احتساب قادیانیت جلد 2 · مولانا محمد ادریس کاندھلوی
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 2 · Maulana Idrees Kandhalvi
PDF 1
PDF 1

ردّ قادیانیت

رسائل

شیخ التفسیر والحدیث

حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلویؒ

احتساب قادیانیت

دوم

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 514122

PDF 2

احتساب قادیانیت

جلد دوم

مجموعہ رسائل

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ

مسک الختام

فی

ختم نبوت سید الانام

اور

ختم نبوت

اسلام اور مرزائیت

کا

اصولی اختلاف

شرائط نبوت

الاعلام

فی

الکشف والرؤی والالہام

القول المبین

فی

نزول ابن مریم ؑ

دعاوی مرزا

حضرت صوفیاء کرامؒ

اور

مولانا محمد قاسم نانوتویؒ

پر

مرزائیوں کا بہتان اور افترا

کلمۃ اللہ

فی

حیات روح اللہ

یعنی

حیات عیسیٰ علیہ السلام

لطائف الحکم

فی

اسرار نزول عیسیٰ ابن مریم

علیہ السلام

احسن البیان

فی

تحقیق مسئلہ العفو والایمان

(یعنی سہو گناہ ہے یا کفران؟)

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان پاکستان

PDF 3

بسم الله الرحمن الرحيم

حضوری باغ روڈ‘ ملتان ۔ فون 514122

ملنے کا پتہ :

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘ حضوری باغ روڈ‘ ملتان

PDF 4

فہرست

مرزائیوں کا بہتان اور افتراء ١٤٧

یعنی مسلمان کون اور کافر کون؟ ٤٠٣

صفحہ ٥

حرف آغاز

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حرف آغاز

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ ١٩٠٠ء میں کاندھلہ ضلع مظفر نگر میں پیدا ہوئے اور ٢٦ جولائی ١٩٧٤ء کو لاہور میں واصل الی الحق ہوئے۔ ابتدائی تعلیم خانقاہ اشرفیہ تھانہ بھون میں اور اعلیٰ تعلیم مظاہر العلوم سہارن پور اور دارالعلوم دیوبند میں حاصل کی۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، علامہ شبیر احمد عثمانیؒ، مفتی عزیز الرحمٰن عثمانیؒ اور مولانا رسول خان ہزارویؒ ایسے نابغہ روز گار آپ کے اساتذہ تھے۔ دارالعلوم دیوبند میں پڑھنا ہی باعث صد افتخار ہے، چہ جائیکہ وہاں پر پڑھانے کا کسی کو شرف حاصل ہو جائے، حضرت مولانا کاندھلوی مرحوم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ نے جن اساتذہ سے پڑھا تھا، انہی کی سرپرستی میں دارالعلوم دیوبند میں پڑھاتے بھی رہے۔ علاوہ ازیں مدرسہ امینیہ دہلی، حیدر آباد دکن، جامعہ عباسیہ بہاول پور اور جامعہ اشرفیہ لاہور ایسے مشہور عالم جامعات میں آپ شیخ التفسیر و شیخ الحدیث کے عہدہ پر فائز رہے۔

حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے آپ کو فتنہ عمیاء قادیانیت کے خلاف کام کرنے کی حضرت نے تڑپ نصیب فرمائی تھی۔ حضرت مولانا مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دارالعلوم دیوبند میں تدریس کے زمانہ میں وہ خود، حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ اور حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کو قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد پر استاذ مکرم حضرت شاہ صاحبؒ نے لگا دیا تھا اور موضوع بھی تقسیم فرما دیئے تھے۔ اس دور میں مختلف معروف زمانہ مناظروں میں بھی ان حضرات نے اپنے اکابر کی سرپرستی میں نہ صرف شرکت فرمائی بلکہ کامیابی و کامرانی سے قدرت حق نے ان کو سرفراز فرمایا۔ حضرت کاندھلویؒ اپنے استاذ حضرت شاہ صاحبؒ کی خواہش و حکم پا کر فتنہ قادیانیت

صفحہ ٦

حرف آغاز

کے خلاف ایسے صف آراء ہوئے کہ آخری عمر تک برابر اس جہاد کو جاری رکھا۔ آپ نے قادیانیت کے خلاف جو رسائل و کتب تصنیف فرمائے‘ ان میں سے بعض تو بارہا شائع ہوئے اور بعض ایک آدھ بار چھپ کر نایاب ہو گئے اور اب تو تقریباً تمام کے تمام بازار سے عنقاء ہیں۔

فقیر کی خواہش تھی کہ ان سب کو جمع کر کے ایک ”حسین گلدستہ“ کی شکل میں‘ آنے والی نسل کے لیے محفوظ کر دیا جائے تاکہ مصنفؒ کا یہ فیض جاری رہے۔ مصنف مرحوم کا ذاتی کتب خانہ و مسودہ جات لاہور کے ایک دینی ادارہ میں محفوظ ہیں۔ فقیر وہاں پر حاضر ہوا کہ شاید کوئی غیر مطبوعہ مسودہ کی نشاندہی ہو جائے یا آپ کی کتابوں میں سے کوئی نایاب کتب دیکھنے کو مل جائیں۔ اس ادارہ کے بعض ذمہ دار حضرات نے بہت زیادہ کرم اور محبت کا مظاہرہ فرمایا۔ لیکن ان کتابوں و مسودہ جات کو دیکھنے کے لیے کبھی ادھر کبھی ادھر کے صبر آزما مرحلے سے گزر کر جب اس کتب خانہ میں موجود شخصیت سے ملا۔ تو بس ”زاغوں کے تصرف میں ہیں عقابوں کے نشیمن“ والا معاملہ پایا۔ بہت مایوسی ہوئی۔ بایں ہمہ بحمدہ تعالیٰ مجھے ننانوے فیصد یقین ہے کہ حضرت مرحوم نے فتنہ قادیانیت کے خلاف جو کچھ تحریر فرمایا تھا‘ وہ تمام کا تمام اس مجموعہ میں شامل ہے جو اس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر دفتر ملتان کو یہ شرف حاصل ہے کہ قدیم و جدید رد قادیانیت کی کتب کو شایان شان طریقہ پر شائع کرنے کا ایسا ریکارڈ قائم کیا ہے جس پر جتنا رب کریم کا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ التصریح بما تواتر فی نزول المسیح۔ خاتم النبیین (فارسی و اردو ترجمہ) ھدیۃ المہدین‘ ھدایۃ الممترین عن غوایۃ المفتری۔ رئیس قادیان۔ شہادۃ القرآن‘ کلمہ فضل رحمانی۔ مرزائی نامہ اور دیگر کتب کی اشاعت کے علاوہ ابھی حال ہی میں قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ از پروفیسر الیاس برنی مرحوم کا جدید حوالہ جات کی تخریج کر کے کمپیوٹر پر اسے شائع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ مناظر اسلام مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ کے قادیانیت پر رسائل کا عرصہ ہوا مجموعہ شائع کیا تھا۔ ابھی مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کے رد قادیانیت پر رسائل کے مجموعہ کے حوالہ جات

صفحہ ٧

حرف آغاز

کی تخریج کر کے دوسری بار شائع کیا ہے۔ بحمدہ تعالیٰ حضرت حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم کے رسائل و مقالہ جات کے مجموعہ کی ”تحفہ قادیانیت“ کے نام سے تین جلدیں شائع ہو چکی ہیں اور اب یہ مجموعہ پیش خدمت ہے۔ یوں تو حضرت کاندھلوی مرحوم کی شاید ہی کوئی تصنیف ہو جس میں قادیانیت کے خلاف کچھ نہ کچھ آپ نے تحریر نہ فرمایا ہو لیکن اس عنوان پر مستقل آپ کے دس رسائل و کتب ہیں جن کے نام یہ ہیں۔

(١) مسک الختام فی ختم نبوت سید الانام المعروف ختم نبوت۔ (٢) شرائط نبوت (٣) حضرات صوفیاء کرام اور مولانا محمد قاسم نانوتوی پر مرزائیوں کا بہتان و افتراء (٤) الاعلام بمعنی الکشف والوحی والالہام (٥) کلمتہ اللہ فی حیات روح اللہ المعروف حیات عیسیٰ علیہ السلام (٦) القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام (٧) لطائف الحکم فی اسرار نزول عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام (٨) اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف۔ (٩) دعاوی مرزا (١٠) احسن البیان فی تحقیق مسئلۃ الکفر و الایمان۔ یعنی مسلمان کون ہے اور کافر کون؟ بحمدہ تعالیٰ یہ تمام کے تمام اس مجموعہ میں شامل ہیں۔

حضرت مرحوم نے قادیانی کتب کے حوالہ جات نقل کرنے میں بعض جگہ کتاب کا نام درج فرمایا، صفحات کا ذکر نہیں فرمایا تھا۔ بعض جگہ حوالہ کا مفہوم نقل فرما دیا۔ اور بعض جگہ ”عیان را چہ بیان“ کے تحت حوالہ ہی نہیں دیا۔ بعض مقامات پر مختلف عبارتوں کے اقتباس نقل کر دیئے جو بظاہر ایک کتاب کا حوالہ معلوم ہوتا تھا (لیکن بحمدہ تعالیٰ ایک حوالہ بھی ایسا نہیں تھا جو موجود نہ ہو) اور اب اس عنوان پر کام کرنے والوں کو ایک نئی مشکل یہ پیش آتی ہے کہ قادیانی کتب کے جدید ایڈیشنوں کے صفحات کا قدیم ایڈیشنوں کے صفحات سے زمین آسمان کا اتنا فرق ہے۔ جتنا کفر مرزا اور اسلام کا۔ اس لیے ضرورت محسوس ہوئی کہ ان تمام حوالہ جات کو لفظاً لفظاً پڑھ کر ان تمام متذکرہ امور کی تلافی کر دی جائے۔ اللہ رب العزت کے فضل و احسان سے ایسے ہو گیا ہے۔ اب یہ اس موضوع پر ایک بالکل کامل و مکمل دستاویز تیار ہو گئی ہے۔

صفحہ ٨

حرف آغاز

تفسیر و حدیث اور دیگر دینی کتب کے حوالہ جات کو چیک کرنے کی فقیر میں نہ صلاحیت ہے اور نہ ہی حضرت مرحوم کے ان حوالہ جات کو چیک کرنے کی ضرورت سمجھتا ہوں۔ قادیانی کتب کے حوالہ جات کی تلاش میں برادر عزیز مولانا قاضی احسان احمد صاحب (ٹوبہ) اور فوٹو سٹیٹ کرنے کے سلسلہ میں برادر عزیز قاری حفیظ اللہ نے معاونت کی۔ کتاب مکمل کر کے برادرم مکرم محمد متین خالد کو بھجوائی حسب سابق آپ نے بھرپور محنت کر کے اس کے باقی ماندہ مراحل مکمل کئے، اللہ رب العزت ان تمام حضرات کو جزائے خیر نصیب فرمائیں۔ (آمین) امیر مرکزیہ خواجہ خواجگان حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم اور حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ العالی نے اس مجموعہ کو شائع کرنے کی نہ صرف اجازت مرحمت فرمائی بلکہ اس پر بھرپور خوشی و انبساط کا اظہار بھی فرمایا۔ انہی اکابر کی دعاؤں سے یہ کام مکمل ہوا ہے۔ حق تعالیٰ اس حقیر محنت کو شرف قبولیت سے نوازیں۔ آمین بحرمتہ النبی الامین الکریم۔

طالب دعا فقیر اللہ وسایا ملتان ٢٤۔١٠۔ ١٤١٧ھ ٤۔٣۔ ١٩٩٧ء

PDF 9

مسک الختام

فی

ختمِ نبوت سیّد الانام

المعروف

ختم نبوّت

صفحہ ١٠

ختم نبوت

تمہید

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ رب العلمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ والسلام علیٰ سیدنا و مولانا و شفیعنا و حبیبنا محمد خاتم الانبیاء و المرسلین وعلیٰ الہ واصحابہ وازواجہ و ذریاتہ اجمعین و علینا معہم یا ارحم الراحمین ط

اما بعد : بندۂ نابکار و گنہ گار محمد ادریس کاندھلوی کان اللہ لہ و کان ہو للہ (آمین) اہل اسلام کی خدمت میں عرض پرداز ہے کہ ختم نبوت کا عقیدہ ان اجماعی عقائد میں سے ہے کہ جو اسلام کے اصول اور ضروریات دین میں شمار کئے گئے ہیں اور عہد نبوت سے لیکر اس وقت تک ہر مسلمان اس پر ایمان رکھتا آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ بلا کسی تاویل اور تخصیص کے خاتم النبیین ہیں اور یہ مسئلہ قرآن کریم کی صریح آیات اور احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ جس کا منکر قطعاً کافر مانا گیا ہے اور کوئی تاویل و تخصیص اس بارہ میں قبول نہیں کی گئی۔

امت محمدیہؐ میں سب سے پہلا اجماع جو ہوا وہ اسی مسئلہ پر ہوا کہ مدعی نبوت قتل کیا جائے۔ نبی اکرم ﷺ کے اخیر زمانہ میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ صدیق اکبر ؓ نے خلافت کے بعد سب سے پہلا کام جو کیا وہ یہ تھا کہ مسیلمہ کذاب کے قتل اور اس کی امت کے مقابلہ اور مقاتلہ کے لیے خالد بن ولید ؓ سیف اللہ کی سرکردگی میں صحابہ کرام ؓ کا ایک لشکر روانہ کیا۔ اس بارے میں نہ

صفحہ ١١

ختم نبوت

کسی نے تردد کیا اور نہ کسی نے یہ سوال کیا کہ مسیلمہ کس قسم کی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ مستقل نبوت کا مدعی ہے یا ظلی اور بروزی نبوت کا مدعی ہے اور نہ کسی نے مسیلمہ سے اس کی نبوت کے دلائل و براہین پوچھے اور نہ معجزات کا مطالبہ کیا۔ صحابہ کرامؓ کا لشکر مسیلمہ کذاب سے جہاد کے لیے یمامہ روانہ ہوا۔ اس مقابلہ اور معرکہ میں جو لوگ مسیلمہ کے ساتھ میدان کارزار میں آئے تھے ان کی تعداد چالیس ہزار مسلح جوانوں کی تھی جن میں سے اٹھائیس ہزار مارے گئے اور مسیلمہ بھی مارا گیا۔ باقی ماندہ لوگوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ خالد بن ولیدؓ بہت سا مال غنیمت لے کر مظفر و منصور مدینہ واپس آئے۔

یہاں ایک امر قابل غور ہے وہ یہ کہ صدیق اکبرؓ نے اس نازک وقت میں مدعی نبوت اور اس کی امت سے جہاد و قتال کو یہود اور نصاریٰ اور مشرکین سے جہاد و قتال پر مقدم سمجھا۔ جس سے معلوم ہوا کہ مدعی نبوت اور اس کی امت کا کفر یہود اور نصاریٰ اور مشرکین کے کفر سے بڑھا ہوا ہے۔ عام کفار سے صلح ہوسکتی ہے ان سے جزیہ قبول کیا جاسکتا ہے مگر مدعی نبوت سے نہ کوئی صلح ہوسکتی ہے اور نہ اس سے کوئی جزیہ قبول کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت اگر آج کل جیسے سیاسی لوگ ہوتے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ کو مشورہ دیتے کہ باہمی تفرقہ مناسب نہیں۔ مسیلمہ کذاب اور اس کی امت کو ساتھ لے کر یہود اور نصاریٰ کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ حضرت مولانا شاہ سید محمد انور کشمیری قدس اللہ سرہ فرمایا کرتے تھے کہ مسیلمہ کذاب اور مسیلمہ پنجاب کا کفر فرعون کے کفر سے بڑھ کر ہے۔ اس لیے کہ فرعون مدعی الوہیت تھا اور الوہیت میں کوئی التباس اور اشتباہ نہیں، ادنیٰ عقل والا سمجھ سکتا ہے کہ جو شخص کھاتا اور پیتا اور سوتا اور جاگتا اور ضروریات انسانی میں مبتلا ہوتا ہے وہ خدا کہاں ہوسکتا ہے؟ مسیلمہ مدعی نبوت تھا اور انبیاء کرام جنس بشر سے تھے اس لیے ظاہری بشریت کے اعتبار سے سچے نبی اور جھوٹے نبی میں التباس ہوسکتا ہے اس لیے مدعی نبوت کا فتنہ مدعی الوہیت کے فتنہ سے کہیں اہم اور اعظم ہے اور ہر زمانہ میں خلفاء اور سلاطین اسلام کا یہی معمول رہا کہ جس نے نبوت کا

صفحہ ١٢

ختم نبوت

دعویٰ کیا اسی وقت اس کا سر قلم کیا۔ اہل حق نے اس فتنہ کے استیصال کے لیے جو سعی اور جدوجہد ممکن تھی اس میں دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ صدیق اکبر ؓ کی طرح مدعی نبوت سے جہاد بالسیف و السنان تو ارباب حکومت کا کام ہے اور جہاد قلمی اور لسانی یہ علماء حق کا کام ہے۔ سو الحمد للہ علماء نے اس جہاد میں کوئی کوتاہی نہیں کی، تقریر اور تحریر سے ہر طرح سے مدعی نبوت کا مقابلہ کیا۔ مسلمانوں کی اب دلی تمنائیں اور دعائیں یہ ہیں کہ اے پروردگار تو نے اپنی رحمت سے یہ اسلامی حکومت (پاکستان) عطا فرمائی۔ اب ہم کو کوئی ایسا امیر عطا فرما کہ جو ابوبکر صدیق ؓ کی طرح پاکستان کو مسیلمہ قادیان اور اسود ہندی کے فتنہ سے پاک فرمادے۔ آمین ثم آمین۔ کوئی امیر اس سنت کو زندہ تو کر کے دیکھے انشاء اللہ ثم انشاء اللہ ابوبکرؓ کی طرح دنیا ہی میں اپنی آنکھوں سے عزت ہی عزت دیکھے گا اور آخرت کی عزتیں اس کے سوا ہیں جو وہم و گماں سے بھی بالا اور برتر ہیں۔

ختم نبوت کے موضوع پر علماء نے بہت سی مختصر اور مفصل کتابیں تحریر فرمائیں جس میں سب سے زیادہ مفصل اور جامع اور محکم کتاب مخدوم و مکرم محب محترم مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندی سابق مفتی دارالعلوم دیوبند کی تالیف لطیف ہے جس کے تین حصے ہیں۔ (١) ختم النبوۃ فی القرآن، (٢) ختم النبوۃ فی الحدیث (٣) ختم النبوۃ فی الاثار۔ تمام مسلمانوں سے میری استدعا ہے کہ اس کتاب کو ضرور دیکھیں نہایت جامع اور مفید کتاب ہے۔

ہر زمانہ میں علماء کا طریق رہا ہے کہ ایک ہی موضوع پر ہر عالم اپنے اپنے علم کے مطابق کتاب تالیف کرتا رہا اور ہر ایک نے بارگاہ خداوندی سے علیٰ حسب المراتب اجر حاصل کیا۔ حضرات اہل علم متون حدیث اور شروح حدیث اور کتب تفاسیر پر ایک اجمالی نظر ڈالیں بلاشبہ سب کی سب ۔

عباراتنا شتی و حسنک واحد
و کل الی ذاک الجمال یشیر
صفحہ ١٣

ختم نبوت

(ہماری عبارتیں مختلف ہیں اور تیرا حسن ایک ہے، مگر ہر عبارت اس حسن و جمال کی طرف اشارہ کرتی ہے۔) کا مصداق ہیں۔

ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است

اس لیے اس ناچیز نے ارادہ کیا کہ جو جماعت اس وقت مدعی نبوت اور اس کی امت سے جہاد لسانی اور قلمی میں مصروف ہے اس ناچیز کا شکستہ قلم بھی اس جماعت کے ساتھ اس میدان میں پہنچ جائے۔

مجاہدین کی معیت موجب صد خیر و برکت اور باعث نزول رحمت ہے خصوصاً جب کہ یہ ناچیز نسباً والد محترم کی جانب سے صدیقی اور والدہ مکرمہ کی جانب سے فاروقی ہے اس لیے اس خیال نے اور بھی قلب کو ختم نبوت کے موضوع پر قلم اٹھانے کے لیے جوش دلایا حق تعالیٰ شانہ کی توفیق اور تیسیر کی دست گیری سے یہ ایک مختصر رسالہ لکھا جس میں ایک خاص التزام کیا وہ یہ کہ ختم نبوت کے دلائل میں آیات اور احادیث دونوں کو ساتھ ملا کر بیان کیا ہے اس لیے کہ بسا اوقات قرآن کریم میں کسی شے کی طرف اجمالی اشارہ ہوتا ہے جس پر بسا اوقات تنبہ نہیں ہوتا اور حدیث میں اس کی تفصیل ہوتی ہے اس لیے دلائل کے سلسلے میں پہلے آیت کو نقل کیا جس میں ختم نبوت کی طرف اجمالی اشارہ تھا اور اس کے بعد متصلاً حدیث شریف کو ذکر کیا جس میں اس اجمالی اشارہ کی توضیح اور تشریح تھی اب آیت اور حدیث کے یکجا ہو جانے سے اہل علم اور اہل فہم کو تنبہ ہو جائے گا۔ کہ یہ آیت کس طرح ختم نبوت کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور نیز آیت اور حدیث کے یکجا ہونے سے ناظرین پر یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ حدیث کس طرح قرآن کریم کی تفسیر ہے۔ حق جل شانہ کا ارشاد ہے۔

وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیہم

”اور ہم نے آپؐ پر قرآن نازل کیا تاکہ آپؐ لوگوں کے لیے اس کی توضیح اور تفسیر فرمائیں۔“

صفحہ ١٤

ختم نبوت

شیخ محی الدین بن عربیؒ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم اگرچہ عرب کی زبان میں اترا لیکن رسول کے بیان کی ضرورت اس لیے ہوئی کہ ہر کلام میں کچھ نہ کچھ اجمال ضرور ہوتا ہے اسی وجہ سے کتابوں کی شرح اور ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کی ضرورت ہوئی اس لیے حق تعالیٰ نے فقط کتب الہیہ اور صحف سماویہ کے اتارنے پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ انبیاء کے بیان اور تفسیر کو بھی ان کے ساتھ ملایا۔ پس حضرات انبیاء علیہم السلام کتاب الہی کے مجملات کی تفصیل اور بیان میں حق تعالیٰ شانہ کے قائم مقام ہیں۔ (کذا فی الیواقیت و الجواہر جلد ٢ صفحہ ٣٢ مبحث ٣٣۔)

لہٰذا آیت کی سب سے زیادہ مستند اور معتبر تفسیر وہی ہوگی جو آنحضرت ﷺ سے مروی ہوگی یہ کیسے ممکن ہے کہ جس پر آیت کا نزول ہو وہ تو آیت کے معنی نہ سمجھے اور قادیان کا ایک دہقان کہ جو بدعقل اور بدفہم ہونے کے علاوہ عربی زبان سے بھی کما حقہ واقف نہ ہو وہ آیت کا مطلب سمجھ جائے۔ نبی عربی ﷺ کے صحابہ کرامؓ تو آیت کا مطلب نہ سمجھیں اور متنبی قادیان کے کوٹ پتلون والے صحابہ آیت کا صحیح مطلب سمجھ جائیں۔

حضرت الاستاذ مولانا شاہ السید محمد انور قدس اللہ سرہ نے وفات سے چند روز پیشتر فارسی زبان میں ایک مختصر رسالہ خاتم النبیین ﷺ کے نام سے تحریر فرمایا جس میں آیت خاتم النبیین کی تفسیر فرمائی اور عجیب تفسیر فرمائی۔ ناچیز نے اس رسالہ کے لطائف اور معارف اپنی اس تالیف میں لے لیے ہیں۔ اور مسک الختام فی ختم النبوۃ علی سیدالانام علیہ افضل الصلوٰۃ والسلام اس کا نام رکھا ہے۔

حق تعالیٰ شانہ سے ملتجی ہوں کہ وہ اس تالیف کو قبول فرمائے ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم ۝ و تب علینا انک انت التواب الرحیم ۝

صفحہ ١٥

ختم نبوت

دلیل اول

قال الله عز وجل ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله و خاتم النبیین ط و کان الله بکل شیی علیما ۝ ترجمہ : محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن اللہ کے رسول اور سب پیغمبروں کی مہر یعنی آخری نبی ہیں اور ہے اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا۔

شان نزول

زمانہ جاہلیت سے عرب میں یہ رسم چلی آتی تھی کہ متبنیٰ یعنی منہ بولے بیٹے کو حقیقی اور نسبی بیٹے کے بمنزلہ سمجھتے تھے کہ جس طرح حقیقی بیٹے کے مر جانے یا طلاق دینے کے بعد باپ کے لیے بیٹے کی بیوی سے نکاح حرام ہے اسی طرح متبنیٰ کے مر جانے یا اس کے طلاق دینے کے بعد متبنیٰ کی بیوی سے باپ کے لیے نکاح حرام ہے۔

زیدؓ بن حارثہ جو اصل میں شریف النسب تھے بچپن میں کوئی ظالم ان کو پکڑ کر لے گیا اور غلام بنا کر ان کو مکہ مکرمہ کے بازار میں فروخت کر گیا۔ حضرت خدیجہؓ نے زیدؓ کو خرید لیا اور کچھ روز بعد آنحضرت ﷺ کو ہبہ کر دیا۔ جب ہوشیار ہو گئے اور تجارتی سفر کے سلسلے میں اپنے وطن کے قریب سے گزرے تو بعض اقارب کو پتہ چلا بالآخر ان کے والد اور ان کے بھائی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ معاوضہ لے کر زیدؓ کو ہمارے حوالے کر دیا

صفحہ ١٦

ختم نبوت

جائے آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ معاوضہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر خوشی سے تمہارے ساتھ جانا چاہے تو میری جانب سے بالکل اجازت ہے۔ باپ اور چچا نے زید سے دریافت کیا۔ زیدؓ نے کہا میں آپ ﷺ سے جدا ہونا نہیں چاہتا۔ سبحان اللہ۔

اسیرش نخواہد رہائی زبند
شکارش نجوید خلاص از کمند

آپؐ مجھے اولاد سے بڑھ کر عزیز رکھتے ہیں اور باپ سے زیادہ مجھ سے محبت فرماتے ہیں۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے زیدؓ کو آزاد کر دیا اور اپنا متبنٰی بنا لیا۔ عرب کے دستور کے مطابق تمام لوگ زیدؓ کو ’زیدؓ بن محمدؐ‘ کہہ کر پکارنے لگے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:

وما جعل ادعیاءکم ابناءکم ذلکم قولکم بافواہکم واللہ یقول الحق و ہو یہدی السبیل ادعوہم لابائہم ہو اقسط عند اللہ ط

”اور نہیں بنایا اللہ نے تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے، یہ محض تمہاری بات ہے جو اپنے منہ سے کہتے ہو اللہ ہی حق کہتا ہے اور وہی سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔ لے پالکوں کو ان کے باپ کی طرف نسبت کر کے پکارا کرو اللہ کے نزدیک یہی ٹھیک انصاف ہے۔

اس آیت کے نازل ہونے کے بعد صحابہؓ نے ان کو زیدؓ بن محمدؐ کہنا چھوڑ دیا۔ زیدؓ بن حارثہ کہنے لگے۔ بعدازاں حضرت زیدؓ کا نکاح آنحضرت ﷺ کی پھوپھی زاد بہن حضرت زینبؓ سے ہوا۔ مگر جب کسی طرح موافقت نہ ہوئی تو حضرت زیدؓ نے حضرت زینبؓ کو طلاق دے دی۔ حضرت زیدؓ کے طلاق دینے کے بعد آنحضرت ﷺ نے بحکم خداوندی حضرت زینبؓ سے نکاح فرمایا تاکہ جاہلیت کی رسم ٹوٹے اور لوگوں کو یہ مسئلہ معلوم ہو جائے کہ متبنٰی کی بیویوں سے نکاح حلال ہے اور آئندہ کسی مسلمان کو اس میں کسی قسم کا انقباض خاطر نہ رہے۔

آپ ﷺ کا نکاح فرمانا تھا کہ جاہلوں اور منافقوں نے طعن شروع کیا

صفحہ ١٧

ختم نبوت

کہ اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کر لیا۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔

ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبین ط وکان اللہ بکل شئ علیما O

جس میں ان کے طعن کا جواب دیا گیا کہ محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے نسبی اور حقیقی باپ نہیں، کہ وہ شخص آپؐ کا نسبی اور صلبی بیٹا ہو اور اس کی بیوی سے آپؐ کا نکاح حرام ہو اور قاسم اور طیب و طاہر اور ابراہیم بچپن میں ہی وفات پا گئے ان کے بڑے ہونے کی نوبت نہیں آئی کہ ان کو رجل یعنی مرد کہا جاتا اس لیے آیت شریفہ میں من رجالکم فرمایا اور من ذکرکم یا من ابناءکم یا من اولادکم نہیں فرمایا۔ لہٰذا جب زیدؓ آپ ﷺ کے نسبی بیٹے نہ ہوئے تو ان کی مطلقہ سے بلاشبہ نکاح جائز ہو گا اور اس پر طعن کرنا سراسر نادانی ہو گی۔ غرض یہ کہ آپ ﷺ نسبی حیثیت سے کسی کے باپ نہیں لیکن روحانی حیثیت سے آپ ﷺ سب ہی کے باپ ہیں اس لیے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور رسول امت کا روحانی باپ ہوتا ہے جیسا کہ ایک قرات میں ہے وازواجہ امھاتہم وہو اب لہم اور اس اعتبار سے سب آپ ﷺ کے روحانی بیٹے ہیں اور اس روحانی ابوت میں آپ تمام پیغمبروں سے بہتر اور برتر ہیں۔ اس لیے کہ آپؐ تمام نبیوں کی مہر اور آخری پیغمبر ہیں قیامت تک آپؐ کی نبوت اور آپؐ ہی کی روحانی ابوت کا دور دورہ رہے گا۔ یہ ہرگز نہ ہو گا کہ آپؐ کے بعد اور کوئی نبی مبعوث ہو اور امت آپؐ کے ظل عاطفت سے نکل کر اس جدید نبی کی زیر ابوت اور زیر تربیت آجائے۔ ظاہری حیثیت سے اگرچہ حضرت آدمؑ پہلے نبی اور پہلے رسول ہیں مگر روحانی اور نورانی حیثیت سے آنحضرت ﷺ ہی سب سے پہلے نبی اور سب سے پہلے رسول ہیں۔ سب سے پہلے آپؐ ہی کا نور پیدا ہوا۔ آدم علیہ السلام کا ابھی خمیر ہی تیار ہو رہا تھا کہ روحانی طور پر آپؐ نبی ہو چکے تھے۔ غرضیکہ روحانی طور پر تو آپؐ پہلے روحانی باپ ہیں اور ظاہری طور پر آپؐ ہی تمام عالم کے لیے قیامت تک روحانی باپ ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کی مصلحت کو خوب

صفحہ ١٨

ختم نبوت

جانتا ہے جو حکم دیتا ہے وہ سراسر حکمت اور مصلحت ہی ہوتا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اخیر زمانے میں امتی ہونے کی حیثیت سے آئیں گے ان کی آمد نبی ہونے کی حیثیت سے نہ ہو گی۔ تمام عمل درآمد شریعت محمدیہ ہی پر ہو گا۔ شریعت عیسویہ پر عمل نہ ہو گا بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا علامت اس بات کی ہے کہ انبیا کے تمام افراد و اشخاص ختم ہو چکے اس لیے پہلے نبی کو لانا پڑا۔ اس آیت شریفہ کا مقصود اس امر کا اعلان کرنا ہے کہ نبوت آپ ﷺ پر ختم ہو گئی۔ گذشتہ زمانہ میں یکے بعد دیگرے انبیا آتے رہے مگر آپؐ کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا اور جس آخری نبیؐ کی انبیاء کرام پیشین گوئی کرتے آئے اور لوگ اس آخری نبیؐ کے منتظر رہے اس آیت میں اس کا اعلان کر دیا گیا کہ وہ آخری نبیؐ جس کا انتظار تھا وہ آچکا اب اس کے بعد کوئی نبی منتظر نہیں رہا یہی وہ آخری نبی ہیں جن کا لوگوں کو انتظار تھا۔

قرآن کریم نے جابجا یکے بعد دیگرے انبیا کے آنے کی اور سلسلہ نبوت کے جاری رہنے کی اور یکے بعد دیگرے انبیا و رسل کے آنے کی اطلاع دی ہے مگر آنحضرت ﷺ پر آکر ختم نبوت کا اعلان فرما دیا۔ اگر حضور ﷺ کے بعد بھی سلسلہ نبوت کا جاری ہونا تو ختم نبوت کے اعلان کی بجائے بقاء نبوت کی اطلاع دی جاتی اور یہ بتلایا جاتا کہ انبیا سابقین کی طرح آپؐ کے بعد بھی انبیا و رسل آئیں گے بلکہ قرآن اور حدیث نے یہ اعلان کر دیا کہ آپؐ آخری نبی ہیں اور آپؐ کی امت آخری امت ہے۔

خلاصہ کلام

یہ کہ آپؐ کسی کے جسمانی باپ نہیں بلکہ روحانی باپ ہیں اور روحانی باپ کسی ایک دو کے نہیں بلکہ تمام عالم کے روحانی باپ ہیں اور نکاح کی حلت و حرمت کا دار و مدار جسمانی ابوت پر ہے۔ روحانی ابوت پر نہیں۔ روحانی ابوت پر عظمت و حرمت و شفقت و عنایت کے احکام مرتب ہوتے ہیں۔ مثلاً استاذ اور پیر روحانی باپ ہیں اور شاگرد اور مرید روحانی بیٹا ہے مگر نکاح کی حلت و حرمت کے احکام یہاں

صفحہ ١٩

ختم نبوت

جاری نہیں ہوتے۔

آیت مذکورہ کے پہلے جملہ میں ابوت جسمانیہ کی نفی فرمائی اور دوسرے جملہ میں یعنی ولکن رسول اللہ میں ایک شبہ کا ازالہ فرمایا جو پہلے جملہ سے پیدا ہوتا تھا وہ یہ کہ ابوت کی نفی سے شفقت کی نفی کا شبہ ہوتا تھا کہ شاید جب ابوت منتفی ہو گئی تو شفقت پدری جو ابوت کا خاصہ لازمہ ہے۔ وہ بھی منتفی ہو جائے تو ارشاد فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کو تمہارے ساتھ جسمانی ابوت کا علاقہ نہیں لیکن علاقہ نبوت و رسالت ہے اور رسول امت کا روحانی باپ ہوتا ہے جو شفقت اور عنایت میں جسمانی باپ سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے اور چونکہ بیٹا باپ کا وارث ہوتا ہے اس لیے اثبات ابوت توریث نبوت کو موہم تھی اس لیے شبہ کے ازالہ کے لیے وخاتم النبیین کا لفظ بڑھایا کہ امت اگرچہ آپؐ کی روحانی اولاد ہے مگر منصب نبوت کی وارث نہ ہوگی۔ منصب نبوت آپؐ پر ختم ہو گیا۔ امت میں کوئی شخص بھی قیامت تک اس منصب کا وارث نہ ہو گا۔ البتہ امت کے علماء و صلحاء کمالات نبوت کے وارث ہوں گے مگر منصب نبوت کا کوئی وارث نہ ہو گا۔ نبوت اور رسالت ختم ہو چکی، قیامت تک یہ منصب کسی کو نہیں دیا جائے گا۔ یا یوں کہو کہ آپ ﷺ کی کمال شفقت بیان کرنے کے لیے یہ لفظ بڑھایا گیا کہ ہر نبی اپنی امت پر شفیق اور مہربان ہوتا ہے مگر آپؐ شفقت میں سب سے بڑھے ہوئے ہیں اس لیے کہ گذشتہ انبیاء کرام کو یہ توقع تھی کہ ہم سے اگر کوئی چیز رہ جائے گی۔ تو بعد میں آنے والے نبی اس کی تکمیل کر دیں گے مگر آخری نبی کو یہ توقع نہیں ہو سکتی اس لیے وہ اپنی امت کو وعظ اور نصیحت اور ارشاد اور تلقین میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھے گا۔ آپؐ کی مثال اس باپ کی سی ہے کہ جس کی اولاد کے لیے اس کے بعد کوئی نگراں اور خبر گیراں نہ ہو۔ چنانچہ حضور اکرم ﷺ جب دنیا سے رخصت ہوئے تو امت کے لیے ایسی کامل اور مکمل شریعت چھوڑی کہ اب اس کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہیں رہی اس لیے کہ جب آپؐ کی شریعت موجود ہے تو گویا آپؐ خود بہ نفس نفیس موجود ہیں اور حضور ﷺ کے ہوتے ہوئے نبوت کا دعویٰ بے حیائی اور

صفحہ ٢٠

ختم نبوت

ڈھٹائی ہے۔

آیت مذکورہ کی تفسیر

آیت مذکورہ کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے چند امور کا سمجھنا ضروری ہے ایک خاتم کے معنی، دوم نبی اور رسول میں فرق، سوم النبین میں الف لام کس قسم کا ہے؟

امر اول

خاتم بالفتح اور خاتم بالکسر متعدد معنی کے لیے مستعمل ہوتا ہے نگینہ، انگشتری، مہر، آخر قوم، لیکن ائمہ لغت نے اور علماء عربیت نے تصریح کی ہے کہ لفظ خاتم جب کسی قوم یا جماعت کی طرف مضاف ہو گا تو اس کے معنی صرف آخر اور ختم کرنے والے کے ہوں گے۔ لہٰذا آیت مذکورہ میں چونکہ خاتم کی اضافت نبیین کی طرف ہو رہی ہے اس لیے اس کے معنی آخر النبیین اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے کے ہوں گے۔

اور خاتم کا مادہ ختم ہے، جس کے معنی ختم کرنے اور مہر لگانے کے آتے ہیں اور مہر لگانے کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ کسی شے کو اس طرح بند کیا جائے کہ اندر کی چیز باہر نہ آسکے اور باہر کی چیز اندر نہ جاسکے۔ کماقال تعالیٰ ختم اللہ علی قلوبہم اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی کہ کفر اندر بند ہو گیا کہ اب اندر سے باہر نہیں نکل سکتا اور باہر سے کوئی ہدایت اندر نہیں جاسکتی اور مہر چونکہ سب سے اخیر میں لگتی ہے اس لیے یہ لفظ اختتام اور انتہا پر دلالت کے لیے ضرب المثل بن گیا ہے کما قال تعالیٰ یسقون من رحیق مختوم ختمہ مسک یعنی اہل جنت کو جو شراب دی جائے گی وہ سربمہر ہو گی، کہ اندر کی خوشبو اور لطافت باہر نہیں آسکے گی اور باہر سے کوئی چیز اس کے اندر نہیں ہو سکے گی کہ اس کی لطافت میں کمی آجائے۔ متنبی کہتا ہے۔

لروح و قد ختمت علی فوادی
صفحہ ٢١

ختم نبوت

بحبک ان یحل بہ سواکا

میں اس حال میں چلتا ہوں کہ تو نے میرے دل پر اپنی محبت کی ایسی مہر لگا دی ہے کہ اندر سے تو تیری محبت باہر نہیں نکل سکتی اور باہر سے کسی اور کی محبت اندر داخل نہیں ہو سکتی۔ اس آیت میں دو قرأتیں ہیں ایک خاتم بالکسر کی اور ایک خاتم بالفتح کی۔ فرق اتنا ہے کہ خاتم بالکسر صیغہ اسم فاعل ہے بمعنی ختم کرنے والا اور خاتم بالفتح اسم ہے بمعنی آخر اور مہر اور حاصل دونوں قرأتوں کا ایک ہے وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ کا وجود باجود انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام کو ختم کرنے والا، اور سلسلہ نبوت پر مہر کرنے والا ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی اس سلسلہ میں داخل نہیں ہو سکتا اور آپ ﷺ سے پہلے جو سلسلہ نبوت میں داخل ہو چکا وہ اس سلسلہ سے نکل نہیں سکتا۔ جاننا چاہیے کہ ختم کا مفہوم، قبل کے امتداد کو مقتضی ہے اور لفظ انقطاع عام ہے اس میں ماقبل کا امتداد شرط نہیں اس لیے خاتم کی اضافت اشخاص کی طرف مناسب ہوئی اور انقطاع کی اسناد وصف نبوت و رسالت کی طرف مناسب ہوئی۔ اور جب یہ معلوم ہو گیا کہ ختم کا تعلق ماقبل کے ساتھ ہوتا ہے تو آپؐ کی خاتمیت کا تعلق انبیاء سابقین کے ساتھ ہو گا نہ کہ انبیاء لاحقین کے ساتھ۔ اس لیے آپؐ کی سیادت کا ظہور لیلۃ المعراج میں حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے اجتماع کے بعد ہوا۔ اور اسی طرح قیامت کے دن آپ ﷺ کی سیادت اور خاتمیت کا ظہور اس طرح ہو گا کہ تمام اولین و آخرین جمع ہوں گے اور سلسلہ شفاعت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم ہو گا۔ شب معراج اور روز قیامت میں انہیں انبیاء کا ذکر ہے جو آپؐ سے پہلے مبعوث ہوئے۔ آپؐ کے بعد مبعوث ہونے والے نبی کا کہیں نام و نشان نہیں۔

قال ابن عباسؓ یرید لو لم اختم النبیین لجعلت لہ ابنا یکون بعدہ نبیا وروى عن عطاء ان اللّٰہ، لما حکم ان لا نبی بعدہ لم یعطہ ولدا ذکرا یصیر رجلا

(کذا فی المعالم)

صفحہ ٢٢

ختم نبوت

ترجمہ = ابن عباس فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ اگر میں آپؐ پر انبیاء کے سلسلہ کو ختم نہ کرتا تو آپؐ کو بیٹا عطا کرتا کہ جو آپؐ کے بعد نبی ہوتا عطاءؒ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ فیصلہ فرما دیا کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا تو آپؐ کو کوئی ایسا لڑکا نہیں دیا جو آئندہ چل کر مرد بنے۔

امر دوم

نبی اور رسول میں فرق

جمہور علماء کا قول یہ ہے کہ نبی عام ہے اور رسول خاص۔ اصطلاح شریعت میں رسول اس کو کہتے ہیں کہ جو اللہ کی طرف سے جدید کتاب یا جدید شریعت لے کر آیا ہو اور نبی وہ ہے جو بذریعہ وحی احکام خداوندی کی تبلیغ کرتا ہو۔ نبی کے لیے جدید کتاب اور جدید شریعت کا ہونا شرط نہیں کما قال اللہ تعالیٰ انا انزلنا التوراۃ فیھا ھدی ونور یحکم بھا النبیون یہ آیت انبیاء بنی اسرائیل کے بارے میں اتری کہ جو توریت اور شریعت موسویہ کے مطابق حکم دیتے تھے۔ نبی تھے مگر ان کے پاس نہ کوئی مستقل کتاب تھی اور نہ مستقل شریعت۔ خلاصہ یہ کہ رسول خاص ہے اور نبی عام ہے اور آیت میں لفظ خاتم النبیین کا ہے خاتم المرسلین کا نہیں۔ حالانکہ ظاہر کلام کا مقتضیٰ یہ تھا کہ خاتم المرسلین فرماتے اس لیے کہ ولکن رسول اللہ کے بعد وخاتم المرسلین بظاہر زیادہ مناسب تھا‘ لیکن بجائے لفظ خاص (یعنی بجائے رسول) کے لفظ عام استعمال فرمایا یعنی خاتم النبیین فرمایا تاکہ معلوم ہو جائے کہ آپؐ مطلقاً تمام انبیاء کے خاتم ہیں اور آپؐ پر مطلقاً نبوت ختم ہو گئی۔ مستقلہ ہو یا غیر مستقلہ‘ تشریعیہ ہو یا غیر تشریعیہ اور جب نبوت ختم ہو گئی تو رسالت کا ختم ہونا بدرجہ اولیٰ معلوم ہو گیا اس لیے کہ عام کی نفی خاص کی نفی کو مستلزم ہے۔

صفحہ ٢٣

ختم نبوت

امر سوم

النبیین میں الف لام استغراق کا ہے اس لیے کہ علماء عربیت کی تصریح ہے کہ جو الف لام جمع پر داخل ہو وہ استغراق کے لیے ہوتا ہے۔ کماقال ابوالبقاء

فی کلیاته ص ٥٦٢)

قال عامة اهل الاصول والعربية لام التعريف سواء دخلت على المفرد اوالجمع تفيد الاستغراق الا اذا كان معهودا۔

ترجمہ = جمہور علماء اصول اور علماء عربیت یہ کہتے ہیں کہ الف لام تعریف کا خواہ مفرد پر داخل ہو یا جمع پر مفید استغراق ہوتا ہے الا یہ کہ کوئی خاص معہود اور معین مراد ہو۔

اور جس شخص کو خدا تعالیٰ نے ذرا بھی عقل سے حصہ عطا فرمایا ہے۔ وہ سمجھ سکتا ہے کہ النبیین میں الف لام عہد کا نہیں ہو سکتا ورنہ یہ معنی ہوں گے کہ حضور پر نور ﷺ مخصوص اور معہود نبیوں کے خاتم ہیں۔ تمام انبیاء کے خاتم نہیں اور ظاہر ہے کہ یہ معنی بالکل لغو اور مہمل ہیں اس میں آنحضرت ﷺ کی کوئی شان امتیازی باقی نہیں رہتی، اس لیے کہ اس معنی کے لحاظ سے تو ہر نبی کو کسی خاص قوم اور خاص خطہ کے اعتبار سے خاتم النبیین کہہ سکتے ہیں۔ پھر آنحضرت ﷺ کی کیا خصوصیت رہی اور اگر یہ کہا جائے کہ استغراق عرفی مراد ہے تو یہ بھی صحیح نہیں اس لیے کہ اصل استغراق میں استغراق حقیقی ہے اور استغراق عرفی مجاز ہے۔ حقیقت کے ہوتے ہوئے مجاز کی طرف رجوع نہیں کیا جا سکتا۔ علاوہ ازیں اشکال سابق پھر عود کر آئے گا اور جب یہ ثابت ہو گیا کہ النبیین میں الف لام استغراق کا ہے اور استغراق سے استغراق حقیقی مراد ہے تو معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ آپ ﷺ نبوت کے تمام افراد اور اشخاص کے خاتم ہیں۔ خواہ وہ مستقل نبی ہوں یا کسی کے تابع ہوں اور آپ ﷺ حقیقتہ ”تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے خاتم ہیں۔ آپؐ کے بعد قیامت تک کسی قسم کا کوئی نبی آنے والا

صفحہ ٢٤

ختم نبوت

نہیں ۔ اب اس آیت سے ہر قسم کی نبوت کا اختتام معلوم ہو گیا اور اس احتمال کی گنجائش نہیں رہی کہ آپ ﷺ صرف نبوت مستقلہ کے خاتم ہیں۔

آیت مذکورہ کی تفسیر خود قرآن کریم سے

خاتم النبیین کے جو معنی ہم نے بیان کیے یعنی آخر النبیین کے، تمام ائمہ لغت اور علماء عربیت اور تمام علماء شریعت عہد نبوت سے لیکر اب تک سب کے سب یہی معنی بیان کرتے آئے ہیں۔ انشاء اللہ ثم انشاء اللہ تعالیٰ ایک حرف بھی کتب تفسیر اور کتب حدیث میں اس کے خلاف نہ ملے گا۔ اب ہم مزید توضیح کے لیے اس آیت کی ایک دوسری قرات پیش کرتے ہیں جس سے اور مزید وضاحت ہو جائے گی۔ وہ قرات یہ ہے۔ ولکن نبیا ختم النبیین ترجمہ = لیکن آپؐ ایسے نبی ہیں جنہوں نے تمام نبیوں کو ختم کر دیا۔

یہ قرات حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ہے جو تمام تفاسیر معتبرہ میں منقول ہے اس قرات سے وہ تمام تاویلات اور تحریفات بھی ختم ہو جاتی ہیں جو مرزائی جماعت نے خاتم النبیین کے لفظ میں کی ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ ہم عنقریب ان تاویلات کا ذکر کر کے ان کا جواب دیں گے۔

اور جس طرح آیت شریفہ میں دو قسم کی قراتیں ہیں۔ اسی طرح احادیث میں دو قسم کی روایتیں ہیں۔ بعض روایات میں خاتم النبیین کا لفظ آیا ہے اور بعض روایات میں ختم بی النبیون اور ختم بی الانبیاء بصیغہ ماضی معروف اور مجہول آیا ہے جس کے صاف اور صریح معنے ختم کرنے کے ہیں اس میں کسی تاویل کی گنجائش ہی نہیں۔

آیت مذکورہ کی تفسیر حدیث شریف اور اقوال صحابہؓ سے

حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انہ سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلہم یزعم انہ نبی و انا خاتم

صفحہ ٢٥

ختم نبوت

النبیین لا نبی بعدی (رواه مسلم) ترجمہ = تحقیق میری امت میں تیس بڑے بڑے کذاب اور دجال ظاہر ہوں گے ہر ایک کا زعم یہ ہو گا کہ میں نبی ہوں اور حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

اس حدیث میں غور کرنے سے چند باتیں معلوم ہوئیں۔

اول یہ کہ آنحضرت ﷺ نے اس امر کی پیشین گوئی فرمائی کہ آپؐ کے بعد صرف جھوٹے مدعیان نبوت پیدا ہوں گے کوئی نبی پیدا نہ ہو گا۔ نبوت مجھ پر ختم ہو گئی اگر کسی قسم کی نبوت باقی ہوتی تو یوں ارشاد فرماتے کہ میرے بعد نبی بھی آئیں گے اور دجال و کذاب بھی۔ دیکھو اگر نبی ہو تو اس کی اطاعت کرنا اور جو کذاب و دجال ہو اس سے پرہیز کرنا۔ آنحضرت ﷺ کا امت کو مطلقاً صرف یہ ہدایت فرمانا کہ دیکھو جو شخص بھی میرے بعد نبوت کا دعویٰ کرے بے تامل اس کو کذاب و دجال سمجھنا یہ اس امر کی صریح دلیل ہے کہ اب آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت باقی نہیں رہی۔

دوم یہ کہ وہ جھوٹے مدعی امتی اور محمدی ہونے کے مدعی ہوں گے جیسا کہ سیکون فی امتی کذابون کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جھوٹے نبی لوگوں کو میری نسبت سے دھوکہ دیں گے اس لیے کہ اگر علی الاعلان آپ ﷺ سے اپنی نسبت اور تعلق کے انقطاع کا اعلان کریں تو پھر کوئی ان کے دھوکہ میں نہ آئے۔ آپؐ کی طرف اپنی نسبت کریں گے اور پھر اس دھوکہ سے لوگوں کو اپنی نبوت کی دعوت دیں گے۔

سوم یہ کہ آپ نے ان جھوٹے مدعیان نبوت کے جھوٹا ہونے کی دلیل یہ بیان فرمائی کہ وہ یہ گمان کرے گا کہ میں نبی ہوں اور حالانکہ میں آخری نبی ہوں معلوم ہوا کہ دجال اور کذاب ہونے کے لیے فقط دعویٰ نبوت کافی ہے کسی اور دلیل کی حاجت نہیں۔

حکایت

صفحہ ٢٦

ختم نبوت

امام اعظم ؒ کے زمانہ میں کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اپنی نبوت پر دلائل پیش کرنے کے لیے مہلت مانگی تو امام اعظمؒ نے فتویٰ دیا کہ جو شخص اس کی نبوت کی دلیل طلب کرے گا وہ کافر ہے اس لیے کہ وہ ارشاد نبوی ”لانبی بعدی“ کا منکر اور مکذب ہے۔

چہارم یہ کہ جملہ ”لانبی بعدی“ جملہ ”انا خاتم النبیین“ کی تفسیر ہے اور لا نفی جنس کا ہے جو نکرہ پر داخل ہوا جس کا مطلب یہ ہوا کہ میرے بعد یہ جنس ہی ختم ہے۔ اور جنس نبی کا کوئی فرد بھی میرے بعد مستحق نہ ہو گا اور چونکہ نبی عام ہے کہ خواہ صاحب شریعت ہو یا کسی کا تابع ہو اور رسول خاص ہے اسلئے لانبی بعدی میں مطلق نبی کی نفی فرمادی کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا خواہ تشریعی ہو یا غیر تشریعی۔ کیونکہ یہ تو مطلق نبی کی قسمیں ہیں۔ اور جب سرے سے مقسم ہی نہ رہا تو قسمیں کہاں متحقق ہو سکتی ہیں اقسام کا بدون مقسم کے اور افراد کا بدون کلی کے پایا جانا عقلاً محال ہے۔

پنجم یہ کہ اس حدیث سے یہ امر بخوبی واضح ہو گیا کہ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں اور یہ معنی نہیں کہ آپ ﷺ انبیا کی مہر یا زینت ہیں۔ اس لیے کہ حدیث کا یہ جملہ آپ ﷺ نے مدعیان نبوت کے جھوٹے ہونے کی دلیل میں ارشاد فرمایا ہے کہ ان مدعیان نبوت کے جھوٹا ہونے کی دلیل یہ ہے کہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں اس لیے ان کا دعویٰ نبوت ان کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہے پس اگر خاتم النبیین کے معنی مہر اور زینت کے لیے جائیں تو ان کے جھوٹا ہونے کی دلیل کیسے ہو گی۔ بلکہ حدیث کے معنی یہ ہوں گے کہ میرے بعد بہت سے کذاب اور دجال نبوت کا دعویٰ کریں گے اور حالانکہ میں نبیوں کی مہر ہوں میری مہر سے نبی بنیں گے اور ظاہر ہے کہ یہ معنی بالکل لغو اور مہمل ہیں اور جملہ لانبی بعدی کے صریح متناقض اور منافی ہیں بلکہ انا خاتم النبیین کے بعد لانبی بعدی کا اضافہ اس امر کی صریح دلیل ہے کہ خاتم کے معنی مہر کے نہیں بلکہ آخر کے

صفحہ ٢٧

ختم نبوت

ہیں اور اسی طرح مسند احمد اور معجم طبرانی میں حذیفہ بن الیمانؓ سے مرفوعاً یہ الفاظ مروی ہیں: انا خاتم النبیین لا نبی بعدی۔ ترجمہ = میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں۔ اس روایت میں بھی خاتم النبیین کے بعد جملہ لا نبی بعدی بطور تفسیر مذکور ہے اور اسی وجہ سے اس جملہ کا پہلے جملہ پر عطف نہیں کیا گیا اس لیے کہ بلاغت کا قاعدہ ہے کہ جب جملہ ثانیہ جملہ اولیٰ کے لیے عطف بیان ہو تو پھر عطف ناجائز ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ عطف نسق چاہتا ہے تغایر کو عطف بیان چاہتا ہے کمال اتحاد کو اور کمال وحدت اور مغائرت جمع نہیں ہو سکتی۔ ایک اور حدیث لیجئے جس سے اس آیت کی تفسیر ہوتی ہے۔

عن ابی ھریرۃؓ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مثلی و مثل الانبیاء کمثل قصر احسن بنیانہ ترک منہ موضع لبنۃ فطاف بہ النظار یتعجبون من حسن بنیانہ الا موضع تلک اللبنۃ فکنت انا سددت موضع اللبنۃ ختم بی البنیان و ختم بی الرسل و فی الروایۃ فانا اللبنۃ وانا خاتم النبیین۔ متفق علیہ مشکوۃ شریف۔ باب فضائل سید المرسلین صلوات اللہ و سلامہ علیہ۔

ترجمہ = ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری اور انبیاء علیہم السلام سابقین کی مثال ایک ایسے محل کی سی ہے کہ جو نہایت خوبصورت بنایا گیا ہو مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی ہو۔ لوگ تعجب سے اس محل کو دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک اینٹ کی جگہ کیوں چھوڑ دی گئی؟ سو میں نے اس اینٹ کی جگہ کو پر کر دیا ہے اور وہ عمارت مجھ پر ختم ہوئی اور رسولوں کا سلسلہ بھی مجھ پر ختم ہوا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ قصر نبوت کی وہ آخری اینٹ میں

صفحہ ٢٨

ختم نبوت

ہی ہوں اور میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں۔

ہر چیز کی ایک ابتدا ہوتی ہے اور ایک انتہا اسی طرح عمارت نبوت کی بھی ایک ابتدا ہے اور ایک انتہا۔ اس عمارت کی ابتدا حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی اور خاتم الانبیاء ﷺ پر یہ عمارت ختم ہوئی۔ قصر نبوت کی تکمیل کے لیے ایک اینٹ کی جگہ باقی تھی آپ ﷺ کی ذات بابرکات نے اس جگہ کو پورا کر دیا اور قصر نبوت کی عمارت بالکل مکمل ہو گئی اب اس میں کسی اینٹ کی جگہ باقی نہیں کہ اس میں کسی تشریعی یا غیر تشریعی نبوت کی اینٹ داخل ہو سکے۔ مرزا صاحب قصر نبوت میں اپنی ایک اینٹ داخل کرنا چاہتے ہیں لیکن وہاں کوئی جگہ نہیں۔ لہٰذا وہ اینٹ چونکہ قصر نبوت کا جزء نہیں بن سکتی۔ اس لیے اس کو کہیں ادھر ادھر پھینک دیا جائے گا۔ ذرا سوچنے کا مقام ہے کہ جب آپؐ کے صاحبزادے حضرت ابراہیمؓ اور حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کے لیے قصر نبوت میں کسی قسم کی گنجائش نہ نکل سکی۔ مسیلمتہ الہند اور اسود قادیان کے لیے کہاں جگہ نکل سکتی ہے۔ البتہ کفر اور دجل کی عمارت میں اس قسم کی اینٹ کونے کا سرا ہو سکتی ہے۔

ناظرین کرام پر مخفی نہیں کہ حدیث مذکور کا صاف اور واضح مطلب یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے قصر نبوت کی عمارت کو ختم کر دیا مگر مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ کہیں ابھی قصر نبوت کی عمارت ناتمام ہے اور بہت سی اینٹوں کی اس میں گنجائش ہے۔

خلاصہ کلام

یہ کہ خاتم النبیین کے معنے تو آخر النبیین ہی کے ہیں جس نبی پر یہ آیت اتری اس نے اس آیت کے یہی معنی سمجھے اور یہی سمجھائے اور جن صحابہؓ نے اس نبی سے قرآن اور اس کی تفسیر پڑھی انہوں نے بھی یہی معنے سمجھے فمن شا فلیومن ومن شاء فلیکفر الغرض حق روز روشن کی طرح واضح ہے کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں اور اگر اس کے بعد بھی کوئی شک باقی رہے تو پھر میں

صفحہ ٢٩

ختم نبوت

وہی عرض کروں گا جو حضرت الاستاذ مولانا شاہ سید محمد انور نور اللہ وجہہ یوم القیامۃ و نضر (آمین) نے اپنے فارسی رسالہ خاتم النبیین ص ٦٤ میں تحریر فرمایا ہے:

از حال ایں مخذولاں چناں معلوم می شود کہ اگر حق تعالیٰ سوگند خورد کہ مراد من ایں است کہ من بعد او ہیچ گو نہ کدام نبی خواہم فرستاد گفتند کہ ہاں ہاں لفظ ہمین است کہ تو گفتی لیکن مراد تو اینست کہ ایں سلسلہ را جاری داری بطریق۔

ترجمہ = ان بدنصیب اور محروم القسمت لوگوں کے حال سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اگر حق تعالیٰ شانہ بھی قسم کھا کر فرمائیں کہ خاتم النبیین سے میری مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں بھیجوں گا تو یہ بدنصیب جواب میں کہیں گے کہ ہاں ہاں یہ لفظ (خاتم النبیین) کا تو درست ہے مگر آپ کی مراد یہ ہے کہ یہ سلسلہ نبوت فلاں طریق سے اب جاری رکھیں گے۔

مرزائی مفسر کا اعتراف و اقرار

مرزا محمد علی لاہوری مرزائی نے اپنی تفسیر میں اس امر کا صاف اعتراف کیا ہے کہ ختم نبوت کے بارے میں جو احادیث آئی ہیں وہ آیت خاتم النبیین کی تفسیر ہیں چنانچہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:

”اور خاتم کے معنی مہر بھی ہیں اور آخر بھی اور کسی قوم کے خاتم اور خاتم سے مراد ان میں سے آخری ہونا ہے۔ ختام القوم و خاتمهم و خاتمهم آخرھم (ل) اور خاتم اور خاتم ہمارے نبی ﷺ کے اسماء میں سے ہیں اور خاتم النبیین اور خاتم النبیین کے معنے ہیں آخری نبی (ل) اور آپؐ کو خاتم النبیین کہا اس لیے کہ نبوت کو آپ کے ساتھ ختم کر دیا۔ (غ) خاتم النبیین کے معنی لغت سے اوپر بیان ہو چکے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام ایک قوم ہیں اور کسی قوم کا خاتم یا خاتم ہونا صرف ایک ہی معنی رکھتا ہے یعنی ان میں سے آخری ہونا۔ پس نبیوں کے خاتم کے معنی نبیوں کی مہر نہیں بلکہ آخری نبی ہیں۔ یہاں ان سب احادیث کے نقل

صفحہ ٣٠

ختم نبوت کرنے کی گنجائش نہیں جن میں خاتم النبیین کی تشریح کی گئی ہے یا جن میں آنحضرت ﷺ کے بعد نبی کا نہ آنا بیان کیا گیا ہے اور یہ احادیث متواترہ ہیں جو صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت سے مروی ہیں اور امت کا اس پر اجماع ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبی نہیں۔ حدیث اول جس میں لفظ خاتم النبیین کی تفسیر زبان نبوی سے مروی ہے متفق علیہ ہے مثلی و مثل الانبياء كمثل رجل بنى بيتا فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاوية فجعل الناس يطوفون به و يتعجبون له و يقولون هلا وضعت هذه اللبنة قال فانا اللبنة وانا خاتم النبيين۔ یعنی میری مثال اور نبیوں کی مثال ایک شخص کی مثال ہے جس نے ایک گھر بنایا اور اسے اچھا اور خوبصورت بنایا سوائے کونے کی اینٹ کے تو لوگ اس کے گرد گھومتے اور تعجب کرتے اور کہتے یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی سو میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں اور دوسری حدیث متفق علیہ میں لفظ خاتم النبیین کی تفسیر یوں کی ہے انه سيكون فى امتى ثلثون كذابون كلهم يزعم انه نبى و انا خاتم النبيين لا نبى بعدى یعنی میری امت میں تیس کذاب ہوں گے ہر ایک ان سے دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے اور میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تیسری حدیث میں جو مسلم، ترمذی، نسائی کی ہے یہ ذکر ہے کہ مجھے چھ چیزوں میں دوسرے انبیاء کرام علیہم السلام پر فضیلت دے گئی ہے جن میں چھٹی یہ ہے کہ ختم بى النبيون یعنی میرے ساتھ نبی ختم کئے گئے ہیں۔ وہاں بجائے خاتم النبیین کے یہ لفظ رکھ کر بتا دیا کہ خاتم النبیین سے یہی مراد ہے نہ کچھ اور، وہ احادیث جن میں آپ کے آخری نبی ہونے کا ذکر ہے اور وہ بھی درحقیقت خاتم النبیین کی تفسیر ہی ہیں بہت سی ہیں مثلاً ایک حدیث میں ہے کہ بنی اسرائیل میں نبی کے بعد نبی آتا تھا لیکن میرے بعد نبی نہ آئے گا بلکہ خلفاء ہوں گے اور ایک حدیث میں ہے کہ میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔ اور ایک میں ہے کہ علی کی نسبت میرے ساتھ وہی ہے جو ہارون کی موسیٰ کے ساتھ۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور ایک میں ہے کہ میرا نام عاقب ہے اور عاقب وہ ہے کہ جس کے بعد کوئی

صفحہ ٣١

ختم نبوت

نبی نہ ہو۔ انا العاقب والعاقب لیس بعدہ نبی اور ایک میں ہے کہ نبوت میں سے کچھ باقی نہیں رہا مگر مبشرات اور ایک میں ہے کہ نبوت اور رسالت منقطع ہو گئی اور دس حدیثوں میں ہے لانبی بعدی یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں اور ایسی حدیثیں جن میں آپ کو آخری نبی کہا گیا ہے چھ ہیں۔ اس قدر زبردست شہادت کے ہوتے ہوئے کسی مسلمان کا آنحضرت ﷺ کے آخری نبی ہونے سے انکار کرنا بینات اور اصول دینی سے انکار ہے۔" انتہی کلامہ ١١٠٣ ج ٢۔ طبع ٤۔

مرزائی مفسر سے ایک استفسار

مرزائی مفسر نے اخیر میں اس امر کا صاف اقرار کیا ہے کہ حضور ﷺ کے آخری نبی ہونے کا انکار اصول دین کا انکار ہے اور ظاہر ہے کہ اصول دین کا انکار صریح کفر ہے اب سوال یہ ہے کہ آیا مرزا صاحب ان آیات بینات اور اصول دینی کے منکر تھے یا نہیں۔ مرزا صاحب کی بے شمار عبارات سے صاف طور پر ظاہر ہے کہ مرزا صاحب نبوت کے مدعی تھے اور حضور ﷺ کے آخری نبی ہونے کے منکر تھے تو مرزا صاحب اس اصول دینی کے انکار کی بنا پر کافر ہوئے یا نہیں۔ نیز مرزا بشیر الدین محمود صاحب جو ختم نبوت کے منکر ہیں وہ آپ کے نزدیک کافر ہیں یا نہیں اور اگر نہیں تو باوجود اصول دین کے انکار کے کیوں کافر نہیں اور اگر کافر ہیں تو ان کی تکفیر کا اعلان ضروری ہے تاکہ عوام کو اشتباہ نہ رہے۔

نیز جو مسلمان حضور اکرم ﷺ کو خاتم النبیین سمجھتے ہیں اور مرزا صاحب کو بھی نہیں مانتے ان کو تو آپ کافر سمجھتے ہیں اور جو لوگ مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں اور حضور ﷺ کی ختم نبوت کے منکر ہیں ان کو مسلمان سمجھتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے۔

ختم نبوت پر مرزا صاحب کی تصریحات

اب میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ دعویٰ نبوت سے پہلے خود مرزا صاحب ختم نبوت کے قائل تھے اور خاتم النبیین کے یہی معنی سمجھتے تھے کہ جو اب تک تمام

صفحہ ٣٢

ختم نبوت

امت یہ سمجھے کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں، آپ ﷺ کے بعد کوئی دوسرا نبی نہیں ہو سکتا۔

(حمامۃ البشریٰ صفحہ ٦٦ و ٦٧ روحانی خزائن ص ٢٠٠ ج ٧)

میں آیت ماکان محمد ابا احد الخ کی تشریح کرتے ہوئے مرزا صاحب لکھتے ہیں۔ ”ہمارے نبی علیہ السلام خاتم النبیین ہیں۔ بغیر کسی استثناء کے اور ہمارے نبی ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔ اگر آنحضرت کے بعد ہم کسی نبی کے ظہور کے مجوز بنیں گے تو نبوت کا دروازہ بند ہونے کے بعد اس کے کھلنے کے قائل ہو جائیں گے اور یہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے خلاف ہے۔ ہمارے نبی علیہ السلام کے بعد کس طرح کوئی نبی آ سکتا ہے؟ حالانکہ آپ ﷺ کے بعد وحی کا انقطاع ہو چکا ہے اور نبی آپ ﷺ کے ساتھ ختم ہو چکے ہیں۔“

اور ازالہ الاوہام صفحہ ٥٢٢ روحانی خزائن ص ٣٨٠ ج ٣ پر لکھتے ہیں کہ ” مسیح کیوں کر آ سکتا وہ رسول تھا اور خاتم النبیین کی دیواریں اس کو آنے سے روکتی ہے“ اور پھر اسی ازالہ الاوہام کے صفحہ ٥٣٤ روحانی خزائن ص ٣٨٧ ج ٣ پر لکھتے ہیں ”لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے کیا یہ مہر اس وقت ٹوٹ جائے گی“ (اور حمامۃ البشریٰ ص ٩٦ روحانی خزائن ص ٢٩٧ ج ٧ میں ”وما کان لی ان ادعی النبوۃ واخرج من الاسلام و الحق بقوم کافرین یہ مجھ سے کیسے ہو سکتا ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کفار سے جاملوں۔“)

اور ازالہ الاوہام صفحہ ٣١٠ روحانی خزائن ص ٥١١ ج ٣ پر لکھتے ہیں ”قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آئے اور سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔“

اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن کریم خاتم النبیین کے بعد نہ کسی

صفحہ ٣٣

ختم نبوت

نئے نبی کا آنا جائز رکھتا ہے اور نہ کسی پرانے نبی کا پس اگر مرزا صاحب نئے نبی ہیں تو تب نہیں آسکتے اور اگر پرانے نبی ہیں تو تب بھی نہیں آسکتے۔ خود مرزا کے اقرار سے دروازہ بند ہے۔ حمامتہ البشریٰ صفحہ ٣٤ روحانی خزائن ص ٢٠٠ ج ٧ میں لکھتے ہیں:

واما ذكر نزول عيسى بن مريم فما كان لمومن ان يحمل هذا الاسم المذكور فى الاحاديث على ظاهر معناه لانه يخالف قول الله عز وجل ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله و خاتم النبيين الا تعلم ان الرب الرحيم المتفضل سمى نبينا صلى الله عليه وسلم خاتم الانبياء بغير استثنا و فسره نبينا صلى الله عليه وسلم فى قوله لا نبى بعدى ببيان واضح للطالبين ولو جوزنا ظهور نبى بعد نبينا صلى الله عليه وسلم لجوزنا انفتاح باب وحى النبوة بعد تغليقها وهذا خلف .... وكيف يحيى نبى بعد رسولنا صلى الله عليه وسلم وقد انقطع الوحى بعد وفاته و ختم الله به النبيين اتعتقد بان عيسى الذى انزل عليه الانجيل هو خاتم الانبياء لا رسولنا صلى الله عليه وسلم اتعتقد ان ابن مريم ياتى و ينسخ بعض احكام القرآن ويزيد بعضا۔

یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے میں کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ اس کلام کو جو حدیث میں آیا ہے ظاہری معنی پر محمول کرے کیونکہ آیت ماکان محمد ابا احد الخ کے خلاف ہے کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کا نام خاتم الانبیاء رکھا ہے اور اس میں کسی کا استثنا نہیں کیا اور پھر اسی خاتم النبیین کی خود اپنے کلام میں تفسیر فرماتے ہوئے فرمایا لا نبی بعدی جو سمجھنے والوں کے لیے واضح بیان ہے۔ اگر ہم جائز رکھیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی آسکتا ہے تو لازم آتا ہے کہ دروازہ وحی نبوت کا بند ہونے کے بعد کھل جائے۔ اور آپ کے بعد کوئی نبی کیسے آسکتا ہے حالانکہ وحی نبوت منقطع ہو چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ تمام انبیاء علیہم السلام کو ختم کر دیا ہے کیا ہم اعتقاد رکھیں کہ عیسیٰ

صفحہ ٣٤

ختم نبوت

علیہ السلام آئیں اور وہی خاتم الانبیاء بنیں نہ ہمارے رسول۔" مرزا صاحب کی ان تمام عبارات سے اور خصوصاً آخری عبارت سے یہ صاف ظاہر ہے کہ خاتم النبیین کے معنی آخری نبی کے ہیں اور مقصود آیت کا یہ ہے کہ آپ ﷺ کی آمد سے نبوت کا دروازہ بند ہو گیا ہے اور خاتم النبیین کے بعد نہ کوئی پرانا نبی آ سکتا ہے اور نہ نیا نبی۔ اور مرزا نے یہ بھی تصریح فرمادی کہ آنحضرت ﷺ نے خاتم النبیین کی تفسیر اپنے کلام میں لا نبی بعدی سے فرمائی۔ معلوم ہوا کہ خاتم النبیین اور لا نبی بعدی میں باعتبار معنی کے کوئی فرق نہیں اس لیے کہ بیان اور مبین اور تفسیر اور مفسر متحد بالذات ہوتے ہیں۔

ایک شبہ اور اس کا جواب

شبہ یہ ہے کہ مرزا صاحب کی یہ تحریرات نومبر ١٩٠١ء سے پیش تر کی ہیں کہ جس وقت مرزا صاحب کو نبوت نہیں ملی تھی لہٰذا یہ تمام تحریریں منسوخ کی جائیں گی۔

جواب : یہ ہے کہ نسخ عقائد میں جاری نہیں ہوتا نسخ احکام میں ہوتا ہے یہ ناممکن ہے کہ جو بات پہلے کفر کی تھی وہ بعد میں اسلام بن جائے۔ نیز انبیا کفر سے، قبل از نبوت بھی پاک ہوتے ہیں۔ نیز بد عقل اور بد فہم کبھی نبی نہیں ہو سکتا۔

مرزائی جماعت سے ایک سوال

مرزا صاحب کی ان تمام عبارات سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ دعوائے نبوت سے پہلے مرزا صاحب بھی خاتم النبیین کے معنے وہی سمجھتے تھے کہ جو تیرہ سو برس سے تمام دنیا کے مسلمان سمجھتے چلے آئے اور کسی نئے اور پرانے نبی کا آنا ختم نبوت کے منافی سمجھتے تھے اور ختم نبوت کا انکار اور خاتم الانبیا کے بعد دعوائے نبوت کو کفر بتلاتے تھے۔ مرزا صاحب کا یہ پہلا عقیدہ تھا اور اب دعوائے نبوت کے بعد مرزا صاحب خاتم النبیین کے دوسرے معنی بیان کرتے ہیں جس کی بناء

صفحہ ٣٥

ختم نبوت

پر نبوت کا جاری ہونا ضروری ہو گیا اور جس مذہب میں وحی نبوت نہ ہو وہ شیطانی اور لعنتی مذہب کہلانے کا مستحق ہے ص ١٣٨/١٣٩ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن ص ٣٠٦ ج ٢١۔۔۔ اور یہ کہتے ہیں کہ جو شخص یہ کہے کہ رسول اللہ کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا وہ دین دین نہیں اور نہ وہ نبی نبی ہے۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٨ روحانی خزائن ص ٣٠٦ ج ٢١)

اب سوال یہ ہے

کہ خاتم النبیین کے کون سے معنے صحیح ہیں۔ پس اگر خاتم النبیین کے جدید معنے صحیح ہوں (کہ جو مرزا صاحب نے دعوائے نبوت کے بعد بیان کئے اور جس کی بنا پر نبوت کا جاری رہنا ضروری ہوا) تو یہ لازم آئے گا کہ اس تیرہ صدی میں جس قدر بھی مسلمان اس عقیدہ پر گزرے وہ سب کافر اور بے ایمان مرے۔ گویا کہ عہد صحابہ کرامؓ سے لے کر اس وقت تک تمام امت کفر پر گزری اور دعوائے نبوت سے پہلے خود مرزا صاحب بھی جب تک اسی سابقہ عقیدہ پر رہے کافر رہے۔ دعوائے نبوت کے بعد مرزا صاحب کا ایمان صحیح اور درست ہوا۔ اور پچاس برس تک مرزا صاحب کفر اور شرک کی گندگی میں آلودہ اور ملوث رہے اور غباوت اور بدعقلی کے داغ سے داغی رہے کہ پچاس برس تک آیات اور احادیث کا مطلب غلط سمجھتے رہے اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ کافر اور غبی نبی نہیں ہو سکتا۔ اور جو شخص تمام امت کی تکفیر و تضلیل اور تحمیق و تجہیل کرتا ہو وہ بالاجماع کافر اور گمراہ ہے اور اگر خاتم النبیین کے پہلے معنے صحیح ہوں جو تمام امت نے سمجھے اور مرزا صاحب بھی دعوائے نبوت سے پہلے وہی سمجھتے تھے تو لازم آئے گا کہ پہلے لوگ تو سب مسلمان ہوں اور مرزا صاحب دعوائے نبوت کے بعد سابق عقیدہ کے بدل جانے کی وجہ سے خود اپنے اقرار سے کافر اور مرتد ہو جائیں۔ غرض یہ کہ خاتم النبیین کے جو نئے بھی معنے لیے جائیں۔ مرزا صاحب ہر صورت میں کافر ہیں۔

چند اوہام اور ان کا ازالہ

صفحہ ٣٦

آیت خاتم النبیین کی تفسیر واضح ہو چکی ہے۔ اب اس میں کسی قسم کے شک اور شبہ کی گنجائش نہیں لیکن مرزائی صاحبان باوجود حق واضح ہونے کے پھر بھی شک اور شبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان اوہام کا بھی ازالہ کر دیا جائے شاید حق تعالیٰ شانہ کی توفیق سے امر حق ان کی سمجھ میں آ جائے۔ وماذلک علی اللّٰہ بعزیز۔

وہم اول

اگر خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا تو اخیر زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول جو مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کیسے صحیح ہو گا۔

ازالہ : خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہو گا جیسے آخری اولاد اور آخری بیٹے کے یہ معنی ہیں کہ اس کے بعد کوئی بیٹا پیدا نہیں ہوا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ سے پہلے پیدا ہوئے اور آپ سے پہلے پیغمبر ہوئے۔ البتہ مرزا صاحب آنحضرت ﷺ کے بعد پیدا ہوا لہٰذا مرزا صاحب کا وجود تو ختم نبوت کے منافی ہو گا لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ختم نبوت کے معارض نہ ہو گا۔ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں بہت سے پیغمبر پیدا ہوئے مگر سب سے اخیر میں آنحضرت ﷺ پیدا ہوئے جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام آسمان سے زمین پر اترے اور یہاں آکر دل گھبرایا تو حضرت جبریلؑ نے اذان دی اور اس میں اشہد ان محمد رسول اللّٰہ کہا تو حضرت آدمؑ نے حضرت جبریلؑ سے پوچھا کہ محمد ﷺ کون ہیں تو یہ جواب دیا:

آخر ولدک من الانبیاء

(رواہ ابن عساکر)

ترجمہ = پیغمبروں میں آپ کے آخری بیٹے ہیں۔

یعنی آپ کی اولاد میں سب سے آخری نبی آپ ﷺ پیدا ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ سے پہلے نبی ہو چکے البتہ ان کی عمر آنحضرت

صفحہ ٣٧

ختم نبوت

ﷺ سے زیادہ طویل ہوئی۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت سے صدہا سال پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور ابھی زندہ ہیں۔ اخیر زمانہ میں امت محمدیہ کا ایک فرد ہونے کی حیثیت سے نازل ہوں گے نبی ہونے کی حیثیت سے نزول نہ ہو گا۔ نزول کے بعد اپنی نبوت و رسالت اور اپنی کتاب یعنی انجیل اور اپنی شریعت کی طرف سے کسی کو دعوت نہیں دیں گے بلکہ خاتم النبیین کا نائب بن کر لوگوں کو خالص قرآن و حدیث کے احکام پر چلائیں گے اور خود بھی شریعت محمدیہ ﷺ کے اتباع اور پیروی کو اپنے لیے باعث صد فخر و ناز سمجھیں گے۔ خاتم الانبیاء ہی کی شریعت کا ڈنکا بجائیں گے اس لیے شیخ اکبرؒ نے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دو حشر ہوں گے ایک حشر انبیاء و رسلؑ کے زمرہ میں ہو گا اور دوسرا حشر امت محمدیہ ﷺ کے زمرہ میں ہو گا۔

مرزا صاحب کا خود اقرار و اعتراف

مرزا صاحب تریاق القلوب صفحہ ١٥٦ روحانی خزائن ص ٤٧٩۔٤٧٨ ج ١٥ میں لکھتے ہیں ”ضرور ہوا کہ وہ شخص جس پر یہ تمام و کمال دورۂ آدمیت ختم ہو وہ خاتم الاولاد ہو یعنی اس کی موت کے بعد کوئی کامل انسان کسی عورت کے پیٹ سے نہ نکلے۔“ پس جس طرح مرزا صاحب کے نزدیک خاتم الاولاد کے یہ معنی ہیں کہ اس کے بعد عورت کے پیٹ سے کوئی پیدا نہ ہو اسی طرح خاتم النبیین کے یہ معنی ہوں گے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی عورت کے پیٹ سے پیدا نہ ہو۔ اور ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آپ سے پہلے پیدا ہوئے۔ مقام تعجب اور مقام حیرت ہے کہ کسی پرانے نبی کا آنا خاتم النبیین کے مخالف ہو مگر قادیان میں کسی ایسے نبی اور رسول کا آنا جو تمام انبیاء و مرسلین بلکہ سرور عالم ﷺ سے بھی اعلیٰ اور افضل ہو‘ یہ خاتم النبیین کے خلاف نہ ہو۔ مفضول نبی کی آمد کے لیے تو آمد کا دروازہ بند ہے اور تمام انبیاء سے افضل اور برتر کی آمد کے لیے دروازہ کھلا ہوا ہے۔ بلکہ حق تو یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا اس بات کی علامت ہے کہ اب سلسلہ انبیاء میں

صفحہ ٣٨

ختم نبوت

کوئی فرد اور کوئی عدد باقی نہیں رہا اس لیے پہلے ہی نبی کو لانا پڑا۔

وہم دوم

خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ نبیوں کی مہر ہیں اور آپ کے بعد آپ کی مہر اور تصدیق اور اتباع سے قیامت تک نبی بنتے رہیں گے۔

ازالہ : یہ شبہ بالکل لغو اور مہمل ہے۔ لغت اور قواعد عربیت کے بھی خلاف ہے۔ ورنہ لازم آئے گا کہ خاتم القوم کے معنی یہ ہوں کہ جس کی مہر سے قوم بنے اور خاتم المہاجرین کے معنی یہ ہوں کہ جس کی مہر سے مہاجر بنیں اور خاتم الاولاد کے معنی یہ ہوں کہ جس کی مہر اور تصدیق اور اتباع سے اولاد بنے سبحان اللہ! کیا عجیب و غریب حقائق و معارف ہیں۔

حق تعالیٰ شانہ کا تو مقصد یہ ہے کہ آپ ﷺ کو اس لیے خاتم النبیین بنا کر بھیجا تاکہ سلسلہ نبوت ختم ہو اور مرزا صاحب یہ فرماتے ہیں کہ اس لیے نہیں بلکہ انبیاء تراشی اور پیغمبر سازی یعنی نبی بنانے کے لیے آپ کو بھیجا۔ علاوہ ازیں یہ مہمل تاویل حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرات ولکن نبیا ختم النبیین اور ان احادیث میں جن میں آخر الانبیاء اور لانبی بعدی کا لفظ آیا ہے نہیں چل سکتی، نیز خاتم کے معنی ختم کرنے والے کے ہیں پس اگر آپ کی مہر یا اتباع سے نبی بننے لگیں تو آپ خاتم نبوت نہ ہوں گے بلکہ فاتح نبوت ہوں گے یعنی نبوت کا دروازہ کھولنے والے ہوں گے۔

وہم سوم

مرزا صاحب ”ایک غلطی کا ازالہ“ ص ٥ روحانی خزائن ص ٢٠٩ ج ١٨ پر لکھتے ہیں کہ میں ظلی طور پر محمد ہوں پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔

ازالہ : یہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ استہزا اور تمسخر ہے کہ مال بھی چوری ہو گیا اور مہر بھی نہیں ٹوٹی۔ اللہ تعالیٰ نے نبوت پر مہر لگائی مگر مرزا صاحب نے نبوت

صفحہ ٣٩

ختم نبوت

کو اس طرح ہوشیاری سے چرایا کہ چوری بھی کر لی اور خدا کی لگائی ہوئی مہر اسی طرح رہی۔ کیا یہ حق جل شانہٗ کے ساتھ تمسخر نہیں۔ جو شخص بادشاہ کے ساتھ اتحاد کا دعویٰ کرے اور بادشاہ کا لقب اپنے لیے ثابت کرے بلاشبہ وہ شخص باغی اور قابل گردن زنی ہے۔ نیز حضرات انبیاءؑ اگرچہ نور نبوت کے اعتبار سے سب متحد ہیں۔ کما قال اللہ تعالیٰ لا نفرق بین احد من رسلہ لیکن شخصیت کے اعتبار سے بلاشبہ اشخاص متغائرہ ہیں۔ ہر نبی کی ذات بابرکات علیحدہ اور جدا ہے۔ زمانہ ہر ایک کا جدا، مکان ہر ایک کا جدا، صفات اور معجزات ہر ایک کی جدا، اسی تغائر شخصی کی بناء پر آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین کہا گیا تاکہ معلوم ہو جائے کہ ختم نبوت کا دار و مدار روحانی اتحاد پر نہیں بلکہ شخصی تغائر پر ہے اور یہ واضح ہو جائے کہ اجراء نبوت یعنی دعوائے پیغمبری کے لیے مجرد اتحاد کا دعویٰ ذرہ برابر مفید نہیں۔ کون نہیں جانتا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام میں اتحاد نہیں تھا لیکن باوجود کمال اتحاد و محبت اور باوجود کمال اخوت و صداقت کے موسیٰ علیہ السلام اپنے مقام پر تھے اور ہارون علیہ السلام اپنے مقام پر نیز اگر بالفرض و التقدیر یہ ثابت ہو جائے کہ اس شخص کو حقیقتاً نہ کہ سیاسۃً فنا فی الرسول کا مقام حاصل ہے تب بھی اس کو نبی کا لقب نہیں مل سکتا۔ اس لیے کہ اگر فنا فی الرسول کی وجہ سے غیر تشریعی اور غیر مستقل نبی کا لقب مل سکتا ہے۔ تو مستقل رسول اور مستقل نبی کا لقب کیوں نہیں مل سکتا، اور فنا فی اللہ کی وجہ سے اللہ اور خدا کا لقب کیوں نہیں مل سکتا۔

ظلی اور بروزی نبوت کا عنوان محض فریب ہے۔

ختم نبوت کا مسئلہ چونکہ قرآن اور حدیث متواتر اور اجماع امت سے ثابت ہے، اس لیے مرزا صاحب نے ان نصوص قطعیہ کی ظاہری مخالفت سے بچنے کے لیے ایک جدید راہ نکالی اور دعوائے نبوت کی پردہ پوشی کے لیے ایک جدید اصطلاح اختراع کی کہ جس کا کہیں کتاب و سنت اور اقوال صحابہؓ اور علماء امت میں کوئی نام و نشان نہیں، وہ یہ کہ میں حضورؐ کے خاتم النبیین ہونے کا قائل ہوں، اور

صفحہ ٤٠

ختم نبوت

میری نبوت محض ظلی اور بروزی نبوت ہے‘ یہ سب دھوکہ اور فریب ہے۔ اور در حقیقت مراد حقیقی نبوت ہے۔ مرزا صاحب کی بے شمار عبارات سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا صاحب تشریعی اور مستقل نبوت کے مدعی ہیں‘ جس پر مفصل کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ مرزا محمود حقیقۃ النبوۃ صفحہ ٢٦٥ و ٢٦٦ میں بحوالہ ایک غلطی کا ازالہ لکھتے ہیں۔

”میں کہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو درحقیقت خاتم النبیین تھے‘ مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارا جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں‘ اور نہ اس سے مہر خاتمیت ٹوٹتی ہے۔ کیونکہ میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت واخرین منھم لما یلحقوا بھم بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیا ہوں‘ اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے‘ اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا کیونکہ ظل و سایہ اپنی اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨ روحانی خزائن ص ٢١٢ ج ١٨)

اس عبارت میں مرزا صاحب نے آنحضرت ﷺ کی عینیت کا دعویٰ کیا ہے کہ میں بعینہ محمد رسول اللہ ہوں۔ دنیا کا کون نادان اس کو قبول کر سکتا ہے کہ قادیان کا ایک دہقان بعینہ سید الانس والجان ہو اور پھر اس پر یہ دلیل کہ سایہ اپنی اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔ نہ معلوم اس سے کیا مراد ہے؟ اگر یہ مراد ہے کہ سایہ اور ذی سایہ بالکل عین اور متحد ہوتے ہیں تو سراسر بداہت اور عقل کے خلاف ہے۔ ظل اور اصل کا عین اور متحد ہونا بدیہی البطلان ہے اور اگر یہ مراد ہے کہ ذی ظل کی کوئی صفت اور کوئی شان اس میں آجائے‘ تو اس اعتبار سے یہ مطلب ہو گا کہ حضورؐ کی صفات نبوت اور کمالات رسالت کا ایک سایہ اور پرتوہ ہوں تو اس سے نہ نبوت ثابت ہوتی ہے اور نہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ اتحاد اور عینیت کا دعویٰ ثابت ہو سکتا ہے۔ حدیث میں ہے۔

صفحہ ٤١

ختم نبوت

السلطان ظل اللہ فی الارض۔ (بادشاہ زمین میں اللہ کا سایہ ہے۔) تو کیا اس سے خلفاء اور سلاطین کا بعینہ خدا ہونا ثابت ہو جائے گا۔ علاوہ ازیں یہ ظلیت امت محمدیہؐ کے تمام علماء اور صلحاء کو حاصل ہے۔ اس میں مرزا صاحب کی کیا خصوصیت؟ امت میں جو بھی کمال ہے وہ حضورؐ ہی کی نبوت کا سایہ اور پرتو ہے۔

خلاصہ کلام

یہ کہ مرزا صاحب نے محض اپنی پردہ پوشی کے لیے اس قسم کے تلبیس آمیز عنوان اختیار کئے کبھی اپنے آپ کو ظلی نبی ظاہر کیا۔ اور کبھی بروزی تاکہ عوام اور سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دے سکیں کہ میری نبوت خاتم النبیین کے خلاف نہیں ورنہ در حقیقت مرزا صاحب اپنی نبوت کو تمام انبیاء کی نبوت سے افضل اور اکمل سمجھتے ہیں مگر اہل علم اور اہل فہم خوب جانتے اور سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی تلبیسات اور طمع کاریوں سے حقائق شرعیہ نہیں بدل سکتے۔ یہ ظلی اور مجازی اور بروزی نبوت کی اصطلاح محض مرزا صاحب کی اختراع ہے۔ کتاب و سنت اور اقوال صحابہؓ اور تابعینؒ میں کہیں اس کا نام و نشان نہیں۔ کسی قسم کی نبوت کا بھی اگر کوئی دروازہ کھلا ہوا ہوتا، تو سب سے پہلے ان مقدس اور پاک ہستیوں پر کھلتا کہ جو شمع نبوت پر پروانوں کی طرح گرے اور آپ ﷺ کے عشق اور محبت میں ایسے غرق اور فنا ہوئے کہ اولین اور آخرین میں کہیں اس کی نظیر نہیں جس طرح آپ ﷺ پر نبوت ختم ہوئی اسی طرح آپؐ پر محبوبیت اور آپ کی امت پر محبت اور عاشقیت ختم ہو گئی۔ آسمان اور زمین نے نہ ایسا محبوب دیکھا اور نہ ایسے عاشق جان نثار دیکھے نہ ایسی شمع نبوت دیکھی اور نہ ایسے پروانے دیکھے۔

اگر کسی قسم کی نبوت کا بھی دروازہ کھلا ہوا ہوتا تو اس یار غار اور رفیق جان نثار کو جس کو حق تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ثانی اثنین اور اتقیٰ اور اولوالفضل کے لقب سے سرفراز کیا ہے اس کو کوئی نہ کوئی ظلی اور بروزی نبوت ضرور ملتی۔

صفحہ ٤٢

ختم نبوت

فاروق اعظم کے متعلق ارشاد نبوی ہے: لوکان بعدی نبی لکان عمر (میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔) کلمہ لو محاورہ عرب میں محالات کے لیے مستعمل ہوتا ہے جیسا کہ لوکان فیہما الہۃ الا اللہ لفسدتا قل لوکان معہ الہۃ الخ اور امور ممکنہ کے لیے کلمہ ان اور اذا مستعمل ہوتا ہے۔ پس اس حدیث میں کلمہ لو کا استعمال اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضور ﷺ کے بعد نبی ہونا محال اور ناممکن ہے اس لیے بطور فرض محال کے بیان فرمایا کہ اگر میرے بعد نبی ہونا ممکن ہوتا تو عمرؓ ہوتا لیکن میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ اگر حضور ﷺ کے بعد کسی قسم کی بھی نبوت باقی ہوتی تو عمرؓ کے لیے ضرور ثابت فرماتے۔ اس لیے کہ خود حضور ﷺ نے حضرت عمرؓ کو فاروق اور محدث من اللہ اور ملہم بالصواب جیسے معزز القاب سے سرفراز فرمایا ہے۔

مسند بزاز اور معجم طبرانی میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری چار وزیروں سے تائید فرمائی دو آسمان والوں میں سے ہیں ایک جبریلؑ اور ایک میکائیلؑ اور دو زمین والوں میں سے ہیں ابوبکرؓ اور عمرؓ

(خصائص کبریٰ ج ٢ ص ٢٠٠)۔

معلوم ہوا کہ ابوبکرؓ اور عمرؓ زمین میں جبریلؑ اور میکائیلؑ کا نمونہ اور ہم رنگ ہیں اور حضور پر نور ﷺ کے وزیر باتدبیر ہیں مگر کسی قسم کے نبی نہیں۔ اور اگر بالفرض والتقدیر نبی ہوتے تو حضور ﷺ کے تابع اور امتی ہوتے مگر یہ بھی معلوم ہوا کہ نبوت بالکل ختم ہو چکی ہے۔ حسب شہادت نبوی ابوبکرؓ و عمرؓ کی تو یہ شان تھی۔

نقش آدم لیک معنی جبریل
رستہ از جملہ ہواؤ قال و قیل
صفحہ ٤٣

ختم نبوت

جب رشک جبرئیل و میکائیل نبی نہ ہوئے تو کیا ہم رنگ عزازیل نبی بنیں گے؟

آنحضرت ﷺ جب تبوک تشریف لے جانے لگے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اہل بیت کی نگرانی کے لیے چھوڑا تو حضرت علیؓ رنجیدہ ہو کر عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ مجھ کو بچوں اور عورتوں میں چھوڑ کر تشریف لے جا رہے ہیں (یعنی دوسرے احباب تو جہاد میں حضورؐ کے ہم رکاب ہوں گے اور میں یہاں غم فرقت میں بے تاب رہوں گا) آنحضرت ﷺ نے ان کی تسلی کے لیے یہ ارشاد فرمایا:

الا ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ہارون من موسی الا انہ لیس نبی بعدی۔ (بخاری غزوہ تبوک)

ترجمہ = اے علیؓ! کیا تو اس بات پر راضی نہیں؟ کہ تجھ کو مجھ سے وہ نسبت ہو جو ہارون کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

حضرت ہارون علیہ السلام مستقل نبی نہ تھے بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وزیر اور تابع تھے۔ کما قال تعالیٰ حاکیا عن الکلیم واجعل لی وزیرا من اھلی ہارون اور توریت اور شریعت موسویہ کے متبع تھے۔ مطلق نبوت میں دونوں شریک تھے۔

خلاصہ کلام یہ کہ حضرت ہارون علیہ السلام کو دو چیزیں حاصل تھیں۔ ایک تو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ شرکت فی النبوت اور دوسری وزارت اور نیابت‘ آنحضرت ﷺ نے تبوک جاتے وقت جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرمایا کہ تو میرے جانے کے بعد میرا قائم مقام ہے جیسا کہ ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے قائم مقام تھے کوہ طور پر جانے کے بعد‘ تو غلط فہمی سے بچنے کے لیے یہ ارشاد فرمایا ”الا انہ لیس بعدی نبی“ یعنی تم صرف میرے نائب اور قائم مقام ہو گے‘ نبی نہ ہو گے۔ تم کو حضرت ہارون سے صرف قائم مقامی اور نیابت میں

صفحہ ٤٤

ختم نبوت

مشابہت ہے، نبوت میں مشابہت نہیں اس لیے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ معلوم ہوا کہ الا انہ لیس بعدی نبی میں نبوت غیر مستقلہ کی نفی مراد ہے اس لیے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے مستقل نبوت کا تو، توہم بھی نہیں ہو سکتا اور پھر خصوصاً آپ کی موجودگی اور زمانہ حیات میں کس کو یہ وہم اور خطرہ ہو سکتا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو من جانب اللہ مستقل کتاب شریعت عطا ہو جائے گی۔ اور مستقلاً ان پر اللہ کی وحی نازل ہونے لگے گی۔ علاوہ ازیں مستقل نبی کا کسی کے قائم مقام ہونا اس کے استقلال کے منافی ہے۔ اب اس تمام تقریر سے یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ الا انہ لیس بعدی نبی میں نبوت غیر مستقلہ کی نفی مراد ہے۔

اور علی ہذا اگر حضور پر نور ﷺ کے صاحب زادے حضرت ابراہیم زندہ ہوتے تو وہ بھی مستقل نبی نہ ہوتے بلکہ آپ ﷺ ہی کی شریعت کے تابع ہوتے۔ معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کے بعد نبوت غیر مستقلہ بھی باقی نہیں رہی اور یہ تمام روایتیں نہ باہم متعارض اور متناقض ہیں اور نہ آیت ”خاتم النبیین“ اور حدیث ”لا نبی بعدی“ کے معارض اور منافی ہیں اس لیے کہ سب جگہ حکم فرضی اور تقدیری ہے اور مطلب سب کا یہ ہے کہ اگر بفرض محال میرے بعد نبوت باقی ہوتی تو میرے بعد صحابہؓ کی ایک جماعت ہوتی جن کو میرے بعد نبوت ملتی جن میں عمرؓ اور علیؓ اور ابراہیمؓ ہوتے لیکن میرے بعد نبوت نہیں اس لیے میرے صحابہؓ میں سے کسی کو نبوت نہیں ملی۔

وہم چہارم

خاتم النبیین کی آیت میں النبیین پر الف لام عہد کا ہے اور النبیین سے خاص تشریعی انبیاء مراد ہیں کہ جو جدید کتاب اور جدید شریعت لے کر آئے۔ لہٰذا آنحضرت ﷺ تشریعی انبیاء کے خاتم ہوں گے مطلق انبیاء کے خاتم نہ ہوں

صفحہ ٤٥

ختم نبوت

گے۔

ازالہ : ہم پہلے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ النبیین میں الف لام استغراق کا ہے اور لغت اور محاورہ عرب کے اعتبار سے خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں یعنی تمام انبیاء کے ختم کرنے والے۔ الف لام عہد کے لیے یہ شرط ہے کہ معہود کا کلام سابق میں صراحۃً یا اشارۃً ذکر ہو اور اس آیت کے سیاق و سباق میں کہیں تشریعی انبیاء کا ذکر نہیں بلکہ مطلق انبیاء کا ذکر ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: سنة اللّٰہ فی الذین خلوا من قبل الی قولہ الذین یبلغون رسلت اللّٰہ و یخشونہ ولا یخشون احدا الا اللّٰہ۔

الذین خلوا من قبل میں تمام انبیاء داخل ہیں اور علی ہٰذا خدا تعالیٰ کے پیغام کو پہنچانا اور سوائے خدا کے کسی سے نہ ڈرنا یہ مطلق نبوت کے لیے لازم اور نبی کے لیے ضروری ہے ورنہ آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ احکام خداوندی کی تبلیغ اور سوائے خدا کے کسی سے نہ ڈرنا‘ یہ فریضہ فقط تشریعی انبیاء کا ہے۔ غیر تشریعی نبی کے لیے یہ باتیں ضروری نہیں ہیں۔

علاوہ ازیں مرزا صاحب تو اس معمولی اور گھٹیا نبوت پر راضی نہیں‘ وہ تو مستقل نبوت اور مستقل رسالت اور تشریعی نبوت کے مدعی ہیں۔

(اربعین نمبر ٤ ص ٧ روحانی خزائن ص ٤٣٥ حاشیہ ج ١٧)

مرزائی جماعت سے چند سوال

یہ مسئلہ فریقین میں متفق علیہ ہے کہ تشریعی نبوت کا دعویٰ کفر ہے خود مرزا صاحب کی تصریحات اس پر موجود ہیں کہ جو شخص تشریعی نبوت کا دعویٰ کرے۔۔۔ وہ شخص کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ مجموعہ اشتہارات ص ٢٣٠‘ ٢٣١ ج ١‘ اختلاف صرف نبوت غیر مستقلہ کے بارے میں ہے کہ آیا وہ جاری ہے یا وہ بھی ختم ہو گئی۔ اس لیے اب اس کے متعلق فرقِ مخالف سے چند سوال ہیں:

صفحہ ٤٦

ختم نبوت

صریح کفر قرار دیا اور پھر خود صراحۃً تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا۔ کیا یہ صریح تناقض اور تعارض نہیں؟ اور کیا مرزا صاحب خود اپنے اقرار سے کافر نہیں ہوئے؟

ہیں تو پھر ان کو خاتم النبیین میں اس تاویل کرنے سے کہ غیر تشریعی نبی مراد ہیں کیا فائدہ ہوا؟

انقطاع اور اختتام معلوم ہوتا ہے اس کے برعکس کوئی ایک روایت بھی ایسی ہے؟ کہ جس میں یہ بتلایا گیا ہو کہ حضور اکرم ﷺ کے بعد نبوت غیر مستقلہ کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اگر ہے؟ تو پیش کی جائے۔

کی بناء پر حضرات صحابہؓ باوجود افضل الامۃ اور خیر القرون ہونے کے اس منقبت سے محروم رہے۔

اور ائمہ اجتہادؒ اور اولیاءؒ اور عارفینؒ اور اقطابؒ اور ابدالؒ و مجددینؒ میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں گزرا کہ جو علم و فہم اور ولایت اور معرفت میں مرزا صاحب کے ہم پلہ ہوتا اور نبوت غیر مستقلہ کا منصب پاتا۔ کیا رسول اللہ ﷺ کی ساری امت میں سوائے قادیان کے دہقان کے کوئی بھی نبوت کے قابل نہ نکلا۔

کئے بعض ان میں سے تشریعی نبوت کے مدعی تھے جیسے صالح بن طریف اور بہاء الحق بابی اور بعض غیر تشریعی نبوت کے مدعی تھے جیسے ابو عیسیٰ

صفحہ ٤٧

ختم نبوت

وغیرہ۔ ان سب کے جھوٹا ہونے کی کیا دلیل ہے؟ وہ بھی کوئی ظلی اور بروزی اور مجازی وغیرہ وغیرہ کی تاویل کرلیں گے۔

وہم پنجم

خاتم النبیین کا اطلاق ایسا ہے کہ کسی کو خاتم المحدثین اور خاتم المفسرین لکھتے ہیں۔ کسی کے نزدیک یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اب اس کے بعد کوئی محدث اور مفسر پیدا نہ ہو گا۔ بلکہ یہ کلام بطور مبالغہ استعمال ہوتا ہے۔

مرزائی جماعت کا یہ بڑا مایہ ناز شبہ ہے اور طرہ یہ ہے کہ اس کی تائید میں ایک روایت بھی پیش کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے عم محترم حضرت عباسؓ سے فرمایا:

اطمئن یا عم فانک خاتم المہاجرین فی الہجرۃ کما انا خاتم النبیین فی النبوۃ۔

(کنز العمال ص ١٧٨ ج ٦)

ترجمہ = اے چچا آپ اطمینان رکھیے اس لیے کہ آپ ہجرت کے بارے میں ایسے ہی خاتم المہاجرین ہیں جیسے میں دربارہ نبوت خاتم النبیین ہوں۔

ازالہ : اس وسوسہ کا جواب یہ ہے کہ خاتم المفسرین اور خاتم المحدثین اور خاتم المحققین اس قسم کے محاورات میں بھی خاتم کے معنی آخری کے ہیں۔ بندہ کو چونکہ آئندہ کی خبر نہیں ہوتی اس لیے اپنے زعم کے مطابق یہ سمجھ کر کہ یہی آخری محدث اور آخری مفسر ہیں خاتم المحدثین اور خاتم المفسرین کہہ دیتا ہے۔

یہ محاورہ اسی مقام پر استعمال ہوتا ہے کہ جہاں کسی کی افضلیت ثابت کرنی ہو اور ظاہر ہے کہ افضلیت جب ہی ثابت ہو سکتی ہے کہ جب کمال اور افضلیت کا آخری اور انتہائی درجہ اس کے لیے ثابت کیا جائے چونکہ بندہ اس قسم کے الفاظ اپنے علم کے مطابق استعمال کرتا ہے اس لیے اس قسم کے الفاظ کو مجاز اور مبالغہ پر محمول کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ محدثیت اور محققیت کمالات کسبیہ

صفحہ ٤٨

ختم نبوت

میں سے ہے جو بندہ کے کسب اور اختیار سے حاصل ہو سکتے ہیں۔ قیامت تک ان کا دروازہ کھلا رہے گا۔ کسی کو خاتم المحدثین کہنے کے بعد کسی کا تو کیا خود کہنے والے کا بھی یہ گمان نہیں ہوتا کہ اب اس کے بعد کوئی محدث پیدا نہ ہو گا۔ پس باوجود اس علم کے یہ محاورہ یا تو بطور مبالغہ بولا جاتا ہے یا بطور تاویل کے کہ یہ اپنے زمانہ کے آخری محقق اور آخری محدث ہیں۔ ورنہ اگر اس قسم کی تاویل نہ کی جائے تو یہ کلام لغو اور مہمل بلکہ صریح کذب ہو گا۔ خلاصہ کلام یہ کہ یہ کلام اس ظلوم جہول اور نادان انسان کا ہے جس کو یہ خبر بھی نہیں کہ کل کون محدث اور مفسر اور کون فاسق و فاجر پیدا ہو گا۔ اس نے اپنے زعم اور اپنے خیال کی بناء پر اگر کسی کو خاتم المحدثین اور خاتم المفسرین کہہ دیا تو کیا خداوند علام الغیوب کہ جس کے علم محیط سے کوئی ذرہ باہر نہیں اس کے کلام حقیقت التیام کو بھی اس بندۂ ظلوم و جہول کے ظنی اور تخمینی اور مبالغہ آمیز کلام پر قیاس کیا جائے گا۔ حاشا و کلا ہرگز نہیں۔ اس علیم و خبیر نے جس کے لیے خاتم النبیین کا لفظ ارشاد فرمایا ہے، وہ یقیناً حقیقت پر محمول ہو گا۔ خداوند علام کے کلام کو کسی طرح مجاز اور شاعرانہ مبالغہ پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔ بلا ضرورت حقیقت کو چھوڑ کر مجاز کو اختیار کرنا باجماع علماء اصول و عربیت ناجائز ہے۔ علاوہ ازیں جب آیات اور روایات اور اقوال صحابہؓ و تابعینؒ اور تمام مفسرینؒ اور محدثینؒ کی تصریحات سے یہ ثابت ہو گیا کہ خاتم النبیین کے معنی آخری نبی کے ہیں تو اب اس کے بعد کسی کو لب کشائی کا منصب ہی باقی نہیں رہتا۔ عجیب بات ہے کہ جس ذات ﷺ بابرکات پر خاتم النبیین کی آیت نازل ہوئی اس کے بیان کردہ معنی تو معتبر نہ ہوں اور مرزائی صاحبان کے الٹے سیدھے بیان کردہ معنی معتبر ہو جائیں اور اگر بالفرض والتقدیر خاتم النبیین کے یہی عرفی اور مجازی اور تاویلی معنی مراد لیے جائیں تو پھر آپؐ کی خصوصیت ہی کیا ہوئی؟ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کو بھی اس عرفی معنی کے اعتبار سے خاتم النبیین کہہ سکتے ہیں۔

حدیث عباسؓ کا مطلب

صفحہ ٤٩

ختم نبوت

رہا حدیث عباسؓ کا مطلب؟ سو وہاں بھی خاتم بمعنی آخری ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ فتح مکہ سے پہلے ہجرت فرض تھی۔ فتح مکہ کے بعد ہجرت فرض نہ رہی تھی جیسا کہ بخاری کی حدیث میں ہے لا ہجرة بعد الفتح حضرت عباسؓ نے فتح مکہ سے کچھ ہی قبل ہجرت فرمائی جیسا کہ اصابہ میں ہے:

هاجر قبل الفتح بقليل وشهد الفتح۔

(اصابہ ص ٢٦٨ ج ٣)

ترجمہ = حضرت عباسؓ نے فتح مکہ سے کچھ ہی پہلے ہجرت فرمائی اور فتح مکہ میں حاضر ہوئے۔

اس لیے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو اس کا صدمہ اور غم تھا کہ میں ہجرت میں سابقین اولین میں سے نہ ہوا اور سابقیت کی فضیلت مجھ کو حاصل نہ ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے ان کی تسلی کے لیے ارشاد فرمایا کہ اگر سابقیت کی فضیلت فوت ہو گئی تو خاتمیت کی فضیلت تو حاصل ہو گئی جس طرح سابقیت فضیلت کی وجہ سے ہے اسی طرح خاتمیت بھی فضیلت کی وجہ ہے اور فرمایا کہ تم خاتم المہاجرین ہو۔ جس طرح میں خاتم النبیین ہوں۔ دونوں جگہ خاتم کے معنی آخری کے ہیں۔ حضرت عباسؓ آخری مہاجر تھے جیسے آنحضرت ﷺ آخری نبی تھے۔

وہم ششم

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ آپ یہ فرماتی ہیں قولوا خاتم النبیین ولا تقولوا لا نبی بعدہ یعنی آپ ﷺ کو خاتم النبیین کہو مگر یہ نہ کہو کہ ”لا نبی بعدہ“ کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے نزدیک حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی آ سکتا ہے۔ نبوت ابھی ختم نہیں ہوئی۔

ازالہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ ارشاد بتمامہ مجمع البحار کے تکملہ میں مذکور ہے۔ مرزائی جماعت نے اس کو ناتمام نقل کیا ہے۔ ہم اس کو بعینہ اور بتمامہ

صفحہ ٥٠

ختم نبوت

نقل کرتے ہیں و فے حدیث عیسٰی انه یقتل الخنزیر و یکسر الصلیب و یزید فے الحلال اے یزید فے حلال نفسه بان یتزوج ویولد له وکان لم یتزوج قبل رفعه الی السماء فزاد بعد الهبوط فی الحلال فحینئذٍ یومن کل احد من اهل الکتب یتیقن بانه بشر و عن عائشة قولوا انه خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعده وهذا ناظر الی نزول عیسٰی و هذا ایضاً لا ینا فی حدیث لا نبی بعدی لانه اراد لا نبی ینسخ شرعه

(تکملہ مجمع البحار ص ٨٥)

ترجمہ = حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں ہے کہ حضرت عیسیٰ نزول کے بعد خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور اپنے نفس کی حلال چیزوں میں اضافہ کریں گے یعنی نکاح کریں گے اور آپ کی اولاد ہو گی کیونکہ حضرت عیسیٰؑ نے آسمان پر اٹھائے جانے سے پہلے نکاح نہیں فرمایا تھا۔ آسمان سے اترنے کے بعد نکاح فرمائیں گے (جو لوازم بشریت سے ہے) پس اس حال کو دیکھ کر ہر شخص اہل کتاب میں سے ان کی نبوت پر ایمان لے آئے گا اور اس بات کا یقین کرے گا کہ عیسیٰ علیہ السلام بلاشبہ ایک بشر ہیں خدا نہیں جیسا کہ نصاریٰ اب تک سمجھتے رہے ۔ اور عائشہ صدیقہؓ سے جو یہ منقول ہے کہ وہ فرماتی تھیں کہ آپ ﷺ کو خاتم النبیین کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں، ان کا یہ ارشاد حضرت عیسیٰؑ کے نزول کو پیش نظر رکھ کر تھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ دنیا میں آنا حدیث لا نبی بعدی کے منافی نہیں کیونکہ حضرت عیسیٰؑ نزول کے بعد حضور ﷺ ہی کی شریعت کے متبع ہوں گے اور لا نبی بعدی کی مراد یہ ہے کہ کوئی ایسا نبی نہ آئے گا جو آپ کی شریعت کا ناسخ ہو۔ (انتهی)۔

صفحہ ٥١

ختم نبوت

اب اس عبارت سے صاف ظاہر ہو گیا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ مطلب نہیں کہ حضور ﷺ خاتم النبین نہیں۔ اور آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کے نبی کا آنا جائز سمجھتی ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ کلمہ لانبی بعدی کے ظاہری عموم سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد اگلا اور پچھلا اور نیا اور پرانا کوئی نبی نہیں آئے گا۔ حالانکہ احادیث صحیحہ اور صریحہ اور متواترہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول قطعاً ثابت ہے۔ اس لیے حضرت عائشہ صدیقہؓ کو یہ خیال ہوا کہ مبادا عوام اس ظاہری عموم کی وجہ سے حدیث لا نبی بعدی کو نزول عیسیٰ بن مریم کے منافی اور معارض نہ سمجھ جائیں اس لیے احتیاطاً اس موہم لفظ کے استعمال سے منع فرمایا۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے محض عوام کو ابہام سے بچانے کے لیے لا نبی بعدہ کہنے سے منع فرمایا۔ اور اسی قسم کا قول حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔

عن الشعبی قال قال رجل عندہ المغیرة بن شعبة صلی اللہ علی محمد خاتم الانبیاء لانبی بعدہ فقال المغیرة بن شعبة حسبک اذا قلت خاتم الانبیاء فانا کنا نحدث ان عیسیٰ علیہ السلام خارج فان ھو خرج فقد کان قبلہ و بعدہ (تفسیر در منثور ص ٢٠٤ ج ٥۔)

ترجمہ = شعبیؒ سے منقول ہے کہ ایک شخص نے حضرت مغیرہؓ کے سامنے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ رحمت نازل کرے محمد ﷺ پر جو کہ خاتم الانبیاء ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں حضرت مغیرہ نے فرمایا خاتم الانبیاء کہہ دینا کافی ہے۔ یعنی لانبی بعدہ کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام پھر تشریف لائیں گے۔ پس جب وہ آئیں گے تو ایک ان کا آنا محمد ﷺ سے پہلے ہوا اور ایک آنا حضور ﷺ کے بعد ہو گا۔

پس جس طرح مغیرہ رضی اللہ عنہ ختم نبوت کے قائل ہیں مگر محض عقیدۂ

صفحہ ٥٢

ختم نبوت

نزول عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی حفاظت کے لیے لانبی بعدی کہنے سے منع فرمایا اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ختم نبوت کے عقیدہ کو تو خاتم النبیین کے لفظ سے ظاہر فرمایا اور اس موہم لفظ کے استعمال سے منع فرمایا کہ جس لفظ سے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے خلاف کا ابہام ہوتا تھا اور حاشا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ حضور ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت کو جائز کہتی ہیں۔ اور دلیل اس کی یہ ہے کہ لانبی بعدی کا لفظ احادیث مشہورہ سے ثابت ہے اور خود حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت ہے:

عن عائشة عن النبى صلى الله عليه وسلم انه قال لا يبقى بعده من النبوة الا المبشرات قالوا يا رسول الله وما المبشرات قال الرويا الصالحة يراها المسلم او تری له (کذا فی الکنز بروایت احمد و الخطیب)

ترجمہ = حضرت عائشہ صدیقہؓ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا کہ میرے بعد نبوت کے اجزاء میں سے سوائے مبشرات کے کوئی جزء باقی نہیں رہے گا۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ مبشرات کیا چیز ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اچھا خواب جس کو مسلمان خود دیکھے یا کوئی دوسرا اس کے لیے دیکھے۔

پس جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ نبوت ختم ہو گئی تو یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے لانبی بعدہ کہنے سے اس لیے منع فرمایا کہ وہ آپ ﷺ کے بعد نبوت کو جاری سمجھتی تھیں۔ نیز لانبی بعدہ کا بعینہ وہی مطلب ہے جو خاتم النبیین کا ہے۔ اختتام نبوت پر دونوں لفظ یکساں طور پر دلالت کرتے ہیں معلوم ہوا کہ ممانعت کی یہ وجہ نہیں بلکہ احسن وجہ یہ ہے کہ لفظ لانبی بعدہ میں عموم کی وجہ سے بظاہر عوام کے لیے ایہام کا اندیشہ تھا کہ کوئی غلط فہمی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا انکار نہ کر دے اس لیے عقیدۂ عوام کی حفاظت کے لیے حضرت عائشہ

صفحہ ٥٣

ختم نبوت

صدیقہؓ نے یہ فرمایا کہ فقط لفظ خاتم النبیین پر اکتفا کرو کیونکہ یہ لفظ اختتام نبوت و رسالت کے بیان کرنے کے لیے کافی اور شافی ہے اور آپ ﷺ کی فضیلت اور سیادت کو بھی ظاہر کرتا ہے اور لا نبی بعدی کا لفظ مت استعمال کرو جس میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے خلاف کا ایہام ہوتا ہو اور لوگوں کے دل میں یہ وسوسہ گزرے کہ یہ حدیث دوسری حدیث کے معارض ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ اگر ختم نبوت کی منکر ہوتیں تو خاتم النبیین کہنے کا کیوں حکم دیتیں کہ جو صراحتاً ”ختم نبوت پر دلالت کرتا ہے۔

عجیب بات ہے کہ مرزائی صاحبان کے نزدیک ایک مجہول الاسناد اثر تو معتبر ہو جائے اور صحیح اور صریح روایتوں کا دفتر معتبر نہ ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ جو لفظ ان کی خواہش کے مطابق کہیں سے مل جائیں وہ تو قبول ہے اور جو آیت اور حدیث خواہ کتنی صریح اور صاف کیوں نہ ہو وہ نامقبول۔ افکلما جاءکم رسول بما لا تھوی انفسکم استکبرتم

مرزائی مفسر کی شہادت

محمد علی لاہوری اپنے بیان القرآن میں لکھتے ہیں:

”اور ایک قول حضرت عائشہؓ کا پیش کیا جاتا ہے جس کی سند کوئی نہیں۔ قولوا خاتم النبیین ولا تقولوا لا نبی بعدہ، خاتم النبیین کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اور اس کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے نزدیک خاتم النبیین کے معنے کچھ اور تھے اور کاش وہ معنی بھی کہیں مذکور ہوتے۔ حضرت عائشہؓ کے اپنے قول میں ہوتے۔ کسی صحابیؓ کے قول میں ہوتے۔ نبی کریم ﷺ کی حدیث میں ہوتے مگر وہ معنی در بطن قائل ہیں اور اس قدر حدیثوں کی شہادت جن میں خاتم النبیین کے معنی لا نبی بعدی کئے گئے ہیں ایک بے سند قول پر پس پشت پھینکی جاتی ہیں۔ یہ غرض پرستی ہے خدا پرستی نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی تیس حدیثوں کی شہادت ایک بے سند قول کے سامنے

صفحہ ٥٤

ختم نبوت

روکی جاتی ہے۔ اگر اس قول کو صحیح مانا جائے تو کیوں اس کے معنی یہ نہ کئے جائیں کہ حضرت عائشہؓ کا مطلب یہ تھا کہ دونوں باتیں اکٹھی کہنے کی ضرورت نہیں خاتم النبیین کافی ہے جیسا کہ مغیرہؓ بن شعبہ کا قول ہے کہ ایک شخص نے آپ کے سامنے کہا خاتم الانبیا ولا نبی بعدہ تو آپ نے فرمایا خاتم الانبیا تجھے کہنا بس ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا مطلب ہو کہ جب اصل الفاظ خاتم النبیین واضح ہیں تو وہی استعمال کرو یعنی الفاظ قرآنی کو الفاظ حدیث پر ترجیح دو۔ اس سے یہ کہاں نکلا کہ آپ الفاظ حدیث کو صحیح نہ سمجھتی تھیں اور اتنی حدیثوں کے مقابل اگر ایک حدیث ہوتی تو وہ بھی قابل قبول نہ ہوتی چہ جائیکہ صحابیؓ کا قول ہو جو شرعاً حجت نہیں انتہی۔"

(بیان القرآن ج ٢ ص ١١٠٣۔ ١١٠٤)

وہم ہفتم

شیخ محی الدین بن عربی اور بعض بزرگوں کے کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد مطلقاً نبوت مرتفع نہیں ہوئی بلکہ تشریعی نبوت مرتفع ہوئی اور حدیث نبوی لا نبی بعدی کا یہ مطلب ہے کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہ ہو گا کہ جو آپؐ کی شریعت کے خلاف ہو بلکہ آپ ہی کی شریعت کے ماتحت ہو گا۔

ازالہ

شیخ محی الدین بن عربیؒ اور کل اولیاءؒ اور عارفینؒ اور تمام صوفیائے کرامؒ اس پر متفق ہیں کہ نبوت ختم ہو گئی اور نبی اکرم ﷺ خاتم الانبیاء اور آخری نبی ہیں اور جو شخص آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر اور مرتد اور واجب القتل ہے۔ نبوت بالکلیہ منقطع ہو گئی آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کی کوئی نبوت باقی نہیں رہی البتہ نبوت کے کچھ اجزاء اور کچھ کمالات امت کے افراد میں باقی ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کی کوئی قسم باقی نہیں کہ جس کے ملنے سے کسی کو نبی کہا جا سکے۔ البتہ نبوت کے کچھ اجزاء اور کچھ خصائل

صفحہ ٥٥

ختم نبوت

اور کچھ شمائل باقی ہیں۔ جیسا کہ حدیث میں ہے: ذهبت النبوة وبقيت المبشرات ترجمہ = نبوت تو جاتی رہی اور بشارت دینے والے خواب باقی رہ گئے۔

حدیث میں ہے کہ رؤیائے صالحہ نبوت کا چالیسواں جز ہے اور کمالات نبوت کے ساتھ متصف ہونا اتصاف بالنبوۃ کو مستلزم نہیں۔ جس طرح سر انسان کا جزء ہے مگر سر کو انسان نہیں کہہ سکتے اسی طرح رؤیائے صالحہ نبوت کا جزء ہے مگر اس کو نبوت نہیں کہہ سکتے اور سچا خواب دیکھنے والے کو نبی نہیں کہہ سکتے اور صوفیاء حضرات کا یہ کلام عین شریعت کے مطابق ہے اور کوئی عالم، علماء شریعت میں سے اس کا منکر نہیں۔

جاننا چاہیے کہ یہاں آیات اور احادیث میں دو مضمون آئے ہیں۔ ایک مضمون تو یہ ہے کہ یہ عہدہ ہی ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا۔ قیامت تک عہدہ نبوت کسی کو نہیں دیا جائے گا۔ دوسرا مضمون یہ ہے کہ نبی امی فداہ نفسی و ابی و امی اشخاص انبیاء تمام کے خاتم ہیں۔ پیغمبروں کے جس قدر افراد دنیا میں آنے تھے وہ آ چکے اور نبی اکرم ﷺ اس سلسلہ کے آخری فرد ہیں۔ پہلے مضمون کو حدیث میں اس عنوان سے بیان کیا گیا۔

عن ابی ھریرةؓ قال قال رسول الله صلی الله علیه وسلم یایھا الناس انه لم یبق من النبوة الا المبشرات رواہ البخاری فی کتاب التعبیر

ترجمہ = حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لوگو! نبوت میں سے صرف مبشرات (بشارت دینے والے خواب) باقی رہ گئے ہیں بخاری نے کتاب التعبیر میں روایت کیا ہے۔ اور دوسری حدیث میں ہے ذهبت النبوة وبقية المبشرات۔

اس قسم کی احادیث عہدہ نبوت کے ارتفاع اور انقطاع کے بیان کے لیے آئی ہیں۔ اور دوسرا مضمون کہ نبی امی ﷺ سلسلہ نبوت کے افراد اور اشخاص

صفحہ ٥٦

ختم نبوت

کے خاتم ہیں اس کو قرآن کریم نے خاتم النبین کے عنوان سے اور حدیث نے خاتم الانبیاء اور آخر الانبیاء اور لا نبی بعدی کے عنوان سے بیان کیا ہے اور یہ دوسرا مضمون پہلے مضمون کے منافی تو کیا ہوتا بلکہ غایت درجہ موید اور مستلزم ہے۔

شیخ محی الدین بن عربیؒ کی یہی مراد ہے کہ نبوت ختم ہو گئی اور نبوت کے کچھ اجزاء اور کمالات اور مبشرات باقی ہیں۔ چنانچہ شیخ فتوحات میں فرماتے ہیں:

فاخبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان الرویا جزء من اجزاء النبوة فقد بقى للناس فى النبوة هذا وغيره و مع هذا لا يطلق اسم النبوة ولا النبى الا على المشرع خاصة فهجر هذا الاسم لخصوص وصف معين فى النبوة۔

(فتوحات ص ٢٩٥ ج ٢)

ترجمہ = رسول اللہ ﷺ نے یہ بتلا دیا کہ سچا خواب نبوۃ کا ایک جزء ہے لوگوں کے لیے نبوت میں اس قسم کے اجزاء باقی رہ گئے ہیں۔ مگر باوجود اس کے لفظ نبوت اور لفظ نبی کا اطلاق سوائے مشرع کے (یعنی جو خدا کی طرف سے احکام شرعیہ لے کر آئے) اور کسی پر نہیں ہو سکتا اس نام کی بندش نبوت میں کسی خاص صفت کی بناء پر کر دی گئی ہے۔

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:

فما تطلق النبوة الا لمن اتصف بالمجموع فذلک النبى وتلک النبوة التى حجرت علينا و انقطعت فان جملتها التشريع بالوحى الملكى وذلک لا يكون الا لنبى خاصة۔

(فتوحات ص ٥٦٨ جلد ٣)

ترجمہ = نبوت کا اطلاق جب ہی ہو سکتا ہے کہ جب نبوت کے تمام اجزاء کے ساتھ علی وجہ الکمال و التمام موصوف ہو۔ پس ایسا ہی نبی اور ایسی ہی نبوت جو تمام اجزاء کو جامع اور حاوی ہو ہم پر (یعنی اولیاء پر) بند کر دی گئی اور منقطع ہو گئی۔ اس لیے کہ منجملہ اجزاء نبوت تشریع احکام ہے

صفحہ ٥٧

ختم نبوت

کہ جو فرشتہ کی وحی سے ہو اور یہ امر نبی کے ساتھ مخصوص ہے کسی اور کے لیے نہیں ہو سکتا۔

شیخ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں کہ اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

اذا ھلک کسریٰ فلا کسریٰ بعدہ و اذا ھلک قیصر فلا قیصر بعدہ۔

ترجمہ = جب کسریٰ شاہ فارس ہلاک ہو جائے گا تو پھر اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ ہو گا۔ اور جب قیصر شاہ روم ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہو گا۔

پس جس طرح قیصر و کسریٰ کے مرجانے کے بعد قیصر و کسریٰ کا نام ختم ہوا مگر ملک فارس اور روم موجود رہا۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت اور نبی کا نام اٹھ گیا مگر نبوت اور اسکے اجزاء مسلمانوں میں باقی رہے یعنی قرآن و حدیث اور کمالات نبوت۔

شیخ کے کلام کا حاصل یہ ہے کہ نبوت ختم ہو گئی البتہ اس کے کچھ اجزاء اور کمالات اور مبشرات باقی ہیں (جیسا کہ ذھبت النبوۃ وبقیت المبشرات سے صاف ظاہر ہے) اور نبی اور نبوت کا اطلاق اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ نبوت کے تمام اجزاء (جن میں تشریع احکام بوحی ملکی بھی داخل ہے) علی وجہ الکمال و التمام متحقق نہ ہوں اور تشریع احکام بوحی ملکی نبی اور مقام نبوت کے لیے لازم ہے بغیر تشریع کے نبوت متحقق نہیں ہو سکتی۔ نبوت کا اصل دار و مدار تشریع پر ہے۔ جب تشریع نہ ہو تو نبوت بھی نہیں۔ معلوم ہوا کہ شیخ کے نزدیک غیر تشریعی نبوت نبوت ہی نہیں بلکہ وہ اجزاء نبوت ہیں جن کو اصطلاح صوفیا میں ولایت کہا جاتا ہے۔ لہٰذا شیخ اکبرؒ کی طرف یہ نسبت کرنا کہ وہ غیر تشریعی نبوت کی بقاء کے قائل ہیں بالکل غلط ہے۔ ان کے نزدیک تشریع نبوت کا جزو لاینفک ہے بغیر تشریع کے ان کے نزدیک نبوت ہی متحقق نہیں ہو سکتی نہ یہ کہ نبوت تو ہے، مگر غیر تشریعی ہے

صفحہ ٥٨

ختم نبوت

اور جو اجزاء نبوت کے باقی ہیں نہ وہ نبوت ہیں اور نہ ان کی بناء پر نبوت اور نبی کا اطلاق جائز ہے اور اگر بالفرض یہ معنی تسلیم بھی کر لیے جائیں تو عجیب نہیں کہ شیخ اکبرؒ کا نبوت غیر تشریعی کی بقاء سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی طرف اشارہ ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام اگرچہ نزول کے بعد بھی نبی ہوں گے مگر وہ تشریعی نبی نہ ہوں گے یعنی اپنی سابقہ شریعت پر عامل نہ ہوں گے بلکہ شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے تابع اور ماتحت ہوں گے۔

علاوہ ازیں جب صدہا نصوص اور احادیث نبویہ اور آثار صحابہؓ اور تابعینؒ اور کل علماءؒ شریعت و طریقت کی تصریحات سے یہ معلوم ہو گیا کہ ختم نبوت امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کا اجماعی عقیدہ ہے اور خود شیخ اکبرؒ کی بے شمار تصریحات فصوص اور فتوحات وغیرہ میں موجود ہیں کہ نبوت حضور ﷺ پر ختم ہو گئی اور آپ ﷺ آخری نبی ہیں تو پھر ان تصریحات کے بعد شیخ کی مجمل اور مبہم عبارات کو پیش کرنا اور ختم نبوت کے بارے میں شیخ کی صریح عبارات کو نظر انداز کر دینا اور نصوص شریعت اور اجماع امت کے خلاف راہ نکالنا کون سا دین اور عقل ہے۔

صفحہ ٥٩

ختم نبوت

نبوت و رسالت کا انقطاع اور اختتام

اور کمالات نبوت کا بقا اور دوام اور

حضرت صوفیا کا کلام معرفت التیام

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ہرگز در بیش و کم نمے باید زد
از حد بیرون قدم نمے باید زد
عالم ہمہ مرات جمال ازلی است
مے باید دید و دم نمے باید زد

--------------------

کل ما فی الکون وہم او خیال
او عکوس فی المرایا او ظلال

موجود حقیقی صرف ایک واجب جل مجدہ کی ذات و برکات ہے اور باقی سب معدوم۔ سوائے باری تعالیٰ کے کسی کا وجود حقیقی نہیں۔ سب کا وجود مجازی اور موہوم ہے۔ حقیقی وجود کی تو کسی ممکن نے خوشبو بھی نہیں سونگھی اور سونگھ بھی نہیں سکتے۔ جس طرح زمین اپنی اصل ذات کے اعتبار سے مظلم اور تاریک ہے اور جو روشنی ہے وہ آفتاب کا ایک عکس اور پرتو ہے اسی طرح سارا جہان اپنی اصل حقیقت کے لحاظ سے نور وجود سے بالکل محروم اور عاری ہے۔ عدم اور فنا کے

صفحہ ٦٠

ختم نبوت

سوا اس عالم کی کوئی حقیقت نہیں۔ کما قال تعالیٰ کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام ○ و قال تعالیٰ کل شی ھالک الا وجہہ عدم اور فناء کو ممکن کی عین حقیقت اور ذاتیات سے قرار و کسی صورت میں عدم ممکن سے جدا نہیں ہو سکتا ہر ممکن کو عدم کا ایک آئینہ سمجھو کہ جس میں واجب الوجود کے وجود ازلی اور صفات کمالیہ منعکس ہو رہی ہیں۔ نور السموت والارض نے اپنے جمال جہاں آراء اور نور وجود کو کسی آئینے میں دیکھنے کا ارادہ فرمایا اس لیے اپنے بے چون و چگون وجہ کو اس آئینہ عدم کی طرف متوجہ فرمایا۔ ہر عدم نے اپنی اپنی استعداد اور فطرت کے مناسب اس کے وجود ازلی اور صفات کمال کے عکس کو قبول کیا جس عدم پر وجود واجب کا عکس پڑتا رہا وہ موجود کہلانے لگا۔ جس کے وجود کی حقیقت عکس اور پرتو سے زائد نہیں۔ جیسا کہ کسی نے خوب کہا ہے

کل ما فی الکون وھم او خیال
او عکوس فی المرایا او ظلال

ابتدائے آفرینش سے اسی طرح سلسلہ جاری رہا کہ وجود ازلی اور صفات قدیمہ کا عکس ممکنات کے عدمات پر وقتاً فوقتاً اور متفرقاً پڑتا رہا۔ یہاں تک کہ حق جل شانہ نے اس خلاصہ موجودات اور خلاصہ عالم یعنی انسان کو احسن تقویم میں پیدا فرمایا تاکہ صفات الہیہ کا مجموعہ اور مظہر اور تجلی گاہ بن سکے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے:

خلق اللہ آدم علی صورتہ

ترجمہ = اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا۔

پس خلیفہ ساخت صاحب سینہ
صفحہ ٦١

ختم نبوت

تا بود نمایش را آئینہ

امام ربانی شیخ مجدد الف ثانی قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی خلافت کے لیے اس لیے خاص فرمایا کہ آدمی ایک جامع نسخہ ہے جو کمالات تمام موجودات میں متفرقاً ہیں، وہ تنہا انسان میں مجتمعاً موجود ہیں۔ علوی اور سفلی، ارضی اور سماوی، روحانی اور حیوانی تمام کائنات کے نمونے اس میں موجود ہیں۔ انسان عالم امکان کا تو حقیقۃً خلاصہ اور اجمال ہے۔ مگر مرتبہ وجوب سے بطریق صورت (یعنی عکس) اس کو حصہ ملا ہے یعنی واجب جل شانہ کی صفات واجبہ کا مظہر اور تجلی گاہ ہے جیسا کہ حدیث میں ہے:

ان اللہ خلق آدم علیٰ صورتہ۔ ترجمہ = تحقیق اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔

مطلب یہ ہے کہ حق تعالیٰ شانہ، اپنی ذات اور صفات میں بے چون و چگوں ہے اور روح آدم کو اپنی شان بے چونی و چگونی کی ایک تصویر اور نمونہ بنایا۔ اور کسی کا خلیفہ وہی ہو سکتا ہے جو اس کی صورت پر ہو اور چونکہ روح کو بے چون و چگوں کی صورت پر پیدا کیا اس لیے حقیقی بے چون و چگوں کی گنجائش اس میں ہو سکی۔ جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے:

لا یسعنی ارضی ولا سمائی ولکن یسعنی قلب عبدالمومن ترجمہ = اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مجھ کو نہ میری زمین سما سکتی ہے اور نہ میرا آسمان لیکن میرے مومن بندہ کا دل مجھ کو سما سکتا ہے۔ یعنی میرے عکس اور تجلی کو برداشت کر سکتا ہے۔

قلب مومن کی تخصیص اس لیے فرمائی کہ بے چونی اور چگونی کی صورت پر مومن ہی کا قلب رہتا ہے۔ بخلاف کافر کے کہ اس کا قلب چونی اور چندی میں گرفتار ہو کر وحوش اور بہائم کے ساتھ ملحق ہو جاتا ہے۔ کما قال تعالیٰ اولئک کالانعام بل ہم اضل۔ وقال تعالیٰ۔ ان شر الدواب عند اللہ الذین کفروا

(کذا فی المکتوبات ص ٣٩٠ ج ١)

صفحہ ٦٢

ختم نبوت

امام غزالیؒ اپنے رسالہ (المضنون بہ علی غیر اہلہ) میں فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ کا کوئی مثل نہیں لیس کمثلہ شی لیکن اس کے لیے مثال ضرور ہے۔ کما قال تعالے ولہ المثل الاعلی اور نبی اکرم ﷺ کا یہ ارشاد خلق اللہ آدم علی صورتہ اس سے مقصود حق جل وعلا کی مثال بیان کرنا ہے نہ کہ مثل۔ یعنی انسان حق تعالیٰ شانہ کی حیات اور علم اور قدرت اور سمع اور بصر اور ارادہ اور تکلم کی ایک مثال ہے اور انسان حق سبحانہ کی ان صفات سبعہ کا ایک عجیب نمونہ ہے کہ یہ تمام صفات انسان کے چہرہ سے بیک وقت نمایاں ہیں۔ انسان اگر ان صفات کے ساتھ متصف نہ ہوتا تو حق تعالیٰ کا ان صفات کے ساتھ متصف ہونا کیسے سمجھتا انتہی کلامہ۔

مثال سے مقصود محض تعلیم و تفہیم ہوتی ہے اس لیے بارگاہ خداوندی میں مثال دینے کی اجازت دی گئی ورنہ اس کی ذات اس سے بھی پاک اور منزہ ہے۔

اے بروں از وہم و قال و قیل من
خاک بر فرق من و تمثیل من!
رحم فرما بر قصور فہمہا
اے وراء عقلہا و وہمہا
آمدم بر سر مطلب

پس جس طرح خداوند ذوالجلال کی صفات کمال کا انعکاس ممکنات اور کائنات پر ہوتا ہے۔ اسی طرح کمالات نبوت کا انعکاس قلوب امم پر اپنی اپنی استعداد کے موافق ہوتا ہے۔ جس طرح آئینہ اور پتھر اپنی اپنی قابلیت اور ذاتی استعداد کے موافق آفتاب کی روشنی قبول کرتے ہیں اس طرح امتی بھی اپنی استعداد کے موافق آفتاب نبوت کے شعاؤں کا عکس قبول کرتے ہیں۔

جس ذات بابرکات کو حق جل شانہ اپنی نبوت و رسالت سے سرفراز فرماتے ہیں۔ وہ ذات ان صفات کمال کا معدن اور منبع ہوتی ہے کہ جو ذات ممکن کے لیے ممکن ہیں۔ نبی کی ذات صدیقیت محدثیت اور تفہیم الٰہی اور امامت اور

صفحہ ٦٣

ختم نبوت

حکمت اور علم لدنی اور معرفت اور تزکیہ اور ہدایت اور تائید بروح القدس اور خلافت اور ہدی صالح اور سمت حسن اور رویائے صالحہ اور تمام اخلاق فاضلہ کی جامع ہوتی ہے۔ نبی کی ذات ان تمام کمالات کے ساتھ بالذات متصف ہوتی ہے اور باقی تمام امت اسی آفتاب کے انعکاس سے ان صفات سے بقدر اپنی استعداد کے بالفیض منور اور روشن ہوتی ہے۔ ہر شخص اپنی اپنی مناسبت اور استعداد اور قابلیت کے موافق آفتاب کے انوار و تجلیات کا عکس قبول کرتا ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے قلب پر آپ ﷺ کی شان صدیقیت کا عکس پڑا تو صدیق ہو گئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قلب پر شان تحدیث اور مکالمہ خداوندی کا عکس پڑا تو محدث اور ملہم ہو گئے۔ آپ کی شان امانت کا پرتو ابو عبیدہؓ پر پڑا تو امین الامت کہلائے۔ عبداللہ بن عباسؓ اور عبداللہ بن مسعودؓ اور عبداللہ بن عمرؓ اور زیدؓ بن ثابت اور معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہم) پر آپ ﷺ کی شان تعلیم الکتاب و الحکمہ کا عکس پڑا تو فقہاء امت کہلائے۔ ابوذر غفاریؓ پر حضور ﷺ کی شان زہد اور استغناء عن الدنیا کا عکس پڑا تو زاہد امت کہلائے۔ غرض یہ کہ ہر شخص نے اپنی اپنی فطرت اور طبیعت کے مناسب کمالات نبوت کے انعکاس کو قبول کیا اور اس رنگ میں رنگا گیا۔

خلاصہ یہ کہ حضور ﷺ کی ذات بابرکات کمالات صوریہ اور معنویہ اور احوال ظاہری اور باطنی دونوں کی جامع تھی۔ احوال باطنی کہ جس میں من جانب اللہ حقائق اور معارف کا انکشاف ہوتا ہے۔ لسان شریعت میں اس کو ولایت سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور احکام ظاہری کہ جس میں حلال و حرام کے احکام امت کو بتلائے جاتے ہیں۔ ان احکام کے مجموعہ کا نام شریعت ہے اور ظاہر ہے کہ ولایت کا تعلق صرف اپنی ذات سے ہوتا ہے اور شریعت کا تعلق دوسروں سے ہوتا ہے۔ اس لیے احکام شریعت دوسروں پر حجت ہیں نہ کہ احکام ولایت۔ ولایت حجت لازمہ ہے بشرطیکہ قواعد شریعت کے خلاف نہ ہو۔ اور شریعت حجت ملزمہ ہے۔ جس سے دوسروں پر الزام اور حجت قائم ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ظاہر ہے کہ ولایت اور

صفحہ ٦٤

ختم نبوت

شریعت دونوں نبوت و رسالت کے دو شعبے ہیں۔ اس لیے شیخ اکبر نے شعبہ ولایت کو غیر تشریعی نبوت کے عنوان سے اور شعبہ شریعت کو تشریعی نبوت کے نام سے تعبیر کیا ہے۔ اولیاء امت پر نبوت کے شعبہ ولایت کا انعکاس ہوا (جس کو شیخ اکبرؒ نبوت غیر تشریعی کے نام سے موسوم کرتے ہیں) جس سے علم لدنی کے چشمے ان حضرات کے قلوب صافیہ میں جاری ہو گئے اور قلوب کے امراض اور ان کے اسباب و علامات اور ان کی تشخیصات اور معالجات ان پر منکشف ہوئے اور اسی گروہ نے احوال باطنی کی محافظت کی اور علم الاحسان یعنی علم التصوف کو مدون کیا۔

اور فقہا اور مجتہدین کے قلوب پر نبوت کے شعبہ شریعت کا عکس پڑا (جس کو شیخ اکبرؒ نبوت تشریعی کے نام سے موسوم کرتے ہیں) جس سے ان حضرات کی بصیرت اور عقل اور فراست ایسی روشن اور منور ہو گئی کہ دن ہی میں ستارے نظر آنے لگے اور ثری سے ثریا تک ان کی دوربین نگاہیں پہنچنے لگیں۔ کتاب اور سنت کی عمق اور گہرائیوں میں جو علم کے یواقیت اور جواہر مستور تھے۔ غوطہ لگا کر نکال لائے۔ اس طبقہ نے آپ ﷺ کی شریعت کی محافظت اور نگرانی کی اور علم احکام اور علم فقہ کو مدون کیا اور احکام شریعت کے حقائق اور دقائق اور لطائف و معارف کے بیان میں تحقیق و تدقیق کے سدرۃ المنتہی تک پہنچ گئے جن کو دیکھ کر عقل یہ کہتی ہے۔

اگر یک سر موئے بر تر پرم
فروغ تجلی بسوزد پرم

جس طرح آنحضرت ﷺ نے وحی خداوندی سے امت کو حلال و حرام کی تلقین فرمائی۔ اسی طرح ائمہ اجتہاد نے آپ ﷺ کی شریعت کو سامنے رکھ کر غیر منصوص مسائل میں اجتہاد فرمایا اور احکام حلال و حرام مستنبط فرمائے۔ اور عوام کو ان پر عمل کرنے کا حکم دیا۔ حضرات فقہاء کا اجتہاد اور استنباط تشریع انبیاء کا ایک عکس اور پرتو ہے۔ حضرات انبیاء علیہم السلام کی تشریع قطعی اور یقینی ہے اور مجتہدین کی تشریع جو بصورت استنباط ظنی ہے۔ انبیاء کی تشریع

صفحہ ٦٥

ختم نبوت

مستقل ہے اور مجتہدین کی تشریع انبیاء کرام کے بتلائے ہوئے علوم میں اجتہاد کر سکتے ہیں خود بخود ایزاد نہیں کر سکتے۔ تشریع انبیاء میں نسخ ہے اور تشریع مجتہدین میں رجوع عن الاجتہاد ہے۔ اور چونکہ نبوت میں شریعت اور تشریع غالب ہوتی ہے اور ولایت مغلوب۔ اس لیے حدیث علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل اور حدیث العلماء ورثة الانبیاء میں علماء کی تخصیص فرمائی اور اسی وجہ سے علماء قیامت کے دن انبیاء و رسل کی صف میں ہوں گے اور ہر نبی کے ساتھ اس کی امت کا ایک دو عالم یا زیادہ اس کے یمین و یسار میں کھڑا ہو گا اور جس طرح انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی امتوں پر شہید ہوں گے اسی طرح اس امت کے علماء تمام امم پر شہید ہوں گے۔

یہ تمام مضمون الیواقیت و الجواہر ص ٨٧ ج ٢ سے ماخوذ ہے حضرات اہل علم اصل سے مراجعت فرما سکتے ہیں۔

الحاصل حضرات صوفیاء کی اصطلاح میں نبوت کے دو شعبے ہیں۔ ایک تشریعی شعبہ اور ایک غیر تشریعی شعبہ۔ غیر تشریعی شعبہ کا عکس قلوب اولیاء پر پڑا جس کا ظہور الہام اور انکشاف معارف اور صدور کرامات و خوارق عادات کی شکل میں ہوا اور نبوت کے تشریعی شعبہ کا انعکاس قلوب مجتہدین پر برنگ اجتہاد ہوا اور یہ اجتہاد حاشا و کلا ثم حاشا و کلا شریعت اور تشریع نہیں بلکہ تشریع نبوی کا ایک ادنیٰ سا عکس اور پرتوہ اور معمولی سا ظل اور سایہ ہے۔

پس جس طرح کمالات الٰہیہ اور صفات خداوندی کے انعکاس سے کوئی کسی قسم کا الہ اور خدا نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح کمالات نبوت کے انعکاس سے کوئی کسی قسم کا ہرگز ہرگز نبی نہیں ہو سکتا۔ تمام اولیاءؒ اور عارفینؒ اس پر متفق ہیں کہ نبوت ختم ہو گئی اور حضور ﷺ خاتم النبیین ہیں اور اولیاء اللہؒ اور عارفینؒ نبوت کے غیر تشریعی شعبہ کے محض عکس اور پرتوہ ہیں۔ نبی نہیں اور فقہاءؒ اور مجتہدینؒ نبوت کے تشریعی شعبہ کے محض عکس اور پرتوہ ہیں۔ نبی نہیں اور دنیا میں کوئی ولی اور صوفی اس کا قائل نہیں کہ اولیاءؒ غیر تشریعی نبی ہیں اور فقہاءؒ اور مجتہدینؒ

صفحہ ٦٦

ختم نبوت

تشریعی نبی ہیں اگر علماء امت کا نبی ہونا ممکن ہوتا تو علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل میں کاف تشبیہ داخل کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ اس لیے کہ مشبہ اور مشبہ بہ مغائر ہوتے ہیں۔ اگر علماء امت کو نبوت مل سکتی تو کانبیاء بنی اسرائیل نہ فرماتے بلکہ جس طرح بنی اسرائیل کو وجعل فیکم انبیاء سے خطاب کیا گیا۔ اسی طرح اس امت کو بھی کہا جاتا۔ اور حدیث میں ہے من صلی خلف عالم تقی فکانما صلی خلف نبی جس نے متقی عالم کے پیچھے نماز پڑھی اس نے گویا کہ نبی کے پیچھے نماز پڑھی۔ اس حدیث میں لفظ کانما بھی اختتام نبوت کی مشعر ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم وعلمہ اتم واحکم

دلیل دوم

قال تعالیٰ الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا ط

اس آیت شریفہ میں حق جل شانہ نے ایک خاص انعام کا ذکر فرمایا ہے وہ یہ کہ ”آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو ہر طرح سے کامل اور مکمل کر دیا ۔“ قیامت تک کے لیے معاش اور معاد کی تمام ضرورتوں کے لیے ایک مکمل دستور العمل عطا فرمایا کہ جو حکمت علمیہ اور عملیہ اور سیاست ملکیہ اور مدنیہ اور عقائد و اعمال اور احکام حرام و حلال کا جامع ہے۔ کوئی حکمت ایسی نہیں چھوڑی کہ جس کو صراحۃً یا اشارۃً بیان نہ کر دیا ہو۔ جو علوم اور معارف ادیان سابقہ میں تھے۔ ان سب کا عطر اور لب لباب اس دین متین میں لے لیا گیا۔ جس چیز کا صراحۃً بیان کرنا مناسب تھا اس کو صراحۃً بیان کر دیا اور جس کو اشارۃً بیان کرنا تھا۔ اس کو اشارۃً بیان کر دیا۔ غرض یہ کہ کوئی شے ایسی نہیں چھوڑی کہ ضرورت اور حاجت ہو۔ اور اس کو بیان نہ کر دیا گیا ہو۔ لہٰذا اب اس میں نہ کسی اضافہ اور ترمیم کی گنجائش ہے اور نہ کمی اور زیادتی ہو سکتی ہے۔ اسی لیے آپ کا دین تمام ادیان سے بہتر ہوا اور تمام ادیان کا ناسخ ہوا۔ اور تمام ادیان دین اسلام

صفحہ ٦٧

ختم نبوت

سے منسوخ ہو گئے۔ معلوم ہوا کہ یہ دین آخری دین ہے اور یہ امت آخری امت ہے اور یہ نبی آخری نبی ﷺ ہیں اس لیے کہ ناسخ وہی ہو گا کہ جو آخر ہو گا اور اس اکمال دین سے ”میں نے تم پر اپنا انعام اور احسان پورا کر دیا“ کہ تم کو ایسا کامل اور مکمل دین عطا کیا کہ جو کسی کو نہیں عطا کیا۔ اور اسی دین اسلام کو ہمیشہ کے لیے تمہارا دین بننے کے لیے پسند کیا۔ یعنی قیامت تک دین اسلام ہی کا دور دورہ رہے گا۔ اب اس کے بعد کوئی دوسرا دین نہیں آئے گا جو اس دین کو منسوخ کرے۔ پس تم کو چاہیے کہ اس نعمت کا شکر ادا کرو اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کامل دین پر استقامت نصیب فرمائے اور تمہارا جینا اور مرنا اور قبر سے اٹھنا اسی دین پر ہو۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

هذه اكبر نعم الله تعالى على هذه الامة حيث اكمل تعالى لهم دينهم فلا يحتاجون الى دين غيره ولا الى نبي غير نبيهم صلوات و سلامه عليه و لهذا جعله الله خاتم الانبياء و بعثه الى الانس و الجن۔

(تفسیر ابن کثیر ص ٢٧٩ ج ٣)

ترجمہ = حق تعالیٰ شانہ کی اس امت پر یہ سب سے بڑی نعمت ہے کہ اس امت کو مکمل دین عطا فرمایا کہ جس کے بعد نہ ان کو کسی دین کی حاجت ہے اور نہ کسی نبی کی ضرورت ہے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء بنایا اور تمام جن و انس کی طرف مبعوث کیا۔

پس اگر حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی آئے تو وہ کیا بتلائے گا ضرورت تو اب کوئی باقی نہیں۔ بفرض محال اگر وہ نبی ہو گا تو یقیناً ”بے ضرورت اور فالتو ہو گا اور ادنیٰ عقل والا جانتا ہے کہ فالتو اور بے کار آدمی کہ جس کی کسی کو ضرورت نہ ہو“ وہ کبھی نبی نہیں ہو سکتا۔

یہ آیت شریف جس میں اس نعمت عظیم یعنی اکمال دین کا ذکر فرمایا ہے۔

صفحہ ٦٨

ختم نبوت

١٠ھ میں حجۃ الوداع کے موقعہ پر عرفہ کے دن یوم جمعہ میں آنحضرت ﷺ پر عصر کے وقت نازل ہوئی جس وقت کہ میدان عرفات میں چالیس ہزار قدوسیوں کا مبارک اور رشک ملائک مجمع آپ ﷺ کی ناقہ مبارک کے ارد گرد تھا۔ اس مجمع میں جو آپ ﷺ نے خطبہ دیا اس کے متعلق حدیث میں ہے:

عن ابی امامة قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم فى خطبة يوم حجة الوداع ايها الناس لانبى بعدى ولا امة بعدكم فاعبدو ربكم و صلوا خمسكم وصوموا شهركم وادوا زكوة اموالكم طيبة بها انفسكم و اطيعوا ولاة امركم تدخلوا جنة ربكم۔ کذا فی منتخب الکنز حاشیہ مسند امام احمد بن حنبلؒ

(ص ٣٩١ ج ٢)

ترجمہ = حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حجۃ الوداع کے خطبہ میں یہ ارشاد فرمایا۔ اے لوگو! میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔ پس اب وقت کو غنیمت سمجھو اور اپنے پروردگار کی عبادت اور بندگی میں لگے رہو۔ اور پانچ وقت کی نماز پڑھتے رہو اور خوش دلی سے اپنے مالوں کی زکوۃ دیتے رہو اور اپنے امراء اور خلفاء کی اطاعت کرتے رہو۔ اگر ایسا کرتے رہے تو انشاء اللہ تم اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔

جس زمان اور مکان میں اکمال دین کی آیت نازل ہوئی اسی زمان اور مکان میں آنحضرت ﷺ نے یہ خطبہ دیا جس میں یہ اعلان فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں کیونکہ دین مکمل ہو گیا اس لیے اب نئے نبی کی ضرورت نہیں اور جب کوئی نبی نہیں تو امت کہاں سے ہو؟ یہ خطبہ در حقیقت اکمال دین کی آیت کی تفسیر اور شرح ہے تاکہ صراحۃً اور بداہتہً معلوم ہو جائے کہ اکمال دین کے اعلان سے ختم نبوت کا اعلان مقصود ہے۔

صفحہ ٦٩

ختم نبوت

دلیل سوم

قال تعالیٰ :- وعد اللہ الذین امنوا منکم و عملوا الصلحت لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من قبلہم ◯

جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالحہ کیے ان سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ بلاشبہ ہم تم کو زمین کا خلیفہ اور حاکم بنائیں گے جیسا کہ تم سے پہلے بنی اسرائیل کو بنایا تھا۔

اس آیت میں حق تعالیٰ شانہ نے امت محمدیہ ﷺ پر ایک خاص انعام کا ذکر فرمایا ہے۔ وہ انعام نبوت کی خلافت اور نیابت کا ہے جس کا ظہور خلفاء راشدینؓ سے ہوا۔ اور خلافت کے معنی نیابت اور قائم مقامی کے ہیں۔ پس اس آیت میں امت سے نبوت کا وعدہ نہیں بلکہ نبوت کی خلافت اور نیابت کا وعدہ ہے۔ یہ کسی آیت اور حدیث میں نہیں کہ ہم کسی کو نبوت عطا کریں گے۔ حالانکہ اس آیت میں اس کے ذکر کا موقعہ تھا کیونکہ حق تعالیٰ شانہٗ اپنا انعام اور احسان بیان فرما رہے ہیں اگر آئندہ کسی کو نبوت دینی ہوتی تو بجائے خلافت اور حکومت کے نبوت و رسالت کا وعدہ فرماتے۔ معلوم ہوا کہ نبوت ختم ہو چکی صرف خلافت باقی ہے۔

اب ہم اس بارے میں چند احادیث نقل کرتے ہیں جس سے یہ امر ان شاء اللہ بخوبی واضح ہو جائے گا۔

عن ابی ہریرةؓ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال کانت بنوا اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ہلک نبی خلفہ نبی وانہ لانبی بعدی و سیکون خلفاء فیکثرون قالوا فما تامرنا قال فوا بیعة الاول فالاول اعطوہم حقہم ان اللہ سائلہم عما استرعاہم متفق علیہ۔ رواہ البخاری فی کتاب الانبیاء و مسلم فی کتاب الامارة۔

ترجمہ = حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ

صفحہ ٧٠

ختم نبوت

ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی سیاست اور انتظام خود ان کے انبیاء کیا کرتے تھے جب کسی نبی کا انتقال ہو جاتا تو دوسرا نبی اس کے قائم مقام ہو جاتا اور البتہ تحقیق میرے بعد کوئی نبی نہیں البتہ خلفاء اور امراء ہوں گے۔ جو مسلمانوں کی سیاست اور انتظام کریں گے اور بہت ہوں گے۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ اس وقت ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ یعنی جب خلفاء بہت ہوں تو اس وقت ہم کو کیا کرنا چاہیے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس سے پہلے بیعت کر چکے ہو اس کی بیعت کو پورا کرو اور ان کا حق اطاعت اور فرمانبرداری ادا کرو۔ اور اگر خلفاء تمہارا حق رعایت نہ ادا کریں تو تم ان کی اطاعت میں کوتاہی نہ کرنا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ خود ان سے حق رعیت کے متعلق سوال کرے گا۔

(بخاری مسلم)

اس حدیث سے صاف طور پر واضح ہو گیا کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ البتہ خلفاء اور امراء ہوں گے۔ اور یہ سب کو معلوم ہے کہ انبیاء بنی اسرائیل کی شریعت مستقل تھی بلکہ شریعت موسویہ اور حکم توریت کے تابع تھی۔ لہٰذا نتیجہ یہ نکلا کہ جس طرح بنی اسرائیل میں غیر مستقل اور غیر تشریعی نبی آتے رہے اس امت میں آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔ البتہ خلفاء ہوں گے۔ پہلی امتوں میں سیاست اور انتظام اور اصلاح کے لیے نبوت تھی اور اس امت مرحومہ میں سیاست و اصلاح کے لیے نبوت کے قائم مقام خلافت ہو گی۔ نبوت ختم ہو چکی ہے، اصلاح اور سیاست کے لیے خلافت باقی رہے گی۔

وعن ابی مالک الاشعریؓ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اللہ تعالیٰ بدا ھذا الامر نبوة ورحمة و کائنا خلافة ورحمة و کائنا ملکا عضوضا و کائنا عتوا و جبریة و فساداً فی الایۃ۔

(رواہ الطبرانی فی الکبیر کذا فی کنز العمال ص ٢٩ ج ٦)

ترجمہ = آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس امر کو نبوت اور رحمت بنا کر شروع فرمایا۔ پھر بعد چندے نبوت تو نہ

صفحہ ٧١

ختم نبوت

رہے گی۔ صرف خلافت اور رحمت رہ جائے گی اور پھر کاٹ کھانے والی سلطنت اور پھر تکبر اور تجبر اور امت میں فساد ہو گا۔

وعن ابن عباسؓ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لی النبوة ولكم الخلافة

(رواہ ابن عساکر کذافی الکنز ص ١٨٠ ج ٦)

ترجمہ = ابن عباس رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے لیے نبوت ہے اور تمہارے لیے خلافت ہے۔ (ابن عساکر)

حق جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں:

يايها الذين امنوا اطيعوا الله واطيعوا الرسول واولی الامر منكم

ترجمہ = اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی اور اولی الامر کی یعنی علماء اور خلفاء کی۔

اس آیت میں تین چیزوں کا حکم دیا:

اور اولی الامر کے متعلق یہ ارشاد فرمایا:

فان تنازعتم فی شی فردوہ الی الله والرسول۔ (الایۃ)

ترجمہ = پس اگر تم میں اور اولی الامر میں کوئی اختلاف اور نزاع پیش آ جائے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرنا یعنی کتاب و سنت کی طرف رجوع کرنا۔

اور حدیث میں اولی الامر کے متعلق یہ ارشاد فرمایا:

السمع و الطاعة حق مالم يومر بمعصية فاذا امر بمعصية فلا سمع ولا طاعة۔

صفحہ ٧٢

ختم نبوت

ترجمہ = علماء اور امراء کی بات سننا اور ان کی اطاعت حق اور واجب ہے جب تک معصیت کا امر نہ کریں اور جب معصیت کا امر کریں اور حکم دیں تو پھر ان کی بات کا سننا اور اطاعت کرنا جائز نہیں۔

معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کے بعد جن کی اطاعت واجب ہو گی وہ اولی الامر ہوں گے۔ نبی نہ ہوں گے کیونکہ نبی سے نزاع اور اختلاف جائز نہیں بلکہ کفر ہے نبی کی تو بے چون چرا اطاعت فرض ہے۔ کما قال تعالیٰ وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ۔

نیز حدیث مذکور سے معلوم ہوا کہ اولی الامر اگر معصیت کا حکم دیں تو سمع اور اطاعت جائز نہیں۔ اور ظاہر ہے کہ معصیت کا حکم وہی شخص دے سکتا ہے جو نبی نہ ہو۔ یہ ناممکن ہے کہ نبی اور رسول ہو اور پھر اللہ کی معصیت کا حکم دے۔ نیز اختلاف اور نزاع کے وقت اللہ اور اس کے رسول یعنی قرآن اور حدیث کی طرف رجوع کا حکم دیا گیا۔ یہ امر قابل غور ہے کہ نزاع تو پیش آئے گا زمانہ آئندہ میں، مگر حکم یہ ہے کہ گزشتہ رسول اور اس پر نازل شدہ کتاب اور اس کی شریعت کی طرف رجوع کرو۔ آئندہ نبی اور اس کی شریعت اور وحی کی طرف رجوع کا حکم نہیں۔ معلوم ہوا کہ آپؐ کے بعد کوئی صاحب وحی نہیں کہ اس کی طرف رجوع کیا جائے۔ آئندہ زمانے میں جو بھی نزاع پیش آئے۔ اسی قرآن و حدیث کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ نیز احادیث متواترہ سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے بعد ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) کی اقتداء اور خلفاء راشدینؓ کی سنت سے اتباع کا حکم دیا۔ کسی ایک بھی حدیث میں یہ نہیں فرمایا کہ میرے بعد آنے والے نبی کا اتباع کرنا۔ معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔

دلیل چہارم

قال اللہ عزوجل : واذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب و حكمة ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن به

صفحہ ٧٣

ختم نبوت

ولتنصرنه قال ءاقررتم واخذتم على ذلكم اصري قالوا اقررنا قال فاشهدوا وانا معكم من الشهدين O فمن تولى بعد ذلك فاولئك هم الفسقون O ترجمہ = اور اس وقت کو یاد کرو کہ جب اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے عہد اور میثاق لیا کہ قسم ہے میری ذات کی کہ جو کچھ میں تم کو کتاب اور حکمت دوں اور پھر اخیر میں تمہارے پاس ایسا عظیم الشان رسول آئے جو تمہاری کتاب اور حکمت کی تصدیق کرے (یعنی محمد رسول اللہ ﷺ ) تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا۔ پھر اس عہد کے بعد فرمایا کہ کیا تم نے اس کا اقرار کیا اور میرے اس پختہ عہد کو قبول کیا؟ سب بولے ہم نے اقرار کیا فرمایا کہ اچھا اپنے اس اقرار پر گواہ بھی رہو۔ تاکہ جب اقرار کے ساتھ شہادت بھی جمع ہو جائے تو انکار نہ کر سکو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ایک گواہ ہوں اور خوب سمجھ لو کہ اس عہد کے بعد جو اس عہد سے روگردانی کرے گا تو ایسے ہی لوگ حکم عدولی کرنے والے ہوتے ہیں۔

اس آیت شریفہ میں اس عہد اور میثاق کا ذکر ہے جو حق تعالیٰ نے عالم ارواح میں تمام انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے آنحضرت ﷺ کے بارہ میں لیا وہ یہ کہ محمد رسول اللہ ﷺ جو تمہارے سب کے بعد آئیں گے۔ اگر تم میں سے کوئی ان کا زمانہ پائے تو ضرور ان پر ایمان لانا اور ضرور ان کی مدد کرنا اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کی آمد تمام انبیاء کے بعد ہو گی۔ اس لیے کہ حق تعالیٰ کا تمام انبیاء علیہم السلام کو مخاطب بنا کر یہ فرمانا: ثم جاءکم رسول (تمہارے سب کے بعد ایک رسول آئے گا) اس بات پر صراحۃً دلالت کرتا ہے کہ اس رسول کی آمد تمام انبیاء کے بعد ہو گی اور یہ رسول آخری نبی اور آخری رسول ہوگا۔

وعن قتادة انه اخذ الله ميثاقهم بتصديق بعضهم بعضا والاعلان

صفحہ ٧٤

ختم نبوت

بان محمداً رسول اللہ و اعلان رسول اللہ بان لا نبی بعدہ (کذا فی الدر المنثور)

ترجمہ = حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حق تعالیٰ نے تمام انبیاء علیہم السلام سے اس بات کا عہد لیا کہ ایک دوسرے کی تصدیق کریں اور اپنے اپنے زمانے میں اس کا اعلان کریں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور آپ اس کا اعلان کریں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ (در منثور)

دلیل پنجم

قال الله عزوجل و اذ يرفع ابراهيم القواعد من البيت و اسمعيل ربنا تقبل منا انک انت السميع العليم O ربنا و اجعلنا مسلمين لک و من ذريتنا امة مسلمة لک وارنا مناسکنا و تب علينا انک انت التواب الرحيم O ربنا و ابعث فيهم رسولا منهم يتلوا عليهم ايتک و يعلمهم الکتاب و الحکمة و يزکيهم انک انت العزيز الحکيم O

ترجمہ = اور یہ کہ جب اٹھاتے تھے ابراہیم (علیہ السلام) بنیادیں خانہ کعبہ کی اور اسمعیل (علیہ السلام) اور دعا کرتے تھے اے پروردگار ہمارے ‘ قبول کر ہم سے بیشک تو ہی ہے سننے والا جاننے والا۔ اے پروردگار ہمارے اور کر ہم کو فرمانبردار اپنا ‘ اور ہماری اولاد میں بھی کر ایک جماعت فرمانبردار اپنی اور بتلا ہم کو قاعدے حج کرنے کے۔ اور ہم کو معاف کر۔ بیشک تو ہی ہے توبہ قبول کرنے والا مہربان۔ اے پروردگار ہمارے ‘ اور بھیج ان میں ایک رسول انہی میں کہ پڑھے ان پر تیری آیتیں اور سکھلاوے ان کو کتاب اور حکمت کی باتیں اور پاک کرے ان کو ‘ بیشک تو ہے بہت زبردست بڑی حکمت والا۔

صفحہ ٧٥

ختم نبوت

ان آیات میں حق جل شانہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں کا ذکر فرمایا ہے۔ ان میں سے ایک امت مسلمہ کے ظہور کی ہے۔ جس کی مصداق یہ امت محمدیہؐ ہے جو آخری امت ہے اور دوسری دعا سرور دو عالم نبی اکرم ﷺ کے ظہور سراپا سرور کی ہے۔

وعن ابی العالیة فی قولہ تعالیٰ ربنا و ابعث فیہم رسولا منہم یعنی امة محمد صلی اللہ علیہ وسلم فقیل لہ قد استجیب لک ہو کائن فی آخر الزمان و کذا قال السدی و قتادة۔

(تفسیر ابن کثیر ص ٣٣١ ج ١)

ترجمہ = ابوالعالیہؒ سے مروی ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا فرمائی۔ ربنا وابعث فیہم الخ تو اللہ کی جانب سے ارشاد ہوا کہ تمہاری دعا قبول ہوئی۔ یہ امت مسلمہ اور یہ پیغمبر آخری زمانہ میں ہو گا ایسا ہی سدی اور قتادہ سے مروی ہے۔ (تفسیر ابن کثیر)

ہو کائن فی آخر الزمان سے خاتم النبیین ہونا مراد ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ انا دعوة ابی ابراہیم یعنی میں اپنے باپ ابراہیمؑ کی دعا ہوں۔ اسی طرف مشیر ہے۔ امام شعبی فرماتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کے صحیفہ میں لکھا ہوا ہے۔

انہ کائن من ولدک شعوب حتی یاتی النبی الامی الذی یکون خاتم الانبیاء

ترجمہ = تیری اولاد میں بہت قبائل اور گروہ ہوں گے یہاں تک وہ نبی امی ظاہر ہو کہ جو خاتم الانبیاء ہو گا۔

(کذا فی الطبقات ابن سعد ص ١٧ ج ١ و خصائص کبری للحافظ السیوطی ص ٩ ج ١)

اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی دعاء میں یہ فرمایا: ربنا وابعث فیہم رسولا۔

صفحہ ٧٦

ختم نبوت

ترجمہ = یعنی اے اللہ اس امت مسلمہ میں ایک عظیم الشان رسول بھیج۔

اور یہ نہیں فرمایا۔

ربنا و ابعث فیھم رسلا۔

ترجمہ = یعنی اے اللہ ان میں بہت سے نبی اور رسول بھیج۔

معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام صرف ایک رسول کے مبعوث ہونے کی دعا فرماتے تھے کہ جس کے آنے کے بعد کسی نبی اور کسی رسول کی حاجت نہ رہے۔ یاد رہے کہ اس امت مسلمہ کے ظہور کی دعا اور اس امت کا نام یعنی اسلام اور مسلمان بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی نے تجویز فرمایا۔ کما قال تعالیٰ ملۃ ابیکم ابراھیم ھو سمکم المسلمین من قبل و فی ھذا۔ اور اس امت مرحومہ کے لیے نبی آخر الزمانؐ کے ظہور اور بعثت کی دعاء بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی جو بارگاہ خداوندی میں قبول ہوئی۔ چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعاء امت محمدیہؐ پر عظیم الشان احسان ہے۔ اس لیے مقتضائے ھل جزاء الاحسان الا الاحسان امت محمدیہؐ پر یہ لازم قرار دیا گیا کہ اللہم صل علی محمد کے بعد کما صلیت علی ابراھیم و علی ال ابراھیم پڑھا کریں تاکہ اس احسان کا کچھ حق ادا ہو۔

نیز حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک دعا یہ فرمائی تھی:

رب ھب لی حکما و الحقنی بالصلحین ◯ واجعل لی لسان صدق فی الاخرین ◯

ترجمہ = اے میرے رب دے مجھ کو حکم اور ملا مجھ کو نیکوں میں اور رکھ میرا بول سچا پچھلوں میں۔

آخرین سے آخری امت مراد ہے۔ قرآن کریم میں جا بجا امت محمدیہؐ کو آخرین سے تعبیر کیا ہے تاکہ اس امت کا آخری امت ہونا معلوم ہو جائے۔ حق تعالیٰ شانہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعاء بھی قبول فرمائی کہ آخرین یعنی اس آخری امت میں کما صلیت علی ابراھیم الخ کے ذریعہ سے قیامت تک

صفحہ ٧٧

ختم نبوت

آپ ﷺ کا ذکر خیر جاری فرمایا۔

دلیل ششم

هو الذی ارسل رسوله بالهدی و دین الحق لیظهره علی الدین کله ولو کره المشرکون ۝ وقال تعالیٰ هو الذی ارسل رسوله بالهدی و دین الحق لیظهره علی الدین کله و کفی بالله شهیدا ۝ وقال تعالیٰ هو الذی ارسل رسوله بالهدی و دین الحق لیظهره علی الدین کله و لو کره المشرکون ۝

ترجمہ = اللہ تعالیٰ ہی نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے اگرچہ مشرکین کو کتنا ہی ناگوار ہو۔

وہی ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ﷺ سیدھی راہ پر اور سچے دین پر۔ تاکہ اوپر رکھے اس کو ہر دین سے اور کافی ہے اللہ حق ثابت کرنے والا۔

وہی ہے جس نے بھیجا اپنا رسول راہ کی سوجھ دے کر اور سچا دین کہ اس کو اوپر کرے سب دینوں سے اور پڑے برا مانیں شرک کرنے والے۔

ان تینوں آیتوں سے یہ امر صاف ظاہر ہے کہ یہ دین تمام ادیان کے بعد آیا ہے اور تمام ملل اور ادیان کے لیے ناسخ بن کر آیا ہے اور یہ دین آخری دین ہے۔ قیامت تک یہی دین رہے گا۔ یہ آیت نبوت تشریعیہ کے اختتام کی صریح دلیل ہے اور مرزا صاحب کا دعویٰ بھی نبوت تشریعیہ کا ہے جیسا کہ ان کی کتابوں سے صاف ظاہر ہے۔

دلیل ہفتم

قال تعالیٰ اولم یکن لھم آیۃ ان یعلمہ علماء بنی اسرائیل۔ کیا لوگوں کے لیے یہ کھلی ہوئی نشانی نہیں کہ اس کتاب اور اس نبی کو علماء بنی اسرائیل

صفحہ ٧٨

ختم نبوت

خوب جانتے ہیں کہ یہ وہی کتاب اور وہی پیغمبر ہیں کہ جس کی پہلے سے آسمانی صحیفوں میں خبر دی جا چکی ہے۔ اہل علم اور اہل فہم کے لیے صداقت اور حقانیت کی یہ بہت بڑی دلیل ہے کہ دوسرے مذاہب کے علماء بھی اس کی حقانیت کا اقرار اور اعتراف کریں۔ چنانچہ بعض تو اپنی خصوصی مجلسوں میں اس کا اقرار کرتے تھے مگر دنیاوی مصالح کی بنا پر حق کو قبول نہیں کرتے تھے۔ اور بعضوں نے اعلانیہ اس کا اقرار کیا اور مشرف باسلام ہوئے۔ اس لیے کہ آپ ﷺ کی تشریف آوری کی بشارات اور آپ ﷺ کی صفات اور سمات کتب سماویہ میں مذکور تھیں اور اب بھی باوجود کاٹ تراش کے بہت کچھ باقی ہے۔

کما قال تعالیٰ الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونہ مکتوبا عندہم فی التوریٰۃ والانجیل وقال تعالیٰ الذین اتینہم الکتب یعرفونہ کما یعرفون ابناءہم و ان فریقا لیکتمون الحق وہم یعلمون O الحق من ربک فلا تکونن من الممترین O

ترجمہ = وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبی امی ہے کہ جس کو پاتے ہیں۔ لکھا ہوا اپنے پاس توریت اور انجیل میں۔ جن کو ہم نے دی ہے کتاب پہچانتے ہیں اس کو جیسے پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کو اور بیشک ایک فرقہ ان میں سے البتہ چھپاتے ہیں حق کو جان کر۔ حق وہی ہے جو تیرا رب کہے۔ پھر تو نہ ہو شک لانے والا۔

آمدم برسر مقصد

اب ہم روایات سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ توریت اور انجیل اور تمام صحف سماویہ میں آپ ﷺ کا خاتم النبیین ہونا لکھا ہوا تھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد تمام علماء بنی اسرائیل صرف نبی آخر الزمان ﷺ کے منتظر تھے۔ چونکہ توریت اور انجیل محرف ہو چکی ہے اور ابھی سلسلہ تحریف کا جاری

صفحہ ٧٩

ختم نبوت

ہے۔ اس لیے ہم نے اس باب میں زیادہ تر احادیث نبویہ اور آثار صحابہؓ و تابعینؒ پر اعتماد کیا ہے۔

مسئلہ ختم نبوت پر توریت اور انجیل اور

علماء بنی اسرائیل کی شہادتیں اور بشارتیں

پہلی شہادت

عن الشعبی قال فی مجلۃ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام انہ کائن من ولدک شعوب حتی یاتی النبی الامی الذی یکون خاتم الانبیاء

(طبقات ابن سعد ص ١٠٧ ج ١)

ترجمہ = امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیمؑ کے صحیفہ میں ہے کہ اے ابراہیم تیری اولاد میں بہت سے گروہ ہوں گے یہاں تک وہ نبی امی ظاہر ہو کہ جو خاتم الانبیاء یعنی آخری نبی ہو گا۔ (طبقات ابن سعد)

دوسری شہادت

عن محمد بن کعب القرظی قال اوحی اللہ الی یعقوب انی ابعث من ذریتک ملوکا و انبیاء حتی ابعث النبی الامی الذی تبنی امتہ ھیکل بیت المقدس وھو خاتم الانبیاء و اسمہ احمد

(طبقات ابن سعد ص ١٠٧ ج ١)

ترجمہ = محمد بن کعب قرظی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یعقوب علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ میں تیری اولاد میں سے بہت سے بادشاہ اور بہت سے نبی بھیجوں گا حتی کہ نبی امی کو بھیجوں گا یعنی اسی کو جس کی امت بیت المقدس

صفحہ ٨٠

ختم نبوت

کا ہیکل بنائے گی اور وہ نبی خاتم الانبیاء ہو گا۔ اور نام اس کا احمد ہو گا۔

(طبقات ابن سعد)

تیسری شہادت

حضرت عائشہ صدیقہؓ روایت کرتی ہیں کہ مکہ میں ایک یہودی رہتا تھا کہ جو تجارتی کاروبار کیا کرتا تھا جس رات آپ ﷺ تولد ہوئے تو وہ یہودی قریش کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا یکایک قریش سے پوچھنے لگا کہ کیا اس رات تم میں کوئی لڑکا پیدا ہوا ہے؟ قریش نے کہا ہم کو علم نہیں یہودی نے کہا:

انظروا یا معشر قریش و احصوا ما اقول لکم ولد اللیلۃ نبی ھذہ الامۃ احمد الاخر بہ شامۃ بین کتفیہ

ترجمہ = اے گروہ قریش! جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اس کی تحقیق و تفتیش کرو۔ اس رات اس امت کا نبی پیدا ہوا ہے احمد ﷺ اس کا نام ہے آخری نبی ہے مہر نبوت اس کے دونوں شانوں کے درمیان میں ہے۔

لوگ یہ سن کر مجلس سے اٹھے تلاش کے بعد معلوم ہوا کہ اس رات عبداللہ بن عبدالمطلب کے گھر لڑکا پیدا ہوا ہے۔ یہودی کو آکر خبر دی۔ یہودی نے کہا مجھ کو ابھی لے چلو اور اس مولود کو دکھلاؤ۔ قریش کے لوگ اس کو لے گئے اور جا کر اس مولود کو دکھلایا۔ یہودی نے جب آپ ﷺ کی پشت پر مہر نبوت دیکھی تو بیہوش ہو کر گر پڑا۔ اور بہت حسرت سے کہا کہ اب نبوت اور کتاب بنی اسرائیل سے چلی گئی اور اہل عرب نبوت سے فائز اور کامیاب ہوئے۔

(طبقات ابن سعد ص ١٠٦ ج ١)

چوتھی شہادت

پچیس سال کی عمر میں جب حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم خدیجۃ الکبریٰ کا مال تجارت لے کر میسرہؓ غلام کی معیت میں شام گئے اور نسطورا راہب سے ملاقات ہوئی تو نسطورا راہب نے آپ ﷺ کا حلیہ مبارک بہت غور سے دیکھا

صفحہ ٨١

ختم نبوت

اور دیکھ کر یہ کہا: ہو ہو آخر الانبياء الی آخر القصة ترجمہ = یہ شخص یہی شخص آخری نبی ہے۔

(طبقات ابن سعد ص ١٠١ ج ١)

پانچویں شہادت

عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے زید بن عمرو بن نفیلؒ کو یہ کہتے سنا کہ میں ایک نبی کا منتظر ہوں کہ جو بنی اسمعیل اور پھر بنی عبدالمطلب میں سے ہوگا مجھے امید نہیں کہ میں اس نبی کو پاؤں۔ میں اس نبی پر ایمان رکھتا ہوں اور اس کی تصدیق کرتا ہوں اور شہادت دیتا ہوں کہ وہ نبی برحق ہیں۔ اے عامر! اگر تو اس نبی کو پائے تو میرا سلام پہنچانا۔

وساخبرک مانعتہ حتی لا یخفی علیک قلت ہلم قال ہو رجل لیس بالطویل و لا بالقصير و لا بکثیر الشعر ولا بقلیلہ و لیس تفارق عینیہ حمرة و خاتم النبوة بین کتفیہ و اسمہ احمد و ہذا البلد مولدہ و مبعثہ ثم یخرجہ قومہ منہا ویکرہون ماجاء بہ حتی یہاجر الی یثرب فیظہرہ امرہ فایاک ان تخدع عنہ فأنی طفت البلاد کلہا اطلب دین ابراہيم فکل من اسئل من الیہود و النصارے و المجوس یقولون ہذا الدین وراءک و ینعتونہ مثل مانعتہ لک ویقولون لم یبق نبی غیرہ

(طبقات ابن سعد ص ١٠٥ ج ١)

ترجمہ = اور میں تجھ کو اس نبی کے حلیہ سے ایسی خبر دوں گا کہ تجھ کو کوئی اشتباہ نہ رہے گا۔ میں نے کہا ضرور بتلائیے۔ زید نے کہا نہ وہ طویل الاقامت ہوں گے نہ قصیر القامت میانہ قد ہوں گے اور بال بھی ان کے زیادہ نہ ہوں گے سرخی ان کی آنکھوں سے جدا نہ ہو گی۔ مہر نبوت

صفحہ ٨٢

ختم نبوت

دونوں شانوں کے درمیان ہو گی نام ان کا احمد ہو گا۔ اور یہ شہر (یعنی مکہ) ان کی جائے ولادت اور مقام بعثت ہے اور پھر ان کی قوم ان کو مکہ سے نکالے گی اور اس نبی کے دین کو ناپسند کرے گی یہاں تک کہ وہ نبی یثرب یعنی مدینہ کی جانب ہجرت کرے گا اور وہاں جا کر اس کو غلبہ حاصل ہو گا۔ پس تو اس نبی کے بارہ میں دھوکہ نہ کھانا۔ میں نے دین ابراہیمی کی تلاش میں تمام شہروں کو چھان مارا۔ یہود اور نصاری اور مجوس جس سے بھی پوچھا سب نے یہی کہا کہ وہ دین آگے آنے والا ہے۔ اور سب نے اس نبی کے وہی اوصاف بیان کئے جو میں نے تجھ سے بیان کئے اور سب کے سب یہی کہتے تھے کہ اب اس نبی کے سوا کوئی نبی باقی نہ رہا۔

حضرت عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں مشرف باسلام ہوا تو آپ ﷺ کے سامنے زید کا قول نقل کیا اور زید کا سلام پہنچایا۔ حضور ﷺ نے زید کے سلام کا جواب دیا اور ان کے حق میں دعاء رحمت فرمائی اور یہ فرمایا کہ میں نے زید کو جنت میں دامن کھینچتے ہوئے دیکھا۔

چھٹی شہادت

تبع شاہ یمن نے ایک مرتبہ بلاد عرب کا دورہ کیا۔ جب مدینہ منورہ پر گزر ہوا تو کسی وجہ سے مدینہ کے باشندوں کے قتل کا حکم دیا۔ وہ یہودی عالم بادشاہ کے ہمراہ تھے انہوں نے بادشاہ کو منع کیا اور یہ کہا:

فانہا مہاجر نبی یکون فی آخر الزمان۔

ترجمہ = یہ شہر اس نبی کا دارالہجرۃ ہے جو اخیر زمانہ میں ہو گا۔

بادشاہ نے اپنا ارادہ ترک کیا اور واپس ہوا۔ جب مکہ مکرمہ پر گزر ہوا تو خانہ کعبہ کے منہدم کرنے کا ارادہ کیا۔ انہیں دو عالموں نے بادشاہ کو پھر منع کیا اور کہا یہ گھر ابراہیم خلیل اللہ کا بنایا ہوا ہے۔

وانہ سیکون لہ شان عظیم علی یدی ذالک النبی المبعوث فی

صفحہ ٨٣

ختم نبوت

آخر الزمان۔ ترجمہ = اور اس خانہ کعبہ کی آئندہ زمانہ میں ایک عجیب شان ہو گی کہ جو اس نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہو گی جو اخیر زمانے میں مبعوث ہو گا۔ بادشاہ نے خانہ کعبہ کا احترام کیا اور اس کا طواف کیا اور غلاف چڑھایا۔ اور یمن کو واپس ہوا۔ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ابن عساکر نے اس قصہ کو متعدد طرق کے ساتھ ابیؓ بن کعب اور عبداللہؓ بن سلام اور عبداللہؓ بن عباسؓ اور کعبؓ احبارؓ اور وہبؒ بن منبہ سے روایت کیا ہے۔

(تفسیر ابن کثیر صفحہ ١٦٤ ج ٩)

ساتویں شہادت

معجم طبرانی میں جبیر بن مطعم سے مروی ہے کہ میں تجارت کے لیے شام گیا۔ وہاں مجھ کو ایک شخص ملا جو اہل کتاب میں سے تھا۔ مجھ سے کہا کہ کیا تمہارے بلاد میں کوئی نبی ظاہر ہوا ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں۔ اس نے کہا کہ تم اس شخص کی صورت بھی پہچانتے ہو؟ میں نے کہا ہاں پہچانتا ہوں وہ شخص مجھ کو اپنے گھر لے گیا۔

فساعة ما دخلت فنظرت الى صورة النبى صلى الله عليه وسلم و اذا رجل آخذ بعقب النبى صلى الله عليه وسلم قلت من هذا الرجل القابس على عقبه قال انه لم يكن نبى الا كان بعده نبى الا هذا النبى فانه لا نبى بعده و هذا الخليفة بعده و اذا صفة ابى بكر رضى الله عنه

(تفسیر ابن کثیر ص ٢٥١ ج ٤)

ترجمہ = داخل ہوتے ہی نبی کریم ﷺ کی تصویر پر نظر پڑی اور ایک آدمی کی تصویر دیکھی کہ جو نبی کریم ﷺ کی ایڑی پکڑے ہوئے ہے میں نے पूछा کہ یہ کون شخص ہے کہ جو آپ کی ایڑی پکڑے ہوئے ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اس سے پیشتر کوئی نبی ایسا نہیں گزرا کہ اس کے بعد نبی نہ ہوا ہو۔ مگر یہ نبی کہ اس کے بعد کوئی نبی نہیں اور یہ شخص کہ جو ان کی ایڑی پکڑے ہوئے ہے۔ وہ ان کے بعد خلیفہ ہو گا۔

صفحہ ٨٤

ختم نبوت

غور سے دیکھا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تصویر تھی۔

آٹھویں شہادت

ہرقل شاہ روم کے نام آنحضرت ﷺ نے دعوت اسلام کا والا نامہ بھیجا جس کا مفصل قصہ صحیحین میں مذکور ہے اور عوام اور خواص میں مشہور ہے۔ اسی قصہ میں ایک روایت یہ ہے کہ ہرقل شاہ روم نے رات کے وقت صحابہؓ کے وفد کو بلایا اور ایک سونے کا صندوقچہ نکالا جس پر قفل بھی سونے ہی کا تھا اس صندوقچہ میں بہت سے خانے تھے جن میں ریشمی پارچوں پر تصویریں تھیں۔ بادشاہ نے وہ تصویریں دکھلائیں اور اخیر میں آنحضرت ﷺ کی تصویر دکھلائی۔ ہم نے دیکھتے ہی پہچان لیا کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر ہے۔

فذكر انها صور الانبياء وانه خاتم صلی الله عليه وسلم

(فتح الباری ص ١٨٤ ج ١)

ترجمہ = اس پر بادشاہ نے کہا کہ یہ انبیاءؑ کی تصویریں ہیں اور یہ آخری تصویر خاتم الانبیاءؑ کی ہے۔

حافظ عسقلانی ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:

اعتماد هرقل فى ذلك كان على ما اطلع عليه من الاسرائليات و على ما عنده بان النبى الذى يخرج فى آخر الزمان من ولد اسمعيل الخ

(فتح الباری ص ١٨٤ ج ١)

ترجمہ = ہرقل کا اعتماد آپ ﷺ کی نبوت کے بارے میں اسرائیلی روایتوں پر تھا اور تمام اسرائیلی روایتیں اس پر متفق ہیں کہ وہ نبی جو اخیر زمانہ میں ظاہر ہو گا وہ حضرت اسمعیلؑ کی اولاد سے ہو گا۔

حدیث ہرقل میں یہ بھی ہے کہ ہرقل نے علماء روم کو محل میں جمع کر کے یہ خطاب کیا:

صفحہ ٨٥

ختم نبوت

يا معشر الروم هل لكم فى الفلاح والرشد آخر الابد وان يثبت لكم ملككم (الحديث)

ترجمہ = اے گروہ روم کیا تم اس کو پسند کرتے ہو کہ تم کو دائمی اور ابدی فلاح اور رشد حاصل ہو جائے اور تمہاری سلطنت باقی رہے۔

حافظ عسقلانی اس کی شرح میں تحریر فرماتے ہیں:

لانه عرف من الكتب ان لا امة بعد هذه الامة ولا دين بعد دينها وان من دخل فيه امن على نفسه فقال لهم ذلك۔

(فتح الباری ص ١٦٨ ج ٨)

ترجمہ = بادشاہ نے یہ بات اس بناء پر کہی کہ بادشاہ کو کتب سابقہ اور صحف سماویہ سے یہ بات بخوبی معلوم ہو چکی تھی کہ اس امت کے بعد کوئی امت نہیں اور اس دین کے بعد کوئی دین نہیں۔ یعنی یہ آخری امت اور آخری دین ہے۔ جو اس دین میں داخل ہوا وہ مامون ہو گیا۔ اس بنا پر ان کو دین محمدیؐ میں داخل ہونے کا مشورہ دیا۔

اور یہی واقعہ نہایت تفصیل کے ساتھ مستدرک حاکم اور دلائل نبوت بیہقی میں مذکور ہے جس کو حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر میں ذکر کر کے فرماتے ہیں:

واسناده لا باس به۔

(تفسیر ابن کثیر ص ١٤٩ ج ٤ سورۂ اعراف)

نویں شہادت

سعد بن ثابت سے مروی ہے کہ یہود قریظہ اور یہود نضیر کے علماء نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کے جب صفات بیان کرتے تو یہ کہا کرتے تھے۔

انه نبى وانه لا نبى بعده واسمه احمد۔

(خصائص کبری للسیوطی ص ٤٧ ج ١)

ترجمہ = بلاشبہ یہ نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور توریت اور

صفحہ ٨٦

ختم نبوت

انجیل میں ان کا نام احمد ہے۔

دسویں شہادت

زیاد بن لبید راوی ہیں کہ ہم مدینہ کے ایک ٹیلہ پر تھے کہ یکایک یہ آواز سنائی دی:

یا اہل یثرب قد ذہبت واللہ نبوۃ بنی اسرائیل هذا نجم قد طلع بمولد احمد وهو آخر الانبیاء ومهاجرہ الی یثرب

(خصائص کبری ص ٧٢ ج ١)

ترجمہ = اے اہل یثرب خدا کی قسم بنی اسرائیل سے نبوت رخصت ہوئی۔ یہ ستارہ ہے کہ جو احمد ﷺ کی ولادت کی وجہ سے طلوع ہوا ہے اور وہ نبی ہیں اور آخری نبی ہیں ان کا دار ہجرت یثرب یعنی مدینہ ہو گا۔ (فتلک عشرۃ کاملۃ)

دلیل ہشتم

قال اللہ عزوجل۔ سبحن الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی۔ وقال تعالیٰ۔ ثم دنی فتدلی فکان قاب قوسین او ادنی O فاوحی الی عبدہ ما اوحی O ماکذب الفواد مارای O افتمرونہ علی مایری O الایات

ان آیات مبارکہ میں حق جل شانہ نے اجمالاً واقعہ اسراء اور معراج کو ذکر فرمایا ہے جس سے مقصود حضور پرنور ﷺ کی فضیلت اور سیادت کو ظاہر کرنا ہے کہ فرش سے لے کر عرش تک معراج سوائے سید الاولین والآخرین اور خاتم الانبیاء و المرسلین کے کسی اور نبی اور رسول کو حاصل نہیں۔ واقعہ کی تفصیل کتب حدیث اور کتب سیر میں مذکور ہے۔ اس وقت ہم واقعہ اسراء کی چند روایتیں ذکر کرنا چاہتے ہیں، جس سے حضور پرنور ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ظاہر ہوتا ہے۔

صفحہ ٨٧

ختم نبوت

پہلی روایت

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم براق پر سوار ہو کر جبریل امین کے ہمراہ روانہ ہوئے تو آپؐ کا ایک جماعت پر گزر ہوا جنہوں نے آپ ﷺ کو ان الفاظ سے سلام کیا۔ السلام علیک یا اول، السلام علیک یا اخر، السلام علیک یا حاشر۔ جبریلؑ نے کہا کہ ان کے سلام کا جواب دیجئے۔ اور اس کے بعد بتلایا کہ جن لوگوں نے آپ کو سلام کیا تھا یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے۔

(رواہ البیہقی فی الدلائل تفسیر ابن کثیر ص ٨ ج ٢ سورۃ اسراء۔ زرقانی شرح مواہب ص ٤٠ ج ٦)

دوسری روایت

حضور ﷺ جب مسجد اقصیٰ پہنچے تو انتظار میں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام موجود تھے اور ایک گروہ عظیم فرشتوں کا بھی تھا ایک مؤذن نے اذان دی اور پھر اقامت کہی گئی اور جبریلؑ کے اشارہ سے نبی اکرم ﷺ نے انبیاء کرام اور ملائکہ کی امامت کرائی۔ جب نماز پوری ہو گئی تو فرشتوں نے جبریلؑ سے پوچھا یہ کون ہیں؟ تو جبریلؑ نے یہ جواب دیا: هذا محمد رسول الله خاتم النبيين۔ ترجمہ = یہ محمد رسول اللہ خاتم النبیین ہیں۔

فوائد

الاولین والآخرین ہونے کی صریح دلیل ہے بلکہ مقصد ہی امامت سے یہ تھا کہ تمام انبیاء پر حضور ﷺ کی سیادت اور افضلیت ظاہر ہو۔

صفحہ ٨٨

ختم نبوت

کہ ہذا محمد رسول اللہ خاتم النبیین اس سے مقصود یہ تھا کہ حضرات انبیاء کرام اور ملائکہ عظام کی محفل نور التیام میں حضور ﷺ کی ختم نبوت کا اعلان ہو جائے۔

حضور ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی۔ ظاہر یہی ہے کہ کسی نے آپؐ کے پیچھے کوئی حرف فاتحہ وغیرہ کا نہیں پڑھا۔ سب نے نہایت خاموشی کے ساتھ حضور ﷺ کی قرات کو سنا۔ اسی وجہ سے امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ قرات خلف الامام جائز نہیں بلکہ درحقیقت خلاف ادب ہے۔

عجب ست کہ بوجودت وجود من بماند
تو بگفتن اندر آئی مارا سخن بماند

تیسری روایت

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ ساتویں آسمان پر ابراہیم علیہ السلام سے ملے تو حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا : یا بنی انک لاق ربک اللیلۃ وان امتک آخر الامم واضعفہا فان استطعت ان تکون حاجتک کلہا و اجلہا فی امتک فافعل۔ آخرجہ ابن عرفۃ فی جزءہ وابونعیم وابن عساکر۔

خصائص کبریٰ ص ١٦٢ ج ١ و تفسیر ابن کثیر ص ٢٨ ج ٦ سورۂ اسراء اور عبداللہ بن مسعود کی یہ حدیث وان امتک ‘ آخر الامم تک فتح الباری ص ١٦٩‘ ج ٧ میں بھی مذکور ہے۔

ترجمہ = اے بیٹے آج کی رات تم اپنے پروردگار سے ملو گے اور تیری امت سب سے آخری امت ہے اور سب سے زیادہ کمزور اور ضعیف ہے جہاں تک ممکن ہو اپنی امت کی سہولت کے لیے کوشش کرنا۔

چوتھی روایت

صفحہ ٨٩

ختم نبوت

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے معراج کی طویل حدیث میں مروی ہے کہ جب حق جل و علا نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے قرب اور مکالمہ سے سرفراز فرمایا تو اس میں یہ ارشاد فرمایا:

وجعلت امتک هم الاولین و الاخرین وجعلت من امتک اقواما قلوبهم اناجیلهم و جعلتک اول النبیین خلقا و آخرهم بعثا و جعلتک فاتحا و خاتما۔

(خصائص کبریٰ ص ١٧٤ ج ١۔ ابن کثیر ص ٤٤ ج ١، سورہ اسراء)

ترجمہ = اور میں نے تیری امت کو اول امم اور آخر امم بنایا یعنی فضیلت اور مرتبہ کے اعتبار سے اول اور ظہور کے اعتبار سے آخری امت اور تیری امت میں ایک قوم ایسی بنائی کہ جن کے دل انجیل ہوں گے۔ یعنی حفاظ قرآن اور تم کو نورانی اور روحانی اعتبار سے پہلا نبی اور بعثت کے اعتبار سے آخری نبی بنایا اور تم کو ہی دورہ نبوت کا فاتح اور خاتم بنایا۔

پانچویں روایت

متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ سدرۃ المنتہیٰ کے بعد عرش تک پہنچے اور قرب خاص اور مکالمہ خداوندی سے مشرف ہوئے۔ شیخ اکبر فرماتے ہیں کہ عرش کائنات کا آخری مقام ہے۔ آخری نبی کو آخری مقام تک سیر کرائی تاکہ ان کا آخری نبی ہونا خوب واضح اور آشکارا ہو جائے۔

دلیل نہم

قال اللہ عزوجل عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا۝

عنقریب تیرا پروردگار تجھ کو مقام محمود پر کھڑا کرے گا۔

احادیث متواترہ اور جمہور اور صحابہؓ اور تابعینؒ کے اقوال اس پر متفق ہیں کہ مقام محمود سے مقام شفاعت مراد ہے اور احادیث متواترہ سے یہ امر روز

صفحہ ٩٠

ختم نبوت

روشن کی طرح واضح ہے کہ قیامت کے دن شفاعت کی درخواست کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو گا اور خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ پر منتہی اور مختتم ہو گا۔ شفاعت کی طویل حدیث میں سلمان فارسیؓ سے مروی ہے کہ اولین اور آخرین جب شفاعت کے لیے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گے تو یہ عرض کریں گے۔

انت الذی فتح اللہ بک و ختم و غفر لک ما تقدم و ما تاخر۔

(رواہ ابن ابی شیبہ فتح الباری ص ٣٧٨ ج ١١)

ترجمہ = آپ ہی ہیں وہ کہ جن سے اللہ تعالیٰ نے نبوت کو شروع کیا اور آپؐ پر نبوت کو ختم کیا اور اگلی پچھلی بھول چوک سب معاف کی لہٰذا اب آپ ہماری شفاعت کیجئے کیونکہ جب آپؐ کی لغزشیں سب معاف ہو چکی ہیں تو پھر شفاعت سے عذر کے لیے کوئی تصور ہی نہیں جس کی بناء پر عذر فرمائیں۔

اور مسند احمد اور ابویعلی کی روایت میں ہے کہ جب اہل حشر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں شفاعت کی درخواست لے کر حاضر ہوں گے تو عیسیٰ علیہ السلام جواب میں یہ فرمائیں گے:

ان محمدؐ رسول اللہ خاتم النبیین قد حضر الیوم وقد غفر اللہ ماتقدم من ذنبہ وما تاخر

(کذا فی البدور السافرہ للحافظ السیوطی ص ٦٨)

ترجمہ = خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ آج تشریف فرما ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی اگلی پچھلی لغزشیں سب معاف کر دی ہیں لہٰذا ان کے پاس جاؤ۔

اور ایک حدیث میں ہے کہ اہل حشر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ کہیں گے۔

یا محمدؐ انت رسول اللہ و خاتم الانبیاء و غفر اللہ لک ماتقدم

صفحہ ٩١

ختم نبوت

من ذنبک وما تاخر اشفع لنا الی ربک

(مسلم ص ١١١ ج ١ و بخاری)

ترجمہ = اے محمد ﷺ آپ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم الانبیاء ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی اگلی اور پچھلی تمام لغزشیں معاف کی ہیں جب اللہ نے آپ کو یہ مرتبہ عطا کیا ہے تو ہمارے لیے شفاعت فرمائیے۔

مقام محمود کی وجہ تسمیہ

اس مقام کو مقام محمود اس لیے کہتے ہیں کہ اولین اور آخرین سب اس روز آپ ﷺ کی حمد و ثنا کریں گے۔ یا وجہ یہ ہے کہ اس روز حضور سجدہ میں گریں گے اور سجدہ میں اللہ تعالیٰ کی عجیب و غریب حمد و ثنا کریں گے جس کا اسی وقت منجانب اللہ الہام اور القا ہو گا اور حکم ہو گا کہ سجدہ سے سر اٹھاؤ جو مانگو گے وہی عطا ہو گا اور ولسوف یعطیک ربک فترضی میں اسی طرف اشارہ ہے۔

ہر اذان کے بعد حضورؐ کے لیے مقام محمود کی دعا

احادیث میں ہے کہ ہر اذان کے بعد یہ دعا مانگا کرو وابعثہ مقاما محمودا الذی وعدتہ انک لا تخلف المیعاد اے اللہ تو ہمارے نبیؐ کو مقام محمود عطا فرما جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے یعنی وہ دن دکھلا جس میں آپ ﷺ کی سیادت اور افضلیت اور آپ ﷺ کی خاتمیت اور ختم نبوت روز روشن کی طرح واضح ہو گی اور تمام اولین اور آخرین آپ ﷺ کی ختم نبوت کا اقرار کریں گے۔ یاد رہے کہ اس وقت اقرار کرنے والوں میں مرزائی اور قادیانی بھی ہوں گے مگر اس وقت کا اقرار مفید نجات نہیں اور یہ بھی خیال رہے کہ اگر اس وقت کسی مسلمان کی نظر کسی قادیانی پر پڑ جائے اور اس سے یہ کہے کہ تم آج کس منہ سے انت رسول اللہ خاتم النبیین کہہ کر شفاعت کی درخواست کرتے ہو۔ تم تو ختم نبوت کے قائل نہ تھے۔ مرزا صاحب کو ڈھونڈھ لو جو تمہارے نزدیک ہر شان میں تمام انبیاء سے بڑھے ہوئے ہیں تو قادیانی صاحب اس کا جواب سوچ لیں؟

صفحہ ٩٢

ختم نبوت

دلیل دہم

قال الله عز وجل يثبت الله الذين امنوا بالقول الثابت في الحيوة الدنيا وفى الاخرة

اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو محکم اور مضبوط قول پر دنیا کی زندگی میں بھی ثابت اور قائم رکھتا ہے اور آخرت کی زندگی میں بھی۔

احادیث سے ثابت ہے کہ یہ آیت سوال قبر کے بارے میں نازل ہوئی۔ یعنی اہل ایمان اللہ کی توفیق سے دنیا میں بھی اور قبر میں سوال نکیرین کے وقت بھی کلمہ حق پر قائم اور ثابت قدم رہتے ہیں۔

وعن تميم الدارى فى حديث طويل فى سوال القبر فيقول اى الميت الاسلام دينى و محمد نبيي وهو خاتم النبيين فيقولان له لصدقت رواه ابن ابی الدنيا و ابو يعلى۔

(تفسیر درمنثور ص ١٦٥ ج ٦)

ترجمہ = تمیم داری رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث ذیل میں مروی ہے کہ مردہ نکیرین کے جواب میں یہ کہتا ہے کہ اسلام میرا دین ہے اور محمد ﷺ میرے نبی ہیں اور وہ خاتم النبیین ہیں۔ نکیرین کہتے ہیں تو نے سچ کہا۔

معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کی ختم نبوت کا اقرار بھی قول ثابت میں داخل ہے۔ لہٰذا اس آیت سے ختم نبوت پر استدلال صحیح ہے۔

فتلک عشرة كاملة

الحمد للہ کہ ختم نبوت کی یہ دس دلیلیں ختم ہوئیں۔ یہ دس دلیلیں فقط دس دلیلیں نہیں۔ بلکہ دلائل کی دس قسمیں ہیں اور ہر قسم کے تحت اس کے افراد اور جزئیات ہیں۔ انواع اور اقسام کے تعین سے انضباط میں سہولت ہو جاتی ہے۔ اس لیے اس ناچیز نے یہ طریقہ اختیار کیا۔

صفحہ ٩٣

ختم نبوت

اب اس رسالہ کو ختم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعاء کرتا ہوں کہ اس رسالہ کو اہل ہدایت کے لیے موجب استقامت اور اہل ضلالت کے لیے موجب ہدایت بنائے ۔ اور اس آوارہ اور ناکارہ کے حق میں موجب شفاعت بنائے ۔ آمین یارب العلمین

صفحہ ٩٤
PDF 95

شرائطِ نبوت

صفحہ ٩٦

شرائط نبوت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ و کفی و سلام علی عبادہ الذین اصطفی و الصلوۃ والسلام علی سید الاصفیاء و خاتم الانبیاء و علی الہ و اصحابہ البررۃ الاتقیاء عدد انفاس الخلائق اجمعین و علینا معہم یا ارحم الراحمین۔

اما بعد : سلاطین عالم کا یہ طریق رہا ہے کہ ہر کس و ناکس کو اپنا وزیر اور سفیر نہیں بناتے۔ وزارت اور سفارت کے لیے ایسے شخص کو منتخب کرتے ہیں، جو عقل اور فہم میں یگانہ روزگار ہو۔ بادشاہ اور اس کی حکومت کا وفادار اور اطاعت شعار ہو۔ صادق اور راست باز ہو۔ امانت دار اور دیانت دار ہو۔ جھوٹا اور مکار نہ ہو۔ زیرک اور دانا ہو کہ احکام شاہی کے سمجھنے میں غلطی نہ کرتا ہو۔ وغیرہ، وغیرہ۔ جب تک اس قسم کے اوصاف فاضلہ اور صفات کاملہ نہ ہوں گی اس وقت تک اس کو منصب وزارت و سفارت پر فائز نہیں کیا جائے گا۔

جب شاہان دنیا کی مجازی اور فانی حکومت کی وزارت اور سفارت کے لیے یہ شرائط ہیں تو اس احکم الحاکمین اور شہنشاہ حقیقی کی نبوت اور خلافت کے لیے اس سے ہزار ہا درجہ بڑھ کر شرائط ہوں گی۔ حافظ تورپشتی رحمۃ اللہ ”المعتمد فی المعتقد“ میں فرماتے ہیں۔

”انبیاء کرام ہمیشہ فرمان الٰہی کی پیروی کرتے ہیں، اور ان کا نفس اطاعت خداوندی میں ہمیشہ ان کا تابع اور مطیع ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بزرگ حضرات خدا تعالیٰ کی معصیت سے معصوم ہوتے ہیں۔ اگر انبیاء معصوم نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ مخلوق کو ان کی بے چون و چرا اطاعت و متابعت کا حکم نہ دیتا۔ انبیاء کی عقل دوسرے لوگوں کی عقل سے ارفع اور اکمل ہوتی ہے۔ ان کے ادراکات دوسروں

صفحہ ٩٧

شرائط نبوت

کے ادراکات سب سے بہت زیادہ سریع اور تیز ہوتے ہیں۔ خطا اور غلطی سے محفوظ اور مامون ہوتے ہیں۔ ان کی رائے دوسروں کی رائے سے زیادہ تیز اور قوی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علوم وحی کو جس طرح انبیاء سمجھتے ہیں، دوسروں سے ممکن نہیں۔ ان کا حافظہ سب سے قوی ہوتا ہے اور فصاحت اور بلاغت اور تاثیر سخن میں بھی انبیاء تمام ابناء عصر پر غالب رہتے ہیں۔ ان کی ظاہری اور باطنی قوٰی سب سے زیادہ قوی ہوتی ہیں۔ ان کا خلق نہایت نیک، اور ان کی صورت بڑی وجیہ، اور ان کی آواز نہایت عمدہ اور خوش اور غایت درجہ موثر ہوتی ہے۔ غرض یہ کہ انبیاء جس طرح سیرت اور معنی کے لحاظ سے سب سے بڑھ کر ہوتے ہیں اسی طرح صورت اور ظاہر میں بھی خوب تر اور پسندیدہ تر ہوتے ہیں۔“ انتہی

(مترجما من الفارسية بالهندية)

اس زمانہ میں لوگوں نے نبوت اور رسالت کو ایک کھیل بنا لیا ہے۔ جس کا جی چاہتا ہے نبوت کا دعویٰ کر دیتا ہے۔ وحی اور الہام کے اشتہار شائع کرنے شروع کر دیتا ہے۔ اس لیے ہم مختصر طور پر نبوت کے کچھ شرائط ذکر کرتے ہیں، جو عین عقل سلیم کے مطابق ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ کسی عقل والے کو ان کے قبول کرنے میں تردد نہ ہو گا۔ اور جو لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کے دام میں پھنسے ہوئے ہیں، انشاء اللہ ثم انشاء اللہ ان پر مرزا غلام احمد کی نبوت کی حقیقت خوب واضح ہو جائے گی کہ وہ صادق تھا یا کاذب۔ فاقول وباللہ التوفیق وبیدہ ازمۃ التحقیق ان ارید الا الاصلاح ما استطعت وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب

صفحہ ٩٨

شرائط نبوت

شرط اول

عقل کامل

نبی کے لیے یہ ضروری ہے کہ کامل العقل بلکہ اکمل العقل ہو۔ نبی کے لیے عقل کامل کی ضرورت اس لیے ہے کہ نبی وحی الٰہی کے سمجھنے میں غلطی نہ کرے۔ نیز جب تک عقل کامل نہ ہو‘ اس پر اطمینان نہیں ہو سکتا۔ نبوت غباوت کے ساتھ کبھی جمع نہیں ہو سکتی۔ غبی کا نبی ہونا عقلاً محال ہے۔ ایک عاقل اور دانا کو غبی اور ناقص العقل پر ایمان لانے کا حکم دینا سراسر خلاف عقل ہے۔ غبی اور ناقص العقل تو اپنا بھی ہادی اور راہنما نہیں ہو سکتا۔ چہ جائیکہ وہ عقلاء اور اذکیا کی ہدایت کے لیے مبعوث ہو۔ بچے اور عورتیں چونکہ ناقص العقل ہوتے ہیں‘ اس لیے وہ بغیر ولی اور سرپرست کے اپنے مال میں بھی تصرف کرنے کے مجاز نہیں۔ حتیٰ کہ ناقص العقل کو بغیر ولی کے نکاح کرنے کی بھی اجازت نہیں اور عقلاً یہ بھی محال ہے کہ کسی غبی اور ناقص العقل شخص کو فقط غبی اور ناقص العقل لوگوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا جائے۔ اس لیے کہ نبی اور امت جب دونوں ہی ناقص العقل ہوں گے تو پھر وہ دین عجیب حماقتوں کا مجموعہ ہو گا اور ایسے احمقانہ دین سے کسی صلاح و فلاح کی توقع تو در کنار‘ خرابی ہی میں اضافہ ہو گا۔

بلکہ

نبی کے لیے فقط کامل العقل ہونا کافی نہیں‘ بلکہ اکمل العقل ہونا ضروری ہے۔ یعنی عقل اور فہم میں اس درجہ بلند ہو کہ اس زمانہ میں کوئی اس کی نظیر نہ

صفحہ ٩٩

شرائط نبوت

ہو۔ اس لیے کہ یہ ناممکن ہے کہ کسی امتی کی عقل کسی نبی کی عقل سے بڑھ کر ہو نبوت کی سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ نبی اپنی تمام امت سے عقل، اور دانائی میں بالا اور برتر ہو۔ کسی بڑے سے بڑے عاقل کی عقل اس کے ہم پلہ اور پاسنگ نہ ہو۔

دوسری شرط

حفظ کامل

نبوت کی دوسری شرط یہ ہے کہ اس کا حافظہ فقط صحیح اور درست ہی نہ ہو، بلکہ کامل الحفظ اور بلکہ اکمل الحفظ ہو۔ معاذ اللہ اگر نبی کا حافظہ خراب ہو، تو اس کو اللہ کی وحی بھی پوری یاد نہ رہے گی۔ بسا اوقات ایک لفظ کی کمی سے بھی حکم میں زمین و آسمان کا فرق ہو جاتا ہے اور جب نبی کا حافظہ خراب ہونے کی وجہ سے بندوں تک اللہ کی وحی، اور اس کا حکم پورا پورا نہ پہنچے گا۔ تو وہ بجائے ہدایت کے گمراہی کا سبب ہو گا۔

حدیث شریف میں ہے کہ جب ابتداء بعثت میں جبرئیل امین آنحضرت ﷺ کے پاس وحی لے کر نازل ہوتے تو حضور ﷺ جبرئیلؑ کے ساتھ ساتھ پڑھتے۔ مبادا کوئی لفظ قرآن کا بھول جاؤں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ ◯ ان علینا جمعہ و قرانہ ◯ فاذا قراناہ فاتبع قرانہ ◯ ثم ان علینا بیانہ القیامۃ

ترجمہ = نہ چلا تو اس کے پڑھنے پر اپنی زبان شتاب، اس کو سیکھ لے۔ وہ تو ہمارا ذمہ ہے اس کو سمیٹ رکھنا اور پڑھنا۔ پھر جب ہم پڑھنے لگیں، تو ساتھ رہ اس کے پڑھنے کے۔

اور دوسری جگہ ارشاد ہے۔

سنقرئک فلاتنسی ◯ الا ماشاء اللہ

(سورۃ اعلیٰ)

صفحہ ١٠٠

شرائط نبوت

ترجمہ = ہم پڑھا دیں گے تجھ کو۔ پھر تو نہ بھولے گا مگر جو چاہے اللہ۔

اب ہم خود مرزا صاحب کے اقرار سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مرزا صاحب کی نہ عقل درست تھی اور نہ حافظہ۔

اقرار مراق

مرزا صاحب نے اپنی تحریرات اور اعلانات میں اپنے مراق اور مالیخولیا اور خرابی حافظہ کا صاف اقرار کیا ہے۔ چنانچہ مرزا صاحب فرماتے ہیں:

”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی کی تھی جو اسی طرح وقوع میں آئی۔ آپؐ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا، تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی۔ تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔“ اھ

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ رسالہ تشحیذ الاذہان قادیان ماہ جون ١٩٠٦ء

(ملفوظات ج ٨ ص ٤٤٥)

”مراق کا مرض حضرت مرزا صاحب میں موروثی نہ تھا۔ بلکہ یہ خارجی اثرات کے ماتحت پیدا ہوا، اور اس کا باعث سخت دماغی محنت، تفکرات، غم اور سوء ہضم تھا۔“

(از رسالہ ریویو قادیان ص ١٠ بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء)

خرابی حافظہ کا اقرار

”مکرمی اخویم سلمہ، میرا حافظہ بہت خراب ہے۔ اگر کئی دفعہ کسی کی ملاقات ہو تب بھی بھول جاتا ہوں..... حافظہ کی یہ ابتری (یعنی بدترین حالت) ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔“

خاکسار غلام احمد از صدر انبالہ احاطہ ناگ پھنی (مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ٣ ص ٢١ مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد)

مرزائے قادیان میں عقل اور حافظہ دونوں کا فقدان

صفحہ ١٠١

شرائط نبوت

مرزا صاحب میں نبوت کی یہ دونوں شرطیں مفقود تھیں۔ مرزا صاحب کو اپنے مراق (مالیخولیا) اور خرابی حافظہ کا خود اقرار اور اعتراف ہے۔ مرزا صاحب حافظ قرآن نہ تھے۔ مسلمانوں کے بچوں کے برابر بھی حافظہ نہ تھا۔ حالانکہ مرزا صاحب کا دعویٰ یہ تھا کہ میری بعثت (معاذ اللہ) رسول اللہ ﷺ کی بعثت ثانیہ بلکہ اس سے بھی اکمال ہے۔ (خطبہ الہامیہ ص ٢٧١ / ٢٧٢ روحانی خزائن ص ٢٧١ / ٢٧٢ ج ١٦) پس سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ کو بعثت ثانیہ میں قرآن یاد نہ رہا تھا‘ نیز مرزا صاحب کے اختلافات اور متعارض اور متناقض اقوال مرزا صاحب کی خرابی حافظہ کی دلیل ہیں۔ مرزا صاحب کو یاد نہیں رہتا کہ پہلے کیا لکھ چکا ہوں اور ناسخ و منسوخ کی تاویل مرزا صاحب کی من گھڑت ہے۔ احکام میں تو کچھ چل نہیں سکتی ہے لیکن واقعات اور خبروں میں نسخ جاری نہیں ہوتا۔ لہٰذا واقعات کے بیان میں مرزا صاحب کی جو متعارض عبارتیں ہوں گی‘ ان میں سوائے خرابی حافظہ یا چالاکی کے اور کوئی تاویل نہیں ہو سکتی۔ چالاکی سے مراد یہ ہے کہ مرزا صاحب کے ہر مسئلہ میں دو دو اور تین تین اور چار چار مختلف اقوال ان کی کتابوں میں ملتے ہیں۔ کچھ مسلمانوں کے عقائد کے مطابق ہیں اور بہت کچھ اسلامی عقائد کے خلاف ہیں تاکہ جیسا موقع ہو ویسی ہی عبارت مرزا صاحب کی کتاب سے پیش کر دی جائے۔ جب مرزا صاحب کا اسلام ثابت کرنا ہو تو مرزا صاحب کی وہ عبارتیں دکھلا دی جائیں جو مسلمانوں کے اجتماعی عقائد کے مطابق دعویٰ نبوت سے پہلے لکھی ہیں اور جب اپنی مرزائیت اور نیا دین پیش کرنا ہو تو دعویٰ نبوت کے بعد کی عبارتیں دکھلا دی جائیں۔ غرض یہ کہ مرزا صاحب کے تھیلے میں سب کچھ ہے۔ ختم نبوت بھی اور دعویٰ نبوت بھی حیات مسیح بھی ہے اور وفات مسیح بھی۔ نزول مسیح بھی ہے‘ اور نزول مسیح کا انکار بھی۔ مرزا صاحب کے اختلافات اور متعارض اقوال پر علماء نے مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ جن کے دیکھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے‘ کہ دنیا کے کسی شخص کے اقوال میں اتنا اختلاف نہیں‘ جتنا کہ مرزا صاحب کے اقوال میں ہے۔

صفحہ ١٠٢

شرائط نبوت

مرزا صاحب کو یہود اور نصاریٰ اور مجوس اور ہندوں

کی بھی کتابیں یاد ہونی چاہیں

مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ میں تمام انبیاء (حقیقت الوحی حاشیہ ص ٧٣ روحانی خزائن ص ٧٦ ج ٢٢) اور کافروں اور ہندوؤں کے اوتاروں کا بروز ہوں۔ (لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣ روحانی خزائن ص ٢٢٨ ج ٢٠) اس لیے مرزا صاحب کو توریت اور انجیل اور زبور کے علاوہ چاروں وید وغیرہ بھی یاد ہونے چاہیں۔ حالانکہ مرزا صاحب کو توریت اور انجیل اور زبور اور وید کا ایک ورق بھی یاد نہ تھا۔ مرزا صاحب کا دعویٰ یہ ہے کہ قرآن کریم کی تیس آیتوں سے صراحتہ ”حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات اور ممات ثابت ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٥٩٨ روحانی خزائن ص ٤٢٣ ج ٣)

لیکن سوال یہ ہے کہ

مرزا صاحب دعوائے نبوت سے پہلے اگرچہ نبی نہیں بنے تھے لیکن مجدد اور محدث اور ملہم من اللہ تو بن چکے تھے اور اپنی الہامی کتاب براہین احمدیہ میں حضرت مسیح بن مریمؑ کی حیات اور دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کا اعلان فرما رہے تھے۔۔۔۔۔ (براہین احمدیہ چہار حصص ص ٤٩٩ روحانی خزائن ص ٥٩٣ ج ١) کیا اس وقت یہ تیس آیتیں مرزا صاحب کی نظر سے مخفی ہو گئی تھیں؟ ظاہر یہ ہے کہ مرزا صاحب مجدد بنیں یا نبی‘ قرآن کی تلاوت ضرور فرماتے ہوں گے اور صلوۃ الاوابین کی بیس رکعتوں اور تہجد کی آٹھ رکعتوں میں قرآن کریم کے کئی کئی پارے ضرور پڑھتے ہوں گے۔ جن میں وفات مسیح کی آیتیں بھی گزرتی ہوں گی۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ باوجود مجدد اور ملہم من اللہ ہونے کے ان تیس آیتوں سے حضرت مسیح کی وفات کو نہیں سمجھتے‘ بلکہ اس کے برعکس اپنی الہامی کتاب میں حیات مسیح اور نزول مسیح کی اشاعت کر رہے ہیں۔ کم عقلی کی یہ انتہا ہے کہ جو مسئلہ قرآن کریم کی تیس آیتوں

صفحہ ١٠٣

شرائط نبوت

میں صراحۃً مذکور ہو، وہ باوجود مجدد اور ملہم من اللہ ہونے کے بھی نہ سمجھ میں آوے اور اگر غباوت نہیں تو صراحۃً مکر ہے۔ اور جس طرح غبی اور بدعقل نبی نہیں ہو سکتا، اسی طرح صاحب مکر شخص نیک بھی نہیں ہو سکتا۔ چہ جائیکہ نبی ہو جائے۔

نبوت کی تیسری شرط

علم کامل

نبوت کی تیسری شرط یہ ہے کہ نبی کا علم ایسا کامل اور مکمل ہو، کہ امت کے حیطہ ادراک سے بالا اور برتر ہو۔ مرزا صاحب کا دعویٰ تو یہ ہے کہ میں تمام اولین اور آخرین سے علوم میں بڑھا ہوا ہوں۔ (حقیقت الوحی ص ١٥٤ ص ٩٢ تذکرہ ص ١٩٢ طبع ٢) لیکن یہ دعویٰ ایسا بدیہی البطلان ہے کہ جس کو سوائے نادان کے کوئی قبول نہیں کر سکتا۔ مرزا صاحب کی تصانیف کا علماء کی تصانیف سے موازنہ کر لیا جائے۔ نثر کا نثر سے اور نظم کا نظم سے، اردو کا اردو سے، فارسی کا فارسی سے، اور عربی کا عربی سے، اور انگریزی الہام کا انگریزی ادیبوں کے کلام سے موازنہ کر لیا جائے۔ ابھی مرزا صاحب کا مبلغ علم معلوم ہو جاتا ہے۔ مرزا صاحب کی زندگی ہی میں جو علماء تھے، ان کی تصانیف کو دیکھ لیا جائے۔ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ بانی دارالعلوم دیوبند اور حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کی تصانیف کو سامنے رکھ کر مرزا صاحب کی کتابوں کو دیکھا جائے۔ دو چار ہی ورق میں فرق معلوم ہو جائے گا۔

مرزا صاحب کی تمام تصانیف میں۔۔۔۔ سوائے اپنے کشف و الہام اور تعلی کے دعوؤں، دیگر حضرات انبیاء کرام کی تنقیص اور توہین، ۔۔۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گالیوں کے اور کیا ہے! مرزا صاحب کی کتابوں سے اللہ تعالیٰ کی معرفت اور آخرت کا شوق و رغبت نہیں حاصل ہوتی۔

میں مرزائیوں سے درخواست کروں گا کہ وہ حضرت امام غزالی رحمتہ اللہ

صفحہ ١٠٤

شرائط نبوت

کی احیا العلوم اور کیمیائے سعادت کا ترجمہ پڑھیں اور اس زمانہ کے حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی صاحبؒ کے مواعظ کا خصوصاً مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ کس طرح دل کی آنکھیں کھلتی ہیں۔

قرآن کریم تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا کلام معجز نظام ہے اور حدیث نبی کریم ﷺ کا کلام فصاحت التیام ہے۔ جس کا درجہ فصاحت و بلاغت میں قرآن کریم کے بعد ہے۔ حضور پرنور ﷺ کے خطبات کا‘ عرب کے ادباء فصحاء اور بلغاء کے خطبات سے موازنہ کر لیا جائے۔ زمین و آسمان کا فرق نظر آئے گا‘ اور حضور پرنور ﷺ کے جوامع الکلم اور کلمات حکمت و موعظت کا حکماء عالم کے کلمات حکمت سے موازنہ کر لیا جائے۔ حکماء عالم کی حکمت و موعظت کو حضور پرنور ﷺ کی حکمت و موعظت سے‘ وہ نسبت بھی نہ ملے گی جو قطرہ کو سمندر کے ساتھ یا ذرے کو آفتاب کے ساتھ ہوتی ہے۔ اب مرزائی حضرات اپنے نبی پر نظر ڈالیں کہ جس کو وہ تمام انبیاء سابقین سے افضل اور نبی کریم ﷺ کا عین بلکہ آپ ﷺ سے شاید بہتر اور برتر سمجھتے ہیں۔ اس کی فصاحت و بلاغت پر نظر ڈالیں۔ کیا مرزا صاحب اردو‘ فارسی ادب اور فصاحت و بلاغت میں ادباء زمانہ سے کچھ بڑھ کر تھے؟ مرزا صاحب چونکہ ہوشیار تھے اس لیے اردو‘ فارسی ادب میں تو اعجاز کا دعویٰ نہ کیا کہ ابھی قلعی کھل جائے گی اور دنیا مذاق اڑائے گی۔ البتہ عربی زبان میں اعجاز کا دعویٰ کیا اور ”قصیدہ اعجازیہ“ لکھ کر اپنا معجزہ پیش کیا۔ علماء نے اس کے مقابل قصائد پیش کر دیئے اور مرزا صاحب کے قصیدہ اعجازیہ کی عروضی اور صرفی اور نحوی اور ادبی غلطیاں شائع کر دیں۔ جس کا اب تک مرزا صاحب اور مرزائی حضرات سے جواب نہیں ہو سکا اور اگر ہو سکتا ہے تو اب جواب دیں۔

مرزا صاحب کی فصاحت و بلاغت معلوم کرنے کا طریقہ

اگر کسی کو مرزا صاحب کے قصیدہ اعجازیہ پر ناز ہے تو ایک عام مجلس منعقد کر لی جائے۔ جس میں حجاز اور شام کے ادباء کو مدعو کیا جائے۔ اس میں مرزا

صفحہ ١٠٥

شرائط نبوت

صاحب کے قصیدہ اعجازیہ کو پیش کیا جائے اور علمائے اسلام کی گرفتوں کو بھی پیش کیا جائے اور ادباء عرب سے دریافت کیا جائے کہ مرزا صاحب کا قصیدہ اعجازیہ مصر کے مشہور شاعر شوقی اور حافظ ابراہیم کے قصائد کا پاسنگ بننے کے بھی قابل ہے یا نہیں؟

اور کوئی مرزائی دعویٰ کر کے تو دیکھے کہ مرزا صاحب کے اردو شعر اکبر الہ آبادی کے اشعار کے پاسنگ بھی بن سکتے ہیں؟ مرزائی خوب جانتے ہیں کہ سارا ملک اردو زبان جانتا ہے۔ یہ دعویٰ ایک منٹ کے لیے بھی نہیں سنا جاسکتا۔ البتہ عربی زبان ایسی ہے کہ جس سے ملک کا اکثر طبقہ نا آشنا ہے۔ اس لیے عربی زبان میں دعویٰ اعجاز پر کمر بستہ ہوئے اور ”قصیدہ اعجازیہ“ لکھ کر شائع کر دیا۔ جس پر قادیان کے کچھ نادان ایمان لے آئے جن کو نہ عربی کی خبر ہے نہ فارسی کی۔

مرزا صاحب کے صحابی اور تابعی انگریزی زبان کے ماہر ہیں۔ مگر قرآن اور حدیث کی زبان کے ماہر نہیں۔ ماہر تو کیا ہوتے قافیہ اور علم الصیغہ کی بھی خبر نہیں۔ ایسے آدمیوں کی نہ تصدیق معتبر ہے اور نہ تکذیب۔

مرزا صاحب اور ان کے صحابہ و تابعین کے امتحان کا طریقہ

مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ میں تمام انبیاء کرام کا عموماً اور سرور دو عالم محمد عربی مصطفیٰ ﷺ کا ظل اور بروز بلکہ ان کا عین ہوں (حقیقت الوحی ص ٧٢ حاشیہ روحانی خزائن ص ٧٦ ج ٢٢) مرزا صاحب کی عبارت کا احادیث نبویہ کی عربیت سے موازنہ کیا جائے اور مرزا صاحب کے صحابہ اور تابعین کے عربی کلام کا نبی اکرم ﷺ کے صحابہ اور تابعین کے خطبات اور اشعار سے موازنہ کیا جائے۔ بلکہ غلامان غلامان غلامان غلامان غلامان غلامان غلامان غلامان غلامان محمد رسول اللہ ﷺ کی نثر اور نظم سے مقابلہ کر لیا جائے، ابھی مرزا صاحب اور ان کے تابعین کا مبلغ علم معلوم ہو جائے گا۔ مرزا صاحب کے خلیفہ ثانی ---- مرزا بشیر الدین محمود ربوہ میں موجود ہیں۔ ان کی عربی نثر و نظم کو کسی عربی ادیب کو دکھلایا جائے، اور مرزا کے خلیفہ ثانی تو رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ ثانی حضرت عمر

صفحہ ١٠٦

شرائط نبوت

فاروق رضی اللہ عنہ کے خطبوں کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ جس کا جی چاہے، امتحان کرے۔

نبوت کی چوتھی شرط

عصمت کاملہ و مستمرہ

شاہان دنیا کے تقرب کے لیے سراپا اطاعت ہونا ضروری ہے۔ اپنے مخالفوں کو اپنی بارگاہ میں کون گھسنے دیتا ہے۔ اور مسند قرب پر کون قدم رکھنے دیتا ہے۔ اسی طرح خداوند ذوالجلال کا مقرب اور پیغمبر وہی ہو سکتا ہے جو ظاہر اور باطن میں اللہ تعالیٰ کا پورا پورا مطیع اور فرمانبردار ہو اور اس کے دشمنوں سے بری اور بیزار ہو۔

مرزا صاحب اپنے اقرار سے بھی معصوم نہ تھے اور نہ اللہ کے دشمنوں سے بری اور بیزار تھے۔ یہود اور نصاریٰ سے جہاد اور قتال کو حرام سمجھتے تھے، اور ان کے عروج اور ترقی کے لیے دعا گو تھے۔

(ازالہ اوہام حاشیہ ص ٨٤٩۔ روحانی خزائن ص ٥٦١ ج ٣)

کافروں کے لیے دعا کا مطلب

کافروں کی حکومت اور سلطنت کے لیے دعا مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ کفر اور کافروں کو عزت اور عروج ہو، اور اسلام اور مسلمان ذلیل اور خوار ہوں۔

سبحان اللہ! عجب پیغمبری ہے کہ جس کا مقصد ہی کفر کا عروج، اور اسلام کا زوال ہے۔ نبوت کا مقصد تو یہ ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو اور کافروں کی بات نیچی ہو۔ اللہ کا نام لینے والے عزیز اور سربلند ہوں اور اللہ کے دشمن ذلیل اور خوار ہوں اور کافر خدا کے دوستوں کے غلام اور باج گزار بن کر رہیں مگر مرزا صاحب کے دین میں معاملہ برعکس ہے۔ یہ عجب نبی ہے جو نصاریٰ کے لیے دعا کرنے والا ہے اور مسلمانوں کے لیے بددعا۔

صفحہ ١٠٧

شرائط نبوت

مرزا صاحب سے یہ تو ممکن نہ ہوا کہ دنیا کو اپنی عصمت، طہارت اور نزاہت دکھلا سکیں۔ اس لیے انبیاء کرام کی عصمت ہی کا انکار کر دیا، کہ نبی کے لیے معصوم ہونا ضروری نہیں تاکہ اپنی عصمت دکھلانی اور ثابت نہ کرنی پڑے۔ جس کا مطلب معاذ اللہ یہ ہوا کہ اے لوگو! میرے دعویٰ نبوت پر تم میری عصمت کو نہ جانچنا، کوئی نبی معصوم نہیں گزرا۔

اے مسلمانو! ذرا غور تو کرو کہ اگر نبی کے لیے عصمت لازم نہیں، تو پھر غیر معصوم کی اطاعت کیسے واجب ہو گی؟ اگر انبیاء کرام واجب العصمت نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی اطاعت کا حکم نہ دیتا اور نہ ان کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیتا۔

نبوت کی پانچویں شرط

صداقت اور امانت

نبوت کی ایک شرط یہ ہے کہ نبی صادق اور امین ہو۔ اس لیے کہ جھوٹا اور خائن کبھی نبی نہیں ہو سکتا اور مرزا صاحب کے جھوٹے ہونے پر علماء نے مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ جن میں مرزا صاحب کی پیشین گوئیوں کا جھوٹا ہونا ثابت کیا ہے۔

صادق اور کاذب کی تعریف

صادق اور سچا ہونے کے لیے ایک دو پیشین گوئیوں کا سچا ہو جانا کافی نہیں۔ کاہنوں اور نجومیوں کی بھی تمام پیشین گوئیاں جھوٹی نہیں نکلتیں۔ سچا وہ ہے کہ جس کی سب باتیں سچی ہوں اور جھوٹا وہ ہے کہ جس کی سب باتیں سچی نہ ہوں اگرچہ اس کی بہت باتیں بلکہ اکثر باتیں سچی ہوں۔

اس زمانے میں جو لوگ جھوٹ کے مصنف ہیں یعنی پراپیگنڈے کے امام ہیں۔ ان کی بھی تمام باتیں جھوٹی نہیں ہوتیں۔ بلکہ ان کی بھی اکثر باتیں سچی ہی ہوتی ہیں۔ مگر بایں ہمہ وہ جھوٹے ہی ہیں۔ پردہ پوشی کے لیے جھوٹ کا نام پراپیگنڈہ رکھ لیا ہے مگر حقیقت اس کی ایسا اعلیٰ درجہ کا جھوٹ ہے کہ جس کو سننے کے بعد

صفحہ ١٠٨

شرائط نبوت

بڑے سے بڑا ہوشیار بھی سچ سمجھنے لگے۔

اسی طرح مرزائی حضرات کو یہ دیکھنا چاہیے کہ مرزا صاحب کی کتنی پیشین گوئیاں جھوٹی نکلیں۔ چند پیش گوئیوں کے سچا ہونے سے کسی کا صادق اور راست باز ہونا ثابت نہیں ہو سکتا، اور اگر جھوٹے کے یہ معنی ہوں کہ اس کی کوئی بات بھی سچی نہ ہو، تو اس معنی کو، دنیا میں کوئی بھی جھوٹا نہیں نکلے گا۔ بلکہ اس معنی کو جھوٹا ہونا عقلاً محال ہے۔ اس لیے کہ یہ عقلاً ناممکن ہے کہ کسی شخص کی ہر بات جھوٹی ہو اور کوئی بات بھی اس کی سچی نہ ہو۔ خوب سمجھ لو۔ شیطان کی بھی ساری باتیں جھوٹی نہیں۔

مرزا صاحب سے جب اپنا سچا ثابت کرنا ممکن نہ ہوا، تو دوسرے پیغمبروں کی پیشین گوئیوں کو جھوٹا ثابت کرنا شروع کیا، تاکہ لوگوں پر یہ واضح ہو کہ جھوٹ بولنے سے نبوت میں فرق نہیں آتا، اور معاذ اللہ! میں (یعنی مرزا صاحب) ہی جھوٹا نہیں۔ بلکہ اور پیغمبر بھی جھوٹے گزرے ہیں۔

نبوت کی چھٹی شرط

عدم توريث

نبوت کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ کسی کی زمین اور جائداد اور مال و دولت کا وارث ہو اور نہ اس کے بعد کوئی اس کا وارث ہو۔

حدیث متواتر سے ثابت ہے کہ حضور پر نورؐ نے فرمایا: نحن معاشر الانبياء لا نرث ولا نورث ما تركنا صدقہ ترجمہ = ہم گروہ انبیاء، نہ ہم کسی کے وارث اور نہ ہمارا کوئی وارث ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ خدا کے لیے وقف ہوتا ہے۔

مگر مرزا صاحب کے یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ خود بھی اپنے باپ کی زمین و جائیداد کے وارث ہوئے اور دعویٰ پیغمبری سے جو زمین اور جائیدا فراہم کی، انگریزی کچہری سے اسکی باضابطہ رجسٹری اپنی اولاد کے نام کرائی۔ جب سب کو

صفحہ ١٠٩

شرائط نبوت

معلوم ہے اور قادیانی حضرات کو ہم سے ہزار درجہ بڑھ کر معلوم ہے۔ ”عیاں را چہ بیاں“

نبوت کی ساتویں شرط

زہد

نبوت کی ایک شرط زہد یعنی دنیا کی شہوات اور لذات سے بے تعلقی ہے۔ نبوت کا مقصد بندوں کو خدا تک پہنچانا ہے، اور ظاہر ہے کہ شہوت پرستی بندوں کو خدا پرست نہیں بنا سکتی۔ مگر مرزا صاحب میں یہ شرط بھی مفقود ہے۔ مرزا صاحب نے حطام دنیا کے جمع کرنے میں کوئی دقیقہ اور حیلہ نہیں چھوڑا۔ جس جس تدبیر اور حیلہ سے روپیہ جمع کر سکتے تھے وہ سب کچھ کیا۔ حتیٰ کہ اپنی تصویر تک فروخت کی۔ اور کنچنی عورت (کسبی عورت) کے مال پر ہاتھ صاف کرنے کے لیے، فکر مند رہے۔ (سیرۃ المہدی ص ٢٦٢ ج ١) اسے استعمال میں لانے کی دلیل بھی دی۔ (آئینہ کمالات ص ٦٦٠، ٦٠١)

نبوت کی آٹھویں شرط

اعلیٰ حسب و نسب

نبوت کی ایک شرط یہ ہے کہ نبی حسب و نسب کے اعتبار سے اعلیٰ اور برتر ہو۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ہرقل شاہ روم نے--- ابو سفیان سے دریافت کیا: کیف نسبہ فیکم ترجمہ = محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسب و نسب کیسا ہے۔ ابو سفیان نے جواب دیا: ھو فی حسب مالا نفضل علیہ غیرہ ترجمہ = یعنی وہ حسب و نسب میں سب سے بڑھ کر ہے۔

صفحہ ١١٠

شرائط نبوت

شاہ روم نے کہا وکذلک الرسل تبعث فی احساب قومها یعنی انبیاء ہمیشہ بہترین خاندان میں سے مبعوث ہوتے ہیں تاکہ لوگ حسب و نسب کے لحاظ سے ان کو حقیر نہ سمجھیں۔

مرزا صاحب میں یہ شرط بھی مفقود ہے۔ مرزا صاحب مغل اور پٹھان تھے (کتاب البریہ ص ١٤٤ روحانی خزائن ص ١٦٢ ج ١٣) سید اور ہاشمی تو کیا، شیخ زادہ بھی نہ تھے۔ خصوصاً مرزا صاحب کا جیسا یہ دعویٰ ہے کہ میں عین رسول اللہ ہوں اور امام مہدی بھی ہوں، تو عین رسول اللہ ہونے کی وجہ سے ہاشمی ہونے چاہیے تھے، اور مہدی ہونے کی وجہ سے فاطمی یعنی حضرت سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراؓ کی اولاد سے ہونے چاہیے تھے۔ مگر نہ ہاشمی تھے نہ فاطمی بلکہ مغل تھے۔

نبوت کی نویں شرط

مرد ہونا

نبوت کی ایک شرط یہ ہے کہ نبی مرد ہو۔ قال اللہ تعالیٰ وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیھم نبی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ مرد ہو۔ اس لیے کہ عورتیں ناقص العقل والدین ہوتی ہیں۔ پس اگر عورت کا نبی ہونا جائز رکھا جائے تو نبی کے عقل اور دین کا ناقص ہونا لازم آئے گا اور نبی کے دین اور عقل کا ناقص ہونا محال ہے۔ اس لیے کہ جب نبی ہی کی عقل اور نبی کا دین ناقص ہو گا، تو امت کی عقل اور امت کا دین کیسے کامل ہو گا۔ نیز عورت کے لیے پردہ واجب ہے کیونکہ بے پردگی موجب فتنہ ہے۔ لہٰذا اگر عورت نبی ہو تو دو حال سے خالی نہیں، کہ پردہ کرے گی یا نہیں۔ اگر وہ پردہ کرے تو اس سے استفادہ کیسے ہو گا۔ نیز نبیہ کو بغیر دیکھے لوگ صحابی کیسے بنیں گے۔ بغیر دیکھے صحابیت کا شرف حاصل نہ ہو گا۔ اور اگر پردہ نہ کرے تو موجب فتنہ ہو گی۔ خصوصاً جب کہ نبی کے لیے یہ ضروری ہے کہ حسین و جمیل اور حسن الصوت یعنی خوش آواز بھی ہو (جیسا کہ بعض علماء نے لکھا ہے) تو ایسی صورت میں حسین و جمیل اور خوش آواز (عورت) کا نبی ہونا،

صفحہ ١١١

شرائط نبوت

ہدایت کے بجائے فتنہ کا دروازہ کھولے گی۔ نبوت کی یہ شرط بھی مرزا صاحب میں نہیں پائی جاتی‘ کیونکہ مرزا صاحب کا ایک دعویٰ مریم ہونے کا اور حاملہ ہونے کا بھی تھا (کشتی نوح ص ٤٧ روحانی خزائن ص ٥٠ ج ١٩) اور ظاہر ہے کہ مریم اور حاملہ تو عورت ہی ہو سکتی ہے نہ کہ مرد۔ لہٰذا مرزا صاحب اپنے اس اقرار کے بموجب مرد نہ ہوئے تو پھر نبی کیسے بنے۔

نبوت کی دسویں شرط

اخلاق کاملہ

نبوت کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ صاحب نبوت اخلاق کاملہ اور کمالات فاضلہ کے ساتھ موصوف ہو۔ بدخلق اور بدزبان نہ ہو۔ یہ شرط بھی مرزا صاحب میں مفقود ہے۔ ناظرین اور طالبین حق کے لیے ہم مرزا صاحب کے اخلاق کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ جس سے ناظرین اور قارئین کو معلوم ہو جائے گا کہ مرزا صاحب کس درجہ کے اخلاق والے تھے۔ ناظرین کرام کی سہولت کے لیے مرزا صاحب کی گالیوں کا حروف تہجی کے اعتبار سے نقشہ پیش کرتے ہیں۔ فتلک عشرة كاملة

مرزا صاحب کی گالیوں کا حروف تہجی کے لحاظ سے نقشہ

الف

اے زودرنج روحانی خزائن ص ٣٢٠ ج ١٤ ایام الصلح ص ٨٤ اے حاسد روحانی خزائن ص ٣٢٢ ج ١٤ " " ص ٨٦ اے بدقسمت۔ بدگمانو " " ص ٣٤١ ج ١٤ " " ص ١٠٣ اے مردار خور مولویو " " ص ٣٠٥ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ / ح

صفحہ ١١٢

شرائط نبوت

اندھیرے کے کیڑو " " " اندھے " " ص ٣٠٦ ج ١١ " ص ٢٢/ج اے اندھو " " ص ٣١٠ ج ١١ " ص ٢٦ اے بدذات " " ص ٣٢٩ " ص ٢٥ اے خبیث " " " " اے پلید دجال " " ص ٣٣٠ " ص ٤٦ ان احمقو " " " " ص ٤٦ اے نادانو " " " " ص ٤٦ آنکھوں کے اندھو " " " " ص ٤٦ اسلام کے عار " " ص ٣٣٢ " ص ٤٨ احمق " " ص ٣٣٣ " ص ٤٩ اے نابکار " " ص ٣٣٣ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠ او میرے مخالف " " ص ٤٤ " ص ٦٣ اے بدذات فرقہ " " ص ٢١ انجام آتھم ص ٢١/ج اعداء الاعداء " " ص ٥٩ " ص ٥٩/ج امام المتکبرین " " ص ٢٤١ " ص ٢٤١ اعمی " " ص ٢٥٢ " ص ٢٥٢ اغوی " " " " ص ٢٥٢ الانام " " ٢٦٥ " ص ٢٦٥ استخوان فروش ص ٣٠٨ ج ٥ آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٨ اے بدبخت قوم ص ٣١٢ ج ٢١ براہین احمدیہ پنجم ص ١٤٤ اے سست ایمانو ص ٣١٢ ج ٢١ ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص ١٤٤ الو " " ص ٣٣٢ ج ٢١ " ص ١٦٥/٥ ایھا الغوی " " ص ٣٥٠ ج ١٩ مواہب الرحمٰن ص ١٣٨

صفحہ ١١٣

شرائط نبوت

ایمان و دیانت سے عاری ص ٥ ج ٨ نور الحق ج ١ ص ٣ اس فرومایہ ص ١٨٨ ج ١٩ اعجاز احمدی ص ٧٦ اے دیو " " ص ١٨٩ ج ١٩ " " " ان شریرو " " ص ٢٦٠ ج ١٨ الہدی التبصرہ ص ١٦ آگ کے لاہو شوؤ " " ٢١ ج ١٨ " " اے دروغ گو ص ١٢٠ ج ٨ نور الحق ج ١ ص ٨٩ ابلہ ص ١١ ج ٢٣ چشمہ معرفت ج ١ ص ٣ اے مردار " " ص ٣٠٥ ج ١١ آتھم ص ٢١ / ح اے احمق مجموعہ اشتہارات ص ٧٦ ج ٢ اشتہار انعامی ص ١٣ اسلام کے دشمنو مجموعہ اشتہارات ص ٦٩ ج ٢ " " ص ٥ / ح ابولہب روحانی خزائن ص ٢٩٤ ج ٩ ضیاء الحق ص ٣٣ اسلام کے عار روحانی خزائن ص ٣٠٣ ج ٨ اتمام الحجۃ ص ٢٣ امام الفتن " " ٣٠٣ ج ٨ " " ص ٢٤ اول درجہ کا متکبر روحانی خزائن ص ١٤١ ج ١٠ ست بچن ص ٩ انسانوں سے بدتر پلید تر روحانی خزائن ص ٤١٣ ج ١٤ ایام الصلح ص ١٦٦ اسلام کے دشمن " " ص ٣٠٥ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم اسلام کے بدنام کرنے والے " " ص ٣٤٢ " ج ١١ " " ص ٥٨ اے بدبخت مفتریو " " " " " " " اے ظالم " " ص ٢١ ج ١١ انجام آتھم ص ٢١ / ح ایھا المکذبون الضالون " " ص ٢٤٣ ج ١١ " " ص ٢٤٣ / ح اے شیخ احمقاں " " ص ٢٤١ ج ١١ " " ص ٢٤١ / ح ایھا الشیخ الضال " " ص ٢٥١ ج ١١ " " ص ٢٥١ اے بد قسمت انسان روحانی خزائن ص ٣٠٦ ج ٥ آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٦ اول درجہ کے کاذب روحانی خزائن ص ٦٠١ ج ٥ آئینہ کمالات ص دال

صفحہ ١١٤

شرائط نبوت

اے اس زمانہ کے ننگ اسلام ” ” ص ٦٠١ ج ٥ آئینہ کمالات اسلام ص دال اے کوتاہ نظر روحانی خزائن ص ٦٠٨ ج ٥ کمالات اسلام ص دال اے نفسانی روحانی خزائن ص ١٠٥ ج ٣ ازالہ اوہام ج ١ ص ٥ اے ٹھگ ” ” ص ١٧٥ ج ٣ ” ص ٤٩ / ح اے اندھے روحانی خزائن ١٦٦ ج ٢١ ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٣ - ٢٧ اے دیوانہ ” ” ص ٣٢٢ ج ٢١ ” ص ١٥٦ اے دروغ آراستہ کرنے والے روحانی خزائن ص ٣٣٢ ج ٢١ براہین پنجم ص ١٦٥ اے غبی ” ” ص ٣٥٢ ج ١٦ مواہب الرحمٰن ص ١٣١ اے مسکین ” ” ص ٣٥٩ ” ” ص ١٣٨ انسانیت کے پیرایہ سے ” ” ص ٤ ج ٨ نور الحق ج ١ ص ٣ بے بہرہ اور برہنہ اغوا کرنے والے محمد حسین روحانی خزائن ص ٦٩ ج ١٩ اعجاز احمدی ص ٥٧ اکڑ باز روحانی خزائن ٢٥٣ ج ١٨ الہدیٰ و التبصرۃ ص ٨ اے بے ایمانو مجموعہ اشتہارات ص ٦٩ ج ٢ اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥ اندھے پادریوں روحانی خزائن ص ٣٠٨ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٤ / ح

ب ۔ پ

پلید ملاؤں روحانی خزائن ص ٤١٣ ج ١٤ ایام الصلح ص ١٦٥ پلید جاہلوں روحانی خزائن ص ٤١٣ ج ١٤ ایام الصلح ١٦٦ پلید طبع مولوی روحانی خزائن ص ٤١٣ ج ١٤ ایام الصلح ص ١٦٥ بد اخلاقی اور بد ظنی میں ” ” ص ٣٢٠ ج ١٤ ” ص ٨٤ غرق ہونے والو بد قسمت بد گمانو ” ” ص ٤٤١ ج ١٤ ” ص ١٠٣

صفحہ ١١٥

شرائط نبوت

بدتر " " ص ٣١٤ ج ١٤ " ص ١٦٦ پلید تر " " " " " پلید ملاوں " " " " " پلید دل " " ص ٢٨٨ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٤ بے ایمانی بدیانتی " " ص ٢٩٤ " " " ص ١٠ بد بخت " " ص ٢٩٥ " " " ص ١١ بے وقوف اندھے " " ص ٣٠٦ " " " ص ٢٣/ ح بے ایمان اور اندھے " " " " " " " بدذات " " ص ٣٢٩ " " " ص ٤٥ پلید دجال " " ص ٣٣٠ " " " ص ٤٦ بے نصیب " " ص ٣٣١ " " " ص ٤٧ بے بہرہ " " " " " " " بد گوہر " " ص ٣٧٧ " " " ص ٥٣ بے وقوفوں " " " " " " " بندروں " " " " " " " باطل پرست بطالوی روحانی خزائن ص ٥٩ ج ١١ انجام آتھم ص ٥٩ / ح بطال " " ص ٢٥١ ج ١١ " ص ٢٥١ بدذات " " ص ٢٩٠ ج " " ص ٦ بے ہودہ روحانی خزائن ص ٣٠١ ج ٥ آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠١ پلید آدمی " " ٣٠٨ " " " ص ٢٠٨ بے چارہ " " ٦٠٠ " " " ص ٦٠٠ بد قسمت ایڈیٹر روحانی خزائن ص ٣٩٠ ج ١٨ نزول المسیح ص ١٢ بے حیا روحانی خزائن ص ٤٣٠ ج ١٨ " ص ٦٢ پاگل روحانی خزائن ص ٤٣٢ ج ١٨ نزول المسیح ص ٦٣

صفحہ ١١٦

شرائط نبوت

بدعت زاہد روحانی خزائن ص ٧١٥ ج ٣ ازالہ اوہام ص ٤٩/ ح بدمعاش، بدذاتی روحانی خزائن ص ٢٢٢ ج ٢٢ حقیقۃ الوحی ص ٢١٢ بے ایمانی بدگو روحانی خزائن ص ٤٢٥ ج ٢٢ " " ص ١٢ بدکار آدمی روحانی خزائن ص ٣٨٠ ج ٦ شہادۃ القرآن ص ١٠ برہنہ روحانی خزائن ص ٤ ج ٨ نور الحق ص ٣ ج ١ بھیڑیے روحانی خزائن ص ١٥٠ ج ١٩ اعجاز احمدی ص ٢٩ پلنگ " " ص ١٥٢ ج ١٩ " " ص ٣٣ بچھو " " ص ١٨٨ ج ١٩ اعجاز احمدی ص ٧٥ بے حیاء " " ص ٤٠ ج ٢٠ تذکرۃ الشہادتین ص ٣٨ بالکل جاہل " " ص ٤٥ ج ٧ کرامات الصادقین ص ٣ بالکل بے بہرہ " " " " " " " " پلیدوں روحانی خزائن ص ٣٠٨ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٤/ ح بے باک اور بے شرم " " ص ١٨ ج ١١ انجام آتھم ص ١٨/ ح پلید فطرت " " ص ٣٦ ج ١١ " " ص ٣٦ بداطوار " " ص ٢٠٤ ج ١١ " " ص ٢٠٤ بخیل روحانی خزائن ص ٣٠٠ ج ٩ ضیاء الحق ص ٣٨ بدخلق " " ص ٨٨ ج ٨ نور الحق ص ٦٤/ ج ١ بے ایمانوں مجموعہ اشتہارات ص ٦٩ ج ٢ اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥/ ح بے عزتوں " " ص ١٢٥ ج ١ تبلیغ رسالت ج ١ ص ٨٤ بخیل طبع روحانی خزائن ص ٣٠٠ ج ٩ ضیاء الحق ص ٣٨ بدبخت " " ص ٢٨ ج ١١ انجام آتھم ص ٢٨ بڑا خبیث " " ص ٥٤٣ ج ٢٢ تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٠٧ بخیلوں " " ص ٣٠٦ ج ٨ اتمام الحجہ ص ٢٦

صفحہ ١١٧

شرائط نبوت

بدبخت جھوٹوں " " ٢٨ ج١١ - انجام آتھم ص ٢٨ بے راہ " " ص ٣٠١ ج ٢٢ حقیقۃ الوحی ص ٢٨٨ بے خوف " " ٥٩٤ ج ٢٢ تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٥٦

ت

تفقہ سے سخت بے بہرہ روحانی خزائن ص ٣٠٨ ج ٥ آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٨ تجھ سے زیادہ بدبخت کون " " ٣٢٥ ج ٢١ ضمیمہ براہین احمدیہ ص ٥/١٥٧ تو صبح کو الو کی طرح اندھا ہو جاتا ہے " " ص ٣٣٢ ج ٢١ " ص ٥/١٦٥ تو ملعون " " ص ١٨٨ ج ١٩ اعجاز احمدی ص ٧٥ تجھ پر ویل " " ص ١٩٣ ج ١٩ " ص ٨١ تکبر کا کیڑا " " ص ٦٣ ج ٧ کرامات الصادقین ص ٢١ تمہاری ایسی تیسی ہے مجموعہ اشتہارات ص ٧٠ ج ٢ اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥ / ح تکفیر کا بانی روحانی خزائن ص ٢٣٨ ج ١٨ دافع البلاء ص ١٨ تقویٰ و دیانت سے دور روحانی خزائن ص ٣٠٧ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٣ / ح تزویر و تلبیس " " ٣٣٤ ج ١١ " ص ٥٠

ث

ثناء اللہ کو علم اور روحانی خزائن ص ١٥٥ ج ١٩ اعجاز احمدی ص ٤٣ ہدایت سے ذرہ مس نہیں ثناء اللہ تجھے جھوٹ کا روحانی خزائن ص ١٦٣ ج ١٩ اعجاز احمدی ص ٥١ دودھ پلایا گیا

صفحہ ١١٨

شرائط بیعت

ج۔چ

جاہل روحانی خزائن ص ٣٥٤ ج ١٤ ایام الصلح ص ٦٦ چار پائے ہیں نہ آدمی " " ص ٢٩٤ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ١٠ جاہل سجادہ نشین " " ص ٣٠٢ ج ١١ " ص ١٨ جہلاء " " " " " ص ١٨/ ح جھوٹے " " ٢٨ " " " ص ٢٨/ ح جنگل کے وحشی " " ص ٣٤٣ " " ضمیمہ " ص ٤٩ جھوٹا " " ص ٣٤٤ " " " ص ٥٠ جار غومی " " ص ٣٤١ " " انجام آتھم ص ٢٤١ جاہلین " " ص ٢٥٤ " " " ص ٢٥٤ جانور روحانی خزائن ص ٣٨٦ ج ١٨ نزول المسیح ص ٨ جاہل مخالف " " ص ٦٦ ج ٨ نور الحق ج ١ ص ٤٨ جنگلوں کے غول " " ص ١٩٤ ج ١٩ اعجاز احمدی ص ٨١ چارپایوں " " ج ٧ حمامۃ البشریٰ ص ٧٢/ ح چال باز " " ص ٦٥ ج ٧ کرامات الصادقین ص ٢٢ جلد باز مولویوں " " ص ٣٤١ ج ٤ آسمانی فیصلہ ص ٣١ جنگ جو " " ص ١٤٠ ج ٨ نور الحق ص ٨٩ چوروں " " ص ١٢ ج ١٠ آریہ دھرم ص ١٢ جاہل اخبار نویس " " ص ٢٩٦ ج ٩ ضیاء الحق ص ٣٥ چالاک حاسدوں " " ص ٣٠٦ ج ٨ اتمام الحجۃ ص ٢٦ جھوٹ کا گوہ کھایا " " ص ٣٣٤ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠ جاہلوں " " ص ٤٠٢ ج ٥ آئینہ کمالات اسلام ص ٤٠٢ جھوٹ بولنے کا سرغنہ " " ص ٣٨٧ ج ١٨ نزول المسیح ص ٩

صفحہ ١١٩

شرائط نبوت

ح

حاسد روحانی خزائن ص ٣٢٢ ج ١٤ ایام الصلح ص ٨٦ حرامی " " ص ٣٨٠ ج ٦ شہادۃ القرآن ص ٣ ج حرام زادہ " " ص ٣٢ ج ٩ انوار الاسلام ص ٣٠ حرامی لڑکے روحانی خزائن ص ٤٤٦ ج ٢٢ تتمہ حقیقتہ الوحی ص ١٤ حق پوش " " ص ٣٨٣ ج ٦ شہادۃ القرآن ص ٦ و حیوانات " " ص ١٤١ ج ١٩ اعجاز احمدی ص ٢٢ حاسدوں " " ص ٢٥٣ ج ١٨ الھدی والتبصرہ ص ٨ حریص " " ص ٨٨ ج ٨ نور الحق ص ٦٣ ج ١ حرص کے جنگل کے شیطان " " ص ١٣٠ ج ٨ نور الحق ص ٨٩ ج ١ حرص کی وجہ سے مکار " " ص ١٣٤ ج ٨ " " ص ٩٢ ج ١ حلال زادہ نہیں " " ص ٣١ ج ٩ انوار الاسلام ص ٣٠ حاطب اللیل " " ص ٦٠٠ ج ٥ آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠٠ حق کے مخالف " " ص ٣٠٤ ج ٨ اتمام الحجہ ص ٢٥

خ

خبیث طبع روحانی خزائن ص ٣٠٥ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ / ح خنزیر سے زیادہ پلید " " " " " " " خبیث طبع " " " " " " " خالی گدھے " " ص ٣٣١ ج ١١ " " ص ٤٧ خشک زاہد " " ص ١٠٥ ج ٣ ازالہ اوہام کلاں ص ٥ ج ١

صفحہ ١٢٠

شرائط نبوت

خشک ملاؤں " " ص ٣١٠ ج ٢١ ضمیمہ براہین ص ١٤٢ ج ٥ خبیث نفس " " ص ٣٨٢ ج ٦ شہادۃ القرآن ص ٥٥ خود پسند " " ص ٣٨١ ج ٦ " " ص ٥٤ خیانت پیشہ " " ص ١٢ ج ١٠ آریہ دھرم ص ١٢ خبیث طینت " " ص ٢٩٢ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٨ خبیث فرقہ " " ص ٢٩٣ " " " ص ٩ / ح خناسوں " " ص ١٧ ج ١١ انجام آتھم ص ١٧ / ح خسیس ابن خسیس " " ج ٨ ص ٧٨ نور الحق ج ١ ص ٦٣ خراب عورتوں اور دجال کی نسل " " ص ١٢٣ ج ٨ " " ص ١٢٣ خبیث النفس " " ص ٢٥٩ ج ٩ ضیاء الحق ص ٩ خود غرض مولویوں " " ص ٢٧٨ ج ٩ " " ص ٢٢ خبیث القلب " " ص ٢٣ ج ٩ انوار الاسلام ص ٢١ خشک دماغ " " ص ١٢١ ج ١٠ ست بچن ص ٩ خدا کا ان مولویوں پر غضب ہو گا " " ص ٤١٣ ج ١٤ ایام الصلح ص ١٦٥ خسر الدنیا والاخرۃ " " ص ٣٠٤ ج ٨ اتمام الحجہ ص ٢٥ خبیث فطرت " " ص ٥٩٥ ج ٢٢ تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٥٦ خشک معلم روحانی خزائن ص ٦١١ ج ٥ آئینہ کمالات اسلام ص ۔ ز

د ۔ ذ

ذلیل روحانی خزائن ص ١٦٦ ج ١٤ ایام الصلح ص ١٦٦ دل کے مجذوم " " ص ٣٠٥ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ / ح دشمن " " " " " " " " دجال " " ص ٣٣٠ ج ١١ " " ص ٤٦

صفحہ ١٢١

شرائط نبوت دشمن اللہ و رسول " " ص ٣٣٢ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠ ذلت کے سیاہ داغ " " ص ٧٣ ج ١١ " " ص ٥٣ دیانت و دین سے دور " " ص ١٩٨ " " " " ص ١٩٨ دشمن عقل و دانش " " ص ٢٤١ " " " " ص ٢٤١ دشمن انصار دین روحانی خزائن ص ٦٤٠ ج ٥ آئینہ کمالات اسلام ص ٥ دروغ گو " " ص ٣٩٠ ج ١٨ نزول المسیح ص ١٢ دیوانہ " " ص ٣٣٢ ج ١٨ " " ص ٦٣ دنیا کے کیڑے " " ص ٣١١ ج ٢١ براہین پنجم ص ١٤٣ دلوں کے اندھو " " ص ٣٠٢ ج ٢١ " " ص ٥/١٤٣ دروغ گو مخبر " " ص ٣٨٢ ج ٦ شہادۃ القرآن ص ٥ دورنگی اختیار کرنے والا " " ص ٣٨٣ ج ٦ " " ص ٩ دیو " " ص ١٨٩ ج ١٩ اعجاز احمدی ص ٧٦ درندوں " " ج ٧ حجۃ البشریٰ ص ٧٢/ح دابۃ الارض " " ص ٣٧٣ ج ٣ ازالہ اوہام کلاں ج ٢ ص ٥١٠ ذناب " " ص ٣٤٦ ج ١٨ الہدیٰ و التبصرہ ص ٩٦ دنیا کے کتے " " ص ١٤٨ ج ١٢ استفتاء ص ٢٠ دشمن حق " " ص ١٤٥ ج ١٢ " " ص ٧٢/ح ذریت شیطان " " ص ٣٠٨ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٣/ح دجال اکبر " " ص ٤٧ " " انجام آتھم ص ٤٧ دشنام دہ " " ص ١٤٠ ج ٨ نور الحق ج ١ ص ٨٨ دل کے اندھے مجموعہ اشتہارات ص ٧٨ ج ٢ اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥/ح دجال کے ہمرائیو " " ص ٦٩ ج ٢ " " ص ٥/ح دیوثوں " " ص ١٤٥ ج اول تبلیغ رسالت ج ١ ص ٨٣ دنیا پرست روحانی خزائن ص ٢٨٥ ج ٩ ضیاء الحق ص ٢٧

صفحہ ١٢٢

شرائط نبوت

دین فروش " " ص ٢٩١ ج ٩ " " ص ٢ دیوانے درندوں " " ص ٢٩٦ ج ٩ " " ص ٣٥ ذلت کی روسیاہی کے اندر غرق روحانی خزائن ص ٣٣٣ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٩ درندہ طبع " " ص ٢٥٥ ج ١٨ الھدیٰ و التبصرہ ص ١٨ دجال فریہ " " ص ٢٠٢ ج ١١ انجام آتھم ص ٢٠٣ دروغ آراستہ کرنے والے " " ص ٢٣٢ ج ٢١ ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ٢٦٥ دل کے اندھے مجموعہ اشتہارات ص ٧٨ ج ٢ اشتہاری انعامی تین ہزار ص ٥ / ح دجال کمینہ روحانی خزائن ص ٢٠٦ ج ١١ انجام آتھم ص ٢٠٦

ر ۔ ز

زاغ خاء روحانی خزائن ص ٣٠٣ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ١٩ / ح زیادہ پلید " " ص ٣٠٥ " " ص ٢١ / ح رئیس الدجالین " " ص ٣٣٠ " " ص ٤٦ رئیس الملحدین روحانی خزائن ص ٢٤١ ج ١١ انجام آتھم ص ٢٤١ راس الغاوین " " " " رئیس المتصلفین " " ص ٢٥١ ج ١١ " " ص ٢٥١ رنڈیوں کی اولاد روحانی خزائن ص ٥٤٧ ج ٥ آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧ رئیس المتکبرین " " ص ٥٩٩ ج ٥ " " ص ٥٩٩ زود رنج " " ص ٣٢٠ ج ١٤ ایام الصلح ص ٨٤ زمانہ کے ظالم " " ص ٣٣٠ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦ زمانہ کے بدذات " " ص ٥٤٢ ج ٥ آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٢ / ح رسول اللہ کے دشمن روحانی خزائن ص ١١ ج ٥ " " ص ١١ زمانہ کے ننگ اسلام " " ص ٦٠٨ ج ٥ " " ص و

صفحہ ١٢٣

شرائط نبوت

زیادہ بدبخت " " " ص ٣٢٥ ج ٢١ براہین ج ٥ ص ١٥٧ روحانیت سے بے بہرہ روحانی خزائن ص ١٠٨ ج ١٢ ضمیمہ استفتاء ص ٢

س۔ش

شیطان روحانی خزائن ص ٢٨٨ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٤ شتر مرغ " " ص ٣٠٢ ج ١١ " " ص ١٨ شیاطین الانس " " " " " ص ١٨ / ح سوروں " " " ٣٣٧ " " " " ص ٥٣ سیاہ داغ " " ص ٢٧٣ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ شریر " " " ٣٤١ " " " " ص ٥٧ سیاہ دل " " " ٣٤٢ " " " " ص ٥٨ شیخ نجدی " " " ١٩٨ " " " " ص ١٩٨ سگان قبیلہ " " " ٢٢٩ " " " " ص ٢٢٩ شیخ احمقاں " " " ٢٤١ " " " " ص ٢٤١ شیخ الضال " " " ٢٥٢ " " " " ص ٢٥٢ سلطان المتکبرین " " " " " شقی " " " " " سفہاء " " " " " ص ٢٥٣ شغال روحانی خزائن ص ٢٩٥ ج ٥ آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠٤ شیطنت کی بدبو " " ص ٣٠١ ج ٥ " " ٣٠١ " " سفلہ پن " " " ٣٠٢ " " " " ٣٠٢ " " شیخ نامہ سیاہ " " " ٣٠٦ " " " " ٣٠٦ " " سفیہوں کا نطفہ " " ص ٣٢٥ ج ٢٢ تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٤

صفحہ ١٢٤

شرائط نبوت

شریر " " ٥٦٥ ج ٢٢ " " " ١٢٨ / ح سخت دل ظالم " " ٢٧٥ ج ٢١ ضمیمہ براہین ج ٥ ص ١١ سانپوں " " ٨٣٢ ج ٨ نور الحق ج ١ ص ٢٣ سادہ لوح روحانی خزائن ص ٣٣٣ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ٤٩ سفلی مخلوقات " " ج ٧ حمامۃ البشریٰ ص ٧٢ / ح سخت جاہل " " ص ٧٣ ج ٣ ازالہ کلاں ج ٢ ص ٢١١ ص ٥٠٩ (خورد) سخت نادان " " " " " " سخت نالائق " " " " " شیخ مضل " " ص ٦٩ ج ٧ کرامات الصادقین ص ٢٧ شیخ مزور " " ص ٧٢ ج ٧ " " ص و شیخی باز " " ص ٢٥٥ ج ١٨ الہدی والتبصرۃ ص ١٠ سفلہ دشمن " " ص ٢٥٨ ج ١٨ " " ص ١٣ شریروں " " ص ٢٦٠ ج ١٨ " " ص ١٦ سفلہ دشمنوں " " ص ٢٦٢ ج ١٨ " " ص ١٨ شریر بھیڑیے " " ص ٩ ج ١١ انجام آتھم ص ٩ سفیہ " " ص ٩٦ ج ٨ نور الحق ج ١ ص ٧٢ شرابیوں " " ص ١٣٢ ج ٨ " " ج ١ ص ٩٩ سخت دل مولویو مشیخو روحانی خزائن ص ٣٦ ج ٩ انوار الاسلام ص ٢٥ شیخ چلی کے بڑے بھائی " " ص ٤٠ ج ٩ " " ص ٣٩ شریر مولویو " " ص ٢٩١ ج ٩ ضیاء الحق ص ٣٢ سخت ذلیل " " ص ٢٢ ج ١١ انجام آتھم ص ٢٢ / ح شیخ ضال بطالوی " " ص ٢٤١ " " " ص ٢٤١ سخت دروغ گو " " ص ٤٤٤ ج ١٨ نزول المسیح ص ٦٦ سست ایمانو " " ص ٣١٢ ج ٢١ ضمیمہ براہین ٥ ص ١٤٤

صفحہ ١٢٥

شرائط نبوت

شیخ الضالہ " " ص ١٨٨ ج ١٩ اعجاز احمدی ص ٧٦ شیخ چال باز " " ص ٦٥ ج ٧ کرامات الصادقین ص ٢٢ سواد الوجہ الدارین " " ص ٣٠٤ ج ٨ اتمام الحجہ ص ٢٥ (دنیا آخرت میں روسیاہ) سڑے گلے مردہ " " ص ٣٤٦ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٦٢ سخت بدذات " " ص ٩ ج ١١ " " ص ٩ سخت بے باک " " ص ١٨ ج " " " ص ١٨ / ح سودائی " " ص ١٠ ج ٩ انوار الاسلام ص ١٠ شیاطین " " ص ٣٨٩ ج ١٨ نزول المسیح ص ١١ سخت دل قوم " " ص ٥٩٤ ج ٢٢ تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٥٦ شریر النفس " " ص ٣١ ج ١٠ آریہ دھرم ص ٣١ شریر پنڈت " " ص ٣٢ ج ١٠ " " ص ٣١

ص ۔ ض

ضال بٹالوی روحانی خزائن ص ٢٤١ ج ١١ انجام آتھم ص ٢٤١ ضال " " ص ٩٦ ج ٨ نور الحق ج ١ ص ٧٢ ضلالت پیشہ " " ص ٣٢٢ ج ٢٢ حقیقۃ الوحی ٣١١ صرع بے ایمانی " " ص ٣٢٦ ج ١٤ ایام الصلح ص ٨٩ / ح

ط ۔ ظ

ظالم طبع روحانی خزائن ص ٢٣٨ ج ١٨ دافع البلاء ص ١٨ ظالم " " ص ٣٣٢ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨

صفحہ ١٢٦

شرائط نبوت

ظالم مولویو " " ص ٢١ ج ١١ انجام آتھم ص ٢١/ح ظالم معترض " " ص ١٨٢ ج ٢١ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ١٣ ظالموں " " ص ١٢٨ ج ١٢ استفتاء ص ٢٠ طوائف " " ص ٣٠٧ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٣/ح ظالم طبع مخالفوں " " ص ٣٨٦ ج ١٨ نزول المسیح ص ٨

ع۔غ

علیم فعال لعن اللہ الف الف مرۃ روحانی خزائن ص ٣٣٠ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦ عبد الشیطان " " ص ٢٤٢ ج ١١ " " ص ٥٨ غالون " " ص ٢٢٢ ج ١١ انجام آتھم ص ٢٢٤ غوی فی ابطالتہ " " ص ٢٣٠ ج ١١ " " ص ٢٣٠ غاوین " " ص ٢٥٤ ج ١١ انجام آتھم ص ٢٥٤ غول " " ص ٢٥٢ ج ١١ " " ص ٢٥٢ غبی " " ص ٣١٧ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٣ عجب نادان " " ص ٥٥١ ج ٢٢ تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١١٥ عجیب بے حیاء " " ص ٥٨٧ ج ٢٢ " " ص ١٤٩/ح غدار زمانہ " " ص ١٩٠ ج ١٩ اعجاز احمدی ص ٧٧ عورتوں کے عار " " ص ١٩٦ ج ١٩ " " ص ٨٣ غول البراری " " ص ١٥٢ ج ٧ کرامات الصادقین ص ٥ عدو اللہ مجموعہ اشتہارات ص ٧٩ ج ٢ اشتہار انعامی تین ہزار ص ١٢ غزنی کے ناپاک سکھو روحانی خزائن ص ٢٩١ ج ٩ ضیاء الحق ص ٣٢ عبد الحق کا منہ کالا " " ص ٣٤٢ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨ غزنویوں کی جماعت پر لعنت " " " " "

صفحہ ١٢٧

شرائط نبوت

علم اور درایت اور " " ص ٣٠٨ ج ٥ آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٨ تفقہ سے سخت بے بہرہ

ف۔ق

فقیرنی اور مولویت کے شتر مرغ روحانی خزائن ص ٣٠٤ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨ فرعون " " ص ٣٣٠ ج ١١ " " ص ٥٦ قمت یا عبد الشیطان " " " ٣٤٢ " " " " ص ٥٨ فاسق آدمی " " ص ٢٢٥ ج ٢٢ تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٤ فریبی " " ص ٢٢٠ ج ١٩ اعجاز احمدی ص ٤٨ فرومایہ " " ص ١٨٨ ج ١٩ " " ص ٧٦ قوم کے غنڈوں روحانی خزائن ص ١٧ ا۔ ج ١١ انجام آتھم ص ١٧ ح فتنہ انگیز " " ص ٣٠٣ ج ٨ اتمام الحجہ ص ٢٣

ک۔گ

کور اندیش علماء روحانی خزائن ص ٣٢٦ ج ١٣ ایام الصلح ص ٨٠ گندے اخبار نویس " " ص ٢٨٩ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ گندی روحو " " ص ٣٠٥ ج ١١ " " ص ٢١/ ح کیڑو " " " " " " " " " کتے " " ص ١٢٨ ج ١٢ استفتاء ص ٢٠ گدھے " " ٣٣١ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٧ کاذب " " ٥٢ ج ١١ انجام آتھم ص ٥٢ کج طبع " " ص ٣٠٦ ج ٥ آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠١

صفحہ ١٢٨

شرائط نبوت گرفتار عجب پندار " " ص ٦٠٠ " " ص ٦٠٠ کوتہ نظر مولوی " " ص ٦٠٨ ج ٥ آئینہ کمالات اسلام ص ٥ کوڑھ مغزی " " ص ٣٤٤ ج ١٨ نزول المسیح ص ٦٦ گمراہ " " ص ٥٥١ ج ٢٢ تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١١٥ کذاب " " ص ٥٦٥ ج ٢٢ " " ص ١٢٨ / ح گدھوں " " ص ٣٢٠ ج ٢١ ضمیمہ براہین ٥ ص ١٥٢ کیڑا " " ص ٣٣٢ ج ٢١ " " ص ١٦٥ کینہ ور " " ص ٣٤٦ ج ٢٣ چشمہ معرفت ج ٢ ص ١٣١ گندہ دہان روحانی خزائن ص ٣٤٦ ج ٢٣ چشمہ معرفت ص ٣٢١ گرگ " " ص ٣٥٢ ج ١٩ مواہب الرحمن ص ١٣ کمینگی " " " " " " کم سمجھ " " ص ١٤٦ ج ١٩ اعجاز احمدی ص ١٨ کرگس " " ص ١٥٥ ج ١٩ " " ص ٤٣ گندہ پانی " " ص ٢٧٩ ج ١٩ " " ص ٥٧ کج دل " " ص ٤٨ ج ٧ کرامات الصادقین ص ٦ کینوں " " ص ٢٦٢ ج ١٨ الہدیٰ و التبصرہ ص ١٨ کمینہ " " ص ٢٠٦ ج ١١ انجام آتھم ص ٢٠٦ گمراہی اور حرص جنگل کے شیطان " " ص ١٤٠ ج ٨ نور الحق ج ١ ص ٨٩ کمینہ طبع " " ص ٤٧ ج ١٠ آریہ دھرم ص ٤٧ کتوں روحانی خزائن ص ٣٠٩ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٥ کالا نام " " ص ٢٦٥ ج ١١ انجام آتھم ص ٢٦٥ کلب " " ص ٦٠١ ج ٥ آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠١ گمراہ " " ص ٣٢٣ ج ٢٢ حقیقۃ الوحی ص ٣١٠ / ح

صفحہ ١٢٩

شرائط نبوت

ل۔م

مغرور تھرا روحانی خزائن ص ٢٩٦ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ١٢ مردار خور " " ص ٣٠٥ ج ١١ " " ص ٢١/ح مولوی جاہل " " ص ٣١٠ " " " ص ٤٦ مولویت کے بدنام کرنے والے " " ص ٣٣٠ ج ١١ " " ص ٤٦ منحوس چہروں " " ص ٣٧٤ " " " ص ٥٣ مفتری " " ص ٤٤٢ " " " ص ٥٨ منافق مولوی " " ص ٤٩ " انجام آتھم ص ٤٩ مولویان خشک " " ص ٦٩ " " " ص ٦٩/ح متکبرین " " ص ٢٤١ " " " ص ٢٤١ معتدین " " " " " " " ملعونین " " ٢٥٢ " " " ص ٢٥٢ مخنثوں " " ص ٣٠٢ ج ٥ آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٢ معلم الملکوت " " ٥٩٨ " " " ص ٥٩٨ مفتری روحانی خزائن ص ٣٩٠ ج ١٨ نزول المسیح ص ١٢ مردار " " ص ٤٠٢ ج ١٨ " " ص ٢٢٤ لئیموں " " ص ٤٤٥ ج ٢٢ تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٤۔١٥ح ملعون " " " " " " " مفسد " " " " " " " متعصب نادان " " ص ١٨٢ ج ٢١ ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ٢٧ مفتری نابکار " " ص ٢٧٥ ج ٢١ " " ص ١٩١ لاف و گزاف کے بیٹے " " ص ٣١٧ ج ٢١ " " ص ١٤٩ متعفن " " ص ٢٠٥ ج ١٧ تحفہ گولڑویہ ص ١١٢

صفحہ ١٣٠

شرائط نبوت

مسکین " " ص ٣٥٩ ج ١٩ مواہب الرحمٰن ص ١٣٨ مار سیرت " " ص ٣٢ ج ٨ نور الحق ج ١ ص ٢٣ مضل جماعت " " ص ٧٣ ج ٨ " " ج ١ ص ٥٣ مچھر " " ص ١٥٥ ج ١٩ اعجاز احمدی ص ٤٣ مٹی سیاہ " " ص ١٦٩ ج ١٩ " " ص ٥٧ متعصب " " ص ٤٨ ج ٧ کرامات الصادقین ص ٦ ۔ ٢ متکبر مولویوں " " ص ٦٧ ج ٧ " " ص ٢٤ ۔ ٢٥ مضل " " ص ٦٩ ج ٧ " " ص ٢٧ مزور " " ص ٧٢ ج ٧ " " ص ٩ مگس طینت مولویوں " " ص ٢٣٢ ج ٤ آسمانی فیصلہ ص ٢٢ مادرزاد کور " " ص ٣٦١ ج ١٨ الہدیٰ و التبصرہ ص ١٦ مخبط الحواس " " ص ١٢٨ ج ١٢ استفتاء ص ٢٠ مردہ پرست " " ص ٢٩٣ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٩/ح مردار " " ص ٢٩٣ ج ١١ " " ص ٩/ح مکار " " ص ١٤٤ ج ٨ نور الحق ج ١ ص ٩٢ مخذول " " ص ١٤٤ ج ٨ " " ص ١٠١ ناقص الفہم " " ص ٤٥ ج ٧ کرامات الصادقین ص ٣ ناحق شناس " " ص ١٤٠ ج ١٠ ست بچن ص ٨ موٹی سمجھ " " ص ١٤١ ج ١٠ " " ص ٩ مولوی تمام روئے زمین کے " " ص ٣١٣ ج ١٤ ایام الصلح ص ١٦٦ انسانوں سے بدتر اور پلید تر مخالفوں کی ذلت " " ص ٣١٢ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨/ح مولویوں کی ذلت " " " " " " " " " " مولوی سخت ذلیل " " ص ٢٤ ج ١١ انجام آتھم ص ٢٤/ح

صفحہ ١٣١

شرائط نبوت

مکذبوں " " ٢٢٣ ج ١١ انجام آتھم ٢٢٤ منحوس " " ٤٤٥ ج ٢٢ تتمہ حقیقتہ الوحی ص ١٤ مغرور " " ص ٥٥١ ج ٢٢ تتمہ حقیقتہ الوحی ص ١١٥ معمولی انسان " " ٣٢٢ ج ٣ ازالہ خورد ج ٢ ص ٩٦ مجنون درندہ " " ص ٣٤٢ ج ٤ آسمانی فیصلہ ص ١٣ مجذوب مولوی " " ٣٤١ ج ٤ " " ص ٣١

ن

نادان علما روحانی خزائن ص ٣٥٥ ج ١٤ ایام الصلح ص ١١٧ ناپاک طبع " " ٣١٤ ج ١٤ " " ص ١٦٥ نااہل " " ص ٣٠٤ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١/رح ناسمجھ " " ص ٣١٧ " " ص ٣٣ نابکار " " ٣٣٤ " " ص ٥٠ نادان " " ٣٣٧ " " ص ٥٣ نابینا علماء " " ٣٢٥ " " ص ٦١ نادان بطالوی " " ص ٢٠ ج ١١ انجام آتھم ص ٢٠/رح نالائق " " ص ٢٤ " " ص ٢٤/رح نفاق زدہ روحانی ص ٢٤ ج ١١ انجام آتھم ص ٢٤ ح نالائق نذیر حسین " " ص ٤٥ ج ١١ " " ص ٤٥ نیم ملا روحانی خزائن ص ٦٠٠ ج ٥ آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠٠ ننگ اسلام " " ٦٠٨ ج ٥ " " ص د نجاست خور " " ص ٣٨٦ ج ١٨ نزول المسیح ص ٨ نفسانی مولویو روحانی خزائن ص ١٠٥ ج ٣ ازالہ اوہام ج ١ ص ٣

صفحہ ١٣٢

شرائط نبوت

ناواقف " " ص ٣٣٥ ج ٢٠ مقدمہ چشمہ مسیحی ص ب نادانوں " " ص ٣٨٩ ج ٢٠ " " ص ٧٥ نابکاروں " " ص ٣٠٨ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٢ حاشیہ نیم عیسائیو مجموعہ اشتہارات ص ٦٩ ج ٢ اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥ / ح ناخدا ترس " " ١٣٥ ج ١ تبلیغ رسالت ج ١ ص ٨٤ نادان ہندو زادہ روحانی خزائن ص ٧٧ ج ٩ انوار اسلام ص ٣١ / ح نہایت پلید طبع " " ص ٢٩٨ ج ٩ ضیاء الحق ص ٣٦ نامسعادت مند شاگرد محمد حسین " " ص ٣٥ ج ١١ انجام آتھم ص ٣٥ نابینا " " ص ١٣١ ج ١٠ ست بچن ص ١٩ نذیر حسین خشک معلم " " ص ١١١ ج ٥ آئینہ کمالات اسلام ص ز نادان صحابی " " ص ٢٨٥ ج ٢١ ضمیمہ براہین ٥ ص ١٣٠ نادان قوم " " ص ٣١٣ ج ٢١ ضمیمہ " " ص ١٣٥ ناقص العقل چیلوں " " ص ٥٠ ج ٩ انوار الاسلام ص ٣٨ نالائق چیلوں " " ص ٢٨٥ ج ٩ ضیاء الحق ص ٢٧ نادان غبی روحانی خزائن ص ٣٠١ ج ٨ اتمام الحجہ ص ٢٢ ناپاک فرقہ " " ص ٣٠٧ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٣ / ح نادان پادریوں " " ص ٢ ج ١١ انجام آتھم ص ٢ نالائق متعصب " " ص ٣٣ ج ٥ آئینہ کمالات اسلام ص ٣٣

و ـ ہ

وہ گندے اخبار نویس روحانی خزائن ص ٢٨٩ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ وہ گدھا ہے نہ انسان " " ص ٣٣١ ج ١١ " " ص ٤٧ وحشی " " ص ٣٣٣ ج ١١ " " ص ٤٩

صفحہ ١٣٣

شرائط نبوت

وہ بذات " " " ص٣٣٤ " " " " ص٥٠ ہمان " " " ص٣٤٠ " " " " ص٥٦ ہندو زادہ " " " ص٥٩ " " انجام آتھم ص٥٩ / ح ہوا و ہوس کا بیٹا " " " ص١٥٤ ج١٩ اعجاز احمدی ص٤٣ واشی " " " ص٦٩ ج٨ نور الحق ج١ ص٧٢ والغبی المخذول " " " ص١٣٢ ج٨ " " ج١ ص١٠١ ولد الحرام " " " ص٣٠ ج٩ انوار الاسلام ص٣٠ ہزار لعنت کا رسہ مجموعہ اشتہارات ص٧٧ ج٢ اشتہار انعامی تین ہزار ص١٠ ولد الحلال نہیں روحانی خزائن ص٣١ ج٩ انوار الاسلام ص٢٩ واہ رے شیخ چلی کے " " " ص٣٠ ج٩ " " ص٣٠ بڑے بھائی ہٹ دھرم مجموعہ اشتہارات ص٧٦ ج٢ اشتہار انعامی تین ہزار ص١٠ نالائق متعصب روحانی خزائن ص٤٣ ج٥ آئینہ کمالات اسلام ص٤٣ والد جل ابطال " " " ص٢٥١ ج١١ انجام آتھم ص٢٥١ آنکھوں کے اندھے مجموعہ اشتہارات ص٧٦ ج٢ اشتہار انعامی ٤ ہزار ص١٠ ہمچو گرگ روحانی خزائن ص٣٥٢ ج١٩ مواہب الرحمٰن ص١٣١ ہمچو جمتین " " " ص٣٥٩ ج١٩ " " ص١٣٨

ی۔ے

یہودی صفت روحانی خزائن ص٢٨٧ ج١١ ضمیمہ انجام آتھم ص٣ یاوہ گوہ " " ص٣٠٣ " " " " ص١٩ / ح یہودی سیرت " " ٢٤ " " انجام آتھم ص٢٤ / ح یہ شخص منافق " " " ص٣٨٣ ج٦ شہادۃ القرآن ص و

صفحہ ١٣٤

شرائط نبوت

یہ نادان خون پسند " " " " ص ٣٨١ ج ٦ " " " " ص و یہ لوگ حیوانات " " " " ص ١٣١ ج ١٩ اعجاز احمدی ص ٢٢ یہودی " " " " ص ٣٢٩ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٥ یا شیخ الضلالۃ " " " " ص ١٨٨ ج ١٩ اعجاز احمدی ص ٧٦ یک چشم " " " " ص ٣٠٨ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٣/ح یاجوج ماجوج اور " " " " ص ٨٦ ج ٢٣ چشمہ معرفت ج ١ ص ٧٨/ح دجال یہ یورپین قومیں یہ جہلاء روحانی خزائن ص ٣٠٢ ج ١١ ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨/ح یہودیت کا خمیر " " " " ص ٣٠٥ " " " " " " ص ٢١/ح یہ دل کے مجذوم " " " " " " " " " " " " " " یہ سب مولوی جاہل " " " " ٣١٠ " " " " " " ص ٢٦ یہ شریر " " " " ٣٤١ " " " " " " ص ٥٧ یہ سیاہ دل " " " " ٣٤٢ " " " " " " ص ٥٨ یہ جاہل " " " " " " " " " " " " " " یہ منافق " " " " ص ٤٩ " " انجام آتھم ص ٤٩ یا غول البراری! روحانی ص ١٥٢ ج ٧ کرامات الصادقین ص و (٣)

مرزا صاحب کی نبوت کی دلیل

مرزا صاحب کی نبوت کی دلیل نہ تو علم ہے اور نہ عقل۔ اور نہ حافظہ اور نہ فہم' اور نہ زہد اور نہ تقویٰ' اور نہ صداقت اور نہ امانت' اور نہ عصمت اور نہ عفت' اور نہ حسب اور نہ نسب' اور نہ اخلاق فاضلہ' اور نہ معجزات اور نہ کرامات' کچھ بھی نہیں سب صفر ہے۔ دلیل صرف یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پا گئے۔ سبحان اللہ' عجیب

صفحہ ١٣٥

شرائط نبوت

دلیل ہے۔ کیا محض کسی نبی کا فوت ہو جانا کسی مدعی کے نبی ہونے کی دلیل ہو سکتا ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے فرض کیجئے کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پا گئے۔ لیکن آپ اپنے نبی ہونے کی مستقل دلیل بیان کیجئے۔ خاتم الانبیاء سے پہلے ایک نبی کی زندگی میں بھی نبی آتے رہے ہیں۔

اگر کسی گاؤں کا دہقان یہ دعویٰ کرے کہ میں اس ملک کا بادشاہ ہوں اور چودھری، اور دلیل یہ بیان کرے کہ چونکہ اس ملک کا بادشاہ مرچکا ہے، اور میں اس فوت شدہ بادشاہ کا مثیل ہوں اور شبیہ اور ہم نام ہوں اور میرا گاؤں اس کے دارالسلطنت کے سمت پر واقع ہے لہٰذا ثابت ہوا کہ میں اس ملک کا بادشاہ ہوں۔ تو کیا اہل عقل کے نزدیک اس طرح سے اس شخص کی بادشاہت ثابت ہو جائے گی؟ اہل عقل کے نزدیک جو شخص اس کی بادشاہت تسلیم کرے گا وہ بھی پاگل اور دیوانہ سمجھا جائے گا۔ اور اگر اس قسم کے چند پاگل مل کر عقلاء کو مناظرہ اور مباہلہ کا چیلنج دیں کہ آؤ ہم اس بادشاہ کی وفات ثابت کریں گے، تاکہ اس وفات سے۔۔۔۔ اس مدعی کی بادشاہت ثابت ہو جائے تو عقلاء کو جائز ہے کہ تفریحی طور پر ان احمقوں کی حماقت ظاہر کرنے کے لیے دعوت مناظرہ منظور کرلیں ورنہ مناظرہ فی الحقیقت نظری امور میں ہوتا ہے۔ ایسے بدیہی البطلان امور میں تو مناظرہ نہیں ہوتا۔ مرزا صاحب کا دعویٰ آریوں کے بادشاہ ہونے کا بھی ہے مگر کسی آریہ کے حلق کے نیچے نہیں اترا۔

جس کا جی چاہے موسیٰ بنے اور جس کا جی چاہے فرعون بنے۔ مگر موسیٰ بن عمران بننے کے لیے بھی کوئی ظاہری اور مادی سامان چاہیے۔ ورنہ فرعون بے سامان اور نواب بے ملک کہلائے گا۔ اور مرزا صاحب کے پاس نہ کوئی نشان ہے اور نہ کوئی سامان ہے۔ مرزا صاحب اگر موسیٰ تھے تو بتلائیں کہ وہ کونسا فرعون غرق ہوا، اور اگر نوح تھے تو وہ کونسی دنیا غرق ہوئی، اور اگر مسیح تھے تو کونسے مسیح جیسے معجزے دکھلائے۔

مرزا صاحب کا دس لاکھ معجزات کا دعوے

صفحہ ١٣٦

شرائط نبوت

آنحضرت ﷺ کے معجزات پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ اور ہر ہر معجزہ کو علیحدہ علیحدہ سند متصل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ مرزا صاحب کے صحابہ و تابعین کو بھی چاہیے کہ مرزا صاحب کے دس لاکھ معجزات پر کوئی کتاب لکھ کر دنیا کے سامنے پیش کریں تاکہ دنیا کو مرزا صاحب کے معجزات کا علم ہو سکے کہ آخر وہ کیا کیا معجزے تھے؟

اب میں اس تحریر کو ختم کرتا ہوں، اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اس تحریر کو قبول فرمائے اور لوگوں کے لیے موجب ہدایت بنائے۔ آمین ثم آمین۔

واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین

PDF 137

حضرات صوفیاء کرام

اور

مولانا محمد قاسم نانوتویؒ

پر

مرزائیوں کا بہتان وافتراء

صفحہ ١٣٨

مرزائیوں کا بہتان اور افتراء

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لانبی بعدہ

اما بعد :۔ بندۂ ناچیز محمد ادریس کاندہلوی کان اللہ لہ و کان ہو للہ آمین۔ اہل اسلام کی خدمت میں عرض پرداز ہے کہ مرزائیوں کو اپنی گمراہی اور غلط عقائد کے ثابت کرنے کے لیے کتاب اور سنت اور اقوال صحابہؓ و تابعینؒ اور ائمہؒ دین اور فقہاءؒ اور محدثینؒ اور مفسرینؒ اور متکلمین کے کلام میں تو کہیں تل رکھنے کی گنجائش نہیں ملتی، اس لیے یہ گروہ حضرات اولیاءؒ اور عارفینؒ کے ناتمام اقوال قطع و برید کر کے عوام کے سامنے پیش کرتا ہے۔ تاکہ عوام ان حضرات اولیاءؒ کی وجہ سے کچھ نہ کہہ سکیں۔ حالانکہ ان بزرگوں کا صریح عقیدہ جو عین قرآن و حدیث کے مطابق ہوتا ہے، وہ ان کی کتابوں میں مذکور ہوتا ہے اس کو یہ لوگ نقل نہیں کرتے البتہ بزرگوں کے ان مبہم اور مجمل کلام کو نقل کر دیتے ہیں کہ جو ان بزرگوں سے ایک خاص حالت سکر میں نکلا ہے۔ جو باتفاق علماء حجت نہیں۔ جیسا کہ منصورؒ نے ایک خاص بیخودی کی حالت میں انا الحق کہہ دیا۔ مگر جب اس حالت سے افاقہ ہوا تو تائب ہوئے، تو کیا کوئی عاقل منصورؒ کے انا الحق کہنے سے یہ استدلال کر سکتا ہے کہ ظلی اور بروزی الوہیت بندہ کو بھی مل سکتی ہے اور لا الہ الا اللہ کے معنی یہ ہیں کہ خدا کے سوا کوئی مستقل خدا نہیں ہو سکتا۔ البتہ ظلی اور بروزی خدا ہو سکتا ہے۔ حاشا و کلا یہ صریح کفر اور ارتداد ہے۔ اسی طرح ”لانبی بعدی“ میں یہ تاویل کرنا کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی مستقل نبی نہیں ہو سکتا۔ بلکہ ظلی اور بروزی نبی ہو سکتا ہے یہ بھی صریح کفر اور ارتداد ہے۔

صفحہ ١٣٩

مرزائیوں کا بہتان اور افتراء

اسی سلسلہ میں آج کل مرزائی، حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی رحمہ اللہ کا نام نامی لے رہے ہیں کہ معاذ اللہ مولانا محمد قاسم صاحب بھی خاتم الانبیاء کے بعد نئے نبی کا آنا جائز رکھتے ہیں۔ یہ مولاناؒ پر صریح بہتان اور افتراء ہے۔ اس بارہ میں حضرت مولاناؒ کا تحذیر الناس کے نام سے ایک مختصر رسالہ ہے۔ جو عجیب و غریب حقائق و معارف اور نہایت دقیق اور عمیق علوم پر مشتمل ہے۔ ناظرین تو قصور فہم کی وجہ سے غلط فہمی میں مبتلا ہوئے اور زائغین اور ملحدین نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اس رسالہ کی ناتمام عبارتیں، ماقبل اور مابعد سے حذف کر کے لوگوں کے سامنے پیش کرنا شروع کر دیں۔ جس سے عوام اور سادہ لوح، تردد اور تحیر میں پڑ گئے۔ اس لیے بہ تقاضائے اصلاح یہ ضروری سمجھا کہ مولانا محمد قاسمؒ کے کلام کا خلاصہ سلیس عبارت میں پیش کر دیا جائے۔ تاکہ لوگ غلط فہمی سے محفوظ ہو جائیں۔ فاقول و باللہ التوفیق و بیدہ ازمۃ التحقیق و ہوالہادی الی سواء الطریق۔

خاتمیت ایک جنس ہے، جس کی دو قسمیں ہیں ایک زمانی اور دوسری رتبی۔ خاتمیت زمانیہ کے معنی یہ ہیں کہ حضور ﷺ سب سے اخیر زمانہ میں تمام انبیاء علیہم السلام کے بعد مبعوث ہوئے اور اب آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی مبعوث نہیں ہو گا۔ اور خاتمیت رتبیہ کے معنی یہ ہیں کہ نبوت و رسالت کے تمام کمالات اور مراتب حضور ﷺ کی ذات بابرکات پر ختم ہیں۔ اور نبوت چونکہ کمالات علمیہ میں سے ہے اس لیے خاتم النبیین کے معنی یہ ہوں گے کہ جو علم کسی بشر کے لیے ممکن ہے، وہ آپ ﷺ پر ختم ہو گیا۔ اور حضور ﷺ تو دونوں اعتبار سے خاتم النبیین ہیں۔ زمانہ کے اعتبار سے بھی آپ ﷺ خاتم ہیں۔ اور مراتب نبوت اور کمالات رسالت کے اعتبار سے بھی خاتم ہیں۔ حضور ﷺ کی خاتمیت فقط زمانی نہیں بلکہ زمانی اور رتبی دونوں قسم کی خاتمیت حضور ﷺ کو حاصل ہے۔ اس لیے کمال مدح جب ہی ہو گی کہ جب دونوں قسم کی خاتمیت ثابت ہو۔ مولانا محمد قاسمؒ صاحب فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی

صفحہ ١٤٠

مرزائیوں کا بہتان اور افتراء

خاتمیت زمانیہ قرآن اور حدیث متواتر اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ اور حضور ﷺ کی خاتمیت زمانیہ کا منکر ایسا ہی کافر ہے جیسا کہ رکعات نماز کا منکر کافر ہے۔ چنانچہ تحذیر الناس کے ص ١٠ پر تحریر فرماتے ہیں۔

سو اگر اطلاق اور عموم ہے۔ تب تو خاتمیت ظاہر ہے۔ ورنہ تسلیم لزوم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے۔ اور پھر تصریحات نبوی مثل انت منی بمنزلہ ہارون من موسیٰ الانہ لا نبی بعدی او کما قال۔ جو بظاہر بطرز مذکور اسی لفظ خاتم النبیین سے ماخوذ ہے۔ اس باب میں کافی ہے۔ کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ چکا ہے۔ پھر اس پر اجماع بھی منعقد ہو گیا۔ گو الفاظ مذکور بسند متواتر منقول نہ ہوں۔ سو یہ عدم تواتر الفاظ باوجود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہو گا۔ جیسا کہ تواتر اعداد رکعات فرائض، وتر وغیرہ، باوجودیکہ الفاظ احادیث مشعر تعداد رکعات متواتر نہیں۔ جیسا کہ اس کا منکر کافر ہے۔ ایسا ہی اس کا منکر بھی کافر ہو گا۔ انتہیٰ کلامہ۔

اس عبارت میں اس امر کی صاف تصریح موجود ہے کہ خاتمیت زمانیہ کا منکر ایسا ہی کافر ہے جیسا کہ تعداد رکعات کا منکر کافر ہے۔

مولانا مرحوم، اس خاتمیت زمانیہ کے علاوہ حضور ﷺ کے لیے ایک اور معنی کر کے خاتمیت ثابت فرماتے ہیں۔ جس سے حضور ﷺ کا تمام اولین اور آخرین سے افضل واعلم ہونا ثابت ہو جائے وہ یہ کہ حضور ﷺ پر نور کمالات نبوت کے منتہی اور خاتم ہیں اور علوم اولین و آخرین کے معدن اور منبع ہیں۔ جس طرح تمام روشنیوں کا سلسلہ آفتاب پر ختم ہوتا ہے۔ اسی طرح تمام علوم اور کمالات کا سلسلہ حضور ﷺ پر ختم ہوتا ہے۔

معاذ اللہ، مولانا مرحوم خاتمیت زمانیہ کے منکر نہیں بلکہ خاتمیت زمانیہ کے منکر کو کافر سمجھتے ہیں۔ لیکن اس خاتمیت زمانیہ کی فضیلت کے علاوہ خاتمیت رتبیہ کی فضیلت بھی حضور ﷺ کے لیے ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ حضور ﷺ کی تمام اولین اور آخرین پر فضیلت اور سیادت ثابت ہو اور خاتمیت زمانیہ اور

صفحہ ١٤١

مرزائیوں کا بہتان اور افتراء

رتبہ میں فرق یہ ہے کہ خاتمیت زمانیہ کے اعتبار سے حضور ﷺ کے بعد کسی نبی کا آنا شرعاً محال اور ناممکن ہے اور خاتمیت رتبیہ کے اعتبار سے بفرض محال اگر حضور کے بعد بھی کوئی نبی مبعوث ہو۔ تو حضور ﷺ کی خاتمیت رتبیہ میں کوئی فرق نہ آئے گا۔ بہر صورت آپ کمالات نبوت کے منتہی اور خاتم ہیں۔ آفتاب اگر تمام ستاروں سے پہلے طلوع کرے یا درمیان میں طلوع کرے، آفتاب کے منبع نور ہونے میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اسی طرح بالفرض اگر حضور ﷺ پر نور تمام انبیاء علیہم السلام سے پہلے مبعوث ہوتے یا درمیان میں مبعوث ہوتے تو آپ کے منبع کمالات ہونے میں کوئی فرق نہ آتا اور یہ فرض بھی محض احتمال عقلی کے درجہ میں ہے۔ ورنہ جس طرح خاتمیت زمانیہ میں حضور ﷺ کے بعد نبی کا آنا محال ہے اسی طرح خاتمیت رتبیہ میں بھی آپؐ کے بعد نبی کا آنا محال ہے۔ اس لیے کہ اگر انبیاء متاخرین کا دین، دین محمدیؐ کے مخالف ہوا تو اعلیٰ کا ادنیٰ سے منسوخ ہونا لازم آئے گا۔ جو حق تعالیٰ شانہ کے اس قول۔ ماننسخ من آیۃ او ننسھا نات بخیر منھا کے خلاف ہے۔ نیز جب علم ممکن للبشر آپؐ پر ختم ہو چکا۔ تو آپؐ کے بعد کسی نبی کا مبعوث ہونا بالکل عبث اور بے کار ہو گا۔ حاصل یہ نکلا کہ خاتمیت رتبیہ کے لیے خاتمیت زمانیہ بھی لازم ہے۔

مولانا مرحوم کے نزدیک اگر حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث ہونا شرعاً جائز ہوتا۔ تو لفظ بالفرض استعمال نہ فرماتے۔ مولانا کا یہ فرمانا کہ بالفرض اگر آپؐ کے بعد کوئی نبی الخ یہ لفظ بالفرض خود اس کے محال ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے۔ کہ یہ بات محال ہے۔ کسی طرح ممکن نہیں۔ لیکن اگر بفرض محال تھوڑی دیر کے لیے اس محال کو بھی تسلیم کر لیا جائے۔ تب بھی حضور ﷺ کی خاتمیت رتبیہ اور آپ کی افضلیت اور سیادت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ یہ ایسا ہے۔ جیسے حضور ﷺ کا یہ فرمانا کہ لوکان بعدی نبی لکان عمرؓ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا، تو عمرؓ ہوتا۔ تو ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کا مقصود یہ نہیں۔ کہ آپ کے بعد نبی کا آنا ممکن ہے۔ بلکہ یہ بتلانا مقصود ہے کہ میں

صفحہ ١٤٢

مرزائیوں کا بہتان اور افتراء

خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ بفرض محال اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا۔ تو عمرؓ ہوتا۔ اس ارشاد سے حضور ﷺ کی خاتمیت اور عمرؓ کی فضیلت ثابت کرنا مقصود ہے۔

اس کو اس طرح سمجھو کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اگر ایک چاند نہیں بلکہ ہزار چاند ہوں تب بھی ان سب کا نور آفتاب ہی سے مستفاد ہو گا۔ تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ حقیقۃً ہزاروں چاند ہیں بلکہ مقصود آفتاب کی فضیلت ثابت کرنا ہے کہ آفتاب تمام انوار اور شعاعوں کا ایسا خاتم اور منتہا ہے کہ اگر بالفرض ہزار چاند بھی ہوں۔ تو ان کا نور بھی اسی سے مستفاد ہو گا۔

اس بالفرض ہزار چاند الخ کہنے سے آفتاب کی فضیلت دوبالا ہو جائے گی کہ آفتاب فقط اسی موجودہ قمر سے افضل نہیں۔ بلکہ اگر جنس قمر کے اور بھی ہزاروں افراد فرض کر لیے جائیں۔ تب بھی آفتاب ان سب سے افضل اور بہتر ہو گا۔ اسی طرح نبی اکرم ﷺ کی تمام افراد نبوت پر فضیلت اور برتری بتلانا مقصود ہے۔ خواہ وہ افراد ذہنی ہوں یا خارجی محقق ہوں یا مقدر ممکن ہوں یا محال۔ اور یہ کہ حضور ﷺ پر نور سلسلۂ نبوت کے علی الاطلاق خاتم ہیں زماناً بھی اور رتبۃً بھی۔

مولانا نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ سرور عالم ﷺ کے بعد نبی کا آنا شرعاً جائز ہے۔ بلکہ یہی فرماتے ہیں کہ جو شخص اس امر کو جائز سمجھے کہ حضور ﷺ کے بعد نبی کا آنا شرعاً ممکن الوقوع ہے۔ وہ کافر ہے اور قطعاً دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔

چنانچہ مولانا محمد قاسمؒ مناظرۂ عجیبہ کے ص ٣٩ پر لکھتے ہیں۔ خاتمیت زمانیہ اپنا دین و ایمان ہے۔ ناحق کی تہمت کا البتہ کوئی علاج نہیں۔

پھر اسی کتاب کے ص ١٠٣ پر لکھتے ہیں۔ امتناع بالغیر میں کسے کلام ہے۔ اپنا دین و ایمان ہے۔ کہ بعد رسول اللہ ﷺ کسی اور نبی ہونے کا احتمال نہیں۔ جو اس میں تامل کرے اس کو کافر سمجھتا ہوں۔ انتہیٰ۔

صفحہ ١٤٣

مرزائیوں کا بہتان اور افتراء

ناظرین بالتمکین۔ مولانا محمد قاسمؒ کے ان عبارات اور تصریحات کے بعد خود انصاف کریں کہ کیا مولانا محمد قاسمؒ خاتمیت زمانہ کے منکر ہیں۔ حاشا و کلا‘ وہ تو خاتمیت زمانیہ کے منکر کو کافر سمجھتے ہیں۔ اس خاتمیت زمانیہ کے علاوہ حضور ﷺ کے لیے ایک اور خاتمیت یعنی خاتمیت مرتبہ ثابت کرتے ہیں۔ تاکہ حضور ﷺ کی فضیلت و سیادت خوب واضح اور نمایاں ہو جائے۔ و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین و صلی اللہ علی خیر خلقہ سیدنا و مولانا محمد خاتم الانبیاء و المرسلین و علی آلہ و اصحابہ اجمعین و علینا معھم یا ارحم الراحمین۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرات صوفیاء کرام اور مسئلہ ختم نبوت

علماء شریعت کی طرح تمام صوفیا کرام بھی اس پر متفق ہیں کہ نبوت و رسالت خاتم النبیین ﷺ پر ختم ہو گئی اور آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ اور حضور پرنورؐ کے بعد جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ مرتد اور دائرہ اسلام سے قطعاً خارج ہے۔

شیخ محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ

اور یہی شیخ محی الدین ابن عربی کا مسلک ہے کہ نبوت و رسالت بالکل ختم ہو چکی‘ البتہ نبوت و رسالت کے کچھ کمالات اور اجزاء باقی ہیں کہ جو اولیا امت کو عطا کیے جاتے ہیں مثلاً کشف اور الہام اور رویائے صادقہ (سچا خواب) اور کرامتیں۔ اس قسم کے کمالات نبوت کے اجزاء ہیں وہ ہنوز باقی ہیں لیکن ان کمالات کی وجہ سے کسی شخص پر نبی کا اطلاق کسی طرح جائز نہیں۔ اور نہ ان کے کشف اور الہام پر ایمان لانا واجب ہے۔ ایمان فقط کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ پر ہے۔ نبی کا تو خواب بھی وحی ہے مگر ولی کا خواب اور الہام شرعاً حجت نہیں۔ نبی کے خواب

صفحہ ١٤٤

مرزائیوں کا بہتان اور افتراء

سے ایک معصوم کا ذبح کرنا اور قتل کرنا بھی جائز ہے۔ مگر ولی کے الہام سے قتل کا جواز تو کیا ثابت ہوتا اس سے استحباب کا درجہ بھی ثابت نہیں ہوتا۔ اس کو اس طرح سمجھو کہ اگر کسی شخص میں کچھ کمالات اور خصلتیں بادشاہ اور وزیر کی سی پائی جائیں تو اس بنا پر وہ شخص بادشاہ اور وزیر نہیں بن سکتا۔ اور اگر کوئی اس بنا پر بادشاہت اور وزارت کا دعویٰ کرے اور اپنے کو وزیر اور بادشاہ کہنے لگے تو فوراً گرفتاری کے احکام جاری ہو جائیں گے۔ اس طرح اگر کسی شخص میں نبوت کے برائے نام کچھ کمالات پائے جائیں تو اس سے اس شخص کا منصب نبوت پر فائز ہونا لازم نہیں آتا بلکہ اگر کوئی شخص اپنے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرے تو وہ مرتد اور اسلام کا باغی سمجھا جائے گا۔ شیخ محی الدین ابنؒ عربی کی صاف صاف تصریحات موجود ہیں کہ نبوت ختم ہو گئی۔ اب قیامت تک کسی کو منصب نبوت نہیں مل سکتا اور نہ کسی پر نبی اور رسول کا اطلاق جائز ہے۔ البتہ نبوت کے کچھ کمالات اور اجزاء باقی ہیں مگر کمالات نبوت اور اجزاء رسالت سے متصف ہونا اتصاف بالنبوۃ کو مستلزم نہیں۔ تفصیل اگر درکار ہو تو مسک الختام فی ختم النبوۃ علی سید الانام کی طرف مراجعت کریں۔ (جو اس مجموعہ میں شامل ہے) حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی قدس اللہ سرہ الشہاب ص ٨ میں فرماتے ہیں کہ شیخ اکبر نے اپنی خاص اصطلاح میں ولایت اور محدثیت کو نبوت غیر تشریعی کے لفظ سے تعبیر کر دیا۔ مگر اس گروہ کو نبی نہیں کہا جاسکتا۔ چنانچہ شیخ محی الدین ابنؒ عربی فرماتے ہیں۔

فاخبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان الرویا جزء من اجزا النبوۃ فقد بقی للناس فی النبوۃ ھذا وغیرہ و مع ھذا لا یطلق اسم النبوۃ ولا النبی الا علی المشرع خاصۃ فحجر ھذا الاسم لخصوص وصف معین فی النبوۃ

ترجمہ = رسول اللہ ﷺ نے ہم کو بتلایا کہ خواب (سچا) اجزائے نبوت میں سے ایک جزو ہے تو لوگوں کے واسطے نبوۃ میں سے یہ جزو (رؤیا) وغیرہ باقی رہ گیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی نبوۃ کا لفظ اور نبی کا

صفحہ ١٤٥

مرزائیوں کا بہتان اور افتراء

نام بجز مشرع (امر و نہی لانے والا) کے اور کسی پر نہیں بولا جا سکتا۔ تو نبوۃ میں ایک خاص وصف معین کی موجودگی کی وجہ سے اس نام (نبی) کی بندش کر دی گئی۔

(فتوحات ص ٢٤٩٥)

کمن يوحى اليه فى المبشرات وهى جزء من اجزاء النبوة وان لم يكن صاحب المبشرة نبيا فتفطن لعموم رحمة الله فما تطلق النبوة الالمن اتصف بالمجموع فذالك النبى وتلك النبوة التى حجرت علينا و انقطعت فان من جملتها التشريع بالوحى الملكى فى التشريع...... وذلك لايكون الالنبى خاصة ترجمہ = جیسے کسی کی طرف مبشرات کی وحی آئی اور وہ مبشرات اجزائے نبوۃ میں سے ہیں اگرچہ صاحب مبشر نبی نہیں ہو جاتا۔ پس رحمت الٰہیہ کے عموم کو سمجھو تو نبوۃ کا اطلاق اسی پر ہو سکتا ہے جو تمام اجزائے نبوۃ سے متصف ہو وہی نبی ہے اور وہی نبوۃ ہے جو منقطع ہو چکی اور ہم سے روک دی گئی۔ کیونکہ نبوۃ کے اجزاء میں سے تشریع بھی ہے جو وحی ملکی سے ہوتی ہے اور یہ بات صرف نبی کے ساتھ مخصوص ہے۔

شیخ اکبر رحمۃ اللہ تعالٰی ایک اور جگہ فرماتے ہیں

فما بقى للاولياء اليوم بعد ارتفاع النبوة الا التعريفات وانسدت ابواب الاوامر الالهيه والنواهى فمن ادعاها بعد محمد صلى الله عليه وسلم فهو مدع شريعة يوحى بها اليه سواء وافق بها شرعنا او خالف

(فتوحات مکیہ ص ٥١ جلد ٣)

ترجمہ = نبوۃ اٹھ جانے کے بعد آج اولیاء کے لیے بجز تعریفات کے کچھ باقی نہیں رہا اور اوامر و نواہی کے سب دروازے بند ہو چکے؟ اب جو کوئی محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد امر و نہی کا مدعی ہو (جیسے مرزا

صفحہ ١٤٦

مرزائیوں کا بہتان اور افتراء

صاحب) وہ اپنی طرف وحی شریعت آنے کا مدعی ہے خواہ شریعت ہماری شریعت کے موافق ہو یا مخالف۔

صوفیائے کرام کے شطحیات

حضرات صوفیائے کرام کے یہاں ایک خاص باب ہے جس کو شطحیات سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور خود فتوحات مکیہ میں اس کا ایک باب ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرات صوفیہؒ پر کچھ باطنی حالات گزرتے ہیں۔ جو ایک سکر اور بیخودی کی حالت ہوتی ہے اس حالت میں ان سے ایسے کلمات نکل جاتے ہیں جو قواعد شریعت اور کتاب و سنت کے نصوص پر چسپاں نہیں ہوتے۔ جیسے انا الحق اور سبحانی ما اعظم شانی اور جب ہوش میں آتے ہیں تو ایسے کلمات سے توبہ اور استغفار کرتے ہیں۔

خود حضرات صوفیہؒ کی ان شطحیات کے بارہ میں تصریحات موجود ہیں کہ کوئی شخص ہماری ان باتوں پر ہرگز عمل پیرا نہ ہو کہ جو ہم سے ان خاص حالات میں بے اختیار صادر ہوئی ہیں۔ بلکہ جس شخص پر یہ حالات نہ گزرے ہوں اس کو ہماری کتابوں کا مطالعہ بھی جائز نہیں۔ اور یہ بھی تصریح کرتے ہیں کہ ہمارا کشف اور الہام کسی پر حجت نہیں۔ ہمارا کشف صرف ہمارے لیے ہے اور اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ مجھ پر یہ حکم بذریعہ وحی نازل ہوا ہے۔ خواہ وہ حکم شریعت کے موافق ہو یا مخالف۔ اگر وہ مدعی عاقل بالغ ہے تو قابل گردن زدنی ہے اور اگر عاقل بالغ نہیں تو اس سے اعراض کریں گے۔

حدیث میں ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کا وصال ہوا تو فاروقؓ اعظم جیسے شخص کا بیخودی میں یہ حال ہوا کہ تلوار لیکر بیٹھ گئے اور یہ کہنے لگے کہ جو شخص یہ کہے گا کہ محمد رسول اللہ کا انتقال ہو گیا اس کی گردن اڑا دوں گا۔ صدیق اکبرؓ آئے اور ان کلمات کو سنتے ہوئے گزر گئے۔ اور منبر نبوی پر جا کر خطبہ دیا۔ وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم انک میت و انہم میتون۔ صحابہ کرامؓ فرماتے ہیں کہ ابوبکر صدیقؓ کے

صفحہ ١٤٧

مرزائیوں کا بہتان اور افتراء

خطبہ سے ہماری آنکھیں کھل گئیں اور فاروقؓ اعظم کو بھی اس حالت سے افاقہ ہو گیا۔

اب قابل غور امر یہ ہے کہ فاروق اعظمؓ کی زبان سے جو کلمات نکلے وہ غلبہ حال میں نکلے حقیقت کے بالکل خلاف تھے۔ مگر چونکہ وہ ایک سکر اور بیخودی کی حالت تھی اس لیے صحابہؓ نے حضرت عمرؓ کو معذور سمجھ کر سکوت کیا اور کسی قسم کی ملامت نہیں کی اور اتباع صدیق اکبرؓ کا کیا، کیونکہ وہ مغلوب الحال نہ تھے۔

شیخ محی الدین ابن عربیؒ فرماتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ صدیق اکبرؓ خلیفہ بلا فصل ہوئے۔ نبی کا خلیفہ وہی ہو سکتا ہے جو حال پر غالب ہو اور جس پر حال غالب آ جائے وہ خلیفہ بلافصل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے انبیاء کرام علیہم السلام کبھی مغلوب الحال نہیں ہوتے انبیاء کرامؑ ہمیشہ حال پر غالب رہے ہیں۔ اس لیے حضرات صوفیاءؒ کے اس قسم کے شطحیات شرعاً حجت نہیں اور نہ ان کا اتباع جائز ہے۔ البتہ وہ حضرات معذور ہیں۔ اور ان پر ملامت جائز نہیں۔ جیسے حضرات صحابہؓ نے نہ تو فاروق اعظمؓ کا اس قول میں اتباع کیا اور نہ ان پر کوئی ملامت کی۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ حضرات صوفیاء کے ان اقوال کا ہرگز اتباع نہ کریں۔ جو ان سے خاص حالات میں بے اختیار نکل گئے ہیں۔ بلکہ ان اقوال کا اتباع کریں جو انہوں نے سلسلہ عقائد کے بیان میں لکھے ہیں۔

و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ سیدنا و مولانا محمد خاتم الانبیاء والمرسلین وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین و علینا معہم یا ارحم الرحمین

محمد ادریس کاندہلوی کان اللہ لہ یوم الجمعہ ١٥/ ذی القعدہ ١٣٧١ ہجری جامعہ اشرفیہ لاہور

صفحہ ١٤٨
PDF 149

الاعلام

بمعنی

الكشف والوحی والالهام

صفحہ ١٥٠

کشف اور الہام اور وحی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کشف

عالم غیب کی کسی چیز سے پردہ اٹھا کر دکھلا دینے کا نام کشف ہے۔ کشف سے پہلے جو چیز مستور تھی‘ اب وہ مکشوف یعنی ظاہر اور آشکارا ہو گئی۔ قاضی محمد اعلیٰ تھانویؒ کشاف اصطلاحات الفنون صفحہ ١٢٥٤ میں لکھتے ہیں:

”الکشف عند اہل السلوک ھو المکاشفۃ و مکاشفہ رفع حجاب را گویند کہ میاں روح جسمانی است کہ ادراک آں بحواس ظاہری نتواں کرد الخ“

اس کے بعد فرماتے ہیں کہ حجابات کا مرتفع ہونا قلب کی صفائی اور نورانیت پر موقوف ہے۔ جس قدر قلب صاف اور منور ہو گا اسی قدر حجابات مرتفع ہوں گے۔ جاننا چاہیے کہ حجابات کا مرتفع ہونا قلب کی نورانیت پر موقوف تو ہے مگر لازم نہیں۔

(احیاء العلوم ص ١٦ ج ٤)

الہام

کسی خیر اور اچھی بات کا بلا نظر و فکر اور بلا کسی سبب ظاہری کے من جانب اللہ قلب میں القاء ہونے کا نام الہام ہے۔ جو علم بطریق حواس حاصل ہو وہ ادراک حسی ہے اور جو علم بغیر طور حس اور طور عقل‘ من جانب اللہ بلا کسی سبب کے دل میں ڈالا جائے وہ الہام ہے۔ الہام محض موہبت ربانی ہے اور فراست

صفحہ ١٥١

کشف اور الہام اور وحی

ایمانی، جس کا حدیث میں ذکر آیا ہے وہ من وجہ کسب ہے اور من وجہ وہب ہیں۔ کشف اگرچہ اپنے مفہوم کے اعتبار سے الہام سے عام ہے لیکن کشف کا زیادہ تعلق امور حسیہ سے ہے اور الہام کا تعلق امور قلبیہ سے ہے۔

وحی

وحی لغت میں مخفی طور پر کسی چیز کے خبر دینے کا نام ہے خواہ وہ بطریق اشارہ و کنایہ ہو یا بطریق خواب ہو یا بطریق الہام ہو یا بطریق کلام ہو۔ لیکن اصطلاح شریعت میں وحی اس کلام الہی کو کہتے ہیں کہ جو اللہ کی طرف سے بذریعہ فرشتہ نبی کو بھیجا ہو۔ اس کو وحی نبوت بھی کہتے ہیں جو انبیاء علیہم السلام کے ساتھ مخصوص ہے اور اگر بذریعہ القاء فی القلب ہو تو اس کو وحی الہام کہتے ہیں جو اولیاء پر ہوتی ہے اور اگر بذریعہ خواب ہو تو اصطلاح شریعت میں اس کو رویائے صالحہ کہتے ہیں جو عام مومنین اور صالحین کو ہوتا ہے کشف اور الہام اور رویائے صالحہ پر لغۃ "وحی کا اطلاق ہو سکتا ہے مگر عرف شرع میں جب لفظ وحی کا بولا جاتا ہے تو اس سے وحی نبوت ہی مراد ہوتی ہے۔ یہ ایسا ہے کہ جیسے قرآن کریم میں باعتبار لغت کے شیطانی وسوسوں پر بھی وحی کا اطلاق آیا ہے۔ کما قال تعالیٰ وان الشیاطین لیوحون الے اولیائھم۔ وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا شیاطین الانس والجن یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرورا۔ لیکن عرف میں شیطانی وسوسوں پر وحی کا اطلاق نہیں ہوتا۔

وحی اور الہام میں فرق

وحی نبوت قطعی ہوتی ہے اور معصوم عن الخطاء ہوتی ہے اور امت پر اس کا اتباع لازم ہوتا ہے اور نبی پر اس کی تبلیغ فرض ہوتی ہے اور الہام ظنی ہوتا ہے اور معصوم عن الخطاء نہیں ہوتا۔ کیونکہ حضرات انبیاء معصوم عن الخطاء ہیں اور اولیاء معصوم نہیں۔ اسی وجہ سے الہام دوسروں پر حجت نہیں اور نہ الہام سے کوئی حکم شرعی ثابت ہو سکتا ہے۔ حتی کہ استحباب بھی الہام سے ثابت نہیں ہو

صفحہ ١٥٢

کشف اور الہام اور وحی

سکتا۔

نیز علم احکام شرعیہ بذریعہ وحی انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ مخصوص ہے۔ اور غیر انبیاء پر جو الہام ہوتا ہے سو وہ از قسم بشارت یا از قسم تفہیم ہوتا ہے احکام پر مشتمل نہیں ہوتا جیسے حضرت مریمؑ کو جو وحی الہام ہوئی وہ از قسم بشارت تھی نہ کہ از قسم احکام، اور بعض مرتبہ وحی الہام کسی حکم شرعی کی تفہیم اور افہام کے لیے ہوتی ہے۔

جو نسبت رویائے صالحہ کو الہام سے ہے وہی نسبت الہام کو وحی نبوت سے ہے۔ یعنی جس طرح رویائے صالحہ الہام سے درجہ میں کمتر ہے اسی طرح الہام درجہ میں وحی نبوت سے فرو تر ہے اور جس طرح رویائے صالحہ میں ایک درجہ کا ابہام اور خفا ہوتا ہے اور الہام اس سے زیادہ واضح ہوتا ہے اسی طرح الہام بھی باعتبار وحی کے خفی اور مبہم ہوتا ہے اور وحی صاف اور واضح ہوتی ہے۔

اور جس طرح رویائے صالحہ میں مراتب اور درجات ہیں جو شخص جس درجہ صالح اور جس درجہ صادق ہے اسی درجہ اس کا رویا بھی صالحہ اور صادقہ ہو گا۔ اسی طرح الہام میں بھی مراتب ہیں جس درجہ کا ایمان اور جس درجہ کی ولایت ہو گی اسی درجہ کا الہام ہو گا۔ حدیث میں ہے کہ اگر میری امت میں کوئی محدث من اللہ ہے تو وہ عمرؓ ہے۔ سو جاننا چاہیے کہ یہ تحدیث من اللہ الہام کا ایک خاص مرتبہ ہے جو خواص اولیاء کو حاصل ہوتا ہے جو ان کی زبان سے نکلتا ہے وہ حق ہوتا ہے اور صدق اور وحی خداوندی اس کی تصدیق کرتی ہے۔ بلکہ حق جل شانہ کی مشیت یہ ہوتی ہے کہ حق کا ظہور اور صدور اسی محدث من اللہ کی زبان سے ہو۔ کما قال تعالیٰ فی قصۃ موسٰی علیہ السلام حقیق علی ان لا اقول علی اللہ الا الحق یہ تحدیث الٰہی مرتبہ فاروقیہ ہے اس کے اوپر مرتبہ صدیقیت ہے اور اس کے اوپر مرتبہ نبوت و رسالت ہے۔

وحی رحمانی اور وحی شیطانی میں فرق

اگر واردات قلبیہ کسی امر خیر اور امر آخرت یعنی حق جل شانہ کی اطاعت

صفحہ ١٥٣

کشف اور الہام اور وحی

کی طرف داعی ہوں تو وحی رحمانی ہے۔ اور اگر دنیاوی شہوتوں اور نفسانی لذتوں کی طرف داعی ہوں۔ تو وہ وحی شیطانی ہے۔

(کذافی خواتم الحکم ص ١٥٦ و مدارج السالکین ص ٢٧ ج ١)

حضرات صوفیائے کرام کا مطلب

جس طرح حق جل شانہ نے وحی کو معنی لغوی کے اعتبار سے مقسم قرار دے کر اس کے تحت میں وحی نبوت اور الہام اور شیطانی وسوسوں کو داخل فرمایا اور الہام کو معنی لغوی کے اعتبار سے الہام فجور اور الہام تقوی کی طرف تقسیم فرمایا فالھمھا فجورھا وتقواھا اور لفظ ارسال معنی لغوی کے اعتبار سے شیطان لعین کے لیے آیا ہے۔ انا ارسلنا الشیطین علی الکفرین۔

اسی طرح حضرات صوفیاء نے نبوت کو بمعنی لغوی لیکر مقسم بنایا۔ یعنی خدا تعالیٰ سے اطلاع پانا اور دوسروں کو اطلاع دینا۔ اس معنی لغوی کو مقسم بنایا اور حضرات انبیاء کی نبوت اور وحی شریعت اور اولیاء کی ولایت اور الہام معرفت کو نبوت بمعنی لغوی کے تحت میں داخل فرمایا۔ اور نبوت کے لیے چونکہ تشریع احکام ضروری ہے اور ولایت میں کوئی حکم شرعی نہیں ہوتا۔ اس لیے حضرات صوفیاء نے نبوت و رسالت کا نام نبوت تشریعیہ رکھا اور ولایت کا نام نبوت غیر تشریعی رکھا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شریعت میں نبوت کی دو قسمیں ہیں ایک نبوت تشریعیہ اور ایک نبوت غیر تشریعی بلکہ نبوت بمعنی لغوی کی دو قسمیں ہیں ایک اصطلاحی نبوت جس کے لیے تشریع احکام لازم ہے اور نبوت بمعنی لغوی کی دوسری قسم ولایت اور الہام ہے جس سے صرف حقائق اور معارف کا انکشاف ہوتا ہے۔ مگر اس سے کوئی حکم شرعی ثابت نہیں ہوتا حتی کہ کشف اور الہام سے مستحب کا درجہ بھی ثابت نہیں ہوتا۔ اور حضرات صوفیاء نے نہایت واضح طور پر اس کی تصریح کر دی ہے کہ حضور پرنور ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بالکل بند ہو چکا ہے اور جس قسم کی وحی حضرات انبیاء پر اترتی تھی وہ بالکل مسدود ہو گئی۔ اب نہ

صفحہ ١٥٤

کشف اور الہام اور وحی

یہ منصب باقی ہے اور نہ کسی کے لیے یہ جائز ہے کہ اپنے اوپر نبی اور رسول کے لفظ کا اطلاق کرے۔ نبوت بالکل ختم ہو گئی۔ اولیاء کے لیے نبوت میں سے صرف وحی الہام باقی ہے اور حفاظ قرآن کے لیے قرآن باقی ہے۔ حدیث میں ہے:

من حفظ القرآن فقد ادرجت النبوة بين جنبيه ترجمہ = جس نے قرآن کو حفظ کر لیا تو اس کے دونوں پہلووں کے درمیان نبوت داخل کر دی گئی۔

اور علماء اور خواص امت کو منصب رسالت میں یہ حصہ ملا کہ وہ احکام شریعت کی تبلیغ کریں۔ اور فقہاء اور مجتہدین کو منصب رسالت سے یہ حصہ ملا کہ کتاب و سنت اور شریعت کی روشنی میں اجتہاد و استنباط کریں اور غیر منصوص امور کا حکم اصول شریعت کے ماتحت رہ کر خدا داد نور فہم اور نور تقویٰ سے قرآن اور حدیث سے نکال کر امت کو فتویٰ دیں۔ اس طرح مجتہدین کو تشریع احکام کا ایک حصہ عطا ہوا۔ اور یہ بھی تصریح فرمائی کہ جو شخص آں حضرت ﷺ کے بعد یہ دعویٰ کرے کہ مجھ پر اللہ کے یہ احکام اور یہ اوامر اور نواہی نازل ہوئے ہیں، وہ مدعی شریعت ہے ہم اس کی گردن اڑا دیں گے۔

تو کیا مرزا صاحب کے نزدیک تمام اولیاء اور علماء اور حفاظ قرآن نبی ہو سکتے ہیں اور ان پر ایمان لانا ضروری ہے؟ حضرات صوفیاء کی اس تحقیق سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ اگر اولیاء کو نبوت غیر تشریعیہ سے حصہ ملا ہے تو فقہا اور مجتہدین کو تو نبوت تشریعیہ سے حصہ ملا ہے۔ لہٰذا مرزائیوں کے نزدیک ائمہ اجتہاد تو تشریعی نبی ہونے چاہیں۔

بلکہ حضرت شیخ محی الدین ابن عربیؒ نے نبوت بمعنی لغوی (یعنی خدا سے خبر پانا اور دینا) کو اس قدر عام فرمایا کہ کسی موجود کو اس سے خالی نہیں چھوڑا۔ چنانچہ فتوحات کے ایک سو پچیسویں باب میں فرماتے ہیں:

اعلم ان النبوة التى هى الاخبار من شى سارية فى كل موجود عند اہل الکشف و الوجود لكنه لا يطلق على احد منهم اسم نبى ولا

صفحہ ١٥٥

کشف اور الہام اور وحی

رسول الاعلى الملائكة الذى هم رسل

(کبریت احمر ص ١١٨ ج ١)

ترجمہ = جاننا چاہیے کہ نبوت جس کے معنی لغت میں خبر دینے کے ہیں وہ اہل کشف کے نزدیک تمام موجودات میں سرایت کیے ہوئے ہیں لیکن معنی شرعی کے اعتبار سے نبی اور رسول کا اطلاق بجز فرشتوں کے اور موجودات پر نہیں کیا جائے گا۔

اب دیکھیے کہ اس عبارت میں تمام مخلوقات اور تمام موجودات کے لیے ثابت فرما دیا اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ نبوت بمعنی لغوی یعنی اخبار عن الشئ تمام موجودات میں جاری و ساری ہے مگر معنی شرعی کے اعتبار سے کسی پر نبی اور رسول کا اطلاق درست نہیں۔ شہد کی مکھیوں کے لیے وحی اور ہر نفس کے لیے الہام کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے واوحی ربک الی النحل۔ فالهمها فجورها و تقواها معلوم ہوا کہ وحی اور الہام کے فیض سے حیوانات بھی محروم نہیں۔ خداوند ذوالجلال کی وحی اور الہام کی تار برقی ہر ایک مخلوق کے دل میں لگی ہوئی ہے۔

سب سے ربط آشنائی ہے تجھے
دل میں ہر ایک کے رسائی ہے تجھے

اس مسئلہ کی تحقیق اور تفصیل درکار ہو تو بوادر النوادر صفحہ ٦٢٠ تا ٦٤٦ مصنفہ حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی قدس سرہ اور مسک الختام مصنفہ ناچیز اور الشہاب مصنفہ حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی کی مراجعت کریں۔ واللہ اعلم و علمہ اتم و احکم۔

صوفیا کے شطحیات

صوفیا کرام کے یہاں ایک باب ہے جس کو شطحیات کہتے ہیں۔ شطحیات شطحی یا شطح کی جمع ہے۔ اصطلاح صوفیاء میں شطح کی تعریف یہ ہے کہ جو بات غلبہ حال اور

صفحہ ١٥٦

کشف اور الہام اور وحی

غلبہ وارد کی وجہ سے بے اختیار زبان سے نکل جائے اور بظاہر قواعد شریعت کے خلاف معلوم ہوتی ہو اس کو شطح کہتے ہیں۔ ایسے شخص پر نہ کوئی گناہ ہے اور نہ دوسروں کو اس کی تقلید جائز ہے۔

خود حضرات صوفیاء نے اس کی تصریح فرمادی ہے کہ ان شطحیات پر کسی کو عمل پیرا ہونا جائز نہیں بلکہ جس شخص پر یہ احوال نہ گزرے ہوں وہ ہماری کتابوں کا مطالعہ بھی نہ کرے، تاکہ فتنہ میں مبتلا نہ ہو۔

الہام کا حکم شرعی

حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی وحی اور الہام کی حجیت میں تو کیا کلام ہو سکتا ہے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کا تو خواب بھی حجت قطعیہ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے محض خواب کی بناء پر بیٹے کے ذبح کا ارادہ فرمایا جس کی حق جل شانہ نے قرآن میں مدح اور توصیف فرمائی۔

البتہ اولیاء اللہ کے الہام میں کلام ہے کہ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ الہام کا حکم یہ ہے کہ اگر الہام کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ اور قواعد شریعت کے خلاف نہ ہو تو اس پر عمل کرنا جائز ہے واجب نہیں اور جو الہام کتاب و سنت اور شریعت کے خلاف ہو اس پر عمل کرنا بالاجماع جائز نہیں جو الہام قرآن و شریعت کے خلاف ہو وہ الہام رحمانی نہیں بلکہ وہ الہام شیطانی ہے بلکہ الہام کے صادق اور کاذب ہونے کا معیار ہی کتاب و سنت کی موافقت اور مخالفت ہے۔

صدیق اکبرؓ اور فاروق اعظمؓ کبھی اپنے الہام پر عمل نہ فرماتے تھے جب تک کہ کتاب و سنت سے اس کی تصدیق و تائید نہ ہو جائے۔

امام غزالیؒ احیاء العلوم میں لکھتے ہیں کہ ابو سلیمان دارانیؒ یہ فرمایا کرتے تھے کہ الہام پر اس وقت تک عمل نہ کرو جب تک آثار سے اس کی تصدیق نہ ہو جائے۔

شیخ عبد القادر جیلانیؒ فتوح الغیب میں فرماتے ہیں کہ الہام اور کشف پر عمل

صفحہ ١٥٧

کشف اور الہام اور وحی

کرنا جائز ہے بشرطیکہ وہ قرآن اور حدیث اور اجماع اور قیاس صحیح کے مخالف نہ ہو۔

قاضی ثناء اللہ صاحبؒ ارشاد الطالبین میں فرماتے ہیں کہ اولیاء اللہ کا الہام علم ظنی کا موجب ہے اگر کسی ولی کا کشف اور الہام کسی حدیث کے خلاف ہو اگرچہ وہ حدیث خبر آحاد میں سے ہو بلکہ اگر ایسے قیاس صحیح کے بھی خلاف ہو کہ جو شرائط قیاس کو جامع ہو تو اس جگہ بمقابلہ کشف و الہام قیاس کو ترجیح دینی چاہیے اور یہ مسئلہ تمام سلف اور خلف میں متفق علیہ ہے۔ اب مکتوبات حضرت مجدد الف ثانیؒ کی ایک عبارت مع ترجمہ نقل کی جاتی ہے۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

بدان، لرشدک اللہ تعالیٰ و الھمک سواء الصراط کہ از جملہ ضروریات طریق سلوک اعتقاد صحیح است کہ علمائے اہل سنت آں را از کتاب و سنت و آثار سلف استنباط فرمودہ اند و کتاب و سنت را محمول داشتن بر معانی کہ جمہور علمائے اہل حق یعنی علمائے اہل سنت و جماعت آں معنی را از کتاب و سنت فہمیدہ اند نیز ضروری است و اگر بالفرض خلاف آں معانی مفہومہ بکشف و الہام امرے ظاہر شود آں را اعتبار نباید کرد و ازاں استعاذہ باید نمود۔ مثلاً آیات و احادیث کہ از ظواہر آنہا توحید وجود مفہوم می شود و ہم چنیں احاطہ و سریان و قرب و معیت ذاتیہ معلوم می گردد و چوں علمائے اہل حق ازاں آیات و احادیث ایں معنی نفہمیدہ اند اگر در اثنائے راہ بر سالک ایں معانی منکشف شود و موجود جز یکے نیابد یا اور ابالذات محیط داند و قریب ذاتا بیابد ہر چند او دریں وقت بواسطہ غلبہ حال سکر معذور است اما باید کہ ہمیشہ بحق سبحانہ تعالیٰ ملتجی و متضرع باشد کہ اور را ازیں ورطہ بر آوردہ امورے کہ مطابق آرائے صائبہ علمائے اہل حق ست بروے منکشف گرداند و سرموئے خلاف معتقدات حقہ ایشاں ظاہر نسازد بالجملہ معانی مفہوم علمائے اہل حق را مصداق کشف خود باید ساخت و

صفحہ ١٥٨

کشف اور الہام اور وحی

محک الہام خود را جزاں نباید داشت چہ معانی کہ خلاف مفہومہ ایشان است از حیز اعتبار ساقط است زیرا کہ ہر مبتدع و ضال معتقدات مقتدائے خود را کتاب و سنت می داند و باندازہ افہام رکیکہ خود ازاں معانی غیر مطابقہ می فھمد يضل به كثيرا و يهدى به كثيرا۔ و آنکہ گفتم کہ معانی مفہومہ اہل حق معتبر است۔ و خلاف آں معتبر نیست بنا بر آں است کہ آں معانی را از تتبع آثار صحابہؓ و سلف صالحین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اخذ کردہ اند و از انوار نجوم ہدایت ایشاں اقتباس فرمودہ اند۔ لہٰذا نجات ابدی مخصوص با ایشاں گشت و فلاح سرمدی نصیب شاں آمد اولئک حزب الله الا ان حزب الله هم المفلحون ◯ و اگر بعضے از علماء با وجود صحت اعتقاد در فرعیات مداہنت نمایند و مرتکب تقصیرات باشند در عملیات انکار مطلق علما نمودن و ہمہ را مطعون ساختن نا انصافی محض است و مکابرہ صرف بلکہ انکار است از اکثر ضروریات دین چہ ناقلاں آں ضروریات ایشا نند و ناقدان چیدہ آں ہم از زمرہ ایشانند۔ لولا نور هدايتهم لما اهتدينا ولولا تمييز هم الصواب من الخطاء لغوينا هم الذين بذلو جهد هم فى اعلاء كلمة الدين القويم و اسلكوا طوائف كثيرة من الناس على صراط مستقيم فمن تابعهم نجى و من خالفهم ضل و اضل۔

(مکتوب دو صد و ہشتاد ہشتم از جلد اول مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانیؒ)

ترجمہ = اے عزیز! جان لے (خدا تجھے سمجھ عطا کرے اور سیدھے راستہ کی ہدایت کرے) کہ طریق سلوک کے ضروری امور میں سے صحیح عقیدہ رکھنا ہے۔ جو علمائے اہل سنت نے قرآن و حدیث اور آثارِ سلف سے اخذ کیا ہے اور قرآن و حدیث کو انہی معانی پر محمول کرنا بھی ضروری ہے جو علمائے حق یعنی علمائے اہل سنت و جماعت نے قرآن و حدیث سے سمجھے ہیں۔ اور اگر بالفرض ان اہل سنت کے سمجھے ہوئے معانی کے خلاف

صفحہ ١٥٩

کشف اور الہام اور وحی

کشف و الہام کے ذریعہ کوئی بات ظاہر ہو تو اس کا اعتبار نہ کرنا چاہیے۔ مثلاً وہ آیتیں اور حدیثیں جن کے ظاہری پہلوؤں سے وحدۃ الوجود سمجھ میں آتی ہے یا اسی طرح باری تعالیٰ کا ذاتی لحاظ سے ہر جگہ حاوی و ساری ہونا اور ذاتی قرب و معیت معلوم ہوتی ہے۔ چونکہ علمائے حق نے ان آیات و احادیث سے یہ معنی نہیں سمجھے ہیں تو اگر راہ سلوک کے دوران میں یہ باتیں منکشف ہوں اور ایک (خدا) کے سوا کسی کو موجود نہ پائے یا خدا کو بالذات محیط سمجھے اور بالذات قریب پائے تو اگرچہ وہ سالک بوجہ سکر کی حالت کے غلبہ کے اس وقت معذور ہے لیکن اسے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے التجا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس چکر سے نکال کر اہل حق علماء کی درست رائے کے موافق امور اس پر ظاہر فرما دے اور ان سچے عقیدوں کے خلاف بال برابر بھی ظاہر نہ ہونے دے۔ غرض اہل حق کے سمجھے ہوئے معانی کو اپنے کشف کا معیار بنانا چاہیے اور اس کے علاوہ اور کسی چیز کو اپنے الہام کی کسوٹی نہیں بنانا چاہیے کیونکہ جو معانی اہل حق کے سمجھے ہوئے معانی کے خلاف ہیں وہ درجہ اعتبار سے گرے ہوئے ہیں۔ اس لیے کہ (یوں تو) ہر مبتدع اور گمراہ اپنے پیشوا کے معتقدات کو قرآن و حدیث سمجھتا ہے اور اپنی ناقص اور پوچ سمجھ کے مطابق قرآن و حدیث سے حقیقت کے خلاف معانی سمجھتا ہے۔ (اور قرآن سے بہت سے گمراہ ہو جاتے ہیں اور بہت راہ پاتے ہیں) اور یہ جو میں نے کہا کہ اہل حق کے سمجھے ہوئے معانی معتبر ہیں اور اس کے خلاف معتبر نہیں یہ اس بنا پر ہے کہ انہوں نے ان معانی کو صحابہؓ اور سلف صالحینؒ سے اخذ کیا ہے اور ان کے ستارہ ہدایت سے نور حاصل کیا ہے اسی لیے ابدی نجات اور دائمی فلاح ان کے لیے مخصوص ہو گئی (یہ لوگ ہیں اللہ کی جماعت اور سن لو کہ اللہ کی جماعت ہی فلاح پانے والی ہے)

اگر بعض علماء باوجود صحیح عقائد جاننے کے جزئیات و فرعیات میں حق کو چھپائیں اور اعمال میں تقصیر کریں تو اس سے مطلقاً تمام علماء کا انکار کرنا

صفحہ ١٦٠

کشف اور الہام اور وحی

اور سب کو ملامت کرنا کھلی بے انصافی اور ہٹ دھرمی ہے بلکہ یہ چیز دوسرے الفاظ میں اکثر ضروریات دین سے انکار کر دینا ہے کیونکہ ضروریات دین کے روایت کرنے والے اور ان میں کھوٹے کھرے کی تمیز کرنے والے ہی علماء ہیں کہ اگر ان کا نور ہدایت نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاسکتے اور اگر ان کی طرف سے حق و باطل میں تمیز نہ کی جاتی تو ہم بھٹک جاتے۔ یہی وہ حضرات ہیں جنہوں نے اپنی آخری کوشش تک دین کا بول بالا کرنے کے لیے صرف کر دی ہے اور انسانوں کے بہت سے گروہوں کو سیدھے راستہ پر چلایا ہے پس جس نے ان کا اتباع کیا اس نے نجات و فلاح پائی اور جس نے ان کی مخالفت کی وہ خود بھی گمراہ ہوا اور دوسروں کے لیے گمراہی کا ذریعہ بنا"۔

مرزا صاحب کو اپنے الہام پر خود بھی یقین نہ تھا

مرزا صاحب کے الہامات چونکہ القاء شیطانی تھے اس لیے خود مرزا صاحب کو بھی اپنے الہامات پر یقین نہ تھا۔ چنانچہ مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں:

”میں نے ایک عرصہ تک الہامات کی پیروی نہیں کی جب تک کہ ان الہامات کو قرآن و حدیث کے موافق جانچ نہ لیا۔“

جانچنے کی وجہ یہ تھی کہ مرزا صاحب کو شبہ تھا کہ یہ الہامات خدا کی طرف سے ہیں یا شیطان کی طرف سے۔ بلکہ حق یہ ہے کہ مرزا صاحب کو یقین تھا کہ یہ الہامات من جانب اللہ نہیں بلکہ ان کے نفس کے من گھڑت ہیں۔ اور قرآن اور حدیث کے بھی خلاف ہیں۔ مگر اندیشہ یہ تھا کہ لوگ اس الہام کو سن کر متوحش ہوں گے۔ اس لیے سوچتے تھے کہ قرآن اور حدیث میں کس طرح تاویل کر کے الہام کو اس کے مطابق بنادوں۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا و مولانا محمد و علی الہ و صحبہ اجمعین و علینا معہم یا ارحم الراحمین ط

محمد ادریس کان اللہ لہ و کان ہو للہ آمین

(٢٠ جمادی الثانیہ ١٣٧٤ھ یوم چہار شنبہ)

PDF 161

کلمۃ اللہ

فی

حیات روح اللہ

المعروف

حیات عیسیٰ علیہ السلام

صفحہ ١٦٢

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد لله رب العلمين و العاقبة للمتقين و الصلوة والسلام علی سیدنا و مولانا محمد خاتم الانبیاء والمرسلین وعلی الہ واصحابہ وازواجہ و ذریاتہ اجمعین وعلینا معھم یا ارحم الراحمین

اما بعد

بندۂ گنہ گار امیدوار رحمت پروردگار محمد ادریس کاندھلوی کان اللہ لہٗ و کان ہو للہ (آمین) اہل اسلام کی خدمت میں عرض پرداز ہے کہ اس امت مرحومہ پر قوم عاد اور ثمود کی طرح عذاب تو نہیں لیکن فتنے ہیں جن سے نکلنے کا راستہ سوائے کتاب و سنت کے کچھ نہیں اور کتاب و سنت تک رسائی بدون حضرات صحابہؓ و تابعینؒ کے ناممکن ہے۔ اس لیے کہ صحابہؓ اور تابعینؒ ہی کے ذریعے ہم تک کتاب و سنت پہنچی۔ نبی اور امت کے درمیان میں صحابہؓ واسطہ ہیں اور ایسا واسطہ ہیں کہ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے لہٰذا قرآن و حدیث کا وہی مطلب معتبر ہو گا جو حضرات صحابہؓ اور تابعینؒ نے سمجھا۔ سوائے حضرات انبیاء و مرسلین علیہم السلام کے دنیا میں صحابہ کرامؓ جیسا نور علم اور نور فہم اور نور تقویٰ نہ اولین میں سے کسی کو میسر آیا اور نہ آخرین میں سے کسی کو حاصل ہوا پس اگر صحابہ کرامؓ کی تفسیر اور شرح معتبر نہیں تو پھر کسی کی بھی معتبر نہیں۔ خدا کی قسم! اگر ایک صحابیؓ کے نور علم اور نور فہم اور نور تقویٰ کی زکوٰۃ نکالی جائے اور کل عالم پر تقسیم کی جائے تو عالم کا ہر فرد علم و فہم کا امیر اور دولت مند بن جائے۔

صفحہ ١٦٣

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

اس دور پرفتن میں ہر طرف سے دین پر فتنوں کا ہجوم ہے جس میں ایک بہت بڑا فتنہ مرزائیت کا ہے۔ اس فتنہ کا بانی منشی مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ اولاً اس نے اپنے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا‘ پھر مثیل مسیح ہونے کا پھر مسیح اور عیسیٰ ہونے کا۔ اور اپنی مسیحیت کی دھن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا مدعی بنا اور ان کے رفع الی السماء کو محال قرار دیا اور صدہا اوراق اس بارے میں سیاہ کیے کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پا کر مدفون ہو چکے۔ اور جو شخص مر کر دفن ہو گیا‘ وہ قیامت سے پہلے دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں واپس نہیں آسکتا اور پھر اس زعم فاسد اور خیال کاسد کی بنا پر ان احادیث میں تحریف کی۔ کہ جن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا اور دنیا میں دوبارہ تشریف لانا صراحۃً مذکور ہے۔ ان احادیث صریحہ اور صحیحہ میں یہ تحریف کی کہ نزول مسیح سے مثیل مسیح کا پیدا ہونا مراد ہے۔ اور پھر اس مثیل کا مصداق خود اپنی ذات کو قرار دیا۔ جس کا حاصل یہ نکلا کہ تمام احادیث میں مسیح بن مریم سے وہ مسیح مراد نہیں جن کا قرآن میں ذکر ہے بلکہ ان کا مثیل اور شبیہ مراد ہے اور نزول سے آسمان سے اترنا مراد نہیں بلکہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا مراد ہے اور پھر ولادت سے یہ مراد ہے کہ وہ مثیل مسیح قادیان کے ایک دہقان کی پنجابن عورت کے پیٹ سے پیدا ہو اور بڑا ہو کر عیسائیوں کے اسکول میں تعلیم پائے اور جوان ہو کر عیسائیوں کی دفتری ملازمت کرے اور پھر چند روز بعد مریم بنے اور پھر خود اپنے سے عیسیٰ پیدا ہو جائے۔ خود ہی والد اور خود ہی والدہ اور خود ہی مولود۔ خدا کی قسم اب تک میری سمجھ میں نہیں آیا کہ لوگ کس طرح اس جنون اور دیوانگی پر ایمان لے آتے ہیں۔ ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب ○

علماء اہل سنت و الجماعت نے رد مرزائیت پر عموماً اور حیات عیسیٰ علیہ السلام کے موضوع پر خصوصاً مفصل اور مختصر اور متوسط کتابیں تالیف فرمائیں اور بارگاہ خداوندی سے اجر حاصل کیا۔ جزاہم اللہ تعالیٰ و عن سائر المسلمین خیر الجزاء آمین۔

صفحہ ١٤٤

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

١٣٤٣ھ میں اس ناچیز اور بے بضاعت نے بھی ایک رسالہ کلمتہ اللہ فی حیات روح اللہ کے نام سے لکھا تھا جس کو حضرت مخدومنا الحبیب و مطاعنا اللبیب حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند تغمدہ اللہ تعالیٰ بالرحمتہ والغفران نے اپنے اہتمام سے شائع فرمایا تھا۔ پھر ١٣٥١ھ میں دوبارہ نظرثانی اور اضافات کے ساتھ یہ رسالہ شائع ہوا۔ اب تیسری مرتبہ ١٣٧٠ھ میں بہت سے جدید اضافات اور ترمیمات کے ساتھ اہل اسلام کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ آمین۔

حضرت الاستاذ و شیخنا الاکبر مولانا الشاہ السید محمد انور نور اللہ وجہہ یوم القیمۃ و نضر (آمین) صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند جس طرح وہ اپنے زمانہ میں بے مثال تھے اسی طرح انہوں نے اس موضوع پر ایک بے مثال اور لاجواب کتاب عربی زبان میں تالیف فرمائی جس کا نام "عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام" تجویز فرمایا۔ جو علماء اور فضلاء کے لیے مشعل راہ اور شمع ہدایت بنی اس ناچیز نے بھی اس کتاب مستطاب کے لطیف مضامین کے وہ اقتباسات جن کو عام اور متوسط الاستعداد طبقہ سمجھ سکے اپنے اس رسالہ میں اضافہ کر دیے ہیں۔

تحدیث بالنعمتہ

واما بنعمتہ ربک فحدث O

ناچیز کا یہ رسالہ پہلی مرتبہ حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب رحمتہ اللہ علیہ مہتمم دارالعلوم دیوبند نے مطبع قاسمی میں طبع کرایا۔ جس شب میں اس رسالہ کی لوح کا ورق طبع ہو رہا تھا اس شب میں اس ناچیز نے یہ خواب دیکھا کہ یہ ناچیز دارالعلوم دیوبند کی مسجد میں داخل ہوا۔ دیکھتا کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام منبر کے قریب اور محراب امام کے سامنے تشریف فرما ہیں چہرہ مبارک پر عجیب و غریب انوار ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک فرشتہ بیٹھا ہوا ہے اور حضرت کے ساتھ کوئی خادم بھی ہے۔ یہ ناچیز نہایت ادب کے ساتھ دو زانو

صفحہ ١٦٥

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

سامنے بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر میں ایک قادیانی پکڑ کر لایا گیا اور سامنے کھڑا کر دیا گیا۔ بعد ازاں دو عبا لائے گئے۔ ایک نہایت سفید اور خوب صورت ہے اور دوسرا نہایت سیاہ اور بدبودار ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم کو حکم دیا کہ سفید عبا اس ناچیز کو پہنائیں اور سیاہ عبا اس قادیانی کو پہنایا جائے۔ چنانچہ سفید عبا اس ناچیز کو پہنایا گیا فللہ الحمد والمنۃ اور سیاہ عبا اس قادیانی کو۔ اور یہ ناچیز خاموش کھڑا ہے اور قادیانی کو دیکھ کر دل میں یہ آیت پڑھ رہا ہے سرابیلھم من قطران وتغشی وجوھم النار اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔

اب میں حق تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اے پروردگار! علمائے ربانیین کی جوتیوں کے صدقہ اور طفیل میں اس ناچیز کی اس ناچیز خدمت کو بھی قبول فرما، اور اس تالیف کو اہل اسلام کے لیے موجب سکینت و طمانیت اور قادیانیوں کے لیے موجب ہدایت و سعادت اور اس نابکار گنہ گار کے لیے ذخیرہ آخرت اور موجب نجات و مغفرت فرما۔ آمین یا ارحم الراحمین و یا اکرم الاکرمین۔

ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم و تب علینا انک انت التواب الرحیم ○

بضاعت نیا وردم الا امید
خدایا ز عفوم مکن نا امید

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مقدمہ

دربیان امکان رفع جسمانی

صفحہ ١٦٦

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

مرزا صاحب اور ان کی جماعت کا دعویٰ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر نہیں اٹھائے گئے بلکہ وفات پا کر مدفون ہو چکے اور دلیل یہ ہے کہ کسی جسم عنصری کا آسمان پر جانا محال ہے۔

(ازالۃ الاوہام ص ٤٧١ ج ١ تقطیع خورد و روحانی خزائن ص ١٢٦ ج ٣)

جواب

یہ ہے کہ جس طرح نبی اکرم محمد مصطفیٰ ﷺ کا جسد اطہر کے ساتھ لیلتہ المعراج میں جانا اور پھر وہاں سے واپس آنا حق ہے۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کا بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھایا جانا اور پھر قیامت کے قریب ان کا آسماں سے نازل ہونا بھی بلاشبہ حق اور ثابت ہے جس طرح آدم علیہ السلام کا آسمان سے زمین کی طرف ہبوط ممکن ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ کا آسمان سے زمین کی طرف نزول بھی ممکن ہے ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل آدم جعفر بن ابی طالب کا فرشتوں کے ساتھ آسمانوں میں اڑنا صحیح اور قوی حدیثوں سے ثابت ہے اسی وجہ سے ان کو جعفر طیار کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

اخرج الطبرانی باسناد حسن عن عبداللہ بن جعفر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ھنیئاء لک ابوک یطیر مع الملائکۃ فی السماء

(وکذا فی فتح الباری ص ٦٢ ج ٧ زرقانی شرح مواہب ص ٢٧٥ ج ٨)

ترجمہ = امام طبرانی نے باسناد حسن عبداللہ بن جعفر سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ایک بار یہ ارشاد فرمایا کہ اے جعفر کے بیٹے عبداللہ تجھ کو مبارک ہو تیرا باپ فرشتوں کے ساتھ آسمانوں میں اڑتا پھرتا ہے (اور ایک روایت میں یہ ہے کہ جعفر جبرئیل و میکائیل کے ساتھ اڑتا پھرتا ہے)۔ ان ہاتھوں کے عوض میں جو غزوہ موتہ میں کٹ گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو ملائکہ کی طرح دو بازو عطا فرما

صفحہ ١٦٧

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

دیے ہیں اور اس روایت کی سند نہایت جید اور عمدہ ہے۔ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا اس بارے میں ایک شعر ہے:

وجعفر الذی یضحی و یمسی
یطیر مع الملائکۃ ابن امی

ترجمہ = وہ جعفر کہ جو صبح و شام فرشتوں کے ساتھ اڑتا ہے وہ میری ہی ماں کا بیٹا ہے۔

اور علی ہٰذا عامر بن فہیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غزوہ بئر معونہ میں شہید ہونا، اور پھر ان کے جنازہ کا آسمان پر اٹھایا جانا روایات میں مذکور ہے جیسا کہ حافظ عسقلانی نے اصابہ میں اور حافظ ابن عبد البر نے استیعاب میں اور علامہ زرقانی نے شرح مواہب ص ٧٨ ج ٢ میں ذکر کیا ہے۔ جبار بن سلمی جو عامر بن فہیرہ کے قاتل تھے وہ اسی واقعہ کو دیکھ کر ضحاک بن سفیان کلابی کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف باسلام ہوئے اور یہ کہا: دعانی الی الاسلام مارایت من مقتل عامر بن فھیرۃ ورفعه الی السماء ترجمہ = عامر بن فہیرہ کا شہید ہونا اور ان کا آسمان پر اٹھایا جانا میرے اسلام لانے کا باعث بنا۔

ضحاک نے یہ تمام واقعہ آں حضرت ﷺ کی خدمت بابرکت میں لکھ کر بھیجا۔ اس پر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ . فان الملائکۃ وارت جثته وانزل فی علیین ترجمہ = فرشتوں نے اس کے جثہ کو چھپا لیا اور وہ علیین میں اتارے گئے۔

ضحاک ابن سفیان کے اس تمام واقعہ کو امام بیہقی اور ابو نعیم اصفہانی دونوں نے اپنی اپنی دلائل النبوۃ میں بیان کیا۔

(شرح الصدور فی احوال الموتیٰ و القبور للعلامۃ السیوطی ص ١٧٤)

صفحہ ١٦٨

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

اور حافظ عسقلانی نے اصابہ میں جبار بن سلمیٰ کے تذکرہ میں اس واقعہ کی طرف اجمالاً اشارہ فرمایا ہے۔

شیخ جلال الدین سیوطیؒ شرح الصدور میں فرماتے ہیں کہ عامر بن فہیرہؓ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے واقعہ کو ابن سعد اور حاکم اور موسیٰ بن عقبہ نے بھی روایت کیا ہے۔ غرض یہ کہ یہ واقعہ متعدد اسانید اور مختلف روایات سے ثابت اور محقق ہے۔

واقعہ رجیع میں جب قریش نے خبیب بن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سولی پر لٹکایا تو آں حضرت ﷺ نے عمرو بن امیہ ضمریؓ کو خبیبؓ کی نعش اتار لانے کے لیے روانہ فرمایا۔ عمرو بن امیہ وہاں پہنچے اور خبیب کی نعش کو اتارا دفعہ ایک دھماکا سنائی دیا۔ پیچھے پھر کر دیکھا اتنی دیر میں نعش غائب ہو گئی۔ عمرو بن امیہ فرماتے ہیں گویا زمین نے ان کو نگل لیا۔ اب تک اس کا کوئی نشان نہیں ملا۔ اس روایت کو امام ابن حنبلؒ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔

(زرقانی شرح مواہب ص ٧٣ ج ٢)

شیخ جلال الدین سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ خبیبؓ کو زمین نے نگلا اسی وجہ سے ان کا لقب بلیع الارض ہو گیا۔ اور ابو نعیم اصفہانی فرماتے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ عامر بن فہیرہ کی طرح خبیب کو بھی فرشتے آسمان پر اٹھا لے گئے۔ ابو نعیم کہتے ہیں کہ جس طرح حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے عامر بن فہیرہؓ اور خبیب بن عدیؓ اور علاء بن حضرمیؓ کو آسمان پر اٹھایا۔ انتہی۔

علماء انبیاء کے وارث ہوتے ہیں اولیاء کا الہام و کرامت انبیاء کرام کی وحی اور معجزات کی وراثت ہے۔

ومما يقوى قصة الرفع الى السماء ما اخرجه النسائى والبيهقى والطبرانى وغيرهم من حديث جابر ان طلحة اصيبت انامله يوم احد فقال حس فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لو قلت بسم

صفحہ ١٦٩

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

اللّٰه لرفعتک الملائکۃ والناس ینظرون الیک حتی تلج بک فی جو السماء واخرج ابن ابی الدنیا فی ذکر الموتٰی عن زید بن اسلم قال کان فی بنی اسرائیل رجل قد اعتزل الناس فی کھف جبل وکان اھل زمانہ اذا قحطوا استغاثوا بہ فدعی اللّٰه فسقاھم فمات فاخذوا فی جھازہ فبینا ھم کذلک اذا ھم بسریر رفرف فی عنان السماء حتی انتھی الیہ فقام رجل فاخذہ فوضعہ علی السریر و الناس لینظرون الیہ فی الھواء حتی غاب عنھم

(شرح الصدور ص ١٧٣)

ترجمہ = شیخ جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں کہ عامر بن فہیرہ اور خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنھما کے واقعہ رفع الی السماء کی وہ واقعہ بھی تائید کرتا ہے جس کو نسائی اور بیہقی اور طبرانی نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما سے روایت کیا ہے کہ غزوہ احد میں حضرت طلحہؓ کی انگلیاں زخمی ہو گئیں تو اس تکلیف کی حالت میں زبان سے ”حس“ یہ لفظ نکلا۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر تو بجائے ”حس“ کے بسم اللہ کہتا تو لوگ دیکھتے ہوئے ہوتے اور فرشتے تجھ کو اٹھا کر لے جاتے یہاں تک کہ تجھ کو آسمان میں لے کر گھس جاتے۔ ابن ابی الدنیا نے ذکر الموتیٰ میں زید بن اسلم سے روایت کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا کہ جو پہاڑ میں رہتا تھا جب قحط ہوتا تو لوگ اس سے بارش کی دعا کراتے وہ دعا کرتا اللہ تعالیٰ اس کی دعا کی برکت سے باران رحمت نازل فرماتا۔ اس عابد کا انتقال ہو گیا۔ لوگ اس کی تجہیز و تکفین میں مشغول تھے اچانک ایک تخت آسمان سے اترتا ہوا نظر آیا جہاں تک کہ اس عابد کے قریب آ کر رکھا گیا۔ ایک شخص نے کھڑے ہو کر اس عابد کو اس تخت پر رکھ دیا۔ اس کے بعد وہ تخت اوپر اٹھتا گیا‘ لوگ دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ غائب ہو

صفحہ ١٧٠

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

گیا۔ اور حضرت ہارون علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جنازہ کا آسمان پر اٹھایا جانا اور پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے آسمان سے زمین پر اتر آنا مستدرک حاکم میں مفصل مذکور ہے۔

(مستدرک ص ٥٧٩ ج ٢)

مقصد ان واقعات کے نقل کرنے سے یہ ہے کہ منکرین اور ملحدین خوب سمجھ لیں کہ حق جل شانہ نے اپنے محبین اور مخلصین کی اس خاص طریقہ سے بارہا تائید فرمائی کہ ان کو صحیح و سالم فرشتوں سے آسمانوں پر اٹھوالیا اور دشمن دیکھتے ہی رہ گئے۔ تاکہ اس کی قدرت کاملہ کا ایک نشان اور کرشمہ ظاہر ہو اور اس کے نیک بندوں کی کرامت اور منکرین معجزات و کرامات کی رسوائی و ذلت آشکارا ہو۔ اور اس قسم کے خوارق کا ظہور مومنین اور مصدقین کے لیے موجب طمانیت اور مکذبین کے لیے اتمام حجت کا کام دے۔

ان واقعات سے یہ امر بھی بخوبی ثابت ہو گیا کہ کسی جسم عنصری کا آسمان پر اٹھایا جانا نہ قانون قدرت کے خلاف ہے نہ سنت اللہ کے متصادم ہے بلکہ ایسی حالت میں سنت اللہ یہی ہے کہ اپنے خاص بندوں کو آسمان پر اٹھا لیا جائے تاکہ اس ملیک مقتدر کی قدرت کا کرشمہ ظاہر ہو اور لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ حق تعالیٰ کی اپنے خاص الخاص بندوں کے ساتھ یہی سنت ہے کہ ایسے وقت میں ان کو آسمان پر اٹھا لیتا ہے۔ غرض یہ کہ کسی جسم عنصری کا آسمان پر اٹھایا جانا قطعا محال نہیں بلکہ ممکن اور واقع ہے اور اسی طرح کسی جسم عنصری کا بغیر کھائے اور پیئے زندگی بسر کرنا بھی محال نہیں۔ اصحاب کہف کا تین سو سال تک بغیر کھانے پیئے زندہ رہنا قرآن کریم میں مذکور ہے و لبثوافی کھفھم ثلث مائۃ سینین وازدادو تسعا اس سے مرزا صاحب کا یہ وسوسہ بھی زائل ہو گیا کہ جو شخص اسی یا نوے سال کو پہنچ جاتا ہے وہ محض نادان ہو جاتا ہے کما قال تعالیٰ و منکم من یرد الی ارذل العمر لکیلا بعد علم شیا اس لیے کہ ارذل العمر کی تفسیر میں اسی یا نوے سال کی قید

صفحہ ١٧١

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

مرزا صاحب نے اپنی طرف سے لگائی ہے قرآن و حدیث میں کہیں قید نہیں۔ اصحاب کہف تین سو سال تک کہیں نادان نہیں ہو گئے۔ اور علیٰ ہذا حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام صد ہا سال زندہ رہے اور ظاہر ہے کہ نبی کے علم اور عقل کا زائل ہونا ناممکن اور محال ہے۔

حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب دجال ظاہر ہو گا تو شدید قحط ہو گا اور اہل ایمان کو کھانا میسر نہ آئے گا۔ اس پر صحابہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اس وقت اہل ایمان کا کیا حال ہو گا؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: يجزئهم ما يجزى السماء من التسبيح والتقديس یعنی اس وقت اہل ایمان کو فرشتوں کی طرح تسبیح و تقدیس ہی غذا کا کام دے گی۔

اور حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ کئی کئی دن کا صوم وصال رکھتے اور یہ فرماتے ايكم مثلى انى ابيت يطعمنى ربى و يسقينى تم میں کون شخص میری مثل ہے کہ جو صوم وصال میں میری برابری کرے۔ میرا پروردگار مجھے غیب سے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے یہ غیبی طعام میری غذا ہے معلوم ہوا کہ طعام و شراب عام ہے خواہ حسی ہو یا غیبی ہو۔ لہٰذا وما جعلنهم جسدا لا ياكلون الطعام سے یہ استدلال کرنا کہ جسم عنصری کا بغیر طعام و شراب کے زندہ رہنا ناممکن ہے غلط ہے۔ اس لیے کہ طعام و شراب عام ہے کہ خواہ حسی ہو یا معنوی۔ حضرت آدم علیہ السلام اکل شجرہ سے پہلے جنت میں ملائیکہ کی طرح زندگی بسر فرماتے تھے۔ تسبیح و تہلیل ہی ان کا ذکر تھا۔ پس کیا حضرت مسیح جو کہ نفقہ جبرئیل سے پیدا ہونے کی وجہ سے جبرئیل امین کی طرح تسبیح و تہلیل سے زندگی بسر نہیں فرما سکتے كما قال تعالیٰ ان مثل عيسىٰ عند اللہ كمثل ادم کیا اصحاب کہف کا تین سو نو سال تک بغیر کھائے اور پیئے زندہ رہنا اور حضرت یونس علیہ السلام کا شکم ماہی میں بغیر کھائے پیئے زندہ رہنا قرآن کریم میں صراحۃً مذکور نہیں؟ اور حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں حق تعالیٰ کا ارشاد فلولا انه كان من المسبحين للبث فى بطنه الى يوم يبعثون O اس پر صاف دلالت کرتا ہے کہ یونس علیہ السلام اگر مسبحین

صفحہ ١٧٢

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

میں سے نہ ہوتے تو اسی طرح قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ٹھہرے رہتے۔ اور بغیر کھائے اور پیئے زندہ رہتے۔

رہا ملحدین کا یہ سوال کہ زمین سے لے کر آسمان تک کی طویل مسافت کا چند لمحوں میں طے کر لینا کیسے ممکن ہے؟

سو جواب یہ ہے کہ حکمائے جدید لکھتے ہیں کہ نور ایک منٹ میں ایک کروڑ بیس لاکھ میل کی مسافت طے کرتا ہے۔ بجلی ایک منٹ میں پانچ سو مرتبہ زمین کے گرد گھوم سکتی ہے۔ اور بعض ستارے ایک ساعت میں آٹھ لاکھ اسی ہزار میل حرکت کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں انسان جس وقت نظر اٹھا کر دیکھتا ہے تو حرکت شعاعی اس قدر سریع ہوتی ہے کہ ایک ہی آن میں آسمان تک پہنچ جاتی ہے اگر یہ آسمان حائل نہ ہوتا تو اور دور تک وصول ممکن تھا۔ نیز جس وقت آفتاب طلوع کرتا ہے تو نور شمس ایک ہی آن میں تمام کرۂ ارضی پر پھیل جاتا ہے حالانکہ سطح ارضی ٢٠٣٦٣٦٣٦ فرسخ ہے جیسا کہ سبع شداد ص ٤٠ پر مذکور ہے اور ایک فرسخ تین میل کا ہوتا ہے لہٰذا مجموعہ ٦١٠٩٠٩٠٨ کروڑ میل ہوا۔ حکمائے قدیم کہتے ہیں کہ جتنی دیر میں جرم شمس بتمامہ طلوع کرتا ہے اتنی دیر میں فلک اعظم کی حرکت ٥١٩٦٠٠ لاکھ فرسخ ہوتی ہے اور ہر فرسخ چونکہ تین میل کا ہوتا ہے لہٰذا مجموعہ مسافت ١٥٥٨٨٠٠ لاکھ میل ہوئی۔ نیز شیاطین اور جنات کا شرق سے لے کر غرب تک آن واحد میں اس قدر طویل مسافت کا طے کر لینا ممکن ہے تو کیا خداوند عالم اور قادر مطلق کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ کسی خاص بندے کو چند لمحوں میں اس قدر طویل مسافت طے کرا دے۔ آصف بن برخیا کا مہینوں کی مسافت سے بلقیس کا تخت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں پلک جھپکنے سے پہلے پہلے حاضر کر دینا قرآن کریم میں مصرح ہے ۔ کما قال تعالیٰ و قال الذی عندہ علم من الکتب انا اتیک بہ قبل ان یرتد الیک طرفک فلما راہ مستقرا عندہ قال ھذا من فضل ربی۔ اسی طرح سلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا کا مسخر ہونا بھی قرآن کریم میں مذکور ہے کہ وہ ہوا سلیمان علیہ السلام کے تخت کو جہاں چاہے اڑا کر لے جاتی اور مہینوں کی مسافت

صفحہ ١٧٣

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

گھنٹوں میں طے کرتی کما قال تعالیٰ وسخرنالہ الریح تجری بامرہ آج کل کے ملحدین فی گھنٹہ تین سو میل کی مسافت طے کرنے والے ہوائی جہاز پر تو ایمان لے آئے ہیں مگر نہ معلوم سلیمان علیہ السلام کے تخت پر بھی ایمان لاتے ہیں یا نہیں۔ ہوائی جہاز بندہ کی بنائی ہوئی مشین سے اڑتا ہے اور سلیمانؑ کے تخت کو ہوا بحکم خداوندی اڑا کر لے جاتی تھی کسی بندہ کے عمل اور صنعت کو اس میں دخل نہ تھا اس لیے وہ معجزہ تھا اور ہوائی جہاز معجزہ نہیں۔

(مرزا صاحب ازالۃ الاوہام ص ٤٧ ج ١ روحانی خزائن ص ١٢٦ ج ٣)

”پر لکھتے ہیں کہ کسی جسد عنصری کا آسمان پر جانا سراسر محال ہے۔ اس لیے کہ ایک جسم عنصری طبقہ ناریہ اور کرہ زمہریریہ سے کس طرح صحیح و سالم گزر سکتا ہے“

جواب یہ ہے کہ جس طرح نبی کریم علیہ الصلوۃ و التسلیم کا لیلۃ المعراج میں اور ملائکۃ اللہ کا لیل و نہار طبقہ ناریہ اور کرہ زمہریریہ سے مرور عبور ممکن ہے اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی عبور و مرور ممکن ہے اور جس راہ سے حضرت آدم علیہ السلام کا ہبوط اور نزول ہوا ہے اسی راہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہبوط و نزول بھی ممکن ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر آسمان سے مائدہ کا نازل ہونا قرآن کریم میں صراحۃً مذکور ہے کما قال تعالیٰ اذ قال الحواریون یعیسیٰ بن مریم ھل یستطیع ربک ان ینزل علینا مائدۃ من السماء (الی قولہ تعالیٰ) قال عیسیٰ بن مریم اللھم ربنا انزل علینا مائدۃ من السماء تکون لنا عیدا لاولنا واخرنا وایۃ منک وارزقنا وانت خیر الرازقین ○ قال اللہ انی منزلھا علیکم پس اس مائدہ کا نزول بھی طبقہ ناریہ میں ہو کر ہوا ہے۔ مرزا صاحب کے زعم فاسد اور خیال باطل کی بنا پر اگر وہ نازل ہوا ہو گا تو طبقہ ناریہ کی حرارت اور گرمی سے جل کر خاکستر ہو گیا ہو گا۔ نعوذ باللہ من ھذہ الخرافات یہ سب شیاطین الانس کے وسوسے ہیں اور انبیاء و مرسلین کی آیات نبوت اور کرامات رسالت پر ایمان نہ لانے کے بہانے ہیں۔ کیا خداوند ذوالجلال عیسیٰ علیہ السلام کے

صفحہ ١٧٤

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

لیے طبقہ ناریہ کو ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرح برد اور سلام نہیں بنا سکتا؟ جب کہ اس کی شان یہ ہے:

انما امرہ اذ اراد شیاً ان یقول لہ کن فیکون فسبحان ذی الملک الملکوت والعزة الجبروت امنت باللہ وکفرت بالطاغوت

حیات عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی

پہلی دلیل

قال اللہ عزوجل

فبما نقضهم میثاقهم و کفرهم بایت اللہ و قتلهم الانبیاء بغیر حق و قولهم قلوبنا غلف بل طبع اللہ علیها بکفرهم فلا یومنون الا قلیلاً O وبکفرهم و قولهم علی مریم بهتاناً عظیماً و قولهم انا قتلنا المسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ و ماقتلوه و ما صلبوه ولکن شبه لهم و ان الذین اختلفوا فیه لفی شک منه مالهم به من علم الا اتباع الظن و ماقتلوه یقیناً بل رفعه اللہ الیه و کان اللہ عزیزاً حکیماً O

ربط

حق جل شانہ نے ان آیات شریفہ میں یہود بے بہبود کے ملعون اور مغضوب اور مطرود و مردود ہونے کے کچھ وجوہ و اسباب ذکر کیے ہیں۔

چنانچہ فرماتے ہیں کہ پس ہم نے یہود کو متعدد وجوہ کی بنا پر مورد لعنت و غضب بنایا۔ (١) نقض عہد اور میثاق کی وجہ سے (٢) اور آیات الہیہ اور احکام خداوندیہ کی تکذیب اور انکار کی وجہ سے (٣) اور خدا کے پیغمبروں کو بے وجہ محض عناد اور دشمنی کی بنا پر قتل کرنے کی وجہ سے (٤) اور اس قسم کے متکبرانہ

صفحہ ١٧٥

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

کلمات کی وجہ سے کہ مثلاً ہمارے قلوب علم اور حکمت کے ظرف ہیں ہمیں تمہاری ہدایت اور ارشاد کی ضرورت نہیں۔ حالانکہ ان کے قلوب علم اور حکمت اور رشد و ہدایت سے بالکل خالی ہیں بلکہ اللہ نے ان کے عناد اور تکبر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے جس کی وجہ سے قلوب میں جہالت اور ضلالت بند ہے اوپر سے مہر لگی ہوئی ہے اندر کا کفر باہر نہیں آسکتا اور باہر سے کوئی رشد اور ہدایت کا اثر اندر نہیں داخل ہو سکتا۔ پس اس گروہ میں سے کوئی ایمان لانے والا نہیں مگر کوئی شاذ و نادر جیسے عبداللہ بن سلام اور ان کے رفقاء (٥) اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کفر و عداوت کی وجہ سے (٦) اور حضرت مریم پر عظیم بہتان لگانے کی وجہ سے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اہانت اور تکذیب کو بھی مستلزم ہے۔ اہانت تو اس لیے کہ کسی کی ماں کو زانیہ اور بدکار کہنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ شخص ولد الزنا ہے اور العیاذ باللہ نبی کے حق میں ایسا تصور بھی بدترین کفر ہے۔ اور تکذیب اس طرح لازم آتی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزہ سے حضرت مریم کی برات اور نزاہت ظاہر ہو چکی ہے اور تہمت لگانا برات اور نزاہت کا صاف انکار کرنا ہے۔ (٧) اور ان کے اس قول کی وجہ سے کہ جو بطور تفاخر کہتے تھے کہ ہم نے مسیح بن مریم جو رسول اللہ ہونے کے مدعی تھے ان کو قتل کر ڈالا۔ نبی کا قتل کرنا بھی کفر ہے بلکہ ارادہ قتل بھی کفر ہے اور پھر اس قتل پر فخر کرنا یہ اس سے بڑھ کر کفر ہے اور حالاں کہ ان کا یہ قول کہ ہم نے مسیح بن مریم کو قتل کر ڈالا بالکل غلط ہے ان لوگوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ سولی چڑھایا لیکن ان کو اشتباہ ہو گیا اور جو لوگ حضرت مسیح کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ سب شک اور تردد میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے پاس کسی قسم کا کوئی صحیح علم اور صحیح معرفت نہیں سوائے گمان کی پیروی کے کچھ بھی نہیں۔ خوب سمجھ لیں کہ یہ امر قطعی اور یقینی ہے کہ حضرت مسیح کو کسی نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف یعنی آسمان پر اٹھا لیا اور ایک اور شخص کو حضرت عیسیٰ کا شبیہ اور ہم شکل بنا دیا اور حضرت عیسیٰ سمجھ کر اسی کو قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا اور اسی وجہ سے یہود کو اشتباہ ہوا اور پھر اس

صفحہ ١٧٦

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

اشتباہ کی وجہ سے اختلاف ہوا اور یہ سب اللہ کی قدرت اور حکمت سے کوئی بعید نہیں، بے شک اللہ تعالیٰ بڑے غالب اور حکمت والے ہیں کہ اپنی قدرت اور حکمت سے اپنے نبی کو دشمنوں سے بچا لیا اور زندہ آسمان پر اٹھایا اور ان کی جگہ ایک شخص کو ان کے ہم شکل بنا کر قتل کرایا اور تمام قاتلین کو قیامت تک اشتباہ اور اختلاف میں ڈال دیا۔

تفصیل

امید واثق ہے کہ ناظرین اس اجمالی تفسیر سے سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ آیات شریفہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمی میں نص صریح ہیں۔ اب ہم کسی قدر تفصیل کرنا چاہتے ہیں تاکہ طالبان حق کی بفضل خدا پوری تشفی اور تسلی ہو جائے ورنہ ہم کیا اور ہماری مجال کیا‘ اور ہم کیا اور ہماری تحریر کیا کہ جس سے تسلی اور تشفی کر سکیں لاحول ولا قوۃ الا باللہ قلوب اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں جس طرح چاہے اور جدھر چاہے دلوں کو پلٹتا اور پھیرتا ہے۔ اسی کی توفیق سے لکھ رہا ہوں اور اسی کی توفیق سے اپنے لیے اور ناظرین کرام کے لیے اسی کی توفیق اور دست گیری کی امید رکھتا ہوں اور اسی کی اعانت اور تائید سے ناظرین اور قارئین کی تعلیم و تفہیم کے لیے چند امور ذکر کرتا ہوں۔

(١)

ان آیات میں یہود بے بہود پر لعنت کے اسباب کو ذکر فرمایا ہے۔ ان میں ایک سبب یہ ہے وقولہم علے مریم بہتانا عظیما یعنی حضرت مریم پر طوفان اور بہتان لگانا۔ اس طوفان اور بہتان عظیم میں مرزا صاحب کا قدم یہود سے کہیں آگے ہے۔ مرزا صاحب نے اپنی کتابوں میں حضرت مریم پر جو بہتان کا طوفان برپا کیا ہے یہود کی کتابوں میں اس کا چالیسواں حصہ بھی نہ ملے گا۔ مرزا صاحب کی عبارتیں نقل کرنے کی ضرورت نہیں عیاں را چہ بیان ہم سے تو مرزا صاحب کی وہ عبارتیں پڑھی بھی نہیں جاتیں اور مرزائیوں کو تو قرآن کی طرح یاد

صفحہ ١٧٧

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

ہیں بلکہ کچھ اس سے بھی بڑھ کر، اس لیے ان کے نقل کی ضرورت نہیں۔

(٢)

آیات کا سیاق و سباق بلکہ سارا قرآن روز روشن کی طرح اس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ یہود بے بہبود کی ملعونیت اور مغضوبیت کا اصل سبب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عداوت اور دشمنی ہے۔ مرزا صاحب اور مرزائی جماعت کی زبان اور قلم سے حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے بغض اور عداوت کا جو منظر دنیا نے دیکھا ہے وہ یہود کے وہم و گمان سے بالا اور برتر ہے۔ مرزا صاحب کے لفظ لفظ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دشمنی ٹپکتی ہے۔

قد بدت البغضاء من افواههم وما تخفى صدورهم اكبر ط ترجمہ = انتہائی بغض اور عداوت خود بخود ان کے منہ سے ظاہر ہو رہی ہے اور جو عداوت ان کے سینوں میں مخفی اور پوشیدہ ہے وہ تمہارے خواب و خیال سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

مرزا صاحب نے نصاریٰ کے الزام کے بہانہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں اپنے دل کی عداوت دل کھول کر نکالی جس کے تصور سے بھی کلیجہ شق ہوتا ہے۔

(٣)

پہلی آیت میں وقتلهم الانبیاء بغیر حق فرمایا۔ یعنی انبیاء کو قتل کرنے کی وجہ سے ملعون اور مغضوب ہوئے اور اس آیت میں وقولهم انا قتلنا المسیح فرمایا۔ یعنی اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح کو قتل کر ڈالا۔ معلوم ہوا کہ محض قول ہی قول ہے اور قتل کا محض زبانی دعویٰ ہے۔ اگر دیگر انبیاء کی طرح حضرت مسیح واقع میں مقتول ہوئے تھے تو جس طرح پہلی آیت میں وقتلهم الانبیاء فرمایا تھا اسی طرح اس آیت میں وقتلهم وصلبهم المسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ فرماتے۔ پہلی آیت میں لعنت کا سبب قتل انبیاء ذکر فرمایا اور دوسری

صفحہ ١٧٨

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

آیت میں لعنت کا یہ سبب ان کا ایک قول بتلایا۔ یعنی ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کر ڈالا۔ معلوم ہوا کہ جو شخص یہ کہے کہ مسیح بن مریم مقتول اور مصلوب ہوئے وہ شخص بلاشبہ ملعون اور مغضوب ہے۔ نیز اس آیت میں حضرت مسیح کے دعویٰ قتل کو بیان کر کے بل رفعہ اللہ فرمایا اور انبیا سابقین کے قتل کو بیان کر کے بل رفعہم اللہ نہیں فرمایا۔ حالانکہ قتل کے بعد ان کی ارواح طیبہ آسمان پر اٹھالی گئیں۔

(٤)

اس مقام پر حق جل شانہ نے دو لفظ استعمال فرمائے۔ ایک ما قتلوہ جس میں قتل کی نفی فرمائی۔ دوسرا وما صلبوہ جس میں صلیب پر چڑھائے جانے کی نفی فرمائی۔ اس لیے کہ اگر فقط وما قتلوہ فرماتے تو یہ احتمال رہ جاتا کہ ممکن ہے قتل نہ کیے گئے ہوں لیکن صلیب پر چڑھائے گئے ہوں۔ اور علیٰ ہذا اگر فقط وما صلبوہ فرماتے تو یہ احتمال رہ جاتا کہ ممکن ہے صلیب تو نہ دیے گئے ہوں لیکن قتل کر دیے گئے ہوں۔ علاوہ ازیں بعض مرتبہ یہود ایسا بھی کرتے تھے کہ اول قتل کرتے اور پھر صلیب پر چڑھاتے۔ اس لیے حق تعالیٰ شانہ نے قتل اور صلیب کو علیحدہ علیحدہ ذکر فرمایا اور پھر ایک حرف نفی پر اکتفا نہ فرمایا یعنی وما قتلوہ و صلبوہ نہیں فرمایا ہے ایک حرف نفی یعنی کلمہ ”ما“ کو قتلوا اور صلبوا کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ذکر فرمایا اور پھر ما قتلوہ اور پھر ما صلبوہ فرمایا کہ ہر ایک کی نفی اور ہر ایک کا جداگانہ مستقلاً رد ہو جائے اور خوب واضح ہو جائے کہ ہلاکت کی کوئی صورت ہی پیش نہیں آئی نہ مقتول ہوئے اور نہ مصلوب ہوئے اور نہ قتل کر کے صلیب پر لٹکائے گئے۔ دشمنوں نے ایڑی چوٹی کا سارا زور ختم کر دیا مگر سب بے کار گیا۔ قادر توانا جس کو بچانا چاہے اسے کون ہلاک کر سکتا ہے۔

کہ زور آورد گر تو یاری دہی
کہ گیرد چو تو رستگاری دہی
صفحہ ١٧٩

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

مرزائی جماعت کا یہ خیال ہے کہ اس آیت میں مطلق قتل اور صلب کی نفی مراد نہیں بلکہ ذلت اور لعنت کی موت کی نفی مراد ہے۔

جواب یہ ہے کہ یہ محض وسوسہ شیطانی ہے جس پر کوئی دلیل نہیں۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ یہود کے خیال کی تردید ہے تو تب بھی آیت میں یہود کا پورا رد ہے۔ اس لیے کہ یہود کا گمان یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام العیاذ باللہ جھوٹے نبی ہیں اور جھوٹا نبی ضرور قتل ہوتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ وہ قتل بھی نہیں کیے گئے اور نہ صلیب پر چڑھائے گئے اس لیے کہ وہ خدا کے سچے نبی تھے۔ علاوہ ازیں اگر یہود کے اس عزم کی رعایت کی جائے تو وقتلهم الانبیاء بغیر حق اور یقتلون النبیین کے یہ معنی ہونے چاہیں کہ معاذ اللہ وہ انبیاء ذلت اور لعنت کی موت مرے۔

كبرت كلمة تخرج من افواههم ان يقولون الا كذبا O

(٥)

ولكن شبه لهم

یعنی ان کے لیے اشتباہ پیدا کر دیا گیا یا شبہ کی ضمیر حضرت مسیح کی طرف راجع کرو اور اس طرح ترجمہ کرو کہ عیسیٰ علیہ السلام کا ایک شبیہ اور ہم شکل ان کے سامنے کر دیا گیا تاکہ عیسیٰ سمجھ کر اس کو قتل کریں اور ہمیشہ کے لیے اشتباہ اور التباس میں پڑ جائیں۔ حضرت شاہ عبدالقادرؒ اس طرح ترجمہ فرماتے ہیں لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے۔ یہ ترجمہ اسی اشتباہ کی تفسیر ہے یعنی اس صورت سے وہ اشتباہ اور التباس میں پڑ گئے۔

ابن عباسؓ سے باسناد صحیح منقول ہے کہ جب یہودیوں نے حضرت مسیحؑ کے قتل کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کو مکان کے ایک دریچہ سے آسمان پر اٹھا لیا اور ان ہی میں سے ایک شخص کو عیسیٰ علیہ السلام کے ہم شکل اور مشابہ بنا دیا۔ یہودیوں نے اس کو عیسیٰ سمجھ کر قتل کر دیا اور بہت خوش ہوئے کہ ہم اپنے

صفحہ ١٨٠

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

مدعا میں کامیاب ہو گئے۔ چنانچہ حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:

قال ابن ابی حاتم حدثنا احمد بن سنان حدثنا ابو معویة عن الاعمش عن المنهال بن عمرو عن سعید بن جبیر عن ابن عباسؓ قال لما اراد اللّٰه ان یرفع عیسیٰ الی السماء خرج علی اصحابه و فی البیت اثنا عشر رجلاً من الحواریین یعنی فخرج علیهم من عین فی البیت وراسه یقطر ماءً فقال ان منکم من یکفر بی اثنی عشر مرة بعد ان امن بی قال ایکم یلقی علیه شبهی فیقتل مکانی و یکون معی فی درجتی فقام شاب من احدثهم سناً فقال له اجلس ثم اعاد علیهم فقام ذٰلک الشاب فقال انا فقال هو انت ذاک فالقی علیه شبه عیسیٰ و رفع عیسیٰ من روزنة فی البیت الی السماء قال وجاء الطلب من الیهود فاخذوا الشبه فقتلوه ثم صلبوه الی آخر القصة وهٰذا اسناد صحیح الی ابن عباس ورواه النسائی عن ابی کریب عن ابی معویة وکذا ذکر غیر واحد من السلف انه قال لهم ایکم یلقی شبهی فیقتل مکانی و هو رفیقی فی الجنة

(تفسیر ابن کثیر ص ٢٢٨ ج ٣)

ترجمہ = ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ جب حق تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھانے کا ارادہ فرمایا تو عیسیٰ علیہ السلام اس چشمہ سے کہ جو مکان میں تھا غسل فرما کر باہر تشریف لائے اور سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے (بظاہر یہ غسل آسمان پر جانے کے لیے تھا جیسے مسجد میں آنے سے پہلے وضو کرتے ہیں) باہر مجلس میں بارہ حواریین موجود تھے۔ ان کو دیکھ کر یہ ارشاد فرمایا کہ بے شک تم میں سے ایک شخص مجھ پر ایمان لانے کے بعد بارہ مرتبہ کفر کرے گا بعد ازاں فرمایا کہ کون شخص تم میں سے اس پر راضی ہے کہ اس پر میری شباہت ڈال دی جائے اور

صفحہ ١٨١

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

وہ میری جگہ قتل کیا جائے اور میرے درجہ میں میرے ساتھ رہے یہ سنتے ہی ایک نوجوان کھڑا ہوا اور اپنے کو اس جاں نثاری کے لیے پیش کیا۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا بیٹھ جا۔ اور پھر عیسیٰ علیہ السلام نے اسی سابق کلام کا اعادہ فرمایا، پھر وہی نوجوان کھڑا ہوا اور عرض کیا، میں حاضر ہوں۔

نشود نصیب دشمن کہ شود ہلاک تیغت
سر دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی

عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اچھا تو ہی وہ شخص ہے؟ اس کے فوراً ہی بعد اس نوجوان پر عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی اور عیسیٰ علیہ السلام مکان کے روشندان سے آسمان پر اٹھا لیے گئے۔ بعد ازاں یہود کے پیادے عیسیٰ علیہ السلام کی گرفتاری کے لیے گھر میں داخل ہوئے اور اس شبیہ کو ’عیسیٰ‘ سمجھ کر گرفتار کیا اور قتل کر کے صلیب پر لٹکایا۔

ابن کثیر فرماتے ہیں کہ سند اس کی صحیح ہے اور بہت سے سلف سے اسی طرح مروی ہے۔

اس روایت سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے رفع الی السماء کا بذریعہ وحی پہلے ہی علم ہو چکا تھا اور یہ علم تھا کہ اب آسمان پر جانے کا تھوڑا ہی وقت باقی رہ گیا ہے اور بظاہر یہ غسل آسمان پر جانے کے لیے تھا جیسا کہ عید میں جانے کے لیے غسل ہوتا ہے۔ میرا گمان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت ذرہ برابر مضطرب اور پریشان نہ تھے بلکہ غایت درجہ سکون اور اطمینان میں تھے بلکہ نہایت درجہ شادان و فرحاں تھے۔

خرم آں روز کزیں منزل ویراں بروم
راحت جاں طلبم وز پئے جاناں بروم

بعض روایات میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے رفع الی السماء سے پہلے حواریین کی دعوت فرمائی اور خود اپنے دست مبارک سے ان کے ہاتھ دھلائے اور بجائے رومال کے اپنے جسم مبارک کے کپڑوں سے ان کے ہاتھ پونچھے۔

صفحہ ١٨٢

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

(یہ روایت تفسیر ابن کثیر ص ٢٢٩ ج ٣ پر ہے۔)

گویا کہ یہ دعوت رفع الی السماء کا ولیمہ اور رخصتانہ تھا اور احباب و اصحاب کی الوداعی دعوت تھی۔ الغرض غسل فرما کر برآمد ہونا اور احباب کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانا یہ سب آسمان پر جانے کی تیاری تھی۔ جب فارغ ہو گئے تو اپنے ایک عاشق جاں نثار پر اپنی شباہت ڈال کر روح القدس کی معیت میں معراج کے لیے آسمان کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ رفع الی السماء حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معراج جسمانی تھی جس طرح نبی اکرم ﷺ جبرائیل امین کی معیت میں آسمانوں کی معراج کے لیے روانہ ہوئے اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت جبرئیل کی معیت میں معراج کے لیے آسمان پر روانہ ہوئے۔

فائدہ

صحیح مسلم میں نواس بن سمعان کی حدیث میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جب دمشق کے منارۂ شرقیہ پر اتریں گے تو سر مبارک سے پانی ٹپکتا ہوا ہو گا۔ سبحان اللہ جس وقت آسمان پر تشریف لے گئے اس وقت بھی سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور جس وقت قیامت کے قریب آسمان سے اتریں گے اس وقت بھی سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپکتے ہوئے ہوں گے۔ جس شان سے تشریف لے گئے تھے اسی شان سے تشریف آوری ہو گی۔

تنبیہ

سلف میں اس کا اختلاف ہے کہ جس شخص پر عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈالی گئی وہ یہودی تھا یا منافق عیسائی یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مخلص حواری۔ گزشتہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص مومن مخلص تھا۔ اس لیے کہ اسی روایت میں یہ بھی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ جس پر میری شباہت ڈالی جائے گی وہ جنت میں میرا رفیق ہو گا۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔

ایک شبہ کا ازالہ

صفحہ ١٨٣

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

جس طرح فرشتوں کا بشکل بشر متمثل ہونا اور موسی علیہ السلام کے عصا کا اژدہا بن جانا قرآن کریم میں منصوص ہے اور انبیاء کرام کے لیے پانی کا شراب اور زیتون بن جانا نصاریٰ کے نزدیک مسلم ہے۔ پس اسی طرح اگر کسی شخص کو عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ اور ہم شکل بنا دیا جائے تو کیا استبعاد ہے؟ احیاء موتیٰ کا معجزہ القاء شبیہ کے معجزہ سے کہیں زیادہ بلند تھا لہٰذا احیاء موتیٰ کی طرح القاء شبیہ کے معجزہ کو بھی بلاشبہ اور بلاتردد تسلیم کرنا چاہیے۔

بل رفعه الله اليه

یعنی یہودی حضرت مسیح کو نہ قتل کر سکے اور نہ صلیب دے سکے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل کے ذریعہ سے حضرت عیسیٰ کو اپنی طرف یعنی آسمان پر اٹھا لیا۔ جیسا کہ امام رازی نے وایدناہ بروح القدس کی تفسیر میں ذکر کیا ہے کہ حضرت جبرئیل کو حضرت عیسیٰ کے ساتھ خاص خصوصیت تھی کہ انہیں کے نفخہ سے پیدا ہوئے، انہیں کی تربیت میں رہے، اور وہی ان کو آسمان پر چڑھا کر لے گئے۔

(تفسیر کبیر ص ٤٣٦ ج ١)

جیسا کہ شب معراج میں حضرت جبرئیل آں حضرت ﷺ کا ہاتھ پکڑ کر آسمان پر لے گئے۔ صحیح البخاری میں ہے ثم اخذ بیدی فعرج بی الی السماء یہ آیت رفع جسمی کے بارے میں نص صریح ہے کہ حق جل شانہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اسی جسد عنصری کے ساتھ زندہ اور صحیح اور سالم آسمان پر اٹھا لیا۔ اب ہم اس کے دلائل اور براہین ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔ غور سے پڑھیں:

یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ بل رفعہ اللہ کی ضمیر اسی طرف راجع ہے کہ جس طرف قتلوہ اور صلبوہ کی ضمیریں راجع ہیں اور ظاہر ہے کہ قتلوہ اور صلبوہ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم مبارک اور جسد مطہر کی طرف

صفحہ ١٨٤

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

راجح ہیں۔ روح بلا جسم کی طرف راجع نہیں۔ اس لیے کہ قتل کرنا اور صلیب پر چڑھانا جسم ہی کا ممکن ہے۔ روح کا قتل اور صلیب قطعاً ناممکن ہے۔ لہٰذا بل رفعہ کی ضمیر اسی جسم کی طرف راجع ہو گی جس جسم کی طرف قتلوہ اور صلبوہ کی ضمیریں راجع ہیں۔

(٢)

دوم یہ کہ یہود روح کے قتل کے مدعی نہ تھے بلکہ جسم کے قتل کے مدعی تھے اور بل رفعہ اللہ الیہ سے اس کی تردید کی گئی ہے۔ لہٰذا بل رفعہ میں رفع جسم ہی مراد ہو گا اس لیے کہ کلمہ بل کلام عرب میں ماقبل کے ابطال کے لیے آتا ہے۔ لہٰذا بل کے ماقبل اور مابعد میں منافات اور تضاد کا ہونا ضروری ہے جیسا کہ وقالوا اتخذ الرحمٰن ولداً سبحٰنہ بل عباد مکرمون ولدیت اور عبودیت میں منافات ہے دونوں جمع نہیں ہو سکتے ام یقولون بہ جنۃ بل جاء ھم بالحق مجنونیت اور اتیان بالحق (یعنی من جانب اللہ حق کو لے کر آنا) یہ دونوں متضاد اور متنافی ہیں یک جا جمع نہیں ہو سکتے۔ یہ ناممکن ہے کہ شریعت حقہ لانے والا مجنون ہو۔ اسی طرح اس آیت میں یہ ضروری ہے کہ مقتولیت اور مصلوبیت جو بل کا ماقبل ہیں وہ مرفوعیت الی اللہ کے منافی ہو جو بل کا مابعد ہے اور ان دونوں کا وجود اور تحقق میں جمع ہونا ناممکن ہے اور ظاہر ہے کہ مقتولیت اور روحانی رفع بمعنی موت میں کوئی منافات نہیں محض روح کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا قتل جسمانی کے ساتھ جمع ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ شہداء کا جسم تو قتل ہو جاتا ہے اور روح آسمان پر اٹھا لی جاتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہوا کہ بل رفعہ اللہ میں رفع جسمانی مراد ہو کہ جو قتل اور صلب کے منافی ہے اس لیے کہ رفع روحانی، اور رفع عزت اور رفعت شان قتل اور صلب کے منافی نہیں بلکہ جس قدر قتل اور صلب ظلماً ہو گا اسی قدر عزت اور رفعت شان میں اضافہ ہو گا۔ اور درجات اور زیادہ بلند ہوں گے۔ رفع درجات کے لیے تو موت اور قتل کچھ بھی شرط نہیں۔ رفع درجات زندہ کو بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔ کما قال

صفحہ ١٨٥

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

تعالیٰ ورفعنالک ذکرک O اور یرفع اللہ الذین امنوا منکم والذین اوتوا لعلم درجت

یہود حضرت مسیح علیہ السلام کے جسم کے قتل اور صلب کے مدعی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ابطال کے لیے بل رفعہ اللہ فرمایا۔ یعنی تم غلط کہتے ہو کہ تم نے اس کے جسم کو قتل کیا، یا صلیب پر چڑھایا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے جسم کو صحیح و سالم آسمان پر اٹھا لیا۔ نیز اگر رفع سے رفع روح بمعنی موت مراد ہے تو قتل اور صلب کی نفی سے کیا فائدہ؟ قتل اور صلب سے غرض موت ہی ہوتی ہے اور بل اضرابیہ کے بعد کو بصیغہ ماضی لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ رفع الی السماء باعتبار ماقبل کے امر ماضی ہے۔ یعنی تمہارے قتل اور صلب سے پہلے ہی ہم نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا۔ جیسا کہ بل جاءہم بالحق میں صیغہ ماضی اس لیے لایا گیا کہ یہ بتلا دیا جائے کہ آپ ﷺ کا حق کو لے کر آنا کفار کے مجنون کہنے سے پہلے ہی واقع ہو چکا ہے۔ اسی طرح بل رفعہ اللہ بصیغہ ماضی لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ رفع الی السماء ان کے مزعوم اور خیالی قتل اور صلب سے پہلے ہی واقع ہو چکا ہے۔

(٣)

جس جگہ لفظ رفع کا مفعول یا متعلق جسمانی شے ہو گی تو اس جگہ یقیناً جسم کا رفع مراد ہو گا۔ اور اگر رفع کا مفعول اور متعلق درجہ یا منزلہ یا مرتبہ یا امر معنوی ہو تو اس وقت رفع مرتبت اور بلندی رتبہ کے معنی مراد ہوں گے۔ کما قال تعالیٰ ورفعنا فوقکم الطور اٹھایا ہم نے تم پر کوہ طور اللہ الذی رفع السمٰوات بغیر عمد ترونھا اللہ ہی نے بلند کیا آسمانوں کو بغیر ستونوں کے جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔ واذ یرفع ابرھیم القواعد من البیت واسمعیل یاد کرو اس وقت کو کہ جب ابراہیم بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے اور اسمعیل ان کے ساتھ تھے۔ ورفع ابویہ علی العرش یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو تخت کے اوپر

صفحہ ١٨٦

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

بٹھایا۔ ان تمام مواقع میں لفظ رفع اجسام میں مستعمل ہوا ہے اور ہر جگہ رفع جسمانی مراد ہے اور ورفعنالک ذکرک ہم نے آپ کا ذکر بلند کیا اور رفعنا بعضھم فوق بعض درجٰت ہم نے بعض کو بعض پر درجہ اور مرتبہ کے اعتبار سے بلند کیا۔ اس قسم کے مواقع میں رفعت شان اور بلندی رتبہ مراد ہے۔ اس لیے کہ رفع کے ساتھ خود ذکر اور درجہ کی قید مذکور ہے۔

ایک حدیث میں ہے اذا تواضع العبد رفعه الله الى السماء السابعة رواہ الخرائطی فی مکارم الاخلاق ....... جب بندہ تواضع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ساتویں آسمان پر اٹھا لیتے ہیں۔

”اس حدیث کو خرائطی نے اپنی کتاب مکارم الاخلاق میں ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے کنز العمال

ص ١٢٥ ج ٢)

اس روایت کو مرزائی بہت خوش ہو کر بطور اعتراض پیش کیا کرتے ہیں کہ رفع کا مفعول جسمانی شے ہے اور الی السماء کی بھی تصریح ہے۔ مگر باوجود اس کے رفع سے رفع جسمی مراد نہیں بلکہ رفع معنوی مراد ہے۔

جواب

یہ ہے کہ یہاں مجاز کے لیے قرینہ عقلیہ قطعیہ موجود ہے کہ یہ زندہ کے حق میں ہے یعنی جو بندہ لوگوں کے سامنے زمین پر چلتا ہے اور تواضع کرتا ہے تو اس کا مرتبہ اور درجہ اللہ کے یہاں ساتویں آسمان کے برابر بلند اور اونچا ہے ظاہر ہے کہ یہاں رفع جسم مراد نہیں بلکہ رفع درجات مراد ہے۔ غرض یہ کہ رفع کے معنی بلندی رتبہ مجازاً بوجہ قرینہ عقلیہ لیے گئے اور اگر کسی کم عقل کی سمجھ میں یہ قرینہ عقلیہ نہ آئے تو اس کے لیے قرینہ لفظیہ بھی موجود ہے۔ وہ یہ کہ کنز العمال میں روایت مذکورہ کے بعد ہی علی الاتصال یہ روایت مذکور ہے من یتواضع لله درجة يرفعه الله درجة حتى يجعله في عليين یعنی جس درجہ کی تواضع کرے گا اسی کے مناسب اللہ اس کا درجہ بلند فرمائیں گے یہاں تک کہ جب وہ تواضع کے

صفحہ ١٨٧

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

آخری درجہ پر پہنچ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو علیین میں جگہ دیں گے جو علو اور رفعت کا آخری مقام ہے۔ اس حدیث میں صراحۃ ”لفظ درجہ“ مذکور ہے اور قاعدہ مسلمہ ہے الحدیث یفسر بعضہ بعضا ایک حدیث دوسری حدیث کی تفسیر اور شرح کرتی ہے۔

خلاصہ کلام

یہ کہ رفع کے معنی اٹھانے اور اوپر لے جانے کے ہیں۔ لیکن وہ رفع کبھی اجسام کا ہوتا ہے اور کبھی معانی اور اعراض کا ہوتا ہے اور کبھی اقوال اور افعال کا۔ اور کبھی مرتبہ اور درجہ کا جہاں رفع اجسام کا ذکر ہو گا وہاں رفع جسمی مراد ہو گا۔ اور مثلاً جہاں رفع اعمال اور رفع درجات کا ذکر ہو گا وہاں رفع معنوی مراد ہو گا۔ رفع کے معنی تو اٹھانے اور بلند کرنے ہی کے ہیں۔ باقی جیسی شے ہو گی اس کا رفع اسی کے مناسب ہو گا۔

(٤)

یہ کہ اس آیت کا صریح مفہوم اور مدلول یہ ہے کہ جس وقت یہود نے حضرت مسیح کے قتل اور صلب کا ارادہ کیا تو اس وقت قتل اور صلب نہ ہو سکا بلکہ اس وقت حضرت مسیح کا اللہ کی طرف رفع ہو گیا۔ معلوم ہوا کہ یہ رفع جس کا بل رفعہ اللہ میں ذکر ہے حضرت عیسیٰ کو پہلے سے حاصل نہ تھا بلکہ یہ رفع اس وقت ظہور میں آیا کہ جس وقت یہود ان کے قتل کا ارادہ کر رہے تھے اور وہ رفع جو ان کو اس وقت حاصل ہوا وہ یہ تھا کہ اس وقت بجسدہ العنصری صحیح و سالم آسمان پر اٹھا لیے گئے۔ رفعت شان اور بلندی مرتبہ تو ان کو پہلے ہی سے حاصل تھا اور وجیہا فی الدنیا والاخرۃ ومن المقربین کے لقب سے پہلے ہی سرفراز ہو چکے تھے۔ لہٰذا اس آیت میں وہی رفع مراد ہو سکتا ہے کہ جو ان کو یہود کے ارادہ قتل کے وقت حاصل ہوا یعنی رفع جسمی اور رفع عزت و منزلت اس سے پہلے ہی ان کو حاصل تھا، اس مقام پر اس کا ذکر بالکل بے محل ہے۔

صفحہ ١٨٨

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

(٥)

یہ کہ رفع کا لفظ قرآن کریم میں صرف دو پیغمبروں کے لیے آیا ہے۔ ایک عیسیٰ علیہ السلام اور دوسرے ادریس علیہ السلام کے لیے کما قال تعالیٰ واذکر فی الکتب ادریس انہ کان صدیقاً نبیا ورفعنہ مکانا علیا ◯ اور ادریس علیہ السلام کے رفع جسمانی کا مفصل تذکرہ کتب تفاسیر میں مذکور ہے۔ لہٰذا تمام انبیاء کرام میں انہیں دو پیغمبروں کو رفع کے ساتھ کیوں خاص کیا گیا؟ رفع درجات میں تمام انبیاء شریک ہیں اسی رکوع میں اللہ تعالیٰ نے دوسرے انبیاء کے قتل کو اس طرح بیان فرمایا وقتلہم الانبیاء مگر ان کے ساتھ بل رفعہم اللہ الیہ نہیں فرمایا کیا معاذ اللہ ان انبیاء کے درجات بلند نہیں کیے گئے اور کیا ان حضرات کی ارواح طیبہ آسمان پر نہیں اٹھائی گئیں اور کیا معاذ اللہ یہ سب نبی ذلت کی موت مرے؟

حضرت ادریس علیہ السلام کے رفع الی السماء کا مفصل تذکرہ ذیل کی کتابوں میں ملاحظہ فرمائیں تفسیر روح المعانی ص ١٨٧ ج ٥۔ و خصائص کبریٰ ص ١٦٧ ص ١٦٨ ج ١ ص ١٧٤ ج ١۔ و تفسیر کبیر ص ٥٤٥ ج ٥ و ارشاد الساری ص ٣٧٠ ج ٥ فتح الباری ص ٢٢٥ ج ١٣ و مرقات ص ٢٢٤ ج ٥ و معالم التنزیل ص ٢٧ ج ٣ و فی عمدۃ القاری ص ٣٢٧ ج ٧۔ القول الصحیح بانہ رفع و ہو حی و در منثور ص ٢٤٦ ج ٤ و فی التفسیر ابن جریر ص ٦٣ ج ١٦۔ ان اللہ رفعہ و ہو حیی الی السماء الرابعۃ وفی الفتوحات المکیہ ص ٣٤١ ج ٣ والیواقیت و الجواہر ص ٢٤ ج ٢ فاذا انا بادریس بجسمہ فانہ‘ مات الی الان بل رفعہ اللہ مکانا علیا و فی الفتوحات ص ٥ ج ٢۔ ادریس علیہ السلام بقی حیا بجسدہ و اسکنہ اللہ الی السماء الرابعۃ ١٢۔

(٦)

یہ کہ وماقتلوہ‘ وما صلبوہ اور وماقتلوہ یقینا اور بل رفعہ میں تمام ضمائر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں جن کو مسیح اور ابن مریم اور رسول اللہ کہا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ عیسیٰ اور مسیح اور ابن مریم اور رسول یہ

صفحہ ١٨٩

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

جسم معین اور جسد خاص کے نام اور لقب ہیں۔ روح کے اسماء اور القاب نہیں۔ اس لیے کہ جب تک روح کا تعلق کسی بدن اور جسم کے ساتھ نہ ہو اس وقت تک وہ روح کسی اسم کے ساتھ موسوم اور کسی لقب کے ساتھ ملقب نہیں ہوتی واذ اخذ ربک من بنی آدم من ظہورہم ذریتہم۔ وقولہ صلی اللہ علیہ وسلم الارواح جنود مجندۃ۔ الحدیث۔

یہ کہ یہود کی ذلت و رسوائی اور حسرت اور ناکامی اور عیسیٰ علیہ السلام کی کمال عزت و رفعت بجسدہ العنصری صحیح و سالم آسمان پر اٹھائے جانے ہی میں زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔

یہ کہ رفعت شان اور علو مرتبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مخصوص نہیں۔ زندہ اہل ایمان اور زندہ اہل علم کو بھی حاصل ہے۔ کماقال تعالیٰ یرفع اللہ الذین امنوا منکم و الذین اوتوا العلم درجٰت بلند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اہل ایمان اور اہل علم کو باعتبار درجات کے۔

یہ کہ اگر آیت میں رفع روحانی بمعنی موت مراد ہو تو یہ ماننا پڑے گا کہ وہ رفع روحانی بمعنی موت یہود کے قتل اور صلب سے پہلے واقع ہوا جیسا کہ ام یقولون بہ جنۃ بل جاء ہم بالحق۔ ویقولون ائنا لتارکوا آلہتنا للشاعر مجنون O بل جاء بالحق میں آں حضرت ﷺ کا حق کو لے کر آنا ان کے شاعر اور مجنون کہنے سے پہلے واقع ہوا اسی طرح رفع روحانی بمعنی موت کو ان کے قتل اور صلب سے مقدم ماننا پڑے گا۔ حالانکہ مرزا صاحب اس کے قائل نہیں۔

صفحہ ١٩٠

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

مرزا صاحب تو (العیاذ باللہ) یہ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام یہود سے خلاص ہو کر فلسطین سے کشمیر پہنچے اور عرصہ دراز تک بقید حیات رہے اور اسی عرصہ میں اپنے زخموں کا علاج کرایا اور پھر طویل مدت کے بعد یعنی ستاسی سال زندہ رہ کر وفات پائی اور سری نگر کے محلہ خان یار میں مدفون ہوئے اور وہیں آپ کا مزار ہے۔ لہٰذا مرزا صاحب کے زعم کے مطابق عبارت اس طرح ہونی چاہیے تھی وما قتلوہ بالصلیب بل تخلص منہم و ذھب الی کشمیر و اقام فیہم مدۃ طویلۃ ثم اماتہ اللہ ورفع الیہ

(١٠)

یہ کہ رفع روحانی بمعنی موت لینے سے وکان اللہ عزیزا حکیما○ کے ساتھ مناسبت نہیں رہتی۔ اس لیے کہ عزیز اور حکیم اور اس قسم کی ترکیب اس موقعہ پر استعمال کی جاتی ہے کہ جہاں کوئی عجیب و غریب اور خارق العادات امر پیش آیا ہو۔ اور وہ عجیب و غریب امر جو اس مقام پر پیش آیا وہ رفع جسمانی ہے۔ اس مقام پر عزیزاً حکیماً کو خاص طور پر اس لیے ذکر فرمایا کہ کوئی شخص یہ خیال نہ کرے کہ جسم عنصری کا آسمان پر جانا محال ہے۔ وہ عزت والا اور غلبہ والا اور قدرت والا ہے اور نہ یہ خیال کرے کہ جسم عنصری کا آسمان پر اٹھایا جانا خلاف حکمت اور خلاف مصلحت ہے۔ وہ حکیم ہے اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں۔ دشمنوں نے جب حضرت مسیح پر ہجوم کیا تو اس نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھلا دیا کہ اپنے نبی کو آسمان پر اٹھا لیا اور جو دشمن قتل کے ارادہ سے آئے تھے انہی میں سے ایک کو اپنے نبی کا ہم شکل اور شبیہ بنا کر انہیں کے ہاتھ سے اس کو قتل کرا دیا اور پھر اس شبیہ کے قتل کے بعد ان سب کو شبہ اور اشتباہ میں ڈال دیا۔ مرزا صاحب ازالہ اوہام میں فرماتے ہیں:

”جاننا چاہیے کہ اس جگہ رفع سے مراد وہ موت ہے جو عزت کے ساتھ ہو۔“

صفحہ ١٩١

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

جیساکہ دوسری آیت اس پر دلالت کرتی ہے ورفعنہ مکانا علیا ۝ پھر تحریر فرماتے ہیں: کہ لہٰذا یہ امر ثابت ہے کہ رفع سے مراد اس جگہ موت ہے۔ مگر ایسی موت جو عزت کے ساتھ ہو جیسا کہ مقربین کے لیے ہوتی ہے کہ بعد موت کے ان کی روحیں علیین تک پہنچائی جاتی ہیں فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر ۝

(ازالہ اوہام ص ٥٩٩ خورد۔ روحانی خزائن ص ٤٢٤۔ ٤٢٣ ج ٣)

رفع کے معنی عزت کی موت نہ کسی لغت سے ثابت ہیں اور نہ کسی محاورہ سے اور نہ کسی فن کی اصطلاح ہے محض مرزا صاحب کی اختراع اور گھڑت ہے۔ البتہ رفع کا لفظ محض اعزاز کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے مگر اعزاز رفع جسمانی کے منافی نہیں اعزاز اور رفع جسمانی دونوں جمع ہو سکتے ہیں نیز اگر رفع سے عزت کی موت مراد ہو تو نزول سے ذلت کی پیدائش مراد ہونی چاہیے اس لیے کہ حدیث میں نزول کو رفع کا مقابل قرار دیا ہے اور ظاہر ہے کہ نزول کے یہ معنی مرزا صاحب کے ہی مناسب ہیں۔

رہا یہ امر کہ آیت میں آسمان میں جانے کی کوئی تصریح نہیں۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ بل رفعہ اللہ الیہ (اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ کو اپنی طرف اٹھا لیا) اس کلام کے معنی ہی یہ ہیں کہ اللہ نے آسمان پر اٹھا لیا جیسا کہ تعرج الملائکۃ والروح الیہ کے معنی یہ ہیں کہ فرشتے اور روح الامین اللہ کی طرف چڑھتے ہیں یعنی آسمان پر۔ وقال تعالیٰ الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ اللہ ہی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ عمل صالح کو اوپر اٹھاتا ہے یعنی آسمان کی طرف چڑھتے ہیں۔ اسی طرح بل رفعہ اللہ الیہ میں آسمان پر اٹھایا جانا مراد ہوگا۔ اور جس کو خدائے تعالیٰ نے ذرا بھی عقل دی ہے وہ سمجھ سکتا ہے بل رفعہ اللہ الیہ کے یہ معنی کہ خدا نے ان کو عزت کی موت دی‘ یہ معنی جس طرح لغت کے خلاف ہیں اسی طرح سیاق و سباق کے بھی خلاف ہیں۔

دوئم یہ کہ اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے

صفحہ ١٩٢

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

باسناد صحیح یہ منقول ہے لما اراد اللہ ان يرفع عیسیٰ الی السماء

(تفسیر ابن کثیر ص ٩ ج ٣)

(جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھانے کا ارادہ فرمایا۔ الی آخر القصہ اس کے علاوہ متعدد احادیث میں آسمان پر جانے کی تصریح موجود ہے وہ احادیث عن قریب ہم نقل کریں گے۔

سوم یہ کہ مرزا صاحب کا یہ کہنا کہ رفع سے ایسی موت مراد ہے جو عزت کے ساتھ ہو جیسے مقربین کی موت ہوتی ہے کہ ان کی روحیں مرنے کے بعد علیین تک پہنچ جاتی ہیں۔ اس عبارت سے خود واضح ہے کہ بل رفعہ اللہ سے آسمان پر جانا مراد ہے۔ اس لیے کہ ”علیین“ اور ”مقعد صدق“ تو آسمان ہی میں ہیں۔ بہرحال آسمان پر جانا تو مرزا صاحب کو بھی تسلیم ہے۔ اختلاف اس میں ہے کہ آسمان پر حضرت مسیح بن مریم کی فقط روح گئی یا روح اور جسد دونوں گئے۔ سو یہ ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں کہ آیت میں بجسدہ العنصری رفع مراد ہے۔

حیات عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی

دوسری دلیل

قال اللہ عز وجل وان من اھل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیمۃ یکون علیھم شھیدا ۝

ربط

یہ آیت گزشتہ آیت ہی کے سلسلہ کی ہے گزشتہ آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کا ذکر تھا، جس سے طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ اب رفع الی السماء کے بعد کیا ہو گا؟ اس آیت میں اس کا جواب مذکور ہے کہ وہ اس وقت تو آسمان پر زندہ ہیں مگر قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور اس

صفحہ ١٩٤

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

وقت تمام اہل کتاب ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے اور چند روز دنیا میں رہ کر انتقال فرمائیں گے۔ اور روضہ اقدس میں مدفون ہوں گے جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے اور یہود بے بہبود جو ان کے قتل کے مدعی ہیں ان کو اپنی آنکھوں سے زندہ دیکھ کر اپنی غلطی پر ذلیل اور نادم ہوں گے۔

بیان ربط بعنوان دیگر

گزشتہ آیات میں حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ یہود کے کفر اور عداوت کا ذکر تھا۔ اس آیت میں ان کے ایمان کا ذکر ہے کہ رفع الی السماء سے پہلے اگرچہ یہود حضرت مسیح کی نبوت سے منکر تھے، مگر نزول من السماء کے بعد تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے اور ان کی نبوت کی تصدیق کریں گے چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں کہ آئندہ زمانے میں کوئی شخص اہل کتاب میں سے باقی نہ رہے گا مگر عیسیٰ کے مرنے سے پہلے ان کی نبوت و رسالت پر ضرور بالضرور ایمان لے آئے گا۔ رفع الی السماء سے پہلے تکذیب اور عداوت تھی نزول کے بعد تصدیق اور محبت ہو گی۔ اور پھر اس سب کے بعد قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام ان کی تصدیق و تکذیب اور محبت اور عداوت کی شہادت دیں گے تاکہ شہادت کے بعد فیصلہ سنا دیا جائے۔

اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے۔ اور ان کی وفات سے پہلے تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے اس کے بعد ان کی وفات ہو گی۔

تفسیر آیت

اس آیت کی تفسیر میں صحابہ و تابعین و علماء مفسرین کے دو قول ہیں:

قول اول

مشہور اور جمہور کے نزدیک مقبول اور راجح یہ ہے کہ لیؤمنن کی ضمیر

صفحہ ١٩٤

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

کتابی کی طرف راجع ہے اور بہ اور قبل موتہ کی دونوں ضمیریں عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ نہیں رہے گا کوئی شخص اہل کتاب میں مگر البتہ ضرور ایمان لے آئے گا زمانہ آئندہ یعنی زمانہ نزول میں عیسیٰ علیہ السلام پر عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام ان پر گواہ ہوں گے۔ چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ قدس اللہ سرہ اس آیت کا ترجمہ اس طرح فرماتے ہیں:

"نباشد ہیچ کس از اہل کتاب الا البتہ ایمان آرد بعیسیٰ پیش از مردن و روز قیامت عیسیٰ گواہ باشد برایشاں"

(ف) مترجم می گوید یعنی یہودی کہ حاضر شوند نزول عیسیٰ را البتہ ایمان آرند۔

شاہ ولی اللہؒ کے اس ترجمہ اور فائدہ تفسیریہ سے صاف ظاہر ہے کہ بہ اور موتہ کی دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں جیسا کے آیت کے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ وماقتلوہ اور وماصلبوہ اور ماقتلوہ یقینا اور بل رفعہ تمام ضمائر مفعول حضرت مسیح بن مریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف راجع ہیں اور پھر آئندہ آیت ویوم القیمۃ ويكون عليهم شہیدا میں یکون کی ضمیریں بھی حضرت مسیح ہی کی طرف راجع ہوں گی تاکہ سیاق اور سباق کے خلاف نہ ہو۔

اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے بھی باسناد صحیح یہی منقول ہے کہ بہ اور موتہ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف راجع ہیں۔ چنانچہ حافظ عسقلانی رحمتہ اللہ علیہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:

وبهذا جزم ابن عباس فیما رواه ابن جریر من طريق سعيد بن جبیر عنه باسناد صحيح و من طريق ابي رجاء عن الحسن قال قبل موت عيسىٰ والله انه الان لحيی و لكن اذا نزل امنوا به

صفحہ ١٩٥

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

اجمعون ونقلہ اکثر اہل العلم ورجحہ ابن جریر وغیرہ

(فتح الباری ص ٤٥٧ ج ٦)

ترجمہ = اسی کا ابن عباس نے جزم اور یقین کیا، جیسا کہ ابن جریر نے بروایت سعید بن جبیر ابن عباس سے باسناد صحیح روایت کیا ہے اور بطریق ابی رجاء حسن بصری سے اس آیت کی تفسیر قبل موت عیسیٰ کے منقول ہے حسن بصری فرماتے ہیں واللہ حضرت عیسیٰ اس آن میں بھی زندہ ہیں۔ جب نازل ہوں گے اس وقت ان پر سب ایمان لے آئیں گے اور یہی اکثر اہل علم سے منقول ہے اور اسی کو ابن جریر وغیرہ نے راجح قرار دیا ہے۔

اور قتادہ اور ابو مالک سے بھی یہی منقول ہے کہ قبل موتہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ کی طرف راجع ہے۔

(تفسیر ابن جریر ص ١٤ ج ٦)

اور حضرت ابوہریرہ کی ایک روایت میں ہے جس کو امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ بہ اور موتہ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں:

عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الحرب ویفیض المال حتی لایقبلہ احد حتی تکون السجدة الواحدة خیرا لہ من الدنیا ومافیھا ثم یقول ابوہریرہ واقرأوا ان شئتم وان من اھل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیمة یکون علیھم شھیدا

(بخاری ص ٤٩٠ ج ١۔ مسلم شریف ص ٨٧ ج ١)

ترجمہ = ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے بے شک عن قریب تم میں عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے دراں حالیکہ وہ فیصلہ کرنے

صفحہ ١٩٦

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

والے اور انصاف کرنے والے ہوں گے صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے۔ اور لڑائی کو ختم کر دیں گے‘ مال کو بہا دیں گے یہاں تک کہ مال کو قبول کرنے والا کوئی نہ ملے گا۔ اور ایک سجدہ دنیا اور مافیہا سے بہتر ہو گا۔ پھر ابو ہریرہؓ یہ فرماتے ہیں کہ اگر چاہو تو اس حدیث کی تصدیق کے لیے یہ آیت پڑھو وان من اھل الکتب الا لیومنن بہ قبل موتہ و یوم القیمۃ یکون علیہم شہیدا 〇

حافظ عسقلانی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: وهذا مصير من ابى هريرة رضى الله عنه الى ان الضمير فى قوله به و موته يعود على عيسى عليه السلام اى الا ليومنن بعيسىٰ قبل موت عيسىٰ۔

(فتح الباری ص ٣٥٧ ج ٦)

ترجمہ = یعنی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا اس طرح آیت کا پڑھنا اس کی دلیل ہے کہ بہ اور موتہ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں یعنی ہر شخص زمانہ آئندہ میں حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ پر ضرور ایمان لے آئے گا۔

ایک وہم کا ازالہ

مرزا اور مرزائی کہتے ہیں کہ اقروا ان شئتم الی آخرہ یہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کا ارشاد نہیں بلکہ ابو ہریرہؓ کا استنباط ہے جو حجت نہیں۔ خلاصہ یہ کہ حدیث مرفوع نہیں بلکہ صحابی کا اثر ہے۔

جواب

یہ ہے کہ حدیث کتاب اللہ کی شرح ہے۔ قرآن کریم میں جو چیز اجمالاً مذکور ہے حدیث اس کی تفصیل ہے۔ اس لیے فقہا صحابہ اس تتبع اور تلاش میں رہتے تھے کہ احادیث نبویہ اور کلمات طیبہ کے منشا اور ماخذ کا پتہ کتاب اللہ سے

صفحہ ١٩٧

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

چلائیں اور ارشادات نبویہ کا کلمات الٰہیہ سے استنباط کریں۔ کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ میں تطبیق اور توفیق دینا اور حدیث کی تصدیق اور مزید توثیق کے لیے کتاب اللہ کی کسی آیت سے استشہاد کرنا یہ ہر شخص کا کام نہیں جس کو خدائے تعالیٰ نے تفقہ اور استنباط کی نعمت اور دولت سے سرفراز فرمایا ہو وہی کر سکتا ہے۔ اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ عادت تھی کہ اکثر حدیث کی روایت کرکے استشہاداً کوئی آیت تلاوت فرمایا کرتے ہیں اور وہ اکثر اپنی رائے سے نہیں ہوتی بلکہ رسول اللہ ﷺ ہی سے منقول ہوتی ہے لیکن بعض مرتبہ اس کی تصریح فرما دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور بعض مرتبہ اختصاراً فقط آیت کی تلاوت پر ہی اکتفا فرماتے ہیں۔ لیکن تتبع اور استقراء جب کیا جاتا ہے تو دوسری سند سے اس کے مرفوع ہونے کی تصریح مل جاتی ہے چنانچہ یہ آیت بھی اسی قبیل سے ہے اور اس کی چند نظائر ہدیہ ناظرین کی جاتی ہیں۔

نظیر اول

عن ابی ھریرة رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ قال سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول تفضل صلوة الجمیع صلوة احدکم وحدہ بخمس و عشرین جزءا و تجتمع ملائکة اللیل والنھار فی صلوة الفجر ثم یقول ابو ھریرة اقرأوا ان شئتم ان قرآن الفجر کان مشہودا

(اخرجہ البخاری ص ٩٠ واحمد بن حنبل فی مسندہ ص ٢٣٣ و ص ٢٣٦ ج ٢)

ترجمہ = ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے سنا کہ جماعت کی نماز تنہا نماز سے پچیس درجہ بڑھ کر ہے اور صبح کی جماعت میں دن اور رات کے فرشتے جمع ہوتے ہیں پھر ابو ہریرہ نے کہا کہ اگر قرآن سے اس کی تصدیق و تائید چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: ان قرآن الفجر کان مشہودا O (بخاری شریف و مسند احمدؒ)

نظیر دوم

صفحہ ١٩٨

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

عن ابی ھریرة یقول قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لیس المسکین الذی الخ واقرأوا ان شئتم یعنی قولہ تعالیٰ لایسلون الناس الحافا۔

(اخرجہ البخاری ص ٦٥١ واحمد بن حنبل فی مسندہ ص ٣٩٥ ج ٢)

ترجمہ = ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ مسکین وہ نہیں کہ جس کو ایک دو لقمہ دے کر واپس کر دیا جائے۔ اصل مسکین وہ ہے جو سوال ہی سے بچتا ہو اور اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو لایسلون الناس الحافا ط

نظیر سوم

عن ابی ھریرة قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ما من مولود الا یولد علی الفطرة فابواہ یھودانہ و ینصرانہ و یمجسانہ کما تنتج البھیمة بھیمة جمعاء ھل تحسون فیھا من جدعاء ثم یقول فطرة اللّٰہ التی فطر الناس علیھا لا تبدیل لخلق اللّٰہ ذلک الدین القیم اھ۔

(اخرجہ البخاری ص ٤٧٢ ج ٢)

ترجمہ = ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ .... فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے ماں باپ یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ اور اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: فطرة اللّٰہ التی فطر الناس علیھا الآیة

نظیر چہارم

عن ابی ھریرة عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال ان اللّٰہ خلق الخلق حتی اذا فرغ من خلقہ قالت الرحم ھذا مقام العائذ بک

صفحہ ١٩٩

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

من القطعیة قال نعم اماترضین ان اصل من وصلک واقطع من قطعک قالت بلی یارب قال فھو لک قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاقرأوا ان شئتم فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض و تقطعوا ارحامکم۔ (بخاری شریف ص ٨٨٥ ج ٢) و فی روایة قال ابوھریرہ اقرؤ ان شئتم و فی روایة قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اقرؤا ان شئتم

(بخاری ص ٧١٧ ج ٢)

ترجمہ = ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا۔ جب فارغ ہوئے تو مثالی طور پر قرابتوں نے دست بستہ عرض کیا کہ ہم قرابت قطع کرنے والوں سے پناہ مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا تم اس پر راضی نہیں کہ جو تم کو وصل کرے اس کو میں اپنے سے ملاؤں اور جو تم کو قطع کرے اس سے میں بھی قطع تعلق کروں قرابتوں نے عرض کیا کیوں نہیں اے پروردگار‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا پس تمہارے لیے یہ فیصلہ ہو چکا۔ اور اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض و تقطعوا ارحامکم O

(بخاری شریف ص ٧١٧)

نظیر پنجم

عن ابی ھریرة قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال اللّٰہ تبارک و تعالیٰ اعددت لعبادی الصلحین مالا عین رات و لا اذن سمعت ولاخطر علی قلب بشر واقراءوا ان شئتم فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرة اعین۔

(اخرجہ البخاری ص ٤٦٠ و احمد بن حنبل)

ترجمہ = ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ

صفحہ ٢٠٠

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

نعمتیں تیار کر رکھی ہیں کہ جو نہ آنکھوں نے دیکھیں اور نہ کانوں سے سنیں اور نہ کسی دل میں ان کا خطرہ گزرا۔ اور اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو۔ فلا تعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین ط

نظیر ششم

عن ابی ہریرہ یبلغ بہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال ان فی الجنۃ شجرۃ یسیر الراکب فی ظلھا مائۃ عام لا یقطعھا واقرؤا ان شئتم وظل ممدود۔

(اخرجہ البخاری ص ٧٢٤ و احمد بن حنبل فی مسندہ ص ٢٨٢ ج ٢)

ترجمہ = ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں سوار سو برس بھی چلے تو قطع نہیں کر سکے گا۔ اور اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو وظل ممدود

نظیر ہفتم

عن ابی ہریرہ ان النبی ﷺ قال ما من مومن الا وانا اولی بہ فی الدنیا و الاخرۃ و اقرؤا ان شئتم النبی اولی بالمومنین من انفسہم

(البخاری ص ٣٢٣ و احمد بن حنبل فی مسندہ ص ٣٣٤ و ص ٣٢٨ ج ٢)

ترجمہ = ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ہر مومن کے ساتھ میں اس کی جان سے زیادہ اس کے ساتھ دنیا اور آخرت میں قریب ہوں۔ اور اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو النبی اولی بالمومنین من انفسہم

نظیر ہشتم

عن ابی ہریرہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول

صفحہ ٢٠١

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

لا تقوم الساعة حتى تطلع الشمس من مغربها فاذا طلعت وراها الناس امن من عليها فذلك حين لا ينفع نفسا ايمانها لم تكن امنت من قبل او كسبت فى ايمانها خيرا۔ آہ

(اخرجه الامام احمد فی مسندہ ص ٢٣١ ج ٢ و ص ٣١٣ ج ٢ و ص ٥٣٠ ج ٢)

ترجمہ = ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی کہ جب تک آفتاب مغرب سے طلوع نہ کرے اور جب آفتاب مغرب سے طلوع ہو گا اور لوگ اس کو دیکھ لیں گے تو اس وقت سب ایمان لے آئیں گے۔ مگر اس وقت یہ ایمان نفع نہیں دے گا اور اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو لا ينفع نفسا ايمانها۔ (مسند احمد)

نظیر نہم

عن ابى هريرة قال قال رسول الله ﷺ ما من مولود الا نخسه الشيطان الا ابن مريم و امه ثم قال ابوهريرة اقرا وا ان شئتم الى اعيذها بك وذريتها من الشيطن الرجيم O

(مسند احمد ص ٣٣٣ ج ٢)

ترجمہ = ابوہریرہؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر بچہ کو شیطان ولادت کے وقت کونچہ دیتا ہے مگر عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کہ وہ اس سے محفوظ رہے پھر ابوہریرہؓ نے کہا اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو۔ ان اعيذها بك وذريتها من الشيطن الرجيم O

نظیر دہم

عن ابى هريرة فى حديث طويل عن النبى صلى الله عليه وسلم انه سئل عن الحمر الاهلية فقال ما انزل الله على فيها الا هذه الاية الجامعة فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره O و من يعمل مثقال ذرة

صفحہ ٢٠٢

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

شرا يره ○ (بخاری و مسلم و مسند امام احمد ص ٢٦٢ ج ٢) ترجمہ = ابو ہریرہؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے گدھوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو ارشاد فرمایا کہ اس بارے میں مجھ پر کوئی خاص حکم نازل نہیں ہوا۔ مگر یہ آیت جامع ہے۔ فمن یعمل مثقال ذرة خيرا يره ○ (بخاری و مسلم و مسند احمد)

حضرات اہل انصاف کو ان نظائر سے غالباً یہ اچھی طرح منکشف ہو گیا ہو گا کہ حضرت ابو ہریرہؓ جب کسی حدیث کے بعد کوئی آیت استشہاداً ذکر فرماتے ہیں تو وہ مرفوع بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ اس حدیث کے بھی بعض رواۃ کو اس کے مرفوع ہونے کا گمان ہے جیسا کہ مسند امام احمد بن حنبل کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے:

حدثنا عبداللّه قال حدثنی یزید انا سفیان عن الزهری عن حنظلة عن ابی هریرة قال قال رسول اللّه صلی اللّه علیه وسلم ینزل عیسیٰ بن مریم فیقتل الخنزیر و یمحو الصلیب الی ان قال ثم تلا ابوهریرة وان من اهل الکتب الا لیومنن به قبل موته و یوم القیمه یکون علیهم شهیدا ○ فزعم حنظلة ان ابا هریرة قال یومن به قبل موت عیسیٰ فلا ادری هذا کله حدیث النبی صلی اللّه علیه وسلم او شی قاله ابوهریرة انتهیٰ۔

مسند ص ٢٩٠ ج ٢ اخرجه ابن کثیر ص ٢٣٥ ج ٢

یعنی حنظلہؒ کہتے ہیں کہ مجھ کو معلوم نہیں کہ یہ روایت از اول تا آخر، سب حدیث مرفوع ہے یا آخری حصہ ابو ہریرہؓ کا قول ہے۔ واللہ اعلم۔

اور امام طحاوی نے شرح معانی الاثار میں حضرت ابن سیرین رحمتہ اللہ تعالیٰ سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ کی کل روایتیں مرفوع ہیں گو بظاہر وہ موقوف ہوں۔

عن محمد بن سیرین انه کان اذا حدث عن ابی هریرة فقیل له عن

صفحہ ٢٠٣

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال کل حدیث ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انتھی

(شرح معانی الآثار ص ١١ ج ١ باب سجدۃ التلاوۃ)

اور شیخ جلال الدین سیوطیؒ نے تفسیر در منثور کے ص ٢٤٢ ج ٢ پر اس روایت کو مرفوعاً نقل فرمایا ہے وہ یہ ہے:

اخرجہ ابن مردویہ عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوشک ان ینزل فیکم ابن مریم عدلا یقتل الدجال و یقتل الخنزیر و یکسر الصلیب ویضع الجزیۃ و یفیض المال حتی یکون السجدۃ واحدۃ للّٰہ رب العلمین واقرا وا ان شئتم و ان من اھل الکتب الا لیومنن بہ قبل موتہ موت عیسیٰ بن مریم ثم یعید ھا ابوہریرۃ ثلث مراۃ۔ انتھی۔

اور ثم یعیدھا کا لفظ نہایت صاف طور سے اس کو ظاہر کر رہا ہے کہ اس سے ماقبل کا سب حصہ مرفوع ہے اور رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے اور اگر بالفرض یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ یہ ابو ہریرہؓ ہی کا قول ہے تب بھی حجت ہے۔ ایک صحابیؓ کا صحابہؓ کرام کے مجمع میں کسی بات کو علی الاعلان کہنا اور صحابہؓ کرام کا اس پر سکوت فرمانا یہ اجماع سکوتی کہلاتا ہے۔ اور صحابہ کرامؓ کا اجماع بہ اتفاق علمائے امت حجت قاطعہ ہے اور خصوصاً وہ بات کہ جو بار بار اور مختلف مجامع میں کہی گئی ہو اور صحابہؓ نے اس پر کوئی اعتراض نہ فرمایا ہو اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ یہ امر صحابہؓ کے نزدیک بالکل مسلم ہے اگر قابل انکار ہوتا تو ضرور صحابہؓ اس پر انکار فرماتے۔ صحابہ کرامؓ سے یہ ناممکن ہے کہ ان کے سامنے کوئی قول منکر کہا جائے اور وہ اس پر انکار نہ فرمائیں۔ اسی طرح حضرت ابو ہریرہؓ کا قبل موتہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع کرنا اور صحابہ کرامؓ سے مجامع اور مجالس میں اس کو بار بار بیان فرمانا اور کسی صحابیؓ کا اس پر انکار نہ کرنا اس امر کی قطعی اور صریح دلیل ہے کہ یہ امر تمام صحابہؓ کے نزدیک مسلم تھا۔ حافظ عسقلانی فتح الباری میں فرماتے ہیں:

صفحہ ٢٠٤

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

وقد اختار كون الضمير للعيسى ابن جرير وبه قال جماعة من السلف و هو الظاهر لانه تقدم ذكر عيسى وذهب كثير من التابعين فمن بعد ہم الى ان المراد قبل موت عيسى كما روى عن ابن عباس قبل هذا۔

(فتح الباری)

ترجمہ = دونوں ضمیروں کا یعنی بہ اور موتہ کی ضمیروں کا حضرت عیسیٰ کی طرف راجع ہونا اس کو امام ابن جریر اور سلف کی ایک جماعت نے راجح قرار دیا ہے اور قرآن کریم کا سیاق بھی اس کو مقتضی ہے۔ کیونکہ گزشتہ کلام میں حضرت عیسیٰ ہی کا ذکر ہے اور تابعین اور تبع تابعین کثرت سے اسی طرف ہیں کہ آیت کی مراد یہ ہے کہ قبل موت عیسیٰ۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے سے پہلے جیسا کہ ابن عباسؓ سے مروی ہے۔

قول ثانی

آیت کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ بہ کی ضمیر تو عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے اور قبل موتہ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہر کتابی اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ کی نبوت و رسالت اور ان کی عبدیت پر ایمان لے آتا ہے جیسا کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرات وان من اھل الکتب الا لیومنن بہ قبل موتھم اس معنی کی صریح مؤید ہے یعنی نہیں ہے کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لے آئیں گے اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ کی نبوت و رسالت پر۔ یعنی اس بات پر کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول تھے۔ خدا اور خدا کے بیٹے نہیں تھے۔ مگر یہ ایمان چونکہ خروج روح کے وقت ہوتا ہے۔ اس لیے شرعاً معتبر نہیں اور نہ آخرت میں نجات کے لیے کافی ہے۔ اس قرات میں بجائے قبل موتہ کے قبل موتھم بصیغہ جمع آیا ہے جو صراحۃ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ قبل موتھم کی ضمیر اہل کتاب کی طرف راجع ہے۔

صفحہ ٢٠٥

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

لہٰذا اسی طرح دوسری قرات میں بھی قبل موتہ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہونی چاہیے تاکہ دونوں قراتیں متفق ہو جائیں۔

(حافظ عسقلانی فتح الباری ص ٣٥٧ ج ٦ میں فرماتے ہیں)

ورجح جماعۃ ہذا المذہب بقراءۃ ابی بن کعب الا لیؤمنن بالضم بہ قبل موتہم ای اہل الکتب قال النووی معنی الآیۃ علی ہذا لیس من اہل الکتب اذ یحضرہ الموت الا آمن عند المعاینۃ قبل خروج روحہ بعیسیٰ علیہ السلام وانہ عبداللہ و لکن لا ینفعہ ہذا الایمان فی تلک الحالۃ کما قال اللہ عز وجل ولیست التوبۃ للذین یعملون السیئت حتی اذا حضر احدہم الموت قال انی تبت الان

ترجمہ = علماء کی ایک جماعت نے ابی بن کعب کی قرات کی بنا پر اس قول کو راجح قرار دیا ہے کہ موتہ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہے اور اس قول کی بنا پر آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ ہر کتابی اپنی روح نکلنے سے پہلے اس بات پر ایمان لے آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول تھے۔ مگر ایسی حالت میں ایمان اس کو نافع اور مفید نہیں ہوتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ولیست التوبۃ الخ یعنی جب موت آجائے تو اس وقت توبہ مقبول نہیں۔

(فتح الباری ص ٣٥٧ ج ٦)

ترجیح ارجح و تصحیح اصح

جمہور سلف اور خلف کے نزدیک آیت کی تفسیر میں راجح اور مختار قول اول ہے اور دوسرا قول ضعیف ہے۔ اس لیے کہ اس قول کا دار و مدار ابی بن کعبؓ کی قرات پر ہے اور یہ قرات شاذ ہے۔ کسی صحیح یا حسن سند سے بھی ثابت نہیں۔ سند کے راوی ضعیف اور مجروح ہیں۔ تفسیر ابن جریر میں اس قرات کی اسانید مذکور ہیں اور علی ہذا اس باب میں جس قدر روایتیں ابن عباسؓ سے مروی

صفحہ ٢٠٦

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

ہیں وہ بھی ضعیف ہیں امام جلیل و کبیر حافظ عماد الدین بن کثیرؒ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:

واولى هذه الاقوال بالصحة القول الاول وهو انه لا يبقى احد من اهل الكتاب بعد نزول عيسىٰ عليه السلام الا امن به قبل موته اى قبل موت عيسىٰ عليه السلام ولا شك ان هذا الذى قاله ابن جرير هو الصحيح لانه مقصود من سياق الاية وهذا القول هو الحق كما سنبينه بالدليل القاطع ان شاء الله تعالى و به الثقة و عليه التكلان۔

(تفسیر ابن کثیر ص ٢٣٣ ج ٣)

ترجمہ = حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ صحیح قول فقط یہی ہے کہ دونوں ضمیریں عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں اور آیت کی تفسیر اس طرح کی جائے کہ آئندہ ایک زمانہ آنے والا ہے کہ جس میں تمام اہل کتاب عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد ایمان لے آئیں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام بے شک رسول ہیں اور یہی ابن جریر طبری رحمہ اللہ علیہ نے اختیار فرمایا ہے اور کوئی شک نہیں کہ یہی صحیح اور درست ہے کیونکہ سیاق آیت سے عیسیٰ علیہ السلام ہی کا ذکر مقصود ہے اور یہی قول حق ہے جیسا کہ ہم اس کو دلیل قطعی سے ثابت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہی پر اعتماد ہے اور اسی پر بھروسہ ہے۔

(تفسیر ابن کثیر)

اور دلیل قطعی سے وہ احادیث متواترہ مراد ہیں کہ جن میں صراحۃً یہ مروی ہے کہ قیامت کے قریب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور اس وقت کوئی شخص ایسا باقی نہ رہے گا کہ جو عیسیٰ علیہ السلام پر عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے ایمان نہ لے آئے۔

تطبیق و توفیق

جاننا چاہیے کہ دو قرأتیں دو مستقل آیتوں کا حکم رکھتی ہیں ابیّ بن کعب

صفحہ ٢٠٧

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

کی قرات سے ہر کتابی کا اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ کی نبوت پر ایمان لانا معلوم ہوتا ہے۔ اور قرات متواترہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ آئندہ میں تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ضرور ایمان لے آئیں گے۔ ان دونوں قراتوں میں کوئی تعارض نہیں دونوں حق ہیں۔ ہر ایک قرات بمنزلہ مستقل آیت کے ہے جو حجت ہے۔ ہر کتابی اپنے مرنے کے وقت بھی حضرت مسیح کی نبوت پر ایمان لاتا ہے اور جب قیامت کے قریب حضرت مسیح آسمان سے نازل ہوں گے اس وقت بھی ہر کتابی حضرت مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے حضرت مسیح علیہ السلام پر ضرور ایمان لے آئے گا۔ قرات متواترہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور نزول کا ذکر ہے اور اہل کتاب کے اس ایمان کا ذکر ہے جو نزول کے بعد لائیں۔

اور ابی بن کعب کی قرات شاذہ میں حضرت مسیح کی حیات اور نزول کا ذکر نہیں۔ نہ حیات کا ذکر ہے نہ وفات کا فقط اہل کتاب کے اس ایمان کا ذکر ہے کہ جو اہل کتاب اپنی روح نکلتے وقت لاتے ہیں۔ غرض یہ کہ ہر قرات میں ایک جدا واقعہ کا ذکر ہے۔ جیسا کہ الم غلبت الروم میں دو قراتیں ہیں۔ ایک معروف اور ایک مجہول اور ہر قرات میں علیحدہ علیحدہ واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن حضرات صحابہؓ اور تابعینؒ سے یہ قرات شاذہ منقول ہے وہ سب کے سب بالاتفاق حضرت مسیح علیہ السلام کے بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھائے جانے اور قیامت کے قریب آسمان سے اترنے کے بھی قائل ہیں چنانچہ تفسیر در منثور میں ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور محمد بن الحنفیہ (١) سے مروی ہے کہ جو لوگ حضرت مسیح کے نزول سے پہلے مریں گے وہ اپنی موت کے وقت حضرت مسیح پر ایمان لاتے ہیں۔ اور جو اہل کتاب حضرت مسیح کے زمانہ نزول کو پائیں گے وہ تمام حضرت مسیح پر حضرت مسیح کی موت سے پہلے ایمان لائیں گے۔ لہٰذا ابی بن کعبؓ کی قرات نزول عیسیٰ سے پہلے مرنے والوں کے حق میں ہے اور قرات متواترہ ان لوگوں کے حق میں ہے کہ جو نزول کے بعد حضرت مسیح کی موت سے پہلے ایمان لائیں گے۔

صفحہ ٢٠٨

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

(١) (وہ روایت یہ ہے: اخرج ابن المنذر عن شہر بن حوشب قال قال لی الحجاج یا شہر آیته من کتاب اللہ ما قراتہا الا اعترض فی نفسی منہا شی قال اللہ و ان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ وانی اوتی بالاساری فاضرب اعناقہم ولا اسمع یقولون شیا فقلت رفعت الیک علی غیر وجہہا ان النصرانی اذا خرجت روحہ ضربت الملائکہ من وجہہ و من دبرہ وقالوا ای خبیث ان المسیح الذی زعمت انہ اللہ و ابن اللہ او ثالث ثلثۃ عبداللہ و روحہ و کلمہ فیؤمن حین لا ینفعہ ایمانہ و ان الیہودی اذا خرجت نفسہ ضربتہ الملائکہ من قبلہ ودبرہ وقالوا ای خبیث ان المسیح الذی زعمت انک قتلتہ عبداللہ وروحہ فیؤمن بہ حین لا ینفعہ الایمان فاذا کان عند نزول عیسیٰ آمنت بہ احیا ہم کما آمنت بہ موتاہم فقال من این اخذتہا فقلت من محمد بن علی قال لقد اخذتہا من معدنہا قال شہر وایم اللہ ما حدثنیہ الا ولکنی احببت ان اغیظہ

(تفسیر در منثور ص ٢٤١ ج ٢)

پھر یہ کہ اہل کتاب جو اپنے مرنے سے پہلے ایمان لاتے ہیں وہ بھی یہی ایمان لاتے ہیں کہ عیسیٰ ابھی فوت نہیں ہوئے بلکہ زندہ صحیح و سالم آسمان پر اٹھا لیے گئے جیسا کہ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے۔

اخرج عبد بن حمید و ابن المنذر عن شہر بن حوشب فی قوله تعالیٰ وان من اہل الکتب ط الا لیؤمنن بہ قبل موتہ عن محمد بن علی بن ابی طالب و ھو ابن الحنفیۃ قال قال لیس من اہل الکتب احد الا اتتہ الملکۃ یضربون وجہہ ودبرہ ثم یقال یا عدو اللہ ان عیسیٰ روح اللہ و کلمۃ کذبت علی اللہ و زعمت انہ اللہ ان عیسیٰ لم یمت وانہ رفع الی السماء وھو نازل قبل ان تقوم الساعۃ فلایبقی یہودی ولا نصرانی الا امن بہ انتہی۔

(تفسیر در منثور ص ٢٤١ ج ٢)

ترجمہ = عبد بن حمید اور ابن منذر نے بروایت شہر بن حوشب محمد بن علی بن الحنفیہ سے آیۃ وان من اہل الکتب الا لیؤمنن بہ الخ کی تفسیر اس طرح روایت کی ہے کہ نہیں ہے کوئی اہل کتاب میں سے مگر آتے ہیں فرشتے اس کی

صفحہ ٢٠٩

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

موت کے وقت اور خوب مارتے ہیں اس کے چہرے اور سرین پر اور کہتے ہیں کہ اے اللہ کے دشمن بے شک عیسیٰ اللہ کی خاص روح ہیں اس کا کلمہ ہیں۔ تو نے اللہ پر جھوٹ بولا اور گمان کیا کہ عیسیٰ اللہ ہیں تحقیق عیسیٰ ابھی نہیں مرے اور تحقیق آسمان کی طرف اٹھا لیے گئے اور وہ قیامت سے پہلے نازل ہوں گے پس اس وقت کوئی یہودی اور نصرانی باقی نہ رہے گا مگر حضرت مسیح پر ضرور ایمان لائے گا۔

عجب نہیں کہ جس طرح مشرکین کو مرنے کے وقت عقیدہ فاسدہ پر توبیخ اور سرزنش کی جاتی ہے اسی طرح اہل کتاب کو بھی حضرت عیسیٰ کے بارے میں غلط عقیدہ کی بنا پر توبیخ کی جاتی ہو۔ کما قال تعالیٰ ان الذین توفہم الملئکۃ ظالمی انفسہم فالقوا السلم ما کنا نعمل من سوء ط

امام ابن جریر اور ابن کثیر فرماتے ہیں کہ جب موت کا نزول ہوتا ہے تو حق اور باطل کا فرق واضح ہو جاتا ہے جب تک دین حق اور دین باطل کا امتیاز نہ ہو جائے اس وقت تک روح نہیں نکلتی۔ اسی طرح ہر کتابی اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت و رسالت پر ایمان لے آتا ہے اور حضرت عیسیٰ کے بارے میں اس پر حق واضح ہو جاتا ہے۔

حیات عیسیٰ علیہ السلام کی

تیسری دلیل

قال اللہ عزوجل

ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین O اذ قال اللہ یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی ومطہرک من الذین کفروا و جاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیمۃ ثم الی مرجعکم فاحکم بینکم فیما کنتم فیہ تختلفون O

صفحہ ٢١٠

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

ترجمہ و تفسیر

یہودیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے پکڑنے اور قتل کرنے کی خفیہ تدبیریں کیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت اور عصمت کی ایسی تدبیر فرمائی جو ان کے وہم و گمان سے بھی بالا اور برتر تھی وہ یہ کہ ایک شخص کو عیسیٰ علیہ السلام کی ہم شکل بنا دیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور یہودی جب گھر میں داخل ہوئے تو اس ہم شکل کو پکڑ کر لے گئے اور عیسیٰ سمجھ کر اس کو قتل کیا اور سولی پر چڑھایا اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر تدبیر فرمانے والے ہیں۔ کوئی تدبیر اللہ کی تدبیر کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کی پریشانی دور کرنے کے لیے یہ فرمایا کہ اے عیسیٰ تم گھبراؤ نہیں تحقیق میں تم کو تمہارے ان دشمنوں سے بلکہ اس جہان ہی سے پورا پورا لے لوں گا۔ اور بجائے اس کے کہ یہ نابکار تجھ کو پکڑ کر لے جائیں اور صلیب پر چڑھائیں میں تجھ کو اپنی پناہ میں لے لوں گا اور آسمان پر اٹھاؤں گا کہ جہاں کوئی پکڑنے والا پہنچ ہی نہ سکے اور تجھ کو ان ناپاک اور گندوں سے نکال کر پاک اور صاف اور مطہر اور معطر جگہ میں پہنچا دوں گا کہ تجھ کو کفر اور عداوت کا رائحہ بھی محسوس نہ ہو اور یہ نابکار تجھ کو بے عزت کر کے تیرے اور تیرے دین کے اتباع سے لوگوں کو روکنا چاہتے ہیں۔ اور میں اس کے بالمقابل تیرے پیروؤں کو تیرے کفر کرنے والوں پر قیامت تک غالب اور فائق رکھوں گا۔ تیرے خدام اور غلام ان پر حکمران ہوں گے اور یہ ان کے محکوم اور باج گزار ہوں گے۔ قیامت کے قریب تک یوں ہی سلسلہ رہے گا کہ نصاریٰ ہر جگہ یہود پر غالب اور حکمران رہیں گے اور اپنی ذلت و مسکنت کا اور حضرت مسیح بن مریم کے نام لیواؤں کی عزت و رفعت کا مشاہدہ کرتے رہیں گے اور اندر سے تلملاتے رہیں گے یہاں تک کہ جب قیامت قریب آجائے گی اور دجال کو جیل خانہ سے چھوڑ دیا جائے گا تاکہ یہود بے بہود اپنی عزت اور حکومت قائم کرنے کے لیے اس کے ارد گرد جمع ہوئیں تو یکایک عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام بصد جاہ و جلال آسمان سے

صفحہ ٢١١

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

نازل ہوں گے اور دجال کو جو یہود کا بادشاہ بنا ہوا ہو گا اس کو تو خود اپنے دست مبارک سے قتل فرمائیں گے اور باقی یہود کا قتل و قتال اور اس جماعت کا بالکلیہ استیصال امام مہدی اور مسلمانوں کے سپرد ہو گا۔ دجال کے متبعین کو چن چن کر قتل کیا جائے گا۔ نزول سے پہلے یہود اگرچہ حضرت مسیح کے غلام اور محکوم تھے مگر زندہ رہنے کی تو اجازت تھی مگر حضرت مسیح کے نزول کے بعد زندہ رہنے کی بھی اجازت نہ رہے گی ایمان لے آؤ یا اپنے وجود سے بھی دست بردار ہو جاؤ۔ اور نصاریٰ کو حکم ہو گا کہ میری الوہیت و ابنیت کے عقیدہ سے تائب ہو جاؤ اور مسلمانوں کی طرح مجھ کو اللہ کا بندہ اور رسول سمجھو اور صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ کو ختم کریں گے اور سوائے دین اسلام کے کوئی دین قبول نہ فرمائیں گے۔

الغرض نزول کے بعد اس طرح تمام اختلافات کا فیصلہ فرمائیں گے جیسا کہ آئندہ آیت میں اس طرف اشارہ فرماتے ہیں ثم الی مرجعکم فاحکم بینکم فیما کنتم فیہ تختلفون ۝ پھر تم سب کا میری طرف لوٹنا ہے پس اس وقت میں تمہارے اختلافات کا فیصلہ کروں گا۔ وہ فیصلہ یہ ہو گا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے یہود کا یہ زعم باطل ہو جائے گا کہ ہم نے حضرت مسیح کو قتل کر دیا۔ کما قال اللہ تعالیٰ وقولہم انا قتلنا المسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ اور نصاریٰ کا یہ زعم باطل ہو گا کہ وہ خدا یا خدا کے بیٹے ہیں اور حیات مسیح کے مسئلہ کا فیصلہ ہو جائے گا اور روز روشن کی طرح تمام عالم پر یہ واضح ہو جائے گا کہ عیسیٰ علیہ السلام اسی جسد عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے تھے اور اسی جسم کے ساتھ آسمان سے اترے ہیں۔

لفظ توفی کی تحقیق

قبل اس کے کہ ہم ان آیات کی مفصل تفسیر کریں لفظ توفی کی تحقیق ضروری سمجھتے ہیں۔

صفحہ ٢١٢

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

توفی وفاء سے مشتق ہے جس کے معنی پورا کرنے کے ہیں۔ یہ مادہ خواہ کسی شکل اور کسی ہیئت میں ظاہر ہو مگر کمال اور تمام کے معنی کو ضرور لیے ہوئے ہوگا۔ کما قال تعالیٰ اوفوا بعهدی اوف بعهدکم تم میرے عہد کو پورا کرو میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا۔ وقال تعالیٰ واوفوا الکیل اذا کلتم ماپ کو پورا کرو جب تم ماپو یوفون بالنذر اپنی نذروں کو پورا کرتے ہیں وانما توفون اجور کم یوم القیمة جز ایں نیست کہ تم پورا پورا اجر قیامت کے دن دیے جاؤ گے۔ یعنی کچھ تھوڑا بہت اجر تو دنیا میں بھی مل جائے گا مگر پورا پورا اجر قیامت کے دن ہی ملے گا۔

اور لفظ توفی جو اسی مادہ یعنی وفا سے مشتق ہے اس کے اصلی اور حقیقی معنی اخذ الشئی وافیا کے ہیں یعنی کسی چیز کو پورا پورا لے لینا کہ باقی کچھ نہ رہے قرآن اور حدیث اور کلام عرب میں جس جگہ بھی یہ لفظ مستعمل ہوا ہے سب جگہ توفی سے استیفاء اور اکمال اور اتمام ہی کے معنی مراد لیے گئے ہیں۔ توفی سے اگر کسی جگہ موت کے معنی مراد لیے گئے ہیں تو وہ کنایۃً اور لزوماً مراد لیے گئے ہیں۔ اس لیے کہ استیفا عمر اور اتمام عمر کے لیے موت لازم ہے۔ توفی عین موت نہیں بلکہ موت تو توفی بمعنی اکمال عمر اور اتمام زندگی کا ایک ثمرہ اور نتیجہ ہے چنانچہ لسان العرب ص ٢٨٠ ج ٢٠ میں ہے:

توفی المیت استیفاء مدته التی وفیت له و عدد ایامه و شهوره واعوامه فی الدنیا یعنی میت کے توفی کے معنی یہ ہیں کہ اس کی مدت حیات کو پورا کرنا اور اس کی دنیاوی زندگی کے دنوں اور مہینوں اور سالوں کو پورا کر دینا۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ فلاں بزرگ کا وصال یا انتقال ہو گیا۔ وصال کے اصل معنی ملنے کے ہیں اور انتقال کے اصل معنی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جانے کے ہیں۔ بزرگوں کی موت کو موت کے لفظ سے تعبیر کرنا عرف میں خلاف ادب سمجھا جاتا ہے اس لیے بجائے موت کے لفظ وصال اور انتقال مستعمل ہوتا ہے۔ یعنی اپنے رب سے جاملے اور دار فانی سے دار جاودانی کی طرف انتقال فرمایا، اور کبھی اس طرح

صفحہ ٢١٣

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

کہتے ہیں کہ فلاں بزرگ رحلت فرمائے عالم آخرت ہوئے۔ یا یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص اس عالم سے رخصت ہوا یا فلاں شخص گزر گیا۔ تو کیا اس استعمال سے کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ وصال اور انتقال اور رحلت اور رخصت وغیرہ ان الفاظ کے حقیقی اور اصلی معنی موت کے ہیں ہرگز نہیں بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ اصلی اور حقیقی معنی تو اور ہیں۔ تشریف اور تکریم کی غرض سے بزرگوں کی موت کو وصال اور انتقال کے لفظ سے تعبیر کر دیا گیا۔ اسی طرح توفی کے لفظ کو سمجھئے کہ اصلی اور حقیقی معنی تو استیفاء اور اکمال کے ہیں۔ مگر بعض مرتبہ بفرض تشریف و تکریم کسی کی موت کو توفی کے لفظ سے کنایۃً تعبیر کر دیا جاتا ہے جس سے قادیان اور ربوہ کے احمق اور نادان یہ سمجھ گئے کہ توفی کے حقیقی معنی ہی موت کے ہیں۔

علامہ زمخشری اساس البلاغہ ص ٣٠٢ ج ٢ میں تصریح فرماتے ہیں کہ توفی کے حقیقی اور اصلی معنی استیفاء اور استکمال کے ہیں اور موت کے معنی مجازی ہیں:

وفی بالعهد واوفی به وهو وفی من قوم وهم اوفیاء و اوفاه واستو فاه و توفاه استکملہ ومن المجاز توفی و توفاه الله ادرکتہ الوفاۃ

اور علی ہذا علامہ زبیدی تاج العروس شرح قاموس ٣٩٤ ج ١٠ میں فرماتے ہیں:

وفی الشی وفیا تم وکثر فهو وفی و واف بمعنی واحد و کل شی بلغ الکمال فقدوفی و تم ومنہ اوفی فلانا حقہ اذا اعطاہ وافیا و اوفاہ فاستوفی و توفاہ ای لم یدع شیا فہما مطاوعان لاوفاہ و وفاہ و من المجاز ادرکتہ الوفاۃ ای المنیۃ و الموت و توفی فلان اذا مات و توفاہ اللہ عزوجل اذا قبض نفسہ۔ آہ۔

اب ہم چند آیتیں ہدیہ ناظرین کرتے ہیں جس سے صاف طور پر یہ معلوم ہو جائے گا کہ توفی کی حقیقت موت نہیں بلکہ توفی موت کے علاوہ کوئی اور شے ہے:

آیت اول

اللّٰہ یتوفی الانفس حین موتھا و التی لم تمت فی منامھا

صفحہ ٢١٤

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

فیمسک التی قضی علیھا الموت و یرسل الاخری الی اجل مسمی

ترجمہ = یعنی اللہ تعالیٰ قبض کرتا ہے روحوں کو جب وقت ہو ان کے مرنے کا اور جو نہیں مرے ان کو قبض کرتا ہے وقت نیند کے‘ پس روک لیتا ہے ان کو جن پر مقدر کی ہے اور واپس بھیج دیتا ہے ان کو وقت مقرر تک۔

اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ توفی بعینہ موت کا نام نہیں بلکہ توفی موت کے علاوہ کوئی اور شے ہے کہ جو کبھی موت کے ساتھ جمع ہوتی ہے اور کبھی نیند کے ساتھ یعنی تمہاری جانیں خدا کے قبضہ اور تصرف میں ہیں۔ ہر روز سوتے وقت تمہاری جانیں کھینچتا ہے اور پھر واپس کر دیتا ہے۔ مرنے تک ایسا ہی ہوتا رہتا ہے اور جب موت کا وقت ہوتا ہے تو پھر جان کھینچنے کے بعد واپس نہیں کی جاتی۔

خلاصہ یہ کہ آیت ہٰذا میں توفی کی موت اور نیند کی طرف تقسیم اس امر کی صریح دلیل ہے کہ توفی اور موت الگ الگ چیزیں ہیں اور حین موتھا کی قید سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ توفی موت کے وقت ہوتی ہے عین موت نہیں ورنہ خود شے کا اپنے لیے ظرف ہونا لازم آتا ہے۔ لسان العرب سے ہم ابھی نقل کر چکے ہیں کہ توفی کے معنی استیفاء اور استکمال یعنی کسی شے کو پورا پورا لینے کے ہیں صاحب لسان توفی کی حقیقت بیان کر دینے کے بعد آیت موصوفہ کی تفسیر فرماتے ہیں:

ومن ذلک قولہ عزوجل اللّٰہ یتوفی الانفس حین موتھا اى یستو فى مدد آجالھم فى الدنیا و اما توفی النائم فھو استیفاء وقت عقلہ وتمیزہ الی ان نام۔

(لسان العرب ص ٢٨٠ ج ٢٠)

ترجمہ = یعنی مرنے کے وقت جان اور روح پوری پوری لے لی جاتی ہے اور نیند کے وقت عقل اور ادراک اور ہوش اور تمیز کو پورا پورا لے لیا جاتا ہے۔

حاصل یہ کہ توفی کے معنی تو وہی استیفاء اور اخذ الشی وافیا یعنی شے

صفحہ ٢١٥

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

کو پورا پورا لینے ہی کے رہے۔ توفی میں کوئی تغیر اور تبدل نہیں صرف توفی کے متعلق میں تبدیلی ہوئی۔ ایک جگہ توفی کا متعلق موت ہے اور دوسری جگہ نوم (نیند)

آیت دوم

وهو الذی یتوفکم باللیل ترجمہ = وہی ہے کہ جو تم کو رات میں پورا پورا کھینچ لیتا ہے۔

اس مقام پر بھی توفی موت کے معنی میں مستعمل نہیں ہوا بلکہ نیند کے موقع پر توفی کا استعمال کیا گیا۔ حالانکہ نوم میں قبض روح پورا نہیں ہوتا۔

آیت سوم

حتی یتوفھن الموت حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ اس کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں

تا آں کہ عمر ایشاں را تمام کند مرگ

یعنی یہاں تک کہ موت ان کی عمر تمام کر دے۔

اس آیت میں توفی کے معنی اتمام عمر اور اکمال عمر کے لیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں قرآن کریم میں جا بجا موت کے مقابلہ میں حیات کو ذکر فرمایا ہے۔ توفی کو حیات کے مقابل نہیں ذکر فرمایا‘ جس سے صاف ظاہر ہے کہ توفی کی حقیقت موت نہیں۔ ورنہ اگر توفی کی حقیقت موت ہوتی تو جس طرح جا بجا موت کے مقابل حیات کا ذکر کیا جاتا ہے اسی طرح توفی کے مقابل بھی حیات کا ذکر کیا جاتا۔ چند آیتیں ہدیہ ناظرین کرتے ہیں جن میں حق تعالیٰ نے حیات کو موت کے مقابل ذکر فرمایا ہے توفی کے مقابل ذکر نہیں فرمایا۔ قال تعالیٰ (١) یحیی الارض بعد موتھا (٢) قال تعالیٰ کفاتاً احیاء و امواتاً (٣) یحییکم ثم یمیتکم (٤) ھو امات و احیى (٥) یخرج الحیی من المیت و یخرج المیت من الحیی (٦) اموات غیر احیاء (٧) وتوکل علی الحیی الذی لایموت (٨) لایموت فیھا ولا یحیی (٩) کذلک یحیی اللہ الموتی (١٠) یحیی و یمیت وهو

صفحہ ٢١٦

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

علیٰ کل شی قدیر ۝

ان آیات اور ائمہ لغت کی تصریحات سے یہ بات بخوبی منکشف ہو گئی کہ توفی کی حقیقت موت نہیں بلکہ توفی ایک جنس کا درجہ ہے جس کے تحت میں کئی فرد مندرج ہیں۔ جیسے حیوان ایک جنس ہے اور انسان اور فرس اور بقر وغیرہ اس کے افراد ہیں۔ حیوانیت کبھی انسانیت میں ہو کر پائی جاتی ہے اور کبھی فرس کے ساتھ و غیر ذلک۔ چنانچہ حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: لفظ التوفی فی لغۃ العرب معناہ الاستیفاء والقبض و ذلک ثلاثۃ انواع احدہا توفی النوم، والثانی توفی الموت والثالث تو فی الروح والبدن جمیعا:

(الجواب الصحیح ص ٢٨٣ ج ٢)

ترجمہ = لغت عرب میں توفی کے معنی استیفاء پورا پورا لینے کے ہیں اور توفی کی تین قسمیں ہیں ایک تو نوم یعنی نیند اور خواب کی توفی، اور دوسری توفی موت کے وقت روح کو پورا پورا قبض کر لینا۔ تیسری توفی الروح والجسد یعنی روح اور جسم کو پورا پورا لے لینا۔

یعنی روح اور جسم دونوں کو آسمان پر اٹھا لینا۔ اور جن ائمہ لغت نے توفی کے معنی قبض روح کے لکھے ہیں انہوں نے یہ کہیں نہیں لکھا کہ فقط قبض روح کو توفی کہتے ہیں اور اگر قبض روح مع البدن ہو تو اس کو توفی نہیں کہتے۔ بلکہ اگر قبض روح کے ساتھ قبض بدن بھی ہو تو بدرجہ اولیٰ توفی ہو گی۔ جب یہ ثابت ہو گیا کہ توفی ایک جنس ہے اور نوم (نیند) اور موت اور رفع جسمانی یہ اس کے انواع اور اقسام ہیں اور یہ مسلم ہے کہ نوع اور قسم معین کرنے کے لیے قرینہ کا ہونا ضروری اور لازمی ہے اس لیے جہاں لفظ توفی کے ساتھ موت اور اس کے لوازم کا ذکر ہو گا اس جگہ توفی سے موت مراد لی جائے گی جیسے

قل یتوفٰکم ملک الموت الذی وکل بکم

ترجمہ = اے ہمارے نبی! آپ کہہ دیجئے کہ پورا پورا پکڑے گا تم کو وہ موت کا فرشتہ جو تم پر مسلط کیا گیا ہے۔

صفحہ ٢١٧

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

اس مقام پر ملک الموت کے قرینہ سے توفی سے موت مراد لی جائے گی اور جس جگہ توفی کے ساتھ نوم یعنی خواب اور اس کے متعلقات کا ذکر ہو گا اس جگہ توفی سے نوم کے معنی مراد لیے جائیں گے جیسے: وهو الذى يتوفكم بالليل ترجمہ = وہی خدا تم کو رات میں پورا پورا لیتا ہے لیل کے قرینہ سے معلوم ہوا کہ اس جگہ توفی سے نوم کے معنی مراد ہیں۔

ابو نواس کہتا ہے ع

فلما توفاہ رسول الکرٰی

یعنی نیند کے قاصد نے اس کو پورا پورا لے لیا یعنی سلا دیا۔ اس شعر میں بھی توفی سے نوم کے معنی مراد ہیں اور جس جگہ توفی کے ساتھ رفع کا ذکر ہو یا اور کوئی قرینہ ہو تو وہاں توفی سے رفع جسمانی مراد ہو گا۔ اور مرزا صاحب بھی، دعویٰ مسیحیت سے پہلے توفی کے معنی موت کے نہیں سمجھے تھے جیسا کہ براہین احمدیہ (ص ٥٥٧ روحانی خزائن ص ٦٦٣ ج ١) پر لکھتے ہیں کہ انی متوفیک یعنی میں تجھ کو کار خیر بخشوں گا اور اسی کتاب کے (٤٩٩۔ اور ص ٥٠٠ روحانی خزائن ص ٥٩٣ ج ١) پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ رہنا اور نہایت عظمت اور جلال کے ساتھ دوبارہ دنیا میں آنا تسلیم کیا ہے۔

غرض یہ کہ یہ ثابت ہو گیا کہ توفی کے حقیقی معنی استیفاء اور اخذ الشیء وافیا یعنی کسی شے کو پورا پورا لینے کے ہیں اور یہ کسی کتاب میں نہیں کہ توفی کے حقیقی معنی موت کے ہیں۔ اگر کسی مرزائی سے ممکن ہے تو لغت کی کوئی کتاب لا دکھا دے، جس میں یہ تصریح ہو کہ توفی کے حقیقی معنی موت کے ہیں۔ بلکہ ہم دعویٰ کے ساتھ کہتے ہیں کہ قرآن اور حدیث میں .... جہاں کہیں بھی لفظ توفی آیا ہے سب جگہ توفی کے اصلی اور حقیقی ہی معنی مراد ہیں یعنی استیفاء اور اکمال۔ مگر چونکہ عمر کے پورا ہو جانے کے بعد موت کا تحقق لازمی ہے اس لیے مجازاً یہ کہہ دیا گیا کہ یہاں موت کے معنی مراد ہیں۔

صفحہ ٢١٨

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

خلاصہ کلام

یہ کہ توفی کے اصلی معنی پورا وصول کرنے اور ٹھیک لینے کے ہیں۔ قرآن کریم نے لفظ توفی کو نوم اور موت کے معنی میں اس لیے استعمال کیا کہ اہل عرب پر موت اور نوم کی حقیقت واضح ہو جائے۔ جاہلیت والے اس حقیقت سے بالکل بے خبر تھے کہ موت اور نوم میں حق تعالیٰ کوئی چیز بندہ سے لیتے ہیں۔ عرب کا عقیدہ یہ تھا کہ انسان مرکر نیست اور نابود ہو جاتا ہے۔ موت کو فنا اور عدم کے مرادف سمجھتے تھے اس لیے وہ بعث اور نشاۃ ثانیہ کے منکر تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے رد کے لیے ارشاد فرمایا قل یتوفّکم ملک الموت الذی وکّل بکم ثمّ الی ربکم ترجعون O آپ ان منکرین بعث سے کہہ دیجئے کہ مرکر تم فنا نہیں ہوتے بلکہ موت کا فرشتہ تم سے اللہ کا پورا پورا حق وصول کرلیتا ہے یعنی وہ ارواح کہ جو اللہ کی امانت ہیں وہ تم سے لے لی جاتی ہیں اور اللہ کے یہاں محفوظ رہتی ہیں۔ قیامت کے دن پھر یہی ارواح تمہارے اجسام کے ساتھ متعلق کر کے حساب کے لیے پیشی ہوگی۔

حضرت شاہ عبدالقادر صاحب قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں تم اپنے آپ کو دھڑ سمجھتے ہو کہ خاک میں رل گئے تم جان ہو وہ فرشتہ لے جاتا ہے فنا نہیں ہوتے"

شاہ صاحبؒ نے اپنے ان مختصر الفاظ میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا کہ جس کی ہم نے وضاحت کی۔ اس آیت میں بھی توفی کے معنی موت کے نہیں بلکہ حق وصول کرنے کے ہیں۔ موت دینے والا تو صرف وہی محیی اور ممیت ہے ملک الموت تو اللہ کا حق وصول کرنے والا ہے۔

آیت توفی کی تفسیر

جب توفی کے معنی معلوم ہو گئے تو اب آیت توفی کی تفسیر سنیے۔ یہود بے بہبود نے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کی تدبیریں شروع کیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی اس کو محسوس فرمالیا کما قال تعالیٰ فلما احس عیسیٰ منہم الکفر تو اللہ تعالیٰ نے اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تسلی فرمائی کہ

صفحہ ٢١٩

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

اے عیسیٰ تم گھبراؤ مت۔ یہ تو تدبیریں کر ہی رہے ہیں ہم بھی تدبیریں کر رہے ہیں عن قریب تم کو معلوم ہو جائے گا۔

اس آیت شریفہ میں حق تعالیٰ نے ان پانچ وعدوں کا ذکر فرمایا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس وقت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمائے ایک توفی‘ دوم رفع اور سوم تطہیر من الکفار یعنی کافروں سے پاک کرنا۔ اور چہارم متبعین کا منکرین پر قیامت تک غالب اور فائق رہنا۔ اور پنجم فیصلہ اختلافات‘ اول کے تین وعدے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات بابرکات کے متعلق ہیں اور چوتھا خدام کے متعلق ہے اور پانچواں فیصلہ کے متعلق ہے جس کا تعلق سب سے ہے۔

١۔ وعدہ توفی

جمہور صحابہؓ اور تابعینؒ اور عامہ سلفؒ و خلف اس طرف گئے ہیں کہ آیت میں توفی سے موت کے معنی مراد نہیں بلکہ توفی کے اصلی اور حقیقی معنی مراد ہیں یعنی پورا پورا اور ٹھیک ٹھیک لے لینا۔ کیونکہ مقصود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تسلی اور تسکین ہے کہ اے عیسیٰ تم ان دشمنوں کے ہجوم اور نرغہ سے گھبراؤ نہیں‘ میں تم کو پورا پورا روح اور جسم سمیت ان نابکاروں سے چھین لوں گا۔ یہ نابکار اور نا ہنجار اس لائق نہیں کہ تیرے وجود باجود کو ان میں رہنے دیا جائے۔ ان کی ناقدر دانی اور ناسپاسی کی سزا یہ ہے کہ ان سے اپنی نعمت واپس لے لی جائے۔ حضرت مولانا شاہ سید محمد انور نور اللہ وجہہ یوم القیامۃ و نضر (آمین) فرماتے ہیں۔

وجوه لم تكن اهلا لخير
فياخذ منهم عيسى اليه

یہ چہرے خیر کے قابل نہ تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو ان سے لے کر اپنی طرف کھینچ لیا۔

ويرفعه و لا يبقيه فيهم
كاخذ الشئ لم يشكر عليه
صفحہ ٢٢٠

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

اور اپنی طرف اٹھا لیا اور ان میں نہ چھوڑا۔ عیسیٰ السلام کو ان سے ایسا لے لیا جیسا کہ اس شے کو لے لیا جاتا ہے کہ جس کی ناقدری کی جائے۔

وحیز کما یجازا لشئ حفظا
و آواہ الی ماوی لدیہ

اور ان سے چھین کر اپنے پاس محفوظ رکھا اور اپنے یہاں ان کو ٹھکانا دیا۔ اس مقام پر موت کے معنی مناسب نہیں اس لیے کہ جب ہر طرف سے خون کے پیاسے اور جان کے لیوا کھڑے ہوئے ہوں، تو اس وقت تسلی اور تسکین خاطر کے لیے موت کی خبر دینا یا موت کا ذکر کرنا مناسب نہیں۔ دشمنوں کا تو مقصود ہی جان لینا ہے اس وقت تو مناسب یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ تم گھبراؤ نہیں ہم تم کو تمہارے دشمنوں کے نرغہ سے صحیح و سالم نکال لے جائیں گے۔ تمہارا بال بھی بیکا نہ ہو گا ہم تم کو دشمنوں کے درمیان سے اس طرح اٹھا لیں گے کہ تمہارے دشمنوں کو تمہارا سایہ بھی نہ ملے گا آیت میں اگر توفی سے موت کے معنی مراد ہوں تو عیسیٰ علیہ السلام کی تو تسلی نہ ہو گی۔ البتہ یہود کی تسلی ہو گی اور معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ اے یہود! تم بالکل نہ گھبراؤ اور نہ مسیح کے قتل کی فکر کرو۔ میں خود ہی ان کو موت دوں گا اور تمہاری تمنا اور آرزو پوری کروں گا۔ خود بخود تمہاری تمنا پوری ہو جائے گی۔ تمہیں کوئی مشقت بھی نہ ہو گی۔

(٢)

نیز یہ کہ توفی بمعنی الموت تو ایک عام شے ہے جس میں تمام مومن اور کافر، انسان اور حیوان سب ہی شریک ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کیا خصوصیت ہے جو خاص طور پر ان سے توفی کا وعدہ فرمایا گیا؟ قرآن کریم کے تتبع اور استقراء سے معلوم ہوتا ہے کہ توفی کا وعدہ حق تعالیٰ نے سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے اور کسی سے نہیں فرمایا۔

(٣)

صفحہ ٢٢١

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

نیز ومکروا و مکر اللہ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ توفی سے پورا پورا لینا اور آسمان پر اٹھایا جانا مراد ہو کیونکہ باجماع مفسرین (١) و مکروا سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل اور صلب کی تدبیریں مراد ہیں اور مکر اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حفاظت کی تدبیر مراد ہے اور مکر اللہ کو مکروا کے مقابلہ میں لانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ یہود کا مکر اور ان کی تدبیر تو نیست اور ناکام ہوئی اور اللہ سبحانہ کا مکر اور اس کی تدبیر غالب آئی۔ واللہ غالب علی امرہ جیسے:

(١) قوله تعالیٰ و مکروا ای بالقتل و مکر اللہ ای بالرفع الی السماء کما هو مصرح فی التفسیر الکبیر ص ٤٦٣ ج ٢۔ ابن کثیر ص ٢٢٩ ج ٢۔ در منثور ص ٣٦ ج ٢۔ کشاف ص ٣٠٦ بیضاوی ص ١١ ج ٢۔ بحر المحیط ص ٤٧٢ ج ٢۔ مدارک ص ٢٠٥ ج ٢۔ روح المعانی ص ١٥٨ الجزء ٣ و السراج المنیر ص ٢١٥ ج ١۔ تاریخ کامل ابن الاثیر ص ١١٠ ج ١۔ جلالین ص ٥٠ ابو السعود ص ١٣٥۔ ج ١۔)

انهم یکیدون کیدا و اکید کیدا ۝

ترجمہ = وہ بھی تدبیر کر رہے ہیں اور میں بھی تدبیر کر رہا ہوں۔

اور دوسری جگہ ارشاد ہے:

قالوا تقا سمو بالله لنبيتنه و اهله ثم لنقولن لوليه ما شهدنا مهلک اهله و انا لصدقون ۝ و مکروا مکرا و مکرنا مکرا و هم لا یشعرون ۝ فانظر کیف کان عاقبة مکرهم انا دمرنهم و قومهم اجمعین ۝

ترجمہ = قوم ثمود نے آپس میں کہا کہ قسمیں اٹھاؤ کہ ہم شب کے وقت صالح (علیہ السلام) اور ان کے متعلقین کو قتل کر ڈالیں اور بعد میں ان کے وارثوں سے کہہ دیں گے کہ ہم اس موقعہ پر حاضر نہ تھے اور ہم سچے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس طرح انہوں نے صالح علیہ السلام کے قتل کے مشورے اور تدبیر کیں اور ہم نے بھی ان کے بچانے کی خفیہ تدبیر کی

صفحہ ٢٢٢

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

کہ ان کو خبر بھی نہ ہوئی وہ یہ کہ پہاڑ سے ایک بھاری پتھر لڑھک کر ان پر آ گرا جس سے دب کر سب مرگئے (کما فی الدر المنشور) دیکھ لو کہ ان کے مکر کا کیا انجام ہوا۔ ہم نے اپنے مکر اور تدبیر سے سب کو غارت کر ڈالا۔“ اسی طرح اس آیت میں مکروا کے بعد و مکر اللہ مذکور ہے۔ جس سے حق جل شانہ کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ یہود نے جو قتل کی تدبیر کی وہ تو کارگر نہ ہوئی مگر ہم نے جو ان کی حفاظت کی نرالی اور انوکھی تدبیر کی وہی غالب ہو کر رہی۔ پس اگر روح اور جسم کا پورا پورا لینا مراد نہ لیا جائے بلکہ توفی سے موت مراد لی جائے تو یہ کوئی ایسی تدبیر نہیں جو یہود کی مغلوبی اور ناکامی کا سبب بن سکے۔ بلکہ موت کی تدبیر تو یہود کی عین تمنا اور آرزو کے مطابق ہے۔ کفار مکہ نے نبی اکرم ﷺ کے قتل کی تدبیریں کیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی حفاظت کی تدبیر کی کما قال تعالیٰ ویمکرون ویمکر اللہ واللہ خیر الماکرین O کفار مکہ آپؐ کے قتل کی تدبیریں کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ آپؐ کی حفاظت کی تدبیر کر رہا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بہترین تدبیر فرمانے والے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو کفار مکہ کے منصوبوں سے آگاہ کیا اور صحیح سالم آپ ﷺ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرا دی۔ اسی طرح حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا تھا و مکروا و مکر اللہ واللہ خیر الماکرین O یعنی یہود نے آپ کے قتل کی تدبیریں کیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت کی تدبیر کی کہ دشمنوں کے ہاتھ سے صحیح و سالم نکال کر آسمان کی طرف ہجرت کرا دی۔ اب اس ہجرت کے بعد نزول اور تشریف آوری زمین کے فتح کرنے کے لیے ہو گی۔ جیسا کہ آں حضرت ﷺ ہجرت کے کچھ عرصہ بعد مکہ فتح کرنے کے لیے تشریف لائے اور تمام اہل مکہ مشرف باسلام ہوئے۔ اسی طرح جب عیسیٰ علیہ السلام زمین کو فتح کرنے کے لیے نازل ہوں گے تو تمام اہل کتاب ایمان لے آئیں گے بر رفع الی السماء

صفحہ ٢٢٣

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

وعدہ دوم

کما قال تعالیٰ ورافعک الی

یعنی اے عیسیٰ میں تم کو اپنی جانب اٹھاؤں گا جہاں کسی انسان کی رسائی بھی نہیں ہو سکتی جہاں میرے فرشتے رہتے ہیں وہاں تم کو رکھوں گا۔ اس آیت میں رفع سے رفع جسمانی مراد ہے۔ اس لیے کہ:

رفع روحانی بصورت موت‘ یہ مرزا صاحب کے زعم کے مطابق خود... متوفیک سے معلوم ہو چکا ہے۔ لہٰذا دوبارہ ذکر کرنا موجب تکرار ہے۔

اس کو خاص طور پر بصورت وعدہ بیان کرنا بے معنی ہے۔

مناظرہ اور ان کے عقائد کی اصلاح کے بارے میں اتری ہیں اور ان کا عقیدہ یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے اور پھر دوبارہ زندہ ہو کر آسمان پر اٹھائے گئے۔ لہٰذا اگر رفع الی السماء کا عقیدہ غلط اور باطل تھا تو قرآن نے جس طرح عقیدۂ ابنیت اور عقیدہ تثلیث اور عقیدۂ قتل اور صلیب کی صاف صاف لفظوں میں تردید کی‘ تو اسی طرح رفع الی السماء کے عقیدہ کی بھی صاف صاف لفظوں میں تردید ضروری تھی اور جس طرح وما قتلوہ اور ماصلبوہ کہہ کر عقیدہ قتل و صلب کی تردید فرمائی اسی طرح بجائے بل رفعہ اللہ کے مارفعہ اللہ فرما کر عقیدہ رفع الی السماء کی تردید ضروری تھی۔ سکوت اور مبہم الفاظ سے نصاریٰ کی تو کیا اصلاح ہوتی مسلمان بھی اشتباہ اور گمراہی میں پڑ گئے۔

نیز اگر توفی اور رفع سے موت اور رفع روحانی مراد ہو تو وعدۂ تطہیر من الکفار اور وعدہ کف عن بنی اسرائیل کی کوئی حقیقت اور اصلیت باقی نہیں رہتی

صفحہ ٢٢٤

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے واذ کففت بنی اسرائیل عنک اذ جئتہم بالبینت اس آیت میں حق جل شانہ کے ان انعامات اور احسانات کا ذکر ہے کہ جو قیامت کے دن حق جل شانہ بطور امتنان عیسیٰ علیہ السلام کو یاد دلائیں گے ان میں سے ایک احسان یہ ہے کہ تجھ کو بنی اسرائیل کی دست درازی سے محفوظ رکھا۔

وعدہ سوم

ومطہرک من الذین کفروا

حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے تیسرا وعدہ یہ فرمایا کہ میں تجھ کو اپنے اور تیرے دشمنوں یعنی کافروں سے پاک کروں گا۔ اور ان کے ناپاک اور نجس پڑوس میں تجھ کو نہیں رہنے دوں گا بلکہ نہایت مطہر اور معطر جگہ میں تجھ کو بلا لوں گا۔ لفظ مطہرک‘ کفر اور کافروں کی نجاست کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال فرمایا۔ کما قال تعالیٰ انما المشرکون نجس یعنی یہ نجس اور گندے آپ کے جسم مطہر کے قریب بھی نہ آنے پائیں گے۔ اور دوسری جگہ ارشاد ہے۔ واذکففت بنی اسرائیل عنک اور اس وقت کو یاد کر‘ کہ جب بنی اسرائیل کو تیرے پاس آنے سے بھی روک دیا۔ پس اگر خدانخواستہ قتل اور صلب میں کامیاب ہو گئے تو پھر اس تطہیر اور کف کے وعدہ اور انعام کی کوئی حقیقت باقی نہیں رہتی۔

چنانچہ تفسیر در منثور ص ٣٢ ج ٢ میں حسن بصریؒ سے اس آیت کی تفسیر ان الفاظ میں مروی ہے یعنی ومخلصک من الیہود فلا یصلون الی قتلک یعنی تطہیر من الکفار سے یہ مراد ہے کہ اے عیسیٰ میں تجھ کو یہود سے چھڑاؤں گا اور ان کو تیرے قتل تک کبھی رسائی نہ ہو گی اور اذکففت بنی اسرائیل الآیۃ کی آیت میں ایک خاص لطافت ہے وہ یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کی محفوظیت کو اس عنوان سے بیان فرمایا کففت بنی اسرائیل عنک اور کففت بمعنی نجیت کا مفعول بہ بنی اسرائیل کو قرار دیا اور لفظ عنک بعد میں ذکر فرمایا جس کا مطلب یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کو تیرے سے دور رکھا۔ ان کو تیرے قریب بھی آنے نہ دیا کہ

صفحہ ٢٢٥

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

تجھے ہاتھ بھی لگا سکیں۔ لفظ کف بھی تبعید کے معنی میں ہے اور لفظ عن بھی بعد اور مجاوزۃ کے بیان کے لیے آتا ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ اذ نجینک عن بنی اسرائیل کہ تجھ کو بنی اسرائیل سے نجات دی اور ان کے ہاتھوں سے تجھ کو چھڑایا۔ جیسا کہ دوسری جگہ ہے واذ نجینکم من ال فرعون یسومونکم سوء العذاب۔ اے بنی اسرائیل اس وقت کو یاد کرو کہ جب ہم نے تم کو فرعونیوں کے عذاب سے بچایا اور نجات دی‘ اس لیے کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہ عنوان اختیار فرماتے تو یہ شبہ ہوتا کہ بنی اسرائیل کی طرح عیسیٰ علیہ السلام نے بھی دشمنوں سے ایذائیں اور تکلیفیں اٹھائیں مگر اخیر میں اللہ نے ان مصائب اور تکالیف سے نجات دی۔ عیسیٰ علیہ السلام کو کوئی ایذا تو کیا پہنچاتا‘ وہ خود بھی ان تک نہ پہنچ سکا۔ اللہ نے دشمنوں کو دور ہی رکھا اور کسی بدذات کو پاس بھی نہ پھٹکنے دیا اور جبرئیل علیہ السلام کو بھیج کر آسمان پر اٹھا لیا۔ تمام تفاسیر معتبرہ میں یہی تفسیر مذکور ہے۔

مرزا صاحب کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب سے رہا ہو کر کشمیر پہنچے اور ستاسی سال کے بعد کشمیر میں وفات پائی حالانکہ کشمیر اس وقت کفر اور شرک اور بت پرستی کا گھر تھا جو ملک شام سے کسی طرح بہتر نہ تھا۔ تمام حضرات انبیا کا مسکن اور وطن تھا اور اللہ تعالیٰ یہ فرماتے ہیں ومطہرک من الذین کفروا کہ میں تجھ کو کافروں سے پاک کرنے والا ہوں۔ نیز عیسیٰ علیہ السلام صرف بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے کما قال تعالیٰ و رسولا الی بنی اسرائیل ان کی نبوت صرف بنی اسرائیل کے لیے تھی۔ لہٰذا بنی اسرائیل کو چھوڑ کر کشمیر جانے کے کیا معنی؟

وعدہ چہارم

غلبہ متبعین بر منکرین

وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیمۃ

صفحہ ٢٢٦

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

اور اے عیسیٰ! میں تیری پیروی کرنے والوں کو تیرے کفر کرنے والوں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔

چنانچہ جس جگہ یہود اور نصاریٰ ہیں وہاں نصاریٰ یہود پر غالب اور حکمراں ہیں آج تک یہود کو نصاریٰ کے مقابلہ میں کبھی حکم رانی نصیب نہیں ہوئی۔

وعدہ پنجم

فیصلہ اختلاف

ثم الی مرجعکم فاحکم بینکم فیما کنتم فیہ تختلفون O یہ پانچواں وعدہ ہے کہ جو اختلافات کے فیصلہ کے متعلق ہے تمام اختلافات کا آخری فیصلہ تو آخرت کے دن ہو گا۔ لیکن یہود اور نصاریٰ اور اہل اسلام کے اختلافات کا ایک فیصلہ قیامت قائم ہونے سے کچھ روز پہلے ہو گا اور وہ مبارک وقت وہ ہو گا کہ جب عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے اور یہود کو چن چن کر ماریں گے۔ کوئی یہودی اس وقت اپنی جان نہیں بچا سکے گا۔ اس وقت شجر حجر بھی یہ کہیں گے ھذا یہودی ورائی فاقتلہ یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے اس کو قتل کیجئے۔ صلیب کو توڑیں گے جس سے نصاریٰ کی اصلاح مقصود ہو گی۔ یہود حضرت عیسیٰ کی نبوت و رسالت پر ایمان لائیں گے اور نصاریٰ ان کی الوہیت اور ابنیت سے تائب ہو کر ان کے عبداللہ اور رسول اللہ ہونے کا اقرار اور اعتراف کریں گے اور اہل اسلام اس وقت اپنی آنکھوں سے ان تمام چیزوں کا مشاہدہ کر لیں گے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق قرآن اور حدیث میں مذکور ہیں اور بے ساختہ ان کی زبانوں سے یہ نکلے گا۔

ھذا ما وعدنا اللہ ورسولہ وصدق اللہ ورسولہ ترجمہ = یہی ہے وہ کہ جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور بے شک اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔

اور اہل اسلام کے ایمان اور تسلیم میں اور زیادتی ہو گی اور مازادھم الا

صفحہ ٢٢٧

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

ایماناً و تسلیماً کے مصداق ہوں گے۔ اور اب تک تو نزول عیسیٰ بن مریم اور قتل دجال وغیرہ پر ایمان بالغیب تھا لیکن اب مشاہدہ کے بعد ایمان شہودی ہو جائے گا کہ جس میں ارتداد کا اندیشہ نہ رہے گا۔ غرض یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے تمام اختلافات ختم ہو جائیں گے اور روئے زمین پر کوئی دین سوائے دین اسلام کے باقی نہ رہے گا۔ اس طرح یہ فیصلہ کا وعدہ بھی پورا ہو جائے گا۔

توفی کی دوسری نوع

اور اگر اس آیت میں توفی کی دوسری نوع یعنی نوم (نیند) مراد لی جائے تب بھی مرزا صاحب کے لیے مفید نہیں کیونکہ اس صورت میں متوفیک معنی میں منیمک کے ہو گا اور آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ اے عیسیٰ میں تجھ کو سلاؤں گا اور سونے کی حالت میں تجھ کو آسمان پر اٹھاؤں گا۔ جیسا کہ تفسیر ابن جریر اور معالم التنزیل میں ربیع بن انس سے منقول ہے:

قال الربيع بن انس المراد بالتوفى النوم وكان عيسىٰ عليه السلام قد نام فرفعه الله نائماً الى السماء معناه انى منيمك ورافعك الى كما قال تعالىٰ و هو الذی يتوفكم بالليل ای مينمكم واللہ اعلم

ترجمہ = ربیع بن انس کہتے ہیں کہ آیت میں توفی سے نوم یعنی نیند مراد ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سو گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی حالت میں آسمان پر اٹھایا اور آیت کے یہ معنی ہیں کہ اے عیسیٰ میں تجھ کو سلاؤں گا اور اسی حالت میں تجھ کو اپنی طرف اٹھاؤں گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد.. وهو الذی يتوفكم بالليل (وہی ہے کہ جو تم کو رات میں سلاتا ہے) میں توفی سے نوم مراد ہے۔

لیکن توفی بمعنی نوم سے بھی مرزا صاحب کی تمنا اور آرزو پوری نہیں ہوتی کیونکہ نیند کی حالت میں آدمی زندہ رہتا ہے مرتا نہیں۔

صفحہ ٢٢٨

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

توفی کی تیسری نوع (یعنی موت)

اور اگر اس آیت میں توفی سے اس کی تیسری نوع مراد لی جائے جیسا کہ علی بن طلحہ حضرت ابن عباسؓ سے متوفیک کی تفسیر ممیتک کے ساتھ روایت کرتے ہیں تب بھی مرزا صاحب کا مدعا وفات قبل النزول حاصل نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ امام بغوی فرماتے ہیں کہ ابن عباسؓ کے اس قول کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک مطلب تو وہ ہے کہ جو وہب بن منبہ اور محمد بن اسحاق سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اولاً حضرت عیسیٰ کو وفات دی اور پھر کچھ دیر کے بعد ان کو زندہ کر کے آسمان پر اٹھایا۔ وہب یہ کہتے ہیں کہ دن کی تین ساعت مردہ رکھا اور پھر زندہ کر کے اٹھایا۔ اور محمد بن اسحاق یہ کہتے ہیں کہ دن کی سات ساعت مردہ رکھا اور پھر زندہ کر کے اٹھایا۔ غرض یہ کہ اگر توفی بمعنی موت تین ساعت یا سات ساعت کے لیے پیش بھی آئی تو اس کے بعد دوبارہ زندگی اور رفع الی السماء بھی واقع ہوا ہے اور مرزا صاحب اس کے قائل نہیں۔

دوسرا مطلب

ابن عباسؓ کے اس قول کا دوسرا مطلب ہے کہ خود ابن عباسؓ کے شاگرد خاص یعنی ضحاک سے منقول ہے کہ آیت میں تقدیم و تاخیر ہے جیسا کہ شیخ جلال الدین سیوطی تفسیر درمنثور میں فرماتے ہیں:

اخرج اسحاق بن بشر و ابن عساکر من طریق جوہر عن الضحاک عن ابن عباس فی قوله تعالیٰ انی متوفیک و رافعک الی یعنی رافعک ثم متوفیک فی اخر الزمان

(درمنثور ص ٣٦ ج ٢)

ترجمہ = ضحاک کہتے ہیں کہ ابن عباسؓ متوفیک ورافعک کی تفسیر میں یہ فرماتے تھے کہ حضرت مسیح کا رفع مقدم ہے اور ان کی وفات اخیر زمانہ میں ہو گی۔

صفحہ ٢٢٩

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

پس اگر ابن عباسؓ سے متوفیک کی تفسیر ممیتک سے مروی ہے تو ان سے تقدیم و تاخیر بھی مروی ہے۔ لہٰذا ابن عباسؓ کے نصف قول کو جو اپنی ہوائے نفسانی اور غرض کے موافق ہو، اسے لینا اور حجت قرار دینا اور دوسرے نصف کو جو ان کی غرض کے مخالف ہو اس سے گریز کرنا یہ ایسا ہی ہے جیسے تارک نماز کا لا تقربوا الصلوٰۃ سے حجت پکڑنا اور انتم سکاریٰ سے آنکھیں بند کر لینا، نصف قول کو ماننا اور نصف قول سے قطع نظر کر لینا یہ نصف الاعمیٰ اور نصف البصیر کا کام ہے۔

علاوہ ازیں ابن عباسؓ سے متوفیک کی تفسیر جو ممیتک مروی ہے اس کا راوی علی بن طلحہ ہے۔ محدثین کے نزدیک یہ راوی ضعیف اور منکر الحدیث ہے۔ علی بن طلحہ نے ابن عباس سے نہ کچھ سنا ہے اور نہ ان کو دیکھا ہے۔ لہٰذا علی بن طلحہ کی روایت ضعیف بھی ہے اور منقطع بھی ہے جو حجت نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے برعکس ابن عباس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا صحیح و سالم زندہ آسمان پر اٹھایا جانا با اسانید صحیحہ اور جیدہ منقول ہے۔ تعجب اور سخت تعجب ہے کہ ابن عباسؓ کی وہ تفسیر کہ جس کی سند ضعیف اور منکر اور غیر معتبر ہو وہ تو مرزائیوں کے نزدیک معتبر ہو جائے اور ابن عباس کی وہ تفسیر جو اسانید صحیحہ اور جیدہ اور روایات معتبرہ سے منقول ہے وہ مرزا صاحب کے نزدیک قابل قبول نہ ہو۔

حیات عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں حضرت

عبداللہ بن عباسؓ کی تصریحات

کہ ابن عباسؓ کے نزدیک وان من اھل الکتب الا لیومنن بہ قبل موتہ میں قبل موتہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے یعنی قبل موت عیسیٰ اور اسی پر ابن عباسؓ کو جزم اور یقین تھا علامہ آلوسی روح المعانی میں لکھتے ہیں:

والصحیح کما قال القرطبی ان اللہ تعالیٰ رفعہ من غیر وفاۃ ولا نوم و ھو الروایۃ الصحیحۃ عن ابن عباس۔ روح المعانی

صفحہ ٢٣٠

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

ترجمہ = امام قرطبی فرماتے ہیں کہ صحیح یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر موت اور بغیر نیند کے زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور ابن عباسؓ کا صحیح قول یہی ہے۔

امام قرطبی کے کلام کا صاف مطلب یہی ہے کہ ابن عباسؓ سے صحیح روایت یہی ہے کہ وہ زندہ آسمان پر اٹھا لیے گئے اور اس کے خلاف جو روایت ہے وہ ضعیف ہے قابل اعتبار نہیں۔

قال الحافظ عماد الدین بن کثیر عن ابن عباس قال لما اراد اللہ ان یرفع عیسی الی السماء الی ان قال ورفع عیسی من روزنة فی البیت الی السماء قال وجاء الطلب من الیہود فاخذوا الشبہ فقتلوہ ثم صلبوہ و ھذا اسناد صحیح الی ابن عباس۔

(تفسیر ابن کثیر ص ٩ ج ٢)

ترجمہ = حافظ عماد الدین بن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ابن عباسؓ فرماتے ہیں، جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھانے کا ارادہ فرمایا تو ایک شخص پر ان کی شباہت ڈال دی گئی اور وہ قتل کر دیا گیا اور عیسیٰ علیہ السلام مکان کے روشن دان سے آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ ابن عباسؓ کے اس اثر کی سند صحیح ہے۔

کہ اس کی سند صحیح ہے، بے شک اس کے راوی بخاری کے راوی ہیں۔

علامہ آلوسی نے ومکروا و مکر اللہ کی تفسیر میں ابن عباسؓ کا قول نقل کیا کہ مکر اللہ سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص پر عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی اور عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا گیا۔

(روح المعانی ص ١٧٥ ج ٣)

للعلم للساعة سے نزول عیسیٰ علیہ السلام مراد ہے۔

صفحہ ٢٣١

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

کیا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور رفع الی السماء کے بارے میں نص صریح ہے ہم اس کو ہدیہ ناظرین کرتے ہیں وہو ہذا:

اخبرنا هشام بن محمد بن السائب عن ابيه عن ابى صالح عن ابن عباس قال كان بين موسى بن عمران و عيسى بن مريم الف سنة و تسعمائة الى ان قال و ان عيسى صلى الله عليه وسلم حين رفع كان ابن اثنتين وثلاثين سنة و ستة اشهر وكانت نبوته ثلاثين شهرا وان الله رفعه بجسده و انه حيي الان و سيرجع الى الدنيا فيكون ملكا ثم يموت كما يموت الناس الخ

(طبقات کبریٰ ص ٢٦ ج ١ مطبوعہ لیدن (جرمنی)

ترجمہ = ابن عباس فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیانی زمانہ انیس سو سال ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام جس وقت اٹھائے گئے تو ان کی عمر شریف ٣٢ سال اور چھ ماہ کی تھی اور زمانہ نبوت تیس ماہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے جسم سمیت اٹھایا در آنحالیکہ وہ زندہ تھے اور آئندہ زمانہ میں پھر وہ دنیا کی طرف واپس آئیں گے اور بادشاہ ہوں گے۔ اور پھر چند روز بعد وفات پائیں گے۔ جیسے اور لوگ وفات پاتے ہیں۔

حضرت عباسؓ کے اس قول سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی السماء اور دوبارہ نزول صراحۃً معلوم ہو گیا اس روایت میں ابن عباسؓ نے سیرجع الی الدنیا کا لفظ استعمال فرمایا جو رجوع سے مشتق ہے جس کے معنی واپسی کے ہیں یعنی جس طرح جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر گئے تھے اسی جسم کے ساتھ اسی طرح دوبارہ واپسی اور تشریف آوری ہو گی۔ خود بہ نفس نفیس وہ دنیا میں واپس تشریف لائیں گے کوئی ان کا مثیل اور شبیہ نہیں آئے گا۔

خلاصہ کلام

صفحہ ٢٣٢

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

یہ کہ اگر ابن عباسؓ سے متوفیک کی تفسیر ممیتک کے ساتھ منقول ہے تو ان سے تقدیم و تاخیر بھی منقول ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کا اسی جسد عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھایا جانا اور پھر قیامت کے قریب ان کا آسمان سے نازل ہونا یہ بھی ابن عباسؓ سے مروی ہے۔

مرزا صاحب کو چاہیے کہ ابن عباسؓ کے ان اقوال صریحہ کو بھی تسلیم کریں۔ حالانکہ ان اقوال کی اسانید نہایت صحیح اور قوی ہیں اور متوفیک کی تفسیر جو ممیتک سے مروی ہے اس کی سند ضعیف ہے۔

جواب دیگر

اور اگر بالفرض یہ تسلیم کر لیا جائے کہ متوفیک کی تفسیر ممیتک کے ساتھ صحیح ہے تو یہ کہیں گے کہ مرزا صاحب ازالۃ الاوہام کے (ص ٩٤٣ روحانی خزائن ص ٦٢١ ج ٣) پر لکھتے ہیں کہ اماتت کے حقیقی معنی صرف مارنا اور موت دینا نہیں بلکہ سلانا اور بیہوش کرنا بھی اس میں داخل ہے۔ انتہی کلامہ

مرزا صاحب اس عبارت میں فقط اس امر کے مدعی نہیں کہ اماتت کے معنی کبھی سلانے کے بھی آ جاتے ہیں بلکہ اس کے مدعی ہیں کہ جس طرح مارنا اور موت دینا اماتت کے حقیقی معنی ہیں اسی طرح سلانا اور بے ہوش کرنا بھی اماتت کے حقیقی معنی ہیں۔ لہٰذا جب مرزا صاحب کے نزدیک اماتت کے حقیقی معنی سلانے کے بھی ہیں تو ابن عباسؓ کی تفسیر ممیتک میں اگر اماتت سے سلانے کے معنی مراد لیے جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اس لیے کہ مرزا صاحب کے نزدیک یہ معنی بھی حقیقی ہیں اور آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ نیند کی حالت میں آسمان پر اٹھائے گئے۔ جیسا کہ ربیع سے منقول ہے اور حدیث میں بھی اماتت بمعنی انامت یعنی سلانے کے معنی میں آیا ہے الحمد للہ الذی احیانا بعد ما اماتنا والیہ النشور

اقوال مفسرین

گزشتہ تفصیل کے بعد اب کسی مزید توضیح کی ضرورت نہیں۔ مگر چونکہ توفی

صفحہ ٢٣٣

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

کے استعمالات مختلف ہیں اس لیے حضرات مفسرین سے اس آیت کی جو توجیہات منقول ہیں ہم ان توجیہات کو نقل کر کے یہ بتلانا اور دکھانا چاہتے ہیں کہ تمام مفسرین سلف اور خلف اس پر متفق ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام بجسدہ العنصری زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ آیت شریفہ کی توجیہات اور تفسیری تعبیرات میں اگرچہ بظاہر اختلاف ہے لیکن رفع الی السماء پر سب متفق ہیں اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔

عباراتنا شتی و حسنک واحد
وکل الی ذاک الجمال یشیر

ہماری تعبیرات مختلف ہیں اور تیرا حسن ایک ہے سب کا اشارہ اسی ایک حسن کی طرف ہے۔

قول اول

توفی سے استیفاء اور استکمال کے معنی مراد ہیں اور استیفاء اور استکمال سے عمر کا اتمام مراد ہے۔ اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے عیسیٰ تم دشمنوں سے گھبراؤ نہیں یہ قتل اور صلب سے تمہاری عمر ختم کرنا چاہتے ہیں یہ سب ناکام رہیں گے۔ میں تمہاری عمر پوری کروں گا اور اس وقت میں تم کو آسمان پر اٹھاؤں گا چنانچہ امام رازی فرماتے ہیں:

الاول معنی قولہ انی متوفیک ای انی متم عمرک فحینئذ اتوفاک فلا اترکہم حتی یقتلوک بل انا رافعک الی السماء و مقربک بملائکتی و اصونک عن ان یتمکنوا من قتلک و ھذا تاویل حسن

(تفسیر کبیر ص ٤٨١ ج ٢)

ترجمہ = انی متوفیک کے معنی یہ ہیں کہ اے عیسیٰ میں تیری عمر پوری کروں گا۔ کوئی شخص تجھ کو قتل کر کے تیری عمر قطع نہیں کر سکتا۔ میں تجھ کو تیرے دشمنوں کے ہاتھ میں نہیں چھوڑوں گا کہ وہ تجھ کو قتل کر

صفحہ ٢٣٤

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

سکیں ۔ بلکہ میں تجھ کو آسمان پر اٹھاؤں گا اور اپنے فرشتوں میں رکھوں گا۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ یہ معنی نہایت عمدہ ہیں۔

اور اسی معنی کو علامہ زمخشری نے تفسیر کشاف میں ذکر کیا ہے اور اس معنی کا کلام اپنے حال پر ہے۔ کلام میں کوئی تقدیم و تاخیر نہیں۔ توفی کے معنی اتمام عمر کے ہیں جو ابتدائے عمر سے لے کر اخیر عمر تک صادق ہیں اسی درمیان میں رفع الی السماء ہوا اور اسی درمیان میں نزول ہو گا اور وقت پر وفات ہو گی۔ اس طرح عمر شریف پوری ہو گی۔

قال الزمخشری انی متوفیک ای مستوفی اجلک و معناه انی عاصمک من ان یقتلک الکفار و موخرک الی اجل کتبته لک وممیتک حتف انفک لا قتیلا بایدیہم... ففسره بمادة من باب الاستفعال و قوله و معناه الخ یرید حاصل المقام و ماجری فی سلسلة الواقعة لا تفسیر لفظیا فانه مرض فیما بعد و لم یرضه ان يكون تفسیره ابتداء حيث قال و ممیتک فی وقتک بعد النزول من السماء ورافعک الان۔ وقد عدل الله عن لفظ الاماتة لئلا يباده و يواجه عیسیٰ به فی مقابلة الیهود علی ذکر التناول ولا ستيفاء ثم لیجری مایجری کل یحیی مستكمل مدة العمر۔

مشکلات القرآن ص ١٣٢

قول دوم

توفی سے قبض من الارض کے معنی مراد ہیں۔ یعنی اے عیسیٰ میں تم کو ان کافروں سے چھین کر پورا پورا اپنے قبضہ میں لے لوں گا جیسا کہ امام رازی قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں:

ان التوفی ھو القبض یقال وفانی فلان دراھمی وتوفیتھا کما یقال سلم فلان الی دراهمی و تسلمتھا

(تفسیر کبیر ص ٣٨١ ج ٢)

ترجمہ = یعنی توفی کے معنی کسی شے پر پوری طرح قبضہ کر لینے کے ہیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے میرے پورے روپے دیدیے۔ اور میں نے اپنے پورے روپے اس سے وصول کر لیے۔

صفحہ ٢٣٥

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

آیت کے یہ معنی حسن بصری اور مطر وراق اور ابن جریج اور محمد بن جعفر بن زبیر سے منقول ہیں۔ اور امام ابن جریر طبری نے اسی معنی کو اختیار فرمایا ہے۔ اس معنی کو بھی آیت میں کوئی تقدیم و تاخیر نہیں۔ قول اول اور قول ثانی دونوں قولوں میں توفی کے معنی استیفاء اور اکمال ہی کے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ پہلے قول میں استیفاء سے اجل اور عمر کا اتمام اور اکمال مراد لیا گیا۔ اور دوسرے قول میں ایک شخص اور ایک ذات کا پورا پورا قبضہ میں لینا مراد لیا گیا ہے۔ ایک جگہ استیفاء اجل ہے اور ایک جگہ استیفاء شخص اور استیفاء قبضہ ہے۔

قول سوم

توفی کے معنی اخذ الشی وافیا کے ہیں یعنی کسی شی کو پورا پورا لے لینا۔ اور اس جگہ عیسیٰ علیہ السلام کو روح اور جسم دونوں کے ساتھ لے لینا مراد ہے۔ جیسا کہ امام رازی فرماتے ہیں:

ان التوفی اخذ الشی وافیا ولما علم اللہ تعالیٰ ان من الناس من یخطر ببالہ ان الذی رفعہ اللہ ھو روحہ لا جسدہ ذکر ھذا الکلام لیدل علی انہ علیہ الصلوۃ والسلام رفع بتمامہ الی السماء بروحہ و بجسدہ ویدل علی صحۃ ھذا التاویل قولہ تعالیٰ و ما یضرونک من شی (تفسیر کبیر ص ٤٨١ ج ٢)

ترجمہ = توفی کے معنی کسی شے کو پورا پورا اور بجمیع اجزاء لے لینے کے ہیں۔ چونکہ حق تعالیٰ کو معلوم تھا کہ بعض لوگوں کے دل میں وسوسہ گزرے گا کہ شاید اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کی صرف روح کو اٹھایا اس لیے متوفیک کا لفظ فرمایا تاکہ معلوم ہو جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام روح اور جسم سمیت آسمان پر اٹھائے گئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا ہے وما یضرونک من شی تم کو ذرہ برابر ضرر نہیں پہنچا سکیں گے نہ روح کو نہ جسم کو۔

صفحہ ٢٣٦

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

قول چہارم

توفی سے نوم کے معنی مراد ہیں۔ یعنی سلا کر تم کو اپنی طرف اٹھاؤں گا کہ تم کو خبر بھی نہ ہو کہ کیا ہوا اور آسمان اور فرشتوں ہی میں جاکر آنکھ کھلے گی۔ یہ قول ربیع بن انس سے مروی ہے: قال الربیع بن انس المراد بالتوفی النوم و کان عیسیٰ علیہ السلام قد نام فرفعه الله نائماً الی السماء معناه منیمک ورافعک الی کما قال تعالیٰ وهو الذی یتوفکم باللیل

(تفسیر درمنثور ص ٣٦ ج ٢ و معالم التنزیل و تفسیر کبیر وغیرہ وغیرہ)

ترجمہ = ربیع بن انس کہتے ہیں کہ توفی سے نوم یعنی نیند کے معنی مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سونے کی حالت میں آسمان پر اٹھایا جیسا کہ وهو الذی یتوفکم باللیل اس آیت میں توفی سے نوم کے معنی مراد ہیں۔

قول پنجم

توفی سے موت کے معنی مراد ہیں جیسا کہ علی بن ابی طلحہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے متوفیک کے معنی ممیتک روایت کرتے ہیں۔ امام بغوی معالم التنزیل میں فرماتے ہیں کہ ابن عباسؓ کی اس روایت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کو چند ساعت مردہ رکھا اور پھر زندہ کر کے آسمان پر اٹھایا۔ جیسا کہ محمد بن اسحق اور وہب سے منقول ہے۔ اس قول پر آیت میں کوئی تقدیم و تاخیر نہیں۔ دوسرا مطلب وہ ہے جو ضحاک سے مروی ہے وہ یہ کہ آیت میں تقدیم و تاخیر ہے اور معنیٰ آیت کے یہ ہیں کہ: انی متوفیک بعد انزالک من السماء ترجمہ = میں تجھ کو آسمان سے اترنے کے بعد موت دوں گا۔

صفحہ ٢٣٧

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

کیا تقدیم و تاخیر تحریف ہے؟

مرزا صاحب ازالۃ الاوہام ص ٩٢٥ ج ٢ روحانی خزائن ص ٦٠٨ ج ٣ میں لکھتے ہیں: اگر کوئی کہے کہ رافعک مقدم اور متوفیک مؤخر ہے سو ان یہودیوں کی طرح تحریف ہے کہ جن پر بوجہ تحریف کے لعنت ہو چکی ہے۔ انتہی

جواب

تقدیم و تاخیر نہ قواعد عربیت کے خلاف ہے اور نہ فصاحت و بلاغت میں مخل ہے بلکہ بسا اوقات عین فصاحت اور عین بلاغت ہے۔ فصحاء اور بلغاء کے کلام میں شائع اور ذائع ہے۔ امام رازی قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں: ومثلہ من التقدیم والتاخیر کثیر فی القران۔

(تفسیر کبیر ص ٤٨١ ج ٢)

ترجمہ = ابن عباس کی تفسیر میں جو تقدیم و تاخیر آئی ہے اس قسم کی تقدیم و تاخیر قرآن کریم میں کثیر ہے

امام قرطبی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

قال جماعة من اهل المعانی منھم الضحاک والفراء فی قولہ تعالیٰ انی متوفیک و رافعک الیٰ علی التقدیم والتاخیر لان الواو لا توجب الرتبۃ والمعنی انی رافعک الی و مطھرک من الذین کفروا متوفیک بعد ان تنزل من السماء کقولہ تعالیٰ ولولا کلمة سبقت من ربک لکان لزاما واجل مسمی والتقدیر و لولا کلمة سبقت من ربک واجل مسمی لکان لزاما قال الشاعر

الا یانخلۃ من ذات عرق---- علیک ورحمۃ اللّٰہ السلام

(تفسیر قرطبی ص ٩٩ ج ٤)

ترجمہ = اہل علم کی ایک جماعت جن میں ضحاک اور فراء بھی ہیں یہ کہتے

صفحہ ٢٣٨

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

ہیں کہ حق تعالیٰ کے اس قول انی متوفیک ورافعک الی میں تقدیم و تاخیر ہے اور اس میں کوئی حرج اور مضائقہ نہیں۔ اس لیے کہ واؤ ترتیب کو مقتضی نہیں اور معنی آیت کے اس طرح ہیں کہ اس وقت رفع ہو گا اور توفی یعنی وفات بعد نزول کے ہو گی۔ اور تقدیم و تاخیر کے نظائر قرآن کریم میں موجود ہیں جیسا کہ ولولا كلمة سبقت من ربك لكان لزاما و اجل مسمی اس آیت میں بھی تقدیم و تاخیر ہے۔ اصل تقدیر عبارت اس طرح ہے ولولا كلمة سبقت من ربك واجل مسمى یعنی واجل مسمی کا عطف کلمہ پر ہے اور لکان لزاما دونوں ہی کی خبر ہے۔ شاعر کہتا ہے اے مقام نخلہ تجھ پر اللہ کی رحمت اور سلام ہو اس شعر میں تقدیم و تاخیر ہے کہ السلام موخر ہے جو معطوف علیہ ہے اور رحمتہ اللہ مقدم ہے جو معطوف ہے۔ قاعدہ کا مقتضی یہ ہے کہ معطوف علیہ مقدم ہو اور معطوف موخر ہو اور شعر میں معطوف یعنی ورحمتہ اللہ مقدم ہے اور معطوف علیہ یعنی السلام موخر ہیں (تفسیر قرطبی)

وقال تعالیٰ ماهی الا حياتنا الدنيا نموت و نحيی فقالت طائفة هو مقدم و موخر و معناه نحيی ونموت الخ

(لسان العرب ص ١٣٢ ج ١٨)

ترجمہ = اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اس قول ماهی الا حياتنا الدنيا نموت و نحيی میں تقدیم و تاخیر ہے اصل کلام نحيی و نموت ہے اس لیے کہ حیات مقدم ہے اور موت اس کے بعد ہے۔ مگر آیت میں نموت مقدم ہے اور نحيی موخر ہے۔

وقال تعالیٰ حتى تستانسوا و تسلموا قال الفراء هذا مقدم و موخر انماهی حتى تسلموا و تستانسوا السلام عليكم أأدخل

(لسان العرب ص ١١٢ ج ٧)

ترجمہ = اور حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے

صفحہ ٢٣٩

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

پہلے اجازت چاہو اور سلام کرو۔ فراء کہتے ہیں کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہے پہلے سلام ہے اور بعد استیذان اجازت حاصل کرنے کے لیے اس طرح کہنا چاہیے السلام علیکم أدخل۔ سلام ہو تم پر کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟

بنی اسرائیل میں جو قتل کا واقعہ پیش آیا، قرآن کریم میں اس واقعہ کو واذ قتلتم نفسا فادرء تم سے بعد میں بیان فرمایا اور اس کے متعلق جو احکام صادر ہوئے ان کو پہلے بیان فرمایا۔ کما قال تعالیٰ ان اللّٰہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ الآیات۔ اور قرآن کریم میں واقعات کو بکثرت مقدم و موخر بیان کیا گیا ہے۔

کما قال ابو حیان و قال بعض الناس التقدیم و التاخیر حسن لان ذلک موجود فی القران فی الجمل و فی الکلمات و فی کلام العرب ولو رد من ذلک جملا من ذلک قصۃ نوح علیہ السلام فی اهلاک قومہ و قولہ و قال ارکبوا و فی حکم من مات عنھا زوجھا بالتربص بالاربعۃ الشھر بمتاع الی الحول اذا لبینا نسخ مقدم و منسوخ و متاخر۔

(کذا فی البحر المحیط ص ٢٥٩ ج ١)

بطور نمونہ چند آیات پر اکتفا کیا گیا ورنہ قرآن کریم ہی میں تقدیم و تاخیر کے صدہا نظائر موجود ہیں اور حدیث میں تو کوئی شمار نہیں۔ غرض یہ کہ تقدیم و تاخیر تحریف تو کیا ہوتی فصاحت و بلاغت کے بھی خلاف نہیں اور آیت توفی میں تقدیم و تاخیر خود ابن عباسؓ سے مروی ہے جیسا کہ تفسیر در منثور میں مذکور ہے۔

مرزا صاحب بھی تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں

مرزا صاحب ”مسیح ہندوستان“ کے (ص ٥٤ روحانی خزائن ص ٥٤ ج ١٥ پر لکھتے ہیں) ”اور مطہرک کی پیشن گوئی میں یہ اشارہ ہے کہ ایک زمانہ وہ آتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان الزاموں سے مسیح کو پاک کرے گا اور وہ زمانہ یہی ہے“ (یعنی مرزا کا

صفحہ ٢٤٠

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

زمانہ) اھ۔

اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت مسیح سے جو تطہیر کا وعدہ تھا وہ مرزا کے زمانہ میں پورا ہوا اور جاعل الذین اتبعوک یعنی متبعین کے غالب کرنے کا وعدہ اس وعدہ سے بہت پہلے پورا ہو چکا ہے۔ اس لیے کہ واقعہ صلیب کے تین سو سال بعد عیسائیوں کی سلطنت قائم ہو گئی تھی اور متبعین کے غلبہ کا وعدہ پورا ہو گیا تھا۔ لہٰذا مرزا کے قول پر آیت میں تقدیم و تاخیر لازم آئی۔ اس لیے کہ متبعین کے غالب کرنے کا وعدہ جو آیت میں وعدہ تطہیر کے بعد مذکور ہے وہ تو پہلے پورا ہوا اور وعدہ تطہیر جو پہلے مذکور ہے وہ مرزا کے زمانہ میں انیس سو سال کے بعد پورا ہوا۔

فائدہ (متعلقہ بآیت مائدہ)

جب یہ ثابت ہو گیا کہ توفی کے حقیقی معنی استیفاء اور استکمال اور اخذ الشیئ وافیا (یعنی کسی شے کو پورا پورا لینے کے ہیں) اور انی متوفیک ورافعک الی میں توفی سے موت کے معنی مراد نہیں بلکہ توفی سے رفع آسمانی مراد ہے۔ تو اس طرح سورۂ مائدہ کی آیت توفی کو سمجھئے کہ وہاں بھی توفی سے رفع الی السماء ہی مراد ہے اور فلما توفیتنی کے معنی فلما رفعتنی الی السماء کے ہیں۔ چنانچہ تمام معتبر تفاسیر میں توفیتنی کی تفسیر رفعتنی کے ساتھ مذکور ہے چند تفاسیر کے حوالہ پر اکتفا کرتے ہیں۔

جیسا کہ تفسیر ابن جریر اور ابن کثیر اور در منثور میں ہے۔ امام رازی تفسیر کبیر ص ٧٠٠ ج ٣ میں لکھتے ہیں فلما توفیتنی المراد بہ وفاۃ الرفع الی السماء الخ اور تفسیر ابو السعود ص ٧٠١ ج ٣ ورافعک الی فان التوفی اخذ الشیئ وافیا اور اس طرح (تفسیر بیضاوی اور معالم التنزیل ص ٣٠٨ ج ١۔ اور مدارک التنزیل میں ٢٤٢ ج ١۔ اور تفسیر خازن ص ٤٠٨ ج ١ تفسیر روح المعانی ص ١٥٨ ج ٣)

الغرض ان تمام تفاسیر میں صراحۃً اس کی تصریح ہے کہ توفی سے رفع الی السماء مراد ہے۔ اور بالفرض اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ آیت مائدہ میں توفی سے

صفحہ ٢٤١

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

کنایۃ ”موت مراد لی گئی ہے تب بھی مرزا صاحب کا مدعا ثابت نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ اس آیت میں اس وفات کا ذکر ہے جو بعد از نزول قیامت سے پہلے ہو گی۔ کیونکہ آیت کا تمام سیاق و سباق اس بات پر شاہد ہے کہ یہ تمام واقعہ کوئی گزشتہ واقعہ نہیں بلکہ مستقبل یعنی قیامت کا واقعہ ہے اور قیامت سے پہلے ہم بھی وفات مسیح کے قائل ہیں جیسا کہ یوم یجمع اللّٰہ الرسل الخ اور ھذا یوم ینفع الصدقین صدقہم اور ویوم القیٰمۃ یکون علیہم شہیدا ۝ سے صاف ظاہر ہے۔

(تفسیر در منثور ص ٣٤٩ ج ٢ میں ہے:)

اخرج عبدالرزاق و ابن ابی حاتم عن قتادۃ فی قولہ ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الہین من دون اللّٰہ متی یکون ذلک قال یوم القیمۃ الا تریٰ انہ یقول یوم ینفع الصدقین۔

ترجمہ = عبدالرزاق اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ سے نقل کیا ہے کہ قتادہ سے ءانت قلت للناس اتخذونی الخ کے متعلق دریافت کیا گیا کہ یہ واقعہ کب ہو گا؟ تو یہ فرمایا کہ قیامت کے دن ہو گا‘ جیسا کہ ھذا یوم ینفع الصدقین سے صاف معلوم ہوتا ہے۔

بلکہ بعض مرفوع احادیث میں بھی اس کی تصریح موجود ہے کہ یہ واقعہ قیامت کا ہے:

روی ابن عساکر عن ابی موسیٰ الاشعری قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اذا کان یوم القیمۃ یدعی بالانبیا و اممہم ثم یدعی بعیسیٰ فیذکرہ نعمۃ علیہ فیقر بہا فیقول یعیسیٰ اذکر نعمتی علیک و علیٰ والدتک الایۃ ثم یقول ءانت قلت للناس اتخذونی و امی الہین من دون اللّٰہ۔ فینکر ان یکون قال ذلک الحدیث

(تفسیر ابن کثیر ص ٢٨١ ج ٣)

ترجمہ = ابو موسیٰ اشعری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے

صفحہ ٢٤٢

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن انبیاء اور ان کی امتوں کو بلایا جائے گا۔ پھر حضرت عیسیٰ کو بلایا جائے گا۔ حق تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو اپنے قریب بلا کر یہ فرمائیں گے کہ تم ہی نے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو خدا بناؤ۔ عیسیٰ علیہ السلام انکار فرمائیں گے کہ معاذ اللہ میں نے ہرگز نہیں کہا۔

واخرج ابن مردویہ عن جابر بن عبداللہ انہ سمع النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول اذا کان یوم القیمۃ جمعت الامم ودعا کل اناس بامامہم قال و یدعی عیسیٰ فیقول یعیسیٰ یعیسیٰ انت قلت الناس اتخذونی وامی الہین من دون اللہ فیقول سبحنک ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق الی قولہ یوم ینفع الصدقین۔

(تفسیر درمنثور ص ٣٤٩ ج ٢)

ترجمہ = اس حدیث شریف کا ترجمہ تقریباً وہی ہے جو کہ پہلی حدیث کا ہے ابو موسیٰ اشعری کی حدیث کی طرح جابر بن عبداللہ کی اس روایت میں بھی اس امر کی تصریح موجود ہے کہ قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام سے یہ دریافت کیا جائے گا۔

مرزا جس موت کے مدعی ہیں وہ کسی لفظ سے بھی ثابت نہیں ہوتی مرزا کا دعویٰ تو یہ ہے کہ حضرت مسیح واقعہ صلیب کے بعد کشمیر تشریف لے گئے اور ستاسی سال زندہ رہ کر شہر سری نگر کے محلہ خان یار میں مدفون ہوئے یہ نہ کسی آیت سے ثابت ہے نہ کسی حدیث سے اور نہ کسی صحابی اور تابعی بلکہ کسی معتبر عالم کے قول سے بھی ثابت نہیں۔ ممکن ہے کہ یہ بھی اسی کنہیا لال اور مراری لال اور روشن لال سے منقول ہو کہ جنہوں نے کریم بخش کے صادق ہونے کی گواہی دی ہے۔

مرزا ازالہ الاوہام (ص ٧٠٨ روحانی خزائن ص ٤٨٢ ج ٣ میں لکھتے ہیں) کہ کریم بخش روایت کرتے ہیں کہ گلاب شاہ مجذوب نے بیس برس پہلے مجھ کو کہا کہ اب عیسیٰ جوان ہو گیا ہے اور لدھیانہ میں آ کر قرآن کی غلطیاں نکالے گا۔ پھر کریم بخش

صفحہ ٢٤٣

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

کی تعدیل بہت سے گواہوں سے کی گئی جن میں خیراتی بوٹا‘ کنیا لال‘ مراری لال‘ روشن لال‘ گنیشال وغیرہ ہیں۔ اور گواہی یہ ہے کہ کریم بخش کا جھوٹ کبھی ثابت نہیں ہوا۔ انتہی الکلام المرزا النظام

ائمہ حدیث جب کسی راوی کی توثیق اور تعدیل نقل کرتے ہیں تو احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین کا نام مبارک پیش کر دیتے ہیں۔ مرزا کو جب کریم بخش کی روایت کی تعدیل کی ضرورت پیش آئی تو کنیا لال اور مراری لال کی تعدیل پیش کی۔ ناظرین کرام تعجب نہ فرمائیں۔ نبی کاذب کے سلسلہ روایت کے لیے کنیا لال اور مراری لال ہی جیسے راوی مناسب اور ضروری ہیں۔ مرزا معذور ہے اپنی مسیحیت کی گواہی میں آخر کس کو پیش کریں؟ حضرات محدثین کے نزدیک مالک عن نافع عن ابن عمر یہ مسند سلسلۃ الذہب کے نام سے موسوم ہے۔ یہ سلسلۃ الذہب تو حضرات محدثین کا ہے۔ اور مرزا صاحب کا سلسلۃ الذہب یہ ہے کہ جو حضرات ناظرین نے پڑھا۔ یعنی کنیا لال اور مراری لال اور روشن لال۔

اے مرزائیو! تمہیں کیا ہوا؟ مالک اور نافع اور ابن عمر کی روایت تو تمہاری نظر میں غیر معتبر ہو گئی اور مرزا اور مراری لال اور کنیا لال اور روشن لال کی اور اس قسم کے پاگل داس لوگوں کی بکواس معتبر ہو گئی۔

ع بریں عقل و دانش بباید گریست

ایک وہم اور اس کا ازالہ

مرزا صاحب ازالۃ الاوہام (ص ٦٠٢ روحانی خزائن ص ٤٢٥ ج ٣) پر لکھتے ہیں: ”تعجب ہے کہ اس قدر تاویلات رکیکہ کرنے سے ذرا بھی نہیں شرم کرتے وہ نہیں سوچتے کہ آیت فلما توفیتنی سے پہلے یہ آیت ہے واذ قال اللہ یعیسیٰ ابن مریم اانت قلت للناس الخ اور ظاہر ہے کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اول اذ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا نہ زمانہ استقبال کا۔

صفحہ ٢٤٤

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

اور پھر ایسا ہی جو جواب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے ہے یعنی فلما توفیتنی وہ بھی صیغہ ماضی ہے۔“ انتہی کلام الغلام۔

جواب

یہ ہے کہ مرزا اس کے بعد (الحکم ٢٢ مورخہ ٢٠ ربیع الثانی ١٣٢٤ھ ملفوظات احمدیہ ٢٣٥ ج ٧) طاعون کی پیشین گوئی کی نسبت لکھتے ہیں کہ ”مجھے خدا کی طرف سے وحی ہوئی:

عفت الدیار محلھا و مقاما

یعنی اس کا ایک حصہ مٹ جائے گا جو عمارتیں ہیں نابود ہو جائیں گی۔ اس پر اعتراض ہوا کہ یہ مصرع لبید کا ہے اس نے گزشتہ زمانہ کی خبر دی ہے کہ خاص خاص مقام ویران ہو گئے۔

اس کا جواب خود یہ تحریر فرماتے ہیں کہ جس شخص نے کافیہ یا ہدایۃ النحو بھی پڑھی ہو گی وہ خوب جانتا ہے کہ ماضی مضارع کے معنی پر بھی آ جاتی ہے بلکہ ایسے مقامات میں جب کہ آنے والا واقعہ متکلم کی نگاہ میں یقینی الوقوع ہو مضارع کو ماضی کے صیغہ پر لاتے ہیں تاکہ اس امر کا یقینی الوقوع ہونا ظاہر ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ونفخ فی الصور۔ واذ قال اللہ یعیسیٰ بن مریم اانت قلت للناس اتخذونی و امی الھین من دون اللہ۔ ولوتریٰ اذ وقفوا علے ربھم وغیرہ اب معترض صاحب فرمائیں کہ کیا قرآنی آیات ماضی کے صیغے ہیں یا مضارع کے اور اگر ماضی کے صیغے ہیں تو ان کے معنی اس جگہ مضارع کے ہیں یا ماضی کے، جھوٹ بولنے کی سزا تو اس قدر کافی ہے کہ آپ کا حملہ صرف میرے پر نہیں بلکہ یہ تو قرآن پر بھی ہو گیا۔ گویا صرف و نحو آپ کو معلوم ہے خدا کو معلوم نہیں اس وجہ سے خدا نے جا بجا غلطیاں کھائیں اور مضارع کی جگہ ماضی کو لکھ دیا۔ انتہی الکلام المرزا الغلام۔

ناظرین انصاف فرمائیں کہ جس آیت پر یعنی اذ قال اللہ پر شدومد سے یہ

صفحہ ٢٤٥

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

دعویٰ تھا کہ یہ قصہ ماضی ہے پھر اسی کی نسبت یہ دعویٰ کر دیا کہ مضارع کے معنی میں ہے تاکہ پیشین گوئی غلط نہ ہونے پائے۔

اور عفت الدیار محلھا و مقامھا پر جو اعتراض تھا اس سے سبک دوش ہو جائیں۔ حالانکہ مرزا اول ہی بار ذرا بھی قرآن عزیز میں غور کر لیتے تو یہ ہرگز نہ کہتے جیسا کہ بعد میں ہوش میں آ ہی گئے کہ اذ ہمیشہ ماضی کے لیے نہیں ہوتا۔ کیونکہ قرآن عزیز میں ولو تری اذ یتوفی الذین کفرو الملئکۃ۔ ولو تری اذ الظلمون موقوفون عند ربکم ان آیات میں ہر جگہ لفظ اذ موجود ہے۔ حالانکہ واقعہ سب جگہ مستقبل یعنی قیامت ہی کا ہے۔

حیات عیسیٰ علیہ السلام کی چوتھی دلیل

قال اللہ عزوجل

وانه لعلم للساعة فلا تمترن بھا واتبعون ھذا صراط مستقیم O و لا یصدنکم الشیطن انہ لکم عدو مبین O

ترجمہ = اور تحقیق وہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام بلاشبہ علامت ہیں قیامت کی پس اس بارے میں تم ذرہ برابر شک اور تردد نہ کرو اور اے محمد ﷺ! آپ کہہ دیجئے کہ اس بارے میں صرف میری پیروی کرو یہی سیدھا راستہ ہے کہیں شیطان تم کو اس راہ راست سے نہ روک دے۔ تحقیق وہ تمہارا کھلا دشمن ہیں۔

معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو ماننا یہی سیدھا راستہ ہے اور جو اس سے روکے وہ شیطان ہے۔

امام جلیل و کبیر حافظ عماد الدین بن کثیر فرماتے ہیں کہ انه لعلم للساعة سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہونا مراد ہے جیسا کہ عبداللہ بن عباس اور ابو ہریرہ اور مجاہد اور ابو العالیہ اور ابو مالک اور عکرمہ اور حسن بصری اور قتادہ اور ضحاک و غیرہم سے منقول ہے۔ جیسا کہ وان من اھل

صفحہ ٢٤٦

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته اور احادیث متواترہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قبل از قیامت ثابت اور محقق ہے۔

(تفسیر ابن کثیر ص ١٣٦ ج ٩)

معلوم ہوا کہ جو شخص حضرت مسیح بن مریم کے آسمان سے نازل ہونے کو قیامت کی علامت نہ سمجھے وہ شیطان ہے۔ تم کو سیدھے راستہ سے روکنا چاہتا ہے اور تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اس کے کہنے میں ہرگز نہ آنا۔

حیات عیسیٰ علیہ السلام کی پانچویں دلیل

قال الامام احمد حدثنا صفان ثنا همام انبائنا قتادة عن عبدالرحمٰن عن ابى هريرة ان النبى صلى الله عليه وسلم قال الانبياء اخوة لعلات امهاتهم شتى ودينهم واحد وانى اولى الناس بعيسى بن مريم لانه لم يكن نبى بينى و بينه و انه نازل فاذا رايتموه فاعرفوه رجل مربوع الى الحمرة والبياض عليه ثوبان ممصران كان راسه يقطر وان لم يصبه بلل فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويدعوا الناس الى الاسلام ويهلك الله فى زمانه الملل كلها الا الاسلام ويهلك الله فى زمانه المسيح الدجال ثم تقع الامانة على الارض حتى ترتع الاسود مع الابل والنمار مع البقر والذئاب مع الغنم ويلعب الصبيان بالحيات لا تضرهم فيمكث اربعين سنة ثم يتوفى ويصلى عليه المسلمون

”و کذا رواہ ابو داؤد و کذا فی تفسیر ابن کثیر ص ١٦ ج ٣ و قال الحافظ ابن حجر رحمہ اللہ

علیہ رواہ ابو داؤد احمد باسناد صحیح۔ فتح الباری ص ٢٥٧ ج ٦)

ترجمہ = امام احمد بن حنبلؒ اپنی مسند میں ابو ہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں۔ مائیں مختلف یعنی شریعتیں مختلف ہیں اور دین یعنی اصول شریعت کا سب کا ایک ہے‘ اور میں عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سب سے زیادہ قریب ہوں

صفحہ ٢٤٧

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

اس لیے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ وہ نازل ہوں گے جب ان کو دیکھو تو پہچان لینا۔ وہ میانہ قد ہوں گے، رنگ ان کا سرخ اور سفیدی کے درمیان ہو گا۔ ان پر دو رنگے ہوئے کپڑے ہوں گے سر کی یہ شان ہو گی کہ گویا اس سے پانی ٹپک رہا ہے۔ اگرچہ اس کو کسی قسم کی تری نہیں پہنچی ہو گی، صلیب کو توڑیں گے جزیہ کو اٹھائیں گے۔ سب کو اسلام کی طرف بلائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں سوائے اسلام کے تمام مذاہب کو نیست و نابود کر دے گا اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں مسیح دجال کو قتل کرائے گا۔ پھر تمام روئے زمین پر ایسا امن ہو جائے گا کہ شیر اونٹ کے ساتھ اور چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چرنے لگیں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلنے لگیں گے۔ سانپ ان کو نقصان نہ پہنچائیں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام زمین پر چالیس سال ٹھہریں گے پھر وفات پائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں کہ اس روایت کی اسناد صحیح ہیں۔

اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی ابھی وفات نہیں ہوئی۔ آسمان سے نازل ہونے کے بعد قیامت سے پیشتر جب یہ تمام باتیں ظہور میں آجائیں گی تب وفات ہو گی۔

حیات عیسیٰ علیہ السلام کی چھٹی دلیل

عن الحسن مرسلا قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيمة

(اخرجہ ابن کثیر فی تفسیر ال عمران ص ٢٢٠ ج ٢)

ترجمہ = امام حسن بصری سے مرسلاً روایت ہے کہ رسول اللہ

صفحہ ٢٤٨

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

ﷺ نے یہود سے ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی نہیں مرے وہ قیامت کے قریب ضرور لوٹ کر آئیں گے۔

اس حدیث میں راجع کا لفظ صراحۃً موجود ہے۔ جس کے معنی واپس آنے والے کے ہیں۔ محاورۃً یہ لفظ اسی وقت استعمال ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص کسی دوسری جگہ گیا ہو اور پھر وہاں سے واپس آئے۔

حیات عیسیٰ علیہ السلام کی ساتویں دلیل

امام بیہقی کتاب الاسماء والصفات ص ٣٠١ میں فرماتے ہیں: اخبرنا ابوعبداللہ الحافظ انا ابوبکر بن اسحاق انا احمد بن ابراہیم ثنا ابن بکیر ثنی اللیث عن یونس عن ابن شہاب عن نافع مولی ابی قتادۃ الانصاری قال ان ابا ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم و امامکم منکم۔ انتہی

ترجمہ = ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کیا حال ہو گا تمہارا کہ جب عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہو گا۔ اور اسناد اس روایت کی صحیح ہیں۔

حیات عیسیٰ علیہ السلام کی آٹھویں دلیل

وعن ابن عباس فی حدیث طویل قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فبعد ذالک ینزل عیسیٰ بن مریم من السماء

(اسحاق بن بشر کنز العمال ص ٢٦٨ ج ٧)

ترجمہ = ابن عباسؓ ایک طویل حدیث میں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پس اس وقت عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے۔

صفحہ ٢٤٩

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

ان دونوں حدیثوں میں من السماء کا لفظ صراحۃً موجود ہے۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔

حیات عیسیٰ علیہ السلام کی نویں دلیل

عن عبدالله بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ينزل عيسى بن مريم الى الارض فيتزوج ويولد ويمكث خمسا واربعين سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبر فاقوم انا وعيسى بن مريم فى قبر واحد بين ابى بكر وعمر۔

(رواہ الجوزی فی کتاب الوفاء کتاب الاذاعہ ص ٧٧)

ترجمہ = عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ زمانہ آئندہ میں عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے (اس سے صاف ہے کہ حضرت عیسیٰ اس سے پیشتر زمین پر نہ تھے بلکہ زمین کے بالمقابل آسمان پر تھے) اور میرے قریب مدفون ہوں گے۔ قیامت کے دن میں مسیح بن مریم کے ساتھ اور ابوبکر و عمر کے درمیان قبر سے اٹھوں گا۔

حیات عیسیٰ علیہ السلام کی دسویں دلیل

حدثنى المثنى ثنا اسحاق ثنا ابن ابى جعفر عن ابيه عن الربيع فى قوله تعالى الم الله لا الہ الا هو الحى القيوم قال ان النصارى اتو رسول الله صلى الله عليه وسلم فخاصموه فى عيسى بن مريم وقالوا له من ابوه وقالوا على الله الكذب والبهتان لا الہ الا هو لم يتخذ صاحبة ولا ولدا فقال لهم النبى صلى الله عليه وسلم الستم تعلمون انه لا يكون ولدا لا هو يشبه اباه قالوا بلى قال الستم تعلمون ان ربنا حى لا يموت وان عيسى ياتى عليه الفناء۔ قالوا بلى قال الستم تعلمون ان ربنا قيم على كل شى يكلوه ويحفظه

صفحہ ٢٥٠

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

ویرزقہ قالوا بلی قال فهل یملک عیسیٰ من ذلک شیا قالوا لا قال افلستم تعلمون ان الله عز وجل لا يخفی علیہ شی فی الارض ولا فی السماء قالوا بلی۔ قال فهل یعلم عیسیٰ من ذلک شیا الا ما اعلم قالوا لا۔ قال فان ربنا صور عیسیٰ فی الرحم کیف شاء فهل تعلمون ذلک قالوا بلی قال الستم تعلمون ان ربنا لا یاکل الطعام ولا یشرب الشراب ولا یحدث الحدث قالوا بلی قال الستم تعلمون ان عیسیٰ حملتہ امراۃ کما تحمل المراۃ ثم وضعتہ کما تضع المراۃ ولدھا ثم غذی کما یغذی الصبی ثم کان یطعم و یشرب الشراب ویحدث الحدث قالوا بلی قال فکیف یکون ھذا کما زعمتم قال فعرفوا ثم ابوا فانزل الله عز وجل الم الله لا الہ الا هو الحی القیوم

(تفسیر ابن جریر ص ١٠٨ ج ٣)

ترجمہ = ربیع سے الم الله لا الہ الا ھو الحی القیوم کی تفسیر میں منقول ہے کہ جب نصاریٰ نجران نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کے بارے میں آپ ﷺ نے مناظرہ اور مکالمہ شروع کیا اور یہ کہا کہ اگر حضرت مسیح ابن اللہ نہیں تو پھر ان کا باپ کون ہے حالانکہ وہ خدا ہے لاشریک بیوی اور اولاد سے پاک اور منزہ ہے تو آں حضرت ﷺ نے ان سے یہ ارشاد فرمایا کہ تم کو خوب معلوم ہے کہ بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں بے شک ایسا ہی ہوتا ہے (یعنی جب یہ تسلیم ہوگیا کہ بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے تو اس قاعدہ سے حضرت مسیح بھی خدا کے مماثل اور مشابہ ہونے چاہیں حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ خدا بے مثل ہے اور بے چون و چگوں ہے لیس کمثلہ شی ولم یکن لہ کفوا احد

آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ ہمارا پروردگار حی لایموت ہے یعنی زندہ ہے کبھی نہ مرے گا اور عیسیٰ علیہ السلام پر موت اور فنا آنے

صفحہ ٢٥١

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

والی ہے (اس جواب سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں مرے نہیں۔ بلکہ زمانہ آئندہ میں ان پر موت آئے گی) نصارائے نجران نے کہا بے شک صحیح ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ ہمارا پروردگار ہر چیز کا قائم رکھنے والا تمام عالم کا نگہبان اور محافظ اور سب کا رازق ہے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک آپ نے ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی کیا ان چیزوں کے مالک ہیں؟ نصاریٰ نے کہا نہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم کو معلوم ہے کہ اللہ پر زمین اور آسمان کی کوئی شے پوشیدہ نہیں۔ نصاریٰ نے کہا نہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا عیسیٰ کی بھی یہی شان ہے؟ نصاریٰ نے کہا نہیں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ کو رحم مادر میں جس طرح چاہا بنایا۔ نصاریٰ نے کہا ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم کو خوب معلوم ہے کہ اللہ نہ کھانا کھاتا ہے نہ پانی پیتا ہے اور نہ بول و براز کرتا ہے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے اور عورتوں کی طرح ان کی والدہ مطہرہ حاملہ ہوئیں اور پھر مریم صدیقہ نے ان کو جنا جس طرح عورتیں بچوں کو جنا کرتی ہیں۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کو بچوں کی طرح غذا بھی دی گئی۔ حضرت مسیح کھاتے بھی تھے پیتے بھی تھے اور بول و براز بھی کرتے تھے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک ایسا ہی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر عیسیٰ علیہ السلام کس طرح خدا کے بیٹے ہو سکتے ہیں؟

نصارائے نجران نے حق کو خوب پہچان لیا مگر دیدہ و دانستہ اتباع حق سے انکار کیا۔ اللہ عزوجل نے اس بارے میں یہ آیتیں نازل فرمائیں الم اللہ لا الہ الا هو الحی القیوم

ایک ضروری تنبیہ

ان تمام احادیث اور روایات سے یہ امر بخوبی واضح ہو گیا کہ احادیث میں جس مسیح کے نزول کی خبر دی گئی اس سے وہی مسیح مراد ہے جس کا ذکر قرآن کریم

صفحہ ٢٥٢

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

میں ہے یعنی وہی مسیح مراد ہیں کہ جو حضرت مریم کے بطن سے بلا باپ کے نفخۂ جبرئیل سے پیدا ہوئے اور جن پر اللہ نے انجیل اتاری۔ معاذ اللہ نزول سے امت محمدیہ میں سے کسی دوسرے شخص کا پیدا ہونا مراد نہیں کہ جو عیسیٰ علیہ السلام کا مثیل ہو۔ ورنہ اگر احادیث نزول مسیح سے کسی مثیل مسیح کا پیدا ہونا مراد ہوتا تو بیان نزول کے وقت آں حضرت ﷺ اور ابو ہریرہؓ کا آیت کو بطور استشہاد تلاوت کرنے کا کیا مطلب ہو گا؟ معاذ اللہ اگر احادیث سے نزول میں مثیل مسیح اور مرزا کا قادیان میں پیدا ہونا مراد ہے، تو لازم آئے گا کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں مسیح کا ذکر آیا ہے سب جگہ مثیل مسیح اور مرزا صاحب ہی مراد ہوں۔ اس لیے کہ آں حضرت ﷺ کا نزول مسیح کو ذکر فرما کر بطور استشہاد آیت کو تلاوت کرنا اس امر کی صریح دلیل ہے کہ حضور ﷺ کا مقصود انہیں مسیح بن مریم کے نزول کو بیان کرنا ہے جن کے بارے میں یہ آیت اتری، کوئی دوسرا مسیح مراد نہیں۔ اور علیٰ ہٰذا امام بخاریؒ اور دیگر ائمہ احادیث کا احادیث نزول کے ساتھ سورۂ مریم اور آل عمران اور سورہ نساء کی آیات کو ذکر کرنا اس امر کی صریح دلیل ہے کہ احادیث میں ان ہی مسیح بن مریم کا نزول مراد ہے کہ جن کی توفی (اٹھائے جانے) اور رفع الی السماء کا قرآن میں ذکر ہے۔ حاشا و کلا قرآن کریم کے علاوہ احادیث میں کوئی دوسرا مسیح مراد نہیں، دونوں جگہ ایک ہی ذات مراد ہے اور اگر بالفرض و التقدیر مرزا کے زعم فاسد کی بنا پر ان احادیث میں مثیل مسیح کی ولادت مراد ہے اور اس کا مصداق مرزا ہے تو مرزا صاحب اپنے اندر وہ علامتیں بتلائیں کہ جو احادیث میں نزول مسیح میں ذکر کی گئی ہیں۔

سوائے اسلام کے کوئی مذہب نہ رہے۔

مٹا دینا۔

صفحہ ٢٥٣

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

اور بچے سانپوں سے کھیلنے لگیں ان علامتوں میں سے کوئی علامت بھی مرزا کے زمانے میں نہیں پائی گئی۔ بلکہ اس کے برعکس اسلام کو تنزل اور صلیبی مذہب کو ترقی اور اسلامی حکومت کا زوال اور نصاریٰ کا غلبہ جس قدر مرزا کے زمانہ میں ہوا اس کی نظیر نہ گزشتہ میں ہے اور نہ آئندہ میں، ترکی حکومت پر جس قدر بھی زوال آیا وہ تمام کا تمام مرزا کے ہی دور مسیحیت میں آیا۔ مرزا کے زمانہ میں کسر صلیب اور قتل خنزیر کے بجائے خاکم بدہن کسر اسلام اور قتل مسلمانان خوب ہوا۔ مرزا کے زمانہ میں عیسائی تو کیا مسلمان ہوتے الٹے مسلمان عیسائی بنائے گئے۔ مرزا جزیہ کو کیا موقوف کرتے خود ہی نصاریٰ کے باج گزار ہو گئے اور اپنی زمینوں کا ٹیکس اور محصول انگریزوں کو دیتے رہے۔ مسیح موعود کی علامتوں میں سے ایک علامت " یفیض المال حتی لا یقبلہ احد" تھی یعنی اتنا مال بہائیں گے کہ کوئی اس کا قبول کرنے والا نہ رہے گا۔ مگر مرزا صاحب مال تو کیا بہاتے خود ہی ساری عمر چندہ مانگنے میں گزری۔ کبھی مکان کے لیے چندہ مانگا اور کبھی مدرسہ کے نام سے اور کبھی منارۃ المسیح کے نام سے اور کبھی لنگر خانہ کے نام سے اور کبھی بیعت کی فیس کے نام سے اور کبھی کتابوں کی اشاعت کے نام ہے۔

غرض یہ کہ ہر حیلہ سے مال جمع کرنے کی تدبیریں کرتے رہے اور تحصیل دنیا کے وہ نئے نئے طریقے نکالے کہ جو کسی بڑے سے بڑے مکار اور عیار کے وہم و خیال میں بھی نہیں آسکتے۔

اس حقیقت کے واضح اور آشکار ہونے کے بعد بھی اگر کوئی بدعقل اور بدنصیب ایسے مکار پر اپنی ایمان کی دولت کو قربان اور نثار کرنا چاہتا ہے تو اس کو اختیار ہے ہمارا کام تو حق اور باطل اور محق اور مبطل کے فرق کو واضح کر دینا ہے۔ سو الحمد للہ وہ واضح کر چکے اور دعا بھی کرتے ہیں اور آپ سے یہ درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ اور اس سے رشد و ہدایت کی دعا کریں،

صفحہ ٢٥٤

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

اور دوا کا استعمال کریں۔

وما علينا الا البلاغ

حیات عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اجماع امت

حافظ عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ تلخیص الحبیر ص ٣١٩ میں فرماتے ہیں: اما رفع عیسی فاتفق اصحاب الاخبار والتفسیر علی رفعہ ببدنہ حیا وانما اختلفوا ھل مات قبل ان یرفع او نام۔ انتہی یعنی تمام محدثین اور مفسرین اس پر متفق ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی بدن کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اختلاف صرف اس بارے میں ہے کہ رفع الی السماء سے پہلے کچھ دیر کے لیے موت طاری ہوئی یا نہیں۔ یا حالت نوم میں اٹھائے گئے۔

(اور تفسیر بحر المحیط کے ص ٤٧٣ ج ٢ پر ہے)

قال ابن عطیۃ واجمعت الامۃ علی ما تضمنہ الحدیث المتواتر من ان عیسیٰ فی السماء حیی وانہ ینزل فی اخر الزمان آھ ترجمہ = یعنی تمام امت کا اس پر اجماع ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں اور اخیر زمانہ میں نازل ہوں گے جیسا کہ احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔

(اور تفسیر النہر الماد کے ص ٤٧٣ ج ٢ پر ہے)

واجتمعت الامۃ علی ان عیسیٰ حیی فی السماء وینزل الی الارض۔ (اور تفسیر جامع البیان کے ص ٥٢ پر ہے)۔ والاجماع علی انہ حیی فی السماء وینزل ویقتل الدجال ویؤید الدین۔ اھ

امام ابو الحسن اشعری قدس اللہ سرہ کتاب الابانہ عن اصول الدیانہ کے ص ٤٦ پر فرماتے ہیں

صفحہ ٢٥٥

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

قال اللہ عزوجل یعیسٰی انی متوفیک ورافعک الی۔ وقال اللہ تعالٰی وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ واجمعت الامۃ علی ان اللہ عزوجل رفع عیسیٰ الی السماء اھ

شیخ اکبر قدس اللہ سرہ فتوحات مکیہ کے باب (٧٣) میں فرماتے ہیں لاخلاف فی انہ ینزل فی اخر الزمان

علامہ سفارینی شرح عقیدۃ سفارینیہ ص ٩٠ ج ٢ پر فرماتے ہیں: کہ عیسٰی علیہ السلام کا نزول من السماء کتاب اور سنت اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ اول آیت وان من اھل الکتب الایۃ نقل کی اور ابو ہریرۃؓ کی حدیث نقل کی اب اس کے بعد فرماتے ہیں:

واما الاجماع فقد اجتمعت الامۃ علی نزولہ و لم یخالف فیہ احد من اھل الشریعۃ وانما انکر ذلک الفلاسفۃ والملاحدۃ ممن لا یعتد بخلافہ وقد انعقد اجماع الامۃ علی انہ ینزل و یحکم بھذہ الشریعۃ المحمدیۃ ولیس ینزل بشریعۃ مستقلۃ عند نزولہ من السماء وان کانت النبوۃ قائمۃ بہ وھو متصف بھا۔

ترجمہ = یعنی رہا اجماع! سو تمام امت محمدیہ کا اجماع ہو گیا ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام ضرور نازل ہوں گے اور اہل اسلام میں سے اس کا کوئی مخالف نہیں۔ صرف فلاسفہ اور ملحد اور بے دین لوگوں نے اس کا انکار کیا ہے جن کا اختلاف قابل اعتبار نہیں اور نیز تمام امت کا اجماع اس پر ہوا ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے موافق حکم کریں گے مستقل شریعت لے کر آسمان پر نازل نہ ہوں گے، اگرچہ وصف نبوت ان کے ساتھ قائم ہو گا۔

رفع الی السماء اور نزول من السماء الی الارض

کی حکمت

صفحہ ٢٥٦

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع اور نزول کی حکمت علماء نے یہ بیان کی ہے کہ یہود کا یہ دعویٰ تھا کہ ہم نے حضرت عیسیٰ کو قتل کر دیا۔ کما قال وقولہم انا قتلنا المسیح عیسٰی بن مریم رسول اللہ اور دجال جو اخیر زمانہ میں ظاہر ہو گا وہ بھی قوم یہود سے ہو گا۔ اور یہود اس کے متبع اور پیرو ہوں گے۔ اس لیے حق تعالیٰ نے اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھایا اور قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے تاکہ خوب واضح ہو جائے کہ جس ذات کی نسبت یہود یہ کہتے تھے کہ ہم نے اس کو قتل کر دیا وہ سب غلط ہے ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے زندہ آسمان پر اٹھایا اور اتنے زمانہ تک ان کو زندہ رکھا اور پھر تمہارے قتل اور بربادی کے لیے اتارا تاکہ سب کو معلوم ہو جائے کہ تم جن کے قتل کے مدعی تھے ان کو قتل نہیں کر سکے بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے قتل کے لیے نازل کیا اور یہ حکمت فتح الباری کے باب نزول عیسیٰ ص ٣٥٧ ج ١٠ پر مذکور ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام ملک شام سے آسمان پر اٹھائے گئے تھے اور ملک شام ہی میں نزول ہو گا تاکہ اس ملک کو فتح فرمائیں۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ ہجرت کے چند سال بعد فتح مکہ کے لیے تشریف لائے، اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام نے شام سے آسمان کی طرف ہجرت فرمائی اور وفات سے کچھ روز پہلے شام کو فتح کرنے کے لیے آسمان سے نازل ہوں گے اور یہود کا استیصال فرمائیں گے اور نازل ہونے کے بعد صلیب کا توڑنا بھی اسی طرف مشعر ہو گا کہ یہود اور نصاریٰ کا یہ اعتقاد کہ مسیح بن مریم صلیب پر چڑھائے گئے بالکل غلط ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں تھے۔ اس لیے نازل ہونے کے بعد صلیب کا نام و نشان بھی نہ چھوڑیں گے۔

اور بعض علماء نے یہ حکمت بیان فرمائی ہے کہ حق تعالیٰ نے تمام انبیاء سے یہ عہد لیا تھا کہ اگر تم نبی کریم کا زمانہ پاؤ تو ان پر ضرور ایمان لانا اور ان کی ضرور مدد کرنا۔ کما قال تعالٰی لتومنن بہ و لتنصرنہ اور انبیاء بنی اسرائیل کا سلسلہ

صفحہ ٢٥٧

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہوتا تھا۔ اس لیے حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو آسمان پر اٹھایا تاکہ جس وقت دجال ظاہر ہو اس وقت آپ آسمان سے نازل ہوں اور رسول اللہ ﷺ کی امت کی مدد فرمائیں۔ کیونکہ جس وقت دجال ظاہر ہو گا وہ وقت امت محمدیہ پر سخت مصیبت کا وقت ہو گا اور امت شدید امداد کی محتاج ہو گی۔ اس لیے عیسیٰ علیہ السلام اس وقت نازل ہوں گے تاکہ امت محمدیہ کی نصرت و اعانت کا جو وعدہ تمام انبیاء کر چکے ہیں وہ وعدہ اپنی طرف سے اصالۃ اور باقی انبیاء کی طرف سے وکالتاً ایفا فرمائیں فافہم ذلک فانہ لطیف۔

اور بعض علماء نے یہ حکمت بیان فرمائی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب انجیل میں نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم اور آپ کی امت کے اوصاف دیکھے تو حق تعالیٰ سے یہ دعا فرمائی کہ مجھے بھی امت محمدیہ میں سے کر دیجئے۔ حق تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور ان کو آخر زمانہ تک باقی رکھا اور قیامت کے قریب دین اسلام کے لیے ایک مجدد کی حیثیت سے تشریف لائیں گے تاکہ قیامت کے نزدیک ان کا حشر امت محمدیہ ﷺ کے زمرہ میں ہو۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

حضرت عیسیٰ علیہ السلام رسول بھی ہیں

اور صحابی بھی ہیں

حافظ شمس الدین ذہبی تجرید میں اور حافظ ابن حجر عسقلانی اصابہ میں اور علامہ زرقانی شرح مواہب میں تحریر فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم جس طرح نبی اللہ اور رسول اللہ ہیں اسی طرح صحابی بھی ہیں۔ اس لیے کہ مسیح بن مریم علیہما السلام نے نبی اکرم ﷺ کو لیلۃ المعراج میں بحالت حیات وفات سے پیشتر اسی جسد عنصری کے ساتھ دیکھا ہے اور دوسرے حضرات انبیاء علیہم السلام نے نبی اکرم ﷺ کو لیلۃ المعراج میں اپنی اپنی وفات کے بعد دیکھا ہے:

صفحہ ٢٥٨

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

روی ابن عساکر عن انس قلنا یارسول اللہ راینا صافحت شیا ولا نراہ قال ذلک اخی عیسیٰ بن مریم انتظرتہ حتی قضی طوافہ فسلمت علیہ‘

(زرقانی شرح مواہب ص ٢٧٢ ج ٥)

ترجمہ = ابن عساکر نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ہم نے عرض کیا‘ یا رسول اللہ! ہم نے آپؐ کو کسی سے مصافحہ کرتے دیکھا مگر اس شخص کو نہ دیکھا جس سے آپ نے مصافحہ فرمایا۔ ارشاد فرمایا کہ وہ میرے بھائی عیسیٰ بن مریم تھے میں ان کا منتظر رہا یہاں تک کہ وہ اپنے طواف سے فارغ ہوئے تب میں نے ان کو سلام کیا۔

وروی ابن عدی عن انس بینا نحن مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذ راینا بردا ویدا فقلنا یارسول اللہ ما ھذا الذی راینا والید قال قد ر ایتموہ قلنا نعم قال ذلک عیسیٰ بن مریم سلم علی۔

ترجمہ = ابن عدی نے انسؓ سے روایت کیا ہے کہ ہم ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے اچانک ایک چادر اور ایک ہاتھ نظر آیا۔ ہم نے آں حضرت ﷺ سے دریافت کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے دیکھا ہے؟ ہم نے عرض کیا ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ میرے بھائی عیسیٰ بن مریم تھے۔ جنہوں نے اس وقت مجھ کو سلام کیا۔

عیسیٰ علیہ السلام کا نبی اکرم ﷺ کے معاصر ہونا تو دلائل حیات سے معلوم ہو چکا تھا‘ مگر احادیث معراج اور ابن عساکر اور ابن عدی کی روایت سے ملاقات بھی ثابت ہو گئی۔ اس لیے اگر بالفرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی اکرم ﷺ سے کوئی روایت فرمائیں تو اس روایت کو علی شرط البخاری حدیث متصل سمجھنا چاہیے۔ کیونکہ امام بخاریؒ کے نزدیک اتصال روایت کے لیے ثبوت لقا شرط ہے اور امام مسلم کے نزدیک محض معاصرت کافی ہے۔

علامہ تاج الدین سبکی رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابی ہونے کو بطور اعجاز اور معمہ اپنے ایک قصیدہ میں ذکر کیا ہے۔

صفحہ ٢٥٩

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

من باتفاق جمیع الخلق افضل من
خیر الصحاب ابی بکر و من عمر

وہ کون شخص ہے کہ جو بالاتفاق ابوبکرؓ اور عمرؓ سے بھی افضل ہے کہ جو تمام صحابہ سے افضل و بہتر ہیں۔

ومن علی ومن عثمان و هو فتی
من امة المصطفیٰ المختار من مضر

اور جو شخص علیؓ اور عثمانؓ سے بھی افضل ہے حالانکہ وہ شخص محمد مصطفیٰ کی امت کا ایک فرد ہے

الشی بالشی یذکر ایک شے کے ذکر سے دوسری شے یاد آ ہی جاتی ہے حافظ عسقلانی اصابہ میں فرماتے ہیں کہ خضر علیہ السلام جمہور محدثین کے نزدیک نبی ہیں مگر صحابی بھی ہیں جیسا کہ بعض روایات سے خضر علیہ السلام کی ملاقات نبی اکرم ﷺ سے معلوم ہوتی ہے تفصیل اگر درکار ہو تو اصابہ کی مراجعت فرمائیں۔

عبد ضعیف کہتا ہے (عفا اللہ عنہ) کہ اس روایت میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی بھی خضر علیہ السلام سے ملاقات مذکور ہے۔ اس لیے اگر یہ کہا جائے کہ انس بن مالکؓ دو پیغمبروں کے صحابی ہیں تو میں امید کرتا ہوں کہ یہ کلمہ شاید خلاف حق نہ ہو گا۔

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم و علمہ اتم و احکم سبحان ربک رب العزة عما یصفون O وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العلمین O فاطر السموت والارض انت ولی فی الدنیا والاخرة توفنی مسلما و الحقنی بالصلحین

اللہم انی اعوذبک من عذاب القبر و اعوذ بک من فتنة المسیح الدجال و اعوذبک من فتنة المحیا و الممات آمین برحمتک یاارحم الراحمین یاذا الجلال والاکرام

وانا العبد الضعیف المدعو

صفحہ ٢٦٠

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)

محمد ادریس کاندھلوی

اجارہ اللہ تعالیٰ من خزی الدنیا وعذاب الاخرۃ ۔ امین

تقریظ

از آیۃ السلف و حجۃ الخلف حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحبؒ

سابق صدر المدرسین دار العلوم دیوبند

الحمد للہ رب العلمین والعاقبۃ للمتقین والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ محمد والہ واصحابہ اجمعین

اما بعد ! رسالہ کلمۃ اللہ فی حیات روح اللہ مصنفہ علامہ فہامہ جناب مولوی محمد ادریس صاحب کاندھلوی مدرس دارالعلوم دیوبند کا احقر نے کہیں سے دیکھا‘ اور بعض مضامین کو جناب مولف ممدوح کی زبان سے سنا۔ رسالہ مذکورہ حیات عیسیٰ علیہ السلام میں کافی و شافی اور مباحث متعلقہ کا حاوی اور جامع ہے۔ نقول معتمد اور مستند کتابوں سے لی گئی ہیں اور عمدہ سے عمدہ قول سامنے رکھ دیا ہے علماء اور طلباء کو تلاش اور تتبع سے بے نیاز کر دیا ہے۔ امید ہے کہ طلباء اس کی قدر کریں گے مخلوق کو جو دجال کے فتنہ میں مبتلا ہے ہدایت اور ارشاد کا ذریعہ ہو گا۔ حق تعالیٰ جناب مولف کی سعی مشکور اور عمل مبرور فرمائے۔ آمین یا رب العلمین

احقر محمد انور عفا اللہ عنہ مدرس دارالعلوم

تقریظ

از فخر المتکلمینؒ مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی ؒ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ و سلم علیٰ عبادہ الذین اصطفےٰ

صفحہ ٢٦١

حیات عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام)

تقریباً دو سال ہوئے کہ بمقام فیروز پور (پنجاب) قادیانی مرزائیوں سے متنازع فیہ مسائل میں علماء دیوبند کی گفتگو ہوئی تھی۔ سب سے پہلی بحث حضرت مسیح بن مریم علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام کی حیات اور رفع الی السماء اور دوبارہ تشریف آوری کے متعلق تھی، جس میں دیوبند کی طرف سے برادر مکرم جناب مولوی محمد ادریس صاحب کاندھلوی مدرس دارالعلوم وکیل تھے مولوی صاحب نے جو عالمانہ اور محققانہ تقریر فرمائی بحمد اللہ تعالیٰ نہ صرف عام پبلک ہی اس سے محظوظ اور مطمئن ہوئی بلکہ بندہ کے روبرو بعض ممتاز مرزائیوں نے بھی اس کی معقولیت اور سنجیدہ روش کی داد دی اور اس طرح مولوی صاحب کے عالمانہ طرز استدلال نے منکرین سے بھی خراج تحسین وصول کیا۔

والفضل ماشھدت بہ الاعداء

میں نے اسی وقت مولانا موصوف سے درخواست کی تھی کہ آپ اس مسئلہ کے تمام اطراف و جوانب کی توضیح و تحقیق ایک کتاب کے ذریعہ سے اس طرح کر دیجئے کہ غائب و حاضر کے لیے اس میں بصیرت ہو اور مسئلہ کا تمام مادہ بیک نظر سامنے آجائے اور کسی باطل پرست کو گنجائش نہ رہے کہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد وہ ایک حق پرست کے قدم ڈگمگا سکے۔ حق تعالیٰ شانہ مولوی صاحب موصوف کے علم و عمل میں ترقی عطا فرمائے کہ انہوں نے میری اس ناچیز گزارش کو رائیگاں نہیں جانے دیا اور بڑی محنت و عرق ریزی کے بعد ایک ایسی تالیف برادران اسلام کے سامنے پیش کر دی جس میں اس اہم مسئلہ کا کافی و شافی حل موجود ہے اور شاید یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ اس باب میں اس وقت تک کوئی کتاب اس قدر جامع اور حاوی ایسے سادہ اور بے تکلف طرز میں نہیں لکھی گئی۔ ناظرین مطالعہ کے بعد خود اندازہ لگا سکیں گے کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ از سر تا پا واقعہ ہے اور ان کو ممنون ہونا چاہیے مولف محترم کا اور ان اکابر دارالعلوم کا جن کی توجہ اور سعی سے یہ بیش بہا رسالہ نور افزائے دیدۂ شائقین ہوا۔

شبیر احمد عثمانی دیوبند ۔ ١٧ جمادی الاخر ١٣٤٢ھ

PDF 262
PDF 263

اَلْقَوْلُ الْمُحْکَمُ

فِی

نُزُوْلِ ابْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَام

صفحہ ٢٦٤

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ رب العلمین و العاقبۃ للمتقین و الصلوۃ والسلام علی سیدنا و مولانا محمد خاتم الانبیاء والمرسلین وعلی الہ واصحابہ و ازواجہ وذریاتہ اجمعین وعلینا معھم یا ارحم الراحمین

امابعد عہد نبوت سے لے کر اس وقت تک تمام روئے زمین کے مسلمانوں کا یہ عقیدہ چلا آیا ہے کہ عیسیٰ بن مریم صلی اللہ علی نبینا و علیہ و بارک وسلم جو بنی اسرائیل میں مریم عذرا کے بطن سے بغیر باپ کے نفخہ جبرئیل سے پیدا ہوئے اور پھر بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے اور یہود بے بہبود نے جب ان کو قتل کرنا چاہا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتے ان کو زندہ آسمان پر لے گئے۔ اور جب قیامت کے قریب دجال ظاہر ہو گا جو قوم یہود سے ہو گا اس وقت یہی عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے جو اس وقت یہود کا بادشاہ اور سردار ہو گا۔

نکتہ (١)

یہود کا دعویٰ تھا کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم رسول اللہ کو قتل کیا اور ان کو ذلیل اور رسوا کیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے قریب ان کو آسمان سے اس طرح اتارے گا کہ لوگ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر لیں گے کہ یہود جھوٹ بولتے تھے کہ ہم نے

صفحہ ٢٦٥

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

ان کو قتل کیا ہے۔ وہ زندہ تھے آسمان سے نازل ہو کر تمہارے سردار کو قتل کریں گے اور تم سب کو ذلیل اور خوار کریں گے۔

نکتہ (٢)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام جنس بشر سے ہیں۔ کفار کے شر سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک مدت معینہ کے لیے آسمان پر اٹھایا اور طویل عمر عطا فرمائی۔ جب عمر شریف اختتام کے قریب ہو گی اور زمانہ وفات کا نزدیک ہو گا تو آسمان سے زمین پر اتارے جائیں گے تاکہ زمین پر وفات ہو۔ کیونکہ کوئی انسان آسمان پر فوت نہ ہو گا۔ منہا خلقنکم و فیہا نعیدکم ومنہا نخرجکم تارة اخرى۔

ہم نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور اسی میں تم کو لوٹا دیں گے اور پھر اسی سے نکالیں گے۔

نکتہ (٣)

دجال اولاً نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ پھر خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ عیسیٰ بن مریم اس مدعی نبوت اور الوہیت کے قتل کے لیے آسمان سے نزول اجلال فرمائیں گے تاکہ معلوم ہو جائے کہ خاتم الانبیاء کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا مستحق قتل ہے۔ مسلمانوں کا یہ عقیدہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ اور متواترہ اور اجماع سے ثابت ہے اور انجیل بھی اس کی شاہد ہے۔ جیسا کہ ہم عن قریب اس کو ثابت کریں گے۔

دعوائے نبوت سے پہلے خود مرزا صاحب کا بھی یہی عقیدہ تھا بعد میں یہ دعویٰ کیا کہ احادیث میں جس مسیح موعود کے نزول کی خبر دی گئی ہے اس سے اس کے مثیل اور شبیہ کا آنا مراد ہے اور وہ میں (یعنی خود مرزا) ہوں اور وہ مسیح بن مریم جو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے وہ مقتول اور مصلوب ہوئے اور واقعہ صلیب کے بعد دشمنوں سے چھوٹ کر کشمیر تشریف لائے اور ستاسی سال زندہ

صفحہ ٢٦٦

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

رہ کر شہر سری نگر کے محلہ خان یار میں مدفون ہوئے۔

افسوس اور صد افسوس!

کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس سفید جھوٹ پر ایمان لانے کے لیے تیار ہیں مگر قرآن کریم کی آیات بینات اور احادیث نبویہ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں۔

یہ ناچیز اہل اسلام کی ہدایت اور نصیحت کے لیے یہ مختصر رسالہ لکھ کر پیش کر رہا ہے۔ جس میں آنے والے مسیح موعود کی علامتوں اور نشانیوں کو قرآن اور حدیث سے بیان کیا ہے تاکہ مسلمان کسی دھوکہ اور اشتباہ میں نہ رہیں اور یہ سمجھ لیں کہ رسول خدا ﷺ نے جو آنے والے مسیح کی علامتیں بیان فرمائی ہیں مرزا صاحب میں ان کا کہیں نام و نشان بھی نہیں۔

مرزائیوں سے مخلصانہ اور ہمدردانہ استدعا

اہل اسلام سے عموماً اور مرزائیوں سے خصوصاً نیاز مندانہ اور ہمدردانہ استدعاء کرتا ہوں کہ اس رسالہ کو خوب غور سے پڑھیں اور سوچیں کہ مسیح موعود کی جو علامتیں احادیث میں آئی ہیں ان کا کوئی شمہ بھی مرزا صاحب میں پایا جاتا ہے یا نہیں۔ دنیا فانی اور آنی جانی ہے۔ ایمان بڑی دولت ہے اس کی حفاظت نہایت ضروری ہے خوب غور اور فکر کریں اور حق جل شانہ کی طرف رجوع کریں اور دعا کریں کہ اے اللہ ہم کو صحیح علم اور صحیح فہم عطا فرما اور گمراہی سے بچا اور قبول حق کی توفیق عطا فرما اور استقامت کی لازوال دولت سے مالا مال فرما۔ آمین ثم آمین۔

اب میں دلائل شروع کرتا ہوں اور حق جل شانہ کی رضا اور خوشنودی اور اس کی رحمت اور عنایت کا طلب گار اور امیدوار ہوں۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک انت التواب الرحیم فاقول و باللہ التوفیق وبیدہ ازمۃ التحقیق وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ

صفحہ ٢٦٧

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

انیب

قرآن کریم

اولاً ہم قرآن کریم کی وہ آیتیں پیش کرتے ہیں جن میں حضرت عیسیٰ بن مریم کے نزول کا اجمالاً ذکر ہے۔ بعد میں احادیث نبویہ کو ذکر کریں گے جن میں اس کی پوری تفصیل ہے اور اس درجہ تفصیل ہے کہ جس میں ذرہ برابر بھی تاویل کی گنجائش نہیں اور بعد ازاں اجماع امت نقل کریں گے کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام مسلمانوں کا اجتماعی عقیدہ ہے۔

القیمۃ یکون علیھم شہیدا O

ترجمہ = اور نہیں باقی رہے گا اہل کتاب میں سے کوئی شخص مگر حضرت عیسیٰ کے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ پر ضرور ایمان لائے گا اور قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام ان پر گواہ ہوں گے۔

جمہور اہل علم کا قول ہے کہ اس آیت میں بہ اور قبل موتہ کی دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ ” نہیں رہے گا کوئی شخص اہل کتاب میں مگر البتہ ضرور ایمان لے آئے گا زمانہ آئندہ یعنی زمانہ نزول میں، عیسیٰ علیہ السلام پر عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام ان پر گواہ ہوں گے“ چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ قدس اللہ سرہ اس آیت کا ترجمہ اس طرح فرماتے ہیں:

”نباشد ہیچ کس از اہل کتاب الا البتہ ایمان آرد بعیسیٰ پیش از مردن او و روز قیامت عیسیٰ گواہ شد برایشاں۔ (فائدہ) مترجم می گوید یعنی یہودی کہ حاضر شوند نزول عیسیٰ را البتہ ایمان آرند۔“ انتہی۔

امام ابن جریر طبری اور حافظ کثیر اپنی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس آیت میں زمانہ نزول کے اس واقعہ کا ذکر ہے جو احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔ تفصیل

صفحہ ٢٦٨

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

کے لیے تفسیر ابن کثیر کی مراجعت فرمائیں اور یہی تفسیر ابن عباسؓ اور ابو ہریرہؓ سے منقول ہے۔ حافظ عسقلانی فتح الباری ص ٣٥٦ ج ٦ میں فرماتے ہیں کہ اکثر اہل علم سے یہی تفسیر منقول ہے۔ اس آیت میں ایک اور قرات بھی ہے جس کا ذکر ہم نے اپنے رسالہ کلمۃ اللہ فی حیات روح اللہ میں ذکر کیا ہے۔ ناظرین کرام اس کی مراجعت کریں۔

(٢) قال اللہ عز وجل وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بھا واتبعون ھذا صراط مستقیم ولا یصدنکم الشیطن انہ لکم عدو مبین O

ترجمہ = اور تحقیق وہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام بلاشبہ علامت ہیں قیامت کی پس اس بارے میں تم ذرہ برابر شک اور تردد نہ کرو اور (اے محمدؐ آپ کہہ دیجئے کہ) اس بارے میں میری پیروی کرو یہی سیدھا راستہ ہے کہیں شیطان تم کو اس راہ سے نہ روک دے تحقیق وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو علامت قیامت ماننا یہی سیدھا راستہ ہے اور جو اس سے روکے وہ شیطان ہے۔ امام حافظ عماد الدین بن کثیر فرماتے ہیں کہ انہ لعلم لساعۃ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہونا مراد ہے جیسا کہ عبداللہ بن عباسؓ اور ابو ہریرہؓ اور مجاہدؒ اور ابو العالیہؒ اور ابو مالکؒ اور عکرمہؒ اور حسن بصریؒ اور قتادہؒ اور ضحاکؒ و غیرہم سے منقول ہے جیسا کہ وان من اہل الکتب الایہ اور احادیث متواترہ سے حضرت عیسیٰ کا نزول قبل از قیامت ثابت اور محقق ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ١٤٦ ج ٢)

حضرت مسیح مریم کی حواریین کو اپنے نزول کی بشارت اور جھوٹے

مسیحوں اور جھوٹے نبیوں کی خبر اور ان سے خبردار رہنے کی ہدایت

”خبردار کوئی تم کو گمراہ نہ کردے۔ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں۔ (انجیل متی ب ٢٤)

صفحہ ٢٦٩

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

اس مقام پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹے مدعیان مسیحیت اور جھوٹے مدعیان نبوت کے متعلق حضرت عیسیٰ کی ہدایت اور اپنے نزول کے متعلق حوارین کو بشارت ہدیہ ناظرین کریں تاکہ موجب بصیرت اور باعث طمانیت ہو۔

انجیل متی باب ٢٤، درس اول

(١) اور یسوع ہیکل سے نکل کر جا رہا تھا۔ (٣) اور جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا اس کے شاگردوں نے الگ اس کے پاس آ کر کہا ہم کو بتا کہ باتیں کب ہوں گی اور تیرے آنے اور دنیا کے آخر ہونے کا کیا نشان ہو گا؟ یسوع نے جواب میں ان سے کہا کہ خبردار! (٤) کوئی تم کو گمراہ نہ کر دے O کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے O (١١) اور بہت سے جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور بہتیروں کو گمراہ کریں گے O (١٢) اور بے دینی کے بڑھ جانے سے بہتیروں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی O (١٣) مگر جو آخر تک برداشت کرے گا وہ نجات پائے گا O اور بادشاہی (١٤) کی اس خوش خبری کی منادی تمام دنیا میں ہو گی تاکہ سب قوموں کے لیے گواہی ہو تب خاتمہ ہو گا۔ O (٢١) کیونکہ اس وقت ایسی بڑی مصیبت ہو گی کہ دنیا کے شروع سے اب تک نہ ہوئی نہ کبھی ہو گی O (٢٢) اور اگر وہ دن گھٹائے نہ جاتے تو کوئی بشر نہ بچتا مگر برگزیدوں کی خاطر وہ دن گھٹائے جائیں گے O اس وقت (٢٣) اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں ہے تو یقین نہ کرنا O (٢٤) کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کر لیں O دیکھو میں نے پہلے ہی تم سے کہہ دیا ہے O (٢٦) پس اگر وہ تم سے کہیں کہ دیکھو وہ بیابان میں ہے تو باہر نہ جانا دیکھو وہ کوٹھریوں میں ہے تو یقین نہ کرنا O کیونکہ جیسے بجلی (٢٧) پورب سے کوند کر پچھم تک دکھائی دیتی ہے ویسے ہی ابن آدم کا (٢٨) آنا ہو گا O جہاں مردار ہے وہاں گدھ جمع ہو جائیں گے O (٢٩) اور فوراً ان دنوں کی

صفحہ ٢٧٠

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

مصیبت کے بعد سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے اور (٣٠) آسمانوں کی قوتیں ہلائی جائیں گی ◯ اور اس وقت ابن آدم کا نشان آسمان پر دکھائی دے گا اور اس وقت زمین کی سب قومیں چھاتی پیٹیں گی اور ابن آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ (٣١) آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گی ◯ اور نرسنگے کی بڑی آواز کے ساتھ اپنے فرشتوں کو بھیجے گا اور وہ اپنے برگزیدوں کو چاروں طرف سے آسمان کے کنارے سے اس کنارے تک جمع کریں گے ◯

اجماع امت

علامہ سفارینی شرح عقیدہ سفارینیہ ص ٩٠ ج ٢ پر لکھتے ہیں:

اما لاجماع فقد اجمعت الامة على نزوله و لم يخالف فيه احد من اهل الشريعة و انما انكر ذلك الفلاسفة والملاحدة مما لا يعتد بخلافه و قد انعقد اجماع الامة على انه ينزل ويحكم بهذه الشريعة المحمدية و ليس ينزل بشريعة مستقلة عند نزوله من السماء و ان كانت النبوة قائمة به و هو متصف بها و يتسلم الامر من المهدى و يكون المهدى من اصحابه و اتباعه كسائر اصحاب المهدى حتى اصحاب الكهف الذين هم من اتباع المهدى کما مر۔

شیخ اکبر قدس اللہ سرہ فتوحات مکیہ کے باب (٣٦٧) میں فرماتے ہیں:

لاخلاف فى انه ينزل فى اخر الزمان۔

اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ وہ (عیسیٰ بن مریم) آخر زمانہ میں نازل ہوں گے۔

ابن حیان تفسیر بحر محیط اور النہر الماد میں لکھتے ہیں:

”اجتمعت الامة على ان عيسىٰ حی فى السماء و انه ينزل فى اخر الزمان على ماتضمنه الحديث المتواتر

(ص ٤٧٣ ج ٢)

صفحہ ٢٧١

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

مرزا غلام احمد کا اقرار و اعتراف

”اس بات پر تمام سلف اور خلف کا اتفاق ہو چکا ہے کہ عیسیٰ جب نازل ہو گا تو امت محمدیہ میں داخل کیا جائے گا۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٥٦٩ حصہ دوم‘ روحانی خزائن ص ٤٠٧ ج ٣)

دعوائے نبوت سے پہلے خود مرزا صاحب کا یہ عقیدہ تھا کہ آنے والا مسیح وہی عیسیٰ بن مریم رسول اللہ ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے چھ سو برس پہلے گزرے ہیں۔ چنانچہ مرزا صاحب اپنی الہامی کتاب میں لکھتے ہیں:

”اور جب مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لاویں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار پھیل جاوے گا۔“

(براہین احمدیہ ص ٤٩٨ و ص ٤٩٩ روحانی خزائن ص ٥٩٣ ج ١)

احادیث نزول عیسیٰ بن مریم صلے اللہ علی نبینا وعلیہ وسلم

اس بارہ میں سب سے زیادہ جامع اور مکمل اور مفصل رسالہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندیؒ سابق مفتی دارالعلوم دیوبند کا ہے جس میں نہایت تفصیل کے ساتھ مع حوالہ کتب احادیث نزول کو جمع فرمایا ہے میرے علم میں اب تک اس موضوع پر اس کتاب سے زیادہ جامع کوئی کتاب نہیں لکھی گئی یہ کتاب در حقیقت زہری وقت شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب قدس اللہ سرہ سابق صدر مدرس دارالعلوم دیوبند کا املاء ہے جس کو مولانا المحترم مفتی محمد شفیع صاحب نے مرتب فرما کر اہل اسلام کے لیے ایک گراں قدر علمی اور دینی تحفہ پیش کیا۔ جزاہ اللہ عن الاسلام والمسلمین خیرا۔ (اس کا نام التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ہے) اب ہم چند منتخب احادیث ہدیہ ناظرین کرتے ہیں:

حدیث اول

صفحہ ٢٧٢

القول المحكم فی نزول ابن مريم عليه السلام

عن سعيد بن المسيب عن ابی هريرةؓ قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم و الذی نفسی بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا فيكسر الصليب و يقتل الخنزير و يضع الحرب و يفيض المال حتی لايقبله احد حتی تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا و مافيها ثم يقول ابو هريرة واقرؤا ان شئتم و ان من اهل الكتب الا ليومنن به قبل موته ويوم القيمة يكون عليهم شهيدا ۝

(رواہ البخاری و مسلم ص ٧٨ ج ١)

ترجمہ = حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس پروردگار کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے بے شک قریب ہے کہ تم میں عیسیٰ بن مریم حاکم عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ یعنی شریعت محمدیہ کے مطابق فیصلہ کریں گے اور وہ صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جنگ کو ختم کر دیں گے اور مال کی اتنی بہتات کر دیں گے کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا اور (اس وقت) ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہو جائے گا۔ یعنی عبادت کا ذوق اور شوق دلوں میں اس درجہ پیدا ہو جائے گا کہ ایک سجدہ روئے زمین کی دولت سے زیادہ بہتر معلوم ہو گا۔ پھر حضرت ابو ہریرہؓ کہتے تھے کہ (اس کی تائید کے لیے) چاہو تو یہ آیت پڑھ لو وان من اهل الكتب (الاية) یعنی کوئی شخص اہل کتاب میں سے نہ ہو گا مگر یہ کہ وہ ضرور بالضرور عیسیٰ پر عیسیٰ کی وفات سے پہلے ایمان لے آئے گا اور قیامت کے دن وہ (عیسیٰ ؑ) ان پر شاہد ہوں گے۔

حدیث دوم

عن ابی هريرةؓ ان رسول الله صلی الله عليه وسلم قال كيف انتم

صفحہ ٢٧٣

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم (رواہ البخاری و مسلم ص ٨٧ ج ١) وفی لفظہ لمسلم فامکم فی لفظۃ اخری فامکم منکم و اخرجہ احمد فی مسندہ ص ٣٣٠ و لفظہ کیف بکم اذا نزل الخ۔

ترجمہ = رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہاری خوشی کا اس وقت کیا حال ہو گا جب کہ عیسیٰ ابن مریم تم میں نازل ہوں گے۔ اور تمہارا امام تم میں سے ہو گا یعنی امام مہدی تمہارے امام ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام باوجود نبی اور رسول ہونے کے امام مہدی کی (پہلی نماز میں) اقتداء کریں گے۔

ف

اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ اور امام مہدی دو شخص الگ الگ ہیں۔ امام مہدی امامت کریں گے اور حضرت عیسیٰ ان کی اقتداء کریں گے۔

حدیث سوم

عن النواس بن سمعان قال ذکر رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم الدجال الی ان قال فبینما ہو کذالک اذ بعث اللہ المسیح بن مریم فینزل عند المنارۃ البیضاء شرقی دمشق بین مہروذتین و واضعا کفیہ علی اجنحۃ ملکین اذا طاطا راسہ قطر و اذا رفعہ تحدر منہ جمان کاللولوء فلا یحل لکافر یجد ریح نفسہ الا مات و نفسہ ینتہی الی حیث ینتہی طرفہ فیطلبہ حتی یدرک بباب لد فیقتلہ الحدیث بطولہ

(رواہ مسلم ص ٤٠٢ ج ٢ و ابوداود ص ١٣٥ ج ٢ والترمذی ص ٤٧ ج ٢ و احمد فی مسندہ ص ١٨١ ج ٤ و ص ١٨٢ ج ٤)۔

صفحہ ٢٧٤

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

ترجمہ = نواس بن سمعانؓ سے مروی ہیں کہ ایک روز نبی اکرم ﷺ نے دجال کا ذکر فرمایا اور دیر تک اس کا حال بیان فرمایا اور حدیث کا بیچ کا حصہ ہم نے چھوڑ دیا اور پھر اخیر میں یہ فرمایا کہ لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ یکایک عیسیٰ بن مریم دمشق کی جامع مسجد کے شرقی منارہ پر آسمان سے اس شان سے نازل ہوں گے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو دو فرشتوں کے بازوؤں پر رکھے ہوئے ہوں گے جب اپنے سر کو جھکائیں گے تو اس میں سے بوندیں ٹپکیں گی اور جب سر کو اٹھائیں گے تو اُس سے موتی کے سے قطرے ڈھلیں گے اور جس کافر کو ان کے سانس کی ہوا لگے گی وہ مرجائے گا اور ان کا سانس وہاں تک پہنچے گا جہاں تک ان کی نظر پہنچے گی یہاں تک کہ وہ دجال کو (دمشق کے) باب لد مقام پر پائیں گے اور اس کو قتل کردیں گے۔

(اس حدیث کو مسلم نے ص ٤٠٢ ج ٢ اور ابوداؤد نے ص ١٣٥ ج ٢ اور ترمذی نے

ص ٤٧ ج ٢ اور امام احمد نے مسند میں ص ١٨١ و ص ١٨٢ ج ٤ پر روایت کیا ہے)

حدیث چہارم

و عن ابی ھریرۃؓ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لیس بینی و بین عیسیٰ نبی وانہ نازل فاذا رایتموہ فاعرفوہ رجل مربوع الی الحمرۃ والبیاض بین ممصرتین کان راسہ یقطر وان لم یصبہ بلل فیقاتل الناس علی الاسلام فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر و یضع الجزیۃ و یھلک اللہ فی زمانہ الملل کلھا الا الاسلام ویھلک المسیح الدجال فیمکث فی الارض اربعین سنۃ ثم یتوفی فیصلّی علیہ المسلمون (رواہ ابو داؤد ص ١٣٥ ج ٢) واخرجہ احمد فی مسندہ و زاد فیہ ویھلک اللہ فی زمانہ المسیح الدجال ثم تقع الامانۃ علی الارض حتی ترتع الاسود مع الابل والنمار

صفحہ ٢٧٥

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

مع البقر والذئاب مع الغنم ويلعب الصبيان والغلمان بالحيات لاتضرهم فيمكث ماشاء الله ان يمكث ثم يتوفى فيصلى عليه المسلمون و يدفنونه وقال الحافظ العسقلانى رواه ابوداؤد و احمد

باسناد صحيح۔ (فتح البارى ص ٤٣٥ ج ٦ باب نزول عيسىٰ بن مریم)۔

ترجمہ = حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں اور وہ (عیسیٰ بن مریم) نازل ہونے والے ہیں پس جب تم ان کو دیکھو تو (ان علامتوں سے) ان کو پہچان لینا وہ ایسے شخص ہوں گے جن کا رنگ سرخی اور سفیدی کے درمیان ہو گا دو رنگین کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے (ان کا جسم ایسا شفاف ہو گا) گویا ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہے اگرچہ اس میں تری نہ پہنچی ہو‘ پھر اسلام کے لیے لوگوں سے قتال کریں گے صلیب توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے۔ ان کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ سب مذہبوں کو مٹا دے گا سوائے اسلام کے‘ اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں مسیح دجال کو ہلاک کر دے گا۔ پھر وہ عیسیٰ بن مریم زمین پر چالیس سال رہیں گے اس کے بعد وفات پائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے (یہ روایت ابوداؤد کی ہے) اور امام احمد کی مسند میں اس کے ساتھ یہ اضافہ اور ہے‘ اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں مسیح دجال کو ہلاک کر دے گا اور امانت داری تمام روئے زمین پر قائم ہو جائے گی۔ یہاں تک شیر اونٹوں کے ساتھ اور چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چرنے لگیں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور وہ ان کو نقصان نہ پہنچائیں گے۔ پھر جب تک اللہ چاہے گا وہ زمین پر رہیں گے پھر وفات پائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے (حافظ عسقلانی نے کہا ہے کہ اس حدیث کو ابوداؤد اور امام احمد نے روایت کیا ہے اور اس کی اسناد صحیح ہے)

صفحہ ٢٧٦

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

(فتح الباری ص ٣٥٧ ج ٦ باب نزول عیسیٰ بن مریم)

حدیث پنجم

عن ابن مسعودؓ قال قال رسول الله صلی الله علیه و سلم لقیت لیلة اسری بی ابراهیم و موسی و عیسیٰ علیهم السلام فذکروا امر الساعة فردو امرهم الی ابراهیم فقال لا علم بی بھا فرد وا امرهم الی موسی فقال لا علم لی بھا فرد وا امرهم الی عیسیٰ فقال اما وجبتھا فلایعلم بھا احدا لا اللّٰہ‘ فیما عهد الی ربی ان الدجال خارج و معیي قضیبان فاذا رانی ذاب کما یذوب الرصاص۔

(مسند امام احمد مصنف ابن ابی شیبہ سنن بیہقی)

ترجمہ = حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا میں شب معراج میں حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے ملا پھر انہوں نے قیامت کا تذکرہ کیا اور سب نے اپنے اس امر کی تحقیق کے لیے حضرت ابراہیمؑ کی طرف رجوع کیا۔ تو انہوں نے کہا کہ مجھے قیامت کے وقت کا کوئی علم نہیں پھر سب نے حضرت موسیٰؑ کی طرف رجوع کیا۔ تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ مجھ کو قیامت کے وقت کا علم نہیں پھر انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کی طرف رجوع کیا‘ تو انہوں نے کہا کہ اس کے وقوع کا علم تو سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں‘ مگر جو احکام مجھے دیے گئے ہیں ان میں ایک بات یہ ہے کہ دجال نکلے گا اور اس وقت میرے ہاتھ میں دو لکڑیاں ہوں گی جب وہ مجھ کو دیکھے گا تو اس طرح پگھل جائے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے۔

حدیث ششم

اخبرنا ابو عبدالله الحافظ انا ابوبکر بن اسحاق انا احمد بن ابراهیم ثنا ابی بکیر ثنی اللیث عن یونس عن ابن شهاب عن نافع مولی

صفحہ ٢٧٧

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

ابی قتادۃ الانصاریٰ قال ان اباھریرۃ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم وامامکم منکم انتهیٰ۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کیا حال ہو گا تمہارا جب کہ عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہو گا۔ (اسناد اس روایت کی صحیح ہے)

(اور امام بیہقی نے کتاب الاسماء والصفات ص ٤٠١ میں اس کو لکھا ہے)

تنبیہ

اس روایت میں نزل کے ساتھ من السماء کا لفظ ”صراحۃ“ موجود ہے۔

حدیث ہشتم

عن ابن عباس مرفوعا قال الدجال اول من يتبعه سبعون الفا من اليهود عليهم التيجان (الى قوله) قال ابن عباس قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم فعندذلک ينزل اخى عيسى بن مريم من السماء على جبل افيق اماما هاديا حكما عادلا عليه برنس له مربوع الخلق اصلت سبط الشعر بيده حربة يقتل الدجال فاذا قتل الدجال تضع الحرب اوزارها فكان السلم فيلقى الرجل الاسد فلا يهيجه وياخذ الحية فلا تضره تنبت الارض كنباتھا على عهد آدم ويومن به اهل الارض ويكون الناس اهل ملة واحدة

(اسحق بن بشیر ۔ کنز العمال ص ٢٦٨ ج ٧)

ترجمہ = حضرت ابن عباسؓ سے یہ مرفوع روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ دجال کے اولین اتباع کرنے والے ستر ہزار یہودی ہوں گے جو سبز اونی چادر اوڑھے ہوں گے (آگے چل کر) حضرت ابن عباسؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس قت میرے بھائی عیسیٰ بن مریم

صفحہ ٢٧٨

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

آسمان سے افیق پہاڑ پر امام اور ہادی اور حاکم اور عادل ہو کر نازل ہوں گے اور ان پر انکا برنس ہو گا۔ وہ متوسط القامت اور کھلے ہوئے بال والے ہوں گے۔ ان کے ہاتھ میں ایک نیزہ ہو گا جس سے دجال کا قتل کر دیں گے اور جب دجال کو قتل کر ڈالیں گے تو لڑائی (بالکل) ختم ہو جائے گی اور اس درجہ امن اور سکون ہو جائے گا کہ آدمی شیر کے سامنے آئے گا تو اس سے شیر غصہ میں نہ بھرے گا اور سانپ کو آدمی اٹھائے گا تو وہ اس کو نہ کاٹے گا اور زمین سے پیداوار حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ جیسی ہونے لگے گی اور روئے زمین کے تمام لوگ ان پر (عیسیٰ بن مریم) ایمان لے آئیں گے اور تمام لوگ ایک ملت (اسلامی) بن جائیں گے۔

حدیث ہشتم

عن ابی ھریرة مرفوعاً لیھبطن عیسیٰ بن مریم حكما واماما مقسطا ولیسلکن فجا حاجا اور معتمرا لولیاتین قبری حتی یسلم علی ولاردن علیہ۔ (مستدرک حاکم)

ترجمہ = حضرت ابی ہریرۃؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم ضرور ضرور اتریں گے حاکم ہو کر اور سردار منصف ہو کر اور ضرور وہ سفر کریں گے حج یا عمرہ کے لیے اور وہ ضرور آئیں گے میری قبر کے پاس اور ضرور وہ مجھے سلام کریں گے اور ان کے سلام کا ان کو جواب دوں گا۔

حدیث نہم

عن مجمع بن جاریة عن رسول الله صلی الله علیه وسلم قال یقتل ابن مریم الدجال بباب لد هذا حدیث صحیح و فی الباب عن عمران بن حصین و نافع بن

صفحہ ٢٧٩

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

عیینۃ و ابی برزۃ و حذیفۃ بن اسید و ابی ھریرۃ و کیسان و عثمان بن ابی العاص و جبیر و ابی امامۃ و ابن مسعود عبداللہ بن عمرو و سمرۃ ابن جندب والنواس بن سمعان و عمرو بن عوف و حذیفۃ بن الیمان

(ترمذی ص ٥٢ ج ٢ کتاب الفتن)

ترجمہ = حضرت مجمع بن جاریہؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ابن مریم دجال کو باب لد (دمشق میں ایک جگہ) میں قتل کریں گے۔ یہ حدیث صحیح ہے اور اس باب میں عمران بن حصین اور نافع بن عیینہ اور ابو برزہ اور حذیفہ بن اسید اور ابو ہریرہ اور کیسان اور عثمان بن ابی العاص اور جابر اور ابو امامہ اور ابن مسعود اور عبداللہ بن عمرو اور سمرہ بن جندب اور نواس بن سمعان اور عمرو بن عوف اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم سے حدیثیں منقول ہیں۔

حدیث دہم

عن عبداللہ بن عمر وقال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ینزل عیسیٰ بن مریم الی الارض فیتزوج و یولد لہ و یمکث خمسا و اربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبر فاقوم انا و عیسیٰ بن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر و عمر

(رواہ ابن الجوزی فی کتاب الوفا کتاب الاذاعہ ص ٧٧)

ترجمہ = عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ زمانہ آئندہ میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام زمین پر اتریں گے (اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ اس سے پیشتر زمین پر نہ تھے بلکہ زمین کے بالمقابل آسمان پر تھے۔) اور نکاح کریں گے اور ان کے اولاد ہو گی اور پینتالیس برس (زمین پر) رہیں گے پھر وفات پائیں گے اور میرے ساتھ قبر میں مدفون ہوں گے اور قیامت

صفحہ ٢٨٠

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

کو میں عیسیٰ بن مریم کے ساتھ ابوبکر و عمر کے درمیان قبر سے اٹھوں گا۔ اس حدیث کو ابن جوزی نے کتاب الوفاء میں روایت کیا ہے۔

فتلک عشرة کاملة

احادیث نبویہ

سرور عالم خاتم الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے قیامت کے قریب پیش آنے والے بہت سے واقعات کی خبر دی ہے جن میں نزول مسیح اور خروج دجال اور ظہور مہدی کی بھی خبر ہے۔

چونکہ حضرت مسیح کا نزول اور قتل دجال اور ظہور مہدی یہ واقعات نہایت اہم تھے اس لیے حضور پرنورؐ نے جس صراحت اور وضاحت کے ساتھ ان ہر سہ امور کو بیان فرمایا شاید ہی کسی اور علامت قیامت کو اس تفصیل اور صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہو۔ نزول مسیح کے بارے میں جو احادیث منقول ہوئیں علاوہ غیر معمولی تواتر اور کثرت کے ان میں حقیقت نزول کی اس درجہ صراحت اور وضاحت کر دی گئی کہ کسی ملحد اور زندیق کے لیے ذرہ برابر تاویل کی گنجائش نہیں رہی مثلاً احادیث میں حضرت مسیح کا نام اور لقب اور کنیت اور کیفیت ولادت اور والدہ مطہرہ کا نام اور ان کی طہارت و نزاہت اور حضرت زکریا کی کفالت میں ان کی تربیت اور پھر حضرت مسیح کی صورت اور شکل اور قد و قامت اور ان کی نبوت و رسالت اور ان کے معجزات اور یہود بے بہود کی دشمنی اور عداوت اور رفع الی السماء اور قیامت کے قریب ملک شام میں آسمان سے نازل ہونا اور دجال کو قتل کرنا اور نزول کے بعد چالیس پینتالیس سال دنیا میں رہنا اور نزول کے بعد نکاح کرنا اور اولاد کا ہونا۔ اور تمام روئے زمین پر اسلام کی حکومت قائم کرنا اور سوائے دین اسلام کے کسی مذہب کو قبول نہ کرنا، یہودیت اور نصرانیت کو یک لخت صفحہ ہستی سے مٹا دینا اور لوگوں کے دلوں سے بغض اور کینہ کا نکل جانا اور مال پانی کی طرح بہا دینا اور

صفحہ ٢٨١

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

صلیب کو توڑنا اور خنزیر کو قتل کرنا اور ہندوستان پر فوج کشی کے لیے لشکر روانہ کرنا اور حج بیت اللہ کرنا اور پھر مدینہ منورہ میں وفات پانا اور روضہ اقدس میں نبی اکرم ﷺ کے قریب مدفون ہونا اور اس کے سوا اور بھی علامتیں ہیں جو احادیث میں مذکور ہیں بغرض اختصار صرف اس پر اکتفا کیا گیا۔

ناظرین ذرا انصاف تو فرمائیں

کہ کیا ان تصریحات کے بعد بھی کوئی ابہام اور اشتباہ باقی رہ گیا ہے اور کیا مرزائے قادیان میں ان میں سے کوئی ایک صفت بھی پائی جاتی ہے۔ اور دعوائے نبوت سے پہلے خود مرزا صاحب کا بھی یہی عقیدہ تھا جو تمام مسلمانوں کا ہے۔ جیسا کہ براہین احمدیہ میں اس کی تصریح ہے۔

مرزائیوں کی تحریف

اور کیا ان تصریحات کے بعد اب بھی مرزائیوں کی اس تحریف کی کوئی گنجائش ہے کہ احادیث میں نزول مسیح سے مثیل مسیح مراد ہے۔

سبحان اللہ نزول سے تو ولادت کے معنی مراد ہو گئے اور مسیح سے مثیل مسیح مراد ہو گیا اور مریم سے مرزا صاحب کی ماں‘ چراغ بی بی مراد ہو گئی اور دمشق اور بیت المقدس اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا جو لفظ احادیث میں آیا ہے ان سب سے قادیان مراد ہو گیا کیونکہ قادیان ان سب کی سمت میں واقع ہے اور باب لد جو کہ ملک شام میں ایک جگہ ہے اور جہاں حضرت مسیح دجال کو قتل کریں گے اس سے مرزا صاحب کے نزدیک لدھیانہ مراد ہو گیا اور قتل دجال سے مناظرہ میں کسی عیسائی کو شکست دینا مراد ہو گیا۔ سبحان اللہ کیا دیوانہ اس سے بڑھ کر کچھ اور کہہ سکتا ہے؟

نیز مرزا صاحب کو کرشن مہاراج ہونے کا بھی دعویٰ ہے اور کرشن مہاراج کافروں اور بت پرستوں کا اوتار ہے ظاہر ہے وہ مسیح بن مریم کے عین اور مثیل نہیں ہو سکتا۔ حضرت مسیح کی صفات اور کرشن مہاراج کی صفات کا ایک ہونا

صفحہ ٢٨٢

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

قطعا محال ہے۔

عدالت کی ایک نظیر

اگر عدالت سے کسی شخص کے نام کوئی ڈگری ہو جائے اور کوئی دوسرا شخص عدالت میں یہ دعویٰ دائر کرے کہ وہ ڈگری جس شخص کے نام ہوئی ہے اس سے وہ شخص حقیقۃً مراد نہیں بلکہ اس کا مثیل اور شبیہ مراد ہے وہ مثیل اور شبیہ میں ہوں اور اس کی جائے سکونت سے میری جائے سکونت مراد ہے کیونکہ میری جائے سکونت اس کی جائے سکونت کی سمت اور محاذات میں واقع ہے تو کیا عدالت اس دعویٰ کی سماعت کی اجازت دے سکتی ہے؟ مقام حیرت ہے کہ مکاتبات اور سرکاری مراسلات میں صرف نام اور معمولی پتہ کافی ہو جاتا ہے اور کسی کو اشتباہ نہیں ہوتا لیکن حضرت مسیح بن مریم کے بارے میں باوجود ان بے شمار تصریحات کے اشتباہ کی گنجائش لوگوں کو نظر آتی ہے اور قادیان کے ایک دہقان کی ہرزہ سرائی اور مجنونانہ بکواس کے سننے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں کسی نے خوب کہا دیوانہ گفت ابلہ باور کرد۔ کوئی شخص کسی کے نام کا خط یا رجسٹری یہ کہہ کر وصول نہیں کر سکتا کہ میں مکتوب الیہ کا شبیہ اور مثیل ہوں اور میرا مکان اسی سمت میں واقع ہے۔ مرزا صاحب اگر ڈاکیہ سے کسی کے نام کی رجسٹری یہ کہہ کر وصول کر لیتے کہ میں اس مکتوب الیہ کا مثیل اور شبیہ ہوں اسی وقت مسئلہ مماثلت کی حقیقت منکشف ہو جاتی یا مثلاً کوئی یہ دعویٰ کرے کہ میں پاکستان کا گورنر جنرل ہوں اس لیے کہ قائد اعظم تو مر چکے ہیں اور میں ان کا ظل اور بروز ہو کر آیا ہوں لہٰذا میرا حکم ماننا ضروری ہے۔ حق تو یہ ہے کہ مرزا صاحب اگر کسی کا بروز ہو سکتے ہیں تو مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کا بروز ہو سکتے ہیں۔ اگر مرزا صاحب دعوائے نبوت اور مسیحیت اور مہدویت میں صادق ہو سکتے ہیں تو دوسرے مدعیان نبوت اور مسیحیت اور مہدویت جو مرزا صاحب سے پہلے گزر چکے یا آئندہ آئے یا آئیں گے ان کے کاذب ہونے کی کیا دلیل ہے اس کو بتلایا جائے۔

صفحہ ٢٨٣

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

احادیث نزول کا تواتر

نزول عیسیٰ بن مریم کی حدیث باجماع محدثین درجہ تواتر کو پہنچی ہے اب ہم بطور نمونہ چند ائمہ حدیث و تفسیر کی شہادتیں اس بارہ میں پیش کرتے ہیں۔ حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ ”وقد تواترت الاحادیث عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہ اخبر بنزول عیسیٰ علیہ السلام قبل یوم القیمۃ اماما عادلا و حکما مقسطا۔ اھ

اور علامہ آلوسی روح المعانی ص ٧٠٧ میں لکھتے ہیں:

ولا یقدح فی ذلک ای ختم النبوۃ ما اجتمعت علیہ الامۃ واشتہرت فیہ الاخبار و نطق بہ الکتاب علی قول و وجوب الایمان بہ و کفر منکرہ کالفلاسفۃ من نزولہ علیہ السلام فی آخر الزمان لانہ کان نبیا قبل تجلی نبینا صلی اللہ علیہ وسلم بالنبوۃ فی ھذہ النشأۃ اھ

اور حافظ عسقلانی نے فتح الباری اور تلخیص الحبیر میں تصریح کی ہے یہ کہ حدیث نزول عیسیٰ متواتر ہے۔ کذا فی عقیدہ الاسلام ص ٤۔

علامہ شوکانی اپنی کتاب توضیح میں لکھتے ہیں: وجمیع ماسقناہ بالغ حدالتواتر کما لا يخفی علی من لہ فضل اطلاع فتقرر بجمیع ماسقناہ فی ھذا الجواب ان الاحادیث الواردۃ فی المہدی المنتظر متواترۃ والاحادیث الواردۃ فی الدجال متواترۃ والاحادیث الواردۃ نزول عیسیٰ متواترۃ۔

مرزائے قادیان کی جسارت

مرزائے قادیانی نے اول تو یہ کوشش کی کہ نزول مسیح کی روایتوں پر کوئی جرح کرے مگر جب گنجائش نہ ملی تو صحابہ کرامؓ پر زبان طعن دراز کی اور بے تحاشا یہ کہہ دیا کہ وہ (یعنی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) ایک غبی شخص تھا۔ (دیکھو اعجاز احمدی ص ١٨ روحانی خزائن ص ١٤٧ ج ١٩) اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے متعلق یہ

صفحہ ٢٨٤

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

کہہ دیا کہ وہ ایک کہ وہ ایک معمولی انسان تھا۔ (دیکھو ازالہ ص ٥٩٧ روحانی خزائن ص ٤٢٢ ج ٣) سبحان اللہ مرزا صاحب اور ان کے صحابہ تو بڑے ذکی اور سمجھ دار ہیں اور بڑے غیر معمولی انسان ہیں۔ بھلا رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام مرزا صاحب کے برابر کہاں سمجھ سکتے ہیں۔

مگر جب علماء اسلام نے احادیث نزول کا ایک بے پایاں دفتر پیش کر دیا تو مرزا صاحب جھنجلا کر کہنے لگے کہ آں حضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ منکشف نہ ہوئی تھی۔

”ازالۃ الاوہام ص ٦٩١ روحانی خزائن ص ٤٧٣ ج ٣)

مطلب یہ ہوا کہ سبحان اللہ مسیح موعود اور دجال کی صحیح حقیقت کو مرزا صاحب تو سمجھ گئے مگر معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ صحیح نہ سمجھے کہ بجائے مرزا غلام احمد کی ولادت کے عیسیٰ بن مریم کا نزول سمجھ گئے اور کسی حدیث میں یہ نہ فرمایا کہ نزول مسیح سے قادیان ضلع گورداسپور میں مرزا غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ کا آنا مراد ہے بلکہ ساری عمر یہی فرماتے رہے کہ عیسیٰ بن مریم جن کو اللہ تعالیٰ نے انجیل عطا فرمائی وہ قیامت کے قریب دمشق کی جامع مسجد کے منارۂ شرقی پر آسمان سے اتریں گے۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ حضور ﷺ کے اس بیان سے ساری امت گمراہی میں مبتلا ہو گئی اور ابن چراغ بی بی کو چھوڑ کر ابن مریم کے خیال میں محو ہو گئی حتی کہ چراغ بی بی کے بیٹے کو بصد حسرت یہ شعر کہنے کی نوبت آئی۔

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ٢٠ روحانی خزائن ص ٢٣٠ ج ١٨)

اور مسلمان یہ پڑھتے ہیں

چہ نسبت خاک را با عالم پاک کجا عیسیٰ کجا دجال ناپاک

ایک طرفہ

طرفہ یہ ہے کہ مرزا صاحب جن مسیح بن مریم کے مثیل اور شبیہ ہونے

صفحہ ٢٨٥

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

کے مدعی ہیں دل کھول کر ان کو ایسی مغلظ گالیاں بھی دیتے ہیں اور ایسی تہمتیں لگاتے ہیں کہ جو آج تک کسی یہودی نے بھی نہیں لگائیں ہم میں تو ان گالیوں کے نقل کی بھی ہمت نہیں ان کے تصور سے بھی دل کانپتا ہے، کسی کا دل چاہے تو مرزائیوں سے اور مرزا صاحب کی کتابوں سے اس کی تصدیق کرے سب کو معلوم ہیں۔

مسیح موعود کی صفات اور علامات

حق جل شانہ کے فضل اور رحمت اور اس کی توفیق اور عنایت سے امید واثق ہے کہ آیات شریفہ اور احادیث مذکورہ بالا سے ناظرین اور قارئین پر مسیح موعود کی حقیقت اور اس کے نزول کی کیفیت پوری طرح واضح ہو گئی ہو گی لیکن اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ مسیح موعود کی صفات اور علامات کو ایسی خاص ترتیب کے ساتھ پیش کریں کہ جس سے ناظرین کرام کو مسیح آسمانی اور مرزائے آنجہانی کا فرق آنکھوں سے نظر آجائے۔

مرزا صاحب کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ مسیح بن مریم وفات پا گئے اس لیے میں غلام احمد باشندہ قادیان مسیح ہو سکتا ہوں یہ دلیل بعینہ ایسی دلیل ہے کہ کوئی شخص دعویٰ کرے کہ شہنشاہ انگلستان کا انتقال ہو گیا اس لیے میں ان کے قائم مقام ہو سکتا ہوں۔ بے شک عقلاً سب کچھ ممکن ہے لیکن مدعی کے لیے بادشاہ کی صفات اور خصوصیات کا حامل ہونا بھی ضروری ہے محض کسی بادشاہ کے مر جانے کو اپنی بادشاہت کے لیے دلیل بنانا مضحکہ خیز ہے اور جو ایسے دلائل سننے پر آمادہ ہو، وہ بھی اسی حکم میں ہے۔

احادیث مذکورہ بالا سے یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ آنے والے مسیح سے وہی عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ مراد ہیں جن کی ولادت اور نبوت اور معجزات کے واقعات قرآن کریم میں مذکور ہیں ان کے علاوہ کوئی دوسرا شخص مراد نہیں کہ جو ان کا مثیل اور شبیہ ہو۔

صفحہ ٢٨٦

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

عہد صحابہؓ اور تابعینؒ سے لے کر اس وقت تک پوری امت کے علماء اور صلحاءؒ اور مجددینؒ نے یہی سمجھا اور یہی عقیدہ رکھا کہ نزول مسیح سے اسی مسیح بن مریم کا نزول مراد ہے کہ جو نبی کریم علیہ السلام سے چھ سو برس پہلے بنی اسرائیل میں نبی بنا کر بھیجے گئے اور جن پر انجیل نازل ہوئی اور مریم عذراء کے بطن سے بغیر باپ کے نفخہ جبرئیل سے پیدا ہوئے جن کا مفصل قصہ قرآن کریم میں مذکور ہے۔

مرزائیوں سے ایک سوال

کیا کوئی مرزائی کسی حدیث یا صحابیؓ یا تابعیؒ یا امت محمدیہؐ میں سے کسی عالم کا کوئی قول پیش کر سکتا ہے کہ قرآن و حدیث میں جس مسیح بن مریم کے نزول کی خبر دی گئی ہے اس سے مراد مرزا غلام مرتضیٰ کا بیٹا غلام احمد ہے جو چراغ بی بی کے پیٹ سے قادیان میں پیدا ہوا۔ قرآن اور حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور مرزا غلام احمد کا باپ غلام مرتضیٰ موجود تھا۔ آں حضرت ﷺ کا اور پھر ابو ہریرہؓ کا حدیث نزول کو روایت کر کے بطور استشہاد آیت کا پڑھنا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کا مقصود انہیں مسیح بن مریم کے نزول کو بیان کرنا ہے جن کے بارے میں یہ آیت اتری کوئی دوسرا مسیح مراد نہیں۔ امام بخاری اور دیگر ائمہ حدیث و تفسیر کا احادیث نزول کے ساتھ سورۂ مریم اور آل عمران اور سورۂ نساء کی آیات کو ذکر کرنا یہ بھی اس امر کی صریح دلیل ہے کہ احادیث میں انہی عیسیٰ بن مریم کا نزول مراد ہے جن کی توفی اور رفع الی السماء کا قرآن کریم میں ذکر ہے قرآن اور حدیث میں جہاں مسیح بن مریم کا ذکر آیا ہے دونوں جگہ ایک ہی ذات مراد ہے۔

بے مثال جھوٹ

مرزا اور مرزائیوں کا یہ دعویٰ کہ آنے والے مسیح بن مریم سے مرزا غلام احمد پنجابی مراد ہے ایسا سفید جھوٹ ہے کہ دنیا میں اس کی نظیر نہیں۔

مرزائی جماعت سے ایک اور سوال

صفحہ ٢٨٧

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

جب آپ کے نزدیک حقیقۃً ”مسیح کا آنا مراد نہیں بلکہ مثیل اور شبیہ کا آنا مراد ہے تو خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کے وقت سے جن جن لوگوں نے نبوت اور مسیحیت کا دعویٰ کیا ان کے کاذب ہونے کی کیا دلیل ہے۔ آپ کے نزدیک مرزا سے پہلے جن لوگوں نے نبوت اور مسیحیت کے دعوے کیے وہ بھی جھوٹے تھے اور جنہوں نے مرزا کے بعد نبوت اور مسیحیت کے دعوے کیے وہ بھی جھوٹے۔ ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل بیان کیجئے۔ جس دلیل سے یہ سب مدعی جھوٹے ہیں اسی دلیل سے آپ بھی جھوٹے ہیں اور جس دلیل سے آپ سچے ہیں اسی دلیل سے یہ بھی سچے ہیں بلکہ مرزا صاحب کا مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ اور اقرار اس امر کی واضح دلیل ہے کہ مرزا صاحب اپنے اعتقاد میں بھی اصلی مسیح نہیں بلکہ نقلی اور جعلی مسیح ہیں اور نقلی اور جعلی چیز جھوٹی اور کھوٹی ہوتی ہے اور جعلی سکہ کو قبول کرنا، دانشمند کا کام نہیں۔

مرزا صاحب کو یقین کامل تھا کہ میں اصلی مسیح نہیں اس لیے اپنے کو مثیل مسیح بتلاتے تھے اور پھر طرۂ یہ کہ اس نقل اور جعل کو اصل سے افضل اور اکمل بتلاتے تھے۔

اب ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چند صفات اور علامات کو ہدیہ ناظرین کرتے ہیں تاکہ ناظرین بخوبی یہ معلوم کر سکیں کہ مرزائے قادیان کا یہ دعویٰ کہ میں مثیل مسیح ہوں اگر صحیح ہے تو مرزا صاحب اپنے میں ان صفات اور علامات کا ہونا ثابت کریں جو آنے والے مسیح کی احادیث میں مذکور ہیں۔

الفاظ حدیث اور ان کا مطلب

عن ابی ہریرۃؓ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا۔

ترجمہ = رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے عن قریب تم میں عیسیٰ بن مریم نازل ہوں

صفحہ ٢٨٨

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

گے درآنحالیکہ کہ وہ حاکم اور عادل ہوں گے۔ شریعت محمدیہ کے موافق فیصلہ کریں گے۔ فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ترجمہ = یعنی وہ مسیح نازل ہو کر صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا۔ یعنی آپ کے دور حکومت میں عیسائیت اور یہودیت کا خاتمہ ہو جائے گا اور کوئی صلیب پرست اور خنزیر خور باقی نہ رہے۔ خنزیر کے قتل کو خاص طور پر اس لیے ذکر فرمایا کہ تمام جانوروں میں خنزیر بے حیائی اور بے غیرتی میں مشہور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو قومیں خنزیر کھاتی ہیں وہی بے حیائی اور بے غیرتی میں مشہور ہیں۔ حضرت مسیح کی آمد کی برکت سے زمین سے بے غیرتی اور بے حیائی نیست اور نابود ہو جائے گی۔ بے غیرتی اور بے حیائی اور اس قسم کے عیش و عشرت کے سامان سب ختم فرما دیں گے۔

مرزائے آنجہانی پر ان کا انطباق

آں حضرت ﷺ نے اس حدیث میں آنے والے مسیح کے اوصاف بیان فرمائے۔ پہلا وصف یہ کہ وہ ابن مریم ہو گا۔ یعنی اس مریم کا بیٹا ہو گا۔ جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔ اور مرزائے آنجہانی غلام مرتضیٰ کا بیٹا تھا جو چراغ بی بی کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ ابن مریم کے نزول سے ابن غلام مرتضیٰ قادیانی کی پیدائش مراد ہے حدیث کے ساتھ تمسخر ہے۔ دوسرا اور تیسرا وصف اس آنے والے مسیح کا یہ بیان فرمایا کہ وہ دنیا کا حاکم اور عادل ہو گا۔ مرزا صاحب کو قادیان جیسے گاؤں کی بھی حکومت حاصل نہ تھی۔ اہل صلیب کے محکوم اور دعا گو تھے (اور علیٰ ہٰذا) عدل اور انصاف پر قادر بھی نہ تھے۔ جب کبھی مرزا صاحب پر کہیں کوئی ظلم ہوتا تو اس کے عدل و انصاف کے لیے انگریزی عدالت

صفحہ ٢٨٩

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

میں عدل و انصاف کی درخواست پیش کرتے اور گورداسپور کے حکام سے ملتے اور کچہری میں جا کر ادب سے ان کو سلام کرتے اور صلیب پرستوں کا ٹکٹ اور ان کا سکہ استعمال کرتے۔

مرزا صاحب کی آمد سے صلیب اور صلیب پرستوں کو ذرہ برابر کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ میں تثلیث پرستی کے ستون کو توڑنے آیا ہوں۔ مگر وہ ستون مرزا صاحب کی آمد سے ٹوٹنا تو کیا اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گیا اور مرزا صاحب مع تمام امت کے اس کی مضبوطی کے لیے دعا کرتے رہے۔

تنبیہہ

جاننا چاہیے کہ بے غیرت آدمی کبھی بہادر نہیں ہوتا۔ جب بے غیرتی آتی ہے دل سے شجاعت نکل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس جنگ عظیم میں گوروں کی فوج اس شجاعت کے ساتھ نہ لڑ سکی، جو مسلمانوں کی فوجوں نے جاپان اور جرمن کے مقابلہ میں بہادری دکھلائی۔ بہادر تو مسلمان ہی ہے۔ صاحب بہادر، بہادر نہیں اس کے پاس سامان بہت ہے۔ ایک کمزور لڑکی جس کے پاس رائفل ہو ایک نہتے فوجی جرنیل پر گولی چلا سکتی ہے مگر بہادر نہیں کہلا سکتی۔

ویضع الحرب

اور وہ مسیح آ کر لڑائی کو اٹھا دے گا۔ اور ایک روایت میں ہے ویضع الجزیۃ یعنی جزیہ کو اٹھا دے گا۔ یعنی سب مسلمان ہو جائیں گے اور کوئی کافر اور ذمی باقی نہ رہے گا جس پر جزیہ اور خراج لگایا جائے۔

مرزا صاحب دوسروں کا جزیہ تو کیا اٹھاتے وہ اپنا ہی جزیہ نہ اٹھا سکے۔ ساری عمر نصاریٰ کے باج گزار رہے اور اپنا افلاس ظاہر کر کے انکم ٹیکس کی معافی کی التجا کرتے رہے۔

فائدہ

صفحہ ٢٩٠

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جہاد اور جزیہ کو منسوخ نہیں فرمائیں گے بلکہ اس وقت جہاد اور جزیہ کی ضرورت ہی باقی نہ رہے گی۔ کیوں کہ اس وقت کوئی کافر ہی نہ رہے گا جس سے جہاد کیا جائے اور جزیہ لیا جائے۔ منسوخ تو جب ہوتا کہ کافر باقی رہتے اور پھر ان سے جہاد اور جزیہ اٹھا لیا جاتا۔

نیز اس وقت جہاد اور جزیہ کا ختم ہو جانا نبی اکرم ﷺ ہی کا حکم ہے۔ حضرت عیسیٰ کا حکم نہیں۔ حضرت مسیح نازل ہونے کے بعد شریعت محمدیہؐ کے اس حکم کو جاری اور نافذ فرمادیں گے۔

ویفیض المال حتی لا یقبلہ احد اور مال کو پانی کی طرح بہادیں گے۔ یعنی حضرت مسیح کے زمانہ میں مال کی اتنی کثرت ہو گی کہ سب غنی ہو جائیں گے اور کوئی صدقہ اور خیرات کا قبول کرنے والا نہ ملے گا۔

حتی تکون السجدۃ الواحدۃ خيرا من الدنیا و مافیھا یعنی حضرت مسیح کے زمانہ میں عبادت ایسی لذیذ ہو جائے گی کہ ایک سجدہ کی لذت کے مقابلہ میں دنیا اور مافیہا کی دولت حقیر معلوم ہو گی۔ یا یہ معنی ہیں اس زمانہ میں اللہ کا تقرب حاصل کرنے کا ذریعہ صرف سجدہ اور عبادت رہ جائے گا۔ صدقہ اور زکوۃ کا ذریعہ ختم ہو جائے گا اس لیے کہ سب غنی ہو جائیں گے صدقہ لینے والا کوئی باقی نہ رہے گا۔

مرزا صاحب کے زمانہ میں اس کے برعکس ہوا۔ مرزا صاحب قادیان میں پیدا ہوئے ہندوستان سے اسلامی حکومت کا خاتمہ ہوا اور مسلمان غریب اور فقیر ہوئے حتی کہ مرزا صاحب بھی لوگوں سے اپنے مکان اور لنگر خانہ اور پریس اور کتب خانہ کے لیے چندہ مانگنے پر مجبور ہوئے۔

مرزا صاحب کے زمانہ میں خدا پرستی کے بجائے دنیا پرستی اور زر پرستی کا غلبہ ہوا حتی کہ مرزا صاحب کا گھرانہ عشرت کدہ بنا۔ اور ابھی

صفحہ ٢٩١

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

مرزا صاحب کے خلیفہ راشد مرزا محمود زندہ ہیں ان کے گھرانہ کو جا کر دیکھ لو۔ فرنگی کی معاشرت اور ان کی معاشرت اور سامان عیش و عشرت میں کوئی فرق نہ پاؤ گے اور خداوند ذوالجلال سے غفلت کے جملہ سامان تم کو نظر آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس شر اور فتنہ سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین۔

گرچہ درویشی بود سخت اے پسر
ہم ز درویشی نباشد خوب تر

خلاصہ یہ ہوا کہ حضرت مسیح کے زمانہ میں تمام لوگ اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔ مرزا صاحب کے زمانہ میں اس کے برعکس ہوا۔ یہود اور نصاریٰ تو کیا اسلام میں داخل ہوتے جو پچاس کروڑ مسلمان دنیا میں موجود تھے مرزا صاحب کے آنے بعد وہ بھی اسلام سے خارج ہو گئے اور سوائے چند ہزار قادیانیوں کے روئے زمین پر کوئی مسلمان باقی نہ رہا۔

مرزا صاحب کے ہاتھ پر اتنے لوگ بھی مسلمان نہ ہوئے جتنا کہ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اور خواجہ معین الدین اجمیریؒ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے۔ ہندوستان تو سارا کفرستان تھا اولیاء اللہ اور علماء اور صلحاء کے مواعظ سے کروڑوں ہندو مسلمان ہوئے مگر مرزا صاحب کی ذات سے اسلام کو کوئی فائدہ نہ پہنچا مرزا صاحب کی وجہ سے ہندو اور عیسائی تو مسلمان نہ ہوئے البتہ بہت سے مسلمان مرتد ہو گئے انا للہ و انا الیہ راجعون

ثم یقول ابوہریرة واقراوا ان شئتم وان من اھل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیمة یکون علیھم شہیدا۔ ترجمہ = ابوہریرہؓ حضرت مسیح بن مریم کے نزول کی حدیث بیان کرنے کے بعد حاضرین مجلس سے فرماتے کہ اگر تم نزول مسیح کے بارے میں

صفحہ ٢٩٢

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

قرآن کریم سے شہادت چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو وان من اهل الکتب الخ یعنی حضرت مسیح کے نزول کے بعد یہود اور نصارٰی میں سے کوئی شخص ایسا باقی نہ رہے گا کہ جو حضرت مسیح پر حضرت مسیح کی وفات سے پہلے ایمان نہ لے آئے۔ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی تھی ختم ہوئی۔

خلاصہ یہ کہ حضرت مسیح کے زمانہ میں تمام یہود اور نصارٰی اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔

مرزا صاحب کا اپنے اقرار کے بموجب کاذب ہونا

اس متفق علیہ حدیث کی بناء پر تو آپ نے دیکھ لیا کہ مرزا صاحب مسیح موعود نہیں ہو سکتے۔ اب یہ دیکھیے کہ مرزا صاحب اپنے صریح اقرار اور قول کے بموجب بھی مسیح موعود نہیں ہو سکتے۔ مرزا صاحب کا مقولہ ہے کہ ”میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑنے کے لیے آیا ہوں اور اس لیے کہ بجائے تثلیث پرستی کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت شان کو ظاہر کروں پس اگر مجھے سے کروڑوں نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود کو کرنا چاہیے تھا تو میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور مر گیا تو سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“ (یہ مضمون اخبار البدر مورخہ ١٩ جولائی ١٩٠٦ء میں ہے اور اس کی مزید تائید اسی اعلان کے حاشیہ ص ١٦ و ١٧ سے ہوتی ہے جو حقیقۃ الوحی ٤٢٨۔ ٤٢٧ روحانی خزائن ص ٤٢٨۔ ٤٢٧ ج ٢٢)۔ کے آخر اور تتمہ سے پہلے ہے۔ اس کی عبارت یہ ہے ”میں کامل یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ جب تک وہ خدمت جو اس عاجز کے حصہ میں مقرر ہے پوری نہ ہو اس دنیا سے اٹھایا نہ جاؤں گا کیوں کہ خدا تعالیٰ کے وعدے ٹل نہیں جاتے اور اس کا ارادہ نہیں رک سکتا۔“ پھر اس حاشیہ کے شروع میں یہ بھی ہے کہ ”میرا یہ اعلان میری طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ٤١٩ روحانی خزائن ص ٤١٩ ج ٢٢)

صفحہ ٢٩٣

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

بے شک

یہ اعلان من جانب اللہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر آپ کی حقیقت واضح کرنے کے لیے واضح اور صریح اعلان آپ کی زبان اور قلم سے کرایا ہے تاکہ مسلمان عموما" اور مرزائی خصوصا" مرزا صاحب کے صدق اور کذب کو مرزا صاحب کے قول کے بموجب بھی جانچ لیں۔

الحمد للہ۔ مرزا صاحب دنیا سے چلے گئے اور دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ تثلیث پرستی کا ستون ٹوٹنا تو کیا اپنی جگہ سے بھی نہ ہلا۔ اسلام کو کوئی غلبہ نہ ہوا بلکہ اس کے برعکس عیسائیوں کو ترقی اور عروج ہوا اور اسلامی حکومتیں ختم ہوئیں اور جہاں جہاں مسلمان تھے وہ نصاریٰ کے محکوم اور تختہ جور و جفا بنے اور مرزائی امت تو نصاریٰ کی زرخرید غلام ہی بن گئی جس کا فریضہ دینی اور دنیوی نصاریٰ کی شکرگزاری اور دعاگوئی رہ گیا۔

غور تو کیجئے کہ تیرہ سو سال سے جس مسیح کی آمد کی خوش خبری مسلمانوں کے کانوں میں گونج رہی ہے معاذ اللہ کیا وہ ایسا ہی مسیح ہے کہ جو صلیب پرستوں اور اسلامی حکومتوں کے دشمنوں کا مداح اور ثنا خواں ہو اور ان کے شکر اور دعا میں مع اپنی تمام امت کے رطب اللسان ہو اور اسلامی حکومتوں کے زوال پر چراغاں کرنے والا ہو‘ اور مسلمانوں کے قاتلوں کو مبارک باد کے تار دینے والا ہو۔ مسیح کا کام تو کفر کی حکومت کو ختم کرنا ہے‘ نہ کہ دشمنان اسلام کی تائید اور حمایت کرنا اور ان کی بقاء اور ترقی کے لیے دل و جان سے دعا کرنا اور ان کے سایہ کو سایہ رحمت سمجھنا۔

مرزائیو! خدارا غور کرو اور اپنے اوپر رحم کرو

اپنے ایمان کی حفاظت کرو اور ایک جھوٹے کے پیچھے اپنی عاقبت نہ خراب کرو‘ اور ان احادیث کو پڑھو اور آں حضرت ﷺ نے جو آنے والے مسیح کے نشانات اور علامات بتلائی ہیں ان میں غور کرو کہ ان کا کوئی شمہ اور شائبہ بھی

صفحہ ٢٩٤

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

مرزا صاحب میں پایا جاتا ہے حاشا و کلا۔ بلکہ معاملہ برعکس ہے۔ حضور پر نور ﷺ نے جو بھی مسیح موعود کی علامت اور نشانی بتلائی ہے مرزا صاحب میں وہ نشانی صرف مفقود ہی نہیں بلکہ اس کی ضد اور صریح نقیض ان میں موجود ہے۔

حضرت مسیح بن مریم کی صفات

اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے

ولتذهبن الشحناء والتباغض والتحاسد

ترجمہ = یعنی مسیح کی آمد کے بعد مسلمانوں کے دل کینہ اور عداوت اور حسد سے پاک ہو جائیں گے۔

یہ حضرت مسیح کی آمد کی دسویں نشانی ہے۔ اور یہ حدیث مسند احمد اور سنن ابی داؤد وغیرہ میں بھی ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گیارھویں نشانی یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق شام کی جامع مسجد کے شرقی منارہ پر آسمان سے نازل ہوں گے جیسا کہ پہلے حدیث سوم میں گزر چکا۔

حدیث میں ہے کہ عیسیٰ بن مریم نازل ہونے کے بعد دجال کو باب لد پر قتل کریں گے۔

لد ملک شام (کا وہ حصہ جو اسرائیل کے پاس ہے) میں ایک جگہ کا نام ہے۔ حدیث میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام حج اور عمرہ کے لیے مکہ مکرمہ آئیں گے اور پھر مدینہ آئیں گے اور میری قبر پر حاضر ہو کر مجھ پر سلام کریں گے۔

حدیث میں ہے کہ نزول کے بعد چالیس سال زندہ رہیں گے۔ مدینہ منورہ میں وفات پائیں گے اور روضہ اقدس میں حضور پر نور ﷺ کے قریب مدفون ہوں گے۔

مرزائے آں جہانی کی جانچ پڑتال

صفحہ ٢٩٥

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

مرزا صاحب کی آمد کے بعد مسلمانوں میں جس قدر اخلاق رذیلہ کی زیادتی ہوئی ہے وہ لوگوں کے سامنے ہے، عیاں را چہ بیاں

مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ نزول مسیح بن مریم سے مجازاً ”مرزا غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ کی قادیان میں ولادت مراد ہے۔ مگر منارہ سے حقیقی معنی مراد ہیں اس لیے مرزا صاحب نے نازل ہونے کے بعد چندہ کر کے قادیان میں ایک منارہ تعمیر کرایا جس کا نام منارۃ المسیح رکھا۔ سبحان اللہ نزول تو پہلے ہو گیا اور منارہ بعد میں چندہ کر کے تعمیر کرایا گیا۔ جیسا کہ کسی کا واقعہ مشہور ہے کہ ایک شخص قضاء حاجت کرنے کے لیے پانی کا برتن لیکر چلا، برتن کی تلی میں سوراخ تھا اس لیے طہارت تو پہلے کر لی اور قضاء حاجت بعد میں کی، اسی طرح مسیح قادیان نازل تو پہلے ہو گئے اور منارہ بعد میں بنوایا کہ آخر کہاں تک حدیثوں میں تاویل کروں اور ساری باتوں کو مجاز پر محمول کروں۔ سوائے منارہ بنانے کے اور کوئی شے قدرت میں نظر نہ آئی۔ اس لیے حدیث میں صرف منارہ کا لفظ حقیقی معنی میں رہ گیا اور باقی سب مجاز اور استعارہ۔ مرزا صاحب کے نزدیک باب لد پر قتل کرنے سے لدھیانہ میں کسی کافر کو مناظرہ میں شکست دینا مراد ہے۔

مرزا صاحب نے نہ حج کیا اور نہ عمرہ اور نہ مدینہ منورہ میں حاضری نصیب ہوئی۔

مرزا صاحب دعوائے نبوت کے بعد چند سال زندہ رہے۔

مرزا صاحب قادیان میں مرے اور وہیں دفن ہوئے۔

اے مسلمانو! مسیح موعود کی یہ علامتیں ہیں جو احادیث میں تم نے پڑھ لی ہیں اور یہ بھی دیکھ لیا کہ ان میں سے مرزا صاحب میں کوئی علامت بھی نہیں پائی جاتی اور ان صریح احادیث میں مرزائی جو تاویلیں اور تحریفیں کر کے ان احادیث کو مرزا صاحب پر منطبق کرنا چاہتے ہیں تو ایسی تاویلوں سے جس کا جی چاہے مسیحیت کا

صفحہ ٢٩٦

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

دعویٰ کرے اور اس سے بھی بڑھ کر آیات اور احادیث کو اپنے اوپر منطبق کرے اور جس کا جی چاہے ایسے ہوا پرستوں پر ایمان لائے نواب بے ملک اور فرعون بے سامان ایسے ہی لوگوں کی مثال ہے۔ وماعلینا الاالبلاغ

ضمیمہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد شریعت محمدیہ کا اتباع کریں گے

تمام امت محمدیہؐ کا یہ اجماعی عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہونے کے بعد شریعت محمدیہؐ کا اتباع کریں گے۔ حضرت عیسیٰ کی شریعت کا اتباع ان کے رفع الی السماء تک محدود تھا۔ خاتم الانبیاء ﷺ کی بعثت کے بعد تمام جن و انس پر شریعت محمدیہؐ کا اتباع واجب ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اگرچہ نبی اور رسول ہوں گے مگر ان کا نزول نبی اور رسول ہونے کی حیثیت سے نہ ہو گا بلکہ شریعت اسلامیہ اور امت محمدیہؐ کے ایک مجدد ہونے کی حیثیت سے ہو گا۔ نزول کے بعد انجیل کا اتباع نہیں فرمائیں گے بلکہ کتاب و سنت کا اتباع فرمائیں گے۔

حافظ عسقلانی ینزل عیسیٰ بن مریم حکماً عدلاً کی شرح میں لکھتے ہیں:

ای حاکما و المعنی انہ ینزل حاکما بہذہ الشریعة فان ہذہ الشریعة باقیة لاتنسخ بل یکون عیسی حاکما من حکام ہذہ الامة۔

(فتح الباری ص ٣٥٦ ج ٦)

وقال النووی فی شرح مسلم لیس المراد بنزول عیسیٰ انہ ینزل بشرع ینسخ شرعنا ولا فی الاحادیث شی من ہذا بل صحت الاحادیث بانہ ینزل حکماً مقسطاً یحکم بشرعنا و یحیی من امور شرعنا ماھجرہ الناس و من الاحادیث الواردة فی ذلک ما اخرجہ احمد والبزار والطبرانی من حدیث سمرة عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ینزل عیسیٰ بن

صفحہ ٢٩٧

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

مریم مصدقا بمحمد صلی اللہ علیہ وسلم و علی ملتہ فیقتل الدجال ثم و انما هو قيام الساعة واخرج الطبرانی فی الكبير و البيهقي في البعث بسند جيد عن عبداللہ بن مغفل قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يلبث الدجال فيكم ماشاء اللہ ثم ينزل عيسى بن مریم مصدقا بمحمد و علی ملة اماما مھدیا و حكما عدلا فيقتل الدجال" واخرج ابن حبان في صحیحہ عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يقول ينزل عيسى بن مريم فيومهم فاذا رفع راسہ من الركعة قال سمع اللہ لمن حمدہ قتل اللہ الدجال و اظھر المومنین"

و وجہ الاستدلال من ھذا الحدیث ان عیسٰی یقول فی صلوتہ یومئذ سمع اللہ لمن حمدہ و ھذا الذکر فی الاعتدال من صلوة ھذہ الامة کما ورد فی حدیث ذکرتہ فی کتاب المعجزات والخصائص و اخرج ابن عساکر عن ابی ھریرة قال یھبط المسیح بن مریم فیصلی الصلوات و یجمع الجمع" فھذا صریح فی انہ ینزل بشرعنا لان مجموع الصلوات الخمس و صلوة الجمعة لم یکونا فی غیر ھذہ الملة واخرج ابن عساکر من حدیث عبداللہ بن عمرو بن العاص قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیف تھلک امة انا اولھا و عیسٰی بن مریم اخرھا کذا فی الاعلام بحکم عیسٰی علیہ السلام (الحافظ السیوطی ص ١٥٥ ج ٢ من الحاوی)۔

یہ شیخ جلال الدین سیوطیؒ کی عبارت ہے جس میں ان روایات کو ذکر فرمایا ہے جن میں اس امر کی تصریح ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام نزول کے بعد شریعت محمدیہؐ کے متبع ہوں گے اور آپ ﷺ ہی کی شریعت کے مطابق نماز اور جمعہ اور دیگر عبادات ادا فرمائیں گے۔

شیخ محی الدین بن عربیؒ نے فتوحات مکیہ کے باب ١٤ میں لکھا ہے کہ نبوت کا دروازہ بعد رسول اللہ ﷺ کے بند کر دیا گیا اب کسی کو یہ بات میسر نہیں کہ کسی شریعت منسوخہ سے خدا کی عبادت کرے اور عیسٰی علیہ السلام جس وقت

صفحہ ٢٩٨

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

اتریں گے تو اسی شریعت محمدیہؐ پر عمل کریں گے۔ اور امام ربانی شیخ مجدد الف ثانیؒ فرماتے ہیں ”حضرت عیسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام آسمان سے نزول فرمائیں گے تو حضرت خاتم الرسل ﷺ کی شریعت کی متابعت کریں گے۔ (مکتوبات ص ٣٦ دفتر سوم مکتوب ١٧)۔

حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو احکام شریعت کا علم کس طرح ہو گا؟

شیخ جلال الدین سیوطیؒ نے اسی سوال کے جواب میں ایک مستقل رسالہ لکھا ہے جس کا نام ”الاعلام بحکم عیسیٰ علیہ السلام“ ہے جو مصر میں طبع ہوا ہے حضرات اہل علم اصل رسالہ کی مراجعت فرمائیں۔ ہم بطور خلاصہ کچھ ہدیہ ناظرین کرتے ہیں:

شیخ سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ بروز پنج شنبہ ٦ جمادی الاولیٰ ٨٨٨ھ میں مجھ سے یہ سوال کیا گیا کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہونے کے بعد کس شریعت کے مطابق حکم کریں گے۔ آیا اپنی شریعت کے مطابق حکم کریں گے یا شریعت محمدیہؐ کے مطابق اور اگر شریعت محمدیہ کے مطابق حکم دیں گے تو آپ کو شریعت محمدیہ کے احکام کا علم کیسے ہو گا‘ اور کیا ان پر وحی نازل ہو گی یا نہیں اور اگر وحی نازل ہو گی تو وحی الہام ہو گی یا وحی ملکی ہو گی یعنی بذریعہ فرشتہ کے وحی نازل ہو گی۔ یہ تین سوال ہوئے اب ہم بالترتیب جواب ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔

سوال اول اور اس کا جواب

پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد شریعت محمدیہؐ کا اتباع کریں گے تفصیل اس جواب کی گزر گئی۔

سوال دوم اور اس کا جواب

دوسرا سوال یہ تھا کہ نزول کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شریعت

صفحہ ٢٩٩

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

محمدیہؐ کے احکام کا علم کس طرح ہو گا؟ شیخ جلال الدین سیوطیؒ نے اس کے چار طریقے ذکر فرمائے ہیں جن کو ہم اختصار اور وضاحت کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔

طریقہ اول (١)

جس طرح ہر نبی اور رسول کو بذریعہ وحی اپنی شریعت کا علم ہوتا ہے اس طرح ہر نبی کو بذریعہ وحی کے انبیاء سابقینؑ اور لاحقین یعنی گزشتہ اور آئندہ انبیاءؑ کی شریعتوں کا علم بھی ہوتا ہے جبریل علیہ السلام کی زبانی یہ معلوم ہوتا ہے کہ فلاں پیغمبر پر فلاں کتاب نازل ہوئی اور فلاں نبی پر فلاں کتاب نازل ہوئی اور توریت اور انجیل اور زبور میں تو خاص طور پر آں حضرت ﷺ کا ذکر اور آپ ﷺ کی کتاب اور آپ ﷺ کی شریعت اور آپ ﷺ کے صحابہؓ کے اوصاف مذکور ہیں۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت کے اہم مقاصد میں یہ تھا۔ مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد یعنی اپنی امت کو اس کی بشارت سنا دیں کہ جس نبی آخر الزمان ﷺ کی تمام انبیاءؑ خبر دیتے آئے اب اس کا زمانہ قریب آگیا ہے۔

(١) قال السیوطی الطريق الاول ان جميع الانبياء قد كانوا يعلمون في زمانهم بجميع شرائع من قبلهم و من بعدهم بالوحى من الله على لسان جبريل و بالتنبيه على بعض ذلک فى الكتاب الذى انزل عليهم والدليل على ذلک انه ورد فى الاحادیث والاثار ان عيسى عليه السلام بشر امته بمجیئ النبى صلى الله عليه وسلم و اخبرهم بجملة من شريعة ياتى بها تخالف شريعة عيسى و کذلک وقع لموسى ودائود عليهما السلام الی آخر ماقاله کذافی الاعلام ص ١٥٧ ج ٢ من الحاوی۔ بعد ازاں شیخ سیوطیؒ نے توریت اور انجیل اور زبور میں جو بشارتیں حضور پر نور ﷺ کی آمد اور آپ ﷺ کی شریعت اور صحابہ کرامؓ کے متعلق ہیں ان کو نقل کیا ہے۔ اہل علم اصل کی مراجعت کریں۔)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بار بار اپنی امت کو اس کی تاکید اکید کی کہ اگر اس نبی آخر الزمان کا زمانہ پاؤ تو ضرور ان پر ایمان لانا اور آپ ﷺ کے صحابہ

صفحہ ٣٠٠

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

کرامؓ کے اوصاف بتلائے۔ صحابہؓ کے اوصاف میں یہ بھی ارشاد فرمایا: اناجيلهم في صدورهم رهبان بالليل ليوث بالنهار ترجمہ = ان کی انجیل ان کے سینوں میں محفوظ ہو گی یعنی وہ اپنی کتاب یعنی قرآن کے حافظ ہوں گے رات کے راہب اور دن کے شیر ہوں گے۔

طریقہ دوم

حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرآن کریم کو دیکھ کر شریعت کے تمام احکام سمجھ جائیں گے نبی اور رسول کا فہم اور ادراک تمام امت کے فہم اور ادراک سے بالا اور برتر ہوتا ہے۔ امت کے تمام فقہاء اور مجتہدین نے مل کر جو شریعت کے احکام کو سمجھا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تنہا فہم اور ادراک ہزاراں ہزار درجہ اس سے بلند اور برتر ہو گا۔ نبی کی قوت قدسیہ بمنزلہ آفتاب کے ہے اور فقہاء اور ائمہ اجتہاد کی قوت ادراکیہ بمنزلہ ستاروں کے ہے۔

طریقہ سوم

حافظ ذہبی اور حافظ سبکی فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام باوجود نبی ہونے کے صحابیؓ بھی ہیں۔ حضرت عیسیٰؑ نے اپنی وفات سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا۔ علاوہ شب معراج کے بار بار نبی اکرم ﷺ سے ملاقات کرنا روایات سے ثابت ہے۔ پس جس طرح صحابہ کرام کو حضور ﷺ سے بلاواسطہ آپؐ کی شریعت کا علم حاصل ہوا اسی طرح اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضور پرنورؐ کی شریعت کا علم حضورؐ سے بلاواسطہ ہوا ہو تو کوئی مستبعد نہیں۔ خصوصاً جب کہ احادیث میں ہے کہ حضورؐ نے فرمایا کہ میرے اور ابن مریم کے درمیان کوئی نبی اور کوئی رسول نہیں وہ میرے بعد میری امت میں میرے خلیفہ ہوں گے۔ اور ظاہر ہے جب عیسیٰ علیہ السلام حضور پرنور ﷺ کے خلیفہ ہوں گے تو ضرور آپ ﷺ کی شریعت سے واقف ہوں گے۔

صفحہ ٣٠١

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

مریم لیس بینی و بینہ نبی ولا رسول الا انہ خلیفتی فی امتی بعدی۔ (کذا فی الاعلام ص ١٦١ ج ١ من الحاوی ١٢)

حافظ ذہبیؒ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام نبی بھی ہیں اور صحابی بھی۔ اور حضور ﷺ کے آخری صحابی ہیں یعنی سب سے اخیر میں حضرت عیسیٰؑ کی وفات ہوگی۔ باقی تمام صحابہؓ حضرت عیسیٰؑ سے پہلے گزر گئے۔

(کذا فی الاعلام ص ١٦١ ج ٢ من الحاوی)

طریقہ چہارم

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد روحانی طور پر آں حضرت ﷺ سے بحالت بیداری بار بار ملاقات فرمائیں گے اور جس چیز کی ضرورت ہو گی وہ براہ راست بالمشافہ حضور ﷺ سے دریافت فرمائیں گے۔

احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی حیات مبارکہ میں حضرات انبیاء سابقین علیہم السلام کی ارواح طیبہ سے ملاقات فرماتے تھے۔ مکہ مکرمہ سے جب معراج کے لیے براق پر روانہ ہوئے تو راستہ میں حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات ہوئی۔ ان حضرات نے حضور ﷺ کو سلام کیا اور حضور ﷺ نے ان کو سلام کا جواب دیا۔ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا اور موسیٰ علیہ السلام کو قبر میں نماز پڑھتے دیکھا۔

پس جس طرح نبی اکرم ﷺ اس عالم میں تشریف فرما تھے اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام عالم برزخ میں تھے اور ملاقات ہوتی رہی اور سلام و کلام ہوتا رہا۔ حضور ﷺ نے شب اسراء میں بیت المقدس میں امامت فرمائی اور تمام انبیاء علیہم السلام نے حضور ﷺ کی اقتداء کی، اسی طرح اس کا برعکس بھی ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد اسی عالم

صفحہ ٣٠٢

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

میں تشریف فرما ہوں اور حضور پر نور ﷺ عالم برزخ میں ہوں اور طرفین میں ملاقات ہو سکے اور افاضہ اور استفاضہ کا سلسلہ جاری رہ سکے۔

ولان جماعة من ائمة الشريعة نصوا على ان من كرامة الولى انه يرى النبى صلى الله عليه وسلم ويجتمع به فى اليقظة و ياخذ عنه ماقسم له من المعارف و المواهب و ممن نص على ذلك من ائمة الشافعية الغزالى والبارزى والتاج السبكى والعفيف اليافعى و من ائيمة المالكية القرطبى و ابن ابى جمرة وابن الحاج فى المدخل وقد حكى عن بعض الاولياء انه حضر مجلس فقيه فروى ذلك الفقيه حديثا فقال له الولى هذا الحديث باطل فقال الفقيه و من اين لك هذا فقال۔ هذا النبى صلى الله عليه وسلم واقف على رائسك يقول انى لم اقل هذا الحديث وكشف للفقيه فراه وقال الشيخ ابوالحسن الشاذلى لوحجبت عن النبى صلى الله عليه وسلم طرفة عين ماعددت نفسى مع المسلمين

فاذا كان هذا حال الاولياء مع النبى صلى الله عليه وسلم فعيسى النبى صلى الله عليه وسلم اولى بذالك ان يجتمع به وياخذ عنه مااراد من احكام شريعة من غير احتياج الى اجتهاد ولا تقليد الحفاظ

(کذا فی اعلام ص ١٦٣ ج ٢ من الحاوی)

ترجمہ = اور ائمہ شریعت کی ایک جماعت نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ ولی کی کرامات میں سے یہ ہے کہ وہ حالات بیداری میں نبی کریم ﷺ کی زیارت کرتا، اور آپ ﷺ کی ہم نشینی کا شرف حاصل کرتا ہے اور آپ سے علوم و معارف میں سے جو اس کے لیے مقدر ہے حاصل کرتا ہے اور ائمہ شافعیہ میں سے امام غزالیؒ اور بارزیؒ اور تاج الدین سبکیؒ اور عفیف یافعیؒ نے اور ائمہ مالکیہ میں سے قرطبیؒ ابن ابی جمرہؒ اور ابن حاجؒ نے مدخل میں تصریح کی ہے۔ اور بعض اولیاء

صفحہ ٣٠٣

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

سے منقول ہے کہ وہ کسی فقیہ کی مجلس میں تشریف لے گئے۔ ان سے اس فقیہ نے کوئی حدیث روایت کی‘ تو ان ولی نے یہ فرمایا کہ یہ حدیث تو باطل ہے۔ تو فقیہ نے فرمایا کہ کیسے؟ انہوں نے کہا کہ دیکھئے یہ نبی کریم ﷺ تمہارے سرہانے تشریف فرما ہیں اور فرما رہے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو نہیں کہا‘ اور ان فقیہ کو بھی مکشوف ہوا اور انہوں نے بھی نبی اکرم ﷺ کی بحالت بیداری اپنی آنکھوں سے زیارت کی۔ اور شیخ ابوالحسن شاذلیؒ فرماتے ہیں کہ اگر میں ایک پلک جھپکنے کی مقدار بھی حضور ﷺ کی زیارت سے حجاب میں رہوں تو میں اپنے کو مسلمان نہ سمجھوں۔ پس جب اولیاء کرام کا نبی کریم ﷺ کے ساتھ یہ حال ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو بدرجہ اولیٰ آپ ﷺ کے ساتھ مجتمع ہوں گے اور آپ ﷺ سے جو چاہیں گے احکام شرعیہ کا استفادہ فرمائیں گے۔ اور آپ کو کسی اجتہاد یا حفاظ حدیث کی تقلید کی حاجت نہ ہو گی۔

سوال سوم اور اس کا جواب

کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل ہو گی اور وحی کس قسم کی ہو گی۔ وحی نبوت ہو گی یا وحی الہام؟

جواب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام پر وحی نبوت کا نزول ہو گا۔ مسند احمد اور صحیح مسلم اور سنن ابی داؤد اور ترمذی اور نسائی میں نواس بن سمعانؓ کی حدیث میں ہے: کذلک اوحی اللہ الی عیسیٰ بن مریم انی قد اخرجت عباداً من عبادی لا یدان لہم بقتالہم فخرج عبادی الی الطور فیبعث اللہ یا جوج و ماجوج۔ الحدیث

ترجمہ = حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اللہ تعالیٰ کی وحی آئے گی کہ تم

صفحہ ٣٠٤

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

مسلمانوں کو لے کر کوہ طور پر چلے جاؤ۔

اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ نزول کے بعد وحی کا نزول ہو گا۔ اور لوگوں میں جو یہ مشہور ہے کہ حضور ﷺ کے بعد جبریل امین زمین پر نہیں آئیں گے یہ بالکل بے اصل ہے۔ شب قدر میں ملائکہ اور جبریل امین کا زمین پر اترنا قرآن اور حدیث سے ثابت ہے تنزل الملئكة والروح فیها باذن ربھم من کل امر سلم ھی حتی مطلع الفجر O حدیث میں ہے کہ جنب کو حالت جنابت میں بغیر وضو کے نہ سونا چاہیے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ جبریل امین اس کی موت کے وقت حاضر نہ ہوں۔ معلوم ہوا کہ مرتے وقت مومن کے پاس فرشتے اور جبریل امین حاضر ہوتے ہیں اگر مرتے وقت وہ باوضو ہو۔

وقد زعم زاعم ان عيسى بن مریم اذا نزل لا يوحى اليه وحيا حقيقيا بل وحی الهام و هذا القول ساقط مهمل لامرين احدهما منابذته للحديث المذكور و الثانى ان ما توهمه هذا الزاعم من تعذ ر الوحى الحقيقى فاسد لان عيسى عليه السلام نبى فاى مانع

(کذا فی الاعلام ص ١٦٥ ج ٢ من الحاوی)

ترجمہ = یعنی جس شخص نے یہ گمان کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام پر حقیقی وحی کا نزول نہ ہو گا بلکہ وحی الہام ہو گی، یہ زعم فاسد اور مہمل ہے۔ اول تو اس حدیث صحیح کے خلاف ہے جو بیان کر چکے۔ دوم یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور نبی سے وصف نبوت کبھی زائل نہیں ہو سکتا۔ (واللہ اعلم)

ظہور مہدی

”مہدی“ لغت میں ہدایت یافتہ شخص کو کہتے ہیں۔ معنی لغوی کے لحاظ سے ہر ہدایت یافتہ شخص کو مہدی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن احادیث میں جس مہدی کا ذکر آیا ہے اس سے ایک خاص شخص مراد ہے جو اخیر زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے

صفحہ ٣٠٥

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

ظاہر ہوں گے۔ ظہور مہدی کے بارہ میں احادیث اور روایات اس درجہ کثرت کے ساتھ آئی ہیں کہ درجہ تواتر کو پہنچی ہیں اور اس درجہ صراحت اور وضاحت کے ساتھ آئی ہیں کہ ان میں ذرہ برابر اشتباہ کی گنجائش نہیں۔ مثلاً امام مہدی کا کیا نام ہو گا۔ ان کا حلیہ کیا ہو گا‘ ان کی جائے ولادت کہاں ہو گی اور جائے ہجرت اور جائے وفات کہاں ہو گی‘ کیا عمر ہو گی‘ اپنی زندگی میں کیا کیا کریں گے‘ اول بیعت ان کے ہاتھ پر کہاں ہو گی اور کتنی مدت تک ان کی سلطنت اور فرماں روائی رہے گی وغیرہ وغیرہ۔ غرض یہ کہ تفصیل کے ساتھ ان کی علامتیں احادیث میں مذکور ہیں۔

تقریباً حدیث کی ہر کتاب میں امام مہدی کے بارے میں جو روایتیں آئی ہیں وہ ایک مستقل باب میں درج ہیں۔ شیخ جلال الدین سیوطیؒ نے امام مہدی کے بارے میں ایک مستقل رسالہ لکھا ہے جس میں ان تمام احادیث کو جمع کیا ہے کہ جو امام مہدی کے بارے میں آئی ہیں العرف الوردی فی اخبار المھدی (جو چھپ چکا ہے) علامہ سفارینی نے شرح عقیدۂ سفارینیہ میں ان تمام احادیث کی تلخیص کی ہے اور ان کو خاص ترتیب سے بیان کیا ہے۔ (حضرات اہل علم شرح عقیدۂ سفارینیہ ص ٢٧ ج ٢ کی مراجعت کریں۔)

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم المھدی من عترتی من اولاد فاطمۃ (رواہ ابوداؤد) اور امام مہدی کے آل رسول اور اولاد فاطمہ سے ہونے کے بارے میں روایات اس درجہ کثیر ہیں کہ درجہ تواتر تک پہنچ جاتی ہیں۔ (شرح عقیدۂ سفارینیہ ص ٦٩ ج ٢)

تک ختم نہ ہو گی جب تک میرے اہل بیت میں سے ایک شخص عرب کا مالک نہ ہو جائے۔ اس کا نام میرے نام اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کا نام ہو گا۔ (رواہ ابو داؤد والترمذی)

صفحہ ٣٠٦

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

ہوئی اور بیچ میں سے کسی قدر چپٹی ہو گی۔

(رواہ ابوداؤد)

اور حجر اسود کے درمیان ہو گی۔

(ابوداؤد و الترمذی)

عدل اور انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ پہلے ظلم اور ستم سے بھری ہو گی۔

کو پہچان کر ان سے بیعت کریں گے اور اپنا بادشاہ بناویں گے اور اس وقت غیب سے یہ آواز آئے گی۔ هذا خليفة الله المهدى فاسمعوا له واطيعوا ترجمہ = خدا تعالیٰ کا خلیفہ مہدی یہ ہے اس کے حکم سنو اور اس کی اطاعت کرو۔

اور بے شمار روایات سے امام مہدی کا کافروں پر جہاد کرنا اور روئے زمین کا بادشاہ ہونا ثابت ہے۔

ناظرین غور کریں

کہ مرزا صاحب میں امام مہدی کی صفات کا کوئی شمہ بھی تو ہونا چاہیے جب ہی تو دعوائے مہدویت چسپاں ہو سکے گا۔ ورنہ صفات تو ہوں کافروں اور گمراہوں کی اور دعویٰ ہو مہدی ہونے کا۔

ع ایں خیال است و محال است و جنوں

ایک ضروری تنبیہ

کتب حدیث میں سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم، امام مہدی کے ذکر سے خالی ہیں۔ لیکن دیگر کتب معتبرہ میں ظہور مہدی کی روایتیں اس قدر کثیر ہیں کہ

صفحہ ٣٠٧

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

محدثین نے ان کا تواتر تسلیم کیا ہے۔ اور یہ مسئلہ اجماعی ہے کہ بخاری اور مسلم نے احادیث صحیحہ کا استیعاب نہیں کیا۔ بخاری اور مسلم میں کسی حدیث کا نہ ہونا اس کے غیر معتبر ہونے کی دلیل نہیں۔ مسند احمد اور سنن ابی داؤد اور ترمذی وغیرہ میں صدہا اور ہزارہا ایسی روایتیں ہیں جو بخاری اور مسلم میں نہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی دو شخص ہیں

ظہور مہدی اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جو احادیث آئی ہیں ان سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم اور امام مہدی دو شخص علیحدہ علیحدہ ہیں۔ عہد صحابہؓ و تابعینؒ سے لے کر اس وقت تک کوئی اس کا قائل نہیں ہوا کہ نازل ہونے والا مسیح اور ظاہر ہونے والا مہدی ایک ہی شخص ہو گا۔

صرف مرزائے قادیان کہتا ہے کہ میں ہی عیسیٰ ہوں اور میں ہی مہدی ہوں اور پھر اس کے ساتھ یہ بھی دعویٰ ہے کہ میں کرشن مہاراج بھی ہوں اور آریوں کا بادشاہ بھی ہوں اور حجر اسود بھی ہوں اور بیت اللہ بھی ہوں اور حاملہ بھی ہوں اور پھر خود ہی مولود ہوں۔ سب کچھ ہوں گے مگر مسلمان نہیں۔

یہ مرزائے قادیان کا ہذیان ہے۔ جس کا جی چاہے اس پر ایمان لائے اور جس کا جی چاہے اس کا کفر کرے۔ امنت باللہ و کفرت بالطاغوت۔ ومن یکفر بالطاغوت الخ

احادیث نبویہ سے یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی دو الگ الگ شخصیتیں ہیں۔

امت محمدیہ کے آخری خلیفہ راشد ہیں جن کا رتبہ جمہور علماء کے نزدیک ابوبکرؓ اور عمرؓ خلفائے راشدین کے بعد ہے امت میں۔ امت محمدیہ میں سے صرف ابن سیرینؒ کو تردد ہے کہ امام مہدی کا رتبہ ابوبکرؓ و عمرؓ کے برابر ہے یا ان سے بڑھ کر ہے۔ شرح عقیدۂ سفارینیہ ص ٨١ ج ٢ میں شیخ جلال

صفحہ ٣٠٨

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

الدین سیوطیؒ فرماتے ہیں۔ احادیث صحیحہ اور اجماع امت سے یہی ثابت ہے کہ انبیاء اور مرسلین علیہم السلام کے بعد مرتبہ ابوبکرؓ اور عمرؓ کا ہے۔

(العرف الوردی ص ٧٧ ج ٢ من الحاوی)۔

جبرئیل سے نبی اکرم ﷺ سے چھ سو سال پہلے بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے اور امام مہدی آل رسول سے ہیں قیامت کے قریب مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے۔ والد کا نام عبداللہ اور والدہ کا نام آمنہ ہوگا۔ اب صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ بن مریم اور مہدی ایک شخص نہیں بلکہ دو شخص ہیں۔

امام مہدی روئے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد امام مہدی کے طرز عمل اور طرز حکومت کو برقرار رکھیں گے۔

(کذا فی الاعلام بحکم عیسیٰ علیہ السلام ص ١٦٢ ج ٢ من الحاوی)

اس سے بھی صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی دو علیحدہ شخص ہیں۔

میں پیدا ہوں گے۔ مدینہ منورہ ان کا مولد جائے ولادت ہو گا اور مہاجر (جائے ہجرت) بیت المقدس ہو گا۔

(العرف الوردی ص ٧٣ ج ٢ من الحاوی)

اور بیت المقدس ہی میں امام مہدی وفات پائیں گے اور وہیں مدفون ہوں گے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام مہدی کی نماز جنازہ پڑھائیں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام مہدی کے ایک عرصہ بعد وفات پائیں

صفحہ ٣٠٩

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

گے اور مدینہ منورہ میں روضہ اقدس میں مدفون ہوں گے۔

(شرح عقیدہ سفارینیہ ص ٨١ ج ٢)

لیے مصلیٰ پر کھڑے ہوں گے یکایک منارہ شرقی پر عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو گا۔ امام مہدی حضرت عیسیٰ کو دیکھ کر مصلے سے ہٹ جائیں گے اور عرض کریں گے کہ اے نبی اللہ آپ امامت فرمائیں۔ حضرت عیسیٰ فرمائیں گے کہ نہیں تم ہی نماز پڑھاؤ یہ اقامت تمہارے لیے کہی گئی۔ امام مہدی نماز پڑھائیں گے اور حضرت عیسیٰ اقتداء فرمائیں گے تاکہ معلوم ہو جائے کہ رسول ہونے کی حیثیت سے نازل نہیں ہوئے بلکہ امت محمدیہ کے تابع اور مجدد ہونے کی حیثیت سے آئے ہیں۔

(العرف الوردی ص ٨٤ ج ٢ و ص ٦٥ ج ٢ و شرح العقیدۃ السفارینیہ ص ٨٣ ج ٢۔)

وزیر کے ہوں گے اور دونوں کے مشورے سے تمام کام انجام پائیں گے۔

(شرح عقیدۂ سفارینیہ ص ٩١ ج ٢ و ص ٩٢)۔

ایک شبہ اور اس کا ازالہ

ایک حدیث میں آیا ہے کہ :

”لا مہدی الا عیسیٰ بن مریم“ ”نہیں ہے کوئی مہدی مگر عیسیٰ بن مریم“

اس حدیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ مہدی اور عیسیٰ دونوں ایک ہی شخص ہیں۔

جواب

یہ ہے کہ اول تو یہ حدیث صحیح نہیں محدثین کے نزدیک یہ حدیث ضعیف اور غیر مستند ہے۔

صفحہ ٣١٠

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

قال الحافظ العسقلانی۔ قال ابوالحسن الخسعی الاندی فی مناقب الامام الشافعی تواترت الاخبار بان المہدی من ھذہ الامۃ وان عیسٰی یصلی خلفہ ذکر ذلک رد الحدیث الذی۔

(اخرجہ ابن ماجہ عن انس و فیہ لا مھدی الاعیسٰی فتح الباری ص ٣٥٨ ج ٦)

دوم یہ کہ یہ حدیث ان بے شمار احادیث صحیحہ اور متواترہ کے خلاف ہے جن سے حضرت عیسٰی علیہ السلام بن مریم اور امام مہدی کا دو شخص ہونا آفتاب کی طرح واضح ہے۔

اور اگر اس حدیث کو تھوڑی دیر کے لیے صحیح تسلیم کر لیا جائے تو یہ کہا جائے کہ حدیث کے معنی یہ ہے کہ اس وقت حضرت عیسٰی علیہ السلام بن مریم سے بڑھ کر کوئی شخص ہدایت یافتہ نہ ہو گا۔ کیونکہ حضرت عیسٰی علیہ السلام نبی مرسل ہوں گے اور امام مہدی خلیفہ راشد ہوں گے نبی نہ ہوں گے۔ اور ظاہر ہے کہ غیر نبی کی ہدایت‘ نبی اور رسول کی ہدایت سے افضل اور اکمل نہیں ہو سکتی۔ اس لیے کہ نبی کی ہدایت معصوم عن الخطا ہوتی ہے اور عصمت خاصہ انبیاء کا ہے اور اولیاء محفوظ ہوتے ہیں۔ جیسے حدیث میں ہے۔

لا فتی الاعلیٰ ”کوئی جوان شجاعت میں علی کرم اللہ وجہہ کے برابر نہیں۔“

اور یہ معنی نہیں کہ دنیا میں سوائے علی کے کوئی جوان نہیں۔ اسی طرح اس حدیث کے یہ معنی ہوں گے کہ کوئی مہدی اور کوئی ہدایت یافتہ عصمت اور فضیلت اور علو منزلت میں عیسٰی علیہ السلام بن مریم کے برابر نہیں

(کذا فی العرف الوردی ص ٨٥ ج ٢)

قال المناوی اخبار المہدی لا یعارضہا خبر لا مھدی الا عیسٰی بن مریم لان المراد بہ کما قال القرطبی لا مھدی کاملا معصوما الاعیسٰی

(کذا فی فیض القدیر ص ٢٧٩ ج ٦)

قال القرطبی و یحتمل ان یکون قولہ علیہ السلام و لا مہدی

صفحہ ٣١١

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

الا عیسیٰ ای لا مہدی کاملاً معصوماً الا عیسیٰ قال وعلی ھذا تجتمع الاحادیث و یرفع التعارض وقال ابن کثیر ھذا الحدیث فیما یظھر لی ببادئ الرای مخالف للاحادیث الواردة فی اثبات مہدی غیر عیسیٰ بن مریم و عند التامل لا ینافیہا بل یکون المراد من ذلک ان المہدی حق المہدی ھو عیسیٰ ولا ینفی ذلک ان یکون غیرہ مھدیا ایضاً ۔ انتھی۔

(العرف الوردی ص ٧٦ ج ٢)

مرزا کا مہدی ہونا محال ہے

اس لیے کہ مہدی کی جو علامتیں احادیث میں مذکور ہیں وہ مرزا میں قطعاً مفقود ہیں۔

پٹھان تھا، سید نہ تھا۔

اور مرزا کا نام غلام احمد اور باپ کا نام غلام مرتضیٰ اور ماں کا نام چراغ بی بی تھا۔

صاحب نے کبھی مکہ اور مدینہ کی شکل بھی نہیں دیکھی ان کو یقین تھا کہ مکہ اور مدینہ میں اسلامی حکومت ہے۔ وہاں مسیلمہ پنجاب کے ساتھ وہی معاملہ ہو گا جو یمامہ کے مسیلمہ کذاب کے ساتھ ہوا تھا۔ جیسا کہ مرزا صاحب کی تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے۔ اور اسی وجہ سے مرزا صاحب حج بیت اللہ اور زیارت مدینہ بھی نہ کر سکے۔

انصاف سے بھر دیں گے۔ اور مرزا صاحب تو اپنے پورے گاؤں (قادیان) کے بھی چودھری نہ تھے۔ جب کبھی زمین کا کوئی جھگڑا پیش آتا

صفحہ ٣١٢

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

تو گورداس پور کی کچہری میں جا کر استغاثہ کرتے۔ خود فیصلہ نہیں کر سکتے تھے ورنہ گرفتار ہو جاتے۔

اس وقت دجال کے ساتھ ستر ہزار یہودیوں کا لشکر ہو گا۔ امام مہدی اس وقت مسلمانوں کی فوج بنائیں گے اور دمشق کو فوجی مرکز بنائیں گے۔ مرزا صاحب نے دجال کے کس لشکر سے جہاد و قتال کیا؟ اور دمشق اور بیت المقدس کا دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوا۔

اس کے علاوہ احادیث نبویہ میں امام مہدی کے متعلق اور بھی بہت سے امور مذکور ہیں جن میں سے کوئی بھی مرزا صاحب پر منطبق نہیں۔

امام ربانی شیخ مجدد الف ثانی رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے ایک طویل مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں جس کا ملخصہ ترجمہ ہدیہ ناظرین ہے۔

”قیامت کی علامتیں جن کی نسبت مخبر صادق علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خبر دی ہے‘ سب حق ہیں۔ ان میں کسی کا خلاف نہیں۔ یعنی آفتاب عادت کے برخلاف مغرب کی طرف سے طلوع کرے گا۔ حضرت مہدی علیہ الرضوان ظاہر ہوں گے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نزول فرمائیں گے۔ دجال نکل آئے گا اور یاجوج و ماجوج ظاہر ہوں گے۔ دابۃ الارض نکلے گا۔ اور دھواں جو آسمان سے پیدا ہو گا وہ تمام لوگوں کو گھیر لے گا اور درد ناک عذاب دے گا اور لوگ بے قرار ہو کر کہیں گے‘ اے ہمارے پروردگار اس عذاب سے ہم کو دور کر ہم ایمان لائے۔ اور اخیر کی علامت وہ آگ ہے۔ جو عدن سے نکلے گی۔ بعض نادان گمان کرتے ہیں کہ جس شخص نے اہل ہند میں سے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا وہی مہدی موعود ہوا ہے پس ان کے گمان میں مہدی گزر چکا ہے اور فوت ہو گیا ہے اور اس کی قبر کا پتہ دیتے ہیں کہ فراء میں ہے۔ احادیث صحیحہ جو حد شہرت بلکہ حد تواتر تک پہنچ چکی ہیں ان لوگوں کی تکذیب کرتی ہیں۔ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جو علامتیں حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کی بیان فرمائی ہیں ان لوگوں کے معتقد شخص

صفحہ ٣١٣

القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

کے حق میں مفقود ہیں۔ احادیث نبوی ﷺ میں آیا ہے کہ مہدی موعود آئیں گے ان کے سر پر ابر ہو گا۔ اس ابر میں ایک فرشتہ ہو گا جو پکار کر کہے گا یہ شخص مہدی ہے اس کی متابعت کرو۔ نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ تمام زمین کے مالک چار شخص ہوئے ہیں۔ جن میں سے دو مومن ہیں دو کافر۔ ذوالقرنین اور سلیمان مومنوں میں سے ہیں اور نمرود و بخت نصر کافروں میں سے اس زمین کا پانچواں مالک میرے اہل بیت سے ایک شخص ہو گا۔ یعنی مہدی علیہ الرضوان۔ نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ دنیا فانی نہ ہو گی جب تک اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو مبعوث نہ فرمائے گا۔ اس کا نام میرے نام کے موافق اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام کے موافق ہو گا۔ زمین کو جور و ظلم کی بجائے عدل و انصاف سے پر کر دے گا۔ اور حدیث میں آیا ہے کہ اصحاب کہف حضرت مہدی کے مددگار ہوں گے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے زمانہ میں نزول فرمائیں گے۔ اور دجال کے قتل کرنے میں ان کے ساتھ موافقت کریں گے۔ اور ان کی سلطنت کے زمانہ میں زمانہ کی عادت اور نجومیوں کے حساب کے برخلاف ماہ رمضان کی چودھویں تاریخ کو سورج گہن اول ماہ میں چاند گہن لگے گا۔ نظر انصاف سے دیکھنا چاہیے کہ یہ علامتیں اس مردہ شخص میں موجود تھیں یا نہیں۔ اور بھی بہت سی علامتیں ہیں جو مخبر صادق علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہیں۔

شیخ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے مہدی منتظر کی علامات میں ایک رسالہ لکھا ہے جس میں دو سو تک علامتیں لکھی ہیں۔ بڑی نادانی اور جہالت کی بات ہے کہ مہدی موعود کا حال واضح ہونے کے باوجود لوگ گمراہ ہو رہے ہیں ہداہم اللہ سبحانہ الی سواء الصراط (اللہ تعالیٰ ان کو سیدھے راستے کی ہدایت دے)“

(منقول از ترجمہ مکتوبات ص ٢٢٠ دفتر دوم مکتوب نمبر ٦٧)

واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا و مولانا محمد خاتم الانبياء و المرسلین و علی الہ و اصحابہ اجمعین و علینا معہم یا ارحم الراحمین

(٢٠ جمادی الثانیہ ١٣٧٣ھ یوم چہار شنبہ جامعہ اشرفیہ ۔ لاہور)

PDF 314
PDF 315

لطائف الحکم

فی

اسرار نزول عیسیٰ ابن مریم

علیہ السلام

صفحہ ٣١٦

لطائف الحکم اسرار نزول ابن مریم علیہ السلام

بسم الله الرحمن الرحیم

الحمد لله رب العالمين و العاقبة للمتقين و الصلوة والسلام علی خاتم الانبیاء و المرسلین و علی الہ و اصحابہ و ازواجہ و ذریاتہ اجمعین و علینا معہم یا ارحم الراحمین

اما بعد

امت محمدیہ علی صاحبہا الف الف صلوٰۃ و الف الف تحیۃ کا اس پر اجماع ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی بدن کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھا لیے گئے۔ اور قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ اور صریحہ اور متواترہ سے ثابت ہے اس وقت اس مختصر رسالہ میں حضرت مسیح بن مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام کے رفع الی السماء اور نزول کے کچھ اسرار و حکم بیان کرنا مقصود ہے۔ تاکہ اہل ایمان کے ایمان میں زیادتی ہو۔ اور اہل علم کے لیے موجب بصیرت ہو۔ اور اہل تذبذب کے لیے باعث طمانیت ہو اور اہل ضلالت کے لیے سبب ہدایت ہو۔ حق تعالیٰ شانہ اپنے فضل و کرم سے اس رسالہ کو قبول فرمائے۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم و تب علینا انک انت التواب الرحیم اور اس رسالہ کا نام ”لطائف الحکم فی اسرار نزول سیدنا عیسیٰ بن مریم“ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علی نبینا و بارک و سلم تجویز کرتا ہوں اور اللہ کے نام سے مقصود کو شروع کرتا ہوں۔

صفحہ ٣١٧

لطائف الحکم اسرار نزول ابن مریم علیہ السلام

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سنت الٰہی اس طرح جاری ہے۔ کہ ہر شخص کے ساتھ اس کی استعداد اور اصل فطرت کے مناسب معاملہ کیا جائے۔ اور مقتضائے حکمت بھی یہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فطرت عام بنی آدم کی طرح ہے۔ یا اس سے جدا اور ممتاز ہے۔ قرآن کریم نے کسی نبی کی فطرت کو بیان نہیں کیا۔ قرآن کریم نے صرف دو پیغمبروں کی فطرت بیان کی ہے۔ ایک حضرت آدم علیہ السلام کی اور دوسرے حضرت مسیح بن مریم علیہما السلام کی‘ جیسا کہ آل عمران اور سورۂ مریم میں بالتفصیل مذکور ہے۔ شیخ اکبر فرماتے ہیں۔ حق تعالیٰ شانہ نے دائرہ نبوت کو آدم علیہ السلام سے شروع فرمایا۔ اور اس دائرہ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم فرمایا۔ اور نبی اکرم سرور عالم محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات بابرکات کو دائرۂ نبوت کے تمام خطوط کا منتہی اور مرکزی نقطہ بنایا‘ نبوت کے لیے یہ ضروری ہے۔ کہ صاحب نبوت مرد ہو عورت نبی نہیں ہو سکتی۔ لقولہ تعالیٰ ۔ وما ارسلنا من قبلک الا رجالا۔ یعنی اور نہیں بھیجے ہم نے پہلے تجھ سے مگر مرد۔ اس لیے دائرہ نبوت کو مرد سے شروع کیا اور فقط مرد سے فقط عورت کو پیدا کیا یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت حوا کو پیدا کیا اور جب دائرہ نبوت کو ختم کیا تو فقط عورت سے فقط مرد کو پیدا کیا یعنی حضرت مریم سے حضرت عیسیٰ کو بغیر باپ کے پیدا کیا تاکہ دائرہ نبوت کی ہدایت و نیابت دونوں متناسب رہیں۔ کما قال تعالیٰ ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل آدم اور اللہ کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کی شان آدم علیہ السلام جیسی ہے نیز حضرت آدم علیہ السلام کے خمیر میں مٹی شامل تھی اس لیے ان کو آسمان سے زمین پر اتارا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نفخۂ جبرائیل سے پیدا ہوئے اس لیے ان کو زمین سے آسمان پر اٹھایا۔ جس طرح ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل آدم " اللہ تعالیٰ کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کی شان آدم علیہ السلام جیسی ہے۔"

صفحہ ٣١٨

لطائف الحکم اسرار نزول ابن مریم علیہ السلام

نیز حضرت آدمؑ کے خمیر میں مٹی شامل تھی۔ اس لیے ان کو آسمان سے زمین پر اتارا۔ اور حضرت عیسیٰؑ نفخۂ جبرئیلؑ سے پیدا ہوئے۔ اس لیے ان کو زمین سے آسمان پر اٹھایا۔

ان مثل عیسٰی عنداللہ کمثل آدم ترجمہ = اللہ تعالیٰ کے نزدیک عیسیٰؑ کی شان آدمؑ جیسی ہے خوب صادق آیا۔

آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ سے یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نفخۂ جبرئیلؑ سے پیدا ہوئے۔ جسمانی حیثیت سے حضرت مسیحؑ کا تعلق حضرت مریمؑ سے ہے اور روحانی حیثیت سے افضل الملائکۃ المقربین یعنی جبرئیلؑ امین سے ہے۔ صورت اگرچہ آپ کی بشری اور انسانی ہے۔ مگر آپ کی فطرت اور اصلی حقیقت ملکی اور جبرئیلی ہے۔

نقش آدم لیک معنی جبرئیلؑ
رستہ از جملہ ہوا وقال و قیل

اور اسی بنا پر آپ کو کلمۃ القاها الی مریم وروح منہ ترجمہ = عیسیٰؑ ایک کلمہ اور روح ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے جن کو مریمؑ کی طرف ڈالا گیا۔

فرمایا کہ جس طرح کلمہ میں ایک لطیف معنی مستور ہوتے ہیں۔ اسی طرح جناب مسیح کے جسم مبارک میں ایک نہایت لطیف شئی یعنی حقیقت ملکیہ مستور اور مخفی ہے۔

نقابیست ہر سطر من زین کتیب
فرو ہشتہ بر عارض دلفریب
معانیست در زیر حرف سیاہ
چو در پردہ معشوق و در میغ ماہ

اور چونکہ آپ کو حق تعالیٰ نے فرمایا روح منہ اور روح کا خاصہ یہ ہے

صفحہ ٣١٩

لطائف الحکم اسرار نزول ابن مریم علیہ السلام

کہ جس شے سے وہ ملتی ہے۔ اس کو زندہ کر دیتی ہے اس لیے آپ کو احیاء موتی (معنی مردوں کو زندہ کرنے کا کام) اعجاز عطا کیا گیا۔ اور چونکہ آپ کی ولادت میں نفخہ جبرئیلؑ کو دخل تھا۔ کما قال تعالیٰ فنفخنا فیھا من روحنا ترجمہ = ہم نے اس میں اپنی ایک خاص روح بذریعہ نفخہ جبرئیلؑ پھونکی۔“ اس لیے فانفخ فیہ فیکون طیرا باذن اللّٰہ۔ ترجمہ = میں اس میں پھونک مارتا ہوں۔ پس وہ باذن اللہ پرندہ ہو جاتا ہے۔“ کا معجزہ آپ کو دیا گیا۔

آمدم بر سر مطلب

پس جبکہ یہ ثابت ہو گیا کہ آپ کی اصلی فطرت ملکی ہے اور آپ کا اصل تعلق جبرئیلؑ اور ملائکہ مقربین سے ہے۔ اور دوسرا تعلق آپ کا حضرت مریمؑ سے ہے۔ اس لیے مناسب معلوم ہوا۔ کہ دونوں قسم کا تعلق معرض ظہور میں آئے اور کچھ حصہ حیات کا ملائکہ مقربین کے ساتھ گزرے اور کچھ حصہ زندگی کا بنی نوع انسان کے ساتھ۔

دستور یہ ہے کہ اگر ولادت اتفاقاً بجائے وطن اصلی کے وطن اقامت میں ہو جاتی ہے۔ تو چند روز کے بعد وطن اصلی میں بچہ کو ضرور لے جاتے ہیں۔

تاکہ وہ بچہ اپنے وطن اصلی کی زیارت سے محروم نہ رہے۔ اور چونکہ جناب مسیح کی ولادت نفخہ جبرئیل سے ہوئی ہے۔ اس لیے اگر مقر ملائکہ یعنی سمٰوات کو جناب مسیح کا وطن اصلی کہا جائے تو کچھ غیر مناسب نہ ہو گا۔

مگر جسمانی حیثیت سے موت طبعی کا آنا بھی لازمی تھا۔ اس لیے آپ کے لیے نزول من السماء مقدر ہوا اور چونکہ رفع الی السماء ملکی اور تشبہ بالملائکہ کی بناء پر تھا۔ اس لیے قبل الرفع آپ نے نکاح بھی نہیں فرمایا۔ اس لیے کہ ملائکہ میں طریق ازدواج نہیں۔

اور نزول چونکہ جسمانی اور بشری تعلق کی بناء پر ہو گا اس لیے بعد نزول

صفحہ ٣٢٠

لطائف الحکم اسرار نزول ابن مریم علیہ السلام

نکاح بھی فرمائیں گے۔ اور اولاد بھی ہو گی۔ اور وفات پا کر روضہ اقدس کے قریب دفن ہوں گے۔

اور چونکہ آپ کی ولادت نفخۂ جبرئیلؑ سے ہوئی اور حضرت جبرئیل کا عروج اور نزول قرآن میں ذکر کیا گیا ہے۔

کما قال اللہ تعالیٰ تعرج الملٰئکۃ والروح، تنزل الملٰئکۃ والروح

ترجمہ = فرشتہ اور روح (جبرئیلؑ) آسمان پر جاتے ہیں۔ فرشتہ اور روح (جبرئیلؑ) آسمان پر سے اترتے ہیں۔

اس لیے مناسب ہوا کہ کم از کم ایک مرتبہ آپ کے لیے بھی عروج الی السماء اور نزول الی الارض ہو۔ تاکہ آپ کی فطرت کا ملکی ہونا اور نفخۂ روح القدس سے پیدا ہونا اور ظل جبرئیل ہونا خوب عیاں ہو جائے، بلکہ جس طرح حضرت جبرئیل کو روح کہا گیا اسی طرح جناب مسیح کو بھی روح کہا گیا ہے قال تعالیٰ کلمتہ القاھا الی مریم و روح منہ وہ ایک کلمہ ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے جن کو مریمؑ کی طرف ڈالا۔

پس جس طرح روح بمعنی جبرئیل کے لیے عروج و نزول ثابت کیا گیا۔ اسی طرح جناب مسیح کے لیے بھی جو کہ خدا کی ایک خاص روح ہیں، عروج و نزول ہونا چاہیے۔ اور چونکہ حضرت مسیح کو سراپا روح قرار دیا گیا اور یہ کہا گیا کہ وہ سراپا روح ہیں اور یہ نہیں کہا گیا فیہ روح یعنی اس میں روح ہے اس لیے یہود قتل پر قادر نہیں ہوئے۔ اس لیے کہ روح کا قتل کسی طرح ممکن نہیں۔ نیز آپ کی شان کلمتہ القاھا الی مریم ذکر کی گئی ہے۔ اور دوسری جگہ ارشاد ہے۔

الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ

ترجمہ = اسی کی طرف کلمات طیبات چڑھتے ہیں۔ اور وہی عمل صالح کو بلند کرتا ہے۔

اس لیے آپ کا رفع الی السماء اور بھی مناسب ہوا۔ نیز خدا کا کلمہ کسی کے پست کرنے سے کبھی پست نہیں ہو سکتا۔ خدا کا کلمہ ہمیشہ بلند ہی رہا کرتا ہے۔

صفحہ ٣٢١

لطائف الحکم اسرار نزول ابن مریم علیہ السلام

وجعل كلمة الذين كفروا السفلى وكلمة الله هى العليا۔ ترجمہ = اور خدا تعالیٰ نے کافروں کے کلمہ کو پست کر دیا اور خدا کا کلمہ بلند ہی رہتا ہے۔

اس لیے اللہ تعالیٰ نے کلمتہ اللہ یعنی عیسیٰ روح اللہ کو آسمان پر اٹھا لیا۔ اور کافروں کا کلمہ یعنی دجال پست ہو گا یعنی قتل کیا جائے گا۔ اور چونکہ آپ کی ولادت کے وقت حضرت جبرئیلؑ بشکل بشر متمثل ہوئے تھے۔ کما قال تعالیٰ۔ فتمثل لها بشرا سويا۔ اس لیے رفع الی السماء کے وقت ایک شخص آپ کے ہم شکل بنا کر صلیب دے دیا گیا۔ کما قال تعالیٰ۔ وما قتلوه و ما صلبوه ولكن شبه لهم ترجمہ = یعنی اور (یہود نے) نہیں قتل کیا ان (عیسیٰؑ) کو لیکن ان کے لیے شبیہ بنا دیا گیا تھا۔

اور جس طرح ولادت کے وقت اختلاف ہوا تھا۔ کما قال تعالیٰ فاختلف الاحزاب من بينهم ترجمہ = پس جماعتوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ اسی طرح رفع الی السماء کے وقت بھی اختلاف ہوا۔

وان الذين اختلفوا فيه لفى شک منه مالهم به من علم الا اتباع الظن وماقتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزا حكيما۔ ترجمہ = جن لوگوں نے حضرت مسیح کے بارے میں اختلاف کیا وہ شک میں ہیں ان کو علم نہیں محض اتباع ظن ہے۔ حضرت مسیح کو یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اور بے شک اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔

جناب مسیح بن مریم کو نزول من السماء اور

قتل دجال کے لیے خاص کیوں کیا گیا

PDF 322
صفحہ ٣٢٣

لطائف الحکم اسرار نزول ابن مریم علیہ السلام

تک شیطان زندہ ہے۔ اس وقت تک اس کے مقابلہ کے لیے ملائکہ کرام بھی زندہ ہیں۔ جس طرح شیاطین کو ہر طرح کی تشکل اور تمثل کی اور عروج اور نزول کی اور شرق سے غرب تک ایک آن میں منتقل ہونے کی طاقت عطا کی گئی۔ اسی طرح بالمقابل ملائکہ کرام کو بھی یہ تمام طاقتیں علی وجہ الاتم عطا کی گئیں۔ تاکہ تقابل مکمل رہے۔ قلب انسانی کے ایک جانب اگر شیطان ہے۔ تو دوسری جانب اس کے مقابل ایک فرشتہ موجود ہے۔

شیطان اگر اس کو بہکاتا ہے۔ تو فرشتہ اس کو ہدایت کی جانب بلاتا ہے۔ اور اس کے لیے دعا اور استغفار کرتا ہے۔ لیکن شیاطین اور ملائکہ کرام کا یہ مقابلہ ایک عرصہ تک پوشیدہ اور مخفی طور سے چلتا رہا۔ اس کے بعد حکمت الہی اور مشیت خداوندی اس جانب متوجہ ہوئی کہ یہ مقابلہ کسی قدر معرض ظہور میں بھی آئے۔

چنانچہ اولاً ایسی ذات کو پیدا فرمایا کہ جس کی حقیقت اور اصل فطرت شیطانی اور صورت اس کی جسمانی اور انسانی ہے۔ یعنی ”مسیح دجال“ جیسا کہ فتح الباری میں منقول ہے۔ کہ دجال دراصل شیطان ہے۔ یعنی حقیقت اور فطرت اس کی شیطانی ہے۔ اور صورت اس کی انسانی ہے۔ اور وہ ایک جزیرہ میں محبوس ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں مصرح ہے۔

کہا جاتا ہے۔ اس دجال اکبر کو ایک جزیرہ میں محبوس کرنے والے حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔ جیسا کہ فتح الباری میں منقول ہے۔ خلاصہ یہ کہ حق تعالیٰ نے اولاً دجال کو پیدا کیا۔ کہ جس کی حقیقت شیطانی اور صورت انسانی ہے۔

اس کے بعد اس کے مقابلہ کے لیے ایک ایسے نبی کو پیدا فرمایا کہ جس کی فطرت اور اصل حقیقت ملکی اور جبرئیلی ہے۔ اور صورت اس کی بشری اور انسانی ہے۔

اور ایسے نبی سوائے جناب مسیح بن مریم علیہ الصلوۃ والسلام کے کوئی نہیں نظر آتے، پھر جس طرح دجال یہود یعنی بنی اسرائیل سے ہے۔ اسی طرح جناب مسیح بن مریم بھی بنی اسرائیل سے ہیں۔ جس طرح دجال کو ایک جزیرہ میں محبوس کر کے

صفحہ ٣٢٤

لطائف الحکم اسرار نزول ابن مریم علیہ السلام

ایک طویل حیات عطا کی گئی۔ اسی طرح اس کے مقابل جناب مسیح بن مریم کو آسمان پر زندہ اٹھایا گیا۔ اور قیامت تک آپ کو قتل دجال کے لیے زندہ رکھا گیا۔ اور اسی وجہ سے احادیث میں دجال کے لیے یخرج اور یظہر کا لفظ آیا ہے (یعنی نکلے گا اور ظاہر ہو گا) جس سے صاف معلوم ہوتا ہے۔ کہ دجال موجود ہے۔ مگر ابھی ظاہر نہیں ہوا۔ جیسا کہ جناب مسیح کے متعلق ینزل من السماء کا لفظ آیا ہے۔ (یعنی آسمان سے نازل ہوں گے) جناب مسیح بن مریم اور مسیح دجال کے لیے یولد (یعنی پیدا کیا جائے گا) کا لفظ کسی جگہ نہیں آیا۔ دجال چونکہ دعوے الوہیت کا کرے گا اس لیے جناب مسیح بن مریم کی زبان مبارک سے پہلا کلمہ جو کہلایا گیا وہ یہ تھا قال انی عبداللہ بلاشبہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور چونکہ دجال سے بطور استدراج چند روز کے لیے احیاء موتی ظہور میں آئے گا۔ اس لیے اس کے مقابل جناب مسیح بن مریم کو بھی احیاء موتی کا اعجاز عطا کیا گیا۔

شیخ اکبر فرماتے ہیں۔ کہ دجال جس وقت ظاہر ہو گا۔ تو کہل یعنی ادھیڑ عمر ہو گا۔

اسی طرح جناب حضرت مسیح آسمان سے نازل ہوں گے تو کہل ہوں گے۔ کما قال تعالیٰ۔ وکہلا ومن الصالحین۔ ترجمہ = اور وہ (عیسیٰؑ) کہل ہوں گے اور صلحاء میں سے ہوں گے۔

اور جس طرح حضرت مسیح کو آیت کہا گیا۔ ولنجعلہ آية للناس۔ اسی طرح دجال کو بھی آیت کہا گیا ہے کما قال اللہ تعالے او یاتی بعض آیات ربک یوم یاتی بعض آیات ربک ترجمہ = یا آپ کے رب کی بعض نشانیاں آ جائیں جس روز آپ کے رب کی بعض نشانیاں ظاہر ہوں گی۔

اور حدیث میں مصرح ہے کہ بعض آیات ربک سے دجال وغیرہ کا ظاہر ہونا مراد ہے۔ مگر جناب مسیح من جانب اللہ آیت رحمت ہیں۔ اور دجال آیت ابتلا ہے۔

صفحہ ٣٢٥

لطائف الحکم اسرار نزول ابن مریم علیہ السلام

غرض یہ کہ جناب مسیح بن مریم اور دجال کے اوصاف اور احوال میں اس درجہ مقابلہ کی رعایت کی گئی ۔ کہ لقب تک میں تقابل کو نظر انداز نہ کیا گیا۔ جس طرح عیسیٰ علیہ السلام کا لقب مسیح ہدایت رکھا گیا۔ دجال کا لقب مسیح ضلالت رکھا گیا۔ اور چونکہ دجال ملک شام میں ظاہر ہو گا۔ اس لیے جناب مسیح بن مریم بھی اس کے قتل کے لیے شام میں جامع دمشق کے مشرقی مینار پر نازل ہوں گے۔ اور باب لد کے قریب اس کو قتل کریں گے۔ اور دجال چونکہ ظاہر ہو کر شدید فساد برپا کرے گا۔ جیسا کہ حدیث نواس بن سمعان میں ہے۔

فعاث یمینا و شمالا ترجمہ = وہ ہر جگہ فساد پھیلائے گا۔

اس لیے جناب مسیح بن مریم حَکَم و عدل ہو کر نازل ہوں گے۔ اور چونکہ دجال کے ساتھ زمین کے خزائن ہوں گے اس لیے اس کے مقابل جناب مسیح بن مریم اتنا مال تقسیم فرمائیں گے کہ کوئی اس کا قبول کرنے والا نہ ہو گا۔ اور چونکہ بغض و عداوت یہود کا خاص شعار ہے۔ اس لیے اس کو یک لخت مٹادیں گے۔

واغرينا بينهم العداوة والبغضاء الیٰ یوم القيمة

ترجمہ = اور ہم نے ان میں قیامت تک بغض و عداوت ڈال دیا۔

اور چونکہ دجال یہود سے ہو گا۔ اور اسی وقت سے زندہ ہے۔ اس لیے حضرت مسیح بن مریم فقط دجال کو قتل فرمائیں گے۔ اور باقی دجال کے معاون اور مدد گار کافر ہوں گے۔ اس لیے ان کا مقابلہ اس وقت کے مسلمان امام مہدی کے ماتحت ہو کر کریں گے۔

اور چونکہ یہود اپنی دشمنی اور عداوت کی وجہ سے جناب مسیح بن مریم پر ایمان نہ لائے تھے۔ اس لیے اس وقت یعنی نزول کے بعد ایمان لے آئیں گے۔

اور انصاریٰ ظاہراً ”ایمان تو لائے۔ مگر عقیدہ و نیت کی وجہ سے وہ ایمان کفر سے بھی بڑھ کر تھا۔ اس لیے ان کی بھی اصلاح فرمائیں گے۔ اور آپ کی اصلاح سے وہ صحیح ایمان لے آئیں گے۔ غرض یہ کہ کل اہل کتاب ایمان لے آئیں گے۔ کما قال اللہ تعالیٰ۔

صفحہ ٣٢٦

لطائف الحکم اسرار نزول ابن مریم علیہ السلام

و ان من اهل الكتاب الا ليومنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا

ترجمہ = اور نہیں ہے۔ کوئی اہل کتاب میں سے مگر ضرور ایمان لائے گا۔ حضرت عیسیٰؑ پر حضرت عیسیٰؑ کی وفات سے پہلے اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰؑ ان پر شہید ہوں گے

اور چونکہ امام مہدی کے خاندان سے یزید نے خلافت غصب کی تھی۔ اس لیے اس کے صلہ میں امام مہدی کو تمام روئے زمین کی خلافت اور سلطنت عطا ہو گی۔

اور جناب مسیح بن مریم نہ کوئی سلطنت رکھتے تھے۔ اور نہ خلافت، آپ کا امت سے تعلق نبوت اور رسالت کا تھا۔ تاکہ آپ پر ایمان لائیں۔ مگر یہود تو ایمان ہی نہ لائے۔ اور نصاریٰ لائے تو غلط۔ لہٰذا آپ کا حق اہل کتاب کے ذمہ صرف ایمان ہے۔ اس لیے نزول کے بعد کوئی شخص اہل کتاب میں ایسا باقی نہ رکھا جائے گا۔ کہ جو آپ پر ایمان نہ لائے۔

دجال اس امت میں کیوں ظاہر ہو گا

نظام عالم پر ایک نظر ڈالنے سے ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ ہر سلسلہ کا سرچشمہ اور کوئی نہ کوئی مخزن اور کوئی نہ کوئی معدن ضرور ہے۔ آفتاب ہے کہ تمام روشنیوں کا منبع ہے۔ کرۂ نار ہے کہ جو تمام حرارتوں کا مخزن ہے۔ کرۂ آب ہے کہ تمام برودتوں کا معدن ہے۔ کرۂ ارضی اور کرۂ ہوائی ہے کہ جو تمام رطوبتوں اور یبوستوں کا سرچشمہ ہے۔ ٹھیک اسی طرح ضرور ہے کہ اس عالم اجسام میں ایک معدن اور منبع ایمان کا ہو، کہ جس سے تمام مومنین کے ایمان مستفاد ہوں۔ جس طرح زمین کی تمام روشنیاں آفتاب سے مستفاد ہیں۔ اور ایک مخزن کفر کا ہو۔ کہ اسی سے تمام کافروں کے کفر نکلتے ہوں اور ہر کافر کا کفر اسی مخزن کفر کا ایک پرتو ہو۔ سو وہ مخزن ایمان ذات بابرکات نبی اکرم سرور عالم سیدنا محمد

صفحہ ٣٢٧

لطائف الحکم اسرار نزول ابن مریم علیہ السلام

ﷺ ہے۔ اور مخزن کفر وہ سراپا شیطنت اور معدن کفر و معصیت دجال اکبر ہے۔

اور جس طرح نبی اکرم ﷺ ارواح مومنین کے لیے روحانی والد ہیں۔ دجال ارواح کافرین کے لیے روحانی والد ہے۔ دجال ابوالکافرین ہے۔ اور نبی اکرم ﷺ ابوالمومنین ہیں۔ کما قال تعالیٰ۔ النبی اولی بالمومنین من انفسہم وازواجہ امہاتہم اور ایک قرات میں ہے وہو اب لہم ترجمہ = نبی کریم مومنین کے حق میں ان کے نفوس سے زیادہ اقرب ہیں اور آپؐ کی ازواج مطہرات مومنین کی روحانی مائیں ہیں یعنی نبی کریم ﷺ مومنین کے روحانی باپ ہیں۔

اور جس طرح آپؐ خاتم الانبیاء و المرسلین ہیں۔ دجال اکبر خاتم الدجالین ہے۔

اور جس طرح خاتم الانبیاءؐ کی ایک مہر نبوت ہے۔ اسی طرح خاتم الدجالین کی مہر کفر ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے

مکتوب بین عینیہ کافر

ترجمہ = یعنی دجال کی پیشانی پر صاف کافر لکھا ہوا ہو گا۔

جس طرح مہر نبوت حضورؐ کی نبوت و رسالت کی حسی دلیل تھی۔ اسی طرح دجال کی پیشانی پر کافر کی کتابت اس کے دجل اور کفر کی حسی اور بدیہی دلیل ہو گی۔

اور جس طرح تمام انبیاء سابقینؑ نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی بشارت دیتے چلے آئے۔ اسی طرح انبیاء کرام علیہم السلام دجال سے ڈراتے آئے۔

(حدیث میں ہے)

ما من نبی الا وقد انذر قومہ من الدجال

ترجمہ = کوئی نبی ایسا نہیں گزرا کہ جس نے اپنی قوم کو دجال سے نہ ڈرایا

صفحہ ٣٢٨

لطائف الحکم اسرار نزول ابن مریم علیہ السلام

ہو۔

اور جس طرح خاتم الانبیاء کی نبوت بذریعہ مہر نبوت اور خاتم الدجالین کا کفر بذریعہ کتابت بین عینیہ کافر ظاہر کیا گیا۔ اسی طرح قیامت کے قریب دابتہ الارض کے ذریعہ سے مومنین کا ایمان اور کافرین کا کفر پیشانی پر ظاہر کیا جائے گا۔ اس لیے کہ یہ جماعت مومنین کی اور کافرین کی آخری جماعت ہو گی۔ اور انہیں پر سلسلہ ایمان اور کفر کا ختم کر کے قیامت قائم کی جائے گی۔ جیسا کہ حدیث میں ہے۔ کہ قیامت کے قریب مکہ یا اجیاد کی زمین سے ایک جانور نکلے گا۔ جس کے ہاتھ میں ایک مہر ہو گی۔ مومن اور کافر کی پیشانی پر ایمان اور کفر کا نشان لگائے گا۔ مومن کی پیشانی پر سفید نکتہ۔ اور کافر کے ماتھے پر سیاہ نکتہ لگائے گا، اور اے مومن اور اے کافر سے ایک دوسرے کو خطاب کریں گے۔ دابۃ الارض کا زمین سے نکلنا قرآن اور احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔ خلاصہ یہ کہ جس طرح سلسلہ نبوت اور سلسلہ دجل کے خاتم پر نبوت اور دجل کی مہر لگائی گئی۔ اسی طرح سلسلہ ایمان اور کفر کے خاتمین پر بھی ایمان اور کفر کی مہر مناسب ہوئی اس لیے کہ خاتم کے معنی جس طرح آخر کے ہیں اسی طرح صاحب مہر کے بھی ہیں۔ پس خاتم کے لیے مہر کا ہونا نہایت مناسب ہے۔

آمدیم بر سر مطلب

پس جس طرح خاتم الانبیاء کی بعثت اخیر زمانہ میں اخیر امم کی طرف ہوئی اسی طرح خاتم الدجالین کا ظہور اخیر زمانہ میں مناسب ہوا۔

ایک شبہ اور اس کا ازالہ

قیاس اس کو مقتضی ہے کہ خاتم الدجالین کا مقابلہ خاتم النبیین کریں۔ اور آپ خود اپنے دست مبارک سے اس کو قتل کریں اور اگر بالفرض نبی اکرمؐ خود نہ قتل فرمائیں تو حضرت مسیح بن مریمؑ کی کیا خصوصیت ہے کہ وہی نازل ہو کر دجال کو نبی کریمؐ کی طرف سے قتل فرمائیں؟

صفحہ ٣٢٩

لطائف الحکم اسرار نزول ابن مریم علیہ السلام

جواب

یہ ہے کہ اول تو نبی کریم ﷺ دوبارہ کمالات نبوت و رسالت اس رتبہ کو پہنچ چکے ہیں کہ نہ کوئی آپؐ کا مماثل ہے اور نہ مقابل۔ جس طرح آفتاب کے سامنے کسی ظلمت کا ظاہر ہونا ناممکن اور محال ہے اسی طرح آفتاب رسالت کے سامنے دجل کی ظلمت کا ظاہر ہونا محال ہے اور غالباً دجال اسی وجہ سے آپؐ کی موجودگی میں ظاہر نہ ہو سکا دوم یہ کہ آیت شریفہ:

و اذا اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب و حكمة ثم جاءکم رسول مصدق لما معکم لتومنن بہ و لتنصرنہ قال اقررتم و اخذتم علی ذالکم اصری الایۃ

ترجمہ = اس وقت کو یاد کرو جبکہ اللہ نے سب انبیا سے عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور حکمت دوں اور پھر تم سب کے بعد ایک رسول آئیں جو تمہاری کتاب اور حکمت کی تصدیق کریں تو ان پر ضرور ایمان لانا اور ان کی ضرور مدد کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا تم نے اس عہد کو قبول کیا سب نے اس کو قبول کیا۔

حضور پر نورؐ پر ایمان اور نصرت کا عہد دوسرے انبیاء علیہم السلام سے لیا گیا ہے لہٰذا آپؐ کی امداد کے لیے انبیاء سابقین علیہم السلام سے کسی کا ظہور ضروری ہے۔ اور انبیاء سابقین سے کوئی نبی دجال کا ضد اور مقابل ہونا چاہیے تاکہ نبی اکرم ﷺ کی طرف سے آپؐ کی امت کی نصرت ظہور میں آئے۔

اب رہا یہ امر کہ اس بارہ میں کون آپؐ کی نیابت کرے تو غور کرنے سے یہ معلوم ہوا کہ جناب مسیح بن مریم آں حضرت ﷺ کے نائب خاص ہیں۔ اس لیے کہ حق تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو سورۃ جن میں عبد اللہ کے لقب سے ملقب فرمایا ہے۔

لما قام عبداللہ یدعوہ کادوا یکونون علیہ لبدا۔

صفحہ ٣٣٠

لطائف الحکم اسرار نزول ابن مریم علیہ السلام

ترجمہ = جب اللہ کا بندہ اللہ کو پکارنے کھڑا ہوتا ہے۔ تو لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔

اور حضرت مسیح نے بھی اپنے لیے اس لقب کو ثابت فرمایا ہے۔ قال انی عبد اللہ اور دوسرے حضرات انبیاء سے یہ ادعاء ثابت نہیں ہوا۔ فرق صرف اس قدر ہے کہ یہاں خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام وصف عبدیت کے مخبر اور مظہر ہیں۔ اور نبی اکرم ﷺ کی عبدیت کو خود جناب باری عزاسمہ نے بیان فرمایا ہے۔ اور غالباً اسی نیابت خاصہ کی وجہ سے سرور عالم ﷺ کی آمد آمد کی بشارت کا منصب حضرت مسیح بن مریم ؑ کو سپرد کیا گیا۔

و اذ قال عیسیٰ بن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقاً لما بین یدی من التوراۃ و مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد

ترجمہ = حضرت عیسیٰ نے فرمایا کہ اے بنی اسرائیل میں اللہ کا رسول ہوں۔ اور توراۃ کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ اور ایسے رسول کی بشارت دیتا ہوں۔ کہ جو میرے بعد آئیں گے۔ نام ان کا احمد ہوگا۔

اور اسی طرح حضرت مسیح قیامت کے دن شفاعت کے طلب گاروں کو نبی اکرم ﷺ کی خدمت بابرکت میں حاضر ہونے کا مشورہ دیں گے۔ حدیث میں ہے کہ جب لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس اس شفاعت کے لیے حاضر ہوں گے۔ تو عیسیٰ علیہ السلام اس وقت یہ جواب دیں گے۔ ان محمداً خاتم النبیین قد حضر الیوم آج تو خاتم النبیین محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف فرما ہیں ان سے شفاعت کی درخواست کرو۔ علاوہ ازیں حضرت عیسیٰ السلام کو آں حضرت ؐ سے ایک خاص قرب بھی ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے۔

وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم انا اولی الناس بعیسیٰ بن مریم لیس بینی و بینہ نبی

(رواہ البخاری)

ترجمہ = نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ میں عیسیٰ بن مریم سے بہت

صفحہ ٣٣١

لطائف الحکم اسرار نزول ابن مریم علیہ السلام

ہی اقرب ہوں میرے اور ان کے درمیان میں کوئی نبی نہیں۔ اور غالباً حضرت مسیح علیہ السلام کو نبی اکرمؐ کی طرح معراج جسمانی میں شریک کرنا اسی اولویت کی وجہ سے ہوا اور جس طرح خاتم الانبیاء سے پیشتر نبوت و رسالت کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ اسی طرح خاتم الدجالین سے پہلے دجل کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔

کما قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا تقوم الساعۃ حتی یبعث دجالون کذابون قریب من ثلثین کلھم یزعم انہ رسول اللہ وانہ لا نبی بعدی

ترجمہ = نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی۔ جب تک بہت سے دجال اور کذاب نہ آئیں‘ ہر ایک یہ کہتا ہو گا کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

اس حدیث میں غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دجل کا مدار اصل میں خاتم الانبیاء کے آجانے کے بعد دعوائے نبوت و رسالت پر ہے۔

اس لیے کہ آپ ﷺ نے دجالین کی علامت ہی یہ قرار دی ہے کلھم یزعم انہ رسول اللہ یعنی فقط آپ ﷺ کے بعد اس کا یہ دعویٰ کرنا کہ میں اللہ کا رسول بنایا گیا ہوں اس کے دجال ہونے کی قطعی اور یقینی دلیل ہے نیز دجل کے معنی التباس کے ہیں۔ اور دعویٰ الوہیت میں چنداں التباس اور اشتباہ نہیں جتنا کہ دعویٰ نبوت میں ہے۔ اسی وجہ سے فرعون کو باوجود دعوائے الوہیت کے دجال نہیں کہا گیا۔ اس لیے کہ بشر کی عدم الوہیت میں کوئی اشتباہ نہیں۔ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ایک کھانے پینے والا اور ہگنے موتنے والا کبھی خدا نہیں ہو سکتا مگر انبیاء کرام چونکہ جنس بشر سے آئے ہیں‘ اس لیے دعوائے نبوت میں عقلاً اشتباہ ہو سکتا ہے لیکن خاتم النبین اور ختم نبوت کے بعد کسی قسم کا کوئی اشتباہ باقی نہیں رہا۔ غرض یہ کہ خاتم الانبیاء کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا سراسر دجل اور کھلا ہوا ارتداد ہے۔ کہ جس کی سزا بجز قتل کے اور کچھ نہیں‘ اس لیے جناب مسیح بن

صفحہ ٣٣٢

لطائف الحکم اسرار نزول ابن مریم علیہ السلام

مریمؑ نازل ہو کر دجال مدعی نبوت کو قتل فرمائیں گے کہ خاتم الانبیاء کے بعد کیوں نبوت کا دعویٰ کیا۔

اور ان لوگوں سے کہ جو اس مدعی نبوت کا ساتھ دیں گے امام مہدی آ کر قتال کریں گے جس طرح صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسیلمہ کذاب سے قتال کیا۔ سبحان اللہ حق تعالیٰ نے کس طرح خاتم الانبیاء کے بعد مدعی نبوت کا واجب القتل ہونا ظاہر فرمایا کہ اس امت مرحومہ کے اول اور آخر خلیفہ دونوں سے مدعی نبوت کی جماعت کو خوب اچھی طرح قتل کرایا۔ نیز یہود کے قتل میں حکمت یہ ہے کہ یہود جناب مسیح بن مریم کے کچھ خاص مجرم ہیں۔

تعالیٰ نے آپ کو بالکل صحیح و سالم آسمان پر اٹھایا۔

دی تھی اس پر ایمان نہ لائے اور اس کے قتل میں بھی پوری کوشش کی مگر سب ناکام رہے۔

النبیین کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔

اس لیے مناسب ہوا کہ اب یہود کا استیصال کیا جائے۔ اس لیے کہ اب کفر انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ خاتم الانبیاء کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے اور جو اس مدعی کا اتباع کرے وہ شرعاً ہرگز ہرگز زندہ نہیں رکھے جا سکتے اینما ثقفوا اخذوا و قتلوا تقتيلا۔

پھر یہ کہ دجال اپنے کو مسیح کہہ کر خاتم الانبیاء کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے لگا اور لوگ دھوکہ سے اس مسیح ضلالت کو مسیح ہدایت یعنی مسیح بن مریم (علیہما الصلوۃ والسلام) سمجھ کر ایمان لائیں گے اور غلطی میں مبتلا ہوں گے۔ اس

صفحہ ٣٣٣

لطائف الحکم اسرار نزول ابن مریم علیہ السلام

لیے حضرت مسیح بن مریم کو اس ناقابل تحمل غلطی کے ازالہ کے لیے نازل کرنا ضروری ہوا۔ اس لیے آپ اس کے قتل پر مامور ہوئے تاکہ لوگ سمجھ لیں کہ کون مسیح ہدایت ہے اور کون مسیح ضلالت۔ ذلک عیسیٰ بن مریم قول الحق الذی فیہ یمترون۔

و اخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین۔ وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا و مولانا محمد النبی الامی خاتم الانبیاء و المرسلین و علی الہ و اصحابہ و ازواجہ و ذریاتہ اجمعین و علینا معہم یا ارحم الراحمین و یا اکرم الاکرمین و یا اجودالاجودین۔ آمین یا رب العلمین

PDF 334
PDF 335

اسلام اور مرزائیت

کا

اصولی اختلاف

صفحہ ٣٣٦

اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف

بسم الله الرحمن الرحیم

الحمد لله رب العالمين۔ والعاقبة للمتقين و الصلاة والسلام علی سیدنا و مولانا محمد خاتم الانبیاء والمرسلین وعلی آله واصحابه و ازواجه وذریاته اجمعین۔

اما بعد بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوں گے کہ مرزائی اور قادیانی مذہب اسلام سے کوئی علیحدہ مذہب نہیں۔ بلکہ مذہب اسلام ہی کی ایک شاخ ہے اور دیگر اسلامی فرقوں کی طرح یہ بھی ایک اسلامی فرقہ ہے اس لیے یہ لوگ قادیانیوں کو مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھنے میں تامل کرتے ہیں یہ بالکل غلط ہے ان لوگوں کی یہ غلط فہمی سراسر اصول اسلام سے لاعلمی اور بے خبری پر مبنی ہے یہ مسلمان کی جہالت کی انتہا ہے کہ اسے اسلام اور کفر میں فرق نہ معلوم ہوا۔ جاننا چاہیے کہ ہر ملت اور مذہب کے کچھ اصول اور عقائد ہوتے ہیں کہ جن کی بناء پر ایک مذہب دوسرے مذہب سے جدا اور ممتاز سمجھا جاتا ہے، اسی طرح اسلام کے بھی کچھ بنیادی اصول اور عقائد ہیں کہ ان اصولوں اور عقائد کے اندر رہ کر جو اختلاف ہو وہ فروعی اختلاف ہے اور جو اختلاف ان مسلمہ اصول اور عقائد کی حدود سے نکل کر ہو وہ اصولی اختلاف کہلاتا ہے اور اس اختلاف سے وہ شخص دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد سمجھا جاتا ہے۔

اس مختصر تحریر میں ہم نہایت اختصار کے ساتھ یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ قادیانی مذہب، مذہب اسلام کے اصول اور عقائد سے کس درجہ متصادم اور مزاحم ہے تاکہ یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہو جائے کہ اسلام اور مرزائیت کا اختلاف

صفحہ ٣٣٧

اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف

اصولی اختلاف ہے مرزائی مذہب کے اصول اور عقائد مذہب اسلام کے اصول اور عقائد کے بالکل مباین اور مخالف ہیں بالکل ایک دوسرے کی ضد اور نقیض ہیں مذہب اسلام اور مرزائیت ایک جا جمع نہیں ہو سکتے۔ فاقول باللہ التوفيق وبيده ازمة التحقیق۔

مرزائیوں کے نزدیک بھی اسلام اور مرزائیت کا اختلاف اصولی

اختلاف ہے فروعی نہیں

یہ بات تو بالکل غلط ہے کہ ہمارے اور غیر احمدیوں کے درمیان میں کوئی فروعی اختلاف ہے کسی مامور من اللہ کا انکار کفر ہو جاتا ہے‘ ہمارے مخالف حضرت مرزا صاحب کی ماموریت کے منکر ہیں‘ بتاؤ یہ اختلاف فروعی کیونکر ہوا قرآن مجید میں تو لکھا ہے لا نفرق بین احد من رسلہ لیکن حضرت مسیح موعود کے انکار میں تو تفرقہ ہوتا ہے۔ (نہج المصلی۔ مجموعہ فتویٰ احمدیہ ص ٢٧٤ ج ١)

پہلا اختلاف

مسلمانوں کے نبی اور رسول محمد عربی فداہ امی و ابی ﷺ ہیں اور مرزائیوں کے نبی مرزا غلام احمد قادیانی ہیں (دافع البلاء ص ١١ روحانی خزائن ص ٢٣١ ج ١٨) اور ظاہر ہے کہ نبی ہی کے بدلنے سے قوم اور مذہب جدا سمجھا جاتا ہے۔ مسلمانوں کی قوم یہود اور نصاریٰ سے اسی لیے جدا ہے کہ ان کا نبی ان کے نبی کے علاوہ ہے۔ حالانکہ مسلمان بھی حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان رکھتے ہیں۔ جو شخص فقط حضرت موسیٰ ؑ یا فقط حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان رکھے اور محمد ﷺ پر ایمان نہ لائے وہ یہودی اور عیسائی ہے مسلمان اور محمدی نہیں کہلا سکتا اور جو یہودی اور عیسائی حضرت محمد ﷺ پر ایمان لے آئے وہ یہودی اور عیسائی نہیں رہتا بلکہ مسلمان محمدی کہلاتا ہے۔

اسی طرح جو شخص مرزا غلام احمد پر ایمان لائے وہ مسلمان اور محمدی نہیں کہلا سکتا اس لیے کہ نئے پیغمبر پر ایمان لانے کی وجہ سے پہلے پیغمبر کی امت سے

صفحہ ٣٣٨

اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف

خارج ہو جاتا ہے اور نئے نبی کی امت میں داخل ہو جاتا ہے معلوم ہوا کہ تمام مرزائی مرزا غلام احمد کو نبی ماننے کی وجہ سے محمد رسول اللہ ﷺ کی امت اور دین اسلام سے خارج ہو چکے ہیں ان کو مسلمان محمدی یا احمدی کہنا جائز نہیں ان کو مرزائی اور غلامی اور قادیانی کہا جائے گا اور انکا دین اسلام نہیں ہو گا بلکہ ان کا دین مرزائی دین ہو گا۔

دوسرا اختلاف

تمام مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین یعنی آخری نبی ہیں جیسا کہ نص قرآنی ماکان محمدا ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین اور احادیث متواترہ اور اجماع صحابہؓ و تابعینؒ اور امت محمدیہؐ کے تیرہ سو برس کے تمام علماء متقدمین اور متاخرین کے اتفاق سے یہ مسلم ہے کہ نبوت و رسالت محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم ہو چکی ہے۔ یہ اسلام کا اساسی اصولی اور بنیادی عقیدہ ہے جس میں کسی اسلامی فرقہ کو اختلاف نہیں۔

مرزا غلام احمد کہتا ہے کہ نبوت حضور ﷺ پر ختم نہیں ہوئی آپ کے بعد بھی نبوت کا دروازہ کھلا ہوا ہے گویا کہ مرزا صاحب کے زعم میں حضورؐ خاتم النبیین نہیں بلکہ فاتح النبیین ہیں یعنی نبوت کا دروازہ کھولنے والے ہیں۔

(براہین احمدیہ پنجم ص ١٣٩ روحانی خزائن ص ٣٠٦ ج ٢١)

امت محمدیہؐ میں سب سے پہلا اجماع

حضور ﷺ کے وصال کے بعد امت محمدیہؐ میں جو پہلا اجماع ہوا وہ اسی مسئلہ پر ہوا کہ جو شخص حضور ﷺ کے بعد دعوائے نبوت کرے اس کو قتل کیا جائے۔

اسود عنسی نے حضورؐ کے زمانہ حیات میں دعویٰ نبوت کیا حضورؐ نے ایک صحابیؓ کو اس کے قتل کے لیے روانہ فرمایا صحابیؓ نے جا کر اسود عنسی کا سر قلم کیا۔

صفحہ ٣٣٩

اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف

مسیلمہ کذاب نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا صدیق اکبرؓ نے خلافت کے بعد سب سے پہلا کام جو کیا‘ وہ یہ تھا کہ مسیلمہ کذاب کے قتل اور اس کی جماعت کے مقابلہ اور مقاتلہ کے لیے خالد بن ولیدؓ سیف اللہ کی سرکردگی میں صحابہ کرامؓ کا ایک لشکر روانہ کیا‘ کسی صحابیؓ نے مسیلمہ سے یہ سوال نہیں کیا کہ تو کس قسم کی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے‘ مستقل نبوت کا مدعی ہے یا ظلی اور بروزی نبوت کا مدعی ہے اور نہ کسی نے مسیلمہ کذاب سے اس کی نبوت کے دلائل اور براہین پوچھے‘ اور نہ کوئی معجزہ دکھلانے کا سوال کیا‘ صحابہؓ کرام کا لشکر میدان کارزار میں پہنچا مسیلمہ کذاب کے ساتھ چالیس ہزار جوان تھے خالد بن ولیدؓ سیف اللہ نے جب تلوار پکڑی تو مسیلمہ کے اٹھائیس ہزار جوان مارے گئے اور خود مسیلمہ بھی مارا گیا خالد بن ولیدؓ مظفر و منصور مدینہ منورہ واپس آئے اور مال غنیمت مجاہدین پر تقسیم کیا گیا۔ مسیلمہ کے بعد طلیحہ نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ صدیق اکبرؓ نے اس کے قتل کے لیے بھی حضرت خالدؓ کو روانہ کیا۔

(فتوح البلدان ص ١٠٢)

اس کے بعد خلیفہ عبدالملکؒ کے عہد میں حارث نامی ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ خلیفہ وقت نے علماء صحابہؓ و تابعین کے متفقہ فتوی سے اس کو قتل کر کے سولی پر چڑھایا اور کسی نے اس سے دریافت نہ کیا کہ تیری نبوت کی کیا دلیل ہے اور نہ کوئی بحث اور مناظرہ کی نوبت اور نہ معجزات اور دلائل طلب کیے۔

قاضی عیاضؒ شفاء میں اس واقعہ کو نقل کر کے لکھتے ہیں۔

وفعل ذلک غیر واحد من الخلفاء والملوک باشباھم

ترجمہ = بہت سے خلفاء اور سلاطین نے مدعیان نبوت کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا ہے۔

خلیفہ ہارون رشید کے زمانہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا خلیفہ ہارون رشید نے علماء کے متفقہ فتوی سے اس کو قتل کیا۔ خلاصہ یہ کہ

قرون اولی سے لیکر اس وقت تک تمام اسلامی عدالتوں اور درباروں کا یہی فیصلہ رہا ہے کہ مدعی نبوت اور اس کے ماننے والے کافر اور مرتد اور واجب القتل ہیں

صفحہ ٣٤٠

اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف

ہیں اب بھی مسلمانان پاکستان کی وزراء حکومت سے استدعا ہے کہ خلفائے راشدینؓ اور سلاطین اسلام کی اس سنت پر عمل کر کے دین اور دنیا کی عزت حاصل کریں۔

عزیز یکہ از در گہش سر بتافت
بہر در کہ شد ہیچ عزت نیافت

قتل مرتد کے متعلق مرزائی خلیفہ اول حکیم نور الدین کا فتویٰ

مجھے (حکیم نور الدین صاحب کو) خدا نے خلیفہ بنا دیا ہے۔ اور اب نہ تمہارے کہنے سے معزول ہو سکتا ہوں اور نہ کسی میں طاقت ہے کہ معزول کر دے اگر تم زیادہ زور دو گے تو یاد رکھو میرے پاس ایسے خالد بن ولید ہیں جو تمہیں مرتدوں کی طرح سزا دیں گے۔

(رسالہ تشحیذ الاذہان قادیان جلد ٩ نمبر ١١ ص ١٤ بابت ماہ نومبر ١٩١٤ء)

اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ نور الدین صاحب کے نزدیک بھی مرتد کی سزا قتل ہے اس لیے مخالفین کو خالدؓ بن ولید کے اتباع میں اس سنت کے جاری کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔

قادیانیوں کو حج بیت اللہ کی ممانعت کی وجہ

مرزائیوں کے نزدیک قادیان کی حاضری ہی بمنزلہ حج کے ہے، اور مکہ مکرمہ جانا اس لیے ناجائز ہے کہ وہاں قادیانیوں کو قتل کر دینا جائز ہے۔

چنانچہ مرزا محمود صاحب قادیانی خلیفہ ثانی ایک خطبہ جمعہ میں تقریر کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

آج جلسہ کا پہلا دن ہے اور ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔ حج خدا تعالیٰ نے مومنوں کی ترقی کے لیے مقرر کیا تھا آج احمدیوں کے لیے دینی لحاظ سے تو حج مفید ہے مگر اس سے جو اصل غرض یعنی قوم کی ترقی تھی وہ انہیں حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ حج کا مقام ایسے لوگوں کے قبضہ میں ہے جو احمدیوں کو قتل کر دینا بھی جائز سمجھتے ہیں اس لیے خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کام کے لیے مقرر کیا ہے۔ (معلوم

صفحہ ٣٤١

اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف

ہوا کہ علماء حرمین کے نزدیک قادیانی مرتد اور واجب القتل ہیں)

(برکات خلافت ص ٧)

تیسرا اختلاف

تمام مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ اخروی نجات کے لیے حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانا کافی ہے مرزائی جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ نجات کا دار و مدار مرزا غلام احمد پر ایمان لانے پر ہے (اربعین نمبر ٤ ص ٦ روحانی خزائن ص ٤٣٥ ج ١٧) اور جو شخص مرزا غلام احمد پر ایمان نہ لائے وہ کافر ہے اور ابدی جہنم کا مستحق ہے (مجموعہ اشتہارات ص ٢٧٥ ج ٣ حقیقت الوحی ص ١٦٣ روحانی خزائن ص ١٦٧ ج ٢٢) نہ اس کے ساتھ نکاح جائز (برکات خلافت ص ٧٥) اور نہ اس کی نماز جنازہ درست ہے۔

(انوار خلافت ص ٩٣)

مرزا صاحب کے متبعین کے سوا دنیا کے پچاس کروڑ مسلمان کافر اور اولاد الزنا ہیں۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨ روحانی خزائن ص ٥٤٨ ج ٥ آئینہ صداقت ص ٣٥)

چنانچہ اسی بناء پر چودھری ظفر اللہ نے قائد اعظم کے نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی کہ ظفر اللہ کے نزدیک قائد اعظم کافر اور جہنمی تھے۔

قائد اعظم کی وصیت یہ تھی کہ میری نماز جنازہ شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی قدس اللہ سرہ پڑھائیں چنانچہ وصیت کے مطابق شیخ الاسلامؒ نے تمام ارکان دولت اور مسلمانان ملت کی موجودگی میں قائد اعظم کا جنازہ پڑھا اور اپنے دست مبارک سے ان کو دفن کیا۔

قائد اعظم کا مذہب

اس وصیت اور طرز عمل سے صاف ظاہر ہے کہ قائد اعظم کا مذہب وہی تھا جو حضرت شیخ الاسلام علامہ شبیر عثمانیؒ کا تھا اور پاکستان اسی قسم کی اسلامی حکومت ہے کہ جس قسم کا اسلام حضرت شیخ الاسلام کا تھا۔ مولانا شبیر احمدؒ اسی پاکستان کے شیخ الاسلام تھے اور ساری دنیا کو معلوم ہے کہ شیخ الاسلام عثمانیؒ مرزائی جماعت کو مرتد

صفحہ ٣٤٢

اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف

اور خارج از اسلام سمجھتے تھے اور ان کی نظر میں مسیلمہ پنجاب کا وہی حکم تھا جو شریعت میں یمامہ کے مسیلمہ کذاب کا ہے شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی کی تحریرات اس بارہ میں صاف اور واضح ہیں۔

تمام روئے زمین کے کلمہ گو مسلمان مرزائیوں کے نزدیک

کافر اور جہنمی اور اولاد الزنا ہیں

مرزا صاحب کا عقیدہ ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن و حدیث کے ایک ایک حرف پر بھی عمل کرے مگر مرزا صاحب کو نبی نہ مانے تو وہ ایسا ہی کافر ہے جیسے یہود اور نصاریٰ اور دیگر کفار اور مرزا صاحب کے تمام منکر اولاد الزنا ہیں۔

(قادیانی مذہب ص ١٣٢)

چوتھا اختلاف

مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی تفسیر وہی معتبر ہے جو حضور پر نور ﷺ نے فرمائی اور اس کے بعد صحابہؓ و تابعینؒ کی تفسیر کا درجہ ہے مرزا صاحب کا عقیدہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی وہی تفسیر معتبر ہے جو میں بیان کروں اگرچہ وہ تمام احادیث متواترہ اور صحابہؓ اور تابعینؒ اور امت محمدیہؐ کے تمام علماء کے خلاف ہو۔

(اعجاز احمدی ص ٣٠ روحانی خزائن ص ١٤٠ ج ١٩)

پانچواں اختلاف

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن کریم معجزہ ہے یعنی حد اعجاز کو پہنچا ہوا ہے۔ کوئی اس کا مثل نہیں لا سکتا ہے۔

مرزا صاحب اور مرزائی جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا صاحب کا کلام بھی معجزہ ہے۔ مرزا صاحب اپنے قصیدہ اعجازیہ کو قرآن کی طرح معجزہ قرار دیتے تھے۔ مرزائیوں کے نزدیک مرزا صاحب کی وحی پر ایمان لانا ایسا ہی فرض ہے جیسے قرآن

صفحہ ٣٤٣

اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف

پر ایمان لانا فرض ہے) اور جس طرح قرآن کریم کی تلاوت عبادت ہے اسی طرح مرزا صاحب کی وحی اور الہامات کی تلاوت بھی عبادت ہے۔ معلوم نہیں کہ کیا مرزا صاحب کے انگریزی الہامات کی بھی قرآن کی طرح تلاوت عبادت ہے یا نہیں‘ واللہ علم)

(خطبہ عید مرزا محمود مندرجہ الفضل قادیان ج ١٥ نمبر ٧٨ ص ٦۔ مورخہ ٣ اپریل ١٩٢٨)

اب ظاہر ہے کہ قرآن کریم کے بعد اگر کسی اور کتاب پر بھی ایمان لانا فرض ہو تو قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب نہ ہوگی مرزا صاحب فرماتے ہیں۔

آنچہ من بشنوم زوحی خدا بخدا پاک دانمش از خطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم از خطاہا ہمیں است ایمانم

(درثمین فارسی ص ٢٨٧ نزول المسیح ص ٩٩ روحانی خزائن ص ٤٧٧ ج ١٨)۔

چھٹا اختلاف

مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث حجت ہے اور اس کا اتباع ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے من یطع الرسول فقد اطاع اللہ وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ مرزا صاحب کا عقیدہ یہ ہے کہ جو حدیث نبوی میری وحی کے موافق نہ ہو اس کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے۔ مرزا صاحب حدیث نبوی کے متعلق لکھتے ہیں:

جس انبار کو چاہے خدا سے علم پاکر رد کرے۔

(حاشیہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٠ روحانی خزائن ص ٥١ ج ١٧)

(اعجاز احمدی ص ٣٠ روحانی خزائن ص ١٤٠ ج ١٩)

صفحہ ٣٤٤

اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف

ساتواں اختلاف

قرآن اور حدیث جہاد کی ترغیب اور اس کے احکام سے بھرا پڑا ہے۔ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ جہاد شرعی میرے آنے سے منسوخ ہو گیا اور انگریزوں کی اطاعت اولی الامر کی اطاعت ہے اور انگریزوں سے جہاد کرنا حرام قطعی ہے۔

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧ روحانی خزائن ص ٧٧ ج ١٧)۔

مگر پاکستان کی تخریب کے لیے فوجی تیاریاں اور ریشہ دوانیاں، قادیانیوں کے نزدیک فرض عین ہیں اور لیل و نہار اسی دھن میں لگے ہوئے ہیں۔

آٹھواں اختلاف

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضور ﷺ خاتم النبیین ہیں آپؐ کے بعد آنے والا خواہ کتنا ہی صالح اور متقی ہو وہ انبیاء مرسلین سے افضل و بہتر نہیں ہو سکتا۔ مرزا صاحب کا دعویٰ یہ ہے کہ میں تمام انبیاء کرام سے افضل ہوں۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں۔

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفان نہ کمترم از کسے
آنچہ داد ست ہر نبی را جام
داد آن جام را مرا بتمام
کم نیم زان ہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ اوست لعین

(درثمین فارسی ص ١٢٨ و ٢٨٨ نزول المسیح ص ٩٩ روحانی خزائن ص ٤٧٧ ج ١٨)

نواں اختلاف

ازروئے قرآن و حدیث حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے رسول اور برگزیدہ بندے بغیر باپ کے مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا ہوئے صاحب معجزات

صفحہ ٣٤٥

اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف

تھے۔

مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ میں مسیح بن مریم سے افضل ہوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان اقدس میں جو مغلظات اور بازاری گالیاں لکھی ہیں ان کے تصور سے ہی کلیجہ شق ہوتا ہے بطور نمونہ ایک عبارت ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔ مرزا صاحب کہتے ہیں۔ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔

(دافع البلاء ص ٢٠ روحانی خزائن ص ٢٣٠ ج ١٨)

خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر مسیح بن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں ہرگز دکھلا نہ سکتا۔ (حقیقۃ الوحی ص ١٤٨‘ ١٥٣ روحانی خزائن ص ١٥٢ ج ٢٢) آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا (حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٧‘ روحانی خزائن ص ٢٩١ ج ١١) اس نادان اسرائیل نے ان معمولی باتوں کا پیشین گوئی کیوں نام رکھا۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤ روحانی خزائن ص ٢٨٨ ج ١١) یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کس قدر جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ روحانی خزائن ص ٢٨٩ ج ١١)

دسواں اختلاف

تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ محمد عربی فداہ نفسی و امی و ابی ﷺ سید الاولین و الاخرین اور افضل الانبیاء و المرسلین ہیں اور قادیان کا ایک دہقان اور دشمنان اسلام یعنی نصاریٰ بے لگام کا ایک زر خرید غلام یعنی مرزا غلام قادیانی‘ کبھی تو حضور پر نور ﷺ کی برابری کا دعویٰ کرتا ہے۔ اور کبھی یہ کہتا ہے کہ میں عین محمد ہوں اور کبھی یہ کہتا ہے کہ میں آنحضرت ﷺ سے بھی افضل اور بہتر ہوں۔ نبی اکرم ﷺ کے معجزات صرف

صفحہ ٣٤٦

اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف

تین ہزار تھے۔ (تحفہ گولڑویہ ص ٤٠ روحانی خزائن ص ١٥٣ ج ١٧) اور مرزا صاحب کے معجزات کی تعداد (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦ میں روحانی خزائن ص ٧٢ ج ٢١) میں دس لاکھ بتائی ہے گویا معاذ اللہ۔ محمد رسول اللہ ﷺ مرزائے قادیان سے شان اور مرتبہ میں تین سو تینتیس درجہ کم ہیں۔ اور قرآن کریم میں جو آیتیں حضور پرنور کے بارے میں اتری ہیں ان کے متعلق یہ کہتا ہے کہ یہ آیتیں میرے بارے میں اتری ہیں۔ مثلاً

معراج کا ذکر ہے لیکن مرزا کہتا ہے کہ یہ میرے بارے میں نازل ہوئی

(تذکرہ ص ٧٩۔ ٢٧٥۔ ٦٣٥ طبع ٣)

ﷺ کے قرب خداوندی یا قرب جبرئیل کا ذکر ہے۔ لیکن مرزا کہتا ہے کہ یہ میرے پر نازل ہوئی

(تذکرہ ص ٦٨۔ ٣٦٠۔ ٣٩٤۔ ٣٩٥۔ ٦٣٣ طبع سوم)

(تذکرہ ص ٥٠۔ ٢٨٠۔ ٣٥٦۔ ٥١٥۔ ٦٤١)

(تذکرہ ص ٩٤ ص ١٠٤ طبع سوم)

مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ یہ آیتیں میرے بارے میں مجھ پر نازل ہوئی ہیں۔ اور مثلاً قرآن کریم میں جو محمد رسول اللہ ﷺ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٤) اور مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد آیا ہے اس سے بھی مرزا صاحب ہی مراد ہیں (انوار خلافت ص ١٨) اور محمد اور احمد میرا نام ہے۔ (نعوذ باللہ) مرزا کیا ہے ایک دجال بھی ہے۔ اور نقال بھی ہے۔

قادیان بمنزلہ مکہ اور مدینہ کے ہے

مرزائیوں کا قادیان بمنزلہ مکہ اور مدینہ کے ہے اس مسجد کے بارے میں

صفحہ ٣٤٧

اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف

کہ جو مرزا صاحب کے چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے۔

(براہین احمدیہ ص ٥٥٨ حاشیہ در حاشیہ روحانی خزائن ص ٧٦ ج ١)

قادیان کی زمین ارض حرم ہے

زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(در ثمین اردو ص ٥٢ مجموعہ کلام مرزا غلام احمد)

قادیان کی حاضری بمنزلہ حج کے ہے

مرزا بشیر الدین محمود اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہیں۔ یہ ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے اور جیسا حج میں رفث اور فسوق اور جدال منع ہے ایسا ہی اس جلسہ میں بھی منع ہے۔ (گویا کہ آیت فلا رفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج قادیان کے جلسہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔) (برکات خلافت ص ٥ ۔ ز) لاحول ولاقوۃ الا باللہ

قادیان میں مسجد حرام اور مسجد اقصی

اس مسجد اقصی سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے۔۔۔۔۔ پس کچھ شک نہیں جو قرآن شریف میں قادیان کا ذکر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سبحن الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی الذی بارکنا حولہ (خطبہ الہامیہ حاشیہ ص ٢١ روحانی خزائن ص ٢١ ج ١٦) ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ مسجد اقصی وہی ہے کہ جس کو مسیح موعود نے بنایا۔

(خطبہ الہامیہ حاشیہ ص ٢٥ روحانی خزائن حاشیہ ص ٢٥ ج ١٦)

قادیان میں بہشتی مقبرہ

قادیان میں بہشتی مقبرہ کے نام سے ایک مقبرہ ہے۔ مرزا صاحب فرماتے

صفحہ ٣٤٨

اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف

ہیں جو اس میں دفن ہو گا وہ بہشتی ہو گا۔ (ملفوظات احمدیہ ص ٣٢٢ ج ٨) اور پھر الہام ہوا کہ روئے زمین کے تمام مقابر اس زمین کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔

(مکاشفات مرزا ص ٥٩)

مرزا صاحب کی امت

مرزا صاحب نے جا بجا اپنے ماننے والوں کو اپنی امت بتایا ہے۔

مرزا صاحب کے مریدین بمنزلہ صحابہ کے ہیں

امت محمدیہؐ کی طرح مرزا صاحب کی امت میں طبقات ہیں مرزا صاحب کے دیکھنے والے صحابہ کہلاتے ہیں۔ (خطبہ الہامیہ ص ١٧١‘ روحانی خزائن ص ٢٥٨‘ ٢٥٩ ج ١٦) تو ان کے دیکھنے والے تابعین اور تبع تابعین۔ (معاذ اللہ)

مرزا صاحب کے اہل و عیال بمنزلہ اہل بیت کے ہیں

اور مرزا صاحب کے خاندان کو اہل بیت اور خاندان نبوت اور مرزا صاحب کی بیویوں کو ازواج مطہرات کہا جاتا ہے۔ (سیرۃ المہدی ص ١١٧ ج ٢) (معاذ اللہ)

مرزا صاحب کا خاندان خاندان نبوت ہے

اور مرزا صاحب کے خاندان کو خاندان نبوت کے نام سے پکارا جاتا ہے اور قرآن اور حدیث میں اہل بیت اور ذوی القربی کے جو حقوق اور احکام آئے وہ سب مرزا صاحب کے خاندان اور اہل بیت کے لیے ثابت کیے جاتے ہیں۔

(تقریر مرزا محمود الفضل قادیان ج ٢٠ نمبر ٨١ ص ٣۔ ٨ جنوری ١٩٣٣)

مرزا صاحب کی امت میں ابوبکر و عمر

حکیم نور الدین کو قادیانی خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق کی طرح مانا گیا ہے اور مرزا بشیر محمود خلیفہ ثانی کو اس امت کا عمر فاروق اعظم کی طرح کہا جاتا ہے کسی

صفحہ ٣٤٩

اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف

نے خوب کہا ہے۔

گربہ میر و سگ وزیر و موش راویان کنند
ایں چنیں ارکان دولت ملک را ویران کنند

مرزا صاحب پر مستقلا صلوٰۃ و سلام کی فرضیت

اور مرزا صاحب کے مریدین اور کنبہ کی اس میں شرکت اور شمولیت

پس آیت ”یا ایھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما“ کی رو سے اور ان احادیث کی رو سے جن میں آں حضرت ﷺ پر درود بھیجنے کی تاکید پائی جاتی ہے حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) علیہ الصلوٰۃ والسلام پر درود بھیجنا بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح آں حضرت ﷺ پر بھیجنا از بس ضروری ہے۔ (رسالہ درود شریف مصنفہ محمد اسماعیل قادیانی ص ١٣٦) از روئے سنت اسلام و احادیث نبویہ ضروری ہے کہ تصریح سے آپ کی آل کو بھی درود میں شامل کیا جائے اسی طرح بلکہ اس سے بدرجہا بڑھ کر یہ بات ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر بھی تصریح سے درود بھیجا جائے اور اس اجمالی درود پر اکتفا نہ کیا جائے جو آنحضرت ﷺ پر درود بھیجنے کے وقت آپ کو بھی پہنچ جاتا ہے۔

(از رسالہ مذکورہ ص ١٤٠)

چودھری ظفر اللہ کا سلام ٹریکٹ

دس نبی اور ایک بندے کا انتخاب

خدا کے راست باز نبی رامچندر پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی کرشن پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی بدھ پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی زرتشت پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی کیفنوس پر سلامتی ہو
صفحہ ٣٥٠

اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف

خدا کے راست باز نبی ابراہیمؑ پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی موسیٰؑ پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی مسیحؑ پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی محمدﷺ پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی احمد پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز بندہ بابا نانک پر سلامتی ہو

(چودھری ظفر اللہ خاں صاحب قادیانی بیرسٹر کا ٹریکٹ مارچ ١٩٣٣ء میں بتقریب یوم تبلیغ شائع ہوا۔)

اس ٹریکٹ سے چودھری ظفر اللہ کے ایمان کی حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ ان کے نزدیک حضرت ابراہیمؑ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کی طرح رام چندر اور کرشن بھی نبی اور رسول تھے اہل اسلام کے نزدیک تو سرور عالم محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر حضرات انبیاء کو رام چندر اور کرشن کے ساتھ ذکر کرنا سراسر گستاخی اور گمراہی ہے۔

البتہ مرزا غلام احمد کو کرشن اور رام چندر کے ساتھ ذکر کرنا نہایت مناسب ہے۔ سب کے سب آئمۃ الکفر اور کافروں کے پیشوا تھے۔

خلاصہ کلام

یہ کہ اسلام اور مرزائیت کا اختلاف اصولی ہے فروعی نہیں

مرزائی مذہب نے اسلام کے اصول اور قطعیات ہی کو تبدیل کر دیا ہے اب کوئی چیز ان کے اور اہل اسلام کے درمیان مشترک باقی نہیں رہی یہ جماعت بہ نسبت یہود اور نصاریٰ اور ہنود کے اہل اسلام سے زیادہ عداوت رکھتی ہے جو مسلمان مرزائے قادیان کو نبی نہ مانے وہ ان کے نزدیک کافر ہے اور اولاد زنا ہے

صفحہ ٣٥١

اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف

اس کے ساتھ کوئی تعلق جائز نہیں مثلاً مسلمانوں کی عورتوں سے نکاح جائز نہیں اور اس کی نماز جنازہ نہیں۔

دین کی بنیاد دو چیزوں پر ہے قرآن اور حدیث۔ قرآن کے متعلق تو مرزا یہ کہتا ہے کہ قرآن کریم کی تفسیر وہی صحیح ہے کہ جو میں بیان کروں اگرچہ وہ تفسیر کل علماء امت کی تفسیر کے خلاف ہو اور حدیث نبوی کے متعلق یہ کہتا ہے کہ جو حدیث میری وحی کے مطابق ہو وہ قبول کی جائے گی اور جو میری وحی کے خلاف ہو گی وہ ردی کی ٹوکری میں پھینک دی جائے گی اس طرح اسلام کے ان دو بنیادی اصول کو ختم کیا‘ اور اپنی من مانی تاویلات اور تحریفات کو اسلام کے سر لگایا الفاظ تو شریعت کے رہے مگر معنی بالکل بدل دیے اور آیات اور احادیث میں وہ تحریف کی کہ یہود اور نصاریٰ بھی پیچھے رہ گئے اور تعلیم یافتہ طبقہ اکثر چونکہ دین اور اصول دین سے بے خبر اور عربی زبان سے ناواقف ہے اس لیے یہ طبقہ زیادہ تر اس گمراہی کا شکار ہوا اللہ تعالیٰ ہدایت دے۔ آمین

ایک ضروری گزارش

قادیانی کتابوں کے دیکھنے سے یہ بات پوری طرح روشن ہو جاتی ہے کہ قادیانی مذہب اس مثل کا مصداق ہے کہ

میرے تھیلے میں سب کچھ ہے

ایمان بھی ہے اور کفر بھی ہے‘ ختم نبوت کا اقرار بھی ہے اور انکار بھی ہے‘ دعوائے نبوت و رسالت بھی ہے‘ اور جو دعوائے نبوت کرے اس کی تکفیر بھی ہے‘ حضرت مسیح بن مریم کے رفع الی السماء اور نزول کا اقرار بھی ہے‘ اور انکار بھی وغیرہ وغیرہ‘ غرض یہ کہ مرزا صاحب کی کتابوں میں جس قدر مختلف اور متعارض مضامین ملتے ہیں وہ دنیا کے کسی متنبی اور ملحد اور زندیق کی کتابوں میں نہیں ملتے اس کے علاوہ اور بہت سی باتیں ہیں جن کا مرزا صاحب کبھی اقرار کرتے ہیں اور کبھی انکار اور یہ سب کچھ دیدہ و دانستہ ہے اور غرض یہ ہے کہ بات گول مول رہے

صفحہ ٣٥٢

اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف

حقیقت متعین نہ ہو حسب موقعہ اور حسب ضرورت جس قسم کی عبارت چاہیں لوگوں کو دکھلا سکیں اور زنادقہ کا ہمیشہ یہی طریق رہا ہے کہ بات صاف نہیں کہتے، یہی طریقہ مرزا اور مرزائیوں کا ہے کہ جب مرزا صاحب کا اسلام ثابت کرنا چاہتے ہیں تو قدیم عبارتیں پیش کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو ہمارے عقیدے تو وہی ہیں جو سب مسلمانوں کے ہیں، اور جب موقعہ ملتا ہے تو مرزا صاحب کے فضائل اور کمالات اور وحی الہامات کے دعوے پیش کر دیتے ہیں اور دھوکہ دینے کے لیے یہ کہہ دیتے ہیں کہ مرزا صاحب مستقل نبی اور رسول نہ تھے وہ تو ظلی اور بروزی نبی تھے ظلی اور بروزی اور مجازی نبی کی اصطلاح مرزا نے محض اپنی پردہ پوشی کے لیے گھڑی ہے۔ اگر کوئی شخص حکومت کی وفاداری کا اقرار کرے مگر ساتھ ہی ساتھ اپنا نام 'صدر مملکت' رکھ لے اور جو خادم اندرون خانہ خدمت انجام دیتا ہو اس کا نام 'وزیر داخلہ' رکھ لے اور جو خادم بازار سے سودا لاتا ہو اس کا نام 'وزیر خارجہ' رکھ لے اور باورچی کا نام 'وزیر خوراک' رکھ لے وغیرہ ذلک اور تاویل یہ کرے کہ معنی لغوی کے اعتبار سے میں اپنے آپ کو صدر مملکت اور اپنے خادم کو وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ کہتا ہوں اور اصطلاحی اور عرفی معنی میری مراد نہیں، یا یوں کہے کہ میں تو صدر مملکت کا ظل اور بروز ہوں اور اس کے کمالات کا آئینہ ہوں اور میرے اس نام رکھنے سے حکومت کی مہر نہیں ٹوٹتی تو ظاہر ہے کہ یہ تاویل حکومت کی نظر میں اس کو مجرم اور چالاک اور مکار ہونے سے نہیں بچا سکتی، اسی طرح مرزا صاحب کی یہ تاویل کہ میں ظلی اور بروزی نبی ہوں کفر اور ارتداد سے نہیں بچا سکتی، مرزا صاحب بلاشبہ تشریعی نبوت اور مستقل رسالت کے مدعی تھے اور اپنی وحی اور الہام کو قطعی اور یقینی اور کلام خداوندی سمجھتے تھے اور اپنے زعم میں اپنے خوارق کا نام معجزات رکھتے تھے اور اپنے منکر اور متردد اور ساکت کو کافر اور منافق ٹھہراتے تھے اور اپنی جماعت سے خارج ہونے والے کو مرتد کا خطاب دیتے تھے جو حقیقی نبوت و رسالت کے لوازم ہیں مرزا صاحب کا اپنے لیے نبوت کے لوازم کو ثابت کرنا یہ اس امر کی صریح دلیل ہے کہ مرزا صاحب مستقل نبوت و

صفحہ ٣٥٣

اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف

رسالت کے مدعی تھے اور بروزی کی تاویل محض پردہ پوشی کے لیے تھی، مخالفین کے خاموش کرنے کے لیے اپنے آپ کو ظلی اور بروزی نبی ظاہر کرتے تھے، مرزا صاحب کا دعویٰ تو یہ ہے کہ فضائل و کمالات اور معجزات میں تمام انبیاء مرسلین سے بڑھ کر ہوں حقائق پر پردہ ڈالنے کے لیے مرزا صاحب نے ظلی اور بروزی کی اصطلاح گھڑی ہے جس کا کتاب و سنت میں کہیں نام و نشان نہیں۔

خاتمہ کلام

اب میں اپنی اس مختصر تحریر کو ختم کرتا ہوں اور تمام مسلمانوں سے عموماً اور جدید تعلیم یافتہ حضرات سے خصوصاً اس کا امیدوار ہوں کہ اس تحریر کو غور سے پڑھیں انشاء اللہ تعالیٰ ایک ہی مرتبہ پڑھنے میں مسئلہ کی حقیقت واضح ہو جائے گی۔ جدید تعلیم یافتہ طبقہ اکثر دین سے بے خبر بھی ہے اور بے فکر بھی ہے۔ اس لیے وہ غلط فہمی میں زیادہ مبتلا ہے۔ اور قادیانیوں کو مسلمانوں کا ایک فرقہ سمجھتا ہے۔

اے میرے عزیز، جس طرح کسی مسلمان کو بے وجہ کافر سمجھنا کفر ہے اسی طرح کسی کافر کو مسلمان سمجھنا بھی کفر ہے دونوں جانبوں میں احتیاط ضروری ہے۔ اور جس طرح مسیلمہ کذاب کو مسلمان سمجھنا کفر ہے اسی طرح مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد کو مسلمان سمجھنا کفر ہے۔ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ بلکہ مسیلمہ قادیان۔ یمامہ کے مسیلمہ سے دجل اور فریب میں کہیں آگے نکلا ہوا ہے۔ ان ارید الا الاصلاح ما استطعت وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت و الیه انیب و اخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا و مولانا محمد خاتم الانبیاء والمرسلین و علی اله واصحابہ وازواجہ و ذریاتہ اجمعین و علینا معہم یا ارحم الراحمین۔

بندہ گنہگار۔ محمد ادریس کان اللہ لہ مدرس جامعہ اشرفیہ لاہور۔ ١٣ شوال مکرم۔ ١٣٧١ھ

PDF 354
PDF 355

دعاوی مرزا

صفحہ ٣٥٦

دعاوی مرزا

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمد لله وحده والصلوة والسلام علی من لا نبی بعده (امابعد)

دنیا میں بہت سے گمراہ اور جھوٹے مدعی گزرے ہیں مگر اس مسیلمہ ثانی مرزا غلام احمد قادیانی جیسا مدعی کاذب اور مفتری اب تک کوئی نہیں گزرا۔ جو مدعی بھی کھڑا ہوا وہ ایک ہی دعوٰی کو لے کر کھڑا ہوا۔ مگر مرزائے قادیان کے دعوؤں کا کوئی حد اور شمار نہیں۔ اس شخص نے اس کثرت کے ساتھ قسم قسم کے مختلف اور متناقض دعوٰی کئے جن کا احاطہ اس ناچیز کو محال نظر آتا ہے اور دعوؤں کی کثرت اور تنوع ہی کی وجہ سے مرزائی امت کے فضلاء کو مرزائے قادیان کے اصل دعوٰی کی تعین میں اختلاف ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ مرزا صاحب نبوت کے مدعی تھے۔ کوئی کہتا ہے کہ مسیح موعود ہونے کے مدعی تھے۔ کوئی کہتا ہے کہ مجدد زماں یا امام دوراں یا مہدی زماں ہونے کے مدعی تھے۔ کوئی کہتا ہے کہ لغوی یا مجازی یا بروزی نبی ہونے کے مدعی تھے۔ کوئی کہتا ہے کہ مرزا صاحب شریعت اور مستقل نبی تھے اور کوئی کہتا ہے کہ وہ غیر تشریعی نبی تھے۔

اس قسم کے دعوٰی تو مرزا صاحب نے مسلمانوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے کئے۔ اور یہود اور نصارٰی کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے موسٰی اور عیسٰی ہونے کا دعوٰی کیا۔ اور شیعوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے یہ کہہ دیا کہ امام حسینؓ سے مشابہت رکھتا ہوں اور ہندوؤں کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے کرشن

صفحہ ٣٥٧

دعاوی مرزا

ہونے کا اور آریوں کے بادشاہ ہونے کا دعویٰ کیا۔ تاکہ ہر طرف سے شکار مل سکے۔ اور باوجود ان مختلف اور متناقض دعوؤں کے بظاہر مدعی اسلام ہی کے رہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہود اور نصاریٰ اور ہندوؤں اور آریوں میں سے تو کسی نے آپ کو اپنا گرو اور پیشوا اور اوتار نہ مانا۔ البتہ ناواقف عوام اور بعض تعلیم یافتہ حضرات ان کے فریب میں آ گئے، اور انہیں کلمہ گو خیال کر کے یہ سمجھنے لگے کہ یہ بھی مسلمانوں ہی میں کا ایک فرقہ ہے، چونکہ تعلیم یافتہ طبقہ اکثر دین اسلام اور اس کے اصول سے بے خبر ہوتا ہے اس لیے وہ مدعی کاذب کے مکر و فریب کو سمجھ نہ سکا۔ اور یہ نہ سمجھ سکا کہ نام اسلام کا ہے اور معنی کفر کے ہیں۔ ظاہر میں اسلام کا نام لیا۔ مگر در پردہ اصول اسلام میں وہ عجیب و غریب تحریف کی، کہ جس سے اصل اسلام کی حقیقت ہی بدل گئی اور ایسی تحریف کی، کہ یہود و نصاریٰ سے تحریف میں سبقت لے گیا۔ اور شریعت کے الفاظ کو بظاہر برقرار رکھنا اور اس کی حقیقت کو بدل دینا یہی الحاد اور زندقہ ہے۔

مرزا صاحب نے دعوے تو بے شمار کئے مگر دلیل کسی کی پیش نہیں کی صرف الہام پر اکتفا کیا۔ اور ان بے شمار دعوؤں سے غرض یہ تھی کہ کوئی فضیلت چھوٹنے نہ پائے اور کوئی فرقہ ہندوستان میں ایسا نہ رہے جس کے وہ مقتداء اور معبود نہ بن جائیں۔ مگر کسی فرقہ پر ان کا افسوں نہ چلا۔ چونکہ مسلمانوں میں ایک جدید تعلیم یافتہ طبقہ دین سے بے خبر ہے۔ اس لیے اس فرقہ پر ہر ملحد اور زندیق کا افسوں اثر کر جاتا ہے۔

مرزا کی مثال

مرزا ایک طرف تو یہ کہتا ہے کہ میں آنحضرت ﷺ کا ظل اور بروز ہوں اور دوسری طرف یہ کہتا ہے کہ میں کرشن جی کا ظل اور بروز ہوں۔ اس کی مثال تو ایسی ہی ہے کہ آج کوئی یہ دعویٰ کرے کہ میں قائد اعظم کا بھی ظل اور بروز ہوں اور پنڈت نہرو کا بھی ظل اور بروز ہوں۔ ذوالقرنین بھی ہوں اور نمرود بھی۔

صفحہ ٣٥٨

دعویٰ مرزا

ابوبکرؓ بھی ہوں اور ابو جہل بھی۔ غرض یہ کہ مرزا صاحب کے دعوؤں کی کثرت اور تنوع کا یہ عالم ہے کہ تفصیلی طور پر ان کا استیعاب اور استقصاء اگر محال نہیں تو مجھ جیسے کمزور اور ناتواں کے لیے مشکل ضرور ہے۔ تاہم بحق خیر خواہی اہل اسلام اختصار کے ساتھ اس کے دعوؤں کو ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔ تاکہ ناظرین ان دعوؤں کی کثرت اور تنوع کو دیکھ کر اندازہ لگا لیں کہ مسیلمہ قادیان تیرہ صدی کے مدعیان نبوت سے کفر اور دجل میں گوئے سبقت لے گیا ہے۔ تاکہ مسلمان اپنے ایمان کی حفاظت کریں۔ اور یہ مسیلمہ ثانی کفر و دجل میں لاثانی ہے۔

فضائل و کمالات کے دعوے

١۔ ملہم من اللہ ہونے کا دعویٰ

سب سے پہلے مرزا صاحب نے براہین احمدیہ میں بمقابلہ آریہ وغیرہ الہام اور کشف کا دعویٰ کیا کہ میں ملہم من اللہ ہوں۔ چنانچہ اس کا دعویٰ ہے کہ خدا نے مجھے اپنے الہام و کلام سے مشرف کیا۔

(تریاق القلوب ص ١٥٥ روحانی خزائن ص ٢٨٣ ج ١٥)

٢۔ وحی کا دعویٰ

بعد ازاں وحی کا دعویٰ کیا کہ مجھ پر وحی آتی ہے اور وحی منقطع نہیں ہوئی اور وحی اور الہام ایک چیز ہے۔ جو کہے کہ دین میں وحی ختم ہو گئی میں اس دین کو لعنتی دین قرار دیتا ہوں۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٩ روحانی خزائن ص ٣٠٦ ج ٢١)۔

٣۔ مجدد ہونے کا دعویٰ

بعد ازاں مجدد ہونے کا دعویٰ کیا کہ میں چودھویں صدی کا مجدد بن کر آیا ہوں۔

(دیکھو ازالۃ الاوہام ص ١٥٤ روحانی خزائن ص ١٧٩ ج ٣)۔

صفحہ ٣٥٩

دعاوی مرزا

٤۔ محدث من اللہ ہونے کا دعویٰ

محدث من اللہ کے معنی یہ ہیں کہ جس شخص سے اللہ دل ہی میں باتیں کرتا ہو۔ مرزا صاحب کہتے ہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے امت کے لیے محدث ہو کر آیا ہے۔ اور محدث بھی ایک معنی کو نبی ہوتا ہے گو اس کے لیے نبوت تامہ نہیں مگر تاہم جزئی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے۔

(توضیح المرام ص ٩ روحانی خزائن ص ٦٠ ج ٣ و ازالہ اوہام ص ٣٤٩ ج ١ روحانی خزائن ٢٧٨

ج ٣)

ناظرین غور فرمائیں کہ یہ دعویٰ آئندہ چل کر صراحۃً دعوائے نبوت کی تمہید ہے۔

٥۔ امام زماں ہونے کا دعویٰ

میں لوگوں کے لیے تجھے امام بناؤں گا۔ تو ان کا رہبر ہو گا۔

(حقیقۃ الوحی ص ٧٩ روحانی خزائن ص ٨٢ ج ٢٢۔ ضرورۃ الامام ص ٢٤ روحانی خزائن ٤٩٥ ج

٣)

٦۔ خلیفۃ اللہ اور خدا کے جانشین ہونے کا دعویٰ

میں نے ارادہ کیا ہے کہ اپنا جانشین بناؤں تو میں نے آدم کو یعنی تجھے پیدا کیا۔ (کتاب البریہ ص ٧٦ روحانی خزائن ١٠٢ ج ١٣)

مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم میں حق تعالیٰ نے جس آدم کو اپنا خلیفہ بنایا۔ اس سے مرزائے قادیان مراد ہے۔ سبحان اللہ، جس آدم علیہ السلام کو خدا نے اپنا خلیفہ بنایا۔ تمام روئے زمین کی بادشاہت ان کو عطا کی اور مرزا صاحب کے پاس سوائے چند زمینوں کے کیا رکھا تھا۔ جن کا محصول انگریزی سرکار کو ادا کرتے تھے اور مقدمہ کے لیے کچہری میں حاضری دیتے تھے اور بٹالہ کے تحصیل دار کی خوشامد کرتے تھے۔ کیا اسی زمینداری کا نام خلافت الہی اور خدا کی جانشینی ہے؟

صفحہ ٣٦٠

دعاوی مرزا

٧۔ مہدی ہونے کا دعویٰ

یہ دعویٰ مرزا صاحب کی اکثر تصانیف میں موجود ہے۔ لہٰذا حوالہ کی حاجت نہیں۔ امام مہدی کے ظہور کے بارہ میں بے شمار حدیثیں آئی ہیں۔ جو درجہ تواتر کو پہنچی ہیں۔ ان میں تصریح ہے کہ امام مہدی مدینہ میں پیدا ہوں گے اور مکہ میں ان کا ظہور ہو گا۔ ان کا نام محمد اور ان کے والد کا نام عبداللہ اور والدہ کا نام آمنہ ہو گا۔ اور ظہور کے بعد تمام روئے زمین کے بادشاہ ہوں گے اور کافروں سے جہاد و قتال کریں گے اور یہودیوں کو تہ تیغ کریں گے‘ اور مرزا صاحب کا نام غلام احمد اور ان کے باپ کا نام غلام مرتضیٰ ہے اور قادیان جیسے گاؤں میں پیدا ہوئے۔ مکہ اور مدینہ ان کو دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوا۔ اور باوجود استطاعت کے حج بھی نہیں کیا۔ اور بجائے جہاد کے انگریزی سرکار کی وفاداری اور ان کے لیے دعا گوئی کو اپنی امت پر واجب کیا۔

مرزا صاحب کہتے ہیں کہ یہ سب حدیثیں غلط ہیں۔ پھر جب مہدی ہونے کا دعویٰ کیا۔ کہ وہ مہدی موعود میں ہوں۔ خیر مرزا صاحب نے اپنا نام تو مہدی رکھ لیا۔ مگر یہ بتلائیں کہ بادشاہت کا کیا انتظام کیا۔ آپ تو اپنے چھوٹے سے گاؤں قادیاں کے بھی بادشاہ نہ تھے روئے زمین کے تو کیا بادشاہ ہوتے۔ اور یہ بتلائیں کہ مرزا صاحب حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی اولاد سے ہیں؟ پھر کہاں سے مہدی بن گئے۔ غرض یہ کہ مرزا صاحب کا مہدی ہونا قطعاً محال ہے۔ اس لیے کہ مہدی موعود کی جو علامتیں احادیث میں مذکور ہیں وہ مرزائے قادیاں میں ایک ایک کر کے مفقود ہیں۔ محض دعویٰ یا نام رکھنے سے مہدی نہیں بن جاتا‘ جب تک احادیث کے مطابق مہدی کے صفات اور علامات نہ ہوں۔ مرزا صاحب سے پہلے بھی بہت سے لوگوں نے مہدویت کے دعویٰ کئے۔ نام تو مہدی رکھ لیا۔ مگر امام مہدی کی جو علامتیں احادیث میں مذکور ہیں۔ وہ اپنے میں نہ دکھلا سکے۔ یہی حال مرزائے قادیاں کا ہے کہتا ہے کہ میں مہدی ہوں مگر علامتیں نہ دکھلا سکا۔ اور بے

صفحہ ٣٦١

دعاوی مرزا

غیروں کو گمراہ کر کے دنیا سے روانہ ہوا۔

٨۔ حارث ہونے کا دعویٰ

حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص حارث نام۔ امام مہدی کی تائید اور مدد کے لیے لشکر لے کر ماوراء النہر سے روانہ ہو گا۔ جس کے مقدمتہ الجیش پر ایک سردار ہو گا۔ جس کا نام منصور ہو گا۔ ہر مسلمان پر اس کی نصرت ضروری ہے۔

(رواہ ابو داؤد وغیرہ)

(مرزا صاحب ازالہ اوہام ص ٧٩ تقطیع خورد روحانی خزائن ص ١٤٠ ج ٣) میں فرماتے ہیں کہ ”وہ حارث میں ہوں“۔ حارث کے معنی زمیندار کے ہیں اور میں بھی قادیاں کا زمیندار ہوں اور مسلمانوں پر چندہ سے میری نصرت واجب ہے گویا کہ اس حدیث میں حارث سے مرزا صاحب اور نصرت سے چندہ مراد ہے۔ احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ حارث امام مہدی کا مدد گار ہو گا نہ کہ بعینہ مہدی ہو گا۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی شخص مہدی بھی ہو۔ اور حارث بھی۔ نیز حدیث میں حارث کا مقام خروج ماوراء النہر مذکور ہے نہ کہ قادیاں۔ اور ماوراء النہر سے صوبہ پنجاب مراد لینا‘ یہ مرزا صاحب ہی کا کام ہے۔ نیز ماوراء النہر سے قادیاں تک راستہ میں افغانستان پڑتا ہے۔ جہاں مدعیان نبوت اور ان کے پیرو ہمیشہ قتل ہوتے رہے۔ نیز اس حدیث میں حارث کی فوج عظیم اور لشکر جرار کا بھی ذکر ہے۔ مرزا صاحب کے پاس فوج کہاں سے آئی۔ وہ بیچارے تو ایک معمولی دہقانی آدمی تھے۔ ان کے پاس اتنی دولت کہاں تھی کہ جو لشکروں پر خرچ کرتے۔ وہ اپنے خرچ ہی کے لیے لوگوں سے چندہ مانگتے تھے‘ چندہ مانگنا فقیروں کا کام ہے نہ کہ امیروں اور بادشاہوں کا۔ غرض یہ کہ احادیث میں حارث مذکور کی جو علامتیں آئی ہیں۔ ان میں کا کوئی شمہ بھی مرزا صاحب میں نہیں پایا جاتا۔

مرزا صاحب دل بہلانے کے لیے فوج اور لشکر کی یہ تاویل کر لیتے ہیں کہ فوج سے ظاہری فوج مراد نہیں۔ بلکہ روحانی فوج مراد ہے۔ ایسی تاویلوں سے جس

صفحہ ٣٦٢

دعاوی مرزا

کا دل چاہے مہدی اور حارث بن سکتا ہے۔

٩۔ مسیح بن مریم علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

مرزا صاحب کا یہ دعویٰ تقریباً ان کی تمام کتابوں میں مذکور ہے۔

(تذکرہ ص ٤٢١ ط ٣ ازالہ اوہام ص ٦٧٣ روحانی خزائن ص ٤٦٣ ج ٣)

بنمائی بہ صاحب نظرے گوہر خود را
عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خرے چند

قرآن اور حدیث سے یہ امر صراحۃً ثابت ہے کہ جب یہود نے حضرت عیسیٰ بن مریم کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو صحیح سالم زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ کما قال تعالیٰ وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ

دوسرے قیامت کے قریب حضرت مسیح کے نزول اور آمد کا بیان قرآن میں اجمالاً اور احادیث میں تصریحاً موجود ہے کہ عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے اور دمشق کے منارہ پر اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔

مرزا صاحب کو جب دعوائے مسیحیت کی فکر ہوئی تو اس کا طریقہ یہ اختیار کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کا انکار کیا اور ان کی وفات کے مدعی ہوئے اور دفتر کے دفتر اس بارہ میں سیاہ کر ڈالے۔ اس کے بعد اپنے مسیح موعود بننے کے لیے دو طریقے اختیار کیے، ایک تو یہ کہ جن احادیث میں مسیح کے آنے کا بیان آیا ہے۔ اس سے مسیح کے ایک مثیل اور شبیہ کا آنا مراد ہے اور دعویٰ کر دیا کہ وہ مثیل میں ہوں۔ اور دوسرا طریقہ یہ کہ جس نبی کا جو مثیل ہوتا ہے۔ خدا کے نزدیک اس کا وہی نام ہوتا ہے۔ یعنی خدا کے نزدیک مرزا صاحب کا نام عیسیٰ بن مریم ہے۔ پھر ایک مدت دراز کے بعد خاص الہام کے ذریعہ اللہ نے یہ ظاہر فرمایا۔ کہ یہ (مرزا) وہی عیسیٰ ہے جس کے آنے کا وعدہ تھا۔

(خلاصہ دیکھو ازالہ اوہام ص ١٩٠ روحانی خزائن ص ١٩٢ ج ٣)

اور یہ الہام ہوا کہ عیسیٰ اب کہاں وہ تو مر گئے۔ مسیح موعود تو ہی ہے اور

صفحہ ٣٦٣

دعاوی مرزا

مرزا صاحب نے ١٨٩١ء میں اشتہار دیا کہ میرے مسیح موعود ہونے کا سارا قرآن مجید مصدق ہے اور تمام احادیث صحیحہ اس کی صحت کی شاہد ہیں۔

اب اس طرح سے مرزا نے اپنی مسیحیت کا اعلان شروع کیا اور کہا کہ جس مسیح کے آنے کا وعدہ قرآن و حدیث میں کیا گیا۔ اس سے میرا ہی آنا مراد ہے یعنی نزول سے پیدائش کے معنی مراد ہیں اور دمشق والی حدیث اول تو صحیح نہیں اور اگر اس کو صحیح مان لیا جائے تو اس سے اصلی دمشق مراد نہیں۔ بلکہ قادیاں مراد ہے اور حدیث میں جو زرد لباس کا ذکر آیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ ان کی حالت صحت اچھی نہ ہوگی اور فرشتوں پر ہاتھ رکھنے سے مقصود یہ ہے کہ دو شخص ان کو مدد دیں گے۔

(دیکھو ازالۃ الاوہام ص ٤٢٩ روحانی خزائن ص ٤٠٩ ج ٣)

غرض یہ کہ جو امور مرزا صاحب کی قدرت میں نہ تھے۔ ان میں تاویل کر ڈالی۔ مگر نزول کے بعد منارہ چندہ کر کے بنانا شروع کیا مگر تکمیل سے قبل فرشتہ اجل نے آن دبوچا، حالانکہ حدیث سے یہ واضح ہے کہ دمشق کی جامع مسجد کے منارۂ شرقی پر عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے۔ یعنی وہ منارہ پہلے سے موجود ہو گا۔ لہٰذا احادیث میں جو عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا ذکر ہے۔ وہ وعدہ مرزا صاحب کے قادیان میں پیدا ہونے سے پورا ہو گیا۔ لیکن اب اشکال یہ ہے کہ اگر نزول سے پیدائش مراد ہے تو عیسیٰ علیہ السلام تو بغیر باپ کے ہوئے تھے۔ جیسا کہ قرآن کریم کی متعدد آیات میں اس کی تصریح ہے تو پھر مرزا صاحب کو اگر عیسیٰ بننا منظور تھا تو ان کو چاہیے تھا کہ بغیر باپ کے پیدا ہوتے اور اسی جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھائے جاتے اور پھر آسمان سے نازل ہوتے اور جب مرزا صاحب سے کہا گیا کہ آپ تو مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ حالانکہ آپ میں وہ آیات باہرہ اور معجزات ظاہرہ موجود نہیں۔ جو قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ کی نسبت مذکور ہیں کہ وہ مردوں کو زندہ کرتے تھے اور مٹی کا پرندہ بنا کر اڑاتے تھے اور وہ مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو چنگا کرتے تھے۔ لہٰذا آپ بھی تو کوئی معجزہ اور کرشمہ دکھاتے تو مرزائے قادیان نے جواب میں کہا۔ کہ عیسیٰؑ کا یہ تمام کام محض مسمریزم تھا۔ اور

صفحہ ٣٦٤

دعاوی مرزا

میں ایسی باتوں کو مکروہ جانتا ہوں۔ ورنہ میں بھی کر دکھاتا۔

(ازالہ اوہام ص ١٢٩ حاشیہ روحانی خزائن ص ٢٥٨۔ ٢٥٧ ج ٣)

حق تعالیٰ شانہ نے حضرت عیسیٰ کے جن معجزات کو بطور مدح اور منقبت ذکر کیا ہے۔ مرزائے قادیان ان کو مکروہ اور قابل نفرت سمجھتا ہے اور سب کو مسمریزم بتلاتا ہے اور مقصود یہ ہے کہ اظہار معجزات سے سبکدوشی ہو جائے اور کوئی شخص حضرت عیسیٰ جیسے معجزات کا مطالبہ نہ کر سکے۔

١٠۔ عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہونے کا دعویٰ

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ٢٠ روحانی خزائن ص ٢٣٠ ج ١٨)

خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا۔ جو اس پہلے مسیح سے تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر مسیح بن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔

(حقیقۃ الوحی ص ١٤٨ روحانی خزائن ص ١٥٢ ج ٢٢)

مرزا نے اس مسیح موعود کی تفسیر دافع البلاء میں غلام احمد قادیانی کی ہے۔ ”اس مسیح کے مقابل جس کا نام خدا رکھا گیا۔ خدا نے اس امت میں مسیح موعود بھیجا۔ جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“

(دافع البلاء ص ١٣ روحانی خزائن ٢٣٣ ج ١٨)

مرزا صاحب کا یہ شعر:

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ٢٠ روحانی خزائن ٢٣٠ ج ١٨)

صفحہ ٣٦٥

دعاوی مرزا

تمام قادیانیوں کو حفظ یاد ہے۔ معاذ اللہ جس مسیح بن مریم کا خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بار بار ذکر کیا ہے۔ وہ مرزا صاحب کی موجودگی میں قابل ذکر نہیں اور فارسی شعر یہ ہے۔

اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجا است تا بنہد پا منبرم

(ازالہ اوہام ص ١٥٨ روحانی خزائن ص ١٨٠ ج ٣)۔

اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صریح اہانت ہے جو صریح کفر ہے۔

تاویلات مرزا کا ایک نمونہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور دجال کے خروج میں اس قدر بے شمار صحیح اور صریح حدیثیں وارد ہوئی ہیں۔ جن کا انطباق مرزا پر محال ہے۔ اس لیے مرزا صاحب نے جب مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ تو اب فکر ہوئی کہ ان احادیث کو کس طرح اپنے اوپر منطبق کروں۔ اس لیے تاویل کی راہ اختیار کی۔ بلکہ ایسی تحریف کی کہ اولین و آخرین میں سے اب تک کسی نے نہیں کی تھی۔

مرزا کا اپنے گاؤں میں پیدا ہونا مراد ہے۔

ہونا آیا ہے۔ اس حدیث میں دمشق سے قادیان مراد ہے۔ اور وہ منارہ مرزا کی سکونتی جگہ قادیاں کے مشرقی کنارہ پر واقع ہے۔

نہیں۔

صفحہ ٣٦٦

دعاوی مرزا

سے مراد یہ ہے کہ عہد رسالت میں پادریوں کو مواقع پیش تھے۔

اس سے مراد یہ ہے کہ عیسائی اقوام نے اسباب تنعم مہیا کر لیے ہیں۔

گاڑی مراد ہے۔

لیکھرام کا قتل مراد ہے۔

مراد یہ ہے کہ بعثت مرزا سے صلیبی مذہب رو بزوال ہو گا۔

آنحضرت ﷺ کے مقبرہ میں مدفون ہوں گے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مرزا صاحب کو رسول اللہ ﷺ کا قرب روحانی نصیب ہو گا۔

ناظرین کرام غور فرمالیں کہ ایسی تاویلوں سے تو ہر شخص مسیح موعود بن سکتا ہے۔ اور جس کا جی چاہے یہ کہہ سکتا ہے کہ دمشق سے میرا گاؤں مراد ہے اور روضہ اقدس میں دفن ہونے سے آنحضرت ﷺ کا قرب روحانی مراد ہے۔ یہ تاویلات نہیں بلکہ تحریفات اور ہذیانات ہیں۔ دیوانہ گفت ابلہ باور کرد، کے مصداق ہیں۔ پھر یہ کہ جب مرزا صاحب کے نزدیک دجال سے عیسائی اقوام مراد ہیں تو مرزا صاحب انگریزوں کے لیے دعائیں مانگتے تھے۔ کیا کسی حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ مسیح موعود دجال کے لیے دعا کیا کرے گا اور اپنی امت کو دجال کے بقا کی دعا کی تلقین کیا کرے گا۔

پھر جب مرزا صاحب کے نزدیک دجال کے گدھے سے ریل مراد ہے تو مرزا صاحب بٹالہ سے چل کر لاہور کا سفر ہمیشہ اسی دجال کے گدھے (ریل) پر کیوں کرتے تھے۔ اور باضابطہ دجال کے کارکنوں سے اس گدھے پر سوار ہونے کا ٹکٹ خریدتے تھے۔

صفحہ ٣٦٧

دعاوی مرزا

کیا کسی حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جو مسیح موعود دجال کے قتل کے لیے نازل ہو گا۔ وہ دجال کے گدھے پر کرایہ دے کر سفر کیا کرے گا۔ اور بجائے قتل کے اس کی سلطنت کے لیے دعا کیا کرے گا؟

١١۔ مریم علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

پہلے خدا نے میرا نام مریم رکھا اور بعد اس کے ظاہر کیا۔ کہ اس مریم میں خدا کی طرف سے روح پھونکی گئی اور پھر فرمایا کہ روح پھونکنے کے بعد مریمی مرتبہ عیسوی مرتبہ کی طرف منتقل ہو گیا۔ اور اس طرح مریم سے عیسیٰ پیدا ہو کر ابن مریم کہلایا۔

(کشتی نوح ص ٤٦ و ٤٧ روحانی خزائن ص ٥٠ ج ١٩)

سبحان اللہ مرزا صاحب کے کیا حقائق و معارف ہیں۔ کبھی عیسیٰ بنتے ہیں اور کبھی مریم کبھی مرد اور کبھی عورت اور پھر خود، خود ہی سے پیدا ہوتے ہیں۔ مرزا صاحب پہلے بیٹا (عیسیٰ) بنے اور پھر ماں (مریم) بنے اور پھر ماں سے بیٹا بن گئے۔ گویا کہ بیٹے کا وجود ماں سے مقدم بھی ہے اور موخر بھی ہے اور اس کا عین بھی ہے اور اس کا غیر بھی ہے۔

١٢۔ ظلی اور بروزی یا غیر تشریعی نبی ہونے کا دعویٰ

اور چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا۔ وہ میں ہوں۔ اس لیے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطا کی گئی۔

(اشتہار، ایک غلطی کا ازالہ ص ١٠۔ روحانی خزائن ص ٢١٤ ج ١٨)

اس سے مرزا کا مقصود یہ ہے کہ میں عین محمد ہوں۔ ظل اور بروز کا لفظ محض دھوکہ اور فریب کے لیے ہے۔ اپنے کفر اور دجل کو چھپانے کے لیے اس قسم کے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ ورنہ در حقیقت مرزا نبوت تشریعیہ اور مستقلہ کا مدعی ہے اور اپنی وحی کو قرآن کی طرح واجب الایمان قرار دیتا ہے اور اپنے منکر کو کافر اور دوزخی بتلاتا ہے۔ حالانکہ مرزا کا اقرار ہے کہ صرف صاحب شریعت نبی کے انکار سے کافر ہوتا ہے۔ ملہم من اللہ کے انکار سے کافر نہیں ہوتا۔

صفحہ ٣٦٨

دعویٰ مرزا

بروزی اور ظلی نبوت کی حقیقت

مرزائے قادیان ایک غلطی کا ازالہ میں لکھتا ہے۔ ”مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو در حقیقت خاتم النبیین تھے مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارا جانا۔ کوئی اعتراض کی بات نہیں۔ اور نہ اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے۔ کیونکہ میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت و آخرین منہم لما یلحقوا بھم بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں۔ اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ ہی کا وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨ روحانی خزائن ص ٢١٢ ج ١٨)

اس عبارت کا صاف مطلب یہ ہے کہ مرزا صاحب کو نبوت ملنے سے آنحضرت ﷺ کے خاتمیت نبوت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ کیونکہ میں آپ کا ظل اور سایہ ہوں۔ اور سایہ اصل کا غیر نہیں ہوتا۔ یعنی میں آپ کا عین ہوں اور میرا نام بھی محمد اور احمد ہے۔ اس لیے میں بعینہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں

(تریاق القلوب حاشیہ ص ١٥٧ روحانی خزائن ص ٤٧٧ ج ١٥ میں لکھتا ہے)

”غرض جیسا کہ صوفیوں کے نزدیک مانا گیا ہے کہ مراتب وجود دو رویہ ہیں۔ اسی طرح ابراہیم علیہ السلام نے اپنی خو اور طبیعت اور دلی مشابہت کے لحاظ سے تقریباً اڑھائی ہزار برس اپنی وفات کے بعد پھر عبداللہ بن عبدالمطلب کے گھر میں جنم لیا اور محمد ﷺ کے نام سے پکارا گیا۔“

شیخ محمد عمر قادیانی اپنی کتاب قول فیصل ص ٦ میں بحوالہ اخبار الحکم ٢٤ اپریل ١٩٠٢ء پر مرزا کا قول اس طرح نقل کیا ہے:

”کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے ہیں۔ وہ سب حضرت رسول کریم ﷺ میں ان سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات

صفحہ ٣٦٩

دعاوی مرزا

حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ظلی طور پر ہم کو عطا کئے گئے۔ پہلے تمام انبیاء ظل تھے۔ نبی کریم ﷺ کے خاص خاص صفات میں اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم کے ظل ہیں۔"

ان عبارات میں مرزائے قادیان نے اپنے آپ کو نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کا ظل اور بروز بتلایا ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ سایہ اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔ یہ عقلاً اور نقلاً باطل اور محال ہے۔ اگر بروز سے مرزا صاحب کا یہ مطلب ہے کہ روح محمدی نے تیرہ سو سال کے بعد مرزا کے جسم میں جنم لیا ہے تو یہ عقیدہ اسلام میں کفر ہے۔ یہ عقیدہ ہندوؤں کا ہے جو تناسخ کے قائل ہیں۔ لہٰذا اگر مرزا صاحب کی مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روح مبارک کا تیرہ سو سال کے بعد مدینہ منورہ سے چل کر قادیاں میں مرزا غلام احمد کے جسم میں بروز ہوا ہے تو یہ بعینہ تناسخ ہے۔ جس کے ہندو اور آریہ قائل ہیں کہ مرنے کے بعد ارواح فنا نہیں ہوتیں۔ بلکہ ہوا میں پھرتی رہتی ہیں۔ اور جب کوئی مردہ جسم پاتی ہیں تو اس میں گھس جاتی ہیں اور پھر اس میں یہ پابندی نہیں کہ انسان کا روح، انسان ہی کے جسم میں داخل ہو۔ بلکہ گدھے، کتے وغیرہ کے جسم میں بھی داخل ہو جاتی ہیں۔ غرض یہ کہ اگر بروز سے یہ مراد ہے تو یہ حقیقت تناسخ کی ہے اور کیا مرزائے قادیان کے نزدیک حضرت محمد ﷺ کی بعثت حضرت ابراہیم کا بروز تھا۔ اور حقیقت ابراہیمی اور حقیقت محمدی ایک تھی اور دونوں ایک دوسرے کے عین تھے اور یہ غلط ہے۔ بلکہ یہ لازم آئے گا۔ کہ سرور عالم محمد ﷺ معاذ اللہ بذاتہ خود کوئی چیز نہ تھے۔ بلکہ ان کا تشریف لانا بعینہ ابراہیم کا تشریف لانا ہے۔ گویا ابراہیم علیہ السلام اصل ہیں۔ اور آنحضرت ﷺ ان کا ظل اور بروز ہوئے۔ آنحضرت ﷺ کا وجود بالاستقلال نہ رہا اور نہ آپ کی نبوت مستقل رہی اور یہ صریح کفر ہے۔

نیز لازم آئے گا۔ کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت ظلی ہو مستقل نہ ہو۔ نیز جب آنحضرت ﷺ حضرت ابراہیمؑ کے بروز ہوئے۔ تو لازم

صفحہ ٣٧٠

دعویٰ مرزا

آئے گا۔ کہ اصل خاتم النبیین تو حضرت ابراہیم ہیں اور آپؐ ان کے ظل اور بروز ہیں۔ اور اگر یہ کہو کہ باوجود ظل اور بروز ہونے کے اصل خاتم النبیین محمد ﷺ ہیں تو لازم آئے گا۔ کہ پھر اسی طرح سے مرزا صاحب جو خاتم النبیین کے ظل اور بروز ہیں۔ اصل خاتم النبیین تو مرزا صاحب ہوں گے نہ کہ آنحضرت ﷺ اور ظاہر ہے کہ یہ امر بھی صریح کفر ہے مرزا صاحب بھی آنحضرت ﷺ کے خاتمیت کے منکر کو کافر بتلاتے ہیں اور یہ کہنا کہ سایہ ذی سایہ کا عین ہوتا ہے بالکل غلط اور مہمل ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ کسی شخص کا سایہ ذی سایہ نہیں ہو سکتا۔ پس اسی طرح نبی کا سایہ بعینہ نبی نہیں ہو سکتا۔ اور اگر بفرض محال تھوڑی دیر کے لیے مان لیا جائے کہ سایہ اور ذی سایہ ایک ہی ہوتا ہے تو رسول اللہ ﷺ ظل اللہ ہیں۔ یعنی اللہ کا سایہ ہیں تو لازم آئے گا کہ وہ عین خدا ہوں اور مرزا صاحب اپنے خیال میں عین محمد ہیں اور محمد ﷺ سایہ خدا ہیں‘ تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ معاذ اللہ مرزا صاحب عین خدا ہیں اور اس کے کفر ہونے میں کیا شبہ ہے؟ اور مرزا صاحب جو بار بار یہ کہتے ہیں کہ میں بعینہ محمد ﷺ ہوں۔ تو کیا مرزا صاحب کے والد کا نام عبداللہ اور والدہ کا نام آمنہ تھا؟ کیا کوئی ادنیٰ مسلمان اس کا تصور کر سکتا ہے کہ قادیان کا ایک دہقان مختاری کے امتحان میں فیل ہونے والا اور انگریزی کچہری کا چکر لگانے والا۔ بعینہ محمد ﷺ ہو سکتا ہے معاذ اللہ۔ معاذ اللہ۔ اور اگر ظل ہونے کا یہ مطلب ہے کہ ذی ظل کی کوئی صفت اس میں آجائے۔ تو اس سے اتحاد اور عینیت ثابت نہیں ہوتی۔ جس طرح خدا کا ظل ہونے سے الوہیت ثابت نہیں ہوتی۔ اسی طرح نبی کا ظل ہونے سے نبوت ثابت نہیں ہوتی۔ غالباً مرزا صاحب کی مراد یہ ہے کہ جس طرح آئینہ میں کسی شخص کا عکس پڑ جاتا ہے۔ اسی طرح مرزا صاحب میں بھی کمالات محمدیہ اور انوار رسالت نبویہ کا عکس پڑا ہے۔ مگر اس سے مرزا صاحب کی نبوت ثابت نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ آئینہ میں عکس پڑنے سے کوئی حقیقی صفت ثابت نہیں ہو جاتی۔ عکس میں ذی عکس کی کوئی حقیقی صفت نہیں آجاتی۔ بلکہ ایک قسم کی مشابہت اور ہم رنگی آجاتی

صفحہ ٣٧١

دعاوی مرزا

ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ میری امت کے علماء انبیاء بنی اسرائیل کے مشابہ اور ان کے ہم رنگ اور ان کے کمالات کا نمونہ ہیں۔ اور یہ مطلب نہیں کہ اس امت کے علماء نبی اور پیغمبر ہیں۔

غرض یہ کہ انعکاس اور ظلیت سے عینیت ثابت نہیں ہوتی۔ حضرت آدم علیہ السلام۔ کمالات خداوندی کا آئینہ اور نمونہ تھے۔ مگر معاذ اللہ عین خدا نہ تھے۔

پس خلیفہ ساخت صاحب سینہ
تابود شاہیش را آئینہ

اور خلفاء راشدینؓ آنحضرت ﷺ کے کمالات علمیہ و عملیہ کا آئینہ اور نمونہ تھے۔ مگر نبی نہ تھے۔ فقط نبی کے خلیفہ اور جانشین تھے۔ جیسا کہ شاہ ولی اللہؒ نے ازالۃ الخفاء میں خلفاء راشدینؓ کا آنحضرت ﷺ کے ساتھ قوت علمیہ اور قوت عملیہ میں تشبیہ ثابت کیا ہے۔ اور عقلی اور نقلی دلائل سے اس کو ثابت کیا ہے۔ جس سے خلفائے راشدینؓ کی فضیلت ثابت ہوئی نہ کہ نبوت۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ظلیت اور انعکاس سے اتحاد اور عینیت کا ثابت کرنا سراسر غلط اور باطل ہے۔ ظلیت اور انعکاس سے صرف ایک قسم کی مشابہت اور ہم رنگی ثابت ہوتی ہے۔ سو اگر مرزا صاحب کا گمان یہ ہے کہ میں آنحضرت ﷺ کے کمالات کا آئینہ اور نمونہ ہوں اور کمالات نبوت میں سرور عالم ﷺ کے مشابہ اور ہم رنگ ہوں۔ تو مرزا صاحب اور ان کی امت بتلائے کہ مرزائے قادیان کن کن کمالات علمیہ اور عملیہ میں سرور عالم ﷺ کا آئینہ اور نمونہ تھے۔

مرزا صاحب کمالات نبوت کا تو کیا آئینہ ہوتے۔ وہ تو حرص و طمع اور مکر و فریب اور طعن و تشنیع اور بد زبانی اور بدگمانی کا آئینہ اور جھوٹ کا مجسمہ تھے۔ آج اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ میں قائد اعظم اور قائد ملت کا ظل اور بروز اور مظہر اتم ہوں۔ لہٰذا میری اطاعت واجب ہے تو حکومت پاکستان اس کو یا تو

صفحہ ٣٧٢

دعویٰ مرزا

جیل خانہ بھیج دے گی یا پاگل خانہ میں ظاہر ہے کہ اگر کوئی سیاہ فام اور چیچک رو اور نابینا اور لولا اور لنگڑا یہ دعویٰ کرنے لگے کہ میں سیدنا یوسف علیہ السلام کا ظل اور بروز ہوں تو کون اس کو قبول کرنے پر تیار ہو گا۔

دعوائے ظلیت و بروزیت کا جائزہ

جب کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ میں فلاں شخص کا ظل اور بروز ہوں اور اس کا عکس اور مظہر اتم ہوں تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ یہ شخص صفات کمال میں اس کا نمونہ ہے اور اخلاق و اعمال میں اس کا شبیہ اور مثیل ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ اس کا عکس اور تصویر ہے تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ اگرچہ ذات مختلف ہے۔ مگر آئینہ میں جو عکس اور نقش نظر آ رہا ہے۔ وہ اصل کے ہم رنگ ہے اور بظاہر ہو بہو وہی معلوم ہوتا ہے۔ لہٰذا جب مرزا صاحب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ میں سرور عالم محمد رسول اللہ ﷺ کا ظل اور بروز ہوں اور حضور پرنور کا مظہر اتم ہوں تو اس کا مطلب بھی یہی سمجھا جائے گا کہ معاذ اللہ مرزا صاحب صفات کمال اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال میں آنحضرت ﷺ کے شبیہ اور مثیل اور آپ ﷺ کا نمونہ ہیں۔ تو ہم مرزا صاحب کے حالات کا آنحضرت ﷺ کے حالات اور صفات کے ساتھ موازنہ کر کے جائزہ لیتے ہیں کہ مرزا صاحب کے اس دعویٰ میں کس حد تک صداقت ہے۔ موازنہ کے لیے صرف چند باتیں ذکر کرتے ہیں تاکہ ناظرین پر مرزا صاحب کے دعویٰ ظل اور بروز کی حقیقت واضح ہو جائے۔

سرور عالم ﷺ کے صفات و کمالات

دنیا کو علم و حکمت سے بھر دیا اور صحابہ کو علم و حکمت میں رشک حکماء عالم بنا دیا۔

در فشانی نے تیری ﷺ قطروں کو دریا کر دیا
صفحہ ٣٧٣

دعویٰ مرزا

دل کو روشن کر دیا آنکھوں کو بینا کر دیا
خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے ہادی ہو گئے
کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کر دیا

یہ وہ کرشمہ ہے جس کا تمام مغربی اقوام کے فضلاء کو اقرار و اعتراف ہے۔

فقیرانہ اور درویشانہ گزری۔ دو دو مہینے گھر میں چولھا نہیں سلگتا تھا۔ صرف کھجور اور پانی پر گزر تھا۔ خرقہ اور گدڑی آپ کا لباس تھا اور بوریا آپ کا فرش تھا۔ دن میں بکثرت روزے رکھتے اور رات کو تہجد میں کئی کئی پارے پڑھتے کہ پاؤں پر ورم آجاتا۔

ہوا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کو جہاد کا حکم سنا دیا۔ اول مشرکین عرب سے جہاد کیا۔ غزوۂ بدر میں قریش مکہ کے سر پر ضرب کاری لگائی اور برابر سلسلہ جہاد کا جاری رہا۔ غزوۂ خندق ٥ھ میں ارشاد فرمایا کہ الان نغزوھم ولا یغزوننا۔ اب ہم ان پر حملہ آور ہوں گے۔ اور یہ لوگ ہم پر حملہ آور نہ ہوں گے۔ یعنی اب ان کی طاقت ختم ہوئی۔ چنانچہ ٦ھ میں صلح حدیبیہ ہوئی۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کو تسلیم کرلیا۔ بعد ازاں ٧ھ میں خیبر فتح کیا۔ جو یہودیوں کا گڑھ تھا۔ اور وہاں ان کے قلعے تھے۔

اس طرح یہودیت کا خاتمہ فرمایا اور ٨ھ میں مکہ مکرمہ اور حنین اور طائف کو فتح فرمایا۔ اس کے بعد حجاز اور نجد اور یمن کا تمام طویل و عریض رقبہ اسلام کے زیر نگین آگیا۔

پھر اسی سال میں موتہ جو علاقہ شام کے قریب تھا۔ وہاں آٹھ ہزار کا لشکر

صفحہ ٣٧٤

دعویٰ مرزا

روانہ فرمایا۔ جس نے قیصر روم کے ڈیڑھ لاکھ مسلح لشکر جرار کو شکست دی۔ اس کے بعد ٩ھ میں آپ ﷺ نے قیصر روم کے مقابلہ کے لیے تیس ہزار صحابہؓ کی معیت میں خروج فرمایا۔ قیصر روم مرعوب ہو کر واپس ہو گیا۔ اور آپ بلا مقابلہ کے مظفر و منصور مدینہ منورہ واپس آئے۔

خاص کر ابوبکرؓ و عمرؓ نے قیصر و کسریٰ کے مقابلہ کے لیے فوجیں روانہ کیں۔ جو آدھی آدھی دنیا کے فرمانروا تھے۔ ایک ہی ہلہ میں دونوں کو پچھاڑا۔ جس کا تماشہ ساری دنیا نے دیکھا۔ اور شام اور ایران اور عراق اور مصر وغیرہ وغیرہ فتح کر کے اسلامی قلمرو میں شامل کر دیئے۔ اور آج یہ مستقل چار سلطنتیں ہیں۔ جو اب تک مسلمانوں کے زیر اقتدار ہیں۔ اور اگر ان چاروں سلطنتوں کا رقبہ حجاز اور نجد اور یمن کے رقبہ کے ساتھ ملا لیا جائے تو امریکہ کی سلطنت کے رقبہ سے کم نہ ہو گا۔ بلکہ زیادہ ہی ہو گا۔

انک لعلی خلق عظیم۔ آپ ﷺ کے بارہ میں نازل فرمایا۔ آنحضرتؐ نے دشمنان خدا سے جہاد فرمایا۔ مگر زبان مبارک سے کسی بڑے سے بڑے دشمن کے حق میں گالی نہیں نکالی۔ مکہ کی تیرہ سالہ مظلومانہ زندگی سے نکل کر مدینہ منورہ کی سرزمین پر قدم رکھا۔ تو مسلمانوں کو تقویٰ اور پرہیز گاری اور آخرت کی تیاری کی تلقین فرمائی۔ اور اپنی تیرہ سالہ ظالم دشمنوں کی شکوہ شکایت کا کوئی حرف زبان مبارک سے نہیں نکلا۔

مرزا آنجہانی کے حالات

صفحہ ٣٧٥

دعاوی مرزا

روشن کی طرح واضح ہو جائے گی کہ ان کی ساری تصانیف میں سوائے اپنی غلطیوں اور دعوؤں اور انبیاء کرام کی توہین و تحقیر اور ان کے معجزات کے انکار کے اور کچھ بھی نہیں۔ خاص کر ان کی تصانیف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت اور ان کے سب و شتم سے بھری پڑی ہیں اور ان کے مرید طوطے کی طرح ان کو رٹے ہوئے ہیں۔

اور مقویات اور مفرحات بکثرت استعمال کرتے اور تقویت اعصاب کے لیے انگریزی دوائیں استعمال کرتے۔ اور بیویوں کے لیے عمدہ عمدہ کپڑے اور قسم قسم کے زیورات تیار ہوتے تھے۔ مرزا صاحب نے اپنی بیویوں کا نام امہات المومنین رکھا ہوا تھا۔ جو دنیا کی عیش و عشرت میں نوابوں اور امیروں کی بیگمات سے کہیں آگے تھیں اور مرزا صاحب بجائے عبادت کے عیش و عشرت اور خواب استراحت میں وقت گزارتے۔ مرزا صاحب تہجد اور تراویح میں کیا قرآن پڑھتے مرزا صاحب حافظ قرآن نہ تھے۔ حالانکہ مرزا صاحب کا دعویٰ یہ ہے کہ میرا خروج آنحضرت ﷺ کی بعثت ثانیہ ہے۔ جو پہلی بعثت سے اکمل ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا آنحضرت ﷺ بعثت ثانیہ میں قرآن بھول گئے تھے؟

کیا۔ بلکہ اپنی امت کے لیے نصاریٰ سے جہاد و قتال کو صرف ممنوع ہی نہیں فرمایا بلکہ ان کی اطاعت کو واجب قرار دیا چنانچہ مرزا صاحب ضرورۃ الامام (ص ٧٣ روحانی خزائن ٤٩٣ ج ١٣) میں لکھتے ہیں۔ کہ حق تعالیٰ جو فرماتا ہے واطیعوا اللّٰہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم اس کی رو سے انگریز ہمارے اولوالامر ہیں۔ اس لیے میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ دل کی سچائی سے ان کی مطیع رہیں۔ "غرض یہ کہ مرزا صاحب نے مسئلہ جہاد کو منسوخ کر دیا۔ اور عقیدہ جہاد کو وحشیانہ

صفحہ ٣٧٦

دعویٰ مرزا

عقیدہ قرار دیا۔ اس طرح سے مرزا صاحب اور ان کی امت نے جہاد سے تائب ہو کر نصاریٰ کی اطاعت کو اپنا فریضہ اور مقصود بنا لیا۔ اس طرح ساری زندگی انگریزوں کی اطاعت شعاری اور ان کی باج گزاری میں گزاری۔

اے مسلمانو! خدارا انصاف تو کرو۔ کہ کیا ایسا شخص جو ساری عمر کافروں کا اطاعت شعار اور باج گزار رہا۔ وہ اس رسول اعظم کا ظل اور مثیل کیسے بن سکتا ہے۔ کہ جس نے دس سال کی مدت میں یہود اور نصاریٰ اور مشرکین سے جہاد کیا اور ان کو شکست دی اور ایسی عظیم الشان سلطنت قائم کی۔ کہ پاکستان جیسی سلطنت اس کے ایک گوشہ میں رکھی جا سکے۔

نور الدین اور خلیفہ بشیر الدین نے بھی کوئی علاقہ کافروں کا فتح کیا۔ یہ مساکین کیا فتح کرتے، یہ تو قادیان جیسا گاؤں بھی انگریزوں سے نہ لے سکے۔ پھر دعویٰ یہ ہے کہ میں آدم خلیفۃ اللہ بھی ہوں اور داؤد بھی ہوں۔ اور تمام انبیاء سے شان میں بڑھ کر ہوں۔ آپ انبیاء سے تو کیا بڑھ کر ہوتے۔ آپ تو ابوبکرؓ اور عمرؓ کے غلاموں کے برابر نہیں ہو سکتے۔ جن مسلمان بادشاہوں نے کافروں سے جہاد کیا۔ اور ان کا علاقہ فتح کیا۔ مرزا صاحب تو ان کے برابر بھی نہیں ہو سکتے۔ آج اگر کوئی یہ دعویٰ کرے۔ کہ میں قائد اعظم کا ظل اور بروز ہوں۔ یا محمود غزنویؒ فاتح ہند کا ظل اور بروز ہوں تو غالباً کوئی مجنوں ہی اس کی تصدیق کرے گا۔

گالیاں دینے میں مشاق ہیں۔ ہر وقت نئی گالی تراشتے ہیں۔ مثلاً اندھیرے کے کیڑو۔ جھوٹ کا گوہ کھایا۔ رئیس الدجالین اور ذریت شیطان عقب الکلب۔ فول الفول۔ کھوپڑی میں کیڑا۔ مرے ہوئے کیڑے علیہم نعال

صفحہ ٣٧٧

دعاوی مرزا

لعن اللہ الف الف مرۃ۔ ہامان الھالکین اور خنزیر اور کتے۔ حرام زادہ، ولد الحرام۔ اوباش۔ چوہڑے۔ چمار۔ زندیق۔ ملعون وغیرہ۔ معمولی الفاظ تو بے تکلف اور بے اختیار نکل آتے ہیں۔ جیسا کہ عصائے موسیٰ۔ اور المسیح الدجال میں تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر ہے۔ یہ بد زبانی اور دعویٰ یہ کہ میں سرور عالم ﷺ کا ظل اور مثیل اور مظہر اتم ہوں۔ (تفصیل اس کتاب میں شامل رسالہ شرائط نبوت کے آخری حصہ پر دیکھی جا سکتی ہے)

١٣۔ نبوت و رسالت کا دعویٰ

سچا خدا وہ خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔

(دافع البلاء ص ١١ روحانی خزائن ص ٢٣١ ج ١٨)

حق یہ ہے کہ خدا کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ۔

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٢ روحانی خزائن ص ٢٠٦ ج ١٨)

وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ تاکہ تم سمجھو کہ قادیان اس لیے محفوظ رکھی گئی کہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔

(دافع البلاء ص ٥ روحانی خزائن ص ٢٢٦ ج ١٨)

١٤۔ مستقل نبوت و رسالت وحی و شریعت کا دعویٰ

مرزا اپنے لیے مستقل اور تشریعی نبوت کا مدعی ہے۔ جیسا کہ عبارات ذیل سے واضح ہے۔

اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔ ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ

(اعجاز احمدی ص ٧ روحانی خزائن ص ١١٣ ج ١٩)

اس عبارت میں مرزائے قادیان نے ایک دعویٰ تو اپنی رسالت اور

صفحہ ٣٧٨

دعویٰ مرزا

تشریعی نبوت کا کیا ہے اور دوسرا دعویٰ یہ کیا۔ کہ اس آیت کا مصداق مرزائے قادیان ہے نہ کہ حضرت محمدﷺ۔ یعنی حضور پرنورؐ جن پر یہ آیت نازل ہوئی۔ وہ اس کے مصداق نہیں۔

حق تعالیٰ جل شانہ نے یہ آیت محمدﷺ کے بارہ میں اتاری کہ خدا تعالیٰ آپﷺ کے دین کو تمام ادیان پر غالب کرے گا۔ قادیان کا دہقان یہ کہتا ہے کہ اس آیت کا مصداق میں ہوں۔

خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔ (اربعین نمبر ٣۔ ص ٣٦ روحانی خزائن ٤٢٦ ج ١٧)

اور اگر یہ کہو کہ صاحب شریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری‘ تو اول تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے۔ اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالفین ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی تھی۔ مثلاً یہ الہام قل للمومنین یغضوا من ابصارہم ویحفظوا فروجہم ذلک ازکی لہم ” براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔ اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان ھذا لفی الصحف الاولی صحف ابراہیم و موسیٰ یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے۔ اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء امر و نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ اگر توریت یا قرآن میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا۔ تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ تھی۔

(اربعین نمبر ٤ ص ٦ روحانی خزائن ص ٤٣٦ ۔ ٤٣٥ ج ١٧)

انا ارسلنا الیکم رسولاً شاہداً علیکم کما ارسلنا الی فرعون

رسولاً

صفحہ ٣٧٩

دعویٰ مرزا

رسولا

ترجمہ = ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے۔ اسی رسول کے مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔

(حقیقۃ الوحی ص ١٠١ روحانی خزائن ص ١٠٥ ج ٢٢)

"یسن۔ انک لمن المرسلین علی صراط مستقیم" اے سردار تو خدا کا مرسل ہے۔ راہ راست پر اس خدا کی طرف سے جو غالب اور رحم کرنے والا ہے۔

(حقیقۃ الوحی ص ١٠٧ روحانی خزائن ص ١١٠ ج ٢٢)

انا ارسلنا احمد الی قومہ فاعرضوا وقالوا کذاب اشر۔

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٣ روحانی خزائن ص ٤٢٣ ج ١٧)

فکلمنی و نادانی و قال انی مرسلک الی قوم مفسدین و انی جاعلک للناس اماما و انی مستخلفک اکراما کما جرت سنتی فی الاولین۔

(انجام آتھم ص ٧٩ روحانی خزائن ص ٧٩ ج ١١)

الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے۔ کہ یہ خدا کا فرستادہ۔ خدا کا مامور۔ خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ۔ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔

(انجام آتھم ص ٦٢ روحانی خزائن ص ٦٢ ج ١١)

ان تمام عبارات سے صاف عیاں ہے کہ مرزائے قادیان مستقل اور تشریعی نبوت کا مدعی تھا۔ اور وہ اپنی نبوت و رسالت کو آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کے ہم پلہ بلکہ اس سے بڑھ کر سمجھتا تھا۔ جیسا کہ ہم عنقریب بیان کریں گے۔ اور یہ عبارتیں اس قدر صریح اور واضح ہیں کہ ان میں ظلیت اور بروزیت کی تاویل نہیں چل سکتی۔

ان تصریحات کے باوجود مرزا نے اپنی پردہ پوشی اور مخالفین کو خاموش کرنے کے لیے ظل اور بروز کی اصطلاح نکالی۔ تاکہ ختم نبوت کی نصوص قطعیہ کی مخالفت سے بچنے کے لیے ایک جدید راہ نکل آئے اور دفع الزام کے لیے یہ کہہ دیا جائے کہ میں مستقل نبی نہیں۔ بلکہ بروزی اور ظلی نبی ہوں۔

اگر نبوت تشریعی یا غیر تشریعی کا دروازہ حسب ارشاد خداوندی خاتم

صفحہ ٣٨٠

دعاوی مرزا

انمیں بند نہ ہوا ہوتا اور آنحضرت ﷺ کی متابعت اور مشابہت کی وجہ سے آپؐ کے بعد کسی کو نبوت مل سکتی تو حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کو ملتی۔ جیسا کہ حدیث میں ہے لو کان بعدی نبی لکان عمرؓ۔ اور حضرت علیؓ کے حق میں فرمایا: انت منی بمنزلة ہارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی اور ایک حدیث میں ہے۔ آنحضرت ﷺ نے صدیق اکبرؓ کو حضرت ابراہیمؑ کے مشابہ قرار دیا۔ مگر وہ نبی نہیں بنائے گئے۔ پس معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی شخص کو کسی قسم کی نبوت ملنے کا امکان نہیں۔ خواہ وہ تشریعی ہو یا غیر تشریعی۔

١٥۔ ظلی طور پر محمد ﷺ اور احمد ہونے کا دعویٰ

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥ روحانی خزائن ص ٢٠٩ ج ١٨)

١٦۔ آنحضرت ﷺ کے مظہر اتم ہونے کا دعویٰ

(خطبہ الہامیہ ص ٢٦٧ روحانی خزائن ص ٢٦٧ ج ١٦)

١٧۔ رحمۃ للعالمین ﷺ ہونے کا دعویٰ

(تذکرہ ص ٨١ طبع ٣)

١٨۔ ظلی طور پر خاتم الانبیا ہونے کا دعویٰ

مرزا صاحب کا ایک دعویٰ یہ بھی ہے کہ میں ظلی طور پر خاتم الانبیاء بھی ہوں چنانچہ لکھتے ہیں: مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو در حقیقت خاتم النبیین تھے۔ مجھے نبی اور رسول کے لفظ سے پکارا جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں اور اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی نہیں۔ کیونکہ میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیۂ کریمہ وآخرین منہم لما یلحقو بہم بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں۔ اور خدا

صفحہ ٣٨١

دعاوی مرزا

نے اب سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنی اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔ اور چونکہ میں ظلی طور سے محمد ہوں۔ پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹتی۔ کیونکہ محمد ﷺ کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔ یعنی بہرحال محمد ﷺ ہی نبی ہیں نہ اور کوئی۔

(ضمیمہ حقیقت النبوت ص ٢٦٥، ٢٦٦)

امت مرزائیہ کے چند مدعیان نبوت کا ذکر

مرزا کی امت نے جب یہ دیکھا کہ ان کے پیشوا نے ختم نبوت کا مسئلہ تو ختم کر دیا اور قیامت تک کے لیے نبوت کا دروازہ کھول دیا۔ تو حوصلہ مند مرزائیوں کو طمع ہوئی کہ موقع ملنے پر ہم بھی مسیح موعود بن جائیں گے اور مرزا صاحب کی طرح عیش و عشرت کی زندگی بسر کریں گے۔ اب ہم امت مرزائیہ کے چند مدعیان نبوت کا ذکر کرتے ہیں۔

١۔ چراغ الدین متوطن جموں

چراغ الدین نامی ۔ جموں کا رہنے والا تھا۔ وہ مرزا صاحب کا مرید تھا اس نے مرزا صاحب کی زندگی میں ہی نبوت و رسالت کا دعویٰ کر دیا۔ مرزا صاحب نے اس کو باغی مرید کہہ کر اپنی جماعت سے خارج کر دیا۔

٢۔ منشی ظہیر الدین اروپی

یہ شخص موضع اروپ ضلع گوجرانوالہ کا رہنے والا تھا۔ اس کے نزدیک مرزا صاحب، صاحب شریعت نبی تھے۔ اس کا خیال تھا کہ قادیان کی مسجد ہی خانہ کعبہ ہے۔ نماز اسی کی طرف منہ کر کے پڑھنی چاہیے۔ لاہوری پارٹی کے جریدہ پیغام صلح کا مدیر بھی رہا ہے۔ یہ شخص اپنے یوسف ہونے کا مدعی تھا۔ لیکن بعد میں

صفحہ ٣٨٢

دعاوی مرزا

اپنے دعویٰ پر ثابت نہ رہا۔ اور مرزائے قادیان کی تحریروں میں تخالف اور تضاد پر مضمون بھی لکھا۔ جو لاہوری مرزائیوں کے رسالہ المہدی میں شائع ہوا۔

٣۔ محمد بخش قادیانی

یہ شخص قادیان کا رہنے والا ہے اس کو الہام ہوا۔ ”آئی۔ ایم وٹ وٹ“ یعنی میں ”وٹ وٹ ہوں“

٤۔ مسٹر یار محمد پلیڈر

یہ شخص ہوشیار پور کا وکیل تھا۔ یہ شخص مرزا کا حقیقی جانشین اور خلیفہ برحق ہونے کا مدعی تھا۔ مرزا محمود سے اس کا جھگڑا رہا کہ مسند خلافت میرے لیے خالی کر دے مگر وہ کسی طرح راضی نہ ہوا۔

٥۔ عبداللہ تیماپوری

یہ شخص تیماپور واقع علاقہ حیدر آباد دکن کا رہنے والا تھا۔ پہلے روح القدس کے نزول کا مدعی بنا۔ پھر مظہر قدرت ثانیہ ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس شخص نے پیشین گوئی کی تھی کہ مرزا محمود احمد بہت جلد میری بیعت میں داخل ہو جائے گا۔ لیکن پیشین گوئی پوری نہ ہو سکی۔ سب سے پہلے اس پر یہ وحی آئی ”یا ایہا النبی تیماپور میں رہیو۔ یہ شخص یہ کہتا تھا کہ میں ظل محمد بھی ہوں اور ظل احمد بھی اور درجہ رسالت میں‘ میں اور مرزا صاحب دونوں بھائی ہیں اور مساوی حیثیت رکھتے ہیں۔ جو فرق کرے وہ کافر ہے۔

٦۔ سید عابد علی

پرانا مرزائی۔ قصبہ بدوملھی ضلع سیالکوٹ کا رہنے والا تھا۔ مدعی الہام کا ہوا۔

٧۔ عبداللطیف گناچوری

صفحہ ٣٨٣

دعوٰی مرزا

یہ بھی ایک مشہور مرزائی ہے۔ مدعی نبوت اس نے اپنے دعویٰ کی تائید میں ایک ضخیم کتاب چشمہ نبوت شائع کی جس میں لکھتا ہے کہ مرزا صاحب کا نام زمین پر غلام احمد اور آسمان پر مسیح بن مریم تھا۔ اسی طرح خدا نے زمین پر میرا نام عبداللطیف اور آسمانوں میں محمد بن عبداللہ موعود رکھا ہے جس طرح مرزا صاحب روحانی اولاد بن کر سید ہاشمی بن گئے تھے۔ اسی طرح میں بھی آل رسول میں داخل ہوں۔

٨۔ ڈاکٹر محمد صدیق بہاری

یہ شخص صوبہ بہار کے علاقہ گدگ کا رہنے والا تھا۔ مرزائیوں کی لاہوری پارٹی سے متعلق تھا۔ یہ کہتا تھا کہ مرزا صاحب نے جس پسر موعود کی پیشین گوئی کی تھی۔ وہ میں ہی یوسف موعود ہوں۔ اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ اہل قادیان کی اصلاح کروں۔ قادیان سے آواز اٹھ رہی ہے کہ حضرت خاتم النبیین کے بعد بھی نبوت جاری ہے۔ اسلام میں سرور دو جہان کی ذات گرامی پر اس سے بڑھ کر اور کوئی حملہ متصور نہیں ہو سکتا کہ حضور کے بعد کوئی اور نبی کھڑا کیا جائے اور بیس کروڑ مسلمانوں کو مرزا صاحب کی نبوت کا انکار کرنے کی وجہ سے خارج از اسلام تصور کیا جائے۔ میں اسی توہین آمیز عقیدہ کے مٹانے کی غرض سے مبعوث ہوا ہوں۔ محمودیوں اور پیغامیوں (قادیانی مرزائیوں اور لاہوری مرزائیوں) میں جھگڑا تھا۔ اس لیے میں حکم بن کر آیا ہوں میرے نشانات کئی ہزار ہیں۔ صرف اخلاقی نشان چون ہیں یہ نعمت سیدنا محمد ﷺ کی محبت میں فنا ہونے اور قادیان کے خلاف کرنے سے ملی۔ غیرت الٰہی نے میرے لیے مرزا صاحب کے نشانات سے بڑھ کر نشانات ظاہر کیے۔ میری بعثت کے بغیر قادیان کی اصلاح ناممکن تھی۔ میں نے تلاش حق میں مرزا محمود کے ہاتھ پر بیعت بھی کی تھی۔ لیکن عقائد پسند نہ آنے کی وجہ سے بیعت فسخ کر دی۔ اور قادیان سے نکالا گیا۔ اب میں مسلسل بارہ سال سے محمودی عقائد کی تردید کر رہا ہوں۔

صفحہ ٣٨٤

دعاوی مرزا

٩۔ احمد سعید سٹھمریالی

یہ شخص ضلع سیالکوٹ کا رہنے والا اسسٹنٹ انسپکٹر مدراس جو پہلے مرزائی تھا۔ بعد میں نبوت کا دعویٰ کیا۔

١٠۔ احمد نور کابلی

یہ شخص قادیان کا سرمہ فروش، مرزا غلام احمد کے حاشیہ نشینوں میں سے تھا۔ اس کی ناک پر پھوڑا ہو گیا۔ جب کسی طرح اچھا نہ ہوا۔ تو عمل جراحی کرایا جب ناک کٹ گئی تو دعویٰ نبوت کا کر دیا۔ اور کہا کہ مجھے الہام ہوا ہے عسی ان یبعثک ربک مقام محمودا اور آیت ہو الذی بعث فی الامیین رسولا منہم میرے ہی بارہ میں نازل ہوئی ہے۔ فتلک عشرة کاملہ

نمونہ کے طور پر ہم نے مرزائی امت کے دس مدعیان نبوت کا ذکر دیا۔ ان دس کے علاوہ اور بھی مرزائی امت میں مدعیان نبوت گزرے ہیں۔ جن میں سے بعض تو یہ کہتے تھے کہ میں ہی حقیقی مرزا صاحب ہوں۔ اس شخص کا نام افضل احمد تھا۔ جو موضع چنگا بنگیال ضلع راولپنڈی کا تھا۔

یہ سب مدعیان نبوت مرزائی تھے۔ بعد میں نبوت کے مدعی بن گئے ان میں سے کوئی وکیل تھا اور کوئی پٹواری تھا اور کوئی انسپکٹر تھا۔ ان مرزائی مدعیان نبوت کے مفصل حالات کتاب ائمہ تلبیس مصنفہ مولانا ابوالقاسم دلاوری مرحوم میں مذکور ہیں۔ وہاں دیکھ لیے جائیں۔

(یا قادیانی مذہب مصنفہ پروفیسر الیاس برنی مطبوعہ مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان ص ١٠١٠ سے ١٠٢٤ تک

مطالعہ کر لیا جائے)

استفتاء از فضلاء امت مرزائیہ

کیا فرماتے ہیں فضلاء امت مرزائیہ اور فقہا ملت قادیانیہ ان مرزائی مدعیان نبوت کے بارہ میں جو پہلے مرزا غلام احمد کے سلسلہ میں داخل ہوئے اور بعد

صفحہ ٣٨٥

دعویٰ مرزا

میں نبوت کا دعویٰ کیا اور یہ کہا کہ ہم مستقل نبی نہیں۔ بلکہ مرزا صاحب کے ظل اور بروز ہیں اور ہماری نبوت مرزا صاحب کی نبوت سے علیحدہ کوئی چیز نہیں اور ہماری نبوت سے مرزا صاحب کی نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ جس طرح موسیٰ عمران کی امت میں۔ بنی اسرائیل میں بہت سے نبی ہوئے۔ اسی طرح ہم موسیٰ قادیان کی امت کے نبی ہیں۔

پس ان لوگوں کے بارہ میں ملت مرزائیہ کا کیا حکم ہے۔ آیا یہ مرزائی مدعیان نبوت مسلمان ہیں۔ یا کافر و مرتد ہیں اور آیا صادق ہیں یا کاذب۔ اگر یہ لوگ اپنے دعوائے نبوت میں صادق ہیں تو تمام مرزائیوں کو ان پر ایمان لانا فرض ہے۔ کیونکہ انبیاء و رسل میں تفریق کفر ہے اور جو لوگ مثلاً مرزا بشیر الدین وغیرہ جو ان مرزائی پیغمبروں پر ایمان نہیں لاتے۔ مرزائی جماعت کی طرف سے ان پر کافر اور مرتد ہونے کا فتویٰ شائع ہونا چاہیے۔ اور اگر یہ لوگ کاذب اور کافر ہیں تو ان کے کفر کی وجہ بتلائی جائے۔ کیونکہ جب مرزا صاحب کے نزدیک نبوت کا دروازہ قیامت تک کے لیے کھلا ہوا ہے۔ اور آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت جاری ہے تو محض دعوائے نبوت تو وجہ کفر نہیں ہو سکتی تو پھر آخر کس وجہ سے ان مدعیان نبوت کو جو پہلے مرزا صاحب کے صحابہ و تابعین میں سے تھے۔ کس بنا پر ان کو ملت مرزائیہ کا کافر اور مرتد قرار دیا گیا۔ جبکہ مرزائی امت کے نزدیک تمام انبیاء سابقین کے اسماء و صفات کا مرزا صاحب کو عطا کیا جانا ممکن ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ مرزا صاحب کا نام زمین میں تو غلام احمد اور آسمان میں محمد اور احمد ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ مرزا صاحب خاتم الانبیاء ﷺ کے ظل اور بروز بن سکیں تو کیا یہ ممکن نہیں کہ مرزا صاحب کے کسی صحابی یا تابعی کو مرزا صاحب کے تمام اسماء و صفات مل سکیں اور وہ مرزا صاحب کا ظل اور بروز اور عین بن سکے۔ دونوں میں کیا فرق ہے۔ اے ملت مرزائیہ کے فضلاء اس مسئلہ کو واضح فرمائیے۔ بینوا و توجروا۔

١٩۔ سارے عالم کے لیے مدار نجات ہونے کا دعویٰ

مرزا صاحب کا ایک دعویٰ یہ ہے کہ عالم کی نجات اخروی کا دار و مدار ان

صفحہ ٣٨٦

دعاوی مرزا

کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا ہے اور جو شخص مرزا صاحب کی مخالفت کرے۔ وہ گویا ابلیس اور دوزخی ہے۔ اور کہتے ہیں کہ میرا منکر کافر اور مردود ہے۔

اور عقائد مرزا میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ مرزا کے فعل پر اعتراض کرنا بھی کفر ہے۔

مرزا صاحب کہتے ہیں۔ کفر دو قسم پر ہے (اول) ایک کفر یہ کہ ایک شخص اسلام سے انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ (دوم) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے۔ اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے پس اس لیے کہ وہ خدا رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔

(حقیقۃ الوحی ص ١٧٩ روحانی خزائن ص ١٨٥ ج ٢٢)

اور یہی مضمون (حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ٧ روحانی خزائن ص ٤٣٥ ج ١٧) میں ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔ ”اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا ہے اور تمام انسانوں کے لیے اس کو مدار نجات ٹھہرایا جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔“

اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ مدار نجات مرزا صاحب پر ایمان لانا ہے جو مرزا صاحب پر ایمان نہ لائے وہ کافر ہے۔

حالانکہ

تریاق القلوب میں مرزا صاحب یہ تصریح کرتے ہیں کہ کافر وہ ہے کہ صاحب شریعت نبی کی نبوت کا انکار کرے۔ اور اس کے سوا ملہم من اللہ اور محدث من اللہ وغیرہ وغیرہ کے انکار سے کافر نہیں ہو جاتا۔ چنانچہ تریاق القلوب میں ہے۔ ”یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعوٰی کے انکار کرنے والے کو

صفحہ ٣٨٧

دعویٰ مرزا

کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب الشریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں گو وہ کیسے ہی جناب الہیٰ میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت اور مکالمہ الہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔"

(حاشیہ تریاق القلوب ص ١٣٠ روحانی خزائن ص ٤٣٢ ج ١٥)

پس تریاق القلوب کی اس عبارت کو پہلی عبارتوں کے ساتھ ملانے سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ مرزا صاحب مستقل نبوت اور شریعت جدیدہ کے مدعی ہیں اور شریعت ان کے نزدیک امر و نہی کا نام ہے۔ جو ان کی وحی میں موجود ہے پس جبکہ مرزا صاحب نے یہ اصول مقرر کر دیا کہ جو صاحب شریعت ہو اس کا انکار کفر ہے۔ اور بآواز بلند کہہ دیا کہ اپنے دعویٰ کا انکار کرنے والے کو کافر کہنا ان ہی نبیوں کی شان ہے جو خدا کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لے کر آئے ہوں۔ اور پھر اپنے منکرین اور معترضین کو کافر کہا اور مسلمانوں کے ساتھ ان کے نکاح کو ناجائز قرار دیا اور اپنے منکرین کی نماز جنازہ کو حرام اور ممنوع قرار دیا۔ تو صاف ظاہر ہو گیا کہ مرزا صاحب نبوت مستقلہ اور شریعت جدیدہ کے مدعی ہیں۔ لیکن محض مسلمانوں کو مغالطہ دینے کے لیے ظلی اور بروزی کے الفاظ گھڑے ہیں لہٰذا مرزا صاحب کے اس قول کے مطابق تمام لاہوری جماعت کافر اور جہنمی ہو گی۔ کیونکہ لاہوری جماعت مرزا کو نبی نہیں مانتی۔ بلکہ محض مجدد مانتی ہے۔

مرزا صاحب کا یہ دعویٰ صریح آیات قرآنیہ کے خلاف ہے۔ حق جل شانہ فرماتے ہیں اولم یکفھم انا انزلنا علیک الکتاب یتلیٰ علیھم ان فی ذلک رحمۃ و ذکر لقوم یومنون یعنی یہ قرآن جو آنحضرت ﷺ پر نازل کیا گیا۔ قیامت کے لیے کافی ہے اور بس کسی اور کتاب کی طرف رجوع کی ضرورت نہیں۔ مرزا کہتا ہے کہ قرآن کافی نہیں جب تک وحی اس کے ساتھ شامل نہ ہو۔

حق تعالیٰ جل شانہ فرماتے ہیں یاایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم فان تنازعتم فی شی فردوہ الی اللہ و الرسول ان

صفحہ ٣٨٨

دعویٰ مرزا

کنتم تو منون باللہ والیوم الاخر ذلک خیرا واحسن تاویلا (سورۂ نساء) مطلب یہ ہے کہ اے ایمان والو تم پر تین چیزوں کی اطاعت واجب ہے۔ اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی ۔ اور اولوالامر کی اور اولوالامر کے ساتھ ارشاد ہے کہ اگر کسی وقت تمہارا ولی الامر سے نزاع اور اختلاف ہو جائے تو اس وقت اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرو۔ وہی قابل اطاعت ہیں۔ معلوم ہوا کہ اولی الامر۔ یعنی غیر نبی سے اختلاف ہوتا ہے۔ خواہ وہ علماء ہوں یا اولیاء یا امراء ہوں۔ مگر قیامت تک نبی اکرم ﷺ سے اختلاف نہیں ہو سکتا۔ قیامت تک آپ ہی مطاع مطلق ہیں۔

مولوی محمد علی لاہوری اپنی تفسیر جلد اول کے ٣٧٥ طبع ٤ پر لکھتے ہیں کہ ” چونکہ قرآن نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ اس امت کے اندر ہمیشہ کے لیے حقیقی مطاع ایک مطاع محمد ﷺ ہی ہوں گے..... اس لیے آپ ﷺ کے بعد اس امت میں کوئی رسول نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی رسول ہو گا تو وہ خود مطاع ہو گا۔ محمد ﷺ مطاع نہیں رہیں گے اور یہ خلاف قرآن کے ہے۔ پس ختم نبوت پر یہ آیت فیصلہ کن ہے جب اس کو فان تنازعتم کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے اور اب تاقیامت کوئی رسول قطعاً نہیں آسکتا۔“

٢٠۔ عموم بعثت کا دعویٰ

میں صرف پنجاب کے لیے مبعوث نہیں ہوا۔ بلکہ جہاں تک دنیا کی آبادی ہے ان سب کی اصلاح کے لیے مامور ہوں۔

(حاشیہ حقیقۃ الوحی ص ١٩٢ روحانی خزائن ص ٢٠٠ ج ٢٢)

٢١۔ آدم خلیفۃ اللہ علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

لکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان کو اس کلام میں آدم علیہ السلام قرار دیا ہے۔ یاادم اسکن انت و زوجک الجنۃ

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٣ روحانی خزائن ص ٤١٠ ج ١٧ اور ازالۃ الاوہام ص ٤٩٥ روحانی خزائن .

صفحہ ٣٨٩

دعویٰ مرزا

٢٧٥ ج ٣) میں لکھتے ہیں کہ ”اس حکیم مطلق نے اس عاجز کا نام آدم اور خلیفۃ اللہ رکھ کر اور انی جاعل فی الارض خلیفۃ کی کھلے کھلے طور پر براہین احمدیہ میں بشارت دے کر لوگوں کو توجہ دلائی۔ تاکہ اس خلیفۃ اللہ آدم کی اطاعت کریں اور اطاعت کرنے والی جماعت سے باہر نہ رہیں اور ابلیس کی طرح ٹھوکر نہ کھائیں اور من شذ شذ فی النار کی تہدید سے بچیں۔“

٢٢۔ ابراہیم علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

آیت واتخذوا من مقام ابراھیم مصلیٰ اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ ﷺ میں بہت فرقے ہو جائیں گے۔ تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہو گا۔ اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا۔ جو ابراہیم کا پیرو ہو گا۔

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٢ روحانی خزائن ص ٤٢١ ج ١٧)

٢٣۔ نوح علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

٢٤۔ یعقوب علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

٢٥۔ موسیٰ علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

٢٦۔ داؤد علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

٢٧۔ شیث علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

٢٨۔ یوسف علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

٢٩۔ اسحاق علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

٣٠۔ یحییٰ علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

٣١۔ اسمعیل علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

صفحہ ٣٩٠

دعاوی مرزا

میں آدم ہوں۔ میں شیث ہوں۔ میں نوح ہوں۔ میں ابراہیم ہوں۔ میں اسحاق ہوں۔ میں اسمعیل ہوں۔ میں یعقوب ہوں۔ میں یوسف ہوں۔ میں موسیٰ ہوں۔ میں داؤد ہوں۔ میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نام کا مظہر اتم ہوں۔ یوں ظلی طور پر میں محمد اور احمد ہوں۔

(حاشیہ حقیقۃ الوحی ص ٧٢ روحانی خزائن ص ٧٦ ج ٢٢)

٣٢۔ آنحضرت ﷺ کے ساتھ برابری کا دعویٰ

یعنی محمد ﷺ اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس نام محمد و احمد سے موسوم ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی۔ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٧ روحانی خزائن ص ٢١٠ ج ١٨) بارہا بتلا چکا ہوں کہ بموجب آیت واخرین منھم لما یلحقوا بھم بروزی طور پر وہی خاتم الانبیاء ہوں۔

اور ضمیمہ حقیقۃ الوحی ص ٨٥ و ٨٦ و ٧٩ و ٨١ میں اکثر ان اوصاف کو اپنے لیے ثابت کیا ہے کہ جو آنحضرت ﷺ کے لیے مخصوص ہیں اور ازالہ اوہام میں ایسا ہی کیا۔

حق جل شانہ نے قرآن کریم میں جو آیتیں سید المرسلین ﷺ کے فضائل خاصہ میں نازل فرمائیں۔ یہ قادیان کا دہقان الہام کے ذریعہ اپنے اوپر چسپاں کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ان آیتوں کا مصداق میں ہوں۔ جیسے

٢٢٤۔ ٢٣٨۔ ٣٩٤۔ ٤٧٢ طبع ٣)

کلہ (تذکرہ ٤٥۔ ٧٥۔ ٢٣٨۔ ٢٧٣۔ ٣٥٤۔ ٣٦٧۔ ٣٨٧۔ ٤٨٩۔ ٦٠٧۔ ٦٠٩۔ ٦٢٨۔ طبع ٣۔

صفحہ ٣٩١

دعاوی مرزا

ماتأخر۔ (تذکرہ ٩٢۔ ٢٤٦۔ ٢٧٨۔ ٦٤٨۔ ٦٤٩۔ طبع ٣)

المسجد الاقصیٰ (مرزا کہتا ہے کہ مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے۔ جو قادیان میں واقع ہے۔ خطبہ الہامیہ ٢١۔ روحانی خزائن ص ٢١ ج ١٦)۔

٤٩٤۔ ٤٩٥۔ ٦٤٣ طبع ٣)

٦٤٣ طبع ٣)

افواجاً (تذکرہ ص ٥٠٥ طبع ٣)

٣٩٥۔ طبع ٣)

٢٤٧۔ ٣٦١۔ ٤٦٨۔ طبع ٣)

٢٧٨۔ ٤٥٤۔ ٤٨٠۔ ٥٢٥۔ ٥٨٧۔ ٦٣٩۔ ٦٤٠۔ ٦٤٥۔ ٦٨٩۔ ٨١٤۔ طبع

٣)

صفحہ ٣٩٢

دعوی مرزا

بينهم۔ (تذکرہ ص ٩٣۔ طبع ٣)

٦٤٩۔ طبع ٣)

٢٧٨۔ ٢٨٧۔ ٤٦٧۔ ٦٢٨۔ ٦٤٠ طبع ٣)

طبع ٣)

(تذکرہ ص ٨٢۔ طبع ٣)

احد (تذکرہ ص ٢٩ ط ٣)

ذنوبكم (تذکرہ ٢٢٠۔ ٢٢١۔ طبع ٣)

طبع ٣)

طبع ٣)

ص ٨٩۔ ٢٤٥۔ ٢٧٨۔ ٤٦٢۔ ٤٤٦۔ ٦٣٩۔ طبع ٣)

وغيرہ۔

باتفاق مفسرین و محدثین قرآن کریم کے آیات مذکور بالا سرور عالم محمد

صفحہ ٣٩٣

دعاوی مرزا

رسول اللہ ﷺ کے بارہ میں نازل ہوئیں۔ مگر مرزائے قادیان کہتا ہے۔ کہ ان آیات میں جن فضائل کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کا مصداق میں ہوں۔

اے مسلمانو! کیا یہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ تمسخر نہیں کیا۔ اور (ازالۃ الاوہام کے ص ٦٧٣ روحانی خزائن ص ٤٦٤ ج ٣) پر لکھتا ہے کہ آیت شریفہ مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد سے میں خود مراد ہوں۔ کبرت کلمۃ تخرج من افواہم ان یقولون الا کذبا۔

اور مرزا صاحب کا یہ دعویٰ ہے کہ میں رحمۃ للعالمین ہوں وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین اعملوا علیٰ مکانتکم انی عامل فسوف تعلمون میرے متعلق مجھ پر نازل ہوئیں۔

(حقیقۃ الوحی ص ٨٢ روحانی خزائن ٨٥ ج ٢٢)

٣٣۔ آنحضرت ﷺ سے افضل ہونے کا دعویٰ

لہ خسف القمر المنیر وان لی
غسا القمران المشرقان اتنکر

(اعجاز احمدی ص ٧١ روحانی خزائن ١٨٣ ج ١٩)

اس کے لیے (یعنی نبی کریم) کے لیے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لیے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو انکار کرے گا؟

اس شعر میں مرزا صاحب نے ایک تو اپنی فضیلت کا دعویٰ کیا۔ اور دوسرے آپ ﷺ کے معجزۂ شق القمر کا انکار کیا۔ جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے اقتربت الساعۃ وانشق القمر اس لیے کہ اس شعر میں شق قمر کو چاند گرہن ہونے سے تعبیر کیا یعنی آپ کے لیے فقط چاند گرہن ہوا تھا۔ چاند کے دو ٹکڑے نہیں ہوئے۔ اس لیے مرزا صاحب دو وجہ سے کافر ہوئے۔ نیز مرزا صاحب نے تحفہ گولڑویہ (خورد ص ٦٣ روحانی خزائن ص ١٥٣ ج ١٧) میں آنحضرت ﷺ کے معجزات کی تعداد تین ہزار بتائی ہے اور (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦ روحانی خزائن ص

صفحہ ٣٩٤

دعاوی مرزا

٧٢ ج ٢١) میں اپنے نشانات کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ بتائی۔ کاش کوئی مرزائی ان دس لاکھ میں سے دس ہزار ہی معجزات لکھ کر شائع کر دیتا۔ تاکہ لوگوں کو معلوم ہوتا کہ مرزا صاحب کے معجزات کیسے ہیں۔

بندہ ناچیز کئی مرتبہ بہ سلسلہ تبلیغ و دعوت قادیان گیا۔ وہاں ان دس لاکھ نشانات کا ذکر تھا۔ کہ آخر دس لاکھ معجزات کہاں گئے۔ تو قادیان کے ایک شخص نے بتلایا۔ کہ مرزا صاحب کا کوئی مرید اگر ایک روپیہ کا بھی منی آرڈر مرزا صاحب کے نام بھیجتا تھا۔ تو مرزا صاحب اس کو اپنا معجزہ شمار کرتے تھے تو اس حساب سے اگر مریدوں سے دس لاکھ روپیہ ملا ہو۔ تو ان کو دس لاکھ معجزات کہا جاسکتا ہے۔

٣٤۔ حضرت آدمؑ اور حضرت نوحؑ سے افضل ہونے کا دعویٰ

ان اللہ خلق آدم وجعلہ سیدا و حاکما و امیر علیٰ کل ذی روح من الانس و الجان کما یفھم من ایۃ اسجدوا لادم ثم ازلہ الشیطان و اخرجہ من الجنان و رد الحکومۃ الی ھذا الثعبان و مس آدم ذلۃ و خزی فی ھذا الحرب الھوان و ان الحرب سجال للاتقیا مال عند الرحمٰن فخلق اللہ المسیح الموعود لیجعل الھزیمۃ علی الشیطان فی آخر الزمان و کان وعدا مکتوبا فی القرآن۔

(حاشیہ در حاشیہ خطبہ الہامیہ ص ٣١٢ روحانی خزائن ص ٣١٢ ج ١٦)

جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے آدم کو پیدا کیا۔ اور سردار اور حاکم اور امیر ہر ذی روح جن و انس پر بنایا۔ جیسا کہ آیت اسجدوالاٰدم سے سمجھا جاتا ہے۔ پھر حضرت آدمؑ کو شیطان نے پھسلایا اور جنت سے نکلوا دیا اور حکومت اس اژدھا یعنی شیطان کی طرف لوٹائی گئی اور سخت لڑائی میں حضرت آدم کو ذلت اور رسوائی نے چھوا اور لڑائی ڈول کھینچنا ہے اور بزرگوں کے لیے مآل ہے۔ رحمٰن کے نزدیک‘ پس اللہ نے پیدا کیا مسیح موعود کو تاکہ شکست دے شیطان کو آخر زمانہ میں‘ اور یہ وعدہ قرآن میں لکھا ہوا تھا۔ (معاذ اللہ)

صفحہ ٣٩٥

دعاوی مرزا

اور خدا تعالیٰ میرے لیے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے۔ کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٧ روحانی خزائن ص ٥٧٥ ج ٢٢)

٣٥۔ اپنی وحی اور الہام کے قرآن کے برابر ہونے کا دعویٰ

مرزائے قادیان کی جسارت اور دیدہ دلیری کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنی وحی کو قرآن کریم اور توریت اور انجیل کے برابر سمجھتا ہے۔ چنانچہ لکھتا ہے۔ ”میں خدا تعالیٰ کی تیس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی اس پاک وحی پر ایسے ہی ایمان لاتا ہوں جیسے کہ ان تمام وحیوں پر ایمان لاتا ہوں۔ جو مجھ سے پہلے نازل ہو چکی ہیں۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٥٠ روحانی خزائن ص ١٥٤ ج ٢٢)

”مگر میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اس طرح ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر۔ اور جس طرح میں قرآن شریف کو قطعی اور یقینی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٢١١ روحانی خزائن ص ٢٢٠ ج ٢٢)

پس جب مرزا صاحب نے اپنی وحی کو قرآن اور توریت اور انجیل کے برابر قرار دیا تو پھر قرآن آخری کتاب الٰہی نہ رہا۔

٣٦۔ قرآن کی طرح اپنی وحی کے اعجاز کا دعویٰ

مرزا صاحب کا ایک دعویٰ یہ ہے کہ قرآن کی طرح میری وحی بھی حد اعجاز کو پہنچی ہوئی ہے۔ اس لیے مرزا صاحب نے اپنے مخالفین کے مقابلہ اور تحدی کے لیے ایک قصیدہ شائع کیا۔ جس کا نام قصیدۂ اعجازیہ رکھا۔ علماء نے اس قصیدہ کے اشعار میں مرزا صاحب کی صرفی اور نحوی اور عروضی غلطیاں شائع کر دیں اور مرزا صاحب اور انکی امت اس کے جواب سے عاجز رہی اور ہے۔

٣٧۔ مرزائے قادیان کا اپنے لیے دس لاکھ معجزات کا دعویٰ

صفحہ ٣٩٦

دعاوی مرزا

مرزا قادیان نے آنحضرت ﷺ کے معجزات تین ہزار قرار دیئے ہیں ۔ (تحفہ گولڑویہ ص ٦٧ روحانی خزائن ص ١٥٣ ج ١٧) اور اپنے معجزات دس لاکھ بتلاتے ہیں ۔ (براہین احمدیہ پنجم ص ٥٦ روحانی خزائن ص ٧٢ ج ٢١) گویا کہ مرزا صاحب اپنے گمان میں آنحضرت ﷺ سے افضل اور برتر ہیں اور گویا کہ سید الانبیاء ﷺ اپنی عظمت و شان میں قادیان کے اس دہقان سے تین سو تینتیس درجہ کم ہیں ۔ العیاذ باللہ ۔

٣٨۔ تمام انبیا کرام علیہم السلام سے افضل ہونے کا دعویٰ

”بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبی ﷺ کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے اور خدا نے اپنی حجت پوری کر دی ہے اور اب چاہے کوئی قبول کرے یا نہ کرے ۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٦ روحانی خزائن ص ٥٧٤ ج ٢٢)

مرزا کا اس عبارت میں آنحضرت ﷺ کا استثناء محض مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے ہے ورنہ پہلے گزر چکا ہے کہ تحفہ گولڑویہ کے ص ٦٧ پر مرزا نے آنحضرت ﷺ کے معجزات کی تعداد تین ہزار بتلائی ہے اور اپنے معجزات کی تعداد تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٦٨ میں تین لاکھ بتلائی ہے اور براہین احمدیہ ص ٥٦ میں دس لاکھ بتلائی ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ عبارت مذکورہ بالا میں آنحضرت ﷺ کا استثناء محض لوگوں کے دکھلانے کے لیے تھا ورنہ حقیقتہ ”دل میں یہ تھا کہ میرے معجزات تو دس لاکھ ہیں اور آنحضرت ﷺ کے معجزات دس ہزار ہیں دروغ گو را حافظہ نباشد ۔

٣٩۔ میکائیل علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

اور دانیال نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے ۔

صفحہ ٣٩٧

دعاوی مرزا

(حاشیہ اربعین نمبر ٣ ص ٢٣ روحانی خزائن ٤١٣ ج ١٧)

٤٠۔ خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ

انت منی بمنزلۃ اولادی انت منی بمنزلۃ ولدی اسمع یا ولدی۔

(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ١٩ روحانی خزائن ص ٤٥٢ ج ١٧) (حقیقۃ الوحی ص ٨٦ روحانی خزائن ص

٨٩ ج ٢٢) (اے میرے بیٹے سن۔ البشریٰ ص ٤٩ ج ١)

٤١۔ اپنے اندر خدا کے حلول یعنی اتر آنے کا دعویٰ

مرزا کو الہام ہوا۔ آؤ اہن کہ خدا تیرے سے اندر اتر آیا۔

(تذکرہ ص ٣١١۔ بحوالہ کتاب البریہ ص ٨٤ روحانی خزائن ص ٨٤ ج ١٣)

٤٢۔ خود خدا ہو جانے کا دعویٰ

”اور میں نے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ میں وہی ہوں اور پھر فرماتے ہیں اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔ پھر فرماتے ہیں اور اس حالت میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے آسمان و زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی پھر میں نے منشائے حق کے موافق اس کی ترتیب و تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا انا زینا السماء الدنیا بمصابیح پھر میں نے کہا کہ اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہو گئی اور میری زبان پر جاری ہوا اردت ان استخلف آدم فخلقت آدم انا خلقنا الانسان فی احسن تقویم یہ الہامات ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پر ظاہر ہوئے۔

(کتاب البریہ ص ٧٩۔ ٧٨ روحانی خزائن ص ١٠٥۔ ١٠٤ ج ١٣)

و آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٢ روحانی خزائن صفحہ ایضاً” ج ٥ و اخبار الحکم قادیان مورخہ ٢٤

فروری ١٩٠٥ء)

صفحہ ٣٩٨

دعویٰ مرزا

یہ واقعہ اگرچہ حالت کشف اور الہام کا ہے۔ مگر کتاب و سنت اور اجماع امت سے یہ ثابت ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کا خواب اور الہام سب قطعی ہوتا ہے۔ اگر انبیاء کا خواب قطعی نہ ہوتا تو محض خواب کی بنا پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اسمعیل علیہ السلام کو ذبح کرنا جائز نہ ہوتا۔

خود مرزا نے بھی لکھا ان الرویا الانبیاء وحی انبیاء کا خواب وحی ہوتی ہے۔ (حمامتہ البشریٰ ص ١٣ حاشیہ روحانی خزائن ص ١٩٠ ج ٧)

یوسف علیہ السلام جب جیل خانہ میں تھے تو اس وقت دو قیدیوں نے دو خواب دیکھے اور یوسف علیہ السلام سے اس کی تعبیر دریافت کی۔ یوسف علیہ السلام نے تعبیر دینے کے بعد فرمایا۔ قضی الامر الذی فیہ تستفتیان۔ اس کام کا فیصلہ ہو گیا۔ جس کی بابت تم دریافت کرتے تھے۔ یعنی جو تعبیر دیدی گئی وہ اٹل فیصلہ ہے۔ اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا۔ پس جبکہ نبی کی طرف سے کافر کے جواب کی تعبیر اٹل فیصلہ ہے تو خود نبی کا خواب اور اس کا الہام کیسے اٹل نہ ہوگا۔

٤٣۔ صاحب ”کن فیکون“ ہونے کا دعویٰ

مرزا صاحب (حقیقۃ الوحی ص ١٠٥ روحانی خزائن ص ١٠٨ ج ٢٢) پر لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انما امرک اذا اردت شیئا ان تقول لہ کن فیکون۔ تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ تیرے حکم سے فی الفور ہو جاتی ہے۔

٤٤۔ حجر اسود ہونے کا دعویٰ

الہام ہوا کہ یک پائے من بوسد و من میگفتم کہ حجر اسود منم۔

(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ١٥ روحانی خزائن ص ٤٣٠ ج ١٧)

٤٥۔ بیت اللہ ہونے کا دعویٰ

خدا نے اپنے الہامات میں میرا نام بیت اللہ بھی رکھا ہے۔

(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ١٥ روحانی خزائن ص ٤٤٥ ج ١٧)

صفحہ ٣٩٩

دعاوی مرزا

٤٦۔ حیض اور حمل اور ولادت کا دعویٰ

مرزا صاحب کو الہام ہوا۔ یریدون ان یروا طمثک (یعنی وہ تیرا حیض دیکھنے کا ارادہ کرتے ہیں) اس الہام کی تشریح خود مرزا کی زبانی اس طرح ہے۔ بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے۔ یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا۔ جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے۔ بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٤٣ روحانی خزائن ص ٥٨١ ج ٢٢)

اس الہام میں مرزا عورت بنے اب نعوذ اللہ خدا تعالیٰ مرزا سے ہم بستری کرتے ہیں اور رجولیت کی طاقت ظاہر کی جاتی ہے۔ جس کو مرزا کے ایک مرید قاضی یار محمد بی۔ او۔ ایل پلیڈر اپنے ٹریکٹ نمبر ٣٤ موسوم بہ اسلامی قربانی مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر میں لکھتے ہیں کہ ”جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا کہ آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے“ (اس قسم کے وساوس یقیناً شیطانی ہیں کوئی عاقل کبھی خدا کی طرف نعوذ باللہ اس قسم کے افعال کو تجویز نہیں کر سکتا)۔

مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرا دیا گیا۔ اور کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینہ سے زائد نہیں۔ بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم کے ص ٥٥٦۔ میں درج ہے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ (کشتی نوح ص ٤٧ روحانی خزائن ص ٥٠ ج ١٩)

اور پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے درد زہ تنہ کھجور کی طرف لے آئی۔ (کشتی نوح ص ٤٧ روحانی خزائن ص ٥٠ ج ١٩)

٤٧۔ کرشن مہاراج ہونے کا دعویٰ

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٨٥ روحانی خزائن ص ٥٢١ ج ٢٢) پر لکھتے ہیں ”آریہ قوم

صفحہ ٤٠٠

دعویٰ مرزا

کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں انتظار کرتے ہیں وہ کرشن میں ہی ہوں۔“

٥٠۔ آریوں کے بادشاہ ہونے کا دعویٰ

”اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں۔ بلکہ خدا نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے۔ کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا۔ وہ تو ہی ہے آریوں کا بادشاہ۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٨٥ روحانی خزائن ص ٥٢٢ ج ٢٢)

اور بادشاہت سے مرزا صاحب کے نزدیک روحانی بادشاہت مراد ہے۔ اس لیے ظاہری بادشاہت کا تو نام و نشان نہ تھا۔

مرزا صاحب نے جو کرشن مہاراج ہونے کا یا آریوں کا بادشاہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے ہمیں اس دعوے سے کوئی بحث نہیں وہ جانیں اور ہندو جانیں۔ چاہے وہ اس دعویٰ کو تسلیم کریں یا اس کی تردید کریں۔ ہم تو صرف اتنا ہی کہتے ہیں کہ کیا مرزا صاحب کے نزدیک حضرت عیسیٰ اور کرشن مہاراج یک جان اور دو قالب تھے۔ نیز مرزا صاحب کو چاہیے تھا کہ کرشن مہاراج ہونے کا دعویٰ کرنے سے پہلے مسلمانوں کی ان کتابوں کا مطالعہ کرتے جو ہندوؤں کے اوتار کرشن کے حالات اور صفات اور عادات کے متعلق لکھی گئی ہیں پھر اگر وہ اپنی ذات میں مشرکین کے اوتاروں کے اوصاف اور اخلاق پاتے تو ان کو یہ حق تھا کہ وہ کرشن مہاراج ہونے کا دعویٰ کریں۔

حق تو یہ ہے کہ اس قسم کے دعاوی سے مرزا صاحب کی اندرونی حقیقت خوب واضح ہو جاتی ہے۔ شیخ سعدی نے کیا خوب فرمایا ہے۔

خیالات نادان خلوت نشیں
بہم بر کند عاقبت کفر و دین

ناظرین کرام نے مرزائے قادیاں کے دعاوی پڑھ لیے ہیں جن سے صاف واضح ہے کہ مرزا کا مقصود سوائے اس کے کچھ نہیں کہ تمام دنیا کے پیشواؤں کے فضائل اور کمالات اپنے لیے ثابت کرے اور تمام انبیاء سابقین علیہم السلام اور

صفحہ ٤٠١

دعاوی مرزا

تمام اولین و آخرین پر اپنی برتری ثابت کرے اور ہر فرقہ کا پیشوا اور گرو بن جائے۔ مسلمانوں کے لیے آنحضرت ﷺ کے ظل اور بروز اور مظہر اتم ہونے کا دعویٰ کیا اور یہود کے لیے موسیٰ علیہ السلام ہونے کا دعویٰ کیا اور عیسائیوں کے لیے عیسیٰ علیہ السلام ہونے کا دعویٰ کیا۔ اور ہندوؤں کے لیے کرشن ہونے کا دعویٰ کیا۔ تاکہ ہندو بھی میرے سے علیحدہ نہ ہو سکیں۔ جس شخص نے قادیانی کی کتابیں دیکھی ہیں۔ اس پر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اس کی ساری تصنیفات اپنی تعلی آمیز دعوؤں اور انبیاء کرام علیہم السلام کی تنقیص اور توہین سے بھری پڑی ہیں۔ جن سے مرزا کی اندرونی حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔

مرزا کے یہ دعاوی مسروقہ ہیں

اب ہم یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ مرزا کے یہ تمام دعاوی سابق مدعیان نبوت و مہدویت اور مسیحیت سے مسروق ہیں۔

مرزا صاحب سے پہلے تیرہ صدی کے اندر بہت سے مدعیان نبوت اور مدعیان مسیحیت اور مدعیان مہدویت گزرے ہیں۔ جن کا مفصل ذکر کتاب آئمہ تلبیس مصنفہ مولانا ابوالقاسم دلاوری مرحوم میں موجود ہے۔ فاضل مرحوم نے پانسو صفحہ سے زائد کی ایک کتاب لکھی ہے۔ جس میں تیرہ صدی کے مدعیان نبوت اور مدعیان مہدویت کا مفصل حال لکھا ہے جس میں فاضل مرحوم نے یہ ثابت کیا ہے کہ مرزائے قادیانی نے جس قدر بھی دعویٰ کئے ہیں۔ وہ سب لفظ بلفظ گزشتہ مدعیان نبوت و مہدویت و مسیحیت سے مسروق ہیں یعنی چرائے گئے ہیں اور مرزا صاحب کے دعویٰ گزشتہ کذابین اور مفترین کے باطل دعوؤں کا نچوڑ ہیں۔ پس اگر مرزا صاحب کے دعوؤں میں کوئی تاویل ہو سکتی ہے تو گزشتہ مدعیان میں بھی ہو سکتی ہے ”تشابہت قلوبھم“ سب اہل باطل کے دل ملتے جلتے ہیں۔

نصیحت

مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے چوروں اور ایمان کے رہزنوں سے اپنے

صفحہ ٤٠٢

دعویٰ مرزا

ایمان کی دولت کو بچا کر رکھیں، کہ مبادا کوئی رہزن اس لازوال دولت کو اچک کر نہ لے جائے۔

اے بسا ابلیس آدم روئے ہست
پس بہر دستے نشاید داد دست

واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین و صلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا و مولانا محمد و علیٰ الہ و اصحابہ اجمعین و علینا معہم یا ارحم الراحمین۔

بندہ ناچیز محمد ادریس کان اللہ لہ ٢٠ رمضان المبارک یوم دو شنبہ ١٣٨٦ھ

PDF 403

اَحْسَنُ الْبَيَان

فی

تحقیق مسئلہ: الکفر والایمان

یعنی مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

صفحہ ٤٠٤

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ ایک بیان ہے اسلام کے بنیادی مسئلہ کفر و ایمان پر جسے حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی سلمہ اللہ و مدظلہ نے ماہ محرم ١٣٧٤ھ میں پایہ تکمیل کو پہنچایا ہے۔ اس بیان کا عربی نام ہے احسن البیان فی تحقیق مسئلۃ الکفر و الایمان۔ آج کل کے عوام بلکہ خواص تعلیم یافتہ عربی نام سے غیر مانوس ہونے کی وجہ سے کتاب کے اندرونی مسائل کو اول نظر میں معلوم نہیں کر سکتے۔ اس بنا پر موجودہ ارباب تصنیف و تالیف اور مؤلفین اسلام عموماً ناموں میں جدت اور اردو زبان سلیس استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً دو اسلام۔ دو قرآن قرآنی فیصلے! ان ناموں کو دیکھ کر لوگ خواہ مخواہ پڑھنے اور مطالعہ کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ عاجز بھی عموماً عربی کے نام کے ساتھ ساتھ ایک اردو نام تجویز کر دیا کرتا ہے۔ چنانچہ اس رسالہ کا نام ہم نے وضع کیا ہے "مسلمان کون ہے اور کافر کون؟" علاوہ ازیں چونکہ اس کتاب میں ایمان۔ کفر۔ الحاد، زندقہ۔ نفاق وغیرہ کی تعریفات اور احکام تفصیل کے ساتھ درج ہیں اس لیے یہ کتاب اس نام کی وجہ سے اسم بامسمی ہو گئی ہے۔ حضرت مولانا مدظلہ نے اس بیان میں ٥٧ کتابوں سے عبارتیں اور حوالے نقل فرمائے ہیں۔ اس کے پڑھنے سے آپ کو وہ معلومات حاصل ہوں گے جو تفاسیر و احادیث کی ضخیم کتابوں کے بعد علماء کو بھی مشکل سے دستیاب ہوتے ہیں۔ پھر کتابوں کی ورق گردانی کے علاوہ حضرت مصنف مدظلہ نے شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب قدس اللہ سرہ اور حکیم الامت حضرت مولانا شاہ اشرف علی صاحب تھانویؒ اور دیگر اکابر علماء اہل سنت والجماعت کے علوم و معارف کو سہل اردو عبارت میں مرتب فرما کر ملت مسلمہ پاکستانیہ پر احسان عظیم فرمایا ہے۔

(حضرت مولانا مفتی) محمد عبداللہ غفرلہ (ملتانی)

صفحہ ٤٠٥

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ایمان و کفر اور ان کے احکام و تعریفات

ایمان اور اسلام کی تعریف

تصدیق کو کہتے ہیں کہ جس خبر کا ہم نے مشاہدہ نہ کیا ہو اور محض مخبر کی امانت اور صداقت کے بھروسہ اور اعتماد پر اس کو تسلیم کر لیا ہو۔

مثلاً اگر کوئی شخص طلوع آفتاب کی خبر دے تو اس کے جواب میں صدقنا اور سلمنا (یعنی ہم اس خبر کی تصدیق کرتے ہیں) کہا جا سکتا ہے۔ لیکن امنا نہیں کہا جا سکتا۔ اس لیے کہ طلوع شمس محسوس اور مشاہد ہے ایمان کا اطلاق لغت میں غائب اور غیر محسوس چیزوں کی تصدیق کے لیے بولا جاتا ہے۔ محسوس اور مشاہد چیزوں کے ماننے کو مطلق تصدیق کہیں گے مگر ایمان نہ کہیں گے۔

اور اصطلاح شریعت میں انبیاء کرام علیہم السلام کے اعتماد اور بھروسہ پر احکام خداوندی اور غیب کی خبروں کی تصدیق کو ایمان کہتے ہیں۔ مثلاً فرشتوں کو بغیر دیکھے محض نبی اور رسول کے اعتماد پر ماننے کا نام ایمان ہے اور مرتے وقت فرشتوں کو اپنی آنکھ سے دیکھ کر ماننا یہ ایمان نہیں۔ یہ ماننا اپنے مشاہدہ پر مبنی ہے نبی کریم کے اعتماد اور بھروسہ پر نہیں۔

اسلام

اسلام۔ لغت میں اطاعت اور فرمانبرداری کا نام ہے یا بالفاظ دیگر اپنے کو کسی کے حوالہ اور سپرد کر دینے کا نام اسلام ہے اور اصطلاح شریعت میں نبی برحق کے حکم کے مطابق اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا نام اسلام ہے۔ اپنی رائے اور خیال کے مطابق اللہ کی اطاعت کرنا شریعت کے نزدیک یہ اسلام نہیں

صفحہ ٤٠٦

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

بلکہ کفر ہے۔

ع کفر است دریں مذہب خود بینی و خود رائی

بادشاہ اور حکومت کی اطاعت اور وفاداری وہی معتبر ہے کہ جو احکام و وزارت کے ماتحت ہو۔ احکام وزارت کو واجب العمل نہ سمجھنا یہ حکومت سے بغاوت ہے اور اگر بایں ہمہ حکومت کی وفاداری کا دعوی کرے تو عقلاء کے نزدیک وہ دعوی جہالت اور حماقت ہے۔

قال تعالى فلا وربک لایومنون حتی یحکموک فیما شجر بینهم ثم لايجد وافی انفسهم حرجا مما قضیت و يسلموا تسلیما۔

ترجمہ = قسم ہے تیرے پروردگار کی یہ لوگ ..... نہیں مومن ہو سکتے جب تک آپؐ کو اپنے اختلاف میں حاکم اور منصف نہ بنائیں اور پھر آپؐ کے فیصلہ کے بعد دل میں کسی قسم کی تنگی اور انقباض نہ پائیں اور دل و جان سے آپؐ کے فیصلہ کو تسلیم کرلیں۔

ورنہ اگر زبان سے تو آپؐ کو حاکم اور منصف مانا مگر دل میں آپؐ کے فیصلہ سے تنگی انقباض پایا تو یہ لوگ مومن نہیں بلکہ منافق ہیں اور قابل گردن زدنی ہیں۔

اسی آیت کی تفسیر میں امام جعفر صادق سے منقول ہے۔

قال لوان قوما عبد والله تعالى و اقامو الصلاة واتوا الزكوة و صاموا رمضان و حجوا البيت ثم قالوا لشى صنعه رسول الله صلى الله عليه وسلم الاصنع خلاف ما صنع اووجدوا فى انفسهم حرجا لكانوا مشركين ثم تلا هذه الايه

ترجمہ = امام جعفر صادق نے فرمایا کہ اگر کوئی قوم اللہ کی عبادت کرے اور نماز اور روزہ اور حج اور زکوۃ سب ادا کرے۔ مگر کسی فعل کے متعلق جو حضورؐ نے کیا ہو، یہ کہے کہ آپؐ نے یہ کام کیوں کیا یا اس کے

صفحہ ٤٠٧

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

خلاف کیوں نہ کیا یا آپ کے کسی حکم سے قلب میں تنگی اور انقباض کو محسوس کیا۔ تو یہ لوگ باوجود نماز اور روزہ کے، کافر اور مشرک کے حکم میں ہیں اور اس کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی۔

(روح المعانی صفحہ ٦٥ جلد ٥)

شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالیٰ شرح بخاری میں لکھتے ہیں۔ ایمان در لغت بمعنی گرویدن و در شرع مخصوص است بگرویدن آنچه پیغمبر خدا ﷺ از نزد خدا آوردہ و بہ بندگان رسانیدہ از امر و نہی و جز عقاید و جز آن۔ الی ان قال۔ و بالجملہ حقیقت ایمان و مدار امن از عذاب ابدی و نجات اخروی ہمیں تصدیق پیغمبر است یعنی تصدیق رسالت وے کہ صفت دل است بمعنی گرویدن پذیر فتن بدل انچہ از خدا آوردہ و رسانیدہ کہ لازم وے تسلیم است بمعنی گردن دادن و سپردن خود را بحکم۔ نہ تصدیق بمعنی راست گو دانستن پیغمبر یا راست دانستن رسالت وے چہ مجرد این معرفت و یقین بدل قبول و تسلیم فائدہ نہ کند بسے از اہل مکر و عناد بودند کہ باوجود معرفت صدق پیغمبر بنظر معجزات و دریافت علامات کہ کتب سابقہ بداں مملوء و مشحون بودہ براہ جحود و انکار می رفتند الذین اتیناہم الکتاب يعرفونه كما يعرفون ابناء هم و ان فريقا منهم ليكتمون الحق و هم يعلمون وجحدوا بها واستيقنتها انفسهم ظلما و علوا۔ الی ان قال۔ اسلام در لغت بمعنی انقیاد و فرمانبرداری و تسلیم شدن مر حکم کسے را بے سرکشی و اعراض و در شرع مخصوص است بانقیاد و اطاعت احکام و بجا آوردن انچہ پیغمبر بداں خبر دادہ از فرائض و ارکان۔ پس اسلام نام ظاہر اعمال است و ایمان نام باطن اعتقاد

(الخ شرح فارسی بخاری صفحہ ٥١ جلد ١)

تنبیہہ

اس عبارت سے یہ امر بھی واضح ہو گیا کہ خدا اور رسول پر ایمان لانے کا مطلب یہ نہیں کہ فقط خدا اور رسول کو موجود مان لیا جائے یا فقط زبان سے خدا کی

صفحہ ٤٠٨

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

الوہیت اور نبی کی نبوت کا اقرار کر لیا جائے۔ بلکہ ایمان کے معنی بے چون و چرا اور بے دغدغہ اور بے تردد دل و جان سے تمام احکام کے ماننے کے ہیں رسول کی رسالت کا اقرار کرنا۔ اور اس کی شریعت کو واجب العمل نہ سمجھنا یہ ایسا ہے کہ حکومت اور بادشاہت کو تو تسلیم کرے اور اس کے دستور و آئین کو واجب العمل نہ سمجھے کیا عقلا کے نزدیک یہ کھلا ہوا تمسخر نہیں؟

کفر کی تعریف

کفر شریعت میں ایمان کی ضد ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکموں کو نبی کے بھروسہ اور اعتماد پر بے چون و چرا تسلیم کرنے کا نام ایمان ہے۔

اور اللہ تعالیٰ کی کسی ایک بات کو نہ ماننا کہ جو ہم کو قطعی اور یقینی طور پر آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے پہنچی ہے۔ ایسی چیز کو نہ ماننے کا نام کفر ہے۔ قطعی اور یقینی کی قید اس لیے لگائی کہ دین کے احکام ہم تک دو طریق سے پہنچے ہیں ایک بطریق تواتر اور ایک بطریق خبر واحد۔ تواتر اس کو کہتے ہیں کہ جو چیز نبی اکرم ﷺ سے ہم تک علی الاتصال اور مسلسل ہم تک پہنچی ہے اور عہد نبوت سے لے کر اس وقت تک نسلاً بعد نسل ہر زمانہ کے مسلمان اس کو نقل کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ایسی شے قطعی اور یقینی ہے جس میں احتمال خطا اور نسیان کا نہیں۔ ایسے قطعی اور یقینی اور متواتر امور کا انکار کفر ہے، اور جو امور خبر واحد سے ثابت ہوں ان کا انکار کفر نہیں۔

متواترات میں تاویل بھی کفر ہے

جس طرح دین کے کسی حکم قطعی اور متواتر کا صریح انکار کفر ہے۔ اسی طرح قطعیات اور متواترات میں تاویل کرنا بھی کفر ہے کیونکہ قطعی امور کی تاویل بھی انکار کے حکم میں ہے مثلاً جس طرح نماز اور روزہ کا صریح انکار کفر ہے۔ اسی طرح نماز اور روزہ میں ایسی تاویل کرنا جو امت محمدیہ کے اجماعی معنی اور اجماعی عقیدہ کے خلاف ہو وہ بھی کفر ہے اور اس قسم کے تاویلی کفر کو اصطلاح شریعت میں

صفحہ ٤٠٩

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

الحاد اور زندقہ کہتے ہیں (جس کو ہم عنقریب بیان کریں گے) تاویل وہاں مسموع ہے جہاں کوئی اشتباہ ہو اور جو امور قطعی اور صاف اور روز روشن کی طرح واضح ہوں ان میں تاویل کرنا۔ انکار کے مترادف ہے۔

ضروریات دین کی تعریف

ضروریات دین اصطلاح شریعت میں انہیں امور کو کہا جاتا ہے کہ جو آنحضرت ﷺ سے بطریق تواتر ثابت ہوں اور عام طور پر مسلمان ان امور کو جانتے ہوں۔ ایمان اور اسلام کے لیے ان امور کا تسلیم کرنا لازم اور ضروری ہے۔

تواتر مرزا غلام احمد کے نزدیک بھی حجت ہے

مرزا صاحب (ازالہ اوہام کے ص ٥٥٦ روحانی خزائن ٣٩٩ ج ٣) پر لکھتے ہیں کہ تواتر کی جو بات ہے وہ غلط نہیں ٹھہرائی جاسکتی۔ اور تواتر اگر غیر قوموں کا بھی ہو تو وہ بھی قبول کیا جائے گا۔

اسلام میں ختم نبوت کا عقیدہ متواتر ہے

ختم نبوت کا عقیدہ۔ ضروریات دین اور متواترات اسلام میں ہے جو قرآن کریم اور حدیث متواتر اور اجماع امت سے ثابت ہے اور نسلاً بعد نسلٍ اور قرناً بعد قرنٍ اور عصراً بعد عصرٍ ہر زمانہ میں نقل ہوتا چلا آیا ہے۔

امت محمدیہؐ میں سب سے پہلا اجماع مدعی نبوت کے قتل پر ہوا

اسود عنسی نے حضورؐ کے زمانہ میں نبوت کا دعوی کیا اور حضورؐ کے حکم سے قتل کیا گیا۔ مسیلمہ کذاب نے نبی کریم علیہ الصلوۃ و التسلیم ہی کے زمانہ میں نبوت کا دعوی کیا۔ صدیق اکبرؓ کے زمانہ خلافت میں تمام صحابہؓ کے اتفاق سے مارا گیا اور اسی طرح دیگر مدعیان نبوت کا قلع قمع کیا گیا۔ اس کے بعد ہر زمانہ میں

صفحہ ٤١٠

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

اسلامی حکومت نے ہر اس شخص کو سزائے موت دی جس نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ اور جس طرح تواتر کا ماننا ضروری ہے اسی طرح اجماع کا ماننا بھی ضروری ہے ورنہ اگر اجماع کا اعتبار نہ کیا جائے تو دین ہر کس و ناکس کے ہاتھ میں ایک کھلونا بن جائے۔ جس قانون کی بنا کسی اجتماعی اور اتفاقی اصول پر نہ ہو اس قانون کی کوئی حقیقت نہیں۔ محض لفظ ہی ہیں جس خود غرض کا جی چاہے گا وہ قانون کے الفاظ میں اپنے حسب منشا تاویل کرلے گا۔

اسی طرح دین بھی اگر اجتماعی اصول پر مبنی نہ ہو تو وہ دین۔ دین کہلانے کا مستحق نہیں محض ایک بازیچہ اطفال اور مضحکہ خیز چیز ہے جس شخص کا جی چاہتا ہے اس کو دین بنا لیتا ہے۔ اسی طرح پوری امت کا دین یکساں نہ ہو گا۔ بلکہ ہر ایک کا دین علیحدہ علیحدہ ہوگا۔

اجماع مرزا صاحب کے نزدیک بھی حجت ہے

مرزا صاحب اپنی کتاب (ایام الصلح ص ٩٧ روحانی خزائن ص ٢٢٣ ج ١٤) میں لکھتے ہیں۔ کہ ”وہ امور جو اہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں۔ ان سب کا ماننا فرض ہے“ ایک دوسری کتاب (انجام آتھم ص ١٤٤ روحانی خزائن ص ١٤٤ ج ١١) میں لکھتے ہیں کہ جو شخص اس شریعت پر مقدار ایک ذرہ کے زیادتی کرے اس پر اللہ کی لعنت اور ملائکہ کی لعنت یا اس میں کمی کرے یا کسی عقیدۂ اجماعیہ کا انکار کرے۔ اس پر اللہ کی لعنت اور تمام آدمیوں کی لعنت یہ میرا اعتقاد ہے۔

ایمان اور کفر میں وجود اور عدم کے اعتبار سے فرق

ایمان اور کفر کی تعریف سے یہ امر واضح ہو گیا کہ ایمان کے وجود اور تحقق کے لیے ان تمام احکام کی تصدیق ضروری ہے جن کا حکم نبوی ہونا قطعاً و یقیناً ثابت ہو گیا۔ ان سب کو قبول اور تسلیم کرنے کا نام ایمان اور اسلام ہے۔

اور کفر کے لیے یہ ضروری نہیں کہ تمام احکام شریعت کا انکار کرے ایک حکم قطعی کا انکار بھی کفر کے تحقق کے لیے کافی ہے۔ قال تعالیٰ

صفحہ ٤١١

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

ياايها الذين آمنوا ادخلوا فى السلم كافة ولا تتبعوا خطوات الشيطان انه لكم عدو مبين-

ترجمہ = اے ایمان والو اسلام میں پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

یعنی اسلام کے تمام احکام کو مانو۔ بعض احکام اسلامیہ کو ماننا اور بعض کو نہ ماننا یہ شیطان کی پیروی ہے۔

افتؤمنون ببعض الكتاب و تكفرون ببعض فما جزاء من يفعل ذلك منكم الا خزى فى الحياة الدنيا و يوم القيامة يردون الى اشد العذاب وما الله بغافل عما تعملون۔

(سورہ بقرہ رکوع ١٠)

ترجمہ = تو کیا مانتے ہو بعض کتاب اور نہیں مانتے بعض کو۔ سو کوئی سزا نہیں اس کی جو تم میں یہ کام کرتا ہے مگر رسوائی۔ دنیا کی زندگی میں اور قیامت کے دن پہنچائے جائیں گے سخت سے سخت عذاب میں۔ اور اللہ بے خبر نہیں تمہارے کاموں سے۔

وقاتلوا الذين لا يومنون بالله ولا باليوم الاخر ولا يحرمون ما حرم الله و رسوله ولا يدينون دين الحق من الذين اوتوا الكتاب حتى يعطوا الجزية عن يدوهم صاغرون۔

(سورہ توبہ رکوع ٤)

ترجمہ = لڑو ان لوگوں سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور نہ حرام جانتے ہیں اس کو جس کو حرام کیا اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہ قبول کرتے ہیں دین سچا۔ ان لوگوں میں سے جو اہل کتاب ہیں۔ یہاں تک کہ وہ جزیہ دیں اپنے ہاتھ سے ذلیل ہو کر۔

افكلما جاء كم رسول بما لا تهوى انفسكم استكبر تم ففريقا كذبتم و فريقا تقتلون وقالو قلوبنا غلف بل لعنهم الله بكفرهم فقليلا ما يؤمنون۔

(بقرہ رکوع ١١)

صفحہ ٤١٢

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

ترجمہ = پھر بھلا کیا جب پاس لایا کوئی رسول وہ حکم جو نہ بھایا۔ تمہارے جی کو تو تم تکبر کرنے لگے۔ پھر ایک جماعت کو جھٹلایا۔ اور ایک جماعت کو تم نے قتل کر دیا۔ اور کہتے ہیں کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہے بلکہ لعنت کی ہے اللہ نے ان کے کفر کے سبب سو بہت کم ایمان لاتے ہیں۔

ان الذین یکفرون باللہ ورسلہ و یقولون نؤمن ببعض و نکفر ببعض و یریدون ان یتخذوا بین ذلک سبیلا اولئک ہم الکافرون حقا واعتدنا للکافرین عذابا مہینا والذین آمنوا باللہ ورسلہ ولم یفرقوا بین احد منہم اولئک سوف یؤتیہم اجورہم وکان اللہ غفورا رحیما۔

ترجمہ = جو لوگ منکر ہیں اللہ سے اور اس کے رسولوں سے اور چاہتے ہیں کہ فرق نکالیں اللہ میں اور اس کے رسولوں میں اور کہتے ہیں ہم مانتے ہیں بعضوں کو اور نہیں مانتے بعضوں کو۔ اور چاہتے ہیں کہ نکالیں اس کے بیچ میں ایک راہ ایسے لوگ وہی ہیں اصل کافر‘ اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے واسطے ذلت کا عذاب۔ اور جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اور جدا نہ کیا ان میں سے کسی کو ان کو جلد دے گا ان کے ثواب‘ اور اللہ ہے بخشنے والا مہربان۔

امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ فلاسفہ یونان جو کہ سموات اور کواکب کے فناء اور فساد کے قائل نہیں وہ قطعا کافر ہیں۔ جیسا کہ امام غزالی نے اپنے رسائل میں اس کی تصریح کی ہے اس لیے کہ یہ لوگ نصوص قطعیہ اور اجماع انبیاء کرام علیہم السلام کے منکر ہیں۔

ترجمہ = جبکہ سورج لپیٹ دیا جائے گا اور ستارے بے نور ہو جائیں گے۔

صفحہ ٤١٣

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

(٣) و فتحت السماء فكانت ابوابا ترجمہ = جبکہ آسمان کھل جائے گا اور اس میں دروازے ہی دروازے ہو جائیں گے۔

نمیدانند کہ مجرد تفوہ بکلمہ شہادت در اسلام کافی نیست تصدیق جمیع ما علم مجیء بہ النبی بالضرورة باید۔ (مکتوبات صفحہ ٣٢٣ جلد ١)

ترجمہ = نہیں جانتے کہ محض کلمہ شہادت زبان سے پڑھ لینا مسلمان ہونے کے لیے کافی نہیں۔ مسلمان ہونے کے لیے ان تمام امور کی تصدیق لازمی اور ضروری ہے کہ جن کا دین سے ہونا قطعی طور پر ثابت ہو گیا ہو۔

البتہ جن امور کا ظنی طور پر دین سے ہونا ثابت ہو ان کے انکار سے کفر کے درجہ تک نہیں پہنچتا۔

ایمان باللہ اور ایمان بالرسول کا مطلب

ایمان باللہ اور ایمان بالرسول کا فقط یہ مطلب نہیں کہ حق تعالیٰ کی الوہیت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کو مانے اور اللہ تعالیٰ کو خدا اور آنحضرتؐ کو نبی اور رسول مانے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے تمام احکام کو دل و جان سے مانے، ورنہ خدا اور رسول کو ماننا اور ان کے کسی حکم کو نہ ماننا یا اس پر نکتہ چینی کرنا۔ یہ ایمان نہیں۔ بلکہ استہزاء اور تمسخر ہے۔ حکومت کو ماننے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اس کے احکام اور قوانین کو تسلیم کرے اور ان کو قابل اطاعت اور واجب العمل سمجھے۔ محض ذات کا ماننا کوئی ماننا نہیں۔ اصل ماننا حکم کا ماننا ہے۔

دنیا میں سب سے پہلا کفر

دنیا میں سب سے پہلا کفر ابلیس کا ہے جس نے حکم خداوندی کو خلاف حکمت اور خلاف مصلحت قرار دیا۔ حق تعالیٰ نے جب فرشتوں کو یہ حکم دیا کہ آدم

صفحہ ٤١٤

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

علیہ السلام کو سجدہ کریں تو سب سجدہ میں گر پڑے۔ مگر ابلیس نے خدا تعالیٰ کے اس حکم پر یہ اعتراض کیا۔

انا خیر منہ خلقتنی من نار و خلقته من طین۔

ترجمہ = میں آدم سے بہتر ہوں آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔ اور آگ مٹی سے بہتر ہے اس لیے بہتر کو کمتر کے لیے سجدہ کا حکم مناسب نہیں۔

ابلیس حق تعالیٰ کی توحید اور ربوبیت اور خالقیت کا منکر نہ تھا بلکہ حق تعالیٰ کے ایک حکم کو خلاف حکمت سمجھتا تھا اس لیے وہ کافر گردانا گیا۔ ابی و استکبر وکان من الکافرین اور ہمیشہ کے لیے ملعون و مطرود اور مرجوم اور مردود بنا کر بارگاہ خداوندی سے نکال باہر کیا گیا۔

معلوم ہوا کہ حکم خداوندی پر اعتراض کرنا اور اس کو خلاف حکمت اور غیر مناسب تصور کرنا یہ بھی کفر ہے۔ خدا وحدہ لاشریک لہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نہ ذات و صفات میں کوئی اس کا شریک اور سہیم ہے اور نہ اس کے حکم میں کوئی اس کا شریک اور سہیم ہے۔ دنیا میں سب سے پہلا کافر اور مشرک اعظم شیطان ہے جس نے اپنے زعم فاسد اور خیال کاسد کو خداوند ذوالجلال کے حکم کے برابر نہیں۔ بلکہ اس سے بہتر سمجھا۔

شیطان نے نہ خدا کی تکذیب کی اور نہ اس کی وحدانیت کا انکار کیا اور نہ حضرت آدم کی خلافت اور نبوت کا انکار کیا صرف ایک حکم خداوندی پر اعتراض کرنے کی وجہ سے کافر اور ہمیشہ کے لیے ملعون اور مردود بنایا۔ فاخرج فانک من الصاغرین وان علیک لعنتی الی یوم الدین۔

فائدہ

شیطان نے فقط کفر ہی نہیں کیا۔ بلکہ حماقت بھی کی کہ بے دلیل آگ کے مٹی سے بہتر ہونے کا دعویٰ کیا۔ شیطان کے پاس کوئی دلیل نہیں کہ جس سے وہ

صفحہ ٤١٥

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

آگ کا مٹی سے بہتر ہونا ثابت کر سکے۔ بلکہ مٹی کے بہتر ہونے کے دلائل بہت ہیں۔

اور ثمرات کا منبع اور سرچشمہ ہے جس پر تمام عالم کی حیات موقوف ہے۔

زندگی بسر کرتے ہیں اور مردے اس میں دفن ہوتے ہیں۔

کی کبھی ضرورت پیش آتی ہے۔

بلکہ محافظ ہے۔

طبیعت میں سکون اور وقار اور رزانت ہے۔

علاوہ ازیں حق جل شانہ مالک مطلق اور خالق مطلق ہیں۔ جس طرح کائنات کا وجود اس کا رہین منت ہے۔ اسی طرح کائنات کی فضیلت بھی اس کی مشیت کے تابع ہے۔ جس کو چاہیں افضل بنائیں اور جس کو چاہیں مفضول بنائیں۔ جس کو چاہیں ساجد بنائیں اور جس کو چاہیں مسجود بنائیں۔

کراز زہرۂ آنکہ از بیم تو
کشاید زبان جز بہ تسلیم تو
زبان تازہ کردن باقرار تو
نیانگیختن علت از کار تو

لایسئل عما یفعل وہم یسئلون اور جس کا وجود بھی اپنا نہیں وہ سوال کیسے کر سکتا ہے۔ ملائکہ اللہ (اللہ کے فرشتے) جانتے تھے کہ ہم نور سے پیدا کئے گئے اور ہر لمحہ اور ہر لحظہ سانس کی طرح اللہ کی تسبیح و تحمید اور تقدیس و تمجید ہم سے جاری ہے۔ اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے اور ان کی اولاد زمین میں فساد ہی

صفحہ ٤١٦

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

پھیلائے گی۔ مگر بایں ہمہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کے لیے سجدہ کا حکم کیا۔ فوراً سجدہ میں گر گئے اور سمجھے کہ تمام عزتیں اور فضیلتیں ان کے حکم کے تابع ہیں اور حکم خداوندی سے سرتابی کے برابر کوئی ذلت نہیں اور اعتراض نہیں کیا کہ ہم نور سے پیدا کئے گئے اور آدم مٹی سے۔

مسئلہ تکفیر اہل قبلہ

ائمہ دین میں یہ مسئلہ مشہور ہے کہ اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں سو جاننا چاہیے کہ اہل قبلہ کا لفظ اصطلاح میں اہل ایمان کے لیے بولا جاتا ہے اور اصطلاح شریعت میں اہل قبلہ وہی لوگ کہلاتے ہیں کہ جو تمام قطعیات اسلام اور ضروریات دین پر ایمان رکھتے ہوں۔ کیونکہ جو لوگ ضروریات دین کے منکر ہوں۔ مثلاً شراب اور زنا کو حلال سمجھتے ہوں۔ وہ شریعت میں اہل قبلہ ہی نہیں۔ اہل قبلہ کے یہ معنی نہیں کہ جو شخص فقط قبلہ رخ نماز پڑھتا ہو۔ اگرچہ وہ کسی حکم قطعی کا منکر ہو۔

اہل قبلہ کی تکفیر نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اہل قبلہ کی گناہ کبیرہ کے ارتکاب سے تکفیر نہیں کی جائے گی جیسا کہ خوارج اور معتزلہ کا مذہب ہے کہ گناہ کبیرہ کے ارتکاب سے انسان دائرہ ایمان سے خارج ہو جاتا ہے۔ اہل سنت و الجماعت کا مذہب یہ ہے کہ اہل قبلہ کی زنا کاری اور شراب خواری کی وجہ سے تکفیر نہیں کی جائے گی۔ یا مثلاً کوئی شخص دیدہ و دانستہ نماز کو ترک کر دے۔ اس کو کافر نہیں کہا جائے گا۔ بلکہ فاسق و فاجر کہا جائے گا۔

ہاں البتہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں نماز پنج گانہ کو فرض نہیں سمجھتا یا چوری اور زنا کو حلال سمجھتا ہوں۔ تو یہ شخص بالاجماع کافر ہو گا۔

علامہ خیالی فرماتے ہیں۔

معنی ہذہ القاعدۃ ان لا یکفر فی المسائل الاجتہادیۃ اذ لا نزاع فی کفر من انکر ضروریات الدین۔

صفحہ ٤١٧

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

ترجمہ = اہل قبلہ کی تکفیر نہ کرنے کا جو قاعدہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسائل اجتہادیہ میں اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ جو شخص ضروریات دین کا انکار کرے اس کے کفر میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں۔

شیخ عبدالحق محدث دھلویؒ فرماتے ہیں کہ اس قاعدے کے معنی یہ ہیں کہ جو لوگ مسلمانوں کی طرح قبلہ رخ نماز پڑھتے ہیں اگر ان سے بے خبری میں کوئی کلمہ ایسا نکل جائے کہ جس سے کفر لازم آتا ہو تو ان کی تکفیر نہ کی جائے گی۔ جب تک صاف طور پر یہ نہ معلوم ہو جائے کہ وہ بھی اس کا التزام کرتے ہیں۔ کیونکہ لزوم کفر کفر نہیں۔ التزام کفر کفر ہے۔ خوب سمجھ لو۔

ضروریات دین میں تاویل مسموع نہیں

تاویل وہاں معتبر ہے کہ جہاں کوئی اشتباہ ہو اور قواعد عربیت اور قواعد شریعت میں اس کی گنجائش ہو۔ یعنی وہ تاویل کتاب و سنت اور اجماع امت کے خلاف نہ ہو اور جو حکم شرعی ایسی دلیل سے ثابت ہو کہ جو قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت بھی ہو اس میں تاویل معتبر نہیں۔ بلکہ ایسے امور میں تاویل کرنا انکار کے ہم معنی ہے۔

مثلاً اگر کوئی عین نصف النہار کے وقت جس وقت کوئی ابر اور غبار بھی نہ ہو اور دھوپ نکل رہی ہو یہ کہے کہ اس وقت دن نہیں ہے۔ بلکہ رات ہے۔ ممکن ہے اس وقت آسمان پر کوئی بجلی کوند رہی ہو اور یہ روشنی اس کی ہو۔ جس کو لوگ دھوپ سمجھے ہوئے ہیں کیا کوئی عاقل اس تاویل کو تاویل کہے گا۔ بلکہ یہ کہے گا کہ ایک محسوس اور مشاہدہ چیز کا انکار کر رہا ہے۔ اس طرح کی تاویلیں اگر معتبر ہوں تو دنیا میں کوئی کافر نہ رہے گا۔ اور دہریہ اور منکرین توحید اور منکرین رسالت بھی کافر نہ ہوں گے۔ آخر وہ بھی کسی دلیل اور تاویل ہی کی بنا پر توحید و رسالت کے منکر ہیں۔

صفحہ ٤١٨

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

علماء اسلام کی فتوائے تکفیر میں احتیاط

علماء ربانین نے فتوائے تکفیر میں کبھی عجلت نہیں کی۔ فروعی مسائل میں کسی کو کافر نہیں بتایا۔ جب تک روز روشن کی طرح کسی کا کفر واضح نہیں ہو گیا۔ اس وقت تک کفر کا فتویٰ نہیں دیا۔ بلکہ قاعدہ مقرر فرما دیا کہ اگر مسلمان کے کلام میں ننانوے وجہیں کفر کی ہوں اور ایک ادنیٰ سا احتمال صحیح معنی کا بھی ہو تو جب تک قطعی طور پر یہ نہ معلوم ہو جائے کہ متکلم نے معنی کفر ہی مراد لیے ہیں۔ اس وقت تک اس کے کفر کا فتویٰ دینا جائز نہیں۔ ہاں اگر کسی جگہ قطعی اور یقینی طور پر کفر ثابت ہو جائے تو پھر کفر کا فتویٰ دینا فرض اور واجب ہو گا۔

مرزا صاحب ہی کو لے لیجئے کہ ابتداء میں علماء نے مرزا صاحب کے کلام کی تاویل کی مگر جب مرزا صاحب کا کفر اس درجہ واضح ہو گیا کہ تاویل کی گنجائش نہ رہی تو چار و ناچار تکفیر کرنی پڑی تاکہ مسلمان گمراہ نہ ہوں۔ ایمان اور کفر کا فرق واضح کرنا علماء کا فریضہ ہے۔ جو اللہ کی طرف سے ان پر عائد ہے۔ اگر علماء اس قدر احتیاط نہ کرتے تو آج کفر اور اسلام میں امتیاز نہ رہتا۔ جس ملحد کا جی چاہتا وہ اسلام کو کفر اور کفر کو اسلام بتاتا۔ اللہ تعالیٰ علماء دین کو جزائے خیر دے کہ انہوں نے کفر اور اسلام کے فرق کو واضح کیا۔

اور جب کبھی کسی عالم نے غلطی یا کسی خود غرضی کی وجہ سے کوئی غلط فتویٰ دیا۔ اسی وقت اس کی تردید کی لہٰذا چند غلط فتوؤں کی بنا پر تمام صحیح فتوؤں کا رد کرنا سراسر خلاف عقل ہے۔

بعض فتوؤں کے دانستہ یا نادانستہ غلط ہونے سے یہ نتیجہ نکالنا کہ سب فتوے غلط ہیں۔ اور تکفیر کا کوئی فتویٰ قابل اعتبار نہیں۔ لہٰذا مرزائیوں کے کفر کا فتویٰ بھی قابل اعتبار نہیں۔ یہ نتیجہ نکالنا ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی یہ کہے کہ چونکہ بعض حکام عدالت نے دانستہ یا نادانستہ غلط فیصلے کئے ہیں اور کر رہے ہیں اور روزانہ ان کی اپیلیں ہو رہی ہیں ادھر فیصلہ اور ادھر اپیل۔ لہٰذا عدالت کا کوئی فیصلہ

صفحہ ٤١٩

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

قابل اعتبار نہیں یا یہ کہے کہ پولیس کے چالان بہت سے غلط بھی ہوتے ہیں۔ لہٰذا عدالت یا پولیس کا کسی کے متعلق یہ کہنا کہ یہ مجرم ہے یا یہ شخص چور یا بدمعاش ہے صحیح نہیں۔

تو کیا دنیا کے مجرم یہ کہہ کر رہا اور بری ہو سکتے ہیں کہ بعض حکام فیصلہ میں غلطی کرتے ہیں یا بد نیت ہوتے ہیں۔ اگر ایسا ہو جائے تو کارخانہ عالم درہم و برہم ہو جائے۔ مرزا صاحب کی طرح دنیا میں بہت سے کذاب مدعی ہوئے ہیں۔ تو کیا کوئی شخص سچے نبیوں کی اس بنا پر تکذیب کر سکتا ہے۔ کہ سلسلہ مدعیان نبوت میں بہت سے کاذب بھی ہیں۔ لہٰذا ہم کسی نبی کو نہیں مانتے۔

پس جس طرح دنیا میں صدق اور کذب کی پڑتال کی جاتی ہے۔ اسی طرح فتاوائے تکفیر کو بھی دیکھنا چاہیے جو کتاب وسنت کے معیار پر صحیح اترے اس کو قبول کیا جائے اور جو اس معیار پر نہ اترے اس کو قبول نہ کیا جائے۔

محض اتنا کہہ دینے سے کہ ایک فرقہ دوسرے فرقہ کی تکفیر کرتا ہے یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ کہ دنیا میں کوئی کافر اور مرتد نہیں۔

کیا ڈاکٹروں اور بیرسٹروں کے اختلاف سے یہ فیصلہ کرنا جائز ہے کہ ڈاکٹروں اور بیرسٹروں کا کوئی قول اس لیے قابل اعتبار نہیں کہ ان میں اختلاف ہے۔ لہٰذا دنیا میں اب کوئی مریض نہیں۔

اصل وجہ یہ ہے کہ بے دین اور بد دین لوگ ہر وقت اس کوشش میں رہتے ہیں کہ عوام کو علماء سے بدظن کیا جائے اور مسئلہ تکفیر کو آڑ بنا کر علما کا تمسخر کیا جائے اور لوگوں کے جذبات کو ان کے خلاف ابھارا جائے تاکہ لوگ دین سے بیزار ہو جائیں اور علماء اتنے ذلیل ہو جائیں کہ ایمان اور کفر اور حلال اور حرام کی کوئی بات زبان ہی سے نہ نکال سکیں۔ ان بیچارے بے دینوں کو علماء سے کوئی ذاتی عداوت نہیں اور نہ ذاتی عداوت کی کوئی وجہ موجود ہے بلکہ نفرت و حقارت کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ علماء حلال و حرام کا نام کیوں لیتے ہیں۔ ہم آزاد ہیں جو چاہیں کریں۔ یہ گروہ ہماری رشوت ستانی اور شراب خوری اور بے پردگی وغیرہ وغیرہ کو

صفحہ ٤٢٠

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

کیوں حرام اور ناجائز کہتا ہے۔

مسئلہ تکفیر میں احتیاط کا دوسرا پہلو

مسئلہ تکفیر نہایت نازک ہے۔ جس میں غایت درجہ احتیاط کی ضرورت ہے جس طرح کسی مسلمان کو بلا قطعی اور واضح دلیل کے کافر کہنا وبال عظیم ہے اسی طرح جس شخص کا کفر دلیل قطعی سے واضح ہو جائے اس کو مسلمان کہنا بھی نہایت خطرناک ہے۔ اس زمانہ میں ایک جماعت تو وہ ہے کہ جس کا مسلک یہ ہے کہ ادنیٰ ادنیٰ بات میں مسلمانوں کی تکفیر کی جائے اور اس کے بالمقابل ایک دوسری جماعت تعلیم یافتہ اور آزاد خیال لوگوں کی ہے۔ ان کا مسلک یہ ہے کہ جو شخص اسلام کا مدعی ہو اور اپنے آپ کو وہ مسلمان کہتا ہو کسی طرح اس کی تکفیر نہ کی جائے۔ اگرچہ وہ ضروریات دین اور قطعیات اسلام کا منکر ہو اور اسلام پر نکتہ چینی کرتا ہو۔

خوب سمجھ لینا چاہیے کہ جس طرح مسلمان کو بے دلیل کافر کہنا کفر ہے۔ اسی طرح کافر کو مسلمان سمجھنا بھی کفر ہے مسلمان ہونے کے لیے فقط مدعی اسلام ہونا کافی نہیں جب تک کہ اسلام کے تمام احکام کو دل و جان سے نہ مانے۔

حکومت کا وفادار وہی ہے کہ جو حکومت کے تمام قوانین اور آئین کو واجب العمل تسلیم کرتا ہو۔ محض زبان سے وفاداری کا دعوی کافی نہیں۔ جو شخص حکومت کی وفاداری کا مدعی ہو اور قانون شکنی کو بھی جائز قرار دیتا ہو اور علی الاعلان لوگوں کو قانون شکنی پر آمادہ کرتا ہو یا قانون کے ایسے جدید اور نئے معنی بیان کرتا ہو کہ جو اب تک وزراء حکومت اور حکام عدالت کے حاشیہ خیال میں بھی نہ گزرے ہوں تو ایسا شخص حکومت کے نزدیک وفادار نہیں بلکہ جھوٹا اور مکار ہے اور فریبی اور عیار ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص توحید و رسالت کا تو اقرار کرے۔ مگر شراب اور زنا کی حرمت کا انکار کرے یا یہ کہے کہ میں ارکان اربعہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کو فرض نہیں سمجھتا۔ تو جو شخص شراب اور زناء کے حرمت کے منکر کو اور علیٰ ہذا ارکان اربعہ کی فرضیت کے منکر کو کافر نہ سمجھے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ یہ

صفحہ ٤٢١

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

شخص بھی شراب و زنا کی حرمت اور ارکان اربعہ کی فرضیت کا منکر ہے۔ اگر یہ خود منکر نہ ہوتا تو منکر کو ضرور کافر سمجھتا۔ جو شخص انبیاء کرام کے گالیاں دینے والے کو کافر نہیں سمجھتا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ شخص بھی انبیاء کرام کی توہین اور گستاخی کو جائز سمجھتا ہے۔ جو شخص مسیلمہ کذاب کو کافر نہ سمجھے اس کا صاف مطلب ہے کہ دعوائے نبوت اس شخص کے نزدیک بھی جائز ہے۔

مسئلہ تکفیر کی غرض و غایت یہ ہے کہ اسلام اور کفر کی حدود ملتبس نہ ہونے پائیں۔ اور خدا کے وفادار اور باغی دوست اور دشمن ایک دوسرے سے جدا اور ممتاز ہو جائیں۔ لیمیز اللہ الخبیث من الطیب لہٰذا جو شخص بے وجہ مسلمان کو کافر اور ضروریات دین کے منکر کو مسلمان بتاتا ہے۔ وہ اسلام کو کفر کی حدود میں۔ اور کفر کو اسلام کی حدود میں داخل کرنا چاہتا ہے دنیا کی تمام عدالتوں کا مقصد صرف یہ ہے کہ عدل اور ظلم کی حدود ملتبس نہ ہونے پائیں۔ اسی طرح تمام انبیاء کرام کی بعثت کا مقصد یہ ہے کہ ایمان اور کفر کی حدود ملتبس نہ ہونے پائیں اور ایمان و توحید کا آب طہور، کفر اور شرک کی نجاست کی آمیزش سے پاک اور صاف رہے۔ قال تعالے انما المشرکون نجس۔ فاجتنبوا الرجس من الاوثان۔

ایمان۔ احکم الحاکمین کی بے چون و چرا اطاعت اور حلف وفاداری کے نام ہے اور کفر، اللہ رب العالمین سے بغاوت کا نام ہے۔ کفر کی حقیقت یہ ہے کہ احکم الحاکمین نے جو قانون اور حکم اپنے خلفاء اور وزراء کے توسط سے بندوں پر اتارا ہے اس کو واجب العمل نہ سمجھے اور قانون حکومت کو واجب العمل نہ سمجھنا یہی بغاوت ہے۔

خلاصہ یہ کہ

مسئلہ تکفیر کی حقیقت صرف یہ ہے کہ احکم الحاکمین کے وفادار اور باغی کے فرق کو واضح کر دیا جائے اور مفتی۔ مستفتی کو یہ بتلادے کہ تو اس قول یا اس فعل

صفحہ ٤٢٢

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

سے خدا کے وفاداروں میں نہیں رہا یا خدا کے باغیوں میں جا ملا۔

علماء کسی کو کافر بناتے نہیں البتہ بتاتے ہیں

حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی قدس اللہ سرہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ علماء کسی کو کافر نہیں بناتے اور نہ کوئی کسی کو کافر بنا سکتا ہے۔ کافر تو خود اپنے قول اور فعل سے بنتا ہے۔ البتہ علما اس کو یہ بتا دیتے ہیں کہ اس قول اور فعل سے آدمی کافر ہو جاتا ہے۔ کافر بنانا علماء کے اختیار میں نہیں اور بتا دینا جرم نہیں۔

اگر کوئی وکیل یا بیرسٹر کسی تقریر یا تحریر کے متعلق یہ بتادے کہ یہ تقریر اور تحریر قانوناً بغاوت اور شدید ترین جرم ہے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وکیل نے اس کو باغی بنایا۔ بلکہ یہ کہا جائے گا کہ اس قابل اور نکتہ رس وکیل نے تیری بغاوت کو بتلا دیا اور تیرے باغی ہونے کو جتلا دیا تاکہ تو پکڑا نہ جائے۔ بالفرض اگر اس وکیل کی رائے صحیح بھی نہ ہو تب بھی یہ وکیل قابل تشکر ہے کہ اس نے متنبہ تو کر دیا۔

ارتداد۔۔ الحاد۔۔ زندقہ ۔۔ کے احکام و تعریفات

ارتداد کی تعریف

ارتداد کے معنی لغت میں لوٹ جانے اور پھر جانے کے ہیں اور اصطلاح شریعت میں ایمان اور اسلام میں داخل ہونے کے بعد کفر کی طرف لوٹ جانے کے ہیں۔

امام راغب اصفہانیؒ مفردات میں لکھتے ہیں۔ ھو الرجوع من الاسلام الی الکفر ترجمہ = اسلام سے کفر کی طرف پھر جانے کا نام ارتداد ہے۔ اور یہ امر وضاحت کے ساتھ معلوم ہو چکا ہے کہ کفر کے لیے یہ ضروری

صفحہ ٤٢٣

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

نہیں کہ مذہب بھی تبدیل کرے۔ بلکہ شریعت کے کسی ایک حکم قطعی کے انکار سے بھی کافر ہو جاتا ہے۔

جاننا چاہیے کہ ارتداد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ علانیہ طور پر تبدیل مذہب کر دے۔ مثلاً ترک اسلام کر کے یہودی یا عیسائی ہو جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ نہ تو تبدیل مذہب کرے۔ اور نہ توحید و رسالت کا انکار کرے۔ لیکن شریعت کے کسی حکم کا انکار کرے۔ مثلاً یہ کہے کہ میں نماز اور زکوٰۃ کو ضروری اور فرض نہیں سمجھتا اور حج کے لیے مکہ مکرمہ جانا ضروری نہیں سمجھتا بلکہ مثلاً قادیان یا ربوہ کا جانا حج کے قائم مقام ہو سکتا ہے تو ایسا شخص بلاشبہ کافر اور مرتد ہے۔ اور دائرہ اسلام سے قطعاً خارج ہے۔ اگرچہ یہ شخص خدا کی تمام صفات کاملہ پر ایمان رکھتا ہو اور صدق دل سے آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا اقرار کرتا ہو۔ اس لیے کہ جو حکم قرآن کریم اور حدیث متواتر سے ثابت ہو چکا ہے اس کا انکار۔ انکار رسالت کے مترادف اور ہم معنی ہے۔ جس طرح سرے ہی سے حکومت کو نہ تسلیم کرنا بغاوت ہے۔ اسی طرح ایک قانون شاہی کی قانون شکنی اور انکار بھی بغاوت ہے۔ اگرچہ وہ اس قانون کے سوا حکومت کے اور تمام احکام اور قوانین کو تسلیم کرے۔

شیطان کا کفر اور ارتداد بھی اسی قسم کا تھا کہ وہ خدا کی توحید اور ربوبیت کا مقر اور معترف تھا۔ اور یا رب.... کہہ کر حق تعالیٰ سے درخواست کرتا تھا۔ قال رب فانظرنی الی یوم یبعثون۔ قال رب بما اغویتنی مگر حکم سجود کو قابل عمل نہیں سمجھتا تھا۔

ابی واستکبر وکان من الکافرین ۝

ترجمہ = ابلیس نے اللہ کے حکم کا انکار کیا اور تکبر کیا اور کافروں میں سے ہو گیا۔ یعنی پہلے مسلمان تھا اب کافر ہو گیا اور اسلام کے بعد کافر ہونے ہی کو ارتداد اور ہونے والے کو مرتد کہتے ہیں۔

چنانچہ حافظ ابن تیمیہ ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ ص ٣٦٧ میں

صفحہ ٤٢٤

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

لکھتے ہیں۔

كما ان الردة تتجرد عن السب فكذلك تتجرد عن قصد تبديل الدين وارادة التكذيب بالرسالة كما تجرد كفر ابليس عن قصد التكذيب بالربوبية

ترجمہ = یعنی ارتداد کے لیے یہ ضروری نہیں کہ نبی کی شان میں سب و شتم کرے یا تبدیل مذہب کرے یا نبوت و رسالت کی تکذیب کرے۔ بغیر اس کے بھی ارتداد متحقق ہو سکتا ہے جیسا کہ شیطان ملعون کا ارتداد حکم خداوندی کے نہ ماننے کی وجہ سے تھا خدا کی وحدانیت اور ربوبیت کے انکار کا ارادہ بھی نہ تھا۔

مرزا صاحب کے نزدیک ایمان اور کفر کی حقیقت

گزشتہ سطور میں یہ امر بخوبی واضح ہو گیا کہ ایمان کے لیے تمام ضروریات دین کا ماننا لازم ہے مگر کفر اور ارتداد کے لیے تمام ضروریات دین کا انکار ضروری نہیں بلکہ بعض ضروریات دین کا انکار بھی ویسا ہی کفر ہے جیسا کہ کل ضروریات دین کا انکار کفر ہے کفر اور ارتداد کے لیے اسلام یا توحید و رسالت کا انکار ضروری نہیں۔ اب ہم یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ کفر و ارتداد کے بارہ میں مرزا صاحب کا یہی مسلک ہے۔

مرزا صاحب نے اپنی تصانیف میں ڈاکٹر عبدالحکیم کو بار بار کافر اور مرتد بتایا ہے۔ (حقیقت الوحی ص ١٥٩ روحانی خزائن ص ١٦٣ ج ٢٢) حالانکہ ڈاکٹر عبدالحکیم سوائے مرزا صاحب کی نبوت کے اسلام کے کسی حکم کے منکر نہ تھے۔ معلوم ہوا ارتداد کفر کے لیے صرف ایک امر کا انکار بھی کافی ہے اگرچہ وہ تاویل ہی سے کیوں نہ ہو اور علیٰ ہذا جو لوگ مرزا صاحب کی نبوت کے منکر یا متردد ہیں۔ وہ بھی مرزا صاحب کے نزدیک کافر ہیں۔ بلکہ مرزا صاحب اپنے منکر اور رسول اللہ ﷺ کے منکر کا کفر ایک ہی قسم کا بتاتے ہیں۔ (حقیقت الوحی ص ١٧٩ روحانی خزائن ص ١٨٥ ج

صفحہ ٤٢٥

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

کے لیے کافی ہے۔

حیرت اور صد حیرت ہے کہ پنجاب کے مسیلمہ کذاب کے متبعین اور اذناب ہم سے یہ کہتے ہیں کہ تم اہل قبلہ اور کلمہ پڑھنے والوں کی کیوں تکفیر کرتے ہو اور اپنے گریبان میں منہ ڈال کر نہیں دیکھتے کہ تم تمام روئے زمین کے اہل قبلہ کو قادیان کے ایک دہقان کے نہ ماننے کی وجہ سے کافر بتلاتے ہو۔

الحاد اور زندقہ کی تعریف

جو امور بدیہی اور قطعی طور پر دین سے ثابت ہوں۔ ان میں تاویل کرنا اور ان کے ایسے معنی بیان کرنا جو اجماعی عقیدہ کے خلاف ہوں۔ قرآن کریم میں اس کا نام الحاد اور حدیث میں اس کا نام زندیق ہے اور اصطلاح شریعت میں ملحد اور زندیق اس شخص کو کہتے ہیں۔ کہ جو الفاظ تو اسلام کے کہے مگر معنے ان کے ایسے بیان کرے۔ جس سے اس کی حقیقت ہی بدل جائے جیسے صلوۃ اور زکوۃ میں یہ تاویل کرے کہ قرآن میں صلوۃ سے فقط دعا اور ذکر کے معنی مراد ہیں اور اس خاص ہیئت سے نماز پڑھنا ضروری نہیں۔ اور زکوۃ سے تزکیہ نفس مراد ہے ایک معین نصاب سے مال کی خاص مقدار کا دینا مراد نہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص قانون کی کسی دفعہ کی ایسی شرح کرے۔ جو اس کے منشا کے مطابق اور تمام عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف ہو اور یہ دعویٰ کرے کہ اب تک ججوں نے جو اس دفعہ کا مطلب سمجھ کر فیصلہ کیا وہ سب غلط تھا۔

اس شخص کے متعلق عدالت کا فیصلہ یہ ہو گا کہ یہ شخص تاویلات فاسدہ سے حکومت کے لٹریچر اور اس کے قانون کی حقیقت کو پلٹنا اور بدلنا چاہتا ہے اور صدہا سال کے عدالتوں کے فیصلوں کو غلط اور تمام گزشتہ فاضل اور مسلم عاقل و دانا ججوں کو نادان اور ناسمجھ ثابت کرنا چاہتا ہے۔ اور جو شخص مسلم عاقلوں اور داناؤں کو ناسمجھ اور نادان ثابت کرنا چاہتا ہے۔ یہی اس کے نادان ہونے کی واضح اور

صفحہ ٤٢٦

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

روشن دلیل ہے۔

کافر اور منافق اور زندیق میں فرق

جو شخص ظاہر اور باطن میں دین اسلام کا منکر ہو وہ کافر ہے، اور جو ظاہر میں مقر اور باطن میں منکر ہو وہ منافق ہے، اور جو شخص دین اسلام کا تو دل سے مقر ہو مگر ضروریات دین میں ایسی تاویلیں کرتا ہو جس سے شریعت کی حقیقت اور غرض و غایت ہی بدل جائے تو ایسا شخص اصطلاح شریعت میں ملحد اور زندیق کہلاتا ہے اور جس طرح منافق کا حکم کافر سے اشد ہے اسی طرح ملحد اور زندیق کا حکم منافق سے اشد ہے اور الحاد اور زندقہ درحقیقت نفاق کی اعلیٰ ترین قسم ہے۔ جس طرح منافق ملمع کاری سے کام لیتا ہے۔ اسی طرح ملحد اور زندیق اپنے عقائد کفریہ پر تاویل فاسد کے ذریعہ اسلامی صورت کا ملمع کر کے لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے تاکہ لوگ اسلام کے دھوکہ میں اس کے باطنی کفر کو قبول کر لیں۔ جیسا کہ علامہ شامیؒ رد المحتار میں لکھتے ہیں۔

فان الزنديق يموه كفره ويروج عقيدته الفاسدة ويخرجها في الصورة الصحيحة۔

(شامی صفحہ ٣٣٤ جلد ٣ باب الردۃ)

ترجمہ = تحقیق ملحد اور زندیق اپنے کفر پر اسلام کا ملمع کرتا ہے تاکہ اپنے عقیدہ فاسدہ کو اس ملمع کاری کے ذریعہ لوگوں میں رائج کر سکے اور اپنے اس فاسد عقیدہ کو عمدہ صورت میں پیش کر سکے۔

حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد

ایمان اور کفر کی تقسیم

خداوند ذوالجلال نے کائنات ارضی اور سماوی کے پیدا کرنے کے بعد سب سے اخیر میں ہمارے والد بزرگوار محترم سیدنا حضرت آدم صلی اللہ علی نبینا اور علیہ وسلم کو پیدا فرمایا اور مسجود ملائک بنایا اور اپنی خلافت و نیابت کا تاج ان کے سر پر

صفحہ ٤٢٧

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

رکھا اور نبوت و رسالت کا خلعت ان کو پہنایا اور اپنا نائب خلیفہ بنا کر سرزمین ہند پر اتارا (حضرت آدم کے ہندوستان میں اترنے کی روایتیں تفسیر درمنثور جلد اول قصہ حضرت آدم میں مذکور ہیں۔ اہل علم درمنثور کی طرف مراجعت فرمائیں) تاکہ اس شہنشاہ مطلق اور احکم الحاکمین کے احکام کے مطابق تمام عالم پر حکمرانی فرمائیں۔ بادشاہوں کا طریقہ یہ ہے کہ جب کسی کو وزارت عظمیٰ کا منصب جلیل عطا فرماتے ہیں تو فوجوں کو سلامی کا حکم دیتے ہیں۔ ملائکہ ارضی و سماوی۔ یہ خداوند احکم الحاکمین کے فوج اور لشکر ہیں۔ اس لیے ان کو حکم ہوا کہ آدم کو سجدہ کریں۔ یہ ہمارے خلیفہ اور نائب ہیں۔ ان کا حکم ہمارا حکم ہوگا۔ اور ان کی اطاعت ہماری اطاعت ہوگی۔

حضرت آدم علیہ السلام حق تعالیٰ شانہ کے پہلے نبی اور پہلے رسول اور خلیفہ ہیں اور سرور عالم سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ حق تعالیٰ کے آخری نبی اور آخری رسول اور آخری خلیفہ ہیں۔ اول سے آخر تک تمام انبیاء کرام فقط رضا اور غیر رضا کا فرق بتلانے کے لیے دنیا میں آئے کہ کونسا کام اللہ کی رضا اور خوشنودی کے مطابق ہے اور کونسا کام اس کی مرضی کے خلاف ہے اور کونسی چیز اللہ کے نزدیک مستحسن اور پسندیدہ ہے اور کونسی چیز اللہ کے نزدیک قبیح اور ناپسند ہے جس نے حضرت انبیاء کے اعتماد اور بھروسہ پر اللہ کے احکام کو قبول کیا۔ وہ مومن بنا اور جس نے قبول نہ کیا وہ کافر بنا۔ اس طرح عالم دو قسموں پر منقسم ہوا یعنی مومن اور کافر۔

ہو الذی خلقکم فمنکم کافر ومنکم مومن ترجمہ = اسی نے تمہیں پیدا فرمایا پس تم میں سے مومن ہیں اور تم میں سے کافر۔

اور حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وقت سے ایمان اور کفر کی جنگ شروع ہوگئی۔ اور قوم دو قسموں پر منقسم ہوگئی۔ آخری فتح ایمان اور اہل ایمان کی ہوئی۔

حضرات انبیاء کرام کی بعثت کا مقصد۔ حق اور باطل۔ ہدایت اور

صفحہ ٤٢٨

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

ضلالت۔ سعادت اور شقاوت کا فرق واضح کرنا اور پھر اہل ایمان اور اہل ہدایت کو ساتھ لے کر اہل باطل سے جہاد و قتال کرنا ہے۔ تاکہ خدا کے دوستوں اور دشمنوں میں امتیاز ہو جائے۔

اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حزب اللہ اور حزب الرحمٰن کا لقب عطا کیا اور کافروں کو حزب الشیطان کے نام سے موسوم کیا اور ہر فریق کے احکام جدا جدا بتلا دیئے۔ تاکہ دوستوں اور دشمنوں کے ساتھ یکساں معاملہ نہ ہو۔

کفر کے احکام

کفر کے متعلق دو قسم کے احکام ہیں ایک اخروی اور ایک دنیوی۔ اخروی حکم یہ ہے کہ کفر کی سزا دوزخ کا دائمی عذاب ہے۔ کافر اور مشرک ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ کما قال تعالیٰ

ان الذین کفروا و صدوا عن سبیل اللہ ثم ماتوا و ھم کفار فلن یغفر اللہ لھم

ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ و یغفر ما دون ذلک لمن یشاء۔

ان الذین کفروا و ظلموا لم یکن اللہ لیغفر لھم و لا لیھدیھم طریقا۔

ترجمہ = جو لوگ منکر ہوئے اور روکا انہوں نے اللہ کی راہ سے پھر مر گئے اور وہ منکر رہے تو ہرگز نہ بخشے گا ان کو اللہ

بیشک اللہ نہیں بخشتا اس کو جو اس کا شریک کرے اور بخشتا ہے اس کے نیچے کے گناہ جس کے چاہے۔

جو لوگ کافر ہوئے اور حق دبا رکھا ہرگز اللہ بخشنے والا نہیں ان کو اور نہ دکھلاوے گا ان کو سیدھی راہ۔

اور یہی مضمون احادیث متواترہ سے ثابت ہے اور اسی پر تمام اہل اسلام کا اتفاق ہے کہ کافر ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے جس طرح دنیا میں بغاوت کی سزا جس

صفحہ ٤٢٩

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

دوام ہے اسی طرح کفر کی سزا اللہ کے یہاں دائمی عذاب ہے اس لیے کہ کفر اللہ تعالی کی بغاوت ہے۔

کفر کے دنیوی احکام

ہو۔ یعنی کافروں کو خدا کا دشمن سمجھے۔ اور کوئی دوستانہ تعلق ان سے نہ رکھے۔

قال تعالٰی

قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراہیم والذین معہ اذقالوالقومہم انا برؤا منکم و مما تعبدون من دون اللّٰہ کفر نابکم و بدابیننا و بینکم العداوۃ والبغضاء ابدا و حتی تؤمنواباللّٰہ وحدہ

ترجمہ = تم کو چال چلنی چاہیے اچھی ابراہیم کی اور جو اس کے ساتھ تھے جب انہوں نے کہا اپنی قوم کو ہم الگ ہیں تم سے اور ان سے جن کو تم پوجتے ہو۔ اللہ کے سوائے ہم منکر ہوئے تم سے اور کھل پڑی ہم میں اور تم میں دشمنی اور بیر ہمیشہ کو یہاں تک کہ تم یقین لاؤ اللہ اکیلے پر۔

اس کے علاوہ قرآن کریم میں بے شمار آیتیں ہیں۔ جس میں کافروں سے موالات یعنی دوستانہ تعلقات کی ممانعت اور حرمت صراحۃً مذکور ہے اور علماء نے کافروں سے ترک موالات پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔

لاتصل علی احد منہم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ انہم کفرواباللّٰہ ورسولہ وماتواوہم فاسقون۔

ترجمہ = اور نماز نہ پڑھ ان میں سے کسی پر جو مرجائے کبھی اور نہ کھڑا ہو اس کی قبر پر وہ منکر ہوئے اللہ سے اور اس کے رسول سے اور وہ مرگئے

صفحہ ٤٣٠

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

نافرمان۔

کا ہے اور کافر سے لعنت آتی ہے۔

ہوں۔ قال تعالےٰ۔ ماکان للنبی والذین آمنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی الایۃ ترجمہ = لائق نہیں نبی کو اور مسلمانوں کو کہ بخشش چاہیں مشرکوں کی اور اگرچہ وہ ہوں قرابت والے۔

کر کے جہاد میں ساتھ لے جانا جائز نہیں معلوم نہیں کہ سازش کر کے دارالحرب کے کافروں سے جا ملیں۔ کما قال تعالےٰ ولو خرجوا فیکم مازادوكم الا خبالا ولاوضعوا خلالكم یبغونکم الفتنۃ وفیکم سماعون لھم ترجمہ = اگر نکلتے تم میں تو کچھ نہ بڑھاتے تمہارے لیے مگر خرابی اور گھوڑے دوڑاتے تمہارے اندر بگاڑ کروانے کی تلاش میں اور تم میں بعضے جاسوس ہیں ان کے۔ حدیث میں ہے انا لا نستعین بمشرک الا ان یکونوا تابعین لنا اذلاء ترجمہ = ہم مشرک کی مدد نہیں لینا چاہتے مگر اس صورت میں کہ وہ ہمارے تابع اور ذلیل ہو کر رہیں۔

صفحہ ٤٣١

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

حتی یعطو الجزیۃ عن یدہم صاغرون ترجمہ = یہاں تک کہ جزیہ دیں اپنے ہاتھ سے ذلیل ہو کر۔ اور مسلمان سے جزیہ نہیں لیا جا سکتا۔

ہرگز جائز نہیں اور نہ کافروں سے سیاسی اور مملکتی امور میں مشورہ لینا جائز ہے۔ اس بارے میں فاروق اعظمؓ اور ابو موسیٰ اشعریؓ کا ایک مکالمہ نقل کرتے ہیں۔

(ابو موسیٰ اشعریؓ) قلت لعمرؓ ان لی کاتبا نصرانیا ترجمہ = ابو موسیٰ کہتے ہیں۔ میں نے فاروق اعظمؓ سے عرض کیا اے امیر المومنین میرے پاس ایک نصرانی کاتب ملازم ہے۔

(فاروق اعظمؓ) مالک قاتلک اللہ اما سمعت اللہ یقول یاایہا الذین امنوا لا تتخذوا الیہود و النصاریٰ اولیاء بعضہم اولیاء بعض الا اتخذت حنیفا۔ ترجمہ = اے ابو موسیٰ تجھے کیا ہوا خدا تعالیٰ تجھے ہلاک اور برباد کرے۔ کیا تو نے حق تعالیٰ کا یہ حکم نہیں سنا کہ یہود اور نصاریٰ کو اپنا دوست اور معین اور مددگار نہ بناؤ (تمام کافر آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ تمہارا کوئی دوست نہیں۔ کسی مسلمان کو کیوں نہ ملازم رکھا۔)

(ابو موسیٰؓ) یا امیر المومنین ان لی کتابتہ ولہ دینہ ترجمہ = ابو موسیٰ نے عرض کیا اے امیر المومنین مجھ کو تو فقط اس کے حساب و کتاب سے مطلب ہے اس کا دین اس کے لیے ہے۔

عمر فاروقؓ۔ لا اکرمہم اذ ہانہم اللہ ولا اعزہم اذا ذلہم اللہ ولا ادنیہم اذا قصاہم اللہ تعالیٰ۔

(اقتضاء الصراط المستقیم)

ترجمہ = فاروق اعظمؓ نے فرمایا خدا کی قسم میں ان لوگوں کا ہرگز اعزاز اور اکرام نہ کروں گا جن کو خدا نے ذلیل اور حقیر قرار دیا۔ اور ان لوگوں کو ہرگز اپنے قریب جگہ نہ دوں گا۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے دور رکھے

صفحہ ٤٣٢

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

کا حکم دیا ہے۔

ایک اور روایت میں ہے کہ فاروق اعظمؓ نے ابو موسیٰؓ کو اس پر زجر اور توبیخ کی اور یہ فرمایا۔

لاتدنہم و قد اقصاہم اللہ ولا تکرمہم وقد اہانہم اللہ ولا تأتمنہم وقد خونہم اللہ وقال۔ لاتستعملوا اہل الکتاب فانہم یستحلون الرشا واستعینوا علی امور کم و علی رعیتکم بالذین یخشون اللہ تعالیٰ۔

(تفسیر قرطبی صفحہ ١٧٩ جلد ٤)

ترجمہ = کافروں کو اپنے قریب جگہ مت دو۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھنے کا حکم دیا ہے ان کا اعزاز اور اکرام نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اہانت کا حکم دیا ہے۔ ان کو امین اور امانت دار نہ سمجھو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو خائن بتلایا ہے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ یہود اور نصاریٰ کو کوئی عہدہ نہ دو۔ یہ لوگ مسلمانوں کے مقابلہ میں رشوت لینے کو حلال سمجھتے ہیں۔ امور سلطنت اور امور رعیت میں ایسے لوگوں سے امداد لو جو خدا ترس ہوں۔

امام ابوبکر رازی احکام القرآن صفحہ ٣٧ جلد ٢ میں لکھتے ہیں۔

وقد روی عن عمر انہ بلغہ ان ابا موسیٰ استکتب رجلا من اہل الذمۃ فکتب الیہ یعنفہ وتلا۔ یا ایہا الذین امنوا تتخذو بطانۃ من دونکم الایۃ

ترجمہ = ایک روایت میں ہے کہ فاروق اعظمؓ کو یہ خبر پہنچی کہ ابو موسیٰؓ نے ایک نصرانی کو اپنا کاتب مقرر کیا ہے۔ فاروق اعظمؓ نے اسی وقت ان کو ایک توبیخی اور تہدیدی خط لکھا۔ اور اس میں یہ آیت لکھی۔

مسئلہ کی حقیقت واضح کرنے کے لیے ہم پوری آیت مع ترجمہ ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔

صفحہ ٤٣٣

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

ياايها الذين امنوا لا تتخذوا بطانة من دونكم لا يالونكم خبالا ودوا ماعنتم قد بدت البغضاء من افواهم وما تخفى صدورهم اكبر قدبينا لكم الآيات ان كنتم تعقلون ها انتم اولاء تحبو نهم و لايحبونكم وتو منون بالكتاب كله واذالقوكم قالواامنا واذاخلو عضوا عليكم الانامل من الغيظ قل موتوا بغيظكم ان الله عليم بذات الصدور ان تمسكم حسنة تسؤهم و ان تصبكم سيئة يفر حوابها وان تصبروا و تتقوا لايضركم كيد هم شيا ان الله بما يعلمون محيط ۝

ترجمہ = اے ایمان والو نہ بناؤ بھیدی کسی کو اپنوں کے سوا۔ وہ کمی نہیں کرتے تمہاری خرابی میں۔ ان کی خوشی ہے۔ تم جس قدر تکلیف میں رہو۔ نکلی پڑتی ہے۔ دشمنی ان کی زبان سے اور جو کچھ مخفی ہے ان کی جی میں وہ اس سے بہت زیادہ ہے۔ ہم نے بتا دیئے تم کو پتے۔ اگر تم کو عقل ہے۔ سن لو! تم لوگ ان کے دوست ہو اور وہ تمہارے دوست نہیں اور تم سب کتابوں کو مانتے ہو۔ اور وہ جب تم سے ملتے ہیں کہتے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں۔ اور جب اکیلے ہوتے ہیں تو کاٹ کاٹ کھاتے ہیں تم پر انگلیاں غصہ سے تو کہہ مرو تم اپنے غصہ میں۔ اللہ کو خوب معلوم ہیں دلوں کی باتیں۔ اگر تم کو پہنچے کچھ بھلائی تو بری لگتی ہے ان کو‘ اور اگر تم پر پہنچے کوئی برائی تو خوش ہوں اس سے‘ اور اگر تم صبر کرو اور بچتے رہو۔ تو کچھ نہ بگڑے گا تمہارا ان کے فریب سے۔ بیشک جو کچھ وہ کرتے ہیں۔ سب اللہ کے بس میں ہے۔

(ترجمہ شیخ الہندؒ بمع فوائد مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہما)

حافظ ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں فاروق اعظم کا وہ اثر جو ہم نے نقل کیا ہے ذکر کر کے فرماتے ہیں۔

ففى هذا الاثر مع هذه الاية دليل على ان اهل الذمة لايجوز

صفحہ ٤٣٤

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

استعمالهم فى الكتابة التى فيها استطالة على المسلمين و اطلاع على دواخل امور هم التى يخشى ان يفشوها الى الاعداء من اهل الحرب و لهذا قال تعالى لايالونكم خبالا ودوا ماعنتم

(تفسیر ابن کثیر صفحہ ٢٧٤ جلد ٢)

ترجمہ = فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے اس قول میں بمع آیت کریمہ اس امر پر دلیل ہے کہ اہل الذمہ کو ایسے تحریری کاموں میں ملازم رکھنا جس کی وجہ اہل اسلام پر ان کی تعدی لازم آتی ہو اور مسلمانوں کے داخلی امور پر مطلع ہونے کے بعد کفار اور دشمنان اسلام کی طرف جاسوسی کا خطرہ ہو جائز اور حلال نہیں۔ اسی لیے اللہ تعالی فرماتے ہیں۔ لا یالونكم خبالا۔ الخ

فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے اس بصیرت افروز اور سیاست آموز مکالمہ سے یہ امر بخوبی واضح ہو گیا کہ غیر مسلموں پر اعتماد فقط شریعت ہی کے خلاف نہیں۔ بلکہ تدبیر اور سیاست کے بھی خلاف ہے اور یہ واضح فرما دیا کہ غیر مسلم کو ملازمت دینے کے لیے یہ عذر کہ ہم کو صرف ان کی خدمات درکار ہیں۔ ان کے مذہب سے کوئی سروکار نہیں۔ یہ عذر سراسر پوچ اور بیکار ہے۔ تم کو دین اسلام سے کوئی سروکار نہیں۔ تو اس کافر کو تو اپنے مذہب سے سروکار ہے اور تمہارے مذہب سے اس کو خصومت اور پیکار ہے۔ تم بے خبر اور غافل ہو اور وہ بڑا ہوشیار ہے۔ اس کافر کو ہر وقت یہ فکر ہے کہ اس کی قوم عزیز اور سربلند ہو اور اسلام اور مسلمان ذلیل اور خوار ہوں۔ قال تعالى ان الکافرین کانوا لکم عدوا مبینا۔

مرتد کا شرعی حکم

اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے جو قرآن کریم اور حدیث نبوی اور اجماع سے ثابت ہے۔ مرتدین کی سزائے ارتداد پر شور و غوغا ایسا ہی ہے جیسا کہ چور اور ڈاکو کو قطع ید (ہاتھ اور پیر کاٹنے) اور سولی پر لٹکانے کی سزا پر شور و غوغا برپا کرتے

صفحہ ٤٣٥

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ چور اور ڈاکو کے ہاتھ اور پیر کاٹنا خلاف تہذیب ہے۔ سبحان اللہ حق تعالیٰ نے چوروں اور ڈاکوؤں کی جو سزا تجویز فرمائی وہ تو ان حضرات کے نزدیک خلاف تہذیب ہے مگر چوری ان حضرات کے نزدیک خلاف تہذیب نہیں۔ اور علی ہذا زنا کاری اور شراب خوری کی سزا جلد اور رجم بھی ان کے نزدیک خلاف تہذیب ہے مگر زنا اور شراب خواری۔ بے حیائی اور بدمستی خلاف تہذیب نہیں۔ اور قانون مارشل لاء۔ حکومت کے مرتد کی سزا ہے ادنیٰ عقل والا سمجھ سکتا ہے کہ تلوار سے فقط مرتد کی گردن اڑا دینا اتنا شدید نہیں جتنا کہ زندوں پر بے دریغ گولیاں چلانا اور ان پر آگ برسانا۔

اگر کوئی شخص سرے ہی سے اسلام میں داخل نہ ہو تو اسلام کی توہین نہیں۔ لیکن اسلام میں داخل ہونے کے بعد مرتد ہونے میں اسلام کی زیادہ توہین ہے۔ جس طرح رعایا بن جانے کے بعد باغی ہو جانے میں حکومت کی زیادہ توہین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رعایا بن جانے کے بعد باغی کی سزا سخت ہے۔ بہ نسبت اس کے کہ جو اس سلطنت کی رعایا ہی نہیں بلکہ کسی دوسری سلطنت کی رعایا ہے۔ جو شخص ابتدا ہی سے مخالف ہو وہ اتنا مضر نہیں جتنا کہ محبت اور موافقت کے بعد۔ مخالفت کرے۔ لوگوں کو یہ خیال ہوتا ہے کہ کوئی بات تو ہو گی کہ دوستی کے بعد دشمنی پر آمادہ ہوا۔ چنانچہ بعض یہودیوں نے اسلام کو اسی طرح بدنام کرنے کی کوشش کی۔

وقالت طائفة من اهل الكتاب آمنوا بالذى انزل على الذين آمنوا وجه النهار واكفروا آخره لعلهم يرجعون۔

ترجمہ = یہودیوں کی ایک جماعت نے بطور چالاکی یہ کہا کہ کچھ آدمی صبح کے وقت مسلمانوں کی کتاب پر ظاہراً ”ایمان لے آئیں اور شام کے وقت منکر ہو جائیں اور لوگوں سے یہ کہیں کہ ہمیں تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ وہ نبی نہیں کہ جن کی توریت میں بشارت دی گئی۔

شاید اس طریق سے بہت سے ضعیف الایمان اسلام سے مرتد ہو جائیں۔

صفحہ ٤٣٦

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

اور سمجھ لیں کہ اسلام میں ضرور کوئی عیب دیکھا ہو گا کہ اسلام میں جو داخل ہونے کے بعد پھر اس سے نکلے۔ غرض یہ کہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد مرتد ہونا اس میں اسلام کی سخت توہین اور تذلیل ہے اس لیے شریعت میں مرتد کی سزا بھی سخت ہے۔

ایک شبہ اور اس کا ازالہ

اس مقام پر بعض لوگ ان آیات قرآنیہ کو پیش کرتے ہیں۔ جن میں مرتد کی سزا فقط لعنت اور حبط اعمال ذکر کی گئی ہے اور اس کے ساتھ قتل مذکور نہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک جگہ قتل عمد کے متعلق فقط لعنت اور غضب کا ذکر فرمایا ہے مگر قصاص کا ذکر نہیں فرمایا۔ تو یہ اس کی دلیل نہیں بن سکتا کہ قتل عمد پر قصاص نہیں کما قال تعالیٰ ومن یقتل مومناً متعمداً فجزاءہ جھنم خالداً فیھا و غضب اللہ علیہ و لعنہ و اعدلہ عذاباً عظیماً ۔ پس جس طرح قتل عمد کی سزا یعنی قصاص دوسری جگہ ہے اس غضب اور لعنت کے ساتھ شامل کر لیا گیا۔ اسی طرح ان آیات مرتدین کے ساتھ جن میں فقط لعنت اور حبط اعمال کا ذکر ہے ان آیات اور احادیث کو بھی شامل کر لیا جائے جن میں قتل مرتد کا ذکر ہے۔

اب ہم مسئلہ زیر بحث یعنی قتل مرتد کے دلائل بالترتیب ذکر کرتے ہیں۔

مرتدین کے حق میں قرآن کریم کا فیصلہ

یایھا الذین امنوا من یرتد منکم عن دینہ فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم و یحبونہ اذلۃ علی المومنین اعزۃ علی الکافرین یجاھدون فی سبیل اللہ ولا یخافون لومۃ لائم ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ واسع علیم انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا الذین یقیمون الصلوۃ و یؤتون الزکوۃ و ھم راکعون ومن یتول اللہ ورسولہ والذین امنو فان حزب اللہ ھم الغالبون O

صفحہ ٤٣٧

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

ترجمہ = اے ایمان والو جو تم سے اپنے دین سے پھر جائے گا تو مرتد ہو کر اپنا ہی نقصان کرے گا دین اسلام کو کوئی ضرر نہ ہو گا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ان مرتدین کے مقابلہ کے لیے ایسی قوم لائے گا کہ جن کو اللہ محبوب رکھتا ہو اور وہ اللہ کے عاشق ہوں گے خدا کے محبین اور عاشقین یعنی مسلمانوں کے حق میں نرم اور متواضع اور کافروں کے حق میں جنہوں نے خدا اور رسول کے مقابلہ میں سر اٹھا رکھا ہے ان کے حق میں سخت اور زبردست ہوں گے خدا کی راہ میں ان مرتدین سے جہاد و قتال کریں گے اور مرتدین کے مقابلہ اور مقاتلہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ہرگز نہ ڈریں گے۔ مثلاً اگر مرتدین کے جہاد و قتال پر کوئی یہ طعنہ دے کہ قتل مرتد خلاف انسانیت ہے تو ان کو اس ملامت اور طعن کی ذرہ برابر پرواہ نہ ہو گی۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ اس نے اپنے محبین اور محبوبین کو مرتدین سے جہاد و قتال کی توفیق دی۔ جس کو چاہتا ہے اس کو اس قسم کی توفیق دیتا ہے۔ اور اللہ بڑی وسعت والا اور خبردار ہے خوب جانتا ہے کہ کون اس اعزاز اور اکرام کا مستحق ہے کہ اس کے ہاتھ سے مرتدین کی سرکوبی کرائی جائے۔ اور اے مسلمانو تم یہود اور نصاریٰ کی موالات اور ان کے تعلقات پر ہرگز غرہ نہ کرنا۔ جز ایں نیست کہ تمہارا ولی اور معین و مددگار اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور وہ لوگ ہیں کہ جو اللہ اور اس کے رسول کے عاشق ہیں۔ یعنی وہ اہل ایمان جو نماز کو قائم رکھتے ہیں۔ اور زکوۃ دیتے ہیں اور وہ اللہ کے سامنے عاجزی کرنے والے ہیں۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کو دوست رکھے اور اس کے دشمنوں سے بے دغدغہ ملامت ۔ عاشقانہ اور والہانہ جہاد و قتال کرے تو ایسا شخص بلاشبہ حزب اللہ یعنی اللہ کی جماعت سے ہے اور انجام کار اللہ ہی کی جماعت شیطان کی جماعت پر غالب رہتی ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی قدس اللہ سرہ نے اس آیت شریفہ کے متعلق

صفحہ ٤٣٨

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

اپنی کتاب ازالۃ الخفاء میں مفصل کلام فرمایا۔ اس وقت ہم اس کا خلاصہ اور اقتباس پیش کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ یایھا الذین امنوا من یرتدالایۃ اس آیت سے دو چیزوں کا بیان کرنا مقصود ہے ایک اس حادثہ اور فتنہ کی خبر دینا ہے کہ جو حضورؐ کے وفات سے پیشتر پیش آیا اور بعد میں ترقی کر گیا۔ یعنی فتنہ ارتداد اور دوسرے اس فتنہ کے انسداد کی تدبیر بتلانا کہ جو اللہ تعالی نے غیب الغیب میں اس کے لیے مقرر فرمائی ہے تاکہ جس وقت وہ فتنہ نمودار ہو تو دل مضطرب اور پریشان نہ ہو۔ پیش آنے سے پہلے ہی اس سے واقف اور باخبر ہوں اور تاکہ جس وقت وہ ظاہر ہو تو اس کے انسداد کے لیے اس تدبیر کو اختیار کریں جو حق تعالی نے بتلائی ہے اور اپنی ہمت اور سعی اور جدوجہد سے دریغ نہ کریں اور اس تدبیر کو حد اتمام تک پہنچانے کو اپنے لیے سعادت سمجھیں۔

اس حادثہ اور فتنہ کی شرح تو یہ ہے کہ حضور کے اخیر زمانہ میں عرب کے کچھ فرقے مرتد ہو گئے۔ بعض لوگوں نے نبوت کا دعوی کیا اور اس کی قوم نے اس کی تصدیق کی اور ایک فتنہ عظیم برپا کیا۔ جیسے اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب اور طلیحہ اسدی اور پھر شاہ صاحب نے مختصراً ان مدعیان نبوت کے دعوائے نبوت اور ان کے قتل کا حال بیان فرمایا جس کو عنقریب انشاء اللہ تعالی مدعیان نبوت کے باب میں مفصل ذکر کریں گے۔

اور عرب کے بعض فرقے اسلام سے مرتد ہو کر اپنے قدیم مذہب کی طرف لوٹ گئے۔ اور ایک فرقہ نے فقط زکوۃ دینے سے انکار کر دیا۔ باقی اسلام کی کسی اور چیز کا انکار نہیں کیا نہ توحید کا نہ رسالت کا نہ نماز کا اور نہ روزہ کا اور نہ حج کا اول الذکر دو فریق کے قتل و قتال میں صحابہ کرامؓ کو کوئی تردد نہ ہوا۔ اس آخری فرقہ یعنی مانعین زکوۃ کے بارہ میں حضرت عمرؓ کو تردد ہوا اور عرض کیا کہ اے امیرالمومنین آپ لا الہ الا اللہ پڑھنے والوں سے کیسے قتال کرتے ہیں۔ صدیق اکبرؓ نے فرمایا خدا کی قسم جو نماز اور زکوۃ میں فرق کرے گا (یعنی نماز کا اقرار کرے اور زکوۃ کا انکار کرے) میں ضرور اس سے جہاد و قتال کروں گا۔ یعنی اگرچہ وہ لا الہ الا

صفحہ ٤٣٩

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

اللہ پڑھتا ہو اور یہ فرمایا کہ خدا کی قسم اگر ایک بکری کا بچہ یا رسی بھی جو رسول اللہ کے زمانہ میں دیا کرتے تھے نہ دیں گے تو میں ان سے جہاد و قتال کروں گا۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ میری سمجھ میں آگیا کہ یہی حق ہے۔ اس روایت کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا۔

(راجع احکام القرآن للجصاص ص ٨٢ ج ٣ و عمدة القاری ٨٢ - ٨١ ج ٢٤ باب قتل من ابٰی قبول

الفرائض)

اور اس تدبیر کی شرح جو حق جل شانہ نے اس حادثہ میں مقرر فرمائی یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے مرتدین سے جہاد و قتال کا داعیہ صدیق اکبر کے قلب مطہر پر القا فرمایا اور ان کے دل میں اس کا اہتمام اور فکر خاص طور سے ڈال دیا اور یہی مطلب ہے اس حدیث کا جو آنحضرت ﷺ نے اس فتنہ کے بارہ میں فرمایا۔ العصمة فیہا السیف رواہ حذیفة فتنہ ارتداد میں بچنے کی صورت صرف تلوار ہے۔

اکثر صحابہؓ اس تیسرے فرقہ یعنی مانعین زکوٰۃ کے جہاد و قتال کے بارہ میں ابتداءً متردد تھے کہ یہ لوگ اہل قبلہ ہیں اور کلمہ گو ہیں۔ ان سے کیسے جہاد و قتال کیا جائے۔ مگر جب صدیق اکبرؓ نے اپنی تلوار زیب دوش کی اور تنہا نکلنے کے لیے تیار ہو گئے اس وقت صحابہؓ نے دیکھ لیا کہ سوائے جہاد میں جانے کے کوئی مفر نہیں تو عرض کیا کہ اے خلیفہ رسول اللہ آپ بیٹھئے ہم جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ابتداء میں ہم مانعین زکوٰۃ سے لڑنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ لیکن بعد میں جب ہم پر حقیقت منکشف ہوئی تو ہم ابو بکرؓ کے شکر گزار ہوئے۔

(کذا فی ازالة الخفاء ص ٧٤‘ ٧٣ و ٧٥)

حافظ عسقلانیؒ فتح الباری صفحہ ٣٤٤ جلد ١٢ میں لکھتے ہیں کہ مرتد ہونے والے تین قسم کے لوگ تھے۔ ایک تو وہ تھے کہ جو شرک اور بت پرستی کی طرف لوٹ گئے تھے۔ دوسرے وہ لوگ تھے جو کسی مدعی نبوت کے پیرو ہو گئے تھے۔ تیسرے وہ لوگ تھے جو اسلام پر قائم تھے۔ لیکن صرف زکوٰۃ کے منکر تھے اور یہ

صفحہ ٤٤٠

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

تاویل کرتے تھے کہ زکوٰۃ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مخصوص تھی اور خذ من اموالهم صدقة تطهر هم وتزكيهم بها وصل عليهم ان صلاتك سكن لهم کا خطاب (جس میں زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم ہے) نبی کریم علیہ الصلاۃ و التسلیم کے ساتھ مخصوص ہے۔ فاروق اعظمؓ کو اس تیسرے گروہ کے قتال کے بارہ میں کچھ تردد تھا۔ صدیق اکبرؓ اس گروہ کے قتال اور جہاد پر تلے ہوئے تھے۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ پھر میری سمجھ میں آگیا اور مجھ کو شرح صدر ہو گیا کہ یہی حق ہے۔

(فتح الباری صفحہ ٢٤٤ جلد ١٢ و صفحہ ٢٤٥ جلد ١٢)

یعنی یہ سمجھ میں آگیا کہ فرائض دین اور شعائر اسلام اور ضروریات دین میں ایسی مہمل تاویل کا کوئی اعتبار نہیں۔ ایسی تاویلوں کی وجہ سے آدمی کفر اور ارتداد سے نہیں بچ سکتا۔ چنانچہ امام بخاریؒ نے اس پر ایک باب قائم فرمایا۔ وہ یہ ہے۔ باب من ابىٰ قبول الفرائض وما نسبوا الى الردة۔ جو شخص فرائض دین میں سے کسی ایک فریضہ کو بھی قبول نہ کرے تو وہ کافر اور مرتد ہے۔ معلوم ہوا کہ مسلمان ہونے کے لیے محض کلمہ گو اور مدعی اسلام ہونا کافی نہیں جب تک کہ تمام احکام کو قبول نہ کرے۔

امام ابن جریر طبریؒ فرماتے ہیں کہ صدیق اکبرؓ نے ان مانعین زکوٰ ۃ کے مقابلہ اور مقاتلہ کے لیے ایک لشکر روانہ کیا: حتى سبى وقتل وحرق بالنيران اناساً ارتدوا عن الاسلام و منعوا الزكوة فقاتلهم حتى اقروا بالماعون (تفسیر ابن جریر ص ١٨٣ ج ١)

یہاں تک ان لوگوں کو قید کیا اور قتل کیا اور ان کے گھروں میں آگ لگائی جو اسلام سے مرتد ہوئے اور زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تا آنکہ انہوں نے اس امر کا اقرار کیا کہ حقیر سے حقیر چیز بھی نہ روکیں گے۔

امام محمد بن حسن شیبانی سے منقول ہے کہ جو بستی ترک اذان یا ترک ختان پر متفق ہو جائے یعنی اس پر متفق ہو جائے کہ ہم بغیر اذان کے نماز پڑھیں گے اور

صفحہ ٤٤١

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

ختنہ نہیں کرائیں گے تو بادشاہ اسلام کے ذمہ ان سے جہاد و قتال واجب ہے۔ امام ابوبکر رازی احکام القرآن صفحہ ٨٢ جلد ٣ سورۂ توبہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔

قد كانت الصحابة سبت ذرارى مانعى الزكوة وقتلت مقاتلتهم و سموهم اهل الردة لانهم امتنعوا من التزام الزكوة و قبول وجوبها فكانوا مرتدين بذلك لان من كفر بآية من القرآن فقد كفر به كله و على ذلك اجرى حكمهم ابوبكر الصديق مع سائر الصحابة حين قاتلوهم ويدل على انهم مرتدون بامتناعهم من قبول فرض الزكوة ما روى معمر عن الزهرى الخ ثم ساق الروايات فى ذلك الى ان قال فاخبر جميع هولاء الرواة ان الذين ارتدوا من العرب انما كان ردتهم من جهة الخ

صحابہ رضی اللہ عنہم نے مانعین زکوۃ کی اولادوں کو قید کر لیا تھا اور ان کے مردوں کو قتل کر دیا تھا۔ اور انہیں اہل ردۃ کا لقب دیا تھا۔ کیونکہ انہوں نے زکوۃ کے التزام اور تسلیم وجوب سے انکار کر دیا تھا۔ اسی بنا پر انہیں مرتد قرار دیا گیا تھا۔ کیونکہ جو شخص ایک آیت قرآنی کے ساتھ انکار کرلے تو اس نے تمام قرآن کا انکار کر دیا۔ (جیسا کہ سرکاری ایک قانون کا انکار بغاوت سمجھا جاتا ہے) ابوبکر صدیق ؓ نے بھی تمام صحابہؓ کے اتفاق کے ساتھ اس وجہ سے ان پر حکم قتل جاری کر دیا۔ ان کے زکوۃ کے فریضہ کو انکار و عدم قبول کی وجہ سے مرتد ہو جانے پر دلیل وہ روایات ہیں جو زہری سے معمر نے روایت کی ہیں۔ اس کے بعد علامہ ابوبکر رازی نے وہ روایات نقل فرمائی ہیں۔ پھر یہ فرمایا کہ ان تمام روایان حدیث کے بیان سے معلوم ہوا۔ کہ جو لوگ عرب کے مرتد ہوئے تھے۔ ان کا ارتداد بوجہ انکار زکوۃ کے تھا۔

صفحہ ٤٤٢

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

لطائف و معارف

ایک قوم لائے گا۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو قوم مرتدین سے جہاد و قتال کرے گی۔ وہ قوم خدا تعالیٰ کی آوردہ اور پسندیدہ ہو گی۔

(یحبھم یحبونہ) یعنی اللہ تعالیٰ انکو محبوب رکھے گا۔ اور وہ اللہ کو محبوب رکھیں گے۔ یہ دو صفتیں وہ ہیں کہ جن کا تعلق خدا اور بندہ کے درمیان ہے۔ سوم و چہارم اذلۃ علی المؤمنین اعزۃ علی الکافرین معنے مسلمانوں کے حق میں نرم اور کافروں کے حق میں گرم ہوں گے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے اشداء علی الکفار رحماء بینھم جیسے جبریل امین اہل ایمان کے لیے باعث رحمت ہیں اور کافروں کے لیے موجب ہلاکت ہیں۔ بمنزلہ جوارح الٰہیہ کے ہیں، کبھی رحمت و برکت کا ظہور ہوتا ہے اور کبھی ہلاک و اتلاف کا صدور ہوتا ہے ان دو صفتوں کا تعلق بندوں کے باہمی روابط اور تعلقات سے ہے۔ صفت پنجم، جہاد فی سبیل اللہ یعنی خدا سے سرکشی اور گردن کشی کرنے والوں کی سرکوبی اور جان کشی میں اپنی پوری جدوجہد کو پانی کی طرح بے دریغ بہا دینا یہ حقیقت ہے جہاد کی۔ صفت ششم کسی ملامت اور طعن کی پرواہ نہ کرنا بسا اوقات آدمی کسی چیز کو حق سمجھتا ہے مگر بدنامی اور لوگوں کی ملامت اور طعن و تشنیع کی وجہ سے حق کی نصرت اور حمایت سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ اس صفت میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ مرتدین سے جہاد و قتال کرنے والی قوم خدا کی ایسی عاشق و جان نثار اور نشہ عشق و محبت میں ایسی سرشار ہو گی کہ مرتدین سے جہاد و قتال کے بارے میں ان کو ذرہ برابر کسی ملامت اور طعن کا خیال بھی نہ آئے گا۔

گرچہ بدنامی است نزد عاقلاں
ما نمی خواہیم ننگ و نام را
واذا الفتی عرف الرشاد لنفسہ
صفحہ ٤٤٣

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

ہانت علیہ ملامة العذل

بلکہ بعض مرتبہ غلبہ محبت میں ملامت لذیذ معلوم ہونے لگتی ہے۔

اجد الملامة فی ہواک لذیذة
حبا لذکرک فلیلمنی اللوم

مرتدین کے اصل مارنے والے اور عذاب دینے والے حق جل شانہ ہیں ۔ اور مجاہدین کے ہاتھ بمنزلہ تیر اور تلوار کے ہیں ۔ قال تعالیٰ

قاتلوہم یعذبہم اللہ بایدیکم

ترجمہ = تم ان کافروں سے قتال کرو۔ اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ ان کافروں کو تمہارے ہاتھ سے سزا دلائے۔

مگر چونکہ اصل مارنے والا یعنی حق تعالیٰ شانہ نظروں سے پوشیدہ ہے اس لیے قاصر الفہم ان مجاہدین پر طعن اور ملامت کے آوازے کستے ہیں کہ تم کس وحشت اور بربریت پر کمر بستہ ہو۔ مجاہدین کہتے ہیں کہ اے نادانو ۔ ہم تو خداوند کردگار کے تیر اور تلوار ہیں ہمیں کیا طعن اور کیسی ملامت، کیا کسی عاقل نے تیر اور تلوار کو بھی ملامت کی ہے۔ کسی کا شعر ہے۔

فانت حسام الملک واللہ ضارب -- وانت لواء الدین واللہ عاقد

ترجمہ = تو تو بادشاہ کی تلوار ہے اور اللہ مارنے والے ہیں ۔ اور تو دین کا علم ہے اس کے نصب کرنے والے اللہ تعالیٰ ہی ہیں۔

اور انما ولیکم اللہ ورسولہ سے مسلمانوں کو تسلی دینا مقصود ہے کہ تم اپنی کمزوری کی وجہ سے پریشان اور مضطرب نہ ہونا۔ اللہ اور اس کا رسول اور اس کے مومن بندے تمہارے معین اور مددگار ہیں۔

قتل مرتد پر اعتراض کرنے والے بھی عجب نادان ہیں۔ ایک معمولی بادشاہ اور صدر جمہوریہ کی بغاوت پر ہر قسم کی بربادی اور بمباری کو فقط جائز ہی نہیں رکھتے بلکہ اس کو عین سیاست اور عین حکمت اور فرائض سلطنت اور حقوق مملکت سے سمجھتے ہیں۔ حالانکہ وہ صدر جمہوریہ جاہلوں کی ایک جم غفیر اور احمقوں کی ایک

صفحہ ٤٤٤

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

بھیڑ کے ووٹوں سے صدر بنتا ہے ایسے صدر جمہوریہ کے باغیوں کے لیے سخت سے سخت سزا ان روشن خیالوں کے نزدیک روا ہے۔ اور احکم الحاکمین سے بغاوت کرنے والوں اور اس کے خلفاء اور وزراء یعنی حضرات انبیاء و مرسلین علیہم السلام سے مقابلہ اور مقاتلہ کرنے والوں سے جہاد و قتال خلاف تہذیب اور خلاف انسانیت ہے نبوت اور بادشاہت میں بس یہی فرق ہے۔ بادشاہ ملک اور سلطنت اور دنیاوی مصالح کے لیے جنگ کرتا ہے۔ اور نبی جو کچھ کرتا ہے وہ محض اللہ کے لیے کرتا ہے۔ سیدنا داؤد و سیدنا سلیمان کی بے مثال حکومت ان کی نبوت کا معجزہ تھا اور خداوند ذوالجلال کی بے چون و چگون حکومت کا ایک معمولی سا عکس اور پرتوہ تھا۔ نام داؤد اور سلیمان کا تھا اور اندرونی طور پر تمام احکام احکم الحاکمین کے تھے۔ خلفاء راشدین کا دور خلافت حضرت سلیمانؑ کی حکومت کا ایک نمونہ تھا۔ اب اس نمونہ کا اعادہ امام مہدی علیہ الرحمۃ کے ظہور اور حضرت عیسیٰؑ بن مریم کے نزول پر ہو گا انشاء اللہ تعالیٰ (تبرکا لا تعلیقا)

مرتد کا فیصلہ حدیث رسول ﷺ سے

١٢) میں حضرت عکرمہ سے مروی ہے۔ اتی علی بزنادقۃ فاحرقھم ترجمہ = حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سامنے چند زندیق ۔ اور ملحد لوگ حاضر کئے گئے آپ نے سب کو آگ میں جلانے کا حکم دیا اور جلا دیئے گئے۔

اور سنن ابی داؤد صفحہ ٥٩٨ جلد ٢ کتاب الحدود باب الحکم فی من ارتد میں یہ لفظ ہیں۔ عن عکرمۃ ان علیا احرق اناسا ارتدوا عن الاسلام ترجمہ = حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ان چند آدمیوں کو آگ میں جلوایا جو اسلام سے مرتد ہو گئے تھے۔

صفحہ ٤٤٥

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

معلوم ہوا کہ یہ زنادقہ مرتدین تھے۔ حضرت ابن عباسؓ کو جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس عمل کی خبر ہوئی تو یہ فرمایا کہ اگر میں ہوتا تو آگ میں نہ ڈالتا۔ کیونکہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کا ارشاد ہے۔

لا تعذبوا بعذاب اللّٰہ

اللہ کے عذاب کے ساتھ کسی کو عذاب نہ دو یعنی آگ میں نہ ڈالو۔ کیونکہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔

بلکہ میں ان مرتدین کے قتل پر اکتفا کرتا۔۔۔۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے۔

من بدل دینہ فاقتلوہ جو شخص دین اسلام کے بدلے دوسرا دین اختیار کر لے‘ اس کو قتل کر ڈالو۔

(سنن ابی داؤد صفحہ ٥٩٨ جلد ٢ میں ہے)

فبلغ ذلک علیا فقال ویح ابن عباس۔

ترجمہ = ابن عباسؓ کا یہ قول حضرت علیؓ کو پہنچا تو یہ فرمایا شاباش ہو‘ ابن عباسؓ کو۔

حافظ عسقلانی ابو داؤد کی اس زیادتی کو نقل کر کے فرماتے ہیں ممکن ہے کہ حضرت علیؓ کا یہ قول ویح ابن عباس تصویب اور استحسان کے لیے ہو اور ویح کے معنی واہ واہ کے ہوں۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ کلمہ ویح اس مقام میں اظہار ناپسندیدگی کے لیے بمعنی افسوس ہو یعنی افسوس ابن عباسؓ پر کہ بغیر تامل اور تفکر کے مجھ پر اعتراض کر دیا۔

اور مقصود حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ ہوا کہ بے شک آگ میں جلانا پسندیدہ امر نہیں لیکن حرام بھی نہیں۔ اور اگر زجر و توبیخ کے لیے اس قسم کے مجرمین کو آگ میں ڈلوایا جائے تو کوئی مضائقہ بھی نہیں اور ممکن ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ مذہب ہو کہ امام کو اختیار ہے کہ کسی مرتد کو تغلیظ اور تشدید کے لیے آگ میں جلا دے جیسا کہ ہم عنقریب معاذؓ بن جبل اور ابو موسیٰ اشعریؓ سے نقل کریں گے کہ ان کے نزدیک بھی عبرت کے لیے مرتد کو آگ میں ڈالنا جائز

صفحہ ٤٤٦

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

تھا۔ (فتح الباری صفحہ ٢٣٩ جلد ١٢ باب حکم المرتد و المرتدۃ)

تنبیہہ

قتل کر کے آگ میں ڈال دینا بالاتفاق جائز ہے۔ کلام احراق حی میں ہے۔ بظاہر حضرت علیؓ نے قتل کے بعد جلایا۔ مسئلہ تعذیب حیواں بالنار کے لیے شرح سیر کبیر صفحہ ٢٧٤ جلد ٢ کی مراجعت کی جائے۔

ابوموسیٰ اشعریؓ کو اور ایک علاقہ پر معاذ بن جبلؓ کو مقرر فرمایا دونوں اپنے اپنے علاقہ میں کام کرتے تھے۔ ایک مرتبہ معاذ بن جبلؓ بغرض ملاقات ابو موسیٰ اشعریؓ کے پاس گئے۔ دیکھا کہ ایک شخص سامنے بندھا کھڑا ہوا ہے دریافت کیا کہ کیا ماجرا ہے، ابو موسیٰ نے کہا کہ یہ شخص مرتد ہے پہلے یہودی تھا۔ مسلمان ہو گیا تھا۔ پھر یہودی ہو گیا۔ اور آپ تشریف رکھئے اور ایک تکیہ بھی معاذ بن جبلؓ کے لیے رکھ دیا۔ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے جواب دیا۔

لا اجلس حتی یقتل قضاء اللہ ورسولہ ثلاث مرات فامر بہ فقتل وفی روایۃ ایوب بعد قولہ قضاء اللہ ورسولہ ان من رجع عن دینہ او قال بدل دینہ فاقتلوہ و فی روایۃ عنہ

ترجمہ = کہ میں اس وقت تک ہرگز نہ بیٹھوں گا جب تک اس کو قتل نہ کر دیا جائے۔ مرتد کے متعلق اللہ اور اس کے رسول کا یہی فیصلہ ہے کہ جو دین اسلام سے مرتد ہو جائے اس کو قتل کر ڈالو۔ اس لفظ کو تین بار فرمایا۔ اسی وقت اس کے قتل کا حکم دیا گیا۔ اور وہ قتل کر دیا گیا۔

اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں۔

واللہ لا اقعد حتی تضربوا عنقہ فضرب عنقہ و فی روایۃ الطبرانی التی اشرت الیہا فاتی بحطب فالہب فیہ النار فکتفہ وطرحہ فیہا ویمکن الجمع بانہ ضرب عنقہ ثم القاہ فی النار ویوخذ منہ ان ابا موسیٰ و معاذا کانا یریان جواز التعذیب بالنار و احراق

صفحہ ٤٤٧

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

المیت بالنار مبالغة فی اہانتہ وترہیبا عن الاقتداء بہ۔

(فتح الباری صفحہ ٢٣٣ جلد ١٢ باب حکم المرتد و المرتدة)

ترجمہ = خدا کی قسم میں اس وقت تک نہ بیٹھوں گا۔ جب تک کہ تم اس کی گردن نہ اڑادو۔ چنانچہ اسی وقت اس کی گردن اڑا دی گئی۔ اور معجم طبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ ایندھن لایا گیا۔ اور آگ سلگائی گئی اور اس شخص کے ہاتھ پیر باندھ کر اس آگ میں ڈال دیا گیا۔ اس روایت اور گزشتہ روایت میں کوئی منافات نہیں ممکن ہے کہ پہلے گردن ماری گئی ہو اور بعد میں آگ میں ڈالا گیا ہو۔ اس روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ معاذ بن جبل اور ابو موسیٰ اس کے قائل تھے کہ مرتد کو آگ میں جلانا جائز ہے تاکہ مرتد کی خوب اچھی طرح توہین اور تذلیل ہو جائے اور لوگ اس کی پیروی سے ڈر جائیں۔

مختلف روایات سے یہی مفہوم ہوتا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی رائے تھی کہ زندیق اور مرتدین کو عبرت ناک سزا دی جائے۔ اول قتل فرماتے اور پھر آگ کے گڑھے میں ڈالتے۔ کما قال

انی اذا رایت امرا منکرا اوقدت ناری و دعوت قنبرا

ترجمہ = جب میں برا اور اوپرا کام (مثلاً ارتداد) دیکھتا ہوں تو آگ جلاتا ہوں اور سزا کے لیے قنبر کو (غلام کا نام ہے) بلاتا ہوں۔

(کذا فی فتح الباری صفحہ ٢٣٨ جلد ١٢)

١٧٢ میں ہے)

عن ابن عباس قال کان عبداللہ بن سعد بن ابی السرح کان یکتب لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فازلہ الشیطان فلحق بالکفار فامر بہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان یقتل یوم الفتح فاستجار لہ عثمان فاجارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

صفحہ ٤٤٨

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

ترجمہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عبداللہ بن سعد۔ نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کے کاتب وحی تھے۔ شیطان نے بہکایا مرتد ہو کر کافروں سے جا ملے۔ حضور پر نورؐ نے فتح مکہ کے دن حکم دیا کہ عبداللہ بن سعد کو قتل کر دیا جائے عبداللہ بن سعد تائب ہو کر حاضر ہوئے اور حضرت عثمانؓ کی سفارش سے حضورؐ نے ان کو توبہ قبول کی۔ اور ان سے بیعت کی جیسا کہ ابوداؤد کی دوسری مفصل روایت میں اس کا ذکر ہے۔

اور سنن نسائی صفحہ ٦٢٩ میں ہے کہ ثم ان ربک للذین ھاجروا من بعد ما فتنوا ثم جاھدوا و صبروا ان ربک من بعدھا لغفور رحیم یہ آیت عبداللہ بن سعد کے بارہ میں اتری۔

تھے تو ایک دن یہ فرمایا کہ یہ بلوائی مجھ کو قتل کی دھمکی دیتے ہیں نہ معلوم کس بنا پر مجھ کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔

وقد سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول لا یحل دم امری مسلم الا باحدى ثلاث رجل کفر بعد اسلامہ او زنی بعد احصانہ او قتل نفسا بغیر حق۔ واللہ ما زنیت فی جاھلیۃ ولا اسلام قط ولا قتلت نفسا و لا تمنیت بدینی بدلا من ھدانے اللہ عزوجل للاسلام فبم یقتلوننی۔

(سنن نسائی صفحہ ٦٢٣ باب ما یحل بہ دم المسلم سنن کبری امام بیہقی صفحہ ١٩٤ جلد ٨ باب

قتل من ارتد عن الاسلام)

ترجمہ = حالانکہ میں نے نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم سے یہ سنا ہے کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں مگر تین باتوں میں سے کسی ایک بات کی وجہ سے (١) کوئی شخص اسلام کے بعد کافر اور مرتد ہو جائے (٢) یا محصن یعنی شادی کے بعد زنا کرے (٣) یا کسی کو ناحق قتل کرے۔ خدا کی قسم

صفحہ ٤٤٩

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

میں نے نہ کبھی زمانہ جاہلیت میں زنا کیا اور نہ زمانہ اسلام میں اور نہ کسی کا ناحق خون کیا۔ اور دین اسلام میں داخل ہونے کے بعد کبھی دل میں یہ خطرہ بھی نہیں گزرا کہ دین اسلام کے بدلہ میں کسی اور دین میں داخل ہو جاؤں پھر کس لیے مجھ کو قتل کرتے ہیں۔

ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ لا یحل دم امرئ الا باحدی ثلاث الثیب الزانی والنفس بالنفس والتارک لدینہ المفارق للجماعۃ۔ ترجمہ = مسلمان کا خون حلال نہیں مگر تین باتوں میں سے ایک بات کی وجہ سے (١) محصن یعنی شادی شدہ اگر زنا کرے تو رجم (سنگسار) کیا جائے (٢) قصاص (٣) جو شخص دین اسلام کو چھوڑ کر جماعت مسلمین سے علیحدہ ہو گیا ہو۔

حافظ عسقلانی شرح بخاری میں فرماتے ہیں کہ ترک دین سے دین اسلام سے مرتد ہونا مراد ہے اور مفارقت جماعت سے۔ جماعت مسلمین سے علیحدہ ہونا مراد ہے۔ جو مرتد ہو وہ زمرۂ اسلام اور جماعت مسلمین سے خارج ہوا۔ اور المفارق للجماعۃ کی صفت۔ التارک لدینہ کا تتمہ اور تکملہ ہے۔ ورنہ موجبات قتل تین نہ رہیں گے بلکہ چار ہو جائیں گے۔ (فتح الباری صفحہ ١٧٧ جلد ١٢ کتاب الدیات باب قول اللہ تعالیٰ ان النفس بالنفس والعین بالعین)

حافظ ابن رجب حنبلی۔ جامع العلوم والحکم صفحہ ٨٧ میں فرماتے ہیں۔ والقتل بکل واحدۃ من ھذہ الخصال الثلاث متفق علیہ بین المسلمین۔ ترجمہ = ان تین امور میں سے ہر وجہ سے قتل کرنا تمام مسلمانوں میں متفق علیہ ہے۔

اور پھر تفصیل کے ساتھ تینوں باتوں پر کلام فرمایا۔ جزاہ اللہ خیرا۔

صفحہ ٤٥٠

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

تشریحات و توضیحات

واجب القتل ہونے کی علت فقط مرتد ہونا ہے جو مرتد ہوا وہ واجب القتل ہوا۔ خواہ محارب اور برسر پیکار ہو یا نہ ہو تنہا ہو یا جماعت ہو ارتداد کی سزا قتل ہے۔ ارتداد علیحدہ جرم اور محاربہ (یعنی برسر پیکار ہونا اور فساد مچانا) یہ علیحدہ جرم ہے۔ شریعت میں دونوں کی سزائیں علیحدہ علیحدہ ہیں۔ مرتد کی سزا تو قتل متعین ہے۔ اور محارب کی سزا وہ ہے جو سورۂ مائدہ کی آیت محاربہ میں مذکور ہے قال تعالیٰ انما جزاء الذین یحاربون اللہ و رسولہ ویسعون فی الارض فسادا ان یقتلوا او یصلبوا او تقطع ایدیہم وارجلہم من خلاف او ینفوا من الارض ذلک لہم خزی فی الدنیا ولہم فی الاخرۃ عذاب عظیم الا الذین تابوا من قبل ان تقدروا علیہم فاعلموا ان اللہ غفور رحیم۔ یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور ملک میں فساد اور بدامنی پھیلاتے ہیں ان کی سزا یہ ہے کہ اگر انہوں نے بدامنی میں فقط کسی کا خون کیا ہے اور مال نہیں چھینا تو ان کو قتل کیا جائے۔ اور اگر قتل بھی کیا اور مال بھی لوٹا تو ان کو سولی پر چڑھایا جائے اور اگر فقط مال چھینا ہے مگر کسی کو قتل نہیں کیا تو ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے کاٹے جائیں اور اگر نہ قتل کر سکے اور نہ مال چھین سکے۔ صرف تیاری ہی میں تھے کہ گرفتار ہو گئے تو جلاوطنی کی سزا دی جائے گی یعنی یا تو جیل خانہ میں ڈال دیا جائے گا۔ یا دار الاسلام سے نکال دیا جائے گا۔ یہ ان کے لیے دنیا کی رسوائی ہے۔ اور آخرت میں تو بہت ہی بڑا عذاب ہے۔ مگر جن لوگوں نے تمہارے قابو پانے اور گرفتار کرنے سے پہلے توبہ کر لی تو اللہ کی حد معاف ہو جائے گی۔ اللہ بڑے غفور رحیم ہیں توبہ سے اللہ تعالیٰ کا حق معاف ہو جاتا ہے مگر بندوں کا حق توبہ سے معاف نہیں ہوتا۔ اگر قتل کیا ہے تو قصاص لیا جائے گا اور اگر مال لیا ہے تو اس کا ضمان دینا ہو گا۔ ان چیزوں کے معاف کرنے کا حق صاف صاحب مال اور ولی مقتول کو ہے۔

یہ محارب یعنی بدامنی اور فساد مچانے والے کا حکم ہے جو مومن اور کافر

صفحہ ٤٥١

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

سب کے لیے عام ہے۔ بخلاف مرتد کے کہ اس کا حکم محارب کے حکم سے بالکل جدا ہے۔ مرتد بالاتفاق قتل کیا جاتا ہے۔ مرتد کے لیے جلاوطنی اور ہاتھ پیر کاٹے جانے کی سزا نہیں۔

نیز پکڑے جانے کے بعد محارب کی توبہ مقبول اور معتبر نہیں محارب اگر پکڑے جانے سے پہلے توبہ کرے تو وہ معتبر ہے بخلاف مرتد کے کہ اس کی توبہ ہر حال میں قبول کی جائے گی خواہ پکڑے جانے سے پہلے ارتداد سے توبہ کرے یا پکڑے جانے کے بعد۔

نیز اگر محارب نے کسی کو قتل کیا ہے تو قتل کیا جائے گا۔ اور اگر فقط مال لوٹا ہو تو فقط ہاتھ اور پیر قطع کئے جائیں گے محارب کو قتل نہیں کیا جائے گا اور مرتد ارتداد کی وجہ سے بہرحال واجب القتل ہے۔

تشریح دوم

یہ حدیث یعنی لا یحل دم امری مسلم الخ مشہور و معروف حدیث ہے۔ متعدد صحابہؓ سے مختلف الفاظ کے ساتھ آئی ہے۔ ہم اس اختلاف کو واضح کرنا چاہتے ہیں تاکہ صحیح مراد میں کوئی التباس نہ رہے۔ بعض روایات میں زنا محصن اور قصاص کے بعد فقط ارتداد اور کفر بعد الاسلام کا ذکر ہے محاربہ کا کوئی ذکر نہیں جیسا کہ عثمان غنیؓ کی حدیث میں ہے۔

لا یحل دم امری مسلم الا باحدی ثلاث رجل ارتد بعد اسلامہ او زنی بعد احصانہ او قتل نفسا بغیر نفس۔

(نسائی شریف صفحہ ٦٢٣ ذکر ما یحل بہ دم المسلم۔)

ترجمہ = حلال نہیں کسی مسلمان کا خون بہانا بغیر تین چیزوں کے ایک وہ شخص جو مسلمان ہونے کے بعد کافر ہو جائے یا بعد شادی شدہ ہونے کے زنا کرے یا کسی انسان کو ناحق قتل کرے۔

اور عثمان غنیؓ کی ایک روایت میں ہے او ارتد بعد اسلامہ فعلیہ القتل۔

(نسائی صفحہ ٦٢٩ الحکم فی المرتد)

صفحہ ٤٥٢

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

اور اسی طرح عائشہ صدیقہؓ کی ایک روایت میں بھی یہی لفظ آیا ہے۔ لا يحل دم امرئ مسلم الا رجل زنى بعد احصانه او كفر بعد اسلامه او النفس بالنفس (كذا فى سنن النسائى صفحہ ٦٢٤) حافظ عسقلانی فرماتے ہیں۔ وقع فى حديث عثمان او يكفر بعد اسلامه اخرجه النسائى بسند صحيح وفى لفظ له صحيح ايضا لرتد بعد اسلامه وله من طريق عمرو بن غالب عن عائشة او كفر بعد ما اسلم وفى حديث ابن عباس عند النسائى مرتد بعد ايمان

(فتح الباری صفحہ ١٧٧ جلد ١٢ کتاب الدیات)

اور بعض روایات میں بجائے ارتداد اور کفر بعد الاسلام کے فقط محاربہ کا ذکر ہے۔ چنانچہ عائشہ صدیقہؓ کی ایک روایت میں ہے لا يحل دم امرئ مسلم الا فى احدى ثلاث رجل زنى بعد احصان فانه يرجم و رجل خرج محاربا بالله ورسوله فانه يقتل او يصلب او ينفى من الارض او يقتل فيقتل بها۔ (ابوداؤد شریف کتاب الحدود صفحہ ٥٩٨ باب الحکم فیمن ارتد۔) عائشہ صدیقہؓ کی اس روایت میں بجائے کفر بعد اسلامہ کے رجل خرج محاربا الخ کا ذکر ہے۔ ارتداد کا ذکر نہیں فقط محاربہ کا ذکر ہے۔ اور جزا اور سزا بھی وہی مذکور ہے جو آیت محاربہ میں محاربین اور مفسدین کی ذکر کی گئی ہے یعنی قتل اور صلب اور نفی من الارض

اور بعض روایات میں ارتداد اور محاربہ دونوں کا ذکر ہے۔ جیسا کہ سنن نسائی صفحہ ٦٢ باب الصلب میں عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے۔ لا يحل دم امرئ مسلم الا باحدى ثلاث خصال زان محصن يرجم او رجل قتل رجلا متعمدا فيقتل او رجل يخرج من الاسلام يحارب الله عزوجل و رسوله فيقتل او يصلب او ينفى من الارض انتهى۔

ترجمہ = کسی مسلمان آدمی کا خون بہانا جائز نہیں بجز تین باتوں کے (١) شادی شدہ ہو کر زنا کرے (٢) یا کسی آدمی کو ناحق قتل کرے تو بھی قتل کیا جائے گا۔ (٣) یا اسلام سے خارج ہو کر اللہ اور اس کے رسول کے

صفحہ ٤٥٣

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

ساتھ لڑائی کرے تو بھی قتل کیا جائے گا یا سولی چڑھایا جائے گا۔ یا ملک سے جلاوطن کر دیا جائے گا۔

اور صحیح بخاری کی کتاب الدیات باب القسامتہ میں یہ لفظ ہیں۔ او رجل حارب اللہ ورسولہ وارتد عن الاسلام دیکھو فتح الباری صفحہ ٢١٢ جلد ١٢ یہ تمام روایتیں صحیح اور درست ہیں۔ جن روایات میں فقط ارتداد کا ذکر ہے۔ وہاں اس کی سزا فقط قتل ذکر کی گئی ہے۔ اور جن روایات میں فقط محاربہ کا ذکر ہے۔ وہاں فقط قتل کا ذکر نہیں بلکہ اس سزا کا ذکر ہے کہ جو آیت محاربہ میں محاربین کی ذکر کی گئی ہے یعنی قتل اور صلب (سولی چڑھانا) اور نفی من الارض اور جن روایتوں میں ارتداد اور محاربہ دونوں کو ملا کر ذکر کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرتد کے واجب القتل ہونے کے لیے محارب ہونا بھی شرط ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اگر ارتداد کے ساتھ محاربہ بھی جمع ہو جائے تو پھر اس مرتد کی سزا فقط قتل نہ ہو گی۔ بلکہ اس مرتد کی سزا محاربین کی سی ہو گی۔ بادشاہ اسلام کے لیے اس مرتد کا قتل یا صلب اور قطع ایدی اور ارجل سب جائز ہو گا۔ اگر فقط مرتد ہوتا اور محارب نہ ہوتا تو فقط ارتداد کی سزا ملتی۔ اور جب ارتداد کے ساتھ محاربہ بھی جمع ہو گیا تو پھر قتل کے ساتھ صلب بھی جمع ہو سکے گا۔ خوب سمجھ لو واللہ تعالیٰ ھداک اسی وجہ سے حضرات محدثین نے اول الذکر روایات کو باب المرتد میں ذکر فرمایا۔ یعنی جن میں فقط ارتداد کا ذکر تھا۔ ان کو باب حکم المرتد میں ذکر فرمایا اور جن روایات میں محاربہ کا ذکر تھا۔ ان کو کتاب المحاربین میں ذکر فرمایا۔

(راجع احکام القرآن۔ للجصاص صفحہ ٤٠٩ جلد ٢ و تفسیر القرطبی صفحہ ١٤٧ جلد ٦ و جامع العلوم والحکم

صفحہ ٨٩)

(تشریح سوم) یا ایک شبہ اور اس کا ازالہ

مرزائیوں کا یہ گمان ہے کہ قتل۔ نفس ارتداد کی سزا نہیں۔ نفس ارتداد کی سزا صرف وہی ہے کہ جو نفس کفر کی قرآن کریم سے ثابت ہے۔ اور اگر کسی مرتد کو قتل کی سزا دی گئی ہے تو وہ عارضی اسباب اور سیاسی اغراض کی وجہ سے دی

صفحہ ٤٥٤

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

گئی ہے۔ مثلاً اس کے محارب اور برسرپیکار ہونے کی وجہ سے یا دشمنان اسلام سے ساز باز کرنے کی وجہ سے یا مخبری یا جاسوسی کی وجہ سے یا دوسروں کو خلاف اسلام جنگ پر آمادہ کرنے کی وجہ سے۔

جواب

یہ سراسر تلبیس اور مغالطہ ہے۔ قرآن کریم اور حدیث میں لفظ ارتداد کے ساتھ مرتد کی سزا کو بیان فرمایا ہے کہ جو مرتد ہو گیا اس کو قتل کر ڈالو۔ ان صاف اور صریح الفاظ میں یہ تاویل کرنا کہ یہ سزا نفس ارتداد کی وجہ سے نہیں بلکہ محارب اور برسر پیکار ہونے کی وجہ سے ہے یہ ایسی ہی تاویل ہے۔ جیسے کوئی الزانية والزانی فاجلدوا کل واحد منهما مائة جلدة اور السارق والسارقة فاقطعوا ايديهما میں یہ تاویل کرے کہ جلد (درے لگانے) اور قطع ید کی سزا محض زنا اور چوری کی وجہ سے نہیں بلکہ عارضی اسباب اور محارب ہونے کی وجہ سے ہے تو کیا کوئی عاقل اس کو تسلیم کر سکتا ہے۔

نیز اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ ارتداد اور نفس کفر کی جزاء میں کوئی فرق نہیں تو پھر جن آیات میں کافروں سے جہاد و قتال کا ذکر ہے۔ اور ان کے بچوں اور عورتوں کو غلام بنانے اور ان کی تمام املاک کو مجاہدین پر تقسیم کرنے کا ذکر ہے۔ وہاں کیا تاویل کریں گے کہ یہ جہاد و قتال کا حکم نفس کفر کی وجہ سے نہیں بلکہ عارضی اسباب کی وجہ سے ہے۔ ہجرت کے بعد جو تمام روئے زمین کے کافروں سے جہاد و قتال کا حکم نازل ہوا کیا وہ محض کفر کی وجہ سے نہ تھا۔ ابھی اسلام کی کوئی حکومت ہی قائم نہیں ہوئی۔ جس کی بنا پر تمام کافروں پر فوج کشی کی وجہ محارب اور برسرپیکار ہونا قرار دی جائے۔

جس طرح نفس کفر کی وجہ سے کافروں سے جہاد ہو سکتا ہے۔ اگرچہ وہ برسرپیکار نہ ہوں۔ اسی طرح نفس ارتداد کی وجہ سے مرتد کی سزا قتل ہو سکتی ہے۔ اگرچہ وہ برسرپیکار نہ ہوں۔

جس طرح چوری اور زنا مستقل جرم ہیں اور محارب ہونا اور دشمنان

صفحہ ٤٥٥

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

اسلام سے ساز باز کرنا ایک جداگانہ جرم ہے۔ اسی طرح نفس کفر اور نفس ارتداد مستقل جرم ہیں اور محارب اور باغی ہونا جداگانہ جرم ہے۔ قرآن اور حدیث میں ہر جرم کی سزا جداگانہ ذکر کی گئی ہے۔ محاربین کا حکم علیحدہ ہے۔ جو آیت محاربہ میں مذکور ہے اور باغیوں کا حکم آیت بغاۃ میں مذکور ہے اور کافروں کا حکم علیحدہ ہے جو آیات جہاد و قتال میں مذکور ہے اور ارتداد جو کہ کفر کی ایک خاص قسم ہے اس کا حکم آیت مائدہ میں مذکور ہے۔

ارتداد اور کفر کا ایک حکم قرار دینا ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی یہ کہے کہ قذف (تہمت لگانا) جھوٹ کی ایک قسم ہے۔ لہٰذا قذف پر کوئی حد نہیں۔ جس طرح کاذب اللہ کا ملعون ہے اسی طرح قاذف بھی اللہ کا ملعون ہے۔ قذف کے لیے فقط اللہ کی لعنت کافی ہے بلکہ کسی گناہ پر شرعی طور پر کوئی سزا ہی نہ ہونی چاہیے۔ بلکہ جو عام گناہ کا حکم ہے وہی اس کا ہونا چاہیے۔

کیا ایک شخصی اور انفرادی باغیانہ تقریر پر بغاوت کا مقدمہ نہیں چل سکتا۔ جب تک اس مقرر کا محارب اور برسرپیکار ہونا یا اور دشمنان حکومت سے ساز باز کرنا ثابت نہ ہو جائے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ محارب ہونے کے لیے فقط تلوار سے جنگ کرنا ضروری نہیں۔ بلکہ زبان سے یا کسی قول اور فعل سے اللہ اور اس کے رسول کے مقصد کو ناکام بنانا یہ بھی حارب اللہ و رسولہ میں داخل ہے تو ہم کہیں گے کہ ارتداد میں بھی اسلام کی توہین اور تذلیل ہے اور اسلام کو اپنے مقصد میں ناکام بنانا ہے۔ اور جبکہ ہمارے مخالفین کے نزدیک مسلمانوں کی مخبری کرنا حارب اللہ و رسولہ کے حد میں داخل ہے۔ تو مرتد ہو کر اللہ اور اس کے رسول کی دعوت کو لوگوں کی نظر میں حقیر اور بے اعتبار بنانا حارب اللہ و رسولہ.... کی حد میں کیوں داخل نہیں ہو سکتی۔

علاوہ ازیں صحابہ کرامؓ اور خلفاء راشدینؓ نے مرتدین سے جہاد و قتال کیا اور یہ کہہ کر کیا کہ تم مرتد ہو گئے ہو اس لیے تم سے جہاد و قتال کیا جاتا ہے اور جو یہود و نصاریٰ مسلمانوں کی قلمرو میں رہتے تھے ان سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ معلوم

صفحہ ٤٥٦

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

ہوا کہ ارتداد کا حکم کفر سے کچھ ممتاز ہے اور ابتداء میں مرتدین نے فوج و لشکر کے ساتھ مقابلہ کیا اس لیے صحابہؓ نے بھی ان کا مقابلہ کیا۔ یہاں ارتداد کے ساتھ محاربہ بھی جمع ہو گیا۔ جیسا کہ عرنیین کے قصہ میں ارتداد اور محاربہ اور سرقہ اور رہزنی سب جمع ہو گئے تھے۔ بعد میں جب فتنہ ارتداد ختم ہو گیا۔ اس کے بعد بھی جو لوگ تنہا مرتد ہوئے وہ بھی قتل کئے گئے اور محض ارتداد کی بنا پر ان کو قتل کی سزا دی گئی۔ حالانکہ وہ محارب اور برسر پیکار نہ تھے اور نہ انہوں نے خلافت کے خلاف باغیانہ متحدہ محاذ بنایا تھا۔

خلافت راشدہ اور مرتدین کا قتل

خلافت راشدہ میں مرتدین کا قتل تفسیر اور حدیث کے اور تاریخ کے مسلمات میں سے ہے کوئی تفسیر اور حدیث اور تاریخ کی کتاب ایسی نہیں جس میں خلفاء راشدینؓ کا مرتدین کو قتل کرنا مذکور نہ ہو۔

خلافت راشدہ میں سرزمین عرب کا وسیع رقبہ مرتدین کے خون سے رنگین ہوا لیکن اسلام کی ترقی کی رفتار اس قدر سریع اور تیز رہی کہ جس سے دنیا آج تک حیران ہے۔ سوائے اس کے کہ دین اسلام کا ایک معجزہ تھا۔ اور کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا۔

معلوم ہوا کہ قتل مرتد کا مسئلہ اسلام کی ترقی میں حائل اور حارج نہیں۔ خلافت راشدہ میں بے شمار یہود و نصاریٰ اور مجوسی اور مشرکین اسلام کے حلقہ بگوش بنے۔ مگر قتل مرتدین کو دیکھ کر اسلام سے بدگمان نہیں ہوئے۔ یہ تمام یہود و نصاریٰ اسی خلافت راشدہ کے زیر سایہ آزادانہ زندگی بسر کر رہے تھے اور اپنے مذہب پر قائم تھے۔ معلوم ہوا کہ قتل مرتد کا مسئلہ اسلام کو زہریلے جراثیم سے محفوظ رکھنے کے لیے ہے۔ تاکہ ایمان داروں کے ایمان اس کے ارتداد سے مسموم اور متاثر نہ ہو جائیں اور سادہ لوح مسلمان اس کو دیکھ کر فتنہ میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ اس لیے اس فتنہ کے انسداد کے لیے پوری قوت کے استعمال کا حکم دیا۔

قتل مرتد پر علماء امت کا اجماع

صفحہ ٤٥٧

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

کتاب و سنت کے بعد اجماع امت کا درجہ ہے آج کل کے قوانین تو کثرت رائے سے طے پاتے ہیں اور منفرد رائے کو کالعدم سمجھتے ہیں اور اجماع امت کا درجہ تو کثرت رائے سے لاکھوں درجہ بڑھ کر ہے یہ امت کے علماء اور صلحاء کا اجماع ہے۔ جو کتاب و سنت کی روشنی اور نور تقوی اور نور فراست کی چاندنی میں منعقد ہوا کیسے حجت نہ ہو گا؟

(حافظ عسقلانی فتح الباری صفحہ ٢٧٧ جلد ١٢ کتاب الدیات میں فرماتے ہیں)

قال ابن دقیق العید الردۃ سبب لاباحۃ دم المسلم بالاجماع فی الرجل واما المراۃ ففیہا خلاف۔

ترجمہ = علامہ ابن دقیق العید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مرتد ہونا یعنی دین اسلام سے پھر جانا بالاتفاق مرد کے حق میں موجب قتل ہے البتہ اگر عورت دین اسلام سے پھر جائے تو اس کے قتل میں اختلاف ہے

حافظ بدر الدین عینیؒ شرح بخاری میں لکھتے ہیں۔

وقال شیخنا فی شرح الترمذی وقد اجمع العلماء علی قتل المرتد اذا لم یرجع الی الاسلام واصر علی الکفر واختلفوا فی قتل المرتدۃ فجعلہا اکثر العلماء کالرجل المرتد و قال ابو حنیفۃ لا تقتل المرتدۃ لعموم قولہ نہی عن قتل النساء و الصبیان۔

(عمدۃ القاری صفحہ ٤١ جلد ٢٤ کتاب الدیات باب قولہ تعالیٰ النفس بالنفس والعین

بالعین)

ترجمہ = ہمارے شیخ نے شرح ترمذی میں فرمایا ہے۔ علماء نے قتل مرتد پر اجماع فرمایا ہے جب کہ وہ ارتداد پر قائم رہے اور اسلام کی طرف نہ لوٹے۔ اور کفر پر مداومت اختیار کرے اور مرتد عورت کے قتل میں اختلاف ہے۔ اکثر علماء نے مرتد عورت کو بھی مثل مرد کے واجب القتل قرار دیا ہے۔ اور امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ مرتد عورت کو قتل نہ کیا

صفحہ ٤٥٨

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

جائے۔ بوجہ عموم قول پیغمبر علیہ السلام کہ آپؐ نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا ہے۔

شیخ عبدالوہاب شعرانی رحمہ اللہ تعالیٰ میزان کبریٰ میں فرماتے ہیں۔

قد اتفق الائمۃ علی ان من ارتد عن الاسلام وجب قتلہ

ترجمہ = ائمہ نے اتفاق فرمایا ہے کہ جو شخص اسلام لا کر اس سے پھر جائے تو اس کا قتل واجب ہے۔

موجبات ارتداد

یعنی وہ امور جن کی وجہ سے آدمی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے

بارگاہ خداوندی میں گستاخی اور حضرت انبیاء کرام علیہم السلام

کی توہین و تنقیص اور اس کا شرعی حکم

حق جل جلالہ و عم نوالہ کی شان اقدس میں گستاخانہ کلمہ زبان سے نکالنا بالا جماع کفر اور ارتداد ہے۔

قال القاضی ابوالفضل لاخلاف فی ان ساب اللہ تعالیٰ کافر حلال الدم اختلف فی استتابتہ

(نسیم الریاض صفحہ ٥٠٥ جلد ٤)

ترجمہ = قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ خداوند ذوالجلال کی شان میں گستاخی کرنے والا کافر ہے اور واجب القتل ہے البتہ اس میں اختلاف ہے کہ اگر یہ شخص توبہ کرے تو اس کی توبہ دنیا میں بھی قبول کی جائے گی یا نہیں آخرت میں توبہ قبول ہو گی۔ لیکن کیا اس کی توبہ کی وجہ سے دنیا میں اس سے قتل ساقط ہو گا یا نہیں اس میں اختلاف ہے۔

جمہور کا قول یہی ہے کہ دنیا میں اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور قتل اس

صفحہ ٤٥٩

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

سے ساقط ہو جائے گا۔

علامہ قاری رحمہ اللہ تعالیٰ اپنی شرح میں فرماتے ہیں۔ لاخلاف فی ان ساب اللّٰہ تعالیٰ بنسبۃ الکذب او العجز الیہ ونحو ذالک من المسلمین کافر قلت و من الذمیین ایضاً کافر حربی حلال الدم بل واجب السفک واختلف فی استتابتہ ای قبول توبتہ الخ

(کذا فی شرح الشفاء للعلامۃ القاری صفحہ ٤٩١ جلد دوم)

تیسری صدی ہجری کا واقعہ ہے کہ قرطبہ میں ایک شخص نے حق تعالیٰ شانہ کی شان رفیع میں کچھ نازیبا الفاظ زبان سے نکالے۔ شیخ ابن حبیب مالکی اور ابن خلیل نے اس شخص کے قتل کا فتویٰ دیا۔ قرطبہ کے بعض علماء نے یہ کہا کہ فقط تادیب اور تنبیہہ کافی ہے۔ اس پر شیخ عبدالملک بن حبیبؒ نے فرمایا۔

ایشتم رب عبدنا ثم لاننتصر لہ انا اذن بعبید سوء وما نحن لہ بعابدین ثم بکی۔

(نسیم الریاض صفحہ ٥٨١ جلد ٤)

ترجمہ = کیا یہ ممکن ہے کہ اس پروردگار کو جس کی ہم عبادت کرتے ہیں۔ گالیاں دی جائیں۔ اور جس پر ہم اس کا کوئی بدلہ انتقام نہ لیں۔ اگر ایسے گستاخ سے ہم نے اپنے خدا کا بدلہ نہ لیا تو ہم بہت ہی نالائق اور برے بندے ہیں اور ہرگز ہرگز ہم اس کے سچے پرستار نہیں۔ ابن حبیب یہ کہہ رو پڑے۔

بعد ازاں یہ واقعہ امیر اندلس عبدالرحمٰن بن حکم اموی متوفی ٢٣٨ھ کے دربار میں پیش ہوا۔ اسی وقت شیخ ابن حبیب اور اصبغ بن خلیل کے فتوے کے مطابق وہ شخص قتل کیا گیا اور قتل کر کے عبرت کے لیے پھانسی پر لٹکایا گیا اور جن علماء نے اس بارہ میں مداخلت کی تھی۔ ان کو سخت تنبیہہ کی گئی۔ اور جو ان میں سے قاضی تھے۔ ان کو معزول کیا گیا۔

وعلی ہذا جو شخص حضرات انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی کرے وہ

صفحہ ٤٦٠

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

بھی بالا جماع کافر ہے۔ علامہ ابن حزم کتاب الفصل میں فرماتے ہیں۔

صح بالنص ان کل من استھزا بالله تعالٰی او بملک من الملائکۃ او نبی من الانبیاء علیھم السلام او بآیۃ من القرآن او بفریضۃ من فرائض الدین فھی کلھا آیات اللہ تعالٰی بعد بلوغ الحجۃ الیہ فھو کافر ۔

ترجمہ = نص قرآن سے یہ ثابت ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ یا کسی فرشتہ یا کسی نبی یا کسی آیت یا کسی فرض کے ساتھ استہزاء اور تمسخر کرے وہ قطعاً کافر ہے۔

ناموس رسول اکرم ﷺ

مابقاء الامۃ بعد شتم نبیھا (امام مالکؒ و شرح شفا للعلاّمہ القاری ص ٤١١ ج ٢)

ایمان کا جزو لاینفک یہ ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیھم السلام کی تعظیم و توقیر کی جائے۔ ان حضرات کی شان میں ایک ادنیٰ توہین اور گستاخی بھی کفر اور موجب لعنت ہے۔ قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں۔

اجمع العلماء على ان شاتم النبي صلى الله عليه وسلم والمتنقص لہ کافر مرتد بسبہ والوعيد الذى مر عليه جار عليه بعذاب الله لہ لقولہ تعالىٰ لہم عذاب الیم فى الآیۃ و حکمہ عند الامۃ اى امۃ الاجابۃ القتل و من شک کفرہ و عذابہ کفر لان الرضى بالکفر کفر و لتکذیبہ القرآن فى قولہ تعالے والذین یؤذون رسول الله لہم عذاب الیم الخ

(کذا فی نسیم الریاض صفحہ ٣٧٣ جلد ٤ و شرح ملا علی قاریؒ صفحہ ٣٩٤ جلد ٢)

ترجمہ = علماء نے اتفاق کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو گالی بکنے والا اور ان کی شان میں تنقیص کرنے والا مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ اور وعید اس پر جاری ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے عذاب کا

صفحہ ٤٦١

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

کیا ہوا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہوا ہے کہ ان توہین انبیاء علیہم السلام کرنے والوں کے لیے عذاب درد ناک ہے اور ایسے توہین کرنے والے کا انجام امت کے نزدیک قتل ہے۔ جو شخص بھی اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے۔ وہ بھی کافر ہے۔ اس لیے کہ کفر پر راضی ہونا بھی کفر ہے۔ اور اس لیے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کی تکذیب کی۔ والذین یؤذون رسول اللہ لھم عذاب الیم اور جو لوگ رسول اللہ کو اذیت دیتے ہیں۔ ان کے لیے عذاب درد ناک ہے۔

یہودی لوگ از راہ تمسخر ذومعنی الفاظ استعمال کرتے تھے اور بعض مسلمان بھی از راہ ناواقفیت لفظ راعنا کے ساتھ آنحضرت ﷺ کو خطاب کرنے لگے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

قال تعالیٰ یایھا الذین امنوا لاتقولوا راعنا وقولوا انظرنا واسمعوا و للکافرین عذاب الیم

ترجمہ = اے ایمان والوں لفظ راعنا نہ کہا کرو (جس کا معنی ہے کہ ہماری رعایت فرماویں۔ لیکن اس میں دوسرے غلط معنی کا احتمال بھی ہے اس کے بجائے) کہا کرو۔ انظرنا (یعنی ہمارے حال پر شفقت اور نظر کرم فرمائیے) اور توجہ سے سنا کرو اور کافروں کے لیے عذاب درد ناک ہے۔

اس آیت میں نبی ﷺ کے توہین کرنے والے کو کافر بتاتے ہوئے۔ عذاب مہین (ذلت والے عذاب) کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔

وقال تعالیٰ ان الذین یؤذون اللہ ورسولہ لعنھم اللہ فی الدنیا والآخرۃ الی۔ ان قال۔ ملعونین اینما ثقفوا اخذوا و قتلوا تقتیلا سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا۔

ترجمہ = تحقیق جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں۔ لعنت ہے ان پر اللہ کی دنیا اور آخرت میں اور یہ ملعون اور موذی جہاں بھی پائے جائیں۔ پکڑے اور خوب اچھی طرح قتل کئے جائیں۔ خوب قتل

صفحہ ٤٦٢

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

کرنا۔ اللہ کی اس سنت کو لازم پکڑو۔ اور اللہ کی سنت میں کوئی تغیر اور تبدل نہ پاؤ گے۔

(تفصیل کے لیے نسیم الریاض ص ٣٨٢ ج ٤۔ و شرح ملا علی قاری ص ٤٠١ ج ٢ کی

مراجعت فرمائیں)

جاننا چاہیے کہ قتلوا تقتيلا۔ باب تفعیل کا صیغہ جو تکثیر اور مبالغہ پر دلالت کرتا ہے معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول کی شان میں گستاخی کرنے والوں کا بے دریغ قتل واجب ہے اور آئمہ بلاغت نے یہ تصریح کر دی ہے کہ مفعول مطلق تاکید کے لیے اور مجاز کے احتمال کو دور کرنے کے لیے لایا جاتا ہے۔ مثلاً قتلتہ میں احتمال ہے کہ ضرب شدید کو مجازاً قتل سے تعبیر کر دیا گیا ہو۔ لیکن اگر قتلتہ قتلاً کہیں، تو مفعول مطلق کے اضافہ سے مجاز کا احتمال باقی نہیں رہتا۔ اسی طرح آیت شریفہ میں قتلوا کے بعد تقتيلا مفعول مطلق لانے میں اس طرف اشارہ ہے تقتيل حقیقی مراد ہے فافہم ذالک واستقم۔

خلیفہ ہارون رشیدؒ نے امام مالکؒ سے نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم دریافت کیا اور یہ بھی کہا کہ بعض علماء عراق نے جلد یعنی کوڑے مارنے کا فتویٰ دیا ہے جو شریعت میں قذف یعنی تہمت لگانے کی سزا ہے۔

امام مالکؒ اس خفیف سزا کو سنتے ہی برہم ہو گئے اور نہایت غصہ کے لہجہ میں یہ فرمایا۔

ما بقاء الامة بعد شتم نبيها

ترجمہ = اس امت کی کیا زندگی اور کیا جینا ہے کہ جس کے نبی پر گالیاں پڑتی ہوں۔

من شتم الانبياء قتل ومن شتم اصحاب النبی جلد۔

ترجمہ = جو شخص انبیاء کرام علیہم السلام کو گالیاں دے۔ اس کو قتل کیا جائے اور جو شخص صحابہؓ کو سب و شتم کرے۔ اس کے تعزیری کوڑے

صفحہ ٤٦٣

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

لگائے جائیں۔ علامہ خفاجی اس کی شرح میں تحریر فرماتے ہیں۔ فلا یحل لاحد سمعه الا قتل قائله او بذل روحه فی جهاده۔

(نسیم الریاض ٣٩٩ ج ٤)

ترجمہ = پس کسی کے لیے روا نہیں کہ نبی کی شان میں گستاخی سنے بجز اس کے کہ یا تو اس گستاخ کی جان لے لے یا اپنی جان خدا کی راہ میں دے دے۔

مسئلہ ختم نبوت اور اس کی اہمیت

خداوند ذوالجلال والاکرام کی توحید کے بعد سرور عالم سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کی رسالت اور ختم نبوت کا مسئلہ ہے جس طرح بغیر توحید کے اقرار کے مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح بغیر ختم نبوت کے اعتراف کے مسلمان نہیں ہو سکتا۔ بلکہ توحید کا اقرار شرعاً وہی معتبر ہے جو خاتم الانبیاء ﷺ کے کہنے سے خدا تعالیٰ کو وحدہ لاشریک لہ مانے ورنہ جو شخص یہ کہے کہ میں حق تعالیٰ کو وحدہ لاشریک لہ سمجھتا ہوں اور محمد رسول اللہ ﷺ کو خدا کا آخری نبی مانتا ہوں مگر حضور پرنور کے کہنے سے میں خدا کو ایک نہیں سمجھتا۔ بلکہ میری ذاتی تحقیق یہی ہے کہ خدا ایک ہے تو یہ شخص شرعاً مسلمان نہیں۔ مسلمان وہ ہے جو رسول اللہ کے کہنے سے خدا کو ایک مانے۔

اب یہ ناچیز مختصراً اس مسئلہ کی اہمیت بتلانا چاہتا ہے کہ مسئلہ ختم نبوت بارگاہ خداوندی میں کس درجہ اہم ہے اور آسمان اور زمین اور عالم ارواح اور عالم اجسام اور عالم مثال اور عالم برزخ میں کس کس طرح اس مسئلہ کا اعلان ہوا ہے اور قیامت کے دن کس طرح میدان حشر میں حضور پرنور کے خاتم النبیین ہونے کا اعلان ہو گا۔

صفحہ ٤٦٤

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

آنحضرت ﷺ حضرت آدم کی پیدائش سے پہلے خاتم النبیین تھے

عن العرباض بن سارية عن النبى صلى الله عليه وسلم قال انى عند الله لخاتم النبيين وان آدم لمنجدل فى طينته (رواہ احمد والبیہقی و الحاکم و قال صحیح الاسناد و زرقانی شرح مواہب صفحہ ٤١ جلد ١)

ترجمہ = حضرت عرباض بن ساریہؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بے شک میں اللہ کے نزدیک خاتم النبیین ہو چکا تھا اور آدم علیہ السلام ہنوز اپنے خمیر ہی میں تھے۔ یعنی ان کا ابھی پتلا ہی تیار نہ ہوا تھا۔ اس حدیث کو امام احمد اور بیہقی اور حاکم نے روایت کیا۔ اور حاکم نے اس کو صحیح الاسناد بھی کہا ہے (زرقانی)

مطلب یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ہی حضورؐ کی روح مبارک کو حقیقتہ "خاتم النبیین" بنا دیا گیا تھا۔ اگرچہ ظہور اس کا بعثت کے بعد ہوا۔ جیسے کسی کو آج پروانہ وزارت مل جائے۔ مگر کام ایک ہفتہ کے بعد شروع کرے بارگاہ خداوندی کا ایک ہفتہ سات ہزار سال کا ہوتا ہے۔ کما قال تعالیٰ۔

وان يوما عند ربك كالف سنة مما تعدون۔

ترجمہ = ایک دن تیرے رب کے نزدیک تمہاری شمار کے لحاظ سے ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔

آسمان سے سرزمین ہند پر حضرت آدم علیہ السلام

کا ہبوط اور نزول اور ختم نبوت کا اعلان

احادیث معتبرہ اور روایات صحیحہ سے یہ امر ثابت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام آسمان سے سرزمین ہند پر مقام سرندیپ میں اترے اور یہیں وفات ہوئی اور یہیں مدفون ہوئے۔

تحقیق اور تفصیل کے لیے حضرات اہل علم تفسیر در منثور صفحہ ٥٥ تا ٦٠

صفحہ ٤٦٥

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

جلد اول کی مراجعت فرمائیں۔ میرا مقصد اس وقت صرف ایک روایت کو پیش کرنا ہے۔ وہ روایت یہ ہے۔

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لما نزل آدم بالہند واستوحش فنزل جبریل فنادی باذان اللہ اکبر اللہ اکبر مرتین اشہد ان لا الہ الا اللہ مرتین اشہد ان محمدا رسول اللہ مرتین قال آدم لجبریل من محمد قال آخر ولدک من الانبیاء

(رواہ ابن عساکر خصائص کبری للسیوطی صفحہ ٨ جلد اول و کنز العمال صفحہ ١١٤ جلد ٦ و

تفسیر در منثور صفحہ ٥٥ جلد اول)

ترجمہ = حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے فرمایا کہ جب آدم علیہ السلام ہندوستان کی زمین پر اترے اور تنہائی کی وجہ سے گھبرائے تو جبریل امین آسمان سے اترے اور اذان دی اللہ اکبر اللہ اکبر دو مرتبہ کہا۔ اشہد ان لا الہ الا اللہ دو مرتبہ اشہد ان محمد رسول اللہ دو مرتبہ حضرت آدم نے جبریل امین سے کہا کہ محمد ﷺ کون ہیں تو جبریل امین نے یہ کہا کہ انبیاء میں آپ کے سب سے آخری بیٹے ہیں۔ یعنی ان کے بعد آپ کی اولاد میں کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔

اس روایت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا مسئلہ بھی حل ہو گیا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم کا نزول ختم نبوۃ کے منافی نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ آنحضرت ﷺ سے پہلے پیدا ہوئے اور آپ سے پہلے نبی بنائے گئے اور آپ سب نبیوں کے بعد پیدا ہوئے۔ اور سب کے بعد آپ کو نبوت ملی لہٰذا آپ ہی آخری نبی ہوئے۔ آخری بیٹا وہ ہے جو سب سے اخیر میں پیدا ہو نہ وہ کہ جس کی عمر زیادہ ہو۔

حیرت اور صد حیرت کا مقام ہے کہ مرزائیوں کے نزدیک گزشتہ نبی کا تو

صفحہ ٤٦٦

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

زندہ رہنا بھی ختم نبوت کے منافی ہے۔ مگر ایک نئے نبی کا پیدا ہو جانا ختم نبوۃ کے منافی نہیں۔ جس برگزیدہ نبی کی مدح اور توصیف سے قرآن کریم بھرا پڑا ہے۔ اس کے دوبارہ آنے سے تو نبوت کی مہر ٹوٹتی ہے۔ مگر ایک مرزا اور پٹھان اور قادیان کے ایک چودھری اور دہقان کے آنے سے نبوت کی مہر نہیں ٹوٹتی

ع بریں عقل و دانش بباید گریست

حضرت آدم علیہ السلام کی پشت مبارک پر خاتم النبیین لکھا ہوا تھا

اخرج ابن عساکر من طریق ابی الزبیر عن جابر قال بین کتفی آدم مکتوب محمد رسول اللہ خاتم النبیین

(خصائص کبری للسیوطی صفحہ ٧ جلد ١)

ترجمہ = ابن عساکر نے حضرت جابرؓ سے روایت کیا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں شانوں کے درمیان میں یہ لکھا ہوا ہے محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین۔

عالم ارواح میں تمام انبیاء علیہم السلام سے خاتم النبیین

کی نصرت و حمایت کا عہد و میثاق

قال اللہ تعالیٰ واذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب و حکمة ثم جاءکم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ قال اقررتم واخذتم علی ذالکم اصری قالوا اقررنا۔ قال فاشہدوا وانا معکم من الشہدین۔ فمن تولی بعد ذالک فاولئک ہم الفاسقون۔

ترجمہ = اور جب لیا اللہ نے عہد نبیوں سے کہ جو کچھ میں نے تم کو دیا کتاب اور علم پھر آوے تمہارے پاس کوئی رسول کہ سچا بتائے تمہاری پاس والی کتاب کو، تو اس رسول پر ایمان لاؤ گے۔ اور اس کی مدد کرو گے۔ فرمایا کہ کیا تم نے اقرار کیا۔ اور اس شرط پر میرا عہد قبول کیا۔

صفحہ ٤٦٧

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

بولے ہم نے اقرار کیا۔ فرمایا تو اب گواہ رہو۔ اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں پھر جو کوئی پھر جائے اس کے بعد تو وہی لوگ ہیں نادان۔

عالم ارواح میں حق جل شانہ نے تمام انبیاء سے یہ عہد اور میثاق لیا کہ تم سب کے بعد ایک عظیم الشان رسول آئے گا۔ تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا سب نے اس کا اقرار کیا۔

اس آیت شریفہ نے تمام انبیاء کرام کو مخاطب بنا کر یہ فرمایا ثم جاء کم رسول تم سب کے بعد ایک رسول آئے گا۔ یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ اس رسول کی آمد تمام انبیاء کے بعد ہو گی۔ اور یہ رسول آخری نبی ہو گا۔

وعن قتادۃ انہ اخذ اللہ میثاقہم بتصدیق بعضہم بعضا والاعلان بان محمد رسول اللہ واعلان رسول اللہ بان لا نبی بعدہ۔

(کذا فی الدر المنثور وغیرہ)

ترجمہ = قتادہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام سے وعدہ لیا کہ وہ ایک دوسرے کی تصدیق کریں۔ اور خصوصی طور پر یہ اعلان کریں کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

بشارات انبیاء سابقین

دربارۂ ظہور خاتم الانبیاء والمرسلین صلوات اللہ و سلامہ علیہم اجمعین

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے لے کر حضرت مسیح بن مریم کے زمانہ تک تمام انبیاء مسلسل اس کی بشارت دیتے آئے کہ اخیر زمانہ میں ایک نبی ظاہر ہو گا۔ وہ نبی خاتم الانبیاء ہو گا۔

واخرج ابن عساکر عن عبادۃ بن الصامت قال قیل یارسول اللہ اخبرنا عن نفسک قال نعم انا دعوۃ ابی ابراہیم وکان آخر من

صفحہ ٤٦٨

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

بشر بی عیسیٰ بن مریم علیہما السلام (خصائص کبری صفحہ ٩ جلد اول) ترجمہ = عبادۃ بن الصامتؓ سے مروی ہے کہ عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ اپنی نبوت کے متعلق کچھ ارشاد فرمائیے آپؐ نے فرمایا کہ میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں اور میرے ظہور کی آخری بشارت دینے والے عیسیٰ بن مریم ہیں۔

اس حدیث میں حضرت ابراہیم کی اس دعا کی طرف اشارہ ہے جو حضرت ابراہیم نے بناء کعبہ کے وقت کی تھی۔ وہ دعا یہ ہے۔ ربنا وابعث فیہم رسولا منہم یتلوا علیہم ایاتک ویعلمہم الکتاب والحکمۃ ویزکیہم انک انت العزیز الحکیم O ترجمہ = اے پروردگار ہمارے، اور بھیج ان میں ایک رسول انہی میں کا ہے کہ پڑھے ان میں تیری آیتیں اور سکھلاوے ان کو کتاب۔ اور پتے کی باتیں اور پاک کرے ان کو بے شک تو ہی ہے۔ زبردست بڑی حکمت والا۔

ابوالعالیہ سے مروی ہے کہ حق تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا۔ قد استجیب لک ھو کائن فی آخر الزمان

(خصائص کبری صفحہ ٩ جلد اول)

ترجمہ = اے ابراہیم تمہاری دعا قبول ہوئی وہ نبی اخیر زمانہ میں ظاہر ہو گا۔

چنانچہ توریت اور انجیل اور زبور میں خاتم الانبیاءؐ کے ظہور سراپا نور و سرور کی بشارتیں اب بھی موجود ہیں جس پر علماء کرام نے مستقل کتابیں لکھی ہیں اور اس ناچیز نے بھی ایک رسالہ اسی بارہ میں لکھا ہوا ہے۔ جو عرصہ ہوا کہ بشائر النبیین بظہور خاتم الانبیاء والمرسلین کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ اس وقت صرف چند بشارتیں ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔

بشارت اول

صفحہ ٤٦٩

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

(از تورات سفر استثناء باب ١٨ آیات ١٨)

١٨۔ اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کہا سو اچھا کہا۔ میں ان کے لیے ان کے بھائیوں میں تجھ سا نبی برپا کروں گا۔ اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔ اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا۔ ١٩۔ اور ایسا ہو گا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کے کہے گا۔ نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لوں گا۔ ٢٠۔ لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے۔ ٢١۔ اور اگر تو اپنے دل میں کہے کہ میں کیونکر جانوں کہ یہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں تو جان رکھ کہ جب نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور وہ جو اس نے کہا ہے واقع نہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی۔ انتہی

اہل اسلام یہ کہتے ہیں کہ یہ بشارت خاص سرور عالم سیدنا محمد ﷺ کے لیے ہے اور یہود کا یہ خیال ہے کہ یہ بشارت یوشع علیہ السلام کے لیے ہے اور نصاریٰ یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لیے ہے۔ لیکن حق یہ ہے کہ اس بشارت کا مصداق بجز خاتم الانبیاء کے کوئی نہیں ہو سکتا اس لیے کہ اول تو اس بشارت میں یہ مذکور ہے کہ میں ان کے (یعنی بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ نبی بنی اسرائیل میں سے نہ ہو گا اس لیے کہ اگر یہ نبی بنی اسرائیل میں سے ہوتا تو یہ فرماتے کہ خود تم میں سے ایک نبی پیدا ہو گا کما قال تعالیٰ لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیھم رسولا من انفسھم اور یہ نہ فرماتے کہ خود تمہارے بھائیوں میں سے وہ نبی ظاہر ہو گا کما قال تعالیٰ خطاباً لبنی اسرائیل و جعل فیکم انبیاء غرض یہ کہ موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا تمام بنی اسرائیل کو بلا کسی تخصیص کے یہ خطاب فرمانا کہ وہ نبی موعود تمہارے بھائیوں میں سے ہو گا۔ اس امر کی صاف دلیل ہے کہ وہ نبی موعود بنی اسرائیل کے بھائیوں یعنی بنی اسمعیل میں سے ہو گا۔

صفحہ ٤٧٠

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

اور ظاہر ہے کہ حضرت یوشع علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام بنی اسرائیل میں سے ہیں اور اس بشارت کا مصداق صرف وہی نبی ہو سکتا ہے کہ جو بنی اسمعیل میں سے ہو۔ انبیاء بنی اسرائیل میں سے کوئی پیغمبر اس بشارت کا مصداق نہیں ہو سکتا۔

دوم یہ کہ اس بشارت میں یہ مذکور ہے کہ تیرے مانند ایک نبی برپا کروں گا اور ظاہر ہے کہ موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے مانند نہ یوشع علیہ السلام ہیں اور نہ عیسیٰ علیہ السلام۔ اس لیے کہ یہ دونوں حضرات بنی اسرائیل میں سے ہوئے اور تورات میں ہے کہ ”بنی اسرائیل میں موسیٰ کے مانند کوئی نبی نہیں اٹھا۔“

علاوہ ازیں حضرت یوشع علیہ الصلوۃ والسلام حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے تلمیذ تھے۔ تابع و متبوع کیسے مماثل ہو سکتے ہیں۔ نیز حضرت یوشع علیہ الصلوۃ والسلام اس وقت موجود تھے اور اس بشارت میں یہ مذکور ہے کہ ایک نبی برپا کروں گا جس سے صاف ظاہر ہے کہ اس نبی کا وجود زمانہ مستقبل میں ہو گا۔ نیز یوشع علیہ الصلوۃ والسلام حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام ہی کے زمانہ میں نبی ہو چکے تھے۔ پس وہ اس بشارت کا جس میں آئندہ نبی کی خبر دی گئی ہے۔ کیسے مصداق ہو سکتے ہیں۔

علیٰ ہذا حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام بھی حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے مماثل نہیں اس لیے کہ نصارائے حیاری کے نزدیک تو وہ ابن اللہ یا خود خدا ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نہ اللہ نہ ابن اللہ بلکہ خدا کے ایک بندے ہیں۔ پس بندے اور خدا میں کیا مماثلت۔

نیز حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام بہ اعتقاد نصاریٰ مقتول و مصلوب ہو کر اپنی امت کے لیے کفارہ ہوئے اور حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نہ مقتول و مصلوب ہوئے اور نہ کفارہ ہوئے۔

نیز حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی شریعت حدود و قصاص زواجر و تعزیرات غسل و طہارت کے احکام سے ساکت ہے۔ بخلاف شریعت موسویہ کے وہ

صفحہ ٤٧١

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

ان تمام امور پر مشتمل ہے۔ ہاں نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام میں مماثلت ہے۔ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام صاحب شریعت مستقلہ تھے اسی طرح ہمارے نبی اکرم ﷺ کی شریعت غراء بھی مستقل اور کامل اور علی وجہ الاتم حدو و تعزیرات جہاد و قصاص ۔ حلال و حرام کے احکام کو جامع ہے۔

جس طرح موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے بنی اسرائیل کو فرعون کے پنجہ سے نکال کر عزت دی اس سے بدرجہا زائد نبی اکرم ﷺ نے عرب کو روم اور فارس کی قید سے چھڑا کر اللہ کا کلمہ پڑھایا اور قیصر و کسری کے خزائن کی کنجیاں ان کے سپرد کیں۔ نیز جس طرح حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے نکاح کیا اسی طرح ہمارے نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی انبیاء سابقین علیھم السلام کی سنت نکاح پر عمل فرمایا۔ اور اسی مماثلت کی طرف قرآن کریم کی اس آیت میں اشارہ ہے۔

انا ارسلنا الیکم رسولا شاهدا علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولا ۝

ترجمہ = ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا۔ تم پر گواہی دینے والا جیسے ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا۔

نیز حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت یوشع علیہ الصلوۃ والسلام نے کبھی اس مماثلت کا دعویٰ بھی نہیں فرمایا اور اگر یہ کہا جائے کہ مماثلت سے یہ مراد ہے کہ وہ نبی موعود موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی طرح بنی اسرائیل میں سے ہو گا۔ تو اس صورت میں حضرت عیسیٰ اور حضرت یوشع علیھما الصلوۃ والسلام کی کیا تخصیص ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں ہزاروں نبی پیدا ہوئے۔ اس لحاظ سے ہر نبی انبیاء اسرائیل میں سے اس بشارت کا مصداق بن سکتا ہے اور اگر حضرت عیسیٰ اور حضرت یوشع علیھما الصلوۃ والسلام کے لیے کسی درجہ میں مماثلت تسلیم کر لی جائے تو اس مماثلت کو اس مماثلت سے کہ نبی اکرم

صفحہ ٤٧٢

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

محمدﷺ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے حاصل ہے کوئی نسبت نہیں۔

سوم یہ کہ اس بشارت میں بھی مذکور ہے کہ میں اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا یعنی اس نبی پر الواح تورات و زبور کی طرح لکھی ہوئی کتاب نازل نہ ہو گی بلکہ فرشتہ اللہ کی وحی لے کر نازل ہو گا۔ اور وہ نبی امی ہو گا۔ فرشتہ سے سن کر اللہ کا کلام یاد کرے گا اور اپنے منہ سے پڑھ کر امت کو سنائے گا۔ اور ظاہر ہے کہ یہ بات بجز نبی امی فداہ نفسی و ابی وامی کسی پر صادق نہیں آتی۔

چہارم یہ کہ اس بشارت میں اس امر کی بھی تصریح ہے کہ جو اس نبی موعود کے حکم کو نہ مانے گا۔ میں اس کو سزا دوں گا اور ظاہر ہے کہ اس سزا سے اخروی عذاب مراد نہیں اس لیے کہ اس میں اس نبی موعود کے نہ ماننے والے کی کیا خصوصیت، اخروی عذاب ہر نبی کے نہ ماننے والے کے لیے ہے بلکہ اس سے دنیوی سزا یعنی جہاد و قتال اور حدود و قصاص کا جاری کرنا مراد ہے اور یہ بات نہ عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو حاصل ہوئی اور نہ یوشع علیہ الصلوۃ والسلام کو۔ البتہ خاتم الانبیاء سرور عالم سیدنا محمد ﷺ کو علی وجہ الاتم حاصل ہوئی۔ لہٰذا وہی اس بشارت کا مصداق ہو سکتے ہیں۔

پنجم یہ کہ اس بشارت میں یہ بھی تصریح ہے کہ اگر وہ نبی عیاذ باللہ افتراء کرے گا اور خدا کی طرف غلط بات منسوب کرے گا تو وہ نبی قتل کیا جائے گا۔ اور ظاہر ہے کہ ہمارے نبی اکرم ﷺ بعد دعوائے نبوت کے قتل نہیں کئے گئے۔ دشمنوں نے ہر طرح کی کوشش اور تدبیر کی مگر سب برباد گئی۔ کما قال اللہ تبارک وتعالیٰ۔

واذ یمکر بک الذین کفروا لیثبتوک او یقتلوک او یخرجوک و یمکرون ویمکر اللہ واللہ خیر الماکرین O

ترجمہ = اے محمد ﷺ ! اللہ کی اس نعمت کو یاد کیجئے۔ کہ کافر جب آپ کے ساتھ مکر کرتے تھے کہ آپ کو قید کرلیں یا مار ڈالیں یا نکال دیں وہ اپنی تدبیریں کرتے تھے۔ اور اللہ اپنی تدبیر فرماتا تھا اور اللہ ہی

صفحہ ٤٧٣

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

بہترین تدبیر فرمانے والا ہے۔

اور حسب وعدہ الہی واللہ یعصمک من الناس آپ بالکل محفوظ اور مامون رہے اور بجائے اس کے کہ کسی قسم کا حادثہ فاجعہ پیش آتا آپ کی شان و شوکت بلند ہوتی گئی۔ پس آنحضرت ﷺ اگر وہ نبی موعود نہ ہوتے تو ضرور قتل کئے جاتے ہاں حسب زعم نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام مقتول و مصلوب ہوئے۔ پس اگر حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام کو اس بشارت کا مصداق قرار دیا جائے تو علی زعم النصاریٰ عیاذا باللہ ان کا کاذب ہونا لازم آتا ہے اور قرآن عزیز میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے کما قال الله تعالیٰ شانہ

ولولا ان ثبتنک لقد کدت ترکن الیہم شیئا قلیلا اذا لا ذقنک ضعف الحیوۃ وضعف الممات ثم لا تجدلک علینا نصیرا O

ترجمہ = اگر ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو آپ قریب تھے کہ ان کی جانب اقل قلیل مائل ہو جاتے۔ اس وقت ہم آپ کو زندگی اور موت کا دو چند عذاب چکھاتے پھر آپ ہمارے مقابلے میں کسی کو مددگار نہ پاتے۔

دوسری جگہ فرمایا۔

ولو تقول علینا بعض الاقاویل لاخذ نامنہ بالیمین ثم لقطعنا منه الوتین O

ترجمہ = اگر محمد ﷺ ہم پر کچھ افتراء کرتے تو ہم ان کا داہنا پکڑ لیتے۔ اور ان کی شہ رگ کو کاٹ دیتے۔

ایک ضروری تنبیہ

قتل نہ ہونا علی الاطلاق صادق ہونے کی دلیل نہیں ورنہ ان انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی صداقت کہ جو دشمنوں کے ہاتھ سے قتل کئے گئے زیر تامل ہو گی۔ کما قال اللہ تعالیٰ و یقتلون النبیین بغیر الحق خصوصاً نصاریٰ کو اپنے عقیدہ فاسدہ کی بنا پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صداقت ثابت کرنا بہت دشوار

صفحہ ٤٧٤

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

ہو جائے گی۔ بلکہ خاص اسی نبی موعود کا نہ قتل ہونا اس کے صادق ہونے کی علامت ہے جیسا کہ تورات کی اس عبارت سے ظاہر ہے وہ نبی ایسی گستاخی کرے گا الخ وہ قتل کیا جائے گا اور دونوں جملوں میں وہ کی ضمیر خاص اس نبی موعود کی طرف راجع ہے۔

ششم۔ یہ کہ بشارت میں یہ بھی مصرح ہے کہ اس نبی موعود کے صادق ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کا کہا پورا ہو گا یعنی اس کی تمام پیشین گوئیاں صادق ہوں گی۔ سو الحمد للہ ثم الحمد للہ کہ اس صادق مصدوق کی کوئی پیشین گوئی آج تک ذرہ برابر بھی غلط ثابت نہ ہوئی۔ اور ہم پورے دعوے کے ساتھ بہ بانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ قیامت تک بھی کوئی حاسد اس صادق مصدوق کی کسی پیشین گوئی کو غلط ثابت نہیں کر سکتا۔

اور یہ وصف تو آنحضرت ﷺ میں ایسا نمایاں اور اجلی تھا۔ کہ آپؐ کے دشمنوں اور حاسدوں کو بھی بجز صادق امین کہنے کے کوئی چارہ نظر نہ آتا تھا۔

ہفتم۔ یہ کہ کتاب الاعمال باب سوم آیت ہفت دہم کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ نبی منتظر حضرت عیسیٰ اور ایلیا علیہما الصلوۃ والسلام بلکہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ ہے اور آخری نبی ہے اخیر زمانہ میں مبعوث ہو گا۔ اور وہ عبارت یہ ہے۔

اب اے بھائیوں میں جانتا ہوں کہ تم نے یہ نادانی سے کیا جیسے تمہارے سرداروں نے بھی۔ پر جن باتوں کی خدا نے اپنے سب نبیوں کی زبان سے آگے سے خبر دی تھی کہ مسیح دکھ اٹھائے گا سو پوری کیں۔ ١٩ پس توبہ کرو اور متوجہ ہو کہ تمہارے گناہ مٹائے جائیں تاکہ خداوند حضور تازگی بخش ایام لائے۔ ٢٠۔ اور یسوع مسیح کو پھر بھیجے جس کی منادی تم لوگوں کے درمیان آگے سے ہوئی ٢١۔ ضرور ہے کہ آسمان اسی کے لیے رہے اس وقت تک کہ سب چیزیں جن کا ذکر خدا نے اپنے سب پاک

صفحہ ٤٧٥

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

نبیوں کی زبانی شروع سے کہا اپنی حالت پر آویں۔ ٢٢۔ کیونکہ موسیٰ نے باپ دادوں سے کہا کہ خداوند جو تمہارا خدا ہے تمہارے بھائیوں میں سے تمہارے لیے ایک نبی تیری مانند اٹھاوے گا جو کچھ وہ تمہیں کہے اس کی سب سنو۔ ٢٣۔ اور ایسا ہو گا کہ ہر نفس کہ جو اس نبی کی نہ سنے وہ قوم سے نیست کیا جاوے گا۔ ٢٤۔ بلکہ سب نبیوں نے سموائیل سے لے کر پچھلوں تک جتنوں نے کلام کیا ان دنوں کی خبر دی ہے۔ ٢٥۔ تم نبیوں کی اولاد اور اس عہد کے ہو جو خدا نے باپ دادوں سے باندھا ہے جب ابراہیم سے کہا کہ تیری اولاد سے دنیا کے سارے گھرانے برکت پاویں۔

اس عبارت میں اول حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بشارت اور ان کی اس تکلیف کا جو ان کو علیٰ زعم یہود لعنہم اللہ سے پیش آئی ذکر ہے اور ان کے نزول من السماء کا تذکرہ ہے۔ اس کے بعد اس نبی کی بشارت کا ذکر ہے کہ جس کے متعلق حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بنی اسرائیل سے مخاطب ہو کر فرمایا تھا کہ

خداوند عالم تمہارے بھائیوں یعنی بنی اسماعیل میں سے ایک نبی بھیجنے والا ہے۔ اور علاوہ موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تمام نبیوں نے اس نبی موعود کے آنے کی خبر دی ہے اور جب تک یہ وعدہ ظہور میں نہ آئے گا۔ اس وقت تک یہ زمین و آسمان ضرور قائم رہیں گے اور اسی زمانہ میں خدا کا وعدہ بھی پورا ہو گا۔ کہ جو اس نے ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کیا تھا کہ تجھ سے دنیا کے سارے گھرانے برکت پائیں گے۔

الحاصل حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بشارت کو ذکر کر کے یہ کہنا (سو پوری کیں) اور جس نبی کی موسیٰ اور ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام اور تمام انبیاء کرام علیہم الف الف صلوٰۃ و الف الف سلام نے بشارت دی ہے اس کے انتظار کو ان الفاظ سے ظاہر کرنا کہ ”ضرور ہے کہ آسمان اس کے لیے رہے کہ اس وقت کہ

صفحہ ٤٧٦

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

سب چیزیں کہ جن کا ذکر کہ خدا نے اپنے سب پاک نبیوں کی زبانی شروع سے کیا اپنی حالت پر آئیں"

اس امر کی صاف دلیل ہے کہ یہ نبی مبشر اور رسول منتظر ان تمام انبیاء و رسل کے علاوہ ہے کہ جو حضرت موسیٰ سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہما الصلوۃ والسلام تک گزرے۔ لہٰذا اس بشارت کا مصداق حضرت موسیٰ سے حضرت عیسیٰ کے زمانہ تک کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ "پس حضرت یوشع، حضرت مسیح بن مریم علیہما السلام کو اس بشارت کا مصداق قرار دینا کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔

ہفتم یہ کہ انجیل یوحنا باب اول آیت انیسویں میں ہے۔

جب یہودیوں نے یروشلم سے کاہنوں اور لاویوں کو بھیجا کہ اس کو پوچھیں کہ تو کون ہے اور اس نے اقرار کیا اور انکار نہ کیا بلکہ اقرار کیا کہ میں مسیح نہیں۔ تب انہوں نے اس سے پوچھا تو اور کون ہے اور کیا تو الیاس ہے اس نے کہا میں نہیں ہوں۔ پس آیا تو وہ نبی ہے اس نے جواب دیا نہیں۔

اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کو حضرت مسیح اور ایلیا علیہما الصلوۃ والسلام کے سوا بھی ایک نبی کا انتظار تھا۔ اور وہ نبی ان کے نزدیک ایسا معروف و معہود تھا کہ اس کے نام کے ذکر کرنے کی بھی حضرت مسیح اور حضرت ایلیاء علیہما السلام کے نام کی طرح حاجت نہ تھی۔ بلکہ فقط "وہ نبی" کا اشارہ ہی اس کے لیے کافی تھا۔

پس اگر حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام ہی اس بشارت کا مصداق تھے تو پھر ان کو انتظار کس کا تھا۔ وہ نبی جس کا کہ ان کو انتظار تھا۔ وہ ہمارے نبی اکرم ﷺ ہیں۔ اور اسی وجہ سے کہ اہل کتاب نبی اکرم سیدنا محمد ﷺ کے لیے "وہ نبی" کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ اس لیے ہمیشہ سے اہل اسلام نبی کریم علیہ الصلوۃ و التسلیم کو آں حضرت (جو بعینہ وہ نبی کا ترجمہ ہے بولتے ہیں)

نہم یہ کہ انجیل یوحنا باب ہفتم کی آیت چہلم سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے

صفحہ ٤٧٧

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

کہ وہ نبی موعود حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے علاوہ ہے۔ چنانچہ انجیل میں ہے۔

٤٠۔ ”تب ان لوگوں میں سے بہتیروں نے یہ سن کر کہا فی الحقیقت یہی وہ نبی ہے اوروں نے کہا یہ مسیح ہے“۔ نبی موعود کو حضرت مسیح کے مقابلہ میں ذکر کرنا اس کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ وہ نبی موعود حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے علاوہ ہے پس اگر ”وہ نبی“ سے آنحضرت ﷺ مراد نہ ہوں تو وہ پھر کونسا نبی ہے کہ جس کا ان کو انتظار تھا۔

دہم یہ کہ تورات سفر پیدائش باب ٤٩ میں ہے۔ (١) اور یعقوب نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور کہا کہ اپنے کو جمع کرو تاکہ میں اس کی جو پچھلے دنوں تم پر بیتے گا تمہیں خبر دوں (٢) اے یعقوب کے بیٹو اپنے کو اکٹھے کرو اور سنو اور اپنے باپ اسرائیل کی سنو اور پھر آیت دہم میں ہے۔

یہوداہ سے ریاست کا عصا جدا نہ ہو گا۔ اور نہ حاکم اس کے پاؤں کے درمیان سے جاتا رہے گا۔ جب تک کہ شیلا نہ آوے۔ اور قومیں اس کے پاس اکٹھی ہوں گی۔

آیات مسطورہ میں اس امر کی خبر دی گئی ہے کہ جب تک کہ اخیر زمانہ میں شیلا کا ظہور نہ ہو۔ اس وقت تک یہوداہ کی نسل سے حکومت و ریاست منقطع نہ ہو گی۔

اہل اسلام کے نزدیک شیلا۔ آنحضرت ﷺ کا لقب ہے۔ نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کا لقب قرار دیتے ہیں۔ مگر نصاریٰ کا یہ خیال صحیح نہیں۔ اس لیے کہ اس عبارت کا سیاق اس کو مقتضی ہے کہ شیلا کو نسل یہوداہ سے خارج مانا جائے اس لیے کہ شیلا کے ظہور سے نسل یہوداہ کی حکومت و ریاست کا انقطاع جب ہی متصور ہو سکتا ہے کہ جب شیلا نسل یہوداہ سے نہ ہو۔ ورنہ اگر شیلا نسل یہوداہ سے ہو تو اس کا ظہور تو بقائے حکومت یہوداہ کا باعث ہو گا نہ کہ انقطاع حکومت یہوداہ کا۔

صفحہ ٤٧٨

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

اور بائیبل کے ابواب بلکہ انجیل متی کے پہلے ہی صفحہ پر ذرا غور کرنے سے یہ بات بخوبی منکشف ہو سکتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نسل یہوداہ سے خارج نہیں اس لیے کہ آپ حضرت داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسل سے ہیں اور حضرت داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام بالاجماع یہوداہ کی نسل سے ہے۔

لہٰذا شیلا کا مصداق وہی نبی ہو سکتا ہے کہ جو نسل یہوداہ سے خارج میں ہو اور اس کا ظہور آخر زمانہ میں ہو جیسا کہ آیت اول کے اس جملہ سے ظاہر ہے۔ تاکہ میں اس کی جو پچھلے دنوں میں تم پر بیتے گا تمہیں خبر دوں۔"

اور یہ دونوں امر آنحضرت ﷺ ہی پر صادق آسکتے ہیں کہ آپ یہوداہ کی نسل سے بھی نہ تھے۔ بلکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے تھے اور آپؐ کا ظہور بھی خاتم النبین ہونے کی وجہ سے اخیر زمانہ میں ہوا۔

اور آپؐ کی بعثت کے بعد سے یہوداہ کی نسل میں جو کچھ حکومت و ریاست تھی وہ سب جاتی رہی۔ قرائے بنی نضیر اور خیبر سب آپ ہی کے زمانہ میں فتح ہوگئے اور اس جملہ میں کہ

"قومیں اس کے پاس اکٹھی ہوں گی"

عموم بعثت کی طرف اشارہ ہے کما قال تعالیٰ شانہ قل یا ایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا۔ ترجمہ = اے نبی کہہ دیجئے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔

بخلاف حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کہ ان کی بعثت صرف بنی اسرائیل کے لیے تھی کما قال تعالیٰ شانہ و رسولاً الی بنی اسرائیل اور انجیل میں ہے کہ میں صرف بنی اسرائیل کے بھیڑوں کے لیے آیا ہوں۔

صفحہ ٤٧٩

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

خاتم النبیین ﷺ کی ختم نبوت اور

ذکر خیر پر مشتمل دوسری بشارت

(از زبور سیدنا داؤد علیہ السلام باب ٤٥)

(١) میرے دل میں اچھا مضمون جوش مارتا ہے میں ان چیزوں کو جو میں نے بادشاہ کے حق میں بنائی ہیں بیان کرتا ہوں۔ میری زبان ماہر لکھنے والے کا قلم ہے (٢) تو حسن میں بنی آدم سے کہیں زیادہ ہے۔ تیرے ہونٹوں میں لطف بنایا گیا ہے۔ اسی لیے خدا نے تجھ کو ابد تک مبارک کیا (٣) اے پہلوان اپنی تلوار کو جو تیری حشمت اور بزرگواری ہے حمائل کر کے اپنی ران پر لٹکا (٤) اور اپنی بزرگواری سے سوار ہو اور سچائی اور ملائمت اور صداقت کے واسطے اقبال مندی کے لیے آگے بڑھ ۔ اور تیرا داہنا ہاتھ تجھ کو مہیب کام سکھلائے گا۔ (٥) تیرے تیر تیز ہیں۔ لوگ تیرے نیچے گرے پڑتے ہیں وہ بادشاہ کے دشمنوں کے دل میں لگ جاتے ہیں (٦) تیرا تخت اے خدا ابد الآباد رہے۔ تیری سلطنت کا عصا راستی کا عصا ہے (٧) تو صداقت کا دوست اور شرارت کا دشمن ہے۔ اس سبب سے تیرے خدا نے تجھ کو خوشی کے تیل سے تیرے مصاحبوں سے زیادہ مسیح کیا (٨) تیرے سارے لباس سے مر اور عود اور تج کی خوشبو آتی ہے کہ جن سے ہاتھی دانت کے محلوں کے درمیان انہوں نے تجھ کو خوش کیا ہے (٩) بادشاہوں کی بیٹیاں تیری عزت والیوں میں ہیں۔ ملکہ اوفیر کے سونے سے آراستہ ہو کے تیرے داہنے ہاتھ کھڑی ہے۔

اور بارہویں آیت میں ہے

”اور صور کی بیٹی ہدیئے لاوے گی۔ قوم کے دولت مند تیری خوشامد کریں گے۔“

صفحہ ٤٨٠

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

اور سولہویں آیت میں ہے

(١٦) تیرے بیٹے باپ دادوں کے قائم مقام ہوں گے۔ تو انہیں تمام زمین کا سردار مقرر کرے گا (١٧) میں ساری پشتوں کو تیرا نام یاد دلاؤں گا۔ اور سارے لوگ ابدالآباد تک تیری ستائش کریں گے۔“

اس زبور میں حضرت سیدنا داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک عظیم الشان و الشوکت رسول کی بشارت دے رہے ہیں۔ اور فرط محبت میں اس کو مخاطب بنا کر اوصاف بیان فرما رہے ہیں اوصاف حسب ذیل ہیں۔

(١) بادشاہ یعنی سب سے اعلیٰ اور افضل ہونا (٢) حسین ہونا (٣) ہونٹوں میں لطف کا ہونا۔ شیریں زبان اور فصیح اللسان ہونا (٤) مبارک الی الدہر ہونا (٥) پہلوان یعنی قوی ہونا (٦) شمشیر بند ہونا (٧) صاحب حق و صداقت ہونا (٨) اقبال مند ہونا (٩) اس کے دائیں ہاتھ سے کسی عجیب و غریب کرشمہ کا ظاہر ہونا (١٠) تیر انداز ہونا (١١) لوگوں کا اس کے نیچے گرے پڑنا یعنی خلق اللہ کا اس کے تابع ہونا (١٢) تخت کا ابدالآباد تک رہنا یعنی شریعت اور حکومت اسلام کا تاقیام قیامت باقی رہنا (١٣) عصائے سلطنت کا عصائے راستی ہونا (١٤) صداقت کا دوست اور شرارت کا دشمن ہونا (١٥) اس کے کپڑوں سے خوشبو کا آنا (١٦) اس کے گھرانہ میں بادشاہوں کی بیٹیوں کا آنا (١٧) ہدایا اور تحائف کا آنا (١٨) اولاد کا بجائے باپ کے سردار اور حاکم ہونا (١٩) تمام پشتوں میں قرناً بعد قرن اور نسلاً بعد نسل اس کا ذکر باقی رہنا (٢٠) ابدالآباد تک لوگوں کا اس کی ستائش کرنا۔“

اہلِ اسلام کے نزدیک اس بشارت کا مصداق نبی اکرم رسول اعظم سید الاولین و الآخرین محمدﷺ ہیں۔ نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس بشارت کا مصداق سمجھتے ہیں۔ مگر یہ صحیح نہیں اس لیے کہ جو اوصاف اس

صفحہ ٤٨١

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

بشارت میں مذکور ہیں۔ وہ صرف نبی اکرم ﷺ پر صادق آتے ہیں۔

اجلیٰ اور روشن ہے۔ حق تعالیٰ شانہ نے آپؐ کو دین و دنیا دونوں کی بادشاہی عطا فرمائی۔ احکام خداوندی کو بادشاہوں کی طرح جاری فرمایا۔ جس طرح نصاریٰ کے زعم میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام یہود لعنہم اللہ تعالیٰ سے مقہور و مجبور تھے نبی اکرمؐ مجبور نہ تھے آپ نے تو ان کے حصون و قلاع ان کو نکال دیا الحاصل نبی اکرم ﷺ دین و دنیا کے بادشاہ تھے تمام انبیاء رسل سے افضل اور برتر تھے نہ کسی رسول کو قرآن کریم جیسی معجز کتاب عطا کی گئی اور نہ کسی کو آپؐ جیسی کامل و مکمل شریعت عطاء کی گئی۔ کہ فلاح دارین اور نجات اور بہبودی کی پوری پوری کفیل ہو جس نے عقائد و اعمال کی سنگین غلطیوں پر قبضہ کیا ہو خدا تک پہنچنے کے لیے راستہ ایسا صاف کر دیا ہو کہ چلنے والوں کے لیے کوئی روڑا اٹکا نہ رکھا ہو۔ تہذیب اخلاق اور تدبیر منزل سیاست ملکیہ اور مدنیہ کے لحاظ سے بھی نہایت کامل و مکمل ہو۔ غرض یہ کہ اس میں جامعیت کبریٰ کا وصف نمایاں ہو۔ ان تمام محاسن اور خوبیوں کا جامع صرف دین اسلام ہے کہ جس کو آنحضرت ﷺ خدا کے پاس سے لائے۔

ان الدین عنداللہ الاسلام

ترجمہ = بے شک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے

یہی وہ کامل و مکمل دین ہے کہ اس کے طلوع ہوتے ہی سب ادیان و مذاہب کے چراغ گل ہو گئے۔

رات محفل میں ہر اک مہ پارہ گرم لاف تھا
صبح کو خورشید جو نکلا تو مطلع صاف تھا

پس جس نبی کی کتاب بھی تمام کتب الہیہ اور صحف سماویہ سے افضل ہو اور اس کی شریعت تمام شرائع اور ادیان سے بدرجہا برتر اور کامل اور اکمل ہو اس کے معجزات بھی تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے معجزات سے بڑھے ہوئے

صفحہ ٤٨٢

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

ہوں۔ اس کی امت بھی تمام امتوں سے علم اور عمل اعتقادات و اخلاق مکارم و شمائل تہذیب و تمدن سیاست ملکیہ اور مدینہ کے لحاظ سے فائق اور برتر ہو۔ اس نبی کے سید الاولین و الاخرین اور بادشاہ دو جہاں ہونے میں کیا کلام اور شبہ ہو سکتا ہے۔

روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زاید کسی کو حسین اور خوبصورت نہیں دیکھا۔ گویا کہ آفتاب آپؐ کے چہرۂ مبارک میں گھومتا ہے اور جب تبسم فرماتے تو دندان مبارک کی چمک دیواروں پر پڑتی تھی۔

حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔

و احسن منک لم تر قط عینی
و اجمل منک لم تلد النساء

میری آنکھ نے آپؐ سے زائد حسین نہیں دیکھا اور آپؐ سے زائد جمیل اور خوبصورت عورتوں نے نہیں جنا

خلقت مبرء من کل عیب
کانک قد خلقت کما تشاء

آپؐ ہر عیب سے پاک پیدا کئے گئے ہیں گویا کہ آپؐ حسب منشا پیدا کئے گئے

نوٹ:۔ یہاں ایک نظم حسن و جمال مبارک پر درج کی جاتی ہے۔

حلیہ مبارک خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

جس کا ذکر سابقہ کتب میں بھی موجود تھا

روایت کی امام باصفا نے
حسن سبط رسول مجتبیٰ نے
صفحہ ٤٨٣

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

کہ ہند بن ابی ہالہ مرا خال
رسول اللہ کا تھا واصف حال
کیا میں نے سوال اس باخبر سے
خبر دے حلیہ خیر البشر سے
کہ ہوں مشتاق ان باتوں کا بے حد
بیان کر کچھ تو حال جد امجد
غرض میری ہے یہ سن کر وہ احوال
کروں جو ہو سکے اسناد اعمال
کہا تب ہند نے یوں مجھ سے اس دم
رسول اللہ تھے فخم ۔ مفخم
نگاہوں میں وہ یعنی خوش سیر تھے
دلوں میں بھی بزرگ و نامور تھے
تجلی روئے انور کی نہ پوچھو
قمر ہو جس طرح سے چودہویں کو
میانہ کب قد خیرالوری تھا
میانہ پن سے بھی وہ قد جدا تھا
اگر کوتاہ کہئے تھا نہ کوتاہ
غرض گم کیفیت نے کی یہاں راہ
قد بالا کا تھا ان کے یہ عالم
میانہ سے دراز اطول سے کچھ کم
بزرگی تھی سر عالی میں پیدا
نہایت حسن و موزونی ہویدا
خم پیچاں عیاں بالوں میں کم تھی
کچھ اک ژولیدگی لیکن بہم تھی
صفحہ ٤٨٤

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

بکھرتے تھے جو فرق پاک پر بال
دو فرقہ ان کو کر دیتے تھے فی الحال
اگر از خود نہ بال ان کے بکھرتے
تکلف سے نہ ہرگز فرق کرتے
بحال وفرہ سر کے بال ان کے
گزرتے نرمہائے گوش سے تھے
درخشانی کا عالم رنگ میں تھا
کشادہ تھی جبین عالم آراء
مقوس دونوں ابروئے مقوس
مقدس دونوں ابروئے مقدس
بانداز مناسب طاق ابرو
نہ تھی پیوستگی آپس میں ان کو
عجب خمدار و باریک و مطول
بخوبی طاق تھا ثانی و اول
میان ابرواں اک رگ ہویدا
بہت ہوتی غضب کے وقت پیدا
کہوں کیا حبذا بینی کا عالم
کہ تھے نوروں کے شعلے جس سے توام
معلے بینی خیر البشر تھی
بانداز بلندی جلوہ گر تھی
جو کوئی بے تامل دیکھتا تھا
بلندی کا گماں ہوتا تھا پیدا
ملائم آپ کے رخسار نیکو
بھلا تشبیہ دوں میں کس سے اسکو
صفحہ ٤٨٥

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

بزیبائی کشادہ وہ دہن تھا
کشادہ وہ دہن تھا اور زیبا
کہوں دانتوں کا کیا وہ حسن سادہ
سپید و صاف آپس میں کشادہ
دقیق المسربہ یعنی خط مو
کھنچا سینے سے تھا تا ناف گلبو
بوصف گردن شایان معراج
کہا راوی نے شکل صورت عاج
مصفا یعنی وہ گردن تھی ایسی
بشکل نقرہ بانور و ضیا تھی
کہوں کیا عضو عضو ان کے بدن کا
بوضع خود مناسب اور زیبا
بخوبی تھے تناور فخر عالم
تمامی عضو تن مربوط باہم
شکم سینہ صفائی میں برابر
مگر سینہ عریض و پہن و خوشتر
فراخی دونوں شانوں میں عیاں تھی
ہر ہر استخوان میں تھی بزرگی
بدن جو کچھ کھلا پوشاک سے تھا
درخشندہ وہ نور پاک سے تھا
گلوئے پاک سے تا ناف والا
خط مو تھا کھنچا باریک و زیبا
سوا اس کے شکم سینہ سراسر
معریٰ مو سے تھا باقی برابر
صفحہ ٤٨٦

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

کلائی دونوں شانے اور بازو
مزین تھے بزیب کثرة مو
و ان کے صدر عالی کی بلندی
خط مو سے رکھے تھی ارجمندی
طویل الزند دونوں دست والا
کشادہ تھی کف دست مصفا
بزرگی اس کف پا میں عیاں تھی
نمایاں دونوں قدموں میں بزرگی
کشیدہ تھیں وہ انگشتان والا
لقب ہے سائل الاطراف جن کا
کف پا میں سمائی تھی یہ خوبی
کہ رہتی تھی زمین پر سے وہ اونچی
ہوا وارد بوصف پائے اقدس
کہ تھے پائے مبارک نرم و املس
جدا رہتی زمیں سے یوں کف پا
کہ پانی اس کے نیچے سے گزرتا
زمیں پر جب خراماں آپ جاتے
قدم کو اپنے برکندہ اٹھاتے
نہیں ہوتا خیال مثل پیشیں
بہ نرمی راہ جاتے سرور دیں
ہوا یہ حال بھی وارد بہ اخبار
کہ جس دم آپ جاتے تند رفتار
تو اس دم تھے عیاں یہ صاف معنی
بلندی سے ہے گویا میل پستی
صفحہ ٤٨٧

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

انہیں جب دیکھنا منظور ہوتا
نظر کرتے تھے حضرت بے محابا
بہت رہتے تھے آنکھوں کو جھکائے
نظر یعنی سوئے باطن لگائے
زمیں اکثر مشرف تھی نظر سے
فلک کم بہرہ ور ہوتا بصر سے
تامل سوچ تھا کیا ہی نظر میں
سمایا تھا لحاظ ان کی بصر میں
بیان کرتا ہے راوی بعد اس کے
کہ جب ساتھ آپ کے اصحابؓ ہوتے
تو یہ ارشاد فرماتے تھے حضرت ﷺ
چلو تم مجھ سے آگے کر کے سبقت
عجب اخلاق تھے خیر الوریٰ کے
کہ ہوں مخدوم پیچھے خادم آگے
سنو یہ اور عادت مصطفیٰ کی
کہ ہوتا جو کوئی ان سے ملاقی
جناب پاک کرتے اس کو خوش کلام
بتقدیم سلام دین اسلام

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ زنان مصر نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھ کر اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے اگر وہ ہمارے حبیب محمد ﷺ کو دیکھتیں تو دلوں کے ٹکڑے کر ڈالتیں۔

اے زلیخا اس کو نسبت اپنے یوسف سے نہ دے
اس پہ سر کٹتے ہیں دائم اور اس پر انگلیاں
صفحہ ٤٨٨

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

تسلیم ہے۔ آپؐ کے انفاس قدسیہ اور کلمات طیبات اس وقت تک باسانید صحیحہ و جیدہ محفوظ ہیں۔ جن سے آپؐ کی فصاحت و بلاغت اور شیریں زبانی کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔

مشرق و مغرب شمال و جنوب میں کروڑہا مسلمان نماز میں اور نماز کے بعد اور مختلف اوقات میں اللھم بارک علی محمد و علی ال محمد کما بارکت علی ابراھیم و علی ال ابراھیم انک حمید مجید ۝ ترجمہ = اے اللہ برکت نازل فرما محمد ﷺ پر اور محمد ﷺ کی آل پر جیسے آپ نے ابراہیمؑ اور ان کی آل پر برکت نازل فرمائی بلاشبہ آپ قابل ستائش اور بڑی بزرگی والے ہیں۔ پڑھتے ہیں۔ اس سے زائد اور کیا مبارک الی الدہر ہونے کی دلیل ہو سکتی ہے۔

نہ رکھتا تھا ایک روز آنحضرت ﷺ سے جنگل میں مل گیا اور یہ کہا کہ آپؐ مجھ کو پچھاڑ دیں تو میں آپؐ کو نبی برحق جانوں۔ آنحضرت ﷺ نے اس کو پچھاڑ دیا اس نے دوبارہ لڑنے کے لیے کہا آپؐ نے اس کو دوبارہ بھی پچھاڑ دیا۔ اس کو بہت تعجب ہوا۔ آپؐ نے یہ ارشاد فرمایا اگر تو اللہ سے ڈرے اور میرا اتباع کرے تو اس سے زائد عجیب چیز دکھلاؤں۔ اس نے پوچھا اس سے زائد کیا عجیب ہے۔ آپؐ نے ایک درخت کو بلایا آپؐ کے بلاتے ہی آپؐ کے سامنے آ کھڑا ہو گیا۔ بعد ازاں یہ فرمایا کہ لوٹ جا‘ سو وہ درخت یہ سن کر اپنی جگہ لوٹ گیا۔

عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نہ شمشیر بند تھے۔ اور نہ صاحب جہاد۔ اور بقول نصاریٰ ان میں اتنی قوت بھی نہ تھی کہ وہ اپنے کو یہود سے بچا سکے۔

صفحہ ٤٨٩

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله ولو كره المشركون بل جاء بالحق وصدق المرسلين ۝ ترجمہ = خدا ہی نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے اگرچہ مشرکین کو ناگوار گزرے آنحضرت ﷺ شاعر و مجنوں نہیں۔ بلکہ حق کو لے کر آئے ہیں اور پیغمبروں کی تصدیق کی ہے۔

والذى جاء بالصدق وصدق به اولئك هم المتقون

(سورة زمر)

ایک مرتبہ نضر بن الحارث نے قریش کو مخاطب بنا کر یہ کہا۔ قد كان محمد فيكم غلاما حدثا ارضاكم فيكم واصدقكم حديثا واعظمكم امانة حتى اذا رايتم فى صدغيه الشيب وجاءكم ما جاءكم قلتم انه ساحر لا والله ما هو بساحر ترجمہ = محمد ﷺ تم میں نوجوان تھے سب سے زائد پسندیدہ سب سے زائد سچے سب سے زائد امین۔ لیکن جب تم نے ان کے جانبین راس میں بڑھاپا دیکھا اور وہ تمہارے پاس یہ دین حق لے کر آئے تو تم ان کو ساحر اور جادو گر کہنے لگے ہرگز نہیں۔ خدا کی قسم وہ ساحر نہیں۔

اور ہرقل شاہ روم نے جب ابو سفیان سے نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کے متعلق یہ دریافت کیا کہ کیا تم نے کبھی اس کو متہم بالکذب کیا ہے تو اس پر ابو سفیان نے یہ جواب دیا کہ ہم نے ان سے کبھی کوئی کذب نہیں دیکھا۔

آپؐ کو اقبال عطا فرمایا ایسا اقبال آج تک کسی کو نصیب نہیں ہوا اور نہ ہو گا۔

سے، معجزہ شق قمر کی طرف اشارہ ہے۔

صفحہ ٤٩٠

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

چو دستش بر آ ہیخت شمشیر بیم
بہ معجز میان قمر زد دو نیم

اور علی ہذا جنگ بدر اور جنگ حنین میں ایک مٹھی خاک سے تمام مشرکین کو خیرہ کر دینا یہ بھی آپؐ کے دائیں ہاتھ کا مہیب کام تھا۔

ارموا بنی اسمعیل فان اباکم کان رامیا

ترجمہ = اے بنی اسمعیل تیر اندازی کیا کرو اس لیے کہ تمہارا باپ تیر انداز تھا

اور دوسری حدیث میں ہے۔

من تعلم الرمی ثم ترکہ فلیس منا

ترجمہ = جو تیر اندازی سیکھ کر چھوڑ دے۔ وہ ہم میں سے نہیں۔

بھی اظہر من الشمس ہے۔ چند ہی روز میں ہزاران ہزار اسلام کے حلقہ بگوش بن گئے۔ کما قال اللہ تعالیٰ شانہ

اذا جاء نصر اللہ والفتح ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا O فسبح بحمد ربک واستغفر انہ کان توابا O

ترجمہ = جب اللہ کی نصرت اور فتح آچکی اور آپؐ نے لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے دیکھ لیا تو اپنے رب کی تسبیح و تحمید کیجئے اور استغفار پڑھئے بے شک خدا بہت توبہ قبول فرمانے والا ہے۔

حسب وعدہ الٰہی انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون O

ترجمہ = بے شک ہم نے قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔

تیرہ صدی سے بالکل محفوظ چلا آتا ہے۔ بحمد اللہ اب تک اس کے ایک نقطہ اور ایک شوشہ میں بھی سر مو تفاوت نہیں آیا۔ اور انشاء اللہ تعالیٰ تا قیام

صفحہ ٤٩١

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

قیامت اسی طرح رہے گا۔ اور یہود و نصاریٰ کو اپنی تورات و انجیل کا حال خوب معلوم ہے۔ لکھنے کی حاجت نہیں۔ اور آپؐ کی سلطنت کا عصا راستی اور صداقت کا عصا ہے ہمیشہ اس سے احقاق حق اور ابطال باطل ہوتا رہتا ہے۔

قال اللہ جل جلالہ لقد جاء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ماعنتم حریص علیکم بالمومنین رؤف رحیم O ترجمہ = بے شک تمہارے پاس تم میں سے ایسے رسول آگئے ہیں کہ جن پر تمہاری تکلیف شاق ہے تمہاری بھلائی کے لیے حریص ہیں۔ مومنین پر نہایت شفیق اور مہربان ہیں۔

یاایھا النبی جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیھم ترجمہ = اے نبی کریم کفار و منافقین سے جنگ کیجئے اور ان پر سختی کیجئے۔

اور آپؐ کی امت کے یہ اوصاف ہیں۔ اشدآء علی الکفار رحماء بینھم اذلة علی المومنین اعزة علی الکافرین یجاھدون فی سبیل اللہ ولا یخافون لومة لائم ترجمہ = کافروں پر بہت سخت اور آپس میں بہت مہربان مومنوں پر نرم اور کافروں پر سخت۔ اللہ کے راستہ میں جہاد کریں گے۔ اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی بالکل پرواہ کریں گے۔

اور عجب نہیں کہ شرارت سے ابو جہل مراد ہو کہ جو سرتاپا شرارت تھا اور صداقت سے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مراد ہوں جو سرتاپا صدق و صداقت تھے اور بے شک ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے اہل تھے کہ ان کو خلیل و صدیق یعنی دوست بنایا جائے۔

عورت نے آپؐ کا پسینہ مبارک اس لیے جمع کیا۔ تاکہ دلہن کے کپڑوں کو اس سے

صفحہ ٤٩٢

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

معطر کرے۔

چنانچہ شہربانو یزد جرد شاہ کسریٰ کی بیٹی امام حسن رضی اللہ تعالیٰ کے گھر میں تھی۔

سے امیر و کبیر آپؐ پر ایمان لائے اور آپؐ کے حلقہ بگوش بنے اور آپؐ کی خدمت میں سلاطین و امراء نے ہدایا بھیج کر فخر و سرفرازی حاصل کی۔ چنانچہ مقوقس شاہ قبط نے آپؐ کی خدمت میں تین باندیاں اور ایک حبشی غلام اور ایک سفید خچر اور ایک سفید حمار اور ایک گھوڑا اور کچھ کپڑے بطور ہدیہ ارسال کئے۔

حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ ہوئے۔ اور امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد میں صدہا خلیفہ اور حکمراں ہوئے۔ حجاز و یمن‘ مصر و شام وغیرہ وغیرہ میں حکومت و سلطنت پر فائز رہے اور قیامت کے قریب امام مہدیؑ کا ظہور ہو گا۔ جو امام حسنؑ کی اولاد سے ہوں گے اور تمام روئے زمین کے خلیفہ ہوں گے۔

اذان میں اشہد ان لا الہ الا اللہ کے ساتھ بلند آواز سے اشہد ان محمد رسول اللہ روزانہ پانچ مرتبہ کروڑہا مسلمان پکارتے ہیں۔ کوئی وعظ اور خطبہ ایسا نہیں کہ جس میں آپؐ کا نام پاک محمدﷺ نہ لیا جاتا ہو۔ محمدﷺ اور احمدؐ کے معنی ستودہ کے ہیں۔ اس بشارت کے شروع میں یا احمد کا لفظ صراحتاً ”مذکور تھا۔ مگر حسد کی وجہ سے نکال دیا گیا۔ مگر تاہم یہ اوصاف تو سوائے محمدﷺ کے کسی پر صادق نہیں آتے۔

نصاریٰ کے زعم و اعتقاد پر تو حضرت مسیح بن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کسی طرح اس بشارت کا مصداق نہیں ہو سکتے اس لیے کہ نصاریٰ صحیفہ یسعیاہ علیہ السلام کے ترپنویں باب کو مسیح علیہ السلام کی بشارت قرار دیتے ہیں اور وہ یہ ہے۔ ”ہمارے پیغام پر کون اعتقاد لایا۔ اور خداوند کا ہاتھ کس پر ظاہر ہوا اس

صفحہ ٤٩٣

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

کے ڈیل و ڈول کی کچھ خوبی نہ تھی اور نہ کچھ رونق کہ ہم اس پر نگاہ کریں اور کوئی نمائش بھی نہیں کہ ہم اس کے مشتاق ہوں وہ آدمیوں میں نہایت ذلیل و حقیر تھا اور پھر آیت پنجم میں ہے۔ ”وہ ہمارے گناہوں کے سبب گھائل کیا گیا۔ اور ہماری بدکاریوں کے باعث کچلا گیا۔“

معاذ اللہ ثم معاذ اللہ جب نصاریٰ کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام ایسے تھے تو وہ اوصاف زبور کا جو بالکل اس کی ضد ہیں۔ کیسے مصداق ہو سکتے ہیں۔

ہمارے اعتقاد میں منجملہ دیگر تحریفات کے صحیفہ یسعیاہ علیہ السلام کا ترپنواں باب قطعاً و یقیناً الحاقی اور اختراعی ہے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام حاشا ثم حاشا ہرگز ایسے نہ تھے۔ وہ تو دنیا اور آخرت میں وجیہہ (آبرو اور عزت والے) اور خدا کی مقربین میں سے تھے۔ لیکن باایں ہمہ اس بشارت کا مصداق حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نہیں اس لیے کہ نہ آپ شمشیر بند اور تیر انداز تھے اور نہ مجاہد اور نہ آپ کی شریعت دائمی ہے اور نہ آپ کی بعثت عام۔ اور نہ آپ کے گھرانہ میں کوئی شہزادی آئی کہ جو آپ کی بیوی یا لونڈی ہوتی اس لیے کہ آپ نے کوئی نکاح نہیں فرمایا۔ نیز آپ کے کوئی باپ دادا نہ تھا۔ آپ تو بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

حضرت ملاکی ۔ حبقوق ۔ یسعیاہ ۔ عیسیٰ علیہم السلام

کی خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق بشارتیں

بشارت سوم

از صحیفہ ملاکی علیہ الصلوٰۃ والسلام (باب سوم آیت اول)

صفحہ ٤٩٤

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

دیکھو میں اپنے رسول کو بھیجوں گا اور وہ میرے آگے میری راہ کو درست کرے گا اور وہ خداوند جس کی تلاش میں تم ہو۔ ہاں ختنہ کا رسول جس سے تم خوش ہو وہ اپنی ہیکل میں ناگہاں آوے گا دیکھو وہ یقیناً" آوے گا۔ رب الافواج فرماتا ہے پر اس کے آنے کے دن کون ٹھہر سکے گا۔ اور جب وہ نمود ہو گا کون ہے جو کھڑا رہے گا۔ آہ

اس بشارت میں ایسے رسول کی آمد و ظہور کا ذکر ہے کہ صاحب ختان ہو گا۔ اور اسی وجہ سے آپؐ کی بعثت سے قبل یہود و نصاریٰ کو رسول الختان کا انتظار تھا۔ مگر آج کل نسخوں میں بجائے ختنہ کے رسول کے عہد کا رسول مذکور ہے۔

لیکن اس صورت میں بھی عہد سے ختنہ ہی کا عہد مراد ہے جیسا کہ سفر پیدائش کے باب ہفدہم کی آیت دہم سے معلوم ہوتا ہے۔

اور میرا عہد جو میرے اور تمہارے درمیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان ہے جسے تم یاد رکھو سو یہ ہے کہ تم میں سے ہر ایک فرزند نرینہ کا ختنہ کیا جائے۔ اور تم اپنے بدن کی کھالڑی کا ختنہ کرو۔ اور یہ اس عہد کا نشان ہو گا۔ جو میرے اور تمہارے درمیان ہے۔

بشارت چہارم

از صحیفہ حبقوق علیہ الصلوۃ والسلام (باب ٣ آیت ٣)

"خدا تیمان سے اور وہ جو قدوس ہے۔ کوہ فاران سے آیا۔ اس کی شوکت سے آسمان چھپ گیا۔ اور زمین اس کی حمد سے معمور ہوئی۔"

یہ بشارت سرور عالم ﷺ کے حق میں نہایت ہی ظاہر ہے سوائے آنحضرت ﷺ کے اور کون پیغمبر فاران سے مبعوث ہوا اور زمین اس کی حمد سے معمور ہوئی۔ چنانچہ ہر دوست اور دشمن کی زبان پر آپؐ کا نام محمد ﷺ اور احمد ﷺ ہے۔ اور ایک قدیم عربی نسخہ میں یہ لفظ ہیں۔

وامتلات الارض من تحمید احمد ﷺ

صفحہ ٤٩٥

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

ترجمہ = یعنی تمام زمین احمدؐ مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کی حمد سے بھر گئی۔ مگر حاسدین نے اس جملہ کا رہنا گوارا نہ کیا۔ اور بعد کی اشاعت میں اس جملہ کو صحیفہ مذکور سے علیحدہ کر دیا۔

بشارت پنجم

از صحیفہ ۔ سعیاہ علیہ الصلوۃ والسلام باب (٢٨ آیت ١٣)

”سو خداوند کا کلام ان سے یہ ہو گا حکم پر حکم۔ حکم پر حکم۔ قانون پر قانون۔ قانون پر قانون تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں۔“

چنانچہ قرآن عزیز اسی طرح نجماً نجماً نازل ہوا۔ اور تمام عالم کے لیے دستور اور قانون بنا اور اسی قانون اور دستور سے قیصر و کسری کا تختہ الٹا گیا اور اسی قرآن اور حدیث سے مسلمان روئے زمین پر حکومت کرتے رہے۔ رہی انجیل سو وہ علماء مسیحیین کے نزدیک منزل من اللہ ہی نہیں۔ بلکہ وہ حواریین کی تصنیف ہے۔ اور صحیفہ مذکور کی عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کتاب موصوف کا منزل من اللہ ہونا ضروری ہے۔

اور ہمارے نزدیک جو انجیل حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو دی گئی وہ تمام کتاب ایک ہی مرتبہ نازل ہوئی۔ قرآن کریم کی طرح نجماً نجماً نازل نہیں ہوئی۔ قال تعالیٰ شانہ

وقرانا فرقناہ لتقراہ علی الناس علی مکث و نزلناہ تنزیلا وقال الذین کفروا لولا نزل علیہ القران جملۃ واحدۃ کذلک لنثبت بہ فؤادک ورتلناہ ترتیلا O

ترجمہ = قرآن کو ہم نے متفرق کر کے نازل کیا۔ تاکہ آپؐ لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں۔ اور ہم نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا نازل کیا۔ کافر کہتے ہیں کہ قرآن ایک ہی بار کیوں نہ نازل کیا گیا۔ ہم نے اسی طرح نازل کیا۔ تاکہ آپؐ کے دل کو مضبوط رکھیں اس لیے ہم نے

صفحہ ٤٩٦

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

ٹھہر ٹھہر پڑھ سنایا۔

بشارت ششم

از صحیفہ یسعیاہ علیہ الصلوۃ والسلام (باب ٤٢ آیت اول)

دیکھو میرا بندہ جسے میں سنبھالتا میرا برگزیدہ جس سے میرا جی راضی ہے۔ میں نے اپنی روح اس پر رکھی۔ وہ قوموں کے درمیان عدالت جاری کرائے گا۔

یہ بشارت بھی نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے صریح ہے۔ اس لیے کہ میرا بندہ یہ ترجمہ عبداللہ کا ہے اور عبداللہ بھی آپؐ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جیسا کہ قرآن عزیز میں ہے۔ لما قام عبداللہ ترجمہ = جب عبداللہ کھڑا ہوا۔ اور قرآن عزیز میں بکثرت عبداللہ کے لقب سے آپؐ کا ذکر کیا گیا ہے۔ کما قال تعالیٰ۔ سبحن الذی اسری بعبدہ وقال تعالیٰ مما نزلنا علی عبدنا ترجمہ = پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندہ کو لے گیا۔ اس چیز سے جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری۔

اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نصاریٰ کے اعتقاد میں خدا کے بندے نہیں بلکہ خدا اور معبود ہیں۔ لہٰذا وہ اس کے مصداق نہیں ہو سکتے اور برگزیدہ بعینہ ترجمہ مصطفیٰ کا ہے کہ جو آنحضرت ﷺ کا مشہور و معروف نام ہے اور جس سے میرا جی راضی ہے۔ یہ ترجمہ مرتضیٰ کا ہے کہ جو آنحضرت ﷺ کا ایک نام پاک ہے۔

اور بزعم نصاریٰ اس جملہ کا مصداق یعنی جس سے میرا جی راضی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نہیں ہو سکتے اس لیے کہ وہ ان کے زعم میں مصلوب و مقتول ہوئے۔ اور جو مقتول و مصلوب ہو جائے وہ نصاریٰ کے نزدیک

صفحہ ٤٩٧

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

ملعون ہے جیسا کہ گلتیوں کے تیسرے خط کے تیرہویں درس سے معلوم ہوتا ہے۔ مسیح جو ہمارے لیے لعنتی بنا اس نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا۔ کیونکہ لکھا ہے کہ جو کوئی لکڑی پر لٹکایا گیا۔ وہ لعنتی ہے۔ اھ اس عبارت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے نصارٰی کے اس زعم باطل کی بنا پر معاذ اللہ خدا ان سے راضی نہیں۔

الحاصل محمد مصطفیٰ احمد مرتضیٰ ﷺ بے شبہ خدا کے برگزیدہ بندہ اور رسول ہیں جن سے خدا راضی ہے اور کتب سیر میں آپ کے اسماء مبارکہ میں آپ کا ایک نام نامی مرتضیٰ اور رضی بھی لکھا ہے۔ اور اسی وجہ سے رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے صحابہ کرام کا خاص شعار ہے۔ کما قال تعالیٰ شانہ

لقد رضی الله عن المومنين اذ يبايعونك تحت الشجرة محمد رسول الله والذين معه اشداء على الكفار رحماء بينهم ركعا سجدا يبتغون فضلا من الله ورضوانا سيما هم فى وجوههم من اثر السجود ذلك مثلهم فى التوراة

ترجمہ = البتہ تحقیق اللہ تعالیٰ مومنین سے راضی ہوا جبکہ وہ اس درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے۔ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جو آپ کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں مہربان ہیں آپ ان کو رکوع و سجود کرتے اللہ کا فضل اور اللہ کی رضا طلب کرتے دیکھیں گے۔ صلاح اور تقویٰ کی نشانی ان کے چہروں پر سجدہ کے اثر سے نمایاں ہے یہ ہے ان کی شان کہ جو توراۃ میں مذکور ہے۔

اور روح سے مراد وحی الٰہی ہے کہ جس پر ارواح و قلوب کی حیات کا دار و مدار ہے کما قال تعالیٰ شانہ وكذلك اوحينا اليك روحا من امرنا اسی طرح ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی اپنے حکم سے۔

سو الحمد للہ کہ حق تعالیٰ شانہ نے آپ پر مردہ قلوب کی حیات اور زندگی کے لیے ایک روح یعنی قرآن عظیم کو اتارا جس نے نازل ہو کر مردہ قلوب کو حیات

صفحہ ٤٩٨

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

اور بے شمار مریض دلوں کی شفا بخشی کما قال تعالیٰ شانہ۔ وننزل من القرآن ما ھو شفاء ورحمۃ للمومنین ترجمہ = اور اتارتے ہیں ہم ایسا قرآن کہ جو مومنین کے لیے سراسر شفا اور رحمت ہے۔

اور مبعوث ہو کر آپؐ نے باذن الہٰی عدالت کو بھی جاری فرمایا کما قال اللّٰہ جل جلالہ وعم نوالہ فلذلک فادع واستقم کما امرت ولا تتبع اھواءھم وقل آمنت بما انزل اللّٰہ من کتاب وامرت لاعدل بینکم ترجمہ = پس اسی طرف بلائیے اور اسی پر قائم رہیے جیسا کہ آپؐ کو حکم کیا گیا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ فرمائیے اور یہ کہئے کہ میں ایمان لایا اللہ کی اتاری ہوئی کتاب پر اور حکم کیا گیا ہوں کہ تمہارے درمیان عدل و انصاف کروں۔ (سورۂ شوریٰ)

اور چونکہ عدالت کا جاری کرنا شوکت کو مقتضی ہے۔ اس لیے یہ وصف بھی علی زعم النصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام پر صادق نہیں۔ اس لیے کہ نصاریٰ کے نزدیک تو حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام میں تو اتنی قوت بھی نہ تھی کہ جو اپنے کو قتل و صلب سے بچا سکتے۔ شوکت تو درکنار۔

پھر باب مذکور کی دوسری آیت میں ہے۔ کہ وہ نہ چلائے گا اور اپنی صدا بلند نہ کرے گا اور اپنی آواز بازاروں میں نہ سنائے گا۔

یہ جملہ بھی نبی کریم ﷺ پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری کے باب کراہیت السخب فی الاسواق میں عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ ابن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مل کر یہ دریافت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے وہ اوصاف جو توریت میں مذکور ہیں بیان فرمائیے۔ جواب میں عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ نے بہت سے اوصاف ذکر فرمائے۔ منجملہ ان کے یہ

صفحہ ٤٩٩

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

فرمایا۔ لیس بفظ ولا غلیظ ولا سخاب بالاسواق ترجمہ = وہ نبی نہ بدخواہ اور نہ سنگ دل ہو گا۔ اور نہ بازاروں میں شور کرنے والا۔

اور باب مذکور کی تیسری آیت میں ہے۔ ”وہ عدالت کو جاری کرائے گا کہ دائم رہے۔“

اس سے آنحضرت ﷺ کی شریعت غرا کا الی یوم القیامت باقی رہنا مراد ہے جس طرح آنحضرت ﷺ کی شریعت اب تک برابر محفوظ ہے اور انشاء اللہ ثم انشاء اللہ ہمیشہ رہے گی کوئی امت اس بارہ میں امت محمدیہؐ کی ہمسری نہیں کر سکتی کسی امت نے بھی اپنے نبی کی شریعت اور اس نبی کے اقوال و افعال کی حفاظت امت محمدیہؐ کے مقابلہ میں عشر عشیر بھی نہیں کی۔ اور شریعت کے دائم ہونے سے خاتم الانبیاء ہونے کی طرف اشارہ ہے اس لیے کہ شریعت کا دوام اور بقا الی یوم القیامۃ جب ہی ہو سکتا ہے کہ اس نبی کے بعد اور کوئی نبی نہ بنایا جائے۔ ورنہ اگر اس کے بعد کوئی اور نبی بنایا جائے۔ تو شریعت سابقہ شریعت لاحقہ سے منسوخ ہو جانے کی وجہ سے دائمی نہ رہے گی۔

اور چوتھی آیت میں ہے۔ ”اس کا زوال نہ ہو گا اور نہ مسلا جائے گا۔ جب تک راستی کو زمین پر قائم نہ کرلے۔“

چنانچہ نبی اکرم ﷺ کا وصال جب ہوا کہ الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا ترجمہ = آج کے دن تمہارے لیے تمہارے دین کو میں نے کامل کر دیا اور میں نے تم پر اپنا انعام تمام کر دیا اور میں نے اسلام کو تمہارے دین بننے کے لیے پسند کیا۔ کی بشارت نازل ہو گئی۔ اور انا فتحنالک فتحا مبینا اور اذاجاء

صفحہ ٥٠٠

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

نصر الله والفتح ترجمہ = بے شک ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی۔ جب خدا کی مدد اور فتح آ پہنچی۔

کا وعدہ پورا ہو گیا اور عجب نہیں کہ راستی قائم کرنے سے خلافت صدیقیہ کی جانب اشارہ ہو۔ جیسا کہ بعض علماء کی رائے ہے اس لیے کہ راستی ترجمہ صدق کا ہے اور صدق کا اطلاق صدیق پر ایسا ہی ہے جیسا کہ عدل کا اطلاق زید پر۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے مرض الوفات میں صدیق اکبرؓ کو امام بنا کر اس طرف اشارہ فرما دیا کہ میرے بعد صدیق اکبرؓ خلیفہ ہونے چاہیں۔ تاکہ صدق اور راستی قائم ہو۔ اور چھٹی آیت میں ہے۔ ”اور تیری حفاظت کروں گا۔“

یہ جملہ بھی سوائے آنحضرت ﷺ کے کسی اور پر صادق نہیں آتا۔ اس لیے کہ اللہ نے آپؐ سے وعدہ فرمایا تھا۔ والله يعصمك من الناس اللہ آپؐ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔ چنانچہ یہ وعدہ اللہ کا پورا ہوا۔

ہاں بزعم نصاریٰ عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی حفاظت نہیں ہوئی اور پھر چھٹی آیت میں جو نور کا ذکر ہے اس سے نور ہدایت اور نور شریعت مراد ہے۔ جیسا کہ قرآن عزیز میں متعدد جگہ اس کا ذکر ہے۔

ياايها الناس قد جاءكم برهان من ربكم وانزلنا اليكم نورا مبينا (سورۃ نساء) ترجمہ = اے لوگو بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک برہان آچکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف ایک نور (قرآن کریم) نازل کیا۔ فالذين امنوا به وعزروه و نصروه و اتبعوا النور الذی انزل معه اولئك هم المفلحون (سورہ اعراف) ترجمہ = پس جو لوگ آپؐ پر ایمان لائے اور آپؐ کی مدد کی اور اسی نور کا اتباع کیا کہ جو آپؐ کے ساتھ نازل کیا گیا۔ یہی لوگ فلاح والے ہیں۔

صفحہ ٥٠١

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

یایہا النبی انا ارسلنک شاهدا و مبشرا و نذیرا و داعیا الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا O (سورۂ احزاب) ترجمہ = اے نبی ہم نے تمہیں بشارت دینے والا اور ڈرانے والا خدا کی طرف خدا کے حکم سے بلانے والا اور ہدایت کا روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے۔

یریدون لیطفؤا نور اللہ بافواھم واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون O (سورۂ صف) ترجمہ = کافر اپنے مونہوں کی پھونک سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ اپنے نور کو ضرور پورا فرمائیں گے۔ اگرچہ کافروں کو ناگوار ہو۔

اور آیت ہشتم میں ہے۔ ”اور اپنی شوکت دوسرے کو نہ دوں گا“ یہ جملہ بھی حرف بحرف آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق ہے۔ اعطیت مالم یعط احد من الانبیاء قبلی۔ ترجمہ = مجھ کو منجانب اللہ وہ چیزیں عطا کی گئیں کہ جو انبیاء سابقین میں سے کسی کو نہیں دی گئیں۔

مثلاً ختم نبوت و رسالت۔ عموم بعثت و دعوت۔ مقام محمود۔ شفاعت کبریٰ۔ معراج سبع سموات ان فضائل و مزایا سے سوائے نبی اکرم ﷺ کے اور کسی نبی کو سرفراز نہیں کیا گیا۔

اور اسی طرح حق تعالیٰ شانہ نے آپؐ کو وہ آیات بینات محاسن اخلاق فضائل و شمائل۔ علوم و معارف عطا فرمائے کہ جو کسی نبی اور رسول کو نہیں عطا فرمائے۔ خصوصاً قرآن حکیم کا معجزہ تو ایسا روشن معجزہ ہے کہ جس کے سامنے موافق و مخالف سب ہی کی گردنیں خم ہیں۔

ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذو الفضل العظیم O ترجمہ = یہ خدا کا فضل ہے۔ وہ فضل جس کو چاہتا ہے دے دیتا ہے اور

صفحہ ٥٠٢

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

اللہ بڑے فضل والا ہے۔ اور گیارھویں آیت میں ہے ”بیابان اور اس کی بستیاں قیدار کے آباد دیہات اپنی آواز بلند کریں گے۔ سلع کے بسنے والے ایک گیت گائیں گے۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر سے للکاریں گے۔ وہ خداوند کا جلال ظاہر کریں گے۔“

قیدار حضرت اسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک صاحبزادہ کا نام ہے اور اس بیابان سے فاران کا بیابان مراد ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام۔ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام کو چھوڑ آئے تھے۔ جیسا کہ کتاب پیدائش کے اکیسویں باب کی اکیسویں آیت سے ظاہر ہے اور یہ وہی جگہ ہے کہ جہاں اس وقت مکہ معظمہ آباد ہے۔ اسی جگہ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام مقیم رہے اور ان کے بعد ان کی اولاد بھی یہیں مقیم رہے۔ الحاصل اس جملہ میں آپؐ کے مولد یعنی جائے ولادت کی طرف اشارہ ہے یعنی آنحضرت ﷺ مکہ معظمہ میں پیدا ہوں گے اور آپؐ کی امت اس بیابان میں لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر اور لبیک اللھم لبیک کے نعروں سے اللہ کے جلال کو ظاہر کرے گی۔

اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ وہ نبی مبشر قیدار بن اسمعیل کی اولاد سے ہو گا۔ لہٰذا اس بشارت کا مصداق انبیاء بنی اسرائیل میں سے کوئی نبی نہیں ہو سکتا اس لیے کہ وہ سب حضرت اسرائیل کی اولاد سے ہیں۔ نہ کہ قیدار بن اسمعیل کی اولاد سے اور سلع مدینہ طیبہ کے ایک پہاڑ کا نام ہے۔ اس سے آنحضرت ﷺ کے مقام ہجرت کی طرف اشارہ ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

بشارت ہفتم

(از انجیل متی باب ٢١، آیت ٤٢)

”یسوع نے انہیں کہا کیا تم نے نوشتوں میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو

صفحہ ٥٠٣

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

راج گیروں نے ناپسند کیا وہی کونے کا سرا ہوا۔ یہ خدا کی طرف سے ہے اور ہماری نظروں میں عجیب اس لیے میں تمہیں کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی اور ایک قوم کو جو اس کے میوہ لاوے دی جائے گی۔ جو اس پتھر پر گرے گا چور ہو جائے گا۔ پر جس پر وہ گرے اسے پیس ڈالے گا“

راج گیر اور معماروں سے بنی اسرائیل مراد ہیں اور کونے کے پتھر سے ہمارے نبی اکرم خاتم النبین محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ کیونکہ آپ بنی اسرائیل کی نظر میں ایک ناپسند پتھر کے مشابہ تھے۔ بنی اسرائیل نے ہرچند آپ ﷺ کو رد کرنا چاہا مگر آپ ﷺ تائید الٰہی سے کونے کا سرا یعنی خاتم النبین ہو کر رہے۔

کما روی ابوھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال ان مثلی و مثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بیتا فاحسنہ و اجملہ الا موضع لبنۃ من زاویۃ فجعل الناس یطوفون بہ و یعجبون لہ و یقولون ھلا وضعت ھذہ اللبنۃ وانا خاتم النبیین رواہ البخاری فی کتاب الانبیاء و فی روایۃ انا سددت موضع اللبنۃ و ختم بی البنیان و ختم بی الرسل۔

ترجمہ = آں حضرت ﷺ نے فرمایا میری اور انبیاء سابقین کی ایسی مثال ہے کہ کسی نے ایک محل نہایت عمدہ تیار کیا مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس محل کا چکر لگاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک اینٹ کیوں چھوڑ دی گئی۔ میں ہی خاتم النبین ہوں یعنی میں نے ہی اس اینٹ کی جگہ کو پر کیا ہے۔ اور میرے ہی سے یہ تعمیر ختم ہوئی۔ اور مجھ ہی پر انبیاء و رسل کا سلسلہ ختم ہوا۔

پھر آپ ﷺ پر جو گرا وہ بھی چور چور ہوا اور جس پر آپ ﷺ گرے وہ چور چور ہوا۔ چنانچہ جنگ بدر میں قریش آپ پر گرے اور وہ خدا کے فضل سے چور چور ہوئے اور فتح مکہ کے وقت آپ ان پر گرے تب بھی وہی چور چور ہوئے۔ اور آپ کے بعد صحابہ کرامؓ ایران، شام و روم وغیرہ وغیرہ پر

صفحہ ٥٠٤

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

گرے اور سب کو چور کیا اور پھل اور میوہ لانے والی قوم بنی اسمعیل ہیں کہ جو آں حضرت ﷺ کی تربیت سے پھل لائی اور حکومت اور سلطنت کے مالک ہوئے اور یہ آسمانی بادشاہت ان کے حصہ میں آئی۔

لہٰذا اس بشارت کا مصداق بجز خاتم النبیین سید الاولین والآخرین محمد ﷺ کے اور کوئی نہیں ہو سکتا، رہے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام سو وہ خاص حضرت داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسل سے تھے، بنی اسرائیل میں بہت محترم تھے وہ ناپسند پتھر کے کیسے مشابہ ہو سکتے ہیں۔ دوم یہ کہ وہ خاتم النبیین نہیں جیسا کہ ماسبق میں معلوم ہو چکا ہے کہ اہل کتاب علاوہ عیسیٰ علیہ السلام کے ایک اور نبی کے منتظر تھے۔ نیز ماسبق میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ جب یحییٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام مبعوث ہوئے۔ تو یہودیوں نے ان سے دریافت کیا الخ

سوم یہ کہ حضرت مسیح خود تو کبھی کسی پر نہ گرے اور یہود جب ان پر گرے تو بقول نصاریٰ حضرت مسیح چور چور ہوئے۔ واللہ اعلم

بشارت ہشتم

(از انجیل یوحنا باب چہار دہم آیت ١٦)

کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔

گا وہی تمہیں سب چیزیں سکھلا دے گا اور سب باتیں جو کچھ کہ میں نے تمہیں کہی ہیں یاد دلائے گا۔

وہ وقوع میں آئے تو تم ایمان لاؤ۔

جہاں کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کی کوئی چیز نہیں۔ اور باب ١٥ میں ہے

صفحہ ٥٠٥

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

آیت (٢٧) وہ (یعنی روح حق) میرے لیے گواہی دے گا اور باب ١٦‘ آیت (٧) میں ہے

(٧) میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ تمہارے لیے میرا جانا ہی فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو تسلی دینے والا تم پاس نہ آئے گا۔ پر (٨) اگر میں جاؤں تو میں اسے تم پاس بھیج دوں گا وہ آن کر دنیا کو (١٠) گناہ سے اور راستی سے اور عدالت سے تقصیر وار ٹھہرائے گا گناہ سے اس لیے کہ وے (١١) مجھ پر ایمان نہیں لائے راستی سے اس لیے کہ میں اپنے باپ کے پاس جاتا ہوں (١٢) اور تم مجھ کو پھر نہ دیکھو گے۔ عدالت سے اس لیے کہ اس جہاں کے سردار پر حکم کیا گیا ہے۔ میری اور بہت سی باتیں ہیں۔ کہ میں تمہیں اب کہوں پر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے (١٣) لیکن جب وہ یعنی روح حق آوے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتا دے گی اس لیے کہ وہ اپنی نہ کہے گی۔ لیکن جو کچھ وہ سنے گی سو کہے گی اور تمہیں آئندہ کی خبر دے گی۔ وہ میری بزرگی کرے گی۔ انتہی

اصل بشارت میں لفظ احمد موجود تھا۔ کما قال تعالٰی:

واذ قال عیسٰی ابن مریم یبنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التورۃ و مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد

ترجمہ = اس وقت کو یاد کرو کہ جب عیسٰی بن مریم نے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور توریت کی تصدیق کرنے والا ہوں اور بشارت دینے والا ہوں ایسے رسول کی جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام نامی ”احمد“ ہے۔

اور جیسا کہ انجیل برنباس میں اب بھی موجود اور مصرح ہے لیکن جب انجیل کا اصل عبرانی زبان سے یونانی زبان میں ترجمہ ہوا تو یونانیوں نے اپنی اس عادت کی بنا پر کہ وہ ترجمہ کرتے وقت ناموں کا بھی ترجمہ کر دیتے تھے آں حضرت ﷺ کے نام مبارک ”احمد“ کا ترجمہ بھی ”پیر کلی طوس“ سے کر دیا اور پھر

صفحہ ٥٠٦

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

جب یونانی نسخہ کا ترجمہ عربی زبان میں ہوا تو ”پیر کلی طوس“ کا معرب فارقلیط کر لیا گیا۔

ایک عرصہ تک اردو نسخوں میں ”فارقلیط“ کا لفظ رہا اس کے بعد اس کا ترجمہ بھی روح القدس سے کیا گیا اور مسیحین روح القدس کے لفظ کو بطور تفسیر خطوط وحدانی میں لکھتے رہے۔ رفتہ رفتہ فارقلیط کے لفظ کو بھی علیحدہ کر دیا صرف روح القدس اور روح حق کا لفظ رہنے دیا۔ جیسا کہ حال کے نسخوں میں موجود ہے۔

مگر پھر بھی بحمد اللہ مفید مدعا ہے اس لیے کہ اس بشارت میں ایسے اوصاف مذکور ہیں کہ جو آپ ﷺ ہی کی ذات بابرکات پر صادق آتے ہیں۔ لہٰذا عیسائیوں کا یہ کہنا کہ اس سے روح القدس کا آنا مراد ہے (چنانچہ وہ روح حضرت عیسیٰ کے بعد جب حواریین ایک مکان میں جمع تھے نازل ہوئی اور اس روح کے نزول کی وجہ سے حواریین تھوڑی دیر کے لیے مختلف زبانیں بولنے لگے) بالکل بے معنی ہے اس لیے کہ اس بشارت میں اس روح حق اور فارقلیط کے چند اوصاف ذکر کئے گئے ہیں۔

گا۔

صفحہ ٥٠٧

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

دہم۔۔۔۔ یہ کہ جو امور تم اس وقت برداشت نہیں کر سکتے۔ ”وہ نبی“ اس وقت آکر تم کو بتلائے گا۔

اور جو باتیں غیر مکمل ہیں۔ ان کی تکمیل کرے گا۔ اور ابد تک تمہارے ساتھ رہے گا۔ اور یہ تمام آنحضرت ﷺ پر صادق آتی ہیں۔۔۔۔۔

لیے موقوف تھا کہ آپ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اس لیے کہ کسی نبی کا آنا پہلے نبی کے جانے پر جب ہی موقوف ہو سکتا ہے جب دوسرا نبی خاتم الانبیاء ہو ورنہ اگر وہ نبی خاتم الانبیاء نہیں تو اس کے آنے سے پہلے نبی کا جانا شرط ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا‘ اس لیے کہ جب وہ نبی خاتم الانبیاء نہیں تو پہلے نبی کی موجودگی میں بھی وہ نبی مبعوث ہو سکتا ہے۔

پہلے نبی کا جانا دوسرے کے آنے کے لیے جب ہی شرط ہو سکتا ہے کہ جب دوسرا نبی خاتم الانبیاء ہو۔ الحاصل حضرت مسیح نے اس جملہ سے یہ ظاہر فرما دیا کہ وہ فارقلیط اور روح حق خاتم الانبیاء ہو گا۔ کما قال تعالیٰ

ماکان محمد ابا احد من رجالکم و لکن رسول اللہ و خاتم النبیین

ترجمہ = محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول اور آخر النبیین ہیں۔

اور حضرت مسیح خاتم النبیین نہ تھے ورنہ علماء نصاریٰ و یہود حضرت مسیح کے بعد ایک نبی کے کس لیے منتظر تھے اور روح کا آنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جانے پر موقوف نہ تھا۔ روح کا نزول تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موجودگی میں بھی ہوتا تھا۔

دی کہ حضرت مسیح بن مریم اللہ کے بندہ اور رسول تھے اور زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔

صفحہ ٥٠٨

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شک منه مالهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزا حكيما ۝

ترجمہ = اور انہوں نے نہ ان (عیسیٰ علیہ السلام) کو قتل کیا اور نہ سولی دی لیکن اشتباہ میں ڈال دیئے گئے اور جن لوگوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں اختلاف کیا وہ یقیناً شک میں ہیں خود ان کو اس کا یقین نہیں محض گمان کی پیروی ہے۔ یقیناً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ وہی غالب اور حکیم ہے۔

(٣۔ ٤) اور راستی اور عدالت سے ملزم بھی کیا‘ اور حضرت مسیحؑ کے نہ ماننے والوں کو پوری پوری سزا بھی دی۔ کسی سے قتال اور جہاد کیا اور کسی کو جلا وطن کیا...... جیسا کہ یہود خیبر اور یہود بنو نضیر اور یہود بنو قینقاع کے واقعات سے ظاہر ہے اور روح نے نہ کسی کو ملزم ٹھہرایا اور نہ کسی کی سرزنش کی اور آیت دہم میں سرزنش کی یہ وجہ بیان فرمانا اس لیے کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لاتے اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس فارقلیط اور مددگار اور وکیل و شفیع کا ظہور منکرین عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے ہو گا۔ بخلاف روح کے کہ اس کا ظہور تو آپ کے نزدیک حواریین پر ہوا کہ جو منکرین عیسیٰ علیہ السلام نہ تھے۔ اور نہ کسی حواریین نے کسی کو سزا دی وہ خود ہی مسکین اور عاجز تھے کسی منکر کو کیسے سزا دے سکتے تھے۔

(٥) اور آئندہ واقعات کے متعلق اتنی خبریں دیں کہ جن کا کوئی شمار نہیں اور خبریں ایسی صحیح دیں کہ جن میں ان کا کوئی جز بھی کبھی خلاف واقعہ نہیں نکلا اور تاقیامت اسی طرح ظاہر ہوتی رہیں گی اور کیسے غلط ہوتیں؟

(٦۔ ٧) اور سچائی کی تو وہ راہیں بتلائیں کہ اولین و آخرین سے کسی نے اس کا عشر عشیر بھی نہ بتلایا۔ اس لیے کہ اپنی طرف سے کچھ نہ فرمایا۔

وما ينطق عن الهوى ۝ ان هو الا وحى يوحى ۝

ترجمہ = آپؐ اپنی طرف سے کچھ نہیں بولتے وہ تو سوائے وحی کے اور

صفحہ ٥٠٩

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

کچھ نہیں۔

کی سرداری سے اس طرف اشارہ ہے کہ آپ ﷺ کی نبوت تمام عالم کے لیے ہوگی کسی قوم کے ساتھ مخصوص نہ ہوگی اور نصاریٰ نے حضرت مسیح کی صحیح تعلیمات کو محو کر دیا تھا۔ ان کو بھی یاد دلایا۔

قل یاھل الکتب تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا و بینکم الا نعبد الا اللّٰہ ولا نشرک بہ شیئا ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللّٰہ

ترجمہ = آپ فرما دیجئے کہ اے اہل کتاب ایک ایسے امر کی طرف آؤ کہ جو ہم میں اور تم میں مسلم ہے وہ یہ کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور ایک دوسرے کو اللہ کے سوا رب نہ بنائیں۔

وقال المسیح یبنی اسرائیل اعبدوا اللّٰہ ربی وربکم انہ من یشرک باللّٰہ فقد حرم اللّٰہ علیہ الجنۃ وماؤہ النار و ماللظلمین من انصار O

ترجمہ = اور فرمایا حضرت مسیح بن مریم نے اے بنی اسرائیل بندگی کرو۔ صرف ایک اللہ کی جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے۔ تحقیق جو اللہ کے ساتھ شرک کرے گا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت کو حرام کیا ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل کے تحمل سے باہر تھیں یعنی ذات و صفات ' شریعت و طریقت ' حشر و نشر ' جنت و جہنم کے متعلق وہ علوم و معارف کے دریا بہائے کہ جن سے تمام عالم دنگ ہے۔ اور کسی کتاب میں ان علوم کا نام و نشان نہیں اور جو امور غیر تکمیل شدہ تھے۔ آپ کی شریعت کاملہ نے ان سب کی تکمیل بھی کر دی۔ کما قال تعالیٰ

صفحہ ٥١٠

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا

آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کر دیا اور تمہارے لیے اسلام کو پسند کیا دین بنا کر۔

کا یہ مطلب نہیں کہ وہ فارقلیط بذات خود تمہارے ساتھ رہے گا بلکہ مراد یہ ہے کہ اس کی شریعت اور اس کا دین ابد تک رہے گا یعنی وہ آخری دین اور اس کی شریعت آخری شریعت ہو گی۔ اس کے بعد کوئی دین اور کوئی شریعت نہیں آئے گی جو اس کی شریعت کی ناسخ ہو۔

علمائے مسیحین اس بشارت کو روح القدس کے حق میں قرار دیتے ہیں جس کا نزول حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے رفع الی السماء کے ١٠ یوم بعد حواریین پر ہوا۔ لیکن یہ قول چند وجوہ سے باطل ہے اس لیے کہ روح کا نازل ہونا حضرت مسیحؑ کے جانے پر موقوف نہ تھا بلکہ وہ تو ہر وقت حضرت مسیح کے ساتھ رہتی تھی۔ اور نہ وہ روح ہمیشہ ان کے ساتھ رہی۔ اور نہ روح نے کسی کو راستی اور عدالت سے ملزم ٹھہرایا اور نہ کسی یہودی کو حضرت مسیحؑ پر نہ ایمان لانے کی وجہ سے کبھی سزا دی البتہ آں حضرت ﷺ نے مشرکین اور کافرین سے جہاد بھی کیا۔ اور یہودیوں کو کافی سزا بھی دی۔

نیز حضرت مسیحؑ کا اس پر ایمان لانے کی تاکید فرمانا بالکل بے محل ہے اس لیے کہ جو حواریین پیشتر ہی سے روح القدس پر ایمان رکھتے تھے اس کے فرمانے کی کیا حاجت تھی کہ جب وہ آئے تب تم ایمان لاؤ۔ حضرت مسیحؑ کا اس قدر اہتمام فرمانا اور اس پر ایمان لانے کی وصیت کرنا خود اس کو بتلا رہا ہے کہ وہ آنے والی شے کچھ ایسی ہو گی۔ جس کا انکار تم سے بعید نہ ہو گا۔

پس اگر فارقلیط سے روح مراد ہوتی تو اس کے لیے چنداں اہتمام اور تاکید کی ضرورت نہ تھی اس لیے کہ جس کے قلب پر روح کا نزول ہو گا۔ اس سے

صفحہ ٥١١

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

روح کا انکار ہونا بالکل ناممکن ہے۔ نیز اس بشارت کا سیاق و سباق اس بات کو بتلا رہا ہے کہ وہ آنے والا فار قلیط حضرت عیسیٰ سے مغائر ہے۔ جیسا کہ سولہویں آیت کا یہ لفظ ”دوسرا مددگار بخشے گا“ صاف مغائرۃ پر دلالت کرتا ہے۔

مہر نبوت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

حضور پر نورؐ کے دونوں شانوں کے درمیان میں ایک مہر نبوت تھی جو حسی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی علامت اور نشانی تھی۔ شیخ عبدالحق دھلویؒ لکھتے ہیں کہ اس مہر نبوت کا ذکر کتب سابقہ توریت و انجیل وغیرہ میں بھی تھا اور حضرات انبیاء سابقین جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کی بشارت دیتے تو یہ فرماتے کہ اس نبی کا ظہور اخیر زمانہ میں ہو گا۔ اور مہر نبوت اس کی نشانی ہو گی۔

(اشعۃ اللمعات صفحہ ٥٠٨ جلد ٤)

قال السہیلی والحکمة فی وضع خاتم النبوة علی وجہ الاعتناء والاعتبار انہ لما ملا قلبہ صلی اللہ علیہ وسلم حکمة ویقینا ختم علیہ کما یختم علی الوعاء المملو مسکا واما وضعہ عند نغض کتفہ الایسر فلانہ معصوم من وسوسة الشیطان وذلک الموضع مدخل الشیطان ومحل وسوستہ

(کذا فی جمع الوسائل صفحہ ٧٢ جلد ١ و فتح الباری صفحہ ٤١١ جلد ٦)

ترجمہ = سہیلی فرماتے ہیں کہ مہر نبوت لگانے میں حکمت یہ ہے کہ جب آپؐ کے قلب مبارک کو آب زمزم سے دھو کر علم و حکمت اور ایمان و ایقان کے خزانہ سے بھر دیا گیا تو اس کو محفوظ کرنے کے لیے مہر لگا دی گئی اور دو شانوں کے درمیان بائیں جانب اس لیے لگائی گئی کہ یہ جگہ قلب کے مقابل ہے اور شیطان اسی جانب سے قلب میں وسوسہ ڈالتا ہے دو شانوں کی درمیانی جگہ شیطان کی آمد اور اس کے وسوسوں کا دروازہ ہے

صفحہ ٥١٢

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

اس لیے اس کو بند کرنے کے لیے مہر لگائی۔ تاکہ شیطان کی آمد کا راستہ بند ہو جائے۔ (خصائص کبری صفحہ ٥٩‘ ٦٠ جلد ١‘ فتح الباری ص ٦٠٩ ج ٦ باب ختم نبوۃ و یراجع خواتم الکلم ص ١٥١ فانہ قد فصل سید نعمان آلوسی۔ الجواب الفسیح لما الفہ عبدا لمسیح صفحہ ٢٧ جلد ١ میں لکھتے ہیں:)

قال الفاضل حيدر على القرشى فى كتابه المسمى خلاصة سيف المسلمين الذى هو فى لسان الاردو اى الهندى فى الصحيفة الثالثة جز والستين ان القسيس الا وسكان الارمنى ترجم كتاب اشعياء عليه السلام باللسان الارمنى فى ١٦٦٦ء الف و ستمائة و ست و ستين و طبعت ١٧٣٣ء و فيه فى الباب الثانى و الاربعين هذه الفقرة و نصهاـ وسجو الله تسبيحا جديد لواثر سلطنة على ظهره و اسمه احمد انتهت و هذه الترجمة موجودة عند الارامن فانظر وافيهاـ انتهى كلامه

ترجمہ = فاضل حیدر علی قریشی نے اپنی کتاب خلاصہ سیف المسلمین جو اردو زبان میں ہے لکھا ہے کہ پادری اوسکان ارمنی نے صحیفہ یسیعیاہ علیہ السلام کا ارمنی زبان میں ١٦٦٦ء میں ترجمہ کیا جو ١٧٣٣ء میں طبع ہوا۔ اس میں صحیفہ یسیعیاہ علیہ السلام کے بیالیسویں باب میں یہ فقرہ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرو اور اس کی تسبیح پڑھو اس آنے والے نبی کی سلطنت اور نبوت کا نشان اس کی پشت پر ہو گا۔ یعنی اس کی پشت پر مہر نبوت ہو گی اور نام اس کا احمد ہو گا انتہی اور یہ ترجمہ ارمنیوں کے پاس موجود ہے اس میں دیکھ لیا جائے۔

ابو نضرہ راوی ہیں کہ میں نے ابو سعید خدریؓ سے مہر نبوت کی بابت دریافت کیا تو یہ فرمایا کہ مہر نبوت حضورؐ کی پشت پر گوشت کا ایک ابھرا ہوا ٹکڑا تھا۔ (شمائل ترمذی) بخاری اور مسلم میں سائب بن یزید سے مروی ہ کہ مہر نبوت گھنڈی اور تکمہ کے مشابہ تھی۔

صفحہ ٥١٣

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

بعض روایات میں ہے کہ کبوتر کے بیضہ کے مشابہ تھی اور بعض روایات میں ہے کہ سیب کے مشابہ تھی۔ ہر ایک نے اپنے اپنے خیال کے مطابق تشبیہ دی ہے۔

جابر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ نے مجھ کو اپنے پیچھے سوار کیا۔ میں نے اپنا منہ آپؐ کی مہر نبوت پر رکھ دیا۔ میرے دہن میں سے مشک کی خوشبو مہکنے لگی۔

(خصائص کبری صفحہ ٦٠ جلد ١)

علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ مہر نبوت پر کچھ لکھا ہوا بھی تھا یا نہیں۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرتی طور پر اس پر محمد رسول اللہ لکھا ہوا تھا۔

اخرج ابن عساكر و الحاكم فى تاريخ نيسابور عن ابن عمر قال كان خاتم النبوة على ظهر النبى صلى الله عليه وسلم مثل البندقة من لحم مكتوب فيها باللحم محمد رسول الله

(خصائص کبری ص ٦٠ ج ١)

ترجمہ = ابن عساکر اور حاکم نے ابن عمرؓ سے روایت کیا ہے کہ مہر نبوت حضورؐ کی پشت مبارک پر گوشت کے گولی کے مشابہ تھی اور گوشت ہی سے قدرتی طور پر محمد رسول اللہؐ اس پر لکھا ہوا تھا۔

صحابہ کرامؓ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ جب حضورؐ کی مہر نبوت کو دیکھتے تو اس کو بوسہ دیتے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ جب حضورؐ پر نور کے اوصاف بیان کرتے تو یہ فرماتے بین کتفیہ خاتم النبوۃ و ھو خاتم النبیین حضورؐ کے دو شانوں کے درمیان مہر نبوت تھی اور حضورؐ خاتم النبیین تھے۔

(شمائل ترمذی)

غرض یہ کہ مہر نبوت۔ حضور ﷺ کی ختم نبوت کی حسی دلیل تھی۔ اور علماء بنی اسرائیل میں آپؐ کی یہ علامت مشہور تھی بحیرا راہب اور نسطور اور عبداللہ بن سلام وغیرہ وغیرہ اسی مہر نبوت کو دیکھ کر ایمان لائے۔ اور علماء بنی

صفحہ ٥١٤

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

اسرائیل کے شہادتیں کتب سیر میں مفصل مذکور ہیں۔ جن میں سے دس شہادتیں ہم نے اپنے مختصر رسالہ مسک الختام فی ختم النبوۃ علی سید الانام علیہ الصلوۃ والسلام میں ذکر کی ہیں جو ”ختم نبوت“ کے نام سے مشہور ہے (جو اسی مجموعہ میں شامل ہے۔)

ختم نبوت اور اس کا مفہوم اور حقیقت

ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ نبوت اور پیغمبری حضورؐ کی ذات بابرکات پر ختم ہو گئی اور آپؐ سلسلہ انبیاء کے خاتم (بالکسر) ہیں یعنی سلسلہ انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں اور آپ ﷺ سلسلہ انبیاء کے خاتَم (بالفتح) یعنی مہر ہیں۔ اب آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہ ہو گا، مہر کسی چیز کا منہ بند کرنے کے لیے لگاتے ہیں۔ اسی طرح حضور پرنورؐ سلسلہ انبیاء پر مہر ہیں اب آپ ﷺ کے بعد کوئی اس سلسلہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ اور قیامت تک کوئی شخص اب اس عہدہ پر سرفراز نہ ہو گا۔ مہر ہمیشہ ختم کرنے اور بند کرنے کے لیے ہوتی ہے کما قال تعالیٰ یسقون من رحیق مختوم ختامہ مسک یعنی سر بمہر بوتلیں ہوں گی اور شراب ان کے اندر بند ہو گی۔ ختم اللہ علی قلوبہم اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے یعنی کفر اندر بند کر دیا ہے۔

مرزا صاحب کا اقرار کہ مہر بند کرنے کے لیے ہوتی ہے

حقیقتہ الوحی ص ٣ روحانی خزائن ص ٥ ج ٢٢ میں ہے ”کیونکہ وید کی رو سے تو خوابوں اور الہاموں پر مہر لگ گئی ہے“ پھر حقیقتہ الوحی ص ٦٠ روحانی خزائن ص ٦٢ ج ٢٢ پر ہے ”مگر افسوس کہ عیسائی مذہب میں معرفت الٰہی کا دروازہ بند ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کی ہمکلامی پر مہر لگ گئی ہے۔“ اب ان عبارتوں میں مرزا صاحب کے نزدیک بھی مہر لگانے کے معنی بند کرنے کے ہیں۔

صفحہ ٥١٥

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

عہد نبوت سے لے کر اب تک تمام امت کے علماء اور صلحاء مفسرین اور محدثین فقہاء اور متکلمین اور اولیاء و عارفین سب کے سب ختم نبوت کے یہی معنی سمجھتے چلے آئے ہیں اور بطریق تواتر یہ عقیدہ ہم تک پہنچا۔ جس طرح ہر زمانہ میں نماز اور روزہ اور حج اور زکوۃ کے روایت کرنے والے رہے اسی طرح اسی تواتر کے ساتھ ختم نبوت کا عقیدہ ہم تک پہنچا ہے۔

جس طرح صلوٰۃ اور زکوۃ کے معنی میں کوئی تاویل قابل التفات نہیں اسی طرح ختم نبوت کے معنی میں بھی کوئی تاویل قابل التفات نہ ہوگی بلکہ ایسے صریح اور متواتر امور میں تاویل کرنا استہزاء اور تمسخر کے مرادف ہے۔

قال خبیب بن الربیع ادعاء التاویل فی لفظ صراح لا یقبل لانہ امتهان ای احتقار لہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

(کذا فی شرح الشفاء للعلامة القاری ص ٣٩٧ ج ٢)

ترجمہ = خبیب بن الربیع فرماتے ہیں۔ صریح الفاظ میں تاویل کا دعویٰ مقبول نہیں ہے اس میں آنحضرت ﷺ اور شارع علیہ السلام کی توہین اور تحقیر ہے۔

چنانچہ بعض لوگوں نے آیات صلوٰۃ و زکوٰۃ میں یہ تاویل کی ہے کہ صلوٰۃ اور زکوٰۃ اور حج عبادتوں کے نام نہیں بلکہ چند نیک اشخاص کے نام ہیں۔ اور مطلب یہ کہ ان کے پاس آمدورفت رکھا کرو۔ صلوٰۃ اور زکوٰۃ یہ اچھے لوگ تھے۔

اور زناء ایک برا آدمی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا کہ زنا کے پاس بھی مت جانا یہ بہت برا آدمی ہے باقی عرف میں جس کو زنا کہا جاتا ہے۔ اس میں کوئی حرج اور مضائقہ نہیں۔

حضرات ناظرین غور فرمائیں کہ کیا یہ قرآن اور حدیث کے ساتھ تمسخر نہیں اور کیا ایسی تاویل کسی کو کفر سے بچا سکتی ہے اسی طرح ظلی اور بروزی کی تاویل بھی قرآن اور حدیث کے ساتھ تمسخر ہے۔

آپ انصاف سے فرمائیے کہ اگر آج کوئی پاکستان میں یہ دعویٰ کرے کہ

صفحہ ٥١٦

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

میں قائد اعظم کا ظل اور بروز بن کر آیا ہوں بلکہ یہ کہے کہ میں تو قائد اعظم کا عین ہوں میرے اس دعویٰ سے قائد اعظم کی قیادت میں کوئی فرق نہیں آتا اور مجھ کو اختیار ہے کہ میں قائد اعظم کے جس حکم کو چاہوں ردی کی ٹوکری میں ڈال دوں تو کیا ایسا مدعی حکومت کے نزدیک قابل گردن زدنی نہ ہو گا اور کیا حکومت کے نزدیک کسی کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنا نام قائد اعظم رکھے یا اخبارات اور اشتہارات میں اپنے آپ کو پاکستان کا وزیر اعظم لکھ سکے حالانکہ یہ ممکن ہے کہ یہ شخص وزیر اعظم سے علم اور عقل فہم اور فراست تدبر اور سیاست میں بڑھا ہوا ہو کیونکہ ووٹ کی وزارت میں کھوٹ ممکن ہے۔

لیکن نبوت و رسالت کی بارگاہ میں ان خرافات کو پر مارنے کی بھی مجال نہیں۔

پس جبکہ قائد اعظم اور وزیر اعظم نام رکھنا بغاوت اور جرم عظیم ہے تو کیا کسی کا یہ دعویٰ کہ میں رسول اعظم ہوں یہ بغاوت اور کفر عظیم نہ ہو گا۔

بہت سے یہود اور نصاریٰ حضور پر نورؐ کی نبوت کو مانتے ہیں مگر یہ کہتے ہیں کہ حضورؐ کی نبوت فقط عرب کے ساتھ مخصوص تھی۔ تمام عالم کے لیے عام نہ تھی تو کیا اس تاویل کی وجہ سے ان یہود و نصاریٰ کو مسلمان کہا جا سکتا ہے۔

اگر لا نبی بعدی میں یہ تاویل درست ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی مستقل رسول نہیں ہو سکتا۔ تو کیا اگر مدعی الوہیت لا الہ الا اللہ کے یہ معنی بیان کرے کہ اللہ کے سوا کوئی مستقل خدا نہیں۔ البتہ ظلی اور بروزی اور مجازی خدا اور بھی ہو سکتے ہیں۔ تو یہ تاویل کیوں درست نہیں؟

سامری کا یہ عقیدہ نہ تھا کہ یہ بچھڑا مستقل خدا ہے بلکہ اس کا عقیدہ یہ تھا کہ خدا اس میں حلول کر آیا ہے جیسے ہندوؤں کا اپنے اوتاروں کے متعلق عقیدہ ہے کہ خدا ان میں حلول کر آیا تھا۔ ہندو اپنے اوتاروں کو مستقل خدا نہیں مانتے۔

اسی طرح مرزا صاحب کا یہ کہنا کہ میں نبی اکرم ﷺ کا بروز ہوں اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ نبی اکرم ﷺ مجھ میں حلول کر آئے ہیں۔ مرزائے قادیانی کا

صفحہ ٥١٧

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

تمسخر تو دیکھئے کہ یہ کہتا ہے کہ میری آمد سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ سبحان اللہ' اللہ تعالیٰ نے نبوت پر مہر لگائی مگر مرزا صاحب نے نبوت کو اس طرح چرایا کہ اللہ کی لگائی ہوئی مہر بھی نہ ٹوٹی اور نبوت بھی چرالی اس لیے میں کہتا ہوں کہ مسیلمہ پنجاب یمن کے مسیلمہ کذاب سے چالاکی اور عیاری میں کہیں بڑھ کر ہے۔

ہمیں اس بحث کی ضرورت نہیں کہ مرزا صاحب کی تاویلات مہملہ کی طرف کوئی توجہ کریں دیکھنا یہ ہے کہ جس نبی پر خاتم النبیین کی آیت اتری اس نے اس آیت کے کیا معنی سمجھے اور امت کو کیا معنی سمجھائے۔ اور عہد صحابہؓ سے لے کر اس وقت تک پوری امت اس آیت کے کیا معنی سمجھتی رہی۔ کیا تیرہ سو سال کے علماء امت اور ائمہ لغت و عربیت کو عربی لغت کی اتنی بھی خبر نہ تھی جتنا کہ قادیان کے ایک دہقان کو ٹوٹی پھوٹی عربی کی خبر تھی۔

مرزا صاحب نہ پنجابی نہ اردو اور نہ فارسی اور نہ عربی اور نہ انگریزی کسی زبان کے ادیب تھے۔ ان کے معاصر بلکہ بہت سے ان کے منکر اور کافر اردو اور فارسی اور عربی مرزا صاحب سے بہتر جانتے تھے۔ اس پر تمام امت کے علماء کی نسبت یہ کہنا کہ خاتم النبیین کی آیت کا مطلب نہیں سمجھا کیا کھلا ہوا مراق اور مالیخولیا نہیں (جس کا خود مرزا صاحب کو بھی اقرار ہے)

علاوہ ازیں دعوائے نبوت سے پہلے خود مرزا صاحب بھی خاتم النبیین کے وہی معنی بیان کرتے تھے جو امت کے تمام علماء بیان کرتے چلے آئے اور مرزا صاحب صاف طور پر یہ لکھتے آئے کہ جو حضور پرنورؐ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے۔ وہ کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ دعوائے نبوت کے بعد اس پر تاویل کا ر نگ چڑھانا شروع کیا جو قابل التفات نہیں۔

اب مرزا صاحب کے اس بارہ میں دو قول ہیں۔ ایک قول قدیم ہے ۔ جو علماء امت کے موافق ہے۔ اور ایک قول جدید ہے جو مسیلمہ کذاب کے مطابق ہے اور مرزا صاحب کا یہ اقرار ہے کہ مجھ کو مراق اور مالیخولیا کی بیماری ہے۔ لہٰذا مراقی کے جب اقوال مختلف ہوں تو مراقی کا وہی قول قبول کیا جائے گا

صفحہ ٥١٨

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

کہ جو مراق سے قبل تمام عقلاء امت کے مطابق اس کی زبان سے نکل چکا ہے۔ ہم مسلمانوں کے لیے تو گنجائش ہے کہ مرزا صاحب کے مراق اور مالیخولیا میں کوئی تاویل کرلیں کہ وہ حقیقتاً ”مراقی نہ تھے بلکہ کسی سیاسی مصلحت کی بنا پر مجازاً“ اپنے آپ کو مراقی فرما گئے۔ لیکن قادیانیوں پر فرض قطعی ہے کہ وہ مرزا صاحب کے مراق اور مالیخولیا پر بلا کسی تاویل کے ایمان لائیں۔ ورنہ اگر مرزا صاحب کے مراقی اور مالیخولیائی ہونے میں ذرا بھی شک کریں گے تو کافر اور مرتد ہو جائیں گے۔ نبی جو کہے اس پر بے چون و چرا ایمان لانا فرض ہے۔

دس مدعیان نبوت

مدعیان نبوت کے خروج اور ظہور کی پیشین گوئی

حضور پرنور ﷺ نے بہت سی پیشین گوئیاں فرمائیں اور سب کی سب حرف بحرف سچی نکلیں۔ ایک پیشین گوئی حضورؐ نے یہ بھی فرمائی کہ قیامت سے پہلے بہت سے کذاب اور دجال ظاہر ہوں گے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ میں اللہ کا نبی اور رسول ہوں۔ خوب سمجھ لو کہ میں خاتم النبیین ہوں۔ خدا کا آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ خاتم النبیین کے بعد کسی کا فقط یہ دعویٰ کہ میں نبی ہوں یہی اس کے کاذب اور دجال ہونے کی دلیل ہے۔

حضورؐ نے اپنے بعد کسی نبی کے آنے کی پیشین گوئی نہیں فرمائی بلکہ مدعیان نبوت کی پیشین گوئی فرمائی۔ اور ایک حرف یہ نہ فرمایا کہ تم اس مدعی نبوت سے اولاً ”یہ دریافت کرنا کہ تو کس قسم کی نبوت کا مدعی ہے اور تیری نبوت کی کیا دلیل ہے۔ اگر حضورؐ کے بعد کوئی سچا نبی آنے والا ہوتا۔ تو حضور پرنورؐ اس کی خبر دیتے اور لوگوں کو ہدایت فرماتے کہ تم ضرور اس پر ایمان لانا اور اس کا انکار کر کے دوزخی نہ بننا بلکہ اس کے برعکس یہ فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔ البتہ کذاب و دجال پیدا ہوں گے جو نبوت کے مدعی ہوں گے تم ان کے

صفحہ ٥١٩

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

دھوکہ اور فریب میں نہ آنا اور اس کے جھوٹا ہونے کی علامت ہی یہ ہو گی کہ وہ نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ چنانچہ اس کا ظہور حضور کی اخیر زندگی ہی سے شروع ہو گیا۔ اور نبوت کے دعوے دار ظاہر ہونے لگے۔ چنانچہ یمن میں اسود عنسی نے اور یمامہ میں مسیلمہ نے نبوت کا دعویٰ کیا۔

وروی ابو یعلی باسناد حسن عن عبداللہ بن الزبیر تسمیة بعض الکذابین المذکورین بلفظ لا تقوم الساعة حتی یخرج ثلاثون کذابا منھم مسیلمة والعنسی والمختار۔

(فتح الباری ص ٢٥٤ ج ٦)

ترجمہ = ابویعلی نے عبداللہ بن زبیر سے باسناد حسن روایت فرمائی ہے جس میں بعض کذابوں کے نام بھی آپ نے ذکر فرمائے ہیں۔ آپ کے الفاظ یہ ہیں کہ قیامت قائم نہ ہو گی۔ جب تک کہ تیس کذاب برآمد نہ ہوں۔ ان میں مسیلمہ اور عنسی اور مختار ہوں گے۔

سب سے پہلا مدعی نبوت اور اس کا قتل

سب سے پہلا مدعی نبوت اسود عنسی ہے جو بڑا شعبدہ باز تھا اور کہانت میں اپنی نظیر نہیں رکھتا تھا۔ لوگ اس کے شعبدوں کو دیکھ کر مانوس ہو گئے اور اس کے پیچھے ہو لئے اور قبیلہ نجران اور قبیلہ مذحج نے اس کی دعوت کو قبول کیا اور ان کے علاوہ یمن کے اور بھی قبائل اس کے ساتھ شامل ہو گئے۔

آنحضرت ﷺ نے مسلمانان یمن کے پاس حکم بھیجا کہ جس طرح ممکن ہو اسود کا فتنہ ختم کیا جائے امام ابن جریر طبری ١١ھ کے واقعات میں لکھتے ہیں۔

عن جشیش بن الدیلمی قال قدم علینا وبر بن یحنس بکتاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم یامر فیہ بالقیام علی دیننا والنھوض والحرب والعمل فی الاسود اما غیلة او مصادفة

(تاریخ طبری ص ٢١٥ ج ٣)

صفحہ ٥٢٠

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

ترجمہ = جشیش راوی ہیں کہ وبر بن یحنس نبی اکرم ﷺ کا والا نامہ ہمارے نام لے کر جس میں ہم کو یہ حکم تھا کہ دین اسلام پر قائم رہیں اور اسود کے مقابلہ اور مقاتلہ کے لیے تیار ہو جائیں اور جس طرح ممکن ہوا اسود کا کام تمام کریں۔ خواہ کھلم کھلا قتل کریں یا خفیہ طور پر یا کسی اور تدبیر سے۔

اور تاریخ ابن الاثیر میں ہے۔

فتزوج معاذ بالسکون فعطفوا علیہ وجاء الیہم والی من بالیمن من المسلمین کتاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم یامرہم بقتال الاسود فقام معاذ فی ذلک و قویت نفوس المسلمین وکان الذی قدم بکتاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم وبر بن یحنس الازدی قال جشیش الدیلمی فجاء تنا کتب النبی صلی اللہ علیہ وسلم یامرنا بقتالہ اما مصادمۃ او غیلۃ الی آخرہ

(تاریخ ابن الاثیر صفحہ ١٢٨ جلد ٢ ذکر اخبار الاسود العنسی بالیمن)

ترجمہ = حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا اور تمام مسلمان ان کے گرد جمع ہو گئے اور ان کے پاس اور مسلمانان یمن کے پاس آنحضرت ﷺ کا خط موصول ہوا جس میں اسود کے ساتھ قتال کا حکم تھا۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اس بارے میں کھڑے ہوئے۔ اور مسلمانوں کے قلوب کو تقویت حاصل ہوئی۔ جو شخص آنحضرت ﷺ کا خط لے کر آیا تھا۔ اس کا نام وبر بن یحنس ازدی تھا۔ جشیش دیلمی فرماتے ہیں ہمارے پاس آنحضرت ﷺ کے کئی خط موصول ہوئے جن میں اسود کے قتال کا حکم تھا۔ علانیہ ہو یا تدبیر سے۔

چنانچہ حضرات صحابہؓ نے حسن تدبیر سے اس کذاب کا کام تمام کیا۔ اور اس واقعہ کی خبر دینے کے لیے ایک قاصد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں روانہ کیا۔ لیکن قاصد کے پہنچنے سے پہلے حضورؐ کو بذریعہ وحی اس کی خبر ہو گئی آپ نے

صفحہ ٥٢١

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

اسی وقت صحابہ کو بشارت دی اور فرمایا۔ قتل العنسى البارحة قتله رجل مبارك من اهل بيت مباركين قيل ومن قال فيروز فاز فيروز۔

(تاریخ طبری ص ٢٢٨ ج ٣ تاریخ ابن الاثیر ص ١٣٢ ج ٢ و تاریخ ابن خلدون ص

٢٣٨ ج ٣)

ترجمہ = کہ شب گزشتہ اسود عنسی مارا گیا اس کو ایک مبارک گھرانے کے مبارک مرد فیروز نے مارا ہے۔ فیروز کامیاب اور فائز المرام ہوا۔

قاصد یہ خبر لے کر مدینہ اس وقت پہنچا کہ آنحضرت ﷺ وصال فرما چکے تھے۔ عبدالرحمن ثمالی رضی اللہ عنہ نے اس بارہ میں یہ اشعار لکھے۔

لعمری وما عمری علی بھین
لقد جزعت عنس بقتل الاسود

قسم ہے میری زندگی کی اور میری قسم معمولی قسم نہیں۔ قبیلہ عنس اسود عنسی کے قتل سے گھبرا اٹھا۔

وقال رسول الله سیروا لقتله
علی خیر موعود و اسعد اسعد

رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کے قتل کے لیے جاؤ اور بہترین وعدہ اور اعلیٰ ترین خوش نصیبی کی بشارت دی یعنی مدعی نبوت کا قتل اعلیٰ ترین سعادت ہے۔

فسرنا الیہ فی فوارس ھمے
علی حین امر من وصاۃ محمد

پس ہم چند سوار اسود کذاب کے قتل کے لیے روانہ ہو گئے تاکہ آپؐ کے حکم اور وصیت کی تعمیل اور تکمیل ہو۔

(حسن الصحابہ فی شرح اشعار الصحابہ صفحہ ٣١٣)

خلافت راشدہ اور مدعیان نبوت کا قلع قمع

صفحہ ٥٢٢

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

خلافت راشدہ اس حکومت کو کہتے ہیں کہ جو منہاج نبوت پر ہو اور اس حکومت کا حکمران نبی کے ظاہری اور باطنی کمالات کا آئینہ اور نمونہ ہو۔ خلافت راشدہ کا فیصلہ قیامت تک کے لیے پوری امت کے لیے حجت اور واجب العمل ہے۔

احادیث صحیحہ میں خلفاء راشدین کے اتباع کی تاکید اکید آئی ہے۔ کتاب و سنت کے بعد خلافت راشدہ کا فیصلہ شرعی حجت ہے جس سے عدول اور انحراف جائز نہیں۔

قیامت تک آنے والی اسلامی حکومتوں کے لیے خلافت راشدہ عدالت عظمیٰ اور آخری عدالت ہے۔ جس کی کوئی اپیل نہیں ہو سکتی۔ کسی اسلامی حکومت کی یہ مجال نہیں کہ وہ خلافت راشدہ کے فیصلہ پر کوئی نظر ثانی کا تصور بھی کر سکے۔ خلافت راشدہ کے رشد اور صواب پر رسول اللہ کے دستخط ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے بعد خلفاء راشدین واجب الاطاعت ہیں اور اگر بفرض محال کوئی دیوانہ یہ خیال کرے کہ خلفاء راشدین کا فیصلہ حجت اور واجب الاطاعت نہیں۔ تو پھر بتلائے کہ دنیا میں خلفاء راشدین سے بڑھ کر کون ہے جس کا فیصلہ حجت سمجھا جائے۔

اب ہم نہایت اختصار کے ساتھ یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ خلافت راشدہ نے کس طرح مدعیان نبوت کا قلع قمع کیا۔ اور کس طرح صفحہ ہستی سے ان کا نام و نشان مٹایا۔ جزاهم الله تعالیٰ عن الاسلام وسائر المسلمین خیرا کثیرا کثیرا امین

طلیحہ اسدی

اسود عنسی کی طرح طلیحہ اسدی نے بھی حضور پرنورؐ کی زندگی میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ اسود کی طرح یہ بھی کاہن تھا کچھ قبیلے اس کے بھی تابع ہو گئے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کی سرکوبی کے لیے ضرار بن الازور رضی اللہ عنہ کو

صفحہ ٥٢٣

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

صحابہؓ کی ایک جماعت ساتھ دے کر روانہ کیا۔ حضرت ضرارؓ نے خوب سرکوبی کی اور مرتدین کو اتنا مارا کہ طلیحہ کی جماعت کمزور پڑ گئی لیکن اتنے میں آنحضرت ﷺ کی وفات کی خبر آ گئی۔ حضرت ضرارؓ اپنے ساتھیوں کو لے کر مدینہ آ گئے۔ ان کے واپس آ جانے کی وجہ سے طلیحہ کا فتنہ پھر زور پکڑ گیا۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولیدؓ کی سرکردگی میں ایک لشکر اس کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا۔ خالد بن ولیدؓ نے جاتے ہی میدان کارزار گرم کیا۔ عیینہ بن حسن طلیحہ کی طرف سے لڑ رہا تھا اور طلیحہ لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے ایک چادر اوڑھے ہوئے وحی کے انتظار میں ایک طرف بیٹھا تھا۔ جب مرتدین کے پیر میدان جنگ سے اکھڑنے لگے تو عیینہ بن حسن لوگوں کو لڑتا چھوڑ کر طلیحہ کے پاس آیا اور سوال کیا کہ کیا میرے بعد تیرے پاس جبرئیل امین کوئی وحی لے کر آئے ہیں۔ طلیحہ نے کہا نہیں کوئی نہیں آئی۔ عیینہ لوٹ گیا اور تھوڑی دیر کے بعد پھر آیا سوال کیا کہ کیا اس اثنا میں جبرئیل امین کوئی وحی لے کر آئے ہیں۔ طلیحہ نے کہا نہیں۔ عیینہ نے کہا آخر جبرئیل کب تک آئیں گے ہم تو تباہ ہو گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد عیینہ پھر آیا اور طلیحہ سے پھر یہی سوال کیا۔ طلیحہ نے کہا ہاں ابھی جبرئیل امین آئے تھے۔ اور یہ وحی لے کر آئے ہیں۔

ان لک رحی کرحاہ و حدیثا لاتنساہ۔

ترجمہ = تیرے لیے بھی خالد کی طرح ایک چکی ہو گی اور ایک بات پیش آئے گی جس کو تو کبھی نہ بھولے گا۔

عیینہ نے یہ سن کر کہا کہ بے شک اللہ کو معلوم ہے کہ کوئی بات ایسی ضرور پیش آئے گی جس کو تو نہ بھولے گا۔ اور اس کے بعد قوم سے مخاطب ہو کر یہ کہا۔ انصرفوا یا بنی فزارۃ فانہ کذاب ترجمہ = اے بنی فزارہ تم واپس ہو جاؤ خدا کی قسم یہ شخص بالکل کذاب ہے۔

عیینہ کا یہ لفظ سنتے ہی تمام لوگ بھاگ گئے اور میدان خالی ہو گیا اور کچھ لوگ ایمان لے آئے۔ طلیحہ نے اپنے لیے اور اپنی بیوی کے لیے پہلے ہی سے ایک

صفحہ ٥٢٤

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

گھوڑا تیار کر رکھا تھا جب اس پر سوار ہو کر بھاگنے لگا تو لوگوں نے آکر اس کو گھیر لیا۔ طلیحہ نے جواب دیا۔

من استطاع ان يفعل ہکذا او ينجو بامرأته فليفعل۔

ترجمہ = جو شخص ایسا کر سکتا ہو اور اپنی بیوی کو بچا سکتا ہو وہ ضرور ایسا کر گزرے۔

اس طرح طلیحہ بھاگ کر ملک شام چلا گیا اور حضرت عمرؓ کے زمانہ میں تائب ہو کر مدینہ منورہ حاضر ہوا اور حضرت عمرؓ کے دست مبارک پر بیعت کی اور جنگ قادسیہ میں کار نمایاں کئے۔ والسلام

(تاریخ طبری ص ٢٢٩ ج ٣ و تاریخ ابن الاثیر ص ١٣٠ ج ٢ تا ص ١٣٣ ج ٢ و تاریخ ابن خلدون ص

٢٩٢ ج ٣)

وحی طلیحہ کا ایک نمونہ

والحمام واليمام الصرد الصوام قد ضمن قبلكم باعوام ليلفن ملکنا العراق والشام (تاریخ ابن الاثیر ص ١٣٣ ج ٢)

مسیلمہ کذاب

مسیلمہ کذاب : یہ شخص قبیلہ بنی حنیفہ کا تھا ١٠ھ میں شہر یمامہ میں اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک خط بھیجا جس کی عبارت یہ تھی۔

من مسيلمة رسول الله الى محمد رسول الله سلام عليک فانی قد اشركت فى الامر معک وان لنا نصف الارض ولقريش نصف الارض ولكن قريش قوم يعتدون۔

ترجمہ = من جانب مسیلمہ رسول اللہ بطرف محمد رسول اللہ تم پر سلام ہو تحقیق میں نبوت میں تمہارے ساتھ شریک کر دیا گیا ہوں۔ نصف زمین ہماری ہے اور نصف قریش کی۔ لیکن قریش ایک ظالم قوم ہے۔

صفحہ ٥٢٥

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

مسیلمہ نے یہ خط دو آدمیوں کے ہاتھ حضور اقدسؐ کی خدمت میں بھیجا حضورؐ نے ان دونوں آدمیوں سے پوچھا کہ کیا تم اس کی شہادت دیتے ہو کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے ان دونوں نے کہا ہاں۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر قاصد قتل کئے جاتے تو میں گردن اڑانے کا حکم دیتا۔ بعد ازاں اس کے خط کا یہ جواب لکھوایا۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم من محمد رسول الله الى مسيلمة الكذاب سلام على من اتبع الهدى امابعد فان الارض لله يورثها من يشاء من عباده و العاقبة للمتقین۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم من جانب محمد رسول اللہ بطرف مسیلمہ کذاب سلام ہو اس شخص پر کہ جو اللہ کی ہدایت کا اتباع کرے۔ اس کے بعد یہ ہے کہ تحقیق زمین اللہ کی ہے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس کو زمین کا مالک اور وارث بنائے اور اچھا انجام خدا سے ڈرنے والوں کے لیے ہے۔

(ابن اثیرؒ اپنی تاریخ کے ص ١٣٨ ج ٢ پر لکھتے ہیں)

فكان اعظم فتنة على بنى حنيفة من مسيلمة شهد ان محمد صلى الله عليه وسلم قد اشرك معه فصدقوه و استجابوالہ الخ یعنی بنی حنیفہ کے حق میں فتنہ کا بڑا سبب یہ ہوا کہ مسیلمہ نے یہ مشہور کیا کہ محمد ﷺ نے مجھکو اپنی رسالت میں شریک کر لیا ہے انہوں نے حضورؐ کا نام سنکر مسیلمہ کی تصدیق کی اور اس کی دعوت کو قبول کیا۔

اور مسیلمہ کو اس دعوے کی تائید کے لیے نہار نامی ایک شخص ہاتھ آگیا۔ یہ شخص شرفاء بنی حنیفہ میں سے تھے۔ ہجرت کر کے مدینہ منورہ حاضر ہوا اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں رہ کر قرآن اور حدیث کی تعلیم حاصل کی۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم اپنے وطن واپس چلے جاؤ اور دین کی تعلیم دو۔ یہ بدبخت مدینہ سے

صفحہ ٥٢٦

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

واپس آکر مسیلمہ سے مل گیا اور علی الاعلان آکر یہ شہادت دی کہ میں نے خود محمد ﷺ سے سنا ہے کہ مسیلمہ نبوت میں میرا شریک ہے اس لیے بنی حنفیہ کے لوگ فتنہ میں مبتلا ہو گئے۔ اور مسیلمہ کے بہکاوے میں آگئے۔

مسیلمہ یمامہ اور مسیلمہ قادیان میں فرق

مرزا صاحب نے بھی وہی طریقہ اختیار کیا کہ جو مسیلمہ یمامہ نے کیا تھا۔ مگر مرزا صاحب چالاکی میں مسیلمہ سے بڑھے ہوئے ہیں مسیلمہ تو یہ کہتا تھا کہ حضور پرنورؐ نے مجھ کو اپنی نبوت میں شریک کرلیا ہے۔ اور مرزا صاحب یہ فرماتے ہیں۔ کہ میں نبوت میں حضورؐ کے ساتھ شریک نہیں بلکہ عین محمدﷺ ہوں اور میری بعثت بعینہ بعثت محمدیہ ہے اور بعثت ثانیہ بعثت اولیٰ سے کہیں افضل اور اکمل ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ قادیان جو بعثت ثانیہ کا محل ہے۔ مکہ مکرمہ سے افضل ہے اور مرزا صاحب باوجود مراق اور مالیخولیا کے محمد رسول اللہ ﷺ سے افضل اور اکمل ہیں۔ ابلہ گفت دیوانہ باور کرد۔ کی مثل صادق ہے پاگل نے کہا اور دیوانہ نے اس کو مان لیا۔

اس خط و کتابت کے بعد آنحضرت ﷺ کا وصال ہو گیا اور بغیر اس فتنہ کی تدبیر کے رفیق اعلیٰ سے جاملے۔ اسی اثنا میں ایک عورت نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا (جس کا ہم عنقریب ذکر کریں گے) جس کا نام سجاح تھا مسیلمہ نے اس سے نکاح کر لیا اس کے لشکر سے مسیلمہ کو مزید قوت اور شوکت حاصل ہوئی۔

صدیق اکبرؓ نے مسیلمہ کے مقابلہ کے لیے اولاً عکرمہ بن ابی جہل کی زیر امارت ایک لشکر روانہ کیا مگر کامیابی نہ ہوئی۔ پھر ان کے بعد دوسرا لشکر شرحبیل بن حسنہ کی سرکردگی میں ان کی امداد کے لیے روانہ کیا۔ اس لشکر کو بھی شکست ہوئی۔ مسیلمہ کذاب کے لشکر میں چالیس ہزار جنگ آزما سپاہی تھے۔ صحابہ کرامؓ کے چھوٹے چھوٹے لشکر پورا مقابلہ نہ کر سکے۔ بالآخر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک بڑے لشکر کے ساتھ خالد بن ولیدؓ کو مسیلمہ کذاب کی مہم کے لیے روانہ فرمایا۔ اس

صفحہ ٥٢٧

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

معرکہ میں صدیق اکبرؓ کے لخت جگر عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ اور فاروق اعظمؓ کے لخت جگر عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت عمرؓ کے بھائی زید بن الخطابؓ بھی شریک تھے۔ مرتدین سے اب تک جس قدر معرکے پیش آئے ان میں مسیلمہ کذاب کا معرکہ سب سے زیادہ سخت تھا اور قوت اور شوکت میں سب سے بڑھ کر تھا۔ مسیلمہ کی فوج چالیس ہزار تھی اور مسلمانوں کی فوج دس ہزار سے کچھ زیادہ تھی۔ مسیلمہ کذاب کو جب خالدؓ بن ولیدؓ کی آمد کی خبر ملی تو آگے بڑھ کر مقام عقرباء میں پڑاؤ ڈالا۔ اس میدان میں حق اور باطل اور نبوت صادقہ اور کاذبہ کا خوب مقابلہ ہوا۔ معرکہ نہایت سخت تھا کبھی مسلمانوں کا پلہ بھاری نظر آتا تھا اور کبھی مسیلمہ کا‘ یہاں تک کہ مسیلمہ کے کئی سپہ سالار مارے گئے سب سے اول مسیلمہ کی طرف سے نہار میدان میں آیا جو حضرت زیدؓ بن الخطاب کے ہاتھ سے مارا گیا۔ مسیلمہ کا دوسرا مشہور سردار محکم بن طفیل حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ کے تیر قضاء سے ختم ہوا۔ مرتدین کے قدم اکھڑ گئے۔ مسلمانوں نے ان کو مارتے مارتے مقام حدیقہ تک پہنچا دیا۔ یہ مقام چار دیواری سے محصور تھا یہ ایک باغ تھا جس کو حدیقۃ الرحمٰن کہتے تھے۔ مسیلمہ نے اپنا خیمہ اسی باغ میں نصب کیا تھا۔ اسی باغ میں مسیلمہ قدم جمائے کھڑا تھا۔ دشمنوں کا لشکر بھاگ کر حدیقہ میں داخل ہو گیا اور اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس وقت صحابہؓ سے کہا۔

يامعشر المسلمين القونى عليهم فى الحديقة فقالوا لانفعل فقال واللّٰه لنطرحننى عليهم فاحتمل حتى اشرف على الجدارنا فتها عليهم وقاتل على الباب وفتح للمسلمين ودخلوها عليهم فاقتلوا اشد قتال وكثر القتلى فى الفريقين لاسيمافى بنى حنيفة فلم يزالواكذالك حتى قتل مسيلمہ و اشترك فى قتله وحشى مولى جبير بن مطعم و رجل من الانصار اماوحشى فدفع عليه حربہ وضربه الانصارى بسيفہ

صفحہ ٥٢٨

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

(تاریخ ابن الاثیر ص ١٣٩ ج ٢)

ترجمہ = مسلمانوں کی جماعت مجھ کو حدیقہ میں پھینک دو۔ مسلمانوں نے کہا ہم ہرگز ایسا نہیں کریں گے۔ براء بن مالکؓ نے کہا میں تم کو خدا کی قسم دیتا ہوں کہ مجھ کو اندر پھینک دو۔ لوگوں نے مجبوراً اٹھا کر دیوار پر پہنچا دیا۔ براء بن مالکؓ دیوار پر اندر کودے اور دروازہ پر کچھ دیر مقابلہ کیا۔ بالاخر مسلمانوں نے دروازہ کھول دیا۔ مسلمان اندر گھس آئے اور خوب مقابلہ ہوا۔ فریقین کے بہت آدمی مارے گئے یہاں تک مسیلمہ کذاب بھی مارا گیا۔ وحشیؓ نے مسیلمہ کے ایک نیزہ پھینک کر مارا جس کی وجہ سے وہ حرکت نہ کر سکا۔ اور ایک انصاریؓ نے تلوار سے اس کا سر قلم کیا۔

یہ وحشی وہی ہیں جنہوں نے جنگ احد میں حضرت حمزہؓ کو اسی نیزہ سے شہید کیا تھا۔ اب اسلام لانے کے بعد اسی نیزہ سے مسیلمہ کذاب کو مارا اور بطور فخر بلکہ بطور شکر اور بطریق شکریہ کہا کرتے تھے۔

قتلت فی جاہلیتی خیر الناس وفی اسلامی شر الناس (روح

المعانی)

ترجمہ = اگر میں نے زمانہ جاہلیت میں اس نیزہ سے ایک بہترین انسان کو مارا ہے (یعنی حضرت حمزہؓ کو) تو زمانہ اسلام میں اسی نیزہ سے ایک بدترین انسان یعنی ایک مدعی نبوت کو مارا ہے۔

اور وہ انصاری جنہوں نے مسیلمہ کا سر اپنی تلوار سے قلم کیا۔ ان کا نام عبداللہ بن زیدؓ ہے انہی کا یہ شعر ہے۔

یسائلنی الناس عن قتلہ
فقلت ضربت و ھذا طعن

لوگ مجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ مسیلمہ کو کس نے مارا۔ تو میں جواب میں یہ کہہ دیتا ہوں کہ میں نے تلوار ماری اور وحشی نے نیزہ مارا۔

صفحہ ٥٢٩

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

اس معرکہ میں مسلمانوں کے چھ سو ساٹھ آدمی شہید ہوئے۔ اور مسیلمہ کذاب کے بقول ابن خلدون سترہ ہزار آدمی مارے گئے۔ امام طبری فرماتے ہیں کہ بنی حنیفہ کے سات ہزار آدمی عقربا میں اور سات ہزار حدیقہ میں مارے گئے۔ اور یہ باغ حدیقۃ الموت کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اور حضرت خالدؓ مظفر و منصور مدینہ منورہ واپس آئے۔ دوسری روایات میں مسلمانوں کے بارہ سو اور مسیلمہ کے اٹھائیس ہزار آدمی اس جنگ میں کام آئے۔ واللہ اعلم

محمد بن الحنفیہ

محمد بن الحنفیہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے صاحبزادے ہیں اور حنیفہ آپ کی والدہ ماجدہ ہیں جو قبیلہ بنی حنیفہ کی باندی تھیں۔ مسیلمہ کذاب کی لڑائی میں گرفتار ہو کر آئیں۔ اور صدیق اکبرؓ کی طرف سے حضرت علیؓ کو عطا ہوئیں۔

معلوم ہوا کہ مدعی نبوت کی اولاد اور ذریت اور بچوں اور عورتوں کو غلام بنا کر لوگوں پر تقسیم کرنا باجماع صحابہؓ بلاشبہ و ریب جائز اور روا ہے۔

مسیلمہ کذاب کے متبعین اور اذناب کا حشر

روى الزهري عن عبيد الله بن عبدالله قال اخذ بالكوفة رجال يؤمنون بمسيلمة الكذاب فكتب فيهم الى عثمان فكتب عثمان اعرض عليهم دين الحق و شهادة ان لا اله الا الله و ان محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم فمن قالها و تبرأ من دين مسيلمة فلا تقتلوه و من لزم دين مسيلمة فاقتلوه فقبلها رجال منهم و لزم دين مسيلمة رجال فقتلوا۔

(احکام القرآن للجصاص ص ٢٨٨ ج ٢ باب استتابتہ المرتد و سنن کبری لامام البیہقی ص

٢٠١ ج ٨)

ترجمہ = زہری رحمتہ اللہ علیہ نے عبید اللہ بن عبداللہ سے روایت کیا ہے کہ کوفہ میں کچھ آدمی گرفتار کئے گئے جو کہ مسیلمہ کذاب پر ایمان لائے م کذاب پر ایمان لائے

صفحہ ٥٣٠

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے متعلق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب میں تحریر فرمایا کہ ان پر دین حق اور کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پیش کیا جائے۔ جو شخص اس کلمہ کو پڑھے اور دین مسیلمہ سے برات کا اظہار کرے اس کو قتل نہ کرو۔ اور جو شخص دین مسیلمہ کذاب پر جما رہے اسے قتل کر دو۔ تو بہت سے آدمیوں نے کلمہ اسلامی کو قبول کر لیا۔ اور بہت سے دین مسیلمہ پر قائم رہے انہیں قتل کیا گیا۔

سجاح بنت حارث

سجاح بنت حارث۔ قبیلہ بنی تمیم کی ایک عورت تھی نہایت ہوشیار تھی۔ اور حسن خطابت و تقریر میں مشہور تھی۔ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد اس نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ ایک گروہ ساتھ ہو گیا۔ مدینہ منورہ پر حملہ کا ارادہ کیا مگر کسی وجہ سے یہ ارادہ ملتوی ہو گیا۔ بعد ازاں سجاح نے مسیلمہ کا رخ کیا۔ مسیلمہ نے یہ خیال کر کے کہ اگر سجاح سے جنگ چھڑی تو کہیں قوت نہ کمزور ہو جائے۔ اس لیے مسیلمہ نے بہت سے ہدایا اور تحائف سجاح کے پاس بھیجے اور اپنے لیے امن طلب کیا۔ اور ملاقات کی درخواست کی۔ مسیلمہ بنی حنیفہ کے چالیس آدمیوں کے ہمراہ سجاح سے جا کر یہ کہا کہ عرب کے کل بلاد نصف ہمارے تھے اور نصف قریش کے لیکن قریش نے بدعہدی کی اس لیے وہ نصف میں نے تم کو دے دیئے۔

بعد ازاں مسیلمہ نے سجاح کو اپنے یہاں آنے کی دعوت دی۔ سجاح نے اس کو قبول کیا۔ مسیلمہ نے ملاقات کے لیے ایک نہایت عمدہ خیمہ نصب کرایا۔ اور قسم قسم کی خوشبوؤں سے اس کو معطر کیا اور تنہائی میں ملاقات کی۔ کچھ دیر تک سجاح اور مسیلمہ میں گفتگو ہوتی رہی۔ ہر ایک نے اپنی اپنی وحی سنائی اور ہر ایک نے ایک دوسرے کی نبوت کی تصدیق کی اور اسی خیمہ میں نبی اور نبیہ کا بلا گواہوں اور بلا مہر کے نکاح ہوا تین روز کے بعد سجاح اس خیمہ سے برآمد ہوئی۔ قوم کے

صفحہ ٥٣١

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

لوگوں نے پوچھا کیا ہوا، کہا کہ میں نے مسیلمہ سے صلح کر لی اور نکاح بھی کر لیا۔ لوگوں کو بہت ناگوار ہوا اور سجاح کو لعنت ملامت کی۔ قوم نے پوچھا کہ آخر مہر کیا مقرر ہوا۔ سجاح نے کہا کہ اچھا میں پوچھ کر آتی ہوں کہ میرا مہر کیا ہے۔ سجاح مسیلمہ کے پاس آئی اور مہر کا مطالبہ کیا۔ مسیلمہ نے کہا جا اپنے ہمراہیوں سے یہ کہہ دے کہ مسیلمہ رسول اللہ نے سجاح کے مہر میں دو نمازیں فجر اور عشاء کی تم سے معاف کر دیں۔ جن کو محمدﷺ نے تم پر فرض کیا تھا۔ سجاح نے واپس آکر اپنے رفقاء کو اس مہر کی خبر کی۔ اس پر عطارد بن حاجب نے یہ شعر کہا۔

امست نبیتنا انثی نطوف بھا
واصبح انبیاء الناس ذکرانا

(شرم کی بات ہے) ہماری قوم کا نبی عورت ہے جس کے گرد ہم چکر کاٹ رہے ہیں اور لوگوں کے نبی مرد ہوتے چلے آئے ہیں۔

سجاح جب مسیلمہ کے پاس لوٹی تو اثناء راہ میں خالد بن ولید اسلامی لشکر مل گئے۔ سجاح کے رفقاء تو منتشر ہو گئے اور سجاح روپوش ہو گئی اور اسلام لے آئی اور پھر وہاں سے بصرہ چلی گئی اور وہیں اس کا انتقال ہوا اور سمرۃ بن جندبؓ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ حضرت سمرۃؓ اس وقت حضرت معاویہؓ کی طرف سے امیر تھے۔

(تاریخ ابن الاثیر ص ١٣٥ ج ٢)

اطلاع

سجاح اور مسیلمہ کے وہ الہامات جو اس خیمہ میں ہوئے وہ تاریخ ابن الاثیر اور تاریخ طبری ص ٢٣٩ ج ٣ میں مذکور ہیں۔ ہم نے شرم کی وجہ سے ان کو حذف کر دیا۔

مختار بن ابی عبید ثقفی

مختار بن ابی عبید ثقفی۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ اور عبدالملک بن مروان کے زمانہ میں ظاہر ہوا مدعی نبوت تھا اور یہ کہتا تھا کہ جبرئیل امین میرے پاس آتے

صفحہ ٥٣٢

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

ہیں۔ ٦٧ھ میں عبداللہ بن زبیرؓ کے حکم سے قتل کیا گیا۔ لعنۃ اللہ علیہ۔

و فی ایام ابن الزبیر كان خروج المختار الكذاب الذی ادعى النبوة فجهز ابن الزبير لقتاله الى ان ظفر به فى سنة سبع وستين وقتله لعنت الله

(تاریخ الخلفاء للسیوطی ص ٨٣)

وقد ظهر بالعراق وكان يدعى ان جبرئيل ياتيه بالوحى۔ کذافی دول الاسلام

(لحافظ الذھبی ص ٣٥ ج ١)

ترجمہ = عبداللہ بن زبیرؓ کے دور میں مختار کذاب مدعی نبوت کا خروج ہوا تھا۔ حضرت عبداللہ زبیرؓ نے اس کے قتال کے لیے لشکر تیار کیا۔ یہاں تک کہ اس پر فتح پائی ٦٧ء کا یہ واقعہ ہے یہ شخص ملعون آخر کار قتل ہوا۔

حافظ ذہبیؒ فرماتے ہیں کہ یہ شخص عراق میں ظہور پذیر ہوا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ جبرئیل امین میرے پاس وحی لاتا ہے۔

حارث بن سعید کذاب دمشقی

حارث بن سعید نے عبدالملکؒ بن مروان کے زمانہ خلافت میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ عبدالملکؒ بن مروان نے اس کو قتل کر کے عبرت کے لیے سولی پر لٹکایا۔ عبدالملکؒ بن مروان خود تابعی تھا۔ حضرت عثمانؓ۔ اور ابو ہریرہؓ اور ابو سعید خدریؓ اور عبداللہ بن عمرؓ اور معاویہؓ اور ام سلمہؓ اور بریرہؓ سے حدیث سنی تھی اور عروۃ بن زبیرؓ اور خالد بن معدانؒ اور زہریؒ جیسے علماء تابعین عبدالملک سے روایت کرتے تھے۔

(کما فی تاریخ الخلفاء ص ٨٤)

ان حضرات کی موجودگی میں عبدالملک نے اس متنبی کو قتل کر کے سولی پر لٹکایا قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں۔

عبدالملکؒ بن مروان نے حارث متنبی کو قتل کیا اور سولی پر چڑھایا۔ اسلامی خلفاء اور بادشاہوں نے ہر زمانہ میں جھوٹے مدعیان نبوت کے ساتھ ایسا ہی

صفحہ ٥٣٤

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

کیا ہے اور علماء عصر نے ان کے فعل صواب پر اتفاق کیا۔ کیونکہ یہ جھوٹے مدعیان نبوت مفتری علی اللہ ہیں۔ خداوند قدوس پر جھوٹا الزام رکھتے ہیں کہ اس نے ان کو نبی بنایا اور پیغمبرﷺ کے خاتم النبیین اور لا نبی بعدہ کے منکر ہیں اور علماء کا اس امر پر بھی اتفاق ہے کہ جو شخص مدعیان نبوت کی تکفیر کرنے والوں سے بھی اختلاف کرے وہ بھی کافر ہے۔ کیونکہ ان مدعیان نبوت کے کفر اور تکذیب علی اللہ پر راضی و خوش ہے۔

(نسیم الریاض ص ٢٧٥ ج ٤)

مغیرہ بن سعید عجلی بیان بن سمعان تمیمی

١١٩ھ میں مغیرہ بن سعید عجلی اور بیان بن سمعان تمیمی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ خالد بن عبداللہ قسری نے جو ہشام بن عبدالملک کی طرف سے امیر عراق تھا دونوں کو قتل کر کے عبرت کے لیے پھانسی پر لٹکایا اور پھر آگ کے گڑھے میں ڈال کر جلوایا۔

(تاریخ کامل ص ٧٦ ج ٥ و تاریخ طبری ص ٢٤٠ ج ٨)

شیخ جلال الدین سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ ہشام کے زمانہ خلافت میں سالم بن عبداللہ بن عمر اور نافع مولی ابن عمر اور طاؤس اور سلیمان بن یسار اور قاسم بن محمد بن ابی بکر اور حسن بصری اور محمد بن سیرین اور مکحول اور عطاء بن ابی رباح اور امام باقر اور وہب بن منبہ اور سکینہ بنت حسین اور ثابت بنانی اور مالک بن دینار اور ابن شہاب زہری اور ابن عامر مقری شام وغیرہ وغیرہ یہ اکابر علماء موجود تھے اور شعراء میں جریر اور فرزدق تھے۔

(تاریخ الخلفاء ص ٩٦ مصری)

امام عبدالقاہر بغدادی نے فرمایا ہے۔ تیسری فصل فرقہ مغیریہ کے ذکر میں ہے یہ لوگ مغیرہ بن سعید عجلی کے پیروکار ہیں آگے چل کر لکھا ہے کہ مغیرہ نے کفر صریح اختیار کیا۔ مثلاً نبوت کا دعویٰ کرنا اور اسم اعظم کے علم کا مدعی ہونا وغیرہ وغیرہ اس نے اپنے مریدوں کے آگے یہ خیال بھی ظاہر کیا تھا کہ اسم اعظم کے ذریعہ سے وہ مردوں کو بھی زندہ کر سکتا ہے اور لشکروں کو بھی شکست دے سکتا ہے۔

ابو منصور عجلی

صفحہ ٥٣٤

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

یہ شخص ابتداء میں رافضی تھا بعد میں ملحد اور زندیق بنا اور مرزائیوں کی طرح آیات قرآنیہ میں عجیب عجیب تاویلیں کیں اور نبوت کا دعویٰ کیا۔ یوسف بن عمر ثقفی جو کہ خلیفہ ہشام بن عبدالملک کی طرف سے عراق کا والی اور امیر تھا۔ اس کو جب اس کے عقائد کفریہ کا علم ہوا تو ابو منصور کو گرفتار کرا کے کوفہ میں پھانسی پر لٹکایا۔

چنانچہ شیخ عبدالقاہر بغدادی اپنی کتاب الفرق بین الفرق ص ٢٤٤ میں لکھتے ہیں کہ فرقہ منصوریہ ابو منصور عجلی کے متبعین کا نام ہے۔ اس شخص کا دعویٰ تھا کہ امامت اولاد علی کرم اللہ وجہہ میں دائر ہے اور اپنے آپ کو امام باقر رضی اللہ عنہ کا خلیفہ بتلایا اس کے بعد اپنے ملحدانہ دعاوی میں اضافہ کیا کہ مجھے معراج آسمانی ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ نے میرے سر پر اپنا ہاتھ پھیر کر فرمایا بیٹے میری تبلیغ کرتا رہ۔ اس کے بعد زمین پر اتار دیا اور کہا کرتا تھا کہ آیت خداوندی وان یروا کسفا من السماء ساقطا یقولو اسحاب مرقوم میرے حق میں نازل ہوئی یہ فرقہ (آج کل کے نیچریوں اور منکرین حدیث کی طرح) قیامت اور جنت دوزخ کا منکر تھا۔ ان کا خیال تھا کہ جنت سے مراد دنیا کی نعمتیں اور دوزخ سے مراد دنیا کے رنج و الم اور مصائب ہیں اور ان کے نزدیک باوجود اس ضلالت کے اپنے مخالفوں کا خفیہ قتل کرنا جائز تھا۔ یہ فتنہ جاری رہا۔ یہاں تک کہ یوسف بن عمر ثقفی والی عراق نے ابو منصور عجلی کو سولی پر لٹکا کر اس فتنہ کا قلع قمع کیا۔

ابو الطیب احمد بن حسین متنبی

ابوالطیب احمد بن حسین کوفی جو متنبی کے نام سے ایک مشہور شاعر ہے اور جس کا دیوان دنیا میں مشہور اور فن ادب کا جزو نصاب ہے۔ حمص کے قریب مقام ساوہ میں اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کچھ اہل حماقت اور اہل غباوۃ اس کے متبع ہو گئے۔ امیر حمص نے متنبی کو جیل خانہ میں بند کر دیا۔

بالاخر جب جیل خانہ سے دعوائے نبوت سے تحریری توبہ نامہ لکھ کر بھیجا

صفحہ ٥٣٥

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

تب رہا ہوا۔

(حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ تعالٰی البدایۃ والنہایۃ ص ٢٥٧ ج ١١ میں لکھتے ہیں)

اس شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ میں نبی ہوں اور میری طرف وحی آتی ہے جاہلوں اور سفلہ لوگوں کی ایک جماعت نے اس کو مان لیا۔ نزول قرآن کا بھی یہ شخص مدعی تھا۔ چنانچہ اس کی وحی اور قرآن کے چند جملے شہرت پا چکے ہیں۔ والنجم السیار والفلك الدوار واللیل والنہار ان الکافر لفی خسار۔ مض علی سنتک واقف اثر من کان قبلک من المرسلین فان اللہ قامع بک من الحد فی دینہ و ضل عن سبیلہ۔ اس قسم کے ہذیانات (جیسا کہ غلام احمد قادیانی نے براہین احمدیہ میں وحی اور الہامات اکٹھے کئے ہیں) اس شخص کے بھی مشہور ہو گئے تھے جس وقت اس مدعی نبوت کی خبریں اور چرچے عام ہوئے اور ایک جماعت اہل غباوت و حماقت اس کے گرد جمع ہو گئی تو حمص کے حاکم امیر لولو نے اس پر چڑھائی کی۔ اور قتال و مقابلہ کے بعد اس کے آدمیوں کو منتشر کیا اور اسے گرفتار کر کے قید و بند میں ڈال دیا۔

چنانچہ جب احمد بن حسین کافی عرصہ جیل خانے میں بیمار رہنے کے بعد ہلاکت کے قریب پہنچ گیا۔ تو امیر نے اسے نکال کر توبہ کا مطالبہ کیا اس وقت احمد بن حسین دعوائے نبوت سے تائب ہوا اور اپنے پچھلے تمام دعاوی کو جھٹلایا۔ اور ایک تحریری توبہ نامہ شائع کیا جس میں لکھا تھا کہ میں تائب ہو کر دوبارہ اسلام میں داخل ہوتا ہوں اور میرے پچھلے تمام دعاوی غلط اور جھوٹ تھے۔ اس پر امیر لولو نے اس کو آزاد کر دیا۔

(تاریخ بدایہ و النہایۃ)

اختصار کی بنا پر عربی عبارات کو حذف کر دیا گیا ہے۔

حافظ ابن کثیر کتاب مذکور کے ص ٢٥٩ پر لکھتے ہیں:

وقد شرح دیوانہ العلماء بالشعر واللغۃ نحوا من ستین شرحا و جیزا وبسیطا۔

ترجمہ = علماء لغت اور علماء شعر نے متنبی کے دیوان کی مختصر اور مطول

صفحہ ٥٣٦

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

ساٹھ شرحیں لکھی ہیں۔ یہ ساٹھ شرحیں تو حافظ ابن کثیر کے زمانہ تک لکھی گئی۔ اور ٧٧٤ھ (جو کہ ابن کثیر کا سن وفات ہے) اس سے لے کر ١٣٧٣ھ تک جو شروح و حواشی لکھے گئے وہ اس کے علاوہ ہیں۔

قصیدۂ اعجازیہ مرزا غلام احمد قادیانی

مرزا صاحب کو اپنے قصیدہ اعجازیہ پر ناز ہے جو غلطیوں سے بھرا ہوا ہے مرزا صاحب اور ان کے متبعین کو جاننا چاہیے کہ مرزا صاحب کے قصیدہ اعجازیہ کے اشعار کو دیوان متنبی کے اشعار سے کوئی نسبت بھی نہیں۔ ممکن ہے کہ قادیان کے کچھ دہقان مرزا صاحب کے قصیدہ اعجازیہ پر ایمان لے آئیں۔ مگر ذرا دنیا کے ادباء اور شعراء کے سامنے پیش کر کے دیکھیں ابھی معلوم ہو جائے گا کہ قادیان کے دہقان کا کیسا ہذیان ہے۔ فتلک عشرۃ کاملہ اس وقت ہم فقط ان دس مدعیان نبوت کے قتل اور صلب کے واقعات پر اکتفا کرتے تھے۔

اندکے پیش تو گفتم غم دل ترسیدم
کہ دل آزردہ شوی ورنہ سخن بسیار است

اجمالی انواع کفر مرزا غلام احمد قادیانی

مرزا صاحب کے کفر کی جزئیات کا شمار تو ہماری حیطہ قدرت سے باہر ہے۔ واللہ بکل شی محیط البتہ مرزا صاحب کے کفر کے کچھ انواع کلیہ ہدیہ ناظرین کرتے ہیں جس کے تحت میں بے شمار جزئیات ہیں جو مرزا صاحب کے کتابوں میں مذکور ہیں۔

صفحہ ٥٣٧

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

ثابت شدہ اند

علیٰ نبینا وعلیہ وسلم

کرام علیہم الصلوۃ والسلام

فتلک عشرۃ کاملۃ

یہ دس وجوہ ہم نے مرزا صاحب کے کفر کی ذکر کی ہیں وہ سب کلی وجوہ ہیں ۔ ہر کلی کی جزئیات اور امثلہ مرزا صاحب کی کتابوں سے کم از کم سو سو فراہم ہو سکتی ہیں اور دس کو سو میں ضرب دینے سے حاصل ضرب ایک ہزار نکلتا ہے ۔ اس طرح مرزا صاحب کی وجوہ کفر تفصیلی طور پر کم از کم ایک ہزار جمع ہو سکتی ہیں ۔ مرزا صاحب نے اپنے نشانات کی تعداد دس لاکھ لکھی ہے ۔ عجب نہیں کہ ان دس لاکھ نشانات سے کفر اور الحاد کے نشانات مراد ہوں جو اولین اور آخرین میں سے کسی ملحد اور مفتری کو نہیں دیئے گئے ۔

مرزائیوں کے مختلف فرقے اور ان کا باہمی فرق

مرزا غلام احمد کے ماننے والے زیادہ تر تین پارٹیوں پر منقسم ہیں ایک پارٹی ظہیر الدین اروپی کی ہے ۔ دوسری مرزا محمود قادیانی کی پارٹی ہے ۔ اور تیسری پارٹی محمد علی لاہوری کی ہے ۔

اروپی پارٹی کا عقیدہ ہے کہ مرزا صاحب مستقل نبی تھے اور ناسخ قرآن تھے اور شریعت محمدیہ مرزا صاحب کے آنے سے منسوخ ہو چکی ۔

مرزا محمود خلیفہ قادیان کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا صاحب حقیقی نبی ہیں اور جو مرزا کو نہ مانے وہ کافر ہے ۔

صفحہ ٥٣٨

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

اور محمد علی لاہوری اور اس کی پارٹی کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا صاحب حقیقی نبی تو نہیں مگر مجازی اور لغوی نبی ہیں اور مسیح موعود حقیقی ہیں۔ اول الذکر جماعتوں کا کفر لوگوں کی نظر میں ظاہر ہے۔ البتہ لاہوری جماعت میں لوگ سوال کرتے ہیں کہ یہ جماعت کیوں کافر ہے؟

جواب

یہ ہے کہ مرزا غلام احمد کے عقائد کفریہ صریح اور صاف ہیں اور اردو زبان میں ہیں جس کے سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں اور پھر ہر کفر سو سو عنوان اور سو سو تعبیر سے مرزا کی کتابوں میں مذکور ہے جس میں تاویل کی کوئی گنجائش نہیں ایسے صریح کفر میں تاویل کرنا اور صریح کافر اور مرتد کو ادنیٰ درجہ کا مسلمان سمجھنا بھی کفر ہے۔ چہ جائیکہ اس کو مجدد یا مسیح موعود مانا جائے۔

نیز مرزا غلام احمد فقط دعوائے نبوت کی وجہ سے کافر نہیں بلکہ اور وجوہ سے بھی کافر ہے۔ اور لاہوری جماعت سوائے دعوائے نبوت کے مرزا کی تمام باتوں کی تصدیق کرتی ہے اور دل و جان سے ایمان رکھتی ہے۔

علاوہ ازیں محمد علی لاہوری نے انگریزی اور اردو میں قرآن کریم کی تفسیر لکھی ہے جس میں بہت سی آیات قرآنیہ کی تحریف کی وہ تحریفات اس جماعت کے کفر کے مستقل وجوہ ہیں۔

لاہوری مرزائیوں سے سوال

اگر مرزا صاحب حقیقی نبوت کے مدعی نہ تھے تو یہ بتلایا جائے کہ حقیقی نبوت کا دعویٰ کن الفاظ سے ہوتا ہے اور نبی اکرم ﷺ تو مرزا صاحب کے نزدیک بھی حقیقی نبی تھے جو الفاظ حضورؐ کی نبوت کے لیے قرآن کریم میں آئے ہیں وہی الفاظ مرزا صاحب نے اپنے لیے استعمال کئے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ مرزا صاحب حقیقی نبوت کے مدعی نہ تھے صریح مکابرہ اور مجادلہ ہے۔ ایک شخص صراحۃً "علی الاعلان یہ کہہ رہا ہے کہ میں وزیر اعظم ہوں اور آپ یہ کہتے ہیں کہ اس کی مراد نقلی اور

صفحہ ٥٣٩

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

بروزی اور مجازی اور لغوی عبارت ہے۔ مرزا صاحب کے دعوائے نبوت کی عبارتیں عموماً اردو زبان میں ہیں کیا سوائے محمد علی لاہوری کے کوئی اردو زبان سمجھنے کی قابلیت نہیں رکھتا۔

نہیں کیا بلکہ ظلی اور بروزی اور مجازی نبوت کے مدعی تھے تو بتلایا جائے کہ ظلی اور مجازی نبوت پر ایمان لانا فرض ہے اور اس کا انکار کفر اور ارتداد ہے۔

نبی مانتی ہے جیسے بشیر الدین محمود اس کی تکفیر کیوں نہیں کرتی، لاہوری جماعت کو چاہیے کہ قادیانی جماعت کے کفر کا اعلان کرے اور ان سے بیاہ شادی اور میراث کے عدم جواز کا فتویٰ دے۔ لیکن معاملہ برعکس ہے۔ جو لوگ حضورؐ کو صحیح معنی میں خاتم النبیین مانتے ہیں لاہوری جماعت ان سے کافروں کا سا معاملہ کرتی ہے اور کسی مرزائیہ لڑکی کا نکاح غیر مرزائی سے جائز نہیں سمجھتی اور نہ ان کے پیچھے نماز درست سمجھتی ہے اور قادیانی جماعت سے یہ بیاہ شادی و میراث وغیرہ سب کو جائز اور حق سمجھتی ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں بھی نہیں دیں اور آنحضرت ﷺ کی مساوات بلکہ افضلیت کا بھی دعویٰ نہیں کیا اور کیا مرزا صاحب نے اسلام کے قطعی اور اجماعی امور میں تاویل اور تحریف بھی نہیں کی۔

کیا ان باتوں سے آدمی کافر اور مرتد ہوتا ہے یا نہیں بلاشبہ مرزا صاحب ایک وجہ سے نہیں بلکہ صدہا وجوہ سے صریح کافر اور مرتد ہیں۔ لاہوری مرزائی اگرچہ ظاہراً مرزا صاحب کو نبی نہیں کہتے لیکن دعوائے نبوت کے علاوہ تو مرزا کی تمام کفریات کو حق سمجھتے ہیں اور جو شخص صریح کافر کو کافر نہ سمجھے تو وہ بھی کافر اور مرتد ہے۔

مثلاً کوئی شخص مسیلمہ کذاب کے کفر میں تاویل کرے تو وہ بھی کافر ہے۔

صفحہ ٥٤٠

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

لاہوری جماعت کا عجب حال ہے

کہ مرزا صاحب کو ملہم اور مامور من اللہ بھی مانتی ہے اور ان کے خاص دعوائے نبوت سے انکار بھی کرتی ہے۔ قادیان کے متنبی سے بھی وابستہ رہنا چاہتی ہے اور مسلمان رہنا چاہتی ہے۔

ایں خیال است و محال است و جنون

قادیانی جماعت سے سوال

جب آپ کے نزدیک مرزا حقیقتہ ” نبی ہے تو پھر آپ لاہوری جماعت کی تکفیر کیوں نہیں کرتے کیونکہ وہ آپ کے اعتقاد کے مطابق ایک حقیقی نبی اور رسول کے منکر ہیں حیرت ہے کہ مرزا محمود کے نزدیک تمام دنیا کے مسلمان جو مرزا کو نبی نہ مانیں وہ تو کافر اور مرتد ہیں۔ مگر محمد علی لاہوری اور ان کے متبعین اگرچہ مرزا صاحب کی نبوت کا انکار کریں وہ کافر اور مرتد نہیں بلکہ بھائی بھائی ہیں۔ آخر مرزا محمود بتلائیں کہ وہ لاہوریوں کو کیوں کافر نہیں کہتے۔ آخر وہ بھی ہماری طرح مرزا صاحب کو نبی نہیں مانتے۔

معلوم ہوا کہ

قادیانیوں کا یہ اختلاف سب جنگ زرگری اور نفاق ہے۔ اختلاف عقائد کی بناء پر دنیا بھر کی تکفیر نہ ہو آخر اس کا مطلب کیا ہے کہ لاہوری مرزا صاحب کو نبی نہ مانیں تو کافر نہیں اور تمام دنیا کے مسلمان مرزا صاحب کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر اور مرتد ہیں۔ معلوم ہوا کہ قادیانی اور لاہوری درپردہ سب ایک ہیں۔ ((الکفر ملۃ واحدۃ))

اصل وجہ یہ ہے

کہ جب لاہوری جماعت نے مرزا صاحب کو مسیح موعود اور مامور من اللہ

صفحہ ٥٤١

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

مان لیا تو گویا نبی ہی مان لیا بلکہ سب کچھ مان لیا۔ ہمارے نزدیک محمد علی لاہوری منافق تھا مرزا محمود منافق نہیں۔ صاف کہتا ہے کہ میرا باپ حقیقتہ " نبی تھا۔ اور لاہوری جماعت بہ نسبت قادیانی جماعت کے زیادہ خطرناک ہے نفاق کے پردہ میں اپنے کفر کو چھپاتی ہے۔

مرزا صاحب کے تھیلے میں سب کچھ ہے

مرزا صاحب کی تصانیف میں سب قسم کی باتیں پائی جاتی ہیں۔ ایمان کی بھی اور کفر کی بھی۔ اسلام اور عیسائیت اور ہندو مذہب اور مجوسیت سب کچھ ہے۔ جس وقت جس چیز کی ضرورت ہوئی وہ پیش کر دی۔ لوگ اس سے دھوکہ کھاتے ہیں۔ مرزائیوں کا یہی طریقہ ہے۔ جہاں ضرورت پیش آئی وہاں مرزا صاحب کو مجدد اور ملہم من اللہ بتلا دیا۔ اور جہاں کچھ گنجائش ملی وہاں مرزا صاحب کو ظلی اور بروزی نبی بتلایا اور جہاں احباب خاص کا مجمع ہوا وہاں مرزا صاحب کو مستقل اور صاحب شریعت نبی بتلا دیا اور دس لاکھ معجزات بتلا دیئے اور جہاں ہندوؤں کا مجمع ہوا وہاں مرزا صاحب کو کرشن بتلا دیا۔ کبھی مذکر ہو گئے اور کبھی حاملہ اور حائضہ اور کبھی عاقل اور دانا بن گئے اور کبھی خبطی اور مراقی بن گئے۔

مرزائی دھوکہ

مرزائی دھوکہ دینے کی غرض سے مرزا صاحب کی وہ عبارتیں پیش کرتے ہیں جن میں ختم نبوت کا اقرار اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جلالت قدر اور عظمت شان کا اعتراف ہے اس قسم کی عبارتیں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں اور وہ عبارتیں جن میں دعوائے نبوت اور حضرات انبیاء کرام کی توہین اور تحقیر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان مطہر میں صریح گالیاں ہیں ان کو چھپا لیتے ہیں۔ یہود بے بہود کا یہی شیوہ تھا۔ تبدونها وتخفون کثیرا۔

جواب

صفحہ ٥٤٢

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

جواب یہ ہے کہ مرزا صاحب ماں کے پیٹ سے کافر پیدا نہ ہوئے تھے۔ ابتداء میں اسلامی عقائد رکھتے تھے۔ بعد میں نبوت کا خیال پیدا ہوا۔ لہٰذا پہلی عبارتوں کا پیش کرنا تب مفید ہو سکتا ہے کہ جب مرزائی۔ مرزا صاحب کی کوئی صاف اور صریح عبارت ایسی دکھلا دیں کہ جس میں یہ تصریح ہو کہ میری کتاب میں اس کے خلاف جو پاؤ وہ سب غلط ہے۔ صحیح صرف وہی ہے کہ جو میں نے قبل دعوائے نبوت لکھا ہے اور اب دعوائے نبوت سے تائب ہوتا ہوں۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گالیوں اور حضرات انبیاء کی توہین سے توبہ کرتا ہوں۔ مرزائی اگر مرزا صاحب کی کوئی ایسی عبارت دکھلا دیں تو ہم بھی ان کی تکفیر سے تائب ہو جائیں گے۔

ایک ضروری اطلاع

مرزا صاحب کے وجوہ کفر اگر تفصیل کے ساتھ دیکھنا چاہیں تو رسالہ اشد العذاب علی مسیلمۃ البنجاب مصنفہ مولانا مرتضیٰ حسنؒ کا ضرور مطالعہ فرمائیں جس میں مولانا صاحب نے مرزا صاحب کے اور تینوں پارٹیوں کے عقائد کفریہ کو بالتفصیل بیان کیا ہے۔

مرزا صاحب کے مضامین میں اختلاف کیوں ہے

مرزا صاحب کے کتابوں میں جس قدر مختلف اور متعارض مضامین ملتے ہیں۔ غالباً دنیا کے کسی متنبی اور کسی ملحد اور زندیق کے کلام میں اس کا ہزارواں حصہ بھی نہیں مل سکتا وجہ اس کی یہ ہے کہ مرزا صاحب چالاکی اور عیاری میں بہت سے آگے تھے۔ مرزا صاحب کی یہ روش دیدہ دانستہ اور خود ساختہ اور پرداختہ ہے۔ کبھی ختم نبوت کا اقرار اور کبھی انکار کبھی حضرت مسیح بن مریم کی مدح اور کبھی ان میں جرح قدح کبھی نزول مسیح کو متواترات اور قطعیات اسلام سے بتلاتے ہیں۔ اور کبھی اس کو مشرکانہ عقیدہ بتلاتے ہیں۔ غرض یہ تھی کہ حقیقت کوئی

صفحہ ٥٤٣

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

متعین نہ ہو۔ بات گڑ بڑ رہے۔ اور بوقت ضرورت مخلص اور مقر باقی رہے اور زنادقہ کا ہمیشہ یہی طریقہ رہا ہے۔ لہٰذا مرزا صاحب کی وہ عبارتیں جو عام اہل سنت و الجماعت کے عقائد کے مطابق ہیں۔ ان کے اقوال کفریہ اور الحادیہ کا کفارہ نہیں بن سکتیں جب تک دو باتیں صراحۃً ثابت نہ ہو جائیں اول یہ کہ مرزا صاحب یہ تصریح کریں کہ میری وہ عبارتیں جو عام اہل سنت کے مطابق ہیں ان عقائد سے میری مراد بھی وہی ہے جو جمہور امت نے سمجھی ہے۔ دوم یہ کہ جو عبارتیں اہل سنت و الجماعت کے عقائد کے خلاف میری کتابوں میں پائی جاتی ہیں میں ان سے علانیہ طور پر توبہ اور رجوع کرتا ہوں اور کتاب و سنت کی تمام نصوص کو اسی معنی پر مانتا ہوں کہ جس معنی کے اعتبار سے صحابہ و تابعین سے لے کر اس وقت تمام امت محمدیہ قائل ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کی مدح و ثنا بھی کرتا رہے اور اس کی اطاعت اور محبت کا بھی دم بھرتا رہے۔ لیکن کبھی کبھی ذرا دل کھول کر اس کو ماں بہن کی گالیاں بھی دے لیا کرے تو کیا ایسا شخص واقعی اس کا مطیع اور متبع سمجھا جا سکتا ہے؟ وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین وصلی الله تعالیٰ علی خیر خلقه سیدنا و مولانا محمد خاتم الانبیاء والمرسلین وعلی آله و اصحابه اجمعین وعلینا معهم یا ارحم الراحمین (محرم الحرام ١٣٧٣ھ ۔)

PDF 544

قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ

سوانح و افکار

مرتبہ محمد اسماعیل شجاع آبادی باب اول خطبات احسانؒ باب دوم مکتوبات احسانؒ باب سوم نگارشات احسان باب چہارم اکابرین ملت کا خراج تحسین باب پنجم منظوم خراج عقیدت باب ششم قومی پریس کا خراج تحسین باب ہفتم پسندیدہ اشعار

پاکستان کے سب سے بڑے خطیب کے سوانح و افکار - لفظ لفظ عشق رسالت میں ڈوبا ہوا علوم و معارف کا خزانہ خطباء و مقررین کے لئے شاہکار تحفہ - عنقریب منصۂ شہود پر !

ناشر

دفتر - عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضور باغ روڈ ملتان - 514122 دفتر - عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مسلم ٹاؤن لاہور - 5862404

مجلس کے دفاتر اور قریبی بک سٹال سے طلب فرمائیں۔