قادیانیت کش · محمد طاہر رزاق
Qadyaniyat Kush · Tahir Abdul Razzaq
PDF 1

قادیانیت کش

محمد طاہر رزّاق

PDF 2

قادیانیت کشتے

محمد طاہر رزاق

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ، ملتان

PDF 3

انتساب

ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

شعلۂ عشق پیکرِ اخلاص

مُحبِّ ختمِ نبوّت

جناب جاوید مغل کے نام

PDF 4

آئینہ مضامین

صفحہ 5

حرف سپاس

ابتدائے کتاب سے لے کر تکمیل کتاب تک تمام مرحلوں میں میرے محترم دوست جناب محمد فیاض اختر ملک‘ جناب محمد متین خالد‘ جناب محمد صدیق شاہ بخاری‘ جناب سید علمدار حسین شاہ بخاری‘ جناب طارق اسماعیل ساگر‘ جناب حافظ شفیق الرحمن‘ جناب عبدالرؤف روفی‘ جناب ممتاز اعوان‘ جناب محمد سلیم ساقی کا تعاون ہر دم مجھے میسر رہا اور ان دوستوں کی جدوجہد اور دعاؤں سے یہ کتاب منصہ شہود پر طلوع ہوئی۔ میں ان تمام دوستوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور بدست دعا ہوں کہ اللہ پاک انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ (آمین)

میں ممنون ہوں خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد مدظلہ‘ خطیب ختم نبوت حضرت مولانا محمد اجمل خان مدظلہ‘ نمونہ اسلاف حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ‘ فدائے ختم نبوت حضرت مولانا سید نفیس شاہ الحسینی مدظلہ‘ جانثار ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل مدظلہ‘ پروانہ ختم نبوت جناب ارشاد احمد عارف مدظلہ‘ مجاہد ختم نبوت صاحبزادہ طارق محمود مدظلہ کا جن کی سرپرستی کا سحاب کرم میرے سر پر چھایا رہا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام بزرگوں کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھے۔ (آمین ثم آمین)

محمد طاہر رزاق

صفحہ 6

بولتے آنسو

اے افراد ملت اسلامیہ !

جب تک تم نے اللہ کے رسولؐ کے دامن کو تھام کے رکھا۔۔۔۔

جب تک تم اللہ کے حبیبؐ کی عزت و ناموس پر کٹ مرنے کے جذبہ سے لیس رہے۔۔۔۔۔

جب تک تم تاج و تخت ختم نبوت کی حفاظت کرتے رہے۔۔۔۔۔

جب تک تمہاری تلواریں گستاخان رسول کی گردنیں کاٹتی رہیں۔۔۔۔۔

تو۔۔۔۔اللہ نے اس دنیا کی چابیاں تمہارے سپرد کر دیں۔۔۔۔۔

اس عالم کی باگیں تمہارے ہاتھوں میں تھما دیں۔۔۔۔۔

بحر و بر کو تمہارے مطیع کر دیا۔۔۔۔

جہانبانی و جہانگیری کا تاج تمہارے سروں پہ سجا دیا۔۔۔۔

قیصر و کسریٰ تمہارے آباء و اجداد کے نام سن کر اپنے محلات میں تھر تھر کانپتے تھے۔۔۔۔۔

دنیا میں تمہاری تہذیب و تمدن کی چھاپ تھی۔۔۔۔

دنیا کی دولت چل کر تمہارے قدموں میں ڈھیر ہونے کے لیے آتی تھی۔۔۔۔

تمہارے بچوں کی بہادری سے کفار کے سورما پناہ مانگتے تھے۔۔۔۔

جانی دشمن بھی تمہاری عظمت کے گن گاتے تھے۔۔۔۔

صفحہ 7

لیکن ۔۔۔۔۔ جب تم نے اللہ کے نبی سے اپنا ناطہ کمزور کرلیا ۔۔۔۔۔ نبی سے غیرت کا رشتہ ختم کر لیا ۔۔۔۔۔ دشمنان رسول کو اپنا دشمن نہ سمجھا ۔۔۔۔۔ نبی کی ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو نہ روکا ۔۔۔۔۔ سرور کونین کی شان اقدس میں ہذیان بکنے والی زبانوں کو نہ پکڑا ۔۔۔۔۔ رسول رحمت کے گلشن اسلام کو اجاڑنے والے ہاتھوں پر گرفت نہ کی ۔۔۔۔۔ جھوٹی نبوت کے ہولناک منہ سے نکلنے والے زہریلے الفاظ تمہاری سماعتوں پر گراں نہ گزرے ۔۔۔۔۔

پھر ۔۔۔۔۔ اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑا ۔۔۔۔۔ حاکم محکوم بن گئے ۔۔۔۔۔ آقا، غلام بن گئے ۔۔۔۔۔ تاج و تخت چھن گئے ۔۔۔۔۔ غلامی کے پٹے گلوں کی زینت بن گئے ۔۔۔۔۔

جنہیں کل ہم نے مکتب کی راہ دکھائی تھی ۔۔۔۔۔ آج وہ چاند پر قدم رکھ چکے ہیں ۔۔۔۔۔

جنہیں کل ہم نے قلم پکڑنے کا سلیقہ سکھایا تھا ۔۔۔۔۔ آج ان کے قلم ہماری تقدیر لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔

جنہوں نے کل ہمارے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیے تھے ۔۔۔۔۔ آج وہ ہواؤں اور فضاؤں پر حکومت کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔

جنہیں ہم نے لباس پہننا سکھایا تھا ۔۔۔۔۔ آج ان کے اترے ہوئے پرانے کپڑے اور جوتے لنڈے بازار سے خرید کر ہم پہن رہے ہیں ۔۔۔۔۔

جنہیں کل ہم نے ہندسوں کا شعور بخشا تھا ۔۔۔۔۔ آج وہ ہمارا بجٹ بنا کر ہمارا خون کشید کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔

کل جو ہمیں جزیہ دیتے تھے ۔۔۔۔۔ آج ہم ہاتھوں میں کشکول پکڑے ان کے در پر

صفحہ 8

بھکاری بنے کھڑے ہیں۔۔۔۔۔ دیکھا۔۔۔۔اللہ کے پیارے نبیؐ سے بے وفائی کا انجام اے قعر مذلت میں گرے ہوئے مسلمان! یہودیوں کے ہاتھوں لہو لہو مسلمان! خدارا! اپنے درخشاں ماضی کی جانب چل۔۔۔۔۔ اپنی عظمت رفتہ کو تلاش کر۔۔۔۔۔ اپنے اسلاف کے نقوش پا کو ڈھونڈ۔۔۔۔۔ اللہ سے پھر عشق رسولؐ مانگ۔۔۔۔۔ اللہ سے پھر غم رسولؐ مانگ۔۔۔۔۔ اللہ سے پھر غیرت رسول مانگ۔۔۔۔۔ سوز رسولؐ میں اللہ سے پھر تڑپنے پھڑکنے کی توفیق مانگ۔۔۔۔۔

میں ترے عہد میں ہوتا تو یہ صورت ہوتی
دیکھتے رہنا تجھے ، میری عبادت ہوتی
اپنی پلکوں سے ترے نقش قدم چومتا ہوں
تیری راہوں میں بسر زیست کی مدت ہوتی
جس گھڑی اٹھتی تری نظر کرم میری طرف
حاصل زیست مری اک وہی ساعت ہوتی
مقتدی بن کے ترا میں بھی نمازیں پڑھتا
مجھ کو حاصل تری تقلید کی عظمت ہوتی
میں بھی شامل ترے لشکر میں یقیناً ہوتا
تیرے دشمن سے بہت میری عداوت ہوتی
صفحہ 9
میں ترے عشق میں زخموں سے سجاتا یہ بدن
میرے چہرے پہ نہ یوں آج ندامت ہوتی
آرزو رکھتا کہ جاں تجھ پہ نچھاور کر دوں
پھر مجھے موت بھی آتی تو شہادت ہوتی
اپنا سینہ تیرے انوار سے روشن کرتا
زندگی میری بھی خورشید کی صورت ہوتی
میری ہر سانس میں خوشبو تیری ہوتی آقا
میرے ہر لمحے پہ بس تیری حکومت ہوتی
میں ترے سامنے پڑھتا جو تری نعت کبھی
مہرباں مجھ پہ تری شان رسالت ہوتی
زیست سے موت تلک موت سے پھر زیست تلک
میری آنکھوں میں فقط تیری ہی صورت ہوتی
تیرے اصحاب کا اک ادنیٰ سا ساتھی ہوتا
یوں جو ہوتا تو درخشاں میری قسمت ہوتی
میں ابوبکر و عمر سے بھی عقیدت رکھتا
مجھ کو عثمان و علی سے بھی محبت ہوتی
اک ترے در کی گدائی جو مجھے مل جاتی
اور پھر دل میں بھلا کون سی حسرت ہوتی
صفحہ 10
میں ترے عہد میں ہوتا تو کرم ہوتا ترا
اس گنہگار پہ یہ تیری عنایت ہوتی

خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر رزاق بی۔ ایس۔ سی، ایم۔ اے (تاریخ) ۲۵ نومبر ۱۹۹۸ء، لاہور

صفحہ 11

حروف فکر

حضور علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے: لا يزال طائفه من امتى ظاهرين على الحق اس حدیث مبارکہ کے مطابق اسلامی تاریخ کے ہر دور میں احقاق حق و ابطال باطل کے لیے امت مسلمہ کا ایک طبقہ ہمیشہ بر سر پیکار رہا ہے۔ جس دور میں جس طرح کے افراد‘ شخصیات اور اداروں کی ضرورت ہوتی رہی‘ منشاء خداوندی سے وہ امت مسلمہ کی راہنمائی کے لیے میدان عمل میں آتے رہے۔

منحوس ازلی مرزا غلام قادیانی کے پیدا کردہ فتنہ قادیانیت کو ہی لیجئے۔

جس دور میں علمی مباحثوں اور عوامی مناظروں کی ضرورت تھی‘ خداوند ذوالجلال نے بلند پایہ مناظرین کو اس طرف متوجہ کر دیا۔ جب عوام الناس میں قادیانیت کے پرخچے اڑانے کی ضرورت تھی‘ تو رب ذوالجلال نے وقت کے نامور خطیبوں کی جماعت کو اس کام پر لگا دیا اور جب قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو قانوناً غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کا مطالبہ زیر بحث آیا تو قدرت خداوندی نے سو سالہ قدیم قادیانی کتب و رسائل کے ورق ورق پر گہری نظر رکھنے والے علماء کرام اور ماہرین قانون کے ایک ایسے گروہ کو منتخب فرمایا‘ جن کی مدبرانہ اور فاضلانہ گفتگو سے اراکین قومی اسمبلی پاکستان پر قادیانی تحریک کا خبث باطن ایسا

صفحہ 12

آشکارا ہوا کہ وہ متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر مجبور ہو گئے۔ اور اب جدید تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ پر تحریر کے ذریعے قادیانیت کی اصلیت کو ظاہر کرنے کا وقت آیا تو اللہ کریم نے اس کام کے لیے نوجوانوں کی ایک ٹیم کو اس کام پر لگا دیا۔ جناب طاہر رزاق صاحب انہی رفقاء میں سے ایک ہیں جن کے قلم کی تمام تر صلاحیتیں فتنہ قادیانیت کے خلاف کام کرنے کے لیے وقف ہیں۔ فتنہ قادیانیت سے عوام و خواص کو آگاہ کرنے کے لیے قادیانیت کے مختلف خدوخال پر موصوف کے اپنے کئی رسائل کے مجموعے پہلے ہی شائع ہو چکے ہیں اور اب ان کے دس رسائل کا نیا مجموعہ ”قادیانیت کش“ منظر عام پر آ رہا ہے۔

اللہ کریم پہلے مجموعوں کی طرح اس جدید مجموعہ کو بھی نسل نوخیز کے لیے فتنہ قادیانیت سے آگاہی کا ذریعہ بنائیں اور فاضل مصنف کے لیے اسے سعادت داریں کا موجب بنائیں۔ (آمین)

فاللہ اولا و آخرنا

بندہ ناچیز (مولانا) عزیز الرحمان جالندھری ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ 13

تعارف نامہ

کتاب وصاحب کتاب

محمد طاہر رزاق۔۔۔۔۔۔۔وکیل خاتم النبیینؐ۔۔۔۔۔۔محافظ تاج و تخت ختم نبوت۔۔۔۔۔۔ چوب دار قصر نبوت

قبل اس کے کہ میں زیر مطالعہ کتاب ”قادیانیت کش“ پر گلہائے عقیدت نچھاور کروں‘ میں اس کے مصنف محمد طاہر رزاق کے ہزاروں قارئین اور ”Fans“ کو اس عظیم مصنف کے متعلق کچھ بتانا چاہتا ہوں کہ اس ایک عام نوجوان کے اندر ایک عظیم فکری وعلمی انقلاب و تحریک کیسے بیدار ہوئی؟

دوستو! میں اس عالمگیر شہرت کے خوش نصیب مصنف کو تو نہیں جانتا تھا کہ جس کی یہ ساتویں کتاب زیر مطالعہ ہے (کیونکہ اس سے قبل بھی وہ چھ ضخیم کتابیں رد قادیانیت اور مرگ مرزائیت پر رقم کر چکے ہیں) میں تو اس دراز قد اور شاہین صفت نوجوان کو جانتا تھا جو کہ زمانہ طالب علمی میں اپنے کالج کا معروف باکسر ہوا کرتا تھا۔ سپورٹس مین سپرٹ سے سرشار نوجوان‘ سیر و سیاحت اور خوش گپیوں میں مصروف رہتا مگر خوبصورتی۔۔۔۔ جوانی اور شہرت کے باوجود بھی اس کی جوانی۔۔۔۔ دیوانی نہ بن سکی۔ گویا قدرت نے شروع سے ہی اس کے کردار کی نگہداشت اپنے ذمے لے رکھی تھی۔ ایم۔ اے کے بعد فکر معاش

صفحہ 14

اسے پاکستان کے مرکزی بینک میں لے آئی مگر اس کی طبیعت ادھر نہ آئی۔ کیونکہ یہ بینک میں آکر بھی بینکار نہ بن سکا۔ اس لیے کہ He was not meant for Banking- قدرت اس سے کوئی بڑا کام لینے والی تھی۔

چونکہ یہ نوجوان شروع سے ہی پابند صوم و صلوۃ تھا‘ لہٰذا نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے ایک مرتبہ قبلہ مولانا محمد اجمل خان صاحب کی مسجد میں حاضری دی۔ مولانا نے دریائے خطابت کا رخ ختم نبوتؐ کی طرف موڑ دیا اور یوں مرزائیت کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے گئے۔ اس ایمان افروز اور انقلابی خطبہ جمعہ نے گویا اندر کے محمد طاہر رزاق کو بیدار کر دیا جسے کہ قدرت نے اس عظیم کام کا بیڑہ سونپنا تھا۔ چونکہ طاہر رزاق شروع سے بقول مغربی مفکرین ایک بنیاد پرست اور غیرت مند مسلمان تھا‘ اس لیے تاجدار ختم الانبیاءؐ کی شان اقدس میں مسیلمہ پنجاب مرزا قادیانی کی گستاخیاں برداشت نہ کر سکا۔ اہل بیت عظام کی توہین نے اس کی روح کو چیر کے رکھ دیا۔ صحابہ کبارؓ کی تنقیص نے اس کے قلب و دماغ میں آگ کے شعلے بھر دیے۔ غیرت اسلام۔۔۔۔ محبت تاجدار مدینہ اور رب ذوالجلال سے تھر تھر کانپتا ہوا محمد طاہر رزاق اسی مسجد کے ایک کونے میں بارگاہ ایزدی میں سر بسجود ہو گیا اور دعا کی کہ

خدایا نئی زندگی چاہتا ہوں
فقط دل میں یاد نبیؐ چاہتا ہوں
پلا ساقیا جام عشق محمد
کہ ہر وقت اک بے خودی چاہتا ہوں

اس سجدہ سے سر تب اٹھایا جب گلشن ختم نبوت کے تحفظ کی قسم کھالی۔ اپنی ساری جوانی اور بڑھاپا وارث تاج و تخت ختم نبوتؐ کی وکالت کے لیے وقف کر دیا اور یوں اپنے رب کے ساتھ اس کے پیارے حبیبؐ کے ناموس کے دفاع کا سچا وعدہ کر کے مسجد سے باہر آیا۔

مسجد سے واپسی پر محمد طاہر رزاق کی دنیا ہی بدل چکی تھی۔ بحر فکر ناموس تاجدار ختم نبوت میں مستغرق۔۔۔۔ ایک ہاتھ میں قلم اور ایک ہاتھ میں تلوار ۔ لیجئے وکیل خاتم النبیینؐ

صفحہ 15

تیار ۔۔۔۔ سب سے پہلے اس نوجوان نے اپنے قریبی رفقاء کے سامنے یہ عالمگیر مسئلہ رکھا۔ اس کی مسلمہ اہمیت و افادیت کو اجاگر کیا۔ پھر کیا تھا! چشم زدن میں ان تمام دوستوں کے گھروں میں ختم نبوت کے مضبوط مورچے قائم کر دیے ۔ شیزان، شیطان اور قادیان کے بائیکاٹ کے فلک شگاف نعرے لگنے لگے۔ دھلی دروازہ میں واقع مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر کا جاروب کش بن گیا۔ شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ العالی جیسی نعمت بھی وہیں سے نصیب ہوئی۔ ننکانہ صاحب کے صد واجب الاحترام جناب محمد متین خالد بھی جذبہ ایمانی لیے گویا انہی کے منتظر تھے۔ معجزاتی طور پر ننکانہ صاحب جیسے دور افتادہ قصبہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قائم ہو گئی۔ گلی گلی، قریہ قریہ، شہر شہر لیکچرز کا اہتمام کر ڈالا۔ مرزائیت کے مکروہ چہرے سے نقاب الٹا نہیں بلکہ نوچ ڈالا۔ اپنے آہنی ہاتھوں میں قلم نہیں بلکہ منکر نکیر سے ایک گرز مستعار لیا اور اس سے رد قادیانیت پر پہلا مضمون لکھا۔ اپنے آقا تاجدار مدینہؐ کے دفاع کی پہلی دلیل دی۔ پھر دوسرا مضمون۔۔۔ پھر تیسرا اور پھر آج تک لاتعداد مضامین اور رسائل تحریر کیے۔ علاوہ ازیں بے شمار کالم اخبارات و رسائل کی زینت بنا دیے۔

۱۹۹۱ء میں ان کے مضامین کا پہلا مجموعہ ”تحفظ ختم نبوت“ کے عنوان سے کتابی شکل میں تشنگان علم کو ملا۔ گویا پیاسوں کو جام کوثر مل گیا۔ اس کتاب کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ پیاسوں کی طلب بڑھتی گئی۔ اندرون ملک سے ہی نہیں، بیرون ملک سے بھی خالی جام آنے لگے اور طاہر رزاق صاحب انہیں علم و آگہی کے کوثر سے بھرتے چلے گئے۔

وکیل خاتم النبیینؐ کی پہلی دلیل و تصنیف ”تحفظ ختم نبوت“ آسمان دنیا پر طلوع ہوئی۔ پھر اس غلام بت شکن نے ”قادیانیت شکن“ لکھی، پھر اس عندلیب ریاض رسولؐ کے ”نغمات ختم نبوت“ گلشن دنیا میں گونجنے لگے۔ پھر ”مرگ مرزائیت“ نے واقعتاً مرزائیت پر مرگ طاری کر دی۔ پھر قادیانیت کا شرمناک چہرہ ”قادیانی افسانے“ کی شکل میں دنیا کو دکھایا، پھر ”شعور ختم نبوت“ بیدار کرنے کے لیے ”شعور ختم نبوت اور قادیانیت شناسی“ لکھ کر کوزے میں دریا نہیں بلکہ سمندر بند کر دیا اور اب قادیانیت کے ناپاک وجود کو صفحہ ہستی سے پاک کرنے کے لیے ان کی ساتویں معرکۃ الاراء تصنیف ”قادیانیت کش“

صفحہ 16

آپ کے سامنے ہے اور ان کی آٹھویں کتاب ”دجال قادیان“ بھی آج کل زیر طباعت و اشاعت ہے۔

علم و عرفان کی بارش۔۔۔۔ ختم نبوت کا اعجاز

محترم قارئین کرام! ۱۹۹۱ء میں محترم محمد طاہر رزاق کی پہلی کتاب زینت مطالعہ بنی اور آج ۱۹۹۸ء میں ان کی ساتویں کتاب ”قادیانیت کش“ اور آٹھویں ”دجال قادیان“ آپ کے سامنے ہیں۔ ایک باکسر میں اتنا بڑا علمی و ادبی انقلاب کیسے آیا؟ کیونکہ وہ تو صرف فائٹر تھا۔۔۔۔ رائٹر نہ تھا۔۔۔۔ بقول اقبالؒ

یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی

میں محمد طاہر رزاق کے والد گرامی چودھری عبدالرزاق مرحوم کو بھی جانتا ہوں۔ دعا ہے کہ نور السموات والارض ان کی قبر کو بقعہ نور بنائے۔ (آمین) وہ بھی ایک شریف‘ معزز اور کاروباری شخصیت تھے۔ یعنی محمد طاہر رزاق کا گھرانہ کوئی اتنا بڑا علمی و ادبی گھرانہ نہیں کہ یہ سب کچھ انہیں ورثے میں ملا۔ مگر صرف سات سالوں میں‘ لا تعداد موضوعات پر سات ضخیم کتابیں‘ بے شمار رسائل۔۔۔ لاتعداد مضامین‘ انگنت کالم‘ ہزاروں معرکتہ الاراء تقاریر۔۔۔۔ پوری دنیا میں لٹریچر کی مفت تقسیم و ترسیل۔۔۔۔ مختلف عالمی زبانوں میں تراجم۔۔۔۔ لاکھوں کی تعداد میں شبان ختم نبوت کے لشکر کی تیاری۔۔۔۔ مبلغین ختم نبوت کے ہاتھوں میں تلوار دو دھاری۔۔۔۔ اور اپنے خون جگر سے شجر ختم نبوت کی آبیاری۔۔۔۔۔ یہ سب کیا ہے؟ علم و عرفان کی یہ موسلادھار بارش کیا سحاب قدرت کا اعجاز نہیں ہے؟ یقیناً ہے! کیونکہ محمد طاہر رزاق۔۔۔۔۔!

کوئی ادیب یا نثر نگار نہ تھا مگر جب اس وادی پرخار میں پیدل اترا تو بہت سے شہسواروں کو پیچھے چھوڑ گیا۔ وہ افسانہ نگار نہ تھا‘ مگر اس نے قادیانی افسانے لکھ کر افسانوی شہرت پائی۔ وہ کوئی شاعر نہ تھا مگر نغمات ختم نبوت اور گلدستہ اشعار ختم نبوت کے ترتیب و انتخاب اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ یہ شاعری کی تمام اصناف سے بخوبی آگاہ ہے۔

صفحہ 17

وہ کوئی کارٹونسٹ نہیں تھا مگر اپنے فن پاروں کے سرورق پر اور تحریروں میں اس نے قادیانیت کے جو کارٹون بنائے، معروف کارٹونسٹ ورطہ حیرت میں ہیں۔ وہ کسی ٹیکسٹ بورڈ یا یونیورسٹی کا کوئی ماہر تعلیم یا ماہر نصاب نہ تھا مگر جس طرح اس نے قادیانی قاعدہ ترتیب دیا، بڑے بڑے ماہرین نصاب اس کے سامنے پانی بھرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ کوئی پولیس آفیسر یا کسی اور خفیہ تنظیم کا رکن نہیں تھا مگر جس طرح اس نے مرزا قادیانی کا ریمانڈ لیا ہے، اور اس سے جعلی و انگریزی نبوت کا اقبال جرم کروا کر، اسلامی و عوامی عدالت میں رسوا کیا ہے، عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ وہ کوئی ڈاکٹر یا ماہر سرجن نہ تھا مگر جس ماہرانہ طریقے سے اس نے قادیانیت کا پوسٹ مارٹم کیا ہے، سرجری ماتھے پر ہاتھ رکھے اسے سلام کر رہی ہے۔

وہ کوئی ماہر نباض یا حکیم نہ تھا مگر اس نے جس طرح مرزا قادیانی۔۔۔۔ نسل شیطانی۔۔۔۔ جہنم مکانی کی بیماریوں کو Diagnoze کر کے ان کا علاج تجویز کیا ہے، لگتا ہے کہ وہ کسی دواخانے کا حکیم حاذق ہے۔ وہ کوئی مزاح نگار نہ تھا، مگر مرزائیت کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتی ہوئی اس کی تحریروں کے سلسلہ نسب کے ڈانڈے کبھی (ماضی کے) پطرس بخاری سے ملتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور کبھی (دور حاضر) کے ڈاکٹر یونس بٹ کی طرف بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ کوئی تیرانداز نہ تھا مگر طنز و تشنیع کے جو تیر اس نے ربوہ کے بہشتی مقبرہ کی طرف چلائے ہیں، اس سے وہاں پر دفن ہر متعفن لاشے کا کلیجہ چھلنی ہے۔ وہ کوئی محقق نہ تھا مگر تحقیق کے بحر بے کراں میں غوطہ زن ہو کر انسانی نگاہوں سے چھپے ہوئے وہ قیمتی گوہر تلاش کر کے لایا ہے کہ محقق خوشگوار حیرت میں ہیں۔

علوم و فنون اور عرفان و آگہی کی یہ بارش اس پر کہاں سے برس رہی ہے؟ یہ آمد ہے کہ آورد؟ کیا وجہ ہے کہ اس نے علم و ادب کی سرزمین کی جس مٹی کو بھی چھوا ہے، سونا بنا دیا ہے؟ یقیناً کوئی معلم اس کی پشت پر ہے۔ کسی ”امی“ کا سحاب کرم ضرور اس کے سر پر ہے۔ وہ عالم غیب والشہادۃ اسے ضرور راہ دکھا رہا ہے کہ جس نے فرشتوں کو مجبور کر دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں اور قارئین کرام ویسے بھی

ایں سعادت بزور بازو نیست
صفحہ 18

تانہ محمد خدائے بخشندہ

محمد طاہر رزاق۔۔۔ شورش ثانی۔۔۔ ادیب لا زوال۔۔۔ خطیب بے مثال

اندرون ملک و بیرون ملک محترم محمد طاہر رزاق کے بے شمار ایسے قارئین و مداح ہوں گے، جنہوں نے کہ صرف ان کی انقلابی اور ایمان افروز تحریروں کا مطالعہ فرمایا ہے مگر وائے قسمت کہ ان کا حس سماعت موصوف کی شعلہ نوا تقریروں سے محروم ہے۔ میری موجودگی میں ہی کئی جلسوں اور مساجد میں، بعض بزرگوں نے ان سے انتہائی محبت اور عقیدت سے پوچھا کہ کیا آپ آغا شورش کاشمیری مرحوم کے فرزند ہیں کہ تمہیں سن کر شورش کی جوانی یاد آگئی ہے۔ طاہر صاحب ان کے نسبی بیٹے تو نہیں ہیں البتہ کسبی بیٹا ہونے پر انہیں بھی فخر ہے کہ ان کی لازوال تحریروں اور بے مثال تقریروں کی بناء لوگ انہیں شورش ثانی کہتے ہیں۔ یہ لوگ حق بجانب ہیں کیونکہ چشم فلک نے کم ہی ایسے گوہر نایاب دیکھے ہوں گے کہ جو بیک وقت ایک بلند پایہ ادیب بھی ہوں اور شعلہ نوا خطیب بھی۔ جس طرح یہ دونوں خوبیاں آغا شورش مرحوم میں بدرجہ کمال تھیں، اسی طرح جناب طاہر رزاق کی ذات گرامی بھی انہی خصوصیات سے مالامال ہے۔ جب کسی مجلس، مسجد یا جلسہ میں حضور ”ختمی مرتبت کا یہ وکیل اپنے آقا تاجدار ختم نبوت“ کے حق اور دفاع میں دلائل دے رہا ہوتا ہے تو ہزاروں کے مجمع میں کسی کی کیا مجال کہ وہ پلک بھی جھپکنے پائے؟ مجمع ہمہ تن گوش ہو کر اس شورش ثانی کی ولولہ انگیز اور ایمان افروز تقریر کی سماعت کر رہا ہوتا ہے۔ الفاظ کا یہ جادوگر (اس کے قارئین ہوں یا سامعین) کسی کو اونچا سانس بھی لینے نہیں دیتا۔ لگتا ہے کہ پورے مجمع کو مسمرائز یا ہپناٹائز کر دیا گیا ہے۔ اور پھر کوئی کیسے اس کی سحر بیانی کے طلسم سے نکل سکتا ہے کیونکہ اس کی ہر بات پر تاثیر، مدلل اور دل کی گہرائیوں سے نکلتی ہے۔ چاہے وہ اسے قلم کے سپرد کرے یا زبان کے اور بقول مفکر پاکستان، حضرت اقبالؒ کہ:

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

ہماری وہ نئی نسل جو آغا شورش مرحوم کی زیارت و خطابت سے محروم رہی ہے،

صفحہ 19

قدرت نے انہیں طاہر رزاق کی شکل میں آغا شورش کا بہترین نعم البدل عطا کر کے ایک اور احسان عظیم فرمایا ہے۔ اس لیے کہ آغا صاحب کی طرح محمد طاہر رزاق بھی قادیانیت کی راہ میں سب سے بڑی "چٹان" ہے اور مرزائیت کے شکار کے لیے ایک مضبوط اور محفوظ مچان ہے۔ طاہر رزاق نے اپنے الفاظ کے شعلوں سے قادیانیت کا مکروہ چہرہ جلا کر نا قابل شناخت بنا دیا ہے۔ اس نے اپنے زہر آلود قلم کا خنجر مرزائیت کے سینے میں گاڑ کر اس کے قلب و جگر کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ وہ بیک وقت دو محاذوں پر جہاد کر رہا ہے۔ ایک طرف وہ پوری دنیا میں علمی و فکری محاذ پر قادیانیوں کا پیچھا کر کے ان کے زور کر کو توڑ رہا ہے تو دوسری طرف اقبالؒ کی طرح بوقت تہجد مسجد کی محرابوں میں بیٹھ کر قرآنی آیات کو اپنی تحریروں میں ڈھال ڈھال کر مسلمانوں کے خوابیدہ ضمیروں کو جھنجوڑ رہا ہے۔

محمد طاہر رزاق ۔۔۔۔ شہادت گہہ الفت میں

محمد طاہر رزاق نے در حقیقت گوہر حیات کو پالیا ہے۔ اس نے اپنی جان‘ جوانی‘ مال‘ اسباب‘ املاک اور اولاد سب کچھ ناموس تاجدار مدینہؐ کے لیے وقف کر دی ہیں۔ اسے ان سب چیزوں سے زیادہ آقائے نامدار کی عزت و حرمت عزیز ہے۔ اس کا ایمان ہے کہ یا رسول اللہؐ

؎ تیرے کہنے سے خدا کو بھی خدا مانا ہے

وہ تو خدا پر بھی ایمان پیارے مصطفیٰؐ کے فرمان پر لایا ہے۔ تاجدار ختم الانبیاء کی شان اقدس میں مرزا قادیانی کی بکواس اور ہرزہ سرائی نے اس کی روح اور جسم کے روئیں روئیں کو زخمی کر رکھا ہے۔ اس لیے اس مجاہد ختم نبوتؐ کی تقریروں اور تحریروں میں آپ کو شدت نظر آئے گی اور اس کی یہی شدت اس کے جذبہ جہاد اور غیرت ایمانی کی عکاس ہے۔ اس لیے اس کے ہاتھ میں قلم نہیں بلکہ تلوار ہے اور تلوار بھی عام نہیں بلکہ ذوالفقار ہے کہ جس سے وہ ان زندیقوں اور مرتدوں کے سروں کی فصل کو کاٹتا چلا جا رہا ہے۔ اس کا براہ راست جہاد۔۔۔۔۔ جہاد کو حرام قرار دینے والے شاتم رسول اور مجرم اسلام مرزا قادیانی کے ساتھ ہے۔ مرزا قادیانی اگر انگریز کی خوشنودی اور بالادستی کے لیے

صفحہ 20

اسلام کا چہرہ مسخ کر کے حق و باطل کے فرق کو مٹانا چاہتا ہے تو طاہر رزاق اس کے راستے میں بنیان مرصوص بن کر حائل ہو جانا چاہتا ہے ۔ مرزا قادیانی اگر شان رسالت میں گستاخی کر کے راجپال بننے کو تیار ہے تو طاہر رزاق 'غازی علم الدین شہید' کے پھانسی والے رسے کو چوم کر اس پر جھول جانے کو بے قرار ہے۔ طاہر رزاق حسرت بھری زبان سے بیان کرتا ہے کہ کاش اسے یہ عظیم سعادت حاصل ہوتی کہ اگر وہ حضرت وحشیؓ بن حرب کے لشکر جرار کے ساتھ مسیلمہ کذاب کو جہنم واصل کرنے نہ جاسکتا تو کم از کم اپنی زندگی میں اس کا اس مسیلمہ پنجاب کے ساتھ ہی ٹاکرا ہو جاتا تو وہ اس غدار اسلام اور منکر رسالت کے ناپاک وجود سے اسی وقت دنیا کو پاک کر دیتا۔

محسنو اور دوستو! کاروان ختم نبوت کے اس سپاہی طاہر رزاق نے اپنا تن، من، دھن سب کچھ تحفظ عقیدۂ ختم نبوت کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ اسے اپنی جان، جوانی اور اولاد کی چنداں پرواہ نہیں۔ بارگاہ ایزدی میں میری دعا ہے کہ شہادت گہہ الفت کی پرخار وادی کا یہ آبلہ پا مجاہد اسی طرح قصر نبوت کی چوب داری کرتا رہے۔ الجہاد، الجہاد کے نعرۂ مستانہ اس طرح بلند کر کے خانہ ساز انگریزی نبوت کو للکارتا رہے تا وقتیکہ حضرت امام مہدیؑ کا ظہور ہو اور یہ عظیم مجاہد ختم نبوت ان کے لشکر عظیم کا ایک سرفروش سپاہی بن کر باطل پر کاری ضربیں لگاتا ہوا اور قرآنی رجز پڑھتا ہوا آگے بڑھتا چلا جائے کہ قل جاء الحق و زهق الباطل ------ ان الباطل كان زهوقا ۝

محمد طاہر رزاق---- ایک سیماب صفت اور تاریخ ساز شخصیت

۲۸ مئی ۹۸ء کو پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں اسرائیل سے لے کر بھارت تک پوری دنیائے کفر میں صف ماتم بچھ گئی۔ امریکہ سے لے کر G8 کے دیگر سربراہان تک اس لیے لرزہ براندام تھے کہ پاکستان نے ایٹم بم کا نہیں بلکہ ایک اسلامی بم کا دھماکہ کیا ہے۔ اس سلسلے کی سفارتی مہم کے لیے میں بھی گزشتہ ماہ یورپ کا دورہ کرتے ہوئے جرمنی پہنچا تو فرینکفرٹ شہر کے عین قلب میں واقع ایک مسجد میں جمعۃ المبارک کے فریضہ کی ادائیگی کی

صفحہ 21

سعادت حاصل ہو گئی۔ نماز کے بعد خطیب مسجد کی لائبریری میں ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ چونکہ جرمنی قادیانیوں کے لیے ایک بہشتی پناہ گاہ کا درجہ رکھتا ہے، لہٰذا مسئلہ ختم نبوت اور ان مرتدین کے محاسبہ کے موضوع پر گفتگو چل نکلی۔ اس پر خطیب مسجد نے فرمایا کہ پاکستان کے کوئی محمد طاہر رزاق صاحب ہیں۔ ان کا لٹریچر اور تبلیغی کتابیں ہمیں تواتر سے ملتے رہتے ہیں اور نہ صرف ہم علمائے کرام بلکہ دیگر بے شمار مسلمان بھی اس سے استفادہ کر کے تبلیغ اسلام اور رد قادیانیت کا عظیم فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ بس یہ سننا تھا کہ خوشی سے آنسوؤں کے فوارے پھوٹ پڑے۔ دیار کفر میں اپنے جگری یار کی توصیف و تعریف! جناب طاہر رزاق کی عظمت اور قدر و منزلت اور تاریخ ساز شخصیت وطن سے باہر جاکر اور اجاگر ہوگئی۔ بارگاہ خداوندی میں ادب سے سر جھکا کر نکلا تھا۔ کفر کے بازاروں میں فخر سے سر اٹھا کر چلنے لگا۔

سوچنے لگا کہ یہ نوجوان عمر میں مجھ سے چھوٹا ہے، مگر اپنے کام میں اتنا بڑا ہے۔۔۔۔۔ اتنا بڑا ہے جی چاہتا ہے کہ اپنی عمر اس کے قدموں پر نچھاور کر کے سامان آخرت کر دوں۔ اس شخص کے عظیم مشن پر قربان ہو جاؤں اور اپنی زندگی کو اس کا فدیہ بنادوں کہ جو کسی سے کوئی جزا یا عوضانہ یا محنتانہ نہیں چاہتا۔ نہ اپنی ضخیم کتابوں کی رائلٹی لیتا ہے، پوری دنیا میں سے کسی سے بھی کوئی Reward یا شہرت یا دولت نہیں چاہتا۔ اسے تو صرف اور صرف تاجدار ختم نبوتؐ سے قبولیت اور غلامی کی سند درکار ہے۔ یہ گدائے در رسولؐ اپنے ٹوٹے پھوٹے کشکول میں حضورؐ کے در اقدس کی خیرات چاہتا ہے۔ وہ تو حشر کی ہولناک گرمی میں گنبد خضراء کے عظیم مکیں کی کالی کملی کے ٹھنڈے سائے کا سوالی ہے۔ وہ اپنی کتابوں کے دیباچوں اور حروف آغاز میں اپنی تحریروں اور خدمات ختم نبوت کو چراغ قبر بنانے کی آرزو اور دعائیں کرتا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ طاہر رزاق صاحب آپ نے قبر کے لیے ایک نہیں بلکہ ہزاروں چراغوں کا بندوبست کر لیا ہے۔ آپ جیسے عاشقان رسولؐ کے لیے ہی شاعر نے کہا ہے کہ

شہید عشق نبی ہوں میری لحد پر شمع قبر جلے گی
اٹھا کے لائیں گے خود فرشتے، چراغ خورشید کے جلا کے
صفحہ 22

طاہر رزاق صاحب! تاجدار ختم نبوتؐ کے دفاع اور وفا میں آپ کی یہ معرکۃ الآراء کتابیں بروز حشر آپ کے میدان عمل میں بھاری چٹانیں ثابت ہوں گی۔

محمد طاہر رزاق کا ایٹمی دھماکہ ----- مرزائیت کش

رد قادیانیت پر سات سال کے مختصر عرصہ میں محمد طاہر رزاق کی یہ ساتویں کتاب ہے اور اس کے ساتھ ہی ان کی آٹھویں کتاب ”دجال قادیان“ بھی عنقریب آپ کے ہاتھوں کی زینت بننے والی ہے یعنی ۱۹۹۸ء میں جہاں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے عالم کفر میں زلزلہ برپا کر دیا ہے‘ وہاں مرزائیت کش اور دجال قادیان‘ یہ دونوں طاہر رزاق صاحب کے ایسے ایٹمی دھماکے ہیں کہ جن کے تابکاری اثرات مرزائیت کا جنازہ نکال دیں گے۔

ان کتابوں کی اشاعت کے بعد دنیا جان جائے گی کہ طاہر رزاق مرزائیت کے سینے میں ایک کینسر کے پھوڑے کا نام ہے۔ ان کی یہ کتابیں مرزائیت کے چہرہ پر تازیانہ عبرت ثابت ہوں گی۔ مصنف نے جس طرح مرزائیت کش میں کافر اعظم مرزا قادیانی کے کفریہ عقاید اور اسلام دشمن سازشوں کو طشت از بام کیا ہے‘ اس زندیق اعظم کے زندقہ کا جس طرح سارے عالم میں ڈھنڈورا پیٹا ہے‘ جس طرح اس بہروپئے کا حقیقی روپ فرزندان اسلام کو دکھایا ہے‘ جس طرح اس جعلساز کی جعلسازیوں اور شیطانی وحی کا پردہ چاک کیا ہے‘ جس طرح اس مسخرے کی شرمناک داستانیں دنیا کے سامنے بیان کی ہیں‘ جس طرح اس مخبوط الحواس شخص کی بدحواسیوں کی ویڈیو فلم تیار کی ہے۔ یہ عظیم کارہائے نمایاں اس انداز میں اس سے قبل کوئی بھی سرانجام نہ دے سکا۔

میں متلاشیان حق اور تشنگان علم کو دعوت دیتا ہوں کہ اگرچہ مسئلہ ختم نبوت اور مرزائیت ایک گھمبیر مسئلہ ہے اور اس کے لیے وسیع مطالعہ اور کافی وقت کی ضرورت ہے مگر کتاب ہٰذا میں آپ مصنف کا صرف ایک مضمون بعنوان ”مرزا قادیانی کا معافی نامہ“ پڑھ لیں۔ آپ صدیوں کا سفر۔۔۔۔ لمحوں میں طے کر لیں گے۔ یہ ہے مصنف کا کمال اور ختم نبوت کا اعجاز۔

مصنف نے دل پذیر و دلنشیں انداز میں انبیاء کرام علیہم السلام‘ اہل بیت عظامؓ‘

صفحہ 23

صحابہ کرامؓ اور اولیائے اللہ کے حالات و واقعات اور راہ حق میں کٹ مرنے کے لیے اللہ کے ان شیروں کے آہنی عزم بالجزم کا تقابلی جائزہ، مرزا قادیانی جیسے گیدڑ کے ساتھ کر کے اس کے کھوکھلے دعووں کی قلعی کھول کے رکھ دی ہے۔ اگر تھوڑی سی غیرت یا عقل کسی بھی انسان میں ہوگی تو اس مضمون کے مطالعہ کے بعد چشم زدن میں اسے سارا مسئلہ سمجھ آ جائے گا اور وہ اس بے غیرت اور انگریزی نبی کی خانہ ساز نبوت پر فوراً لعنت بھیج کر لاحول پڑھ لے گا۔ اپنے مضمون ”مرزائیت شکن مجاہد“ میں جس طرح مجاہدین ختم نبوت کی ایمان افروز اور ولولہ انگیز داستانیں رقم کر کے ملت اسلامیہ میں جذبہ جہاد کو ابھارا ہے، میں چیلنج سے کہتا ہوں کہ اسے جو بھی حالت ایمان میں پڑھے گا، اسے موت کے سامنے زندگی ہیچ معلوم ہو گی۔ ثبوت کے طور پر مجاہد ملت مولانا عبدالستار نیازی اور شاعر ختم نبوت جناب سید امین گیلانی کے جیل والے واقعات پڑھ کر آزمالیں۔

قلب کو گرمانے اور روح کو تڑپانے کے لیے مصنف نے اشعار ختم نبوت کا جو گلدستہ سجایا ہے، کون ایسا صاحب ایمان ہے کہ جس کی وادی ایمان اس خوش رنگ اور معطر گلدستہ کی مقدس خوشبو سے مہک نہ اٹھے؟ جس طرح قادیانی اخلاق کی Coated Suger زہریلی گولیوں کی لیبارٹری رپورٹ تیار کی ہے اور اس اخلاق باختہ اور دریدہ دہن غلام انگریز مرزا قادیانی کے اخلاق کا جنازہ سر بازار نکالا ہے۔ یہ انداز کسی اور مصنف کو کہاں نصیب ہو گا؟ غدار اسلام و پاکستان ڈاکٹر عبدالسلام کے سر پر یہودیت کی طرف سے سجائی جانے والی نوبل انعام کی دستار فضیلت کے پیچ کھول کر جس طرح مصنف نے دنیا کو اس منافق کا حقیقی روپ دکھایا ہے، وہ ایک بہت بڑی ملکی و ملی اور دینی خدمت ہے۔ مصنف نے جس اچھوتے انداز اور انوکھے پیرائے میں امت مسلمہ کو قادیانیت نوازی سے باز رکھنے کی تلقین کی ہے، وہ اصلاح معاشرہ کی لائق صد تحسین اور حسین کاوش ہے۔

”مرزا قادیانی کے فرشتے“ میں جس طرح ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی طرف وحی الٰہی لے کر آنے والے عظیم فرشتہ جبرئیل کے مقابلے میں مرزا قادیانی کے فرشتوں ٹچی ٹیچی، مٹھن لال اور خیراتی کی لغو اور بے سروپا باتوں اور مضحکہ خیز دعوؤں کے بخیئے ادھیڑے ہیں۔ اسے پڑھنے کے بعد مرزا کی انگریزی اور خانہ ساز نبوت قارئین کے قہقہوں میں ہی

صفحہ 24

بکھر کر رہ جائے گی۔ قادیانی کیڑے اور سنڈیاں چونکہ مسلمانوں کی فصل ایمان تباہ کر رہے ہیں، اس لیے جناب طاہر رزاق نے ”مرزائیت کش“ نامی ایک ایسا زبردست اور جراثیم کش سپرے تیار کیا ہے کہ اگر اس کا سپرے کیا جائے تو فصل ایمان کا رس چوسنے والے قادیانی کیڑوں اور خطرناک سنڈیوں کا خاتمہ یقینی ہے۔

سید علمدار حسین شاہ بخاری نامور دانشور، ممتاز مسلم لیگی رہنما ۱۲ ربیع الاول ۱۴۱۹ھ، بمطابق ۷ جولائی ۱۹۹۸ء

صفحہ 25

عرض سدید

اس کتاب کا پیش لفظ لکھتے ہوئے مجھے سب سے پہلے اس بات کا اعتراف کرنا ہے کہ میں ایک عام سا مسلمان ہوں۔ لیکن میرا افتخار یہ ہے کہ میں ایک ایسے مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا‘ جس کے اسلاف کی چھٹی یا ساتویں نسل کے ہندو راجپوتوں نے کسی بزرگ کے دست حق پرست پر اسلام قبول کر لیا تھا۔ اللہ کی وحدانیت اور نبی اکرم کی آخرالزمانیت پر ایمان لائے اور اتنے راسخ العقیدہ ہوگئے کہ جب بیسویں صدی کے مختلف ادوار میں تحفظ ختم نبوت کی تحریکیں شروع ہوئیں تو رضا کارانہ طور پر نقد جان پیش کیا اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ قید ہوئے تو جیل سے رہائی اس وقت قبول کی جب قائدین تحریک نے اجازت دی اور تحریک بوجوہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ ایک عام مسلمان ہونے کے باوجود عشق رسول مجھے اپنے والد گرامی اور والدہ محترمہ سے ورثے میں ملا ہے اور آج بھی کسی محفل میں اگر کوئی شخص احترام نبویؐ کے قرینوں کو ملحوظ نہ رکھے تو خون کھول اٹھتا ہے۔ اور اس قسم کے شخص کو ہر موقعہ روکنے سے گریز ناممکن ہو جاتا ہے۔

آزادی سے پہلے میرا بچپن مجلس احرار کی گھنی چھاؤں میں گزرا۔ مجھے امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ‘ قاضی احسان احمد شجاع آبادی‘ مولانا مظہر علی اظہر‘ شورش کاشمیری‘ میرزا جانباز امرتسری‘ خواجہ عبدالرحیم عاجز اور متعدد احرار رہنماؤں

صفحہ 26

کے سامنے زانوئے عقیدت تہہ کرنے اور ان کی تقریریں سننے کا شرف حاصل ہوا۔ مولانا عبدالرحمن جانوی مرحوم میرے بہنوئی تھے۔ امیر شریعتؒ نے انہیں مولانا ظہور احمد بگوی بھیروی کے پاس خدمت اسلام میں مصروف دیکھا تو انہیں مانگ لیا۔ ان کی ساری زندگی امیر شریعت کے سایہ شفقت میں گزری۔ اللہ کا احسان عظیم یہ ہے کہ اسلام اور حب نبویؐ کا جو جذبہ مجھے اپنے بزرگوں سے ملا تھا‘ وہ اب میرے بچوں میں بھی منتقل ہو گیا ہے اور جدید دور کے مغرب پسندوں سے جب علمی موضوعات پر گفتگو ہوتی ہے تو مجھے اور میرے بچوں کو اس اظہار میں فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہم اسلام پسند اور بنیاد پرست ہیں اور اس ملک میں سچے اسلامی نظام کے اجراء اور فروغ کا خواب گزشتہ پچاس برس سے دیکھ رہے ہیں۔

یہ چند ذاتی باتیں برسبیل تذکرہ قلم پر نہیں آئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ محمد طاہر رزاق صاحب کے متعدد چھوٹے چھوٹے کتابچے مثلاً ”ظالم کون۔۔۔ مسلمان یا قادیانی؟“‘ ”میرزائیت شکن مجاہد“‘ ”گلدستہ اشعار ختم نبوت“‘ ”قادیانی نواز“‘ ”مرزا قادیانی کا معافی نامہ“ وغیرہ پڑھے تو میرے بہت سے خوابیدہ جذبات بیدار ہو گئے اور میری بوڑھی رگوں میں سرد خون تیزی سے گردش کرنے لگا۔ ان کتابچوں میں مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی سے ان کے قول اور فعل کے تضادات اور نبوت کے غلط اور جعلی دعوے کے واضح اور ٹھوس ثبوت دستاویزی انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ انگریز کے اس کاشتہ پودے کی دنیا داری کو جس جذبہ ایمانی کے ساتھ آشکار کیا گیا ہے‘ وہ میرے جیسے عام مسلمان کے اعتقادات کو مزید پختہ اور راسخ کر دیتا ہے جس سے نہ صرف زندگی کی منزلیں آسان ہو جاتی ہیں بلکہ آخرت کی شفاعت کا وسیلہ بھی یہی جذبہ بن جاتا ہے۔

محمد طاہر رزاق صاحب نے نبی اکرمؐ کے تربیت یافتگان میں سے حضرت بلالؓ‘ حضرت یاسرؓ‘ حضرت ابو جندلؓ اور خانوادۂ رسول آخرؐ میں سے حضرت امام حسینؓ کا اجمالی ذکر جمیل کیا ہے۔ انہوں نے حضرت امام مالکؒ‘ امام ابو حنیفہؒ‘ امام احمد بن حنبلؒ اور امام ابن تیمیہؒ کی حاکمان وقت کے سامنے ثابت قدمی اور اعلائے کلمۃ الحق سے تاحیات وابستگی کا تذکرہ روح پرور انداز میں پوری شیفتگی سے کیا ہے۔ اس فہرست میں غازی علم دین شہید ہمارے کفرستان ہند کا ایک تابندہ ستارہ ہے جس نے ناموس رسالت پر اپنی جان قربان کر

صفحہ 27

دین اور دنیا کے تمام انعامات کو ٹھوکر مار دی۔ یہ سب تذکرے ایمان کی تازگی کا باعث بنتے اور راہ حق سے بھٹکے ہوئے لوگوں کو راستہ دکھاتے ہیں۔

اس کتاب سے حضرت امیر شریعت کی زندگی کے دو واقعات کی تجدید سماعت ہوئی اور روح و قلب منور ہوگئے۔

اول۔۔۔ جسٹس منیر نے ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کی انکوائری میں حضرت امیر شریعت سے کہا ”سنا ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی میرے زمانے میں نبوت کا دعویٰ کرتا تو آپ اسے قتل کر دیتے“

شاہ جی نے برجستہ فرمایا ”اب کوئی کر کے دیکھ لے۔

جسٹس منیر بولے ”توہین عدالت“

شاہ جی نے فرمایا ”توہین رسالت“

دوم۔۔۔۔۔ جسٹس منیر نے شاہ جی سے دریافت کیا ”نبی کے لیے کیا شرائط ہیں؟“

شاہ جی نے فی البدیہہ کہا ”کم از کم یہ کہ شریف انسان ہو“۔

نبی آخر الزمانؐ نے اپنے اسوۂ حسنہ سے شرافت کا جو معیار قائم کیا تھا‘ وہ مرزا غلام احمد کے زمانے میں نایاب ہو چکا تھا اور یہ نایابی ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ مرزا غلام احمد جعلی نبی تھا۔

محمد طاہر رزاق نے یہ کتاب جوش جنوں سے لکھی ہے۔ اس لیے اس کتاب میں ان کا جذبہ تیز تر اور شعلہ بار ہے۔ میں نے یہ کتاب پڑھی تو رجز کی کیفیت محسوس کی اور دل نے گواہی دی کہ

”میرے نبیؐ پہ ختم ہیں عظمت کے سلسلے“

ڈاکٹر انور سدید لاہور

صفحہ 28

صدائے دل

محمد طاہر رزاق اب ایک شخص نہیں ، ایک تحریک بن چکے ہیں۔ مرزائیت کے خلاف ان کے افکار ، ان کی کتابوں کی شکل میں شمشیر برہنہ بن کر کاذب مرزا قادیانی کے خلاف سرگرم جہاد ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان کی کتابیں پڑھ کر کئی گم کردہ راہ ہدایت پاچکے ہیں۔ انہوں نے کمال ذہانت اور مکمل دیانت سے جعلی نبی کے افکار و نظریات کو اس کی کتابوں اور خیالات سے جھوٹا ثابت کیا ہے۔

محمد طاہر رزاق نبی کریم کا سچا شیدائی اور صرف نام کا نہیں، عمل کا مسلمان ہے۔ اس نے اس دور میں کہ جب لوگ منافقت کو اپنا شعار بنا چکے ہیں، کمال جرات سے سچ کا علم تھاما ہے۔ ممکن ہے آج کچھ نام نہاد مسلمان انہیں بھی ”کٹر ملا“ سمجھتے ہوں ، لیکن ۔۔۔۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ حضرت ابو بکر کے اسی عزم اور للکار کو زندہ کر رہے ہیں کہ جب انہیں کاذب نبیوں کی خبر ملی تو فرمایا کہ باقی کام بعد میں ہوں گے ، پہلے میں ان کی سرکوبی کر لوں۔

فتنہ قادیانیت جس تیزی سے ہماری بھولے بادشاہوں کی قوم میں سرایت کر رہا ہے، اس کی سرکوبی کرنا یوں تو ہر مسلمان کا فرض اولین ہے لیکن وائے افسوس کہ ہمارے بیشتر علماء صرف سیاست کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا چکے ہیں یا پھر مسلک اور نظریات کی جنگ میں الجھ کر اپنا اور امت مسلمہ کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔

اندریں حالات محمد طاہر رزاق نے جرات رندانہ سے کام لے کر جس مشن کو اپنا مقصد حیات بنا لیا ہے ، انشاء اللہ وہ ان کے لیے بے پناہ دینی و دنیاوی برکات کا باعث بنے گا۔

طارق اسماعیل ساگر انچارج سنڈے میگزین روزنامہ ”نوائے وقت“

صفحہ 29

مرزا قادیانی کا شجرۂ نجاست

مکہ مکرمہ میں ابو جہل اور ابولہب کی طرح حارث بن قیس بھی وہ بدبخت تھا جو توہین رسالت اور گستاخی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کرنے والے گروہ ذلیل کا سرغنہ تھا۔ ایک بار نبی کریم ﷺ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے کہ جبرئیل امین آئے۔ حضور ﷺ نے جبرئیل سے حارث بن قیس اور اس جیسے کچھ دوسرے گستاخوں کی شکایت کی۔ جبرئیل نے حارث کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا۔ حارث کے پیٹ میں ایسی بیماری پیدا ہوئی کہ منہ سے پاخانہ آنے لگا اور اسی میں مرگیا۔ حارث بن قیس جیسے گستاخ رسول ﷺ کے ساتھ اللہ پاک نے جو عبرت آموز معاملہ فرمایا‘ ایسا ہی معاملہ اللہ تعالیٰ نے برصغیر کے ایک بہت بڑے گستاخ یعنی مرزا قادیانی کے ساتھ کیا۔ وہ جب جہنم واصل ہوا تو اس کے منہ سے بھی غلاظت جاری تھی۔ اہل تحقیق اگر حق تحقیق ادا کریں تو کامل امید ہے کہ مرزا قادیانی کا ”شجرۂ نجاست“ کسی نہ کسی واسطے سے حارث بن قیس سے جا ملے گا۔

مرزا قادیانی کی یہ انوکھی وراثت اس کی اولاد کو بھی کماحقہ منتقل ہوئی۔ اس کا بیٹا مرزا محمود بھی موت سے قبل دیوانگی کے عالم میں اپنی نجاست خود کھاتا تھا اور یہی وہ منظر تھا جسے دیکھ کر مرزا محمود کا معالج پکار اٹھا تھا کہ میں بیماری کا علاج تو کر سکتا ہوں مگر خدائی پکڑ کا نہیں۔ جس طرح مرزا قادیانی کی ذریت نجاستوں اور غلاظتوں کے اس ڈھیر یعنی قادیانیت

صفحہ 30

کو ہمیشہ اطلس و کمخواب اور ریشم و سندس میں لپیٹ کر اور مشک و عنبر میں بسا کر پیش کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے، اسی طرح مشیت ایزدی بھی ہر دور میں ان کی اس مکروہ اور قبیح سازش کو طشت از بام کرنے کے لیے غلامان محمد ﷺ کا انتخاب کرتی رہی ہے اور موجودہ دور میں اگر میں یہ کہہ دوں کہ اس انتخاب حسین کا نام محمد طاہر رزاق ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ قادیانیت جیسے غلیظ و متعفن موضوع کو وہ قارئین کے سامنے جس مہارت، چابکدستی اور ہمہ جہتی انداز میں پیش کرتے ہیں، وہ یقیناً نصرت الٰہی کے بغیر ممکن نہیں۔ ”تحفظ ختم نبوت“، ”نغمات ختم نبوت“، ”شعور ختم نبوت اور قادیانیت شناسی“، ”قادیانی افسانے“، ”قادیانیت شکن“ اور ”مرگ مرزائیت“ کے بعد محمد طاہر رزاق ایک دفعہ پھر اپنے اسی روایتی انداز میں ”قادیانیت کش“ کی حسام بے نیام لیے میدان میں کودے ہیں تاکہ قادیانی غلاظت پر پڑے حریر و پرنیاں کے کچھ اور پردے چاک کر کے کچھ اور مسلمانوں کو اس ڈھیر پر جا گرنے سے بچالیں۔

حسب سابق قادیانیت کش بھی مختلف اوقات میں لکھے ہوئے مختلف کتابچوں کا مجموعہ ہے۔ پہلا کتابچہ ”قادیانی فرشتے“ ہے۔ اس میں آپ کی ملاقات ٹپچی ٹپچی اور مٹھن لال سے ہوگی اور اس سے آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ فرشتے اسم بامسمی تھے۔ ان کی وحی بھی ان کے مکروہ ناموں جیسے ہی تھی۔ مثلاً خشم فشم، پریشن، پراطوس، پلاطوس، پنی پٹی گئی وغیرہ۔

”مرزا قادیانی کی خوراک“ پڑھ کر آپ یقیناً اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ یہ خاندانی کنگال اور نکھٹو اس زمانے میں بھی پرندے، بٹیرے، سالم مرغ، بھنے ہوئے گوشت، ولایتی بسکٹ، پلاؤ، مرغ کباب، مکھن، ملائی، الائچی، بادام، یخنی، فیرنی، قلفہ، عنبر و مشک اور پراٹھوں سے اپنا جہنمی شکم پر کرتا تھا۔ تو یہ سب انگریز کی نظر عنایت اور اطاعت کا ثمرہ بیش بہا تھا۔

”قادیانی اخلاق ایک سازش ایک جال“ کا دوسرا نام بغل میں چھری اور منہ میں رام رام ہو سکتا ہے۔ اخلاق کے حسین پردوں کے پیچھے چھپے مکروہ چہروں اور بھیانک خنجروں سے آگہی اسے پڑھے بغیر ممکن نہیں۔

”مرزا قادیانی کا معافی نامہ“ پڑھ کر آپ کو قادیانیوں کی عقل و دانش پر رونا آئے گا

صفحہ 31

کہ ایسے بزدل اور ڈرپوک شخص کو نبی مان لیا جو ایک مجسٹریٹ کی تاب نہ لاسکا اور پھر سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا وہ قول یاد آتا ہے کہ ”کم بختوں نے نبی ماننا ہی تھا تو محمد علی جناح کو نبی مان لیتے جو انگریزوں کے سامنے نہ جھکا نہ بکا“۔

”ڈاکٹر عبدالسلام کون؟“ یہ وہ قادیانی چہرہ تھا، جس نے پاکستان کو لعنتی سرزمین کہا۔ اس کا اصل روپ آپ کے سامنے آئے گا تو اس کا کم از کم انجام حیرانی و پریشانی تو ضرور ہو گا۔

”ظالم کون مسلمان یا قادیانی؟“ قادیانیوں کی دہشت گردی اور مسلمانوں کی مظلومیت کی کہانی سناتا ہے۔ نبی اپنے وقت کا حسین ترین انسان ہوتا ہے۔ کیا مرزا قادیانی اس معیار کے قریب بھی پھٹکتا تھا، یہ آپ کو مرزا قادیانی کا جسمانی ڈھانچہ پڑھ کر معلوم ہو جائے گا۔

”مرزائیت شکن مجاہد“ پڑھ کر امید ہے کہ آپ کے اندر ایمانی جذبہ بیدار ہو جائے گا اور جب یہ جذبہ بیدار ہو جائے تو پھر ”اشعار ختم نبوت“ پڑھئے گا۔ انشاء اللہ یہ جذبہ جواں ہو جائے گا۔ ”قادیانی نواز“ پڑھ کر آپ کو مسلمانوں کی صفوں میں چھپی ان کالی بھیڑوں کو پہچاننا یقیناً آسان ہو جائے گا، جو قادیانیت کی جڑوں کو پانی دینے اور قادیانیت کے پنپنے اور پھلنے پھولنے کا باعث بنتی رہی ہیں۔ یہ موضوع پڑھ کر اگر آپ بھی میری طرح اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ ”قادیانیت ہماری بے غیرتی اور بے حسی کی وجہ سے زندہ ہے“ تو اللہ کی رحمت سے امید ہے کہ محمد طاہر رزاق کی آہ نیم شب کا ثمر اسے آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی مل جائے گا اور دنیا میں اس کا ثمر یہی ہے کہ آپ بھی آگے بڑھئے اور ناموس رسالت کی فوج کے سپاہی بنئے۔ پھر دیکھئے کہ قادیانیت اپنے منطقی انجام کا کس طرح شکار ہوتی ہے۔ اللہ ہم سب کو وہ دن دیکھنا نصیب فرمائے اور ناموس رسالت کے لشکر کا ادنیٰ رضاکار بنائے ۔

طالب شفاعت محمدیؐ بروز محشر محمد نذیر مغل

صفحہ 28
PDF 33

قادیانی اخلاق

ایک سازش — ایک جال

محمد طاہر رزاق

صفحہ 34

میں پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ مسلمان کہتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا جبکہ مرزا قادیانی مدعی نبوت ہے۔ اس لیے مرزا قادیانی کافر ہے۔

اس کی یہ بات سن کر قادیانی شکاری میٹھی میٹھی ہنسی ہنستے ہیں اور منہ بنا بنا کر بڑے ملائم لہجے میں اسے کہتے ہیں کہ بھائی۔۔۔۔ توبہ توبہ۔۔۔۔ مرزا قادیانی نے قطعاً نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہم اسے نبی مانتے ہیں۔ ہم تو مرزا قادیانی کو ایک ”بزرگ“ اور ”پیر“ مانتے ہیں۔ جس طرح آپ لوگوں کے بزرگ اور پیر ہوتے ہیں۔ اسی طرح مرزا قادیانی ہمارا بزرگ اور پیر ہے۔ جس طرح آپ اپنے بزرگ کی بیعت کرتے ہیں اسی طرح ہم بھی اپنے بزرگ مرزا قادیانی کی بیعت کرتے ہیں۔

وہ مسلمان کہتا ہے کہ آپ نے مسلمانوں سے الگ اپنی ایک جماعت بنا رکھی ہے۔

جواباً قادیانی شکاری کہتے ہیں کہ ہماری مسلمانوں سے الگ کوئی جماعت نہیں۔ جس طرح آپ کے ہاں مختلف سلسلے ہیں جیسے سلسلہ قادریہ، سلسلہ نقشبندیہ، سلسلہ سہروردیہ، سلسلہ چشتیہ وغیرہم۔ اسی طرح ہمارا بھی سلسلہ ہے جسے ”سلسلہ احمدیہ“ کہتے ہیں۔

اکثر مسلمان ان کی باتوں سے مطمئن ہو جاتے ہیں اور ان گستاخان رسولؐ سے ان کی نفرت کا لاوا کچھ ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور قادیانی مسلم معاشرے میں اپنے لیے کچھ جگہ بنا لیتے ہیں۔

لیکن مسلمانو! یہ قادیانیوں کا بہت بڑا فراڈ ہے۔۔۔۔ مرزا قادیانی مدعی نبوت ہے اور اس نے ایک مرتبہ نہیں بلکہ سینکڑوں مرتبہ اعلان نبوت کیا ہے۔ ہمارے پاس اس کے بین ثبوت موجود ہیں۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔ یہ نکتہ بھی یہاں بتاتا جاؤں کہ مرزا قادیانی کا بزرگ ہونا تو بڑی دور کی بات ہے، مرزا قادیانی کو مسلمان ماننا بھی کفر ہے۔ اب ہم آپ کی خدمت میں بطور ثبوت مرزا قادیانی کے چند حوالے پیش کرتے ہیں۔ جن میں اس نے کھلم کھلا اپنی نبوت کا اعلان کیا ہے۔

سے ہم کلامی سے مشرف ہوں اور وہ میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے اور میری

صفحہ 35

باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا ہے اور آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جب تک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو، دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا اور ان ہی امور کی کثرت کی وجہ سے میرا نام نبی رکھا گیا ہے۔ سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہو گا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے، تو میں کیوں کر انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک کہ دنیا سے گزر جاؤں۔"

(مرزا قادیانی کا خط، مورخہ ۲۳ مئی بنام اخبار عام لاہور، ”حقیقتہ النبوت“ ص

۲۷۰۔۲۷۱)

ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے، وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے ........ ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں۔“

(”ایک غلطی کا ازالہ“ ص ۲، ”روحانی خزائن“ ص ۲۰۶، ج ۱۸، مصنفہ مرزا

قادیانی)

پاکر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہو گئیں تو اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں اور جب کہ خود خدا تعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو میں کیونکر رد کردوں....یا اس کے سوا کسی دوسرے سے ڈروں۔“

(”ایک غلطی کا ازالہ“، روحانی خزائن“ ص ۲۱۰، ج ۱۸، مصنفہ مرزا قادیانی)

ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کیے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے ...... لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں، وہ نہیں مانتے“۔

(”چشمہ معرفت“ ص ۳۱۷، روحانی خزائن“ ص ۳۳۲، ج ۲۳، مصنفہ مرزا قادیانی)

صفحہ 36

ہیں جن کی یہ تائید کی گئی ۔ لیکن پھر بھی جن کے دلوں پر مہریں ہیں‘ وہ خدا کے نشانوں سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھاتے“۔

(”تتمہ حقیقۃ الوحی“ ص ۱۴۸ ”روحانی خزائن“ ص ۵۸۷‘ ج ۲۲‘ مصنفہ مرزا

قادیانی)

مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے نشان ظاہر کیے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں ۔“

(”تتمہ حقیقۃ الوحی“ ص ۶۸‘ ”روحانی خزائن“ ص ۵۰۳‘ ج ۲۲ مصنفہ مرزا قادیانی)

تک طاعون دنیا میں رہے گا‘ گو ستر برس تک رہے‘ قادیان کو اس خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لیے نشان ہے ۔.... سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

(”دافع البلاء“ ص ۱۰۔ ۱۱‘ ”روحانی خزائن“ ص ۲۳۰‘ ۲۳۱‘ ج ۱۸ مصنفہ مرزا

قادیانی)

نے جو دعویٰ کیا ہے‘ اس کی سچائی کے دلائل کیا ہیں۔ مرزا صاحب نے فرمایا میں کوئی نیا نبی نہیں ۔ مجھ سے پہلے سینکڑوں نبی آ چکے ہیں...... جن دلائل سے کوئی سچا نبی مانا جا سکتا ہے وہی دلائل میرے صادق ہونے کے ہیں۔ میں بھی منہاج نبوت پر آیا ہوں ۔“

(اخبار ”الحکم“ قادیان‘ مورخہ ۱۰ اپریل ۱۹۰۸ء ”ملفوظات“ ص ۲۱۷‘ ج ۱۰‘ منقول

از اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۲‘ نمبر ۸۵‘ مورخہ ۱۵ جنوری ۱۹۳۵ء)

ہو ۔“

صفحہ 37

(اخبار "الفضل" قادیان، جلد ۱۸، نمبر ۱۷، ص ۷، مورخہ ۱۵ جولائی ۱۹۳۰ء)

اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں..... اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا..... جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہو گا"۔

("حقیقت الوحی" ص ۳۹۱، "روحانی خزائن" ص ۴۰۷۔۴۰۶، ج ۲۲، مصنفہ مرزا

قادیانی)

ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی ہے، جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے، وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا کلام نازل کیا تھا"۔

("ایک غلطی کا ازالہ" ص ۶، "روحانی خزائن" ص ۲۱۰، ج ۱۸، مصنفہ مرزا قادیانی)

جیسا کہ قرآن شریف اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں"۔

("حقیقۃ الوحی" ص ۲۱۱، روحانی خزائن" ص ۲۲۰، ج ۲۲، مصنفہ مرزا قادیانی)

ہوں کہ تورات اور انجیل اور قرآن مقدس پر ایمان رکھتا ہوں"۔

("تبلیغ رسالت" جلد ہشتم، ص ۶۷، اشتہار مورخہ ۴ اکتوبر ۱۸۹۹ء مجموعہ اشتہارات،

ص ۱۵۲ ج ۳)

("اربعین" نمبر ۴، ص ۲۵، مصنفہ مرزا قادیانی)

صفحہ 38

مرتبہ بلحاظ کلام الہی ہونے کے ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآن مجید اور تورات اور انجیل کا"۔

(اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲۲‘ نمبر ۸۴‘ مورخہ ۱۳ جنوری ۱۹۳۵ء)

(”منکرین خلافت کا انجام“ ص ۴۹‘ مصنفہ جلال الدین قادیانی)

دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں"۔

(”اعجاز احمدی“ ص ۳۰‘ ”روحانی خزائن“ ص ۱۴۰‘ ج ۱۹‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کر دے"۔

(”تحفہ گولڑویہ“ ص ۱۰‘ ”روحانی خزائن“ حاشیہ ص ۵۱‘ جلد ۱۷‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا‘ وہی صاحب شریعت ہو گیا..... میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی"۔

تجدید ہے اس لیے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے‘ فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا.... اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لیے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔ جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے"۔

(”حاشیہ اربعین“ نمبر ۴‘ ص ۷‘ ۸۳ ”روحانی خزائن“ ص ۴۳۵” ج ۱۷‘ حاشیہ‘

مصنفہ مرزا قادیانی)

صفحہ 39

میں اس کو اس سے تشبیہ دیتا ہوں کہ جو عین طوفان کے وقت جہاز میں بیٹھ گیا لیکن جو شخص مجھے نہیں مانتا، میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ طوفان میں اپنے تئیں ڈال رہا ہے اور کوئی بچنے کا سامان اس کے پاس نہیں"۔

(”دافع البلاء“ ص ۱۳، ”روحانی خزائن“ ص ۲۳۳‘ ج ۱۸‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں، اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں۔ اب اسم احمد کا نمونہ ظاہر کرنے کا وقت ہے یعنی جمالی طور کی خدمات کے ایام ہیں اور اخلاقی کمالات کے ظاہر کرنے کا زمانہ ہے"۔

(”اربعین نمبر ۴“ ص ۱۷، ”روحانی خزائن“ ص ۴۴۵‘ ج ۱۷‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کیے جاویں، سو وہ میں ہوں"۔

(”براہین احمدیہ“ ص ۱۰۱‘ ۹۸ ”روحانی خزائن“ ص ۱۱۷‘ ج ۲۱‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے"۔

(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد نمبر ۹ ص ۲۷)

فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے۔ مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی"۔

(آئینہ کمالات اسلام‘ ص ۵۴۷‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

اور حلال زادہ نہیں"۔ (انوار اسلام، ص ۳۰‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

مندرجہ بالا مثالوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ:

صفحہ 40

باللہ)

ہیں۔ -(نعوذ باللہ)

باللہ)

کی صورت میں دکھا دیا۔ -(نعوذ باللہ)

قادیانیو! ہم نے بڑی جانفشانی سے مرزا قادیانی کو مدعی نبوت ثابت کر دیا۔۔۔ اس کی انگریزی نبوت کا سارا ڈھانچہ تمہاری آنکھوں کے سامنے بکھیر دیا۔ مجرم کے زبان و قلم سے اعتراف جرم کروا دیا۔

اگر اب بھی تم آنکھیں نہ کھولو۔۔۔ اب بھی تم ضد اور ہٹ دھرمی سے باز نہ آؤ۔۔۔ تو تمہیں جہنم کے گڑھے میں گرنے سے کون روک سکتا ہے۔

اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا
PDF 41

ڈاکٹر

عبدالسلام

کون؟

ایک تعارف

ایک تجزیہ

صفحہ 42

روزنامہ نوائے وقت میں جناب جی ایم پراچہ صاحب کا مضمون بعنوان ”ڈاکٹر عبدالسلام کی یاد میں“ تین قسطوں میں شائع ہوا ہے۔ جس میں مصنف نے معروف قادیانی لیڈر آنجہانی ڈاکٹر عبدالسلام کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے ہیں۔ اس کی علمیت کے قصیدے پڑھے ہیں، پاکستان سے اس کی محبت کے گیت گائے ہیں۔ نوبل انعام کے حوالے سے اس کی خوب تشہیر کی ہے اور اسے دین و دنیا کے اعتبار سے ایک کامیاب انسان قرار دیا ہے۔

میں اسے جناب پراچہ صاحب کی کمال سادگی کہوں یا کمال ہوشیاری یا کمال بے خبری کہ موصوف کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ڈاکٹر عبدالسلام کا تعلق اس گروہ سے تھا، جس نے ہندوستان میں انگریز کی ایک خوفناک سازش کے تحت قصر ختم نبوت پر ڈاکہ زنی کی ناپاک جسارت کی اور ایک غدار ملت مرزا غلام احمد قادیانی سے دعویٰ نبوت کرایا۔ مرزا قادیانی نے خود کو اللہ کا نبی اور رسول کہا۔ انگریزی سلطنت کی بقا کے لیے جہاد کو حرام قرار دیا۔ انگریز کو اولی الامر بنایا، ظالم انگریزی گورنمنٹ کو رحمت کا سایہ کہا۔ ملکہ وکٹوریہ کو زمین کا نور کہا اور انگریزی سلطنت کے خلاف جہاد کرنے والوں کو خدا اور رسول کا باغی، حرامی اور بدکردار قرار دیا۔

کیا پراچہ صاحب کو معلوم نہیں کہ جس جماعت نے سامراجی ایجنٹ ہونے کے ناطے، یہود و نصاریٰ میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے مسمی عبدالسلام کو ڈاکٹر عبدالسلام بنایا اور پھر اسے نوبل انعام دلوایا اور پھر یہودی پریس کے ذریعے پوری دنیا میں اس کی خوب تشہیر کرائی۔

تنقید کرتے ہوئے جماعت کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود نے کہا تھا کہ ”وہ نبی بھی کیا نبی ہے، جس کی عزت کی حفاظت کے لیے خون میں ہاتھ رنگنے پڑیں“۔

لیے اپنا ایک میمورنڈم پیش کیا، جس کے نتیجے میں ضلع گورداسپور بھارت کے قبضہ میں چلا گیا اور بھارت کو کشمیر پر قبضہ کرنے کا واحد زمینی راستہ مل گیا۔

صفحہ 43

جنازہ اس لیے نہ پڑھی کیونکہ قادیانیوں کے نزدیک قائداعظم کافر تھے، کیونکہ قائد اعظم مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے تھے۔

قادیانی وزیر سر ظفر اللہ کو اس کی خرمستیوں کی وجہ سے کابینہ سے خارج کرنے کا اعلان کرنے والے تھے۔

مسلمانوں کا داخلہ ممنوع قرار دیا اور ربوہ کا قادیانی خلیفہ وہاں کا مطلق العنان حکمران ہوتا تھا، جس کے سامنے ملکی قانون کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔

قادیانی بھرتی ہیں۔

تقسیم کیں اور بھٹو کو ایک غلیظ جانور سے تشبیہ دی۔

دیں۔

لیے وہ اپنے مردے ربوہ میں امانتاً دفن کرتے ہیں کہ جب اکھنڈ بھارت بن جائے گا تو ہم ان کی لاشیں اپنے مذہبی مرکز قادیان پہنچائیں گے۔ مرزا بشیر الدین کی قبر پر ایسی ہی تحریر رقم تھی، جو اب کسی مصلحت کے تحت مٹا دی گئی ہے۔

کیا جناب پراچہ صاحب نے مصور پاکستان، مفکر پاکستان حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ کے یہ الفاظ کبھی نہیں پڑھے کہ :

صفحہ 44

مطالبہ کیا تھا اور پاکستان کے خواب کی طرح حکیم الامت کا یہ خواب بھی ۱۹۷۴ء میں پورا ہوگیا جب پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو کافر قرار دیا۔

فرنگی سامراج کی خودکاشتہ قادیانی جماعت کا تذکرہ ہو جانے کے بعد میں ڈاکٹر عبدالسلام آنجہانی کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ ڈاکٹر عبدالسلام پچھلے کئی برسوں سے کئی کربناک بیماریوں میں مبتلا تھا۔ فالج سے اس کا جسم بید لرزاں کی طرح کانپتا تھا، موت سے چھ ماہ قبل تک اس پر بے ہوشی کے دورے پڑتے اور اسے مصنوعی طریقے سے غذا پہنچائی جاتی۔ پھر دماغ پر ہونے والے شدید فالج کے حملہ نے اسے یادداشتوں اور ہوش و حواس سے بھی محروم کر دیا۔ قادیانی ڈاکٹروں کی ایک مخصوص ٹیم اس کے علاج کے لیے مستعد رہتی لیکن کوئی علاج بھی کارگر نہ ہوتا۔ قادیانی جماعت نے اس کی اس خطرناک بیماری کو عام قادیانیوں سے چھپائے رکھا کیونکہ قادیانی جماعت کے پیشوا مرزا قادیانی نے فالج سے ہونے والی موت کو بہت بری موت قرار دیا ہے۔

ڈاکٹر عبدالسلام آنجہانی کا شمار چوٹی کے قادیانی مبلغین میں ہوتا تھا۔ اس نے تعلیم اور سائنس کی آڑ میں سینکڑوں مسلمان نوجوانوں کو قادیانی بنایا۔ یہود و نصاریٰ نے اس کی سائنسی خدمات کو سراہتے ہوئے اسے ۱۹۷۹ء میں نوبل انعام سے نوازا اور پھر ایک مخصوص پروگرام کے تحت پوری دنیا میں اس کے نام کی تشہیر کی گئی۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے اس نوبل انعام کو اپنے ”نبی“ مرزا غلام احمد قادیانی کا معجزہ قرار دیا اور اس موقعہ پر اس نے کہا:

”میں سب سے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کا غلام ہوں، پھر مسلمان ہوں، اور پھر پاکستانی“

ڈاکٹر عبدالسلام نے کون سی سائنسی خدمات سرانجام دیں؟ انسانیت کو اس سے کیا فائدہ پہنچایا؟ پاکستان کو ان سے کیا عزت ملی؟ تاریخ پوچھتی ہے۔۔۔۔۔ زمانہ سوال کرتا ہے!! اسلام دشمن نوبل انعام ہمیشہ اسلام دشمنوں کو ہی دیتے ہیں۔ کیونکہ نوبل انعام کا بانی، نوبل خود بھی یہودی تھا۔ کیا کبھی یہ انعام مسلمان مشاہیر کو ملا ہے؟ ادب کے شعبے میں

صفحہ 45

حضرت علامہ اقبال کے مقابلہ میں نوبل انعام ایک بنگالی ہندو ٹیگور کو دیا گیا۔ حالانکہ ٹیگور علامہ اقبال کی خاک راہ کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل انعام ملنے پر تبصرہ کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کے عظیم سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر فرماتے ہیں:

”وہ بھی نظریات کی بنیاد پر دیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالسلام ۱۹۵۹ء سے اس کوشش میں تھے کہ انہیں نوبل انعام ملے۔ آخر کار آئن سٹائن کی صد سالہ یوم ولادت پر ان کو مطلوبہ انعام دے دیا گیا۔ دراصل قادیانیوں کا اسرائیل میں باقاعدہ مشن ہے جو ایک عرصے سے کام کر رہا ہے۔ یہودی چاہتے تھے کہ آئن سٹائن کی برسی پر اپنے ہم خیال لوگوں کو خوش کر دیا جائے۔ سو ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی انعام سے نوازا گیا“۔

(ہفت روزہ ”چٹان“ لاہور‘ ۶ فروری ۱۹۸۶ء)

یہ تو تذکرہ ہے یہودیوں کی نوازش کا‘ اب جہاں تک ڈاکٹر عبدالسلام کی اہلیت و قابلیت کا ذکر ہے‘ تو آنجہانی جس دور میں گورنمنٹ کالج میں لیکچرار تھے تو ان کے طلباء ان کے پڑھانے کے طریقہ سے مطمئن نہ تھے اور کالج کے پرنسپل نے ان کی پرسنل فائل میں لکھا تھا کہ وہ ایک نااہل استاد ہیں جو اپنے شاگردوں کو مطمئن کرنے سے قاصر ہیں۔ وہ شخص جو اپنے کالج کے طلباء کو مطمئن نہ کر سکا لیکن وہ نوبل انعام کے لیے بین الاقوامی یہودی دماغوں کو مطمئن کر گیا‘ نوبل انعام کیا چیز ہے۔ یہود و نصاریٰ نے تو ڈاکٹر صاحب کے پرائمری فیل پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کو ”نبوت“ عطا کر دی تھی۔

جب ۱۹۷۴ء میں پاکستان کے مسلمانوں کے زبردست مطالبہ اور تحریک کے نتیجہ میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو کافر قرار دیا تو ڈاکٹر عبدالسلام اس فیصلے پر احتجاج کرتے ہوئے پاکستان چھوڑ کر انگلستان چلا گیا اور پھر پوری دنیا میں گھوم کر پاکستان کی قومی اسمبلی اور اس عظیم فیصلے کے خلاف خوب زہر اگلا۔ اس فیصلے کے کچھ مدت بعد پاکستان میں ایک بہت بڑی سائنسی کانفرنس ہو رہی تھی۔ وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ بھیجا لیکن ڈاکٹر عبدالسلام نے انتہائی غصہ میں اس کا جواب بھیجا:

”میں اس لعنتی ملک پر قدم نہیں رکھنا چاہتا‘ جب تک آئین میں کی گئی ترمیم

صفحہ 46

(قادیانی ترمیم) واپس نہ لی جائے“۔

یہ زہریلا جواب سن کر پوری پاکستانی قوم میں غم و غصہ کی شدید لہر دوڑ گئی۔

آنجہانی ڈاکٹر عبدالسلام کی بھارت کے سابقہ وزیراعظم راجیو گاندھی سے بڑی دوستی تھی۔ وہ کبھی پوشیدہ اور کبھی اعلانیہ بھارت کا دورہ کرتا۔ بھارت جب بھی کوئی نیا اسلحہ بناتا تو وہ ہمیشہ بھارت کو مبارک باد بھیجا کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب قادیانیوں نے اپنا سالانہ عالمی جلسہ بھارت میں کرنے کا فیصلہ کیا تو بابری مسجد شہید کرنے والے اور ہزاروں کشمیریوں کا خون پینے والے بھارت نے انہیں بخوشی اجازت دے دی اور ان کے راستے میں اپنی پلکیں بچھادیں۔ بھارتی ٹی وی اور بھارتی اخبارات نے قادیانیوں کے ارتدادی پروگرام کو خوب کوریج دی۔ پاکستان سے جانے والے ہزاروں قادیانیوں کی واہگہ بارڈر پر بڑی آؤ بھگت کی گئی اور انہیں باراتیوں کی طرح قادیان لے جایا گیا اور جلسہ ختم ہونے پر انہیں تحائف دے کر بڑی تکریم سے روانہ کیا گیا۔ سوال اٹھتا ہے کہ بھارتیوں اور قادیانیوں میں اتنی محبت کی کیا وجہ ہے؟ اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے ”اسلام اور پاکستان دشمنی“۔

اب ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو پاکستان کی سرزمین میں دفن کیا گیا ہے تو شہیدوں کی یہ سرزمین اپنے بیٹوں سے سوال کرتی ہے کہ مجھے ”لعنتی“ کہنے والا میرے پیٹ میں کیوں دفن کیا گیا ہے؟

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
اے نوجوانان ملت اسلامیہ!
اے ختم نبوت کے شاہینو!
اے صدیق اکبرؓ کی تحفظ ختم نبوت کی فوج کے دلاور سپاہیو!
اے معاذؓ اور معوذؓ کے جذبوں کے امینو!
اے طارق و قاسم کی جرأتوں کے وارثو!

ایک خطرناک سازش کے تحت اس غدار اسلام‘ غدار وطن اور غدار ملت اسلامیہ کو سائنسی ہیرو بنا کر نصابی کتب میں شامل کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ کالجوں کی

صفحہ 47

لائبریریوں اور لیبارٹریوں کو اس کے نام سے منسوب کرنے کے لیے کچھ خفیہ چہرے سرگرم ہیں۔ نبوت محمدیؐ کے اس باغی کے مکان واقع جھنگ کو ایک قومی یادگار کے طور پر محفوظ کرنے کے پروگرام بن رہے ہیں۔

اسلام کے بیٹو! آؤ عہد کریں کہ ہم اس غدار کے نام کو اپنی نصابی کتب میں شامل نہیں ہونے دیں گے۔ ہم اپنے کالجوں اور سکولوں کے کسی بھی شعبہ کو یہود و نصاریٰ کے ایجنٹ کے نام سے منسوب نہیں ہونے دیں گے۔ ہم اس کے منحوس اور ناپاک مکان یعنی ”قادیان ہاؤس“ کو قومی یادگار نہیں بلکہ ”عبرت گاہ“ بنا دیں گے۔ کیونکہ یہ ملک ہمارے آقا جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نام پر بنا ہے۔ اس لیے اس ملک میں ہمارے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دشمن اور گستاخ کے لیے کوئی جگہ نہیں۔

جن کو نہ ہو کچھ پاس پیغمبر کے ادب کا
چن چن کے میں اس قوم کو مٹی میں ملا دوں
اسلام سے جس قوم کو ہے کچھ بھی محبت
میں اس کے لیے راہ میں آنکھوں کو بچھا دوں

(ظفر علی خان)

PDF 48

مرزا قادیانی

کا

معافی نامہ

تحفظ ختم نبوت

صفحہ 49

بہادری اوصاف نبوت میں سے ایک نہایت اہم وصف ہے۔ نبی کی دلیری اور شجاعت کے سامنے بڑے بڑے بہادروں کا پتہ پانی ہو جاتا ہے۔ اسے بارگاہ منعم حقیقی سے وہ رعب و دبدبہ عطا ہوتا ہے جو کسی غیر نبی کے نصیب کی بات نہیں۔ اس کے عزم و حوصلہ کے سامنے ہوائیں رخ بدل لیتی ہیں، سنگلاخ چٹانوں کے جگر پاش پاش ہو جاتے ہیں، پہاڑ راستہ چھوڑ دیتے ہیں، دریاؤں کے دل ہل جاتے ہیں اور طاغوتی طاقتیں شاہراہ بزدلی پر سر پر پاؤں رکھ کر بھاگتی نظر آتی ہیں۔ نبی بزدل ہو تو وہ باطل کے خلاف جہاد نہیں کر سکتا۔ نبی ڈرپوک ہو تو وہ مظلوموں کو ظالموں کے آہنی پنجوں سے نہیں چھڑا سکتا۔ نبی دوں ہمت ہو تو وہ امتحانات کی جاں گسل وادیوں میں آبلہ پائی نہیں کر سکتا۔ نبی بے حوصلہ ہو تو وہ کفر کے جھوٹے خداؤں کے سامنے "لا الہ الا اللہ" کا نعرہ حق نہیں لگا سکتا۔ نبی ناتواں دل کا مالک ہو تو وہ شمشیر جہاد اٹھا کر کفر کے مقابلہ میں میدان جہاد میں نہیں اتر سکتا۔ نبی موت سے خائف ہو تو وہ امت میں شہادت کی تڑپ پیدا نہیں کر سکتا۔ نبی امت کا مربی ہوتا ہے اور اگر نبی ہی بزدل ہو تو امت میں شجاعت کے جواہر کیسے پیدا ہوں۔ نبی اس دنیا میں اللہ کا نمائندہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ جو قوت و طاقت کا سرچشمہ ہے اس کا نمائندہ کبھی کمزور عزم و ہمت کا مالک نہیں ہو سکتا۔

اللہ کے نبیوں کو آگ میں پھینکا گیا، آروں سے چیرا گیا، سر تن سے جدا کیے گئے، جسم میں آہنی کنگھیاں پھیری گئیں، قید خانوں میں ڈالا گیا، جلا وطن کیا گیا اور روح فرسا امتحانات سے گزارا گیا لیکن وہ ہر مقام پر سرفراز و سرخرو نظر آئے۔ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ جیسے پیارے وطن سے نکالا گیا، فحش گالیاں دی گئیں، سوشل بائیکاٹ کیا گیا، شعب بنی ہاشم میں مقید کیا گیا، غنڈوں سے پٹوایا گیا، لہولہان کیا گیا، سر مبارک میں خاک ڈالی گئی، سجدے کی حالت میں سر اقدس پر اونٹ کی غلیظ اوجھڑی رکھی گئی، زہر دیا گیا، قتل کی سازشیں تیار کی گئیں اور سر مبارک کی قیمت مقرر کی گئی لیکن یہ سب کچھ آپ کو آپ کے مشن سے نہ ہٹا سکا۔

صفحہ 50

آپ کو لالچ دیا گیا کہ اگر آپ دین حق کی تبلیغ سے باز آ جائیں تو قریش کی امارت آپ کے سپرد ہے۔ اگر آپ دولت چاہتے ہیں تو آپ کے قدموں میں سیم و زر کے انبار لگا دیتے ہیں۔ اگر آپ کسی امیر کبیر اور اعلیٰ حسب نسب کی حسین و جمیل عورت سے شادی کے متمنی ہیں، تو معزز سے معزز خاندان کی خوبصورت دوشیزائیں آپ کے لیے حاضر ہیں۔ مگر آپ نے ان تمام انعامات کو ٹھکرا دیا اور اپنے موقف پہ ڈٹے رہے۔

جب کفار کے سرداروں نے آپ کے کفیل ابو طالب کو گھیر لیا اور ان پر ہر قسم کا سخت دباؤ ڈالا اور اس دباؤ سے متاثر ہو کر جب ابو طالب نے آپ سے کہا کہ بھتیجے! اب میں تیرا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ ان اعصاب شکن لمحات میں کائنات کے سب سے بہادر انسان جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سے مخاطب ہو کر کہا۔

”چچا! اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیں تو میں تب بھی حق بات کہنے سے باز نہ آؤں گا۔“

احد کے میدان میں جب کفار نے آپ کو گھیر لیا ہے اور آپ پر تیروں اور پتھروں کی بوچھاڑ ہے۔ چمکتی ہوئی تلواریں آپ کے خون کی پیاس میں تڑپ رہی ہیں۔ صحابہ کرام آپ کا تحفظ کرتے ہوئے پروانہ وار کٹ کٹ کر گر رہے ہیں۔ آپ کی جان سخت خطرے میں ہے۔ دانت مبارک شہید ہو گئے ہیں۔ مقدس داڑھی خون سے رنگین ہے۔ کپڑوں پر نبوت کا خون چمک رہا ہے۔ اس حالت میں بھی آپ مصلحت انگیز رویہ اختیار نہیں کرتے۔ آپ کسی بات پر معذرت خواہ نہیں ہیں۔ کفار سے جان بخشی کی التجا نہیں کرتے بلکہ آہنی چٹان کی طرح اپنے موقف پہ قائم ہیں اور مسلمانوں کو اکٹھا کر کے انہیں ایک نیا عزم اور حوصلہ عطا کر کے کفار پر زبردست حملہ کرتے ہیں اور پھر کفر میدان جنگ سے سرپٹ بھاگتا دکھائی دیتا ہے۔

یہ آپ کی تربیت کا اعجاز تھا کہ حضرت بلالؓ دہکتے انگاروں پہ لیٹے ہیں۔ جسم سے چربی پگھل رہی ہے لیکن اس حالت میں بھی وہ اپنے ایمان کا اظہار کر رہے ہیں۔ حضرت خبیبؓ تختہ دار پہ جھول گئے لیکن باطل کے سامنے سرنگوں نہیں ہوئے۔

صفحہ 51

حضرت یاسرؓ اور حضرت سمیہؓ کو اذیت ناک طریقہ سے شہید کیا گیا لیکن انہوں نے کفر سے زندگی کی بھیک نہیں مانگی۔ حضرت ابو جندلؓ کو زنجیروں میں باندھا گیا اور سخت تشدد سے ان کے جسم کو داغا گیا لیکن انہوں نے اسلام کو داغ مفارقت نہ دیا۔ حضرت امام حسینؓ نے کربلا کے میدان میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا لیکن یزید کے موقف کی تائید نہ کی۔

یہ آپ کی شجاعت کا فیض ہے کہ آپ کے غلاموں نے قیصر و کسریٰ کی حکومتوں کے ٹاٹ لپیٹ دیے۔ شاہوں کے تخت چھین لیے، تاج اچھال دیے۔ دریاؤں میں گھوڑے ڈال دیے، صحراؤں اور جنگلوں کو اپنے برق رفتار گھوڑوں کے ٹاپوں تلے روند ڈالا اور عالم کے چہار سو دین حق کی شمعیں روشن کر دیں۔ یہ آپ کی بہادری کا اثر ہے کہ آپ کی امت میں سلطان نور الدین زنگی، سلطان صلاح الدین ایوبی، سلطان محمود غزنوی، طارق بن زیاد، محمد بن قاسم ایسے لوگ پیدا ہوئے۔ جنہیں مرشد اقبال اپنے قلب کی گہرائیوں سے یوں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی!
شہادت ہے مطلوب و مقصود و مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
صفحہ 52
جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان

اگر نمونہ کے طور پر جرات‘ ہمت‘ حوصلہ‘ عزم اور ثابت قدمی اور موقف کی پاسداری کی مزید چند جھلکیاں دیکھنی ہوں تو دیکھئے۔

امام مالکؒ کے بڑھاپے کے ایام ہیں۔ حکمران وقت نے غیظ میں آکر اس پاکباز انسان کے دونوں بازو کندھوں سے اکھاڑ دیے ہیں۔ جسم پہ تار تار لباس ہے۔ آپ کا منہ کالا کر دیا گیا ہے اور آپ کو مدینہ کی گلیوں میں پھرایا جا رہا ہے۔ لیکن اس حالت میں بھی آپ راستے میں کھڑے لوگوں کو مخاطب کر کے اپنی حق بات کا اعلان کر رہے ہیں۔ ”لوگو! زبردستی کی طلاق جائز نہیں“۔

امام ابو حنیفہؒ کا حکمران وقت سے اختلاف ہوتا ہے وہ آپ کو حوالہ زنداں کر دیتا ہے لیکن آپ اپنے موقف پہ ڈٹے رہتے ہیں۔ پھر آپ کا جنازہ بھی جیل سے نکلتا ہے لیکن ظالم کے سامنے آپ سرنگوں نہیں ہوتے۔

امام احمد بن حنبل کو ٹکٹکی پر باندھ دیا گیا ہے۔ جلاد غصہ سے بھرا ہوا ہے۔ دور سے بھاگ کر آتا ہے اور آپ کے جسم پر شڑاپ شڑاپ کوڑے برساتا ہے۔ امام صاحب کا جسم لہولہان ہے۔ کہتے ہیں کہ وہ کوڑے جو بڑی بے رحمی سے آپ کے جسم پر برسے ان میں سے اگر ایک کوڑا کسی تنومند ہاتھی کو لگتا تو وہ بلبلا اٹھتا۔ لیکن عزم و ہمت کے پیکر امام احمد بن حنبلؒ خون میں نہائے ہوئے جسم کے ساتھ اس وقت بھی یہ اعلان کر رہے ہیں ”لوگو! قرآن خدا کی مخلوق نہیں بلکہ خدا کا کلام ہے“۔ امام ابن تیمیہؒ کو حاکم وقت قید کر لیتا ہے۔ جیل کی سختیوں اور اذیتوں میں اسلام کا یہ صاحب سیف و قلم سپاہی جان کی بازی ہار جاتا ہے لیکن حق پہ ثابت قدم رہ کے ایمان کی بازی جیت جاتا ہے۔ غازی علم الدین شہید پھانسی کے پھندے کو چوم کر گلے میں ڈال لیتا ہے اور جناب خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر قربان ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ اس قرار سے نہیں پھرتا: ”میں نے شاتم رسول راجپال کو قتل کیا ہے“۔ غازی میاں محمد شہید تختہ دار پر جھول جاتا ہے۔ لیکن اپنے موقف سے دستبردار نہیں ہوتا۔

صفحہ 53

یہ تھا مختصر سا تذکرہ اللہ پاک کے سچے انبیاء بالخصوص سیدالانبیاء جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بہادر غلاموں کا، جو صرف اللہ سے ڈرتے تھے اور باقی اہل دنیا ان سے ڈرتے تھے۔ اللہ کے سوا کسی سے ڈرنا اور اس سے مرعوب ہونا ان کی سرشت میں ہی شامل نہ تھا۔ وہ موت سے عشق کرتے تھے کیونکہ وہ موت کو پروانہ جنت سمجھتے تھے۔ وہ دنیا کو مردار سمجھتے اور اس کے طالبوں کو کتے جانتے۔ انہیں شجاعت و بہادری کے یہ اوصاف اپنے نبیؐ کی سچی تعلیمات سے ملے تھے۔ یہ شجاعت محمدیؐ کے چشمہ صافی کے مصفا پانی کا کمال تھا جسے پینے کے بعد ان کے دلوں سے اہل دنیا کا خوف نکل گیا تھا اور وہ تلوار کی دھار پر بھی حق بات کہنے سے نہ چوکتے۔

عہد غلامی میں جب ہندوستان میں اشارہ فرنگی پر مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا اور اس نے اعلان کیا کہ اللہ نے مجھے ”محمد رسول اللہ“ بنا کر دنیا میں بھیجا ہے۔ یعنی میری شکل میں محمد رسول اللہ دوبارہ دنیا میں تبلیغ اسلام کے لیے تشریف لائے ہیں۔ میں عین محمد ہوں جس نے مجھ کو نہیں پہچانا اس نے محمد کو نہیں پہچانا۔ اس نے کہا کہ میں شیر خدا ہوں، میں اللہ کی تلوار ہوں، میں پوری دنیا کا سپہ سالار ہوں۔ جو مجھ سے ٹکرائے گا خدائی عذاب اس کو جلا کر بھسم کر دے گا۔

مسلمانان ہندوستان جب اس جھوٹے نبی کے مقابلہ میں نکلے تو مختلف مناظروں اور مقابلوں میں زچ ہو کر اس بناسپتی نبی نے بدزبانی شروع کر دی اور پھر جب اس جھوٹے نبی کی بدزبانی گالیوں اور پھر غلیظ گالیوں تک پہنچی تو ایک مسلمان مجاہد نے تنگ آکر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور منصف مزاج مجسٹریٹ نے جب مرزا قادیانی کو عدالت میں طلب کیا تو عدالت میں داخل ہوتے ہی مرزا قادیانی کا رنگ فق ہو گیا، ہوش و حواس اڑ گئے، جسم پر کپکپاہٹ طاری ہو گئی اور اس کے ساتھ ہی جھوٹی نبوت کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔ مرزا قادیانی نے عدالت میں گڑگڑاتے ہوئے تحریری معافی نامہ پیش کیا اور عدالت میں دست بستہ زانو شکستہ درخواست کی کہ اس بدزبانی پر مجھے اس مرتبہ معاف کر دیا جائے۔ میں آئندہ ایسا کبھی نہیں کروں گا۔ مرزا قادیانی کا یہ معافی نامہ آج بھی تاریخ کے صفحات میں موجود ہے اور مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے

صفحہ 54

کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ معافی نامہ حاضر خدمت ہے۔

نقل اقرار نامہ

میں مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو بحضور خداوند تعالیٰ حاضر جان کر باقرار صالح اقرار کرتا ہوں کہ آئندہ

طور سے حقارت (ذلت) سمجھی جائے یا خداوند تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد ہو‘ شائع کرنے سے اجتناب کروں گا۔

دعا کی جاوے کہ کسی شخص کو حقیر (ذلیل) کرنے کے واسطے جس سے ایسا نشان ظاہر ہو کہ وہ شخص مورد عتاب الٰہی بنے یا یہ ظاہر کرے کہ مباحثہ مذہبی میں کون صادق اور کون کاذب ہے۔

حقیر (ذلیل) ہونا یا مورد عتاب الٰہی ہونا ظاہر ہو یا ایسے اظہار کے وجوہ پائے جاتے ہوں۔

کسی دوست یا پیرو کے برخلاف گالی گلوچ کا مضمون یا تصویر لکھوں یا شائع کروں جس سے کہ اس کو درد پہنچے۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ اس کے یا اس کے دوست یا پیرو کے برخلاف اس قسم کے الفاظ استعمال نہ کروں گا جیسا کہ دجال‘ کافر‘ کاذب‘ بطالوی۔ میں کبھی اس کی آزادانہ زندگی یا خاندانی رشتہ داروں کے برخلاف کچھ شائع نہ کروں گا جس سے اس کو آزار نہ پہنچے۔

پیرو کو مباہلہ کے لئے بلاؤں اس امر کے ظاہر کرنے کے لیے کہ مباحثہ میں کون صادق اور کون کاذب ہے نہ میں اس محمد حسین یا اس کے دوست یا پیرو کو اس بات کے لیے بلاؤں گا۔ کہ وہ کسی کے متعلق کوئی پیشین گوئی کریں۔

صفحہ 55

بند ہونے کے لیے ترغیب دوں گا جیسا کہ میں نے فقرہ نمبر ۱۔ ۲۔ ۳۔ ۴۔ ۵۔ میں اقرار کیا ہے ۲۴ فروری ۱۸۹۹ء۔

دستخط صاحب مجسٹریٹ ضلع دستخط بحروف انگریزی دستخط مرزا غلام احمد قادیانی بحروف انگریزی مسٹر ڈوئی کمال الدین پلیڈر بقلم خود

صاحبو! یہ کیسا نبی ہے جو مجسٹریٹ کے ماتھے کے شکن دیکھ کر اپنا بیان بدل جاتا ہے، جو مجسٹریٹ کی آنکھوں کی سرخی دیکھ کر اپنی ”شریعت“ میں رد و بدل کر لیتا ہے۔ جو جیل کا دروازہ دیکھ کر اپنے فرشتے ٹیچی ٹیچی کی لائی ہوئی پیشین گوئیاں سنانا بند کر لیتا ہے۔ جو مجسٹریٹ کے تیوروں کو دیکھ کر اپنے مباہلوں اور مذاکروں کی دکان بند کر دیتا ہے۔ بھئی ڈرتا کیوں نہ، گورنمنٹ نے ہی تو نبوت عطا کی تھی اور اگر گورنمنٹ ہی ناراض ہو گئی تو نہ نبوت بچے گی اور نہ نبی!

مزید سنئے۔ مرزا قادیانی کہتا ہے: ”میں نے مسٹر ڈوئی کے سامنے لکھ دیا تھا کہ آئندہ کسی کی نسبت موت کا الہام شائع نہیں کروں گا۔ جب تک کہ وہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے اجازت نہ لے لیوے“۔ (مرزا قادیانی کا حلفیہ بیان عدالت گورداسپور میں مندرجہ اخبار ”الحکم“ قادیان، جلد ۵، نمبر ۲۹، منقول از منظور الٰہی، ص ۲۴۸۔ مصنفہ منظور الٰہی قادیانی)

یعنی قادیانی نبوت وہ چھکڑا ہے جس کی مہاریں مجسٹریٹ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جب چاہے جہاں چاہے روک لے اور جب چاہے چلا دے۔ قادیانی خدا بھی مجبور اور قادیانی نبی بھی مجبور!

مزید سنئے! ”سو اگر مسٹر ڈوئی صاحب (ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور) کے روبرو میں نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ میں ان کو (مولوی محمد حسین بٹالوی کو) کافر نہیں کہوں گا تو واقعی میرا یہی مذہب ہے کہ میں کسی مسلمان کو کافر نہیں جانتا“۔ (”تریاق القلوب“ ص ۱۳۰، مصنفہ مرزا قادیانی)

قادیانیو! سنو یہاں تمہارا مرزا قادیانی کیا کہہ رہا ہے۔

صفحہ 56

”ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں“۔ (”حقیقت الوحی“ ص ۱۶۳‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

”جو شخص میری پیروی نہ کرے گا اور بیعت میں داخل نہ ہوگا وہ خدا رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے“۔ (اشتہار ”معیار الاخیار“ ص ۸‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

”میرے مخالف جنگلوں کے سور ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں“۔ (”نجم الہدیٰ“ ص ۱۵‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

”جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو سمجھا جائے گا کہ اس کو ولدالحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں“۔ (”انوار الاسلام“ ص ۳۰‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے۔ مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی“۔ (”آئینہ کمالات اسلام“ ص ۵۴۷‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

قادیانیو! عدالت میں کچھ‘ باہر کچھ۔ مجسٹریٹ سے ڈرنا اور اللہ سے نہ ڈرنا‘ یہی کردار ہے تمہارے رہبر و راہنما کا۔ کچھ تو سوچو‘ آخر ایک دن موت کا مزا چکھنے کے بعد اللہ کے دربار میں حاضری بھی ہونی ہے اور تمہیں جواب بھی دینا ہے!

حکیم الامت علامہ اقبالؒ نے انگریزی نبی مرزا قادیانی کی انہی صفات رذیلہ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔

تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے
حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے
ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کے رخ دوست
زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے
دے کے احساس زیاں تیرا لہو گرما دے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے
صفحہ 57
فتنہ ملت بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلماں کو سلاطین کا پرستار کرے

ایک اور مقام پر علامہ فرماتے ہیں:

وہ نبوت ہے مسلماں کے لیے برگ حشیش
جس نبوت میں نہیں قوت و شوکت کا پیام
PDF 58

مرزائیت شکن

مجاہد

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ

ننکانہ صاحب ☎

ضلع شیخوپورہ 2329

صفحہ 59

جرأتِ اظہار

یہ ۱۹۷۰ء تھا جب ملتان شہر میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی مقامی کانفرنس منعقد ہوئی۔ آپؒ نے تقریر کرتے ہوئے اپنا ایک واقعہ بیان فرمایا۔ ایک بار میں اور مولانا لال حسین اختر تحصیل کنری (سندھ) میں جماعت کے تبلیغی پروگرام کے سلسلہ میں گئے۔ تحصیل کنری میں مرزائیوں کی بہت زیادہ زمینیں اور علاقے ہیں۔ ان کی حیثیت وہاں کسی بھی نواب سے کم نہیں۔ ہمارے وہاں روانہ ہونے سے قبل ہمارے خیر خواہوں نے ہمیں بتا دیا کہ وہاں آپ کی جان کا خطرہ ہے۔ ہم نے کہا بھائی اب تو اعلان کیا جا چکا ہے۔ اب نہ جانا عہد ختم نبوت سے بے وفائی ہے۔ ہم گئے۔ وہاں کے لوگوں نے زمین پر گھاس پھوس بچھا کر تقریر کا پروگرام بنایا۔ مولانا لال حسین اختر نے دن کو تقریر کرنا تھی اور میں نے رات کو۔ جب مولانا کی تقریر شروع ہوئی تو ایک شخص آیا کہ ڈی ایس پی صاحب بلاتے ہیں۔ خیر ایک آدمی گیا۔ ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ڈپٹی کمشنر صاحب اس آدمی کے ساتھ تشریف لائے اور ہمارے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے ”مولانا آپ جو چاہیں تقریر فرمائیں مگر مرزا غلام احمد قادیانی کا نام نہ لیں“ میں نے مولانا لال حسین اختر سے عرض کیا کہ وہ تھوڑی دیر تک اپنی تقریر روک دیں اور میں بات کروں۔

میں نے عرض کیا ”ہم لوگ یہاں نماز روزہ کی بات کرنے نہیں آئے۔ وہ تو یہاں کے مقامی علماء بتاتے ہی رہتے ہیں۔ ہمیں پتہ چلا ہے کہ آپ کی سرزمین میں بھی قصر ختم نبوت کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کے لیے چوہے آگئے ہیں۔ میں ان کی گولیاں لے کر آیا ہوں۔ ڈپٹی کمشنر صاحب! یاد رکھیں جہاں جہاں مرزائی ہوں گے، اپنی جھوٹی نبوت کا پرچار کریں گے اور مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالیں گے وہاں میں خود مرزا قادیانی کی ذات پر بحث کروں گا۔ کیونکہ اس نے نبی بن کر اپنی ذات کو منوانے کی دعوت دی ہے اور جب نبی اپنی ذات منوانے کی بات کر رہا ہے تو اس کی ذات پر بحث کی جاتی ہے کہ وہ سچا ہے یا جھوٹا، دھوکہ باز

صفحہ 60

ہے یا مخلص۔ میں اس بات سے باز نہیں آسکتا۔ بے شک میری جان چلی جائے۔ کیونکہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وفا کا عہد باندھ رکھا ہے“ ڈپٹی کمشنر صاحب خاموشی سے چلے گئے اور ہم نے عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کو سمجھایا اور کسی نے ہمارا بال بیکا نہیں کیا۔

(”حضرت مولانا محمد علی جالندھری“ ص ۴۲-۴۳‘ از پروفیسر ڈاکٹر نور محمد غفاری)

کب موت سے ڈرتے ہیں غلامان محمد
یہ اپنے غلاموں پہ ہے فیضان محمد

باعث نجات

بہاولپور میں حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ نے فرمایا تھا کہ ہمارا نامہ اعمال تو سیاہ ہے ہی۔ یہ بات یقین کے درجہ کو پہنچ چکی ہے کہ ہم سے تو گلی کا کتا بھی اچھا ہے۔ شاید یہ بات مغفرت کا سبب بن جائے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا جانبدار ہو کر بہاولپور میں آیا تھا۔ تمام مجمع چیخیں مار اٹھا۔ حضرت اقدس قدس سرہ پر اس واقعہ کو سن کر بہت رقت طاری ہوئی۔ فرمایا کہ واقعی شاہ صاحب تو آیۃ من آیات اللہ تھے۔

(”حیات طیبہ“ ص ۳۵۳‘ از ڈاکٹر محمد حسین انصاری)

محمدؐ کی عزت پر جان دے کر
شفاعت روز جزا چاہتے ہیں

اہل اللہ کی نظر

حکیم نور الدین بھیروی ثم قادیانی ایک دفعہ حضرت میاں صاحب کے پاس مہاراجہ جموں کے لیے دعا کرانے کے لیے گیا۔ آپ نے دیکھتے ہی فرمایا نام نور الدین ہے۔ حکیم نے کہا ہاں۔ فرمایا قادیان میں ایک شخص غلام احمد نام کا پیدا ہوا ہے جو کچھ عرصہ بعد ایسے دعوے کرے گا جو نہ اٹھاتے بنے نہ رکھتے بنے اور تم لوح محفوظ میں اس کے مصاحب لکھے ہوئے ہو۔ اس سے تعلق نہ رکھنا‘ دور دور رہنا‘ ورنہ اس کے ساتھ ہی تم بھی دوزخ

صفحہ 61

میں پڑو گے۔ حکیم صاحب سوچ میں پڑ گئے۔ فرمایا تم میں الجھنے کی عادت ہے۔ یہی عادت تم کو وہاں لے جائے گی۔ چنانچہ کچھ عرصہ بعد مرزا غلام احمد قادیان میں ظاہر ہوا اور دعویٰ نبوت کیا اور کبھی مسیح موعود بنا اور حکیم نور الدین اس کا خلیفہ اول بنا اور اس کے دین کو پھیلایا۔ یہ شخص بڑا عالم تھا۔ مرزا صاحب کو بہت کچھ سکھاتا تھا۔ اس کے ساتھ گمراہ ہوا۔

("حیات طیبہ" ص ۴۰۹‘ از ڈاکٹر محمد حسین انصاری)

خواجہ حسن نظامی کی للکار

میں تمہارے امیر المومنین مرزا محمود احمد کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اجمیر شریف میں آئیں۔ میں بھی دہلی سے وہاں حاضر ہو جاؤں گا۔ آستانہ خواجہ غریب نواز کی مسجد میں مرزا صاحب میرے ساتھ کھڑے ہوں اور اپنی باطنی قوت کے تمام حربے مجھ پر آزمائیں اور جب وہ اپنی ساری کرامت آزما چکیں تو مجھ کو اجازت دی جائے کہ میں صرف یہ کہوں: ”اے خدا ۔ بطفیل اس صاحب مزار کی حقانیت کے اپنی صداقت کو ظاہر کر اور ہم دونوں میں جو جھوٹا ہو اس کو اسی وقت اور اسی لمحہ ہلاک کردے------“۔ اور اس کے بعد مرزا محمود کو اجازت دی جائے کہ وہ اپنے الفاظ میں جو دعا چاہیں کریں۔ ایک گھنٹہ کی مدت مقرر کی جائے۔ یعنی دونوں آدمیوں میں سے ایک پر ایک گھنٹہ کے اندر اس دعا پر اثر ظاہر ہونا چاہیے۔

مرزا صاحب دیکھ لیں گے کہ قدرت کیا تماشا دکھاتی ہے۔ کون مرتا ہے اور کون زندہ رہتا ہے۔

مردانگی ہے---- صداقت ہے تو آؤ اس آزمائش گاہ کی سیر کرو جہاں ایک گھنٹہ کے اندر سب کچھ نظر آجائے گا‘ ڈرو مت۔ میرے پاس اڑنے والا زہر یا گیس نہ ہوگی۔ نہ میں تم کو دیکھوں گا جس سے تم کو اندیشہ ہو کہ مسمریزم یا ہپناٹزم کے ذریعہ مار ڈالا۔ میں تم سے دس قدم کے فاصلہ پر تمہاری طرف سے منہ پھیر کر گنبد خواجہ کی جانب رخ کر کے کھڑا رہوں گا۔

صفحہ 62

اگر تم کو یہ مباہلہ منظور ہو تو ربیع الاول ۱۳۳۶ھ کی چھٹی تاریخ کو اپنے حواریوں کو لے کر اجمیر شریف آجاؤ اور مسجد میں پوری جماعت کے ساتھ آؤ اور میں بالکل اکیلا آؤں گا۔ مسجد میں بھی میرے پاس کسی دوسرے کو کھڑے ہونے کی اجازت نہ ہوگی تاکہ تم کو یہ اندیشہ نہ ہو کہ میرے آدمی تم پر حملہ کر کے مار ڈالیں گے۔

گورنمنٹ سے اجازت لینا اور انتظام کرنا یہ سب تمہارے ذمے ہو گا اور تم کو باضابطہ ایک تحریر دینی پڑے گی کہ اگر میں آج مر گیا تو میرے وارث حسن نظامی پر خون کا دعویٰ نہ کریں گے، نہ سرکار کو اس میں دخل دینے کا اختیار ہوگا۔----ایسی ہی تحریر میں بھی اپنے وارثوں سے سرکار میں داخل کرادوں گا۔

دیکھو! بہت آسان بحث ہے۔ بہت جلدی ہندوستان کی ایک مصیبت ختم ہو جائے گی جو تمہارے وجود سے پیدا ہو گئی ہے۔ اس میں دریغ نہ کرو۔ ایسا موقع قسمت ہی سے آیا کرتا ہے۔ دیر نہ کرو اور فوراً اس دعوت کو قبول کر لو۔

جب تم اس ارادہ سے اجمیر شریف آؤ تو اپنی والدہ صاحبہ سے دودھ بخشوا کر آنا اور ریلوے کمپنی سے ایک گاڑی کا بندوبست کرالینا جس میں تمہاری لاش قادیاں روانہ ہو سکے اور نیز اپنی اہلیہ صاحبہ سے مہر بھی معاف کرالینا اور قادیاں کو والد ماجد کی قبر سمیت ذرا غور سے دیکھ آنا کہ پھر تم کو زندگی میں وہ در و دیوار دیکھنے نصیب نہ ہوں گے۔----اور ضرورت ہے کہ وصیت نامہ بھی مکمل کردینا اور جانشین کے مسئلہ کو بھی طے کر کے آنا----یہ میں اس واسطے کہتا ہوں کہ مجھے اپنے برحق ہونے اور تمہارے مرنے کا پورا یقین ہے۔ اس کے علاوہ کچھ اور وجوہات بھی ہیں جن کو میں جانتا ہوں اور میرا قبول کر لینے والا اور میری بات کا لاج رکھنے والا خدا جانتا ہے، جن کو بیان کرنا تمہاری طرح خود ستائی کرنا ہے۔

اس پیام جنگ کا جلدی چاہنے والا حسن نظامی (نظام المشائخ)

(ہفت روزہ ”لولاک“ ۲۲ مارچ ۱۹۶۷ء)

صفحہ 63

عجب حکمت عملی

مولانا عزیز الرحمان فرماتے ہیں کہ جب آپ ملتان سے لاہور جیل میں منتقل ہوئے تو میں اور میرے بھائی حبیب الرحمان صاحب لاہور ملاقات کے لیے گئے تو مولانا نے فرمایا کہ آج مکئی کی چھلیاں کھانے کو دل کرتا ہے۔ آپ ایک بوری مکئی خرید کر ساڑھے تین بجے جیل کی ڈیوڑھی پر پہنچا دیں اور اگر سنتری اندر نہ آنے دے تو رکھ کر چلے جانا ٹھہرنا نہیں۔ ہم نے ایک بوری سٹے خریدے اور سنتری کے پاس لائے۔ اس نے مولانا کو بھجوانے سے انکار کیا تو ہم ڈیوڑھی پر بوری چھوڑ کر رکشہ پر چلے گئے۔ ہمارے جانے کے بعد مولانا نے جیل کا اندر سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ دروازہ کھلا تو جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے پاس گئے اور فرمایا کہ ہمارے لیے مکئی کے سٹے آئے ہیں‘ وہ اندر بھجوا دیں۔ اس نے کہا کہ وہ تو قانوناً اندر نہیں آ سکتے تو مولانا نے فرمایا کہ بہت اچھا جو آدمی لائے تھے‘ ان کو واپس کر دیں۔ ہم جا چکے تھے۔ بہتیرا تلاش کیا مگر ہم نہ ملے تو مولانا نے سپرنٹنڈنٹ سے فرمایا کہ دو ہی صورتیں ہیں یا ہمیں اندر سٹے پہنچوائیں یا مالکان کو واپس کریں۔ سپرنٹنڈنٹ پریشان ہوا اور بالآخر کہا کہ رات عشاء کے بعد جیل کے بند ہونے پر آپ کو سٹے پہنچ جائیں گے۔ یوں سٹے عشاء کے بعد اندر پہنچ گئے اور جیل میں تحریک کے رہنماؤں نے ”سٹا جشن“ منایا۔

(”تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء“ ص ۲۸۸۔۲۸۹‘ از مولانا اللہ وسایا)

بہادر ماں

شاعر ختم نبوت سید امین گیلانی اپنی جیل کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ”ایک دن جیل کا سپاہی آیا اور مجھ سے کہا آپ کو دفتر میں سپرنٹنڈنٹ صاحب بلا رہے ہیں۔ میں دفتر پہنچا تو دیکھا کہ والدہ صاحبہ معہ میری اہلیہ اور بیٹے سلمان گیلانی کے‘ جس کی عمر اس وقت سوا ڈیڑھ سال کی تھی‘ بیٹھے ہوئے ہیں۔ والدہ محترمہ مجھے دیکھتے ہی اٹھیں اور سینے سے لگا لیا‘ ماتھا چومنے لگیں۔ حال احوال پوچھا‘ ان کی آواز گلو گیر تھی۔ سپرنٹنڈنٹ نے محسوس کر لیا کہ وہ رو رہی ہیں۔ میرا بھی جی بھر آیا‘ آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ یہ دیکھ کر

صفحہ 64

سپرنٹنڈنٹ نے کہا اماں جی! آپ رو رہی ہیں۔ بیٹے سے کہیں (ایک فارم بڑھاتے ہوئے) کہ اس پر دستخط کردے تو آپ اسے ساتھ لے جائیں، ابھی معافی ہو جائے گی! میں ابھی خود کو سنبھال رہا تھا کہ اسے جواب دے سکوں۔ والدہ صاحبہ تڑپ کر بولیں کیسے دستخط، کہاں کی معافی، میں ایسے دس بیٹے حضورؐ کی عزت پر قربان کردوں۔ میرا رونا تو شفقت مادری ہے۔ یہ سن پر سپرنٹنڈنٹ شرمندہ ہوگیا اور میرا سینہ ٹھنڈا ہو گیا“۔

(”تحریک ختم نبوت“ ۱۹۵۳ء‘ ص ۵۳۲۔۵۳۳‘ از مولانا اللہ وسایا)

سرورِ کونین سے سر کا سودا ہوچکا
ہم نہ پوچھیں گے امین کیا بھاؤ ہے بازار کا

اور جج لاجواب ہو گیا

حضرت شاہ عبد القادر رائے پوریؒ نے قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ سے پوچھا کہ تحقیقاتی عدالت میں حضرت شاہ صاحب (سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ) نے مرزائیوں کے بارے میں کیا بیان دیا تھا۔ قاضی صاحب نے جواباً ”عرض کیا کہ جب چیف جسٹس مسٹر محمد منیر نے شاہ صاحبؒ سے پوچھا کہ کیا آپ مرزا غلام احمد کو کافر کہتے ہیں؟ تو شاہ صاحب نے فرمایا کہ جب مجھ پر لدھا رام والا مقدمہ چلایا گیا تھا اور لدھا رام کے بیان پر مجھے بری کر دیا گیا تھا تو آخری پیشی پر سرکاری وکیل نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ یہ مرزا کو کافر کہہ کر منافرت پھیلاتے ہیں۔ اس پر انگریز چیف جسٹس مسٹر ینگ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا آپ مرزا غلام احمد کو کافر کہتے ہیں تو میں نے کہا تھا ہاں۔ میں نے ایک دفعہ نہیں کروڑوں دفعہ اسے کافر کہا ہے۔ اب بھی کہتا ہوں اور مرتے دم تک کہتا رہوں گا۔ یہ تو میرا دین و ایمان ہے۔ اس پر مسٹر ینگ نے سرکاری وکیل سے کہا تھا کہ لو ان سے اور سوال کرو۔ یہ کہہ کر اس نے مجھے کہا تھا کہ آپ تشریف لے جائیں۔ آپ کا مرزا کو کافر کہنا کوئی جرم نہیں ہے۔ یہ قصہ مسٹر محمد منیر کو سنا کر شاہ صاحبؒ نے کہا کہ عیسائی جج نے تو اس طرح کہا تھا۔ اب معلوم نہیں مسلمان عدالت کیا کہتی ہے۔ یہ سن کر مسٹر منیر نے بھی آپ کو یہی کہا کہ آپ تشریف لے جائیں۔

صفحہ 65

(”تحریک ختم نبوت“ ۱۹۵۳ء ص ۵۴۵-۵۴۶)

ظلم جو چاہیں ڈھائیں مرزا کافر ہے
سب منظور سزائیں مرزا کافر ہے
ہم تو کہیں گے کافر اس کو بے شک
ہتھکڑیاں پہنائیں مرزا کافر ہے

ختم نبوت کی تبلیغ

مولانا کو اس سنگین خطرہ کا جو مسلمانوں کے سروں پر منڈلا رہا تھا‘ پورا احساس تھا اور اس کے مقابلہ کا ان کو اس قدر زائد اہتمام تھا کہ یہ کہا کرتے تھے کہ:

”اتنا لکھو اور اس قدر طبع کراؤ اور اس طرح تقسیم کرو کہ ہر مسلمان جب صبح سو کر اٹھے تو اپنے سرہانے رد قادیانی کی کتاب پائے“۔

(”سیرت مولانا محمد علی مونگیریؒ “ ص ۳۰۴‘ از سید محمد الحسنی)

ظلمت دہر میں ہر سمت اجالا کر دوں
کاش مل جائیں مجھے کوچۂ جاناں کے دیے

تاکید و نصیحت

حاجی لیاقت حسین بھاگلپوری کو ایک مفصل خط کے آخر میں لکھتے ہیں:

”تم کو چاہیے کہ اپنے تمام گاؤں کے بھائیوں اور جو لوگ تمہارے زیر اثر ہیں‘ ان کو اس کام میں نظام کے ساتھ متوجہ کرو۔ یہ میری تحریر معمولی نہیں ہے‘ یہ کام تو خدا چاہے گا اور ضرور ہوگا۔ دیکھئے کہ کون اس خدائی کام کو انجام دیتا ہے اور کون اس سے محروم رہتا ہے“۔

(”سیرت مولانا محمد علی مونگیریؒ “ ص ۳۰۵‘ سید محمد الحسنی)

جو ختم نبوت کا طرف دار نہیں ہے
لاریب وہ جنت کا سزاوار نہیں ہے
صفحہ 66
خاموش رہے سن کے جو اسلام کی توہین
بے شرم ہے، بزدل ہے، وہ خوددار نہیں ہے

تلقین

مولانا عبدالرحیم صاحب کو ایک خط میں لکھتے ہیں: ”تم سے جہاں تک ہو سکے اس گمراہ کا پیچھا کرو، جہاں جہاں وہ جائے، تم بھی جاؤ اور دو باتیں کرو۔ اول یہ کہ جو غرباء و معذورین یہاں نہ آسکیں، ان کو ہماری طرف سے بیعت کرو اور سلسلہ رحمانیہ میں داخل کر کے انہیں ایسی ہدایات کرو کہ وہ اس سلسلہ کے عاشق ہو جائیں اور کسی گمراہ کی باتوں کا ان پر اثر نہ ہو۔ دوئم یہ کہ میں تم سے زبانی بھی کہہ چکا ہوں اور اس وقت خاص کر تم کو لکھ رہا ہوں تاکہ خوب مستعدی سے کام کرو اور دیکھو محض اللہ کے واسطے کرو، جب انسان اللہ کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سب کاموں کا کفیل ہو جاتا ہے۔“

(”سیرت مولانا محمد علی مونگیریؒ“ ص ۳۰۶۔۳۰۷، سید محمد الحسنی)

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں عشق محمدؐ سے اجالا کر دے

یہ وفاداریاں یہ وفا شعاریاں

مجلس تحفظ ختم نبوت — جو آپ کے زمانہ میں ایک عالمگیر تنظیم بن چکی تھی اور اہل حق کی تمام مذہبی تنظیموں میں سے امیر ترین تصور کی جاتی تھی — کے میر مجلس ہونے کے باوجود سفر ہمیشہ تھرڈ کلاس میں کیا کرتے تھے۔ دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت سے ریلوے اسٹیشن ملتان تک اور اسٹیشن سے دفتر تک انہوں نے صرف اپنی ذات کی خاطر کبھی ٹیکسی یا تانگہ کرایہ پر نہیں لیا۔ ہمیشہ عام غریب مسلمانوں کے ساتھ تانگہ جو ان دنوں سستی ترین سواری

صفحہ 67

تھی۔۔۔ میں سوار ہو کر آتے جاتے۔

سردیوں میں بعض اوقات بھاری بستر ہمراہ لے کر جاتے اور کتابوں، ضروری سامان اور ادویات کے لیے ایک معمولی سا بیگ بھی ہوتا مگر ریل گاڑی میں سوار ہونے یا اتر کر تانگہ وغیرہ تک آنے کے لیے وہ پیرانہ سالی کے باوجود کبھی قلی نہیں لیا کرتے تھے اور سارا سامان سر اور کندھے پر اٹھائے پھرتے اور دعا کرتے رہتے:

”اے اللہ تو جانتا ہے میں بوڑھا ہوں، میرے قویٰ مضمحل ہو گئے ہیں، اگر میں قلی کی خدمات کرایہ پر لوں تو میری جماعت مجھے ضرور اجازت دے گی مگر میں یہ تکلیف اس لیے برداشت کرتا ہوں کہ میری جماعت ایک غریب جماعت ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس کا خرچ کم از کم کروں۔ اے اللہ یہ پیسے جو میں قلی کو اپنا سامان اٹھوانے کے لیے دیتا، وہ میری طرف سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے لیے بطور چندہ قبول کرلے“۔

(”حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ“ ص ۱۷۹، از ڈاکٹر نور محمد غفاری)

ہوگی نہ اب کسی کو بھی دشواری سفر
روشن ہے میری آبلہ پائی سے رہگزر

حضرت رائے پوری کی مجاہدین ختم نبوت سے محبت

جب احقر محمد حضرت اقدس کے حکم سے تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے دوران جیل گیا تو سرگودھا سے میرے گھر لائلپور تشریف لائے اور بچوں کو تسلی و تشفی دیتے رہے۔ مولانا واحد بخش نے کہا مولانا کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، وہ تو حضرت کے حکم کی دیر تھی، حضرت کا حکم ہوا فوراً جیل چلے گئے۔ اس پر حضرت اقدس پر بہت رقت طاری ہوئی۔ فرمایا وہ تو پہلے بھی میرے ہی کہنے پر ڈھاکہ تبلیغ کے لیے چلے گئے تھے۔ وہاں بھی ہم نے ہی بھیجا تھا۔

(”حیات طیبہ“ ص ۴۳۴، از ڈاکٹر محمد حسین انصاری)

وہ زیست بھی کیا ہے جو نہ ہو وار سے واقف
وہ لوگ بھی کیا ہیں جو غم دل نہیں رکھتے
صفحہ 68

اسلام کی سب سے بڑی خدمت

حضرت عبدالقادر رائے پوری کی محفل میں یہ واقعہ سنائے گئے:

”نماز مغرب کے بعد قاضی احسان احمد شجاع آبادی نے حضرت کی خدمت میں اپنا ایک واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ مجھے ایک مرزائی فوجی افسر نے مرزائیوں کے دو بڑے مولویوں سے بات کرنے کے لیے بلایا۔ ان میں سے ایک تو ربوہ کالج کا پرنسپل تھا اور دوسرا مولوی عبدالمالک ایم۔ اے تھا۔ جب ہم اکٹھے ہوئے تو افسر مذکور نے مجھے مخاطب ہو کر کہا کہ تم ان کے بارہ میں کیا کہتے ہو۔ میں نے کہا کہ یہ لوگ تناسخ کے قائل ہیں۔ اس پر ایک مرزائی مولوی نے کہا لعنت اللہ علی الکاذبین میں نے جواباً کہا دیکھئے صاحب! یوں بات نہیں بنے گی۔ اس پر افسر مذکور نے ان کو ڈانٹا اور پوچھا کہ تناسخ کے یہ لوگ کیسے قائل ہیں۔ میں نے مرزا صاحب کی کتاب ”تریاق القلوب“ نکال کر بتلایا کہ مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دوبارہ حضرت عبداللہ کے گھر میں جنم لیا اور مقصد اس کہنے سے یہ ہے کہ تاکہ یہ کہہ سکیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دوبارہ قادیان میں غلام احمد کی صورت میں جنم لیا۔ جیسا کہ خود مرزا صاحب نے لکھا ہے۔ پھر میں نے مرزا صاحب کے وہ اشعار افسر مذکور کو سنائے، جن میں اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی فضیلت بتائی ہے۔ اشعار سن کر وہ کہنے لگا کہ ان میں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت توہین ہے اور میری طرف بڑھ کر کہنے لگا کہ مولوی صاحب مجھے کلمہ پڑھا دو، میں مسلمان ہوتا ہوں اور مرزائیت سے توبہ کرتا ہوں اور توبہ نامہ مجھے لکھ کر دیا کہ اسے شائع کرا دو۔ یہ سن کر حضرت اقدس نے خوشی کا اظہار کیا۔ اس کے بعد مولانا محمد صاحب نے حضرت کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ اس زمانہ میں دین اسلام کی سب سے بڑی خدمت مرزائیت کی تردید کرنا ہے۔ اسی وقت سے میں اس کام میں لگا ہوا ہوں“

(”حیات طیبہ“ ص ۵۹۴-۵۹۵ از ڈاکٹر محمد حسین انصاری)

صفحہ 69

آغا شورش کاشمیری کا ایک مکتوب

کراچی سنٹرل جیل ۲۳-۸-۱۹۶۸ء

برادرم مکرم مولانا تاج محمود صاحب

سلام مسنون! کئی دنوں سے نامہ گرامی نہیں ملا۔ خدا کرے آپ خیریت سے ہوں۔ خواجہ صادق نے مجھے خط لکھا تھا کہ وکلاء یہاں آنے میں تذبذب کر رہے ہیں۔ بات ان کی ٹھیک ہے۔ ہر چیز فی سبیل اللہ نہیں ہوتی۔ قانونی نقطہ ہے۔ اس کا صحیح صحیح جواب آ گیا تو آئندہ لوگوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ صحیح حل نہ ہوا تو اور خرابیوں کی طرح ایک عظیم خرابی یہ بھی سہی۔ پہلے بھی لوگ کہاں آزاد ہیں کہ اب کسی آزادی کے گم ہونے کا ماتم کیا جائے۔ میں تو اس مقدمہ بازی کے خلاف تھا۔ آپ لوگوں نے شروع کی۔ اب اس بات سے نہیں چوکنا چاہیے کہ مرزائی اپنے بارے میں مسلمان ہونے کا فتویٰ حاصل کرلیں اور ہم چپ رہیں۔ عدالت سے بہرحال صحیح فیصلہ حاصل کرنا چاہیے، بحمد للہ عدالتیں زندہ ہیں۔ سیاسی نٹ کھٹ ان کو نیچے اوپر کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن انصاف بہرحال انصاف ہے۔ جج کسی مسئلہ کی تعبیر میں چوک کر سکتے ہیں لیکن ان کا پیشہ بہرحال ایک عبادت ہے۔ آپ عدالت سے رجوع کرتے رہیں۔ اگر میرے دفتر کی مالی حالت متحمل نہ ہو جیسا کہ سرکار نے زبردست نقصان پہنچا کر خلل پیدا کر دیا ہے تو بے شک میری بچیوں کا زیور بیچ کر اس مسئلہ کو عدالت میں جاری رکھیں۔ کسی کا شرمندہ احسان ہونے کی ضرورت نہیں۔ زیور پھر بن سکتا ہے لیکن ختم المرسلینی کا مسئلہ حکومت کی مداخلت فی الدین سے خراب ہو گیا تو اسلام کے لیے بڑی مشکلیں پیدا ہو جائیں گی۔ جو لوگ ہمارے مخالف ہیں، ایک دفعہ چھوڑ کر سو دفعہ مخالف رہیں، انہیں پرکاہ وقعت نہ دیں۔ ہمارا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ میری سب سے بڑی دولت یہ ہے کہ اہل اللہ میرے جیسے فقیر اور عاصی کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔ مجھے دنیا داروں کی ضرورت نہیں۔ حضرت دین پوری مدظلہ کا خط آیا ہے۔ فرماتے ہیں تمہارے لیے حضور (فداہ امی و ابی) بھی اللہ کے ہاں دعا کرتے ہوں گے۔ میں نے پڑھا تو کانپنے لگا۔ اب

صفحہ 70

اس کے بعد مجھے کس چیز کی ضرورت رہ جاتی ہے۔ طارق سلمہ بشیر سلمہ اور نذیر سلمہ کو سلام‘ بچیوں کو دعا۔

(شورش کاشمیری ”لولاک“ ۲۸ اگست ۱۹۶۸ء)

تھا اس کا قلم نیزا و شمشیر سے بڑھ کر
تعمیر شریعت کا نگہبان تھا شورش
اک عصمت پیغمبر آخر کا محافظ
اک صاحب دل صاحب عرفان تھا شورش

عدالت کے ایوانوں میں غلغلہ حق

مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے فرمایا کہ مسٹر جسٹس منیر نے ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں ایک دن حضرت امیر شریعت سے عدالت کے کٹہرے میں پوچھا کہ سنا ہے آپ کہتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی میرے زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کرتا تو میں اسے قتل کر دیتا۔

شاہ جی نے برجستہ فرمایا کہ ”اب کوئی کر کے دیکھ لے“ اس پر عدالت میں سامعین نے نعرہ تکبیر لگایا۔ اللہ اکبر کی صدا سے ہائی کورٹ کے در و دیوار گونج اٹھے۔

جسٹس منیر سر پٹخاتے ہوئے بولا کہ ”توہین عدالت“۔ شاہ جی نے زناٹے دار آواز میں فرمایا کہ ”توہین رسالت“ اس پر پھر عدالت میں تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد کی صدا بلند ہوئی۔ جج نے سر جھکا لیا۔ باطل ہار گیا‘ حق جیت گیا۔

(”تحریک ختم نبوت“ ۱۹۵۳ء ص ۵۴۸‘ از مولانا اللہ وسایا)

جہاں سب گنگ ہوتی تھی زبانیں
زبان اس بزم میں وہ کھولتا تھا
نہ وہ ڈرتا تھا اور نہ وہ ڈولتا تھا
وہ سچا شخص تھا‘ سچ بولتا تھا
صفحہ 71

دندان شکن جواب

مسٹر جسٹس منیر کی عادت تھی کہ وہ عدالت میں علماء کرام سے مختلف سوالات کر کے پھر ان میں اختلاف ثابت کرنے کی کوشش کرتا۔ اس نے امیر شریعت سے پوچھا کہ نبی کے لیے کیا شرائط ہیں۔ شاہ جی نے فی البدیہہ فرمایا "یہ کہ کم از کم شریف انسان ہو" اس پر مرزائیوں کے منہ لٹک گئے اور مسلمان سرخرو ہو گئے۔

(”تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء“ ص ۵۴۸‘ از مولانا اللہ وسایا)

تیرے بعد دل کی اداس گلیوں میں
عجیب سا حشر بپا دکھائی دیتا ہے
کتاب کھول کر بیٹھوں تو آنکھ روتی ہے
ورق ورق پر تیرا چہرہ دکھائی دیتا ہے

اور جسٹس منیر چت ہو گیا

جسٹس منیر نے شیعہ راہنما سید مظفر علی شمسی سے ۵۳ کی عدالت میں پوچھا کہ اگر اس ملک میں صدیق اکبرؓ کا نظام حکومت قائم ہو جائے تو تمہاری کیا پوزیشن ہو گی۔ عدالت کا مقصد تھا کہ ان کے جواب سے شیعہ‘ سنی اختلاف کو ہوا دی جاسکے گی۔ مانیں گے تو شیعہ ناراض‘ نہ مانیں گے تو سنی ناراض اور یہی عدالت کا منشا تھا۔ شمسی صاحب فرماتے ہیں کہ میں گھبرا گیا۔ میں نے عدالت کو ٹالنا چاہا‘ عدالت کا اصرار بڑھا تو پیچھے حضرت امیر شریعت بیٹھے تھے۔ اٹھے‘ میری طرف تشریف لائے‘ میرے کندھوں پر ہاتھ رکھا‘ تھپکی دی اور فرمایا کہ شمسی بیٹا گھبراتے کیوں ہو‘ آج کے دن کے لیے ہی تو میں نے تمہیں تیار کیا تھا۔ شمسی صاحب فرماتے تھے کہ شاہ جی کے یہ فرماتے ہی میرے بدن میں بجلی کی سی لہر دوڑ گئی۔ میں نے منیر کی آنکھوں میں آنکھیں ملا کر کہا کہ پھر سوال کریں۔ اس نے کہا کہ اس ملک میں اگر صدیق اکبرؓ کا نظام حکومت قائم ہو جائے تو تمہاری کیا پوزیشن ہو گی۔ میں نے کہا کہ میری وہی پوزیشن ہوگی جو صدیق اکبرؓ کے زمانہ میں علی المرتضیٰؓ کی تھی۔ عدالت کا منہ لٹک گیا۔ مرزائیوں کے چہروں پر سیاہی کی پالش پھر گئی اور میں سرخرو ہو گیا۔ عدالت میں نعرہ بلند ہوا

صفحہ 72

اور میرا سر

("تحریک ختم نبوت" ۱۹۵۳ء' ص ۵۴۸' از مولانا اللہ وسایا)

زیادہ دن نہیں گزرے یہاں کچھ لوگ رہتے تھے
جو دل محسوس کرتا تھا علی الاعلان کہتے تھے
گریبان چاک دیوانوں میں ہوتا تھا شمار ان کا
قضا سے کھیلتے تھے وقت کے الزام سہتے تھے

دشمن کی گواہی

مسٹر جسٹس منیر نے اپنی انکوائری رپورٹ میں مولانا محمد علیؒ کے متعلق لکھا : "اور محمد علی جالندھری نے جو مجلس احرار کے ممتاز ممبر تھے، اپنے آپ کو اس تحریک (ختم نبوت) کا داعی مبلغ بنا دیا۔ گویا احمدیوں (مرزائیوں) کی مخالفت ہی ان کی زندگی کا واحد مقصد تھا۔"

("تحریک ختم نبوت" ۱۹۵۳ء' ص ۵۴۹' از مولانا اللہ وسایا)

میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
میں اسی لیے مسلماں میں اسی لیے نمازی

مولانا عبدالستار نیازی کی گرفتاری اور پھانسی کی سزا

آپ کا پروگرام تھا کہ قصور سے بس کے ذریعے اسمبلی گیٹ تک پہنچ جائیں اور اسمبلی میں تقریر کر کے ممبران اسمبلی کو تحریک کے بارے میں مکمل تفصیلات سے آگاہ کر دیں لیکن قصور میں آپ جن لوگوں کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے، انہوں نے غداری کرتے ہوئے ملٹری کو بتا دیا۔ آپ صبح کی نماز کی تیاری کر ہی رہے تھے کہ اپنے ایک کارکن مولوی محمد بشیر مجاہد کے ہمراہ گرفتار کر لیے گئے۔

قصور سے گرفتار کر کے آپ کو لاہور شاہی قلعہ لایا گیا۔ یہاں سے بیانات لینے کے بعد ۱۶ اپریل کو آپ جیل منتقل کر دیے گئے اور آپ کو چارج شیٹ دے دی گئی۔ ملٹری کورٹ میں

صفحہ 73

کیس چلا‘ جو ۷ اپریل کو شروع ہوا اور مئی تک چلتا رہا۔ ۷ مئی کی صبح کو سپیشل ملٹری کورٹ کا ایک آفیسر اور ایک کیپٹن آپ کو بلا کر ایک کمرے میں لے گئے جہاں قتل کے ۹ (نو) اور ملزم بھی تھے مگر ڈی۔ ایس پی فردوس شاہ کے قتل کا کیس ثابت نہ ہو سکا اور آپ کو بری کردیا گیا۔ دوسرا کیس بغاوت کا تھا جس میں آپ کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا جو اس طرح تھا: "You will be hanged by neck Till you are Dead" ”تمہاری گردن پھانسی کے پھندے میں اس وقت تک لٹکائی جائے گی جب تک تمہاری موت نہ واقع ہو جائے“۔ آرڈر سناتے ہوئے افسر نے کہا:

افسر: "PLEASE SIGN IT" ”اس پر دستخط کیجئے“۔

علامہ نیازی: "I WILL SIGN IT WHEN I WILL KISS THE ROB" (میں جب پھانسی کے پھندے کو بوسہ دوں گا اس وقت اس پر دستخط کروں گا)

افسر: "You will have sign it"

علامہ نیازی: I AM ALREADY TOLD YOU THAT I WILL SIGN IT

WHEN I KISS THE ROB" ”میں تمہیں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ جس وقت پھانسی کے پھندے کو بوسہ دوں گا اس وقت دستخط کروں گا۔ میں جیل میں ہوں اور آپ کے پنجوں میں ہوں‘ مجھے لے جاؤ اور پھانسی دے دو“۔

افسر: MR. NIAZI! OUR OFFICERS WILL ENQUIRE FROM US

صفحہ 74

US WHETHER YOU WERE SERVE WITH THE NOTICE IN DEATH WARRANT"

”مسٹر نیازی! ہمارے آفیسر ہم سے پوچھیں گے کہ تم نے نوٹس دے دیا ہے یا نہیں تو میں کیا جواب دوں گا“۔

مولانا نیازی:

"IF YOU SO FEAR FROM YOUR OFFICERS WELL I SIGN IT FOR YOU"

”اگر آپ کو اپنے افسران ہی کا خوف ہے تو آپ کی خاطر اس پر دستخط کیے دیتا ہوں“۔ چنانچہ آپ نے بڑے اطمینان سے اس پر دستخط کر دیے۔ افسر نے آپ کی ہمت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا ”تم میری ہمت (MORAL) کے بارے میں پوچھتے ہو‘ تو وہ تو آسمانوں سے بھی بلند ہے‘ تم اس کا اندازہ نہیں کر سکتے“۔

افسر کے جانے کے بعد جب آپ کمرے میں اکیلے رہ گئے تو تائید ایزدی سے آپ کو سورہ ملک کی یہ آیت یاد آگئی ”خلق الموت والحیٰوۃ لیبلو کم ایکم احسن عملا“ آپ نے اس آیت سے یہ تاثر لیا کہ موت و حیات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ لوگ میری زندگی کا سلسلہ منقطع نہیں کر سکتے۔ اگر اس مقصد کے لیے جان بھی جائے تو اس سے بڑی زندگی کیا ہو سکتی ہے۔

ایک لمحہ کے لیے آپ پر خوف کا حملہ ہوا لیکن فوراً زبان پر یہ شعر آگیا۔

کشتگان خنجر تسلیم را
ہر زماں از غیب جان دیگر است

آپ وجد کی حالت میں یہ شعر بار بار پڑھتے اور جھومتے۔ اسی عالم میں آپ کمرے سے باہر آگئے تو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل مہر محمد حیات نے یہ خیال کیا کہ ملٹری کورٹ نے آپ کو بری کر دیا ہے۔ چنانچہ اس نے کہا ”نیازی صاحب! مبارک ہو‘ آپ بری ہو گئے!“

آپ نے فرمایا ”میں اس سے بھی آگے نکل گیا ہوں“۔

صفحہ 75

اس نے کہا "کیا مطلب"۔

آپ نے فرمایا "اب انشاء اللہ! حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں اور عاشقوں کی فہرست میں میرا نام بھی شامل ہوگا" وہ پھر بھی نہ سمجھا تو آپ نے فرمایا "میں کامیاب ہو گیا"۔

آپ کی سزائے موت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی۔ ادھر جیل میں قیدی تک آپ کو دیکھ کر روتے تھے۔ جب آپ کو پھانسی کی کوٹھڑی میں لے کر جایا گیا تو آپ نے لوگوں کو اطمینان دلایا اور فرمایا کہ کتنے عاشقان رسولؐ جام شہادت نوش کر رہے ہیں، اگر میں بھی اس نیک مقصد کے لیے جان دے دوں تو میری یہ خوش قسمتی ہوگی۔

حضرت مولانا نیازی سات دن اور آٹھ راتیں پھانسی کی کوٹھڑی میں رہے اور ۱۴ مئی کو آپ کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی گئی اور پھر مئی ۱۹۵۵ء کو آپ کو باعزت طور پر بری کر دیا گیا۔

("تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء" ص ۵۵۰ - ۵۵۲، از مولانا اللہ وسایا)

ہر حال میں حق بات کا اظہار کریں گے
منبر نہیں ہوگا تو سر دار کریں گے
جب تک بھی دہن میں ہے زبان سینے میں دل ہے
کاذب کی نبوت کا ہم انکار کریں گے

اے اسلامی بھائیو! نبی کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"تم میں سے جو کوئی برائی کو دیکھے تو اسے ہاتھ سے روکے۔ اگر ہاتھ سے روکنے کی استعداد نہ رکھتا ہو تو اسے زبان سے روکے۔ اگر زبان سے بھی نہ روک سکتا ہو تو اسے دل سے برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے"۔

آؤ اس حدیث کی روشنی میں ہم اپنا احتساب کرتے ہیں۔

اس وقت قادیانیت دنیا کی سب سے بڑی برائی ہے جو اسلام کی ذیشان عمارت کو دھڑام سے زمین پر گرا کر اس کے کھنڈرات پر قادیانیت کی عمارت تعمیر کرنا چاہتی ہے۔

اگر ہمارے حکمرانوں نے ہاتھ سے یعنی اپنی حکومتی قوت سے اس برائی کو روکا ہوتا تو یہ

صفحہ 76

فتنہ کبھی کا اپنی موت مر چکا ہوتا۔

اگر امت کی کثیر تعداد نے زبان سے اس فتنے کے خلاف جہاد کیا ہوتا تو آج اس برائی کے پرخچے اڑ چکے ہوتے۔

اگر ملت اسلامیہ کی کثیر تعداد نے قادیانیت کو دل سے برا جانا ہوتا تو آج قادیانی مسلم معاشرے میں گھل مل کے نہ رہ سکتا۔

سوچئے! ہمارا نام کس درجے میں آتا ہے یا کسی درجے میں نہیں آتا۔ اگر کسی درجے میں نہیں آتا۔۔۔ تو کیا ہم مسلمان ہیں؟۔۔۔ کیا رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارا کوئی ناتہ ہے؟۔۔۔

قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغام محمد کا تجھے پاس نہیں

اور

بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے
PDF 77

مرزا قادیانی کے فرشتے

جس کا دامن دلائل اور حقائق سے مالا مال ہے۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ

ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ فون 2329

صفحہ 78

فرشتے اللہ پاک کی نورانی مخلوق ہیں جو ہر قسم کی برائی و آلائش سے پاک ہوتے ہیں۔ فرشتوں کی دنیا میں چار فرشتے سب سے زیادہ مشہور ہیں۔

(۱) حضرت جبرائیل علیہ السلام (۲) حضرت عزرائیل علیہ السلام (۳) حضرت میکائیل علیہ السلام (۴) حضرت اسرافیل علیہ السلام

حضرت جبرائیل علیہ السلام : حضرت جبرائیل علیہ السلام فرشتہ وحی ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تک سارے انبیاء کو اللہ کا پیغام آپ کے ذریعہ ہی پہنچتا رہا۔

حضرت عزرائیل علیہ السلام : اللہ پاک کے حکم سے ہر جاندار کی روح قبض کرنا آپ کے ذمہ ہے۔

حضرت میکائیل علیہ السلام : بارشوں، ہواؤں وغیرہ کا نظام آپ کے سپرد ہے۔

حضرت اسرافیل علیہ السلام : اللہ کے حکم سے آپ اپنے منہ میں صور لیے کھڑے ہیں۔ جونہی رب ذوالجلال کا حکم ہوگا آپ یہ صور پھونک دیں گے۔ جس سے یہ نظام ہستی درہم برہم ہو جائے گا اور قیامت بپا ہو جائے گی۔

ان چار بڑے فرشتگان کے علاوہ ان گنت دیگر فرشتے اپنی اپنی ڈیوٹیاں ادا کرنے میں مصروف ہیں۔ کچھ فرشتے قیام کی حالت میں ہیں، کچھ رکوع، کچھ سجود اور کچھ تشہد کی حالت میں ہیں۔ کچھ فرشتوں کے ذمہ صرف تسبیح و تہلیل ہے، کچھ فرشتوں کے ذمہ اللہ پاک کا تخت اٹھانے کی ڈیوٹی ہے، کچھ فرشتے انسانوں کی نیکیاں اور برائیاں لکھنے پر مامور ہیں، کچھ فرشتے قبر میں حساب و کتاب پر مقرر ہیں۔ کچھ فرشتے جنت میں اور کچھ فرشتے جہنم پہ تعینات ہیں۔ فرشتوں کے دیگر کئی فرائض کے علاوہ ایک انتہائی اہم فرض یہ بھی ہے کہ روزانہ صبح و شام ستر ستر ہزار فرشتے تاجدار ختم نبوت جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ انور پر درود و سلام پڑھنے کے لیے حاضر ہوتے ہیں اور جس فرشتہ کی ایک دفعہ باری آ جائے دوبارہ قیامت تک اس کی باری نہیں آئے گی۔

میں نے یہ مختصر سا تذکرہ سچے خدا، سچے دین اور سچی نبوت کے فرشتوں کے

صفحہ 79

بارے میں کیا ہے لیکن ہندوستان کی سرزمین سے ایک جھوٹا نبی مرزا غلام احمد قادیانی اٹھا۔ اس نے اعلان کیا کہ خدا نے اس کو نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے اور خدا اس کی طرف فرشتوں کے ذریعے وحی کرتا ہے۔ اس کے پاس فرشتے حاضر ہوتے رہتے ہیں اور مختلف معاملات میں اس کی مدد کرتے ہیں۔ اس نے اپنی کتابوں میں اپنے کئی فرشتوں کے نام بھی لکھے ہیں۔

لیکن حرص کے بندے اور عقل کے اندھے مرزا قادیانی کو کیا معلوم تھا کہ جسے وہ خدا سمجھتا ہے وہ شیطان ہے اور جنہیں وہ فرشتے سمجھتا ہے وہ شیطان کے چیلے ہیں اور جسے وہ وحی کہتا ہے وہ شیطانی پیغام ہے، جو شیطان اپنے چیلوں کے ذریعے اس تک پہنچاتا ہے۔ اب ملاحظہ فرمائیے مرزا قادیانی کے چند فرشتوں کے ”اسمائے گرامی“!

یا تین۔ آپس میں باتیں کرتے تھے اور مجھے کہتے تھے کہ تو کیوں اس قدر مشقت اٹھاتا ہے اندیشہ ہے کہ بیمار نہ ہو جائے"۔

(تذکرہ ص ۲۳)

جی ہاں خیال تو کرنا ہی تھا اس وقت پوری دنیا میں شیطان کے پاس فقط یہی تو ایک جھوٹا نبی تھا اور قیمتی چیز کی حفاظت تو کرنی چاہیے نا!

(ناقل)

کی شکل پر نظر آیا۔ اس نے بڑے فصیح اور بلیغ الفاظ میں کہا کہ ”خدا تمہاری ساری مرادیں پوری کرے گا"۔

(تذکرہ ص ۴۴۸)

واقعی ٹٹی خانہ میں مرکر ہر مراد پوری ہو گئی۔

(ناقل)

والسلام نے فرمایا ”بڑے مرزا صاحب پر ایک مقدمہ تھا۔ میں نے دعا کی تو ایک فرشتہ مجھے خواب میں ملا جو چھوٹے لڑکے کی شکل میں تھا۔ میں نے پوچھا، تمہارا نام کیا ہے؟ وہ کہنے لگا میرا نام حفیظ ہے۔ پھر وہ مقدمہ رفع دفع ہو گیا"۔

(تذکرہ ص ۷۵۷)

فرشتہ تو چھوٹا سا تھا لیکن کام بہت بڑا کر گیا۔

(ناقل)

صفحہ 80

الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ”اس مینار کے سامنے دو فرشتے میرے سامنے آئے جن کے پاس دو شیریں روٹیاں تھیں اور وہ روٹیاں انہوں نے مجھے دیں اور کہا کہ ایک تمہارے لیے ہے اور دوسری تمہارے مریدوں کے لیے ہے“۔ (تذکرہ ص ۷۹۷)

روٹی اور پیٹ کے لیے تو دعویٰ نبوت کیا تھا۔ اس لیے فرشتے بھی روٹیوں والے ہی نظر آنے تھے اور وہ بھی میٹھی! (ناقل)

اس کی مثل انگریزوں کی تھی اور میز کرسی لگائے ہوئے بیٹھا تھا۔ میں نے اس سے کہا‘ آپ بہت ہی خوبصورت ہیں۔ اس نے کہا میں روشنی ہوں“۔ (تذکرہ ص ۳۱)

نبوت بھی تو انگریز نے دی تھی اس لیے شیطان بھی انگریز کی شکل میں آگیا ہوگا (ناقل)

ص ۱۹۲)

نبی بھی تو ساری زندگی جھولی پھیلا کر انگریز سے خیرات مانگتا رہا‘ اس لیے فرشتہ بھی خیراتی نصیب ہوا۔ (ناقل)

بٹالہ میں اسٹنٹ تھا‘ کرسی پر بیٹھا ہوا ہے اور اردگرد اس کے عملہ کے لوگ ہیں۔ میں نے جا کر کاغذ اس کو دیا اور یہ کہا کہ یہ میرا پرانا دوست ہے اس پر دستخط کر دو۔ اس نے بلا تامل اس پر دستخط کر دیے۔ یہ جو مکھن لال دیکھا گیا ہے‘ مکھن لال سے مراد ایک فرشتہ ہے“۔ (تذکرہ ص ۵۸۵)

پہلی دفعہ انکشاف ہوا ہے کہ فرشتے ہندو بھی ہوتے ہیں۔ (ناقل)

مگر خواب میں محسوس ہوا کہ اس کا نام شیر علی ہے“۔

شیطان‘ مسلمان کے روپ میں۔ (ناقل)

لوگ پھرتے جا رہے ہیں۔ تب میں نے اس کو خلوت میں لے جا کر کہا کہ لوگ پھرتے

صفحہ 81

جا رہے ہیں مگر کیا تم بھی پھر گئے۔ تو اس نے کہا ہم تمہارے ساتھ ہیں"۔ (انوار السلام‘ ص۵۲)

ابلیس تمہیں چھوڑ کے کہاں جا سکتا تھا۔ سارا منصوبہ خراب کرنا تھا اس نے اپنا! (ناقل)

سب لباس سرتاپا سیاہ ہے۔ ایسی گاڑھی سیاہی کہ دیکھی نہیں جاتی۔ اسی وقت معلوم ہوا کہ یہ ایک فرشتہ ہے جو سلطان احمد کا لباس پہن کر کھڑا ہے۔ اس وقت میں نے گھر میں مخاطب ہو کر کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔ تب دو فرشتے اور ظاہر ہو گئے اور تین کرسیاں معلوم ہوئیں اور تینوں پر وہ تین فرشتے بیٹھ گئے اور بہت تیز قلم سے کچھ لکھنا شروع کیا۔ جس کی تیز آواز سنائی دیتی تھی۔ ان کے اس طرز کے لکھنے میں ایک رعب تھا۔ میں پاس کھڑا ہوں (کہ بیداری ہو گئی)" (تذکرہ ص۵۴۴)

کالا فرشتہ! قادیانی نبوت کا نیا انکشاف۔ ابے! کالے لباس والا بڑا شیطان تھا اور بعد میں آنے والے چھوٹے شیطان تھے۔ بے وقوف کہیں کے! (ناقل)

ہوں۔ یک دفعہ کیا دیکھتا ہوں کہ غیب سے کسی قدر روپیہ میرے سامنے موجود ہو گیا ہے۔ میں حیران ہوا کہ کہاں سے آیا۔ آخر میری یہ رائے ٹھہری کہ خدا تعالیٰ کے فرشتہ نے ہماری حاجات کے لیے یہاں رکھ دیا ہے۔ پھر ساتھ الہام ہوا کہ انی مرسل الیکم ھدیہ کہ میں تمہاری طرف ہدیہ بھیجتا ہوں۔ اور ساتھ ہی میرے دل میں پڑا کہ اس کی یہی تعبیر ہے کہ ہمارے مخلص دوست حاجی سیٹھ عبدالرحمن صاحب اس فرشتہ کے رنگ میں متمثل کیے گئے ہوں گے اور غالباً وہ روپیہ بھیجیں گے اور میں نے اس خواب کو عربی زبان میں اپنی کتاب میں لکھ لیا۔ چنانچہ کل اس کی تصدیق ہو گئی۔ الحمد للہ یہ قبولیت کی نشانی ہے کہ مولیٰ کریم نے خواب اور الہام سے تصدیق فرمائی"۔ (تذکرہ ص۲۶۹)

شیطانی تحفہ مبارک ہو۔ (ناقل)

صفحہ 82

کہ میں ایک چارپائی پر بیٹھا ہوں اور اسی چارپائی پر بائیں طرف مولوی عبداللہ صاحب غزنوی مرحوم بیٹھے ہیں۔ اتنے میں میرے دل میں تحریک پیدا ہوئی کہ میں مولوی صاحب موصوف کو چارپائی سے نیچے اتار دوں۔ چنانچہ میں نے ان کی طرف کھسکنا شروع کیا یہاں تک کہ وہ چارپائی سے اتر کر زمین پر بیٹھ گئے۔ اتنے میں تین فرشتے آسمان کی طرف سے ظاہر ہوگئے۔ جن میں سے ایک کا نام خیراتی تھا۔ وہ تینوں بھی زمین پر بیٹھ گئے اور مولوی عبداللہ بھی زمین پر تھے اور میں چارپائی پر بیٹھا رہا۔ تب میں نے ان سب سے کہا کہ میں دعا کرتا ہوں تم سب آمین کہو۔ تب میں نے یہ دعا کی۔ رب اذهب عنى الرجس وطهرنى تطهيرا اس دعا پر تینوں فرشتوں اور مولوی عبداللہ نے آمین کہی۔ اس کے بعد وہ تینوں فرشتے اور مولوی عبداللہ آسمان کی طرف اڑ گئے اور میری آنکھ کھل گئی۔ (تذکرہ ص ۲۹)

سارے شیاطین زمین پر اور سپر شیطان "مرزا قادیانی" چارپائی پر۔ کیسا ہے؟

شیطان اس کو دیکھ کے کہتا تھا رشک سے
بازی یہ مجھ سے لے گیا تقدیر دیکھئے (ناقل)

خواب میں محسوس ہوا کہ اس کا نام شیر علی ہے۔ اس نے مجھے ایک جگہ لٹا کر میری آنکھیں نکالی ہیں اور صاف کی ہیں اور میل اور کدورت ان میں سے پھینک دی اور ہر ایک بیماری اور کوتاہ بینی کا مادہ نکال دیا ہے اور ایک مصفا نور جو آنکھوں میں پہلے سے موجود تھا مگر بعض مواد کے نیچے دبا ہوا تھا، اس کو ایک چمکتے ہوئے ستارہ کی طرح بنا دیا ہے اور یہ عمل کر کے پھر وہ شخص غائب ہوگیا اور میں اس کشفی حالت سے بیداری کی طرف منتقل ہوگیا"۔ (تذکرہ ص ۳۱)

اگر کوئی تھوڑی بہت انسانیت کی رمق تھی وہ شیطان نے اکھیڑ کر باہر پھینک دی اور پھر ہر جگہ کوٹ کوٹ کر شیطنت بھر دی۔ خوب اپریشن کیا شیطان نے، لیکن آنکھیں پھر بھی ٹھیک نہ ہوئیں۔ (ناقل)

پینتیس منٹ اس رات میں نے خواب دیکھا کہ کچھ روپیہ کی کمی اور سخت مشکلات

صفحہ 83

پیش ہیں اور بہت فکر دامن گیر ہے۔ میں کسی کو کہتا ہوں کہ ایک کاغذ بناؤ جس میں لکھا ہو کہ جمع یہ تھا اور خرچ یہ ہوا۔ کوئی میری بات کی طرف توجہ نہیں کرتا۔ اور سامنے ایک شخص کچھ حساب کے کاغذات لکھ رہا ہے۔ میں نے شناخت کیا کہ یہ تو کچھی داس جمع خرچ نویس ہے جو کسی زمانہ میں خزانہ سیالکوٹ میں اسی عہدہ پر نوکر تھا۔ میں نے اس کو بلانا چاہا، وہ بھی نہ آیا۔ لاپرواہ رہا۔ اور میں نے دیکھا کہ روپیہ کی بہت کمی ہے۔ کسی طرح بات نہیں بنتی، اسی اثناء میں ایک صالح مرد سادہ طبع سادہ پوش آیا۔ اس نے اپنی بھری ہوئی مٹھی روپیہ کی میری جھولی میں ڈال دی اور ایسے جلدی چلا گیا کہ میں اس کا نام بھی نہیں پوچھ سکا مگر پھر بھی روپیہ کی کمی رہی۔ پھر ایک اور صالح مرد آیا جو محض نورانی شکل سادہ طبع کوٹلہ کے ایک صوفی کی شکل کے مشابہ تھا، جس کا نام غالباً کرم الٰہی یا فضل الٰہی ہے جس نے کرتہ بیچ کر ہمیں روپیہ دیا تھا۔ صورت انسان کی ہے مگر علیحدہ خلقت کا آدمی معلوم ہوتا ہے۔ اس نے دونوں ہاتھ سے روپیہ بھر کر میری جھولی میں وہ روپیہ ڈال دیا۔ اور وہ بہت سا روپیہ ہو گیا۔ میں نے پوچھا، آپ کا نام کیا۔ اس نے کہا نام کیا ہوتا ہے۔ نام کچھ نہیں۔ میں نے کہا۔ کچھ بتلاؤ نام کیا ہے۔ اس نے کہا ٹیچی اور میں اس وقت چشم پر آب ہو گیا کہ ہماری جماعت میں ایسے بھی ہیں جو اس قدر روپیہ دیتے، اور نام نہیں بتلاتے اور ساتھ ہی کہتا ہوں کہ یہ تو آدمی نہیں ہے یہ تو فرشتہ ہے۔ اور جب بہت سے مال کا نظارہ میرے سامنے آیا، میں نے کہا میں اس میں سے منظور محمد کی بیوی کو دوں گا کہ وہ حاجت مند ہے اور جب میں نے یہ خواب دیکھا اس وقت رات کا ایک بج کر اس پر پینتیس منٹ زیادہ گزر چکے تھے”۔

مرزا قادیانی کہتا تھا کہ اس کا نام ”ٹیچی“ اس لیے ہے کہ میرا یہ فرشتہ ٹچ کر کے آتا ہے اور ٹچ کر کے جاتا ہے۔ گویا یہ اپنے وقت میں مرزا قادیانی کا F-16 طیارہ تھا۔

محترم قارئین! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مرزا قادیانی کے فرشتے اس کے پاس احکام شریعت لے کر نہیں آتے، اس کے لیے کسی جہاد یا مہم پر روانہ ہونے کا پیغام لے کر نہیں آتے بلکہ وہ کہیں اس کی جھولی میں روپے ڈال رہے ہیں، کہیں اس کے

صفحہ 84

پاس مقدمہ جیتنے کا پیغام لا رہے ہیں، کہیں اس کی گھبراہٹ دور کرنے کے لیے اسے اپنی مدد کا وعدہ دیتے ہوئے اسے جھوٹی نبوت پر پکا کر رہے ہیں اور کہیں اس کا حوصلہ بڑھانے کے لیے میز کرسی لگائے کسی انگریز کے روپ میں بیٹھے دکھائی دے رہے ہیں۔

یہ سارا دھندہ شیطان کا پھیلایا ہوا جال تھا جس میں اس نے مرزا قادیانی کو بری طرح پھنسا رکھا تھا اور اس جال میں پھنسا ہوا مرزا قادیانی خود کو نبی اور شیطان کو خدا کہتا رہا اور شیطانی باتوں کو اللہ سے منسوب کرتا رہا۔

شیطان مردود جو دجل و فریب کے ہزاروں ہتھیاروں سے مسلح ہے۔ وہ بڑے بڑے اولیائے کرام کے ایمان لوٹنے کے لیے ان پر حملہ آور ہوا ہے اور اس کے خطرناک حملوں سے فقط وہی بچا ہے جس کے شامل حال اللہ کا فضل رہا ہے۔ یہی شیطان مردود جب مرزا قادیانی پر حملہ آور ہوا تو اسے پہلے ہی حملے میں یوں چیر پھاڑ کر رکھ دیا جس طرح جنگلی بلا چوہے کو چیر پھاڑ دیتا ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادرؒ جیلانی کا واقعہ ہے کہ آپ نے ایک رات ایسا نور دیکھا جس نے عالم کو منور کر دیا۔ اچانک اس نور میں سے ایک نورانی شکل نمودار ہوئی جس نے آواز دی، اے عبدالقادر! میں تیرا پروردگار ہوں۔ میں تجھ سے بہت خوش ہوں۔ میں نے تیری ساری عبادات قبول کیں۔ آئندہ عبادت معاف اور تیرے لیے سب کچھ حلال کیا، اب تو جو چاہے وہ فعل اختیار کر۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ یا الٰہی یہ کیا ماجرا ہے۔ یہ حکم تو انبیاء کو نہ ہوا، میں بھلا کون؟ جس پر سے ہر پابندی دور کی جا رہی ہے۔ معاً میں نے نور فراست سے سمجھا کہ یہ شیطانی اغوا ہے۔ میں نے پڑھا ”اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم“ اور کہا، اے ملعون! دور ہو کیا بکتا ہے۔ اچانک وہ نور سخت اندھیرے میں بدل گیا اور پھر آواز آئی، اے عبدالقادر تو اپنے علم کی بدولت بچ گیا ورنہ اس سے پیشتر میں بہت سوں کو پھانس چکا ہوں۔ میں نے کہا، اے کم بخت! میں اپنے علم سے نہیں، اپنے رب کے فضل سے بچا۔ تو مجھے یہاں بھی دھوکا دیتا ہے کہ مجھے اپنے علم پر گھمنڈ پیدا ہو جائے۔ اس کے بعد شیطان وہاں سے بھاگ گیا۔

لیکن شیطان نے اپنا یہی حربہ جب حرص کے بندے مرزا قادیانی پر استعمال کیا

صفحہ 85

تو وہ اسے یوں دبوچ کر لے گیا جس طرح باز چڑیا کو دبوچ کر لے جاتا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”براہین احمدیہ“ کے صفحہ ۵۶۰ پر فخریہ درج کیا کہ اللہ نے مجھ سے کہا ہے۔

اعمل ما شئت فانی (اے مرزا تو جو چاہے سو کر لیا کر)
قد غفرت لک (کیونکہ میں نے تجھے بخش دیا ہے)

اب ایک دوسرا واقعہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔

ایک مرتبہ کچھ اہل اللہ مشاہدہ حق کے سلسلہ میں مصروف گفتگو تھے۔ آخر میں ایک صاحب ابو محمد خفاف بولے، آپ حضرات کی جس قدر گفتگو تھی وہ حد علم میں تھی۔ لیکن مشاہدہ کی حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ مشاہدہ یہ ہے کہ حجاب اٹھ کر اللہ تعالیٰ کا معائنہ ہو جائے۔ حاضرین نے حیرت سے پوچھا یہ کیسے ممکن ہے؟ تو انہوں نے اپنا مشاہدہ بیان کیا کہ ایک مرتبہ یک بیک حجاب اٹھ گیا اور میں نے دیکھا کہ عرش پر حق تعالیٰ جلوہ افروز ہے۔ میں دیکھتے ہی سجدے میں جا پڑا اور عرض کی کہ ”الٰہی! تو نے اپنی رحمت کے کس بلند درجہ پر پہنچا دیا ہے“۔

واقعہ سن کر مجلس میں سے ایک بزرگ جصاص اٹھے اور ابو محمد خفاف سے کہا کہ چلئے ایک بزرگ سے آپ کی ملاقات کرا دوں۔ وہ ان کو شیخ ابن سعدان کی خدمت میں لے گئے اور عرض کیا کہ ان صاحب کو شیطان کے تخت والی حدیث سنا دیجئے۔ شیخ نے بہ سند متصل وہ روایت سنائی۔

سید العرب والعجم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ”آسمان اور زمین کے درمیان شیطان کا ایک تخت ہے۔ جب کسی انسان کو فتنے میں ڈالنا اور گمراہ کرنا چاہتا ہے تو وہ تخت دکھا کر اپنی طرف مائل کرتا ہے“۔ (منقول از آئمہ تلبیس) ابو محمد خفاف کہنے لگے کہ ذرا ایک دفعہ پھر سنائیے۔ انہوں نے حدیث پاک دوبارہ سنائی۔ ابو محمد خفاف زار و قطار رونے لگے اور دیوانہ وار اٹھ کر بھاگے۔ کئی روز کے بعد ملاقات ہوئی تو بتایا کہ ان نمازوں کے اعادہ میں مشغول تھے جو ابلیس کے مشاہدہ کے بعد سے اس کو خدا سمجھ کر پڑھی تھیں۔ طالب حق تھے ، غلطی تسلیم کر لی لیکن شیطان نے جب یہی حملہ مرزا قادیانی پر کیا تو وہ بالکل کامیاب ٹھہرا اور مرزا قادیانی نے اس کیفیت

صفحہ 86

کو بڑے اعزاز کے ساتھ یوں لکھا۔

”امام الزماں کی چھٹی علامت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ان سے بہت قریب ہو جاتا ہے اور کسی قدر پردہ اپنے پاک اور روشن چہرہ پر سے جو نور محض ہے اتار دیتا ہے اور وہ اپنے تئیں ایسا پاتے ہیں کہ گویا ان سے کوئی ٹھٹھہ کر رہا ہے اور یہ کیفیت دوسروں کو نظر نہیں آتی۔ پس میں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدا کے فضل سے وہ امام الزماں میں ہوں"۔

(ضرورۃ الامام‘ ص۱۳‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

اور سنئے !

”پھر ایک بار دیکھا کہ کچہری میں گیا ہوں تو اللہ تعالیٰ ایک حاکم کی صورت پر عدالت کی کرسی پر بیٹھا ہے اور ایک سررشتہ دار کے ہاتھ میں ایک مثل ہے جو وہ پیش کرتا ہے۔ حاکم نے مثل دیکھ کر کہا کہ مرزا حاضر ہے۔ تو میں نے غور سے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایک خالی کرسی پڑی ہے۔ مجھے اس پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور پھر میں بیدار ہو گیا"۔

(تذکرہ‘ ص۱۲۶)

مزید سنئے !

”میں نے ایک دفعہ کشف میں اللہ تعالیٰ کو تمثیل کے طور پر دیکھا۔ میرے گلے میں ہاتھ ڈال کر فرمایا‘

”جے تو میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو"۔

(تذکرہ‘ ص۲۷۱)

اور مزید سنئے !

”حضور نے فرمایا مجھے خدا اس طرح مخاطب کرتا ہے اور مجھ سے اس طرح کی باتیں کرتا ہے کہ اگر میں ان میں سے کچھ تھوڑا سا بھی ظاہر کروں تو یہ جتنے معتقد نظر آتے ہیں‘ سب پھر جاویں"۔

(سیرت المہدی‘ ص۷۲‘ حصہ اول‘ مصنفہ مرزا بشیر

احمد ابن مرزا قادیانی)

شیطان مرزا قادیانی کیساتھ کیا گفتگو کرتا تھا؟ کیا پیغامات بھجواتا تھا؟ کیا وحی کرتا تھا؟ ان کے چند نمونے پیش خدمت ہیں:

”پریش عمر براطوس یا پلاطوس"

(مکتوبات احمدیہ‘ جلد اول‘ ص۶۸)

”پیٹ پھٹ گیا"۔

(البشریٰ‘ جلد دوم‘ ص۱۹)

صفحہ 87

”خشم۔ خشم۔ خشم“ (البشریٰ جلد دوم ص ۵۰) ”زندگیوں کا خاتمہ“ (تذکرہ ص ۵۷۷) ”ایک دانہ کس کس نے کھانا“ (البشریٰ جلد دوم ص ۱۰۷) ”لائف“ (تذکرہ ص ۵۹۳) ”اس کتے کا آخری دم ہے“ (تذکرہ ص ۷۴۱) ”پٹی پٹی گئی“ (تذکرہ ص ۸۰۹) ”ماتم کدہ“ (تذکرہ ص ۷۵۲) ”مخیف مسیح“ (تذکرہ ص ۷۳۴) ”کرنسی نوٹ“ (تذکرہ ص ۵۹۶) ”خواب میں دکھائے گئے (۱) تین استرے (۲) عطر کی شیشی“ (تذکرہ

ص ۷۴۴)

”میں تم سے محبت کرتا ہوں“ I Love you ”میں تمہارے ساتھ ہوں“ I am with you ”ہاں میں خوش ہوں“ Yes I am happy ”زندگی دکھ ہے“ Life is pain ”میں تمہاری مدد کروں گا“ I shall help you

(حقیقۃ الوحی ص ۳۰۳ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

تمہیں امرتسر جانا پڑے گا (ص ۳) have to go to Amritsar You معقول آدمی (ص ۸۳) Fair man

(البشریٰ جلد دوم، مجموعہ الہامات مرزا قادیانی)

محترم قارئین! یہ بے روح الفاظ، یہ بے تکے فقرے، یہ آوارہ جملے اور یہ بے ڈھنگی عبارتیں، کیا یہ اللہ کا کلام ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ یہ سراسر شیطانی بکواس ہے جو شیطان نے مرزے کی زبان کے توسط سے کی ہے۔ شیطان مردود نے مرزا قادیانی کا ایمان چھین لیا۔ اسے مرتد بنا دیا۔ اس سے

صفحہ 88

عقل و خرد چھین لی۔ اسے بے بصارت و بے بصیرت کر دیا۔ اسے جہنم کا دائمی مکین بنا دیا اور پھر سب کچھ چھیننے کے بعد اس کی عزت بھی لوٹ لی۔ حوالہ ملاحظہ فرمائیے! مرزا قادیانی کا ایک مرید قاضی یار محمد اپنے ٹریکٹ نمبر ۳۴ موسومہ ”اسلامی قربانی“ ص ۱۲ پر لکھتا ہے۔

”حضرت مسیح موعود (مرزا) نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر طاری ہو گئی گویا کہ آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا۔ سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے“۔

آئیے ہم سب پڑھیں

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

اور آئیے ہاتھوں کا کشکول بنا کر اللہ سے دعا مانگیں۔

الٰہی محفوظ رکھنا ہر بلا سے
خصوصاً آج کل کے انبیاء سے

خادم تحریک ختم نبوت محمد طاہر رزاق

نوٹ: ”تذکرہ“ مرزا قادیانی کے کشوف، الہامات، رویا اور وحی کے مجموعہ کو کہتے ہیں اور تذکرہ نعوذ باللہ قادیانیوں کا قرآن بھی ہے۔

PDF 89

اے گستاخ رسول!

ذرا

دامن تو دیکھ

صفحہ 90

میرے نبی! جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! جن کے لیے یہ بزم ہستی سجائی گئی----- جن کے لیے عروس کائنات کے گیسو آراستہ کیے گئے----- جنہیں تخت ختم نبوت پہ جلوہ گر کیا گیا----- جن کے سر اقدس پر تاج ختم نبوت سجایا گیا----- جن کی نبوت کا پرچم پوری کائنات میں لہرایا گیا----- جنہیں سید الاولین و آخرین بنایا گیا----- جنہیں شافع محشر کا اعزاز عطا کیا گیا----- جنہیں ساقی کوثر کا منصب عظیم مرحمت فرمایا گیا-----

میرے نبی جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! اللہ کو ان سے اتنا پیار کہ اللہ کلمہ طیبہ میں اپنے نام کے ساتھ ان کا نام سجائے----- اللہ کو ان سے اتنی محبت کہ اذانوں میں اللہ کے اسم گرامی کے ساتھ ان کا اسم گرامی بھی آئے----- اللہ کو ان سے اتنا لگاؤ کہ اللہ قرآن میں ان کے شہر کی قسم اٹھائے----- وہ اللہ کے اتنے لاڈلے کہ اللہ انہیں یا ایھا المزمل، یا ایھا المدثر اور یس و طہ کے محبت بھرے ناموں سے پکارے----- وہ اللہ کو اتنے محترم کہ اللہ ان کی زندگی کی قسم اٹھائے----- وہ اللہ کو اتنے مکرم کہ اللہ ان کا سایہ بھی پیدا نہ کرے----- جن کے بارے میں اللہ اتنا باغیرت کہ ان کے جسم اطہر پر مکھی بھی نہ بیٹھنے دے----- جنہیں اللہ یہ عظمت بخشے کہ وہ سب سے پہلے باب جنت کھولیں----- جو اللہ کے نزدیک اتنے معظم کہ اللہ ان کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دے----- جن کا اللہ کے ہاں یہ مقام کہ اللہ انہیں مقام محمود پر فائز کرے----- جن کا اللہ اتنا محب کہ انہیں عرش پر بلا کر اپنا مہمان بنائے اور اپنا دیدار کرائے----- جنہیں اللہ یہ وقار بخشے کہ روز محشر سارے نبی ان کے جھنڈے تلے جمع ہوں----- جن کے احترام میں اللہ اتنا حساس کہ مسلمانوں کو حکم دے کہ اپنی آواز کو نبی کی آواز سے بلند نہ کرو----- جو اللہ کے اتنے لاڈلے کہ ان کے روضہ اطہر پر صبح و شام ستر ستر ہزار فرشتے حاضری دیں----- جو اللہ کے ہاں اس قدر قابل قدر کہ

صفحہ 91

جبرئیلؑ ان کے گھر کی نگہبانی کرے----- جن کی رفعت کا یہ عالم کہ اللہ کے جلیل القدر انبیاء ابراہیم و عیسیٰ علیہم السلام ان کی آمد مبارک کی دعائیں کریں----- جن کی یہ شان کہ وہ معراج کی رات سارے انبیائے کرام کی امامت کریں----- جن کی یہ قدر و منزلت کہ اللہ انہیں دنیا میں بھیج کر احسان عظیم کرے----- جن سے اللہ کو اتنا پیار کہ اللہ اور اس کے فرشتے ان پر درود بھیجیں----- وہ اللہ کو اتنے چہیتے کہ اللہ ان کی امت کو خیرالامم قرار دے----- اللہ کی ان کے دوستوں سے اتنی دوستی کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو اللہ کا سلام آئے----- ان کے رفیقوں سے اللہ کو اتنی چاہت کہ اللہ انہیں دنیا ہی میں جنت کے سرٹیفکیٹ عطا فرمائے-----

میرے نبیؐ! جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

جمال کائنات----- حسن کائنات----- زینت کائنات----- جن کے چہرے سے سورج کو ضیا ملتی ہے----- جن کے رخساروں کی دمک سے چاند‘ چاندنی حاصل کرتا ہے----- جن کی آنکھوں کی چمک سے ستارے جگمگانا سیکھتے ہیں----- جن کے دانتوں کی تنویر سے جواہرات چمکنے کا ہنر جانتے ہیں----- جن کے لبوں کی نزاکت سے غنچے چٹکنا سیکھتے ہیں----- جن کے ماتھے کے نور سے انسانیت کو راستے ملتے ہیں----- جن کے قد زیبا سے سرو اپنے قد کی رعنائی حاصل کرتا ہے----- جن کے سانسوں کی مہک سے مشک و عنبر خوشبو پاتے ہیں----- جن کی زلفوں کی لٹک سے کائنات بننا سنورنا سیکھتی ہے----- جن کی آنکھوں کی حیا سے کلیاں شرمانا سیکھتی ہیں----- جن کی مسکراہٹ سے قوس قزح رنگ بکھیرنا جانتی ہے----- جن کی چال سے مست خرام ندیاں چلنے سے آشنا ہوتی ہیں----- جن کی گفتگو سے بلبل نغمے سیکھتی ہے----- جن کی آنکھوں کی سیاہی سے کالی گھٹاؤں کو حسن ملتا ہے----- جن کی آنکھوں کی سفیدی سے دن کو اجالا ملتا ہے----- جن کی پلکوں کی دلاویز حرکت سے نجوم جھلملانا سیکھتے ہیں----- جن کے ابرو خمدار کو دیکھ کر ہلال اپنی صورت تراشتا ہے----- جن کے جلال سے بجلیاں کڑکنا اور جن کے جمال سے باد نسیم چلنا جانتی ہے----- جن کی گفتگو کے لفظوں سے ہدایت کے چراغ جلتے ہیں----- اور جن کے قدموں کے نشان سے انسانیت کو منزل کا سراغ ملتا ہے-----

میرے نبیؐ! جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

صفحہ 92

جنہوں نے سب سے پہلے انسانی حقوق کی صدا بلند کی----- جنہوں نے سب سے پہلے انسانیت کو بین الاقوامی منشور عطا کیا----- جنہوں نے انسانیت کو ایک انٹرنیشنل پلیٹ فارم مہیا کیا----- جنہوں نے رنگ و نسل کے بتوں کو پاش پاش کر دیا----- جنہوں نے عربی عجمی، گورے اور کالے کو ایک صف میں لا کھڑا کیا----- جنہوں نے وڈیروں کے طلسم کو توڑا----- جنہوں نے ظالموں کے خلاف شمشیر جہاد بلند کی----- جنہوں نے یتیموں کو سینے سے لگایا اور ان کی سرپرستی فرمائی----- جنہوں نے غلاموں کی ہتھکڑیاں اور بیڑیاں کھولیں----- جنہوں نے بے نواؤں کو قوت اظہار بخشی----- جنہوں نے کمزوروں کو طاقتوروں کے مقابل لا کھڑا کیا----- جنہوں نے عورت کو قعر مذلت سے نکال کر اس کے سر پر عزت و عصمت کی چادر رکھی----- جنہوں نے محنت کش کو معاشرے میں وقار عطا کیا اور اسے اللہ کا دوست قرار دیا----- جنہوں نے جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں علم کی شمعیں جلائیں اور ہر مرد و زن پر علم حاصل کرنا فرض قرار دیا----- جنہوں نے قرآن و حدیث کی تعلیمات سے لوگوں کے دلوں کو جگمگایا----- جن کی درسگاہ نبوت سے ایسے لوگ نکلے جنہوں نے عالم کے چہار سو علوم کا چراغاں کر دیا----- جنہوں نے جہالت کے صحراؤں میں بھٹکتی ہوئی مخلوق کا تعلق خالق سے جوڑ دیا----- جنہوں نے بتوں کی خدائی کا ٹاٹ لپیٹ دیا اور انسانوں کو صرف ایک خدا کے سامنے جھکنا سکھایا-----

تاریخ شاہد ہے کہ ہر زمانے کے سعید الفطرت لوگ جناب خاتم النبیین محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت و پیغام کی جانب یوں لپک لپک کر آئے ہیں جیسے پروانے شمع کی جانب! وہ آپ کی شخصیت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ آپ کے لائے ہوئے پیغام کو ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں اور آپ کی غلامی کا پٹہ گلے میں ڈالنا دنیا کی سب سے بڑی سعادت سمجھتے ہیں۔ لیکن ازلی مردود شیطان ملعون کو کب یہ گوارا ہو سکتا ہے کہ انسان آپ کی شخصیت سے والہانہ محبت کریں اور آپ کے لائے ہوئے دین حنیف کی شاہراہ پر گامزن رہیں۔ اس لیے شیطان نے ہر زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں بکواس کرنے اور ہذیان بکنے کے لیے کچھ لوگوں کو کھڑا کیا ہے‘ جو اپنے پرتعفن منہ اور زہریلی زبان سے اتنا بڑا جرم کرتے ہیں کہ کائنات کانپ کانپ جاتی ہے لیکن اس نازک مسئلہ میں غلامان مصطفیٰ بھی بڑے حساس اور غیرت مند رہے ہیں۔ وقت گواہ ہے کہ جب بھی کسی بدبخت نے شان رسول میں گستاخی کی‘

صفحہ 93

غیور مسلمان شاہین کی طرح اس پر جھپٹتے ہیں اور اسے جہنم واصل کیا ہے۔

پچھلے چند برسوں سے یورپ نے ایک سنگین سازش کے تحت پوری دنیا میں توہین رسالتؐ کا طوفان بپا کر رکھا ہے۔ سیدؐ الکائنات کی شخصیت میں عیب نکالے جا رہے ہیں۔۔۔۔۔ محسن انسانیت کی ذات اقدس پر ظالمانہ تنقید ہو رہی ہے۔۔۔۔۔ محبوب خدا کے اوصاف و محاسن پر بکواس ہو رہی ہے۔۔۔۔۔ فخر موجودات کے اہل بیتؓ اور صحابہؓ کے بارے میں ہذیان بکا جا رہا ہے۔۔۔۔۔ آپ کے لائے ہوئے دین قیم پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے۔۔۔۔۔ آپؐ کے منصب نبوت پر ہرزہ سرائی کی جا رہی ہے۔ اس طاغوتی سلسلے میں بہت سے قلم بہت سی زبانیں اور بہت سا پیسہ متحرک ہے۔ یہود اور نصاریٰ کے علاوہ نطفہ بے تحقیق سلمان رشدی اور عصمت دریدہ پروفیشنل زانیہ تسلیمہ نسرین بھی شامل ہیں۔ یہی یورپ پاکستان میں توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کروانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ بین الاقوامی پریس اور ٹیلی وژن میڈیا کے ذریعے زبردست پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ ضمیر کی عصمت فروشی کی کمائی کھانے والے صحافیوں سے انگریزی جرائد و اخبارات میں مضامین لکھوائے جا رہے ہیں۔ جب بھی کوئی بدبخت توہین رسالتؐ کا مرتکب ہوتا ہے تو یہ یورپی شاتمان رسولؐ اس رذیل کائنات کو مہمان خصوصی بنا کر یورپ لے جاتے ہیں اور اس دریدہ دہن کو خوب انعامات سے نوازتے ہیں۔

یورپ یہ سب کچھ کیوں کر رہا ہے؟ اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اس کے محرکات کیا ہیں؟

اس کی صرف ایک وجہ ہے ۔

وہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو

اے یورپی دریدہ دہنو! تم نے اللہ کے محبوبؐ کی عصمت پر بھونکنا شروع کیا۔۔۔۔۔ تم نے اللہ کے رسولؐ کی عزت پر کیچڑ اچھالنا شروع کیا۔۔۔۔۔ تو اللہ نے تم سے عزت و عصمت کا مفہوم چھین لیا اور تم خنزیر کی طرح بے غیرت ہو کر رہ گئے۔

اے یورپی بھیڑیو! ذرا اپنے معاشرے میں ایک نظر دوڑا کر تو دیکھو۔۔۔۔۔ تم میں سے ہر ایک شخص یہ سوچتا رہتا ہے کہ وہ حلالی ہے یا حرامی؟ تمہارے بچے نائٹ کلبوں کی پیداوار ہیں۔۔۔۔۔ تمہاری عورتیں وائف ایکسچینج کلبوں کی زینت ہیں۔۔۔۔۔ تمہارے بچے

صفحہ 94

اپنی ماں کے بوائے فرینڈز کے جھرمٹ میں سے اپنا باپ تلاش کرتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔ تمہاری بیٹیاں جنسی بے راہروی کی تاریک آندھیوں میں سیٹیاں بجاتی پھرتی ہیں اور تم خود شتر بے مہار ہو۔۔۔۔۔

اے یورپی ظالمو! تمہارے ہاں کتنے باپ اپنی بیٹیوں سے منہ کالا کرتے ہیں۔۔۔۔۔ تمہارے ہاں کتنی بہنوں کے بطنوں سے بھائیوں کے بچے پیدا ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ تمہارے مختلف ملکوں میں حرامیوں کی کتنی تنظیمیں ہیں۔۔۔۔۔ تم خنزیر کھا کھا کر خنزیر کی طرح بے غیرت ہو گئے ہو۔۔۔۔۔ تم ام الخبائث پی پی کر خبیث ہو گئے ہو۔۔۔۔۔ تمہاری اخلاقی موت واقع ہو چکی ہے۔۔۔۔۔ تمہارا ضمیر کب سے پیوند زمین ہو چکا ہے۔۔۔۔۔ تمہاری غیرت کب سے متعفن لاش بن چکی ہے۔۔۔۔۔ اور اس پر نوحہ خوانی کرنے والا بھی کوئی نہیں۔

دیکھا اللہ کے حبیب کی شان اقدس میں گستاخیاں کرنے کی سزا ۔

دیکھو گے برا حال محمدؐ کے عدو کا
منہ پہ ہی گرا جس نے چاند پہ تھوکا

اے صلیب کے پجاریو! تمہاری ملکہ وکٹوریہ نے مرزا غلام احمد قادیانی سے دعویٰ نبوت کرا کے ہندوستان میں جھوٹی نبوت کا ڈرامہ رچایا تھا تاکہ جہاد کو حرام قرار دیا جا سکے اور مسلمانوں کا رخ مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ سے موڑ کر قادیان کی جانب کر دیا جائے۔ لیکن قادیان کی جھوٹی نبوت کی موجدہ ملکہ وکٹوریہ کا انجام دیکھو کہ تمہارے انگلستان کے دو سکالرز بھائیوں نے دنیا کے سامنے اپنی ریسرچ پیش کی ہے کہ ملکہ وکٹوریہ حرامی تھی کیونکہ اس کی ماں کے ایک شخص کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے۔۔۔۔۔ دیکھا انتقام قدرت!

نہ جا اس کے تحمل پہ کہ ہے بے ڈھب گرفت اس کی
ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا
PDF 95

مرزا قادیانی

کا

جسمانی ڈھانچہ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوة

ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ فون 2329

صفحہ 96

کچھ عرصہ ہوا ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں ”کل بھارت مقابلہ بدصورتی“ منعقد ہوا جس میں خواتین‘ حضرات اور ہیجڑے شرکت کر سکتے تھے۔ مقابلے کا اعلان ہوتے ہی بھارت کے گوشے گوشے سے بدشکل‘ کریہہ صورت اور غصے منہ لوگ جائے مقابلہ پر اکٹھے ہونا شروع ہوگئے۔ ان میں سے ہر ایک کا منہ لاثانی اور لاجواب تھا۔ مقابلے میں شریک ہر فرد جب سٹیج پر آکر مسکراتا تو اس کے ”حسن“ کو ”چار چاند“ لگ جاتے۔ آخر ایک زوردار مقابلے کے بعد ایک چڑیل صورت عورت اور ایک بھتنا لڑکا بالترتیب پہلی اور دوسری پوزیشن کے حقدار ٹھہرے۔

مقابلے کی بابت پڑھ کر راقم سوچ کی وادیوں میں دور نکل گیا اور راقم کے ذہن میں سوچ آئی کہ اگر یہ مقابلہ ۱۹۰۸ء سے پہلے یعنی مرزا قادیانی کی زندگی میں ہوتا تو کوئی مائی کا لال اور کوئی ماں کی ”لاڈلی“ اسے شکست نہ دے سکتے۔ ہزاروں میل کی مسافتیں طے کر کے آئے ہوئے ہزاروں لوگ اس کی شکل دیکھنے کے بعد‘ مقابلہ کی بجائے اس کے حق میں دستبردار ہو جاتے اور اگر کچھ سر پھرے اس کے مقابلہ میں آ ہی جاتے تو جب وہ اپنے سری پائے‘ ٹوٹے ہوئے گوڈے گٹے‘ جنگلی گھاس جیسے بال‘ ڈوئی جیسے ابرو‘ پلکوں کے بغیر چھوٹی بڑی اجڑی اجڑی آنکھوں‘ تھور زدہ رخساروں‘ درخت سے الٹے لٹکے ہوئے چمگادڑوں جیسے کانوں‘ چوہے کی دم جیسی مونچھوں‘ دو موریہ پل جیسی وسیع و عریض ناک‘ سوجھے ہوئے ہونٹوں‘ پیلے پیلے اور کیڑا لگے دانتوں‘ گھڑے جیسی دھنسی ہوئی گردن‘ ٹوٹے ہوئے غیر متوازن بازوؤں‘ بغیر گوشت کے ابھری ہوئی نیلی نیلی رگوں والے سوکھے سوکھے ہاتھوں‘ مرغ جیسی پتلی پتلی ٹانگوں اور مٹکے جیسے پھولے ہوئے پیٹ کے ساتھ وہ کچھا پہن کر سٹیج پر ”حسن افروز“ ہوتا تو اس کے سامنے سب کے چراغ بجھ جاتے۔ جج صاحبان کی آنکھیں اس کے حسن کی ضیاپاشیوں سے خیرہ ہو جاتیں۔ سامعین عش عش کر اٹھتے اور وہ وکٹری سٹینڈ پر پہلی پوزیشن لیے کھڑا ہوتا اور اسے ”مسٹر بدصورت“ اور ”مسٹر غصے منہ“ کے اعزازات سے نوازا جاتا۔

صفحہ 97

ہمارے پاس مرزا قادیانی کے جسمانی اعضاء کی مکمل تفصیل موجود ہے۔ لیکن یہاں ہم صرف وہ تفصیل پیش کرتے ہیں جو قادیانی کتب میں موجود ہے تاکہ قادیانی اعتراضات نہ کر سکیں۔ علاوہ ازیں تصویر بھی ہم پیش کر رہے ہیں جو قادیانی کتب میں موجود ہے۔

شکل : ”میری عمر اس وقت قریباً تیرہ سال ہوگی۔ جب میں اپنے چند ہمجولیوں کے ساتھ حکیم صاحب مرحوم سے ملا اور انہوں نے اثنائے گفتگو میں فرمایا کہ قادیان میں ایک مرزا صاحب ہیں جن کو الہام ہوتے ہیں۔ ان کی شکل بالکل سادہ گنواروں کی طرح ہے“۔ (”ذکر حبیب“ ص ۴‘ مصنفہ مفتی محمد صادق قادیانی)

بڑی پتے کی بات کی۔ (ناقل)

تکیہ دار موڑھے پر بیٹھ گئے اور ایک موڑھے پر میں بیٹھ گیا اور مجھ سے کتاب کے متعلق باتیں ہوتی رہیں۔ میں نے آپ کی خوابیدہ آنکھوں کو دیکھ کر دھوکہ کھایا کہ شاید آپ پوست یا افیون استعمال کرتے ہیں“۔ (قادیانی صحابی شیخ نور احمد‘ مالک مطبع ریاض ہند کا بیان۔ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان نمبر ۱۹۴‘ جلد نمبر ۳۴‘ مورخہ ۲۰ اگست ۱۹۴۶ء)

دھوکا نہیں کھایا تھا‘ صحیح پہچانا تھا۔ (ناقل)

پاؤں : ”ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لیے گرگابی لے آیا۔ آپ نے پہن لی مگر اس کے الٹے سیدھے پاؤں کا آپ کو پتہ نہیں لگتا تھا۔ کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے اور پھر تکلیف ہوتی تھی۔ بعض دفعہ آپ کا الٹا پاؤں پڑ جاتا تو تنگ ہو کر فرماتے ان کی کوئی چیز بھی اچھی نہیں ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی سہولت کے واسطے الٹے سیدھے پاؤں کی شناخت کے لیے نشان لگا دیے تھے مگر باوجود اس کے آپ الٹا سیدھا پہن لیتے تھے“۔ (”سیرت المہدی“ حصہ اول‘ ص ۶۷‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

بار بار الٹا سیدھا پہننے سے پاؤں تو ٹیڑھے ہو گئے ہوں گے۔ (ناقل)

صفحہ 98

انگلی: ”ایک دفعہ گھر میں ایک مرغی کے چوزہ کے ذبح کرنے کی ضرورت پیش آئی اور اس وقت گھر میں کوئی اور اس کام کو کرنے والا نہ تھا۔ اس لیے حضرت (مرزا) صاحب اس چوزہ کو ہاتھ میں لے کر خود ذبح کرنے لگے۔ مگر بجائے چوزہ کی گردن پر چھری پھیرنے کے غلطی سے اپنی انگلی کاٹ ڈالی جس سے بہت خون گیا اور آپ توبہ توبہ کرتے ہوئے چوزہ کو چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ پھر وہ چوزہ کسی اور نے ذبح کیا“۔

(”سیرت المہدی“ حصہ اول، ص ۶۷‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

معلوم نہیں کہ انگلی کٹ کے الگ ہو گئی یا صرف زخم پڑ گیا۔ (ناقل)

پسلی: ”آپ کے ایک بچے نے آپ کی واسکٹ کی جیب میں ایک بڑی اینٹ (روڑا) ڈال دی۔ آپ جب لیٹتے تو وہ چبھتی۔ کئی دنوں ایسا ہوتا رہا۔ ایک دن آپ ایک خادم سے کہنے لگے کہ میری طبیعت خراب ہے اور پسلی میں درد ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز چبھتی ہے۔ وہ حیران ہوا اور آپ کے جسم پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ اس کا ہاتھ اینٹ پر جا لگا۔ جیب سے اینٹ نکال لی۔ دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا کہ چند روز ہوئے محمود نے میری جیب میں ڈالی تھی اور کہا تھا کہ اسے نکالنا نہیں۔ میں اس سے کھیلوں گا“۔ (”حضرت مسیح کے مختصر حالات“ ملحقہ ”براہین احمدیہ“ طبع چہارم، ص ۱۴) معلوم ہوتا ہے کہ پاؤ‘ ڈیڑھ پاؤ افیم روزانہ کھاتا ہو گا۔ (ناقل)

جلد: ”ایک دفعہ والد صاحب سخت بیمار ہو گئے اور حالت نازک ہو گئی اور حکیموں نے ناامیدی کا اظہار کر دیا اور نبض بھی بند ہو گئی مگر زبان جاری رہی۔ والد صاحب نے کہا کہ کیچڑ لا کر میرے اوپر اور نیچے رکھو۔ چنانچہ ایسا کیا گیا اور اس سے حالت رو بہ اصلاح ہو گئی“۔ (”سیرت المہدی“ حصہ اول، ص ۲۲۱‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی) کیچڑ کتنے دن لگا رہا؟ ویسے جلد تو سیاہ ہو گئی ہو گی۔ (ناقل)

گھٹنا: ”ایک دفعہ گھٹنے کے جوڑ میں بھی درد ہوا۔ نامعلوم وہ کیا تھا مگر دو تین دن زیادہ تکلیف رہی۔ پھر جونکیں لگانے سے آرام آیا“۔ جونکیں تو مر گئی ہوں گی۔ (ناقل)

صفحہ 99

ٹخنہ : ”ایک دفعہ حضرت صاحب کے ٹخنے کے پاس پھوڑا ہو گیا تھا جس پر حضرت صاحب نے اس پر سکہ یعنی سیسہ کی ٹکیا بندھوائی تھی جس سے آرام آ گیا“۔

(”سیرت المہدی“ حصہ سوم، ص ۲۸، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

ایک سیسے کی ٹکیہ زبان پر بھی بندھوا لیتا۔ (ناقل)

انگوٹھا : ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ نقرص کے دور میں آپ کا انگوٹھا سوج جایا کرتا تھا اور سرخ بھی ہو جاتا تھا اور بہت درد ہوتی تھی“۔ (”سیرت المہدی“ حصہ دوم، ص ۲۸، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی) لیکن پھر بھی دعویٰ نبوت سے باز نہیں آتا تھا۔ (ناقل)

دایاں بازو : ”بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔ اے کہ ایک دفعہ والد صاحب اپنے چوبارے کی کھڑکی سے گر گئے اور دائیں بازو پر چوٹ آئی۔ چنانچہ آخر عمر تک وہ ہاتھ کمزور رہا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ آپ کھڑکی سے اترنے لگے تھے۔ سامنے سٹول رکھا تھا، وہ الٹ گیا اور آپ گر گئے اور دائیں ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور یہ ہاتھ آخر عمر تک کمزور رہا۔ اس ہاتھ سے آپ لقمہ کو منہ تک لے جا سکتے تھے مگر پانی کا برتن منہ تک نہیں اٹھا سکتے تھے“۔ (”سیرت المہدی“ حصہ اول، ص ۲۱۷، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی) اسی بازو سے گستاخیاں لکھتے تھے نا۔ (ناقل)

بال : ”فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے بال تیس سال کی عمر میں سفید ہونے شروع ہوئے تھے اور پھر جلد جلد سب سفید ہو گئے“۔ (”ذکر حبیب“ ص ۲۸، مصنفہ مفتی محمد صادق قادیانی) دماغی ضعف اور خلل --- اور اسی دماغی خلل نے دعویٰ نبوت کرایا۔ (ناقل)

جسم کی ساخت : ”میں نے بھائی شیخ عبدالرحیم صاحب سے سنا ہے کہ گو درمیان میں آپ کا جسم کسی قدر ڈھیلا ہو گیا تھا لیکن آخری سالوں میں پھر خوب سخت اور مضبوط ہو گیا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ بھائی عبدالرحیم صاحب کو حضرت صاحب

صفحہ 100

کے جسم کو دبانے کا کافی موقعہ ملتا تھا“۔ (”سیرت المہدی“ حصہ دوم‘ ص ۱۱‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

جب سیالکوٹ کی کچہری میں بطور منشی قلیل تنخواہ پر ملازم تھا۔۔۔ تو اس وقت جسم نے ڈھیلا ہی ہونا تھا اور پھر جب انگریز نے نبوت کے لیے کھڑا کیا تو انگریز اور مریدوں نے گھر کو سیم و زر سے بھر دیا اور پھر مرزا قادیانی نے خوب کھانے کھائے۔۔۔ اور پھر جسم نے تو سخت ہونا ہی تھا۔۔۔ (ناقل)

زبان : ”قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان میں کسی قدر لکنت تھی اور آپ پرنالے کو پنالہ فرمایا کرتے تھے“۔ (”سیرت المہدی“ حصہ دوم‘ ص ۶۷‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

اسی لیے تو جلد ہی سکول سے بھاگ گیا تھا۔ (ناقل)

منہ : ”بعض اوقات مجلس میں جب خاموش بیٹھتے تو آپ عمامہ کے شملہ سے دہان مبارک ڈھک لیا کرتے تھے“۔ (”سیرت المہدی“ حصہ دوم‘ ص ۱۴۵‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

بدبو جو آتی تھی۔ ویسے بھی جھوٹے نبی کے منہ سے بدبو کے سوا اور کیا آ سکتا ہے۔ (ناقل)

آنکھیں : ”مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم بیان فرماتے تھے کہ میں حضرت صاحب کے مکان کے اوپر کے حصہ میں رہتا ہوں۔ میں نے کئی دفعہ حضرت صاحب کے گھر کی عورتوں کو یہ باتیں کرتے سنا ہے کہ حضرت صاحب کی تو آنکھیں ہی نہیں ہیں۔ ان کے سامنے سے کوئی عورت کسی طرح سے بھی گزر جائے، ان کو پتہ نہیں لگتا۔ یہ وہ ایسے موقع پر کہا کرتی ہیں کہ جب کوئی عورت حضرت صاحب کے سامنے سے گزرتی ہوئی خاص طور پر گھونگھٹ یا پردہ کا اہتمام کرنے لگتی ہے اور ان کا منشا یہ ہوتا ہے کہ حضرت صاحب کی آنکھیں ہروقت نیچی اور نیم بند رہتی ہیں اور وہ اپنے کام میں بالکل منہمک رہتے ہیں۔ ان کے سامنے

صفحہ 101

سے جاتے ہوئے کسی خاص پردہ کی ضرورت نہیں"۔ ("سیرت المہدی" حصہ دوم، ص ۷۷، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

شکاری ایسے ہی بیٹھا کرتا ہے۔ (ناقل)

چند خدام کے فوٹو کھنچوانے لگے تو فوٹو گرافر آپ سے عرض کرتا تھا کہ حضور ذرا آنکھیں کھول کر رکھیں ورنہ تصویر اچھی نہیں آئے گی اور آپ نے اس کے کہنے پر ایک دفعہ تکلف کے ساتھ آنکھوں کو کچھ کھولا بھی مگر وہ پھر اسی طرح نیم بند ہو گئیں"۔ ("سیرت المہدی" حصہ دوم، ص ۷۷، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

اور تصویر میں کانے کے کانا آگیا ہو گا۔ (ناقل)

تھے۔ یہاں تک کہ میں نے دیکھا ہے کہ ہنسی کی وجہ سے آپ کی آنکھوں میں پانی آ جاتا تھا جسے آپ اپنی انگلی یا کپڑے سے پونچھ دیتے تھے"۔ ("سیرت المہدی" حصہ دوم، ص ۴۳، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

شرم کا پانی تو بڑی دیر سے ختم ہو گیا تھا۔ (ناقل)

دیکھ سکتے تھے مگر نزدیک سے آخر عمر تک باریک حروف بھی پڑھ لیتے تھے اور عینک کی حاجت محسوس نہیں کی"۔ ("سیرت المہدی" حصہ دوم، ص ۸۹، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

لیکن بھانو کو تو بڑی دور سے دیکھ لیتے تھے۔ (ناقل)

دانت : "دندان مبارک آپ کے آخری عمر میں کچھ خراب ہو گئے تھے۔ یعنی کیڑا بعض داڑھوں کو لگ گیا تھا جس سے کبھی کبھی تکلیف ہو جاتی تھی۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک داڑھ کا سرا ایسا نوکدار ہو گیا تھا کہ اس سے زبان میں زخم پڑ گیا تو ریتی کے ساتھ اس کو گھسوا کر برابر بھی کرایا تھا مگر کبھی کوئی دانت نکلوایا نہیں"۔ ("سیرت المہدی" حصہ دوم، ص ۱۴۵، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

صفحہ 102

کسی ڈنگر ڈاکٹر کی خدمات مستعار لی ہوں گی۔ (ناقل)

ایڑیاں: ”پیر کی ایڑیاں آپ کی بعض دفعہ گرمیوں کے موسم میں پھٹ جایا کرتی تھیں۔ (“سیرت المہدی” حصہ دوم، ص ۱۲۵، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

یعنی منہ کی طرح ہو جاتی تھیں۔ (ناقل)

پسینہ: ”اگرچہ گرم کپڑے سردی گرمی برابر پہنتے تھے تاہم گرمیوں میں پسینہ بھی خوب آ جاتا تھا۔ مگر آپ کے پسینہ میں کبھی بو نہیں آتی تھی۔ خواہ کتنے ہی دن بعد کپڑے بدلیں اور کیسا ہی موسم ہو“۔ (“سیرت المہدی” حصہ دوم، ص ۱۲۵، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

اگر تمہیں خوشبو اور بدبو کی تمیز ہوتی تو تم مرزا قادیانی کو نبی نہ مانتے۔ (ناقل)

کندھا: ”بلا تامل حضور نے فرمایا کہ شاہ صاحب ہمارے مونڈھے پر بھی ضرب آئی تھی جس کی وجہ سے اب تک وہ کمزور ہے۔ ساتھ ہی حضور نے مجھے اپنا شانہ ننگا کر کے دکھایا“۔ (“سیرت المہدی” حصہ دوم، ص ۱۶، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

ایام بچپن میں جب ماسٹر سکول میں مرغا بنا کر ڈنڈے سے پیٹا کرتا تھا اسی وقت ایک دو ڈنڈے مونڈھے پر بھی لگ گئے ہوں گے۔ (ناقل)

پشت: ”بعض اوقات گرمی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پشت پر گرمی دانے نکل آتے تھے تو سہلانے سے ان کو آرام آتا تھا۔ بعض اوقات فرمایا کرتے کہ میاں ”جلون“ کرو جس سے مراد یہ ہوتی کہ انگلیوں کے پوٹے بالکل آہستہ آہستہ اور نرمی سے پشت پر پھیرو۔ یہ آپ کی اصطلاح تھی“۔ (“سیرت المہدی” حصہ سوم، ص ۱۹۵، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

بے وقوف مرید آموں کے ٹوکرے جو تحفتاً لاتے تھے اور ان سے گرمی دانے ہی نکلنے تھے۔ (ناقل)

صفحہ 103

تکلیف ہوئی۔ خاکسار کو بلایا اور دکھایا اور بار بار پوچھا کہ یہ کاربنکل تو نہیں۔ کیونکہ مجھے ذیابیطس کی بیماری ہے۔ میں نے دیکھ کر عرض کی کہ یہ بال توڑ یا معمولی پھنسی ہے، کار بنکل نہیں ہے“۔ (”سیرت المہدی“ حصہ سوم، ص ۲۲۷، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

لیکن دماغی کاربنکل کا کیا بنا؟ (ناقل)

ٹانگیں : ”حضرت صاحب کے ہاں ایک بوڑھی ملازمہ مسماۃ بھانو تھی۔ وہ ایک رات جب کہ خوب سردی پڑ رہی تھی، حضور کو دبانے بیٹھی۔ چونکہ وہ لحاف کے اوپر سے دباتی تھی اس لیے اسے یہ پتہ نہ لگا کہ جس چیز کو میں دبا رہی ہوں، وہ حضور کی ٹانگیں نہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا بھانو آج بڑی سردی ہے۔ بھانو کہنے لگی ”ہاں جی تدے تے تہاڈی لتاں لکڑی وانگر ہوئیاں ہوئیاں نیں“۔ یعنی جی ہاں! جبھی تو آج آپ کی لاتیں لکڑی کی طرح سخت ہو رہی ہیں“۔ (”سیرت المہدی“ حصہ سوم، ص ۲۱۰، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

معلوم ہوتا ہے کسی ”لکھڑ“ کی ٹانگیں لگی ہوئی تھیں۔ (ناقل)

یہ ہم نے آپ کے سامنے مرزا قادیانی کے بیرونی جسمانی اعضاء کی فہرست پیش کی ہے لیکن ہمیں مرزا قادیانی کے جسم کے اندرونی اعضاء کے متعلق بھی جاننا چاہیے۔ آپ نے اس بات کا مشاہدہ کیا ہوگا کہ اگر کسی شخص نے پرانا موٹر سائیکل خریدا ہو تو وہ کسی سیانے مستری کو ساتھ لے کر دکان پر جاتا ہے اور وہ مستری موٹر سائیکل کے بیرونی پارٹس کو تو ایک نظر میں باہر سے ہی ملاحظہ کر لیتا ہے لیکن اندرونی پارٹس کو چیک کرنے کے لیے وہ موٹر سائیکل کو کک لگا کر سٹارٹ کرتا ہے اور فل ایکسیلیٹر دے کر کان لگا کر انجن کی آوازوں کو سنتا ہے اور اسے پتہ چل جاتا ہے کہ موٹر سائیکل کا پسٹن کیسا ہے۔ رنگ کس حالت میں ہیں، ٹائمنگ چین کی کیفیت کیا ہے؟ والوز کی پوزیشن کیسی ہے؟ کنکٹنگ راڈ کا کیا حال ہے؟ وغیرہم۔

آئیے اسی طرح ہم بھی پرانی ”پھٹیچر“ مرزا قادیانی کو زوردار کک لگا کر

صفحہ 104

سٹارٹ کرتے ہیں اور انتہائی بغور جائزہ لینے کے بعد اس کے اندرونی پارٹس کی جو صورت حال سامنے آتی ہے، وہ یوں ہے:

لبلبہ : ”بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے“۔ (”ضمیمہ اربعین“

نمبر ۳، ۴، ص ۴، مصنفہ مرزا قادیانی)

لبلبے کا تو بیڑا غرق ہوگیا ہوگا۔ (ناقل)

سانس والی نالی : ”ایک دفعہ حضرت صاحب کو سخت کھانسی ہوئی۔ ایسی کہ دم نہ آتا تھا۔ البتہ منہ میں پان رکھ کر قدرے آرام معلوم ہوتا تھا۔ اس وقت آپ نے اس حالت میں پان منہ میں رکھے رکھے نماز پڑھی۔ تاکہ آرام سے پڑھ سکیں“۔

(”سیرت المہدی“ حصہ سوم، ص ۱۰۳، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

کیونکہ افیم کا نشہ کرنا تھا اس لیے پان بھی تمباکو والا کھاتا ہوگا۔ (ناقل)

اعصاب : ”حضرت (مرزا) صاحب کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر، درد سر، کمی خواب، تشنج دل، بدہضمی، اسہال، کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا“۔ (رسالہ ”ریویو“ قادیان، بابت مئی ۱۹۲۷ء) اور عصبی کمزوری کا باعث محمدی بیگم کے نہ ملنے کا غم تھا۔ (ناقل)

گردے : ”بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے“۔ (”ضمیمہ

اربعین“ نمبر ۳، ۴، ص ۴، مصنفہ مرزا قادیانی)

گردے پنکچر! (ناقل)

کچھ شکایت درد گردہ کی شروع ہو رہی ہے۔ اس لیے میں نے باندھ لیا ہے“۔

(”تذکرہ“ ص ۴۴۹)

صافہ نہیں بیگم کا دوپٹہ ہوگا۔ (ناقل)

دل : ”ایک دفعہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رمضان کا روزہ رکھا ہوا تھا کہ دل گھٹنے کا دورہ ہوا اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوگئے۔ اس وقت غروب آفتاب کا وقت بہت قریب تھا۔ مگر آپ نے روزہ توڑ دیا“۔ (”سیرت المہدی“ حصہ سوم، ص

صفحہ 105

۱۳۱‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی) شاید زندگی میں پہلی دفعہ رکھا ہوگا۔ (ناقل)

دماغ : ”مکرمی اخویم سلمہ میرا حافظہ بہت خراب ہے۔ اگر کئی دفعہ کسی کی ملاقات ہو تو تب بھی بھول جاتا ہوں۔ یادہانی عمدہ طریقہ ہے۔ حافظہ کی یہ ابتری ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔ خاکسار غلام احمد از صدر انبالہ احاطہ ناگ پھنی“۔ (”مکتوب احمدیہ“ پنجم‘ نمبر ۳‘ ص ۳۱‘ مجموعہ مکتوبات مرزا قادیانی) لیکن محمدی بیگم کو تو نہیں بھولتے تھے۔ (ناقل)

مقعد : ”ایک مرتبہ میں قولنج زحیری سے سخت بیمار ہوا اور سولہ دن تک پاخانہ کی راہ سے خون آتا رہا اور سخت درد تھا جو بیان سے باہر ہے“۔ (”حقیقۃ الوحی“ ص ۳۳۴‘ مصنفہ مرزا قادیانی) ورلڈ ریکارڈ (ناقل)

پھیپھڑے : ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ تمہارے دادا کی زندگی میں حضرت صاحب کو سل ہو گئی اور چھ ماہ تک بیمار رہے اور بڑی نازک حالت ہو گئی۔ حتیٰ کہ زندگی سے ناامیدی ہو گئی“۔ (”سیرت المہدی“ حصہ اول‘ ص ۵۵‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی) کاش مر جاتا۔۔۔۔۔ لاکھوں کا بھلا ہوتا۔ (ناقل)

انتڑیاں : ”لاہور میں غالباً وفات سے ایک دن پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اندر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ آج مجھے دست زیادہ آ گئے ہیں۔ چنانچہ میں نے تین قطرے کلوروڈین کے پی لیے ہیں۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کو اسہال کی شکایت اکثر رہتی تھی مگر آخری مرض میں جہاں تک مجھے یاد ہے‘ صرف وفات والے دن سے قبل کی رات اسہال ہو گئے تھے“۔ (”سیرت المہدی“ حصہ سوم‘ ص ۲۰۹‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی) اور اسہال نے ہی ٹٹی خانہ میں مردار کر دیا۔ (ناقل)

گنجا پن : ”اس واسطے مجھے ایک دفعہ فرمایا ”مفتی صاحب سر کے بالوں کے اگانے

صفحہ 106

اور بڑھانے کے واسطے کوئی دوائی منگوائیں" ("ذکر حبیب" ص ۱۷۳‘ مصنفہ مفتی محمد صادق قادیانی)

تیسری شادی کی تیاری جو کرنی تھی۔ (ناقل)

صاحبو! شاید آپ کو معلوم نہ ہو کہ دنیا کا یہ کریہہ الصورت شخص مدعی نبوت بھی تھا۔ اس کے چہرے پر آپ کو لعنتوں اور پھٹکاروں کی جو دبیز تہیں نظر آ رہی ہیں‘ وہ اسی جرم اعظم اور گناہ عظیم کی وجہ سے ہیں۔ روئے زمین کا سب سے بے وقوف گروہ یعنی قادیانی اسے نبی اور رسول مانتے ہیں۔ اس کی بہکی بہکی باتوں کو احادیث کہتے ہیں اور اس کی ہرزہ سرائی کو وحی الٰہی کا نام دیتے ہیں۔

لیکن ان عقل کے اندھوں کو کیا معلوم کہ نبوت کس رفعت و عظمت کا نام ہے نبی کسی تقدس و حرمت کا اسم مبارک ہے۔ نبی اللہ تعالیٰ کی شاہکار تخلیق ہوتی ہے۔ وہ حسن و زیبائی کا مرقع ہوتا ہے۔ اس کا حسن کائنات میں اجالے بکھیرتا ہے۔ سورج اس کے چہرے سے ضیاء لیتا ہے۔ اس کے رخساروں کی دمک سے چاند چاندنی حاصل کرتا ہے۔ اس کی آنکھوں کی چمک سے ستارے جگمگانا سیکھتے ہیں۔ اس کے دانتوں کی تنویر سے جواہرات چمکنے کا ہنر جانتے ہیں۔ اس کے لبوں کی نزاکت سے غنچے چٹکنا سیکھتے ہیں۔ اس کے ماتھے کے نور سے انسانیت کو راستے ملتے ہیں۔

اس کے قد زیبا سے سرو اپنے قد کی رعنائی حاصل کرتا ہے۔ اس کے سانسوں کی مہک سے مشک و عنبر خوشبو پاتے ہیں۔ اس کی زلفوں کی لہک سے کائنات بننا سنورنا سیکھتی ہے۔ اس کی آنکھوں کی حیا سے کلیاں شرمانا سیکھتی ہیں۔ اس کی مسکراہٹ سے قوس قزح رنگ بکھیرنا جانتی ہے۔ اس کی چال سے مست خرام ندیاں چلنے سے آشنا ہوتی ہیں۔ اس کی گفتگو سے بلبل نغمے سیکھتی ہے۔ اس کی آنکھوں کی سیاہی سے کالی گھٹاؤں کو حسن ملتا ہے۔ اس کی آنکھوں کی سفیدی سے دن کو اجالا ملتا ہے۔ اس کی پلکوں کی دلاویز حرکت سے نجوم جھلملانا سیکھتے ہیں۔ اس کے ابرو خمدار کو دیکھ کر ہلال اپنی صورت تراشتا ہے۔ اس کے جلال سے بجلیاں کڑکنا اور اس کے جمال سے باد نسیم چلنا جانتی ہے۔ اس کی گفتگو کے لفظوں سے ہدایت کے چراغ جلتے ہیں اور اس کے قدموں کے نشان سے انسانیت کو منزل کا سراغ ملتا ہے۔

صفحہ 107

نبوت کی اس ایک جھلک پڑھنے کے بعد ایک مرتبہ مرزا قادیانی کی تصویر دیکھنے کی دوبارہ ہمت کریں۔ ہمیں معلوم ہے کہ شکل دیکھنے کے بعد آپ کے جو جذبات ہوں گے۔ لہٰذا آئیے شاعر ختم نبوت سید امین گیلانی کی مرزا قادیانی پر لکھی گئی وہ نظم پڑھتے ہیں جس میں انہوں نے مرزا قادیانی کو خوب خوب ”خراج تحسین“ پیش کیا ہے۔

واہ رے چنڈال، ترے کیا کہنے ہیں
تو ہے بڑا دجال، ترے کیا کہنے ہیں
ختم نبوت پر تو نے ڈاکہ ڈالا
کھا کے پرایا مال ترے کیا کہنے ہیں
کوئی فرشتہ تیرا ٹچی ٹچی ہے
کوئی ہے مٹھن لال، ترے کیا کہنے ہیں
الٹے بوٹ پہن کر تو چلتا ہوگا
کیسی بانکی چال، ترے کیا کہنے ہیں
کاج اوپر کے بٹن پھنسائے ہیں نچلے
واہ بھئی مست جمال ترے کیا کہنے ہیں
حلیہ دیکھو، آنکھیں ٹیڑھی، سر فٹ بال
پچکے پچکے گال، ترے کیا کہنے ہیں
جب کوئی تصویر دکھاتا ہے تیری
ڈر جاتے ہیں بال ترے کیا کہنے ہیں
پیدا ہو نہیں سکتا رہتی دنیا تک
اب کوئی تجھ سا لال، ترے کیا کہنے ہیں
بیوی کہتی ہوگی جب تو پی آئے
جانی سرت سنبھال، ترے کیا کہنے ہیں
نظم انوکھے ڈھب کی لکھ کر گیلانی
تونے کیا کمال، ترے کیا کہنے ہیں
PDF 108

قادیانیت

اسلام کا

بدترین دشمن

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

مرکزی دفتر: حضوری باغ روڈ ملتان

صفحہ 109

فتنہ قادیانیت عہد رواں میں اسلام کے خلاف سب سے بڑا فتنہ ہے۔ اس فتنہ نے جسد اسلام پر اپنے نوکیلے پنجوں سے اتنے زخم لگائے ہیں کہ جسم اسلام زخمی زخمی اور لہو لہو ہے۔ آج بھی اس فتنہ نے اسلام کے سینہ کو اپنا تختہ مشق بنا رکھا ہے اور ارتدادی تیروں کی بارش جاری ہے۔

گزشتہ ایک صدی سے امت مسلمہ نے اپنے آقا و مولا جناب رسول عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کے خلاف اٹھنے والے اس فتنہ سے بڑی جاندار لڑائی لڑی ہے۔ اس سلسلہ میں کبھی بھی کسی بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ امت کے بہترین علماء نے اپنا علم اس فتنہ کے خلاف وقف کر دیا اور دلائل و براہین سے اس سازش کے پرخچے اڑا دیئے۔ خطیبوں نے اپنی خطابتوں سے اس فتنے کو طشت از بام کیا اور اپنی شعلہ نوائیوں سے مرزائیت کے خرمن میں آگ لگا دی۔ ادیبوں نے نوک قلم سے قادیانیت کے چہرے پر چڑھے ہوئے منافقت و عیاری کے دبیز پردے تار تار کر دیئے۔ شاعروں نے اپنے رزمیہ کلام سے ملت کے خون میں بجلیاں دوڑا دیں اور ملت کو قادیانیت کے خلاف صف آراء کیا۔ لاکھوں عاشقان ختم نبوت نے جیلوں کی اذیتیں برداشت کیں۔ گبھرو جوانوں نے اپنے سینے گولیاں اگلتی مشین گنوں کے سامنے رکھ دیئے اور سڑکوں پر اپنی جوانی کے گرم خون کا چھڑکاؤ کر دیا۔ بوڑھوں نے اپنی خمیدہ کمروں پر ظالم پولیس کی لاٹھیوں کی برسات سہی۔ ماؤں نے اپنے لاڈلے بیٹوں کو اپنے ہاتھوں سے پھول پہنا کر انہیں سوئے مقتل روانہ کیا--- بچوں نے گلیوں بازاروں میں ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے---- لیکن افسوس صد افسوس کہ اتنی جدوجہد اور اتنی قربانیوں کے باوجود قادیانیت اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچی۔ قادیانی سانپ زخمی تو ضرور ہوا ہے، لیکن موت کے گھاٹ نہیں اترا---- ۱۹۷۴ء کے قومی اسمبلی کے فیصلہ اور ۱۹۸۴ء کے امتناع قادیانیت آرڈی نینس نے قادیانیت کے نجس وجود کے دست و بازو تو کاٹے ہیں لیکن ہنوز شہ رگ محفوظ ہے۔

دوستو آؤ---- فکر کے اعتکاف میں بیٹھتے ہیں اور بھرپور غور کرتے ہیں کہ ایک صدی کی گھمسان کی لڑائی لڑنے کے باوجود بھی قادیانیت موت کے غار میں کیوں

صفحہ 110

نہیں اتری؟ اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اس کے اسباب کیا ہیں؟ اس کے محرکات کیا ہیں؟ اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے ۔۔۔۔۔ اس کا صرف ایک ہی سبب ہے۔ اور وہ ہے قادیانی نواز ٹولہ ۔۔۔۔۔ جس نے اسلام کو قادیانیوں سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے ۔۔۔۔۔ ملت کے وجود پر ان کے لگائے ہوئے چرکوں کی تعداد قادیانیت کے چرکوں سے زیادہ ہے۔

کفر کے بادشاہوں نے جب عربوں کے سینے پر اسرائیل کا انگارہ رکھا ۔۔۔ تو پھر اس اسرائیل کی حفاظت بھی خوب کی ۔۔۔ اسے زندگی کے تمام وسائل مہیا کیے ۔۔۔ اسے جدید اسلحہ سے لیس کیا ۔۔۔۔۔ آج وہ اسرائیل عربوں کے سینے پہ مونگ دل رہا ہے، مسلمانوں کا گوشت کھا رہا ہے، خون پی رہا ہے ۔۔۔۔۔ اور فضا میں خونی قہقہے لگا لگا کر بدمست ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔ یہ ساری انسانیت سوز کارروائیاں کفر کے بادشاہ اپنی زیر سرپرستی کروا رہے ہیں۔

اسی طرح جب کفر کے بادشاہوں نے ملت اسلامیہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لیے، جذبہ جہاد سے تہی دامن کرنے کے لیے اور ان کے بدن سے روح محمدؐ نکالنے کے لیے قادیانیت کا خنجر گھونپا تو پھر قادیانیت کی خوب پرورش کی۔ نوازشات کی موسلا دھار بارش برسائی ۔۔۔ دولت کے انبار لگا دیئے ۔۔۔۔۔ اپنی سنگینوں کے سائے تلے اسے پروان چڑھایا ۔۔۔۔۔ اپنی سرپرستی کی چھتری اس کے سر پہ رکھی۔ اس کی حفاظت کے لیے تمام وسائل میدان میں جھونک دیے۔

آج بھی جب کبھی پاکستان میں قادیانیت کا مسئلہ اٹھتا ہے اور مسلمان قادیانیت کی گرفت کرتے ہیں تو قادیانیوں کی حمایت میں بہت سی زبانیں حرکت میں آ جاتی ہیں۔ بہت سے قلم متحرک ہو جاتے ہیں۔ کوئی انسانی حقوق کا رونا روتا ہے، کوئی اقلیتوں کا راگ الاپتا ہے، کوئی پاکستانیت کے نام پہ دھائی دیتا ہے۔ کوئی برادری کی وجہ سے قادیانیوں کی حمایت کرتا ہے ۔۔۔۔۔ کوئی دوستی کے ناطے قادیانیوں سے

صفحہ 111

ہمدردی کرتا ہے--- کوئی محلے داری کی وجہ سے قادیانیوں کی طرف داری کرتا ہے--- کوئی مالی مراعات کی وجہ سے قادیانیوں کی فیور میں کام کرتا ہے اور کوئی وکیل چند ٹکوں کے عوض عدالت میں قادیانیوں کی وکالت کرتا ہے۔

ہے۔

میں چلتا پھرتا ہے۔

کام کرتا ہے۔

قادیانیت کے نجس وجود میں زندگی کی رمق باقی ہے۔

ہے۔

اسلام پر حملہ آور ہیں۔

ہیں۔

مسلمانوں پر حملہ کرتے ہیں۔

مسلمانوں پر سنگ باری کرتے ہیں۔

لڑتے ہیں۔

صفحہ 112

مسلمانوں کے سروں پر منڈلاتی رہتی ہیں۔

جنگل میں ادھر ادھر شرارتوں میں مصروف ہوتے ہیں اور جونہی کوئی خطرہ محسوس کرتے ہیں، فوراً بھاگ کر ماں کے پاس آ جاتے ہیں اور ماں کے وجود سے لگے ہوئے تھیلے میں چھپ جاتے ہیں اور پھر خطرہ دور ہو جانے پر باہر نکل کر اپنی شرارتوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

بعد پناہ حاصل کر لیتے ہیں اور اگر کبھی کبھار پولیس کسی مجرم کو پکڑ لے تو وہ ڈیرہ دار فوراً جاکر مجرم کو اپنے اثر و رسوخ سے پولیس سے چھڑوا لاتا ہے۔

کر قادیانی مجرم کی حمایت میں منہ بنا بنا کر دلائل دیتا ہے۔ کسی بزرگ نے کیا خوب کہا ہے کہ قیامت کے دن قادیانی کی حمایت کرنے والا وکیل مرزا قادیانی کے کیمپ میں ہوگا اور مسلمانوں کی حمایت کرنے والا وکیل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کیمپ میں ہوگا۔ سوال اٹھتا ہے کہ قادیانی نواز کون ہیں؟

جواباً عرض ہے:

قادیانی نواز ہے۔

صفحہ 113

نواز ہے۔

آئیے اس آئینہ میں دیکھیں!!!
کہیں میں قادیانی نواز تو نہیں؟
کہیں آپ قادیانی نواز تو نہیں؟
کہیں ہمارے والد صاحب قادیانی نواز تو نہیں؟
کہیں ہماری والدہ صاحبہ قادیانی نواز تو نہیں؟
کہیں ہمارے بھائی اور بہنیں قادیانی نواز تو نہیں؟
کہیں ہمارا کوئی عزیز یا دوست قادیانی نواز تو نہیں؟

خدارا! خود بھی اس ملعون کام سے رکیے اور دوسروں کو بھی اس دینی بے غیرتی سے روکیے ---- قادیانی سے دوستی اللہ کے عذاب کو للکارنا ہے ---- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بے وفائی کرنا ہے اور آپؐ کی نظر رحمت سے محروم ہونا ہے۔

صاحبو! آج اگر برادری کا جرگہ بلایا جائے اور برادری کے بڑے یہ فیصلہ کریں کہ آج سے برادری کا کوئی فرد قادیانی سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھے گا اور ساری برادری قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کرے گی۔

آج اگر محلے کے لوگ یہ فیصلہ کریں کہ ہم قادیانی دکاندار سے سودا سلف نہیں لیں گے۔

ایسوسی ایشن کا ممبر نہیں بنائیں گے اور زندگی کی ہر سطح پر ان کا بائیکاٹ کریں گے۔

صفحہ 114

میں ملازم ہر قادیانی کا مکمل بائیکاٹ کریں گے۔

طلباء کا ہر طرح سے مقاطعہ کریں گے۔

ہزاروں قادیانیوں کو اپنے جرم کا احساس ہو گا اور یہ احساس انہیں حقیقت پر سوچنے پر مجبور کرے گا اور انشاء اللہ ہزاروں قادیانی قادیانیت پر لعنت بھیج کر اسلام کے دامن میں آ بسیں گے اور جو بد بخت رہ جائیں گے، وہ پاکستان چھوڑ کر کسی اور ملک میں بسنے کے لیے بوریا بستر باندھیں گے۔

دوستو! مندرجہ بالا صورت حال سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ قادیانیت ہماری بے غیرتی اور بے حسی کی وجہ سے زندہ ہے اور ہم خود ہی قادیانیت کو زندگی کا سامان مہیا کر رہے ہیں۔

اے فرزندان اسلام! ایک شخص دیوار میں کیل ٹھونک رہا تھا۔ ہتھوڑے سے کیل پر زور دار ضربیں لگا رہا تھا۔ دیوار نے کیل سے کہا: ”اے کیل! تو کیوں میرے سینے کو پھاڑ رہا ہے؟“ ”اے دیوار! مجھ سے کیوں شکوہ کر رہی ہے---- شکوہ ہتھوڑے سے کر جو مجھ پر پے در پے ضربیں لگا کر تیرا سینہ پھاڑ رہا ہے“ کیل نے جواب دیا۔

آج ہمارے معاشرے میں قادیانی نواز کا کردار ”ہتھوڑے“ کا ہے جو قصر اسلام میں چھید کرنے کے لیے قادیانی کیل سے پورا تعاون کر رہا ہے۔ اگر یہ ”ہتھوڑا“ کیل کا ساتھ چھوڑ دے تو یہ کیل کچھ بھی نہیں کر سکتا۔

اے قادیانی نواز! بہت ظلم کر چکا--- اب بس کر دے---- اللہ کا خوف کر--- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حیا کر---- کتاب اللہ سے شرم کر---- اہل بیت اور صحابہ کرام کا پاس کر----- ملت اسلامیہ پر رحم کر----- آخرت کی آہنی پکڑ کی فکر کر---- عذاب قبر کا احساس کر---- اور نہ اپنے ایمان کا ستیاناس کر-----!!

اے قادیانی نواز! دیکھ یہ ہیں قادیانی عقائد، جن کی تو حمایت کرتا ہے

صفحہ 115

رکھا ہے اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہی وجود قرار دیا ہے“۔ (نعوذ باللہ) (”ایک غلطی کا ازالہ“ ص ۱۰، مصنفہ مرزا قادیانی)

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(نعوذ باللہ)

(مندرجہ ”اخبار بدر“ قادیان، ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء)

اللہ علیہ وآلہ وسلم میں باعتبار نام، کام اور مقام کے کوئی دوئی یا مغائرت نہیں“۔ (نعوذ باللہ)

(اخبار ”الفضل“ قادیان، ج ۳، نمبر ۷۶، مورخہ یکم جنوری، ۱۹۱۶ء)

مرزا قادیانی کہتا ہے:

کچھ باتیں بیان کر دوں تو جتنے معتقد نظر آتے ہیں سب پھر جائیں“۔ (نعوذ باللہ)

(”سیرت المہدی“ جلد اول، ص ۸۸، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی، ابن مرزا قادیانی)

پوری کی ہے“۔ (نعوذ باللہ) (”حاشیہ تحفہ گولڑویہ“ ص ۱۶۵، مصنفہ مرزا قادیانی)

باللہ) (”تذکرہ“ ص ۱۰۲-۱۰۳)

(”اعجاز احمدی“ ص ۳۰، مصنفہ مرزا قادیانی)

داخل ہو گیا“۔ (نعوذ باللہ) (”خطبہ الہامیہ“ ص ۱۷۱، مصنفہ مرزا قادیانی)

صفحہ 116

پا سکتا ہے‘ حتیٰ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے“۔ (نعوذ باللہ)

(بیان مرزا بشیر الدین محمود قادیانی ابن مرزا قادیانی‘ ”اخبار الفضل“ قادیان‘ ۱۷ جولائی

۱۹۲۲ء)

ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں“۔ (نعوذ باللہ)

(”رسالہ درود شریف“ بحوالہ از ”اربعین“ نمبر ۲‘ ص ۱۵ تا ۱۸ نمبر ۳‘ ص ۲۴ تا ۲۶‘

مصنفہ مرزا قادیانی)

(”ضمیمہ نصرت الحق“ ص ۳۰)

لائق بھی نہ تھے“۔ (نعوذ باللہ) (”ماہنامہ ”المہدی“ بابت جنوری فروری‘ ۱۹۱۵ء‘ ۲ /

۳‘ ص ۵۷)

ہیں“۔ (نعوذ باللہ) (”نزول المسیح“ ص ۹۷‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

اے قادیانی نواز! تیری قادیانیت نوازی کا مطلب قادیانیوں کے ان غلیظ اور روح فرسا عقائد کی حفاظت کرنا ہے۔ تیری قادیانیت نوازی سے مراد قادیانیوں کے ان ایمان سوز عقائد کی حمایت کرنا ہے۔---- بتا کچھ آنکھیں کھلیں کہ نہیں---- بتا ذہن کی گرہیں کھلیں یا نہیں----- بتا! ضمیر نے کوئی انگڑائی لی یا نہیں----- جلدی بتا!---- ورنہ وہ وقت آنے میں کوئی دیر نہیں---- جب تو زمین کے جبڑوں میں جکڑا جائے گا---- جب منکر نکیر آ کر مار مار کر تیرے وجود کو دھنی ہوئی روئی کا ڈھیر بنا دیں گے---- جب سانپوں اور بچھوؤں کے اژدھام تجھ پر ٹوٹ پڑیں گے---- جب جہنم کی چنگاڑتی بھوکی آگ تجھے جلا کر خاک سیاہ بنا دے گی--- اور جہنم میں جلتا ہوا مرزا قادیانی تیرا تماشا دیکھے گا۔

PDF 117

مرزا قادیانی

کی

خوراک

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ فون 2329

صفحہ 118

وہ بھوکا تھا۔۔۔۔ بہت بھوکا

وہ حریص تھا۔۔۔۔ بہت ہی حریص

اس کا پیٹ خواہشات کا پہاڑ تھا۔۔۔۔ بہت بڑا پہاڑ۔۔۔۔ شاید ہمالیہ سے بھی بڑا۔

اس کا پیٹ اس سے بہترین کھانے مانگتا۔۔۔۔ بہترین پھل مانگتا۔۔۔۔ بہترین مشروبات طلب کرتا۔۔۔۔ بہترین مٹھائیوں کا تقاضا کرتا۔۔۔۔

پیٹ کے حرص نے اس کا جینا دو بھر کر رکھا تھا۔۔۔۔ پیٹ کی خواہشات اس کے گلے کا پھندا بن گئی تھیں۔۔۔۔!!!

لیکن وہ غریب تھا۔۔۔۔ اس کے گھر میں غربت کے اژدھا کی حکمرانی تھی۔۔۔۔ خواہشات کا ہجوم غربت کی پتھریلی چٹان سے سر ٹکرا کر واپس ہو جاتا۔۔۔۔ وہ لڑکپن کی دہلیز عبور کر کے جوانی کے آنگن میں داخل ہو چکا تھا۔۔۔۔ لیکن وہ کسی روزگار پر نہیں تھا۔۔۔۔ کیونکہ چار پانچ جماعتیں پڑھنے کے بعد وہ سکول سے بھاگ گیا تھا۔۔۔۔ ہنر وہ کوئی جانتا نہیں تھا۔۔۔۔ فارغ ہونے کی وجہ سے وہ سارا دن گاؤں میں آوارہ گردی کرتا۔۔۔۔

گھر آتا تو باپ کی سرخ سرخ آنکھیں اپنے دامن میں جھڑکیاں لیے اس کی منتظر ہوتیں جو اس کے دل سے آر پار ہو جاتیں۔۔۔۔ بڑی بھابی اس پر طعن و تشنیع کے تیروں کی مشق کرتی۔۔۔۔ اہل محلہ اسے مذمت بھری نگاہوں سے دیکھتے۔۔۔۔ لیکن اس پر ان چیزوں کا کوئی اثر نہ ہوتا۔۔۔۔

وہ صبح و شام خیالوں کی دنیا میں محو پرواز رہتا۔۔۔۔ وہ اپنے خیالوں کی دنیا میں دیکھتا کہ وہ اپنے کمرے میں بیٹھا ہے۔۔۔۔ اچانک اس کے سامنے دسترخوان بچھ جاتا ہے۔۔۔۔ طرح طرح کے کھانے اپنی بہار دکھا رہے ہیں۔۔۔۔ جس سے اس کے دل کی وادی میں بھی بہار آگئی ہے۔۔۔۔ وہ کھانوں پہ ٹوٹ پڑتا ہے اور دسترخوان کا صفایا کر

صفحہ 119

دیتا ہے۔۔۔۔ رات کو وہ پھر خیالی محفل سجاتا ہے۔۔۔۔ طلسمی دسترخوان بچھتا ہے اور ساتھ ہی اس کا پیٹ دسترخوان پر بچھ بچھ جاتا ہے۔۔۔۔ اور پھر پورے دسترخوان کے خوان اس کے پیٹ میں یوں آگرتے ہیں جیسے سمندر میں دریا۔۔۔۔!!!

اک دن وہ انہی خیالات کا مینا بازار سجائے بیٹھا تھا۔۔۔۔ اچانک اس کے دل نے ایک کروٹ لی۔۔۔ اس نے سوچا کہ میرے یہ سارے خیالات ریت کے گھروندے ہیں جنہیں میں بنا بنا کر توڑتا رہتا ہوں۔۔۔۔ اب مجھے ان خواہشات کو عملی جامہ پہنانا چاہیے۔۔۔۔ اس نے ذہن میں منصوبہ بندی مکمل کر لی۔۔۔۔ پھر وہ ایک دن اپنے باپ کی ۷۰۰ روپے کی خطیر رقم لے کر گھر سے بھاگ گیا۔۔۔۔ ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں کی سیر کی۔۔۔۔ اعلیٰ سے اعلیٰ کھانے کھائے اور پرانے ارمانوں کو جی بھر کر پورا کیا۔۔۔۔ اپنے اعزاز میں آپ ضیافتیں دیں۔۔۔۔ آپ ہی مہمان خصوصی بنا اور خصوصی طاقت کے ساتھ ساری ضیافتیں اکیلا ہی کھاتا رہا۔

چند دن مزے اڑانے کے بعد جب پیسے ختم ہو گئے تو مجبوراً گھر کی راہ لی۔۔۔۔ باپ نے بہت سرزنش کی لیکن وہ تو پیسے ہضم کر چکا تھا۔۔۔۔ ہوٹلوں کے دل بہار کھانے، کھانے کے بعد گھر کی روکھی پھیکی اسے ایک آنکھ نہ بھاتی۔۔۔۔ پیٹ پھر انہیں کھانوں کا تقاضا کرتا۔۔۔۔ پیٹ کی آواز پر لبیک کہتا ہوا وہ ایک دن پھر گھر سے بھاگ گیا اور سیالکوٹ ایک دوست کے پاس جا پہنچا۔۔۔۔ اور پھر دوست کے توسط سے سیالکوٹ کی کچہری میں بطور مُنشی ملازم ہو گیا۔۔۔۔ لیکن تنخواہ قلیل تھی اور پیٹ کے تقاضے طویل تھے۔۔۔۔ پیٹ کی بڑھتی ہوئی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے اس نے رشوتیں لینا شروع کر دیں۔۔۔۔ لیکن پھر بھی پیٹ کا جہنم نہ بھرا۔۔۔۔ وہ تنخواہ اور رشوت کے پیسوں کے باوجود پیٹ کے ہاتھوں پریشان رہتا۔۔۔۔

عدالت میں اس کے پاس کچھ پادری آتے تھے۔۔۔۔ چند ملاقاتوں کے بعد جب پادریوں سے اس کی اچھی شناسائی ہو گئی۔۔۔ تو ایک دن پادریوں نے ایک جگہ اس کی پر تکلف دعوت کی۔۔۔۔ کھانا کھانے کے بعد پادریوں نے اس سے کہا کہ ہمیں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے ایک لمبے عرصہ سے ایک جھوٹے نبی کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں ہماری نگاہِ انتخاب نے آپ کا انتخاب کیا ہے۔ ہم نے کچھ اور لوگوں کو

صفحہ 120

بڑے بڑے مالی فائدے دیتے ہوئے اس کام کی بابت کہا لیکن وہ بیچارے تو دعویٰ نبوت کا سوچ کر ہی تھر تھر کانپنے لگتے ہیں۔ آپ اس سلسلہ میں بہادر اور دلیر آدمی ہیں۔ ہم درست جگہ پر پہنچے ہیں اور ہمارا انتخاب درست ہے۔۔۔۔

"لیکن میں تو زیادہ پڑھا لکھا آدمی نہیں ہوں"۔ اس نے کہا۔

"پڑھنے لکھنے والا کام کرنے کے لیے ہم آپ کو اپنے آدمیوں کی ایک پوری ٹیم دیں گے۔ اس کے علاوہ آپ کی ہر خواہش پوری ہو گی۔ آپ کے گھر کو سیم و زر سے بھر دیا جائے گا۔ آپ کو نوکری سے فارغ کر کے گھر بھیج دیا جائے گا اور آپ وہاں جا کر دعویٰ نبوت کر دیں گے۔۔۔۔ باقی ہم جانیں اور ہمارا کام"۔ انہوں نے جواب دیا۔

"مجھے کچھ سوچنے کی مہلت دیں"۔ اس نے کہا

"ٹھیک ہے۔ آپ کل تک سوچ لیں اور کل ہمیں اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیں کیونکہ ہمیں اوپر حکومت برطانیہ کو رپورٹ کرنی ہے"۔ انہوں نے کہا۔

اگلے دن وہ سوچنے بیٹھا۔۔۔۔ تو دل نے تھوڑی سی مزاحمت کی۔۔۔۔ اور اس سے کہا کہ کیوں پیٹ کی خاطر ایمان بیچ رہا ہے۔۔۔۔ لیکن پیٹ نے اپنے بھاری بھرکم وجود کے ساتھ ننھے منے دل کو دبوچ لیا اور اس کا گلا گھونٹ کر اسے ہمیشہ کی نیند سلا دیا اور اس کے ساتھ ہی اس نے دعویٰ نبوت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔۔!!!

وہ نوکری چھوڑ کر گھر آ گیا۔۔۔۔ دعویٰ نبوت کے ساتھ ہی اس کے گھر میں دولت کی ریل پیل ہو گئی۔۔۔۔ بے عقل مریدوں کے جمگھٹے لگ گئے۔۔۔۔ نذرانوں اور تحائف کا سلسلہ شروع ہو گیا۔۔۔۔ اور اس کے پیٹ کی خواہشات پوری ہونے لگیں۔۔۔۔ وہ اپنے مریدوں کے گھروں میں پھرتا۔۔۔۔ دعوتیں اڑاتا، ضیافتیں کرواتا، دسترخوان اجاڑتا، ایک شہر سے دوسرے شہر حملہ آور ہوتا۔۔۔۔ اس کے پیٹ کے جہنم کا ایندھن کیا تھا۔۔۔۔ اس کی تفصیل پیش خدمت ہے۔۔۔۔ آپ بھی پڑھئے اور سوچئے کہ وہ کیسا ذلیل اور رذیل شخص تھا جس نے فقط پیٹ کی خاطر اپنا ایمان بیچ دیا۔

شاید آپ اس کا نام سننے کے لیے بیتاب ہوں تو سنئے اس کا نام تھا "مرزا غلام احمد قادیانی"

صفحہ 121

پرندے کا گوشت : "حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کھانوں میں سے پرندہ کا گوشت زیادہ پسند فرماتے تھے"۔ (سیرت المہدی‘ جلد اول‘ ص ۵۰‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

انہی چسکوں کو پورا کرنے کے لیے تو نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ (ناقل)

شکار اور گوشت : "حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا قادیانی) کو پرندوں کا گوشت پسند تھا اور بعض دفعہ بیماری وغیرہ کے دنوں میں بھائی عبدالرحیم صاحب کو حکم ہوتا تھا کہ کوئی پرندہ شکار کر کے لائیں"۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ۹۶‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

مرید پرندوں کے شکاری ۔۔۔ پیر ایمان کا شکاری (ناقل)

بٹیرے : "شروع شروع میں بٹیرے بھی کھاتے تھے لیکن جب طاعون کا سلسلہ شروع ہوا تو آپ نے اس کا گوشت کھانا چھوڑ دیا کیونکہ آپ فرماتے تھے کہ اس میں طاعونی مادہ ہوتا ہے"۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ۵۰ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

کیا طاعونی سلسلہ سے پہلے بٹیر میں طاعونی مادہ نہیں تھا؟ (ناقل)

ناشتہ : "ناشتہ باقاعدہ نہیں کرتے تھے۔ ہاں عموماً صبح کو دودھ پی لیتے تھے۔ خاکسار نے پوچھا کہ کیا آپ کو دودھ ہضم ہو جاتا تھا؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ہضم تو نہیں ہوتا تھا مگر پی لیتے تھے۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ۵۰‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

یعنی کافی ڈھیٹ تھا (ناقل)

دودھ : "دودھ کا استعمال آپ اکثر رکھتے تھے اور سوتے وقت تو ایک گلاس ضرور پیتے تھے اور دن کو بھی پچھلے دنوں میں زیادہ استعمال فرماتے تھے کیونکہ یہ معمول ہو گیا تھا کہ ادھر دودھ پیا اور ادھر دست آگیا‘ اس لیے بہت ضعف ہو جاتا تھا۔ اس کے دور کرنے کو دن میں تین چار مرتبہ تھوڑا تھوڑا دودھ طاقت قائم

صفحہ 122

کرنے کو پی لیا کرتے تھے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۳۴‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

دودھ پینے سے تو دست لگ جاتے ہیں۔ یہ دست آنے کے بعد پھر دودھ پی لیتا تھا! اور کہتا تھا کہ میں خاندانی حکیم ہوں (ناقل)

پکوڑے : ”والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ پکوڑے بھی حضرت صاحب کو پسند تھے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ۵۰‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

اب تو جہنم کی آگ میں خود بھی پکوڑا بن گیا ہو گا (ناقل)

کرارے پکوڑے : ”میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب اچھے تلے ہوئے کرارے پکوڑے پسند کرتے تھے۔ کبھی کبھی مجھ سے منگوا کر مسجد میں ٹہلتے ٹہلتے کھایا کرتے تھے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ۱۸۱‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

بدتمیز کہیں کا (ناقل)

سکنجین : ”ایک زمانے میں سکنجین کا شربت بہت استعمال فرمایا تھا مگر پھر چھوڑ دی“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ۵۰‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

اسی لیے اکثر سینہ درد، کھانسی اور نمونیہ کی شکایت رہتی تھی لیکن جو چیز زیادہ تکلیف دیتی تھی وہ زیادہ پیتا تھا۔ کھوپڑی جو الٹی تھی۔ (ناقل)

مکئی : ”کبھی کبھی مکئی کی روٹی بھی پسند کرتے تھے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ۵۱‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

اس دن روٹی زہر کھاتا ہو گا (ناقل)

چائے : ”ایک زمانہ میں آپ نے چائے کا بہت استعمال فرمایا تھا مگر پھر چھوڑ دی“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ۵۱‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

صفحہ 123

پھر شراب جو شروع کر دی تھی (ناقل)

طریقہ طعام : "کھانا کھاتے ہوئے روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرتے جاتے تھے۔ کچھ کھاتے تھے کچھ چھوڑ دیتے تھے۔ کھانے کے بعد آپ کے سامنے سے بہت سے ریزے اٹھتے تھے"۔ (سیرت المہدی، حصہ اول، ص ۵۱، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

کیا کوئی قادیانی یہ برداشت کرے گا کہ اس کا بیٹا اس طرح رزق کا ستیاناس کرے اور مہنگائی کے دور میں اتنا آٹا برباد کرے؟ (ناقل)

وقت طعام : "کھانے کا وقت بھی کوئی خاص مقرر نہیں تھا۔ صبح کا کھانا بعض اوقات بارہ بارہ ایک ایک بجے بھی کھاتے تھے"۔ (سیرت المہدی، حصہ اول، ص ۵۱، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

صبح دو تین سیر دودھ پی لیتے ہوں گے۔۔۔ شکم پرور اتنی دیر تو بھوکا نہیں رہ سکتا۔ (ناقل)

پانی : "گرمی کے موسم میں کنویں سے پانی نکلوا کر ڈول سے ہی منہ لگا کر پانی پیتے تھے"۔ (سیرت المہدی، حصہ اول، ص ۱۸۱، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

یعنی سارے کنویں کا پانی جھوٹا کرتا تھا۔۔ مرتد کہیں کا! (ناقل)

کون سا کھانا : "اسی طرح کھانا کھانے کا یہ حال تھا کہ خود فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں تو اس وقت پتا لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں کہ جب کھاتے کھاتے کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت کے نیچے آ جاتا ہے"۔ (سیرت المہدی، حصہ دوم، ص ۵۸، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

محمدی بیگم کے عشق نے جو مت مار دی تھی۔ (ناقل)

سالم مرغ : "سالم مرغ کا کباب بھی پسند تھا۔ چنانچہ ہوشیار پور جاتے ہوئے ہم مرغ پکوا کر ساتھ لے گئے تھے"۔ (سیرت المہدی، حصہ اول، ص ۱۸۱، مصنفہ مرزا

صفحہ 124

بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

تم مرغ نہ پکواتے تو مرزا قادیانی نے سفر ہی نہیں کرنا تھا۔ (ناقل)

مونگرے گوشت: "مولی کی چٹنی اور گوشت میں مونگرے بھی آپ کو پسند تھے"۔ (سیرت المہدی، حصہ اول، ص ۱۸۱، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

معلوم ہوتا ہے کہ امور خانہ داری کی کوئی کتاب پڑھ کر کھانے پکواتا تھا۔

(ناقل)

بھنی ہوئی بوٹیاں: "گوشت کی خوب بھنی ہوئی بوٹیاں بھی مرغوب تھیں"۔ (سیرت المہدی، حصہ اول، ص ۱۸۱، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

اور اب قبر کے کیڑوں کو اس کی بوٹیاں بہت مرغوب ہیں۔ (ناقل)

میٹھے چاول: "میٹھے چاول، گڑ یا قند سیاہ میں پکے ہوئے پسند فرماتے تھے"۔ (سیرت المہدی، حصہ اول، ص ۱۸۲، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

ویسے خود تو بڑا کڑوا تھا۔ (ناقل)

پسند تھے"۔ (سیرت المہدی، حصہ دوم، ص ۱۴۲، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

ذیابیطس کا پرانا مریض اور گڑ کے چاول! بڑا بد پرہیز تھا تو! (ناقل)

ساگ: "پچھلے دنوں میں جب آپ گھر میں کھانا کھاتے تھے تو آپ اکثر صبح کے وقت مکی کی روٹی اکثر کھایا کرتے تھے اور اس کے ساتھ کوئی ساگ یا صرف لسی کا گلاس یا کچھ مکھن ہوا کرتا تھا"۔ (سیرت المہدی، حصہ دوم، ص ۱۳۱، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

دیکھا اپنے گھر میں کتنا سادہ کھانا کھاتا تھا۔ عیاشی تو مریدوں کے گھر ہوتی تھی۔

(ناقل)

صفحہ 125

کھانے پینے میں رکاوٹ : ”کبھی کبھی آپ پانی کا گلاس یا چائے کی پیالی بائیں ہاتھ سے پکڑ کر پیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ابتدائی عمر میں دائیں ہاتھ میں ایسی چوٹ لگی تھی کہ اب تک بوجھل چیز اس ہاتھ سے برداشت نہیں ہوتی“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۳۱‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی) نصرت جہاں بیگم سے شادی کرتے وقت سسرال کو بھی اپنا یہ نقص بتایا تھا؟ وہاں تو خضاب لگا کر گئے تھے۔ (ناقل)

کیا کھایا : ”بارہا آپ نے فرمایا کہ ہمیں تو کھانا کھا کر یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ کیا پکا تھا اور ہم نے کیا کھایا“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۳۱‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی) کیونکہ اس کے بعد اگلے کھانے کی فکر ہوتی تھی۔ (ناقل)

ڈبل روٹی‘ بسکٹ : ”ڈبل روٹی چائے کے ساتھ یا بسکٹ اور بکرم بھی استعمال فرما لیا کرتے تھے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۳۲‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی) دستوں کے دوران یہ نسخہ استعمال کرتا ہو گا تو ان چیزوں سے مرزا قادیانی کا کیا بنتا ہو گا۔ (ناقل)

ولایتی بسکٹ : ”ولایتی بسکٹوں کو بھی جائز فرماتے تھے۔ اس لیے کہ ہمیں کیا معلوم کہ اس میں چربی ہے کیونکہ بنانے والے کا ارادہ تو ممکن ہے پھر ہم ناحق بدگمانی اور شکوک میں کیوں پڑیں“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۳۲‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی) جب ولایتی نبوت کو جائز کہہ دیا تو ولایتی بسکٹ کیا چیز ہیں؟ (ناقل)

شیر مال : ”علاوہ ان روٹیوں کے آپ شیر مال کو بھی پسند فرماتے تھے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۳۲‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی) مال سے تو عشق تھا اور اگر مال کے ساتھ شیر بھی لگا ہو تو کیا کہنے ! (ناقل)

صفحہ 126

باقر خانی کلچے : "اور باقر خانی کلچہ وغیرہ غرض جو جو اقسام روٹی کے سامنے آجایا کرتے تھے آپ کسی کو رد نہ فرماتے تھے"۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص۱۳۲‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی) یعنی سب کچھ رگڑ جاتے تھے۔ (ناقل)

مکی کی روٹی : "مکی کی روٹی بہت مدت آپ نے آخری عمر میں استعمال فرمائی کیونکہ آخری سات آٹھ سال سے آپ کو دستوں کی بیماری ہو گئی تھی اور ہضم کی طاقت کم ہو گئی تھی"۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص۱۳۲‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی) ہضم کی طاقت تو کم ہو گئی تھی لیکن کھانے کی طاقت بڑھتی ہی گئی۔ (ناقل)

گوشت : "گوشت آپ کے ہاں دو وقت پکتا تھا مگر دال آپ کو گوشت سے زیادہ پسند تھی"۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص۱۳۲‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی) پسند دال تھی۔۔۔ لیکن دونوں وقت پکتا گوشت تھا۔۔۔ عجیب پسند تھی؟ (ناقل)

مرغ کا کباب : "مرغ کا گوشت ہر طرح کا آپ کھا لیتے تھے۔ سالن ہو یا بھنا ہوا کباب ہو‘ یا پلاؤ۔ مگر اکثر ایک ہی ران پر گزارہ کر لیتے تھے"۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص۱۳۲‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی) یہ بھی تو بتاؤ کہ تمہارا مرزا قادیانی کیا نہیں کھاتا تھا؟ (ناقل)

پلاؤ : "پلاؤ بھی آپ کھاتے تھے مگر ہمیشہ نرم اور گداز اور گلے ہوئے چاولوں کا"۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص۱۳۲‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی) چاول تو نرم و گداز کھاتا تھا لیکن خود پتھر دل تھا۔ (ناقل)

فیرنی : "عمدہ کھانے یعنی کباب‘ مرغ پلاؤ یا انڈے اور اسی طرح فیرنی میٹھے چاول وغیرہ تب ہی آپ کہہ کر پکوایا کرتے تھے"۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘

صفحہ 127

ص ۱۳۳‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

گھر میں نہیں۔۔۔ مریدوں کے گھروں میں۔ (ناقل)

مکھن ملائی : ”دودھ‘ بالائی‘ مکھن یہ اشیاء بلکہ بادام روغن تک صرف قوت کے قیام اور ضعف کے دور کرنے کو استعمال فرماتے تھے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۳۳‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

معلوم ہوتا ہے کسی رستم زماں کی خوراک ہے۔ (ناقل)

برف : ”دن کے کھانے کے وقت پانی کی جگہ گرمی میں آپ لسی بھی پی لیا کرتے تھے اور برف موجود ہو تو اس کو بھی استعمال فرما لیتے تھے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۴۴‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

ملکہ کے لاڈلے نبی کو اس زمانے میں بھی برف مل جاتی تھی۔ (ناقل)

الائچی - بادام : ”ان چیزوں کے علاوہ شیرۂ بادام بھی گرمی کے موسم میں جس میں چند دانہ مغز بادام اور چند چھوٹی الائچیاں اور کچھ مصری پیس کر بھگو رکھتے تھے‘ پیا کرتے تھے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۴۴‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

اور اس کے بعد اکھاڑے جاتا تھا۔ (ناقل)

یخنی : ”کبھی کبھی رفع ضعف کے لیے آپ کچھ دن متواتر یخنی گوشت یا پاؤں کی پیا کرتے تھے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۴۴‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

یہ تو بتاؤ اتنا خرچہ کہاں سے کرتا تھا؟ (ناقل)

پھل : ”میوہ جات آپ کو پسند تھے اور اکثر خدام بطور تحفہ کے لایا بھی کرتے تھے۔ گاہے بگاہے خود بھی منگوا لیتے تھے۔ پسندیدہ میووں میں سے آپ کو انگور‘ بمبئی کا کیلا‘ ناگپوری سنگترے‘ سیب‘ سردے اور سرولی آم زیادہ پسند تھے۔ باقی میوے بھی گاہے بگاہے جو آتے رہتے تھے کھا لیا کرتے تھے۔ گنا بھی آپ کو پسند تھا“۔

صفحہ 128

یعنی محمدی بیگم کی طرف۔ (ناقل)

افیون : ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا قادیانی) نے تریاق الٰہی دوا خدا تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق بنائی اور اس کا ایک بڑا جز افیون تھا اور یہ دوا کس قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اول (حکیم نور الدین) کو حضور چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوروں کے وقت استعمال کرتے رہے۔“ (مضمون میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۷‘ نمبر ۶‘ مورخہ ۱۹ جولائی ۱۹۲۹ء)

اسی لیے تو پتہ نہیں چلتا تھا کہ کیا کھایا؟ (ناقل)

سنکھیا : ”جب مخالفت زیادہ بڑھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قتل کی دھمکیوں کے خطوط موصول ہونے شروع ہوئے تو کچھ عرصے تک آپ نے سنکھیا کے مرکبات استعمال کیے تاکہ خدانخواستہ آپ کو زہر دیا جائے تو جسم میں اس کے مقابلے کی طاقت ہو۔“ (ارشاد میاں محمود احمد خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ مورخہ ۵ فروری ۱۹۳۵ء)

اتنی خوراک کھا کر بھی اتنا بزدل تھا۔ (ناقل)

شراب : ”محبی اخویم‘ حکیم محمد حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ‘ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیائے خریدنی خود خرید دیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلومر کی دکان سے خرید دیں مگر ٹانک وائن چاہیے اس کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت ہے۔ والسلام۔ مرزا غلام احمد عفی عنہ (خطوط امام بنام غلام‘ ص ۵‘ از حکیم محمد حسین قریشی قادیانی)

قادیانیو! اسے پڑھ کر ہی توبہ کر لو۔ (ناقل)

کی معرفت معلوم کی گئی۔ ڈاکٹر صاحب جواباً تحریر فرماتے ہیں۔ حسب ارشاد پلومر کی

صفحہ 129

(سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۳۴‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

لگتا ہے بیوقوف مریدوں نے اپنی جیبیں اجاڑ کر مرزے کے گھر کو فروٹ کی دکان بنا دیا تھا۔ (ناقل)

بوتلیں : ”زمانہ موجودہ کے ایجادات مثلاً برف اور سوڈا لیمونڈ جنجر وغیرہ بھی گرمی کے دنوں میں پی لیا کرتے تھے بلکہ شدت گرمی میں برف بھی امرتسر‘ لاہور سے خود منگوا لیا کرتے تھے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۳۴‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

اب تو جہنم کا کھولتا ہوا پانی ہی ملتا ہو گا۔ (ناقل)

مٹھائیاں : ”بازاری مٹھائیوں سے بھی آپ کو کسی قسم کا پرہیز نہ تھا نہ اس بات کی پرچول تھی کہ ہندو کی ساختہ ہے یا مسلمانوں کی۔ لوگوں کی نذرانہ کے طور پر آوردہ مٹھائیوں میں سے بھی کھا لیتے تھے اور خود بھی روپیہ دو روپیہ کی مٹھائی منگوا کر رکھتے تھے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۳۵‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

تو اتنا کھاتا کیسے تھا؟ (ناقل)

زائد مال : ”بارہا ایسا بھی ہوا کہ آپ کے پاس تحفہ میں کوئی چیز کھانے کی آئی یا خود کوئی چیز آپ نے ایک وقت منگوائی پھر اس کا خیال نہ رہا اور وہ صندوق میں پڑی پڑی سڑ گئی یا خراب ہو گئی اور اسے سب کا سب پھینکنا پڑا“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۳۵‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

جب مال کثرت سے آتا ہو تو ایسے ہی ہوتا ہے۔ (ناقل)

تحائف : ”ان اشیاء میں سے اکثر چیزیں تحفہ کے طور پر خدا کے وعدوں کے ماتحت آتی تھیں اور بارہا ایسا ہوا کہ حضرت صاحب نے ایک چیز کی خواہش فرمائی اور وہ اسی وقت کسی نووارد یا مرید بااخلاص نے لا کر حاضر کر دی“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۳۵‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

صفحہ 130

اور خدائی وعدوں کے مطابق آئی ہوئی چیزیں کھا کر تمہیں ہیضہ ہوا تھا اور تم بااخلاص مرید کے گھر کی لیٹرین میں مرے تھے۔ (ناقل)

پان : ”پان البتہ کبھی کبھی دل کی تقویت یا کھانے کے بعد منہ کی صفائی کے لیے یا کبھی گھر میں سے پیش کر دیا گیا تو کھا لیا کرتے تھے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۳۵‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی) کیا سین ہو گا جب ایک آنکھ بند کر کے پان چباتا ہو گا؟ (ناقل)

مرغی اور پراٹھا : ”رمضان کی سحری کے لیے آپ کے لیے سالن یا مرغی کی ایک ران اور فرنی عام طور پر ہوا کرتے تھے اور سادہ روٹی کی بجائے ایک پراٹھا ہوا کرتا تھا“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۳۶‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی) اور دوپہر کو روزہ توڑ دیتا تھا۔ (ناقل)

عنبر۔ مشک : ”سر کے دورے اور سردی کی تکلیف کے لیے سب سے زیادہ آپ مشک یا عنبر استعمال فرمایا کرتے تھے اور ہمیشہ نہایت اعلیٰ قسم کا منگوایا کرتے تھے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۳۷‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی) ملکہ سے لمبا مال جو آتا تھا۔ (ناقل)

قلفہ : ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ دودھ کی برف کی مشین جس میں قلفہ یا صندوقچی کی برف بنائی جاتی ہے‘ خرید کر منگائی اور اس میں گاہے گاہے برف بنائی جاتی تھی۔ ایک دن ایک برف بنانے والی کی بے احتیاطی اور زیادہ آگ دینے کی وجہ سے وہ پھٹ گئی اور تمام گھر میں ایمونیا کے بخارات ابر کی طرح پھیل گئے اور اس کی تیزی سے لوگوں کی ناکوں اور آنکھوں سے پانی جاری ہو گیا مگر کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ سوم‘ ص ۲۵۵‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

صفحہ 131

نقصان کس بات کا ۔۔۔ ملکہ نے اور بھیج دی ہو گی اپنے ”نبی“ کو! (ناقل)

ہندوؤں کی مٹھائیاں : ”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہندوؤں کے ہاں کا کھانا کھا پی لیتے تھے اور اہل ہنود کا تحفہ از قسم شیرینی وغیرہ بھی قبول فرما لیتے تھے اور کھاتے بھی تھے۔ اسی طرح بازار سے ہندو حلوائی کی دکان سے بھی اشیائے خوردنی منگواتے تھے۔ ایسی اشیاء اکثر نقد کی بجائے ٹوکنو کے ذریعہ سے آتی تھیں۔ یعنی ایسے رقعہ کے ذریعہ جس پر چیز کا نام اور وزن اور تاریخ اور دستخط ہوتے تھے۔ مہینہ کے بعد دکاندار ٹوکنو بھیج دیتا اور حساب کا پرچہ ساتھ بھیجتا۔ اس کو چیک کر کے آپ حساب ادا کر دیا کرتے تھے“۔ (سیرت المہدی، حصہ سوم، ص ۲۷۷-۲۷۸، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

یقین تو نہیں آتا کہ مرزا قادیانی ادھار کی رقم چکا دیتا ہو گا۔ (ناقل)

گڑ کے ڈھیلے : ”آپ کو (یعنی مرزا قادیانی کو) شیرینی سے بہت پیار ہے اور مرض بول بھی آپ کو عرصہ سے لگی ہوئی ہے۔ اس زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں ہی رکھتے تھے اور اس جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے“۔ (مرزا صاحب کے حالات مرتبہ معراج الدین عمر قادیانی تتمہ براہین احمدیہ، جلد اول، ص ۶۷)

اور یہ بات مشہور تھی کہ مرزا قادیانی گڑ سے استنجا کر لیتا ہے اور مٹی کے ڈھیلے منہ میں ڈال لیتا ہے۔ (ناقل)

کھانا اور دھیان : ”بظاہر تو میں روٹی کھاتا ہوا دکھائی دیتا ہوں مگر میں سچ کہتا ہوں کہ مجھے پتا نہیں ہوتا کہ وہ کہاں جاتی ہے اور کیا کھا رہا ہوں۔ میری توجہ اور خیال اس طرف لگا ہوتا ہے“۔ (ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ اخبار الحکم قادیان، جلد ۵، نمبر ۴۰، منقول از کتاب منظور الٰہی، ص ۳۴۹، مولفہ محمد منظور الٰہی قادیانی)

صفحہ 132

دکان سے دریافت کیا گیا جواب حسب ذیل ملا۔

”ٹانک وائن ایک قسم طاقتور اور نشہ دینے والی شراب ہے جو ولایت سے سربند بوتلوں میں آتی ہے۔ اس کی قیمت ۸ ہے۔ (۲۱ ستمبر ۱۹۳۳ء) (سودائے مرزا‘

ص۳۹‘ حاشیہ مصنفہ حکیم محمد علی پرنسپل طبیہ کالج امرتسر)

مرزا قادیانی کھانوں کا اتنا شوقین تھا کہ اسے خواب میں بھی کھانے پینے کی چیزیں نظر آتی تھیں۔ بطور نمونہ چند خواب ملاحظہ فرمائیے اور سوچئے کہ وہ کس قسم کا انسان تھا۔

جسے میں نے تھوڑا سا چوسا۔ تو معلوم ہوا کہ وہ تین پھل ہیں جب کسی نے پوچھا کہ کیا پھل ہیں‘ تو کہا کہ ایک آم ہے‘ ایک طوبیٰ اور ایک اور پھل ہے“۔ (تذکرہ‘

ص۴۷۷)

صبح اٹھا تو خالی ہاتھ تھا۔ (ناقل)

ہے اور کچھ فیرنی بھی رکابیوں میں ہے۔ میں نے کہا کہ چمچہ لاؤ تو کسی نے کہا کہ ہر ایک کھانا عمدہ نہیں ہوتا سوائے فیرنی اور فالودہ کے“۔ (تذکرہ‘ ص۴۸۲)

مسٹر انگریزی چمچے! تمہارے ہوتے ہوئے چمچے کی کیا ضرورت تھی۔ (ناقل)

مگر اس کوٹھے کو کسی نے ایسی لات ماری کہ وہ اندر ہی اندر غرق ہو گیا“۔ (تذکرہ‘

ص۵۰۶)

جو ہاتھ میں تھے وہ بچے کہ نہیں؟ (ناقل)

ص۵۰۷)

کھٹے تھے یا میٹھے؟ (ناقل)

(تذکرہ‘ ص۵۱۳)

صفحہ 133

بلی کو چھیچھڑوں کے خواب۔ (ناقل)

ص۵۷۰)

کبھی تو نے بھی کسی کے ہاتھ پر کچھ رکھا تھا؟ (ناقل)

ہوئے سفید ہیں اور ان کے ساتھ منقہ بھی ہے“۔ (تذکرہ‘ ص۵۷۵)

مونگ پھلی‘ ریوڑیاں اور ملوک بھی ساتھ ہی پڑے ہوں گے۔ (ناقل)

مبارک ہو۔ (ناقل)

تم نے کون سا خود خریدا ہوگا۔ (ناقل)

(مکاشفات‘ ص۳۷)

یہ خواب کسی مرید کو سنایا ہو گا اور وہ بے وقوف خواب پورا کرنے کے لیے برفی کا ڈبہ لے آیا ہو گا۔ (ناقل)

میں اٹھا کہ بادام لوں“۔ (تذکرہ‘ ص۷۲۴)

اور کف افسوس ملتے رہ گیا۔ (ناقل)

ہم نہ کہتے تھے کہ کم کھایا کرو۔ (ناقل)

مرزا قادیانی کا پیٹ کا دھندا یونہی چلتا رہا۔ وہ کھانوں کا کشت و خون کرتا رہا۔ مریدوں کی جیبیں اجڑتی رہیں اور دستر خوان لٹتے رہے۔ حریص مرزا قادیانی کھانوں پر یوں لپکتا جیسے بھوکی بلی چوہے پر لپکتی ہے۔ ایک دن لاہور میں اس کے ایک مرید نے اسے رات کے کھانے کی دعوت دی جسے اس نے جھٹ قبول کر لیا۔ رات کو عین وقت پر مرید کے گھر جا پہنچا۔ خوبصورت دستر خوان پر اعلیٰ سے اعلیٰ کھانے اپنی

صفحہ 134

خوشبوئیں بکھیر کر کیف و مستی کی فضا پیدا کر رہے تھے۔ کھانوں کی خوشبوئیں مرزا قادیانی کے سیاہ قلب کو گدگدانے لگیں اور وہ کھانوں کے سامنے یوں جھومنے لگا جیسے بین کے سامنے سانپ جھومتا ہے۔ ایک لمبا سانس لینے کے بعد مرزا قادیانی کھانوں پر ٹوٹ پڑا اور دستر خوان پر چنے ہوئے کھانے دستر خوان سے اس کے پیٹ کے بحیرہ مردار میں منتقل ہونے لگے۔ چند منٹ کے بعد دستر خوان خالی اور اس کے پیٹ کا بحیرہ مردار تلاطم خیز تھا۔ وہ اتنا کھا چکا تھا کہ اس سے چلا بھی نہ جاتا تھا۔ بڑی مشکل سے وہ کمرے میں اپنے بستر پر پہنچا اور خراٹے لینے لگا۔ تھوڑی دیر بعد ہیضے نے شب خون مارا اور دستوں کی یلغار شروع ہو گئی۔ بستر سے لیٹرین اور لیٹرین سے بستر تک کی دوڑ لگ گئی۔ لیکن جلد ہی مسلسل دستوں نے ٹانگوں سے جان نکال لی اور اس کا لیٹرین تک پہنچنا مشکل ہو گیا۔ لہٰذا بستر کے پاس ہی بیٹھ کر فارغ ہونے لگا۔ تھوڑی دیر میں کمرہ غلاظت سے بھر گیا۔ آخر ایک زور دار دست آیا جس سے مرزا قادیانی کی آنکھیں پلٹ گئیں اور نتھنے پھیل گئے اور وہ دھڑام سے غلاظت پر گرا اور لت پت ہو گیا۔ اور اس کے ساتھ ہی ”پنجابی نبی“ کی ”انگریزی روح“ پرواز کر گئی۔

بعد از موت بھی منہ اور مقعد دونوں راستوں سے غلاظت بہہ رہی تھی۔ اس کا حریص پیٹ جس کے لیے اس نے اپنا ایمان بیچا تھا وہی پیٹ اس کی زندگی کے خاتمے کا بھی سبب بنا۔ وہ زبان جس کی خواہشات پوری کرنے کے لیے وہ مرتد ہوا تھا اب کھلے ہوئے منہ سے باہر جھانک رہی تھی اور غلاظت میں لتھڑا ہوا اس کا متعفن لاشہ جسے اس نے اعلیٰ غذاؤں سے پالا تھا اپنی زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہا تھا۔

دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو
میری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہو

”دنیا مردار ہے اور اس کے طالب کتے ہیں“۔ (الحدیث)

PDF 135

ظالم کون!

مسلمان یا قادیانی

صفحہ 136

جناب اصغر علی گھرال قادیانیوں کے دیرینہ وکیل اور غمگسار ہیں۔ انہیں ہر لمحہ قادیانیوں کا غم بے چین اور مضطرب رکھتا ہے۔ اسی لیے ان کا قلم قادیانیوں کے لیے نوحہ خوانی کرتا رہتا ہے۔ کوئی بھی موقع ہو‘ وہ قادیانیوں کی ”داستان غم“ بیان کرنا اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں۔ پچھلے دنوں روزنامہ ”نوائے وقت“ میں ان کا مضمون ”اور پاکستان بدنام ہو رہا ہے“ تین قسطوں میں شائع ہوا ہے۔ جس میں انہوں نے قادیانیوں پر ہونے والے ”مظالم“ کو سسکیوں کی زبان میں بیان کیا ہے۔ انہیں پاکستان کے علمائے کرام جنہیں وہ طنزاً بار بار مولوی اور ملاں کے نام سے پکارتے ہیں، شکوہ ہے کہ وہ قادیانیوں کو کلمہ طیبہ کیوں نہیں پڑھنے دیتے۔ قادیانیوں کو اپنے گھروں‘ دکانوں‘ عبادت گاہوں اور گاڑیوں وغیرہ پر کلمہ طیبہ کے بورڈ یا سٹکر کیوں نہیں لگانے دیتے۔

انہیں گلہ ہے کہ قادیانی جب بھی کلمہ طیبہ لکھتے ہیں تو یہ مولوی ان کے خلاف مقدمہ درج کراتے ہیں۔ انہیں حوالہ پولیس کراتے ہیں، جیل بھجواتے ہیں اور عدالتوں میں خجل خراب کرتے ہیں۔

جناب اصغر علی گھرال صاحب! پاکستان میں عیسائی‘ ہندو‘ پارسی‘ سکھ وغیرہ بہت سی اقلیتیں رہتی ہیں۔ کیا انہوں نے کبھی اپنی دوکانوں‘ مکانوں‘ عبادت گاہوں اور گاڑیوں پر کلمہ طیبہ لکھا ہے؟ کیا ان پر کبھی کلمہ طیبہ لکھنے پر مقدمہ بنا ہے؟ تو کیا وجہ ہے کہ ایک کافر اقلیت کلمہ طیبہ لکھنے پر اتنی جنونی ہو رہی ہے؟ وہ غیر مسلم اقلیت ہر قسم کی مشکلات اور مصائب تو برداشت کرلیتی ہے لیکن کلمہ طیبہ لکھنے سے باز نہیں آتی۔ دراصل قادیانی جب کلمہ طیبہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھتے ہیں تو وہ ”محمد“ سے مراد مرزا قادیانی کو لیتے ہیں۔ کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں دو مرتبہ تشریف لائے۔ پہلی مرتبہ مکہ مکرمہ میں اور دوسری مرتبہ قادیان میں مرزا قادیانی کی شکل میں (نعوذ باللہ) ان کا عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی عین محمد ہے جو آج سے چودہ سو برس قبل عرب میں تشریف لائے تھے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی کو وہ تمام اوصاف اور محاسن حاصل ہیں‘

صفحہ 137

جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھے۔ ثبوت کے لیے حوالہ جات پیش خدمت ہیں، انہیں پڑھئے اور دیکھئے کہ یہ اقلیت مسلمانوں پر کیا قیامت ڈھا رہی ہے اور کس کمال مکاری سے اسلام کو لوٹ رہی ہے۔

"خدا نے آج سے بیس برس پہلے "براہین احمدیہ" میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہی وجود قرار دیا ہے"۔ (ایک غلطی کا ازالہ، ص ۱۰، مصنفہ مرزا قادیانی) (نعوذ باللہ)

"تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد صلعم کو اتارا تاکہ اپنے وعدہ کو پورا کرے۔ (نعوذ باللہ) ("کلمتہ الفصل" ، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی، ابن مرزا قادیانی، مندرجہ "رسالہ ریویو آف ریلیجنز" ص ۱۱۵، نمبر ۳، جلد ۱۵)

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(مندرجہ اخبار "بدر" قادیان، ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء) (نعوذ باللہ)

"اور ہمارے نزدیک تو کوئی دوسرا آیا ہی نہیں، نہ نیا نبی نہ پرانا بلکہ خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی چادر دوسرے کو پہنائی گئی اور وہ خود ہی آئے ہیں"۔ (ارشاد مرزا قادیانی، مندرجہ اخبار "الحکم" قادیان، ۳۰ نومبر ۱۹۰۱ء منقول از جماعت مبایعین کے عقائد صحیحہ، رسالہ منجانب قادیانی جماعت قادیان، ص ۱۷)

"اور جو شخص مجھ میں اور مصطفیٰ میں تفریق پکڑتا ہے، اس نے مجھ کو نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے"۔ ("خطبہ الہامیہ" ، ص ۱۷۱)

"اور جس نے مسیح موعود کی بعثت کو نبی کریم کی بعثت ثانی نہ جانا، اس نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا کیونکہ قرآن پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ محمد رسول اللہ ایک دفعہ پھر دنیا میں آئے گا" ("کلمتہ الفصل" مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی، مندرجہ

صفحہ 138

رسالہ ریویو آف ریلیجنز ، قادیان ، ص ۱۰۵ ، نمبر ۳ ، جلد ۱۴)

” مسیح موعود در حقیقت محمد اور عین محمد ہیں اور آپ میں اور آنحضرت صلعم میں باعتبار نام ، کام اور مقام کے کوئی دوئی یا مغائرت نہیں “۔ (نعوذ باللہ) (اخبار ”الفضل“ قادیان ، جلد ۳ ، نمبر ۷۶ ، مورخہ یکم جنوری ۱۹۱۶ء)

” یہ وہی فخر اولین و آخرین ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمتہ اللعالمین بن کر آیا تھا اور اپنی تکمیل تبلیغ کے ذریعے ثابت کر گیا کہ واقعی اس کی دعوت جمیع ممالک و ملل عالم کے لیے تھی“۔ (نعوذ باللہ) (اخبار ”الفضل“ قادیان ، جلد ۳، نمبر ۴۱ ، مورخہ ۲۶ ستمبر ۱۹۱۵ء)

” پس مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لیے ہم کو کسی نئے کلمے کی ضرورت نہیں ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی“۔ (”کلمتہ الفصل“ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی ، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز ، قادیان ، ص ۱۵۸ ، نمبر ۴ ، جلد ۱۴)

جناب اصغر علی گھرال! کلیجہ تھام کر اور دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ کیا کبھی آپ نے دنیا میں اس سے بڑھ کر مکاری اور جعلسازی دیکھی ہے؟ کیا کبھی آپ نے اس سے بڑھ کر بھی جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین دیکھی ہے کہ ایک افیمی اور شرابی شخص سازش فرنگی کے تحت دعویٰ نبوت کر کے خود کو ”محمد رسول اللہ“ کہے اور تمام دنیا کے مسلمانوں کو حکم دے کہ مجھ پر ایمان لاؤ؟ کبھی آپ نے اس سے بڑھ کر بھی ظلم دیکھا ہے کہ قادیانی جماعت پوری دنیا میں اپنے یہ عقائد پھیلائے کہ:

مرزا قادیانی اللہ کا نبی اور رسول ہے (نعوذ باللہ)

مرزا قادیانی کی بیوی ام المومنین ہے (نعوذ باللہ)

مرزا قادیانی کی باتیں ”وحی الٰہی“ ہے اور اس کی وحی قرآن پاک کی طرح ہے

مرزا قادیانی کی گفتگو ”حدیث“ ہے

مرزا قایانی کے ساتھی ”صحابہ کرام“ ہیں

صفحہ 139

مرزا قادیانی کا خاندان ”اہل بیت“ ہے

مرزا قادیانی کا شہر قادیان مکہ و مدینہ ہے

امت مسلمہ پر اس سے بڑھ کر ظلم و ستم کیا ہوں گے کہ قادیانی ہم سے تاج و تخت ختم نبوت چھینتے ہیں ، منصب نبوت چھینتے ہیں ، امہات المومنین کے تقدس پر حملہ آور ہوتے ہیں۔۔۔ قرآن پاک میں قطع و برید کی ناپاک جسارت کرتے ہیں۔۔۔ احادیث رسول کی عظمت کو روندتے ہیں۔۔۔ صحابہ کرامؓ کی حرمت کو پامال کرتے ہیں۔۔۔ مکہ و مدینہ پر قادیان کا بورڈ آویزاں کرتے ہیں۔۔۔ اہل بیت کی عظمت کو غارت کرتے ہیں۔۔۔ وغیرہم

اصغر علی گھرال! کیا اپنے قلب و جگر پر اتنے زخم سہہ کر بھی ہم ظالم ہیں؟ ان زخموں کی کسک سے جب ملت اسلامیہ چیخے تو اس دلدوز چیخ کو آپ تشدد کا نام دیں تو کیا یہ ظلم نہیں؟

اگر سارق نبوت کو پکڑنا جرم ہے تو پھر پاکستان میں پکڑے گئے سارے چوروں کو رہا کر دیا جائے۔ اگر مرزا قادیانی کو ”محمد رسول اللہ“ کہنے والے کو حوالہ قانون کرنا جرم ہے تو پاکستان کی جیلوں میں قید سارے جعلسازوں کو رہا کر دیا جائے۔ اگر منصب نبوت پر قبضہ کرنے کی ناپاک جسارت کرنا جرم نہیں ہے تو سارے قبضہ گروپوں کو فوراً رہا کر دینا حکومت کا اولین فرض ہے۔ اگر سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے کو گرفتار کرنا جرم ہے تو پاکستان میں توہین شخصی اور توہین عدالت کے قوانین ختم کر دینے چاہئیں۔

آپ نے علماء پر اعتراض کیا ہے کہ وہ کلمہ طیبہ مٹا کر اور بورڈوں پر لکھا ہوا کلمہ طیبہ اکھاڑ کر کلمہ طیبہ کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ بھی کہا ہے کہ علماء نے کئی مقامات پر جہاں پولیس نے کلمہ طیبہ مٹانے سے انکار کر دیا ، وہاں علماء نے بھنگیوں کے ذریعے کلمہ طیبہ مٹایا۔ یہ روح فرسا خبر مرزا قادیانی کی نبوت کی طرح بالکل جھوٹی ہے۔ قادیانی جو مرزا قادیانی کو اللہ کا نبی کہہ سکتے ہیں ، ان کے لیے ایسی خبر بنانا اور چلانا بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ آپ کو بھی یہ خبر قادیانیوں کے ذریعے ملی ہوگی۔ کاش آپ اتنی بڑی بات لکھنے سے پہلے اس کی تصدیق کر لیتے۔

صفحہ 140

آپ جس عمل کو کلمہ مٹانا یا کلمہ اکھیڑنا کہتے ہیں یہ عمل دراصل کلمہ محفوظ کرنا ہے۔ یہ کلمہ کی توہین نہیں بلکہ کلمہ کی حرمت کی حفاظت ہے۔ کلمہ پاک ہے اور اسے پاک و صاف جگہ پر لکھا جاتا ہے۔ اگر کوئی بدبخت اسے کسی نجس جگہ پر لکھ دے تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اسے فوراً وہاں سے مٹا کر اس کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیں۔ مثلاً اگر کوئی بدبخت کسی "غلہ ڈپو" پر کلمہ طیبہ لکھ دے تو کیا مسلمان اس پر گاڑھی سفیدی پھیر کر کلمہ کی حفاظت کر کے اپنی دینی غیرت کا ثبوت نہیں دیں گے؟ اگر غلاظت میں لتھڑا ہوا کوئی خاکروب اپنی قمیض پر کلمہ طیبہ کا بیج لگائے تو کیا مسلمان جوش حمیت سے اس کی قمیض سے کلمہ طیبہ کا بیج اتار نہیں لیں گے؟ اگر کوئی شراب خانے کے مین گیٹ پر کلمہ طیبہ کا بورڈ لگا دے تو کیا مسلمان شدت جذبات سے اسے اکھاڑ نہیں لیں گے؟ بتائیے کیا ان تینوں مقامات پر کلمہ طیبہ کی توہین ہوئی یا کلمہ طیبہ کی حرمت کا تحفظ کیا گیا؟

قادیانی عبادت گاہوں سے کلمہ طیبہ اس لیے محفوظ کیا جاتا ہے کہ قادیانی عبادت گاہیں دراصل کفر و ارتداد کے اڈے ہیں اور بقول امام ابن تیمیہؒ یہ عبادت گاہیں بیت الشیاطین ہیں۔ ان عبادت گاہوں میں جھوٹی نبوت کی تبلیغ و تشہیر اور ختم نبوت کی تخریب کے منصوبے تیار ہوتے ہیں۔ ارتدادی مبلغین کی کھیپیں تیار ہو کر نکلتی ہیں۔ بتائیے وہ جگہیں جہاں اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف سازشیں جنم لیں، کتنی غلیظ جگہیں ہیں اور ایسی غلیظ جگہوں سے کلمہ طیبہ محفوظ کرنا کتنا بڑا ثواب ہے؟

ہر قادیانی کافر اور زندیق ہے۔ کافر نجس ہوتا ہے۔ اس لیے ہر قادیانی کا سینہ ناپاک ہے۔ اگر کوئی قادیانی اپنے غلیظ سینے پر کلمہ طیبہ کا بیج لٹکائے تو ہر مسلمان کا فرض بنتا ہے کہ وہ قادیانی کے سینے سے بیج اتار کر کلمہ کی حرمت کی حفاظت کرے۔ علاوہ ازیں جو قادیانی اپنے گھر یا سینہ پر کلمہ طیبہ لگاتا ہے، وہ خود کو مسلمان ظاہر کرتا ہے اور اپنے کفر کو اسلام کا نام دیتا ہے۔ اس لیے کلمہ طیبہ لگانے والا ہر قادیانی جعلسازی کے زمرے میں بھی آتا ہے۔

لٹیروں نے جنگل میں شمع جلا دی
مسافر یہ سمجھا کہ منزل یہی ہے

اگر قادیانیوں کو کلمہ طیبہ لگانے کا اتنا ہی شوق ہے تو وہ مرزا قادیانی کی انگریزی نبوت

صفحہ 141

پر تین حرف بھیج کر تاجدار ختم نبوت کے گلشن نبوت میں آجائیں۔

گھرال صاحب ! اگر پولیس کا کوئی جعلی انسپکٹر وردی پہنے پکڑا جائے تو کیا اس کے کندھوں سے سٹار اتارنا سٹارز کی توہین ہے یا سٹارز کی عزت کی حفاظت ہے۔ اس کے کندھوں سے سٹارز اس لیے اتارے جائیں گے کہ اس نے سٹارز کی بے حرمتی کی ہے اور سٹارز کی حرمت اسی میں ہے کہ اس کے کندھوں سے فوراً اتار لیے جائیں اور اسی طرح اگر کوئی بھارتی فوجی‘ پاکستانی فوج کی وردی پہنے پکڑا جائے تو کیا اس کے تن سے فوراً پاکستانی فوج کی وردی اتار کر وردی کے تحفظ کا حق ادا نہیں کیا جائے گا؟

یہ تو صرف کلمہ طیبہ کی بحث ہے۔ اسلام تو کسی قادیانی عبادت گاہ کے وجود کو ایک سیکنڈ کے لیے بھی برداشت نہیں کرتا۔ تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور اقدس میں جب منافقین نے مسجد ضرار بنائی اور قادیانی عبادت گاہوں کی طرح وہاں اسلام دشمنی کی سازشیں جنم لینے لگیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً منافقین کی اس مسجد کو مسمار کروا کر آگ لگوائی کیونکہ یہ مسجد کے نام پر ایک بہت بڑا دھوکا تھا۔ تعمیر کی آوازوں میں تخریب کا دھندا تھا۔ آج خدا کی دھرتی پر بنی ہوئی تمام قادیانی عبادت گاہیں مسجد ضرار کی طرح ہیں۔ جن کی ہیئت اور نام تو مسجد کا ہے اور ان کے اندر کام کفر و ارتداد کا ہے۔ اس لیے حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ تمام قادیانی عبادت گاہوں کو مسمار کرا کر جلا کر خاکستر کیا جائے اور سنت رسولؐ کو زندہ کیا جائے۔

بارہا دیکھا ہے دیدۂ ایام نے
کفر حق کے بھیس میں آیا ہے حق کے سامنے

جناب گھرال صاحب ! آپ نے علمائے کرام کو متشدد اور جنونی کہا ہے اور ان کے ”مظالم“ خوب گنوائے ہیں۔ کاش آپ نے بانی فتنہ قادیان مرزا قادیانی کی ”معطر تحریریں“ پڑھی ہوتیں تو آپ کو پتہ چل جاتا کہ متشدد‘ جنونی اور ظالم کون ہے؟ چند قادیانی تحفے آپ کے مطالعہ کی نذر ہیں۔

”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری جماعت میں داخل نہیں ہو گا‘ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے“۔ (اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی‘ مندرجہ تبلیغ

صفحہ 142

رسالت، جلد ۹، ص ۲۷)

”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی“ (”آئینہ کمالات اسلام“ ص ۵۴۷، مصنفہ مرزا قادیانی)

”میرے مخالف جنگلوں کے سور ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں“ (”نجم الہدیٰ“ ص ۱۵، مصنفہ مرزا قادیانی)

”جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہو گا تو سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں“ (”انوار الاسلام“ ص ۳۰، مصنفہ مرزا قادیانی)

گھرال صاحب! آج ہماری باحیا، بیٹیاں، عفت ماب بہنیں، قابل صد احترام مائیں، صالح بیویاں، تہجد گزار نانیاں، دادیاں، قادیانیوں کی آوارہ زبان کی نیش زنی سے محفوظ نہیں ۔

امام کعبہ، امام مسجد نبوی، مفسرین، محدثین، اولیائے امت، بزرگان دین، حفاظ قرآن، شہدائے کرام، مجاہدین اسلام کو کافر، حرام زادے، کنجریوں کی اولاد اور جنگل کے سور لکھا اور کہا جارہا ہے (نعوذ باللہ) دنیا کی کسی قوم نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں اتنی غلیظ زبان استعمال نہیں کی۔

گھرال صاحب! بتائیے ۔۔۔۔۔ خدارا بتائیے ۔۔۔۔۔ ظالم کون ہے؟ اسلام، پیغمبر اسلام، ملت اسلامیہ ۔۔۔۔۔ یا قادیانی

اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا
PDF 143

گلدستہ

اشعار

ختم نبوت

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ

ننکانہ صاحب

ضلع شیخوپورہ

صفحہ 144

بڑی مدت سے احباب کی تمنا تھی کہ ”گلدستہ اشعار ختم نبوت“ کے عنوان سے ایک کتابچہ شائع ہو جائے۔ الحمدللہ اس تمنا کی کشتی اپنے ساحل مراد پر پہنچی اور اب یہ کتابچہ مطالعہ کے لیے آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ کتابچہ خاتم النبیین جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ختم نبوت، عالمگیر نبوت، زمان و مکان کی قیود سے بالاتر نبوت، رد قادیانیت، تکذیب مرزا قادیانی، مرزائی نوازوں کی مذمت، عاشقان رسولؐ کے جذبوں، شہیدان ختم نبوت کے ولولوں اور اسیران ختم نبوت کی جراتوں ایسے موضوعات پر مشتمل ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ اس کتابچے کو مسلمانوں کے لیے نافع اور میرے لیے شافع بنائے۔ (آمین)

خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر رزاق

زمانہ ابد تک گل فشاں رہے گا
تجھے مرحبا مرحبا کہتے کہتے
ہمارے رہبر خدا کے دلبر درود تم پر سلام تم پر
تمہی تو ہو آخری پیغمبرؐ درود تم پر سلام تم پر
قرآن ہے اپنے واسطے دستور زندگی
ہر دور میں رہے گی قیادت رسولؐ کی
ہر اک نظام ہے ناکام و فتنہ در آغوش
حضورؐ آپ کے لائے ہوئے پیام کے بعد
صفحہ 145
وہ قاسم کوثر ہیں، وہی ختم رسلؐ ہیں
وہ مصدر اخلاق ہیں وہی نور ہدیٰ ہیں
چھینٹیں پڑی ہیں جس سے شفاعت کی چار سو
ختم رسلؐ ہی حشر میں وہ آبشار ہے
ہر ایک نبی تھا خاص کسی دور کے لیے
تا حشر ہے نبوت سردار انبیاءؐ
تیری ہر بات کا قصہ چلے گا، قیامت تک یہی سکہ چلے گا
سبھی معیار ثابت ہوں گے وقتی، ہمیشہ بس ترا اسوہ چلے گا
ہر اک سمت سے آتی ہے تیری ہی خوشبو
ہر اک زمانہ، زمانہ تیرے جمال کا ہے
مرتد ہے وہ جو ختم نبوت کا ہے منکر
کافر ہے جسے اپنی نبوت کا گماں ہو
مکمل دین تم پر ہوگیا اے رہبر کامل
قیامت تک تیری سنت پہ چلنا عین ایمان ہے
علوم حاضرہ سے تیرگی دل کی نہیں جاتی
محمدؐ کی کتاب آخری سے روشنی مانگیں
صفحہ 146
جو کچھ تھا نا تمام مکمل کیا اسے
آئے حضورؐ اس لیے سب انبیاء کے بعد
تو نبوت کے قصیدے کا مقدس مقطع
دین کی تکمیل کا پیغام سنانے والے
نبیؐ خاتم پہ جو سو جان سے قربان ہوتے ہیں
خدا شاہد ہے وہی صاحب ایمان ہوتے ہیں
نہیں ہے کوئی پیمبر میرے حضورؐ کے بعد
حضورؐ سب کے ہیں، سب کے لیے پیام حضورؐ
جن کو نہ کچھ پاس ہو پیمبرؐ کے ادب کا
چن چن کے میں اس قوم کو مٹی میں ملاؤں
اسلام سے جس قوم کو ہے کچھ بھی محبت
میں اس کے لیے راہ میں آنکھوں کو بچھاؤں
سید الکونینؐ کی پھٹکار اس ملعون پر
جس کے دل میں ہے نبوت کا تصور گو مگو
جاؤں گا اس کے بعد جہنم کی آگ میں
شورشؔ اگر حضورؐ کی الفت کو چھوڑ دوں
ایک مرزائی سے سوال کیا
تو جہنم سے کیوں نہیں ڈرتا
صفحہ 147
توند پر ہاتھ پھیر کر بولا
یہ جہنم جو یوں نہیں بھرتا
دیکھو گے برا حال محمدؐ کے عدو کا
منہ پر ہی گرا جس نے مہتاب پہ تھوکا
مایوس نہ ہوں ختم نبوت کے محافظ
نزدیک ہے انجام شہیدوں کے لہو کا
جو ختم نبوت کا طرف دار نہیں ہے
لاریب وہ جنت کا سزاوار نہیں ہے
خاموش رہے سن کے جو اسلام کی توہین
بے شرم ہے، بزدل ہے، وہ خوددار نہیں ہے
مٹا دے اپنی ہستی آج ناموسِ محمدؐ پر
یہ نکتہ ہے مسلماں کی حیات جاودانی کا
ہوشیار ہو اے ختم نبوت کے محافظ
کس کام میں مصروف ہے باطل کی ہوا دیکھ
اسلم یہ واقعہ ہے کہ ذات خدا کے بعد
میرے نبیؐ پہ ختم ہیں عظمت کے سلسلے
صفحہ 148
لکھتا ہوں خون دل سے یہ الفاظ احمریں
بعد از رسولؐ ہاشمی کوئی نبی نہیں

مٹ گئے مٹ جائیں گے اعداء تیرے
نہ مٹا ہے نہ مٹے گا کبھی چرچا تیرا

وہ دانائے سبل ختم الرسلؐ مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا
نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں‘ وہی فرقاں‘ وہی یٰسین‘ وہی طٰہٰ

قادیانی فتنہ اٹھا ہے مسلمانو! اٹھو
خواب سے بیدار ہو للہ دیوانو! اٹھو

کب موت سے ڈرتے ہیں غلامان محمدؐ
یہ اپنے غلاموں پہ ہے فیضان محمدؐ

ہوتا ہے الگ سر مرا تو شانوں سے ہو جائے
پر ہاتھ سے چھوٹے گا نہ دامان محمدؐ

تکمیل نبوت ہو بھی چکی اجزائے نبوت کیا معنی
جب مہر منور تاباں ہو ہم رات کو دھوکا کیوں کھائیں

صفحہ 149
زندہ ہیں قادیانی نبوت کے ذلہ خوار
قدرت سے دار و گیر میں کچھ ڈھیل ہو گئی

O

محمدؐ کی عزت پر ہم جان دے کر
شفاعت بروز جزا چاہتے ہیں

O

نہیں قائل ہوا میں آج تک ان کی شریعت کا
خدا جن کا بروزی ہے نبی جن کا برازی ہے

O

مرزائیوں کا نام ذرا دیر میں مٹا
حق کے جلال سے یہی اک ڈھیل ہو گئی

O

خدا نے دین کامل کر دیا ہے اے امین ان پر
محمدؐ پرچم ختم نبوت لے کے آئے ہیں

O

ہمیشہ یاد رہتی ہے حدیث ”لا نبی بعدی“
میرے ایمان کی بنیاد ہے ختم نبوت پر

O

تو کسی ایک زمانے کا ہادی تو نہیں
از ازل تا بہ ابد سارا زمانہ تیرا

O

تیرے وجود پہ فہرست انبیاء ہے تمام
تجھی پہ ختم ہے روح الامیں کی نامہ بری

O

صفحہ 150
رواں تھا‘ رواں ہے‘ رواں ہی رہے گا
قیامت تلک کاروان محمدؐ

سچے نبیوں کا اقرار ضروری ہے
جھوٹے نبیوں کا انکار ضروری ہے

تاریک ہی رہے گی میری زندگی کی رات
جب تک فروزاں شمع رسالتؐ نہ ہو سکے

زمانہ رہتی دنیا تک سنائے گا زمانے کو
درود ان کا‘ کلام ان کا‘ پیغام ان کا‘ قیام ان کا

سورج نے ضیا اس چشم سے لی‘ اس نطق سے غنچے پھول بنے
اٹھا تو ستارے فرش پر تھے‘ بیٹھا تو زمین کو عرش کیا

اب کوئی الجھن نہ ہوگی دین اکمل کی قسم
زندگی کی الجھنیں سلجھا گیا بطحا کا چاند

خود کلمہ طیبہ سے یہ مسئلہ ثابت ہے
توحید میں شامل ہے اقرار رسالت کا

جس قلب کو نہیں محمدؐ کا غم نصیب
میری نگاہ میں وہ یقیناً ہے کم نصیب
صفحہ 151
مصطفیٰؐ سے عشق رکھ مرزا کا سودائی نہ ہو
دین حق پر رکھ یقیں باطل کا شیدائی نہ ہو

رشتہ نہ ہو قائم جو محمدؐ سے وفا کا
پھر جینا بھی برباد ہے مرنا بھی اکارت

مرزائیت دور ہوگی سنت صدیقؓ سے
یہ فتنہ آخر دور ہوگا قتل زندیق سے

اے جان دینے والو محمدؐ کے نام پر
ارفع بہشت سے بھی تمہارا مقام ہے
تحریک پاک ختم نبوت کے عاشقو
واللہ! تم پر آتش دوزخ حرام ہے

شہید عشق نبی ہوں میری لحد پہ شمع قمر جلے گی
اٹھا کے لائیں گے خود فرشتے چراغ خورشید کے جلا کر

نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

حیات جاوداں دیتا ہے دنیا کو پیام ان کا
خدا ہی جانتا ہے کس قدر پیارا ہے نام ان کا

صفحہ 152
ڈوبا تو نکالا ہے پھسلا تو سنبھالا ہے
میں بھول نہیں سکتا احسان محمدؐ کا
جو کرنی ہو جہانگیری محمدؐ کی غلامی کر
عرب کا تاج سر پر رکھ خداوند عجم ہو جا
ہر دو عالم میں تجھے مقصود گر آرام ہے
ان کا دامن تھام لو جن کا محمدؐ نام ہے
رہی یاد نبی باقی نہ خوف کبریا باقی
یہی جاتا رہا ساماں تو پھر کیا رہ گیا باقی
پائے حضورؐ پہ ہے میرا سر جھکا ہوا
ایسے میں آ اجل تو کہاں جا کے مر گئی
لحد میں عشق رخ شاہؐ کے داغ لے کر چلے
اندھیری رات سنی تھی چراغ لے کر چلے
کیا تمازت دھوپ کیسی اور کہاں کی حدتیں
ان کا دامن تھام لو پھر حشر تک سایہ بہت
جب تک جلیں نہ دیپ شہیدوں کے لہو سے
سنتے ہیں کہ جنت میں چراغاں نہیں ہوتا
صفحہ 153
شہادت کا لہو جن کے رخوں کا بن گیا غازہ
کھلا ہے ان کی خاطر دائمی جنت کا دروازہ
شہیدوں کے لہو سے جو زمین سیراب ہوتی ہے
بڑی زرخیز ہوتی ہے بڑی شاداب ہوتی ہے
سلام اس پر کہ جس کے نام لیوا ہر زمانے میں
بڑھا دیتے ہیں ٹکڑا سرفروشی کے فسانے میں
ہم نے لکھا ہے اپنے شہیدوں کے خون سے
مقتل کی داستاں کا عنوان زندگی
گھروں سے تا در زنداں وہاں سے مقتل تک
ہر امتحان سے تیرے جاں نثار گزرے ہیں
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
عشق کے مراحل میں، وہ بھی وقت آتا ہے
آفتیں برستی ہیں دل سکون پاتا ہے
یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
صفحہ 154
اف یہ جادہ کہ جسے دیکھ کے جی ڈرتا ہے
کیا مسافر تھے جو اس راہگزر سے گزرے
ہونٹ سل جائیں مگر جرات اظہار رہے
دل کی آواز کو مدہم نہ کرو دیوانو
کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
دشمن احمدؐ پہ شدت کیجئے
ملحدوں سے کیا مروت کیجئے
ڈریں نہ حشر کی گرمی سے عاشقان رسولؐ
لگے گی پیاس تو کوثر کا جام آئے گا
کوئی طلب ہے مجھے زیست میں تو اتنی ہے
نبیؐ کی چاہ ملے اور بے پناہ ملے
ابھی مٹی نہ مہکی تھی ابھی پانی نہ برسا تھا
مگر بزم عناصر میں تیرے ہونے کا چرچا تھا
صفحہ 155
یہ کہہ کر حق جتا دوں گا محمدؐ کی شفاعت پر
کہ میں نے تیری خاطر آقا چکی جیل میں پیسی

توڑیں گے ہر اک لات و ہبل جھوٹے نبی کا
پا بوس ہر اک مسجد ضرار کریں گے
سو بار بھی گر ہم کو ملے زیست کی نعمت
قربان شہ کونین پہ ہر بار کریں گے
اس دور میں ہو جرم اگر عشق محمدؐ
اس جرم کا اقرار سر دار کریں گے

نبوت ہے ازل سے تا ابد میرے پیمبرؐ کی
کوئی بھی دور ہو ہر دور ان کا دور ہوتا ہے

محمدؐ کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اس میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
محمدؐ کی محبت آن ملت، شان ملت ہے
محمدؐ کی محبت روح ملت، جان ملت ہے
محمدؐ کی محبت خون کے رشتوں سے بالا ہے
یہ رشتہ دنیوی قانون کے رشتوں سے بالا ہے
محمدؐ ہے متاع عالم ایجاد سے پیارا
پدر، مادر، برادر، مال، جان، اولاد سے پیارا

اب بھی ظلمات فروشوں کو گلہ ہے تجھ سے
رات باقی تھی کہ سورج نکل آیا تیرا
صفحہ 156
موت اور حیات میری دونوں تیرے لیے ہیں
مرنا تری گلی میں‘ جینا تیری گلی میں

اک عشق مصطفیٰؐ ہے اگر ہو سکے نصیب
ورنہ دھرا ہی کیا ہے جہان خراب میں

سطر خاتم تھا خدا کے آخری فرمان کی
سلک تسبیح رسل کا آخری مرجان تھا

جلا بخشی ہے اس نے یوں ضمیر آدمیت کو
نسیم صبح آ کر جیسے غنچوں کی زباں کھولے

مانگنے والوں نے اس در سے نہ کیا کیا مانگا
میں نے مانگا تو بس عشق حبیبؐ رب سے

آنکھوں میں نور‘ دل میں بصیرت ہے آپؐ سے
میں خود تو کچھ نہیں‘ میری قیمت ہے آپؐ سے

شام و سحر کے لب پہ ثنائے رسولؐ ہے
یہ ساری کائنات برائے رسولؐ ہے

وہی تو باخبر ہیں اس جہاں میں
کہ جو عشق نبیؐ میں کھو گئے ہیں

صفحہ 157
مچی اک دھوم عالم میں محمد مصطفیٰ آئے
ہوا تمام دین جن پر وہ ختم الانبیاء آئے
حشر کی گرمی اسے کچھ بھی ستا سکتی نہیں
جس کو سایہ مل گیا زیر لوائے مصطفیٰ
مطلع انبیاءؑ حضور کی ذات
مقطع انبیاءؑ حضور کا نام
عشق جس کو بھی مصطفیٰ سے ہے
بس وہی آشنا خدا سے ہے
دہر میں اس کو کیا کمی جس کا
رابطہ شاہ دو سرا سے ہے
ریاض خدا کا گل سرسبد محمدؐ ازل و محمدؐ ابد
محمدؐ کہ حامد بھی محمود بھی محمدؐ کہ شاہد و مشہور بھی
محمدؐ سراج و محمدؐ منیر محمدؐ بشیر و محمدؐ نذیر
محمدؐ کلیم و محمدؐ کلام محمدؐ پہ لاکھوں درود و سلام