرت عیسیٰؑ نے صلیب سے بفضلہ تعالیٰ نجات پا کر باقی عمر سیاحت میں گزاری۔“ (راز حقیقت ص ٣ خزائن ج ١٤ ص ١٥٥ حاشیہ) جب ٣٣ برس کی عمر میں واقعہ صلیب پیش آیا اور بقول مرزا قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام نے صلیب سے نجات پا کر بفضلہ تعالیٰ یہودیوں کے پنجہ سے نجات پائی اور ان کی گندی اور تکلیف رساں صحبت سے خدا تعالیٰ نے مسیح کو پاک کیا تو یہ تطہیر پہلے ہوئی کیونکہ صاف لکھا ہے کہ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یعنی اے عیسیٰ علیہ السلام میں تم کو تمھارے منکروں کی تکلیفوں اور شرارتوں سے پاک کروں گا۔ جب صلیب سے بچا لیا اور کشمیر کی طرف خدا تعالیٰ مسیح کو لے آیا اور بقول مرزا جی امن کی جگہ ٹیلے پر کشمیر میں جگہ دی تو یہ تطہیر پہلے ہوئی اور توفی کا وعدہ ابھی پورا نہیں ہوا۔ یعنی پہلے توفی کا وعدہ تھا۔ گویا بقول مرزا قادیانی پہلے مسیح کی موت ہونی تھی اور پھر رفع ہونا تھا اور پھر تطہیر ہونی تھی مگر ہوا اس کا الٹ کہ پہلے بذریعہ صلیب عذاب دیے گئے اور کوڑے پڑوائے گئے۔ منہ پر تھوکا گیا لمبے لمبے کیل اس کے اعضا میں ٹھونکے گئے جن سے خون جاری ہوا۔ مگر بقول مرزا قادیانی خدا کا فضل شامل حال رہا اور جان نہ نکلی اور خدا تعالیٰ نے اس کو یہودیوں کی صحبت سے نکال لیا اور تطہیر کر کے کشمیر لے گیا تو ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ نے توفی یعنی وفات کا وعدہ ابھی پورا نہ کیا اور نہ دوسرا وعدہ رفع کا پورا کیا۔ مگر تیسرا وعدہ تطہیر کا پہلے پورا کر دیا کیونکہ بقول مرزا قادیانی مسیح ٨٧ برس کشمیر میں زندہ رہا تو ثابت ہوا کہ تطہیر ٨٧ برس پہلے رفع اور وفات کے ہوئی۔ پس اس سے ترتیب قائم نہ رہی ...... پھر چوتھا وعدہ تھا کہ تیرے منکروں پر تیرے ماننے والوں کو غالب کروں گا۔ یہ وعدہ واقعہ صلیب کے تین سو برس بعد پورا ہوا۔ یعنی عیسائی یہودیوں پر غالب آئے۔ چنانچہ مرزا قادیانی خود بحوالہ ڈریپر صاحب تسلیم کرتے ہیں کہ مسیح کے بعد ٣٠٩ء میں سلطنت قائم ہو گئی حالانکہ یہ وعدہ تطہیر کے بعد پورا ہونا تھا مگر مرزا قادیانی خود مانتے کہ تطہیر کا زمانہ رسول اللہ ﷺ کا زمانہ ہے یا مرزا قادیانی کا زمانہ؟ اب کوئی مرزائی بتا دے کہ ترتیب کہاں گئی اور مرزا قادیانی کے معانی و تشریح کس طرح درست ہوئی۔ اس سے بھی تقدیم و تاخیر ثابت ہوئی تو کیا مرزا قادیانی اور مرزائی بھی اسی خطاب کے مستحق ہیں جو حضرت ابن عباسؓ و دیگر سلف صالحین کو دیے گئے؟

مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”حال کے متعصب ملاں جن کو یہودیوں کی طرز پر يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهِ کی عادت ہے۔“ آگے لکھتے ہیں ”جنھوں نے بے حیائی

صفحہ ٤٩

اور شوخی کی راہ سے ایسی تحریف کی ہے اور شبہ نہیں کہ ایسی کارروائی سراسر الحاد اور صریح بے ایمانی میں داخل ہو گئی۔‘‘ الخ (ازالہ اوہام ص ٩٢٣ - ٩٢٦ خزائن ج ٣ ص ٦٠٨ - ٦٠٧) برادران اسلام! مرزا قادیانی کی یہ بدزبانی اور گالی کس کے حق میں ہے؟ جو تقدیم و تاخیر کا قائل ہو۔ اور وہ حضرت ابن عباسؓ ہیں جو کہ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی اور اصحابی تھے۔ یہ مرزا قادیانی کا ناپاک جھوٹ ہے کہ مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے واسطے لکھا ہے کہ حال کے متعصب ملاں تقدیم و تاخیر کرتے ہیں حالانکہ حال کے ملاں نہیں بلکہ صحابہ کرام و تابعین کے طبقہ کے حضرات ہیں جن کے نام نامی اوپر درج ہوئے اور یہ وہی حضرات مفسرین ہیں جن کا سہارا مرزا قادیانی اپنے مطلب کے واسطے لے کر تعریف کرتے ہیں۔

سنو! انہی حضرت ابن عباسؓ کے حق میں کیا لکھتے ہیں۔ ’’حضرت ابن عباسؓ قرآن کریم کے سمجھنے میں اول نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارہ میں ان کے حق میں آنحضرت ﷺ کی دعا بھی ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص ٢٢٧ خزائن ج ٣ ص ٢٢٥) یہ مرزا قادیانی نے حضرت ابن عباسؓ کی تعریف اس وقت کی جبکہ انھوں نے متوفیک کے معنی ممیتک کے کیے۔

مگر جب اسی ابن عباسؓ نے کہا کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہے اور یہ وعدہ وفات کا بعد نزول ظہور میں آئے گا اور یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں اصالتاً ان کا نزول اسی جسم سے ہو گا جس کے ساتھ وہ آسمان پر گئے تھے تو وہی مرزا قادیانی ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ قتادہ و ضحاک و ابو اللیث سمرقندی و دیگر مفسرین و صحابہ کرام و اولیائے عظام جو کہ حیات مسیحؑ و اصالتاً نزول عیسیٰؑ و تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں سب کو ملحد و یہودی کہتے ہیں اور گالیاں سناتے ہیں۔ یہ ہے مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا ایمان۔

جس طرح ہم نے ثابت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کا اصالتاً نزول ہو گا مرزائیوں میں سے بھی کوئی مرزائی سلف صالحین میں سے کسی ایک کا نام لیں جو اصالتاً نزول کا منکر اور بروزی بروز کا معتقد ہو۔ ورنہ محال عقلی اور فلسفی دلائل سے تو قیامت کا ہونا اور مردوں کا قبروں سے نکلنا جو خاک ہو گئے ہیں محال عقلی ہے۔ کیا مرزائیوں کو قیامت سے بھی انکار ہے کیونکہ وہ بھی محالات عقلی میں سے ہے۔ جیسا کہ حیات مسیح محال عقلی ہے۔

٩۔ عبداللہ بن مغفلؓ

قال ثم ینزل عیسیٰ بن مریم مصدقاً بمحمد علی ملته اماماً مهدیاً و

صفحہ ٥٠

حکما عدلا فيقتل الدجال۔ (کنز العمال ج ١٤ ص ٣٢١ حدیث نمبر ٣٨٨٠٨) یعنی حضرت عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے اور امام و حاکم عادل ہوں گے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے مصدق ہوں گے۔

١٠۔ عبداللہ بن عاصؓ

حدیث بہت طول ہے دجال کے قصہ میں ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں عبداللہ بن عاص سے اخراج کیا ہے کہ بعد نزول حضرت عیسیٰؑ مسلمانوں کے امام کے پیچھے نماز پڑھیں گے جیسا کہ لکھا ہے فیصلی امیر المومنین بالناس و يصلى عيسى خلفہ۔ (ابن عساکر ج ٢٠ ص ١٥٠ عیسی بن مریم ٤٢)

١١۔ ابی سعیدؓ

اخرج ابو نعیم فی الحلیۃ عن ابی سعید قال قال رسول اللہ ﷺ ینزل عیسی ابن مریم فیقول امیر المہدی تعال صل لنا فیقول لا ان بعضکم علی بعض امراء۔ (وفی روایۃ من الذی یصلی عیسی بن مریم خلفہ، فیض القدیر ج ٦ ص ١٧ کنز العمال ج ١٤ ص ٢٦٦ باب المہدی حدیث ٣٨٦٧٣) اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام الگ ہوں گے اور امام مہدی الگ ہوں گے اور مرزائیوں اور مرزا قادیانی کا یہ کہنا غلط ہوا کہ مرزا قادیانی مسیح موعود بھی تھے اور مہدی بھی تھے۔

١٢۔ امامۃ الباہلیؓ

ابی امامۃ الباہلیؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو خطبہ سنایا اور فرمایا کہ حضرت عیسیٰؑ نازل ہوں گے اور مسلمانوں کا امام ان کو کہے گا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں آپ آگے ہو کر نماز پڑھائیں۔ مگر وہ مسلمانوں کے امام کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ یہ ہے خلاصہ حدیث کا۔ (ابن ماجہ ص ٢٩٧ تا ٢٩٩ باب فتنۃ الدجال و خروج عیسی بن مریم)

١٣۔ نواس بن سمعانؓ

قال قال رسول اللہ ﷺ فیبعث اللہ المسیح ابن مریم فینزل عند المنارۃ البیضاء شرقی دمشق۔

(ابن ماجہ ص ٢٩٧ باب فتنۃ الدجال و خروج عیسی بن مریم مسلم ج ٢ ص ٤٠٠ باب ذکر الدجال)

یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰؑ جامع دمشق کے شرقی منارہ پر اتریں گے۔ مرزا قادیانی نے قادیان میں منارہ بنا کر جیسے خود بروزی و ظلی عیسی بنے ویسا

صفحہ ٥١

ہی بروزی و نقلی منارہ بھی بنایا۔ مگر چونکہ یہ بناوٹ انسانی تھی مرزا قادیانی نازل پہلے ہو پڑے اور منارہ بعد میں تعمیر ہونا شروع ہوا۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان تھا کہ دمشق کے شرقی منارہ پر نازل ہوں گے۔ اب یہ کہنا کہ قادیان میں مرزا قادیانی پیدا ہوئے اور بعد میں جو منارہ بنایا گیا یہی منارۂ دمشق ہے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب نہیں تو اور کیا ہے؟ شرقی منارہ کے لفظ سے ثابت ہے چاروں مناروں سے جو شرقی منارہ ہے۔ اس پر حضرت مسیح کا نزول ہوگا۔ مگر تابعدار رسول اللہ ﷺ ہونے کے مدعی کہتے ہیں کہ نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو (نعوذ باللہ) سمجھ نہ تھی اصل مراد یہ تھی کہ قادیان جو دمشق کے شرق کی طرف ہے اس میں مسیح پیدا ہوگا۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی صریح مخالفت نہیں تو کیا ہے؟ اللہ ان کی حالت پر رحم کرے۔

١٤۔ جابر بن عبداللہؓ

عن جابر ابن عبدالله عن النبى ﷺ قال ينزل عيسىٰ ابن مريم فيقول اميرهم تعال صل لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة لهذه الامة. (کنزالعمال ج ١٤ ص ٣٣٢ حدیث ٣٨٨٤٦ مسلم ج ١ ص ٨٧ باب نزول عیسیٰ ابن مریم) یعنی حضرت عیسیٰ نازل ہوں گے اور مسلمانوں کا امیر کہے گا کہ آپ نماز پڑھائیں تو وہ فرمائیں گے کہ نہیں تم سب ایک دوسرے کے امیر ہو اس امت کی بزرگی کے لیے۔

١٥۔ حذیفہ بن اسید الغفاریؓ

عن حذيفة ابن اسيد الغفارى قال اطلع النبى ﷺ علينا و نحن نتذاكر فقال ما تذكرون قالوا نذكر الساعة قال انها لن تقوم الساعة حتى ترون قبلها عشر آيات فذكر الدخان والدجال والدابة وطلوع الشمس من مغربها و نزول عيسىٰ عليه السلام. (مسلم ج ٢ ص ٣٩٣ باب کتاب الفتن و اشراط الساعۃ) یعنی ہم قیامت کے بارہ میں ذکر کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہم پر ظاہر ہوئے اور پوچھا کیا ذکر کر رہے ہو۔ ہم نے عرض کی کہ قیامت کا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت نہ آئے گی جب تک یہ دس نشان نہ دیکھو اور ذکر کیا۔ دھواں۔ دجال۔ اور دابۃ الارض اور سورج کا مغرب سے نکلنا اور اترنا عیسیٰؑ کا۔ الخ۔ اس حدیث سے پورا پورا اجماع امت کا ثابت ہوا کیونکہ حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ گویا بہت سے صحابی جمع تھے اور سب کا یہی مذہب تھا کہ نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اصالتاً ہو

صفحہ ٥٢

گا۔ ورنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کرتے کہ یا رسول اللہ ﷺ! عیسیٰ علیہ السلام تو مر چکے ہیں وہ کس طرح آسکتے ہیں۔ دوم حضرت ﷺ نے جو دس نشان قیامت کے فرمائے سب کے سب خلاف قانون قدرت و محالات عقلی میں سے ہیں۔

کیا سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع کرنا محال عقلی نہیں؟ کیا دابۃ الارض کا نکلنا محال عقلی نہیں؟ کیا دھواں کا آسمان پر ظاہر ہونا محال عقلی نہیں؟ کیا دجال کا نکلنا اور اس کی صفات علامات سب محال عقلی نہیں؟ جب ہم سب مسلمان حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو سچا مخبر یقین کرتے ہیں اور خود قیامت کے آنے کو بھی برحق سمجھتے ہیں جو بجائے خود محالات عقلی سے ہے تو پھر عیسیٰؑ کے نزول سے کیونکر انکار کر سکتے ہیں؟ صرف اس بنا پر کہ وہ محالات عقلی سے ہے اور یہ ناممکن ہے کہ انسان آسمان پر جائے اور پھر اترے لیکن جب ہم اللہ تعالیٰ کو محالات عقلی پر قادر سمجھتے ہیں اور دوسری علامات قیامت کو برحق جانتے ہیں تو پھر حضرت عیسیٰؑ کے نزول پر ہم کو کیوں اعتراض ہے؟ کیا صرف اس واسطے کہ اس سے مرزا قادیانی کے دعوے کا بطلان ہوتا ہے؟ مرزا قادیانی کا ایک دعویٰ نہیں ہزار اور لاکھ دعوے ہوں اگر وہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے برخلاف ہیں تو ہم ان کو باطل سمجھیں گے اور فرمان آنحضرت ﷺ کو سچا سمجھیں گے اور مرزا قادیانی کو جھوٹا مفتری اور کذاب۔ کیونکہ کسی مسلمان سے یہ نہیں ہو سکتا کہ مرزا جی کو تو سچا سمجھے اور آنحضرت ﷺ کو (نعوذ باللہ) جھوٹا؟ رسول اللہ ﷺ فرمائیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوگا۔ سورج مغرب سے نکلے گا۔ دابۃ الارض اور دجال ظاہر ہوں گے۔ تب قیامت آئے گی۔ مگر مرزا قادیانی کہے کہ نہیں مغرب سے آفتاب کے نکلنے سے اسلام کا مغرب سے ظاہر ہونا۔ دابۃ الارض علماء ہیں اور دجال پادریوں کی قوم ہے اور عیسیٰ بن مریم میں ہوں۔ تو کون عقل کا اندھا تسلیم کر کے جہنم کی آگ اپنے لیے تجویز کر سکتا ہے؟ کیونکہ یہ تاویلات بالکل غلط ہیں رسول اللہ ﷺ کے وقت پادری بھی تھے اور علمائے اسلام بھی تھے اسلام بھی مکہ اور مدینہ کی مغرب کی جانب ظاہر ہو چکا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے تو یہ تاویل نہ فرمائی۔ اب جو مرزا قادیانی تاویلات تراشیں تو رسول اللہ ﷺ کے خلاف ہوں گے اور مخالف نبی کا جہنمی ہے۔ مسلمانوں کو فلسفی دلائل سے کیا کام؟ اگر آج فلسفی دلائل سے ڈر کر نزول عیسیٰ علیہ السلام سے انکار ہے تو کل جملہ مسلمات دین اور قیامت سے انکار ہوگا اور محالات عقلی کے اعتراضات ہم کو دہریت اور الحاد کی طرف لے جائیں گے۔ خدا تعالیٰ ہر مسلمان کو اس سے بچائے آمین۔

صفحہ ٥٢

١٦۔ حضرت ثوبانؓ

وعصابة تكون مع عيسى بن مريم. ایک گروہ عیسیٰ بن مریمؑ کے ساتھ ہوگا۔

(مسند احمد ج ٥ ص ٢٧٨ کنزالعمال ج ١٤ ص ٣٣٣ حدیث ٣٨٨٤٥ باب نزول عیسیٰ)

١٧۔ اوس بن اوسؓ

ينزل عيسى بن مريم عند المنارة البيضاء شرقى دمشق. عیسیٰؑ شرقی منارہ پر دمشق میں نازل ہوں گے۔ (کنزالعمال ج ١٤ ص ٣٣٥ حدیث ٣٨٨٥٢)

١٨۔ کیسانؓ

ينزل عيسى بن مريم عند المنارة البيضاء شرقى دمشق. (ترجمہ مذکور)

(کنزالعمال ج ١٤ ص ٣٣٧ حدیث ٣٨٨٦١)

١٩۔ عبدالرحمٰن بن سمرہؓ

اخرج حكيم ابو عبدالله الترمذى فى نوادر الاصول عن عبدالرحمن بن سمرہ قال قال رسول الله ﷺ والذى بعثنى بالحق ليجدن ابن مريم فى امتى خلفا من حواريه. (درمنثور ج ٢ ص ٢٤٥) یعنی قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے سچا رسول بنا کر بھیجا کہ ابن مریم میرے خلفا میں سے ہو گا اور رسول اللہ ﷺ کے اس قسمیہ بیان کے مقابل مرزا قادیانی کا الٹا منطق غلط ہے کہ امتی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کر کے نبی اللہ و رسول اللہ ہو گا۔ مطلب صاف ہے کہ رسول امتی محمد رسول اللہ ہو گا نہ کہ ایک جھوٹا مدعی نبوت امت محمدی میں سے عیسیٰ بن مریم رسول اللہ ہو گا۔ یہ کسی زبان کا محاورہ نہیں۔ آنے والے کی جب تمیزی صفات بیان کی جائیں تو وہ تمیزی صفات کوئی اپنے اوپر چسپاں کر کے مدعی بن بیٹھے۔ مثلاً جب کہا جائے کہ ڈاکٹر رحیم خان دہلی میں آئیں گے تو اس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہو سکتے کہ رحیم خان دہلی میں پہلے آئے گا اور بعد میں مدعی ہوگا کہ چونکہ آنے والا ڈاکٹر ہے اس لیے میں ڈاکٹر ہوں۔ ڈاکٹر تو اس کی صفت ہے جو اس کی ذات کے ساتھ ہے۔ ایسا ہی آنے والا ابن مریم نبی اللہ و رسول اللہ و روح اللہ ہے۔ ایک امتی کبھی نہیں کہہ سکتا کہ چونکہ آنے والا نبی اللہ اور رسول اللہ و روح اللہ ہے۔ اس لیے میں ہی مسیح موعود ہوں اور میں ہی نبی اللہ و رسول اللہ و روح اللہ ہوں۔ پس رسول اللہ ﷺ کے قسمیہ بیان کے مقابل مرزا قادیانی کا امتی ہو کر رسول اللہ و نبی اللہ بننا باطل ہے۔

صفحہ ٥٤

٢٠۔ سمرہؓ

اخرج البزار والطبرانی عن سمرة قال قال رسول اللہ ﷺ ینزل عیسی ابن مریم مصدقا لمحمد و علی ملتہ فیقتل الدجال ثم انما ہو قیام الساعة. (مسند احمد ج ٥ ص ١٣) یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام بیٹا مریم کا نازل ہوگا اور محمد ﷺ کی تصدیق کرے گا اور دجال کو قتل کرے گا۔ پھر قیامت ہوگی۔

٢١۔ مجمع بن جاریہؓ

عن مجمع ابن جارية الانصاری قال سمعت النبی ﷺ یقول یقتل ابن مریم الدجال بباب لد. (ترمذی ج ٢ ص ٤٩۔ باب ماجاء فی قتل ابن مریم الدجال) عیسیٰ بن مریم دجال کو باب لد پر قتل کریں گے۔

٢٢۔ واثلہؓ

اخرج الحاکم فی المستدرک والطبرانی فی معاجمہ عن واثلة قال قال رسول اللہ ﷺ لاتقوم الساعة حتی تکون عشر آیات خسف بالمشرق و خسف بالمغرب و خسف بالجزیرة العرب والدجال و نزول عیسی و یاجوج و ماجوج و طلوع الشمس من مغربہا. ونار تخرج من قصر عدن تسوق الناس الی المحشر. (کنزالعمال ج ١٤ ص ٢٦١ حدیث ٣٨٦٥٠)

٢٣۔ حذیفة ابن الیمانؓ

اخرج ابن جریر عن حذيفة ابن الیمان قال قال رسول اللہ ﷺ ان اول الایات الدجال و نزول عیسی. (کنزالعمال ج ١٤ ص ٢٥٩ حدیث ٣٨٦٤٥)

٢٤۔ انس ابن مالکؓ

اخرج الدیلمی عن انس قال کان طعام عیسی الباقل (الباقلاء) حتی رفع ولم یاکل عیسی شیئا غیرتہ النار حتی رفع. (ابن عساکر ج ٢٠ ص ١١٨ عیسیٰ ؑ )

٢٥۔ ابی شریحہؓ

اخرج ابن عساکر والطبرانی والبغوی عن ابی شریحہ قال قال رسول اللہ ﷺ عشر بین یدی الساعة خسف بالمغرب و خسف بالمشرق وخسف بجزیرة العرب والدخان و نزول عیسی ابن مریم. الخ (کنزالعمال ج ١٤ ص ٢٦٠ حدیث ٣٨٦٤٧)

صفحہ ٥٥

٢٦۔ عروۃ ابن رویمؒ

اخرج الحکیم عن عروۃ قال قال رسول الله ﷺ خیر ھذہ الامۃ اولھا و اخرھا اولھا فیھم رسول الله واخر فیھم عیسیٰ ابن مریم.

(کنز العمال ج ١٤ ص ٣٣٥ حدیث ٣٨٨٥٣)

٢٧۔ یحییٰ ابن عبدالرحمٰن ثقفیؒ

اخرج ابن ابی حاتم عن یحییٰ ابن عبدالرحمٰن الثقفی قال ان عیسیٰ کان سائحاً ولذلک سمی المسیح کان عیسی بارض ویصبح باخری وانہ لم یتزوج حتی رفع.

(درمنثور ج ٢ ص ٢٥)

٢٨۔ حاطب ابن ابی بلتعہؓ

اخرج البیھقی عنہ ان الله تعالیٰ رفع عیسیٰ فی السماء۔ (خصائص الکبریٰ ج ٣ ص ١٤٢ مطبوعہ مصر) مرزائی کہا کرتے ہیں آسمان کا لفظ دکھاؤ۔ اس حدیث میں آسمان کا لفظ بھی ہے۔

٢٩۔ سفینۃؓ

اخرج ابن ابی شیبۃ عن سفینۃ قال قال رسول الله ﷺ فینزل عیسیٰ فیقتلہ (ای دجال) الله عند عقبۃ افیق.

(درمنثور ج ٥ ص ٣٥٤)

حضرات تابعین رحمہم الله تعالیٰ علیہم اجمعین

٣٠۔ محمد بن الحنفیہؒ

اخرج عبدالله ابن حمید و ابن المنذر عن شھر بن حوشب و ان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ عن محمد بن علی بن ابی طالب ھو ابن الحنفیہ...... ان عیسی لم یمت وانہ رفع الی السماء وھو نازل قبل ان تقوم الساعۃ. (درمنثور ج ٢ ص ٢٤١) یعنی عیسیٰؑ نہیں مرے اور وہ زندہ اٹھائے گئے طرف آسمان کی اور وہی اتریں گے قیامت سے پہلے، لو حکیم نور دین! یہ تو حضرات تابعین میں سے ہیں جو حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں اور وفات مسیح علیہ السلام کے منکر ہیں اور فرماتے ہیں کہ وہی عیسیٰ علیہ السلام نبی ناصری اصالتاً نزول فرمائیں گے۔

صفحہ ٥٦

٣١۔ امام اعظم نعمان ابن ثابتؒ یعنی ابو حنیفہؒ

خروج الدجال ویاجوج و ماجوج و طلوع الشمس من مغربها و نزول عیسیٰ ؑ من السماء وسائر علامات یوم القيمة علی ماوردت به الاخبار الصحیحة حق کائن. (شرح فقہ اکبر ص ١٣٦۔ ١٣٧) یہ امام صاحب اس قدر صاحب فراست وفضیلت ہیں کہ مرزا قادیانی ان کے حق میں لکھتے ہیں۔

’’امام اعظمؒ اپنی قوتِ اجتہادی اور اپنے علم اور درایت اور فہم و فراست میں آئمہ ثلاثہ باقیہ سے افضل اور اعلیٰ تھے اور ان کی خداداد قوت اور قدرت فیصلہ ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ وہ ثبوت و عدم ثبوت میں بخوبی فرق کرنا جانتے تھے اور ان کی قوت مدرکہ کو قرآن کے سمجھنے میں ایک دستگاہ تھی۔ (دیکھو ازالہ اوہام ص ٥٣١ خزائن ج ٣ ص ٣٨٥)

لیجیے حکیم صاحب! آپ کے مرشد مرزا قادیانی اقرار کرتے ہیں کہ امام اعظمؒ فہم و فراست میں دوسرے تین اماموں سے افضل واعلیٰ تھے۔ جب ایک بات کو اعلیٰ شخص مان لے تو یقین ہوسکتا ہے کہ دوسرے تین امام بھی اسی مذہب پر تھے کیونکہ اعلیٰ شخص مان گیا تو ادنیٰ ضرور مانیں گے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چاروں امام اس اعتقاد پر تھے کہ حضرت عیسیٰ ؑ اصالتاً قرب قیامت میں آسمان سے نازل ہوں گے اور سورج بھی واقعی ان دنوں مغرب کی طرف سے نکلے گا وغیرہ وغیرہ۔

٣٢۔ امام احمد بن حنبلؒ

ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ اِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَۃِ. یہ عیسیٰ بن مریم کا قبل روز قیامت نکلنا ہے۔

(مسند احمد ج ١ ص ٣١٨)

٣٣۔ امام محمد بن ادریس الشافعیؒ

یہ صاحب امام مالکؒ اور امام محمدؒ کے شاگرد تھے جو کہ شاگرد تھے امام ابو حنیفہؒ کے جن کا مذہب اوپر ذکر ہو چکا ہے جس سے ثابت ہے کہ کل اماموں کا یہی مذہب تھا جو امام اعظمؒ کا تھا ورنہ اختلاف کرتے جیسا کہ دوسرے جزوی مسائل نماز وضو وغیرہ میں کیا ہے۔ اختلاف نہ کرنا دلیل موافقت کی ہے۔

٣٤۔ امام حسن بصریؒ

اخرج ابن جریر عن الحسن وان مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ قال قبل موت عیسیٰ واللّٰہ انہ حی عنداللّٰہ ولکن اذا نزل امن بہ اجمعون. (درمنثور ج ٢ ص ٢٤١) اس سے حیات مسیح ثابت ہے۔

صفحہ ٥٧

٣٥۔ کعب الاحبارؓ

اخرج ابو نعیم فی الحلیة عن کعب الاحبار فیرجع امام المسلمین المهدی فیقول عیسیٰ ابن مریم تقدم. (عمدة القاری ج ٧ ص ٣٥٣) اس سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ اور مہدی الگ دو شخص ہیں اور عیسیٰ امام مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔

٣٦۔ ربیع ابن انسؒ

اخرج ابن جریر وابن ابی حاتم عن الربیع قال ان النصاری اتوا النبی ﷺ فخاصموا فی عیسیٰ ابن مریم اذ قال لهم النبی ﷺ الستم تعلمون ان ربنا حیی لایموت وان عیسیٰ یأتی علیه الفناء. (درمنثور ج ٢ ص ٣ تفسیر کبیر ج ٢ ص ٤٢٩ تفسیر ابی السعود ج ٢ ص ٥٨) یعنی رسول اللہ ﷺ کے پاس نصاریٰ آئے اور حضرت عیسیٰؑ کی نسبت بحث ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ زندہ اور لایموت ہے یعنی اللہ کو موت نہیں تو حضرت عیسیٰؑ پر موت آئے گی۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہ بزرگ بھی حیات مسیح کے بموجب اس حدیث کے قائل تھے ورنہ رسول اللہ ﷺ حضرت عیسیٰ کی نسبت ”مات“ فرماتے یاتی علیہ الفناء نہ فرماتے کیونکہ یاتی علیہ الفناء سے ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں بعد نزول ان پر فنا وارد ہو گی۔

٣٧۔ حریث بن مغشیؓ

اخرج حاکم فی المستدرک عن حریث ابن المغشی قال لیلة اسری بعیسیٰ یعنی رفع الی السماء. (درمنثور ج ٢ ص ٣٦) یہاں بھی آسمان کا لفظ مذکور ہے۔

٣٨۔ قتادہؒ

اخرج ابن جریر و منع الله نبیه و رفعه الیه. (درمنثور ج ٢ ص ٢٣٨)

٣٩۔ مجاہدؒ

اخرج عبد ابن حمید و ابن جریر وابن المنذر عن مجاهد فی قوله تعالیٰ شبه لهم قال صلبوا غیر عیسیٰ و رفع الله الیه عیسیٰ حیًّا. (درمنثور ج ٢ ص ٢٣٨) یعنی حضرت عیسیٰ زندہ اٹھائے گئے اور ان کا غیر صلیب دیا گیا۔

٤٠۔ عکرمہؒ

مروی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول کرنا قیامت کا نشان ہے۔

(تفسیر ترجمان القرآن ص ٤١۔٤٢)

صفحہ ٥٨

٤١۔ ضحاکؒ

مروی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول کرنا قیامت کا نشان ہے۔ (ایضاً)

٤٢۔ ابو مالکؒ

مروی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول کرنا قیامت کا نشان ہے۔ (ایضاً)

٤٣۔ ابو العالیہؒ

مروی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول کرنا قیامت کا نشان ہے۔ (ایضاً)

٤٤۔ وہب ابن منبہؒ

اخرج ابن عساکر و حاکم عن وهب ابن منبه قال امات الله عيسى ثلاث ساعات ثم احیاہ و رفعه. (درمنثور ج ٢ ص ٣٦) یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ کو تین ساعت تک مارے رکھا پھر زندہ کیا اور پھر اس کو اٹھایا۔ یہ تفسیر اناجیل مروجہ کے مطابق ہے۔

٤٥۔ عطاء ابن ابی رباحؒ

قال عطاء اذا نزل عيسى الى الارض لا يبقى يهودى ولانصرانى الا امن بعيسى. (تفسیر فتوحات الہیہ ج ١ ص ٥٣٥) یعنی جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے تو کوئی یہودی اور نصاریٰ نہ ہو گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہ لائے۔ اس سے بھی آسمان سے اترنا ظاہر ہے کیونکہ نزول عیسیٰ الی الارض لکھا ہے۔

٤٦۔ امام جعفرؒ۔ ٤٧۔ امام باقرؒ۔ ٤٨۔ امام زین العابدینؒ۔ ٤٩۔ امام حسنؒ

اخرج رزین عن جعفر الصادق عن ابى محمد باقر عن جده امام حسن ابو زين العابدين قال قال رسول الله ﷺ كيف تهلك امة انا ولها والمهدى وسطها والمسيح اخرها. (مشکوٰۃ ص ٥٨٣ باب ثواب ھذہ الامۃ) یعنی کیونکر ہلاک ہو سکتی ہے وہ امت جس کے اول میں ہوں اور درمیان میں مہدی اور آخر میں مسیحؑ۔ ناظرین کرام............ اب تو مرزا جی کا تمام طلسم ٹوٹا۔ اب تو روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ مہدی الگ ہے اور مسیح موعود وہی نبی اللہ ہے نہ کہ کوئی امتی جو کہ بعد میں نبوت کا دعویٰ کرے۔

صفحہ ٥٩

٥٠۔ حسین بن الفضلؒ

قول الحسین ابن الفضل ان المراد بقوله وكهلا بعد ان ينزل من السماء فى اخر الزمان وَيُكَلِّمَ النَّاسَ. ويقتل الدجال. (تفسیر خازن ج ١ ص ٢٤٤ تفسیر کبیر ج ١ ص ٣٥٦) یہی مضمون تفسیر فتح البیان جلد ٢ ص ٤٤ میں ہے۔

گروہ محدثین

٥١۔ حافظ ابو عبداللہ محمد بن اسمعیل البخاریؒ

عن ابو هريرة قال قال رسول الله ﷺ والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا مقسطا فيكسر الصليب و يقتل الخنزير و يضع الحرب و يفيض المال حتى لا يقبل احد و تكون السجدة الواحد خير من الدنيا وما فيها ثم يقول ابو هريرة فاقروا ان شئتم وان مِّنْ أهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ. (بخاری ج ١ ص ٤٩٠ باب نزول عیسیٰ بن مریم درمنثور ج ٢ ص ٢٤٥) اخرج البخاری فی تاریخه عن عبدالله ابن سلام قال يدفن عيسى مع رسول الله وابی بکر و عمر. (تاریخ الکبیر للبخاری ج ١ ص ٢٦٣) ناظرین ......! یہ وہی بخاری ہے جس کو مرزا قادیانی بھی اصح الکتب بعد قرآن شریف کے مانتے ہیں۔ اس میں قرآن مجید کے حوالہ سے حیات مسیح و اصالتاً نزول مسیح ثابت ہے اور مدینہ منورہ میں فوت ہو کر دفن ہونا بھی ثابت ہے۔

٥٢۔ امام حافظ ابو الحسین مسلم بن الحجاجؒ

عن جابر عن النبى ﷺ عرض علّی الانبياء فاذا موسى ضرب من الرجال كانه من رجال شنوءه ورائت عيسى فاذا اقرب من رائت به شبه عروه ابن مسعود (مسلم ج ١ ص ٩٥ باب اسراء رسول اللہ ﷺ) عن ابن عمر قال قال رسول الله ﷺ يخرج الدجال فى امتى فيمكث اربعين لاادرى اربعين يوما او شهرا او عاما. فيبعث الله عيسى ابن مريم كانه عروة ابن مسعود فيطلبه فيهلكه. (مسلم ج ٢ ص ٤٠٤ باب ذکر الدجال) ان دونوں حدیثوں کے ملانے سے یہ بات عیاں ہے کہ آنے والا مسیح وہی عیسیٰ بن مریمؑ نبی ناصری ہوگا۔ جس کو رسول اللہ ﷺ نے شب معراج میں دیکھا تھا۔ نہ مرزا قادیانی کہ جو اس وقت پیدا بھی نہ ہوئے تھے۔

صفحہ ٦٠

عن نواس ابن سمعان ان المسيح ينزل عند المنارة البيضا شرقى دمشق.

(ابن ماجہ ص ٢٩٧ باب فتنۃ الدجال و خروج عیسیٰ ابن مریم)

عن نواسؓ ان المسيح ينزل عند المنارة البيضاء دمشق الخ.

(ترمذی ج ٢ ص ٤٨ باب ماجاء فی فتنۃ الدجال)

عن ابی ھریرة عن النبی ﷺ قال ليس بينى و بينه نبى يعنى عيسىٰ وانه نازل.

(ابو داؤد ج ٢ ص ١٣٥ باب خروج الدجال)

اخرج ابن ابی شيبة فى مصنفه عن ابن شبر قال المهدى من هذا الامة وهو الذى يؤم عيسىٰ ابن مريم. اس سے بھی ثابت ہے کہ عیسیٰ اور مہدی الگ الگ ہیں۔

اخرج ابو داؤد طيالسی فى مسنده عن ابی ھریرة عن النبی ﷺ قال لم يسلط على الدجال الا عيسىٰ بن مريم.

(کنزالعمال ج ١٤ ص ٣٣٤ حدیث ٣٨٨٤٧)

اخرج الحاكم عن ابی ھریرة عن النبی ﷺ قال ليهبطن عيسىٰ اماما مقسطا الخ.

اخرج عبدالرزاق عن قتادة وَإِنَّهُ لَعِلْمُ السَّاعَةِ قال نزول عيسىٰ للساعة. الخ. (درمنثور ج ٢ ص ٢٣) یعنی حضرت عیسیٰ کا نزول نشان قیامت ہے۔

ابن منصورؒ ۔ ٦٤۔ طبرانیؒ تفسیر در منثور میں مذکور ہے کہ یہ محدثین حضرت ابن عباسؓ سے آیت انه لعلم

صفحہ ٦١

للساعة کی تفسیر کرتے ہیں کہ قیامت کے پہلے حضرت عیسیٰ کا خروج قیامت کی نشانی ہے۔

(درمنثور ج ٦ ص ٢٠)

٦٥۔ ابو نعیمؒ

عن ابی امامة قال خطبنا رسول الله ..... وقال فینزل عیسی بن مریم. فیکون فی امتی اماما مقسطا. الخ.

(حلیۃ الاولیاء ج ٦ ص ١١٥)

٦٦۔ اسحاق بن بشرؒ۔ ٦٧۔ ابن عساکرؒ

اخرج اسحق ابن بشیر و ابن عساکر عن ابن عباسؓ عن النبی ﷺ فعند ذلک ینزل اخی عیسیٰ ابن مریم من السماء. الخ.

(ابن عساکر ج ٢٠ ص ١٣٩ عیسیٰ)

٦٨۔ ابوبکر ابن ابی شیبہؒ

اخرج ابن ابی شیبة عن عائشةؓ قالت قال رسول الله ﷺ فینزل عیسیٰ فیقتل الدجال الخ.

(مصنف ابن ابی شیبہ ج ٨ ص ٢٤٩ باب ما ذکر فی فتنۃ الدجال)

٦٩۔ ابن جوزیؒ

اخرج ابن جوزی فی کتاب الوفا عن عبدالله ابن عمرؓ قال قال رسول الله ﷺ ینزل عیسیٰ ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولدله یمکث خمساً واربعین سنة الخ. (مشکوٰة ص ٤٨٠ باب نزول عیسیٰ بن مریم) یعنی حضرت عیسیٰ زمین کی طرف اتریں گے پھر شادی کریں گے اور ان کی اولاد ہو گی اور ٤٥ برس رہیں گے پھر فوت ہوں گے اور مدینہ میں مدفون ہوں گے جیسا کہ تمام حدیث کا مضمون ہے۔ (اس حدیث کو مرزا قادیانی نے اپنی کتاب نزول مسیح میں صحیح سمجھ کر ذکر کیا ہے اور اپنا نکاح آسمانی اسی ”یتزوج“ سے ثابت کیا ہے۔ مگر افسوس نہ نکاح ہوا اور نہ بچے مسیح ہوئے۔

٧٠۔ ابن حبانؒ

اخرج ابن حبان مرفوعاً ینزل عیسی ابن مریم فیقول امیرهم تعال صل لنا فیقول وان بعضکم علی بعض امراء تکرمة لہٰذا الامة.

(ابن حبان ج ٢ ص ٢٨٩ باب ذکر البیان بان الامام ہذہ الامۃ عند نزول عیسیٰ بن مریم)

٧١۔ ابوعبدالرحمٰن احمد بن شعیب النسائی

عن ثوبان عن النبی ﷺ قال قال رسول الله ﷺ عصابتان من امتی

صفحہ ٦٢

حرزهما الله من النار عصابة تغزو الهند و عصابة تكون مع عيسى ابن مريم.

(سنن نسائی ج ٢ ص ٥٢ باب غزوۃ الہند)

٧٢۔ دیلمیؒ

اخرج الدیلمی عن انسؓ قال كان طعام عیسیٰ القاقلی (الباقلاء) حتیٰ رفعه ولم یاکل عیسیٰ شیئا تغیرته النار حتیٰ رفع.

(ابن عساکر ج ٢٠ ص ١١٨ عیسیٰؒ)

٧٣۔ بیہقیؒ

عن ابوھریرۃؓ قال قال رسول الله كيف انتم اذا نزل ابن مريم من السماء فيكم وامامكم منكم. (یہاں بھی لفظ آسمان ہے)

(کتاب الاسماء والصفات ص ٤٢٤)

٧٤۔ بزارؒ (بجلی آسمانی ٤٤/١)

اخرج البزار عن سمرۃ قال قال رسول الله ﷺ ینزل عیسیٰ ابن مریم مصدقاً لمحمد و علی ملته فیقتل الدجال ثم انما هو قیام الساعة.

(تجلی آسمانی)

٧٥۔ احمد بن علی ابو یعلیٰؒ

عن ابی ھریرۃ قال قال رسول الله ﷺ لا تقوم الساعة حتیٰ ینزل ابن مریم حکما عدلا الخ.

(مسند ابی یعلیٰ ج ٥ ص ٢٣١ حدیث ٥٨٥١)

ناظرین! قتال دجال کب ہوا؟ اور مرزا قادیانی نے کب دجال کو قتل کیا؟ تاکہ سچے مسیح موعود ثابت ہوتے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ عیسیٰ امت میں سے نہ ہوگا بلکہ وہی عیسیٰ ابن مریم نبی اللہ ہوگا۔ پس مسئلہ بروز بھی غلط ہوا۔

٧٦۔ رزینؒ

(مشکوٰۃ ص ٥٨٣ باب ثواب ہذہ الامۃ)

طبقہ مفسرین

٧٧۔ ابو جعفر محمد ابن جریر طبری شافعیؒ

ابو ہریرہؓ نے روایت کی ہے کہ جب عیسیٰ اترے گا تو کل دین اس کے تابع ہو جائیں گے۔

(تفسیر ابن جریر ج ١٠ ص ٧٢، ج ٢٨ ص ٥٢)

ناظرین فرمائیے کہ ایسا ہوا؟ ہرگز نہیں بلکہ عیسائیوں اور آریوں کا غلبہ ہوا۔

اختار الطبری ان الله رفع عیسیٰ من غیر موت.

(ابی السعود حاشیہ تفسیر کبیر ج ١ ص ١٤٧)

صفحہ ٦٣

یعنی عیسیٰؑ کا رفع بغیر موت کے ہوا۔

٧٨۔ حافظ ابن کثیرؒ

نجاه اللّٰه من بینھم و رفعه من روزنة ذالك بيت الی السماء. (تفسیر ابن کثیر حاشیہ فتح البیان ج ٢ ص ٢٢٩) وبقا حیاۃ (ای عیسٰے) فی السماء وانه سینزل الی الارض قبل یوم القیمۃ.

٧٩۔ امام فخر الدین رازیؒ

رفعه اللّٰه الیه. رفع عیسی الی السماء ثابت بهذه الایه.

(تفسیر کبیر ج ٣ ص ٤٤٠)

فمثل عروج النبی الی المعراج وعروج عیسی الی السماء.

(تفسیر کبیر ج ٣ ص ٤٤١)

٨٠۔ امام جلال الدین سیوطیؒ۔ ٨١۔ شیخ جلال الدین محلیؒ

وَمَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ بان اللّٰه شبه عیسی علی من قصد قتله ورفع عیسی الی السماء. (تفسیر جلالین و اتقان ص ٣٣‘ ٣٤) واوفی رفع الی السماء.

(خصائص الکبریٰ ج ٢ ص ١٨٤)

٨٢۔ محمد طاہر گجراتیؒ ”

فبعث اللّٰه عیسی ای ینزل من السماء. (مجمع البحار ج ١ ص ١٠٢) یعنی عیسیٰؑ آسمان سے نازل ہوگا۔

٨٣۔ قاضی نصیر الدین بیضاویؒ ”

روی ان عیسی ینزل من السماء حین یخرج الدجال فیهلکه.

(تفسیر بیضاوی ج ٢ ص ٨٢)

٨٤۔ حافظ ابو محمد حسین البغویؒ

بل رفع اللّٰه عیسی الی السماء.

(تفسیر معالم التنزیل ج ١ ص ٢٦٣)

٨٥۔ سید معین الدین محمدؒ

فلما توفیتنی بالرفع الی السماء.

(تفسیر جامع البیان ص ١٠١)

٨٦۔ شیخ الاسلام ابو مسعودؒ

فلما توفیتنی فلما . رفعتنی الی السماء.

(تفسیر ابی السعود حاشیہ کبیر ج ٣ ص

صفحہ ٦٤

٢٦٩) یعنی اٹھایا مجھ کو طرف آسمان کی۔ جیسا کہ ابن عباسؓ نے فرمایا تھا۔

٨٧۔ علاؤ الدین خازنؒ

فلما توفیتنی. فلما رفعتنی الی السماء.

(تفسیر خازن ج ١ ص ٥٣١)

٨٨۔ ابو البرکات عبداللہ بن احمد نسفیؒ

روٰی ان عیسیٰ ینزل من السماء فی آخر الزمان.

(تفسیر مدارک التنزیل ج ١ ص ٢٠٦)

٨٩۔ محمد بن عمر زمخشریؒ

رافعک الی سمائی.

(تفسیر کشاف ج ١ ص )

٩٠۔ شیخ زین الدینؒ

رافعک الی سمائی.

(تفسیر تیسیر المنان بتفسیر الرحمٰن ج ١ ص ١١٣)

٩١۔ شیخ سلیمان جملؒ

فلما توفیتنی ای اخذتنی وافیا برفع.

(تفسیر فتوحات الہیہ ج ١ ص ١٥٨)

٩٢۔ صاحب تنویر

رفعتنی من بینہم.

(تفسیر تنویر المقباس حاشیہ در منثور ج ١ ص ٣٧٨)

٩٣۔ شیخ کمال الدینؒ

ان اللّٰہ رفع عیسٰی من روزنة فی البیت الی السماء.

(تفسیر کمالین بر حاشیہ جلالین ص ٥٠)

٩٤۔ امام زاہدیؒ

رفع اللّٰہ عیسٰی حیًّا الی السماء.

(تفسیر زاہد کا قلمی ورق ١٦٤ ص ٢)

٩٥۔ قاضی حسین بن علی

چوں کار بر مومنان تنگ آید حق سبحانہ عیسیٰ را از آسمان فرستد تا دجال را بکشد الخ۔

(تفسیر حسینی ج ٢ ص ٢٧٨)

٩٦۔ مولانا احتشام الدینؒ

خدا نے عیسیٰؑ کو آسمان پر اٹھا لیا۔

(تفسیر اکسیر اعظم ج ٦ ص ٤٠)

صفحہ ٦٥

٩٧۔ قاضی شوکانی یمنیؒ

تواترت الاحادیث بنزول عیسیٰ جسما.

(تفسیر فتح البیان ج ١ ص ١٥٧)

ناظرین! یہاں جسم کا لفظ بھی ہے۔

٩٨۔ شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ

جو کہ مجدد زمان تھے اور لاہوری مرزائی جماعت ان کو مجدد مانتی ہے۔ اب طریق ایمانداری یہ ہے کہ ان کا فیصلہ قبول کریں وہو ہذا (تاویل الاحادیث مترجم رموز قصص الانبیاء مطبع احمدی دہلی ص ٦٠) واجمعوا علی قتل عیسیٰ و مکروا و مکر اللہ واللہ خیرالماکرین فجعل لہ فیہ مشابہۃ ورفعہ الی السماء۔ (تاویل الاحادیث مترجم قصص الانبیاء ص ٦٠) یعنی یہود حضرت عیسیٰؑ کے قتل پر جمع ہوئے پس مکر کیا انھوں نے اور مکر کیا اللہ نے اور اللہ غالب مکر کرنے والوں کا ہے۔ پس اللہ نے شبیہہ عیسیٰ کی ڈال دی ایک برابر اٹھا لیا اس کو یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو طرف آسمان کی۔ یہ مضمون مطابق ہے انجیل برنباس کے دیکھو انجیل برنباس فصل ١١٢ آیت ١٣۔ ’’اور عنقریب میرا ایک شاگرد مجھے تیس سکوں کے ٹکڑوں کے بالعوض بیچ ڈالے گا۔ ١٤۔ اور اس بنا پر پس مجھ کو اس بات کا یقین ہے کہ جو شخص مجھے بیچے گا وہ میرے ہی نام سے قتل کیا جائے گا۔ ١٥۔ اس لیے کہ اللہ مجھ کو زمین سے اوپر اٹھائے گا اور بیوفا کی صورت بدل دے گا۔ یہاں تک کہ ہر ایک خیال کرے گا کہ میں ہوں۔ ١٦۔ مگر جب مقدس محمد رسول آئے گا وہ اس بدنامی کے دھبہ کو مجھ سے دور کرے گا۔ (انجیل برنباس اردو فصل ١١٢ آیت ١٣ تا ١٦ ص ٢١٨ مطبوعہ ١٩١٦ء) پھر دیکھو فصل ٢١٦۔ اور یہودا، زور کے ساتھ اس کمرہ میں داخل ہوا جس میں سے یسوع اٹھا لیا گیا تھا۔ ٢۔ اور شاگرد سب کے سب سو رہے تھے۔ جب عجیب اللہ نے ایک عجیب کام کیا۔ پس یہودا بدن اور چہرہ میں بدل کر یسوع کے مشابہ ہو گیا۔ ٣۔ یہاں تک کہ ہم لوگوں نے اعتقاد کیا کہ وہی یسوع ہے۔ ٤۔ لیکن اس نے ہم کو جگانے کے بعد تلاش کرنا شروع کیا۔ ٥۔ تاکہ دیکھے کہ معلم کہاں ہے۔ ٦۔ اس لیے ہم نے تعجب کیا اور جواب میں کہا اے سید تو ہی تو ہمارا معلم ہے۔ ٧۔ پس تو ہم کو بھول گیا۔ ٨۔ مگر اس نے مسکراتے ہوئے کہا کیا تم احمق ہو کہ یہودا اسخریوطی کو نہیں پہچانتے۔ ٩۔ اور اسی اثناء میں کہ وہ یہ بات کہہ رہا تھا سپاہی داخل ہوئے اور انھوں نے اپنے ہاتھ یہودا پر ڈال دیئے اس لیے کہ وہ ہر ایک وجہ سے یسوع کے مشابہ تھا۔ (انجیل برنباس اردو فصل ٢١٦ آیت ١ تا ٩ ص ٣٥٨ مطبوعہ ١٩١٦ء)

اسی انجیل برنباس کے مطابق حضرات مفسرین نے شبہ لھم کی تفسیر کی ہے پس دو

صفحہ ٦٦

مذہب مفسرین کے ہیں یا تو صلیب پر فوت ہو کر بعد تین ساعت یا دن کے زندہ کر کے اللہ تعالیٰ نے اس کو آسمان پر اٹھا لیا یا یہودا کی صورت حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بدل دی اور صلیب سے بال بال بچا کر آسمان پر اٹھا لیا۔ اور جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پیشگوئی تھی کہ مقدس رسول محمد ﷺ آ کر میرے سے یہ بدنامی کا دھبہ اٹھائے گا۔ قرآن شریف نے ماقتلوہ وما صلبوہ فرما کر حضرت عیسیٰؑ کے صلیب نہ دیئے جانے اور عذاب سے بچ جانے کا ارشاد فرمایا اور جو بدنامی ایک نبی اللہ کی ہو رہی تھی کہ وہ صلیب دیا گیا اور لمبے لمبے کیل اس کے اعضاء میں ٹھوکے گئے اور وہ معذب ہوا۔ اس کی تردید کی اور فرمایا کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب کے عذابوں سے بچا کر زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔

حضرت شاہ صاحب محدث دہلویؒ کا یہ بیان اجماع امت کے مطابق ہے اب مرزا قادیانی بھی مجدد ہونے کا دعویٰ کر کے تمام امت کے برخلاف کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ عیسیٰ صلیب دیا گیا اور فوت ہو گیا۔ کوئی سند شرعی ہے تو پیش کرو؟ ورنہ خدا کے عذاب سے ڈرو اور سوچو کہ دو مجددوں میں سے یعنی حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ اور مرزا قادیانی میں سے کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے؟ اور یہ ظاہر ہے جس مجدد کی تحریر اجماع امت و اناجیل و قرآن و احادیث کے مطابق ہے وہی سچا ہے اور مرزا قادیانی چونکہ سب کے برخلاف جاتے ہیں اس لیے جھوٹے ہیں۔

بزرگان دین و علمائے کرام کا طبقہ

٩٩۔ شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ

اللہ عزوجل عیسی را بآسمان برداشت۔ (مدارج النبوۃ ج ١ ص ١١٢) فرود آمد عیسیٰ از آسمان بزمین۔

(لمعات ج ٤ ص ٢٤٤)

١٠٠۔ حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ

حضرت عیسیٰ کہ از آسمان نزول خواہد فرمود و متابعت شریعت خاتم الرسل خواہد نمود۔

(مکتوبات امام ربانیؒ دفتر سوم حصہ ہشتم مکتوب نمبر ١١ ص ٣٠٥)

١٠١۔ شیخ شہاب الدین المعروف ابن حجرؒ

واما رفع عیسی اذ اتفق اصحاب الاخبار والتفسیر علی انہ رفع ببدنہ

صفحہ ٦٧

محیا۔ (تلخیص الحبیر ج ١ ص ٤٦٢ کتاب الطلاق) یعنی اہل تفسیر اور محدثین کا اتفاق ہے کہ حضرت عیسیٰ زندہ اسی جسم کے ساتھ اٹھائے گئے۔

کیوں جی مرزائی صاحبان! اب تو آپ ہرگز انکار نہیں کر سکتے کیونکہ یہ بزرگ شہادت دیتے ہیں کہ اہل تفسیر و حدیث کا اتفاق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی بدن اور جسم کے ساتھ اٹھائے گئے آپ تو ضعیف سے ضعیف حدیث طلب کرتے ہیں۔ یہاں تو تمام صحیح حدیثوں اور تفسیروں کا اتفاق ہے کہ اسی بدن کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع ہوا اور یہ مرزا قادیانی اور آپ کا ڈھکوسلا غلط ہوا کہ ان کا رفع روحانی ہوا چونکہ یہ بزرگان دین مرزا قادیانی سے کئی سال بلکہ صدیوں پہلے گزرے ہیں۔ یہ بالکل قیاس نہیں ہو سکتا کہ انھوں نے عداوت سے ایسا لکھا ہے جیسا کہ آپ حال کے علماء کو بدنام کرتے ہیں کہ وہ مرزا قادیانی سے عداوت کے باعث حیات مسیح اور اصالتاً ان کے نزول پر زور دیتے ہیں۔

١٠٢۔ سید بدر الدین علامہ عینیؒ

ان عیسٰی یقتل الدجال بعد ان ینزل من السماء الخ. (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ج ١١ ص ٣٧١) ان عیسٰی دعا اللّٰہ لما رأی صفۃ محمد ﷺ و امتہ ان یجعلہ منھم استجاب اللّٰہ دعاءہ وابقاہ حتٰی ینزل فی آخر الزمان و یجدد امراء الاسلام. (ایضاً ج ٧ ص ٤٥٣) القول الصحیح بان عیسٰی رفع و ھو حی. (ایضاً ج ٧ ص ٣٢٧) لو ناظرین! اب تو حضرت عیسیٰ کا زندہ اور رفع بجسد عنصری ثابت ہوا۔ یہ صحیح بخاری کی شرح اس بزرگ نے انجیل برنباس کے مطابق کی ہے جس میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ نے دعا کی تھی۔ دیکھو اصل عبارت انجیل برنباس۔ ”اے رب بخشش والے اور رحمت میں غنی تو اپنے خادم (عیسیٰ) کو قیامت کے دن اپنے رسول (محمد ﷺ) کی امت میں ہونا نصیب فرما۔“ فصل ٢١٢ صفحہ ٢٩٤۔ انجیل برنباس۔ یہ وہ انجیل ہے جس کو مرزا قادیانی صحیح مانتے ہیں۔ اب روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ تا نزول زندہ ہیں اور حدیث کے معنی جو مرزا قادیانی کرتے ہیں غلط ہیں۔

١٠٣۔ علامہ قسطلانیؒ

ینزل عیسٰی من السماء الی الارض (ارشاد الساری شرح صحیح بخاری ج ٥ ص ٤١٩) فلما توفیتنی ای بالرفع الی السماء (ایضاً ج ٧ ص ١١٤) ناظرین! اب تو مرزا قادیانی کا

صفحہ ٦٨

تمام طلسم ٹوٹا کہ وہ توفیتنی سے وفات مسیح ثابت کرتے ہیں اور بخاری کی حدیثوں کے غلط معنی کرتے ہیں۔

١٠٤۔ حافظ شمس الدین ابن قیمؒ

ان المسيح رفع و صعد الى السماء.

(ہدایۃ الحیاری فی اجوبۃ الیہود والنصاری ص ٦٣)

ان المسيح نازل من السماء فيكم بكتاب الله و سنة رسوله.

(ایضاً ص ١٠٤)

١٠٥۔ علامہ ملا علی قاریؒ

ينزل عيسى بن مريم عند المنارة البيضاء شرقي دمشق. (مرقاۃ شرح مشکوۃ ج ١٠ ص ١٨٤ باب ذکر الدجال) ان عیسی رفع به الی السماء و عمره ثلاث و ثلاثون سنة.

(مرقاۃ شرح مشکوۃ ج ١٠ ص ٢٣٣ باب نزول عیسی رسالہ مہدی ص ١٥)

١٠٦۔ شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ

حدیث معراج میں فرماتے ہیں فلما دخل اذا بعيسى بجسده عينه فانه لم یمت الی الان بل رفعه الله الی هذه السماء.

(فتوحات مکیہ باب ٣٦٧ ج ٣ ص ٣٤١)

مرزائی دوستو! اب بھی کوئی عذر کرو گے۔ حضرت شیخ اکبرؒ فرماتے ہیں کہ آنے والا مسیح موعود نبی و رسول ہے اور آپ کا اور آپ کے امیر محمد علی لاہوری اور تمام جماعت کا اعتقاد ہے کہ مرزا نبی و رسول نہیں اور چونکہ وہ نبی و رسول نہیں تو پھر مسیح موعود بھی نہیں۔

١٠٧۔ امام عبد الوہاب شعرانیؒ

والحق ان المسيح رفع بجسده الى السماء والايمان بذلك واجب قال الله تعالى بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ إِلَيْهِ.

(الیواقیت و الجواہر ج ٢ ص ١٤٦ بحث ٦٥)

١٠٨۔ علامہ ابو طاہر قزوینیؒ

ابو طاهر قزوینی واعلم ان كيفية رفع عيسى و نزوله و كيفية مكثه فی السماء الی ان ینزل من غیر طعام ولا شراب مما یتقاصر عن درکه العقل.

(ایضاً ج ٢ ص ١٤٦)

١٠٩۔ امام قرطبیؒ

قال القرطبى والصحيح ان الله رفع عيسى من غير موت.

(تفسیر ابی السعود ج ١ ص ٢٧)

صفحہ ٦٩

١١٠۔ خواجہ محمد پارساؒ

حضرت خواجہ محمد پارساؒ در کتاب فصول ستہ نقل معتمد مے آرد۔ کہ حضرت عیسیٰ بعد از نزول عمل بمذہب امام ابی حنیفہؒ خواہد کرد۔

(مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانیؒ مکتوب ١٧ دفتر سوم حصہ ہشتم ص ٣٠٥)

١١١۔ یحییٰ بن اشرف محی الدین علامہ نوویؒ

فيبعث الله عيسى بن مريم اى ينزل من السماء حاكما بشرعنا۔ (مسلم ج ٢ ص ٤٠٣ بحاشیہ نووی) یعنی حضرت عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ مبعوث فرمائے گا۔ یعنی ان کو آسمان سے نازل کر ہماری شریعت کا حاکم امام بنائے گا۔

١١٢۔ علامہ تفتازانیؒ

اخبر النبی ﷺ من اشراط الساعة ان من علامتها خروج الدجال و دابة الارض وياجوج وماجوج و نزول عيسى من السماء و طلوع الشمس من مغربها۔

(شرح عقائد نسفی ص ١٧١)

ناظرین! یہ عقائد کی کتاب ہے اور ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اعتقاد رکھے کہ نزول حضرت عیسیٰ قیامت کے نشانات میں سے ایک نشان ہے۔

١١٣۔ ولی الدین تبریزیؒ

آپ کی کتاب مشکوٰۃ المصابیح میں بہت احادیث لکھی ہیں۔

(دیکھو باب نزول عیسیٰؑ ص ٤٧٩)

١١٤۔ شیخ محمد بن احمد الاسفرائینی الحنبلیؒ

نے اپنی کتاب لوامع الانوار البہیۃ میں لکھا ہے۔ من علامات الساعة العظيمة العلامة الثلاثة ان ينزل من السماء عيسى بن مريم و نزوله ثابت بالكتاب والسنة واجماع الامة۔ (لوامع الانوار البہیۃ ج ٢ ص ٨٩) اس بزرگ کی بھی شہادت یاد رکھو کہ اجماع الامۃ اسی پر ہے کہ حضرت عیسیٰ اصالتاً آسمان سے نزول فرمائیں گے اور صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری امت ضلالت پر کبھی جمع نہ ہوگی۔ پس ثابت ہوا کہ یہی اعتقاد درست ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے اور وہی قرب قیامت میں نازل ہوں گے اور مرزا قادیانی ایسا ہی جھوٹا ہے۔

صفحہ ٧٠

جیسا کہ پہلے یحییٰ ابن فرس اور باقی آٹھ جھوٹے مدعیاں مسیحیت گزرے ہیں۔

١١٥۔ حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ

’’حضرت عیسیٰؑ مرقع رکھتے تھے جس کو وہ آسمان پر لے گئے۔

(کشف المحجوب اردو ص ٥٢ مطبوعہ اسلامیہ پریس لاہور)

فرمائیے مرزائی صاحبان! اب بھی جسد عنصری سے رفع جسمانی ثابت ہوا ہے یا نہیں؟ کیا روح بھی مرقع (گوڈری) پہنا کرتا ہے؟ اور حضرت گنج بخشؒ صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ صحیح سنت کے طریقوں میں آیا ہے۔ یعنی داتا صاحب نے حدیثوں سے تحقیق کر کے لکھا ہے۔

١١٦۔ حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ ۔ ١١٧۔ حضرت خواجہ معین الدین اجمیریؒ

محمد بن عبداللہ یعنی امام مہدی بیروں آید از شرق تا بغرب عدل وے بگیرد و حضرت عیسیٰؑ از آسمان فرود آید۔۔۔

(انیس الارواح ص ٩ مطبوعہ نول کشور لکھنؤ)

١١٨۔ قاضی عیاضؒ

قال القاضی نزول عیسیٰ و قتل الدجال حق و صحیح عند اهل السنة بالاحادیث الصحیحہ

(مسلم ج ٢ ص ٤٠٣ بحاشیہ نوویؒ عون المعبود ج ٤ ص ٢٠٣)

١١٩۔ شاہ رفیع الدین دہلویؒ

حضرت عیسیٰؑ دو فرشتوں کے کاندھوں پر تکیہ لگائے آسمان سے دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی منارہ پر جلوہ افروز ہوں گے۔

(علامات قیامت ص ١٠٠)

١٢٠۔ شاہ عبدالقادر دہلویؒ

’’حضرت عیسیٰ ابھی زندہ ہیں جب یہود میں دجال پیدا ہو گا تب اس جہان میں آ کر اس کو ماریں گے۔‘‘

(قرآن مجید و ترجمہ شاہ رفیع الدینؒ فائدہ موضح القرآن پارہ ٦ ص ١٤١ زیر آیت وان من اهل الکتاب)

١٢١۔ مولانا عبدالحق حقانیؒ

’’بوقت رات ملائکہ حضرت مسیح کو آسمان پر لے گئے تھے اور آپ آسمان پر زندہ ہیں۔‘‘

(عقائد الاسلام ص ١٨٧ مطبع اکمل المطابع)

صفحہ ٧١

١٢٢۔ نواب صدیق حسن خانؒ

”اس بات پر خبریں متفق ہیں کہ عیسیٰ نہیں مرے بلکہ آسمان میں اسی حیات دنیوی پر باقی ہیں۔“

(تفسیر ترجمان القرآن ج ٢ ص ١٠٢)

١٢٣۔ نواب قطب الدینؒ دہلوی

”جب حضرت عیسیٰ آسمان پر اٹھائے گئے تھے اس وقت ٣٣ برس کے تھے۔“

(مظاہر حق ج ٤ ص ٣٣٩)

١٢٤۔ ابو الحسن محمد بن حسین الاسلوی الخشمیؒ (رسالہ مہدی ص ٣٥۔ اور فتح الباری ص ١٣)

قال ابو الحسن الحشمى المدنى فى مناقب الشافعى تواتر الاخباربان المهدى من هذا الامة وان عيسى ابن مريم يصلى خلفه. اس سے ثابت ہے کہ مہدی الگ ہے اور عیسیٰ الگ ہے۔

١٢٥۔ حضرت معروف کرخیؒ

عن ابو نعيم قال سمعت معروف كرخى يقول فاوحى الله عزوجل الى جبريل ان ارفع عبدى الى. (حیات الحیوان ج ١ ص ٣٦) یعنی اللہ تعالیٰ نے وحی کی ۔ جبرائیل کی طرف کہ میرے بندے کو میری طرف اٹھا لا۔ الخ۔

١٢٦۔ مورخ ابن الاثیرؒ

فرفع عيسى الى السماء من تلك الروزنة.

(تاریخ کامل ج ١ ص ٢٣٣)

١٢٧۔ مورخ خادم علی فاروقیؒ

حضرت عیسیٰ ٥٦١٧ ہبوط آدم میں آسمان پر اٹھائے گئے۔

(تاریخ جدولیہ ص ٥٠٩)

١٢٨۔ مورخ ابن خلدونؒ

المهدى....... وان عيسى ينزل من بعده يقتل الدجال.

(تاریخ ابن خلدون ج ١ ص ٣١١ باب امراء الفاطمین)

١٢٩۔ مورخ مسعودیؒ

رفع الله عيسى و هو ابن ثلاث و ثلاثين سنة.

(تاریخ مروج الذہب بحاشیہ ابن الاثیر ج ١ ص ٥٦)

صفحہ ٧٢

١٣٠۔ ابو القاسم اندلسیؒ

قال ابو القاسم اندلسی لا شک ان عیسیٰ فی السماء وھو حی. (عمدۃ القاری ج ١١ ص ٣١٤) اس سے حیات مسیح و رفع بجسد عنصری ثابت ہے۔

١٣١۔ حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ

جسم از عشق بر افلاک شد بآیۂ کریمہ کہ در سورۃ النسا است در شان حضرت عیسیٰ بل رفعہ اللہ الیہ یعنی برداشت او را خدا بسوئے خود۔ الخ۔

(مثنوی معنوی جزو ١ ص ٨)

١٣٢۔ مولانا شاہ اسمعیل شہید دہلویؒ

قیامت کے دن حضرت عیسیٰ خدا کے آگے یوں عرض کریں گے میرے آسمان پر جانے کے بعد ان لوگوں نے مجھ کو اور میری ماں کو پوجا اور پرستش کی جب تو نے مجھ کو اپنی طرف پھیر لیا اور میں آسمان پر گیا۔ الخ۔

(تقویۃ الایمان مع تذکیر الاخوان باب ٢ ص ١٤)

١٣٣۔ علامہ مناویؒ

قال الامام المناوی فی جواھر العقدین و فی مسلم خروج الدجال فیبعث اللہ عیسے و یھلکہ:

(مشارق الانوار ص ١١٠)

١٣٤۔ علامہ نفراویؒ

ان جبریل ینزل علی عیسیٰ بعد نزول عیسیٰ من السماء۔ الخ۔

(ایضاً ص ١٠)

١٣٥۔ علامہ زرقانیؒ

فاذا فلو انزل سیدنا عیسی فانما یحکم شریعہ نبینا.

(شرح مواہب لدنیہ ج ٥ ص ٣٤٧ خصائص امت ﷺ)

١٣٦۔ امام تور پشتیؒ

بعد از ظہور دجال و فساد وے در زمین نزول عیسیٰ از آسمان۔

(المھدی المعتقد)

١٣٧۔ شیخ محمد اکرم صابریؒ

در اکثر احادیث صحیح و متواتر از حضرت رسالت پناہ ﷺ ورود یافتہ کہ مہدی از بنی فاطمہ خواہد بود و عیسیٰ باو اقتدا کردہ نماز خواہد گزارد و جمع عارفاں صاحب تمکین بر ایں متفق اند۔

(اقتباس الانوار ص ٧٢)

صفحہ ٧٣

یہ وہی شیخ محمد اکرم صابریؒ ہیں جن کی نسبت مرزا قادیانی نے جھوٹ لکھ دیا ہے کہ وہ لامہدی الا عیسیٰ کے قائل تھے۔ افسوس مرزا قادیانی اسی راستے پر مسیح موعود بنتے ہیں۔ شیخ نے جو لکھا تھا کہ ایں مقدمہ بغایت ضعیف است‘ چھوڑ دیا اور لا مہدی الا عیسیٰ یعنی روح عیسیٰ در مہدی بروز کند لکھ دیا۔ مرزا قادیانی کی اسی راستی کی بنا پر کہا جاتا ہے کہ ان کی زندگی پر نظر ڈالو اور نبی مانو۔ اجی حضرت کبھی جھوٹا آدمی بھی نبی ہوا ہے؟ شیخ محمد اکرم صابریؒ تو کہہ رہا ہے کہ تمام عارف لوگ صاحب مرتبہ اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ مہدی اور عیسیٰ الگ الگ ہیں مگر مرزا قادیانی کی راستی دیکھئے کہ ازالہ اوہام میں اسی بزرگ پر جھوٹ باندھا۔

١٣٨۔ علامہ دمیریؒ

ینزل عیسیٰ الی الارض وکان راسہ یقطر الماء. الخ.

(حیات الحیوان ج ١ ص ١٤)

یعنی حضرت عیسیٰ زمین کی طرف اتریں گے اور ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپکتے ہوں گے۔

١٣٩۔ شیخ محمد رحمت اللہ مہاجر مکیؒ

آسماں کی طرف عیسیٰ کی روح مع بدن اٹھائی گئی کوئی فقط روح کو بغیر بدن کے نہ سمجھے۔ الخ۔ (ازالۃ الشکوک ص ١٥٢) یہاں رفع روحانی کی صاف تردید ہے۔

١٤٠۔ آل حسنؒ

عیسیٰ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔

(الاستفسار برحاشیہ ازالہ اوہام ص ٢٥٨)

١٤١۔ رضی الدین حسن بن احسن صغانیؒ

ان عیسیٰ حی فی السماء الثانیۃ لا یاکل ولا یشرب الخ.

(مشارق الانوار ص ١١٠)

١٤٢۔ شیخ محمد حبانؒ

ان عیسیٰ یقتل الدجال بباب لد بارض فلسطین.

(الاسعاف الراغبین برحاشیہ مشارق الانوار ص ١٢٧)

یعنی ”حضرت عیسیٰ دجال کو ارض میں بیت المقدس میں مقام لد پر قتل کریں گے“ اس سے مرزا قادیانی کی تاویل کہ لد سے لدھیانہ مراد ہے۔ بالکل غلط ثابت ہوئی کیونکہ لدھینہ پنجاب میں ہے نہ کہ بیت المقدس میں۔

صفحہ ٧٤

١٤٣۔ مولانا خرم علی جونپوریؒ

قیامت کے قریب امام مہدی کے وقت میں حضرت عیسیٰ آسمان سے اتریں گے اور نصرانی دین کو مٹا دیں گے۔

(تحفۃ الاخیار ص ٢٦٦)

١٤٤۔ مولانا محمد قاسمؒ بانی مدرسہ دیوبند

حضرت عیسیٰ حافظ انجیل باتفاق شیعہ وسنی آسمان چہارم پر زندہ موجود ہیں۔

(ہدیۃ الشیعہ ص ٣٣)

١٤٥۔ شیخ شرقاویؒ

قال شیخ شرقاوی ان عیسی ینزل فی زمان المہدی بالمنارۃ البیضاء شرقی دمشق.

(مشارق الانوار مصری ص ١٠٧)

١٤٦۔ محمد بن عبداللہؒ

(عون الودود شرح ابو داؤد ص ٢٠٣ ج ٤)

تواترت الاخبار عن النبی ﷺ فی نزول عیسی من السماء بجسدہ العنصری الی الارض عند قرب الساعۃ. (ب) ان عیسی حی فی السماء ینزل فی اخر الزمان بذاتہ الشریف. (ج) اتفاق اہل السنۃ وان عیسی الان حی فی السماء لم یمت بتیقن.

١٤٧۔ مولانا احمد علیؒ محدث سہارنپوری

فلما توفیتنی بالرفع الی السماء:

(بخاری ج ٢ ص ٦٦٥ حاشیہ کتاب التفسیر زیر آیت فلما توفیتنی کنت انت الرقیب)

لاشک ان عیسی فی السماء و ہو حی.

(بخاری ج ٢ ص ١٠٤٠ حاشیہ نمبر ١٠)

ان عیسی یقتل الدجال بعد ان ینزل من السماء فیحکم بشریعۃ المحمدیۃ الخ.

(بخاری ج ٢ ص ١٠٥٥ حاشیہ نمبر ٧)

١٤٨۔ مولانا محمود حسن دیوبندیؒ

( ان عیسی یقتل الدجال) ان عیسی یقتل الدجال بعد ان ینزل من السماء یحکم بشریعۃ المحمد.

(شرح ابو داؤد ج ٢ ص ٢٣٥)

١٤٩۔ مولانا صدر الدین برڈویؒ

عیسیٰ چوتھے آسماں سے اتر کر امام مہدی کی مدد کریں گے۔

(عقائد الاسلام ص ١٢)

صفحہ ٧٥

١٥٠۔ مولانا نجم الغنی بریلویؒ

دجال اور دابۃ الارض کا ظاہر ہونا اور یاجوج کا خروج کرنا اور حضرت عیسیٰ کا مسلمانوں کی مدد کے لیے آسمان سے اترنا۔ اور تین خسفوں کا ہونا۔ یہ سب باتیں ہونے والی ہیں۔

(مذاہب الاسلام ص ٦٥)

١٥١۔ مولانا وحید الزمان دکنیؒ

قیامت کے قریب امام مہدی کے وقت میں عیسیٰ آسمان سے اتریں گے۔

(التعلیقات علی ترجمہ مشکوٰۃ ج ٤ ص ٩٩)

١٥٢۔ مولانا حافظ حاجی احمد حسین دکنیؒ

عیسیٰ کی شبیہ قتل کی گئی اور وہ زندہ ہی آسمان پر اٹھائے گئے اور قیامت کے نزدیک اتریں گے۔

(مقدمہ احسن التفاسیر ج ٦ ص ٧۔٦)

١٥٣۔ مولانا فخر الدینؒ

اور بیشک عیسیٰ نشانی واسطے قیامت کے ہے کیونکہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی حضرت عیسیٰ کا اترنا ہے۔

(تفسیر قادری اردو ترجمہ تفسیر حسینی ج ٢ ص ٤٨٨)

١٥٤۔ علامہ کاشفیؒ

عیسیٰ را بآسمان چہارم بردند کہ بل رفعہ اللّٰہ الیہ۔

(معارج النبوۃ قلمی ص ١)

اول عیسیٰ را بامداد خداوند تعالیٰ بآسمان رفت۔

(ایضاً ص ٢٤١)

١٥٥۔ محمد بن نصر الدین بن جعفرؒ

ان کی کتاب بحر المعانی میں ہے ینزل عیسیٰ من السماء الرابع الخ۔

١٥٦۔ مولانا عبدالحی لکھنویؒ

یاتی عیسیٰ بن مریم فی اخر الزمان علی شریعۃ محمد وھو نبی۔

(زجر الناس ص ٥٨)

١٥٧۔ حافظ محمد لکھوکےؒ

اسماناں تھیں حضرت عیسیٰ نال ملائکاں آئے اور منارے شرقی مسجد جامع آن اترے۔

(احوال الآخرت ص ٣٠)

صفحہ ٧٦

١٥٨۔ مولانا محمد مظہر اللہ دہلویؒ

عیسیٰؑ آخیر زمانہ میں آسمان سے اتریں گے۔

(مظہر العقائد ص ٢٤،١٦)

١٥٩۔ علامہ قنوجیؒ

قوله لان حدوث عیسی اى نزول عیسی من اشراط الساعۃ الخ۔

(حاشیہ قنوجی علی البیضاوی ج ٦ ص ١٣٥)

١٦٠۔ مولوی فیروز الدین ڈسکوئیؒ

خدا نے عیسیٰ کو آسمان پر زندہ اٹھا لیا۔ قیامت کے نزدیک مسیح پھر اتریں گے۔

(لغات فیروزی ص ٣٠٠)

١٦١۔ علامہ عبدالرحمٰن بن علی الدیبع الشیبانی الزبیدی الشافعیؒ

اخرج مسلم عن جابر عن النبى ﷺ قال فينزل عيسى بن مريم فيقول اميرهم تعال صل لنا۔ الخ۔

(تیسیر الوصول الی جامع الاصول ج ٢ ص ٢١٧)

١٦٢۔ علامہ مجدد الدین فیروز آبادیؒ

يقتل عيسى الدجال عند باب لُد۔ الخ۔

(قاموس ج ١ ص ٣٤٨)

١٦٣۔ امام عثمان بن حسنؒ

نزول عيسى فى الشام فى المنارۃ البيضاء و يقتل الدجال۔ الخ۔

(درۃ الناصحین ص ٧٠)

١٦٤۔ قاری حافظ خلیل الرحمٰن سہارنپوریؒ

حضرت عیسیٰ قریب قیامت کے آسمان سے نزول فرما کر امت حبیب خدا میں داخل ہوں گے۔

(قصص الکاملین ص ٣٣)

١٦٥۔ محمد بن عبدالرسول برزنجی ثم المدنیؒ

ومن اشراط الساعۃ نزول عیسیٰ۔

(اشراط الساعۃ ص ٢٩٦)

١٦٦۔ شیخ فرید الدین عطارؒ

عشق عیسیٰ را بگردوں میبرد ۔ یافتہ ادریس جنت از صمد۔

(مثنوی عطار ص ٢٠)

صفحہ ٧٧

١٦٧۔ عثمان بن ابی العاصؓ

اخرج ابن ابی شیبۃ و احمد و الطبرانی والحاکم عن عثمان قال قال رسول اللہ ﷺ ینزل عیسیٰ عند صلوٰۃ الفجر فیقول لہ امیر الناس تقدم یاروح اللہ فصل بنا فیقول انکم معشر ھذہ الامتہ امراء بعضکم علی بعض تقدم انت فصل بنافیتقدم فیصلی بھم فاذا انصرف اخذ عیسیٰ حربۃ نحو الدجال۔

(درمنثور ج ٢ ص ٢٤٣)

١٦٨۔ ابی الطفیلؓ

اخرج حاکم عن ابی الطفیل ان عیسیٰ ابن مریم یقتل الدجال ویھزم اصحابہ۔

(درمنثور ج ٢ ص ٢٤٣)

١٦٩۔ سید عبدالقادر جیلانیؒ

والتاسع رفع اللہ عزوجل عیسیٰ بن مریم الی السماء فیہ۔

(غنیۃ الطالبین ۔ ج ٢ ص ٤٨)

١٧٠۔ شرف الدین ابی عبداللہ محمد بن سعیدؒ

ولما رفع عیسیٰ الی السماء وکانت مریم بعمر سن ٥٣۔

(شرح ابن حجر علی متن الھمزیۃ فی مدح خیر البریۃ ص ٣٢)

١٧١۔ شیخ محمد الخفنیؒ

وحکمۃ نزول عیسیٰ دون غیرہ من الانباء الرد علی الیھود فی زعمھم انھم قتلوۃ فبین اللہ کذبھم۔

(ایضاً ص ٣٢ حاشیہ)

ناظرین! لیجئے۔ یہاں عیسیٰ کے نزول کی خصوصیت بھی بتا دی ہے جو آپ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ عیسیٰ ہی کیوں دوبارہ آئے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ یہود کا رد مقصود ہے کیونکہ وہ کہتے تھے ہم نے عیسیٰ کو مار دیا ہے۔

١٧٢۔ خطیب شربینیؒ

وقیل یکلم الناس فی المھد صبیاً و عند نزولہ من السماء کھلا۔

(عرائس البیان ج ١ ص ٨٣)

١٧٣۔ علامہ شیخ فیض اللہ فیضیؒ

وحول طللہ کطلل روح اللہ و صعد روح اللہ مصاعد السماء

صفحہ ٧٨

واھلکو محول الطلل.

(سواطع الالہام ص ١٤٠)

١٧٤۔ شاہ رؤف احمد مجددیؒ

حق تعالیٰ نے عیسیٰؑ کو رات کے وقت آسمان پر پہنچایا تھا۔

(رؤفی ج ١ ص ٤٨٧)

١٧٥۔ امام نیشاپوریؒ

ثم نبه بقول وكان الله عزيزاً حكيما على ان ذلك فى قدرته سهل.

(تفسیر غرائب القرآن ج ٦ ص ١٩)

١٧٦۔ مصنف عجائب القصص

اور حضرت عیسیٰؑ آسمان پر چلے گئے۔

(عجائب القصص ج ٢ ص ٤٨٦)

١٧٧۔ امام ابی حیانؒ

ان الاخبار تظاهرت برفع عيسى حيا و انه فى السماء حى وانه ينزل و يقتل الدجال.

(بحر المحیط ج ٢ ص ٦١)

١٧٨۔ مصنف تفسیر النہر الماد

وتظاهرت الاخبار الصحيحة عن رسول الله انه فى السماء حى وانه ينزل و يقتل الدجال.

(تفسیر النہر الماد ج ٢ ص ٦١)

١٧٩۔ مصنف تفسیر خلاصۃ التفاسیر

بلکہ خدا نے اسے (عیسیٰؑ) کو اپنی حضوری بلایا اور آسمان پر اٹھا لیا۔

(خلاصۃ التفاسیر ج ١ ص ٤٧٣)

١٨٠۔ امام ابی الحسن علی بن احمد الواحدیؒ

اى قبضتنى و رفعتنى اليك اى الى السماء.

(کتاب الوجیز ج ١ ص ٢٢٩)

١٨١۔ شیخ محمد نوویؒ

قال كثير المتكلمين ان اليهود لما قصد قتله رفعه الله الى السماء.

(مراح لبید ج ١ ص ١٨٣)

صفحہ ٧٩

١٨٢۔ یوسف بن اسمعیل النبہانیؒ

ان اللہ تعالیٰ رفع عیسیٰ الی السماء وھو ابن ثلاث و ثلاثین سنۃ.

(حجۃ اللہ علی العالمین ص ٣٩٣)

١٨٣۔ مصنف سراج المنیر

رفع عیسیٰ الی السماء و کان عمرہ ثلث و ثلثون.

(سراج المنیر ج ١ ص ١٤١)

١٨٤۔ مصنف تحفۃ الباری

باب نزول عیسیٰ ای من السماء الی الارض.

(تحفۃ الباری ج ٧ ص ٢٠٩)

١٨٥۔ ابن عربی فتوحات مکیہ

فان عیسیٰ لم یمت الی الان بل رفعہ اللہ الی ھذہ السماء.

(فتوحات مکیہ ج ٣ ص ٣٤١ باب ٣٦٧)

١٨٦۔ مصنف نزہۃ المجالس

رفع اللہ عیسیٰ الی السماء.

(نزہۃ المجالس ج ٢ ص ٢٨)

١٨٧۔ مصنف توضیح العقائد

عصر کے وقت دمشق کی جامع مسجد کے شرقی منارہ پر دو فرشتوں کے بازوؤں پر ہاتھ رکھے ہوئے حضرت عیسیٰ آسمان سے اتریں گے۔

(توضیح العقائد ص ١٣٥)

ناظرین ! یہ ایک سو ستاسی (١٨٧) نام ہیں۔ ان کے علاوہ ہم ذیل میں مرزا قادیانی کی بھی شہادت لکھتے ہیں جو ان کی الہامی کتاب براہین احمدیہ میں اب تک موجود ہے۔

”اور جب حضرت مسیحؑ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا۔“

(بلفظہ براہین احمدیہ ص ٤٩٨ و ٤٩٩ خزائن ج ١ ص ٥٩٣ حاشیہ)

اگر کوئی مرزائی کہہ دے کہ اس میں تو دوبارہ آنے کا ذکر ہے آسمان پر جانے کا ذکر نہیں تو اس کے جواب میں بھی مرزا قادیانی کی شہادت پیش کی جاتی ہے۔ جس سے حیات مسیح اور صعود مسیح ثابت ہے وہو ھذا۔

صفحہ ٨٠

”حضرت عیسیٰ تو انجیل کو ناقص کی ناقص چھوڑ کر آسمان پر جا بیٹھے۔“

(براہین احمدیہ ص ٣٦١ خزائن ج ١ ص ٤٣١ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣)

مرزا قادیانی کی شہادت سے بھی روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ نزول مسیح کا عقیدہ ایک ایسا مسلمہ اجماعی عقیدہ تھا کہ مرزا قادیانی کے آباؤ اجداد اور وہ خود بھی پہلے اسی عقیدہ پر تھے حالانکہ اس وقت بھی مرزا جی وحی الٰہی کے مدعی تھے اور براہین احمدیہ جس میں مسیح کا دوبارہ آنا لکھا ہے ان کے زعم میں الہامی کتاب ہے۔ تو اب ثابت ہوا کہ یہ ایسا اجماعی عقیدہ ہے کہ نہ صرف رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام و تابعین و تبع تابعین وصوفیائے کرام و اولیائے عظام اس پر متفق الرائے ہیں بلکہ مرزا قادیانی اور ان کے خدا کا بھی اس پر اتفاق تھا کہ حضرت عیسیٰ نبی ناصری اصالتاً نازل ہوں گے۔ براہین احمدیہ میں لفظ ”دوبارہ“ ہے جس سے نزول مسیح بجسد عنصری ثابت ہوتا ہے اور جب مرزا قادیانی پہلے خدا تعالیٰ کے الہام سے لکھ چکے کہ مسیح دوبارہ آئیں گے تو ثابت ہوا کہ یہی عقیدہ درست ہے کیونکہ الہام و کشف وہی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو سکتا ہے جو قرآن اور حدیث کے مطابق ہو ورنہ شیطانی وسوسہ ہے اور اس پر اجماع امت ہے۔ کوئی شخص کیسا ہی معجز نمایاں کرے ہوا پر اڑے اور دریا پر سے خشک پاؤں گزرے۔ اگر اس کا الہام شریعت کے خلاف ہے تو شیطانی وسوسہ ہے۔ مرزا قادیانی نے بعد میں جو عقیدہ ایجاد کیا وہ غلط ہے۔ خدائی الہام نہیں کیونکہ قرآن حدیث اور اجماع امت کے خلاف ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدٰی وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ وَسَآءَتْ مَصِیْرًا (سورۃ نساء ١١٥)

ترجمہ۔ ”اور جو مخالفت کرے رسول کی اس کے بعد کہ اس پر ہدایت کھل چکی ہو اور پھر چلے مسلمانوں کے راستہ کے سوا دوسرے راستہ پر تو ہم اس کو چلائے جائیں گے اسی راستہ پر اور اس کو دوزخ میں جھونک دیں گے اور وہ بری جگہ ہے۔“ اس فرمانِ خداوندی سے مفصلہ ذیل امور ثابت ہیں۔

اول: رسول اللہ ﷺ کے خلاف جانے والا دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔ یعنی جو رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے خلاف کوئی اور راستہ نکالے تو وہ جہنمی ہے اور اس کا پیرو بھی جہنمی ہوگا۔ مرزا قادیانی نے جو عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ و نبی اللہ کے معنی بالکل رسول اللہ کے برخلاف کر کے خود مسیح موعود بنے اور اپنا راستہ الگ نکالا یہ جہنم کا راستہ ہے کیونکہ انجیل میں صاف لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا کہ میں جاتا ہوں اور

صفحہ ٨١

تمہارے پاس پھر آتا ہوں۔ (دیکھو انجیل یوحنا ٢٨/١٥) ”تم سن چکے ہو کہ میں نے تم کو کہا کہ میں جاتا ہوں اور تمہارے پاس پھر آتا ہوں“ اس انجیل کے مضمون سے اظہر من الشمس ہے کہ جانے والا ایک ہی شخص ہے۔ یعنی عیسیٰ ابن مریم نبی اللہ و رسول اللہ نبی ناصری ہے۔ جس کی نسبت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے یہود عیسیٰ نہیں مرے وہ تمہاری طرف قیامت سے پہلے واپس آئیں گے۔ حدیث میں لفظ رَاجِعٌ ہے جس کے معنی واپس آنے کے ہیں جو انجیل کے عین مطابق ہے کہ پھر آتا ہوں۔ اسی واسطے رسول اللہ ﷺ نے دوسری حدیث میں فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ بعد نزول فوت ہوں گے اور میرے مقبرہ میں درمیان ابوبکرؓ و عمرؓ کے مدفون ہوں گے اور ان کی قبر چوتھی قبر ہو گی۔ اس قدر ثبوت کے ہوتے ہوئے کسی خدا ترس مسلمان کا تو کام نہیں کہ حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے برخلاف الگ راستہ نکال کر کہے کہ حضرت عیسیٰ نہیں آئیں گے اور غلام احمد کے آنے سے مسیح موعود آ گیا مگر یہ نہیں بتا سکتے کہ اگر آنے والا حضرت عیسیٰ کے علاوہ کوئی اور ہے تو دجال کا آنا بھی تو ضروری ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے دجال اور عیسیٰ کو اکٹھے دیکھا ہے اور مرزائی اچھل اچھل کر یہ پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جس مسیح کو دجال کے ساتھ طواف کرتے دیکھا ہے وہ مسیح مرزا قادیانی ہیں اور مرزا قادیانی کا حلیہ اس مسیح سے ملتا ہے۔ مگر یہ نادان یہ نہیں جانتے کہ ایسا کہنے سے تو مرزا قادیانی کا تمام کھیل ہی بگڑ جاتا ہے کیونکہ اگر یہ وہی مسیح ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے دجال واحد شخص کے ساتھ دیکھا تھا تو مرزا قادیانی کے ساتھ وہ دجال بھی آنا چاہیے تھا۔ وہ دجال واحد نہیں آیا جس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی مسیح موعود ہرگز نہ تھے۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی مسیح موعود کے آنے کے وہی نشان بتائے جو انجیل نے قیامت کے بتائے۔ اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ الآیۃ یعنی جب سورج اپنی روشنی چھوڑ دے گا اور ستارے مدہم پڑ جائیں گے (دیکھو انجیل متی باب ٢٤ آیت ٤ و ٥ و ٦) ”اور جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا۔ اس کے شاگردوں نے خلوت میں اس کے پاس آ کر کہا کہ یہ کب ہو گا اور تیرے آنے کا اور زمانے کے آخر ہونے کا نشان کیا ہے۔ تب یسوع نے جواب میں ان سے کہا۔ خبردار! کوئی تمھیں گمراہ نہ کرے کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہتوں کو گمراہ کریں گے۔“

(انجیل باب ٢٤ آیت ٤ تا ٦ ص ٣٣)

آیت ٢٤/ ٢٧۔ ”کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے اور ایسے بڑے

صفحہ ٨٢

نشان اور کرامتیں دکھائیں گے کہ اگر ہو سکتا تو وہ برگزیدوں کو بھی گمراہ کرتے۔“ ان دنوں کی مصیبت کے بعد ترت سورج اندھیرا ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گر جائیں گے اور آسمان کی قوتیں ہل جائیں گی تب ابن آدم کا نشان آسمان پر ظاہر ہو گا اور اس وقت زمین کے سارے گھرانے چھاتی پیٹیں گے اور ابن آدم (عیسیٰ) کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کی بدلیوں پر آتے دیکھیں گے۔ (انجیل متی باب ٢٤ آیت ٢٤۔ ٢٩۔ ٣٠ ص ٤٤) انجیل کے اس مضمون کی تصدیق قرآن شریف نے بھی کر دی ہے کہ اول وَاِنَّهُ لَعِلْمُ لِّلسَّاعَةِ فرمایا۔ یعنی حضرت عیسیٰ کا نزول قیامت کا نشان ہے اور حدیث شریف میں بھی رسول اللہ ﷺ نے قیامت کی دس نشانیوں میں سے ایک امر پہلے انجیل سے پھر قرآن اور حدیث سے پھر اجماع امت سے ثابت ہو چکا تو اس سے کوئی مسلمان انکار نہیں کر سکتا جس کا دعویٰ یہ ہو کہ میں مسلمان ہوں اور خدا اور خدا کے ملائکہ اور خدا کے رسولوں اور خدا کی کتابوں پر ایمان رکھتا ہوں۔ ہاں دوسرا شخص جو چاہے سو کرے۔ ایک مسلمان ہرگز ایسی دلیری نہیں کر سکتا کہ تمام امت کا ساتھ چھوڑ کر اور تمام الہامی کتابوں کے مضامین سے انکار کر کے اپنا الگ راستہ نکالے یعنی یہ کہ عیسیٰ ابن مریم کے معنی مرزا غلام احمد ہے اور دمشق کے معنی قادیان ہے۔

دوم: مرزا قادیانی کا فرمانا کہ اگر میں حق پر نہ ہوتا تو اس قدر مجھ کو کامیابی نہ ہوتی خدا تعالیٰ نے اس کی بھی تردید فرما دی کیونکہ اس آیت میں فرمایا جو شخص غیر مومنین کی سبیل نکالتا ہے ہم بھی اس کو اسی راستہ پر چلائے جاتے ہیں اور اس کو ترقی دیتے ہیں اور بظاہر اس کو کامیاب کرتے ہیں تاکہ اس کو جہنم میں جھونک دیں۔ چنانچہ مسیلمہ کذاب کی نظیر موجود ہے اس نے سبیل المومنین کے برخلاف راستہ نکالا اور کہا کہ میں غیر تشریعی نبی ہوں اور محمد ﷺ کے ساتھ صرف نبوت میں شریک ہوں مگر اسی کی شریعت کے تابع ہوں۔ شریعت محمدی پر عمل کرتا ہوں میں محمد ﷺ کے برخلاف نہیں ہوں۔ صرف ان کا نائب ہوں اور یہ راستہ جو اس نے مسلمانوں اور کافروں کے درمیان اختیار کیا تو خدائے تعالیٰ نے بھی اس کو اسی راستہ پر چلایا اور وہ ایسا کامیاب ہوا کہ سوا مہینے کے عرصہ میں لاکھ سے زیادہ مسلمان اس کے پیرو ہو گئے۔

مسلمانو! غور کرو مرزا جی جو آنحضرت ﷺ کی تعریف ساتھ ساتھ کرتے جاتے ہیں۔ یہ وہی چال ہے جو مسیلمہ چلا تھا کیونکہ جانتا تھا کہ محمد ﷺ کو مسلمان مانے ہوئے ہیں اسی کی آڑ میں ترقی ہو سکتی ہے اس واسطے مرزا قادیانی نے فنا فی الرسول کا پرانا حربہ

صفحہ ٨٣

نکالا ورنہ جو خود مدعی نبوت ہو وہ تو محمد ﷺ کا عدیل اور دشمن ہے۔ ایک حاکم کے ہوتے ہوئے دوسرا اگر اس کے خلاف شریک حکومت ہو تو یقیناً اس کا دشمن ہوتا ہے۔ یہ صرف مسلمانوں کو دھوکا دیا جاتا ہے تاکہ آنحضرت ﷺ کا نام سن کر دام میں پھنس جائیں۔

مرزائیوں کی طرح مسیلمہ کذاب کے مریدوں کو بھی دھوکا لگا کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کی امت ہیں مسیلمہ کی نبوت تسلیم کرنے میں کیا حرج ہے۔ تاریخ اسلام میں لکھا ہے کہ جب مسیلمہ کے قاصد خط لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو حضور ﷺ نے قاصد سے پوچھا کہ تم کیا ایمان رکھتے ہو؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ حضور کو بھی نبی مانتے ہیں اور مسیلمہ کو بھی نبی یقین کرتے ہیں۔ اس پر حضور علیہ السلام کا چہرہ مبارک غصہ سے سرخ ہو گیا۔ اور فرمایا کہ اگر قاصدوں کا قتل جائز ہوتا تو میں تم کو قتل کراتا اور پھر آپ ﷺ نے مسیلمہ پر قتال کا حکم دیا اور ہزارہا مسلمان جنھوں نے مسیلمہ کو محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک نبوت کیا تھا قتل ہوئے۔ اگر ضد اور خوش اعتقادی ہی معیار صداقت ہے تو مسیلمہ سچا نبی ثابت ہوتا ہے کیونکہ کوئی شخص کسی جھوٹے کے پیچھے اپنی جان قربان نہیں کرتا۔ مرزا قادیانی کے صرف دو مرید کابل میں اپنی سند کفر کے باعث قتل کیے گئے تو مرزائی اب تک صداقت کی دلیل پیش کرتے ہیں مگر مسیلمہ کی طرف نہیں دیکھتے کہ ہزاروں نے اس پر جان قربان کی اور مرنا قبول کیا لیکن مسیلمہ کی غیر تشریعی نبوت سے جس کے اب مرزا جی مدعی ہیں انکار نہ کیا۔ کیوں انکار نہ کیا اور مارے گئے۔ اس لیے کہ وعدہ خداوندی ہے کہ ہم کاذبوں کو اسی راستہ پر چلاتے ہیں جو وہ رسول اللہ ﷺ کے برخلاف اختیار کرتے ہیں۔ تاکہ حجت خداوندی پوری ہو اور وہ دوزخ میں جھونک دیئے جاتے ہیں۔

آنحضرت ﷺ نے فرمایا لا یجمع امة محمد علی الضلالتہ. (ترمذی ج ٢ ص ٣٩ باب فی لزوم الجماعۃ) یعنی میری امت گمراہی پر کبھی متفق نہ ہو گی۔ اس حدیث سے ثابت ہے کہ رفع جسمی و نزول اصلی حضرت عیسیٰ پر اتفاق ہے جیسا کہ (١٨٧) سلف صالحین کے نام بمع ان کی کتابوں کے درج ہیں ضلالت پر نہیں ہیں۔ مرزا جی نے ہی رسول کے خلاف راہ نکالی اور خدا نے بھی ان کو اسی راہ خلاف رسول پر چلایا اور دوسرے کذابوں کی طرح ان کو بھی ترقی دی اور بظاہر اس میں انھوں نے اپنی کامیابی سمجھی مگر حقیقت میں چونکہ وہ راستہ خلاف رسول تھا اس لیے جہنم کا راستہ ہے خدا تعالیٰ ہر ایک مسلمان کو بچائے آمین ثم آمین۔

صفحہ ٨٤

ناظرین! مرزا قادیانی کا یہ اعتراض ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی جگہ جو شخص صلیب دیا گیا اس نے اس وقت کیوں نہ کہا کہ میں عیسیٰؑ نہیں ہوں۔ مجھ کو ناحق صلیب دیا جاتا ہے پس مفسرین قرآن نے یہ قصہ اپنے پاس سے بنا لیا ہے کہ مسیح صلیب نہیں دیا گیا اور کوئی دوسرا شخص اس کا مشبہ دیا گیا اور حضرت عیسیٰؑ بجسد عنصری آسمان پر اٹھائے گئے۔‘‘ جواب: حضرات مفسرین نے جو لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ صلیب نہیں دیے گئے بلکہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ انھوں نے مطابق انجیل برنباس کے لکھا ہے۔ جس انجیل کی نسبت مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ’’یہ معتبر انجیل ہے ۔‘‘

(سرمہ چشم آریہ ص ٢٨٨۔٢٨٧ خزائن ج ٢ ص ٢٣٩۔٢٤٠ حاشیہ ملخص)

ہم ذیل میں اس دعویٰ کی تصدیق میں کہ مفسرینؒ نے انجیل سے جس کو قرآن مجید آسمانی کتاب ہونا تصدیق فرماتا ہے۔ اصل عبارت انجیل کی لکھتے ہیں تاکہ مومنین کتاب اللہ کو معلوم ہو کہ یہ بالکل درست ہے کہ حضرت عیسیٰؑ صلیب نہیں دیئے گئے بلکہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰؑ ہرگز قتل نہیں ہوئے بلکہ یقیناً اٹھائے گئے اللہ کی طرف بلکہ حدیثات میں ہے کہ ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ۔ (تفسیر در منثور ج ٢ ص ٣٦) یعنی حضرت عیسیٰؑ نہیں مرے۔ وہ تمہاری طرف واپس آنے والے ہیں۔ قیامت سے پہلے۔

ناظرین برنباس حواری حضرت عیسیٰؑ کی چشم دید شہادت کے مقابل ١٩ سو برس کے بعد مرزا قادیانی کی من گھڑت بلا ثبوت کہانی جو کہ انھوں نے اپنے مطلب کے واسطے خلاف اجماع امت و قرآن و اناجیل تصنیف کر لی ہے تاکہ مسیح کو مار کر خود اس کی جگہ مسیح موعود بن جائے۔ کوئی مسلمان جس کو دعویٰ ہے کہ یؤمنون بالغیب کی جماعت میں سے ہو اور کتب سماوی تورات ' زبور ' انجیل و قرآن پر ایمان رکھتا ہو اور جو ان کتابوں میں لکھا ہے اور قرآن اس کا مصدق ہے۔ صدق دل سے یقین کرتا ہو وہ تو ہرگز ہرگز مرزا قادیانی کی تصنیف کردہ مطلب پرستی کی بات کو تسلیم نہیں کر سکتا۔ خلاصہ انجیل برنباس ذیل میں درج کیا جاتا ہے مگر سب سے پہلے واجب ہے کہ مختصر طور پر ناظرین کو بتایا جائے کہ برنباس کون ہے تاکہ مسلمانوں کو معلوم ہو کہ شہادت دینے والا ایسا معتبر شخص

صفحہ ٨٥

ہے کہ جس کی چشم دید شہادت کسی طرح خلاف نہیں ہو سکتی۔

چشم دید حالات صلیب عیسیٰؑ بروئے انجیل

برنباس حضرت مسیح کے ان خاص مددگاروں اور حواریوں میں سے ایک نامور حواری ہیں۔ جن کو مقتدایان کلیسا رسول کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ پولس رسول ایک زمانہ تک انہی کے ساتھ رہے ہیں بلکہ انہی برنباس نے مسیح کے شاگردوں کو پولس کی ہدایت پائی اور یروشلم واپس آنے کے بعد دوبارہ اس سے واقف اور روشناس کرایا تھا کیونکہ مسیح کے شاگرد بولص کی ان کی دین کے ساتھ سخت عداوت دیکھنے کے بعد کبھی اس کی دینداری اور راہ یابی پر اعتماد نہ کرتے۔ اگر برنباس پہلے اس سے خود واقف ہو کر پھر اس پر اعتماد کر لینے کے بعد دیگر شاگردان مسیح سے اس کا تعارف نہ کراتے۔

(١٢ سید رشید رضا مصری مالک رسالہ المنار مصر)

دیکھو ذیل کی پیشگوئی حضرت مسیحؑ دربارہ جھوٹے مدعیان نبوۃ جو بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ ظاہر ہوں گے۔ انجیل برنباس فصل ٩٧ آیت ٥ مگر میری تسلی اس رسول کے آنے میں ہے جو کہ میرے بارہ میں ہر جھوٹے خیال کو محو کر دے گا اور اس کا دین پھیلے گا اور تمام دنیا میں عام ہو جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے باپ ابراہیم سے یونہی وعدہ کیا ہے۔ (٦) اور جو چیز مجھ کو تسلی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ اس رسول کے دین کی کوئی حد نہیں اس لیے کہ اللہ اس کو درست اور محفوظ رکھے گا۔ (٧) کاہن نے جواب میں کہا کیا رسول اللہ ﷺ کے آنے کے بعد اور رسول بھی آئیں گے۔ (٨) یسوع نے جواب دیا اس کے بعد خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے سچے نبی کوئی نہیں آئیں گے۔ (٩) مگر جھوٹے نبیوں کی ایک بڑی بھاری تعداد آئے گی اور یہی بات ہے جو مجھے رنج دیتی ہے۔ اس لیے کہ شیطان ان کو عادل اللہ کے حکم سے بھڑکائے گا۔ پس وہ میری انجیل کے دعوٰی کے پردے میں چھپیں گے۔ (انجیل برنباس فصل ٩٧ آیت ٥ تا ٩ ص ١٤٥۔ انجیل برنباس فصل ١١٢ آیت ١٣) پس اے برنباس تو معلوم کر کہ اسی وجہ سے مجھ پر اپنی حفاظت کرنا واجب ہے اور عنقریب میرا ایک شاگرد مجھے تیس سکوں کے ٹکڑوں کی بالعوض بیچ ڈالے گا۔ ١٤۔ اور اس بناء پر پس مجھ کو اس بات کا یقین ہے کہ جو شخص مجھے بیچے گا وہ میرے ہی نام سے قتل کیا جائے گا۔ ١٥۔ اس لیے کہ اللہ مجھ کو زمین سے اوپر اٹھائے گا اور بیوفا کی صورت بدل دے گا۔ یہاں تک اس کو ہر ایک یہی خیال کرے گا کہ میں ہوں۔ ١٦۔ مگر جب مقدس محمد رسول اللہ آئے گا وہ اس بدنامی کے دھبہ کو مجھ سے دور کرے گا۔ (ایضاً فصل ١١٢ آیت ١٣ تا ١٦ ص ١٦٦)

صفحہ ٨٦

(فصل ١٣٩ آیت ٤) پس عنقریب کاہنوں کے سردار اور قوم شیوخ مجھ پر اٹھ کھڑے ہوں گے اور رومانی حاکم سے میرے قتل کرنے کا حکم طلب کریں گے۔ ٥۔ کیونکہ وہ ڈرتے ہیں کہ میں اسرائیل کا ملک غصب کرلوں گا۔ ٦۔ اور اسی کے علاوہ میرا ایک شاگرد مجھے بیچ ڈالے گا۔ اور مجھے دشمن کے حوالہ کر دے گا۔ جیسے کہ یوسف مصر میں بیچا گیا تھا۔ ٧مگر عادل اللہ عنقریب اس کو مضبوط باندھ لے گا۔ جیسے کہ داؤد نبی کہتا ہے۔ جس شخص نے اپنے بھائی کے واسطے کنواں کھودا اور خود اس کے اندر گرے گا۔ ٨۔ مگر اللہ مجھ کو چھڑا لے گا ان کے ہاتھوں سے اور مجھے دنیا سے اٹھا لے گا۔

(ایضا فصل ١٣٩ آیت ٤ تا ٨ ص ٢٠٧)

فصل ٢١٣ آیت ٢٤۔ تب یسوع نے یہ بھی کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ بیشک تم ہی میں کا ایک عنقریب مجھ کو حوالہ کر دے گا۔ تب میں ایک بکری کے بچہ کی طرح بیچ دیا جاؤں گا۔ ٢٥۔ لیکن خرابی ہے اس کے لیے کیونکہ عنقریب وہ سب پورا ہو گا جو کہ داؤدؑ ہمارے باپ نے اس کی نسبت کہا ہے کہ وہ خود اسی گڑھے میں گرے گا جو کہ اس نے دوسروں کے لیے مہیا کیا ہے۔ (ایضا فصل ٢١٣ آیت ٢٤۔ ٢٥ ص ٢٩٦)

بیان واقعہ اخذ و قتل و رفع جسمانی

فصل ٢١٤۔ اور یسوع گھر سے نکل کر باغ کی طرف مڑا تاکہ نماز ادا کرے تب وہ اپنے دونوں گھٹنوں پر بیٹھا۔ ایک سو مرتبہ اپنے منہ کو نماز میں اپنی عادت کے موافق خاک آلود کرتا ہوا۔ ٢۔ اور چونکہ یہودا اس جگہ کو جانتا تھا جس میں یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ تھا۔ لہٰذا وہ کاہنوں کے سردار کے پاس گیا۔ ٣۔ اور کہا تو مجھے وہ دے جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے تو میں آج کی رات یسوع کو تیرے ہاتھ میں سپرد کر دوں گا۔ جس کو تم لوگ ڈھونڈ رہے ہو۔ اس لیے کہ وہ گیارہ رفیقوں کے ساتھ اکیلا ہے۔ ٥۔ کاہنوں کے سردار نے جواب دیا تو کس قدر طلب کرتا ہے۔ ٦۔ یہودا نے کہا تیس ٹکڑے سونے کے۔ ٧۔ پس اس وقت کاہنوں کے سردار نے فوراً اسے روپیہ مہیا کر دیے۔ اور ایک فریسی کو حاکم اور ہیرودس کے پاس بھیجا تا کہ وہ کچھ سپاہی بلا لائے۔ ٩۔ تب ان دونوں نے اس کو ایک دستہ سپاہ کا دیا اس واسطے کہ وہ دونوں قوم سے ڈرے۔ ١٠۔ تب دونوں ہی ان لوگوں نے اپنے ہتھیار لیے اور یروشلم سے لاٹھیوں پر مشعلیں اور چراغ جلائے ہوئے نکلے۔ (ایضا فصل ٢١٤ آیت ١ تا ١٠ ص ٢٩٦)

فصل ٢١٥۔ ١۔ اور جبکہ سپاہی یہودا کے ساتھ اس جگہ کے نزدیک پہنچے جس میں

صفحہ ٨٧

یسوع نے ایک بھاری جماعت کا نزدیک آنا سنا۔ ٢۔ تب اسی لیے وہ ڈر کر گھر میں چلا گیا۔ ٣۔ اور گیارہوں شاگرد سو رہے تھے۔ ٤۔ پس جبکہ اللہ نے اپنے بندہ پر خطرہ کو دیکھا۔ اپنے اپنے سفیروں جبریل اور میخائیل اور رفائیل اور اوریل کو حکم دیا کہ یسوع کو دنیا سے لے لیں۔ ٥۔ تب پاک فرشتے آئے اور یسوع کو دکھن کی طرف دکھائی دینے والی کھڑکی سے لے لیا۔ پس وہ اس کو اٹھا لے گئے اور اسے تیسرے آسمان میں ان فرشتوں کی صحبت میں رکھ دیا جو کہ ابد تک اللہ کی تسبیح کرتے رہیں گے۔

(ایضاً فصل ٢١٥ آیت ١ تا ٥ ص ٢٧٩)

فصل ٢١٦۔ ١۔ اور یہودا زور کے ساتھ اس کمرہ میں داخل ہوا۔ جس میں سے یسوع اٹھایا گیا تھا۔ ٢۔ اور شاگرد سب کے سب سو رہے تھے۔ ٣۔ جب عجیب اللہ نے ایک عجیب کام کیا۔ پس یہودا بولی اور چہرے میں بدل کر یسوع کے مشابہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ ہم لوگوں نے اعتقاد کیا کہ وہی یسوع ہے۔ ٥۔ لیکن اس نے ہم کو جگانے کے بعد تلاش کرنا شروع کیا تھا تا کہ دیکھے معلم کہاں ہے۔ ٦۔ اس لیے ہم نے تعجب کیا اور جواب میں کہا اے سید تو ہی تو ہمارا معلم ہے۔ ٧۔ پس تو اب ہم کو بھول گیا۔ ٨۔ مگر اس نے مسکراتے ہوئے کہا کیا تم احمق ہو کہ یہودا اسخریوطی کو نہیں پہچانتے۔ ٩۔ اور اسی اثناء میں کہ وہ یہ بات کہہ رہا تھا سپاہی داخل ہوئے اور انھوں نے اپنے ہاتھ یہودا پر ڈال دیئے اس لیے کہ وہ ہر ایک وجہ سے یسوع کے مشابہ تھا۔ ١٠۔ لیکن ہم لوگوں نے جب یہودا کی بات سنی اور سپاہیوں کا گروہ دیکھا۔ تب ہم دیوانوں کی طرح بھاگ نکلے۔ ١١۔ اور یوحنا جو کہ ایک کتان کے لحاف میں لپٹا ہوا تھا۔ جاگ اٹھا اور بھاگا۔ ١٢۔ اور جب ایک سپاہی نے اسے کتان کے لحاف کے ساتھ پکڑ لیا تو وہ کتان کا لحاف چھوڑ کر ننگا بھاگ نکلا۔ اس لیے کہ اللہ نے یسوع کی دعا سن لی اور گیارہ شاگردوں کو آفت سے بچا دیا۔

(ایضاً فصل ٢١٦ آیت ١ تا ١٢ ص ٢٩٧)

فصل ٢١٧۔ ١۔ پس سپاہیوں نے یہودا کو پکڑا اور اس کو اس سے مذاق کرتے ہوئے باندھ لیا۔ اس لیے کہ یہودا نے ان سے اپنے یسوع ہونے کا انکار کیا بحالیکہ وہ سچا تھا۔ ٣۔ تب سپاہیوں نے اس سے چھیڑ کرتے ہوئے کہا اے ہمارے سید تو ڈر نہیں اس لیے کہ ہم تجھ کو اسرائیل پر بادشاہ بنانے کے لیے آئے ہیں۔ ٤۔ اور ہم نے تجھ کو محض اس واسطے باندھا ہے کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تو بادشاہت کو نامنظور کرتا ہے۔ ٥۔ یہودا نے جواب میں کہا کہ شائد تم دیوانے ہو گئے ہو۔ ٦۔ تم تو ہتھیاروں اور چراغوں کو لے

صفحہ ٨٨

کہ یسوع ناصری کو پکڑنے آئے ہو۔ گویا کہ وہ چور ہے تو کیا تم مجھی کو باندھ لو گے۔ جس نے کہ تمہیں راہ دکھائی ہے تا کہ مجھے بادشاہ بناؤ۔ ٧۔ اس وقت سپاہیوں کا صبر جاتا رہا اور انھوں نے یہودا کو مکوں اور لاتوں سے مار کر ذلیل کرنا شروع کیا اور غصہ کے ساتھ اسے یروشلم کی طرف کھینچتے لے چلے۔ ٨۔ یوحنا اور پطرس نے سپاہیوں کا دور سے پیچھا کیا۔ ٩۔ اور ان دونوں نے اس لکھنے والے کو یقین دلایا کہ انھوں نے وہ سب مشورہ خود سنا جو کہ یہودا کے بارہ میں کاہنوں کے سردار اور ان فریسیوں کی مجلس نے کیا کہ یہ لوگ یسوع کے قتل کرنے کو جمع ہوئے تھے۔ ١٠۔ تب وہیں یہودا نے بہت سی دیوانگی کی باتیں کیں۔ ١١۔ یہاں تک کہ ہر ایک آدمی نے تمسخر میں انوکھا پن پیدا کیا۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ وہ یہودا در حقیقت یسوع ہی ہے اور یہ کہ وہ موت کے ڈر سے بناؤٹی جنوں کا اظہار کرتا ہے۔ ١٢۔ اسی لیے کاہنوں نے اس کی دونوں آنکھوں پر ایک پٹی باندھ دی۔ ١٣۔ اور اس سے ٹھٹھا کرتے ہوئے کہا اے یسوع ناصریوں کے نبی (اس لیے کہ وہ یسوع پر ایمان لانے والوں کو یہی کہہ کر پکارتے تھے) تو ہمیں بتا کہ تجھ کو کس نے مارا ہے۔ ١٤۔ اور اس کے گال پر تھپڑ مارے اور اس کے منہ پر تھوکا۔ ١٥۔ اور جبکہ صبح ہوئی اس وقت کاہنوں اور قوم کے شیوخ کی بڑی مجلس جمع ہوئی۔ ١٦۔ اور کاہنوں کے سردار نے معہ فریسیوں کے یہ خیال کرتے ہوئے یہودا پر جھوٹا گواہ طلب کیا کہ یہی یسوع ہے۔ مگر انھوں نے اپنا مطلب نہ پایا۔ ١٧۔ اور میں یہ کیوں کہوں کہ کاہنوں کے سرداروں ہی نے یہ جانا کہ یہودا یسوع ہے۔ ١٨۔ بلکہ تمام شاگردوں نے بھی معہ اس لکھنے والے نے یہی اعتقاد کیا۔ ١٩۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ یسوع کی بیچاری ماں کنواری نے معہ اس کے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں نے یہی اعتقاد کیا۔ ٢٠۔ یہاں تک کہ ہر ایک کا رنج تصدیق سے بالاتر تھا۔ ازیں قبل کہ وہ دنیا سے اٹھا لیا جائے گا اور یہ کہ ایک دوسرا شخص اس کے نام سے عذاب دیا جائے گا اور یہ کہ وہ دنیا کا خاتمہ ہونے کے قریب تک نہ مرے گا۔ اس لیے یہ لکھنے والا یسوع کی ماں اور یوحنا کے ساتھ صلیب کے پاس گیا۔ ٢٣۔ تب کاہنوں کے سردار نے حکم دیا کہ یسوع کو مشکیں بندھا ہوا اس کے رو برو لایا جائے۔ ٢٤۔ اور اس سے اس کے شاگردوں اور اس کی تعلیم کی نسبت سوال کیا۔ ٢٥۔ پس یہودا نے اس بارہ میں کچھ بھی جواب نہ دیا گویا کہ وہ دیوانہ ہو گیا اس وقت کاہنوں کے سردار نے اس کو اسرائیل کے جیتے جاگتے خدا کے نام حلف دیا کہ وہ اس سے سچ کہے۔ ٢٦۔ یہودا نے جواب دیا میں تو تم سے کہہ چکا کہ میں وہی یہودا

صفحہ ٨٩

اسکریوطی ہوں جس نے یہ وعدہ کیا تھا کہ یسوع ناصری کو تمہارے ہاتھوں میں سپرد کر دے گا۔ ٢٨۔ مگر میں نہیں جانتا کہ تم کس تدبیر سے پاگل ہو گئے ہو۔ ٢٩۔ کہ تم ہر ایک وسیلہ سے یہی چاہتے ہو کہ میں ہی یسوع ہو جاؤں کاہنوں کے سردار نے جواب میں کہا اے گمراہ گمراہ کرنے والے البتہ تو نے اپنی جھوٹی تعلیم اور کاذب نشانیوں کے ساتھ تمام اسرائیل کو جلیل سے شروع کر کے یہاں اورشلیم تک گمراہ بنا دیا ہے۔ ٣١۔ کیا اب تجھ کو یہ خیال سوجھتا ہے کہ تو اس سزا سے جس کا تو مستحق ہے اور تو اس کے لائق ہے۔ پاگل بن کر نجات پا جائے گا۔ ٣٢۔ قسم ہے اللہ کی جان کی کہ تو ہرگز اس سے نجات نہ پائے گا۔ ٣٣۔ اور یہ کہنے کے بعد اپنے خادموں کو حکم دیا کہ اسے خوب مکوں اور لاتوں سے ماریں تا کہ شائد اس کی عقل شائد اس کے سر میں پلٹ آئے۔ ٣٤۔ اور حقیقت یہ ہے کہ یہودا کو کاہنوں کے سردار کے خادموں کے ہاتھ سے وہ ذلت اور حقارت پہنچی جو کہ باور کرنے حد سے باہر ہے۔ ٣٥۔ اس لیے کہ انھوں نے جوش کے ساتھ مجلس کی دلچسپی کے لیے نئے نئے ڈھنگ تمسخر کے ایجاد کیے۔ ٣٦۔ پس اس کو مداری کا لباس پہنایا اور اپنے ہاتھوں اور پیروں سے اس کو خوب دل کھول کر مارا۔ یہاں تک کہ اگر خود کنعانی اس منظر کو دیکھتے تو البتہ وہ اس پر ترس کھاتے۔ ٣٧۔ لیکن کاہنوں اور فریسیوں اور قوم کے شیوخ کے دل یسوع پر یہاں تک سخت ہو گئے کہ اس سے وہ اس کے ساتھ ایسا برتاؤ ہوتے دیکھ کر خوش ہوئے۔ بحالیکہ ان کا خیال یہ تھا کہ یہود درحقیقت یسوع ہی ہے۔ ٣٨۔ پھر اس کے بعد اسے مشکیں بندھا ہوا حاکم کے پاس کھینچ کر لے گئے جو کہ در پردہ یسوع سے محبت رکھتا تھا۔ ٣٩۔ اور چونکہ وہ خیال کرتا تھا کہ یہودا یسوع ہی ہے۔ لہٰذا اس کو اپنے کمرہ میں لے گیا اور اس سے یہ سوال کر کے گفتگو کی کہ کاہنوں اور قوم کے سرداروں نے اسے کس سبب سے اس کے ہاتھوں میں سپرد کیا ہے۔ ٤٠۔ یہودا نے جواب دیا اگر میں تجھ سے سچ کہوں تو تو مجھے سچا نہ جانے گا۔ اس لیے کہ تو بھی ویسا ہی دھوکا دیا گیا ہو گا جیسا کہ کاہنوں اور فریسیوں کو دھوکا دیا گیا ہے۔ ٤١۔ حاکم نے یہ خیال کر کے کہ وہ شریعت کے متعلق کہنا چاہتا ہے کہا کیا تو نہیں جانتا کہ میں یہودی نہیں ہوں۔ ٤٢۔ مگر کاہنوں اور قوم کے شیوخ نے تجھے میرے ہاتھ میں سپرد کیا ہے۔ ٤٣۔ پس تو ہم سے سچ کہہ تا کہ میں وہی کروں جو کہ انصاف ہے۔ ٤٤۔ اس لیے کہ مجھے یہ اختیار ہے کہ تجھ کو چھو ڑ دوں یا تیرے قتل کا حکم دوں۔ ٤٥۔ یہودا نے جواب میں کہا اے آقا تو مجھے سچا مان کہ اگر تو میرے قتل کا حکم دے گا تو بہت بڑے ظلم کا مرتکب ہو گا اس لیے کہ تو ایک بے گناہ

صفحہ ٩٠

کو قتل کرے گا۔ ٤٦۔ کیونکہ میں خود یہودا اسخریوطی ہوں نہ کہ وہ یسوع جو کہ جادوگر ہے پس اس نے اس طرح اپنے جادو سے مجھ کو بدل دیا ہے۔ پس جبکہ حاکم نے اس بات کو سنا وہ بہت متعجب ہوا۔ یہاں تک کہ اس نے چاہا کہ اسے چھوڑے۔ ٤٨۔ اس لیے حاکم باہر نکلا اور اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ کم از کم ایک جہت سے تو یہ آدمی موت کا مستحق ہے۔ ٤٩۔ پھر حاکم نے کہا یہ آدمی کہتا ہے کہ وہ یسوع نہیں۔ بلکہ یہودا ہے جو کہ سپاہیوں کو یسوع کو پکڑوانے کے واسطے لے گیا تھا۔ ٥٠۔ اور کہتا ہے کہ جلیل کے یسوع نے اس کو جادو سے یوں بدل دیا ہے۔ پس اگر یہ بات سچ ہو تو اس کا قتل کرنا بہت بڑا ظلم ہو گا۔ ٥٢۔ لیکن اگر یہی یسوع ہے اور یہ انکار کرتا ہے کہ وہ یسوع ہے۔ پس یہ یقینی ہے کہ اس کی عقل جاتی رہی ہے اور ایک دیوانہ کو قتل کرنا ظلم ہو گا۔ ٥٣۔ اس وقت کاہنوں کے سرداروں اور قوم کے شیوخ نے کاتبوں اور فریسیوں کے ساتھ مل کر شور مچا کے کہا وہ ضرور یسوع ناصری ہے اس لیے کہ ہم اس کو پہچانتے ہیں۔ ٥٤۔ کیونکہ اگر یہی مجرم نہ ہوتا تو ہم اس کو تیرے ہاتھ میں سپرد نہ کرتے۔ ٥٥۔ اور وہ دیوانہ ہرگز نہیں ہے بلکہ یقیناً وہ خبیث ہے کیونکہ یہ اپنے اس مکر سے ہمارے ہاتھوں سے بچ جانے کا خواہاں ہے۔ ٥٦۔ اور اگر اس نے نجات پالی تو جو فتنہ یہ اٹھائے گا۔ وہ پہلے فتنہ سے بھی بدتر ہو گا۔ بہرحال پیلاطیس (یہ حاکم کا نام ہے) نے اس لیے کہ وہ اس دعوے سے اپنے تئیں چھڑا لے۔ یہ کہا یہ شخص جلیل کا رہنے والا ہے اور ہیرودس جلیل کا بادشاہ ہے۔ ٥٨۔ اس لیے اس مقدمہ میں حکم دینا میرا حق نہیں ہے۔ ٥٩۔ تم اب اسی کو ہیرودس کے پاس لے جاؤ۔ ٦٠۔ تب وہ لوگ یہودا کو ہیرودس کے پاس لے گئے جس نے کہ بہت مرتبہ یہ آرزو کی تھی کہ یسوع اس کے گھر آئے۔ ٦١۔ مگر یسوع نے کبھی اس کے گھر جانے کا ارادہ نہیں کیا۔ ٦٢۔ کیونکہ ہیرودس قوموں میں سے تھا اور اس نے باطل جھوٹے معبودوں کی عبادت کی تھی اور ناپاک قوموں کے رسم و رواج کے مطابق زندگی بسر کر رہا تھا۔ ٦٣۔ پس جبکہ یہودا وہاں لے جایا گیا۔ ہیرودس نے اس سے بہت سی چیزوں کی نسبت سوال کیا یہودا نے اس کا انکار کرتے ہوئے کہ وہ یسوع ہے۔ ان کی بابت اچھا جواب نہیں دیا۔ ٦٤۔ اس وقت ہیرودس نے اپنے سارے دربار کے ساتھ اس سے ٹھٹھا کیا اور حکم دیا کہ اس کو سفید لباس پہنایا جائے۔ جیسا کہ بیوقوف آدمی پہنتے ہیں۔ ٦٥۔ اور یہ کہہ کر اسے پیلاطیس کے پاس واپس بھیج دیا کہ تو اسرائیل کے گھرانے کو انصاف عطا کرنے میں کمی نہ کر۔ ٦٦۔ اور ہیرودس نے یہ اس لیے لکھا کہ کاہنوں کے سرداروں اور کاتبوں و

صفحہ ٩١

فریسیوں نے اس کو سکوں کی بڑی مقدار دی تھی۔ ٦٧۔ پس جب حاکم نے اس بات کو ہیرودس کے ایک خادم سے معلوم کیا کہ معاملہ ایسا ہے تو اس نے کچھ روپیہ حاصل کرنے کے لالچ میں آ کر یہ ظاہر کیا کہ وہ یہودا کو چھوڑ دینا چاہتا ہے۔ ٦٨۔ تب اس نے اپنے ان غلاموں کو (جنھیں کاتبوں نے کچھ روپیہ عطا کیا تھا تا کہ وہ اس یہودا کو قتل کر ڈالیں) حکم دیا کہ اسے کوڑے ماریں۔ مگر اللہ جس نے کہ انجاموں کی تقدیر کی ہے۔ یہودا کو صلیب کے واسطے باقی رکھا تا کہ وہ اس ڈراؤنی موت کی تکلیف کو بھگتے۔ جس کے لیے اس نے دوسرے کو سپرد کیا تھا۔ ٦٩۔ پس اللہ نے تازیانہ کے نیچے یہودا کی موت آنے نہیں دی۔ باوجود اس کے کہ سپاہیوں نے اس کو اس زور کے ساتھ کوڑے مارے تھے کہ ان سے اس کا بدن خون بن کر بہہ نکلا۔ ٧٠۔ اور اس لیے انھوں نے اس کو حقارتاً ایک پرانا کپڑا ارغوانی رنگ کا یہ کہہ کر پہنایا کہ ہمارے نئے بادشاہ کو مناسب ہے کہ وہ حلہ پہنے اور تاج دے۔ ٧١۔ پس انھوں نے کانٹے جمع کیے اور ایک تاج سونے اور قیمتی پتھروں کے تاج کے مشابہ بنایا۔ جس کو کہ بادشاہ اپنے سروں پر رکھتے ہیں۔ ٧٢۔ اور کانٹے کا تاج یہودا کے سر پر رکھا۔ ٧٣۔ اور اس کے ہاتھ میں ایک بانس کا ٹکڑا مثل چوگان (عصا) کے دیا اور اسے ایک بلند جگہ میں بٹھایا۔ ٧٤۔ اور اس کے سامنے سے سپاہی ازراہ حقارت اپنا سر جھکائے اس کو سلامی دیتے گزرے گویا کہ وہ یہود کا بادشاہ ہے۔ ٧٥۔ اور اپنے ہاتھ پھیلائے تا کہ وہ انعامات لے لیں جن کے دینے کی نئے بادشاہوں کو عادت تھی۔ ٧٦۔ پس جب کچھ نہ پایا تو یہ کہتے ہوئے یہودا کو مارا۔ اے بادشاہ اس حالت میں تو کیونکر تاج پوش ہو گا جبکہ تو سپاہیوں اور خادموں کو انعام نہیں دیتا۔ ٧٧۔ جبکہ تو کاہنوں کے سرداروں نے مع کاتبوں اور فریسیوں کے دیکھا کہ یہودا تازیانوں کی ضرب سے نہیں مرا اور جبکہ وہ اس سے ڈرتے تھے کہ پیلاطس اس کو رہا کر دے گا۔ انھوں نے حاکم کو روپیوں کا ایک انعام دیا اور حاکم نے وہ انعام لے کر یہودا کو کاتبوں اور فریسیوں کے حوالہ کر دیا۔ گویا کہ وہ مجرم ہے۔ جو موت کا مستحق ہے اور انھوں نے اس کے ساتھ ہی دو چوروں پر صلیب دیے جانے کا حکم لگایا۔ ٧٩۔ تب وہ لوگ اسے جمجمہ پہاڑ پر لے گئے۔ جہاں کہ مجرموں کو پھانسی دینے کی انھیں عادت تھی اور وہاں اس یہودا کو ننگا کر کے صلیب پر لٹکایا۔ اس کی تحقیر میں مبالغہ کرنے کے لیے۔ ٨٠۔ اور یہودا نے کچھ نہیں کیا سوا اس چیخ کے کہ اے اللہ تو نے مجھ کو کیوں چھوڑ دیا۔ اس لیے کہ مجرم تو بچ گیا اور میں ظلم سے مر رہا ہوں۔ ٨١۔ میں سچ کہتا ہوں کہ یہودا کی آواز اور

PDF 92

ی@PAGE ٩٢

اس کا چہرہ اور اس کی صورت یسوع سے مشابہ ہونے میں اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ یسوع کے سب ہی شاگردوں اور اس پر ایمان لانے والوں نے اس کو یسوع ہی سمجھا۔ ٨٢۔ اس لیے ان میں سے بعض یہ خیال کر کے یسوع کی تعلیم سے نکل گئے کہ یسوع جھوٹا نبی تھا اور اس نے جو نشانیاں ظاہر کیں وہ فن جادوگری سے ظاہر کی تھیں۔ ٨٣۔ اس لیے کہ یسوع نے کہا تھا کہ وہ دنیا کا خاتمہ ہونے کے قریب تک نہ مرے گا۔ ٨٤۔ کیونکہ وہ اس وقت میں دنیا سے لے لیا جائے گا۔ ٨٥۔ پس جو لوگ کہ یسوع کی تعلیم میں مضبوطی سے جمے رہے۔ ان کو رنج نے گھیر لیا۔ اس واسطے کہ انھوں نے مرنے والے کو یسوع کے ساتھ بالکل مشابہ دیکھا۔ یہاں تک کہ ان کو یسوع کا کہنا بھی یاد نہ آیا۔ ٨٦۔ اور اسی طرح وہ یسوع کی ماں کی ہمراہی میں جمجمہ پہاڑ پر گئے۔ ٨٧۔ اور صرف ہمیشہ روتے ہوئے یہودا کی موت کو دیکھنے کے لیے موجود ہونے پر ہی بس نہیں کی بلکہ نیقو دیموس اور یوسف اباریماتھائی کے ذریعہ سے حاکم سے یہودا کی لاش بھی حاصل کی تاکہ اسے دفن کریں۔ ٨٨۔ تب اس کو صلیب پر سے ایسے رونے دھونے کے ساتھ اتارا جس کو کوئی باور نہ کرے گا۔ ٨٩۔ اور اس کو یوسف کی نئی قبر میں ایک سو رطل خوشبوؤں میں بسانے کے بعد دفن کر دیا۔

(ایضا فصل ٢١٧ آیت ١ تا ٨٩ ص ٢٩٨۔٣٠٢)

فصل ٢١٨۔ ١۔ اور ہر ایک آدمی اپنے گھر کو پلٹ آیا۔ ٢۔ اور جو یہ لکھتا ہے اور یوحنا اور یعقوب اس یوحنا کا بھائی یسوع کی ماں کے ساتھ ناصرہ کو گئے۔ ٣۔ رہے وہ شاگرد جو کہ اللہ سے نہیں ڈرے تو وہ رات کے وقت گئے اور یہودا کی لاش چرا کر اسے چھپا دیا اور خبر اڑا دی کہ یسوع جی اٹھا ہے۔ ٤۔ تب اس فعل کے سبب سے ایک بے چینی پیدا ہوئی۔ ٥۔ کاہنوں کے سردار نے حکم دیا کہ کوئی آدمی یسوع ناصری کی نسبت کلام نہ کرے ورنہ وہ جرم کرنے کی سزا کے تحت میں آئے گا۔ ٦۔ اس کے لیے بڑی سختی ظاہر ہوئی۔ پس بہت سے آدمی سنگسار کیے گئے اور تازیانوں سے مارے گئے اور ملک سے جلاوطن کر دیئے گئے کیونکہ انھوں نے اس بارے میں خاموشی کو لازم نہیں پکڑا۔ ٧۔ اور وہاں ناصرہ میں یہ خبر پہنچی کہ کیونکر یسوع ان کے شہر کا ایک باشندہ جی اٹھا ہے۔ اس کے بعد کہ وہ صلیب پر مر گیا تھا۔ ٨۔ تب اس نے جو کہ لکھتا ہے یسوع کی ماں سے منت کی کہ وہ خوش ہو کر رونے سے باز آئے۔ کیونکہ اس کا بیٹا جی اٹھا ہے۔ پس جبکہ کنواری مریم نے اس بات کو سنا وہ رو کر کہنے لگی تو اب ہمیں یروشلم چلنا چاہیے تاکہ میں اپنے بیٹے کو ڈھونڈوں۔ ٩۔ اس لیے کہ اگر میں اس کو دیکھ لوں گی تو آنکھیں ٹھنڈی کر کے

صفحہ ٩٣

مروں گی۔

(ایضاً فصل ٢١٨ آیت ١ تا ٩ ص ٣٠٢)

فصل ٢١٩۔ ١۔ تب کنواری مع اس لکھنے والے اور یوحنا اور یعقوب کے اسی دن اورشلیم میں آئی جس روز کہ کاہنوں کے سردار کا حکم صادر ہوا تھا۔ ٢۔ پھر کنواری نے جو کہ اللہ سے ڈرتی تھی اپنے ساتھ رہنے والوں کو ہدایت کی۔ وہ اس کے بیٹے کو بھلا دیں باوجود اس کے کہ اس نے معلوم کر لیا تھا کہ کاہنوں کے سردار کا حکم ظلم ہے۔ ٣۔ اور ہر ایک آدمی کا انفعال (تاثر) کس قدر سخت تھا۔ ٤۔ اور وہ خدا جو کہ انسان کے دلوں کو جانچتا ہے۔ جانتا ہے کہ بلاشبہ ہم لوگ (جن کو کہ ہم اپنا معلم یسوع سمجھتے تھے) کی موت پر رنج و الم اور اس کو جی اٹھتا دیکھنے کے شوق میں محو ہو گئے تھے۔ ٥۔ اور وہ فرشتے جو کہ مریم پر محافظ تھے تیسرے آسمان کی طرف چڑھ گئے۔ جہاں کہ یسوع فرشتوں کی ہمراہی میں تھا اور اس سے سب باتیں بیان کیں۔ ٦۔ لہٰذا یسوع نے اللہ سے منت کی کہ وہ اس کو اجازت دے کہ یہ اپنی ماں اور اپنے شاگردوں کو دیکھ آئے۔ ٧۔ تب اس وقت رحمٰن نے اپنے چاروں نزدیکی فرشتوں کو جو کہ جبرائیل اور میخائیل اور رفائیل اور اوریل ہیں۔ حکم دیا کہ یہ یسوع کو اس کی ماں کے گھر اٹھا کر لے جائیں۔ ٨۔ اور یہ کہ متواتر تین دن کی مدت تک وہاں اس کی نگہبانی کریں۔ ٩۔ اور سوا ان لوگوں کے جو اس کی تعلیم پر ایمان لائے ہیں۔ اور کسی کو اسے نہ دیکھنے دیں۔ ١٠۔ پس یسوع روشنی سے گہرا ہوا اس کمرہ میں آیا جس کے اندر کنواری مریم مع اپنی دونوں بہنوں مرثا اور مریم مجدلیہ اور لعازر اور اس لکھنے والے اور یوحنا اور یعقوب اور پطرس کے مقیم تھی۔ ١١۔ تب یہ سب خوف سے بیہوش ہو کر گر پڑے گویا کہ وہ مردے ہیں۔ ١٢۔ پس یسوع نے اپنی ماں کو اور دوسروں کو یہ کہتے ہوئے زمین سے اٹھایا تم نہ ڈرو اس لیے کہ میں یسوع ہوں۔ ١٣۔ اور نہ روؤ کیونکہ میں زندہ ہوں نہ کہ مردہ۔ ١٤۔ تب ان میں سے ہر ایک دیر تک یسوع کے آ جانے کی وجہ سے دیوانہ سا رہا۔ ١٥۔ اس لیے کہ انھوں نے پورا پورا اعتماد کر لیا تھا کہ یسوع مر گیا ہے۔ ١٦۔ پس اسوقت کنواری نے روتے ہوئے کہا اے میرے بیٹے تو مجھ کو بتا کہ اللہ نے تیری موت کو تیرے قرابت مندوں اور دوستوں پر بدنامی کا دھبہ رکھ کر اور تیری تعلیم کو داغدار کر کے کیوں گوارا کیا۔ بحالیکہ اس نے تجھ کو مردوں کے زندہ کر دینے پر قوت دی تھی۔ پس تحقیق ہر ایک جو کہ تجھ سے محبت رکھتا تھا وہ مثل مردے کے تھا۔

(ایضاً فصل ٢١٩۔ آیت ١ تا ١٧ ص ٣٠٣۔٣٠٤)

فصل ٢٢٠۔ ١۔ یسوع نے اپنی ماں سے گلے مل کر جواب میں کہا اے ماں

صفحہ ٩٤

تو مجھے سچا مان کیونکہ میں تجھ سے سچائی کے ساتھ کہتا ہوں۔ کہ میں ہرگز نہیں مرا ہوں۔ ٢۔ اس لیے کہ اللہ نے مجھ کو دنیا کے خاتمہ کے قریب تک محفوظ رکھا ہے۔ ٣۔ اور جبکہ یہ کہا چاروں فرشتوں سے خواہش کی کہ وہ ظاہر ہوں اور شہادت دیں کہ بات کیونکر تھی۔ ٤۔ تب دونوں ہی فرشتے چار چمکتے ہوئے سورجوں کی مانند ظاہر ہوئے۔ یہاں تک کہ ہر ایک دوبارہ گھبراہٹ سے بیہوش گر پڑا گویا کہ وہ مردہ ہے۔ ٥۔ پس اس وقت یسوع نے فرشتوں کو چار چادریں کتان کی دیں تاکہ وہ ان سے اپنے تئیں ڈھانپ لیں کہ اس کی ماں اور اس کے رفیق انھیں دیکھ نہ سکیں۔ اور صرف ان کو باتیں کرتے سننے پر قادر ہوں۔ ٦۔ اور اس کے بعد ان لوگوں میں سے ہر ایک کو اٹھایا انھیں یہ کہتے ہوئے تسلی دی کہ یہ فرشتہ اللہ کے ایلچی ہیں۔ ٧۔ جبرئیل جو کہ اللہ کے بھیدوں کا اعلان کرتا ہے۔ ٨۔ اور میکائیل جو کہ اللہ کے دشمنوں سے لڑتا ہے۔ ٩۔ اور رافائیل جو کہ مرنے والوں کی روحیں نکالتا ہے۔ ١٠۔ اور اوریل جو کہ روز اخیر قیامت میں لوگوں کو اللہ کی عدالت کی طرف بلائے گا۔ ١١۔ پھر چاروں فرشتوں نے کنواری سے یہ بیان کیا کہ کیونکر اللہ نے یسوع کی جانب فرشتے بھیجے اور یہودا کی صورت کو بدل دیا تاکہ وہ اس عذاب کو بھگتے جس کے لیے اس نے دوسرے کو بھیجا تھا۔ ١٢۔ اس وقت اس لکھنے والے نے کہا اے معلم کیا مجھے جائز ہے کہ تجھ سے اس وقت بھی اس طرح سوال کروں۔ جیسے کہ اس وقت جائز تھا جبکہ تو ہمارے ساتھ مقیم تھا۔ ١٣۔ یسوع نے جواب دیا برنباس تو جو چاہے دریافت کر میں تجھ کو جواب دوں گا۔ ١٤۔ پس اس وقت اس لکھنے والے نے کہا اے معلم اگر اللہ رحیم ہے تو اس نے ہم کو یہ خیال کرنے والا بنا کر اسقدر تکلیف کیوں دی کہ تو مردہ تھا۔ ١٥۔ اور تحقیق تیری ماں تجھ کو اس قدر روئی کہ مرنے کے قریب پہنچ گئی۔ ١٦۔ اور اللہ نے یہ روا رکھا کہ تجھ پر نجمہ پہاڑ پر چوروں کے مابین قتل ہونے کا شبہ لگے۔ حالانکہ تو اللہ کا قدوس ہے۔ ١٧۔ یسوع نے جواب میں کہا اے برنباس تو مجھ کو سچا مان کہ اللہ ہر خطا پر خواہ وہ کتنی ہی ہلکی کیوں نہ ہو بڑی سزا دیا کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ گناہ سے غضب ناک ہوتا ہے۔ ١٨۔ پس اسی لیے جبکہ میری ماں اور میرے ان وفادار شاگردوں نے جو کہ میرے ساتھ تھے مجھ سے دنیاوی محبت کی نیک کردار خدا نے اس محبت پر موجودہ رنج کے ساتھ سزا دینے کا ارادہ کیا تاکہ اس پر دوزخ کی آگ کے ساتھ سزا دہی نہ کی جائے۔ ١٩۔ پس جبکہ آدمیوں نے مجھ کو اللہ نے ارادہ کیا کہ اس دنیا میں آدمی یہودا کی موت سے مجھ سے ٹھٹھا کریں یہ خیال کر کے کہ وہ میں ہی ہوں جو کہ صلیب پر مرا ہوں تاکہ قیامت کے

صفحہ ٩٥

دن میں شیطان مجھ سے ٹھٹھا نہ کریں۔ ٢٠۔ اور یہ بدنامی اس وقت تک باقی رہے گی جبکہ محمد ﷺ رسول آئے گا جو کہ آتے ہی اس فریب کو ان لوگوں پر کھول دے گا جو کہ اللہ کی شریعت پر ایمان لائیں گے۔ ٢١ اور یسوع نے یہ بات کہنے کے بعد کہا اے رب ہمارے البتہ تو بے شک عادل ہے۔ اس لیے کہ اکیلے تیرے ہی لیے بے نہایت بزرگی اور اکرام ہے۔

(ایضاً فصل ٢٢٠ آیت ١ تا ٢١ ص ٣٠٥-٣٠٦)

فصل ٢٢١۔ ١۔ اور یسوع اس لکھنے والے کی جانب متوجہ ہوا اور کہا اے برنباس تجھ پر واجب ہے کہ تو ضرور میری انجیل اور وہ حال لکھے جو کہ میرے دنیا میں رہنے کی مدت میں میرے بارے میں پیش آیا اور وہ بھی لکھ جو کہ یہودا پر واقع ہوا تاکہ ایمانداروں کا دھوکا کھانا زائل ہو جائے اور ہر ایک حق کی تصدیق کرے۔ ٣۔ اس وقت اس لکھنے والے نے جواب دیا اے معلم اگر خدا نے چاہا تو میں اس کو ضرور کروں گا۔ ٤۔ لیکن میں نہیں جانتا کہ یہودا کو کیا پیش آیا۔ اسلیے کہ میں نے سب باتیں نہیں دیکھی ہیں۔ ٥۔ یسوع نے جواب دیا یہاں یوحنا اور پطرس ہیں جن دونوں نے ہر چیز دیکھی ہے۔ پس یہ دونوں تجھ کو تمام واقعات کی خبر دیں گے۔ ٦۔ پھر ہم کو یسوع نے ہدایت کی کہ ہم اس کے مخلص شاگردوں کو بلائیں تاکہ وہ سب اس کو دیکھیں تب اس وقت یعقوب اور یوحنا نے ساتھی شاگردوں کو مع نیوقد دیموس اور یوسف اور بہت سے دوسروں کے بہتر میں سے جمع کیا اور انھوں نے یسوع کے ساتھ کھانا کھایا۔ ٨۔ اور تیسرے دن یسوع نے کہا تم لوگ میری ماں کے ساتھ زیتون پہاڑ پر چڑھ جاؤ۔ ٩۔ اس لیے کہ میں وہیں سے آسمان پر بھی چڑھ جاؤں۔ ١٠۔ اور تم اس کو دیکھو گے جو کہ مجھے اٹھا لے جائے گا۔ تب سب کے سب گئے بجز پچیس کے بہتر شاگردوں میں سے کہ خوف سے دمشق کی طرف بھاگ گئے تھے۔ ١٢۔ اور اسی اثناء میں کہ یہ سب نماز کے لیے کھڑے ہوئے تھے یسوع ظہر کے وقت ان فرشتوں کی ایک بھاری بھیڑ کے ساتھ آیا جو کہ اللہ کی تسبیح کرتے تھے۔ ١٣۔ تب وہ اس یسوع کے چہرے کی روشنی سے اچانک ڈر گئے اور اپنے مونہوں کے بل زمین پر گر پڑے۔ ١٤۔ لیکن یسوع نے ان کو اٹھا کر کھڑا کیا اور یہ کہہ کر انھیں تسلی دی تم ڈرو مت میں تمہارا معلم ہوں اور اس نے ان لوگوں میں سے بہتوں کو ملامت کی جنھوں نے اعتقاد کیا تھا کہ وہ یسوع مر کر پھر جی اٹھا ہے۔ یہ کہتے ہوئے آیا تم مجھ کو اور اللہ دونوں کو جھوٹا سمجھتے ہو۔ ١٦۔ اس لیے کہ اللہ نے مجھے یہ فرمایا ہے کہ میں دنیا کے خاتمہ کے کچھ پہلے تک زندہ رہوں جیسا کہ میں نے ہی تم سے

صفحہ ٩٦

کہا ہے۔ ١٧۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میں نہیں مرا ہوں بلکہ یہودا خائن مرا ہے۔ ١٨۔ تم ڈرتے رہو اس لیے کہ شیطان اپنی طاقت بھر تم کو دھوکا دینے کا ارادہ کرے گا۔ ١٩۔ لیکن تم تمام اسرائیل ساری دنیا میں ان سب چیزوں کے لیے جن کو تم نے دیکھا اور سنا ہے میرے گواہ رہو۔ ٢٠۔ اور یہ کہنے کے بعد اللہ سے مومنوں کی نجات اور گنہگاروں کی تجدید توبہ و ایمان کے لیے دعا کی۔ ٢١۔ پس جبکہ دعا ختم ہو گئی اس نے یہ کہتے ہوئے اپنی ماں کو گلے لگایا اے میری ماں مجھ پر سلامتی ہو۔ ٢٢۔ تو اس اللہ پر توکل کر جس نے تجھ کو اور مجھ کو پیدا کیا ہے۔ ٢٣۔ اور یہ کہنے کے بعد اپنے شاگردوں کی طرف کہتا ہوا متوجہ ہوا۔ اللہ کی نعمت اور اس کی رحمت تمھارے ساتھ رہے۔ ٢٤۔ پھر اس کو چاروں فرشتے ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آسمان کی طرف اٹھا کر لے گئے۔

(ایضاً فصل ٢٢١ آیت ١ تا ٢٤ ص ٣٠٦۔٣٠٨)

فصل ٢٢٢۔ ١۔ یسوع کے چلے جانے کے بعد شاگرد اسرائیل اور دنیا کے مختلف گوشوں میں پراگندہ ہو گئے۔ ٢۔ رہ گیا حق جو شیطان کو پسند نہ آیا۔ اس کو باطل نے دبا لیا۔ جیسا کہ یہ ہمیشہ کا حال ہے۔ ٣۔ پس تحقیق شریروں کے ایک فرقہ نے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ یسوع کے شاگرد ہیں۔ یہ بشارت دی کہ یسوع مر گیا اور وہ جی نہیں اٹھا اور دوسروں نے یہ تعلیم پھیلائی کہ وہ درحقیقت مر گیا پھر جی اٹھا اور اوروں نے منادی کی اور برابر منادی کر رہے ہیں کہ یسوع ہی اللہ کا بیٹا ہے اور انہی لوگوں کے شمار میں پولس نے بھی دھوکا دیا۔ ٦۔ اب رہے ہم تو ہم محض اسی کی منادی کرتے ہیں جو کہ میں نے ان لوگوں کے لیے لکھا ہے کہ وہ اللہ سے ڈرتے ہیں تاکہ اخیر دن میں جو اللہ کی عدالت کا دن ہو گا چھٹکارا پائیں۔ آمین۔ (ایضاً فصل ٢٢٢ آیت ١ تا ٦ ص ٣٠٨)

ناظرین مذکورہ بالا حوالجات انجیل برنباس سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کا صلیب دیا جانا اور صلیب کے عذابوں سے معذب ہونا تو درکنار وہ تو دشمنوں کے پاس تک نہ رہے بلکہ حضرت عیسیٰؑ کے دشمنوں کو ان تک رسائی نہیں ہوئی۔ سولی دینا اور صلیب پر لٹکانا اور بے گناہ کو کوڑے مارنا تو برا کام ہے۔ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ کی ایسے طریق سے حفاظت کی کہ دشمنوں نے مس تک نہ کیا اور خدا نے ان کو حسب وعدہ انی متوفیک و رافعک صحیح سلامت آسمان پر اٹھا لیا اور ان کی عوض یہودا اسخریوطی جس نے تیس سکوں کے لالچ پر حضرت عیسیٰ کو پکڑوانا چاہا تھا وہی صلیب دیا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مکر و مکر اللہ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْن۔ یعنی یہودا نے تدبیر کی اور اللہ

صفحہ ٩٧

تعالیٰ نے بھی تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ غالب تدبیر کرنے والا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اپنی تدبیر میں غالب آیا اور جو صلیب کے عذاب یہودا نے حضرت عیسیٰ کے واسطے تجویز کیے تھے وہی عذاب اس پر اُلٹ دیے۔ یہودا اسخریوطی حضرت عیسیٰ کی جگہ مصلوب ہوا اور یہ عین انصاف تھا کیونکہ یہودا اسخریوطی نے حضرت عیسیٰ کو صلیب دلوانے کی تدبیر کی تھی۔ اللہ نے حضرت عیسیٰ کو بچا لیا اور یہودا پر حضرت عیسیٰ کی شبیہ ڈالی یعنی یہودا کی شکل حضرت عیسیٰ کی ہو گئی اور وہ صلیب دیا گیا۔ یہودا نے اس وقت بہت شور اٹھایا اور فریاد و واویلا کیا کہ میں عیسیٰ نہیں ہوں عیسیٰ نے جادو کے زور سے مجھ پر اپنی شبیہ ڈالی ہے اور خود بچ گیا ہے مگر سب نے سن کر یہ خیال کیا کہ یہ حضرت عیسیٰ نے خود ہی اپنی جان صلیب سے بچانے کے لیے حیلہ نکالا ہے کہ کسی طرح بچ جاؤں پر کسی نے اعتبار نہ کیا اور اسی کو صلیب دی۔

تمام عیسائیوں کے دو فرقے ہو گئے تھے۔ ایک! کا یہ اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ ہرگز ہرگز صلیب نہیں دیئے گئے اور نہ صلیب کے زخم اس کو لگائے گئے وہ صحیح سلامت آسمان پر اٹھائے گئے اور ان کا مشبہ یعنی یہودا سخر یوطی جس پر حضرت عیسیٰ کی شبیہ ڈالی گئی تھی۔ وہی صلیب دیا گیا۔ اس اعتقاد والے باسالیدیان۔ سرن تھان۔ گورپوکھری تیان تین فرقے عیسائیوں کے ہیں۔

دوسرا! گروہ عیسائیوں کا اس بات کا معتقد ہے کہ حضرت عیسیٰ صلیب دیئے گئے اور ان کو صلیب کے عذاب اس واسطے دیے گئے کہ ان کی امت کی نجات ہو اور کفارہ کی بنیاد رکھنے یا قائم کرنے کے واسطے ایسا اعتقاد تراشا گیا کہ حضرت عیسیٰ نے امت کے گناہوں کے بدلے عذاب اٹھائے اور صلیب پر فوت ہو گئے تھے اور پھر تیسرے روز زندہ ہو کر آسمان پر اٹھائے گئے اور یہ فرقے رومن کیتھولک‘ یونیٹرین‘ پروٹسٹنٹ وغیرہ وغیرہ ہیں۔ تیسرا! گروہ یہود کا تھا جو کہتا تھا کہ ہم نے عیسیٰ کو جو رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا تھا قتل کر دیا۔ یہ اختلاف حضرت خلاصہ موجودات محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کے زمانہ تک برابر چلا آتا تھا۔ یہود کہتے تھے کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا۔ ایک عیسائی فرقہ کہتا تھا کہ حضرت عیسیٰ صلیب نہیں دیئے گئے بلکہ زندہ اٹھائے گئے اور ان کا ہمشکل پھانسی دیا گیا اور مارا گیا۔ تیسرا گروہ عیسائیوں کا یہ کہتا تھا کہ حضرت عیسیٰ سولی پر لٹکائے گئے اور فوت ہو کر دوبارہ زندہ ہو کر آسمان پر اٹھائے گئے اور پھر آخری زمانہ میں اتریں گے۔ قرآن مجید اور محمد رسول اللہ ﷺ نے اس اختلاف کا

صفحہ ٩٨

جو فیصلہ کیا وہ یہ ہے کہ یہود کا یہ کہنا کہ ہم نے عیسیٰ کو قتل کیا غلط ہے۔ حضرت عیسیٰ نہ قتل ہوئے نہ صلیب دیئے گئے۔ جیسا کہ مَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ سے ظاہر ہے بل رفعه الله الیہ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ یہی فیصلہ قرآن کے ماننے والوں نے تسلیم کیا اور وہ ١٣٠٠ برس تک صحابہ کرام و ائمہ دین و صوفیائے کرام و اولیائے امت محمدی بھی فیصلہ قرآن مانتے آئے ہیں۔ کسی ایک نے بھی قرآن کے برخلاف نہ یہود کا اعتقاد رکھا کہ حضرت عیسیٰؑ مر گئے اور نہ عیسائیوں کا اعتقاد رکھا کہ صلیب پر لٹکائے گئے۔ بلکہ وہی اعتقاد رکھا جو قرآن نے انجیل برنباس کے بیان کی تصدیق کی تھی۔ یعنی شبہ لهم فرمایا تھا جس کا مطلب وہی ہے جو کہ برنباس حواری نے بیان کیا اور چشم دید حال بیان کیا کہ حضرت عیسیٰؑ صلیب نہیں دیئے گئے بلکہ ان کا ہمشکل صلیب دیا گیا۔ اب جائے غور ہے کہ وہ شخص کس قدر ظالم طبع ہوگا جو یہ اعتقاد رکھے کہ معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ جو حکم بن کر آئے تھے۔ انھوں نے اختلاف کا فیصلہ نہ کیا اور جس مطلب کے واسطے رسول بن کر آئے تھے۔ وہ کام نہ کیا اور اپنا فرض منصبی ادا نہ کیا اور اختلاف چھوڑ گئے۔ یہ جو مرزا قادیانی اور مرزائی اب کہتے ہیں کہ عیسیٰ صلیب پر لٹکایا گیا یہ تو پہلے عیسائیوں کا اعتقاد تھا اور یہ کفارہ کی بنیاد تھی کہ حضرت عیسیٰ نے صلیب کے عذاب امت کی خاطر برداشت کیے اور چونکہ یہ اعتقاد باطل تھا اس لیے قرآن نے اس کی تردید کی اور صاف صاف لفظوں میں فرمایا وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ إِلَيْهِ یعنی حضرت عیسیٰؑ نہ تو فوت ہوئے اور نہ صلیب دیئے گئے بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا اگر حضرت عیسیٰ فوت ہو گئے ہوتے تو صاف فرمایا جاتا کہ عیسیٰ مر گئے اور بَلْ رَفَعَهُ اللهُ اليه۔ نہ فرمایا جاتا اور یہ قطعی دلیل حیات مسیح ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ نے بھی اس کی تصدیق فرمائی ہے کہ عیسیٰ زندہ ہے وہ حدیث یہ ہے۔ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِليهود وإن عيسى لم يمت انه راجع اِلَيْكُمْ قَبْلَ يَوْمِ القيامة (درمنثور ج ٢ ص ٣٦) یعنی رسول اللہ ﷺ نے یہود کو فرمایا کہ عیسیٰ فوت نہیں ہوئے وہ تم میں قیامت سے پہلے آنے والے ہیں۔ پھر دوسری حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ عن عبداللہ بن سلام قال يدفن عيسى بن مريم مع رسول الله و صاحبيه فيكون قبره رابعاً۔ (درمنثور ج ٢ ص ٢٤٥۔٢٤٦) یعنی عیسیٰؑ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دفن ہوں گے اور ان کی چوتھی قبر ہوگی پھر تیسری حدیث میں فرمایا ثُمَّ يَمُوْتُ فيدفن معى فى قبرى۔ (مشکوٰۃ ص ٤٨٠ باب نزول عیسیٰؑ) یعنی حضرت عیسیٰؑ بعد نزول ٤٥ برس زندہ رہ کر پھر فوت ہوں گے اور مقبرہ میں دفن ہوں گے۔

صفحہ ٩٩

فی قبری کا جواب

اس جگہ مرزا قادیانی کے اس اعتراض کا جواب دینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے جو وہ فی قبری کے لفظ پر کرتے ہیں۔ افسوس مرزا قادیانی کو اعتراض کرنے کے وقت ہوش نہ رہتی تھی۔ فی قبری کے لفظی معنوں پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ رسول کی ہڈیاں نکال کر پھر عیسیٰ کو دفن کریں گے اور یہ ہتک رسول اللہ کی ہے۔ ہم مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں سے بادب دریافت کرتے ہیں کہ فی کے معنی اگر یہی ہیں جو مرزا قادیانی کہتے ہیں تو قل سیرو فی الارض کے معنی بھی وہ یہی کرتے ہوں گے زمین کے بیچ میں سرنگ کھود کر سیر کرو۔ وادخلی فی عبادی کے معنی بھی وہ یہی کرتے ہوں گے کہ میرے بندوں کے پیٹ پھاڑ کر داخل ہو جاؤ۔ انی جاعل فی الأرض خلیفہ کے معنی بھی یہی کرتے ہوں گے طبقات زمین کے نیچے زمین کے درمیان آدم کو خلیفہ بنا دے گا۔ مرزا قادیانی کا قاعدہ تھا کہ صریح نص شرعی کے مقابل جب ان کو جواب نہ آتا تو جہالت کے اعتراض کر کے نص شرعی ٹالنا چاہتے تھے۔ مگر اہل علم کب سنتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ جب اس حدیث کی شرح دوسری حدیث نے کر دی ہے۔ فیکون قبرہ رابعاً۔ یعنی اس کی قبر چوتھی قبر ہو گی تو پھر جہالت نہیں تو اور کیا ہے کہ فی قبری سے یہ مطلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی قبر کو کھود کر عیسیٰ کو دفن کریں گے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو امر انجیل میں مذکور ہو اور قرآن اور احادیث سے اس کی تصدیق ہو اور شریعت محمدی میں جزو ایمان قرار پائے۔ اس امر سے محض اپنی خواہش نفس کی خاطر انکار کرنا اور مسیح کو مار کر خود مسیح موعود بننا کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟ اس طرح تو پہلے بھی کئی جھوٹے مسیح موعود ہو گزرے ہیں۔ چنانچہ ابراہیم بذلہ نے خراسان میں یہی دعویٰ کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ سندھ میں ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ جزیرہ جمیکہ میں ایک حبشی نے دعویٰ کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ جعلی و نقلی و بروزی و ظلی مسیح تو بہت ہو گزرے ہیں اور حسب پیشگوئی حضرت عیسیٰ و محمد رسول اللہ ﷺ بہت ہوتے رہیں گے۔ اصلی مسیح موعود تو وہی ہے جو نبی ناصری ابن مریم تھا۔ جس کا زندہ ماننا نزول کے واسطے لازمی امر ہے کیونکہ اگر مسیح بھی دوسرے نبیوں کی طرح مر چکا ہے تو پھر اس کا نزول بھی باطل ہے۔ کیونکہ مردے کبھی اس دنیا میں دوبارہ نہیں آتے اور مسئلہ نزول جزو ایمان ہے اس لیے مسیح کا زندہ ماننا بھی جزو ایمان ہے۔ دیکھو فقہ اکبر میں امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں و خروج الدجال و ياجوج و ماجوج و طلوع الشمس من المغرب ونزول عیسٰیؑ

صفحہ ١٠٠

من السماء و سائر علامات يوم القيامة على ما وردت به الاخبار صحيحہ حق كائن. (شرح فقہ اکبر ص ١٤٦۔١٤٧) یعنی نکلنا دجال و یاجوج و ماجوج کا اور چڑھنا سورج کا مغرب کی طرف سے اور اترنا عیسیٰؑ کا آسمان سے اور تمام علامات قیامت کی جو کچھ حدیثوں میں وارد ہے۔ سب حق ہیں‘‘ پس حضرت عیسیٰؑ کا نزول جزو ایمان ہے اور نزول عیسیٰؑ علامات قیامت میں سے ایک علامت ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ جب شرط زائل ہو تو مشروط بھی زائل ہو جاتا ہے۔ پس اصالتاً نزول عیسیٰؑ سے انکار عین قیامت کا انکار ہے اور یہ کفر ہے۔ وَمَا عَلَيْنَا اِلَّا الْبَلَاغُ.

مرزا قادیانی انجیل و قرآن و احادیث نبوی کے برخلاف لکھتے ہیں۔ ’’اور میرے پر اپنے خاص الہام سے ظاہر کیا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے چنانچہ اس کا ’’الہام یہ ہے۔‘‘ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تو آیا ہے۔‘‘ الخ

(ازالہ اوہام ص ٥٦١ خزائن ج ٣ ص ٤٠)

ناظرین کرام! چونکہ یہ الہام قرآن شریف اور احادیث نبوی اور اجماع امت کے برخلاف تھا اس لیے حسب اصول مقرر کردہ صحابہ کرامؓ و تابعینؒ و تبع تابعینؒ و اولیائے امت، مرزا قادیانی کو ایسے الہام پر اعتبار نہ کرنا چاہیے تھا کیونکہ اس پر اجماع امت ہے کہ جو الہام قرآن شریف کے برخلاف ہو وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں بلکہ القائے شیطانی ہے۔ مگر افسوس مرزا قادیانی کے بجائے اس الہام کو رد کرنے کے الٹا اس فکر میں لگے کہ کسی طرح وفات مسیح قرآن شریف سے ثابت کر کے اپنے الہام کی پیروی کرتے ہوئے خود ہی عیسیٰ ابن مریم بن جائیں اور اپنی پہلی تحریریں جو کہ وہ بھی الہام سے لکھی تھیں ان کو ردی کر دیں ان کی پہلی الہامی تحریریں حسب ذیل ہیں۔

- الہام مرزا قادیانی۔ ’’هُوَ الَّذِيْ اَرْسَلَ رَسُوْلَه بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَه عَلَى الدِّيْنِ كُلِّه الخ‘‘ (مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں) کہ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیحؑ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا‘‘ (دیکھو براہین احمدیہ ص ٤٩٨ و ٤٩٩ خزائن ج ١ ص ٥٩٣ حاشیہ) جس کی نسبت مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ الہام ربانی سے لکھی گئی ہے۔

اب فیصلہ آسان ہے کہ مرزا قادیانی کی دونوں تحریروں کو خدا کی طرف سے

صفحہ ١٠١

تسلیم نہیں کر سکتے بہر حال ایک ہی درست ہو گی جو قرآن کریم اور حدیث شریف اور سلف صالحین کی تحریروں کے موافق ہو گی اور دوسری جو نصوص شرعیہ کے خلاف ہے غلط ہو گی۔ اب ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کی بعد کی تحریر چونکہ نصوص شرعی کے برخلاف ہے اس واسطے غلط ہے پیروی کے لائق نہیں۔ مرزا قادیانی نے سخت اصولی غلطی کھائی ہے کہ تمام امت کے برخلاف جو ان کو الہام ہوا اس کے سچا کرنے کے واسطے قرآن شریف کے ساتھ وہ معاملہ کیا جو یہود نے کتاب اللہ تو رات کے ساتھ کیا تھا یعنی يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ مرزا قادیانی نے تیس آیات پیش کی ہیں جو کہ ذیل میں درج کر کے ہر ایک کا نمبر وار جواب دیا جاتا ہے۔ قولہ کے تحت میں مرزا قادیانی کی عبارت ہے اور اقول کے تحت جواب۔

قولہ....... پہلی آیت

يَاعِيْسٰى اِنِّی مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اِلٰی يَوْمِ الْقِيٰمَةِ یعنی اے عیسیٰ میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور پھر عزت کے ساتھ اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تیرے متبعین کو تیرے منکروں پر قیامت تک غلبہ دینے والا ہوں۔“ (ازالہ اوہام ص ٥٩٦ خزائن ج ٣ ص ٤٢٣)

اقول: اگر دوسرا شخص یہ ترجمہ کرتا تو مرزا قادیانی اس پر یہودیت اور الحاد کا فتویٰ دے دیتے کہ تم نے پھر ”عزت کے ساتھ“ کن الفاظ کا ترجمہ کیا ہے اور ”تہمتوں سے“ کن الفاظ کا ترجمہ ہے مگر مرزا قادیانی خود ہیں کہ قرآن شریف میں تحریف لفظی کرتے ہیں اور خوف خدا نہیں کرتے کہ جو الفاظ قرآن میں نہیں ہیں کیونکر اپنی طرف سے وہ الفاظ قرآن شریف میں داخل کیے جا سکتے ہیں؟ اب مرزا قادیانی کا کوئی مرید بتا دے۔ عزت کے ساتھ اٹھانا اور تہمتوں سے پاک کرنا کن الفاظ کا ترجمہ ہے۔ مُطَهِّرُكَ کا لفظ جان بوجھ کر چھوڑ دیا ہے کیونکہ اس میں آسمان کی طرف جانے کا اشارہ تھا کہ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا یعنی اے عیسیٰ میں تجھ کو ان لوگوں کی صحبت سے پاک کروں گا۔ یہ اشارہ تھا کہ تم کو ایسی جگہ رکھوں گا جس جگہ کافر نہ پہنچ سکیں گے اور وہ جگہ آسمان ہی ہے۔ جیسا کہ انجیل میں لکھا ہے کہ ”مسیح آسمان پر اٹھایا گیا“ اور مسیح خود بھی فرماتے ہیں کہ ”میں ایسی جگہ جاتا ہوں کہ تم وہاں نہیں آ سکتے یعنی آسمان“

اور مرزا قادیانی نے خود بھی لکھا ہے ”سو حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے۔“ (دیکھو براہین احمدیہ ص ٣٦١ خزائن ج ١ ص ٤٣١ حاشیہ) مُتَوَفِّيْكَ کے

صفحہ ١٠٢

معنی بھی مارنے والے غلط کیے ہیں کیونکہ توفی کا مادہ وَفا ہے اور وفا کے معنی موت ہرگز نہیں صرف بطور مجاز موت کے معنی لیے جاتے ہیں کیونکہ موت کے وقت خدا تعالیٰ روح کو اپنے قبضہ میں کر لیتا ہے۔ اس واسطے مجازی معنی موت کے ہیں۔ حقیقی معنی توفی کے پورا پورا لینے یا دینے کے ہیں۔ دیکھو ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ یعنی ”پھر تمام نفس پورا پورا بدلہ دیے جائیں گے اور وہ ظلم نہ کیے جائیں گے۔“ افسوس مرزا قادیانی نے خود ہی توفی کے معنی پورا پورا لینے کے کیے ہیں۔ (دیکھو براہین احمدیہ ص ٥١٩) جو مرزا قادیانی کی الہامی کتاب ہے۔

حکیم نور الدین صاحب خلیفہ اوّل نے بھی اسی آیت يَا عِيْسٰى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ الآيَة کے پورا لینے کے کیے ہیں۔ سنو حکیم صاحب کا ترجمہ ”جب اللہ نے فرمایا اے عیسیٰ میں لینے والا ہوں تجھ کو اور بلند کرنے والا ہوں اپنی طرف“

(تصدیق براہین ص ٨ حاشیہ)

اس میں کچھ شک نہیں کہ پہلے مرزا قادیانی مسلمان تھے اور ان کے عقائد جمہور اہل اسلام والے تھے وہ حضرت مسیحؑ کے اصالتاً نزول اور حیات کے معتقد تھے مگر بعد میں جب ان کو خود عیسیٰ بن مریم بننے کا خیال ہوا تو پھر سب کچھ بھول گئے اور حضرت عیسیٰؑ کی وفات کے ثابت کرنے میں قرآن شریف میں تحریف شروع کر دی اور برائے نام تیس آیات لکھ کر اپنے من مانی تفسیر و معانی کیے اور ان کے مرید حکیم خدا بخش نے اپنی کتاب عسل مصفّےٰ میں بے محل ساٹھ آیتیں لکھ دیں یہ اپنے مرشد مرزا قادیانی سے بھی بڑھ گئے۔ اصل میں ایک آیت بھی قرآن شریف میں نہیں ہے کہ جس سے ثابت ہو کہ حضرت عیسیٰؑ پر موت وارد ہو گئی ہے۔ پس اس آیت سے وفات کا وارد ہو جانا ہرگز ثابت نہیں کیونکہ مُتَوَفِّيْكَ کے معنی یہ نہیں کہ مار دیا۔ مرزا قادیانی نے خود لکھا ہے کہ میں تجھے مارنے والا ہوں۔ جس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ ابھی مارا نہیں آئندہ کسی زمانہ میں مارنے والا ہوں۔

اس آیت کو وفات مسیح کے ثبوت میں پیش کرنا علم عربی سے ناواقف ہونے کی سند ہے کیونکہ مُتَوَفِّيْكَ کے معنی مارنے والا ہے نہ کہ مار دیا۔ اسم فاعل کے صیغہ کو ماضی کا صیغہ سمجھنا عربی سے جاہل ہونے کی ایک کافی دلیل ہے۔

پس اس آیت سے وفات مسیح ہرگز ثابت نہیں بلکہ حیات ثابت ہے کیونکہ اس آیت کے نازل ہونے تک مسیح کی موت وارد نہ ہوئی تھی اور مُتَوَفِّيْكَ کے صحیح معنی یہ ہیں

صفحہ ١٠٣

کہ اے مسیح میں تجھ کو کسی آئندہ زمانہ میں مارنے والا ہوں اور یہ معنی مرزا قادیانی کے غلط معنی مارنے والا تسلیم کر کے کیے ہیں ورنہ توفی کے معنی اَخْذُ شَیْءٍ وَافِیًا ہی کے ہیں۔ جیسا کہ تمام مفسرین کا اتفاق ہے کسی مفسر نے اس کے معنی ”مرنے والا“ نہیں کیے۔ شاید کوئی مرزائی کہہ دے کہ ابن عباسؓ نے اس کے معنی مُمیْتُکَ کے کیے ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابن عباسؓ بعد نزول وفات مسیح کے قائل ہیں جیسا کہ سابقاً اسی کتاب میں لکھا جا چکا ہے۔

قولہ...... دوسری آیت

جو مسیح ابن مریم کی موت پر دلالت کرتی ہے یہ بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ ہے۔ یعنی مسیح ابن مریم مقتول و مصلوب ہو کر مردود اور ملعون لوگوں کی موت سے نہیں مرا جیسا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کا خیال ہے بلکہ خدا تعالیٰ نے عزت کے ساتھ اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ ”جاننا چاہیے کہ اس جگہ رفعہ سے مراد وہ موت ہے جو عزت کے ساتھ ہو۔“ الخ۔

(ازالہ اوہام ص ٥٩٩ خزائن ج ٣ ص ٤٢٣)

اقول: رفع مسیح علیہ السلام کی مفصل بحث ذیل میں ملاحظہ ہو۔ وہو ہٰذا۔

صفحہ ١٠٤

باب دوم

رفع حضرت عیسیٰؑ

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

ناظرین! رفع عیسیٰؑ شاخ یا جزو یا فرع ہے۔ واسطے نزولِ عیسیٰؑ کے۔ جس کا نزول مخبر صادق خاتم النبیین فخر موجودات محمد ﷺ نے قیامت کی علامات میں سے حضرت عیسیٰؑ کا نزول بھی ایک علامت قیامت بیان فرمائی اور نزول عیسیٰؑ پر ایمان لانا ایسا ہی ہے جیسا کہ قیامت اور حشر بالا جساد پر اور یوم القیامت پر جو دن جزا و سزا کا ہے کیونکہ جو شخص قیامت پر ایمان نہیں رکھتا وہ ہرگز سچا مومن نہیں کیونکہ سب سے پہلے جو مومن سے اقرار لیا جاتا ہے یا مومن کو تعلیم دی جاتی ہے۔ وہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اسکے فرشتوں اور کتابوں اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہوں اور یہ اقرار نہ صرف زبانی اقرار کرتا ہوں بلکہ اس کی تصدیق قلب یعنی دل سے بھی کرتا ہوں اور کوئی مسلمان نہیں جو اس بات کو نہ جانتا ہو۔ مگر تاہم میں ایمان کی صفت بیان کرتا ہوں جس پر تمام امت کا اجماع ہے اور کسی ایک کو بھی انکار نہیں اور وہ یہ ہے۔ امنت باللہ وملائکتہ و کتبہ و رسلہ والیوم الاخر والقدر خیرہ وشرہ من اللہ تعالیٰ والبعث بعدالموت۔ یعنی میں ایمان لایا اللہ پر فرشتوں پر اور آسمانی کتابوں پر یعنی توریت، زبور، انجیل، قرآن پر اور تمام رسولوں پر اور قیامت کے دن اور نیکی اور بدی کا مقدر ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور جی اٹھنا موت کے بعد قیامت کے دن۔ پس جو شخص اس اقرار پر قائم ہے اور دل سے اس کی تصدیق کرتا ہے وہ مومن ہے اور جو شخص ان امور کا منکر ہے وہ غیر مومن اور کافر ہے۔ اس صفتِ ایمان کو مدنظر رکھتے ہوئے اصل مسئلہ رفع پر جب غور کرتے ہیں تو ثابت ہوتا ہے کہ رفع کا انکار نزول کا انکار ہے اور نزول عیسیٰؑ کا انکار علامات قیامت کا انکار ہے کیونکہ جس قدر علامات قیامت ہیں۔ سب کی سب مافوق الفہم ہیں اور عقل انسانی ان

صفحہ ١٠٥

کی حقیقت کے دریافت کرنے سے عاجز ہے۔ اسی واسطے ان پر ایمان لانے والا مبارک گروہ یؤمنون بالغیب میں شامل ہوتا ہے اور چون و چرا کرنے والا اور محالات عقلی و خلاف قانون قدرت کے عذر اور اعتراض پیش کرنے والا من گھڑت تاویلات کرنے والا ہرگز ہرگز اس قابل نہیں کہ وہ یؤمنون بالغیب کی فہرست میں داخل ہو سکے۔ پس ثابت ہوا کہ مومن و غیر مومن میں یہی فرق ہے کہ مومن محالات عقلی کے اعتراضات نہیں کرتا اور فرمودہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول پاک پر ایمان لاتا ہے اور غیر مومن خدا اور اس کے رسول کے فرمودہ پر ایمان نہیں لاتا اور اپنے حواس پر دھوکہ خوردہ ہو کر دولت ایمان سے بے بہرہ رہتا ہے۔ پہلے کلام ربانی کی تاویلات اپنی عقل کے مطابق کرتا ہے اور جب اس کی عقل نظارہ قدرت میں محو ہو کر حیران ہو کر عاجز ہوتی ہے۔ تو پھر انکار کر دیتا ہے اور کھرا خاصہ دہریہ و کافر بن جاتا ہے۔ خواہ کسی مصلحت کے باعث منافقانہ طور پر زبان سے اقرار بھی کرے کہ جی ہاں میں تمام سماوی کتابوں کو مانتا ہوں مگر آسمانی کتابوں میں جو مضامین لکھے ہوئے ہیں ان کے معنی سلف صالحین نے جو کیے ہیں چونکہ وہ موجودہ زمانہ کی عقول کے مطابق نہیں اس واسطے تاویلی معنی کرتا ہوں۔ دراصل وہ منکر ہوتا ہے۔ صرف مومنوں کے ڈر سے زبانی اقرار کرتا ہے مگر یہ اقرار مومنین کتاب اللہ میں شامل نہیں ہونے دیتا۔ اس مختصر تمہید کے بعد اصل مسئلہ رفع کی طرف رجوع کرتا ہوں اور ثابت کرتا ہوں کہ یہ مسئلہ رفع و نزول عیسیٰ قرآنی مسئلہ نہیں بلکہ انجیلی مسئلہ ہے جس کی تصدیق محمد ﷺ نے فرمائی۔ کیونکہ وہ عیسائیوں کے مشرکانہ عقیدہ کی اصلاح کے واسطے تشریف لائے تھے۔ اگر یہ عقیدہ مشرکانہ تھا تو حضور علیہ السلام کا پہلا فرض تھا کہ اس کی تردید فرماتے۔ مگر جب تصدیق فرمائی تو یہ بالکل غلط ہوا کہ رفع جسمانی کا مسئلہ مشرکانہ ہے۔ اس اعتقاد فاسد سے تو محمد رسول اللہ پر (معاذ اللہ) الزام آتا ہے کہ انھوں نے جان بوجھ کر اپنی امت کو مشرک بنایا اور کیوں نہ اس عقیدہ نزول و رفع کو باطل فرما دیا جیسا کہ ابن اللہ اور تثلیث وغیرہ عقائد کی تردید فرمائی اور مٹایا اس مسئلہ رفع و نزول کو بھی مٹاتے، مگر بجائے مٹانے کے تصدیق فرمائی اور جان بوجھ کر اپنی امت کو ابتلاء میں ڈالا۔ جب محمد مصطفیٰ ﷺ نے نزول عیسیٰ کے عقیدہ کو بحال رکھا اور مناسب طریق پر اس کی تصدیق فرمائی تو پھر اس عقیدہ سے انکار کرنا محمد رسول اللہ ﷺ سے انکار کرنا ہے اور چونکہ نزول فرع ہے۔ اصل رفع کی یعنی رفع لازم ہے اور نزول ملزوم یا یوں سمجھو کہ پہلے رفع ہے اور بعد نزول جب رفع سے انکار ہوگا تو نزول سے ضرور انکار ہوگا اور یہ کفر ہے

صفحہ ١٠٦

کہ علامات قیامت اور یوم آخرت سے انکار کیا جائے۔ اب دیکھنا چاہیے کہ انجیل میں اس مسئلہ کی نسبت کیا بیان ہے؟ اور قرآن نے تصدیق فرمائی یا نہیں؟ چونکہ قرآن مجید دوسری سماوی کتابوں کا مصدق ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پہلے مسئلہ رفع عیسیٰؑ کی نسبت انجیل میں دیکھیں کہ انجیل میں رفع عیسیٰؑ کس طرح مذکور ہے کیونکہ مسلمانوں کو حکم ہے کہ فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لاتعلمون․ (النحل ٤٣) یعنی اہل کتاب سے دریافت کرو جو کچھ کہ تم نہیں جانتے۔ جب قرآن مجید کا دعویٰ ہے کہ میں مصدق تورات وانجیل ہوں۔ اتینہ الانجیل فیہ ھدی ونور (مائدہ ٤٦) یعنی ہم نے عیسیٰؑ کو انجیل دی جس میں (ہر طرح کی) سوجھ اور نور ہدایت ہے اور آگے فرمایا وانزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقا لما بین یدیہ من الکتاب و مھیمنا․ علیہ فاحکم بینھم بما انزل الله ولا تتبع أھواء ھم الخ․ (مائدہ ٤٨) ترجمہ اور (اے پیغمبر) ہم نے تمہاری طرف (بھی) کتاب برحق اتاری کہ جو کتابیں (اس کے اترنے کے وقت) پہلے سے موجود ہیں ان کی تصدیق کرتی ہے اور ان کی محافظ بھی ہے تو جو کچھ خدا نے تم پر اتارا ہے تم بھی اسی کے مطابق ان لوگوں میں حکم دو اور جو حق بات تم کو خدا سے پہنچی ہے اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو۔

قرآن مجید نے رفع عیسیٰؑ کی تصدیق تو فرمائی کہ ماقتلوہ یقیناً بل رفعہ الله الیہ یعنی حضرت عیسیٰؑ یقیناً قتل نہیں ہوئے اور نہ صلیب دیئے گئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا مگر رفع کی کیفیت مفصل تحریر نہیں فرمائی کہ کس طرح حضرت عیسیٰؑ مرفوع ہوئے یعنی اٹھائے گئے اس لیے ضروری ہے کہ ارشاد خداوندی اور حکم قرآنی کے مطابق انجیل سے اس مسئلہ رفع کی حقیقت کو دیکھیں اگر اس کی تصدیق قرآن اور انجیل سے ہو جائے تو پھر کسی مومن کا کام نہیں کہ اس مسئلہ سے انکار کرے چاہے اس کی عقل کے مطابق ہو یا نہ ہو کیونکہ مومن کی تعریف یہ ہے کہ فرمودہ خدا پر بلا دلیل عقلی ایمان لائے۔

مرزا قادیانی بھی یہ اصول قبول کر کے لکھتے ہیں کہ ”اگر تمھیں ان بعض امور کا علم نہ ہو جو تم میں پیدا ہوں تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو اور ان کی کتابوں کے واقعات پر نظر ڈالو تا اصل حقیقت تم پر منکشف ہو جائے گی ۔“ (بلفظہ ازالہ اوہام ص ٦١٦ خزائن ج ٣ ص ٤٣٣) پس مرزا قادیانی کا بھی اتفاق ہے کہ مسائل متنازعہ فیہما میں جس مسئلہ کی تفصیل قرآن میں بیان نہ ہو تو اہل کتاب کی کتابوں سے دیکھنا چاہیے اور ان کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ اب چونکہ رفع عیسیٰؑ میں تنازعہ ہے۔ ایک فریق ١٣ سو برس کے بعد کہتا ہے کہ

صفحہ ١٠٧

روحانی رفع ہوا۔ اب طریق انصاف یہ ہے کہ انجیل کی طرف رجوع کریں کیونکہ انجیل چشم دید شہادت حواریان حضرت عیسیٰؑ ہے اور معتبر ہے۔ جس سے مرزا قادیانی نے حضرت ایلیا کا قصہ اور حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فرمانا کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام ایلیا ہے، قبول کیا تو اب انجیل کے معتبر ہونے میں مرزا قادیانی کو کچھ شک نہیں۔ پس ان کے مریدوں کو بھی شک نہیں کرنا چاہیے اور انجیل کا بیان قبول کرنا چاہیے۔ یہ نہیں ہو سکتا اور نہ انصاف ہے کہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے واسطے انجیل جب ان کے مطلب کی کہے تو معتبر ہو اور جب وہی انجیل ان کے خلاف مطلب کہے تو محرف و مبدل اور غیر معتبر ہو جائے انجیل معتبر ہے تو دونوں کے واسطے ہے۔ اب ہم مرزا قادیانی کے ارشاد کے مطابق انجیل کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

رفع جسمانی پر انجیلی دلائل

حوالہ اوّل : ’’اور تب وہ (یعنی عیسیٰؑ) انھیں وہاں سے باہر بیت عنیا تک لے گیا اور اپنے ہاتھ اٹھا کے انھیں برکت دی اور ایسا ہوا کہ جب وہ انھیں برکت دے رہا تھا۔ ان سے جدا ہوا اور آسمان پر اٹھایا گیا۔

(انجیل لوقا باب ٢٤ آیت ٥٠ تا ٥٢ ص ١٠٩)

ناظرین! ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا اور اسی حالت میں اٹھایا جانا رفع جسمانی ثابت کرتا ہے کیونکہ روح کے ہاتھ نہیں ہوتے اور نہ روح دعا کر سکتا ہے۔ بغیر جسم کے۔

حوالہ دوم: ’’اور وہ یہ کہہ کے ان کے دیکھتے ہوئے اوپر اٹھایا گیا اور بدلی نے اسے ان کی نظروں سے چھپا لیا اور اس کے جاتے ہوئے جب وہ آسمان کی طرف تک رہے تھے دیکھو دو مرد سفید پوشاک پہنے ان کے پاس کھڑے تھے اور کہنے لگے کہ اے جلیلی مردو تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو۔ یہی یسوع جو تمھارے پاس سے آسمان پر اٹھایا گیا ہے۔ اسی طرح جس طرح تم نے اسے آسمان پر جاتے دیکھا پھر آئے گا۔‘‘

(اعمال باب ١ آیت ٩ تا ١١ ص ١٤٣)

ناظرین! غور فرمائیں کہ کس طرح رفع جسمانی اور نزول جسمانی ثابت ہے۔

حوالہ سوم: ’’غرض خداوند (عیسیٰؑ) انھیں ایسا فرمانے کے بعد آسمان پر اٹھایا گیا۔

(انجیل مرقس باب ١٦ آیت ١٩ ص ٦٧)

ناظرین! کیا صاف صاف ثبوت ہے کہ آسمان پر رفع جسمانی ہوا کیونکہ فرمانے کے بعد اٹھایا گیا لکھا ہے مذکورہ بالا حوالجات انجیل سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰؑ آسمان پر اٹھائے گئے اور آسمان کا لفظ ہر ایک انجیل میں موجود ہے اور جسد عنصری کے

صفحہ ١٠٨

ساتھ اٹھایا جانا ثابت ہے کیونکہ بدلی کا لفظ انجیل میں جو ہے۔ بتا رہا ہے کہ رفع جسمانی ہوا اور اگر رفع روحانی ہوتا تو بدلی کے ذریعہ اٹھایا جانا انجیل میں مذکور نہ ہوتا کیونکہ روح کے اٹھانے کے واسطے بدلی کی ضرورت نہیں ہے اور نہ کوئی نظیر ہے کہ روحانی رفع کے واسطے بادل آتے تھے اور ان کو اٹھا لے جاتے تھے اگر کوئی نظیر ہے تو کوئی مرزائی بتا دے۔ مگر نہ بتا سکیں گے۔ چاہے تمام مل کر زور لگائیں اور کوشش کریں۔ ان لم تفعلوا ولن تفعلوا الآیۃ

حوالہ چہارم: انجیل لوقا باب ٢٤ آیت ٣٩ میں لکھا ہے۔ ”میرے ہاتھ پاؤں کو دیکھو کہ میں ہی ہوں اور مجھے چھوؤ۔ اور دیکھو (٤٠) کیونکہ روح کو جسم اور ہڈی نہیں جیسا مجھ میں دیکھتے ہو۔ (٤١) اور یہ کہہ کے انھیں اپنے ہاتھ پاؤں دکھائے اور جب وے مارے خوشی کے اعتبار نہ کرتے اور متعجب تھے۔ اس نے ان سے کہا کہ یہاں تمھارے پاس کچھ کھانے کو ہے (٤٢) تب انھوں نے بھونی ہوئی مچھلی کا ایک ٹکڑا اور شہد کا ایک چھتا اس کو دیا۔ (٤٣) اس نے لے کر ان کے سامنے کھایا۔“ اس انجیل کے مضمون نے روز روشن کی طرح بتا دیا ہے اور بعبارت النص ثابت کر دیا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ نے روحانی رفع کی خود تردید فرما دی ہے کیونکہ صاف صاف فرمایا کہ روح کو جسم اور ہڈی نہیں۔ جیسا کہ مجھ میں دیکھتے ہو اور پھر حواریوں کی تسلی کے واسطے بھونی ہوئی مچھلی کا ٹکڑا اور شہد کھایا۔ حالانکہ روح کھانے پینے سے پاک ہے۔ اب ثابت ہو گیا کہ حضرت عیسیٰؑ بجسد عنصری آسمان پر اٹھائے گئے کیونکہ پہلے شاگردوں کو دکھائی دیئے اور اسی حالت میں آسمان پر اٹھائے گئے اور قرآن مجید نے اس مضمون انجیل کی تصدیق بھی فرمائی جیسا کہ قرآن میں ہے۔ وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ اور پھر تاکید کے طور پر دوبارہ فرمایا کہ مرا نہیں بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اس جگہ غور طلب امر یہ ہے کہ قرآن مجید کا جو دعویٰ ہے کہ میں انجیل و دیگر کتب سماوی کا مصدق ہوں۔ یہ دعویٰ تب ہی سچا ہو سکتا ہے جب قرآن نے بھی جسمانی رفع کی تصدیق فرمائی اور یہ کسی آیت قرآن میں نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کا رفع روحانی ہوا اور رفع جسمانی کی تردید کی ہے جس طرح تثلیث وابن اللہ اور الوہیت مسیح کی تردید ہے بلکہ انجیل وقرآن رفع جسمانی عیسیٰؑ میں متفق ہیں۔ اب کسی مسلمان کا کام نہیں کہ انکار کرے۔ اب ہم ذیل میں زیادہ تسلی کے واسطے عقلی دلائل پیش کرتے ہیں تاکہ کسی مرزائی کو جائے کلام باقی نہ رہے۔

صفحہ ١٠٩

دلیل اول

قتل اور صلیب کا فعل جسم پر وارد ہوتا ہے نہ کہ روح پر کیونکہ روح ایک جوہر لطیف ہے جو کہ نہ محسوس در خارج ہے اور نہ جسم ہے نہ جسمانی ہے۔ اس کا قتل ہونا یا صلیب دیا جانا ممکن نہیں۔ جسم ہی قتل کیا جاتا ہے اور جسم ہی صلیب دیا جاتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا کہ حضرت عیسیٰؑ نہ قتل ہوئے اور نہ صلیب دیے گئے بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے تو ثابت ہوا کہ جسم ہی کا رفع ہوا کیونکہ قتل جسم نے ہونا تھا اور صلیب پر بھی جسم نے ہی لٹکایا جانا تھا۔ جب اسی چیز کا رفع ہوا جس نے قتل ہونا تھا تو ثابت ہوا کہ جسم ہی مرفوع ہوا۔ جس پر قتل و صلب کا فعل وارد ہونا تھا نہ کہ روح کیونکہ روح کو نہ کوئی قتل کر سکتا ہے اور نہ کوئی سولی دے سکتا ہے۔ جب قتل وصلیب سے جسم بچایا گیا تو ضرور جسم کا ہی رفع ہوا اور یہی مقصود تھا اس جگہ مرزا قادیانی اور ان کے مرید اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن میں آسمان کا لفظ نہیں لکھا اور یہ تحریف ہے کہ خدا کی کلام میں کوئی لفظ زیادہ یا کم کیا جائے۔ اس کا الزامی جواب یہ ہے کہ یہ تحریف تو آپ کرتے ہیں کہ روح کا لفظ اپنے پاس سے لگا کر رفع روحانی کہتے ہیں۔ اگر رفع روحانی لیں تو پھر یہ الفاظ زیادہ کرنے پڑتے ہیں۔ وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ وصلب جسدہ و رفع روحہ اور یہی تحریف و الحاد ہے۔ پس جیسا آسمان کا لفظ نہیں ویسا ہی روح کا لفظ بھی نہیں۔ مگر انجیل میں آسمان کا لفظ موجود ہے۔ اس لیے قرآن کی تفسیر انجیل کے مطابق کرنا تحریف نہیں ہے کیونکہ حضرت عیسیٰؑ نے خود فرمایا کہ میں اسی جسم کے ساتھ آسمان پر جاتا ہوں اور بدلی کا لفظ اسی واسطے ہے تا کہ ثابت ہو کہ جسم اٹھایا گیا کیونکہ روح مادی جسم نہیں ہے کہ اس کے اٹھانے کے واسطے بادل کی ضرورت ہو۔ بادل مادی جسم کو ہی اٹھاتا ہے۔ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ سینکڑوں ہزاروں من پانی کا بوجھ بادل اٹھائے پھرتے ہیں اور جگہ جگہ میں پانی برساتے پھرتے ہیں۔ حضرت عیسیٰؑ کا بحکم ربی اٹھایا جانا کچھ محال نہیں۔ ہوائی جہازوں کو دیکھو سینکڑوں من لوہا کس طرح ہوا اٹھائے پھرتی ہے۔ انسان میں تو اس قدر طاقت ہو کہ ہزاروں من بوجھ کرۂ ہوا پر لے جائے۔ مگر خدا تعالیٰ ایک من یا ڈیڑھ من کا آدمی ہوا پر نہ لے جاسکے۔ ایسے عاجز خدا کو تو کوئی خدا نہیں مان سکتا جو حکمت اور قدرت میں انسان اپنی مخلوق سے کم ہو۔

دوسرا تحقیقی جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں جو مضامین بطور قصہ بیان ہوتے ہیں وہ اختصار سے ہوا کرتے ہیں کیونکر پہلی کتابوں میں ان کی تفصیل موجود ہے اور اسی

صفحہ ١١٠

واسطے حکم ہے کہ اہل کتاب سے سوال کرو اگر تم پورا قصہ نہیں جانتے۔ پس یہ خدا تعالیٰ کا فرمانا کہ ہم نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا انجیل کی تصدیق کے لیے کافی ہے۔

خدا تعالیٰ آسمانوں پر کا جواب

اس جگہ مرزا قادیانی اور مرزائی ایک اور اعتراض کیا کرتے ہیں کہ خدا آسمان پر ہی ہے اور زمین پر نہیں۔ اس اعتراض کا جواب اوّل تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی اور مرزائی تو یہ اعتراض ہرگز نہیں کر سکتے کیونکہ ان کا خدا آسمان پر ہے۔ جس نے مرزا قادیانی کا نکاح آسمان پر پڑھا۔ جیسا کہ ان کی پیشگوئی تھی۔ اگرچہ یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ مگر یہ ثابت ہوا کہ مرزائی خدا آسمان پر ہے اور وہاں سے محمدی بیگم کا نکاح مرزا قادیانی سے باندھا۔ نیز مرزا قادیانی نے علماء کو مخاطب کر کے جو کہا ہے کہ ہمارا اور ان کا مقدمہ آسمان پر دائر ہے۔ مرزا قادیانی کا الہام ینصروک رجال نوحی الیہم من السماء۔ (حقیقۃ الوحی ص ٧٣ خزائن ج ٢٢ ص ٧٧) ترجمہ: مرزا قادیانی تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کے دلوں میں ہم اپنی طرف سے الہام کریں گے۔ اب مرزا قادیانی نے سماء اور خدا کے ایک ہی معنی کیے ہیں۔ پس اپنی طرف اٹھانا آسمان پر اٹھانا ثابت ہوا۔ پھر مرزا قادیانی کا الہام ”آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا ہے۔“ (دیکھو حقیقۃ الوحی ص ٨٩ خزائن ج ٢٢ ص ٩٣) اس سے بھی ثابت ہوا کہ مرزائی خدا کا کارخانہ آسمان پر ہے۔ پھر الہام مرزا قادیانی ینزل علیک اسرار من السماء۔ ہم آسمان سے تیرے پر کئی پوشیدہ باتیں نازل کریں گے۔“ (حقیقۃ الوحی ص ٨٩ خزائن ج ٢٢ ص ٩٢) اس سے ثابت ہے کہ خدا آسمان پر ہے اور آسمان سے مرزا قادیانی پر پوشیدہ باتیں نازل کرتا ہے۔ پھر الہام مرزا قادیانی ”کان اللہ نزل من السماء گویا آسمان سے خدا اترے گا“ اس سے بھی خدا کا آسمان پر ہونا ثابت ہے۔ (حقیقۃ الوحی ص ٩٠ خزائن ج ٢٢ ص ٩٩) پھر الہام قادیانی ”لک درجۃ فی السماء۔ تیرا آسمان پر بڑا مرتبہ ہے۔“ (حقیقۃ الوحی ص ٩٠ خزائن ج ٢٢ ص ٩٣) اس سے بھی ثابت ہے کہ خدا آسمان پر ہے اور وہاں مرزا قادیانی کا بڑا مرتبہ اپنے پاس رکھا ہے۔ پھر ”قال ربک انہ نازل من السماء ما یرضیک تیرا رب فرماتا ہے کہ ایک امر آسمان سے نازل ہو گا کہ تو خوش ہو جائے گا۔“ (حقیقۃ الوحی ص ٧٣ خزائن ج ٢٢ ص ٧٧) غرض مرزائیوں کا خدا تو بیشک آسمان پر ہے اور آسمان سے ہی سب اسرار و احکام و مراتب نازل کرتا ہے۔ جب وہی خدا فرماتا ہے کہ ہم نے عیسیٰ کو اپنی طرف اٹھا لیا تو ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر اٹھائے گئے کیونکہ خدا آسمان پر ہے۔

صفحہ ١١١

ہاں دوسرے مسلمان اعتراض کریں تو ان کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ہر جگہ حاضر ناظر ہے اور ہر جگہ زمینوں و آسمانوں میں موجود ہے۔ اس کی حکومت سب جگہ ہے اور اس کا جلوہ ہر اجسام اور اجرام میں ہے۔ یعنی تمام موجودات ارضی و سماوی کا خالق و مالک ہے اور ہر ایک میں اس کا تصرف ہے یہ اس کی مرضی ہے کہ کسی وجود کو خواہ آسمان پر رکھے خواہ زمین پر رکھے اس کی ذات پاک ہر جگہ موجود ہے۔ مگر یہ محاورہ کتب الہی کا ہے کہ آسمانی بادشاہت اور آسمانی صحائف جب کہا جائے تو اس سے مراد خدا کی بادشاہت اور خدا کی کتاب ہوتی ہے اور اس کے عکس جب کہا جاتا ہے کہ خدا کی کلام نازل ہوئی ہے تو مراد ہوتی ہے کہ آسمان سے آئی ہے۔ غرض خدا تعالیٰ کا تعلق زیادہ انسانی مفہوم کے واسطے آسمان سے ہے اور ثم استوی علی العرش نص قرآنی اس کی شاہد ہے مگر بلا کیف کنہ یعنی خدا تعالیٰ عرش پر ہے۔ مگر بلا کیف و کنہ کے یعنی کیونکر اور کس طرح عرش پر مقیم ہے۔ یہ نہیں کہہ سکتے جب کوئی کہتا ہے کہ میرا انصاف آسمان پر ہو گا تو اس سے متکلم کی مراد خدا تعالیٰ ہوتی ہے۔ پس اسی محاورہ کے لحاظ سے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رفعہ اللہ الیہ کہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا یعنی آسمان پر اٹھا لیا۔ اس رفعہ اللہ الیہ کی تفسیر محمد رسول اللہ ﷺ نے خود فرما دی ہے۔ جس کے مقابل کسی خود غرض اور مدعی کی تاویل و تفسیر قابل اعتبار نہیں کیونکہ وہ اپنے مطلب کے واسطے غلط تفسیر کرتا ہے۔ عن عبدالله بن عمرؓ قال قال رسول اللہ ﷺ ينزل عيسى ابن مريم الى الارض فتزوج ويولد له ويمكث خمساً و اربعين سنة ثم يموت فيدفن معي في قبرى فاقوم انا و عيسى ابن مريم فى قبر واحد بين ابي بكر و عمر رواه ابن جوزى فى كتاب الوفا. (مشکوۃ ص ٤٨٠ باب نزول عیسٰیؑ) ترجمہ روایت ہے عبداللہ بن عمر سے راضی ہو اللہ تعالیٰ دونوں باپ بیٹا سے کہا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اتریں گے عیسٰیؑ بیٹے مریمؑ کے طرف زمین کی پس نکاح کریں گے اور پیدا کی جائے گی ان کے لیے اولاد اور ٹھہریں گے ان میں ٤٥ برس۔ پھر مریں گے عیسیٰ پس دفن کیے جائیں گے بیچ قبر میری کے درمیان ابوبکر اور عمر کے اس حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کا رفع جسمانی آسمان پر ہوا اور حیات بھی ثابت ہوئی اور اس حدیث کو مرزا قادیانی نے مانا ہوا بھی ہے۔ (دیکھو نزول مسیح ص ٣ حاشیہ خزائن ج ١٨ ص ٣٨١ حاشیہ) اگر اہل دنیا اس بات کو جانتے کہ اس کے کیا معنی ہیں کہ اللہ کا نبی فیدفن معی فی قبری تو وہ شوخیاں نہ کرتے اس حدیث سے کوئی مرزائی انکار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ مرزا قادیانی تسلیم کر گئے ہیں۔ پس

صفحہ ١١٢

تمام حدیث کے مضمون سے رفع جسمانی ہی ثابت ہوا اور حیات مسیح بھی ثابت ہوئی اور یہ بلحاظ حفاظت کامل کیا، تاکہ یہود حضرت عیسیٰؑ کو تکلیف نہ دیں باقی رہا یہ اعتراض کہ کیا زمین پر خدا قادر نہ تھا کہ حفاظت کرتا۔ کیوں آسمان پر حضرت عیسیٰ کو اٹھایا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ قادر بیشک ہے مگر وہ کبھی کبھی اپنے خاص بندوں یعنی انبیاء علیہم السلام کی حفاظت کے واسطے خاص خاص کرشمہ قدرت دکھاتا رہتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ وہ قادر مطلق ہے۔ کسی قانون قدرت کا پابند نہیں دیکھو حضرت آدمؑ کی نسبت خاص کرشمہ قدرت دکھایا کہ بغیر ماں باپ پیدا کیا۔ حضرت ابراہیمؑ پر آگ سرد کر دی۔ حضرت موسیٰؑ کے واسطے لکڑی کا سانپ بنایا اور اس کی جسمانی حفاظت جادوگروں سے کی حضرت عیسیٰؑ کو بغیر باپ پیدا کیا۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کی خاطر کفار عرب کو اندھا کر دیا کہ وہ حضور ﷺ کو غار میں نہ دیکھ سکے اور تمدنی و سیاسی و الٰہی علوم بغیر استاد تعلیم فرمائے۔ حضرت رب العزت کی عادت ہمیشہ سے چلی آئی ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کے ساتھ خاص معاملہ رکھتا ہے۔ اور خاص طور پر ان کی حفاظت جسمانی و روحانی کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ قادر تھا کہ نمرود کے دل پر تصرف فرما کر حضرت ابراہیمؑ کی خلاصی کرا دیتا مگر اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ نمرود کو اس بات پر آمادہ کیا کہ حضرت ابراہیمؑ کو جلتی آگ میں ڈالے اور اس طرف خاص کرشمہ قدرت دکھانے کے واسطے آگ کو حکم کیا کہ ابراہیمؑ پر سرد ہو چنانچہ وہ آگ حضرت ابراہیمؑ پر سرد ہو گئی۔ ایسا کیوں کیا؟ اس واسطے تاکہ آئندہ نسلوں کے واسطے میری قدرت لامحدود کا نشان رہے۔ ایسا ہی فرعون سے حضرت موسیٰؑ کو بچا سکتا تھا مگر کرشمہ قدرت دکھانے کے واسطے اور آئندہ نسلوں کی عبرت کے واسطے فرعون کو سمندر میں اسی جگہ جس جگہ سے حضرت موسیٰؑ صحیح سلامت بمعہ امت کے گزرے تھے۔ غرق کیا۔ ایسا ہی حضرت خلاصہ موجودات محمد مصطفےٰ ﷺ کی حفاظت خدا کر سکتا تھا۔ مگر کرشمہ قدرت دکھانے کے واسطے غار میں حفاظت فرمائی اور لطف یہ کہ کفار نزدیک ہیں اور دیکھ نہیں سکتے۔ ایسا ہی مصلحت ربی نے عجوبہ نمائی اور معجز نمائی حضرت عیسیٰؑ کے حق میں دکھائی کہ آسمان پر اٹھا لیا۔ تو کونسی بات مشکل؟ ہے بلکہ یہ علام الغیوب کو معلوم تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے مرید میری قدرت کا انکار کریں گے اور مجھ کو اپنی طرح عاجز سمجھیں گے کہ میں آسمان پر کسی کو نہیں لے جا سکتا اسی واسطے خدا تعالیٰ نے یہ کرشمہ قدرت دکھایا تاکہ ثابت ہو کہ خدا تعالیٰ ہر ایک بات پر قادر ہے۔ حضرت عیسیٰؑ کی ولادت و رفع بطریق معجزہ کر کے اور رفع جسمانی کر کے

صفحہ ١١٣

ثابت کر دیا کہ ہم جسد عنصری کو آسمان پر لے جانے کے لیے عاجز نہیں ہیں۔ یہ تو جہالت کے سوال ہیں کہ زمین پر خدا حفاظت نہ کر سکتا تھا۔ یہ صرف خدا تعالیٰ کی قدرت سے جہل کا باعث ہے۔ یہ لوگ جن کی عرفان کی آنکھ اندھی ہے خدا تعالیٰ کو بھی اپنی مانند ایک ناچیز انسان خیال کرتے ہیں اور اپنی ذات پر قیاس کر کے جس چیز پر اپنی طاقت عاجز پاتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کو بھی عاجز سمجھتے ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید نے اسی واسطے پہلے انبیاء علیہم السلام کے قصے بیان فرمائے ہیں تا کہ مومنین کتاب اللہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں کو محدود نہ سمجھیں مگر آج کل علوم جدیدہ کے اثر سے کتب سماوی کے مضامین سے انکار اسی واسطے کیا جاتا ہے کہ محال عقلی ہیں۔ جو مدعی ہیں وہ خود خالی پٹارہ ہیں۔ اس واسطے پہلے انبیاء کے معجزات سے منکر ہوتے ہیں کیونکہ خود معجزہ دکھانے سے عاجز ہیں کیا اچھا ہوتا کہ مرزا قادیانی ایک ہی معجزہ دکھا کر اسلام کی زندہ مثال قائم کرتے مگر وہ خود خالی تھے۔ باتوں باتوں سے دعویٰ تو یہ کرتے کہ میں تمام انبیاء علیہم السلام کا نمونہ ہوں۔ مگر معجزہ ایک بھی نہ دکھایا۔ دل سے پیشگوئیاں ہی کرتے اور وہ بھی موت کی کرتے جب وہ بھی جھوٹی نکلتی تو باتیں بنا کر ٹال دیتے۔ یہ کبھی بیماروں کو اچھا کیا؟ آگ میں کودے؟ لکڑی کا سانپ بنایا؟ پتھر کی کنکریوں نے زبان حال سے ان کی تصدیق کی؟ جیسا کہ محمد ﷺ کی۔ ہرگز نہیں پس خود خالی تھے۔ پہلوں کو بھی جھٹلایا۔

دوسری دلیل

رفع جسمانی کی یہ ہے کہ عیسیٰ جسم و روح مرکبی حالت کا نام ہے صرف روح کو عیسیٰ نہیں کہتے اور نہ صرف جسم کو عیسیٰ کہہ سکتے ہیں پس اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ حضرت عیسیٰ نہ فوت ہوئے اور نہ قتل ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھا گئے تو ثابت ہوا کہ رفع جسمانی تھا نہ کہ رفع روحانی ہوا۔ ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام اور ان کی امتوں کے بزرگان مومنین سے صرف حضرت عیسیٰؑ کا ہی رفع ہوا یا حضرت ادریسؑ کا باقی کسی کا رفع روحانی نہیں ہوا کیونکہ ان کا ذکر نہیں۔ اگر کہو کہ سب کا رفع روحانی ہوتا ہے جو نجات یافتہ ہوتا ہے تو پھر یہ کلام ربانی پایۂ فصاحت سے گر جاتی ہے کیونکہ فضول کلام ہے۔ کیا حضرت عیسیٰؑ کو اپنے رفع روحانی میں شک تھا کہ خدا تعالیٰ نے ان کے رفع روحانی کا وعدہ فرمایا اور رفع روحانی کر کے وعدہ پورا کیا ہرگز نہیں۔ انبیاء علیہم السلام تو پہلے ہی سے نجات یافتہ ہوتے ہیں ان کے رفع روحانی میں تو ہرگز شک نہیں پس ثابت ہوا کہ رفع جسمانی تھا۔ مرزا قادیانی اور مرزائی ایک بڑا دھوکہ دیا کرتے ہیں اور وہ یہ ہے

صفحہ ١١٤

کہ جو صلیب دیا جائے اس کا رفع روحانی نہیں ہوتا۔ یہ بالکل غلط ہے اور انصاف خداوندی کے برخلاف ہے کہ ایک طرف تو کفار ایک نبی و رسول کو قتل کریں اور صلیب دیں اور خدا تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بے انصافی کرے کہ ان کا روحانی رفع بھی نہ ہو۔ اصل میں مرزا قادیانی ایسے مطلب پرست تھے کہ اپنے مطلب کے واسطے طبع زاد بات بنا لینا عیب نہ سمجھتے تھے بلکہ آدھی عبارت کتب سماوی کی پیش کر کے عوام کو مغالطہ میں ڈال کر اپنا الو سیدھا کیا کرتے تھے۔ یہ جو عام شور مچا رکھا ہے کہ چونکہ کاٹھ پر لٹکایا جانا لعنتی ہونے کا نشان تھا۔ اس لیے حضرت عیسیٰ کی جان صلیب پر نہ نکلی تھی۔ بالکل غلط ہے کیونکہ یہ صریح ظلم خدا کا حضرت عیسیٰ کے حق میں ہوتا ہے کہ یہود کوڑے مارتے ہیں کیل اس کے اعضاء میں ٹھوکتے ہیں خون زخموں سے جاری ہے اور طرح طرح کے عذاب ہو رہے ہیں۔ مگر یہود کا طرفدار خدا حضرت عیسیٰ کی جان بھی نہیں نکلنے دیتا یہ خوب انصاف خداوندی ہے کیونکہ اگر صلیب پر مر جائے تو خدا اس کا رفع روحانی نہیں کر سکتا۔ کس قدر لغو ہے ایسا عذاب تو دوزخیوں کے واسطے مقرر ہے کہ عذاب ہو گا اور جان نہ نکلے گی۔ اصل میں تورات کی عبارت یہ ہے۔

نقل تورات: استثنا باب ٢٢۔ آیات ٢٢ و ٢٣۔ ’’اور اگر کسی نے کچھ ایسا گناہ کیا ہو جس سے اس کا قتل واجب ہو اور وہ مارا جائے اور تو اسے درخت پر لٹکائے تو اس کی لاش رات بھر درخت پر لٹکی نہ رہے بلکہ تو اسی دن اسے گاڑ دے کیونکہ جو پھانسی دیا جاتا ہے خدا کا ملعون ہے۔ اس لیے چاہیے کہ تیری زمین جس کا وارث خداوند تیرا خدا تجھ کو کرتا ہے ناپاک نہ کی جائے۔‘‘

اب ناظرین کو معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی صرف آیت ٢٣ کا مضمون تھوڑا سا پیش کر کے ہر ایک کتاب میں لکھتے ہیں کہ کاٹھ پر مرنا چونکہ لعنتی ہونیکا نشان تھا۔ اس لیے حضرت عیسیٰ کی جان صلیب پر نہ نکلی تھی۔ صلیب کے عذابوں سے بیہوش ہو گیا تھا۔ اور ایسا بیہوش کہ مردہ اور زندہ میں فرق نہ ہو سکا یہ بات کوئی ذی ہوش تو تسلیم نہیں کر سکتا کیونکہ ایسی کوئی بیہوشی اور غشی نہیں کہ تنفس بند ہو جائے یعنی سانس کا آنا جانا بند ہو جائے۔ اگر سانس بند ہو گیا اور جسم بے حس ہو گیا تو پھر اسی کا نام موت ہے۔ یہودی ایسے بے عقل نہ تھے کہ جس کام کے واسطے انھوں نے ہمیشہ کی ذلت اور لعنت لی وہ کام ادھورہ چھوڑ کر مطمئن ہو جاتے حالانکہ ان کو یہ بھی علم تھا کہ یہ شخص پیشگوئی کر چکا ہے کہ میں پھر زندہ ہو جاؤں گا تو پھر بھی موت کی تصدیق نہ کرتے مگر جب چشم دید شہادت انجیل

صفحہ ١١٥

میں موجود ہے کہ داروغہ نے آ کر دیکھا کہ مسیح مر چکا ہے مگر تاہم ایک سپاہی نے بھالے سے اس کی پسلی چھیدی جس سے لہو اور پانی نکلا۔ (دیکھو انجیل یوحنا باب ١٩۔ آیت ٣٤)

انجیل کے مقابل اور چشم دید شہادت کے سامنے مرزا قادیانی کی طبع زاد کہانی جو انھوں نے اپنی غرض کے لیے ١٩ سو برس کے بعد بنائی کہ جان نہ نکلی تھی اور رفع روحانی ہوا۔ کیونکر تسلیم ہو سکتی ہے؟ یہودیوں کا یہ ہرگز اعتقاد نہیں کہ اگر کوئی بے گناہ بھی پھانسی دیا جائے تو ملعون ہوتا ہے کیونکہ تورات میں صاف لکھا ہے کہ اگر کسی نے ایسا گناہ کیا ہو۔ جس سے اس کا قتل واجب ہو تو وہ ملعون ہے۔ مگر حضرت عیسیٰ تو بے گناہ تھے۔ ان کا رفع روحانی نہ ہونا خدا کا ظلم ہے۔ پس یہ ڈھکونسلا غلط ہے کہ رفع روحانی ہوا۔ دوم یہ لغو فعل ہے کہ رفع روحانی کر کے خدا تعالیٰ حضرت عیسیٰ کی صداقت ثابت کرے کیونکہ جب عیسیٰ کا رفع روحانی بعد وفات ہوا تو فضول ہے کیونکہ زندگی میں تو اس کی نبوت کی تصدیق نہ ہوئی مرنے کے بعد رفع روحانی کی تصدیق نبوت کس کام کی؟ کیونکہ رفع روحانی کے بعد تو نہ وہ نبوت کا کام کر سکتے تھے اور نہ تصدیق کسی کام کی تھی اور نہ یہودیوں پر حجت تھی کیونکہ یہودیوں کو رفع روحانی کا علم نہ ہوا جب رفع روحانی محسوس نہ ہوا تو یہودیوں پر حجت نہیں اور فضول ہے اور خدا کی ذات فضولیات سے پاک ہے۔ پس رفع روحانی کا خیال ردی ہے اور باطل عقیدہ ہے۔

تیسری دلیل

انجیل میں صاف صاف لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ زیتون کے پہاڑ پر اپنے شاگردوں کے حق میں دعائے برکت دیتے ہوئے اٹھائے گئے۔ (دیکھو انجیل متی باب ٢٤ آیت ٣ بلفظہ) ”اور جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا۔ اس کے شاگردوں نے خلوت میں اس پاس آ کے کہا ہم سے کہو کہ یہ کب ہو گا اور تیرے آنے کا اور زمانہ کے آخر ہونے کا نشان کیا ہے۔“

(انجیل متی باب ٢٤ آیت ٣ ص ٣٣)

انجیل کے اس مضمون سے بروزی نزول بھی باطل ہوا کیونکہ اصالتاً آنا لکھا ہے۔ خیر یہ بحث الگ ہے فی الحال یہ ثابت کرنا تھا کہ شاگردوں سے باتیں کرتا ہوا حضرت عیسیٰ مرفوع ہوا اور یہ مشاہدہ ہے کہ جسم و روح دونوں کی ترکیبی حالت سے باتیں ہو سکتی ہیں۔ صرف روح باتیں نہیں کرتی اور نہ نظر آتی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ رفع جسمانی تھا نہ کہ روحانی چنانچہ ذیل کی حدیث نے اس کی تصدیق بھی کی ہے۔ دیکھو تفسیر عزیزی میں زیتون کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ام المومنین حضرت صفیہؓ جو ازواج مطہرات

صفحہ ١١٦

سے آنحضرت ﷺ کے حرم بیت المقدس کو تشریف لے گئیں اور مسجد اقصٰی میں نماز پڑھ کر فارغ ہوئیں تو مسجد سے نکل کر طور زیتا پر تشریف فرما ہوئیں اور وہاں پر بھی نماز پڑھی پھر اس پہاڑ کے کنارے کھڑے ہو کر ارشاد کیا کہ یہ وہی پہاڑ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ یہاں سے آسمان پر تشریف لے گئے تھے۔ (تفسیر عزیزی ص ٢٥) پس ثابت ہوا کہ رفع جسمانی کا عقیدہ ازواج مطہرات میں بھی مروج تھا۔

چوتھی دلیل

ما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ سے ثابت ہے کہ قتل کا ارادہ ہوا اور قتل وقوع میں نہ آیا بلکہ رفع ہوا تو ضروری تھا کہ زمانہ قتل و زمانہ رفع میں فاصلہ نہ ہو یعنی جس وقت مصلوب قتل سے بچایا گیا اسی وقت اس کا رفع ہوتا کیونکہ بل کا اضراب بتا رہا ہے کہ قتل نہیں ہوا بلکہ اٹھایا گیا۔ پس ثابت ہوا کہ جس وجود عنصری نے قتل ہونا تھا۔ اسی کا رفع ہوا۔ مثال کے طور پر سمجھو کہ جب کوئی کہے کہ زید کو سزا نہیں دی گئی بلکہ انعام دیا گیا اب اس واقعہ سزا اور انعام کے زمانہ میں فاصلہ ہرگز جائز نہیں، یعنی یہ نہیں ہوسکتا قتل کی نفی اب ہو اور رفع ٨٧ برس کے بعد ہو۔ اس فاسد عقیدہ سے تو قرآن میں تحریف ہوتی ہے پھر قرآن کی آیت یوں چاہیے۔ ما قتلوہ یقیناً بل حفظہ اللہ من ایدیہم ثم مات و رفع روحہ مگر یہ تحریف الحاد اور یہودیت ہے۔ دوم! حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ ١٢٠ برس تک دنیا میں رہے اور ١٢٠ برس کی عمر کے بعد ان کا رفع ہوا۔ یہ حدیث مجدد وقت و محقق بے غرض نواب سید صدیق الحسن خاں صاحب والیٔ ریاست بھوپال نے اپنی کتاب حج الکرامہ فی آثار القیامہ پر نقل کی ہے۔ وہو ھذا ”گویم رفع او یعنی عیسیٰؑ بعمر یکصد و بست سال است چنانچہ طبرانی و حاکم در مستدرک (عائشہ آوردہ اند کہ قال فی مرضہ الذی توفی فیہ لفاطمۃ ان جبریل کان یعارضنی القرآن فی کل عام مرۃ وانہ عارضنی بالقرآن العام مرتین واخبرنی۔ ان عیسیٰ بن مریم عاش عشرین ومائتہ سنۃ۔

(حج الکرامہ فی آثار القیامہ ص ٤٢٨)

پانچویں دلیل

وعدہ خداوندی حضرت عیسیٰؑ کی دعا پر ان الفاظ میں ہوا تھا کہ یا عیسیٰ انی متوفیک و رافعک کہ اے عیسیٰؑ میں تیری حفاظت کروں گا اس طریق سے کہ پورا پورا تم کو اپنے قبضہ میں کرلوں گا کہ کفار کے شر سے تو محفوظ رہے گا۔ چنانچہ مطہرک کا لفظ بتا رہا ہے۔ یعنی تین وعدے ہیں ایک! اپنے قبضہ میں کرنا۔ دوم! اٹھا لینا۔ سوم! پاک

صفحہ ١١٧

کرنا۔ اب ظاہر ہے کہ مخاطب عیسیٰؑ ہے جو کہ جسم و روح دونوں کا نام ہے۔ دونوں کا توفی اور دونوں کا رفع ہونا چاہیے اور دونوں کو پاک ہونا چاہیے کیونکہ روح اور جسم دونوں کے ساتھ وعدہ ہے اور یہ بالکل لغو بات ہے کہ ایک شخص فریاد کرے کہ حضور دشمن مجھ کو مارتے ہیں تو حضور بھی وعدہ کریں کہ ہاں میں تم کو ماروں گا پس متوفیک کے معنی میں تم کو ماروں گا اس جگہ غلط ہیں کیونکہ جس خطرہ سے ڈر کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دعا کی جب وہی خطرہ خدا نے اس کو دلایا تو یہ تسلی کا باعث نہیں ہے۔ تسلی تو تب ہے جبکہ اس خطرہ سے سائل کو بچایا جائے۔ جس سے وہ ڈرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے الفاظ یہ ہیں کہ روح تو تیار ہے مگر جسم کمزور ہے جس سے ثابت ہے کہ جسمانی حفاظت کی ہی دعا تھی اور وہی وعدہ پورا ہوا۔ پس حضرت عیسیٰؑ کو صلیب کے زخموں اور عذابوں سے خوف تھا ورنہ نبی اللہ کی شان سے بعید ہے کہ موت سے ڈرے پس ڈر جو تھا تو یہی تھا کہ صلیب پر نہ لٹکایا جاؤں اور مجھ کو ذلت و رسوائی نہ ہو۔ مگر مرزا قادیانی اور مرزائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھاتے ہیں اور طرح طرح کے عذابوں سے اس کی ذلت قبول کرتے ہیں تو غور اور انصاف سے کہو کہ مطہرک کا وعدہ اور متوفیک کا وعدہ پورا ہوا؟ وعدہ تو تب ہی پورا ہوتا ہے جبکہ یہود کے شر سے ایسی طرح سے محفوظ کیے جائیں کہ ان کا ہاتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک نہ پہنچے اور یہود مس تک نہ کریں۔ پس رفع جسمانی لازمی امر تھا تا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صحیح سلامت اٹھائے جائیں اور ان کی حفاظت پوری پوری ہو اور کسی کافر کو ان تک پہنچ نہ ہو۔ اس لیے رفع جسمانی ہوا اور سب وعدے پورے ہوئے۔ یعنی پہلے اللہ تعالیٰ نے عیسیٰؑ کو اپنے قبضہ میں کر لیا اور پھر رفع کر کے کافروں کی گندی صحبت اور شرارتوں اور تکلیف رسانی سے پاک فرمایا جیسا کہ واذ کففت عنک بنی اسرائیل سے ثابت ہے۔ اس جگہ مرزائی کہا کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ نے ممیتک کے معنی کیے ہیں جس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابن عباسؓ تقدیم و تاخیر کر کے یہ معنی کرتے ہیں کہ اے عیسیٰ میں پہلے تیرا رفع کروں گا اور بعد نزول ماروں گا۔ اگر ابن عباس کے یہ معنی تسلیم کرتے تو پھر جو معنی انھوں نے فلما توفیتنی کے رفعتنی کیے ہیں۔ وہ بھی تسلیم کرو۔ اگر ابن عباسؓ کے معنی رفعتنی نہیں مانتے تو پھر ابن عباسؓ کی سند کیوں پیش کرتے ہو؟ افتؤمنون ببعض الکتاب کے مصداق بنتے ہو؟ یہ کسی کا مذہب نہیں کہ رفع جسمانی نہیں ہوا اور موت کے بعد رفع روحانی ہوا۔ جب موت ثابت نہیں تو رفع بعد موت کے روحانی بھی غلط ہوا۔

صفحہ ١١٨

چھٹی دلیل

ہر ایک نبی کی حفاظت خدا تعالیٰ روحانی و جسمانی بطور معجزہ خرق عادت و محال عقلی کے طور پر کرتا رہا ہے۔ چنانچہ حضرت ابراہیمؑ کی حفاظت جسمانی فرمائی اور آگ کی عادت جو جلانے کی تھی۔ اسکو سردی سے بدل دیا یہ خلاف قانون قدرت نہیں ہے کہ آگ پانی کا کام دے اور سرد ہو جائے۔ حضرت نوحؑ کی بھی حفاظت جسمانی فرمائی اور بذریعہ کشتی طوفاں سے بچایا۔ حضرت یونسؑ کی حفاظت بھی جسمانی فرمائی اور خلاف قانون قدرت مچھلی کے پیٹ میں ہضم اور بول براز نہ ہونے دیا۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی حفاظت بھی جسمانی فرمائی اور غار ثور میں باوجود کہ کفار وہاں پہنچ بھی گئے خلاف قانون قدرت غار کا منہ ایک جانور کے جالے سے ایسا بند فرمایا کہ کفار کو وہم بھی نہ ہوا کہ کوئی اس غار کے دروازہ سے گزرا ہے۔ جب سنت اللہ تعالیٰ یہی ہے کہ وہ اپنے خاص بندوں کی حفاظت جسمانی فرماتا رہا ہے تو حضرت عیسیٰؑ کے حق میں وہ کیوں خلاف سنت کرتا؟ اور جسمانی عذاب دلوا کر یہود کو خوش کر کے تمام جہاں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ذلیل و رسوا کر کے صرف روحانی رفع دیتا جو کہ کوئی حجت نہ تھی روحانی رفع کا کیا ثبوت خدا تعالیٰ نے دیا کیا یہود نے تسلیم کر لیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جان صلیب پر نہ نکلی تھی اور اس کا رفع روحانی ہوا؟ یا ١٩ سو برس کے عرصہ میں سوا مرزا قادیانی کے جن کی اپنی غرض اس تاویل میں ہے۔ کسی نے سلف سے کی ہرگز نہیں۔ تو پھر کس قدر ردی دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی جان نہ نکلی تھی اور اس کا رفع روحانی ہوا اور اس رفع روحانی سے کسی کو عبرت کیا ہو سکتی تھی؟ پس یہ بالکل غلط اور خانہ زاد من گھڑت قصہ ہے جو مرزا قادیانی نے اپنے مطلب کے واسطے بنا لیا ہے اور افسوس ہے ان مسلمانوں پر جو انجیل اور قرآن اور احادیث اور اجماع امت کو تو نہیں مانتے اور مرزا قادیانی کی بات کو بلاچون و چرا تسلیم کرتے ہیں یہ خدا اور اس کے رسول سے تمسخر نہیں تو اور کیا ہے؟ اور کتب سماوی اور احادیث نبوی کی تکذیب نہیں تو اور کیا ہے؟ اگر رفع جسمانی نہ ہوتا تو رسول مقبول ﷺ اس کی تصدیق نہ فرماتے بلکہ تردید کرتے ہم ذیل میں وہ حدیثیں لکھتے ہیں جن میں حضرت عیسیٰؑ کا آسمان پر جانا تصدیق کیا گیا ہے۔

پہلی حدیث

عن ابی ھریرۃؓ قال قال رسول اللہ ﷺ کیف انتم اذا انزل ابن مریم من السماء فیکم وامامکم منکم

(رواہ بیہقی فی کتاب الاسماء والصفات ص ٤٢٤)

صفحہ ١١٩

ترجمہ ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول خدا ﷺ نے کیا حالت ہوگی تمہاری جب ابن مریم عیسیٰ تمھارے میں آسمان سے اتریں گے اور تمہارا امام مہدی بھی تم میں موجود ہوگا۔

دوسری حدیث

عن ابن عساکر قال قال رسول اللہ ﷺ فعند ذالک ینزل اخی عیسیٰ ابن مریم من السماء (کنز العمال ج ١٤ ص ٦١٩ حدیث نمبر ٣٩٧٢٦) ترجمہ ابن عساکر نے ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا جب میرے بھائی عیسیٰ ابن مریمؑ آسمان سے اتریں گے۔ اخی کا لفظ صاف صاف بتا رہا ہے کہ نبی ناصری علیہ السلام کا نزول اصالتاً ہو گا کیونکہ مرزا قادیانی حضرت محمد ﷺ کے بھائی نہ تھے امتی و غلام تھے۔

تیسری حدیث

فانہ لم یمت الى الان بل رفعہ اللہ الى ہذا السما. (فتوحات مکیہ ج ٣ ص ٣٤١) ترجمہ! فی الواقعہ حضرت عیسیٰؑ اس وقت نہیں مرے بلکہ خدا نے آسمان پر اٹھا لیا۔ اس حدیث سے حیات بھی ثابت ہے اور آسمان پر جانا بھی۔

چوتھی حدیث

اخرج طبرانی وابن عساکر عن ابی ہریرة ان رسول اللہ ﷺ قال ینزل عیسیٰ ابن مریم (الی الارض) فیمکث فی الناس (اربعین) سنة (درمنثور ج ٢ ص ٢٤٢) ترجمہ فرمایا آنحضرت ﷺ نے عیسیٰ ابن مریم اتریں گے زمین کی طرف اور چالیس برس رہیں گے آدمیوں، میں اس حدیث سے ثابت ہوا کہ رفع آسمان پر ہوا اور نزول زمین پر ہو گا۔ فی الناس کا لفظ بتا رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ اب انسانوں میں نہیں ہیں۔ آسمان پر فرشتوں میں رہتے ہیں اور اخیر زمانہ میں قیام کے قریب میں اتریں گے۔

پانچوں حدیث

و عائشہ گفتہ کہ گفت رسول خدا ﷺ ینزل عیسیٰ بن مریم فیقتل الدجال ثم یمکث عیسیٰ فی الارض اربعین سنة اماماً عدلاً و حكماً مقسطاً اخرجہ ابن ابی شیبہ واحمد و ابو یعلی وابن عساکر. (حج الکرامہ ص ٤٢٨) اس حدیث میں فی الارض کا لفظ بتا رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ آسمان سے زمین پر اتریں گے۔

چھٹی حدیث

یلبث عیسیٰ بن مریم فی الارض اربعین سنة الخ اس حدیث میں بھی فی

صفحہ ١٢٠

الارض کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ آسمان سے اتریں گے۔ (حجج الکرامہ ص ٤٢٨)

ساتویں حدیث

ان عیسیٰ بن مریم کان یمشی علی الماء ولوزاد یقیناً یمشی فی الهواء رواہ الحکیم عن زافر ابن سلیم ترجمہ حکیم نے زافر ابن سلیم سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عیسیٰ مریم کا بیٹا پانی پر چلتا تھا اور اگر زیادہ یقین میں ترقی کرتا تو ہوا پر چل سکتا۔ (دیکھو کنز العمال جمع الجوامع للسیوطی حدیث ٦٦٧٥ بحوالہ موسوعہ اطراف الحدیث ج ٣ ص ٣٥٣) اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ پانی پر چل سکتے تھے جو کہ انسانی طاقتوں سے باہر ہے یعنی محال عقلی ہے۔ دوم۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ہوا پر بھی حضرت عیسیٰؑ چل سکتے تھے۔ اگر ان میں یقین کی کمی نہ ہوتی جب ایک امر کا امکان ثابت ہوا اور پھر اس کا واقع ہونا بھی ثابت ہو جائے تو پھر کوئی عقلمند اس واقعہ سے انکار نہیں کر سکتا چہ جائیکہ رسول خدا ﷺ خود ہی اس امر کے واقع ہونے کی شہادت دے دیں یعنی پہلے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ میں اگر یقین زیادہ ہوتا تو ہوا پر بھی جا سکتا اور پھر اس کے آسمان پر جانے کی تصدیق بھی کر دی۔ دیکھو حدیث نمبر ٣ جو کہ فتوحات مکیہ میں ہے بل رفعہ اللہ الی ھذا السماء یعنی اللہ نے اسے آسمان پر اٹھا لیا۔ اب ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰؑ میں یقین زیادہ اللہ تعالیٰ نے کر دیا اور محمد رسول اللہ ﷺ کا فرمانا سچ ہو گیا کہ یقین کے زیادہ ہونے پر بقول انجیل بادلوں کے ذریعہ اس کا رفع ہوا۔ اس حدیث نے اس اعتراض ہتک محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی لغو اور باطل ثابت کر دیا کیونکہ جو بات محمد رسول اللہ ﷺ میں نہ تھی وہ عیسیٰ میں کیوں ہو؟ یعنی پانی پر چلنا محمد رسول اللہ ﷺ نے خود خصوصیت مسیح ظاہر فرما دی کہ وہ پانی پر چلتا تھا۔ نعوذ باللہ اگر خصوصیت مسیح باعث ہتک رسول مقبول ﷺ ہوتی تو ایسا ہرگز نہ فرماتے۔ امام جلال الدین سیوطیؒ نے انی متوفیک کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے انسانی قوی و جزیات سلب کر دیئے گئے تھے تاکہ آسمان پر جاتا ہوا نہ ڈرے۔ جب ایک امر اوّل انجیل سے اور پھر قرآن شریف سے اور پھر احادیث نبوی سے اور پھر اجماع امت سے ثابت ہو اس سے انکار کرنا کسی مومن کتاب اللہ اور مسلمان کا تو ہرگز حوصلہ نہیں اور نہ کوئی مسلمان کسی خود غرض مدعی کے من گھڑت تاویلات جو وہ اپنی دکان چلانے کے واسطے کرے تسلیم کر سکتا ہے ہاں مخلوق پرست اور ناموری کے خواہاں ہمیشہ جس کی پیروی کا دم بھرتے رہے اس کی بات کو بلا چون و چرا

صفحہ ١٢١

مانتے آئے ہیں۔ جب وہ کاذب مدعی ثابت ہوئے تو مرزا قادیانی بھی امت کے برخلاف چل کر کبھی سچے نہیں ہو سکتے۔ رفع جسمانی و حیات مسیح سے انکار مرزا قادیانی اور ان کے مرید اسی واسطے کرتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر اصالتاً رفع و نزول حضرت عیسیٰؑ دوسرے مسلمانوں اور سلف صالحین کی طرح مانا جائے تو مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ اس لیے ہر ایک آیت کے الٹے معنی کرتے ہیں اور لغات کی کتابوں سے غیر مشہور اور غیر محل معنی کر کے مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ہم ذیل میں چند اعتراضات مرزائیوں کے رفع کے متعلق لکھ کر ان کا بھی جواب دیتے ہیں کہ مسلمان ان کو جواب دے سکیں۔

پہلا اعتراض

قرآن کی آیات اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے۔ جواب: یہ بالکل غلط ہے کہ رفع کے معنی ہمیشہ اور ہر جگہ بلندی مرتبہ اور درجہ کے ہوتے ہیں اور ہمیشہ جس جگہ رفع کا لفظ آئے۔ اس جگہ جسم کو چھوڑ کر روح کے معنی کیے جائیں۔ دیکھو قرآن مجید و رفع ابویہ علی العرش (یوسف ١٠٠) یعنی حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو تخت پر اونچا بٹھایا۔ کیا حضرت یوسفؑ کے والدین کا رفع روحانی تھا یا جسمانی تھا؟ یہ بھی رفع کا لفظ ہے اور یہاں معنی روحانی رفع کے ہرگز نہیں کیونکہ حضرت یوسف علیہ السلام کے والدین کا رفع ان کے تخت پر جسمانی تھا نہ کہ روحانی تھا۔

باب ٢ آیت ١۔ ”اور یوں ہوا کہ جب خداوند نے چاہا کہ ایلیا کو بگولے میں اڑا کر آسمان پر لے جائے۔“ یہ بمنزلہ یا عیسیٰ انی متوفیک و رافعک کے وعدہ تھا اور آگے آیت ١١ میں وعدے کا وفا اس طرح مذکور ہے اور ایسا ہوا کہ جونہی وے دونوں باتیں کرتے چلے جاتے تھے تو دیکھا کہ ایک آتشی رتھ اور آتشی گھوڑوں نے درمیان آ کر ان دونوں کو جدا کر دیا اور ایلیا بگولے میں ہو کے آسمان پر جاتا رہا۔“ بعینہ اسی طرح حضرت عیسیٰؑ کے ساتھ جو وعدہ رافعک کا تھا بجسد عنصری رفع کر کے خدا تعالیٰ نے وعدہ رافعک پورا فرمایا اور جس طرح ایلیا بگولے کے ذریعہ سے آسمان پر اٹھایا گیا۔ ایسا ہی حضرت عیسیٰؑ بدلی کے ذریعہ شاگردوں کے دیکھتے ہوئے اٹھایا گیا۔ ایسے بین ثبوت کے ہوتے ہوئے کسی مومن کا کام نہیں کہ رفع جسمی عیسیٰ سے انکار کرے اور یہ بالکل غلط اور دھوکہ دہی ہے کہ سنت اللہ نہیں ہے کہ کسی نبی و رسول کو آسمان پر لے جائے۔ زردشت پیغمبر کا

صفحہ ١٢٢

آسمان پر جانا بجسد عنصری مذکور ہے۔ (دیکھو دبستان مذاہب ص ٨٩) اصل عبارت یہ ہے ”چوں زردشت بکنار آب آمد سروتن را چوں دل خویش فرو شست با جامہائے پاک مشغول نماز گشت ہمدر ایں روز بہمن کہ بزرگ ترین ملائکہ است واہل اسلام او را جبریل نامند بیامد با جامہائے نورانی از زردشت نام پرسیدہ گفت از دنیا چہ کام جوئی۔ زردشت جواب داد کہ مرا جز رضائے یزداں آرزوئے نیست و غیر از راستی دل من شے پژوہد و گمانم کہ تو مرا بہ نیکی رہنمائی پس بہمن گفت برخیز تا نزد یزداں شوی وانچہ خواہی از حضرت او سوال کنی کہ از کرم ترا پاسخ سود مند دہد۔ پس زردشت برخواست بفرمودہ بہمن یک لحظہ چشم فرو بست۔ چوں چشم بکشاد خود را در روشن منیر یافت“ (دبستان مذاہب ص ٨٩) الخ یہ ہرگز درست نہیں کہ کتب سماوی کے مضامین سے انکار بھی کیا جائے اور کتب سماوی پر اس کا ایمان بھی سلامت رہے، باقی رہی عقل انسانی تو یہ عقل انسانی ہر ایک کی نہیں مانتی کہ جسد عنصری سے کوئی انسان آسمان پر جائے۔ مگر خدا تعالیٰ علی کل شی قدیر خاص خاص آدمیوں کو لے جا سکتا ہے۔ جس طرح اس کا معاملہ عجوبہ نمائی انبیاء علیہم السلام کے ساتھ خاص ہے وہ عام کے ساتھ نہیں۔ ایسا ہی آسمان پر لے جانا اس کی مرضی ہے۔ ہاں عام قاعدہ نہیں۔ جیسا کہ آگ کا سرد ہونا اور لکڑی کا سانپ بن جانا اور مچھلی کے پیٹ میں تین دن یا چالیس رات زندہ رکھنا۔ محال عقلی ہونے کے باعث عام نہیں۔ اسی طرح انسان کا آسمان پر اٹھایا جانا عام نہیں خاص ہے۔ پس حضرت عیسیٰ کا رفع و نزول بھی خاص ہے اور علامات قیامت میں سے ایک علامت ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو عاجز نہ سمجھے کہ وہ محالات عقلی پر قادر نہیں یہی باتیں کفار کہتے تھے۔ وقالوا آاذا کنا عظاماً و رفاتا انا لمبعوثون خلقاً جدیدا (بنی اسرائیل ٩٨) ترجمہ کہا کرتے تھے کہ جب ہم مرے پیچھے گل سڑ کر ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہم از سر نو پیدا کر کے اٹھا کر کھڑے کیے جائیں گے۔ جب دوسرے لوگ محال عقلی کا اور خلاف قانون قدرت کا عذر کر کے قیامت کے منکر ہو کر کافر ہو جاتے ہیں تو پھر مرزا قادیانی اور مرزائی محال عقلی اور خلاف قانون قدرت کی بنا پر خدا تعالیٰ کے عجوبہ نمایاں سے انکار کر دیں تو وہ کافر کیوں نہ ہوں۔ کیا یہ انصاف ہے کہ ایک بات ہی جب مرزائی کہیں تو مسلمان رہیں اور جب دوسرے شخص وہی بات کریں تو کافر ہوں؟ اگر کافر ہوں گے تو دونوں اگر مسلمان ہوں گے تو دونوں۔ جس طرح ابن اللہ کا مسئلہ اگر مرزا قادیانی کو مرزائی خدا کا بیٹا تسلیم کریں تو مسلمان اور اگر عیسائی حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہیں تو کافر؟ یہ ہے قادیانی ایمان داری اور یہی قادیانی انصاف ہے۔

صفحہ ١٢٣

دوسرا اعتراض

یہ کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ تو افضل الرسل ہو کر آسمان پر نہ جائے اور حضرت عیسیٰؑ آسمان پر جائے اس میں محمد رسول اللہ ﷺ کی ہتک ہے اور کسر شان ہے اور جاہلوں کو دھوکہ دینے کے واسطے ایک آیت کا ٹکڑا پیش کر کے غلط بیانی کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تو صرف رسول ہوں آسمان پر نہیں جا سکتا اور اوپر کی آیات چھوڑ کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ جس کا جواب یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ہرگز اس میں کسر شان و ہتک نہیں کیونکہ محمد رسول اللہ ﷺ تو سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے اور حضرت عیسیٰؑ صرف دوسرے آسمان تک رہے۔ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی بدبختی دیکھئے کہ اپنی دکان چلانے کے واسطے آنحضرت ﷺ کے معراج سے بھی انکار کر دیا کیونکہ جانتے تھے کہ محمد ﷺ کا آسمان پر جانا اور واپس آنا دوسرے مسلمانوں کی طرح مانیں گے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بھی رفع و نزول ثابت ہو جائے گا۔ اب ان سے نہایت ادب سے دریافت کرنا چاہیے کہ قیامت کے دن کی علامت اور طلوع الشمس من المغرب. دابۃ الارض خروج دجال حشر و نشر‘ عذاب قبر نامہ اعمال و پل صراط‘ دوزخ‘ بہشت یہ بھی تو اسی رسول مقبول ﷺ کا فرمودہ تھے۔ جیسے نزول عیسیٰؑ بھی ایک قیامت کا نشان فرمایا اور یہ بھی محال عقلی ہے کہ خاک شدہ پوست و ہڈیاں اسی جسم سے اٹھیں اور حساب کتاب دیں۔ جب دوسرے محالات عقلی پر ایمان ہے تو پھر رفع عیسیٰ اور جسمی معراج محمد ﷺ پر کیوں ایمان نہیں؟ اور دوزخ بہشت طلوع الشمس من المغرب و دابۃ الارض پر ایمان ہے تو پھر اصالتاً نزول و رفع عیسیٰ پر کیوں ایمان نہیں؟ کیا افتؤمنون ببعض الکتاب و تکفرون ببعض پر عمل ہے۔ یعنی کچھ حصہ تو محمد ﷺ کے فرمودہ کا تسلیم کرنا اور کچھ فرمودہ اسی پاک رسول سے انکار کرنا کونسا ایمان اور مسلمانی ہے؟ جب محمد ﷺ نے خود فرما دیا کہ وہی عیسیٰؑ نبی ناصری جس کا رفع ہوا اسی کا نزول ہو گا تو پھر اس سے انکار رسول اللہ کا انکار نہیں تو اور کیا ہے؟ جس طرح قیامت کی دوسری علامات محالات عقلی ہیں اور مافوق الفہم ہیں۔ اسی طرح رفع و نزول بھی محالات عقلی ہیں۔ جب ان کا انکار ہوا تو خود قیامت سے انکار ہوا اور یہی کفر ہے۔

اب ہم قرآن مجید کی وہ آیات لکھتے ہیں تاکہ مرزائیوں کی ایمانی حالت اور خشیۃ اللہ کا پتہ لگے۔ جس میں مرزا قادیانی نے بالکل جھوٹ لکھ کر دھوکا دیا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے آسماں پر چڑھنے کی درخواست کی گئی اور انھوں نے انکار کیا اور خدا

صفحہ ١٢٤

نے ان کو کہا کہ تو کہہ کہ میں صرف رسول ہوں۔ خدا جانے مرزا قادیانی نے کن الفاظ کے یہ معنی کیے ہیں اور تحریف کس جانور کا نام ہے؟ کیونکر مرزا قادیانی کو سچا مانا جائے؟ دیکھو اصل الفاظ قرآن مجید۔ او ترقی فی السماء ولن نؤمن لرقیک حتی تنزل علینا کتباً نقرؤہ۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہدایت فرمائی کہ ان کو کہہ دو قل سبحان ربی هل کنت الا بشرا رسولا۔ (بنی اسرائیل ٩٣) کہ سبحان اللہ میں کیا چیز ہوں۔ ایک بندہ بشر خدا کا بھیجا ہوا ہوں۔ یہ بالکل غلط ہے کہ کافروں نے محمد رسول اللہ ﷺ کو آسمان پر چڑھنے کے واسطے کہا اور محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنا عجز ظاہر فرمایا۔ یہ بات ہی اور ہے۔ جیسا کہ عام محاورہ ہے کہ جب انسان لاجواب ہوتا ہے تو غصے کی حالت میں کہتا ہے کہ اگر تو کوشش کرتا ہوا آسمان پر بھی چلا جائے تو میں یہ بات قبول نہ کروں گا۔ بعینہ یہ حالات کفار کے خدا تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں کہ کافر لوگ کہتے ہیں کہ اے محمد ہم تو اس وقت تک ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ کہ یا تو ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ نکالو اور کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو اور اس کے بیچ میں تم بہت سی نہریں جاری کر دکھاؤ۔ یا جیسا کہ تم کہا کرتے تھے آسمان کے ٹکڑے ہم پر گراؤ۔ یا خدا اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لا کر کھڑا کر دو یا رہنے کے لیے تمہارا کوئی طلائی گھر ہو یا آسمان پر چڑھ جاؤ اور جب تک تم ہم پر خدا کے ہاں سے ایک کتاب اتار کر نہ لاؤ کہ ہم اس کو آپ پڑھ بھی لیں تب تک ہم ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ (سورۃ بنی اسرائیل رکوع ١٠) ہم نے صرف ترجمہ لکھ دیا ہے تاکہ معلوم ہو کہ کفار کا مطالبہ آسمان سے لکھی ہوئی کتاب لانے کا تھا کیونکہ وہ کہتے تھے کہ چاہے تو ہم پر آسمان گرا دے یا سونے کے محل اور نہریں بھی بنائے یا آسمان پر چڑھ جائے۔ اس سیاق و سباق سے تو معلوم ہوتا ہے کہ کفار کو معلوم تھا کہ شائد آسمان پر محمد ﷺ چلا جائے کیونکہ وہ ایلیا اور عیسیٰ علیہ السلام کی نظیر دیکھ چکے تھے اور معراج حضور ﷺ کا بھی سن چکے تھے۔ اس واسطے انھوں نے یہ شرط لگائی کہ کتاب لکھی ہوئی لاؤ جس کو ہم پڑھ لیں اس کے جواب میں رسول مقبول ﷺ کو حکم ہوا کہ کہہ دو میں ایک بشر رسول ہوں جو حکم ہوتا ہے وہی تم کو کہتا ہوں اور یہی کتاب ہے کیونکہ ممکن نہ تھا کہ ہر ایک کافر کے واسطے الگ الگ کتاب آتی۔ یہ کہاں لکھا ہے کہ کفار نے کہا کہ اے محمد ﷺ آسمان پر چڑھ جا اور انھوں نے فرمایا کہ میں آسمان پر جا نہیں سکتا۔ یہ سنت اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے چلی آئی ہے کہ عجوبہ نمائی اور خاص کرشمہ قدرت اپنی مرضی سے دکھاتا ہے۔ یہ نہیں کہ جب کبھی کوئی کافر جس قسم کا

صفحہ ١٢٥

مطالبہ کرے اسی وقت خدا تعالیٰ وہ عجوبہ نمائی کر دے۔ کیونکہ عقلیں اور خواہشیں انسانوں کی الگ الگ ہوتی ہیں اور پیغمبر وقت ہر ایک کی خواہش کے مطابق معجزہ نمائی نہیں کرتا۔ یہ خدا تعالیٰ کی مرضی ہے کہ پیغمبر کا تفوق ظاہر کرنے کے واسطے جب چاہے عجوبہ نمائی کرے پس محمد رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمانا کہ میں ایک بشر رسول ہوں یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ مجھ کو اگر خدا تعالیٰ بھی آسمان پر لے جانا چاہے تو نہیں لے جا سکتا۔ جب نظیریں موجود ہیں کہ حضرت ایلیا کو خدا آسمان پر لے گیا۔ حضرت عیسیٰ کو لے گیا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو سب سے اوپر عرش اور کرسی بلکہ سدرۃ المنتہیٰ تک لے گیا کہ وہاں تک جبریل بھی ساتھ نہ جا سکا اور عجز سے کہا۔ اگر برسر موئے برتر پرم۔ فروغ تجلی بسوز دپرم۔ مگر دین کے اندھے اعتقاد کے سقیموں کو یہ فضیلت محمد ﷺ کی نظر نہیں آتی اور ہتک ہتک کر کے مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ حالانکہ جانتے ہیں کہ محمد ﷺ کو جب ایسی فضیلت اور معجزہ عطا ہوا جو کسی نبی کو عطا نہیں ہوا یعنی قرآن مجید جو ہمیشہ زندہ جاوید کرامت و معجزہ ہے اور پھر محمد رسول اللہ ﷺ کو یہ تفوق عنایت ہو کہ کل عالموں کے واسطے مبعوث ہوئے اور خاتم النبیین کی خصوصیت عنایت ہوئی جو کسی نبی کو نہ ہوئی تھی تو کیا اس فضیلت کے سامنے وہ جزوی خصوصیت ولادت و رفع مسیح اگر محمد رسول اللہ ﷺ کو خدا نے نہیں دی تو اس میں ہتک ہرگز نہیں۔ یہ اعتراض تو ایسے بیوقوف شخص کی مانند کا ہے جو کہ بادشاہ کے دربار میں آ کر خدم و حشم کو دیکھے اور باہر لشکروں اور فوجوں اور خزانوں اور محلوں کو دیکھ کر کہے کہ خداوند نے حضور کو سب کچھ دیا۔ مگر آپ کو بانس پر چڑھ کر بازی لگانی نہیں آتی اس میں تو آپ کی سراسر ہتک ہے۔ ایسا ہی یہ احمقانہ اعتراض ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا آسمان پر رفع نہیں ہوا۔ عیسیٰؑ کا کیوں ہوا؟ اس میں ہتک حضور ﷺ کی ہے۔ جب تمام جہان پر حضور ﷺ کو فضیلت حاصل ہوئی۔ مقام شفاعت عنایت ہوا۔ معراج حاصل ہوا۔ کل دنیا کے پیغمبر مقرر ہوئے قرآن معجزہ جاوید حاصل ہوا۔ خاتم النبیین کا اعزاز مرحمت ہوا اگر رفع نہ ہوا تو کیا حرج ہے؟ کیونکہ جزوی فضیلت ہر ایک بشر میں ایسی ہوتی ہے کہ دوسرے میں نہیں ہوتی۔ اگر زید جوتا سینا جانتا ہے اور بکر لوہار ہے تو زید کی بکر کے مقابلہ میں کوئی ہتک نہیں اور نہ بکر کی زید کے مقابل کوئی ہتک ہے۔ اگر کوئی احمق لوہار سے کہے کہ آپ جوتا بنانا نہیں جانتے اس میں تمہاری ہتک ہے۔ یہ لغو ہے کیونکہ اس میں کسی ایک کی ہتک نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ کو ”حصور“ فرمایا اور کسی نبی کو حصور نہیں فرمایا۔ حصور اس کو کہتے ہیں کہ باوجود ہونے طاقت

صفحہ ١٢٦

مردی کے اپنے آپ کو شہوت سے روکے اور عورت سے نزدیکی نہ کرے۔ کیا یہ خصوصیت کسی اور نبی کے حق میں اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے؟ ہرگز نہیں تو کس قدر ابلہ فریبی ہے کہ مسلمانوں کو دھوکہ دیا جاتا ہے کہ رفع و نزول و درازی عمر عیسیٰؑ کے تسلیم کرنے سے حضرت خلاصہ موجودات محمد رسول اللہ ﷺ کی ہتک ہے۔ اگر رفع عیسیٰؑ میں حضرت ﷺ کی ہتک ہے اور خصوصیت باعث اس ہتک کا ہے تو ذیل کے واقعات سے کیوں ہتک نہیں؟ اگر ہتک ہے تو کیوں ان سے انکار نہیں کیا جاتا؟ اور رفع مسیح سے کیوں انکار کیا جاتا ہے؟ صرف اس واسطے کہ مرزا قادیانی کے مدعا کے برخلاف ہے۔

اوّل خصوصیت

حضرت آدمؑ ان کی عمر ٩٣٠ برس اور حضرت نوحؑ (نوحؑ کی عمر ہزار برس سے اوپر) ان کو اس قدر عمریں دراز دی گئیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو ان کا دسواں حصہ بھی نہیں دیا گیا۔ حالانکہ محمد رسول اللہ ﷺ کل عالموں کے واسطے مبعوث ہوئے تھے اور حضرت نوحؑ کو صرف اپنی قوم کی تبلیغ کے لیے ایک ہزار برس کی مہلت دی گئی۔ جیسا کہ قرآن سے ثابت ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کو صرف ٢٣ برس دیے گئے اس میں بھی محمد رسول اللہ ﷺ کی ہتک ہے؟

دوم خصوصیت

حضرت عیسیٰؑ کنواری لڑکی کے پیٹ سے بغیر نطفہ مرد کے پیدا ہوئے اور دیگر تمام انبیاء علیہم السلام باپ کے نطفہ سے پیدا ہوئے کیا اس میں بھی کل انبیا اور محمد رسول اللہ ﷺ کی ہتک ہے؟ کہ یہ خصوصیت حضرت عیسیٰ کو کیوں ملی؟

سوم خصوصیت

حضرت موسیٰؑ سے خدا تعالیٰ نے بلاواسطہ جبرئیل کلام کی اور دوسرے سب انبیاء علیہم السلام اور محمد رسول اللہ ﷺ سے بواسطہ فرشتہ حضرت جبرئیلؑ کلام کی۔ کیا اس میں بھی سب انبیاء اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ہتک ہے؟

چہارم خصوصیت

حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن جب سب لوگ بیہوش ہو جائیں گے تو سب سے پہلے میں اٹھوں گا۔ مگر موسیٰؑ کو دیکھوں گا کہ وہ عرش کا پایہ پکڑے کھڑے ہیں۔ کیا اس میں بھی محمد رسول اللہ ﷺ کی

صفحہ ١٢٧

ہتک نہیں؟ کہ وہ تو عوام لوگوں کی مانند بیہوش ہو جائیں اور حضرت موسیٰ ؑ کو وہ خصوصیت ملے کہ کسی نبی کو بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی نہ ملے کہ بیہوش ہوں گے۔

پنجم خصوصیت

حضرت یونس ؑ کو جو یہ خصوصیت ملی کہ مچھلی کے پیٹ میں تین دن رات اور بعض روایات کی رو سے چالیس دن رات زندہ رہے اور خدا تعالیٰ نے خاص کرشمہ قدرت ان کی خاطر دکھایا جو رفع عیسیٰ سے عجیب تر ہے کہ حضرت یونس ؑ مچھلی کے پیٹ میں خلاف قانون قدرت زندہ رہے اور بے آب و دانہ رہے اس میں بھی محمد رسول اللہ ﷺ کی ہتک ہے؟ اگر متذکرہ بالا انبیاء کی خصوصیات محمد رسول اللہ ﷺ کی ہتک نہیں تو پھر حضرت عیسیٰ کے رفع جسمانی سے محمد رسول اللہ ﷺ کی ہتک کیونکر ہو سکتی ہے؟

مصرعہ۔ تاڑ جاتے ہیں تاڑنے والے

یہ صرف مرزا قادیانی نے اپنی دوکان پیری مریدی کی خاطر یہ ڈھکوسلا تجویز کیا کہ اگر رفع و نزول عیسیٰ تسلیم کیا جائے تو میری دوکان نہ چلے گی اور نہ مسیح موعود بن سکوں گا۔ اس واسطے ٹھگ ٹھگ کر کے سیدھے سادھے مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ پس مسلمانوں کو ان سے دریافت کرنا چاہیے کہ جب دوسرے انبیاء کی خصوصیات تم تسلیم کرتے ہو اور ہتک محمد رسول اللہ ﷺ نہیں مانتے تو پھر حضرت عیسیٰ ؑ کی خصوصیات سے کیوں ہتک محمد رسول اللہ ﷺ لازم آتی ہے؟ اس طرح تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ خواجہ کمال الدین کو خدا نے پلیڈری کے اعلیٰ امتحان میں پاس کیا اور مرزا قادیانی کو مختاری کے امتحان میں بھی کامیابی نہ ہوئی۔ اس میں مرزا قادیانی کی ہتک ہے؟

دوم: مرزا قادیانی جو ہمیشہ سر درد اور مراق کی بیماری سے بیمار رہتے تھے اس میں بھی مرزا قادیانی کی ہتک ہے کہ عام لوگ تو تندرست ہوں اور مرزا قادیانی کو خدا نے صحت بھی نہ دی۔ پس اس میں بھی ان کی ہتک ہے؟

تیسرا اعتراض

یہ کہا کرتے ہیں کہ وجود عنصری آسمان پر نہیں جا سکتا۔

الجواب: یہ بھی علوم حکمت سے ناواقفیت کا باعث ہے وجود عنصری کو صرف خاکی وجود پر حصر کرنا جہالت کا باعث ہے۔ جب چار عناصر آب، خاک، آتش، ہوا تمام کائنات کا مبدع و منبع وجود انھیں چار عناصر کے امتزاج پر ہے۔ آسمان، آفتاب، مہتاب، ستارے،

صفحہ ١٢٨

سیارے بروج وغیرہ اجرام سماوی انھیں عناصر کی ملاوٹ سے بنے ہیں اور انھیں عناصر کی ملاوٹ سے اجسام سفلی یعنی زمینی بنے ہیں۔ اور ہر ایک عنصر میں حکم ربی جاری ہے جس طرح حکم ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ عنصر ترکیب پا کر دوسرے عناصر سے وجود پذیر ہو جاتا ہے تو پھر یہ غلط ہوا کہ وجود عنصری آسمان پر نہیں جاسکتا۔ کیونکہ آسمان خود عنصری وجود رکھتا ہے جب ہم کائنات پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم کو یا جمادات نظر آتے ہیں یا نباتات یا حیوانات جمادات میں قوت نامیہ نہیں نباتات میں قوت نامیہ ہے۔ مگر قوت حرکت و نقل مکانی نہیں۔ حیوانات کی قسموں پر نظر ڈالتے ہیں تو حسب استعداد ترکیب عناصر ان میں حرارت پائی جاتی ہے۔ حشرات الارض میں کم حرارت ہے جو کہ سوراخوں میں رہتے ہیں بہائم یعنی چار پاؤں والوں میں حرارت زیادہ ہوتی ہے۔ مگر وہ سیدھا نہیں چل سکتے۔ انسان میں حیوانوں سے زیادہ حرارت ہوتی ہے اور وہ دو پاؤں سے چل سکتا ہے مگر ہوا میں پرواز نہیں کر سکتا۔ طیور میں انسان سے زیادہ حرارت ہوتی ہے جس سے ان میں قوت پرواز ہوتی ہے۔ اگر پرواز کرنا یا ہوا پر اڑنا فضیلت ہوتی تو اُلو کوے باز شکرے وغیرہ اشرف المخلوقات مانے جاتے اور انسان اشرف نہ ہوتا۔ مگر چونکہ بحکم کرمنا بنی آدم انسان کو فضیلت ہے تو ثابت ہوا کہ آسمان پر جانا اور آسمان پر رہنا باعث فضیلت نہیں۔ شیاطین و جنات آسمان پر جاسکتے ہیں۔ مگر اشرف المخلوقات نہیں ہیں۔ چاند سورج ستارے سیارے وغیرہ بروج آسمان پر ہیں۔ مگر انسان ان سے افضل ہے۔ انسانوں کو اگر قوت پرواز نہیں تو اس میں ان کی کیا ہتک ہے؟

چونکہ فضیلت نفس ناطقہ میں تھی۔ اس لیے انسان کو نفس ناطقہ عطا فرما کر کل کائنات پر شرف بخشا گیا۔ اور خدا تعالیٰ نے اس کو شرف مکالمہ بخشا۔ جب یہ تسلیم ہو چکا ہے کہ خدا تعالیٰ نے سب کائنات بنائی اور ترکیب عناصر سے سب وجود بنائے ہیں تو اس کی ذات پاک کے آگے کیا محال ہے کہ ایک عنصر کو دوسرے عنصر پر غالب کرے۔ انسان کو آسمان پر لے جائے یا کسی آسمانی وجود یعنی فرشتہ کو حکم دے کہ فلاں انسان کو اٹھا لاؤ اور وہ انسان کو اٹھا لے جائے روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ پرواز کرنے والا وجود دوسرے وجود کو جس میں قوت پرواز نہیں ساتھ لے جاتا ہے۔ جیسا کہ چیل کا چوہے وغیرہ حشرات کو اٹھا لے جانا شاہد ہے۔ ایسا ہی حکم ربی سے فرشتہ انسان کو آسمان پر لے جاسکتا ہے۔ مگر انسان کا اٹھایا جانا کچھ محال عقلی نہیں ہے۔ کیونکہ ہوا غالب عنصر اڑنے والا ہے اور پانی ہوا کے ساتھ شامل ہو کر اڑ جاتا ہے جیسا کہ روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ ہوا پانی کو

صفحہ ١٢٩

اٹھائے پھرتی ہے۔ آگ پہلے ہی سے عالم علوی سے ہے دیکھو دھواں اوپر کو جاتا ہے روح بھی عالم علوی سے ہے۔ باقی ایک خاک رہ گئی۔ جن کا اڑنا ظاہر میں نظروں میں محال معلوم ہوتا ہے مگر حقیقت میں خاک بھی امتزاج عناصر سے بنی ہوئی ہے۔ جب دوسرے عنصر کا غلبہ ہو جائے تو مغلوب عنصر دوسرے غالب عنصر میں محو ہو جاتا ہے جیسا کہ حکمت کا مسئلہ ہے کہ مغلوب عنصر غالب عنصر میں تبدیل ہو جاتا ہے پس اگر آتشی وجود ہے مثلاً آفتاب تو یہ بھی عنصری وجود ہے اور دیگر سیارے ستارے ہیں تو وہ بھی ترکیب عناصر سے عنصری وجود رکھتے ہیں۔ بلکہ خود آسمان بھی عنصری وجود رکھتا ہے ایک عنصری وجود کا دوسرے عنصری وجود پر جانا اور زندہ رہنا کچھ مشکل نہیں اور نہ محال ہے۔ ایک دفعہ ایک شہاب ثاقب کیپ کالونی میں جو زمین پر گرا اور کیمیائی تحقیق کی گئی تو مفصلہ ذیل اشیائے مادی اس میں سے برآمد ہوئیں۔ لوہا‘ کانسہ‘ گندھک‘ سلیکہ‘ مکینشیا‘ چونا‘ لائم‘ الومینیا پوٹاس‘ سوڈا‘ آکسائیڈ آف میکنز‘ تانبہ‘ کاربن وغیرہ (دیکھو صفحہ ٥٥ موز رائٹڈ جیالوجی مصنفہ ڈاکٹر سمیل لیس) پس یہ جاہلانہ اعتراض ہیں کہ آسمان پر عناصر نہیں اور نہ انسان وہاں زندہ رہ سکتا ہے اور نہ وہاں جا سکتا ہے۔ خدا کی بادشاہت جب آسمانوں اور زمینوں پر یکساں ہے تو پھر وہ جیسا چاہے عجوبہ نمایاں کر کے اپنی قدرت لامحدود کا ثبوت دے کوئی امر مانع نہیں چونکہ اختصار منظور ہے۔ اس لیے اسی پر اکتفا ہے تا کہ اصل مضمون نہ بڑھ جائے۔ پس یہ غلط خیال ہے کہ جسد عنصری آسمان پر نہیں جا سکتا کیونکہ جتنے وجود آسمان پر ہیں وہ بھی تو عنصری ہیں۔ پس یہ اعتراض حکمت سے جہل کا باعث ہے۔ جنوں کی پیدائش آگ سے ہے کیا وہ وجود عنصری نہیں فرشتے کے وجود نوری ہیں کیا وہ وجود عنصری نہیں؟ یہ صرف لفظی بحث ہے۔ سب کائنات وجود عنصری رکھتی ہے۔ خواہ خاکی ہو یا آتشی یا ہوائی سب وجود عنصری ہیں۔

چوتھا اعتراض

یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بنی نوع کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ فیھا تحیون و فیھا تموتون۔ (اعراف ٢٥) ترجمہ تم زمین پر ہی اپنی زندگی کے دن کاٹو گے اور زمین پر مرو گے۔ اس سے نتیجہ نکالتے ہیں کہ انسان کے واسطے مقرر ہے کہ زمین پر ہی رہیں اور زمین پر ہی فوت ہوں اور ایک دوسری آیت پیش کرتے ہیں کہ ہم نے زمین کو ایسا بنایا ہے کہ وہ انسان کو اپنی طرف کھینچنے والی اور اس کو اپنے پاس روکنے والی ہے۔ خواہ انسان مردہ ہو یا زندہ۔ الم نجعل الارض کفاتا احیاءً و امواتا۔ (مرسلات ٢٥۔٢٦)

صفحہ ١٣٠

جواب: دونوں آیتیں قرآن مجید کی بے محل ہیں اور یحرفون الکلم عن المواضعہ کے مصداق ہیں جو کہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے اپنے قول کے مطابق الحاد اور یہودیت ہے۔ پہلی آیت کے مخاطب حضرت آدمؑ و حوا ہیں۔ ان کو خدا تعالیٰ نے آسمان سے نکالا اور آسمانی نعمتوں سے محروم فرمایا تو اس وقت ان کو حکم دیا کہ تم اب زمین پر اپنی زندگی بسر کرو گے اور زمین پر ہی فوت ہو گے اس سے تو الٹا ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو پہلے آسمان پر رکھا تھا اور ہبوط کے وقت یہ فرما دیا کہ اب تم زمین پر رہو گے۔ اس سے کیونکر ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ انسان کو آسمان پر نہیں رکھ سکتا؟ بلکہ ثابت ہوا کہ اگر خدا چاہے انسان کو آسمان پر رکھے یا زمین پر رکھے دونوں میں اسکا اختیار ہے یہ آیت تو الٹی رفع عیسیٰؑ ثابت کرتی ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے پہلے آدمؑ حوا اور سانپ کو بجسد عنصری آسمان پر رکھا ہوا تھا۔ اسی طرح ان کے اخراج کے بعد بھی اگر چاہے تو انسانوں اور حیوانوں کو آسمان پر رکھ سکتا ہے۔ جس طرح ایک جج ایک قیدی کو کہے کہ تم کو عمر قید ہے تم ہمیشہ جیل خانہ میں رہو گے۔ مگر اس حکم سے جج کی بے اختیاری ثابت نہیں ہوتی کہ وہ اب کسی انسان کو جیل خانہ سے باہر رہنے نہیں دے سکتا۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کا یہ حکم حضرت آدمؑ اور حوا کو کہ تم ہمیشہ زمین پر رہو گے۔ خدائی قدرت اور طاقت کو سلب نہیں کرتا کہ اب خدا تعالیٰ میں طاقت ہی نہیں رہی کہ کسی کو آسمان پر لے جائے۔ اگر چاہے اور اس کی مرضی بھی ہو یہ تو خدا کی معزولی ہے کہ آدم کو نکالنے کے وقت خود آسمانی حکومت کھو بیٹھے۔ بلکہ اس آیت سے تو انسان کا آسمان پر جا سکنا ممکن ہے کیونکہ حضرت آدمؑ کی نظیر موجود ہے اور کھانے پینے بول براز کا بھی اعتراض رفع ہو گیا کہ جس طرح حضرت آدمؑ کو رکھا اسی طرح دوسرے انبیاءؑ کو بھی رکھ سکتا ہے۔ جب پہلے خدا تعالیٰ آسمان پر انسان بجسد عنصری رکھ سکتا تھا تو اس کے بعد بھی رکھ سکتا ہے کیونکہ ہبوط آدم کے بعد اس کی خدائی طاقتوں میں فرق نہیں آ گیا کیونکہ صفت اپنے موصوف کی ذات کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے۔ یہ اس کا اختیار ہے کہ چاہے اپنی صفت کو کسی مصلحت کے واسطے استعمال نہ کرے۔ جیسا کہ زندہ اور مردہ کرنے کی صفت اللہ تعالیٰ میں ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے۔ یحیی ویمیت وهو علی کل شئ قدیر۔ یعنی خدا تعالیٰ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ تمام چیزوں پر قادر ہے۔ پس یہ خدا کی خدائی سے لاعلمی کا باعث ہے کہ کہا جائے کہ خدا تعالیٰ انسان کو آسمان پر نہیں لے جا سکتا اور نہ وہاں زندہ رکھ سکتا ہے کیونکہ آدمؑ کی نظیر موجود ہے۔ یعنی جس طرح حضرت آدمؑ کو خدا

صفحہ ١٣١

نے آسمان پر رکھا اسی طرح حضرت عیسیٰؑ کو بھی رکھا ہوا ہے۔ دوم۔ مسلمانوں کا اعتقاد ہے۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ یدفن معی فی قبری۔ (مشکوٰۃ ص ٤٨٠ باب نزول عیسیٰؑ) یعنی حضرت عیسیٰؑ بعد نزول فوت ہو کر رسول اللہ ﷺ کے مقبرہ میں درمیان ابوبکرؓ و عمرؓ کے دفن کیے جائیں گے تو اس آیت کے رو سے بھی مسلمان حق پر ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ کو زمین میں ہی دفن کریں گے۔ اس میں قرآن کی کیا مخالفت ہوئی؟ یہ اعتقاد تو عین قرآن کے اور حدیث کے موافق ہے کہ حضرت عیسیٰؑ بعد نزول زمین میں مدفون ہوں گے۔ صرف درازی عمر کا سوال ہو سکتا ہے جس کی نظیریں بھی موجود ہیں کہ حضرت آدمؑ و نوحؑ و شیثؑ و دِقیان وغیرہ علیہم السلام کی عمریں ہزار ہزار برس کے قریب تھیں جو کہ آج کل کے زمانہ میں محالات عقلی سے ہیں۔ پس حضرت عیسیٰؑ کا آسمان پر زندہ رہنا زیادہ عمر تک ناممکن و محال نہیں۔ دوسری آیت بھی غیر محل ہے کیونکہ قیامت کے بارہ میں ہے۔ اوپر سے تمام آیات قیامت کے اثبات میں ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ تباہی ہے قیامت کے دن جھٹلانے والوں کو۔ کیا ہم نے زمین کو جیتوں اور مردوں کو سمیٹنے والی نہیں بنایا‘ اپنی طرف کھینچنے والی غلط ترجمہ کیا ہے۔ کفاتاً کے معنی سمیٹنے والی درست ترجمہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدرت کا نمونہ بناتا ہے کہ ہم ایسے زبردست قدرت والے ہیں کہ اتنا بڑا وجود زمین ہم نے اپنی قدرت کاملہ سے بنایا اور اس میں پہاڑ بنائے اور تمہاری خوراک‘ پوشاک اور معاشرت کے سامان مہیا کیے۔ کیا ہم اس بات پر قادر نہیں ہیں کہ تم کو دوبارہ زندہ کر سکیں اور تمھارے اعمال کا بدلہ جزا یا سزا دیں؟ اس آیت کا رفع عیسیٰؑ سے کچھ تعلق نہیں اور نہ امکان رفع عیسیٰؑ کے مخالف ہے بلکہ اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ محالات عقلی پر قادر ہے اور ثبوت یہ دیتا ہے کہ جس طرح ہم نے زمین کو تمھارے سمیٹنے والی بنایا ہے اور اس کے بنانے پر ہم قادر ہیں اور ہماری قدرت محدود نہیں ہم اسی طرح قیامت پر بھی قادر ہیں جو کہ تمھارے نزدیک محالات عقلی سے ہے اور اگر کھینچنے والی معنی لیں تو بھی درست معنی یہ ہیں کہ زمین انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ یعنی جوں جوں عمر کم ہوتی جاتی ہے انسان قبر کے نزدیک ہوتا جاتا ہے۔ یہ نہیں کہ کوئی رسہ باندھا ہوا ہے کہ وہ انسان کو رسہ کے ذریعہ سے کھینچ رہی ہے۔ افسوس اس آیت کے پیش کرنے کے وقت وہ استعارہ و مجاز و کنایہ۔ جس پر تمام قادیانی مشن کا مدار ہے اور نبوت و رسالت کی بنیاد ہے بھول گئے اور حقیقی کشش کہتے ہیں۔ دوم! مسلمان تو اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ بعد نزول زمین پر ہی مریں گے اور مدینہ منورہ میں حدیث نبوی کے

صفحہ ١٣٢

مطابق مدفون ہوں گے اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے۔ یہ تو ہمارے حق میں مفید ہے۔ اس آیت سے یہ ہرگز مفہوم نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم رفع الی السما انسانی سے عاجز ہیں یہ کج بحثی ہے۔ خواہ مخواہ قرآن کی آیات کا تصادم کیا جائے جو کہ شریعت میں حرام ہے۔ یعنی ایک آیت قرآن کی مخالفت کے واسطے دوسری آیت کو ٹکرانا اور اپنے مطلب کو ثابت کرنے کے واسطے بے محل آیت پیش کرنا۔ رسول مقبول ﷺ نے فرمایا ہے انما ہلک من کان قبلکم بہذا ضربوا کتاب اللہ بعضہ بعضاً۔ (کنزالعمال ج ١ ص ١٩٢ حدیث نمبر ٧٠٩) یعنی تم سے پہلے لوگ اس واسطے تباہ ہو گئے کہ انھوں نے خدا کی کتاب کو بعض سے بعض کو لڑایا۔ شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی حجۃ اللہ البالغہ میں فرماتے ہیں کہ میں کہتا ہوں قرآن کے ساتھ تدافع کرنا حرام ہے اور اس کی شکل یہ ہے کہ آیت بے محل اپنے مدعا کے ثابت کرنے کے واسطے پیش کر کے دھوکہ دینا اور نص قرآن کا رد کرنا یہ حرام ہے اور حدیث میں بھی تدافع کرنا حرام ہے۔ مگر افسوس کہ مرزا قادیانی اور مرزائی تدافع کرنے سے خوف خدا نہیں کرتے۔ جب کوئی نص قرآنی یا حدیث نبوی پیش کی جائے تو جھٹ کوئی نہ کوئی بے محل اور بے موقعہ آیت پیش کر دیتے ہیں۔ پس ان آیات کا رفع عیسیٰؑ کے ساتھ کچھ تعلق نہیں۔ غرض قرآن مجید میں بہت جگہ رفع کا لفظ آیا ہے۔ مگر سب جگہ یہ ہرگز معنی نہیں کہ مر کر ہی رفع ہو۔ جیسا موقع ہوتا ہے۔ ویسے ہی معنی ہوتے ہیں۔ ورفعنا فوقکم الطور۔ (بقرہ ٦٣) اس آیت کے یہ معنی درست ہو سکتے ہیں کہ طور کی جان نکال کر خدا نے اس کا روحانی رفع کیا تھا؟ یا رفع یدین جو بہت جگہ حدیثوں میں آیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہاتھوں کی جان نکال کر خدا نے ان کا روحانی رفع کیا۔ یا رفع شک کے معنی یہ ہیں کہ خدا نے شک کی جان نکال کر اس کا رفع روحانی کیا؟ ہرگز نہیں تو پھر یہ کیونکر درست ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کا رفع صرف روحانی ہوا؟ حالانکہ وعدہ تھا کہ اے عیسیٰ میں تم کو اٹھاؤں گا اور ظاہر ہے کہ عیسیٰ جسم و روح ترکیبی حالت کا نام ہے اور جسم ہی قتل سے بچایا گیا تو جسم کا ہی رفع ضروری تھا کیونکہ خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ یونسؑ نوحؑ محمدؐ رسول اللہ ﷺ وغیرہم سب کی حفاظت جسمانی فرمائی تو حضرت عیسیٰؑ کا کیا قصور تھا کہ اس کے جسم مبارک کو ذلیل کیا جائے کوڑے لگائے جاویں منہ پر طمانچے مارے جائیں اور لمبے لمبے کیل اس کے ہاتھ پاؤں میں ٹھوکے جائیں اور ان سے خون جاری ہو اور کاٹھ پر لٹکایا جائے اور اس عذاب پر خدا کو ذرہ رحم نہ آئے اور بجائے اس کے بچاؤ کے اس کی جان بھی نکلنے نہ پائے یہ

صفحہ ١٣٣

صریح ظلم حضرت عیسیٰ کے حق میں کیوں خاص ہو؟ پس یہ غلط ہے کہ رفع روحانی ہوا تھا کیونکہ قرائن و سیاق قرآن کے برخلاف ہے۔ صحیح یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ صلیب سے بھی بچائے گئے اور قتل سے بھی بچائے گئے جیسا کہ انجیل برنباس میں لکھا ہے۔ ”پس اے برنباس معلوم کر اسی وجہ سے مجھ پر اپنی حفاظت کرنا واجب ہے اور عنقریب میرا ایک شاگرد مجھے تیس سکوں کے ٹکڑوں کے بالعوض بیچ ڈالے گا اور اس بنا پر مجھ کو اس بات کا یقین ہے کہ جو شخص مجھے بیچے گا وہ میرے ہی نام سے قتل کیا جائے گا۔ اس لیے کہ اللہ مجھ کو زمین سے اوپر اٹھائے گا اور بیوفا کی صورت بدل دے گا۔ یہاں تک کہ ہر ایک اس کو یہی خیال کرے گا کہ میں ہوں ۔“

(دیکھو انجیل برنباس فصل ١١٢ آیت ١٣ و ١٤ و ١٥)

اس انجیل کے مضمون کی قرآن مجید نے بھی تصدیق فرما دی۔ ما قتلوہ وما صلبوہ وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ اور شبہ لھم سے مگر اب کہا جاتا ہے کہ اگر یہ معنی تسلیم کیے جائیں تو مرزا قادیانی کی دوکان نہیں چل سکتی اس لیے تاویلات باطلہ کر کے اجماع امت کے برخلاف حضرت عیسیٰ کو صلیب دیا جانا اور عذاب دیا جانا ذلیل کیا جانا۔ کوڑے اور طمانچے اور منہ پر تھوکا جانا، سب کے سب لعنتی ہونے کی باتیں اس میں تسلیم کر کے رفع روحانی تسلیم کرانے کی کوشش کی جاتی ہے تا کہ کسی طرح مرزا قادیانی مسیح موعود بن جائیں۔ چاہے قرآن و احادیث و اجماع کے برخلاف ہو...... مگر ہم کہتے ہیں کہ کیا مصیبت پیش آئی ہے کہ ہم اجماع امت کے برخلاف ہو کر ہم مسیح کو مصلوب مانیں اور رفع روحانی کا ڈھکوسلا تسلیم کریں؟ جب قرآن مجید سے ثابت ہے کہ قتل و صلب کا فعل تو ضرور واقع ہوا۔ مگر مسیح مرفوع ہوئے اور ان کا مشبہ یعنی یہودا مصلوب ہوا تو پھر جو امر پہلے انجیل سے پھر قرآن سے پھر احادیث سے اور پھر اجماع امت سے ثابت ہو اور جس پر ١٤ سو برس سے عمل امت چلا آیا ہو۔ اس سے ایک مسلمان کس طرح انکار کر سکتا ہے؟ جس کا دعویٰ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کی کتابوں اور رسولوں پر ایمان لایا ہوں اور یؤمنون بالغیب کے پاک گروہ سے ہونا چاہیے وہ تو ہرگز ایسی دلیری نہ کرے گا۔ ہاں غیر مومن جو چاہے تسلیم کرے۔ اس سے کچھ بحث نہیں۔

پانچواں اعتراض

کرہ زمہریر سے انسانی وجود گزر نہیں سکتا۔ اس لیے انسان وہاں جا نہیں سکتا۔

جواب : یہ بھی شرعی اعتراض نہیں۔ صرف کمی علوم حکمت کے باعث ہے۔ اس لیے ہم بھی علوم حکمت سے عقلی جواب دیتے ہیں۔ پہلے جسم کی تعریف کرتے ہیں تا کہ معلوم ہو

صفحہ ١٣٤

کہ یہ اعتراض بالکل غلط ہے۔ جسم ایک جوہر کو کہتے ہیں کہ اس میں طول اور عرض اور پہنا اور عمق ہو اور ہر جسم میں دو امر ہوتے ہیں کہ ان کے بغیر جسم پیدا نہیں ہو سکتا۔ ایک کو ہیولیٰ اور دوسرے کو صورت کہتے ہیں اور ہر جسم جو ہے اس میں فلکیات و عنصرات سے کچھ مقدار اور شکل سے حصہ ہے کہ جس سے وہ مخصوص ہے اور ہیولیٰ صورت خارجی میں تعین کا محتاج ہوتا ہے اور صورت وجود خارجی میں ہیولیٰ کی محتاج ہوتی ہے۔ پس صورت اور ہیولیٰ ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے۔

جسم دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک مرکب اور دوسرا بسیط۔ جسم مرکب وہ ہے کہ اس کی ترکیب اجزاء سے ملی ہوئی ہو۔ جیسا کہ سرکہ اور شہد ملا کر سکنجبین بناتے ہیں۔ اسکے برعکس جسم بسیط مرکب نہیں ہوتا۔ جیسا کہ پانی یا ہوا یا آگ وغیرہ۔ جسم بسیط کے پھر دو قسم ہیں ایک وہ کہ تبدیل ہو سکے۔ جیسا کہ عناصر، دوسرا وہ جو تبدیل نہ ہو سکے جیسا کہ آسمان۔ جو کہ دلائل فلسفہ سے ثابت ہو چکا ہے کہ ان کو تغیر و فنا نہیں اور نہ یہ ایک شکل سے دوسری شکل میں بدل جاتے ہیں۔ اسی واسطے فلکیات کو بسیط علوی کہتے ہیں اور عناصر کو بسیط سفلی۔ پس اجسام بسیط کا مقدم ہونا ہے۔ مرکبات کے وجود پر۔ اب چونکہ جسم انسانی مرکب ہے عناصر سے اور کوئی جگہ خالی نہیں ہے۔ آسمانوں پر بھی عناصر ہیں۔ چنانچہ دانش نامہ میں لکھا ہے کہ مکان آگ کا زیر فلک قمر ہے اور مکان ہوا کا آگ کے نیچے اور مکان پانی کا ہوا کے نیچے اور خاک کا پانی کے نیچے اور حکماء نے مقرر کیا ہے کہ بعض عنصر ثقیل ہیں اور بعض خفیف۔ خفیف وہ عنصر ہیں جو اوپر کی طرف مائل ہوں اور ثقیل وہ ہیں جو نیچے کی طرف مائل ہوں۔ آگ اور ہوا اوپر کی طرف مائل ہیں اور خاک اور پانی نیچے کی طرف مائل ہیں حضرت عیسیٰؑ کا وجود عنصری بطور معجزہ خاص تھا۔ یعنی بغیر نطفہ باپ کے پیدا ہوا تھا۔ پس ایسے لطیف اور معجز نما وجود کا رفع محال عقلی ہرگز نہیں۔ کیونکہ اس کی پیدائش نطفہ سے نہ تھی اور یہ اس واسطے کہ علام الغیوب جانتا تھا کہ مرزائی ایک فرقہ ہو گا۔ جو رفع عیسیٰ پر معترض ہو گا۔ اس واسطے پہلے ہی سے وہ عیسیٰ کو مستثنیٰ کر دیا کہ ایسا وجود بخشا کہ جو نطفہ کا واسطہ نہ رکھتا تھا جو کہ خلاف قانون فطرت و محالات عقلی سے تھا۔ علم طب سے یہ بات ثابت ہے کہ مرد کے نطفہ سے ہڈی بنتی ہے اور عورت کے خون سے بدن بنتا ہے اور یہ محال ہے کہ ہڈی بغیر نطفہ کے پیدا ہو مگر اس قادر مطلق نے جو کسی قانون کا پابند نہیں۔ حضرت عیسیٰؑ کے وجود میں بغیر مادہ مرد کے ہڈی بھی پیدا کر دی اور علیٰ کل شی قدیر ہونے کا ثبوت دے کر اس قانون فطرت کو جو آدم سے لے کر

صفحہ ١٣٥

حضرت مریم تک چلا آتا تھا توڑ کر محالات عقلی کے تمام اعتراضوں کا رد کر دیا۔ جب یہ کلیہ مسلمہ ہے کہ روح جس جسم میں داخل ہوتا ہے۔ اسی کی قابلیت کے مطابق کام کرتا ہے تو ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰؑ کا جسم ایک خاص جسم عنصری تھا۔ جس کا رفع ممکن تھا۔ عناصر کے طبقات مقرر ہیں جس طرح کہ آسمان ہیں اسی طرح عناصر کے طبقات ہیں۔ دو آگ کے۔ ایک خالص جو کہ فلک قمر کے ساتھ ملا ہوا ہے اور دوسرا دخانیہ جو کہ بخارات غلیظہ جو کہ زمین سے نکلتے ہیں۔ اس آگ کے جو کہ ہوا کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ متصل ہے۔ ایسا ہی ہوا کے تین طبقے ہیں۔ پہلا طبقہ ہوا کا صرف یہی ہوا ہے جو کہ ہم محسوس کرتے ہیں جو کہ آگ کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ دوسرا طبقہ ہوا کا وہ ہے جس کو کرہ زمہریر کہتے ہیں اور یہ نہایت سرد ہوتا ہے۔ بسبب دوری سے زمین کے۔ تیسرا طبقہ ہوا کا وہ ہے جو زمین سے ملا ہوا ہے اور یہ طبقہ گرم ہوتا ہے آفتاب کے شعاع سے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اوپر بھی ہوا ہے اور کرہ زمہریر کے اوپر بھی ہوا اور دیگر عناصر ہیں۔ اسلیے انسان کا آسمان پر جانا اور زندہ رہنا محالات عقلی سے نہیں کیونکہ کرہ زمہریر سے تیزی سے گزر جانا محالات سے نہیں۔ جس طرح فرشتے گزرتے ہیں۔ حضرت عیسیٰؑ کو بھی ساتھ لے گئے۔ تیزی میں گزرنے سے سردی اثر نہیں کرتی۔ شائد کوئی مرزائی کہہ دے کہ یہ فلسفہ یونانی پرانا ہے۔ ہم نہیں مانتے تو ہم جدید فلسفہ سے بھی ثابت کرتے ہیں کہ آسمان پر بھی کوئی جگہ ہیولی سے خالی نہیں۔ پروفیسر آرنسٹ ہیکل آف جنا یونیورسٹی جرمنی لکھتے ہیں کہ خلا کی وسعت غیر محدود و غیر معین ہے۔ اس کا ایک انچ بھی خالی نہیں ہر جگہ ہیولی ہے۔ اس کی نقل و حرکت مسلسل جاری ہے مادہ اور انقلاب انگیز قوت کے عمل کا تسلسل جاری ہے۔ مادہ بتدریج حجم و ضخامت میں بڑھتا رہتا ہے۔ الخ (ادیب صفحہ ١٧٣) دوم حرارت و روشنی دو چیزیں جانداروں کے لیے لازم ہیں۔ اس وجہ سے سورج منبع حیات ہے (ادیب صفحہ ١٧٢) سوم فرانس کا ایک نامور فاضل لوئی فگویئے ۔ آفتاب میں انسانی آبادی کے بارہ میں لکھتا ہے کہ جو شخص اس نظریہ کا قائل ہے۔ جس کے حامی ہرشل اور ہمبولٹ وغیرہ تھے۔ وہ تسلیم کرتا ہے کہ آفتاب میں ایسے انسانوں کی بستی ناممکنات سے نہیں جو ہم سے قدرے مختلف ہیں۔ (ادیب صفحہ ٢١٧) چہارم طبقہ نور کی حرارت یقینی کرہ ہوا سے وہاں پہنچ سکتی ہے اور جانداروں کی زندگی قائم رہ سکتی ہے۔ اسی طرح جو روشنی صاف ہو کر جاتی ہے۔ آنکھوں کو تیرہ نہیں کرتی۔ اس میں ہم ایسے انسان زندہ رہ سکتے ہیں۔ دیکھو (ڈے افٹر ڈیتھ صفحہ ١٠٠) باقی رہائش زمین کا اعتراض کہ زمین کی کشش انسان کو اوپر

صفحہ ١٣٦

جانے نہیں دیتی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ زمین کی کشش کے اکثر حکما قائل نہیں کیونکہ جب مانا ہوا اصول ہے کہ زمین کی کشش اس قدر قوی ہے کہ آفتاب کو ساڑھے نو کروڑ میل سے اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اگر بفرض محال ہم تسلیم بھی کر لیں۔ تو پھر ناممکن ہے کہ کوئی جانور ہوا پر پرواز کر سکے اور ہوائی جہاز زمین سے الگ ہو کر بلند پروازی کر سکیں۔ کیونکہ جب زمین 1.2-9 کروڑ میل سے اپنے سے بڑے وجود یعنی آفتاب کو جو اس سے دس لاکھ حصہ سے زیادہ بڑا ہے کھینچ لیتی ہے تو جانور اور ہوائی جہاز اس کی کشش کا مقابلہ کر کے غالب آ کر بلند پرواز ہوں۔ پس یا تو ہوائی جہازوں اور جانوروں کی پرواز سے انکار کرنا پڑے گا۔ یا زمین کی کشش سے۔ مگر چونکہ مشاہدہ ہے کہ ہزاروں منوں بوجھ والے جہاز اوپر چلتے ہیں اور کئی کئی دن تک اوپر رہتے ہیں۔ اس لیے ثابت ہوا کہ زمین میں کوئی ایسی کشش نہیں کہ کوئی وجود اس سے الگ ہو کر اوپر نہ جا سکے۔ علاوہ بریں رسالہ الشمس الضحیٰ میں لکھا ہے کہ ہم لوگ ذی روح ہیں اور ہم میں ایک ایسی طاقت ہے کہ زمین کی کشش سے ہم اپنے تئیں روک سکتے ہیں۔ (از کتاب العقل صفحہ ٢٩٣) اور حضرت عیسیٰؑ بھی ذی روح تھے یعنی زندہ تھے۔ اس لیے ان کو زمین کی کشش آسمان پر جانے سے نہیں روک سکتی اور نہ محال عقلی ہے کہ حضرت عیسیٰؑ بجسد عنصری آسمان پر جا سکیں۔ پس حضرت عیسیٰؑ کا رفع حکمت یونانی اور انگریزی سے بھی ثابت ہے اور یہی مقصود تھا۔

چھٹا اعتراض

انسانی جسم آسمانی آب و ہوا کے موافق نہیں اس لیے انسان وہاں زندہ نہیں رہ سکتا۔

جواب: یہ بھی بسبب ناواقفیت علوم جدیدہ کے اعتراض ہے۔ فرنچ عالم علم ہیئت آرگو صاحب اپنی کتاب (ڈے آفو ڈتھ کے صفحہ ١٢) پر لکھتے ہیں کہ انسان آفتاب میں زندہ رہ سکتا ہے۔ ترجمہ اصل عبارت کا یہ ہے۔ ”اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ کیا سورج میں آبادی ہے تو میں کہوں گا کہ مجھے علم نہیں۔ لیکن مجھ سے یہ دریافت کیا جائے کہ آیا ہم ایسے انسان وہاں زندہ رہ سکتے ہیں تو اثبات میں جواب دینے سے گریز نہ کروں گا۔“

حضرت آدمؑ اور حواؑ اور سانپ کا آسمان پر قبل از ہبوط توراۃ و قرآن و دیگر کتب سماوی سے ثابت ہے۔ اگر مومن ہو تو مانو اور اگر غیر مومن ہو تو انکار کرو یا تاویل کرو۔ تاویل بھی ایک قسم کا انکار ہے۔

ساتواں اعتراض

حضرت عیسیٰؑ وہاں بول و براز کہاں کرتے ہوں گے اور کھانا کہاں کھاتے

صفحہ ١٣٧

ہوں گے۔

جواب: یہ اعتراض کوئی مسلمان قرآن شریف کے ماننے والا تو ہرگز نہیں کر سکتا کیونکہ قصہ آدم و حوا جو قرآن میں مذکور ہے اور دیگر کتب سماوی میں بھی مندرج ہے۔ صاف صاف بتا رہا ہے کہ حضرت آدم بمعہ اپنی بیوی کے آسمان پر رکھے گئے تھے۔ پس حضرت عیسیٰ بھی وہی باورچی خانہ اور پاٹ یعنی پاخانہ استعمال کرتے ہوں گے۔

دوئم: قرآن مجید میں مائدہ کا اترنا حضرت عیسیٰ کی دعا پر ثابت ہے تو آسمانی باورچی خانہ بھی ثابت ہوا۔

سوئم: جب کل رزقوں کا منبع اور کل کائنات کی زندگی اور قوام کا باعث آسمان اور اس کی گردش اور آفتاب و مہتاب وغیرہ اجرام فلکی کی تاثیرات ہیں تو پھر ایک حضرت عیسیٰ کے واسطے رزق کا نہ ملنا چہ معنی دارد جب سب کچھ ولائت سے آنا تسلیم کیا جائے تو پھر کس قدر جہالت ہے کہ کہا جائے کہ زید ولائت میں کیا کھاتا ہوگا۔ ایسا ہی جب سب رزق آسمان سے آتے ہیں تو پھر جہالت نہیں تو اور کیا ہے کہ کہا جائے کہ عیسیٰ وہاں کھاتے کیا ہوں گے؟ اللہ اکبر جہالت بری بلا ہے۔ جب زمانہ حال میں فلکیات کے عالموں نے ثابت کر دیا ہے کہ زمین ایک چھوٹا سا کرہ ہے اور تمام ستارے کرے ہیں اور سب میں آبادیاں ہیں۔ جب ایک چھوٹے سے کرہ زمین پر تمام حوائج انسان و حیوان و چرند و پرند کے پورے ہو سکتے ہیں اور خدا کر رہا ہے اور تمام رزقوں کا پیدا ہونا آسمانی وجودوں کی تاثیرات سے ہے۔ جیسا کہ آفتاب و مہتاب وغیرہ کی تاثیرات سے کل دانے اور میوے پیدا ہوتے ہیں تو پھر ان کروں میں جو زمین سے کئی حصے زیادہ ہیں اور عناصر و مادہ سے بھرے پڑے ہیں۔ ان میں حضرت عیسیٰ کو نہ تو کھانا ملے اور نہ بول و براز کے واسطے جگہ ملے؟ ایسے جاہل معترض سے کیا بحث ہو جو کہ کوئیں کے مینڈک کی طرح اپنے چاہ کو ہی دنیا سمجھتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ چاہ سے باہر نہ تو کوئی زندہ رہ سکتا ہے اور نہ چاہ کے باہر کوئی پانی کا قطرہ ہے اور نہ ہوا ہے۔ ایسے نادانوں کو سوچنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں رب العالمین فرما کر ایسے ایسے اعتراضوں کو صاف کر دیا ہے۔ جب صرف ایک ہی عالم نہیں بلکہ کئی عالم ہیں اور سب کی پرورش ہوتی ہے اور ہر ستارہ میں آبادی ہے تو پھر یہ خیال جہالت نہیں تو اور کیا ہے کہ رزق صرف زمین کے رہنے والوں کو ملتا ہے اور پاخانہ کے واسطے جگہ بھی صرف زمین والوں کو ہی مل سکتی ہے۔ دوسری آبادیوں اور آسمانی ہستیوں کا نہ تو خدا رازق ہے اور نہ ان کو رزق ملتا ہے۔ مصرعہ بر ایں

صفحہ ١٣٨

عقل و دانش بماند گریست۔ دوم مشاہدہ ہے کہ خدا تعالیٰ جس کسی کو جس جگہ رکھتا ہے۔ اس جگہ کی آب و ہوا کے مطابق اس کا مزاج بنا دیتا ہے۔ سرد ملکوں کے باشندے خوراک و پوشاک میں گرم ملکوں کے باشندوں سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔ مگر سرد ملک کے گرم ملک میں اور گرم ملک کے سرد ملک میں آتے جاتے ہیں اور آب و ہوا کے موافق زندگی بسر کرتے ہیں۔ حضرت عیسیٰؑ آسمان پر اٹھائے گئے اور رکھے گئے تو آسمانی زندگی بسر کرتے ہوں گے اور وہاں کی آب و ہوا بھی ایسی ہے کہ وہاں کے ساکنان لطیف غذا کھاتے ہیں۔ شائد غذا اور رزق کے معنی آپ کنک کی روٹی اور چاول بھاجی سمجھتے ہوں گے اور یہ غلط ہے۔ خدا تعالیٰ انسان کو جس جگہ رکھتا ہے۔ اس کی حالت بھی ویسی ہی کرتا ہے اور ویسی غذا دیتا ہے۔ آپ اپنی حالت یاد کریں کہ ماں کے پیٹ میں آپ کو غذا بھی ملتی تھی اور آپ کی پرورش بھی ہوتی تھی۔ مگر آپ کو بول و براز وہاں نہ آتا تھا۔ کیا آپ انسان نہ تھے؟ کیا آپ بجسد عنصری نہ تھے؟ کیا آپ ذی روح نہ تھے؟ کیا آپ سانس نہ لیتے تھے؟ سب کچھ تھا تو پھر اس صانع مطلق نے جب ماں کے پیٹ میں آپ کی حفاظت کی۔ سانس کے واسطے ہوا کا بھی انتظام کیا۔ بول و براز کا بھی انتظام کیا گیا تو وہ قادر مطلق آسمان پر جو کہ ماں کے پیٹ اور کرہ زمین سے لاکھوں بلکہ لاتعداد درجہ زیادہ ہے۔ حضرت عیسیٰؑ کے رزق اور بول کا بندوبست نہ کر سکے۔ ایسے عاجز خدا کو آپ علی کل شی قدیر ہرگز نہیں کہہ سکتے اور نہ جس کو ایسے ایسے اعتراض پیدا ہوں عارف اور خدا شناس کہہ سکتے ہیں۔ ایسا شخص تو خدا کی خدائی کا منکر اور اس کی قدرت سے بالکل بے خبر اور اس کے عرفان سے اندھا ہے۔ معمولی مسلمان بھی نہیں۔ مسیح موعود اور نبی رسول ہونا تو بڑی بات ہے۔

آٹھواں اعتراض

اب جو تنازعہ ہو رہا ہے تو مسلمانوں کو چاہیے کہ مسیح ” کو اتار لائیں اور ازالہ اوہام میں مرزا قادیانی تمسخر کے طور پر یہ بھی لکھتے ہیں کہ ”کوئی بیلوں سے اترنے والا مسلمانوں کو دھوکہ نہ دے۔“ (ملخص)

جواب: یہ اعتراض بعینہ وہی ہے جو کہ کفار جواب دینے سے عاجز ہو کر پیغمبر ﷺ سے کہا کرتے تھے کہ قیامت کا ہونا برحق ہے اور ضرور قیامت آنی ہے تو ہم منکر ہیں۔ ہمارے وقت میں آجائے تا کہ ہم جھوٹے اور تم سچے ثابت ہو جائیں۔

افسوس یہ لوگ اتنا نہیں سوچتے کہ حضرت عیسیٰؑ کا نزول جب علامات قیامت

صفحہ ١٣٩

میں سے ایک علامت ہے اور قیامت کا آنا اللہ تعالیٰ کے علم و ارادہ میں وقت مقرر پر ہے تو اسی وقت آئے گی۔ یہ مطالبہ مرزائیوں کا تب درست ہو سکتا تھا جبکہ قیامت آ جاتی اور نزول حضرت عیسیٰؑ نہ ہوتا، جب قیامت نہیں آئی اور دوسری علامات قیامت ظاہر نہیں ہوئیں تو پھر حضرت عیسیٰؑ کس طرح اتر آئیں۔ کیا سورج مغرب سے نکلا خروج دجال ہوا دابۃ الارض نکلا۔ یاجوج ماجوج ظاہر ہوئے؟ وغیرہ وغیرہ تو حضرت عیسیٰؑ کس طرح اتر آئیں۔ اگر کہو کہ مرزا قادیانی کی تاویلات کے موافق سب علامات ظاہر ہو چکیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ مسیح موعود تاویلی و بناوٹی تھا۔ ایسے ہی علامات بناوٹی و غلط ہیں۔ جس عقل اور علم سے غلام احمد قادیانی کو عیسیٰ بن مریم نبی ناصری تسلیم کیا جاتا ہے اسی عقل اور علم سے طلوع الشمس من المغرب اور دابۃ الارض اور یاجوج و ماجوج کی تاویلات کو قبول کرتے ہو جو کہ بالکل غلط ہے کیونکہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے وقت پادری بھی تھے۔ روس اور انگریز بھی تھے اسلام بھی تھا اور اس وقت حضور ﷺ نے ان کو نہ تو دجال فرمایا اور نہ یاجوج ماجوج ہی کہا اور نہ اسلام کے ظہور کو طلوع الشمس من المغرب فرمایا تو دوسرے کسی امتی کا ہرگز منصب نہیں کہ اپنے مطلب کے واسطے خلاف عقل و نقل تاویلات کر کے اپنا الو سیدھا کرے۔ پس جبکہ ابھی دیگر علامات قیامت ظہور میں نہیں آئیں تو حضرت عیسیٰؑ کے نزول کا بھی ابھی وقت نہیں آیا۔ اس لیے یہ اعتراض بھی غلط ہے۔

نواں اعتراض

آسمان پر جانا کوئی فضیلت کی بات تھی تو کیوں سب نبیوں نے خواہش ظاہر نہیں کی کہ اٹھائے جائیں اور کیوں نہ اٹھائے گئے۔ حالانکہ ستائے گئے۔

جواب: یہ اعتراض بھی ناواقفیت دین کے باعث کرتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ اپنے کرشمہ قدرت اپنی مرضی سے ظاہر فرماتا ہے اور جیسا موقعہ ہوتا ہے۔ عجوبہ نمائی کرتا ہے۔ اگر سب نبیوں کو آسمان پر لے جاتا تو پھر خدا تعالیٰ کا عجز ثابت ہوتا کہ زمین پر وہ اپنے خاص بندوں کی حفاظت نہیں کر سکتا اور نہ زمین پر اس کی حکومت ہے کیونکہ جس کو پناہ دیتا ہے آسمان پر ہی لے جاتا ہے اس لیے سب انبیاء علیہم السلام کو خدا تعالیٰ نے آسمان پر نہیں اٹھایا اور اپنی قدرت اور جبروت اور علیٰ کل شی قدیر ثابت کرنے کے واسطے اکثر انبیاء علیہم السلام کی حفاظت زمین پر فرمائی جیسا کہ حضرت یونسؑ اور حضرت ابراہیمؑ کی خاص کرشمہ قدرت سے۔ ایک کو مچھلی کے پیٹ میں ایک کو کفار کے ہاتھ میں ہی ان کی

صفحہ ١٤٠

مجوزہ تجویز آتش کو ہی حکم کر دیا کہ سرد ہو جا اور وہ سرد ہو گئی۔ ہاں اس بات کو ظاہر کرنے کے واسطے کہ آسمانوں پر بھی واحد خدا کی حکومت ہے۔ حضرت ادریسؑ اور حضرت عیسیٰؑ کی حفاظت آسمانوں پر لے جا کر کی۔ تاکہ دہریہ اور لامذہب یہ استدلال نہ کر سکیں کہ آسمانوں کا خدا الگ ہے۔ جو زمین کی مخلوقات کو آسمان پر جانے نہیں دیتا۔ فضیلت و غیر فضیلت کا سوال غلط ہے کیونکہ انبیاء علیہم السلام کا رتبہ اور منزلت جو زمین پر ہے۔ وہی آسمان پر ہے کوئی نبی اگر آسمان پر بحکم رب العالمین چلا جائے تو دوسرے نبی پر جو زمین پر مامور ہے تو اس کو کوئی زیادہ فضیلت نہیں۔ اس لیے دوسرے نبیوں نے آسمان پر جانے کی خواہش نہ کی۔

دسواں اعتراض

کیا امت محمد ﷺ کی اصلاح بجز حضرت عیسیٰؑ نہیں ہو سکتی تھی کہ حضرت عیسیٰؑ ہی دوبارہ نزول فرمائیں اور اس میں امت محمدی کی ہتک ہے کہ اس میں کوئی لائق اصلاح امت نہیں۔

جواب: یہ اعتراض بھی کم علمی کے سبب سے ہے یہ کسی حدیث میں نہیں لکھا کہ حضرت عیسیٰؑ امت محمدی کی اصلاح کے واسطے تشریف لائیں گے۔ سب حدیثوں میں یہی لکھا ہے کہ صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا اور دجال کو مارے گا یہ کسی حدیث میں نہیں آیا کہ امت محمدی کی اصلاح کرے گا۔ کوئی حدیث یکسر الصلیب سے خالی نہیں۔ طوالت کے خوف سے سب حدیثیں نقل نہیں ہو سکتی ہیں۔ صرف ایک بخاری کی حدیث نقل کی جاتی ہے وہو ھٰذا عن ابی ھریرةؓ قال قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر و یضع الجزیۃ و یفیض المال حتی لا یقبلہ احد حتی تکون السجدہ الواحدة خیر من الدنیا وما فیھا ثم یقول ابو ھریرہ فاقرؤا ان شئتم وان من اھل الکتاب الا لیومنن بہ قبل موتہ الایة متفق علیہ۔ (مشکوٰة ص ٤٧٩ نزول عیسیٰؑ) ترجمہ روایت ہے ابو ہریرہؓ سے کہ کہا کہ فرمایا رسول خدا ﷺ نے قسم ہے اس خدا کی کہ بقا جان میری کا اس کے ہاتھ میں ہے۔ تحقیق تم میں اتریں گے عیسیٰؑ بیٹے مریم کے درحالیکہ حاکم عادل ہوں گے۔ پس توڑیں گے صلیب کو یعنی باطل کر دیں گے دین نصرانیہ کو اور قتل کریں گے سور کو یعنی حرام کریں گے اس کے پالنے اور کھانے کو، اور بہت ہوگا مال۔ یہاں تک کہ نہ قبول کرے گا اس کو کوئی یہاں تک کہ ہو گا ایک سجدہ بہتر دنیا سے اور ہر چیز سے کہ دنیا میں

صفحہ ١٤١

ہے ۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں ۔ اگر شک و تردد رکھتے ہو تو پڑھو اگر چاہو (قرآن کی آیت) نہیں کوئی اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ مگر کہ ایمان لائے گا عیسیٰ پر پہلے مرنے ان کے یعنی عیسیٰؑ کے ۔ روایت کیا بخاری و مسلم نے ۔ اس حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کا فرض منصبی بعد نزول کسر صلیب و ہدایت یہود ہوگا ۔ نہ کہ اصلاح امت محمدی پس اس میں امت محمدی کی کوئی ہتک نہیں بلکہ فخر ہے کہ ایک اولوالعزم پیغمبر حضرت رحمۃ اللعالمین خاتم النبیین ﷺ کی امت میں شامل ہو کر امامت کا فرض ادا کرتا ہے اور اس حدیث نے قرآن مجید کی آیت وان من اهل الکتاب الا لیؤمنن به قبل موته کی تفسیر بھی کر دی جو کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی اپنی تفسیر ہے جو کہ سب تفسیروں سے افضل و اکمل ہے کیونکہ جیسا مفسر اعلیٰ قدر ہو گا۔ ویسے ہی اس کی تفسیر بھی معتبر ہوگی۔ آنحضرت ﷺ کی تفسیر کے آگے کسی دوسرے خود غرض مدعی کی تفسیر کچھ وقعت نہیں رکھتی کیونکہ مسلمہ اصول اجماع امت محمدی کا ہے کہ جو تفسیر رسول خدا ﷺ جن پر قرآن نازل ہوا ہے۔ فرمائیں وہ تفسیر سب سے اعلیٰ ہوگی ۔ پس خاتم النبیین محمد مصطفےٰ ﷺ نے پہلے قرآن سے اور پھر اپنی حدیث میں جب فرما دیا کہ حضرت عیسیٰؑ کا نزول اصلاح یہود و نصاریٰ کے واسطے ہوگا تو پھر یہ اعتراض بالکل غلط ہوا کہ امت محمدی میں کوئی لائق نہیں کہ امت کی اصلاح کرے اور اس میں امت کی ہتک ہے۔

اس قرآن مجید کی آیت اور حدیث نبوی نے جو کہ اس آیت کی تفسیر ہے قطعی فیصلہ کر دیا ہے کہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے تمام اعتراضات اور تاویلات غلط ہیں اور ذیل کے امور قرآن اور حدیث یعنی خدا اور خدا کے فرمودہ سے ثابت ہیں۔ اوّل حضرت عیسیٰؑ کا اصالتاً نزول جو کہ فرع ہے۔ رفع عیسیٰؑ کی۔ دوم حیات عیسیٰؑ بھی ثابت ہوئی اور قبل موتہ کا ضمیر بھی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے عیسیٰ بن مریم کی طرف راجع فرمایا تو اب کسی کا حق نہیں کہ نعوذ باللہ رسول اللہ ﷺ کی تردید کرے اور اپنا الو سیدھا کرے اس میں ایمان سلامت نہیں رہتا کہ رسول خدا کی مخالفت کی جائے۔ سوم حكماً و عدلاً سے مرزا قادیانی کی تمام تاویلات و دعاوی باطل ہو گئے کیونکہ مرزا قادیانی انگریزوں کی رعیت تھے نہ کہ حاکم عادل تھے۔ چہارم یہ کہ اس کی ڈیوٹی کسر صلیب ہے اور کسر صلیب بہ حیثیت حاکم عادل ہونے کے ہو سکتی ہے۔ نہ کہ محکوم ہونے کی حالت میں۔ پنجم۔ یضع الجزیة اس کی سچی علامت ہے۔ یعنی ایسا حاکم ہوگا کہ اس کے وقت میں جزیہ نہ رہے گا بلکہ وہ خود مال لوگوں کو دے گا مگر مرزا قادیانی ایسے مسیح موعود ہیں کہ لوگوں سے مال بٹورتے

صفحہ ١٤٢

تھے ۔ پس سچے مسیح موعود وہی حضرت عیسیٰؑ ہیں جن کا رفع بجسد عنصری ہوا اور نزول بھی اصالتاً بجسد عنصری ہو گا ۔ جھوٹے مسیح اور مہدی تو بہت ہوتے رہیں گے کیونکہ حضرت عیسیٰؑ اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی پیشگوئی ہے کہ بہت جھوٹے مسیح اور نبی ہوں گے اور امتی بھی ہوں گے ۔ کلھم یزعم انہ نبی اللہ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں چونکہ ممکن نہ تھا کہ دو الوالعزم پیغمبروں کی پیشگوئی جھوٹی ہوتی ۔ اس لیے پہلے زمانوں میں بھی جھوٹے مدعی گزرے اور اس زمانہ میں بھی مرزا قادیانی اور آئندہ بھی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہے ہوتے رہیں گے ۔ سچا مسیح موعود تو وہی ہے جو کہ قیامت کی علامات سے ایک علامت ہے اور اس کے نزول کے بعد قیامت آ جائے گی ۔ مگر مرزا قادیانی کے بعد بھی قیامت نہیں آئی ۔ جیسا کہ پہلے کذابوں کے بعد قیامت نہ آئی تھی اور وہ جھوٹے ثابت ہوئے مرزا قادیانی بھی ہرگز ہرگز اپنے دعویٰ مسیح موعود ہونے میں سچے نہیں اور کسی مسلمان کا ایمان اجازت نہیں دیتا کہ صحیح طور پر جو امور پہلے قرآن شریف سے پھر حدیث نبوی سے پھر صوفیہ کرام اور اجماع امت سے ثابت ہوں ۔ ان سے صرف ایک شخص جو کہ خود ہی مدعی ہے اس کے کہنے سے انکار کر کے قیامت کا عذاب اپنے ذمہ لے اور حسرت دنیا و الاخرۃ کا مصداق بنے ۔ اخیر میں ہم مجدد صاحب سرہندی و دیگر صوفیہ کرام مجددین کا عقیدہ دوبارہ نزول عیسیٰؑ لکھتے ہیں تا کہ مسلمانوں کو معلوم ہو کہ مرزا قادیانی بالکل اجماع امت کے برخلاف کہتے ہیں جو کچھ وہ کہتے ہیں ۔ اس کو ہرگز نہ ماننا چاہیے ۔ وہو ہٰذا۔ ترجمہ ۔ اردو اصل عبارت یہ ہے ۔ حضرت عیسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام ہماری شریعت کی متابعت کریں گے الخ ۔ (مکتوبات امام ربانیؒ ص ٣٠٥ مکتوب نمبر ٦٧ دفتر سوم حصہ ہشتم) ترجمہ اردو و اصل عبارت قیامت کی علامتیں جن کی نسبت مخبر صادق علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خبر دی ہے ۔ سب حق ہیں ۔ ان میں کسی قسم کا خلاف نہیں ۔ یعنی آفتاب عادت کے برخلاف مغرب کی طرف سے طلوع کرے گا ۔ حضرت مہدی علیہ الرضوان ظاہر ہوں گے ۔ دابۃ الارض نکلے گا اور دھواں آسمان سے ظاہر ہو گا ۔ الخ ۔ (مکتوبات امام ربانی ص ٢٢٠ مکتوب ٦٧ دفتر دوم) شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کا مذہب بھی لکھا جاتا ہے تا کہ ثابت ہو کہ مرزا قادیانی تمام امت کے برخلاف گئے ہیں ۔ یہ اس واسطے لکھا جاتا ہے کہ مرزائی یہ نہ کہہ دیں کہ کسی صاحب کشف و الہام کی سند پیش ہونی چاہیے کیونکہ مرزا قادیانی کو کشف و الہام سے معلوم ہوا کہ مہدی اور عیسیٰ ایک ہی شخص ہے اور وہ غلام احمد قادیانی ہے۔

اب یہ مسلمہ اصول اہل اسلام ہے کہ جب دو ولیوں کا کشف و الہام متفق ہو تو

صفحہ ١٤٣

حجت ہو سکتا ہے۔ بشرطیکہ نصوص شرعیہ کے برخلاف نہ ہو۔ ایک مجدد کا اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ ان کا بھی مذہب تھا کہ امام مہدیؑ اور حضرت عیسیٰؑ دو الگ الگ شخص ہیں۔ اب شیخ اکبر کا مذہب بھی سن لو اور خدا کو حاضر ناظر جان کر اپنے دل سے فتوے طلب کرو کہ کون حق پر ہے مجدد الف ثانی اور شیخ اکبر یا مرزا قادیانی؟ شیخ اکبر فتوحات کے باب ٧٣ میں فرماتے ہیں کہ بڑی وراثت ختم ولایت ہے۔ پس مطلق ولایت کے خاتم حضرت عیسیٰؑ ہیں۔ جو اخیری زمانہ میں نزول فرمائیں گے اور ولائت مطلقہ کے خاتم ہوں گے اور ولائت مقیدہ محمدیہ کے خاتم ایک شخص ملک مغرب سے ہوں گے اور خاندان اور ملک دونوں میں اشرف ہوں گے۔ (یعنی امام مہدی سید ہوں گے نہ کہ مغل چنگیز خاں کی اولاد سے) فتوحات کے باب ٩٣ میں لکھتے ہیں کہ امت محمدیہ میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو ابوبکرؓ سے سوا عیسیٰؑ کے افضل ہو۔ کیونکہ جب عیسیٰؑ فرود ہوں گے یعنی آسمان سے اتریں گے تو اسی شریعت محمدی سے حکم کریں گے ۔“ الخ

(فتوحات مکیہ)

امام جلال الدین سیوطیؒ ”فتح البیان جلد ٢ صفحہ ٣٤٢ پر فرماتے ہیں قد تواترت الاحادیث ینزل عیسٰی جسماً و دلت بذالک الاحادیث المتواترہ.“ یعنی حضرت عیسٰیؑ جسماً اتریں گے۔ جیسا کہ متواتر حدیثوں میں آیا ہے رفع جسمانی ثابت ہوا۔

امام ابو حنیفہؒ کا مذہب بھی لکھا جاتا ہے کیونکہ مرزائی مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ ہم حنفی ہیں۔ حالانکہ امام ابو حنیفہؒ کے برخلاف مذہب رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ مر گئے۔ بروزی رنگ میں نزول کریں گے۔ حالانکہ امام صاحب کا بھی یہ مذہب ہے کہ حضرت عیسٰیؑ اصالتاً نزول فرمائیں گے۔

چنانچہ شرح فقہ اکبر میں فرماتے ہیں۔ خروج الدجال و یاجوج و ماجوج و طلوع الشمس من المغرب و نزول عیسٰیؑ من السماء و سائر علامات یوم القیامت علی ماوردت بہ الاخبار الصحیحۃ حق کائن.

(شرح فقہ اکبر ص ١٣٦۔١٣٧)

یعنی امام ابو حنیفہؒ صاحب فقہ اکبر میں فرماتے ہیں کہ نکلنا دجال کا اور یاجوج و ماجوج اور چڑھنا سورج کا مغرب کی طرف سے اور اترنا حضرت عیسیٰؑ کا آسمان سے اور دوسری تمام علامتیں جو صحیح حدیثوں میں وارد ہیں حق ہیں۔ ظاہر ہے۔ اب انصاف کرو کہ یہ دھوکہ نہیں کہ کہتے ہیں کہ ہم حنفی ہیں حالانکہ عقیدہ برخلاف رکھتے ہیں بلکہ حنفیوں کے ساتھ نہ نمازیں پڑھتے ہیں اور نہ جنازے میں شامل ہوتے ہیں پھر یہ حنفی کس طرح ہوئے؟

شیخ الاسلام الجرانی فرماتے ہیں وصعود الادمی ببدنہ الی السما قد ثبت

صفحہ ١٤٤

فی امر المسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام فانہ صعد الی السماء ۔ یعنی انسان کا آسمان پر ساتھ اس بدن کے جانا ہو سکتا ہے جیسا کہ حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں ثابت ہوا ہے کہ وہ چڑھا آسمان پر۔

شیخ الاسلام احمد نفراوی المالکی نے فواکہ دوانی میں لکھا ہے کہ علامات قیامت میں سے حضرت عیسیٰؑ کا آسمان سے اترنا ہے اصالتاً۔

علامہ زرقانی مالکی نے شرح مواہب قسطلانی میں بڑی بسط سے لکھا ہے۔ فاذا نزل سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام فانما یحکم بشرعتہ نبینا ﷺ ۔ (شرح مواہب اللدنیہ للزرقانی ج ٥ ص ٣٤٧) یعنی جب سیدنا حضرت عیسیٰؑ نازل ہوں گے تو ہمارے نبی کی شریعت پر حکم کریں گے اور یہ بالکل غلط ہے کہ امام مالکؒ حضرت عیسیٰؑ کی موت کے قائل اور بروزی ظہور کے تسلیم کرنے والے تھے۔ اگر امام مالکؒ کا یہ مذہب ہوتا تو یہ مالکی علماء اپنے امام کے برخلاف نہ جاتے اور اصالتاً نزول کے قائل نہ ہوتے۔ اس بات پر اجماع امت ہے اور ہر ایک مذہب والے نے یہی لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ بعد نزول ہماری شریعت یعنی شرع محمدی پر حکم کریں گے اس سے صاف ثابت ہے کہ آنے والا صاحب شریعت ہو گا۔ اس کی اپنی شریعت بھی ہو گی اور مرزا قادیانی امتی تھے کوئی شریعت نہیں ساتھ لائے۔ پس ثابت ہوا کہ وہ مسیح ہرگز نہیں ہو سکتے اور یہ بھی صاف ثابت ہے کہ اصالتاً نزول ہو گا کیونکہ اگر کسی امتی کا بروزی رنگ میں ظہور ہونا ہوتا تو یہ قید ہرگز نہ لگائی جاتی کہ وہ شریعت محمدی ﷺ پر حکم کرے گا اور اپنی شریعت سے حکم ہرگز نہ کرے گا۔ جیسا کہ دوسری حدیث میں آیا ہے کہ جب حضرت عیسیٰؑ کو مسلمان کا امام کہے گا کہ آپ آگے ہو کر امامت کریں تو وہ کہے گا کہ نہیں میں اس واسطے امامت نہیں کراتا تاکہ میری امت کو شک نہ ہو کہ میں اپنی شریعت عیسوی پر حکم کروں گا اور شریعت محمدی کو منسوخ کروں گا۔ اس حدیث نے فیصلہ کر دیا ہے کہ وہی عیسیٰؑ نبی ناصری اصالتاً نزول فرمائیں گے جن کا رفع بجسد عنصری ہوا اور جو صاحب شریعت تھے۔

گیارھواں اعتراض

حضرت عیسیٰؑ اصالتاً نزول فرمائیں گے تو مہر نبوت ٹوٹتی ہے اور حضرت عیسیٰؑ کی بھی ہتک ہے کہ نبوت سے معزول ہو کر امتی بنائے جائیں۔

جواب: اوّل تو حضرت عائشہ صدیقہؓ نے جواب دے دیا ہے کہ نزول عیسیٰؑ خاتم النبیین کے برخلاف نہیں کیونکہ وہ پہلے نبی مبعوث ہو چکے تھے۔ دیکھو مجمع البحار صفحہ ٨٥ پر ان کا

صفحہ ١٤٥

قول درج ہے۔ قولو انه خاتم الانبيا ولا تقولو الا نبى بعده. (مجمع بحار الانوار ج ص ٥٠٢) یعنی اے لوگو یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیا تھے مگر یہ مت کہو کہ دنیا میں ان کے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا۔ یہ حضرت عائشہؓ نے اس واسطے فرمایا کہ مسلمان حضرت عیسیٰؑ کے نزول سے بھی منکر نہ ہو جائیں۔ حضرت عائشہؓ کا بھی یہی مذہب تھا کہ قرب قیامت میں حضرت عیسیٰؑ اصالتاً نزول فرمائیں گے۔ جیسا کہ تمام صحابہ کرام و تابعین کا مذہب تھا۔ اسی کتاب میں لکھا ہے کہ فیبعث اللہ عیسیٰ ای ینزل من السما و حاکم بشرعنا (بحار الانوار ج ١ ص ١٩٦ بحث) یعنی حضرت عیسیٰؑ نازل ہوں گے آسمان سے اور حکم کریں گے ہماری شریعت پر۔ پس ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰؑ کا نزول خاتم النبیین کے برخلاف نہیں کیونکہ حضرت عیسیٰؑ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے مبعوث ہو چکے تھے۔

دوسری بات یہ ہے ایک اور حدیث بھی اس کی تفسیر کرتی ہے۔ عن عائشة قالت قلت يارسول الله اين ارى اعيش بعدك فتاذن لى ان ادفن الى جنبك فقال وانى لک بذالک الموضع وما فيه الا موضع قبری و قبر ابوبکر و عمر و عيسىٰ بن مريم۔ (کنزالعمال ج ١٤ ص ٢٦٠ حدیث ٣٩٧٢٨ و ابن عساکر ج ٢٠ ص ١٥٤ عیسیٰ) یعنی حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی رسول اللہ ﷺ سے کہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میں آپ ﷺ کے بعد زندہ رہوں گی۔ اگر اجازت ہو تو میں آپ ﷺ کے پاس مدفون ہوں فرمایا آنحضرت ﷺ نے فرمایا میرے پاس تو ابوبکر و عمر اور عیسیٰ بیٹے مریم کے سوا اور جگہ نہیں۔

تیسری حدیث اسی کی تفسیر کرتی ہے۔ عن عبدالله بن عمرؓ وقال رسول الله ﷺ ينزل عيسىٰ ابن مريم الى الارض فتزوج ويولد لهُ و يمكث خمساً واربعين سنةً ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا و عيسىٰ ابن مريم فى قبر واحدٍ بين ابی بکر و عمر (رواہ ابن جوزی فی کتاب الوفا مشکوٰۃ ص ٤٨٠ باب نزول عیسیٰ) ترجمہ۔ روایت ہے عبداللہ بیٹے عمر سے راضی ہو اللہ دونوں باپ بیٹا سے کہا فرمایا رسول خدا ﷺ نے۔ اتریں گے عیسیٰ بیٹے مریم کے طرف زمین کے پس نکاح کریں گے اور پیدا کی جائے گی ان کے لیے اولاد اور ٹھہریں گے زمین میں پنتالیس برس پھر مریں گے عیسیٰ اور دفن کیے جائیں گے میرے مقبرہ میں درمیان ابوبکرؓ و عمرؓ کے۔ اٹھوں گا میں اور عیسیٰ بیٹا مریم کا ایک مقبرہ سے ابوبکر و عمر کے درمیان سے روایت کی یہ حدیث ابن جوزی نے کتاب وفا میں اس حدیث نے ذیل کے امور کا فیصلہ کر دیا ہے اور اس حدیث کو مرزا قادیانی نے بھی قبول کیا ہے۔ ”اگر یہ لوگ سمجھتے کہ يدفن معى فى قبرى کے کیا

صفحہ ١٤٦

معنی ہیں تو شوخیاں نہ کرتے۔“ (نزول المسیح ص ٣ حاشیہ خزائن ج ١٨ ص ٣٨١) پس اس حدیث سے کوئی مرزائی انکار نہیں کر سکتا کیونکہ ان کا مرشد تسلیم کر چکا ہے اور یہ حدیث صحیح ہے۔ پہلا! امر اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰؑ آسمان پر زندہ اٹھائے گئے جیسا کہ الی الارض کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں۔ دوسرا! امر یہ کہ ٤٥ برس زمین پر بعد نزول رہیں گے۔ تیسرا! امر یہ کہ شادی کرے گا کیونکہ جب اس کا صعود ہوا تھا۔ تو تب تک شادی نہ کی ہوئی تھی۔ چوتھا! امر یہ کہ حضرت عیسیٰ زندہ بجسد عنصری اٹھائے گئے اور اصالتاً بجسد عنصری نزول فرمائیں گے پانچواں! امر یہ کہ بعد فوت ہونے کے مدینہ منورہ میں مقبرہ رسول اللہ میں مدفون ہوں گے۔ اس سے حیات مسیح بھی ثابت ہوئی۔ چھٹا! امر یہ کہ مرزا قادیانی جو تاویل کرتے ہیں کہ میں روحانی طور پر محمد ﷺ کے وجود مبارک میں دفن ہوا بالکل غلط ہے کیونکہ میں ابوبکرؓ و عمرؓ کے الفاظ حدیث کے مرزا قادیانی کی تاویل کا بطلان کر رہے ہیں کیونکہ ابوبکر و عمر حقیقی طور پر رسول اللہ کے مقبرہ میں مدفون ہوئے نہ کہ روحانی اور مجازی طور پر۔ اور جو خالی جگہ ہے اس میں بھی حقیقی طور پر حضرت عیسیٰؑ بعد نزول وفوت ہونے کے دفن ہوں گے۔ مرزا قادیانی کے اس من گھڑت تاویل کی تردید حضرت عائشہؓ کی درخواست بھی ظاہر کرتی ہے کیونکہ انھوں نے بھی حقیقی و جسمانی طور پر مدفون ہونے کی درخواست کی تھی۔ نہ روحانی مجازی طور پر جیسا کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کیونکہ اگر بواسطہ محبت روحانی طور پر دفن ہونا مقصود ہوتا تو یہ امر حضرت عائشہ صدیقہؓ کو حاصل تھا جو کہ رسول اللہ ﷺ سے ان کو اور رسول اللہ ﷺ کو ان سے کمال محبت تھی جو کہ مرزا قادیانی میں ہرگز متصور نہیں۔ دوم اگر کمال محبت سے کوئی شخص محبوب ہو سکتا اور ظلی اور بروزی نبی کہلا سکتا تو سب سے پہلے حضرت ابوبکرؓ نبی و رسول کہلاتے اور روحانی طور پر رسول اللہ ﷺ کے بدن میں دفن ہو کر عین محمد ﷺ رسول اللہ ﷺ ہو کر مدعی نبوت ہوتے۔ مگر وہ تو مدعی نبوت کو کافر جانتے تھے پس یہ اعتراض بھی غلط ہے۔

توفی کا معنی

کسی مترجم نے یہ معنی نہیں کیے کہ جب تو نے مجھ کو مارا یا وفات دی۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے کیے ہیں۔ ہرگز نہیں تو پھر ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کے معنی کہ ”تونے مجھے وفات دی“ غلط ہیں۔ جب تک کوئی سند سلف صالحین سے نہیں تب تک ایک خود غرض کے معنی کبھی درست نہیں ہو سکتے بلکہ مرزا قادیانی خود مانتے ہیں کہ میں نے توفی کے معنی کرنے میں غلطی کی ہے۔ جب ایک شخص غلطی کرنے والا ہے تو اب کیا

صفحہ ١٤٧

ثبوت ہے کہ جو پہلے غلطی کر چکا ہے۔ اب صحیح معنی کرتا ہے اور غلطی نہیں کرتا مرزا قادیانی کی اصل عبارت یہ ہے۔ ”اس جگہ یاد رہے کہ میں نے براہین احمدیہ میں غلطی سے توفی کے معنی ایک جگہ پورا دینے کے کیے ہیں۔“ (دیکھو ایام صلح ص ٤١ خزائن ج ١٤ ص ٢٧١) مرزا قادیانی غلطی کرنے والے ثابت ہوئے تو ہم کہتے ہیں کہ اب جو معنی کرتے ہیں یہ بھی غلط ہیں بدرجہ اوّل یہ وجہ کہ معنی توفی کے پورا پورا لینے کے اجماع امت کے موافق ہیں۔ دوسرا یہ کہ براہین احمدیہ (بقول مرزا قادیانی) خدا کی کلام ہے اور الہامی کتاب ہے۔ جب مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ براہین احمدیہ الہام ربانی سے لکھی گئی ہے تو پھر خدا تعالیٰ علام الغیوب تو غلطی نہیں کرتا بعد ازاں جب مرزا قادیانی کو مسیح موعود بننے کا شوق ہوا تو الٹے اور غلط معنی کرنے لگے۔ پس توفیتنی کے معنی رفعتنی درست ہیں جو تفسیر اور حدیث کے مطابق ہیں۔ اب تفسیروں سے مختصر طور پر توفی کے معنی لکھے جاتے ہیں۔

قبض الشئ بتمامہ

ایضاً التوفی جنس تحتہ انواع بعضھا بالموت وبعضھا بالا اصعاد الی السماء یعنی توفی کے معنی ہیں کسی چیز کو پورا پورا لے لینا اور موت بھی ایک قسم کا توفی ہے اور اسی تفسیر میں لکھا ہے اور بعض ان میں سے آسمان پر چڑھنے والے وجود پر بولے جاتے ہیں۔

الفاظ یہ ہیں۔ اصلہ اخذ قبض شئ بتمامہ.

کے اصل معنی کسی چیز کا پورا پورا لے لینا ہیں اور موت بھی اقسام توفی کے معنوں میں سے ایک قسم ہے۔

رسانیدی ہم تو نگہبان بودی درکار و بار ایشان“ یعنی جب تو نے مجھ کو اپنے قبضے میں کر لیا اور دوسرے جہاں میں پہنچا دیا تو پھر تو ان کے کاروبار کو دیکھنے والا تھا۔

صفحہ ١٤٨

پورا لینا ہے۔

الرفع لاالموت. یعنی جب تو نے آسمان کی طرف مجھے اٹھا لیا۔ پس مراد اس اٹھانے سے وفات ہے نہ کہ موت۔

نے مجھ کو اپنی طرف پھیر لیا اور میں آسمان پر گیا پھر مجھ کو خبر نہیں کہ انھوں نے میرے بعد کیا کیا۔

(دیکھو صفحہ ١٢٩ تذکیر الاخوان بقیہ تقویۃ الایمان مصنفہ مولوی محمد اسمعیل شہید)

(دیکھو فص الحکم فص عیسوی)

خود انھوں نے پورا لینے کے معنی اسی آیت کے کیے ہیں۔

متذکرہ بالا تراجم اور تفاسیر سے معلوم ہوا کہ توفی کے معنی حقیقی طور پر تو قبض شے کے ہیں۔ یعنی کسی چیز کو پورا لے لینا اور چونکہ موت کے وقت روح کو اللہ تعالیٰ کامل اور پورے طور پر اپنے قبضے میں کر لیتا ہے۔ یعنی لے لیتا ہے اس واسطے توفی کی قسموں میں سے ایک قسم غیر حقیقی ومجازی موت بھی ہے مگر تعجب ہے کہ مرزا قادیانی یہ آیت ناحق پیش کر رہے ہیں۔ اس سے کس کو انکار ہے اور کون کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ قیامت تک نہ مریں گے؟ مسلمان تو بالاجماع پکار پکار کر کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ بعد نزول ٤٥ برس زمین پر رہ کر اور اسلام پھیلا کر فوت ہوں گے اور مقبرہ رسول اللہ ﷺ میں درمیان حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کے مدفون ہوں گے۔ تنازعہ تو صرف وفات قبل از نزول میں ہے جس کے ثابت کرنے سے مرزا قادیانی اور ان کے سب مرید عاجز ہیں۔ یہ کس مسلمان کا اعتقاد ہے کہ حضرت عیسیٰؑ ہمیشہ زندہ رہیں گے اور کبھی فوت نہ ہوں گے؟ مسلمان تو حضرت مخبر صادق محمد ﷺ رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے مطابق اعتقاد رکھتے ہیں اور وہ حدیث یہ ہے۔ عن عبداللہ ابن عمر قال قال رسول اللہ ﷺ ینزل عیسیٰ ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولد لہ و یمکث خمسا و اربعین سنة ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا و عیسیٰ ابن مریم فی قبر واحد بین ابوبکر و عمر . (رواہ ابن جوزی فی کتاب الوفا. مشکوٰۃ ص ٤٨٠ باب نزول عیسیٰؑ ) ترجمہ روایت

صفحہ ١٤٩

ہے عبداللہ بن عمرؓ سے کہ کہا فرمایا رسول خدا ﷺ نے اتریں گے عیسیٰ بیٹے مریم کے طرف زمین کے پس نکاح کریں گے اور پیدا کی جائے گی ان کے لیے اولاد اور ٹھہریں گے زمین پر پنتالیس برس۔ پھر مریں گے اور دفن کیے جائیں گے نزدیک میرے مقبرہ میرے میں پس اٹھوں میں اور عیسیٰ ایک مقبرہ میں درمیان ابوبکرؓ اور عمرؓ کے۔

سارا تنازعہ تو اس وفات میں ہے جو قبل نزول ہے۔ جس کے مرزا قادیانی مدعی ہیں کہ عیسیٰ بیٹا مریم کا نبی ناصری جس کے آنے کی خبر حدیثوں میں ہے وہ ایک سو بیس برس کی عمر پا کر فوت ہو چکا ہے وہ اب نہیں آ سکتا میں اس کی جگہ آیا ہوں جو کہ بالکل غلط اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی تکذیب ہے کیونکہ محمد رسول اللہ ﷺ چھ سو برس بعد حضرت عیسیٰ سے مبعوث ہوئے اگر حضرت عیسیٰ مر گئے ہوتے تو ان کو ضرور خبر ہوتی۔ جب حضرت رسالتمآب ﷺ کو خبر نہ ہوئی تو امتی بن کر مرزا غلام احمد قادیانی کو کس طرح خبر ہو سکتی ہے؟

مگر مرزا قادیانی اس وفات قبل نزول مسیح کو تمام عمر کی کوشش میں ثابت نہ کر سکے۔ اس آیت فلما توفیتنی سے وفات قبل از نزول ہرگز ثابت نہیں ہوتی یہ تو قیامت کا ذکر ہے۔ دیکھو قرآن مجید میں اسی سورۃ کے اسی رکوع کی ابتدا میں جس سے یہ رکوع شروع ہوتا ہے۔ لکھا ہے۔ یوم یجمع اللّٰہ الرسل فیقول ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا انک انت علام الغیوب۔ (مائدہ ١٠٩) ترجمہ ”اور اس دن کو یاد کرو جبکہ اللہ تعالیٰ پیغمبروں کو جمع کر کے پوچھے گا کہ تم کو اپنی امتوں کی طرف سے کیا جواب ملا۔“ اسی طرح سارا رکوع احوال قیامت کے دن کا ہے جس طرح اور نبیوں سے پوچھا جائے گا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰؑ سے پوچھے گا کہ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ۔ (مائدہ ١١٦) یعنی اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! کیا تم نے لوگوں سے یہ بات کہی تھی کہ خدا کے علاوہ مجھ کو اور میری ماں کو دو خدا مانو۔ اس کے جواب میں حضرت عیسیٰؑ عرض کریں گے کہ اے پروردگار جب تک میں ان میں موجود رہا میں ان کا نگران حال رہا۔ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ۔ (مائدہ ١١٧) پھر جب تو نے مجھے پھر لیا تو تو ہی تھا خبر رکھتا ان کی...... قَالَ اللّٰہُ ھٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصَّادِقِیْنَ صِدْقُھُمْ۔ (مائدہ ١١٩) کہے گا اللہ یہ وہ دن ہے کہ فائدہ دے گا سچوں کو سچ ان کا الخ۔

اب روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ یہ سوال و جواب قیامت کے دن ہوں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود دو جگہ فرمایا۔ اوّل! یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ اور دوسری جگہ

صفحہ ١٥٠

هذا یوم ینفع الصدقین صدقہم پس اس صورت میں اگر توفیتنی کے معنی مرزا قادیانی موت کے بھی کریں یا ہم مرزا قادیانی کی خاطر موت کے معنی مان بھی لیں تب بھی مرزا قادیانی کا دعویٰ وفات مسیح قبل از نزول یوم ولادت سے ١٢٠ برس کی عمر پا کر مرنا ثابت نہیں ہوتا۔ یہ قیامت کے سوال و جواب میں حضرت عیسیٰ کا عرض کرنا بارگاہ رب العالمین کہ جب تو نے مجھ کو وفات دی تو تو ہی ان کا نگران حال تھا۔ وفات قبل از نزول کی ہرگز ہرگز دلیل نہیں ہو سکتی کیونکہ بعد از نزول مریں گے۔

اقول کما قال کا جواب

اس موقعہ پر مرزائی ایک حدیث بیان کر کے مسلمانوں کو دھوکا دیا کرتے ہیں کہ چند اصحاب کو قیامت کے دن دوزخ کی طرف لے جائیں گے اور میں کہوں گا کہ یہ میرے اصحاب ہیں تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ انھوں نے تیرے بعد دین کو بدل دیا تھا۔ اس واسطے یہ دوزخی ہیں تو رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں بھی ایسا ہی کہوں گا۔ کما قال عبد الصالح یعنی جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی غیر حاضری کا عذر کریں گے میں بھی اپنی غیر حاضری کا عذر پیش کروں گا اور کہوں گا کہ یہ تیرے بندے ہیں چاہے عذاب کر اور چاہے تو معاف کر۔ اس حدیث سے استدلال یہ کرتے ہیں کہ فلما توفیتنی رسول اللہ بھی فرما دیں گے تو ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰؑ کی موت اور محمد رسول اللہ ﷺ کی موت ایک ہی قسم کی ہے۔

حرف تشبیہ ہے اور یہ ضروری نہیں کہ مشبہ و مشبہ بہ میں مماثلت تامہ ہو۔ اگر کسی کو شیر سے تشبیہ دی جائے تو ضرور نہیں کہ اس کی دم اور پنجے بھی شیر کی مانند ہوں۔ صرف وجہ شبہ میں اشتراک ہوتا ہے۔ پس اس جگہ وجہ شبہ غیر حاضری ہے اور غیر حاضری کی حالت میں جن لوگوں سے غیر حاضر رہا۔ ان کے چال چلن سے برأت ہے۔ اس کما کے لفظ تشبہ سے یہ ہرگز ثابت نہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی وفات اور حضرت عیسیٰؑ کی وفات ایک ہی قسم کی تھی۔ اوّل تو محمد رسول اللہ ﷺ اپنے دشمنوں اور کفار پر غالب آ کر کامیابی کی حالت میں عرب میں اپنی حکومت قائم کر کے فتحیاب اور اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ کی سند حاصل کر کے اس دارفانی سے تشریف لے گئے اس کے مقابل حضرت عیسیٰؑ بقول مرزا قادیانی مغلوب ہو کر دشمنوں سے طمانچے اور کوڑے کھا کر اور صلیب کے زخموں سے زخمی ہو کر نہایت محرومی اور ناکامیابی سے صلیب کے عذاب برداشت کر کے چوری چوری

صفحہ ١٥١

بھاگے اور بزعم مرزا قادیانی کشمیر میں جا دم لیا اور پھر یہودیوں سے ایسے خوف زدہ رہے کہ اپنا فرض رسالت ادا نہ کیا اور خاموشی سے یہودیوں سے ڈر کر زندگی کے دن پورے کر کے فوت ہوئے اور یہودیوں سے ایسے ڈرے کہ اپنی قبر بھی غیر کے نام سے مشہور کی۔ یعنی یوزآسف کے نام سے۔

اب بتاؤ کوئی عقلمند تسلیم کر سکتا ہے کہ محمد ﷺ اور عیسیٰ کی موت ایک ہی قسم کی تھی۔ ہرگز نہیں اس جگہ تشبیہ صرف غیر حاضری میں ہے۔ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ بھی حضرت عیسیٰؑ کی طرح اپنی غیر حاضری کا عذر پیش کریں گے اور بس۔ اسی واسطے مخبر صادق محمد رسول اللہ ﷺ نے مَا قَالىٰ نہیں فرمایا کیونکہ آپ کو معلوم تھا کہ ایک غلام احمد قادیانی میری امت میں مدعی نبوت ہو گا اور چونکہ میں نے فرمایا ہے کہ مسیح موعود نبی اللہ ہو گا۔ اس واسطے مسیح موعود ہو کر کاذب نبی یعنی امتی نبی کا مدعی بھی ہو گا۔ اور وہ اس حدیث سے تمسک کر کے اپنے دعویٰ نبوت و مسیحیت جس کی بنا وفات مسیح پر رکھے گا۔

نمبر ٢۔ اس واسطے آپ ﷺ نے مَا قَالىٰ نہیں فرمایا۔ یعنی یہ نہیں فرمایا کہ جو کچھ حضرت عیسیٰ خداوند کریم سے جواب عرض کریں گے۔ وہی جواب میں عرض کروں گا۔ پس یہ نادانی کا خیال ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ بھی وہی جواب دیں گے جو حضرت عیسیٰؑ دیں گے کیونکہ جواب ہمیشہ سوال کے مطابق ہوا کرتا ہے۔ جب سوال حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے وہ نہ ہو گا جو حضرت عیسیٰؑ سے ہو گا تو جواب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا کس طرح حضرت عیسیٰؑ کی مانند ہو سکتا ہے؟ جب کہ امت حضرت محمد ﷺ آپ ﷺ کو یا آپ ﷺ کی والدہ کو امت عیسوی کی مانند خدا نہیں بتاتے تو پھر خدا تعالیٰ کا ہرگز یہ سوال محمد رسول اللہ ﷺ سے نہ ہو گا کہ اَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَاُمِّيَ اِلٰهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ یعنی ”اے محمد ﷺ تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ خدائے واحد کو چھوڑ کر مجھے اور میری والدہ کو دو خدا مانو۔“ ہرگز نہیں۔ کیونکہ خدا کے فضل و کرم سے امت محمدی نہ تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خدا کا بیٹا کہتی ہے اور نہ آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ کو معبود یقین کرتی ہے۔ پس خدا تعالیٰ علام الغیوب کا محمد ﷺ سے یہ ہرگز سوال نہیں ہو سکتا جیسا کہ عیسیٰؑ سے ہو گا جب سوال یہ نہ ہو گا تو محمد رسول اللہ ﷺ کا جواب بھی ہرگز یہ نہ ہو گا کہ میں نے لوگوں کو نہیں کہا کہ مجھ کو اور میری والدہ کو معبود مانو۔“

نمبر ٣۔ اگر کچھ تعلق اس حدیث کا فلما توفیتنی سے ہے تو صرف یہی ہے کہ جیسا حضرت عیسیٰؑ اپنی بریت ظاہر کریں گے اسی طرح میں بھی اپنی امت کے مشرکوں کی

صفحہ ١٥٢

بدعنوانیوں اور باطل عقائد جو وہ احداث کریں گے۔ میں بھی ان سے بریت چاہوں گا۔ نہ حضرت عیسیٰؑ والا سوال ہو گا اور نہ حضرت عیسیٰؑ والا جواب اور یہ توفیتنی کا لفظ اسی واسطے قرآن مجید یہاں میں آیا ہے اس کے جو چاہو معنی کرو سب درست ہیں۔ اگر موت کے معنی کرو تو موت بعد نزول مراد ہے اور اگر رفعتنی کرو تو رفع الی السماء قبل از نزول مراد ہے اگر قبض شئے وافیا کے معنی کرو تو حضرت عیسیٰؑ کو تمام حالتیں مادمت فیھم کی معلوم ہوتی ہیں۔ یعنی اپنی امت سے جب غیر حاضر ہوا نزول سے پہلے اور طبعی موت سے فوت ہوا اور مدینہ میں مدفون ہوا نزول کے بعد۔ دونوں حالتوں میں بہ سبب مقبوض الی اللہ ہونے کے اپنی امت سے غیر حاضر ہوا۔ اگر قرآن میں توفیتنی کے عوض کوئی اور لفظ ہوتا جس کے خاص موت کے ہی معنی ہوتے جیسا کہ یموتنی یعنی موت دی۔ مجھ کو تو یہ شبہ نہ ہوتا۔ مگر مرزا قادیانی کو اپنی غرض کچھ کرنے نہیں دیتی ان کے نزدیک اسلام ہے تو وفات مسیح، غرض تمام عمر وفات مسیح ثابت کرتے مر گئے اور وہ نہ ہوئی۔ صرف اس واسطے کہ خود غرضی پر مبنی تھی کہ مسیح مرے تو میں مسیح موعود ہوں۔

جب ہم مانتے ہیں کہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰؑ کا نزول ہو گا اور وہ ٤٥ برس زندہ رہ کر پھر فوت ہوں گے اور مدینہ منورہ میں دفن ہوں گے اور ان کی چوتھی قبر ہو گی۔ درمیان ابوبکرؓ و عمرؓ کے تو پھر کس قدر کج بحثی ہے کہ ناحق اس حدیث کو پیش کیا جاتا ہے؟ یہ تو قیامت کا ذکر ہے۔ لو اخیر ہم مرزا قادیانی کا ہی اقرار پیش کرتے ہیں۔ جس میں انھوں نے خود اقبال کر لیا ہے کہ یہ سوال جواب بعد حشر قیامت کے دن ہو گا۔ لو اب تو مرزا قادیانی کے حافظہ کو داد دو اور اب بھی وقت ہے توبہ کر لو کہ مرزا قادیانی کو وحی حضرت خداوند علام الغیوب کی طرف سے نہ ہوتی تھی۔ اگر خدا کی طرف سے ہوتی تو تضاد نہ ہوتا۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے معیار بتا دی ہے۔ دیکھو قرآن شریف میں فرماتا ہے وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافاً كَثِيْراً (نساء ٨٢) یعنی اگر یہ کلام کسی غیر کی ہوتی تو اس میں اختلاف ہوتا۔ پس یہ نص قرآنی سے ثابت ہوا کہ جس کلام میں تضاد ہو وہ کبھی خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتی۔ مرزا قادیانی کی ذیل کی عبارت دیکھو۔ جس میں اقرار کرتے ہیں کہ قیامت کو سوال و جواب ہوں گے۔

اس جگہ اگر توفی کے معنی مع جسم عنصری آسمان پر اٹھایا جانا تجویز کیا جائے تو یہ معنی تو بدیہی البطلان ہیں کیونکہ قرآن شریف کی انہی آیات سے ظاہر ہے کہ یہ سوال حضرت عیسیٰؑ سے قیامت کے دن ہو گا۔ پس اس سے تو یہ لازم آتا ہے کہ وہ موت سے

صفحہ ١٥٣

پہلے اس رفع جسمانی کی حالت میں ہی خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہو جائیں گے اور پھر کبھی نہیں مریں گے کیونکہ قیامت کے بعد موت نہیں اور ایسا خیال بالبداہت باطل ہے۔ علاوہ اس کے قیامت کے دن یہ جواب ان کا کہ اس روز سے کہ میں مع جسم عنصری آسمان پر اٹھایا گیا۔ مجھے معلوم نہیں کہ میرے بعد میری امت کا کیا حال ہوا۔ یہ اس عقیدہ کی رو سے صریح دروغ بے فروغ ٹھہرتا ہے جبکہ یہ تجویز کیا جائے کہ وہ قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں آئیں گے کیونکہ جو شخص دوبارہ دنیا میں آئے اور اپنی امت کی مشرکانہ حالت کو دیکھ لے بلکہ ان سے لڑائیاں کرے اور ان کی صلیب توڑے اور ان کے خنزیر کو قتل کرے وہ کیونکر قیامت کے روز کہہ سکتا ہے کہ ”مجھے اپنی امت کی کچھ بھی خبر نہیں۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٣١ خزائن ج ٢٢ ص ٣٣)

مرزا قادیانی کا یہ اعتراض بالکل لغو ہے کہ عیسیٰ بغیر موت قیامت کو پیش ہوں گے جبکہ حدیث میں ہے کہ عیسیٰ بعد نزول فوت ہوں گے اور مدینہ منورہ میں دفن ہوں گے۔ ”تو چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد کا مصداق ہے مرزا قادیانی نے مسلمانوں کو اس جگہ سخت دھوکے دیئے ہیں اور بالکل جھوٹی باتیں اپنی طرف سے بطور افتراء مسلمانوں پر لگا کر خود ہی اپنی مرضی کے مطابق سوال بنا لیتے ہیں اور خود ہی جواب دیتے ہیں جو کہ ذیل کے دلائل سے غلط ہیں۔

تعالیٰ کے سامنے پیش ہو جائیں گے اور پھر کبھی نہ مریں گے۔“ الخ۔

جواب: یہ دروغ بے فروغ ہے کہ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ پیش ہوں گے تو وہ اس جسد عنصری سے ہوں گے جس کے ساتھ ان کا رفع ہوا تھا کیونکہ جب محمد رسول اللہ ﷺ خود فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بعد از نزول فوت ہوں گے اور ٤٥ برس تک زمین پر زندہ رہ کر دنیا پر اسلام پھیلا کر عقائد باطلہ کو محو کر کے فوت ہوں گے اور مدینہ منورہ میں مدفون ہوں گے تو پھر کس قدر مرزا قادیانی کی دلیری ہے کہ رسول مقبول ﷺ کی حدیث کے برخلاف اپنے طبعزاد اعتراض کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ عیسیٰ قیامت کے دن اسی جسم کے ساتھ پیش ہوں گے جس کے ساتھ ان کا رفع الی السماء ہوا تھا حالانکہ یہ بالکل غلط ہے افسوس مرزا قادیانی اپنے مطلب کے واسطے جھوٹی بات اپنی طرف سے بنا لینی خشیۃ اللہ کے برخلاف نہیں سمجھتے یہ کہاں لکھا ہے اور کس مسلمان نے ١٣ سو برس کے عرصہ میں یہ کہا ہے کہ حضرت عیسیٰ اسی جسم عنصری سے پیش ہوں گے جس سے رفع ہوا تھا اور نہ پھر کبھی مریں گے؟ ایسا سفید

صفحہ ١٥٤

جھوٹ تو کوئی ایمان دار نہیں بول سکتا۔

تعجب ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ کہاں سے سمجھ لیا کہ اگر توفیتنی کے معنی رفعتنی کیے جائیں تو پھر حضرت عیسیٰ کا کبھی بھی فوت نہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔ لہٰذا ہم توفیتنی کے معنی رفعتنی کر کے مرزا قادیانی کو اور ان کے مریدوں کو بتاتے ہیں کہ یہ ان کی اپنی غلط فہمی ہے کہ وہ رفعتنی کو محل اعتراض سمجھتے ہیں اب سنو اور خوب غور سے سنو کہ حضرت عیسیٰؑ جب اپنی امت سے الگ ہوئے تو بتقاضائے بشریت ان کا لاعلم ہونا ضروری تھا کیونکہ یہ خاصہ خدا تعالیٰ ہی کا ہے کہ حاضر و غائب ہو کر یکساں حالت میں نگران حال رہے پس جب حضرت عیسیٰؑ آسمان پر اٹھائے گئے تو ان کو ساکنان زمین کا حال کیا معلوم ہو سکتا تھا؟ اس لیے ان کا یہ فرمانا کہ جب میں اٹھایا گیا تو پھر میں ساکنان زمین اور اپنی امت کا گواہ نہیں ہو سکتا اور یہ جواب بالکل صحیح ہے کیونکہ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ اگر ایک شخص ایک شہر سے دوسرے شہر میں چلا جائے تو اس کو اس شہر کی جس سے چلا جائے کچھ خبر نہیں ہوتی بلکہ ایک ہی شہر میں جب ایک محلہ سے دوسرے محلہ میں کوئی انتقال کرے تو اس کو پہلے محلہ کی خبر نہیں ہوتی۔ چہ جائیکہ ایک شخص زمین سے آسمان پر اٹھایا جائے اور پھر یہ امید ہو کہ وہ تمام زمین کے حالات آسمان سے معلوم کر سکتا ہے۔ بالکل ناسزا اور مشرکانہ عقیدہ ہے کیونکہ یہ تو خدا کا ہی خاصہ ہے کہ دور و نزدیک یکساں دیکھ سکے۔ پس مرزا قادیانی کا یہ اعتراض کہ اس جگہ توفیتنی کے معنی اگر رفعتنی کیے جائیں تو حضرت عیسیٰ کی کبھی موت ثابت نہیں ہوتی۔ غلط ہے کیونکہ رفع کے بعد نزول ہے اور نزول کے بعد موت اور موت کے بعد قیامت اور یہ سوال جب قیامت کو ہو گا۔ تو ظاہر ہے کہ بعد وفات عیسیٰؑ اور تمام ساکنان زمین و آسمان وغیرہ سے بروز قیامت ہو گا جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍ وَّیَبْقٰی وَجْهُ رَبِّکَ ذُو الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ. (رحمٰن ٢٦‘٢٧) یعنی کل چیزیں جو زمین پر ہیں وہ فنا ہو جائیں گی صرف ذات باری تعالیٰ صاحب جلال و اکرام باقی رہے گی۔ پس یہ اعتراض مرزا قادیانی کا بالکل غلط ہے کہ رفعتنی کے معنی سے عیسیٰؑ کی زندگی جاوید ثابت ہو گی۔

(٢) مرزا قادیانی کا یہ اعتراض کہ اگر حضرت عیسیٰؑ جواب دیں گے کہ مجھ کو اپنی امت کی خبر نہیں تو یہ دروغ بے فروغ ہو گا کیونکہ بعد از نزول وہ امت کے حالات سے خبردار ہوں گے اور ان کے ساتھ لڑائیاں وغیرہ کریں گے اور صلیب توڑیں گے اور

-

صفحہ ١٥٥

خنزیر وغیرہ قتل کریں گے تو ان کو اپنی امت کی خبر ہو گی اور جب خبر ہو گی تو پھر قیامت کے روز کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ مجھے اپنی امت کی خبر نہیں؟ یہ اعتراض بھی مرزا قادیانی کا بہتان و افترا ہے۔ مرزا قادیانی ایسے محو مطلب پرستی تھے اس جگہ بھی مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰؑ پر افترا باندھا ہے کہ وہ کہیں گے کہ مجھ کو اپنی امت کی خبر نہیں اور جھوٹ کہیں گے کیونکہ ان کو بعد نزول خبر ہو گی۔ حالانکہ نہ تو یہ سوال خدا کا ہو گا کہ تو اپنی امت کا حال جانتا ہے اور نہ حضرت عیسیٰؑ کا یہ جواب ہو گا کہ میں اپنی امت کے حال سے بے خبر ہوں۔ یہ مرزا قادیانی کا بہتان ہے جو خود ایجاد کر لیا ہے۔ لہٰذا ہم ناظرین کی توجہ اصل الفاظ قرآن مجید کی طرف منعطف کرتے ہیں اور مختصر طور پر نیچے سوال از طرف خداوند کریم و جواب حضرت عیسیٰؑ لکھتے ہیں تاکہ مرزا قادیانی کا اپنا دروغ بے فروغ ثابت ہو۔

سوال خدا تعالیٰ

اَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَاُمِّيَ اِلٰهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ. ترجمہ: ”کیا تو نے لوگوں کو کہا کہ (واحد) اللہ کو چھوڑ کر مجھ کو اور میری ماں کو دو خدا بنا لو۔“ جواب عیسیٰؑ : مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَا اَمَرْتَنِيْ بِهٖ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيْ وَرَبَّكُمْ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ وَاَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ ط اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ. (مائدہ ١١٧۔١١٨) ترجمہ: تو نے جو مجھ کو حکم دیا تھا پس وہی میں نے ان لوگوں کو کہہ سنایا تھا کہ اللہ جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے۔ اسی کی عبادت کرو اور جب تک میں ان لوگوں میں موجود رہا میں ان کا نگران حال رہا پھر جب تو نے مجھ کو دنیا سے اٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگہبان تھا اور تو سب چیزوں کی خبر رکھتا ہے اگر تو ان کو عذاب دے تو تجھ کو اختیار ہے یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو معاف کرے تو کوئی تیرا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا۔ بیشک تو ہی سب پر غالب اور حکمت والا ہے۔“

اب کوئی بتائے کہ کہاں سوال ہے کہ اے عیسیٰ تم کو اپنی امت کی خبر ہے اور کہاں حضرت عیسیٰ کا جواب ہے کہ مجھ کو خبر نہیں؟ جس پر مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰؑ پر دروغ بے فروغ کا فتویٰ جڑ دیا۔ افسوس دعویٰ نبوت کا اور عمل یہ کہ خود جھوٹ لکھ دیتے ہیں۔ حالانکہ سب آسمانی کتابوں نے اصول مقرر کر دیا ہے کہ جھوٹا شخص کبھی نبی نہیں ہو سکتا۔ مگر مرزا قادیانی کی خصوصیت ہے کہ کوئی بات سچ نہیں اور اس پر دعویٰ یہ کہ مسیح

صفحہ ١٥٦

موعود و نبی و رسول ہوں اور جو کچھ لکھتا ہوں وحی و الہام سے لکھتا ہوں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے الہام خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ تھے۔

اب ہم نمبروار جواب کے ہر ایک فقرہ کو الگ الگ لکھتے ہیں تاکہ مرزا قادیانی کی ایمانداری معلوم ہو کہ وہ ہمیشہ اپنے مدعا ثابت کرنے کے واسطے جھوٹ لکھ کر مسلمانوں کو دھوکہ دیتے تھے اور افسوس ان کے مریدوں پر کہ وہ ہرگز غور نہیں کرتے کہ مرزا قادیانی کہاں سے لکھتے ہیں اور یہ ان کا لکھنا سچا ہے یا جھوٹا ہے؟ سب رطب و یابس وحی الٰہی تسلیم کر کے آمنا وصدقنا کہتے ہیں۔

یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ جواب ہمیشہ سوال کے مطابق ہوا کرتا ہے۔ جب خدا تعالیٰ کا سوال یہ ہے کہ اے عیسیٰ تو نے کہا تھا ان لوگوں کو کہ مجھ کو اور میری ماں کو معبود بناؤ تو حضرت عیسیٰ کا جواب یہی ہو سکتا تھا کہ میں نے نہیں کہا۔ سو یہی جواب حضرت عیسیٰؑ دیں گے۔ یہ مرزا قادیانی نے کہاں سے سمجھ لیا کہ حضرت عیسیٰ کہیں گے کہ مجھ کو خبر نہیں۔ یہ مرزا قادیانی کا افتراء ہے کہ حضرت عیسیٰ کہیں گے کہ مجھ کو خبر نہیں اور یہ جواب ان کا دروغ بے فروغ ہو گا۔ ہم حضرت عیسیٰ کے جواب کے فقرے الگ الگ لکھ کر ثابت کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اپنے پاس سے افتراء باندھا ہے کہ حضرت عیسیٰ جھوٹ کہیں گے کہ مجھ کو خبر نہیں۔ حالانکہ بعد نزول ان کو خبر ہو گی۔

پہلا فقرہ...... حضرت عیسیٰ کے جواب کا یہ ہے۔ ”تو نے جو مجھ کو حکم دیا تھا پس وہی میں نے ان لوگوں کو سنایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جو تمہارا اور میرا رب ہے۔“ ناظرین! اس میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہے کہ جس سے مرزا قادیانی بتا سکیں کہ عیسیٰؑ کہیں گے کہ مجھ کو خبر نہیں اور یہ جھوٹ ہو گا۔

دوسرا فقرہ...... یہ ہے ”جب تک میں ان میں موجود رہا میں ان کا نگران حال رہا۔“ یعنی مادمت فیھم جب تک ان میں رہا۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے رفع کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ ورنہ صاف کہتے کہ جب تک میں ان میں زندہ رہا۔ مگر چونکہ یہ نہیں کہا صرف مادمت فیھم کہا جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ میرے ان میں رہنے کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ قبل از رفع اور دوسرا مادمت فیھم کا بعد از نزول کا ہے۔ اب انصاف سے بولو کہ حضرت عیسیٰؑ کا کون سا دروغ بے فروغ جواب ہو گا؟ وہ تو کہتے ہیں اور بہت سچ کہتے ہیں کہ میں جب تک ان میں رہا تب تک نگران حال تھا۔ کیا جھوٹ ہے؟ کیا حضرت عیسیٰ مادمت فیھم کی نفی کی حالت

صفحہ ١٥٧

میں بھی نگراں حال امت تھے؟ یا امت سے غیر حاضری کی حالت میں بھی نگراں حال تھے؟ ہرگز نہیں تو یہ پھر جھوٹ کیوں کر ہو گا؟ یہ مرزا قادیانی کا اپنا ہی افترا ہے۔ اگر روح کا رفع ہوتا اور عیسیٰ مر جاتے تو فرماتے جب تک میں ان میں زندہ رہا نگراں حال رہا اور جب تو نے مجھ کو مار کر میری روح کو اٹھا لیا تو تو ہی نگران تھا۔ مگر مادمت فیھم فرمایا یعنی جب تک میں ان میں رہا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ کے رہنے کی دو جگہیں تھیں ایک تو عیسائیوں اور یہودیوں میں رہنے کی جگہ اور دوسری ایسی جگہ کہ جہاں یہود و نصاریٰ موجود نہ تھے اور نہ اس جگہ سے حضرت عیسیٰ ان کے نگراں حال تھے اور وہ رفع الی السماء کا زمانہ ہے جس کی تصدیق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے کی ہے۔

تیسرا فقرہ ...... یہ ہے ”جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگہبان تھا ۔“ اس فقرہ سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ عرض کریں گے حضرت عیسیٰ کہ میں عالم الغیب نہیں۔ مجھ کو غیب کا علم نہیں۔ جب میں ان میں نہ تھا اور مجھ کو تو نے اپنی طرف اٹھا لیا تو پھر میں ان پر گواہ کس طرح ہو سکتا ہوں؟ یہ تو خاص تیری ہی صفت ہے کہ تجھے ہر وقت ہر جگہ کا علم رہتا ہے۔ میرا ہرگز یہ مرتبہ نہیں کہ میں ان سے الگ بھی رہوں اور ان کے حال کا نگران بھی رہوں۔ میں تو تب تک ہی گواہ تھا۔ جب تک ان میں تھا۔ اب بتاؤ اس جواب حضرت عیسیٰ میں کیا جھوٹ ہو گا؟ واقعی جب وہ ان میں جس عرصہ تک نہیں رہے۔ اس عرصہ کی گواہی وہ کس طرح دے سکتے ہیں؟

اس جگہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ بعد نزول ان کو خبر ہو گی۔ ہم بھی مانتے ہیں کہ ان کو خبر ہو گی۔ مگر خدا تعالیٰ کا کہاں سوال ہے کہ تم کو خبر ہے کہ تیری امت نے شرک و گناہ کیے اور حضرت عیسیٰ کہیں گے کہ مجھ کو خبر نہیں؟ بلکہ حضرت عیسیٰ کا جواب تو ظاہر کر رہا ہے کہ میری امت نے میری غیر حاضری میں مجھ کو اور میری ماں کو اللہ بنایا کیونکہ حضرت عیسیٰ کا یہ فرمانا کہ مادمت فیھم یعنی جب تک ان میں رہا، بتا رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ اپنی امت کے برخلاف ان پر حجت قائم کر رہے ہیں اور درگاہ خداوندی میں اقرار کے رنگ میں فرما رہے ہیں کہ میری امت نے قصور تو ضرور کیا ہے مگر تو ان کو بخش دے تو تیری مخلوق ہے اور تو ان کا خالق ہے چونکہ معافی مجرم کے واسطے مانگی جاتی ہے اور یہ ایک گونہ اقرار جرم ہے۔ اس لیے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ اپنی شنید کی بنا پر جو ان کو بعد نزول حاصل ہو گی۔ یہ کہیں گے کہ میری امت بیشک میری غیر حاضری میں مشرک ہوئی لیکن تو اگر ان کو بخش دے تو تیری مخلوق ہے تو یہ حضرت عیسیٰ کا دروغ بے

صفحہ ١٥٨

فروغ کیسے ہوا؟ غرض یہ بالکل کور اور من گھڑت سوال ہے اور جواب بھی مرزا قادیانی نے مسلمانوں کو دھوکا دینے کے واسطے اپنے پاس سے بنا لیا ہے۔ قرآن کے تو کسی لفظ سے یہ نہیں نکلتا کہ خدا تعالیٰ یہ سوال کرے گا کہ اے عیسٰی تجھ کو خبر ہے کہ تیری امت بگڑی ہوئی ہے اور حضرت عیسٰی جواب دیں گے کہ مجھ کو خبر نہیں۔ وہاں سوال تو یہ ہے کہ اَءَ نْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِیْ وَأُمِّیَ اِلٰهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔ یعنی اے عیسٰی تو نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو دو معبود بناؤ اللہ کو چھوڑ کر۔ یہ مرزا قادیانی نے کہاں سے سمجھ لیا کہ خدا کا سوال یہ ہو گا کہ اے عیسٰی تجھ کو خبر ہے کہ تیری امت بگڑی۔ جس کے جواب میں حضرت عیسٰی کہیں گے کہ مجھ کو خبر نہیں اور یہ جھوٹ ہوگا۔ جب سوال یہ ہے کہ تو نے کہا کہ مجھ کو اور میری ماں کو اللہ بناؤ تو جواب بھی یہی ہو گا کہ میں نے نہیں کہا کہ مجھ کو اور میری ماں کو اللہ بناؤ۔ پس جب یہی جواب عیسٰی دیں گے تو پھر مرزا قادیانی نے قرآن میں تحریف کر کے اپنی طرف سے یہ سوال خدا تعالیٰ کی طرف سے بنا لیا کہ تجھ کو معلوم ہے کہ تیری امت بگڑی اور عیسٰی اگر کہیں گے کہ مجھ کو خبر نہیں تو دروغ بے فروغ ہوگا۔ جب تک کوئی مرزائی قرآن سے یہ نہ بتا دے کہ خدا کا سوال یہ ہو گا کہ تجھ کو معلوم ہے کہ تیری امت بگڑی۔ تب تک مرزا قادیانی افترا پردازی کے الزام سے بری نہیں ہو سکتے۔ اب مرزا قادیانی کے مریدوں کا فرض ہے کہ وہ قرآن مجید کی وہ آیات دکھائیں جس میں اللہ کا یہ سوال ہو کہ اے عیسٰی تجھ کو خبر ہے کہ تیری امت بگڑی اور حضرت عیسٰی جواب دیں گے کہ مجھ کو اپنی امت کی خبر نہیں حالانکہ ان کو خبر ہوگی کیونکہ بعد نزول وہ اپنی امت بگڑی ہوئی دیکھیں گے اور سنیں گے۔ سارا دار و مدار اسی بات پر ہے۔ اگر سوال یہ ہو کہ اے عیسٰی تیری امت بگڑی اور حضرت عیسٰی یہ جواب دیں کہ مجھ کو خبر نہیں۔ تب تو اعتراض درست ہو گا اور اگر سوال یہ نہیں تو پھر مرزا قادیانی کا بہتان و افتراء حضرت عیسٰی پر اور خدا پر ثابت ہے۔

جب مرزا قادیانی خود مانتے ہیں کہ سوال و جواب قیامت کے دن ہوں گے اور اس حدیث کو بھی تسلیم کرتے ہیں جس میں مخبر صادق نے خبر دی ہے کہ عیسٰی بعد نزول فوت ہوں گے تو پھر چاہیے تَوَفَّيْتَنِیْ کے معنی رَفَعْتَنِیْ کریں تب بھی درست ہیں اور چاہے مرزا قادیانی کی خاطر ہم برخلاف اجماع امت موت کے معنی بھی کر لیں تب بھی مرزا قادیانی وفات عیسٰی قبل از نزول و بعد از صلیب ثابت کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ یہ وفات جس کا ذکر قیامت کے دن ہوگا۔ بعد نزول حضرت عیسٰی پر واقع ہو

صفحہ ١٥٩

چکی ہوگی۔ تنازعہ تو صرف قبل از نزول وفات کا ہے جو ان کی مایہ ناز دلیل (اس آیت) سے بھی ہرگز ثابت نہیں ہو سکتی۔ پس اس آیت سے بھی استدلال مرزا قادیانی وفات مسیح پر غلط ہے۔ باقی رہا مرزا قادیانی کا یہ فرمانا کہ ”قال“ ماضی کا صیغہ اور ”اذ“ جو خاص ماضی کے واسطے آتا ہے اس کے اوّل موجود ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہ قصہ نزول آیت کے وقت ایک ماضی قصہ تھا نہ کہ زمانہ استقبال کا پھر جو جواب حضرت عیسیٰ کی طرف سے ہے یعنی فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی وہ بھی صیغہ ماضی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٠٢ خزائن ج ٣ ص ٤٢٥)

اس کا جواب اوّل تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اس اپنے ”ایجاد بندہ خیال گندہ“ کا خود ہی رد کر چکے ہیں۔ اصل عبارت مرزا قادیانی کی یہ ہے۔ ”کیونکہ قرآن شریف کی انہی آیات سے ظاہر ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ سے قیامت کے دن سوال ہو گا۔“ (حقیقت الوحی ص ٣١ خزائن ج ٢٢ ص ٣٣) اب بتاؤ مرزا قادیانی نے پہلے بھی الہام ربانی سے لکھا تھا کہ قال ماضی ہے اور اس آیت کے نزول سے پہلے کا قصہ ہے اور یہ سوال جواب ہو چکے ہیں اور اب حقیقۃ الوحی میں جو کہ مرزا قادیانی کے الہام ربانی سے لکھی گئی ہے اس میں لکھا ہے کہ قیامت کو سوال و جواب ہوں گے۔ اب پہلے تو کوئی یہ بتائے کہ کونسا الہام مرزا قادیانی کا درست ہے آیا ازالہ اوہام والا جس میں ماضی کا قصہ لکھا ہے یا حقیقۃ الوحی والا جس میں استقبال لکھا ہے؟ اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام نہ ہوتے تھے۔ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتے تو ان میں تضاد ہرگز نہ ہوتا۔

دوم...... مرزا قادیانی کو دعویٰ تو قرآن دانی کا بڑا ہے اور حال یہ ہے کہ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ قرآن مجید میں جب اذ ماضی پر آتا ہے تو استقبال کے معنی بھی دیتا ہے۔ دیکھو تو اِذْ فَزِعُوْا (سباء ٥١) اور اِذْ تَبَرَّ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا (البقرۃ ١٦٦) میں ماضی پر اِذْ آیا ہے مگر احوال قیامت کا ذکر ہے جو کہ آنے والا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کا یہ خیال غلط ہے کہ ہمیشہ ماضی پر جب اِذْ آئے تو زمانہ گذشتہ کا ذکر خاص ہوتا ہے کیونکہ قرآن کریم کی آیات محولہ بالا سے ثابت ہے کہ اِذْ ماضی پر آیا اور استقبال کے واسطے آیا۔

سوم...... سنّت اللہ یہ ہے کہ زمانِ مستقبل کے جن امور کا ہونا یقینی اور ضروری ہے ان کو بصیغہ ماضی بیان کیا جایا کرتا ہے۔ جس شخص کو نظم قرآنی سے کچھ بھی مس ہے وہ تو اس سنّت اللہ سے انکار نہیں کر سکتا۔ قیامت کا ذکر ہے جس کو جا بجا بصیغہ ماضی بیان کیا

صفحہ ١٦٠

گیا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ جس طرح واقعات گذشتہ کا کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا اسی طرح احوال قیامت میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔ لہٰذا قرآن کریم میں جہاں قیامت کا ذکر ہے وہاں ماضی کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا وَقَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَا (زلزال ١ تا ٣) میں سب ماضی کے صیغے ہیں جو کہ واقعات سب قیامت کو ہونے والے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسَى سوال اور فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِىْ جواب بروز قیامت ہونے والے ہیں نہ کہ۔ بقول مرزا قادیانی زمانہ ماضی میں ہو چکے ہیں کیونکہ یہ رکوع يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ سے شروع ہوتا ہے۔ یعنی جبکہ اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو جمع کرے گا اور رسول بروز قیامت ہی جمع ہوں گے تب حضرت عیسیٰؑ سے وہ سوال ہو گا اور اللہ تعالیٰ کے سوال کے جواب میں حضرت عیسیٰؑ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِىْ جواب دیں گے۔

اور پھر اسی سورۃ کے اخیر میں ہے قَالَ اللّٰهُ هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ. (مائدہ ١١٩) یعنی اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یہ دن صادقوں کے نفع حاصل کرنے کا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ قیامت کا ذکر ہے اور سوال حضرت عیسیٰؑ پر قیامت کے دن ہو گا اور فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِىْ جواب بھی حضرت عیسیٰؑ قیامت کے دن دیں گے اور اس سے کسی مسلمان کو انکار نہیں کہ حضرت عیسیٰؑ بعد نزول فوت ہوں گے۔ پس یہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِىْ وفات عیسیٰؑ قبل از نزول پر ہرگز دلالت نہیں کرتی کیونکہ جواب و سوال ابھی تک نہیں ہوئے۔ قیامت کو ہوں گے پس وفات مسیحؑ بھی ابھی تک وارد نہیں ہوئی جب موت کا مسیحؑ پر وارد ہونا اس آیت کے کسی لفظ سے ثابت نہیں تو پھر اس آیت سے وفات کا وارد ہو جانا مسیحؑ پر ہرگز ثابت نہیں اور استدلال غلط ہے۔

جب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال ہی نہ ہو گا کہ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِىْ وَاُمِّىَ اِلٰهَيْنِ تو پھر ان کا وہی حضرت عیسیٰؑ والا جواب کس طرح ہو سکتا ہے؟ دوم...... حدیث میں كَمَا قَالَ لکھا ہے نہ کہ مَا قَالَ ۔ اگر مَا قَالَ ہوتا تو کہہ سکتے تھے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ بھی وہی جواب دیں گے جو حضرت عیسیٰؑ دیں گے مگر جب سوال ایک جنس کا نہیں تو پھر جواب بھی ایک جنس کا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ سوم...... كَمَا حرف تشبیہ ہے اور مشبہ و مشبہ بہ میں وجہ شبہ ادنیٰ اشتراک میں ہوتی ہے نہ کہ من کل الوجوہ عینیت۔ پس محمد رسول اللہ ﷺ یہ فرمائیں گے کہ چاہے تو عذاب کر اور چاہے تو رحم و بخشش کر یہ تیرے بندے ہیں۔ کیونکہ امت محمدی کے افراد

صفحہ ١٦١

صرف بدعتی ہوں گے نہ کہ مشرک۔ اور حضرت عیسیٰؑ کے امتی مشرک ہوں گے۔ پس حضرت عیسیٰؑ سے الگ سوال ہو گا اور ان کا جواب بھی سوال کے مطابق الگ ہو گا اور محمد رسول اللہ ﷺ کے امتی چونکہ صرف بدعتی ہوں گے لہٰذا آپ ﷺ کا جواب بھی حضرت عیسیٰؑ کے جواب سے الگ ہو گا۔

چہارم ....... حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ نے فصوص الحکم میں لکھا ہے کہ ایک رات حضرت محمد رسول اللہ ﷺ عشاء سے صبح تک بار بار یہی پڑھتے رہے اور سجدے کرتے رہے کہ اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَاِنْ تَغْفِرْلَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ۝ پس محمد رسول اللہ ﷺ کا جواب بعینہ انہی الفاظ میں نہ ہو گا جن الفاظ میں حضرت عیسیٰؑ کا ہو گا اور نہ توفی کے لفظ سے جو رسول اللہ ﷺ اپنی ذات کی نسبت استعمال فرمائیں گے اس کے وہ معنی ہوں گے جو توفی کا لفظ حضرت عیسیٰؑ اپنی نسبت استعمال کریں گے کیونکہ رسول اللہ ﷺ دوسرے انبیاء علیہم السلام کی طرح باپ کے صلب سے پیدا ہوئے اور انہی کی طرح فوت ہوئے۔ اس لیے یہ تَوَفَّیْتَنِیْ ان کی ذات کی نسبت وفات کا حکم رکھتی ہے۔ مگر چونکہ حضرت عیسیٰؑ بخلاف دیگر انبیاء علیہم السلام بغیر باپ کنواری لڑکی کے پیٹ سے پیدا ہوئے اور ان کا پیدا ہونا بطور معجزہ تھا۔ اس لیے ان کا رفع بھی بخلاف قانون قدرت بطور معجزہ ہوا تو ان کے حق میں بھی وہی لفظ تَوَفَّیْتَنِیْ موت کے معنوں میں ہرگز نہیں آ سکتا۔ کیونکہ محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف نسبت کے معنی دیتا ہے اور حضرت عیسیٰؑ کا زمانہ مَادُمْتُ فِیْهِمْ دو دفعہ ہے۔ ایک قبل از نزول دوسرا بعد نزول۔ اس لیے حضرت عیسیٰؑ کے حق میں توفیتنی کے معنی رَفَعْتَنِی ہی درست ہوں گے کیونکہ رفع قبض روح سے بھی ہوتا ہے اور جسد عنصری سے بھی۔ اگر جسم کو یہیں چھوڑ دیا جائے تو قبض شئی وافیا جو توفی کے حقیقی معنی ہیں صادق نہیں آتے۔

پس اس حدیث میں مماثلت حضرت عیسیٰؑ کے جواب اور محمد رسول اللہ ﷺ کے جواب میں یہی ہے کہ جس طرح غیر حاضری کی حالت میں اپنی امت کے شاہد حضرت عیسیٰؑ نہ تھے اور انھوں نے اپنی غیر حاضری کا عذر کیا تھا۔ اسی طرح میں بھی غیر حاضری کا عذر کروں گا۔ یہ ہرگز وجہ مماثلت نہیں کہ حضرت عیسیٰؑ اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی وفات ایک ہی قسم کی تھی کیونکہ تَوَفَّیْتَنِیْ کے معنی نیند اور غشی کے بھی ہیں اور حضرت عیسیٰؑ پر بقول مرزا قادیانی غشی مشابہ مرگ وارد ہوئی جو کہ توفی تھا اور دوسرا توفی بقول مرزا قادیانی ٨٧ برس کے بعد کشمیر میں حضرت عیسیٰؑ پر وارد ہوئی تو اب مرزا

صفحہ ١٦٢

قادیانی کے اقوال سے صاف ثابت ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے توفی میں فرق ہے یعنی حضرت عیسیٰ کا توفی دو دفعہ ہوا۔ ایک صلیب پر اور بقول مرزا قادیانی دوسرا کشمیر میں اور محمد رسول اللہ ﷺ کا توفی صرف ایک ہی دفعہ مدینہ منورہ میں ہوا تو مرزا قادیانی کے اپنے ہی اقرار کے مطابق ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ کا فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي کہنا اور معنوں میں ہو گا اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا تَوَفَّيْتَنِی فرمانا دوسرے معنوں میں ہو گا۔ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے توفی میں مجازی موت وغشی و نیند یا صلیب کے عذابوں سے بیہوش ہونا شامل نہیں اور حضرت عیسیٰ کے توفی میں نیند وغشی و بیہوشی کا زمانہ بھی شامل ہے۔ یہ ذرا دقیق نکتہ ہے۔ غور سے سوچو کہ لفظ تو ایک ہی ہے۔ مگر ایک شخص پر وہی لفظ صرف ایک معنی میں بولا جاتا ہے۔ مثلاً امیر یا خلیفہ جس کا ملک اور بادشاہت دنیاوی ہو اس کو امیر و خلیفہ کہتے ہیں۔ مگر ایک شخص جو پیشوا ہو اس کو بھی امیر قوم کہتے ہیں۔ اب امیر کا لفظ مشترک المعنی ہے۔ ہر جگہ بادشاہت کے معنوں میں ہی محدود نہ ہو گا۔ جس جگہ امیر کا لفظ بولا جائے گا۔ وہاں دیکھنا ہو گا کہ وہ کس قسم کا امیر ہے۔ آیا چند شخصوں کی بیعت لے کر امیر بن بیٹھا ہے یا واقعی حکومت اور بادشاہت سے امیر کہلاتا ہے۔ جیسے حالات ہوں گے ویسے ہی لفظ امیر کے معنی ہوں گے پس ایسا ہی تَوَفَّيْتَنِی کے معنی بھی دونوں پیغمبروں کے حالات کے مطابق ہوں گے۔

محمد رسول اللہ ﷺ کی امت آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کی والدہ مکرمہ کو معبود اور خدا نہیں کہتی نہ خدا کا ان پر یہ سوال ہو گا۔ پس محمد رسول اللہ ﷺ کا اپنے حق میں تَوَفَّيْتَنِی فرمانا ان معنوں میں ہرگز نہ ہو گا۔ جن معنوں میں حضرت عیسیٰ کا درگاہ خداوندی میں عرض کرنا ہو گا کیونکہ محمد رسول اللہ ﷺ کا دوبارہ نزول نہ ہو گا اور چونکہ حضرت عیسیٰ کا دوبارہ نزول ہو گا اس لیے سوال بھی مغائر اور جواب بھی مغائر ہوں گے۔ جب جواب مغائر ہو گے تو فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي بھی معنوں میں مغائر ہو گا کیونکہ محمد رسول اللہ ﷺ کا تَوَفَّيْتَنِی فرمانا صرف موت کے معنوں میں ہو گا اور حضرت عیسیٰ کا تَوَفَّيْتَنِی فرمانا رفع اور نزول اور پھر موت کے معنوں میں ہو گا۔ یعنی مَادُمْتُ فِیهِم بتا رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ اپنی امت میں دو دفعہ رہے اور پھر ان کو تَوَفَّيْتَنِی کہنے کا موقعہ ملا۔ محمد رسول اللہ ﷺ کا مَادُمْتُ فِيهِمُ کا چونکہ زمانہ حضرت عیسیٰ کے مشابہ نہیں اس لیے ان کا فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کہنا حضرت عیسیٰ کے کہنے کے ہرگز مشابہ نہیں۔ پس ثابت ہوا کہ اس حدیث سے بھی مرزا قادیانی وفات مسیح قبل از نزول ثابت نہ کر سکے۔

صفحہ ١٦٣

نعوذ باللہ اگر یہ مان لیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا توفی اور عیسیٰؑ کا توفی ایک ہی قسم کا ہے تو اس میں محمد رسول اللہ ﷺ کی سخت ہتک ہے کیونکہ بقول مرزا قادیانی اور عیسائیوں کے حضرت عیسیٰؑ بعد کوڑے پڑوانے اور طمانچے کھانے کے ذلت کے ساتھ صلیب پر لٹکائے گئے اور لمبے لمبے کیل ان کے اعضاء میں ٹھونکے گئے جن سے اس قدر خون جاری ہوا کہ حضرت عیسیٰؑ بیہوش اور ایسی غشی کی حالت میں ہو گئے کہ وہ فوت ہو گئے اور پھر تیسرے دن زندہ ہو کر آسمان پر چلے گئے جس پر اناجیل اربعہ کا اتفاق ہے۔ یہ توفی تو حضرت عیسیٰؑ کا ہوا۔ اس کے مقابل حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا توفی نہایت کامیابی کے ساتھ شاہنشاہ عرب کا لقب پا کر طبعی موت سے توفی ہوا۔ جس سے ثابت ہے کہ حضرت محمد ﷺ اور حضرت عیسیٰؑ کا توفی ہرگز ہرگز ایک قسم کا نہ تھا۔ لہٰذا اس آیت سے بھی وفات مسیح ثابت نہیں ہے اور استدلال غلط ہے۔

قولہ چوتھی آیت

جو مسیح ؑ کی موت پر دلالت کرتی ہے وہ یہ آیت ہے کہ وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ. (نساء ١٥٩) اور ہم اسی رسالہ میں اس کی تفسیر بیان کر چکے ہیں۔‘‘

اقول: مرزا قادیانی کا قاعدہ تھا کہ جس آیت کو وہ اپنے مطلب کے مخالف دیکھتے اور ان کو کھٹکا ہوتا کہ یہ آیت صاف حیات مسیح ثابت کر رہی ہے تو وہ فوراً اسی آیت کو وفات مسیح کے ثبوت میں بتا دیتے تھے۔ انہی باتوں نے تو ان کی راستبازی کو بٹہ لگایا ہے کیونکہ ایک راستباز کی شان سے بعید ہے کہ اپنے مدعا ثابت کرنے کے لیے جھوٹ بول کر دھوکہ دے اور تمام دنیاء اسلام کے علماء و فضلاء اور مفسرین و مجتہدین کو جھٹلا دے۔ مرزا قادیانی نے جب دیکھا کہ یہ آیت بہ عبارت النص مسیح ؑ کی حیات ثابت کرتی ہے کیونکہ اس میں صاف لکھا ہے قَبْلَ مَوْتِہٖ. یعنی حضرت عیسیٰؑ کی موت کے پہلے ایمان لائیں گے۔ تو مرزا قادیانی نے تفسیروں کے اختلاف سے الٹا مدعا سمجھ کر مَوْتِہٖ کی ضمیر پر بحث شروع کر دی کہ مَوْتِہٖ کی ضمیر حضرت عیسیٰؑ کی طرف نہیں پھرتی بلکہ اہل کتاب کی طرف پھرتی ہے۔ یا قرآن اور محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف پھرتی ہے اور ایک غریب قرأت بھی قَبْلَ مَوْتِہِمْ نقل کی مگر افسوس اصل مدعا مفسرین جو اس اختلاف سے تھا وہ نہ بتایا اور دھوکہ دہی سے کام لیا۔

مفسرین کا اختلاف صرف اس واسطے تھا کہ لَیُؤْمِنَنَّ جو آیا ہے کہ تمام اہل

صفحہ ١٦٤

کتاب عیسیٰؑ کے ساتھ ایمان لائیں گے تو وہ ایمان عیسائیت کا ہوگا۔ اس واسطے بہ کی ضمیر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے لکھی۔ اور بعض نے لکھا ہے کہ بہ کی ضمیر اور قَبْلَ مَوْتِہ کی ضمیر قرآن اور اہل کتاب کی طرف پھرتی ہے اور مرزا قادیانی نے اس اختلاف سے الٹا نتیجہ نکالا کہ ”حضرت عیسیٰ فوت ہو گئے“ جسے کوئی باحواس انسان ہرگز باور نہیں کر سکتا۔ یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ جس امر میں تنازعہ اور اختلاف ہوتا ہے وہ امر انھیں متعلقین میں سے کسی کے حق میں فیصلہ پاتا ہے نہ کہ فریقین کے اختلاف سے فائدہ اٹھا کر ایک اجنبی شخص اپنی مطلب براری کے لیے الفاظ کے من گھڑت معانی تراش کر اس امر متنازعہ فیہ کا خود مدعی ہو کر سچا بھی ہو سکتا ہے۔

مفسرینؒ کا اختلاف تو صرف ایمان میں ہے کہ کس بات پر ایمان لائیں گے حضرت عیسیٰؑ کے نزول کے بعد۔ اس واسطے بعض نے خیال کر کے کہ عیسیٰ پر ایمان لائے تو مسلمان نہ ہوئے اس واسطے انھوں نے بہ کی ضمیر قرآن کریم اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع بتائی اور مَوْتِہ کی ضمیر خواہ واحد کی ہو خواہ جمع کی اہل کتاب کی طرف پھیری مرزا قادیانی نے نہ معلوم اس سے وفات عیسیٰؑ کیسے نکال لی؟

اوّل تو جب عبارت میں مرجع ضمیر کا مذکور ہو پھر کسی کا حق نہیں رہتا کہ کوئی دوسرا مرجع جو عبارت میں مذکور نہ ہو مقرر کرے جیسا کہ ان تمام آیات میں ہے۔

قَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوْا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِينًا بَل رَّفَعَهُ اللّٰهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيزًا حَكِيمًا وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا۔ (نساء ١٥٩‘١٥٧)

ان آیات کے ترجمہ میں بجائے ضمیروں کے اصل مرجع کا نام لکھا جاتا ہے تاکہ آسانی سے معلوم ہو جائے کہ موتہ کا ضمیر کس کی طرف درست ہے؟

ترجمہ: قول ان (یہود) کا کہ ہم نے قتل کر دیا۔ مسیح عیسیٰ بیٹے مریم کو جو اللہ کا رسول تھا حالانکہ نہ یہود نے مسیحؑ کو قتل کیا اور نہ مسیحؑ کو سولی دیا لیکن یہود کے لیے تشبہ کیا گیا (مسیح کی شکل دوسرے شخص سے بدل دی گئی) اور یہودی جو اختلاف کرتے ہیں اس میں (یعنی مسیحؑ عیسیٰ کے قتل کے بارہ میں) وہ پڑے ہوئے ہیں شک میں اور وہ پیروی کرتے ہیں اپنے ظن کی۔ حالانکہ مسیحؑ عیسیٰ یقیناً قتل نہیں ہوا بلکہ اٹھا لیا مسیح عیسیٰ کو اللہ نے اپنی طرف اور اللہ غالب حکمت والا ہے اور اہل کتاب میں سے کوئی نہ ہو

صفحہ ١٦٥

گا۔ مگر کہ ایمان لائے گا ساتھ مسیح ”عیسیٰ“ کے پہلے مرنے عیسیٰ” کے اور قیامت کے دن ہو گا مسیح عیسیٰ” اس پر گواہ۔‘‘

ان آیات میں نو ضمیریں واحد کی ہیں وہ سب تو حضرت عیسیٰؑ کی طرف پھرتی ہیں پھر یہ کیونکر درست ہو سکتا ہے کہ پہلی سات ضمیریں تو مسیح کیطرف راجع ہوں اور پھر بعد کی ناویں ضمیر بھی مسیح عیسیٰ کی طرف راجع ہو جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ یعنی اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ۔ جب سارے ضمیر واحد کے مسیح ابن مریم رسول اللہ کی طرف راجع ہیں اور اخیر کی ضمیر يَكُوْنُ کی بھی مسیح ابن مریم رسول اللہ کی طرف راجع ہے جو کہ قیامت کے دن اہل کتاب پر گواہ ہو گا تو پھر کیا وجہ ہے کہ قَبْلَ مَوْتِهٖ کی ضمیر اسی مسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ ﷺ کی طرف نہ پھیری جائے جس کا ذکر ہو رہا ہے۔

باقی رہا یہ سوال جس کی بنا پر مفسرین رحمہم اللہ علیہم نے اختلاف کیا ہے کہ کیوں بعض مفسرین نے قرآن اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف ان دو ضمیروں کو پھیرا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان مفسرین رحمہم اللہ علیہم نے اس خیال سے بِهٖ کی ضمیر کو حضرت محمد ﷺ کی طرف پھیرا ہے کہ بعد محمد ﷺ کے جو خاتم النبیین و آخر المرسلین ہیں عیسیٰ مسیح پر ایمان لانا کافی نہیں۔ جب تک آخری نبی پر ایمان نہ لایا جائے اس واسطے انھوں نے یہ ضمیر قرآن شریف یا محمد ﷺ کی طرف پھرتی لکھا ہے۔ مگر یہ دونوں ضمیریں جب محمد ﷺ نے خود حضرت عیسیٰؑ کی طرف پھیر دیں اور حضرت ابو ہریرہؓ اس کے راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اصالتاً نزول حضرت عیسیٰؑ کا فرمایا کہ اگر تم کو شک ہو اصالتاً نزول ابن مریم عیسیٰؑ میں تو قرآن کی آیت وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ پڑھو یعنی ہر ایک اہل کتاب جو اس وقت ہو گا حضرت عیسیٰ پر ایمان لائے گا۔ عیسیٰ کی موت سے پہلے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے خود فیصلہ کر دیا اور ساتھ ہی یہ فیصلہ کر دیا کہ وہ یعنی حضرت عیسیٰؑ بعد نزول میرے دین اور شریعت کے تابع ہو گا اور شریعت محمدی پر خود عمل کرے گا اور کرائے گا تو وہ شک و اعتراض جو بعض مفسرین کو ہوا تھا وہ بھی رفع ہو گیا کیونکہ اسوقت حضرت عیسیٰ پر ایمان لانا حقیقت میں محمد ﷺ پر ایمان لانا ہے۔ اگر بفرض محال مرزا قادیانی کی خاطر یہ تسلیم بھی کر لیں کہ بِهٖ اور مَوْتِهٖ کی ضمیر قرآن شریف کی طرف یا حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرتی ہے اور مَوْتِهٖ کی ضمیر کتابیوں کی طرف پھرتی ہے۔ پھر بھی حضرت عیسیٰؑ کی وفات ہرگز اس آیت سے ثابت نہیں ہوتی۔ یہ صرف مرزا قادیانی کی اپنی ایجاد تھی کہ جس آیت کو حیات مسیح پر دال جانتے تھے اس کو اپنے دعوے

صفحہ ١٦٦

کے ثبوت میں پیش کر دیتے اور بلا دلیل کہہ دیتے کہ اس سے مسیح کی وفات ثابت ہے۔ کوئی مرزائی بتا دے کہ اس آیت میں کون سے الفاظ ہیں جن سے وفات مسیح ثابت ہوتی ہے۔ اختلاف مفسرین تو صرف ایمان میں ہے نہ کہ حیات مسیح میں وہ سب متفق ہیں کہ وہی عیسیٰ بیٹا مریم کا نبی ناصری اصالتاً قرب قیامت میں نازل ہوں گے اور ان کا نزول آثار قیامت میں سے ایک اثر (علامت ہے) پس یہ آیت بھی وفات مسیح ؑ پر ہرگز دلالت نہیں کرتی۔

قولہ پانچویں آیت

”جو وفات مسیح پر دلالت کرتی ہے یہ ہے۔ مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَاُمُّهُ صِدِّيْقَةٌ كَانَا يَا كُلَانِ الطَّعَامَ ۔ (مائدہ ٧٥) یعنی مسیح صرف ایک رسول ہے اس سے پہلے نبی فوت ہو چکے ہیں اور ماں اس کی صدیقہ ہے جب وہ دونوں زندہ تھے تو طعام کھایا کرتے تھے۔“ یہ آیت بھی صریح نص حضرت مسیح کی موت پر ہے کیونکہ اس آیت میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ مریم طعام نہیں کھاتے۔ ہاں کسی زمانہ میں کھایا کرتے تھے جس کا کہ کَانَا کا لفظ اس پر دلالت کرتا ہے۔ جو حال کو چھوڑ کر زمانہ گذشتہ کی خبر دیتا ہے۔

(ازالہ ص ٦٠٣ خزائن ج ٣ ص ٤٢٦‘٤٢٥)

اقول: حق بات کبھی چھپ نہیں سکتی۔ مرزا قادیانی کے اگرچہ تمام رگ و ریشہ میں مسیح ؑ کی وفات سمائی ہوئی تھی۔ مگر قرآن کی آیت اور اس آیت کے الفاظ نے مجبور کر دیا کہ وہ خود ہی اپنے ہاتھ مبارک سے حیات مسیح ثابت کر دیں۔ اگرچہ اس نے اس آیت کا ترجمہ حسب عادت غلط و محرف الفاظ میں کیا ہے مگر اس تحریف کے وقت کچھ ایسے بے خود ہو گئے کہ کلمہ حق کو نہ روک سکے۔ دیکھو وہ لکھتے ہیں۔ ”یعنی مسیح صرف ایک رسول ہے اس سے پہلے نبی فوت ہو چکے ہیں۔“ (حوالہ مذکور)

مسلمانو! یہ خدا کی قدرت کا تماشہ ہے کہ مرزا قادیانی نے غلط معنی بھی کیے اور کچھ عبارت تحریف کے طور پر اپنے پاس سے بھی ملا دی یعنی یہ بات اپنے پاس سے لکھتے ہیں کہ ”اس سے پہلے سب نبی فوت ہو چکے ہیں۔“ حالانکہ قرآن کا کوئی لفظ نہیں۔ جس کے یہ معنی ہوں کہ اس سے پہلے سب نبی فوت ہو چکے ہیں۔ مگر خدا کی قدرت و جبروت دیکھیے کہ مسیح کو خود موت سے نکال دیا ہے۔ یعنی اس سے پہلے سب نبی فوت ہو چکے ہیں تو ثابت ہوا کہ مسیح فوت نہیں ہوا کیونکہ وہ مسیح سے پہلے سب رسول فوت ہوئے لکھتے ہیں

صفحہ ١٦٧

جس سے حضرت عیسیٰ صاف صاف مستثنیٰ ہو گئے۔ یعنی اس سے پہلے سب نبی فوت ہو گئے مگر وہ فوت نہیں ہوا۔

مرزا قادیانی پر اس وقت وہی مثال صادق آئی کہ چلے تھے شکار کرنے مگر خود شکار ہو گئے۔ مرزا قادیانی وفات مسیح ثابت کرتے کرتے خود حیات مسیح ثابت کر گئے کیونکہ رسولوں کی موت سے مسیح کو الگ کر لیا۔ گویا اس آیت شریف کے نازل ہونے تک حضرت عیسیٰ بقول مرزا قادیانی زندہ ثابت ہوئے۔ والحمدللہ ۔

کیا لطف جو غیر پردہ کھولے
جادو وہ جو سر پہ چڑھ کے بولے

آگے لکھتے ہیں کہ ”جب وہ زندہ تھے تو طعام کھایا کرتے تھے“ اس عبارت میں بھی مرزا قادیانی نے اپنے پاس سے عبارت جوڑی ہے کہ جب وہ زندہ تھے۔ حالانکہ کوئی لفظ آیت میں نہیں جس کے یہ معنی ہوں کہ جب وہ زندہ تھے۔ ہاں كَانَا يَاْكُلَانِ الطَّعَامَ ہے یعنی وہ دونوں مخلوق تھے اور جس طرح دوسری مخلوق کو غذا ملتی ہے اسی طرح وہ بھی غذا کھایا کرتے تھے۔ اس آیت میں الوہیت مسیح کی تردید ہے یعنی مسیح معبود و خدا نہ تھا مخلوق و محتاج غذا تھا اور ایسا ہی اس کی ماں مریم تھی۔ یہاں وفات و حیات کا کوئی ذکر نہیں۔ مرزا قادیانی نے یہ کیونکر سمجھ لیا کہ ایک غذا کے بدلنے سے فوت ہونا لازم آتا ہے روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ تمام حیوان ماں کے پیٹ میں خون سے پرورش پاتے ہیں اور خون ہی ان کا طعام ہوتا ہے۔ جب ماں کے پیٹ سے باہر آتے ہیں تو صرف دودھ ان کی غذا طعام اور وجہ پرورش ہوتی ہے اور جب اس سے بھی بڑے ہوتے ہیں تو اناج و گھاس و میوہ جات ان کا طعام و غذا ہوتے ہیں۔ کیا کوئی باحواس آدمی کہہ سکتا ہے کہ ماں کے پیٹ سے باہر آ کر انسان یا دیگر حیوان فوت ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ كَانَا يَا كُلَانِ الطعام نہیں رہتے اس لیے کہ خون کی غذا بند ہو جاتی ہے اور صرف دودھ ہی ملتا ہے۔ جب دودھ ملتا ہے تو کیا مر جاتے ہیں۔ یا دودھ کا موقوف ہونا وفات کی دلیل ہے؟ ہرگز نہیں کیونکہ مشاہدہ ہے کہ غذا کے بدلنے سے کوئی فوت نہیں ہوتا۔ جب یہ امر ثابت ہے کہ غذا کے بدلنے سے موت لازم نہیں ہوتی تو حضرت عیسیٰ کی غذائے زمینی سے غذائے آسمانی کیونکر باعث وفات ہو سکتی ہے اور یہ کیونکر مرزا قادیانی کو معلوم ہوا کہ آسمان پر طعام و غذا نہیں؟ حالانکہ آسمان سے ہی زمین والوں کو غذا ملتی ہے۔

امام جلال الدین سیوطیؒ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کی غذا ذکر الٰہی

صفحہ ١٦٨

ہے ۔ پس حضرت عیسیٰؑ کی غذا جب ذکر الٰہی ہے اور ذکر الٰہی میں اس قدر سرور و قوت ہے کہ زمین پر بھی اس کی تاثیر سے اولیاء اللہ کئی کئی مہینے کچھ کھاتے پیتے نہیں اور زندہ رہتے ہیں ۔ تو حضرت عیسیٰؑ کا آسمانی غذا سے آسمان پر زندہ رہنا یقینی ہے وہ مخالف کو کیوں چبھتا ہے؟ کیونکہ کل غذاؤں رزقوں کا منبع آسمان ہے۔ تمام رزق اور غذائیں آسمان سے ہی نازل ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَيُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَاءِ رِزْقًا (مومن ١٣) وَفِى السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُوْنَ. (الذاریات ٢٢) ترجمہ ۔ ”اور اتارتا ہے تمھارے لیے آسمان سے رزق ۔ اور آسمان میں ہے روزی تمہاری جو وعدہ دی گئی ہے ۔“

شائد کوئی جلد باز یہ کہہ دے کہ ایسی غذائیں آسمان پر نہیں جیسی کہ زمین پر ہوتی ہیں تو اس کو قرآن کی آیت کے ساتھ جواب دے دیا ہے ۔ جس میں لکھا ہے فَوَرَبِّ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ یعنی پرورش کرنے والا ہے آسمانوں اور زمینوں کا ۔ جس سے ثابت ہے کہ جیسا کہ رب العالمین زمین پر ہے ایسا ہی آسمانوں پر ہے۔

افسوس! ایک طرف تو خدا تعالیٰ کو قادر مطلق مانا جاتا ہے۔ (حقیقۃ الوحی ص ٢٥٥ خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧) مگر جب دوسرا شخص قرآن سے ثبوت دے کر کہے تو فلسفی دلائل سے کلام الٰہی کی تردید کی جاتی ہے حالانکہ آسمانوں کا علم حاصل نہیں۔ جب قرآن کو مانا تو جو کچھ اس کے اندر لکھا ہے اس کو بھی ماننا چاہیے اور اگر من مانی تاویل کی، تو یہ بھی ایک قسم کا انکار ہے ۔ جب قرآن سے ثابت ہے کہ لگا لگایا خوان آسمان سے بنی اسرائیل کی درخواست اور حضرت عیسیٰؑ کی دعا سے اترا تو پھر مومن قرآن تو انکار نہیں کر سکتا ۔ دیکھو قرآن میں کس طرح مفصل ذکر ہے۔ صرف ترجمہ لکھا جاتا ہے۔

”کیا تمھارے پروردگار سے ہو سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتارے حضرت عیسیٰؑ نے کہا کہ اگر تم خدا کی قدرت اور میری نبوت پر ایمان رکھتے ہو تو خدا سے ڈرو اور ایسی بیہودہ فرمائش نہ کرو۔ جس میں ایک طرح کا امتحان معلوم ہوتا ہے ۔ وہ بولے ہم کو امتحان منظور نہیں ہے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ تبرک سمجھ کر اس خوان میں سے کچھ کھائیں اور ہمارے دل آپ کی رسالت سے پورے پورے مطمئن ہو جائیں اور ہم تجربہ سے معلوم کر لیں کہ بیشک آپ نے ہمارے آگے سچا دعویٰ کیا تھا اور ہم آپ کے اس خوان کے گواہ رہیں ۔ اس پر عیسیٰؑ ابن مریمؑ نے دعا کی ۔ اے اللہ! اے ہمارے پروردگار ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار اور خوان کا اترنا ہمارے لیے ۔ یعنی

صفحہ ١٦٩

ہمارے اگلے پچھلوں سب کے لیے عید قرار پائے۔ یہ تیری طرف سے ہمارے حق میں تیری قدرت کی ایک نشانی ہو اور ہم کو اپنے دستر خوان کرم سے روزی دے اور تو سب روزی دینے والوں سے بہتر روزی دینے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا بہت خوب۔ بیشک ہم وہ خوان تم لوگوں پر اتاریں گے۔ مگر جو شخص پھر تم میں سے ہماری خدائی کا انکار کرتا رہے گا تو ہم اس کو ایسے سخت عذاب کی سزا دیں گے کہ دنیا جہاں میں کسی کو بھی ویسی سزا نہیں دیں گے۔“ (مائدہ ١١٥۔١١٧)

افسوس مرزا قادیانی اپنے مطلب کے واسطے ایسی ایسی باتیں بنا لیتے ہیں کہ ادنیٰ طالب العلم بھی ہنسی اڑاتے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں کہ ”كَانَا ماضی کا صیغہ ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ اب چونکہ وہ کھانا نہیں کھاتے لہٰذا فوت ہو گئے ہیں ۔“ یہ ایسی ہی نامعقول بات ہے جو کوئی مرزا قادیانی کو ان کی زندگی میں کہتا کہ آپ دودھ پیتے تھے اور وہ ماضی کا زمانہ تھا۔ اس لیے آپ فوت ہو چکے ہیں کیونکہ اب آپ کا دودھ نہ پینا آپ کی وفات کی دلیل ہے۔

اب ذرا ”کانا“ پر بحث بھی ضروری ہے تاکہ مرزا قادیانی کا منطق معلوم ہو کہ وہ اپنے مطلب کے واسطے من گھڑت قاعدہ بنا لیتے ہیں۔ حالانکہ قرآن کے برخلاف ہوتا اور لطف یہ کہ پھر اس کا نام حقائق و معارف رکھتے اور افسوس مرید تسلیم کرتے۔

مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ کَانَا چونکہ ماضی کا صیغہ ہے اور ماضی کے سوا اور معنوں یعنی مضارع و حال و استقبال کے معنوں میں نہیں آتا اس لیے اس آیت سے وفات مسیح ثابت ہے۔ یہ بالکل غلط ہے۔ دیکھو قرآن مجید کی آیات ذیل۔

مثال (١) مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ امَنُوْا. (التوبہ ١١٣) یعنی ”مسلمانوں اور پیغمبر کو لازم نہیں ۔“ کیا مرزا قادیانی اس جگہ بھی یہ معنی کریں گے کہ پیغمبر اور مسلمانوں کو لازم نہیں تھا۔ ہرگز نہیں تو پھر انکا کہنا غلط ثابت ہوا کہ کَانَ صرف ماضی کے واسطے آتا ہے اور اس سے وفات مسیح ثابت ہے۔

مثال (٢) مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِلَّ قَوْمًا بَعْدَ اِذْ هَدَاهُمْ. (التوبہ ١١٥) یعنی اللہ کی شان سے بعید ہے کہ ایک قوم کو ہدایت دے اور پیچھے گمراہ قرار دے۔ یہاں بھی کَانَ آیا ہے۔ مگر ماضی کے صیغہ کے معنی نہیں دیتا جس سے وفات مسیح باطل اور استدلال مرزا قادیانی غلط ثابت ہے۔

مثال (٣) وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً (التوبہ ١٢٢) یعنی مناسب نہیں

صفحہ ١٧٠

کہ مسلمان سب کے سب نکل کھڑے ہوں۔ یہاں بھی کَانَ ماضی کا صیغہ ہے اور معنی ماضی کے نہیں حال اور استقبال کے ہیں۔ پس مرزا قادیانی کا یہ لکھنا بالکل غلط ہے کہ کَانَ سے وفات مسیح ثابت ہے کَانَ سے تو صرف یہ مطلب ہے کہ حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ مریم دونوں مخلوق تھے اور عاجز انسان تھے۔ خدا اور خدا کی جزو نہ تھے۔ دوسری مخلوق کی طرح طعام کھایا کرتے تھے۔ حالانکہ خدا کھانے پینے سے پاک ہے۔ یہ کہاں لکھا ہے کہ دونوں ماں بیٹا وفات پا گئے؟ یہاں تو تردید الوہیت و ثالث ثلاثہ ہے نہ کہ تردید حیات ہے۔ یہ مرزا قادیانی نے کہاں سے سمجھ لیا کہ اب عیسیٰ طعام نہیں کھاتے اور وہ طعام کے کیا معنی سمجھتے ہیں اگر گندم کی روٹی اور گوشت وغیرہ کو ہی طعام سمجھتے ہیں تو بہت انسان اور حیوان مردہ ثابت ہوں گے کیونکہ بہت انسان صرف دودھ پر گزارہ کرتے اور تین تین ماہ تک چولہا گرم نہ ہوتا۔

خَلَت کا جواب

اب ہم اس بڑے بھارے مغالطہ کی تردید کرتے ہیں جو مرزا قادیانی یہ آیت پیش کر کے مسلمانوں کو دیتے ہیں۔

مرزا قادیانی خَلَتْ کے معنی مرچکے ہیں کرتے ہیں۔ حالانکہ خَلَتْ کے معنی موت کے ہرگز نہیں کیونکہ خَلَتْ کے معنی گزرنے کے ہیں اور گزرنا زندوں اور مردوں دونوں کے واسطے بولا جاتا ہے اور چونکہ انبیاء علیہم السلام کے گروہ میں جو گزر چکے ہیں۔ چار نبی زندہ بھی ہیں۔ یہ قرآن مجید کی اعلیٰ درجہ کی فصاحت ہے کہ اس نے ایسے موقعہ پر ایسا لفظ استعمال فرمایا جو کہ مردہ اور زندہ سب نبیوں اور رسولوں پر حاوی ہو کیونکہ چار نبی زندہ ہیں جو گزر گئے ہیں۔ دو آسمان پر اور دو زمین پر۔ حضرت خضر علیہ السلام و الیاس علیہ السلام زمین پر اور حضرت مسیح علیہ السلام اور ادریس علیہ السلام آسمان پر۔ جیسا کہ شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن عربی نے فصوص الحکم میں لکھا ہے اور مظاہر حق جلد چہارم صفحہ ٣٨٧ لکھا ہے کہ کہا بغوی نے معالم التنزیل میں کہ چار شخص انبیاء میں سے زندہ ہیں۔ زمین پر خضر و الیاس اور آسمان پر ادریس وعیسیٰ الخ۔ اسی واسطے قرآن مجید نے خَلَتْ کا لفظ فرمایا تا کہ مردہ اور زندہ رسولوں پر حاوی ہو۔ خَلَتْ کے معنی صرف موت کے ہرگز نہیں۔

ہم ذیل میں قرآن مجید کی چند آیات ”مشت نمونہ از خروار“ لکھتے ہیں تا کہ معلوم ہو کہ خَلَتْ زندوں کے واسطے بھی بولا جاتا ہے اور مردوں کے واسطے بھی۔

صفحہ ١٧١

ملتے ہیں۔ یہ خَلَوْا جو مادہ ہے خَلَتْ کا خاص زندوں کے حق میں استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی جب منافق لوگ مسلمانوں کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور جب اپنے شیطانوں کی طرف جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ٹھٹھے کرتے ہیں۔ کیا یہ منافقین کا آنا جانا زندہ ہونے کی حالت میں تھا یا مردہ ہونے کی حالت میں اور خَلَوْا زندوں کے واسطے مستعمل ہوا یا مردوں کے واسطے صاف ظاہر کہ زندوں کے واسطے مستعمل ہوا۔ پس ثابت ہوا کہ خَلَتْ کے معنی موت ہی نہیں زندوں کے واسطے بھی خَلَتْ بولا جاتا ہے۔

اس کے بندوں میں جاری ہے۔ کیا یہاں سنت اللہ فوت ہو گئی معنی کرو گے ہرگز نہیں تو پھر یہ غلط ہوا کہ خَلَتْ کے معنی موت ہے۔

وقت اکیلے ہوتے ہیں تو مارے غصے کے تجھ پر اپنی انگلیاں کاٹتے ہیں۔ اس جگہ بھی خَلَوْا زندوں کے واسطے بولا گیا ہے کیونکہ مردے تو غصے سے انگلیاں نہیں کاٹتے۔

النَّارِ۔ (اعراف ٣٨) یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ تم بھی داخل ہو جاؤ مگر جن اور انسانوں کی امتوں میں جو تم سے پہلے گزری تھیں آگ میں۔ یعنی دوزخ میں۔

اب ظاہر ہے کہ یہاں بھی خَلَتْ کے معنی موت کے نہیں صرف گزرنے کے ہیں۔ علاوہ برآں قرآن مجید میں کثرت سے سنت اللہ کے ساتھ قَدْ خَلَتْ کا لفظ آیا ہے جس کے معنی سنت اللہ کے موت کے نہیں صرف گزرنے کے ہیں اور گزرنے کے واسطے موت لازم نہیں زندگی کی حالت میں بھی گزرنا ہوتا ہے۔ جیسا کہ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ پنجاب میں یا اور کسی ملک میں بھی دستور ہے کہ جب کبھی کوئی تبدیل ہو جائے اور نیا حاکم آئے تو بولا جاتا ہے کہ کئی حاکم آئے اور گزر گئے۔ اس کا مفہوم یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ سب حاکم فوت ہو گئے کیونکہ زندگی میں بھی گزرنا ہوتا ہے۔ زید دہلی جاتا ہوا امرتسر لدھیانہ جالندھر اور انبالہ سے گزر جاتا ہے۔ حالانکہ فوت نہیں ہوتا۔ پس یہ بالکل غلط اور دھوکہ دہی ہے کہ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ سے وفات مسیح ثابت ہے بلکہ اس سے تو حیات ثابت ہوتی ہے کیونکہ مسیح زمین سے گزر کر آسمان پر چلا گیا۔ جیسا کہ زندہ آدمی کسی شہر امریکہ سے گزر کر انڈیا میں چلا آئے جو نیچے زمین کے ہیں اور جس طرح

صفحہ ١٧٢

امریکہ سے گزر کر انڈیا میں آنے والے کے واسطے موت لازم نہیں ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ کے واسطے فوت ہونا لازم نہیں اور خلت کا لفظ حیات مسیح ثابت کر رہا ہے۔ ورنہ اگر مسیح فوت ہو گیا تھا تو صاف موت کا لفظ ہوتا۔ یعنی قَدْ مَات ہوتا مگر قَدْ خَلَتْ اس واسطے فرمایا ہے کہ چار نبی گزر بھی گئے اور زندہ بھی ہیں جو اس واسطے ایسا لفظ قرآن میں ذکر فرمایا جس سے دونوں معنی نکل سکیں اس لیے خَلَتْ کا لفظ استعمال فرمایا تاکہ جو رسول فوت ہو کر گزرے ہیں ان پر بھی صادق آئے اور جو ابھی تک نہیں مرے ان پر بھی صادق آئے پس اس آیت سے بھی وفات مسیح ہرگز ثابت نہیں ہوتی بلکہ حیات ثابت ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خَلَتْ کا لفظ فرمایا جو کہ مشترک المعنی ہے ورنہ صاف صاف قَدْ مَات کا لفظ ہوتا۔ لہٰذا اس آیت سے بھی مرزا قادیانی کا استدلال غلط ہے کیونکہ خَلَتْ کے معنی موت کے نہیں ہیں۔

یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کا اصل مطلب کیا ہے؟

صحیح مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نصاریٰ کی تردید فرما کر بتا رہا ہے کہ عیسیٰ صرف ایک رسول تھا جیسا کہ اس کے پہلے رسول ہو گزرے ہیں۔ اس جگہ صرف تردید الوہیت مسیح اور اثبات رسالت ان کی مقصود بالذات ہے نہ کہ کسی کی حیات و موت کا ذکر ہے۔ قرآن مجید میں جب آپ یہ آیت نکال کر دیکھیں گے تو معلوم ہو گا کہ صرف رسالت مسیح کا ثابت کرنا اس سے مقصود ہے اور حضرت عیسیٰ کو دوسرے نبیوں کے ساتھ رسالت و نبوت میں مماثلت ہے نہ کہ رسولوں کی پیدائش اور موت میں مماثلت ہے۔ پیدائش میں حضرت مسیح کل رسولوں سے علیحدہ ہیں۔ یعنی بغیر نطفہ باپ کے پیدا ہوئے۔ حضرت آدم پیدائش میں رسولوں سے مماثلت نہیں رکھتے کیونکہ بغیر ماں اور باپ کے پیدا ہوئے۔ قد خلت میں آدم سے مماثلت صرف رسالت میں ہے اور ایسا ہی دوسرے رسولوں سے رسالت میں مماثلت ہے نہ کہ مرنے اور جینے میں۔ اگر مرنے میں مماثلت ہے تو پیدائش میں بھی ہونی چاہیے۔ اور یہ بالبداہت بلاخوف تردید روشن ہے کہ مسیح کو پیدائش میں کسی رسول سے مماثلت نہیں کیونکہ کوئی نبی کنواری لڑکی سے بغیر مس باپ کے پیدا نہیں ہوا۔ پس اس آیت سے وفات مسیح کا استدلال غلط بلکہ! غلط ہے۔

قولہ چھٹی آیت

وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُوْنَ الطَّعَامَ. (انبیاء ٨) در حقیقت یہی اکیلی

صفحہ ١٧٣

آیت کافی طور پر مسیح کی موت پر دلالت کر رہی ہے کیونکہ جب کوئی جسم خاکی بغیر طعام کے نہیں رہ سکتا یہی سنت اللہ ہے تو پھر حضرت مسیح کیونکر اب تک بغیر طعام کے زندہ موجود ہیں اور اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا۔ اور اگر کوئی کہے کہ اصحاب کہف بھی تو بغیر طعام کے زندہ موجود ہیں تو میں کہتا ہوں کہ ان کی زندگی بھی اس جہاں کی زندگی نہیں۔ مسلم کی حدیث سو برس والی ان کو مار چکی ہے۔ بیشک ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اصحاب کہف بھی شہداء کی طرح زندہ ہیں ۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٦٠٥ خزائن ج ٣ ص ٤٢٦)

اقول : مرزا قادیانی خود غرضی سے کچھ ایسے محو حیرت تھے کہ خود ہی اصول بناتے اور جب انہی کا موضوعہ اصول ان کے خلاف مطلب ہوتا تو اس سے بھی انکار کر کے اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ۔ اس مذکورہ بالا عبارت میں جب دیکھا کہ اصحاب کہف کا قصہ قرآن مجید میں ہے ان کے مدعا کے برخلاف ہے تو جھٹ قرآن کی تردید مسلم کی حدیث سو برس والی سے کر دی ۔مگر ساتھ ہی ایک مہمل تقریر کر دی کہ بیشک اصحاب کہف زندہ ہیں۔ مگر شہدا کی طرح ان کی زندگی ہے۔ سبحان اللہ ! امام اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ اور ایسی فاش غلطی کہ کوئی پرائمری جماعت کا طالب علم بھی نہیں کر سکتا کل دنیا جانتی ہے کہ شہید پہلے جنگ کرتے تھے اور کفار کے ہاتھ سے قتل ہو جاتے تھے اور قبروں میں مدفون ہو جاتے تھے تب ان کو شہید کہا جاتا تھا۔ مرزا قادیانی نے جو صریح قرآن مجید کے برخلاف کہہ دیا کہ ان کی یعنی اصحاب کہف کی زندگی شہیدوں کی سی ہے۔ کس قدر غضب کی بات ہے۔ کہاں قرآن میں یا کسی حدیث میں یا کسی تاریخ میں لکھا ہے کہ اصحاب کہف کفار کے ہاتھ سے مارے گئے اور ان کو شہیدوں کی مانند زندگی عطا ہوئی ۔ اگر کوئی مرزائی نہ دکھائے تو پھر مرزا قادیانی کی دروغ بانی اور کذب بیانی اظہر من الشمس ہوگی۔ ہم ذیل میں قرآن مجید کی آیت لکھتے ہیں۔ جس سے ثابت ہے۔ اصحاب کہف ٣٠٩ برس تک غار میں زندہ رہے دیکھو قرآن فرماتا ہے۔ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ الخ سے قصہ شروع ہوتا ہے اور آگے صاف لکھا ہے۔ قَالَ قَائِلٌ الآیۃ۔ یعنی ان میں سے ایک بولنے والا بول اٹھا۔ بھلا اس غار میں تم کتنی مدت ٹھہرے ہو گے؟ وہ بولے ہم بہت رہے ہوں گے۔ کہا کہ تمہارا رب جانتا ہے کہ تم اس غار میں کتنی مدت رہے۔ اپنے میں سے ایک کو اپنا روپیہ دے کر شہر کی طرف بھیجو تاکہ وہ جا کر دیکھے کہ کس کے ہاں اچھا کھانا ہے اور اس میں سے بقدر ضرورت کھانا تمھارے لیے لے آئے اور چپکے سے لے

صفحہ ١٧٤

کر چلا آئے اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے اگر تمہاری قوم کے لوگ تمہاری خبر پا جائیں گے تو يَرْجُمُوْکُمْ تم کو سنگسار کر دیں گے۔ اَوْ يُعِيْدُوْکُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ یا تم کو الٹا پھر اپنے دین میں کر لیں گے اور ایسا ہوا تو پھر تم کو کبھی فلاح نہ ہو گی۔

ان آیات سے (جن کا بخوف طوالت فقط ترجمہ لکھ دیا گیا ہے) صاف ثابت ہے کہ اصحاب کہف کفار کے خوف سے غار میں پوشیدہ ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی خاص قدرت سے ایسی نیند عطا کی کہ وہ کھانے پینے سے بے پرواہ ہو گئے۔ اس حالت نیند میں نہ ان کو بھوک لگی نہ پیاس۔ جب جاگے تو بھوک پیاس محسوس ہوئی اس نص قرآنی سے ثابت ہوا کہ نیند کی حالت میں بھوک پیاس نہیں ہوتی۔ اسواسطے توفی کے معنی نیند کے درست ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ نیند کی حالت میں ہیں اور تا نزول اسی حالت میں رہیں گے۔

اب مرزا قادیانی کی دلیری دیکھئے کہ کس طرح قرآن مجید کے مقابلہ میں کہتے ہیں کہ ”میں کہتا ہوں کہ ان کی زندگی بھی اس جہان کی زندگی نہیں۔ مسلم کی حدیث سو برس والی ان کو مار چکی۔“

اب کوئی پوچھے کہ حضرت کلام اللہ کے مقابل آپ کا کہنا کیا وقعت رکھتا ہے؟ اور آپ کا کہنا جب کسی سند شرعی سے نہیں کہ اصحاب کہف مر گئے تھے اور بعد موت غار میں پوشیدہ ہوئے اور اب ان کی زندگی شہیدوں والی ہے۔ کوئی سند بھی ہے یا یوں ہی جو دل میں آیا لکھ مارا؟

سنو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر غار والوں کی خبر کفار کو ہو گی تو سنگسار کریں گے مرزا قادیانی بتا دیں کہ شہیدوں کو بھی سنگسار کیا جاتا ہے۔ مر کر تو شہید ہونا ہوتا ہے اور مرزا قادیانی کی عقل اور فلسفی عقل دیکھئے کہ کہتے ہیں شہیدوں کی زندگی ہے۔

دوم! قرآن شریف فرماتا ہے ایک کو کھانا لانے کے واسطے شہر میں روانہ کرو۔ کیا کوئی مرزائی اپنے مرشد کی حمایت کر کے بتا سکتا ہے کہ شہید کھانا مول لینے کے واسطے آیا کرتے ہیں اور روپیہ ساتھ لاتے ہیں جیسا کہ اصحاب کہف میں سے ایک شخص لایا تھا اور اس کو پھر معلوم ہوا کہ تین سو نو برس ہم غار میں سوئے رہے۔ دیکھو قرآن شریف کی آیت ولبثوا فی کہفہم ثلث مائۃ سنین وازدادوا تسعاً۔ (الکہف ٢٥) یعنی اصحاب کہف اپنی غار میں تین سو برس رہے اور نو برس اس کے اوپر۔

اب مرزا قادیانی قرآن شریف کی تردید کر کے کہتے ہیں کہ اصحاب کہف شہید تھے کوئی اس عقل مند سے پوچھے کہ شہید لوگ غار میں چھپنے کیوں گئے؟ وہ تو غار میں اس

صفحہ ١٧٥

واسطے گئے کہ کفار کے ہاتھ سے مارے نہ جائیں اور شہید نہ کہلائیں تو پھر انھوں نے شہادت کس طرح سے پائی؟ جب کفار کے ہاتھ میں بھی نہ آئے اور نہ قتل ہوئے تو شہید غار میں بیٹھے بیٹھے کس طرح ہوئے؟ مگر یہ شہادت شائد قادیانی شہادت ہے کہ کاذب اپنے کذب کے ذریعہ سے جس طرح اپنے آپ کو شہید بلکہ اس سے بھی زیادہ بنا لیتا ہے۔ اسی طرح قادیانی شہادت اصحاب کہف کو بھی دے دی۔ سنو مرزا قادیانی لکھتے ہیں ۔

کربلا است سیر ہر آنم
صد حسینؓ است در گر یبا نم

(درثمین ص ١٧١)

یعنی ہر وقت میں کربلا جیسے صدمات اٹھا رہا ہوں اور ایک حسینؓ کیا بلکہ سو حسین میرے گریبان میں ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ قادیان کربلا ہے اور میں ایک سو حسینؓ کا مجموعہ ہوں۔ یعنی جو کچھ تکلیف کربلا میں حضرت حسینؓ کو ہوئے اس سے سو درجہ زیادہ مجھ کو تکلیف ہوتے ہیں اور حسینؓ سے سو درجہ شہادت مجھ کو ہوتی ہے بلکہ ہر ان کربلا کی سیر کرتا رہتا ہوں یعنی کربلا جیسے عذاب ہر وقت برداشت کرتا ہوں۔

اب کسی باحواس آدمی کو شک رہتا ہے کہ مرزا قادیانی جھوٹ و افتراء اور خلاف واقعہ بات کر دینے میں اوّل درجہ کے ڈگری یافتہ تھے۔ حضرت حسینؓ تین دن کے پیاسے دشت کربلا میں شہید ہوئے اور جسد مبارک تیروں سے چھد گیا تھا اور سر مبارک تن اطہر سے جدا کیا گیا اور کاذب مدعی کیوڑے اور خس کی ٹٹیوں میں عیش و آرام سے زندگی بسر کرتا تھا اور عورت کے زیور سونے کے اس قدر کہ کسی امیر دنیا پرست کو نصیب نہ ہوئے ہوں اور مقویات اور لذیذ غذاؤں کی وہ کثرت کہ حلق مبارک سے دوسری غذا کا اترنا ایسا ہی محال تھا جیسا کہ حضرت عیسیٰؑ کا نزول اور ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے جسم کو ان کے کذب بھرے سر سے کسی نے سبکدوش نہیں کیا۔ یعنی کسی نے مرزا قادیانی کو قتل نہیں کیا۔ تیروں کے بدلہ میں ایک سوئی کا زخم نہیں لگا۔ خود اپنی موت مرض ہیضہ سے فوت ہوا۔ مگر کذب بیانی یہ کہ سو حسینؓ کا عذاب آپ کو ہر وقت ملتا ہے۔ خیر یہ قصہ طول ہے اصل مطلب کی طرف آتا ہوں کہ اصحاب کہف نہ تو کفار کے ہاتھ آئے اور نہ شہید ہوئے خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ کی مانند اپنی قدرت نمائی سے عجیب کام کیا کہ کفار غار تک نہ پہنچ سکے اور صحیح و سلامت ٣٠٩ برس تک سوئے رہے۔ یہ بالکل فاسد اور غلط عقیدہ مرزا قادیانی نے تراشا ہے کہ اصحاب کہف کی زندگی شہیدوں والی زندگی ہے اور صریح

صفحہ ١٧٦

قرآن شریف کا انکار کیا ہے۔

پس قرآنی نص سے ثابت ہوا کہ جسمانی جسم بغیر طعام کے زندہ رہ سکتا ہے۔ جیسا کہ اصحاب کہف کا قصہ شاہد ہے کیونکہ نظیر موجود ہے جس خدا نے اصحاب کہف کو اپنی خاص عجوبہ نمائی قدرت سے ایسی نیند سے سلایا کہ ٣٠٩ برس تک بھوک پیاس سے مستغنی رہے وہی خدا قادر ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو ایسی نیند عطا کر دی ہے کہ تا نزول وہ انسانی حوائج سے بے پرواہ رہے اور اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ بحالت نیند اٹھائے گئے اور تا نزول اسی حالت میں رہیں گے اور توفی کے معنی نیند کے بھی ہیں اور بھوک پیاس نیند کی حالت میں نہیں لگتی۔

اب ہم مسلم والی حدیث کی بابت بحث کرتے ہیں۔

کر فرما رہا ہے کہ اصحاب کہف ٣٠٩ برس تک زندہ سوئے رہے۔

اور بعد میں ایک ان میں سے کھانا مول لینے آیا۔ مرزا قادیانی قرآن کی تردید مسلم والی حدیث سے کرتے ہیں۔ جب یہ مسلمہ اصول ہے کہ اول قرآن بعدہٗ حدیث پھر قرآن کے مقابل حدیث پیش کرنی مرزا قادیانی کی غلطی ہے۔

اپنے مطلب کے واسطے جھوٹ استعمال کیا کرتے ہیں مگر ایسا جھوٹ کہ مسلم والی حدیث اصحاب کہف کو مار رہی ہے۔ حدیث میں اگر کوئی مرزائی دکھا دے کہ اصحاب کہف مر گئے تھے تو ہم اس کو سو روپیہ انعام دیں گے۔ مرد میدان بنیں اور حدیث مسلم والی سے دکھا دیں یا اب تو کاذب مدعی کا پلہ چھوڑیں۔ کیونکہ ثابت ہے کہ وہ قدم قدم پر جھوٹ بولتا ہے تو دعویٰ وحی و الہام میں کیونکر سچا ہو سکتا ہے؟ اور ایسا دروغ گو پیشوا ہونے کے لائق نہیں۔

محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے ہو گزرے ہیں اور حضرت محمد ﷺ نے اصحاب کہف اور حضرت عیسیٰ ؑ کے بہت مدت بعد فرمایا۔ مابعد کا زمانہ ماقبل کے زمانہ پر کیونکر حاوی ہو سکتا ہے؟ یہ صرف خود غرضی ہے کہ اس نے اندھا کر دیا ہے۔ جب قرآن میں حضرت نوح ؑ کا ایک ہزار برس سے بھی زیادہ عمر پانا مذکور ہے۔ حضرت آدم ؑ کی عمر ساڑھے نو سو برس کی تورات سے ثابت ہے تو کس قدر دھوکہ دہی ہے کہ عمداً جھوٹ اختیار کیا جاتا ہے کہ ایک حدیث جو کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے زمانہ کے لوگوں کے واسطے فرمائی وہ پہلے انبیاء

صفحہ ١٧٧

اور مخلوق کے واسطے بتائی جائے یہ ایسی ہی جہالت کی بات ہے کہ کوئی جاہل کہے کہ حضرت ابراہیم و موسیٰؑ نے قرآن پر عمل نہیں کیا تو جس طرح اس جاہل کو سمجھایا جائے گا کہ اس وقت تو قرآن شریف نہ تھا۔ اسی طرح مرزا قادیانی کو بتایا جاتا ہے کہ اصحاب کہف کے وقت نہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تھے اور نہ مسلم والی حدیث تھی۔ یہ تو ایسی بات ہے کہ ایک بادشاہ ایک امر کی ممانعت تو کرے یکم جنوری ١٩١٨ء کو اور جن جن لوگوں نے اس حکم سے پہلے جنوری ١٨٩٩ء یا ١٥٨١ء میں وہ کام کیے ان کو بھی ساتھ ہی شامل کر لے۔ ایسا ہی مرزا قادیانی کا حال ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمائیں تو چھ سو برس کے بعد کے زمین پر سو برس سے زیادہ کوئی نہ جئے گا اور مرزا قادیانی حضرت عیسیٰؑ اور اصحاب کہف کو بھی اس حدیث میں شامل کر لیں۔ یہ زبردستی اور غرضی نہیں تو اور کیا ہے۔

(٤) یہ حدیث تو زمین کے ساکنان کی بابت ہے اور بحث حضرت عیسیٰؑ کی درازی عمر کی ہے جو کہ آسمان پر ہے۔ زمین کی بات آسمان والوں پر کیوں کر صادق آ سکتی ہے؟ بلکہ اس سے تو حیات ہی حضرت عیسیٰؑ ثابت ہوتی ہے کیونکہ زمین پر سو برس تک کوئی نہ رہے گا تو ثابت ہوا کہ جو آسمان پر ہے وہ اس حدیث کی رو سے زندہ ہے اور موت سے بچا ہوا ہے۔

(٥) اب ہم مرزا قادیانی کے اپنے قول سے اس حدیث کا ایسے موقع پر پیش کرنا غلط ثابت کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے خود ایک کتاب جس کا نام راز حقیقت ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ ایک سو بیس برس کی عمر پا کر فوت ہو کر کشمیر میں مدفون ہوئے۔ اصل عبارت بہت طویل ہے خلاصہ یہ ہے۔

”حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی ایک سو بیس برس کی عمر ہوئی تھی۔“

(راز حقیقت ص ٢ حاشیہ خزائن ج ١٤ ص ١٥٣)

جب حضرت عیسیٰؑ کی عمر ایک سو بیس برس کی مرزا قادیانی کے اقرار سے ہوئی تو یہ حدیث مسلم والی درست نہیں رہتی اور جب حضرت عیسیٰؑ نے اس حدیث کے قاعدہ کو ایک سو بیس برس کی عمر پا کر توڑ دیا تو اصحاب کہف بھی توڑ سکتے ہیں۔ جن کی عمر کا ذکر قرآن شریف میں ہے تو ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی جان بوجھ کر دھوکہ دہی کی غرض سے مسلم والی حدیث کا ذکر کرتے ہیں۔ جب ان کو خود معلوم تھا کہ مسیح کی عمر میں خود ہی ایک سو بیس برس کی قبول کر چکا ہوں تو یہ کیوں کہتا ہوں کہ مسلم والی حدیث اصحاب کہف کو مار رہی ہے۔ یہ دھوکہ دہی نہیں تو اور کیا ہے؟

(٦) جب حدیث خواہ کیسی ہی صحیح ہو قرآن کے متعارض ہو تو حدیث کو ترک کرنا پڑتا

صفحہ ١٧٨

ہے۔ پس جب قرآن شریف اصحاب کہف کی مدت نیند ٣٠٩ برس بیان کرتا ہے اور مسلم والی حدیث سو برس سے کسی کی زیادہ عمر ہونے نہیں دیتی تو حدیث کی تاویل کرنی ہوگی یا بالکل ترک کرنا ہو گا اور یہ وہی اصول ہے جس کو مرزا قادیانی اپنی کتابوں میں بار بار ذکر کرتے ہیں۔ مگر جب اپنا مطلب نہیں نکلتا تو خود ہی اس کے برخلاف جاتے ہیں اب مسلم والی حدیث جو کہ صریح قرآن شریف کے متعارض ہے کیوں پیش کرتے ہیں؟ کیا ان کے اعتقاد میں حدیث قرآن سے مقدم ہے؟

واقعات کے برخلاف ہو اس کو مجاز و استعارہ پر حمل کرنا چاہیے۔“ (ازالہ اوہام ص ٢٣٣ خزائن ج ٣ ص ٢١٧) اب مرزا قادیانی اپنے مطلب کے واسطے مجاز و استعارہ کیوں بھول گئے۔ کیا یہ عقل کی بات ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہو کہ سو برس سے کسی شخص کی عمر زمین پر متجاوز نہیں ہو گی؟ بھلا یہ ممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے وقت میں کسی شخص کی عمر سو برس کی یا سو سے زیادہ کی نہ ہو۔ تاریخ کی کتابوں سے اس کی تردید واقعات سے پائی جاتی ہے۔ دور نہ جاؤ مسیلمہ کذاب کی عمر سوا سو برس کی تھی اور مرتے وقت ڈیڑھ سو برس کی تھی۔

(افادۃ الافہام حصہ اوّل ص ١٣١)

آج تک کثرت سے لوگوں کی عمریں ایک سو برس سے زیادہ ہوتی آئی ہیں اور کئی ایک اب بھی موجود ہوں گے۔ پس اس حدیث مسلم والی کی تاویل کرنی پڑے گی ورنہ اسلام کو ایک مضحکہ خیز مذہب دنیا کے سامنے پیش کرنا ہو گا۔ اب ہم مرزا قادیانی کے اصل مطلب کی طرف آتے ہیں کہ چونکہ کوئی جسم بغیر طعام کے زندہ نہیں رہ سکتا اس لیے عیسیٰؑ بھی فوت ہو چکے ہوں گے۔ اس کا جواب ذیل میں دیا جاتا ہے۔

پکائیں اور روٹی یا چاول کے ساتھ بھاجی ترکاری روزانہ بنا کر کھائیں تو وہ جسم کا طعام ہے اور اسی سے بقائے جسم ہے۔ ورنہ کوئی جسم قائم نہیں رہ سکتا۔ یہ مرزا قادیانی کا اپنا قیاس ہے اور بالکل غلط ہے اور نہ قرآن شریف کی اس آیت کا یہ منشاء ہے۔ یہ آیت تو انبیاء علیہم السلام کی فطرت انسانی بتاتی ہے کہ وہ بھی انسان تھے اور یہ جو تم اعتراض کرتے ہو کہ یہ کیسا نبی ہے کہ ہماری طرح کھانے پینے والا بنایا ہے اور ان کے جسم ایسے بنائے ہیں کہ کھاتے ہیں طعام کو۔

اوّل ۔ تو یہ آیت حضرت عیسیٰؑ کے حق میں نہیں ہے۔

صفحہ ١٧٩

دوم۔ اس سے کسی طرح بھی وفات مسیح کا استدلال نہیں ہو سکتا کیونکہ مرزا قادیانی کو کس طرح علم ہوا کہ حضرت عیسیٰؑ کو آسمان پر طعام نہیں ملتا؟ کیا مرزا قادیانی آسمان پر گئے ہیں اور وہاں کے جغرافیہ سے واقف ہو کر آئے ہیں کہ آسمان پر طعام نہیں؟ اگر کہو کہ جدید علوم سے معلوم ہوا ہے کہ آسمانوں پر طعام نہیں تو یہ غلط ہے کیونکہ علم ہیئت کا ایک فرنچ عالم آرگو صاحب اپنی کتاب ’’ڈسے آفو ڈسٹھ‘‘ کے صفحہ ١٢ پر لکھتے ہیں:۔

’’اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ کیا سورج میں آبادی ہے تو میں کہوں گا کہ مجھے علم نہیں لیکن مجھ سے یہ دریافت کیا جائے آیا ہم جیسے انسان وہاں زندہ رہ سکتے ہیں تو اثبات میں جواب سے گریز نہ کروں گا۔‘‘

مرزا قادیانی خود قبول کر چکے ہیں کہ ’’علوم جدیدہ سے ثابت ہے کہ چاند و مریخ وغیرہ ستاروں میں آبادیاں ہیں۔‘‘ (سرمہ چشم آریہ ص ٨٧ حاشیہ خزائن ج ٢ ص ١٣٥)

جب آسمان پر آبادیاں ہیں تو پھر عیسیٰؑ بغیر طعام کیوں کر مانے جا سکتے ہیں؟ اصل میں مرزا قادیانی کو طعام میں غلطی لگی ہوئی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ طعام وہی ہے جو انسان خود آگ پر پکا کر تیار کرتا ہے۔ اور اس طعام کے بغیر زندگی محال ہے حالانکہ یہ غلط ہے۔ مولانا روم نے فرمایا ہے ؏

کار پاکاں بر قیاس خود مگیر

مرزا قادیانی اپنے نفس پر قیاس کر کے زعم کرتے ہیں کہ چونکہ میں لذیذ اور مقویات اور برف و کیوڑہ و گوشت مرغ و روغن بادام والی غذا کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا شائد عبادالرحمن میں سے بھی کوئی بغیر ایسے طعام کے زندہ نہیں رہ سکتا۔ یہ ان کی غلطی ہے۔ حضرت باوا فرید شکر گنجؒ کے حالات میں تاریخ فرشتہ میں لکھا ہے کہ آپ ڈیلے جو ایک جنگلی درخت کا پھل ہے کھایا کرتے تھے اور یہی ان کا طعام تھا۔ حضرت عائشہؓ سے بخاری میں حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ کا کنبہ صرف کھجوروں اور پانی پر گزارہ کرتا تھا۔

(دیکھو بخاری ج ٢ ص ٨١١ باب اطعمہ)

سوم! اولیائے اللہ کے حالات میں لکھا ہے کہ چالیس روز تک کچھ نہ کھاتے اور نہ پیتے مگر ان کی طاقت اور زندگی بحال رہتی کیونکہ یاد الٰہی ان کی غذا ہو جاتی ہے اور ذکر الٰہی کا سرور ان پر ایسا غالب آتا ہے کہ بھوک پیاس بالکل مفقود ہو جاتی ہے۔ چہارم! یہ قاعدہ ہے کہ ہر ایک ملک اور ہر باشندگان کی غذا و طعام الگ الگ ہوتا ہے۔ بعض دن رات میں آٹھ دفع کھاتے ہیں اور بعض چار دفعہ اور بعض صرف دو دفعہ اور بعض ایک ہی

صفحہ ١٨٠

دفعہ اور بعض عاشقان خدا ہمیشہ ہی روزہ رکھتے ہیں اور یاد خدا ان کی غذا ہوتی ہے۔ رسول مقبول ﷺ نے روزہ طی کی حدیث میں فرمایا ہے۔ و ایکم مثلی انی بیت یطعمنی ربی و یسقینی (متفق علیہ بخاری ج ٢ ص ١٠١٢ باب المعاریض والادب) یعنی میں تمہاری طرح نہیں میں رات کاٹتا ہوں اور میرا خدا مجھ کو طعام کھلا دیتا ہے اور سیراب کر دیتا ہے۔

مطلب یہ کہ میری زندگی تمہاری طرح ماکولات کی محتاج نہیں تو ثابت ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کو جو روحانی طعام خدا کی طرف سے عطا ہوتا ہے وہ دوسرے عوام کو حاصل نہیں ہوتا۔ مگر مرزا قادیانی چونکہ اس کوچہ سے واقف نہیں بقول شخصے ع

سخن شناس نہ دلبرا خطا اینجاست

مرزا قادیانی کا طعام بھی اگر مانا جائے جو وہ خود استعمال کرتے تھے تو بہت مخلوق خدا جو خشک روٹی اور صرف دودھ یا نباتات پر زندگی بسر کرتے ہیں سب کے سب فوت شدہ ہیں۔ کیونکہ ان کو مرزا قادیانی جیسا مرغن و ملذذ و مقوی طعام نہیں ملتا۔ یا اقرار کرو کہ طعام صرف اسی گوشت روٹی و دال بھاجی و پلاؤ قلیہ وغیرہ کا نام نہیں بلکہ جو چیز بدل ما یتحلل ہو کر جزو بدن ہو وہی غذا اور طعام ہے اور یہ جب حسب فطرت اجسام ارضی و اجسام سماوی سب کو درجہ بدرجہ مختلف اقسام اور گوناگوں رنگ سے ملتی ہے یہاں زمین میں ہی دیکھ لو کہ بعض حیوانات کئی کئی دن تک پانی نہیں پیتے۔ حشرات الارض کی فطرت ایسی واقعہ ہوئی ہے کہ وہ پانی ہرگز نہیں پیتے۔ بعض انسان صرف گوشت کھاتے ہیں اور اناج کو چھوتے تک نہیں۔ شمالی لینڈ میں جو لوگ لام پر گئے تھے ان کا بیان ہے کہ اس ملک کے لوگ اناج نہیں کھاتے۔ روٹی سونگھ کر پھینک دیتے ہیں۔ صرف گوشت کھاتے ہیں اور طاقت ور ایسے ہیں کہ گھوڑا اور اونٹ ان کا تعاقب کر کے پکڑ نہیں سکتا اور دوڑتے وقت وہ ہانپتے نہیں ان کا طعام صرف گوشت ہی ہے۔ قطب شمالی کے لوگ صرف مچھلی کھاتے ہیں ان کو بھی نہ اناج ملتا ہے اور نہ ان کا طعام اناج ہے اہل ہنود میں بہت لوگ دودھ پر زندگی بسر کرتے ہیں۔ روٹی ہرگز نہیں کھاتے اور یہ لوگ دودھاری کہلاتے ہیں۔ جب زمین پر اس احسن الخالقین اور احکم الحاکمین کا یہ انتظام ہے کہ ہر ایک مخلوق کو مختلف اقسام سے طعام ملتا ہے تو اسی علیٰ کل شی قدیر کی قدرت کاملہ کے آگے یہ ناممکن ہو سکتا ہے کہ آسمانی مخلوق کے واسطے جو کہ الطف و اکمل ہے کوئی انتظام اس کے بدل ما یتحلل نہ ہو؟ کیا تمام اجرام سماوی جو کہ ہر ایک زمین سے بڑا ہے اور اپنے اندر آبادیاں رکھتا ہے اور جاندار مخلوق اس میں رہتے ہیں سب کو طعام نہیں ملتا اور سب فوت

صفحہ ١٨١

شدہ ہیں۔ ہرگز نہیں تو پھر حضرت عیسیٰؑ کے واسطے آسمان پر طعام کا نہ ملنا ایک ایسا امر ہے جس کو کور باطنی سے تعبیر کر سکتے ہیں جب انسان اپنی ان عجائبات قدرت سے تو واقف نہیں۔ آئے دن جدید ایجادات اس کے محالات عقلی اور خلاف قانون قدرت کا بخیہ ادھیڑ رہی ہیں اور جن جن امور کو آج سے پہلے کئی سال محال عقلی اور خلاف قانون قدرت کہا جاتا تھا آج وہ صرف انسانوں کی قدرت سے ممکن ہی نہیں بلکہ مشاہدہ میں آ رہے ہیں۔ مثلاً ہوائی جہازوں کی ایجاد بغیر تار تاروں کی خبر رسانی، آگ اور پانی کا ایک جگہ جمع ہو کر لوہے کو جو کہ ایک غیر متحرک دھات ہے اس کا اس قابل ہو جانا کہ سینکڑوں ہزاروں منوں بوجھ کو سینکڑوں اور ہزاروں کوس تک لے جانا وغیرہ وغیرہ۔ باوجود اس مشاہدہ کے پھر اپنی محدود عقل پر جو کہ ہر زمانہ میں ناقص ثابت ہوتی ہے خدا تعالیٰ کی قدرت سے انکار کرنا اور عقلی ڈھکوسلے لگانا اور آسمانی کتابوں کا انکار کرنا اور ان کی بیہودہ تاویلات کرنا عدم معرفت خدا کا ثبوت نہیں تو اور کیا ہے؟ حضرت عزیرؑ کا قصہ جو قرآن شریف میں ہے مرزا قادیانی کی پوری تردید اور عدم معرفت باری تعالیٰ ثابت کر رہا ہے۔ شیخ ابن عربی نے فصوص الحکم فص عزیزی میں لکھا ہے کہ حضرت عزیرؑ نے اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں عرض کی کہ یہ محال عقلی ہے کہ مردے زندہ ہوں۔ اس پر جواب عتاب کے ساتھ ہوا۔ چنانچہ شیخ ابن عربی لکھتے ہیں ”اور حدیث سے جو ہم لوگوں کو روایت آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیرؑ کے پاس وحی بھیجی کہ لئن لم تنته لامحون اسمك عن ديوان النبوة اگر تم اس تعجب کے کہنے سے یعنی یہ محال عقلی ہے کہ مردے زندہ ہوں گے تو تمہارا نام نبوت کے دفتر سے مٹا دوں گا۔

تو اس کے یہ معنی ہیں کہ میں وحی سے خبر دینے کا طریقہ تم سے اٹھا دوں گا اور امور تجلی سے دوں گا اور تجلی ہمیشہ تمہاری استعداد کے موافق ہوا کرے گی جس سے تم کو ادراک ذاتی حاصل ہو۔ الخ۔

(دیکھو فصوص الحکم صفحہ ١٧٦ اردو)

شیخ اکبر کی عبارت مذکورہ سے صاف ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو جو علم بذریعہ وحی دیا جاتا ہے وہ اعلیٰ ہوتا ہے اور جو امور ادراک ذاتی سے بذریعہ عقل انسانی سمجھے جاتے ہیں وہ ادنیٰ درجہ کے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت عزیرؑ نے جب بذریعہ ادراک معلوم کرنا چاہا کہ خداوندا تو مردے کس طرح پر زندہ کرے گا تو اس کو عتاب ہوا کہ تم اس بات کے کہنے سے باز نہ آؤ گے تو تمہارا نام نبیوں کی فہرست سے کاٹ دیا جائے گا اور پھر تم کو ہر ایک وہ امر جو تمھارے مشاہدہ میں آ جائے دیا جائے گا۔ پس

صفحہ ١٨٢

ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ کے احکام میں چون و چرا کرنا جائز نہیں اور ہر ایک امر میں ادراک عقلی طلب کرنا درست نہیں۔ حضرت عزیزؑ ایک سو برس تک مردے پڑے رہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے زندہ کر کے پوچھا کہ کتنا عرصہ گزرا؟ حضرت عزیزؑ نے کہا کہ ایک دن یا زیادہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک سو برس تک تم مرے رہے اور ہماری قدرت دیکھو کہ تمہارا کھانا بگڑا نہیں اور دیکھو اپنے گدھے کی طرف کہ کس طرح اس کی ہڈیوں پر گوشت پہنایا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی بھی اس قصہ کو مانتے ہیں مگر ساتھ ہی کہتے ہیں کہ ’’حضرت عزیزؑ کا دوبارہ دنیا میں آنا یعنی زندہ ہونا ایک کرشمہ قدرت تھا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص ٣٦٥ خزائن ج ٣ ص ٢٨٧) پس ہم بھی حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش بغیر باپ اور رفع اور نزول اور مردوں کا زندہ کرنا اور دیگر معجزات کرشمہ قدرت یقین کرتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کا رسولوں اور نبیوں کی فضیلت دنیا پر ظاہر کرنے کے واسطے اور ان کی صداقت ظاہر کرنے کے واسطے خاص کرشمہ قدرت سے معجزے دکھایا کرتا ہے۔ جو کہ بظاہر محالات عقلی و خلاف قانون قدرت معلوم ہوتے ہیں مگر حقیقت میں محالات میں سے نہیں ہوتے کیونکہ جن لوگوں نے خدا تعالیٰ کو مانا ہے انھوں نے اس کو اپنی صفات میں بھی کامل مانا ہے اور جب ابتدائے عالم میں کچھ نہ تھا اور صرف امر کن سے سب کائنات پیدا کی اور اس کی قدرت لامحدود کے آگے کوئی بات ان ہونی و غیر ممکن نہیں تو پھر جو امور عقل انسانی میں نہیں آ سکتے یہ عقل انسانی کا قصور ہے کہ وہ ناقص ہے نہ خدا تعالیٰ عاجز وجود ہے کہ وہ ایسے امور نہیں کر سکتا جو کہ مافوق الفہم انسانی ہیں۔ انسان تو خود عاجز ہے اور محدود ہے۔ ایک محدود وجود غیر محدود قدرتوں والے وجود پر محیط یا حاوی ہو سکتا ہے؟ جب ادراکات انسانی لامحدود قدرت پر محیط نہیں تو پھر اس کا یہ کہنا کہ یہ امر محالات سے ہے غلط ہے کیونکہ یہ خود ناقص ہے اور خدا کی قدرت جو کہ محدود نہیں ہے اس پر احاطہ نہیں کر سکتا اور اس کا جہل ہے جو کہ اس سے یہ کہلاتا ہے کہ یہ امر ناممکن محال عقلی ہے۔ حالانکہ یہ امر خدا تعالیٰ علیٰ کل شئ قدیر کی طرف منسوب ہے۔ پس وہ خدا تعالیٰ جو کہ ذرہ سے لے کر آفتاب تک اور ماہ سے لے کر ماہی تک ہر ایک وجود مرئی و غیر مرئی اور عناصر اور کل کائنات ارضی و سماوی کا خالق و مالک ہے۔ ایک حضرت عیسیٰؑ کیا ہزاروں اور لاکھوں عیسیٰؑ کو اپنے امر کے ماتحت بلا خوردونوش بھی زندہ رکھ سکتا ہے۔ یہ صرف دلائل کی طرف مائل ہونے کی خرابی ہے کہ خدا تعالیٰ کا وجود مان کر اور پھر اس کو اپنی قدرت و جبروت میں کامل یقین نہ کر کے ہر ایک امر ممکن و غیر ممکن پر قادر یقین نہ کر کے

صفحہ ١٨٣

پھر بلا دلیل دہریہ و فلاسفہ کی تقلید میں کہہ دینا کہ یہ خدا نہیں کر سکتا۔ خدا کی معرفت سے سادہ اور لا علم ہونے کی دلیل ہے۔

اب رہا مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کی سنت نہیں بدلتی اس کا مطلب اگر وہ صحیح سمجھتے تو ہرگز خدا تعالیٰ کی ذات میں قادر مطلق ہونے کا شک نہ کرتے مگر مرزا قادیانی تو دفع الوقتی کیا کرتے تھے۔ جیسا موقعہ ہوتا کہہ دیتا اگرچہ اپنی تردید خود ہی کر دیتے۔ ہم ذیل میں مرزا قادیانی کی ایک عبارت نقل کرتے ہیں۔ جس میں انھوں نے خود ہی اپنی قلم مبارک سے سنت اللہ اور قانون قدرت و محالات عقلی پر پانی پھیر دیا ہے۔ سنو حق الیقین والوں کی بابت لکھتے ہیں۔

”عباد الرحمن اور اس قدر زور سے صدق و وفا کی راہوں پر چلتے ہیں کہ ان کے ساتھ خدا کی ایک الگ عادت ہو جاتی ہے۔ گویا ان کا خدا ایک الگ خدا ہے جس سے دنیا بے خبر ہے اور ان سے خدا تعالیٰ کے وہ معاملات ہوتے ہیں جو دوسرے سے وہ ہرگز نہیں کرتا۔ جیسا کہ ابراہیمؑ ۔ چونکہ صادق اور خدا تعالیٰ کا وفادار بندہ تھا۔ اس لیے ہر ایک ابتلاء کے وقت خدا نے اس کی مدد کی جب کہ وہ ظلم سے آگ میں ڈالا گیا۔ خدا نے آگ کو اس کے لیے سرد کر دیا۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٤٩ و ٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢)

مرزا قادیانی نے اگر یہ تحریر صدق دل سے لکھی ہوتی اور یہ ان کا اپنا اعتقاد ہوتا تو پھر حضرت عیسیٰؑ کے معاملہ میں جو کچھ قرآن میں لکھا ہے سب درست سمجھتے کیونکہ مفصلہ ذیل امورات کا فیصلہ مرزا قادیانی نے خود کر دیا ہے۔

تحریر سے ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ کی عادت عوام سے اور ہے اور رسولوں اور نبیوں اور ولیوں سے الگ ہے۔ جب خدا کی اپنے خاص بندوں سے الگ عادت ہے تو پھر آپ کا یہ اعتراض غلط ہے کہ حضرت عیسیٰؑ اتنی مدت تک بغیر طعام نہیں رہ سکتے۔ مرزا قادیانی کو کیا علم ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کو کس قسم کا طعام ملتا ہے؟ جب بقول مرزا قادیانی حضرت عیسیٰؑ سے خدا کی الگ عادت ہے کیونکہ وہ رسول ہے تو پھر خدا تعالیٰ حضرت عیسیٰؑ کو الگ عادت سے طعام بھی کھلاتا ہے اور الگ عادت سے تا نزول دراز عمر بھی دے رکھی ہے۔ آپ کا کیا عذر ہو سکتا ہے؟

جب اقرار کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ جو رسول و نبی سے معاملہ کرتا ہے وہ دوسرے سے نہیں

صفحہ ١٨٤

کرتا تو پھر یہ اعتراض کیونکر درست ہو سکتا ہے کہ عیسیٰ بغیر طعام نہیں رہ سکتا؟ جب خدا کا ان سے یعنی عیسیٰؑ سے الگ معاملہ ہے تو پھر اس کو طعام بھی الگ دیتا ہے جو کہ عوام کو وہ طعام نصیب نہیں ہوتا۔ پس عوام کا خیال و قیاس جو مرزا قادیانی نے کر کے حضرت عیسیٰؑ کی حیات پر اعتراض کیے ہیں کل کا رد ہو گیا کیونکہ ہر ایک کا یہی جواب ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کے ساتھ خدا کی الگ عادت ہے۔

آگ کو ان پر سرد کر دیا۔

اب کوئی مرزائی بتا سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کا قانون قدرت کہاں گیا؟ اور سنت اللہ تبدیل ہوئی یا نہ جب سے کرہ نار خدا نے پیدا کیا تب سے اس میں جلانے کی خاصیت رکھی اور اب تک بھی سنت اور عادت اللہ یہی ہے کہ جو چیز آگ میں ڈالی جائے جل جاتی ہے اور آگ کسی پر سرد نہیں ہوتی۔ حضرت ابراہیمؑ کے واسطے جو آگ سرد کی گئی اور جس خدا نے آگ پر یہ قدرت نمائی فرمائی اور اپنے رسول کی حفاظت جسمانی کی غرض سے آگ کو حکم دیا کہ سرد ہو جا وہی خدا حضرت عیسیٰؑ کی حفاظت کے وقت کیوں کر عاجز ہو سکتا ہے کہ اپنے رسول کی حفاظت جسمانی نہ کرے اور اس کے جسم کو کوڑے پیٹنے دے اور صلیب کے عذاب اس قدر دلا دے کہ بے گناہ بے ہوش جائے۔ ایسا بے ہوش اور غشی کی حالت میں کہ مردہ سمجھ کر دفن کیا جائے اور باوجود قادر ہونے کے پھر یہود کے سپرد کر دے کہ تم جو عذاب چاہو دے لو میں پھر اس کا رفع روحانی کروں گا۔ خدا کی عادت اور سنت کے خلاف ہے یا مرزا قادیانی کا خیال غلط ہے؟ کیونکہ اس نے جس طرح حضرت یونسؑ کو مچھلی کے پیٹ میں جگہ دے کر قدرت نمائی فرمائی۔ اسی طرح حضرت عیسیٰؑ کو بھی یہود کے ہاتھ سے بچایا اور جس طرح حضرت ابراہیمؑ کے دشمنوں اور حضرت یونسؑ کے دشمنوں سے ان کی جسمانی حفاظت کی اسی طرح حضرت عیسیٰؑ کی بھی حفاظت جسمانی فرمائی اور جسم کو اوپر اٹھا لیا تاکہ یہود کسی طرح کا قابو نہ پا کر ایک رسول کی ذلت اور عذاب پر قادر نہ ہوں۔

آگ کے سرد ہونے اور مچھلی کے پیٹ میں بول براز نہ ہونے سے حضرت عیسیٰؑ کا آسمان پر اٹھایا جانا کچھ زیادہ عجیب تر نہیں۔ کیونکہ انجیل میں لکھا ہے کہ بادلوں اور فرشتوں کے ذریعہ سے مسیح آسمان پر اٹھایا گیا۔ عیسیٰؑ کا اٹھایا جانا محال عقلی نہ رہا کیونکہ نظیریں موجود ہیں۔ خدا تعالیٰ نے رفع عیسیٰ سے عجیب تر معاملات اپنے رسولوں

صفحہ ١٨٥

اور نبیوں سے کیے ہیں اور ان کے جسموں کو بے حرمتی اور ذلت اور عذاب سے بچایا۔ پس حضرت عیسیٰ کو بھی رفع جسمانی دے کر بچایا۔ ورنہ حضرت عیسیٰ کے حق میں ظلم ہو گا کہ اس کے جسم کو تو عذاب خدا تعالیٰ نے دلوائے اور صرف روح کو اٹھایا جو کہ بلا دلیل و بلا ثبوت ہے۔ روح کا اٹھایا جانا یہود پر جب ظاہر نہ ہوا اور یہودیوں نے جو چاہا حضرت عیسیٰ رسول اللہ کو عذاب دیا اور تمام خلقت موجودہ نے دیکھا اور یقین کیا کہ سب عذاب اور ذلتیں حضرت مسیح کو دی گئیں اور یہودی اب تک کہتے ہیں کہ ہم نے عیسیٰ رسول اللہ کو مار ڈالا اور طرح طرح کے عذاب دے کر مار ڈالا تو پھر خدا کی حفاظت اپنے رسولوں کے حق میں کیا ہوئی؟ بلکہ مرزا قادیانی کی تاویل سے جو کہ وہ لکھتے ہیں کہ جان نہ نکلی تھی۔ زیادہ عذاب دیا جاتا ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ بدیہی مشاہدہ ہے اور ہر ایک مذہب کا اتفاق ہے بلکہ دہریہ وغیرہ بھی یقین کرتے ہیں کہ موت عذابوں اور تکلیفوں کے ختم کرنے والی ہے اسی واسطے اکثر بڑے بڑے مدبر و فلاسفر و عقلاء نے خود کشیاں کیں اور عذاب سے نجات پائی۔ مگر مرزا قادیانی یہ خدا کا ظلم حضرت عیسیٰ کے حق میں ثابت کرتے ہیں کہ ادھر تو یہودی حضرت عیسیٰ کو عذاب دیتے تھے اور اس طرح خدا تعالیٰ کا غضب حضرت عیسیٰ کے حق میں یہ تھا کہ صلیب پر جان نہ نکلتی تھی کیونکہ اگر جان نکل جاتی تو صلیب کے عذابوں سے رہائی ہو جاتی۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ یہود کا طرفدار تھا اور اپنے رسول کا دشمن تھا کہ دیکھ رہا ہے کہ اس کے رسول کو عذاب دیے جا رہے ہیں اور وہ بجائے امداد کرنے اور بچانے کے الٹا اپنے رسول کی جان بھی نہیں نکلنے دیتا اور پھر لکھتے ہیں کہ مسیح ایسا عذابوں سے بے ہوش ہوا کہ مردہ تصور ہو کر اتارا گیا اور دفن کیا گیا مگر افسوس کوئی خیال نہیں کرتا کہ جب مسیح ایسا بے ہوش تھا کہ مردہ متصور ہوا اور اس کی نبض بھی بند ہو گئی اور محافظان صلیب و یہودیان موجودہ نے دیکھ بھی لیا بلکہ ایک سپاہی نے مصلوب کی پسلی چھید کر امتحان بھی کر لیا کہ مصلوب میں کوئی نشان زندگی باقی نہیں اور مر چکا ہے اور پھر لاش کو غسل دیا گیا اور دفن کی گئی۔ جس کے ساتھ اس قدر معاملات ہوئے اگر وہ مردہ نہ تھا تو مرزا قادیانی اور مرزائی خود ہی بتائیں کہ مردہ ہونے کے کیا نشان باقی تھے جو اس وقت مصلوب مسیح میں نہ پائے گئے اور کس دلیل سے انیس سو برس کے بعد دھوکہ دیا جاتا ہے کہ جان باقی رہی تھی؟ اگر جان باقی تھی تو قبر میں دم گھٹ کر مر جانا ضروری تھا؟ غرض یہ بالکل غلط ہے اور خود غرضی کی تاویل ہے کہ مسیح صلیب دیے

صفحہ ١٨٦

گئے کیونکہ اس میں خدا اور اس کے رسول کی سخت ہتک ہے۔ معمولی انسان کی غیرت بھی یہ نہیں چاہتی کہ اس کے کسی دوست کو اس کا کوئی دشمن کوڑے مارے۔ کیل اس کے اعضا میں ٹھوکے اور طرح طرح کے عذاب دے اور وہ چپکا کھڑا تماشہ دیکھے۔ چہ جائیکہ خود خدا قادر مطلق علیٰ کل شی قدیر۔ عزیز الحکیم ہو اور ہر ایک طرح کی قدرت نمائی کی طاقت رکھنے کے باوجود اپنے ایک رسول کی بے حرمتی دیکھے اور اس کو عذاب ہوتا دیکھے اور کوئی حفاظت اور امداد نہ کرے۔ حالانکہ وعدہ کر چکا ہو کہ اے عیسیٰؑ میں تجھ کو بچا لوں گا اور پھر عام وعدہ بھی ہو کہ میں اور میرے رسول ہمیشہ غالب رہتے ہیں۔ پھر مسیح کو یہودیوں کے حوالے کر دے یہ خدا کی ہتک نہیں تو اور کیا ہے؟ اور ساتھ ہی ان دلائل سے مرزا قادیانی کی سنت اللہ کے بدل جانے کا بھی ثبوت مل گیا ہے کیونکہ جب ہمیشہ سنت اللہ یہی رہی کہ اپنے رسولوں کو بچاتا آیا ہے تو پھر حضرت عیسیٰؑ کے واسطے کیوں سنت بدلی جائے اور اس کے واسطے صلیب کے عذاب تجویز کیے گئے۔ پس یا تو مسیح کا رفع جسمانی تسلیم کرنا پڑے گا یا خدا کی سنت کا تبدیل ہونا اور وعدہ خلاف ہونا ثابت ہو گا چونکہ باقرار مرزا قادیانی سنت اللہ نہیں بدلتی۔ لہذا ثابت ہوا کہ مسیح زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور وہاں زندہ ہیں اور وہ تا نزول زندہ رہیں گے لہذا یہ آیت بھی وفات مسیح پر دلیل نہیں۔

قولہ ساتویں آیت

وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افئن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم. (آل عمران ١٤٤) یعنی محمد ﷺ ایک نبی ہیں ان سے پہلے سب نبی فوت ہو گئے ہیں۔ اب کیا اگر وہ بھی فوت ہو جائیں یا مارے جائیں تو ان کی نبوت میں کوئی نقص لازم آئے گا۔ جس کی وجہ سے تم دین سے پھر جاؤ۔ اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ اگر نبی کے لیے ہمیشہ زندہ رہنا ضروری ہے تو کوئی ایسا نبی پہلے نبیوں میں سے پیش کرو جو اب تک زندہ موجود ہے اور ظاہر ہے کہ اگر مسیح ابن مریم زندہ ہے تو پھر یہ دلیل جو خدا تعالیٰ نے پیش کی صحیح نہیں ہو گی۔‘‘ (ازالہ ص ٦٠٦ خزائن ج ٣ ص ٤٢٧)

اقول: یہ آیت بعینہ انھیں الفاظ میں جو مرزا قادیانی پانچویں آیت میں پیش کر چکے ہیں۔ صرف مسیح کی جگہ محمد ﷺ کا نام آیا ہے۔ ورنہ اور تمام الفاظ وہی ہیں۔ ناظرین کی توجہ کے واسطے آیت دوبارہ لکھی جاتی ہے۔

”ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل“۔

صفحہ ١٨٧

یعنی مسیح صرف ایک رسول ہے جیسا کہ اس سے پہلے رسول گزر گئے۔ ایسا ہی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے حق میں فرمایا کہ وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل اور ظاہر ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کہ محمد ﷺ زندہ تھے جس کی تفصیل یہ ہے کہ جنگ احد میں رسول کریم ﷺ زخمی ہو گئے اور اس کش مکش میں شیطان نے پکار دیا کہ محمد ﷺ مر گئے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کا تمام لشکر (بجز خاص اصحابوں کے) بھاگ نکلا۔ اس وقت کے تقاضا سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھاتا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ تم میں رسول ہمیشہ رہے تو تم راہ خدا میں استقلال سے جنگ کرو اور جب رسول فوت یا قتل ہو جائے تو تم بھاگ جاؤ۔ اس آیت سے نہ تو کسی کی وفات کا ذکر ہے اور نہ مسیح ؑ سے اس آیت کا کچھ تعلق ہے۔ اگر بقول مرزا قادیانی اس آیت کا تعلق حضرت مسیح ؑ سے جوڑا جائے تو مسیح ؑ کی حیات ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی خود وما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل کے ترجمہ میں مسیح کو فوت شدہ نبیوں سے الگ تسلیم کر چکے یعنی لکھ چکے ہیں کہ مسیح سے پہلے سب نبی فوت ہو چکے ہیں۔ جب پہلے سب نبی فوت ہو چکے ہیں تو وہ مرزا قادیانی کے اقرار سے زندہ رہے۔ اب یہ آیت وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل بھی مسیح کو زندہ ثابت کر رہی ہے۔ الف لام الرسل کا اگر استغراقی لیں یعنی تمام نبی اس خلت میں شامل ہیں تو نعوذ باللہ محمد ﷺ نبی و رسول نہیں تھے کیونکہ من قبلہ الرسل میں شامل نہیں اور اگر محمد ﷺ کی رسالت تسلیم کریں تو پھر سب نبی و رسول فوت شدہ تسلیم نہیں ہو سکتے اور حضرت عیسیٰ و ادریس و خضر و الیاس مستثنیٰ ہیں۔ پس اس آیت سے بھی حیات مسیح ؑ ثابت ہوتی ہے کیونکہ جس طرح الرسل سے محمد ﷺ جن پر بحالت زندگی یہ آیت نازل ہوئی الرسل سے مستثنیٰ تھے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ قبلہ الرسل کی وفات سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ جس طرح محمد ﷺ قبلہ الرسل میں وفات میں شامل نہیں۔ اسی طرح حضرت مسیح بھی وفات میں شامل نہیں۔ اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے مرزا قادیانی نے حسب عادت خود بہت فقرات اپنے پاس سے بڑھا دیئے ہیں جو کہ نمبروار ذیل میں لکھ کر ہر ایک کا جواب دیا جاتا ہے۔

الجواب: سب نبی فوت ہو جاتے تو حضرت عیسیٰ کا نزول خدا اور اور اس کا رسول نہ فرماتا کیونکہ مردے دوبارہ دنیا میں نہیں آتے۔ پس ثابت ہوا کہ عیسیٰ فوت نہیں ہوئے۔ اگر فوت ہو جاتے تو واپس آنا ان کا اناجیل و قرآن اور حدیثوں میں مذکور نہ ہوتا۔ جس

صفحہ ١٨٨

طرح دوسرے کسی نبی و رسول کا دوبارہ آنا مذکور نہیں۔ پس یہ غلط ہے کہ سب نبی فوت ہو گئے۔ صحیح ترجمہ یہی ہے جو کہ سلف صالحین نے کیا ہے کہ سب نبی و رسول گزر گئے اور خلت کے معنی موت کے کسی نے نہیں لکھے نہ کسی لغت کی کتاب میں خلت کے معنی موت کے ہیں کیونکہ خلت کا مادہ خلا وخلو ہے جس کے معنی گزرنے کے ہیں اور گزرنے کے واسطے ضروری نہیں کہ فوت ہو کر ہی گزرنے والا گزرے واذا خلوا الیٰ شیطینھم نص قرآنی شاہد ہے کہ منافق بحالت زندگی گزرتے تھے۔ پھر دیکھو سنت اللّٰہ التی قد خلت من قبل یعنی اللہ کی سنت پہلے سے گزر چکی کیا یہاں بھی اللہ کی سنت فوت ہو گئے معنی کرو گے؟ جو کہ بدیہی غلط ہیں کیونکہ مرنے سے تغیر و تبدل ہو جاتا ہے۔ اگر سنت اللّٰہ بھی فوت ہو جائے تو تبدیل ہونا لازم آئے گا جو کہ ولن تجد لسنۃ اللّٰہ تبدیلا کے برخلاف ہے۔ قد خلت من قبلہ الرسل کا تعلق صرف ان کی رسالت اور زمانہ نبوت کے متعلق ہے جس کے معنی صرف گزرنے کے ہیں۔ عربی کا محاورہ ہے۔ خلت یا خلون من شہر رمضان یعنی رمضان کی فلاں تاریخ گزر گئی۔ پنجاب ہندوستان میں یہی محاورات ہیں۔ جیسا کہ بولتے ہیں میں دہلی جاتا ہوا آپ کے شہر سے گزر گیا۔ یا کئی تحصیلدار اس تحصیل سے گزر گئے یا کئی لاٹ صاحب آئے اور گزر گئے۔ آپ کو وطن چھوڑے کتنا عرصہ گزرا، غرض خلت کا تعلق زمانہ سے ہے اور مقصود خداوندی ان آیات میں بھی نبی و رسول کے زمانہ کی رسالت اور احکام شریعت کا گزرنا ہے۔ نہ کسی کی موت خلت کی مفصل بحث پہلے پانچویں آیت کے جواب میں گزر چکی ہے۔ پس یہ آیت حضرت مسیح کی وفات پر ہرگز دلالت نہیں کرتی کیونکہ خلت کے معنی موت کے نہیں اگر خلت کے معنی موت کے ہوتے تو خدا تعالٰی بھی بجائے فاین مات او قتل کے فائن خلت فرماتا مگر چونکہ خلت کے معنی موت کے نہ تھے اس لیے خدا نے مات و قتل کے الفاظ فرمائے جس سے ثابت ہے کہ خلت کے معنی صرف موت کے نہیں۔ زندہ ہونے کی حالت میں خلو وخلت ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ کا ہوا۔

ہے صحیح نہیں ہو گی۔

الجواب: خدا تعالٰی نے کوئی دلیل پیش نہیں کی۔ ہاں مرزا قادیانی نے خود ہی خدا کی طرف سے دلیل بنالی ہے اور خود ہی جواب دے دیا ہے۔ اگر دوسرا شخص ایسا کرتا تو مرزا قادیانی جھٹ اس کو یہودی اور لعنت کا مورد قرار دے دیتے اور زور سے کہتے کہ خدا کی

صفحہ ١٨٩

کلام میں اپنی طرف سے عبارت ملاتے ہو۔ کوئی مرزائی بتا سکتا ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ کس عبارت کا ترجمہ کیا ہے۔ ”اگر نبی کے لیے ہمیشہ زندہ رہنا ضروری ہے تو کوئی ایسا نبی پہلے نبیوں میں سے پیش کرو جو اب تک زندہ موجود ہے۔“ الخ

ناظرین! مرزا قادیانی اپنا مطلب ادا کرنے کے واسطے من گھڑت سوال بنا کر خود ہی جواب اپنے مطلب کا دینا شروع کر دیتے ہیں۔ آیت تو صرف یہ ہے وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل۔ یہ خدا نے کہاں فرمایا ہے کہ پہلے نبیوں میں کوئی پیش کرو جو ہمیشہ زندہ رہے۔ یہ ایک راستباز کی شان سے بعید ہے کہ خدا پر بہتان باندھے۔ خدا تعالیٰ علام الغیوب تو ایسی دلیل کبھی پیش نہیں کر سکتا کیونکہ وہ مرزا قادیانی کی طرح خود غرض خلاف واقعہ بات بنانے والا نہیں اس کو علم ہے کہ چار نبی میری مرضی اور تقدیر سے جب تک میں چاہوں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ وہ تو ایسی دلیل پیش کر کے عاجز انسان کی طرح جہل کا الزام اپنے اوپر نہیں لے سکتا۔ یہ مرزا قادیانی کا اپنا افتراء خدا پر ہے کہ خدا نے دلیل پیش کی کہ کوئی ہمیشہ زندہ رہنے والا نبی پیش کرو۔ ہمیشہ زندہ رہنے کا الزام بھی مسلمانوں پر مرزا قادیانی کی اپنی من گھڑت عنایت ہے۔ ورنہ مسلمان تو پکار پکار کہہ رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ابھی بعد نزول فوت ہو کر مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کے مقبرہ میں درمیان ابوبکرؓ عمرؓ کے مدفون ہوں گے اور یہ ان کی چوتھی قبر ہو گی۔ مگر مرزا قادیانی خود ہی سوال کر لیتے ہیں اور خود ہی جواب اپنے مطلب کا دے دیتے ہیں جو کہ اتقاء اور راستبازی کے برخلاف ہے۔ یہ آیت تو صرف حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی مماثلت رسالت میں ماقبل کے رسولوں کے ساتھ ظاہر کرتی ہے۔ جس کا صرف اتنا ہی مطلب ہے کہ جس طرح پہلے رسول انسان تھے ایسا ہی محمد رسول اللہ ﷺ ہے نہ حضرت مسیح ؑ کا اس آیت سے تعلق ہے اور نہ ان کے ذکر میں یہ آیت مذکور ہے جو آیت حضرت محمد ﷺ کے حق میں ہو اس کو حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات پر پیش کرنا ان کا کذب نہیں تو اور کیا ہے؟ اور یہ قرآن شریف کو خود رائی اور مطلب پرستی کا جولا نگاہ بنانا نہیں تو اور کیا ہے؟ پس یہ آیت محمد ﷺ کے حق میں ہے اور وفات مسیح پر اس کے ساتھ استدلال بالکل غلط ہے۔

قولہ آٹھویں آیت

وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد افائن مت فہم الخلدون

(الانبیاء ٣٤)

یعنی ہم نے تم سے پہلے کسی بشر کو ہمیشہ زندہ اور ایک حالت پر رہنے والا نہیں بنایا پس اگر

صفحہ ١٩٠

تو مر گیا تو یہ لوگ باقی رہ جائیں گے۔ اس آیت کا مدعا یہ ہے کہ تمام لوگ ایک ہی سنت اللہ کے نیچے داخل ہیں اور کوئی موت سے بچا نہیں اور نہ آئندہ بچے گا اور لغت کے رو سے خلا کے مفہوم میں یہ بات داخل ہے کہ ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٦٧٠ خزائن ج ٣ ص ٤٢٧)

اقول: اس آیت کا بھی وفات مسیح سے کچھ تعلق نہیں یہ ایک عام قانون قدرت بتایا گیا ہے کہ کوئی بشر ہمیشہ رہنے والا ہم نے نہیں بنایا۔ یہ آیت تو مرزا قادیانی ان لوگوں کے سامنے پیش کر سکتے تھے جو مسیح کو ہمیشہ رہنے والا لازوال اور قدیم اور اللہ اور معبود مانتے ہیں۔ مسلمانوں کا تو یہ دعویٰ ہی نہیں کہ مسیح ہمیشہ زندہ رہنے والے ہیں اور ان کی ہستی لازوال اور غیر متبدل ہے یہ تو کسی مسلمان کا اعتقاد نہیں کہ حضرت عیسیٰؑ ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہے یا رہیں گے۔ جب مسلمان نہیں کہتے کہ مسیح ہمیشہ رہے گا اور ہرگز نہ مرے گا تو پھر یہ آیت پیش کرنا غیر محل و غلط ہے۔ مسلمان جب بموجب فرمودہ مخبر صادق محمد رسول اللہ ﷺ اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بعد نزول فوت ہوں گے تو پھر مرزا قادیانی کا افتراء ہے کہ مسلمان مسیح کی جاوید زندگی کا اعتقاد رکھتے ہیں جب مسلمان بار بار حدیثیں پیش کرتے ہیں کہ عیسیٰؑ بعد نزول مریں گے تو پھر یہ بہتان مرزا قادیانی مسلمانوں کے حق میں ناحق تراشتے ہیں۔ دیکھو ذیل میں حدیثیں جن میں صاف لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہمیشہ ایک ہی حال پر نہ رہیں گے۔

پہلی حدیث

عن عبداللہ بن عمرؓ قال قال رسول اللہ ﷺ ینزل عیسیٰ ابن مریم الی الارض فتزوج و یولدلہ ویمکث خمساً واربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا عیسیٰ ابن مریم فی قبر واحد بین ابوبکر و عمر ۔

(رواہ ابن جوزی فی کتاب الوفا مشکوٰۃ ص ٤٨٠ باب نزول عیسیٰؑ)

یعنی روایت ہے عبداللہ بن عمر سے راضی ہو اللہ تعالیٰ دونوں باپ بیٹا سے کہا۔ فرمایا رسول خدا ﷺ نے اتریں گے عیسیٰ بیٹے مریم کے طرف زمین کی پس نکاح کریں گے اور پیدا کی جائے گی ان کے لیے اولاد اور ٹھہریں گے ان میں پنتالیس برس۔ پھر مریں گے عیسیٰ بیٹے مریم کے پس دفن کیے جائیں گے۔ بیچ قبر میری کے درمیان ابوبکرؓ و عمرؓ کے۔

اس حدیث سے ثابت ہے کہ مسلمان حسب فرمودہ رسول مقبول ﷺ کے اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ آسمان سے اصالتاً زمین پر نزول فرمائیں گے اور پھر

صفحہ ١٩١

نکاح کریں گے اور ٤٥ برس زمین پر رہ کر پھر فوت ہوں گے اور رسول اللہ کے مقبرہ میں درمیان ابوبکر و عمر رضی ہو اللہ تعالیٰ دونوں کے دفن کیے جائیں گے۔ افسوس مرزا قادیانی نے یہ کہاں سے سمجھ لیا کہ مسلمان حضرت عیسیٰؑ کے حق میں اعتقاد خلود کا رکھتے ہیں جس کے واسطے مرزا قادیانی نے یہ آیت پیش کی۔

دوسری حدیث

عن عبدالله بن سلام قال يُدفن عيسىٰ ابن مريم مع رسول الله ﷺ وصاحبيه فيكون قبره رابعا

(اخرج البخاری فی تاریخہ والطبرانی ۔ مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٠٩ الاشاعۃ لاشراط الساعۃ للبرزنجی ص ٣٠٦)

یعنی بخاریؒ نے اپنی تاریخ میں اخراج کیا ہے اور طبرانی نے عبداللہ بن سلام سے روایت کی ہے کہ دفن کیے جائیں گے عیسیٰ ابن مریم مقبرہ رسول اللہ ﷺ میں اور ان کی قبر چوتھی قبر ہو گی ۔ اس حدیث کی رو سے بھی مسلمانوں کا یہ اعتقاد ہرگز نہیں کہ عیسیٰؑ ہمیشہ ایک حالت پر رہیں گے ۔ یہ مرزا قادیانی کی اپنی طبعزاد بات ہے جو اپنے مطلب کے واسطے بنائی ہے ۔ کل مرزائی جمع ہو کر مسلمانوں کی کسی کتاب سے بتائیں کہ مسلمان عیسیٰؑ کو ہمیشہ ایک حالت پر مانتے ہیں اور نہ تسلیم کریں کہ اس آیت سے بھی استدلال غلط ہے۔

قولہ نویں آیت

تلک امہ قد خلت لھا ما کسبت ولکم ما کسبتم ولا تسئلون عما کانوا یعملون. (البقرہ ١٤١) یعنی اس وقت سے پہلے جتنے پیغمبر ہوئے یہ ایک گروہ تھا جو فوت ہو گیا ۔ ان کے اعمال ان کے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے اور ان کے کاموں سے تم نہیں پوچھے جاؤ گے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص ٦٠٧ خزائن ج ٣ ص ٤٢٨)

اقول : اس آیت میں بھی عیسیٰؑ کی وفات کا کوئی ذکر نہیں اور نہ یہ آیت حضرت عیسیٰؑ کی وفات پر دلیل ہے کیونکہ تلک امۃ اشارہ ہے اور اشارہ ہمیشہ مشاراً الیہ کے ذکر کے بعد آیا کرتا ہے اب قرآن مجید میں اوپر کی آیت دیکھو کہ ان میں اگر حضرت عیسیٰؑ کا ذکر ہے تو مرزا قادیانی کا اس آیت سے وفات مسیح پر استدلال درست ہو گا ۔ ورنہ بالکل غلط ۔ اب تلک امۃ کے پہلے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ ’’ ام تقولون ان ابراھیم و اسمعیل و اسحق و یعقوب والاسباط کانوا ھوداً او نصاریٰ تلک امۃ . یہ پیغمبر ہیں جن کا ذکر ہے اور تلک کا اشارہ انھیں پیغمبروں کی طرف ہے۔ مرزا قادیانی کے مرید حضرت عیسیٰؑ

صفحہ ١٩٢

کا نام تلک امت میں دکھائیں۔ ورنہ مرزا قادیانی کی دھوکہ دہی ظاہر ہے کہ ذکر دوسرے پیغمبروں کا ہے اور وہ حضرت عیسیٰ کو خواہ مخواہ شامل کر کے قرآن میں ایک پیغمبر کا نام زیادہ کر کے تحریف لفظی قرآنی کے مرتکب ہوتے ہیں کہاں عیسیٰ کا نام ہے؟ وہاں تو صرف ابراہیم و اسمعیل و اسحق و یعقوب والاسباط ہے۔ وعیسیٰ مرزا قادیانی نے خود بنالیا ہے جو کہ تحریف ہے اور تحریف مرزا قادیانی کے اپنے اقرار سے یہودیت والحاد ہے۔ باقی رہی قد خلت کی بحث ہے کہ مرزا قادیانی خلت کے معنی غلط کرتے ہیں۔ مرنے اور گزرنے میں فرق ہے۔ افسوس مرزا قادیانی خلت کے معنی مرنے کے خلاف لغت عرب ومحاورات عرب کرتے ہیں اور کوئی سند نہیں دے سکتے۔ اس وقت سے پہلے بھی اپنے پاس سے کلام الٰہی میں اضافہ لگا لیا ہے جو کہ تحریف ہے۔ مگر اس قدر زور لگایا تحریف کے مرتکب بھی ہوئے مگر پھر بھی یہ آیت وفات مسیح پر ہرگز دلالت نہیں کرتی۔

قولہ دسویں آیت

” و اوصانی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ مادمت حیا ۔ (مریم ٣١) اس آیت کا ترجمہ مرزا قادیانی نے نہیں کیا۔ شائد کوئی مصلحت ہو ہم ذیل میں پہلے ترجمہ لکھتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ مرزا قادیانی نے وفات مسیح کی اس آیت سے جو کہتے ہیں بالکل غلط ہے ترجمہ یہ ہے اور مجھ کو حکم دیا گیا کہ جب تک زندہ رہوں نماز پڑھوں اور زکوٰۃ دوں۔ آگے مرزا قادیانی ان الفاظ سے خدا اور خدا کے رسول سے تمسخر اڑاتے ہیں ۔ ”اس سے ظاہر ہے کہ انجیلی طریق پر نماز پڑھنے کے لیے حضرت عیسیٰ کو وصیت کی گئی تھی اور وہ آسمان پر عیسائیوں کی طرح نماز پڑھتے ہیں اور حضرت یحییٰ ان کی نماز کی حالت میں ان کے پاس یوں ہی پڑے رہتے ہیں۔ مردے جو ہوئے۔ جب دنیا میں حضرت عیسیٰ آئیں گے تو بر خلاف اس وصیت کے امتی بن کر مسلمانوں کی طرح نماز پڑھیں گے ۔“

(ازالۃ اوہام ص ٦٠٧ خزائن ج ٣ ص ٤٢٨)

اقول: یہ تحریر مرزا قادیانی کی ایسی دل آزار اور بے سند ہے کہ کوئی بے دین بھی ایسی گستاخی اور تکذیب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی نہیں کر سکتا۔ یہ رسول اللہ ﷺ پر تمسخر اڑایا ہے کہ حدیث شریف میں جو آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ بعد نزول شریعت محمدی پر عمل کریں گے اور کرائیں گے اور یہ بھی رسول اللہ ﷺ نے ہی فرمایا ہے کہ میں نے شب معراج میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام کو

صفحہ ١٩٣

دوسرے آسمان پر دیکھا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ فلما خَلَصْتُ اذا يحيىٰ و عيسىٰ وهما ابنا خالتہ قال ھذا يحيىٰ وهذا عيسىٰ فسلم عَلَيْهِمَا فَسَلَّمْتُ. (مشکوٰۃ ص ٥٢٧ باب المعراج) یعنی جب میں دوسرے آسمان پر پہنچا ناگہاں عیسیٰ علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام کھڑے تھے۔ کہا جبرائیل علیہ السلام نے کہ یہ یحییٰ علیہ السلام ہیں اور یہ عیسیٰ پس سلام کر ان کو پس سلام کیا میں نے ان کو۔

اب مرزا قادیانی کو کس طرح معلوم ہوا کہ عیسیٰ عیسائیوں کیطرح نماز پڑھتے ہیں اور حضرت یحییٰ پاس یوں ہی فارغ بیٹھے ہیں۔ یہ مرزا قادیانی کا دروغ بے فروغ اپنی ایجاد ہے اور ذیل کی دلائل سے باطل ہے۔

قادیانی کا آسمان پر جانا ثابت ہوتا ہے اور مرزا قادیانی چونکہ آسمان پر جا نہیں سکتے اور نہ ان آنکھوں کے ساتھ آسمان کے حالات دیکھ سکتے ہیں۔ اس لیے یہ من گھڑت افتراء ثابت ہوا جو مرزا قادیانی نے حضرت یحییٰ پر باندھا ہے کہ وہ یوں ہی بے نمازی کی حالت میں پڑے ہیں۔

جاہلانہ اعتراضات اور خود غرضی کے استدلات چونکہ کچھ وقعت نہیں رکھتے اس لیے مرزا قادیانی کا یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ وہ عیسائیوں کی نماز پڑھتے ہیں یہ جہالت کی وجہ سے اعتراض ہے اور عیسائیوں کا نام لے کر حضرت عیسیٰ کے نزول سے نفرت دلا کر اپنا الو سیدھا کرنا مقصود ہے ورنہ وہ خود جانتے تھے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے پہلے اور کتاب آسمانی قرآن سے پہلے انجیل واجب التعمیل تھی اگر انجیل کے حکم کے مطابق وہ نماز پڑھیں تو کیا حرج ہے۔

اپنے پاس سے لگایا اور تحریف کے مرتکب ہوئے جو کہ بقول ان کے الحاد و کفر ہے۔

امت کے نبی کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور حقیقت میں وہ تمام افراد امت کے واسطے ہوتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ کا یہ فرمانا کہ مجھ کو وصیت کی گئی ہے کہ میں جب تک زندہ رہوں نماز ادا کرتا رہوں اور زکوٰۃ دیتا رہوں مرزا قادیانی کا اس آیت سے وفات مسیح پر استدلال کرنا غلط ہے کیونکہ انبیاء علیہم السلام کو زکوٰۃ جس طرح لینا حرام ہے۔ اسی طرح مال جمع

صفحہ ١٩٤

کرنا اور زکوٰۃ کے لائق ہونا حرام ہے کوئی مرزائی بتا سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ اس زندگی میں جو واقعہ صلیب سے پہلے تھی جس میں کسی کو اختلاف نہیں صاحب زکوٰۃ تھے اور انھوں نے زکوٰۃ دی؟ تو پھر ان کا آسمان پر جانا اور مال جمع کرنا اور زکوٰۃ نہ دینا مرزا قادیانی کو کیوں کر معلوم ہوا۔ مرزا قادیانی کے پاس کوئی سند ہے۔ جس کی چشم دید شہادت ہو کہ حضرت عیسیٰ نے آسمان پر مال تو جمع کیا صاحب نصاب ہوئے اور زکوٰۃ نہیں دیتے۔ جب کوئی مرزائی مرزا قادیانی کی حمایت میں ہمیں بتا دے گا کہ مسیح نے آسمان پر مال جمع کیا ہوا ہے اور زکوٰۃ نہیں دیتے تو ہم ان کو مسیح کا زکوٰۃ دینا بتا دیں گے بلکہ وہ مساکین بھی بتا دیں گے جن کو زکوٰۃ دی جاتی ہے۔ ایسا ہی نماز کا حال ہے کہ حضرت عیسیٰؑ تا نزول نماز پڑھتے ہیں۔ جس نے ان کو تارک الصلوٰۃ دیکھا ہے۔ اس شخص کو پیش کرو۔ جس طرح ہم محمد رسول اللہ ﷺ کو پیش کرتے ہیں کہ انھوں نے حضرت یحییٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کو دوسرے آسمان پر دیکھا اور حضرت جبرائیل علیہ السلام مقرب فرشتے کی شہادت ہے۔ جنھوں نے آنحضرت ﷺ کو بتایا کہ یہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور یہ یحییٰ علیہ السلام ہیں۔ ان کو سلام کرو اور حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے سلام کیا۔ جیسا کہ اوپر حدیث کا ٹکڑا نقل کیا گیا ہے۔ اگر مرزا قادیانی اور مرزائی اپنے دعویٰ میں سچے ہیں۔ کہ مسیح اب نہ نماز پڑھتا ہے اور نہ زکوٰۃ دیتا ہے۔ کوئی سند و شہادت پیش کریں۔ بلا دلیل بات ایک جاہل سے جاہل بھی بتا سکتا ہے۔ یہ کوئی دلیل نہیں کہ چونکہ مسیح اب زکوٰۃ نہیں دیتے اور نماز نہیں پڑھتے جس کا ثبوت فی بطن القائل ہے۔ اس دلیل سے وفات ثابت ہو سکے۔ یہ ایسی جاہلانہ دلیل ہے کہ کوئی مرزا قادیانی کو ان کی زندگی میں کہتا کہ آپ خدا کی طرف سے حج کے واسطے مامور ہیں۔ چونکہ آپ نے اب تک حج نہیں کیا۔ آپ فوت شدہ ہیں۔ اگر مرزا قادیانی اس جاہلانہ اور احمقانہ دلیل سے فوت شدہ ثابت ہو جاتے تو مرزا قادیانی کی اس دلیل سے مسیح بھی فوت شدہ ہو سکتا ہے اور اگر مرزا قادیانی ایسی دلیل سن کر اس کو اپنے دربار سے پاگل کر کے نکال دیتے تو کیا وجہ ہے کہ مرزا قادیانی کی بھی اس دلیل کو ویسا ہی ردی سمجھا نہ جائے۔ جیسا کہ جو مرزا قادیانی کو ان کے حج نہ کرنے سے مردہ تصور کرتا تھا۔ ایسا ہی مرزا قادیانی کی اس دلیل کو ردی سمجھا جائے۔

(پنجم)...... یہ الٹی منطق صرف مرزا قادیانی کا ہی خاصہ ہے کہ اگر کوئی نماز نہ پڑھے تو مردہ ہو جاتا ہے۔ جب سے دنیا بنی ہے اور انبیاء علیہم السلام تشریف لاتے رہے ان کی امتیں اور وہ خود نماز کے واسطے مامور تھے۔ مگر کوئی باحواس آدمی تسلیم کر سکتا ہے کہ نماز نہ

صفحہ ١٩٥

پڑھنا کسی امت کے فرد کے لیے موت کی دلیل ہو سکتی ہے؟ دور نہ جاؤ۔ اپنی امت میں دیکھ لو ہزاروں لاکھوں اسی ملک پنجاب میں ہوں گے کہ جو نماز نہیں پڑھتے۔ کیا وہ بھی مرزا قادیانی کی اس دلیل سے مردہ ہیں اور ان کا نماز نہ پڑھنا ان کی موت کی دلیل ہے۔ مرزا قادیانی خود جب نابالغ تھے اور نماز کے لیے مکلف نہ تھے اور نہ نماز پڑھتے تھے۔ کیا وہ مردہ تھے؟ ہرگز نہیں تو پھر اظہر من الشمس ثابت ہوا کہ یہ بالکل غلط استدلال ہے کہ مسیح کا نماز نہ پڑھنا اور زکوٰۃ نہ دینا جو کہ خود بلا دلیل ہے اور کوئی ثبوت شرعی ساتھ نہیں رکھتا۔ صرف مرزا قادیانی کا اپنا ڈھکوسلا ہے۔

(ششم)..... مادمت حیاً سے تمام حیاتی کا زمانہ یکساں سمجھنا اور نماز و زکوٰۃ کے واسطے دلیل حیات گرداننا بالکل غلط ہے۔ یہ فرمانا حضرت عیسٰیؑ کا اس وقت کا ہے۔ جس وقت ماں کی گود میں انھوں نے کلام کیا تھا اور اسی وقت فرمایا تھا کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور عبداللہ ہوں۔ دیکھو قرآن شریف کی آیت۔

قال انی عبداللہ آتانی الکتاب وجعلنی نبیاً و جعلنی مبارکاً این ماکنت آگے اوصانی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ یعنی حضرت عیسٰیؑ ماں کی گود میں بطور معجزہ بول اٹھا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھ کو کتاب (انجیل) عنایت فرمائی ہے اور مجھ کو حکم دیا ہے کہ جب تک زندہ رہوں۔ نماز پڑھوں اور زکوٰۃ دوں اور اپنی ماں کا خدمت گار بنایا اور مجھ کو سخت گیر اور بدبخت نہیں کیا۔

(پ ١٦ ع ٤)

اب ظاہر ہے حضرت عیسٰیؑ شیر خوارگی کی حالت میں نماز نہ پڑھتے تھے اور نہ زکوٰۃ دیتے تھے۔ مگر زندہ تھے۔ پھر سن شعور کی حالت میں زندہ تھے۔ مگر زکوٰۃ و نماز نہ پڑھتے تھے۔ سن شعور سے بالغ ہونے کے زمانے تک زندہ تھے۔ مگر نماز گزار و زکوٰۃ دہندہ نہ تھے۔ اگر کوئی جاہل یہودی صفت کہہ دے کہ عیسٰیؑ تو ماں کی گود میں مردہ تھے کیونکہ نماز نہ پڑھتے تھے اور نہ زکوٰۃ دیتے تھے تو مرزائی صاحبان تسلیم کر لیں گے کہ مسیح شیر نوشی کی حالت اور نابالغی کی حالت میں مردہ تھے۔ ہرگز نہیں تو پھر خدا کے واسطے خدا کو حاضر و ناظر سمجھ کر ایمان سے بتا دیں کہ یہ آیت مسیح کی وفات پر کس طرح دلیل ہو سکتی ہے؟ کہ اگر بفرض محال ہم مرزا قادیانی کا بلا دلیل دعویٰ مان بھی لیں کہ مسیح اس دنیا سے آسمان پر جا کر نماز گزار نہیں اور زکوٰۃ دہندہ نہیں تو نعوذ باللہ اس کی نافرمانبرداری اس کی وفات کی دلیل کس طرح ہو سکتی ہے؟

مرزا قادیانی نے خود بہت احکام شریعت کی نافرمانبرداری کی۔ مثلاً حج کو نہیں

صفحہ ١٩٦

گے ۔ جہاد سے محروم رہے۔ رمضان کے اکثر روزے قضا یا فوت کرتے۔ نمازیں جمع کر کے پڑھتے رہے تو کیا ان کی اس حالت کو ان کی وفات کی دلیل کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر اس آیت سے بھی استدلال وفات مسیح غلط ہے اور باقی جو مرزا قادیانی نے رسول اللہ ﷺ کی حدیثوں پر مخول و تمسخر اڑایا ہے۔ اس سے ان کی متابعت تامہ اور جو عظمت رسول اللہ ﷺ کی ان کے دل میں ہے۔ اس کا پورا پتہ لگتا ہے کہ رسول اللہ کی محبت اور عشق کا دعویٰ صرف زبانی تھا ۔

ہے نام محمد ﷺ کا فقط تیری زبان پر
پر دل میں تو رتی بھر بھی نہیں جائے محمد ﷺ

کیا کسی مسلمان کا حوصلہ پڑتا ہے کہ ایسے کھلے لفظوں میں محمد رسول اللہ ﷺ کی حدیثوں پر ہنسی اڑاوے اور رسول اللہ ﷺ کی ہتک کرے اور صریح رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرے۔ رسول اللہ ﷺ تو فرمائیں کہ عیسیٰ میری متابعت کرے گا مگر مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”جب دنیا میں حضرت عیسیٰ آئیں گے تو برخلاف اس وصیت کے امتی بن کر مسلمانوں کی طرح نماز پڑھیں گے ۔“ گویا رسول اللہ ﷺ کا فرمانا غلط ہے کہ عیسیٰ ابن مریم جس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں۔ وہی دوبارہ آئیں گے اور میری شریعت کے تابع حکم کریں گے۔ یہ مرزا قادیانی کی غرض مبارک کے موافق نہیں۔ اس واسطے کہ ان کے مسیح موعود ہونے کو حارج ہے اس واسطے عیسائیوں اور آریوں کی مانند فلسفی اعتراض کرتے ہیں کہ وہ شریعت محمدی کے تابع ہو کر اس وصیت کے برخلاف کریں گے جس سے مرزا قادیانی کا یہ مطلب ہے کہ یہ جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ عیسیٰ ایک امت کا امام ہو گا۔ غلط ہے اور خدا کی وصیت کے برخلاف ہے اگرچہ یہ اعتراض اس قابل نہیں کہ جواب دیا جائے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے فرمانے کے مقابل مرزائی ڈھکوسلوں کی کچھ وقعت نہیں اور یہ وہی باتیں ہیں جو پہلے کذابون کرتے آئے ہیں اور مسیح موعود ہونے کے مدعی ہو گزرے ہیں اور کامیاب بھی ایسے ہوئے کہ سلطنتیں قائم کر لیں۔ مگر اس خیال سے کہ کوئی مسلمان مرزا قادیانی کی دروغ بیانی پر دھوکہ نہ کھا جائے جواب دیتا ہوں۔

مرزا قادیانی کچھ ایسے خود غرض تھے کہ اپنے مطلب کے واسطے صریح قرآن شریف کے برخلاف اعتراض کر دیتے تھے۔ چاہے وہ اعتراض ان کی شرمساری کا باعث ہو۔ مگر وہ اعتراض کے وقت من گھڑت ڈھکوسلے لگانے میں دریغ نہ کرتے۔

صفحہ ١٩٧

(اوّل)......مرزا قادیانی کے ایمان کا اندازہ ہو گیا کہ ان کو اسلام، بانیٔ اسلام سے کس قدر بغض ہے کہ مسیح کا طریقہ اسلام پر نماز پڑھنا حقیقی نماز نہیں۔ مرزا قادیانی کے مذہب میں اسلامی نماز اور اسلامی طریقہ باعث نجات نہیں۔ کیونکہ مسیح پر اعتراض کرتے ہیں یہ کہ اگر وہ اسلامی طریقہ پر نماز پڑھیں گے۔ تو خدا کی وصیت کے برخلاف ہو گا۔ مگر افسوس ۔ مرزا قادیانی نے یہ نہ بتایا کہ کس قسم کی نماز اور کس طریقہ کی نماز کا حکم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہوا تھا۔ یوں ہی اعتراض کر دیا کیونکہ صرف اوصانی بالصلوٰۃ قرآن میں آیا ہے۔ آگے بقول ایجاد بندہ مرزا قادیانی نے خود اپنے پاس سے وہ نماز تصور کر لی جو اسلامی طریقہ کے برخلاف ہوتی ہے۔ کوئی مرزائی بتائے کہ وہ کون سی نماز ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پڑھنی چاہیے تھی کیونکہ محمد ﷺ کی نماز اور تابعداری تو مرزا قادیانی کو پسند نہیں اور نہ وہ ذریعہ نجات ہو سکتی ہے۔ جب کوئی مرزائی کسی سند شرعی سے بتائے گا کہ فلاں قسم کی نماز حضرت عیسیٰ کو پڑھنی چاہیے۔ پھر ہم ثابت کر دیں گے کہ وہ وہی نماز پڑھتے ہیں۔ اب ہم مرزا قادیانی کو قرآن سے ناواقف تو ہرگز نہیں کہہ سکتے کیونکہ وفات مسیح کے مسئلہ کا اس قدر ان پر احسان ہے کہ انھوں نے ہر ایک آیت کو مدنظر رکھا ہوا ہے مگر تعجب سے کہنا پڑتا ہے کہ انھوں نے عمداً مسلمانوں کو دھوکہ دینا چاہا ہے کہ مسیح بعد نزول اگر شریعت محمدی پر عمل کرے گا یا محمد ﷺ کی تابعداری کرے گا تو اس کی اپنی نبوت جاتی رہے گی۔ جس کا جواب قرآن کی آیات ذیل خود دے رہی ہیں۔ جن کو مرزا قادیانی نے چھپایا جو کہ ایک راستباز کی شان کے برخلاف ہے۔ قرآن تو فرماتا ہے کہ سب نبی و رسول حضرت خلاصہ موجودات محمد ﷺ خاتم النبیین پر ایمان لانے کے واسطے عہد لیے گئے ہیں اور یہ شان محمدی دنیا پر ظاہر کرنے کی غرض سے ہے۔

واذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب و حكمة ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ و لتنصرن۔“ (آل عمران ٨١) ترجمہ۔ جب خدا نے نبیوں کا اقرار لیا کہ جو کچھ میں نے تم کو کتاب اور حکمت دی ہے پھر جب تمہاری طرف رسول آئے جو تمہاری سچائی ظاہر کرے گا تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا۔

اس آیت قرآن نے مرزا قادیانی کے تمام اعتراضوں کا جواب دے دیا ہے اور خدا تعالیٰ نے خود تردید فرما دی ہے۔

اعتراض یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کا کیا قصور کہ اس کو امتی بنایا جائے؟ اس کا

صفحہ ١٩٨

جواب خدائے تعالیٰ نے خود دے دیا ہے کہ ہم نے تمام نبیوں سے عہد لے لیا تھا کہ جب خاتم النبیین آئے اور تمہاری تصدیق فرمائے تو تم سب اس پر ایمان لانا اور اسکی امداد کرنا۔ جب حکم خداوندی کی تعمیل میں حضرت عیسیٰؑ متابعت شریعت محمدی کر کے اسلامی طریقہ پر نماز پڑھیں گے تو پھر خدا کی وصیت کے برخلاف کس طرح ہوا۔ اسلامی طریقہ پر حضرت عیسیٰؑ کا بعد نزول نماز پڑھنا عین حکم خداوندی کے موافق ہے۔ پس اگر ایک نبی دوسرے نبی کی متابعت کرے تو اس کی اپنی نبوت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ حضرت خاتم النبیین کی تابعداری کی اور حضور ﷺ نے ملت ابراہیمؑ کی جو تابعداری فرمائی تو کیا ان کی اپنی نبوت جاتی رہی ہرگز نہیں تو پھر حضرت عیسیٰؑ کی نبوت خاتم النبیین کی تابعداری سے کیوں جاتی رہے گی۔

حضرت خاتم النبیین ﷺ نے جو فرمایا کہ اگر موسیٰؑ زندہ ہوتے تو میری پیروی کے سوا ان کو چارہ نہ ہوتا۔ اس حدیث سے ثابت ہے کہ ایک نبی کی دوسرے نبی کی تابعداری سے نبوت نہیں جاتی رہتی۔ یہ مرزا قادیانی کا اپنا ڈھکوسلا ہے جو کہ ایک مسلمان دیندار کی شان سے بعید ہے۔

باقی رہا زکوٰۃ کا دینا۔ اس کا جواب اوّل تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو یہ کس طرح معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰؑ زکوٰۃ نہیں دیتے اور صاحب نصاب ہیں؟ افسوس مرزا قادیانی کو حق بات چھپاتے ہوئے خوف خدا نہیں آتا۔ حضرت عیسیٰؑ اس دنیا میں تو صاحب نصاب نہ ہوئے اور نہ کبھی زکوٰۃ مال جمع شدہ ادا کی۔ ہمیشہ بے خان و مان مسافرت میں رہے اور رسالت کا کام انجام فرماتے رہے۔ جب اس دنیا میں ان کے واسطے زکوٰۃ فرض نہ تھی کیونکہ مالدار نہ تھے تو اس دنیا میں جس جگہ دنیاوی مال نہیں۔ کس طرح زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔ اب یہ سوال ہو سکتا ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ نے کیوں فرمایا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایک نبی کو جو حکم اس کی امت کے واسطے ہوتا ہے۔ وہ نبی اپنی طرف منسوب کرتا ہے۔ جب یہود نے آ کر پوچھا تو حضرت عیسیٰؑ نے ماں کی گود میں فرمایا کہ انا عبداللہ یعنی میں اللہ کا بندہ ہوں خدا نے مجھ کو کتاب دی ہے اور نبی مقرر فرمایا ہے اور مجھ کو احکام دیئے ہیں۔ ان حکموں میں سے یہ حکم بھی ہے کہ نماز پڑھوں اور زکوٰۃ دوں۔ آخر آیات تک جیسا کہ آیات پہلے لکھی گئی ہیں۔ غرض کہ جو احکام امت کے واسطے ہوتے ہیں۔ وہ نبی کی طرف منسوب ہوتے ہیں؟ حضرت رسول مقبول ﷺ کو حکم زکوٰۃ کا ہوا۔ کیا کبھی حضور ﷺ نے بھی مال جمع کیا اور زکوٰۃ دی۔ جب

صفحہ ١٩٩

تم محمد رسول اللہﷺ کا زکوٰۃ دینا ثابت کر دیں گے ورنہ جو احکام شریعت امت کے واسطے خاص ہوتے ہیں اور بعض صورتوں میں نبی ان سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ ان کے واسطے ضروری نہیں کہ خود بھی ضرور کریں۔ زکوٰۃ کی فلاسفی کیا ہے کہ مساکین نادار دین داروں کو امداد دی جائے۔ جب آسمان پر مساکین نہیں تو زکوٰۃ کا مسئلہ وہاں کس طرح جاری رہ سکتا ہے؟

مگر تعجب تو یہ ہے کہ وفات مسیح سے اس آیت کا کیا تعلق مرزا قادیانی نے وفات مسیح ثابت کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور بلا دلیل باتیں جہلا کو بہکانے کے واسطے بلا سند طبع زاد شروع کر دیں۔ یہ کہاں لکھا ہے کہ مسیح فوت ہو گئے ہیں بلکہ اس آیت سے پہلے فرمایا گیا ہے۔ جعلنی مبارکاً این ماکنت یعنی مجھ کو برکت والا کیا ہے چاہے کہیں بھی رہوں۔ اس این ماکنت سے سکونت آسمانی ثابت ہے۔ کیونکہ جب کبھی کوئی کسی بلا اور مصیبت سے مخلصی پاتا ہے اور سلامتی کی جگہ پہنچ جاتا ہے تو اس کو مبارک مقام کہتے ہیں۔ یہ مبارک ہرگز نہیں کہ کوڑے مارے جائیں لمبے لمبے کیل صلیب کے ٹھوکے جائیں اور خون جاری ہو اور عذاب الٰہی زیادہ اس پر یہ ہو کہ بقول مرزا قادیانی جاں نہ نکلے۔ پس مبارک اسی میں تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ انی رافعک حضرت عیسیٰ کو صلیب کے عذابوں سے بچا کر آسمان پر پہنچا کر بے خطر فرما کر مبارک فرمایا۔ این ماکنت میں آسمان پر جانے کا اشارہ ہے ورنہ وجعلنی مبارکاً و اوصانی الآیۃ کافی تھا۔ جہاں کہیں رہوں سے پایا جاتا ہے کہ مسیح کے رہنے کی دو جگہ ہیں زمین بھی اور آسمان بھی ورنہ این ماکنت فرمانے کی کچھ حاجت نہ تھی۔

پس اس آیت سے بھی حیات مسیح ثابت ہے نہ کہ وفات۔ یہ کہاں اس آیت میں لکھا ہے کہ عیسیٰ فوت ہو گئے یا اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو مار ڈالا جیسا کہ بل رفعہ اللہ الیہ سے مراد اٹھایا جانا اور جسم کا بچانا ثابت ہے۔ نصوص شرعی کے مقابل من گھڑت باتیں کچھ وقعت نہیں رکھتیں پس اس آیت سے بھی استدلال وفات مسیح پر غلط ہے۔

قولہ گیارہویں آیت

سلام علیٰ یوم ولدت و یوم اموت و یوم ابعث حیاً۔ (مریم ٣٣) اس آیت میں واقعات عظیمہ جو حضرت مسیح کے وجود کے متعلق تھے صرف تین بیان کیے ہیں حالانکہ اگر رفع و نزول واقعات صحیحہ میں سے ہیں تو ان کا بیان بھی ضروری تھا۔ کیا نعوذ باللہ رفع اور نزول حضرت مسیح کا مورد اور محل سلام الٰہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ سو اس جگہ پر

صفحہ ٢٠٠

خدا تعالیٰ کا اس رفع اور نزول کو ترک کرنا جو مسیح کی نسبت مسلمانوں کے دلوں میں بسا ہوا ہے صاف اس بات پر دلیل ہے کہ وہ خیال ہیچ اور خلاف واقعہ ہے بلکہ وہ رفع یوم الموت میں داخل ہے اور نزول سراسر باطل ہے۔ (ازالہ اوہام ص ٦٠٨ خزائن ج ٣ ص ٤٢٨)

اقول: اس آیت کو پیش کر کے مرزا قادیانی نے اپنے تمام مذہب کی تردید کر دی۔ (اوّل)...... صلیب دیا جانا جو مرزا قادیانی کا مذہب ہے کہ مسیح صلیب دیے گئے اور صلیب کے عذاب اس کو اس قدر دیے گئے کہ بے ہوش ہو گئے اور ایسی غشی کی حالت میں ہو گئے کہ مردہ متصور ہو کر اتارے گئے اور دفن کیے گئے وغیرہ وغیرہ۔

(دیکھو ازالہ اوہام ص ٣٩٢ خزائن ج ٣ ص ٣٠٣)

اس آیت سے تمام مذہب اور قیاس مرزا قادیانی کا غلط ہوا کیونکہ اس آیت میں خدا تعالیٰ مسیح کی سلامتی کی تصدیق فرماتا ہے کہ مسیح کو یوم ولادت سے یوم موت تک سلامتی ہے تو ثابت ہوا کہ مسیح ہرگز صلیب نہیں دیئے گئے اور سلامت رہے۔ کوئی مرزائی کسی لغت کی کتاب یا قرآن وحدیث سے دکھا سکتا ہے کہ سلامتی کے معنی پہلے کوڑے مارے جانے جن کے صدمات اور ضربوں سے گوشت پارہ پارہ ہو جائے اور پھر ہاتھوں کی ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلوؤں میں لمبے لمبے کیل ٹھوکے جائیں اور ان سے خون جاری ہو اور اس کثرت سے عذاب دیئے جائیں کہ تمام دیکھنے والے چشم دید شہادت دیں کہ جان ان صدموں اور درد کرنے سے نکل گئی تھی جب تک کوئی کتاب پیش نہ کریں جس میں لکھا ہو کہ سلامتی کے معنی صلیب عذاب کے ہیں۔ تب تک کوئی باحواس انسان تو قبول نہیں کرتا کہ مسیح سلامت بھی رہے اور صلیب کے عذاب بھی ان کو دیے گئے۔ پس صلیب کی تردید اور رفع جسمانی کی تصدیق اس آیت میں ہے کہ مسیح بال بال بچائے گئے اور رفع جسمانی کر کے خدا نے ان کو حسب وعدہ اس آیت کے سلامت رکھا۔

(دوم)...... مرزا قادیانی نے جو رفع روحانی کا ڈھکوسلا ایجاد کیا تھا غلط ثابت ہوا کیونکہ اس آیت میں صاف صاف مذکور ہے کہ مسیح کو اپنی سلامتی کا علم تھا کہ مجھ کو یوم ولادت سے یوم وفات تک سلامتی ہے اس لیے ثابت ہوا کہ ان کی دعا رفع روحانی کے واسطے نہ تھی بلکہ صلیب کے عذابوں سے جن کو انھوں نے اپنی آنکھ سے دیکھ لیا تھا ان سے بچنے کی دعا کی تھی اور وہی دعا قبول ہو کر انی رافعک کا وعدہ دیا گیا تھا کہ ہم تجھ کو صلیب سے بچالیں گے۔ یہ تو ہرگز معقول نہیں کہ مسیح کو اپنے رفع روحانی میں شک تھا۔ جب رفع روحانی حاصل تھا تو پھر دعا سلامتی جسم کے واسطے تھی جو قبول ہوئی اور رفع روحانی

صفحہ ٢٠١

نہیں بلکہ جسمانی ہوا کیونکہ عذاب جسم کو دیے جاتے تھے نہ کہ روح کو۔

(سوم)...... مرزا قادیانی کا یہ مذہب بھی اس آیت سے باطل ہے کہ مسیح صلیب سے بچ کر کشمیر میں پہنچے اور وہاں ٨٧ برس زندہ رہ کر فوت ہوئے کیونکہ دشمنوں کے خوف سے چھپ کر زندگی بسر کرنے کا نام سلامتی کی زندگی کوئی باہوش نہیں کہہ سکتا کہ سلامتی اسی حالت میں ہو سکتی ہے کہ بے خوف و خطر اپنی زندگی پوری کرے۔ جب مسیح اپنے دشمنوں کے ڈر سے اپنی رسالت کا کام نہ کر سکا تو خاک سلامتی ہوئی کیونکہ کشمیر میں کوئی عیسائی نہ ہوا۔ ایسا جینا مرنے سے بدتر ہے۔

(چہارم)...... مرزا قادیانی کا یہ مذہب کہ مسیح ایک سو برس کی عمر میں اپنی موت سے فوت ہو گیا تھا۔ اس آیت سے غلط ثابت ہوا کیونکہ یوم اموت صاف آیت کے الفاظ ہیں اور اموت کے معنی مات کے ہرگز کوئی عربی دان نہیں کر سکتا۔ جب قرآن کی اس آیت کے نزول کے وقت تک مسیح ؑ کو اموت کہا گیا یعنی مروں گا تو ثابت ہوا کہ ابھی تک فوت نہیں ہوا۔ یعنی اس آیت کے نازل ہونے کے وقت تک جو چھ سو برس سے زیادہ عرصہ ہے۔ حیات ثابت ہوئی۔ کوئی عقلمند کہہ سکتا ہے کہ جو شخص فوت ہو چکا ہو وہ اپنے آپ کو اموت کہتا ہے ہرگز نہیں؟ بلکہ زندہ کے حق میں اموت آتا ہے۔ یعنی جس دن میں مروں گا۔ پس اس آیت سے بھی حیات مسیح ثابت ہے۔

(پنجم)...... مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ میں مسیح موعود ہوں غلط ہوا کیونکہ اس آیت کی تشریح میں مرزا قادیانی نے خود اقرار کر لیا ہے کہ رفع اور نزول کا ذکر اس آیت میں نہیں۔ چونکہ اس آیت میں رفع و نزول کا ذکر نہیں۔ اس لیے یہ خیال مسلمانوں کا سچ ہے اور نزول سراسر باطل ہے۔ جب بقول مرزا قادیانی نزول باطل ہے تو مرزا قادیانی کا اپنا دعویٰ بھی باطل ہوا۔

(ششم)...... نزول مسیح سے مرزا کا انکار حضرت خلاصہ موجودات محمد مصطفےٰ ﷺ کی تکذیب ہے۔ (معاذ اللہ) کیونکہ مسلم کی حدیث عن نواس بن سمعان میں چند بار یہ الفاظ آئے ہیں۔ "یحضر نبی اللہ عیسیٰ و اصحابہ فیرغب نبی اللہ عیسیٰ و اصحابہ ثم یھبط نبی اللہ عیسیٰ و اصحابہ (مسلم ج ٢ ص ٤٠٠ باب ذکر الدجال) پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اصالتاً نزول سے انکار رسول اللہ ﷺ کا انکار اور تکذیب ہے کیونکہ عیسیٰ نبی اللہ ہیں اور غلام احمد قادیانی جو ١٩ سو برس کے بعد پیدا ہوا ہو ہرگز نبی نہیں ہو سکتا۔ اسم علم کبھی نہیں بدلتا۔ غلام احمد قادیانی سے غلام احمد کی ذات مراد ہو گی نہ

صفحہ ٢٠٢

کسی غیر کی۔ پس غلام احمد کو عیسیٰ نبی اللہ سمجھنا رسول اللہ ﷺ کی تکذیب ہے۔ افسوس مرزا قادیانی وفات مسیح کے ثابت کرنے کے واسطے ایسے ایسے ردی دلائل پیش کرتے ہیں کہ کوئی اہل علم ایسا نہیں کر سکتا آپ لکھتے ہیں کہ ”اس آیت میں خدا تعالیٰ کا رفع اور نزول ترک کرنا اس بات پر دلیل ہے کہ وہ خیال ہیچ اور خلاف واقعہ ہے“ سبحان اللہ مسیح موعود ہونے کا مدعی سلطان القلم کے معزز لقب سے ملقب اور یہ جاہلانہ استدلال کہ چونکہ اس آیت میں رفع و نزول ترک کیا گیا ہے۔ اس واسطے رفع و نزول باطل خیال ہے۔ یہ ایسا ہی استدلال ہے جیسا کہ ایک جاہل اجہل قرآن شریف کی آیت یا ایہا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام پیش کر کے مرزا قادیان کی طرح کہہ دے کہ چونکہ اس آیت میں نماز و زکوٰۃ حج کا ذکر نہیں آیا اور قادیانی منطق کی رو سے جب ایک آیت میں کوئی امر ترک کیا جائے تو ہیچ اور خلاف واقعہ ہے اس واسطے نماز و زکوٰۃ و حج ہیچ و سراسر باطل خیال ہے۔ مسلمانو! غور کرو کہ وفات مسیح کے عشق نے مرزا قادیانی کو کہاں تک پہنچا دیا کہ اگر قرآن کی ایک آیت میں سارے قرآن کا مضمون نہ ہو تو سارا قرآن و دیگر احکام قرآن ہیچ و سراسر باطل ہو جاتے ہیں یہ ہیں قادیانی حقائق و معارف۔ کوئی مرزا قادیانی سے پوچھے کہ یہ طریقہ استدلال آپ نے کہاں سے سیکھا ہے اور کس علم سے یہ من گھڑت ایجاد بندہ اخذ کر لیا ہے۔ کیا یہ بھی الہامی دلیل ہے کہ اگر ایک حکم یا امر ایک آیت میں مذکور نہ ہو تو دوسری آیات نعوذ باللہ بقول مرزا قادیانی سراسر باطل ہیں؟ اس طرح تو اس آیت کے سوا تمام قرآن شریف نعوذ باللہ ردی ہوا کیونکہ جس طرح مرزا قادیانی نے لکھ مارا کہ رفع اور نزول چونکہ اس آیت میں مذکور نہیں۔ اس واسطے رفع و نزول باطل ہے اور قرآن مجید کی آیات بل رفعہ اللہ الیہ وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ کی طرف اشارہ نہ دیکھا بلکہ یہاں تک خود غرضی نے محو حیرت کر دیا کہ یہ آیات خود ہی پہلے اسی کتاب میں پیش کر آئے ہیں۔ مگر یہاں لکھتے ہیں کہ رفع و نزول اس آیت میں ترک کرنا دلیل ہے۔ رفع اور نزول کے باطل ہونے کی اگر کوئی کہے کہ اس آیت میں مسیح کا بغیر باپ پیدا ہونا مذکور نہیں اور یہ واقعہ عظیمہ تک ترک کیا گیا ہے۔ اس لیے یہ خیال کہ مسیح بغیر باپ پیدا ہوا سراسر خیال غلط ہے؟ تو جواب مرزائی اس معترض کو دیں گے۔ وہی جواب ہمارا ہو گا۔ غرض مرزا قادیانی نے اس استدلال سے اپنا سلطان القلم ہونا اور معجز بیان ہونا ثابت کر دیا ہے کیا مرزا قادیانی کا یہ مطلب ہے کہ جس قدر تمام و کمال واقعات قرآن مجید میں مختلف مقام اور آیات میں مسیح

صفحہ ٢٠٣

کی نسبت مذکور ہیں سب کے سب ایک ہی جگہ جمع ہو جاتے اور اسی آیت میں آ جاتے؟ کیونکہ ترک کرنا باطل کرنے کی دلیل ہے تو اس طرح تمام مذہب اسلام باطل ہے کیونکہ ہر ایک مسلمان جانتا ہے۔ کسی آیت میں والدین کے ساتھ احسان کرنے کا ذکر ہے۔ کسی آیت میں یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا ذکر ہے۔ کسی آیت میں نماز کا ذکر ہے اور کسی آیت میں حج کا ذکر ہے اور کسی آیت میں زکوٰۃ کا ذکر ہے تو پھر مرزا قادیانی کے مذہب میں اگر حج والی آیت پر عمل ہو تو نماز روزہ اور یتیموں کے ساتھ سلوک اور والدین سے احسان وغیرہ وغیرہ سب احکام سراسر باطل ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے ان کا ذکر پیش کردہ آیت میں ترک کیا ہے۔ افسوس مرزا قادیانی کی حالت پر جو خیال ان کے دل میں پیدا ہوتا خواہ وہ کیسا ہی نامعقول ہوتا اس کو لکھ مارتے اور افسوس ان کے مریدوں پر جو بے چون و چرا تسلیم کر لیتے۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کا استدلال کس طرح درست ہو سکتا ہے؟ اور یہ آیت وفات مسیح پر کس قاعدہ اور طریقہ اہل علم سے دلالت کرتی ہے؟ مرزا قادیانی بڑے زور شور سے اعتراض کرتے ہیں اور ان کے مرید بھی کہتے ہیں کہ مسیح آسمان پر طعام کہاں سے کھاتا ہو گا۔ بول و براز کہاں کرتا ہو گا اور دیگر حوائج انسانی کس طرح پوری کرتا ہو گا؟ وغیرہ وغیرہ تو ان کا جواب ہم مرزا قادیانی کے قاعدہ استدلال سے یہ دیتے ہیں کہ چونکہ اس آیت وسلام علی یوم ولدت و یوم اموت و یوم ابعث حیا میں کھانے پینے بول براز اور واقعات عظیمہ کا ذکر ترک کیا گیا ہے۔ اس واسطے مسیح کے کھانے پینے بول براز کے خیالات باطل ہیں جس طرح اس کے رفع و نزول کے خیالات ترک ذکر سے باطل ہیں۔ اگر مرزائی ہماری اس دلیل کو تسلیم کر لیں گے تو ہم بھی مرزا قادیانی کی اس دلیل کو تسلیم کر لیں گے۔ ورنہ یہ شعر ہم مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی نذر کریں گے۔

سر بسر قول ترا اے بت خود کام غلط
دن غلط رات غلط صبح غلط شام غلط

کیونکہ مرزا قادیانی وفات مسیح کے ثابت کرتے وقت سب مسلمات دین و لغات و محاورات بھول جایا کرتے تھے۔ نادان سے نادان آدمی بھی جانتا ہے کہ جب یوم ولادت و یوم وفات ذکر کیا جائے تو تمام وسطی حالات کی تصدیق ہو جاتی ہے۔ ”اول را بآخر نسبتے ہست“ کا مشہور مقولہ شاہد ہے۔ پس یہ آیت بھی حیات مسیح پر دلیل ہے نہ کہ وفات مسیح پر۔ کیونکہ اس سے رفع جسمانی ثابت ہے۔

صفحہ ٢٠٤

قولہ بارہویں آیت

وَمِنْكُم مَّنْ يُتَوَفّٰى وَمِنْكُم مَّنْ يُرَدُّ إِلٰى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَيْئًا. (حج ٥) اس آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ سنت اللہ دو ہی طرح سے تم پر جاری ہے بعض تم میں سے عمر طبعی سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں اور بعض عمر طبعی کو پہنچتے ہیں یہاں تک کہ ارذل عمر کی طرف رد کیے جاتے ہیں اور اس حد تک نوبت پہنچتی ہے کہ بعد علم کے نادان محض ہو جاتے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٦٠٨ خزائن ج ٣ ص ٤٢٨)

اقول: یہ آیت بھی وفات مسیح پر ہرگز دلالت نہیں کرتی اور نہ مسیح سے یہ متعلق ہے۔ مسلمانوں کو قرآن مجید کا ١٧ پارہ رکوع ٨ دیکھنا چاہیے۔ مرزا قادیانی نے اس آیت میں تحریف معنوی کی ہے۔ پہلے ہم اس آیت کا اصل مطلب بیان کرتے ہیں۔

یہ آیت قیامت کے منکر کفار کو سمجھا رہی ہے کہ وہ خدا جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر علقہ بنایا پھر مضغہ بنایا اور پھر ماں کے پیٹ میں جگہ دی اور پھر اپنے ارادہ سے وہاں طفل بنا کر نکالا اور پھر جوان کیا پھر تم میں سے کوئی تو مر جاتا ہے اور کوئی بڑھاپے کی طرف لوٹا کر لایا جاتا ہے کہ پھر اس کو کوئی علم نہیں رہتا۔ یہ خلاصہ ترجمہ کا ہے اوپر کی آیت کا اور آیت مستدلہ کا۔ یہ آیت خدا تعالیٰ کی قدرت اور عجوبہ نمائی پر دلالت کرتی ہیں اور خدا تعالیٰ ان لوگوں کو جو محالات عقلی کے دلائل سے قیامت کا انکار کرتے ہیں ان کو سمجھاتا ہے کہ تم قیامت کے محالات عقلی پر کیوں جاتے ہو؟ پہلے اپنی ہی پیدائش کے حالات اور مختلف منازل کی طرف دیکھو کس طرح ہم نے تم کو بنایا اور جب ہم نے تم کو عدم سے بنا کھڑا کیا تو اب تمہارا دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے؟ جب ہم پہلے محالات عقلی پر قادر تھے تو اب بھی ہم تم کو قبروں سے اٹھا سکتے ہیں جو تمہارے نزدیک محالات عقلی میں سے ہے۔

اس آیت کا وفات مسیح کے ساتھ کچھ تعلق نہیں۔ اگر مرزائی صاحبان اقرار کریں کہ یہ آیات حضرت مسیح کے حالات پر حاوی ہیں اور حضرت مسیح بھی اسی سنت اللہ اور قانون فطرت اور قدرت کے تابع ہے تو ہم زور سے کہتے ہیں کہ ان کی حالت اس شکار کی طرح ہو گی جو خود شکاری کے آگے آ جائے اور شکاری بآسانی اس کو اپنے دام میں پھنسا دے۔ پہلے اس کے کہ کوئی مرزائی اپنے مرشد کی حمایت کرے اور مسیح کو قانون قدرت کے ماتحت لائے ہم خود ہی مفصلہ ذیل دلائل پیش کر دیتے ہیں۔ جس سے ثابت ہو گا کہ یہ آیت وفات مسیح پر دلالت نہیں کرتی اور مرزا قادیانی کا استدلال اس آیت

صفحہ ٢٠٥

سے بھی غلط ہے۔

(اوّل)...... خدا تعالیٰ نے ان آیات میں قانون فطرت بتایا ہے کہ انسان کی پیدائش نطفہ سے ہے۔ مگر مسیحؑ باتفاق فریقین بغیر نطفہ باپ کے پیدا ہوا۔ جب پہلے ہی مسیحؑ اس قانون فطرت سے مستثنیٰ کر کے بغیر مس مرد کے صدیقہ مریمؑ کے پیٹ میں خلاف قانون فطرت متذکرہ بالا آیات جو اس آیت سے پہلے ہیں پیدا کیا تو پھر یہ آیت مسیحؑ کے حق میں ہرگز صادق نہیں آسکتی۔

(دوم)...... یہ نطفہ انسان کی صفت ہے کہ وہ عمر کی درازی سے ضعیف ہو جاتا ہے اور مادی ہونے کے باعث زمین کی تاثیرات سے متاثر ہو کر ضعیف ہو جاتا ہے۔ مگر آسمان کی تاثیرات ایسی ہیں کہ اجرام فلکی کا بدل ما یتحلل ساتھ ہی ساتھ ہوتا جاتا ہے اور وہ ضعیف نہیں ہوتے۔ پس مسیحؑ بھی تاثیرات فلکی سے ارذل عمر کے ضعف سے بچا ہوا ہے جیسا کہ مشاہدہ ہے کہ فرشتے‘ ستارے‘ آفتاب‘ مہتاب وغیرہ ایک ہی حالت پر رہتے ہیں۔ لہٰذا مسیحؑ بھی آسمان پر درازی عمر سے نکما نہیں ہو سکتا اور نہ زمین کی آب و ہوا کی طرح آسمان کی آب و ہوا ہے کہ مسیحؑ کو ارذل عمر ملے۔ چونکہ مسیحؑ کی پیدائش نفخ روح سے تھی اور روح درازی عمر سے ضعیف نہیں ہوتا صرف جسم ہوتا ہے۔ اس لیے مسیحؑ کے واسطے ارذل عمر کا ضعف لازم نہیں کیونکہ وہ روح تھا۔

حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی فصوص الحکم میں لکھتے ہیں۔ ”اور عیسیٰؑ دو جہت سے بشر کی صورت پر ہوئے۔ ایک جہت ان کی ماں کی طرف سے تھی اور دوسری جہت جبرئیل سے تھی کیونکہ وہ بشر کی صورت پر ظاہر ہوئی تھی اور یہ دو جہتیں اس واسطے ہوئیں کہ اس نوع انسانی میں تکوین خلاف عادت نہ واقع ہو۔ جیسا کہ قرآن میں ہے۔ كَلِمَتُهُ اَلْقٰهَا اِلٰى مَرْيَمَ وَرُوْحٌ مِّنْهُ۔ یعنی عیسیٰؑ اللہ کے کلمہ ہیں اور ان کو مریم کی طرف القا فرمایا اور وہ روح اللہ ہیں۔“ دیکھو فص عیسوی فصوص الحکم اردو، شیخ اکبر ابن عربی کے اس حوالہ سے جو قرآن کی تفسیر میں ہے۔ ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰؑ مسیح ماں کی جہت سے بشر تھے اور باپ کی جہت سے روح اللہ تھے۔ پس مسیحؑ قانون خلقت انسانی کے ماتحت پیدا نہ ہوئے اور نہ ارذل عمر کا ہونا ان کے واسطے ضروری ہے۔ یا تسلیم کرو گے کہ روح اللہ کو بھی ارذل عمر ہوتی ہے اور یہ باطل ہے کیونکہ حضرت جبرئیل سب پیغمبروں اور رسولوں کے پاس آتے رہے جو ابتدائے دنیا سے پیدا ہوتے رہے اور وہ ارذل عمر کو نہ پہنچے حالانکہ ہزاروں برس گزر گئے اور نہ علم الٰہی حضرت جبرئیل کو فراموش ہوا۔

صفحہ ٢٠٦

(سوم)...... جب خدا تعالیٰ قرآن مجید میں حضرت مسیح کے حق میں فرماتے ہیں کہ وہ نہ صلیب دیا گیا اور نہ قتل کیا گیا بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا تو ثابت ہوا کہ وہ ارذل عمر اور وفات و ضعف پیری سے ایسا ہی مستثنیٰ کیا گیا جیسا کہ اپنی ولادت میں قانون فطرت سے مستثنیٰ کیا گیا تھا کہ بغیر نطفہ مرد کے پیدا ہوا اور عجوبہ نمائی قدرت خدا تعالیٰ کی ظہور میں آئی کیونکہ علم طب سے ثابت ہے کہ ہڈی نطفہ مرد سے بنتی ہے اور گوشت خون حیض سے بنتا ہے۔ مگر مسیح میں ہڈی تھی اور نطفہ مرد سے پیدا شدہ نہ تھا۔ اسی طرح تا نزول اس کو عمر دراز عطا کی گئی اور ارذل عمر کے اثر سے خاص کرشمہ قدرت سے محفوظ ہے۔

اب ہم مرزا قادیانی کی وجہ استدلال کا جواب دیتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ وجہ استدلال بھی غلط ہے۔

(اوّل)...... مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ سنت اللہ دو ہی طرح سے تم پر جاری ہے۔ بعض عمر طبعی سے پہلے فوت ہو جاتے ہیں۔ الخ۔

مرزا قادیانی نے دو ہی طرح سے سنت اللہ کا جاری ہونا کن الفاظ کا ترجمہ کیا ہے۔ آیت میں تو دو کا کوئی لفظ نہیں اور نہ طبعی موت کا لفظ ہے۔ الفاظ ”دو طریق“ اور ”طبعی موت“ مرزا قادیانی نے اپنے پاس سے لگائے ہیں جو کہ مشاہدہ سے بھی غلط ہے کیونکہ بعض بچے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے ہی مر جاتے ہیں جو کہ مرزا قادیانی کے دو طریق کے حصر کو توڑ رہے ہیں۔ بعض کا اسقاط حمل ہو جاتا ہے اور پیدا ہوتے ہی مر جاتے ہیں۔ اس سے بھی مرزا قادیانی کا حصر کہ دو ہی طریق سے سنت اللہ جاری ہے غلط ہے۔

(دوم)...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ بعض عمر طبعی کو پہنچتے ہیں مگر عمر طبعی کا عرصہ نہ بتایا کہ کتنی عمر کو عمر طبعی کہتے ہیں اور جب اس حد سے عمر گزر جائے تو عمر ارذل ہے۔ افسوس مرزا قادیانی فلاسفہ کی تقلید تو کرتے ہیں۔ مگر ساتھ ہی ڈر جاتے ہیں اور بودی دلائل سے جہلاء کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ حکمائے یونان کا مقولہ ہے کہ عمر طبعی انسان کی ایک سو بیس برس مقرر ہے۔ اس سے اگر پہلے مر جائے تو یہ موت طبعی نہیں بلکہ کسی حادثہ سے ہے جیسا کہ چراغ میں تیل بھی ہو، بتی بھی ہو، مگر ہوا کے جھونکے سے گل ہو جائے۔ اسی طرح انسان عمر طبعی سے پہلے مر جاتے ہیں مگر اہل اسلام بلکہ کل اہل مذاہب کا اتفاق ہے کہ کسی جاندار (انسان ہو یا حیوان) کی عمر طبعی مقرر نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم میں مقرر کر رکھا ہے۔ اس کے مطابق موت آتی ہے خواہ کوئی جوان ہو خواہ بوڑھا خواہ شیر خوار بچہ خواہ جنین یعنی وہ بچہ جو ماں کے پیٹ میں ہے۔ مرزا قادیانی کا استدلال تب

صفحہ ٢٠٧

درست ہو سکتا تھا کہ عمر طبعی قرآن یا کسی حدیث سے ثابت ہوتی۔ مگر قرآن اور تورات سے تو ثابت ہے کہ اصحاب کہف ٣٠٩ برس اور حضرت آدمؑ کی عمر ٩٣٠ برس اور نوحؑ کی عمر ١٢٠٠ برس کی تھی۔ شاہنامہ فردوسی طوسی میں لکھا ہے کہ ”رستم کی عمر ایک ہزار ایک سو تیرہ برس کی تھی۔ ع ”ہزار صد و سیزدہ سالہ مرد۔“ مرزا قادیانی نے عمر طبعی کی کوئی حد مقرر نہیں کی کہ جب اس حد سے گزر جائے تو ارذل عمر ہے۔ جب موت کا وقت مقرر نہیں اور یہ ایسا مسلمہ امر ہے کہ جس میں موافق و مخالف سب متفق ہیں اور صرف اتفاق ہی نہیں بلکہ رات دن کا مشاہدہ ہے کہ اچانک موت آ جاتی ہے۔ طبعی موت کی کوئی حد مقرر نہیں جب خدا تعالیٰ کسی کو اپنی طرف بلاتا ہے تو وہ فوراً چلا جاتا ہے۔ اِذَا جَاءَ اَجَلُهُمْ لَا يَسْتَاخِرُوْنَ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ نص قرآنی شاہد ہے اور اگر اخیر عمر کے حصہ کو ارذل کہا جائے تو اس سے کوئی انسان خالی نہیں کیونکہ جو پچیس برس کی عمر میں فوت ہوا اس پندرہ برس کی عمر کے مقابل میں پچیس برس کا زمانہ ارذل عمر ہے اور جو سو برس کی عمر میں فوت ہوا اس کا ارذل زمانہ نوے برس ہوا اور جس نے ہزار برس کی عمر پائی اسکا زمانہ ارذل عمر تو سو برس کے بعد ہوا۔ علیٰ ہذا القیاس مسیح کا زمانہ ارذل عمر نزول کے بعد ہو سکتا ہے۔ تب بھی مرزا قادیانی کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ پس اس آیت سے بھی استدلال غلط ہے کیونکہ طبعی عمر کی کوئی حد مقرر نہیں۔ اگر ہے تو کوئی مرزائی بتا دے۔ دور نہ جاؤ۔ مرزا قادیانی اور حکیم نور دین کا آخری حصہ عمر اگر ارذل تھا تو پھر وہ تمام علم بھول گئے تھے اور نادان بچوں کی طرح باتیں کرتے تھے؟ ہرگز نہیں تو پھر مرزا قادیانی کا یہ قاعدہ بالکل غلط ثابت ہوا اور ایسے ایسے دلائل شاید اسی ارذل عمر کا خاصہ ہے۔ جس کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ ان کا ارذل زمانہ ٦٠ و ٧٠ برس ہے جس کے درمیان فوت ہو گئے یا یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مرزا قادیانی نے جو قرآن میں تحریف کر کے ”طبعی عمر“ اپنی طرف سے بڑھا لیا ہے غلط ہے اور یہ آیت وفات مسیح پر ہرگز دلیل نہیں۔

قولہ تیرہویں آیت

یہ ہے وَلَكُمْ فِى الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰی حِيْنٍ. (البقرہ ٣٦) یعنی تم اپنے جسم خاکی کے زمین پر ہی رہو گے یہاں تک اپنے تمتع کے دن پورے کر کے مر جاؤ گے۔ یہ آیت جسم خاکی کو آسمان پر جانے سے روکتی ہے۔ کیونکہ لَكُمْ جو اس جگہ فائدہ تخصیص کا دیتا ہے اس بات پر بصراحت دلالت کر رہا ہے کہ جسم خاکی آسمان پر نہیں جا سکتا۔“ الخ

(ازالہ اوہام ص ٦٠٩ خزائن ج ٣ ص ٤٢٨)

صفحہ ٢٠٨

اقول : یہ آیت بھی مسیح کے متعلق نہیں یہ تو سیدنا آدمؑ اور شیطان لعین کے حق میں ہے۔ دیکھو اس سے پہلی آیت وَقُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَّ لَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ۔ آیۃ یعنی اتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور زمین میں تمھارے لیے ایک وقت خاص تک ٹھکانا ہے۔

اب روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ یہ آیت حضرت آدمؑ اور ابلیس (شیطان) کے حق میں ہے اور اس وقت ابھی مسیح کی پیدائش بھی نہ ہوئی تھی تو یہ آیت مسیح کے حق میں ہرگز نہیں۔ یعنی جب حضرت آدمؑ سے لغزش ہو گئی، اور شیطان کے بہکانے میں آ گیا۔ تو خدا تعالیٰ نے ان کو فرمایا کہ آسمان سے نیچے زمین پر اتر جاؤ اور وقت مقرر تک وہاں ہی رہو۔ حضرت مسیح کی وفات کا اس میں کہاں ذکر ہے؟ اور حضرت مسیح کا آسمان پر جانا جو صریح نص قرآنی اور شہادت انجیل سے ثابت ہے کیونکر ناممکن ہے؟ بلکہ اس آیت سے تو ثابت ہوتا ہے کہ انسان آسمان پر جا سکتا ہے کیونکہ انسان کا جد امجد حضرت آدمؑ آسمان سے اترے۔ جب آسمان سے اترنا اسی آیت سے جو مرزا قادیانی نے خود پیش کی ہے ثابت ہے تو آسمان پر جانا بدرجہ اولیٰ ممکن اور ثابت ہوا کیونکہ آسمان پر انسانی سکونت پہلے تھی اور اس کے تمام آسائش کے سامان بھی مہیا تھے۔ جب پہلا انسان آسمان پر سکونت پذیر تھا اور کسی جرم کی سزا میں زمین پر اتارا گیا تو اس آیت سے آسمان پر جانا ممکن ہوا کیونکہ جو شخص ایک جگہ سے آئے اس جگہ واپس بھی جا سکتا ہے۔ (دوم)...... اهْبِطُوْا کے حکم سے معلوم ہوا کہ آسمان سے زمین پر اترنا ہوا۔ جب انسان آسمان پر نہیں رہ سکتا تھا تو آدم کس طرح رہا؟ کیونکہ بعد میں اترا پہلے تو رہتا تھا اور کھاتا پیتا تھا اور طعام اس کو ملتا تھا کیونکہ بہشت میں سب اسباب معیشت موجود ہیں۔ اس سے تو مرزا قادیانی کے تمام اعتراضات اڑ گئے کہ عیسیٰ کو آسمان پر طعام نہ ملتا ہو گا وغیرہ وغیرہ کیونکہ آدمؑ کی نظیر موجود ہے۔ مرزا قادیانی لَكُمْ کو تخصیص کے فائدہ کے واسطے کہتے ہیں۔ یعنی لَكُمْ کا مرجع خاص شیطان اور آدم ہیں۔ مرزا قادیانی کا یہ فرمانا کہ لَكُمْ کا مرجع خاص آدم و شیطان ہیں مرزا قادیانی کے مدعا کے برخلاف ہے کیونکہ جب شیطان اور آدم کو یہ خطاب خاص ہے تو حضرت عیسیٰؑ اور دیگر انبیاء علیہم السلام مستثنیٰ رہے۔ یعنی یہ خاص حکم کہ اتر جاؤ اور تمہارا ٹھکانا زمین ہے خاص آدم اور شیطان کے واسطے ہے۔ مسیح کا اس آیت سے کچھ تعلق نہیں پس اس آیت سے بھی وفات مسیح کا استدلال غلط ہے۔

صفحہ ٢٠٩

قولہ چودھویں آیت

آیت ہے وَمَنْ نُعَمِّرْہُ نُنَکِّسْہُ فِی الْخَلْقِ۔ (یٰسٓ ٦٨) یعنی جس کو ہم زیادہ عمر دیتے ہیں تو اس کی پیدائش کو الٹا دیتے ہیں یعنی انسانیت کی طاقتیں اور قوتیں اس سے دور ہو جاتی ہیں۔ حواس میں فرق آ جاتا ہے عقل اس کی زائل ہو جاتی ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٦١٠ خزائن ج ٣ ص ٤٢٩)

اقول: اس آیت میں بھی کہیں نہیں لکھا کہ مسیح فوت ہو گئے اور نہ یہ آیت وفات مسیح پر دلالت کرتی ہے۔ مرزا قادیانی کی جو وجہ استدلال ہے وہی درست نہیں کیونکہ جب زیادتی عمر کی کوئی حد مقرر نہیں کہ جب انسان اس حد تک پہنچ جائے تو پیر فرتوت ہو جاتا ہے۔ یعنی ایسا بوڑھا کہ اس کے حواس قائم نہ رہیں۔ انسان کی فطرت مختلف طاقتوں اور قوتوں والی بنائی گئی ہے اور یہ مشاہدہ ہے کہ کئی لوگ پچاس برس سے زیادہ عمر کے ہوئے اور ان کی طاقتیں بالکل سلب ہو جاتی ہیں اور بچپن کا زمانہ عود کر آتا ہے۔ مگر بعض ایسے طاقتور ہوتے ہیں کہ اسی نوے برس کی عمر میں بھی ان کی نظر قائم رہتی ہے اور حواس بجا رہتے ہیں اور ایسی صائب رائیں دیتے ہیں کہ جوانوں کو بھی وہ باتیں نہیں سوجھتیں جو ان کو سوجھتی ہیں۔ مسیلمہ کذاب کی عمر ڈیڑھ سو برس کی تھی اور جب مسلمانوں سے مقابلہ تھا تو ایسی ایسی تدبیریں اس کو سوجھتی تھیں کہ بہت جوانوں کو نہ سوجھتی تھیں۔ زیادتی عمر نے اس کی قوتوں میں کچھ کمی نہ کی۔ پنجاب میں ایک مثل مشہور ہے کہ فلاں شخص سترا بہترا گیا ہے۔ یعنی بے وقوفی کی باتیں کرتا ہے حالانکہ ہزاروں اشخاص کے حق میں یہ مثال غلط ہوتی ہے۔ حکیم نور دین قادیانی کی عمر زیادہ ہو گئی تھی مگر ان کو قادیانی مشن کی ترقی کے وہ وہ دجل سوجھتے تھے کہ کسی جوان مرزائی کو نہ سوجھتے تھے۔ پس جب عمر کی طاقتوں کی کوئی حد نہیں تو پھر یہ قیاس ہی غلط ہے کہ حضرت عیسیٰؑ زیادتی عمر کے باعث نکما ہو گیا ہوگا۔ کیونکہ مرزا قادیانی تسلیم کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا انبیاء علیہم السلام سے خاص معاملہ ہے اور مسیح بھی نبی و رسول تھا۔ اس لیے اس کے ساتھ بھی خاص معاملہ ہے کہ وہ تا نزول زندہ رہے گا اور درازی عمر کا اثر اس پر ہرگز نہ ہو گا جس طرح کہ اصحاب کہف پر باوجود گزر جانے عرصہ دراز ٣٠٩ سال کے وہ جس عمر اور طاقت کے ساتھ سوئے تھے ٣٠٩ برس کے بعد اسی طاقت اور عمر کے ساتھ اٹھے اور زمانہ کے اثر سے محفوظ رہے جب نظیریں موجود ہیں کہ حضرت نوحؑ کی عمر ١٤٠٠ برس کی تھی اور زمانہ کے اثر سے وہ محفوظ رہے۔ حضرت شیثؑ کی عمر ٩١٢ برس کی تھی اور ان کی طاقتوں میں فرق نہ آیا تو

صفحہ ٢١٠

ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نے اس آیت کے سمجھنے میں غلطی کھائی ہے کہ وہ اسے قاعدہ کلیہ بناتے ہیں۔ اور جو امر اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی پر منحصر رکھا ہوا ہے۔ اس کو اپنے قیاس سے خلاف منشاء خدا تعالیٰ کلیہ قاعدہ بتاتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ نے کوئی طبعی عمر مقرر نہیں فرمائی اور نہ ہی کوئی پیری وغیرہ کا زمانہ مقرر فرمایا ہے تو پھر یہ غلط خیال ہے کہ حضرت عیسیٰؑ پر تغیر کا زمانہ آ گیا ہو گا جبکہ ثبوت موجود ہے کہ آسمانی مخلوق بہ نسبت زمینی مخلوق کے الطف اور اکمل ہے اور زمانہ کا اثر ان پر کم ہوتا ہے یا بالکل ہی نہیں ہوتا۔ جب سے دنیا بنی ہے چاند و سورج و ستارے وغیرہ بروج اپنے اپنے کام میں بحکم ایزد متعال لگے ہوئے ہیں کوئی بوڑھا نہیں ہوا۔ کوئی ارذل عمر تک پہنچ کر ردی نہیں ہوا فرشتے بوڑھے ہو کر پاگل نہیں ہو گئے۔ حاملان عرش نے بوڑھے ہو کر اور کم طاقت ہو کر عرش رب العالمین کو پھینک نہیں دیا تو حضرت عیسیٰ آسمان پر کس طرح زمانہ کے اثر سے نخوہ ہو کر نکھے ہو سکتے ہیں۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت و جبروت سے لاعلمی کا باعث ہے اور اس حی و قیوم خدا کی قدرت لا محدود سے ناواقفیت کا سبب ہے کہ مرزا قادیانی کو ایسے ایسے وہم اور قیاس سوجھتے ہیں۔ ورنہ جسکا یہ اعتماد ہو کہ خدا تعالیٰ قادر مطلق ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جس نے صرف ایک امر کُن سے تمام کائنات کو ایک دم بنا کھڑا کیا ہے۔ اس کے آگے ایک انسان کو درازی عمر کا دینا اور تا نزول زندہ رکھنا کچھ مشکل نہیں۔ افسوس مرزا قادیانی ایک طرف تو مانتے ہیں کہ خدا نے ابراہیمؑ پر آگ سرد کر دی جو بالکل خلاف قانون قدرت ہے۔ مگر دوسری طرف حضرت عیسیٰؑ کے زیادہ عمر پانے سے انکار کرتے ہیں اور ایسے ایسے ردی دلائل پیش کرتے ہیں کہ بقول ان کے ان کی اپنی ہی ارذل عمر کا ثبوت ہے۔ ورنہ دیندار مومن بالغیب کی شان سے بعید ہے کہ ایسے ایسے من گھڑت ڈھکوسلوں سے نصوص قرآنی کا انکار کرے۔ پس اس آیت سے بھی وفات مسیح کا استدلال غلط ہے۔

قولہ پندرھویں آیت

اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُعْفًا وَّشَيْبَةً (الروم ٥٤) ترجمہ ”خدا وہ ہے جس نے تم کو ضعف سے پیدا کیا پھر ضعف کے بعد قوت دے دی پھر قوت کے بعد ضعف و پیرانہ سالی دے دی۔“ یہ آیت بھی صریح طور پر اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ کوئی انسان اس قانون قدرت سے باہر نہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٦١٠ خزائن ج ٣ ص ٤٢٩)

صفحہ ٢١١

اقول : یہ آیت بھی وفات مسیح پر نص قطعی تو درکنار کنایۃً بھی دلالت نہیں کرتی۔ مرزا قادیانی کی وجہ استدلال یہ ہے کہ چونکہ ہر ایک انسان کے لیے ضعف پیری ضرور ہے اس لیے حضرت مسیح بھی ضعف پیری سے بچ نہیں سکتے مگر کوئی باحواس آدمی کہہ سکتا ہے کہ ضعف پیری سے موت ہو جاتی ہے یا جو ضعف پیری سے ضعیف ہو جائے وہ ضرور ہی مر جاتا ہے۔ ہزاروں لاکھوں بوڑھے ضعیف دنیا میں بقید حیات موجود ہیں کیا یہ ان کی وفات کی دلیل ہے؟ ہرگز نہیں۔ حضرت نوحؑ نے اس قدر عمر دراز پائی۔ کیا وہ مردہ تھے؟ ہرگز نہیں تو پھر یہ کیونکر درست ہو سکتا ہے کہ جو ضعیف العمر ہو وہ ضرور مر جاتا ہے جبکہ پیری کا کوئی خاص زمانہ مقرر نہیں اور نہ عمر طبعی کا کوئی زمانہ مقرر ہے۔ اگر کوئی جاہل حکیم نور الدین سے کہتا کہ آپ ضعف پیری سے فوت شدہ ہیں اور یہی آیت پیش کرتا کہ چونکہ آپ کو ضعف پیری آ گیا ہے آپ مردہ ہیں لہٰذا آپ خلیفہ نہیں ہو سکتے کیونکہ مردے کبھی خلیفہ نہیں ہوتے تو مرزا قادیانی کے مرید اس دلیل کو تسلیم کر لیتے اور حکیم صاحب کو مردہ تصور کر لیتے؟ ہرگز نہیں تو پھر مسلمان مرزا قادیانی کی اس دلیل کو کس طرح تسلیم کر لیتے۔ مولوی محمد احسن قادیانی امروہی اب تک ضعف پیری میں زندہ موجود ہیں۔ کیا وہ بھی مردہ مانے جاتے ہیں؟ ہرگز نہیں تو پھر مسیح ضعف پیری سے کس طرح مردہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کیا ضعف اور موت ایک ہی چیز ہے؟ مرزا قادیانی خود ہمیشہ امراض کے دورہ سے کمزور اور ضعیف رہتے درد سر اور دیگر بیماریوں کے باعث ضعیف رہتے مگر کوئی ان کو مردہ نہ سمجھتا تھا۔ اگر بفرض محال یہ سمجھ لیں کہ مسیح کی عمر دو ہزار برس ہونے کیوجہ سے وہ ضعیف العمر ہے تو اس سے اس کی وفات کسی طرح ثابت نہیں ہو سکتی۔ پس اس آیت سے بھی حیات مسیح ثابت ہے کیونکہ ضعیف العمری نشان زندگی ہے نہ کہ نشان موت۔ پس اس آیت سے بھی استدلال غلط ہے یہ کہاں لکھا ہے کہ مسیح فوت ہو گیا۔ مرزا قادیانی بار بار قانون قدرت! قانون قدرت!! کہہ کر عوام کو دھوکا دیتے ہیں کہ مسیح اس قانون قدرت کے نیچے ہے۔ کس مسلمان کا اعتقاد ہے کہ عیسیٰؑ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ مسلمان تو بار بار کہتے ہیں کہ بعد نزول مسیح ٤٠ برس زمین پر رہیں گے اور پھر فوت ہوں گے اور مدینہ منورہ میں دفن کیے جائیں گے اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے۔ مگر افسوس مرزا قادیانی نے وفات مسیح ثابت کرتے کرتے ضعیف العمری ثابت کر کے حیات مسیح ثابت کر دی۔

صفحہ ٢١٢

قولہ سولہویں آیت

یہ ہے اِنَّمَا مَثَلُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ اَنْزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامِ. (یونس ٢٤) یعنی اسی زندگی دنیا کی مثال یہ ہے کہ جیسے اس پانی کی مثال ہے جس کو ہم آسمان سے اتارتے ہیں اور پھر زمین کی روئیدگی اس سے مل جاتی ہے۔ پھر وہ روئیدگی بڑھتی اور پھولتی ہے اور آخر کاٹی جاتی ہے یعنی کھیتی کی طرح انسان پیدا ہوتا ہے اوّل کمال کی طرف رخ کرتا ہے پھر اس کا زوال ہو جاتا ہے کیا اس قانون قدرت سے مسیح باہر رکھا گیا ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص ٦١١ خزائن ج ٣ ص ٤٣٠)

اقول: یہ آیت بھی وفات مسیح ہرگز نہیں بتاتی اور نہ یہ مسیح کے بارہ میں ہے۔ یہ آیت پیش کر کے تو مرزا قادیانی نے دراز عمر کا ہونا ثابت کر دیا کیونکہ جس طرح پانی امتزاج عناصر سے کھیتی اور پھل تیار کرتا ہے یا پانی سے کھیتیاں اور پھل تیار ہوتے ہیں اسی طرح انسانی و حیوانی زندگی ہے آخر کار ہر ایک انسان کھیتی کی طرح کاٹا جائے گا۔ جس طرح کھیتی اور درخت کاٹے جاتے ہیں۔ اس سے کس کو انکار ہے؟ ہر ایک مسلمان کا اعتقاد ہے کہ مسیح بعد نزول فوت ہوں گے۔ جھگڑا تو سارا درازی عمر کا ہے اور درازی عمر ہم حضرت آدم و نوح و شیث علیہم السلام و غیرہم ثابت کر آئے ہیں۔ پس جس خدا نے ان رسولوں کو دراز عمریں دیں وہی خدا مسیح کو بھی جس قدر چاہے دراز عمر دے سکتا ہے۔ اس میں کوئی خلاف قانون قدرت نہیں۔ جب بعد نزول مسیح فوت ہو گا تو اسی قانون کے نیچے آ جائے گا۔ اس مثال سے تو اللہ تعالیٰ نے درازی عمر مسیح ثابت کر دی ہے کہ فرمایا کہ یہ حیاتی دنیا کی پانی کی مانند ہے جس طرح پانی دوسرے عناصر سے مل کر مختلف منازل طے کرتا ہے۔ یعنی پہلے بیج سے انگوری نکلتی ہے اور پھر درخت اور پھل پھول پتے ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ حیاتی انسانی پہلے ماں کے پیٹ میں منزلیں نطفہ مضغہ جنین ہونے کی منازل طے کر کے بچہ طفل جوان اور فرتوت ہو کر آخر مر جاتا ہے۔ اس قانون سے کسی کو اختلاف و انکار نہیں۔ مگر مرزا قادیانی جو اس قانون قدرت کو مساوی طریق پر ہر ایک متنفس پر یکساں جاری کرتے ہیں یہ غلط ہے کیونکہ نہ نباتات کا وقت یکساں معین ہے اور نہ حیوانات کا وقت زندگی یکساں سب حیوانوں کے واسطے مقرر ہے سب کھیتیاں مساوی عمر کی نہیں ہوتیں اور نہ سب حیوان و انسان مساوی عمر کے ہوتے ہیں ہر ایک میں امر ربی جاری ہے۔ دیکھو کدو کھیرہ وغیرہ ترکاریوں کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے۔ صرف بائیس تئیس روز پھل دے کر جل جاتی ہیں۔ اس کے برخلاف جو‘ مکئی‘ گندم کئی ماہ میں تیار ہو

صفحہ ٢١٣

کاٹے جاتے ہیں اور دیر تک ان کا ذخیرہ رکھا جا سکتا ہے حالانکہ ترکاریاں اور پھل دو تین روز سے زیادہ نہیں رہ سکتے۔ پونڈا یعنی گنا نو دس ماہ کے بعد تیار ہوتا ہے اور اس کی عمر بھی کم ہوتی ہے۔ یہی اختلاف درختوں اور ان کے پھلوں میں ہے۔ آڑو کا درخت دو سال میں تیار ہو جاتا ہے اور پھل لاتا ہے اور آم سیب کا درخت دس بارہ سال یا اس سے زیادہ عرصہ لے کر تیار ہوتا ہے۔ ایسی ہزاروں مثالیں ہیں جو روزمرہ مشاہدہ میں آ رہی ہیں کہ نباتات کی عمریں کبھی مساوی نہیں اور نہ قانون قدرت یکساں طور پر ہر ایک مخلوق میں جاری ہے۔ بعض حیوانات بہت عمر کے ہوتے ہیں جیسا کہ سانپ، گوہ وغیرہ اور بعض حیوانات تھوڑی عمر پاتے ہیں جیسے حشرات الارض اور بکری وغیرہ۔ جس سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ اس مثال پانی والی میں وجہ شبہ صرف نشوونما ہے جس کے واسطے کوئی حد مقرر نہیں۔ ایسا ہی انسانوں کی عمریں مساوی نہیں ان میں قانون نشوونما بیشک جاری ہے مگر مساوی طور پر نہیں ہے۔ سب میں مشیت ایزدی خفیہ کام کر رہی ہے اور منشاء حق کے مطابق سب نباتات مختلف طور پر پھل پھول لا رہے ہیں اور جب تک حکم ہوتا ہے تب تک پھل لاتے ہیں آخر جل سڑ کر تباہ ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ ہرگز نہیں کہ سب کے سب ایک حد معین تک محدود ہوں۔ بعض درخت سینکڑوں برس تک قائم رہتے ہیں اور بعض چند سالوں میں ختم ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح حیوان اور انسان ہیں کہ نشوونما میں تو اس قانون فطرت کے تابع ہیں مگر اپنی ہستی قائم رکھنے میں مختلف مدارج رکھتے ہیں اور سب میں امر حق جاری ہے اور مشیت ایزدی کے تابع ہیں۔ حضرت نوحؑ اس قانون قدرت کے تابع پیدا ہوئے کہ ١٣٠٠ برس تک مشیت ایزدی کے امر کے موافق زندہ رہے اور عوج بن عنق ٣٥٠٠ برس تک زندہ رہا (دیکھو جامع العلوم مطبوعہ نول کشور صفحہ ٣٨) حالانکہ اب اس قدر عمر دراز محالات میں سے ہے اور خلاف قانون قدرت سمجھی جاتی ہے مگر واضح رہے کہ مقنن یعنی قانون بنانے والے کا اختیار ہوتا ہے کہ بعض امور میں قانون کی پابندی نہ کرے جس کو شواذ و نوادر کہتے ہیں۔ دور نہ جاؤ حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت ہی شاذ و نادر بطور معجزہ کے ہے۔ اگر اس کو درازی عمر بھی خدا تعالیٰ نے دے دی اور تا نزول زندہ رکھا تو کیا محال ہوا؟ پس یہ آیت بھی مسیح علیہ السلام کی حیات ثابت کرتی ہے کہ جس طرح پانی کھیتی میں ایک ہی اثر نہیں رکھتا اور ایک ہی وقت سب کھیتیاں تباہ و ہلاک نہیں ہوتی اسی طرح انسان میں بھی دنیا کی حیات مختلف مدارج رکھتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مختلف عمریں ہیں ایک ہی وقت اور عمر سب کے واسطے مقرر نہیں کوئی بچپن

صفحہ ٢١٤

میں مر جاتا ہے کوئی جوانی میں مر جاتا ہے کوئی بوڑھا ہو کر نہیں مرتا حالانکہ لوگ اس سے نفرت کرتے ہیں اور وہ خود بھی مرنا چاہتا ہے مگر مشیت ایزدی اس کو زندہ رکھتی ہے حالانکہ نشوونما میں سب کے سب قانون قدرت کے نیچے ہیں۔ پس مسیح بھی حیاتی کے نشوونما میں بیشک قانون قدرت کے تابع ہے مگر درازی عمر اس کو اس قانون سے خارج نہیں کرتی اس لیے اس آیت سے بھی استدلال غلط ہے۔

قولہ سترھویں آیت

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَ. (المومنون ١٥) یعنی اوّل رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ تم کو کمال تک پہنچاتا ہے اور پھر تم اپنا کمال پورا کرنے کے بعد زوال کی طرف میل کرتے ہو یہاں تک کہ مر جاتے ہو۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٦١١ خزائن ج ٣ ص ٤٣٠)

اقول: اس آیت سے بھی وفات مسیح ہرگز مفہوم نہیں ہوتی۔ یہ وہی قانون قدرت ہے یعنی نشوونما کے بعد تم مرنے والے ہو۔ اس سے مرزا قادیانی نے کلیہ کس طرح بنا لیا کہ جو قانون قدرت کے مطابق پیدا ہو کر نشوونما پائے وہ اسی وقت مر جاتا ہے۔ یہ ایسا ہی استدلال ہے کہ کوئی آ کر غلام رسول راجیکی قادیانی یا محمد علی لاہوری کو کہے کہ جناب آپ فوت شدہ ہیں اور یہی آیت پڑھ دے ثُمَّ انکم بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَ. یعنی بعد نشوونما کے آپ مرنے والے ہیں۔ پس اس آیت کے رو سے آپ مردہ ہیں جو شخص مرنے والے اور مرے ہوئے میں فرق نہیں کرتا اس کے حق میں کیا کہا جائے یہ کون کہتا ہے کہ مسیح مرنے والا نہیں۔ جس کا یہ اعتقاد ہو کہ مسیح مرنے والا نہیں اس کو یہ آیت سنانی چاہیے۔ پس اس آیت سے بھی استدلال غلط ہے کیونکہ مسیح بعد نزول مرنے والا ہے اور اس آیت میں بھی مَيِّتُوْنَ فرمایا گیا ہے جو کہ اگر مسیح کے حق لیا جائے تو اس کی حیات ثابت ہوتی ہے کیونکہ مَيِّتُوْنَ فرمایا یہ نہیں فرمایا کہ مَاتَ یعنی مرنے والا فرمایا مر گیا نہیں فرمایا۔

قولہ اٹھارھویں آیت

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَکَهُ يَنَابِيْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهُ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهُ حُطَامًا اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِکْریٰ لِاُولِی الْاَلْبَابِ. (الزمر ٢١) ان آیات میں بھی مثلاً یہ ظاہر کیا ہے کہ انسان نباتی کی طرح رفتہ رفتہ اپنی عمر کو پورا کر لیتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٦١٢ خزائن ج ٣ ص ٤٣٠)

صفحہ ٢١٥

اقول: کھیتی اور پانی کی مثال کا جواب سولویں آیت کے جواب میں دیا گیا ہے یہ صرف آیت کا نمبر بڑھانے کے واسطے اسی مضمون کی آیت کو لکھا ہے جو کہ اہل علم کے نزدیک عیب سخن ہے۔ ہم جواب دے چکے بار بار ذکر کی حاجت نہیں۔ ہاں اتنا ضرور عرض کرتے ہیں کہ عمر کا پورا کرنا جو لکھا ہے وہ کونسی عمر کی حد مقرر ہے کہ جب تم اس حد عمر تک پہنچ جاؤ گے تو مر جاؤ گے جب عمر کی حد مقرر نہیں جو ہزار برس زندہ رہے گا اسکی وہی عمر ہے۔ پس مسیح بعد نزول چاہیے کہ ہزار برس گزر جائیں اس کی مدت عمر وہی ہوگی اور وہ پوری کر کے ضرور مرے گا۔ عمر کی جب تک کوئی حد مقرر نہ کرو تب تک یہ آیت وفات مسیح پر دلیل نہیں ہو سکتی بلکہ اگر سو آیت بھی ایسی پیش کرو گے تو ہرگز کام نہ آئیں گی۔ پہلے عمر کی حد مقرر کرو جب ایک شخص کی حد عمر ہی مقرر نہیں تو پھر جو دو ہزار برس کے بعد نازل ہو کر مرے گا وہی زمانہ اس کی عمر کا پورا ہونا ہو گا۔ پس اس آیت سے بھی استدلال غلط ہے۔

قولہ انیسویں آیت

یہ ہے وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ (الفرقان ٢٠) ”یعنی ہم نے تجھ سے پہلے جس قدر رسول بھیجے ہیں وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں پھرتے تھے ۔“

(ازالہ اوہام ص ٦١٣ خزائن ج ٣ ص ٤٣١)

اقول: یہ آیت بھی ہرگز نہ تو مسیح کے متعلق ہے اور نہ اس سے وفات مسیح کا وہم و گمان بھی ہو سکتا ہے۔ یہ آیت تو صرف ان کفار کو جواب دے رہی ہے جو رسول اللہ ﷺ پر اعتراض کرتے تھے کہ کھانا اور بازاروں میں پھرنا نبوت کی شان سے بعید ہے اس اعتراض کا جواب خدا تعالیٰ نے دیا ہے کہ اے محمد ﷺ ہم نے تجھ سے پہلے سب نبی و رسول جو بھیجے وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں پھرتے تھے۔ یہ امور یعنی کھانا کھانا اور بازاروں میں پھرنا نبوت و رسالت کے منافی نہیں۔ اس سے وفات مسیح کا مفہوم ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اگر کھانا کھانا اور بازاروں میں پھرنا وفات مسیح کا ثبوت ہے تو پھر جس قدر انسان کھانا کھاتے اور بازاروں میں پھرتے ہیں سب کے سب فوت شدہ ثابت ہوں گے اور یہ بالبداہت غلط ہے۔ کیونکہ لاکھوں کروڑوں آدمی روزمرہ کھانا کھاتے اور بازاروں میں پھرتے نظر آتے ہیں اور وہ زندہ ہیں۔ کھانا کھانا اور بازاروں میں پھرنا تو نشان زندگی ہے نہ کہ موت۔ باقی رہا مرزا قادیانی کا استدلال کہ چونکہ مسیح

صفحہ ٢١٦

اب کھانا نہیں کھاتا اور بازاروں میں پھرتا نظر نہیں آتا اس واسطے مردہ ہے تو یہ ایسی ہی نامعقول دلیل ہے کہ کوئی شخص کہہ دے کہ خواجہ کمال الدین و محمد صادق مرزا قادیانی کے مرید فوت شدہ ہیں کیونکہ قادیان اور لاہور والوں کو کھانا کھاتے اور بازاروں میں پھرتے نظر نہیں آتے۔

افسوس مرزا قادیانی کو مسیح کی وفات نے ایسا محو حیرت کر دیا ہے کہ ان کو ایسی دلیل پیش کرنے کے وقت سب علوم و فلسفی دلائل بھول جایا کرتے ہیں۔ بھلا کوئی مرزائی بتا سکتا ہے کہ عدم علم شے و عدم مشاہدۂ شے عدم وجود شے پر دلیل ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں تو پھر مرزا قادیانی کا بار بار یہ کہنا کہ مسیح طعام نہیں کھاتا اس واسطے مردہ ہے کیونکر درست ہو سکتا ہے جبکہ ان کو آسمان کا علم ہی نہیں۔ ١٩ سو برس کے بعد خدا کا فرض ہو سکتا ہے کہ مسیح کی ڈبل روٹی اور چاء کی پیالی روزمرہ چار وقت مرزا قادیانی کو دکھاتا بلکہ ان کے مریدوں کی خاطر ایسے کسی طریق سے آسمان سے نمودار کرتا کہ ہر ایک مرزائی دیکھ لیتا کہ یہ مسیح کا طعام ہے کیونکہ اگر قادیان کے مرزائی دیکھ لیتے تو لاہور کے مرزائیوں پر حجت نہ ہوتی اور اگر لاہور والے دیکھتے تو قادیان والوں کے واسطے دلیل نہ ہوتی۔ پس قرص خورشید کی طرح قرص عیسیٰ بھی ہر روز طلوع کرتی تب مرزا قادیانی اور مرزائی مسیح کو کھانا کھانے والا یقین کرتے مگر ابر اور بارش کے دن پھر بھی مسیح کو فاقہ مست ہی سمجھتے اور شائد بعض محقق مرزائی تو کہتے کہ جب تک ہم آسمان پر جا کر مسیح کو روٹی کھاتے نہ دیکھ لیں تب تک اس کو زندہ نہیں کہہ سکتے۔ مگر افسوس مرزا قادیانی کی منطق ایسا ردی ہے کہ قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتا ہے کیا مرزا قادیانی کے مرید جو قادیان سے فاصلہ پر رہتے تھے اور ان کو مرزا قادیانی کی یاقوتیاں اور مقوی غذائیں دیکھنے کا موقعہ نہ ملتا تھا انکا نہ دیکھنا مرزا قادیانی کی وفات کی دلیل تھی؟ ہرگز نہیں تو پھر مسیح علیہ السلام جو کہ آسمان پر ہے زمین والوں کو کھاتا پیتا نظر نہ آئے تو مردہ کس طرح ثابت ہو سکتا ہے؟ جبکہ زمین والوں کو زمین کے ہی باشندگان کا علم نہیں۔ لاہور والے کلکتہ والوں کا کھانا پینا اور بازاروں میں پھرنا جب نہیں دیکھ سکتے تو آسمان والوں کا کس طرح دیکھ سکتے ہیں۔ کیا کوئی آسمان پر گیا ہے اور مسیح کو طعام نہ ملتا دیکھ آیا ہے یا مسیح نے اپنی فاقہ کشی کی شکایت کی ہے؟ ہرگز نہیں تو پھر یہ بالکل غلط استدلال ہے کہ اس آیت سے سب رسولوں کا فوت ہو جانا ثابت ہے۔

صفحہ ٢١٧

قولہ بیسویں آیت

یہ ہے کہ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْئًا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ. اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَآءٍ ۚ وَ مَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ. (النحل ٢٠۔ ٢١) یعنی جو لوگ بغیر اللہ کے پرستش کیے جاتے اور پکار جاتے ہیں وہ کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے بلکہ آپ پیدا شدہ مر چکے ہیں زندہ بھی تو نہیں ہیں اور نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔

(ازالہ اوہام ص ٦١٣ خزائن ج ٣ ص ٤٣١)

اقول : اس آیت سے بھی وفات مسیح ہرگز نہیں نکلتی اور نہ یہ محل اس آیت کے پیش کرنے کا ہے۔ یہ آیت تو توحید باری تعالیٰ کو ثابت کر رہی ہے کہ جن جن معبودوں کی تم پرستش کرتے ہو وہ تو خود مخلوق ہیں کچھ پیدا نہیں کر سکتے تو وہ تمہاری مرادیں کس طرح دے سکتے ہیں۔ وفات مسیح کے ساتھ اس آیت کا کچھ تعلق نہیں۔ مرزا قادیانی کی وجہ استدلال یہ ہے کہ چونکہ حضرت عیسیٰؑ بھی معبود ہیں اور مخلوق ہیں اس واسطے فوت ہو گئے ہوں گے مگر یہ غلط اور خلاف واقعہ ہے کیونکہ کل مخلوق فوت نہیں ہوئی۔ فرشتے خدا کی مخلوق ہیں اور معبود ہیں مگر فوت نہیں ہوئے حضرات جبرائیل و میکائیل و اسرافیل جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے۔ چلے آتے ہیں اور ہرگز نہیں مرے سورج‘ چاند‘ ستارے سب مخلوق ہیں اور معبود ہیں۔ مگر مرے نہیں۔ حضرت عیسیٰؑ ان معبودوں میں سے نہیں ہیں چنانچہ قرآن مجید یہودیوں اور مشرکین کو فرماتا ہے وَمَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ. (الزخرف ٥٨) یعنی حضرت عیسیٰؑ کی نظیر جو ان کفار نے پیش کی ہے۔ یہ ان کا مجادلہ ہے۔ یہ لوگ محض خصومت سے ایسی باتیں کرتے ہیں۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ جب قرآن مجید میں اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ. (الانبیاء ٩٨) نازل ہوا تو مشرکین نے کہا کہ اگر ہمارے معبود یعنی بت جہنم میں ڈالے جائیں گے تو حضرت مسیح بھی معبود نصاریٰ ہیں وہ بھی ہمارے معبودوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ حضرت عیسیٰؑ کو جو کفار و مشرکین ایسا ہی معبود بتاتے ہیں جیسے کہ ان کے بت و دیگر مخلوق معبود کہے جاتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہے اور وہ لوگ خصومت سے کہتے ہیں۔ پس یہ طریق استدلال جو مرزا قادیانی نے اختیار کیا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کو معبودوں میں شامل کرتے ہیں یہ طریق پہلے یہود و کفار عرب کر چکے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ خصم فرماتا ہے۔ افسوس مرزا قادیانی ایک رسول اور نبی کو بتوں اور ستاروں اور عناصر وغیرہ اصنام کیطرح سمجھ کر اس کی وفات کا ثبوت دیتے ہیں حالانکہ

صفحہ ٢١٨

اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَآءٍ ان کی صفت ہے۔ یعنی کبھی زندہ نہ تھے اور حضرت عیسیٰؑ صاحب حیات تھے اور اصنام اور باطل معبودوں میں شامل نہ تھے۔ مگر مرزا قادیانی اپنے مطلب کے واسطے خلاف قرآن ان کو بھی معبودوں میں مشرکین عرب کی طرح شامل کرتے ہیں اور اپنی طرف سے قرآن میں تحریف کر کے لکھتے ہیں کہ سب انسانوں کی وفات پر دلالت کر رہی ہے حالانکہ انسان کا لفظ قرآن کی آیت میں نہیں۔ مرزا قادیانی انسانوں کا لفظ اپنے پاس سے لگا کر مسیح کو بھی اصنام میں داخل کرتے ہیں جو خلاف قرآن ہے۔

(دوم) ...... صرف حضرت مسیح ہی معبود نصاریٰ نہیں وہاں تو تین اقنوم معبود ہیں۔ یعنی باپ، بیٹا، روح القدس، یعنی ایک مسیح دوسرا روح القدس اور تیسرا خدا اگر مرزا قادیانی کا استدلال درست سمجھا جائے تو روح القدس اور خدا کو بھی فوت شدہ سمجھنا ہو گا کیونکہ یہ تینوں معبود ہیں اور پکارے جاتے ہیں اور یہ بالبداہت غلط ہے کیونکہ نہ روح القدس مرتا ہے نہ خدا کی جز مر سکتی ہے۔ پس یہ استدلال مرزا قادیانی کا غلط ہے کہ جو معبود مانا جائے اس کے لیے فوت ہونا لازمی ہے۔

(سوم) ...... معبودوں پر موت دو طرح پر واقعہ ہو سکتی ہے یا حالاً مآلاً۔ حالاً موت کے یہ معنی کہ وہ ذی روح نہیں تھے پتھر وغیرہ کے بنے ہوئے ہیں تو اس سے حضرت عیسیٰؑ مستثنیٰ ہیں کیونکہ کسی ذی روح کو پتھر کے معبودوں میں شامل کرنا ذی ہوش کا کام نہیں۔ اگر کہو کہ مآلاً یعنی آخر کار ان کے واسطے وفات لازم ہے تو اس سے کسی کو انکار نہیں۔ سب مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ حضرت عیسیٰؑ بعد نزول ضرور فوت ہوں گے اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے اور مدینہ منورہ میں مدفون ہوں گے۔ صرف سوال درازی عمر کا ہے جس کی نظیریں حضرت نوحؑ حضرت آدمؑ کی درازی عمر قرآن میں موجود ہیں۔ پس مسیح نہ معبودوں میں داخل ہیں اور نہ ان کی وفات حالاً ثابت ہے۔ یعنی مسیح پتھر وغیرہ کا بنا ہوا نہ تھا۔ ہاں مآلاً ضرور ہو گی۔ یعنی بعد نزول ضرور فوت ہوں گے اور مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ قبل نزول فوت ہو گئے ہیں جو کہ اس آیت سے ہرگز ثابت نہیں۔ پس اس آیت سے بھی استدلال وفات مسیح غلط ہے۔

قولہ اکیسویں آیت

یہ ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ (احزاب:٤٠) یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔ یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی ﷺ

صفحہ ٢١٩

کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔ (ازالہ اوہام ص ٦١٣ خزائن ج ٣ ص ٤٣١)

اقول: مرزا قادیانی نے نبی کے آنے میں مغالطہ دیا ہے آنا اور پیدا ہونا دو الگ الگ امور ہیں دونوں کا مفہوم ایک ہرگز نہیں ہوتا۔ زید امرتسر سے لاہور آیا۔ یا بکر قادیان سے بٹالہ میں آیا اس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہوتے کہ زید و بکر امرتسر و قادیان میں پیدا ہوئے۔ آیت خاتم النبیین میں نبیوں کی پیدائش ختم کرنے والا کے معنی ہیں کیونکہ الفاظ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِكُمْ صاف بتا رہے ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہو گا کیونکہ باپ کسی رجل کے نہ ہونے کی علت غائی یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی اگر آپ ﷺ کا بیٹا ہوتا اور زندہ رہتا تو نبی ہوتا جیسا کہ حدیث لو کان ابراہیم حیا لکان نبی سے ثابت ہے یعنی اگر حضور ﷺ کا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہوتا اس واسطے خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ محمد ﷺ جو کسی مرد کا باپ نہیں اس کی علت غائی یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی و رسول پیدا نہ ہو گا حضور ﷺ کا بیٹا ابراہیم اسی واسطے زندہ نہ رہا تا کہ محمد ﷺ کے بعد نبی نہ ہو۔ یہ سیاق عبارت بتا رہا ہے کہ کسی نبی کا پیدا ہونا خاتم النبیین کے برخلاف ہے اور مسلمان بھی اسی عقیدہ پر ہیں کہ بعد محمد ﷺ کے کوئی نبی پیدا نہ ہو گا کیونکہ آپ ﷺ خاتم ہیں نبیوں کے پیدا ہونے کے اور چونکہ حضرت عیسیٰ چھ سو برس پہلے حضرت خاتم النبیین ﷺ کے پیدا ہو چکے ہیں اس واسطے ان کا دوبارہ اس دنیا میں آنا ان کے دوبارہ پیدا ہونے کی دلیل نہیں ہے اور نہ جدید نبی ہونے کی وجہ ہے اس لیے نزول عیسیٰ جو کہ اوّل انجیل میں بعدہٗ قرآن میں اور اس کے بعد حدیثوں میں اور اس کے بعد اجماع امت سے ثابت ہے خاتم النبیین ﷺ کے برخلاف نہیں کیونکہ اگر کوئی جدید نبی پیدا ہوتا تو خاتم النبیین کے برخلاف ہوتا سابقہ نبی کا آنا خاتم النبیین کے برخلاف نہیں۔ باقی رہا مرزا قادیانی کا یہ فرمانا کہ میرا دعویٰ محمد ﷺ کے برخلاف نہیں میں نے بروزی رنگ میں دعویٰ کیا ہے اور محمد ﷺ کی متابعت تامہ سے مجھ کو نبوت ملی ہے یہ وہی باتیں ہیں جو کہ مسیلمہ سے لے کر مرزا قادیانی تک سب کاذب مدعیان نبوت کرتے آئے ہیں۔ مسیلمہ بھی کہتا تھا کہ اصل پیغمبر تو محمد ﷺ ہیں۔ میں ان کے ساتھ ایسا پیغمبر و نبی ہوں جیسا کہ موسیٰ کے ساتھ ہارون موسیٰ کے تابع بھی تھا اور خود بھی نبی تھا اسی طرح میں بھی نبی غیر تشریعی ہوں۔ اسی طرح اور کذاب بھی امت محمدی میں گزرے ہیں اور ضرور گزرنے تھے کیونکہ مخبر صادق حضرت محمد ﷺ کی پیشگوئی ہے کہ تیس جھوٹے نبی میری امت میں سے ہوں گے۔ جو گمان کریں گے کہ نبی اللہ ہیں حالانکہ میرے بعد کوئی نبی

صفحہ ٢٢٠

نہیں ۔ چنانچہ بہتیروں نے دعویٰ نبوت کیا اور آخر جھوٹے ثابت ہوئے جس سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ خاتم النبیین کے بعد جدید نبی پیدا نہیں ہو سکتا اگر پرانا نبی آئے تو وہ خاتم النبیین کے برخلاف نہیں ۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کا فیصلہ اس کے متعلق ناطق ہے جس کے سامنے مرزا قادیانی کے من گھڑت ڈھکوسلوں کی کوئی حقیقت نہیں جو وہ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں ۔ ام المومنین عائشہؓ سے پوچھا گیا کہ حضرت عیسٰیؑ اگر نازل ہوئے تو یہ امر خاتم النبیین کے برخلاف ہو گا تو آپ نے جواب میں فرمایا قولوا انہ خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعدہ یعنی یہ کہو کہ حضرت محمد ﷺ نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں مگر یہ مت کہو کہ ان کے بعد کوئی نبی نہ آئے گا ۔ یعنی عیسٰیؑ نبی اللہ مریم کا بیٹا جو پہلے نبی پیدا ہو چکا ہے اصالتاً نازل ہو گا ۔

(مجمع البحار ج ٥ ص ٥٠٢)

حضرت عائشہؓ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ وہی عیسٰی بیٹا مریم کا نبی ناصری بعد محمد ﷺ کے نبی اللہ ہے جو آنے والا ہے اور کوئی جدید امتی دعویٰ مسیح موعود سے نبی اللہ نہ ہو گا کیونکہ حضرت عائشہؓ نے حضرت خلاصہ موجودات محمد رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی تھی کہ آپ اجازت دیں تو میں آپ کے پہلو میں دفن کی جاؤں تو حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ میرے پاس عیسٰی بیٹا مریم کا دفن کیا جائے گا ۔ وہ قول بھی حضرت عائشہؓ کا نقل کیا جاتا ہے عن عائشۃ قالت قلت یا رسول اللّٰہ انی اری اعیش بعدک فتاذن لی ان ادفن الی جنبک فقال وانی لک بذالک الموضع مافیہ الاموضع قبری و قبر ابی بکرؓ وقبر عمرؓ و قبر عیسٰی ابن مریم۔ (ابن عساکر ج ٢٠ ص ١٥٤)

ترجمہ : فرمایا حضرت عائشہؓ نے کہ میں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میں آپ ﷺ کے بعد زندہ رہوں گی ۔ آپ ﷺ اجازت دیں تو میں آپ ﷺ کے پاس مدفون کی جاؤں ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس تو ابوبکرؓ و عمرؓ اور عیسٰیؑ بیٹے مریم کی قبر کے سوا اور جگہ نہیں ۔

ناظرین! اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسٰیؑ ضرور اصالتاً نازل ہوں گے اور حضرت عائشہؓ نے جو فرمایا کہ قولوا خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعدہ تو ان کا بھی یہی اعتقاد تھا کہ نبی اللہ عیسٰی بیٹا مریم بعد آنحضرت ﷺ کے قرب قیامت میں نزول فرمائے گا ۔ اس واسطے آپ نے ایک پرانے نبی کا آنا ذکر فرمایا جو کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے چھ سو برس پہلے پیدا ہو چکا تھا ۔ علاوہ برآں اس حدیث کی تصدیق

صفحہ ٢٢١

رسول ﷺ کی اس حدیث سے ہو چکی ہے۔ جس میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہو گا اور ٤٥ برس زندہ رہ کر نکاح کر کے اولاد پیدا کر کے پھر مرے گا۔ فیدفن معی فی قبری یعنی مقبرہ میں درمیان ابوبکر وعمر کے دفن کیا جائے گا۔ ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ اس کی قبر چوتھی قبر ہو گی۔ پس اس حدیث سے مرزا قادیانی کا تمام طلسم ٹوٹ گیا اور ذیل کے امور ثابت ہوئے۔

ہے کہ حضرت عیسیٰ نبی اللہ اصالتاً نزول فرمائیں گے۔

ہوتا۔ دوبارہ آنے کے واسطے زندگی ضروری ہے ورنہ مردے کبھی دوبارہ نہیں آتے۔

ڈھکوسلا کہ میں روحانی طور پر رسول اللہ میں بسبب کمال اتحاد کے دفن ہو گیا ہوں بالکل غلط ثابت ہوا کیونکہ حضرت عائشہؓ کی درخواست جسمانی دفن ہونے کے واسطے تھی اور اسی واسطے جگہ طلب کی تھی کیونکہ روحانی دفن کے واسطے جگہ طلب کرنے کی ضرورت نہ تھی اور روحانی دفن بہ سبب اتحاد قلبی و متابعت تامہ و محبت خالص کے حضرت عائشہؓ کو حاصل تھی کیونکہ حضور ﷺ کی زوجہ ہونے کا فخر آپ کو حاصل تھا۔ پس جسمانی دفن کے واسطے درخواست تھی اور جسمانی دفن ہی مقصود تھا جو کہ اس دلیل سے حضور ﷺ نے اجازت نہ دی کہ وہاں عیسیٰ مدینہ منورہ میں حضور کے مقبرہ میں مدفون ہوں گے اور مرزا قادیانی کا روحانی طور پر مقبرہ رسول اللہ ﷺ میں دفن ہونا ایک زٹل ہے جو حضرت خلاصہ موجودات ﷺ کی شان میں بے ادبی اور گستاخی ہے کہ ایک غلام اپنے آقا کا ہم مرتبہ ہو۔

نہ ہوتا تو جسم کے ساتھ اصالتاً نزول بھی موعود نہ ہوتا مگر چونکہ جسمانی نزول اور جسمانی دفن مذکور ہے اس لیے ثابت ہوا کہ رفع بھی جسمانی ہوا تھا۔ جو کہ اصل ہے نزول کی۔

کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے عیسیٰ بن مریم کے دفن کی جگہ اپنا مقبرہ فرمایا اور عیسیٰ بن مریم وہی نبی ناصری رسول اللہ ہے۔ مرزا قادیانی نہ رسول اللہ، نہ عیسیٰ بن مریم، نہ مدینہ شریف گئے اور نہ وہاں جا کر دفن ہوئے۔

صفحہ ٢٢٢

اس کا کوئی بدل ہو سکتا ہے۔ پس غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ کبھی عیسیٰ بن مریم نہیں ہو سکتا کیونکہ ابن مریم اس واسطے فرمایا کہ تحقیق ہو جائے کہ وہی عیسیٰ جس کا باپ نہ تھا اور جو بغیر نطفہ باپ کے پیدا ہوا تھا وہی نازل ہو گا اور مرزا قادیانی کا باپ غلام مرتضیٰ تھا اس لیے مرزا قادیانی سچے مسیح موعود نہ تھے۔

کے بعد ہوئی ہے جو کہ خاتم النبیین کے برخلاف ہے اور مرزا قادیانی کا ڈھکوسلا کہ میں بہ سبب متابعت رسول اللہ ﷺ کے رسول اللہ ہو گیا ہوں غلط ہوا کیونکہ متابعت تامہ رسول اللہ ﷺ کے سوا حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ و علیؓ کے کسی نے نہیں کی۔ جب صحابہ کرامؓ متابعت تامہ سے نبی و رسول نہ ہوئے تو جس شخص نے متابعت ناقص بھی نہیں کی اور قدم قدم پر رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرتا ہے وہ کیونکر تابعدار کامل ہو سکتا ہے اور کیونکر نبی و رسول کا نام پا سکتا ہے؟ جبکہ صحابہ کرام بہ سبب متابعت تامہ کے اس نام (نبی و رسول) پانے کے مستحق نہ ہوئے۔ حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کے حق میں فرمایا کہ تو مجھ سے بمنزلہ ہارون کے ہے۔ مگر چونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں لہٰذا تو نبی کا نام نہیں پا سکتا۔ دوسری حدیث میں فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا۔ پس قطعی نصوص شرعیہ ظاہر کر رہی ہیں کہ بعد محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین کے کوئی سچا نبی نہ ہو گا۔ مرزا قادیانی تو متابعت میں بھی ناقص ہیں۔ حج نہیں کیا۔ جہاد بالسیف نہیں کیا بلکہ اکثر مسائل میں صریح مخالفت رسول اللہ ﷺ کی ہے۔ مثلاً رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ وہی عیسیٰ بیٹا مریم کا جس کے میں قریب تر ہوں اور جس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں وہی اصالتاً نزول فرمائے گا اور مرا نہیں بعد نزول فوت ہو گا مسلمان اس کا جنازہ پڑھیں گے اور وہ میرے مقبرہ میں درمیان ابوبکرؓ و عمرؓ کے مدفون ہو گا مگر مرزا قادیانی منہ سے تو متابعت تامہ کے مدعی ہیں لیکن رسول اللہ ﷺ کا مقابلہ کر کے ان کو جھٹلاتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو مسیح موعود و دجال کی حقیقت معلوم نہ تھی۔ عیسیٰ فوت ہو گئے وہ ہرگز نہ آئیں گے اور نہ آ سکتے ہیں کیونکہ طبعی مردے کبھی واپس نہیں آتے۔ پس عیسیٰ نبی اللہ جس کے آنے کی خبر ہے وہ تو میں ہوں اور مسیح موعود امت میں سے ایک فرد ہو گا۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب نہیں تو اور کیا ہے؟ رسول اللہ ﷺ تو فرمائیں کہ وہی عیسیٰ بیٹا مریم کا آئے گا اور مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ نہیں ایک امتی عیسیٰ کی خو بو پر آئے گا۔ رسول اللہ ﷺ فرمائیں کہ وہ مرا نہیں۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ وہ مر گیا۔ رسول اللہ ﷺ

صفحہ ٢٢٣

فرماتے ہیں کہ میرے مقبرہ میں دفن ہوگا۔ اسی واسطے حضرت عائشہؓ کو اجازت جگہ کی نہ دی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے مقبرہ میں دفن کی جائیں۔ مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ روحانی دفن مفہوم تھا۔ جو رسول اللہ ﷺ کو علم نہ تھا اور میں روحانی طور پر رسول اللہ ﷺ کی قبر میں یعنی وجود مبارک میں مدفون ہوں۔ یعنی فنا فی الرسول کے ذریعہ سے عین محمد ہی ہوں اس واسطے میرا دعوٰیٰ نبوت خاتم النبیین کے برخلاف نہیں اور نہ مہر نبوت کو توڑتا ہے۔ یہ ایسا ردی اور باطل استدلال ہے کہ کوئی غاصب کسی شریف کا گھر بار چھین لے اور اس کا تمام مال اسباب اپنا مال اسباب سمجھے اور اس پر قبضہ کر لے۔ مگر جب اس کے وارث اس کے ظلم کی فریاد اور اس کے تصرف بے جا کی نالش شاہی عدالت میں کریں تو وہ عیار یہ کہہ دے کہ میں ان تمام وارثوں کا بروزی باپ ہوں اور یہ سب کچھ میرا اپنا ہے کیونکہ ان کے دادا صاحب کی متابعت میں نے پوری پوری کی ہے اور اس کی محبت میں ایسا فنا ہو گیا ہوں کہ عین وہی ہو گیا ہوں۔ اس واسطے میرا دعوٰیٰ اور قبضہ کوئی مخالفانہ قبضہ نہیں بلکہ میں تو خود وہی ہوں۔ ان وارثوں اور مدعیوں کا مورث اعلیٰ ہی ہوں۔ ان کے وارث اعلیٰ کا بروز ہوں بلکہ وہی ہوں۔ کیا عدالت شاہی میں اس عیار کی تقریر بے نظیر سن کر بادشاہ اس کو مورث اعلیٰ سمجھ کر تمام اموال و املاک کی ڈگری دے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں تو پھر احکم الحاکمین جو خفی اور جلی کے جاننے والا ہے خبیر وعلیم ہے وہ مرزا قادیانی کے اس ڈھکوسلے پر رسول اللہ ﷺ کی رسالت و نبوت و امت کس طرح دے سکتا ہے؟ اور رسول اللہ ﷺ کو معزول کر کے نجات کا مدار مرزا قادیانی کی بیعت پر رکھ سکتا ہے؟ دور نہ جاؤ ذرہ کوئی بروزی ڈپٹی کمشنر ہی بن کر دیکھ لے کہ ڈپٹی کمشنر مانا جاتا ہے اور ضلع کی کچہری اس کو دی جاتی ہے یا سیدھا جیل خانے بھیجا جاتا ہے؟ افسوس مرزا قادیانی کو خود غرضی اور غرور نفس نے یہاں تک دھوکا دیا ہے کہ واقعات اور مشاہدات کے برخلاف کہتے ہوئے بھی نہیں جھجکتے۔ اور قابو یافتگان کو ایسا الو بنایا ہے کہ وہ حواس کھو بیٹھے ہیں جو کچھ مرزا قادیانی نے کہہ دیا سب رطب و یابس قبول ہے۔ کیا لطف کی بات ہے کہ اگر کوئی غیر شخص رسول اللہ ﷺ کا مقابلہ کرے تو محمد رسول اللہ ﷺ کو بڑا رنج وغصہ ہو اور اگر مرزا قادیانی نبوت و رسالت کا دعوٰیٰ کریں تو سچے اور عین محمد رسول اللہ بن جائیں؟ حالانکہ یہ کلیہ قاعدہ ہے کہ غیر کا مقابلہ کرنا ایسا رنجیدہ اور مذموم نہیں جیسا کہ اپنا فرزند یا عزیز دوست مقابلہ کرے تو رنج ہوتا ہے کیا رسول اللہ ﷺ ایک امتی کے دعوٰیٰ نبوت سے خوش تھے یا غضبناک تھے؟ یعنی مسیلمہ مسلمان تھا اور امتی تھا اور ایسا ہی اسود عنسی امتی تھا اور

صفحہ ٢٢٤

مرزا قادیانی سے متابعت میں بڑھا ہوا تھا کیونکہ اس نے حج بھی کیا تھا۔ یہ دعویٰ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ہوئے۔ کیا رسول اللہ ﷺ اس وقت خوش ہوئے تھے یا غضبناک؟ ظاہر ہے ایسے غضبناک ہوئے کہ ان مدعیان کو جو امتی تھے کافر قرار دیا اور ان پر قتال کا حکم صادر فرمایا چنانچہ تاریخ اسلام میں لکھا ہے کہ بارہ ہزار صحابیؓ معرکہ مسیلمہ میں کام آئے اور مسیلمہ کی طرف سے بھی بے شمار قتل ہوئے پس اگر امتی نبی کا ہونا جائز ہوتا یا موجب فضیلت رسول اللہ ﷺ کا ہوتا تو پھر مسیلمہ کیوں کاذب سمجھا جاتا؟ اس میں تو بقول مرزا قادیانی کے رسول اللہ ﷺ نبی گر ہوتا تھا اور شان محمدی دوبالا ہوتی تھی۔ جن کی پیروی سے مسیلمہ و اسود عنسی متابعت محمد ﷺ سے نبی و محمد ﷺ بن گئے اور رسول اللہ ﷺ کے نبی گری سے نبوت و رسالت کی ڈگری حاصل کی تھی۔ اگر یہ ڈھکوسلا سچا ہوتا تو اس قدر کشت و خون کیوں ہوتا؟ اور اگر امتی نبی سچا ہوتا اور اس کے پیرو سچے اور حق پر ہوتے تو پھر اس قدر خونریزی جماعت اسلام میں کیوں روا رکھی جاتی؟ اور کیوں بے شمار مسلمان طرفین کے مارے جاتے؟ ان واقعات سے ثابت ہے کہ کسی امتی کا دعویٰ نبوت کرنا رسول اللہ ﷺ کے غضب کا باعث ہے۔ چاہے کاذب مدعی زبان سے کہے کہ میں فنا فی الرسول ہوں۔ مگر حقیقت میں وہ دشمن رسول خدا ﷺ ہے اور مقابلہ کرنے والا ایک باغی ہے۔ بھلا غور تو کرو رسول اللہ ﷺ فرمائیں کہ ابن مریم نبی اللہ ہوگا جو مسیح موعود ہے مگر وفا دار غلام کہتا ہے کہ نہیں صاحب وہ تو امتی ہوگا اور جو بجائے مریم کے بیٹے کے غلام مرتضیٰ کا بیٹا ہوگا اور بجائے دمشق میں نازل ہونے کے قادیان (پنجاب) میں پیدا ہوگا اور بجائے آسمان سے نازل ہونے کے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوگا۔ بھلا ایسا صریح مخالف شخص دعویٰ فنا فی الرسول میں سچا ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ جب حضرت عمرؓ و علیؓ جیسے جنھوں نے جان و مال قربان کر ڈالا ہر ایک تکلیف میں رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیا۔ فقر و فاقے برداشت کیے تین تین دن کے بھوکے پیاسے جنگ کرتے رہے وہ تو متابعت تامہ سے نبی نہ ہوئے مگر ایک شخص گھر بیٹھا ہوا مزے اُڑاتا تارک حج و دیگر فرائض۔ مسلمانوں کا مال دین کی حمایت کے بہانہ سے بٹور کر عیش کرتا ہوا فنا فی الرسول کے مرتبہ کو پہنچ کر رسول اللہ ﷺ و نبی اللہ بن جائے اور اس پر ابلہ فریبی یہ کرے کہ حضرت عیسیٰ نبی اللہ کے آنے سے جو پہلے نبی تھا خاتم النبیین کی مہر ٹوٹتی ہے اور میرے دعویٰ نبوت و رسالت سے جو کہ مسیلمہ کی مانند متابعت سے ہے خاتم النبیین کی مہر سلامت رہتی ہے ایک ایسا دروغ بے فروغ ہے جو اپنی آپ ہی نظیر ہے کیونکہ تیرہ سو برس سے اتفاق

صفحہ ٢٢٥

امر اسی پر چلا آتا ہے کہ ایک مسلمان شخص امتی تب ہی تک ہے جب تک خود نبوت و رسالت کا دعویدار نہ ہو۔ جب خود نبوت کا مدعی ہوا امت رسول اللہ ﷺ سے خارج ہوا کیونکہ نبوت و رسالت کے دعویٰ سے وہ تو خود رسول اللہ ﷺ بن بیٹھا۔ اب مرزا قادیانی نبی و رسول بھی بنتے ہیں اور مہر نبوت کی بھی فکر ہے کہ وہ بھی سلامت رہے۔ اس واسطے اپنا نام امتی نبی و غیر تشریعی نبی و بروزی و ظلی نبی رکھتے ہیں اور یہ خبر نہیں کہ مجھ سے پہلے ایسے ہی مدعی گزرے کہ جو امتی بھی تھے اور نبی بھی تھے۔ جب وہ کاذب ثابت ہوئے تو میں کیونکر اس الٹے منطق سے سچا نبی ہو سکتا ہوں؟ کیونکہ دعویٰ نبوت بہرحال شرک فی النبوۃ ہے اور شرک ایک ایسا فعل مذموم ہے کہ تمام گناہ تو خدا تعالیٰ بخش دے گا۔ مگر شرک ہرگز نہ بخشے گا۔ جب بے نیاز خدا کو اپنا شریک منظور نہیں تو رسول اللہ ﷺ کو اپنا شریک کس طرح گوارا ہو سکتا ہے؟ پس یہ بالکل غلط منطق ہے کہ چونکہ حضرت محمد ﷺ مثیل موسیٰ تھے اور موسیٰ کے بعد نبی آتے رہے۔ اس میں محمد ﷺ کی ہتک ہے کہ ان کے فیضان سے کوئی نبی نہ ہو۔ جس کا جواب یہ ہے کہ موسیٰ کے ساتھ نبیوں کے بھیجنے کا وعدہ تھا جیسا کہ قرآن میں ہے وَقَفَّیْنَا مِنْ بَعْدِہٖ بِالرُّسُلِ یعنی موسیٰ ؑ کے بعد رسول آتے رہیں گے اور موسیٰ ؑ کو خاتم النبیین نہیں فرمایا تھا مگر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا گیا ہے یعنی جس کے بعد کوئی نبی نہیں بھیجا جائے گا۔ دوم یہ غلط ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت محمد ﷺ میں مماثلت تب ہی کامل ہو سکتی ہے جبکہ محمد ﷺ کے بعد بھی نبی آئیں کیونکہ واقعات اور توراۃ سے ثابت ہے کہ موسیٰ ؑ کی وفات کے ساتھ ہی حضرت یوشع مبعوث ہوئے اور لگاتار ایک نبی کے مرنے کے بعد دوسرا نبی آ جاتا تھا بلکہ ایک ہی زمانہ میں بہت نبی آئے حتیٰ کہ چودہ سو برس کے عرصہ میں بہت نبی آئے۔ مگر محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد قریب قریب اسی عرصہ یعنی ١٣ سو برس سے زیادہ عرصہ گزرا اور کوئی نبی نہ آیا تو ثابت ہوا کہ خدا کے قول خاتم النبیین کی تصدیق خدا کی فعل نے کر دی۔ یعنی پہلے خدا نے فرمایا کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ بھیجیں گے اور اس عرصہ دراز تیرہ سو برس سے اوپر میں کوئی سچا نبی نہ بھیجا جس سے ثابت ہوا کہ خدا کو ہرگز منظور نہیں کہ اس کے حبیب کا کوئی شریک ہو اور کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ جو مسلمانوں کا دین و ایمان ہے اس میں صاف ہدایت ہے کہ شریک جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے ساتھ منع ہے اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات کے ساتھ بھی منع ہے یعنی لا نافیہ جیسا کہ اللہ پر ہے ویسا ہی محمد ﷺ پر ہے جس کا

صفحہ ٢٢٦

مطلب یہ ہے کہ جس طرح لا الہ الا اللہ ہے ایسا ہی لا رسول۔ الا محمد رسول اللہ ہے۔ جیسا کہ مشرک بخدا مشرک اور کافر ہے ویسا ہی مشرک برسول مشرک اور کافر سے بدتر ہے۔ کیونکہ محمد ﷺ کو رسول مان کر اس کی غلامی قبول کر کے پھر بغاوت کر کے خود ہی رسالت و نبوت میں شریک ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ ہر ایک مومن کو اس خیال باطل سے بچائے اور ظلی و بروزی کا ڈھکوسلا ایسا باطل ہے کہ جس کی سزا زمانہ موجودہ میں بھی پھانسی ہے۔ کوئی شخص بادشاہ وقت کا بروز و ظل بن کر بادشاہت کا دعویٰ کر کے دیکھ لے کہ اس کو کیا سزا ملتی ہے؟ کیا محمد رسول اللہ ﷺ اپنے شریک نبوت و رسالت کو چھوڑ دے گا؟ ہرگز نہیں یہ گناہ ہی ایسا ہے کہ قابل معافی نہیں اس کی نظیر موجود ہے کہ مسیلمہ پر قتال کا حکم حضور ﷺ نے دیا۔ کیا آپ ﷺ کسی اور مدعی رسالت کو چھوڑ دیں گے؟ ہرگز نہیں۔ مگر مرزا قادیانی کی منطق پر تعجب آتا ہے کہ ظل و بروز دو حالت سے خالی نہیں۔ یا تو عین ظل لہ ہے یا اسکا عکس ہے۔ اگر عین ہے تو یہ غلط ہے کہ پہلی بعثت میں تو اس قدر بہادر کہ کفار عرب کے چھکے چھڑا دیے اور سترہ جنگیں کیں اور بعثت ثانی میں (نعوذ باللہ) ایسے ڈرپوک اور بزدل کہ جنگ و جدال کے تصور سے غش کھا جاتے اور ڈر کے مارے حج کے لیے نہ گئے۔ ایک ڈپٹی کمشنر کے حکم سے الہام بند ہو گئے۔ پہلی بعثت میں اس قدر کامیاب کہ یتیمی کی حالت سے کامیاب ایسے ہوئے کہ شہنشاہ عرب ہو گئے اور تمام عرب کو کفر سے پاک کر دیا اور بعثت ثانی میں اس قدر نامراد کہ تمام عمر عیسائیوں کی غلامی میں رہے اور آریوں کی کچہریوں میں مارے مارے پھرے جن کو صفحہ ہستی سے محو و نابود کرنے کا دعویٰ تھا اور انہی کی عدالتوں میں ملزمانہ حیثیت سے کھڑے ہوتے رہے۔ پہلی بعثت میں دین اسلام کو تمام مذاہب پر غالب کر دکھایا اور بعثت ثانی میں ایسے مغلوب ہوئے کہ اہل ہنود آریہ صاحبان کے بزرگوں رام چندر جی اور کرشن جی اور بابا نانک صاحب وغیرہم کو نہ صرف نبی و رسول مانا بلکہ خود ہی کرشن کا اوتار بن گئے اور ایک چھوٹا سا گاؤں قادیان بھی کفر سے پاک صاف نہ ہوا۔ قادیان جس کو دارالامان کہا جاتا ہے اس میں برابر سکھ آریہ و سناتن دھرم والے موجود ہیں۔ پہلی بعثت میں صاحب وحی رسالت و شریعت ہو اور بعثت ثانی میں اس سے یہ منصب چھینا جائے اور وحی رسالت سے محروم کیا جائے۔ صرف الہام ہو جو ظنی ہے۔ کیا اس میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ہتک نہیں کہ ایک عام امتی کہے کہ میں عین محمد ﷺ ہوں اور میرا دعویٰ نبوت محمد ﷺ کے برخلاف نہیں۔ بیشک حضرت خلاصہ موجودات خاتم النبیین کی ہتک ہے کہ ایسا شخص جس میں کوئی صفت

صفحہ ٢٢٧

محمد ﷺ کی نہیں اپنے آپ کو عین محمد ﷺ کہے اور جھوٹا دعویٰ نبوت کرے۔

دوسرا طریق ظل و بروز کا یہ ہے کہ مدعی دعویٰ کرے کہ میں بہ سبب کمال محبت و متابعت کے اصل شخص کا ظل یعنی سایہ ہوں۔ یہ مقام تو کم و بیش ہر ایک مسلمان کو حاصل ہے اور ایسے ایسے عاشقان رسول مقبول گزرے ہیں کہ نام سنتے ہی جان نکل گئی۔

حضرت خواجہ اویس قرنیؒ نے جب سنا کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے دندان مبارک شہید ہو گئے تو آپ نے کمال محبت کے جوش میں خیال فرمایا کہ یہ دانت حضور ﷺ کے شہید ہوں گے۔ چنانچہ اپنے دو دانت توڑ ڈالے۔ پھر خیال آیا کہ شاید آپ کے یہ دانت نہ ہوں پھر دوسرے اپنے دو دانت توڑ ڈالے۔ اسی خیال میں اپنے تمام دانت توڑ ڈالے اور اس طرح سے محبت نبوی کا ثبوت دیا جو تاقیامت یادگار رہے گا۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بستر مبارک پر اس نیت سے سو گئے کہ رسول اللہ ﷺ بچ جائیں اور میں آپ ﷺ کی بجائے شہید ہو جاؤں۔

یہ تھے اصلی محبّت رسول اللہ ﷺ کے سچے مدعی اور متابعت بھی صحابہ کرامؓ کی اظہر من الشمس ہے۔ مگر وہ تو نہ عین محمد ﷺ ہوئے اور نہ انھوں نے محبت اور متابعت سے نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا۔

اب مرزا قادیانی کا حال سنئے کہ آقا ﷺ فرماتا ہے کہ وہی عیسیٰ نبی اللہ ابن مریم آخری زمانہ میں آسمان سے دمشق میں نازل ہو گا۔ مگر مرزا قادیانی اپنی تابعداری کا یہ ثبوت دیتے ہیں کہ عیسیٰ مر گیا۔ امت محمدی میں سے ایک شخص عیسیٰؑ کی صفات پر پیدا ہو گا اور مرزا قادیانی کو یاد نہ رہا کہ میں تو عین محمد ہوں۔ محمد ہو کر عیسیٰ صفت ہونا بالکل لغو ہے۔ محمد ﷺ کے عاشق صادق کو عیسیٰ سے کیا کام؟ اور عیسیٰ صفت ہونا محمد ﷺ ہونے کے برخلاف ہے۔ آقا فرماتا ہے کہ خدا نے مجھ کو فرمایا ہے قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ اَللّٰهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَّهُ كُفُواً اَحَدٌ ”یعنی کہہ دے اے محمد ﷺ اللہ ایک ہے اور اللہ پاک ہے۔ نہیں جنا اور نہ جنا ہوا اور کوئی شریک نہیں۔“ مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ نہیں اللہ تعالیٰ جنتا ہے اور اس نے مجھ کو کہا کہ ”انت منی بمنزلۃ ولدی“ (حقیقۃ الوحی ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) کہ اے غلام احمد قادیانی تو ہمارے بیٹے کی جا بجا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا کا کوئی اصلی بیٹا ہے جس کے جا بجا مرزا قادیانی تھے انت من مائنا و هم من فشل (اربعین نمبر ٣ ص ٣٤ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٤) کہ اے مرزا تو ہمارے پانی یعنی نطفہ سے ہے اور وہ لوگ خشکی سے۔ آقا فرماتا ہے کہ فیدفن معی فی

صفحہ ٢٢٨

قبری ۔ یعنی عیسیٰ بعد نزول فوت ہوگا اور میرے مقبرہ مدینہ میں مدفون ہو گا۔ تابعدار کامل یعنی مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ نہیں صاحب عیسیٰ مر چکا تھا اور رسول اللہ ﷺ کو اس کا علم نہ تھا وہ تو کشمیر میں مدفون ہے۔

مسلمانو! عقل خداداد سے سوچو کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ جماعت صحابہ کرامؓ کے ساتھ ابن صیاد جس کو دجال سمجھا گیا تھا تشریف لے جاتے ہیں اور حضرت عمرؓ اجازت طلب کرتے ہیں کہ میں اس کو قتل کر دوں تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ تو دجال کا قاتل نہیں ۔ دجال کا قاتل حضرت عیسیٰؑ ہے جو بعد نزول دجال کو قتل کرے گا۔ اس وقت حضرت عمرؓ سر تسلیم خم کرتے ہیں اور یہ نہیں کہتے کہ حضرت عیسیٰؑ تو مر چکے ہیں وہ کیونکر دوبارہ آئیں گے؟ مگر مرزا قادیانی کی متابعت کا یہ حال ہے کہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سمجھ نہ سکے (نعوذ باللہ) یہ متابعت ہے یا مخالفت کہ صاف لکھتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں دفن ہونا استعارہ ہے۔

ناظرین! یہ ہے ثبوت مرزا قادیانی کا، کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قدم قدم پر مخالفت ہے کیا کوئی نظیر صحابہ کرامؓ کی پیش ہو سکتی ہے کہ انھوں نے مخالفت رسول اللہ ﷺ کی کی ہو؟ ہرگز نہیں تو پھر معلوم ہوا کہ صرف زبانی دعویٰ محبت رسول اللہ ﷺ کا مرزا قادیانی کی طرف سے جھوٹا ہے۔ اب ایسے حالات کے ہوتے ہوئے کون تسلیم کر سکتا ہے کہ مرزا قادیانی محبت رسول اللہ ﷺ کے دعویٰ میں سچے تھے؟ محبت کا تو یہ تقاضا ہے کہ وہ غیر جانب منہ کرنے نہیں دیتی چہ جائیکہ صریح مخالفت کی جائے اور مخالفت کس کی؟ جس کے عشق کا دعویٰ ہے ع باطل است آنچہ مدعی گوید۔‘‘ کا مصداق ہے نہ کہ عاشق رسول اللہ ﷺ ۔ جب عشق و محبت رسول اللہ ﷺ ناقص ہے بلکہ مخالفت رسول اللہ ﷺ کی افعال سے ثابت ہے تو پھر ظلی و بروزی نبوت بھی کاذبہ نبوت ہے جیسی کہ مسیلمہ وغیرہ کذاب مدعیان نبوت کی تھی اور بیشک ایسا دعویٰ خاتم النبیین کی مہر کو توڑنے والا ہے اور یہ مرزا قادیانی کا کہنا بالکل غلط ہے کہ میرے دعویٰ نبوت سے مہر خاتم النبیین سلامت رہتی ہے۔

باقی رہا مرزا قادیانی کا یہ اعتراض کہ اگر عیسیٰؑ تشریف لائیں تو وحی رسالت کا آنا بھی ہو گا۔ اصل عبارت مرزا قادیانی کی لکھ کر جواب دیا جاتا ہے۔

’’مسیح ابن مریم رسول ہے اور رسول کی حقیقت و ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرئیلؑ حاصل کرے اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تابقیامت منقطع ہے۔‘‘ الخ

(ازالہ ص ٦١٢ خزائن ج ٣ ص ٤٣٤)

صفحہ ٢٢٩

الجواب: مرزا قادیانی کا حافظہ عجیب قسم کا تھا۔ اسی کتاب میں تسلیم کر چکے ہیں (اصل الفاظ مرزا قادیانی) ”یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم اس امت کے شمار میں ہی آگئے ہیں۔“ (ازالہ ص ٦٢٣ خزائن ج ٣ ص ٤٣٦) اس اقرار کے ہوتے ہوئے اب فرماتے ہیں کہ اس کو یعنی مسیح کو جو رسول ہے۔ اس کی ماہیت و حقیقت میں داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرئیل کے حاصل کرے۔ افسوس مرزا قادیانی کو قرآن شریف کے برخلاف قیاس کرنے میں خدا کا خوف نہیں۔ جب دین محمد ﷺ کامل ہے اور اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ خدا فرما رہا ہے تو پھر مسیح رسول کو کون سے دینی علوم بذریعہ جبرئیل لینے ہوں گے۔ کیا مسیح ناسخ دین محمدی ﷺ ہو گا؟ ہرگز نہیں تو پھر یہ اعتراض کیونکر درست ہو سکتا ہے کیونکہ اگر مسیح ؑ پر جبرئیل وحی رسالت لائے تو شریعت محمدی ﷺ پر اس کا حکم کرنا جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے باطل ہوتا ہے کیونکہ جب جبرئیل تازہ وحی لائے تو قرآنی وحی منسوخ ہوئی اور اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي نعوذ باللہ غلط ہوتا ہے۔ پس یہ طبعزاد امر آپ کا کہ رسول کے واسطے ہمیشہ جبرئیل کا آنا لازمی امر ہے غلط ہے۔ کیونکہ کسی نص شرعی میں نہیں ہے کہ مسیح موعود پر جبرئیل وحی لائے گا۔ بلکہ اجماع امت اسی پر ہے کہ مسیح موعود باوجود رسول ہونے کے رسول اللہ ﷺ کی امت میں شمار ہوگا۔ جیسا کہ محی الدین ابن عربیؒ فتوحات مکیہ کے باب ٩٣ میں فرماتے ہیں۔ ”جاننا چاہیے کہ امت محمدیہ ﷺ میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو ابوبکر صدیقؓ سے سوا کے عیسیٰؑ کے افضل ہو کیونکہ جب عیسیٰؑ فرود ہوں گے تو اسی شریعت محمدی سے حکم کریں گے اور قیامت میں ان کے دو حشر ہوں گے۔ ایک حشر انبیاء کے زمرہ میں ہو گا اور دوسرا حشر اولیاء کے زمرہ میں ہو گا۔“ الخ

حضرت شیخ اکبرؒ صاحب کشف والہام ہے اور مرزا قادیانی اور ان کے مرید اس کو مانتے ہیں اس واسطے شیخ اکبر کی تحریر مسلمہ فریقین ہے۔ حضرت شیخ کی اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ بعد نزول اسی شریعت محمدی پر عمل کریں گے۔ باوجودیکہ وہ خود رسول ہوں گے۔ مگر چونکہ شریعت محمدی کامل شریعت ہے اس واسطے ان کو بعد نزول وحی رسالت نہ ہوگا۔ دوسرے اولیاء امت کی طرح ان کو بھی الہام ہو گا۔

وحی رسالت بیشک رسول کے واسطے لازمی امر ہے اور حضرت عیسیٰؑ کے پاس پہلے ضرور جبرائیل وحی رسالت لایا کرتے تھے۔ مگر وہ آنا محمد رسول اللہ ﷺ کے پہلے تھا جو کہ ان کی رسالت کا لازمہ تھا اور وہ اسی وحی رسالت سے رسول ہوئے تھے اور صاحب

صفحہ ٢٣٠

انجیل رسول تھے۔ مگر یہ اعتراض مرزا قادیانی کا غلط ہے کہ بعد نزول بھی ان کو وحی رسالت ہونا ضروری ہے کیونکہ رسول کو علم دین بذریعہ جبرائیل ملتا ہے اور نزول جبرئیل بعد خاتم النبیین ﷺ کے چونکہ مسدود ہے اس لیے عیسیٰ رسول پر بھی بعد خاتم النبیین ﷺ کے نہیں آ سکتے اس اعتراض کے غلط ہونے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ رسول کے واسطے ضروری نہیں کہ ہر ایک وقت بلا ضرورت بھی اس کے پاس جبرئیل وحی رسالت لاتا رہے اور نہ وحی رسالت کے بند ہونے سے کسی رسول کی رسالت جاتی رہتی ہے۔ حضرت خاتم النبیین ﷺ کے پاس کتنی کتنی مدت تک جبرائیل نہ آتے تھے تو کیا ان کی رسالت (معاذ اللہ) جاتی رہتی تھی اور پھر جب جبرائیل آتے تھے تب پھر وہ رسول ہو جاتے تھے؟ ہرگز نہیں تو پھر یہ مرزا قادیانی کا بالکل غلط خیال ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے تو ان کے واسطے وحی رسالت بھی جبرائیل ضرور لائے گا اور ایک دوسرا قرآن بن جائے گا کیونکہ رسول کے واسطے ضروری نہیں کہ ہر حال اور ہر آن میں وحی رسالت اس کے پاس جبرائیل لاتا رہے۔ دوسری وجہ اس اعتراض کے غلط ہونے کی یہ ہے کہ چونکہ دین اسلام کامل ہے اور اس میں کمی بیشی کی ضرورت نہیں اس واسطے جبرائیل کا آنا ضروری نہیں اور نہ کسی وحی رسالت کی ضرورت ہے کیونکہ وحی رسالت بعد خاتم النبیین ﷺ کے آئے گا تو وہ دو حال سے خالی نہ ہوگا۔ یا تو کچھ احکام منسوخ ہوں گے یا زیادہ ہوں گے۔ اور یہ خیال باطل ہے کیونکہ پھر شریعت اسلام کامل نہ رہی۔ جب دین کامل نہ رہا اور اس میں کمی بیشی کی گئی تو پھر صاحب شریعت حضرت خاتم النبیین ﷺ افضل نہ رہے اور نہ اکمل رہے۔ پھر تو افضل واکمل عیسیٰؑ ہوں گے اور یہ عقیدہ باطل و فاسد ہے۔ اس لیے وحی رسالت کی نہ ضرورت ہوگی اور نہ وحی رسالت بواسطہ جبرائیل آئے گی۔ باقی رہا یہ اعتراض کہ حضرت عیسیٰؑ کا کیا قصور کہ اس کی رسالت چھینی جائے اور اس کو امتی بنایا جائے۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ آپ نے کس طرح سمجھ لیا کہ حضرت عیسیٰؑ کی بعد نزول اپنی نبوت و رسالت چھینی جائے گی اور وہ معزول ہوں گے۔ جب نظیریں موجود ہیں اور نص قرآنی ثابت کر رہی ہے کہ سب انبیاء علیہم السلام حضرت خاتم النبیین ﷺ کی امت میں شمار ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ سب نبیوں سے اقرار لے چکا ہے کہ وہ خاتم النبیین کی تابعداری کریں گے اور ضرور اس پر ایمان لائیں گے پڑھو قرآن کریم کی آیت شریف وَإِذْ أَخَذَ اللّٰهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ. (آل عمران ٨١) ترجمہ (جب

صفحہ ٢٣١

خدا نے نبیوں سے اقرار لیا جو کچھ میں نے تم کو کتاب اور حکمت دی ہے۔ پھر جب تمہاری طرف رسول آئے جو تمہاری سچائی ظاہر کرے گا تو تم ضرور اس پر ایمان لاؤ گے اور ضرور اس کی مدد کرو گے) اور معراج والی حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام و موسیٰ علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام نے حضور خاتم النبیین ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی اور حضور انبیاء کے امام بنے اور اولوالعزم رسول آپ ﷺ کے مقتدی ہوئے۔ جب ان تمام رسولوں اور نبیوں کی رسالت بحال رہی تو حضرت عیسیٰؑ جب بعد نزول شریعت محمدی پر خود عمل کریں گے یا اپنی امت کو اس پر عمل کرائیں گے تو ان کی رسالت کیونکر جاتی رہے گی؟ فرض کرو ایک جرنیل ہے اور وہ دوسرے جرنیل کی زیر کمان کسی خاص ڈیوٹی پر لگایا گیا تو اس جرنیل کی جرنیلی میں کچھ فرق نہیں آتا۔ ہاں اتنا ضرور ہوتا ہے کہ جس جرنیل کے ماتحت یہ جرنیل جاتا ہے اس کی علو شان ظاہر ہوتی ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول اگر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت کی متابعت کریں گے اور دین اسلام کی امداد کریں گے تو اپنا وعدہ جو روز میثاق میں کر چکے ہیں اسے وفا کریں گے ان کی اپنی نبوت و رسالت بدستور بحال رہے گی جیسا کہ حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا روز قیامت میں انبیاء علیہ السلام کے زمرہ میں بھی حشر ہو گا اور اولیاء کے زمرہ میں بھی۔ یہ کام تو ان کی فضیلت کا باعث ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی امت کے اولیاء کرام میں بھی ان کا حشر ہو گا اور یہ ان کی اپنی دعا کا نتیجہ ہے۔ دیکھو انجیل برنباس فصل ٢١٢ ص ٢٩٤ ’’اے رب بخشش والے اور رحمت میں غنی تو اپنے خادم (عیسیٰ علیہ السلام) کو قیامت کے دن اپنے رسول (محمد ﷺ) کی امت میں ہونا نصیب فرما۔‘‘ الخ

ناظرین ذرا غور فرمائیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کیسا فنا فی الرسول ہونے کا مدعی ہے کہ حضرت خاتم النبیین ﷺ کی افضلیت دنیا پر ظاہر ہونے سے گھبراتا ہے اور نہیں چاہتا کہ رسول اللہ ﷺ کی علو شان دنیا پر ظاہر ہو۔ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی کس قدر عظمت و شان اس دن ظاہر ہو گی۔ جس دن عیسائیوں کا معبود حضرت خلاصہ موجودات ﷺ کی امت میں ہو کر ایک امام کی ڈیوٹی بجا لائے گا اور دنیا پر اور اس وقت کے یہود و نصاریٰ پر اپنی زبان سے اپنا معبود اور خدا نہ ہونا ان کو بتائے گا اور تمام اہل کتاب ان کی عدم مصلوبیت پر و حیات پر ایمان لائیں گے حدیث میں اسی بات کی طرف رسول اللہ ﷺ نے اشارہ فرمایا ہے عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ

صفحہ ٢٣٢

كيف انتم اذا انزل ابن مريم من السماء فيكم و امامكم منكم. (رواه البیہقی فی كتاب الاسماء والصفات ص ٤٢٤ باب فی قول اللہ عزوجل یعیسی انی متوفیک و رافعک الی) ترجمہ ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول خدا ﷺ نے کیا حالت ہو گی تمہاری جب ابن مریم عیسیٰؑ تم میں آسمان سے اتریں گے اور تمہارا امام مہدی بھی تم میں موجود ہوگا۔ یعنی اس روز مسلمانوں کی شان وشوکت اور میری عظمت دنیا پر ظاہر ہو گی جبکہ عیسیٰؑ آسمان سے اتریں گے مگر افسوس مرزا قادیانی کو شان احمدی کے ظہور کی کوئی خوشی نہیں اور صرف عیسیٰ کی نبوت کا فکر پڑ گیا کہ وہ معزول کیوں ہوں گے۔ فکر کیوں نہ ہو خود جو عیسیٰ صفت ہیں مگر یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ عیسیٰ صفت ہو کر عین محمد کس طرح ہوئے اور بروزی نبوت کس طرح پائی؟ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ”خاتم النبیین ﷺ کی آیت میرے لیے مانع نہیں کیونکہ فنا فی الرسول ہو کر میں بھی محمد رسول اللہ ﷺ کا جزو بن گیا ہوں ۔“ (ملخص ازالہ اوہام ص ٥٧٥ خزائن ج ٣ ص ٤١٠) جب خاتم النبیین ﷺ کی مہر جدید امتی نبی کے دعویٰ سے بقول مرزا قادیانی نہیں ٹوٹتی تو جو خاتم النبیین ﷺ سے چھ سو برس پہلے نبی ہو چکا ہے اس کے دوبارہ آنے سے کیونکر ٹوٹ سکتی ہے؟ اور جب اس کا دوبارہ آنا نصوص شرعی سے ثابت ہے اور دوبارہ آنے کے واسطے حیات لازم ہے کیونکہ طبعی مردے کبھی اس دنیا میں واپس نہیں آ سکتے تو ثابت ہوا کہ مسیح زندہ ہے اور اس آیت سے بھی استدلال وفات مسیح پر مرزا قادیانی کا غلط ہے۔

قولہ بائیسویں آیت

یہ ہے فَاسْئَلُوْا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ . (النحل ٤٣) یعنی اگر تمہیں ان بعض امور کا علم نہ ہو جو تم میں پیدا ہوں تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو اور ان کی کتابوں کے واقعات پر نظر ڈالو تا اصل حقیقت تم پر منکشف ہو جائے ۔“

(ازالہ ص ٦١٧ خزائن ج ٣ ص ٤٣٣)

اقول: ”چشم ما روشن دل ماشاد۔“ بیشک آپ اناجیل کی طرف رجوع فرمائیں اگر اہل کتاب حضرت عیسیٰؑ کی حیات کے قائل پائے جائیں اور اصالتاً نزول کے معتقد ہوں تو ہم سچے اور مرزا قادیانی جھوٹے اور اگر اہل کتاب حضرت عیسیٰؑ کو مردہ اعتقاد کرتے ہیں اور انجیلوں میں ان کی وفات لکھی ہے اور بروزی نزول لکھا ہے تو مرزا قادیانی سچے اور ہم جھوٹے۔ مگر انجیل رفع جسمانی و نزول جسمانی بتاتی ہے (دیکھو انجیل متی باب ٢٤ آیت ٣) جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا اس کے شاگرد اس کے پاس آئے اور بولے کہ

صفحہ ٢٣٣

یہ کب ہو گا اور تیرے آنے کا اور دنیا کے اخیر کا نشان کیا ہے۔ (آیت ٤) اور یسوع جواب دے کر انھیں خبردار رہو کہ کوئی تمھیں گمراہ نہ کرے۔ (آیت ٥) کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہتوں کو گمراہ کریں گے الخ۔ اس انجیل کے حوالہ سے ذیل کے امور ثابت ہیں۔

ہو گا کیونکہ مسیح کے شاگردوں کا سوال ظاہر کرتا ہے کہ مسیح نے شاگردوں کو فرمایا کہ میں خود ہی قرب قیامت میں آؤں گا۔ اسی واسطے شاگردوں کا سوال انجیل میں درج ہے اور تیرے آنے کا اور دنیا کے اخیر کا نشان کیا ہے۔

ہے جیسا کہ لکھا ہے ”بہتیرے میرے نام پر آئیں گے“ چنانچہ مسیح کے نام پر بہت سے آ بھی چکے ہیں جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں۔ آٹھ آدمیوں نے مرزا قادیانی سے پہلے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے ان کے یہاں صرف نام درج کیے جاتے ہیں تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو۔ فارس بن یحییٰ۔ اس نے مصر میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ یہ بیماروں کو اچھا کرتا تھا اور طلسم وغیرہ سے ایک مردہ بھی زندہ کر کے دکھا دیا تھا۔

(دیکھو کتاب المختار)

ابراہیم بزلہ شیخ محمد خراسانی‘ بیشک نامی ایک شخص نے بھی عیسیٰ بن مریم ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ مسٹر ڈوئی نے بھی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ مجمع البحار میں لکھا ہے کہ سندھ میں ایک شخص عیسیٰ بن مریم بنا۔ مرزا قادیانی بھی عیسیٰ ابن مریم بنتے ہیں۔ مگر خود ہی شکار کیطرح زد کے نیچے آ گئے ہیں کہ اس آیت کو پیش کر کے خود ہی کاذب مدعی ثابت ہوئے کیونکہ اہل کتاب کی کتاب میں لکھا ہے کہ بہت جھوٹے مسیح آئیں گے۔ پس اہل کتاب کے رو سے تو مرزا قادیانی جھوٹے مسیح ہیں کیونکہ سچا مسیح موعود تو وہی عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نبی ناصری ہے جس کا رفع آسمان پر ہوا وہی واپس آئے گا۔

ہرگز نہیں ہو سکتا اور چونکہ اصالتاً آنا لکھا ہے۔ اس واسطے ثابت ہوا کہ زندہ ہے کیونکہ انجیل سے ثابت ہے کہ ”مسیح زندہ کر کے اٹھایا گیا“

(دیکھو انجیل لوقا باب ٢٤ آیت ٥٠)

”تب وہ یعنی یسوع انھیں وہاں سے باہر بیت عنیا تک لے گیا اور اپنے ہاتھ اٹھا کر انھیں برکت دی اور ایسا ہوا کہ جب وہ انھیں برکت دے رہا تھا ان سے جدا ہوا اور آسمان پر اٹھایا گیا۔“ اب ظاہر ہے کہ چلتا پھرتا دعا اور برکت دیتا ہوا۔ جب اٹھایا گیا تو زندہ ثابت ہوا

صفحہ ٢٣٤

کیونکہ صرف روح ہاتھ اٹھا کر دعا نہیں کر سکتا۔ (پھر اعمال باب ١ آیت ٩ سے ١٢ تک میں لکھا ہے) ”اور یہ کہہ کے ان کے دیکھتے ہوئے اوپر اٹھایا گیا ۔“ آگے جا کے پھر لکھا ہے ”یہی یسوع جو تمھارے پاس سے آسمان پر اٹھایا گیا ہے اسی طرح جس طرح تم نے اسے آسمان پر جاتے دیکھا پھر آئے گا ۔“ ناظرین ! ”پھر آئے گا ۔“ کا فقرہ بتا رہا ہے کہ وہی عیسیٰ ابن مریم جو آسمان پر اٹھایا گیا ہے وہی پھر آئے گا ۔

اب اناجیل اور اہل کتاب تو مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیح موعود اور وفات مسیح کی تردید کر رہی ہیں۔ مگر مرزا قادیانی مغالطہ دے کر کہہ رہے ہیں کہ انجیل سے مسیح کی وفات ثابت ہے لیکن آج تک انجیل کی کوئی آیت پیش نہ کر سکے جس میں لکھا ہو کہ مسیح مر گیا ہے۔ وہ نہیں آئے گا اور اس کی جگہ کوئی دوسرا شخص ماں کے پیٹ سے پیدا ہو کر مسیح موعود بنے گا اگر کوئی آیت ہے تو کوئی مرزائی دکھا دے ہم اس کو ایک سو روپیہ انعام دیں گے ۔

مرزا قادیانی نے ایلیاہ کا قصہ تورات سے ملاکی نبی کی کتاب کے حوالہ سے پیش کیا ہے جو کہ بالکل غلط اور بے محل ہے کیونکہ ملاکی نبی کی کتاب میں یہ نہیں لکھا کہ ایلیاہ یوحنا یعنی یحییٰ میں ظہور کرے گا۔ اصل عبارت ملاکی نبی کی ذیل میں لکھی جاتی ہے۔ ”دیکھو خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے پیشتر میں ایلیاہ نبی کو تمھارے پاس بھیجوں گا اور وہ باپ دادوں کے دلوں کو بیٹوں کی طرف اور بیٹوں کے دلوں کو ان کے باپ دادوں کی طرف مائل کرے گا تا ایسا نہ ہو کہ میں آؤں اور سرزمین کو لعنت سے ماروں (باب ٤ آیت ٥ و ٦ کتاب ملاکی نبی) اس ملاکی نبی کی کتاب سے ثابت ہے کہ ایلیاہ ہولناک دن یعنی قیامت سے پیشتر آئے گا ۔ یہ نہیں لکھا کہ وہی ایلیاہ آئے گا جس کا صعود آسمان پر ہوا تھا وہ ایلیاہ تو بروزی اور روحانی رنگ میں الیسع نبی میں یوحنا یعنی یحییٰ سے پہلے آ چکا تھا۔ (دیکھو توراۃ سلاطین باب ٢ آیت ١٥) اور جب ان انبیاء زادوں نے جو یریحو سے دیکھنے نکلے تھے اسے دیکھا تو وے بولے ایلیاہ کی روح الیسع پر اتری اور وے اس کے استقبال کو آئے اور اس کے سامنے زمین پر جھکے۔ دوسری طرف اسی انجیل میں جس میں ایلیاہ کا یوحنا یعنی یحییٰ میں ہونا لکھا ہے۔ اسی انجیل میں لکھا ہے کہ یوحنا یعنی یحییٰ نے انکار کیا کہ میں ایلیاہ نہیں ہوں میں وہ نبی ہوں جس کی خبر یسعیاہ نبی نے دی تھی ذیل میں انجیل کی اصل عبارت لکھی جاتی ہیں۔

صفحہ ٢٣٥

انجیل متی باب ١٧ آیت ٩ سے ١٣ تک ”جب وے پہاڑ سے اترے تھے یسوع نے انھیں تاکید سے فرمایا کہ جب تک ابن آدم مردوں میں سے جی نہ اٹھے اس رویا کا ذکر کسی سے نہ کرو آیت ١٠ اور اس کے شاگردوں نے اس سے پوچھا پھر فقیہ کیوں کہتے ہیں کہ پہلے الیاس کا آنا ضروری ہے۔ یسوع نے انھیں جواب دیا کہ الیاس البتہ پہلے آئے گا اور سب چیزوں کا بندوبست کرے گا۔ پھر میں تم سے کہتا ہوں کہ الیاس تو آ چکا لیکن انھوں نے اس کو نہیں پہچانا بلکہ جو چاہا اس کے ساتھ کیا اسی طرح ابن آدم بھی ان سے دکھ اٹھائے گا۔ تب شاگردوں نے سمجھا کہ اس نے یوحنا بپتسمہ دینے والے کی بابت کہا ہے۔“

پھر باب ١١ آیت ١٣ ”کیونکہ سب نبی اور توریت نے یوحنا کے وقت تک آگے کی خبر دی ہے۔“ ١٤ ”اور الیاس جو آنے والا تھا یہی ہے۔ چاہو تو قبول کرو جس کسی کے کان سننے کے ہوں سنے۔“

ناظرین! جب اسی انجیل میں لکھا ہے کہ یوحنا (یحییٰ) نے الیاس ہونے کا انکار کیا اور یہ ظاہر ہے کہ ہر ایک شخص کو جو اپنی نسبت علم ہوتا ہے۔ دوسرے کی نسبت نہیں ہوتا۔ من آنم کہ خود میدانم مثال مشہور ہے یحییٰؑ بھی نبی ہیں وہ بھی جھوٹ نہیں کہتے اور نبی کبھی اپنے آپ کو چھپاتا نہیں مگر یحییٰ صاف انکار کرتے ہیں کہ میں الیاس نہیں ہوں دیکھو انجیل یوحنا باب ١ درس ١٩ سے ٢٣ تک۔ یوحنا کی گواہی یہ تھی کہ جب یہودیوں نے یروشلم سے کاہنوں اور لاویوں کو بھیجا کہ اس (یوحنا) سے پوچھیں کہ تو کون ہے۔ اور اس نے اقرار کیا اور انکار نہ کیا بلکہ اقرار کیا کہ میں مسیح نہیں ہوں۔ تب انھوں نے اس سے پوچھا کہ تو اور کون ہے۔ کیا تو الیاس ہے اس نے کہا کہ میں نہیں ہوں۔ پس آیا تو وہ نبی ہے اس نے جواب دیا کہ نہیں تب انھوں نے اس سے کہا کہ تو کون ہے تا ہم انھیں جنھوں نے ہم کو بھیجا تھا۔ کوئی جواب دیں تو اپنے حق میں کیا کہتا ہے اس نے کہا کہ میں جیسا کہ یسعیاہ نبی نے کہا بیابان میں ایک پکارنے والے کی آواز ہوں۔ الخ۔

ظاہر ہے کہ حضرت یحییٰؑ مرشد ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام ان کے مرید ہیں۔ مرید نے اپنے پیر کو ایلیاہ نبی بنانا چاہا۔ مگر مرشد نے اپنے مرید کی تاویل اور قیاس کو غلط قرار دے کر کہا کہ میں نہ ایلیاہ ہوں نہ مسیح ہوں اور نہ وہ نبی ہوں بلکہ ایک پکارنے والے کی آواز ہوں۔ جیسا کہ یشعیاہ نبی نے کہا تھا۔ کیا کوئی تسلیم کر سکتا ہے کہ پیر کے کہنے کے مقابل مرید کا کہنا معتبر ہے ہرگز نہیں۔ اگر مرزا قادیانی کا کوئی مرید یہ کہے کہ مرزا قادیانی سلیمان ہیں اور مرزا قادیانی خود کہیں کہ میں سلیمان نہیں عیسیٰ ہوں تو

صفحہ ٢٣٦

کس کی بات قبول ہوگی؟ مرزا قادیانی کی پس اسی طرح یحییٰ کی بات قبول ہو گی اور مسیح کا کہنا ہرگز نہ مانا جائے گا۔ دوسری طرف قرآن نے سورہ مریم میں فرمایا يٰزَكَرِيَّا اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ اسْمُهٗ يَحْيٰی لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا. (مریم ٧) ترجمہ اے زکریا ہم تم کو ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام ہوگا یحییٰ (اور اس سے) پہلے ہم نے اس نام کا کوئی آدمی پیدا نہیں کیا۔ اس نص قرآنی سے ثابت ہے کہ یحییٰ ایلیاہ ہرگز نہ تھے کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اس نام کا کوئی آدمی پہلے نہیں بھیجا اگر یحییٰ ایلیاہ ہوتے تو خدا تعالیٰ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا نہ فرماتے پس حضرت یحییٰ علیہ السلام کا فرمانا درست ہے کہ میں ایلیاہ نہیں ہوں اور انجیل میں جو یہ قول حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف منسوب کیا ہے الحاقی ہے اور مرزا قادیانی خود تسلیم کرتے ہیں کہ مروجہ اناجیل محرف و مبدل ہیں۔ پس یہ بالکل غلط ہے کہ ایلیاہ یحییٰ میں بروزی طور پر آیا تھا اور اس کے رد میں ذیل کے دلائل قاطع ہیں۔

(اوّل)...... مسئلہ بروز خود باطل ہے کیونکہ جب ایلیاہ کی روح یحییٰ میں آئی تو یہ تناسخ ہوا جو کہ بدیہت باطل ہے بروز و تناسخ ایک ہی بات ہے صرف لفظی منازعہ ہے اور اسلامیہ مسئلہ نہیں۔

(دوم)...... اگر کہو کہ روح نہیں جسم ایلیاہ یحییٰ علیہ السلام میں تھا تو یہ غلط ہے کیونکہ یہ تداخل ہے اور تداخل بھی مسئلہ تناسخ کی طرح باطل ہے۔

(سوم)...... حکیم نور الدین ایلیاہ کے یحییٰ ہونے کا رد کرتے ہیں دیکھو فصل الخطاب صفحہ ١٣٢ پر لکھتے ہیں ’’یوحنا اصطباغی کا ایلیاہ میں ہونا بالکل ہندوؤں کے مسئلہ اواگون کے ہم معنی ہے۔‘‘ لو اب وہی صورت پیدا ہو گئی جو مسیح اور یحییٰ میں تھی۔ یعنی مرشد بالکا میں اختلاف یعنی مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ایلیاہ کا آنا بروزی رنگ میں یحییٰ میں ہوا اور حکیم نور الدین کہتا ہے کہ یہ آواگون کے ہم معنی ہے اور باطل ہے۔ جب مرشد کے مقابل بالکے کا کہنا معتبر ہے اور مسیح کا کہنا یحییٰ کے کہنے پر ترجیح رکھتا ہے تو حکیم نور دین کا کہنا مرزا قادیانی کے کہنے پر ترجیح رکھتا ہے اور ثابت ہوا کہ ایلیاہ یحییٰ میں نہیں آیا۔

(چہارم)...... جب ایلیاہ کو آسمان پر خدا نے اٹھا لیا تھا جیسا کہ توراۃ باب سلاطین ٢ آیت یکم باب ٢ میں لکھا ہے ’’اور جسم کے ساتھ اٹھایا گیا لکھا ہے دیکھو اصل عبارت۔ اور ’’یوں ہوا کہ جب خداوند نے چاہا کہ ایلیاہ کو ایک بگولے میں اڑا کے آسمان پر لے جائے تو ایلیاہ نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں دوبارہ دنیا میں آؤں گا اور مسیح نے اپنے آنے کی

صفحہ ٢٣٧

خبر دی ہے۔ ”دیکھو انجیل متی باب ٢٤ آیت ٣٠ میں ہے ’ابنِ آدم کو بڑی قدرت اور جلال سے آسمان سے بدلیوں پر آتے دیکھیں گے‘ انجیل لوقا باب ٢١ آیت ٢٧ میں ہے ”اور تب ابن آدم کو بدلی میں قدرت اور بڑے جلال کے ساتھ آتے دیکھیں گے۔“ سب انجیلوں کا اتفاق ہے کہ اصالتاً نزول مسیح ہوگا۔ پس جب انجیل میں ایلیاہ کا یحییٰ میں آنا مذکور ہے۔ اسی انجیل میں مسیح کا اصالتاً جسدِ عنصری کے آسمان سے اترنا مذکور ہے اور چونکہ اسی انجیل میں ایلیاہ کا یحییٰ میں ہونا غلط کیا گیا ہے۔ یعنی یحییٰ کہتے ہیں کہ میں ایلیاہ نہیں ہوں ایک پکارنے والے کی آواز ہوں تو روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بجسد عنصری آسمان سے نزول فرمائیں گے اور اس مضمون انجیل کی قرآن شریف نے تصدیق بھی فرمائی ہے اور حدیث ابن عساکر عن ابن عباس قال قال رسول اللہ ﷺ ینزل اخی عیسٰی ابن مریم من السماء.

(ابن عساکر ج ٢٠ ص ١٤٩ (عکسی) کنز العمال ج ١٤ ص ٦١٩ حدیث نمبر ٣٩٧٢٦ باب نزول عیسیٰ )

ترجمہ: ابن عساکر نے ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا جب میرے بھائی عیسیٰ بن مریم آسمان سے اتریں گے۔

”اخی“ یعنی بھائی کا لفظ بتا رہا ہے کہ مسیح موعود حضرت عیسیٰؑ نبی ناصری ہیں ان کے بغیر جو شخص حضرت مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرے جھوٹا ہے۔ امتی محمد کا کبھی بھائی نہیں ہو سکتا رسول کا بھائی وہی ہو سکتا ہے۔ جو خود رسول ہو اور امتی چونکہ رسول نہیں ہو سکتا وہ ہرگز بھائی بھی نہیں ہو سکتا پس ثابت ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی حضرت عیسیٰؑ کا دوبارہ آنا جو انجیل میں لکھا ہے۔ اس کی تصدیق فرمائی جب انجیل کی تصدیق قرآن و حدیث سے ہو جائے تو پھر اس کے خدا کی طرف سے ہونے میں کچھ شک مومن کو نہیں رہتا جب عیسیٰ کا دوبارہ آنا ہوا تو حضرت ایلیاہ کا یحییٰ میں ہونا غلط ہوا اور بروزی نزول باطل ٹھہرا۔

اب انجیل کی دوسری طرف آؤ اور دیکھو کہ انجیل قرآن کے برخلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھا کر قتل کر رہی ہے۔ چنانچہ لکھا ہے۔ ”اسی طرح دو چور بھی جو اس کے ساتھ صلیب پر کھینچے گئے طعنہ مارتے تھے۔ تب چھویں گھنٹہ سے لے کر نویں گھنٹہ تک کے قریب یسوع نے بڑے شور سے چلا کر کہا ایلی ایلی لما سبقتنی یعنی اے میرے خدا تو نے کیوں مجھے چھوڑ دیا ان میں سے بعضوں نے جو وہاں کھڑے تھے سن کر کہا کہ وہ الیاس کو پکارتا ہے۔ وہیں ان میں سے ایک دوڑ کر بادل (کپڑا) لیا اور سرکے میں بھگویا اور نرکٹ پر رکھ کر اسے چوسایا۔ باقیوں نے کہا رہ جا ہم دیکھیں الیاس

صفحہ ٢٣٨

اسے چھڑانے آتا ہے کہ نہیں‘ آیت ٥٠ اور ’’یسوع نے پھر بڑے شور سے چلا کر جان دی۔‘‘ انجیل متی باب ٢٧ آیات ٤٥ و ٤٦ و ٤٧ و ٤٨ و ٤٩ و ٥٠۔ اس انجیل سے ثابت ہے کہ مصلوب کی جان نکل گئی تھی اس چشم دید شہادت کے مقابل جو آسمانی کتاب میں ہے مرزا قادیانی کی طبع زاد اپنے مطلب کی حکایت کہ مسیح کی صلیب پر جان نہ نکلی تھی اور بھاگ کر کشمیر جا کر فوت ہوا بالکل غلط ہے۔ بفرض محال مرزا قادیانی کی حکایت جو انھوں نے ١٩ سو برس کے بعد بنائی ہے درست تصور کر لیں تو مسیح کی حیات میں مرزا قادیانی کا اور ہمارا اتفاق ہے کیونکہ یہ کہتے ہیں یہ ان کے ذمہ ثبوت ہے۔ بلاسند کوئی نہیں مان سکتا اگر انجیل لوقا باب ٢٣ آیات ٤٥ و ٤٦ و ٤٧ اور چھٹویں گھنٹہ کے قریب تھا کہ ساری زمین پر اندھیرا چھا گیا اور نویں گھنٹہ تک رہا اور سورج تاریک ہو گیا اور ہیکل کا پردہ بیچ سے پھٹ گیا اور یسوع نے بڑے آواز سے پکار کے کہا کہ اے باپ میں اپنی روح تیرے ہاتھوں میں سونپتا ہوں یہ کہہ کے دم توڑ دیا اور صوبہ دار نے یہ حال دیکھ کر خدا کی تعریف کی۔ اس انجیل کے مضمون سے بھی ثابت ہے کہ مصلوب مر گیا تھا۔ اگر جان نہ نکلی اور کامل موت نہ آتی تو پھر آندھی کیوں آئی؟ ہیکل کا پردہ کیوں پھٹا؟ دنیا پر تاریکی کیوں چھا گئی؟ خدا نے جو مسیح کا ماتم منایا تو ثابت ہوا کہ مسیح مر گیا تھا۔ صلیب پر انجیل یوحنا باب ١٩ آیت ٣٠ پھر یسوع نے ’’سرکہ چکھا تو یہ پورا ہوا اور سر جھکا کے جان دی۔‘‘ اس انجیل سے بھی ثابت ہوا ہے کہ مصلوب مر گیا تھا۔ غرض انجیلوں کا اتفاق ہے کہ یسوع مصلوب مر کر پھر تیسرے دن زندہ کیا گیا اور پھر اس کا رفع اسی جسم کے ساتھ ہوا جس کے ساتھ وہ شاگردوں کو ملا اور روٹی اور مچھلی کھاتا ہوا اور شاگردوں کو دعا دیتا ہوا آسمان پر اٹھایا گیا اور قیامت کے قریب پھر آئے گا۔

(دیکھو انجیل یوحنا باب ١٩۔ ٢٠۔ ٢١)

یہاں تمام عبارات کی نقل باعث طوالت ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جس یسوع کو صلیب پر لٹکایا گیا تھا وہ تو صلیب پر مر گیا تھا اور پھر تیسرے دن زندہ ہو کر آسمان پر اٹھایا گیا یہ تو عیسائیوں کا اعتقاد ہے اور قرآن نے اس کی تردید کی ہے کہ مسیح ہرگز صلیب نہیں دیا گیا اور نہ قتل کیا گیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بال بال بچایا اور پہلے اپنے قبضہ میں کر لیا تاکہ یہودی اس کی بے حرمتی نہ کریں اور نہ صلیب کے عذاب اس کو دے سکیں چنانچہ وعدہ مطھرک من الذین کفروا سے ثابت ہے۔ یعنی اے عیسیٰ میں نے تم کو ان کافروں کی بڑی تہمت سے پاک کر دیا اور پھر آسمان پر اٹھا لیا۔ مرزا قادیانی نے

صفحہ ٢٣٩

قرآن سے انکار کر کے عیسائیوں کا اعتقاد اختیار کیا اور صریح قرآن کی مخالفت کر کے مسیح کو صلیب پر لٹکایا کوڑے پٹوائے اور تمام ذلت روا رکھی اور من گھڑت ڈھکوسلا نکالا کہ جان نہ نکلی تھی جان کا نہ نکلنا کسی سند اور دلیل شرعی سے ثابت نہیں اناجیل کی چشم دید شہادت کے مقابل مرزا قادیانی کی کون سنتا ہے؟ مگر مسیح کی زندگی کے دونوں گروہ یعنی عیسائی اور مسلمان معتقد ہیں اور اس کے اصالتاً رفع اور نزول کے قائل ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر فوت ہو جانے کے بعد پھر تیسرے دن زندہ ہو کر اٹھایا جانا کہتے ہیں اور مسلمان بالکل صلیب کے نزدیک تک حضرت عیسیٰ کو نہیں آنے دیتے اور نہ کسی قسم کا عذاب اور ذلت اس کے واسطے وقوع میں آنا مانتے ہیں اور ماقتلوہ وما صلبوہ پر ایمان رکھتے ہیں اور ماقتلوہ و ما صلبوہ کی ترتیب لفظی بتا رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ صلیب پر نہیں لٹکائے گئے کیونکہ ماقتلوہ پہلے ہے اور صلبوہ بعد میں ہے اور تورات سے ثابت ہے کہ پہلے مار کر قتل کر کے مقتول کی لاش لٹکاتے تھے جس سے مرزا قادیانی کی ایجاد کہ جان نہ نکلی تھی باطل ہے۔ غرض مسلمان مسیح کے مردہ ہونے کے بعد زندہ ہونے اور مرفوع ہونے کے قائل ہیں۔ پس اہل کتاب کی شہادت سے مسیح کی حیات ثابت ہے کیونکہ انجیل میں صاف صاف لکھا ہے اور ان سے کہا کہ یوں ہی لکھا ہے اور یوں ہی ضرور تھا کہ مسیح دکھ اٹھائے اور تیسرے دن مردوں میں سے جی اٹھے پہلی شہادت آیت ٤٦ باب ٢٤ انجیل لوقا۔ دوسری شہادت انجیل متی باب ١٧ آیت ٢٢۔ ”جب وے جلیل میں پھرا کرتے تھے یسوع نے انھیں کہا کہ ابن آدم لوگوں کے ہاتھ میں حوالہ کیا جائے گا اور وے اسے قتل کریں گے۔ پھر وہ تیسرے دن جی اٹھے گا۔ تب وے نہایت غمگین ہوں گے“ تیسری شہادت۔ انجیل باب ١٦ آیت ٢١ ”دکھ اٹھاؤں اور مارا جاؤں اور تیسرے دن جی اٹھوں۔“ چوتھی شہادت انجیل یوحنا باب ٢ آیت ٢٢ ”جب وہ مردوں میں سے جی اٹھا تو اس کے شاگردوں کو یاد آیا“ اب مرزا قادیانی کی خود غرضی دیکھئے کہ تمام مضمون انجیل کا تو مانتے ہیں مگر جی اٹھنا چونکہ ان کے مسیح ہونے کا حارج ہے اور اصالتاً نزول ثابت کرتا ہے۔ اس واسطے اس سے انکار کر کے پھر قرآن کی طرف آتے ہیں کہ قرآن مانع ہے کہ طبعی مردے دوبارہ آئیں اور نہ خدا تعالیٰ مردہ زندہ کر سکتا ہے حالانکہ یہ غلط ہے کیا خوب عقلمندی اور انصاف ہے کہ خود ہی اہل کتاب کے فیصلہ کو قبول کرتے ہیں اور قرآن کی طرف سے منہ موڑتے ہیں۔ یعنی جب قرآن کہتا ہے کہ ماقتلوہ وما صلبوہ تو اس کے برخلاف مسیح کے قتل وصلیب کے قائل

صفحہ ٢٤٠

ہو کر انجیل کی طرف آتے ہیں اور جب اسی انجیل میں مسیح کا زندہ ہونا دیکھتے ہیں تو قرآن کی طرف آتے ہیں یہ کون سا اسلام ہے ۔

چوں بو قلموں مباش ہر لحظہ برنگ
با رومی روم باش بازنگی زنگ

یا مسلمان رہ کر قرآن مجید کو مانیں یا عیسائی ہو کر انجیل عیسیٰ کو مانیں اور یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ جو قرآن سے اپنے مطلب کی بات ملے اس وقت پیش کریں اور جب انجیل سے اپنا مطلب ملے تو انجیل پیش کریں اور اگر وہی انجیل اور قرآن فریق ثانی پیش کرے تو دونوں سے انکار کریں آپ نے خود فیصلہ اہل کتاب پر ڈالا ہے اور اہل کتاب کی کتاب سے حیات مسیح اور اصالتاً نزول ثابت ہے۔ پس اس آیت سے بھی استدلال وفات مسیح پر غلط ہے۔

قولہ تیسویں آیت

یاایتہا النفس الْمُطْمَئِنَّہ ارجعی الی ربک راضیة مرضیة فادخلی فی عبادی و ادخلی جنتی. (الفجر ٢٧ تا ٣٠) ترجمہ۔ اے نفس بحق آرام یافتہ اپنے رب کی طرف واپس چلا آ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی پھر اس کے بعد میرے ان بندوں میں داخل ہو جا جو دنیا کو چھوڑ گئے ہیں اور میرے بہشت کے اندر آ۔ اس آیت سے صاف صاف ظاہر ہے کہ انسان جب تک فوت نہ ہو جائے گذشتہ لوگوں کی جماعت میں ہرگز داخل نہیں ہو سکتا۔ لیکن معراج کی حدیث سے جس کو بخاری نے بھی مبسوط طور پر اپنے صحیح بخاری میں لکھا ہے ثابت ہو گیا ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم فوت شدہ نبیوں کی جماعت میں داخل ہے۔ لہٰذا حسب دلالت صریحہ اس نص کے مسیح ابن مریم کا فوت ہو جانا ضروری طور پر ماننا پڑا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٦١٨ خزائن ج ٣ ص ٤٣٣)

اقول: اس آیت سے بھی استدلال وفات مسیح غلط ہے بوجوہات ذیل۔ اول۔ یہ آیت قیامت کے بارے میں ہے نہ کہ حضرت مسیح کے حق میں اور اس میں تمام نیکوکار اور مومنین جو کہ بعد میزان اعمال کے اور ذرہ ذرہ نیکی اور بدی کے حساب کے بعد جو لوگ نجات یافتہ ہوں گے۔ ان کے حق میں یہ آیت ہے۔ نہ کہ یہ آیت مسیح علیہ السلام کے حق میں۔ تاکہ وفات مسیح علیہ السلام اس آیت سے ثابت ہو۔ اس آیت کے اوپر کی آیات دوزخیوں کے حق میں ہے جیسا کہ فیومئذ لا یعذب عذابہ احد ولا یوثق وثاقہ احد. (الفجر ٢٦۔٢٥) یعنی اس دن خدا گنہگاروں کو ایسی سزا دے گا کہ اس جیسی کسی

صفحہ ٢٤١

نے سزا نہ دی ہوگی اور ان کو اس طرح جکڑے گا کہ اس جیسا کسی نے نہ جکڑا ہو گا۔ یہ تو دوزخیوں کے حق میں خدا فرمائے گا اور پھر نجات یافتہ اور بہشتیوں کے حق میں فرمائے گا کہ تم میرے مقبول بندوں میں داخل ہو جاؤ اور میرے بہشت میں چلے جاؤ۔ مرزا قادیانی نے مسیح کی وفات پر کس طرح اس کو دلیل گردانا یہ تو قیامت کو ہو گا اور یوم یجمع الرسل کے دن ہو گا۔ کیا قیامت آ گئی؟ اور حساب کتاب ہو چکا اور یوم الفصل گزر گیا ہے؟ کہ مسیح کے حق میں یہ فیصلہ ہوا کہ فادخلی فی عبادی و ادخلی جنتی یعنی میرے بندو آؤ اور میرے بہشت میں داخل ہو جا ہرگز نہیں تو پھر مرزا قادیانی مسیح کو بہشت میں قیامت سے پہلے اور تمام سوال جواب سے پیشتر جو کہ مرزا قادیانی کی مایہ ناز آیت فلما توفیتنی میں کیے تھے۔ ان کے جواب ہو گئے ہیں یعنی خدا نے مسیح سے دریافت کر لیا ہے کہ تم نے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو معبود اور اللہ پکڑو اور کیا حضرت مسیح نے فلما توفیتنی کا جواب دے دیا ہے؟ ہرگز نہیں تو پھر کس قدر دھوکہ دہی ہے کہ اس آیت کو جس کا وقوع قیامت کے دن ہونے والا ہے مسیح کی فرضی اور زعمی وفات پر دلیل سمجھی جائے۔ اگر یہ آیت مسیح کے متعلق سمجھی جائے تو اس سے حیات مسیح ثابت ہوتی ہے کیونکہ نہ ابھی تک قیامت آئی اور نہ مسیح کو فادخلی فی عبادی و ادخلی جنتی کہا گیا جو موت کے مستلزم ہے تو مسیح زندہ ہے کیونکہ ابھی خدا نے مسیح کو نہیں کہا اور نہ قیامت آئی جب قیامت آئے گی تب مسیح کو کہا جائے گا اور تب ہی مسیح فوت بھی ہو گا کیونکہ مرزا قادیانی خود اقرار کرتے ہیں کہ جب تک انسان مر نہ جائے تب تک وہ خالص بندوں میں داخل نہیں ہو سکتا۔ یہ قاعدہ من گھڑت جو مرزا قادیانی نے بنایا ہے اسی سے حیات مسیح ثابت، کیونکہ قیامت آنے والی ہے نہ کہ آ چکی ہے اور یہ آیت بھی قیامت کو صادق آئے گی اور عوام نجات یافتہ لوگ اس کے مخاطب ہوں گے نہ کہ صرف حضرت عیسیٰؑ ۔

(دوم)...... مرزا قادیانی نے اپنی عادت کے موافق اس آیت میں بھی تحریف کی ہے یعنی اپنے پاس سے عبارت ملا لی ہے جو الحاد و کفر ہے اور ان کی اپنی تحریر کے رو سے یہودیت ہے اس قدر عبارت مرزا قادیانی نے غریب ناواقف مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے واسطے اپنے پاس سے لگا لی ہے کہ پھر اس کے بعد میرے ان بندوں میں داخل ہو جا ’’جو دنیا کو چھوڑ گئے ہیں ۔‘‘ یہ فقرہ جو دنیا کو چھوڑ گئے ہیں اپنے پاس سے لگا لیا ہے۔ جس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی روز جزا و سزا و قیامت کے منکر ہیں۔ صرف مرنے کے وقت وہ

صفحہ ٢٤٢

ساتھ ہی سب حساب کتاب ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ اسی وقت نجات یافتہ مردے کو نجات یافتہ لوگوں میں اور بہشت میں داخل کر دیتا ہے اور دوزخیوں کو دوزخ میں ڈال دیتا ہے اور نہ کوئی قیامت ہے اور نہ میزان اور نہ پل صراط وغیرہ اور یہ صریح فاسد عقیدہ ہے کہ روز قیامت سے انکار ہو۔ جب مسیح فوت ہونے کے ساتھ ہی خدا کے حضور میں پیش ہو گیا اور بقول مرزا قادیانی فادخلی فی عبادی کا کام قبل از قیامت اس کو مل گیا تو قیامت کا انکار لازم آیا کیونکہ یہ آیت تو بتاتی ہے کہ یہ باتیں قیامت کو ہونے والی ہیں اور مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ مسیح کے مرنے کے ساتھ ہی ہو گئیں تو قیامت سے انکار نہیں تو اور کیا ہے اللہ رحم کرے خود رائی اور خود غرضی سے انسان کہاں کا کہاں ہو جاتا ہے؟ (سوم)......معراج والی حدیث کا حوالہ دے کر خود ہی قابو آ گئے ہیں کیونکہ معراج والی حدیث تو ظاہر کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سب انبیاء علیہم السلام کے امام بنے اور سب انبیاء علیہم السلام نے آپ ﷺ کی اقتدا کی اور نماز ادا کی جس سے ثابت ہوا کہ حضرت مسیح مردہ نبیوں میں نہ دیکھے گئے بلکہ زندہ نبیوں میں داخل ہو کر نماز جماعت میں شامل ہوئے کیونکہ رسول اللہ ﷺ خود بھی زندہ تھے اور مرزا قادیانی کے من گھڑت قاعدہ سے جب زندہ مردوں میں داخل نہیں ہو سکتا تو رسول اللہ ﷺ بھی فوت ہو کر فوت شدہ کے نبیوں کے امام نہیں ہوں گے اور نہ جماعت کرائی ہو گی یا تمام انبیاء علیہ السلام زندہ ہو گئے ہوں گے رسول اللہ ﷺ کا فوت ہو کر جماعت کرانا تو ناممکن ہے کیونکہ مردہ کا اس دنیا میں دوبارہ آنا قرآن کے برخلاف خود کہتے ہو اور نیز مرزا قادیانی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ طبعی مردے کبھی اس دنیا میں واپس نہیں آتے اور رسول واپس آئے تو ثابت ہوا کہ محمد ﷺ زندہ تھے مردہ نہ تھے بلکہ دوسرے سب انبیاء علیہم السلام بھی زندہ کیے گئے تھے اور یہی مذہب اہل سنت والجماعت کا ہے۔

نواب مولوی محمد قطب الدین خاں صاحب محدث دہلویؒ مظاہر حق جو شرح مشکوٰۃ شریف کی ہے اس کے صفحہ ٥٦٩ جلد چہارم میں لکھتے ہیں۔ وہو ہٰذا۔ ”یہ بھی مؤید ہے اس کا کہ انبیاء وقت نماز کے بیت المقدس میں ساتھ بدنوں اور ارواحوں کے تھے کیونکہ حقیقت نماز کی یہی ہے کہ کرنا افعال مختلفہ کا ہوتا ہے ساتھ اعضاء کے نہ نرے ارواح کے یعنی صرف روح نماز نہیں پڑھ سکتا۔“ پھر آگے صفحہ ٥٧٠ پر بعد ترجمہ ”پس آیا وقت نماز کا پس امام ہوا میں ان کا یعنی انبیاء کا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں“ کہ میں امام ہوا اور سب انبیاء میرے پیچھے کھڑے ہوئے نواب صاحب مولوی قطب الدین خاں

صفحہ ٢٤٣

صاحب کا کمال ہے کہ انھوں نے پہلے ہی سے مرزا قادیانی کے اعتراض کا جواب دے دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں۔ ’اگر کوئی اعتراض کرے کہ وہ جہان تو دار تکلیف بھی نہیں نماز اس میں کیوں ہو یعنی وہ زندہ نہیں تو تکلیف نماز کیوں ہو جواب اس کا یہ ہے کہ انبیاء صلوات اللہ وسلام علیہم زندہ ہیں ساتھ حیات حقیقی دنیاوی کے اور چونکہ زندہ ہیں شائد کہ تکلیف بھی ہو اور یہ بھی ہے کہ اس جہان میں وجوب رفع کیا گیا ہے نہ وجود اس کا، اور ان انبیاء نے یہاں حضرت کے ساتھ نماز پڑھی اور بعد اس کے ان کو آسمان پر لے گئے حضرت کے استقبال اور تعظیم کے لیے یا ان کے ارواحوں کو آسمان میں متشکل کیا۔ مگر عیسیٰ اور ادریس کہ وہ ساتھ بدنوں کے آسمان پر ہیں۔

(مظاہر حق صفحہ ٥٧٠ جلد چہارم مطبوعہ نول کشور)

اب حوالہ مشکوٰۃ کی شرح سے ثابت ہے کہ سب انبیاء علیہم السلام زندہ کر کے خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو دکھائے اور نماز پڑھوائی جو کہ دلیل ہے اس بات کی کہ نبیوں کے جسم و روح دونوں کو رسول اللہ ﷺ نے دیکھا ورنہ صرف روح کا نہ تو کوئی حلیہ ظاہر ہو سکتا ہے اور نہ روح نماز پڑھتا دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ روح کا وجود محسوس اور خارج نہیں ہوتا کیونکہ یحییٰ یمیت خدا تعالیٰ کی صفت ہے اور صفت اپنے موصوف کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے چنانچہ خدا تعالیٰ اکثر اپنے خاص بندوں کی فضیلت عوام پر جتانے کے واسطے وقتاً فوقتاً مردے زندہ کرتا رہا ہے تاکہ یقین ہو سکے کہ خدا تعالیٰ قیامت کو سب انسانوں کو زندہ کر کے حساب لے گا اور سزا و جزا دے گا۔

کے خدا تعالیٰ نے قاتل پکڑوا دیا۔

اطمینان ہو اور وہ لوگوں کو یقین دلا دے کہ قیامت برحق ہے۔ اور خدا تعالیٰ مردے زندہ کر سکتا ہے۔ یہ تمام مضامین قرآن شریف میں ہیں مرزا قادیانی نے جو آیت پیش کی ہے وہ قیامت کے بارہ میں ہے کہ کفار اس وقت خواہش کریں گے کہ ہم کو دوبارہ دنیا میں بھیجیں۔ ارشاد ہوگا کہ ہم کسی کو نہیں بھیجتے یہ کہاں سے نکلتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ خاص وقت میں اپنی قدرت نمائی کر کے مردہ زندہ کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا؟ ایسے فاسد عقیدہ سے تو قیامت کا انکار لازم آتا ہے کیونکہ جب خدا تعالیٰ ایک مردہ زندہ نہیں کر سکتا ہے تو

صفحہ ٢٤٤

کروڑوں بیشمار انسانوں کو کس طرح قبروں سے زندہ اٹھا کر حساب لے سکتا ہے۔ جب خدا مردہ زندہ کرنے سے عاجز ہے تو یوم القیامت سے بھی عاجز ہے؟ ایسا فاسد عقیدہ کسی مسلمان کا ہرگز نہیں ہو سکتا اور انہ لعلم للساعۃ نص قرآنی سے مسیح کا زندہ ہونا ثابت ہے یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح ہم مسیح کے زندہ کرنے پر قادر ہیں اسی طرح ہم قیامت کے دن تم سب کو زندہ کرنے پر قادر ہیں جب انجیل اور قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ کا رفع جسمانی بحالت زندگی ہوا اور زندہ ہی اصالتاً قرب قیامت میں نزول ہو گا تو پھر مسلمان ہو کر انکار کے کیا معنی کیا یہ عقلمندی ہے۔ جس سے مرزا قادیانی کا استدلال غلط ہوا کہ چونکہ فوت شدہ نبیوں میں حضرت مسیح دیکھے گئے اس لیے وہ بھی فوت شدہ ہوں گے کیونکہ ثابت ہوا کہ اس وقت تمام نبی زندہ تھے۔

(چہارم)...... یہ واقعات کے بھی برخلاف ہے کیونکہ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ انسان مردہ انسانوں کو بحالت زندگی خواب میں دیکھتے ہیں۔ کئی ایک مردہ بزرگوں کی زیارت سے مشرف ہوتے ہیں بلکہ بعض دفعہ مردوں کو دعوت کی مجلسوں میں دیکھتے ہیں حالانکہ دیکھنے والے زندہ ہوتے ہیں اور جو دیکھے جاتے ہیں وہ زندہ بھی ہوتے ہیں اور مردہ بھی ہوتے ہیں۔ جس سے مرزا قادیانی کا من گھڑت قاعدہ غلط ثابت ہوتا ہے کہ مردوں میں اگر زندہ دیکھا جائے تو وہ وفات شدہ ہوتا ہے۔

(پنجم)...... مرزا قادیانی کا اپنا اقرار ہے کہ معراج والی حدیث میں حضرت خلاصہ موجودات محمد ﷺ وفات شدہ انبیاء علیہم السلام کو دیکھا اور ان سے ملاقات اور بات چیت ہوئی۔ حالانکہ خود حضور ﷺ زندہ تھے۔ جس سے مرزا کا یہ فرمانا بالکل غلط ثابت ہوا کہ فوت شدہ دنیا میں اگر عیسیٰ دیکھے گئے تو وہ بھی فوت شدہ تھے کیونکہ نظیر موجود ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے فوت شدہ نبیوں کو دیکھا اور خود زندہ تھے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ خود زندہ تھے۔ اور فوت شدہ نبیوں میں اگر دیکھے گئے تو ان کا فوت ہونا لازم نہیں آتا۔ جس طرح محمد ﷺ کا فوت ہونا لازم نہیں آتا پس اس آیت سے بھی استدلال غلط ہے۔

قولہ چوبیسویں آیت

یہ ہے الله الذى خلقكم ثم رزقكم ثم يميتكم ثم يحييكم. (الروم ٤٠)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنا قانون قدرت یہ بتلاتا ہے کہ انسان کی زندگی میں صرف چار واقعات ہیں پہلے وہ پیدا کیا جاتا ہے پھر تکمیل اور تربیت کے لیے روحانی اور جسمانی طور پر رزق مقسوم اس کو ملتا ہے۔ پھر اس پر موت وارد ہوتی ہے پھر وہ زندہ کیا جاتا ہے۔

صفحہ ٢٤٥

اب ظاہر ہے کہ ان آیات میں کوئی ایسا کلمہ استثنائی نہیں جس کے رو سے مسیح کے واقعات خاصہ باہر رکھے گئے ہوں۔ حالانکہ قرآن کریم میں اوّل سے آخر تک یہ التزام رہا ہے کہ اگر کسی واقعہ کے ذکر کرنے کے وقت کوئی فرد بشر باہر نکالنے کے لائق ہو تو فی الفور اس قاعدہ کلیہ سے اس کو باہر نکال لیتا ہے۔ یا اس کے واقعات خاصہ بیان کر دیتا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٦١٨ خزائن ج ٣ ص ٤٣٤)

اقول: مرزا قادیانی نے لفظ قانون قدرت تو دہریوں اور نیچریوں سے سیکھ لیا مگر اس کا درست استعمال نہ سیکھا بے محل قانون قدرت کی مٹی خراب کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جن لوگوں نے لفظ قانون قدرت وضع کیا ہے انھوں نے ساتھ ہی تواتر وشذوذ کا ہونا بھی تسلیم کر لیا ہے۔ کلیہ قانون نہ کبھی ہوا ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ قانون قدرت و فطرت ہی ہے کہ انسان عورت و مرد کے جفت ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ مگر نص قرآنی سے ثابت ہے کہ حضرت آدم اور حوا اور حضرت عیسیٰؑ اس قانون فطرت سے باہر ہیں۔ تاریخ جن مصنفہ مسٹر جسٹس کائرن مطبوعہ ١٨٦٥ء عیسوی جلد ٢ دفتر اوّل باب ١٦ صفحہ ٢٦٥ میں لکھا ہے کہ ”ایک عورت کو آفتاب کے وسیلہ میں سے ٣ لڑکے پیدا ہوئے جس کا نام لوکم کناکس اور ہاسکن سالجی اور بور بحرنہا ان سب کا نام تورانیوں ہوا ہے۔“ عہد جدید عبرانیوں (باب ٧ آیت ٣) ملک صدق یہ بے باپ و بے ماں بے نسب نام جس کے نہ دنوں کا شروع نہ زندگی کا آخر مگر خدا کے بیٹے کے مشابہ سیتا جی کا بغیر باپ پیدا ہونا ہندوؤں کا عقیدہ ہے۔

مغلوں کی تاریخ میں لکھا ہے۔ اصل عبارت نقل کرتا ہوں تاکہ مغلوں اور مرزائیوں پر حجت ہو کیونکہ مرزا قادیانی ذات کے مغل تھے۔ ”ایک دن حسب معمول دربار میں پیشی ہوئی۔ اجلاس کر رہے تھے امراء وزراء و دیگر اہل مقدمات دربار میں حاضر تھے کہ حضرت آلان قوا نے جمیع اشخاص کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آج رات گذشتہ کو میں محل شاہی کے دالان کلان میں سوئی ہوئی تھی کہ دفعتاً نور الٰہی میرے کمرے کے اندر داخل ہوا اور میرے پلنگ چھا گیا اور میرے منہ کے راستے میرے پیٹ میں داخل ہو گیا میں اس نور الٰہی سے حاملہ ہو گئی ہوں۔ آگے لکھا ہے کہ اس کو تین بیٹے پیدا ہوئے ایک کا نام بوقوں۔ دوسرے کا نام بوسقین سالجی۔ تیسرے کا نام موتقاں تھا۔

(دیکھو مغلیہ گزٹ لاہور جون ١٩١٩ء صفحہ ٧ کے اخیر)

افسوس مرزا قادیانی دوسروں کے واسطے تو قانون قدرت پیش کرتے ہیں اور اپنے ذاتیات کے لیے سب قانون قدرت بھول جایا کرتے ہیں۔ مرزائی تمام مل کر مرزا

صفحہ ٢٤٦

قادیانی کا الہام سچا کریں اور قانون قدرت سے بتائیں کہ مرد کو کبھی حیض آتا ہے یا یہ مرزا قادیانی کی خصوصیت تھی۔ (دیکھو الہام مرزا قادیانی) یریدون ان یروطمسک۔ ترجمہ از مرزا قادیانی، بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے۔ (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣ خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١) اب مرزا قادیانی اپنے فرمانے کے مطابق مردوں کے گروہ سے مستثنیٰ کیے گئے یا یہ الہام غلط ہے اگر مرزا قادیانی کو حیض آتا تھا تو یہ قانون قدرت کے برخلاف ہے اور اگر حیض نہیں آتا تھا تو الہام شیطانی ہے۔ افسوس مرزا قادیانی کی عجب حالت تھی۔ ایک طرف تو لکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ جو معاملات کرتا ہے وہ خاص ہوتے ہیں اور وہ معاملات عوام سے نہیں کرتا جب عوام سے وہ معاملات نہیں کرتا تو قانون کا کلیہ ہونا باطل ہے۔ اصل عبارت مرزا قادیانی کی لکھی جاتی ہے وہو ہذا۔ ’’دنیا بے خبر ہے اور ان سے خدا تعالیٰ کے وہ معاملات ہوتے ہیں جو دوسرے سے وہ ہرگز نہیں کرتا جیسا کہ ابراہیمؑ چونکہ صادق اور خدا تعالیٰ کا وفادار بندہ تھا۔ اس لیے ہر ایک ابتلاء کے وقت خدا نے اس کی مدد کی جبکہ وہ ظلم سے آگ میں ڈالا گیا۔ خدا نے آگ کو اس کے لیے سرد کر دیا اور جب ایک بدکردار بادشاہ ان کی بیوی سے بدارادہ رکھتا تھا تو خدا نے اس کے ان ہاتھوں پر بلا نازل کی جن کے ذریعہ سے وہ اپنے پلید ارادہ کو پورا کرنا چاہتا تھا۔‘‘ (حقیقتہ الوحی ص ٥٠ خزائن ج ٢٢ ص ٥٢) اب بتاؤ مرزا قادیانی کا قانون قدرت کہاں گیا آگ کس طرح سرد ہو گئی۔ کیا اسوقت خدا کو قانون قدرت بھول گیا تھا۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ آگ کی فطرت جلانے کی کیوں جاتی رہی؟ بلکہ اس کو سرد کرنے کی طاقت اس میں کہاں سے آ گئی اور قانون قدرت کہاں دھرا رہا؟ پس قبول کرنا پڑے گا کہ کلیہ ہرگز نہیں بلکہ وہ خدا قادر مطلق جو چاہے کر سکتا ہے۔ پس دیندار ہو کر قانون قدرت اور فلسفی دلائل پیش کرنا کسی مسلمان کا کام نہیں۔ افسوس مرزا قادیانی کے ذہن میں جو آتا ہے وہ اس کو وحی الٰہی سمجھ کر کلیہ اور قانون بنا لیتے ہیں اور اس کے جھوٹے ہونے پر ان کو پشیمان ہونا پڑتا۔ اسی آیت میں دیکھو مرزا قادیانی نے کس قدر غلطی کھائی ہے کہ ثم یمیتکم کے معنی خود ہی فوت ہو جانے کے کرتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہیں۔ اس آیت میں بے شک چار واقعات ہیں پہلے پیدا ہونا کیا اس میں کلیہ ہے؟ ہرگز نہیں کیونکہ آدم اور حوا اور مسیح و غیرہم باہر ہیں دوسرا رزقکم کے مخاطب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کے لوگ ہیں اور مسیح چھ سو برس پہلے پیدا ہوئے تو وہ اس قانون مرزا قادیانی سے پہلے ہی باہر ہیں کیونکہ وہ پہلے پیدا ہوئے اور قرآن شریف

صفحہ ٢٤٧

بعد میں نازل ہوا۔ تیسرا۔ یہ دونوں ماضی کے صیغے ہیں اور یمیتکم اور یحییکم مضارع کے صیغے ہیں جو کہ صاف صاف دلیل اس بات کی ہیں پیدا ہونے اور رزق ملنے کے بعد فوت ہونا ہو گا اور پھر زندہ ہونا ہو گا۔ ماضی صیغے تو یہ نہیں ہیں کہ مرزا قادیانی مسیح کو مار چکے یمیتکم کے معنی ہیں اپنی مرضی سے جب چاہے گا مارے گا۔ مگر یہ مرزا قادیانی نے جو سمجھ لیا بالکل غلط ہے اور خدا تعالیٰ مسیح کو بھی بعد نزول مارے گا۔ مسلمان اس کا جنازہ پڑھیں گے اس سے کسی مسلمان کو انکار نہیں کہ خدا مسیح کو مارے گا۔ جھگڑا تو اس بات میں ہے کہ اب تک نہیں مرا اور قرآن کی اس آیت سے بھی حیات ہی ثابت ہے کہ قرآن کے نازل ہونے تک اگر مسیح اس قانون میں شامل ہو کر نہیں مرا۔ ورنہ ماضی کا صیغہ ہوتا کیونکہ یمیتکم ہے۔ جس کے معنی ہیں مارے گا۔ چوتھا۔ امر یہ کلیہ مرزا قادیانی نے جو بیان کیا کہ قرآن کریم میں یہ التزام ہے کہ اگر کوئی فرد بشر باہر نکالنے کے لائق ہوتا فوراً اس قاعدہ کلیہ سے اس کو باہر نکال دیتا ہے۔ بالکل غلط اور خلاف قرآن ہے۔ خدا تعالیٰ قانون فطرت بتاتا ہے۔ خلق من ماء دافق یخرج من بین الصلب والترائب. (الطارق ٦۔٧) یعنی انسان پانی یعنی نطفہ سے پیدا ہوتا ہے جو کہ سینہ اور پشت کی ہڈیوں سے نکلتا ہے۔ مگر قانون فطرت تو یہ تھا۔ دیکھو قرآن شریف اَلَمْ یَکُ نُطْفَۃً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰی ۝ ثُمَّ کَانَ عَلَقَۃً فَخَلَقَ فَسَوّٰی. (القیامۃ ٣٨۔٣٧) یعنی پہلے نطفہ ہوتا ہے اور پھر علقہ پھر انسان پیدا ہوتا ہے مگر قرآن مجید سے ثابت ہے کہ مسیح اس قانون سے باہر تھا اور بغیر نطفہ باپ کے کنواری کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔ مگر خدا نے مسیح اور آدم و حوا کو مستثنیٰ نہیں فرمایا۔ جس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کا من گھڑت کلیہ غلط ہے لہٰذا اس آیت سے بھی استدلال غلط ہے۔

قولہ پچیسویں آیت

یہ ہے کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ ۝ وَّ یَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ. (الرحمن ٢٦۔٢٧) یعنی ہر ایک چیز جو زمین میں موجود ہے اور زمین سے نکلتی ہے وہ معرض فناء میں ہے۔ یعنی دمبدم فناء کی طرف میل کر رہی ہے۔ مطلب یہ کہ ہر ایک جسم خاکی کو نابود ہونے کی طرف ایک حرکت ہے اور کوئی وقت اس طرح سے خالی نہیں وہی حرکت بچہ کو جوان کر دیتی ہے اور جوان کو بوڑھا اور بڈھے کو قبر میں ڈال دیتی ہے اور اس قانون سے کوئی باہر نہیں۔ خدا تعالیٰ نے ”فان“ کا لفظ اختیار کیا۔ (یفنی) نہیں کہا تا معلوم ہو کہ فنا ایسی چیز نہیں کہ کسی آئندہ زمانہ میں یک دفعہ واقعہ ہو گی بلکہ سلسلہ فنا کا

صفحہ ٢٤٨

ساتھ ساتھ جاری ہے لیکن ہمارے مولوی یہ گمان کر رہے ہیں کہ مسیح ابن مریم اسی فانی جسم کے ساتھ جس میں بموجب نص صریح کے ہر دم فنا کام کر رہی ہے۔ بلا تغیر و تبدل آسمان پر بیٹھا ہے اور زمانہ اس پر اثر نہیں کرتا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بھی مسیح کو کائنات الارض میں سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا اے حضرات مولوی صاحبان کہاں گئی تمہاری توجیہہ اور کہاں گئے وہ تمھارے لمبے چوڑے دعوے اطاعت قرآن کریم کے۔

(ازالہ اوہام ص ٦١٩ خزائن ج ٣ ص ٤٣٣)

الجواب: اس آیت سے بھی مسیح کی وفات ہرگز مفہوم نہیں۔ یہ آیت تو خدا تعالیٰ کی ذات کی نسبت ہے کہ خدا تعالیٰ کے سوا تمام چیزیں فنا ہونے والی ہیں۔ یہاں وفات مسیح علیہ السلام کا کیا ذکر؟ بیشک تمام چیزیں فنا ہونے والی ہیں۔ یہ کہاں لکھا ہے کہ تمام چیزیں فنا ہو گئی ہیں۔ فنا دو قسم سے مانی جاتی ہے۔ ایک فنا بالفعل اور دوسری فنا بالقوہ ذکر فنا بالقوہ کا ہے یعنی سب چیزیں فنا ہونے والی ہیں۔ اس آیت سے سمجھنا کہ سب کچھ ہو گیا ہے اور مسیح بھی فوت ہو گیا ہے جہالت ہے ذرا غور اور انصاف سے کہو کہ اگر کوئی شخص بھی آیت پڑھ کر کہہ دے کہ دنیا فنا ہو گئی ہے اور ہم تم سب اسی قانون کے ماتحت ہیں۔ اس لیے ہم تم بھی فوت شدہ ہیں۔ تو کوئی شخص اس جاہل کی بات قبول کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ایسا ہی مرزا قادیانی کی یہ بات کوئی قبول نہیں کر سکتا کہ چونکہ کل من عليها فان، قرآن شریف میں آیا ہے اس لیے مسیح کو بھی فوت شدہ مان لو اگر کوئی شخص میاں قادیانی یا مولوی محمد علی قادیانی لاہوری کو یہ آیت سنا کر کہے کہ حضرت آپ تو فوت ہو گئے ہیں کیونکہ کل من عليها فان قرآن میں آیا ہے تو کیا سب مرزائی مان لیں گے؟ ہرگز نہیں تو پھر مرزا قادیانی کی یہ دلیل کس طرح مانی جاسکتی ہے؟ دوم مرزا قادیانی کہتا ہے کہ حال کے مولوی یہ گمان کر رہے ہیں کہ مسیح ابن مریم اسی جسم کے ساتھ آسمان پر بیٹھا ہے۔ مرزا قادیانی کی اپنی الہامی عبارت کی برخلاف ہے۔ جو آپ نے اپنی الہامی کتاب براہین احمدیہ میں لکھی ہے وہو ہذا۔

”اور جب حضرت مسیحؑ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا۔

(براہین احمدیہ ص ٤٩٨ و ٤٩٩ خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

یہ عقیدہ ایسا اجماعی تھا کہ پہلے مرزا قادیانی بھی اسی عقیدہ پر تھے بلکہ مرزائی خدا نے بھی مرزا قادیانی کو اطلاع نہ دی۔ مگر اب مرزا قادیانی تمام صحابہ کرام و علمائے عظام و صوفیا اور اولیاء امت کو چھوڑ صرف حال کے مولویوں کو الزام دیتے ہیں کہ یہی

صفحہ ٢٤٩

مولوی مسیح کو آسمان پر زندہ مانتے ہیں۔ دوسری امت نہیں مانتی حالانکہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام و اولیائے امت اسی پر تھے۔ جیسا کہ پہلے اس کتاب میں اجماع امت ثابت کیا ہے اور ہر ایک زمانہ کے ہر ایک طبقہ کا نام اور نام کتاب لکھا ہے۔ جس میں انھوں نے جسمی رفع و نزول مسیح لکھا ہے۔ مگر مرزا قادیانی کی راستبازی یہ ہے کہ صرف حال کے علماء کو الزام دیتے ہیں۔ سوم کہتے ہیں کہ یہی علماء کی توحید ہے۔ افسوس مرزا قادیانی کی عیاری قابل داد ہے کہ خود شرک کریں اور اپنی کتاب میں لکھیں کہ ”میں نے ایک کشف میں دیکھا کہ خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں ۔“ (کتاب البریہ ص ٧٩ خزائن ج ١٣ ص ١٠٣) سبحان اللہ یہ مرزائی توحید ہے کہ عاجز انسان خدا بنتا ہے۔ مگر عیاری یہ ہے۔ دوسرے علماء کو کہتے ہیں کہ وہ شرک کرتے ہیں کیوں خود خدا جو ہوئے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں؟ خود مرزا قادیانی خدا کے لیے خدا کی اولاد بنے تو موحد خدا کے نطفہ سے اپنے آپ پیدا شدہ بنائیں تو موحد اور مولوی صاحبان صرف حضرت عیسیٰ کو دراز عمر دیں اور آسمان پر نصوص شرعی کے مطابق تسلیم کریں تو مشرک؟ افسوس۔ پس آیت سے بھی استدلال غلط ہے کیونکہ وفات مسیح بالفعل ثابت کرنی تھی۔ جو نہ کی۔ بالقوۃ فنا کا تو ہر ایک مسلمان قائل ہے۔ کلام تو صرف اس میں ہے کہ مسیح ابھی تک نہیں مرا جیسا کہ حدیثوں کے الفاظ ثم یموت ولم یمت ظاہر کر رہے ہیں اور یہ آنحضرت ﷺ نے قرآن کی آیت وان من اھل کتاب الا لیومنن بہ قبل موتہ کے مطابق فرمایا قرآن و حدیث سے جو امر ثابت ہو اور مسلمانوں کا اس پر اجماع ہو اس کو شرک ہرگز نہیں کہہ سکتے۔

قولہ چھبیسویں آیت

إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنّٰتٍ وَ نَهَرٍ فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيْکٍ مُّقْتَدِرٍ.

(القمر ٥٤۔٥٥) یعنی متقی لوگ جو خدا تعالیٰ سے ڈر کر ہر قسم کی سرکشی کو چھوڑ دیتے ہیں وہ فوت ہونے کے بعد جنات اور نہر میں ہیں صدق کی نشست گاہ میں با اقتدار بادشاہ کے ساتھ اب ان آیات کی رو سے صاف ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے دخول جنت اور مقعد صدق میں تلازم رکھا ہے یعنی خدا تعالیٰ کے پاس پہنچنا اور جنت میں داخل ہونا ایک دوسرے کا لازم ٹھہرایا گیا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٢٠ خزائن ج ٣ ص ٤٣٥)

اقول: یہ آیت بھی قیامت کے بارے میں ہے اور یہ کون کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ جنت میں داخل ہو گئے ہیں؟ جب صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو دوسرے آسمان پر دیکھا تو پھر مرزا قادیانی کا کس قدر بہتان ہے کہ جنت کے دخول کے

صفحہ ٢٥٠

واسطے موت کا لازم ہونا کہتے ہیں؟ مسلمان کا مذہب ہے جب حدیث سے ثابت ہے کہ سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ بہشت کا دروازہ کھولیں گے تو پھر حضرت بہشت میں کیسے داخل ہوئے؟ مرزا قادیانی کا قاعدہ تھا۔ خود ہی اپنے پاس سے ایک بات بنا لیتے اور خود بموجب بنائے فاسد علی القیاس جھوٹ پر جھوٹ بولتے جاتے کوئی بتا سکتا ہے کہ مسلمانوں کی کس کتاب میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ بہشت میں داخل ہیں؟ جس کے واسطے مرزا قادیانی موت کا ہونا ضروری بتلاتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے معنی کرنے میں تحریف معنوی کی ہے جو کہ بقول ان کے الحاد ہے۔ کوئی مرزائی بتائے کہ ”ہر ایک قسم کی سرکشی کو چھوڑ دیتے ہیں وہ فوت ہونے کے بعد۔“ یہ قرآن مجید کے کن الفاظ کا ترجمہ ہے۔ جب قرآن میں یہ الفاظ نہیں اور مرزا قادیانی نے اپنے پاس سے یہ الفاظ بڑھائے تو تحریف ہوئی جس کو مرزا قادیانی خود کفر والحاد و یہودیت کہتے ہیں اور لعنت کا مورد جانتے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کی اس کارروائی سے معلوم ہوا کہ اس کا فتویٰ دوسروں کے واسطے ہے۔ خود جو چاہیں کر لیں اسی واسطے قرآن میں اِنَّا اَنْزَلْنَا قَرِیباً مِنَ الْقَادِیَانِ ایک آیت بنا لی نہ صرف بنا لی بلکہ کشفی حالت میں قرآن میں لکھی ہوئی بھی دیکھ لی پھر ایسے کشف کو خدائی کشف کہتے ہوئے خدا کا خوف نہیں جب وہ کشف جس میں قرآن میں تحریف ہو اور ایک آیت زیادہ کی جائے شیطانی کشف نہیں تو خدا کے واسطے کوئی مرزائی بتا دے کہ شیطانی کشف کی کیا علامت ہے؟ تاکہ رحمانی اور شیطانی کشف میں فرق ہو پس اس آیت سے بھی وفات مسیح پر استدلال غلط ہے کیونکہ اس سے ہرگز ہرگز ثابت بلکہ اشارہ تک نہیں کہ مسیح بہشت میں داخل ہوا جس کو بعد موت داخل ہونا تھا بلکہ یہ تو عام وعدہ خداوندی ہے کہ متقی پرہیزگار لوگ بہشت میں داخل ہوں گے۔ قیامت کے حساب کتاب کے بعد۔

ستائیسویں آیت

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰى اُولٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ ط لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا. (الانبیاء ١٠١۔١٠٢) یعنی جو لوگ جنتی ہیں اور ان کا جنتی ہونا ہماری طرف سے قرار پا چکا ہے۔ وہ دوزخ سے دور کیے گئے ہیں اور وہ بہشت کی دائمی لذات میں ہیں۔ اس آیت سے مراد حضرت عزیر اور حضرت مسیح ہیں اور ان کا بہشت میں داخل ہو جانا اس سے ثابت ہوتا ہے جس سے ان کی موت ہی بپایہ ثبوت پہنچتی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٢٢ خزائن ج ٣ ص ٤٣٥)

صفحہ ٢٥١

اقول: جب تک حضرت مسیح کا بہشت میں داخل ہونا کسی مسلمان کی کتاب سے یا انجیل سے نہ دکھائیں یہ بار بار کہنا کہ بہشتی ہونے کے واسطے وفات لازم ہے۔ بالکل غلط ہے جبکہ قیامت کے حساب کے پہلے کوئی بہشت میں داخل نہیں ہو سکتا تو مسیح کا بہشت میں داخل ہونا اور وفات کا لازم ہونا آبلہ فریبی ہے۔ دوم! جب مرزا قادیانی خود مانتے ہیں کہ جو بہشت میں داخل ہو جائے وہ اس سے کبھی خارج نہیں ہوتا تو پھر شب معراج حضرت مسیح دوسرے آسمان پر جو دیکھے گئے اور دیکھنے والا مخبر صادق محمد رسول اللہ ﷺ ہے تو ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰؑ بہشت میں ہرگز داخل نہیں ہوئے۔ جب بہشت میں داخل نہیں ہوئے تو یہ قیاس مرزا قادیانی بالکل غلط ہے کہ وفات مسیح وقوع میں آ گئی بڑا افسوس ہے کہ مرزا قادیانی ایک لازم ہونے اور واقع ہونے کا فرق نہیں کرتے اور یہ عمداً کرتے ہیں ورنہ اتنے بڑے بزعم خود عالم کی شان سے بعید ہے کہ وہ اتنا نہ سمجھے کہ دعویٰ تو وفات مسیح کے واقع ہونے کا ہے اور دلیل پیش کرتے ہیں وفات مسیح کے لازم ہونے کی اس سے کس کو انکار ہے؟ کہ عیسیٰؑ ہمیشہ زندہ رہیں گے ایسی دھوکہ دہی مامور من اللہ ہونے کے مدعی کی شان سے بعید ہے۔ یہ آیت تو قیامت کے بارے میں ہے۔ اگر یہ تسلیم کر لیں کہ انسان مرنے کے ساتھ ہی بہشت میں چلا جاتا ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ دوسرے گنہگار مرنے کے ساتھ ہی دوزخ میں داخل ہو جاتے ہیں تو پھر قیامت کا آنا اور حساب و اعمال کا وزن اور جزا سزا کا ملنا بروز قیامت سب غلط ہے اور صرف قیاس غلط نہیں ہوتا بلکہ مرزا قادیانی کا اپنا تمام کھیل بگڑتا ہے کیونکہ مرزا قادیانی جب یہ کہتے ہیں کہ مرنے کے ساتھ ہی نیکوکار بہشت میں اور بدکار دوزخ میں داخل کیا جاتا ہے تو اس سے دو فتور لازم آتے ہیں۔ پہلا فتور یہ ہے کہ سب نیکوکاروں کو جو بہشت ہے یا زمین پر ہو گا یا آسمان پر زمین پر بہشت تو بالکل نہیں ہے کیونکہ آج کل کے علوم کی روشنی نے کل حالات زمین کے بتا دیے ہیں۔ دوسرا فتور یہ ہے کہ آسمان پر بہشت ہو تو انسانوں کا بجسد عنصری آسمان پر جانا ثابت ہو گا۔ جو مرزا قادیانی کے کل مشن کی بنیاد ہلا دیتا ہے۔ اگر کوئی جلد باز مرزائی کہے کہ بہشت دوزخ میں صرف روح داخل ہو گا۔ یہ بالکل غلط ہے کیونکہ روحانی جزا و سزا تو بذریعہ تناسخ ہوتی ہے اور تناسخ خود باطل ہے۔ کیونکہ یہ بے انصافی ہے کہ گناہ تو کرے روح، اور جسم دونوں اور سزا ملے صرف ایک کو یعنی روح کو ایسا ہی نیک کام تو کریں روح اور جسم مل کر اور بہشت میں داخل ہو صرف روح، اور جسم جس کے بغیر کوئی کام نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کو کوئی جزا سزا نہ ملے اس میں نہایت ظلم

صفحہ ٢٥٢

خداوندی ثابت ہو گا اور یہ فاسد عقیدہ ہو گا کہ ظلم کی نسبت خدا کی طرف نہایت خطا ہے۔ پس نہ حضرت عیسٰیؑ بہشت میں داخل ہوئے اور نہ ان کا فوت ہونا اس آیت سے ثابت ہوا۔ لہٰذا اس آیت سے بھی استدلال غلط ہے۔

قولہ اٹھائیسویں آیت

این ماتکونوا یدرککم الموت ولو کنتم فی بروج مشیدہ (النساء ٧٨)

یعنی جس جگہ تم ہو اسی جگہ تمھیں موت پکڑے گی اگر چہ تم بڑے مرتفع برجوں میں بودباش اختیار کرو اس آیت سے بھی صریح ثابت ہوتا ہے کہ موت اور لوازم موت ہر جگہ جسم خاکی پر وارد ہو جاتے ہیں۔

(ازالہ اوہام ص ٦٢٢ خزائن ج ٣ ص ٤٣٦)

اقول: اس آیت سے لزوم موت ثابت ہوتا ہے۔ نہ وقوع موت یعنی موت مسیح پر وارد ہو گئی ہے۔ اس میں نہیں لکھا، بلکہ صرف یہ لکھا ہے کہ جہاں کہیں تم رہو تم کو موت وقت معینہ پر آ جائے گی سو اس سے کسی مسلمان کو انکار نہیں رسول اللہ ﷺ کی احادیث کئی دفعہ پیش ہو چکی ہیں کہ حضرت عیسٰیؑ بعد نزول فوت ہوں گے اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے اور وہ مدینہ منورہ میں دفن ہوں گے اور اسی واسطے ایک قبر کی جگہ مقبرہ رسول اللہ ﷺ میں خالی ہے۔ یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ عیسٰی علیہ السلام فوت ہو گئے؟ موت وارد ہونا اور ہے اور موت کا لازم ہونا اور ہے۔ پس اس آیت سے بھی استدلال غلط ہے کیونکہ اگر کوئی جاہل کہہ دے کہ خواجہ کمال الدین صاحب فوت ہو گئے اور یہی آیت بطور ثبوت پیش کرے کہ چونکہ ان کے لیے موت لازمی امر ہے۔ لہٰذا وہ مر گئے ہیں کیونکہ سنت اللہ یہی ہے جہاں کہیں کوئی رہتا ہو اس کو موت پکڑ لیتی ہے۔ اگر اس جاہل کے کہنے کو کوئی تسلیم کر سکتا ہے؟ تو مرزا قادیانی کی اس دلیل کو بھی کوئی تسلیم کر سکتا ہے۔ ورنہ جو سلوک اس جاہل کے لیے ہو گا وہی مرزا قادیانی کے اس استدلال سے ہو گا۔

قولہ انتیسویں آیت

مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَ مَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا (الحشر ٧) ”رسول ﷺ جو کچھ تمھیں علم و معرفت عطا کرے وہ لے لو اور جس سے منع کرے وہ چھوڑ دو۔“

(ازالہ ص ٦٢٣ خزائن ج ٣ ص ٤٣٦)

اقول: سبحان اللہ حق کبھی چھپا نہیں رہتا۔ مرزا قادیانی نے یہ آیت پیش کر کے خود اس کے نیچے آ گئے مرزا قادیانی! ہم آپ ﷺ کا فرمانا قبول کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کا

صفحہ ٢٥٣

فیصلہ منظور کرتے ہیں۔ پس غور کرو کہ رسول اللہ ﷺ نے عیسیٰ ابن مریم کا کیا فیصلہ کیا جو کچھ فیصلہ رسول اللہ کا ہے۔ وہی آپ کو سناتے ہیں۔ امید ہے کہ آپ قبول فرمائیں گے اور مرزا قادیانی کے مرید اپنے مرشد کی قبول کردہ بات سے انحراف نہ کریں گے۔

حضرت محمد رسول اللہ ﷺ جب دنیا میں تشریف لائے تو ایک عالمی مذہب اپنے ساتھ لائے اور کل ادیان باطلہ کا بطلان فرمایا از انجملہ عیسائی بھی تھے۔ حضور ﷺ نے عیسائیوں کے عقائد کی بھی تردید فرمائی اور شرک کا قلع قمع فرمایا یعنی الوہیت مسیح کو باطل کیا کفارہ کی تردید فرمائی مسیح کے ابن اللہ ہونے کی تردید فرمائی مگر مسیح کی آمد ثانی کا مسئلہ جو عیسائیوں میں ہے۔ اس کی تصدیق فرمائی میں ذیل میں ایک حدیث رسول اللہ ﷺ کی لکھتا ہوں جو کہ تمام تنازعات کا فیصلہ کرتی ہے وہو ہذا۔

عن عبدالله بن عمرؓ قال قال رسول الله ﷺ ينزل عيسى ابن مريم الى الارض فتزوج ويولد له و يمكث خمس واربعين سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا و عيسى ابن مريم فى قبر واحد بين ابى بكر و عمر.

(رواہ ابن جوزی فی کتاب الوفاء مشکوۃ ص ٣٨٠ باب نزول عیسیٰ ؑ) ترجمہ۔ روایت ہے عبداللہ بن عمرؓ سے کہا فرمایا رسول خدا ﷺ نے اتریں گے عیسیٰ بیٹے مریم کے طرف زمین کے پس نکاح کریں گے اور پیدا کی جائے گی ان کے لیے اولاد اور ٹھہریں گے زمین میں پنتالیس برس۔ پھر مریں گے پس دفن کیے جائیں گے نزدیک میرے بیچ مقبرہ میرے کے پس اٹھوں گا میں عیسیٰ ایک مقبرہ میں درمیان ابی بکرؓ و عمرؓ کے کہ اس مقبرہ میں مدفون ہیں۔ نقل کی یہ ابن جوزی نے کتاب وفا میں (دیکھو مظاہر الحق مطبوعہ نولکشور صفحہ ٣٨٦ جلد ٤)

ناظرین! شکر ہے کہ مرزا قادیانی فیصلہ رسول اللہ ﷺ پر ڈالا اب کسی مرزائی کا حق نہیں کہ اس فیصلہ سے انکار کرے اور لطف یہ ہے کہ اس حدیث کو مرزا قادیانی نے بھی مانا ہے۔ چنانچہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔ فیدفن معی قبری.

(نزول المسیح ص ٣ حاشیہ خزائن ج ١٨ ص ٣٨١ دیکھئے)

یعنی علمائے اسلام تو اس قدر شوخیاں کرتے یہ ہے خلاصہ مرزا قادیانی کے مضمون کا خواہ مرزا قادیانی نے اوپر کا حصہ حدیث اپنے مطلب کے خلاف سمجھ کر چھوڑ دیا مگر مسلمانوں کو حق ہے کہ تمام حدیث نقل کریں اور اسی فیصلہ رسول اللہ ﷺ کو تسلیم کریں اب اس فیصلہ رسول اللہ ﷺ میں جو اس حدیث میں ہے ذیل کے امور تمام ثابت ہیں۔

صفحہ ٢٥٤

اتریں گے جس سے ثابت ہوا کہ زمین سے نہیں پیدا ہوں گے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں بلکہ آسمان سے زمین کی طرف اتریں گے۔

شدہ نہ تھے۔ اس سے بھی حضرت عیسیٰ ابن مریم کی خصوصیت ہے کیونکہ وہی مجرد تھے مرزا قادیانی تو شادی شدہ اور صاحب اولاد پہلے اپنے دعویٰ سے تھے اور حدیث میں ہے جو مجرد شخص شادی شدہ نہ تھا۔ وہی اترے گا۔ اس سے اصالتاً نزول ثابت ہے۔

یعنی بعد نزول ٤٥ برس رہ کر فوت ہوگا۔

مسیح ثابت ہے کیونکہ اگر مسیح مر گیا ہوتا تو فیدفن کا لفظ نہ آتا کیونکہ یموت و یدفن مضارع کے صیغے ہیں جو کہ صیغہ استقبال کے معنی دیتے ہیں اگر مسیح مر گیا ہوتا تو رسول اللہ ﷺ مات و دفن فرماتے۔ پس ثابت ہوا کہ عیسیٰ فوت نہیں ہوئے۔

اے مرزائی صاحبان یہ ہے رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ۔ چاہے آپ قبول کریں۔ یا نہ کریں آپ کا اختیار ہے۔ ہم مسلمان تو رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ تسلیم کرتے ہیں اور ایک امتی خود غرض جو کہ خود ہی مدعی ہے اور خود ہی الٹے معنی اپنے مطلب کے واسطے کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں سچا نہیں تسلیم کر سکتے۔ اگر کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ چھوڑ کر مرزا قادیانی کا کہا مانے تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلاتا ہے اور اس کے ایمان میں مرزا قادیانی کی بات رسول اللہ ﷺ کی بات پر ترجیح رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک مسلمان کو اس فتنہ سے بچائے۔ آمین۔ باقی رہا ان حدیثوں کا مطلب جو مرزا قادیانی نے پیش کی ہیں۔ مرزا قادیانی کے مدعا کے برخلاف ہیں کیونکہ ان دونوں حدیثوں میں عیسیٰ ابن مریم یا مسیح ابن مریم کا نام تک نہیں اور نہ وہ حدیثیں حضرت عیسیٰ کی بابت ہیں۔ اب ہم ہر ایک حدیث کو لکھتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا استدلال بالکل غلط اور لغو ہے۔

پہلی حدیث

جس کا صرف ترجمہ لکھا جاتا ہے جو مرزا قادیانی نے خود کیا ہے تاکہ طول نہ

صفحہ ٢٥٥

ہو۔ ”اکثر عمریں میری امت کی ساٹھ سے ستر برس تک ہوں گی اور ایسے لوگ کمتر ہوں گے جو ان سے تجاوز کریں گے۔ چونکہ حضرت مسیح بھی اس امت کے شمار میں آ گئے ہیں۔۔۔۔۔ اس لیے وہ بھی ستر برس سے تجاوز نہیں کر سکتے لہٰذا موت ثابت ہے۔“ (ملخص ازالہ اوہام ص ٦٢٣ خزائن ج ٣ ص ٤٣٦) یہ مرزا قادیانی کا دھوکہ ہے۔ کوئی مسلمان نہیں کہتا کہ حضرت عیسیٰ امت محمدی میں آ گئے ہیں اجماع امت اس پر ہے کہ بعد نزول شریعت محمدی پر عمل کریں گے اور ان کے دو حشر ہوں گے ایک انبیاء کے زمرہ میں اور دوسرا اولیاء کے زمرہ میں۔ دیکھو مقدم فصوص الحکم شیخ اکبر محی الدین عربی صفحہ ٢٤ دوسرا جواب یہ ہے کہ مرزا قادیانی امت کے شمار میں ہیں اور کہتے ہیں کہ

ما مسلمانیم از فضل خدا
مصطفےٰ مارا امام و پیشوا

(درثمین فارسی ص ١١٤)

جب مرزا قادیانی امتی محمد رسول اللہ تھے۔ جیسا کہ ان کے الہاموں سے ظاہر ہے تو ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی یا تو خود امتی نہ ہے یا آپ کا استدلال غلط ہے۔ الہام مرزا قادیانی یہ ہے۔ ”تیری عمر اسی برس کی ہو گی یا پانچ چار کم یا پانچ چار زیادہ۔“ (حقیقت الوحی ص ٩٦ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠) اب کوئی مرزائی بتائے مرزا قادیانی اس حدیث سے امت محمدی سے ہوئے یا نہیں کیونکہ ستر سے متجاوز ان کی عمر ان کا خدا بتاتا ہے۔ حالانکہ یہ الہام غلط نکلا۔ مگر یہ بحث الگ ہے اور ہم یہ اعتراض بھی نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ بھی اٹکل سے الہام کرتا ہے۔ کیا اس کو یقینی علم نہ تھا کہ مرزا کی کتنی عمر ہے۔ یہ تو انسان اٹکل لگاتا ہے کہ اسی یا اسی سے پانچ کم یا پانچ زیادہ۔ یہ رمالوں کا سا الہام ہے۔ ورنہ خدا تعالیٰ ہر خفی و جلی کے جاننے والا ایسا مہمل و اٹکلی الہام نہیں کر سکتا۔ کیا خدا کو جس نے مرزا قادیانی کی عمر عالم تقدیر میں مقرر کی تھی اس کا علم نہ تھا کہ اٹکل لگاتا ہے کہ اسی برس یا پانچ کم یا زیادہ اس سے صاف انسانی بناوٹ ہے اور مرزا قادیانی کے الہاموں کی قلعی کھلتی ہے۔ مگر یہاں یہ مقصود نہیں پس یا تو مرزا قادیانی کی سمجھ میں حدیث نہیں آئی کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی ایسی حدیث کبھی نہیں ہو سکتی کہ واقعات کے برخلاف ہو جب روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ انسانوں کی عمریں اور خاص کر امت محمدی کی عمریں ستر سے متجاوز ہوئی ہیں تو نعوذ باللہ رسول اللہ ﷺ پر ہی اعتراض آتا ہے مگر یہ مرزا قادیانی کو خود غرضی نے ایسا حیرت زدہ کر دیا ہے کہ اپنے مطلب کے سوا ان کو دوسرے لفظ نظر نہیں

صفحہ ٢٥٦

آتے یا خود عمداً چھپاتے ہیں۔ افسوس مرزا قادیانی اقلہم یجوز ذالک یعنی بہت نہ ہوئے ستر برس سے تجاوز کریں گے جس کا ترجمہ مرزا قادیانی نے خود ہی کیا ہے۔ ایسے لوگ کمتر ہوں گے۔ جو ان سے تجاوز کریں گے اب کوئی بتائے کہ حضرت عیسیٰؑ ان کمتر لوگوں میں کیوں نہیں آسکتے جنھوں نے ستر برس سے زیادہ عمریں پائیں حضرت آدم و نوح و اصحاب کہف کی عمریں کس قدر دراز تھیں کیا مرزا قادیانی کو وہ درازی عمر نظر نہ آئی؟ اور صرف حضرت عیسیٰؑ کو ستر برس کے مارتے ہیں حالانکہ امت محمدی میں بہت شخص ستر برس سے زیادہ عمر پا کر فوت ہوئے چند نام عرض کرتا ہوں۔ قاضی یحییٰ جو ماموں رشید کے وقت تھا۔ اس کی عمر ٨٣ برس کی تھی۔ (دیکھو کتاب المامون جلد ٢ صفحہ ١١١) عیسیٰ بن سعید شاگرد امام ابو حنیفہؒ اس نے ٧٨ برس کی عمر پائی دیکھو سیرۃ النعمان صفحہ ٧٩ یزید بن ہزرف اس نے ٩٠ برس کی عمر پائی۔ دیکھو سیرۃ النعمان صفحہ۔

دوم۔ مرزا قادیانی خود لکھ چکے ہیں کہ مسیح کی عمر ایک سو بیس برس کی تھی کیا خود مرزا قادیانی نے عیسیٰ کی عمر ستر برس سے زیادہ قبول نہیں کی؟ پھر اس حدیث کو پیش کرنا دھوکہ نہیں تو اور کیا ہے۔

دوسری حدیث

’’روایت ہے جابرؓ سے کہ کہا میں نے سنا پیغمبر خدا ﷺ سے جو وہ قسم کھا کر فرماتے تھے کہ کوئی ایسی زمین پر مخلوق نہیں جو اس پر سو برس گزرے اور وہ زندہ رہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص ٦٢٢ خزائن ج ٣ ص ٤٣٧) یہ حدیث بھی مرزا قادیانی نے غلط پیش کی ہے کیونکہ اس میں بھی عیسیٰ کا نام تو کیا عیسیٰؑ کے طرف اشارہ تک نہیں پھر اس سے وفات مسیح کیسے ثابت ہو سکتی ہے؟ بیشک عیسیٰؑ مخلوق میں سے تھے مگر کیسی مخلوق جو خاص مخلوق ہے یعنی انبیاءؑ میں سے جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا خاص معاملہ ہے۔ حضرت عیسیٰ کو خلاف قانون فطرت بغیر باپ پیدا کر دیا تھا۔ اگر اس کو زیادہ عمر تا نزول خدا تعالیٰ دے تو کون سی بڑی بات ہے جبکہ بائیبل سے ثابت ہے۔ ہزار ہزار برس تک خدا تعالیٰ نبیوں کو عمر دراز دیتا رہا ہے تو حضرت عیسیٰ کو بھی اس نے دراز عمر دی عوج بن عنق کی عمر دو ہزار پانچ سو برس کی تھی۔

(دیکھو مطلع العلوم و جامع الفنون صفحہ ٣٨ مطبوعہ نول کشور)

مگر تعجب ہے حدیث میں لفظ یاتی ہے جس کے معنی ہیں آئے گا جو کہ مستقبل ہے۔ ماضی کس طرح مرزا قادیانی نے سمجھ لیا علاوہ برآں حضرت عیسیٰؑ تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے چھ سو برس پہلے ہو گزرے اور یہ حدیث جب حضرت عیسیٰ سے چھ سو

صفحہ ٢٥٧

برس بعد فرمائی گئی تو وہ تو مستثنیٰ ہیں ان کی موت پر یہ دلیل کس طرح ہوئی؟ سوم یہ حدیث چونکہ واقعات کے برخلاف ہے کیونکہ ہزاروں آدمی آنحضرت ﷺ کے بعد اور اب تک بھی سو برس سے زیادہ عمر کے ہیں۔ پس اس کی تاویل کرنی ہوگی جیسا کہ متقدمین نے کی ہے کہ اس وقت کے موجودہ صحابی جو تھے جنہوں نے قیامت کی نسبت سوال کیا تھا انھیں کی نسبت حضور ﷺ نے فرمایا تھا جس کا یہ مطلب ہے کہ ان پر سو برس نہ گزرے گا۔ اور یہ عام نہیں کہ سو برس کسی انسان پر نہ گزرے گا اس کے علاوہ مرزا قادیانی اور حکیم نور الدین نے بحوالہ قرآن مجید ایک دن اللہ کے نزدیک ہزار برس کا ہے۔ تو اس حساب سے سو برس کے تو سو ہزار برس ہوئے قیامت کے آنے میں اور یہی صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس حدیث کو فرمائے ہوئے ١٣ سو برس سے اوپر کا عرصہ گزر گیا ہے مگر قیامت نہیں آئی اس لیے معلوم ہوا کہ رسول خدا ﷺ کا فرمانا کہ ایک سو برس کسی پر نہ آئے گا کہ قیامت آ جائے گی یہی مطلب تھا کہ سو ہزار برس تک قیامت آ جائے گی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قیامت کا علم سوا اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں اور چونکہ حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول بھی نشان قیامت ہے۔ اس لیے وہ بھی ابھی تک نہ فوت ہوا۔ پس اس حدیث سے بھی استدلال غلط ہے کیونکہ جو حدیث حضرت عیسیٰ کی نسبت ہم اوپر نقل کر آئے ہیں اور اس سے حضرت عیسیٰ کی حیات ثابت ہے۔ پھر دیکھو ثم یموت یعنی پھر مرے گا۔

قولہ تیسویں آیت

او ترقی فی السماء قل سبحان ربی ھل کنت الا بشرا رسولا.

(الاسراء ٩٣) یعنی کفار کہتے ہیں کہ تو آسمان پر چڑھ کر ہمیں دکھلا تب ہم ایمان لائیں گے۔ ان کو کہہ دے کہ میرا خدا اس سے پاک تر ہے کہ اس دارالابتلاء میں ایسے کھلے کھلے نشان دکھا دے اور میں بجز اس کے اور کوئی نہیں ہوں کہ ایک آدمی ہوں اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کفار نے آنحضرت ﷺ سے آسمان پر چڑھنے کا نشان مانگا تھا اور انھیں صاف جواب ملا کہ یہ عادت اللہ نہیں کہ جسم خاکی کو آسمان پر لے جائے۔‘‘

(ازالہ ص ٦٢٥ خزائن ج ٣ ص ٤٣٧)

جواب: یہ آیت ہرگز وفات مسیح پر دلالت نہیں کرتی ہے اور نہ یہ حضرت مسیح کے متعلق ہے۔ یہ مرزا قادیانی نے بالکل غلط لکھا ہے کہ کفار نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو کہا کہ آپ ﷺ آسمان پر چڑھ کر ہم کو دکھائیں تو ہم ایمان لائیں گے۔ قرآن شریف کی آیت ظاہر کرتی ہے۔ کفار نے چھ سات مطالبات کیے اور آخر میں سب مطالبات سے

صفحہ ٢٥٨

گریز کر کے کہا کہ ہم تیرے آسمان پر چڑھ جانے کو بھی نہ مانیں گے جب تک کہ تو لکھا ہوا ہمارے پاس نہ لائے اور ہم پڑھ نہ لیں ان سب مطالبات کے جواب میں آنحضرت ﷺ کو حکم ہوا ہے کہ آپ ﷺ ان کو کہہ دیں کہ سبحان ربی هل کنت الا بشراً رسولاً۔ مرزا قادیانی نے عوام کو دھوکہ دینے کے واسطے آیت میں سے الفاظ ولن نؤمن لرقیک حتی تنزل علینا کتبا نقرؤہ (الاسراء ٩٣) بعد اور قل سبحان ربی سے پہلے جان بوجھ کر چھوڑ دیے اور جھوٹ کہہ دیا کہ کفار کہتے ہیں کہ تو آسمان پر چڑھ کر ہمیں دکھلا تب ہم ایمان لائیں گے اور پھر آگے جا کے لکھ دیا کہ کفار نے آنحضرت ﷺ سے آسمان پر چڑھنے کا نشان مانگا تھا۔ انھیں جواب صاف ملا کہ یہ عادت اللہ کے برخلاف ہے۔ حالانکہ نہ آیت قرآن کے یہ معنی ہیں اور نہ یہ مطلب ہے جو مرزا قادیانی نے لکھا ہے کیونکہ صرف آسمان پر چڑھنے کا نشان نہ مانگا تھا بلکہ مفصلہ ذیل نشان طلب کر کے سب کے آخر لکھی کتاب جو وہ خود پڑھ لیں مانگی تھی۔ خدا تعالیٰ کا جواب کہ کہہ دو کہ میں ایک بشر رسول ہوں سب نشانوں کے جواب میں ہے کیونکہ ظاہر و ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کوئی نشان ہی نہ دکھایا یعنی نہ زمین سے چشمے بہائے اور نہ کھجور اور انگور کے باغ دکھائے۔ نہ آسمان ٹکڑے کر کے گرایا اور نہ اللہ اور فرشتوں کو ضامن لائے اور نہ سنہری گھر بنا کر دکھایا اور نہ آسمان پر چڑھے اور نہ نوشتہ لائے کہ کفار نے پڑھ لیا اور یہ جواب خداوندی کہ کہو کہ میں ایک آدمی رسول ہوں سب مطالبات کے جواب میں ہے مرزا قادیانی کا فرمانا اور استدلال جب درست ہو سکتا تھا جبکہ دوسرے تمام نشان رسول اللہ ﷺ دکھا دیتے اور آسمان پر چڑھنے سے انکار کرتے۔ مگر رسول اللہ ﷺ نے تو سب نشانوں کے جواب میں فرمایا کہ میں ایک بشر رسول ہوں، یہاں مرزا قادیانی نے فلسفیوں اور نیچریوں کی تقلید کی ہے کہ وہ لوگ معجزات انبیاءؑ سے اسی آیت کی بنا پر انکار کیا کرتے ہیں اگر مرزا قادیانی اس آیت سے معجزات کا ظہور میں آنا ناممکن کہتے ہیں تو پھر تمام انبیاء کے معجزات سے بھی انکار کریں اور اس انکار سے مرزا قادیانی نے خود رسول اللہ ﷺ کے مرتبہ کو تمام رسولوں اور نبیوں کے مرتبہ سے گھٹایا کیونکہ حضرت ابراہیمؑ اور دوسرے رسولوں کے معجزے تو مانیں حتیٰ کہ اپنے معجزات یہ نشان تین لاکھ کے اوپر بتائیں مگر رسول اللہ ﷺ کو نشان دکھانے سے عاجز بنائیں یہ طریق مسلمانی کے برخلاف ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کفار کے مطالبات سفلی بھی تھے اور علوی بھی تھے۔ یعنی زمین پر واقع ہونے والے بھی تھے۔ جیسا کہ چشمہ کا بہانا انگور اور کھجور کا باغ اور اس

صفحہ ٢٥٩

میں نہروں کا ہونا سنہری گھر کا ہونا اور علوی یعنی آسمان پر واقع ہونے والے بھی تھے۔ جیسا کہ آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہونا اور گرنا حضرت ﷺ کا آسمان پر چڑھنا۔ لکھی ہوئی کتاب کا آسمان سے لانا اگر رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ سے سفلی مطالبات پورے ہو جاتے تو پھر مرزا قادیانی کہہ سکتے تھے کہ حضرت ﷺ نے آسمان پر چڑھنے سے عجز ظاہر فرمایا مگر جب کہ سب نشانوں کے جواب میں فرمایا کہ میں ایک بشر رسول ہوں تو اس کے یہی معنی ہیں کہ نشان اور معجزہ دکھانا رسول کے اپنے اختیار میں نہیں اور نہ وہ قادر مطلق ہے کہ جب کبھی کسی کافر نے جیسا مطالبہ کیا ویسا نشان دکھا دیا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اپنے اختیار میں ہے کہ جب چاہتا ہے اپنے رسول کے ہاتھ پر معجزہ ظہور میں لاتا ہے اور جب نہیں چاہتا اور نشان دکھانا مصلحت نہیں سمجھتا تو نشان نہیں دکھاتا اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو ان کفار کے کل مطالبات کے جواب میں یہی کہہ دو کہ میں نشان دکھانے پر کامل قدرت نہیں رکھتا۔ صرف ایک رسول ہوں۔ جس طرح پہلے رسول خود بخود نشان دکھانے پر قادر نہ تھے۔ میں بھی چونکہ ایک بشر رسول ہوں۔ خود بخود نشان دکھانے پر قادر نہیں ہوں۔ جب اللہ تعالیٰ چاہے گا تم کو نشان دکھائے گا۔ جیسا کہ وہ پہلے نبیوں کے وقت کرتا آیا ہے یہ کبھی نہیں ہوا اور نہ سنت اللہ ہے کہ نبی و رسول جس وقت چاہے معجزہ دکھائے بلکہ اللہ جب چاہتا ہے اپنے رسول کی فضیلت جتانے کے واسطے نشان دکھاتا ہے۔ مرزا قادیانی خود نشان دکھانے کے مدعی ہیں مگر کوئی مرزائی ایمان سے بتائے کہ وہ اپنے اختیار سے نشان دکھاتے تھے ہرگز نہیں ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ قادیان میں آؤ اور انتظار کرو جب اللہ چاہے گا نشان دکھائے گا۔ مگر افسوس مرزا قادیانی حضرت خلاصہ موجودات محمد رسول اللہ ﷺ پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ کفار نے ان سے آسمان پر چڑھنے کا نشان مانگا اور آپ ﷺ نے چونکہ نہیں دکھایا اس لیے انسان کا آسمان پر جانا محال ہے۔ مگر ان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ محال امر ہی کا ہو جانا معجزہ ہے۔ ورنہ وہ نشان نہیں کیونکہ پھر عوام اور خواص میں کچھ فرق نہیں رہتا جب ایک مریض کو حکیم دوا دے کر اچھا کرے اور رسول بھی دوا دے کر اچھا کرے تو پھر رسول کو حکیم پر کچھ فضیلت نہیں۔ ہاں اگر رسول بغیر دوا کے مریض کو اچھا کرے تو نشان و معجزہ ہے۔ ایسا ہی ہر ایک بشر جب ممکن امور کریں تو پھر سب برابر ہوں گے۔ معجزہ تو وہی ہے جو مافوق الفہم ہو۔ حضرت ایلیاہ کا آسمان پر جانا تورات سے ثابت ہے دیکھو تورات سلاطین۔ ٢۔ حضرت عیسیٰؑ کو جب خدا نے چاہا آسمان پر اٹھایا۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو جب چاہا آسمانوں پر لے

صفحہ ٢٦٠

گیا بلکہ وہاں تک لے گیا کہ کوئی نبی و رسول وہاں تک نہ پہنچا تھا۔ مگر یہ آسمان پر جانا ان کی اپنی قدرت و اختیار سے نہ تھا بلکہ جب خدا نے چاہا ایسا کیا۔ پس رسول اللہ ﷺ کا بشر رسول فرمانا اس بات پر ہرگز دلالت نہیں کرتا کہ خدا تعالیٰ علی کل شئی قدیر جس کی بادشاہت آسمانوں اور زمینوں میں مساوی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو آسمان پر نہیں لے جا سکتا۔ کیونکہ اگر خدا کے نزدیک بھی ایک امر جو انسانوں کے نزدیک محال ہے۔ محال یقین کیا جائے تو پھر خدا عاجز اور اسباب کا محتاج ثابت ہوتا ہے اور انسان اور خدا میں کچھ فرق نہیں رہتا۔ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں سوا اس آیت کے اور جگہ بھی فرمایا ہے کہ معجزہ دکھانا نبی کے اپنے اختیار میں نہیں۔

وما كان لرسول ان یأتی بآیۃ الا باذن اللہ. (رعد ٣٨) یعنی نہ تھا کسی رسول کو کہ لے آئے کوئی نشانی مگر اللہ کے اذن سے۔ پس چونکہ کفار کے مطالبات مصلحت الٰہی کے برخلاف تھے اور خدا تعالیٰ اس وقت ایسے نشان دکھانا نہ چاہتا تھا۔ اس لیے فرمایا کہ ان کو کہہ دو کہ میں بشر رسول ہوں اس سے یہ ہرگز ثابت نہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کسی بشر کو آسمان پر لے جانا چاہے تو نہیں لے جا سکتا۔ پس اس آیت سے بھی استدلال غلط ہے۔

دوم۔ یہ آیت بھی حضرت مسیح کے متعلق نہیں اور نہ اس سے وفات مسیح اشارۃً وکنایۃً ثابت ہوتی ہے۔ اگرچہ مرزا قادیانی نے معنی کرنے میں بہت سی تحریف کی ہے اور قرآن شریف کی پہلی پچھلی آیات میں بہت قرآن کے الفاظ چھوڑ دیئے ہیں اور اپنا الو سیدھا کرنا چاہا ہے مگر یہ قرآن شریف کا معجزہ ہے کہ جو شخص قرآن میں اپنا دخل دیتا ہے۔ آخر شرمسار ہوتا ہے۔ یہ مرزا قادیانی نے بالکل غلط لکھا ہے کہ کفار کہتے ہیں کہ تو آسمان پر چڑھ کر ہم کو دکھلا تب ہم ایمان لائیں گے۔ لن نؤمن کے معنی تب ایمان لائیں گے بالکل غلط ہیں اس کے معنی تو یہ ہیں کہ ہم ایمان نہ لائیں گے ”لن“ کلمہ نفی کا ہے۔ کفار کے مطالبات حسب ذیل تھے۔

آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو گا۔

صفحہ ٢٦١

مطالبات کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ تو ان کو کہہ دے کہ سبحان ربی میں تو ایک بشر رسول ہوں۔

اب اس سے انسان کا آسمان پر جانا تو ثابت ہوا کیونکہ کفار کہتے ہیں کہ ہم ایمان نہ لائیں گے چاہے تو آسمان پر چڑھ جائے جب تک کہ لکھا ہوا نوشتہ جس کو ہمارا ہر ایک فرد پڑھ لے نہ لائے۔ اس سے ثابت ہے کہ کفار کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کو آسمان پر تو لے جائے گا جیسا کہ شب معراج میں لے گیا تھا۔ تب ہی تو انھوں نے نوشتہ کی قید لگائی۔ یہ طریق انسانوں کی بول چال میں مروج ہے کہ جب ایک خاص کام کا کرانا چاہتے ہیں تو پہلے محالات امور جو ان کے ذہن میں ناممکن ہوتے ہیں ذکر کر کے بعد میں اپنا اصلی مقصود بیان کرتے ہیں جیسا کہ ہر ایک زمانہ میں ہوتا آیا ہے کہ ایک شخص اپنے مطالبہ کے حاصل کرنے کے واسطے جھٹ کہہ دیتا ہے کہ چاہے تو ہم کو سارے جہاں کی نعمتیں دے دے۔ مگر جب تک مجھ کو میرا محبوب نہ دے میں ہرگز راضی نہ ہوں گا۔ یا بولا جاتا ہے کہ چاہے آپ رسی کے سانپ بنا دیں ہوا پر پرواز کریں۔ جلتی آگ میں کود کر نکل آئیں مگر جب تک میرا مقصد حاصل نہ ہو میں نہ مانوں گا۔ بعض لوگ اب بھی ایسا کہہ دیتے ہیں کہ آپ لاکھ بات بنائیں آسمان پر چڑھ جائیں ہزار قسمیں کھائیں اور اعجاز نمایاں کریں جب تک ہماری بات پوری نہ ہوگی ہم ہرگز نہ مانیں گے چونکہ قرآن مجید انسانوں کے محاورات میں نازل ہوا ہے۔ اس واسطے انسانی محاورہ کے مطابق کفار کے مطالبہ کا ذکر کیا ہے اور وہ مطالبہ یہ تھا کہ لکھی ہوئی کتاب ہم کو لا دے تب ہم ایمان لا دیں گے جس کا صاف مطلب یہ ہے۔ بغیر کتاب کے جو ہر ایک اس کو پڑھ لے ”ہم ایمان نہ لائیں گے“ اور اس کے بغیر سب باتیں اگر ہماری پوری ہو جائیں اور یہ علت غائی نوشتہ کے لانے کی پوری نہ ہو تو ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ اس پر خدا تعالیٰ کا جواب یہ ہوا کہ کہہ دو کہ میں تو ایک بشر رسول ہوں۔ اس جواب میں ایک لطیف دندان شکن جواب کفار کو دیا گیا ہے۔ جو مرزا قادیانی کی سمجھ میں نہیں آیا وہ یہ تھا کہ میں بشر اور رسول ہوں اور میرے پہلے بھائی بشر اور رسول جو گزرے وہ کفار کو ایسے ایسے معجزے دکھا چکے مگر کفار تمھارے بڑے ایمان نہ لائے۔ چنانچہ مطالبہ نمبر اوّل چشموں کا جاری ہوتا ہے۔ سو یہ حضرت موسیٰ کے ہاتھ سے بنی اسرائیل دیکھ چکے ہیں۔ وَاِذِ

صفحہ ٢٦٢

اسْتَسْقَى مُوسَى لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِعَصَاكَ الْحَجَرَ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ط (بقره ٦٠) یعنی حضرت موسیٰ ؑ نے قوم کے لیے پانی مانگا اور ہم نے کہا کہ مار اپنا عصا پتھر پر پس اس سے بارہ چشمے جاری ہو گئے۔

دوسرا...... مطالبہ ایسا تھا کہ وہ محال عقلی نہ تھا کیونکہ باغ انگور و کھجور کے ہر ایک لگا سکتا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ نے بشر رسول فرما کر حضرت ابراہیم ؑ کی طرف اشارہ فرمایا کہ ہم نے تو ایک رسول کے واسطے آگ کو گلزار بنا دیا تھا اور تم نے تب بھی نہ مانا ان انگوروں اور کھجوروں کے باغوں کو دیکھ کر کب مانو گے؟ قُلْنَا يٰنَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا وَّسَلٰمًا عَلٰى اِبْرٰهِيْمَ O (الانبیاء ٦٩) اے آگ تو ابراہیم ؑ پر سرد سلامتی ہو جا۔

تیسرا...... مطالبہ سنہری گھروں کا تھا وہ بھی حضرت سلیمان ؑ اور حضرت داؤد ؑ کے تھے۔

چوتھا...... مطالبہ کہ تو چڑھ جائے آسمان پر یہ بھی حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت ادریس ؑ کے وقت دیکھ چکے تھے اور ان دونوں بشر و رسول کی مثال موجود تھی۔

پانچواں...... مطالبہ فرشتوں اور اللہ کو ضامن لانے کا تھا سو یہ معجزہ حضرت لوط ؑ کے وقت کفار دیکھ چکے تھے کہ اللہ کے فرشتے آئے اور انھوں نے زمین کفار کو زیر و زبر کر دیا جیسا کہ قرآن سے ثابت ہے۔

چھٹا...... مطالبہ نوشتہ لانے کا تھا وہ بھی حضرت موسیٰ ؑ تورات شریف پتھر کی لوحوں پر لکھی ہوئی لا چکے تھے مگر کفار نے نہ مانا اور ایمان نہ لائے۔

ساتواں...... مطالبہ آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے گرانا تھا اور یہ ایسا ہی بیہودہ اور پرانی درخواست تھی جس کو تمام کفار پیش کرتے ہیں اب بھی منکران قیامت کہا کرتے ہیں کہ اگر قیامت آنے والی ہے تو کیوں اب نہیں آ جاتی مگر یہ درخواست بالکل پایہ عقل سے گری ہوئی ہے کیونکہ قیامت تو اخیر دنیا کے خاتمہ پر جب اللہ جلشانہ کو منظور ہو گا تب آئے گی اور تب ہی آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرے گا اور یہی وہ مطالبہ ہے جس کے واسطے خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محمد ﷺ تم کہہ دو کہ میں ایک بشر رسول ہوں آسمان کے ٹکڑے ٹکڑے گرانے اور قیامت لانے اور برپا کرنے کا مجھ کو اختیار نہیں، میں تو صرف خبر دینے والا ہوں جس طرح پہلے رسول آئے اور انھوں نے تم کو یہ معجزات جو تم طلب کرتے ہو تم کو دکھا چکے مگر تم نے نہ مانا اور ایمان نہ لائے اب بھی تمھارے یہ مطالبات ویسے ہی ہیں جیسے کہ پہلے بشر و رسولوں کے وقت طلب ہوئے اور پورے ہوئے جس

صفحہ ٢٦٣

طرح ان کفار کو معجزات نے کچھ فائدہ نہ دیا تم کو بھی کچھ فائدہ نہ دے گا۔ تعجب یہ کہاں سے مرزا قادیانی نے نکالا کہ رسول اللہ ﷺ کا آسمان پر جانے سے انکار ہے اور بشر آسمان پر نہیں جا سکتا؟ جبکہ دوسری طرف قرآن شریف اور (صحیح بخاری ج ١ ص ٤٧١ باب رفعناہ مکانا علیا کی حدیثیں بتا رہی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ آسمانوں پر تشریف لے گئے اور حضور ﷺ نے صحابہ کرام کو اپنا آسمان پر جانا بتایا بلکہ مظاہر حق میں جو مشکوٰۃ کی شرح ہے۔ لکھا ہے کہ معراج جسمانی سے بہت لوگ منکر ہو گئے مگر رسول اللہ ﷺ برابر اپنے دعویٰ معراج جسمانی میں لگے رہے تو پھر ایک مسلمان کس طرح کہہ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے آسمان پر جانے پر عجز ظاہر فرمایا؟ جبکہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ وہ آسمانوں پر گئے جب ایک دفعہ جا چکے تو پھر انکار کے کیا معنی؟ بشر و رسول اس واسطے فرمایا کہ آسمانوں کا ٹکڑے ٹکڑے کر کے گرانا کسی بشر و رسول کے وقت نہیں ہوا ایسا ہی میرے وقت میں بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ میں نعوذ باللہ خدا نہیں بشر رسول ہوں۔ اپنے اختیار سے کچھ نہیں کرتا جو کچھ نشان ظاہر ہوتا ہے۔ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔

اب ہم ذیل میں قرآن مجید کی آیات کا بمعہ ترجمہ لکھتے ہیں تاکہ مرزا قادیانی کا مغالطہ معلوم ہو۔ ترجمہ ’’اور بولے ہم نہ مانیں گے تیرا کہا جب تک تو نہ بہا نکالے ہمارے واسطے زمین سے ایک چشمہ یا ہو جائے تیرے واسطے ایک باغ کھجور اور انگور کا پھر بہائے تو اس کے بیچ نہریں چلا کر یا گرا دے آسمان ہم پر جیسا کہا کرتا ہے ٹکڑے ٹکڑے یا لے اللہ کو اور فرشتوں کو ضامن یا ہو جائے تجھ کو ایک گھر سنہرا۔ یا چڑھ جائے تو آسمان میں اور ہم یقین نہ کریں گے تیرا چڑھنا جب تک نہ اتار لائے ہم پر ایک لکھا جو ہم پڑھ لیں تو کہہ سبحان اللہ میں کون ہوں مگر ایک بشر آدمی ہوں بھیجا ہوا‘‘ (پ ١٥ رکوع ١٠)

ان قرآن شریف کی آیات سے ظاہر ہے کہ کفار کا مطالبہ ان سب باتوں پر فرداً فرداً نہ تھا بلکہ ان کا یہ کہنا صرف اپنے آخری مطالبہ کا زور سے طلب کرنا تھا اور ان کے ذہن میں یہ بات جمی ہوئی تھی کہ یہ سارے مطالبات تو پہلے سب نبی پورے کرتے آئے ہیں اگر محمد ﷺ بھی پورے کر دے تو کچھ بعید نہیں کیونکہ نظیریں موجود ہیں۔ حضرت ادریسؑ کا آسمان پر جانا ثابت ہے اور حضرت عیسیٰؑ کا آسمان پر جانا ثابت ہے۔ مگر ایسی کتاب یا نوشتہ جس کو ہر ایک پڑھ سکے آج تک کوئی پیغمبر نہیں لایا اس واسطے ان کا خاص مطالبہ یہی تھا چنانچہ قرآن شریف کے الفاظ روز روشن کی طرح بتا رہے ہیں او ترقٰی فی السماء لن نؤمن لرقیک حتی تنزل علینا کتباً نقرہ۔ (الاسراء ٩٣) یعنی اگر تو آسمان

صفحہ ٢٦٤

پر چڑھ جائے ہم ایمان نہ لائیں گے۔ ان الفاظ قرآن سے ثابت ہے کہ کفار کے نزدیک محمد ﷺ کا آسمان پر چڑھ جانا مشکل نہ تھا بلکہ مشکل لکھی ہوئی کتاب کا نازل کرنا تھا۔ جس کے جواب میں قل سبحان ربی ھل کنت الا بشرا رسولا. فرمایا یعنی اے محمد ﷺ ان کفار کو کہہ دو کہ میں ایک بشر رسول ہوں یعنی جو مجھ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوتا ہے وہی تم کو پہنچانے والا ہوں اور بس اور یہ جو تم مطالبات کرتے ہو ان کا پورا کرنا اللہ کے اختیار میں ہے۔

معلوم نہیں مرزا قادیانی نے یہ کن الفاظ کا ترجمہ کیا ہے کہ ”اے محمد ﷺ تو آسمان پر چڑھ کر دکھلا تب ہم ایمان لائیں گے“ کفار تو کہہ رہے ہیں کہ ہم ایمان نہ لائیں گے تیرے آسمان پر چڑھنے پر جب تک کتاب جس کو ہم پڑھ نہ لیں نہ نازل ہو اور ظاہر ہے کہ یہ مطالبہ ایسا تھا کہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ہر ایک کے واسطے کتاب نازل ہو۔ اس طرح تو رسولوں اور نبیوں کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ جب ہر ایک پر کتاب اترے تو ہر ایک نبی و رسول ہوا تو پھر نہ کوئی نبی و رسول کی خصوصیت رہی اور نہ کوئی فضیلت پھر تو ہر ایک فرد کی کتاب الگ اور ہر ایک کا مذہب الگ اور ہر ایک کا دستور العمل الگ جو کہ سیاست اور قانون تمدن کے بالکل برخلاف ہے اور شان نبوت کے برخلاف ہے۔ کیونکہ کوئی ایک دوسرے کا مطیع اور فرمانبردار نہیں رہتا۔ ہر ایک صاحب کتاب ہو گا۔ جس سے فساد عظیم زمین پر واقع ہوتا ہے۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کو کہہ دو کہ میں رسول اور مجھ کو جو کتاب ملی ہے یہ ہدایت کے واسطے کافی ہے۔ خدا تعالیٰ کی یہ سنت نہیں ہے کہ ہر ایک کے واسطے الگ الگ کتاب اتارے باقی رہا مرزا قادیانی کا یہ قیاس کہ حضرت محمد ﷺ رسول اللہ بہ نسبت بشر اور رسول ہونے کے آسمان پر نہیں جاسکتے تھے۔ اس کا جواب یہ ہے جب قرآن مجید سے ثابت ہے آسمان اور زمین پر بادشاہت و حکومت خدا کی ہے اور وہ علی کل شی محیط ہے اور علی کل شی قدیر ہے تو پھر رسول اللہ ﷺ کا آسمان پر نہ جا سکنا دو حالت سے خالی نہیں۔ پہلی حالت تو یہ ہے کہ وہ بشر رسول ہیں ان کا آسمان پر جانا ناممکن الوجود ہے۔ مگر جب نظیر آدم و حوا کی موجود ہے کہ بشر ہو کر آسمان پر رہے اور بعد میں ان کا ہبوط ہوا پھر ایلیاء کا آسمان پر جانا تورات سے ثابت ہے۔ ہم ناظرین کی تسلی کے واسطے تورات سے حضرت ایلیاء کا آسمان پر جانا نقل کرتے ہیں تا کہ ثابت ہو کہ مرزا قادیانی نے سخت غلطی کھائی ہے جو لکھا ہے کہ بشر رسول آسمان پر نہیں جاسکتا کیونکہ آسمانی کتابوں میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ چاہے تو نبی و رسول کو آسمان

صفحہ ٢٦٥

پر لے جا سکتا ہے۔

(دیکھو توریت سلاطین)

”اور یوں ہوا کہ جب خداوند نے چاہا کہ ایلیاہ کو ایک بگولے میں اڑا کے آسمان پر لے جائے تب ایلیاہ الیشع کے ساتھ جلجال سے چلا اور ایلیاہ نے الیشع کو کہا کہ تو یہاں ٹھہر اس لیے کہ خداوند نے مجھے بیت ایل کو بھیجا ہے۔ سو الیشع بولا خداوند کی حیات کی قسم اور تیری جان کی سوگند میں تجھے نہ چھوڑوں گا۔ سو وے بیت ایل کو اتر گئے اور انبیاء زادے جو بیت ایل میں تھے۔ نکل کر الیشع کے پاس آئے اور اس کو کہا تجھے آگاہی ہے کہ خداوند آج تیرے سر پر سے تیرے آقا کو اٹھا لے جائے گا۔ وہ بولا ہاں میں جانتا ہوں تم چپ رہو تب ایلیاہ نے اس کو کہا کہ اے الیشع تو یہاں ٹھہر کہ خداوند نے مجھ کو یریحو کو بھیجا ہے۔ اس نے کہا کہ خداوند کی حیات اور تیری جان کی قسم میں تجھ سے جدا نہ ہوں گا۔ چنانچہ وہ یریحو میں آئے اور انبیاء زادے تو یریحو میں تھے۔ الیشع پاس آئے اور اس سے کہا کہ تو اس سے آگاہ ہے کہ خداوند آج تیرے آقا کو تیرے سر پر سے اٹھا لے جائے گا۔ وہ بولا میں تو جانتا ہوں تم چپ رہو اور پھر ایلیاہ نے اس کو کہا تو یہاں درنگ کر کہ خداوند نے مجھ کو یردن بھیجا ہے۔ وہ بولا خداوند کی حیات اور تیری جان کی قسم میں تجھ کو نہ چھوڑوں گا۔ چنانچہ یہ دونوں آگے چلے اور ان کے پیچھے پیچھے پچاس آدمی انبیاء زادوں میں سے روانہ ہوئے اور سامنے کی طرف دور کھڑے ہو رہے اور یہ دونوں لب یردن (نام دریا) کھڑے ہوئے اور ایلیاہ نے اپنی چادر کو لیا اور لپیٹ کر پانی پر مارا کہ پانی دو حصے ہو کے اِدھر اُدھر ہو گیا اور یہ دونوں خشک زمین پر ہو کے پار ہو گئے اور ایسا ہوا کہ جب پار ہوئے تب ایلیاہ نے الیشع کو کہا کہ اس سے آگے میں تجھ سے جدا کیا جاؤں مانگ کہ میں تجھے کیا کچھ دوں تب الیشع بولا مہربانی کر کے ایسا کیجئے کہ اس روح کا جو تجھ پر ہے مجھ پر دوہرا حصہ ہو تب وہ بولا تو نے بھاری سوال کیا سو اگر مجھے آپ سے جدا ہوتے ہوئے دیکھے گا تو تیرے لیے ایسا ہو گا اور اگر نہیں تو ایسا نہ ہو گا اور ایسا ہو کہ جوں ہی یہ دونوں بڑھتے اور باتیں کرتے چلے جاتے تھے تو دیکھو کہ ایک آتشی رتھ اور آتشی گھوڑوں نے درمیان آ کے ان دونوں کو جدا کر دیا اور ایلیاہ بگولے میں سوار ہو کر آسمان پر چلا گیا۔ اور الیشع نے یہ دیکھا اور چلایا اے میرے باپ اے میرے باپ الخ

(سلاطین ٢)

تورات خدا کی آسمانی کتاب ہے اور قرآن شریف کا دعویٰ ہے کہ وہ دوسری آسمانی کتابوں کا مصدق ہے ’’اور بل رفعہ اللہ الیہ سے انجیل کی بھی تصدیق کر دی دیکھو انجیل اعمال باب ١ آیت ١١ دیکھو دو مرد سفید پوشاک پہنے ان کے پاس کھڑے تھے

صفحہ ٢٦٦

اور کہنے لگے اے گلیلی مردو تم کیوں کر آسمان کی طرف دیکھتے ہو یہی یسوع جو تمھارے پاس سے آسمان پر اٹھایا گیا ہے۔ اسی طرح جس طرح تم نے اسے آسمان کو جاتے دیکھا پھر آئے گا۔“ جب قرآن مصدق ہے تو پھر رسول اللہ ﷺ کے آسمان پر چڑھ جانے کی تردید ہرگز نہیں ہو سکتی کیونکہ پھر تو قرآن شریف کذب ہو گا کیونکہ ایلیاہ اور عیسیٰ کا قصہ جو اوپر لکھا ہے۔ انسان کا آسمان پر جانا ثابت کر رہا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کا قیاس غلط ہے کہ وہ بشر رسول کے آسمان پر جانے کے لیے ناممکن کہتے ہیں بلکہ اس آیت سے تو قیاس ہو سکتا ہے کہ محمد ﷺ بھی دوسرے انبیاء کی طرح آسمان پر گئے۔ جیسا کہ معراج والی حدیثوں سے ثابت ہے۔ ورنہ مرزا قادیانی کی اپنی منطق سے تو رسول اللہ ﷺ کی سخت ہتک ہو گی کہ ایلیاہ اور عیسیٰ کو تو خدا تعالیٰ آسمان پر لے جائے اور محمد ﷺ کو فرمائے کہ تو کہہ دے کہ بشر رسول کبھی آسمان پر نہیں جا سکتا۔ جب نظیریں موجود ہیں کہ بشر رسول آسمان پر خدا تعالیٰ کی خاص قدرت نمائی سے چڑھ گئے تو ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ میں طاقت ہے کہ بشر کو آسمان پر لے جائے۔

دوسری حالت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ میں ہی بشر رسول کو آسمان پر لے جانے کی طاقت نہ ہو۔ مگر یہ حالت قابل تسلیم نہیں جتنی قومیں دنیا میں خدا پرست ہیں۔ یہ کسی کا اعتقاد نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ انسان کی طرح اسباب کا محتاج ہے اور بشر رسول کو آسمان پر لے جانے کے واسطے عاجز ہے کیونکہ اگر خدا عاجز ہے تو وہ خدائی کے لائق نہیں۔ پس یا تو خدا کو عاجز ماننا پڑے گا یا جیسا کہ آسمانی کتابوں میں لکھا ہے اور قرآن شریف اس کا مصدق ہے کہ حضرت ادریسؑ آسمان پر گئے، حضرت عیسیٰؑ آسمان پر گئے، حضرت محمد ﷺ رسول اللہ ﷺ آسمان پر گئے تو پھر ضرور تسلیم اور یقین کرنا پڑے گا۔ خدا تعالیٰ کا جواب آسمان پر چڑھنے کی نسبت ہرگز نہیں بلکہ بشر رسول صرف لکھی ہوئی کتاب لانے اور آسمان کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے گرانے کی نسبت ہے۔ جس کی نظیر آسمانی کتابوں میں نہیں اور نہ کسی رسول کے وقت ہوا۔ ہر زمانہ میں ہر ایک رسول کے وقت یہی مطالبہ رہا کہ اگر قیامت اور عذاب حق ہے تو ہم پر لے آؤ اور ہر ایک نبی کے وقت میں یہی جواب ملتا رہا جو محمد رسول اللہ ﷺ کو بتایا گیا کہ ہم صرف بشر رسول ہیں خدائے قادر مطلق نہیں ہیں۔ جس وقت جو کافر مطالبہ کرے ہم پورا کر دیں نشانوں کا دکھانا خدا کی مرضی ہے۔

عقلی و فلسفی دلائل کا جواب

آخر میں مرزا قادیانی کے محالات عقلی اور فلسفی دلائل کا جواب دیا جاتا ہے۔

صفحہ ٢٦٧

مرزا قادیانی خود لکھ چکے ہیں۔ اصل عبارت مرزا قادیانی کی لکھی جاتی ہے تا کہ کسی مرزائی کو عذر نہ رہے ”اور ان سے یعنی انبیاءؑ سے خدا تعالیٰ کے معاملات ہوتے ہیں جو دوسروں سے وہ ہرگز نہیں کرتا۔ جیسا کہ ابراہیمؑ چونکہ وہ صادق اور خدا تعالیٰ کا وفادار بندہ تھا۔ اس لیے ہر ایک ابتلاء کے وقت خدا نے اس کی مدد کی جبکہ وہ ظالم سے آگ میں ڈالا گیا۔ خدا نے آگ کو اس کے لیے سرد کر دیا۔“

(الخ دیکھو حقیقۃ الوحی صفحہ ٥٠ خزائن ج ٢٢ ص ٥٢)

مرزا قادیانی کی اس عبارت سے ثابت ہے کہ انبیاءؑ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی خاص عادت ہے اور خاص معاملات ہیں یعنی خدا تعالیٰ اپنے پیغمبروں اور رسولوں کی خاطر قانون قدرت اور محالات عقلی کا پابند نہیں رہتا اور ان کی بزرگی دنیا پر ظاہر کرنے کے واسطے وہ وہ عجوبہ نمایاں کرتا ہے جو دوسروں کے واسطے نہیں کرتا جب یہ بات حق ہے اور مرزا قادیانی کا ایمان ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ پر آگ سرد کر دی تو پھر محمد ﷺ رسول اللہ ﷺ کے سیر آسمانی سے جو قرآن میں ہے۔ ان کو کیونکر انکار ہو سکتا ہے؟ جب خدا ہر ایک امر پر قادر ہے اور دوسری طرف انبیاءؑ کی خاطر خلاف قانون قدرت بھی کرتا رہتا ہے تو پھر محمد رسول اللہ ﷺ کو آسمان پر کیوں نہیں چڑھا سکتا ہے؟ جبکہ ابراہیمؑ پر آگ سرد کر دی تو محمد ﷺ کے واسطے اگر محالات عقلی نہ کرے تو محمد ﷺ کا مرتبہ کم ہوتا ہے اور یہ فاسد عقیدہ ہے کہ دوسرے انبیاء کے واسطے تو خدا تعالیٰ قانون کی پابندی توڑ دے۔ حضرت عیسیٰؑ کو خلاف قانون قدرت کنواری کے پیٹ سے بغیر نطفہ باپ کے پیدا کرے اور پھر آسمان پر اٹھائے، حضرت ابراہیمؑ پر آگ سرد کرے، حضرت موسیٰؑ کے واسطے لکڑی کا اژدہا بنا دے، مگر محمد رسول اللہ ﷺ خلاصہ موجودات اور خاتم النبیین کو آسمان پر لے جانے کے واسطے قانون قدرت بھول بیٹھے، یہ محمد ﷺ کی سخت ہتک ہے کہ ایلیاہ کو تو آسمان پر بگولے پر بٹھا کر لے جائے۔ حضرت ادریسؑ کو آسمان پر لے جائے۔ حضرت عیسیٰؑ کو آسمان پر لے جائے مگر جب محمد ﷺ سے کفار مطالبہ کریں تو فرمائے کہ قل سبحان ربی ھل کنت بشراً رسولاً یہ کس قدر ہتک حضور ﷺ کی ہے۔ مگر یہ تاڑ جاتے ہیں تاڑنے والے۔ یہ صرف خود غرضی ہے کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیحیت کے لیے روک ہے اس لیے مرزا قادیانی نے ایسا لکھا ورنہ مرزا قادیانی تو وہ ہیں جنھوں نے سرمہ چشم آریہ میں اسی قانون قدرت کی بدیں الفاظ مٹی پلید کی ہے۔

”یہ ملحدانہ شکوک انھیں لوگوں کے دلوں میں اٹھتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کو اپنے جیسا ایک ضعیف اور کمزور اور محدود الطاقت خیال کر لیتے ہیں۔“

(سرمہ چشم آریہ ص ٢٧٢ خزائن ج ٢ ص ١٢٠)

صفحہ ٢٦٨

اب مرزائی بتائیں کہ خدا میں طاقت ہے یا نہیں کہ بشر کو آسمان پر لے جائے؟

”جس حالت میں الٰہی قدرتوں کو غیر محدود ماننا ایک ایسا ضروری مسئلہ ہے۔ جو اسی سے کارخانہ الوہیت وابستہ اور اسی سے ترقیات علمیہ کا ہمیشہ کے واسطے دروازہ کھلا ہوا ہے تو پھر کس قدر غلطی ہے کہ یہ ناکارہ حجت پیش کریں کہ جو امر ہماری سمجھ اور مشاہدہ سے باہر ہے۔ وہ قانون قدرت سے بھی باہر ہے۔“ (سرمہ چشم آریہ ص ١٣ خزائن ج ٢ ص ٦٢)

اب ذیل میں مرزا قادیانی کی فلسفی و عقلی تحقیق ملاحظہ ہو۔

”مظفر گڑھ جہاں سے مکلف صاحب عالی۔ یہاں تک فضل باری ہے کہ بکرا دودھ دیتا ہے“ مرزا قادیانی اس خبر کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایک بکرا دودھ دیتا تھا۔

(سرمہ چشم آریہ ص ٥١ خزائن ج ٢ ص ٩٩)

مرزا قادیانی مزید برآں لکھتے ہیں کہ ”اس کے بعد تین معتبر اور ثقہ اور معزز آدمی نے میرے پاس بیان کیا کہ ہم نے بچشم خود مردوں کو عورتوں کی طرح دودھ دیتے دیکھا ہے بلکہ ایک نے ان میں سے کہا کہ امیر علی نام ایک سید کا لڑکا ہمارے گاؤں میں اپنے باپ کے دودھ سے ہی پرورش پاتا تھا کیونکہ اس کی ماں مرگئی تھی۔“

(سرمہ چشم آریہ ص ٥١ خزائن ج ٢ ص )

اللہ اکبر! ناظرین غور فرمائیں یہ مرزا قادیانی کا ایمان آسمانی کتابوں پر ہے۔ کہ ان میں جو لکھا ہے۔ اس پر تو ہزار ہا اعتراض محالات عقلی اور خلاف قانون قدرت کے کر کے خدا کو عاجز انسان کی طرح پابند اسباب سمجھتے ہیں اور انبیاء کے معجزات سے خلاف عقل کہہ کر انکار کرتے ہیں کہ بشر کو خدا تعالیٰ باوجود قادر مطلق اور خالق و مالک ہونے کے آسمان پر نہیں لے جا سکتا۔ آسمان پر بشر کا اگر جانا آنا مانیں تو اپنا مسیح موعود ہونا چونکہ باطل ہوتا ہے اس لیے سب رسولوں کے آسمان پر جانے سے انکار کیا حتیٰ کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے فرمان سے بھی انکار کیا کیونکہ حضور ﷺ نے اصالتاً نازل ہونا حضرت عیسیٰؑ ابن مریم کا فرمایا۔ اس لیے آپ نے ایمان اور کتب آسمانی کو بالائے طاق رکھ کر وہ وہ اعتراض کیے کہ غیر مذہب والوں عیسائیوں اور آریوں کو بھی نہیں سوجھے مگر رسول اللہ ﷺ کے فرمان کی کچھ قدر نہ کی۔ بکرے کا دودھ دینا مان لیا جو کسی اخبار میں دیکھا اور مرد کا دودھ دینا اور امیر علی کو دودھ پلانا حق سمجھ کر ایمان لائے۔ نہ صرف ایمان لائے بلکہ اپنے ایک آریہ کو بتاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ایسا قادر مطلق ہے جو مردوں سے عورتوں کا کام لیتا ہے۔ مسلمانوں یہ قادیانی فلسفہ ہے اور اسی فلسفہ کے زور سے مرزا قادیانی نے لکھا

صفحہ ٢٦٩

ہے کہ مجھ کو بھی حیض آتا تھا اور وہ حیض خشک ہو کر بچے بن جاتے ہیں۔ اصل عبارت مرزا قادیانی یعنی بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھائے گا۔ جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے۔ ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے“ (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٤٣ خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)

دوم اپنی کتاب کشتی نوح میں لکھتے ہیں کہ ”مجھ کو مریم بنایا گیا اور مجھ کو حمل ہوا اور درد زہ نے ستایا اور کھجور کے تلے درد مجھ کو لے گئی اور وہاں بچہ ہوا اصل کی عبارت نہایت طویل ہے۔ جس نے قادیانی حقائق و معارف کی سیر کرنی ہو وہ مرزا قادیانی کی کتاب (کشتی نوح صفحات ٤٦ و ٤٧ خزائن ج ١٩ ص ٥٠) ملاحظہ کر کے انصاف کرے کہ جس قوم کے ایسے امام ہوں جو مرد سے عورت اور عورت سے مرد بن کر بچے جنیں‘ اور بچے بھی خدا کے اطفال‘ تو پھر وہ قوم کیونکر مسلمات دین سے انکار نہ کریں؟ افسوس مرزا قادیانی نے امیر علی کا اپنے باپ کے دودھ سے پرورش پانا ایک دیہاتی شخص سے سن کر تو مان لیا۔ مگر خاتم النبیین خلاصہ موجودات اکمل البشر کے فرمان کو کہ ”وہی عیسیٰ بیٹا مریم کا جس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں آخر زمانہ میں نازل ہو گا ۔“ انکار کر کے تاویل کریں اور مجاز و استعارہ کہہ کر رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کریں اور باوجود اس مخالفت کے عاشق رسول اللہ ﷺ اور فنا فی الرسول کے مدعی نہ صرف محبت رسول اللہ ﷺ کے مدعی بلکہ متابعت تامہ کے باعث خود ہی رسول اللہ ﷺ بھی بن گئے۔ اب کسی کو شک رہتا ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کا فرمانا تو صحیح نہیں مگر بکرے کا دودھ دینا اور امیر علی کا باپ کے دودھ سے پرورش پانا بغیر کسی تاویل کے مانا تو پھر ثابت نہیں ہے؟ کہ رسول اللہ ﷺ کے فرمانے کی قدر عام دیہاتی لوگوں کی سی نہیں کس قدر غضب ہے؟ رسول اللہ ﷺ کے فرمان پر تو محالات عقلی کہہ کر ابن مریم کے معنی غلام احمد کر لیں‘ دمشق کے معنی قادیان کر لیں‘ مگر بکرے کے دودھ کی کچھ تاویل نہ ہو اور یہ بھی دریافت نہ کریں کہ بھائی بکرے کا دودھ کہاں سے نکلتا تھا؟ جب بکرے کے پستان نہیں ہوتے اور حیوانات کا خاصہ ہے کہ جب تک پہلے بچہ نہ ہو تب تک تو دودھ نہیں دے سکتا، بکرے کو بچہ بھی ہوا تھا اور اگر بچہ ہوا تھا تو کس راستہ سے نکلا تھا؟ شرم‘ شرم‘ شرم‘ محمد رسول اللہ ﷺ فرمائیں کہ عیسیٰ آسمان پر اٹھائے گئے تو وہاں اس قدر اعتراض کہ کرہ زمہریر سے کیسے گزرا‘ آسمان پر کھاتا کیا ہو گا؟ بول براز کہاں کرتا ہو گا؟ اس قدر عمر دراز کس طرح پائی؟ ضعف پیری سے مر کیوں نہیں گیا؟ وغیرہ وغیرہ مگر امیر علی باپ کے دودھ سے

صفحہ ٢٧٠

پرورش پائے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ امیر علی کے باپ کے پستانوں سے جو دودھ جاری ہوا کس طرح ہوا؟ کیا لڑکا اس کے شکم سے نکلا تھا؟ اور لڑکا کس راہ سے نکلا؟ اور لڑکا کس کا تخم تھا۔ یہ ہے قادیانی فلسفہ اس عقل پر رسول اللہ ﷺ کے آسمان پر جانے سے انکار ہے اور ایسے عقل کے اجتہاد سے اس آیت سے وفات مسیح کی دلیل پیش کرتے ہیں؟ جو کہ غلط ہے پس تیس آیتوں کا جواب ہو چکا اب آخیر میں خلاصہ کے طور پر لکھا جاتا ہے کہ آیات نمبر ٨۔ ١٢۔ ١٤۔ ١٥۔ ١٦۔ ١٧۔ ١٨۔ ٢٤۔ ٢٥۔ ٢٨ ایسی عام ہیں کہ جس سے کسی شخص کی بھی وفات بالفعل ثابت نہیں ایسی ہی مثال ہے کہ کوئی شخص مرزا قادیانی کو ان کی زندگی میں کہتا کہ آپ وفات شدہ ہیں اور یہی آیات پیش کرتا جن سے موت لازم ہے۔ ایک امر کا لازم ہونا اور ہے اور واقع ہونا اور ہے۔ کوئی آدمی عربی خواں تو یہ نہیں کہہ سکتا کہ این ماتکونو یدرکم الموت. کل من علیها فان‘ اللہ الذی خلقکم ثم یحییکم ثم یمیتکم‘ الم تر ان اللہ انزل من السماء ثم انکم بعد ذالک لمیتون، انما مثل حیات الدنیا الذی‘ خلقکم‘ ومن نعمرہ ننکہ فی الخلق‘ ومن کم من یتوفی‘ ما جعلنا لبشر. ان آیات سے اگر وفات مسیح ثابت ہے تو دوسرے انسان ہم تم کیوں محصور نہیں اور اگر عیسیٰ فوت ہو گئے ہیں تو ہم تم کیوں زندہ ہیں کیونکہ ہم بھی ایسے ہی انسان ہیں ہم کیوں نہ مسیح کی طرح فوت شدہ سمجھے جائیں مگر چونکہ مشاہدہ ہے کہ ہم زندہ ہیں اور یہ آیات ہم کو فوت شدہ انسانوں کی فہرست میں نہیں لاسکتیں تو مسیح کس طرح فوت شدہ کی صف میں آ جائے؟ علیٰ ہذا القیاس! آیات ١٢۔ ١٥۔ ٢٤ کا ایک ہی مضمون ہے۔ ایسا ہی آیات ١٦ و ١٨ کا ایک ہی مضمون ہے اور اسی طرح آیات ٢٦ و ٢٧ دونوں کا مضمون واحد ہے۔ یہ صرف مرزا قادیانی کی طول بیانی ہے اور کچھ نہیں۔ آیات نمبر ٢٢ و ٢٩ عام ہیں ان کا حیات ممات سے کچھ تعلق نہیں باقی رہیں آیات نمبر ١ و ٢ و ٣ و ٤ و ١٠ و ١١ ان میں کچھ ذکر مسیح کا ہے۔

پہلی آیت میں وعدہ ہے‘ دوسری آیت میں ایفائے وعدہ کا اظہار‘ تیسری میں قیامت کا بیان اور حضرت عیسیٰؑ کے ساتھ سوال و جواب‘ چوتھی میں حضرت عیسیٰؑ کے نزول کا ذکر‘ دسویں میں مسیحی دین کے ارکان کا بیان‘ گیارہویں میں ان کی بریت ان تہمتوں سے جو یہود نے حضرت عیسیٰؑ اور ان کی والدہ پر لگائیں اور ان کے قتل وصلیب کی نفی، غرض کہ ایک آیت بھی ان تیس آیات میں نہیں ہے۔ جس میں لکھا ہو کہ حضرت عیسیٰؑ فوت ہو گئے یا خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ کو موت دے دی۔ سب آیتوں میں موت کا

صفحہ ٢٧١

لازم ہونا اور ضروری مرنا ہر ایک کے واسطے مذکور ہے۔ جس سے کسی مسلمان کو انکار نہیں۔ ہر ایک مسلمان کا اعتقاد ہے کہ مسیح بعد نزول فوت ہوں گے اور مدینہ منورہ میں دفن کیے جائیں گے۔ مرزا قادیانی اور مرزائی جو توفی کے لفظ پر بحث کرتے ہیں۔ بالکل غلط ہے ہم پہلے اسی انجمن تائید الاسلام کے رسالوں میں قرآن شریف کی ١٧ کی آیات میں ثابت کر آئے ہیں کہ توفی کے معنی پورا پورا لینے اور اپنے قبضہ میں کرنے کے ہیں اور یہ حقیقی معنی ہیں مجازی معنی موت کے اس وجہ سے ہیں کہ موت کے وقت بھی خدا تعالیٰ روح کو اپنے قبضہ میں کر لیتا ہے جیسا کہ نیند کے وقت اپنے قبضہ میں کر لیتا ہے جو کہ نص قرآنی سے ثابت ہے۔ یعنی اللہ یتوفکم فی اللیل یعنی وہ اللہ جو تم کو رات کے وقت سلا دیتا ہے مگر چونکہ جب روح پورا پورا لیا جائے اور واپس نہ کیا جائے تو اس کو موت کہتے ہیں نتیجہ یہ ہے کہ توفی کے معنی حقیقی موت نہیں صرف لینا ہے اور موت کے وقت جبکہ روح لے لیا جاتا ہے۔ اس واسطے مجازی معنی موت کے ہیں اسی واسطے تفاسیروں میں کل مفسروں نے اتفاق سے توفی کے معنی اخذ شیء وافیا والموت نوع منہ کے کیے ہیں یعنی توفی کے معنی کسی چیز کا پورا پورا لے لینا ہے اور موت ایک دوسری قسم سے ہے۔ قاضی محمد سلیمان صاحب جج ریاست پٹیالہ نے اپنی کتاب تائید الاسلام میں مرزا قادیانی کو ان کی زندگی میں چیلنج دیا تھا کہ ”اگر مرزا قادیانی براہ عنایت کسی مستند کتاب لغت میں یہ الفاظ لکھے دکھائیں کہ توفی کے معنی صرف قبض روح اور جسم کو بیکار چھوڑ دینے کے ہیں تو وہ ایک ہزار روپیہ کے انعام پانے کے مستحق ہوں گے۔“

(تائید الاسلام ص ٧٩، احتساب قادیانیت ج ٦ ص ٢٣٥)

مرزا قادیانی نے کوئی جواب نہ دیا جس سے روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کے پاس کوئی جواب نہ تھا ورنہ ایک ہزار روپیہ کا انعام مرزا قادیانی کبھی نہ چھوڑتے۔

رفع کے معنی صرف رفع روح کے بتاتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہیں۔

رفع کی بحث گزر چکی ہے۔ یہاں صرف اس قدر لکھ دینا کافی ہے کہ مرزا قادیانی جب روح کو بھی امتزاج عناصر سے پیدا شدہ مانتے ہیں تو پھر جس طرح خاکی وجود آسمان پر نہیں جا سکتا ہوائی وجود بھی آسمان پر نہیں جا سکتا کیونکہ مادی ہونے کے باعث اس کا صعود محال ہے اور جسم چونکہ مادی ہے اور مادی چیز سے جو چیز پیدا ہو گی وہ ضرور مادی ہو گی اس لیے روح کا آسمان پر جانا مرزا قادیانی کے اپنے مذہب اور اعتقاد کے برخلاف ہے اس بات کے ثبوت میں کہ مرزا قادیانی کے مذہب میں روح مادی

صفحہ ٢٧٢

ہے۔ ہم ان کی اصل عبارت ذیل میں لکھتے ہیں۔

”غور سے معلوم ہوتا ہے کہ روح کی ماں جسم ہی ہے۔ حاملہ عورتوں کے پیٹ میں روح کبھی اوپر سے نہیں گرتی بلکہ وہ ایک نور ہے جو نطفہ میں ہی پوشیدہ طور پر مخفی ہوتا ہے اور جسم کی نشوونما سے چمکتا جاتا ہے۔“

(اسلامی اصول کی فلاسفی ص ٨٥ خزائن ج ١٠ ص ٣٢١)

ناظرین! یہ تقریر مرزا قادیانی کے رفع روحانی کی تردید کرتی ہے کیونکہ جب روح ایک مستقل ہستی نہیں اور نہ اوپر سے آئی ہے تو پھر بعد موت اس کا اوپر جانا ایسا ہی محال ہے جیسا کہ جسم کا اوپر جانا ہم اس وقت اس پر بحث نہیں کرتے کہ مرزا قادیانی کا اعتقاد قرآن مجید کے برخلاف ہے کیونکہ قرآن مجید سے صاف بعبارت النص ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی روح بغیر نطفہ باپ کے خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجی گئی ہم اس وقت مرزا قادیانی کے رفع روحانی کی تردید ان کی ہی تحریر سے کرتے ہیں۔ واضح ہو کہ جب بقول مرزا قادیانی کے روح کی ماں جسم ہے اور عورتوں کے پیٹ میں اوپر سے نہیں آتی تو جسم کی جز ہو کر جسم ہوئی کیونکہ ماں کے پیٹ سے جو چیز پیدا ہوتی ہے۔ وہ ماں کی جز ہوتی ہے۔ یہ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ زید جب ہندہ کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ تو زید ہندہ اپنی ماں کی جز ہوتا ہے۔ یعنی اس کے خون حیض کا حصہ ایسا ہی اگر روح کی ماں جسم ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کا اعتقاد ہے تو ثابت ہوا کہ روح بھی جسم کی ایک جز ہے۔

دوم! مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ روح ایک نور ہے جو نطفہ میں ہی پوشیدہ طور پر مخفی ہوتا ہے۔ اس سے بھی روح کا جسم کی جز ہونا ثابت ہوا کیونکہ نطفہ مرد کی منی ہوتی ہے جو کہ خلاصہ یا نچوڑ یا ست خون کا ہوتا ہے اور خون غذا سے بنتا ہے اور غذا مادی اشیاء سے بنتی ہے۔ یعنی اناج و میوہ جات سے۔ تو ثابت ہوا کہ روح کا اصل نباتات و غذا سے بنتا ہے۔ جب غذا سے نطفہ بنا اور نطفہ کے اندر پوشیدہ طور پر روح مخفی ہے تو اظہر من الشمس روح کا مادی ہونا ثابت ہوا۔ جب مادی ہونا ثابت ہوا تو جسم عنصری ہوا تو مرزا قادیانی کے اپنے اعتقاد اور قول سے جسم عنصری کا رفع ہونا ثابت ہوا یا جسم اور روح دونوں کے رفع سے انکار ہو گا۔ اگر جسم و روح دونوں کے رفع سے انکار ہو تو یہ صریح نص قرآنی بل رفعہ اللہ الیہ کے برخلاف ہوا۔ یا بل رفعہ اللہ الیہ سے حضرت عیسیٰؑ کا رفع بجسد عنصری ثابت ہوا جس سے پایہ ثبوت کو پہنچ گیا کہ جسم و روح دونوں کا رفع ہوا کیونکہ قتل و صلیب کا فعل جسم پر ہی وارد ہو سکتا ہے۔ روح کو کوئی صلیب نہیں دے سکتا اور نہ صرف روح قتل ہو سکتا ہے۔ پس جو چیز قتل و صلیب سے بچائی گئی اسی کا رفع ہوا۔

صفحہ ٢٧٣

اور وہ جسم و روح دونوں کی مرکبی حالت کا نام ہے۔ جس کو عیسیٰؑ کہا جاتا ہے۔ جب مرکبی حالت میں رفع ہونا ثابت ہوا تو صرف روحانی رفع باطل ہوا اور اس آیت سے بھی استدلال وفات مسیح غلط ہوا۔ غرض یہ بالکل دعویٰ غلط ہے کہ قرآن شریف سے وفات مسیحؑ ثابت ہے۔ کیونکہ تمام قرآن میں الحمد سے والناس تک ایک آیت بھی نہیں۔ جس میں لکھا ہو کہ حضرت عیسیٰؑ فوت ہو گئے ہیں۔ اگر کوئی آیت ہے تو کوئی مرزائی بتائے بلادلیل ہانکے جانا کہ قرآن سے وفات مسیح ثابت ہے یہ غلط ہے اور مرزا قادیانی کی اپنی تحریریں ثابت کر رہی ہیں کہ ان کو خود یقین نہیں تھا کہ قرآن سے وفات مسیح ثابت ہے کیونکہ انھوں نے قرآن شریف کے علاوہ دلائل اور ثبوت تلاش کیے۔ مثلاً مرہم عیسیٰ سے وفات مسیح کا استدلال کیا اور یوز آسف کی قبر جو کشمیر میں ہے۔ اس کو مسیح کی قبر قرار دے کر شور مچایا کہ اس سے وفات مسیح ثابت ہے کوئی بتا سکتا ہے کہ جب مرزا قادیانی ان تیس آیات سے وفات مسیح ثابت کر چکے اور ان کا دل مطمئن ہو گیا تھا۔ تو ایسی دلائل مرہم عیسیٰ اور قبر کشمیر کی کیا ضرورت تھی؟ اب ہم ذیل میں پہلے مرہم عیسیٰ کی تردید کرتے ہیں۔

مرہم عیسیٰ : ہر ایک شخص جس کے سر میں دماغ ہے اور دماغ کی تمام قوتیں درست ہیں وہ جانتا ہے کہ نام رکھنے کے وقت بطور تفاؤل یعنی شگون وفال کے طور پر نام ایسا رکھتے ہیں جو کسی متبرک اور فن کے ماہر کی طرف منسوب ہو اور یہ طریقہ ہر ایک زمانہ میں چلا آیا ہے۔ جیسا کہ جوارش جالینوس یا سرمہ سلیمان یا معجون فلاسفہ یا نمک سلیمانی وغیرہ وغیرہ کیا کوئی باحواس انسان کہہ سکتا ہے کہ ان ادویہ کو ان کی بیماریوں کے واسطے جن کے نام پر یہ نام رکھے ہیں حقیقتاً ان کو یہ بیماریاں تھیں؟ اور ان کے واسطے یہ ادویات ایجاد کی گئیں ہرگز کوئی عقلمند نہیں کہہ سکتا ہے کہ ”رود موسیٰ“ جو حیدر آباد دکن میں ہے‘ حضرت موسیٰ نے اپنے پانی پینے کے واسطے بنائی تھی۔ حالانکہ قرآن میں اوتی موسیٰ بھی موجود ہے۔ ہرگز نہیں تو پھر مرہم عیسیٰ کو کیوں یہ خصوصیت ہو کہ حضرت عیسیٰ کے صلیبی زخموں کے واسطے ایجاد ہوئی تھی؟ چونکہ حضرت عیسیٰؑ کو شفا امراض کے ساتھ نسبت ملتی تھی۔ اس واسطے موجد مرہم عیسیٰ نے تبرکاً اس مرہم کا نام مرہم عیسیٰ رکھ دیا جیسا کہ ہزاروں شعر اسی مضمون پر ہیں کہ ”خبر لے او مسیحا تو کہاں ہے۔ تیرا بیمار بسمل نیم جاں ہے“۔ ”عیسیٰ مرنج گرنکشدیم ناز تو۔ دردے ندیر بود مداوا گذاشتم۔ عیسیٰ بہ طبابت بنشانید سقم را۔“ غرض کہ مرہم عیسیٰ کا نام تبرکاً رکھا تھا۔ دور نہ جاؤ مرزا قادیانی نے خود اپنی الہامی کتاب کا نام براہین احمدیہ رکھا ہے۔ کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ نعوذ باللہ حضرت احمد ﷺ کو اسلام کے

صفحہ ٢٧٤

حق ہونے میں شک تھا اس واسطے یہ کتاب تصنیف ہوئی ؟ یا اعجاز احمدی مرزا قادیانی کی کتاب کے یہ معنی ہیں حضرت احمد ﷺ نے اپنے اعجاز دکھانے کے واسطے یہ کتاب تصنیف کی ؟ ہرگز نہیں تو پھر مرہم عیسیٰ کو کیوں عیسیٰ کی بیماری کی خاطر بنائی گئی کہا جاتا ہے؟ اور یہ بالکل غلط ہے اور دھوکہ دہی ہے جو مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔ طب کی ہزار کتابوں میں لکھا ہے کہ یہ مرہم حضرت عیسیٰ کے صلیبی زخموں کے واسطے طیار ہوئی تھی کسی ایک طب کی کتاب میں اگر کوئی مرزائی دکھائے کہ عیسیٰ کی صلیبی زخموں کے واسطے یہ مرہم حضرت عیسیٰؑ نے ایجاد کی تھی تو ہم تسلیم کریں گے نہ صرف تسلیم کریں گے بلکہ میں خود وفات مسیح کا قائل ہو کر رسالہ میں مرزا قادیانی کی تائید کروں گا اور اس مرزائی کو ایک سو روپیہ انعام بھی دوں گا کوئی مرزائی مرد میدان بنے اور کسی طب کی کتاب سے بتائے کہ صلیبی زخموں کے واسطے یہ مرہم تیار ہوئی دوم ترکیب لفظی بتا رہی ہے کہ مرہم عیسیٰ کا موجد اور نام رکھنے والا حضرت عیسیٰ کے بغیر کوئی دوسرا شخص ہے کیونکہ مرہم مضاف ہے اور عیسیٰ مضاف الیہ ہے۔ جب عیسیٰ مضاف الیہ ہے تو اظہر من الشمس ثابت ہے کہ نام رکھنے والے نے تبرکاً نام مرہم عیسیٰ رکھا۔ جس طرح کسی نے سرمہ سلیمانی نام اپنے سرمہ کا رکھا۔ ہم قرابادین قادی سے مرہم عیسیٰ کی اجزا اور جن جن بیماریوں کے واسطے یہ مفید ہے۔ ذیل میں لکھتے ہیں تاکہ ثابت ہو کہ یہ مرزا قادیانی کا کہنا بالکل غلط ہے کہ یہ مرہم صلیب کے زخموں کے واسطے حضرت عیسیٰؑ کے حواریوں نے بنائی تھی اور ہر ایک حواری نے ایک ایک دوائی تجویز کی تھی۔ مگر خدا کی شان مرزا قادیانی نے یہ نہ سوچا کہ مرہم عیسیٰ کے اجزاء تو بارہ ہیں اگر یہ مرہم واقعی صلیب کے بعد ایجاد ہوئی تھی تو اس کی اجزا گیارہ ہونے چاہیے تھے کیونکہ ایک حواری نے تو خودکشی کر لی تھی تو پھر بارہ اجزا کس طرح ہوئے؟ یا یہ غلط ہوا کہ ہر ایک حواری نے ایک ایک دوا تجویز کی خیر کچھ ہی ہو مرہم عیسیٰ یہ مفصلہ ذیل امراض کے واسطے ایجاد ہوئی تھی نہ کہ صلیب کے زخموں کے واسطے کیونکہ قرآن مجید صلیب کی تردید فرماتا ہے وما قتلوه وما صلبوه یعنی عیسیٰ نہ قتل ہوا نہ صلیب پر چڑھایا گیا جب صلیب ہی نہیں دیا گیا تو پھر زخم کیسے اور مرہم کیسی، اور ام حاسبہ یعنی جمیع ورم گرم یا سخت، خنازیر، طواعین یعنی سب قسم کی طاعون، سرطانات یعنی ورم سوداوی، تنقیہ جراحات یعنی زخموں کا تنقیہ، اوساح یعنی چرک، جہت رویانیدن گوشت تازہ، رفع شقاق و آثار یعنی شگاف پاؤں حکہ خارش جدید، جرب خارش کہنہ، سعفہ سرگنج، بواسیر صلیبی زخموں پر مفید ہونا کہیں نہیں لکھا اس مرہم کا نام صرف مرہم عیسیٰ ہی نہیں شروع میں یہ عبارت ہے۔

صفحہ ٢٧٥

”مرہم حواریین کہ مسمی است بمرہم سلیخا و مرہم رسل و نیز آنرا مرہم عیسیٰ نامند“ اس عبارت سے ظاہر ہے کہ اس مرہم کی خصوصیت حضرت عیسیٰؑ ہی سے نہیں بلکہ اس کی نسبت تمام رسولوں سے ہے کیونکہ رسل جمع رسول کی ہے۔ اگر صرف حضرت عیسیٰؑ کے واسطے ہوتی تو مرہم رسل نہ کہا جاتا بلکہ صرف مرہم رسول کہا جاتا۔ اب ثابت ہوا کہ اس مرہم کے چار نام ہیں یعنی حواریین، سلیخا، رسل، عیسیٰ علیہ السلام مگر تعجب ہے کہ مرزا قادیانی نے اس عبارت سے یہ کہاں سے اور کن الفاظ سے اس قدر عبارت اپنے پاس سے بنا لی کہ حضرت مسیحؑ کو یہود نے صلیب پر چڑھا دیا تھا اور پھر جلدی سے اتار لیا تھا۔ اس وقت ان کو زخم ہو گئے تھے۔ ان زخموں کے واسطے یہ مرہم تیار کی گئی تھی۔ چلو اسی پر مرزا قادیانی کی راستی کا امتحان کر لو اگر یہ الفاظ کسی طب کی کتاب سے نکل آئیں تو مرزا قادیانی سچے۔ ورنہ عاقلان کو مرزا کے جھوٹے ہونے میں کیا شک ہے؟ مگر طب کی کسی کتاب میں نہیں اور نہ انجیل میں ہی کہیں لکھا ہے کہ حضرت مسیح صلیب سے جلدی اتار لیے گئے۔ وہاں تو صاف لکھا ہے کہ مسیح چھ گھنٹے صلیب پر رہا اور مردہ پا کر بعد امتحان دفن کیا گیا۔ دیکھو انجیل متی باب ٢٧ آیات ٤٥ سے ٥٠ تک دوپہر سے لے کر تیسرے پہر تک ساری زمین پر اندھیرا چھا گیا۔ تیسرے پہر کے قریب یسوع نے بڑے شور سے چلا کر کہا ایلی ایلی لما سبقتنی یعنی اے میرے خدا اے میرے خدا تو کیوں مجھے اکیلا چھوڑا۔ ان میں سے ایک نے دوڑ کر اسفنج لیا اور سرکہ میں بھگویا اور نرکھٹ پر رکھ کر اسے چسایا اوروں نے کہا رہ جا ہم دیکھیں الیاس اسے چھڑانے آتا ہے کہ نہیں اور یسوع نے پھر بڑے شور سے چلا کر جان دی الخ آگے آیات ٥٧ سے جب شام ہوئی یوسف نامی ارمتیہ کا ایک دولتمند جو یسوع کا شاگرد بھی تھا آیا اس نے پلاطوس کے پاس جا کے یسوع کی لاش مانگی تب پلاطوس نے حکم دیا کہ لاش اسے دیں یوسف نے لاش لے کر سوتی صاف چادر میں لپیٹی اور اپنی قبرستان میں چٹان کھودی اور لاش رکھی اور ایک بڑا بھاری پتھر قبر کے منہ پر دھکا کر چلا گیا۔“

تمت

PDF 276

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تجھ سا کوئی نہیں

کلام شاہ نفیس الحسینیؒ ٢٢ جمادی الاخریٰ ١٤١٥ھ

اے رَسُوْلِ اَمِیں، خَاتَمُ الْمُرْسَلِیں! تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
ہے عقیْدہ یہ اپنا بِصِدقِ یقیں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
اے براہیمی و ہاشمی خُوش لقب، اے تُو عالی نسب، اے تُو والا حَسَب
دُودمانِ قُریشی کے دُرِّ ثَمیں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
دستِ قدرت نے ایسا بنایا تجھے، جملہ اوصاف سے خود سجایا تجھے
اے ازَل کے حَسیں، اے ابَد کے مَکیں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
بزمِ کونین پہلے سجائی گئی، پھر تری ذات منظر پہ لائی گئی
سَیِّدُ الْاَوَّلِیں، سَیِّدُ الْآخِرِیں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
تیرا سِکّہ رواں کُل جہاں میں ہُوا، اِس زمیں میں ہُوا، آسماں میں ہُوا
کیا عرب، کیا عجم، سب ہیں زیرِ نگیں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
تیرے انداز میں وسعتیں فرش کی، تیری پرواز میں رِفعتیں عرش کی
تیرے انفاس میں خُلد کی یاسمیں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
سِدرَۃُ الْمُنتہیٰ رہگزر میں تری، قَابَ قَوْسَین گردِ سفر میں تری
تو ہے حق کے قریں، حق ہے تیرے قریں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
کہکشاں ضَو ترے سَرمَدی تاج کی، زُلفِ تاباں حسیں رات معراج کی
”لَیْلَۃُ القَدْر“ تیری مُنوَّر جبیں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
مُصطفےٰ! مجتبےٰ! تیری مدح و ثنا، میرے بس میں نہیں، دسترس میں نہیں
دل کو ہمّت نہیں، لب کو یارا نہیں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
کوئی بتلائے، کیسے سراپا لکھوں! کوئی ہے! وہ کہ میں جس کو تجھ سا کہوں
توبہ توبہ، نہیں کوئی تجھ سا نہیں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
چار یاروں کی شان جلی ہے بھلی، ہیں یہ صدیقؓ، فاروقؓ، عثمانؓ، علیؓ
شاہدِ عدل ہیں یہ ترے بالیقیں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
اے سراپا نَفِیسُ، اَنْفُسِ دو جہاں، سَروَرِ دلبراں، دلبرِ عاشقاں
ڈھونڈتی ہے تجھے میری جانِ حزیں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں

وصلی اللّٰہ علیٰ خیر خلقہٖ سیّدنا و مولانا محمّد وآلہٖ وصحبہٖ وبارک وسلم

PDF 277

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں

تردید نبوت قادیانی

فی جواب

” النبوۃ فی خیر الامت “

جناب بابو پیر بخشؒ

صفحہ ٢٧٨

اطلاع ضروری

برادران اسلام! مرزا قادیانی اور ان کے مرید و اراکین مرزائیت ہمیشہ ہر ایک جلسہ و مجمع میں فرما رہے ہیں کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت و رسالت کا ہرگز نہیں اور وہ خاتم النبیین ﷺ پر ایسا ہی اعتقاد رکھتے ہیں جیسا کہ اور مسلمان صرف مرزا قادیانی کو بروزی وظلی و ناقص نبی مانتے ہیں بلکہ ہینڈ بل نمبر ٩ میں لکھا کہ جو خاتم النبیین ﷺ کے بعد کسی جدید نبی کا آنا جائز سمجھے ہم اس کو کافر جانتے ہیں۔ حکیم نور دین اور خواجہ کمال الدین نے کئی ایک جلسوں اور مجمعوں میں بطور لیکچر و وعظ فرمایا کہ ہم مرزا قادیانی کو خواجہ اجمیریؒ و پیران پیر عبدالقادر جیلانیؒ حضرت گنج بخشؒ وغیرہ اولیاء اللہ کی طرح مانتے ہیں اور ایک سلسلہ کے پیشوا جیسا کہ نقشبندیؒ قادریؒ سہروردیؒ چشتیؒ ہیں ایسا ہی ایک مرزا قادیانی کو جانتے ہیں مگر اب میر قاسم علی مرزائی ایڈیٹر الحق دہلی نے جو یہ لکھا ہے کہ جو لوگ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نبی کا یا رسول کا آنا جائز نہیں رکھتے وہ کفار بنی اسرائیل یہودی ہیں اور لن یبعث اللہ من بعدہ رسولا جس طرح یہود حضرت یوسفؑ کے بعد کسی نبی کا آنا جائز نہ رکھتے تھے اسی طرح تم کہتے ہو کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی رسول نہ آئے گا۔ (کتاب النبوۃ ص ١٠٥) اس سے یہ ثابت ہوا کہ یا تو مرزا قادیانی و حکیم نور دین و خواجہ کمال الدین عوام کو مغالطہ میں ڈالتے رہے ہیں یا میر قاسم علی مرزائی مصنف کتاب النبوۃ فی خیرالامت غلطی پر ہے۔ اس بات کا فیصلہ حکیم صاحب و خلافت قادیانی خود کرے گی ہم صرف مسلمانوں کو اس دھوکہ سے بچنے کے واسطے جواب لکھتے ہیں تاکہ ہر ایک مسلمان یاد رکھے اور بحث کے وقت اس آیت کا جواب دے کہ قرآن میں یہود کا قول نقل کیا گیا ہے وہ کہتے ہیں کہ یوسفؑ کے بعد کوئی نبی نہ آئے گا یہ بات نہ خدا کی ہے نہ یوسفؑ کی۔ یہ صرف دھوکہ ہے۔ ایسا ہی یہود کہتے تھے لیکن وہ تو بلاسند شرعی کہتے تھے مگر مسلمان نص قرآنی سے کہہ رہے ہیں اور حدیث رسول اللہ ﷺ سے کہتے ہیں یہ یہود کے کہنے کے موافق ہرگز نہیں کیونکہ یہاں تو خدا تعالیٰ خاتم النبیین فرماتا ہے اور محمد ﷺ لا نبی بعدی فرماتا ہے۔ لیکن یہود کے پاس نہ تو خدا کی کلام ہے اور نہ حضرت یوسفؑ کی حدیث ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ پس اس دھوکہ سے مسلمانوں کو بچنا چاہیے۔ (٢) خدائے تعالیٰ فرماتا ہے اطیعو اللہ و اطیعو الرسول الخ۔ اللہ کی فرمانبرداری کرو اور اس کے رسول کی کرو۔ رسول ﷺ کی فرمانبرداری فرض ہے۔

صفحہ ٢٧٩

مشیت ایزدی میں محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نبی و رسول کا آنا منظور ہوتا تو رسل جمع کا لفظ فرمانا چاہیے تھا۔ نہ کہ واحد کا پس ثابت ہوا کہ چونکہ ایک ہی رسول واحد یعنی محمد ﷺ کی فرمانبرداری فرض فرمائی ہے اور کسی رسول کی نہیں فرمائی۔ اس لیے مدعیان نبوت بعد محمد ﷺ کے کاذب ہیں لہٰذا انھیں میں سے ایک مرزا قادیانی بھی تھے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

اما بعد احقر العباد پیر بخش پنشنر پوسٹ ماسٹر و مصنف معیار عقائد قادیانی‘ برادران اسلام کی خدمت میں عرض کرتا ہے کہ اگر چہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت تھا۔ مگر چونکہ ساتھ ساتھ وہ اپنی تردید خود کر جاتا تھا کہ میں نہ رسول ہوں اور نہ کوئی نئی شریعت لایا ہوں اور نہ کوئی کتاب لایا ہوں۔ صرف محمد ﷺ کی متابعت سے ظلی نبی ہوں اور خاتم النبیین کے بعد کسی نبی کے آنے کا جو اعتقاد رکھے اس کو کافر جانتا ہوں۔ (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٦٦ خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٠) میں انھوں نے لکھا ہے کہ ”جب کوئی قوم معذب ہوتی ہے تو رسول بھی ضرور بھیجا جاتا ہے چونکہ میرے وقت طاعون بطور عذاب دنیا پر آئی ہے اس لیے ضرور کوئی نبی بھی آنا چاہیے۔ سو وہ میں ہوں اور مَا کُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلاً سے تمسک کر کے نبوت کا دعویٰ کیا کہ اس زمانہ میں میرے سوا کوئی مدعی نبوت نہیں۔ اور طاعون بھی خدا نے بطور نشان بھیجی ہے۔ اس لیے میں نبی ہوں۔ رسول ہوں ۔“ مامور من اللہ ہوں۔ (ملخص) مگر چونکہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ میں نہایت کمزور تھے۔ مسلمانوں سے ڈرتے بھی تھے کہ اگر کھلا کھلا دعویٰ رسالت و نبوت کیا تو مرید الگ ہو جائیں گے اور آمدنی بند ہو جائے گی۔ ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے جاتے تھے کہ نادانو کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ ”میں رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں۔ میں ایک امتی ہوں اور فنا فی الرسول ہوں۔“ غرض مرزا قادیانی کی تحریریں آپس میں متضاد ہونے کے باعث جھگڑالو مرزائیوں کے واسطے بحث کا عمدہ آلہ تھا کہ جب مرزا قادیانی کی ایک تحریر پیش کی کہ نبوت و رسالت کے مدعی تھے۔ تو مرزائی جھٹ ان کا وہ شعر کہ ”من نیستم رسول و نیا وردہ ام کتاب“ (ازالہ اوہام ص ١٧٨ خزائن ج ٣ ص ١٨٥) پڑھ دیتے۔ مگر اب میر قاسم علی مرزائی ایڈیٹر الحق اخبار دہلی نے بالکل پردہ اٹھا دیا ہے اور مرزا قادیانی کی رسالت و نبوت پر ایک کتاب مسمیٰ ”بہ النبوۃ خیر الامت“ تصنیف کی ہے اور اس کتاب ٣

صفحہ ٢٨٠

میں اوّل! تو محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد جدید نبیوں اور رسولوں کا آنا ثابت کرنا چاہا ہے۔ دوم! مرزا قادیانی کو رسول و نبی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور خاتم النبیین کی تفسیر اپنے عقلی دلائل سے کی ہے اور لطف یہ ہے کہ تمام سلف و خلف اہلِ اسلام کو جو محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نبی کا مبعوث ہونا جائز نہیں رکھتے۔ ان سب کو بلا تمیز مغضوب، مجذوم، تحریف کنندہ، حماقت کنندہ وغیرہ وغیرہ الفاظ سے یاد کیا ہے اور لکھا ہے کہ جس طرح کفار بنی اسرائیل، یہودی کہتے تھے کہ لَنْ يَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْ بَعْدِہٖ رَسُوْلًا۔ یوسفؑ کے بعد ہرگز کوئی رسول نہیں آئے گا۔ تمام مسلمان کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی رسول نہیں آئے گا اور ان کی غرض یہ ہے کہ جو لوگ محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین (جس کی تفسیر رسول اللہ ﷺ نے خود لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ کر دی ہے) کہتے ہیں۔ وہ ١٣ سو سال سے غلطی پر چلے آئے ہیں۔ ان کو قرآن مجید کی سمجھ نہیں آئی تھی۔ جب قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے۔ يٰبَنِی اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ فَمَنِ اتَّقٰی وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۔ جس کا ترجمہ غلط کر کے لوگوں کو دھوکہ دیا ہے کہ ہمیشہ نبی ﷺ و رسول آتے رہیں گے۔ اس آیت سے میر قاسم مرزائی نے مرزا قادیانی کی رسالت ثابت کی ہے کہ جب وعدہ ہے اور وعدہ ہمیشہ کے واسطے ہے۔ کہ رسول آتے رہیں گے۔ تو پس مرزا قادیانی ضرور رسول ہیں اور اسی کتاب میں لکھتے ہیں کہ رسول اور نبی میں جو فرق کرتے ہیں کہ رسول صاحب کتاب و شریعت ہوتا ہے غلطی پر ہیں۔ نبی و رسول ایک ہی ہے۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ میر صاحب مرزا قادیانی کو رسول صاحب کتاب و شریعت یقین کرتے ہیں کیونکہ اس آیت سے رسول صاحب کتاب و شریعت کے آنے کا وعدہ ہے تو ضرور تھا کہ حسب وعدہ مرزا قادیانی تشریعی نبی و رسول ہوتے۔ مگر افسوس واقعات اس کے برخلاف ہیں کہ مرزا قادیانی نہ کوئی شریعت لائے اور نہ کوئی جدید کتاب جس سے صاف ثابت ہوا کہ اس آیت سے تمسک بالکل غلط ہے۔ یہ تو صرف حضرت آدمؑ کے قصہ کی آیت ہے۔ چنانچہ اس کا جواب اپنے موقعہ پر آئے گا اور ایسا ہی لَنْ يَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْ بَعْدِہٖ رَسُوْلًا حضرت یوسفؑ کے قصہ کی آیت ہے۔ خدا نے یہود کی نقل کی ہے نہ کہ خاتم النبیین کی تردید کی ہے کیونکہ خاتم النبیین وَلَا نَبِیَّ بَعْدِیْ خدا اور رسول فرماتا ہے نہ کہ یہود۔

(٢) مرزا قادیانی نے خود نون ثقیلہ کی بحث میں مولوی محمد بشیر صاحبؒ سے جب مباحثہ دہلی میں ہوا تھا۔ فرماتے ہیں۔ ”کَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ یعنی خدا

٤

صفحہ ٢٨١

مقرر کر چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے ۔ یہ آیت بھی ہر ایک زمانہ میں دائر اور عادت مستمرہ اللہ کا بیان کر رہی ہے ۔ یہ نہیں کہ آئندہ رسول پیدا ہوں گے اور خدا انھیں غالب کرے گا ۔‘‘ (مباحثہ دہلی ص ٣٣ خزائن ج ٤ ص ١٦٣) اب میر مرزائی بتائیں کہ مدعی سست و گواہ چست کا معاملہ ہے کہ مدعی تو رسالت مطلقہ کا دعویٰ نہیں کرتا بلکہ وہ اس کے امکان سے انکاری ہے اور میر مرزائی اس آیت سے اس کی رسالت ثابت کرتے ہیں۔ غرض جب میں نے اس کتاب کو دیکھا کہ مرشد کچھ کہتا ہے اور بالکا کچھ کہتا ہے۔ غرض ایسی ایسی بلا دلیل باتوں کو دیکھ کر اور دوسری طرف عظیم دھوکہ کہ ایک ہزار روپیہ انعام جواب دینے والے کے واسطے مقرر کر دیا۔ تا کہ لوگوں کو یقین ہو کہ واقعی کتاب لاجواب ہے۔ اگرچہ میر مرزائی کی کمزوری تو اشتہار انعام سے معلوم ہو گئی تھی کہ خود تو عقلی ڈھکوسلے لگاتے ہیں اور کہیں داتا گنج بخشؒ کی سند اور کہیں شیخ اکبر ابن عربیؒ کی کتاب فتوحات کے غلط حوالے نصف عبارت نقل کر کے مغالطہ دیا ہے اور کہیں رسالہ انوار صوفیہ سے پناہ لی ہے۔ مگر انصاف دیکھئے کہ جواب دینے والے کے واسطے شرط لگاتے ہیں کہ جواب دینے والا صرف قرآن سے جواب دے۔ سچ ہے آگ کا جلا ہوا جگنوں سے بھی ڈرتا ہے۔ پہلے میر مرزائی تین سو روپیہ ابو الوفا مولوی ثناء اللہ صاحب جو مرزائیوں کے واسطے سیف اللہ ہیں ہار چکے ہیں۔ اس واسطے اب میر صاحب اپنے پیر کی مانند ناممکن الوقوع شرائط مقرر کرتے ہیں۔ جس سے ان کا گریز خود ہی ثابت ہے۔ مگر خدا تعالیٰ شاہد ہے کہ میں نے نہ کسی انعام کی غرض سے بلکہ محض تحقیق حق اور مسلمانوں کو مغالطہ اور ٹھوکر سے بچانے کے لیے یہ کتاب لکھی ہے۔ کیونکہ مرزائیوں کے عقلی ڈھکوسلوں پر اکثر مسلمان پھسل جاتے ہیں اور ان کی دروغ بیانیوں اور غلط معنوں پر یقین کر کے دین حق سے بھٹک جاتے ہیں جبکہ وحی رسالت بعد محمد رسول اللہ ﷺ باجماع امت بند ہے تو پھر بعد رسول اللہ ﷺ کے جدید نبی اور رسول کا بننا بھی ناممکن ہے تو پھر کسی مدعی نبوت و رسالت کو کس طرح سچا مانا جا سکتا ہے؟ مرزا قادیانی کا یہ فرمانا کہ میرے کشوف و الہامات وساوس شیطانی سے پاک ہیں غلط ہے کیونکہ ان کے کشوف و الہامات صاف صاف وساوس ہونا بتا رہے ہیں۔ مثلاً ”میں نے دیکھا کہ خدا ہوں ۔‘‘ (کتاب البریہ ص ٨٥ خزائن ج ١٣ ص ١٠٣) ”زمین و آسمان بنائے اور میں ان کے خلق پر قادر تھا ۔‘‘ (کتاب البریہ ص ٨٦ خزائن ج ١٣ ص ١٠٥) (دوم) یعنی خدا تعالیٰ کی زیارت تمثیلی صورت میں کی اور ان کے دستخط اپنی پیشگوئیاں پر کرائے ۔ (حقیقت الوحی ص ٢٥٥ خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)

٥

صفحہ ٢٨٢

(براہین احمدیہ ص ٥٦١ حاشیہ خزائن ج ١ ص ٦٦٨)

(حقیقت الوحی ص ٧٨ خزائن ج ٢٢ ص ٨١)

کیونکہ ناچیز انسان نہ خدا ہو سکتا ہے اور نہ خالق زمین و آسمان ۔ اور نہ خدا کے پانی (نطفہ) سے ہو سکتا ہے اور یہ تمام الہامات نصوص ونصوص شرعیہ کے برخلاف ہیں۔ اس واسطے وساوس ہیں۔ اور ان کا خدا کی طرف سے نہ ہونا یقینی ہے کیونکہ اس پر اجماع امت ہے کہ کشوف و الہامات حجت شرعی نہیں اور جب تک شریعت کے مطابق نہ ہوں قابل اعتبار نہیں۔ پس جس شخص کے کشوف و الہامات خلاف قرآن و حدیث ہوں۔ وہ شخص دعویٰ مکالمہ ومخاطبہ الہی میں ہرگز سچا نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کی بنیاد دعویٰ مسیح موعود و نبوت و رسالت انھیں کشوف و الہامات پر ہے۔ جو بسبب خلاف نصوص شرعیہ ہونے کے قابل اعتبار نہیں اور مرزا قادیانی کو یہ زعم غلط ہوتا رہا کہ قرآن مجید کی اگر کوئی آیت ان کی زبان پر عالم خواب میں جاری ہوئی تو انھوں نے اس کو اپنے پر دوبارہ نازل ہونا سمجھ لیا۔ جیسا کہ يٰعِيْسٰى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ الخ حضرت عیسیٰؑ کے قصہ کی آیت جو خواب میں آپ کی زبان پر جاری ہوئی۔ تو زعم کیا کہ میں مسیح موعود ہوں اور خدا نے میرا نام عیسیٰؑ رکھا ہے، اور اگر حضرت مریمؑ کا نام آیا تو زعم کیا کہ خدا نے میرا نام مریم رکھا ہے، حالانکہ یہ غلط ہے کہ خدائے تعالیٰ کسی مرد کا نام مریمؑ رکھے۔ کیا خدا عورت مرد میں تمیز نہیں کر سکتا؟ کوئی مسلمان جس کی زبان پر عالم خواب میں کوئی آیت قرآن مجید جاری ہو۔ یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ مجھ کو وحی الہی ہوئی ہے۔ میں ایک تازہ واقعہ اپنا حلفیہ بیان کرتا ہوں اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر سچ کہتا ہوں کہ ١٣ مارچ ١٩١٤ء کو رات کے وقت

صفحہ ٢٨٣

انا اعطینٰک الکوثرہ فصل لربک وانحرہ ان شانئک ھو الابترہ تمام سورت اخیر تک حالت خواب میں میری زبان پر جاری تھی اور کئی دفعہ آنکھ کھل بھی گئی تو یہی سورت جاری تھی۔ کیا میں اب سمجھ لوں یا کہوں کہ یہ سورت مجھ پر دوبارہ نازل ہوئی ہے تو درست ہے؟ ہرگز نہیں تو پھر مرزا قادیانی کا فرمانا کہ مجھ پر قرآن کی آیتیں نازل ہوئی ہیں کیونکر درست ہوا؟ پس مرزا قادیانی کا یہ زعم کہ خدا نے میرا نام عیسیٰ رکھا ہے اور میں مسیح موعود ہوں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آیت اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ مجھ پر دوبارہ نازل ہوئی ہے درست نہیں کیونکہ اس کا کیا ثبوت ہے کہ خدا نے آپ کو مسیح موعود مقرر کیا ہے؟ اس طرح تو آیات تمام مسلمانوں کو خواب میں سنائی دیتی ہیں اور ان کی زبان پر جاری ہوتی ہیں۔ اس حساب سے تو وہ بھی اپنے آپ کو مرسلین میں سے سمجھ سکتے ہیں اور یہ بالکل بے دلیل ہے کہ مرزا کے خواب خواہ جھوٹے بھی ہوں اور جھوٹے نکلے۔ وہ سب حجت اور وساوس سے پاک ہیں اور دوسرے مسلمانوں کے خواب اگر سچے بھی ہوں تو مکر اللہ میں داخل ہیں۔ نہایت بے انصافی اور خود غرضی پر مبنی ہیں کیونکہ اگر خواب و کشف حجت شرعی ہیں تو فریقین کے واسطے حجت ہیں اور خلاف شرعی ہونے کے باعث قابل اعتبار نہیں تو دونوں فریق کے واسطے یہ معقول نہیں کہ پہلے کذابوں کے کشوف والہام چونکہ خلاف شرع تھے اس لیے وہ تو کاذب قرار دیے جائیں اور مرزا قادیانی کے کشوف و الہام جو غیر شرع ہیں۔ ان کے باعث مرزا قادیانی کو کاذب نہ کہا جائے۔ پس جس شخص کے کشوف والہامات خلاف نصوص شرعی ہوں گے۔ وہ ضرور کاذب ہے۔ خواہ کوئی ہو۔“

صفحہ ٢٨٤

مقدمہ

ابتدائے آفرینش سے گروہ انسان کے دو قسم چلے آئے ہیں۔ ایک گروہ دینداروں کا اور دوسرا گروہ دہریوں اور فلسفیوں کا۔ دینداروں کی بھی کئی قسم ہیں۔ ایک اہل اسلام۔ دوم اہل شرک یعنی بت پرست وغیرہ۔

جو گروہ ابتدائے آفرینش سے انبیاء کو بمع ان کی تعلیم اور معجزات کے مانتا چلا آیا ہے۔ وہ اہل اسلام میں ہے اور اہل اسلام ایمان بالغیب لاتے رہے ہیں۔ یعنی جو کچھ انبیاء نے ان کو بذریعہ وحی حاصل کر کے فرما دیا اس کو حکم خدا تسلیم کر کے اس پر ایمان لائے اور عمل شروع کر دیا۔ بخلاف اس کے خشک عقل کے بندوں نے جو کچھ ان کی سمجھ میں آیا یا بذریعہ حواس ظاہرہ انھوں نے دریافت کیا۔ اس کو مانا اور جو حقائق و ہدایت کی روشنی بذریعہ نور نبوت انبیاء کو حاصل ہوئی اس کے ماننے میں اعتراضات محال عقلی کو پیش کر کے شکوک و الحاد کے دلدل میں پھنسے رہے اور محدود عقل کو معیار حق و باطل کا قرار دے کر ہمیشہ کے لیے صراط مستقیم سے بہت دور جا پڑے اسی سنت الٰہی کے مطابق جو انبیاء بوساطت وحی خدا کی طرف سے بندوں کی طرف چراغ ہدایت لاتے رہے اور ہدایت یافتہ اور ایماندار بندے اس شاہ راہ ہدایت پر چلتے آئے وہ مسلمان کہلاتے آئے اور یہ دستور العمل جو ان کو بذریعہ انبیاء عطا ہوا۔ وہ قانون الٰہی یا علم الٰہی سے موسوم ہوتا رہا۔

اہل عقل ہمیشہ مسلمات دین سے انکار کرتے چلے آئے اور اپنے عقلی ڈھکوسلے پیش کرتے رہے جو کہ نور نبوت کے آگے ہمیشہ مدہم پڑتے رہے کیونکہ خشک عقلی علوم جن کو فی زمانہ سائنس و فلسفہ کہتے ہیں۔ کبھی نعمتِ یقین کسی امر میں حاصل نہ کر سکے۔ گو ہر زمانہ میں ان کی ترقی ہوتی چلی آئی اور ماقبل فلاسفروں کی غلطیاں نکلتی چلی آئیں۔ چنانچہ اس زمانہ کے فلاسفر اپنے آپ کو اکمل مدارجِ علم پر پہنچے ہوئے جانتے ہیں اور ہر قدم پر

٨

صفحہ ٢٨٥

ماسبق حکماء کی غلطیاں نکالتے ہیں تاہم ان کو یہ بھی اقرار ہے کہ سائنس اور فلسفہ ابھی ناقص ہے اور قانون قدرت ابھی تک محدود عقل انسانی نہیں ہوا۔

اب ذرہ ہم اہل مذاہب کی اس جگہ اس زمانہ میں جو غلطی واقعہ ہو رہی ہے اس پر نظر ڈالتے ہیں اور ناظرین کو دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ کیوں وہی الفاظ اور اصطلاحات جو کہ صراط مستقیم مذہب سے دور لے جانے والی ہیں اپنی تصانیف میں درج کر کے کفر و اسلام کو ملاتے ہیں۔ بھلا کہاں قانون قدرت الہی اور کہاں قانون قدرت عقلی انسانی؟ ظاہر ہے کہ جب قانون قدرت الہی عقل انسانی کا محدود نہیں اور عقل انسانی کو اس پر پورا احاطہ نہیں تو پھر انسان کو کیا حق ہے کہ وہ کہے کہ یہ امر خلاف قانون قدرت ہے جبکہ ساتھ ہی اس کو اقرار ہے کہ انسانی عقل قانون قدرت پر احاطہ نہیں رکھتی اور اسرار قدرت کی حقیقت کے دریافت کرنے میں قاصر ہے۔

میں اس جگہ چند حکمائے یونانی و انگریزی جرمن و فرانس وغیرہ وغیرہ کے اقوال لکھتا ہوں تاکہ معلوم ہو جائے کہ ہم غلطی پر ہیں جو اپنے مسلمات مذہبی امور میں قانون قدرت و محال عقلی کے برخلاف دیکھ کر ان سے انکار کر دیتے ہیں حالانکہ خود اہل سائنس و فلسفہ اس کے قائل ہیں کہ ہر ایک چیز کی حقیقت جیسا کہ نفس الامر میں ہے۔ عقل انسانی اس کے کماحقہ دریافت کرنے سے قاصر ہے۔

ڈریپر صاحب معرکہ مذہب و سائنس میں تحریر فرماتے ہیں ”چونکہ حواس کی شہادت نقطہ اتصال نقیض ہے۔ لہٰذا ہم حق و باطل میں تمیز نہیں کر سکتے اور عقل اس درجہ ناقص ہے کہ ہم کسی فلسفانہ نتیجہ کی صحت کے ضامن نہیں ہو سکتے۔ قیاس چاہتا ہے کہ ایسے موقعہ پر ایک ایسا مدلل مبرہن صحیفہ آسمانی منجانب اللہ انسان پر نازل ہو کہ شک وشبہ کا خاتمہ ہو جائے اور کسی شخص کو اس سے اختلاف رائے و مقاومت نہ ہو۔“

(دیکھو صفحہ ٢٨١ معرکہ مذہب و سائنس مترجمہ مولوی ظفر علی خاں اڈیٹر اخبار زمیندار لاہور )

ہے اس کا خلاصہ یہ ہے۔ ”سائنس حقائق کا نظام منضبط ہے جو ہمیشہ وسعت اختیار کرتا اور ہمیشہ اغلاط سے پاک ہوتا رہتا ہے؟

دلعزیزی حاصل ہوئی ہے۔ اپنی کتاب سائنس اور ایجوکیشن کے صفحہ ٤٥ پر سائنس کی تعریف یوں فرماتے ہیں کہ ”میری رائے میں سائنس صرف ترتیب یافتہ اور منضبط عقل کا نام ہے۔“

٩

صفحہ ٢٨٦

(٣) جارج ڈکسن ڈیوک آف ارگائل اپنی کتاب واٹ سائنس صفحہ ١١ پر سائنس کی جو تعریف کرتے ہیں اس کا خلاصہ یہ ہے ”یعنی موجودات کے باہمی تعلقات اور نیز ان کے اور ہمارے درمیانی تعلقات کا نام سائنس ہے۔ ہمارا علم محدود ہے اور سائنس اشیاء کے چند تعلقات اور نیز ان کے نظام عالم تک محدود ہے۔“

(٤) فزیالوجی کے استاد پروفیسر گوج اپنی کتاب انٹروڈکشن ٹو سائنس صفحہ ٢٤ سائنس کی تعریف میں فرماتے ہیں۔ ”مظاہر موجودات کے انتظام کو باعتبار اسباب نتائج کے سلسلہ کے انتظام دینے کا نام سائنس ہے۔ الفاظ دیگر اسباب نتائج کے سلسلہ کی تحقیق وتجسس کا نام سائنس ہے۔ کائنات کے اندر مختلف قسم کے تغیرات کیوں ہوتے ہیں۔ ان کی صحیح تشریح اور ان کی اسباب کی تلاش کی کوشش عقلیہ کا علم ہے۔“

ارسطاطالیس کہتا ہے۔ ”سائنس تجربات کی وسیع تعداد سے شروع ہوتا ہے ایک وسیع تصور قائم کیا جاتا ہے جو اسی قسم کے واقعات پر حاوی ہو جاتا ہے۔“ غرض ہر ایک سائنس دان عالم نے سائنس کی یہی تعریف کی ہے کہ موجودات پر نظر تجربہ ڈال کر نتیجہ قائم کرنے کا نام ہے۔ ارسطا طالیس کے زمانہ میں مفصلہ ذیل طریق پر استدلال کر کے نتیجہ نکالا جاتا تھا۔ اوّل! استدلال تمثیلی یعنی کسی خاص امر سے خاص امر کی طرف استدلال کر کے نتیجہ اخذ کرنا۔ دوم! استدلال استقراری یعنی خصوصیات سے کائنات کی طرف استدلال کرنا۔ سوم! استخراجی یعنی کائنات سے خصوصیات کی طرف دلیل کرنا‘ اگر مضمون اور کتاب کے طول ہو جانے کا خوف نہ ہوتا تو زیادہ بسط کے ساتھ لکھا جاتا مگر چونکہ اس کتاب میں علم سائنس سے صرف یہی ثابت کرنا تھا کہ علم الٰہی کا مقابلہ سائنس یا فلسفہ ہرگز نہیں کر سکتا اور نہ طالبان حق کو صورت یقین دکھا سکتا ہے اور نہ ذریعہ نجات ہو سکتا ہے۔ یہ فلسفی لوگ ہمیشہ عجائبات موجودات میں ایسے مدہوش ہوئے کہ کنارہ یقین تک عالم خواب میں بھی نہ پہنچے۔ نقش کی خوبصورتی دیکھ کر ایسے محو تماشا ہوئے کہ نقاش کے وجود کے علم الیقین کے مرتبہ کو بھی نہ پہنچے۔ مدت تک یہی یقین ہوتا چلا آیا کہ زمین ساکن ہے اور آسمان اس کے گرد گردش کرتا ہے اور ستارے اور سیارے اپنی اپنی جگہ ساکن ہیں اور آفتاب حرکت دولابی کے ذریعہ زمین کے اوپر کی سطح سے بجانب مغرب غروب ہو کر زمین کے نیچے کی سطح طے کرتا ہوا زمین کے اوپر سمت مشرق طلوع کرتا ہے اور انھیں خیالات کو سچا سمجھ کر اس کی اشاعت ہوتی رہی اور جو شخص اس کے برخلاف اپنی رائے ظاہر کرتا وہ بے عقل سمجھا جاتا تھا۔ زمانہ حال کے فلاسفروں کی تحقیق بالکل اس کے

١٠

صفحہ ٢٨٧

برعکس ہے۔ یعنی زمین کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں کہ وہ محض ایک سیارہ ہے جو آفتاب کے گرد گھومتا ہے اور نظام شمسی کے ارکان میں بھی اس کا درجہ کچھ بہت زیادہ نہیں۔ یورپ کے بہت داناؤں نے اس نظیر کو بطور اصول موضوع تسلیم کر لیا ہے۔ یعنی آفتاب مرکز عالم ہے اور زمین اس کے گرد گردش کرنے کے علاوہ اپنے محور پر بھی گھومتی ہے۔ غرض صورت یقین ہرگز نہیں حاصل ہوتی اور یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ جب تک ایک امر کا یقین نہ ہو تسلی خاطر نہیں ہوتی اور جب تک تسلی خاطر نہ ہو بحر حیرت و تفکر اور تصورات و خیالات سے نجات مشکل ہے اور انسان کی عمر اس قدر نہیں ہے کہ وہ ہر ایک امر میں اپنی ہی تجربہ یا نظر عقل سے نتیجہ نکال کر شاہراہ یقین تک پہنچ سکے۔ جب موجدان علم و عالمان نظر نے صاف صاف اقرار کر لیا جیسا کہ اوپر گزرا کہ سائنس میں ہمیشہ غلطیاں نکلتی رہتی ہیں تو پھر کہاں سے ہم کو دولت یقین حاصل ہو سکتی ہے اور جو امر ہم کو یقین کرنا چاہیے۔ کس طرح حاصل کر سکتے ہیں اور جو امور فلاسفران حال نے فیصل کیے ہیں۔ ان کا فیصلہ ناطق اور درست ہے اور آئندہ جو حکماء پیدا ہوں گے۔ وہ موجودہ زمانہ کی غلطیاں نہ نکالیں گے اور کسی طرح یقین ہو جائے کہ جو اب ہوا ہے یہی درست ہے۔ حالانکہ سائنس نے اب تک یہ نہیں بتایا اور اپنی تحقیقات میں کنارہ یقین پر نہیں پہنچا کہ عالم کی ابتدا کس طرح ہوئی۔ روح حیوانی و انسانی کیا حقیقت رکھتا ہے۔ روشنی کی کیا کیفیت ہے۔ انڈا پہلے تھا یا مرغی۔ بیج پہلے پیدا ہوا تھا یا درخت۔ آم پہلے تھا یا گٹھلی وغیرہ وغیرہ جرمن کا مشہور محقق ڈبائی ریمنڈ کو خود اقرار ہے کہ مفصلہ ذیل مسائل علم سائنس سے اب تک حل نہیں ہو سکے اور مافوق الفہم ہیں۔

صاحب موصوف صاف صاف انسانی عقل کے عجز کا اقرار مفصلہ ذیل الفاظ میں کرتے ہیں۔ یہ معمہ فوراً حل ہو جاتا ہے۔ جب ہم مان لیتے ہیں کہ انسان اپنے افعال و اعمال کا

١١

صفحہ ٢٨٨

مختار و مالک نہیں بلکہ اس کی تمام حرکات کسی اور قوت کے عمل سے سرزد ہوتی ہیں اس نے ان مسائل پر بحث کر کے خاتمہ پر یہ کہا ہے کہ ”ہمارا علم طبعی دو حدوں کے اندر واقعہ ہے اوّل ہم قوت اور مادہ کی ماہیت سمجھنے میں قاصر ہیں۔ دوم ذروں کے مجموعہ سے عقل و احساس کیونکر پیدا ہوتے ہیں۔ اس کی ماہیت بیان کرنے میں ہم لاچار ہیں۔ ان حدود کے اندر ماہرین سائنس ترکیب و ترتیب لگانے پر قادر ہیں۔“ اس کے باہر وہ لاچار و مجبور ہیں۔

ناظرین! یہ ہماری بڑی غلطی ہے کہ ہم جھٹ سائنس اور فلسفہ کا نام لے لیتے ہیں اور محال عقلی و قانون قدرت وغیرہ الفاظ استعمال کر لیتے ہیں۔ مگر ان کی تفصیل و تعریف سے ناواقف ہو کر جھٹ حکم لگا دیتے ہیں کہ یہ عقل کے برخلاف ہے۔ اس لیے ہم الگ الگ ہر ایک لفظ پر مختصر بحث کرتے ہیں۔

ارسطاطالیس کے نزدیک سائنس اور فلسفہ ایک ہی علم کا نام ہے۔ جس کی بہت شاخیں ہیں۔ یعنی حکمت نظری و عملی، حکمت نظری کے باعث علوم ریاضیات طبعیات و مابعدالطبعیات جن کو فلسفہ اولین قرار دیتا تھا۔ حکمت عملی میں اخلاقی سیاسی علم وضاعی کو شامل کرتا تھا۔ زمانہ حال کے فلاسفروں نے علم ریاضیات فلکیات طبعیات کیمسٹری علم الحیوانات، علم المعاشرت اور زیادہ کیے۔ غرض تمام علوم کو ایک ہی درخت کی شاخیں تصور کیا گیا ہے۔ یعنی فلسفہ جو کہ سائنس کا مترادف ہے۔ تمام علوم اس کی شاخیں ہیں۔ باقی رہی عقل انسانی جو کہ ان تمام علوم کے حاصل کرنے والی ہے اور بعد تحقیق کسی علم کے اس کے مدعی ہونے کا حق رکھتی ہے۔ ایک عالم طبعیات یا فلکیات ریاضیات و سیاسیات کی عقل انھیں مسائل کو حل کر سکتی ہے جس کی اس نے تعلیم و تحقیق و تجسس کی ہے۔ ایک عالم طبعیات کی عقل فلکیات کی عقل کے لیے ناقص ہے اور سیاسیات کے جاننے والے کی عقل طبعیات کے مسائل سمجھنے کے واسطے بالکل سادی ہوتی ہے۔ پس ایک طبیب کے نزدیک ایک بیرسٹر طب کے مسائل میں نادان ہے اور وکیل کے مقابلہ میں ایک صناع کی عقل قانون کے مسائل میں نامکمل ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں صاف کہتا ہوں کہ ایک لوہار کے مقابلہ میں ایک طبیب لوہار کے کام میں بے عقل ہے اور طبیب کے مقابلے میں لوہار طب کے مسائل کے نہ جاننے کے باعث بیوقوف ہے۔ اسی طرح ہر ایک فن کے جاننے والا دوسرے فن سے ناواقف ہو کر اپنے جہل کا اقراری ہے۔ اور ایک علم کا عالم دوسرے علم کے عالم سے عقلی تمیز رکھتا ہے۔ یعنی جیسا کہ مسائل طب کو ایک طبیب سمجھ سکتا ہے۔ ایک وکیل بیرسٹر نہیں سمجھ سکتا اور جیسا کہ ایک بیرسٹر مسائل قانون کو سمجھ سکتا ہے

١٢

صفحہ ٢٨٩

ایک طبیب نہیں سمجھ سکتا۔ پس ایک طبیب کی عقل وکیل کے نزدیک نامکمل ہے اور ایک وکیل کی عقل طبیب کے نزدیک ناقص ہے۔ پس نتیجہ یہ نکلا کہ ہر ایک انسان کی عقل اسی علم میں کامل ہو گی جس علم کو اس نے حاصل کیا ہے اور جس علم کو اس نے ہاتھ نہیں لگایا۔ اس میں اس کی عقل بالکل ناقص ہے اور اس کو کوئی حق نہیں کہ جس علم کو اس نے ہاتھ تک نہیں لگایا یا شروع ہی نہیں کیا اس علم کو اس کی عقل اسی طرح دریافت کرے جس طرح اس علم کا ماہر جس نے تمام عمر اس کے حصول میں صرف کی ہو دریافت کر سکے۔ مثلاً ایک شخص تمام عمر علم ہیئت کو حاصل کرتا رہا اور نجوم وغیرہ اجرام فلکیات کی تحقیق و تدقیق میں اوقات بسری کرتا رہا تو وہ شخص علم فقہ و حدیث کے مسائل کو کس طرح جان سکتا ہے۔ کیا اس کی عقل ہیئت دانی کی عالم فقہ کی عقل کے مقابلہ میں تحقیق مسائل دینیات میں ناقص نہ ہو گی؟ ضرور ناقص ہو گی تو پھر مسائل دینیات اگر عقل ہیئت دانی کے نزدیک محال عقلی ہوں تو کیا تعجب ہے۔ اسی طرح ایک عالم فقہ کی عقل علم ہیئت دانی و تجسس و تدقیق مسائل نجوم میں ناقص ہے اور اس کی عقل کے نزدیک مسائل نجوم محال عقلی ہوں تو کیا عجب؟

بحث بالا سے معلوم ہوا کہ عقل انسانی صرف حکمت علمی اور تجربہ کی معلومات سے جس صیغہ یا شعبہ علم کا تجربہ و مشاہدہ کرے گی اس میں حکم لگانے کی لائق ہو گی۔ جس سے معلوم ہوا کہ قوت ادراک جو کچھ بذریعہ قوائے دماغی دریافت کرتی ہے۔ اسی کا نام عقل ہے کیونکہ عقل و تعقل کسی چیز کی ماہیت کو دریافت کرنے کا نام ہے۔ خواہ وہ نفس الامر میں صحیح نہ ہو کیونکہ جوں جوں تجربہ و مشاہدہ بڑھتا جائے گا۔ توں توں قوت تعقل بھی ترقی کرتی جائے گی۔ اس واسطے ہم مجبور ہیں کہ اس بات کو مان لیں کہ عقل انسانی اسرار قدرت کے دریافت کرنے میں کامل معیار نہیں ہے جیسا کہ فلسفیوں کو خود اقرار ہے۔

ہم روزمرہ کے تجربات سے مشاہدہ کر رہے ہیں کہ فلسفہ کا ایک مسئلہ جو آج صحیح مانا جاتا ہے۔ کل وہ غلط ثابت ہو گا جیسا کہ متقدمین حکماء کے خیالات و تجارب آج غلط ثابت ہوئے۔ کیا عظمت اور ہیئت کبریائی اس دل میں اثر کر سکتی ہے جو کہ عجائبات قدرت کو محدود سمجھ کر اپنی عقل اور ادراک کے مقابل انکار کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں کو اپنی ناچیز عقل کا احاطہ شدہ مانتا ہے اور جس طرح اپنی ذات کو محالات عقلی پر قادر ہونے سے عاجز سمجھتا ہے۔ اسی طرح اس ذوالجلال قادر مطلق خالق سماوات والارض کو بھی اسباب اور آلات کا محتاج جانتا ہے۔ کیا خشیۃ اللہ کی نعمت ایسے دل میں اتر سکتی ہے جو کہ خدا تعالیٰ کو بھی اپنی طرح ناممکنات پر قادر نہیں مانتا اور کیا عبادت کی لذت اور

١٣

صفحہ ٢٩٠

تذلیل عبودیت کی حلاوت ایسے قلب کو حاصل ہو سکتی ہے جو نور معرفت عجائبات اقتدارات قادر مطلق بیچون و بیچگون سے بے بہرہ ہے۔ وہ یہی سمجھتا ہے کہ جس طرح ایک صانع یعنی لوہار و ترکھان بغیر مادے اور ہیولی کے کوئی چیز نہیں بنا سکتا اور ظاہری اسباب و آلات کے بغیر کوئی کام اس سے سرانجام نہیں پا سکتا۔ اسی طرح وہ قادر و قیوم بھی ہے جو کہ بغیر اسباب کے کچھ نہیں کر سکتا۔ جسطرح ایک عاجز انسان آسمان و ہوا اور آگ دیگر کروں اور آسمانی اجسام پر کوئی حکومت و اختیار نہیں رکھتا اسی طرح خدا تعالیٰ کی ذات پاک بھی ان پر اختیار کلی نہیں رکھتی تو غور فرمائیں کہ اس عاجز خدا کی خاک عزت و عظمت ایسے دل میں ہو گی؟

عظمت وجلال خدا تعالیٰ تو انھیں باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ناممکن کو ممکن اور محال عقلی کو امکان عقلی ایک پل کی پل میں ثابت کر دے۔ پہاڑوں اور آسمانوں کی خلقت کی طرف غور سے تدبر کرو تو انسان کا مفروضہ قانون قدرت پر پشہ کی بھی حیثیت نہیں رکھتا۔ ذرہ بہار خزاں کا ہی سماں دیکھو کہ باغبان ازل کس طرح سوکھی ہوئی لکڑی کو ہرا بھرا کر دیتا ہے اور شاخ و پتے نکلنے کے بعد پھول نکلتے ہیں اور پھل ہو جاتا ہے۔ اور اس کے لیے بھی حد مقرر کر دی ہے۔ اس سے زیادہ اگر رکھا جائے تو گندہ ہو جاتا ہے۔ پھر خزاں آ جاتی ہے اور سب زیبائش و آرائش پتوں وغیرہ کی باد خزاں سے دور ہو جاتی ہے۔ اس میں کوئی حکم کرنے والا نظر آتا ہے جو ان محکوم چیزوں اور کائنات کو اپنے قبضہ قدرت میں رکھتا ہے اور اس کا حکم تمام اشیاء میں جاری ہے اور وہ کسی وجود سے ماخوذ نہیں ہے۔ یعنی خود خدا تعالیٰ کی صفات حکومت کرنے والی ہیں۔ نہ محکوم ہیں۔

ناظرین! آپ ذرہ ایک پل کے واسطے آنکھیں بند کر کے سوچیں کہ خالق و مخلوق میں کچھ فرق ہے۔ اگر ہے تو کیا ہے۔ بعد غور کے معلوم ہو جائے گا کہ بڑا فرق ہے۔

ہستی غیر کی محتاج ہے۔ یعنی خود بخود پیدا نہیں ہوا۔

اسباب اور آلہ کا محتاج نہیں۔ صرف حکم کر دیتا ہے اور وہ چیز ہو جاتی ہے۔

١٤

صفحہ ٢٩١

تعالیٰ معبود ہے اور تمام مخلوق اس کی عبادت کرنے والی ہے۔ پس کمال انسانی اسی میں ہے کہ انسان حسب فطرت خود اپنے خالق و مالک کی تلاش اور خوشنودی اور غضب ناراضگی کی معرفت حاصل کرے اور وہ معرفت تب ہی حاصل ہو سکتی ہے جب وہ قادر مطلق اپنے فیض بے پایان سے خود ہی رحمت کا دروازہ کھولے اور خود ہی اپنی رضا مندی و ناراضگی کے اوامر و نواہی سے مخلوق کو مطلع فرمائے اور وہ اطلاع بذریعہ پیغمبر و رسول ہی ہو سکتی ہے۔ جب خالق و مخلوق کے درمیان دو جہتوں کے رکھنے والی وسطی مخلوق نہ ہو۔ تب تک خالق و مخلوق میں رابطہ ترسیل اوامر و نواہی قائم نہیں ہو سکتا۔ پس خدا تعالیٰ نے اپنی کمال رحمت سے انبیاء کو اس صفت سے موصوف فرمایا کہ ایک جہت ان کی خدا کی طرف ہوتی ہے اور دوسری جہت مخلوق کی طرف۔ خدا کی جہت سے پیغام باری تعالیٰ حاصل کرتے ہیں اور مخلوق کی جہت سے عوام کو تبلیغ فرماتے ہیں۔ اور یہی سنت اللہ تعالیٰ ابتدائے آفرینش سے جاری ہے کہ حضرت آدمؑ کو نبوت کی نعمت عطا فرمائی اور تمدن کے لوازمات بھی سکھائے۔ مگر چونکہ آدمؑ کے بالمقابل ابلیس بھی تھا۔ اس نے بھی عقلی دلائل کا جال پھیلا کر حضرت آدمؑ کی اولاد کو گمراہ کرنا شروع کیا اور جب کبھی کسی پیغمبر و نبی نے عذاب آخرت سے ڈرایا تو ابلیس نے اس کے مقابلہ محالات عقلی کی دلیل سکھائی کہ یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی مر جائے اور اس کا پوست گل سڑ جائے۔ کھوکھلی ہڈیاں خاک ہو جائیں تو پھر اس کو عذاب کس طرح دیا جا سکتا ہے اور مردہ کیونکر پھر زندہ ہو سکتا ہے؟ پس جو لوگ ابلیس کے محالات عقلی کے پھندے میں جا پھنسے وہ منکر چلے آتے ہیں اور جو لوگ پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان کی ہر ایک بات کو منجانب اللہ یقین کیا وہ راہ راست پر چلے آئے۔

پیغمبر و نبی کی مثال ایسی ہے جیسا کہ ایک شخص بلند دیوار پر کھڑا ہے جو دیوار کی دونوں اطراف کے حالات سے واقف ہے اور عام مخلوق کی حالت ایسی ہے جیسا کہ دیوار کی آڑ میں صرف ایک ہی طرف کے حالات ملاحظہ کرتی ہے۔ اسکو دیوار کی دوسری طرف کی کچھ خبر نہیں ہوتی۔ لہٰذا پیغمبر و نبی کو دوسری مخلوق پر شرف ہے کہ وہ اپنی روحانی طاقت سے دونوں طرف کا حال جانتا ہے اور دوسرے لوگ صرف ایک ہی طرف کا حال جانتے ہیں۔ یعنی دنیا کا پیغمبر و نبی جب تک اشرف و افضل اور معصوم از خطا نہ ہو۔ تب تک اس کی بات کا اعتبار عوام کو محال ہے۔ اس لیے قدرت الہی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ انبیاء کو شرف و فضیلت ہو اور اس کا نشان یہ ہے کہ جو جو عجائبات پیغمبر دینی سے ظہور ١٥

صفحہ ٢٩٢

میں آئیں دوسرے لوگ اس سے عاجز ہوں اور اسی کا نام معجزہ ہے۔ جب تک یہ خصوصیت پیغمبر دینی میں نہ ہو۔ تب تک اس کو کوئی پیغمبر نہیں مانتا اور مخالفین پر حجت نہیں ہوتی۔ اسی واسطے حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ نے فصوص الحکم میں لکھا کہ نبی اور متنبی میں فرق کرنے والا معجزہ ہے تاکہ ہر ایک شخص مدعی نبوت نہ ہو سکے اور متنبی نبوت کے جھوٹے دعویدار کو کہتے ہیں اور عقلاً بھی یہ جائز نہیں کہ نبی و پیغمبر عام لوگوں کی مانند ہو اور اگر عوام کی مانند ہے تو پھر لوگوں کے دلوں میں اس کی کیا بزرگی اور عظمت ہو سکتی ہے کہ اس کی پیروی کریں کیونکہ پیروی کے واسطے ضروری ہے کہ پیروی کنندہ جس کی پیروی کرتا ہے اس کو اپنے سے افضل واشرف یقین کرے اور یقین تب ہی کر سکتا ہے جب اپنے آپ کو ان کمالات سے خالی جانے۔ ورنہ پیروی ہرگز نہیں کر سکتا کیونکہ جب جانتا ہے کہ پیغمبر و نبی کو خبر بذریعہ وحی ملتی ہے اور وہ خدا سے خبر پا کر عوام کو پہنچاتا ہے۔ جب اس صفت سے اپنے آپ کو عاری سمجھے گا تو تب اس کی پیروی کرے گا اور جب خود ہی صاحب وحی ہونے کا اس کو زعم ہو جائے اور اپنی رسائی خدا تک بلاواسطہ سمجھے تو پھر نبی میں اور اسمیں کچھ فرق نہ رہا۔ جب کچھ فرق نہ رہا تو پیروی کا دعویٰ باطل ہوا۔ جب ایک امتی اپنے آپ میں وہ کمالات زعم کرے جو کہ پیغمبر و نبی میں تھے بلکہ بعض دفعہ اس سے بھی کئی درجہ آگے چلا جائے۔ حتیٰ کہ خدا کے ساتھ خدا ہونے کا مدعی ہو اور کہے کہ اَنْتَ مِنِّیْ وَاَنَا مِنْکَ (دافع البلاء ص ٧ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) تو پھر وہ رسول کی قدر کیا جانے؟ وہ خود ہی اپنے حجاب میں ہے۔ رسول کی قدر وہی جانتا ہے۔ جو اپنے آپ کو رسول کی صفات و کمالات سے کم جانے اور اس کی شان اپنے سے بلند یقین کرے۔ پس راہ ہدایت کے پانے کے واسطے اپنی ذلت و عاجزی اور رسول کی عظمت و فضیلت لازمی ہے جب تک مِنْ کُلِّ الْوُجُوْہِ انسان اپنی عقل و ہوش و عزم و خواہشات نفسانی کو رسول کے فرمودہ احکام کے زیر سایہ نہ رکھے۔ اس کو فیض روحانی ہونا محال ہے اور راہِ نجات بغیر پیروی تامہ رسول کے ملنا ناممکن امر ہے۔

یہ اہل مذہب کی بڑی غلطی ہے کہ بحث تو کرتے ہیں امور دین میں اور بیچ میں دلائل فلسفی لے بیٹھتے ہیں اور پھر سائنس وفلسفہ کے مقابلہ پر دینی مسائل کی توڑ مروڑ کر کے فلسفہ و سائنس کے مطابق کرنا چاہتے ہیں اور آخر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بالکل بے دین ہو جاتے ہیں اور تمام دہریہ بن جاتے ہیں اور افسوس صد افسوس وہ امر جو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر نور نبوت سے دریافت کر کے فرماتے چلے آئے وہ ان فلسفیوں کے جو ١٦

صفحہ ٢٩٣

کسی دین کے پابند نہیں ناممکن و ناقابل اعتبار دلائل کو پایہ اعتبار دے کر ترک کر رہے ہیں یا انکی تاویلات کرتے ہیں۔ حالانکہ فلسفی و سائنس دان خود اقراری ہیں کہ ہمارا فلسفہ و سائنس کامل نہیں اور اس قابل نہیں ہے کہ ہم اس کے صحیح نتیجہ کے ذمہ دار ہو سکیں۔ اس لیے الہام کی پیروی کرنی چاہیے۔ مگر اب ایسے مسلمان پیدا ہو گئے ہیں کہ کہتے ہیں کہ فلسفہ اور سائنس کے مطابق جو ہو اس کو مانو اور دوسرے ایمان بالغیب کے مسائل کی تاویلات مطابق علوم جدیدہ کر کے یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ کی نعمت سے محروم ہو جاؤ۔

پس دیندار اور مسلمان وہی شخص ہے جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم پر چلے اور جو جو انھوں نے احکام اللہ تعالیٰ سے حاصل کر کے ہم کو پہنچائے ہیں ان کی پیروی کرے کیونکہ فلسفیوں کے عقلی دلائل سے خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ ان کی تحقیق و تدقیق صرف عجائبات کائنات کی حقیقت و اصلیت کے دریافت کرنے میں صرف ہوتی ہے اور عرفان ذات باری تعالیٰ تک نہیں پہنچتی۔ لہٰذا خدا اور خدا کے رسول کی پیروی ذریعہ نجات ہے۔

جب خدا اور اس کے رسول ﷺ کی پیروی لازمی ہوئی تو خدا کی کلام کا سمجھنا ضروری ہے اور چونکہ ہر ایک شخص خدا کی کلام کو ایسا نہیں سمجھتا جیسا کہ رسول پاک جس پر کلام نازل ہوئی ہے سمجھے پس خدا کی کلام کا مفسر رسول ﷺ سے بڑھ کر کوئی نہیں ہو سکتا اور مفسرین میں سے بھی وہی مفسر قابل اعتبار و پیروی ہے۔ جس کی تفسیر حدیثوں سے ہو اور تفسیر بالرائے سے مجتنب ہو اور اپنے عقلی ڈھکوسلے لگا کر بے سند شرعی باتوں سے لوگوں کو گمراہ کرنے والا نہ ہو۔ کیونکہ اگر ایک شخص کو اپنی عقل و رائے سے تفسیر کرنے کا حق ہو اور کوئی سند شرعی کی شرط نہ ہو تو پھر ہر ایک مفسر بن جائے گا اور نتیجہ یہ ہو گا کہ ہر ایک اپنی اپنی رائے کے مطابق تفسیر کر کے اپنے آپ کو حق پر سمجھے گا اور اس خود رائی سے تمام شیرازۂ جمعیت اسلام بکھر جائے گا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم عوام کو مغالطہ سے بچانے کے لیے صفات مفسرین جو علماء و مجددین و مجتہدین اسلاف نے مقرر کی ہیں اور ان پر علماء ہر زماں کا اتفاق چلا آیا ہے بیان کریں۔

تفسیر قرآن کے لوازمات

قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا اور محمد رسول اللہ ﷺ پر پہلے اس کے معانی اور حقائق کی جیسی تفسیر واضح اور مکشوف ہوئی کسی دوسرے پر نہیں ہو سکتی اور پھر جیسی سمجھ اور فراست و حسن تعقل آنحضرت ﷺ کو دی گئی۔ کسی دوسرے کو نہیں دی گئی کیونکہ

صفحہ ٢٩٤

آنحضرت ﷺ کسی انسان کے شاگرد نہیں تھے اور نہ انھوں نے کسی ظاہری استاد سے علم پڑھا اور جس کی شان جوامع الکلم ہے اور مرزا قادیانی خود تحریر کرتے ہیں کہ ”ہمارے رسول ﷺ کی فراست اور فہم تمام امت کی مجموعی فراست اور فہم سے زیادہ ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ٤٠٠ خزائن ج ٣ ص ٤٠٧) پس موافق اور مخالف کا اس پر اتفاق ہے کہ جیسا قرآن مجید رسول اللہ ﷺ سمجھتے تھے دوسرا کوئی ہرگز ہرگز ایسا نہیں سمجھ سکتا کیونکہ یہ مرزا قادیانی بھی مان چکے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی فراست اور فہم تمام امت کی مجموعی فراست و فہم سے زیادہ ہے۔ یعنی اگر تمام امت محمدی کی فہم و فراست ایک طرف ہو اور صرف رسول اللہ ﷺ کی فہم و فراست ایک طرف ہو تو بحیثیت مجموعی تمام امت کی فراست رسول اللہ ﷺ کی فراست سے کم ہے جب یہ صورت ہے تو پھر مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ غلط ہوا کہ وہ قرآن مجید کو رسول اللہ ﷺ سے بہتر سمجھتے ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی ایک امتی ہیں۔ جب تمام امت کی فراست مجموعی حالت میں بھی رسول اللہ ﷺ کی فراست کے برابر نہیں تو ایک فرد امت کی فراست تو رسول اللہ ﷺ کی فراست و فہم کے ساتھ کچھ حقیقت نہیں رکھتی اور علاوہ برآں مرزا قادیانی اہل زبان بھی نہیں اور نہ انھوں نے شرف صحبت رسول اللہ ﷺ مانند صحابہ کرامؓ حاصل کیا ہے تو ضرور ہے کہ سب سے اعلیٰ درجہ کی تفسیر وہی ہے جو کہ رسول اللہ ﷺ نے کی ہے۔ اور اس کے بعد وہ تفسیر معتبر و قابل اتباع ہے جو صحابہ کرامؓ نے کی ہے اور اس کے بعد تابعین و تبع تابعین و ائمہ مجتہدین نے کی ہے کیونکہ اہل زبان اور فاضل بے بدل عربی کے گزرے ہیں ان کے بعد علیٰ قدر مراتب کسی ہندوستانی و پنجابی کی مان سکتے ہیں؟ یہ بالکل غلط ہے کہ مرزا قادیانی کو جو حقائق و دقائق قرآن مکشوف ہوئے وہ کسی کو نہیں ہوئے۔ سبب یہ ہے کہ وہ لوگ یعنی متقدمین حدیث رسول اللہ ﷺ سے تفسیر کرتے تھے اور اپنی رائے سے تفسیر کرنا گناہ عظیم سمجھتے تھے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ من قال فی القران برائیہ فلیتبؤ مقعدہ من النار۔ ترجمہ۔ جو کوئی قرآن میں اپنی رائے سے کلام کرے وہ اپنا ٹھکانا آگ میں بنائے۔

متقدمین کا اتقاء ان کو اجازت نہیں دیتا تھا کہ اپنی اپنی رائے سے تفسیر قرآن کریں۔ احادیث کی پابندی تھی اور مرزا قادیانی کو علم حدیث نہ تھا۔ چنانچہ خود اقرار کرتے ہیں کہ ”میں نے علم حدیث کہیں نہیں پڑھا۔ صرف لدنی طور پر خدا نے مجھ کو سب کچھ سکھا دیا ہے۔“ (ایام الصلح ص ١٤٧ خزائن ج ١٤ ص ٣٩٤) یہ لدنی علم تو سلف سٹڈی یعنی اپنے مطالعہ سے ہر ایک شخص حاصل کرتا ہے۔ اگر ابتدائی تعلیم عربی و فارسی اپنے استاد

١٨

صفحہ ٢٩٥

سے نہ پائی ہوتی تو علم لدنی مانا جاتا۔ جب مولوی گل شاہ سے آپ نے تعلیم پائی۔ (کتاب البریہ ص ١٦٣ حاشیہ خزائن ج ١٣ ص ١٨١) تحصیل عربی و فارسی سے فارغ ہو کر نوکری کی تو اب علم لدنی کا دعویٰ جھوٹا ہے یا سچا؟ صاحب علم لدنی کو تو کسی کی شاگردی نہیں کرائی جاتی۔ خدا تعالیٰ کسی شخص کو اس پر شرف استادی نہیں دیتا۔ مرزا قادیانی نے اپنے مسیح موعود بننے کی خاطر قرآن و حدیث کے معانی اپنی رائے کے مطابق مفید مطلب خود کیے اور سیاق و سباق عبارت کا کچھ لحاظ نہ رکھا۔ اس طرح مطلق العنان ہو کر تو ہر ایک شخص دفتروں کے دفتر لکھ سکتا ہے۔ خوبی تحریر تو یہ ہے کہ احاطہ مذہب سے باہر نہ ہو۔ مگر یہاں تو مرزا قادیانی کو اپنی غرض ہے اور خود اپنی تعریف کر کے اپنے دعویٰ کے ثبوت میں قرآن و احادیث میں تصرف کر کے غلط معنی خلاف لغت عرب و تفاسیر اہل زبان اپنا مطلب جس طرح بھی نکل سکتا ہو اسی طرح تحریف قرآن و احادیث کر کے ان کا نام حقائق و معارف رکھا۔ جب مسلمان قرآن اور حدیث کے مقابلہ میں کسی مجتہد کے قول کو ترک کرنے کے واسطے مامور ہیں تو پھر کسی شخص کے خود غرضانہ معانی اور تفسیر کو کیونکر مان سکتے ہیں؟ حالانکہ وہ علوم مستلزمہ تفسیر سے بھی عاری ہو۔

حضرت امام فخر الدین رازیؒ اپنی کتاب اسرار التنزیل میں فرماتے ہیں کہ تفسیر کا علم نہایت درجہ کا بزرگ شریف اور قابل تعریف ہے اور یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کا علم ایک ہی قسم کا نہیں۔ اس کی بے شمار قسمیں ہیں جن کا جاننا ضروری ہے۔

قرأتیں ہیں اور دوسرے قسم کی قرأتیں شاذ و نادر ہیں۔

کے سبب سے ٹھہر جانے کے باعث معنی بہت مختلف ہو جاتے ہیں۔

ہیں۔ اکثر لغتیں غریب ہوتی ہیں اور ان کے معنی احاد روایتوں سے معلوم ہوتے ہیں۔ اس لیے ان لغتوں کی معرفت احاد کے باب سے ہے۔

کے باب میں گفتگو کرنی حرام ہے۔ اللہ اکبر! ناظرین یہاں ہر ایک آدمی مولوی مرزائی مفسر بنا ہوا ہے۔ کوئی تمام عمر طبابت کرتا رہا آخر لغت عرب سے غیر معروف معانی تلاش

١٩

صفحہ ٢٩٦

کر کے اپنے مطلب کی تفسیر کر لیتا ہے اور کوئی ڈاکٹری پڑھتا رہا اور تمام وقت علاج معالجہ میں گزرا مگر تفسیر قرآن میں وہ بھی اپنا رائے ظاہر کر رہا ہے۔ کوئی وکالت کی تعلیم پاتا رہا اور قانون یاد کرتا رہا۔ مگر وہ بھی مفسر ہے اور اگر کوئی اور صاحب مختلف حرفت و صنعت میں اوقات بسر کرتا رہا اور کر رہا ہے۔ مگر جس دن مرزائی ہوا۔ اسی دن سے وہ بھی مفسر بن گیا اور لطف یہ ہے کہ تمام مفسرین صحابہ کرامؓ و اہل زبان کو ایسے ایسے برے الفاظ اور القاب سے یاد کرتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ اللہ انکی حالت پر رحم کرے۔

قرآن کو اتارا ہے اور ہر ایک ہدایت کسی نہ کسی واقعہ اور حادثہ کے ظہور کے موقعہ پر نازل ہوئی ہے۔ ناظرین! یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی نے جو جو آیات قیامت کے بارہ میں نازل ہوئی تھیں وہ اپنے زمانہ کے مطابق کر لیں اور احادیث و تفاسیر کو بالائے طاق رکھ دیا۔ دیکھو تفسیر مرزا قادیانی سورہ اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَلَهَا، اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَاِذَا النُّجُومُ انْكَدَرَتْ جس میں مرزا قادیانی نے تاویلات باطلہ خلاف تمام اسلاف صرف اپنے مطلب کے واسطے نہایت بیباکی سے تفسیر کی ہے اور لطف یہ ہے کہ اس کا نام پھر حقائق و معارف رکھا۔ ؎ برعکس نہند نام زنگی کافور۔ حالانکہ مرزا قادیانی کی تفسیر علاوہ خلاف مفسرین اسلاف کے بے ربط بھی ہے کیونکہ انکدار نجوم و انتشار کواکب بالکل غیر موزون و بے ربط ہیں۔

ہوں۔ جس کو دیکھنا ہو خود کتاب سے دیکھ لے۔

ناظرین! تاویلات کے واسطے بھی قاعدے مقرر ہیں۔ یہ نہیں کہ مرزا قادیانی کے جو دل میں آیا ویسی تاویلات کر دی کہ دمشق سے مراد قادیان ملک پنجاب اور غلام احمد سے عیسیٰ ابن مریم نبی اللہ ہے۔

بیان کریں۔ مورخین کچھ لکھیں مگر مرزا قادیانی ١٩٠٠ برس کے بعد وفات عیسیٰؑ کا قصہ خود تصنیف کر کے اس کو کشمیر میں دفن کریں اور لطف یہ ہے کہ عیسیٰؑ کے حوارین اور والدہ مکرمہ جو تا مرگ ان کے ہمراہ رہے ان کی قبروں کا پتہ مرزا قادیانی کو نہ ملا۔ کاش حکیم نور دین صاحب ان کا بھی کوئی پتہ مرزا قادیانی کو بتا دیتے جیسا کہ یوز آسف کی قبر کا

٢٠

صفحہ ٢٩٧

بتایا تھا۔ ورنہ مرزا قادیانی تو عیسیٰ کو ان کے وطن گلیل میں دفن کر چکے تھے۔

قصہ سے عبرت حاصل ہوتی ہے اور قرآن کا بھی مطلب یہ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِاُولِی الْاَلْبَابِ (یوسف ١١١) یعنی قصے صاحبان دانش کے واسطے عبرت ہیں۔ جب قصہ ہی صحیح نہ ہو اور انیس سو برس کے بعد خود گھڑ لیا ہو تو اس سے کیا عبرت ہو سکتی ہے؟

قصوں سے محمد ﷺ رسول اللہ ﷺ کی وحی خدا کی طرف سے ثابت ہوتی ہے کیونکہ آپ ﷺ امی تھے پڑھے ہوئے نہ تھے اور نہ کسی تاریخی یا الہامی کتاب کے حافظ تھے۔ صرف اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی ان کو ان قصوں کی خبر دی تھی اور یہ ان کی صداقت کا نشان تھا۔

نکالے ہیں۔

ناظرین! متقدمین کے مقابلہ میں کیا کسی نے قرآن کے حقائق و معارف نکالے ہیں۔ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نے فتوحات اور فصوص الحکم میں کچھ کم معارف بیان کیے ہیں؟ اور ان کا کشف بھی مرزا قادیانی سے اعلیٰ درجہ کا تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے تصحیح حدیث کر لیا کرتے تھے۔ جس کو مرزا قادیانی نے خود بھی لکھا ہے۔ ”یہ شیخ ابن عربی نے فرمایا ہے کہ ہم اس طریق سے آنحضرت ﷺ سے احادیث کی تصحیح کرا لیتے ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ١٥٢ خزائن ج ٣ ص ١٧٧)

حضرت ابن عربی اس درجہ کے فاضل اور اہل کشف تھے کہ انھوں نے ایک تفسیر قرآن لکھی جو کہ پوری نہ ہو سکی۔ صرف سورہ بنی اسرائیل تک ہے۔ مگر شیخ اکبر کے اس قدر معارف و اسرار بے پایاں تھے کہ ٩٥ جلدیں صرف اتنے حصہ قرآن کی تفسیر میں تصنیف کیں۔ اب صرف سوال یہ ہے کہ اس درجہ اور پایہ کے شخص نے بھی اپنے لیے نبوت کا لقب لیا یا جائز رکھا؟ ہرگز نہیں کیونکہ خدا نے اسکو کذابوں کی فہرست میں نہ لانا چاہا؟

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں فرماتے ہیں۔

”حدیث شریف میں آیا ہے جو شخص اپنی عقل سے قرآن میں کوئی بات کہے۔ اس کو اپنی جگہ جہنم میں بنانی چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں جو شخص اس زبان سے جس میں قرآن نازل ہوا

٢١

صفحہ ٢٩٨

ہے واقف نہ ہو اور نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ اور تابعین کے ذریعہ سے اس کو الفاظ عربیہ کی تشریح اور اسباب نزول اور ناسخ و منسوخ کا پتہ نہ ہو۔ اس شخص کو تفسیر کا لکھنا حرام ہے اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے۔ قرآن کے اندر جھگڑا کرنا کفر ہے المراء فی القران کفر میں کہتا ہوں کہ قرآن کے اندر مجادلہ حرام ہے اور اس کی یہ صورت ہے کہ کوئی شخص ایک حکم کو جو قرآن کے اندر منصوص ہے کسی شبہ سے جو اس کے دل میں واقع ہوا ہے رد کرے۔

آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے تم سے پہلے لوگ اس واسطے تباہ ہو گئے کہ انھوں نے خدا کی کتاب کو بعض کو بعض سے لڑایا انما هلك من كان قبلكم بهذا ضرب کتاب الله بعضه ببعض۔ میں کہتا ہوں قرآن کے ساتھ تدافع کرنا حرام ہے اور اس کی شکل یہ ہے کہ ایک شخص اپنے اثبات مذہب کی غرض سے استدلال کرے اور دوسرا شخص اپنے مذہب کے ثابت کرنے کے لیے اور دوسرے مذہب کے ابطال یا بعض ائمہ کے بعض پر تائید کرنے کی غرض سے دوسری آیت پیش کرے اور اس کا پورا پورا قصد اس بات کا نہ ہو کہ حق ظاہر ہو جائے اور حدیث میں بھی تدافع کرنے کا بھی یہی حال ہے۔

ناظرین شاہ ولی اللہ صاحبؒ کا فیصلہ کیسا معقول ہے مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کے حسب حال ہے۔ آپ تمام کتاب ”النبوۃ فی خیر الامۃ“ میں جس کا جواب یہ کتاب ہے۔ دیکھیں گے کہ کس دلیری اور دریدہ دہنی سے قرآن و احادیث کا تدافع کیا ہے اور مرزا قادیانی کے مذہب کو ترجیح دینے کی خاطر کس قدر قرآن میں تحریف کی ہے اور کس شقاوت سے نصوص قرآنی کے مقابلہ میں اپنے عقلی ڈھکوسلے جڑے ہیں؟ اور خشیۃ اللہ اور اتقاء اور نئی روحانیت کے مدعی ہیں اور دل سے خوب جانتے ہیں کہ مصرعہ۔ ایں راہ کہ تو میروی بترکستان است۔ مگر قرآن کے مقابلہ میں اور قرآن کی تفسیر جو محمد رسول اللہ ﷺ نے خود کر دی ہے اس کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کیا اور مرزائی کیا؟ اگر کوئی کیسا ہی مدعی پیدا ہو اور چاہے رسی کے سانپ بنا کر دکھائے اور پانی پر خشک پاؤں چلا جائے اس کی کچھ وقعت سچے مسلمان اور پکے دیندار کے دل پر اثر نہ کرے گی۔ ہاں جن کے پہلو میں کمزور دل اور جن کی قوت ایمانی نہایت کمزور اور ان لوگوں جیسی ہے جو کہ مسیلمہ کذاب اسود عنسی وغیرہ کذابوں کے پیچھے سچے دین کو چھوڑ کر باطل پرست ہو گئے تھے ایسے لوگ ہمیشہ زمانہ میں چلے آتے ہیں وہ جان جائیں تو کوئی سند نہیں۔ سچے نبی و ہادی کی سچی تعلیم و دین کو چھوڑ کر کاذب کے پیچھے ہونا دینداروں کا کام نہیں۔ حکیم نور الدین

٢٢

صفحہ ٢٩٩

بھی اپنی کتاب نور الدین کے دیباچہ کے صفحہ ٩ پر لکھتے ہیں کہ ”تفسیر میں لغت عرب و محاورات ثابتہ عن العرب کے خلاف معنی نہ کیے جائیں اور تعامل سے جس کا نام سنت ہے معانی کیے جائیں اور اس سے باہر نہ نکلے اور احادیث صحیحہ ثابتہ کے خلاف نہ ہو۔“ اب ناظرین دیکھ لیں گے کہ میر قاسم علی مرزائی نے کسی قدر بے پرواہی کی اور سب کے برخلاف ڈھکوسلے لگائے۔

خاتم النبیین اور اس کی تفسیر معانی

جو رسول اللہ ﷺ نے خود کی ہے

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ط وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا ہ (احزاب ٤٠)

ترجمہ: محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں لیکن اللہ کا رسول اور ختم کرنے والا نبیوں کا ہے اور ہے اللہ سب چیز کے جاننے والا ۔

پہلی حدیث: سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلھم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی الخ.

(ترمذی ابو داؤد ج ٢ ص ٤٥ باب ماجاء لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون)

ترجمہ۔ میری امت میں ٣٠ جھوٹے نبی ہونے والے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کا گمان یہ ہو گا کہ میں نبی اللہ ہوں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

دوسری حدیث: کانت بنی اسرائیل تسوسھم الانبیاء کلما ھلک نبی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی و سیکون خلفاء.

(صحیح بخاری ج ١ ص ٤٩١ باب ماذکر عن بنی اسرائیل)

تیسری حدیث: عن سعد بن ابی وقاص قال قال رسول اللہ ﷺ لعلی انت منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی.

(مسلم ج ٢ ص ٢٧٨ باب من فضائل علی ابن ابی طالب)

جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ جیسے اصحابی اور رشتہ دار محمد رسول اللہ ﷺ جن کا فنا فی الرسول ہونا اظہر من الشمس ہے جب وہ نبی نہ ہوا تو دوسرا شخص امت میں سے کس طرح نبی ہو سکتا ہے؟ جس کو نہ صحبت رسول اللہ حاصل نہ محبت میں جان فدا کرنے والا ثابت ہوا ۔

دعویٰ سے نہیں ہوتی ہے تصدیق نبوت
پہلے بھی بہت گزرے ہیں نقال محمد ﷺ

بلا دلیل کہہ دینا کہ فنا فی الرسول ہو کر نبی ہو گیا ہوں قابل تسلیم نہیں کیونکہ مرزا

٢٣

صفحہ ٣٠٠

قادیانی کی تو متابعت تامہ بھی ثابت نہیں۔ جہاد نہیں کیا۔ حج نہیں کیا۔ ہجرت نہیں کی۔

چوتھی حدیث: عن عقبة بن عامر قال قال النبی ﷺ لو كان بعدى نبى لكان عمر بن الخطاب.

(رواہ الترمذی ج ٢ ص ٢٠٩ باب مناقب ابی حفص عمر بن الخطابؓ)

یعنی فرمایا آنحضرت ﷺ نے اگر ہونا ہوتا بالفرض میرے پیچھے کوئی نبی ﷺ تو البتہ ہوتا عمرؓ بیٹا خطاب کا۔ اس حدیث سے بھی ثابت ہے کہ متابعت تامہ رسول اللہ ﷺ سے کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔

پانچویں حدیث: عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ ﷺ قال فضلت علی الانبیاء بست اعطیت جوامع الکلم و نصرت بالرعب واحلت لی الغنائم و جعلت لی الارض مسجداً و طهوراً و ارسلت الی الخلق کافة و ختم بی النبییون.

(مسلم ج ١ ص ١٩٩ باب المساجد و مواضع الصلوۃ)

ترجمہ۔ روایت ہے ابی ہریرہؓ سے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ فضیلت دیا گیا میں نبیوں پر ساتھ چھ خصلتوں کے۔ دیا گیا میں کلمے جامع اور فتح دیا گیا میں دشمنوں کے دلوں میں رعب ڈالنے کے ساتھ۔ اور حلال کی گئیں میرے لیے غنیمتیں اور کی گئی میرے لیے زمین مسجد اور پاک کرنے والی۔ اور بھیجا گیا میں ساری خلقت کی طرف اور ختم کیے گئے میرے ساتھ نبی۔

اس حدیث سے بھی ثابت ہے کہ حضور ﷺ کی ذات پاک میں یہ خصوصیت تھی جو کسی نبی میں نہ تھی۔ آپ ﷺ نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ اس حدیث میں ان لوگوں کا بھی جواب ہے جو کہتے ہیں کہ رفع اور نزول و درازی عمر میں عیسیٰؑ کو آنحضرت ﷺ پر فضیلت ہے۔ انتہیٰ۔

چھٹی حدیث: قال رسول اللہ ﷺ فانى اخر الانبياء و ان مسجدى اخر المساجد.

(صحیح مسلم ج ١ ص ٣٣٦ باب فضل الصلوۃ بمسجدی مکة والمدینة)

ترجمہ۔ یعنی میں آخر الانبیاء ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے۔ اس حدیث نے فیصلہ کر دیا ہے کہ خاتم کے معنی نبیوں کے ختم کرنے کے ہیں اور آخر آنے کے ہیں کیونکہ تمام دنیا میں مسجد نبوی ایک ہی ہے۔ جس طرح مسجد نبوی بعد آنحضرت ﷺ نہیں، اسی طرح جدید نبی بھی تیرہ سو برس کے عرصہ میں نہیں مانا گیا۔ مسجد کی (ی) متکلم کی ہے نہ جس کا مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ کی مسجد دنیا میں سوا مدینہ منورہ کے کسی جگہ نہیں جس کو مسجد نبوی کہا جائے۔

٢٤

صفحہ ٣٠١

ساتویں حدیث: انا خاتم الانبیاء و مسجدی خاتم المساجد الانبیاء.

(کنز العمال جلد ١٢ ص ٢٧٠ حدیث ٣٤٩٩٩ فضل حرمین و مسجد الاقصیٰ من الاکمال)

یعنی میں انبیاء کے آخر میں ہوں اور میری مسجد تمام انبیاء کی مساجد کے آخر میں ہے۔ پس نہ بعد میرے کوئی مسجد انبیاء کی ہو گی۔ اور نہ میرے بعد کوئی نبی ہو گا۔ اس سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ حضرت خاتم النبیین کے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ کوئی مسجد نبوی۔ انتہیٰ۔

آٹھویں حدیث: انه لا نبی بعدی ولا امة بعدکم فاعبدوا ربکم.

(کنز العمال ج ٥ ص ٤٩٧ حدیث ٣٤٦٤٨ باب مواعظ فی ارکان الایمان من الاکمال)

یعنی اے حاضرین میرے بعد کوئی نبی نہیں اور نہ تمھارے بعد کوئی امت ہے۔ اب تیرہ سو برس کے بعد کس دلیل سے جدید نبی کا آنا مانا جا سکتا ہے؟ جب کہ علمائے اسلام کا فتویٰ ہے کہ دعوة النبوة بعد نبینا محمد کفر بالاجماع. یعنی دعویٰ نبوت بعد ہمارے نبی محمد ﷺ کے کفر ہے اور اجماع امت اس پر ہے۔

نانویں حدیث: عن جبیر بن مطعم قال رسول الله ﷺ ان لی اسماء انا محمد و انا احمد و انا الماحی الذی یمحو الله الکفر بی وانا الحاشر الذی یحشر الناس علی قدمی و انا العاقب الذی لیس بعدی نبی.

(ترمذی ج ٢ ص ١١١ باب ماجاء فی اسماء النبی ﷺ )

یعنی جبیر بن مطعمؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرے پانچ نام ہیں۔ محمدؐ احمدؐ ماحیؐ حاشرؐ عاقبؐ۔ کہ مرے بعد نہیں کوئی نبی۔

دسویں حدیث: قال رسول الله ﷺ ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی و لانبی.

(ترمذی ج ٢ ص ٥٣ باب ذهبت النبوة وبقیت المبشرات)

ترجمہ۔ یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رسالت و نبوت قطع ہو گئی ہے۔ پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ کوئی نبی۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اور نبی کا آنا محال ہے۔

گیارھویں حدیث: عن ابی ہریرة قال قال رسول الله ﷺ مثلی و مثل الانبیاء کمثل قصر حسن بنیانه ترک منه موضع لبنة فطاف به النظار یتعجبون من احسن بنیانه الا موضع تلک اللبنة فکنت انا سددت موضع اللبنة ختم بی النبیون و ختم بی الرسل و فی روایة فانا اللبنة وانا خاتم النبیین.

(مشکوٰة باب فضائل سید المرسلین ﷺ ص ٥١١)

٢٥

صفحہ ٣٠٢

ترجمہ ۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول خدا ﷺ نے میری مثال اور مجھ سے پہلے نبیوں کی مثال ایک ایسے محل کی طرح ہے کہ جس کی عمارت خوبصورت اور حسن خوبی سے تیار کی گئی ہے۔ لیکن اس سے ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی۔ اس محل کا نظارہ کرنے والے اس عمارت کو بوجہ اس کی خوبی کے تعجب سے دیکھتے ہیں۔ سو اس اینٹ کی جگہ جو چھوڑ دی گئی ہے۔ اس کو میں نے بھر دیا۔ وہ عمارت میرے ساتھ ختم کر دی گئی اور ایسا ہی رسولوں کو میرے ساتھ ختم کر دیا اور ایک روایت میں یوں آیا ہے کہ وہ اینٹ میں ہوں اور میں نبیوں کا خاتم ہوں۔

بارھویں حدیث: عن ابی هريرة عن النبى ﷺ قال كانت بنو اسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبى خلفه نبى وانه لانبى بعدى وسيكون خلفاء فيكثرون قالوا فما تامرنا يا رسول الله ﷺ قال فوابيعة الاول فالاول اعطوهم حقهم فان الله سائلهم عما استرعاهم.

(بخاری ج ١ ص ٤٩١ باب ماذكر عن بنى اسرائيل)

ترجمہ ۔ اور روایت ہے ابی ھریرہؓ سے کہ نقل کی پیغمبر خدا ﷺ سے کہ کہا تھے بنی اسرائیل کہ ادب سکھاتے تھے ان کو انبیاء جب کہ مرتے ایک نبی ﷺ ۔ جائے نشین ہوتے ان کے اور نبی اور تحقیق حال یہ ہے کہ نہیں آنے والا کوئی نبی ﷺ بعد میرے اور ہوں گے بعد میرے امیر ۔ اور بہت ہوں گے۔ عرض کیا صحابہؓ نے پس کیا حکم فرماتے ہو ہم کو یعنی جب کہ بہت ہوں گے امیر بعد آپ ﷺ کے اور واقع ہو گا۔ ان میں تنازعہ آپس میں۔ پس کیا فرماتے ہو ہم کو کرنے کو اس وقت فرمایا پوری کرو بیعت پہلے کی۔ پھر پہلے کی اتباع پہلے خلیفہ کا کیجئے۔ اگر مدعی ہو دوسرا اتباع نہ کیجئے اور دو ان کو حق ان کا پس تحقیق اللہ تعالیٰ پوچھے گا ان سے اس چیز سے کہ طلب چرانے کی کی ہے ۔ ان سے نقل کی یہ بخاری ۔

تیرھویں حدیث: وعن عقبة بن عامر قال قال النبى ﷺ لو كان بعدى نبى لكان عمر بن الخطاب.

(رواہ الترمذی ج ٢ ص ٢٠٩ باب مناقب ابی حفص عمر بن خطابؓ)

هذا حديث غريب اور روایت ہے عقبہ بن عامرؓ سے کہ کہا فرمایا آنحضرت ﷺ نے کہ اگر ہوتا بالفرض والتقدیر پیچھے میرے کوئی پیغمبر تو البتہ ہوتا عمرؓ ابن الخطابؓ ۔ (ف) اس عبارت کو مجاز میں بھی استعمال کرتے ہیں مبالغہ اور گویا یہ اس سبب سے ہے کہ عمرؓ کو الہام ہوتا ہے اور القا کرتا ہے فرشتہ ان کے دل میں حق ان کو ایک طرح کی مناسبت ہے عالم روحی سے ۔

چودھویں حدیث: وعن عرباض ابن سارية عن رسول الله ﷺ انه قال انى

٢٦

صفحہ ٣٠٣

عندالله فى ام الكتاب خاتم النبيين وان ادم لمنجدل فى طينته و ساخبركم بتاويل ذالك دعوة ابى ابراهيم و بشارة عيسى بى او رؤيا امى التى رأت حين وضعتني أنه خرج منها نوراً ضاءت له قصور الشام. (كنز العمال ج ١١ ص ٤٤٩ ۔ ٤٥٠ حدیث نمبر ٣٢١١٤ الفصل الثالث فى فضائل متفرقه عن التحديث بالنعم وفيه ذكر نسبه ﷺ)

ترجمہ۔ روایت ہے عرباض بن ساریہؓ سے اس نے نقل کی رسول خدا ﷺ سے یہ کہ فرمایا تحقیق میں لکھا ہوا ہوں اللہ کے نزدیک ختم کرنے والا نبیوں کا کہ بعد میرے کوئی نبی نہ ہو۔ اس حال میں کہ تحقیق البتہ آدمؑ سوئے تھے۔ زمین پر اپنی مٹی گوندھی ہوئی میں، اور اب خبر دوں میں تم کو ساتھ اوّل امر اپنے کے کہ وہ دعا حضرت ابراہیمؑ کی ہے اور نیز بدستور اوّل امر میرا خوشخبری دینے عیسیٰؑ کا ہے یعنی جیسا کہ اس آیت میں ہے وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاتِیْ مِنْ بَعْدِ اسْمُہٗ اَحْمَدُ. اور نیز بدستور اوّل امر میرا خواب دیکھنا میری ماں کا ہے کہ دیکھا انھوں نے جب جنا مجھ کو۔ اور تحقیق ظاہر ہوا میری ماں کے لیے ایک نور کہ روشن ہوئے ان کے لیے اس نور سے محل شام کے۔ نقل کی یہ بغوی نے شرح السنہ میں ساتھ اسناد اپنی کے عرباض سے۔ اور روایت کیا اس کو امام احمد نے ابی امامہ سے قول ان کے ساخبرکم سے آخر تک۔

پندرھویں حدیث: فی امتی کذابون دجالون سبعة و عشرون منهم اربعة نسوة وانى خاتم النبيين لا نبی بعدى. (كنز العمال ج ١٤ ص ١٩٦ حدیث ٣٨٧٠)

حذیفہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری امت میں ٢٧ کذاب اور دجال ہوں گے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور بعد میرے کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔

سولھویں حدیث: عن ثوبان قال قال رسول اللہ ﷺ اذا وضع السیف فی امتی لم يرفع عنها الى يوم القيمة ولا تقوم الساعة حتى تلحق قبائل من امتی بالمشركين و حتى تعمل قبائل من امتی الاوثان وانه سيكون فی امتی کذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبی الله وانا خاتم النبيين لا نبی بعدى ولا تزال طائفة من امتی علی الحق ظاهرين لا يضرهم من خالفهم حتى يأتى امر الله.

(رواه ابو داؤد ج ٢ ص ٤٢٧ باب ذكر الفتن ودلائلها)

ترجمہ۔ روایت ہے ثوبانؓ سے کہ کہا فرمایا رسول خدا ﷺ نے کہ جس وقت کہ رکھی جائے گی تلوار میری امت میں نہیں اٹھائی جائے گی تلوار و قتل اس سے قیامت تک اور نہیں قائم ہوگی۔ قیامت یہاں تک کہ ملیں گے کتنے ایک قبیلہ میری امت کے ساتھ

٢٧

صفحہ ٣٠٤

مشرکوں کے اور نہیں قائم ہوگی قیامت یہاں تک کہ پوجیں گے کئی ایک قبیلے میری امت میں سے بتوں کو اور تحقیق بات یہ ہے کہ ہوں گے میری امت میں سے جھوٹے وہ تیس ہوں گے۔ سب گمان کریں گے کہ وہ نبی خدا کے ہیں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں نہیں کوئی نبی پیچھے میرے اور ہمیشہ ایک جماعت امت میری سے ثابت رہے گی حق پر اور انکو نہیں ضرر پہنچا سکے گا وہ شخص کہ مخالفت کرے ان کی یہاں تک کہ آئے حکم خدا کا روایت کیا اس کو ابو داؤد نے۔

سترھویں حدیث: ان العلماء ورثة الانبیاء.

(کنز العمال ج ١٠ ص ١٣٥ حدیث نمبر ٢٨٦٧٩)

ترجمہ۔ علماء لوگ انبیاء کے وارث ہیں۔

اٹھارھویں حدیث: علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدين المهدين.

(ترمذی ج ٢ ص ٩٦ باب ماجاء الاخذ بالسنة)

ترجمہ۔ تم لوگ میرے اور میرے خلفائے راشدین کے طریقے کو اپنے اوپر لازم کر لینا۔ لا تجتمع امتی علی الضلالة. میری امت گمراہی پر اتفاق نہ کرے گی۔

(حجة الله البالغة ص ٢٦٢) ختم الله به النبوة فلا نبوة بعده اى ولا معه قال ابن عباس يريد لو لم اختم به النبى لجعلت به ابنا يكون بعده نبيا و عنه قال ان الله لما علم ان لا نبى بعده لم يعطه ولد ذكر ليصير رجلا وكان الله بكل شىء عليما اى دخل في علمه انه لا نبى بعده فان قلت قد صح ان عيسى عليه السلام ينزل فى اخر الزمان بعده وهو نبى قلت ان عيسى عليه السلام ممن نبئ قبله وحين ينزل فى اخرالزمان ينزل عاملا بشريعت محمد ﷺ ومصليا الى قبلة كأنه بعض امته وعن ابي هريرة قال قال رسول الله ﷺ ان مثلى ومثل الانبياء من قبلى كمثل رجل بنى بنيانا واحسنه واجمله الا موضع اللبنة من زاوية من زوايا فجعل الناس يطفون و يتعجبون له و يقولون هلاّ وضعت هذه اللبنه وانا اللبنة وانا خاتم النبيين وعن جابر نحوه وفيه بى ختمت الانبياء (ق) عن جبير بن مطعم قال قال رسول الله ﷺ ان لى خمسة اسماء وانا محمد وانا احمد و انا الماحى الذى يمحو الله الكفر بى وانا الحاشر الذى يحشر الناس على قدمى وانا العاقب والعاقب الذى ليس بعده نبى وقد سماه الله روفا رحيما. (م) عن ابى موسى قال كان النبى ﷺ يسمى لنا نفسه اسماء فقال انا محمد وانا احمد وانا المقفى انا الماحى و نبى التوبة و نبى الرحمة المقفى

٢٨

صفحہ ٣٠٥

هو المقفی الذاهب يعنى اخر الانبياء المتبع لهم فالمقفى فلا نبى بعده.

(تفسیر خازن زیر آیت خاتم النبیین) ترجمہ۔ ختم کر دی اللہ تعالیٰ نے آپ کے وجود گرامی پر نبوت (سو کسی قسم کی نبوت آپ کے بعد نہیں ہو گی) چونکہ لا نبوة میں لا نفی جنس کا حرف ہے اس لیے کسی قسم کا نبی محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نہیں آ سکتا۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ اگر میں آپ ﷺ کے وجود گرامی پر سلسلہ انبیاء کو ختم نہ کرتا تو آپ ﷺ کے لیے کوئی بیٹا عطاء کرتا جو آپ ﷺ کے بعد نبی ہوتا اور نیز آپ ہی سے مروی ہے ضروری ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حکم دے دیا کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا تو آپ ﷺ کو نرینہ اولاد نہ دی۔ جو زندہ رہتی کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں یہ بات پہلے سے تھی کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔ اگر کوئی اعتراض کرے کہ مسیح ؑ جو آخر زمانہ میں نازل ہوں گے تو وہ نبی ہوں گے۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ پہلے نبی محمد رسول اللہ ﷺ کے مبعوث ہو چکے تھے۔ اور بعد نزول شریعت محمدی ﷺ پر حکم کریں گے اور بیت اللہ ہی ان کا قبلہ ہو گا گویا وہ آپ ﷺ کی امت کے ایک فرد متصور ہوں گے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری اور پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص ایک مکان نہایت خوبصورت تیار کرے اور اس کے ایک کونہ میں ایک اینٹ کی جگہ خالی ہو اور لوگ اسکو دیکھ کر متعجب ہوں اور یوں کہیں کہ خالی جگہ اینٹ کیوں نہیں لگائی سو وہ اینٹ میں ہوں اور میں نبیوں کا خاتم ہوں اور حضرت جابرؓ سے اسی قسم کی روایت مروی ہے اور جبیر بن مطعمؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرے پانچ نام ہیں۔ محمد احمدؐ ماحیؐ حاشرؐ عاقب (جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا) اور ابو موسیٰ اشعری سے مروی ہے کہ حضور ﷺ اپنے کئی ایک نام ہمارے سامنے ذکر فرمایا کرتے۔ محمد احمدؐ (مقتفیٰ) (آخر الانبیاء) ماحیؐ نبی التوبۃؐ نبی الرحمت۔

خاتم النّبیین، فلا يكون له ابن رجل بعده يكون نبيا و فی قراء ة بفتح التاء كآلة الختم ای به ختم او كان الله بكل شئ عليما منه بان لا نبى بعده و اذا انزل سيدنا عيسى يحكم بشريعته.

(جلالین زیر آیت خاتم النبیین)

ترجمہ۔ کوئی آپ ﷺ کا ایسا بیٹا نہیں جو آپ ﷺ کے بعد مرد کہلائے اور نبی بھی ہو سکے اور قرائت بفتح ت کی صورت میں خاتم بمعنی آلہ ختم کرنے کا کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا اور جب عیسیٰؑ نازل ہوں گے تو آپ ﷺ

٢٩

صفحہ ٣٠٦

کی شریعت پر ہی عمل کریں گے۔

قاضی عیاضؒ اپنی کتاب شفا میں فرماتے ہیں۔ ومن ادعی النبوة لنفسه او جوز اکتسابها والبلوغ بصفا القلب الى مرتبتها كالفلاسفة وغلاة المتصوفة وكذالك من ادعى منهم انه يوحى اليه وان لم يدع النبوة او انه يصعد الى السماء ويدخل الجنة وياكل من ثمارها و يعانق الحوار العين فهو لاء كلهم كفار مكذبون للنبى ﷺ لانه اخبر انه ﷺ خاتم النبيين ولا نبى بعده و اخبر عن الله تعالى انه خاتم النبيين وانه ارسل كافة للناس واجمعت الامة على حمل هذا الكلام على ظاهره وان مفهومه المراد به دون تاويل ولا تخصيص فلا شک فى كفر هو لاء الطوائف كلها قطعا اجماعاً و سمعاً.

(الشفاء ج ٢ ص ٢٤٧ باب فى بيان ماهو من المقالات كفر الخ)

ترجمہ۔ جو شخص اپنے لیے نبوت کا دعویٰ کرے یا نبوت کا حاصل کرنا جائز شمار کرے اور صفائی قلب سے نبوت کے مراتب تک پہنچنے کو ممکن جانے جیسا کہ فلاسفہ اور غالی صوفیوں کا خیال ہے۔ نیز اسی طرح یہ دعویٰ کرے کہ اس کو منجانب اللہ وحی ہوتی ہے گو وہ نبوت کا دعویٰ نہ کرے یا یہ کہے کہ وہ آسمان کی طرف صعود کرتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے اور اس کے میوہ جات کھاتا ہے اور حورعین سے معانقہ کرتا ہے تو ان تمام صورتوں میں ایسا شخص کافر اور نبی ﷺ کا مکذب ہوگا۔ اس لیے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ خبر دی ہے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔ نیز آپ ﷺ نے منجانب اللہ یہ خبر دی ہے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین اور مرسل کافتہ للناس ہیں اور تمام امت محمدیہ نے اس پر اجماع کیا ہے کہ ایسے شخص کے کافر ہونے میں مطلق شک نہیں ہے۔

ابن حجر مکی اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں من اعتقد وحيا من بعد محمد ﷺ کان كافراً باجماع المسلمين. (فتاویٰ حدیثیہ) یعنی جو شخص بعد محمد ﷺ کے وحی کا قائل ہو تو مسلمانوں کے اجماع سے کافر ہے۔

ملا علی قاریؒ لکھتے ہیں ودعوى النبوة بعد نبينا ﷺ كفر بالاجماع. (فقہ اکبر ص ٢٠٢) ہمارے نبی ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ بالاجماع و بالاتفاق کفر ہے۔

ناظرین! اب ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ حضرات علماء وصوفیا کرام کا کیا فیصلہ خاتم النبیین پر ہے۔

شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن عربی قدس سرہ فتوحات کی جلد ثانی صفحہ ٦٤

٣٠

صفحہ ٣٠٧

پر فرماتے ہیں زال اسم النبی بعد محمد ﷺ ۔ یعنی آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد نام نبی کا اٹھایا گیا ہے یعنی اب کوئی شخص امت محمدی ﷺ سے نبی ﷺ نہیں کہلا سکتا۔ پھر فصوص الحکم فص حقیقت محمدیہ ﷺ میں لکھتے ہیں اور اس حقیقت محمدیہ ﷺ کا ظہور کمالات کے ساتھ پہلے ممکن نہ تھا۔ اسی واسطے وہ حقیقت مخصوص صورتوں میں ظاہر ہوئی اور ہر صورت ایک ایک مرتبہ سے مخصوص اور وہ صورتیں ہر زمان اور وقت کے مرتبہ سے بہت مناسب اور لائق ہوئیں اور اس وقت میں اسم دہر کے اقتضائے سے جو کمال کہ مناسب تھا اسی کے موافق وہ صورت آئی اور وہی صورتیں انبیاء علیہم السلام کی صورتیں ہیں۔ اللھم صل علی سیدنا محمد معدن الجود والکرم اور نبوت کے انقطاع سے پیشتر کبھی مرتبہ قطبیت میں ظاہر ہوتا ہے۔ جیسے خلیل اللہ تھے اور کبھی کوئی چھپا ہوا ولی ہوتا ہے جیسے موسیٰ ؑ کے زمانہ میں حضرت خضر تھے اور یہ قطب اس وقت تھے جب تک موسیٰ ؑ اس خلعت قطبیت سے مشرف نہیں ہوئے تھے اور نبوت تشریع کے منقطع ہونے اور دائرہ نبوت کے پورا ہونے (نبوت غیر تشریع کے ختم ہونے) اور باطن سے ظاہر کیطرف ولایت کے منتقل ہونے کو قطبیت مطلقہ اولیاؤں کی طرف منتقل ہو گئی۔ اب اس مرتبہ میں ان لوگوں سے ایک شخص ہمیشہ اس کی جگہ میں رہے گا تا کہ یہ ترتیب اور یہ انتظام اس کے سبب سے باقی رہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ولکل قوم ھاد ہر قوم کا ایک ہادی اور رہبر ہے الخ اس عبارت سے بھی ظاہر ہے کہ اب نبی کوئی نہیں ہو گا۔ اب ایک ولی ہمیشہ رہے گا۔ چنانچہ ہمیشہ سے ایک قطب چلا آتا ہے جب وہ مر جاتا ہے اولیاؤں میں سے ایک قطب اس کے جانشین ہوتا ہے۔

پھر فصوص الحکم کے مقدمہ کے صفحہ ٧٥ سطر ١٦ پر لکھا ہے کہ اسی واسطے نبوت تمام ہو چکی ہے اور ولایت ہمیشہ باقی رہے گی۔

ناظرین! شیخ ابن عربی مسلمہ فریقین ہے۔ مرزا قادیانی بھی اسی کی سند معتبر سمجھتے ہیں۔ اس واسطے اس کی سند سے ثابت ہو گیا ہے کہ اب کوئی شخص محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی نہیں کہلا سکتا۔

امام غزالیؒ کیمیائے سعادت میں خاتم النبیین کے معنی ختم کرنے والا نبیوں کا کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔ چنانچہ اصل عبارت نقل کی جاتی ہے۔ وھو ھذا صفحہ ٦١ ”پس بآخر ہمہ رسول مارا ﷺ بخلق فرستاد و نبوت وے بدرجہ کمال رسانیدہ۔ ہیچ زیادت را بآں راہ نبود و بایں سبب او را خاتم الانبیا کرد

٣١

صفحہ ٣٠٨

کہ بعد از وے ہیچ پیغمبر نباشد۔ ’’اردو ترجمہ اکسیر ہدایت صفحہ ٦٢‘‘ پھر سب پیغمبروں کے بعد ہمارے رسول مقبول خاتم النبیین سید الاولین و آخرین ﷺ کو خلق کی طرف بھیجا اور آپ ﷺ کی نبوت کو ایسے کمال کے درجہ پر پہنچایا کہ پھر اس پر زیادتی محال ہے اسی واسطے آپکو خاتم الانبیاء کیا کہ آپ ﷺ کے بعد پھر کوئی نبی نہ ہو‘‘

حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ کے اردو ترجمہ صفحہ ٦١٦ مطبوعہ اسلامی پریس لاہور پر تحریر فرماتے ہیں۔ وہو ہذا۔

’’میں کہتا ہوں آنحضرت ﷺ کی وفات سے نبوت کا اختتام ہو گیا اور وہ خلافت جس میں مسلمانوں میں تلوار نہ تھی۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت سے ختم ہوئی اور اصل خلافت حضرت علیؓ کی شہادت اور حضرت امام حسنؓ کی معزولی سے ختم ہو گئی۔‘‘

ناظرین! جب خاتم النبیین کی تفسیر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے جن پر یہ آیت نازل ہوئی تھی۔ انھوں نے اپنی ایک حدیث نہیں بلکہ متعدد حدیثوں میں بار بار تفسیر کر دی کہ لانبی بعدی اور دوسری طرف اس پر اجماع امت ہے کہ قرآن مجید جیسا کہ رسول مقبول ﷺ سمجھتے تھے اور سمجھاتے تھے۔ دوسرا کوئی نہیں سمجھا سکتا۔ پس احادیث منقولہ بالا سے امور ذیل کا فیصلہ خود رسول اللہ ﷺ نے کر دیا جس کے مقابلہ میں کسی شخص کا من گھڑت ڈھکوسلہ کچھ وقعت نہیں رکھتا۔

رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کے سامنے سب فیصلے ردی ہیں اور کسی کی طول بیانی اور زبان درازی کے دلائل کے قائل نہیں۔ کیونکہ دینی معاملات میں سند شرعی چاہیے نہ عقلی ڈھکوسلے۔

احادیث کی روشنی میں نتائج

میں امکان نبوت غیر تشریعی بنی اسرائیل کی ہی تردید کی گئی ہے۔ حضرت رسول مقبول ﷺ نے صاف صاف فرما دیا کہ پہلے بنی اسرائیل کے نبی تعلیم و ادب سکھانے والے غیر تشریعی نبی آیا کرتے تھے اور ایک نبی کے فوت ہونے سے دوسرا نبی اس کے جانشین ہوتا تھا۔ مگر چونکہ کوئی نبی میرے بعد نہیں آنے والا۔ اس واسطے میری امت کے امیر ان نبیوں کا کام دیں گے یعنی حدود شریعت کی نگاہ رکھیں گے اور خلافت یا سلطنت میری شریعت کے احکام کے تابع رہے گی۔ جس طرف میری شریعت حکم کرے گی اسی طرف خلیفہ وقت بھی حکم کرے گا۔ چنانچہ آج تک ١٣ سو برس سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور حدود

٣٢

صفحہ ٣٠٩

شریعت خلافت کی پناہ سے قائم چلی آتی ہیں۔ یہ خلافت اسلامی کے نہ ہونے کی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی نبوت کا دعویٰ کر کے شرعی حدود کی زد میں نہ آئے اور انگریزوں کی حکومت کو رحمت آسمانی جان کر جو کچھ اپنے دل میں آیا خلاف قرآن و احادیث لکھ مارا کیونکہ کوئی پوچھنے والا نہ تھا ورنہ دوسرے کاذبوں کی طرح مدت کا فیصلہ کر دیا ہوتا۔

(٢) اسی حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جب خلیفہ اسلام ہو تو اس کی پیروی کرو۔ جو دوسرا مدعی ہو اس کو نہ مانو۔ پس اس سے مرزا قادیانی کی خلافت کا دعویٰ بھی باطل ہوا کیونکہ ایک دوسری حدیث میں ہے۔ عن عرفجۃ قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول من اتاکم وامرکم جمیع علی رجل واحد یرید ان یشق عصاکم او یفرق جماعتکم فاقتلوہ۔ (رواہ مسلم ج ٢ ص ١٢٨ باب حکم من فرق امر المسلمین وھو مجتمع) ترجمہ۔ روایت ہے عرفجہ سے کہا سنا میں نے رسول خدا ﷺ کہ فرماتے جو شخص آئے تمہارے پاس دعویٰ خروج کے خلیفہ وقت پر اس حال میں کہ امر تمہارا اکٹھا ہو ایک شخص پر اور ایک خلیفہ پر در حالیکہ چیرے لاٹھی تمہاری کو یا جدائی ڈالے جماعت تمہاری میں پس مار ڈالو اس کو‘ روایت کی مسلم نے چونکہ مرزا قادیانی نے جدائی ڈالی ہے امت محمدیہ ﷺ میں اور اپنی چھوٹی سی جماعت الگ کر کے اسلام کی لاٹھی کو چیرا یعنی امت محمدیہ ﷺ کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہا ہے۔ پس وہ اس حدیث کی رو سے قتل کے لائق تھے نہ کہ بیعت کے کیونکہ خلیفہ اسلام ترکی میں موجود ہے جو کہ محافظ حرمین شریفین ہے۔

(٣) متابعت رسول اللہ ﷺ سے یا فنا فی الرسول کے دعویٰ سے کسی نبی کا ہونا باطل ہے دوسری حدیث سے جس میں لکھا ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتے کیونکہ حضرت عمرؓ سے بڑھ کر کوئی شخص تابعداری میں صحابہ کرامؓ کے برابر نہیں۔ جب صحابہ کرامؓ نبی نہ ہوئے تو مرزا قادیانی کی کیا حقیقت ہے؟

(٤) یہ امر بھی بالکل طے ہو گیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی ظلی و غیر تشریعی نبی نہ ہو گا کیونکہ تیسری حدیث میں حضرت ﷺ نے صاف صاف فرما دیا کہ صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی۔ نبوت کے محل میں جس کو میں نے آ کر پورا کر دیا اب آئندہ کسی اینٹ کی گنجائش نہیں یعنی کسی قسم کا نبی نہ ہو گا تشریعی و غیر تشریعی۔

(٥) یہ امر بھی طے ہوا کہ حضرت کا پیچھے آنا قابل فخر ہے پہلے آنا قابل فخر نہ تھا۔ پانچویں حدیث نے صاف صاف بتا دیا کہ حضرت رسول اللہ ﷺ اس وقت خاتم النبیین تھے۔ جب آدمؑ پیدا ہی نہ ہوئے جس کے یہ معنی ہیں کہ حضرت ﷺ تقرری میں پہلے

٣٤٣

صفحہ ٣١٠

تھے اور ظہور اخیر میں ہوا۔

الرسول ﷺ ہو۔ نبی نہیں کہلا سکتا کیونکہ چھٹی حدیث میں رسول ﷺ نے صاف صاف حضرت علیؓ کے حق میں فرما دیا کہ تو مجھ سے بمنزلہ ہارونؑ کے ہے موسیٰؑ سے مگر وہ نبی تھا اور تو نبی نہیں۔ حالانکہ حضرت علیؓ کے حق میں رسول اللہ ﷺ دوسری حدیث میں فرما چکے تھے کہ عمران بن حصین ان النبیﷺ قال ان علیاً منی وانا منہ وھو ولی کل مومن من بعدی۔

(رواہ الترمذی ج ٢ ص ٢١٢ باب علی بن ابی طالبؓ)

ترجمہ۔ روایت ہے عمران بن حصین سے کہ تحقیق نبی ﷺ نے فرمایا کہ علیؓ مجھ سے ہے اور میں علیؓ سے اور علیؓ دوست اور ناصر ہے ہر مومن کا۔ روایت کی ترمذی نے مگر پھر بھی باوجود اس یگانگت اور قرابت کے ان کو نبی کہلانے کی اجازت نہ دی اور نہ حضرت علیؓ نے بہ سبب محبت و فنا فی الرسول ہونے کے دعویٰ نبوت غیر تشریعی و ظلی کا کیا بلکہ صاف صاف فرمایا الا وانی لست نبی و لا یوحی الی یعنی نہ میں نبی ہوں اور نہ وحی کی جاتی ہے میری طرف۔ پس ثابت ہوا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی شخص جو کہ دعویٰ وحی اور نبوت کا کرے کاذب ہے اور ثابت بھی ہے کہ سب کذابوں نے وحی اور نبوت کا دعویٰ کیا۔ جب وہ آج جھوٹے مانے جاتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں جو اس زمانہ میں دعویٰ نبوت کرے اور اتفاق سے انگریزوں کی سلطنت کے باعث اور خلافت اسلامی کے نہ ہونے کے سبب بچ رہے تو وہ سچا مانا جائے جب نبوت کا دروازہ کھولا جائے تو پھر مسیلمہ و اسود عنسی نے تو حج بھی کیا تھا بعد حج کے مدعی ہوئے۔ مرزا قادیانی تو حج کرنے سے محروم رہ کر کامل اطاعت رسول اللہ ﷺ نہ کر سکے۔ اپنے منہ سے جو چاہیں کہہ لیں ان کے عمل تو محمد رسول اللہ ﷺ کے برعکس ہیں۔ محمد رسول اللہ ﷺ نے فقر فاقہ اور غربت میں عمر کاٹی۔ مرزا قادیانی نے وہ دنیاوی عیش اڑائے کہ کسی امیر کو بھی حاصل نہ تھے۔ پھر اس پر دعویٰ نفس کشی۔ مصرعہ۔ باطل است آنچہ مدعیٰ گوید۔

کرے کاذب ہے خواہ اپنے آپ کو امتی اور مسلمان کہے جیسا کہ حدیث نمبر ٧ میں ہے کہ میری امت میں ہو کر تیس جھوٹے مدعی نبوت ہوں گے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں نہیں کوئی نبی بعد میرے۔ اور اس حدیث میں جو پیشین گوئی ہے کہ میری امت کے لوگ بعض بتوں کی پرستش کریں گے وہ بھی مرزا قادیانی کے حق میں پوری ہوئی کیونکہ مرزا

٣٤

صفحہ ٣١١

قادیانی نے اپنی فوٹو بنوا کر مریدوں میں تقسیم کی جو کہ ہر ایک مرزائی کے گھر میں ہے اور اس کی تعظیم ہوتی ہے۔ حالانکہ حدیثوں میں تصویر رکھنے کی سخت ممانعت ہے بلکہ جس کمرہ میں تصویر ہو اس میں سجدہ جائز نہیں۔

میں سے نہ ہوگا۔ علماء امت نبوت کے انوار یعنی قرآن اور حدیث و فقہ وغیرہ اسلامی تعلیم سے امت کے دلوں کو منور کرتے رہیں گے اور وعظ و نصیحت سے بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح تبلیغ دین کریں گے کیونکہ حدیث نمبر ٨ میں علماء کو وارث انبیاء علیہم السلام فرمایا۔

مجتہدین کی پیروی ضروری ہے۔ کسی مدعی نبوت ظلی و غیر تشریعی کی بیعت ضروری نہیں۔ جیسا کہ شاہ ولی اللہ صاحب نے حدیث نقل کی ہے۔ فعلیکم بسنتی الخ.

عقائد اسلام نسبت مسیح موعود و مہدی و حیات و ممات عیسیٰ بن مریمؑ و نزول ہیں وہی درست ہیں کیونکہ سب کا اتفاق و اجماع اسی پر ہے کہ حضرت ابن مریمؑ نبی اللہ ناصری جس کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان کوئی نبی نہیں اور وہ مرے نہیں۔ اصالتاً نزول فرمائیں گے اور امام مہدی کے ساتھ ہو کر وہ خدمت اسلام بجا لائیں گے حتیٰ کہ تمام مذاہب باطل ہلاک ہوں گے اور پھر وفات کے بعد مدینہ منورہ میں دفن ہوں گے کیونکہ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت ضلالت پر جمع نہ ہوگی۔ پس جو شخص یہ کہتا ہے کہ ١٣ سو برس تک امت محمد ﷺ گمراہی اور ضلالت پر رہی ہے اور رسول اللہ ﷺ کو بھی عیسیٰؑ اور دجال کی نسبت حقیقت کا کامل علم نہ تھا وہ رسول ﷺ کی ہتک کرتا ہے اور اس حدیث کو جھٹلاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو فرمائیں کہ ضلالت پر میری امت جمع نہ ہو گی اور مدعی نبوت کہتا ہے کہ امت محمدی ﷺ ضلالت پر جمع ہوئی ہے اور رسول اللہ ﷺ کا فرمانا درست نہیں ببیں تفاوت راہ از کجاست تا بکجا۔

ناظرین! جو تفسیر خاتم النبیین کی رسول اللہ ﷺ نے کی ہے کہ لانبی بعدی ہر ایک مسلمان جو رسول اللہ ﷺ پر ایمان رکھتا ہے اور اس کو کامل انسان سہو و خطا سے مبرا یقین کرتا ہے اور جس کا ایمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا علم تمام انسانوں سے کامل بلکہ اکمل تھا جو معنی رسول اللہ ﷺ نے سمجھے اور سمجھائے وہی درست ہیں اور اس کے بعد جو صحابہ کرامؓ و تابعینؒ و تبع تابعینؒ و صوفیائے کرامؒ و علمائے عظامؒ نے کیے ہیں ان کے

٣٥

صفحہ ٣١٢

مقابلہ میں کسی خود غرض کے من گھڑت اور خود تراشیدہ بلا اسناد معنی ہرگز ہرگز درست نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ تو خود مدعی ہے اور اپنے دعوے کی تصدیق میں تمام اسلاف اہل زمان حتی کہ رسول مقبول ﷺ کے معنوں کو ہی غلط بتا کر اپنا دعویٰ ثابت کرنا چاہتا ہے وہ کیونکر درست ہے؟ اور قابل تسلیم ہے ایک سند شرعی تو پیش نہیں کر سکتے کہ جس میں لکھا ہو کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا ہے اور یہ من گھڑت نامعقول ڈھکوسلہ پیش کرتے ہیں کہ غیر تشریعی نبی کی ممانعت نہیں ہے جس کا جواب یہ ہے کہ مدعی آپ ہیں یا ہم۔ اور بار ثبوت مدعی پر ہوتا ہے نہ کہ منکر پر۔ دوم یہ بالکل غلط دلیل ہے کہ غیر تشریعی نبی کی ممانعت نہیں کیونکہ اسی طرح تو ہر ایک کہہ سکتا ہے جیسا آپ کہتے ہیں کہ غیر تشریعی نبی کی ممانعت نہیں۔ دوسرا کہتا ہے کہ عربی نبی کی ممانعت ہے۔ پنجابی نبی کی ممانعت نہیں ہے۔ تیسرا کہتا ہے کہ ملتانی نبی کی کوئی ممانعت نہیں۔ چوتھا کہہ سکتا ہے کہ پشاوری نبی کی ممانعت نہیں علیٰ ہذا القیاس جتنے ملک و شہر ہیں اتنے ہی نبی ہو سکتے ہیں۔ نعوذ باللہ من ذالک۔

ناظرین! مرزائی صاحبان اس آیت میں لفظ خاتم پر بحث کرتے ہیں اور کہتے ہیں خاتم ت کی زبر سے ہے۔ جس کے معنی انگشتری و مہر کے ہیں اور مہر بمعنی تصدیق ہے پس محمد رسول اللہ ﷺ نبیوں کی تصدیق کرنے والے ہیں۔ اب جو نبی ہو گا وہ محمد ﷺ کی تصدیق سے ہوگا۔

اس اعتراض کے جواب دینے سے پہلے ہم یہ بتاتے ہیں کہ مخبر صادق محمد رسول اللہ ﷺ جس پر یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ اس نے اس آیت کے معنی کیا سمجھے اور صحابہ کرامؓ و غیرہم امت کو کیا سمجھائے؟ تاکہ ہر ایک سلیم الطبع و سعید الفطرت شخص کو جو رسول اللہ ﷺ پر ایمان رکھتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کسی عام شخص کی کیا خاص الخاص کی کلام اور رائے کو بھی کچھ وقعت اور پایہ اعتبار نہیں دیتا۔ سمجھ جائے کہ جو رسول اللہ ﷺ نے معنی کیے ہیں وہی درست ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے جس جگہ خاتم النبیین کا لفظ آیا اسی جگہ لا نبی بعدی یعنی کوئی نبی میرے بعد نہیں ہے کیے ہیں۔ چنانچہ وہ ہم نمبروار حدیثوں میں درج کر چکے ہیں یہاں صرف ہم نے دعویٰ کے طور پر لکھا ہے کہ خاتم النبیین کے معنی رسول اللہ ﷺ نے لا نبی بعدی جب کر دیے اور ١٣ سو سال تک انھیں معنوں پر عمل ہوتا رہا ہے تو اب کس کا منصب ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بات کو کاٹ دے اور اپنا ڈھکوسلا لگا کر اُلٹے معنی کرے؟ اور ساتھ ہی خود مدعی ہو کہ میں نبی ہوں تو کوئی مسلمان راسخ الایمان رسول اللہ ﷺ کی تشریح و معانی چھوڑ کر کسی خود غرض کی خود

٣٦

صفحہ ٣١٣

فرضی کے معنی ہرگز ہرگز نہیں مان سکتا۔ یوں تو کذابوں کے پیچھے ہمیشہ سے لوگ سچے دین کو چھوڑ کر لگتے چلے آئے ہیں۔ سچ ہر ایک کا دنیا میں چلا آتا ہے۔ مگر سچا مسلمان وہی ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کا دامن پیروی نہ چھوڑے اور کسی کاذب کے دعویٰ کو نہ مانے۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ہی بدنصیب ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں مسیلمہ کذاب کے دعوے اور اس کی فصاحت و بلاغت اور حقائق و معارف پر فریفتہ ہو کر مرزائیوں کی طرح اس کے پیروکار ہو گئے تھے اور اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے۔

یہ بالکل غلط خیال ہے کہ کوئی جھوٹے کی پیروی اس کو جھوٹا سمجھ کر کرتا ہے۔ ہرگز نہیں جو شخص کسی کو مان کر اس کا مرید ہوتا ہے تو اس کو اپنے زعم میں سچا ہی جانتا ہے بلکہ جھوٹا مدعی بھی کچھ مدت کے بعد جب نفس کے فریب کے نیچے آ جاتا ہے تو وہ بھی اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے اور اپنے نفسانی وساوس کو خدا کی طرف سے سمجھ کر ان پر ایسا ہی ایمان رکھتا ہے جیسا کہ قرآن پر اور شیطانی الہامات کو خدائی الہام اور وحی کا پایہ دیتا ہے۔ مگر جب معیار صداقت پر پرکھا جاتا ہے تو سچا سچا ہے اور کاذب کاذب۔ پس رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں ہم کسی امتی کے معنی اور تفسیر کی کچھ وقعت نہیں رکھتے۔

جب یہ اصول مسلمہ فریقین ہے کہ جو حدیث صحیح قرآن کے برخلاف ہے تو وہ قابل اعتبار و عمل نہیں اور جو ضعیف حدیث صحیح حدیث کے برخلاف ہو وہ بھی قابل عمل نہیں اور کسی امام کا قول حدیث کے برخلاف ہو تو قابل عمل نہیں تو پھر کس قدر غضب کی بات ہے کہ صریح نص قرآنی کے برخلاف اور احادیث و اقوال مجتہدین و متصوفین و محققین و اجماع امت کے ١٣ سو برس بعد ایک ڈھکوسلا تشریعی و غیر تشریعی نبوت کا نکال کر مدعی نبوت ہو تو مسلمان اس کو مان لیں؟ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔

اب ہم مرزائیوں کے اعتراض کا جواب دیتے ہیں۔ وہو ہذا۔

کرنے والے کے ہیں دیکھو منتہی الارب فی لغات العرب جس کی اصل عبارت ہم نقل کرتے ہیں۔

’’خاتم کصاحب مہر و انگشتری بدیں معنی بفتح لفظ دیگر آمدہ خاتم کحاجر و خاتام و ختام بضم محرکہ و خاتیام۔ خواتم و خواتیم جمع و آخر ہر چیزے و پایاں آں و آخر ہر قوم۔‘‘

’’خاتم بالفتح مثلہ ومحمد خاتم الانبیاء ﷺ اجمعین و حلقہ نزدیک پستان مادہ اسپ و کوقفا و سپیدی اندک در دست و پاہائے ستور۔

٤٧

صفحہ ٣١٤

”خاتمہ کصاحبۃ آخر ہر چیزے و پایاں آں۔“ ”ختم علی قلبہ مہر نہادہ بر دل وے تا فہم نکند چیزے را و نے برآید چیزے ازاں۔“ ختم الشی ختماً رسید آخر آنرا و تمام گردانید آنرا و تمام خواند آنرا۔ اختتام بپایان بردن نقیض افتتاح ۔“

غیاث اللغات کی سند کو میر قاسم مرزائی نے اپنے مفید مطلب سمجھا ہے یا تو غلط سمجھا ہے یا دوسروں کو الو بناتے ہیں۔ ”خاتم بالکسر تاء فوقانی و فتح نیز انگشتری۔ خاتم بفتح تا مہر و انگشتری و جز آں کہ بداں مہر کنند چہ مفعل بفتح عین بمعنی ما یفعل بہ مستعمل مے شود و مثل العالم ما یعلم بہ پس خاتم بمعنی ما ختم بہ باشد و آں انگشتری است۔“

ناظرین! اب میر قاسم مرزائی کا استدلال دیکھئے کہ فرماتے ہیں کہ الحمد للہ کہ قرآن اور لغت عرب و عجم سے یہ امر ثابت ہو گیا کہ خاتم خواہ ت کی فتح سے ہو یا کسر سے اس کے معنی مہر کرنے کا آلہ یا انگشتری کے ہیں۔ جو لوگ اس کے معنی آخر کرنے والا یا تمام کرنے والا یا ختم کرنے والا کرتے ہیں وہ نادان ہیں۔ اس فعل کا نام خواہ تحریف رکھو یا حماقت ہر حال میں مغالطہ دہی ہے۔

اب ہم میر قاسم مرزائی سے دریافت کرتے ہیں کہ آپ کے حق میں کیا ثابت ہو گیا کہ تمام اسلاف کے حق میں یہ پھول جھاڑے۔ یہ تو ہمارے حق میں ہے کہ آپ نے خاتم کے معنی ما ختم بہ کے قبول کر لیے یعنی جس سے مہر کی جاتی ہے اور مہر سے بند ہونا مراد ہے تو یہ تو آپ نے خود مان لیا کہ محمد ﷺ کا وجود نبیوں کے بند کرنے یا بند ہونے کا آلہ ہے۔ جس طرح انگشتری کی مہر بغیر کوئی چیز بند نہیں کی جاتی اسی طرح محمد ﷺ کے پہلے نبیوں کا آنا بند نہ ہوا تھا۔ جب محمد ﷺ آخر تشریف لائے اور کامل دین لائے تو آپ ﷺ کا تشریف لانا نبیوں کے بند ہونے کا آلہ بن گیا۔ اب ان کے بعد نہ جدید شریعت کی ضرورت ہے اور نہ جدید نبی کی۔ یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ جب جدید شریعت اور نبی کی ضرورت نہ ہو تو جدید نبی کا آنا باطل ہے اگر یہ کہو کہ پہلے نبیوں کے بعد غیر تشریعی نبی آتے رہے اب کیوں نہ آئیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نبی خاص خاص قوم کے واسطے شریعت لے کر آتے تھے اور وہ عالم گیر اور عظیم الشان شریعت نہیں لاتے تھے کہ تمام کافہ انام کے واسطے کافی ہو۔ اس لیے غیر تشریعی نبی آتے تھے۔ مگر جب محمد رسول اللہ ﷺ رحمت للعالمین کامل شریعت لے کر آئے اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ خوشخبری اور سند بھی عطا فرما دی کہ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ یعنی میں نے اپنی نعمت تم پر

٣٨

صفحہ ٣١٥

تمام کر دی اور نعمت نبوت تشریعی و غیر تشریعی دونوں کے واسطے ہے چنانچہ مرزا قادیانی خود مان چکے ہیں اور آپ میر قاسم مرزائی بھی نبوت و سلطنت انعام الٰہی مان چکے ہیں۔‘‘ (النبوۃ فی خیر الامت ص ٥) اور تمام مسلمان بھی نبوت کو نعمت سمجھتے ہیں۔ جب نص قرآنی سے اس کا تمام ہونا یقینی ہے تو پھر آپ کے عقلی ڈھکوسلے کو کون سنتا ہے؟ خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ میں نے اے محمد ﷺ نعمت نبوت تم پر ختم کر دی اور یہ شرف تم کو بخشا کہ تیری امت کو خیر الامت کا لقب عطا کیا۔ خیر الامت کس واسطے کہ پہلی امتوں کے لوگ ایسے عقیدے کے کچے تھے کہ ان کے واسطے غیر تشریعی نبی بھیجے جاتے تھے اور کچھ زمانہ کے بعد تشریعی نبی بھیجنے کی ضرورت ہوتی تھی۔ مگر تیری امت اس واسطے خیر الامت ہے کہ یہ تیرے دین پر قائم رہے گی اور تیرے احکام کی ایسی ہی عزت اور پیروی و عظمت کرے گی کہ گویا تو ان میں زندہ ہے اور تیرے انوار نبوت اور قرآن کے شعاع ہمیشہ ان کے دلوں کو نور ایمان سے منور کیا کریں گے۔ کسی قسم کے نبی کی تیرے بعد ضرورت نہیں۔ پس ہم نے تم کو خاتم النبیین بنایا اور تیری امت کو خیر الامت بنایا تا کہ جس طرح تیرا شرف بہ سبب خاتم الانبیاء ہونے کے تمام انبیاء پر ہوا ہے۔ اسی طرح تیری امت کا شرف تمام امتوں پر ہو اور ان میں تیرے بعد نہ تشریعی نبی کی ضرورت ہو اور نہ غیر تشریعی کی۔ مگر افسوس چونکہ میر قاسم مرزائی کے نور ایمان میں فرق ہے آپ کو یہ شرف خاتم الانبیاء اور یہ انعام خیر الامت ہونے کا پسند نہیں اور اپنے عقلی ڈھکوسلوں سے اس کی تردید کر کے ایک جزو رحمت و نعمت سے تو محروم ہونا بمعہ مرشد خود (مرزا قادیانی) قبول کرتے ہیں کہ ہاں صاحب بڑی نعمت نبوت تشریعی سے تو ہم محروم ہونا چاہتے ہیں مگر چھوٹی نعمت اور رحمت ہم کو ضرور ملے تا کہ پہلی امتوں کی مانند ہم بھی نبیوں کو قتل کیا کریں اور برے عذاب کے مستحق ہوا کریں؟ اور رحمت اللعالمین ﷺ کے وجود باجود سے ہم خیر الامت کا لقب لینا نہیں چاہتے ہم تو ایسی ہی امت ہونا چاہتے ہیں کہ پیغمبر اگر پہاڑ پر متعدد دنوں کے واسطے جائے اور اس کی غیر حاضری میں گوسالہ پرستی شروع کر دی جائے افسوس ایسی سمجھ پر۔

رسول ﷺ بار بار فرمائے کہ اس شرف خیر الامت کا سبب میرا وجود باجود ہے اور لا نبی بعدی ہر قدم پر بتائے۔ مگر خدا اور اس کے رسول اور تمام اسلاف کے مقابلہ پر میر قاسم مرزائی اسی شرف کو غضب خدا کہیں اور تمام اہل اسلام اور پیغمبر خدا ﷺ سب کے سب کو بلا تمیز تحریف کنندہ و حماقت کنندہ اور مغالطہ دہندہ فرمائیں۔ اس کا جواب ہم سوا اس کے

٣٩

صفحہ ٣١٦

کیا دے سکتے کہ یہ آل رسول ﷺ کی شان سے بعید ہے کہ اس کی زبان سے ایسے کلمات سرور کائنات کے حق میں نکلیں کیونکہ سب سے پہلے لانبی بعدی کہنے والے اور خاتم النبیین ﷺ کے معنی نہیں کوئی نبی بعد میرے چاہے تشریعی ہو یا غیر تشریعی وہی ہیں۔

کے معنی ختم کرنے والا (ازالہ اوہام ص ٦١٤ خزائن ج ٣ ص ٤٣١) اور پورا کرنے والا نبیوں کا ہیں۔ اور فرمایا ہے کہ: ہر نبوت را بروشد اختتام۔

(درثمین فارسی ص ١١٣)

یعنی محمد رسول اللہ ﷺ پر ہر قسم کی نبوت ختم ہو گئی ہے تو مرزا قادیانی بھی ایسے محرف اور دھوکہ دہ اور احمق ہیں یا کچھ آپ نے فرق رکھ لیا ہے؟ جہالت بری بلا ہے اگر میر قاسم مرزائی کو یہ علم ہوتا کہ مرزا قادیانی ہر نبوت را بروشد اختتام فرما چکے ہیں تو تمام بزرگان دین و مرزا قادیانی سب کی ہتک نہ کرتے۔

محرف کا خطاب دیا ہے۔

مرزا قادیانی کی اصل عبارت نقل کرتے ہیں اس ثبوت میں کہ مرزا قادیانی نے بھی خاتم النبیین کے معنی ختم کرنے والا نبیوں کا لکھے ہیں۔ وہو ہذا۔ "قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آئے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو ۔"

(ازالہ اوہام ص ٤١١)

اب میر قاسم مرزائی فرمائیں کہ کون احمق اور محرف اور دھوکہ دہ ہے۔ سچ ہے دریا میں پیشاب کرنا‘ کرنے والے کے منہ کو آتا ہے۔

نبی اور رسول میں فرق سمجھا ہے کہ نبی صاحب شریعت و امت نہیں ہوتا اور رسول صاحب شریعت ہوتا ہے وہ غلطی پر ہیں۔ قرآن شریف میں یہ فرق مابین نبی ﷺ اور غیر نبی کے نہیں ہے۔

(النبؤۃ فی خیر الامت ص ١٧)

جب آپ کے نزدیک رسول و نبی ایک ہی ہے اور مرزا قادیانی نے مان لیا ہے کہ حضرت ﷺ کے بعد کوئی رسول نہیں آئے گا تو پھر آپ فرمائیں آپ بحیثیت مرزائی ہونے کے مرزا قادیانی کے برخلاف لکھ رہے ہیں یا ان کی بیعت سے توبہ کر کے

٤٠

صفحہ ٣١٧

خود اپنا مذہب الگ چلانا چاہتے ہیں۔

اب ہم کذاب مدعیان نبوت کا حال لکھتے ہیں

تاکہ معلوم ہو کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ انوکھا نہیں آگے بھی گزر چکے ہیں

کے شعبدہ پر فریفتہ ہو کر اس کے پیرو ہو گئے اور جس طرح مرزائی صاحبان مرزا کے خوابوں اور الہاموں کے دلدادہ ہو کر پیرو ہو گئے اسی طرح اسلام سے مرتد ہو کر اسود عنسی کے پیچھے لوگ لگ گئے۔ چنانچہ نجران کا تمام علاقہ اس کا فرمانبردار اور مرید ہو گیا اور سچے دین سے منہ موڑ لیا۔ آخر رسول اللہ ﷺ کے حیات میں ہی اسود عنسی قتل ہوا۔

(تاریخ الکامل ج ٢ ص ٢٠١ تا ٢٠٥ مطبوعہ ١٩٩٥ء)

ہوتی اور وہ بھی اپنی کلام کو بے مثل کہتا تھا جیسا کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ اسی بات پر جو کچے مسلمان تھے اس کی طرف ہو گئے۔ (اکمال تاریخ ج ٢ ص ٢١٨) اور مرزائی صاحبان کی طرح اپنے آپ کو سعید الفطرت اور سلیم القلب کہتے تھے اور مرزائیوں کی طرح خیال کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کو بھی تو اسی طرح نہ مانا تھا اور جنھوں نے رسول اللہ ﷺ کو نہ مانا تھا وہ شقی اور بدبخت تھے۔ جب نیا مدعی رسالت آئے تو ہماری سعادت اسی میں ہے کہ ہم اس کی بیعت کریں۔ مسیلمہ کذاب سے پہلے محمد رسول اللہ ﷺ سچے نبی و رسول صادق فوت ہو گئے جس سے یہ بات ثابت ہے کہ یہ بالکل غلط اور خانہ ساز قاعدہ مرزا قادیانی نے بنا لیا ہے کہ کاذب صادق سے پہلے مرتا ہے کیونکہ واقعات نے بتا دیا ہے کہ کاذب صادق سے پہلے مرتا ہے جیسا کہ اسود عنسی، اور پیچھے بھی مرتا ہے۔ جیسا کہ مسیلمہ کذاب حضرت ابوبکرؓ کے زمانے میں مارا گیا۔

میرے پاس آتا ہے۔ دوم سجع فقرات سنا کر کہتا تھا کہ مجھ کو وحی آتی ہے۔ سوم نماز صرف کھڑے ہو کر ادا کرنے کو کہتا تھا۔ اس کی جماعت اس قدر بڑھ گئی تھی کہ بڑے بڑے تین قبائل اسد، غطفان، طی، پورے پورے اس کے ساتھ مل گئے تھے۔

(تاریخ الکامل ج ٢ ص ٢٠٦)

کیا مرزائی صاحبان اس کو تو ضرور صادق کہیں گے کیونکہ بہت لوگ اس کے پیرو ہو گئے تھے جیسا کہ مرزا قادیانی کی صداقت پر دلیلیں لاتے ہیں۔

٤١

صفحہ ٣١٨

(٤) لا ایک شخص نے اپنا نام لا رکھ لیا اور کہتا تھا کہ حدیث میں جو آیا ہے کہ لا نبی بعدی اس کا وہ مطلب نہیں کہ جو لوگ سمجھتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے بعد لا نبی ہوگا۔ لا مبتدا اور نبی اس کی خبر ہے۔ یہ شخص بھی مرزا قادیانی کی مانند سب سلف کو غلطی پر سمجھتا تھا اور اپنے مطلب کے معنی کرتا تھا جیسا کہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”دجال اور مسیح موعود کی حقیقت کسی کو تیرہ سو برس تک سوا میرے سمجھ میں نہیں آئی اور نہ خاتم النبیین کے معنی کسی نے سمجھے۔“ اللہ رحم کرے آمین۔

(٥) خالد بن عبداللہ قسری کے زمانہ میں ایک شخص نے دعویٰ نبوت کیا اور مرزا قادیانی کی مانند اپنے بے مثل کلام ہونے کا بھی دعویٰ کیا اور اس نے انا اعطینک الکوثر الخ کے جواب میں انا اعطینک الجماھر فصل لربک وجاھر والانطع کل ساحر۔ خالد نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ مرزا قادیانی کی صداقت بھی فوراً معلوم ہو جاتی اگر کسی اسلامی خلیفہ یا بادشاہ یا والی ملک کے پیش ہوتے۔ گھر میں دروازے بند کر کے بیٹھنا اور کہنا کہ خدا میری حفاظت کرتا ہے غلط ہے۔

(٦) متنبی مشہور شاعر تھا اس نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا۔ وہ کہتا تھا کہ میرے شعر بے مثل ہیں اور اپنے شعروں کو معجزہ کہتا تھا۔ ایک انبوہ کثیر اس کے تابع ہو گیا تھا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی زمانہ سادہ لوحوں سے کبھی خالی نہیں رہا۔ ذرہ کسی نے دعویٰ کیا تو جھٹ اس کے پیرو ہو گئے۔ اصل میں یہ لوگ ایمان کے پکے نہیں ہوتے۔ پنجابی میں مثل ہے۔ جس نے لائی گلّیں اوسے نال اُٹھ چلی۔ جس نے دعویٰ کیا اور اپنی کرامات و معجزات ونشانات آسمانی بتائے تو اس پر مائل ہو گئے۔ یہی حال آج کل کے مرزائیوں کا ہے۔ صریح دیکھ رہے ہیں کہ مرزا قادیانی کے دعاوی غلط ہیں اور تعلیم خلاف شرع ہے مگر بلادلیل امنا وصدقنا کہتے جاتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے باوجود اسقدر دعویٰ علم متنبی کے دعویٰ کو نہ توڑا۔ اگر لیاقت تھی تو ایک دو قصیدے عربی میں لکھ کر متنبی کا دعویٰ توڑتے مگر وہ تو اپنا الو سیدھا کرنا جانتے ہیں۔ کس قدر غضب ہے کہ غلط عبارت ایک پنجابی کی معتبر اور بے مثل یقین کی جائے۔ حالانکہ غلطیاں علماء نے اس کی زندگی میں نکالیں اور اس سے جواب کچھ نہ بن پڑا۔

(٧) مختار ثقفی عبداللہ بن زبیر و عبدالملک کے زمانہ میں مدعی نبوت ہوا اور یہ بھی اپنے آپ کو کامل نبی نہ کہتا تھا۔ وہ اپنے خط میں لکھتا تھا من المختار رسول اللہ ﷺ یعنی رسول اللہ ﷺ کا مختار، جس کا مطلب مرزا قادیانی کی مانند بمتابعت رسول اللہ ﷺ ظلی و ناقص

٤٢

صفحہ ٣١٩

نبی کا ہے۔ یہ شخص پہلے خارجی تھا۔ پھر زبیری۔ پھر شیعی اور کیسانی ہو گیا۔ یہ وہ شخص ہے کہ امام حسینؓ کے انتقام لینے کے لیے کھڑا ہو گیا اور کوفہ پر غالب آیا واقعہ مختار میں ملک شام کے ستر ہزار آدمی کام آئے۔ اس کا دعویٰ تھا کہ مجھے علم غیب ہے اور جبرئیلؑ میرے پاس آتے ہیں اور کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ میں حلول کیا ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں ۔

آں خدا اینکہ ازو خلق و جہاں بے خبر اند
برمن او جلوہ نمودست اگر اہلی بپذیر

(درثمین فارسی ص ١١٢)

یعنی وہ خدا جو کہ اہل جہان سے پوشیدہ ہے اس نے مجھ پر جلوہ کیا ہے یعنی ظاہر ہوا ہے اگر تم لائق ہو تو قبول کرو۔

(٨) متوکل کے زمانہ میں ایک عورت نے دعویٰ نبوت کیا۔ اس نے بلا کر کہا کہ کیا تو محمد ﷺ پر ایمان رکھتی ہے کہا کہ ہاں۔ اس نے کہا کہ آنحضرت ﷺ تو فرماتے ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی ﷺ نہ ہو گا۔ عورت نے جواب دیا نبی مرد کی ممانعت ہے یہ کہاں لکھا ہے لا نبیة بعدی یعنی میرے بعد کوئی عورت نبی نہ ہو گی۔ اللہ اکبر! نفس بڑے بڑے دھوکے دیتا ہے۔ ایسا ہی مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ بالکل باب نبوت مسدود نہیں جزئی باب نبوت کھلا ہے۔ میں ظلی نبی ہوں۔ اس مدعیہ عورت کی مانند مرزا قادیانی کا بھی رسول اللہ ﷺ پر ایمان ہے۔ لیکن خود بھی نبی ہیں۔ کیا خوب۔

(٩) مقنع یہ شخص تناسخ کا قائل تھا۔ مقتدی اس کو سجدہ کرتے تھے۔ خراسان میں اس نے ظہور کیا تھا۔ جنگ و جدال میں اس کے مرید پکارتے تھے کہ اے ہاشم ہماری مدد کر یہ ابو نعمان اور جند اور لیث بن نصر صیار نے ان سے جنگ کی‘ چار مہینے تک طرفین میں لڑائی رہی آخر مسلمانوں کو شکست ہوئی اور ان کی طرف سے سات سو آدمی مارے گئے جو باقی رہے وہ مقنع سے مل گئے۔ پھر مہدی نے مقنع کی تباہی کے لیے سید حرشی کو بہت لشکر دے کر بھیجا اور مقنع بڑی خونریزی کے بعد قلعہ سیام میں محصور ہوا اور جب محاصرہ سے تنگ آیا تو مریدوں کو مار کر آگ میں جلا دیا اور خود ایک تیزاب کے برتن میں بیٹھ کر فی النار ہوا۔ تاریخ کامل میں لکھا ہے کہ قلعہ میں مقنع نے اپنی عورت اور بچوں کو زہر پلا دیا اور خود بھی پی لیا اور معتقدوں کو کہا کہ میری لاش جلا دیجیو تا کہ دشمن کے ہاتھ نہ آئے۔ بعض نے لکھا ہے کہ تمام چار پایوں اور اسباب وغیرہ پارچات کا انبار لگا کر آگ لگا دی اور حکم دیا کہ جس کو خواہش ہو میرے ساتھ آسمان پر چڑھ جائے وہ اس آگ میں میرے ساتھ

٤٣

صفحہ ٣٢٠

کود پڑے۔ سب نے تعمیل کی اور جل کر راکھ ہو گئے۔ ناظرین! مرزائی صاحبان سے پوچھو کہ اس سے بھی زیادہ کوئی راسخ الاعتقاد ہو سکتا ہے اور کیا ایسا شخص راست باز اور مامور من اللہ نہیں تھا؟ مرزا قادیانی کے کہنے سے اگر ایک مرید بھی آگ میں کود پڑتا تو مرزائی آسمانی نشان پکار پکار کر فرشتوں کے کان بھی بہرے کر دیتے کہ یہ مرزا قادیانی کی صداقت پر آسمان اور زمین گواہی دے رہے ہیں مگر تعجب ہے کہ مقنع کو کاذب سمجھتے ہیں اور مرزا قادیانی کو بلا دلیل صادق۔

(١٠) یحییٰ بن زکرویہ قرمطی جس نے بغداد کے اردگرد کو تباہ کر دیا تھا یہ کہتا تھا کہ مجھ پر قرآن کی آیات نازل ہوتی ہیں جیسا کہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ خدا نے مجھ کو کہا کہ انک لمن المرسلین وغیرہ۔

(١١) بہبود۔ اس نے بہت جمعیت پیدا کر لی تھی اور بیشمار کو تہہ تیغ کیا تھا۔

(١٢) عیسیٰ بن مہرویہ قرمطی اپنے آپ کو مہدی کہتا تھا اور بہت جمعیت پیدا کر کے حملہ آور ہوا۔

(١٣) ابو جعفر بن محمد علی شلمغانی جس کے بڑے بڑے امیر ہم عقیدہ ہو گئے اور انبیاء کو خائن قرار دیتا تھا اور شریعت محمدی ﷺ کے بہت مسائل کو الٹ پلٹ کر دیا تھا جیسا کہ مرزا قادیانی نے کیا ہے ملائکہ کی نسبت قوائی انسانی تعلیم دیتا تھا بہشت قرب دوزخ عدم معرفت بتاتا تھا۔

(١٤) ٢٩٩ھ میں جو قبیلہ سوادیہ میں سے ایک شخص نے نہاوند میں دعویٰ نبوت کیا۔ اپنے اصحاب کے نام بھی صحابہ کرامؓ کے نام پر ابوبکرؓ عمرؓ عثمانؓ علیؓ ظاہر کیے سواد کے بڑے بڑے قبائل اس کے معتقد ہو گئے اور اپنی جائدادیں اور املاک و اموال اس کے سپرد کر دیے اور اشاعت عقائد کے واسطے وقف کر دیے۔ اب مرزائی بتائیں کہ یہ صداقت کا نشان نہیں کہ مالدار مرزائیوں کی طرح جو چندہ اشاعت مرزائیت کے واسطے چند ہزار روپے وقف کر دیے اور مرزا قادیانی کی صداقت کی یہ دلیل بیان کی جاتی ہے۔ کذابوں کے واسطے ان کے مریدوں نے اس سے بڑھ کر نہیں کیا تھا۔ جب مرزا قادیانی کے واسطے چندہ دینا یا مال وقف کرنا دلیل صداقت ہے تو وہ کذاب بدرجہ اعلیٰ صادق ثابت ہوں گے۔

(١٥) استاد سیس ملک خراسان میں مدعی نبوت ہوا۔ اس کے ساتھ تین لاکھ سپاہی بہادر تھے۔ احکم اخشم حاکم مرو ازر نے مقابلہ کیا اور شکست کھائی۔ پھر خلیفہ منصور نے بہت سپاہ ولشکر بھیج کر اس کا قلع و قمع کر دیا۔ کہاں ہیں وہ مرزائی جو مرزا قادیانی کی صداقت پر

٤٤

صفحہ ٣٢١

دلیل پیش کر کے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ اتنی جمعیت کبھی جھوٹے کی ہو سکتی ہے؟ جب تین لاکھ سپاہی لڑنے والے اس کے ساتھ تھے تو کس قدر اس کے مرید ہوں گے؟ جب وہ جس کو مسلمانوں کے مقابلہ پر خدائے تعالیٰ فتح بھی دیتا رہا کاذب ہوا تو مرزا قادیانی دعوٰی نبوت میں کس طرح سچے سمجھے جائیں؟ جن کو کبھی فتح نصیب نہ ہوئی دیکھو جنگ مقدس۔

میں خروج کیا اور ایک مذہب جدید جاری کیا۔ جماعت کثیر اس کے ساتھ ہو گئی۔ کئی مقامات طرابلس وغیرہ کو فتح کر کے مصر کو بھی فتح کر لیا اور ٢٣٢ ہجری میں اپنی موت سے مر گیا۔ (تاریخ کامل ابن اثیر جلد ٨ صفحہ ٩٠) میں درج ہے کہ اس کا زمانہ مہدویت ٢٤ سال ایک ماہ ٢٠ یوم رہا۔

وغیرہ میں جاری کیا اور مدعی الہام بھی تھا۔ ایک جہاز جس میں وہ سوار تھا طوفان میں آ گیا۔ اس نے پیشگوئی کے طور پر کہا کہ خدا نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ یہ جہاز نہیں ڈوبے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا وہ کہتا تھا کہ میں اس دنیا پر متصرف ہوں اور اس کے حکم کی تعمیل حکم خدا کی تعمیل کے مثل ہے اور جو اس سے روگردان ہوا وہ خدا سے روگردان ہوا اور اس نے اپنے مریدوں کے پھیلانے کے واسطے ایک بہشت بھی بنایا ہوا تھا۔ چنانچہ ہزار ہا آدمی اس کے مرید ہو گئے اور اس کے گروہ کا نام فدائی تھا۔ اس مذہب کے ذریعہ حکمران بھی ہو گیا۔ آخر ٣٥ برس نبوت و حکومت کر کے اور ہزار ہا مسلمانوں کو گمراہ کر کے ٥١٨ھ میں اپنی موت سے مر گیا۔

قبیلہ تمیم اس کے مرید ہو گئے اور بہت سے رؤسا اس کے ساتھ ہو گئے اور بعہد خلافت معاویہؓ تائب ہو گئے۔ اس کا زمانہ ٣٠ سال سے بھی زیادہ ہوا جیسا کہ (تاریخ کامل ابن اثیر کی جلد ٢ صفحہ ٥٦) میں لکھا ہے کہ سجاح ہمیشہ اپنی قوم تغلب میں رہی۔ یہاں تک کہ حضرت معاویہؓ اس کو اور اس کی قوم کو بغداد لے گئے اور سب نے وہاں اسلام کو قبول کیا۔

ہاتھ پر بیعت کی اور ہزار ہا لوگ اس کے مرید ہو گئے اور حاکم مراکو وغیرہ سے مقابلہ و جنگ کرتا رہا اور ٣٥٨ ہجری میں اپنی موت سے مر گیا۔ اس کا زمانہ ولایت و مہدویت ١٣ سال سے بہت زیادہ ہے۔

٢٥

صفحہ ٣٢٢

تھا۔ ایک کتاب اپنے گروہ کے لیے تالیف کی اور ایک نیا فرقہ قائم کیا۔ جن کو دروز کہتے ہیں اور اپنے آپ کو سجدہ کرواتا تھا۔ شراب و زنا حلال کر دیے تھے اور علیحدہ شریعت بنائی ہوئی تھی۔ اور بہت حالات اس کے ہیں۔ کذا فی حج الکرامہ۔ تاریخ کامل بن اثیر کی جلد ٩ میں لکھا ہے کہ یہ ٢٥ برس تک حکومت کر کے مر گیا۔

دیندار تھا۔ ١٢٧ میں یہ بادشاہ ہوا ہے اور نبوت کا دعویٰ کر کے وحی کے ذریعہ سے اس نے قرآن ثانی کے نزول کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کی امت اسی قرآن کی سورتیں نماز میں پڑھتی تھی۔ ٢٧ برس تک اس نے بادشاہت کے ساتھ نبوت کی اور اپنی اولاد کے لیے بادشاہت چھوڑ گیا۔

لوگ اس کے پیرو ہو گئے تھے۔

مرید بنائے ہوئے تھے۔ اور اس امامت کے ذریعہ اس نے حکومت بھی حاصل کر لی اور کسی موقعہ جنگ پر پیشگوئیاں بھی کرتا تھا۔ چنانچہ اس نے ایک موقعہ پر پیشگوئی کے طور پر کہا کہ خدا کی طرف سے ہم کو اس جماعت قلیلہ پر نصرت اور مدد پہنچے گی اور ہم امداد اور فتح سے خوشحال ہو جائیں گے۔ چنانچہ یہ بات سچی ہو گئی اور لوگوں کو اس کے مہدی ہونے کا یقین کامل ہو گیا اور ہزار ہا لوگوں نے اس کے ساتھ بیعت کی یہ شخص عالم فاضل تھا اور بڑے عروج میں اپنی موت کے ساتھ مر گیا۔ تاریخ کامل ابن اثیر میں لکھا ہے کہ اس کی حکومت کا زمانہ ٢٠ سال کا تھا اور ضرور حکومت حاصل کرنے کے پہلے چار پانچ سال مہدی بنا اور بعد وہ حاکم بنا۔

جس کا نام مذہب الٰہی رکھا اور کلمہ لا الہ الا اللہ اکبر خلیفۃ اللہ ایجاد کیا اور کہتا تھا کہ مذہب اسلام پرانا ہو گیا اس کی ضرورت اب نہیں رہی اور لوگوں سے اقرار نامے لکھائے جاتے تھے کہ مذہب اسلام آبائی کو چھوڑ کر مذہب الٰہی اکبر شاہی میں داخل ہوا ہوں۔

٤٦

صفحہ ٣٢٣

نماز روزہ حج ساقط ہوا تھا۔ شیخ عبد القادر بدایونی کی تاریخ میں اس کے مفصل حال درج ہیں۔ اس نے ١٥٨١ء میں دعویٰ نبوت کیا اور ١٦٠٥ ہجری میں اپنی موت سے مر گیا۔

نشین ہوا تھا ایک نیا مذہب بابی جاری کیا اور کہتا تھا کہ میں مہدی موعود ہوں اور کہتا تھا کہ میری کلام میرا معجزہ ہے اور اپنا ایک نیا قرآن تصنیف کیا جس کو وہ مثل قرآن شریف اور بجائے قرآن شریف کے تعلیم دیتا اور الہام وحی کا مدعی تھا۔ شراب کو حلال کر دیا۔ رمضان کے روزے ١٩ کر دیے عورتوں کو ٩ شوہر تک اجازت دی۔ حسن خاں حاکم فارس نے اس کے شعبدہ ہائے دیکھ کر اس پر اعتقاد کر لیا۔ یہ شخص چالیس سال سے زیادہ زندہ رہ کر مر گیا اور اس کا گروہ بابی اب تک ملک فارس میں موجود ہے۔

(پاکستان میں بہائی اس گروہ کی باقیات ہیں)

تذکرۃ الصالحین وغیرہ کتب تواریخ میں لکھا ہے کہ سید محمد مہدی کو میراں سید محمد مہدی پکارتے تھے۔ اس کے باپ کا نام سید خاں تھا جب علماء نے اس سے سوال کیا کہ حدیث شریف میں ہے کہ مہدی میرے نام اور میرے باپ کے نام سے موسوم ہو گا تو اس نے جواب دیا کہ خدا سے پوچھو کہ اس نے سید خاں کے بیٹے کو کیوں مہدی کیا؟ دوم کیا خدا اس بات پر قادر نہیں کہ سید خاں کے بیٹے کو مہدی بنائے؟

جونپوری مہدی نے سات برس میں ایک ذرہ طعام اور قطرہ پانی نہ چکھا۔ جیسا کہ کتب مہدویہ میں لکھا ہے۔ ایک روز ان کی بیوی نے پوچھا کہ آپ بیہوش کیوں رہتے ہو تحمل نہیں کر سکتے ہو؟ جواب دیا کہ اس قدر تجلی الوہیت کی ہوتی ہے کہ اگر ان دریاؤں کا ایک قطرہ کسی ولی کامل یا نبی مرسل کو دیا جائے تو تمام عمر کبھی ہوش میں نہ آئے۔ بعد سات سال کے کچھ ہوش آیا۔ مگر مدہوش بھی رہتے تھے۔ اس تذبذب کی حالت میں باقی عمر میں ساڑھے سترہ سیر غلہ و گوشت و گھی بروایت بی بی الہ دتی زوجہ خود کھایا۔ بعد اس کے ہجرت کی دانا پور کے جنگل کی راہ سے جہان گردی کو نکلے۔ اس جنگل میں مہدویت کے الہام شائع کیے۔ وہاں سے رفتہ رفتہ چندیری پہنچے وہاں ان کے وعظ و بیان میں جب ہجوم خلائق زیادہ ہوا تو وہاں سے نکالے گئے۔ وہاں سے شہر مندو کو چلے گئے وہاں بھی اس کا غلغلہ ہوا۔ یہاں تک کہ سلطان غیاث الدین تک اس کے معتقد ہو گئے۔ ایک امیر سلطان غیاث الدین کا الہ داد نامی جو کہ فاضل اور شاعر بھی تھا ترک دنیا کر کے ہمراہ

٤٧

صفحہ ٣٢٤

ہوا۔ رسالہ ”بار امانت“ ایک دیوان بے نقطہ و مرثیہ شیخ اور ایک رسالہ ثبوت مہدویت اسی کی تصنیف ہیں۔

یہاں سے کوچ کر کے شہر جانیر کہ دارالسلطنت گجرات کا تھا پہنچے یہاں بھی ان کا بہت چرچا ہوا۔ سلطان محمود بیکرہ تک نے بھی آنے کا ارادہ کیا مگر دو عالموں نے روک دیا۔ پھر برہانپور کی راہ سے دولت آباد وارد ہوئے اور بعد سیر و زیارت مزارات اولیاء اللہ احمد نگر پہنچے۔ احمد نظام الملک بھی معتقد ہو گیا کیونکہ فرزند کا آرزو مند تھا۔ اتفاقاً برہان نظام الملک پیدا ہوا پھر کیا تھا تمام معتقد اور مرید ہو گئے۔ احمد نگر سے کوچ کر کے شہر بیدر میں پہنچے۔ عہد ملک برید میں وہاں شیخ سمن معتقد ہوا اور ملا ضیاء اور قاضی علاؤ الدین ترک دنیا کر کے ہمراہ ہوئے پھر جہاز پر سوار ہو کر روانہ کعبۃ اللہ ہوئے۔ جب حرم محترم میں پہنچے اور چونکہ سنا ہوا تھا کہ مہدی کے ہاتھ پر لوگ رکن و مقام میں بیعت کریں گے۔ اس واسطے سید محمد نے بھی اس مقام میں دعویٰ من اتبعنى فھو مومن کا کیا۔ یعنی جو میری تابعداری کرے گا وہ مومن ہے اور ملا ضیاء اور قاضی علاؤ الدین نے امنا و صدقنا بول کر جھٹ بیعت کر لی اور یہ واقعہ ٩٠١ھ میں ہوا۔ یہاں سید محمدؒ حضرت آدمؑ کی زیارت کو گیا اور کہا کہ میں نے بابا آدمؑ سے معانقہ کیا اور انھوں نے مجھ سے کہا خوش آمدی ۔ صفا آوردی ۔ مکہ سے بعجلت تمام مراجعت کر کے شہر احمد آباد میں آ کر مسجد تاج خاں سالار میں قریب دروازہ جمالپور مقیم ہوا اور طریقہ وعظ و دعوت شروع کیا۔ ملک برہان الدین وہیں مرید و تارک دنیا بن کر رفیق ہوئے ان کو مہدویہ خلیفہ ثالث جانتے ہیں اور ملک گوہر خلیفہ چارم ہیں۔ اسی مسجد میں ایک روز مجمع عام میں سید محمد مذکور نے ٩٠٣ھ مہدویت کا دعویٰ کیا۔ گجرات کے علماء و مشائخ نے سلطان محمود سے شکایت کی کہ شیخ جو نو وارد ہے۔ شریعت کے برخلاف حقائق بیان کرتا ہے۔ سلطان نے اخراج کا حکم دیا وہاں سے شہر نہروالہ پیران پٹن میں کہ علاقہ گجرات میں سے ہے آ کر خاص سرور کی لب حوض اترے یہاں اٹھارہ ماہ رہے اور یہاں اس قدر کثرت سے ان کے مرید ہوئے کہ اس قدر کسی ملک میں اس کی دام تسخیر میں نہ آئے تھے لہٰذا فرمان شاہی سلطان محمود کی طرف سے صادر ہونے سے یہاں سے بھی خارج کیے گئے۔ مگر سید محمد کی عادت تھی کہ وہ پہلے ہی اپنے مریدوں میں مشہور کر دیتا تھا کہ مجھ کو یہاں سے نکلنے کا حکم خدا نے دیا ہے یعنی اپنی کارروائی سے اندازہ لگا کر پیشگوئی کر دیتا تھا اور وہ خود خارج ہو کر پوری کر دیتا تھا۔ موضع پٹن سے اٹھ کر موضع بدلی میں آئے اور یہاں ١٨ ماہ اقامت کا اتفاق

٤٨

صفحہ ٣٢٥

ہوا ۔ اس عرصہ میں پھر دعویٰ مہدویت کیا اور کہا کہ مجھ کو حکم خدا بار بار بلا واسطہ ہوتا ہے کہ دعویٰ کر اور میں ٹالتا چلا آتا ہوں ۔ اب مجھ کو یہ حکم ہوا ہے اے سید محمد مہدویت کا دعویٰ کہلاتے ہو کہ نہیں؟ تو تجھ کو ظالموں میں کروں گا ۔ اس واسطے میں بصحت عقل و حواس دعویٰ کرتا ہوں انا مہدی مبین مراد اللہ یعنی میں کھلا مہدی ہوں خدا کی مراد اور اپنا چمڑہ دونوں انگلیوں سے پکڑ کر کہا کہ جو شخص اس ذات سے مہدویت کا منکر ہو وہ کافر ہے اور میں خدا سے بواسطہ احکام وغیرہ لیا کرتا ہوں اور خدا تعالیٰ کا فرمان ہوتا ہے کہ علم اوّلین و آخرین کا تجھ کو دیا اور بیان کیا معنی قرآن اور خزانہ ایمان کی کنجی تجھ کو دی تجھے جو قبول کرے مومن ہے اور جو تیرا منکر ہے وہ کافر ہے اور اسی طرح بہت سی باتیں خدا کی طرف سے نسبت کیں اور تمام اصحاب نے جو کہ تین سو ساٹھ تھے ۔ امنا و صدقنا پکار اُٹھے یہ تیسرا دعویٰ ٩٠٥ھ میں ہوا اور مرتے دم تک اس پر اڑے رہے ۔ جب یہ خبر مشہور ہوئی کہ سید محمد نے مہدویت کا دعویٰ کیا ہے تو چند علماء قصبہ مذکور میں آئے اور سید محمد سے مباحثہ سوال و جواب بابت مہدویت وغیرہ دعاوی میں دیر تک کرتے رہے ۔ القصہ جب کہ سید محمد اپنے دعویٰ سے باز نہ آئے تو علماء نے مایوس ہو کر بادشاہ گجرات کو شہر احمد نگر میں تھا اطلاع دی ۔ بادشاہ نے حکم اخراج صادر فرمایا ۔ خارج ہونے کے وقت بولے کہ اگر میں حق پر تھا تو کیوں اتباع نہ کی اور اگر ناحق پر تھا تو کیوں قتل نہ کیا؟ وہاں سے شہر جالور میں پہنچے ۔ وہاں سب لوگ مرید و منقاد ہوئے ۔ پھر وہاں سے شہر ٹھٹھہ میں پہنچے اور وہاں سے ملک سندھ میں شہر نصیر پور میں داخل ہوئے اور وہاں سے شہر ٹھٹھہ میں پہنچے اور وہاں ١٨ مہینے رہنے کا اتفاق ہوا اور کچھ لوگوں نے تصدیق مہدویت کی ۔ جب آپ کا یہ حال و قال اہل سندھ پر ظاہر ہوا نہایت تنگ پکڑا ۔ یہاں تک کہ سید محمد کے ٨٢ آدمی رفقاء و مرید میں سے فاقوں سے مر گئے اور سید محمد نے اس کا تدارک یہ کیا کہ بشارت دی کہ ان سب کو مقامات انبیاء و مرسلین اولوالعزم کے ملے ہیں ۔ القصہ بادشاہ سندھ نے حکم دیا کہ اِس درویش کو معہ تمام مریدوں کے قتل کرو ۔ لیکن دریا خاں امیر بادشاہ مذکور نے سفارش کر کے بجائے قتل کے اخراج کا حکم دلوایا ۔ پس سید محمد بمعہ اپنے گروہ خراساں کو روانہ ہوئے ۔ کہتے ہیں کہ ٩٠٠ کے قریب آدمی اس کے ہمراہ تھے ان میں سے ٣٦٠ اصحاب مہاجرین خاص کہلاتے تھے ۔ جب ان کا قافلہ قندھار پہنچا اور وہاں بھی قیل و قال کا چرچہ ہوا تو حاکم قندھار مرزا شاہ بیگ نے حکم دیا کہ سید محمد مہدی کو جمعہ کے روز مسجد جامع میں علماء اسلام کے سامنے کرو ۔ چنانچہ حسب الحکم سید محمد مسجد میں ٤٩

صفحہ ٣٢٦

داخل ہوئے تو علماء نے سخت سست کہنا شروع کیا۔ سید محمد تامل کر کے قرآن شریف کا وعظ کرنے لگا شاہ بیگ کہ بست سالہ نوجوان تھا اس کے بیان پر فریفتہ ہو گیا۔ اس سبب سے سید محمد یہاں سے بچ کر چند روز کے بعد شہر فراہ کو چلا گیا۔ وہاں بھی یہی باز پرس پیش آئی۔ اوّل ایک عہدہ دار نے آ کر سید محمد اور اس کے تمام ہمراہیوں کے ہتھیار چھین لیے۔ اس کے بعد امیر ذوالنون حاکم اس کیفیت کی دریافت کے واسطے خود آیا لیکن ملاقات کے بعد شیخ کا معتقد ہو گیا اور علماء کو اجازت دی کہ مہدویت کا امتحان کریں۔ چنانچہ علماء نے سوال و جواب شروع کیے اور امیر ذوالنون نے تمام کیفیت مرزا حسین بادشاہ خراسان کی خدمت میں لکھ کر روانہ کی۔ سید محمد نو مہینے تک فراء میں رہا اور ٦٣ برس کی عمر میں ٩١٠ھ میں انتقال کیا۔ کہتے ہیں کہ انتقال سے پہلے جمعہ کے دن بعد نماز جمعہ وتر کی نماز ادا کی اور یہی علامت انتقال کی تھی کیونکہ حضرت رسالت پناہ ﷺ نے بھی قبل رحلت جمعہ کی نماز کے بعد وتر کی نماز ادا کی تھی۔

ناظرین! فرقہ مہدویہ کے عقائد و مسائل مختصر طور پر نیچے لکھے جاتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ مرزا قادیانی نے بھی انھیں کی نقل کی ہے کوئی نئی بات نہیں کہ جس کے باعث ان کو کاذب اور مرزا قادیانی کو صادق مانا جائے بلکہ انھوں نے ریاضت ونفس کشی و ترک لذات دنیاوی مرزا قادیانی سے ہزار ہا درجہ زیادہ کی ہے اور عبادت الٰہی اور فنا فی اللہ میں ایسے غرق رہے کہ کھانے پینے کی ہوش تک نہیں رہی۔ مرزا قادیانی کے نفس نے تو جو کچھ مانگا انھوں نے دنیا داروں سے بہت بڑھ کر آپ کو دیا اور ایسے عیش سے گزران کی کہ کسی امیر الامراء کو بھی نصیب نہیں ہو گی۔ گھی کی جگہ بادام روغن استعمال ہوتا تھا۔ گوشت کی جگہ مرغ کا گوشت کھایا جاتا تھا۔ کستوری اور عنبر کی وہ کثرت استعمال تھی کہ خطوط چھپ گئے۔ مستورات کے سونے کے زیور پاؤں تک تھے غرض دنیا کے تمام عیش و آرام سے مرزا قادیانی نے گلچھڑے اڑائے اور انھوں نے بھی نشان صداقت دنیا پر ظاہر کر کے اپنے نفس کو نہیں روکا جوان عورتوں پر دل چاہا تو نکاح موجود ہے اگرچہ منکوحہ آسمانی حسب دلخواہ نصیب نہ ہوئی مگر اس میں بھی خدا کا کوئی فضل و کرم تھا۔ مگر اس کے مقابل سید محمد مہدی بہت جفاکش صاحب زہد وتقویٰ مجاہدہ و مشاہدہ ہو گزرا ہے۔ اس نے سات برس تک روزہ رکھا اور باقی حصہ عمر میں بروایت ان کی زوجہ مسماۃ الہ دتی پانچ برس میں غلہ و گوشت ساڑھے سترہ سیر کھایا حسب ذیل دلائل اور حالات سے سید محمد مہدی اور مرزا قادیانی کا مقابلہ دیکھو اور عقل خداداد سے کام لو کہ مرزا قادیانی نے کوئی اچھا نہیں کیا۔ ٥٠

صفحہ ٣٢٧

خود ساختہ مہدیوں کے حالات

(اوّل)......سیّد محمد قرآن کی تفسیر ایسے پراثر معنوں میں بیان کرتا کہ مسلمان جوق در جوق آتے اور اس فرقہ میں شامل ہوتے اور یہی صداقت کا نشان بتاتے۔ مرزا قادیانی بھی حقائق و دقائق قرآن اپنی صداقت کا نشان فرماتے ہیں اور جیسا دل چاہتا ہے تفسیر کرتے ہیں کسی علم تفسیر و حدیث کے پابند نہیں۔

(دوم)...... انا مهدی مبین مراد اللہ یعنی میں کھلا مہدی ہوں مراد اللہ کا۔ مرزا قادیانی بھی اپنے آپ کو جری اللہ مسیح موعود و مہدی مسعود مجدد امام الزمان کرشن وغیرہ فرماتے ہیں۔

(سوم)......سلطان غیاث الدین کا الہ داد نامی ایک مصاحب کہ فاضل اور شاعر بھی تھا۔ دنیا ترک کر کے ہمراہ ہوا اور تادم مرگ ہمراہ رہا۔ ایک دیوان غیر منقوط یعنی بے نقطہ اور مرثیہ شیخ ایک رسالہ ”بار امانت“ ایک رسالہ ”ثبوت مہدی“ اس کی تصنیف ہیں۔ مرزا قادیانی کے پاس بھی حکیم نور دین بھیروی جو کہ عالم و فاضل تھے اگرچہ شاعری سے عاری ہیں۔ ریاست جموں سے مرزا قادیانی کے پاس آئے اور باعث رونق مہدویت ہوئے۔

(چہارم)......سید محمد مہدی کی پیشگوئیاں کرتا اور اکثر سچی ہوتیں۔

پیشگوئیاں پہلے مریدوں میں مشہور کرتا اور پھر ویسا ہی ہوتا جیسا کہ جب وعظ وغیرہ ان کے عقائد غیر مشروع کا غلغلہ اٹھتا تو پیشگوئی کرتے کہ ہم یہاں سے نکالے جائیں گے۔ پس ویسا ہی ہوتا جیسا کہ مرزا قادیانی قرائن سے قیاس کر کے فرماتے کہ منی آرڈر آئیں گے تو ضرور آ جاتے۔ نئی شادی کرتے تو پیشگوئی کرتے کہ ہمارے ہاں لڑکا ہوگا۔ اگرچہ لڑکی ہوتی مگر وار تو خالی نہ جاتا تو تاویلات کا لشکر فتح کے لیے موجود ہے۔

(پنجم)......حرم محترم میں دعویٰ کیا کہ من اتبعنى فهو مؤمن یعنی جو تابعداری میری کرے گا وہ مومن ہے۔ مرزا قادیانی بھی یہی فرماتے ہیں کہ جو میری بیعت نہ کرے مومن نہیں اور نہ اس کی نجات ہے۔ اگرچہ محمدﷺ کی پوری پوری پیروی کرے اور ارکان اسلام ادا کرے۔ اگرچہ مرزا قادیانی کو حرم محترم میں جانا نصیب نہیں ہوا کیونکہ جان کا خوف تھا مگر اس امر میں سیّد محمد کا پلہ بھاری ہے کہ وہ نہیں ڈرا اور برابر حرم محترم میں پہنچا اور وہاں مہدویت کا دعویٰ کیا۔ مرزا قادیانی کو اگرچہ وحی بھی ہوئی کہ میں تیرے ساتھ ہوں ڈر مت میرے رسول موت سے نہیں ڈرا کرتے مگر مرزا قادیانی کو یقین تھا کہ میں جھوٹا ہوں اور مارا جاؤں گا باہر نہ نکلے۔ اگر سچے ہوتے تو کسی اسلامی سلطنت یا ملک میں جیسا کہ حدیث میں دمشق ہے جا کر دعویٰ کرتے۔

٥١

صفحہ ٣٢٨

(ششم)......سید محمد حضرت آدمؑ کی زیارت کو گئے اور کہا کہ میں نے بابا آدم سے معانقہ کیا۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ خوش آمدی‘ صفا آوردی۔ مرزا قادیانی کا یہاں پلہ بھاری ہے کیونکہ مرزا قادیانی نے خدا تعالیٰ کو کشفی حالت میں مجسم دیکھا اور کچھ کاغذ پیشگوئیاں پیش کر کے خدا تعالیٰ کے ان پر دستخط کرائے اور خدا نے قلم پکڑ کر ڈوبا لگایا تو زیادہ لگا لیا اور قلم جھاڑی تو سرخی کے دھبے مرزا قادیانی کے کرتے پر پڑے جو مریدوں کے پاس موجود ہے۔ سبحان اللہ‘ معاذ اللہ‘ خدا بھی ایسا بے تمیز ملا کہ ڈوبا لگانے کی عقل نہیں مرزا قادیانی کا کرتہ خراب کر دیا۔ (معاذ اللہ)

(ہفتم)......سید محمد کے ٨٢ اصحاب و پیرو ملک سندھ میں فاقوں سے مر گئے‘ کیونکہ اہل سندھ نے سید محمد کے کلمات خلاف شرع سن کر لین دین بند کر دیا تھا۔ سید محمد نے ان کے حق میں جو مرید مر گئے بشارت دی کہ ان سب کو مقامات انبیاء و مرسلین اولوالعزم کے ملے ہیں مرزا قادیانی کا نمبر یہاں بالکل صفر کے برابر ہے صرف ایک مرید آپ کا جو کابلی تھا دربار کابل میں بلایا گیا اور اس سے علماء نے مرزا قادیانی کی صداقت کی شرعی دلیل مانگی تو وہ نہ دے سکا اس لیے سنگسار کیا گیا۔ اس پر بھی مرزا قادیانی اور مرزائی پھولے نہیں سماتے اور مرزا قادیانی اپنی صداقت کا نشان لکھتے ہیں۔ (حقیقۃ الوحی ص ١٦٨ حاشیہ خزائن ج ٢٢ ص ١٧٦) اور ان کو یہ خبر نہیں کہ مرزا قادیانی سے ہزار ہا درجہ بڑھ کر مریدوں نے کذابوں کی خاطر جانیں دیں۔

(ہشتم)......ستر ہزار پیرو مختار ثقفی کذاب کے پیچھے مارے گئے جو کہ کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ میں حلول کیا ہے اور مرزائیوں جیسے کچے مسلمان اس کو صادق مان کر تابع ہو گئے اور اپنے آپ کو سعید الفطرت اور سلیم القلب کہتے اور جو ان کے پیر کو نہ مانتا مرزائیوں کی طرح ان کو ابو جہل وغیرہ سے تشبیہ دیتے۔ ہم مرزائیوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر صداقت اسی میں ہے کہ کوئی شخص اپنے پیر کی عقیدت میں جان دے دے تو اس دلیل سے بدرجہ اعلیٰ ثابت ہو گا کہ مختار ثقفی کذاب سچا تھا اور مرزا قادیانی جھوٹے۔ کیونکہ اس کی خاطر ستر ہزار نے جان دی اور مرزا قادیانی کی خاطر صرف ایک نے جو کہ کابلی پٹھان تھا۔ جن کا قاعدہ ہے کہ اگر ضد پر آ جائیں تو جان کی پرواہ نہیں کرتے۔

ناظرین! دلائل اور براہین بہت ہیں مگر چونکہ کتاب میں گنجائش زیادہ نہیں اس لیے اختصار سے کام لیا جاتا ہے انشاء اللہ تعالیٰ کسی اور موقع پر پوری پوری روشنی ڈال کر ثابت کیا جائے گا کہ مرزا قادیانی ان کذابوں سے ہر ایک امر میں کم ہیں۔ اب ذرا

٥٢

صفحہ ٣٢٩

مہدویہ کے عقائد باطلہ کو سنو اور مقابلہ کر کے دیکھو کہ مرزا قادیانی کے عقائد میں اور ان میں کچھ فرق ہے؟ اگر ہے تو تبدیلی الفاظ ہے۔ مرزا قادیانی نے شاعرانہ لفاظی اور طول و طویل عبارت کا جامہ اوپر پہنا کر پبلک کے پیش کیا ہے۔ ورنہ پہلے سب کچھ ہو چکا ہے۔

دربار میں دو تھے۔ سیّد محمود واخوند میر۔ مرزا قادیانی کا بھی ایک صدیق حکیم نور دین ہے۔

سیالکوٹی ہیں۔

ایک فرقہ اخوند میر پر ہے۔ وہی ناجی ہے اور سب غیر ناجی۔

کے ساتھ خدا لڑکپن میں کھیلا کرتا تھا ان کی ماں فاطمہ ولایت ہیں۔

بیبیاں بھی امہات مومنین کہلاتی ہیں۔

مرزا قادیانی بھی کہتے ہیں جو میری بیعت نہ کرے کافر ہے۔ (تذکرہ ص ٦٠٧ طبع ٣)

گزریں گے سب اس انکار کے سبب کافر مطلق ہیں۔ مسلمان صرف مہدوی ہیں۔ یہی بات مرزائی کہتے ہیں۔

رضی اللہ عنہم سے افضل ہیں۔ یہی مرزائی کہتے ہیں بلکہ مرزا قادیانی کو رسول اور نبی کہتے ہیں۔ سید محمد سوا محمد ﷺ کے تمام انبیاء سے افضل ہیں۔ یہی مرزائی کہتے ہیں۔

کا مذہب ہے۔

مقابلہ میں غلط ہے۔ یہی مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔

٥٣

صفحہ ٣٣٠

ہیں۔ سب سلف غلطی پر تھے۔

انبیاء و مرسلین ناقص الاسلام ہیں۔ حضرت آدمؑ ناک کے نیچے سے بالائے سر تک مسلمان تھے۔ نوحؑ زیر حلق سے سر تک ابراہیمؑ و موسیٰؑ سینہ سے سر تک عیسیٰؑ زیر ناف سے بالائے سر تک مسلمان ہیں۔ دوسری بار جب آئیں گے تو پورے مسلمان ہوں گے۔ ناظرین سید محمد جونپوری بھی حضرت عیسیٰؑ کے اصلی نزول جسمی کے قائل تھے۔ ناظرین مرزا قادیانی نے بڑھ کر ڈھکوسلے لگائے ہیں کہ خدا نے مجھ کو آدمؑ کہا۔ ابراہیمؑ ۔ موسیٰؑ و عیسیٰؑ ابن مریمؑ کہا۔

ہوتا ہے کہ تم نے جس نور سے نور لیا تھا اس کا مقابلہ کر کے تصحیح کرو۔

قادیانی بھی کہتے ہیں۔

درست ہے یہی مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ رسالہ فرائض مہدویہ میں مفصل اور طول و طویل ہے جس کو زیادہ دیکھنا ہو وہاں سے دیکھ لے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے مختصر حالات

مرزا غلام احمد قادیانی جنھوں نے سب کے اخیر دعویٰ نبوت و مسیحیت و مہدیت کا کیا اور اس دعویٰ کے ضمن میں رجل فارسی امام زمان خلیفہ مامور من اللہ و کرشن ہونے کا دعویٰ بھی کیا ان کا یہ کمال ہے کہ یہ اپنے کسی دعوے میں مستقل نہیں۔ جب نبوت پر بحث کرو تو رجل فارسی کی سند پیش کرتے ہیں۔ جب خلیفہ پر بحث ہو تو مجدد کی بحث لے بیٹھتے ہیں۔ مجدد کا ثبوت مانگو تو مہدی اور مسیح موعود کا ثبوت پیش کرتے ہیں اور بقول ذوق الکل فوت الکل ایک دعویٰ کا ہی ثبوت نہیں دے سکے۔

مرزا قادیانی ملک پنجاب موضع قادیان کے رہنے والے تھے اور آپ کے والد کا نام مرزا غلام مرتضیٰ تھا اور ان کا خاندان صاحب علم و ہنر چلا آیا ہے۔ سکھوں کے زمانہ سے پہلے بقول مرزا قادیانی چند گاؤں کی حکومت بھی ان کے خاندان میں تھی۔ مگر وہ سکھوں کے عہد میں پامال ہو گئی۔ مرزا قادیانی نے ابتدائی تعلیم فارسی و عربی گھر میں

٥٤

صفحہ ٣٣١

حاصل کی۔ بعد ازاں مولوی گل شاہ ساکن بٹالہ جو کہ شیعہ مذہب رکھتے تھے۔ ان سے عربی فارسی تحصیل کی اور صرف شرح ملا و قافیہ تک عربی تعلیم پائی چونکہ ان کے خاندان میں ذخیرہ کتب جمع تھا انھوں نے خود مطالعہ کر کے اپنی علمی لیاقت سے ترقی کی۔ جیسا کہ عام قاعدہ ہے کہ تمام کتابیں کوئی نہیں پڑھتا اپنے مطالعہ سے ہر ایک شخص جس علم کیطرف اس کی طبیعت کا میلان ہو۔ اس میں ترقی کر لیتا ہے۔ انگریزی میں اس کو سلف سٹڈی کہتے ہیں اور یہ قاعدہ ہر ایک ملک اور ہر ایک قوم میں ہے۔ مگر یہ مرزا قادیانی کی خصوصیت ہے کہ انھوں نے اس ترقی کے معنی شرح صدر نصیب ہوا اور میں علم لدنی سے فیضیاب ہوا ہوں کرتے ہیں۔

ابتدائی عمر میں مرزا قادیانی ضلع سیالکوٹ کچہری صاحب ضلع میں پندرہ روپیہ ماہوار کے ملازم ہوئے اور چونکہ اس قلیل تنخواہ پر گزارہ مشکل تھا دن رات اس خیال میں مستغرق رہتے کہ کسی طرح دولت ہاتھ آئے اور عیش و آرام سے زندگی کے دن پورے ہوں۔ ایک روز کچہری سے فارغ ہو کر گھر کو آ رہے تھے اور اپنے خیال میں محو تھے کہ ایک رائے صاحب فینس پر جو سوار تھے ان کے قریب آ کر مرزا قادیانی سے صاحب سلامت ہوئی۔ رائے صاحب نے شکایت کی کہ آپ ملتے نہیں۔ مرزا قادیانی نے جواب دیا کہ آپ تو کسی کے ملازم نہیں ہم تو مجبور ہیں۔ آپ الٹی شکایت کرتے ہیں۔

ایک روز مرزا قادیانی وظیفہ کر رہے تھے کہ دروازہ کھلا اور ایک شخص بزرگ صورت عربی لباس زیب تن کیے ہوئے داخل ہوئے۔ بعد سلام علیکم کے بیٹھ گئے اور فرمایا کہ آج آپ کچہری سے دیر کر کے آئے ہیں۔ مرزا قادیانی نے فرمایا کہ ہاں بندگی پابندی میں اسی سبب سے تو نوکری سے بیزار ہوں۔ چار پانچ برس ہو گئے اور ہنوز روز اوّل ہے کچھ ترقی نہیں ہوئی اور نہ امید ہے۔ عرب صاحب نے فرمایا کہ ہم آپ کو ایک عمل بتاتے ہیں کہ تھوڑے دنوں کے ورد میں خدا نے چاہا تو نوکری کی پرواہ نہ رہے گی۔ مرزا قادیانی نے جواب دیا کہ ورد وظائف کا تو مجھ کو لڑکپن سے شوق ہے مگر بنتا کچھ نہیں۔ جس پر عرب صاحب نے فرمایا کہ صبر و تحمل سے سب کچھ ہو جائے گا۔

ناظرین! اب تو مرزا قادیانی کے علم لدنی کا راز کھل گیا ہو گا کہ عربی زبان کی فصاحت و ترقی کی کلید عرب صاحب ہیں اور یہ راز بھی کھل گیا جو مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ میں نے روحانی فیض کسی سے نہیں پایا کیونکہ عرب صاحب نے وظیفہ فرمایا اور ساتھ ہی اس عرب نے پیشگوئی کر دی کہ وظیفہ پڑھو اور صبر کرو۔ چنانچہ تھوڑے عرصہ کے بعد وظیفہ کا اثر شروع ہوا اور مرزا قادیانی مالا مال ہو گئے

٥٥

صفحہ ٣٣٢

ایک اور راز بھی اس جگہ کھولنے کے لائق ہے کہ مرزا قادیانی طالب دنیا اس درجہ کے تھے کہ عرب صاحب سے عرض کی کہ کوئی ایسا عمل بھی یاد ہے کہ دست غیب ہو۔ یعنی کسی طرح زر حاصل ہو جس پر عرب صاحب نے فرمایا کہ میں ایسے عملوں کا قائل نہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب صاحب روحانی فیض کے قائل تھے اور دنیاوی عملیات کو مکروہ جانتے تھے۔

ایک اور راز بھی ظاہر کرنے کے قابل ہے کہ مرزا قادیانی علم جفر میں بھی محاورت رکھتے تھے۔ کیونکہ عرب صاحب کے جواب میں فرمایا کہ علم جفر میں اس کے بہت قاعدے اور عمل لکھے ہیں۔ جس پر عرب صاحب نے فرمایا کہ ہاں ہیں مگر یہی دست غیب ہے کہ کسی کار میں انسان کی رجوعات اور فتوحات ہو جائے۔ پس عرب صاحب نے وظیفہ بھی فرما دیا اور ساتھ ہی یہ کہا کہ فقط پیر کے کندھے ہی سے کار براری نہیں ہوتی۔ کچھ ہمت بھی درکار ہے چونکہ آپ کی فطرت میں نوکری ماتحتی کا مادہ نہیں۔ اس لیے آپ کوئی اور کام شروع کریں۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے جواب دیا کہ میرا پہلے ہی سے ارادہ قانون کا امتحان دینے کا ہے وکالت میں معقول آمدنی ہے۔

ناظرین! یہ فنا فی الرسول کے مدعی کا حال ہے کہ کس طرح طالب دنیا ہے اور توکل برخدا ہے معلوم کرلو اور پھر قانونی پیشہ جو بالکل رات دن جھوٹ سے کام ہے۔ اسکو پسند کرنا بھی اتقا کا پتہ دیتا ہے اور آپ کا ورد وظائف بھی دنیاوی عیش آرام کے واسطے تھا۔ غرض امتحان دیا مگر کامیاب نہ ہوئے۔ ایک اور راز بھی لکھنے کے قابل ہے کہ سید ملک شاہ ساکن سیالکوٹ جو کہ علم نجوم ورمل میں کچھ دخل رکھتے تھے۔ مرزا قادیانی نے ان سے بھی کچھ استفادہ کیا۔ دیکھو اشاعۃ السنہ جلد ١٥ صفحہ ٢٩ یہ ہے راز پیشگوئیوں کا اور یہی سبب ہے کہ پیشگوئیاں غلط نکلتی رہیں۔

جب وکالت سے ناامیدی ہوئی تو آپ نے اپنے پرانے رفیق رائے صاحب سے مشورہ کیا کہ اب کیا کروں۔ رائے صاحب نے فرمایا کہ میرا آپ کا مکتب کا تعلق ہے اور بٹالہ میں جب ہم تم اکٹھے پڑھتے تھے۔ مجھ کو آپ سے اتحاد ہے مگر آپ کی پریشانی کا سبب پوچھتا ہوں۔ مرزا قادیانی نے کہا کہ تنخواہ قلیل ہے گزارہ نہیں ہوتا اور ترقی محال ہے کروں تو کیا کروں

اے زر تو خدا نہیں و لیکن بخدا
ستار عیوبی و قاضی الحاجاتی

٥٦

صفحہ ٣٣٣

ایک اور راز بھی قابل توجہ ناظرین ہے کہ مرزا قادیانی کیمیا کے متلاشی بھی رہے۔ جھاڑ پھوک بھی کرتے رہے کیونکہ جب رائے صاحب نے کہا کہ آپ نسخہ کیمیا کو تلاش کیا کرتے تھے تو مرزا قادیانی نے ان کے جواب میں فرمایا کہ اگر وہ نسخہ ہماری ترکیب یا عمل اور کوشش سے بن جاتا یا کوئی نسخہ کیمیا کا کامل مل جاتا تو ہم کو نوکری یا وکالت یا کسی اور کار کی کیا ضرورت تھی۔ رائے صاحب نے فرمایا کہ ایک تجویز میں بتاتا ہوں کہ آپ کی فطرت میں بحث مباحثہ کا مادہ بہت ہے اور آپ مکتب کے زمانہ میں بھی تحفۃ الہند ۔ تحفۃ الیہود و خلعت الیہود وغیرہ کتابیں سنی و شیعہ و عیسائیوں و مسلمانوں کی مناظرہ کی کتابیں دیکھا کرتے تھے۔ پس آپ مناظرہ کی کتابیں تالیف کریں اور فروخت کریں۔ تو عمدہ معاش اور شہرت ہو جائے گی۔ مرزا قادیانی نے بھی اتفاق کیا اور فرمایا ؎

کہ خوش بود کہ بر آید بیک کرشمہ دو کار

ناظرین! آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ہیں راز مرزا قادیانی کی ترقی اور پیری مریدی کی دوکانداری کے، اوّل اوّل مرزا قادیانی نے نوکری چھوڑ کر لاہور میں آ کر چینیاںوالی مسجد میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے بھی مشورہ کیا۔ انھوں نے بھی اتفاق رائے ظاہر کیا اور مرزا قادیانی نے پہلے پہل براہین احمدیہ کا اشتہار دیا اور اس میں وعدہ کیا کہ اس کتاب میں تین سو دلیل اسلام کی صداقت پر بیان کی جائے گی اور جو مخالف مذہب اس کا جواب دے گا یا میرے بیان کردہ دلائل کو توڑے گا اس کو دس ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا اور کتاب کی قیمت دس روپے اور پانچ روپے نقد پیشگی قرار پائی چونکہ مسلمانوں کو اپنے دین سے محبت ہے اور رسول اللہ ﷺ کے دین کی حفاظت کے واسطے روپیہ پیسہ کی کچھ پرواہ نہیں کرتے اور نئی روشنی کے لوگ جو اپنے مذہب سے بالکل ناواقف تھے۔ آریوں کے اعتراضات سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ ایسے اشتہار کو غنیمت سمجھا اور مرزا قادیانی کو چاروں طرف سے روپیہ نقد پیشگی آنا شروع ہوا اور اہل اسلام نے مرزا قادیانی کو ایک مناظر اسلام سمجھ کر اپنی امداد مالی سے مالا مال کر دیا۔ قرضہ بھی ادا ہو گیا اور خود بھی آسودہ ہو گئے اور رائے صاحب کی پیشگوئی کے مطابق تھوڑے دنوں میں مرزا قادیانی کی طرف رجوعات خلائق ہونے لگا اور رائے صاحب کے وظیفہ نے وہ تاثیر دکھائی کہ مرزا قادیانی لاکھوں کے مالک ہو گئے۔ براہین احمدیہ لکھتے لکھتے مناظر اسلام سے ترقی کر کے اپنے مثیلی مسیح ہونے کا خیال پیدا ہو گیا کیونکہ براہین احمدیہ اوّل تو حسب وعدہ نہ نکلی اور جو نکلی وہ صرف تمہیدی مضامین تھے۔ پہلی جلد میں اشتہار دوسری و تیسری جلد میں مقدمہ اور تیسری جلد کی پشت پر اشتہار دے دیا کہ تین سو جز تک کتاب بڑھ گئی

٥٧

صفحہ ٣٣٤

ہے مگر یہ بالکل دھوکہ دہی تھی کیونکہ چوتھی جلد میں صرف مقدمہ کتاب اور ٨ تمہیدات تھیں اور صفحات ٥١٢ تھے اور تمہیدات کے بعد باب اوّل شروع ہوا ہی تھا کہ جلد چہارم کی پشت پر اشتہار دے دیا کہ اب براہین احمدیہ کی تکمیل خدا نے اپنے ذمہ لے لی ہے اس پر لوگوں نے بہت شور مچایا کہ تین سو جز کی کتاب اور تین سو دلیل جس کا وعدہ تھا۔ وہ نکالو ورنہ قیمت واپس کرو۔ مرزا قادیانی کی اس کارروائی سے دیندار مسلمان تو مرزا قادیانی سے بیزار ہو گئے کیونکہ وعدہ خلافی اسلام میں بہت عیب کی بات ہے اور ادھر مرزا قادیانی نے اپنی کرامات و الہامات کی اشاعت میں اشتہار دیا اور اشتہاروں سے تمام دنیا ہلا دی کہ میں مثیل مسیح ہوں اور مجھ کو وحی ہوئی ہے اور جس کو وحی ہوتی ہے اور مکالمہ و مخاطبہ الٰہی سے مشرف ہوتا ہے۔ وہ نبی و رسول ہے۔ پس میں نبی و رسول ہوں اور میرے واسطے آسمان و زمین نے گواہی دی ہے اور میری خاطر طاعون آئی ہے کہ میرے منکروں کو ہلاک کرے اور آیت وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا سے تمسک کر کے دعویٰ نبوت کیا کہ خدا نے جو عذاب بھیجا ہے تو رسول بھی ضرور ہونا چاہیے۔ پس طاعون کے عذاب کے ساتھ میں رسول ہوں۔ مگر چونکہ مرزا قادیانی ایک کمزور طبیعت کے آدمی تھے ان کو یہ بھی خوف تھا کہ کہیں مسلمان ناراض بھی نہ ہوں تا کہ بالکل آمدنی بند نہ ہو جائے۔ آہستہ آہستہ مسلمانوں پر بوجھ ڈالا کہ پہلے مثیل مسیح کا دعویٰ کیا۔ جب کئی ایک سادہ لوحوں نے یہ بات مان لی تو پھر مسیح موعود کا دعویٰ کیا اور ساتھ ساتھ محمد ﷺ کی بھی تعریف کرتے جاتے تا کہ مسلمان پھندے سے نہ نکل جائیں۔ مگر ساتھ ہی محمد ﷺ کی ہتک بھی کرتے جاتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے مسیح موعود اور دجال کے بارے میں غلطی کھائی ہے اور دجال کی حقیقت رسول اللہ ﷺ کی سمجھ میں نہیں آئی۔ مجھ کو خدا نے اس کی حقیقت سمجھا دی ہے۔ مگر مسلمانوں سے ڈر کر پھر ساتھ ہی لکھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی فراست و فہم تمام نبیوں کی فراست و فہم سے زیادہ ہے مگر دجال کی حقیقت میں انھوں نے غلطی کھائی ہے اور میں رسول اللہ ﷺ سے زیادہ فہم و فراست رکھتا ہوں۔ مگر ڈر کے مارے صاف نہیں کہتے۔ غرض مرزا قادیانی کا صاف دعویٰ ایک بھی استقلال کے ساتھ نہیں۔ لیکن دعویٰ کرتے بھی ضرور ہیں۔

اب مرزا قادیانی کی اصل عبارات دعویٰ نبوت کے بحوالہ کتاب و صفحہ لکھتے ہیں۔

(دافع البلاء ص ٩ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩)

٥٨

صفحہ ٣٣٥

(دافع البلا ص ٥ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٥)

خداوند تعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو میں کیونکر رد کروں ...... اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی۔

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦ خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)

قادیانی) مراد ہے کیونکہ آپ کا نام محمد جلالی تھا اور احمد جمالی سو وہ میں ہوں۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٧٣ ملخص خزائن ج ٣ ص ٤٦٣)

(ملخص توضیح المرام ص ١٨ خزائن ج ٣ ص ٦١)

ناظرین! مرزا قادیانی دعویٰ تو کر بیٹھے مگر ثبوت کچھ بھی نہیں۔ پہلے ہم مرزا قادیانی کے معیار سے ثابت کرتے ہیں کہ وہ کاذب تھے۔ وہو ہٰذا۔

معیار صداقت نمبر ١

”ماسوا اس کے بعض اور عظیم الشان نشان اس عاجز کی طرف سے معرض امتحان میں ہیں۔ جیسا کہ (١) منشی عبداللہ آتھم صاحب امرتسری کی نسبت پیشگوئی جس کی میعاد ٥ جون ١٨٩٣ء سے پندرہ مہینہ تک ہے۔ (٢) پنڈت لیکھرام پشاوری کی موت کی نسبت پیشگوئی جن کی میعاد ١٨٩٣ء سے چھ سال تک ہے۔ (٣) مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی موت کی نسبت پیشگوئی جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو ٢١ ستمبر ١٨٩٣ قریباً گیارہ ماہ باقی رہ گئے ہے۔ یہ تمام امور جو انسانی طاقتوں سے بالکل بالاتر ہیں۔ ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لیے کافی ہیں کیونکہ احیاء اور اموات دونوں خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہیں اور جب تک کوئی شخص نہایت درجہ کا مقبول نہ ہو خدا تعالیٰ اس کی خاطر سے کسی اس کے دشمن کو اس کی بددعا سے ہلاک نہیں کر سکتا۔ خصوصاً ایسے موقعہ پر کہ وہ شخص اپنے تئیں منجانب اللہ قرار دے اور اپنی اس کرامت کو اپنے صادق ہونے کی دلیل ٹھہرا دے۔“

(شہادت القرآن ص ٧٩ خزائن ج ٦ ص ٣٧٥)

ناظرین! یہ تینوں پیشگوئیاں غلط اور بالکل جھوٹی نکلیں۔ عبداللہ آتھم تاریخ مقررہ تک نہ مرا۔ لیکھرام پشاوری کی موت کی پیشگوئی نہ تھی اس پر عذاب نازل ہونے کا

٥٩

صفحہ ٣٣٦

وعید تھا۔ اصل عبارت یہ ہے۔ ”عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا سو اب میں اس پیشگوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر ایسی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھیں کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں کہ لیکھرام کو اس میعاد مقررہ میں کوئی خارق عادت عذاب ہو گا ۔“ ظاہر ہے کہ موت عذاب نہیں ورنہ ماننا پڑے گا کہ مرزا قادیانی بھی معذب ہوئے کیونکہ وہ خود بھی مر گئے ۔

ہے تب عذاب یا سزا کی حس ہوتی ہے۔ اگر کسی کو بید لگائے جائیں اور وہ زندہ نہ ہو تو اس کو بیدوں کی ضرب کی حس نہ ہو گی مردہ کو کسی قسم کی حس نہیں ہوتی اور اگر زندہ آدمی کو بید لگائے جائیں تو اس کو درد ہو گی۔ پس لیکھرام کا چھری سے مارا جانا خارق عادت عذاب نہیں تھا کیونکہ پشاوری ایک دوسرے سے دشمنی کے باعث آئے دن ایسی ایسی وارداتیں کرتے رہتے ہیں یا تو خارق عادت کا لفظ جھوٹا ہے یا پیشگوئی جھوٹی ہے۔ اگر لیکھرام پشاوری کو کسی اس کے دشمن نے قتل کر دیا تو اس میں جو پیشگوئی عذاب کی تھی اور عذاب اس واسطے تھا کہ دوسرے دشمنوں کے واسطے حجت اور عبرت ہو۔ جب پیشگوئی کی علت غائی پوری نہ ہوئی یعنی ایسا کوئی عذاب لیکھرام پر نازل نہ ہوا جس کے باعث وہ توبہ کرتا اور دوسرے لوگوں کو اس کے عذاب کی طرف دیکھ کر عبرت ہوتی یہ نہ ہوا بلکہ لیکھرام مرگ کی بیماری کے عذاب سے خلاص کیا گیا اور پیشگوئی کو جھوٹا ثابت کرنے کے واسطے خدا نے لیکھرام کو بیمار بھی نہ کیا تاکہ مرزا قادیانی یہ نہ کہہ دیں کہ دیکھو لیکھرام ہماری پیشگوئی کے مطابق بیمار اور خدا کے عذاب کے نیچے ہے۔ اس کو خدا نے اچانک موت دی اور بیماری موت کے عذاب سے بچا لیا۔ عذاب تب تھا جب وہ مدت دراز تک بیمار رہتا دکھ درد سہتا اور تڑپ تڑپ کر چھ سال کی زحمت کے بعد مرتا تو مرزا قادیانی کی پیشگوئی سچی ہوتی ۔

قادیانی سے ہوا نہ پیشگوئی پوری ہوئی۔ مرزا قادیانی نے بڑے زور سے لکھا تھا کہ جو امر یعنی نکاح محمدی بیگم کا آسمان پر ہو چکا ہے وہ زمین پر ضرور ہو گا۔ آسمان و زمین ٹل جائیں مگر یہ امر نہ ٹلے گا اور پھر جب نکاح دوسرے شخص سے ہو گیا تو پھر پیشین گوئی کی

٦٠

صفحہ ٣٣٧

ترمیم کی گئی کہ محمدی بیگم کا خاوند فوت ہو گا یہ ہو گا وہ ہو گا اور محمدی بیگم بیوہ ہو کر ضرور میرے نکاح میں آئے گی اگر میرے نکاح میں نہ آئی اور میں مر گیا تو جھوٹا ہوں۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔

”راقم رسالہ ہذا اس مقام میں خود صاحب تجربہ ہے۔ عرصہ قریباً تین برس کا ہوا ہے کہ بعض تحریکات کی وجہ سے جن کا مفصل ذکر اشتہار دہم جولائی ١٨٨٨ء میں مندرج ہے۔ خدا تعالیٰ نے پیشگوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمھارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو لیکن آخر کار ایسا ہی ہو گا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھائے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ چنانچہ اس پیشگوئی کا مفصل بیان معہ اس کی میعاد خاص اور اس کی اوقات مقرر شدہ کے اور معہ اس کے ان تمام لوازم کے جنھوں نے انسان کی طاقت سے اس کو باہر کر دیا ہے۔ اشتہار دہم جولائی ١٨٨٨ء میں مندرج ہے اور وہ اشتہار عام طبع ہو کر شائع ہو چکا ہے۔ جس کی نسبت آریوں کے بعض منصف مزاج لوگوں نے بھی شہادت دی کہ اگر یہ پیشگوئی پوری ہو جائے تو بلاشبہ یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے اور یہ پیشگوئی ایک سخت مخالف قوم کے مقابل ہے جنھوں نے گویا دشمنی اور عناد کی تلواریں کھینچی ہوئی ہیں اور ہر ایک کو جو ان کے حال سے خبر ہو گی وہ اس پیشگوئی کی عظمت خوب سمجھتا ہو گا۔ ہم نے اس پیشگوئی کو اس جگہ مفصل نہیں لکھا تا بار بار کسی متعلق پیشگوئی کی دل شکنی نہ ہو لیکن جو شخص اشتہار پڑھے گا وہ گو کیسا ہی متعصب ہو گا اس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ مضمون اس پیشگوئی کا انسان کی قدرت سے بالاتر ہے اور اس بات کا جواب بھی کامل اور مسکت طور پر اسی اشتہار سے ملے گا کہ خدا تعالیٰ نے کیوں یہ پیشگوئی یہاں فرمائی اور اس میں کیا مصالح ہیں اور کیوں اور کس دلیل سے یہ انسانی طاقتوں سے بلند تر ہیں؟

اب اس جگہ مطلب یہ ہے کہ جب یہ پیشگوئی معلوم ہوئی اور ابھی پوری نہ ہوئی تھی (جیسا کہ اب تک بھی جو ١٦ اپریل ١٨٩١ء ہے پوری نہیں ہوئی) تو اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی۔ یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی۔ اس وقت گویا پیشگوئی آنکھوں کے سامنے آگئی

٦١

صفحہ ٣٣٨

اور یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیشگوئی کی نسبت خیال کیا کہ شائد اس کے اور معنی ہوں گے۔ جو میں سمجھ نہیں سکا۔ تب اسی حالت قریب المرگ میں مجھے الہام ہوا اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ یعنی یہ بات تیرے رب کیطرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔ سو اس وقت مجھ پر یہ بھید کھلا کہ کیوں خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کریم ﷺ کو قرآن کریم میں کہا کہ تو شک مت کر سو میں نے سمجھ لیا کہ درحقیقت یہ آیت ایسے ہی نازک وقت سے خاص ہے۔ جیسے یہ وقت تنگی اور نومیدی کا میرے پر ہے اور میرے دل میں یقین ہوگیا کہ جب نبیوں پر بھی ایسا ہی وقت آ جاتا ہے جو میرے پر آیا تو خدا تعالیٰ تازہ یقین دلانے کے لیے ان کو کہتا ہے کہ تو کیوں شک کرتا ہے اور مصیبت نے تجھے کیوں نومید کردیا۔ نومید مت ہو۔

(ازالہ ص ٣٩٩ تا ٣٩٦ خزائن ج ٣ ص ٣٠٥، ٣٠٦)

اب مرزا قادیانی مر بھی گئے اور محمدی بیگم ان کے نکاح میں نہ آئی تو مرزا قادیانی کی نہ صرف ایک پہلی پیشگوئی غلط نکلی بلکہ دوبارہ خدا تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو تسلی دے کر پھر پیشگوئی کے پورا ہونے کی بابت یقین دلایا اور بیماری سے صحت دی بلکہ یہ کہا کہ جب تک محمدی بیگم تیرے نکاح میں نہ آئے گی۔ تب تک تیری موت نہ آئے گی۔ باقی رہا مرزا قادیانی کی تاویلات باطلہ ان کی نسبت صرف اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ عذر گناہ بدتر از گناہ اناپ شناپ جو دل میں کسی کے آئے لکھ دے۔ کون پوچھ سکتا ہے؟ اسلامی خلافت اس کا علاج کر سکتی ہے۔

معیار صداقت نمبر ٢

مرزا قادیانی نے خود البدر ١٩ جولائی ١٩٠٢ء میں معیار صداقت قرار دے کر فرمایا۔ ”طالب حق کے لیے میں یہ بات پیش کرتا ہوں کہ میرا کام جس کے لیے میں اس میدان میں کھڑا ہوا ہوں یہ ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلا دوں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت و عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کر دوں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے۔ وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتے۔ اگر اسلام کی حمایت نے وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود و مہدی موعود کو کرنا چاہیے تھا۔ تو پھر سچا ہوں ورنہ اگر کچھ نہ ہوا اور مر گیا تو پھر سب لوگ گواہ رہیں کہ جھوٹا ہوں۔ والسلام غلام احمد قادیانی۔“ اس معیار سے بھی مرزا قادیانی جھوٹے ہوئے۔ عیسیٰ پرستوں کا وہ زور ہے کہ ٦٢

صفحہ ٣٤٩

دن بدن اسلامی دنیا کو کمزور کرتے جاتے ہیں اور آئے دن کوئی نہ کوئی ملک مسلمانوں کے قبضہ سے نکل کر عیسائیوں کے قبضے میں چلے جارہے ہیں اور جس جگہ توحید و اللہ اکبر کے نعرے بلند ہوتے تھے۔ عیسیٰ پرستوں اور صلیب پرستوں کا جھنڈا لہرانے لگا اور مسلمان لاکھوں کی تعداد میں قتل و غارت و بے خانماں ہوئے مسجدوں و خانقاہوں کی بے حرمتی ہوئی علاقہ طرابلس و بلقان میں اور ایران میں وہ وہ مظالم مسلمانوں پر ہوئے کہ سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ بڑے بڑے مجتہد پھانسی دیے گئے۔ اب کوئی انصاف سے کہے کہ مسیح موعود کے قدوم کی برکت تو رسول اللہ ﷺ نے اسلام کے حق میں خیر و برکت و فتح و نصرت فرمایا تھا اور مرزا قادیانی کے قدوم اسلام کے حق میں برباد کن نحوست لزوم ثابت ہوئے تو ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی وہ مسیح موعود نہیں تھے جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اخیر زمانہ میں آئے گا دجال کو قتل کرے گا۔ صلیب کو توڑے گا اور اسلام کی چاروں طرف سے فتح ہوگی اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گے اور اسلام کا بول بالا ہوگا۔

معیار صداقت نمبر ٣

طاعون کی بڑے زور شور سے مرزا قادیانی نے پیشگوئی کی تھی کہ قادیان چونکہ خدا کے رسول کی تخت گاہ ہے اس لیے طاعون سے محفوظ رہے گی۔ یہ پیشگوئی بھی جھوٹی نکلی اور قادیان میں طاعون پڑی اور ذیل کے اخبارات نے اپنے اپنے اخبارات میں درج کیا جن کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے۔

مارچ کی اخیر تاریخوں میں پھوٹ پڑی۔ ٤ و ٦ کے درمیان روزانہ موتوں کی اوسط ہے۔“

مرزا قادیانی اور مولوی نور دین کے تمام مرید قادیان سے بھاگ گئے ہیں۔ مولوی نور دین کا خیمہ قادیان سے باہر ہے۔ اوسط اموات یومیہ ٢٠ و ٢٥ ہے۔“

صفائی کو تسلیم کیا ہے۔“

میں مبتلا ہے۔ بیس موتوں کی اوسط ہے۔ قصبہ میں خوفناک ہل چل مچی ہوئی ہے۔“

کے بیٹے اسحاق کو تیز تپ ہوا اور سخت گھبراہٹ شروع ہو گئی اور دونوں طرف ران میں

٦٣

صفحہ ٣٤٠

گلٹیاں نکل آئیں۔“ (حقیقة الوحی صفحہ ٣٢٩ خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٢) ”پیراندتہ ۔ عبدالکریم مرزا قادیانی کے گھر میں فوت ہوئے۔ علاوہ بریں محمد افضل برہان الدین۔ محمد شریف۔ نور احمد مرزائیاں فوت ہوئے۔“

(دیکھو ذکر الحکیم نمبر ٢ صفحہ ٩١)

معیار صداقت نمبر ٤

مرزا قادیانی نے ڈاکٹر عبدالحکیم کا فوت ہونا قرار دیا تھا کہ عبدالحکیم مرزا قادیانی کی زندگی میں فوت ہوگا۔ چنانچہ یہ مقابل کی روحانی کشتی تھی۔ ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب نے اپنا الہام شائع کیا کہ مرزا مسرف ہے کذاب ہے اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور اس کی میعاد تین سال بتلائی ”دیکھو اعلان الحق صفحہ ٤“ اس کے مقابل مرزا قادیانی نے اپنا الہام شائع کیا۔ صبر کر خدا تیرے دشمن کو ہلاک کرے گا۔ خدا کی قدرت مرزا قادیانی فوت ہوئے اور ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب اب تک زندہ ہیں۔

ناظرین! مرزا قادیانی اپنے ہی معیاروں سے کاذب ثابت ہوتے ہیں۔ اب ہم چند دلائل نقلی و عقلی ذیل میں درج کرتے ہیں جو کہ مرزا قادیانی کی نبوت کا بطلان کرتی ہیں۔

تعلیم بذریعہ جبرائیلؑ دی جاتی ہے جیسا کہ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢) میں رسول اللہ ﷺ کی حدیث درج ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ غار حرا میں کچھ تھوڑا توشہ لے کر جاتے اور اللہ کی عبادت کرتے اور جب توشہ ختم ہو جاتا تو پھر آتے اور توشہ لے جاتے۔ یہاں تک کہ آئے حضرت ﷺ کے پاس جبرائیلؑ اور کہا کہ پڑھ۔ حضرت ﷺ نے جواب دیا کہ میں پڑھ نہیں سکتا اور آپ فرشتہ دیکھ کر دہشت زدہ ہو گئے۔ پھر پکڑا۔ فرشتے نے حضرت ﷺ کو یہاں تک کہ آپ ﷺ کو تکلیف ہوئی۔ پھر چھوڑ دیا۔ جبرائیلؑ نے پھر کہا کہ پڑھ۔ پھر حضرت ﷺ نے بے ساختہ وہی جواب دیا۔ اسی طرح تین مرتبہ حضرت جبرائیلؑ نے آنحضرت ﷺ کو بھینچا اور یہ حضرت جبرائیلؑ کا تصرف تھا۔ حضرت ﷺ کے وجود پاک میں جس کی تاثیر سے آپ پڑھنے لگے۔ ”حدیث بہت طویل ہے۔ صرف اس جگہ اس قدر مطلب تھا کہ وحی بذریعہ حضرت جبرائیلؑ رسول اللہ ﷺ کو ہوئی ہے اور خوابوں اور الہاموں اور کشفوں سے اعلیٰ اصفیٰ یقینی ہوتی ہے۔ اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہوتا کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ فرشتہ ہوتی ہے اور یہ خاصہ انبیاءؑ ہے اور یہ وحی رسالت بعد محمد رسول اللہ ﷺ کے مسدود ہے۔ امام غزالیؒ

٦٤

صفحہ ٣٤١

مکاشفۃ القلوب کے باب ١١١ میں تحریر فرماتے ہیں کہ ”رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت حضرت جبرائیلؑ نے آ کر کہا کہ اے محمد ﷺ یہ میرا زمین پر آنا آخری دفعہ کا آنا ہے۔ اب وحی بند ہو گئی ہے۔ اب مجھے دنیا میں آنے کی ضرورت نہیں رہی۔ آپ ﷺ کے واسطے میرا آنا ہوا کرتا تھا۔ اب میں اپنی جگہ پر لازم و قائم رہوں گا۔“

(کنزالعمال ج ٧ ص ٢٥١ حدیث ١٨٤٨٥)

”حضرت ابوبکر صدیقؓ رسول اللہ ﷺ کے جنازہ پاک پر کھڑے ہو کر درود پڑھنے لگے اور رونے لگے کہ یا رسول اللہ ﷺ تیرے مرنے سے وہ بات منقطع ہو گئی جو کسی نبی اور رسول ﷺ کے مرنے سے منقطع نہ ہوئی تھی۔ یعنی وحی الٰہی۔“

(کنزالعمال ج ٧ ص ٢٣٥ حدیث )

پس جو شخص محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد وحی کا دعویٰ کرے۔ کاذب ہے چونکہ مرزا قادیانی نے استاد سے تعلیم پائی اور عربی فارسی تحصیل کی۔ اس لیے نبی و مرسل نہیں ہو سکتے۔ (٢) رسول شاعر نہیں ہوتے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔ اِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ وَّ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ط قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَ وَلَا بِقَوْلِ کَاہِنٍ قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ ط (الحاقہ ٤٢-٤٠) ترجمہ۔ یہ نہیں کہا کسی شاعر نے کہ تم کم یقین کرتے ہو اور نہ کہا ہے کسی کاہن کا کہ تھوڑا دھیان کرتے ہو۔“ اس آیت سے صاف ثابت ہے کہ شاعر و کاہن نبی و رسول نہیں ہوتا اور مرزا قادیانی شاعر تھے اور شاعر بھی ایسے کہ کوئی بات مبالغہ اور غلو سے خالی نہیں اور استعارہ اور مجاز سے پاک نہیں۔ شاعرانہ لفاظی اور انشاء پردازی سے حضرت عیسیٰؑ کی وفات کا قصہ دو ہزار برس کے بعد کیسا طبع زاد بنا لیا اور اس کو کشمیر میں لا دفن کیا اور آسمانی کتابوں کے خلاف من گھڑت قصہ بنانے میں الف لیلہ و بہار دانش والوں کے کان کتر گئے۔ اسی واسطے شاعری نبوت کی منافی ہے کیونکہ شاعر کا اعتبار نہیں ہوتا۔ کیونکہ رات دن جھوٹ سے کام ہے۔ وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْبَغِي لَهُ. (یٰسین ٦٩) ترجمہ۔ نہ ہم نے اس کو شعر سکھایا ہے اور نہ اس کو لائق ہے۔

اب ہم ناظرین کی خاطر مرزا قادیانی کی عبارت نقل کرتے ہیں جس میں ذرہ بھی سچ نہیں بلکہ دعویٰ سے کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کی کسی ١٠ سطر میں ایک حصہ شاید سچ ہو۔ وہ لکھتے ہیں۔ ”ایک دفعہ تمثیلی طور پر مجھے خدا تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور میں نے اپنے ہاتھ سے کئی پیشگوئیاں لکھیں جن کا یہ مطلب تھا کہ ایسے واقعات ہونے چاہئیں۔ تب میں نے وہ کاغذ دستخط کرانے کے لیے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا اور اللہ تعالیٰ نے

٦٥

صفحہ ٣٤٢

بغیر کسی تامل کے سرخی کی قلم سے اس پر دستخط کیے اور دستخط کرنے کے وقت قلم کو چھڑکا۔ جیسا کہ جب قلم پر زیادہ سیاہی آجاتی ہے تو اسی طرح پر جھاڑ دیتے ہیں اور پھر دستخط کر دیے اور میرے اوپر اس وقت نہایت رقت کا عالم تھا۔ اس خیال سے کہ کس قدر خدا تعالیٰ کا میرے پر فضل اور کرم ہے کہ جو کچھ میں نے چاہا بلا توقف اللہ تعالیٰ نے اس پر دستخط کر دیئے اور اسی وقت میری آنکھ کھل گئی اور اس وقت میاں عبداللہ سنوری مسجد کے حجرہ میں میرے پیر دبا رہا تھا کہ اس کے روبرو غیب سے سرخی کے قطرے میرے کرتے اور اور اس کی ٹوپی پر گرے اور عجیب بات یہ ہے کہ اس سرخی کے قطرے گرنے اور قلم کے جھاڑنے کا ایک وقت تھا ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہ تھا۔ ایک غیر آدمی اس راز کو نہیں سمجھے گا اور شک کرے گا کہ کیونکہ اس کو صرف ایک خواب کا معاملہ محسوس ہوگا۔ مگر جس کو روحانی امور کا علم ہو وہ اس میں شک نہیں کر سکتا۔ اسی طرح خدا نیست سے ہست کر سکتا ہے۔ غرض میں نے یہ سارا قصہ میاں عبداللہ کو سنایا اور اس وقت میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ عبداللہ جو ایک رؤیت کا گواہ ہے۔ اس پر بہت اثر ہوا اور اس نے میرا کرتہ بطور تبرک اپنے پاس رکھ لیا جو اب تک اس کے پاس موجود ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٢٥٥ خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)

ناظرین! ایسی بات بنا لینے والا نبی ہو سکتا ہے کہ ایک ذرہ سی بات سے ایک اپنا نشان کرامت و معجزہ بنا لیا؟ کسی شخص نے اپنی دوات دھو کر پھینکی اور چند قطرے مرزا قادیانی کے کرتے پر پڑ گئے۔ جس پر مذکورہ بالا نشان تصنیف کر لیا مگر یہ نہ سمجھے کہ ایسی نامعقول بات بنانے میں اپنے کل دعاوی کی بیخ کنی کر رہا ہوں۔

ہوئے نہیں دیکھا۔ لیس کمثلہ شئ کے برخلاف ہے جو وجود محسوس نہیں ہو سکتا اس کی تمثیل کیسی؟

خاکی کے ساتھ آسمان پر خدا کے پاس گئے۔ دونوں صورتوں میں مقدمہ باطل ہے۔

کے ہمراہ تھے کہ سرخی کے چھینٹے اس کی ٹوپی پر پڑے۔

تھے۔ وہ کس کے پاس ہے؟ اور مرزا قادیانی کی تحریر اور خدا صاحب کی منظوری کے موافق

٦٦

صفحہ ٣٤٣

ایک پیشگوئی بھی کیوں پوری نہ ہوئی؟

(٥) خدا تعالیٰ کے پاس سرخی کی دوات اور سرخی کس کارخانہ کی بنی ہوئی تھی؟ اگر روحانی تھی تو سرخی کے چھینٹے باطل اور اگر جسمانی تھی تو مجسم خدا باطل۔

(٦) پیشگوئیاں الہام الٰہی کے مطابق کی جاتی ہیں۔ یعنی خدا خبر دیتا ہے کہ ایسا امر ہونے والا ہے نہ کہ نبی و رسول خدا کو کہتا ہے کہ ایسا کر دو اور پھر خدا بھی ایسا بدھو کہ بغیر سوچے سمجھے صرف سرشتہ دار کے کہنے سے دستخط کر دیئے۔ (معاذ اللہ)

(٧) اگر مرزا قادیانی کی خواہش کے مطابق خدا تعالیٰ منظوری دیتا تو مرزا قادیانی کے دشمنوں کو فوراً ہلاک کر دیتا۔ سب سے پہلے مولوی محمد حسین بٹالوی، مولوی ثناء اللہ صاحب، ملاں محمد بخش، پیر مہر علی شاہ وغیرہ سب کو نابود کرتا بلکہ سوا مرزا قادیانی کے مریدوں کے کوئی آریہ دہریہ سکھ عیسائی اور مسلمان غیر احمدی ہرگز زندہ نہ رہتا۔ مگر گنجے کو خدا ناخن نہیں دیتا۔ مثل مشہور ہے۔ وہ رب العالمین ہے۔

(٨) اب مرزا قادیانی کے علوم جدیدہ فلسفہ و سائنس و قانون قدرت و محالات عقلی کہاں گئے؟ جو رفع عیسیٰؑ پر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ بیوقوفوں کا کام ہے کہ کہتے ہیں۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ قادر تو بیشک ہے مگر خلاف قانون قدرت نہیں کرتا اب خدا تعالیٰ خلاف قانون قدرت قلم دوات لے کر مرزا قادیانی کے پاس کس طرح آیا یا مرزا قادیانی بجسد عنصری بمعہ لباس خاکی کس طرح خدا کے پاس کرتہ پر چھینٹے ڈلوانے جا پہنچے اور کرہ زمہریر سے کیسے گزر گئے؟ اگر کہو کہ روحانی طور پر کشفی حالت میں گئے تو پھر دوات و سرخی بھی کشفی خیالی ہوئی۔ جب خیالی ہوئیں تو خیالی اشیاء حقیقی کبھی نہیں ہوسکتیں تو سرخی کے چھینٹے کرتہ پر غلط بیانی ہوئی اور نبی کی شان سے بعید ہے کہ غلط بیانی کرے۔

(٩) حضرت عیسیٰؑ کے رفع جسمانی پر نظیر کے نہ ہونے کے باعث انکار کرتے تھے کہ چونکہ نظیر نہیں پس یہ عقیدہ باطل ہے کہ عیسیٰ اس جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر اٹھایا گیا اب مرزا قادیانی خود بھی نظیر بتائیں کہ کس شخص کو از آدم تا وقت مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ کی زیارت ایک جج یا منشی کی شکل میں متمثل نظر آئی اور اس نے اپنی پیشگوئیوں کے کاغذ پر دستخط کرائے اور اس کے کرتہ پر سرخی کے چھینٹے پڑے تھے اگر کوئی نظیر نہیں تو یہ بھی باطل ہے کہ مرزا قادیانی کو خدا تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور یہ کشف بھی ایسا ہی باطل ہے جیسا کہ مرزا قادیانی کو کشف ہوا تھا کہ میں نے زمین و آسمان بنائے اور میں اس کے خلق پر قادر تھا۔

(٣) نبی کے مقابلہ پر جو لوگ ہوں ان کو ترقی نہیں ہوتی جیسا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے

٦٧

صفحہ ٣٤٤

وقت محمدیوں کو ترقی ہوتی تھی اور کفار کی کمی۔ مگر مرزا قادیانی کے مقابلہ پر آریوں، سکھوں، برہمنوں، عیسائیوں، سناتن دھرمیوں، یہودیوں وغیرہ سب غیر اسلامی قوموں نے وہ وہ ترقیاں کیں کہ مرزا قادیانی کو ہرگز اس کا عشر عشیر بھی نصیب نہ ہوا۔ صرف جہلاء مسلمانوں کو اپنے دام میں لا کر پیری مریدی کی دوکان کے ذریعہ سے قلیل جماعت بنا لی اور ناکامیاب دنیا سے چل دیئے۔ سچا نبی اپنی زندگی میں ہی تمام عرب زیر نگین کر کے شام تک پہنچ چکا تھا۔

معیار صداقت نمبر ٥

حدیث شریف میں آیا ہے کہ نبی جس جگہ فوت ہوتا ہے اسی جگہ دفن ہوتا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ عزوجل جب کسی نبی کو وفات دے تو وہ اس جگہ دفن کیا جائے گا۔ جہاں اس کی روح قبض کی گئی۔

(ماقبض الانبیاء، کنزالعمال ج ٧ ص ٢٣٨ حدیث ١٨٧٢)

دوسری حدیث! ماقبض الله تعالى نبيا الا فى موضع الذى يحب ان يدفن فيه عن ابی بکر. (ترمذی ج ٢ ص ١٣١ حدیث ١٠١٨ کتاب الجنائز) ترجمہ۔ ترمذی نے حضرت ابوبکرؓ سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو قبض نہیں کیا مگر اس جگہ میں جہاں وہ دفن ہونا پسند کرتا ہے۔

تیسری حدیث! لم يقبر الا حيث يموت (مسند احمد ج ١ ص ٧) ترجمہ۔ احمد بن حنبلؒ نے حضرت ابی بکرؓ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ کسی نبی کی قبر بجز اس جگہ کے جہاں وہ فوت ہوا اور کہیں نہیں بنائی گئی۔

ناظرین! ان تینوں حدیثوں سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نبی نہ تھے اگر نبی ہوتے تو قادیان میں فوت ہوتے جس جگہ وہ دفن ہونا پسند کرتے تھے اور اسی وجہ سے قادیان سے باہر نہ جاتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ غالب قدرت والا ہے۔ موت کے وقت مرزا قادیانی کو لاہور لے آیا تا کہ اس کی نبوت کا دعویٰ سچا نہ ہو اور لاہور میں ہی اس کی روح قبض ہو۔ پس مرزا قادیانی نے صبح لاہور میں لیکچر دینا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ خود اچانک آ پکڑا اور وہ ہیضہ کی بیماری سے ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو ١٠ بجے دن کے فوت ہوئے اور قادیان ضلع گورداسپور میں مدفون ہوئے۔ (حیات ناصر ص ١٤) پس ان حدیثوں سے مرزا قادیانی کا دعویٰ سچا نہیں تھا اگر سچا دعویٰ نبوت ہوتا تو اور نبیوں کی طرح اس جگہ فوت ہوتے جہاں دفن ہوئے نہ کہ لاہور میں مرتے اور قادیان میں مدفون ہوتے۔

٦٨

صفحہ ٣٤٥

پنجم! سب نبیوں کی تعلیم شرک سے پاک ہوتی ہے اور سب نبیوں کی ایک ہی غرض ہوتی ہے یعنی توحید باری تعالیٰ اور توحید یہ ہے کہ ایک خدا کی ذات و صفات میں کسی کو شریک نہ کیا جائے اور نہ خود نبی خدا کی کسی صفت میں شریک ہو۔ مگر مرزا قادیانی کی تعلیم اس کے برخلاف ہے۔ وہو ہٰذا۔

یقین کیا کہ وہی ہوں۔“ (کتاب البریہ ص ٧٩ خزائن ج ١٣ ص ١٠٣) یہ شرک بالذات ہے۔

اور نیا آسمان چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب و تفریق نہ تھی۔ پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب و تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا انا زینا السماء الدنیا بمصابیح پھر میں نے کہا ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔“ (ایضاً) ناظرین یہ شرک بالصفات ہے۔

نوحؑ اسی غرض کے واسطے مبعوث ہوئے تھے اور اسلام اس بت پرستی سے پاک تھا۔

الہامات مرزا قادیانی ”انت منی بمنزلۃ توحیدی و تفریدی تو مجھ سے بمنزلہ میری توحید وتفرید کے ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

(دافع البلاء ص ٦ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٨)

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٣ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣)

(حقیقۃ الوحی ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٤ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣)

(اربعین نمبر ٤ ص ١٩ خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢)

٦٩

صفحہ ٣٤٦

جس چیز کا تو ارادہ کرے اور صرف اس قدر کہہ دے کہ ہو جا وہ ہو جائے گی۔“

(حقیقت الوحی ص ١٠٥ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)

ناظرین! بغرض اختصار اسی پر کفایت کرتا ہوں ڈر ہے کہ کتاب طویل نہ ہو جائے اب خود سوچ لیں کہ جس شخص کی اپنی تحریر مبالغہ آمیز اور جھوٹ ہو اور اس کے الہامات شرک و کفر ہوں اور کشف اس کو خدا بنائیں اور ناچیز انسان کو خالق زمین و آسمان بنائیں وہ شخص نبی ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ خدا تعالیٰ اپنے رسولوں کو اپنی کلام سے تین طریق پر اطلاع دیتا ہے۔ وحی، کشف و الہام جس کا کشف شرک ہو۔ الہام کفر و شرک ہوں۔ خواب جھوٹے ہوں جس کی بنا پر پیش گوئیاں کرتا ہو تو وہ نبی نہیں ہو سکتا۔

معیار صداقت نمبر ٦

نبی اپنے ارادے میں ناکامیاب نہیں رہتا کیونکہ خدا اس کی مدد میں ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی محمدی بیگم کی بابت بہت خواہش کرتے رہے اور آسمان پر نکاح بھی پڑھا گیا اور مرزا قادیانی نے خود بھی خطوں اور ترغیب و ترہیب سے کوئی کوشش باقی نہ رکھی بلکہ اس پیشگوئی کو معیار صداقت اسلام بھی قرار دیا کہ شاید اسلام کی حقانیت کی وجہ سے ہی کام نکل آئے مگر کچھ نہ ہوا۔ بلکہ مرزا قادیانی نے تاویلات باطلہ کر کے جگت ہنسائی اپنے اوپر کرائی اور تاویل یہ کی کہ پیشگوئی سچی ہو گی کیونکہ محمدی بیگم کا باپ مر گیا۔ کیا خوب شادی و نکاح تو محمدی بیگم سے ہونا تھا اور پیشگوئی احمد بیگ کے مرنے سے پوری ہو گی۔ جس شخص کی عقل ایسی ہے کہ موت اور مرگ کو شادی و نکاح سمجھتا ہے اور جنازہ کو ڈولی جانتا ہے اس سے کیا بحث ہو سکتی ہے؟ احمد بیگ کے گھر سے مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کی ڈولی لانی تھی مگر نکلا جنازہ اس کے باپ کا اور مرزا قادیانی پیشگوئی سچی کہے جاتے تھے اور خوش فہم مرزائی امنا وصدقنا کہے جاتے ہیں ؎

دوش از مسجد سوئے میخانہ آمد پیر ما
چیست یاران طریقت اندریں تدبیر ما

معیار صداقت نمبر ٧

نبی اپنے آپ کو امتی نہیں کہتا۔ مرزا قادیانی اجتماع نقیض کرتے ہیں کہ امتی بھی ہوں اور صاحب وحی بھی ہوں۔ یہی دلیل مرزا قادیانی کے نبی نہ ہونے کی ہے کہ اپنے دعویٰ میں اپنی کمزوری ظاہر کرتے ہیں۔ جب وحی کا دعویٰ ہے اور یہی علامت نبی و

٧٠

صفحہ ٣٤٧

رسول کی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔ قل انما انا بشر مثلکم یوحیٰ الی یعنی اے محمد ﷺ ان کو کہہ دو کہ میں بھی تمہاری مانند انسان ہوں۔ صرف فرق یہ ہے کہ میں وحی کیا جاتا ہوں۔ یعنی مجھ پر بذریعہ جبرئیل وحی خدا کی طرف سے آتی ہے اور تم پر نہیں آتی۔ پس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ فرق کرنے والی درمیان امتی و رسول کے وحی ہے۔ جب ایک شخص وحی کا مدعی ہے تو پھر وہ رسول کیوں نہیں؟ امتی کیوں ہے۔ جب مابہ امتیاز یعنی وحی میں نبی و رسول کا شریک ہے تو نبی و رسول ہے پھر کس کا ڈر ہے۔ مگر مرزا قادیانی کو ڈر اس بات کا ہے کہ مسلمان ناراض ہو کر چندے دینے بند کر دیں گے تو پھر گزارہ کہاں سے ہوگا۔ اس واسطے ساتھ ساتھ امتی امتی بھی ہانکے جاتے ہیں مگر ان کو معلوم نہیں کہ عقلاء کے نزدیک جب ایک شخص دو متضاد دعویٰ کرتا ہے تو دونوں میں جھوٹا ہوتا ہے۔ جب کہے میں امتی ہوں۔ تو اس کی تردید دعویٰ نبوت کر دے گا اور نبوت کا دعویٰ کرے گا تو امتی ہونے کا دعویٰ نبوت کی تردید کرے گا۔ پس دونوں میں جھوٹا ہوگا۔

معیار صداقت نمبر ٨

نبی اپنے دعویٰ میں مضبوط اور پکا ہوتا ہے کبھی کسی کے رعب میں نہیں آتا مگر مرزا قادیانی مسلمانوں سے ڈر کر اور رعب میں آ کر فرماتے ہیں ؎

من نیستم رسول نیاوردہ ام کتاب (درثمین ص٨٢)

پھر فرماتے ہیں اب کوئی ایسی وحی یا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا۔ جو احکام فرقانی کی ترمیم و تنسیخ یا کسی ایک حکم کی تبدیل یا تغیر کر سکتا ہو۔ اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مسلمین میں سے خارج ہے۔

”حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔“ (اشتہار مورخہ ٢ اکتوبر ١٨٩٠ء مقام دہلی مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣١۔٢٣٠)

ناظرین! اب مرزا قادیانی کا دافع البلاء میں فرمانا کہ سچا خدا وہ ہے۔ جس نے قادیان میں رسول بھیجا، جو مجھ کو نہیں مانتا وہ کافر ہے۔ جہنمی ہے اور جو میری بیعت نہ کرے اس کی نجات نہ ہو گی۔ میں رسول اور نبی ظل الانبیاء ہوں۔ کونسا صحیح سمجھیں اور کونسا غلط؟ بہر حال جو پہلا امر قرآن اور حدیث کے موافق ہے یعنی محمد ﷺ کے بعد جو دعویٰ نبوت کرے کافر ہے۔ وہی درست ہے اور مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت غلط ہے۔

٧١

صفحہ ٣٤٨

جلد ٧

معیار صداقت نمبر ٩

نبی کو خدا تعالیٰ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں معجزہ عنایت کرتا ہے تاکہ عوام پر اس کو فضیلت و تفوق ہو۔ مرزا قادیانی کو کوئی معجزہ خدا نے نہیں دیا۔ صرف جفاروں رمالوں کاہنوں جوتشیوں کی طرح پیشگوئیاں پر زور ڈالا ہوا تھا کہ فلاں مر جائے گا۔ اگر شادی کی تو اولاد ہو گی۔ کسی کو وی پی بھیجا یا چندہ کا اشتہار دیا تو منی آرڈروں کے آنے کی پیشگوئی کر دی۔ چند خواب بذریعہ تاویلات باطلہ و تعبیر نامہ سچے کر لیے۔ جس امر میں دوسرے لوگ بھی اس کے ساتھ شریک ہیں۔ پس یہ معجزہ نہیں اور نہ کوئی خرق عادت ہے اور نہ مرزا قادیانی سے کوئی خرق عادت ظہور میں آئی بلکہ وہ خود خرق عادت بلکہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات سے بھی انکار کرتے رہے کہ خلاف قانون قدرت نہیں ہو سکتا۔

معیار صداقت نمبر ١٠

نبی اپنے دعویٰ کی بنیاد کسی نبی کی وفات پر نہیں رکھتا۔ مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ کی بنیاد وفات مسیح پر رکھی ہوئی تھی کہ اگر عیسیٰ ابن مریم زندہ ہے تو میں نبی و رسول نہیں اور اگر وہ مردہ ثابت کر دوں تو نبی ہوں۔ اس واسطے بھی مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت سچا نہیں تھا۔

معیار صداقت نمبر ١١

مرزائی صاحبان وفات مسیح کی دلائل میں کہتے ہیں کہ عیسیٰؑ کی عمر ١٢٠ برس کی ازروئے حدیث ہے چونکہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی عمر ٦٣ برس کی تھی اور حدیث میں ہے کہ نبی اپنے پہلے نبی سے نصف عمر پاتا ہے تو اس دلیل سے مرزا قادیانی کا دعویٰ جھوٹا ہوتا ہے کیونکہ مرزا قادیانی سے سابق نبی محمد رسول کی عمر جب ٦٣ برس کی ہوئی تو مرزا قادیانی کی عمر بتیس برس کی ہونی چاہیے تھی۔ مگر مرزا قادیانی کی عمر تو آنحضرت ﷺ سے بھی بڑھ گئی۔ جس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نبی نہ تھے۔

معیار صداقت نمبر ١٢

تمام نبی ہجرت کرتے رہے حتیٰ کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے بھی ہجرت کی۔ مگر مرزا قادیانی تمام عمر قادیان سے نہیں نکلے۔ پس یہ امر بھی ان کی نبوت کے منافی ہے۔

معیار صداقت نمبر ١٣

جس شہر اور ملک میں نبی ہو وہاں عذاب الٰہی نازل نہیں ہوتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ

٧٢

صفحہ ٣٤٩

کا وعدہ ہے۔ مَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيهِمْ . (انفال ٣٣) یعنی شایان خدا نہیں ہے کہ عذاب کرے ان لوگوں کو جن میں تو ہو۔ مرزا قادیانی خود اقرار کرتے ہیں کہ طاعون عذاب الٰہی ہے اور میرے منکروں کے واسطے ہے اور قادیان اس سے محفوظ رہے گی مگر قادیان میں بھی طاعون پڑی جیسا کہ ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں۔

دوم! اگر طاعون مسیح موعود کے دعوٰی کے ثبوت میں تھی تو مسیح موعود کے مد مقابل فتنہ عیسائیت ہے اور مسیح موعود کسر صلیب کے لیے آنا ہے تو اگر مرزا قادیانی مسیح موعود ہوتے اور طاعون ان کے دشمنوں کے واسطے آئی ہوتی تو عیسائیوں میں طاعون پڑتی نہ کہ الٹا مسلمانوں اور دیگر دیسی اقوام کو تباہ کرتی اور انگریزوں اور عیسائیوں سے ایک بھی طاعون سے نہ مرتا۔ جس سے ثابت ہوا کہ طاعون جیسا کہ پہلے زمانوں میں پڑتی رہی اب بھی پڑی اور مسیح موعود کا نشان نہیں۔ ١٣٤٨ء میں انگلستان میں ایڈورڈ سوم کے عہد میں طاعون پڑی۔ اس وقت کون مسیح موعود تھا؟ پھر ١٦٦٥ء کو اسی ملک میں پڑی پھر ہندوستان میں جہانگیر بادشاہ کے وقت پڑی۔ وہ کس مسیح موعود کی خاطر پڑی؟ ١٠٣٠ء میں انسان کا گوشت پکایا گیا اور فروخت ہوا۔ ١٢٥٨ء میں ایسا قحط پڑا کہ لندن کے ١٥ ہزار باشندے بھوک سے مر گئے۔ ١٣٤٨ء کی وبا میں جو مشرق سے اٹھی۔ اس سے فرانس کی ایک ثلث آبادی ضائع ہو گئی۔

ناظرین! غور فرمائیں کہ اتنے اتنے حادثات جو پہلے زمانوں میں آتے رہے تب کون کون مدعی نبوت ہوا؟ جب کوئی نہیں تو یہ غلط ہوا کہ طاعون مرزا قادیانی کی صداقت کا نشان تھا۔

معیار صداقت نمبر ١٤

نبی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ کے بارے میں وعدہ خلافی کی کہ لوگوں سے تین سو جز اور تین سو دلیل کا روپیہ وصول کیا اور آخر کتاب نہ شائع کی بلکہ دراصل کوئی کتاب نہ تھی ورنہ ایک کتاب تین سو جزو لکھی ہوتی تو ضرور شائع ہوتی اور لوگوں کا روپیہ اپنی ذاتی اغراض کے پورا کرنے کے واسطے خرچ کیا۔

معیار صداقت نمبر ١٥

نبی کا ظاہر و باطن یکساں ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی ایک طرف تو انگریزوں کو دجال اور اپنے آپ کو اس کا قاتل قرار دیتے رہے اور ایک طرف ان کی ایسی تعریف

٧٤

صفحہ ٣٥٠

کرتے رہے۔ دجال اکبر پادری لوگ ہیں اور یہی قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور مسیح موعود کا کام ان کو قتل کرنا ہے۔

’’کشفی حالت میں اس عاجز نے دیکھا کہ انسان کی صورت دو شخص ایک مکان میں بیٹھے ہیں ایک زمین پر اور ایک چھت کے قریب بیٹھا ہے۔ تب میں نے اس شخص کو جو زمین پر بٹھایا ہوا تھا مخاطب کر کے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٩٧ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ١٤٩)

’’مریم کا بیٹا کشیلیا کے بیٹے سے (یعنی رام چندر سے) کچھ زیادت نہیں رکھتا۔‘‘

(انجام آتھم ص ٤١ خزائن ج ١١ ص ٤١)

’’حضرت مسیح کے ہاتھ میں سوا مکر فریب کے کچھ نہ تھا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

اب ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی جس قوم کے نبی کی یہ عزت کرتے ہیں اور ان کے راہبران دین کو دجال اکبر جانتے ہیں۔ ان کی مرزا قادیانی کے دل میں ہرگز عزت نہیں بلکہ اس قوم کو اپنا دشمن سمجھتے تھے۔ مگر خوشامد سے اوپر کے دل سے کیا فرماتے ہیں۔ ’’ابر رحمت کی طرح ہمارے لیے انگریزی سلطنت کو دور سے لایا (خدا تعالیٰ) اور تلخی اور مرارت جو سکھوں کے عہد میں ہم نے اٹھائی تھی۔ گورنمنٹ برطانیہ کے زیر سایہ آ کر ہم بھول گئے اور ہم پر اور ہماری ذریت پر فرض ہو گیا کہ اس مبارک گورنمنٹ برطانیہ کے ہمیشہ شکر گزار رہیں۔‘‘ (ازالہ ص ١٤٢ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ١٦٦) میں تحریر فرماتے ہیں ’’امام زمان ہوں اور خدا میری تائید میں ہے اور وہ میرے لیے ایک تیز تلوار کیطرح کھڑا ہے اور مجھے خبر دی گئی ہے کہ جو شرارت سے میرے مقابل کھڑا ہو گا وہ ذلیل اور شرمندہ کیا جائے گا۔‘‘

(ضرورۃ الامام ص ٢٦ خزائن ج ١٣ ص ٤٩٧)

ناظرین! یہ ہے منافقانہ عبارت۔ جب پادری لوگ اور انگریز دجال ہیں اور مرزا قادیانی مسیح موعود۔ اور خدا تعالیٰ ان کی مدد میں تیز تلوار لے کر کھڑا ہے تو تیز تلوار سے ان کو قتل کرے۔ خدائی تلوار ہو اور تیز بھی ہو اور کاٹا ایک بھی نہ جائے۔ صرف ڈر سے بجائے کاٹنے کے ذلیل و شرمندہ کیا جائے گا۔

(ستارہ قیصریہ ص ٣ خزائن ج ١٥ ص ١١٤ و تحفہ قیصریہ) میں لکھتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ پچاس ہزار سے زیادہ کتابیں اور اشتہارات چھپوا کر میں نے اس ملک و بلاد اسلامیہ تمام ملکوں میں یہاں تک کہ اسلام کے مقدس شہروں مکہ مدینہ روم قسطنطنیہ بلاد شام

٧٤

صفحہ ٣٥١

مصر اور کابل، افغانستان جہاں تک ممکن تھا شائع کیے۔ تیرے رحم کے سلسلے نے آسمان پر ایک رحم کا سلسلہ بپا کیا۔ خدا کی نگاہیں اس ملک پر ہیں۔ جس پر تیری (ملکہ معظمہ) ہیں۔

”دو عیب و غلطیاں مسلمانوں میں ہیں ایک تلوار کے جہاد کو اپنے مذہب کا رکن سمجھتے ہیں۔..... دوسرا خونی مہدی و خونی مسیح کے منتظر ہیں۔“

”ایک غلطی عیسائیوں میں بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ مسیح جیسے مقدس اور بزرگوار کی نسبت جس کو انجیل میں بزرگ کہا گیا۔ نعوذ باللہ لعنت کا لفظ اطلاق کرتے ہیں۔“

(ستارہ قیصریہ ص ١٠ ملخص خزائن ج ١٥ ص ١٢١)

ناظرین کس قدر تملق و جھوٹی خوشامد ہے ایک جگہ تو ”حضرت عیسیٰؑ کو بھلا مانس بھی نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ ”ایسے چال چلن کے آدمی کو ایک بھلا مانس بھی نہیں کہہ سکتے۔ چہ جائیکہ نبی مانا جائے۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٢٩٣) اور اس جگہ مقدس بزرگ، ایک جگہ انگریزی قوم کو رحمت الٰہی فرماتے تو دوسری جگہ دجال اکبر۔ اکثر مرزائی دھوکہ دیتے ہیں کہ انگریز دجال نہیں صرف پادری دجال ہیں یہ ایسی نامعقول بات ہے کہ ایک شخص نعوذ باللہ رسول مقبول ﷺ و صحابہ کرام و علماء امت کی ہتک کرے اور بادشاہ اسلام کی تعریف کرے کیونکہ اس کے ماتحت امن سے رہتا ہے۔ مگر دل میں اس کو دجال دشمن سمجھتا ہے تو کیا وہ شخص مسلمانوں کا دوست اور ولی خیر خواہ سمجھا جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ پس جب مرزا قادیانی سرکار برطانیہ کی پیغمبر و نبی کی تو ہتک کریں اور ان کے علماء اور پیشوایان دین کو دجال کہیں اور اپنے آپ کو ان کا مد مقابل و قاتل و قلع قمع کرنے والا بتائیں۔ مگر قانون کے شکنجہ سے ڈر کر اگر تعریف کر دیں تو یہ نفاق نہیں تو اور کیا ہے؟

معیار صداقت ١٦

نبی راست باز اور سچا ہوتا ہے مگر مرزا قادیانی کی تحریر میں اکثر خلاف واقعہ اور جھوٹی باتیں ہوتی ہیں اور وہ انشاء پردازی اور شاعرانہ لفاظی اور طول طویل عبارت کی ایسی دھواں دھار گھٹا سے اپنے مدعا ثابت کرنے کے واسطے بالکل جھوٹ لکھ دیتے ہیں اور مطلب کے واسطے جھٹ لکھ دیتے ہیں کہ تمام اہل اسلام کا بھی یہی مذہب اور عقیدہ ہے۔ دیکھو ذیل کی عبارت۔

نماز کے لیے مساجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسیا کی طرف بھاگے گا اور جب لوگ

٧٥

صفحہ ٣٥٢

قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا اور جب لوگ عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہو گا اور شراب پیئے گا اور سور کا گوشت کھائے گا اور اسلام کے حلال و حرام کی کچھ پرواہ نہ کرے گا...... آپ کی ختم نبوت کی مہر توڑ دے گا اور آپ کی فضیلت خاتم الانبیاء ہونے کی چھین لے گا۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٢٩ خزائن ج ٢٢ ص ٣١)

(٢) ”احادیث صحیح مسلم و بخاری باتفاق ظاہر کر رہی ہیں کہ در اصل ابن صیاد ہی دجال معہود تھا اور حضرت عمر فاروق ؓ جیسے بزرگ صحابی کے رو برو آنحضرت ﷺ کے قسم کھا رہے ہیں کہ درحقیقت دجال ابن صیاد ہی ہے اور خود آنحضرت ﷺ بھی اس کی تصدیق کر رہے ہیں کہ درحقیقت ابن صیاد ہی دجال معہود ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٢٢ خزائن ج ٣ ص ٢٢٢)

(٣) ”میں نے کوئی ایسے اجنبی معنی نہیں کیے جو مخالف ان معنوں کے ہوں۔ جن پر صحابہ کرام اور تابعین اور تبع تابعین کا اجماع ہو۔ اکثر صحابہ مسیح کا فوت ہو جانا مانتے رہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠١ خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)

ناظرین! اب ہم ہر ایک کا جھوٹ و بہتان ہونا ثابت کرتے ہیں۔

(١) تمام اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح بعد نزول شریعت محمدی کے پابند ہوں گے اور حدیث میں ہے جس کو مرزا قادیانی نے خود کئی جگہ اپنی تصانیف میں قبول کیا ہے کہ حضرت مسیح کا فرض کسر صلیب و قتل خنزیر ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ عیسائیت کو باطل کرے گا اور خنزیر کا کھانا حرام قرار دے گا۔ ہم ناظرین کی تسلی کے واسطے صحیح بخاری کی اصل حدیث بھی نقل کرتے ہیں تاکہ مرزا قادیانی کی راستبازی معلوم ہو کہ کس طرح حضرت مسیح پر شراب خوری اور خنزیر خوری کا الزام لگایا۔ حالانکہ مسلمانوں کی کسی کتاب میں بھی نہیں کہ حضرت عیسیٰؑ بعد نزول اسلام کے برخلاف عیسائیت پھیلا دیں گے اور شریعت محمدی کے برخلاف تعلیم دیں گے یا عمل کریں گے مگر مرزا قادیانی نے تمام جھوٹ اپنے پاس سے تراش لیا۔ صحیح بخاری والذی نفسی بيده لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكماً عدلا فیکسر الصليب و یقتل الخنزیر و یضع الجزیۃ. (بخاری ج ١ ص ٤٩٠ باب نزول عیسیٰ بن مریم) ترجمہ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ قدرت میں میری جان ہے۔ قریب ہے کہ نازل ہوں گے تم میں بیٹے مریم کے حاکم عادل پس توڑیں گے صلیب اور قتل کریں گے خنزیر اور موقوف کریں گے جزیہ اہل ذمہ سے۔ اس حدیث سے

٧٦

صفحہ ٣٥٣

تین امور ثابت ہوتے ہیں ایک حضرت عیسیٰؑ کا حاکم عادل ہونا‘ دوسرا عیسائیت کے برخلاف ہونا‘ تیسرا جزیہ کا موقوف کرنا۔ اب ہم پوچھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے یہ کس طرح کہہ دیا کہ مسیح بعد نزول بجائے اسلام کے عیسائیت پر عمل کرے گا اور اسلام کے حلال و حرام کا کچھ خیال نہ کرے گا اور معاذ اللہ شراب پیئے گا اور سور کا گوشت کھائے گا اور کیونکر ہو سکتا ہے کہ جو صلیب کے توڑنے کے واسطے آئے صلیب پرستی کرے اور خنزیر کو قتل کرنے آئے یعنی اس کا کھانا موقوف کرانے آئے وہ خود کھائے اس بات پر عیسائی اور مسلمان دونوں متفق ہیں کہ ابن مریمؑ کا دوبارہ نزول جلال کے ساتھ ہوگا۔ صاف معنی ہیں کہ اس وقت جنگ ضرور ہو گا یعنی حرب کا وضع کرنا۔ مگر بزدلوں اور نامردوں کے نزدیک وضع حرب ناحق خون ہے اور جہاد فی سبیل اللہ کے کرنے والوں کو خونی لقب دیتے ہیں۔ جب امام خود سور کا گوشت کھائے تو دوسروں کو کبھی منع نہیں کر سکتا۔ پس یہ بہتان مرزا قادیانی کا خود تراشیدہ ہے جو کہ نبی کی شان سے بعید ہے۔ پس مرزا قادیانی نبی نہ تھے۔

دجال تصدیق کیا ہے حالانکہ یہ غلط ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ حضرت ﷺ نے تو عمرؓ کو فرمایا کہ ابن صیاد دجال نہیں کیونکہ دجال کا قاتل عیسیٰ بیٹے مریمؑ کے نبی اللہ ہیں۔ جس کے درمیان اور میرے کوئی نبی نہیں وہ بعد نزول دجال کو قتل کرے گا۔ مگر مرزا قادیانی کی راستبازی دیکھئے کہ جھوٹ لکھ مارا کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے تصدیق کی کہ درحقیقت دجال ابن صیاد ہے۔

یہ بالکل سفید جھوٹ ہے۔ جب محمد رسول اللہ ﷺ نے خود فرمایا کہ ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ (درمنثور ج ٢ ص ٣٦) یعنی عیسیٰؑ نہیں مرا اور وہ تم میں واپس آنے والا ہے قیامت سے پہلے۔ اور چونکہ حضرت عمرؓ کو جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تو دجال کا قاتل نہیں ہے۔ اس کا قاتل عیسیٰ ابن مریمؑ ہے جو بعد نزول اس کو قتل کرے گا۔ (مشکوۃ ص ٤٧٩ باب قصۃ ابن صیاد عن جابرؓ) تو اس وقت اگر حضرت عمرؓ کا یہ عقیدہ ہوتا کہ عیسیٰؑ تو مر چکے ہیں اور جو مر جائے دوبارہ دنیا میں نہیں آتا تو وہ ضرور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کرتے کہ یا رسول اللہ ﷺ عیسیٰؑ دجال کا قاتل کس طرح ہے وہ تو مر چکا ہے؟ مگر چونکہ حضرت عمرؓ نے حضرت عیسیٰؑ کو قاتل دجال تسلیم کر لیا اور ابن صیاد کو قتل نہ کیا تو ثابت ہوا کہ صحابہ کرامؓ کا یہ عقیدہ تھا کہ مسیح زندہ ہے۔ نہ کہ

٧٧

صفحہ ٣٥٤

مسیح فوت ہو چکا ہے۔ یہ صرف مرزا قادیانی کا اپنا جھوٹ ہے کہ صحابہ کرامؓ کا عقیدہ یہ تھا کہ مسیح فوت ہو چکا ہے یہ بھی بہتان ہے کہ تابعینؒ و تبع تابعینؒ مسیح ؑ کی موت کے قائل تھے اور نزول عیسیٰ ؑ کے منکر تھے اور کسی بروزی مسیح موعود کے قائل تھے ہم بڑے زور سے مرزائیوں کو چیلنج دیتے ہیں کہ قرآن سے حدیث سے اجتہاد ائمہ اربعہ سے اقوال تابعین و تبع تابعین وصوفیائے کرام و اولیائے عظام میں سے کسی ایک کا بھی کوئی قول یا مذہب یا عقیدہ ثابت کر دیں کہ مسیح موعود ظلی و بروزی طور پر ہوگا تو ہم اس کو سو روپیہ انعام دیں گے۔ بشرطیکہ فیصلہ کوئی صاحب غیر مذہب ثالث ہو کر ان کے حق میں دے دے۔ رات دن جھوٹ بول کر لوگوں کو دھوکہ دے کر اپنا مدعا ثابت کرنا نبی کی شان سے بعید ہے۔ لکھتے ہیں کہ ”ڈپٹی آتھم کی پیشگوئی بہت صفائی سے پوری ہو گی۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٢١٢ خزائن ج ٢٢ ص ٢٢١)

سبحان اللہ! صفائی اسی کا نام ہے؟ پھر لکھتے ہیں کہ ”اس مرتبہ تک وہ لوگ پہنچتے ہیں جو شہوات نفسانیہ کا چولہ آتش محبت الٰہی میں جلا دیتے ہیں اور خدا کے لیے تلخی کی زندگی اختیار کر لیتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ آگے آگ ہے اور دوڑ کر اس موت کو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور ہر ایک درد کو خدا کی راہ میں قبول کرتے ہیں۔“ الخ

(حقیقۃ الوحی ص ٢٢ خزائن ج ٢٢ ص ٢٤)

یہ سب شاعرانہ لفاظی ہے ورنہ آپ کا عمل یہ ہے کہ ڈر کے مارے حج کو نہ گئے اور ترک فرض کیا اور ایک ڈپٹی کمشنر کے سامنے الہاموں سے توبہ کر دی اور اقرار نامہ پر دستخط کر دیے کہ آئندہ ایسے الہامات شائع نہ کروں گا۔ کیا راستباز کا کام ہے کہ باتوں میں تو شاعرانہ انشاء پردازی سے آسمان پر چلا جائے اور خود عمل نہ کرے۔ کیا موت کے منہ میں دوڑ کر جانے کے یہی معنی ہیں کہ عدالت کے ڈر سے سچ بات کو چھپایا جائے؟ جب ان کے نزدیک غیر احمدی کافر و معذب تھے تو پھر ان سے صلح کے کیا معنی ۔ باطل است آنچہ مدعی گوئد‘ کہنا دعوائے آسان ہے۔ مگر عمل مشکل ہے۔ یہ کون مان سکتا ہے کہ مرزا قادیانی نے شہوت نفسانیہ کا چولہ آتش محبت الٰہی میں جلا دیا ہوا تھا۔ جب شہوات نفسانیہ جل گئی تھیں تو محمدی بیگم کے نکاح کی خواہش کس طرح پیدا ہوئی اور رات دن قوت کی دوائیں اور مقوی و لذیذ غذائیں کون کھاتا تھا؟ اور کستوری وغیرہ ہر روز کون استعمال کرتا تھا؟ روغن کی جگہ بادام روغن کس واسطے استعمال ہوتا تھا؟ شیخ سعدی نے خوب سچ کہا ہے ۔

٧٨

صفحہ ٣٥٥
عالم کہ کامرانی و تن پروری کند
او خویشتن گم است کرا رہبری کند
ہر کہ ہست از فقیہ و پیر و مرید
وز زباں آوراں پاک نفس
چوں بدنیائے دوں فرود آید
بعسل در بماند ہمچو مگس

پھر لکھتے ہیں۔ ”غرض تمام صحابہ کا اجماع حضرت عیسیٰؑ کی موت پر تھا۔“ (حقیقت الوحی ص ٣٥ خزائن ج ٢٢ ص ٣٧) حالانکہ خود ہی ازالہ اوہام میں اکثر صحابہ کا لفظ لکھ چکے ہیں۔ ”(ازالہ اوہام ص ٣٠٢ خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) مگر دروغ گورا حافظہ نہ باشد کا معاملہ ہے اور آگے جا کر ایک بڑا سخت بہتان باندھا ہے کہ پہلا اجماع تھا جو آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد ہوا۔ اسی اجماع کی وجہ سے تمام صحابہ حضرت عیسیٰؑ کی موت کے قائل تھے۔ پہلے اکثر صحابہ اکثر صحابہ کا لفظ خود لکھ چکے ہیں۔ اب تمام صحابہ ہو گئے حالانکہ غلط ہے۔

ناظرین! اوپر ہم سب صحابہ سے اعلیٰ فراست والے صحابی یعنی حضرت عمرؓ کا عقیدہ تو ظاہر کر آئے ہیں کہ وہ حضرت کی زبانی سن کر کہ دجال کا قاتل عیسیٰؑ ابن مریم ہے یقین کر گئے۔ اب ہم نیچے دوسرے محدثین و علماء و صوفیاء لکھ دیتے ہیں تا کہ مرزا قادیانی کا جھوٹ ثابت ہو۔ دیکھو سیف چشتیائی۔

ناظرین! اس بات پر کل امت مرحومہ کا اجماع ہے کہ عیسیٰ بن مریم بعینہ (نہ بمثیلہ کما اخترعہ القادیانی) آسمان سے بحسب پیشگوئی آنحضرت ﷺ کے اتریں گے اور ظاہر ہے کہ نزول جسمی بعینہ بغیر اس کے کہ رفع جسمی بحالت زندگی مانا جائے۔ ممکن نہیں۔ لہذا بڑے زور سے ہم کہتے ہیں کہ کل امت کا جیسے کہ نزول مذکور پر اجماع ہے۔ ایسا ہی حیات مسیح عندالرفع پر بھی ہے۔ یعنی آسمان کی طرف اٹھایا جانے کے وقت مسیح کی حیات پر سب کا اتفاق ہے۔ بحکم مقدمہ مذکورہ کہ نزول فرع ہے رفع کی۔ رہا یہ کہ قبل از رفع بھی مسیح زندہ رہا کما ہو مذہب الجمہور‘ مالکؒ کا قائل ہونا لحیات المسیح عندالرفع۔ ان کے بڑے بڑے معتبروں مقلدوں کی تصریحات سے پایا جاتا ہے۔ ورنہ مقلدین امام مالکؒ اپنے امام سے علیحدہ نہ ہوتے اور بر تقدیر علیحدہ ہونے کے نزول جسمی بعینہ کو جو فرع ہے۔ رفع جسمی بعینہ کی‘ مجمع علیہ کل امت مرحومہ کا نہ لکھتے۔ لہذا مجمع البحار میں (قال مالک مات) کے بعد شیخ محمد طاہر یہ تاویل لکھتے ہیں۔ ولعلہ اراد رفعہ علی السماء

٧٩

صفحہ ٣٥٦

او حقيقة و يجئ اخر الزمان لتواتر خبر النزول اس تقریر سے واضح ہوا کہ مسئلہ نزول کی طرح حیات مسیح پر بھی اجماع ہے۔ کل اہل اسلام اس پر متفق ہیں بلکہ نصاریٰ بھی اس میں مسلمانوں سے الگ نہیں۔ مگر اجماعی حیات الیٰ ما بعد النزول وہ ہے جو مسیح کے لیے عندالرفع مانی گئی ہے۔ اس مضمون پر عبارات مسطورہ ذیل شاہد ہیں۔ امام الائمة ابو حنیفةؒ فقہ اکبر میں فرماتے ہیں۔ وخروج الدجال و یاجوج وماجوج و طلوع الشمس من المغرب و نزول عيسٰی عليه السلام من السماء وسائر علامات یوم القیمة علٰی ماوردت به الاخبار الصحيحة حق کائن (فقہ اکبر ص ١٣٦) اور یہی مذہب ہے کل ائمہ شافعیہ کا یعنی سب اسی عیسیٰؑ بن مریم بعینہ لا بمثیلہ کے نزول پر متفق ہیں۔ چنانچہ ائمہ صحاح ستہ اور شیخ سیوطی وغیرہ کی تصریح سے ظاہر ہے۔

اور ائمہ مالکیہ کا بھی یہی مذہب ہے چنانچہ شیخ الاسلام احمد نفراوی المالکی نے ”فواکہ دوانی“ میں تصریح کر دی کہ اشراط ساعت سے ہے آسمانوں سے عیسیٰؑ کا اترنا اور علامہ زرقانی مالکی بڑی بسط سے لکھتے ہیں۔ فاذا نزل سيدنا عيسٰى عليه الصلوٰة والسلام فانه يحكم بشريعة نبينا ﷺ بالهام او اطلاع على الروح المحمدی او بما شاء اللّٰه من استنباط لها من الکتب والسنة و نحو ذلک۔

(شرح مواہب لدنیہ الزرقانی ج ٥ ص ٣٤٧)

اس کے بعد لکھتے ہیں فهو عليه السلام وان كان خليفة فى الامة المحمديه فهو رسول و نبی کریم على حاله لاكما يظن بعض الناس انه یاتی واحدا من هذه الامة بدون نبوة و رسالة وجهل انهما لا يزولان بالموت كما تقدم فکیف بمن هو حی نعم هو واحد من هذه الامة مع بقائه على نبوته و رسالته۔ (شرح المواہب الدنیہ للزرقانی ج ٥ ص ٣٤٨) اور علامہ سیوطی کتاب الاعلام میں فرماتے ہیں انه يحكم بشرع نبينا لا بشرعہ نص على ذالک العلماء وردت به الاحادیث وانعقد عليه الاجماع۔ (الحاوی ج ٢ ص ١٥٥) اور فتح البیان میں ہے کہ وقد تواترت الاحادیث بنزول عيسٰی جسما اوضح ذلک الشوكاني فى مؤلف مستقل يتضمن ذكر ”ماورد فى المنتظر والدجال والمسیح“ و غیره فی غیره و صحح الطبرى هذا القول و وردت بذالک الاحاديث المتواتره۔ (فتح البیان ص ٣٤٤ ج ٢) ائمہ اربعہ کے مسانید اور ایسے ہی ان کے مقلدین کے تصنیفات میں احادیث نزول موجود ہیں کسی نے نزول عیسیٰؑ ابن مریم کو نزول مثیل عیسیٰؑ نہیں لکھا بلکہ نزول جسدہ ٨٠

صفحہ ٣٥٧

و بعینہ کی تصریح کر دی ہے۔ فتوحات کی نقلیں بحوالہ ابواب ابھی گزر چکی ہیں اور نیز حضرت شیخ اکبر اس نزول کے اجماعی ہونے کو اس عبارت سے باب ٧٣ میں ظاہر فرماتے ہیں وانہ لا خلاف انہ ینزل فی اخر الزمان الخ اور نیز حدیث برملا وصی عیسیٰ فتوحات میں موجود ہے جس سے چار ہزار صحابی کا اجماع حیات مسیح پر معلوم ہوتا ہے۔

وسیجئ انشاء اللہ تعالیٰ الغرض کل محدثین اور ائمہ مذاہب اربعہ اور اصحاب روایت و درایت اور صحابہ کرامؓ چنانچہ حضرت عمرؓ، حضرت ابن عباسؓ، حضرت علیؓ، عبداللہ بن مسعودؓ، ابو ہریرہؓ، عبداللہ بن سلامؓ، ربیعؓ، انسؓ، کعبؓ، حضرت ابوبکر صدیقؓ، جابر وثوبانؓ، عائشہؓ، تمیمؓ وغیرہ اور بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابوداؤد، بیہقی، طبرانی، عبد بن حمید، ابن ابی شیبہ، حاکم، ابن جریر، ابن حبان، امام احمد، ابن ابی حاتم، عبدالرزاق وغیرہ وغیرہ کا اجماع ہے۔ عیسیٰ ابن مریمؑ کے زندہ اٹھایا جانے اور اترنے پر بعینہ لا بمثیلہ کما قال شیخ الاسلام الحرانی و صعود الآدمی ببدنہ الی السماء قد ثبت فی امر المسیح عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فانہ صعد الی السما و سوف ینزل الی الارض وھذا مما توافق النصاری علیہ المسلمین فانھم یقولون المسیح صعد الی السماء ببدنہ و روحہ کما یقولہ المسلمون و یقولون انہ سوف ینزل الی الارض ایضا و ھذا کما یقولہ المسلمون و کما اخبر بہ النبی ﷺ فی الاحادیث الصحیحہ لکن کثیراً من النصاری یقولون انہ صعد بعد ان صلب و انہ قام من القبر و کثیراً من الیھود یقولون انہ صلب ولم یقم من قبرہ اما المسلمون و کثیر من النصاری یقولوہ انہ لم یصلب ولکن صعد الی السماء بلا صلب والمسلمون ومن وافقھم من النصاری یقولون انہ ینزل الی الارض قبل یوم القیمۃ وان نزولہ من اشراط الساعۃ کما دل علیٰ ذلک والسنۃ الخ اس تصریح سے ثابت ہے کہ قادیانی کا مذہب اس مسئلہ میں سب اہل اسلام سے الگ ہے۔

(از سیف چشتیائی ص ٥٠)

معیار صداقت نمبر ١٧

نبی کسی پر لعنت نہیں کرتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انی لم ابعث لعانا وانما بعثت رحمۃ (مسلم ج ٢ ص ٣٢٣ باب النھی عن لعن الدواب وغیرھا) اللھم اھد قومی فانھم لا یعلمون. (درمنثور ج ٢ ص ٢٩٨) یعنی میں لعنت کرنے کے لیے نہیں نبی بنایا گیا۔ مجھے خدا نے لوگوں کو خدا کی طرف بلانے اور رحمت کے لیے نبی بنایا ہے۔ اے خدا میری

٨١

صفحہ ٣٥٨

قوم کو ہدایت فرما کیونکہ وہ مجھے نہیں جانتے۔ (دیکھو قاضی عیاض شفا صفحہ ٤٧) اللہ اکبر! یہ اس وقت کا فرمانا ہے جب کہ ابن قمیئہ کے پتھر سے نبی ﷺ کی پیشانی اور ابن شہاب کے پتھر سے حضور ﷺ کا بازو زخمی ہوا اور عتبہ کے پتھر سے نبی اللہ کے چاروں دانت ٹوٹ گئے۔

اب مرزا قادیانی کا حال ملاحظہ فرمائیے کہ تمام تصانیف میں سوا سب وشتم و لعنت کے یا لوگوں کی موت کے کچھ نہیں حقیقۃ الوحی میں کئی جگہ لکھا ہے کہ بابو الہی بخش میری بددعا سے مرا۔ ڈوئی صاحب میرے مقابلہ پر دعویٰ کرتا تھا کہ میری بددعا سے مرا اور چراغ الدین جموں والا میری بددعا سے مرا۔ لیکھرام ہماری بددعا سے مرا اور جو شخص مرزا قادیانی کے الہام یا پیشگوئی کو امر واقعہ کے لحاظ سے سچا نہ سمجھے تو اس کے حق میں وہ خوش خلقی و رحمت اللعالمینی کا ثبوت دیتے ہیں کہ پناہ بخدا۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔ ”اے بد ذات فرقہ مولویان تم کب تک حق کو چھپاؤ گے کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے۔ اے ظالم مولوی تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ لیا۔“

(انجام آتھم ص ٣١ خزائن ج ١١ ص ٣١)

ایک دعا بھی مرزا قادیانی کی لکھتا ہوں تا کہ سچے نبی اور جھوٹے میں فرق ہو۔ وہو ہذا۔ ”میں عاجزی سے دعا کرتا ہوں کہ ان تیرہ مہینوں میں جو ١٥ دسمبر ١٨٩٨ء سے ١٥ جنوری ١٩٠٠ء تک شمار کیے جائیں گے۔ شیخ محمد حسین اور جعفر زٹلی اور نیچری مذکور کہ جنھوں نے میرے ذلیل کرنے کے لیے اشتہار لکھا ہے۔ ذلت کی مار سے دنیا میں رسوا کر۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٦٠) سبحان اللہ سچے نبی کو دشمنوں سے زخم لگیں اور وہ دعا کرتا ہے۔ مگر اس کی تابعداری کا مدعی جس تابعداری کے ذریعہ سے نبی کہلاتا ہے اس کو کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔ صرف دشمنوں کے اشتہار پر ان کو بددعا دیتا ہے۔ پوری پوری تابعداری اسی کا نام ہے۔

ناظرین صرف اسی قدر نمونہ کے طور پر لکھنا کافی ہے۔ مرزا قادیانی کی پیشگوئیاں تو مخالفین کی موت ہی ظاہر کرتی رہیں اور بددعائیں ان کی بربادی اور ذلت اور لعنت کی کرتے رہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی کو کسی نے کوئی بدنی سزا نہیں دی۔ صرف تحقیق حق اور اسلام کے برخلاف ان کی تحریروں کو دیکھ کر لکھا ہے۔ سچ جھوٹ میں فرق کے واسطے اتنا ہی کافی ہے کہ دانت مبارک ٹوٹے بازو ٹوٹے۔ پیشانی مبارک زخمی ہوئی۔ مگر اس کے عوض دعا نکلتی ہے اور جس کو کچھ بھی تکلیف نہیں پہنچی وہ دن رات سب کو کوستا

٨٢

صفحہ ٣٥٩

ہے اور بددعا دیتا ہے۔

معیار صداقت نمبر ١٨

نبی ﷺ دنیاوی عیش و زر و مال کی طرف رغبت نہیں کرتا۔ رسول اللہ ﷺ کا نمونہ سامنے ہے۔ آپ ﷺ دعا فرماتے کہ الٰہی ایک دن بھوکا رہوں اور ایک دن کھانے کو ملے۔ بھوک میں تیرے سامنے گڑگڑاؤں۔ تجھ سے مانگوں اور کھا کر تیری حمد و ثنا کروں۔

(الشفاء ص ٦٢)

حضرت صدیقہ فرماتی ہیں ایک ایک مہینہ برابر ہمارے چولہے میں آگ روشن نہ ہوتی۔ حضرت ﷺ کا کنبہ پانی اور کھجور پر گزران کرتا۔

(بخاری عن عائشہؓ)

اب مرزا قادیانی کا حال سنو کہ گوشت کی جگہ مرغی کا گوشت، گھی کی جگہ بادام روغن، عطریات و مقویات و لذیذ کھانے اور کستوری وغیرہ کا استعمال اور سونے چاندی و زیورات کا وہ شوق کہ جس کی تفصیل لکھنے کو تو بہت وقت چاہیے مگر اس پر نفسانی خواہشات کے ترک کا دعویٰ ہے اور نفسانی خواہشات کا چولہ آتش محبت الٰہی میں جل گیا ہے۔ خدا جانے اگر باقی رہتا تو کیا آفت لاتا۔ خواہش نفس مردہ کا یہ عالم کہ مرتے دم تک محمدی بیگم کی خواہش رہی اور امیدوار رہے کہ اگر باکرہ نہیں تو بیوہ ہو کر ہی ملے مگر منہ سے فرماتے جاتے ہیں کہ لذات نفسانی و خواہشات دنیاوی کا چولہ جلا دیا ہے۔ جلے ہوئے نفس کے گھر کے زیورات کی ذرہ فہرست سن لو۔ پھر خود انصاف کر لینا۔ کڑے کلاں طلائی قیمتی ٧٥٠ روپیہ۔ کڑے خورد قیمتی ٢٥٠ روپیہ۔ بندے طلائی ٥٠٠ روپیہ۔ کنٹھہ طلائی ٢٢٥ روپیہ۔ کڑے کنگن طلائی قیمتی ٢٤٠ روپیہ۔ ڈنڈیاں نسیاں۔ بالے گھنگرو والے سب دو عدد کل قیمتی ٦٠٠ روپیہ۔ حساں خورد طلائی قیمتی ٣٠٠ روپیہ۔ پونچیاں طلائی بڑی ٤ عدد قیمتی ١٥٠ روپیہ۔ جوشن و مونگے ٤٠ عدد حساں کلاں ٣ عدد طلائی قیمتی ٢٠٠ روپیہ۔ چاند طلائی قیمتی ٥٠ روپیہ بالیاں جڑاؤ سات عدد ١٥٠ روپیہ۔ نتھ طلائی قیمتی ٤٠ روپیہ۔ ٹیپ جڑاؤ طلائی قیمتی ٧٠ روپیہ۔ میزان قیمت کل تین ہزار پچیس روپیہ ہے۔

(کلمہ فضل رحمانی)

ناظرین! یہ فنا فی الرسول ہیں اور دنیا و مافیہا سے غافل ہو کر بقا باللہ کے درجہ کو پہنچے ہوئے ہیں۔

چوں بدنیائے دوں فرود آید
بعسل در بماند ہمچو مگس

٨٣

صفحہ ٣٦٠

معیار صداقت نمبر ١٩

جب کوئی نبی آتا ہے تو زمانہ کی اصلاح ان کے مروجہ علوم و عقول کے موافق کرتا ہے۔ اس زمانہ میں علوم فلسفہ و سائنس کا زور ہے اور تمام انسانوں کی طبائع علوم کی طرف جھکی ہوئی ہیں۔ اس زمانہ کا نبی سنت اللہ کے مطابق بڑا سائنس دان فلسفی ہونا چاہیے۔ جس طرح قرآن نے تمام عرب کو فصاحت و بلاغت سے اور دوسرے ملکوں کے لوگوں کو سیاسی و تمدنی مضامین سے محو حیرت کر کے اپنا سکہ جمایا تھا۔ اس زمانہ کا نبی بھی اپنے فلسفہ و سائنس سے سب کو زیر کرتا اور الٰہی فلسفہ زمانہ کی طبائع کے مطابق تعلیم دیتا۔ مگر مرزا قادیانی نے تو بجائے موجودہ زمانہ کے حالات کی تعلیم کے دو ہزار برس پیچھے کو ہٹا دیا جو استعارات کفر و شرک کے محمد ﷺ و قرآن نے ١٣ سو برس تک مٹائے تھے۔ وہ مرزا قادیانی نے پھر تازے کیے کہ (١) میں خدا کے پانی سے ہوں۔ (٢) میں نے دیکھا کہ میں خدا ہوں اور سچ مچ خدا ہوں۔ (٣) مجھ کو خدا نے بمنزلہ بیٹے اور اولاد اور تفرید کے کہا۔ (٤) خدا نے مجھ کو کہا کہ میں تیری حمد کرتا ہوں۔ خدا نے مجھ کو کہا کہ میں تم کو پیدا نہ کرتا تو آسمان کو پیدا نہ کرتا۔ اب تیرا مرتبہ یہ ہے کہ جس چیز کو تو کہے ہو جا وہ ہو جائے گی۔ حالانکہ ہوا کچھ بھی نہ جیسے کہ زمانہ کی رفتار چلی آتی ہے کہ مریدان بے پر مانند مرزا قادیانی نے دیکھا کہ عوام کرامتوں اور نشانوں پر پھنستے ہیں۔ دوسرے پیروں کی طرح اپنی کرامات و نشانات تصنیف کر دیے کہ جس پر لوگ ہنس رہے ہیں کہ میں نے خدا کو مجسم دیکھا اور دستخط کرائے۔ سرخی کے دھبے میرے کرتہ پر پڑے۔ خدا میرے میں باتیں کرتا ہے یہ سب نبوت کے منافی ہیں۔

معیار صداقت نمبر ٢٠

نبی جھوٹی فرضی کارروائی نہیں کیا کرتے۔

مرزا قادیانی نے جائیداد غیر منقولہ میں سے باغ و زمین اپنی بیوی نصرت جہاں بیگم کے نام گروی کر دی اور ٣١ سال کی میعاد کے گزرنے کے بعد بیع بالوفا کر دی کہ جائز وارثوں کو حصہ نہ ملے اور پیاری بیوی کی خاطر یہ بے انصافی کی کہ پہلی بیوی کی اولاد کو محروم کر دیا۔ کبھی سنا ہے کہ بیوی نے ان زیورات کے بدلے جو خاوند کا ملک ہے اس کی غیر منقولہ جائیداد گروی کرائی ہو اور حضرت اقدس پر بیوی کی یہ بے اعتباری کہ رجسٹری کرائی اور پھر زیورات بھی لے لیے۔

(دیکھو نقل رجسٹری وہو ہذا)

٨٤

صفحہ ٣٦١

انتقال جائیداد مرزا غلام احمد قادیانی

(نقل رجسٹری با ضابطہ)

منکہ مرزا غلام احمد خلف مرزا غلام مرتضیٰ قوم مغل ساکن و رئیس قادیان تحصیل بٹالہ کا ہوں۔ موازی ١٤ کنال اراضی نمبری خسرہ ١٧١٧ / ١٧٠٣/٢٢٤٧ قصبہ کا کھاتہ نمبر ١٧٠٧ معاملہ ١٢ بحوالہ جمعبندی ٩٦ و ١٨٩٧ء واقعہ قصبہ قادیان مذکور موجود ہے۔ ١٤ کنال مذکورہ میں سے موازی ١٢ کنال اراضی نمبر خسرہ نہری ١٧٠٣/٢٢٤٧ مذکور میں باغ لگا ہوا ہے اور درختان آم و کھٹہ و مٹھ و شہتوت وغیرہ اس میں لگے ہوئے پھلے ہوئے ہیں اور موازی ٢ کنال اراضی مذکورہ چاہی ہے اور بلا شرکت الغیر مالک و قابض ہوں۔ سو اب مظہر نے برضا و رغبت خود بدرستی ہوش و حواس خمسہ اپنی کل موازی ١٤ کنال اراضی مذکورہ کو معہ درختان مثمرہ وغیرہ موجودہ باغ و اراضی زرعی و نصف حصہ آب و عمارت و چرخ چوب چاہ موجودہ اندرون باغ و نصف حصہ کہول و دیگر حقوق داخلی و خارجی متعلقہ اس کے بعوض مبلغ پانچ ہزار روپیہ سکہ رائج نصف جن کے مبلغ ٢٥٠٠ ہوتے ہیں۔ بدست مسمات نصرت جہاں بیگم۔ زوجہ خود رہن و گروی کر دی ہے اور روپیہ مبینہ تفصیل ذیل زیورات و نوٹ کرنسی نقد مرتھنہ سے لیا ہے۔ کڑے کلاں طلاء قیمتی ٧٥٠ روپیہ۔ کڑے خورد طلاء قیمتی ٢٥٠ روپیہ۔ ڈنڈیاں ١٤ عدد۔ بالیاں ٢ عدد۔ ہسلی عدد ١۔ و بیل طلائی ٢ عدد۔ بالی گھنگرو والی طلائی دو عدد کل قیمتی ٦٠٠ روپیہ۔ کنگن طلائی قیمتی ٢٢٠ روپیہ۔ بند طلائی قیمتی ١٥٠ روپیہ۔ کنٹھہ طلائی قیمتی ٢١٥ روپیہ۔ بجلیاں جوڑ طلائی قیمتی ٣٠٠ روپیہ۔ پونچیاں طلائی بڑی قیمتی چار عدد ١٥٠ روپیہ۔ جوشن اور مونگے چار عدد قیمتی ١٠٠ روپیہ۔ چنیاں کلاں ٣ عدد طلائی قیمتی ٢٠٠ روپیہ۔ چاند طلائی قیمتی ٥٠ روپیہ۔ بالیاں جڑاؤ دار سات عدد قیمتی ١٥٠ روپیہ۔ نتھ طلائی قیمتی ٤٠ روپیہ۔ نتھ طلائی خورد قیمتی ٢٠ روپیہ۔ حمائل قیمتی ٢٥ روپیہ۔ پہونچیاں خورد طلائی ٢٢ روپیہ۔ بڑی طلائی قیمتی ٤٠ روپیہ۔ ٹیپ جڑاؤ طلائی قیمتی ٧٠ روپیہ۔ کرنسی نوٹ نمبر ١٥٩٠٠٠ ی ٢٩ لاہور کلکتہ قیمتی ١٠٠٠۔ اقرار یہ کہ عرصہ ٣٠ سال تک فک الرہن مرہونہ نہیں کراؤں گا۔ بعد ٣٠ سال مذکور کے ایک سال میں جب چاہوں زر رہن دوں تب فک الرہن کرا لوں۔ ورنہ بعد انقضائے میعاد بالا یعنی ٣١ سال کے بتیسویں ٣٢ سال میں مرہونہ بالا ان ہی روپوں پر بیع بالوفا ہو جائے گا اور مجھے دعوٰی ملکیت نہیں رہے گا۔ قبضہ اس کا آج سے کرا دیا ہے۔ داخل خارج کرا دوں گا اور منافع مرہونہ بالا

٨٥

صفحہ ٣٦٢

کی قائمی رہن تک مرتہنہ مستحق ہے اور معاملہ فصل خریف سم ١٩٥٥ سے مرتہنہ دے گی۔ اور پیداوار لے گی۔ جو ثمرہ اس وقت باغ میں ہے اس کی بھی مرتہنہ مستحق ہے اور بصورت ظہور تنازعہ کے میں ذمہ دار ہوں اور سطر ٣ میں نصف مبلغ و رقم کے آگے رقم ٢٠٠ کو قلم زن کر کے صماء لکھا ہے جو صحیح ہے اور جو درختان خشک ہوں وہ بھی مرتہنہ کا حق ہو گا۔ اور درختان غیر ثمرہ و خشک شدہ کو مرتہنہ واسطے ہر ضرورت و آلات کشاورزی کے استعمال کر سکتی ہے بنا بران رہن نامہ لکھ دیا ہے کہ سند ہو۔ المرقوم ٢٥ جون ١٨٩٨ء۔

بقلم قاضی فیض احمد نمبر ٩٤٩ للہ

العبد:۔ مرزا غلام احمد بقلم خود گواہ شد مقبلان ولد حکیم کرم دین صاحب بقلم خود گواہ شد نبی بخش نمبردار۔ بقلم خود بٹالہ حال قادیان

اشٹام بک مکرر دو قطعہ

حسب درخواست جناب مرزا غلام احمد صاحب خلف مرزا غلام مرتضیٰ صاحب آج واقعہ ٢٥ جون ١٨٩٨ء یوم شنبہ وقت ٧ بجے بمقام قادیان تحصیل بٹالہ۔ ضلع گورداسپورہ آیا اور یہ دستاویز صاحب موصوف نے بغرض رجسٹری پیش کی العبد مرزا غلام احمد راہن مرزا غلام احمد بقلم خود ٢٥ جون ٩٨ء دستخط احمد بخش رجسٹرار۔ جناب مرزا غلام احمد صاحب خلف مرزا غلام مرتضیٰ صاحب ساکن رئیس قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور جس کو میں بذات خود جانتا ہوں۔ تکمیل دستاویز کا اقبال کیا وصول پائے مبلغ ٥٠٠٠ روپے کہ منجملہ یکہزار روپیہ کا نوٹ اور زیورات مندرجہ ہذا میرے روبرو معرفت میر ناصر نواب والد مرتہنہ لیا سطر ٩ میں مبلغ کی قلم زن کر کے بجائے اسکے صماء لکھا ہے۔ از جانب مرتہنہ ناصر نواب حاضر ہے۔ العبد مرزا غلام احمد راہن مرزا غلام احمد بقلم خود ٢٥ جون ١٨٩٨ء۔ دستخط احمد بخش سب رجسٹرار دستاویز نمبر ١٢٧٨ میں نمبر ایک جلد ٣٦ صیغہ نمبر ٢٦٧ و ٢٦٨ آج تاریخ ٢٧ جون ١٨٩٨ء یوم دوشنبہ رجسٹری ہوئی۔ دستخط احمد بخش سب رجسٹرار۔

(کلمہ فضل رحمانی ص ١٣٢-١٣٤)

معیار صداقت نمبر ٢١

نبی جوامع الکلم ہوتا ہے۔ یعنی اس کی کلام ما قل و دل ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی کی تحریر اس قدر طول طویل اور مبالغات واستعارات سے مملو ہوتی ہے کہ مطلب خبط ہو

٨٦

صفحہ ٣٦٣

جاتا ہے۔ بعض دفعہ اپنی تحریر میں مرزا قادیانی کو خود یاد نہیں رہتا کہ پیچھے کیا لکھ آیا ہوں۔ اکثر عبارات متضاد لکھتے ہیں۔ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا (النساء:٨٢) یعنی جس کلام میں اختلاف ہو وہ خدا کی طرف سے نہیں۔ مگر مرزا قادیانی کی کلام میں اختلاف بہت ہوتا ہے۔ اس لیے خدا کی طرف سے نہیں۔ میں کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہتا۔ دوسری جگہ فرماتے ہیں جو مجھ کو نہ مانے۔ کافر ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں فرشتے زمین پر نہیں اترتے۔ دوسری جگہ لکھتے ہیں فرشتے متشکل ہو کر زمین پر آتے ہیں ۔ من نیستم رسول نیاوردہ ام کتاب ۔ دوسری جگہ کہتے ہیں۔ میں رسول ہوں۔ نبی ہوں۔ جب خدا میرا نام نبی و رسول رکھے تو میں کیونکر انکار کروں وغیرہ وغیرہ۔

جو جو کارروائیاں منکوحہ آسمانی کے واسطے کی ہیں۔ ان سے ان کی سچائی معلوم نہیں ہوتی۔

نقل اصل خطوط جو مرزا قادیانی نے مرزا احمد بیگ

اور دیگر رشتہ داروں کو بھیجے تھے

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

نحمدہ ونصلی

مشفقی مکرمی اخویم مرزا احمد بیگ صاحب سلمہٗ تعالیٰ، السلام علیک و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ قادیان میں جب واقعہ ہائلہ محمودؒ فرزند آن مکرم کی خبر سنی تھی تو بہت درد اور رنج اور غم ہوا لیکن بوجہ اس کے کہ یہ عاجز بیمار تھا اور خط نہیں لکھ سکتا تھا۔ اس لیے عزا پرسی سے مجبور رہا صدمہ وفات فرزندان ایک ایسا صدمہ ہے کہ شائد اس کے برابر دنیا میں اور کوئی صدمہ نہ ہو گا۔ خصوصاً بچوں کی ماؤں کے لیے تو سخت مصیبت ہوتی ہے۔ خداوند تعالیٰ آپ کو صبر بخشے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کوئی بات اس کے آگے انہونی نہیں۔ آپ کے دل میں گو اس عاجز کی نسبت کچھ غبار ہو لیکن خداوند علیم جانتا ہے کہ اس عاجز کا دل بکلی صاف ہے اور خدائے قادر مطلق سے آپ کے لیے خیر و برکت چاہتا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ میں کس طریق اور کن لفظوں میں بیان کروں تا میرے دل کی محبت اور اخلاص اور ہمدردی جو آپ کی نسبت مجھ کو ہے۔ آپ پر ظاہر ہو جائے مسلمانوں کے ہر ایک نزاع کا اخیری فیصلہ قسم پر ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان خدا کی قسم کھا جاتا ہے تو دوسرا مسلمان اس کی نسبت فی الفور دل صاف کر لیتا ہے۔ سو مجھے خدائے تعالیٰ قادر مطلق کی قسم ہے کہ میں اس بات میں بالکل سچا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ

٨٧

صفحہ ٣٦٤

کی طرف سے الہام ہوا تھا کہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اس عاجز سے ہو گا۔ اگر دوسری جگہ ہوگا تو خدا تعالیٰ کی تنبیہیں وارد ہوں گی اور آخر اسی جگہ ہوگا کیونکہ آپ میرے عزیز اور پیارے تھے۔ اس لیے میں نے عین خیر خواہی سے آپ کو جتلایا کہ دوسری جگہ اس رشتہ کا کرنا ہرگز مبارک نہ ہو گا۔ میں نہایت ظالم طبع ہوتا جو آپ پر ظاہر نہ کرتا اور میں اب بھی عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتہ سے آپ انحراف نہ فرمائیں کہ یہ آپ کی لڑکی کے لیے نہایت درجہ موجب برکت ہو گا اور خدا تعالیٰ ان برکتوں کا دروازہ کھول دے گا جو آپ کے خیال میں نہیں۔ کوئی غم اور فکر کی بات نہیں ہو گی جیسا کہ یہ اس کا حکم ہے جس کے ہاتھ میں زمین اور آسمان کی کنجی ہے تو پھر کیوں اس میں خرابی ہو گی اور آپ کو شائد معلوم ہو گا یا نہیں کہ یہ پیشگوئی اس عاجز کی ہزارہا لوگوں میں مشہور ہو چکی ہے اور میرے خیال میں شائد دس لاکھ سے زیادہ آدمی ہو گا جو اس پیشگوئی پر اطلاع رکھتا ہے اور ایک جہان کی اس کی طرف نظر لگی ہوئی ہے اور ہزاروں پادری شرارت سے نہیں۔ بلکہ حماقت سے منتظر ہیں کہ یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلے تو ہمارا پلہ بھاری ہو لیکن یقیناً خدا ان کو رسوا کرے گا اور اپنے دین کی مدد کرے گا۔ میں نے لاہور میں جا کر معلوم کیا کہ ہزاروں مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس پیشگوئی کے ظہور کے لیے بصدق دل دعا کرتے ہیں سو یہ ان کی ہمدردی اور محبت ایمانی کا تقاضا ہے اور یہ عاجز جیسے لا اله الا الله محمد رسول الله پر ایمان لایا ہے ویسے ہی خداوند تعالیٰ کے ان الہامات پر جو تواتر سے اس عاجز پر ہوئے ایمان لاتا ہے اور آپ سے ملتمس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیشین گوئی کے پورا ہونے کے لیے معاون بنیں تاکہ خدا تعالیٰ کی برکتیں آپ پر نازل ہوں۔ خدا تعالیٰ سے کوئی بندہ لڑائی نہیں کر سکتا اور جو امر آسمان پر ٹھہر چکا ہے زمین پر وہ ہرگز بدل نہیں سکتا۔ خدا تعالیٰ آپ کو دین اور دنیا کی برکتیں عطا کرے اور اب آپ کے دل میں وہ بات ڈالے جس کا اس نے آسمان پر سے مجھے الہام کیا ہے۔ آپ کے سب غم دور ہوں اور دین اور دنیا دونوں آپ کو خداوند تعالیٰ عطا فرما دے۔ اگر میرے اس خط میں کوئی نا ملائم لفظ ہو تو معاف فرمائیں والسلام۔

(خاکسار احقر عباد اللہ غلام احمد عفی عنہ ١٧ جولائی ١٨٩٠ بروز جمعہ ...... فضل رحمانی ص ١٢٥۔١٢٣)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی

مشفقی مرزا علی شیر بیگ صاحب سلمہ تعالیٰ، السلام علیکم و رحمتہ اللہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو آپ سے کسی طرح سے فرق نہ تھا اور میں آپ کو ایک غریب طبع

٨٨

صفحہ ٣٦٥

اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں۔ لیکن اب جو آپ کو ایک خبر سناتا ہوں آپ کو اس سے بہت رنج گزرے گا۔ مگر میں محض للہ ان لوگوں سے تعلق چھوڑنا چاہتا ہوں جو مجھے ناچیز بناتے ہیں اور دین کی پرواہ نہیں رکھتے۔ آپ کو معلوم ہے کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے بارے میں ان لوگوں کے ساتھ کس قدر میری عداوت ہو رہی ہے۔ اب میں نے سنا ہے کہ عید کی دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور آپ کے گھر کے لوگ اس مشورہ میں ساتھ ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں۔ بلکہ میرے کیا دین اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں۔ ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور اللہ رسول ﷺ کے دین کی کچھ بھی پرواہ نہیں رکھتے اور اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں سے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس کو خوار کیا جائے۔ ذلیل کیا جائے۔ روسیاہ کیا جائے۔ یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں۔ اب مجھ کو بچا لینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اگر میں اس کا ہوں گا۔ تو وہ ضرور مجھے بچائے گا۔ اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا۔ کیا میں چوہڑا یا چمار تھا جو مجھ کو لڑکی دینا عار یا ننگ تھی بلکہ وہ اب تک ہاں سے ہاں ملاتے رہے اور اپنے بھائی کے لیے مجھے چھوڑ دیا اور اب اس لڑکی کے نکاح کے لیے سب ایک ہو گئے۔ یوں تو مجھے کسی کی لڑکی سے کیا غرض کہیں جائے مگر یہ تو آزمایا گیا کہ جن کو میں خویش سمجھتا تھا اور جن کی لڑکی کے لیے چاہتا تھا کہ اس کی اولاد ہو۔ وہ میری وارث ہو۔ وہی میرے خون کے پیاسے وہی میری عزت کے پیاسے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خوار ہو اس کا روسیاہ ہو۔ خدا بے نیاز ہے جس کو چاہے روسیاہ کرے مگر اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ میں نے خط لکھے کہ پرانہ رشتہ مت توڑو۔ خدا تعالیٰ سے خوف کرو۔ کسی نے جواب نہ دیا بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی نے جوش میں آ کر کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے۔ صرف عزت بی بی نام کے لیے فضل احمد کے گھر میں ہے بیشک وہ طلاق دے دے ہم راضی ہیں اور ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص کیا بلا ہے۔ ہم اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہیں کریں گے۔ یہ شخص کہیں مرتا بھی نہیں۔ پھر میں نے رجسٹری کرا کر آپ کی بیوی صاحبہ کے نام خط بھیجا۔ مگر کوئی جواب نہ آیا اور بار بار کہا کہ اس سے کیا ہمارا رشتہ باقی رہ گیا ہے۔ جو چاہے کرے ہم اس کے لیے اپنے خویشوں سے اپنے بھائیوں سے جدا نہیں ہو سکتے۔ مرتا مرتا رہ گیا۔ ابھی مرا بھی ہوتا یہ باتیں آپ کی بیوی صاحب کی مجھے پہنچی ہیں۔ بے شک میں ناچیز ہوں۔ ذلیل ہوں اور خوار ہوں۔

٨٩

صفحہ ٣٦٦

مگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں میری عزت ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اب میں جب ایسا ذلیل ہوں تو میرے بیٹے سے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے۔ لہٰذا میں نے ان کی خدمت میں خط لکھ دیا ہے کہ اگر آپ اپنے ارادہ سے باز نہ آئیں اور اپنے بھائی کو اس ارادہ سے روک نہ دیں۔ پھر جیسا کہ آپ کی خود منشا ہے کہ میرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی کو اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا بلکہ ایک طرف جب محمدی کا کسی شخص سے نکاح ہوگا تو دوسری طرف فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا۔ اگر نہیں دے گا تو میں اس کو عاق اور لاوارث کروں گا اور اگر میرے لیے احمد بیگ سے مقابلہ کرو گے اور یہ اس کا ارادہ بند کرا دو گے تو میں بدل و جان حاضر ہوں اور فضل احمد کو جو اب میرے قبضہ میں ہے ہر طرح سے درست کر کے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لیے کوشش کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہوگا۔ لہٰذا آپ کو بھی لکھتا ہوں کہ آپ اس وقت کو سنبھال لیں۔

اور احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ باز آ جائیں اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کریں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے روک دے۔ ورنہ مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کے لیے یہ تمام رشتے ناطے توڑ دوں گا۔ اگر فضل احمد میرا فرزند اور وارث بننا چاہتا ہے تو اسی حالت میں آپ کی لڑکی کو گھر میں رکھے گا اور جب آپ کی بیوی کی خوشی ثابت ہو۔ ورنہ جہاں میں رخصت ہوا۔ ایسا ہی سب ناطے رشتے بھی ٹوٹ گئے۔ یہ باتیں خطوں کی معرفت مجھے معلوم ہوئی ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ کہاں تک درست ہیں۔ واللہ اعلم (خاکسار غلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج......... ٢ مئی ١٨٩١ء کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٧۔١٢٥)

نقل اصل خط مرزا قادیانی جو بنام والدہ عزت بی بی تحریر کیا تھا

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی

والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز تک محمدی مرزا احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے سارے رشتے ناطے توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اس لیے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کرا دو۔ اور جس طرح تم سمجھا سکتے ہو اس کو سمجھا دو۔ اور اگر ایسا نہیں ہوگا تو آج میں نے مولوی نور دین صاحب اور فضل احمد کو خط لکھ دیا ہے اور اگر تم اس ارادے سے باز نہ آؤ تو فضل احمد عزت بی بی

٩٠

صفحہ ٣٦٧

کے لیے طلاق نامہ لکھ کر بھیج دے اور اگر فضل احمد طلاق لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جائے اور اپنے بعد اس کو وارث نہ سمجھا جائے۔ اور ایک پیسہ وراثت کا اس کو نہ ملے سو امید رکھتا ہوں کہ شرطی طور پر اس کی طرف سے طلاق نامہ لکھا آ جائے گا۔ جس کا یہ مضمون ہوگا کہ اگر مرزا احمد بیگ محمدی کے غیر کے ساتھ نکاح کرنے سے باز نہ آئے تو پھر اسی روز سے جو محمدی کا کسی اور سے نکاح ہو جائے عزت بی بی کو تین طلاق ہیں۔ سو اس طرح پر لکھنے سے اس طرف تو محمدی کا کسی دوسرے سے نکاح ہو گا اور اس طرف عزت بی بی پر فضل احمد کی طلاق پڑ جائے گی۔ سو یہ شرطی طلاق ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب بجز قبول کرنے کے کوئی راہ نہیں اور اگر فضل احمد نے نہ مانا تو میں فی الفور اس کو عاق کر دوں گا۔ اور پھر میری وراثت سے ایک دانہ نہیں پا سکتا اور اگر آپ اس وقت اپنے بھائی کو سمجھا لو تو آپ کے لیے بہتر ہو گا مجھے افسوس ہے کہ میں نے عزت بی بی کی بہتری کے لیے ہر طرح سے کوشش کرنا چاہا تھا اور میری کوشش سے سب نیک بات ہو جاتی۔ مگر آدمی پر تقدیر غالب ہے۔ یاد رہے کہ میں نے کوئی کچی بات نہیں لکھی۔ مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا۔ اور خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے جس دن نکاح ہو گا اس دن عزت بی بی کا نکاح نہیں رہے گا۔

(راقم غلام احمد از لودھیانہ اقبال گنج ٤ مئی ١٨٩١ء کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٨۔ ١٢٧)

از طرف عزت بی بی بطرف والدہ

اس وقت میری بربادی اور تباہی کی طرف خیال کرو۔ مرزا صاحب کسی طرح مجھ سے فرق نہیں کرتے۔ اگر تم اپنے بھائی میرے ماموں کو سمجھاؤ تو سمجھا سکتے ہو۔ اگر نہیں تو پھر طلاق ہو گی اور ہزار ہا طرح کی رسوائی ہو گی۔ اگر منظور نہیں تو خیر۔ جلدی مجھے اس جگہ سے لے جاؤ۔ پھر میرا اس جگہ ٹھہرنا مناسب نہیں جیسا کہ عزت بی بی نے تاکید سے کہا ہے اگر نکاح رک نہیں سکتا پھر بلا توقف عزت بی بی کے لیے کوئی آدمی قادیان میں بھیج دو تا کہ اس کو لے جائے۔ (کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٨) ناظرین انصاف کریں کہ یہ مامور من اللہ اور خدا پر یقین کرنے والوں کا کام ہے۔ وایاک نستعین کے یہی معنی ہیں۔

معیار صداقت نمبر ٢٢

نبی کا خود خدا حافظ ہوتا ہے اور نبی ڈرتا نہیں۔ رسول اللہ ﷺ ایک درخت کے نیچے سو گئے۔ تلوار شاخ سے آویزان کر دی۔ غورث ابن الحرث آیا تلوار نکال کر

٩١

صفحہ ٣٦٨

نبی ﷺ کو گستاخانہ جگایا۔ بولا اب تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا فرمایا اللہ۔ وہ چکر کھا کر گر گیا۔ مگر آپ ﷺ نے تلوار اٹھائی اور فرمایا اب تجھے میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے وہ حیران ہو گیا۔

(صحیح بخاری)

مرزا قادیانی کو آریوں کا خط دھمکی کا پہنچا تو گھر سے باہر اکیلے نہ نکلتے اور سیر کو جاتے تو بہت لوگ ہمراہ لے جاتے۔ ڈر کے مارے حج کو نہ گئے۔ ان باتوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کو خود یقین نہیں کہ میں سچا نبی ہوں۔ ورنہ جس کا خدا حامی ہو اس کو ڈر کس کا۔ اور یہ جھوٹ تھا کہ ان کو اپنے الہاموں پر ایسا ہی یقین ہے جیسا کہ قرآن پر۔

معیار صداقت نمبر ٢٣

نبی بہادر ہوتا ہے بزدل نہیں ہوتا۔ مگر مرزا قادیانی نے تمام بہادروں ومجاہدوں کو خونی و وحشی کہا ہے کیونکہ آپ جو اس صفت سے عاری تھے مہدویت کا دعویٰ تو کر دیا۔ مگر جب جنگ کا فرض بتایا گیا تو فرمایا کہ مہدی خونی نہ ہوگا۔ زاہد نداشت تاب وصال پری رخاں۔ کنجی گرفت و ترس خدا کا بہانہ ساخت۔ حالانکہ سچے نبی محمد رسول اللہ ﷺ اس قدر بہادر تھے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ جس جگہ کفار کا غلبہ ہوتا تھا تو ہم رسول اللہ ﷺ کے بازو کے نیچے پناہ لے کر لڑتے تھے اور رسول اللہ ﷺ جیسا کوئی بہادر نہ پاتے۔

(دیکھو اداب و اخلاق رسول اللہ ﷺ مصنفہ امام غزالیؒ)

نیچے ہم ایک فہرست دیتے ہیں جس میں مرزا قادیانی کی پیشگوئیاں جو غلط نکلیں تا کہ لوگوں کو دھوکہ نہ ہو کیونکہ ان کے مرید خلاف واقعہ بقول پیران نمی پرند و مریدان مے پرانند۔ ان کی سچائی ان کی پیشگوئیاں سے ثابت کرتے ہیں۔ وہو ہذا۔

السماء (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠١) اور جس کی ٨ اپریل ١٨٨٦ء کو اشاعت کی گئی تھی کہ اگر وہ حمل موجودہ میں پیدا نہ ہوا تو دوسرے حمل میں جو اس کے قریب ہے ضرور پیدا ہوگا۔

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١١٧)

(اشتہار ٢٠ فروری ١٩٠٦ء مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٢)

٩٢

صفحہ ٣٦٩

خود باغ میں ڈیرہ لگائے۔

تیرے مخالف کے منہ بند ہو جائیں گے (تذکرہ ص ٦١٤) مرزا کے مخالف کوئی بارشوں میں نہیں پکڑے گئے۔

ہوئی تلوار تیرے آگے ہے۔ (تذکرہ ص ٦٢٠) آج ٣٠ ستمبر ١٩٠٧ء تک میں بالکل صحیح سلامت ہوں۔ اور دجالی فتنہ کو پاش پاش کر رہا ہوں۔

(اعلان ڈاکٹر عبدالحکیم خان)

(تذکرہ ص ٦٠٦)

(ضرورة الامام)

(١٠ جولائی ١٨٨٨ء مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٣)

واپس آئے گی۔

(١٠ جولائی ١٨٨٨ء مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)

(تذکرہ ص ٢٣٢)

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٦٠)

(تذکرہ ص ٦٧٤)

جو کچھ اصلاحیں قرآن مجید نے کیں اس کا کروڑواں حصہ بھی مرزا قادیانی سے آج تک نہیں ہو سکا۔

(تذکرہ ص ٦١٧)

واپس لائی جائے گی۔

(تذکرہ ص ٦١٧)

(تذکرہ ص ٦٩٦)

٩٣

صفحہ ٣٧٠

١٩٠٦ء کا الہام۔

(تذکرہ ص ٥٩٦)

تو فوت ہوا۔ نہ اس نے عاجز انسان کو خدا بنانے سے رجوع کیا، نہ اندھے دیکھنے لگے، نہ لنگڑے چلنے لگے، نہ بہرے سننے لگے، نہ سچے کی بڑی عزت ہوئی، نہ جھوٹے کی ذلت۔

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٧٨۔١٧٥)

(دافع البلاء ص ١٠ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)

قادیان نہ آئے گا۔

(اعجاز احمدی ص ٣٧ خزائن ج ١٩ ص ١٤٨)

(اعجاز احمدی ص ٥١ خزائن ج ١٩ ص ١٦٣)

جائے گا۔ (تذکرہ ص ١٨٠) مگر اب ان کی عمر ستر سالہ ہے۔

(تذکرہ ص ٣٣٩‘ ٣٩٦)

(تذکرہ ص ٣٤١)

(ذکر الحکیم نمبر ٦ ص ٨٩)

(الاستفتاء حاشیہ ص ٦ خزائن ج ٢٢ ص ٦٢٦)

سیالکوٹی اور پیراندتہ طاعون سے ہلاک ہوئے۔

(ذکر الحکیم عرف کانا دجال ص ٨٩)

ہوئے۔ مثلاً مولوی برہان الدین جہلمی، محمد افضل ایڈیٹر البدر اور اس کا لڑکا، مولوی عبدالکریم سیالکوٹی، مولوی محمد یوسف سنوری، عبداللہ سنوری کا بیٹا، ڈاکٹر بوٹے خاں، قاضی ضیاء الدین، ملاں جمال الدین سید والہ، حکیم فضل الٰہی، مرزا فضل بیگ وکیل، مولوی محمد علی ساکن زیرہ، مولوی نور احمد ساکن لودھی ننگل، ڈنگہ کا حافظ۔ (ماخوذ از ذکر الحکیم نمبر ٦ صفحہ ٨٩)

٩٤

صفحہ ٣٧١

فصل ان دلائل میں جو مرزائی صاحبان مرزا قادیانی

کی نبوت میں پیش کرتے ہیں اور ان کے جواب

جواب : حدیث شریف میں محمد رسول اللہ ﷺ نے مسیح موعود تو حضرت عیسیٰ ابن مریم کو فرمایا اور وہی نبی اللہ ہے۔ اس شک کے دور کرنے کے واسطے کہ کوئی بغیر عیسیٰ کے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہ کرے۔ اس طرح تفریق کر دی کہ عیسیٰ بیٹا مریم کا نبی اللہ کہ جس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں۔ آخر زمانہ میں نزول فرمائے گا۔ دنیا میں اس سے زیادہ کوئی فرق کرنے والے صاف الفاظ نہیں ہو سکتے۔ اوّل۔ عیسیٰ کہا۔ دوم۔ اس کی ماں کا نام اس واسطے بتایا کہ اس کا مرد باپ نہ تھا۔ یعنی وہی عیسیٰ جو بغیر باپ پیدا ہوا۔ سوم۔ نبی اللہ یعنی وہی عیسیٰ جو چھ سو برس مجھ سے پہلے نبی و رسول تھا۔ چہارم۔ جس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں اور سوائے میرے درمیانی عرصہ میں کوئی نبی نہیں اور جائے نزول دمشق فرمایا۔ چنانچہ وہ حدیث یہ ہے۔ عن ابی ہریرۃ ان النبی ﷺ قال الانبیاء اخوۃ العلات امہاتہم شتی و دینہم واحد وانی اوّلی الناس بعیسی ابن مریم لانہ لم یکن بینی وبینہ نبی و انہ نازل فاذا رایتموہ فاعرفوہ رجل مربوع الی الحمرۃ والبیاض ...... ثم یتوفی و یصلی علیہ المسلمون. (الحدیث رواہ احمد ج ٢ ص ٤٠٦) ترجمہ۔ ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمام انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہیں کہ فروعی احکام ان کے مختلف ہیں اور دین ان کا ایک ہے یعنی توحید و دعوت الی الحق میں متفق ہیں اور میں قریب تر ہوں عیسیٰ بن مریم کے اس لیے کہ میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں اور بیشک وہ آنے والا ہے۔ جب تم اس کو دیکھو تو اس کی پہچان یہ ہے کہ ایک مرد میانہ قد گندم گون گیروے کپڑے پہنے ہوئے ہے۔ پھر فوت ہوگا اور مسلمان اس کا جنازہ پڑھیں گے روایت کیا اس حدیث کو امام احمد و ابوداؤد نے ساتھ سند صحیح کے۔

اب کس قدر زبردستی ہے ایسے ایسے صاف نشانات و علامات کے ہوتے ہوئے ایک شخص غلام احمد جس کے باپ کا نام غلام مرتضیٰ ہو۔ پنجاب قادیان کے رہنے والا ہو مسیح موعود کا دعویٰ کرے اور حضرت ایلیا کا نام لے کر لوگوں کو مغالطہ میں ڈالے کہ حضرت ایلیا کا دوبارہ آنا ملاکی نبی کی کتاب میں تھا اور وہ نہ آیا اور حضرت عیسیٰ نے کہا

٩٥

صفحہ ٣٧٢

کہ وہ ایلیا یحییٰ تھا حالانکہ یہ غلط ہے اور مسیح موعود کے ساتھ اس کی کوئی مشابہت نہیں۔ اوّل۔ حضرت ایلیا کے باپ کا نام نہیں بتایا گیا تھا۔ دوم۔ حضرت ایلیا بغیر باپ پیدا نہ ہوئے تھے اور نہ ان کی والدہ کا نام ملا کی نبی نے بتایا۔ سوم۔ وہ رسول اللہ ﷺ سے پہلے بغیر فاصلہ دیگر نبی نہ تھے۔ علاوہ برآں جب یحییٰ کو پوچھا گیا کہ تو وہی ایلیا ہے جس کی خبر ملا کی نبی نے دی تھی تو حضرت یحییٰ علیہ السلام نے انکار کیا کہ نہیں میں وہ نہیں۔ مدعی سست و گواہ چست کا معاملہ ہے اور پھر جب تورات و انجیل مرزا قادیانی کے نزدیک محرف اور غیر معتبر ہیں تو پھر یہ کیا ثبوت ہے کہ ایلیا کا قصہ درست ہے؟ اور اگر درست ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا اور واپس آنا بھی جب اناجیل میں ہے تو درست ہوا۔ مگر یہ کس قدر بے انصافی ہے کہ مرزا قادیانی کے مطلب کے واسطے وہی انجیل جو غیر معتبر ہے معتبر ہو جاتی ہے اور جب فریق مقابل کا مطلب حاصل ہو تو ردی اور غیر معتبر و محرف رہتی ہے۔ غرض مسیح موعود تو وہی حضرت عیسیٰ نبی اللہ ناصری صاحب انجیل جس کے اور محمد رسول اللہ ﷺ کے درمیان کوئی نبی نہیں ہو گا اور محمد رسول اللہ ﷺ کا فرمانا ہرگز ہرگز ٹل نہیں سکتا۔ اگر رسول اللہ ﷺ پر ایمان ہے تو مانو اور اگر اس کو مخبر صادق نہیں یقین کرتے تو جس کو چاہو مانو آپ کا اختیار ہے۔

مر جائے اس کو خدا واپس نہیں لا سکتا تو مرزا قادیانی پھر نبی اللہ کیسے ہوئے؟ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے بعد جدید نبی نہیں آ سکتا اور یہ مرزا قادیانی مان چکے ہیں کہ جدید نبی محمد ﷺ کے بعد نہیں آنا۔ چنانچہ ان کی اصل عبارت رفع شک کے واسطے لکھتا ہوں۔

”حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ خاتم المرسلین کے بعد دوسرے مدعی نبوت و رسالت کو کافر و کاذب جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفےٰ ﷺ پر ختم ہو گئی۔ خاتم النبیین ہونا ہمارے نبی ﷺ کا کسی دوسرے نبی کے آنے سے مانع ہے۔ جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرائیل بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لیے وحی نبوت لانے سے بند کیا گیا ہے۔ خدا تعالیٰ وعدہ کر چکا ہے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی رسول نہیں بھیجا جائے گا۔

(دیکھو ازالہ اوہام ص ٥٧٦ خزائن ج ٣ ص ٤١٢-٤١٦)

جب نیا نبی کوئی نہیں آنا تو پھر مرزا قادیانی کس طرح نبی ہوئے؟ مسیح موعود کے دعوٰی سے کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ یہ ایسی ردی دلیل ہے کہ کوئی شخص کہے کہ میں ڈپٹی

٩٦

صفحہ ٣٧٣

کمشنر ہوں۔ جب اس سے ثبوت مانگا جائے تو کہے کہ فلاں حکم شاہی میں لکھا ہوا ہے کہ ٢٦ مئی ١٩٠٠ء کو دہلی کا ڈپٹی کمشنر لاہور آئے گا چونکہ ٢٦ تاریخ ہو گئی ہے اور کوئی ڈپٹی کمشنر لاہور میں نہیں آیا۔ پس میں چونکہ مدعی ہوں اور حکم شاہی میں ہے کہ آنے والا ڈپٹی کمشنر ہو گا اس لیے میں ڈپٹی کمشنر ہوں جیسا یہ باطل ہے۔ اسی طرح مرزا کا دعویٰ باطل ہے۔

(٣) جب عیسیٰؑ جن کے نزول کی خبر مخبر صادق نے دی ہے وہ آنا ہی نہیں۔ کیونکہ بقول آپ کے مر چکا ہے تو پھر جھگڑا ہی طے ہے۔ پھر مسیح موعود کوئی آنا ہی نہیں۔ یہ سب امیدیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم (درمنثور ج ٢ ص ٣٦) سے دلائی ہوئی ہیں یعنی عیسیٰ نہیں مرا اور وہ تمہاری طرف واپس آنے والا ہے۔ اور یہ قرآن مجید کی آیت وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ کی تفسیر ہے پس جو امر قرآن وحدیث سے ثابت ہو اگر آپ اس سے انکار کر کے عیسیٰ کو مار کر دفن بھی کشمیر میں کر چکے تو پھر اب مسیح موعود کیسا؟ جب آنے والا مر چکا تو اب کسی نے آنا ہی نہیں اور اگر کہو کہ ظلی و بروزی طور پر آنا تھا وہ آیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جتنے فرقے اہل اسلام کے ہیں کوئی ایک بھی عیسیٰؑ کے بروزی نزول کا قائل نہیں۔ سب کے سب اصالتاً نزول کے قائل ہیں۔ قرآن و حدیث قول صحابہؓ و اجتہاد و ائمہ اربعہؒ تابعینؒ و تبع تابعینؒ کسی میں سے کوئی ایک تو نکالو کہ جو بروزی اور ظلی نزول کا قائل ہو۔ مرزا قادیانی نے بڑا زور لگا کر اور تلاش کر کے صرف ایک تحریر حضرت محمد اکرم صابری کی نکالی ہے۔ چنانچہ ایام صلح پر لکھتے ہیں ”ایک گروہ اکابر صوفیہ نے نزول جسمانی سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ نزول مسیح موعود بطور بروز کے ہوگا۔ چنانچہ اقتباس انوار میں جو تصنیف شیخ محمد اکرم صابری ہے۔ جس کو صوفیوں میں بڑی عزت سے دیکھا جاتا ہے۔ جو حال میں مطبع اسلامی لاہور میں ہمارے مخالفوں کے اہتمام سے چھپی ہے۔ یہ عبارت لکھی ہے۔ روحانیت کمل گاہے بر ارباب ریاضت چناں تصرف می فرماید کہ فاعل افعال شاں مے گردد و ایں مرتبہ را صوفیہ بروزی گویند...... و بعضے برآنند کہ روح عیسیٰ در مہدی بروز کند و نزول عبارت از ہمیں بروز است مطابق ایں حدیث کہ لا مہدی الا عیسیٰ ابن مریم۔“ (ایام الصلح ص ١٣٨۔ خزائن ج ١٤ ص ٣٨٣) حالانکہ اس عبارت میں ہے کہ ایں مقدمہ بہ غایت ضعیف است۔ مرزا قادیانی نے ایں مقدمہ بہ غایت ضعیف است“ کو چھوڑ دیا ہے۔ اور صرف لا تقربوا الصلوٰۃ پیش کر کے عوام کو مغالطہ دیا ہے جو مدعی نبوت کی شان سے بعید ہے۔ نبی کسی کو دھوکہ نہیں دیتا اور نہ کسی سے غلط بیانی کرتا ہے۔ گو مرزا

٩٧

صفحہ ٣٧٤

قادیانی نے یہاں اوّل تو غلط بیانی کی ہے کہ شیخ محمد اکرم صابری بروزی نزول کے قائل ہیں اور اصل نزول عیسیٰ کے منکر ہیں۔ حالانکہ وہ تردید کر رہے ہیں کہ ایک فرقہ جو یہ کہتا ہے کہ نزول بروزی ہوگا اور لا مهدی الا عیسیٰ ابن مریم سے سند پکڑتے ہیں ضعیف ہے مگر مرزا قادیانی نے ”ایں مقدمہ بہ غایت ضعیف است“ کو چھوڑ کر دھوکہ دیا ہے۔ حضرت محمد اکرم صابری کا یہ ہرگز مذہب نہیں تھا کہ حضرت عیسیٰ کا نزول بروزی ہوگا۔ بلکہ وہ تو اس کی تردید کرتے ہیں اور حدیث لا مهدی الاعیسیٰ کو بھی ضعیف کہتے ہیں۔ چنانچہ دوسری جگہ اسی کتاب میں لکھتے ہیں۔ ”یک فرقہ برآں رفتہ اندکہ مہدی آخر زمان عیسٰی ابن مریم است۔ وایں روایت بغایت ضعیف است زیر آنکہ اکثر احادیث صحیح ومتواتر از رسالت پناہ ﷺ و ورود یافتہ کہ مہدی آخر زماں از بنی فاطمہ خواہد بود۔ وعیسیٰ باؤ اقتدا کردہ نماز خواہد گزارد۔ وجمیع عارفان صاحب تمکین برایں متفق اند چنانچہ شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہٗ در فتوحات مکی مفصل نوشتہ است کہ مہدی آخر زمان از آل رسول ﷺ من اولاد فاطمہ زہرہؓ ظاہر مے شود اسم او اسم رسول اللہ ﷺ باشد۔“

(اقتباس الانوار ص ٧٢ مصنفہ شیخ مولانا محمد اکرم صابری)

ناظرین! غور فرمائیں کہ یہ راست باز کا کام ہے کہ اپنے مطلب کے ثابت کرنے کے واسطے دھوکہ دے۔ صرف اس خیال سے کہ کون اصل کو دیکھے گا؟ آدھی عبارت لکھ کر اپنا مدعا ثابت کرنے کی کوشش کرے اور اس بات کو گناہ نہ سمجھے۔ بھلا کوئی ایمان دار ایسا دھوکہ دیتا ہے؟ کہ جو شخص ایک بات کو ضعیف کہہ رہا ہو اسی کو اس کی عبارت کا حصہ چھوڑ کر کہا جائے کہ اس کا بھی یہی مذہب تھا۔ ایسا بیوقوف تو کوئی نہیں ہے کہ ظاہراً دیکھتا ہے کہ شیخ محمد اکرم کہہ رہا ہے کہ چونکہ حدیث لا مهدی الاعیسیٰ بن مریم ضعیف ہے اور اس کے مقابل صحیح حدیثوں میں ہے کہ مہدی آل رسول سے ہوگا۔ مرزا قادیانی اس واسطے کہ میں آل رسول سے نہیں ہوں اور مہدی کا دعویٰ کیا ہے اس واسطے مغالطہ دہی سے کام لیا جائے۔ افسوس اس درجہ کا عالم ہو اور دعاوی میں تو آسمان پر چلا جائے اور راستبازی یہ ہے کہ صریح دھوکہ دیتا ہے کہ محمد اکرم بروز کا قائل ہے۔ حالانکہ وہ ضعیف کہہ رہا ہے۔ بروز اور تناسخ ایک ہی ہے۔ صرف لفظی تنازعہ ہے کیونکہ شیخ محمد اکرم نے صاف لکھ دیا ہے کہ روح عیسیٰ در مہدی بروز کند اور تناسخ بھی یہی ہے کہ ایک روح جو پہلے دنیا سے گزر چکی ہے پھر دوبارہ آ کر ویسے ہی کام کرے جیسا کہ پہلے کر چکی ہے اور مرزا قادیانی بھی یہی کہتے ہیں کہ میرے میں روح عیسوی کام کر رہی ہے ٩٨

صفحہ ٣٧٥

یہ تناسخ نہیں تو اور کیا ہے؟ اور تناسخ باطل ہے۔ بروز کا مسئلہ نہ قرآن میں ہے اور نہ کسی حدیث میں ہے اس لیے باطل ہے۔ اگر صفاتی بروز مطلب ہے تو یہ مرتبہ ہر ایک انسان کو حاصل ہے جب کوئی شخص صبر کرے گا تو حضرت ایوبؑ کی صفت کا ظہور ہو گا اور جب توحید پھیلائے گا تو حضرت ابراہیمؑ اور محمد ﷺ کا بروز ہو گا اور جب سخاوت کرے گا تو حاتم طائی کا بروز ہو گا اور جب تکبر و غرور کرے گا تو فرعون کا بروز ہو گا۔ اس صفاتی بروز سے تو نبوت ثابت نہیں ہوتی بلکہ مسیلمہ کذاب کا بروز ثابت ہوتا ہے کہ پہلے مسیلمہ کی روح نے مسیلمہ کے وجود میں دعویٰ نبوت کیا۔ اب مرزا قادیانی کے وجود میں دعویٰ نبوت کر رہی ہے۔

جو مہدی کے بارہ میں ہیں لکھتے ہیں تا کہ مرزا قادیانی کا جھوٹ ظاہر ہو اور مہدی کا دعویٰ بے ثبوت ثابت ہو کیونکہ مرزا قادیانی فارسی النسل ہیں اور مہدی فاطمی حسینی قریشی النسب ہو گا۔ قال رسول اللہ ﷺ لو لم یبق من الدنیا الا یوم لطول اللہ ذلک الیوم حتی یبعث فیہ رجل منی او من اھل بیتی یواطئ اسمہ اسمی و اسم ابیہ اسم ابی...... یملاء الارض قسطاً و عدلا کما ملئت ظلما و جوراً۔ (ابو داؤد ج ٢ ص ١٣١ کتاب المہدی)

ترجمہ۔ ایک روایت ابو داؤد کی یہ ہے کہ فرمایا آنحضرت ﷺ نے اگر دنیا سے صرف ایک دن ہی باقی رہ گیا ہو تب بھی اللہ تعالیٰ اس دن کو دراز کرے گا۔ ایسا کہ بھیج دے گا اس دن میں ایک شخص کو میری نسب سے یا میری اہل بیت میں سے نام اس کا میرے نام کے اور نام باپ اس کے کا باپ میرے کے مطابق ہو گا اور وہ بھر دے گا زمین کو انصاف اور عدل سے جیسا کہ زمین بھری ہوئی ہو گی ظلم اور ستم سے وعن ام سلمۃ قالت سمعت رسول اللہ ﷺ یقول المہدی من عترتی من ولد فاطمہ.

(رواہ ابو داؤد ج ٢ ص ١٣١ کتاب المہدی)

ترجمہ۔ ام سلمہ زوجہ مطہرہ حضرت نبینا ﷺ سے روایت ہے۔ کہا انھوں نے کہ سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے تھے امام مہدی میری اولاد یعنی فاطمہؓ سے ہوں گے۔

ناظرین! اب تو مرزا قادیانی کا جھوٹ معلوم ہوا کہ صوفیائے کرام بروزی نزول کے قائل ہیں۔ اب ہم جب دوسری حدیثوں کی طرف دیکھتے ہیں جن میں حضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرا بھائی عیسیٰ بیٹا مریم کا نازل ہو گا۔ فانہ لم یمت، الی

٩٩

صفحہ ٣٧٦

الان، بل رفع اللہ الی ھذا السماء۔ ترجمہ۔ فی الواقع حضرت عیسیٰؑ اس وقت تک نہیں مرے بلکہ خدا نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا ہے۔ ینزل عیسٰی عند المنارة البیضا شرقی دمشق۔ (ابو داؤد ج ٢ ص ١٣٥ باب خروج الدجال) یعنی حضرت عیسیٰ دمشق کے سفید منارہ پر اتریں گے تو صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ بروز کا مسئلہ بالکل بے بنیاد ہے اور جو امر قرآن و حدیث کے برخلاف اور اجماع امت کے برخلاف ہو وہ کیونکر ایک شخص صاحب غرض کے کہنے سے مان لیا جائے؟ مرزا قادیانی کی غرض ہے کہ بروز ثابت ہو اور میں عیسیٰ و مہدی بنوں جو کہ بالکل غلط اور خود غرضی پر مبنی ہے۔ جب عیسیٰؑ الگ وجود ہیں اور مہدی الگ ہیں اور پھر دونوں کے خروج و نزول کی جگہ بھی الگ الگ ہیں اور فرائض منصبی بھی الگ الگ ہیں تو پھر کس قدر ضد اور ہٹ دھرمی ہے کہ بلا دلیل بروز بروز کہتے جاتے ہیں؟ جب مسلمانوں کا متفقہ اصول ہے کہ قرآن و حدیث کے برخلاف کوئی مسئلہ نہیں مانا جاتا تو پھر بروز کا مسئلہ احادیث صحیح کے برخلاف کس طرح مانا جائے؟ عیسیٰؑ دمشق میں نزول فرمائے گا اور مہدیؒ قریہ خراساں سے نکلے گا۔ عیسیٰؑ دجال کو قتل کرے گا اور مہدی سفیانی کے فتنہ کو دور کرے گا۔ پھر کون شخص مان سکتا ہے کہ غلام احمد قادیانی پنجاب سے دعویٰ کرنے والا ہے۔ دونوں کا بروز ہے اور نبی کہلا سکتا ہے۔

دلیل نمبر ٢

دلیل مرزا قادیانی کی نبوت کی یہ ہے کہ ان کی کلام بے مثل ہے۔

جواب : یہ زعم ہر ایک شاعر کو ہوا کرتا ہے کہ میرے جیسی کلام کسی کی نہیں۔ پس مرزا قادیانی کا یہ زعم اچنبہ نہیں ہے۔ ہم نیچے اکثر شاعروں کے نام بمعہ ان کے اشعار کے درج کرتے ہیں۔ جنھوں نے اپنی کلام کے بے مثل ہونے کا دعویٰ کیا۔

کاذب ہوئے تو مرزا قادیانی کیونکر سچے ہیں؟ جن کے شعر بھی ان کے مقابلہ میں ردی ہیں ۔ دیکھو انوری کیا کہتا ہے۔

مادر قیمتی نزاید زیر چرخ چنبری
بادشا ہے چوں غیاث الدین گداچوں انوری
ختم شد بر تو سخاوت برمن مسکیں سخن
چوں ولایت بر علی و بر نبی پیغمبری

١٠٠

صفحہ ٣٧٧
کس نگفتہ شعر ہمچوں س ع د ی
لیکن چوں عراقی ست شکر خائے دگر نیست
دری نظم کردن سزا وار اوست
برداشت بہ یکدست حشم را و قلم را
جو آتا ہے وہ اپنا منہ چراتا منہ کو آتا ہے
دی ہم کو خدا نے کی خدائی ہم نے

ناظرین یہ اپنے آپ کو شاعری میں خدا سمجھتا تھا۔ پس مرزا قادیانی بھی شاعری کے ذریعہ سے نبی نہیں ہو سکتے کیونکہ کوئی شاعر نبی نہیں ہوا۔ خدا تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو فرماتا ہے کہ تیری شان نہیں ہے کہ تو شعر کہے۔ دیکھو قرآن وَمَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَمَا یَنۢبَغِیْ لَہٗ۔ (یسین ٦٩) ترجمہ۔ نہ ہم نے اس کو (محمد ﷺ) کو شعر سکھایا ہے اور نہ اس کے لائق ہے۔ یعنی نبی شاعر نہیں ہوتا اور مرزا قادیانی شاعر تھے اس واسطے نبی نہ ہوئے۔

اب صرف تدبر اس امر پر کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی زبان سے اپنی تعریف اور خودستائی کی ہے اور شاعرانہ طاقت سے اپنی بزرگی کا سکہ جمانا چاہتے ہیں اور اسی شاعرانہ استعارات و مبالغات سے نبی ہونا چاہتے ہیں اور اپنی قوت متفکرہ کے زور سے اپنا ملہم اور یوحی ہونا اور نبی ہونا ظاہر کرتے ہیں۔ یہ صرف خدا نے انہی کو طاقت دی ہے یا آگے بھی ان سے بڑھ بڑھ کر باتوں باتوں سے اپنا فخر و خودستائی ظاہر کی ہے۔ کیا ان کو بھی کسی نے نبی مانا۔ یا انھوں نے نبوت کا دعویٰ کیا یا کسی مسلمان نے ان کو نبی تسلیم کیا؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر مرزا قادیانی کو زبانی اور شاعرانہ لفاظی اور مبالغہ آمیز طول طویل عبارت سے جو پایہ خیر الکلام سے گری ہوئی ہے کس طرح نبی مانا جائے؟ پس ان کی کلام بھی سنو اور پھر مرزا قادیانی کی کلام کا ان سے مقابلہ کرو اگر آپ مبالغہ اور تعلیٰ نفس اور خودستائی کے عاشق ہو تو پھر مرزا قادیانی سے جو بڑھے ہوئے ہیں آپ ان کو نبی و مامور من اللہ و رسول مانو ۔

١٠١

صفحہ ٣٧٨
ہنوز باغ جہاں را نبود نام و نشاں
کہ مست بودم ازاں مئے کہ جام اوست جہاں
بکام دوست مئے مہر دوست مے خوردم
دراں نفس کہ جہاں را نبود و نام و نشاں

ترجمہ۔ ابھی جہان کے باغ کا نام و نشان بھی نہ تھا کہ میں اس شراب سے مست تھا کہ جس کا پیالہ جہاں ہے۔ اپنے دوست کے ساتھ یعنی خدا کے ساتھ میں محبت کی شراب پیتا تھا اس وقت کہ جہان کا نام و نشان نہ تھا۔

ناظرین انصاف سے کہیں کہ مرزا قادیانی کا کوئی شعر بھی ان کے ہم پلہ ہے؟ اور کوئی حقائق و دقائق قادیانی اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ کیا عراقی صاحب کو آپ نبی مان لیں گے؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر مرزا قادیانی کو کیوں مانا جائے؟

غزل عراقی

منم بعشق سر از عرش برتر آوردہ
بزیر پائے سر نہ فلک در آوردہ
بہ بحر ہستی از بے خودی فرو رفتہ
در خودی و سر بیخودی بر آوردہ
اساس قصر جلالم عنایت ازلی
بسی ز کنگرہ عرش سر بر آوردہ
ز آسمان قضا روح قدس ہر نفسی
برید جانم بوئے معطر آوردہ
برائے صف نشینان درگہم رضوان
ز شاخ طوبیٰ صد چتر سر بر آوردہ

ناظرین! جو تصوف بہ تبدیل الفاظ مرزا قادیانی اپنا نام کر کے مدعی نبوت ہوئے۔ اور انھیں باتوں کا نام حقائق و معارف رکھا اور امامت کے لباس میں ہو کر شریعت محمدی ﷺ کو مکدر کر دیا۔ امام زمان کی شان سے بعید ہے کہ وہ ستون شریعت کو ایسی ایسی باتوں سے مرکز ثقل سے ہٹانے کا باعث ہو اور سنو ؎

چو ز بادہ مست گشتم چہ کلیسا چہ کعبہ
چو ترک خود گرفتم چہ وصال و چہ جدائی

١٠٢

صفحہ ٣٧٩

مرزا قادیانی اس منزل سے بالکل محروم تھے کیونکہ تمام عمر مخالفین مذاہب کے گرو رہے۔ ان کے بزرگوں کو برا بھلا کہتے رہے اور اپنے بزرگوں کو کہلاتے رہے۔ کلیسیا اور کعبہ کو ایک نظر سے دیکھنا ان کے نصیب نہ ہوا اور نہ حق الیقین کے مرتبہ کو پہنچ کر یخلقوا باخلاق اللہ سے متصف ہو کر خلق خدا کو ایک نظر سے دیکھا جیسا کہ رب العالمین تمام مخلوق کو ایک نظر سے دیکھتا ہے۔ حقیقۃ الوحی میں دعویٰ تو بہت کیا ہے کہ میں تیسرے درجہ والوں میں ہو کر خدا کی ذات میں محو ہو گیا ہوں اور اپنی ہستی کا چولہ محبت الٰہی کی آگ میں جلا دیا ہے مگر ثبوت یہ ہے کہ آخر عمر تک ہر ایک اپنے مخالف کو کوستے رہے۔ محبوب کی ہر ایک اور ہر ایک چیز اور فعل محب کو پیارا ہوتا ہے۔ پس خدا کی ذات میں جو شخص محو ہو اس کو ان جھگڑوں سے کیا کام وہ تو سوا خدا کے ظہور اور اس کی صفات کے غیر کو دیکھتا ہی نہیں۔ یعنی غیریت اس کو نظر نہیں آتی۔ سب عین ذات ہے تو پھر غیریت کس کی ؟ اگرچہ متکلمان و واعظان کلام سے تو پورے اتر آئے ہیں بلکہ سب سے بڑھ گئے ہیں مگر جب حقیقت کا موقعہ پڑے اور ان کے حال پر امتحان ہو تو فوراً قلعی کھل جاتی ہے۔ ایک بزرگ کا قول ہے۔

بھورا بھوندا ایک رنگ کیا بھورا کیا بھوند
واہ پئے تاں جانئے وہ بھورا وہ بھوند

پس جب عمل انسان کا نہ ہو اور منہ سے کہتا جائے کہ میں نے نفس کو مار دیا ہے اور مقوی و لذیذ کھانے کھائے اور طرح طرح کے سامان عیش و عشرت نفس کے واسطے مہیا کرے جو کہ ایسی نعمتیں دنیا دار امیر و کبیر کو بھی حاصل نہ ہوں تو کون عقل کا دھنی صرف زبانی لن ترانیوں پر یقین کر سکتا ہے۔ جس کا فعل اور قول برابر نہ ہو وہ ہرگز قابل اعتبار نہیں۔ ترک دنیا بخلق آموزند۔ خویشتن سیم و غلہ اندوزند۔ کا مصداق ہے۔ تحریری و تقریری و اشتہاری تو ہر ایک شخص مدعی نبوت ہو سکتا ہے مگر عمل معیار ہے۔ جب کبھی منہاج نبوت پر پرکھا جائے گا تو کاذب ثابت ہو گا کیونکہ خدا کا وعدہ سچا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہے۔ جو جو اشخاص مرزا قادیانی کی لفاظی اور دعاوی اور زبانی شیخی کو ان کی صداقت کی دلیل سمجھتے ہیں ہم ان کی واقفیت کے واسطے صرف ایک بزرگ کا کلام لکھ کر مرزا قادیانی کے کلام سے مقابلہ کر کے بتاتے ہیں کہ ان کے آگے مرزا قادیانی کی کلام کیسی پایہ میں گری ہوئی ہے وہو ہذا۔

١٠٣

صفحہ ٣٨٠

مقابلہ اشعار مرزا قادیانی

اشعار مرزا قادیانی

کارم ز قرب یار بجائے رسیدہ است
کانجا ز فہم و دانش اغیار بر ترم
بدبوئے حاسداں نرساند زیاں بمن
من ہر زمان ز نافہ بادش معطرم
باد بہشت بر دل پر سوز من وزد
صد نگہت لطیف دہد دود مجمرم
ابنائے روزگارے ندانند راز من
من نور خود نہفتہ ز چشمان شبپرم

(ازالہ اوہام ص ١٦٩ خزائن ج ٣ ص ١٨٣)

اشعار عراقی صاحب

اوصاف لایزال ہم از من شد آشکار
بنگر بمن کہ آئینہ ذات انورم
نورم کہ از ظہور من اشیا ظہور یافت
ظاہر تراست ہر نفس انوار اظہرم
بر لوح کائنات قلم آنچہ ثبت کرد
حرفی بود ہمہ ز حواشی دفترم
عالم بسوزد از لمحات جلال من
گر پردۂ جمال خود از ہم فرو درم

ایک اور صاحب فرماتے ہیں۔

کنوں رسیدہ ام ای شیخ در چناں منزل
کہ فرق مے نشناسم بعابد و معبود

کوئی مرزائی بتا سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کی کلام و حال اس شخص جیسا ہے ہرگز نہیں تو پھر جب وہ مدعی نبوت نہیں تو مرزا قادیانی کس طرح نبوت کے مدعی ہو کر سچے

صفحہ ٣٨١

مانے جائیں؟

الہاموں کی بابت سن لو عراقی صاحب فرماتے ہیں۔

محیط خاطر من ہر زماں بہر موجے
ہزار گوہر الہام بر سر آوردہ

ترجمہ۔ میرے دل کے دریا نے ہر وقت ہر موج کے ساتھ یعنی نفس اور سانس کے ساتھ ہزار موتی الہام کا ظاہر کیا ہے۔

ناظرین! مرزا قادیانی نے بڑے دعوٰی سے لکھا ہے کہ میرے جس قدر الہام ہیں کسی شخص کے نہیں اور جو بارش الہام کی مجھ پر ہوتی ہے کسی پر نہیں ہوتی مگر عراقی صاحب کے الہام کا یہ زور کہ ہر سانس کے ساتھ الہام ہوتا ہے اور پھر کلام دیکھئے کیسی خوبی اور فصاحت و بلاغت کے ساتھ ہے کہ مرزا قادیانی کی تصانیف و اشعار سطحی اور ملانوں والے سوا بہشت اور دوزخ اور اپنے مخالفین کے برا بھلا کہنے کے کچھ نہیں۔

دلیل نمبر ٣

مرزا قادیانی کی خاطر طاعون کا عذاب نازل ہوا اور ما کنا معذبین حتی نبعث رسولاً کی رو سے مرزا قادیانی نبی و رسول ہیں۔

جواب: طاعون ارادہ الٰہی سے تعداد عالم کو ایک حد معین تک رکھنے کے واسطے پڑی۔ جیسا کہ پہلے زمانوں میں ہمیشہ وبائی بیماریاں اور جنگ زلزلے وطوفان آتے رہے اور ہزاروں لوگ تباہ ہوتے رہے اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے کیونکہ قدرت نے تعداد مقررہ دنیا میں رکھنی ہے یہ غلط خیال ہے کہ طاعون نبی کے آنے کی خاطر پڑی جب تک لوگ مرزا قادیانی کو نہ مانیں گے طاعون فرو نہ ہوگی کیونکہ پہلے بھی دنیا پر طاعون پڑتی رہی ہے اور کوئی نبی نہیں آیا اور خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ خاتم النبیین کے مطابق محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں بھیجا۔ حالانکہ بڑے بڑے قحط سخت وبائیں اور زلزلے آتے رہے۔

١٣٤٨ء میں طاعون انگلستان میں آئی۔ جب ایڈورڈ سیوم کا عہد حکومت تھا مگر اس وقت کوئی نبی انگلستان یا دنیا کے اور کسی حصہ پر نہ ہوا۔

١٦٦٥ء میں طاعون انگلستان میں چارلس دوم کے عہد حکومت میں پڑی مگر کوئی نبی نہ ہوا۔

شاہجہان کے عہد حکومت میں طاعون ہندوستان میں بڑی سختی سے پڑی مگر کوئی نبی نہ ہوا۔

١٠٥

صفحہ ٣٨٢

١٣٤٨ء ایک مہلک وبا مشرق سے اٹھی اور فرانس کی ایک ثلث آبادی ضائع کر گئی۔ مگر کوئی نبی نہ ہوا۔

٢٣٤ھ میں عراق میں ایک ایسی ہوا چلی کہ کھیتیاں جل گئیں۔ بغداد و بصرہ کے مسافر مر گئے پچاس روز یہی قیامت برپا رہی مگر کوئی نبی نہ آیا۔ (صفحہ ١٥٨ تاریخ الخلفا) عراق میں وبا پھیلی اور بے تعداد آدمی تلف ہوئے اور ہزاروں جانیں اسی سال زلزلہ سے ضائع ہوئیں کوئی نبی نہ آیا۔

(تاریخ الخلفاء ص ١٩٤)

٤٦٤ھ میں جانوروں میں سخت وبا پڑی جس سے ریوڑ کے ریوڑ تباہ ہو گئے کوئی نبی نہیں آیا۔

(دیکھو تاریخ الخلفاء اردو ص ٢٤٤)

٧٤٩ھ میں ایک سخت طاعون ہوا کہ اس کی مثل آگے کبھی نہ سنا گیا۔ (تاریخ الخلفاء ص ١٦٠) اور کوئی نبی نہ آیا۔

ناظرین! بہت سے اور نظائر ہیں مگر بغرض اختصار اسی پر اکتفا ہے اب مرزائی صاحبان بتائیں کہ مذکورہ بالا طاعون اور وبائی بیماریوں کے وقت خدا نے کون نبی بھیجا۔ اب صاف ظاہر ہے کہ طاعون کسی نبی کے آنے کی علامت نہیں۔ اگر نبی ﷺ کے آنے کی علامت ہوتی تو پہلے بھی ضرور نبی آتے۔ مگر چونکہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آیا یہ باطل ہے کہ طاعون مرزا قادیانی کی نبوت کی دلیل ہے۔

دجال کو تباہ کرتی۔ کیونکہ مسیح موعود کی ڈیوٹی قتل دجال تھا اور بقول مرزا قادیانی انگریز قوم دجال تھے۔ تو ضرور تھا کہ طاعون سے انگریز و پادری مرتے مگر مشاہدہ سے ثابت ہے کہ ایک انگریز و پادری بھی طاعون سے نہیں مرا بلکہ مسلمان و ہندو بیچارے جن کی قضا تھی وہی فوت ہوئے۔

کو نہ لیتی مگر مشاہدہ ہے کہ قادیان میں بھی طاعون پھیلی اور خوب برباد کر گئی بلکہ مرزا قادیانی کے گھر میں بھی میر صاحب کے لڑکے اسحاق کو دو گلٹیاں نکلیں اور بخار بھی تھا۔ مگر خدا کی قدرت سے بچ گیا۔ (حقیقت الوحی ص ٣٢٩ خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٣) اور مرزا قادیانی نے اپنی دعا کا ڈھکوسلہ بنا لیا۔ اگر خدا نے مرزا قادیانی کی دعا قبول کرنی تھی تو پہلے ہی ان کی پیشگوئی کو کیوں جھٹلایا کہ ”قادیان طاعون سے محفوظ رہے گی کیونکہ خدا کا فرستادہ اس میں ہے اور قادیان خدا کے رسول کی تخت گاہ ہے۔“

(دافع البلاء حوالہ مذکور)

١٠٦

صفحہ ٣٨٣

(٣) اگر طاعون غیر مرزائیوں کے واسطے عذاب کی شکل میں خدائے تعالیٰ نے بھیجی تھی تو مرزا قادیانی کے مرید طاعون سے فوت نہ ہوتے۔ مگر مولوی سیالکوٹی پیراندتہ۔ مرزا قادیانی کے گھر میں فوت ہوئے حالانکہ کشتی نوح میں صفحہ ١٠ پر تمام مرید شامل کیے گئے تھے۔ مگر بہت مرید مرزا قادیانی طاعون سے ہلاک ہوئے۔ محمد افضل، مولوی برہان الدین، مولوی محمد یوسف، مولوی نور احمد وغیرہ۔

(دیکھو الذکر الحکیم نمبر ٦ صفحہ ٩١)

مگر چونکہ طاعون حسب ارادہ الٰہی دنیا کی تعداد کو حد مقررہ تک رکھنے کے لیے آئی تھی۔ چونکہ قدرت دنیا کی تعداد حد سے بڑھنے نہیں دیتی جب دنیا کی تعداد حد سے بڑھ جاتی ہے تو قدرت کی طرف سے گھٹائی جاتی ہے اور باہمی جنگ و جدال شروع ہو جاتے ہیں اور جس ملک میں جنگ نہ ہوں وہاں ایسی ایسی وبائی بیماریاں بھیجی جاتی ہیں۔ پس طاعون مرزا قادیانی کی صداقت کا نشان نہیں۔ مرزا قادیانی کی صداقت کا نشان ہوتی تو مرزائی کوئی طاعون سے نہ مرتا تاکہ غیر احمدیوں پر حجت ہوتی۔ اب کیا ہے کچھ بھی نہیں۔

دلیل نمبر ٤

زلزلے مرزا قادیانی کی صداقت کا نشان ہیں۔

جواب: یہ بھی غلط ہے۔ حوادثات ہمیشہ دنیا میں آتے رہتے ہیں۔ ہم ذیل میں ایک زلزلوں کی فہرست دیتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ زلزلے مرزا قادیانی کی تائید میں نہیں آئے۔ ہمیشہ آتے رہتے ہیں اور جب آتشی مادے زمین کے نیچے سے نکلتے ہیں تو زمین پھٹ جاتی ہے۔

١٨٠ھ میں سخت زلزلہ آیا جس سے اسکندریہ کے منارے گر گئے۔

(صفحہ ١٥٨ تاریخ الخلفاء اردو)

٢٣٣ھ میں دمشق میں ایسا سخت زلزلہ آیا کہ ہزاروں مکان گر گئے اور خلقت ان کے نیچے دب گئی۔ انطاکیہ میں بھی زلزلہ آیا اس واقعہ میں پچاس ہزار آدمیوں سے کم نقصان نہ ہوا۔

(صفحہ ١٥٨ تاریخ الخلفاء)

٢٣٣ھ میں تونس اور قرب و جوار نیرای و خراسان نیشاپور طبرستان، اصفہان میں سخت زلزلے آئے۔ پہاڑوں کے ٹکڑے اڑ گئے۔

٢٤٥ھ میں تمام دنیا میں سخت زلزلے آئے۔ شہر اور قلعے اور پل گر گئے انطاکیہ میں پہاڑ سمندر میں گر پڑا۔ آسمان سے سخت ہولناک آواز سنائی دی۔

(صفحہ ١٨٦ تاریخ الخلفاء)

ناظرین! اس وقت مرزا قادیانی ہوتے تو ضرور فرماتے خدا نے میری خاطر

١٠٧

صفحہ ٣٨٤

آواز دی ہے کہ یہ مسیح موعود سچا ہے افسوس گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں۔

دلیل نمبر ٥

مرزا قادیانی کی پیشگوئیاں ہیں جو سچی نکلیں یہ انسانی طاقتوں سے باہر ہے کہ کوئی شخص کسی کی مرگ کا وقت بتائے۔

جواب : پیشگوئیاں نبوت کی دلیل ہرگز نہیں ہو سکتیں کیونکہ پیش گوئیاں کاہن، جوگی پنڈت، جوتشی، رمال، نجومی، قیافہ شناس، جن کو قوت مقناطیسیہ کی مشق پڑی ہوئی ہو پیشگوئیاں کرتے ہیں۔ اور اکثر سچی نکلتی ہیں۔ یہ اظہر من الشمس ہے کہ انگریز بڑے بڑے ستار شناسوں کیطرف سے ہمیشہ پیشگوئیاں مشتہر ہوتی رہتی ہیں۔ پس نبوت و رسالت کی معیار پیشگوئیاں ہرگز نہیں۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کیونکہ ”دنیا میں بجز انبیاء کے اور بھی ایسے لوگ بہت نظر آتے ہیں کہ ایسی ایسی خبریں پیش از وقوع بتلایا کرتے ہیں کہ زلزلے آئیں گے وبا پڑے گی۔ لڑائیاں ہوں گی۔ قحط پڑے گا۔ ایک قوم دوسری قوم پر چڑھائی کرے گی۔ یہ ہوگا وہ ہوگا اور بارہا ان کی کوئی نہ کوئی خبر تو سچی نکل آتی ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ٢٧ حاشیہ خزائن ج ١ ص ٥٥٠)

پس معیار نبوت پیشگوئیاں نہیں ہیں

شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ فرماتے ہیں کہ انبیاء کو ان کے علوم صرف وحی الہی سے خاص طور پر آئے تو ان کے دل نظر عقلی سے سادہ ہوئے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ عقل ان امور کو نظر فکری سے اصلی طور پر دریافت کرنے سے قاصر ہے اسی واسطے اللہ تعالی نے حضرت عزیر کے پاس وحی بھیجی کہ لئن لم تنته لا محون اسمک عن دیوان النبوة اگر تم اس تعجب کے کہنے سے باز نہ آؤ گے تو میں تمہارا نام نبوت کے دفتر سے مٹا دوں گا۔

(دیکھو فصوص الحکم)

اس شیخ اکبر کی کلام سے معلوم ہوا کہ وحی خاصہ انبیاء ہے اور اس وحی میں کوئی نبی شک نہیں کر سکتا اور نہ عقل انسانی وحی کی حقیقت کو پاسکتی ہے۔ نبی ہمیشہ وحی الہی کے تابع ہوتا ہے اور اپنی عقلی ڈھکوسلے نہیں پیش کر سکتا مگر مرزا قادیانی نے وحی الہی جو محمد رسول اللہ ﷺ پر ہوئی کہ عیسیٰ ابن مریم اخیر زمانہ میں اصالتاً بمعہ جسم عنصری آسمان سے نزول فرمائے گا اور دجال کو قتل کرے گا۔ سچے نبی محمد رسول اللہ ﷺ نے تو کوئی عقلی اعتراض محال عقلی کا نہ کیا کہ خداوندا یہ جسم خاکی تو آسمان پر کس طرح لے جا سکتا ہے اور

١٠٨

صفحہ ٣٨٥

عیسیٰ کو تو نے کرہ زمہریر سے کس طرح گزارا اور عیسیٰ آسمان پر کھاتا پیتا کیا ہو گا اور بول و براز کہاں کرتا ہو گا؟ محمد رسول اللہ ﷺ نے تو مان لیا اور حدیثوں میں بلا کسی شک و شبہ کے فرما دیا کہ اخیر زمانہ میں میرا بھائی عیسیٰ جس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں آسمان سے نازل ہو گا اور صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا۔ وغیرہ وغیرہ اور وہ مرا نہیں ان عیسیٰ لم یمت و انہ راجع الیکم۔ (در منثور ج ٢ ص ٣٦) یعنی عیسیٰ نہیں مرا اور وہ تمہاری طرف واپس آنے والا ہے مگر مرزا قادیانی نے ہزاروں اعتراض مادہ پرستوں کی طرح کیے۔

اب سوال ہوتا ہے کہ کیا محمد رسول اللہ ﷺ کو معاذ اللہ اتنا خیال نہ تھا کہ محالات عقلی کا اعتراض کرتے یا اس اعتراض کو وحی الٰہی کے مقابلہ میں جگہ دیتے جس کا جواب یہ ہے کہ محمد ﷺ کو خدا کی ذات پاک اور صفات لا محدود کا عرفان تھا اور ان کا حق الیقین تھا کہ خدا تعالیٰ قادر مطلق ہے جو چاہے کر سکتا ہے سبحن الذی اذا اراد بشیء ان یقول لہ کن فیکون یعنی پاک ہے وہ ذات جس چیز کا ارادہ کرے صرف کہہ دیتا ہے ہو جا وہ چیز ہو جاتی ہے۔ اور نظیر بھی قائم تھی کہ عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کیا اور قانون قدرت جو آدم سے عیسیٰ تک چلا آتا تھا اس کو توڑا۔ کس قدر غیر مناسب ہے کہ وہی خدا جب فرماتا ہے کہ عیسیٰ اخیر زمانہ میں آئے گا اور مرا نہیں ہم نے اس کو اٹھا لیا ہے تو محمد ﷺ سا عارف کامل ہو کر اور سچا نبی ہو کر ہرگز محالات عقلی کا اعتراض نہ کر سکتا تھا اور نہ اس نے کیا۔ مگر مرزا قادیانی چونکہ عرفان اختیارات ذات باری تعالیٰ سے ناواقف تھے اور انکا نور معرفت قدرت ذوالجلال سے ایسا منور نہ تھا جیسا کہ انبیاء کا اور جیسا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا اس واسطے محالات عقلی کے اعتراضات ان کو مادہ پرستوں کی طرح سوجھے جیسا کہ کفار عرب کو قیامت کے آنے اور حشر بالاجساد و عذاب دوزخ اور رسول اللہ ﷺ کے معراج پر سوجھے تھے۔ مگر انبیاء اس بیماری سے پاک ہوتے ہیں۔ حضرت عزیرؑ کا حال شاہد حال ہے کہ اس نے صرف اتنا خیال کیا تھا کہ اَنّٰی یُحْیٖ ہٰذِہِ اللّٰہُ بَعْدَ مَوْتِھَا یعنی تعجب ہے فرماتے ہیں کہ کیونکر اللہ تعالیٰ بعد مرنے کے زندہ کرے گا۔ صرف اتنے خیال سے یہ عتاب ہوا کہ اگر ہماری قدرت اور طاقت میں شک کر کے ایسا کہنے سے باز نہ آئے گا تو تیرا نام نبیوں کے دفتر سے کاٹ دیا جائے گا۔ جس سے صاف ثابت ہوا کہ ذات باری تعالیٰ کی نسبت یہ کہنا کہ خدا مردہ کو زندہ نہیں کر سکتا یا کیونکر زندہ کرے گا۔ ہرگز جائز نہیں اور یہ کہنا صرف عدم معرفت

١٠٩

صفحہ ٣٨٦

الٰہی سے ہے کیونکہ جو شخص ایک وجود کی طاقت کو نور معرفت سے دیکھ لیتا ہے کہ جس ذات پاک نے بغیر ہونے مادہ و آلات و ظاہری اسباب کے یہ تمام کائنات بنا دی۔ اس کے آگے اس امر کا کرنا جس کو ناچیز انسان اپنی قدرت اور طاقت سے بالاتر سمجھتا ہے یا محال جانتا ہے کر دینا کچھ مشکل نہیں۔ مگر جو شخص عرفان کے نور سے بے بہرہ ہے وہ یہی خیال کرتا ہے کہ جس طرح میں ایک امر محال عقلی کے کرنے پر عاجز ہوں۔ خدا بھی عاجز ہے اور جس طرح میں آسمان پر نہیں جا سکتا خدا تعالیٰ بھی کسی انسان کو آسمان پر لے جانے کے واسطے عاجز ہے۔ مگر انبیاءؑ چونکہ ان کی دو جہت ہوتی ہیں ایک انسانوں کی طرف اور دوسری خدا تعالیٰ کی طرف اور وہ خدا تعالیٰ کی طاقتوں اور قدرتوں کا علم رکھتے ہیں۔ اس واسطے نبی و رسول محالات عقلی کا لفظ خدا تعالیٰ کی ذات کی نسبت نہیں کہتے اور مرزا قادیانی محالات عقلی اور خلاف قانون قدرت کے دلدل میں پھنسے ہوئے تھے اس لیے وہ نبی ہرگز نہیں ہو سکتے۔

معیار صداقت مرزا قادیانی نے خود قرار دی تھیں۔ مگر وہ بہت صفائی سے جھوٹی نکلیں۔ اگرچہ مرزا قادیانی نے تاویلیں بہت کیں مگر چندانکہ صیقل کنی دیوار بے بنیاد را جھوٹ جھوٹ ہے خواہ اس پر لاکھ ملمع کرو۔ یہ تاویل کہ عبداللہ نے رجوع کر لیا اس لیے نہیں مرا۔ اوّل تو ١٥ مہینے کی میعاد میں جس خدا نے عبداللہ کی سزا مقرر کی تھی اور پھر ملتوی کر دی تھی تو مرزا قادیانی کو بھی خبر کر دیتا تاکہ وہ مشتہر کر دیتے کہ عبداللہ اب نہیں مرے گا کیونکہ اس نے رجوع حق کی طرف کر لیا ہے مگر چونکہ خدا نے تاریخ مقررہ سے پہلے کوئی اطلاع مرزا قادیانی کو نہیں دی اس لیے یہ تاویل باطل ہے۔

نے رجوع کیا۔ حضرت یونسؑ کی مثال دے کر جو مرزا قادیانی نے مغالطہ دیا ہے غلط ہے کیونکہ حضرت یونس کی قوم ایمان لے آئی تھی اور عبداللہ ایمان نہیں لایا تھا۔ پس یہ غلط ہوا کہ عذاب ٹل جایا کرتا ہے۔

ہے۔ اس لیے بھی عذاب کا ٹل جانا جھوٹی تاویل ہے۔

قادیانی اسلام پیش کر کے اس کے واسطے عذاب مانگا اور اس کی موت مانگی تو خدا نے

١١٠

صفحہ ٣٨٧

عذاب کا وعید کر دیا مگر جب عبداللہ نے عیسائیت کے ذریعہ سے مخلصی چاہی تو خدا نے اس کو بھی مخلصی دے دی تو پھر دونوں برابر ہوئے بلکہ عبداللہ زیادہ مقبول ثابت ہوا کہ خدا نے اسکی خاطر مرزا قادیانی جو حکم جاری کرا آئے تھے وہ منسوخ کرا دیا یہ بالکل غلط بیانی ہے کہ آخر عبداللہ مر تو گیا۔ یہ کیسا لغو دعویٰ ہے کہ اگر عبداللہ مر گیا تو مرزا قادیانی ہمیشہ زندہ رہے وہ بھی مر گئے۔ پھر یہ کیا پیش گوئی ہوئی آخر انسان کبھی نہ کبھی تو مرے گا۔ پس جب مرے گا تب ہی پیش گوئی سچی ہوئی ۔

اے دوست بر جنازہ دشمن چو بگذری
شادی مکن کہ بر تو ہمیں ماجرا رو

ہمارے نزدیک تو مرگ کی پیشگوئیاں صرف مکر و فریب ظاہر کرتی ہیں کیونکہ پیشگوئی کے وقت پہلے سوچ لیا جاتا تھا کہ ہر ایک انسان نے مرنا ضرور ہے۔ جب مرے گا تب ہی تاویلات سے اپنی سچائی ثابت کر دیں گے۔ شادی کر کے پیشگوئی کرنا کہ اولاد ہوگی۔ یہ ویسی کرامتیں ہیں کہ پیر صاحب پتھر ڈوبا دیتے ہیں اور گھاس کو ترا دیتے ہیں۔ دوسری پیشگوئی منکوحہ آسمانی کی ہے۔ یہ بھی غلط نکلی اور مرزا قادیانی منہ دیکھتے رہ گئے۔ پھر اس میں ترمیم کی کہ باکرہ نہیں بیوہ ہو کر ضرور آئے گی۔ بھلا کوئی پوچھے یہ کیوں کوئی غیرت مند انسان چاہتا ہے کہ اس کی منکوحہ آسمانی دوسرے کے پاس جا کر بال بچہ جنے اور بیوہ ہو کر پھر نکاح میں آئے مگر خیر یہ بھی مان لیا گیا اور مرزا قادیانی نے بڑے زور سے لکھا کہ میری جان نہیں نکلے گی۔ جب تک یہ پیشگوئی پوری نہ ہو۔ چنانچہ ہم سب عبارات مرزا قادیانی پہلے لکھ چکے ہیں۔ مگر قدرت خدا بد نصیب مرزا قادیانی نے آنحضرت ﷺ کی نقل کی تھی کہ ان کا نکاح حضرت عائشہؓ سے آسمان پر ہوا تو زمین پر بھی ضرور ہوا۔ میرا بھی ایسا ہی ہو جائے گا تو نبوت ثابت ہے مگر خدا تعالیٰ اپنے وعدہ خاتم النبیین کے برخلاف کس طرح کرتا اور سچے اور جھوٹے نبی میں فرق کر دیا کہ مرزا قادیانی بصد حسرت دنیا سے چل دیئے اور محمدی بیگم اپنے گھر میں آباد ہے۔ مگر لطف یہ ہے کہ مرزائی اس فاش غلط پیشگوئی کو بھی سچی پیشگوئی کہتے ہیں اور دلیل دیتے ہیں کہ محمدی بیگم کا باپ جو مر گیا۔ کیا خوب مرزا قادیانی نے مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کا جنازہ آسمان پر دیکھا تھا یا اس کی لڑکی کے ساتھ نکاح ہوا تھا۔ جھوٹ اور ہٹ دھرمی کی بھی کوئی حد نہیں۔ کجا شادی کجا مرگ۔ کجا نکاح کجا جنازہ۔ ڈولی کے عوض جنازہ نکلا اور خوش فہم مرزائی جنازہ کو ڈولی سمجھ کر پیش گوئی سچی کہتے جاتے ہیں۔ پس جب مرزا قادیانی کی

١١١

صفحہ ٣٨٨

پیشگوئیاں بھی غلط نکلیں تو وہ نبی کیونکر ہوئے۔

دلیل نمبر ٦

”دارقطنی میں امام محمد باقر نے فرمایا ہے ان لمہدیناآیتین لم تکونا منذ خلق السموات والارض ینکسف القمر لاول لیلۃ من رمضان و تنکسف الشمس فی نصفہ منہ۔ ترجمہ۔ ہمارے مہدی کے لیے دو نشان ہیں اور جب سے کہ زمین و آسمان خدا نے پیدا کیا یہ دو نشان کسی اور مامور اور رسول کے وقت میں ظاہر نہیں ہوئے۔ ان میں سے ایک یہ ہے مہدی معہود کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں چاند گرہن اس کی اوّل رات میں ہوگا۔ یعنی تیرھویں تاریخ میں اور سورج کا گرہن اس کے دونوں میں سے بیچ کے دن میں ہوگا...... جس کو عرصہ قریباً بارہ سال کا گزرا ہے۔ اسی صفت کا چاند اور سورج کا گرہن رمضان کے مہینہ میں وقوع میں آیا۔

(حقیقۃ الوحی ص ١٩٥ خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٢)

الجواب: اول تو مرزا قادیانی نے اپنی عادت کے موافق ترجمہ غلط کر کے تحریف کی ہے۔ یعنی جس عبارت کا ذکر تک نہیں وہ اپنے پاس سے داخل کر لی ہے یہ ”دو نشان کسی اور مامور اور رسول کے وقت میں ظاہر نہیں ہوئے۔“ ناظرین! یہ کسی لفظ حدیث کا ترجمہ نہیں۔ اگر کوئی لفظ حدیث میں ہے تو مرزائی بتائیں اور پھر آگے ”مہدی معہود کے زمانہ میں“ یہ بھی اپنے پاس سے لگا لیا ہے۔ ”پھر اس کے دونوں میں سے بیچ کے دن“ یہ بھی اپنے پاس سے درج کر لیا ہے اور اخیر کا فقرہ جو تاکید کے واسطے دوبارہ تھا۔ وہ چھوڑ دیا ہے یعنی ولم تکونا منذ خلق السموات والارض جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا جب سے اللہ نے آسمان اور زمین پیدا کیے۔ (دیکھو صفحہ ١٧٥ کتاب الاشاعۃ لاشراط الساعۃ مطبوعہ مصر) اب کون عقلمند ایسے شخص کو محقق و مامور من اللہ مان سکتا ہے؟ جو اپنے مطلب کے واسطے رسول یا خدا کی کلام میں تحریف کرے۔ لفظ کچھ ہیں معنی کچھ کرتے ہیں اور اپنے پاس سے عبارت زیادہ کرتے ہیں جو کہ امام زمان کی شان سے بعید ہے۔

اب صحیح ترجمہ یہ ہے۔ ہمارے مہدی کے واسطے دو نشان ہیں جو کہ جب سے زمین و آسمان خلق ہوئے یعنی پیدا ہوئے ایسا کبھی نہیں ہوا یعنی قمر کو اوّل رمضان کی گرہن لگے گا اور سورج کو نصف رمضان میں لگے گا اور جب سے آسمان و زمین اللہ نے پیدا کیے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ ناظرین! لفظ حدیث صاف صاف بتا رہے کہ منذ خلق السموات والارض یعنی جب سے زمین و آسمان پیدا ہوئے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ خلاف

١١٤

صفحہ ٣٨٩

قانون قدرت خرق عادت کے طور پر ہر دو گرہن ہوں گے یعنی پہلی رمضان کو چاند کو گرہن لگے گا اور نصف رمضان یعنی ١٤ و ١٥ رمضان کو سورج کو اور مرزا قادیانی کے وقت ایسا نہیں ہوا پس یہ باطل ہے کہ چاند و سورج کا گرہن رمضان میں مرزا قادیانی کی صداقت کا نشان ہے اور خلاف عادت ہونا دو دفعہ فرما دیا۔

(٢) چونکہ اس حدیث کا مضمون خلاف قانون قدرت ہے۔ یعنی وہ امر جو ابتدائے آفرینش سے نہیں ہوا وہ مہدی کے زمانہ میں ہو گا۔ مرزا قادیانی کے اپنے مذہب کے برخلاف ہے کیونکہ وہ محال عقلی و خلاف قانون قدرت کے جال میں پھنسے ہوئے تھے اور اسی واسطے خدا کو عاجز انسان کی طرح محالات عقلی پر قادر نہ سمجھ کر حضرت عیسیٰ کے آسمان پر جانے اور واپس آنے سے منکر تھے تو اب وہ کس طرح یہ پیش کر سکتے ہیں کہ خلاف قانون قدرت چاند گرہن و سورج گرہن ہوا بلکہ یہ حدیث ہی نہیں ایک قول امام محمد باقر کا ہے جو کہ صحیح حدیث کے مقابل پر ہے اور اس کے دو راوی ہیں عمر و جابر کذاب ہیں اس لیے یہ قول محدثین کے نزدیک قابل اعتبار نہیں۔ مگر مرزا قادیانی کی مطلب پرستی حد سے بڑھی ہوئی ہے۔ ضعیف سے ضعیف قول اور حدیث سے مطلب نکلتا ہو تو اسی کو بار بار لکھتے جاتے ہیں اور قرآن اور صحیح حدیث کی پرواہ نہیں کرتے جیسا کہ لا مہدی الا عیسیٰ پر اڑے جاتے ہیں اور غضب یہ کرتے ہیں کہ جھوٹ لکھتے ہوئے خوف خدا نہیں ۔ اسی قول چاند گرہن و سورج گرہن کو (اربعین نمبر ٣ ص ٢٦ خزائن ج ١٧ ص ٤١٥) پر ”حدیث نبوی ﷺ قرار دے دیا ہے ۔“ حالانکہ یہ قول کسی حدیث کی کتاب صحاح ستہ میں نہیں چونکہ صحیح حدیث جس میں آنحضرت ﷺ نے صاف صاف فرما دیا کہ چاند گرہن و سورج گرہن کسی کے غم و خوشی کے نشان نہیں یعنی کسی کی موت و حیات سے کچھ تعلق نہیں رکھتے۔ صرف خدا تعالیٰ کے قادر مطلق ہونے کے دو نشان ہیں۔ جب یہ قول اس حدیث کے متعارض ہے تو مردود ہے۔

(٣) یہ مرزا قادیانی کا فرمانا بالکل غلط ہے کہ پہلے کبھی مامور من اللہ و رسول کے مدعی ہونے کے چاند وسورج کو گرہن رمضان میں نہیں ہوا۔ ہم نیچے قطع حجت کے واسطے اکثر نام مدعیان نبوت ومہدویت بمعہ تاریخ وسنہ گرہن ہر دو چاند وسورج ماہ رمضان میں لکھتے ہیں تا کہ مرزا قادیانی کی راستبازی معلوم ہو۔

٦٢ ہجری و ٦٣ ہجری میں محمد حنیفہ مدعی نبوت کے وقت ماہ رمضان میں چاند و سورج کو گرہن لگا۔

(دیکھو غایۃ المقصود صفحہ ٣٨)

١١٣

صفحہ ٣٩٠

٥٨ ہجری و ١٠٧ و ١٠٨ھ امام جعفر مدعی نبوت ہوا اور اس کے وقت میں رمضان میں دونوں گرہن ہوئے۔

(دیکھو ابن خلکان و غایت المقصود)

٢٤١ و ٢٤٢ ہجری میں حسن عسکری نے دعویٰ کیا اور ہر دو گرہن رمضان میں ہوئے۔

(دیکھو ابن خلکان)

٧٧٦ و ٧٧٧ ہجری میں عباس نے دعویٰ نبوت و مہدویت کیا اور ہر دو گرہن اس کے وقت میں ہوئے۔

(دیکھو عسل مصفٰی)

١٠٨٨ و ١٠٨٩ ہجری میں محمد نے دعویٰ مہدویت کیا اور ہر دو گرہن اس کے وقت ہوئے۔

(دیکھو مہدی نامہ)

١٣١١ و ١٣١٢ ہجری میں محمد عبداللہ بن عمر نے دعویٰ مہدویت کیا اور ہر دو گرہن اس کے وقت ہوئے۔

(دیکھو عسل مصفٰی)

چونکہ اختصار منظور ہے اس واسطے اسی پر اکتفا ہے ورنہ بہت سی نظیریں ہیں بلکہ مدعیان کذابوں کا یہ نشان ہے کہ رمضان میں چاند وسورج کا گرہن حسب معمول ١٣ و ٢٨ وغیرہ کو ہو۔ سچے مہدی کا نشان تو وہی ہے جو کہ اوّل ونصف رمضان میں خلاف قانون مقررہ ہو گا کیونکہ حسب معمول جیسا کہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ایسا تو ٢٦ مدعیان میں سے ٢٣ کے وقت میں ہوا اور رمضان میں چاند گرہن وسورج گرہن ہوا۔ اس حساب سے تو مرزا قادیانی بھی انھیں اپنے بھائیوں کذابوں مدعیان میں سے ہوئے نہ کہ سچے مہدی اگر سچے مہدی ہوتے تو اوّل رمضان اور نصف رمضان میں چاند وسورج کا گرہن ہوتا۔

(٤) مسٹر کینتھ صاحب نے اپنی کتاب یوز آف دی گلوبس میں کسوف وخسوف کا جو قاعدہ بیان کیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ ٢٢٣ سال ایک دور قمری میں دس دفعہ ماہ رمضان میں چاند و سورج کو گرہن ہوتا ہے۔

اگر اس قول کو مرزا قادیانی کی خاطر حدیث مان بھی لیں تو پھر بھی منذ خلق السموات والارض کے کیا معنی ہوئے؟ جس کے معنی یہ ہیں کہ ابتدائے آفرینش سے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ یعنی جب سے زمین و آسمان خلق ہوئے ہیں۔ اوّل رمضان ونصف رمضان میں چاند و سورج کا گرہن بالترتیب کبھی نہیں ہوا اور مہدی کے وقت میں ہو گا۔ حسب معمول ١٣ سے ١٥ تک اور ٢٧ سے ٣٠ تک تو ہمیشہ گرہن ہوتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر دکھایا گیا ہے۔

دوم۔ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰؑ کے آسمان پر جانے کے منکر ہیں اس لیے کہ

صفحہ ٣٩١

پہلے نظیر نہیں ہے یعنی ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انسان آسمان پر جائے اور وہاں تو حضرت ایلیا کی نظیر بھی تھی۔ اب خود بتائیں کہ اس کی کیا نظیر ہے کہ جب سے آسمان و زمین پیدا ہوئے ہیں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ اب کس طرح مان کر اپنی صداقت کی دلیل دیتے ہیں؟ جب پہلے نظیر نہیں تو اب یہ بھی غلط ہے کہ رمضان میں گرہن مرزا قادیانی کی صداقت کا نشان ہے۔

الشمس في النصف منه. یعنی چاند کو گرہن لگے گا۔ پہلی رات رمضان کو اور نصف اس کے میں سورج کو تعجب ہے کہ مرزا قادیانی نے اوّل کے معنی ١٣ و ١٤ اور نصف کے معنی بجائے آدھا کے اخیر کیونکر کر لیے اور کس لغت کی کتاب میں لکھا دیکھا کہ اوّل رمضان کے معنی نصف رمضان اور نصف رمضان کے معنی اخیر رمضان ہیں؟ افسوس مرزا قادیانی اپنے مطلب میں ایسے محو ہوتے ہیں کہ تمام جہان کی مسلمات کو اپنی پیدا کردہ دلیل کے سامنے جو بالکل بے ربط و بے سیاق ہوتی ہے ردی قرار دیتے ہیں اور بالکل بے سند کہتے جاتے ہیں۔ بھلا یہ کیا معقول ہے کہ کبھی پہلی دوسری کو بھی گرہن لگ سکتا ہے کیونکہ خلاف قانون قدرت ہے اور خدا ایسا نہیں کر سکتا مگر رمضان میں خرق عادت کر سکتا ہے جس کا جواب یہ ہے کہ اگر خدا اوّل رات کے چاند کو خرق عادت کے طور پر گرہن لگانے سے عاجز ہے اس لیے کہ پہلی رات کا چاند بہت چھوٹا ہوتا ہے تو سورج تو چھوٹا نہیں ہوتا۔ اسکو بموجب قول کے الفاظ کے نصف رمضان میں کیوں گرہن نہ لگا اور مرزا قادیانی نصف کے معنی اخیر رمضان کس لغت کے رو سے لیتے ہیں؟ اور منذ خلق السموات والارض کو اڑا دیتے ہیں اور پھر یہ کیوں کہتے ہو کہ رمضان میں خرق عادت کے طور پر گرہن لگا ہے؟ جب خلاف قانون قدرت خدا کر ہی نہیں سکتا تو پھر حدیث بھی غلط ہے کہ اوّل رمضان میں جو ابتدائے دنیا سے کبھی نہیں ہوا تو پھر نشان کیسا یہ بھی غلط ہوا اور حدیث بھی غلط۔

رمضان معنی کرنا غلط ہے اور ١٣ و ١٤ درست ہیں۔ اگر ہلال ہوتا تو اوّل رمضان درست تھا۔ جس کا جواب یہ ہے کہ ١٣ و ١٤ کے چاند کو بدر کہتے ہیں اگر حدیث کا مطلب حسب معمول ١٣ و ١٤ کو گرہن ہونا ہوتا تو بدر کا لفظ ہونا چاہیے تھا نہ کہ قمر کا کیا مرزا قادیانی کو معلوم نہیں کہ ہلال و بدر قمر کی حالتوں کا نام ہے اصل قمر ہی ہے۔

١١٥

صفحہ ٣٩٢

قَدَّرْنَاہُ مَنَازِلَ (یونس ٥) (٢) وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰھَا. (الشمس ٢) حدیث میں بھی قمر چاند کو کہا گیا ہے چاہے پہلی دوسری کا ہو یا ١٢۔١٥ وغیرہ کا الشمس والقمر ثوران مکدران یوم القیمۃ. (النہایۃ ج ١ ص ٢٦) یعنی آفتاب اور ماہتاب پتھر کی دو چکیوں کی طرح بے نور پڑے ہوں گے غرض یہ دھوکہ ہے کہ اوّل رمضان کے معنی ١٢ و ١٣ رمضان ہے ورنہ ہلال ہوتا۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر ١٢ و ١٣ مراد ہوتی تو بدر ہوتا کیونکہ جیسے پہلی تاریخ کے چاند کو ہلال کہتے ہیں۔ ویسے ہی ١٢ و ١٣ کے چاند کو بدر کہتے ہیں۔ چونکہ بدر نہیں فرمایا اور ساتھ ہی منذ خلق السموات والارض فرمایا اس لیے ثابت ہوا کہ رمضان کی پہلی رات کو خلاف معمول چاند کو گرہن ہو گا اور نصف رمضان میں سورج کو ہو گا۔ پھر سورج کے گرہن کے واسطے نصف منہ کی قید کیوں لگائی اگر اوّل رمضان مراد نہ ہوتی کیونکہ ہمیشہ سورج کو گرہن ٢٨ و ٢٩ کو لگتا ہے۔ جب کہ سورج کا موقعہ بجائے ٢٧ و ٢٨۔ ١٣ و ١٤ نصف فرمایا تو ضروری ہوا کہ چاند کا موقع گرہن بجائے ١٢ و ١٣ کے یکم دوم رمضان ہو ورنہ بالکل غلط معنی ہوتے ہیں۔ جس قدر چاند کو پیچھے ہٹا دیا اسی قدر سورج کو بھی پیچھے ہٹا دیا یعنی سورج کو گرہن بجائے اخیر رمضان کے نصف رمضان میں ہو گا اور چاند کا گرہن بجائے نصف رمضان کے اوّل رمضان کو ہو گا۔ منہ کا ضمیر رمضان کی طرف راجع ہے جو صاف صاف ظاہر کر رہا ہے۔ اوّل اور نصف رمضان سے اوّل و نصف رمضان ہی مراد ہے نہ کہ کوئی من گھڑت بے سند خود تراشیدہ معنی ہیں۔

(٧) عن شریک قال بلغنی ان قبل خروج المہدی ینکسف القمر فی شہر رمضان مرتین رواہ نعیم. یعنی رمضان میں دو دفعہ چاند گرہن ہو گا۔ روایت کی نعیم نے اس حدیث نے بہت صاف کر دیا کہ اوّل رمضان کو ہی چاند گرہن ہو گا۔ خلاف معمول یعنی جب سے آسمان زمین بنے ہیں کبھی اوّل رمضان کو ہی چاند گرہن نہیں ہوا اور دوسرا گرہن حسب معمول ١٢ و ١٣ رمضان کو ہو گا۔ پہلا گرہن صرف مہدی کے نشانات کے واسطے ہو گا۔ جس سے صاف مرزا قادیانی کے تمام دلائل کا بطلان ہو گیا کیونکہ اس حدیث نے تفسیر کر دی۔

(اشاعۃ الساعۃ ص ١٧٦ مطبوعہ مصر)

اب تو بالکل صاف ظاہر ہو گیا۔ اوّل رمضان سے یکم رمضان ہی مراد ہے اور چونکہ اوّل رمضان کو چاند گرہن نہیں ہوا۔ پس یہ باطل ہے کہ مرزا قادیانی کی صداقت آسمان نے کی۔

(٨) عن کعب قال یطلع نجم من المشرق قبل الخروج المہدی لہ ذنب.

١١٦

صفحہ ٣٩٣

(الحاوی ج ٢ ص ٨٢) یعنی مشرق کی طرف سے ایک ستارہ جس کے واسطے دم ہو گی۔ مہدی کے خروج سے پہلے طلوع کرے گا یعنی نکلے گا چونکہ یہ ستارہ بھی نہیں نکلا تو پھر مہدی کا نشان کیسے ہوا؟ اور مرزا قادیانی کے واسطے آسمانی نشان کے کیا معنی ہوئے؟

المشرق ثلاثۃ ایام و سبعۃ ایام فتوقعوا خروج ال محمد انشاء اللہ تعالیٰ۔ ترجمہ۔ جس وقت دیکھو تم مشرق سے آگ تین دن یا سات دن پس امید کرو کہ آل محمد ﷺ نے خروج کیا ہے اگر چاہا اللہ نے (اشاعۃ الساعۃ ص ١٧٦) عن ابی ھریرۃ قال یکون بالمدینۃ وقعۃ یغرق فیھا احجار الزیت بالحمرۃ عندھا الا کضربۃ سوط فینبغی عن المدینۃ یریدین ثم یبایع المھدی رواہ نعیم اور ابی ہریرہؓ سے روایت ہے کہ اس مدینہ میں ایک بڑی لڑائی ہو گی۔ جس میں مقام احجار الزیت پر خوف طاری ہو گا اور مدینہ کا سنگلاخ (بیرون مدینہ جانب مشرق) ضرب تازیانہ کی طرح موجب اذیت ہو گا تب دو صادق مدینہ سے باہر نکلیں گے۔ پھر مہدی کی بیعت کی جائے گی۔

موعود کے وقت رمضان میں چاند و سورج کو گرہن ہو گا۔ اگر یہ کہیں کہ مہدی و مسیح موعود۔ مجدد رجل فارسی مامور من اللہ۔ امام زمان۔ کرشن جی وغیرہ وغیرہ جن کے مرزا قادیانی مدعی تھے۔ صرف ایک ہی شخص ہے تو یہ دعاوی مفصلہ ذیل دلائل سے باطل ہیں۔

درمیان کوئی نبی نہیں وہی نزول فرمائے گا اور اس کا نزول دمشق میں ہو گا۔

فاطمہ زہراؓ کی نسب سے ہو گا جیسا کہ پہلے گزرا ہے اور اس کا نام اور اس کے باپ کا نام رسول اللہ ﷺ کے نام پر ہو گا اور مدینہ میں بیعت لے گا نہ کہ قادیان پنجاب میں۔

نبوت و مہدویت کا مدعی نہیں ہوتا اور مرزا قادیانی نبوت و رسالت کے مدعی ہیں۔ پس یہ خیال غلط ہے کہ مسیح موعود مہدی و مجدد و کرشن وغیرہ ایک ہے۔

میں تھی۔ مرزا قادیانی نے ناحق رجل فارسی ہونے کا دعویٰ کیا۔ رجل فارسی مسیح موعود ہرگز نہیں ہو سکتا اور نہ کسی حدیث میں ہے کہ مسیح موعود رجل فارسی ہو گا۔ محمد رسول اللہ ﷺ

١١٧

صفحہ ٣٩٤

نے حضرت سلمان فارسیؓ کے حق میں تعریف کی کہ یہ شخص اس قدر متلاشی ایمان ہے کہ اگر ایمان ثریا پر بھی معلق ہوتا تو وہاں سے بھی لے آتا۔ یہ کیونکر صحیح ہے کہ جو رجل فارس ہو یعنی فارس کا رہنے والا ہو وہی سلمان فارسی ہے؟ اور ایمان کو ثریا سے لانے والا ہے

نہ ہر کہ چہرہ بر افروخت دلبری داند
نہ ہر کہ آئینہ دارد سکندری داند

’لو‘ کا لفظ تو شرطیہ ہے پس نہ ایمان ثریا پر اٹھایا گیا تھا اور نہ حضرت سلمان فارسیؓ لائے تھے۔ یہ کیا بودا استدلال ہے کہ چونکہ میں فارسی النسل ہوں اس لیے رجل فارسی ہوں اور ایمان کو ثریا سے لایا ہوں اور یہ کہاں لکھا ہے کہ مسیح موعود رجل فارسی ہو گا۔ رسول اللہ ﷺ نے تو اس کو مریمؑ کا بیٹا اس واسطے کہا کہ اس کا باپ نہ تھا مگر تعجب ہے کہ باپ والا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرے اور قاعدہ کلیہ ہے کہ اعلام کبھی نہیں بدل سکتے۔ جب مسیح موعود کے اعلام رسول اللہ ﷺ نے فرما دیئے کہ عیسیٰ ابن مریمؑ نبی اللہ جس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں۔ پس چار علم جو کہ رسول اللہ ﷺ نے تفریق کے واسطے فرما دیے کہ کوئی جھوٹا مدعی نہ ہو وہ بتا رہے ہیں کہ مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں اور ایسا ہی مہدی کے اعلام بھی بتا دیئے۔ محمد بن عبداللہ فاطمی النسب حسنی قریشی عربی النسل۔ اب کوئی سوچے کہ کجا عربی النسل اور کجا فارسی النسل غرض سب کے سب غیر معقول دعوے ہیں کیونکہ ان تمام کا مجموعہ پھر امام زمان قرار دیا ہے اور ضرورت امام کے صفحہ ٢٤ خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥ پر موٹے خط سے لکھتے ہیں کہ ”امام زمان میں ہوں“ اور محمد رسول اللہ ﷺ کے وحی لکھنے والے کو خیال ہوا کہ میں بھی ملہم ہوں تو فوراً ہلاک ہو گیا اور ایسا مغضوب ہوا کہ قبر نے بھی اس کو باہر پھینک دیا تھا۔ مگر خود مرزا قادیانی رسول اللہ ﷺ کے وحی کے ساتھ وحی کا دعویٰ کریں تو مسلمان اور امتی ہیں اور محمد ﷺ کی طرح امام زمان بھی ہوں اور امتی بھی ہوں یہ ایسا نامعقول دعویٰ ہے جیسا کہ کوئی کہے کہ میں رعیت بھی ہوں اور بادشاہ بھی ہوں۔ اب کوئی صحیح الدماغ آدمی ایسی ایسی متضاد اور نامعقول باتیں کس طرح مان سکتا ہے۔ یہ کس حدیث میں ہے کہ مسیح موعود محمد ﷺ کی برابری کرے گا؟ اچھا یہ سب کچھ تو اسلامی حلقہ کے اندر رہا۔ اب مرزا قادیانی کو ہند کی آب و ہوا نے عرب النسل ہونا فارسی النسل ہونا ناصری ہونا سب کچھ فراموش کرا کر کرشن جی مہاراج بھی ہونا دماغ میں ڈالا۔ اللہ اکبر! کجا محمد رسول اللہ ﷺ توحید پرست اور کجا کرشن جی مہاراج بت پرست قیامت کے منکر تناسخ کے قائل کہاں پاک ذات

١١٨

صفحہ ٣٩٥

محمدﷺ دنیا اور عاقبت کی خبر دینے والا بلکہ جو قیامت پر ایمان نہ لائے وہ اس کے نزدیک مسلمان نہیں اور اللہ اکبر کے نعرے لگانے والا اور دنیا پر توحید پھیلانے والا اور کہاں ہند کا کرشن رام رام جپنے والا اور انسانوں میں حلول کرنے والا؟ ناظرین یہ ہے مدعی امامت کی فلسفی عقل جس نے فلسفہ اور سائنس کے رعب میں آ کر معجزات انبیاءؑ سے تو انکار کیا اور جب گرا تو ایسا گرا کہ کرشن جی کا روپ دھارا جو عقلاً و عادتا محال اور ناممکن ہے اور یہ کون سا فلسفہ ہے کہ ایک وجود میں عیسیٰ و محمد و کرشن و مہدیؒ مجدد وغیرہ وغیرہ کی روحیں جمع ہو سکتی ہیں؟ حالانکہ روح صرف ایک اکیلے بدن میں منتظم رہ سکتی ہے۔ متعدد روحیں تو آپس میں لڑ کر ایک منٹ میں الگ ہو جائیں گی۔ محمدﷺ کی روح اور معاذ اللہ کرشن جی کی روح ایک محل میں کسی طرح نہیں رہ سکتی ہیں۔ محمدﷺ کی روح تو قیامت میں جزا سزا کی وعظ فرمائے گی اور کرشن جی کی روح تناسخ کا چکر بتائے گی اور قیامت سے انکار کرائے گی۔ کرشن جی کا نمونہ تعلیم ذیل کے شعروں سے جو گیتا میں فیضی نے اکبر بادشاہ کے حکم سے کیا تھا ہدیہ ناظرین کیا جاتا ہے۔ پھر محمدﷺ کی تعلیم کے مقابلہ پر خود ناظرین غور کر کے نتیجہ نکال لیں ۔

من از ہر سہ عالم جدا گشتہ ام
تہی گشتہ از خود خدا گشتہ ام
منم ہر چہ ہستم خدا از من است
فنا از من است و بقا از من است
تناسخ و انکار قیامت
ہمہ شکل اعمال گرفتہ اند
بہ تقلیب احوال دل گفتہ اند
گرفتار زندان آمد شد اند
ز بیدانشی خصم جاں خود اند

ناظرین! غور فرمائیں کہ ایک شخص مدعی ہے کہ میں عیسیٰ بھی ہوں۔ محمد بھی ہوں۔ مہدی بھی حتیٰ کہ کرشن بھی ہوں۔ جب کچھ ثبوت نہیں دے سکتے تو فرماتے ہیں کہ میں اصلی نہیں ہوں۔ ان کا بروز ہوں اور ظل ہوں۔

ناظرین! بروز و تناسخ ایک ہی ہے صرف لفظی تنازعہ ہے کیونکہ بروز کے معنی ظاہر ہونے کے ہیں اور ظہور یا جسمانی ہوتا ہے یا روحانی اور یا صفاتی اگر مرزا قادیانی کو

١١٩

صفحہ ٣٩٦

بروز عیسیٰ و مہدی و رجل فارسی، محمد و مامور من اللہ وکرشن وغیرہ کا جسمانی فرض کریں تو یہ بالکل باطل ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی اپنے باپ غلام مرتضیٰ کے نطفہ سے اپنی والدہ کے پیٹ سے صرف اکیلے پیدا ہوئے اور ان کا تعلق ان اشخاص سے جو کئی سو برس ان سے پہلے ہو چکے۔ جسمانی ہرگز نہیں ہو سکتا۔ جب جسمانی نہیں ہو سکتا تو روحانی ہو گا۔ روحانی تعلق بھی باطل ہے کیونکہ ایک جسم میں دو روح نہیں رہ سکتے تو متعدد روح کس طرح اکٹھے رہ سکتے ہیں؟ کیونکہ اس پر حکماء متقدمین و حال کا اتفاق ہے کہ روح جوہر مجرد ہے صرف ایک ہی بدن انسان میں متصرف ہو سکتا ہے۔ اس کا تعلق بدن سے بمنزلہ کاریگر کے ہے یعنی جیسا کہ کاریگر اوزاروں سے کام کرتا ہے اسی طرح قوائے جسمانی سے روح بدن میں کام کرتی ہے اور بذریعہ حواس ظاہرہ و باطنہ احساس و انجام امور عالم کرتی ہے پس مرزا قادیانی کا دعویٰ روحانی بھی غلط ہے کیونکہ بقول ان کے ارواح انبیاء بعد مرگ بہشت میں داخل ہو چکے اور جو بہشت میں داخل ہو جائے اس کو نکلنے کی اجازت نہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٣٥٢ خزائن ج ٣ ص ٢٨٠)

اگر یہ سچ ہے کہ جو شخص بہشت میں داخل کیا جاتا ہے پھر وہ اس سے خارج نہیں کیا جاتا۔ پس روحانی بروز باطل ہے؟ کیونکہ جب روح بہشت سے نکل ہی نہیں سکتی تو پھر بروز وظل روحی باطل ہوا۔ ظل یعنی سایہ اصل کا ہوتا ہے۔ جب اصل بہشت میں بند ہے تو پھر اس کا ظل محال ہے۔ ظل کے واسطے اصل کا وجود ضروری ہے۔ جب اصل اس دنیا میں نہیں تو اس کا سایہ بھی نہیں۔ باقی رہا بروز صفاتی سو وہ مرتبہ ہر ایک بشر کو حاصل ہے جب انسان نیک کام کرتا ہے تو صالحین کا صفاتی بروز ہے اور جب برے کام کرتا ہے تو کفار و فجار وغیرہ کا بروز ہے۔ اس تمام بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ بروز کا مسئلہ بالکل باطل ہے۔ مرزا قادیانی معمولی ایک شاعرانہ طبیعت کے آدمی تھے اور طبیعت کی موزونی کے زور سے رسول و نبی بننا چاہتے تھے سو وہ دوسرے کذابوں کیطرح دعویٰ کر کے چل دیے اور مسیلمہ کذاب وغیرہ کی طرح پیرو بھی چھوڑ گئے جو سنت اللہ کے موافق بطریق سابق کذابوں کی امتوں کے آہستہ آہستہ برباد ہوں گے اور ضرور ہوں گے۔ سب کذاب بھی یہی کہتے آئے ہیں کہ پہلے کاذب تھے اور میں سچا ہوں وہ ملیامیٹ وبرباد ہو گئے مگر میں چونکہ سچا ہوں۔ اس واسطے میرے پیرو ہمیشہ غالب رہیں گے اور سر سبز ہوں گے۔ مگر سنت اللہ یہی ہے کہ ہزار ہا لوگ اسلام میں ایسے ایسے پیدا ہوئے اور آخر کار فنا ہوئے۔ تاریخ جب یہ بآواز بلند پکار رہی ہے کہ استاد سیس جیسے اولوالعزم جس

١٠٠

صفحہ ٣٩٧

کے صرف تین لاکھ مرید سپاہی لڑنے والے تھے۔ جب اس قدر جمعیت کا آدمی اور اکثر جنگوں میں فتحیاب ہونے والا بہادر جس کا آج نام و نشان نہیں صالح بن طریف نے نبوت کے دعوٰی کے ساتھ سلطنت بھی حاصل کر لی اور ٤٧ برس تک کامیابی کے ساتھ نبوت و بادشاہت کی مگر وہ بھی بمعہ اپنی امت و مریدوں کے خاک سے مل گیا۔ اور سچے رسول کا دین تازہ بتازہ چلا آتا ہے۔ جب نظیریں موجود ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ مرزائی سنت اللہ کے مطابق برباد نہ ہوں گے؟ یہ صرف مریدوں کو پھنسانے کے واسطے ہر ایک کاذب کہا کرتا ہے کہ میرا گروہ ہمیشہ رہے گا تا کہ مریدوں کے حوصلے پست نہ ہوں۔ بیچارے مرزائیوں کی ترقی کی ان کذابوں کی ترقی و حمیت و شجاعت و جانثاری کے مقابلہ میں کچھ حقیقت ہی نہیں۔ صرف انگریزوں کی عملداری کے باعث زبانی و تحریری دعوے ہیں۔ خلافت اسلامیہ ہوتی تو مدت کا فیصلہ ہو گیا ہوتا۔ پس مسلمانوں کو پہلے کذابوں کا حال غور سے پڑھنا چاہیے جو کہ ہم پہلے اسی کتاب میں لکھ چکے ہیں۔ پھر اپنی عقل خداداد سے نتیجہ نکال لیں۔ یہ دھوکہ ہر ایک کاذب دیتا آیا ہے کہ خدا مجھ سے باتیں کرتا ہے اور میں خدا کے حکم سے کہتا ہوں۔ مرزا قادیانی کا نرالا دعوٰی نہیں۔

دلیل نمبر ٧

مرزا قادیانی کو مخاطبہ و مکالمہ الٰہی ہوتا تھا اور جس کو مکالمہ و مخاطبہ الٰہی ہو وہ نبی ہوتا ہے۔

جواب: مکالمہ و مخاطبہ خدا کی طرف سے بھی ہوتا ہے اور شیطان کی طرف سے بھی سب اولیاء اللہ و صوفیائے کرام وساوس شیطان سے پناہ مانگتے آئے ہیں۔ وساوس شیطانی اور الہام ربانی میں فرق کرنے والی شریعت محمدی ﷺ ہے اگر کوئی الہام یا کشف یا رویا شریعت کے برخلاف ہے تو وسوسہ شیطانی اور مردود ہے۔

شیخ اکبر محی الدین ابن عربی مقدمہ فصوص الحکم میں فرماتے ہیں وحی خاصہ انبیاءؑ ہے اور یہ بواسطہ فرشتہ جبرائیلؑ ہوتا ہے۔ اس لیے یہ وسوسہ سے پاک ہوتا ہے یعنی وہ خالص کلام خدا تعالیٰ ہے۔ حضرت محمد ﷺ کی حدیث کو وحی یا قرآن نہیں کہتے۔ وحی مخصوص نبوت سے ہے اور الہام ولایت سے مخصوص ہے اور نیز وحی میں تبلیغ شرط ہے اور الہام میں تبلیغ شرط نہیں۔

واردات رحمانی و ملکوتی اور واردات جنی و شیطانی میں جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ جو واردات رحمانی ہوتے ہیں ان سے خوف و رجا و خیر کی طرف رغبت ہوتی ہے اور

١٢١

صفحہ ٣٩٨

طاعت میں رغبت و لذت ہوتی ہے اور جو اس کے برخلاف ہو وہ شیطانی واردات ہیں۔

ناظرین! شیخ کی عبارت سے دو امور ثابت ہیں۔ ایک وحی خاصہ انبیاءؑ ہونا اور بذریعہ جبرائیلؑ ہونا‘ دوم الہام اولیاء رحمانی بھی ہوتا ہے اور شیطانی بھی ہوتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے اپنی ہر ایک واردات کو وحی قرار دیا اور الہام رحمانی و شیطانی میں کچھ فرق نہیں کرتے۔ سب رطب و یابس جو آپ کے دماغ میں آ جائے اور جو جائز و ناجائز آپ کے دل سے اُٹھے اس کا نام وحی الٰہی رکھ لیا اور اس کو قرآن کا رتبہ دیا اور یہی وجہ ان کی گمراہی کی ہے اگر وہ شریعت محمدی ﷺ کو معیار قرار دیتے تو ہرگز یہ معجون مرکب کشف‘ خواب‘ رؤیا‘ الہام‘ فکر‘ ارادہ‘ خیال‘ وہم‘ قیاس‘ سب کو وحی الٰہی کا رتبہ نہ دیتے اور نہ اجماع امت سے الگ ہوتے۔ سب اولیاء اللہ و علماء امت کے نزدیک شریعت معیار الہام و کشف ہے۔ جو الہام و کشف شریعت کے برخلاف ہو وہ اللہ کی طرف سے نہیں۔ مگر مرزا قادیانی سب کو اللہ کی طرف سے سمجھ کر ٹھوکر کھاتے رہے اور جب وہ جھوٹ نکلا تو اس جھوٹ کی مرمت کے واسطے اور ہزارہا جھوٹ ان کو بنانے پڑے اور پھر بھی جھوٹے کے جھوٹے رہے۔ اسی واسطے معیار شریعت ضروری ہے۔

پیرانِ پیر شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فتوح الغیب میں لکھتے ہیں کہ الہام اور کشف پر عمل کرنا جائز ہے بشرطیکہ وہ قرآن اور حدیث اور نیز اجماع اور قیاس صحیح کے مخالف نہ ہو۔ حضرت امام غزالیؒ احیاء العلوم میں لکھتے ہیں کہ ابو سلیمان دارانیؒ کہا کرتے تھے کہ الہام پر عمل نہ کرو جب تک اس کی تصدیق آثار سے نہ ہو جائے۔

مرزا قادیانی نے تو سب قیدیں توڑ دیں اپنے کشف و الہامات کو وحی کا پایہ خلاف اجماع امت دیا اور اس پر ایمان لائے اور ایسا ایمان جیسا قرآن پر۔ (حقیقت الوحی ص ٢١١ خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠) یعنی براہین احمدیہ قرآن ہے اور وسوسہ سے پاک سمجھا حالانکہ ان کے کشف و الہامات صاف صاف بتا رہے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں۔ ان کی طبیعت کا فعل ہے اور بعض صاف صاف وساوس ہیں۔

میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں“ بغرض اختصار اسی قدر کافی ہے ورنہ یہ کشف بہت طول ہے کہ میں نے زمین و آسمان بنائے اور میں اس کے خلق پر قادر تھا وغیرہ۔ اب کوئی مسلمان قرآن پر ایمان رکھنے والا اور محمد رسول اللہ ﷺ کو رسول برحق ماننے والا اس کشف کو خدائی کشف سمجھ سکتا ہے کبھی ناچیز انسان بھی خدا ہو سکتا ہے اور خالق زمین و آسمان ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں تو پھر صاف ہے کہ یہ دماغ کی خشکی کا باعث

١٢٢

صفحہ ٣٩٩

ہے اور وسوسہ ہے۔

ہے۔ یہ عبارت مرزا قادیانی نے قرآن کے نصف کے قریب کشفی حالت میں دیکھی۔ (ازالہ اوہام ص ٧٦ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ١٤٠) اب بتاؤ کہ یہ کشف قرآن شریف میں اتنی عبارت زیادہ بتاتا ہے خدا کی طرف سے ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔

قادیانی کو فرماتا ہے کہ اب تیرا مرتبہ یہ ہے کہ جس چیز کا تو ارادہ کرے اور صرف اس قدر کہہ دے کہ ہو جا۔ وہ ہو جائے گی۔ (حقیقت الوحی ص ١٠٥ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)

کیوں ناظرین! جب یہ خدا کی صفت ہے کہ جس چیز کا ارادہ کرے اور کہہ دے کہ ہو جا۔ وہ ہو جاتی ہے۔ اب یہ الہام مرزا قادیانی کو خدا کا شریک بناتا ہے تو پھر کس طرح وسوسہ شیطانی نہ سمجھا جائے۔

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٤ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣)

ناظرین! یہ خدائی الہام ہے کہ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بڑھ گئے وہ تو صرف اللہ کی نفخ روح سے پیدا ہوئے اور خدا کے نطفہ سے نہ تھے۔ مگر مرزا قادیانی تو خدا کے پانی سے پیدا ہوئے۔ مگر تعجب ہے کہ پھر مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کس کے باپ تھے؟ اس الہام میں تو مرزا قادیانی شیطان کے پورے پورے ہتھے چڑھے ہیں کہ آج تک خدا کا نطفہ ہونے کا دعویٰ کسی نے نہیں کیا تھا اور خدا بھی اپنے آپ کو لم یلد ولم یولد کہہ کر الگ رکھتا تھا۔ مگر مرزا قادیانی اس کو اکیلا وحدہٗ لاشریک لہٗ کب چھوڑتے ہیں۔

ناظرین! تہذیب زیادہ اجازت نہیں دیتی کہ مرزا قادیانی کے اس الہام و کشف پر جرح کی جائے۔ عاقلان خود میدانند کہ جب حواس میں فرق آ جائے تو ایسا ہی ہوتا ہے مگر یہاں تو تبلیغ کا بھی ٹھیکہ لے آئے ہیں کہ کوئی توحید پرست مسلمان دنیا پر نہ رہے ورنہ اس کی نجات نہیں کہ مرزا قادیانی کو نبی کیوں نہیں مانا۔

(براہین احمدیہ ص ٥٦٠ خزائن ج ١ ص ٦٦٨) ترجمہ۔ جو چاہے کر پس تحقیق میں نے تجھے بخش دیا۔ میری طرف سے تیرا ایسا مرتبہ ہے کہ خلقت نہیں جانتی۔

١٢٣٣

صفحہ ٤٠٠

ناظرین! یہ الہام مرزا قادیانی کا خدا کی طرف سے ہو سکتا ہے کہ خدا نے مرزا قادیانی کو سرٹیفکیٹ دے دیا کہ جو چاہو سو کرو ہم نے تم کو بخش دیا ہے؟ شائد اسی واسطے ان کی زبان سے انبیاءؑ اور صحابہ کرامؓ حضرت علیؓ و امام حسینؓ وغیرہ سب علماء امت وغیرہ اشخاص ستائے گئے اور مرزا قادیانی نے دل کھول کر ان کی توہین کی اور گالیاں دیں۔ کیوں نہ ہو خدا کے بخشے ہوئے جو ہوئے۔

ناظرین! یہی الہام قریب انھیں الفاظ کے شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کو جب ہوا کہ اے عبدالقادر ہم نے تیری عبادت قبول کر لی اب بس کر، تو حضرت نے حدود شریعت کی طرف دیکھا اور لاحول پڑھ کر اس الہام کا رد کیا کہ یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ میری عبادت خدا نے قبول کر لی اور آئندہ بس کرنے کا حکم دیا۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ماعبدناک حق عبادتک یعنی ہم نے تیری عبادت کا حق ادا نہیں کیا۔ مگر مرزا قادیانی ہیں کہ ان کشوف و الہامات پر دھوکہ خوردہ ہیں۔ جو دماغ میں آ جائے خدا کی طرف سے مکالمہ ومخاطبہ سمجھتے تھے۔

(٦) یحمدک من العرش یعنی اللہ تعالیٰ تیری عرش پر حمد کرتا ہے۔ (براہین احمدیہ ص ٢٤٠ خزائن ج ١ ص ٢٦٦ حاشیہ) یہ خدائی الہام کیونکر ہو سکتا ہے؟ مخلوق خالق کی حمد کرتی ہے نہ کہ خالق مخلوق کی حمد کرتا ہے۔ مرزا قادیانی جب مخلوق تھے تو پھر خدا ان کی حمد کس طرح کرتا ہے؟ دیکھو قرآن مجید الحمد للہ رب العلمین یعنی حمد تو رب العالمین کا حق ہے۔ غرض جس شخص کے کشف خلاف شرع اور تصانیف بھی خلاف شرع ہوں اور امتی ہونے کا دعویٰ بھی رکھتا ہو وہ اپنے کشوف اور الہام کو وحی کا پایہ نہیں دے سکتا اگر دے تو کافر ہے۔ ہاں محمد ﷺ کی امت میں سے ہونے کا دعویٰ چھوڑ کر نبی و رسول جو چاہے بن سکتا ہے۔ جب نبی ورسول ہے تو پھر کمزوری کیوں کہ تشریعی نبی نہیں ہوں۔ غیر تشریعی ہوں؟ یہ بالکل دھوکہ ہے کیونکہ جب صاحب وحی ہوا اور بعض احکام قرآن کا ناسخ ہوا جیسا کہ جہاد فی سبیل اللہ کو حرام کر دیا جو فرض تھا۔ خاتم النبیین ﷺ کے بعد نبیوں کا آنا قرار دیا۔ حضرت عیسیٰؑ کے نزول سے انکار دجال کے وجود سے انکار تو پھر تشریعی نبی ہونے میں کیا شک ہے؟ یہ صرف مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی کمزوری اور نفاق ہے کہ کھلا کھلا دعویٰ نبوت نہیں کرتے۔ جب نبی ہے اور مرید اس کو نبی مانتے ہیں تو پھر کیوں ڈرتے ہیں اور لا الہ الا اللہ غلام احمد رسول اللہ نہیں کہتے جیسا کہ ایک مرزائی مولوی ظہیر الدین ساکن اروپی گوجرانوالہ نے لکھا ہے میں تو اس کو پکا مرزا قادیانی کا مرید سمجھتا ہوں کیونکہ وہ ان

١٤٤

صفحہ ٤٠١

کو مطلق نبی سمجھتا ہے اور نیز جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ پہلی کتابوں اور نبیوں کا ناسخ تھا ایسا ہی مرزا قادیانی کو سمجھتا ہے۔ اب دیکھو پمفلٹ ظہیر الدین نمبر ٣ مگر افسوس خواجہ کمال الدین وحکیم نور دین و دیگر اراکین مرزائیت دل میں کچھ اعتقاد رکھتے ہیں اور ظاہر کچھ کرتے ہیں۔ جب خلافت اسلامی نہیں ہے تو ڈر کس بات کا ہے جو اعتقاد ہے ظاہر کیوں نہیں کرتے؟ ظاہر تو یہ کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کو ہم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ خواجہ معین الدین چشتیؒ حضرت مجدد الف ثانیؒ کی مانند سمجھتے ہیں تو پھر جو مرزا قادیانی کی بیعت نہ کرے کافر کیوں ہوا اور اس کی نجات کیوں نہ ہوگی؟ کیا خواجہ معین الدین چشتیؒ و شیخ عبدالقادر جیلانیؒ ومجدد الف ثانیؒ نے بھی کہیں یہ لکھا تھا؟ اور کہا تھا کہ جو مسلمان قرآن وحدیث پر چلے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کو سچا نبی یقین کر کے اس کی شریعت کے مطابق چلے اور ارکان اسلام نماز و روزہ وحج وزکوٰۃ وغیرہ فرائض دین ادا کرے۔ مگر جب تک ہماری بیعت نہ کرے اور چندہ نہ دے وہ مسلمان نہیں اور اس کی نجات نہ ہو گی۔ ہرگز نہیں تو پھر یہ کہنا کہ مرزا قادیانی ان بزرگواروں کی طرح ایک سلسلہ کے پیشوا ہیں دھوکہ ہے یا نہیں کجا مرزا قادیانی کے دعویٰ اور کجا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ و خواجہ معین الدین چشتیؒ وہ پکے مسلمان اور محمد رسول اللہ ﷺ کے سچے وفادار اور تابعدار اور مطیع فرمان وتعظیم و آداب رسول اللہ ﷺ میں صادق ان بزرگوں میں سے بھی کسی نے دعویٰ نبوت کیا؟ وحی کا دعویٰ کیا؟ اپنی عورتوں کو ام المومنین کہا؟ اپنے جانشین کو خلیفۃ المسلمین کا خطاب دیا؟ یاروں کو اصحاب کہا؟ اجمیر و بغداد کو مکہ اور مدینہ کے برابر سمجھا؟ نعوذ باللہ محمد رسول اللہ ﷺ اور تمام انبیاءؑ کو غلطی کرنے والے بتلایا؟ حضرت عیسیٰؑ کو مسمریزم کرنے والا کہا؟ قرآنی معجزات کو عمل اترب کہا؟ خود خدا بنے خود خالق زمین و آسمان بنے؟ وغیرہ وغیرہ نہیں تو پھر کیونکر مرزا قادیانی ان بزرگوں کی طرح ہوئے؟ یہ صرف لوگوں کو پھنسانے کے واسطے ایک حیلہ ہے کہ مسلمان ان بزرگوں کا نام سن کر پھنس جائیں اور مرزا قادیانی کے مرید ہوں۔ مگر اب تو میر قاسم علی اڈیٹر الحق اخبار دہلی نے جو ایک سربر آوردہ متکلم مرزائی ہیں۔ انھوں نے صرف مرزا قادیانی کی نبوت ہی نہیں ثابت کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ جو خاتم النبیین کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔ ان کو مغضوب و محروم ومحرف لکھ دیا ہے اور کتاب کا نام النبوۃ فی خیر الامت رکھا ہے اور تمام عقلی ڈھکوسلے لگائے ہیں اور ان کو بھی اپنے مرشد مرزا قادیانی کی طرح زعم ہوا ہے کہ ان کا کوئی جواب نہیں دے سکتا۔ ایک ہزار روپیہ انعام لکھا ہے۔ مگر مثل مشہور ہے کہ ١٢٥

صفحہ ٤٠٢

آگ کا جلا ہوا جگنو سے بھی ڈرتا ہے۔ پہلے تین سو روپیہ ہار چکے ہیں۔ اس لیے شرط لگائی ہے کہ فریق ثانی صرف قرآن سے جواب دے اور خود تمام بے سند باتیں خلاف شرع لکھی ہیں۔ خیر انعام تو کس نے دینا ہے کمزوری تو پہلے ہی معلوم تھی تب ہی تو مرزا قادیانی کی طرح شرطیں ایسی ناممکن الوقوع پیش کی ہیں کہ نہ کوئی شرط پوری کرے اور نہ کچھ دینا پڑے۔ مگر یہاں بھی کوئی روپے کا بھوکا نہیں صرف تحقیق حق مدنظر ہے۔ اس لیے ہم نے اس کتاب کا جواب دیا ہے تاکہ مسلمان بھائی اس دھوکہ سے خبردار رہیں کیونکہ پہلے بہت مسلمانوں نے اس عقلی ڈھکوسلے پر ٹھوکر کھائی ہے کہ اس میں محمد رسول اللہ ﷺ کی ہتک ہے کہ وہ زمین پر مدفون ہوں اور عیسیٰؑ آسمان پر زندہ ہوں۔ اسی طرح اب میر قاسم علی نے ڈھکوسلا نکالا ہے کہ اس میں محمد رسول اللہ ﷺ کی ہتک ہے کہ اس کی امت میں نبی نہ ہوں کیونکہ پہلے نبیوں کے بعد نبی آتے رہے۔ جب موسیٰ کے بعد چھوٹے چھوٹے نبی آتے رہے تو محمد رسول اللہ ﷺ کی اس میں ہتک ہے اور اس امت کی بھی اس میں ہتک ہے کہ کوئی نبی نہ آئے مگر یہ نہیں سمجھتے کہ جب نبیوں کا سردار آ گیا جس کے تمام انبیاءؑ مقدمۃ الجیش تھے تو پھر اس کے بعد کسی نبی کا آنا ممکن نہیں اگر مسیلمہ یا اس کے اور بھائیوں نے دعویٰ کیا تو جھوٹے ثابت ہوئے۔

یوشع اور پھر اس کے بعد حضرت یحییٰؑ تک ١٣ سو برس میں لگاتار نبی آتے رہے۔ مگر چونکہ امت محمدیہ میں کوئی نبی نہیں آیا اور حضرت محمد ﷺ نے خاتم النبیین کی تفسیر لا نبی بعدی سے فرما دی اور عمل بھی اسی پر ١٣ سو برس تک رہا کہ کوئی نبی نہ ہوا تو اب ١٣ سو برس کے بعد حضرت موسیٰ کی مماثلت کی دلیل غلط ہے۔ اگر موسیٰ کی مماثلت ارادہ الٰہی میں ہوتی تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نبی کہلاتے۔ پھر حضرت عمرؓ نبی کہلاتے پھر حضرت عثمانؓ نبی کہلاتے۔ پھر حضرت علیؓ نبی کہلاتے مگر حضرت علیؓ نے صاف صاف فرما دیا کہ الا وانی لست نبی ولا یوحی الی یعنی نہ میں نبی ہوں اور نہ میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد جو شخص وحی و نبوت کا دعویٰ کرے جھوٹا ہے اور کاذب ہے۔

جواب النبوۃ فی خیر الامت

اب ہم نمبر وار ہر ایک طریق پر دلیل اور اعتراض اور عقلی ڈھکوسلے کا جواب دیتے ہیں۔ وہو ہذا۔

١٢٦

صفحہ ٤٠٣

(نوٹ) قاسم علی مرزائی کی کتاب کا نام ”النبوۃ فی خیر الامت“ ہے لیکن ہم بغرض اختصار صرف ”النبوۃ“ لکھیں گے۔

دلیل اوّل

جاری ہے کہ انسانوں کی حفاظت روحانی و جسمانی کے واسطے انبیاء و مرسلین اور والیان ملک و سلاطین دنیا میں ہوتے رہے اور قرآن میں بھی اس کی تصدیق ہے۔ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰکِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ (سورۃ بقر) لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّ صَلَوٰةٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ کَثِیْرًا. (سورۃ حج) وَلَقَدْ بَعَثْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا (سورۃ نحل) وَلِکُلِّ قَوْمٍ هَادٍ (سورۃ رعد) وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٍ (سورۃ فاطر النبوۃ ص ٢١) خلاصہ مطلب یہ ہے کہ حفاظت روحانی بذریعہ انبیا اور حفاظت جسمانی بذریعہ سلاطین ہوتی آئی ہے۔

جواب: آپ کا دعویٰ یہ ہے کہ نص قرآنی سے کسی نبی کا آنا بعد رسول اللہ ﷺ ثابت کریں۔ جو آیات اپنے قرآن مجید کی بطور نص اپنے دعویٰ کے ثبوت میں لکھیں ہیں، یہ ہرگز دلالت نہیں کرتیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی بھیجا جائے گا۔ کیونکہ پہلی آیت کا ترجمہ یہ ہے اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض لوگوں کے ذریعہ سے دفع نہ کرے تو زمین سب خراب ہو جائے لیکن اللہ دنیا کے رہنے والوں پر مہربان ہے۔ یہ آیت تو سیاست تمدنی کے متعلق ہے آپ کے دعویٰ کے متعلق ہرگز نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنا احسان جتاتا ہے کہ اگر ہم انسانوں کے مختلف قوائے و مراتب نہ بناتے تو امن قائم نہ رہتا اور زور آور مال دار کمزوروں اور شریفوں پر ظلم کرتے۔ پس ہم نے امن قائم رکھنے کے واسطے سلطنتیں قائم کر دیں تاکہ کمزوروں کا بدلہ زور آوروں سے اور مظلوموں کا بدلہ ظالموں سے لیں۔ یہ آپ نے کہاں سے نکال لیا کہ اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی بھیجیں گے؟ پس یہ استدلال آپ کا غلط ہے۔ دوسری آیت کا ترجمہ یہ ہے اگر نہ ہٹایا کرتا اللہ لوگوں کو ایک کو ایک سے تو ڈھائے جاتے تکیے اور مدرسے اور عبادت خانے اور مسجدیں جن میں نام اللہ کا بہت پڑھا جاتا ہے۔ اس آیت سے بھی کہیں نہیں نکلتا کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوگا۔ پس اس سے بھی استدلال غلط ہے۔ تیسری آیت کا ترجمہ۔ تحقیق بھیجے ہم نے تمام امتوں میں رسول۔ بعثنا ماضی کا صیغہ ہے یعنی رسول اللہ ﷺ سے پہلے۔ نہ بعد رسول اللہ ﷺ اور آپ کا دعویٰ بعد رسول

١٢٧

صفحہ ٤٠٤

اللہ ﷺ رسول کا ثابت کرنا تھا۔ پس یہ بھی استدلال غلط ہوا۔ چوتھی آیت کا ترجمہ۔ ہر ایک قوم کے واسطے ہادی ہے یعنی ہدایت کنندہ ہے۔ پس مسلمانوں کا ہادی محمد رسول اللہ ﷺ ہے اور اس کی شریعت جو ١٣ سو برس سے بذریعہ علماء پہنچ رہی ہے۔ اس سے آپ کا مطلب کس طرح نکلا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی ہو گا؟ پانچویں آیت کا ترجمہ یہ ہے اور کوئی فرقہ نہیں جس میں نہیں ہو چکا کوئی ڈرانے والا۔ یہ آیت بھی مذکورہ بالا آیت کے ہم معنی ہے۔ اس سے بھی استدلال غلط ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نبی کا آنا اس آیت سے بھی ثابت نہیں ہوتا۔

اب ہم میر صاحب کی عقلی دلیل کا جواب دیتے ہیں۔

دلیلوں کا باوا ہے۔ بہت سی سلطنتیں بغیر نبوت کے ہوتی رہی ہیں اور اب بھی موجود ہیں۔ تمام سلاطین نبی نہیں ہوئے۔ نمرود بادشاہ تھا نبی نہ تھا۔ فرعون بادشاہ تھا نبی نہ تھا۔ اب یورپ کی سلطنتیں ہیں۔ ان میں کوئی نبی نہیں پس یہ آپ کا ایجاد کردہ قاعدہ کہ حفاظت روحانی و جسمانی کے واسطے نبی و بادشاہ ہمیشہ سے چلے آئے ہیں اور چلے جانے چاہئیں۔ مشاہدہ سے غلط ہو رہا ہے۔

مگر نبی نہ ہوئے۔ پھر حضرت عمرؓ خلیفہ ہوئے نبی ورسول نہ ہوئے۔ حضرت عثمانؓ خلیفہ ہوئے نبی و رسول نہ ہوئے۔ حضرت علیؓ خلیفہ ہوئے مگر نبی ورسول نہ ہوئے اور فرمایا الا وانی لست نبی ولا یوحی الی خبردار ہو کہ میں نہ نبی ہوں اور نہ وحی کی جاتی ہے میری طرف‘ پس یہ بالکل غلط دلیل ہے کہ خلافت و نبوت لازم ملزوم ہے۔

ہوتے تو اس وقت حضرت عمرؓ جن کی فراست افراد امت کی فراست سے اعلیٰ درجہ کی تھی ضرور تھا کہ عرض کرتے کہ یا رسول اللہ ﷺ جب پہلی امتوں میں پہلے نبیوں کے بعد غیر تشریعی نبی ہوتے آئے ہیں تو آپ ﷺ کی امت میں کیوں غیر تشریعی نبی نہ ہوں۔ مگر چونکہ حضرت عمرؓ نے سر تسلیم حضرت کے حکم لا نبی بعدی کے آگے خم کیا اس لیے ثابت ہوا کہ غیر تشریعی کا ڈھکوسلہ باطل ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی قسم کا نبی نہ ہو گا۔

١٢٨

صفحہ ٤٠٥

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی۔ (المائدہ ٣) تو اب کسی ناقص نبی کی ضرورت نہ رہی۔ جب ضرورت قانون نہ رہے تو مقنن کی بھی ضرورت نہ رہی۔ جس سے ثابت ہوا کہ ناقص یا ظلی یا بروزی کا ہونا باطل ہے اور حدیث علماء امتی کا انبیاء بنی اسرائیل۔ یعنی میرے علماء امت بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند تجدید دین و تبلیغ احکام الہی کریں گے تو ثابت ہوا کہ بنی اسرائیل جیسے نبیوں کا آنا بھی بعد محمد رسول اللہ ﷺ کے بند ہے۔

کاذبوں کا دعویٰ کرنا پیشگوئی ہے اور پیشگوئی کے مطابق وہ کاذب ثابت ہوئے تو کیا وجہ ہے کہ اب ١٣ سو برس کے بعد خلاف اجماع امت و صحابہ کرام کسی مدعی نبوت کا دعویٰ سچا ہو۔

قرآن اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ نبی غیر تشریعی کے آنے کو روکتا ہے کیونکہ غیر تشریعی نبی شریعت کی حفاظت و تبلیغ و تجدید کے واسطے آتے تھے۔ جب یہ کام علماء امت کرتے آئے ہیں اور کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے تو پھر کسی مدعی نبوت کا دعویٰ ہرگز سچا نہیں ہو سکتا۔ پس امکان نبوت خواہ تشریعی ہو یا غیر تشریعی۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد باطل ہے۔

دلیل دوم

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ اے قرآن پر ایمان رکھنے والے مومن کہہ کہ یا اللہ تو ہی تمام ملک کا مالک ہے تو جس کو چاہے دنیا کا ملک اور حکومت دیتا ہے اور جس سے چاہے دیا ہوا ملک چھین لیتا ہے۔

(النبوۃ ص ٤)

جواب: تعجب میر قاسم مرزائی کیا کر رہے ہیں؟ اس آیت کو محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی ﷺ کے امکان سے کیا تعلق ہے؟ آپ کا دعویٰ تو یہ تھا کہ قرآن سے محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی رسول کا آنا ثابت کروں گا۔ کیا اس آیت سے یہ نکلتا ہے کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی و رسول آئے گا؟ ہرگز نہیں تو پھر بے فائدہ آیت لکھ کر صرف لوگوں کو یہ جتانا کہ قرآن کی آیت سے ثابت کرتے ہیں یہ دھوکہ نہیں تو اور کیا ہے؟ کجا امکان نبوت کی بحث اور کجا خدا تعالیٰ ہی ملک دیتا ہے اور سلطنت عطا کرتا ہے؟ خدا تعالیٰ بیشک سلطنت دیتا ہے مگر بلاواسطہ اسباب دنیاوی نہیں دیتا کیونکہ یہ دنیا عالم اسباب ہے اور خدا

١٢٩

صفحہ ٤٠٦

تعالیٰ فاعل افعال مخلوق صرف باعتبار خالق یا علت العلل ہونے کے ہے۔ ورنہ بغیر اسباب کے نہ وہ کسی کو سلطنت دیتا ہے اور نہ کسی کو ملک دیتا ہے اور نہ بغیر اسباب ظاہری کسی سے سلطنت چھینتا ہے۔ جب بدانتظامی اور بغاوت کے سامان ملک میں پھیل جائیں تو یہی اسباب زوال سلطنت کے ہوتے ہیں اور جب عدل و انصاف اور اتفاق اور امن ملک میں ہو تو سلطنت قائم رہتی ہے۔ جس قوم میں شجاعت کی صفت ہو گی خدا اس کو سلطنت دے گا۔ بزدلوں اور نامردوں کے حوالے کبھی خدا نے ملک نہیں کیا اور نہ کوئی نظیر ہے کہ کسی شخص کو بغیر اسباب ظاہری سلطنت مل گئی ہو۔ مگر اس دلیل کو امکان نبوت سے کیا تعلق ہے؟ کچھ بھی نہیں تو پھر یہ استدلال بھی غلط ہوا۔

تیسری دلیل

اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ یعنی خدا ہی خوب جانتا ہے کہ کون شخص نبوت و رسالت کے قابل ہے پس وہ اسی کو رسول ﷺ بناتا ہے ...... یہ ثابت شدہ امر ہے کہ سلطنت و رسالت وہبی ہے۔“

(النبوۃ ص ٣٤٥)

الجواب: یہ آیت بھی بے محل ہے۔ اس سے یہ کہاں نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد رسول بھیجے گا؟ پس یہ دلیل بھی ردی ہے اور استدلال غلط ہے۔

عقلی جواب: اگر سلطنت نعمت ہے اور خدا تعالیٰ بلا اسباب ظاہری دیتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کی ذات پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اس کے انعام سلطنت سے عیسیٰ پرست بت پرست تو انعام پائیں اور جو اس کو وحدہ لاشریک یقین کریں اور اس کی خالص عبادت کریں۔ ان کو نعمت سلطنت سے محروم کرے یہ کونسا انصاف ہے کہ توحید پرستوں سے ملک چھین چھین کر خدا تعالیٰ دہریت پرستوں لامذہبوں اور عیسیٰ پرستوں کو دے رہا ہے حالانکہ فسق و فجور ظلم و ستم میں یورپ تمام ملکوں سے بڑھا ہوا ہے۔ پھر خدا ان کو دن بدن ترقی دے رہا ہے اور جو اس کے نام لیوا ہیں ان کے ہاتھ سے ملک جا کر دشمنان خدا بلکہ منکران خدا کے ملک میں شامل ہو رہے ہیں۔ مگر نہیں خدا تعالیٰ جو اپنے آپ کو فاعل افعال دنیاوی اور انسانوں کے کاموں کے انجام دینے والا تعلیم فرماتا ہے اس کا یہ مطلب جو میر قاسم مرزائی سمجھے ہیں کہ خدا بلاواسطہ اسباب سلطنت دے دیتا ہے اور یہ واہی چیز ہے غلط ہے۔ خدا تعالیٰ بسبب علت العلل کے فاعل حقیقی قرار دیا جاتا ہے اور فاعل مجازی انسان خود ہیں اور اسباب و تجاویز سے جو کچھ انسان کرتا ہے اس کا بدلہ اس کو مل جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ براہ راست بلا اسباب کے اپنی کسی صفت کا بھی ظہور نہیں کرتا۔

١٣٠

صفحہ ٤٠٧

رازق ہے مگر کبھی کسی کو بلاواسطہ رزق گھر کی چھت سے یا آسمان سے نہیں دیتا۔ ہاتھ پاؤں عقل و علم وغیرہ اعصاب و جوارح عطا کیے جن کے ذریعہ سے انسان روزی کماتا ہے۔ اسی طرح خالق بھی ہے مگر مرد و عورت جمع ہونے کے سوا اولاد نہیں دیتا۔ غرض دنیا میں جو شخص جس کام کے اسباب مہیا کرے گا بلا تمیز کفر و اسلام اس کا وہ کام ہو جائے گا۔ یہ بالکل غلط خیال ہے کہ بیٹھے بٹھائے خدا تعالیٰ سلطنت و خلافت بلا اسباب ظاہری دے دیتا ہے مگر ایسی واہی عقلی دلائل نص قرآنی خاتم النبیین کے مقابلہ میں کچھ وقعت نہیں رکھتے اگر کوئی شخص سنکھیا کھائے یا توپ کے آگے کھڑا ہو کر امید رکھے کہ مجھ کو خدا بچا لے گا اس کی بے عقلی اور جہل ہے۔ اسی طرح ہاتھ پاؤں چھوڑ کر اور سلطنت کو وہبی سمجھ کر دعویٰ خلافت کرنا اور پھر خلافت کے نہ ملنے پر تاویلات کرنا باطل ہے۔ یزید کو تو خدا تعالیٰ نے سلطنت دے دی اور مرزا قادیانی کو محروم رکھا۔ کیا آپ کے قول کے مطابق یزید اہل تھا اور مرزا قادیانی نااہل تھے؟

چوتھی دلیل

”جب یہ امر ثابت ہو چکے کہ خدا تعالیٰ انسانوں کی حفاظت روحانی و جسمانی کے لیے ہمیشہ نبی و بادشاہ بناتا رہا ہے اور نبوت وسلطنت دونوں عطیہ الٰہی ہیں...... جیسا کہ قرآن میں ہے واذکروا نعمة الله عليكم اذ جعل فيكم انبیاء و جعلکم ملوکاً یعنی اے میری قوم (موسیٰ کی قوم) اللہ کی اس نعمت اور احسان اور انعام کو یاد کرو جبکہ اس نے تم میں سے انبیاء اور بادشاہ بنائے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ نبوت وسلطنت انعام الٰہی ہیں۔

(النبوۃ ص ٦-٥)

الجواب: یہ غلط ہے کہ آپ نے ثابت کر دیا کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ نبی و بادشاہ بناتا رہتا ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوا۔ حالانکہ ١٤ سو برس سے اوپر گزر گئے۔ اگر محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی بنانا ہوتا تو جس طرح موسیٰ ؑ کے مرنے پر یشوع کو نبوت دی اور پھر لگاتار ١٣ سو برس میں بہت نبی حضرت یحییٰ ؑ و عیسیٰ ؑ تک مبعوث کیے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی کرتا مگر چونکہ قرآن میں خدا نے وعدہ کیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا اور کوئی بھی نبی نہیں ہوا تو آپ کا یہ فرمانا دھوکہ ہے کہ خدا ہمیشہ نبی و بادشاہ بناتا رہتا ہے۔ خدا نے یزید کو بقول آپ کے بادشاہ بنایا کیا یزید نبی بھی تھا؟ اگر نہیں تھا تو یہ غلط ہوا کہ خدا ہمیشہ بادشاہ نبی بناتا رہتا ہے۔ دوم یہ آیت قرآن مجید کی تو بنی اسرائیل کے حق میں ہے اور اللہ اپنا احسان جتاتا ہے کہ تم ہماری نعمتوں کو یاد کرو کہ

١٤١

صفحہ ٤٠٨

ہم نے تم میں رسول پیدا کیے یہ کہاں سے نکلا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی ہم رسول بھیجتے رہیں گے؟ پس آپ کا اس آیت سے بھی استدلال غلط ہے۔

دلیل پنجم

یہ بھی ثابت ہو گیا کہ نبوت و رسالت نعمت الہی ہے ...... بنی اسرائیل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم و انی فضلتکم علی العلمین. یعنی اے بنی اسرائیل کے بیٹو۔ میرے وہ انعام یاد کرو جو میں نے تم پر کیے۔ دنیا میں عزت دی کہ ملک کا حاکم بنایا اور دین میں بھی تم کو سب کا پیشوا بنایا۔

(النبوۃ ص ٦)

الجواب: اس آیت سے بھی استدلال غلط ہے کجا بنی اسرائیل اور کجا امت محمدی ﷺ مگر اس آیت سے امکان نبی محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کس طرح ثابت ہوا؟ یہ تو کسی لفظ سے بھی نہیں نکلتا کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو گا یا نبی کہلائے گا۔ پھر یہ دلیل بھی ردی ہے۔

دلیل ششم

”یہ انعام کب عطا ہوتا ہے جب اس کی ضرورت ہو۔“

(النبوۃ ص ٦)

الجواب: بیشک ضرورت کے وقت انعام ہوتا ہے مگر مرزا قادیانی کے زمانہ میں انگریزی سلطنت یا امن کے باعث کچھ ضرورت نہ تھی اور نہ خدا نے مرزا قادیانی کو خلافت دی کیونکہ اس عظیم الشان عہدہ کے واسطے اہل ہونا ضروری ہے۔ نبوت کے واسطے راست باز ہونا ضروری ہے۔ جس شخص کی کوئی کلام مغالطہ اور استعارہ اور شاعرانہ غلو و کنایات سے خالی نہ ہو وہ کبھی نبی نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں کہ شاعر نبی نہیں ہوتا اور نرم دل اور جان کے عزیز رکھنے والا دنیا کے عیش و آرام کے طالب کو جو صفت شجاعت اور جانبازی سے خالی اور آپ گھر میں بیٹھے اور یہ بڑ لگائے کہ میرے تابعدار اس ضرورت کو پورا کریں گے ایسا شخص کبھی سلطنت و نبوت کا اہل نہیں ہو سکتا۔ رسول اللہ ﷺ خود ہر ایک غزوہ میں پہلی صف میں ہوتے تھے اور جرات و بہادری کے وہ نمونے دکھاتے تھے کہ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ جیسا بہادر کوئی نہیں دیکھا۔ جبکہ کفار کا سخت غلبہ ہوتا تھا تو ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زیر بازو اور پناہ گیر ہو کر کفار سے لڑتے تھے۔

(دیکھو آداب و اخلاق رسول اللہ ﷺ مصنفہ امام غزالیؒ باب ١٠)

اللہ اکبر۔ اب کوئی انصاف تو کرے کہ دعویٰ تو یہ ہے کہ رسول ﷺ کا بروز ہوں اور حوصلہ اور عمل شجاعت یہ کہ ایام صلح میں لکھتے ہیں کہ میں حج کو اس واسطے نہیں

١٣٢

صفحہ ٤٠٩

جاتا کہ مولوی لوگوں سے ڈر ہے کہ مجھ کو مروا دیں گے۔ (دوم) ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے سامنے تحریری اقرار کرتے ہیں کہ آئندہ ایسے الہام نہ ہوں گے۔ دہلی کے مباحثہ میں اس لیے نہیں آتے کہ جان کا خوف ہے اور ایک انگریز کی ضمانت لے کر آتے ہیں۔ بھلا خدا ایسے شخص کو امامت و خلافت کبھی دیتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ حدیث شریف میں ہے۔ انما الامام جنة يقاتل من ورائه و يتقى به. (کنزالعمال ج ٦ ص ١٦ من الاکمال باب فی الترتیب من الامارة حدیث ١٤٦٤٠) ترجمہ۔ امام تو ایک ڈھال ہے جس کی پناہ لے کر قتال کیا جاتا ہے۔ جس سبب سے لوگوں کا بچاؤ ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی نے امام زمان ہونے کا دعویٰ تو کر لیا اور محمد ﷺ کی ساری نقل بھی اتاری مگر قتال کے نام سے جان جاتی تھی۔ بھلا ایسا شخص کبھی نبی و خلیفہ ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔

دلیل ہفتم

”نبوت وسلطنت کی ضرورت کب ہوتی ہے۔ جب بندگان خدا کی روحانیت و جسمانیت غیر محفوظ ہو تب حفاظت روحانی وجسمانی کے لیے خدا تعالیٰ کسی انسان کامل کو نبوت عطا کرتا ہے اور اگر دونوں کی ضرورت ہو تو انعام نبوت وسلطنت عطا فرماتا ہے۔“

(النبوۃ ص ٧)

الجواب: یہ بالکل غلط اور من گھڑت بات ہے کہ جب جسمانیت و روحانیت غیر مطمئن ہوں تو ضرور نبی آتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد زمانہ پر کئی حادثات آئے اور اہل اسلام اور دیگر بندگان خدا پر ایسے ایسے وقت آئے کہ تثلیث پرستوں نے غیر مذاہب کے لوگوں پر وہ ظلم اور سختیاں روا رکھیں کہ جس کے سننے سے بدن پر رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں اور قرآن پاک کی اور مساجد اور اہل اسلام کی ایسی بے حرمتیاں ہوئیں کہ سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے اور اس زمانہ میں ان ان مظالم کا لاکھوں بلکہ کروڑوں حصہ بھی بطور نظیر کوئی پیش نہیں کر سکتا۔ اس وقت نہ کوئی نبی آیا اور نہ رحمت حق نے جوش کھا کر اپنے عہد خاتم النبیین کو توڑا اور نہ اپنے رسول مقبول ﷺ کے بعد کوئی رسول و نبی بھیجا اور نہ کوئی سلطنت نئی پیدا ہوئی ہے کہ عیسیٰ پرستوں کے مظالم کا بدلہ لیتی یا ان سے ملک چھینا جاتا۔

اب میں مختصر طور پر تاریخ میں سے صرف ایک کا ذکر ہی کافی سمجھتا ہوں۔ وہو ہذا۔

١٤٧٨ء میں پاپا کا فرمان صادر ہوا کہ کفر و زندقہ کی بیخ کنی اور استیصال کے واسطے ”انکو یزیشن“ کی مقدس عدالت قائم کی جائے۔ اس عدالت کے پہلے سال یعنی ١٤٨١ء کی کارروائی کا یہ نتیجہ ہوا کہ دو ہزار اشخاص اندلس میں زندہ جلائے گئے اور ان کے

١٤٣٣

صفحہ ٤١٠

علاوہ کئی ہزار مردے قبروں سے نکال کر جلائے گئے اور سترہ ہزار اشخاص کو جرمانہ یا حبس دوام کی سزا دی گئی۔ دیکھو (معرکہ مذہب و سائنس صفحہ ٢٠٥) بدنصیب مجرموں کے تباہ شدہ خاندانوں کی مصیبت کا اندازہ کرتے ہوئے دماغ لرزتا ہے۔ لارنٹ نے جو انکوزیشن کا مورخ ہے۔ اندازہ لگایا ہے کہ ٹارکومیڈا اور اس کے شرکاء ١٨ سال کی مدت میں دس ہزار دوسو بیس اشخاص کو زندہ جلایا گیا۔ چھ ہزار آٹھ سو ساٹھ اشخاص کی مورتیں بنا کر جلائیں اور ستانوے ہزار تین سو اکیس اشخاص کو مختلف سزائیں دیں۔ (صفحہ ٢٠٦) بغرض اختصار اسی پر اکتفا ہے جو صاحب زیادہ اندھیر نگری اور ظلم کا زمانہ دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ کتاب مذکور سے ملاحظہ کریں جس کا مصنف ڈریپر صاحب ہے۔ اسی کتاب کے انھیں صفحات میں لکھا ہے کہ تمام یہودی اور مسلمانوں کا قلع قمع کیا گیا اور تمام اپنے مال و املاک کو چھوڑ کر افریقہ و اٹلی وغیرہ دیار کو چلے گئے۔ اب ہم پوچھتے ہیں کہ اس وقت کون نبی ہوا اور کونسی سلطنت مظلوموں کی امداد کے لیے قائم ہوئی؟ کوئی نہیں تو پھر آپ کا قاعدہ ایجاد بندہ غلط ہوا۔

”اس زمانہ میں قادیان میں وہ نور اسلام چمک رہا تھا کہ اردگرد کے مسلمان اس قصبہ کو مکہ کہتے تھے لیکن مرزا گل محمد صاحب مرحوم کے عہد ریاست کے بعد مرزا عطا محمد صاحب کے عہد میں جو اس عاجز کے دادا صاحب تھے ایک دفعہ ایک سخت انقلاب آ گیا اور ان سکھوں کی بے ایمانی اور بدذاتی اور عہد شکنی کی وجہ سے جنھوں نے مخالفت کے بعد محض نفاق کے طور پر مصالحہ اختیار کر لیا تھا۔ انواع اقسام کی مصیبتیں ان پر نازل ہوئیں اور بجز قادیان اور چند دیہات کے تمام دیہات ان کے قبضہ سے نکل گئے ...... اس روز سکھوں نے پانچ سو کے قریب قرآن شریف آگ میں جلا دیے اور بہت سی کتابیں خاکستر کر دیں۔ اور مساجد میں سے بعض مساجد مسمار کر دیں۔ بعض میں اپنے گھر بنائے۔ اور بعض کو دھرم سالہ بنا کر قائم رکھا جو اب تک موجود ہیں۔“

(دیکھو ازالہ اوہام ص ١٤٠ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ١٦٥)

اب میر قاسم مرزائی فرمائیں کہ مرزا قادیانی کو اس وقت اپنے دادا صاحب کی مدد کے واسطے آنا چاہیے تھا۔ اگر آپ کا قاعدہ درست ہے کہ خدا تعالیٰ حفاظت روحانی اور جسمانی کرتا ہے پھر خدا تعالیٰ کیوں خاموش بیٹھ کر تماشہ دیکھتا رہا۔ قرآن شریف جلتے دیکھ کر بھی اور مسجدیں مسمار ہوتے بھی دیکھ کر خدا کو غیرت نہ آئی اور اس وقت اس نے کوئی نبی نہ بھیجا اور نہ کوئی نئی سلطنت بھیجی۔ جس سے آپ کا قاعدہ ایجاد بندہ غلط ہوا۔

١٣٤

صفحہ ٤١١

اب ہم ناظرین کو دکھانا چاہتے ہیں کہ خدا نے نبی بھیجا تو کس زمانہ عافیت اور امن میں جس کی صفت مرزا قادیانی بدیں الفاظ کرتے ہیں۔ وهو ھذا.

”انگریزوں کے احسن انتظام سے مصر‘ قسطنطنیہ اور بلاد شام اور دور دراز ملکوں اور بعض یورپ کے کتب خانوں اور مطبوعوں سے کتابیں ہمارے ملک میں چلی آتی ہیں اور پنجاب جو مردہ بلکہ مردار کیطرح ہو گیا تھا۔ اب علم سے سمندر کیطرح بھرتا جاتا ہے اور یقین ہے کہ وہ جلد تر ہر ایک بات میں ہندوستان سے سبقت لے جائے گا۔ پھر اب انصافاً کہو کہ کس سلطنت کے آنے سے یہ باتیں ہم لوگوں کو نصیب ہوئیں اور کس مبارک گورنمنٹ کے قدم سے ہم وحشیانہ حالت سے باہر ہوئے۔“

(ایام الصلح ص ١٢٧ خزائن ج ١٤ ص ٣٦٨)

اب میر قاسم مرزائی خود غور فرمائیں کہ ایسے رحمت کے زمانہ میں نبی اور سلطنت کا آنا بے محل ہے یا نہیں؟ پھر مرزا قادیانی کی نبوت و سلطنت کس طرح مانی جائے؟ سکھوں کے عہد میں جب سخت ضرورت سلطنت کی تھی اس وقت تو قادیانی خدا نے سکھوں کو فتح دی اور مرزا قادیانی کے دادا صاحب مرزا عطا محمد کو شکست دی اور جلا وطن کرایا اگر آپ کا قاعدہ ایجاد بندہ درست ہے تو مرزا قادیانی سکھوں کے عہد میں یا جب عیسائیت کا زور تھا اور یہودی اور مسلمان ذبح ہوتے۔ عذابوں کے شکنجوں میں کھینچے جاتے آگ میں ہزاروں کی تعداد میں جلائے جاتے۔ کیوں نبوت و سلطنت لے کر نہ آئے؟ پس ثابت ہوا کہ آپ کا قاعدہ ایجاد بندہ غلط ہی نہیں بلکہ اغلط ہے اس مضمون پر ہزاروں نظیریں تاریخ سے نقل ہو سکتی ہیں۔ مگر اختصار منظور ہے اس لیے قلم انداز کی جاتی ہیں۔

مرزا قادیانی کی تحریر سے میر قاسم مرزائی کا من گھڑت قاعدہ کہ ہمیشہ نبوت و سلطنت حفاظت کے واسطے خدا عطا کرتا ہے۔ غلط ہوا۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوا اور خلافت خدا تعالیٰ امت محمدی میں وقتاً فوقتاً عطا فرماتا رہا۔ سب سے پہلے خلافت حضرت ابوبکرؓ کو عطا ہوئی۔ مگر نبوت ان کو نہ ملی۔ ایسا ہی خلفائے راشدینؓ خلافت پاتے آئے مگر ایک بھی نبی نہ ہوا۔ پس یہ بالکل غلط اور خلاف واقعات ہے کہ نبوت و خلافت محمد ﷺ کے بعد حسب ضرورت عطا ہوتی رہے۔ نبوت تو حضرت ﷺ کی ذات پر ختم ہوئی۔ ہاں خلافت جاری ہے۔ یورپ کی اتنی سلطنتیں ہیں ان میں کوئی نبی نہیں ہوا۔ پس نبوت و خلافت کو ایک سمجھنا غلطی ہے۔

١٣٥

صفحہ ٤١٢

دلیل ہشتم

”حفاظت روحانی و جسمانی سے مراد حفاظت دین و دنیا ہے۔“

(الندوۃ ص ٨)

الجواب: حفاظت دین بذریعہ علمائے دین محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد ہوتی چلی آئی ہے اور مجدد دین ہوتے چلے آئے ہیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل . (الموسوعۃ اطراف الحدیث ج ٥ ص ٤٥٤) یعنی میری امت کے علما بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند ہوں گے۔ یعنی حفاظ و مبلغ دین ہوں گے اور دین کو ہمیشہ کفریات اور بدعات سے پاک کرتے رہیں گے۔ یہ کہیں نہیں لکھا کہ میرے بعد حسب ضرورت نبی آیا کریں گے۔ باقی رہی خلافت کی بحث جو آپ نے سند دی ہے کہ وعد اللہ الذین امنو الخ یہ بالکل بے موقعہ اور بے محل ہے۔ اس سے تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ یا خدا کا وعدہ جھوٹا ہے کہ اس نے مرزا قادیانی کو خلیفہ نہیں بنایا اور یا مرزا قادیانی امنو و عملو الصلحت میں سے نہیں ہیں۔ کیونکہ نہ ان کو کوئی ملک ملا اور نہ کوئی سلطنت ملی اور اگر خلافت روحانی کہو تو یہ بالکل غلط ہے کیونکہ قرآن مجید کی آیت وعد اللہ الذین امنو الخ میں خلافت ظاہری یعنی سلطنت کا وعدہ تھا۔ روحانی خلیفہ محمد رسول اللہ ﷺ تو اس وقت ایمان والوں میں موجود تھا۔ دنیاوی خلافت ایمان والے چاہتے تھے۔ پس خدا نے وعدہ کیا اور محمد رسول اللہ ﷺ کو سلطنت بھی دی۔

دلیل نہم

”یوم وعدہ سے لے کر آج تک خداوند کریم و رحیم اس وعدہ کو حسب ضرورت وقت پورا کرتا رہا۔“

(الندوۃ ص ٩)

الجواب: یہ بالکل غلط ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی اور خلیفہ ہوا ہے۔ اگر کوئی ہوا ہے تو بتاؤ۔ حضرت علیؓ جامع صفات کاملہ فرماتے ہیں الا و انی لست نبی ولا یوحی الی . حالانکہ خلیفہ چہارم تھے۔

دلیل دہم

”کیا امت محمدیہ انعام نبوت سے محروم ہے۔“

(الندوۃ ص ١٠)

الجواب: نعمت و دولت ایمان امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام شریعت حقہ کو صراط مستقیم یقین کرتی ہے اور یہ انعام الٰہی ہے کہ ضالین میں سے نہیں ہوئے اور نبوت کا دعویٰ نہیں کرتے اور نہ مدعی نبوت کو بعد خاتم النبیین ﷺ کے کسی طرح سچا مانتے ہیں۔ انعام الٰہی سے وہ محروم

١٣٦

صفحہ ٤١٣

ہیں جو راہ راست کو چھوڑ کر اپنی رائے اور عقلی ڈھکوسلوں کی پیروی کرتے ہیں۔ صراط مستقیم پر چلنے یا قائم رہنے کی دعا بیشک پانچ وقت مسلمان مانگتے ہیں اور شکر ہے کہ دعا قبول ہوئی ہے اور ٢٣ کروڑ مسلمان ایماندار شریعت محمدی و صراط مستقیم پر قائم ہیں۔ (اور اب ٢٠٠٣ سوا ارب سے بھی زائد) سوا مرزائیوں کے کہ وہ صراط مستقیم کو چھوڑ کر خود رسول و نبی بننے کی خواہش کرتے ہیں۔ بھلا صاحب! اگر مرزا جی اس دعا کے ذریعہ نبی ہو گئے تو آپ جو پانچ وقت ہر روز نماز پڑھتے ہو کیوں محروم ہو۔ اگر محروم نہیں ہو تو کیوں نبی نہیں ہو؟ جب خدا بقول آپ کے خلاف وعدہ بھی نہیں کرتا اور دعا بھی سنتا ہے اور آپ پانچ وقت یہی مانگتے ہو کہ ہم کو نبی بنا تو پھر آپ کو کیوں نہیں؟ بناتا نعوذ باللہ من شرور انفسنا۔ ناظرین چونکہ نمبر ١٠ سے آگے مصنف کتاب نے نمبر دینے بند کر دیے ہیں اس لیے آئندہ ہم سوال یا اعتراض کو قولہ (نمبر دے کر) سے لکھیں گے۔

دلیل یازدہم

بالخصوص منعم علیہ کون ہیں۔ وہ نبی، صدیق، شہید، صالحین مَنْ يُطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُوْلٰئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِيْنَ وَحَسُنَ اُوْلٰئِكَ رَفِيْقًا ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ وَكَفٰى بِاللّٰهِ عَلِيْمًا. ترجمہ۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرتے ہیں وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر خدا نے انعام کیے اور یہ لوگ بہت ہی اچھے رفیق ہیں۔ قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله و یغفرلکم ذنوبکم والله غفور الرحیم. ترجمہ۔ کہہ دو اے محمد ﷺ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو۔

(الدعوۃ ص ١٢۔١١)

الجواب: یہ بالکل غلط ہے کہ رسول اور نبی کی تابعداری سے نبی و رسول ہو سکتا ہے اور نہ اس آیت کا یہ مطلب ہے۔ ناظرین بغور ملاحظہ فرمائیں کہ آیت میں مع الذین انعم ہے یعنی تابعداری کرنے والا ان کے ساتھ ہو گا۔ کبھی ساتھ ہونے سے ہم رتبہ ہونا بھی مراد ہو سکتی ہے؟ کبھی نہیں مثلاً فرمان جاری ہوتا ہے کہ لاٹ صاحب کے ساتھ اس کے سکرٹریاں و خدام و خیمہ زنان وغیرہ خلاصی و قلی وغیرہ ڈاکٹر ان کے ساتھ ہوتے ہیں یا بادشاہ کے ساتھ وزیر و امیر کوتوال وغیرہ خدام و لشکریاں ہوتے ہیں تو کیا یہ تمام شاہی مرتبہ کے ہوتے ہیں یا تابعداروں کو لاٹ صاحب و بادشاہ کہا جاتا ہے؟ ہرگز نہیں تو پھر نبی اور رسول کا تابعدار کس طرح نبی کہلا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں اور آیت کا مطلب یہ ہرگز نہیں۔ جیسا کہ غلط پیش کیا جاتا ہے یہ تو صرف قیامت کے دن کا ذکر ہے کہ روز قیامت

١٣٧

صفحہ ٤١٤

کو جو کہ ایک بڑا ابتلاء اور سختی کا دن ہو گا تو اس وقت جن جن لوگوں نے انبیاء کی تابعداری کی ہوگی وہ اپنے نبی کے ساتھ جائے امن اور جوار رحمت الہی میں ہوں گے۔

اب اس آیت سے یہ سمجھنا کہ امت محمدی ﷺ میں ہمیشہ نبی و خلیفے ہوتے رہیں گے۔ کونسی عقل ہے۔ نہ تو دین کی عقل ہے کیونکہ محمد ﷺ کے بعد جو خاتم النبیین ہے کوئی نبی نہیں ہوا اور نہ ہو گا اور دنیاوی عقل بھی اس کے مانع ہے کہ تابعداری محمد ﷺ کی حصول سلطنت و خلافت کے لیے لازمی ہو کیونکہ دیکھ رہے ہیں کہ سلطنتیں اور کفار کی بھی ہیں جو محمد ﷺ کو نہیں مانتے۔ پس ثابت ہوا کہ قرآن مجید کا وعدہ ابتدائی اسلام میں ان ایمان والوں کو دیا گیا تھا جو کہ مصائب اعداء اسلام کی خاطر برداشت کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیتے تھے اور اکثر بہ تقاضائے بشریت دشمنان اسلام کے مظالم اور اپنی بے کسی و بے زری و بے بسی سے درگاہ الہی سے ناامیدی تصور کر کے اپنی افلاس اور دشمنوں کی ثروت کا تصور کر کے گھبراتے تھے ان کی تسلی کے واسطے یہ وعدہ تھا جو اسوقت پورا ہوا اگر ہمیشہ کے واسطے یہ وعدہ مانیں تو اوّل خاتم النبیین کے مخالف ہے کہ خدا تعالیٰ ایک جگہ تو محمد ﷺ کو خاتم النبیین فرماتا ہے کہ تیرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا اور دوسری جگہ نبی بھیجنے کا وعدہ کرے جو کہ خلاف شان خدائی ہے۔ دوم ١٣ سو برس میں جس قدر کذاب نبی گزرے ہیں۔ سب سچے ماننے پڑیں گے کیونکہ اس آیت کے رو سے اگر امکان نبوت ثابت ہے تو پھر مرزا قادیانی اور دیگر کذاب برابر ہیں کیونکہ ان کے جانباز پیرو مرزا قادیانی سے زیادہ تھے اور جنگوں میں بعض کذابوں کے جانباز پیرو ایک مورچہ پر دو لاکھ سے زیادہ تھے اور خدا نے ان کو فتح بھی دی۔ جس کی نظیر مرزا قادیانی میں ہرگز نہیں۔ مرزا قادیانی خود قبول کرتے ہیں کہ ”مسیلمہ کذاب کے چھ سات ہفتہ میں لاکھ سے زیادہ پیرو ہو گئے تھے۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٨٣ خزائن ج ٣ ص ٢٤٤)

استادسیس جو ملک خراسان میں مدعی نبوت ہوا تھا اور تین لاکھ سپاہی صرف اس کے لڑنے والے تھے جس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس کے پیرو کئی لاکھوں کی تعداد میں ہوں گے جن میں سے تین لاکھ تو لڑنے والے ہی تھے۔ دوسرے مرید کتنے لاکھ ہوں گے ان کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی کچھ حقیقت نہیں جب ان کو کذاب کہا جاتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مرزا قادیانی کو نبوت کے دعویٰ میں سچا سمجھا جائے۔

(٣) اس آیت میں تو خلافت کا وعدہ ہے نہ کہ نبوت کا اور آپ نبوت کا ثبوت دے رہے ہیں نہ کہ خلافت کا اور خلافت بھی دنیاوی کا وعدہ ہے کہ مومنین جو تنگدست افلاس

١٣٨

صفحہ ٤١٥

زده تھے ان کو خدا نے وعدہ اقبال اور فتح کا دے کر مطمئن فرمایا تھا اور یہ اس وقت کے واسطے وعدہ تھا جو پورا ہوا اور آپ کا یہ آیت پیش کرنا مرزا قادیانی کی خلافت میں بالکل غلط ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے ایک ڈپٹی کمشنر کے سامنے تمام الہام بھول گئے تھے۔ خلافت کے واسطے جان کی قربانی مقدم ہے۔ جس کو مرزا قادیانی عزیز کر کے حج تک نہ گئے۔ ایسے کمزور دل کے آدمی کو خلافت سے کیا نسبت؟ یہ تو اہل ہی نہیں اور خدا نااہل کو خلافت نہیں دیتا۔

کا وعدہ ہے تو ١٣ سو برس میں کون کون نبی و خلیفہ ہوا؟ چونکہ کوئی نہیں ہوا۔ صرف محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد خلافت اصحابؓ کبار میں رہی اور صحابیوںؓ میں سے کسی نے بھی دعویٰ نبوت نہ کیا حالانکہ تابعداری رسول میں انھوں نے مال اور جانیں قربان کر دیں اور مرزا قادیانی نے تابعداری میں مسلمانوں سے مال بٹورا اور خوب جان پروری کی اور نعمت ہائے دنیاوی سے فائدہ اٹھایا۔ اگر تابعداری سے کوئی نبی ہونا ہوتا تو صحابہ کرامؓ ہوتے مگر وہ تو پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ نہ ہم نبی ہیں اور نہ ہم کو وحی ہوتا ہے۔ ہاں کذابوں نے وحی الٰہی کا دعویٰ کیا اور نبوت کے مدعی ہوئے کیونکہ نبوت و رسالت کسبی نہیں صرف وہبی ہے۔

نصیب نہ ہوئی؟ اگر خدا تعالیٰ ملک نہ دیتا تو ان کے پردادا کے گاؤں جو سکھوں نے ظلم سے چھین لیے تھے۔ واپس دلانے خدا کو اپنے وعدے کے موافق ضروری تھے جن کا رونا وہ ازالہ اوہام میں رو چکے ہیں مگر وجہ یہی ہے کہ انگریزوں کا راج ہے۔ (حوالہ گزر چکا)

اور شہر شہر میں ہر ملک میں اسلامی دنیا میں چلی آئی ہے اور چلی جائے گی۔ یعنی پیری مریدی یہ خلافت روحانی تو ہر ایک سجادہ نشین تکیہ نشین خانقاہ نشین زاویہ نشین کو حاصل ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی متابعت اور اپنے پیر طریقت کی فرمانبرداری اور فقر و فاقہ اور نفس کشی کے باعث حاصل ہے اور جس شخص کا پیر طریقت نہ ہو اس کو اس خلافت سے کچھ حصہ نہیں ملتا۔ اپنے منہ سے خواہ کوئی کچھ بن بیٹھے بے مرشدے اور بے پیرے کو کبھی خلافت روحانی سے کچھ حصہ نہیں ملتا۔ نہ ملا ہے اور نہ ملے گا۔

کہ اے بے پیر تا پیرت نباشد
ہوائے معصیت دل مے خراشد

١٣٩

صفحہ ٤١٦

اور یہ کس قدر نامعقول دعویٰ ہے کہ دوسرے سجادہ نشین جو پیری مریدی کرتے ہیں۔ وہ ناحق پر ہیں اور میں جو پیری مریدی کرتا ہوں حق پر ہوں؟ بلکہ میرے مرید ہونے بغیر نجات نہیں۔ یہ ایسی مثال ہے کہ ایک خود غرض دوکاندار کہتا ہے کہ دوسری دوکانوں سے میری دکان اچھی ہے۔ لوگ مجھ سے ہی خریدیں دوسری دوکان پر کوئی نہ جائے اور جب دوسرے پیروں کی طرح مریدوں کے مال سے آپ بھی مزے اڑائیں اور دنیاوی عیش کریں تو پھر آپ ان سے بہتر کیونکر ہوئے اور آپ کی دوکان ذریعہ نجات کس دلیل سے ہے؟

اللہ سے دعا کرنا کہ خدایا ہم کو ان لوگوں کا راستہ دکھا یعنی ہم کو وہی طریق بتا جو طریق انبیاء کا ہے اور اسی پر ہم کو چلنے کی توفیق دے اور اسی پر ثابت قدم رکھ اور صراط مستقیم کے معارج ہم کو عنایت فرما۔ افسوس آپ نے صراط مستقیم کے معنی نہیں سمجھے۔ لو ہم بتاتے ہیں ذرہ غور اور فکر کرو اور پھر انصاف سے کہو کہ اس آیت سے طلب نبوت و امکان نبوت بعد محمد رسول اللہ ﷺ کس طرح ثابت ہے؟

راہ راست طلب کرنے کے یہ معنی ہیں کہ اے خدا تعالیٰ جس طرح تو نے راہ حق لا نبی بعدی کا منعم علیہم کو خطرات نفسانیہ و مہلکات شیطانیہ سے پاک صاف عنایت فرمایا ہے اور ان کو اس راستہ میں کسی قسم کے قطع الطریقوں اور حرامیوں اور چوروں وغیرہ سے پالا نہیں پڑا اور وہ تیرے راستہ میں علم الیقین و عین الیقین و حق الیقین کے مرتبہ کو پہنچ گئے ہیں۔ ویسا ہی مامون و بے خطر راستہ ہم کو دکھانا کہ ہم تیری ہی عبادت کریں اور تیری ہی مدد تلاش کریں اور شرک سے بچے رہیں اور وساوس شیطانی ہم کو ہلاک نہ کریں اور ہم بہ سبب صفائی راستہ جس میں حسد‘ بغض‘ تکبر‘ خود پسندی‘ ریا‘ نفس پروری‘ شہوت‘ غضب وغیرہ اخلاق رذیلہ کے پتھر و کنکر و کانٹے نہ ہوں۔ بلکہ خوشگوار چشمے فیضان الٰہی تحمل و صبر‘ شکر‘ توکل‘ رضا جوئی‘ نفس کشی‘ احسان‘ مروت‘ اخلاق حسنہ‘ ہمدردی‘ ایثار وغیرہ وغیرہ کے سایہ دار درخت ہوں تاکہ ہم تمام انسان علیٰ قدر مراتب اس راستہ سلوک کو طے کر کے تیری عرفان کی منزل مقصود تک بامن و امان پہنچ جائیں۔ ایسا راستہ ہو کہ ہماری محنتیں طلب حق اور تیری رضا میں اس کے خطرناک منزلوں کو نہ دیکھیں اور نہ پست ہمت ہوں۔ جب ایک مرتبہ تیرے فضل و کرم سے حاصل کریں تو دوسرے مرتبہ کی طلب کے شوق کا دریا ہم میں موجزن ہو اور جب دوسری منزل مراتب کو طے کریں تو تیسری کی

١٤٠

صفحہ ٤١٧

توفیق عطا فرما علیٰ ہذا القیاس۔ مثلاً اگر ہم ایمان میں کامل ہو کر کامل مومن ہو جائیں تو پھر ہم کو رفاقت صالحین عنایت فرما اور جب صالحین کی رفاقت سے فیض حاصل کر لیں تو شہیدوں کی رفاقت مرحمت فرما اور شہیدوں کی رفاقت سے مستفیض ہوں تو صدیقوں کی رفاقت اور ان کے روحانی فیض سے فیض یاب کر اور جب صدیقوں کی رفاقت سے فیض یاب ہو جائیں تو پھر نبیوں کی رفاقت اور ان کے روحانی فیض سے ہم کو شعاع انوار معرفت سے پرنور فرما اور یہی دعا ہر ایک مومن پانچ وقت پڑھتا ہے تا کہ جو جس منزل اور مرتبہ میں ہے اس کو اس سے اعلیٰ درجہ نصیب ہو۔ پس عام مسلمانوں کو رفاقت صالحین کی طلب کرنی چاہیے اور صالحین کو رفاقت شہدا طلب کرنی چاہیے اور شہدا کو رفاقت انبیاء طلب کرنی چاہیے۔ اب کون عقلمند اس کے یہ معنی سمجھتا ہے کہ اس جیسا ہو جائے اور اسی لقب سے ملقب ہو؟ کیا کوئی شخص اگر رفاقت بادشاہ کی خاطر پہلے رفاقت دربانان کرتا ہے اور پھر اراکین سلطنت اور پھر وزرا اور ازاں بعد رفاقت بادشاہ حاصل کرے تو وہ شخص اس بات کا مستحق ہے کہ وہ دربان، رکن سلطنت اور وزیر بادشاہ کہلا سکے؟ ہرگز نہیں تو پھر یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ ایک شخص امت میں سے بلا رفاقت صالحین و شہداء و انبیاء خود ہی بن بیٹھے اور نبی کہلائے؟ جبکہ ہمارے پاس نظیریں موجود ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے وقت میں ان کے اصلی رفیق صدیق اکبر حضرت ابوبکرؓ و شہداء و صالحین وغیرہ تھے اور متابعت رسول اللہ ﷺ میں بھی اکمل تھے۔ جب انھوں نے اپنے آپ کو نبی نہ کہلایا تو ١٣ سو برس کے بعد جو شخص خیر القرون قرنی سے محروم ہو کیونکر نبی کہلا سکتا ہے؟ ہاں مرتد ہو کر جو کچھ چاہے بن سکتا ہے۔ نبی بنے۔ خدا بنے اس کا اختیار ہے کیونکہ انگریزوں کا راج اور آزادی کا زمانہ ہے۔ ورنہ اسلامی دائرہ میں ہو کر امت محمدی ﷺ کا مدعی ہو کر مدعی نبوت سوا کاذب نبی کے کوئی نہیں ہو سکتا۔ متابعت رسول اللہ ﷺ کا دعویٰ بھی ہو اور خود بھی رسول اللہ ہونے کا دعویٰ ہو یہ بالکل غلط اور اجتماع نقیضین ہے۔ بھلا ایک وقت میں غلام بھی ہو اور آقا بھی ہو کیونکر ہو سکتا ہے؟

جائے تو پھر محمد رسول اللہ ﷺ بھی پانچ وقت پڑھتے تھے تو اس سے یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو بھی نبوت حاصل نہ تھی۔ (معاذ اللہ) جس کی وہ دعا فرماتے تھے اور اگر حاصل تھی تو پھر ضرور ہے کہ اس دعا کے معنی نبوت کا طلب نہیں بلکہ کچھ اور ہے اور وہ علو درجات کا طلب کرنا ہے جس کا انتہا نہیں۔ پس انعمت علیہم کی صراط مستقیم ترقی

١٤١

صفحہ ٤١٨

درجات قرب الی اللہ ہے اور وہ حسب فطرت وعلی قدر مدارج ہر ایک خدا تعالیٰ سے طلب کرتا ہے۔ حتیٰ کہ انبیاء علیہم السلام بھی صراط مستقیم کی دعا کرتے ہیں اور ترقی عالم سفلی سے عالم علوی کی طرف مانگتے ہیں۔ لہذا عوام مسلمانوں کو رفاقت صالحین اور صالحین کو رفاقت شہداء اور شہداء کو رفاقت انبیاء اور انبیاء کو رفاقت ملائکہ وقرب الہی کی دعا کرنی چاہیے اور تمام کرتے آئے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر ایک کی دعا اس کی استعداد کے موافق قبول فرماتا ہے اور اس کی یعنی دعا کرنے والے کی استعداد کے مطابق اس کو انعام عطا کرتا ہے جیسا کہ اس کا وعدہ ہے کہ ادعونی استجب لکم یعنی مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔ اب قبولیت دعا میں بہت لوگ غلطی کھاتے ہیں کہ چونکہ ہم نے خدا تعالیٰ سے جو چیز مانگی تھی وہ ہم کو نہیں ملی۔ اس لیے دعا مقبول نہیں ہوئی۔ سو واضح ہو کہ ایسا اعتقاد خدا تعالیٰ کے وعدہ کو جھٹلانا ہے۔ دعا ضرور قبول ہوتی ہے اور اس کا اجر وثواب دعا کرنے والے کو ضرور ہوتا ہے۔ مگر وہ چیز جو یہ شخص طلب کرتا ہے چونکہ علم خدا میں اس کے حق میں مفید نہیں۔ اس لیے وہ اس کو نہیں دیتا۔ اس لیے دعا اکثر قبول نہیں ہوتی اور عبادت میں لکھی جاتی ہے چونکہ انعام نبوت محمد ﷺ پر ختم ہو چکا ہے اور یہ بہ نص قطعی قرآن کے برخلاف ہے کہ محمد ﷺ کے بعد نبی ہو۔ اس لیے اگر کوئی شخص نبوت کا مدعی امت محمدی میں ہو کر کرے تو جھوٹا ہے۔ جیسا کہ پہلے کذابون گزرے ہیں۔

قولہ نمبر ١٢

’’بقائے نبوت فی خیر امت‘ نبوت و سلطنت انعام الہی ہیں اور پہلے بنی اسرائیل کو یہ ہر دو انعام ملتے رہے اور امت محمدی کو بھی ان انعامات کے حاصل کرنے کی دعا سکھلائی گئی جو پنجگانہ نمازوں میں خدا تعالیٰ کے حضور میں پیش کی جاتی ہے اور وعدہ الہی دعاؤں کے قبول کرنے کے واسطے ہو چکا ہے۔‘‘

(الندوۃ ص ١٥)

الجواب: اگر پنجگانہ نماز میں نبوت و سلطنت کے واسطے دعا مخصوص ہے تو پھر رسول اللہ ﷺ جو کہ نبی اور خلیفہ بھی تھے کیوں پنج وقت بلکہ تہجد میں دعا پڑھتے تھے۔ کیا وہ فضول کام کرتے تھے؟ ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں کہ دعا اور صراط مستقیم کے معنی آپ غلط بیان کرتے ہیں۔ اگر سلطنت انعام الہی ہے تو مرزا قادیانی کیوں نہ منعم ہوئے اور کفار یورپ جو خدا کو بھی نہیں مانتے اور فسق و فجور وظلم وستم وقتل و غارت میں سب سے بڑھے ہوئے ہیں۔ آپ کے نزدیک منعم علیہم ہیں۔ مرزا قادیانی کی دعاؤں کو خدا نے رد کر کے کفار ظالموں کو سلطنت دی۔ کیا مرزا قادیانی کی دعاؤں کا یہی اثر ہے؟ وہ فرماتے

١٤٤

صفحہ ٤١٩

ہیں کہ خدا نے میری سب دعائیں قبول کر لی ہیں مگر خلافت کا انعام ان کو نہ ملا۔

(٢) بنی اسرائیل کے کسی نبی کو خدا تعالیٰ نے کل عالم کے واسطے مبعوث نہیں فرمایا تھا اور نہ ان میں کوئی ایسا عظیم الشان مرسل نبی ہوا تھا جس کو خدا تعالیٰ نے خاتم النبیین کہا ہو اور نہ ان کو کوئی ایسی کامل شریعت عطاء کی تھی۔ جو کل عالم اور فرقوں اور قوموں کے واسطے کافی ہو لے کر آیا تھا۔ اس لیے بنی اسرائیل کے نبیوں کے بعد نبی ہوتے تھے اور اس وقت مشیت ایزدی نے باب نبوت بند نہیں کیا تھا اور نہ کوئی اکمل دین عطا کیا تھا مگر جب محمد رسول اللہ ﷺ خاتم المرسلین تشریف لائے اور اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی کا سرٹیفکیٹ ساتھ لائے اور خدا نے اپنے قول وفعل کے واقعات سے تصدیق بھی فرمادی کہ آپ ﷺ کو کوئی بیٹا جو آپ ﷺ کے بعد نبی ہوتا عطا نہ فرمایا تو اب ١٣ سو برس کے بعد یہ کیونکر مانا جائے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی آ سکتا ہے۔ جبکہ ہر دو صیغوں یعنی شریعت وطریقت کے کام بذریعہ قرآن شریف و علماء دین جن کی شان میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل یعنی میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند تبلیغ دین کیا کریں گے کیونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

قولہ نمبر ١٣

”نبی یا رسول اللہ کے معنی از روئے لغت خبر دینے والا و پیغام پہنچانے والا ہیں۔“

(النبوۃ ص ١٧)

الجواب: (١) اگر آپ لغوی معنوں کے لحاظ سے مرزا قادیانی کو نبی کہتے ہو تو ہم بھی ان کو ایک چٹھی رسان یا کاہن و پنڈت جوتشی بلکہ اخبار نویس مان لیتے ہیں مگر یہ تو ان کی ہتک ہے کہ رئیس قادیان کو ایک چٹھی رسان یا اخبار پہنچانے والا مانیں۔

(٢) چٹھی رسان و کاہن و پنڈت و جوتشی کی بھی بیعت بغیر کسی کی نجات نہیں ہوتی تو کوئی سند شرعی پیش کرو کہ کوئی امت محمدی میں سے ارکان اسلام پورے پورے بجا لائے اور حج و زکوٰۃ نماز و روزہ ادا کرے اور پورا رسول اللہ ﷺ کا تابعدار ہو مگر جب تک قادیانی چٹھی رسان و کاہن کی بیعت نہ کرے اس کو نجات نہیں کیونکر درست ہے؟ لغوی معنوں سے تو اپنے مرزا قادیانی کا کھیل ہی بگاڑ دیا۔

(٣) شرعی معنی جو رسول کے کیے ہیں کہ ایک خاص معنوں میں محدود ہے کہ رسول اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام بذریعہ وحی و الہام لا کر بندوں کو پہنچائے۔ آپ اس کو نہیں

١٤٣

صفحہ ٤٢٠

مانتے اور فرماتے ہیں کہ یہ ضروری نہیں کہ وہ صاحب شریعت و امت بھی ہو۔ جن لوگوں نے نبی و رسول میں فرق سمجھا ہے وہ غلطی پر ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر آپ کے نزدیک نبی و رسول ایک ہی ہے تو پھر مرزا قادیانی کی نبوت و رسالت میں اور محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت میں کچھ فرق نہ رہا اور یہ کفر ہے کہ نص قرآنی کے خلاف کسی کو نبی و رسول مانا جائے اور یہ آپ کا فرمانا کہ نبی و رسول میں جو لوگ فرق کرتے ہیں کہ نبی بغیر شریعت ہوتا ہے اور رسول صاحب کتاب و امت و شریعت ہوتا ہے غلط ہے تو پھر ہمارے ساتھ مرزا قادیانی بھی غلطی پر ہوئے۔ جنھوں نے فرمایا کہ من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب۔ (درثمین فارسی ص ٨٢) جس کے صاف معنی یہی ہیں کہ میں صاحب کتاب نہیں ہوں۔ صرف ظلی و ناقص نبی ہوں اور آپ ایسے خیال کو غلط ٹھہراتے ہیں۔ اب ناظرین انصاف فرمائیں کہ مرشد سچا ہے یا بالکا، پیر سچا ہے یا مرید؟ پہلے گھر میں اتفاق کر لو پھر میدان میں آ کر دوسروں کی غلطیاں پکڑنا۔

(٤) یہ آپ کی غلطی ہے کہ آپ نبی و رسول کو شرعی معنوں میں خبر دینے والا کہتے ہیں۔ شرعی معنوں اور اصطلاح میں بیشک نبی و رسول دو قسم ہوتے ہیں ایک صاحب کتاب و شریعت اور دوسرے صرف نبی مبلغ شریعت یعنی تبلیغ کرنے والے اور اصطلاح شرع محمدی میں مرسل نبی صاحب کتاب و شریعت جو نبی ہو اس کو کہتے ہیں۔ مرسل نبی صرف ایلچی اور خبر رسان ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ کچھ اپنے اختیارات بھی رکھتا ہے اور وہ بحیثیت گورنر ہوتا ہے کہ حسب موقعہ اپنے اختیارات سے بھی کام کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے واطیعوا اللہ و رسولہ اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کرو یہ غلط ہے کہ نبی و رسول صرف خبر ہی دینے والا ہوتا ہے۔ دیکھو شیخ اکبر ابن عربی کتاب فصوص الحکم کے مقدمہ میں صفحہ ٧٤ پر لکھتے ہیں۔ نبی بھی صاحب شریعت ہوتا ہے۔ جیسے مرسل ہیں۔ پس رسول و نبی میں فرق ہے۔

قولہ نمبر ١٤

”نبی و رسول کی قرآن مجید سے تحقیق۔ اس خود ساختہ اصطلاح کے خلاف کہ نبی تابع رسول اور رسول صاحب شریعت کو کہتے ہیں۔ آیات ذیل دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لقد اتینا موسى الکتاب و قفينا من بعده بالرسل ترجمہ۔ ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب دی اور پیچھے اس کے رسول بھیجے ۔“

(الندوة ص ١٧)

الجواب: مرسل کی تعریف شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ نے حجۃ اللہ البالغہ کے صفحہ ١٠٨۔ ان کا نام مرسل اس واسطے رکھا گیا ہے کہ ان کو بادشاہوں کے ایلچیوں سے

١٤٤

صفحہ ٤٢١

مشابہت دی گئی ہے جو رعایا کی طرف بھیجے جاتے ہیں۔ سلاطین کے امر و نہی کی ان کو اطلاع کرتے ہیں۔ الخ۔

واضح ہو کہ ایلچی بادشاہ کی طرف سے کچھ پیغام لاتا ہے اور کچھ اس کو اپنے اختیارات بھی حاصل ہوتے ہیں کہ حسب موقعہ ان اختیارات کو کام میں لائے اور جو امور و احکام بادشاہ کی رعایا کی سمجھ میں نہ آئیں ان کو شرح و بسط سے بیان کرے اور خود عمل کر کے نمونہ بن کر دکھائے یہ جو آیت آپ نے پیش کی ہے کہ موسیٰ کے بعد ہم نے رسول بھیجے اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کے بعد حضرت عیسیٰؑ اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ۔ رسول صاحب کتاب بھیجے گئے اگر رسول غیر تشریعی نبی کو مانو گے اور محمد رسول اللہ ﷺ کا کلمہ پڑھتے ہو تو اسے بھی موسیٰ کی شریعت کا غیر تشریعی نبی مانو گے اور یہ باطل ہے کیونکہ محمد ﷺ صاحب کتاب و شریعت ہیں۔ اس واسطے رسول اللہ کہا ہے۔ پس رسول اللہ ﷺ صاحب کتاب و شریعت ہیں جیسا کہ مرزا قادیانی بھی کہتے ہیں ؎

من نیستم رسول نیاوردہ ام کتاب

مرزا قادیانی بھی رسول کو صاحب کتاب و شریعت مانتے ہیں۔

قولہ نمبر ١٥

ارسال رسل کا ثبوت۔ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ خدا کی رحمت محدود نہیں اور نبوت بھی خدا کی رحمت ہے اور انعام الٰہی ہے۔ جس کا تعلق صرف انسانوں سے ہے۔ اب یہ بتاتے ہیں کہ خداوند جلشانہٗ نے قرآن مجید میں وعدہ فرمایا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد بھی رسول آتے رہیں گے تاکہ جس طرح موسیٰؑ کی قوم بنی اسرائیل میں حسب منطوق آیہ کریمہ و قفینا من بعدہ بالرسل پے در پے رسول آتے رہیں گے تاکہ مماثلت کامل طور پر ثابت ہو اور وعدہ کی آیت یہ ہے یبنی ادم اما یأتینکم رسل منکم یقصون علیکم ایتی فمن اتقی و اصلح فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون یعنی اے آدمؑ کی اولاد ضرور بالضرور تمھارے پاس تمھیں میں سے رسول آتے رہیں گے تم کو میری آیات سناتے رہیں گے۔ جو خدا سے ڈر کر اصلاح کریں گے تو ان پر خوف نہ ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘

(النبوۃ ص ٢٠‘ ١٩)

الجواب: (١) جب خدا کی رحمت محدود نہیں اور رسالت و نبوت مطلق نعمت و رحمت الٰہی ہے تو خود ہی انبیاء اور سلاطین میں محدود کر رہے ہیں۔ جب نعمت الٰہی ہے اور عام ہے تو پھر دوسری نعمت الٰہی کی طرح عام کیوں نہیں؟ جیسا کہ خدا کی رحمت سے رزق

١٤٥

صفحہ ٤٢٢

پہنچتا ہے۔ اولاد ملتی ہے اور دیگر نعمتیں ملتی ہیں تو نبوت و رسالت بھی اگر محدود نہیں تو ہر ایک انسان کو دوسری نعمتوں کی طرح ملنی چاہیے مگر چونکہ انسانوں میں سے ہر ایک کو نہیں ملتی اور مشاہدہ ہے کہ ہر ایک نبی نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ نبوت و رسالت عام نہیں۔ بیشک محدود ہے خاص کامل انسانوں میں جیسا کہ خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے یختص برحمته یعنی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے خاص کر لیتا ہے نبیوں اور رسولوں کو عوام میں سے۔

(٢) یہ بالکل دھوکہ اور غلط ہے کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی آتے رہیں گے۔ تمام قرآن الحمد سے والناس تک دیکھو ایک آیت بھی نہ ملے گی۔ جس میں فرمایا گیا ہو کہ محمد ﷺ کے بعد بھی ہم نبی بھیجیں گے۔ جیسا کہ موسیٰ کے بعد نبی بھیجے تھے۔ جیسا قفینا من بعدہ موسیٰ کے حق میں فرمایا ایسا قرآن میں قفینا من بعدہ محمد ﷺ کے حق میں نہیں فرمایا اور کیونکر فرماتا جب کہ خاتم النبیین ﷺ فرما چکا تھا؟ خدا کی کلام میں تعارض ممتنع الوجود ہے اور اگر یہ مانیں کہ خدا نے خاتم النبیین بھی فرمایا اور پھر قفینا من بعدہ بالرسل بھی محمد ﷺ کے حق میں فرمایا تو یہ تعارض شان و علم خداوندی کے برخلاف ہے۔ باقی رہی وہ آیت جو آپ نے پیش کر کے لوگوں کو مغالطہ میں ڈالنا چاہا ہے۔ اس کی یہ غرض ہے کہ اوّل تو آپ نے معنی ہی غلط اور محرف کیے ہیں۔ کچھ عبارت اپنے مطلب کے واسطے اپنے پاس سے لگالی ہے اور کچھ الفاظ چھوڑ دیے ہیں جو کہ خشیتہ اللہ اور ایمانداری کے برخلاف ہے۔ صحیح ترجمہ آیت کا یہ ہے اے اولاد آدم کی جب کبھی تمھارے پاس رسول آئیں تم میں سے سنائیں تم کو آیتیں میری تو جس نے خطرہ کیا اور سنوار پکڑی نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غم کھائیں۔ (ترجمہ حافظ نذیر احمد صاحب بمعہ مختصر تفسیر)

جب ہم نے آدم کو نافرمانی کی سزا میں بہشت سے نکالا تو ان کی نسل کی روحوں کو جمع کر کے یہ بھی فرما دیا تھا کہ اے بنی آدم جب کبھی تم میں سے ہی ہمارے پیغمبر تمھارے پاس پہنچیں اور ہمارے احکام تم کو پڑھ کر سنائیں تو ان کا کہا مان لینا کیونکہ جو شخص ان کے کہنے کے مطابق پرہیز گاری اختیار کرے گا اور اپنی حالت کی اصلاح کر لے گا تو قیامت کے دن ان پر نہ تو کسی قسم کا خوف طاری ہو گا اور نہ وہ کسی طور پر آزردہ خاطر ہوں گے۔

ناظرین! یہ آیت قصہ حضرت آدمؑ کی ہے اور یہ اس وقت کا حکم ہے جس وقت دنیا کی ابتدا تھی اور کوئی نبی مبعوث نہ ہوا تھا۔ اس وقت پہلے ہی خدا تعالیٰ نے بنی آدم کی روحوں کو تنبیہ کر دی تھی اور یہ ارسالِ رسل سے پہلے کا حکم تھا۔ چنانچہ اس کے بعد عالم بطون سے عالم ظہور میں انبیاءؑ آتے رہے اور سعید روحیں اس حکم خداوندی کی

١٤٦

صفحہ ٤٢٣

تعمیل بھی کرتی رہیں کہ حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک جتنے نبی و رسول آئے۔ ان کو مانا اور ایمان لائے اور ان کی شریعتوں کے موافق عمل کرتے رہے اور عذاب جہنم سے انھوں نے نجات پائی۔ اب ہم قرآن کی تفسیر قرآن کی دوسری آیت سے بتاتے ہیں کہ یہ ہر دو آیات حضرت آدمؑ کے قصہ کے متعلق ہیں ان سے ہمیشہ رسولوں اور نبیوں کا آنا سمجھنا غلطی ہے۔ خدا تعالیٰ سورہ طہ کے رکوع ٧ کے اخیر انھیں الفاظ میں حضرت آدمؑ کو فرماتا ہے قال اھبطا منہا جمیعاً بعضکم لبعض عدو فاما یاتینکم منی ھدی فمن اتبع ھدای ولا یضل ولا یشقی (ط ١٢٣) ترجمہ۔ فرمایا اترو یہاں سے دونوں اکٹھے رہو۔ ایک دوسرے کے دشمن پھر کبھی پہنچے تم کو میری طرف سے راہ کی خبر پھر جو چلا میری بتائی ہوئی راہ پر نہ بہکے گا وہ اور نہ تکلیف میں پڑے گا۔ اب اس آیت نے پہلی آیت کی تفسیر کر دی کہ یہ خاص حکم حضرت آدمؑ کے وقت اور قصہ کا ہے اور اس حکم کے مطابق عمل بھی ہوتا رہا کہ خدا تعالیٰ صاحب شریعت رسول و پیغمبر مرسل بھیجتا رہا یہ بالکل دھوکہ ہے کہ غیر تشریعی نبیوں کا وعدہ اس آیت میں ہے اللہ فرماتا ہے رسل منکم یقصون علیکم ایتی فمن اتقی و اصلح اس آیت میں رسل کی تعریف ہے۔

سنائیں گے جو کہ منافی ہے غیر تشریعی نبی کے۔

سابقہ کہے تو اس کی تابعداری فرض نہیں ہوتی۔ پس ثابت ہوا کہ تشریعی رسل کا حکم ہے۔

اصلاح کرے۔ جب کوئی رسول آئے اور شریعت لائے تو اس شریعت کے مطابق ہر ایک انسان اپنی اپنی اصلاح کرے۔ اب اس آیت سے یہ سمجھنا کہ رسولوں کے آنے کا وعدہ ہے ہمیشہ کے واسطے مفصلہ ذیل دلائل سے غلط ہے۔

بلا خوف تردید مان چکے ہیں کہ باب نبوت تشریعی بعد محمد رسول اللہ ﷺ کے بند ہے نہ کوئی جدید شریعت قیامت تک آ سکتی ہے اور نہ کوئی رسول صاحب کتاب آ سکتا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی اصل عبارت یہ ہے۔

١٤٧

صفحہ ٤٢٤

”قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو۔ کیونکہ رسول ﷺ کو علم دین بتوسطہ جبرئیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے۔ اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آئے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٦١ خزائن ج ٣ ص ٥١١)

اب تو صاف ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی کے مذہب میں بھی خاتم النبیین کے معنی رسالت کا بند ہونا ہے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی قسم کا نبی و رسول نہ ہوگا۔ پس اس آیت سے یہ سمجھنا کہ بنی آدم سے وعدہ ہمیشہ رسولوں کے بھیجنے کا ہے غلط ہوا۔

نبوت کے بعد محمد رسول اللہ ﷺ بند ہو گئی اور ایک حصہ چھیالیسواں بند نہیں ہوا اور جس میں یہ ٤٦ واں حصہ مبشرات کا ہو وہ نبی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خواب ہر ایک مسلم و کافر کو آتے ہیں اور بشارتیں ملتی ہیں اور سچے خواب ہر ایک ہی دیکھتا ہے مگر وہ نبی نہیں اور مرزا قادیانی نبی ہیں اور ساتھ ہی یہ کہتے ہیں کہ نعمت نبوت سے امت محروم کیوں ہو؟ حالانکہ خود اعلیٰ نعمت رسالت تشریعی و نبوت سے محرومی امت کی تسلیم کرتے ہیں۔

ہم کہتے ہیں کہ اس امت کا کیا قصور ہے کہ اس کو باوجود خیر الامت ہونے کے ٤٦ ویں جز نبوت کی ملے اور سابقہ امتوں کو جو کہ ادنیٰ امتیں تھیں ان کو تشریعی نبی و رسول ملتے رہے۔ اس میں امت مرحومہ کی خود ہتک کرتے ہیں۔ دوم جو دلیل تشریعی نبوت و رسالت کے بند ہونے کی ہے وہی دلیل غیر تشریعی نبی کے بند ہونے کی ہے۔ پس جس دلیل سے ٤٥ حصوں نعمت نبوت سے آپ امت محمدی کا محروم ہونا مانتے ہیں۔ اسی دلیل سے ہم ایک حصہ نبوت کا یعنی ٤٦ واں حصہ کا بند ہونا مانتے ہیں یہ کیونکر درست ہے کہ خاتم النبیین کی آیت ٤٥ حصوں نبوت کے مسدود ہونے پر نص قطعی ہو اور ایک حصہ پر نہ ہو۔ اگر کوئی نص جزوی نبوت کی ہے تو لاؤ مگر کوئی نہیں جس میں لکھا ہو کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد غیر تشریعی نبی آئیں گے۔

صادق رسول نہیں آیا؟ حالانکہ حضرت موسیٰؑ کی وفات کے ساتھ ہی یوشعؑ نبی آیا۔

تو پھر مرزا قادیانی کی شریعت و کتاب کونسی ہے؟ وہ تو انکاری ہیں کہ من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب۔

١٤٨

صفحہ ٤٢٥

(٥) اس آیت میں رسل جمع رسول کا لفظ ہے اور مرزا قادیانی صرف ایک ہی ہیں جنھوں نے امت محمدی میں ہو کر دعویٰ نبوت کیا ہے تو یہ کیونکر درست ہے یا تو یہ مانو گے کہ مرزا قادیانی کے بعد بھی نبی ورسول آئیں گے تو پھر مرزا قادیانی کا دعویٰ امام آخر الزمان ومہدی ومسیح موعود کا جھوٹا ہوتا ہے یا قرآن میں تحریف کرو گے کہ بجائے رسل کے رسول بناؤ گے۔

(٦) اگر تمام احکام مختص بزمان نہیں ہیں تو پھر جو اللہ کا یہ حکم ہے کہ یایھا الذین امنوا لا تتخذو الیہود والنصاریٰ اولیاء (مائدہ ٥١) یعنی اے ایمان والو یہود ونصاریٰ کو دوست نہ پکڑو۔ مگر مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ میرا باپ بھی اور میں بھی نصاریٰ کا خیر خواہ اور ولی دوست ہوں اور میرے مرید سچے وفادار ہیں۔ اگر استمراری حکم ہے تو پھر قرآن کے برخلاف نصاریٰ سے دوستی کیسی؟ دوسری جگہ قرآن میں اللہ فرماتا ہے خذو اسلحتکم یعنی ہتھیار رکھو اب اس زمانہ میں ہتھیار مسلمان کیوں نہیں رکھتے؟ نہ مرزا قادیانی نے رکھے اور نہ ان کے کسی مرید نے۔ غرض یہ غلط فہمی ہے کہ جو احکام و وعدے کے مختص الزمان ہوں ان کو ہمیشہ کا وعدہ سمجھنا۔ خلیفے بنانے کا وعدہ جس وقت کے واسطے تھا خدا نے اس وقت بنا دیا اور رسولوں کا بھی جیسا وعدہ تھا آئے۔ کیا آدمؑ کو جو حکم ہوا کہ اتر جاؤ تو آپ اس سے ہمیشہ کا اترنا سمجھو گے؟ اگر یہی سمجھ بیٹھے ہیں تو غلطی ہے۔ ایسا ہی اگر آدم کو اس کی اولاد کے روحوں کو خدا نے خبردار کر دیا اور پیشگوئی کے طور پر اطلاع کر دی تو پھر اس آیت کو محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد امکان نبوت سے کیا تعلق ہوا؟

(٧) صیغہ استقبال ونون ثقیلہ سے کس کو انکار ہے۔ یہ تو عام قاعدہ ہے کہ جس وقت کوئی قصہ گذشتہ زمانہ کا بیان کرتا ہے تو انھیں کلمات اور صیغوں سے کرتا ہے۔ جس میں متکلم نے بیان کیا تھا۔ پس قرآن مجید نے بھی قصہ حضرت آدمؑ انھیں الفاظ اور صیغوں میں بیان کیا جس طرح خدا تعالیٰ نے بنی آدم کی روحوں کو کہا تھا اس سے امکان نبی ورسول بعد محمد ﷺ کیونکر نکلتا ہے۔ مگر الا لیؤمنن بہ قبل موتہ کی بحث کے وقت تو آپ کے مرشد اور خلیفہ اور تمام گروہ کہتا ہے کہ نون ثقیلہ جب مضارع پر آئے تو استقبال کے واسطے نہیں ہوتا۔ اب اپنے مطلب کے واسطے آپ کیوں مان رہے ہیں۔

(٨) قرآن شریف جیسا کہ محمد رسول اللہ ﷺ سمجھتے تھے۔ دوسرا کوئی غیر ملک اور زبان والا نہیں سمجھ سکتا اور مرزا قادیانی مان چکے ہیں کہ محمد ﷺ کی فراست وفہم کل افراد امت کی فہم وفراست سے زیادہ ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ اپنے بعد کسی نبی کا آنا جائز نہیں رکھتے کہ تمام حدیثوں میں جو ہم اسی کتاب میں لکھ چکے ہیں۔ لا نبی بعدی فرماتے

١٤٩

صفحہ ٤٢٦

آئے ہیں تو ثابت ہوا کہ اس آیت سے رسولوں کا بعد محمد رسول اللہ ﷺ کے آنا سمجھنا امتی کی غلطی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں اس کی کچھ وقعت نہیں۔

پس ثابت ہوا کہ یہ دعویٰ کہ ایک امتی نبی و رسول بہ سبب پیروی محمد رسول اللہ ﷺ کے ہو سکتا ہے۔ غلط ہے اور مشاہدہ ہے کہ جب صحابہ کرامؓ میں سے جو پورے پورے فرمانبردار رسول اللہ ﷺ تھے جب وہ نبی و رسول نہ کہلائے تو ١٣ سو برس کے بعد ایک امتی کس طرح نبی کہلا سکتا ہے؟

اس آیت سے امکان رسول بعد محمد رسول اللہ ﷺ غلط ہے کیونکہ پہلے سے قصہ حضرت آدمؑ کا چلا آتا ہے۔ پس ایک قصہ کی آیت کا ماقبل و ما بعد چھوڑ کر امکان رسل میں پیش کرنا دھوکہ نہیں تو اور کیا ہے۔ باقی رہا یہ ڈھکوسلہ کہ حضرت موسیٰؑ سے مماثلت تامہ کی غرض سے نبی و رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد آنے چاہئیں۔ یہ دھوکہ اور مغالطہ ہے۔ مماثلت تامہ کبھی کسی مثیل و مماثل میں نہیں ہوتی صرف ادنیٰ مشارکت وجہ شبہ میں ہوتی ہے۔ جب کوئی متکلم کہتا ہے کہ زید شیر ہے تو اس وقت مماثلت تامہ کی غرض سے شیر کے پنجے و دُم اور دانت وغیرہ سب اعضا و صفات شیر کی زید میں کوئی عقلمند مان سکتا ہے؟ ہرگز نہیں صرف ادنیٰ اشتراک قوت کے باعث زید کو شیر کہا گیا ہے۔ پس محمد رسول اللہ ﷺ کی مماثلت ترسیل رسل میں ہے۔ یعنی جس طرح موسیٰ ؑ کو فرعون کی طرف رسول بھیجا گیا تھا اسی طرح محمد ﷺ کو کل دنیا کی طرف رسول کر کے بھیجا گیا ہے۔

بھیجے گئے اور محمد رسول اللہ ﷺ کل عالم کی طرف۔ یہاں آپ کی مماثلت تامہ غلط ہوئی۔

دریا میں نہیں ڈالے گئے۔ یہاں بھی آپ کی مماثلت تامہ غلط ہوئی۔

گار نبی مقرر نہ کیا۔ یہاں بھی آپ کی مماثلت تامہ غلط ہوئی۔

کو قرآن دیا اور یہ نہ فرمایا کہ محمد ﷺ کے بعد پے در پے رسول بھیجے جائیں گے۔ یہاں بھی مماثلت تامہ غلط ہے۔

١٥٠

صفحہ ٤٢٧

ہے کہ جب تک دنیا قائم ہے ہمیشہ رہے گا۔ یہاں بھی آپ کی مماثلت غلط ہے۔

وفات کے ساتھ ہی حضرت یشوع سے شروع ہو کر حضرت یحییٰ ؑ تک ١٣ سو برس کے عرصہ میں کئی غیر تشریعی نبی آئے اور ایک حضرت عیسیٰ ؑ اخیر میں صاحب کتاب مرسل بھی آیا مگر محمد رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد کوئی غیر تشریعی نبی ١٣ سو برس تک نہ آیا۔ پس اس سے بھی مماثلت تامہ کا خیال غلط ہے پس ثابت ہوا کہ یہ ڈھکوسلہ کہ چونکہ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد اس کی امت میں نبی ہوتے رہے۔ اب اگر امت محمد ﷺ میں نہ ہوں تو محمد ﷺ اور امت کی ہتک ہے بالکل غلط ہے کیونکہ اگر موسیٰ کی مانند محمد ﷺ کے بعد بھی نبی آتے تو پھر محمد ﷺ کو موسیٰ ؑ پر کوئی شرف نہ رہتا کیونکہ یہ ظاہر ہے جو افسر بغیر مددگار کے کام کرے وہ زیادہ لائق ہے بہ نسبت اس افسر کے کہ اس کے ساتھ ایک نائب ہو اور پھر بھی پے در پے چھوٹے چھوٹے نبی مددگار آتے رہیں کس قدر فضیلت ہے۔ اس رسول پاک کو کہ صرف اکیلا اپنا کام رسالت سر انجام دیتا ہے؟ اور کسقدر فضیلت ہے اس امت کو کہ بغیر کسی چھوٹے یعنی نائب رسول کے سچے رسول محمد ﷺ کے دین پر اسی طرح قائم ہے جس طرح اس کی زندگی میں تھے؟ اور کس قدر فخر ہے اس امت کو سابقہ امتوں پر کہ باوجود نہ آنے کسی نبی کے ١٣ سو برس تک اپنے رسول پاک کے عشق و محبت میں سرگرم ہے اور اس کو زندہ جاوید نبی تصور کر کے اسی طرح اس کے احکام و شریعت کی پیروی کرتی ہے جس طرح اس کی زندگی میں تھی۔ گویا وہ رسول پاک ان میں زندہ ہے؟ برخلاف اس کے سابقہ امتیں نبی کی موجودگی میں ہی اڑ بیٹھتی تھیں کہ ہم سے یہ نہ ہو گا۔ حضرت موسیٰ ؑ کو بھی جواب دے دیا کرتے تھے۔ حضرت موسیٰ ؑ کوہ طور پر گئے حالانکہ ہارون ؑ ان میں موجود تھے تو انھوں نے گوسالہ پرستی شروع کر دی تھی۔ پس ایسے کجرو اور خام طبع و بد اعتقاد والوں کے واسطے غیر تشریعی نبیوں کا آنا ضروری تھا اور یہ بالکل دھوکہ ہے کہ وہ نبی شریعت موسوی کی پیروی سے نبی ہوتے تھے کیونکہ نبی کو خدا اپنی خاص رحمت سے چن لیا کرتا ہے۔ نبوت کسبی نہیں۔ پس مسلمانوں کو اس ٹھوکر سے بچنا چاہیے۔ پولیس کی ضرورت وہاں ہی ہوتی ہے جس جگہ بدمعاش اور چور ہوں اور غیر تشریعی نبوت کی ضرورت بھی اسی امت میں ہوتی ہے جو ایمان کی کچی ہو اور اس کے مرتد ہونے کا خوف ہو۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی امت تو خدا کے فضل سے ١٣ سو برس سے مرتد نہیں ہوئی اور نہ اس میں

١٥١

صفحہ ٤٢٨

ضرورت ہے۔ اس واسطے اس کا لقب خیر الامت ہے۔ اگر غیر تشریعی نبیوں کی ضرورت اس امت میں بھی ہے تو خیر الامت نہیں۔ پس جو لوگ خیر الامت میں سے نہیں وہ غیر تشریعی نبی مانیں۔

قولہ نمبر ١٦

”دوسرا ثبوت ارسال رسل۔ قیامت کے دن رب العالمین احکم الحاکمین تمام اہل جہنم سے پوچھے گا کہ یمعشر الجن والانس الم یأتکم رسل منکم یقصون علیکم ایتی و ینذرونکم الخ ترجمہ۔ اے جماعت جنوں اور انسانوں کی کیا تمھارے پاس تم میں سے پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو میرے حکم سناتے اور اس دن کے آنے سے ڈراتے۔ وہ کہیں گے کہ ہاں ہم خود اپنے مخالف گواہ ہیں کہ بیشک رسول آئے تھے اور ہم کو دنیا کی زندگی نے فریب دیا تھا اور ہم کافر تھے۔ اس سوال و جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر قرن میں رسولوں کا وجود ہوگا اور تاقیامت خدا کے رسول آتے رہیں گے۔“

(النبوۃ ص ٢٢۔٢١)

الجواب: بیشک خدا کفار سے پوچھے گا کہ تمھارے پاس پیغمبر آئے اور وہ کہیں گے کہ آئے مگر اس آیت سے یہ کہاں سے نکلا کہ ہر ایک قرن اور وقت میں بھی نبی و رسول آتے رہیں گے۔ جب محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد اس کی نبوت اور کتاب و شریعت دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور ہر ایک زمانہ میں علماء امت تبلیغ کرتے آئے۔ اسی لحاظ سے کفار پر حجت ہے اور اس واسطے کفار اقرار کریں گے۔ دیکھو آیت رسلا مبشرین و منذرین لئلایکون للناس علی اللہ حجة بعد الرسل و کان اللہ عزیزاً حکیماً. (النساء ١٦٥) ترجمہ۔ بھیجے رسول خوشخبری دینے اور ڈر سنانے والے تاکہ نہ رہے اللہ پر لوگوں کو الزام کی جگہ رسولوں کے بعد اور اللہ زبردست ہے حکمت والا۔ اگر یہ مانا جائے کہ ہر ایک قرن میں نبی کا امکان اور لزوم اس آیت سے ثابت ہے تو پھر محمد ﷺ کے بعد ١٣ سو برس میں جو کروڑوں مسلمان گزرے اور کوئی نبی کسی قرن میں نہیں ہوا تو آپ کے نزدیک ان سے سوال فضول ہو گا اور وہ نبوت محمد ﷺ سے منکر ہوں گے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ آیا اور کئی قرن گزر گئے تو خدا تعالیٰ ان سے سوال نہیں کر سکتا اور نہ وہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت و نبوت کی تبلیغ کا اقرار کریں گے اور اگر ان پر رسول اللہ ﷺ کی رسالت و نبوت بذریعہ قرآن و شریعت محمدی تصدیق ہو چکی ہے تو پھر آپ کا استدلال اس آیت سے غلط ہے۔ افسوس ایسی بے بنیاد و بودی دلیل سے آپ امکان نبوت صریح

١٥٢

صفحہ ٤٢٩

نص قرآنی کے خلاف ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر بہ نفس نفیس کسی قوم میں پیغمبر کا ہونا لازمی قرار دیں اور ہر ایک قرن میں ضروری ہو تو پھر محمد ﷺ تو صرف مکہ میں نبی تھے اور مکہ اور مدینہ والوں پر حجت ہے دوسرے ملکوں والے تو انکار کر سکتے ہیں کہ ہمارے میں کوئی نبی نہیں آیا۔ کیونکہ محمد ﷺ صرف مکہ مدینہ میں رہے اور انھیں لوگوں نے ان کو دیکھا۔ اگر یہ دلیل آپ کی درست مانیں تو ١٣ برس تک کا زمانہ بعد محمد ﷺ کے مرزا قادیانی تک بلا پیغمبر و نبی رہا۔ اگر دیکھ کر پیغمبر کا اقرار ہوگا اور پیغمبر کی تعلیم و شریعت کفار پر حجت نہ ہوگی تو پھر مسلمان بھی کفار کے برابر ہوں گے یہ کونسا منطق ہے کہ اجی کافروں نے تو نبی کو نہیں دیکھا اگر ہمیشہ نبی نہ ہوں گے تو کفار پر حجت نہ ہوگی۔ کیا قرآن و شریعت حجت نہیں اور ہر ایک نبی کا ہر ایک زمانہ میں آنا حجت ہے تو پھر وسطی زمانوں کا کیا حال ہے وہ سب بلا نبی و پیغمبر رہے؟ اگر حضرت موسیٰؑ سے محمد ﷺ کی مماثلت تامہ ہوتی تو جس طرح حضرت موسیٰؑ کی وفات کے بعد فوراً حضرت یسوع مبعوث ہوئے تھے۔ حضرت محمد ﷺ کی وفات کے ساتھ ہی حضرت ابوبکر صدیقؓ کو نبوت ملتی اور وہ نبی کہلاتے۔ مگر حضرت ﷺ نے تو صاف صاف فرما دیا کہ اگر میرے بعد نبی ہونا ہوتا تو عمرؓ ہوتے اور حضرت علیؓ نے بھی فرمایا الا وانی لست نبی ولا یوحیٰ الی یعنی میں نہ نبی ہوں اور نہ میری طرف وحی کی جاتی ہے تو آپ کا قاعدہ حضرت موسیٰؑ کا کہاں گیا کہ نبی ہمیشہ ہوتے رہے اور ہوتے رہیں گے۔ حضرت علیؓ کو محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ موسیٰؑ کے واسطے ہارونؑ مگر چونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ صرف فرق یہ ہے کہ تو نبی نہیں اور ہارونؑ نبی تھا۔ پس ثابت ہوا کہ کسی قسم کا نبی تشریعی و غیر تشریعی محمد ﷺ کے بعد نہیں ہے۔

قولہ نمبر ١٧

”تیسرا ثبوت ارسال رسل النبوۃ ص٢٢۔ یہ دلیل بھی ویسی ہے جیسی دوسری صرف کتاب پڑھانے کے واسطے پہلی دلیل کا اعادہ کیا ہے۔ ہمارا جواب بھی وہی ہے جو اوپر گزرا صرف اس میں خود ہی آپ نے تنزل کیا ہے کہ یا تو محمد رسول اللہ ﷺ کا بار بار دنیا میں بطریق بروز تشریف لانا ماننا پڑے گا یا بعد میں ان کا روضہ مبارک میں ہی سے یتلون علیکم ایت ربکم و ینذرونكم لقاء يومكم ھذا کے مطابق عمل ثابت کرنا پڑے گا۔“

الجواب : آیت شریف میں یہ کہاں لکھا ہے کہ ہر وقت اور ہر زمانہ میں پیغمبر بہ نفس نفیس

١٥٣

صفحہ ٤٣٠

ہی تبلیغ دین کرتا رہے گا۔ اگر آپ یہ دکھائیں تو ہم ثابت کر دیں گے۔ محمد ﷺ کی نبوت قرآن مجید زندہ جاوید ہر قرن اور ہر زمانہ میں تعلیم دین محمدی کرتا رہا ہے اور کر رہا ہے اور کرتا رہے گا کسی اور نبی کی ضرورت نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا خود ذمہ لیا ہے۔ دیکھو انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون یعنی ہم نے ہی یہ قرآن و شریعت محمدی اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ کوئی نبی محمد ﷺ کے بعد بغرض حفاظت نہ بھیجا جائے گا۔ شریعت موسوی کی حفاظت بذریعہ غیر تشریعی نبی ہوتی تھی یہ شان محمدی ﷺ ہے کہ جس کا محافظ خود خدا ہے۔ جس کا محافظ خدا ہو اور خدا کے عمل و فعل سے یہی ثابت ہے کہ بغیر کسی نبی کے ١٣ سو برس تک برابر حفاظت ہوتی چلی آئی ہے اور قرآنی تعلیم خود بخود ہر ایک زمانہ اور قرن میں ہر ایک ملک میں بغیر کسی نبی کی کوشش کے پھیلتی رہی ہے۔ پس امکان نبوت بعد محمد ﷺ باطل ہوا۔

قولہ نمبر ١٨

”احادیث بقائے نبوت فی خیر الامت۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ رویا صالحہ چھیالیسواں حصہ نبوت ہے اور حدیث میں ہے کہ لم یبق من النبوۃ الا المبشرات یعنی نبوت میں سے کچھ باقی نہیں رہا مگر مبشرات۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نبوت میں سے مبشرات کا سلسلہ جو نبوت کا ایک جز ہے تا قیامت آپ کے بعد ہی باقی ہے۔“

(النبوۃ ص ٢٣)

الجواب: افسوس میر قاسم مرزائی کو اپنا دعویٰ ہی یاد نہیں رہا کہ موسیٰ ؑ کی مماثلت تامہ کے واسطے جو قاعدہ غیر تشریعی نبی کا حضرت یشوع ؑ سے لے کر حضرت یحییٰ ؑ تک وہ جاری تھا وہی محمد کے بعد جاری رہنا چاہیے تھا۔ مگر خود ہی پنتالیس جزو کا عدم وجود مان گئے اور ایک جز رکھی اس حدیث سے اپنا دعویٰ خود بخود اڑا دیا کیونکہ جزیہ موجبہ کلیہ نہیں ہوتا۔ یہ حدیث تو ختم نبوت کی دلیل ہے نہ امکان نبوت کی۔ باقی رہا جزو نبوت تو یہ بالکل ہی نامعقول ہے کہ جز پر کل کا حکم لگایا جائے۔ کوئی عقلمند ایک جز گھر کو یعنی دروازہ یا شہتیر یا دیوار کو گھر نہیں کہہ سکتا۔ جزیہ موجبہ کلیہ نہیں ہوا کرتا۔ پس ہر ایک شخص رویاء صالحہ دیکھنے والا نبی نہیں کہلا سکتا کیونکہ رویاء صالحہ ہر ایک کو ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اس پر ہر ایک کا اتفاق ہے کہ سچی خواب ہر ایک انسان کو ہو سکتی ہے خواہ کسی مذہب کا ہو۔ بلکہ مرزا قادیانی نے تو یہاں تک لکھ دیا ہے کہ کنجری شراب پیئے ہوئے یار کی بغل میں سچا خواب دیکھ لیتی ہے۔“ (توضیح المرام ص ٨٤ خزائن ج ٣ ص ٩٥) یہ بالکل بیہودہ خیال ہے کہ رویا صالحہ دیکھنے

١٥٤

صفحہ ٤٣١

والا نبی ہوتا ہے اور نبی کہلا سکتا ہے۔ حدیث کا مطلب تو یہ ہے کہ نبوت میرے بعد ختم ہو گئی ہے کوئی نبی میرے بعد نہ ہوگا نہ کچھ نبوت کا باقی دنیا میں رہے گا۔ وہ مبشرات ہیں جو کہ بذریعہ رویاء صالحہ یعنی خواب میں بشارتیں لوگوں کو دی جائیں گی۔ مگر بشارتیں دیکھنے والا نبی نہ ہوگا۔ یہ کہاں سے نکلتا ہے کہ بشارت دیکھنے والا نبی کہلا سکتا ہے۔ جزوی اشتراک سے کلی لقب کا کوئی مستحق نہیں ہو سکتا کرم شب تاب ہرگز ہرگز آفتاب نہیں کہلا سکتا اور نہ کوئی باحواس شخص کرم شب تاب کو آفتاب کہہ سکتا ہے۔ ایسا ہی جس میں ٤٦ جزو نہ ہوں صرف ایک جزو کے ہونے سے اس کو نبی نہیں کہہ سکتے اور نہ اب تک کسی نے ١٣ سو برس تک خوابوں کے ذریعہ سے نبی کہلایا۔ حالانکہ اس پر اجماع ہے کہ حضرت ابوبکرؓ جیسا خواب بین اور خواب کا تعبیر کنندہ کوئی نہیں ہے۔ جب وہ نبی نہ کہلائے تو دوسرے کی کیا حقیقت ہے۔ مگر تعجب ہے کہ آپ سخت دھوکا دے رہے ہیں۔ بحث تو خاتم النبیین میں ہے کہ نبیوں کے ختم کرنے والا اور آپ نبوت کے اجزاء باقی رہنے کا ثبوت صرف مغالطہ میں ڈالنے کے واسطے دے رہے ہیں۔ قرآن میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہے۔ نہ کہ نبوت کے ختم کرنے والا۔ نبوت تو محمد ﷺ کی یعنی قرآن و احادیث و شریعت و دیگر برکات روحانی آج تک امت میں چلی آتی ہیں مگر کوئی نبی نہیں کہلا سکتا۔

قولہ نمبر ١٩

”دوسرا ثبوت احادیث سے قال رسول اللہ ﷺ ان من امتی محدثین و معلمین و مکلمین و ان عمرؓ منهم و قرء ابن عباسؓ وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا محدث يعنى الصديقين والمحدث هو ملهم‘ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں بعض لوگ مکالمات اللہ سے مشرف ہوں گے اور عمر بن خطاب ان میں سے ہے اور حضرت ابن عباسؓ کی قرائت میں قرآن مجید کی آیت وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبی ولا محدث بھی ہے اور محدث ملہم کو کہتے ہیں۔“

(الندوة ص ٢٤)

الجواب: کجا بود اشہب کجا تاختم۔ حضرت آپ تو نبوت پر بحث کر رہے ہیں۔ محدث وملہم کا ثبوت اور نص کس واسطے ذکر کر رہے ہیں کیا آپ کے نزدیک نبی اور ملہم ایک ہی ہے۔ دیکھو حدیث عن ابی هريرة قال قال رسول اللہ ﷺ لقد کان فیما قبلکم من الامة محدثون فان يك احد فی امتی فانه عمر.

(بخاری ج ١ ص ٥٢١ باب مناقب عمرؓ)

روایت ہے ابوہریرہؓ سے کہ کہا فرمایا رسول خدا ﷺ نے کہ تحقیق تھے الہام کیے گئے بیچ

١٥٥

صفحہ ٤٣٢

ان لوگوں کے تھے پہلے تم سے امتوں میں سے۔ پس اگر ہو میری امت میں کوئی پس تحقیق وہ عمرؓ ہو گا نقل کی بخاری و مسلم نے۔ اس حدیث سے محدثیت بھی جاتی ہے۔ حضرت عمرؓ پر محدود ہے۔ آپ پہلے لکھ آئے ہیں کہ رسول اور نبی کا قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں۔ مرسل کے معنی صاحب کتاب نئی من گھڑت ہے گویا مرسل و نبی تشریعی و غیر تشریعی سب ایک ہیں اور آپ نبوت پر بحث کر رہے ہیں۔ محدث اور ملہم کو کیوں بیچ لے آئے چونکہ یہ خارج از بحث ہے۔ اس لیے اس کا جواب صرف اسی قدر کافی ہے کہ جس قدر ملہم امت محمدی میں گزرے ہیں اور اب ہیں اور ہوں گے آپ کے قول سے سب نبی ہوئے اور یہ بالکل غلط ہے۔ حضرت عمرؓ کو رسول ﷺ نے محدث فرمایا مگر نبی نہیں فرمایا۔ حضرت علیؓ کو محمد ﷺ نے بمنزلہ ہارونؑ کے فرمایا مگر ساتھ ہی لا نبوۃ بعدی فرما دیا۔

امت محمدی میں خدا کے فضل سے ہزار ہا بلکہ کروڑ ہا ملہم گزرے مگر کسی نے بھی دعوٰی نبوت نہ کیا۔ پس اس حدیث سے آپ کا استدلال غلط ہوا کیونکہ جس لقب کو صحابہ کرامؓ نے حضرات امامین حسنؓ و حسینؓ و قطب الاقطاب سیدنا غوث الاعظمؒ و حضرت محی الدین ابن عربیؒ وغیرہ وغیرہ کسی نے بھی اپنے آپ کو مستحق نہ سمجھا اور نبی نہ کہلایا تو پھر ایک امتی کو کوئی حق نہیں کہ نبی کا لقب پائے۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کے قریب خیر القرون سے بے نصیب ہو اور خیر القرون قرنی کی نعمت سے ١٣ سو برس دور پڑا ہو۔ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ ”حضرت خضر ملہم تھا نبی نہ تھا۔“ (ازالہ اوہام ص ١٥٣ خزائن ج ٣ ص ١٧٨) افسوس آپ کو گھر کی خبر نہیں۔

قولہ نمبر ٢٠

آپ لکھتے ہیں ”کہ ولی کی کرامت اور نبی کے معجزہ میں بجز اس کے کہ ایک کا نام خوش فہمی سے کرامت رکھ لیا اور دوسرے کا نام معجزہ ورنہ دونوں ایک ہی خدا کی طرف سے ہیں۔ پس جس خدا کی کلام نے محمد ﷺ کو نبی بنایا۔ اسی خدا کا کلام احمد کو بھی نبی بنائے گا۔“

(النبوۃ ص ٢٥)

الجواب: افسوس جب تعصب اور ضد ہو اور انسان شریعت اور مذہب کی رسی سے اپنا گلا نکال کر شتر بے مہار بن جائے تو اس کو تمام مسلمات سلف سے انکار کرنا پڑتا ہے۔ تب ہی تو اپنے من گھڑت اور بے سند باتوں کو پیش کر سکتا ہے۔ اب آپ کے نزدیک ولی کو کرامت اور نبی کو معجزہ دیا جانا ایک ہی بات ہے۔ امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ انبیاء و اولیاء کے قلب پر وحی نازل ہونے میں فرق اسی قدر ہے کہ انبیاء کی وحی میں فرشتے

١٥٦

صفحہ ٤٣٣

نازل ہوتے ہیں اور ولی کی وحی میں فقط الہام ہوتا ہے اور فرشتے کبھی نازل نہیں ہوتے۔ مگر یہ نہیں سوجھا کہ جب کرامت و معجزہ ایک ہے تو پھر ولی و نبی ایک کیوں نہ ہوں۔ ان میں صرف لفظی فرق ہے اور پھر نبی اور کاہن و جوگی، جو گھر گھر ایک ایک پیسہ لے کر غیب کی خبریں دیتا پھرتا ہے اور اس کی خبریں بھی اکثر سچی ہوتی ہیں۔ ان کی خبر رسانی اور نبی کی خبر رسانی میں بھی کچھ فرق نہ ہوا؟ نتیجہ یہ ہوا کہ نبی و جوگی و کاہن و رمال جتنے خبر دینے والے ہیں سب نبی ہیں اور ان میں سوا تنازعہ لفظی کچھ فرق نہیں حالانکہ قرآن مجید فرماتا ہے کہ نبی کاہن و شاعر نہیں ہے۔

دوم۔ بیشک خدا تعالیٰ نے محمد ﷺ کو احمد و نبی بنایا مگر غلام احمد کو غلام ہی رکھا۔ کوئی خدا کی کلام پیش کرو جس میں لکھا ہے کہ غلام احمد ﷺ کو ہم نبی کریں گے ورنہ دروغ بیانی سے توبہ کرو۔ غلام و آقا میں فرق ہے۔ نبی و ولی میں فرق ہے۔ معجزہ و کرامت میں فرق ہے ۔

ہر مرتبہ از وجود حکمے دارد
اگر فرق مراتب نہ کنی زندیقی

افسوس میر قاسم مرزائی کو مرزا قادیانی سے بھی اتفاق نہیں ۔ مرزائیوں کی بہت نازک حالت ہے۔ ابھی تو مرزا قادیانی کو فوت ہوئے تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے مگر ان کے مرید انھیں کی تحریروں کے برخلاف لکھتے جاتے ہیں اور من گھڑت باتیں جو جی میں آئیں وہی لکھ مارتے ہیں۔ اب میر صاحب فرمائیں کہ مرزا قادیانی سچے ہیں یا آپ اور آپ نے مرزا قادیانی کے برخلاف ان کے مرید ہو کر لکھا ہے یا مرتد ہو کر۔ کیونکہ مرزا قادیانی تو کاہن و شعبدہ باز و ولی و پیغمبر کے عجائبات میں فرق کرتے ہیں۔ (براہین احمدیہ ص ٤٦٢ حاشیہ خزائن ج ١ ص ٥٥٥) مگر آپ ایک ہی جانتے ہیں۔ صرف نزاع لفظی ہے۔

قولہ نمبر ٢١

”نزول ملائکہ بر مومنین۔ قرآن شریف سے یہ امر بھی بصراحت ثابت ہے کہ امت محمدیہ کے افراد کامل پر خدا تعالیٰ کے فرشتے منجانب اللہ بشارتیں لے کر اسی دنیاوی حیات میں نازل ہوتے ہیں۔“

(الہدایۃ ص ٢٥)

الجواب: جناب کا کہنا مانیں یا مرزا قادیانی کا وہ تو فرماتے ہیں کہ فرشتے نزول نہیں فرماتے اور آپ فرماتے ہیں کہ فرشتے نزول فرماتے ہیں۔ دیکھو مرزا قادیانی یوں لکھتے ہیں۔

١٥٧

صفحہ ٤٣٤

’’کیونکہ دنیا میں بجز انبیاء کے اور بھی ایسے لوگ بہت نظر آتے ہیں کہ ایسی ایسی خبریں پیش از وقوع بتا دیا کرتے ہیں کہ زلزلے آئیں گے وبا پڑے گی اور لڑائیاں ہوں گی۔ قحط پڑے گا۔ ایک قوم دوسری قوم پر چڑھائی کرے گی یہ ہو گا وہ ہو گا۔ اور بارہا ان کی کوئی نہ کوئی خبر سچی بھی نکل آتی ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ ص ٢٦٧ خزائن ج ١ ص ٥٥٨) ’’انبیاء سے جو عجائبات اس قسم کے ظاہر ہوتے ہیں جیسا کہ کسی نے رسی کا سانپ بنا کر دکھایا اور کسی نے مردہ کو زندہ کر کے دکھایا۔ یہ اس قسم کی دست بازیوں سے پاک ہیں جو شعبدہ باز لوگ کیا کرتے ہیں۔ جو کچھ ہو رہا ہے نجوم کی تاثیرات سے ہو رہا ہے اور ملائکہ ستاروں کے ارواح ہیں وہ ستاروں کے لیے جان کا حکم رکھتے ہیں۔ لہٰذا وہ کبھی سیاروں سے جدا نہیں ہوتے۔‘‘ الخ (توضیح المرام ص ٣٨ خزائن ج ٣ ص ٧٠) اب آپ فرمائیں کس کا کہا مانیں آپ کا یا مرزا قادیانی کا۔‘‘

دوم۔ ان آیات کو امکان نبوت بعد حضرت محمدﷺ سے کیا تعلق ہے؟ اگر فرشتے سب بندوں کے پاس آتے ہیں تو یہ آپ نے کہاں سے سمجھ لیا ہے کہ جس کے پاس فرشتے بشارت لائیں وہ نبی کہلائے گا۔ آپ تو نبوت ثابت کر رہے ہیں نہ کہ نزول ملائکہ اکثر سخت بیماری کے زور میں تمام بیماروں کو فرشتے نظر آتے ہیں تو کیا سب نبی و مسیح موعود ہیں۔ ہرگز نہیں۔

قولہ نمبر ٢٢

’’داتا گنج بخشؒ کی شہادت۔ حضرت مولانا علی الہجویریؒ معروف بہ داتا گنج بخش اپنی کتاب کشف المحجوب میں تحریر فرماتے ہیں کہ ’’خدا تعالیٰ کے بندوں میں ایسے بندے بھی ہیں جو خداوند تعالیٰ کے دوست ہیں جنھیں دوستی و ولایت سے مخصوص کیا ہے اور اس کے ملک کے والی ہیں۔‘‘

(النبوۃ ص ٢٧)

الجواب: داتا گنج بخش خود ولی تھے۔ کیا انھوں نے نبوت کا دعویٰ کیا؟ کیا کسی اور ولی نے دعویٰ نبوت کیا؟ ہرگز نہیں تو پھر آپ کی یہ کیا سند ہے؟ خدا کے ولی اور دوست ہمیشہ دنیا میں ہوتے رہے۔ مگر کسی نے محمد رسول اللہﷺ کے بعد دعویٰ نبوت بغیر کذابون کے کسی نے نہیں کیا۔ پس مدعیان نبوت کبھی خدا کے دوست اور ولی نہیں ہو سکتے۔ بلکہ خدا کے دشمن ہیں کہ اس کے افضل الرسل کا شرک بالوجود و شرک بالصفات کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی غیرت یہ نہیں چاہتی کہ اس کے حبیب محمدﷺ کا کوئی شریک و عدیل ہو۔ اسی واسطے سب جھوٹے مدعیان نبوت کو تباہ کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ یہ

١٥٨

صفحہ ٤٣٥

نرالی بات نہیں کہ مرزا قادیانی اپنی جماعت کو حق پر کہتے ہیں کہ ہم فنا نہ ہوں گے۔ یہ باتیں تمام کذابوں بھی مریدوں کے اعتقاد قائم رکھنے کے واسطے کہا کرتے تھے۔ جب وہ سب فنا ہو گئے تو مرزا قادیانی اور مرزائی کون ہیں اور ان کی جماعت کیا حقیقت رکھتی ہے؟ تاریخ بتا رہی ہے کہ یہ بھی ان کی طرح مدت کے بعد فنا ہوں گے۔ صالح بن طریف نے دوسری صدی کے شروع میں نبوت کا دعویٰ کیا اور ١٢٧ ہجری میں بادشاہ بھی ہو گیا اور نبوت کا دعویٰ کر کے وحی کے ذریعہ سے قرآن ثانی کے نزول کا بھی دعویٰ کیا حالانکہ بڑا دیندار تھا اور بڑا عالم بھی تھا۔ اس کی امت اسی قرآن کی سورتیں نماز میں پڑھتے تھے۔ ٤٧ برس تک اس نے بادشاہت کے ساتھ نبوت کی اور اپنی اولاد کے لیے بادشاہت چھوڑ گیا اور کئی سو برس تک اس کی اولاد میں بادشاہت رہی اور اس کے مذہب کی اشاعت نہایت زور سے ہوتی رہی۔ (دیکھو حقیقت المسیح صفحہ ٤٦ بحوالہ تاریخ ابن خلدون)

اب مرزائی بتائیں کہ ایسا بہادر اور زور آور مدعی نبوت کی نبوت چلی ہرگز نہیں خدا نے ملیامیٹ کر دی۔ مرزا قادیانی تو باتوں باتوں میں زبانی جمع خرچ کرنے والے تھے اور کمزور طبیعت کے ایسے کہ ایک ڈپٹی کمشنر سے ڈر کر تمام الہام بند ہو گئے۔ اس کا دعویٰ نبوت کس طرح چل سکتا ہے؟ اگر انگریزوں کا راج نہ ہوتا تو مدت کا فیصلہ ہو گیا ہوتا۔

قولہ نمبر ٢٣

مخالف سلسلہ احمدیہ کی شہادت۔ رسالہ انوار صوفیہ جو جماعت علی شاہ کی تائید اور تصوف کا ٹھیکیدار ہے۔ جس کی عداوت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ سے کسی ثبوت کی محتاج نہیں۔ جس کا ایڈیٹر ظفر علی نامی حضرت مسیح موعود کی شان میں بدزبانی کرتا ہوا اپنے اسلاف یہود اور ہمعصر امرتسری یہودی سے کسی حالت میں کم رہنا گوارا نہیں کرتا۔ ماہ ستمبر ١٩٠٧ء میں حسب ذیل مضمون زیر عنوان ولایت لکھتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی سچی تعلیم اور اضافہ برکات سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ جو شخص آپ کی کامل اتباع کرتا ہے اسے خداوند تعالیٰ ظلی نبوت کے انوار سے منور فرما کر دین محمدی کی حمایت کے لیے مامور کرتا ہے اور ایسے بزرگ ہر زمانہ میں موجود رہے ہیں اور رہیں گے جن کو آنحضرت ﷺ نے علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل فرمایا ہے۔ خداوند تعالیٰ کے دوستوں کو الہام اور مکالمہ کے ذریعہ اس دنیا میں خوشخبری ملتی ہے اور آئندہ زندگی میں ملے گی۔ ولایت خاصہ واصلین ارباب سلوک سے مخصوص ہے جن کو مخاطبہ و مکالمہ الہیہ کا شرف حاصل ہے۔ مبارک ہے وہ انسان جو ولایت خاصہ کا آرزو مند ہے۔ (الہدیٰ ص ٢٨۔ ٢٧)

١٥٩

صفحہ ٤٣٦

الجواب: یہاں تو کوئی لفظ ہی ایسا نہیں جس سے محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نبی کا آنا ثابت ہو۔ اس میں ولایت کا ذکر ہے۔ ولی ہزار ہا امت محمدیہ ﷺ میں گزرے مگر کسی نے نبی نہیں کہلایا۔ صرف ظلی نبوت کے انوار کے لفظوں نے آپ کو دھوکہ دینے کا حوصلہ دلایا کہ چلو اس سے ظلی نبوت کا امکان ثابت کریں مگر غور فرمائیں کہ انوار جمع نور کی ہے۔ نبوت کے ظل کا نور کیا ہوا۔ تعلیم نبوت یعنی شریعت محمدی ﷺ جو کہ ہر زمانہ میں علماء امت میں روشنی ڈال رہی ہے اور علماء ربانی بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح اس کی تبلیغ ہر زمانہ میں کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ یہ کہاں سے آپ نے سمجھ لیا کہ وہ نبی ہوں گے اور ہر زمانہ کا لفظ آپ نے جب مان لیا ہے تو پھر بتائیں ١٣ سو برس میں کس نے ظلی نبوت کا دعویٰ کیا حالانکہ ایسے بے تعداد مبلغ گزرے ہیں؟

دوم۔ اس سے کس کو انکار ہے کہ خدا تعالیٰ کے دوستوں کو الہام ہوتا ہے الہام تو ہوتا ہے مگر ولی کا الہام حجت شرعی نہیں۔ اگر الہام شریعت کے برخلاف ہے تو مردود ہے جیسا کہ مرزا قادیانی کا الہام انت منی بمنزلۃ ولدی تو مجھ سے بمنزلہ بیٹے کے ہے حالانکہ خدا تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ میری ذات اتخاذ ولد سے پاک ہے دیکھو آیت الذی له ملک السموات والارض ولم یتخذ ولدا و لم یکن له شریک فی الملک و خلق کل شیء فقدره تقدیرا. (فرقان٢) ترجمہ۔ اللہ وہ ہے جس کی ہے سلطنت آسمان اور زمین کی اور نہیں پکڑا اس نے بیٹا اور نہیں کوئی اس کا شریک بیچ ملک کے اور پیدا کی ہے ہر چیز اور ٹھیک کیا اس کو ناپ کر۔

دوسرا الہام

مرزا قادیانی انما امرک اذا اردت شیئاً ان تقول له کن فیکون. ترجمہ۔

”اب تیرا مرتبہ یہ ہے کہ جس چیز کا تو ارادہ کرے اور صرف اس قدر کہہ دے کہ ہو جا وہ ہو جائے گی۔“ (حقیقت الوحی ص ١٠٥ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨) اب کون کہہ سکتا ہے کہ یہ الہام اسی خدا کی طرف سے ہے جو اپنی صفت بیان فرماتا ہے کہ پاک ہے وہ ذات کہ جب ارادہ کرے کسی چیز کا پس کہہ دیتا ہے ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے اسی خدا نے اپنی خدائی مرزا قادیانی کو دے دی‘ حالانکہ مشاہدہ بتا رہا ہے کہ مرزا قادیانی کبھی اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہوئے۔ محمدی بیگم کے نکاح کا ارادہ کیا بلکہ خدا نے نکاح آسمان پر پڑھ بھی دیا مگر ظہور میں نہ آیا اگر خدانخواستہ یہ الہام سچا مانا جائے تو تمام دنیا پر سوا چند ہزار مرزائیوں کے کوئی مخالف مذہب نہ رہتا اور مرزا قادیانی کے مخالفین جن پر مرزا قادیانی

١٦٠

صفحہ ٤٣٧

تمام عمر دانت پیستے رہے اور بددعائیں رو رو کر کرتے رہے ایک کا بھی کچھ نہ بگڑا۔ مولوی ثناء اللہ امرتسری کی ذلت اور موت خدا سے مانگتے رہے بلکہ ان کی موت کا اپنی زندگی میں ہونا اپنی صداقت کا نشان بتاتے رہے مگر الٹ ہوا۔ عبداللہ آتھم عیسائی کی موت کی پیشگوئی معیار صداقت اسلام ٹھہرائی اور پیشگوئی جھوٹی نکلی عیسائیت کا ستون جب تک نہ گرا دوں نہ مروں گا یہ بھی جھوٹی نکلی اور مر گئے۔ غرض طوالت کا خوف ہے اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اب کوئی عقلمند یقین کر سکتا ہے کہ یہ الہام خدا کی طرف سے تھے؟ نعوذ باللہ۔ خدا تو اپنے وعدہ میں پختہ ہے کبھی خلاف وعدہ نہیں کرتا۔ مرزا قادیانی کو ہی دھوکہ ہوا ہے کہ الہام خدا کی طرف سے تھے حالانکہ ایسا نہ تھا۔ اس پر اجماع امت ہے کہ الہام اولیاء موجب علم ظنی ہے اور اگر دو ولیوں کا کسی ایک الہام میں اتفاق کلی ہو جائے تو اس کا درجہ ظن غالب کا ہوگا۔ لیکن اگر ولی کا کشف اور الہام کسی حدیث کے جو احاد میں سے ہو بلکہ کسی قیاس کے جو شرائط قیاس کا جامع ہو مخالف ہو گا۔ تب اس جگہ حدیث کو بلکہ قیاس کو الہام پر ترجیح دینی چاہیے۔ دیکھو ارشاد الطالبین قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی۔

پیران پیر شیخ عبدالقادر جیلانیؒ جو قطب الاقطاب مانے ہوئے ہیں۔ فتوح الغیب میں فرماتے ہیں کہ الہام اور کشف پر عمل کرنا جائز ہے بشرطیکہ قرآن و حدیث اور نیز اجماع اور قیاس صحیح کے مخالف نہ ہو۔

داتا گنج بخشؒ کشف المحجوب فارسی کے صفحہ ١٦٥ پر لکھتے ہیں ’’اہل الہام را بر خطا وصواب برہان نباشد زانچہ یکے گوید کہ بمن الہام ست کہ خداوند اندر مکان است و یکے گوید کہ مرا الہام چناں است کہ ویرا مکان نیست لا محالہ اندر دو دعاوے متضاد حق بہ نزدیک یکے باشد ہر دو بالہام دعوٰیٰ میکند و لا محالہ دلیلے بباید تا فرق کند میان صدق و کذب۔

حضرت اویس قرنیؒ وصیت فرماتے ہیں ’’یک قدم از موافقت جماعت امت کشیدہ نداری تا ناگاہ بیدین نشوی و ندانی و در دوزخ افتی۔‘‘

(صفحہ ١٥ تذکرۃ الاولیاء)

حضرت بایزید بسطامیؒ اپنی کشفی و معراجی حالت میں فرماتے ہیں کہ ’’پس چہار ہزار وادی قطع کردم۔ بنہایت درجہ اولیاء رسیدم چوں نگاہ کردم خود را در بدایت درجہ انبیاء دیدم۔ چوں نگاہ کردم سر خود بر کف پائے یک نبی دیدم پس معلوم شد کہ نہایت حال اولیا بدایت حال انبیا است نہایت آنہا را غایت نیست۔‘‘

(تذکرۃ الاولیاء)

احیاء العلوم میں امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ الہام پر عمل نہ کرو جب تک اس کی تصدیق آثار سے نہ ہو جائے۔

١٦١

صفحہ ٤٣٨

حضرت شیخ ابن عربیؒ فتوحات کے باب ٣٦٤ میں آیت یایھا الذین امنوا اطیعوا الله و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم فرماتے ہیں کہ اولی الامر منکم سے اقطاب و خلفا اور اولیاء اللہ مراد ہیں اور ان کی اطاعت اس وقت تک واجب ہے جب تک کہ خلاف شرع حکم نہ فرمائیں۔‘‘ اب اگر مذکورہ بالا معیار سے مرزا قادیانی کے کشوف والہام، منام۔ پیشگوئیاں دیکھیں تو بالکل خلاف شرع اور خلاف قرآن و حدیث و اجماع ہیں جن پر یقین کرنا اور عمل کرنا موجب خطر ہے اور اگر مرزا قادیانی کے کشف والہام سچ مانے جائیں تو مرزا قادیانی خود ہی احاطہ اسلام اور عقائد اسلام سے خارج ہیں۔

مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں ’’اس جگہ مجھے یاد آیا کہ جس روز وہ الہام مذکور بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے ہوا تھا۔ اسی روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انھوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ انا انزلناہ قریبا من القادیان تو میں نے بہت تعجب کیا کہ قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے۔ تب انھوں نے کہا کہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقعہ پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٧٦ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ١٤٠)

ناظرین! اب ظاہر ہے کہ یہ کشف بالکل غلط اور وسوسہ شیطانی ہے کہ قرآن میں تحریف لفظی کراتا ہے کہ ایک فقرہ جو قرآن میں ١٣ سو برس تک نہیں تھا اور اب بھی نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ قرآن کو محرف مانا جائے یا اس کشف کو غلط سمجھا جائے مگر چونکہ کوئی مسلمان قرآن کی تحریف لفظی ہرگز نہیں مان سکتا ہے اس لیے یقینی طور پر ثابت ہوا کہ کشف مرزا قادیانی بالکل غلط خلاف واقعہ اور خلاف شریعت محمدی ﷺ ہے اور مردود ہے۔

دوسرا کشف

مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ ”میں نے ایک دفعہ کشفی حالت میں دیکھا کہ خدا ہوں اور یقین کیا کہ خدا ہوں اور میں اس حالت میں کہہ رہا تھا ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی ترتیب و تفریق نہ تھی۔ پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب و

١٦٢

صفحہ ٤٣٩

تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا انا زینا السماء الدنيا بمصابيح پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں۔“

(کتاب البریہ ص ٧٩ خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)

ناظرین! یا تو مرزائی صاحبان مرزا قادیانی کا زمین و آسمان بنایا ہوا دکھائیں یا اس کشف کو وسوسہ شیطانی مانیں چونکہ مرزا قادیانی کی پیدائش کے پہلے زمین و آسمان خدا تعالیٰ نے بنائے ہوئے تھے۔ جہاں مرزا قادیانی بھی چند روز رہ کر گزر گئے۔ اس لیے ثابت ہوا کہ یہ کشف خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ تھا کیونکہ خدا جانتا تھا کہ ناچیز انسان خالق زمین و آسمان نہیں ہو سکتا ورنہ میرا شریک ٹھہرے گا۔

دوم۔ یہ کشف صریح نصِ قرآنی کے برخلاف ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے لم يكن له شريك فى الملك و خلق كل شىءٍ (فرقان ٢) یعنی اللہ کا کوئی شریک نہیں ملک میں اور اس نے پیدا کیں تمام چیزیں۔ دیکھو الذى جعل لكم الارض فراشا والسماء بناء وانزل من السماء مآءً الخ (بقرہ ٢٢) یعنی جس خدا نے زمین کا فرش بنایا اور آسمان کی چھت اور آسمان سے پانی برسایا۔ اب ظاہر ہے کہ خالق زمین و آسمان خدا تعالیٰ ہے۔ پس مرزا قادیانی کا کشف بالکل وسوسہ ہے اور قابل اعتبار نہیں۔ اس کا جواب مرزائی صاحبان دیتے ہیں کہ اس سے پہلے بھی فقیروں اور اولیاء اللہ نے ایسے ایسے کلمے جوشِ توحید میں کہے ہیں۔ جس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو ان فقیروں اور اولیاء اللہ کا دعویٰ نبوت و امام زمان و مامور من اللہ کا نہیں تھا اور نہ صاحبِ ہوش تھے۔ مستی کی حالت میں انھوں نے فرمایا۔ مگر جب ہوش میں آئے اور مریدوں نے اطلاع دی تو فوراً توبہ کی بلکہ بعض نے تو حکم دیا کہ جس وقت ہمارے منہ سے یہ کلمہ نکلے ہم کو قتل کر دو۔

دوم۔ ان کی بات شریعتِ محمدی میں سند نہیں اور نہ ان کا ایسا کہنا باعثِ گمراہی عوام ہے کیونکہ وہ لوگ مجدد و امام زمان ہونے کے مدعی نہ تھے۔

سوم۔ وہ مقام انانیت یعنی خودی میں نہ تھے۔ جب ان کے اوپر بسببِ محبت تامہ تجلیاتِ الٰہی وارد ہو کر ان کی ہستی کو محو کر دیتے تھے۔ اس وقت ان کا اپنا وجود درمیان وجودِ ذاتِ باری تعالیٰ حائل نہ ہوتا تھا مگر مرزا قادیانی نے صرف ان لوگوں کی نقل کر کے کفر کے کلمات کہے ورنہ ان کو اگر وہ مقام حاصل ہوتا تو مجذوب ہو کر فرماتے اور اپنی خودی اور ہستی سے محو ہو جاتے مگر کشف کے الفاظ پر غور کرو۔

١٦٣

صفحہ ٤٤٠

کشفی میں مرزا قادیانی کو تمیز تھی۔

(٢) ”میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں۔ اگر مرزا قادیانی محویت کی حالت میں ہوتے تو پھر میں کون تھا جب تک انسان میں میں ہے تب تک وہ اس نعمت سے محروم ہے۔ ہاں نقل کے طور پر اولیاء اور خدا بن بھی بیٹھے تو ہو سکتا ہے۔ اس کا کوئی علاج نہیں۔ منصور حلاج نے بھی انا الحق کہا اور فرعون نے بھی انا ربکم الاعلیٰ کہا۔ فرق کرنے والی صرف شریعت تھی۔ منصور نے شریعت کی تعظیم کی اور اس کے آگے سر تسلیم خم کیا۔ مسلمان مرا۔ فرعون نے تکبر کیا اور شریعت کے آگے نہ جھکا کافر مرا۔

(٣) پس اگر مرزا قادیانی نے بھی حضرت منصور حلاج وشمس تبریز و سرمد وغیرہ کی طرح شریعت محمدﷺ کی تعظیم کر کے سر تسلیم خم کیا ہے۔ تو کوئی مرزا کی تصنیف دکھاؤ جس سے ثابت ہو کہ وہ توبہ کر کے فوت ہوئے اور مسلمان فوت ہوئے توبہ نامہ جب تک نہ دکھاؤ ہزار تاویل کرو سب ردی ہے۔

(٤) ان کا یہ دعویٰ نہ تھا کہ جو ہم کو اور ہمارے کشوف و الہام کو نہ مانے وہ مسلمان نہیں ان کے جنازہ میں شریک نہ ہو اور ان سے ناطہ نہ کرو۔ ان کے ساتھ نمازیں نہ پڑھو۔“

تیسرا الہام: ”انت منی وانا منک یعنی تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں۔“

(دافع البلاء ص ٨ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)

چوتھا الہام: انت من مائنا وھم من فشل تو ہمارے پانی سے ہے اور دوسرے لوگ فشل یعنی خشکی سے۔“ (اربعین نمبر ٣ ص ٣٤ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣) یہاں تو مرزا قادیانی خدا کے حقیقی بیٹے بن گئے۔

پانچواں الہام: بعیسیٰ انی متوفیک و رافعک الی و مطھرک من الذین کفروا و جاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیمۃ. ترجمہ۔ اے عیسیٰؑ میں تجھے وفات دوں گا اور تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا اور میں تیرے تابعین کو تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔ (دیکھو حقیقت الوحی ص ٨٤ خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)

چھٹا الہام: انت اشد مناسبہ بعیسیٰ ابن مریم و اشبہ الناس بخلقا و خلقاً و زماناً.

(ازالہ اوہام ص ١٤٤ خزائن ج ٣ ص ١٦٥)

ساتواں الہام: انت منی بمنزلۃ توحیدی. تو مجھ سے ایسا ہے جیسی میری توحید وتفرید۔

(حقیقت الوحی ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

آٹھواں الہام: اذا غضبت غضبت. ترجمہ۔ مرزا قادیانی جس پر تو غضبناک ہو میں

١٦٤

صفحہ ٤٤١

غضبناک ہوتا ہوں۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٧ خزائن ج ٢٢ ص ٩٠)

نانواں الہام: ”آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٩ خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)

دسواں الہام: ”لا تخف انک انت الاعلیٰ. کچھ خوف مت کر۔ تو ہی غالب ہوگا۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٩ خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)

گیارھواں الہام: یلقی الروح من امرہ علیٰ من یشاء. ترجمہ مرزا قادیانی جس پر اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے اپنی روح ڈالتا ہے۔ یعنی منصب نبوت اس کو بخشتا ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٩٥ خزائن ج ٣ ص ٩٩)

بارھواں الہام: ”فرشتوں کی کھنچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے پر تو نے وقت کو نہ پہچانا نہ دیکھا نہ جانا برہمن اوتار سے مقابلہ اچھا نہیں۔“ (حقیقت الوحی ص ٩٧ خزائن ج ٢٢ ص ١٠١) حاشیہ پر مرزا قادیانی اس الہام کی تشریح کرتے ہیں۔ ”یہ پیشگوئی ایسے شخص کے بارہ میں ہے جو مرید بن کر پھر مرتد ہو کر اور شوخیاں دکھائیں۔ اس سے ڈاکٹر عبدالحکیم مراد ہے۔“ (ایضاً) مگر یہ الہام مرزا قادیانی پر الٹا اپنے پر پڑا اور خود ڈاکٹر عبدالحکیم کی پیشگوئی جس کو شوخیاں کہتے ہیں خود ہلاک ہوئے۔

تیرھواں الہام: ”سرک سری تیرا بھید میرا بھید ہے۔“ (حقیقت الوحی ص ٧٩ خزائن ج ٢٢ ص ٨٢) یہ خوب راز دار خدا ہے کہ مرزا قادیانی کے کہنے سے عبداللہ آتھم کی موت کا حکم دیا مگر عبداللہ نے دعا کی تو اس کو معاف کر دیا اور مرزا قادیانی کو نہ بتایا کہ تا ٦ ستمبر کی ذلت نہ ہوتی۔

اب مرزا قادیانی کی رسول اللہ ﷺ سے شرکت بھی سنو

جو مرزا قادیانی کو ہوئے۔“ (اربعین نمبر ٣ ص ٥ خزائن ج ١٧ ص ٣٥٠) محمد ﷺ بھی سراج منیر اور مرزا قادیانی بھی سراج منیر مگر مرزا قادیانی شریعت اور کتاب کوئی نہیں لائے تو پھر سراج منیر کس بات کے ہوئے۔

وحی اللہ پانے میں تیس برس کی مدت دی گئی ہے اور ٢٥ برس تک برابر یہ سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٠٦ ملخص خزائن ج ٢٢ ص ٢١٤)

ناظرین! یہ غلط ہے کہ مرزا قادیانی کے سوا کذابوں کو ٢٣ برس تک موقعہ نہیں دیا

١٦٥

صفحہ ٤٤٢

گیا اور وہ ہلاک ہوئے۔ دیکھو ذیل کے کذابون جن کو ٢٣ برس سے زیادہ مہلت دی گئی۔

(١) صالح بن طریف نے دوسری صدی ہجری کے شروع میں دعوٰی نبوت کیا۔ یہ شخص بڑا عالم و دیندار تھا اور کہتا تھا کہ مجھ کو وحی ہوتی ہے اور یہ دعوٰی کر کے اس نے قرآن ثانی مرزا قادیانی کی طرح بے مثل بنایا تھا اور اُس کی امت اسی قرآن کی سورتیں نماز میں پڑھتی تھی۔ ٤٧ برس تک اس نے بادشاہت کے ساتھ نبوت کی اور اپنی اولاد میں بادشاہت چھوڑ گیا جو کئی سو برس تک اس کی اولاد میں رہی۔ دیکھو تاریخ کامل ابن اثیر و ابن خلکان اس کو تو خدا نے نبوت کے ذریعہ خلافت بھی دی۔ مرزا قادیانی کو کچھ بھی نہ ملا۔

(٢) عبداللہ علوی نے افریقہ میں مہدی کا دعوٰی کیا اور وہاں کا بادشاہ ہو گیا اور ٢٣ برس سے زیادہ اس نے نبوت اور بادشاہت کی۔

(٣) ابن تومرت اور ان کے خلیفہ نے بھی دعوٰی مہدیت کیا اور ٢٣ برس تک اس دعوٰی کے ساتھ بادشاہت کی۔

اب مرزائی صاحبان بتائیں کہ ان اشخاص کو اسقدر کامیابی ہوئی کہ مرزا قادیانی کو ان کے پاسنگ خدا نے نہ دی تو کیا وہ سچے تھے جن کو ٢٣ برس سے زیادہ عرصہ تک خدا نے کامیابی کے ساتھ زندہ رکھا حالانکہ ان کو جنگ و جدال بھی پیش آئے جہاں قتل ہونا کچھ مشکل بھی نہ تھا مگر خدا نے ان کی حفاظت کی اور مرزا قادیانی ڈر کر گھر سے نہ نکلے۔ اس واسطے کہ قتل نہ کیا جاؤں۔ صداقت کا نشان نہیں ہے کیونکہ یہ تو با امن سلطنت کے زیر سایہ تھے بلکہ مرزا قادیانی کا ڈرنا اور خوف سے باہر نہ نکلنا۔ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے آپ کو صادق نہ جانتے تھے۔

تیسرا الہام: ”مرزا قادیانی وما ارسلنک الا رحمۃ اللعالمین نہیں بھیجا تم کو مگر عالموں کی رحمت کے واسطے۔“ (اربعین نمبر ٣ ص ٢٣ خزائن ج ١٧ ص ٤١٠) یعنی اب مرزا قادیانی رحمت اللعالمین ہیں یہ صفت محمد ﷺ کی بھی خدا نے مرزا قادیانی کو دے دی۔

چوتھا الہام: قل یا ایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً۔ ترجمہ اے لوگو تحقیق میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری تمام کی طرف۔ (تذکرہ ص ٣٥٢) میں نبی ہوں میرا انکار کرنے والا مستوجب سزا ہے۔ (توضیح مرام ص ١٨ خزائن ج ٣ ص ٦٠)

پانچواں الہام: انا اعطینک الکوثر (حقیقت الوحی ص ١٠٢ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)

چھٹا الہام: سبحان الذی اسرٰی بعبدہ لیلا ترجمہ۔ پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرائی اپنے بندے کو یعنی تجھ کو ایک رات میں...............

(دیکھو حقیقت الوحی ص ٨٧ خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)

١٦٦

صفحہ ٤٤٣

ساتواں الہام: یس انک لمن المرسلین علی صراط مستقیم ۝ تنزیل العزیز الرحیم۔ ترجمہ۔ اے سردار تو خدا کا مرسل ہے راہ راست پر اس خدا کی طرف سے جو غالب اور رحم کرنے والا ہے۔

(حقیقت الوحی ص ١٠٧ خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)

آٹھواں الہام: اردت ان استخلف فخلقت ادم۔ ترجمہ۔ میں نے ارادہ کیا کہ اس زمانہ میں اپنا خلیفہ مقرر کروں جو میں نے اس آدمؑ یعنی مرزا قادیانی کو پیدا کیا۔

(حقیقت الوحی ص ١٠٧ خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)

ناظرین! مرزا قادیانی خلافت کے مدعی بھی تھے۔ مگر انگریزی حکومت کے ڈر نے اس خلافت سے محروم رکھا۔ اب مرزائی صاحبان بتائیں کہ خلافت نعمت خدا تھی تو مرزا قادیانی کو خدا نے کیوں محروم رکھا؟ خدا نے یزید کو خلافت دے دی اور مرزا قادیانی کو نہ دی، جب تمام نقل محمد ﷺ کی اتاری اور تمام آیات قرآنی جو ان کی شان میں تھیں وہ اپنے میں بتا کر نبی تو بن گئے مگر خلافت کے بارہ میں خدا کا وعدہ کیوں ظہور میں نہیں آیا؟ یا تو یہ الہام کہ میں نے ارادہ کیا ہے تم کو خلیفہ بناؤں اس زمانہ میں غلط ہے۔ یا خدا تعالیٰ میں خلیفہ بنانے کی طاقت نہیں؟ عقلمند کے واسطے سچے جھوٹے میں فرق کرنے کے واسطے یہی معیار کافی ہے کہ زبانی و تحریری تو مرزا قادیانی پورے پورے محمد ﷺ بن گئے۔ (معاذ اللہ) اگر آپ ﷺ کا حضرت بی بی عائشہ سے نکاح آسمان پر ہوا تو مرزا قادیانی کا نکاح بھی محمد بیگم سے آسمان پر پڑھا تو گیا معراج بھی ہو گیا خلیفہ بھی بن گئے۔ مرسلین میں سے بھی بن گئے۔ سراج المنیر بھی بن گئے۔ داعی الی اللہ بھی ہوئے وغیرہ وغیرہ قرآن کے مقابلہ میں براہین احمدیہ بھی بنا لی۔ بے مثل کلام بھی قرآن جیسی بنالی۔ اگرچہ علماء نے غلطیاں نکالیں اپنی بیویوں کو امہات المومنین کا لقب بھی دیا۔ یاروں کو اصحاب کبار کا درجہ دیا قادیان کو مکہ بنایا وغیرہ وغیرہ۔ مگر سب کارروائی خیالی و تحریری بڑی حد ہوئی تو روحانی کہہ کر اپنا پیچھا چھڑایا مگر سچے نبی کا اگر نکاح آسمان پر ہوا تو زمین پر بھی ضرور ہوا۔ سچے نبی کو خلافت کا وعدہ دیا گیا تو خدا نے اس کو خلافت بھی دی۔ مگر مرزا قادیانی کو سوا تاویلات باطلہ کے کچھ بھی خدا نے نہ دیا بلکہ ہندوستان کی خلافت تو عیسیٰ پرستوں کو ملی قادیانی خدا بھی خوب سمجھدار ہے کہ مرزا قادیانی اور عیسائیوں میں فرق نہ جانا وعدہ خلافت کا مرزا قادیانی سے کیا مگر خلافت بادشاہت عیسیٰ پرستوں کو دے دی جو کہ بقول مرزا قادیانی دجال ہیں اور جنھوں نے مسیح موعود کے ہاتھ سے قتل ہونا تھا۔ سچ ہے مصرع ؎

چند ان کہ کہگل میکنی دیوار بے بنیاد را

١٦٧

صفحہ ٤٤٤

خدا نے صادق محمد رسول اللہ ﷺ میں اور اس کے نقال میں کیسا بین فرق اپنی قدرت سے ظاہر کر دیا کہ کاذب کو چون و چرا کی گنجائش نہ رہے۔ شیر قالین اور ہے اور شیر جنگل اور ہے۔ مگر تعجب ہے کہ اس نامعقول منطق کے کیا معنی ہیں کہ مرزائی صاحبان کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی بسبب پیروی محمد ﷺ نبی ہوئے مگر مرزا قادیانی کے الہام و کشوف تو اس کو خدا اور رسول ہونا مستقل طور پر براہ راست ثابت کر رہے ہیں۔ جب خدا اور مرزا قادیانی کا بھید ایک ہے بلکہ خود خدا ہی مرزا قادیانی کا بھید ہے تو پھر محمد ﷺ کو کون پوچھتا ہے؟ (معاذ اللہ) یہ صرف مسلمانوں کے ڈر سے ابلہ فریبی کی جاتی ہے کہ ساتھ ساتھ محمد ﷺ محمد ﷺ بھی کہتے جاؤ تا کہ مسلمان جو محمد ﷺ کے دین کے حامی مرزا قادیانی کو سمجھ کر پھنسے ہیں نکل نہ جائیں۔

قولہ نمبر ٢٤

کمالات نبوت۔ نبوت و سلطنت چونکہ انعام الٰہی ہیں اور پہلی امتوں میں یہ نعمت چلی آئی ہے تو خیر الامم میں وہ نعمت ضرور ہونی چاہیے۔ محرومی کی وجوہات ذیل ہیں۔

نبوت عطا نہیں کریں گے۔

الجواب: یہ من گھڑت وجوہات چونکہ بغیر کسی سند شرعی کے ہیں اور ان کے مقابل نصوص شرعی قرآن و حدیث ہے جیسا کہ گزرا۔ پس اس خود ایجاد کردہ توہم کا یہی جواب ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے ایمان کا فکر کریں اور ہر ایک کا جواب بھی سن لیں۔

آقا کی صلاحیت رکھنا۔ اگر آقا کی صلاحیت رکھتا تو غلام کیوں ہوا ایسا ہی اگر نبوت کی صلاحیت رکھتا تو امتی کیوں ہوا؟ اجتماع ضدین تمام عقلائے نزدیک باطل ہے۔

و ولایت انعام الٰہی مسلمانوں میں چلی آتی ہیں۔ قیامت تک اہل اللہ و ولی اللہ غوث و قطب چلے جائیں گے مگر نبی نہ کہلائیں گے۔ جو نبی کہلائے گا کاذب اور احاطہ اسلام سے خارج ہے۔

١٦٨

صفحہ ٤٤٥

(٣) بیشک اہل اسلام میں مدارج ہیں جو صالحین اور متقیوں کے واسطے ہیں۔ سنو شریعت میں محدثین مجتہدین زاہدین متصوفین اہل طریقت میں قطب الاقطاب ملہم قطب غوث ولی اولیاء ابدال سالک قلندر مجذوب وغیرہ وغیرہ مگر نبوت خاصہ انبیاء ہے جو کہ محمد ﷺ کے بعد بند ہے۔

(٤) اس کا جواب صرف یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے خزانہ میں کوئی کمی نہیں۔ ہر قسم کی نعمت ہے مگر وہ حسب موقعہ و ارادہ خود دیتا ہے یہ نہیں کہ وہ نعمت سنبھال نہیں سکتا اور ہر ایک کو دیتا ہے چونکہ اس کے وعدہ میں تخالف نہیں اس لیے وہ رحمت اللعالمین کو جب خاتم النبیین فرما چکا تو اب اگر کسی کو نبی کرے تو وعدہ خلاف ہوتا ہے۔

قولہ نمبر ٢٥

پہلی صورت پر بحث۔ اگر پہلی صورت سمجھی جائے تو قرآن کی آیت کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنہون عن المنکر و تؤمنون باللہ. یعنی اے مسلمانوں تم بہتر ہو تمام امتوں سے جو لوگوں کے لیے بعد آئے ہو نیک کاموں کا حکم کرتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو اور ایک اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ دوسری آیت کذالک جعلنکم امۃ وسطا لتکونوا شہداء علی الناس و یکون الرسول علیکم شھیداً یعنی اسی طرح ہم نے تم کو امت معتدل بنایا کہ تم تمام لوگوں پر شہادت دینے والے ہو اور رسول تم پر شہید ہو۔ تیسری آیت ولاتم نعمتی علیکم و لعلکم تھتدون یعنی میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں جس سے تم خدا کی راہ پر پہنچو۔ چوتھی آیت اتممت علیکم نعمتی میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کر دی۔

(النبوۃ ص ٣٢-٣١)

ناظرین! ان چار آیتوں سے میر قاسم مرزائی امکان نبوت ثابت کرتے ہیں جن سے الٹا ختم نبوت ثابت ہوتا ہے اور بار بار خیرالامت ہانکے جاتے ہیں اور طول طویل بیان خارج از بحث بالکل خارج از مبحث کر کے صرف وہ اپنا حربہ جو جہلاء کو دھوکہ دیتا ہے چلاتے جاتے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے خیر امت کے معنی آپ نہیں سمجھتے۔ اگر خیر امت کے معنی صحیح مفہوم میں سمجھتے تو کبھی اتنا لمبا چوڑا اپنا ذہنی ذخیرہ بے محل نہ خرچ کرتے۔

حضرت خیر امت کی یہی تو تعریف ہے کہ سابق نبیوں کی امتیں ایمان پر قائم نہ رہتی تھیں اور جب تک بار بار نبی نہ بھیجے جاتے تھے وہ ایمان پر قائم نہ رہ کر مشرک ہو جاتی تھیں بلکہ حضرت موسیٰ ؑ کے ہوتے ہوئے اور حضرت ہارون ؑ کی موجودگی میں ہی مشرک ہو کر گئو سالہ پرستی شروع کر دی تھی۔ مگر امت محمدی ﷺ کی یہ خوبی ہے کہ

١٦٩

صفحہ ٤٤٦

باوجودیکہ ١٣ سو برس گزر چکے وہ دین پر قائم ہے اور قیامت تک رہے گی۔ کوئی ایسا فرقہ نہ پاؤ گے جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت سے منکر ہو۔ پس خدا تعالیٰ کے علم میں جو کل عالم کی جزئیات تک احاطہ رکھنے والا ہے آچکا تھا کہ یہ خیر امت ہے۔ ان کو محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہ ہو گی۔ وہ اپنے دین کے پورے پورے فدائی رہیں گے۔ یہ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ پولیس کا انتظام اسی جگہ ضروری ہوتا ہے جس جگہ بدمعاش اور چور ہوں اور جس جگہ باامن نیک چال چلن رعایا ہو وہاں چوکی پہرہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پس خیرامت کے واسطے سوا قرآن اور حدیث کے کسی جدید نبی کی ضرورت نہیں۔ جب ضرورت ہی نہیں تو پھر جدید نبی کیسا؟ یا نعوذ باللہ خدا غلط کہہ رہا ہے کہ تم خیرامت ہو کیونکہ پہلی امتوں کو اس واسطے خیرامت نہ کہا کہ ان میں جدید نبیوں کی ضرورت پڑتی رہتی تھی مگر امت محمدی کو یہ فضیلت ہے کہ وہ صرف ایک ہی نبی رحمت اللعالمین کی شریعت اور قرآن کو تاقیامت اپنے لیے کافی سمجھتے ہیں اور کسی کاذب نبی کے دعوٰی کو نہیں مانتے۔

قولہ نمبر ٢٦

دوسری صورت پر بحث۔ ”اولئک الذین انعم اللہ علیہم من النبیین من ذریۃ ادم یعنی موسیٰ اور ابراہیم و اسحاق و یعقوب و اسمعیل و ادریس علیہم السلام وہ لوگ ہیں جن پر انعام کیا اللہ نے نبیوں میں اور آدمؑ کی اولاد میں۔“

(الندوة ص ٣٥)

الجواب: اس آیت سے بھی امکان نبوت کو کچھ تعلق نہیں۔ نبوت بیشک نعمت ہے جو کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوئی۔ بیہودہ الفاظ اور رمز و کنایہ کے دل آزار الفاظ کا جواب نہیں دیا جائے گا وہ اللہ پر چھوڑا جائے گا کہ خدا تعالیٰ شاید آپ کو ہدایت بخشے۔

قولہ نمبر ٢٧

تیسری صورت یہ ہے کہ ”آیا خداوند تبارک و تعالیٰ نے کہیں فرمایا ہے کہ تاقیامت ہم کسی مخلص مومن محبوب الٰہی مطیع قرآن متبع نبی ذیشان کو انعام نبوت عطا نہیں کریں گے۔“

(الندوة ص ٣٦)

الجواب: حضرت قرآن میں تو ہے مگر آپ کو اگر معلوم نہیں تو ہم بتاتے ہیں۔

(مائدہ ٣)

(مائدہ ٣)

١٧٠

صفحہ ٤٤٧

(٤) انا له لحافظون. (الحجر ٩)

مگر ضد سے آپ نہ مانیں تو اس کا کچھ علاج نہیں۔ باقی آپ کا قیاس کہ قرآن کا متبع اور مخلص مومن کیوں نبی نہ ہو؟ آپ کی خوش فہمی ہے جو شخص مخلص مومن اور قرآن کا متبع ہو گا وہ تو مدعی نبوت نہ ہو گا کیونکہ دعویٰ نبوت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد فوراً اتباع رسول اللہ ﷺ اور تعلیم قرآنی سے محروم کر دیتا ہے جیسا کہ مسیلمہ کذاب و اسود عنسی وغیرہ کذابون ہوئے تھے جن کا ذکر اسی کتاب میں پہلے گزر چکا ہے۔ ہم پھر کہتے ہیں کہ جب آپ رسالت و نبوت نعمت الٰہی سمجھتے ہیں اور مرزا قادیانی کو اس کا اہل جانتے ہیں تو پھر تشریعی نبوت سے ان کو کیوں محروم کرتے ہو۔ کیا وہ اس کے لائق نہیں یا خدا کے خزانہ میں اور شریعت نہیں اور خدا کے خزانہ میں سلطنت نہیں؟ جب ہے اور ضرور ہے اور مشاہدہ ہے کہ وہ کافروں کو دے رہا ہے تو پھر خدا نے مرزا قادیانی کو سلطنت کی نعمت تشریعی نبوت کی نعمت، خلافت کی نعمت بلکہ ایک چھوٹی سی چھوٹی ریاست سے بھی کیوں محروم رکھا؟ پس ثابت ہوا کہ یا مرزا قادیانی اہل نہیں تھے یا خدا کے خزانہ میں کمی تھی یا قرآن کی خاتم النبیین کا اعتقاد درست ہے؟ اور آپ غلطی پر ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد مرزا قادیانی کو نبی بنا رہے ہیں۔

ناظرین! آپ کو ثبوت امکان نبوت جو میر قاسم علی مرزائی نے دیا ہے۔ معلوم ہو گیا ہے کہ ایک آیت یا حدیث بھی پیش نہ کر سکے جس میں لکھا ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا ہے یا کسی حدیث میں ہو کہ میرے بعد کوئی نبی سوا عیسیٰؑ کے آئے گا اب ان کے اعتراضات اور ان کی تردید شروع ہوتی ہے جو وہ خاتم النبیین کے ماننے والے ٤٠ کروڑ مسلمانوں پر کرتے ہیں اور اپنے عقلی ڈھکوسلے لگاتے ہیں ان کا مقصود صرف جہلاء کو دھوکہ دینا ہوتا ہے۔ اس لیے بے محل آیتیں لکھتے جاتے ہیں۔

قولہ نمبر ٢٨

(١) آنحضرت ﷺ کا وجود ۔ باوجود مانع نبوت ہے۔ (٢) تکمیل دین و اتمام نعمت بھی قاطع نبوت ہے۔ (٣) احادیث سے انقطاع نبوت فی خیر امت ہے۔

ناظرین! ان دشمنان دین خاتم النبیین کا عقیدہ اور اس کے دلائل جس کے ذریعہ یہ دوست بن کر اسلام کی اس خصوصیت اور افضلیت اور مزیت کو مٹانا چاہتے ہیں جو خاتم النبیین کے اندر موجود ہے اور مشرکین عرب سے بڑھ کر آنحضرت ﷺ کو روحانی طور پر بھی ابتر اور لاولد قرار دیتے ہیں۔

(النبوۃ ص ٣٩۔ ٣٧)

١٧١

صفحہ ٤٤٨

الجواب: میر قاسم مرزائی آپ کی بدزبانی کا جواب کچھ نہیں دیا جائے گا مگر اتنا ضرور پوچھیں گے کہ مرزا قادیانی نے جو لکھا ہے کہ ۔

ہر نبوت را برو شد اختتام

(درثمین ص ١١٤)

آپ کے نزدیک وہ بھی انھیں دشمنان دین میں سے ہیں اور مشرکین عرب میں سے یا مرشد کے ادب کے واسطے کوئی حیلہ نکالو گے؟ افسوس سچ ہے۔ نادان دوست سے دانا دشمن بہتر ہے۔

نہیں آئے گا اور میرے علماء امت بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند ہوں گے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ نبوت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد بند ہے۔ میر قاسم مرزائی کے منہ میں خاک تو کیا محمد رسول اللہ ﷺ بھی مشرکین عرب و دشمنان اسلام ہوئے؟ ذرہ حیا کرنا چاہیے۔

کی آنکھ پر عیب بینی کا شیشہ لگ جائے تو اس کو عمدہ صفت بھی عیب نظر آتی ہے۔ شیخ سعدی نے خوب فرمایا ہے ۔

کسے بدیدہ انکار گر نگاہ کند
نشان صورت یوسف دہد بنا خوبی

چونکہ بدقسمتی سے میر قاسم مرزائی کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ نبوت کا خاتمہ پاک وجود محمد ﷺ پر نہیں ہوا اور اب اس کے بعد کوئی جدید نبی کلی و جزوی کا نہ ہونا غلط ہے۔ اس واسطے اب آپ ایڑی چوٹی کا زور اس بات پر لگا رہے ہیں کہ خاتم النبیین ہونا عیب ہے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی کسر شان اور امت مرحومہ کی ہتک ہے مگر آپ کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ اگر محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد امکان نبوت مان لیں تو پھر جس قدر ٣٠ یا ٤٠ کاذب مدعیان نبوت گزرے ہیں سب سچے ماننے پڑیں گے کیونکہ وہ مرزا قادیانی سے بدرجہا افضل اور صاحب علم و اکثر اہل زبان و صاحب سیف والقلم و شجاعت و دلیری میں یکتا بلکہ یک گونہ جنگ اعداء میں رسول مقبول کے تابع اور مرزا قادیانی کی طرح مدعی امت محمدی اور مرزا قادیانی سے لکھوکھ ہائے مرید بھی زیادہ اور جنگوں میں بھی کامیاب تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ان کو جھوٹا کہیں اور مرزا قادیانی کو سچا۔ جو جو دلائل آپ دے رہے ہیں وہی ان کے حق میں ہوں گے۔ دوم اگر کسی نبی کا آنا مانا

١٧٢

صفحہ ٤٤٩

جائے تو خاتم النبیین ﷺ کی مہر ٹوٹتی اور قرآن کا وعدہ غلط ہوتا ہے۔ جس کو مرزا قادیانی مان چکے ہیں۔ اصل عبارت مرزا قادیانی کی نقل کرتا ہوں ”خدا وعدہ کر چکا ہے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی رسول نہیں بھیجا جائے گا۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٨٦ خزائن ج ٣ ص ٤١٦)

اب بتاؤ خدا کا خزانہ رسولوں کا ختم ہو گیا ہے یا نہیں؟ اور جو بد الفاظ آپ نے خاتم النبیین ماننے والوں پر وارد کیے ہیں۔ مرزا قادیانی بھی ان کے شریک ہوئے ہیں یا نہیں؟

قولہ نمبر ٢٩

”امت مرحومہ کی فضیلت بنی اسرائیل پر۔“

(الندوة ص ٤٠)

الجواب: اس کا جواب ہو چکا ہے۔ بار بار ایک ہی بات کو پیش کرنا اور تبدیل الفاظ کر کے کتاب کو لمبا کرنا معقول نہیں ہے دین کے کام میں عقلی ڈھکوسلے نہیں چلتے بھلا یہ کیا دلیل ہے کہ بنی اسرائیل میں تو سچے نبی ہوتے تھے اور امت محمدیہ ﷺ میں جھوٹے ہوتے ہیں۔ جس کا جواب یہ ہے الجنس مع الجنس وہ کذابون بھی سچے اور آپ بھی سچے سچ ہر قسم کا چلا آتا ہے اور مخبر صادق کا فرمانا بھی خطا نہیں جاتا ہے کہ سیکون فی امتی کذابون ثلاثون یعنی میری امت میں ٣٠ جھوٹے ہوں گے۔ پس مرزا قادیانی نے اس پیشگوئی کو سچا کر دیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ آپ کا عقلی ڈھکوسلہ بھی کوئی نص ہے؟ اگر نص ہے تو پہلے ٢٩ مدعیان بھی سچے ہیں۔ جب امکان آپ کے نزدیک ثابت ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ وہ کذاب ہوں اور مرزا قادیانی صادق ہوں۔ مرزا قادیانی کی تعلیم تو آپ کی اس عبارت سے معلوم ہو گئی کہ ذات پاک محمد رسول اللہ ﷺ کو محمد شاہ رنگیلے سے تشبیہ دی تو آپ کا کیا اعتبار ہے کہ کل کو مرزا قادیانی کو ہری سنگھ نلوا سے تشبیہ نہ دو گے۔ جب دادا کی یہ عزت کرتے ہو تو باپ کی خاک کرو گے؟ جب انسان کا ایمان اٹھ جائے تو پھر اس کو کوئی حیا نہیں رہتا۔ کجا دونوں جہان کے بادشاہ اور کجا محمد شاہ رنگیلے۔ وہ خاتم سلطنت بسبب نالائقی اور عیاشی کے ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ خاتم نبوت بسبب افضل الانبیاء ہونے کے۔ مگر بے ادب کو دونوں یکساں نظر آتے ہیں۔

قولہ نمبر ٣٠

”قرآن ایک پھلدار درخت ہے۔“

(الندوة ص ٢٢)

الجواب: بیشک درخت پھلدار ہے اور ٢٣ کروڑ مسلمان اس کے پھل سے فیضیاب ہیں۔ مگر اب ایک چھوٹی جماعت اپنا الگ درخت بنانا چاہتی ہے جو زقوم یعنی تھوہر کا درخت

١٧٣

صفحہ ٤٥٠

ہے۔ جو حسب عادت اللہ زمانہ کی خزاں اس کو پہلے کذابون کے درختوں کی طرح خاک سیاہ کر دے گی۔ کہاں ہیں پہلے کذابون؟

قولہ نمبر ٣١

”آنحضرت ﷺ سراجاً منیراً ہیں۔“

(النبوۃ ص ٤٣)

الجواب: یہ ڈھکوسلہ بحث سے خارج ہے۔ سراج منیر میں تو پھر آپ کو کیا اور آپ کے دعویٰ کو امکان نبوت سے کیا تعلق؟ آپ لوگ تو اس سراج منیر کے نیچے نہیں رہنا چاہتے۔ الگ سراج منیر مان لیا۔ پس اگر دنیا میں دو سراج منیر ہیں تو آپ سچے اور اگر ایک ہے تو ہم سچے۔ یعنی اگر آفتاب کا کوئی شریک ہے خواہ جھوٹا ہی آفتاب ہو تو تم سچے اور اگر صرف ایک ہی آفتاب ہے اور دوسرا آفتاب ممکن نہیں تو پھر دوسرا نبی بھی ممکن نہیں۔ قرآن مجید میں بیشک یہ صفت محمد رسول اللہ ﷺ کے کسی کی شان میں نہیں آیا تب ہی تو لا نبی بعدی ثابت ہوا کہ نہ خدا نے جزی وظلی و ناقص آفتاب دنیا پر بھیجا اور نہ ظلی و ناقص نبی بھیجا اور یہی مقصود تھا۔ مولوی رومی صاحب لکھتے ہیں مصرعہ ؎

آفتاب آمد دلیل آفتاب

قولہ نمبر ٣٢

”خدا کے دو آفتاب ہیں۔ سراج کے معنی جب کہ قرآن مجید ولغت سے آفتاب کے معلوم ہو گئے تو اب یقین کر لینا چاہیے کہ خدا کے دو آفتاب ہیں۔“

(النبوۃ ص ٤٨)

الجواب: یہ بھی ڈھکوسلہ بحث سے خارج ہے۔ آفتاب تو دو نہیں صرف ایک ہے جو آسمان پر ہے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو مشبہ کی حیثیت میں آفتاب کہا ہے جو کہ خاتم النبیین کی دلیل ہے کہ جس طرح آفتاب کا مثل نہیں ہے اسی طرح آپ ﷺ کے بعد بھی کوئی نبی نہیں۔ جس طرح آفتاب سے کوئی وجود نور پا کر اور منور ہو کر آفتاب ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم اور روحانی فیض سے فیضیاب ہو کر کوئی نبوت کا مدعی نہیں ہو سکتا۔ آپ خود قائل ہیں کہ جو آفتاب سے نور پاتا ہے قمر ہے۔ پس آفتاب محمدی سے نور پانے والا قطب، ولی وغوث و ابدال وغیرہ وغیرہ ہے، وہ نبی نہیں کہلا سکتا۔ جس طرح قمر کو آفتاب کہنا جہالت ہے اسی طرح ولی کو نبی کہنا جہالت ہے۔

قولہ نمبر ٣٣

”سراج کے لیے ایک قمر بھی ہے۔“

(النبوۃ ص ٤٨)

١٧٤

صفحہ ٤٥١

الجواب: اس ڈھکوسلہ سے آپ کو کیا فائدہ اور اس کو امکان نبوت سے کیا تعلق؟ بلکہ ستارے اور شہاب بھی ہیں اور کئی لاکھ اجرام فلکی ہیں۔ آپ تو خاتم النبیین کا ثبوت دے رہے ہیں ذرہ ہوش میں آؤ اور اپنا دعویٰ یاد رکھو کہ قرآن سے امکان نبوت ثابت کرنا ہے۔

قولہ نمبر ٣٤

”سراج الانبیاء کا بھی ایک قمر الانبیاء ہے جو سراج الانبیاء کو بغیر قمر کے مانتا ہے وہ جاہل شبپرہ چشم مادر زاد نابینا ہے۔“

(النبوۃ ص ٤٩)

الجواب: اس من گھڑت مسئلہ کی سند شرعی کوئی نہیں۔ سراج الانبیاء و قمر الانبیاء کسی آیت و حدیث میں نہیں۔ جب تک کوئی سند آپ نہ دیں آپ کی ایجاد باطل ہے۔

(دوم)...... جب سراج الانبیاء کے واسطے قمر کا ہونا ضروری ہے تو ١٣ سو برس تک سراج الانبیاء بغیر قمر کے چلا آیا۔ اس لیے آپ کی من گھڑت دلیل باطل ہے کہ سراج الانبیاء کے واسطے قمر الانبیاء لازمی ہے۔

(سوم)...... اگر نور ہدایت و فیضان معرفت جو رسول اللہ ﷺ سے اخذ کرنے والے کو قمر کہا جائے تو اس صورت میں ہزارہا قمر امت محمدی ﷺ میں گزرے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ مرزا قادیانی کی خصوصیت کیا ہے کہ یہ رسول کہلاوے؟

جس طرح سراج سے نور اخذ کر کے قمر آفتاب نہیں کہلا سکتا اسی طرح سراج الانبیاء (رسول) سے نور اخذ کرنے والا قمر الانبیاء سراج (رسول) نہیں کہلا سکتا۔

(چہارم) اگر قمر الانبیاء مرزا قادیانی تھے تو تمام انبیاءؑ کیا ہوئے اور اس میں ان تمام انبیاء کی ہتک ہے کہ ایک امتی قمر ہو اور وہ ستارے جس سے مرزا قادیانی کا شرف تمام انبیاء پر ثابت ہوتا ہے اور یہ کفر ہے کیونکہ محمد ﷺ بھی انبیاء کے ساتھ ہیں۔

قولہ نمبر ٣٥

”نبوت رحمت ہے۔“

(النبوۃ ص ٥١)

الجواب: اس کی بحث گزر چکی ہے۔ کیا تشریعی نبوت رحمت نہیں؟ جس سے مرزا قادیانی کو محروم کر کے ٤٥ جز چھوڑ کر صرف ایک جز دیتے ہو کیا شریعت نعمت و رحمت نہیں؟ مگر امکان نبوت سے اس کا کیا تعلق ہے؟

قولہ نمبر ٣٦

”رحمت محسنوں کے قریب ہے۔“

(النبوۃ ص ٥١)

١٧٥

صفحہ ٤٥٢

الجواب: اس سے آپ کے دعویٰ کو کیا فائدہ ہے؟ صرف آپ کو طوالت منظور ہے۔ جو آپ کو ہی مبارک رہے۔ امکان نبوت کی دلیل لاؤ اگر سچے ہو۔ محسن کی بحث ہے یا نبی کی؟

قولہ نمبر ٣٧

”محسن کون ہے۔“

(النبوۃ ص ٥٢)

الجواب: بحث سے خارج ہے۔ نبوت کی بحث ہے نہ کہ محسن کی۔

قولہ نمبر ٣٨

”محسن کو نبوت ملتی ہے۔“

(النبوۃ ص ٥٣)

الجواب: بالکل غلط ہے۔ آیت بالکل بے محل ہے۔ اس میں تو اللہ تعالیٰ محسنین کو اجر دینے کا وعدہ فرماتا ہے نہ کہ نبوت کا۔ تمام آیات سے تمسک غلط ہے کیونکہ حضرت اسحٰقؑ و یعقوبؑ وغیرہ حضرت ابراہیمؑ کے قصہ میں سے ہے اور خاتم النبیین ان کے بعد تشریف لائے اور آپ ﷺ کی ذات بابرکات پر نبوت ختم ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نبی کے امکان کی کوئی آیت پیش کرو۔ ورنہ بے محل الٹ پلٹ آیات لکھ کر لوگوں کو دھوکہ نہ دو۔

قولہ نمبر ٣٩

”محسن کو نبوت مل سکتی ہے۔ چوبیسویں پارہ کے شروع میں ہی خداوند کریم فرماتا ہے۔ والذی جاء بالصدق و صدق بہ اولئک ھم المتقون لھم مایشآؤن عند ربھم ذالک جزاؤ المحسنین یعنی جو شخص سچائی (نبوت و رسالت و کلام خدا) لایا۔ اور جس نے اس صداقت کو مان لیا۔ وہی متقی ہیں اور ان کے لیے جو کچھ وہ چاہیں خدا کے پاس موجود ہے ان کو ملے گا۔ اسی طرح ہم محسنوں کو ان کی نیکیوں کا بدلہ دیا کرتے ہیں۔ دیکھا کیا صاف وعدہ خداوند کریم کا ہے۔“

(النبوۃ ص ٥٣)

الجواب: اوّل تو حسب عادت تحریف معنوی کی ہے اور ترجمہ بھی اپنی مرضی کے مطابق کیا ہے۔ صحیح ترجمہ یہ ہے۔ ”اور وہ شخص جو آیا ساتھ سچ کے اور جس نے سچ کو مان لیا یہ لوگ وہ ہیں پرہیز گار۔ واسطے ان کے ہے جو چاہیں نزدیک پروردگار اپنے کے یہ ہے بدلہ احسان کرنے والوں کا۔“

ناظرین! اس سے اوپر کی آیت میں اللہ کی وعید ہے۔ منکروں کے واسطے جہنم اور اس کے مقابل خدا تعالیٰ مؤمنین کو بشارت دیتا ہے کہ جو شخص ایمان لائے گا وہ پرہیز گار ہے اور ان کے واسطے بدلہ ہے جو چاہیں۔ اب ظاہر ہے کہ جب کافروں اور منکروں کو دوزخ ملے گا تو مومنوں اور پرہیز گاروں کو بہشت اور اس کی نعمتیں جو ان کا جی چاہے

١٧٦

صفحہ ٤٥٣

ملیں گی۔ یہ کہاں لکھا ہے کہ نبوت ملے گی؟ کیونکہ مسلمان ایماندار جو محمد ﷺ پر ایمان رکھتا ہے اور امتی ہے کبھی نبی ہونے کی خواہش نہ کرے گا۔ اور جو کرے گا وہ ایماندار نہیں کیونکہ جس کے دل میں خود نبی ہونے کی خواہش شیطان کے اغوا سے ہو گی۔ اسکا خاصہ ہے کہ محمد ﷺ کی نبوت سے انکاری ہو اگرچہ نفاق کے طور پر منہ سے اپنے آپ کو امتی کہے مگر نبی امتی نہیں ہوتا۔ اس آیت کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ لایا سچ تو نبی اور مانا سچ یہ مومن۔ یعنی مومن وہ پرہیز گار شخص ہے جس نے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبی برحق مانا اور جو وہ لایا یعنی شریعت و قرآن اس پر چلا اور قائم رہا وہ مومن و پرہیز گار ہے اور اس کے واسطے بدلہ ہے۔ مدعیان نبوت کذابوں کے واسطے تو یہ وعدہ ہرگز نہیں۔

دوم۔ اگر مان لیں کہ یہ نبوت کی دلیل ہے تو پھر ١٣ سو برس کے عرصہ میں جس قدر مسلمان صحابہ کرام و تابعین اور تمام امت مرحومہ سب کے سب نہ مومن تھے اور نہ محسن تھے کیونکہ ان کو نبوت نہ ملی اور نہ کسی نے نبی کہلایا۔ پس یہ غلط ہے کہ محسن کو نبوت ملتی ہے۔ قیامت کے دن نبوت کی خواہش باطل ہے کیونکہ جب دنیا ہی نہیں تو نبوت کیسی؟

قولہ نمبر ٤٠

”رحمت سے ناامید مت ہو۔“

(النبوۃ ص ٥٣)

الجواب: رحمت سے ناامید وہ ہے جو رحمت اللعالمین کی رحمت کے سایہ سے محروم ہو کر نیا نبی تلاش کرتا ہے اور خام ایمان رکھ کر سچے اور کامل نبی کے پاک دامن کو چھوڑ کر جھوٹے اور ناقص نبی کے پیچھے لگتا ہے اور قرآن اور حدیث کو اپنے لیے کافی نہیں سمجھتا اور شاعرانہ لفاظی اور خود ستائی تصنیف کردہ مدعی نبوت کی مان کر شریعت حقہ کو ہاتھ سے دیتا ہے۔ مسلمان محمدی تو ١٣ سو برس سے کروڑہا کی تعداد میں محمد رسول اللہ ﷺ کے طفیل رحمت الٰہی کے امیدوار چلے آتے ہیں اور وہ رحمت نجات اخروی ہے نہ کہ خواہش نبوت۔ ناظرین! میر قاسم مرزائی النبوۃ ص ٥٦ پر زیر عنوان تردید موانعات نبوت فی خیر الامت لکھتے ہیں۔ ”علماء حال کے باطل خیال کا ابطال گویا صرف علماء حال ختم نبوت کے قائل ہیں اور متقدمین علماء امکان نبوت کے قائل ہیں۔“

(ملخص)

ناظرین یہ ایسا سفید جھوٹ ہے جیسا کہ مرزا قادیانی نے تراشا ہے کہ وفات مسیح پر پہلا اجماع امت ہے ۔

دوش از مسجد سوئے میخانہ آمد پیر ما
چیست یاران طریقت اندریں تدبیر ما

١٧٧

صفحہ ٤٥٤

ہم بڑے دعوے سے کہتے ہیں کہ متقدمین سے ایک عالم بھی ایسا نہیں ہے اور نہ کوئی محدث اور نہ کوئی مجتہد کہ وہ اس بات کو مانتا ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث ہو سکتا ہے اگر کوئی ہے تو نکالو اور نہ جھوٹ تراشنے اور دھوکہ دینے سے خوف خدا کرو۔

ناظرین! وہ دس آیتیں جن سے میر قاسم مرزائی نے امکان نبوت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے حسب ذیل ہیں۔ آپ خود انصاف کریں کہ ایک سے بھی آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کا ہونا مفہوم نہیں۔

و ہارون و کذالک نجزی المحسنین۔ الآیة۔

اس جگہ صرف سوال یہ ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنا بہت زور لگایا اور انعمت علیہم و ما کنا معذبین کی دو آیتوں کے سوا ان کو استدلال کے واسطے یہ آیتیں نظر نہ آئیں اور آپ کو آئیں۔ اس کے دو وجوہ ہو سکتے ہیں۔

قادیانی کے علم سے زیادہ تو کجا بلکہ بہت کم ہیں۔ جب یہ صورت ہے تو پھر آپ کا استدلال خود غلط ہے۔

کس دلیل سے ان آیات سے محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی کا مبعوث ہونا نکالتے ہیں۔ جب آپ کے پیشوا اور پیغمبر نے نہیں نکالا؟ پس یہ ماننا پڑے گا کہ یا میر قاسم علی کی قوت استدلال و قرآن دانی مرزا قادیانی سے بڑھی ہوئی ہے اور یا میر قاسم علی کا ان آیات

١٧٨

صفحہ ٤٥٥

سے استدلال غلط ہے۔

قولہ نمبر ٤١

”ازواج مطہرات امہات المومنین ہیں۔“

(الندوة ص ٥٩)

الجواب: بیشک امہات المومنین ہیں تو پھر آپ کے دعویٰ کو اس سے کیا تعلق ہے؟ بے فائدہ خارج از بحث اپنے اوراق سیاہ کیے ہیں۔ کام کی ایک بات بھی نہیں۔ جب قرآن نے فرما دیا کہ محمد ﷺ کسی کے باپ نہیں تو قرآن کے مقابلہ میں لا یعنی اور فضول من گھڑت خرافات کون مان سکتا ہے؟ کیا خدا کو علم نہ تھا کہ روحانی اولاد بھی ہوتی ہے میں ماکان محمد ابا احد نہ کہوں اور محمد ﷺ نے بھی خدا کو نہ کہا کہ میری تو اولاد ہے اور میرا بڑا بیٹا غلام احمد قادیانی ہو گا نبی ہو گا۔ آپ کیوں بے فائدہ قرآن میں مجھ کو ماکان محمد ابا احد فرما رہے ہیں۔ نعوذ باللہ من الہفوات الجاہلین۔

بیٹے تھے جن کے طفیل مرزا قادیانی کو دین پہنچا۔ ١٣ سو برس تک (معاذ اللہ) تو ابتر رہے اور ١٣ سو برس کے بعد ایک روحانی بیٹا ہوا اور ٢٣ کروڑ کل دنیا کے مسلمان کس کے روحانی بیٹے ہیں؟ سچ ہے جو امام وقت کو نہ پہچانے اور جھوٹے مدعی کے پیچھے لگ جائے جہالت کی موت مرتا ہے۔

قولہ نمبر ٤٢

آنحضرت ﷺ ابو المومنین ہیں۔

(الندوة ص ٦١)

الجواب: قرآن تو فرماتا ہے کہ محمد کسی کا باپ نہیں۔ قرآن کے مقابلہ میں آپ کی اور آپ کے پیر و مرشد کی کون سنتا ہے اور اس کی کیا وقعت ہو سکتی ہے؟

قولہ نمبر ٤٣

خاتم النبیین اور کج فہم مخالفین۔

(الندوة ص ٦٢)

الجواب: میر قاسم علی کی حالت پر افسوس ہے کہ ان کی سخت کلامی سے محمد رسول اللہ ﷺ و صحابہ کرام تابعین تبع تابعین سب کے سب کج فہم ہوئے اللہ ان کی حالت پر رحم کرے۔ قرآن کی تفسیر جو حدیث نے کر دی کہ لا نبی بعدی تو پھر سوائے گستاخ و مرتد کے مسلمان کا کام نہیں کہ اس کو کج فہمی کہے۔ میں میر قاسم مرزائی کی خاطر ان کے پیغمبر کی عبارت نقل کرتا ہوں کہ ان کو معلوم ہو جائے کہ ان کی بد زبانی سے ان کا پیغمبر بھی نہ بچ سکا اور وہ بھی کج فہم ہوئے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔

١٧٩

صفحہ ٤٥٦

”چہارم قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیلؑ ملتا ہے اور باب نزول جبرائیلؑ بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آئے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٦١١ خزائن ج ٣ ص ٥١١)

اب میر قاسم مرزائی بتائیں کہ قادیانی نبی بھی تو کج فہمی سے باب رسالت کو مسدود مان رہا ہے اور آپ کے تمام دلائل کو کہ رسالت و نبوت نعمت ہے اور محسن کو مل سکتی ہے سب خاک میں ملائیں۔ اب ہم کو جواب دینے کی کچھ ضرورت نہیں۔ آپ پہلے گھر میں سوچیں۔ افسوس میر قاسم مرزائی کو مرزائی تعلیم کی بھی خبر نہیں کیا ہے۔ تو عمداً عوام کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں خود ہی اپنے پاس سے اعتراض بنا لیتے اور خود ہی خلاف عقل و نقل اپنے جی میں جو آیا لکھ مارتے ہیں اللہ رحم کرے۔

قولہ نمبر ٤٤

آنحضرت ﷺ ابو المومنین ہیں یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ جس شخص کی بیویاں مومنین کی مائیں ہوئیں تو ان بیویوں کا شوہر بالاولیٰ مومنوں کا باپ ہوگا۔

(النبوۃ ص ٦١)

الجواب: نص قرآنی کے مقابلہ میں آپ کا ڈھکوسلہ غلط ہے اور قابل وقعت نہیں۔ یہ ایسی نامعقول دلیل ہے جیسا کوئی کہے کہ مرزا قادیانی بہ سبب پیر و مرشد ہونے کے مردوں کے باپ ہیں اور عورتوں کے بھی باپ ضرور ہیں۔ پس مرزائی مرد اور عورتیں بھی آپس میں بہن بھائی ہیں اور ان کا نکاح حرام ہے جیسا حقیقی بہن سے نکاح حرام ہے۔ ورنہ ضرور مانو گے کہ روحانی باپ ہونا جسمانی باپ ہونے سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔ قرآن کی آیت ماکان محمد ابا احد من رجالکم سے تو جسمانی بیٹا اور جسمانی باپ مطلب ہے نہ کہ روحانی پس یہ طریق استدلال غلط ہے کہ اگر آنحضرت ﷺ کی بیویاں امہات المومنین ہیں تو محمد رسول اللہ ﷺ ضرور باپ ہیں اور اگر روحانی بیٹا مراد ہے تو کل مومنین و صحابہ کرام اور دنیا بھر کے مسلمان سب روحانی بیٹے محمد رسول اللہ ﷺ کے ہیں۔ مرزا قادیانی کے ہاتھ کیا آیا؟ میر قاسم مرزائی اگر آپ کی سمجھ میں یہ مسئلہ امہات المومنین نہیں آیا اور اسی جہل کے باعث آنحضرت ﷺ کو امت کا باپ قرار دیتے ہیں تو ہم بتاتے ہیں کہ امہات المومنین کو صرف محرمات ابدی میں لانے کے باعث ازواج مطہرات کو امہات المومنین فرمایا۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ جس طرح حقیقی ماں کے ساتھ نکاح حرام ہے اسی طرح محمد ﷺ کی بیویوں سے نکاح حرام ہے اور ماکان محمد ابا احد

١٨٠

صفحہ ٤٥٧

من رجالکم میں حقیقی بیٹا مراد ہے جو وارث ہوتا ہے۔ واقعی حقیقی صلبی بیٹا محمد ﷺ کے بعد کوئی نہ تھا اور نہ کوئی جانشین ہوا اور نہ نبی کہلایا۔ روحانی بیٹے محمد رسول اللہ ﷺ کے انوار نبوت و خلافت کے سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیقؓ ہوئے ان کے بعد حضرت عمرؓ ان کے بعد حضرت عثمانؓ ان کے بعد حضرت علیؓ اور ان کے بعد خلافت جسمانی الگ اور خلافت روحانی الگ ہو گئی۔ خلافت جسمانی یعنی بادشاہت تو مختلف اشخاص میں تبدیلیاں پکڑتی ہوئی اب تک خدا کے فضل و کرم سے عربوں اور ترکوں میں ہے۔ اور خلافت روحانی بھی فقراء اور سجادہ نشین و خانقاہ و زاویہ گزیناں کے ذریعہ سے ہر ایک مسلمان کو فیضیاب کر رہی ہے جس کا ہر ایک سلسلہ طریقت حضرت علی کرم اللہ وجہہ تک جا ختم ہوتا ہے۔ ہر ایک مسلمان خواہ کسی سلسلہ کا مرید ہو۔ قادری ہو۔ چشتی ہو۔ نقشبندی ہو یا سہروردی اس کا سلسلہ بواسطہ حضرت علیؓ تک جاتا ہے کیونکہ خاتم ولایت حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں۔ ہاں بے مرشدے کو فیض ہرگز نہیں ہوتا ؎

کہ اے بے پیر تا پیرت نباشد
ہوائے معصیت دل می خراشد

مرزا قادیانی کا کوئی پیر طریقت نہ تھا اس لیے وہ روحانی خلافت کے فیض سے محروم تھے کیونکہ وہ خود فرماتے ہیں کہ میرا کوئی پیر و مرشد نہیں۔

قولہ نمبر ٤٥

خاتم النبیین و کج فہم مخالفین۔

(البدر ص ٦٢)

الجواب: مرزا قادیانی بھی تو ختم نبوت کے قائل ہیں۔ دیکھو وہ لکھتے ہیں ؎

ہر نبوت را برو شد اختتام

(درثمین ص ١١٤)

کیا آپ کی اس بدزبانی کی رو سے وہ بھی کج فہم ہیں۔ باقی رہے آپ کے اعتراض سو وہ بھی ایسے ہی بیہودہ اور بے سند تک بازی ہے جس کا جواب یہی کافی ہے کہ پہلے اپنے گھر میں فیصلہ کر لو کہ مرزا قادیانی حق پر ہیں کہ نبوت کو محمد ﷺ پر ختم کرتے ہیں یا میر قاسم مرزائی جو خاتم النبیین یقین کرنے والوں کو کج فہم مغضوب و مجذوم کا خطاب دیتے ہیں کون حق پر ہے؟ اور یہ بحث بار بار کی جاتی ہے۔ حالانکہ جواب کئی بار ہو چکا ہے۔ آیتیں اور حدیثیں بالکل بے محل ہیں اور خارج از بحث ہیں۔ صرف جہلاء کو دھوکہ دیتے ہیں۔ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ ”ہم مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٢٣)

١٨١

صفحہ ٤٥٨

قولہ نمبر ٤٦

کیا رسول اللہ ﷺ کسی مرد کا باپ نہیں ہوتا۔

(النبؤۃ ص ٦٦)

الجواب: اس کی بحث ابو المومنین میں گزر چکی ہے صرف بھرتی کی عبارت سے حجم کتاب بڑھانا منظور ہے۔ ورنہ جب نص قرآنی موجود ہے تو پھر ڈھکوسلے کون مان سکتا ہے؟

قولہ نمبر ٤٧

”لفظ لاکن رفع وہم کے لیے ہوتا ہے۔ آیت زیر بحث میں جو لفظ لاکن ہے وہ زبان عرب میں استدراک کے واسطے آتا ہے۔ یعنی لاکن سے جو پہلے کلام ہوتا ہے اس کو سن کر جو سامع کو وہم پیدا ہو اس پیدا شدہ وہم کو رفع کرنے کے واسطے صرف لاکن بول کر آگے اس وہم کو رفع کیا جاتا ہے۔“

(النبؤۃ ص ٦٨)

الجواب: بیشک لفظ لاکن استدراک کے واسطے آتا ہے اور اس آیت میں بھی درست آیا ہے صرف سمجھ کا پھیر ہے۔ ما کان محمد ابا احد من رجالکم میں پورا مفہوم علت کسی مرد کے باپ ہونے کی درج نہ تھی۔ یعنی بیان نہ کیا گیا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ محمد ﷺ کسی مرد کا باپ ہم نے نہیں بنایا۔ لاکن کے لفظ کے بعد پورا پورا مطلب سمجھا دیا کہ ہم نے محمد ﷺ کو اس واسطے بیٹا نہیں دیا کہ محمد ﷺ کے بعد کسی قسم کا نبی نہ ہو گا۔ خاتم النبیین سے صاف بیان کر دیا کہ محمد ﷺ کے باپ نہ ہونے کی حکمت یہ ہے کہ وہ خاتم النبیین ہے۔ اس کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔ اگر کوئی محمد ﷺ کا بیٹا ہوتا تو وہ بھی نبی ہوتا۔ مگر محمد ﷺ کے بعد کسی قسم کے نبی کا ہونا منظور خدا نہ تھا اس واسطے نہ بیٹا دیا اور نہ محمد ﷺ کو باپ کہا پہلا جملہ کہ محمد ﷺ کسی مرد کا باپ نہیں معلول ہے اور رسول اللہ ﷺ و خاتم النبیین اس کی علت ہے اور لاکن صرف استدراک ہے یعنی اس کی کیا وجہ ہے کہ محمد ﷺ باپ نہیں اس واسطے کہ خاتم النبیین ہیں۔ یا محمد ﷺ کا کیوں کوئی بیٹا نہیں۔ اس واسطے کہ محمد خاتم النبیین ہیں اور خاتم النبیین کی تفسیر حدیث لا نبی بعدی میں رسول اللہ ﷺ نے خود کر دی ہے کسی دوسرے شخص کی رائے سے تفسیر کی ہوئی محمد رسول اللہ ﷺ کی تفسیر کے آگے کچھ وقعت نہیں رکھتی۔

قولہ نمبر ٤٨

خاتم النبیین کے معنی۔

(النبؤۃ ص ٧٣)

الجواب: دیکھو اس بحث کو ابتدائی کتاب میں نص شرعیہ سے ثابت کیا گیا ہے مسلمان ہر

١٨٣

صفحہ ٤٥٩

ایک مخبوط الحواس کے دماغ کا نزلہ نصوص شرعی کے مقابلہ میں بے سند بات کی طرح مردود سمجھتے ہیں بلکہ مرزا قادیانی بھی خاتم النبیین کے معنی ختم کرنے والا ہی مانتے ہیں۔ توضیح المرام میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”اگر یہ عذر پیش ہو کہ باب نبوت مسدود ہے ..... تو میں کہتا ہوں نہ من کل الوجوہ باب نبوت مسدود ہے ۔“

(توضیح المرام ص ١٨ و ١٩ خزائن ج ٣ ص ٦٠)

اب میر قاسم مرزائی فرمائیں کہ ان کو سچا مانیں یا ان کے مرشد کو جو خاتم کے معنی ختم کرنے والا کرتا ہے۔ صرف یہ کہتا ہے کہ محمد ﷺ باب نبوت بند کرنے والا تو ہے مگر نہ من کل الوجوہ۔ بفرض محال اگر مان لیں کہ ایک جزو نبوت کھلی ہے تو ٤٥ جزو تو مرزا قادیانی بھی بند شدہ مانتے ہیں۔ یہ کون عقل کا اندھا کہتا ہے کہ خاتم کے معنی ختم کرنے والا ماننے والا مغضوب و مجذوم ہے؟

قولہ نمبر ٤٩

قرآن مجید اور لفظ ختم ۔ خدا تعالیٰ نے سورہ بقر کے پہلے رکوع میں کافروں کے حق میں فرمایا ہے۔ ختم الله علی قلوبہم و علی سمعہم یعنی اللہ نے کافروں کے دلوں اور کانوں پر مہر کر دی ۔

(النبوۃ ص ٧٤)

الجواب: لفظ ختم عربی میں بند کرنے کے موقعہ پر استعمال کیا گیا ہے۔ دل اور کان پر مہر کرنے کے بھی معنی یہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل بند اور بے حس کر دیے ہیں کہ نصیحت کو اس میں دخل نہیں ۔ یعنی نصیحت ان کو اثر نہیں کرتی کیونکہ ان کے دلوں پر مہر ہے ۔ یعنی بند کیے گئے ہیں۔ پس ایسا ہی کانوں کی مہر سے بھی کانوں کا بند کرنا مقصود ہے کیونکہ وہ حق کی بات سنتے ہی نہیں۔ یعنی جو نصیحت ان کو کی جائے اس کو سنتے ہی نہیں یعنی عمل نہیں کرتے گویا انھوں نے سنا ہی نہیں اور کیوں نہیں سنا کیونکہ ان کے کانوں پر مہر ہے جیسا کہ بند کیے گئے ہیں ۔ الخ

(دیکھو بحث خاتم النبیین)

قولہ نمبر ٥٠

لفظ خاتم اور لغت عرب ۔

(النبوۃ ص ٧٥)

الجواب : ختم کے معنی ”تمام گردانیدن“ کے ہیں از روئے فعل کے ختم یختم ختماً فہو خاتم فذاک مختوم اس لحاظ سے خاتم کے معنی ختم کرنے والا اور پورا کرنے والا ہے۔ انگوٹھی اور مہر کے معنی سیاق و سباق قرآنی کے برخلاف ہے اگرچہ ختم کے معنی انگشتری کے بھی ہیں

١٨٣

صفحہ ٤٦٠

مگر یہاں انگشتری کے ہرگز نہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے خود ختم کے معنی پورا کرنے اور تمام کرنے کے کیے ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نبوت کے محل میں ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی جس کو میں نے آ کر تمام کر دیا اب میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اب اگر ہزار جاہل ختم کے معنی انگشتری وغیرہ اس موقعہ پر کرے تو مسلمان رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں اس کی کچھ وقعت نہیں رکھتے۔ اگر کوئی کاذب اپنے مطلب کے واسطے رسول اللہ ﷺ کے برخلاف قرآن کے معنی کرے تو اس کے خود غرضی کے معنی ہرگز ہرگز قابل اعتبار نہیں اور نہ مسلمان رسول اللہ ﷺ کی کلام کے مقابلہ میں لا یعنی اور من گھڑت باتوں کو مانتے ہیں اور ١٣ سو برس سے جو دین چلا آتا ہے کسی در پردہ عیسائی کے اغوا سے ہاتھ سے نہیں دے سکتے۔

قولہ نمبر ٥١

مہر سے کیا مراد ہے۔

(النبوۃ ص ٧٧)

الجواب: ختم اور مہر کی بحث گزر چکی ہے کہ ختم کے معنی اس مہر کے ہیں جو کہ کسی چیز کے بند کرنے کے وقت استعمال کی جاتی ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ یسقون من رحیق مختوم ختامہ مسک۔ ترجمہ۔ اس کو پلائی جاتی ہے شراب خالص مہر کی ہوئی جس کی مہر جمتی ہے مشک پر یعنی کستوری پر پھر حاشیہ پر فائدہ میں لکھا ہے کہ بوتلوں کے منہ کستوری سے بند ہوں گے اور ان پر ایک درجہ کے بہشتیوں کے نام کی مہر جمی ہوئی ہو گی۔

ناظرین! اب روز روشن کی طرح معلوم ہو گیا کہ ختم کی مہر وہی مہر ہے جو بند شدہ اشیاء کے منہ پر جمائی جاتی ہے۔ پس مجازی معنی ختم کے بند کرنے کے ہیں اور حقیقی معنی پورا کرنے و تمام کرنے کسی شے کے ہیں۔ مفصل بحث گزر چکی ہے۔

(دیکھو ابتداء سے بحث خاتم النبیین)

قولہ نمبر ٥٢

خاتم اور لغت عجم۔

(النبوۃ ص ٧٦)

الجواب: بسم اللہ ہی غلط ہے۔ ختم جب عربی لفظ ہے تو لغت عجم سے اس کا کیا تعلق؟ صرف طول بیانی سے کتاب بڑھانا منظور ہے ورنہ معنی ایک ہی ہیں۔ بما یختم بہ یعنی آلہ مہر کرنے کا جس سے لفافہ یا تھیلی کا منہ بند کیا جاتا ہے اور مجازی معنی بند کرنے کے بیکار کرنے کے ہیں جیسا کہ ختم اللہ علی قلوبھم سے ظاہر ہے کہ کفار کے دل حق بات کے قبول کرنے اور سننے کے واسطے بند و بیکار کیے گئے ہیں۔ پس محمد ﷺ کا وجود

١٨٤

صفحہ ٤٦١

پاک انبیاء کے بند کرنے کا آلہ ہے یعنی آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا۔

قولہ نمبر ٥٣

مہر سے کیا مراد ہے۔ خاتم کے معنی جب کہ ازروئے قرآن مجید ولغت معلوم ہو چکے تو خاتم النبیین کے معنی نبیوں کی مہر سے کیا مراد ہے۔

(النبوۃ ص ٧٧)

الجواب: جب یہ لغت عرب سے ثابت ہو چکا ہے کہ مہر سے آلہ مہر کرنے کا یعنی بند کرنے کا صحیح ہے تو پھر محمد رسول اللہ ﷺ کا وجود آئندہ نبیوں کے آنے کا آلہ بند کرنے کا ہوا۔ پس خاتم النبیین کے معنی لا نبی بعدی درست ہوئے۔

قولہ نمبر ٥٤

دستاویز کی مہر دنیا میں کوئی دستاویز یا مکتوب ایسا نہیں دیکھا یا سنا گیا۔ جس پر اس غرض سے مہر لگائی جاتی ہو کہ وہ مضمون یا مکتوب اس مہر سے ختم کر دیا۔

(النبوۃ ص ٧٧)

الجواب: مہر کے معنی ہمیشہ بند کرنے کے ہیں اور مہر دو قسم کی ہوتی ہے ایک سیل اور دوسری سٹمپ عربی لفظ ختم جو زیر بحث ہے اس کے معنی یا ترجمہ سیل ہے اور یہ مہر وہ ہے جو موم یا لاکھ یا کسی اور لیسدار مادہ سے کسی چیز کا منہ بند کر کے گرہ کے اوپر چسپان کرتے ہیں اور ہمیشہ جب کبھی یہ مضمون ادا کرنا ہو کہ جس کا مفہوم بند کرنا ہو وہاں مہر کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ سنو عرفی کہتا ہے ؎

امید ہست کہ مہر لب سوال شود
عنایتے کہ چو عصیاں ماست لا محصور

جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم کو امید ہے کہ ہماری لبوں کی مہر ہو جائے گی تیری رحمت‘ جو کہ ہمارے گناہوں کی مانند بے انتہا ہے یعنی ہماری بخشش بغیر ہمارے لب ہلانے کے ہو جائے گی۔" مرزا قادیانی خود مہر کے معنی بند ہونے کے کرتے ہیں۔ دیکھو ”کیونکہ وید کے رو سے تو خوابوں اور الہاموں پر مہر لگ گئی ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٣ خزائن ج ٢٢ ص ٥)

پھر: ”مگر افسوس کہ عیسائی مذہب میں معرفت الٰہی کا دروازہ بند ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی ہمکلامی پر مہر لگ گئی ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٦٠ خزائن ج ٢٢ ص ٦٢ )

اب ہم ادب سے میر قاسم مرزائی سے پوچھتے ہیں کہ مہر کے معنی بند کرنے کے جو مرزا قادیانی نے کیے ہیں آپ ان کو بھی وہی خطاب دیں گے جو معاندین کو دیتے

١٨٥

صفحہ ٤٦٢

ہیں؟ مگر تعجب ہے کہ آپ دھوکہ دے رہے ہیں۔ بحث تو ختم کی ہے جو عربی لفظ ہے اور آپ مہر جو فارسی لفظ ہے اس پر ناحق نکتہ چینی کر رہے ہیں اگر دستاویز کی مہر مراد بھی لو تو اس کے معنی بھی دستاویز کے مضمون بند کرنے کے ہیں۔ یعنی جب مہر مقرر کسی دستاویز پر لگ جائے تو پھر اور مضمون بند ہو جاتا ہے اگر زیادہ کیا جائے تو دوبارہ مہر لگائی جاتی ہے۔

قولہ نمبر ٥٥

کتابوں پر مہر۔ ہزار ہا کتابیں مذہبی اور دنیاوی ہمارے سامنے مطبوعہ و غیر مطبوعہ ایسی ہیں جن کے اخیر مہر ہوتی ہے۔ مگر اس سے بھی صرف تصدیق مراد ہے۔

(الندوة ص ٧٩)

الجواب: جب آپ خود مانتے ہیں کہ کتابوں کے اخیر مہر لگائی جاتی ہے تو ثابت ہوا کہ اختتام و آخر ہونے کی دلیل و ثبوت مہر ہے یہ دلیل تو آپ کے دعویٰ کے برخلاف ہے معلوم نہیں کہ کیوں آپ کی سمجھ میں ایسی صاف بات نہیں آتی کہ جیسے مہر اخیر لگتی ہے اور اختتام کی علامت ہے ایسا ہی محمد ﷺ سب انبیاء کے اخیر ہیں اور ان کے اختتام کی دلیل ہے کبھی کسی نے دیکھا ہے کہ جب اخیر مہر لگ جائے تو پھر بھی کتاب کی عبارت جاری رہتی ہے؟ اگر نہیں اور ضرور نہیں تو پھر مہر سے مراد اختتام صحیح ہے۔

قولہ نمبر ٥٦

ڈاک خانہ کی مہر۔ رات دن خطوط پر پارسلوں پر منی آرڈروں پر مہریں لگی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ان مہروں سے بھی تصدیق اصل مدعا ہے۔

(الندوة ص ٧٩)

الجواب: ڈاک خانہ کی مہریں دو قسم کی ہوتی ہیں ایک Seal جو کہ ختم کا ترجمہ ہے دوم سٹیمپ اور بحث ختم پر ہے نہ کہ سٹیمپ پر اس واسطے Seal مہر جو ڈاکخانہ کی ہے اس کے معنی ہم میر قاسم مرزائی کو سمجھاتے ہیں تا کہ ان کی غلط فہمی دور ہو۔ ڈاکخانہ کی Seal مہر صرف ڈاک کی تھیلیوں کے منہ بند کرنے کے وقت استعمال کرتے ہیں۔ خواہ پارسل میل ہو یا لیٹر میل یعنی خواہ پارسلوں کا تھیلا ہو یا چٹھیوں و کتابوں وغیرہ کا۔ مہر ہمیشہ تھیلے کے منہ کو بند کر کے اس کی گرہ کے اوپر لاخ سے ثبت کرتے ہیں اور یہ بعینہ ترجمہ ختم کا ہے جیسا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ یسقون من رحیق مختوم ختامہ مسک یعنی وہ شراب کی بوتلیں جو کستوری سے مہر کی گئی ہوں گی یعنی بند کی گئی ہوں گی۔ اسی طرح ڈاک کے تھیلے لاخ سے منہ بند کیے جاتے ہیں۔ آپ تصدیق کے معنی غلط کر کے دھوکہ

١٨٦

صفحہ ٤٦٣

دیتے ہیں۔ ڈاکخانہ کی مہر جو ختم کا ترجمہ ہے ہر جگہ بند کرنے کے موقعہ پر لگاتے ہیں نہ کہ تصدیق کے موقعہ پر۔

دوم ۔ ان کی بناوٹ میں بھی فرق ہوتا ہے۔ ختم یعنی Seal سیل کے اندر حرف کھدے ہوئے ہوتے ہیں اور مہر یعنی Stamp کے حروف ابھرے ہوئے ہوتے ہیں جن پر سیاہی لگ جاتی ہے اور وہ کاغذ چھپ جاتا ہے۔ پس ڈاک خانہ کی سیل کے معنی بند کرنے کا آلہ ہے نہ کہ تصدیق کا۔

قولہ نمبر ٥٧

عدالتوں کی مہر۔

(النبوۃ ص ٨٨)

الجواب : یہ دھوکہ ہے۔ عدالتوں کی مہر ختم کا ترجمہ غلط ہے۔ وہ مہر جس کا ترجمہ ختم ہو یعنی سیل جو سیاہی سے نہ لگائی جاتی ہو موم یا لاکھ سے لگائی جاتی ہو بتاتے تو کوئی مان سکتا تھا؟ یہ دھوکا ایسا ہے جیسا کوئی خنزیر کی بحث میں سور کے لفظ پر بحث کرے کہ سور کے معنی خوشی و دیوار کے ہیں اور سور جائز ہے۔ کہاں ختم اور کہاں مہر؟ اگر آپ سچے تھے تو ختم کے معنی نکالتے نہ کہ مہر کے معنی۔ مہر تو اشرفی و پونڈ کو بھی کہتے ہیں۔ جب کوئی گریز کرتا ہے تو بے راہ ہو کر جس طرف پناہ ملتی نظر آتی ہو جا پناہ لیتا ہے۔ یہی حال میر قاسم مرزائی کا ہے۔ قرآن کے لفظ خاتم پر تو جھوٹے ہوئے اب ہاتھ پاؤں مارتے ہیں کہ کسی طرح دھوکہ دہی سے کام چلے مگر ؎

من خوب مے شناسم پیراں پارسا را

مگر ہم بھی دھوکہ ظاہر کرتے رہیں گے جس قدر مہریں یعنی ڈاکخانہ کی مہر۔ عدالتوں کی مہر‘ کارخانوں کی مہر‘ مولویوں کی مہر‘ سکوں پر مہر‘ ہر ایک مہر سے مراد تصدیق فعل ہوتی ہے یعنی غیریت کے شک کا دور کرنا یا غیر کے دخل کو روکنا مقصود ہوتا ہے۔ اس سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ مہر جس دفتر یا کارخانہ یا مولوی کی ہے اسی کی ہے غیر کا اس میں دخل نہیں۔ جب عدالت کی مہر لگ جائے تو جس عدالت کی مہر ہے۔ وہ دوسری عدالتوں کے دخل سے مہر شدہ کاغذ کو بند کر دیتی ہے اگر ڈپٹی کمشنر کی عدالت کی مہر ہے تو وہ بند کرنے والی ہے۔ اس شک کی کہ یہ کاغذات ڈویژنل جج کی عدالت کا نہیں۔ یعنی مہر شدہ کاغذ ڈویژنل جج کے دفتر یا عدالت کے ہونے کو بند کرتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ چونکہ مجھ پر مہر ڈپٹی کمشنر کے دفتر کی ہے لہٰذا میں دوسرے دفتروں اور عدالتوں کے بند کرنے والا ہوں۔ تصدیق تصدیق جو آپ کہتے ہیں اگر آپ کو تصدیق کے معنی بھی

١٨٧

صفحہ ٤٦٤

معلوم ہوتے تو کبھی مہر کے معنوں پر شک نہ کرتے۔ تصدیق ضد ہے تکذیب کی۔ پس جب کسی امر میں شک ہوتا ہے تو اس شک کی روک و بندش تصدیق مہر سے ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص شک کرتا ہے کہ تحریر عدالت یا کارخانہ یا ڈاکخانہ یا کسی دفتر یا کسی مولوی کی نہیں ہے تو مہر دکھائی جاتی ہے۔ جب فریق ثانی مہر دیکھ لیتا ہے تو اس کا شک رُک جاتا ہے اور بند ہو جاتا ہے اور تکذیب بند ہو جاتی ہے۔ پس تکذیب کی بندش بذریعہ مہر ہوتی ہے اس واسطے ثابت ہوا کہ مہر کے معنی بند کرنے کے ہیں۔ اس تمام بحث سے ثابت ہوا کہ مہر خواہ کسی قسم کی ہو بند کرنے شک و شبہ کے واسطے استعمال کی جاتی ہے۔ جب فریق مقابل مہر دیکھ لیتا ہے تو اس کا شک دور ہو جاتا ہے۔ پس مہر آلہ ہے شک کے بند کرنے کا۔ جب آپ کوئی چیز خرید کرتے ہیں اور دوکاندار سے کہتے ہیں کہ آگرہ فیکٹری کا بوٹ دو تو دوکاندار جب آپ کو بوٹ دکھاتا ہے تو آپ کو شک ہوتا ہے کہ شاید یہ بوٹ کسی اور فیکٹری کا ہو۔ مگر جب آپ آگرہ فیکٹری کی مہر دیکھ لو گے تو آپ کا شک بند ہو جائے گا تو ثابت ہوا کہ آلہ شک بند کرنے کا مہر فیکٹری کی ہے اور ایسا ہی جب کسی خط یا لفافہ کو آپ دیکھیں گے تو شک کریں گے کہ کس ڈاکخانہ سے یہ خط روانہ ہوا ہے مگر جب آپ مہر لاہور کے ڈاکخانہ یا دہلی کے ڈاکخانہ کی دیکھ لیں گے تو آپ کا شک جاتا رہے گا۔ پس مہر ڈاکخانہ آپ کے شک بند کرنے کا آلہ ہے۔ جب آپ کو یہ معلوم ہو گیا کہ مہر آلہ شک کے بند کرنے کا ہے تو اس شک کے مٹانے کے واسطے کہ خاتم النبیین کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ حضرت محمد ﷺ کا وجود پاک بطور خاتم آلہ نبیوں کے بند ہونے کا ہے۔ جسطرح مہر کے دیکھنے سے شک بند ہو جاتا ہے کہ یہ چیز اسی کارخانہ کی ہے جس کی اس پر مہر ہے اسی طرح محمد ﷺ کے وجود سے کسی اور نبی کے آنے کا شک بند ہو جاتا ہے کہ آپ ﷺ کے وجود باجود کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہو گا۔ مہر محمد ﷺ شک مٹانے والی ہے۔ مگر مومنوں کے لیے۔

قولہ نمبر ٥٨

ہر ایک مہر تم دنیا بھر میں کسی طرح کی پیش کرو بادنی تامل کھل جائے گا کہ کوئی مہر اس غرض سے نہیں لگائی جاتی کہ وہ مہر شدہ چیز کے خاتمہ کے لیے ہے۔

(النبوۃ ص ٨١)

الجواب: یہ سخت جھوٹ اور دھوکہ ہے کہ مہر خاتمہ کی غرض سے لگائی نہیں جاتی۔ اب پھر میر قاسم مرزائی مہر کی بحث سے عاجز آ کر خاتمہ کی طرف گئے ہیں خیر ہم بھی اسی طرف تعاقب کرتے ہیں۔ میر قاسم مرزائی اہل زبان لغت عربی کے اور نصوص قرآنی و احادیث

١٨٨

صفحہ ٤٦٥

نبوی کے مقابلہ میں آپ کے عقلی ڈھکوسلے کہاں تک چلیں گے؟ جب ختم کے معنی آپ لغت عرب سے آخر ہر چیزے و پایان انجام خاتمۃ الشی مان چکے مگر دروغ گورا حافظ نباشد کا معاملہ ہے اگر آپ کو اپنی تحریر یاد نہیں رہی تو ہم اس کی نقل کرتے ہیں دیکھو ”جس کے معنی ہوئے کسی چیز پر مہر کر دی دوسرے معنی کا محاورہ ہے خاتمۃ الشی یعنی کسی چیز کا انجام اور اخیر۔

(النبوۃ ص ٧٦)

اب ہم میر قاسم مرزائی کو بتاتے ہیں کہ جب مہر کے معنی بند کے ہیں اور تھیلی و بوتل جب بھر جائے پوری ہو جائے اور اس کے اندر اور چیز نہ سما سکے تب منہ بند کر کے مہر لگاتے ہیں۔ پس مجازاً معنی مہر کے خاتمۃ الشی صحیح ہوئے آپ کا اس سے کیا مطلب نکلا؟ ختم اللّٰہ علی قلوبھم سے خود آپ نے اقرار کر لیا ہے کہ کفار کی سزا کے واسطے آیا ہے۔ سزا تو جب ہوگی کہ ان کے دل حق کے قبول کرنے سے بند ہوں گے۔

قولہ نمبر ٥٩

مہر اخیر پر کیوں لگائی جاتی ہے۔ واضح ہو کہ کسی دستاویز یا مکتوب کے آخر پر کاتب یا مقر یا گواہوں کی مہر اس واسطے لگائی جاتی ہے کہ وہ تمام تحریر یا مہر شدہ شے کی قبولیت وتسلیم کی دلیل ہو۔

(النبوۃ ص ٨١)

الجواب: اس کا جواب پہلے مہر کی بحث اور دستاویزات کی بحث میں ہو چکا ہے۔ مگر میر قاسم مرزائی کا مقصود کتاب کا طول کرنا ہے ایک بات کو اُلٹ پلٹ کر دوسری شکل میں الگ دلیل بنا لیتے ہیں جو کہ پایہ اعتبار سے نہایت گری ہوئی روش ہے ہم بھی جواب دوبارہ دینے کے واسطے مجبور ہیں۔ یہ غلط ہے کہ دستاویز پر مہر قبولیت وتسلیم کی دلیل ہوتی ہے۔ تسلیم وقبولیت تو ہر ایک معاملہ کی پہلے طے ہو جاتی ہے تو پھر معاملہ تحریر میں آتا ہے اور تحریر کی تکمیل وتصدیق کا آلہ مہر یا دستخط ہوتے ہیں۔ جب کسی دستاویز پر دستخط یا مہر مقر ہو جائے تو پھر اس دستاویز میں کمی و زیادتی نہیں ہوتی اگر کرنی ہوتی تو دوبارہ دستخط و مہر کرائی جاتی ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ مہر مقر کی تصدیق کا آلہ ہے۔ مثلاً کریم بخش نے دستاویز تحریر کی‘ مگر شک ہے کہ اس نے یہ تحریر کی ہے یا نہیں۔ اس شک کے دور کرنے و بند کرنے کا آلہ مہر ہے بعد ملاحظہ مہر کے شک دور ہو جاتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ مہر کے معنی بند کرنے کے درست ہیں جیسا کہ خود مرزا قادیانی اور دیگر تمام باحواس اشخاص کرتے ہیں اور میر قاسم مرزائی کا ایجاد بندہ غلط ہے مگر کوئی پوچھے کہ وہ قرآن سے کسی جدید نبی کے ماننے کے مدعی تھے۔ یہ فضول بحث کس واسطے کر رہے ہیں؟ کجا نص

١٨٩

صفحہ ٤٦٦

قرآنی اور کجا یہ عقلی ڈھکوسلے۔

قولہ نمبر ٦٠

مہر پر ایک اور غلط فہمی، بعض نادان خاتم النبیین والی مہر کی یہ مراد بتاتے ہیں کہ یہ ایسی مہر ہے جیسے کوئی شخص ایک تحریر یا مکتوب کسی دوسرے کے نام لکھ کر اس کو لفافہ میں بند کر کے اس پر مہر کرے تاکہ کوئی دوسرا شخص اس مہر کو نہ توڑے....... اور خاتم النبیین کو تشبیہہ اسی مہر سے دی گئی اس پر حسب ذیل اعتراض وارد ہوتے ہیں۔ (١) ایک چیز جس کی حفاظت منظور ہو اس کا وجود۔ (٢) پہنچنے والے کا وجود۔ (٣) جس کے نام وہ شے ہو اس کا وجود۔ (٤) مہر جو اس غرض سے لگائی جاتی ہے کہ دوسرا کھول نہ لے اس کا وجود۔ (٥) وہ مہر پہنچنے والے کی ہوتی ہے اس کا وجود۔ (٦) وہ چیز جس میں کوئی چیز بند کی جاتی ہے۔ اس کا وجود۔

اب بتاؤ کہ خاتم النبیین میں نبیوں کی مہر آنحضرت ﷺ کو قرار دیا گیا ہے۔ کس طرح یہ تمہاری مشابہت کا مصداق ہو سکتا ہے۔

(النبوۃ ص ٨٢-٨٣)

الجواب: مرزا قادیانی اور ان کے مرید ہمیشہ تشبیہہ کی بحث میں مغالطہ دیا کرتے ہیں مگر جب ویسے ہی اعتراض فریق ثانی کی طرف سے ہوں تو بغلیں جھانکتے ہیں۔ جب مسیح موعود یعنی مرزا قادیانی پر لازمی اعتراض نصوص شرعیہ کے رو سے کیے جائیں تو استعارہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے اور جب کہا جائے کہ مرزا قادیانی جو مثیل عیسیٰ اپنے آپ کو کہتے ہیں ان میں عیسیٰ کی کوئی مماثلت نہیں۔ اوّل عیسیٰ کی والدہ کو بشارت فرشتہ نے دی کہ تیرے ہاں لڑکا ہوگا۔ دوم حضرت عیسیٰ بغیر نطفہ کے پیدا ہوئے اور مرزا قادیانی باپ کے نطفہ سے۔ سوم حضرت عیسیٰ نے تمام عمر شادی نہ کی۔ مرزا قادیانی نے تین بیویاں کیں۔ (دو حاصل کر لیں۔ تیسری اڑا لے گیا؟) چہارم عیسیٰ نے اپنا کوئی گھر نہ بنایا مرزا قادیانی نے پر تکلف مکانات بنوائے۔ پنجم۔ عیسیٰؑ مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ مرزا قادیانی پیشگوئیوں سے زندہ کو مردہ کرتے رہے اگرچہ خلاف ہوتا۔ ششم۔ حضرت عیسیٰ کا رفع جسمانی آسمان پر ہوا مرزا قادیانی عام لوگوں کی طرح فوت ہو کر زمین میں مدفون ہوئے۔ ہشتم حضرت عیسیٰؑ کی اولاد نہ تھی مرزا قادیانی اولاد والے تھے۔ نہم۔ خلاف اجماع بقول آپ کے عیسیٰ مصلوب ومعذب ہوئے اور مرزا قادیانی نہ مصلوب ہوئے اور نہ معذب ہوئے۔ پس یا تو مماثلت تامہ ثابت کرو یا مرزا قادیانی مثیل عیسیٰ نہیں کوئی بھی مماثلت مرزا قادیانی کی حضرت عیسیٰؑ سے نہیں۔ مگر جب دوسرے استعارہ کی بحث کریں تو

١٩٠

صفحہ ٤٦٧

مماثلت تامہ کے اعتراض کرتے ہیں مگر ہم اس کا بھی جواب دیتے ہیں وہو ہذا۔ (١) یہ غلط ہے کہ مہر کے واسطے چھ وجودوں کا ہونا ضروری ہے کیونکہ خاتم کے لفظ پر بحث ہے اور خاتم کے واسطے تین وجود کا ہونا لازمی ہے خواہ ت کی زبر سے ہو یا زیر سے ہو ہر ایک کے معنی ختم کرنے والا۔ (٢) وجود جو ختم کیا جائے۔ تیسرا جو آلہ ختم کا ہو سو تینوں وجود خاتم النبیین میں موجود ہیں۔ خاتم الانبیاء خدا تعالیٰ کا وجود ہے۔ نبوت و رسالت ختم شدہ وجود ہے۔ محمد ﷺ ختم نبوت و رسالت ہیں۔ پس خاتم النبیین میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا وجود پاک نبوت و رسالت کے پورا اور تمام کرنے کا یا ہونے کا آلہ ہے۔ باقی اعتراض اس صورت میں ہو سکتے تھے جبکہ نبوت و رسالت کسی کوزہ یا بوتل یا صندوق یا تھیلی میں بند کرنے ارادہ الہٰی میں ہوتے۔ مگر ارادہ الہٰی میں سلسلہ رسل محمد ﷺ کے بعد بند کرنا تھا سو کر دیا۔ اب ان کے بعد نبی کوئی نہ ہوگا۔

(دوم) مہر مادی یعنی لوہے یا لکڑی یا ربڑ یا پتھر کی مہر کے واسطے ایسے ایسے وجودوں کا ہونا ضروری ہے۔ مجازی اور غیر مادی مہر جو صرف استعارہ کے طور پر مذکور ہو اس کے واسطے لازمی نہیں یہ صرف محاورہ کے طور پر تاکید کے واسطے فرمایا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی رسول نہ آئے گا گویا کہ آپ ﷺ کا وجود پاک انبیاءؑ کے وجود کے واسطے بطور مہر ہے جیسا کوئی شخص نہایت تاکید اور زور کے موقعہ پر کہتا ہے کہ اب ہم نے اس پر مہر کر دی ہے۔ یعنی ایسا امر پھر ہونا ناممکن الوجود ہے۔

قولہ نمبر ٦١

جبرائیل خائن نہیں۔

(النبوۃ ص ٨٤)

الجواب : افسوس اپنے پاس سے ہی سوال بنا لیا۔ کون کہتا ہے کہ جبرائیلؑ خائن ہے؟ جب تک کوئی ثبوت پیش نہ کرو کہ مسلمانوں کی فلاں کتاب میں لکھا ہے کہ جبرائیل خائن ہے تب تک آپ کا بہتان ہے۔

(٢) یہ اعتراض ایسا پایہ عقل سے گرا ہوا ہے کہ لڑکے بھی ہنسی اڑاتے ہیں۔ میر قاسم مرزائی کے نزدیک وحی الہٰی کسی بوتل یا کوزہ میں بند ہو کر آتا تھا اور اس پر لاکھ یا موم کی مہر ہوتی تھی اور محمد ﷺ کو صحیح و سلامت پہنچا دیتا تھا اور خیانت نہیں کرتا تھا۔ ختم اللہ علی قلوبہم سے میر قاسم مرزائی یہ سمجھتے ہیں کہ کافروں کے دلوں پر لاکھ یا موم گلا کر خدا تعالیٰ اپنی انگوٹھی کی مہر لگاتا تھا۔ سچ ہے جب دین کی رسی سے کوئی گردن نکال لے تو پھر اس کو دین کی سمجھ نہیں رہتی اور ڈوبنے والے کی طرح چاروں طرف ہاتھ پاؤں مارتا

١٩١

صفحہ ٤٦٨

ہے کہ کسی طرح بچ جاؤں بھلا جھوٹ کب تک قائم رہے اپنے جھوٹے دعویٰ نبوت کے واسطے تو تمام مسائل دین کو استعارات اور مجاز سے الٹ دیا۔ مگر محمد ﷺ کی فضیلت سے انکار کرنے کے واسطے حقیقی معنی اور ہر ایک حقیقی مراد لیتے ہیں۔ مگر جب وفات مسیح اور مرزا قادیانی کے مسیح موعود ہونے میں بحث کریں گے تو تمام بے سند تاویل مجاز واستعارات و تاویلات بعید از عقل و نقل نکالتے جائیں گے کہ دمشق سے مراد قادیان اور عیسیٰ ابن مریم کے معنی مرزا غلام احمد قادیانی ہے، مگر یہاں جو استعارہ خدا نے ختم اللہ میں استعمال کیا ہے اور خاتم میں ہے اس سے انکار ہے۔ اللہ رحم کرے۔

قولہ نمبر ٦٢

ادنیٰ و اعلیٰ مہر۔

(النبوۃ ص ٨٥)

الجواب: یہ بھی مہر کی بحث میں گزر چکا ہے۔ صرف کتاب کا حجم بڑھانے کے واسطے بار بار ذکر کیا ہے۔ جب مرزا قادیانی خود خاتم کے معنی اکمل و تمام کرنے والا مانتے ہیں اور ہر نبوت را بر و شد اختتام کہتے ہیں تو پھر آپ کی من گھڑت بات کون مانتا ہے۔

قولہ نمبر ٦٣

آمدم بر سر مطلب۔

(النبوۃ ص ٨٥)

الجواب: اس کی بحث بھی لاکن میں گزر چکی ہے۔

قولہ نمبر ٦٤

مومنین کے وہم کا ازالہ۔

(النبوۃ ص ٨٦)

الجواب: اس کی بحث بھی لاکن میں گزر چکی ہے۔

قولہ نمبر ٦٥

منکرین کے اعتراض کا ازالہ۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ کفار معاندین جو یہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ کا سلسلہ اس کی زندگی تک ہے۔

(النبوۃ ص ٨٧)

الجواب: یہ بالکل خانہ ساز اور لغو دلیل ہے کہ کفار کی دلیل کہ محمد ﷺ لا ولد ہے اور خدا نے بھی اس کا لاولد ہونا مان لیا اور ابتر کہا بالکل واقعات کے برخلاف ہے۔ رسول اللہ ﷺ واقعی کسی بالغ مرد کے باپ نہ تھے۔ اس کی وجہ یا علت غائی خدا نے خود فرما دی لاکن رسول اللّٰہ و خاتم النبیین یعنی محمد ﷺ کی لاولدی کا یہ باعث

١٩٢

صفحہ ٤٦٩

ہے کہ ہم نے اس کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں کرنا اور ہم نے ہر قسم کی نبوت محمد ﷺ پر ختم کر دی ہے۔ اب ان کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا اور رسول اللہ ﷺ نے بھی قرآن مجید کی یہی تفسیر کی ہے کہ میرے بیٹا نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انا خاتم النبیین لا نبی بعدی۔ یہ ڈھکوسلہ بالکل خلاف عقل و نقل ہے کہ کفار کہتے تھے کہ محمد ﷺ کا سلسلہ نہ چلے گا جب رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ہی فیصلہ کر دیا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے خود فرما دیا تھا کہ نبی کا کوئی وارث نہیں ہوتا جو اہل خلافت ہو گا وہ خلیفہ ہو گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جب رسول اللہ ﷺ کا کوئی وارث نہ تھا اور کفار جانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ہی تمام عرب بلکہ شام تک بھی اسلام پھیلایا گیا تھا اور مسلمانوں کی سلطنت قائم ہو گئی تھی تو وہ بہ سبب نہ ہونے بیٹے کے کیونکر ملیا میٹ ہو سکتی ہے؟ ابتر کا لفظ رسول اللہ ﷺ کے واسطے بے ادبوں نے خود گھڑ لیا ہے ورنہ خدا تعالیٰ نے تو رسول اللہ ﷺ کو تو ابتر نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ ان شانئک ھو الابتر۔ یعنی تیرے دشمن ابتر ہوں گے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں مکہ و مدینہ میں کوئی دشمن نہ رہا۔ بھلا رسول اللہ ﷺ کس طرح ابتر ہو سکتے ہیں؟ یہاں تو صرف بیٹا نہ ہونے کی علت غائی ختم نبوت بتائی گئی ہے نہ کچھ اور۔

یہ بھی غلط ہے کہ سلطنت کا وارث بیٹا ہی ہوتا ہے جب بیٹا نہ ہو تو پھر جو اہل ہو اس کو سلطنت ملتی ہے۔ تاریخ کے پڑھنے والے جانتے ہیں کہ بادشاہ اپنی زندگی میں ہی ولی عہد مقرر کر دیتا ہے۔ دور کیوں جاتے ہو اب دنیا کی سلطنتوں میں دیکھ لو کہ جس بادشاہ کا بیٹا نہ ہو تو پھر جس کو رعایا و اراکین بادشاہ تسلیم کریں وہی ہوتا ہے۔ پس واقعات بھی بتا رہے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ مسند خلافت پر بیٹھے۔ آپ کی دروغ بیانی اور خانہ ساز ڈھکوسلوں سے کبھی نامعقول بات ثابت ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔

قولہ نمبر ٦٦

انبیاء کے وارث نبی ہوتے ہیں۔ انبیاء کی یہ بڑی خواہش اور آرزو ہوتی ہے کہ ان کا جانشین اور وارث نبوت کوئی ولی عہد اور فرزند رشید ہو۔

(النبوۃ ص ٨٩)

الجواب: ناظرین یہ سخت دھوکہ ہے کہ حضرت زکریاؑ اور دیگر انبیاء کا ذکر کر کے اپنا مدعا ثابت کرنا چاہتے ہیں مگر ان عقل و دین کے اندھوں کو معلوم نہیں کہ جو انبیاء محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے گزرے ہیں اور صاحب اولاد نرینہ تھے ان کے حالات محمد ﷺ سے

١٩٣

صفحہ ٤٧٠

کس طرح مطابق ہو سکتے ہیں؟ کیونکہ ان کے وقت تو سلسلہ نبوت جاری تھا اور تشریعی و غیر تشریعی نبی آتے تھے اور آتے رہے۔ اس دلیل یعنی وارث نبوت سے تو سخت ہتک محمد رسول اللہ ﷺ کی کردی کہ دوسرے نبیوں کو خدا تعالیٰ اولاد نرینہ دیتا رہا اور محمد ﷺ کو محروم رکھا اور اس دلیل سے ان کا شرف بھی محمد ﷺ پر ثابت کر دیا۔ حالانکہ خاتم الرسل و خاتم الانبیاء کو یہی شرف دوسرے انبیاء پر تھا کہ نہ ان کو دین کامل دیا گیا تھا اور نہ ان کو رحمت العالمین اور خاتم النبیین کہا گیا تھا۔ مگر جب دل قساوت کفر و انکار و شرک فی النبوۃ سے اندھا ہو جاتا ہے تو جو امر شرف کا ہوتا ہے وہی بے دینوں کو عیب نظر آتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا بیٹا نہ ہونا مسلمانوں کے نزدیک باعث شرف ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خدا نے یہ فضیلت دی کہ کل نبی اس کے مقدمۃ الجیش بنائے اور اشرف الاولین سب کے بعد تشریف لائے۔ رحمۃ العالمین کا لقب اسی ختم الرسل کے باعث پایا۔ مگر ان کفار کو جو محمد ﷺ کا در چھوڑ کر کسی اور کو نبی مانتے ہیں جب کوئی شرعی دلیل نہ ملی تو اپنا عقلی ڈھکوسلہ جڑ دیا کہ سب کے پیچھے اور آخر آنا باعث فخر نہیں۔ اللہ اکبر! جس امر کو خدا اور اس کا رسول ﷺ بلکہ حضرت عیسیٰؑ جس کی امت ہونا اپنا فخر جان کر دعا کرتا ہے کہ خدایا مجھ کو نبی آخر الزمان کی امت میں ہونا نصیب کر۔ آج اسی نبی کی امت ہونے کے مدعی خود اور نبی کا آنا مان رہے ہیں اور اپنی بے دینی کو عقل کی دلیل کہتے ہیں کہ انبیاء سابق کی اولاد ہوتی تھی اور اس کی نبوت کے وارث ہوتے چلے آئے ہیں۔ پس رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی نبی اور وارث ہونے چاہئیں اور بالکل بیہودہ طور پر کتاب کے اوراق سیاہ کر دیے کہ حجم کتاب کا بڑھ جائے۔ کہیں حضرت ابراہیمؑ کی دعا اور کہیں حضرت زکریاؑ کی دعا بے محل درج کر دی ہے کہ انھوں نے دعائیں کیں اور ان کو بیٹے اور وارث ملے۔ جس سے بے دین کا مطلب یہ ہے کہ حضرت کی دعا قبول نہ ہوئی اور نہ ان کو کوئی بیٹا ملا۔ یہ ہے مرزائی جماعت کا ایمان کہ اپنے رسول ﷺ کی ہتک کس پیرایہ میں کرتے ہیں اور کس کس لباس میں ہو کر دین اسلام سے دشمنی کر کے اس کی تخریب کے در پے ہیں؟ اس کے ایک امتی کاذب مدعی کی تو سب دعائیں قبول ہوں اور اولاد بھی ہو مگر محمد رسول اللہ ﷺ کی دعا خدا نے قبول نہ کی اور نہ اس کو اولاد نرینہ دی۔ گویا جو امر رسول اللہ ﷺ کے شرف کا تھا کہ اس کو بیٹا نہ دے کر اس پر ختم نبوت کی جو دلیل خدا نے قول اور فعل سے دی تھی آپ اس کو زکریاؑ اور ابراہیمؑ کی نظیر دے کر باطل کر رہے ہیں اگر اولاد کا ہونا اور وارث کا ہونا باعث فخر ہے تو پھر جن کی سب سے زیادہ ١٩٤

صفحہ ٤٧١

اولاد ہوتی ہے وہی افضل ٹھہرے۔ مگر خدا تعالیٰ ان دشمنان دین کی خاطر پہلے ہی ایسے ایسے باطل اعتراضوں کے واسطے فرما چکا ہے کہ میں نے بیٹا اس واسطے نہیں دیا تاکہ آپ ﷺ کا خاتم النبیین ہونا قائم رہے اور کسی قسم کی نبوت آپ ﷺ کے بعد نہ ہو۔ اس جگہ ایک ڈھکوسلہ بھی جڑ دیا ہے کہ روحانی بیٹا تھا اور روحانی وارث تھا اور وہ مرزا قادیانی تھے۔ کیا خوب دلیل ہے جو کہ ذیل کی دلائل سے باطل ہے۔

اور زکریاؑ کو خدا نے دیا تھا اور ان کے وارث ہوئے تھے جیسا کہ خود ہی آپ نے آیتیں لکھی ہیں۔

روحانی بیٹے تھے۔ پھر بھی ١٣سو سال کے بعد روحانی بیٹا ہو کر قادیانی کا نبی کہلانا باطل ہوا کیونکہ آپ مان چکے ہیں کہ بڑا بیٹا وارث ہوتا ہے اور سب چھوٹے بھائیوں کو بڑے بھائی کی متابعت کرنی چاہیے۔ پس مرزا قادیانی جو ١٣ سو برس چھوٹے ہیں اور صحابہ کرامؓ سے ١٣ سو برس پیچھے آئے ہیں ان کی پیروی کریں اور نبی نہ کہلائیں کیونکہ برخلاف نص قرآنی و احادیث ہے کیونکہ اصلی روحانی بیٹوں یعنی صحابہ کرام تابعین و تبع تابعین میں سے بڑے بڑے اولیاء فنا فی الرسول کے مرتبہ والے صاحب کشوف و الہامات گزرے ہیں مگر کسی نے بھی اپنے آپ کو نبی نہیں کہلایا۔ پس یہ بالکل باطل ہے کہ بیٹے سے مراد روحانی بیٹا مراد ہے۔

تعلیم کے وارث ہیں وہ سب کے سب روحانی بیٹے ہیں اور یہ بالکل بے ربط اور نامعقول تھا کہ خدا تعالیٰ باوجود ہونے روحانی بیٹوں کے خلاف واقع ماکان محمدا ابا احد من رجالکم یعنی محمد ﷺ کسی کے باپ نہیں کیونکہ روحانیت کے لحاظ سے باپ تو تھا اور خدا کی شان سے بعید ہے کہ اس کو معلوم نہیں کہ محمد ﷺ تو روحانی باپ ہے اور میں اس کو روحانی باپ ہونے سے محروم کر رہا ہوں۔ پس ثابت ہوا کہ امہات المومنین کہنے سے خدا تعالیٰ کا صرف جسمانی لحاظ سے مطلب تھا کہ ازواج مطہرات امت محمدی ﷺ پر حرام ہوں ان سے نکاح ثانی کرنا ایسا قرار دیا جیسا کہ حقیقی جسمانی ماں سے نکاح کرنا یہ بالکل باطل ہے کہ خدا تعالیٰ کی منشاء کے برخلاف روحانی مائیں اور روحانی باپ سمجھے جائیں اور تاویلات باطلہ سے ظاہری احکام شریعت کو ایک وہمی اور ظنی قرار دیا جائے

١٩٥

صفحہ ٤٧٤

کیونکہ اگر ظاہری احکام شریعت کو ہر ایک کی رائے سے روحانی قرار دیا جائے تو آج ایک مسئلہ کل دوسرا پرسوں تیسرا علیٰ ہذا القیاس جتنے لوگ ہوں گے اتنے ہی مرادی اور روحانی معنی ہوں گے تو اصل دین مفقود ہو جائے گا۔ مثلاً ایک شخص کہے گا کہ نماز بھی روحانی ہے ظاہر اوپر نیچے ہونا مراد نہیں اور قرآنی سند بھی پیش کر دے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری ظاہری صورتوں پر نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے پس دل کی نماز مراد ہے۔ دوسرا کہے گا کہ روزہ سے مراد بھی بھوکے رہنے سے نہیں روحانی روزہ مراد ہے اور حدیث پیش کرے گا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ بعض لوگ روزہ سے کچھ حصہ نہیں لیتے سوا اس کے کہ منہ باندھ رکھیں ان کو کچھ ثواب نہیں ہوتا۔ روحانی روزہ رکھنا چاہیے۔ ایسا ہی تیسرا آدمی قربانی کے بارہ میں کہے گا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے خون اور گوشت کی مجھ کو پرواہ نہیں۔ پس اس سے روحانی قربانی مراد ہے تو مسلمان خدا کے واسطے ذرہ غور کریں کہ ایسی ایسی بیہودہ خودرائی سے دین قائم رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ پس یہ بالکل باطل اور ابطل ہے کہ محمد ﷺ باپ تھے اور خدا نے غلط فرمایا کہ رسول کسی کا باپ نہیں۔ -

کہ کان اللہ بکل شی علیما یعنی اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ محمد ﷺ کے بعد کاذب مدعی نبوت ہوں گے۔ اس واسطے اس نے پہلے ہی سے اپنے قول اور فعل سے ثابت کر دیا کہ محمد ﷺ کو پہلے سے تو خاتم النبیین فرمایا اور پھر فعل سے کسی رجل کا باپ نہ بنایا کیونکہ اس نے پہلے جملے میں ما کان محمد ابا احد من رجالکم یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد بالغ کا باپ نہیں سمجھا دیا کہ چونکہ محمد ﷺ خاتم النبیین ہے اس لیے یہ کسی کا باپ نہیں معاذ اللہ ابتر نہیں جیسا کہ عرب کے کفار اور عجم کے مرزائی خیال کرتے ہیں اور دوسرے جملے کے سرے پر لاکن کے لفظ سے جو اضراب و استدراک کا ہے صاف صاف کھول دیا کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں یعنی اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔ خاتم کے معنی تمام کرنا اور انجام کو پہنچانا کسی چیز کا اور مہر کے معنی بھی ہیں مگر جب سیاق و سباق قرآن خاتم کے معنی تمام کرنے والا چاہتے ہیں تو پھر جہالت ہے کہ خاتم کے معنی یہاں انگشتری کریں اور نگینہ و مہر بتائیں اور ناحق نفسانی خواہش کے مطابق الٹے معنی کر کے اوراق سیاہ کر کے لوگوں کو دھوکا دیا جائے۔

قولہ نمبر ٢٧

اولاد رسول اللہ ﷺ سے ولی عہد ایک ہو گا۔ چنانچہ مولوی محمد اسمعیل صاحب

١٩٦

صفحہ ٤٧٣

اپنی کتاب منصب الامامت کے نکتہ رابعہ کے ذیل میں فرماتے ہیں خلیفہ راشد بمنزلہ فرزند ولی عہد رسول است و دیگر ائمہ دین بمنزلہ فرزندان دیگر پس مقتضائے سعادت مندی سائر فرزنداں ہمیں است کہ اورا بجائے والد خود شمارند و با او دم مشارکت نہ زنند۔ (النبوة ص ٩٩)

الجواب: مولوی اسمعیل صاحب کی عبارت سے تو مرزا قادیانی کی نبوت بالکل باطل ہے کیونکہ وہ خلافت کے بارہ میں لکھتے ہیں نہ کہ نبوت کے بارہ میں یہ طریق استدلال بالکل غلط ہے کہ بحث تو ہو نبوت کی اور سند پیش کی جائے خلافت کی چونکہ مرزا قادیانی خلافت کے مدعی انگریزوں سے ڈر کر بنے تھے اس لیے آپ کا استدلال بالکل غلط ہوا۔ مولوی اسمعیل نے کہاں لکھا ہے کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو سکتا ہے۔

(٢) مولوی اسمعیل صاحب تو خلیفہ راشد کی شرط لگاتے ہیں کہ وہ خلیفہ جو رسول اللہ ﷺ کے قدم بقدم چلے وہ بمنزلہ فرزند رسول ہے اب کوئی صاحب ہوش مان سکتا ہے کہ ١٣ سو برس تک تو کوئی خلیفہ راشد نہیں ہوا اور ١٣ سو برس تک رسول اللہ ﷺ بھی بغیر فرزند رہے اور اسلام بھی بغیر خلافت و خلیفہ یونہی ترقی کرتا رہا اور تخت خلافت بغیر خلیفہ چلا آیا نعوذ باللہ من الهفوات الجاهلين.

(٣) اگر خلیفہ آج تک کوئی نہیں ہوا اور نہ فرزند رسول آج تک کوئی ہوا تو پھر اسلام دنیا پر کس طرح پھیلا اور شریعت اور دین کس طرح قائم رہا؟ اور بقول آپ کے بڑا بیٹا تخت خلافت پر بیٹھنا چاہیے تھا اور بڑا بیٹا آپ کے نزدیک مرزا قادیانی ہے جس کا رسول اللہ ﷺ کے وقت اور ان کی وفات کے وقت وجود ہی نہ تھا اور حضرت ابوبکرؓ نے خلافت کی مسند پر قدم رکھا تو گویا انھوں نے مرزا قادیانی کا حق چھینا اور پھر حضرت عمرؓ نے بھی جو کہ بڑے عادل تھے انھوں نے بھی مرزا قادیانی کا جو نبی تھے اور نبی کا جانشین بھی نبی ہونا چاہیے تھا حق چھینا اور ایسا ہی دیگر خلفاء نے حتیٰ کہ نوبت حضرت امام حسنؓ و حسینؓ تک پہنچی اور وہ بھی معاذ اللہ غلطی پر تھے کہ مرزا قادیانی کے حق کو نہ جانا اور خود مدعی خلافت بنے اور یزید سے بیعت خلافت نہ کی۔ مگر بڑا ظلم خدا نے کیا کہ مرزا قادیانی کا حق یزید کو دے دیا۔ اللہ اکبر! یہ سچ ہے جو امام وقت کو نہیں پہچانتا اور جھوٹے سچے میں تمیز نہیں کرتا اور اس کی بیعت کر لیتا ہے جہالت کی موت مرتا ہے۔ کیا یہ کم جہالت ہے کہ ولی عہد تو ١٣ سو برس پیچھے پیدا ہوا اور اس کی خلافت ١٣ سو برس اس سے پہلے سربراہ خلافت کرتے آئے ہوں مگر وہ جنھوں نے جانیں قربان کیں جنگوں میں رسول اللہ ﷺ کے شریک رہے۔ مال و جان قربان کیے۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مصیبتوں میں رات

١٩٧

صفحہ ٤٧٤

دن رہے وہ تو ولی عہد نہ ہوئے اور نہ وہ رسول اللہ ﷺ کے فرزند کہلا کر نبی ہوئے بلکہ لا نبی بعدی اور خاتم النبیین مانتے رہے مگر ١٣ سو برس کے بعد ایک رقیق القلب نہایت ڈرنے والا جس کو اگر خواب میں بھی تلوار نظر آتی تو سب دعوؤں سے ڈر کر دست بردار ہو جاتا۔ گھر کے کواڑ بند کر کے اندر سے تیر و تفنگ چلانے والا بھی خلیفہ ہونے کا مدعی ہے۔ ہم یہ ادب سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ اسلام اور تمام اسلاف کی ہتک نہیں کہ ان کی خلافت ایسی ایسی تاویلات کے جنگوں سے قائم ہوئی تھی جیسا کہ مرزا قادیانی نے جنگ مقدس کر کے شکست کھا کر اس کا نام فتح رکھ کر خلافت قائم کی ہے اور جتنے اسلامی جنگ اور فتوحات ہیں سب ایسے ہی تھے جن کے ذریعہ سے مرزا قادیانی نے اپنی خلافت قائم کی ہے۔

افسوس! میر قاسم مرزائی نے مولوی محمد اسمعیل صاحب کی سند پیش کر کے مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کا تنزل خلافت پر کر کے ان کی نبوت کو ملیا میٹ کر دیا کیونکہ خلیفے تو ہمیشہ ہوتے آئے اور اب بھی ہیں مگر وہ نہ تو مدعی فرزند رسول ہونے کے ہوئے اور نہ ہی مدعی نبوت ہوئے ہاں کذابون نبوت کے مدعی ہوتے رہے اور خلافت اسلامی ان کو پائمال کرتی رہی مرزا قادیانی کی صداقت بھی فوراً نکل آتی اگر کسی اسلامی خلافت کے ماتحت ہو کر دعویٰ کرتے۔ انگریزوں کا آزادی کا زمانہ تھا جو کوئی چاہے دعویٰ کرے کون پوچھتا ہے اگر ولی عہد رسول تھے تو رسول اللہ ﷺ کی خلافت کا دعویٰ ان لوگوں میں کرتے۔ جنھوں نے ان کی مسند خلافت چھینی ہوئی ہے مگر وہاں تو مردان میدان کا کام تھا نہ کہ نری باتوں کے تیر و تفنگ سے فتح یاب ہونے والوں کا۔ اب میر قاسم مرزائی فرمائیں کہ اب بھی مرزا قادیانی کو ولی عہد خلافت مانتے ہیں؟ اور یہی دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ١٣ سو سال کے بعد خلافت کا مدعی آیا اور زبانی جمع خرچ کر کے بغیر حاصل کیے اپنی خلافت لیے دنیا سے چل دیا اور کیا میر قاسم مرزائی ایسے فرزند کو لائق فرزند کہیں گے؟ کہ باپ کی خلافت کو غیروں کے ہاتھ میں دیکھے اور صبر و شکر کر کے باتوں باتوں میں خلیفہ بن کر دل خوش کرے یا اس جاٹ کی طرح جو گھر جا کر کہنے لگا کہ ریل کیا ہے پیٹ میں پانی ڈال لیا اور ہاتھ پر آگ لے چیخ مار کر دوڑنا شروع کر دیا۔ پس ریل ہو گئی۔ ایسا ہی مرزا قادیانی نے خلافت کو ایک جاٹ والی ریل سمجھ لیا کہ چلو خلافت کیا ہے۔ سو دو سو مرید ارد گرد بیٹھ گئے اور کچھ خوشامدیوں نے چاروں طرف سے جری اللہ و خلیفۃ اللہ پکارنا شروع کر دیا۔ پس مرزا قادیانی نے بھی اپنے آپ کو خلیفہ سمجھا۔ مولانا روم کے شعر میں ہم تھوڑا تصرف کر کے لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے

١٩٨

صفحہ ٤٧٥

مناسب حال ہے ۔

کار شاہاں بر قیاس خود مگیر
گرچہ باشد در نوشتن شیر و شیر

ہم نے پاکان کی جگہ شاہان لکھا ہے۔ خلافت بادشاہت کا نام ہے اگر مرزا قادیانی فرزند رسول ہو کر ولی عہد خلافت ہوتے تو شیروں کی طرح میدان میں آتے مگر چونکہ وہ قادیان کے خم میں بند رہے۔ اس واسطے شیر یعنی خلیفہ نہ تھے بلکہ شیر یعنی دودھ تھے۔ اب تو واقعات نے بتا دیا ہے کہ مرزا قادیانی کا ایک دعویٰ بھی درست نہیں۔ خود ان کے معیار سے ثابت ہو گیا۔ دیکھو اخبار بدر مورخہ ١٩ جولائی ١٩٠٦ء ’’طالب حق کے لیے میں یہ بات پیش کرتا ہوں کہ میرا کام جس کے لیے میں اس میدان میں کھڑا ہوا ہوں یہ ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت ﷺ کی عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کروں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے۔ وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتے۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود و مہدی موعود کو کرنا چاہیے تھا تو پھر سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں والسلام۔ غلام احمد۔‘‘

ناظرین! اب مرزائی صاحبان بتائیں کہ مرزا قادیانی فوت بھی ہو گئے اور ان سے کوئی کام بھی مسیح موعود کا ظہور میں نہ آیا۔ عیسیٰ پرستوں کا عروج دن بدن زیادہ ہے اور اسلام کا تنزل ہو رہا ہے۔ اب مرزا قادیانی کی اپنی میعاد سے تو وہ مسیح موعود نہ رہے۔ باقی رہا ان کا خلیفہ ہونا سو اس کا جواب یہ ہے کہ شیر قالین شیر جنگل نہیں ہو سکتا۔ دعویٰ بغیر ثبوت کے کون مان سکتا ہے؟ خلیفہ تو بن گئے مگر خلافت کا ثبوت پوچھو تو بغلیں جھانکنے لگ جاتے ہیں کہ قادیانی خلافت کا ملک کہاں ہے یا شطرنج کا بادشاہ اور دیگر اراکین ہیں کہ قادیانی بستہ میں بند ہیں کسی کو نظر نہیں آتے۔

(٤) امام اگر بمنزلہ فرزند رسول ہے تو جتنے امام گزرے ہیں سب فرزند رسول ﷺ ہوئے اور امام کی علامت یہ ہے کہ وہ تابع شریعت محمد ﷺ ہو۔ مرزا قادیانی تابع شریعت محمدی نہیں رہے خود مدعی نبوت ہو کر مسلمان متبعین کی فہرست سے نکل گئے اور امام نہ رہے۔ جو شخص احکام شریعت کو منسوخ کرے جیسا کہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ’’دو عیب و غلطیاں مسلمانوں میں ہیں۔ (١) تلوار کا جہاد اپنے مذہب کا رکن سمجھتے ہیں۔ (٢) خونی مہدی و

١٩٩

صفحہ ٤٧٦

خونی مسیح کے منتظر ہیں۔ (٣) مسلمانوں کے جہاد کا عقیدہ مخلوق کے حق میں بداندیش ہے ہزار ہا مسلمان میرے تابع ہو گئے اور اس خطرناک وحشیانہ عقائد کو چھوڑ کر میرا گروہ ایک سچا خیر خواہ گورنمنٹ بن گیا ہے ہر ایک جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود مانتا ہے۔ اسی روز سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانہ میں جہاد قطعاً حرام ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٤٧)

اب ناظرین انصاف سے کہیں کہ جو شخص اس طرح در پردہ اسلام کا دشمن ہو اور مسلمانوں کو خواہ وہ کسی ملک کے باشندے ہوں جب ان پر کوئی دشمن چڑھائی کرے تو مسلمانوں کو اس سے لڑنا قطعاً حرام ہے وہ جو چاہے مسلمانوں سے سلوک کرے مکہ معظمہ کی بے حرمتی کرے۔ مدینہ منورہ کو مسمار کرے۔ بغداد شریف و بیت المقدس کو منہدم کرے عورتوں کی عصمت بگاڑے مسلمانوں کو لڑنا حرام ہے۔ ایسا شخص فرزند رسول ہے یا در پردہ عیسائی ہے؟

(٢) فرزند رشید وہ ہوتا ہے جو باپ کے قدم پر چلے۔ باپ تو فرماتا ہے کہ خدا نے مجھ کو تمام نبیوں پر فضیلت دی ہے کہ میرے واسطے جہاد فرض کیا ہے اور فرزند رشید ١٣ سو برس کے بعد اس حکم خدا کو کہ کتب علیکم القتال کو منسوخ کرتا ہے اور تمام اہل اسلام کو جنھوں نے جہاد فی سبیل اللہ کیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان کو قطعی جنتی فرمایا اس کے فرزند ہونے کے مدعی نے ان کو خونی بداندیش کا لقب دیا۔ اب جس کے دماغ میں ذرہ بھی عقل انسانی ہے کہہ سکتا ہے کہ یہ ناخلف جو باپ کے برخلاف جاتا ہے اس کا وارث ہے اور اس کے تخت خلافت کا مستحق ہے؟ ہرگز نہیں۔

(٣) میر قاسم مرزائی نے مولوی اسمعیل صاحب کی تحریر سے جو اخذ کیا ہے بالکل بے محل اور ان کے دعویٰ کے برخلاف ہے کہ امام وقت بمنزلہ فرزند رسول است و سائر اکابر و اعاظم ملت بمنزلہ ملازمان و خدمتگاران اند پس + تمام اکابر سلطنت و ارکان ملک را تعظیم شاہزادہ والا کہ ہر ضرورست الخ۔

کیونکہ امام وقت جو کہ فرزند رسول ہے ١٣ سو سال کے بعد پیدا ہوا٦ اور اس کے خدمتگار پہلے پیدا ہو کر مر بھی جائیں یہ بالکل باطل اور محال ہے یا یہ ماننا پڑے گا کہ پہلے جس قدر امام وقت گزرے ہیں سب نبی تھے اور یا یہ کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت جھوٹا ہے کیونکہ مولوی اسمعیل صاحب کا صاف مطلب یہ ہے کہ امام وقت رسول اللہ کا گدی نشین ہے اور دیگر تمام اہل اسلام بمعہ اراکین خلافت سب اس کے حکم کے تابع ہیں یعنی

٢٠٠

صفحہ ٤٧٧

امام وقت شریعت کے مطابق حکم کرے گا اور خلیفہ و تمام اراکین خلافت اس کے حکم کی تعمیل کریں گے۔ اب واقعات پر نظر ڈال کر دیکھو کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد حضرت ابوبکرؓ امام وقت و خلیفہ وقت تھے۔ جب انھوں نے مسند خلافت خالی کی تو دوسرے صحابہ کرامؓ نے قدم رکھا۔ اسی طرح ١٣ سو سال گزرے تب مرزا قادیانی پیدا ہی نہ ہوئے تھے تو پھر وہ ارکان سلطنت و خلافت کس کی تعظیم و تکریم کرتے جس سے اس دلیل کا مرزا قادیانی پر وارد کرنا بالکل باطل ہے۔

قولہ نمبر ٦٨

پھلواری پر خزاں۔

(النبؤة ص ١٠١)

الجواب: ان بازاری باتوں طعن و تشنیع لغو شتم کا جواب یہی ہے کہ عطائے شما بہ لقائے شما پھلواری صاحب کے چاند پر اگر کوئی تھوکتا ہے تو اسی کے منہ پر پڑے گا آپ نے صرف لغویات سے کتاب کو بھرنا تھا سو بھر دیا۔ شرعی نص تو کوئی نہیں صرف اپنی رائے میں جو آتا ہے لکھ مارتے ہیں نہ اللہ کا ڈر ہے نہ رسول کی عزت ہے سچ ہے جب رسول الگ کر لیا محمدی کہلانے سے عار ہے تو پھر محمد ﷺ کی کلام کا مقابلہ کرنا کیا مشکل ہے؟ جب محمد ﷺ کے مقابلہ میں اپنے پیغمبر کو کھڑا کر دیا تو محمد ﷺ کی کلام کے سامنے اپنے ڈھکوسلے ضروری تھے مگر افسوس کہ میر قاسم مرزائی اپنے مرشد و پیر و پیغمبر قادیانی کی تحریر کو بھی بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔ جن تحریروں میں وہ خود ختم نبوت کے قائل ہیں اور صرف ایک نامعقول دلیل تراش لی ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ بیشک خاتم النبیین تھے اب کوئی نیا یا پرانا نبی نہیں آئے گا۔ مگر مرزا قادیانی بلا دلیل نبی تھے اور میر قاسم مرزائی کی تمام دلائل کا جواب تو ان کا نبی خود دے رہا ہے اور یہ بقول مدعی سست گواہ چست وہ تو نبی ناقص و ظلی نبوت کا مدعی ہے اور اس کے مرید اس کو محمد ﷺ کا بیٹا اور نبوت و خلافت کا وارث کہتے ہیں۔ پیراں نمے پراند مریدان می پراند کا ثبوت خود دے رہے ہیں جس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کا کوئی پیر و مرشد نہیں اور نہ ان کا کوئی مذہب ہے۔ کاش مرزا قادیانی کا کہنا ہی مانتے اور مرزا قادیانی کو شاہزادہ و وارث خلافت سلطنت بعد محمد ﷺ قرار نہ دیتے۔ مگر نفسانیت اسی کا نام ہے۔

قولہ نمبر ٦٩

”خاتم النبیین کے معنی حضرت عائشہؓ نے تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ قولوا انه

٢٠١

صفحہ ٤٧٨

خاتم النبیین ولا تقولوا انه لا نبی بعدہ یعنی آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین تو کہو لیکن یہ مت کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔“

(الہدیۃ ص ١٠٨)

الجواب: افسوس مرزائیوں کے مذہب میں جھوٹ بولنا اور دھوکہ دینا ثواب ہے کہ ان کو کلام خدا اور رسول میں تحریف کرتے ہوئے کچھ خوف خدا نہیں۔ اس حدیث کا تھوڑا حصہ نقل کر کے باقی حدیث جس میں حضرت عیسیٰؑ کے نزول کا ذکر تھا چھوڑ دیا ہے پس دیکھو تمام قول حضرت عائشہ (تکملہ مجمع البحار صفحہ ٨٥) میں ہے وفی حدیث عیسی انه یقتل الخنزیر و یکسر الصلیب و یزید فی الحلال ای یزید فی الحلال نفسه بان یتزوج و یولد له وکان لم یتزوج قبل رفعه الی السماء فزاد بعد الهبوط فی الحلال فحینئذ یومن کل احد من اهل الکتاب متیقن بانه بشر وقال عائشة قولوا انه خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعدہ لانه اراد لا نبی ینسخ شرعه. اس میں چند ضروری باتیں بیان کرنے کے قابل ہیں۔

کرنا اس واسطے ہمارے لیے سند نہیں ہو سکتا کہ انھوں نے اس قول کا کوئی حوالہ نہیں دیا اور نہ اس کے راویوں کا پتہ اور نہ کسی کتاب کا حوالہ دیا ہے اس لیے کسی شخص کے نزدیک یہ قابل اعتبار نہیں ہو سکتا۔

کو نقل کیا ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ (نہ کہ کوئی ان کا مثیل) قیامت سے پہلے دنیا میں نازل ہوں گے اور آ کر خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور حلال میں زیادتی کریں گے یعنی آسمان پر جانے سے پہلے چونکہ انھوں نے بیوی نہیں کی اس لیے دوبارہ آسمان سے اتر کر بیوی کریں گے ان کے بال بچہ پیدا ہوں گے اور اس زمانہ کے تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے اور اس بات پر یقین کریں گے کہ وہ ایک بشر ہیں (خدا نہیں ہیں جیسا کہ نصاریٰ سمجھتے رہے ہیں)

اس پر یہ شبہ پیدا ہوتا تھا کہ جب حضرت عیسیٰؑ ہی کا اس حدیث صحیح اور دیگر احادیث صحاح سے تشریف لانا ثابت ہے تو حدیث لا نبی بعدی کے کیا معنی ہیں حالانکہ یہ حدیث بھی صحیح ہے۔ اس شبہ کو دور کرنے کے لیے مصنف نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کا قول نقل کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کا محمد ﷺ کے بعد آنا خاتم النبیین اور لا نبی بعدی کے معارض نہیں کیونکہ عیسیٰؑ محمد ﷺ کے بعد پیدا نہیں ہوئے بلکہ پہلے

٢٠٢

صفحہ ٤٧٩

پیدا ہوئے ہیں اور جب وہ دوبارہ نزول فرمائیں گے تو وہ نبی تو ضرور ہوں گے مگر حضور ﷺ ہی کی شریعت پر عمل کریں گے ان کے پاس ان کی اپنی شریعت نہیں ہو گی جو حضور ﷺ کی شریعت کے معارض یا ناسخ ہو پس یہی اس کا مطلب ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

الفاظ کا جو مرزائی مطلب بیان کرتے ہیں وہ کیونکر درست ہو سکتا ہے؟ جبکہ مصنف خود اسی کتاب کے صفحہ ٣٢٩ پر ایک صحابی کا قول روایت کرتا ہے فنظرت الی خاتم النبوة اى شىء يدل على انه لا نبى بعده پھر اسی کتاب کے صفحہ ١٠٢ میں لکھا ہے فیبعث الله عيسى اى ينزله من السماء حاكما بشرعنا پھر اسی تکملہ کے صفحہ ١٧٩ پر لکھا ہے الذى فى زمن عيسىٰ عليه السلام و يصلى معه و يقتلان الدجال و يفتح القسطنطنیہ جن کا خلاصہ یہ ہے کہ ختم نبوت کی دلیل لا نبی بعدی ہے اور حضرت عیسیٰؑ کے مبعوث ہونے سے مراد ان کا آسمان سے نازل ہونا ہے جو اتر کر ہماری شریعت کے مطابق فیصلہ دیں گے اور مہدیؑ اور عیسیٰؑ دونوں مل کر نماز پڑھیں گے اور دونوں مل کر دجال کو قتل کریں گے اور قسطنطنیہ کو جو اس سے پہلے کافروں کے قبضہ میں ہو گا فتح کریں گے۔ پس یہ معنی کرنا کہ وہی عیسیٰؑ نازل نہیں ہوں گے بلکہ ایک مثیل عیسیٰ ہو گا جو نبی بھی ہو گا بالکل غلط اور خلاف مجمع البحار کے ہے۔

البحار نے حضرت صدیقہؓ کا قول بیان کیا ہے تو کیا وجہ ہے کہ اس قول کو تو صحیح سمجھا جائے اور اس کے پہلے حصہ کو چھوڑ دیا جائے؟ کہ جس میں صاف الفاظ سے وکان لم يتزوج قبل رفعه الى السماء فزاد بعد الهبوط فى الحلال موجود ہے یعنی حضرت عیسیٰؑ کے آسمان پر اٹھائے جانے سے پہلے آپ نے شادی نہیں کی تھی پس جب دوبارہ اتریں گے تو بیوی کریں گے ان کے بال بچے پیدا ہوں گے۔ کیا لا تقربو الصلوۃ پر عمل کرنا اور انتم سکاریٰ کو چھوڑ دینا کسی اور چیز کا نام ہے العیاذ باللہ یہ محض مغالطہ اور دھوکہ ہے نہ اس کا مطلب مصنف مجمع البحار کے نزدیک اور نہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے نزدیک اور نہ کسی صاحب علم کے نزدیک یہ ہو سکتا ہے کہ خاتم النبیین کے بعد کوئی اور شخص نبی ہو سکتا ہے۔ یہ محض مرزائیوں کی خانہ ساز تاویل ہے جس سے وہ لوگوں کو دھوکہ اور مغالطہ میں ڈال کر مرزا قادیانی کو نبی و رسول بنانا چاہتے ہیں۔

٢٠٣

صفحہ ٤٨٠

النبیین کے بعد بعض آدمیوں کو نبی مان لیتے ہیں۔ چنانچہ اس قول کے آگے چل کر وہ خود ہی لکھتے ہیں الی ان قال و بعض انبیاء ھم جعلوا شخصا من السندہ عیسیٰ فھل ھذا الا لعب الشیطان یعنی اس زمانہ میں نبی بنانے والے لوگوں نے ایک شخص کو جو سندھ کا رہنے والا ہے عیسیٰ بنا رکھا ہے یہ سب شیطانی کھیل ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو ایسے فتنوں سے محفوظ رکھے۔

یہ بالکل غلط ہے اور صریح دھوکہ دینا ہے کہ حضرت عائشہؓ کا یہ مطلب تھا کہ خاتم النبیین کا مطلب اور تفسیر انھوں نے نص قرآنی و آنحضرت ﷺ کے برخلاف کی اور امکان بعثت کسی اور نبی کے قائل تھیں۔ ان کا یہ مطلب ہے کہ نیا نبی تو بالکل محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نہ ہوگا۔ مگر نبی اللہ جو عیسیٰ مریمؑ کا بیٹا ہے وہ اس کے بعد آئے گا پہلے جملہ سے صاف ظاہر ہے کہ محمد ﷺ کو حضرت عائشہؓ بھی خاتم النبیین ہی یقین کرتی تھیں۔ مگر چونکہ انھوں نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہوا تھا کہ آخر زمانہ میں عیسیٰ بیٹا مریمؑ کا نبی اللہ جس کے اور محمد ﷺ کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ قتل دجال کے واسطے آسمان سے اتریں گے کیونکہ وہ مرے نہیں وہ زندہ اسی واسطے ہیں کہ بعد نزول میری امت میں سے ہوکر قتل دجال کر کے میرے دین کی اشاعت کریں گے کیونکہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرامؓ وغیرہ ہم کا یہی مذہب تھا کہ ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع علیکم قبل یوم القیمۃ. (درمنثور ج ٢ ص ٣٦) یعنی عیسیٰؑ نہیں مرے اور تمہاری طرف واپس آنے والے ہیں دن قیامت سے پہلے۔

اب یہاں سوال یہ ہو سکتا ہے کہ اس کا کیا ثبوت ہے کہ حضرت عائشہؓ کو حضرت عیسیٰؑ کے آنے کی خبر آنحضرت ﷺ نے دی تھی؟ جس کے جواب میں ہم وہ حدیث نقل کرتے ہیں جس سے مرزائیوں کا تمام طلسم ٹوٹ جاتا ہے اور حضرت عائشہؓ پر جو بہتان باندھتے ہیں کہ وہ حضرت ﷺ کے بعد کسی جدید نبی کی بعثت کے قائل تھیں یا ان کا مذہب تھا کہ خاتم النبیین کے بعد ظلی و ناقص نبی آئیں گے وہ غلط ثابت ہو۔ عن عائشۃ قالت قلت یا رسول اللہ انی اری اعیش بعدکم فتاذن ادفن الی جنبک فقال و انی لی بذالک الموضع مافیہ الا موضع قبری و قبر ابی بکر و عمر و عیسیٰ بن مریم. (منتخب کنزالعمال علی ہامش مسند احمد ج ٦ ص ٥٧ کنزالعمال ج ١٤ ص ٦٢٠ حدیث نمبر ٣٩٧٢٨ باب نزول عیسیٰؑ حجۃ الکرامۃ ص ٤٣٠)

ترجمہ۔ فرمایا حضرت عائشہؓ نے کہ میں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت مبارک

٢٠٤

صفحہ ٤٨١

میں عرض کی کہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میں آپ ﷺ کے بعد زندہ رہوں گی اگر اجازت ہو تو میں آپ ﷺ کے پاس مدفون ہوں فرمایا آنحضرت ﷺ نے میرے پاس تو ابوبکرؓ اور عمرؓ اور عیسیٰ بیٹے مریمؑ کی قبر کے سوا اور جگہ نہیں۔

ناظرین! اب تو آپ کو مرزائیوں کی ابلہ فریبی معلوم ہوگئی کہ حضرت عائشہؓ پر بہتان باندھا کہ وہ خاتم النبیین کے بعد جدید نبی کا مبعوث ہونا یقین کرتی تھیں حالانکہ ان کا مطلب عیسیٰ بیٹے مریمؑ سے تھا یہ حضرت عائشہؓ نے کہاں فرمایا ہے کہ جدید نبی امت محمدی میں سے مدعی نبوت ہو کر سچا ہو گا؟ اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے دعویٰ نبوت مسلمانوں میں سے مسیلمہ کذاب و اسود عنسی نے کیا اور ان کو ترقی بھی اس قدر جلدی ہوئی کہ مرزا قادیانی کو ہرگز نہیں ہوئی اور ان کے پیروکاران پر جان و مال فدا کرتے تھے اور جنگ کرتے تھے اور عزیز جانیں ان پر قربان کرتے تھے اگر حضرت عائشہؓ کا یہ خیال ہوتا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو سکتا ہے تو پھر مسیلمہ کذاب کو نبی کیوں نہ مانا؟ حالانکہ اس وقت آنحضرت ﷺ کی وفات سے عہدہ نبوت بھی خالی تھا اور بقول میر قاسم مرزائی‘ محمد رسول اللہ ﷺ کا بڑا بیٹا اور ولی عہد تھا مگر چونکہ کسی نے صحابہ کرامؓ میں کاذب مدعی نبوت کو نہ مانا اور ان کا قلع قمع کیا جس سے صاف صاف ثابت ہو گیا کہ سب صحابہ کرامؓ و حضرت عائشہؓ وغیرہم کا مذہب یہی تھا کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی جدید نبی نہیں۔ صرف حضرت عیسیٰ بن مریم نبی اللہ ناصری جس کی خبر مخبر صادق محمد رسول اللہ ﷺ نے دی ہے وہی نبی اللہ نزول فرمائے گا۔ اس کے سوا جو کوئی نبوت کا دعویٰ کرے کاذب ہے اور یہی مذہب اسلاف مسلمانوں کا ١٣ سو برس تک چلا آیا ہے۔ جیسا کہ پہلے ہم نے لکھ دیا ہے یہ بالکل غلط ہے کہ حضرت عائشہؓ کا یہ مذہب تھا کہ حضرت ﷺ کے بعد کوئی جدید نبی ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی جدید نبی آنا ہوتا تو آنحضرت ﷺ یہ کیوں فرماتے کہ پہلی امتوں میں ادب سکھانے والے غیر تشریعی نبی آیا کرتے تھے مگر چونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اس لیے میرے امراء و قاضی اس کام کو سرانجام دیں گے۔

دوم۔ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل سے تو صاف صاف فرما دیا کہ میرے بعد کسی قسم کا نبی نہ ہو گا۔ بھلا یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ حضرت عائشہ رسول اللہ ﷺ کے برخلاف فرماتیں اور ان کا فرمانا قرآن و حدیث کے برخلاف کیونکر ہو سکتا ہے؟ پس مرزائیوں کا ڈھکوسلہ غلط ہے کہ حضرت عائشہؓ کا مذہب یہ تھا کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی

٢٠٥

صفحہ ٤٨٤

جدید نبی مبعوث ہو سکتا ہے قول کا آدھا حصہ نقل کر کے دھوکا دیا ہے۔

قولہ نمبر ٧٠

قاسم اول اور تاخیر زمانی۔ خلاصہ اس تحریر کا یہ ہے کہ تاخیر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں ہے پھر مقام مدح میں ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہو سکتا ہے۔

(الندوة ص ١٠٩)

الجواب: حدیث شریف میں ہے عن جبیر بن مطعم قال قال رسول اللہ ﷺ لی خمسة اسماء انا محمد و انا احمد و انا الماحی، الذی یمحو اللہ الکفر به وانا الحاشر الذى يحشر الناس على قدمی و انا العاقب الذى ليس بعدی نبی.. (ترمذی ج ٢ ص ١١١ باب فی اسماء النبی ﷺ) ترجمہ۔ جبیر بن مطعمؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پانچ نام ہیں۔ محمد ﷺ۔ احمد ﷺ۔ ماحی ﷺ کفر مٹانے والا۔ حاشر ﷺ۔ عاقب ﷺ (جس کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا) اب کوئی مسلمان کسی شخص کے ڈھکوسلے رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں کیسے مان سکتا ہے؟

دوسری حدیث عن ابی موسٰی قال کان النبی ﷺ یسمی لنا نفسه اسماء فقال انا محمد انا احمد انا المقفی وانا الماحی و نبی التوبة و نبی الرحمة. (مشکوٰۃ ص ٥١٥ باب اسماء النبی ﷺ) ترجمہ۔ ابی موسٰیؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ اپنے کئی ایک نام ہمارے سامنے ذکر فرمایا کرتے۔ محمد، احمد، مقفی یعنی آخر الانبیاء، ماحی نبی التوبہ، نبی الرحمۃ ﷺ، جب رسول اللہ ﷺ نے خود اس امر کا فیصلہ کر دیا ہے اب اس کا تدافع عقلی ڈھکوسلوں سے کرنا اور اپنی قیاسی بے سند دلیلیں دینا ایک مسلمان کا کام نہیں اور دوسرے مسلمان ان کی کچھ وقعت نہیں رکھتے۔ کوئی شرعی سند امکان نبوت پر ہے تو بتاؤ فضول باتوں سے کیا فائدہ؟ جب رسول اللہ ﷺ باعث فضیلت فرماتے ہیں کہ لا نبی بعدی تو پھر آپ کی اور مرزا قادیانی کی کون سنتا ہے۔ مگر افسوس آپ تو مدعی قرآن سے امکان نبوت ثابت کرنے کے تھے لیکن من گھڑت باتیں پیش کر رہے ہیں کیا اسی کا نام اتقاء ہے۔ ان حدیثوں نے تو مرزا قادیانی کے اس دعوٰی کی بھی تردید کر دی کہ میرا نام احمد ہے۔ رسول اللہ ﷺ صرف محمد ﷺ ہی تھے اب کوئی حدیث یا آیت آپ کے پاس ہے تو لاؤ اور دھوکہ دہی سے باز آؤ آخر مرنا ہے۔ یہ بات دل میں خوب بٹھا رکھو کہ آپ کی کوئی دلیل بغیر سند شرعی ہرگز کوئی مسلمان جو محمد ﷺ کو سچا رسول یقین کرتا ہے نہ مانے گا کیونکہ رسول ﷺ کے مقابلہ پر اگر لاکھوں کروڑوں جاہل اور بے دین مل کر شور مچائیں

٢٠٦

صفحہ ٤٨٣

اور ایک ہی آواز نکالیں تب بھی رسول اللہ ﷺ کی بات کو ترجیح ہو گی اور مسلمان ایسے عقلی ڈھکوسلوں کی کچھ بھی قدر نہ کریں گے مگر ایمان شرط ہے ایمان چھوڑ کر جو کوئی کچھ چاہے مان لے۔ اس کا علاج تو اسلامی خلافت میں ہی ہو سکتا ہے۔ کیسا غضب ہے کہ خدا اور رسول تو فرمائیں کہ خاتم النبیین فخر ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی خصوصیت دوسرے نبیوں پر بتائی کہ مجھ کو خدا نے خاتم الانبیاء کیا مگر آپ اس کو ہتک جانتے ہیں۔ یہ ایسی ہی لغویات ہے کہ کوئی کہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ہتک ہے کہ ان کو مسیح موعود مانا جائے کیونکہ بغیر باپ کے ہونا کچھ فخر کی بات نہیں اور مسیح بغیر باپ کے پیدا ہوا تھا حالانکہ مرزا قادیانی مسیح موعود ہونا اپنا فخر جانتے ہیں محمد ﷺ تو اپنا فخر خاتم النبیین ہونا فرماتے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی اور ان کے مرید رسول اللہ ﷺ کی تردید کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قرآن درست نہیں سمجھا جب خدا کامل الصفات متکلم سمجھانے والا اور افضل البشر محمد ﷺ سمجھنے والے تو خاتم النبیین کے معنی نعوذ باللہ غلط سمجھے اور ١٣ سو برس تک تمام مفسرین و صحابہ کرام و مجتہدین و ائمہ اربعہ اور ٢٣ کروڑ مسلمان تمام دنیا کے جس میں اہل زبان بھی شامل ہیں۔ وہ سب کے سب غلط سمجھے مگر ایک پنجابی ہندوستانی جو کسی اسلامی ملک کا سند یافتہ نہیں وہ صحیح سمجھے۔ یہ ڈھکوسلہ تو کوئی مخبوط الحواس ہی مان سکتا ہے کہ آیت خاتم النبیین جس رسول پر نازل ہوئی وہ تو نہیں سمجھا اور نہ خدا ان کو سمجھا سکا۔ کیا اس میں خدا کی ہتک نہیں کہ وہ صحیح کلام مطابق مفہوم کے محمد ﷺ سے نہ کر سکا۔ اور کیا اس میں محمد ﷺ کی ہتک نہیں ہے کہ جامع صفات انسان ہو کر خاتم النبیین کے معنی نہ سمجھے اور لا نبی بعدی کہتے رہے اور اپنا نام عاقب بتایا یعنی سب کے پیچھے آنے والا اور کیا اس میں مرزا قادیانی کو محمد ﷺ پر شرف نہیں ہے اگر ہے اور ضرور ہے تو پھر یہ کیوں کفر نہیں کہ ایک امتی کو رسول اللہ ﷺ پر شرف دیا جائے؟ تقدم و تاخر حسب موقعہ و حسب شان ممدوح ہوتا تا نہ یہ کلیہ ہے کہ جو چیز یا وجود آخر آئے فضیلت رکھتا ہے اور نہ یہ کلیہ ہے کہ جو وجود مقدم آئے وہی فضیلت رکھتا ہے جب واقعات بتا رہے ہیں کہ انبیاء کے تقدم و تاخر میں تاخر باعث فضیلت ہے کیونکہ مشاہدہ سب دلیلوں اور ثبوتوں سے بہتر ہے۔ جب واقعات بتا رہے ہیں کہ حضرت آدم سب سے اوّل ہیں اور دیگر تمام انبیاء یکے بعد دیگرے تشریف لائے مگر محمد ﷺ سب کے بعد تشریف لائے اگر آپ کا بلا دلیل منطق مان لیں کہ تاخر زمانی باعث فضیلت نہیں تو پھر تمام انبیاء محمد رسول اللہ ﷺ سے بہ سبب تقدم زمانی کے افضل ہوں گے۔ حالانکہ یہ بالبداہت و بالاجماع ہر ایک مسلمان کا ٢٠٧

صفحہ ٤٨٤

اعتقاد و ایمان ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ افضل الانبیا ہیں۔ پس آپ کی یہ دلیل باطل ہے کہ تاخر زمانی باعث فضیلت نہیں۔ کیونکہ جب نظیر موجود ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ افضل الانبیاء آخر تشریف لائے اور وہ افضل ہیں تو ضرور ہوا کہ تاخر زمانی باعث فضیلت ہو کیونکہ ہمارے پیغمبر ﷺ سب انبیاء کے بعد تشریف لائے اور اپنی تشریف آوری سے اس زمانہ تاخر کو قدوم میمنت لزوم سے فضیلت دی جیسا کہ تمام ملکوں میں سے ملک عرب کو شرف بخشا مگر یہ تو ایمان کے نور کی روشنی سے نظر آتا ہے۔ جس شخص کا ایمان ہی مکدر ہے اس کو رسول اللہ ﷺ کی شان کیا نظر آتی ہے۔ ہمارا تو اعتقاد ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری اور قدوم کی برکات سے زمانہ کو شرف حاصل ہوا۔ ملک کو شرف حاصل ہوا۔ اس زمین کو شرف حاصل ہوا جہاں آپ ﷺ رونق افروز ہوئے۔ وہیں برکات نزول رحمت ہوا۔ یہ آپ نے کہاں سے نکال لیا کہ محمد ﷺ کو شرف کسی زمانہ میں پیدا ہونے یا ملک کے پیدا ہونے میں ہوسکتا ہے؟ فضیلت و شرف تو حضرت ﷺ کی ذات کے ساتھ تھا جیسا کہ کلیہ قاعدہ ہے کہ صفت اپنے موصوف کے ساتھ ہوتی ہے۔ پس محمد ﷺ کے شرف سے دوسرے مشرف ہوئے نہ کہ محمد ﷺ کے شرف کا باعث کوئی زمانہ یا ملک ہوسکتا تھا؟ لہٰذا میر قاسم مرزائی کا یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ خاتم النبیین ہونا کوئی بالذات فضیلت نہیں۔ افضلیت اس واسطے ہے کہ جو نبی کے بعد آتا ہے وہ پہلے نبی کے احکام و شریعت کا ناسخ ہوتا ہے اور ناسخ منسوخ سے افضل ہوتا ہے۔ اس لیے ثابت ہوا کہ جس نبی کی شریعت و احکام اکمل و اتم ہوں گے وہ نبی بھی افضل ہوگا مگر جب ہم بدقسمتی سے یہ مان لیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی آئے گا تو ضرور یہ بھی مانیں گے کہ محمد ﷺ کے بعد آنے والا محمد ﷺ سے کوئی افضل احکام و اکمل شریعت لائے گا اور جب وہ افضل احکام لائے گا تو ضرور اس کو شرف محمد ﷺ پر ہوگا جیسا کہ محمد ﷺ کو دیگر انبیاء پر ہوا تھا یہ بالکل لغو ہے کہ کوئی جدید شریعت و احکام نہ لائے گا۔ اگر کوئی جدید شریعت و احکام نہ لائے گا تو پھر اس کا آنا فضول و بے فائدہ ہے اور معاذ اللہ خدا کی طرف کسی عبث و فضول کام کا منسوب کرنا کفر ہے اور اگر جدید شریعت و احکام لائے گا تو اکملت لکم دینکم باطل ہوگا دوسرے لفظوں میں یوں سمجھو کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد غلام احمد آیا اور محمد ﷺ کی شریعت کامل ہے اسی کا تابعدار آیا اور نئی چیز کوئی نہیں لایا تو اس کا آنا فضول ہے جب غلام احمد کی نبوت مان کر بھی ہم کو وہی کرنا ہے جو ١٣ سو برس سے کر رہے ہیں تو میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ غلام احمد کو نبی ماننا بالکل فضول ہے۔

٢٠٨

صفحہ ٤٨٥

کیونکہ وہ کچھ ہم کو دیتا بھی نہیں اور کچھ جدید خدا کی طرف سے لایا بھی نہیں تو آپ لوگ غور سے سوچیں کہ نبی پیغمبر جس کی تعریف خدا کی طرف سے خبر اور پیغام لانے والا ہے اور مرزائی قادیانی کوئی پیغام و کتاب خدا کی طرف سے نہیں لائے اور ہمارے واسطے محمد ﷺ کا ہی ہدایت نامہ و دستور العمل یعنی قرآن شریف کافی ہے تو پھر غلام احمد قادیانی کی نبوت و رسالت فضول ہے اور پھر ہمارے پاس محمد ﷺ کی نظیر موجود ہے کہ آپ ﷺ تشریف لائے اور سابقہ احکام منسوخ ہوئے اور دین محمدی ﷺ پر سب کو چلایا اور تمام اہل کتاب کو اپنی پیروی کا حکم دیا بلکہ یہاں تک فرمایا کہ اگر موسیٰ ؑ زندہ ہوتا تو میری پیروی کرتا میں نے اس تعلیم توریت و انجیل کو جدید قالب میں ڈھال کر پبلک کے پیش کیا اور ایسا اکمل و اتم قانون سیاسی و تمدنی و اخلاقی اپنے ساتھ لایا کہ اس سے بہتر اب ہو نہیں سکتا تو پھر جو اس کے بعد دعویٰ کرتا ہے کہ میں بھی نبی ہوں کاذب ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ نے یوں بھی فرمایا ہے کہ لا نبی بعدی اور تمام اسلاف بھی یہی کہتے چلے آئے کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا تو پس جدید نبی کے آنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

خیر ہم بھی ایک منٹ کے لیے مان کر پوچھتے ہیں کہ مدعی نبوت کیا لایا؟ تو اس کا جواب ملتا ہے کہ لایا کچھ نہیں مگر ہے نبی۔ یہ کیسی لغو بات ہے کہ ہے تو لانے والا مگر لایا کچھ نہیں۔ پنجابی مثل مشہور ہے ؎

سخی سرور لاکھوں کا داتا ہے مگر دیتا کوڑی نہیں

(٢) سنت اللہ یہی چلی آئی ہے کہ ہر ایک زمانہ کے مطابق عام خلائق کی عقول کے مطابق خدا تعالیٰ علیم و حکیم نبی و رسول بھیجتا رہا ہے ایسا ہی سنت اللہ کے مطابق اس زمانہ میں جب علوم جدید کا زور ہے اور ہر ایک کے منہ پر سائنس اور فلسفہ کا لفظ ہے اور کوئی متنفس بغیر عقلی و فلسفی دلیل کے کسی کی بات نہیں مانتا اور فلسفہ الٰہی بالکل مفقود ہے اس زمانہ میں تو ایک بڑا عالم علم فلسفہ و سائنس کا آنا چاہیے تھا۔ جو اپنے لدنی فلسفہ اور سائنس سے سب کو تابع بنا لیتا نہ کہ ایک پرانا دقیانوسی خیالات کا آدمی جس کو یہ بھی خبر نہیں کہ اجتماع نقیضین جائز نہیں کبھی فلسفی کا پیرو ہو کر سرسید کے آگے سر تسلیم خم کر کے کہتا ہے کہ محال عقلی اس فلسفی زمانہ میں جائز نہیں اور پھر خود ہی لکھتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی خاطر شق القمر ہوا اور ابراہیم ؑ کی خاطر آگ سرد ہو گئی اور قانون قدرت ٹوٹا کبھی تو تخت رب العالمین پر ہنسی اڑائے اور کبھی قبر میں مردوں کا زندہ ہو کر حشر بالجساد کا قائل ہو اور وہ وہ مسائل جن کو اہل اسلام نے ١٣ سو برس میں مٹایا تھا از سر نو زندہ کرے۔ خود خدا کا ٢٠٩

صفحہ ٤٨٦

بیٹا بنے اور خدا کے پانی سے اپنا ہونا بتائے جو کہ قرآن کے لم یلد ولم یولد نے ١٣ سو برس کی کوشش سے مٹایا تھا اور حضرت عیسیٰؑ کو مصلوب مقتول کر کے کفار کا مؤید ہو اور مسلمانوں کو گمراہ کرے۔ کوئی مرزائی بتا سکتا ہے کہ آگے بھی کوئی نظیر ہے کہ کوئی نبی ایسا ہو جو دو ہزار برس کی گزری ہوئی تعلیم کو تازہ کر گیا ہو پس ثابت ہوا کہ دعویٰ نبوت مرزا قادیانی غلط ہے اور باعث کسر شان محمد رسول اللہ ﷺ ہے اور بیشک اس کا خاتم النبیین ہونا باعث افضلیت ہے۔ جب تک اس کی تعلیم اکمل ہے اور آئندہ نسلوں کے واسطے کافی متصور ہے تب تک کسی جدید نبی کا وجود بھی باطل ہے۔

قولہ نمبر ٧١

قاسم ثانی اور تاخر زمانی۔ یہاں قرآن مجید سے ہی دکھاتے ہیں کہ تاخر میں اور خاتمۃ الشی میں فی نفسہ کوئی فضیلت نہیں۔ قرآن مجید میں سورۂ فاتحہ پہلے ہے اور والناس اخیر ہے مگر حدیث میں فاتحہ افضل ہے اور اوّل ایمان لانے والے افضل ہیں۔

(الندوة ص ١١٢)

الجواب: حسب موقعہ تقدم و تاخر باعث فضیلت ہوتا ہے نہ تمام جگہ اور مواقع پر تقدم باعث فضیلت ہے اور نہ سب جگہ تاخر باعث فضیلت ہے۔ بحث انبیاءؑ میں ہے نہ کہ قرآن کی سورتوں اور مسلمانوں کے ایمان تقدم تاخر میں۔ اگر ایمان پر جاؤ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ میرے زمانہ کے گزرنے کے بعد مجھ پر ایمان لائیں گے ان کا ایمان لانا افضل ہے بہ نسبت ان لوگوں کے جنھوں نے مجھ کو دیکھا ہے۔

دیکھو تفسیر عزیزی صفحہ ٨٩ ’’عرض کردند کہ یا رسول اللہ ﷺ پس بفرمائید کہ ایمان کدام فرقہ افضل است فرمودند کہ ایمان فرقہ کہ ہنوز در پشت پدرانند و بعد از من خواہند آمد و برمن ایمان خواہند آورد‘‘ الخ۔ اب تو تسلی ہوئی کہ ایمان کی رو سے جو رسول اللہ ﷺ پر آخر ایمان لائے اس کا ایمان افضل ہے۔ باقی سورۂ فاتحہ کی بابت گزارش ہے کہ خدا تعالیٰ کی کلام میں افضلیت و ناقصیت ہرگز نہیں کیونکہ خدا کی کلام تمام افضل ہے۔ ناقص کلام خدا کی کلام نہیں ہو سکتی مجھ کو اس وقت ایک بزرگ صوفی کا قول یاد آیا ہے کہ ان کے پاس ایک شخص نے جاکر عرض کہ حضرت مجھ کو اسم اعظم بتائیں آپ نے فرمایا کہ تو ہم کو اسم ادنیٰ بتا دے ہم تجھ کو اسم اعظم بتاتے ہیں تو وہ شخص شرمندہ ہو کر بولا کہ حضرت خدا کا کبھی ادنیٰ نام بھی ہوتا ہے؟ پس ہم بھی میر قاسم مرزائی سے عرض کرتے ہیں کہ وہ کوئی خدا کی کلام ہم کو ادنیٰ بتا سکتے ہیں؟ کہ سورہ فاتحہ کو افضل کہتے ہیں۔ ہم سمجھاتے ہیں سورۂ فاتحہ کی فضیلت فی نفسہ کلام خدا ہونے میں دوسری کلام الٰہی پر نہیں ٢١٠

صفحہ ٤٨٧

ہے اور ایسا خیال کرنا کہ خدا کی کلام میں فضل و نقص ہے کفر ہے صرف تلاوت کرنے والے کے حق میں باعث فضیلت ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ کلام ربانی تو سب برابر ہے اور احکام الہی بھی برابر ہیں مگر نماز کو فضیلت ہے کہ اس کی ہر رکعت میں پڑھنے کی تحریص دی ہے اور کسی صورت میں معاف نہیں ہو سکتی اسی طرح سورۃ فاتحہ کی فضیلت پڑھنے والے کے حق میں باعث فضیلت ہے نہ کہ کلام ربانی ہونے میں افضل ہے اگر سورۃ فاتحہ افضل ہے تو نعوذ باللہ دوسری کلام الہی ادنیٰ ہے ورنہ تقدم و تاخر زمانی ہے۔ افسوس! جب مرزائیوں کے پاس کوئی شرعی دلیل نہیں ہوتی تو نص قرآنی کے مقابلہ میں عقلی ڈھکوسلے لگاتے ہیں جیسا کہ عیسائی عوام کو دھوکا دینے کے واسطے کہا کرتے ہیں کہ عیسیٰ افضل ہے کیونکہ آسمان پر ہے اور ان کو جواب بھی ویسا ہی دیا جاتا ہے کہ ترازو کا خالی پلہ اونچا ہوتا ہے پس ہم بھی جواب دینے کے لیے مجبور ہیں۔

قولہ نمبر ٧٢

(النبوۃ ص ٢١٧)

کیا تکمیل دین مانع نبوت ہے۔

الجواب: بیشک تکمیل دین مانع نبوت ہے جیسا کہ ہم اوپر بدلائل قاطع ثابت کر آئے ہیں کہ جب دوسرا نبی آنا مانیں گے تو ضرور ہے کہ دین میں نقص مانیں کہ ہماری ضروریات کے مطابق نہیں آپ نے جس قدر آیات لکھی ہیں صرف کتاب کو طول کرنے کے واسطے ورنہ ایک آیت بھی باموقعہ نہیں ہے یہ صرف جہلاء کو دھوکہ دیتے ہیں کہ دیکھو ہم بھی آیات قرآن جانتے ہیں۔ جاہل بیچارے کیا جانیں کہ آیت بےمحل استعمال کی ہے؟

قولہ نمبر ٧٣

(النبوۃ ص ١١٨)

تکمیل دین مانع نبوت نہیں۔

الجواب: یہ اوپر کا سوال الٹ دیا ہے جس کا جواب ہو چکا ہے اور یہ دعویٰ بلادلیل ہے کہ تکمیل دین مانع نبوت نہیں اگر کوئی دلیل ہوتی تو پیش کی ہوتی۔ اگر موسیٰ کی سند مانیں تو غلط ہے کیونکہ وہ صرف قوم فرعون کی طرف رسول آئے تھے اور وہ نور اور ہدایت صرف فرعون کی قوم تک محدود تھے۔ اسی واسطے محمد رسول اللہ ﷺ جدید اور کامل شریعت کل عالم کے واسطے لائے۔ اب ان کے بعد نہ نئی شریعت کی ضرورت ہے اور نہ نئے نبی کی خواہ کسی قسم کا ہو۔

قولہ نمبر ٧٤

”نبوت کے دو اجزاء ہیں۔ ایک اوامر و نواہی، حج، زکوٰۃ، نماز، روزہ اور طریق

٢١١

صفحہ ٤٨٨

عبادات حق العباد حلال و حرام وغیرہ جن کو احکام شریعت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ دوسرے بشارات اور نذرات و معارف کلام ربانی۔“

(الندوة ص ١١٨)

الجواب: یہ بالکل غلط اور غیر معقول بلاسند ہے کہ نبوت کے دو قسموں میں سے ایک تو بند ہو جائے اور دوسری جاری رہے اور جاری بھی ایسی کہ ١٣ سو سال تک تو بالکل بند ہو اور جو نبوت کا دعویٰ کرے کاذب سمجھا جائے اور خدا تعالیٰ اس کو برباد کرتا رہے مگر ١٣ سو سال کے بعد جو مدعی نبوت ہو اس کو سچا سمجھا جائے اور یہ غیر معقول ہے اور اگر امکان ہے تو سب کاذب سچے ہوئے۔ جن بشارات کو آپ دوسری جزو قرار دیتے ہیں وہ غلط ہے اس واسطے کہ قرآن کے سامنے آپ کا من گھڑت ڈھکوسلہ کون سنتا ہے؟

محمد ﷺ بشیر بھی تھے اور نذیر بھی تھے۔ ان الذین امنوا و عملوا الصلحت فلہم اجر غیر ممنون. فرما کر تو آپ ﷺ بشیر ہوئے اور کفار کو دوزخوں اور سزاؤں اور آگ کی زنجیروں کی خبر دے کر اور ولہم عذاب عظیم فرما کر نذیر بھی آپ ﷺ ہی ہوئے اب کون عقلمند مان سکتا ہے کہ نذیری احکام کے بتانے والا تو محمد ﷺ ہو اور بشیر غلام احمد قادیانی ہو۔ تیرہ سو برس کا زمانہ بلا بشیر چلا آیا۔ ذرہ عقل کو کام میں لاؤ اور سوچو کہ جب محمد ﷺ سچا دین لائے اور اوامر و نواہی بتا کر فرمایا کہ یہ کرو اور اس کا بدلہ تم کو بہشت ملے گا جسکے نیچے نہریں ہوں گی اور ہر طرح آرام ہو گا اور تم وہاں سے کبھی نہ نکالے جاؤ گے اور اگر تم کفر کرو گے اور خدا کا حکم نہ مانو گے اور فساد اور گناہ کرو گے تو تم کو سخت درد والا عذاب ہو گا۔ اب کوئی مخبوط الحواس ہی اس بات کو یقین کر سکتا ہے کہ ایک جز نبوت تو محمد ﷺ پر ختم ہو گئی اور ایک جز یعنی مبشرات جاری ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مبشرات جو حدیث میں آیا ہے ٤٦ واں حصہ نبوت کا مبشرات ہیں جو رویا صالحہ کے ذریعہ معلوم ہوتے ہیں آپ اس پر پھول رہے ہیں اور اس کے معنی آپ کی سمجھ میں نہیں آئے۔ جناب عالی! عرض یہ ہے کہ مبشرات بشارتیں جو کہ خواب میں دی جاتی ہیں وہ سزا اور جزا کے متعلق نہیں وہ تو کسی شخص نے خواب میں گھوڑا دیکھا اور عزت افزائی ہو گئی یا اور خوشخبری تصور کر لی سو یہ ظاہر ہے کہ اس قسم کے مبشر ہر ایک زمانہ میں ہوتے آئے ہیں۔ کوئی شخص خوابوں کے ذریعہ سے نبی نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ ہم پہلے لکھ آئے ہیں کیا خواب ناموں اور فالناموں اور قرعہ اندازوں اور نجومیوں اور رمالوں جوتشیوں و کاہنوں وغیرہ کو بھی آپ نبی کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی مبشر ہیں اور ان کی بشارتیں مرزا قادیانی کی بشارتوں سے زیادہ سچی نکلتی ہیں۔ مگر یہ بھی غلط ہے مرزا قادیانی مبشر ہرگز نہیں

٢١٢

صفحہ ٤٨٩

تھے ان کی تصنیف دیکھو تو ڈرانے والے ہیں۔ فلاں مر جائے گا فلاں کو ذلت ہو گی فلاں کو عذاب ہو گا وغیرہ وغیرہ مرزا قادیانی تو ہمیشہ موت کی خبریں دیتے رہے کیونکہ جانتے تھے کہ سب نے مرنا ہے موت کی پیشگوئی ضرور پوری ہو گی۔

قولہ نمبر ٧٥

عقائد کی بنا یقینا پر ہے۔ اب ہم علماء کے اس باطل خیال پر کہ تکمیل دین نبوت ہے ایک اور طریق سے نظر کرتے ہیں۔

(النبوة ص ١٢٨)

الجواب: آپ کی من گھڑت نامعقول بات کو نص قرآنی کے مقابل کون مانتا ہے؟ اور اس کی کیا وقعت ہو سکتی ہے؟ آپ کی منطق اور لیاقت تو اسی سے معلوم ہو گئی ہے کہ آپ مدعی امکان نبوت ہو کر قرآن کی آیت مخالفین سے طلب کرتے ہیں کہ مخالفین کوئی ایسی آیت دکھائیں کہ لکھا ہو لن یبعث اللہ من بعدہ رسولا یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔ ناظرین ! اب تو میر قاسم مرزائی کی لیاقت معلوم ہو گئی کہ مدعی تو آپ ہیں کہ محمد ﷺ کے بعد نبی مبعوث ہو سکتا ہے۔ لیکن قرآن کی کوئی آیت آپ کو نہ ملی جس میں لکھا ہو کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی آئے گا۔ اپنے دعویٰ کے واسطے آپ نے مخالفین سے ہی ثبوت طلب کرتے ہیں یہ ایسی مثال ہے کہ میر قاسم مرزائی ایک شخص پر دعویٰ کریں کہ میں نے سو روپیہ اس سے لینا ہے مگر مخالف اس کا انکاری ہے اور عدالت نے ثبوت مانگا ہے کہ آپ تمسک نکالیں جس کے رو سے آپ کا دعویٰ سچا ہو سکے تو فرمائیں کہ مخالف تمسک یا تحریر پیش کرے کہ میں نے میر قاسم مرزائی کا کوئی سو روپیہ نہیں دینا۔ میر قاسم مرزائی حق حق ہے باطل باطل۔ بہت باتیں کر کے اگر کوئی غالب آ سکتا ہے تو عورتیں اور ہندوستان کی بھٹیاریاں جن سے کوئی بازی نہیں لے سکتا۔ مگر یہاں تو دین کا معاملہ ہے اور قرآن اور حدیث کے دونوں فریق پیرو اپنے آپ کو کہتے ہیں یہاں عقلی ڈھکوسلوں کا کیا کام؟ مخالفین تو آپ کو نص قرآنی بتا رہے ہیں کہ خاتم النبیین سے عدم امکان وجود جدید نبی ثابت ہے۔ اب آپ کا فرض ہے کہ کوئی آیت دکھاؤ کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو سکتا ہے بلکہ سنت اللہ کے مطابق جیسا کہ اللہ تعالیٰ پہلی کتابوں میں آنے والے نبی کی خبر دیتا آیا ہے قرآن سے بھی نکالو کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی آئے گا فضول باتوں سے کیا فائدہ؟

قولہ نمبر ٧٦

ختم نبوت کا عقیدہ ظنی ہے۔ ایک بھی دلیل ان مدعیان ختم نبوت کے پاس

٢١٣

صفحہ ٤٩٠

قطعی ویقینی نہیں ہے کہ اپنے مدلول کے مطابق ہو۔

(النبوۃ ص ١٦٢)

الجواب:۔ دروغ گویم بر روئے تو۔ کہ یہی معنی ہیں سچ ہے مرزا قادیانی نے جیسا جہاد حرام کر دیا ویسا ہی یہ بھی حرام کر دیا ہے کہ کوئی مرزائی سچ نہ بولے نص قرآنی خاتم النبیین اور نص نبوی لا نبی بعدی کو آپ دلیل نہیں سمجھتے۔ بیشک جو منافق ہیں اوپر سے محمد ﷺ کو خاتم النبیین کہتے ہیں لیکن دل میں کسی اور نبی کو مانتے ہیں ان کا عقیدہ ظنی ہے۔ سچے مسلمانوں کا تو ایمان ہے کہ محمد ﷺ کے بعد جو نبوت کا مدعی ہو کاذب ہے۔ اور ان ٣٠ کاذبوں سے ہے۔ جن کی خبر ہم کو رسول اللہ ﷺ نے ١٣ سو برس پہلے دے رکھی ہے کہ وہ میری امت سے ہو کر دعویٰ نبوت کریں گے اور جن کے اندر نفاق اور مسیلمہ پرستی کا مادہ مخفی ہے وہ میری امت سے نکل کر کاذب کی نبوت مان کر میری امت سے الگ ہو جائیں گے۔ چنانچہ وہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ ٢٣ کروڑ مسلمانوں سے مرزائیوں کی جماعت الگ ہو گئی ہے اور اس جاہل بے تمیز کی طرح جس کو برادری نے خارج کر دیا تھا اور وہ کہتا تھا کہ میں نے برادری کو خارج کر دیا ہے مرزائی کہتے ہیں کہ ہم نے تمام مسلمانوں کو کافر بنا دیا۔

قولہ نمبر ٧٧

خاتمہ نبوت بھی مانع نبوت نہیں۔ رہا لفظ خاتم جس کو نص صریح سمجھا گیا ہے وہ خود ان معنوں میں لغتاً و اصطلاحاً کہیں بولا گیا جس کے معنی خاتمہ کے ہوں۔

(النبوۃ ص ١٦٣)

الجواب: اگر آپ کو علم نہ ہو تو کیا وہ واقعی نہیں اگر آپ نے لغت کی کتاب نہیں دیکھی یا عمداً بغرض مغالطہ دہی چھوڑ دیا ہے تو کیا یہ دلیل اس بات کی ہو سکتی ہے کہ واقعی لغت میں خاتم بمعنی ختم نہیں آئے۔ دیکھو منتہی الارب لغت کی کتاب ہے یا نہیں؟ وہاں خاتم کے معنی خاتم القوم لکھے ہیں یا نہیں؟ جب آپ لغت دیکھیں گے تو اپنے آپ کو ناحق پر پائیں گے۔ اصطلاح شرع میں اور عام بول چال میں بھی ختم کے معنی ختم کرنے والا بولا جاتا ہے۔ دیکھو انوری کہتا ہے ؎

ختم شد بر تو سخاوت برمن مسکین سخن
چوں ولایت بر علیؓ و بر نبیؐ پیغمبری

اگر کسی جاہل کو سمجھ میں نہ آئے تو کتابوں اور علم کا کیا قصور ہے اردو بھی سن لو ؎

مژدہ اے امت کہ ختم المرسلیں پیدا ہوا

ختم الانبیاء کی اصطلاح سے تو تمام کتب دین بھری ہوئی ہیں۔ ہاں دھوکہ دینا

٢١٤

صفحہ ٤٩١

اور جھوٹ بول کر گمراہ کرنا آپ کا کرتب ہے ہم ابتدا کتاب میں لغت عرب کی اصل عبارت لکھ آئے ہیں وہاں سے دیکھو۔ اب ہم ذرہ ان کی نو ایجاد دلیل پر نظر ڈالتے ہیں کہ آپ نے ختم کے معنی تمام و پورا کرنے کے تو مان لیے مگر صرف ایک غلطی آپ کو لگی ہے جس کو ہم ظاہر کرتے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں کہ قرآن کے ٣٠ پارہ میں سے کسی نے دس پارے ختم کیے اور کسی نے تمام قرآن ختم کیا۔ پس محمد ﷺ نے نبوت کی تمام منازل طے کی ہیں۔ اب جو ان کے بعد اور نبی آئیں گے وہ ایسے ہوں گے جیسا کسی نے دس سیپارے ختم کیے کسی نے دو تین ہی کیے۔ غرض تمام و کمال محمد ﷺ پر ختم ہو چکا باقی منازل نبوت کو محمد ﷺ کے بعد کوئی ختم نہیں کرے گا جیسا کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں

ہست او خیر الرسل خیر الانام
ہر نبوت را بدو شد اختتام

(درثمین ص ١١٤)

دوسرا شعر

ختم شد بر نفس پاکش ہر کمال
لا جرم شد ختم ہر پیغمبرے

(درثمین ص ٦)

قولہ نمبر ٧٨

لہٰذا آپ کی مہر کے نیچے ہی ہر ایک نبی کی نبوت رہے گی۔ (النبوۃ ص ١٢٥)

الجواب: اوّل تو بسم اللہ ہی غلط ہے کہ ختم کے معنی تو مرشد بالکا، دونوں ہی تمام کرنے اور پورا کرنے کے مان رہے ہیں اور یہی ہمارا مقصود ہے کہ ختم کے معنی جو مہر انگشتری نگینہ وغیرہ کے کیے جاتے ہیں۔ اس موقعہ پر غلط ہیں تمام اور پورا کرنے کے معنی اس جگہ درست ہیں۔ سو ان دونوں مرزا قادیانی اور میر قاسم مرزائی کی عبارت سے خود بخود ثابت ہو گیا کہ ختم کے معنی پورا کرنے اور تمام کرنے کے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا شعر خود ظاہر کر رہا ہے ۔

لا جرم شد ختم ہر پیغمبرے

ہر کا لفظ عام ہے۔ جب مرزا قادیانی مانتے ہیں کہ ہر پیغمبر کے تمام کرنے والا ہے اور اگر (ی) کو معروف پڑھیں تو بھی ہر پیغمبری و رسالت و نبوت کے پورا کرنے والا ہوا تب بھی غیر تشریعی نبوت کو بھی ختم کرنے والا ہوا۔ جب محمد ﷺ ہر نبوت و پیغمبری

٢١٥

صفحہ ٤٩٢

کے ختم کرنے والا ہوا تو پھر اس میں آپ کا کیا ثبوت ہوا؟ یہ تو مخالفین کو فائدہ ہوا کہ جیسا وہ کہتے ہیں کہ ہر نبوت و پیغمبری کا خاتم محمد رسول اللہ ﷺ ہے تم بھی خود مان گئے ۔

ہے۔ آپ خود مانتے ہیں کہ مہر لگانے میں خاتم و مختوم کے درمیان ایک تیسری چیز ہوتی ہے۔ جس پر مہر لگائی جاتی ہے آپ خود بتائیں کہ محمد ﷺ تو ١٣ سو سال سے غیر حاضر ہیں اور عرب میں مدفون ہیں ۔ وہ قادیان میں مہر لگانے آئے یا مرزا قادیانی عرب میں مہر لگوانے گئے اور مہر لاخ کی لگوا لائے یا عدالت کی اور کس چیز پر لگوا کر لائے؟ اور پہلے تو جبرائیلؑ محمد ﷺ پر بوتل و کوزہ میں الہام لاتا تھا اور خائن نہ تھا اب مرزا قادیانی کی کس بوتل پر محمد ﷺ کی مہر لگی؟ اگر یہ کہو کہ شریعت محمدی کی تصدیق کی مہر ہے تو بالکل غلط ہے کیونکہ مرزا قادیانی کے کشوف و الہام بالکل محمد ﷺ کی تصدیق کے خلاف ہیں ۔ محمد ﷺ نے تو یہ تصدیق کی تھی کہ عیسیٰ بن مریم عبداللہ و نبی اللہ ہیں اور خدا کی شان اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو یا وہ کوئی بیٹا پکڑے ۔ مگر مرزا قادیانی اپنے آپ کو ابن اللہ کہتے ہیں خالق زمین و آسمان بنتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جس چیز کا میں ارادہ کروں صرف یہ کہہ دوں کہ ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے ۔ غرض ہزار ہا مثالیں ہیں کہ محمد ﷺ کی تصدیق و شریعت کے برخلاف ہیں اس لیے یہ باطل ہوا کہ مرزا قادیانی بہ سبب پیروی شریعت محمدی ﷺ نبی ہو سکتے ہیں یا محمد ﷺ نے اس کی تصدیق کی ہے ۔

آنے والے وجود کی کبھی تصدیق نہیں کر سکتا اور نہ تصدیق کی مہر لگا سکتا ہے ۔ جس کے سر میں دماغ ہو اور حواس درست ہوں وہ مان سکتا ہے کہ لاہور کے ڈپٹی کمشنر ہونے کا حکم ١٣ سو سال پہلے ہو چکا ہے ۔ تصدیق کرنے والا تو ہمیشہ اسی کی تصدیق کرتا ہے جس کو وہ خود ملاحظہ کرے یا اس کی کتابوں کو دیکھ کر تصدیق کرے ۔ دیکھو محمد ﷺ نے تورات و انجیل کتب سماوی و انبیاءؑ وغیرہ کی تصدیق تو کر دی مگر وہ براہین احمدیہ کی تصدیق بہ سبب نہ ہونے اس کے وقت کے تصدیق نہیں کی پھر کس طرح مانا جاتا ہے کہ محمد ﷺ کی مہر سے تصدیق ہوا کرتی ہے اور جدید نبی ہو سکتا ہے ۔

کبھی نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنے جیسا کسی دوسرے کو بنائے پس جیسا خدا تعالیٰ نہیں چاہتا کہ

٢١٦

صفحہ ٤٩٣

اس کا کوئی شریک ذات و صفات میں ہو ایسا ہی رسول بھی نہیں چاہتا کہ اس کا کوئی شریک ذات و صفات میں ہو تب ہی تو لا نبی بعدی فرمایا پس یہ غلط ہے کہ محمد ﷺ اپنی صفات کا کوئی نبی بتاتے ہیں اور عقلاً بھی جائز نہیں کہ دو حکم کرنے والے ہوں اور نہ دو رسولوں کی محبت ایک امتی میں ہو سکتی ہے۔

(٦) اگر محمد ﷺ الف سے ی تک خاتم منازل و مدارج نبوت ہیں تو پھر مسلمان کس طرح ایک دوسرے مدعی نبوت کو جو صرف ایک سیپارہ کا مدعی ہے مان سکتے ہیں حالانکہ ایک سیپارہ میں بھی وہ کامل و خاتم نہ ہو یہ ایسی مثال ہے جیسا کہ ایک ایم۔ اے ماسٹر کو چھوڑ کر ایک پرائمری کے لڑکے کی شاگردی کرے۔ پس کوئی عقل کا مارا ہی ایسا کام کرے گا ہرگز کوئی ذی شعور محمد ﷺ جیسے کامل نبی و اتم مرسل کا دامن چھوڑ کر ایک ناقص نبی کے پیچھے نہیں لگ سکتا اور نہ ناقص نبی کی ناقص تعلیم کامل نبی کی کامل تعلیم کو چھوڑ کر قبول کر سکتا ہے۔

(٧) یہ سخت دھوکہ دیا جاتا ہے کہ محمد ﷺ خاتم مدارج نبوۃ ہیں حالانکہ بحث نبیوں میں ہے نہ کہ نبیوں کے درجوں میں۔ اور نص قرآنی میں خاتم النبیین ہے نہ کہ خاتم مدارج النبوۃ کس قدر دھوکہ اور ابلہ فریبی ہے کہ مسلمان تو کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین یعنی نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں اور آپ ثبوت دے رہے ہیں کہ محمد ﷺ نے مدارج نبوت الف سے ی تک ختم کیے ہوئے تھے بحث نبیوں کے اختتام کی ہے نہ کہ مدارج نبوت کی۔ کیونکہ فیض نبوت تو رسول اللہ ﷺ کی امت میں جاری ہے یعنی قرآن اور حدیث۔

(٨) بہرحال جب کہ ختم کے معنی پورا کرنے اور تمام کرنے کے مرزا قادیانی اور میر قاسم مرزائی نے بھی مان لیے تو اب ان کی غلط فہمی کو اگر دور کیا جائے کہ وہ ختم نبوت غلطی سے صفات نبوت محمد ﷺ برخلاف نص قرآنی کے بجائے ذات نبی کی مان رہے ہیں تو پھر فیصلہ ہمارے حق میں ہے کیونکہ باتفاق رائے ہر دو فریق یہ مسلم ہو گیا ہے کہ خاتم کے معنی پورا کرنے والا اور تمام کرنے والا ہے اور محمد ﷺ صرف مدارج نبوت کے ختم کرنے والے تھے بلکہ قرآن مجید میں صاف خاتم النبیین ہے خواہ (ت) کی فتح ہو یا کسر دونوں کے معنی ختم کرنے والا ہے جیسا کہ لفظ عالم کے معنی ہیں پس نتیجہ یہ ہوا کہ محمد خاتم الانبیاء علیہم السلام ہیں نہ کہ صرف خاتم مدارج نبوت فہو المراد۔

قولہ نمبر ٧٩

لفظ خاتم نص قطعی نہیں۔

(النبوۃ ص ١٢٥)

٢١٧

صفحہ ٤٩٤

الجواب: اگر نظر میں قصور ہے اور قرآن پر عمل نہیں تو قرآن کے سوا اگر کوئی اور کتاب مانتے ہو تو اس کو نص قطعی کہو مسلمان تو قرآن کی آیت کو نص قطعی یقین کرتے ہیں۔ خاتم النبیین اگر آپ کے قرآن میں نہیں ہے تو کسی مسلمان کے قرآن میں دیکھ لو۔

قولہ نمبر ٨٠

تکمیل دین پر عقیدہ کی بنا بالکل قیاسی ہے۔

(النبوۃ ص ١٢٦)

الجواب: قیاس کے مؤید جب قرآن اور حدیث ہیں تو پھر وہ نص قطعی ہے یہ آپ کی غلطی ہے کہ آپ نص قرآنی کو قیاس کہتے ہیں بلکہ آپ کا قیاس غلط ہے کہ کیا پہلے دین نامکمل تھے۔ کہ اب دین کامل ہوا۔ بیشک شرائع سابقہ کامل نہ تھیں ایسا عالمگیر کوئی مکمل دین نہ تھا۔ اگر آپ کے نزدیک کوئی اس سے بہتر دین ہے تو بتائیں۔

رسالت و نبوت کا نام ہے جب نعمت ختم ہوئی تو نبوت بدرجہ اتم ختم ہوئی۔

کیا کرتے ہیں تو ثابت ہوا کہ نعمت رسالت و نبوت ہے اور اس کا ختم ہونا مفہوم و مقصود ہے۔

ثابت ہوا کہ قانون قدرت و سنت الٰہی مقتضیٰ تھی کہ سابق انبیاء کے بعد نبی آئیں اور محمد ﷺ اخیر میں تشریف لائے اور ان کو خاتم النبیین فرما کر اتممت علیکم نعمتی فرمایا۔ اگر کسی اور نبی کو فرمایا ہے تو آپ مدعی ہیں آپ پر بار ثبوت ہے نہ کہ ہم پر اور چونکہ آپ کوئی آیت نہیں دکھا سکتے جس میں لکھا ہو کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی آئے گا یا کسی نبی کی بابت قرآن میں پیشگوئی ہے پس ثابت ہوا کہ محمد ﷺ کے بعد کسی قسم کا نبی نہ آئے گا اور مدعی کاذب ہوگا۔

قولہ نمبر ٨١

شیخ اکبر و ختم نبوت۔

(النبوۃ ص ١٢٨)

الجواب: شیخ اکبر کا یہ مذہب نہیں جو آپ لکھتے ہیں یا جو آپ کا عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی نبی ہیں اپنے حسب عادت خود مرزا قادیانی اپنے مطلب کے فقرات اخذ کر کے اصل مذہب و فیصلہ جو شیخ اکبر کا ہے چھوڑ دیا ہے اور عوام کو دھوکا دہی کی غرض سے ایسا کیا ہے اصل عبارت شیخ کی ہم نقل کر کے ناظرین کو بتاتے ہیں کہ مرزائیوں کی ایمانداری کی

٢١٨

صفحہ ٤٩٥

داد دیں۔ وہو ہذا۔ وہی التی ابقی اللہ علی المسلمین وہی من اجزاء النبوۃ فما ارتفعت نبوۃ بالکنہ ولہذا قلنا انما ارتفعت نبوۃ التشریع وہذا معنی لا نبی بعدہ فقد ادرجت النبوۃ بین جنبیہ فقد تمت بہ النبوۃ بلاشک فعلمنا ان قولہ لا نبی بعدہ ای لا مشرع خاصۃ لانہ لایکون بعدہ نبی فہذا مثل قولہ اذا ہلک کسری فلا کسری بعدہ واذا ہلک قیصر فلا قیصر بعد ولم یکن کسری و قیصر الا ملک الروم والفرس وما زال الملک من الروم ولکن ارتفع ہذا الاسم مع وجود الملک فیہم و تسمی ملکہم باسم آخر بعد ہلاک قیصر و کسری کذالک اسم النبی زال بعد رسول اللہ ﷺ الخ. یعنی نبی کی شریعت و تعلیم و اسوہ حسنہ و تمام حسنات وغیرہ مسلمانوں میں اجزائے نبوت موجود ہیں۔ یعنی جب تک قرآن مسلمانوں میں ہے تب تک نبوت مسلمانوں میں ہے اور جب تک شرعی احکام ان میں موجود رہیں گے۔ نبوت محمدی ہے۔ جس طرح قیصر و کسری کے مر جانے سے ملک فارس و روم موجود ہیں۔ اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ کے فوت ہو جانے سے شریعت و نبوت مسلمانوں سے نہیں اٹھ گئی صرف نام نبوت کا اٹھ گیا ہے۔ یعنی محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں کہلا سکتا۔ سو یہ تو تمام اہل اسلام کا مذہب ہے کہ اجزائے نبوت قرآن و حدیث و شریعت مسلمانوں میں ہیں اور بذریعہ علماء و مجتہدین تمام عالم میں پہنچتی رہتی ہیں اور علمائے دین تبلیغ دین میں بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند ہیں مگر نبی نہ کہلائیں گے؟ شیخ اکبر کی کونسی عبارت سے نکال لیا کہ امت محمدی ﷺ میں سے ہو کر کوئی نبی کہلا سکتا ہے؟ شیخ اکبر کا فیصلہ منظور کرو کسی طرح خدا آپ کو ہدایت بخشے دیکھو شیخ اکبر کا کیا فیصلہ ہے۔

پس وہ (محمد ﷺ) قطب جس پر احکام عالم کا دار و مدار ہے اور ازل سے ابد تک دائرہ وجود کا مرکز ہے وہ ایک ہی حقیقت محمدیہ ﷺ ہے اور باعتبار کثرت کے حکم کے وہ متعدد ہے اور نبوت کے انقطاع سے پیشتر کبھی مرتبہ قطبیت میں ظاہر ہوتا ہے جیسے حضرت ابراہیم ؑ خلیل اللہ تھے اور کبھی کوئی چھپا ہوا ولی ہوتا ہے جیسے موسیٰ ؑ کے زمانہ میں حضرت خضر علیہ السلام تھے اور یہ قطب اس وقت تھے جب موسیٰ ؑ اس خلعت قطبیت سے مشرف نہیں ہوئے تھے اور نبوت تشریع کے منقطع اور دائرہ نبوت کے پورا ہونے اور باطن سے ظاہر کی طرف ولایت منتقل ہونے کے وقت قطبیت مطلقہ اولیاؤں کی طرف منتقل ہو گی اب اس مرتبہ میں ان لوگوں سے ایک شخص ہمیشہ اس کی جگہ میں رہے گا۔ تاکہ یہ ٢١٩

صفحہ ٤٩٦

ترتیب اور یہ نظام اس کے سبب سے باقی رہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے لکل قوم ھاد ہر قوم کا ایک ہادی و رہبر ہے۔ (دیکھو مقدمہ فصوص الحکم مصنفہ شیخ اکبر صفحہ ٢٥ حقیقت محمدیہ ﷺ) ناظرین! شیخ اکبر کا مذہب تو یہ ہے مگر میر قاسم علی مرزائی نے بغرض دھوکہ دہی غلط لکھ دیا کہ شیخ اکبر کا فیصلہ ہے کہ محمد ﷺ کے بعد نبی ہو سکتا ہے۔ اللہ ان پر رحم کرے۔

خاتمہ : ناظرین! اخیر ہم ظاہر کرتے ہیں کہ تمام کتاب النبوۃ میں صرف ایک دلیل ہے جو کہ کچھ معقولیت رکھتی تھی اور وہ یہ تھی کہ چونکہ ابتدائے آفرینش سے ہمیشہ نبی و رسول مبعوث ہوتے آئے تو اب کیا وجہ ہے کہ رسولوں کا آنا بعد محمد ﷺ بند ہو جائے اور خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کو بھیج کر سلسلہ نبوت ختم کر دے۔

(٢) نبوت و رسالت نعمت الہی ہے تو پھر تمام جہان اور کل عالم کو رحمت رسالت سے کیوں محروم رکھا جائے اور ہم نے کیا قصور کیا ہے کہ ہماری طرف ماسبق امتوں کی مانند رسول و نبی نہ بھیجے جائیں؟ یہ ہے لب لباب تمام کتاب النبوۃ فی خیر الامت کا۔ مگر افسوس میر قاسم علی مرزائی مصنف کتاب نے اور مرزا قادیانی نے خود ہی اپنے دعاوی اور دلائل کی تردید کر دی کہ تشریعی نبوت و وحی رسالت بند ہو چکا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نہ وحی رسالت آ سکتی ہے اور نہ کوئی جدید شریعت ہو سکتی ہے۔ پس ہمارا جواب یہ ہے کہ جب دلیل سے آپ ٤٥ جزو نبوت کو مسدود تسلیم کر چکے ہیں۔ اسی دلیل سے بالکل باب نبوت بند ہے یہ بالکل نامعقول دلیل ہے کہ کوئی شخص امتی بہ سبب پیروی و متابعت رسول اللہ ﷺ نبی و رسول ہو سکتا ہے کیونکہ نبوت و رسالت کسبی نہیں کہ متابعت سے حاصل ہو۔ مرزا قادیانی اور ان کے مرید مانتے ہیں کہ نبوت و رسالت وہبی ہے جب نبوت وہبی ہے تو یہ باطل ہوا کہ محمد ﷺ کی پیروی سے کوئی امتی نبی ہو سکتا ہے کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی متابعت سے نبی ہوا تھا؟ ہرگز نہیں کیونکہ قرآن مجید میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ حضرت مریم کو کہ تم کو بیٹا دیا جائے گا اور وہ رسول ہو گا۔ بنی اسرائیل کی طرف و رسولاً الی بنی اسرائیل ترجمہ اور رسول ہو گا بنی اسرائیل کی طرف۔ (سورہ عمران) پس معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ حضرت موسیٰ کی متابعت سے نبی نہ ہوئے تھے۔ اگر کوئی شخص کسی نبی کی متابعت سے نبی ہوا ہو تو پھر نبوت و رسالت کسبی ہوئی وہبی نہیں رہتی اور یہ باطل ہے کہ رسالت و نبوت کسبی ہو۔ لہذا ثابت ہوا کہ یہ ڈھکوسلہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی متابعت سے کوئی امتی نبی ہو سکتا ہے باطل ہے۔ دوم واقعات نے بھی ثابت کر دیا کہ جب صحابہ کرام میں سے جن کی متابعت کے

٢٢٠

صفحہ ٤٩٧

مقابل مرزا قادیانی کی متابعت کچھ بھی نہیں وہ نبی و رسول نہ ہوئے تو مرزا قادیانی کا دعویٰ بالکل باطل ہے۔

کیا محمد ﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی متابعت سے نبی و رسول ہوئے تھے؟ ہرگز نہیں تو پھر یہ ڈھکوسلہ کس طرح درست ہو سکتا ہے کہ اب محمد رسول اللہ ﷺ کی متابعت سے نبی ہو سکتے ہیں کیا اب سنت اللہ بدل گئی ہے؟ ہرگز نہیں تو پھر یہ باطل ہے کہ محمد ﷺ کی متابعت سے کوئی نبی ہو۔ دوم ایک ڈھکوسلہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی امت میں جب نبی ہو سکتے ہیں تو امت محمدی میں کیوں نبی نہ ہوں؟ اس میں امت محمدی ﷺ کی ہتک ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ موسیٰ ؑ کو خاتم النبیین نہیں کہا گیا تھا اور موسیٰ کی امت کو خیر الامت کا لقب عطا نہ ہوا کیونکہ وہ امت ایسی کچی تھی کہ جھٹ بے ایمان ہو جاتی تھی صرف چالیس روز کے واسطے موسیٰ کوہ طور پر گئے تو پیچھے گوسالہ پرستی شروع کر دی اس واسطے ان کے ایمان کی حفاظت کے واسطے پے در پے نبی آتے رہے اور چونکہ خدا کے علم میں پہلے ہی سے تھا کہ یہ امت موسوی اس قابل نہیں کہ اس کی حفاظت کے واسطے پے در پے نبی نہ بھیجے جائیں اس واسطے فرمایا وقفينا من بعده بالرسل۔ مگر محمد رسول اللہ ﷺ پر خدا تعالیٰ کو بھروسہ تھا کہ خاتم النبیین کی امت سچی وفادار اور فرمانبردار امت ہے اور اپنے نبی کے دین کی پیروی ہر زمانہ میں اسی طرح کرے گی۔ جس طرح اس کی زندگی میں۔ اس واسطے خدا تعالیٰ نے محمد ﷺ کو وقفينا من بعده بالرسل نہ فرمایا بلکہ خاتم النبيين و اكملت لكم دينكم و اتممت علیکم نعمتی فرمایا اور ١٣ سو برس تک اس پر عمل کر کے بھی دکھا دیا کہ جب کبھی کسی کاذب مدعی نبوت و رسالت نے سر اٹھایا تو اس کو اگرچہ پہلے سنت اللہ کے مطابق مہلت دی اور ترقی بھی دی مگر آخر اس کو صفحہ ہستی سے محو کرتا رہا اور کرتا رہے گا۔ یہ صرف کذابوں کو خدا پہلے مہلت دیتا ہے اور ترقی بھی دیتا ہے جیسا کہ پہلے کاذبوں کا ہم نے حال لکھا ہے۔ وہ سب مرزا قادیانی کی طرح اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور ان کے مرید بھی ان کو سچا نبی و رسول مانتے تھے اور عزیز جانیں قربان کرتے تھے۔ ایک لڑائی میں ستر ہزار ایک کاذب کے مرید قتل ہوئے۔ مرزا قادیانی کا صرف ایک مرید قتل ہوا تو آپ نے اپنی صداقت کی دلیل بنائی کہ دیکھو کابل میں عبداللطیف نے ہماری خاطر جان دے دی اگر ہم سچے نہ ہوتے تو وہ ہماری خاطر جان کیوں دیتا؟ ہم پوچھتے ہیں کہ جس کے پیچھے ستر

٢٢١

صفحہ ٤٩٨

ہزار نے جان دی وہ تو بدرجہا آپ سے صادق ہوا پھر کیا وجہ ہے کہ آپ اس کو تو کافر اور کاذب کہتے ہیں اور اپنے آپ کو صادق؟ یہ کس قدر غضب ہے کہ خود ہی معیار صداقت قرار دیتے ہیں اور جب اسی معیار صداقت مقررہ خود سے جھوٹے ہوتے ہیں تو تاویلات باطلہ کر کے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔

خود ہی مرزا قادیانی نے عوام اہل اسلام کو ہدایت کی کہ میری نسبت اللہ تعالیٰ سے بذریعہ دعا دریافت کریں کہ میں کاذب ہوں یا صادق۔ جب لوگوں نے خوابوں اور الہاموں میں مرزا قادیانی کی بری حالت دیکھی اور ان کو مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی اطلاع خدا نے دی تو جھٹ پہلو بدل دیا کہ خواب بھی انسان کی فطرت کے مطابق ہی آتا ہے۔ جن لوگوں کو میری بری حالت معلوم ہوئی ہے ان کی بری فطرت ہو گی۔ جس کا جواب یہ ہے کہ اگر خواب حسب فطرت ہوتی ہے تو جن جن لوگوں نے آپ کی اچھی حالت دیکھی ہے وہ بھی ان کا اپنا نفس ہی ہے تو پھر آپ کی صداقت کا معیار ان کا خواب کیونکر ہوا؟ وہ تو دونوں کے واسطے حجت نہیں بقول آپ کے اچھا آدمی اچھے خواب دیکھے گا اور برا آدمی برے خواب دیکھے گا تو پھر آپ کی کرامت کیا ہوئی اور معیار کیسے ہو سکتی ہے؟ پس خواب ایک طبیعت کا فعل ہوا پھر آپ کو جن لوگوں نے صادق دیکھا وہ بھی ان کی طبیعت کا فعل ہے۔ آپ کی صداقت کے واسطے حجت نہ ہوئی۔ ہم نیچے جن جن شخصوں نے مرزا قادیانی کی نسبت استخارے کیے اور خدا تعالیٰ نے ان کو مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی خبر دی۔ نیچے لکھتے ہیں تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ وہو ہٰذا۔

(ماخوذ از ذکر الحکیم نمبر ٦ ص ١١٩)

واتخذو ایتی و رسلی ھزوا ط اولئک ھم الکفرون حقا۔ ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا و اتبع ھواہ و کان امرہ فرطا۔

مسرف کذاب۔

٢٢٢

صفحہ ٤٩٩

(الہام ١٢ جولائی ١٩٠٦ء)

ناظرین! یہ الہام سچ نکلا کہ مرزا قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو عبدالحکیم خاں کی موجودگی میں فوت ہو گئے۔ جب ایک جز الہام کی خدا نے سچی کر دی یعنی مرزا قادیانی کو موت دی اور ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نہ مرا تو ثابت ہوا کہ عبدالحکیم جو مرزا قادیانی کو کاذب کہتا تھا۔ صادق ہے اور مرزا قادیانی ضرور کاذب تھے اللہ تعالیٰ کے غالب ہاتھ نے فیصلہ سچے جھوٹے کا کیا۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے بھی اپنا الہام شائع کیا تھا کہ میں صادق ہوں۔ میرے سامنے عبدالحکیم فوت ہوگا۔ مگر خدا نے اپنے فعل سے دنیا کو اطلاع دے دی کہ کاذب پہلے فوت ہوا۔ یعنی مرزا قادیانی ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کے مقابلہ میں پہلے فوت ہو گئے۔ لیکن معیار صداقت یہی رکھی تھی کہ اگر عبدالحکیم خاں میرے مقابلہ میں زندہ رہا اور میں پہلے مر گیا تو کاذب ہوں گا۔ پس اب مرزا قادیانی کے کاذب ہونے میں ان کی اپنی کلام ہی کافی ہے۔

قرار دی تھیں جو کہ وہ بھی پوری نہ ہوئیں اور جھوٹی نکلیں۔ اس معیار مقرر کردہ خود سے بھی مرزا قادیانی صادق نہ تھے۔

تھا اور لکھا تھا کہ اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور عیسیٰ پرستی کا ستون نہ توڑ دوں اور مر جاؤں تو تمام گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔ پس مرزا قادیانی مر بھی گئے اور عیسیٰ پرستی کا زور ترقی پر ہے جس سے وہ کاذب ثابت ہوئے۔

سچے کے سامنے فوت ہوگا اگر میں کاذب ہوں تو مولوی ثناء اللہ کے سامنے فوت ہوں گا۔ پس خدا نے ایسا ہی کیا کہ مرزا قادیانی فوت ہو گئے جس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کاذب تھے۔

٢٢٣

صفحہ ٥٠٠

ہے۔ جس کے رو سے کاذب و صادق میں فرق ہو سکتا ہے کیونکہ محمد رسول اللہ ﷺ صادق پیغمبر و رسول اللہ ﷺ تھے۔ اس کی شریعت کے برخلاف جو شخص تعلیم دے یا کوئی نئی بات نکالے وہ کاذب ہے۔ اس لحاظ سے مرزا قادیانی نے اوّل تو اصل اسلام کے برخلاف تمام اسلاف کو جنھوں نے جہاد فی سبیل اللہ دین کا رکن قرار دیا ہوا تھا ان کو خونی و وحشی کہا اور آئندہ کے واسطے جہاد حرام کر دیا۔ دوم! ابن اللہ کا مسئلہ برخلاف قرآن و شریعت محمدی ﷺ جس کو اہل اسلام نے ١٣ سو برس کی کوشش سے مٹایا تھا پھر جاری کیا اور نعوذ باللہ خود خدا کا بیٹا بنے اور مرزا قادیانی نے لکھا کہ ”خدا مجھ کو فرماتا ہے کہ تو میرے پانی سے ہے اور لوگ خشکی سے۔ (اربعین نمبر ٣ ص ٣٤ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٤) یہ بالکل کفر ہے خدا تعالیٰ پانی سے پاک ہے اور نطفہ اور تولید سے خدا تعالیٰ کی ذات منزہ ہے۔ پس ایسے ایسے کفریات خلاف قرآن و شریعت ثابت کر رہے ہیں کہ مرزا قادیانی کاذب تھے۔ مسیح موعود کی ایک بات بھی ان میں نہ تھی۔ پس مسلمان ہوش کریں اور اس ٹھوکر اور فتنہ عظیم سے بچیں۔ وما علینا الا البلاغ۔

تمت بالخیر

٢٤٤

PDF 501

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

تردید معیار نبوت قادیانی

جناب بابو پیر بخشؒ

صفحہ ٥٠٢

تردید معیار صداقت قادیانی

ماہواری رسالہ تشہیذ الاذہان قادیان اکتوبر ١٩٢١ء میں اکمل قادیانی نے مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت پر قرآن مجید سے تحریف کر کے استدلال قائم کیے۔ محترم بابو پیر بخش مرحوم نے ان کا جواب تحریر کیا۔ جو پیش خدمت ہے۔

(مرتب)

برادران اسلام! مرزائیوں نے آج کل بہت شور برپا کر رکھا ہے کہ مرزا قادیانی کو نبوت و رسالت کے معیار پر پرکھو اگر منہاج نبوت و معیار رسالت پر کھرے ثابت ہوں تو مانو۔

پہلا معیار:....... فقد لبثت فیکم عمر من قبله افلا تعقلون.

(یونس ١٦)

دوسرا معیار:....... لو تقول علینا بعض الا قاویل لاخذنا منه بالیمن ثم لقطعنا منه الوتین فما منکم من احد عنه حاجزین.

(الحاقۃ ٤٤ تا ٤٧)

حالانکہ یہ معیار صداقت بالکل خلاف شریعت اسلام اور من گھڑت ہیں۔ جن کے تسلیم کرنے کے واسطے کوئی مسلمان مامور نہیں جب قرآن شریف کی آیات میں صاف صاف بیان ہو چکا کہ اب دین کامل ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں تو پھر بعد میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے جو مدعی ہو گا وہ جھوٹا ہو گا۔ پس جب سچا نبی کوئی ہونا ہی نہیں پھر معیار کیسی اور مدعی کے دعویٰ کی شنوائی کیسی اور اس کی معجزہ نمائی کیسی؟ سب کے سب بنائے فاسد علی الفاسد ہو گی ؎

خشت اول چوں نہد معمار کج
تا ثریا مے رود دیوار کج

امت محمدی میں سے کوئی شخص خواہ کیسا ہی اپنے آپ کو خدا کا مقبول بتائے ہوا

٢

صفحہ ٥٠٣

پر اڑے پانی پر چلے، ہزار معجزات دکھائے لاکھ فنا فی اللہ فنا فی الرسول ہونے کا جال پھیلا دئے جب مدعی نبوت ہوا فوراً اسلام سے خارج ہوا جس کی نظیر رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں قائم ہوئی اور حضور ﷺ نے اس کا خود فیصلہ فرمایا کہ مدعی نبوت کو کافر فرمایا نہ صرف زبان مبارک سے ہی کافر فرمایا بلکہ مدعیان نبوت و شرکاء رسالت پر قتال کا حکم صادر فرمایا اور صحابہ کرامؓ نے اس پر عمل فرما کر ان کاذب مدعیان نبوت کو بمعہ ان کے مریدوں کے نابود فرمایا۔ یہ مسیلمہ کذاب و اسود عنسی تھے جو کہ پہلے امت محمدی میں تھے اور جب مدعی وحی و رسالت خود ہوئے تو اسلام سے خارج ہوئے اور تیرہ سو برس تک اسی سنت نبوی اور تعامل صحابہ کرامؓ پر عمل چلا آ رہا ہے کہ جس وقت کسی کاذب مدعی نبوت نے سر اٹھایا۔ اسی وقت خلیفہ اسلام نے لشکر کشی کر کے اس کو نابود کیا۔ اس دراز عرصہ تیرہ سو برس میں کسی مسلمان نے صحابہ کرامؓ سے لے کر آج تک کوئی معیار نبوت نہیں بنائی۔ بلکہ اجماع امت اسی پر چلا آیا ہے کہ مدعی نبوت بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے کافر اس کا ماننے والا بھی کافر ہے بلکہ جو مسلمان مدعی نبوت سے معجزہ طلب کرے وہ بھی کافر ہو جاتا ہے۔ ذیل میں امام ابو حنیفہؒ کا فتویٰ لکھا جاتا ہے۔ و تنبا فی زمنہ رجل قال امھلونی حتی اتی بعلامۃ ”فقال من طلب منہ علامتہ کفر ولانہ بطلبہ ذلک مکذب بقول النبی ﷺ لا نبی بعدی (الخیرات الحسان ص ١١٩ فصل ٢٣، ٢٤) یعنی امام صاحب کے زمانہ میں ایک شخص نے دعویٰ نبوت کیا اور کہا کہ مجھے مہلت دو کہ میں نشان لاؤں۔ آپ نے فرمایا جو شخص اس سے نشانی طلب کرے گا۔ کافر ہو جائے گا کیونکہ نشانی مانگنا حضور اقدس ﷺ کے ارشاد لانبی بعدی کی تکذیب ہے۔

اس فتویٰ اسلام سے جو کہ اجماعی ہے کوئی ایک شخص بھی صحابہ کرامؓ سے لے کر تابعینؒ اور تبع تابعینؒ تک برخلاف نہیں تو پھر مرزائی علماء کس دلیل شرعی سے یہ معیار صداقت مقرر کرتے ہیں کسی قرآن کی آیت میں ہے تو بتا دیں؟ یا کسی حدیث نبوی میں مذکور ہے کہ میری امت سے اگر کوئی شخص مدعی نبوت ہو تو اسکو اس معیار سے پرکھو تو آج ہم بھی مرزائی صاحبان کی اس معیار کی طرف توجہ کر سکتے ہیں اور اگر مدعی نبوت کسی صورت میں بعد خاتم النبیین ﷺ سچا ہو ہی نہیں سکتا تو پھر ایسے ایسے معیار قابل التفات نہیں اور نہ کوئی مسلمان مامور ہے کہ ان کی طرف توجہ کرے پس مرزائی صاحبان کسی نص شرعی سے کسی نبی کا بعد خاتم النبیین ﷺ کے پیدا ہونا ممکناً ثابت کریں اور پھر معیار قرآن و حدیث سے تمسک کر کے لکھیں کہ مدعی نبوت کے پرکھنے کے واسطے یہ شرعی

صفحہ ٥٠٤

معیار ہے۔

اب ہم ذیل میں دونوں معیار کا جو مرزائیوں نے مقرر کیے ہیں جواب دیتے ہیں تاکہ مسلمان یہ نہ سمجھیں کہ ان کا کچھ جواب نہیں۔

اوّل معیار: فقد لبثت فیکم عمرا من قبلہ یعنی اس سے پہلے میں تم میں ایک عمر رہ چکا ہوں۔ الخ۔ اس آیت سے مرزائی صاحبان نے یہ عام قاعدہ بنا لیا ہے کہ جس کی پہلی عمر دروغ اور عیوب سے پاک ہو وہ اگر مدعی وحی و الہام ہو تو اس معیار سے سچا ہو کر نبی و رسول مانا جاسکتا ہے۔

جواب: کہ یہ خاصہ رسول اللہ ﷺ ہے اور خاصہ رسول اللہ ﷺ کو کوئی شخص کلیہ قاعدہ نہیں بنا سکتا۔ اس طرح تو ہر ایک زمانہ میں لاکھوں کروڑوں امت محمدی میں راست باز گزرے ہیں کہ جن کے اتقاء اور پرہیز گاری اور نفس کشی اور مجاہدہ کے مقابل مرزا قادیانی کی پہلی عمر کچھ وقعت نہیں رکھتی۔ کوئی مرزائی بتا سکتا ہے کہ مرزا قادیانی نے بابا فرید شکر گنجؒ جیسے چلے کاٹے۔ نفس کشی کی؟ حضرت جنید بغدادیؒ جیسے مجاہدے کیے دین کی اشاعت کے واسطے صحابہ کرامؓ تابعین تبع تابعینؒ کی طرح ایثار نفس کر کے جہاد نفسی کیا؟ سفر کی سختیاں برداشت کر کے حج بیت اللہ کو گئے؟ کسی بزرگ سلسلہ کی خدمت میں ابتداء عمر میں رہے؟ اور ”ہر کہ خدمت کرد او مخدوم شد“ کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا؟ ہرگز نہیں تو پھر بار بار کیوں پوچھا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کی پہلی عمر کے عیب بتاؤ؟ ہم حیران ہیں کہ کسی کو کیا مصیبت پڑی تھی کہ مرزا قادیانی کے بچپن کے زمانہ میں ایک خفیہ پولیس کا انسپکٹر لگا دیتا؟ کہ مرزا قادیانی کی حرکات و سکنات اور چال چلن لکھتا جاتا۔ ہم یہ تحقیق بھی کر سکتے ہیں اور ساکنان قادیان سے اور بٹالہ سے جہاں مرزا قادیانی تعلیم پاتے رہے ہیں۔ دریافت کر سکتے ہیں مگر قادیانی خلافت ہمیں اجازت دے کہ مرزا قادیانی کے حالات ابتدائی اگر معلوم کر کے لکھے جائیں گے تو پھر وہ ناراض نہ ہوں گے اور ازالہ حیثیت عرفی اور دل آزاری کا دعویٰ لے کر عدالت کی طرف نہ دوڑیں گے۔ ہم نے قادیان کے آریہ باشندوں سے حالات دریافت کرنے ہیں۔ میاں محمود قادیانی اجازت دیں کہ بیشک جو کچھ حالات قادیان سے انجمن تائید الاسلام لاہور کو معلوم ہوئے ہیں وہ شائع کر دے۔ میاں محمود قادیانی کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا تو ہم مرزا قادیانی کی پہلی عمر کے حالات بھی شائع کر دیں گے مگر بقول شخصے ”تو بروں در چہ کردی کہ درون خانہ آئی“۔ جب دعویٰ کے بعد مرزا قادیانی راستباز ثابت نہیں ہوتے اور ایسا جھوٹ تراشتے ہیں کہ کوئی معمولی چال

٤

صفحہ ٥٠٥

چلن کا آدمی بھی نہیں بول سکتا۔ دھوکہ بازی کے رسالے شائع ہوئے تو پھر کیا ضرورت ہے کہ پہلی زندگی کے حالات تلاش کیے جائیں؟ حضرت محمد رسول اللہﷺ اوّل درجہ کے راستباز تمام عمر میں تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کی اوّل عمر کی راستبازی بطور دلیل پیش کی ہے کہ میں دعویٰ نبوت کے بعد ہی راستباز نہیں بلکہ پہلے بھی تم میں رہا ہوں میں نے کبھی وحی کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ لہٰذا اب میرا وحی کا دعویٰ سچا ہے کیونکہ میں پہلے بھی سچا تھا اور اب بھی سچا ہوں۔ مرزا قادیانی کا حال اس کے برخلاف ہے۔ کیونکہ دعویٰ نبوت و رسالت و مسیحیت کے بعد بھی وہ راستباز نہیں اور دروغ بیانی کے منار کے اعلیٰ درجہ پر گامزن ہیں تو پھر ان کی پہلی عمر کی راستبازی اگر ہو بھی تو ردی ہو جائیں گی کیونکہ یہ مشاہدہ ہے کہ اکثر انسان پہلی عمر میں سچ بولا کرتے ہیں کیونکہ دنیاوی معاملات کی الجھن میں نہیں پھنسے ہوتے اور بعد میں جب ان کو غرض اور مطلب دستگیر ہوتی ہے تو دھوکہ دہی اور جھوٹ بول کر اپنا مطلب نکالتے ہیں۔ یہی حال مرزا قادیانی کا ہے کہ اپنا مطلب منوانے کے واسطے ہزاروں جگہ جھوٹ لکھ جاتے ہیں ذیل میں ان کے چند جھوٹ لکھے جاتے ہیں تاکہ ثابت ہو کہ ان کی پہلی عمر کی راستبازی کسی کام کی نہیں جبکہ بعد میں جھوٹ بولتے ہیں۔

اوّل جھوٹ: مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ”اگر ان پیشینگوئیوں کے پورا ہونے کے تمام گواہ اکٹھے کیے جائیں تو میں خیال کرتا ہوں کہ وہ ٦٠ لاکھ سے بھی زیادہ ہوں گے۔“ (اعجاز احمدی ص ١ خزائن ج ١٩ ص ١٠٧) حالانکہ کوئی پیشینگوئی پوری نہیں ہوئی بلکہ جن جن پیشینگوئیوں کو مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کا معیار قرار دیا وہ بھی جھوٹی نکلیں۔ عبداللہ آتھم کی موت کی پیشینگوئی، منکوحہ آسمانی کی پیشینگوئی، عبدالحکیم خاں ڈاکٹر کی پیشینگوئی، قادیان کا طاعون سے محفوظ رہنے کی پیشینگوئی، مولوی ثناء اللہ صاحب کی موت کی پیشینگوئی، امیر شاہ کے گھر لڑکا پیدا ہونے کی پیشینگوئی، زلزلہ عظیم کی پیشینگوئی جس کے واسطے مرزا قادیانی اور حکیم نور الدین قادیانی نے باہر میدان میں خیمے لگا لیے اور کوئی زلزلہ نہ آیا وغیرہ وغیرہ یہ سب جھوٹی نکلیں مگر مرزا قادیانی کی راستبازی یہ ہے کہ کہتے ہیں کہ پیشینگوئیاں پوری ہوئیں اور ساٹھ لاکھ گواہ کی گپ قابل داد ہے کیونکہ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ ”ستر ہزار میرا مرید ہے۔“ (نزول المسیح ص ١٥٢ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٨) اب ظاہر ہے کہ جو مرید ہے وہی گواہ ہے جب ساٹھ لاکھ مرید نہیں تو ثابت ہوا کہ ساٹھ لاکھ گواہ بھی اعجازی جھوٹ ہے۔

٥

صفحہ ٥٠٦

دوسرا جھوٹ : مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے...... کہ آسمان سے آواز آئے گی کہ ہذا خلیفۃ اللہ المہدیؒ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے ۔ جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔“ (شہادۃ القرآن ص ٤١ خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)

مرزا قادیانی کا جھوٹ یہ ہے ہذا خلیفۃ اللہ المہدی بخاری کی حدیث ہے مرزائی علماء یا تو یہ حدیث بخاری میں دکھا دیں یا مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا تسلیم کریں چونکہ یہ حدیث بخاری میں ہرگز نہیں اور مرزا قادیانی نے محض عوام کو دھوکہ دینے کے واسطے لکھ دیا کہ اصح الکتب بخاری کی یہ حدیث ہے۔ یہ دیانت کے برخلاف ہے کہ ایک شخص نبوت کا مدعی ہو اور ایسا صریح جھوٹ بولے۔

تیسرا جھوٹ : مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری نے اپنی کتاب میں اور مولوی اسمعیل صاحب علی گڑھ والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ اگر وہ کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا۔“ الخ۔ (اربعین نمبر ٣ ص ٩ خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤) یہ بھی محض جھوٹ ہے مولوی غلام دستگیر صاحب و مولوی اسمعیل صاحب کی تصنیفات میں یہ بات ہرگز نہیں لکھی۔

چوتھا جھوٹ : مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”یہ غیر معقول ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ لوگ نماز کے لیے مساجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا اور جب عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہو گا اور شراب پیئے گا اور سور کا گوشت کھائے گا اور اسلام کے حلال و حرام کی کچھ پرواہ نہ کرے گا۔“ (حقیقۃ الوحی ص ٢٩ خزائن ج ٢٢ ص ٣١) یہ کس قدر ناپاک جھوٹ ہے جو مرزا قادیانی نے بولا ہے کہ مسیح شراب پیئے گا اور سور کا گوشت کھائے گا اور اسلام کے حلال و حرام کی پرواہ نہ کرے گا۔ کوئی مرزائی بتا سکتا ہے کہ مرزا قادیانی نے کس کتاب سے یہ لکھا ہے؟ مسلمان تو صحابہ کرامؓ سے لے کر تابعین و تبع تابعینؒ تک پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ بعد نزول شریعت محمدی ﷺ پر عمل کریں گے۔ صلیب کو توڑیں گے اور سور کو ہلاک کریں گے یعنی اس کا کھانا موقوف فرمائیں گے اور یہ اجماع امت بخاری کی اس حدیث پر ہوا ہے والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکماً عدلاً فیکسر الصلیب و یقتل الخنزیر و یضع الجزیۃ (بخاری ج ١ ص ٤٩٠)

٦

صفحہ ٥٠٧

یعنی قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ قدرت میں میری جان ہے قریب ہے کہ نازل ہوں گے تم میں بیٹے مریم کے حاکم عادل پھر توڑیں گے صلیب کو اور قتل کریں گے سور کو اور موقوف کر دیں گے جزیہ اہل ذمہ سے ...... ناظرین غور فرمائیں رسول اللہ ﷺ اور کل امت محمدی ﷺ تو یہ کہہ رہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بعد نزول کسر صلیب کریں گے اور خنزیر کو ہلاک کریں گے اور اسلام کو کل دینوں پر غالب کریں گے۔ مگر مرزا قادیانی اس قدر جھوٹے ہیں کہ بالکل جھوٹ لکھ دیا کہ مسیح شراب پیئے گا اور سور کا گوشت کھائے گا اور اسلام کی حلال و حرام کی پرواہ نہ کرے گا...... جو شخص بعد دعویٰ نبوت اس قدر جھوٹا ہے اس کے پہلی عمر کے دیکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ فقد لبثت فیکم عمراً سے یہ مطلب نہیں ہے کہ فقط حضور ﷺ کی پہلی عمر گناہ سے پاک تھی کیونکہ یہ خصوصیت ایسی نہیں کہ نبوت و رسالت کا خاصہ ہو سکے کیونکہ یہ مشاہدہ ہے کہ کروڑہا بندگان خدا ہر ایک زمانہ میں ہوتے آئے ہیں کہ ان کی زندگی گناہ سے پاک رہی ہے مگر وہ نبی نہ تھے جو خصوصیت نبی کریم ﷺ کی فقد لبثت فیکم عمراً کی ہے وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ چالیس برس تک کفار عرب میں رہے اور تمام کفار عرب کو علم تھا کہ حضور ﷺ کسی استاد سے پڑھے ہوئے نہیں اور لکھ پڑھ نہ سکتے تھے چالیس برس کے بعد یک لخت ایسی تعلیم پیش کرنا جس کی نظیر دنیا بھر کی کسی کتاب میں ایسی اکمل و اتم طور پر نہ تھی اور بغیر کسی ظاہری اسباب کے کل علوم پر حاوی ہو جانا اور ایسی سیاسی و تمدنی و معاشی و معادی علوم کا بغیر ظاہری تعلیم کے حاصل کر لینا یہ ایک کھلا معجزہ تھا کہ جس کی نظیر کفار عرب لانے کے واسطے عاجز تھے اور تمام دنیا تیرہ سو برس سے عاجز ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے بطور دلیل یہ امر پیش کیا ہے کہ اے محمد ﷺ تم ان کفار عرب کو کہہ دو کہ میں چالیس برس تک تم میں رہا ہوں تم غور نہیں کرتے کہ میں نے نہ کسی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور نہ کسی معلم سے علوم حاصل کیے اور پھر ایسی کتاب بذریعہ وحی پیش کرتا ہوں جس کے اندر پہلے آسمانی کتابوں کے مضامین ہیں اور گذشتہ زمانوں کے حالات اور قصے اور احکام شرائع سابقہ و آداب مکارم الاخلاق و فصاحت و بلاغت جس نے فصحاء و بلغاء عرب کو للکار کر مثل لانے کو کہا اور عاجز کر دیا ایسی کتاب بغیر تائید خدا تعالیٰ اور وحی الٰہی کے کس طرح ہو سکتی ہے افلا تعقلون ”کیا تم عقل نہیں کرتے کہ ایسی وحی کا پہلے کسی نے اظہار کیا ہے۔ اگر میرے اپنے نفس اور علم اور فہم سے یہ باتیں ہوتیں تو اس چالیس سال کے عرصہ میں پہلے میں کیوں نہ ظاہر کرتا؟ اور تم لوگ عقل کرو کہ اگر یہ کسی انسان کا منصوبہ ہوتا تو تم لوگ

صفحہ ٥٠٨

ضرور اس سے واقف ہوتے کیونکہ میں تم میں ہی رہتا ہوں۔ اگر میں نے کسی معلم سے تعلیم پائی ہے تو تم کو اس کا علم ہوتا۔ جس کو اب تم ظاہر کرتے مگر چونکہ تم کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکتے کہ میں نے فلاں وقت فلاں استاد سے یا فلاں دارالعلوم سے سیاسی و تمدنی اخلاقی و مذہبی تعلیم پائی ہے اور فلاں یہود و نصاریٰ وغیرہ سے آسمانی کتابوں کو پڑھا ہے جس کے مضامین قرآن میں درج ہیں۔ اس لیے ثابت ہوا کہ میں جو کچھ کہتا ہوں وحی الٰہی سے کہتا ہوں اور یہ انسانی طاقتوں سے بالاتر ہے کہ ایک اُمّی شخص وہ وہ علوم اور نکات حل کرے جن کے حل کرنے کے واسطے بڑے بڑے حکماء و فلاسفر عاجز تھے۔ کیا یہ دلیل کامل نہیں ہے کہ میں جو کچھ کہتا ہوں خدا کی طرف سے کہتا ہوں کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ ایک شخص تمام عمر تو اَن پڑھ ہو اور یکدم دعوٰی وحی و نبوت کر کے کاشف علوم ظاہری و باطنی ہو جائے اور ہر ایک عالم و فاضل کو ایسا جواب دے جو اس کی کتاب میں مذکور ہو بلکہ ان کے اختلافی مسائل کو بھی فیصلہ کر دے۔ مولانا حالیؒ فرماتے ہیں؎

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا
مس خام کو جس نے کندن بنایا
کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا

اب جو کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کو اسی معیار پر دیکھو تو یہ بالکل غلط اور قیاس مع الفارق ہے جو کہ اہل علم کے نزدیک باطل ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے حالات بعد دعویٰ وقبل از دعویٰ بالکل مخالف ہیں حضرت خلاصہ موجودات محمد ﷺ کے دیکھو ذیل کے دلائل۔

سایہ اٹھایا گیا تھا تا کہ کوئی مخالف یہ نہ کہے کہ آنحضرت ﷺ کی تربیت و تعلیم و تہذیب اخلاق زیر نگرانی والدین بوجہ احسن ہوئی ہے۔ اس کے برخلاف مرزا قادیانی نے ماں باپ کے سایہ کے تلے تربیت و تعلیم حاصل کی اور ایک رئیس کے گھر پیدا ہوئے جس نے ان کی تادیب و تعلیم کا انتظار کیا پس فقد لبثت فیکم عمرا مرزا قادیانی پر صادق مثال نہیں آتی۔

دعویٰ سے پہلے کوئی راستباز اور امین نہیں جانتا تھا۔

و فال تھی اس بات کی کہ آپ ﷺ آئندہ کسی عمر میں قیادت و سیادت فرمانے والے

٨

صفحہ ٥٠٩

ہیں۔ مرزا قادیانی نے ابتدائی عمر میں گلہ بانی نہیں کی بلکہ ظاہری علوم عربی و فارسی کی تعلیم پاتے رہے۔

تھے۔ اس کے مقابل مرزا قادیانی شاعر تھے اور شاعر بھی ایسے کہ کوئی عالی مضمون ان کو نہ سوجھتا تھا تمام عمر استعارہ و مجاز و بروز میں کھو دی آخر خودستائی میں ایسے غرق ہوئے کہ نبی بنے اور اپنی شان حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی زیادہ بتانے لگے دیکھو کیا کہتے ہیں۔

له خسف القمر المنیر وان لی
خسا القمران المشرقان اتنکر

یعنی اس کے لیے (محمد مصطفےٰ ﷺ کے لیے) چاند کا خسوف ظاہر ہوا اور میرے لیے (یعنی مرزا کے لیے) چاند سورج دونوں کا کیا تو انکار کرے گا۔ (اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) پھر لکھتے ہیں ”جو میرے لیے نشان ظاہر ہوئے وہ تین لاکھ سے زیادہ ہیں۔ (اخبار بدر ١٩ جولائی ١٩٠٦ء) حالانکہ تحفہ گولڑویہ میں لکھتے ہیں ”تین ہزار معجزات ہمارے نبی ﷺ سے ظہور میں آئے۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ٤٠ خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) اب مسلمان خود فیصلہ کر لیں کہ مرزا قادیانی کی فضیلت نبی کریم ﷺ پر کس قدر ہے؟ یعنی جو فرق لاکھ اور ہزار میں ہے وہی فرق مرزا قادیانی اور نبی کریم ﷺ میں ہے۔ پھر افسوس اس رعونت پر یہ بھی دعویٰ ہے ؎

ما مسلمانیم از فضل خدا
مصطفےٰ مارا امام و مقتدا

(سراج منیر ص ٩٣ خزائن ج ١٢ ص ٩٥)

کیا پیشوا کی یہی عزت ہے جو مرزا قادیانی کرتے ہیں؟ کہ اپنے معجزے تین لاکھ اور پیشواء کے معجزے تین ہزار؟

کی زندگی بسر کرنا اظہر من الشمس ہے۔

نے جائز وارثوں کو محروم کرنے کے واسطے اپنی زمین و باغ اپنی زوجہ نصرت جہاں بیگم کے نام گروی کر دی اور اکتیس سال کے گزرنے کے بعد بیع بالوفا کر دی اور لکھ دیا کہ عرصہ تیس سال تک فک الرہن زمین مرہونہ نہیں کراؤں گا۔ بعد تیس سال کے ایک سال میں

٩

صفحہ ٥١٠

جب چاہوں زر رہن دوں تب فک الرہن کرا لوں ورنہ بعد انقضائے میعاد بالا یعنی اکتیس سال کے تیسویں سال میں مرہونہ بالا انھیں روپیوں پر بیع بالوفا ہو جائے گی اور مجھے دعویٰ ملکیت نہیں رہے گا قبضہ اس کا آج سے کرا دیا ہے۔

(دیکھو رہن نامہ منجانب مرزا قادیانی مرقومہ ٢٥ جون ١٨٩٨ء کلمہ فضل رحمانی ص ١٣٣)

اب سوال یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے واقعی روپیہ لے کر رہن نامہ لکھایا فرضی کارروائی کی؟ منشی احمد بخش سب رجسٹرار جس نے رہن نامہ رجسٹری کیا ہے۔ بطور شہادت لکھتا ہے کہ ”پانچ ہزار روپے میں سے ایک ہزار کا کرنسی نوٹ اور باقی زیورات میرے سامنے مرزا قادیانی کو دیئے گئے۔“ دیکھو اشٹام بک مورخہ ٢٥ جون ١٨٩٨ء دستاویز نمبر ١٤٧٨ (کلمہ فضل ص ١٣٣۔١٣٤) جس سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ یہ رہن نامہ نام نہاد بناوٹی تھا کیونکہ طلائی زیورات مرزا قادیانی کے اپنے تھے اور بعد رجسٹری پھر زیورات مرتہنہ کو واپس دیئے گئے کیونکہ کسی قادیانی اخبار سے ثابت نہیں کہ وہ زیور کس جگہ فروخت ہوئے اور روپیہ کہاں خرچ ہوا؟ دوم ...... یہ بھی ثابت ہوا کہ مرزائیوں کی ام المومنین گروی زمین رکھ کر اس کا منافع لیتی ہے جو کہ شریعت کی رُو سے جائز نہیں۔ سوم ...... مرزا قادیانی کا اتقا کا بھی معلوم ہوا کہ اس منافع یعنی سود کو زوجہ کے واسطے جائز رکھا۔ چہارم ...... یہ بھی معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی پر ان کی اپنی زوجہ کا اعتبار نہ تھا کہ زیور جو حقیقت میں مرزا قادیانی کا مال تھا قرض دے کر تحریری گروی نامہ کرا لیا تا کہ منکر نہ ہو جائیں اور زیورات کا روپیہ خورد برد نہ ہو جائے اور رہن نامہ بھی رجسٹری کرایا کہ مرزا قادیانی تحریری دستاویز سے انکار نہ کریں۔ افسوس اسی اعتبار پر بار بار کہا جاتا ہے کہ فقد لبثت فیکم عمراً کا معیار مقرر کرو۔ جس شخص کی بیوی جو کہ ہر حال میں محرم راز ہے اس پر اعتبار نہیں کرتی اور رجسٹری کرا لیتی ہے پھر دوسرے کس طرح اعتبار کریں؟ آؤ اسی ایک بات کو معیار صداقت بناؤ کہ نبی کریم ﷺ کی بیوی اس قدر آنحضرت ﷺ پر اعتبار کرتی ہے کہ کل مال و متاع حوالے کرتی ہے اور صرف دیانت اور راست بازی پر اعتبار کرتی ہے کوئی تحریر نہیں لیتی۔ اور اس کے مقابل مرزا قادیانی کی بیوی ہے کہ بغیر زمین و باغ گروی کے قرض حسنہ نہیں دیتی اور گروی نامہ بھی رجسٹری کرا لیتی ہے کہ دستاویز سے مرزا قادیانی انکار نہ کریں اب بھی ضرورت ہے کہ مرزا قادیانی کی پہلی عمر پر نظر کریں؟ جبکہ بعد کی عمر میں جبکہ نبوت و رسالت کا دعویٰ ہے بیوی اعتبار نہیں کرتی۔ یہی فرق ہے سچے اور جھوٹے نبی میں۔ کوئی قلب سلیم رکھتا ہے تو سوچے اور کوئی سعید روح

٥١

صفحہ ٥١١

ہے تو سچ اور جھوٹ میں فرق کرے؟ کہ مرزا قادیانی نے جو ٣٠ سال کی شرط لکھ دی کہ اکتیس سال کی میعاد میں فک الرہن نہ کروں گا کیا نیت تھی؟ اور لاکھوں روپے کی آمدنی کہاں گئی؟

کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اس کے مقابل مرزا قادیانی ہیں کہ دعوے سے ہی انکار ہے۔ ذیل کی عبارات ملاحظہ ہوں ۔

ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے نبیوں کا خاتمہ کر دیا ۔“

(حمامة البشریٰ ص ٢٠ خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)

ہو جاؤں اور قوم کافرین سے جا کر مل جاؤں اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ میں مسلمان ہو کر نبوت کا دعویٰ کروں۔“

(حمامة البشریٰ ص ٧٩ خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)

نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥)

(دیکھو آسمانی فیصلہ صفحہ ٣ خزائن ج ٤ ص ٣١٣)

(نوٹ) قادیانی جماعت نے جو حقیقۃ النبوۃ کے صفحہ ١٨٦۔١٨٧ پر جو لکھا ہے ”آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا ختم ہونا جو عقیدہ رکھتا ہے وہ لعنتی اور مردود ہے۔“ مرزا قادیانی بھی ختم نبوت کا عقیدہ رکھتے تھے وہ کیا ہوئے؟ دوم مرزا قادیانی اس کو بے دین و کافر کہتے ہیں جو بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے کسی نبی کا آنا جائز سمجھے۔ مرزا قادیانی اور قادیانی جماعت میں کون سچا ہے؟

رکھتے تھے۔ اس کے مقابل مرزا قادیانی نے اپنی بیوی یعنی مرزا سلطان احمد صاحب کی والدہ کو معلق رکھا جو خلاف قرآن مجید ہے اور نان نفقہ تک بند کر دیا۔ ان کا قصور یہ بتایا جاتا ہے کہ منکوحہ آسمانی کے رشتہ دلوانے میں انھوں نے اپنے رشتہ داروں کو مجبور کیوں نہ

٢٢

صفحہ ٥١٢

کیا؟ دوسرا انصاف مرزا قادیانی کا یہ ہے کہ اگر محمدی بیگم منکوحہ آسمانی کا رشتہ اس کا والد کسی اور جگہ کر دے گا تو مرزا قادیانی اپنے بیٹے سے اس کی بیوی عزت بی بی جو کہ منکوحہ آسمانی کے باپ کی رشتہ دار ہے طلاق دلا دیں گے۔ افسوس ۔

مجرموں کو چھوڑ کر بے جرم کو دینی سزا
مرزا قادیانی عدالت ہے بھلا کیا خاک کی

رشتہ نہ کرے محمدی بیگم کا باپ اور سزا دی جائے عزت بی بی کو۔ یہ ہے صفت عدالت جو مرزا قادیانی میں تھی؟

اس کے مقابل مرزا قادیانی اس صفت سے بالکل عاری تھے تلوار کا نام سن کر جان ہوا ہو جاتی تھی۔ قرآن کے منکر ہو کر جہاد ہی حرام کر دیا چہ خوش ۔

زاہد نہ داشت تاب وصال پری رخاں
کنجے گرفت و ترس خدا را بہانہ ساخت

کرتے تھے اور وہیں نعمت نبوت و رسالت سے سرفراز کیے گئے۔ مرزا قادیانی ابتدائے عمر میں تحصیل علوم دنیاوی کرتے رہے اور بعد میں ملازمت اختیار کر لی۔ کچھ حصہ عمر کا امتحان وکالت یعنی مختاری میں ضائع کیا۔ امتحان میں فیل ہوئے کچھ حصہ عمر کا کیمیا گری کے نسخوں کے حل کرنے میں بھی خرچ کیا۔ کچھ حصہ عمر کا سیّد ملک شاہ ساکن سیالکوٹ سے علم رمل و نجوم کے حاصل کرنے میں خرچ کیا۔ کچھ حصہ عمر کا ایک عرب صاحب سے دست غیب کے عمل کے عامل ہونے کے واسطے بھی خرچ کیا۔ (چودھویں صدی کا مسیح حصہ اول) اب کہا جاتا ہے کہ فقد لبثت فیکم عمراً کو معیار بناؤ بسم اللہ بناؤ۔ مرزا قادیانی نے کون سے چلے کاٹے؟ کس کس پیر طریقت سے استفادہ کیا؟ کون سی نفس کشی کی؟ کس وقت بے تعلق ہو کر یاد خدا میں رہے؟ نوکری چھوڑتے ہی میدان مباحثہ میں آئے جہاں نمازیں بھی وقت پر اور باجماعت ادا نہ کر سکتے تھے۔ بمشکل تمام سجدہ کے واسطے وقت ملتا تھا۔ و آن ہم بصد پریشانی کیونکہ دل تو مضامین میں لگا ہوا تھا جس شخص نے تمام دنیا کو جواب دینا ہو اس کو جمعیت خاطر کہاں اور فنا فی اللہ کا مقام کب حاصل ہوتا ہے؟ مولانا روم فرماتے ہیں ۔

بر زباں تسبیح و در دل گاؤ خر
ایں چنیں کے کے دارد اثر

12

صفحہ ٥١٣

پس مرزا قادیانی کے واسطے فقد لبثت فیکم عمراً معیار نہیں ہو سکتی۔ یہ تو رسول اللہ ﷺ کا ہی خاصہ تھا جو ان کی ذات ستودہ صفات کے ساتھ خاص تھا جیسا کہ امی ہونا آپ ﷺ کی ذات کے ساتھ خاص تھا ورنہ ہر ایک اُمی یعنی ان پڑھ نبی ہو سکتا ہے؟ دوم ...... جس شخص کے والدین فوت ہو گئے ہوں وہ بھی کہہ سکتا ہے کہ میں نبی ہوں؟ معیار نبوت پر مجھ کو دیکھو؟ حضرت محمد ﷺ کے والدین فوت ہو گئے تھے اور میں بھی یتیم ہوں۔ سوم ...... جس شخص کے گھر اولاد نرینہ زندہ نہ رہتی ہو وہ بھی کہہ سکتا ہے کہ میں نبی ہوں اور رسول ہوں؟ اور ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله و خاتم النبیین کو معیار صداقت پیش کر سکتا ہے؟ کہ مجھ کو معیار نبوت و رسالت پر دیکھو جیسے محمد ﷺ کسی مرد کے باپ نہ تھے۔ میں بھی کسی مرد کا باپ نہیں ہوں مجھ کو نبی مان لو۔ کیا کوئی مسلمان ایسی معیار کو تسلیم کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں کیونکہ جو خاصہ رسول اللہ ﷺ ہے وہ عام قاعدہ نہیں ہو سکتا۔ پس اسی طرح فقد لبثت فیکم عمراً بھی خاصہ رسول اللہ ﷺ ہے یہ عام قاعدہ و معیار نبوت نہیں ہو سکتا۔

ایک ضروری سوال

جب فقد لبثت فیکم عمراً معیار نبوت عام ہے تو میاں عبداللطیف مرزائی ساکن گنا چور ضلع جالندھر نے جو دعویٰ نبوت کیا ہے اور صاف کہتا ہے کہ مجھ کو اسی قاعدہ سے پرکھو۔ جس سے مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہو تو پھر قادیانی جماعت نے اس پر کفر کا فتویٰ کیوں دیا ہے؟ اس کو اسی معیار سے کیوں نہیں پرکھتے؟ دوسرا شخص میاں نبی بخش مرزائی ساکن معراجکے ضلع سیالکوٹ جو مدعی نبوت ہوا ہے اور اس کی پہلی زندگی کی پاکیزگی حکیم خدا بخش صاحب نے اپنی کتاب عسل مصفے میں دو صفحوں میں درج کی ہے، اس کو کیوں سچا نبی نہیں مانا جاتا؟ سید محمد جونپوری، صالح بن طریف، محمد احمد سوڈانی جن کی ابتدائی حالتیں نہایت درجہ کی پاکیزگی اور دین داری میں گزریں اور بعد میں اسی نفس کشی کی حالت میں ان کو الہام ہوئے کہ تم مہدی ہو کیا وہ سچے تھے؟ کیونکہ فقد لبثت فیکم عمراً کی معیار بقول آپ کے عام ہے۔

اکمل قادیانی نے ایک سخت دھوکہ دیا ہے جس کا جواب دینا ضروری ہے آپ لکھتے ہیں کہ ”مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اوّل المنکرین کا ریویو پڑھیے جو براہین احمدیہ پر اس نے لکھا اور وہ یہ ہے اس کا مؤلف یعنی مرزا قادیانی اسلام کا مالی جانی وقلمی ولسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا جس کی نظیر پہلے زمانہ میں کم پائی گئی۔

13

صفحہ ٥١٤

خدا تعالیٰ نے یہ الفاظ لکھوا کر اس کے ہاتھ کٹوا لیے تا آنے والی نسلوں پر حجت ملزمہ قائم رہے“ الخ۔

الجواب: یہ ریویو مولوی محمد حسین صاحب مرحوم نے اس وقت لکھا تھا جبکہ مرزا قادیانی مسلمان تھے اور اپنے آپ کو مسیح موعود نبی نہ جانتے تھے صرف مناظر اسلام نامزد کرتے تھے اکمل قادیانی کا لفظ اوّل المنکرین ظاہر کر رہا ہے کہ یہ ریویو اس وقت کا لکھا ہوا ہے جب مولوی محمد حسین مرزا کا موافق تھا اور جس وقت براہین احمدیہ لکھی گئی اور براہین احمدیہ میں مرزا قادیانی کا اعتقاد یہ تھا کہ حضرت عیسیٰؑ اصالتاً آسمان سے اتریں گے جیسا کہ تمام مسلمانوں کا اعتقاد ہے۔ اصل عبارت مرزا قادیانی کی لکھی جاتی ہے تاکہ اکمل صاحب کی تسلی ہو ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں پیشینگوئی ہے اور جس غلبہ دین کامل اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح علیہ السلام کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیحؑ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا۔“

(براہین احمدیہ ص ٤٩٨ خزائن ج ١ ص ٥٩٣ حاشیہ)

اور اسی کتاب پر مولوی محمد حسین کا ریویو ہے جب مرزا قادیانی اسلامی عقائد پر بعد میں قائم نہ رہے اور خود نبوت و رسالت کے مدعی ہوئے تو جس طرح مرزا قادیانی کا ایمان بدل گیا۔ اسی طرح وہ ریویو بھی جو مرزا قادیانی کی دینداری کے وقت لکھا گیا تھا۔ بدل گیا اور اسی محمد حسین نے مرزا قادیانی کو دجال اور کافر کہا۔ اگر مولوی محمد حسین صاحب کا پہلا ریویو سند ہے تو مرزا قادیانی کی پہلی تجویز مندرجہ بالا بھی سند ہے اور خدا تعالیٰ نے مرزا قادیانی کے ہاتھ کٹوا لیے کہ مسیح زندہ ہے اور دوبارہ آئے گا۔ جب مرزا قادیانی پہلے عقائد پر قائم نہ رہے اور فقد لبثت فیکم عمراً کے اہل نہ رہے یعنی اس کی پہلی زندگی قابل تحسین تھی اور بعد کی زندگی جس میں مختلف دعاوی تھے۔ قابل اعتبار نہیں۔ اب اکمل قادیانی غور فرمائیں کہ اگر پہلی زندگی طریق سند ہے تو مرزا قادیانی کے سارے دعوے باطل ہیں۔ کیونکہ اس وقت ان کے وہی عقائد تھے جو کہ تمام روئے زمین کے مسلمانوں کے ہیں یعنی حضرت مسیح علیہ السلام عبداللہ دوبارہ آئیں گے۔ جس سے مسیح علیہ السلام کی حیات بھی ثابت ہوئی کیونکہ دوبارہ آنا مستلزم حیات ہے۔ اگر پہلی زندگی قابل لحاظ نہیں تو پھر فقد لبثت فیکم عمراً بھی معیار نہیں ہو سکتی اور نہ مولوی محمد حسین صاحب کا ریویو قابل سند ہے۔ جس طرح مرزا قادیانی کا الہام میر عباس علی لدھیانوی کے حق میں قائم

١٧

صفحہ ٥١٥

نہ رہا۔ اسی طرح مولوی محمد حسین صاحب کا ریویو مرزا قادیانی کے حق میں قائم نہ رہا۔ میر عباس علی صاحب جب مرزا قادیانی کے مرید تھے تو ان کی نسبت مرزا قادیانی کو الہام ہوا۔ ”اصلھا ثابت و فرعھا فی السما“ مگر بیس برس کے بعد میر صاحب نے جب مرزا قادیانی کی بیعت توڑ دی اور سخت مخالف ہو گئے تو اعتراض ہوا کہ اس کی نسبت تو آپ کو الہام ہوا تھا کہ ”اصلھا ثابت و فرعھا فی السماء“ یعنی اصل اس کی ثابت ہے اور آسمان میں اس کی شاخ ہے یہ الہام جھوٹا ہوا۔ تو مرزا قادیانی نے اس کا جواب یہ دیا کہ خدا تعالیٰ موجودہ حالت کے مطابق خبر دیتا ہے کسی کے کافر ہونے کی حالت میں اسکا نام کافر ہی رکھتا ہے اور اس کے مومن ہونے کی حالت میں اس کا نام مومن اور مخلص اور ثابت قدم رکھتا ہے۔ (دیکھو مکتوبات احمدیہ جلد اوّل ص ١١١) پس ہماری طرف سے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ریویو کا بھی یہی جواب ہے جو مرزا قادیانی نے دیا ہے کہ مرزا قادیانی کے مومن ہونے کی حالت میں ریویو لکھا گیا تھا۔ بعد میں جب مرزا قادیانی کافر ہوئے اور مدعی نبوت و رسالت مسیحیت و مہدویت ہوئے۔ تو پھر ان کی حالت کے موافق اسی مولوی محمد حسین نے ان کو دجال وکافر کہا اگر مولوی محمد حسین کا لکھنا قیامت تک سند ہے تو دونوں تحریریں سند ہیں پہلی تحریر کو پیش کرنا اور بعد کی تحریر کو چھپانا دیانت سے بعید ہے اور سخت دھوکہ ہے۔ میر عباس علی بھی پہلی عمر کے لحاظ سے حق پر ہے۔

دوسرا معیار صدق

اس آیت میں بیان ہوا ہے ولو تقول علينا بعض الا قاويل لا خذنا منه باليمين ثم لقطعنا منه الوتين فما منكم من احد عنه حاجزين (الحاقہ ٤٤ تا ٤٧) اگر یہ ہم پر کچھ بات بھی افتراء کرتا تو ہم دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور اس کی رگ جان کاٹ دیتے اور تم میں سے کوئی بھی اسے بچانے والا نہ تھا یہ دلیل جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی صداقت کے ثبوت میں خدا تعالیٰ نے فرمائی ہے۔ پس ہو نہیں سکتا کہ کوئی شخص مدعی نبوت و ماموریت ہو کر اتنی مدت تک زندہ رہے جو نبی کریم ﷺ نے بعد دعوئی نبوت بلکہ تا نزول آیت ہذا پائی جو لوگ بعض جھوٹے مدعیان کی مثالیں دیتے ہیں کہ وہ ٢٣ سال سے زائد دعویٰ کر کے زندہ رہے وہ یہ نہیں سوچتے کہ ان کا حملہ سب سے پہلے نبی کریم ﷺ کی صداقت پر ہے نہ کہ مرزا قادیانی پر تھا۔ کیونکہ یہ دلیل تو نبی کریم ﷺ کی صداقت کی خدا نے پیش کی ہے کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی طرف سے دیئے ہوئے معیار صدق کو اپنے فعل سے جھوٹا کرے۔ اب ہم منکرین صداقت مرزا قادیانی سے اس معیار سے

15

صفحہ ٥١٦

پوچھتے ہیں مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا یا نہیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ دعویٰ نبوت کاذبہ تھا یا دعویٰ نبوت صادقہ ۔ اگر صادقہ تھا تو ایمان لائے اور اگر کاذبہ تھا تو پھر کیا وجہ ہے کہ مرزا قادیانی اس قانون سے بچ رہے ۔ الخ۔ (تشحیذ الاذہان بابت ماہ اکتوبر ١٩٢١ء ص ١٦)

الجواب: اس آیت شریف میں صرف محمد رسول اللہ ﷺ کی صداقت بیان کی گئی ہے جس کا اقرار خود مضمون نویس کو ہے کیونکہ وہ خود تسلیم کرتا ہے کہ یہ دلیل جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی صداقت کے ثبوت میں خدا تعالیٰ نے پیش کی ہے۔ پس جو خاصہ رسول اللہ ﷺ ہے اس کو عام قانون کوئی صاحب علم نہیں بنا سکتا۔ میرے مہربان اکمل قادیانی خود تسلیم کر چکے ہیں کہ جو خاصہ رسول اللہ ﷺ ہو اس کو عام قانون یا قاعدہ کلیہ نہیں بنا سکتے۔ اصل عبارت اکمل قادیانی کی یہ ہے ”وما علمناه الشعر وما ینبغی له سے استدلال کیا جاتا ہے کہ نبی شاعر نہیں ہوتا حالانکہ یہ بالکل غلط ہے اس میں تو نبی کریم ﷺ کا ذکر ہے۔ معیار نبوت نہیں بعض لوگ معیار صداقت انبیاء خصوصیات نبی کریم ﷺ میں فرق نہیں کر سکتے کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی شاعر تھے اس واسطے نبی نہیں ہو سکتے یا استاد سے پڑھے ہوئے تھے حالانکہ نبی کریم ﷺ امی تھے یہ کیسی حماقت کی بات ہے یہ تو خصوصیات محمدی ہے نہ کہ معیار صداقت ۔ (مندرجہ رسالہ تشحیذ الاذہان ٥ اکتوبر ١٩٢١ء) برادران اسلام! مثل مشہور ہے جادو وہ جو سر پہ چڑھ کے بولے۔ صداقت وہ جو مخالف بھی قبول کرے۔ اس آیت لو تقول علینا بعض الا قاویل کے جواب میں ہزاروں دفعہ جواب دیئے گئے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی خصوصیت ہے نہ کہ معیار صداقت ۔ مدعی نبوت۔ تو مرزائی صاحبان کوئی تسلی بخش جواب دیتے؟ مگر اب اکمل قادیانی نے خود اقرار کر لیا ہے کہ خصوصیات حضرت نبی کریم ﷺ کو معیار صداقت قرار دینا حماقت ہے۔ پس بقول اکمل قادیانی لو تقول علینا والی خصوصیت کو معیار صداقت قرار دے کر کوئی ذی ہوش احمق کا لقب نہیں پا سکتا۔ پس نتیجہ یہ نکلا کہ جو شخص اس آیت سے مرزا قادیانی کا سچا نبی ہونا تسلیم کرے۔ اس خصوصیت کو معیار نبوت قرار دے وہ احمق ہے۔ اب روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ یہ آیت لو تقول علینا والی ہرگز معیار صداقت مدعی نبوت نہیں اور نہ اس معیار سے مرزا قادیانی سچے نبی و رسول ہو سکتے ہیں اس پر زیادہ بحث فضول ہے اگر اکمل قادیانی نے کچھ لکھا تو جوابدیا جائے گا فی الحال تو ان کا اپنا ہی جواب ان کے لیے کافی ہے باقی رہا یہ سوال کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا اور فی الفور کیوں ہلاک نہ ہوئے اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن شریف نے مفتری علی اللہ کی سزا یہ ہرگز نہیں فرمائی

16

صفحہ ٥١٧

کہ خدا تعالیٰ مفتری کو اسی دنیا میں فوراً بطور سزا ہلاک کر دیتا ہے بلکہ املی لہم ان کیدی متین میں فرمایا کہ ہم ڈھیل دیتے ہیں تا کہ حجت عذاب پوری ہو۔ ہم ذیل میں پانچ آیات درج کرتے ہیں جن میں مفتری و کذاب کی سزا کا ذکر ہے فوراً ہلاک کر دینا ہرگز کہیں نہیں فرمایا ۔ یہ قرآن میں تحریف ہے جو کہا جاتا ہے کہ کاذب فوراً ہلاک کر دیا جاتا ہے۔

اللہ لا یہدی القوم الظالمین (انعام ١٤٤) ترجمہ: اس شخص سے ظالم اور کون ہو گا جو لوگوں کے گمراہ کرنے کے لیے بے سمجھے بوجھے خدا پر بہتان باندھے۔ بیشک خدا سرکش لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

نصیبہم من الکتاب حتی اذا جاء تہم رسلنا یتوفونہم قالو این ما کنتم تدعون من دون اللہ قالو اضلوا عنا و شہد و اعلی انفسہم انہم کانوا کفرین. (اعراف ٣٧) ترجمہ: اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو خدا پر بہتان باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے یہی لوگ ہیں جن کی تقدیر کے لکھے ہوئے میں سے ان کا حصہ تو ان کو پہنچے گا۔ یہاں تک کہ جب ہمارے فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کے لیے ان کے سامنے آ موجود ہوں گے پوچھیں گے کہ اب وہ کہاں ہیں جن کو تم خدا کے سوا حاجت روائی کے لیے پکارا کرتے تھے وہ کہیں گے وہ تو ہم سے غائب ہو گئے اور اپنے آپ گواہی دیں گے اور اقرار کریں گے کہ بیشک وہ کافر تھے اس پر خدا ان کو حکم دے گا اور کافر امتیں از قسم جن و انس جو تم سے پہلے گزرے ہیں ان میں مل کر دوزخ میں داخل ہو جاؤ۔

فی جہنم مثوی للکفرین. (الزمر ٣٢) ترجمہ: اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ بولے اور نیز اس سے کہ سچی بات اس کو پہنچے اور وہ اس کو جھٹلائے۔ کیا کافروں کا ٹھکانا دوزخ نہیں۔

الیہ شی ومن قال سانزل مثل ما انزل اللہ ولو تری اذا الظلمون فی غمرات الموت والملائکۃ باسطوا ایدیہم اخرجو انفسہم الیوم تجزون عذاب الہون بما کنتم تقولون علی اللہ غیر الحق و کنتم عن ایتہ تستکبرون. (انعام ٩٣)

١٧

صفحہ ٥١٨

”اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے یا دعوے کرے کہ میری طرف وحی آتی ہے حالانکہ اس کی طرف کوئی وحی نہ آتی ہو اور نیز اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو دعوے کرے کہ قرآن جس کی نسبت تم کہتے ہو کہ اس کو اللہ نے اتارا ہے ایسا ہی میں اتارتا ہوں اس سے۔ پھر کاش تم ان ظالموں کو اس وقت دیکھو کہ موت کی بیہوشیوں میں پڑے ہیں اور فرشتے ان کی جان نکالنے کے لیے طرح طرح کی دست درازیاں کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اپنی جانیں نکالو اب تم کو ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی۔ اس لیے کہ تم خدا پر ناحق جھوٹ بولتے اور اس کی آیتوں کو سن کر اکڑتے تھے۔“

(الانعام رکوع ١٠)

ربھم و یقول الاشهاد ھو لاء الذین کذبوا علی ربھم الا لعنت اللہ علی الظالمین. (ھود ١٨) ”اور جو خدا پر جھوٹ باندھے اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے یہی لوگ قیامت کے دن اپنے پروردگار کے حضور میں پیش کیے جائیں گے اور گواہ گواہی دیں گے کہ یہی ہیں جنھوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ بولا تھا۔ ان ظالموں پر خدا کی مار ہے۔“

(ہود رکوع ١)

ناظرین! قرآن مجید میں تو مفتری علی اللہ کے واسطے عذاب آخرت اور جان کندن کے وعدے ہیں ۔ یہ نہیں لکھا کہ مفتری علی اللہ کو ٢٣ برس تک مہلت نہیں دی جاتی۔ معلوم نہیں کہ اکمل قادیانی نے کس طرح لکھ دیا کہ ہو نہیں سکتا کہ مدعی نبوت و ماموریت ہو کر اتنی مدت زندہ رہے؟ ٢٣ برس کی حد بندی قرآن شریف میں اپنی طرف سے مرزا قادیانی اور مرزائی زیادہ کرتے ہیں جو کہ تحریف ہے جس کے باعث یہودی مغضوب ہوئے۔

پہلی آیت! میں سزا مفتری کی یہ بیان کی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ سرکش لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ اس سے ثابت ہے سرکش گمراہی میں ترقی کرتے جاتے ہیں فوراً ہلاک نہیں کیے جاتے۔

دوسری آیت! میں فرمایا کہ مفتری علی اللہ کو دنیا میں سزا نہیں دی جائے گی ہمارے فرشتے ان کو جان کندن کے وقت سزا دیں گے بلکہ لکھا ہے کہ دنیا میں جو ان کا تقدیر میں رزق نصیب لکھا ہوا ہے برابر ملتا رہے گا۔ جس سے ثابت ہوا کہ مفتری کو دنیاوی کامیابی ہوئی ہے اور عذاب آخرت ہوگا۔

صفحہ ٥١٩

تیسری آیت! میں مفتری علی اللہ کے واسطے ٹھکانا دوزخ فرمایا ہے۔

چوتھی آیت! میں بھی فرمایا کہ بیہوشیوں میں ہوں گے اور فرشتے جان نکالتے وقت ان کو عذاب دیں گے۔

پانچویں آیت! میں لکھا ہے کہ مفتری علی اللہ یعرضون علی ربھم یعنی اپنے پروردگار کے حضور میں پیش کیے جائیں گے اور ان ظالموں پر اللہ کی مار ہے۔ غرض یہ قرآن شریف میں ہرگز نہیں لکھا کہ مفتری علی اللہ جو کہ دعویٰ وحی کا کرے اور نبوت و رسالت کا مدعی ہو وہ فوراً ہلاک کیا جاتا ہے۔ یہ آیت لوتقول علینا والی تو سچے رسول حضرت محمد ﷺ کے واسطے خاص ہے کہ خدا تعالیٰ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی راستبازی پر ناز و فخر کرتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ ایسا راستباز ہے کہ اگر ایک لفظ بھی ہماری طرف منسوب کر کے اپنی طرف سے کہے تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے اور اس کی رگ جان کاٹ دیتے۔ یہ تو سچے رسول کے واسطے نہ کہ جو کاذب مدعی وحی ہو اس کے واسطے یہ معیار ہے۔ خاص امر کو عام ظاہر کر کے دھوکہ دینا دیانت سے بعید ہے۔ یہ کہاں لکھا ہے کہ جھوٹے نبی کے واسطے معیار ہے؟ جب خداوند تعالیٰ کے قول اور فعل میں اختلاف نہیں ہو سکتا تو پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین فرمائے اور دوسری طرف معیار نبوت مقرر کرے کہ اگر کوئی شخص بعد محمد مصطفےٰ ﷺ کے مدعی نبوت کاذبہ ہو تو اس کو لو تقول علینا کی معیار سے پرکھو؟ اس واسطے خدا کے کلام میں اختلاف کا نہ ہونا شرط ہے یعنی جس کلام میں اختلاف ہو گا وہ خدا کی طرف سے ہرگز نہیں ہو سکتا۔ پس اگر لوتقول علینا الخ کو معیار مقرر کریں تو خاتم النبیین الخ کی آیت کے ساتھ تعارض ہو گا اور یہ محال ہے کہ خدا کے کلام میں تعارض ہو۔ قرآن مجید چونکہ انسانی بول چال کے مطابق نازل ہوا ہے اس واسطے خدا تعالیٰ نے حضرت رسول اللہ ﷺ کی صداقت و دیانت بیان کی ہے نہ کہ معیار نبوت عام ہے۔ جس طرح کوئی بادشاہ کہے کہ ہمارا وزیر دیانتدار ہے۔ اگر رشوت لے تو ہم اس کو قید کر دیں گے یا پھانسی دے دیں گے۔ اس سے وزیر کی دیانت و صداقت کا خاص اظہار ہے نہ کہ یہ معیار عام ہو سکتی ہے کہ جو رشوت لے گا وہ قید یا پھانسی ضرور دیا جائے گا اور اگر کوئی رشوت خور قید اور پھانسی نہ دیا جائے تو پھر وہ الزام رشوت ستانی سے پاک اور دیانت دار متصور ہو گا۔ پس ایسا ہی اگر مرزا قادیانی ہلاک نہیں ہوتے تو سچے نبی نہیں ہو سکتے۔ مثلاً کوئی شخص اگر کہے کہ اگر میرا بیٹا جھوٹ بولے تو میں اس کا سر توڑ دوں گا تو کیا قادیانی منطق کی رو

١٩

صفحہ ٥٢٠

سے یہ معیار ہو گی کہ جو جھوٹ بولے اس کا سر توڑا جاتا ہے اور اگر جھوٹے کا سر نہ توڑا جائے تو وہ سچا سمجھا جائے؟ پس قرآن کریم سے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا سچا نبی ہونا ثابت ہے نہ کہ جھوٹے نبیوں کے واسطے معیار صداقت ہے محمد ﷺ کے بعد نہ کبھی کوئی مدعی سچا ہوا اور نہ ہو سکتا ہے۔ جب قرآن شریف سے ثابت ہے کہ مفتری کو اس دنیا میں سزا نہیں ملتی بلکہ آخرت کا عذاب اس کے واسطے موعود ہے تو پھر مرزا قادیانی کا ہلاک نہ ہونا ان کی صداقت کی دلیل نہیں پہلے مدعیان نبوت کو بھی بعد دعویٰ زیادہ عمر ملتی رہی ہے اور ہلاک نہیں ہوئے۔

سے مرا۔

(دیکھو تاریخ ابن خلدون ج ٦ ص ٢٠٨-٢٠٩)

ہوا کہ مقامات طرابلس فتح کر کے مصر کو بھی فتح کر لیا۔ یہ شخص ٢٤ سال ایک ماہ ٢٠ یوم دعویٰ کے ساتھ زندہ رہا۔

(تاریخ کامل ج ٧ ص ٩٩ ذکر وفات المہدی افریقہ)

(تاریخ کامل ابن اثیر ج ٨ ص ١٢٩)

خدا کا فعل اس کے قول کے برخلاف نہیں ہوتا۔ پس یہ غلط ہے کہ جھوٹے مدعی کو لو تقول علینا کی معیار سے پرکھو۔

مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے من گھڑت معیار کی تردید کے واسطے یہ چند نظائر لکھے ہیں تا کہ معلوم ہو کہ یہ بالکل غلط ہے کہ مرزا قادیانی چونکہ ہلاک نہیں ہوئے اور ان کو ٢٣ سال تک نجات ملی سچے تھے۔ دوم مرزا قادیانی نے کون سا جنگ کیا اور بچ رہے اور قتل نہ ہوئے اگر کوئی نہیں تو پھر وہ اگر عورتوں کی طرح اپنی موت سے مرے تو فضیلت کیا ہے۔

گرتے ہیں شاہ سوار ہی میدان جنگ میں
وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے

اکمل قادیانی کا دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ دعویٰ نبوت کاذبہ تھا یا صادقہ تھا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت کاذبہ تھا بہ دلائل ذیل:۔ دلیل اوّل: چونکہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت بعد حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ہے اور آپ ﷺ کے بعد کوئی سچا نبی نہ ہو گا۔ اس واسطے مرزا قادیانی نبوت کاذبہ کے مدعی

٢٠

صفحہ ٥٢١

ثابت ہیں دیکھو سیکون فی امتی ثلثون کذابون کلھم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی. (الترمذی ج ٢ ص ٤٥ باب لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون) یعنی امت میں سے جھوٹے تیس نبی ہوں گے سچا کوئی نہ ہوگا۔ خاتم النبیین کے معنی رسول اللہ ﷺ نے خود فرما دیئے۔

دوسری دلیل: قرآن شریف فرماتا ہے ھل انبئکم علی من تنزل الشیطین تنزل علی کل افاک اثیم یلقون السمع واکثرھم کذبون. (والشعراء ٢٢١ تا ٢٢٣) یعنی میں تجھے بتاؤں کہ کس پر شیطان اترا کرتے ہیں جھوٹے پر القاء کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر باتیں جھوٹی ہوتی ہیں۔

خدا تعالیٰ نے خود جھوٹے نبی کی علامت بتا دی ہے کہ اس کو جھوٹی باتیں القاء ہوتی ہیں۔ جب ہم مرزا قادیانی کے الہامات دیکھتے ہیں تو محض جھوٹے ثابت ہوتے ہیں اس واسطے کاذبہ نبوت کے مدعی ثابت ہوئے۔

اوّل الہام: زوجنا کھا لا مبدل کلماتی. ترجمہ مرزا قادیانی ہم نے خود اس سے تیرا نکاح باندھ دیا ہے میری باتوں کو کوئی بدلا نہیں سکتا۔

(تذکرہ ص ١٦١)

مرزا قادیانی نے لکھا ”خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار پا چکا ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٩) چونکہ لڑکی ان کے نکاح میں نہ آئی۔ اس لیے ثابت ہوا کہ الہام خدا کی طرف سے نہ تھا۔ اگر خدا نکاح باندھ دیتا تو کس کی طاقت تھی کہ نکاح روک سکتا؟ اصل یہ ہے کہ الہام ہی ربانی نہ تھا۔

دوم الہام: ”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔“

(تذکرہ ص ٥٩١)

کوئی مرزائی ثابت کر سکتا ہے کہ یہ الہام خدا کی طرف سے تھا۔ ہرگز نہیں کیونکہ اگر خدا کی طرف سے یہ الہام ہوتا تو مرزا قادیانی مکہ میں فوت ہوتے یا مدینہ منورہ میں۔ مگر ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی لاہور میں فوت ہوئے اور قادیان میں مدفون ہوئے۔ جس سے ثابت ہوا کہ یہ خدائی الہام کی شرط جو خدا تعالیٰ نے قرآن میں فرمائی ہے مرزا قادیانی کے الہاموں میں نہیں پائی جاتی یعنی الہام ربانی ضرور پورا ہوتا ہے اور جو الہام پورا نہ ہو وہ شیطانی ہے تاویلیں کرنا جھوٹوں کا کام ہے۔

الہام سوم: ”میں تجھے اسی برس یا چند سال زیادہ یا اس سے کچھ کم عمر دوں گا۔“

(تریاق القلوب ص ١٣ خزائن ج ١٥ ص ١٥٢ حاشیہ)

اس الہام میں خدا تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو خبر دی ہے کہ میں تجھے اسی برس کی

٢١

صفحہ ٥٢٢

عمر دوں گا۔ اگر اسی برس پورے نہ ہوں تو چند سال زیادہ ہوں گے یا چند سال کم ہوں گے۔ اس حساب سے مرزا قادیانی کی عمر اسی برس پورے کی ہوتی یا ٨٣ برس کی ہوتی اگر ٨٠ سے زیادہ ہوتی ورنہ ٧٧ برس کی ہوتی۔ اگر اسی برس سے چند سال کم ہوتی کیونکہ چند کے معنی تین سے زیادہ اور نو سے کم کے ہیں اور بس۔ مگر مشاہدہ ہے کہ مرزا قادیانی کی عمر صرف ٦٨ برس کی ہوئی کیونکہ وہ ١٨٤٠ء میں پیدا ہوئے اور ١٩٠٨ء میں فوت ہوئے جس سے ثابت ہوا کہ وہ ٦٨ سال جیئے اور یہی ان کی صحیح عمر ہو سکتی ہے۔ اگر یہ الہام خدا کی طرف سے ہوتا تو اوّل تو یقینی ایک بات ہوتی کیونکہ وہ علام الغیوب ہے اس سے کوئی بات چھپی ہوئی نہیں ہے کہ اٹکل لگائے کہ اے مرزا تیری عمر اسی برس کی ہوگی یا کم یا زیادہ۔ جس خدا نے مرزا قادیانی کی عمر خود لکھی ہوئی تھی تو اس کو علم تھا کہ درست عمر مرزا قادیانی کی کتنی ہے۔“ ایسے ایسے الہاموں سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کو سچے خدا کی طرف سے الہام نہ ہوتے تھے اور یہی علامت ہے سچے اور جھوٹے ملہم کی۔ پس جس کے الہام پورے نہ ہوں یقیناً خدا کی طرف سے نہیں اور اس کا دعویٰ نبوت و رسالت جھوٹا ہے۔

تورات میں بھی جھوٹے نبی کی علامت یہی لکھی ہے دیکھو استثنا باب ١٨ آیت ٢١۔٢٠ ”اگر تو اپنے دل میں کہے کہ میں کیونکر جانوں کہ یہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں ہے تو جان رکھ کہ جب نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور وہ جو اس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے تو اس سے مت ڈر۔“

اس تورات کی عبارت سے بھی ظاہر ہے کہ اگر کسی نبی نے پیشینگوئی کی ہو اور وہ پوری نہ ہو تو وہ جھوٹا نبی ہے اور ایسا ہی قرآن شریف کی آیت سے ثابت ہے کہ شیطانی الہام کی یہ علامت ہے کہ جھوٹے نبی پر شیطان جھوٹی باتیں القاء کرتا ہے پس جب مرزا قادیانی پر جھوٹی باتیں القاء ہوتی ہیں تو پھر اظہر من الشمس ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت کاذبہ کا تھا کیونکہ دروازہ نبوت صادقہ کا بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے مسدود ہے اور یہ ناممکن ہے کہ امت محمدی میں سے کوئی شخص نبوت کا مدعی ہو اور سچا سمجھا جائے۔ بہرحال مرزا قادیانی حضرت خاتم النبیین ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت میں جھوٹے ہیں کیونکہ دین کامل ہے اور نبی کے آنے کی ضرورت نہیں۔ امتی نبی کا اگر دعویٰ نبوت سچا ہونا ممکن ہو سکتا ہے تو پھر جس قدر مدعیان نبوت بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے ہوئے

٢٢

صفحہ ٥٢٣

ہیں سب کے سب سچے ثابت ہوں گے کیونکہ انھوں نے بھی امت محمدی ہو کر نبوت و رسالت کے دعوے کیے۔ یہ انصاف کے برخلاف ہے دوسرے مدعیان نبوت تو بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے جھوٹے ہوں اور مرزا قادیانی سچے ہوں جبکہ مرزا قادیانی کے اقوال و افعال بھی انھیں کذابوں کی طرح خلاف قرآن شریف و شریعت محمدی ہوں۔ اگر مرزا قادیانی سچے ہیں تو تمام کذابوں مسیلمہ سے مرزا قادیانی تک سب سچے ہیں اور اگر جھوٹے ہیں تو دونوں اور اگر سچے ہیں تو دونوں۔ پس مرزا قادیانی نبوت کاذبہ کے مدعی تھے اور دوسرے کذابوں مدعیان نبوت کی طرح کافر تھے اور دین اسلام سے خارج تھے۔

اخیر میں اکمل قادیانی نے ایک ابلہ فریبی سے کام لیا ہے کہ جو شخص جھوٹے مدعیان نبوت کی مثالیں پیش کرتے ہیں کہ ان کو بعد دعویٰ ٢٣ برس سے زیادہ مہلت ملی اور قتل نہیں ہوئے اپنی موت سے مرے۔ ان کا حملہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر ہے۔ جس کا جواب یہ ہے کہ جب ٢٣ برس کی تحدی کسی لفظ آیت لو تقول علینا الخ سے ثابت نہیں اور صرف تحریف لفظی کر کے مرزا قادیانی نے اپنے پاس سے میعاد ٢٣ برس مقرر کر کے معیار بنا لی ہے جو کہ بقول ان کے یہودیت ہے تو پھر تاریخ اسلام اور خدا تعالیٰ کے فعل کو پیش کرنا۔ جس نے کذابوں مدعیان نبوت کاذبہ کو مرزا قادیانی سے زیادہ نصرتیں مہلتیں اور عمریں دیں اور وہ قتل بھی نہ ہوئے اور اپنی موت سے مرے۔ حالانکہ جنگ کرتے رہے اور دوسری طرف خدا کا فعل خدا کی کلام کے برخلاف بھی نہیں ہونا چاہیے تو ثابت ہوا کہ یہ حملہ حضرت نبی کریم ﷺ کی ذات پر ہرگز نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا فعل پیش کر کے مرزا قادیانی کی من گھڑت معیار کی تردید ہے جو کہ قرآن شریف میں تحریف کر کے ٢٣ برس کی میعاد مقرر کر لی ہے حالانکہ اس میعاد پر ذیل کے اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔

(اوّل)...... اگر قتل کیا جانا جھوٹے نبی ہونے کی معیار ہے تو پھر کئی ایک نبی جو بنی اسرائیل کے ہاتھوں قتل ہوئے نعوذ باللہ کاذب ثابت ہوں گے جیسا کہ حضرت زکریاؑ و حضرت یحییٰؑ قتل کیے گئے۔ حضرت یحییٰؑ کا قتل ہونا مرزا قادیانی نے بھی تسلیم کیا ہے۔ اصل عبارت مرزا قادیانی یہ ہے ”حضرت یحییٰؑ نے یہودیوں کے فقیہوں اور بزرگوں کو سانپوں کے بچے کہہ کر ان کی شرارتوں اور کارسازیوں سے اپنا سر کٹوایا۔“

(ازالہ اوہام ص ١٦ خزائن ج ٣ ص ١١٠) کیا حضرت یحییٰؑ سچے نبی نہ تھے؟

(دوم)...... حضرت محمد رسول اللہ ﷺ بھی ٢٣ برس تک سچے نبی نہ تھے اور حضور ﷺ کو

٢٣

صفحہ ٥٢٤

صحابہ کرامؓ اور اولین مومنین نے سچا نبی مانا۔ نعوذ باللہ غلطی پر تھے کیونکہ اب تک ٢٣ برس کی معیار نبوت پر پرکھے نہ گئے تھے ممکن تھا کہ ٢٣ برس سے پہلے فوت ہو جاتے۔

(سوم)....... حدیث النبی نبی ولو کان فی بطن امہ یعنی نبی گو اپنی ماں کے پیٹ میں ہی کیوں نہ ہو نبی ہوتا ہے کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ ٢٣ برس کی میعاد جو مرزا قادیانی اور مرزائیوں نے جو مقرر کی ہے پوری ہونے پر سچا نبی ہو سکتا ہے۔

(چہارم)....... خدا تعالیٰ جان بوجھ کر اپنی مخلوق کو گمراہ کرتا ہے کیونکہ ٢٢:٢٠ برس تک جو کسی کاذب کو زندہ رکھے اور وہ بذریعہ اپنی جھوٹی وحی کے خلق خدا کو گمراہ کرتا رہے اور اس کے ماننے والے ٢٠ برس تک تذبذب اور شک میں رہیں ٢٣ برس کے بعد اس کی نبوت تصدیق کریں۔

(پنجم)....... اگر یہ میعاد ٢٣ برس کی تسلیم کی جائے تو مرزا قادیانی پھر بھی جھوٹے نبی ثابت ہوں گے کیونکہ دعویٰ نبوت کے بعد ٢٣ برس تک زندہ نہیں رہے بلکہ جس سال کھلے لفظوں میں دعویٰ نبوت کیا۔ اسی سال فوت ہو گئے۔ اصل عبارت مرزا قادیانی ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی و رسول ہیں۔ (ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧) مرزا قادیانی کی کسی تحریر میں ایسا صاف دعویٰ نہ تھا اگر ایک جگہ لکھتے کہ میں نبی ہوں تو دس جگہ لکھ جاتے ہیں ”کہ میرا دعویٰ نبوت و رسالت نہیں بلکہ بعد خاتم النبیین کے مدعی نبوت کو کافر اور کاذب سمجھتا ہوں ۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠) تب تک عذاب الٰہی سے بچے رہے اور ان کی شاہ رگ نہ کاٹی گئی۔ مگر جب مارچ ١٩٠٨ء میں دعویٰ نبوت و رسالت صاف لفظوں میں کیا تو اپنی معیار لوتقول علینا والی مقرر کردہ سے دو ہی ماہ کے اندر ہلاک ہوئے۔ اب تو روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کو بعد دعویٰ صرف ایک مہینہ کئی دن اوپر مہلت ملی اور خدا تعالیٰ نے ان کی رگ جان کاٹ ڈالی۔ اگر لوتقول علینا والی آیت عام ہے اور خاصہ رسول اللہ ﷺ نہیں تو تب مرزا قادیانی کاذب ثابت ہوئے کیونکہ بعد دعویٰ نبوت ان کو ٢٣ برس عمر نہ ملی۔ اکمل قادیانی جواب دیں کہ بعد دعویٰ نبوت اگر ٢٣ برس کی میعاد ہے تو پھر مرزا قادیانی کیوں ایک ہی سنہ میں فوت ہوئے۔ مرزا قادیانی کا مدعی نبوت ہونا مارچ ١٩٠٨ء میں اور تشحیذ الاذہان ماہ ستمبر ١٩٠٨ء کے صفحہ ٨ سطر ٢٠ میں اکمل قادیانی نے اخبار بدر سے خود نقل کیا ہے اکمل قادیانی جواب دیں کہ مرزا قادیانی اب بھی سچے نبی ہو سکتے ہیں؟

پیر بخش سیکرٹری انجمن تائید الاسلام لاہور

٢٤

PDF 525

شیخ ھدیٰ مولانا محمّد یوسف لدھیانویؒ

یوسف ثانی زبہرِ ماکہ بُود ١٤٢١ھ ماہِ کنعانی زبہرِ ماکہ بُود
سیفِ قاطع بہرِ ہر زندیق بُود یوسف ما پیروِ صدّیق بُود
فاضلِ خیر المدارس فاضل است بہترین اَز فاضلانِ عاقل است
افضل و خیرُ الاَفاضل گشتہ اَمثل و خیرُ الاماثل گشتہ
آں شہیدِ نام و ناموسِ نبی نُور نُور اَز نُورِ فانوسِ نبی
فِطرتش اِحقاقِ حق ورزیدہ است ہمچنیں اِبطالِ باطل دیدہ است
بَطشِ او بر مُلحداں بَطشِ شدید ایں چنیں بَطشِ قوی را کس نہ دید
داد ما را اُو چہا تحریر ہا پُر ضیا از انہا ہمہ تقریر ہا
”اختلاف“ و ہم ”صراطِ مستقیم“ ہمچنیں ”حلّ مسائل“ بَس فخیم
گُفتۂ اُو خوب و خود سادہ عجیب بیں! چہا مضمونہا دادہ عجیب
داد اُمّت را چُناں بادہ زِ جام کز سُرورش مَست گشتہ خاص و عام
ہر کسے چوں مَن حزیں، پُژمُردہ دِل گرفتہ، غمزدہ، اَفسُردہ
تُو چہ دانی؟ دردِ ما دَردِ نہاں دَردِ ما چنداں کہ نَے مارا بیاں
وائے گُم گشتہ متاعِ ما، گراں پس چساں یابیم اُو را در جہاں
یُوسُفے کو چوں بدُنیا رُو نمود سیزدہ صَدْ سال و ہم پنجاہ بود
پنج شنبہ ، چہاردہ صَد، بیست و یک سیزدہ از صَفر، بُد بے ریب و شک
شُد شہید از تیغِ مُلحِد رُو سیاہ، رُو سیاہ و رُو سیاہ و رُو سیاہ
مقطعِ اَشعار بشنو! زیں ندیم بہرِ اھلِ ذوق مے باشد عظیم
قہر بر آں مُلحدے، گُو بَعد ازاں
شُد شہیدے رَشکِ فِردوسِ بریں

— ١٤٢١ھ —

PDF 526

دعوتی

مطبوعات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان

اطلاعاتی

قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ پروفیسر محمد الیاس برنیؒ قیمت :-/150

مقدمہ قادیانی مذہب پروفیسر محمد الیاس برنیؒ قیمت :-/75

خاتم النبیین حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ ترجمہ : مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت :-/70

تحفہ قادیانیت جلد اول مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت :-/150

تحفہ قادیانیت جلد دوم مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت :-/150

تحفہ قادیانیت جلد سوم مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت :-/150

تحفہ قادیانیت جلد چہارم مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت :-/150

تحفہ قادیانیت جلد پنجم مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت :-/150

احتساب قادیانیت جلد اول مولانا لال حسین اخترؒ قیمت :-/100

احتساب قادیانیت جلد دوم مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ قیمت :-/125

احتساب قادیانیت جلد سوم مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ قیمت :-/125

احتساب قادیانیت جلد چہارم حضرت کشمیریؒ ، حضرت تھانویؒ حضرت چنیوٹیؒ ، حضرت میرٹھیؒ قیمت :-/125

احتساب قادیانیت جلد پنجم مولانا سید محمد علی مونگیریؒ قیمت :-/125

احتساب قادیانیت جلد ششم قاضی سلیمان منصور پوریؒ پروفیسر محمد سلیم چشتیؒ قیمت :-/125

احتساب قادیانیت جلد ہفتم مولانا سید محمد علی مونگیریؒ قیمت :-/125

احتساب قادیانیت جلد ہشتم مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ قیمت :-/125

احتساب قادیانیت جلد نہم مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ قیمت :-/125

احتساب قادیانیت جلد دہم مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ قیمت :-/125

قومی تاریخی دستاویز مولانا اللہ وسایا قیمت :-/100

آئینہ قادیانیت مولانا اللہ وسایا قیمت :-/50

قادیانی شبہات کے جوابات مولانا اللہ وسایا قیمت :-/50

رئیس قادیان مولانا محمد رفیق دلاوریؒ قیمت :-/100

سوانح مولانا تاج محمودؒ صاحبزادہ طارق محمود قیمت :-/80

رفع نزول عیسیٰ علیہ السلام مولانا عبداللطیف مسعود قیمت :-/100

نوٹ : تحفہ مکمل سیٹ رعایتی قیمت -/600 ' احتساب قادیانیت مکمل سیٹ رعایتی قیمت -/1000

رابطہ : دفتر مرکزی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان فون : 514122 583486

نوٹ : ڈاک خرچ کتب منگوانے والے حضرات کے ذمہ ہو گا۔

PDF 527

ماہنامہ لولاک

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے شائع ہونے والا ﴿ماہنامہ لولاک﴾ جو قادیانیت کے خلاف گرانقدر جدید معلومات پر مکمل دستاویزی ثبوت ہر ماہ مہیا کرتا ہے۔ صفحات 64‘ کمپیوٹر کتابت‘ عمدہ کاغذ وطباعت اور رنگین ٹائیٹل‘ ان تمام تر خوبیوں کے باوجود زر سالانہ فقط یک صد روپیہ، منی آرڈر بھیج کر گھر بیٹھے مطالعہ فرمائیے۔

رابطہ کے لئے:

دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

ہفت روزہ ختم نبوت کراچی

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان ﴿ہفت روزہ ختم نبوت﴾ کراچی گذشتہ بیس سالوں سے تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ اندرون وبیرون ملک تمام دینی رسائل میں ایک امتیازی شان کا حامل جریدہ ہے۔ جو مولانا مفتی محمد جمیل خان صاحب مدظلہ کی زیر نگرانی شائع ہوتا ہے۔ زر سالانہ صرف=/350روپے

رابطہ کے لئے:

دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی نمبر 3

PDF 528

حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات

● ● ● ● ● ● ● ● ● ● ● ● ● ● ●

ہے۔ کیونکہ معجزہ دکھانا نبی کی خصوصیت ہے۔

حکم زندیق اور مرتد کا رہے گا۔ سادہ کافر کا حکم نہیں ہو گا۔

طرح واضح ہے۔

☆......☆......☆