مناظرہ ناروے · مولانا منظور احمد چنیوٹی
Manazir Norway · Maulana Manzoor Ahmad Chinioti
PDF 1

یورپ کی فضاؤں میں فتح اسلام کا دلکش نظارہ

مناظرہ ناروے

ناروے (اوسلو) کا 24-25 اگست 1995ء کو مسلمانوں اور مرزائیوں کے مابین ہونے والا تحریری مناظرہ

مرتب

سفیر ختم نبوت فاتح چناب نگر مولانا منظور احمد چنیوٹی سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ فون نمبر 332820-0466 فیکس 331330-0466 E.mail: chinioti@fsd.comsats.net.pk

شائع کردہ

انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ ناروے

IRSHAD PRINTING PRESS CHINIOT PAKISTAN Ph: 0466-334420, Mob: 0320-4990351

PDF 2

ناروے کے قادیانیوں کو ان کے دینی فائدہ کے لئے

اطلاع عام

ناروے کے قادیانیوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا حضرت مسیح کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کرنا کفر ہے ۔ اور مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ ہے کہ خدا نے مجھے "كُنْ فَيَكُونُ" کا اختیار دیا ہے ۔ یہ بھی کفر ہے اور یہ کہ مرزا قادیانی اور اس کے بیٹے مرزا محمود قادیانی نے ان تمام مسلمانوں کو جو اس پر ایمان نہیں لاتے کافر ، جہنمی اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے اور اس لئے مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے فضل احمد کا اور سر ظفر اللہ نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کا جنازہ نہ پڑھا تھا ۔ اگر کوئی قادیانی مولانا منظور احمد چنیوٹی سے اس بات کی تحقیق کرنا چاہے تو وہ 24 اگست 1995ء تک اپنی تحریر مولانا حافظ بشیر احمد صاحب کے پاس بھیج دے اسے جواب دینے کے لئے 25 اگست 1995ء کی تاریخ دی جائے گی ۔ اس دن اسے آنا ہو گا۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی صاحب کے وطن واپس جانے کے بعد کسی قادیانی کی کوئی ایسی بات مسلمانوں کے لئے لائق شنوائی نہ ہو گی اور وہ اس کے جھوٹا ہونے کا کھلا نشان ہو گا

تحریر مورخہ 20 اگست 1995ء

منجانب مرکز تنظیم المسلمین اوسلو ناروے SOFIENBERG GT. 2 B: 0610 - 5. NORWAY.

PDF 3

یورپ کی فضاؤں میں فتحِ اِسلام کا دلکش نظارہ

مناظرہ ناروے

ناروے (اوسلو) کا 24 - 25 اگست 1995ء کو مسلمانوں

اور مرزائیوں کے مابین ہونے والا تحریری مناظرہ

مرتب :

سفیر ختم نبوت فاتح ربوہ مولانا منظور احمد چنیوٹی

سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل ختم نبوت مؤومنٹ

شائع کردہ :

انٹرنیشنل ختم نبوت مؤومنٹ ناروے

PDF 4

جملہ حقوق محفوظ ہیں

نام کتاب مناظرہ ناروے

نام مصنف سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی

شائع کردہ انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ ناروے

اشاعت اول دسمبر 1995ء

تعداد 1100

اشاعت دوم فروری 1996

تعداد 1100

اشاعت سوم جون 2000ء

تعداد 1100

مقام اشاعت ارشاد پرنٹنگ پریس

کمپوزنگ J-S کمپوزنگ سینٹر

قیمت 60

ملنے کا پتہ

ادارہ مرکزیہ دعوت ارشاد چنیوٹ

فون 332820 فیکس 331330 کوڈ نمبر 0466

E.MAIL.Chiniot@fsd.comsats.net.pk

دار المعارف اردو بازار۔ لاہور

صفحہ 1

مناظرہ ناروے

پیش لفظ

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ۔ اما بعد

راقم الحروف منظور احمد چنیوٹی اور مفکر اسلام ڈاکٹر علامہ خالد محمود صاحب ۱۵۔ اگست ۱۹۹۵ء کو ایک تبلیغی دورہ پر اوسلو ناروے پہلی دفعہ حاضر ہوئے۔ جامع مسجد تنظیم المسلمین اوسلو میں ہر روز عصر کے بعد ۷ بجے سے ۹ بجے تک علماء اور طلباء میں درس کا سلسلہ جاری رہا۔ ہر روز ہم دونوں کے درس ہوتے رہے۔ جمعہ ۱۸۔ اگست کی نماز علامہ صاحب نے اسی مسجد میں اور راقم الحروف نے اسلامک کلچرل سینٹر اوسلو میں پڑھائی۔ ۱۹۔ اگست کو علامہ صاحب کا اس سینٹر میں بعد نماز ظہر مستورات میں بیان ہوا اور راقم کا بعد نماز عصر مردوں میں مفصل بیان ہوا۔

۲۰۔ اگست کو ہر شلب سکول کے وسیع ہال میں سیرت مصطفیٰ کا ایک عظیم الشان جلسہ ہوا۔ جس کی مختصر کارروائی آپ کو علیحدہ چھپی ہوئی ملے گی۔ جلسہ سے فراغت کے بعد میں نے ناروے کے قادیانیوں کے دینی فائدہ کے لئے ”اطلاع عام“ کے عنوان سے ایک اشتہار دیا جس کی نقل آگے آرہی ہے اس اشتہار کے تحت قادیانیوں کی عبادت گاہ کے رکن مسٹر فرحت نے ساڑھے تین بجے بعد نماز ظہر مسجد تنظیم المسلمین میں امام صاحب کو فون کیا۔ کہ وہ بعض امور کی تحقیق کے لئے مسجد میں آنا چاہتے ہیں اور اپنے تحفظ کی ضمانت چاہتے ہیں انہیں ہر طرح کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی گئی اور مولانا عبدالقدوس صاحب کے ہمراہ مسجد میں آنے کی اجازت دی گئی۔

صفحہ 2

مناظرہ ناروے

پروگرام کے مطابق مولانا عبد القدوس صاحب جب مسٹر فرحت کو لینے گئے تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ کل (۲۵ اگست) چار بجے مسجد میں آئیں گے۔ پھر شام آٹھ بجے قادیانیوں کے تین نمائندے مسجد آئے ان کے نام یہ ہیں مقصود احمد ورک ناظر شعبہ تبلیغ مسعود باجوہ مربی اظہر محمود سابق مربی ”اشتہار اطلاع عام“ کے تین میں سے دو سوالات کے جوابات انہوں پمفلٹوں کی صورت میں دیئے۔ اگلے دن ہم نے ان کے جواب الجواب دیئے یہ تحریری مناظرہ اس ”اعلان عام“ پر قادیانیوں کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات اور ان کے جواب پر مشتمل ہے۔ قادیانیوں نے ان اہم دینی موضوعات سے جان چھڑانے کے لئے ایک نیا موضوع بھی درمیان میں لا ڈالا۔ اور اس پر ایک علیحدہ بڑا اشتہار شائع کر دیا اور اسے شہر کے مختلف حصوں پر لگوایا گیا اور اس کی خوب تشہیر کی گئی۔ راقم الحروف نے اس کا جواب لکھا اور اسے علیحدہ شائع کرا دیا۔ اب اس پمفلٹ ”مناظرہ ناروے“ میں اسے بھی افادہ عام کے لئے شامل کیا گیا ہے۔ ”کن فیکون“ اور الزام توہین مسیح علیہ السلام کی بحث حضرت علامہ صاحب نے لکھی ہے اور راقم الحروف نے اسلم قریشی کیس ”سربازار گولی“ مسئلہ تکفیر اور ”انگریزوں کا خود کاشتہ پودا“ کی تین بحثیں لکھیں اور اس پر دستخط کر دیئے گئے۔

میں مولانا قاری محمد بشیر احمد صاحب مولانا محبوب الرحمٰن مولانا محمد حیات مولانا عبد اللطیف صاحب جناب تنویر الاسلام قریشی جناب عبد الرشید جناب رستم علی جناب عارف خان ان کے برادر اکبر خان اور عبد المجید صاحب کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ کہ انہوں نے اپنے پرخلوص اور بھرپور تعاون سے ہمارے ناروے کے اس دورہ کو ان علمی یادوں سے ایک تاریخی دستاویز بنا دیا۔

ان پانچ مباحث میں سے سب سے نازک بحث سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی ہے آج دنیا میں چار ارب سے زائد انسان آباد ہیں جن میں ڈیڑھ ارب کے لگ بھگ مسلمان ہیں اور ڈیڑھ ارب ہی کے لگ بھگ عیسائی ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پاکیزگی پر متفق ہیں صرف یہودی اور قادیانی ان کے بارے میں بدگمان ہیں یہ موضوع سینکڑوں بار عوام کے سامنے آیا ہے مگر قادیانی ہمیشہ اسی لکیر کو پیٹتے آرہے ہیں کہ مرزا غلام

صفحہ 3

مناظرہ ناروے

احمد قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کی کہیں توہین نہیں کی بلکہ وہ ان کی تعظیم کرتا تھا یہ صرف الزامی باتیں ہیں جو مرزا صاحب نے دھرائی ہیں۔

قادیانیوں کو چیلنج:- میری تجویز ہے کہ روز روز کے اس تکرار سے نجات حاصل کرنے کیلئے قادیانی اپنی طرف سے ایک نمائندہ مقرر کردیں جو پی ایچ ڈی ہو ایک نمائندہ اسی صفت کا حامل راقم الحروف مقرر کر دیتا ہے دونوں نمائندے اردو جانتے ہوں وہ دونوں باہمی اتفاق سے ایک ثالث مقرر کرلیں اور اس اہم موضوع پر غیر جانبدار حضرات سے ایک تاریخی فیصلہ لے لیا جائے تاکہ یہ روز روز کا جھگڑا ختم ہو۔ اس سلسلہ میں بات کو آگے بڑھانے کیلئے میں حافظ محمد اقبال رنگونی مانچسٹر اور مولانا قاری محمد طیب عباسی لندن، کو یورپ کیلئے اپنا نمائندہ مقرر کرتا ہوں۔ تاریخ اور وقت طے ہونے پر راقم الحروف منظور احمد چنیوٹی اوسلو ناروے یا لندن جہاں بھی قادیانی چاہیں حاضر ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ یہ تاریخی مباحثہ قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔

قادیانیوں کا یہ کہنا کہ حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ نے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سخت زبان استعمال کی ہے۔ مرزا غلام احمد اسے مثال میں پیش نہیں کر سکتا۔ دونوں میں بنیادی فرق ہے جسے حضرت ڈاکٹر علامہ خالد محمود صاحب نے کتاب الاستفسار کے مقدمہ میں اچھی طرح واضح کیا ہے۔ ”فلیراجع لہ“ نامناسب نہ ہوگا کہ اگر یہ افادہ عام کیلئے ۲۰ اگست کی سیرت المصطفےٰ کانفرنس کی مختصر تقریریں بھی اس پمفلٹ کے آخر میں شامل کردیں یہ کانفرنس ناروے کے اس تحریری مناظرے کا سنگ بنیاد تھی۔

منظور احمد چنیوٹی

ناروے کے قادیانیوں کو ان کے دینی فائدے کے لئے

اطلاع عام

ناروے کے قادیانیوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا حضرت مسیح علیہ

صفحہ 4

مناظرہ ناروے

اسلام کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کرنا کفر ہے اور مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ خدا نے مجھے "کن فیکون" کا اختیار دیا ہے۔ یہ بھی کفر ہے اور یہ کہ مرزا قادیانی اور اس کے بیٹے مرزا محمود قادیانی نے ان تمام مسلمانوں کو جو اس پر ایمان نہیں لاتے کافر جہنمی اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے اور اسی لئے مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے فضل احمد کا اور سر ظفر اللہ نے قائد اعظم محمد علی جناح کا جنازہ نہ پڑھا تھا۔ اگر کوئی قادیانی مولانا منظور احمد چنیوٹی سے اس بات کی تحقیق کرنا چاہئے تو وہ ۲۴ اگست ۱۹۹۵ء تک اپنی تحریر مولانا حافظ بشیر احمد صاحب کے پاس بھیج دے۔ اسے جواب دینے کے لئے ۲۵۔ اگست ۱۹۹۵ء کی تاریخ دی جائے گی۔ اس دن اسے آنا ہوگا۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی صاحب کے وطن واپس جانے کی بعد کسی قادیانی کی کوئی ایسی بات مسلمانوں کیلئے لائق شنوائی نہ ہوگی اور وہ اس کے جھوٹا ہونے کا کھلا نشان ہوگا۔

کن فیکون کے اختیارات ملنے کا دعویٰ

از ڈاکٹر علامہ خالد محمود صاحب پی۔ ایچ۔ ڈی لندن

کسی کلام میں متکلم کی مراد کیا ہے اس کے لئے متکلم کے دوسرے بیانات کو بھی سامنے رکھا جاتا ہے جب کوئی صحیح العقیدہ شخص کہے کہ موسم بہار نے سبزہ اگایا تو یہاں نسبت مجازی سمجھی جائے گی۔ اور جب یہی جملہ کوئی نیچری کہے تو اس میں نسبت حقیقی مراد لی جائے گی۔ اور اس کی بات اس کے عقیدہ کی روشنی میں سمجھی جائے گی۔ مرزا غلام احمد کا یہ کہنا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے ”انما امرک اذا اردت شیئا ان تقول له کن فیکون“ (تذکرہ ص ۵۲۵) کہ جب تو کسی بات کا ارادہ کر لے تو وہ چیز اسی وقت وجود میں آجائے گی اسے مرزا غلام احمد کے اس دعویٰ کی روشنی میں سمجھا جائے گا غلام احمد لکھتا ہے۔ ”اعطیت صفة الافناء و الاحیاء من الرب فعال“ (خطبہ الہامیہ ص ۵۵) مجھے کسی چیز کو فنا کر دینے اور زندگی دینے کی صفت دی

(روحانی خزائن ص ۱۵۵۔ جلد ۱۶)

صفحہ 5

مناظرہ ناروے

گئی ہے خدا کی طرف سے۔ قرآن پاک میں ان دونوں صفتوں کو اللہ تعالیٰ کی صفات کہا گیا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا ”ربی الذی یحی و یمیت“ (پ ۳ آیت ۲۵۸) اب یہ بات ہر مسلمان کے سامنے واضح ہے کہ احیاء اور افناء دونوں اللہ وحدہ لا شریک کی صفتیں ہیں اگر یہ بندوں کے لئے ممکن الحصول ہوتیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام ان سے اللہ تعالیٰ کی توحید پر استدلال نہ کرتے۔

اب جو شخص خدا کی طرف سے ان صفات کے پانے کا مدعی ہوگا۔ وہ جب کہے کہ مجھے الہام ہوا ہے ”انما امرک اذا اردت شیئا“ اس سے یہی سمجھا جائے گا کہ یہ شخص کن فیکون کے اختیارات پانے کا مدعی ہے۔

مرزا غلام احمد کے الہام میں اگر پہلے خدا کی کچھ اور صفات مذکور ہوتیں جیسے کہ سورہ فاتحہ میں ”ایاک نعبد و ایاک نستعین“ سے پہلے یہ صفات مذکور ہیں۔ (۱) رب العالمین (۲) الرحمٰن (۳) الرحیم (۴) مالک یوم الدین اب ان کے بعد ”ایاک نعبد و ایاک نستعین“ کہنا واقعی خدا کے حضور بندہ کی ایک عرضداشت ہے پھر بعد میں بھی یہ جملہ موجود ہے۔ ”اھدنا الصراط المستقیم“ اب آپ خود فیصلہ کریں کہ قادیانیوں کا مرزا کے الہام کن فیکون کو (ایاک نعبد) پر قیاس کرنا اگر سینہ زوری نہیں تو اور کیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ مرزا غلام احمد نے بقول خود خدا ہونے کا خواب دیکھا تھا (آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۴) ہمیں اس پر اعتراض نہیں لیکن ہمیں مرزا غلام (روحانی خزائن ص۵۶۴۔ جلد ۵) احمد کی اس بات پر ضرور اعتراض ہے کہ میں نے یقین کرلیا کہ میں وہی ہوں ”وتیقنت اننی ھو“ مرزا غلام احمد نے پھر اپنے اس مقام کو ”ان اللّٰہ اذا اراد شیئا“ سے جوڑا ہے (دیکھئے سطر ۸ آئینہ کمالات ص ۵۶۴) اب اس کی روشنی میں کون کہہ سکتا ہے کہ مرزا کے اس کن فیکون کے الہام میں قل محذوف ہے البتہ ضد اور تعصب اور بات ہے۔

قادیانی کہتے ہیں کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض کتابوں میں ارشاد فرمایا کہ یہ صفت بندوں کو دی جاسکتی ہے بتایا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی

صفحہ 6

مناظرہ نیار وے

کس کتاب میں یہ کہا ہے؟ قادیانی اس کتاب کا اور اسکی اصل عبارت کا پتہ دیں پھر اگر وہ اسکے تحت مرزا غلام احمد کے لئے یہ صفت مانتے ہیں تو وہ پھر یہ کیوں کہتے ہیں کہ یہاں قل محذوف ہے پھر تو مسلمانوں کی یہ بات درست تسلیم کی جانی چاہئے کہ قادیانی، مرزا غلام احمد کے لئے کن فیکون کی یہ صفت مانتے ہیں۔

قادیانی مربی نے جو کاغذات ۲۴۔ اگست کی شام کو جامع مسجد تنظیم المسلمین کے باہر سڑک پر عارف خان صاحب کو دیئے ان میں ندائے غیب کے حوالے سے یہ کہا گیا ہے۔ کہ تو اپنے ہی حکم اور اذن صریح سے پیدا کر سکے گا۔ یہ صحیح نہیں اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کی کرامت کے طور پر اس کی کوئی بات پوری کر دے تو اسمیں بھی اذن اللہ رب العزت کا ہی چلتا ہے اس ولی کا نہیں جیسا کہ قادیانیوں نے سمجھ رکھا ہے۔ پیدا کرنے کی طاقت اور کسی چیز کو عدم سے وجود میں لانے کی طاقت صرف اللہ رب العزت میں ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔

پھر قادیانیوں نے مرزا غلام احمد کے لئے کن فیکون کے اختیارات حاصل ہونے پر ڈاکٹر اقبال مرحوم کے اس شعر سے بھی استدلال کیا ہے۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

اُس شعر کے دوسرے مصرعہ میں خدا کا پوچھنا صریح لفظوں میں مذکور ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے۔ کہ اب اس چیز کو وجود اللہ تعالیٰ ہی عطا فرمائیں گے۔ نہ کہ وہ خوددار بزرگ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے بندے سے پوچھ رہے ہیں بتا تو کیا چاہتا ہے اس سے یہ کیسے نکل آیا کہ بندے کو کن فیکون کے اختیارات مل جاتے ہیں اور وہ اپنے اذن سے کائنات کو پیدا کرنے کی طاقت پا لیتا ہے یہ شرکیہ عقیدہ تو کسی مسلمان کا نہیں ہو سکتا۔ قادیانیوں کا اگر یہی عقیدہ ہے تو وہ لوگوں کو مغالطہ دینے کے لئے اس الہام سے پہلے قل کیوں محذوف بتاتے ہیں اور کیا یہ لوگ تضاد کا شکار نہیں ہیں؟ مربی صاحب کچھ تو سوچئے جو بات جھوٹے دعوؤں کے سائے میں چلتی ہے تضاد بیانی اس کے آثار میں سے ہے "

صفحہ 7

مناظرہ ناروے

لو كان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافاً كثيراً" ہم ۲۵ اگست کی شام تک اپنے اس جواب کے جواب الجواب کا انتظار کریں گے بصورت دیگر ہم سمجھیں گے کہ ان سے کوئی جواب نہیں بن پڑا۔

نوٹ: قادیانیوں کی طرف سے اب تک جواب الجواب موصول نہیں ہوا اور تین ماہ گزر چکے ہیں۔

صفحہ 8

مناظرہ ناروے

از ڈاکٹر علامہ خالد محمود صاحب

مرزا غلام احمد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کا مرتکب

ناروے کے قادیانی مربی نے ہمارے اس الزام کے جواب میں کہ مرزا غلام احمد نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی ہے انٹرنیشنل پبلیکیشنز لمیٹڈ کا ایک رسالہ ہمیں بھیجا ہے۔ ہم نے اسے غور سے پڑھا ہے اس میں قادیانیوں نے بس ایک ہی ڈھنڈورا پیٹا ہے کہ یہ سب کچھ عیسائیوں کی سخت بیانی کے جواب میں کہا گیا ہے مرزا صاحب کا عقیدہ نہ تھا۔

ہم ان کے اس جواب سے تب مطمئن ہوتے اگر مرزا غلام احمد کی یہ تحریریں بھی عیسائیوں کے جواب میں الزاماً ہوتیں جب اس کی یہ باتیں ان کتابوں میں پائی جاتی ہیں جن میں مرزا نے عیسائیوں کے نظریات کی تردید کرکے ان کے مقابل اپنا عقیدہ لکھا ہے تو اب اس کو عیسائیوں کا عقیدہ لازم کیسے کہا جاسکتا ہے۔ مرزا غلام احمد لکھتا ہے۔

عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص 9) (روحانی خزائن ص 290 جلد 11) مرزا غلام احمد کا یہ عقیدہ عیسائیوں کے بالمقابل ذکر کیا گیا ہے اور اسے حق ٹھہرایا گیا ہے اسے عیسائیوں کا عقیدہ ٹھہرانا ایک کھلا جھوٹ ہے۔

پھر مرزا غلام احمد نے قرآن کریم کے تفسیری نکات بیان کرتے ہوئے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں نازیبا باتیں کہی ہیں اگر یہ باتیں محض عیسائیوں کو الزاماً کہی جا رہی تھیں تو قرآن کریم کا حوالہ دینے کی کیا ضرورت تھی قرآن کریم کے حوالے سے مرزا صاحب اپنا عقیدہ بیان کر رہے تھے یا عیسائیوں کا؟ قادیانی اگر کچھ بھی دیانت اختیار کریں اور اس حوالے کو بار بار پڑھیں تو بہت سی حقیقتیں ان پر کھل سکتی ہیں۔

مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ میں دوسروں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحییٰ نبی کو اسپر ایک فضیلت حاصل ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور سر کے بالوں

صفحہ 9

مناظرہ ناروے

سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے (دافع البلاء ص ۴) قرآن کریم سے ان باتوں کی تصدیق پیش کرنا (روحانی خزائن ص ۲۲۰ جلد ۱۸) کیا اپنے عقیدہ کی وضاحت کے لئے ہے یا یہ باتیں الزاما عیسائیوں کو کہی جا رہی ہیں قادیانیوں کو چاہئے کہ قرآن کے ان حوالے کا جواب دیں۔

مرزا غلام احمد جو یہ لکھتا ہے۔ ؎

"ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے"

تو کیا یہ بات بھی عیسائیوں کو الزاما کہی جا رہی ہے؟ یا مرزا غلام احمد کا دعویٰ تھا کہ میں ایک تشریعی نبی سے بھی بڑھ کر ہوں؟ حضرت عیسیٰ بن مریم کا ذکر تو قرآن کریم میں بھی موجود ہے۔ تو کیا ہم مرزا غلام احمد کے اس مشورے سے قرآن کریم کا وہ حصہ بھی پڑھنا چھوڑ دیں قرآن کریم کے انہی مقامات میں ربوہ کا بھی ذکر ہے کہ ہم نے حضرت عیسیٰ اور مریم کو ربوہ میں پناہ دی۔ کیا ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو کے تحت اس حصہ کو بھی چھوڑ دیا جائے گا؟ اور کیا اسی شعر پر عمل کرنے کے لئے مرزا طاہر ربوہ کو چھوڑ کر لندن چلا گیا ہے؟

مسلمان مخاطب ہیں اس میں وہ کھلے طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شرابی لکھتا ہے کیا اب بھی کوئی قادیانی کہہ سکتا ہے کہ مرزا غلام احمد کی یہ بد زبانی صرف عیسائیوں کے جواب میں تھی مرزا کو ذیابیطس کا مرض تھا کسی نے اسے افیون استعمال کرنے کا مشورہ دیا مرزا اس کے جواب میں لکھتا ہے۔

مجھے ایک دوست نے صلاح دی کہ ذیابیطس کے لئے افیون مفید ہوتی ہے پس علاج کی غرض سے کوئی مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے میں نے جواب دیا کہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی لیکن میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی مرزا کو یہ ڈر تو ہے کہ لوگ مجھے ٹھٹھا نہ کریں لیکن اسے یہ اندیشہ نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر شرابی ہونے کے الزام سے کتنا ٹھٹھا ہو گا۔ (نسیم

صفحہ 10

مناظرہ ناروے

دعوت ص ۲۰) وہ انہیں کھلے طور پر شرابی کہہ رہا ہے اور خود افیونی کہلانے سے بھی اپنی توہین سمجھتا ہے۔

قادیانی مربیو! کچھ تو سوچو کیا اب بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین نہیں۔ مرزا غلام احمد کو یہ ڈر تو ہے کہ لوگ اسے افیونی نہ کہیں لیکن اسے یہ ڈر نہ تھا کہ لوگ اسے شرابی کہیں گے ایسا کیوں؟ یہ اسلئے کہ اس کا شرابی ہونا لوگوں کو عام معلوم ہو چکا تھا پلومر کی دکان سے اسکا ٹانک وائن منگوانا کسے معلوم نہ تھا لہٰذا اب اسے اس باب میں شرم کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی اس سلسلے میں جناب جے ڈی کھوسلے کا تاریخی فیصلہ قادیانیوں کے اپنے اخبار الفضل میں لکھا ہوا موجود ہے۔

”معلوم ہوتا ہے کہ مرزا ایک ٹانک استعمال کیا کرتا تھا جس کا نام پلومر کی ٹانک وائن تھا۔ اور ایک موقع پر اس نے اپنے ایک دوست کو لکھا کہ وہ لاہور سے خرید کر اسے بھیج دے۔ دوسرے ایک یا دو خطوط میں یاقوتی کا ذکر ہے۔ موجودہ مرزا نے خود اعتراف کیا ہے کہ اس کے باپ نے پلومر کی ٹانک وائن ایک دفعہ استعمال کی تھی۔“

(روزنامہ الفضل قادیان دار الامان مورخہ ۱۵ جون ۱۹۳۵ء)

ہم نے قادیانی مربی کی بھیجی ہوئی تحریرات کا پورا جواب دے دیا ہے۔ اس کا جواب الجواب ہمیں ۲۵ اگست کی شام تک مل جانا چاہئے۔

نوٹ: اس تحریر کا جواب الجواب بھی اب تک موصول نہیں ہوا۔

صفحہ 11

مناظرہ ناروے

از (مولانا) منظور احمد چنیوٹی

قادیانیوں کے نزدیک تمام مسلمان جو مرزا قادیانی پر ایمان

نہیں لائے وہ سب کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں

اشتہار ”اطلاع عام“ میں تیسری بات یہ تھی کہ مرزا قادیانی اور اسکے بیٹے مرزا بشیرالدین محمود قادیانی نے ان تمام مسلمانوں کو جو اس پر ایمان نہیں لاتے۔ کافر، جہنمی، کنجریوں کی اولاد، اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے اسی لئے مرزا قادیانی نے اپنے بڑے بیٹے فضل احمد کا اور سر ظفراللہ قادیانی نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا جنازہ نہ پڑھا تھا۔

اس تیسری بات کا قادیانیوں کی طرف سے کوئی تحریری جواب تو موصول نہ ہوا۔ البتہ ۲۵ اگست بروز جمعہ چار بجے کے قریب مسٹر فرحت قادیانی نوجوان مرکز تنظیم المسلمین میں راقم سے ملنے اور سلام کرنے کی غرض سے آیا اور آتے ہی اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ میں کوئی عالم نہیں ہوں نہ ہی میں بحث کرنے کے لئے آیا ہوں میں صرف سلام کرنے اور ملنے کی غرض سے آیا ہوں میں نے اسے خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ”ہمارا اشتہار“ ”اطلاع عام“ آپ حضرات تک پہنچا اسکی تین باتوں میں سے پہلی دو باتوں کا آپ نے تحریری مطبوعہ جواب بھیجا جن کا جواب الجواب ہم نے تحریر کر دیا ہے لیکن تیسری بات مسلمانوں کی تکفیر آپ لوگ ہضم ہی کر گئے اسکا کوئی جواب نہیں دیا۔

وہ جھٹ بڑا مظلوم بن کر کہنے لگا کہ جناب جب کوئی شخص کلمہ پڑھتا ہو، خدا، رسول، قیامت کو مانتا ہو نماز روزے کا قائل ہو تو کسی کو حق نہیں ہے کہ وہ اسے کافر کہے۔ آپ لوگ ہمیں کافر کہتے ہیں یہ ہم پر بڑی زیادتی ہے میں نے جواباً کہا کہ اسلام میں داخل ہونے کے لئے تو کلمہ شہادت کا اقرار کافی ہے آپ ﷺ کی رسالت کا اقرار کرنے سے پورا دین اسمیں آجاتا ہے لیکن اسلام سے خارج ہونے کے لئے پورے اسلام کا انکار ضروری نہیں بلکہ ضروریات دین میں سے ایک کا انکار بھی دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے

صفحہ 12

مناظرہ ناروے

جیسا کہ خلیفہ اول صدیق اکبرؓ کے زمانہ میں منکرین زکوٰۃ کو کافر اور مرتد قرار دیا گیا جبکہ وہ کلمہ پڑھتے تھے قبلہ کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھتے تھے صرف ایک زکوٰۃ کا انکار کیا تو خلیفہ اولؓ نے تمام صحابہ کرام کے اتفاق سے انہیں مرتد قرار دے کر ان سے جہاد کیا، وہ کہنے لگا کہ وہ بغاوت کی وجہ سے قتل کئے گئے میں نے کہا کہ یہ بالکل غلط ہے صدیق اکبرؓ نے حضرت خالدؓ بن ولید کو حکم دیا تھا کہ پہلے ان سے زکوٰۃ کا مطالبہ کریں اگر وہ دینے پر آمادہ ہوں۔ تو ”فخلوا سبیلہم“ تو انہیں چھوڑ دیں اور اگر وہ پھر بھی انکار کریں تو ان سے قتال کریں جب تک کہ وہ زکوٰۃ دینے کا اقرار نہ کریں۔ بلکہ صحابہ کرام کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے یہاں تک ارشاد فرمایا کہ میں اس وقت تک ان سے جنگ کروں گا جب تک ان سے پوری زکوٰۃ وصول نہ کرلوں۔ حتیٰ کہ وہ رسی بھی وصول کرکے چھوڑوں گا جس سے اونٹ کا گھٹنا باندھا جاتا ہے تو اس نے پینترا بدل کر دوسرا جواب دیا کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو کسی کلمہ گو مسلمان کو کافر کہے تو وہ کفر اس پر لوٹ آتا ہے اور مسلمان کو کافر کہنے کی وجہ سے وہ خود کافر ہو جاتا ہے۔ چونکہ تمام علماء نے مرزا غلام احمد قادیانی کی تکفیر کی ہے اس وجہ سے وہ کافر ہو گئے ہیں میں نے مرزا قادیانی کا مجموعہ الہامات و وحی ”تذکرہ“ نکال کر بتایا کہ مرزا تو بیعت نہ کرنے والے تمام مسلمانوں کو جہنمی اور غیر مسلم کہہ رہا ہے تو اس نے دوسرا پینترا بدلا اور کہنے لگا کہ ہاں وہ ایک مامور من اللہ سے انکار کرنے کی وجہ سے کافر ہوگئے۔ میں نے کہا کہ انکار تو وہ کرے گا جس کے پاس مرزا صاحب کی دعوت پہنچی ہوگی۔ اور اس نے اس کا نام سنا ہوگا۔

ڈیڑھ ارب مسلمان دائرہ اسلام سے خارج

لیکن مرزا بشیر الدین محمود تو یہاں تک لکھتا ہے کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے ان کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں اب اسمیں تمہاری تمام تاویلات کا دروازہ بند ہو گیا جن غریبوں نے مرزا

صفحہ 13

مناظرہ ناروے

قادیانی کا نام بھی نہیں سنا وہ سب کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے میں نے کہا کہ اس وقت ڈیڑھ ارب کے قریب دنیا میں مسلمان ہیں جو مرزا قادیانی کو نہیں مانتے مرزا بشیر الدین محمود کے فتویٰ کے مطابق وہ تمام کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے تو آپکا یہ مہدی اسلام پھیلانے کے لئے آیا یا کفر پھیلانے کے لئے، اب مرزا کی آمد سے قبل جو مسلمان تھے وہ تو اس کی آمد سے تمام کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے اور جو چند لاکھ اس پر ایمان لائے وہ مسلمان ہوئے تو مرزا صاحب کفر کے مہدی ہوئے جن کی آمد سے کروڑوں مسلمان کفار میں شامل ہوگئے راقم نے جب یہ حوالہ پیش کیا تو وہ کہنے لگا کہ یہ کہاں لکھا ہے میں نے کہا کہ یہ مرزا محمود کی کتاب میں موجود ہے جو الفاظ کہہ رہا ہوں ان کا ذمہ دار ہوں ابھی کتاب منگوا کر دکھا دیتا ہوں۔ لیکن تم بتاؤ کہ تمہارا پھر موقف کیا ہوگا۔

ظالم کون...؟

پھر ظالم ہم ٹھہرے جو ہم چند لاکھ کو کافر کہتے ہیں یا ظالم تم ٹھہرے جو ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دے رہے ہو۔ تو مسٹر فرحت کوئی جواب نہ دے سکا۔ اور بڑی بے چارگی میں کہنے لگا میں کتاب جا کر خود دیکھوں گا۔ ہم نے اسے دوسرے روز ناشتہ پر آنے کی دعوت دی کہ کل ناشتہ ہمارے ساتھ کریں اور کتاب ساتھ لائیں اور اسکا جو جواب ہو وہ بھی اپنے علماء سے معلوم کر کے آئیں تو اس نے بادل نخواستہ ناشتہ پر آنے کا وعدہ کیا۔ بصورت دیگر کہا کہ میں آپ کو ایئرپورٹ پر ملنے کی کوشش کروں گا۔ چنانچہ اگلے روز جب ہمارے چلنے میں چند منٹ باقی تھے تو بغیر کتاب کے ایئرپورٹ پر آ نکلا۔ جو اسکی بے بسی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

قادیانی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج کیوں؟

حضرات محترم! قادیانیوں کا طریقہ واردات یہ ہے کہ وہ عام مسلمانوں میں بڑی مظلومیت کی صدا میں کہتے ہیں کہ ہم مسلمانوں والی تقریباً سب باتوں کو مانتے ہیں مساجد

صفحہ 14

مناظرہ ناروے

بناتے ہیں قرآن کے مختلف زبانوں میں تراجم چھاپتے ہیں مظلوم مسلمانوں کی ہر مشکل وقت میں امداد کرتے ہیں غیر مسلموں میں اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود معلوم نہیں کہ علماء ہمیں کافر کیوں کہتے ہیں۔ جب انہیں کہا جائے کہ قادیانی بھی تو مسلمانوں کو سب ضروریات دین ماننے کے باوجود کافر کہتے ہیں آخر یہ کیوں؟ تو اس کے جواب میں قادیانی طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں کبھی تو کہتے ہیں کہ علماء چونکہ قادیانیوں کو کافر کہتے ہیں اور حدیث میں ہے کہ جو کسی مسلمان کو کافر کہے کفر اس پر خود لوٹتا ہے۔ سو ہم مسلمانوں کو صرف اس وجہ سے کافر کہتے ہیں اور جب ایسی عبارتیں دکھائی جائیں جن میں بیعت نہ کرنے والوں کو بھی کافر کہا گیا ہے خواہ انہوں نے کافر بھی نہ کہا ہو تو پھر جواب دیتے ہیں کہ ایک مامور من اللہ کو نہ ماننا اور اسکا انکار کرنا چونکہ کفر ہے اسلئے اس کے منکر کافر ہیں جیسا کہ مسٹر فرحت قادیانی نے جواب دیا اس صورت حال میں یہ مسئلہ بہت پیچیدہ ہو جاتا ہے کہ قادیانیوں کی سب مسلمانوں کو کافر کہنے کی اصل وجہ کیا ہے؟ اسکا جواب صرف یہ ہے کہ قادیانی مسلمانوں کو ایک مامور من اللہ (مرزا غلام احمد) کے نہ ماننے کی وجہ سے کافر کہتے ہیں ان کی اصل وجہ تکفیر صرف یہی ہے باقی سب کہانیاں ہیں یا خواہ مخواہ کی حجت بازی ہے‘ قادیانیوں کی اس حجت بازی کے جواب میں قادیانی جماعت کے دوسرے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود موجودہ سربراہ مرزا طاہر کے والد کا بیان سوسنار کی ایک لوہار کی‘ کے مصداق ہے جو ان کی تمام تاویلات کو باطل کرنے کے لئے کافی شافی ہے یہ عبارت اس مسئلہ پر کھلی شہادت ہے اس عبارت کو یاد رکھنے سے قادیانیوں کی ”صدائے مظلومیت“ کہ مسلمان ہمیں کافر کیوں کہتے ہیں؟ از خود واضح ہو جائے گی یعنی جس وجہ سے قادیانی پوری امت مسلمہ کو کافر اور خارج از اسلام قرار دیتے ہیں کہ وہ مرزا قادیانی پر ایمان نہیں لائے امت مسلمہ ان تمام کو جو اس کذاب و دجال و زندیق کافر پر ایمان لاتے ہیں اس وجہ سے کافر کہتے ہیں یا تو ڈیڑھ ارب دنیا کے مسلمان کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور یہ چند لاکھ اصلی مسلمان۔ اور یا یہ چند لاکھ قادیانی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں بقیہ تمام مسلمان ہیں فرق کفر اور اسلام کا ہے۔

صفحہ 15

مناظرہ ناروے

سر ظفر اللہ اور قائد اعظم کا جنازہ:-

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی

جناح کے جنازے کے موقعہ پر

جب سر ظفر اللہ وزیر خارجہ پاکستان جنازہ کے پاس کھڑا رہا اور اس میں شریک نہ ہوا۔ تو اس سے سوال کیا گیا کہ آپ نے قائد اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا تو اس نے دو ٹوک کھلے الفاظ میں کہا کہ اگر قائد اعظم مسلمان ہیں تو میں کافر اور کافر مسلمان کا جنازہ نہیں پڑھ سکتا۔ اور اگر میں مسلمان ہوں تو وہ کافر اس طرح مسلمان کافر کا جنازہ نہیں پڑھ سکتا۔ سر ظفر اللہ نے دو ٹوک کفر و اسلام کا فرق واضح کیا ہے۔ حالانکہ قائد اعظم ایک لبرل قسم کے مسلمان تھے انہوں نے اپنی کیبنٹ میں سب سے اہم وزارت خارجہ کا قلمدان اسکے سپرد کر رکھا تھا جس کے ذریعہ اس نے پوری دنیا میں اسلام کے نام پر قادیانیت کے مراکز اور اڈے قائم کئے لیکن اس نے اپنے اتنے بڑے محسن کا جنازہ بھی محض اسلئے نہ پڑھا کہ وہ قائد اعظم کو مسلمان نہیں سمجھتا تھا۔

فضل احمد کا جنازہ

اور جیسا کہ اس کے گرو مرزا قادیانی نے اپنے بڑے بیٹے فضل احمد کا جنازہ اسلئے نہ پڑھا کہ وہ اس پر ایمان نہیں لایا تھا حالانکہ بقول مرزا قادیانی وہ دیگر امور میں ا بڑا فرمانبردار اور تابعدار تھا حتی کہ اس نے اپنے ابا کی محمدی بیگم سے شادی کرنے کی خو پوری کرنے کی خاطر اپنی بے گناہ بیوی کو طلاق بھی دے دی تھی۔ اگرچہ اسکے باوجود اس کی خواہش پوری نہ ہوئی اور اس کی وہ منکوحہ آسمانی جس سے بقول مرزا قادیانی اللہ نے آسمان پر اس سے نکاح کر دیا تھا اور مرزا قادیانی کو خوشخبری دی تھی کہ " زوجناکھا لا مبدل لكلمات الله" (ترجمہ) "ہم نے تیرا نکاح محمدی سے کر دیا ہے اللہ تعالیٰ کی باتوں کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔" (تذکرہ ص ۴۴۸ و ۲۸۳ سلطان محمد فوجی پٹی کا رہنے والا زمین پر نکاح کر کے مرزا قادیانی کی اس آسمانی منکا

صفحہ 16

مناظرہ ناروے

زبردستی لیکر چلا گیا اور وہ ساری عمر وہاں اس کے ساتھ آباد رہی اور اولاد جنتی رہی۔ اور مرزا قادیانی اپنی تمام حسرتیں دل ہی میں لئے دنیا سے کوچ کر گیا۔

مرزا طاہر سے دو ٹوک سوال :-

مرزا طاہر کا والد مرزا بشیر الدین محمود اپنی کتاب آئینہ صداقت (ص ۳۵) پر رقم طراز ہے "کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں" کیا مرزا طاہر دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب کے قریب ان مسلمانوں کو جو مرزا قادیانی کی بیعت میں شامل نہیں اپنے والد کے فتویٰ کے مطابق کافر اور دائرہ اسلام سے خارج یقین کرتا ہے یا نہیں؟ صرف ہاں یا نہ میں جواب دے تاکہ لوگوں پر انکی مظلومیت کی حقیقت واضح ہو جائے۔ یاد رہے کہ ۱۹۷۴ء میں یہ کتاب اسمبلی میں مرزا ناصر موجودہ سربراہ کے بڑے بھائی کے سامنے بھی پیش ہوئی تھی تو اسے اسمبلی کے سامنے اقرار کئے بغیر چارہ نہ رہا کہ ہاں ہم تو تمام مسلمانوں کو جنہوں نے حضرت مسیح موعود کی بیعت نہیں کی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں جس پر تمام ممبران اسمبلی نے بالاتفاق قرار داد پاس کر کے انہیں کافر قرار دیکر ملت اسلامیہ سے خارج کر دیا۔

صفحہ 17

مناظرہ ناروے

(از مولانا) منظور احمد چنیوٹی

قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر کو پاکستان سے بھاگنے پر چیلنج

تیلی رے تیلی تیرے سر پہ کولہو

مشہور کہاوت ہے کہ کسی تیلی نے ایک جاٹ کو سر پہ کھاٹ (چارپائی) اٹھائے دیکھ کر کہا ”جاٹ رے جاٹ تیرے سر پہ کھاٹ“ اس نے بھی ایک وزن بنایا اور اس تیلی سے کہا ”تیلی رے تیلی تیرے سر پہ کولہو“ سننے والے نے کہا کہ تیرا جواب صحیح نہیں۔ کیونکہ یہ تیلی کے وزن پر نہیں۔ جاٹ نے کہا وزن ہو یا نہ ہو، میں نے اس کے سر پر بوجھ لادنا تھا، وہ لاد دیا ہے۔ یہ پرانی کہاوت ناروے کے قادیانیوں پر صادق آتی ہے۔ ”ایک اطلاع عام“ کے نام سے میری تقریر میں سے تین باتیں مرکز تنظیم المسلمین اوسلو ناروے والوں نے لکھ کر شائع کیں اور قادیانیوں کے مرکز ”مرزائوہ نور“ میں بھی بھیج دیں۔ وہ تین باتیں یہ تھیں۔

لاتے۔ کافر، جہنمی، کنجریوں کی اولاد اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے اسی لئے مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے فضل احمد کا اور مسٹر ظفر اللہ قادیانی پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا جنازہ نہ پڑھا۔

ان تین باتوں میں اگر کسی قادیانی کو شک ہو اور وہ تحقیق کرنا چاہے تو ۲۴۔ اگست تک اپنی تحریر حافظ بشیر احمد صاحب کو بھیج دے اسے ۲۵ / اگست کی تاریخ جواب کے لئے دی جائے گی۔ چنانچہ اطلاع عام کے نام سے ایک اشتہار شائع کر کے اس کی وسیع پیمانہ پر تشہیر کر دی گئی۔ ان امور کی تحقیق کے لئے تو ۲۴ اگست تک کوئی تحریر نہ آئی البتہ قادیانیوں نے ایک اشتہار ”سر بازار گولی“ کے عنوان سے شائع کر کے موضوع کو بدلنے کی

صفحہ 18

مناظرہ ناروے

کوشش کی۔ قادیانی اپنی اس کوشش سے مرزا قادیانی کے دامن کو صاف نہ کرنے کا اقرار کرگئے ہیں وہ یقینا مرزا کو ان الزامات سے پاک نہیں کرسکتے۔ جو اسکی تحریروں کی رو سے اس پر عائد ہوتے ہیں اب ہمیں بھی ان کے ”سر بازار گولی“ کے جواب کی ضرورت نہیں ہے وہ پہلے ہمارے سوالات کا جواب دیں اور پھر ہم سے نیا سوال کریں ہمارا مطالبہ تو اپنی جگہ پر قائم ہے۔ ہاں عوام کی اطلاع کے لئے اس قصہ کی صحیح صورتحال واضح کرنی اب ضروری ہوگئی ہے تاکہ وہ کسی مغالطہ کا شکار نہ ہوں۔ اصل بات یہ ہے کہ اسلم قریشی سیالکوٹ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا مبلغ بننے سے پہلے اسلام آباد میں الیکٹرک انجینئر تھا صدر پاکستان یحییٰ خان اپنے زمانہ میں جب ایران کے دورہ پر جانے لگا تو خلاف قانون کسی گہری سازش کے تحت ایم ایم احمد (مرزا قادیانی کا پوتا اور موجودہ قادیانی سربراہ مرزا طاہر کے چچا زاد بھائی) کو ایک یوم کے لئے قائم مقام صدر مقرر کردیا اسلم قریشی کو جب اسکا علم ہوا تو وہ برداشت نہ کرسکا کہ مرزا قادیانی کا پوتا اسلامی ملک پاکستان کا گو عارضی سہی ایک دن کے لئے بھی صدر بنے اس نے اپنے جذبہ ایمانی کے تحت لفٹ پر سوار ہوتے ہوئے ایم ایم احمد پر اچانک حملہ کردیا۔ اور وہ بجائے کرسی صدارت کے ہسپتال کی چارپائی پر جا پڑا اسلم قریشی گرفتار ہوگیا اس پر مقدمہ چلا اور مارشل لاء قانون کے تحت اسے چودہ سال سزا ہوگئی بھٹو دور میں شیر سرحد حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ کی سفارش سے دس سال سزا معاف ہوئی اور وہ تین سال کے لگ بھگ جیل کاٹ کر رہا ہوگیا۔ اب قادیانیوں کی اس سے کھلی دشمنی تھی کیونکہ اس نے ان کے منصوبہ کو خاک میں ملا دیا تھا اس کی سرکاری ملازمت ختم ہوگئی تو اس نے رہائی کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کی طرف سے بطور مبلغ قادیانیت کے خلاف کام شروع کردیا ایک دن وہ سیالکوٹ کے ایک سرحدی گاؤں معراج میں جمعہ پڑھانے کے لئے گیا اور گم ہوگیا اس پس منظر میں تمام لوگوں کو یہ شک تھا کہ اسے قادیانیوں نے اغواء کیا ہے بڑی تلاش اور جستجو کے بعد جب مسلمانوں کی طرف سے مطالبہ نے شدت اختیار کی۔ تو کچھ تفتیش شروع ہوئی جب کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا تو ہم نے مرزا طاہر سمیت اس علاقہ کے چھ آدمیوں کے نام دیئے کہ ان کی تفتیش

صفحہ 19

مناظرہ ناروے

ہمارے سامنے کی جائے یا یہ لوگ ہمارے سپرد کر دیئے جائیں تو ان سے اسلم قریشی کے بارے میں پتہ چلے گا۔ سیالکوٹ میں راقم نے اعلان کیا کہ اگر ان سے اسلم قریشی کا پتہ نہ چلے تو مجھے بیشک "سرعام گولی مار دیں" اب نہ تو ان چھ آدمیوں کی تفتیش ہمارے سامنے ہوئی اور نہ ہی وہ ہمارے سپرد ہوئے کہ ہم خود ان سے تفتیش کرتے۔

مرزا طاہر پاکستان سے کیوں بھاگا؟

جب عوام کے شدید مطالبہ پر صدر ضیاء الحق نے اعلان کیا کہ تفتیش کا دائرہ وسیع کریں گے۔ تو مرزا طاہر اس کے فوراً بعد اپریل ۱۹۸۴ء میں پاکستان سے بھاگ کر انگلستان پہنچ گیا۔ اگر وہ اس میں ملوث نہ تھا تو اسے پاکستان سے بھاگنے کی کیا ضرورت تھی وہ وہیں رہ کر اپنی صفائی پیش کرتا۔ اس سے کیا سمجھا جائے گا۔ کہ وہ اس میں ملوث تھا یا نہیں۔ پھر ساڑھے پانچ سال کے بعد اسلم قریشی اچانک برآمد ہوا اور اپنے پرانے ساتھیوں کو ملنے کی بجائے پولیس کے بڑے بڑے افسروں کی موجودگی میں اس سے پلاننگ کے تحت ایک بیان دلوایا گیا۔ جس کا یہ جملہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ کہ مجھے کسی نے اغواء نہیں کیا میں خود کہیں چلا گیا تھا۔ یہ جبری بیان کن کی صفائی دے رہا ہے واضح ہے کہ جنہوں نے اغواء کیا تھا ان کی صفائی مقصود ہے یہ بیان پولیس کی ایک سوچی سمجھی سکیم تھی میں اب تک اپنے اس بیان کو صحیح سمجھتا ہوں کہ اس وقت اگر مرزا طاہر کو شامل تفتیش کر لیا جاتا تو اسلم قریشی کا ایران یا کسی اور جگہ ہونے کا ہمیں اس وقت پتہ چل جاتا۔ رہا اسلم قریشی کا یہ بیان تو وہ ایک سازش کے تحت اس سے دلوایا گیا تھا اس جبری بیان کے تحت اب قادیانی "گولی" والی بات کرتے ہیں۔ اگر مرزا طاہر اس میں ملوث نہ تھا تو وہ اسلم قریشی کی برآمدگی سے قبل پاکستان سے بھاگ کر لندن میں پناہ گزین کیوں ہوا؟ نیز کیا میری گولی والی شرط پوری ہوئی؟ کیا مرزا طاہر شامل تفتیش کیا گیا؟ کیا ان مشکوک افراد کی جن کی نشان دہی کی گئی تھی ہمارے سامنے تفتیش کی گئی؟ ہرگز نہیں۔ جب میری شرائط ہی پوری نہیں ہیں تو اب گولی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ پولیس نے میرے اس بیان پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔ رہا ممبر اسمبلی خواجہ یوسف کا بیان تو وہ محض جھوٹ اور افتراء ہے جس کا کوئی

صفحہ 20

مناظرہ ناروے

ثبوت نہیں میں نے اس کو وہیں چیلنج کر دیا تھا اسمبلی کی کاروائی اس پر گواہ ہے اور آج بھی میرا چیلنج ہے کہ میرے وہ الفاظ جو خواجہ یوسف نے نقل کئے ہیں میری زبان سے کہیں ثابت کر دیں کہ میں نے وہ الفاظ کہے ہیں۔ کیا قادیانی خواجہ یوسف کی بات کو حتمی سمجھتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو اس سے مرزا طاہر کے بچپن کے بارے میں بھی موکد بعذاب قسم کے ساتھ حتمی رائے لے لیں۔ اگر ناروے کے قادیانیوں میں کچھ بھی صداقت و دیانت ہوتی تو وہ بجائے میرے خلاف اشتہار بازی کرنے کے میرے چیلنج کے جواب میں اپنے سربراہ مرزا طاہر کو مجبور کر کے میرے سامنے مباہلہ کے لئے میدان میں لاتے۔ کیونکہ شرعاً مباہلہ تو ایک میدان میں فریقین کا اکٹھے ہو کر جھوٹے کے لئے بددعا کرنا ہوتا ہے۔ جس کی آج تک نہ تو اس کے باپ کو نہ اسکے بھائی مرزا ناصر کو اور نہ اسے ہمت ہوئی اور نہ ہی مرتے دم تک ہوگی۔

مرزا طاہر اور ناروے کی قادیانی جماعت

کے امیر کو موکد بعذاب قسم کا چیلنج

پھر میں نے ایک آسان بات اور کہی تھی کہ اگر وہ میدان مباہلہ میں روبرو ہونے سے گھبراتا اور ڈرتا ہے اور اپنے دادا غلام احمد قادیانی کی صداقت ثابت کرنے کی جرات نہیں کر سکتا تو پھر گھر بیٹھے ہی موکد بعذاب قسم اٹھا کر یہ حلف شائع کر دے کہ میں مرزا طاہر میرا باپ مرزا بشیر الدین محمود اور میرا دادا غلام احمد قادیانی ہم تینوں شراب نوشی زنا اور بدفعلی جیسے قبیح اور کبیرہ گناہوں سے پاک ہیں کیا وہ یہ موکد بعذاب قسم اٹھا کر اپنی اپنے باپ اور دادا کی پاکیزگی ثابت کرنے کی جرات کرتا ہے؟ ناچیز راقم نے ان کے مطالبہ پر اپنے ان عیوب سے پاک ہونے کی موکد بعذاب قسم ویمبلے ہال لندن میں ۴ اگست ۱۹۸۵ء کو ہزاروں لوگوں کے سامنے باوضو سر پر قرآن کریم رکھتے ہوئے اٹھا دی تھی۔ ناروے کے قادیانیوں سے گزارش ہے کہ اگر مرزا طاہر اس قسم کے لئے آمادہ نہیں ہوتا تو ناروے کی قادیانی جماعت کا سربراہ اگر ان تینوں کی ان عیوب سے پاکیزگی کا یقین رکھتا ہے تو وہ

صفحہ 21

مناظرہ ناروے

مسلمانوں کے سامنے میری طرح باوضو ہو کر سر پر قرآن کریم مقدس کتاب رکھتے ہوئے موکد بعذاب قسم اٹھاوے کہ یہ تینوں سربراہ ان گناہوں سے پاک ہیں اگر ان میں کوئی ایک گناہ بھی ان کبیرہ گناہوں میں سے ہو تو وہ خدا تعالیٰ کے عذاب کا مستحق ہو گا ہمت ہے تو آیئے اور اسطرح قسم اٹھا کر اپنے ان ”مقدس“ لوگوں کی پاکیزگی ثابت کیجئے۔ راقم آج بھی اس قسم پر الحمدللہ قائم ہے اور قادیانی جب چاہیں اور جہاں چاہیں راقم ہر وقت قسم اٹھانے کیلئے تیار ہے حالانکہ نہ میں نبی کا پوتا نہ خلیفہ بلکہ حضور خاتم الانبیاء کا پندرھویں صدی کا ایک ادنیٰ گنہگار مسلمان ہوں۔ اور یہ بھی میرے آقا خاتم الانبیاء ﷺ کی ختم نبوت کا ایک اعجاز ہے اور آپکی صداقت کی بین دلیل ہے جبکہ قادیانی کذاب کا پوتا یا انکی جماعت کا کوئی سرکردہ رکن ایسی قسم اٹھا کر انکی پاکیزگی ثابت نہیں کر سکتا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔

ناروے کے قادیانیوں کی ایک اور ذمہ داری:-

ناروے کے قادیانیوں نے ”سرعام گولی“ اشتہار شائع کر کے پھر مجھے مجبور کیا ہے کہ میں انہیں واشگاف الفاظ میں کہوں کہ مرزا طاہر اگر ہائیڈ پارک لندن میں آکر میرے سامنے اس پر موکد بعذاب قسم اٹھائے کہ اس کا اسلم قریشی کے اغواء میں کوئی کسی قسم کا دخل نہ تھا اور نہ اس کے بارے میں اسے کسی قسم کا کوئی علم تھا اور وہ پاکستان سے لندن کسی بات میں پکڑا جانے کے خوف سے بھاگ کر نہیں آیا میں آج بھی اس قسم پر خدائی فیصلے کا طلب گار ہوں۔

صفحہ 22

مناظرہ ناروے

از منظور احمد چنیوٹی

انگریزوں کا خود کاشتہ پودا

ہم نے اپنے اشتہار "اعلان عام" میں خود کاشتہ پودے کا موضوع ذکر نہ کیا تھا مگر ناروے کے قادیانیوں نے اس پر بھی اپنا ایک جواب پمفلٹ کی صورت میں ہمیں بھیجا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے "خاندان" کو انگریزوں کا خود کاشتہ پودا کہا ہے اپنی جماعت کو انگریزوں کا "خود کاشتہ پودا" نہیں کہا، اپنے روائتی دجل و فریب سے کام لیتے ہوئے اس مشہور الزام کا یہی جواب آج کل قادیانی جماعت کا سربراہ مرزا طاہر بھی اپنی تقریروں میں دیگر عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہا ہے اس کے ثبوت میں مرزا طاہر اور اسکے حواری مرزا قادیانی کی جو عبارت تبلیغ رسالت جلد نمبر ۷ ص ۱۹ سے نقل کرتے ہیں اپنی روایتی بددیانتی کا ثبوت دیتے ہوئے اس میں سے آخری تین سطریں قصداً ہضم کر گئے ہیں جس سے انکے جواب کی قلعی کھل جاتی ہے۔ قارئین کرام پوری عبارت پڑھ کر قادیانیوں کی ”دیانت“ کی داد دیں۔ صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جانثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریز کے پکے خیرخواہ اور خدمت گزار ہیں اس خود کاشتہ پودہ کی نسبت اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نگاہ سے دیکھیں۔“

اس درخواست کے بعد مرزا قادیانی نے اپنی جماعت کے ۳۱۶ خاص مریدین کی نو صفحات پر مشتمل ایک طویل فہرست دی ہے جو انگریز گورنمنٹ کے مختلف محکموں میں ملازمت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

انگریزوں سے یہ التجاء اس ”خود کاشتہ پودا“ کے تحت ہی کی جا رہی ہے یا نہیں؟ قارئین

صفحہ 23

مناظرہ ناروے

خود انصاف کریں کیا اس میں جماعت احمدیہ کا نام نہیں آیا؟ ”میری جماعت“ سے مراد کیا احمدی جماعت نہیں؟ اور پورے نو صفحات پر مشتمل اپنے ۳۱۶ مریدین کی آخر میں جو فہرست دی ہے وہ مرزا کی جماعت میں ہیں یا نہیں؟ اور کیا مرزا قادیانی اپنے لئے اور اپنی جماعت کیلئے ان خاندانی روایات کی بنا پر خاص عنایت اور مہربانی کی التجا کر رہا ہے یا نہیں؟ اب آپ ہی غور فرمائیں کہ مرزا طاہر کا یہاں قادیانی جماعت کو برطانوی فیض یافتہ حیثیت سے علیحدہ رکھنا کیا دیانت وامانت کے مطابق ہے یا یہ ایک دھوکہ اور فریب ہے؟ قادیانی ہزار کوشش کریں لیکن وہ اپنے سے اس ”خود کاشتہ پودا“ کا الزام دور نہیں کر سکتے۔ ان کے اقوال اور اعمال اس کے پورے پورے شاہد ہیں آج بھی انگریز اپنے اس ”خود کاشتہ پودا“ کی پوری پوری حفاظت اور آبیاری کر رہا ہے مرزا طاہر کو آخر پناہ ملی تو کہاں ملی؟

؎ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

از قاری بشیر احمد

ناروے سیرت المصطفے کانفرنس کی مختصر روئیداد اور مرزا

طاہر کو چیلنج

۲۲ ربیع الاول بروز اتوار مطابق ۲۰ اگست ۳ بجے بعد ظہر اوسلو میں ہر شلب سکول کے وسیع ہال میں ناروے کے مسلمانوں نے مل کر حضور خاتم النبین کی یاد میں کانفرنس منعقد کی جن میں موس، درامن، ساس برگ، سٹو نگر بیر گن اور ”تھرون ہم“ اور دیگر کئی شہروں کے مسلمانوں نے شرکت کی۔ حاضرین کی کثرت کے باعث ہال سے کرسیاں اٹھا دیں گئیں اور لوگ ہال میں قالینوں پر بیٹھ گئے محسن انسانیت کی یاد میں یورپ کی جدید نسلوں کا اس ادب سے زمین پر بیٹھنا دبستان مشرق کا عجیب نقشہ دکھا رہا تھا کانفرنس کی صدارت اوسلو کی مشہور سماجی شخصیت راجہ عبدالحمید صاحب نے کی اور سٹیج سیکرٹری کے فرائض جناب تنویر قریشی صاحب نے سرانجام دیئے قاری بشیر صاحب نے معزز مہمانوں کا تعارف کرایا اور

صفحہ 24

مناظرہ ناروے

قاری داؤد صاحب کی تلاوت سے کانفرنس کا آغاز ہوا۔ حضور ختم مرتبت کی شان میں نعتوں کا نذرانہ پیش کیا گیا۔ اور چھوٹی بچیوں نے بھی مختصر تقریریں کیں، مہمانان خصوصی میں پاکستان سے انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے جنرل سیکرٹری فاتح ربوہ مولانا منظور احمد چنیوٹی اور مولانا عبدالواسع عتیقی ملتانی تشریف لائے۔ انگلینڈ سے مہمان خصوصی علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب ڈائریکٹر اسلامک اکیڈیمی مانچسٹر تھے اسلامک کلچر سنٹر کے نمائندہ مولانا محبوب الرحمن بھی سٹیج پر موجود تھے خطیب ساس برگ مولانا عبداللطیف صاحب نے حضور کی سیرت مقدسہ پر نہایت پرجوش تقریر فرمائی۔ مولانا عتیقی نے عقیدہ ختم نبوت کی قطعی حیثیت کو مثالوں سے واضح فرمایا۔ اذاں بعد مفکر اسلام علامہ خالد محمود صاحب نے مفصل بیان اور پرمغز تقریر فرمائی۔ آپ نے فرمایا آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے جو ذمہ داریاں تفویض کیں ان میں ایک امت بنانا ایک بڑی ذمہ داری تھی۔ آپ نے جو امت بنائی قرآن کریم میں اسے خیر امت کھا گیا ہے آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں یہ امت ایک تسلسل سے چلی اور آج یہ امت پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے بطور امت کے ہماری عمر چودہ سو سال سے زیادہ ہے اور ہم پر فرض ہے کہ اس امت کو ہر صورت میں قائم رکھیں جو اس امت میں سے نہیں وہ اس امت میں داخل نہ سمجھا جائے اور جو ہیں ان میں سے کسی کو خارج نہ کیا جائے ہمیں وحدت امت کی اساس پر قائم رہنا ہے اور ہم اس تسلسل امت کو کسی طرح چھوڑ نہیں سکتے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر ہم یہ سمجھیں کہ حضور کے بعد خلفائے راشدین حضور ﷺ کے رستہ کو چھوڑ کر خلافت پر آئے اور اس کے مدتوں بعد پھر سے آپ کے صحیح وارث اٹھے تو یہ نظریہ تسلسل امت کے یکسر خلاف ہو گا۔ وہ امت کبھی خیر امت نہیں کہلا سکتی۔ جو اپنے آقا کی وفات پر ہی اس کا طریقہ چھوڑ دے۔ صحابہ کرامؓ اگر حق پر قائم نہ تسلیم کئے جائیں تو ان کے بعد آنے والے طبقے کو تابعین کس طرح کہا جا سکتا ہے اور ہم تو تبع تابعین اور آئمہ مجتہدین اور محدثین کرام کو بھی تسلسل امت میں جگہ دیتے ہیں اور اپنے ان اسلاف میں کسی کی مخالفت نہیں کرتے۔ حضرت علامہ نے یہ بھی فرمایا کہ قرآن کریم ایک علمی خزانہ ہے جس کی حضور ختمی مرتبت نے عملی تشکیل کی جس عملی تشکیل کی جس طرح

صفحہ 25

مناظرہ ناروے

قرآن کریم اس امت میں تسلسل سے چلا ہے اور اب تک یہ امت کے پاس پوری محفوظ شکل میں موجود ہے اسی طرح اس کی عملی تشکیل جو حضور نے فرمائی سنت قائمہ کی شکل میں امت کے پاس محفوظ ہے فہم قرآن کا کوئی طریقہ جو تسلسل سے قائم نہ ہو وہ ہرگز اسلامی طریقہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ جس طرح یہ قرآن مسلسل ہے فہم قرآن بھی امت کا ایک مسلسل سرمایہ ہے یہ اہل علم کی دولت ہے عمل کے لئے اہل علم کی پیروی سے چارہ نہیں جو لوگ دین کا پورا علم نہیں رکھتے وہ فقہاء مجتہدین کی پیروی سے عمل کی وہ دولت پاسکتے ہیں جو ہر مسلمان کی ضرورت ہے آپ نے مسٹر پرویز کے نظریہ انکار حدیث پر بھی علمی تنقید فرمائی۔ اور کہا کہ جس درس قرآن میں تسلسل قائم نہ ہو اسے کسی طرح بھی حضور ﷺ کی علمی میراث نہیں سمجھا جاسکتا۔ علامہ اقبال کی وراثت کا دعویٰ اور چیز ہے اور امام ابو حنیفہ اور امام بخاری کی علمی میراث علماء کے سوا آپ کو کہیں نہ ملے گی۔

فاتح ربوہ مولانا منظور احمد چنیوٹی کا بیان:-

ان علماء کی تقریروں کے بعد سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی نے قادیانیت کا پوری طرح پوسٹ مارٹم فرمایا آپ نے کہا مجھے پہلی بار ناروے آنے کا موقعہ ملا ہے میں اس کانفرنس میں حضور خاتم النبین ﷺ کی سیرت بیان کرنے آیا تھا لیکن بہت افسوس سے کہتا ہوں کہ جونہی میں انگلینڈ پہنچا مرزا طاہر نے روزنامہ ”جنگ لندن“ کی ۳ اگست کی اشاعت میں میرے خلاف میرا نام لیکر مباہلہ کا موضوع چھیڑ دیا۔ میں بات کو مختصر کرنے کیلئے وقت مقرر کر کے علماء کی ایک پوری جماعت کے ساتھ ہائیڈ پارک لندن پہنچ گیا۔ لیکن اپنے ابا مرزا محمود کی طرح نہ تو مرزا طاہر آیا اور نہ اس کا کوئی نمائندہ یہ وہ حالات ہیں جنہوں نے میری تقریر کا رخ آج سیرت مصطفےٰ ﷺ سے رد قادیانیت کی طرف پھیر دیا ہے مرزا طاہر کو میرا مباہلہ کا چیلنج کوئی آج کی بات نہیں ۴۰ سال پہلے میں نے اس کے باپ مرزا بشیر الدین محمود کو ۶ جنوری ۱۹۵۶ء کو مباہلہ کی دعوت دی تھی ان کی جملہ شرائط پوری کرنے کے بعد دریائے چناب کے دو پلوں کے درمیان جگہ مقرر ہوئی راقم مع اپنے رفقاء مقررہ تاریخ ۲۶ فروری ۱۹۵۳ء پر وہاں پہنچ گیا لیکن قادیانی سربراہ یا اس کا کوئی نمائندہ وہاں نہ پہنچا یہ قادیانیوں کی

صفحہ 26

مناظرہ ناروے

میرے مقابلہ میں میدان مباہلہ میں پہلی شکست تھی پھر ہر سال اسی تاریخ یعنی ٢٦ فروری کو اسے مباہلہ کی دعوت دی جاتی اور فتح مباہلہ کی یاد منائی جاتی۔ یہاں تک کہ مرزا محمود عبرتناک موت کا شکار ہوا۔ پھر اسکے جانشین مرزا ناصر کو ہر سال مباہلہ کی دعوت دی گئی۔ لیکن اسے بھی میدان مباہلہ میں آنے کی جرات نہ ہو سکی۔ پھر جب قادیانی جماعت کا موجودہ سربراہ مرزا طاہر جانشین مقرر ہوا تو ۱۹۸۳ء میں اسے بھی دعوت مباہلہ دی لیکن وہ پاکستان سے بھاگ کر لندن میں پناہ گزین ہو گیا۔ میں اس کے تعاقب میں لندن پہنچا اور اسے مناظرہ اور مباہلہ کا کھلا چیلنج دیا لیکن اسے آج تک میدان مباہلہ میں آنے کی جرات نہیں ہوئی۔ مولانا چنیوٹی نے کہا کہ شرعی مباہلہ ایک میدان میں فریقین کا جمع ہو کر اکٹھے بددعا کرنے کا نام ہے گھر بیٹھ کر دعا کرنا مباہلہ نہیں کہلاتا یہ شرعی مباہلہ سے کھلم کھلا فرار ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے نجران کے عیسائیوں کو مباہلہ کی دعوت دی تھی اور مباہلہ کے لئے تیار ہو گئے تھے لیکن نصرانی میدان میں نہ آسکے۔ مولانا چنیوٹی نے ناروے کے قادیانیوں کو للکارتے ہوئے پرجوش آواز میں کہا کہ حق و صداقت کے فیصلہ کے لئے اپنے سربراہ کو میرے مقابلہ میں میدان مباہلہ میں نکال لائیں اور پھر قدرت خدا کا تماشہ دیکھیں مولانا نے کہا کہ ضیاء الحق شہید عالمی سازش کا شکار ہوا ہے جسمیں قادیانی بھی شریک ہیں وہ مرزا طاہر کے مباہلہ کا شکار نہیں ہوا۔ جیسا کہ اس نے دعویٰ کیا ہے کیونکہ ضیاء الحق شہید کا تو اس سے مباہلہ ہوا ہی نہیں۔ مولانا چنیوٹی نے کہا کہ قادیانی دنیا بھر میں اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹ کر کئی قسم کے مفادات اٹھاتے ہیں میں مرزا طاہر کو چیلنج دیتا ہوں کہ وہ کسی فورم پر آکر میرے ساتھ بحث کرلے کہ آیا وہ ظالم ہیں یا مظلوم‘ وہ پاکستان میں رہتے ہوئے آئین پاکستان کی کھلم کھلا بغاوت کر رہے ہیں‘ نہ تو وہ بطور غیر مسلم ووٹ بنواتے ہیں‘ نہ مردم شماری میں حصہ لیتے ہیں‘ نہ اسمبلیوں میں اپنی مقرر کردہ سیٹیں لیتے ہیں لیکن اپنے مسلمان ہونے پر مصر ہیں جو آئین پاکستان سے صریح غداری ہے۔ آخر میں مولانا چنیوٹی نے کہا کہ قادیانی تمام امت مسلمہ کی تکفیر کرتے ہیں اسی لئے مسٹر ظفر اللہ نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا جنازہ نہ پڑھا مرزا قادیانی نے اپنے بڑے بیٹے فضل احمد کا جنازہ نہ پڑھا کیونکہ وہ اس پر ایمان نہ لایا تھا مولانا چنیوٹی نے مرزا طاہر سے سوال کیا کہ وہ دو ٹوک جواب دے کہ ڈیڑھ

صفحہ 27

مناظرہ ناروے

ارب مسلمانوں کو جو اسکے دادا مرزا قادیانی پر ایمان نہیں لائے مسلمان سمجھتا ہے یا کافر؟

مولانا چنیوٹی کا مرزا طاہر کو مباہلہ کا آخری چیلنج

پچھلے سال مرزا طاہر کے جھوٹ کی قلعی کھولنے کیلئے جو ہائیڈ پارک لندن میں آکر مباہلہ کرنے کی دعوت دی تھی۔ جسکا اعلان اخبارات اور بی۔بی۔سی لندن کی نشریات میں ٹی۔ وی کے ذریعہ بھی کیا گیا تھا۔ مرزا طاہر یا اسکے کسی نمائندہ کا ہائیڈ پارک لندن میں نہ آنے سے پوری دنیا میں اسکا جھوٹ آشکارا ہو گیا۔ جس کے اسکے انٹرنیشنل جھوٹے ہونے پر مہر تصدیق ثبت ہو گئی روزنامہ جنگ لندن اور بی۔بی۔سی نے قادیانی سربراہ مرزا طاہر کی اس شکست اور فرار کی پوری دنیا میں تشہیر کردی جو اسکی ذلت و رسوائی کا باعث بنی۔ اس سال سالانہ کانفرنس کے موقع پر وہ بڑا محتاط ہو گیا۔ اور اس قسم کی کوئی ڈینگ نہیں ماری مولانا چنیوٹی نے جھوٹے کو اسکے گھر پہنچانے کیلئے اُسے آخری چیلنج کیا کہ آپ اپنی اور اپنے دادا کی صداقت ثابت کرنے کیلئے ہائیڈ پارک لندن میں مباہلہ کیلئے آنے کی جرات نہیں کر سکے۔ تو میں آپکے گھر آپکے مرکز میں آکر مباہلہ کرنے کیلئے تیار ہوں۔

آپ تاریخ اور وقت کا تعین کر کے مجھے جلد اطلاع دیں میں انتظار کرونگا۔ یہ چیلنج بذریعہ اشتہار روزنامہ ”جنگ لندن“ مورخہ ....... میں شائع کیا گیا جسے اب دو ماہ سے زیادہ عرصہ ہو رہا ہے اور ابھی تک مرزا طاہر کیطرف سے کسی قسم کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اور مولانا ظفر علی خان مرحوم کا مشہور شعر ایک دفعہ پھر حقیقت بنکر سامنے آگیا۔

وہ بھاگتے ہیں اسطرح مباہلے کے نام سے
فرار کفر جس طرح ہو بیت الحرام سے
صفحہ 28

مناظرہ ناروے

قادیانی سربراہ مرزا طاہر کو کھلا چیلنج

10 الزامات

تمام قادیانیوں کو دعوت فکر ہے کہ وہ ان کی تحقیق کریں۔

انہیں جھوٹا، گالی دینے والا، شرابی اور فاحشہ عورتوں اور کنجریوں سے ملنے والا۔ انکی تین نانیاں، دادیاں (نعوذ باللہ) زناکار، کسبی عورتیں تھیں ” تحریر کیا ہے یا نہیں؟ اور اپنے آپ کو ایک تشریعی نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے تمام شان میں بڑھ کر قرار دیا ہے یا نہیں؟

گستاخی کی ہے یا نہیں؟ کیا اس نے سید نا علی، سید نا حسین اور خاتون جنت حضرت فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخیاں کی ہیں یا نہیں ؟ اور اپنے آپ کو ان سے افضل قرار دیا ہے یا نہیں؟

معجزات کو زیادہ قرار دیکر اپنی برتری کا دعویٰ کیا ہے یا نہیں؟ اور کیا اسنے خود محمد ہونے کا دعویٰ نہیں کیا؟

صفات میں کہا ہے یا نہیں؟ کیا یہ شرک کا ارتکاب نہیں؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ ماننے کو شرک عظیم کہ کر اسنے صحابہ کرام، تابعین عظام اور کروڑوں اربوں مسلمان۔ مفسرین، محدثین۔ فقہائے امت۔ اولیائے کرام کو مشرک عظیم بنایا یا نہیں؟ اور باون سال کی عمر تک اس عقیدہ کی قرآن حدیث کی روشنی میں اشاعت کر کے خود بھی شرک عظیم کا مرتکب ہوا یا نہیں؟

PDF 33

کہ اسنے دعویٰ کیا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ مسیح موعود چودھویں صدی کے پر آئے گا اور تمام انبیاء کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگادی ہے کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر اور نیز یہ کہ وہ پنجاب میں ہو گا۔ سو مرزا قادیانی نے حضور پر جھوٹ بول کر کروڑوں‘ اربوں مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے یا نہیں اور یہ جھوٹ بول کر اس نے لوگوں کو دھوکہ دیا ہے اس پر وہ دجال ہوا یا نہیں؟

نہیں؟ کیا کسی نبی نے کسی انسان سے دینی تعلیم حاصل کی؟

ہی بتائیں کہ اسے انگریز نے نبی بنایا یا خدا نے؟ اب وہ انگریز کا خود کاشتہ پودا ہوا یا نہیں؟

مسلمانوں کو جو اس پر ایمان نہیں لائے جہنمی غیر مسلم‘ کافر اور کنجریوں کی اولاد کہا یا نہیں؟ کیا یہ زبان کسی شریف آدمی کی ہو سکتی ہے؟

تھا۔ اسی طرح پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ قادیانی نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور دیگر کسی سربراہ کا کبھی جنازہ نہیں پڑھا تھا آخر کیوں؟ کیا اب مسلمان انکے کسی فرد کا جنازہ پڑھنے کے لیے راضی ہو سکتے ہیں؟

کبھی کسی سے مباہلہ نہ کریں گے کیا خدائی نمائندے ایسے ”معاہدے“ غیر مسلم حکومتوں کے مشورے سے کیا کرتے ہیں؟ پھر مرزا طاہر نے مباہلہ نامی پمفلٹ لکھ کر اپنے دادا کے عہد کی خلاف ورزی کی یا نہیں؟ کیا مرزا طاہر اب مرزا قادیانی کا پیروکار اور جانشین رہا یا اس کا باغی ہوا؟

PDF 34

چیلنج

ہم ان الزامات کی تحقیق کے لیے مسلمانوں اور قادیانیوں کی ایک مجلس کی تجویز پیش کرتے ہیں اور قادیانیوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ جہاں چاہیں مرزا طاہر سے نمائندگی لے کر ہم سے ان موضوعات پر اس مجلس میں گفتگو کرلیں۔ ان باتوں کے متعلق تمام حوالہ جات ہمارے پاس موجود ہیں۔

منجانب :۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی سیکرٹری جنرل انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ

نوٹ۔ یہ اشتہار ناروے میں وسیع پیمانہ پر چھپوا کر قادیانیوں میں تقسیم کیا گیا ان دس باتوں میں وہ کسی ایک بات کو بھی چیلنج نہیں کر سکے۔ مرزا طاہر کو چاہیے کہ وہ اپنے پیرووں کو ان الزامات کی تحقیق کرنے کی اجازت دیں۔

PDF 35

مصنف ایک نظر میں

مولانا منظور احمد چنیوٹی ۳۱ دسمبر ۱۹۳۱ء کو چنیوٹ کے راجپوت گھرانہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم چنیوٹ سے حاصل کی۔ ۱۹۵۱ء میں مزید تعلیم کیلئے جامعہ اسلامیہ ٹنڈو الہ یار سندھ سے دورہ حدیث اور دیگر مدارس سے تفسیر ، رد رفض اور رد قادیانیت کے خصوصی کورس کئے۔ ۱۹۵۲ء سے تدریسی سلسلہ شروع کیا۔ ۱۹۵۴ء میں جامعہ عربیہ ، ۱۹۷۰ء میں ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ ، ۱۹۹۰ء میں ادارہ دعوت وارشاد امریکہ اور ۱۹۹۱ء میں انٹرنیشنل ختم نبوت یونیورسٹی چنیوٹ میں قائم کی۔ اور ۱۹۹۵ء میں مدرسہ عائشۃ للبنات کی بنیاد رکھی۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے روح رواں تھے پہلی بار ۲۲ سال کی عمر میں چھ ماہ کیلئے گرفتار ہوئے۔ اب تک گیارہ مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر چکے ہیں۔ رد قادیانیت کیلئے آپکی خدمات کو پوری دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ آپ کو ۲۰ مرتبہ حج اور بیسیوں مرتبہ عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ ہزاروں غیر مسلموں کو مشرف بہ اسلام کرنے کی سعادت حاصل کی۔ رابطہ عالم اسلامی نے آپکی دینی خدمات کے اعتراف میں آپکو اپنے اخراجات پر کئی بار حج کرنے کی دعوت دی۔ عالم اسلام کے مقتدر مفتیان عظام سے فتویٰ حیات مسیح حاصل کیا۔ مختلف موضوعات پر متعدد ضخیم کتابیں اور ان گنت پمفلٹ شائع کئے۔ ۳۳ غیر ملکی دوروں کے علاوہ لا تعداد ملکی و غیر ملکی کانفرنسوں میں شرکت کی اور مقالہ جات پڑھے۔ اعلیٰ علمی قابلیت اور امت کے مسائل سے گہری دلچسپی کی بناء پر انجمن تبلیغ اسلام، مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، جمعیت علماء اسلام، مجاہدین احرار ، حرکۃ الانصار ، متحدہ علماء کونسل کے قابل قدر عہدوں پر بیک وقت فائز رہے تین مرتبہ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بلدیہ چنیوٹ کے چیر مین منتخب ہو کر اپنی دینی، انتظامی و سماجی صلاحیتوں کا لوہا بھی منوا چکے ہیں۔ اس وقت آپ پاکستان شریعت کونسل کے نائب امیر اور انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سیکرٹری جنرل کے عہدوں پر فائز ہیں۔

ابو عمار زاہد الراشدی