قادیانیت شکن · محمد طاہر رزاق
Qadyaniyat Shikan · Tahir Abdul Razzaq
PDF 1

قادیانیت

Mujtaba

برطانیہ اسرائیل امریکہ بھارت

قادیانیت شِکن

مُحَمَّد طاہر رزاق

PDF 2

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

قادیانیت شکن

ترتیب و تدوین

محمد طاہر رزاق

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ملتان ☎ 40978

صفحہ 3

انتساب

اللہ تعالیٰ کے نام ــــــــــــــــــــــــ

جس نے مرزا قادیانی کو ”ٹٹی خانہ“ میں مارا۔

صفحہ 4

آئینہ مضامین

صفحہ

صفحہ 5

پہلا پتھر

فتنہ قادیانیت ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہت فتنہ ہے۔ اگر اسے ایک سمت سے دیکھیں تو یہ جھوٹی نبوت کا خار زار وجود لیے نظر آتا ہے‘ دوسری سمت سے دیکھیں تو یہ مسلمانوں کے قلب سے جذبہ جہاد نکالتا اور ان کے پاؤں میں غلامی کی زنجیریں ڈالتا نظر آتا ہے۔ تیسری سمت سے ملاحظہ کریں تو یہ کتاب اللہ اور احادیث رسولؐ کو مسخ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ چوتھی سمت سے جائزہ لیں تو یہ مسلمانوں کی ملی وحدت کو ٹکڑوں میں بانٹتا نظر آتا ہے۔ پانچویں سمت سے نظر ڈالیں تو یہ اپنی زہریلی زبان سے خاتم الانبیاء جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخیوں کے طوفان اٹھاتا نظر آتا ہے۔ چھٹی سمت سے نگاہ دوڑائیں تو یہ وطن عزیز پاکستان کی جڑیں کاٹتا ہوا نظر آتا ہے۔ آپ مختلف سمتوں اور جہتوں سے اسے دیکھتے جائیں‘ آپ کی آنکھوں کے سامنے اس فتنہ کی خطرناک سے خطرناک اور ہولناک سے ہولناک تصویریں آتی جائیں گی اور آپ مارے حیرت و خوف سے آنکھیں بند کرلیں گے اور چکراتا ہوا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیں گے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ فتنہ قادیانیت اس گول وجود والے سانپ کی طرح ہے‘ جس کے اپنی گولائی میں درجنوں منہ ہوں اور ہر منہ میں مختلف انتہائی سخت زہروں والی تھیلیاں ہوں اور وہ اپنی ضرورت کے تحت مختلف زہر استعمال کرتا ہو۔

میں نے اس فتنے کو قلم کے اڑنگے پر لا کر پٹخنیاں دی ہیں۔ حقیقت افروز ریگ مال سے اس کے منہ کی رگڑائی کر کے ملمع کاری کو اتارا ہے۔ بانی فتنہ قادیانیت کی دستار کے پیچ کھول کر اسے جھاڑا ہے‘ جبّے کے بخیے ادھیڑے ہیں‘ قلب سیاہ کی ای سی جی کی ہے‘ آنکھوں میں بیٹری کی لائٹ سے بے وفائی و بے حیائی چیک کی ہے‘ دماغ پر فتن کی سکیننگ کی ہے‘ سینہ پر کینہ کے ایکسرے لیے ہیں‘ رگوں میں دوڑنے والے خون غلیظ کا کیمیائی تجزیہ کیا ہے‘ حریص پیٹ کا الٹرا ساؤنڈ کیا ہے‘ زندگی کے خفیہ گوشوں کی ویڈیو کیسٹ چلائی ہے اور جگر میں قلم کا نشتر چبھو کر اس کی چیخیں سنائی ہیں۔

میری حقیقت نگاری سے تو انشاء اللہ کسی کو اختلاف نہیں ہوگا لیکن ممکن ہے کہ کسی کو

صفحہ 6

میرے اسلوب بیان سے اختلاف ہو، کسی کو میری جملہ سازی پر اعتراض ہو، کوئی میرے لفظوں کے انتخاب پر متفق نہ ہو۔ لیکن میں کیا کروں، میرے دل کے کسی گوشہ میں گستاخ رسول ہاشمی کے لیے کوئی لحاظ نہیں۔ میں کسی مرتد سے میٹھی اور رسیلی زبان میں گفتگو کرنے سے قاصر ہوں۔ میری زندگی کی لغت میں غدار ملت اسلامیہ کے لیے عزت کے القابات نہیں۔ میرا قلم کسی ایمان فروش اور وطن فروش کا نام لکھتے ہوئے احتجاج کیے بغیر آگے نہیں بڑھتا۔ آپ خود ہی بتائیے کہ مرزا قادیانی، جس کی فرد جرم کچھ یوں ہے:

خدائی کا دعویٰ کرنے کے جرم میں یہ فرعون، نمرود اور شداد ہے۔ نبوت کا دعویٰ کرنے کے جرم میں یہ اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب ہے۔ توہین رسالت کے جرم میں یہ ابو جہل، ابولہب اور ولید بن مغیرہ ہے۔ قرآن مجید میں تحریف کرنے کے جرم میں یہ یہودی و نصرانی ہے۔ صحابہ کرام کی توہین کرنے کے جرم میں یہ ابن سبا ہے۔ دین اسلام سے پھر جانے کے جرم میں یہ مرتد ہے۔ تعلیمات اسلامیہ کو مسخ کرنے کے جرم میں یہ زندیق ہے۔ حضرت علی کی توہین کرنے کے جرم میں یہ خارجی ہے۔ امام حسین کی شان میں بکواس کرنے کے جرم میں یہ شمر ہے۔ اسلام کو گالیاں دینے کے جرم میں یہ راجپال اور سلمان رشدی ہے۔ ظاہراً مسلمان اور باطناً کافر ہونے یعنی منافق ہونے کے جرم میں یہ عبداللہ ابن ابی ہے۔ خود کو انسان کا بچہ نہیں بلکہ کرم خاکی بننے کے جرم میں یہ ڈارون کی اولاد ہے۔ جھوٹی جنت بنانے کے جرم میں یہ شداد ہے۔

اور ملت قادیانیہ !

جس نے خلافت عثمانیہ کی تباہی پر قادیان میں چراغاں کیا۔ جس نے شاتم رسول راجپال کے قتل پر غازی علم الدین شہید پر تنقید کی۔ جس نے حد بندی کمیشن کے سامنے مسلمانوں سے ہٹ کر قادیان حاصل کرنے کے لیے اپنا الگ میمورنڈم پیش کیا، جس کے نتیجہ میں ضلع گورداسپور بھارت کے قبضہ میں چلا گیا اور بھارت کو کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرنے کا واحد زمینی راستہ مل گیا۔ جس کے نمائندہ وزیر خارجہ سر ظفر اللہ نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا نماز جنازہ اس لیے نہ پڑھا کیونکہ قادیانیوں کے نزدیک قائد اعظم کافر تھے۔

صفحہ 7

جس نے ایک گہری سازش کے ذریعے راولپنڈی میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو اس لیے قتل کروایا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ لیاقت علی خان راولپنڈی کے جلسہ عام میں سر ظفر اللہ کو وزارت خارجہ سے الگ کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔

جنہوں نے وطن عزیز میں اپنی الگ ریاست ”ربوہ“ کے نام سے بسائی اور اس میں بغیر اجازت مسلمانوں کا داخلہ ممنوع قرار دیا۔

جنہوں نے محض قادیان پہنچنے کے لیے 1965 کی جنگ شروع کرا دی اور ملک کا اقتصادی ڈھانچہ تباہ کر دیا۔

جن کے چھ سو فوجی اسرائیل کی فوج میں بھرتی ہیں۔

جنہوں نے مشرقی پاکستان کے سقوط پر بھنگڑا ڈالا اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔

جنہوں نے عالم اسلام کے عظیم محسن شاہ فیصل کی شہادت پر جشن منایا اور حلوے کی دیگیں تقسیم کیں۔

جنہوں نے کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کا ماڈل امریکہ پہنچایا۔

جس کے سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام نے وطن عزیز کی سرزمین کو ”لعنتی زمین“ کہا۔

جن کے نزدیک پاکستان کا تباہ ہونا ایک مذہبی عقیدہ ہے۔

ایسے لوگ کس سلوک کے مستحق ہیں؟ ان کے ساتھ ہمارا قومی و ملی برتاؤ کیسا ہونا چاہیے؟

اسلام تو مرتد' گستاخ رسول اور غدار کے لیے قلم کے ساتھ تلوار اٹھانے کا بھی حکم دیتا ہے۔ الحمدللہ امت محمدیہ کے اہل قلم نے تو اپنے ذمہ قلم کا فرض ادا کر دیا' لیکن ابھی تک ارباب حکومت کے ذمہ تلوار کا قرض باقی ہے۔ ارض وطن اور اہل وطن سراپا سوال بنے پوچھتے ہیں کہ ارباب بست و کشاد اپنا یہ فرض کب ادا کریں گے؟ جبکہ تلوار بھی ہے' مرتدوں اور زندیقوں کی گردنیں بھی ہیں اور ملک بھی اسلامی ہے!!!

اس کتاب کے تصنیفی سفر میں مجاہد ختم نبوت جناب فیاض اختر ملک' جناب محمد متین خالد اور جناب محمد صدیق شاہ' آغاز سفر سے اختتام سفر تک' میرے شریک سفر رہے اور راستے کی مشکلات سے نبرد آزما ہونے کے لیے میرے دست و بازو بنے رہے۔ یہ ان ہی کی محنت

صفحہ 8

شاقہ کا ثمر ہے کہ آج یہ کتاب منصہ شہود پر طلوع ہو چکی ہے۔ اس کتاب کے صفحے صفحے میں میرے ان دوستوں کی کوششوں کی خوشبو رچی بسی ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں دنیا و آخرت میں اپنے ہالہ رحمت میں محفوظ رکھے۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد میرے دوست جناب سید دلدار حسین شاہ اور جناب طاہر سلطان صاحب کی دیرینہ خواہش بھی پوری ہو گئی کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ فتنہ قادیانیت کے رد میں اس نہج پر بھی ایک کتاب لکھی جائے

اے میرے مالک و خالق!

اے سمیع و بصیر! تو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ۔۔۔ تو آنکھ جھپکنے کی صدا کو بھی سنتا ہے ۔۔۔ تو دلوں کی تہوں میں چھپے ہوئے ارادوں سے بھی واقف ہے ۔۔۔ تو دماغ کی پر پیچ وادیوں میں پوشیدہ نیتوں سے بھی آشنا ہے ۔۔۔ !!!

میرے رب! مجھے قادیانیوں سے کوئی ذاتی بغض و عناد نہیں ۔۔۔ میں نے قادیانیت اور بانی فتنہ قادیانیت کی سرجری کر کے جہاں ملت اسلامیہ کو اس فتنہ کی زہرناکیوں سے آگاہ کیا ہے‘ وہاں قادیانیوں کے لیے بھی باطل کے بہروپی لباس اتار کر باطل کے اصلی رنگ میں دکھانے کا اہتمام کیا ہے۔ دونوں پہلو فائدے سے بھرپور ہیں ۔۔۔ کیونکہ قادیانیت کو ماننا بھی جرم ہے اور قادیانیت کے خلاف جہاد نہ کرنا بھی جرم ہے!!!

اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سرعام رکھ دیا

محمد طاہر رزاق بی۔ایس سی‘ ایم۔اے (تاریخ) 13 اکتوبر 1993۔ لاہور

صفحہ 9

سامان شفاعت

جب عزیزان مکرم محمد متین خالد صاحب اور محمد طاہر رزاق صاحب میرے پاس تشریف لائے اور فرمائش کی کہ آپ نے ”قادیانیت شکن“ کے حوالے سے چند سطریں تحریر کرنا ہیں تو میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے، وجہ صاف ظاہر ہے کہ کتاب مذہبی نوعیت کی تھی اور میں عالم دین نہیں ہوں بلکہ بقول اکبر الہ آبادی

مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں
فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

لیکن جب میں نے ان بکھرے ہوئے مضامین پر سرسری نظر ڈالی تو مجھ پر انکشاف ہوا کہ اگرچہ کتاب اپنے باطن میں سنجیدہ مذہبی مباحث لیے ہوئے ہے اور یوں خاصی عالمانہ ہے لیکن اس کا انداز اتنا ثقہ نہیں جتنا مجھے خدشہ تھا، بلکہ خاصا کالمانہ ہے۔ ویسے بھی میں نے سوچا کہ حضور خاتم النبیینؐ کی نبوت پر حملہ آور ہونے والوں کے سامنے اگر کوئی نوجوان سینہ سپر ہوتا ہے تو کیا میرا اتنا حق بھی نہیں کہ میں ایک طشتری میں لفظوں کے پھول رکھ کر اس کی خدمت میں پیش کروں؟ سو یہ کوئی فلیپ ہے نہ دیباچہ بلکہ لفظوں کی مالا ہے، جو میں نے اپنی شفاعت کے لیے تیار کی ہے!

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قادیانی مسئلہ بنیادی طور پر دینی مسئلہ ہے بلکہ اس کا تعلق براہ راست ہمارے ایمان سے ہے لیکن میں اسے سیاسی حوالے سے بھی دیکھتا ہوں میرے نزدیک بدبخت انگریز نے ہندوستان میں اپنے غاصبانہ قبضے کو مضبوط کرنے اور اسلام سے اپنی ازلی دشمنی کے اظہار کے لیے جہاں اور بہت سے اقدامات کیے وہاں مرزا غلام احمد صاحب کے گلے میں ”انگریزی نبوت“ کا ”طوق“ بھی ڈالا۔ چنانچہ موصوف نے مسلمانان ہند کو بے روح بنانے کے لیے پہلا کام یہ کیا کہ جہاد کو منسوخ قرار دے ڈالا تاکہ ہندوستان کے تخت و تاج کے وارث مسلمان انگریز کی غلامی کو

صفحہ 10

مذہبی بنیادوں پر بھی تسلیم کر لیں، صرف یہی نہیں بلکہ موصوف نے انگریزوں کے جو قصیدے لکھے، وہ اتنے افسوسناک ہیں کہ انہیں پڑھتے ہوئے ایک آزادی پسند انسان کا خون کھولنے لگتا ہے، ایک اور کام جو مرزا غلام احمد صاحب نے کیا، وہ اسلام سے وابستہ مقدس اصطلاحات، القاب، مقامات اور شخصیات کے مقابلے میں ایک ڈمی عمارت استوار کرنا تھا۔ چنانچہ خود کو نبی، اپنی بیگمات کو امہات المومنین، اپنے حواریوں کو صحابی اور اپنے جانشینوں کو خلفاء قرار دینے کے علاوہ وہ تمام القاب اور اصطلاحیں بھی بے دریغ استعمال کیں جو صرف حضورؐ اور ان سے وابستہ دوسری مقدس ہستیوں سے مخصوص تھیں۔ صرف یہی نہیں کہ انہوں نے امت محمدیہ کے مقابلے میں ایک ڈمی امت کھڑی کرنے کی کوشش کی بلکہ مسلمانوں کو کافر بھی قرار دے ڈالا۔ مرزا بشیر الدین محمود سے ایک قادیانی نے سوال کیا کہ ”اگر کسی ”غیر احمدی“ کا معصوم بچہ انتقال کر جائے تو کیا اس کی نماز جنازہ جائز ہے؟“ مرزا بشیر الدین نے جواب دیا ”اگر کسی عیسائی یا ہندو کا معصوم بچہ فوت ہو جائے تو کیا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے؟“ چنانچہ یہ غلط فہمی ہے کہ مرزائیوں کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے میں مسلمانوں نے پہل کی، حقیقت یہ ہے کہ اس سے بہت عرصہ قبل یہ لوگ الٹا مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے خارج کر چکے تھے۔

انگریز استعمار کے اشارے پر عالم اسلام کے خلاف یہ گھناؤنی سازش مرزا غلام احمد صاحب نے تیار کی اور ”قادیانیت شکن“ اس لحاظ سے واقعی ”قادیانیت شکن“ ہے کہ انگریز کے آلہ کار ”نبی“ کا پوسٹ مارٹم ”ڈاکٹر“ محمد طاہر رزاق صاحب نے پوری بے دردی سے کیا ہے۔ ان کے قلم میں بلا کی کاٹ ہے اور ان میں ایک باقاعدہ طنز نگار بننے کے پورے امکانات موجود ہیں— مرزا غلام احمد صاحب اور ان کے حواریوں نے حضور نبی اکرمؐ، امہات المومنینؓ اور صحابہ کرامؓ کے حوالے سے انتہائی گستاخانہ زبان استعمال کی ہے اور ”قادیانیت شکن“ کا لہجہ غالباً اس کا فطری ردعمل ہے۔ جب آپ دنیا کی مقدس ترین ہستیوں کے خلاف زبان طعن دراز کریں

صفحہ 11

گے تو پھر شکایت کرنے کے بجائے اس کے ردعمل کا سامنا کرنے کے لیے بھی آپ کو تیار ہونا چاہیے۔ تاہم میری دیانت دارانہ رائے یہ ہے کہ اس کتاب کی تاثیر میں مزید کئی گنا اضافہ ہو سکتا تھا اگر نوجوان طاہر رزاق بعض مقامات پر اپنے غصے کو قابو میں رکھنے پر کامیاب ہو جاتے۔ —— موجودہ صورت میں بھی ”قادیانیت شکن“ ان مسلمانوں کے لیے ایک تحفے سے کم نہیں جو انگریز کے خود کاشتہ اس پودے کے زہریلے پھلوں کے ذائقے سے نا آشنا ہیں۔ محمد طاہر رزاق حب رسولؐ سے سرشار ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہیں، انہوں نے حضورؐ کی شفاعت کے لیے پوری عرق ریزی کے ساتھ یہ کتاب تحریر کی ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضور نبی اکرمؐ کے صدقے میں ان کی یہ کاوش قبول فرمائے!

عطاء الحق قاسمی (8 اکتوبر 1993)

صفحہ 12

جھوٹے ”طاہر“ کے مقابلہ میں سچا ”طاہر“

عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور محاسبہ قادیانیت کے محاذ پر کام کرنے والوں کے لیے عزیزم طاہر رزاق کی ذات محتاج تعارف نہیں۔ انہوں نے قلمی میدان میں قادیانی فتنہ کے ناپاک عقائد اور ارتدادی عزائم کو بے نقاب کرنے میں ایک ایسے سرجن کا کردار ادا کیا ہے‘ جس کے نشتر کی کسک سے یقیناً فتنہ ارتداد کے بانی کی روح بھی تڑپ اٹھی ہوگی۔ تردید مرزائیت کے ضمن میں دو سال قبل طاہر رزاق کے 13 چھوٹے بڑے کتابچے‘ پمفلٹ‘ 320 صفحات پر مشتمل کتاب ”تحفظ ختم نبوت“ کی صورت میں شائع ہوچکے ہیں۔ یہ موصوف کی دوسری پیشکش ہے‘ جس میں مزید لکھے گئے 15 کتابچے شامل ہیں۔ یہ دونوں کتابیں مرصع و مسجع تحریروں کی باراتیں ہیں۔ جس سج دھج سے طاہر رزاق اپنی تحریروں کو منظر عام پر لائے ہیں‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے جانفشانی‘ عرق ریزی اور محنت و ریاضت میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ عزیزم کی اولین تحریریں سنجیدگی‘ متانت‘ دلائل و شواہد کا مجموعہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے بھرپور دلی جذبات کی آئینہ دار بھی ہیں۔ دوسرے راؤنڈ میں طاہر رزاق نے عصر جدید کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے‘ خصوصاً نوجوانوں کے ذہن‘ مزاج اور پسند کے عین مطابق انہیں سامراجی تحریک کے مضمرات سے باخبر کیا اور انہیں دعوت عمل کا پیغام بھی دیا۔

قادیانیت کی دینی‘ سیاسی‘ علمی اور قلمی تاریخ میں بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں لیکن طنز و مزاح کی دنیا میں سب سے پہلے خانہ ساز نبوت کی خم ٹھوکنے کا اعزاز حاصل کرنے والی شخصیت طاہر رزاق کی ہے۔ اس لحاظ سے وہ نئے رنگ‘ نئے ڈھنگ اور نئے اسلوب کے بانی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جھنگ کے معروف ناول نگار جناب

صفحہ 13

اشتیاق احمد صاحب نے کچھ مدت پہلے اسلام اور وطن دشمن قادیانی جماعت کی انڈر گراؤنڈ سرگرمیوں کو افسانوی رنگ میں بیان کیا تھا لیکن وہ مستقل طور پر اس سلسلہ کو آگے نہ بڑھا سکے۔ طاہر رزاق نے اب تک بیسیوں کتابچے تحریر کیے ہیں۔ ان کے قلم کا شوق سفر جاری ہے۔ طاہر کی تحریریں پختگی و شستگی، رعنائی و توانائی، نکھار و بہار، بانکپن و برجستہ پن، جوش و خروش اور ولولہ و ہمہمہ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

موصوف کے اکثر و بیشتر کتابچوں میں قادیانی فتنہ کے عقائد باطلہ، اس کی مکروہ سازشوں، ناپاک عزائم اور ریشہ دوانیوں کو منظر عام پر لانے کے لیے، طنز و مزاح کا ایسا دلکش انداز اختیار کیا ہے کہ ان کی نثری تحریروں میں ندرت اور جدت کا حسن دو آتشہ ہو گیا ہے۔ قادیانیت کے قلمی جہاد میں طاہر کے قلم میں طنز بھی ہے، مزاح بھی، تنقید اور تنقیص بھی، گرفت اور جارحیت بھی۔۔۔ ان کے قلم کی کاٹ تلوار سے کم نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض جگہوں پر ان کی ضربات کلیمی سے مرزائیت پھڑپھڑاتی نظر آتی ہے۔ طاہر رزاق کا قلم ارتداد کے خلاف سیف اللہ کی تلوار اور باطل کے خلاف حق و صداقت کی یلغار ہے۔

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ کتابچے، پمفلٹ وقت کے ساتھ ساتھ ضائع ہو جاتے ہیں۔ طاہر رزاق نے علم و ادب کے موتیوں کی مالا کو یکجا کر کے بکھرنے سے بچانے کا جو فریضہ سرانجام دیا ہے، وہ بھی لائق صد تحسین ہے۔ زیر نظر کتاب میں اچھوتے عنوانات کے تحت شوخی تحریر سے مزین کتابچے موضوع کی حشر سامانیاں لیے اور الفاظ کی میناکاری سے قاری کو مسحور کر دیتے ہیں۔ طاہر رزاق کی ضبط تحریر کے چھوٹے چھوٹے کتابچے، علم و ادب کے سمندر میں علمی و ادبی جزیروں کی مانند نظر آتے ہیں۔ میرے مشاہدہ کے مطابق یہ نوجوان نسل کے لیے جاذب نظر اور ذوق مطالعہ کے لیے سرمایہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تیزی سے مقبول ہونے والے طاہر رزاق کے قلمی کتابچے مرزائیت کے لیے راکٹ لانچر اور میزائل کا درجہ رکھتے ہیں، جو جھوٹی نبوت کے خرمن کو خاکستر کرنے کی پوری پوری صلاحیت

صفحہ 14

رکھتے ہیں۔ عزیزم طاہر حضرت داغ سے معذرت کے ساتھ کہہ سکتے ہیں۔

پڑا فلک کو کبھی دل جلوں سے کام نہیں
جلا کے خاک نہ کر دوں داغ نام نہیں

طاہر رزاق کا زرخیز دماغ بلاشبہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عشق کا مرہون منت ہے۔ عقیدۂ ختم نبوت کے محاذ پر طاہر رزاق اور محمد متین خالد جیسے ایثار پیشہ اور پیکر اخلاص مجاہدوں کا کردار اور ان کی شبانہ روز محنت حضور اکرم فداہ امی و ابی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نظر کرم کا نتیجہ ہے۔۔۔ اس لحاظ سے وہ بلاشبہ خوش نصیب ہیں۔۔۔ اور ان کی نسبت سے ہم بھی خوش قسمت ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جھوٹے ”طاہر“ کے مقابلہ میں سچا ”طاہر“ عطا فرمایا ہے۔

طالب دعا صاحبزادہ طارق محمود ایڈیٹر ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد

صفحہ 15

مریض الملت

جب کوئی ہم سے پوچھتا کہ لکھنے کے لیے کیا چاہیے ہوتا ہے تو ہم کہتے کاغذ اور قلم۔ مگر اب پتہ چلا ہے کہ لکھنے کے لیے علم بھی چاہیے ہوتا ہے۔ محاورہ ہے لاعلمی ہزار نعمت ہے اور واقعی اگر طاہر رزاق کو ہمارا علم نہ ہوتا تو ہم اس محاورے پر یقین کر لیتے لیکن طاہر رزاق صاحب نے ہماری لاعلمی میں اضافہ کرنے کے لیے ہمیں مرزا قادیانی کی شخصیت سے متعارف کروایا‘ جو نہ ہی کراتے تو ہم اور مرزا دونوں کے لیے بہتر ہوتا۔ مرزا کا نام سنتے ہی ہماری آنکھوں کے سامنے جو تصویر آتی ہے‘ وہ صاحبان کی ہوتی ہے۔ مگر طاہر رزاق صاحب نے جو تصویر کشی کی ہے‘ اسے دیکھ کر لگتا ہے مرزا صاحب کو خدا نے نہیں بلکہ پی ڈبلیو ڈی والوں نے بنایا تھا۔ ہمیں ان میں صرف یہی خوبی نظر آئی کہ وہ زندہ نہیں ہیں۔ طاہر رزاق صاحب نے ان پر یوں روشنی ڈالی ہے کہ وہ جتنی روشنی ڈالتے ہیں اتنا اندھیرا واضح ہوتا جاتا ہے۔ انہوں نے ہمیں اس شخصیت پر لکھوانے کے لیے جتنی محنت کی‘ اتنی محنت سے تو ہم لکھتے بھی نہیں۔ ہمیں یہ سمجھ نہ آتی تھی کہ آخر طاہر رزاق اس کتاب پر ہم سے فلیپ کیوں لکھوانا چاہتے ہیں لیکن جب پمفلٹ ”بیماریوں کا عالمی چیمپئن“ پر ”طاہرانہ نظر“ ڈالی تو پتہ چلا کہ طاہر صاحب نے بحیثیت ڈاکٹر ہمارا انتخاب کیا ہے۔ ویسے بھی ہم ایسے ڈاکٹر ہیں کہ ہمارے پاس جو آ جائے پھر وہ بیماری سے نہیں مرتا‘ دوائی سے مرتا ہے۔ ڈاکٹروں کو ویسے بھی تندرست آدمی اچھے نہیں لگتے۔ مگر اس مریض الملت القادیانیہ کا ذکر پڑھ کر تو یوں لگا جیسے وہ بیماریوں میں مبتلا نہ تھے‘ بیماریاں ان میں مبتلا تھیں۔ مگر طاہر رزاق صاحب لکھتے لکھتے ساتھ علاج بھی کرتے جاتے ہیں۔ مگر پڑھنے والوں کا مذہبی لوگوں کے

صفحہ 16

بارے میں علم اتنا ہی ہے جتنا مرزا ایسے مذہبی لوگوں کا مذہب کے بارے میں ہے۔ مرزا قادیانی کے احسانات میں سے ہمیں صرف ایک کا ہی پکا پتہ ہے کہ وہ مر چکے ہیں۔ سنا ہے وہ اپنی زندگی میں ہی مر گئے تھے۔ پیشہ نبوت تھا۔ ایک خاص جگہ پر تشریف رکھتے تو ان پر ”وحی“ اترتی‘ اسی جگہ پر انتقال فرمایا۔ دنیا میں جو جھوٹے نبی گزرے ہیں‘ وہ ان میں سب سے جھوٹے ہیں۔

ڈاکٹر یونس بٹ روزنامہ ”جنگ“ لاہور

صفحہ 17

مذہبی دنیا کا چارلی چپلن

قادیانیت اور اس کے بانی علیہ ماعلیہ کی شخصیت و افکار کے بارے میں لکھنے کے لیے پطرس بخاری کی ذہانت، مشتاق احمد یوسفی کے خامہ گلرنگ اور میکسم ایسے ماہر فن کارٹونسٹ کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اس کوکب ارضی کے کسی عام باسی کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ دور حاضر کی اس عجوبہ روزگار ہستی کے خدوخال کی تصویر کشی کر سکے، جس نے ہندوستان میں نبوت کا دعویٰ کیا، پھر ”خدا کی بارش کی طرح متواتر وحی“ سے وہ اس الجھن میں پھنس کر رہ گیا کہ وہ صوفیانہ اصطلاح میں لغوی، ظلی یا بروزی نبی یعنی مجدد وقت ہے یا صاحب شریعت نبی۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ سلسلہ انبیاء تو ختمی المرتبت صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے انجام کو پہنچ چکا، سو کیا کیا جائے۔ اس لیے ایک طرف تو یہ کہا کہ شریعت، اوامر و نواہی کا مجموعہ ہی تو ہوتی ہے اور یہ احکام میری وحی میں بھی موجود ہیں۔ پھر خدشہ ہوا کہ میں تو صاحب کتاب نہیں، کیا کروں؟ عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے۔ اس کا حل یہ نکالا کہ نبی کے لیے کتاب ضروری نہیں۔ اگر وہ پہلی شریعت کے کسی ایک حکم کو منسوخ کر دے تو یہ بھی شریعت ہے۔ مگر پھر اس دہشت نے آلیا کہ محض جہاد کو منسوخ کرنے سے نبی نہ بن سکوں گا، اس لیے بلاسوچے سمجھے لغوی، ظلی اور بروزی نبی کی اصطلاحات کو نبوت کے معنوں میں استعمال کرتے ہوئے اپنے اور اپنی جماعت کے ازالہ اوہام کے لیے ”ایک غلطی کا ازالہ“ نامی کتابچہ لکھا لیکن اپنے ذہنی خلجان سے اسے ”ایک غلطی کا اضافہ“ بنا دیا۔ اس سے بھی اطمینان نہ ہوا تو؎

میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
صفحہ 18

کے نعرے لگاتا ہوا مسیح وقت اور مہدی دوراں بن بیٹھا۔ جب کہا گیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام تو دو زرد چادروں میں لپٹے ہوئے چرخ نیلی فام سے نزول فرمائیں گے، تو ایک طرف تو اپنے آپ کو مثیل مسیح کہنا شروع کر دیا اور دوسری جانب حضرت مسیح علیہ السلام کی طبعی موت اور سری نگر، کشمیر میں ان کی قبر کی موجودگی پر ایک کتاب لکھ ماری۔ کیونکہ جب تک یہ کرسی خالی نہ ہو اس پر بیٹھنا ممکن نہ تھا۔ مرزا غلام احمد کی امت اس سے بھی دو قدم آگے گئی اور اس نے ”ٹیورن“ سے دریافت ہونے والے ایک کفن اور اس پر زخم کے نشان کو مرزا غلام احمد کے مذکورہ بالا انکشاف کے حق میں پیش کرتے ہوئے اس پر بلاشبہ اربوں روپے خرچ کیے اور اس کی اتنی تفصیل چھاپی کہ شاید ہی نظارت اصلاح و اشاعت کی کوئی کتاب ایسی ہو، جس میں اس کا تذکرہ نہ ہو۔ مگر وائے افسوس کہ قادیانیوں کا یہ دجل بھی پاش پاش ہوگیا ہے اور گزشتہ سال سائنس دانوں نے اس کفن پر طویل ترین تحقیق کے بعد یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے مقدس نام کی طرف منسوب ہونے والا کفن بالکل جعلی ہے۔ قادیانی حکومت نے مرزا غلام احمد کو حامل شریعت نبی بنانے کے لیے کبھی اس کی رطب و یابس تحریروں کو پیش کیا، کبھی اس کے اضغاث و احلام کو ”تذکرہ“ یعنی مجموعہ الہامات کا نام دے کر اس کو صاحب کتاب بنانے کی جدوجہد کی، کبھی اس کے ”ملفوظات“ کو سیرۃ المہدی کے نام سے تین جلدوں میں اکٹھا کر کے صحیح بخاری و مسلم کی طرز پر اسے ”بیان کیا مجھ سے فلاں بن فلاں نے“ سے شروع کر کے انہیں احادیث کا درجہ دینے کی کوشش کی، کبھی ان کے سالا صاحب میر محمد اسمعیل نے اپنے رسالہ ”درود شریف“ میں ان کا کلمہ لا الہ الا اللہ احمد رسول اللہ درج کیا اور جب اس پر ہنگامہ اٹھنے کا ڈر پیدا ہوا، تو ان کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے لکھا کہ ہمیں کلمے میں محمد رسول اللہ کے الفاظ کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ جب ہم محمد رسول اللہ کہتے ہیں تو اس سے مراد ہی مرزا غلام احمد ہوتا ہے۔ بانی تحریک قادیانیت کی حضورؐ کی نبوت میں شرکت کی یہی ناپاک خواہش تھی، جس نے

صفحہ 19

اسے مسیلمہ پنجاب بنا دیا۔ اب قادیانی امت کے چوتھے گرو لندن میں بیٹھ کر ڈش انٹینا کے ذریعے اپنے حواریوں کو کرتب دکھا کر ان سے چندہ اینٹھ رہے ہیں اور مریدوں کے خون پسینے کی کمائی پر چھڑے اڑا رہے ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ قادیان کی معاشی نبوت کے ارکان خمسہ میں ہر طرف چندہ ہی چندہ دکھائی دیتا ہے۔ ”حقیقتہ الوحی“ کے سینکڑوں الہامات بھی دس یا بیس روپیہ کی ادنیٰ رقم کی آمد کے بارے میں ہیں‘ جن کی خبر ٹچی ٹچی فرشتہ عین وقت پر ٹچ کر کے دے جاتا ہے۔ خواجہ حسن نظامی مرحوم نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ہم نے قادیان میں نظارت امور عامہ کا معائنہ کیا۔ نشر و اشاعت اور تحریک جدید کے دفاتر دیکھے۔ غرض بہشتی مقبرہ پہنچے تو اسے سبزہ نورستہ کے اعتبار واقعی جنت معنوی پایا۔ لیکن ایک بات بڑی حیران کن تھی کہ اس کے تمام درختوں اور پیڑوں پر قطار اندر قطار بیٹھے ہوئے پرندے ایک ہی راگ الاپ رہے تھے‘ چندہ چندہ چندہ۔ اس مختصر سے جائزے سے آپ یقیناً اس نتیجے پر پہنچے ہوں گے کہ اگر چارلی چپلن مرزا غلام احمد کے عہد میں ہوتا تو ضرور اس کے قدموں میں بیٹھ جاتا اور مزاحیہ اداکاری میں اسے اپنا امام تسلیم کر لیتا۔ اس اداکاری کی جھلکیاں اگر آپ تحریری زبان میں دیکھنا چاہیں‘ تو طاہر رزاق کے مزاحیہ خاکوں‘ مضامین اور مواصلاتی سیارے کے ذریعے مرزا غلام احمد کے جہنم سے انٹرویو میں ملاحظہ فرمائیں‘ جو اب کتابی شکل میں آپ کے سامنے ہے۔

شفیق مرزا روزنامہ ”جنگ“ ”جنگ“ لاہور

صفحہ 28
PDF 21

قادیانی قاعدہ

مکتبہ محاسبہ قادیانیت

قادیانی بورڈ آف ڈائریکٹرز سے منظور شدہ

صفحہ 22

الف ۔ انگریز : انگریز فتنہ قادیانیت کا بانی چیئرمین ہے۔ اس فتنہ کے جملہ حقوق بحق انگریز محفوظ ہیں۔ آئینی طور پر اسے یہ حقوق حاصل ہیں کہ وہ جب چاہے مرزا قادیانی کی جگہ کسی اور کو نبی نامزد کر سکتا ہے۔ انگریز کا رنگ گورا اور دل کالا ہوتا ہے۔ جس شدت سے کتوں اور خنزیروں سے محبت کرتا ہے، اسی شدت سے مسلمانوں سے نفرت کرتا ہے۔ ٹب میں نہاتا ہے اور کھڑے ہو کر پیشاب کا شوق فرماتا ہے۔ شراب دیکھ کے اچھلتا ہے اور خنزیر کا گوشت دیکھ کے پھدکتا ہے۔ قادیانیوں سے اسے اتنا ہی پیار ہے جتنا ایک ستر سالہ دادی کو اپنے چھوٹے چھوٹے یتیم پوتوں سے ہوتا ہے۔ قادیانیوں کے دلوں میں اس کا وہی مقام ہے جو مسلمانوں کے دلوں میں اللہ کا۔ جھوٹی نبوت کی سب سے زیادہ نحوست اسی پر ہی پڑی کیونکہ اس کی وہ وسیع و عریض سلطنت، جس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، اب سمٹ سمٹا کر انگلستان تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور مزید سمٹنے کے لیے تڑپ رہی ہے۔

ب ۔ بہشتی مقبرہ : قادیانی نبوت کا سٹیٹ بنک ہے۔ اس کا مجاور جنرل مینجر اور گورکن ”لینڈ آفیسر“ کہلاتا ہے۔ یہاں جنت کے نام پر جہنم کی ایڈوانس بکنگ ہوتی ہے اور قادیانی بڑے ذوق و شوق سے یہاں اپنے مردے ”پارک“ کرتے ہیں۔ یہاں کی قبریں قادیانی رائل فیملی کے لیے سونے کی کانیں اور مردوں کے لیے جہنم کے گڑھے ہیں۔ بہشتی مقبرہ کو بڑی خوبصورتی سے سجا بجا کر رکھا جاتا ہے لیکن اس کا سارا حسن طوائف کا سنگھار ہے۔ قادیانی مردے کے عزیز و اقارب سے ”مردہ ٹیکس“ تو جنرل مینجر وصول کرتا ہے اور دفن ہونے کے بعد ہڈیاں اور گوشت سانپ اور بچھو وصول کرتے ہیں۔ جس دن بھی کوئی مردہ آتا ہے، اس دن فریقین بڑے خوش ہوتے ہیں۔ خوش کیوں نہ ہوں کیونکہ دونوں کے رزق کا مسئلہ ہے۔ بہشتی مقبرے کا بہشت سے وہی تعلق ہے جو مرزا قادیانی کا نبوت سے! بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کے لیے بے ایمان اور بے وقوف ہونا ضروری ہے۔ اسی لیے تو قادیانی وصیت کر کر کے اور جھگڑ

صفحہ 23

جھگڑ کے یہاں دفن ہوتے ہیں۔

پ سے پادری آتھم : ہندوستان میں جب مرزا قادیانی نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تو عیسائی دنیا کی خفتہ آنکھیں بھی کھلیں۔ فریقین کی آنکھیں چار ہوئیں اور ان میں کچھ سرخی آئی اور ہلکی ہلکی جھڑپیں شروع ہو گئیں اور پھر ان جھڑپوں میں تیزی آتی گئی۔ بات عام گفتگو سے شروع ہو کر مناظرے تک‘ مناظرے سے گالی گلوچ‘ گالی گلوچ سے اشتہارات اور اشتہارات سے فوجداری مقدمات تک پہنچی۔ ان ساری جھڑپوں میں سے سب سے مشہور جھڑپ مرزا قادیانی اور پادری آتھم کے درمیان ہونے والا تاریخی واقعہ ہے۔ پادری آتھم انتہائی کمزور صحت کا ایک بوڑھا عیسائی تھا جس کی مرزا قادیانی سے تلخی ہوتی رہتی تھی۔ جب اس تلخی نے شدت اختیار کی تو مرزا قادیانی‘ جو ہر معاملہ میں پیشگوئیاں کرنے کا عادی مجرم تھا‘ اس نے پادری آتھم کی طویل عمر اور انتہائی کمزور صحت دیکھتے ہوئے اندازہ کیا کہ پادری آتھم جلد ہی مرنے والا ہے‘ اس لیے اس نے شہرت حاصل کرنے کے لیے پیشگوئی جھاڑ دی کہ آتھم ۵ ستمبر ۱۸۹۴ء سے قبل مر جائے گا۔ پیشین گوئی پورے ہندوستان میں پھیل گئی اور لوگوں کی نظریں پادری آتھم پر مرکوز ہو گئیں اور وہ بے تابی سے اعلان کردہ تاریخ کا انتظار کرنے لگے۔ سادہ لوح قادیانیوں اور عیسائیوں میں شرطیں بندھ گئیں۔ مذکورہ تاریخ میں چند دن رہ گئے اور آتھم نہ مرا تو مرزا قادیانی نے اپنے پھسلتے ہوئے مریدوں کو قابو کرنے کے لیے انہیں صبح و شام رو رو کر دعائیں کرنے کے کام پر لگا دیا۔ گویا قادیانی آتھم کی موت کے لیے باجماعت رونے لگے۔ قادیانیوں کا پورا پورا گھر بلیوں کی طرح روتا۔ جب تھک جاتے‘ لیٹ جاتے اور پھر شروع ہو جاتے۔ مرزا قادیانی خود بھی شیطان کے سامنے پھوٹ پھوٹ کر رویا۔ جادو ٹونہ اور دیگر سفلی عملیات کیے لیکن آتھم نہ مرا۔ آخر ۵ ستمبر ۱۸۹۴ء کا سورج طلوع ہو گیا۔ مرزا قادیانی نے اپنے عقل فروش مریدوں سے کہا کہ تم فکر نہ کرو‘ آج کا سورج غروب ہونے سے قبل پادری

صفحہ 24

آتھم جہنم واصل ہو جائے گا۔ ۵؍ ستمبر کا سورج سارا دن قادیانیوں کا منہ چڑانے کے بعد سرخ گولے کا روپ دھار کر مغرب کی آغوش میں ڈوبنے لگا اور ادھر مرزا قادیانی دریائے ذلت میں ڈوبنے لگا۔ سورج ڈوب گیا‘ رات گزر گئی لیکن سخت جان اور مرزے کی رسوائی کا سامان بوڑھا پادری آتھم نہ مرا اور ایک لمبی مدت نہ مرا۔ عیسائیوں نے جشن منائے‘ خوشی سے چوراہوں میں بھنگڑے ڈالے‘ پٹاخے چلائے۔ پادری آتھم کو گاڑی میں سوار کیا‘ گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے اور امرتسر میں زبردست جلوس نکالا۔ ادھر مرزے کی انگریزی نبوت کا جلوس نکل گیا۔ مرید مرزے سے بد دل ہوگئے اور مرزے پر انگلیاں اٹھانے لگے۔ مرزا قادیانی‘ جو تاویلات کا بادشاہ‘ دجل و فریب کا امام اور لاثانی ڈھیٹ تھا‘ نے جب مریدوں کو کھسکتے پھسلتے دیکھا تو وہ بڑا پریشان ہوا اور اس نے سوچا کہ اگر یہ ”بھولے بادشاہ“ چلے گئے تو چندے کا بیوپار اور جھوٹی نبوت کا کاروبار ٹھپ ہو جائے گا۔ لہٰذا اس نے اپنے مریدوں کے گلے میں تاویل کا پہلا پھندا پھینکتے ہوئے کہا کہ تم عیسائیوں کے جلوسوں میں پادری آتھم کو گلے میں پھولوں کے ہار اور فتح کا رقص کرتے دیکھتے ہوئے بالکل پریشان نہ ہونا۔ اللہ نے مجھے اطلاع دی ہے کہ پادری آتھم بظاہر زندہ ہے لیکن اندر سے مرچکا ہے۔ اس کی فتح کا جلوس درحقیقت اس کے جنازے کا جلوس ہے۔ لیکن جب اس ”آئی بائی دلیل“ سے بات نہ بنی تو مرزے نے تاویل کا دوسرا پھندا ان کے گلوں میں پھینکا کہ آتھم اس لیے نہ مرا کہ وہ ۵؍ ستمبر کی تاریخ سے پہلے ہی عیسائیت سے تائب ہو کر مسلمان ہوچکا تھا۔ جب یہ بات پادری آتھم تک پہنچی تو اس نے فوراً ایک اشتہار چھپوا کر اعلان کیا کہ میں پہلے بھی عیسائی تھا اور اب بھی عیسائی ہوں۔ لیکن پادری آتھم کے اس دندان شکن جواب پر بھی مرزا قادیانی کی ڈھیٹ زبان خاموش نہ ہوئی اور اس نے اپنے مریدوں کے گلے میں تاویل کا تیسرا پھندا پھینکتے ہوئے کہا کہ اصل آتھم تو مرچکا ہے‘ عیسائی جس آتھم کو اپنے جلوس میں لیے پھرتے ہیں‘ وہ پادری آتھم اصلی نہیں بلکہ نقلی ہے۔ مرزا قادیانی کے اس ننگے اور اتنے بے شرم اور ڈھیٹ ہونے پر ہم

صفحہ 25

اس کی خدمت میں صرف یہ شعر پیش کر سکتے ہیں۔

ڈھیٹ اور بے شرم بھی عالم میں ہوتے ہیں مگر
سب پہ سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی

ت سے تذکرہ : حضور خاتم النبیین ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر نبوت ختم ہو گئی۔ قرآن پاک کے بعد سلسلہ وحی بند ہو گیا۔ ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر سید البشر جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک تمام نبیوں پر وحی لانے والے فرشتے کا نام جبرائیل ہے، تکمیل نبوت کے بعد اب جبرائیل کسی پر وحی نہیں لاتا۔ رحمانی وحی تو بند ہو گئی لیکن شیطانی وحی جاری ہے اور اس وحی کا ایک وافر حصہ مرزا قادیانی پر نازل ہوا۔ شیطان کی طرف سے یہ وحی مرزا قادیانی کا فرشتہ ٹیچی ٹیچی لے کر آتا تھا۔ قادیانیوں نے مرزا قادیانی کی تمام شیطانی وحی، کشوف، رویا اور الہامات کو اکٹھا کر کے ایک کتاب کی صورت میں شائع کیا ہے، جس کا نام "تذکرہ" ہے۔ مسلمانوں کے قرآن کے مقابل "تذکرہ" قادیانیوں کا قرآن ہے۔ قادیانی اس "تذکرہ" سے قادیانی شریعت اخذ کرتے ہیں اور اس سے زندگی کے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔ "تذکرہ" غلاظت کی پوٹ، جھوٹ کا کوہ ہمالیہ، عقل کا ماتم، دجل و تلبیس کا خنجر، اخلاق کا جنازہ اور شیطنت کے آوارہ قہقہے ہیں۔ "تذکرہ" کے مضامین پڑھنے سے جہاں متلی آتی ہے وہاں قادیانیوں کے ذہنی معیار کا بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ کس احمقانہ کلام کو اللہ کی وحی مان رہے ہیں۔ کس آوارہ اور لچر شخص کو اللہ کا نبی اور رسول مان رہے ہیں۔ تقریباً ہر قادیانی گھر میں "تذکرہ" رکھتا ہے اور اس کی "زیارت" سے مشرف ہوتا ہے اور اس کے مطالعہ سے قلب و ذہن کی "روشنی" حاصل کرتا ہے۔ پسند اپنی اپنی، نصیب اپنا اپنا۔

"تذکرہ" سے چند نمونے پیش خدمت ہیں۔ انہیں پڑھئے اور ان کی فصاحت و بلاغت اور معارف و معانی کا اندازہ کیجئے۔

صفحہ 26

”لائف“

(تذکرہ‘ ص ۵۹۳)

”اس کتے کا آخری دم ہے“

(تذکرہ‘ ص ۴۱۷)

”پٹی‘ پٹی گئی“

(تذکرہ‘ ص ۸۶)

”ماتم کدہ“

(تذکرہ‘ ص ۷۵۲)

”زندگیوں کا خاتمہ“

(تذکرہ‘ ص ۵۷۷)

”ضیف مسیح“

(تذکرہ‘ ص ۴۳۴)

”کرنسی نوٹ“

(تذکرہ‘ ص ۵۹۶)

خواب میں دکھائے گئے (۱) تین استرے۔ (۲) عطر کی شیشی۔

(تذکرہ‘ ص ۷۴۴)

ٹ ۔ ٹیچی ٹیچی : ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر سید البشر خاتم النبیین جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم تک تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام پر وحی لانے والے فرشتے کا نام جبرائیل امین ہے۔ لیکن انگریزی نبی مرزا قادیانی کہتا ہے کہ مجھ پر وحی لانے والے فرشتے کا نام ٹیچی ٹیچی ہے۔ مرزا قادیانی کے پاس ٹیچی ٹیچی کے علاوہ اور بھی بہت سے فرشتے آتے تھے‘ مثلاً مٹھن لال‘ درشنی‘ رانی وغیرہ۔ لیکن جو قربت ٹیچی ٹیچی کو حاصل تھی وہ اور کسی کو نصیب نہ تھی۔ مرزا قادیانی کہتا تھا کہ اس کا نام ٹیچی ٹیچی اس لیے ہے کہ یہ ٹچ کر کے آتا ہے اور ٹچ کر کے چلا جاتا ہے۔ گویا یہ اپنے وقت میں مرزا قادیانی کا F-16 تھا۔ ٹیچی ٹیچی قادیان کی فضاؤں میں لہراتا منڈلاتا رہتا اور جب مرزا قادیانی سے ضروری بات کرنا ہوتی تو فوراً قادیان کے ایئرپورٹ (مرزے کا گھر) پر لینڈ کرتا اور مرزے کو ”وحی“ دے کر فلائی کر جاتا۔ ”وحی“ کے علاوہ ٹیچی ٹیچی مرزا قادیانی کے بہت سے نجی کام بھی کر دیتا۔ کہتے ہیں ایک دن ٹیچی ٹیچی شیطان سے مرزے کے لیے انتہائی اہم ”وحی“ لے کر آیا۔ ٹیچی ٹیچی انتہائی جلدی میں تھا یعنی ٹچ ٹچ کر رہا تھا لیکن اس نے دیکھا کہ مرزا قادیانی افیم کھا کر

صفحہ 27

اور گھوڑے بیچ کر سویا ہوا ہے۔ ٹپچی ٹپچی نے اپنی جیب سے چھوٹا سا باجا نکالا اور اسے مرزے قادیانی کے ایک کان کے قریب کر کے بجایا۔ پہلے تو مرزا قادیانی نے باجے کی آواز کا کوئی اثر نہ لیا، لیکن جب ٹپچی ٹپچی نے پندرہ بیس مرتبہ باجا بجایا تو مرزا قادیانی نے خرخر کیا اور دوسری طرف کروٹ لے لی۔ ٹپچی ٹپچی پلٹ کر دوسری طرف آیا اور دوسرے کان کے قریب جب کافی دفعہ باجا بجایا تو مرزا قادیانی نے پھر خرخر کی آواز نکالی اور کروٹ بدل لی۔ ٹپچی ٹپچی پھر پلٹ کے آیا اور باجا بجایا۔ کافی دیر کے بعد مرزے نے پھر خرخر کیا اور کروٹ بدل لی۔ غرض کہ ٹپچی ٹپچی باجا بجاتا رہا اور افیم کے نشے میں دھت مرزا کروٹیں بدلتا رہا۔ آخر ٹپچی ٹپچی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور وہ غصہ میں بڑبڑاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور سوئے ہوئے مرزا قادیانی کے ”چوتڑوں“ پر ایک زوردار ”کک“ ماری اور یہ کہتا ہوا پرواز کر گیا۔

”بے غیرت ہم نے تجھے سونے کے لیے بھیجا ہے؟“

ٹپچی ٹپچی کی لائی ہوئی وحی کے چند نمونے پیش خدمت ہیں:

”پریش عمر پراطوس یا پلاطوس“۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد اول، ص ۶۸) ”پیٹ پھٹ گیا“۔ (البشریٰ، جلد دوم، ص ۱۹) ”غشم۔ غشم۔ غشم“۔ (البشریٰ، جلد دوم، ص ۵۰) ”زندگیوں کا خاتمہ“۔ (تذکرہ، ص ۵۷۷) ”ایک دانہ کس کس نے کھانا“۔ (البشریٰ، جلد دوم، ص ۱۰۷)

ہم اس وحی کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ جس نے وحی بھیجی وہ جانے یا جس پر نازل ہوئی تھی۔

ث ۔ ثاقب زیروی : یوں تو سارے قادیانی اخبار و رسائل باون باون گز کی زبان دراز رکھتے ہیں، زبانیں کیا ہیں، اسلام کے خلاف زہر میں بجھی کرپانیں ہیں، جو ہمیشہ اسلام کے مہکتے پھولوں کے سروں پہ چلتی رہتی ہیں، تاریخ کے کلیجے کو زخمی کرتی

صفحہ 28

ہیں‘ چہرہ اسلام کو مسخ کرتی ہیں اور شجر ایمان کی جڑوں پہ کاری وار کرتی ہیں۔ لیکن لاہور سے شائع ہونے والا ہفت روزہ ”لاہور“ ہرزہ سرائی میں ان سب کا امام ہے جس کا ایڈیٹر ثاقب زیروی ہے۔ میرا دوست متین خالد کہتا ہے کہ اس کا نام ثاقب زیروی اس لیے ہے کیونکہ یہ زیرہ بہت کھاتا ہے۔ لاہور میں رہتا ہے اور ایمان ربوہ میں گروی پڑا ہے۔ رنگ کالا اور دل پہ قادیانیت کا جالا ہے۔ نقوش ایسے کہ بچے کارٹون سمجھ کے کھیلنے لگتے ہیں۔ شکل کو غور سے دیکھو تو محسوس ہوتا ہے کہ غیب کی لاٹھی سے ایک مدت سے پٹائی ہو رہی ہے۔ جب کسی غیر مسلم کی اس کی شکل پر پہلی نظر پڑتی ہے تو اس کی زبان سے فورا ہائے نکلتا ہے اور جب کسی مسلمان کی نظر پڑتی ہے تو اس کے لبوں پر فورا ”استغفر اللہ“ آ جاتا ہے۔ موصوف قلم کی بجائے جھاڑو سے لکھتا ہے اور لکھتے لکھتے سر پہ بھی جھاڑو پھیر لیتا ہے کیونکہ سنا ہے گنجا ہے۔ لکھنے کے بعد پڑھتا نہیں‘ کہتا ہے پڑھتے ہوئے مجھے بھی شرم آ جاتی ہے۔ میرا دوست متین خالد کہتا ہے کہ جب مجاہدین ختم نبوت کے بارے میں لکھتا ہے تو کھٹمل والی چارپائی پر بیٹھ جاتا ہے۔ کہتا ہے مرزا قادیانی میرے دل میں رہتا ہے اور میری رگوں میں خون کے ساتھ بہتا ہے۔ اسی لیے تو ضیاء الحق کا نافذ کردہ امتناع قادیانیت آرڈیننس دیکھ کے سر پہ پاؤں رکھ کے بھاگ جاتا ہے۔

جاناں : نصرت جہاں بیگم ایک اٹھارہ سالہ الہڑ دوشیزہ تھی۔ وہ دہلی کی اہل زبان فیملی سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کا باپ ملازمت کے سلسلہ میں قادیان آیا ہوا تھا۔ نصرت جہاں پر جوانی آئی تو ادائیں بھی آگئیں۔ نصرت جہاں کے مکان کے ایک حصہ میں ایک پچپن سالہ بیماریوں کا مارا بڈھا مرزا قادیانی بھی رہتا تھا۔ ایک دن نصرت جہاں کی کسی دلفریب ادا پہ بڈھا مرزا قادیانی فدا ہو گیا اور ایسا فدا ہوا کہ اس کے گھر کا گدا ہو گیا۔ سارا دن اسے جاناں جاناں کہہ کے یاد کرتا۔ جب کبھی اس پہ نظر پڑ جاتی‘ ٹھنڈی آہیں بھر کے لبوں کو آہستہ آہستہ ہلا کے جاناں جاناں کہتا اور بعض اوقات تو

صفحہ 29

ایسا گم ہوتا کہ دھڑام سے گر پڑتا۔ جاناں نے اس کے بڈھے اور بیمار دل کو تانگہ بنا کے لگامیں اپنے ہاتھ میں سنبھال لی تھیں۔ پچپن سالہ کانا بڈھا جاناں سے شادی رچانا چاہتا تھا۔ مکار بڈھے نے دولت کی چمک سے جاناں کی آنکھوں کو خیرہ کر لیا تھا اور اس کے ساتھ ہی جاناں کی ماں سے بھی محبت بھرے تعلقات استوار کر لیے تھے۔ مرزا قادیانی سے بہت سے پیسے بٹورنے کے بعد جاناں کی ماں نے جاناں کے باپ کو بھی اس شادی کے لیے راضی کر لیا۔ آخر وہ دن آگیا جب جاناں سیکنڈ ہینڈ دولہا سے شادی کے بندھن میں بندھ گئی۔ شادی کے بعد جاناں نے سارے گھر اور دولت پہ قبضہ جما لیا۔ مرزا قادیانی اس کے صدقے واری جاتا۔ مرزا قادیانی نے اپنے بڑھاپے کی آرزو کو سوا دو سیر وزنی سونے کے زیورات میں لاد دیا۔ جاناں گھر میں چھن چھن کرتی پھرتی جس سے مرزا قادیانی کا دل بھی چھن چھن کرتا۔ اب جاناں زیادہ منہ زور ہو گئی تھی۔ وہ اپنے خاوند مرزا قادیانی کے دوستوں کے ساتھ اکثر شاپنگ کرنے کے لیے قادیان سے لاہور آتی اور بعض اوقات کئی کئی دن لاہور میں مٹرگشت کرتی رہتی۔ جس دن واپس جاتی تو بوڑھا خاوند سراپا انتظار بنے پلیٹ فارم پر کھڑا ہوتا۔ جاناں کو گاڑی سے اترتے دیکھتا تو چہرہ کھل اٹھتا۔ بیساختہ زبان سے محبت بھرا نام نکلتا۔ جاناں بھی لپک اور لپک کے آتی اور بھرے سٹیشن پر سب کے سامنے معانقہ ہوتا۔ جاناں ہزاروں روپیہ ماہانہ اپنی زیب و زینت پر صرف کر دیتی لیکن مرزا قادیانی کی طبیعت پر کبھی شاق نہ گزرتا۔ ایک شب مرزا قادیانی کو ہیضہ ہوا اور وہ لیٹرین میں مر گیا۔ سارا جسم غلاظت میں لتھڑ گیا۔ منہ سے پاخانہ بہہ رہا تھا لیکن آنکھیں ابھی تک کھلی تھیں۔ شاید جاناں کا دیدار کرنے کے لیے! جاناں مرے ہوئے بڈھے خاوند کی کھلی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہلکا سا مسکراتی اور پھر ساتھ والے کمرے میں جا کر اپنی سہیلیوں کے جھرمٹ میں ایک کھسیانی ہنسی بکھیر دیتی۔ لیکن جاناں کی یہ سہیلیاں عورتیں نہیں بلکہ مرد تھے!!!

صفحہ 30

چ ۔ چیمپیئن : یہ چیمپیئن شپ مرزا قادیانی اور ان کے ایک سابقہ مرید ڈاکٹر عبدالحکیم خاں اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کے درمیان منعقد ہوئی جس میں ڈاکٹر عبدالحکیم خاں ”چیمپیئن“ ٹھہرے اور مرزا قادیانی موت کے آہنی ہاتھوں ”چت“ ہوگیا۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خاں مرزا قادیانی کے عقیدت مند تھے، لیکن جب انہوں نے قریب جا کر مرزا قادیانی کو دیکھا، پرکھا، ٹٹولا اور سونگھا تو وہ مرزے اور مرزائیت سے باغی ہوگئے اور رد مرزائیت کے کام میں جٹ گئے۔ انہوں نے اپنے قلم سے مرزا قادیانی اور مرزائیت کے خلاف چند کتابچے بھی لکھے۔ جب ان کا تیکھا قلم مرزا قادیانی کے کالے دل میں چبھا تو مرزا قادیانی سیخ پا ہوگیا اور دونوں میں لڑائی کی آگ کے شعلے تیز تر ہوگئے۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے کے خلاف موت کی الہامی پیشگوئیاں شائع ہوئیں۔ مرزا قادیانی کے شائع کردہ ایک اشتہار سے ایک اقتباس نقل کیا جاتا ہے۔

خدا سچے کا حامی ہو

میاں عبدالحکیم خاں صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ نے میری نسبت یہ پیشگوئی کی ہے۔ میرے خلاف ۱۲ جولائی ۱۹۰۶ء کو یہ الہامات ہوئے ہیں۔ ”مرزا مسرف ہے، کذاب اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر فنا ہوگا۔ اس کی میعاد تین سال بتلائی گئی ہے“۔

پھر مرزا قادیانی کہتا ہے۔

”اس کے مقابل پر وہ پیشگوئی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میاں عبدالحکیم خاں صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی نسبت مجھے معلوم ہوئی جس کے الفاظ یہ ہیں۔ خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ان پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔ فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے“۔

مرزا قادیانی کی اس پیشگوئی کے جواب میں ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نے اپنا ایک اور

صفحہ 31

الہام شائع کیا کہ

"جولائی ۱۹۰۷ء سے ۱۴ ماہ تک مرزا مر جائے گا"۔

یہ سن کر مرزا قادیانی جل بھن کر کباب ہو گیا اور اس نے جواباً "۵ نومبر ۱۹۰۷ء کو ایک اشتہار بعنوان "تبصرہ" شائع کیا جس کی پیشانی پر یہ عبارت درج کی۔

"ہماری جماعت کو لازم ہے کہ اس پیشگوئی کو خوب شائع کریں اور اپنی طرف سے چھاپ کر مشتہر کریں اور یادداشت کے لیے اشتہار کے طور پر اپنے گھر کی نظر گاہوں میں چسپاں کریں"۔

اس اشتہار کے چند فقرات حسب ذیل ہیں:

"اپنے دشمن کو کہہ دے کہ خدا تجھ سے مواخذہ لے گا۔ میں تیری عمر کو بڑھا دوں گا یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ جولائی ۱۹۰۷ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیشگوئی کرتے ہیں، ان سب کو میں جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو بڑھا دوں گا تاکہ معلوم ہو کہ میں خدا ہوں اور ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے"۔

پھر مزید لکھتا ہے:

"یہ عظیم الشان پیشگوئی ہے جس میں میری فتح اور دشمن کی شکست اور میری عزت اور دشمن کی ذلت اور میرا اقبال اور دشمن کا ادبار بیان فرمایا ہے اور دشمن پر غضب اور عقوبت کا وعدہ کیا ہے مگر میری نسبت لکھا ہے کہ دنیا میں تیرا نام بلند کیا جائے گا اور نصرت اور فتح تیرے شامل حال ہوگی اور دشمن جو میری موت چاہتا ہے وہ خود میری آنکھوں کے روبرو اصحاب الفیل کی طرح نابود اور تباہ ہوگا"۔

مرزا قادیانی کی اس پیشگوئی کے جواب میں ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نے اپنا ایک اور الہام شائع کیا کہ

"مرزا مورخہ ۴ اگست ۱۹۰۸ء تک مر جائے گا"۔ (چشمہ معرفت، ص ۳۲۱۔

۳۲۲ مصنفہ مرزا قادیانی)

صفحہ 32

ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب کی پیشگوئی عین سچی ثابت ہوئی اور مرزا قادیانی ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو جہنم واصل ہوگیا۔

سلامتی کا شہزادہ قتل ہوگیا۔

اللہ کے ہاں قبولیت کا دعویٰ کرنے والا ٹٹی خانہ میں قبول ہوگیا۔

فرشتوں کی تلواروں کے حصار میں رہنے کے دعویٰ باز کو فرشتہ اجل نے ٹٹی خانہ میں گھسیٹ کر مارا۔

عمر بڑھانے کی بڑھکیں مارنے والا اپنی پر ذلت زندگی کے ایک لمحہ میں بھی اضافہ نہ کر سکا۔ حریف کو خدائی غضب کی دھمکیاں دینے والا کذاب خود خدائی غضب کا شکار ہوگیا۔ ڈاکٹر عبدالحکیم خان کو اپنی آنکھوں کے سامنے تباہ و برباد ہونے کی وعید سنانے والا خود تباہ و برباد اور جہنم کا دائمی مکیں ہوگیا۔

ح۔ حکیم نور الدین: اگر اس کے نام کے اجزاء کو بکھیریں تو صورت کچھ یوں بنتی ہے ○ حکیم ○ نور ○ دین

حکمت یہ کہ مرزا قادیانی جیسے فاتر العقل، مخبوط الحواس، کذاب اور دجال کو نبی مان بیٹھا۔

نور یہ کہ قادیانیت کی وحشت ناک تاریکی کو ساری زندگی نور سمجھتا رہا۔

دین یہ کہ اللہ کے پسندیدہ دین ”دین اسلام“ سے منہ موڑ کر ”دین قادیان“ کا منہ چوم لیا اور تا مرگ اس زہر کو پیتا رہا۔ لہٰذا حکمت اور انصاف تقاضا کرتے ہیں کہ اس کا نام یوں لکھا جائے۔

”ناحکیم نانور نادین“

ضلع سرگودھا کے قصبہ بھیرہ کا باسی تھا۔ شروع سے ہی ملحدانہ نظریات اور گمراہ عقائد کا حامل تھا۔ مرزا قادیانی کی نبوت پر سب سے پہلے ایمان لانے والا یہی شخص تھا۔ عمر میں مرزا قادیانی سے ایک یا دو برس چھوٹا تھا۔ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء میں جب مرزا

صفحہ 33

قادیانی کی زندگی کا دیا گل ہوا تو حکیم نورالدین کو اس کا پہلا خلیفہ نامزد کیا گیا۔ چھ برس تک قادیانی خلافت کی مسند پر بیٹھا رہا۔ ایک دن گھوڑے پر سوار کہیں جا رہا تھا کہ گھوڑے نے زمین پر پٹخا اور ٹانگ ٹوٹ گئی، پھر ٹانگ کو گنگرین ہو گئی۔ درد کی شدت سے چیختا، چلاتا اور زمین پر تڑپ تڑپ جاتا۔ اس حالت میں بیوی کسی کے ساتھ فرار ہوگئی اور جوان بیٹے کو بشیر الدین نے قتل کروا دیا۔ آخری وقت میں زبان بند ہوگئی اور یوں ایک مرتد اور گستاخ رسول انسانیت کے لیے ایک عبرت کی داستان چھوڑ کر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر ۱۳ مارچ ۱۹۱۴ء کو سوئے جہنم پرواز کر گیا۔

خ۔ خطوط : داناؤں کا قول ہے کہ کسی بھی شخصیت کے خطوط سے اس شخصیت کو پہچانا اور پرکھا جا سکتا ہے۔ آئیے ہم کذاب قادیاں مرزا قادیانی کے خطوط کی مدد سے اس کی شخصیت کو پرکھتے ہیں۔ ان خطوط کی مدد سے مرزا قادیانی کی شخصیت کے مختلف پہلو کھل کھل کر ہمارے سامنے آ جائیں گے۔

خط نمبر ۱:

محبی اخویم حکیم محمد حسین قریشی سلمہ اللہ تعالیٰ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ اس وقت والدہ محمود احمد ہوا کی تبدیلی کے لیے لاہور آئی ہیں۔ غالباً انشاء اللہ تعالیٰ دس دن تک لاہور میں رہیں گی اور بعض ضروری چیزیں پارچات وغیرہ خریدیں گی۔ اس لیے اس خدمت کا ثواب حاصل کرنے کے لیے آپ سے بہتر اور کسی شخص کو نہیں دیکھتا۔ لہٰذا اس غرض سے آپ کو یہ خط لکھتا ہوں کہ آپ جہاں تک ہو سکے، اس خدمت کے ادا کرنے میں ان کی خوشنودی حاصل کریں اور خود تکلیف اٹھا کر عمدہ چیزیں خریدیں۔ باقی سب طرح سے خیریت ہے۔

مرزا غلام احمد عفی عنہ ۔ ۴ جون ۱۹۰۷ء

اس خط سے مندرجہ ذیل چیزیں سامنے آتی ہیں۔ مرزا قادیانی کی بیگم محض ہوا کی تبدیلی کے لیے مختلف شہروں میں مٹرگشت کرتی

صفحہ 34

رہتی تھی۔

مرزا قادیانی کی اہلیہ غیر محرموں کے ساتھ شاپنگ بھی کر لیتی تھی، جس کی شہادت اس حوالہ سے بھی مل جاتی ہے۔

"بیوی صاحبہ مرزا جی کے مریدوں کو ساتھ لے کر لاہور سے کپڑے بھی خود ہی خرید لایا کرتی تھیں۔"

(مجدد اعظم، مؤلفہ ڈاکٹر بشارت احمد، لاہور، ص ۸۸)

مرزا قادیانی پرلے درجے کا بے غیرت تھا جو دو نامحرموں کے ملاپ کو "خوشنودی" کہہ رہا ہے۔

مرزا قادیانی نے بیگم کو پیسے دے کر نہیں بھیجا جس سے عیاں ہے کہ شاپنگ کا خرچہ مرید کو کرنا پڑے گا، جو مرید کو واپس نہیں ملے گا کیونکہ مرزے نے نبوت کا دعویٰ ہی حصول دولت کے لیے کیا تھا۔

خط نمبر ۲:

محبّی اخویم، السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔

اس وقت بموجب تاکید والدہ محمود لکھتا ہوں کہ آپ مبارکہ میری لڑکی کے لیے ایک قمیص ریشمی یا جالی کی جو چھ روپے قیمت سے زیادہ نہ ہو اور گوٹہ لگا ہوا ہو عید سے پہلے تیار کرا کر بھیج دیں۔ قیمت اس کی کسی کے ہاتھ بھیج دی جاوے گی یا آپ کے آنے پر آپ کو دی جاوے گی۔ رنگ کوئی ہو مگر پارچہ ریشمی یا جالی ہو۔ اندازہ قمیص کا آپ کی لڑکی زینب کے اندازہ پر ہو۔

والسلام - خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ۔ ۴؍ فروری ۱۹۰۳ء

اس خط سے مندرجہ ذیل چیزیں عیاں ہوتی ہیں۔

مرزا قادیانی پکا رن مرید تھا اور اس کے مرید بھی اس کی بات کی نسبت اس کی نوجوان بیگم کی بات کو زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ اسی لیے تو مرزا بیگم کا نام لے لے کر خط میں زور پیدا کر رہا ہے۔ جالی کی باریک قمیص اور گوٹے سے قادیانی نبوت کی گھریلو

صفحہ 35

اخلاقی حالت کا پتہ چلتا ہے۔ حسب معمول مرزا قادیانی نے پیسے پھر نہیں بھیجے یعنی مریدوں کا مال خوب چاٹتا تھا۔

خط نمبر ۳:

محبی اخویم حکیم محمد حسین صاحب قریشی سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔ اشیائے مفصلہ ہمراہ لیتے آویں اور اگر خدانخواستہ ایسی مجبوری ہو تو کسی اور آنے والے کے ہاتھ بھیج دیں۔ وائی بیوٹر جو ایک رحم کے متعلق دوائی ہے، پلومر کی دکان سے (۸ر عہ) مشک خالص عمدہ جس میں چھچھڑا نہ ہو ایک تولہ۔ پان عمدہ بیگمی (عصہ) اور ایک انگریزی وضع کا پاخانہ جو ایک چوکی ہوتی ہے اور اس میں ایک برتن ہوتا ہے۔ اس کی قیمت معلوم نہیں آپ ساتھ لاویں۔ قیمت یہاں سے دی جاوے گی۔ مجھے دوران سر کی بہت شدت سے مرض ہوگئی ہے۔ پیروں پر بوجھ دے کر پاخانہ پھرنے سے مجھے سر کو چکر آتا ہے، اس لیے ایسے پاخانہ کی ضرورت پڑی۔ اگر شیخ صاحب کی دکان میں ایسا پاخانہ ہو تو وہ دے دیں گے مگر ضرور لانا چاہیے اور ۳۰ روپے کا منی آرڈر آپ کی خدمت میں بھیجا جاتا ہے۔ باقی سب خیریت ہے۔

والسلام - مرزا غلام احمد

اس خط سے مندرجہ ذیل چیزیں عیاں ہوتی ہیں۔

ایک مرید کو خط لکھ کر بیوی کے لیے رحم کی دوائی منگوائی جا رہی ہے جس سے مرزا قادیانی کی بے حیا طبیعت کا پتہ چلتا ہے۔

قادیانی نبوت کے گھرانے میں پان کا شوق فرمایا جاتا تھا۔

انگریزی نبی انگریزی پاخانے پر بیٹھ کر پاخانے کا شوق فرمایا کرتا تھا لیکن معلوم نہیں کہ بعد میں نہاتا تھا یا نہیں کیونکہ انگریزی پاخانے سے تو انسان فوراً ناپاک ہو جاتا ہے۔

صفحہ 36

اس دفعہ مرید کو پیسے بھیج دیے ہیں، شاید تنگ آیا ہوا مرید اس بار اشیاء نہ بھیجتا لیکن پھر بھی اشیاء کی نسبت قیمت بہت کم بھیجی گئی ہے، شاید ففٹی ففٹی کا پروگرام ہو۔

خط نمبر ۴:

محبی اخویم حکیم محمد حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔ اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیائے خریدنی خود خریدیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلومر کی دکان سے خرید دیں۔ مگر ٹانک وائن چاہیے، اس کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت ہے۔ والسلام

مرزا غلام احمد عفی عنہ

اس خط سے مندرجہ ذیل باتیں عیاں ہوتی ہیں۔ مرزا قادیانی شراب پیتا تھا کیونکہ ٹانک وائن وہ طاقتور شراب تھی جو انگلستان سے سربند بوتلوں میں ہندوستان آتی تھی۔ جس گھر میں باپ شراب پیتا ہو، اس گھر کے باقی افراد کی اخلاقی حالت کیا ہو گی؟ حسب معمول مرید کو پیسے پھر نہیں بھیجے اور مرید کی جیب کو رگڑا لگا دیا ہے۔

د۔ دنگل : یہ مشہور و معروف دنگل مرزا قادیانی اور مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے درمیان ہوا۔ اس دنگل میں مرزا قادیانی نہ صرف چاروں شانے چت ہوا بلکہ ایسا چت ہوا کہ جسم سے روح ہی نکل گئی۔ اس دنگل کا چیلنج مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کی طرف سے نہیں بلکہ خود مرزا قادیانی کی طرف سے تھا۔ بڑھک باز مرزا قادیانی کے چیلنج کے الفاظ ملاحظہ ہوں جس میں اس نے مولانا امرتسریؒ کو مخاطب کر کے لکھا:

”اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں، جیسا کہ آپ اکثر اوقات اپنے پرچے میں مجھے یاد کرتے ہیں، تو میں آپ کی زندگی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔ مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں، جو مجھ پر لگاتا ہے، حق پر نہیں

صفحہ 37

تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون اور ہیضہ کے امراض مہلکہ سے"۔

جھوٹے نے خود ہی اللہ کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا، جہاں سے ہمیشہ انصاف ملا کرتا ہے۔ اللہ پاک نے انصاف کر دیا اور مرزا قادیانی اپنی منہ مانگی موت یعنی ہیضہ میں مبتلا ہو کر واصل جہنم ہوا۔ اس دنگل کا مفتوح پہلوان مرزا قادیانی ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء کو مرا جبکہ فاتح پہلوان مولانا ثناء اللہ امرتسری مرزے کی موت کے چالیس سال بعد تک زندہ رہے اور فتح کے نقارے بجا بجا کر قادیانیت کی ذلت کا ساماں کرتے رہے۔

ڈ ۔ ڈاکٹر عبد السلام: عہد حاضر میں قادیانی نبوت کا نہایت اہم پرزہ ہے۔ پاکستان دشمن ممالک تک پاکستان کے راز پہنچانا اور ان سے رابطہ رکھنا اس کے ذمہ ہے۔ پاکستان دشمنی اس کے دل و دماغ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور اکثر وہ اپنی زہریلی زبان سے پاکستان کے بارے میں زہر اگلتا رہتا ہے۔ ۱۹۷۴ء میں جب پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو کافر قرار دیا تو اس غدار وطن نے بہت سے بیرونی ممالک میں جا کر پاکستان کے خلاف زہر اگل کر اپنے خبث باطن کا مظاہرہ کیا۔ مسٹر بھٹو کے دور میں جب پاکستان میں ایک بہت بڑی سائنسی کانفرنس منعقد ہوئی تو بیرون ملک بیٹھے ڈاکٹر عبد السلام کو بھی اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ لیکن اس نے ان ریمارکس کے ساتھ دعوت نامہ واپس کر دیا کہ ”میں اس لعنتی ملک پر قدم رکھنا نہیں چاہتا جب تک آئین میں کی گئی ترمیم (قادیانی غیر مسلم ہیں) واپس نہ لی جائے"۔

۱۹۷۹ء میں یہودیوں نے اپنے پالتو سائنس دان کی بین الاقوامی خدمات کے عوض اسے نوبل انعام سے نوازا، حالانکہ وہ قطعی طور پر اس کا اہل نہ تھا۔ ڈاکٹر عبد السلام کس اہلیت کا آدمی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کسی زمانہ میں گورنمنٹ کالج لاہور میں فزکس کا لیکچرار تھا۔ اس کے طالب علم بتاتے ہیں کہ وہ

صفحہ 38

ایک انتہائی نکما استاد تھا۔ کالج کے پرنسپل نے اس کی پرسنل فائل میں لکھا تھا کہ عبد السلام ایک نا اہل استاد ہے۔ ڈاکٹر عبد السلام نے نوبل انعام کو مرزا قادیانی کی برکات اور معجزہ قرار دیا۔ اپنے ہم مشن یہودیوں سے نوبل انعام وصول پانے کے بعد ڈاکٹر عبد السلام نے سویڈش اخبار نویس البرٹ لیلٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ”میں سب سے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کا غلام ہوں، پھر مسلمان ہوں، پھر پاکستانی“۔

وہ بھارت اور اسرائیل کے اکثر خفیہ دورے کرتا رہتا ہے۔ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی سے بہت قریبی تعلقات تھے۔ بھارت جب بھی کوئی ایٹمی دھماکہ کرے یا کوئی خاص اسلحہ تیار کرے تو وہ کھلے عام بھارت کو مبارک باد دیتا ہے۔ سینکڑوں مسلمان نوجوانوں کو بیرون ممالک نوکریوں کے ہتھیار سے مرتد بنا چکا ہے۔ عالم اسلام کی مایہ ناز شخصیت اور ملت اسلامیہ کے ماتھے کے جھومر ڈاکٹر عبد القدیر کے ساتھ سخت نفرت اور دشمنی رکھتا ہے۔ ان کے خلاف اعلیٰ حلقوں میں نت نئی سازشوں کے جال بنتا رہتا تھا۔ بیرونی پریس میں ان کی کردار کشی کرتا رہتا ہے۔ وہ صبح و شام انگاروں پہ لوٹتا رہتا ہے کہ وہ کسی طرح ڈاکٹر عبد القدیر خان کی سیٹ پہ قبضہ کرلے۔ لیکن صاحب بصیرت ڈاکٹر عبد القدیر خان بھی ہر لمحہ اس کی سازشوں سے چوکنا رہتے ہیں اور انہیں طشت ازبام کرتے رہتے ہیں اور ملت اسلامیہ کو باخبر کرتے رہتے ہیں کہ کس طرح وہ سائنس کے روپ میں ان کی سانس دبانے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہے۔

ذ۔ ذات: مرزا قادیانی کی ذات کیا تھی؟ یہ ایک بڑا پیچ دار‘ لچھے دار اور گنجلک مسئلہ ہے۔ جب اس کا شناختی کارڈ ترتیب دینے کے لیے ہمیں اس کی ذات کی ضرورت پیش آتی ہے تو ہمیں مجبوراً قادیانیت کی کتب کے مطالعہ کے بدبودار سفر پر روانہ ہونا پڑتا ہے تو اس متعفن سفر کے بعد ہمارے سامنے جو صورت حال آتی ہے وہ

صفحہ 39

کچھ یوں ہے:

مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”کتاب البریہ“ کے صفحہ ۱۳۴ پر اپنی ذات برلاس (مغل) لکھی ہے۔

اسی کتاب کے صفحہ ۱۳۵ کے حاشیہ پر لکھتا ہے:

”میرے الہامات کی رو سے ہمارے آباء اولین فارسی تھے“۔

اپنی کتاب ”ایک غلطی کا ازالہ“ کے صفحہ ۱۱ پر لکھتا ہے:

”میں اسرائیلی بھی ہوں اور فاطمی بھی“۔

اپنی تصنیف ”تحفہ گولڑویہ“ کے صفحہ ۴۰ پر لکھتا ہے:

”میرے بزرگ چینی حدود سے پنجاب آئے تھے“۔

اپنی کتاب ”نزول مسیح“ کے صفحہ ۵۰ پر لکھتا ہے:

”بنی فاطمہ سے ہوں۔ میری بعض دادیاں مشہور اور صحیح النسب سادات میں سے تھیں“۔

پھر ہندو ہونے کا اعلان کرتا ہے:

”کرشن میں ہی ہوں“۔ (تذکرہ، ص ۳۸۱)

پھر سکھ ہونے کا اعلان کرتا ہے:

”امین الملک جے سنگھ بہادر“۔ (تذکرہ، ص ۴۷۲)

پھر ایک اور قلابازی کھاتا ہے جس سے عقل حیران و پریشان ہو کر ہاتھ باندھ لیتی ہے۔ مرزا قادیانی کہتا ہے:

میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

(درثمین، ص ۱۰۰، مصنفہ مرزا قادیانی)

پھر ان نسلوں پر خط تنسیخ پھیرتے ہوئے ایک اور چھلانگ لگاتا ہے۔

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
صفحہ 40
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(درثمین ص ۶۸، مصنفہ مرزا قادیانی)

یہاں کہتا ہے کہ میں ”آدم زاد“ ہی نہیں ہوں یعنی میں ”بندے دا پتر“ ہی نہیں ۔ یہاں اس نے انسان کا بچہ ہونے سے ہی انکار کر دیا ہے۔ لہٰذا ہم بڑی سوچ بچار کے بعد مرزا قادیانی کی ذات کو ”ذات آوارہ“ قرار دیتے ہیں۔

١٩٠١ء میں دعوٰی نبوت داغ دیا اور اس کے ساتھ ہی ایک قادیانی ریاست کی جستجو شروع ہو گئی جہاں ایک حکومت کے زور پر قادیانی نبوت کو چلایا جاسکے اور دنیا کے سامنے ایک قادیانی ریاست کو پیش کیا جاسکے۔ اس ریاست میں قادیانی شریعت نافذ کی جاسکے۔ لوگوں کو نوکریوں، چھوکریوں، پلاٹ اور دیگر مراعات دے کر مرتد بنا کر وہاں بسایا جاسکے۔ یہ آرزو مرزا قادیانی کے دل میں ہر وقت انگڑائیاں لیتی رہتی۔ مرزا قادیانی کی نظر انتخاب کشمیر پر پڑی کہ کشمیر کو قادیانی ریاست بنا لیا جائے۔ اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حکیم نور الدین کو کشمیر بھیجا گیا۔ ایک سازش کے تحت حکیم نور الدین کو ریاست کشمیر میں شاہی طبیب کی حیثیت سے تعینات کرا دیا گیا۔ حکیم نور الدین نے مہاراجہ کشمیر راجہ امر سنگھ کی انتہائی قربت حاصل کر لی اور وہ ریاست میں سیاہ و سفید کا مالک بن گیا اور ابھی وہ ریاست پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھ ہی رہا تھا کہ اگلے حکمران راجہ پرتاپ سنگھ نے حکیم کو ایسی پٹخنی دی کہ اس کے سارے حسین سپنے چکنا چور ہوگئے۔ تقسیم ہند کے موقعہ پر قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے یہ مطالبہ کیا کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے لہٰذا ہمارے شہر قادیان کو ”ویٹیکن سٹی“ قرار دیا جائے، تاکہ ہم وہاں پر اپنی الگ ریاست بسا سکیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے اپنی ریاست کا نقشہ بھی پیش کیا لیکن ان کا یہ مطالبہ رد کر دیا گیا اور قادیان بھارت کے

صفحہ 41

حوالے کر دیا گیا۔ تقسیم ہند کے بعد قادیانی منہ اٹھا کر پاکستان آگئے۔ انگریز گورنر سر فرانسس موڈی نے اپنے ان چہیتوں کو بمقام ربوہ ضلع جھنگ میں ۱۰۳۳ ایکڑ‘ سات کنال‘ آٹھ مرلے اراضی پونا آنہ فی مرلہ کے حساب سے تحفۃً عنایت کی۔ قادیانیوں نے پاکستان میں ربوہ کو اپنی ریاست بنانے کی سرتوڑ کوششیں شروع کر دیں۔ ربوہ کو ایک بند شہر بنا دیا گیا۔ کوئی مسلمان ربوہ میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ قادیانی خلیفہ ربوہ کا مطلق العنان حاکم تھا۔ اس کا ہر حکم قانون تھا۔ ربوہ کی اپنی عدالتیں اور جیلیں تھیں۔ ربوہ کے اپنے الگ اسٹام پیپر تھے۔ ابھی یہ خوفناک منصوبہ اپنی شیطانی منزل کی جانب رواں دواں تھا کہ ۱۹۷۴ء میں زبردست تحریک ختم نبوت اٹھی، جس نے اس سارے منصوبے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ پاکستان میں قادیانیوں کو آئینی طور پر کافر قرار دے دیا گیا۔ ربوہ کھلا شہر قرار پایا اور مسلمان ربوہ میں داخل ہوگئے۔

۱۹۸۴ء میں جب مولانا اسلم قریشی کیس میں حکومت قادیانی خلیفہ مرزا طاہر کو شامل تفتیش کرنے لگی تو وہ راتوں رات ربوہ چھوڑ کر برطانیہ بھاگ گیا اور اس کے بعد قادیانی نبوت کے خاندان کے اہم افراد اور دیگر بڑے بڑے قادیانی بھی اپنے بھگوڑے پیشوا کے پیچھے برطانیہ چلے گئے اور آج تک وہیں بیٹھے ہوئے ہیں۔ یوں ربوہ کو قادیانی ریاست بنانے کی سازش تار تار ہوگئی۔

پاکستان بننے کے فوراً بعد قادیانیوں نے صوبہ بلوچستان پر اپنی حریص نگاہیں گاڑ رکھی تھیں۔ وہ اس وسیع و عریض رقبہ اور معدنیات سے لدی ہوئی زمین پر قادیانی ریاست قائم کرنا چاہتے تھے۔ قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین نے قادیانی امت کو بلوچستان پر قبضہ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا:

بلوچستان کی کل آبادی پانچ یا چھ لاکھ ہے۔ زیادہ آبادی کو احمدی بنانا مشکل ہے لیکن تھوڑے آدمیوں کو تو احمدی بنانا مشکل نہیں۔ پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبہ کو بہت جلد احمدی بنایا جا سکتا ہے۔ اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنا لیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو جائے گا جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں

صفحہ 42

گے۔ پس تبلیغ کے ذریعے بلوچستان کو اپنا صوبہ بنا لو تاکہ تاریخ میں آپ کا نام رہے۔“

(مرزا بشیر الدین محمود کا بیان مندرجہ ”الفضل“ ۱۳؍ اگست ۱۹۴۸ء)

لیکن علمائے حق اور بلوچستان کے غیور مسلمانوں نے اس سازش کا فوری نوٹس لیا اور اس کے پرخچے اڑا دیے اور قادیانی وہاں سے اپنی سازشوں سمیت سر پہ پاؤں رکھ کر بھاگے۔

جب افغان مجاہدین کے عظیم جذبہ جہاد اور فقید المثال قربانیوں سے روس ٹکڑے ٹکڑے ہوا تو روسی ریاستوں نے اپنی آزادی اور خود مختاری کا اعلان کر دیا۔ مختلف ریاستوں کو آزاد ہوتا دیکھ کر قادیانیوں کو پھر اپنی قادیانی ریاست یاد آئی اور ان کے منہ سے رال ٹپکنے لگی۔ ان ریاستوں میں سے کسی ریاست کو قادیانی ریاست بنانے کے لیے قادیانی مبلغین کی فوجیں وہاں روانہ کر دی گئیں۔ لاکھوں کی تعداد میں لٹریچر وہاں بکھیر دیا گیا۔ لیکن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بروقت اقدامات کی وجہ سے قادیانیوں کو منہ کی کھانی پڑی اور انہیں وہاں خائب و خاسر ہونا پڑا۔ تقریباً ایک صدی کی پے در پے ناکامیوں کے باوجود آج بھی حریص قادیانی اپنی ریاست کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ لیکن آج بھی قادیانیوں اور ریاست کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا قادیانیوں اور ایمان کے درمیان!

ڑ ۔ آڑو : وہ بدبخت قادیانی، جنہوں نے اپنی بدبخت آنکھوں کے ساتھ مرزا قادیانی کا بدبخت ”بوتھا“ دیکھا اور اس کے جھوٹے دعویٰ نبوت کو سچ کہا اور آج بھی دنیا کے اس عظیم جھوٹ کو سچ کہہ رہے ہیں، ہمارے دوستوں کی اصطلاح میں انہیں آڑو کہا جاتا ہے۔ میرا دوست صدیق شاہ کہتا ہے کہ ان کا نام آڑو اس لیے ہے کہ یہ بڑھاپے کے شکنجے میں کسے جانے کے باوجود اپنے کفر کو سچ کہنے پر ”اڑے“ ہوئے ہیں۔ جس طرح آڑو کے وسط میں اس کی سخت گٹھلی گھسی ہوتی ہے، اسی طرح کفرو

صفحہ 43

ارتداد ان کے قلب کے وسط میں عکس ہوتا ہے۔ جو آڑو چلنے پھرنے سے معذور ہوں انہیں ”ٹٹی آڑو“ کہا جاتا ہے اور جو آڑو چل پھر سکتے ہوں انہیں ”بیضوی آڑو“ کہا جاتا ہے۔ آڑوؤں کے چہرے باقی قادیانیوں کی نسبت اس لیے زیادہ لعنت زدہ ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے مرزا قادیانی کے لعنت افروز چہرے سے ڈائریکٹ ”فیض“ حاصل کیا ہوتا ہے۔ موت کا شکرا آڑوؤں کی ایک کثیر تعداد کو اچک کر جہنم لے گیا ہے۔ اب ہماری معلومات کے مطابق دنیا میں صرف دس بارہ آڑو پائے جاتے ہیں۔ آڑوؤں کی اس خطرناک حد تک گھٹتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے قادیانی جماعت نے آئندہ مرنے والے آڑوؤں کو حنوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ زمانے کو دکھانے کے لیے مرزا قادیانی کا کوئی تو معجزہ محفوظ رہے۔ اگر آپ کو کسی آڑو کے بارے میں پتہ چلے تو آپ اسے ضرور دیکھنے جائیں تاکہ آپ اللہ کے عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔ تمام آڑو اپنے نبی مرزا قادیانی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے لیٹرین ہی میں جان کی بازی ہارتے ہیں۔ پہلے آڑو خاص خاص جلسوں میں صدارت کے لیے جایا کرتے تھے لیکن ضیاء الحق کے نافذ کردہ امتناع قادیانیت آرڈیننس کے بعد ”چھڑل“ کر کے غائب ہو گئے ہیں۔ پچھلے سال کی بات ہے کہ ایک آڑو لاہور کینٹ میں ایک قادیانی جلسے کی صدارت کے لیے آیا لیکن جب پولیس نے چھاپہ مارا تو آڑو یوں غائب ہو گیا گویا ٹٹی ٹڈی کے پروں پر سوار ہو کر پرواز کر گیا ہو۔ یہ امر ملحوظ خاطر رہے کہ ٹٹی آڑو کا منہ ٹٹی آڑو کی طرح اور بیضوی آڑو کا منہ بیضوی آڑو کی طرح ہوتا ہے۔

ز۔ زبان: آپ نے بہت سی جھوٹی زبانیں سنی اور دیکھی ہوں گی لیکن کائنات میں سب سے جھوٹی زبان مرزا قادیانی کے منہ میں تھی۔ اس کی زبان سے جھوٹ کا پرنالہ گرتا تھا۔ وہ پے در پے اور تہ در تہ جھوٹ بولتا اور پھر ان جھوٹوں کو سچ ثابت کرنے کے لیے اسے مزید جھوٹ بولنے پڑتے۔ وہ صبح کچھ، دوپہر کچھ، شام کچھ اور رات کو کچھ بکتا۔ اس کی زبان تضادات کا مجموعہ تھی۔ کچھ تضادات آپ بھی پڑھئے

صفحہ 44

اور بتائیے کہ کبھی آپ نے اپنی زندگی میں ایسا شخص دیکھا ہے؟

قول اول : ”خدا وعدہ کر چکا ہے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی رسول نہیں بھیجا جائے گا“۔ (ازالہ اوہام‘ ص ۱۴۰‘ جلد دوم)

تردید : ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا“۔ (دافع البلاء‘

ص ۱۱‘ مطبوعہ ۱۹۰۲ء)

قول اول : ”بعض احادیث میں عیسیٰ ابن مریم کا لفظ پایا جاتا ہے لیکن کسی حدیث میں یہ نہیں پاؤ گے کہ اس کا نزول آسمان سے ہوگا“۔ (حمامتہ البشریٰ‘ مطبوعہ

۱۸۹۳ء)

تردید : ”صحیح مسلم کی حدیث میں یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا“۔ (ازالہ اوہام‘ ص ۸۷-۸۸‘ مطبوعہ

۱۸۹۱ء)

قول اول : ”بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لیے نوکر رکھا گیا جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں“۔ (کتاب البریہ‘ ص ۱۴۹‘ مطبوعہ ۱۸۹۷ء)

تردید : ”میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا یہی حال ہے کہ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہو“۔

(ایام صلح‘ ص ۱۴۷‘ مطبوعہ ۱۸۹۹ء)

قول اول : یہ بالکل غیر معقول اور بے ہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی اور ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو کیونکہ اس میں تکلیف مالایطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالا تر ہے“۔ (چشمہ معرفت‘ ص

۲۰۹‘ مطبوعہ ۱۹۰۸ء)

تردید : ”بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ واقفیت نہیں جیسے انگریزی‘ سنسکرت‘ عبرانی وغیرہ۔ جیسا کہ براہین احمدیہ میں کچھ نمونہ

صفحہ 45

دھوکا کھا گیا ہے"۔ (نزول المسیح، ص ۵۷، مطبوعہ ۱۹۰۲ء)

قول اول : "حضرت مسیح کی چڑیاں باوجودیکہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے، پھر بھی مٹی کی مٹی ہی تھیں"۔ (آئینہ کمالات اسلام، ص ۶۸، مطبوعہ ۱۸۹۳ء)

تردید : "اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان پرندوں کا پرواز قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا"۔ (ازالہ اوہام، ص ۳۰۷، طبع اول ۱۸۹۱ء)

قول اول : "قرآن شریف میں مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں بھی ذکر نہیں"۔ (ایام صلح اردو، طبع اول، ص ۱۴۶، مطبوعہ ۱۸۹۹ء)

تردید : "جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا"۔ (براہین احمدیہ، حصہ چہارم، ص ۴۹۸، قدیم ایڈیشن ۱۹۰۶ء)

قول اول : "عیسائیوں اور یہودیوں نے اپنے دجل سے خدا کی کتابوں کو بدل دیا"۔ (نور القرآن، حصہ اول نمبر ۶)

"انجیل و تورات ناقص اور محرف اور مبدل کتابیں ہیں"۔ (دافع البلاء، ص ۱۹)

"چاروں انجیلیں نہ اپنی صحت پر قائم ہیں اور نہ سب اپنے بیان کی رو سے صادق ہیں اور اس طرح انجیلوں کے واقعات میں طرح طرح کی غلطیاں پڑ گئیں اور کچھ کا کچھ لکھا گیا"۔ (براہین احمدیہ، حصہ چہارم، ص ۴۳۱، طبع قدیم)

تردید : "یہ کہنا کہ وہ کتابیں محرف و مبدل ہیں، ان کا بیان قابل اعتبار نہیں۔ ایسی بات وہی کرے گا جو خود قرآن شریف سے بے خبر ہے"۔

قول اول : "حضرت مسیح تو ایسے خدا کے متواضع اور حلیم اور عاجز اور بے نفس بندے تھے جو انہوں نے یہ بھی روا نہ رکھا کہ کوئی ان کو نیک آدمی کہے"۔

(حاشیہ براہین احمدیہ، ص ۱۰۳)

تردید : "یسوع اس لیے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ

صفحہ 46

شخص شرابی کبابی ہے اور خراب چال چلن“۔ (ست بچن‘ ص ۱۷۲)

قول اول : ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلدہ قدس میں ہے اور اب تک موجود ہے اور اس پر ایک گرجا بنا ہوا ہے“۔ (اتمام الحجۃ‘ مصنفہ مرزا قادیانی‘ شہادت محمد سعید طرابلسی‘ ص ۲۰)

تردید : ”خدا کا کلام قرآن شریف گواہی دیتا ہے کہ وہ مر گیا اور اس کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے“۔ (حقیقتہ الوحی‘ ص ۱۰۱ حاشیہ)

کیوں قارئین! آپ نے زندگی میں کبھی ایسا منہ اور زبان دیکھی ہے۔ صد حیف ان لوگوں پر جو اس شخص کو نبی مانتے ہیں جو گھر میں نوکر رکھے جانے کے بھی قابل نہیں۔

ٹراٹر خائی : ٹراٹر خائی بے ہودہ گفتگو یا بکواس کو کہتے ہیں۔ مورخین نے مرزا قادیانی کو اس فن کا امام مانا ہے۔ مرزا قادیانی صرف گالی باز ہی نہیں بلکہ گالی ساز بھی تھا۔ اس نے عربی‘ فارسی‘ اردو اور پنجابی میں دنیا کو بہت سی گالیوں سے متعارف کرایا ہے۔

وہ صرف گالیاں بکتا ہی نہیں تھا بلکہ لکھتا بھی تھا۔ اس فن میں اس کی زبان کو شرم آتی تھی نہ قلم کو حیا۔ اس کی گالیوں میں ایک عجب روانی اور بے ساختگی پائی جاتی ہے۔ وہ پکار پکار کر اور چبا چبا کر گالیاں بکتا۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اسے گالیوں کی جنم گھٹی دی گئی تھی۔ وہ نظم میں بھی گالیاں دے سکتا تھا اور نثر میں بھی۔ مرزا قادیانی نے اپنی امت کو بھی یہ فن خوب سکھایا اور سکھانے کا حق ادا کر دیا۔ امت نے بھی انتہائی پختہ مشق کر کے سیکھنے کا حق ادا کر دیا۔ جب مرزا قادیانی کا گالیاں لکھنے کا پروگرام ہوتا تو وہ ای پلومر کی شراب پی کر زبان کا سوئچ آن کر دیتا۔ ٹیچی ٹیچی اس کی زبان پر ریڈی میڈ گالیاں رکھتا جاتا اور اس کی زبان گالیوں کے برسٹ مارتی جاتی۔ جب گالیاں لکھنے کا پروگرام ہوتا تو وہ اپنے جھاڑو نما قلم کو پکڑتا‘ دو چار

صفحہ 47

مرتبہ قلم جھاڑتا، قلم کو پانچ سات گالیاں بکتا، پھر نوک قلم اپنے دماغ میں چبھوتا، گویا دماغ کو سٹارٹ کر رہا ہے، دماغ سٹارٹ ہو جاتا اور وہ کسی بدنصیب کاغذ پر اپنے زہریلے قلم کے منہ سے گالیوں کی الٹی کرتا جاتا۔ نمونے کے طور پر چند گالیاں پیش خدمت ہیں۔

”سعد اللہ لدھیانوی بے وقوفوں کا نطفہ اور کنجری کا بیٹا ہے“۔ (تتمہ حقیقتہ

الوحی، ص ۱۴)

”خدا تعالیٰ نے اس کی بیوی کے رحم پر مہر لگا دی“۔ (تتمہ حقیقتہ الوحی، ص ۱۴)

”آریوں کا پرمیشر (خدا) ناف سے دس انگل نیچے ہے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں“۔

(چشمہ معرفت، ص ۱۶۱)

”ہر مسلمان مجھے قبول کرتا ہے اور میرے دعوے پر ایمان لاتا ہے مگر زنا کار کنجریوں کی اولاد، جن کے دلوں پر خدا نے مہر کر دی ہے، وہ مجھے قبول نہیں کرتے“۔

(آئینہ کمالات اسلام، ص ۵۴۷)

”جھوٹے آدمی کی یہی نشانی ہے کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت لاف گزاف مارتے ہیں مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہو جاتے ہیں“۔ (حیات احمد، جلد نمبر ۱، ص ۲۵)

”عبدالحق کو پوچھنا چاہیے کہ اس کا وہ مباہلہ کی برکت کا لڑکا کہاں گیا۔ کیا اندر ہی اندر پیٹ میں تحلیل پا گیا یا پھر رجعت قہقری کر کے نطفہ بن گیا۔ اب تک اس کی عورت کے پیٹ سے ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا“۔ (ضمیمہ انجام آتھم، ص ۴۷)

س ۔ سکندر مرزا : سکندر مرزا پرلے درجے کا بے دین اور عیاش تھا۔ مذہب سے اسے خدا واسطے کا بیر تھا۔ وہ میر جعفر کی اولاد سے تھا۔ اتنے بڑے غدار کی اولاد ہونے پر بھی وہ شرم کی بجائے فخر کیا کرتا تھا۔ اس کی بیوی ناہید سکندر مرزا اپنے خاوند سے بھی چار ہاتھ آگے تھی۔ اپنے وقت شباب میں اس ایرانی حسینہ کی رنگین

صفحہ 48

داستانوں کے خوب چرچے تھے۔ سکندر مرزا بھی اس کی آنکھوں کے تیر کا شکار ہوا تھا اور پھڑک کر قدموں میں جا گرا تھا۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کو کچلنے کے لیے جب پاکستان میں پہلا مارشل لاء لگایا گیا تو سکندر مرزا اس وقت سیکرٹری دفاع تھا۔ قادیانیوں کے یار سکندر مرزا نے ختم نبوت کے پروانوں پر وہ ستم توڑے کہ شہر لاہور خون میں نہا گیا۔ سفاک سکندر مرزا فوجیوں سے پوچھتا کہ کوئی گولی خالی تو نہیں گئی۔ آج کتنے مولوی مارے؟ اس خدمت کے عوض قادیانی اس کے کمرے کو عیش و عشرت کے سامان سے آراستہ رکھتے۔ کبھی دوستوں کی محفل میں جام پہ جام لنڈھاتا، قہقہے لگاتا سکندر مرزا کہتا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں ساحل سمندر پر مولویوں کی دعوت کروں۔ ایک سونے کی بہت بڑی کشتی بناؤں اور مولویوں کو سمندر کی سیر کے لیے لے جاؤں اور پھر گہرے سمندر میں کشتی لے جا کر سارے مولویوں کو غرق کر دوں۔ ختم نبوت کا غدار سکندر مرزا علمائے کرام کو تو غرق نہ کر سکا البتہ یہ سزا خود اس کو مل گئی۔ ایوب خان نے جب سکندر مرزا سے اقتدار چھینا تو سکندر مرزا کو ملک چھوڑ کر لندن پناہ لینی پڑی جہاں وہ ایک ہوٹل میں منیجر لگ گیا۔ کہاں پاکستان کا گورنر جنرل اور کہاں لندن کے ایک ہوٹل کا منیجر! لندن ٹھہرنے کے کچھ عرصہ بعد وہ ایران چلا گیا جہاں جلد ہی وہ مر گیا اور اسے ایران ہی میں دفن کر دیا گیا۔ قدرت نے ابھی انتقام لینا تھا اور ختم نبوت کے غدار کو زمانے کے سامنے عبرت کا نشان بنانا تھا۔ شاہ ایران کے بعد جب ایران میں خمینی کی حکومت قائم ہوئی تو ایک طبقے نے آواز اٹھائی کہ امریکہ کا ایجنٹ سکندر مرزا ایرانی سرزمین میں کیوں دفن ہے؟ لہٰذا اس کی قبر اکھیڑی گئی۔ ہڈیوں کو نکال کر پاؤں تلے روندا گیا اور پھر ہڈیوں کو سمندر میں پھینک دیا گیا۔ یوں زمین نے ختم نبوت کے پروانوں کے قاتل کو اپنے پیٹ میں برداشت نہ کیا۔

مٹ گئے‘ مٹ جائیں گے اعدا تیرے
نہ مٹا ہے‘ نہ مٹے گا چرچا تیرا

”نوائے وقت“ مارچ ۱۹۹۴ء کے جمعہ میگزین میں کسی صاحب نے سکندر مرزا پر

صفحہ 49

ایک مختصر مگر جامع اور اثر انگیز مضمون لکھا۔ وہ انتہائی حقائق افروز مضمون آپ کی خدمت میں برائے مطالعہ پیش کیا جاتا ہے تاکہ آپ اس نشان عبرت کو دیکھ سکیں۔

"نشان عبرت عرف سکندر کا مقدر"

۱۹۵۴ء سے اکتوبر ۱۹۵۸ء تک سکندر مرزا پاکستان کے مطلع سیاست پر اس طرح چھائے رہے کہ ان کی ہیبت اور دبدبے کا شہرہ چار دانگ عالم میں تھا۔ ان کے اشارۂ ابرو کے بغیر پاکستان میں کوئی پتا تک نہیں ہلتا تھا۔ وہ مشرقی پاکستان کی گورنری کے عہدے پر فائز رہے، پھر انہوں نے مرکزی حکومت میں سیکرٹری داخلہ اور دفاع کے فرائض انجام دیئے، پھر ایوان صدر کراچی کی غلام گردشوں میں کوئی ایسا کھیل کھیلا کہ مفلوج و معذور ملک غلام محمد کو نکال باہر کیا اور قائد اعظم کی کرسی پر مسلط ہوگئے۔ ان کے دور میں چودھری محمد علی، سہروردی، چندریگر اور پھر ملک فیروز خان نون کی چھٹی ہوئی۔ اس طرح پاکستان کی سیاست میں انہوں نے وزرائے اعظم کی تقرری اور برطرفی کا ایک ایسا ریکارڈ قائم کیا جس کی شکست کا مسئلہ کسی طالع آزما "صدر" کا منتظر ہے۔ وہ اپنے نامزد کردہ پانچویں (جنرل ایوب خان) وزیر اعظم کو بھی چھٹی دینے کے لیے تیار ہوگئے تھے لیکن ایوب خان اس کھیل میں ان سے بازی لے گئے اور انہیں بیک بینی و دو گوش ایوان صدر سے ہی نہیں بلکہ ملک سے بھی نکال باہر کیا۔ اپنے دور اقتدار میں ملک کی قسمت کا مالک بننے والے جنرل مرزا کو لندن کے ایک ہوٹل میں مینجر کا عہدہ ہی مل سکا اور اقتدار کے دور میں حاصل کردہ صرف ایک ہی چیز ان کی رفیق سفر رہی یعنی ان کی اہلیہ ناہید سکندر مرزا۔ بیگم ناہید جو پاکستان میں متعین ایک ایرانی پریس اتاشی کی اہلیہ تھیں، کسی تقریب میں سکندر کی نگاہ انتخاب کا معیار ٹھہریں اور جس طرح ایرانی شوہر سے انہوں نے نجات حاصل کی وہ ایک طویل کہانی ہے۔

سکندر مرزا نے ملک میں دو مارشل لاء لگائے۔ اس لحاظ سے بھی یہ ایک ریکارڈ ہے۔ تاحال کسی کو یہ "دوہری سعادت" حاصل نہیں ہو سکی۔ وہ ملک کے آخری گورنر

صفحہ 50

جنرل اور پھر پہلے صدر مقرر ہوئے۔ یہ ایک ایسا منفرد ریکارڈ ہے جو کبھی بھی نہیں ٹوٹے گا۔ وہ چانکیہ اور میکاولی ازم کا معجون مرکب تھے اور ان سے کام لے کر وہ پاکستانی سیاست کے مرد آہن بن گئے۔ امریکی سفارت خانے اور ایوان صدر کے درمیان گہرے رابطے انہی دنوں استوار ہوئے کہ ان کے صاحبزادے نے امریکی سفیر کی صاحبزادی کو اپنی زوجیت میں لیا اور پھر ان کی اولاد کو ”امویہ لارنس مرزا“ کا منفرد نام دیا گیا۔ ”امویہ لارنس مرزا“ آج کل کہاں ہیں‘ کوئی پتہ نہیں یا کم از کم عام لوگوں کو معلوم نہیں کہ ان کے مرد آہن کے ”باقیات الصالحات“ پر کیا گزری یا کیا گزر رہی ہے؟

سیکرٹری دفاع کی حیثیت سے ان کے حکم پر لاہور میں ۱۹۵۳ء کا مارشل لاء لگایا گیا اور پھر انہیں ہی یہ سعادت حاصل ہوئی کہ ۱۹۵۸ء میں انہوں نے اس آئین ہی کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا جس کی انہوں نے منظوری دی تھی اور اسی آئین نے انہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کا پہلا صدر ہونے کا اعزاز بخشا۔ پھر ۲۸؍ اکتوبر ۱۹۵۸ء نیم شب ان کو ایوان صدر سے نکال کر لندن کے ایک ہوٹل کی مینجری پر متعین کر دیا گیا۔ سکندر مرزا کا عہد اقتدار ہماری تاریخ کا ایک ایسا حصہ ہے جس کی ایک ایک سطر عبرت کا مرقع ہے۔ انہوں نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے کیا کیا تدبیریں اختیار نہ کیں‘ سازشوں اور ریشہ دوانیوں کی ایک نئی روایت کی داغ بیل ڈالی جو اب ایک تن آور درخت کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے راتوں رات ری پبلکن پارٹی بنوائی جس کا سربراہ اپنے ایک قدیمی دوست ڈاکٹر خان صاحب کو بنایا اور پھر ان کی سادگی اور خلوص کو اپنے اقتدار کی مضبوطی کے لیے استعمال کیا۔ سکندر مرزا کے ”کارناموں“ کا جائزہ لیا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ پاکستانی قوم نے اپنے مزاج کے خلاف کیسے کیسے حکمرانوں کو برداشت کیا یا کیسے کیسے حکمرانوں نے پاکستانی عوام کے صبر و ضبط کو آزمانے کی کوشش کی۔ اقتدار کے حصول کے لیے کیسے کیسے گھناؤنے کھیل کھیلے گئے اور ملک و عوام کے خلاف ایسی کون سی سازش تھی جو نہیں کی گئی۔ اور اگر قدرت کا دست

صفحہ 51

غیب پاکستانی عوام کے سر پر سایہ فگن نہ ہوتا تو پاکستان اور پاکستانی قوم کا کیا حشر ہوتا، اس کے تصور ہی سے روح کانپ اٹھتی ہے۔ سکندر مرزا کے بارے میں ان گنت کہانیاں مشہور ہیں۔ ایک کہانی تو یہ ہے کہ اپنے زمانے کے معروف سمگلر قاسم بھٹی نے ان کی اہلیہ کو ایک لاکھ روپے کی مالیت کا ہار بطور تحفہ پیش کیا اور اس کے بدلے ان سے سونے کی سمگلنگ میں سرپرستی کی استدعا کی جو بارگاہ سلطانی میں قبول کی گئی۔ لیکن فوجی حکام نے اس زمانے میں ایک کروڑ روپے کا مالیتی سونا کراچی کے قریب سمندر سے برآمد کر لیا جس پر مرزا صاحب کی خفگی قابل دید تھی۔ اخبارات میں قاسم بھٹی اور سکندر مرزا کی ایک تصویر بھی شائع ہوئی تھی جس میں اپنے اپنے فن کے دو امام کھڑے مسکرا رہے تھے لیکن تقدیر ان پر مسکرا رہی تھی۔ ایک کو قید بامشقت اور دوسرے کو جلاوطنی کی سزا ملی۔ سکندر کو پھر اپنے پیشرو سکندر اعظم کی طرح اپنے وطن کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ کہتے ہیں سکندر اعظم کی پیدائش یورپ (یونان) میں ہوئی، موت ایشیا میں آئی اور اسے افریقہ میں دفن کیا گیا۔ اپنے سکندر بھی ایشیا میں پیدا ہوئے، یورپ میں مرے اور پھر اس سرزمین میں دفن ہوئے جہاں ان کے پیشرو سکندر کی موت واقع ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں ڈیرہ اسماعیل خان کی بعض ”نامور شخصیتوں“ کے دستخطوں سے ایک قد آدم پوسٹر بھی شائع کروایا جس میں انہیں ”شہنشاہ پاکستان“ کا خطاب دیا گیا۔

گزشتہ ۱۳ نومبر کو یہ سب باتیں بے اختیار یاد آگئیں کیونکہ ۱۳ نومبر ہی کو وہ اس دنیائے فانی سے رخصت ہوئے تھے اور آج اس ۱۳ نومبر کے دن کراچی کے ایک انگریزی اخبار کے اندرونی صفحات کے زیریں حصے میں ایک دس سطری تعزیتی اشتہار شائع ہوا جس میں ان کی ایک دھندلی سی تصویر تھی۔

اور اشتہار دینے والے نے اپنا نام و پتہ تک دینے کی ہمت نہیں کی.....! سکندر اعظم کو مقدر کا سکندر کہتے ہیں اور اپنے سکندر کے بارے میں یہ اشتہار دیکھ کر بے اختیار زبان پر آ گیا..... سکندر کا مقدر.......!

صفحہ 52

ش ۔ شیرو: بناسپتی نبی مرزا قادیانی کو اپنے دیگر بناسپتی شوقوں کی طرح کتے بازی کا بھی شوق تھا اور اس نے اس شوق کی تسکین کے لیے ایک کتا بھی پال رکھا تھا جس کا نام شیرو تھا۔ شیرو سارا دن گھر کی چوکھٹ کے ساتھ پٹا گلے میں ڈالے زنجیر کے ساتھ بندھا رہتا۔ شیرو دروازے پر بیٹھا مرزا قادیانی کے آنے والے مریدوں کو حیرانی و پریشانی کی آنکھوں سے دیکھتا‘ گویا انہیں کہہ رہا ہو کہ میں نے کتا ہو کر آج تک اپنے مالک کو شریف آدمی نہیں مانا اور تم انسان ہو کر نجانے اس کو کیا کیا مان رہے ہو اور کبھی کبھی شیرو غصے میں آ کر اپنی سرخ سرخ آنکھیں نکال کر ان مریدوں پر اچھل اچھل کر بھونکتا کہ جیسے احتجاج کر رہا ہو کہ نادانو! کس جہنم کی طرف لپکے آ رہے ہو۔ شیرو مرزا قادیانی کی رنگین راتوں کا راز دان تھا۔ ڈاکئے سے مریدوں کی بڑی بڑی رقوم کے منی آرڈرز وصول کرنے کا عینی شاہد تھا۔ مرزا قادیانی کی گھریلو زندگی کی کئی داستانیں اس کے دماغ میں محفوظ تھیں۔ صبح جب مرزا قادیانی اسے روٹی ڈالنے آتا تو شیرو اس کے قدموں سے لپٹنے لگتا جیسے اسے سبق دے رہا ہو کہ جا تو بھی سچی توبہ کر کے اپنے مالک کے قدموں سے لپٹ جا۔ ایک دن صبح صبح مرزا قادیانی شیرو کو روٹی ڈالنے آیا تو اس نے دیکھا کہ شیرو سردی سے ٹھٹھر کر مرا پڑا ہے۔ اس کا منہ کھلا اور زبان باہر نکلی ہوئی ہے اور گویا وہ اپنے کھلے منہ اور باہر نکلی زبان سے مرزا قادیانی سے کہہ رہا تھا:

”اے نادان انسان! میری موت کو دیکھ کر ہی تو اپنی موت کو یاد کر لے جب تجھے کٹہرے میں کھڑے ہو کر اپنے خالق کو ایک ایک عمل کا حساب دینا پڑے گا۔ جبکہ مجھ سے تو کوئی باز پرس بھی نہیں ہو گی۔“

تمہارا خیر خواہ ”شیرو کتا“

صفحہ 53

نئی صنعت : فرنگی نے اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے آج سے تقریباً ایک صدی قبل قادیان میں کافر سازی، مرتد سازی، زندیق سازی اور غدار سازی کی ایک بہت بڑی صنعت قائم کی۔ جھوٹی نبوت کے اس پلانٹ کا منیجنگ ڈائریکٹر مرزا قادیانی اور چیف انجینئر حکیم نور الدین تھا۔

اس پلانٹ میں بڑے بڑے مرتدوں اور غداروں کی ”اسمبلنگ“ ہوئی۔ لوگوں کو اس پلانٹ میں لا کر ان کے دلوں سے ایمان کی روشنی نکال کر سیاہ رنگ کر دیا جاتا۔ سینوں سے عشق رسولؐ اور جذبہ جہاد نوچ لیا جاتا۔ دماغوں کا آپریشن کر کے انگریز کی اطاعت کا زہر بھر دیا جاتا۔ پھر اس صنعت سے تیار ہونے والے مرتدوں کو ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت پورے ہندوستان میں مرتد سازی کی مہم کے لیے پھیلا دیا جاتا تاکہ زیادہ سے زیادہ مرتد بنائے جا سکیں۔ تقسیم ملک کے بعد ۱۹۴۷ء میں یہ صنعت ربوہ پاکستان میں منتقل کر دی گئی۔ ۱۹۷۴ء میں اور اس کے بعد مسلمانوں کے پے در پے حملوں کے باعث یہ صنعت برطانیہ منتقل کر دی گئی۔ آج کل مرزا قادیانی کا پوتا، مرزا طاہر اس صنعت کا منیجنگ ڈائریکٹر ہے۔ اس پلانٹ سے بڑے بڑے قابل ذکر ننگ دین و ننگ وطن پیدا ہوئے۔ ۱۹۴۷ء میں کشمیر کو پاکستان سے کٹوا کر بھارت کے ساتھ شامل کرانے والا سر ظفر اللہ خان اسی صنعت کا تیار کردہ تھا۔ ۱۹۶۵ء میں پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ کی خطرناک آگ لگانے والے جنرل اختر ملک اور جنرل عبدالعلی کا تعلق بھی اسی صنعت سے تھا۔ سقوط ڈھاکہ کا اہم کردار ایم۔ ایم۔ احمد اسی صنعت کا بنایا ہوا زہریلا خنجر ہے۔ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کے انتہائی اہم راز بھارت اور اسرائیل تک پہنچانے والا غدار وطن ڈاکٹر عبدالسلام بھی اسی صنعت کا بنایا ہوا سانپ ہے۔ اس کے علاوہ اس پلانٹ سے نکلنے والے ہزاروں اسلام دشمن کالے چوہوں نے وہ کالے کرتوت رقم کیے ہیں کہ ان کی سیاہی سے سمندر بھی سیاہ ہو جائیں۔

اللہ تعالیٰ کے حضور ہم اپنے ہاتھوں کا کشکول پھیلا کر یہ دعا کرتے ہیں کہ مولا! تو کوئی ایسا مجاہد مسلمان حکمران پیدا کر جو کفر و ارتداد کی اس صنعت، اس پلانٹ، اس چوروں

صفحہ 54

کی ماں کے پرخچے اڑا دے تاکہ نہ رہے چوروں کی ماں اور نہ جنم لے کوئی چور!

ض - ضدی : قادیانی لغت میں ضدی کا لفظ مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا فضل احمد کے لیے بولا جاتا ہے۔ مرزا فضل احمد مرزا قادیانی کی نبوت کو تسلیم نہ کرتا تھا۔ وہ اپنے باپ سے کہتا ”ابا! ساری رات خراٹوں سے تیرا کمرہ گونجتا رہتا ہے اور صبح اٹھ کے تو لوگوں سے کہتا ہے کہ رات مجھ پر فلاں فلاں وحی آئی ہے“۔ وہ کہتا ”اے ابا! خدا سے ڈر، تو نے یہ کیا ڈھونگ رچا رکھا ہے؟“ جواباً مرزا قادیانی اسے خوب غلیظ گالیاں دیتا اور طرح طرح کی دھمکیاں دیتا لیکن مرزا فضل احمد اپنی ہٹ پر قائم رہا۔ نہ وہ مرزا قادیانی کی گالیوں سے ڈرتا اور نہ اُس کی دھمکیوں سے مرعوب ہوتا۔ عین شباب میں مرزا فضل احمد کا انتقال ہو گیا۔ مرزا قادیانی بیٹے کی نماز جنازہ میں شامل نہ ہوا۔ وہ مرزا قادیانی اور دیگر مرزائیوں کے نزدیک کافر تھا کیونکہ وہ مرزا قادیانی کی نبوت پر ایمان نہیں لایا تھا۔ اللہ کی شان کہ اس نے مرزا فضل احمد کو جھوٹے نبی کے زیر سایہ رکھتے ہوئے بھی اس کے ایمان کو اپنے پہرہ میں محفوظ و مامون رکھا اور مرزا قادیانی جیسے مرتد و زندیق کو اس مسلمان کی نماز جنازہ میں شامل نہ ہونے دیا۔

قادیانیو! آج مجھے میرے ایک سوال کا جواب ضرور دینا اور جواب دینے کے بعد خوب سوچنا ۔۔۔ شاید وہ سوچ تمہیں ایمان کے ساحل مراد تک لے جائے۔

قادیانیو! مرزا قادیانی لکھتا ہے:

”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی“۔ (آئینہ کمالات اسلام، ص ۵۴۷، مصنفہ مرزا قادیانی)

اس عبارت کے مطابق اگر مرزا فضل احمد کی ماں رنڈی یعنی کنجری تھی تو کیا مرزا فضل احمد کا باپ مرزا قادیانی کنجر نہیں تھا؟

صفحہ 55

"جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہوا تو سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں"۔ (انوار اسلام، ص ۳۰، مصنفہ مرزا قادیانی) اس عبارت کے مطابق مرزا فضل احمد حلال زادہ نہیں بلکہ حرام زادہ تھا۔ اب ہم مرزا صاحب کی بیگم کو کیا کہیں اور مرزا صاحب کو کس نام سے پکاریں؟

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

ط - طاہر احمد مرزا : مرزا طاہر مرزا ناصر کا چھوٹا بھائی، قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین کا بیٹا اور دجال قادیاں مرزا قادیانی کا پوتا ہے۔ باپ مرزا بشیر الدین نے سینکڑوں "حوروں" کے ہوتے ہوئے نو شادیاں رچائیں اور مرزا طاہر سمیت اس کے اکیس بچے تھے۔ مرزا طاہر بچپن ہی سے بڑا شریر، جھگڑالو، اور بڑھکیں مارنے کا شوقین تھا۔ جوان ہونے پر وہ ایک مکمل غنڈہ بن چکا تھا، جس کے ساتھ ہر وقت غنڈوں کی ایک پلٹن رہتی تھی۔ ۱۹۷۴ء میں نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر ربوہ ریلوے اسٹیشن پر جن قادیانی غنڈوں نے حملہ کیا تھا، ان کی قیادت مرزا طاہر ہی کر رہا تھا۔ مرزا ناصر کی موت کے بعد قادیانی خلافت کے تخت پر بیٹھنے کے لیے اس کے مقابل تین مضبوط حریف تھے۔ یعنی مرزا رفیع، مرزا مبارک احمد اور ایم۔ ایم۔ احمد۔ لیکن مرزا طاہر، جو صفات رذیلہ میں اپنے حریفوں سے بہت آگے تھا اور اس نے باپ سے ورثہ میں دوسروں کی نسبت زیادہ خباثت پائی تھی، نے کمال مہارت سے اپنی راہ سے یہ تینوں کانٹے ہٹا دیے۔ اس نے بڑے بھائی مرزا ناصر کی زندگی ہی میں مرزا رفیع پر بہت سی پابندیاں لگا رکھی تھیں اور اسے عوامی اجتماعات میں آنے کی اجازت نہیں تھی۔ دوسرے حریف مرزا مبارک کو بیرون ممالک قادیانی مشنوں کا سربراہ بنا کر بھیج دیا اور اسے کہا کہ جتنا جی چاہے مال کھاؤ اور عیش اڑاؤ۔ تیسرے حریف ایم۔ ایم۔ احمد کی زمینوں کی الاٹمنٹ جماعت کے فنڈ سے کرا کہ اس کا منہ بند کر دیا۔ راستے

صفحہ 56

کے سارے کانٹے ہٹانے کے بعد وہ بناسپتی نبوت کا گدی نشین بنا اور بڑے کر و فر کے ساتھ جھوٹی نبوت کا کاروبار چلانے لگا۔ ۱۹۸۴ء میں اس کے ایما پر مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا اسلم قریشی کو سیالکوٹ سے اغواء کیا گیا۔ مولانا اسلم قریشی کے اغواء پر مسلمانان پاکستان نے ایک زبردست تحریک چلائی اور حکومت سے مولانا اسلم قریشی کی بازیابی اور مجرموں کی گرفتاری کا مطالبہ ملک کی گلی گلی میں گونجنے لگا۔ جب حکومتی تفتیش کے ہاتھ مرزا طاہر کی گردن پر پہنچنے لگے تو وہ ایک اندھیری شب کو برقع پہن کر پاکستان سے فرار ہو کر لندن اپنی نانی کے پاس چلا گیا۔ لندن سے تیسرے دن اسرائیل گیا اور وہاں بائیس دن ٹھہرا۔ عالم اسلام کے بدترین دشمن اسرائیل میں کلیدی عہدوں پر تعینات اور خفیہ اداروں کے افسروں سے جی بھر کر ملاقاتیں کیں اور پھر لندن آگیا۔ لندن سے ۶۴ کلومیٹر دور اکیس ایکڑ زمین پر ”اسلام آباد“ کے نام پر اپنی جدید کفریہ بستی بسائی۔ یہ زمین اس نے چالیس کروڑ روپے میں خریدی۔ مرزا طاہر کی عمر اس وقت ۶۵ سال کے لگ بھگ ہے۔ قادیانیوں اور یہود و نصاریٰ سے اس قدر دولت بٹوری ہے کہ دنیا کے اکتالیس امراء میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ پرنس آف ایڈنبرا کے ساتھ پولو کھیلتا تھا۔ مرزا طاہر کی کوئی نرینہ اولاد نہیں، اس لیے وہ اپنے داماد اور مرزا ناصر کے بیٹے مرزا لقمان کو قادیانی خلیفہ بنانے کی پوری تیاری کر چکا ہے۔ مرزا طاہر نے کئی شادیاں رچائیں، لیکن آصفہ بیگم عرف آپی پسندیدہ بیگم تھی جو ۱۹۹۲ء میں کینسر سے مر گئی۔ مرزا طاہر نے بیگم کی نام نہاد نماز جنازہ خود پڑھائی اور پوری دنیا میں مصنوعی سیارے کے ذریعے دنیا بھر کے قادیانیوں کو نماز جنازہ پڑھنے کا حکم دیا۔ ساری دنیا کے قادیانیوں کو حکم دیا گیا کہ وہ ایسی قادیانی عبادت گاہوں یا امیر قادیانیوں کی کوٹھیوں میں اکٹھے ہو جائیں جہاں ڈش انٹینا لگا ہو۔ جونہی مرزا طاہر ٹی وی پر نماز جنازہ پڑھانے کے لیے کھڑا ہو، دنیا بھر کے سارے قادیانی اپنے اپنے ٹی وی کی سکرین پر کھڑے مرزا طاہر کی تصویر کے پیچھے صفیں باندھ لیں اور نام نہاد نماز جنازہ مکمل کریں۔

صفحہ 57
احمقوں کی کمی نہیں غالب
ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں

مرزا طاہر ہاتھ میں تسبیح رکھتا ہے، سر پہ پگڑی باندھتا ہے، منہ میں بیڑا چباتا رہتا ہے، ٹخنوں کے اوپر شلوار پہنتا ہے۔ لمبی داڑھی رکھی ہوئی ہے۔ تقریر میں کبھی کبھی رونی آواز بھی نکالتا ہے۔ دنیا کے شاید ہی کسی کافر کو اپنا کفر چھپانے کے لیے اتنی محنت کرنا پڑتی ہو۔

اللہ رے دیکھئے اسیری بلبل کا اہتمام
صیاد عطر مل کے چلا ہے گلاب کا

مرزا طاہر کو کئی کتابوں کا مصنف کہا جاتا ہے، حالانکہ کتابیں کوئی اور لکھتا ہے، وہ تو صرف کتاب کے ٹائٹل پر اپنا نام لکھتا ہے اور کتاب اس کی ہو جاتی ہے۔ جمعہ کے دن قادیانیوں کے سامنے اسے جو تقریر کرنا ہوتی ہے، وہ دو دن قبل اس کے پاس لکھی لکھائی پہنچ جاتی ہے۔ وہ تقریر یاد کر کے مجمع کے سامنے جھاڑ دیتا ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ مجمع کی جیبیں جھاڑ لیتا ہے۔

اور مسلمانوں کو جتنا نقصان ظفر اللہ نے پہنچایا شاید اتنا نقصان مرزا قادیانی نے بھی نہ پہنچایا ہو۔ ظفر اللہ نے اپنے باپ کے ساتھ چار برس کی عمر میں مرزا قادیانی کو دیکھا اور ایسا دیکھا کہ پھر اپنے ایمان کو روتا ہی رہ گیا۔ بھلا اس سے کوئی پوچھتا کہ مرزا قادیانی بھی کوئی دیکھنے والی چیز تھی۔ کتنا بد ذوق تھا تو اے ظفر اللہ ! لیکن کیا کیا جائے پسند اپنی اپنی، نصیب اپنا اپنا۔ جوان ہوا تو وکالت کا پیشہ اختیار کیا لیکن ایک ناکام وکیل ثابت ہوا۔ جس دربار سے اس کے آقا مرزا قادیانی کو نبوت ملی تھی اسی دربار نے ظفر اللہ کے سر پر بھی اپنا طلسماتی ہاتھ پھیرا اور اسے وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کا ممبر بنا دیا۔ تقسیم ملک کے موقع پر ایک سازش کے تحت حد بندی کمیشن کے سامنے

صفحہ 58

مسلم لیگ کا موقف پیش کرنے کے لیے ظفر اللہ کو چن لیا گیا اور ظفر اللہ نے اس موقعہ پر وہ ہولناک کھیل کھیلا کہ مسلمانان ہندوستان کے جسموں سے آج بھی اس کے لگائے گئے کاری زخموں سے خون رس رہا ہے۔ ظالم سر ظفر اللہ نے پٹھانکوٹ، بٹالہ اور گورداسپور کی تحصیلیں اپنے فرنگی آقا کے اشارے پر ہندوستان کو دے دیں۔ مسئلہ کشمیر کا بانی بھی سر ظفر اللہ ہے اور آج بھی کشمیری مسلمانوں کے جلتے ہوئے گھروں، لٹتی ہوئی عصمتوں اور مرغزاروں میں پڑے گبرو جوانوں کی لاشوں کا مجرم ظفر اللہ ہے۔

جب بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے انگریزوں سے عدم تعاون اور ترک موالات کے سلسلہ میں تمام اہل وطن سے اپیل کی کہ وہ انگریزوں کے عطا کردہ خطابات و اعزازات واپس کر دیں تو صرف سر ظفر اللہ ہی وہ واحد شخص تھا جس نے خطاب واپس کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ خطاب شاید اس لیے واپس نہ کیا کہ اگر ”سر“ کا خطاب واپس کرتا تو اس کا آقا فرنگی کہتا ”سر“ کا خطاب تو تم نے واپس کر دیا ہے، ہماری عطا کردہ نبوت بھی واپس کرو۔ ظفر اللہ مرتد سات برس تک اسلام کے نام پر بننے والے ملک پاکستان کا وزیر خارجہ رہا۔ سات سالوں میں اس نے بیرون ممالک پاکستانی سفارت خانے قادیانیت کے اڈے بنا دیے اور قادیانی نوجوانوں کو ملک کے کلیدی عہدوں پر بٹھا دیا۔ اسلام کی تبلیغ کے نام پر قادیانی سرکاری خزانوں سے کروڑوں روپے ہضم کرنے لگے۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں حکومت وقت سے ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ سر ظفر اللہ کو وزارت خارجہ سے ہٹایا جائے۔ لیکن اقتدار کے نشے میں بدمست حکمرانوں نے ظفر اللہ کو تو وزارت خارجہ سے خارج نہ کیا البتہ دس ہزار مسلمانوں کو تحریک ختم نبوت میں شہید کر دیا اور دو لاکھ سے زائد مسلمانوں کو زندانوں میں پھینک دیا۔ ۱۹۵۶ء میں ایک بہت بڑا ریلوے تصادم ہوا جس میں بیسیوں مسافر مارے گئے۔ سر ظفر اللہ بھی اسی ٹرین میں سفر کر رہا تھا لیکن وہ محفوظ رہا۔ کسی نے یہ خبر امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو سنائی کہ شاہ جی! اتنے

صفحہ 59

آدمی ٹرین کے حادثہ میں مارے گئے ہیں لیکن سر ظفر اللہ کو کچھ نہیں ہوا۔ مرد قلندر سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے منہ سے فوراً نکلا، بھائی! وہ قادیانیت کا انجام دیکھ کے مرے گا۔ فقیر کی بات پوری ہوئی اور سر ظفر اللہ کی زندگی میں ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے نتیجہ میں قادیانیوں کو بمعہ آکڑ خان سر ظفر اللہ آئینی طور پر کافر قرار دے دیا گیا۔ سر ظفر اللہ نے ۹۳ برس کی طویل عمر پائی۔ آخری ایام میں وہ بہت سے موذی امراض میں مبتلا رہا اور آخر میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر یہ اسلام دشمن و وطن دشمن عازم جہنم ہو گیا۔ عینی شاہدوں کا بیان ہے کہ موت سے کچھ دن قبل ظفر اللہ اپنا پاخانہ خود کھاتا تھا۔۔۔۔۔ کسی گستاخ رسول سے ایسا سرزد ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ مرنے سے قبل سر ظفر اللہ نے وصیت کی تھی کہ مرنے کے بعد مجھے قادیان میں میری والدہ (مرتدہ) کے قدموں میں دفن کر دیا جائے۔ لیکن بعد میں کہنے لگا کہ نہیں مجھے ربوہ میں مرزا بشیر الدین کے قدموں میں دفن کر دیا جائے اور یوں جھوٹی نبوت کا فرزند جھوٹی نبوت کے دوسرے گرو کے قدموں میں دفن ہو گیا تاکہ دونوں اپنی آنکھوں سے ایک دوسرے کو جہنم میں جلتا ہوا دیکھ سکیں۔

سر ظفر اللہ نے قائد اعظم کا نماز جنازہ اس لیے نہ پڑھا کہ وہ قائد اعظم کو کافر سمجھتا تھا کیونکہ قائد اعظم مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے تھے اور سر ظفر اللہ نے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک جرمن نژاد کنزلے نامی قادیانی سے اس لیے گولی مروا کر شہید کروا دیا کہ لیاقت علی خان سر ظفر اللہ کی ریشہ دوانیوں سے تنگ آ کر اس جلسے میں اس کو کابینہ سے نکالنے کا اعلان کرنے والے تھے۔

لوٹا۔ ایک آنکھ نہیں تھی، ایک کان نہیں تھا، ایک بازو نہیں تھا، بے ڈبھے چہرے پر چیچک کے داغ تھے، سر کے ایک طرف کے بال کچھ یوں اڑے ہوئے جیسے جل گئے

صفحہ 60

ہوں، ایک پاؤں کی ہڈی تھوڑی سی ٹیڑھی، نیم وا آنکھیں جنہیں دیکھ کے پتہ بھی نہیں چلتا تھا کہ سو رہا ہے یا جاگ رہا ہے۔ پیٹ اس انداز سے پھولا ہوا جیسے بکرے کو ابھارا ہو جائے۔ اگر یہ نقوش اور خدوخال کسی مصور کو دے دیے جائیں تو جو لاجواب تصویر بنے گی وہ عبد الکریم ہوگا۔ مرزا قادیانی کے عبادت خانے کا امام تھا۔ اس کی شکل اور وجود کو دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ مرزا قادیانی کے جسم سے نکلنے والی لعنتی شعاعوں کو سب سے زیادہ اس نے اپنے وجود میں جذب کیا ہے۔ سیالکوٹ کا رہنے والا تھا۔ حکیم نور الدین مرتد کی ارتدادی تبلیغ سے مرتد ہوا اور حکیم نور الدین مرتد اس کے ایمان کا قاتل ٹھہرا۔ بڑا جوشیلا مقرر تھا۔ جب زیادہ جوش میں آتا تو منہ سے جھاگ اور تھوک کا سلسلہ شروع ہو جاتا جس سے قریبی سامعین خوب مستفید ہوتے۔ جب زیادہ جوش میں آتا تو اپنے ”باقی ماندہ“ اعضاء کو یوں حرکت دیتا کہ ابھی اڑ کر سامنے والی دیوار پر جا بیٹھے گا۔ مرزا قادیانی پہ یوں فدا تھا جیسے شیطان مرزے پہ فدا تھا۔ اپنے نام نہاد جمعہ کے خطبہ میں مرزا قادیانی کو اللہ کا نبی اور رسول کہتا اور دجل و فریب کی کالی اور زہریلی زبان سے قرآن و حدیث سے اس کی نبوت ثابت کرنے کی ناپاک جسارت کرتا۔ ایک دن عبد الکریم کے جسم پر ایک پھوڑا نمودار ہوا۔ بڑا علاج معالجہ کرایا گیا لیکن پھوڑا مرزا قادیانی کی زبان کی طرح بڑھتا ہی گیا اور آخر اس کا پورا وجود پھوڑا بن گیا۔ ڈاکٹروں نے چیر پھاڑ کر کے بدن کاٹ کاٹ کے رکھ دیا۔ مرتد عبد الکریم اور مرزا قادیانی ایک ہی مکان میں رہتے تھے۔ اوپر کی منزل پر مرتد عبد الکریم اور نیچے کی منزل میں مرزا قادیانی۔ درد کی شدت سے مرتد عبد الکریم ذبح ہوتے بکرے کی طرح چیخیں مارتا جس سے سارا مکان ہل ہل جاتا۔ اس کا کٹا پھٹا اور چیرا پھاڑا وجود تڑپ تڑپ کر چارپائی سے نیچے گرتا جسے پھر چارپائی پر رکھ دیا جاتا۔ وہ چیخ چیخ کر مرزا قادیانی کو ملنے کے لیے آوازیں دیتا۔ لوگ مرزا قادیانی سے کہتے کہ تم اس سے مل لو، وہ تمہاری یاد میں روتا ہے۔ مکار مرزا جواب دیتا کہ مجھے اس کی تکلیف کا انتہائی دکھ ہے اور میرا دل اسے ملنے کے لیے تڑپتا ہے لیکن میں اسے نہیں

صفحہ 61

مل سکا کیونکہ میں ایک کمزور دل کا آدمی ہوں اور مجھ سے اس کی حالت دیکھی نہیں جائے گی۔ در حقیقت مرزا اس سے ملنے صرف اس لیے نہیں جاتا تھا کہ کہیں اس کے قریب جانے سے یہ مہلک بیماری اسے بھی نہ لگ جائے۔ جب مرتد عبد الکریم کی چیخوں کی صدائیں زیادہ ہولناک ہوئیں تو مرزا قادیانی نے اپنا رہائشی کمرہ بدل کر اس کمرے میں رہائش اختیار کر لی جہاں چیخوں کی آواز کم آتی تھی۔ مرتد عبد الکریم مرزا قادیانی کو ملاقات کے لیے پکارتا رہا لیکن مرزا قادیانی اسے ملنے نہ آیا۔ آخر یہی حسرت دل میں لیے وہ تڑپتا تڑپتا جہنم واصل ہو گیا۔ مرزا قادیانی مرے ہوئے عبد الکریم کا چہرہ بھی ڈر کے مارے دیکھنے نہ گیا۔ مرتد عبد الکریم کا جنازہ میدان میں پڑا ہے۔ مرزا قادیانی وہاں آتا ہے۔ مرزے کا ایک مرید کفن سے عبد الکریم کا منہ نکال کر مرزے کو کہتا ہے کہ حضرت صاحب چہرہ دیکھ لیں۔ عیار مرزا قادیانی رونی صورت بنا کر کہتا ہے کہ مجھ سے دیکھا نہیں جاتا۔ آخر جھوٹے نبی کا جھوٹا صحابی‘ جھوٹی مسجد کا جھوٹا امام‘ جھوٹے بہشتی مقبرہ میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ مرتد عبد الکریم وہ پہلا مردہ تھا جو سب سے پہلے قادیانی بہشتی مقبرہ میں دفن ہوا۔ یعنی قادیانی بہشتی مقبرہ کا ”بہترین افتتاح“ اس ”بہترین مردہ“ سے کیا گیا۔

غ۔غدار: قادیانی لغت میں یہ لفظ مرزا طاہر کے سوتیلے بھائی مرزا رفیع کے لیے بولا جاتا ہے‘ جو ”حسینہ خلافت“ کے عشق میں مرزا طاہر کا ناکام رقیب ہے۔ خلافت حاصل کرنے کے لیے قادیانیت کے دشت میں بڑی آبلہ پائی کی ہے لیکن ابھی تک ایک پائی کا فائدہ نہیں ہوا۔ خلافت کی نیلم پری پر قبضہ کرنے کے لیے کئی دفعہ مرزا ناصر اور مرزا طاہر پر لپکا‘ پلٹا اور پھر جھپٹا لیکن جب بھی لپکا‘ لٹکا دیا گیا‘ جب بھی پلٹا‘ پٹخ دیا گیا اور جب بھی جھپٹا‘ جھپٹ لیا گیا‘ لیکن اتنی پٹائی اور ٹھکائی ہونے کے باوجود آج بھی میراثی کے اس بچے کی طرح پرامید ہے جو اپنی ماں سے کہتا تھا کہ ”اماں‘ گاؤں کے نمبردار کے مرنے کے بعد میں نمبردار بنوں گا“۔ میرا دوست متین خالد کہتا ہے کہ

صفحہ 62

اب مرزا رفیع نے رائل فیملی کو دھمکی دے دی ہے کہ اگر اب مجھے خلیفہ نہ بنایا گیا تو میں ربوہ کے گول بازار میں نائی کی دکان کھول لوں گا۔ لوگوں کی حجامتیں بناؤں گا، شیو کروں گا، ٹنڈیں کروں گا اور پھر جب کوئی ٹنڈ کرا کے اٹھے گا اور مجھ سے پوچھے گا ”خلیفہ جی کتنے پیسے؟“ تو میرے سینے میں انتقام کی شعلہ فشاں آگ گلزار ہو جائے گی کہ چلو کوئی زبان تو ایسی ہوئی، کوئی لب تو ایسے ہوئے جس نے مجھے ”خلیفہ“ کہا۔ دن میں پچاس گاہک آئیں گے اور میں دن میں پچاس دفعہ ”خلیفہ“ بنوں گا! قصر خلافت میں بیٹھ کے نہ سہی، گرم حمام میں بیٹھ کے سہی — ٹنڈیں کر کے سہی — بغلیں صاف کر کے سہی!!!

فرقان بٹالین : کہتے ہیں کہ کسی ملک کے کھسروں نے اپنی برادری کی ایک ہنگامی اور ملک گیر میٹنگ بلائی۔ جس میں ملک کے ہر گوشے سے کھسرے تشریف لائے۔ میٹنگ کا ایجنڈا صرف یہ تھا کہ حاکم وقت سے مطالبہ کیا جائے کہ فوج میں کھسروں کو بھی نمائندگی دی جائے اور فوج میں ایک ”کھسرا بٹالین“ قائم کی جائے۔ کھسروں کے سخت احتجاج پر حاکم وقت کو کھسروں کا مطالبہ ماننا پڑا اور فوج میں ایک کھسرا بٹالین قائم کر دی گئی۔ کھسرے سارا دن بارکوں میں لٹکتے مٹکتے پھرتے۔ کبھی گھنگرو بجاتے، کبھی سیٹیاں بجاتے، کبھی تالیاں پیٹتے اور کبھی ایک دوسرے سے شرارتیں کرتے ہنس ہنس کے بے حال ہو جاتے۔ سرکار کا راشن شیر مادر سمجھ کر اڑاتے۔ اتفاق کی بات کہ چند مہینے بعد ہی ہمسایہ ملک سے جنگ چھڑ جاتی ہے۔ کمانڈر انچیف حکم دیتا ہے کہ سب سے پہلی صف میں کھسروں کو کھڑا کیا جائے۔ چنانچہ کھسرے پہلی صف میں کھڑے ہو گئے اور دونوں فوجیں آمنے سامنے آگئیں۔ دشمن کی فوج نے یک لخت مشین گنوں کے فائر کھول دیے۔ فائرنگ کی ہیبت ناک آواز سے سارے کھسرے تھرتھر کانپنے لگے۔ اس خطرناک حالت میں کھسروں کے کمانڈر نے حکم دیا کہ سب کھسرے آنکھیں بند کر کے، کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر الٹے لیٹ جائیں اور کوئی بھی کھسرا اپنی جگہ

صفحہ 63

سے بالکل نہ ہلے۔ دشمن کی فوج نے جب چڑھائی کی تو دیکھا کہ سارے کھسرے آنکھیں بند کیے‘ کانوں میں انگلیاں ٹھونسے بے حس پڑے ہیں۔ دشمن کی فوج کے کمانڈر نے بے حس لیٹے کھسروں کے کمانڈر کے ”چوتڑوں“ پر زور سے ٹھڈا مارا۔ کھسروں کے کمانڈر نے آنکھیں کھولیں اور سر اوپر اٹھا کر دشمن کے کمانڈر کو دیکھ کر کہنے لگا ”ہاؤ جی! کیوں شہیداں نوں مار دے او“ اور یہ کہہ کر پھر آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا۔

جہاد کشمیر میں شرکت کے لیے انہی خصلتوں کی حامل ایک قادیانی بٹالین بنائی گئی‘ جس کا نام فرقان بٹالین تھا۔ یہ بٹالین فرقان بٹالین نہیں بلکہ شیطان بٹالین تھی۔ اس کا سربراہ مرزا ناصر تھا۔ اس بٹالین کا بانی جنرل گریسی تھا۔ جنرل گریسی نے یہ بٹالین جہاد کشمیر کے لیے نہیں بلکہ کشمیر سے ساری خبریں ہندوستان تک پہنچانے کے لیے بنائی تھی۔ اس جاسوس بٹالین نے کشمیر کے سارے راز ہندوستان پہنچا دیے۔ اس بٹالین نے جنگ میں کیا حصہ لینا تھا‘ اس نے تو مفت کی تنخواہیں وصول کیں اور کشمیر جیسے علاقے میں پکنک کے مزے لوٹے۔ اس بٹالین نے کروڑوں روپے کا اسلحہ چوری کر کے بھارت کے ہاتھوں بیچ دیا۔ جاسوسی کر کے سینکڑوں مسلمانوں کو بھارتی درندوں کے ہاتھوں شہید کروا دیا۔ جب مسلمانوں کو اس گہری سازش کا پتہ چلا تو انہوں نے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ آخر مسلمانوں کے پرزور احتجاج پر یہ شیطان بٹالین توڑ دی گئی۔ لیکن ڈھیٹ قادیانیوں نے ۱۹۶۵ء میں شیطان بٹالین میں شامل ہر غدار کو ”تمغہ کشمیر“ عطا کیا۔ گویا چوروں کے سروں پر پگڑیاں باندھی گئیں اور بھارتی جاسوسوں کی دستار بندی ہوئی۔

ق - قادیان : ظالم فرنگی نے جہاں ملت اسلامیہ کے قلوب و اذہان سے خاتم النبیین جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نکالنے کے لیے قادیان میں جھوٹا نبی پیدا کیا‘ وہاں اس نے مکہ و مدینہ سے مسلمانوں کی توجہات ہٹانے کے لیے قادیان کو

صفحہ 64

متعارف کرایا۔ قادیان بھارت کے صوبہ مشرقی پنجاب کے ضلع گورداسپور کی تحصیل بٹالہ کا ایک چھوٹا اور غیر معروف گاؤں تھا۔ قادیان ہی بنی افرنگ مرزا قادیانی کا مولد، مسکن اور مدفن ٹھہرا۔ قادیان قادیانیوں کا مکہ و مدینہ ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ قادیان ارض حرم ہے اور قادیان میں مکہ و مدینہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو دوبارہ مرزا قادیانی پر قادیان میں نازل کیا ہے اور قرآن پاک میں قادیان کا ذکر موجود ہے۔ ان کے مطابق قادیان کے سالانہ جلسے میں شمولیت ظلی حج ہے اور اس ظلی حج کا ثواب نفلی حج سے زیادہ ہے۔ وہ ایمان رکھتے ہیں کہ آج کل مکہ مکرمہ کے حج سے دینی مقاصد پورے نہیں ہوتے، اس لیے اللہ نے قادیان کا حج رکھ دیا ہے۔ لوگوں کو قادیان کی طرف کھینچنے کے لیے مرزا قادیانی کہا کرتا تھا کہ جو شخص قادیان نہیں آتا، مجھے اس کے ایمان کی فکر رہتی ہے۔ قادیانی یقین رکھتے ہیں کہ وہ غریب لوگ جو مکہ کے حج کی استعداد نہیں رکھتے، اللہ تعالیٰ نے ان غریبوں کی سہولت کے لیے قادیان میں حج کا اہتمام کر دیا ہے۔ ان کا ایمان ہے کہ مکہ و مدینہ کی چھاتیوں سے دودھ خشک ہوچکا ہے۔ اب اگر کوئی روحانیت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے قادیان کا رخ کرنا پڑے گا۔ قادیانی آج بھی بڑی اندھی عقیدت سے قادیان جاتے ہیں۔ ان ہواؤں کو بڑے لمبے لمبے سانس لے کر سونگھتے ہیں جہاں مرزا قادیانی اپنے منہ سے ارتداد کی ہوائیں چھوڑا کرتا تھا۔ وہ بڑی محبت کی نگاہوں سے ان فضاؤں کو تکتے ہیں جہاں ٹیچی ٹیچی، مٹھن لال، درشنی، رانی وغیرہم مرزا قادیانی کے لیے وحی لے کر آیا کرتے تھے۔ وہ ان کمروں کی دیواروں پر اپنے ہاتھ رگڑتے ہیں اور پھر وہی ہاتھ اپنے منہ پر رگڑتے ہیں جہاں مرزا قادیانی امی پلومر کی شراب پی کر نوجوان دوشیزاؤں کے ساتھ شب عیش و نشاط گزارا کرتا تھا۔ وہ وہاں کے ۳۱۳ قادیانی درویشوں کو بڑے ادب سے کھانا کھلاتے ہیں جو قادیان میں آوارہ گدھوں کی طرح منڈلاتے رہتے ہیں اور ہر دم ان کی نظریں مردار پر ہوتی ہیں جہاں سے وہ اپنی آتش شکم کو بجھا سکیں۔ وہ ننگے پاؤں بہشتی مقبرہ میں جاتے ہیں اور وہاں کی قبروں پر موم

صفحہ 65

بستیاں جلاتے ہیں جن کی قبریں گہرے غار سے زیادہ تاریک اور لوہار کی بھٹی سے زیادہ گرم ہیں۔ وہ مرزا قادیانی کی قبر پہ رو رو کے دعائیں مانگتے ہیں۔ اس وقت عقل ان پہ لعنتوں کے ڈونگرے برسا رہی ہوتی ہے۔ فہم و دانش نوحہ خوانی کرتی ہے اور وقت انہیں چیخ چیخ کر صدا دیتا ہے: اے بھٹکے ہوئے انسانو! اپنی آنکھیں کھولو۔۔۔ اپنی قوت سماعت سے کام لو۔۔۔ اپنے دماغوں کے دروازے کھولو۔۔۔ اپنے دلوں کے تالے توڑو۔۔۔ اور محسوس کرو‘

وہ اک دھبہ ہیں علم و آگہی کے نام پر
تیرگی پھیلا رہے ہیں روشنی کے نام پر

ک - کبڈی : کبڈی پنجاب کے جوانوں کا مقبول کھیل ہے۔ چاندنی راتوں میں دیہات میں کبڈی بڑے اہتمام سے کھیلی جاتی ہے۔ کبڈی دو ٹیموں کے درمیان کھیلی جاتی ہے جس میں دونوں اطراف کے نوجوان بڑی مہارت سے اپنے داؤ پیچ اور قوت استعمال کرتے ہیں اور تماشائیوں سے بھرپور داد وصول کرتے ہیں۔ آج سے تقریباً ایک صدی قبل قادیان میں ایک عالمی شہرت کا حامل کبڈی کا میچ کھیلا گیا اور یہ میچ اس لحاظ سے اپنی منفرد حیثیت رکھتا تھا کہ یہ صرف دو کھلاڑیوں کے درمیان تھا۔ ایک کھلاڑی مرزا سلطان عرف سلطانہ پہلوان آف پٹی نے اپنی منگیتر محمدی بیگم کو قادیان سے لے کر واپس پٹی جانا تھا اور دوسرے کھلاڑی مرزا قادیانی عرف ماٹھو پہلوان آف قادیان نے اسے راستے میں پکڑنا تھا۔ مرزا سلطان عرف سلطانہ پہلوان سوہنا سجیلا جوان‘ اچھلتا کودتا‘ دھول اڑاتا کبڈی ڈالنے کے لیے آیا۔ ادھر مرزا قادیانی عرف ماٹھو پہلوان پیشاب میں لتھڑا ہوا کچا پہنے‘ پسلیوں جتنے موٹے ”ڈولے“ اور ٹاہلی کے باریک باریک ڈنڈوں جیسے ”پٹ“ نکالے چرس کا سوٹا لگائے‘ ای پلومر کی شراب پیئے اپنی ڈیڑھ آنکھ سے تاڑی لگائے حریف کا راستہ روکنے کے لیے کھڑا ہے۔

مرزا سلطان عرف سلطانہ پہلوان جب قادیان کی لائن عبور کرتا ہے تو مرزا قادیانی

صفحہ 66

عرف ماڈو پہلوان اس کا راستہ روک کر پنجہ آزمائی کرنے لگتا ہے۔ ماڈو پہلوان لمبی سانس بھر کر سلطانہ پہلوان کو اچھل کر دھول مارنے لگتا ہے لیکن سلطانہ پہلوان فوراً قدم آگے بڑھا کر اس کے منہ پر ایسا طمانچہ رسید کرتا ہے کہ ماڈو پہلوان کے چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔ ماڈو پہلوان دوبارہ ہمت کر کے سلطانہ پہلوان کو ٹانگوں میں قینچی لگانے کی کوشش کرتا ہے لیکن سلطانہ پہلوان قینچی لگنے سے پہلے ہی اس کی مریل سی ٹانگیں پکڑ لیتا ہے اور اسے اس بے دردی سے زمین پر گھسیٹتا ہے جیسے کارپوریشن کا خاکروب مرے ہوئے کتے کو گھسیٹتا ہے جس سے ماڈو پہلوان کی ساری کمر لہولہان ہو جاتی ہے۔ سلطانہ پہلوان ترس کھا کے چھوڑ دیتا ہے لیکن ماڈو پہلوان غشم غشم کرتے ہوئے دوبارہ اسے پکڑنے کی کوشش کرتا ہے اور لپک کر اسے جپھا مار لیتا ہے۔ سلطانہ پہلوان اپنے مضبوط بازوؤں کا ہالہ بنا کر ماڈو پہلوان کو کمر سے پکڑ کر اوپر اٹھاتا ہے اور اسے زور سے زمین پر پٹختا ہے جس سے ماڈو پہلوان کی کمر ٹوٹ جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی کچھے میں اس کا پیشاب نکل جاتا ہے۔ سلطانہ پہلوان اپنی منگیتر محمدی بیگم کو ساتھ لیتا ہے اور بڑی پھرتی سے نعروں کی گونج میں قادیان کی لائن عبور کر جاتا ہے اور فتح کے نقارے بجاتا ہوا اپنے علاقہ "پٹی" واپس پہنچ جاتا ہے، جبکہ ماڈو پہلوان اور اس کے ساتھی آج تک ان زخموں کو چاٹ رہے ہیں۔

گ سے "گاماں" کانا : اگر فرعون، نمرود، شداد، ہامان، ابو جہل، ابولہب، ولید بن مغیرہ، امیہ بن خلف، اسود عنسی، مسیلمہ کذاب، ابن سبا، شمر، راجپال اور سلمان رشدی وغیرہم کو ایک قالب میں ڈھال لیا جائے تو جو شخصیت معرض وجود میں آئے گی وہ مرزا قادیانی کی زہریلی شخصیت ہوگی۔ مرزا قادیانی ایک آنکھ سے کانا تھا، اس لیے اسے عرف عام میں گاماں کانا کہا جاتا تھا۔ اس کی کانی آنکھ اور حرامی و دجالی خصلت کو دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ وہ کانے دجال کی کاربن کاپی ہے۔ دجال کا بہت زیادہ ہم شکل و ہم خصلت ہونے کی وجہ سے ہم اسے لٹل دجال بھی کہہ سکتے ہیں۔

صفحہ 67

اگر کوئی مصور تھوڑی سی محنت کر کے مرزا قادیانی کی کھلی آنکھ کو اس کی جگہ سے ہٹا کر ماتھے کے درمیان میں فٹ کر دے تو ہم آنے والے دجال اکبر کی تصویر دیکھ سکتے ہیں۔

گاماں کانا کی سر کی ایک آنکھ بجھی ہوئی لیکن وہ دل کی دونوں آنکھوں سے اندھا تھا۔ شیطان نے آنکھوں کے دونوں طاقچوں سے اپنے نوکیلے پنجوں سے ڈھیلے نوچ لیے تھے۔ اس لیے وہ ساری زندگی کفر کے خارزاروں میں بھٹکتا رہا اور قادیانی طائفے کو بھی اپنے ساتھ بھٹکاتا نچاتا رہا اور ان کے دل و دماغ و روح کو زخمی زخمی و لہو لہو کرتا رہا۔ لیکن قادیانی گروہ کے ساتھ یہ سلوک کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ جو اندھے کو رہنما مان لیتے ہیں ان کا انجام یہی ہوتا ہے۔ گاماں کانا ایک غدار اسلام و غدار وطن مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر پیدا ہوا۔ ماں کا نام گھسیٹی تھا، شاید اسی لیے شیطان نے اسے اتنا گھسیٹا کہ گھسیٹ گھسیٹ کر ایک سو ایک بیماریوں کا مرکب بنا دیا اور آخر ان تمام بیماریوں نے مسٹر ہیضہ کی زیر قیادت حملہ کر کے گھسیٹی کے گھسیٹے بیٹے کو لیٹرین میں گھسیٹ گھسیٹ کر مار دیا۔

قادیانی کتابوں میں گاماں کانا کی نو تاریخ ہائے پیدائش لکھی ہیں، یعنی ۱۸۳۱ء تا ۱۸۴۰ء! قادیانی جب چاہتے ہیں اسے ان میں سے کسی ایک سال میں پیدا کر لیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں اسے ان میں سے کسی دوسرے سال میں پیدا کر لیتے ہیں۔ انہیں یہ مغز ماری صرف اس لیے کرنا پڑتی ہے کہ انہیں مرزا قادیانی کے مختلف دعوؤں کو سچا ثابت کرنے کے لیے اس کی عمر کو گھٹانا بڑھانا پڑتا ہے۔ وہ جب چاہتے ہیں مرزا قادیانی کو سپرنگ کی طرح کھینچ کر بڑا کر لیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں چھوٹا کر لیتے ہیں۔ گاماں کانا اپنی ماں گھسیٹی کے گھر اکیلا پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ اس کے ساتھ اس کی جڑواں بہن بھی پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنت بی بی تھا۔ جنت بی بی تھوڑے ہی عرصہ بعد وفات پا گئی۔ شاید اس کی غیرت نے ”جہنم بی بی“ گاماں کانا کے ساتھ زندہ رہنا گوارہ نہ کیا۔ اسے تعلیم حاصل کرنے کے لیے مکتب بھیجا گیا اور گھر میں بھی پڑھائی کا

صفحہ 68

انتظام کیا گیا لیکن پڑھائی میں اس کا دل بالکل نہ لگتا تھا اور وہ سارا دن قادیان کی گلیوں میں آوارہ گردی کرتا رہتا۔ والدین کو سخت تشویش ہوئی اور انہوں نے پڑھائی کے سلسلہ میں سختی برتنا شروع کی جس کی وجہ سے وہ تھوڑی بہت تعلیم حاصل کر گیا۔ جب بڑا ہوا تو ایک دوست کی معرفت سیالکوٹ کی کچہری میں بطور منشی پندرہ روپے ماہوار پر ملازم ہو گیا۔ گھر سے مسلسل باہر رہنے کی وجہ سے وہ بری سوسائٹی کا شکار ہو گیا اور اس نے شراب نوشی شروع کر دی۔ کچہری کی نوکری کے دوران اس نے مختاری کا امتحان دیا لیکن بری طرح فیل ہو گیا۔ وہ شروع ہی سے دولت کا رسیا تھا اور اس کے حصول کے لیے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرتا تھا۔ کچہری کی نوکری میں اس نے جی بھر کر رشوت لی۔ یہ دولت ہی کی حرص تھی کہ وہ بچپن میں اپنے ابا کی پنشن مبلغ سات سو روپے محکمہ سے وصول کرنے گیا لیکن وہ پنشن گھر لانے کی بجائے سات سو روپے کی خطیر رقم لے کر گھر سے بھاگ گیا اور بڑی لمبی مدت گھر نہ آیا۔ سیالکوٹ کی نوکری کے دوران ہی انگریز نے دعویٰ نبوت کے لیے اس کا انتخاب کیا۔ وہ سیالکوٹ سے نوکری چھوڑ کر اپنے گھر قادیاں چلا گیا اور جھوٹی نبوت کے کاروبار کی بنیاد رکھی۔ انگریز نے جھوٹی نبوت کے فروغ کے لیے تجوریوں کے منہ کھول دیے۔ خود ارتداد کا زہر پینے والا مرتد گاماں کانا لوگوں کو زن، زر اور زمین کا لالچ دے کر مرتد بنانے لگا اور اس نے ملت اسلامیہ کے بالمقابل اپنے دین، اپنی نبوت اور اپنی امت کی بنیاد رکھی۔ یوں اس نے ملت اسلامیہ کی وحدت پر انگریزی نبوت کے کلہاڑے سے کاری وار کیا۔ گاماں کانا 1908ء کو مرض ہیضہ میں مبتلا ہو کر جہنم واصل ہو گیا اور قادیان کی خاک سے اٹھنے والے اس فتنہ گر کو قادیان ہی میں دفن کر دیا گیا۔

ل ۔ لاہوری پارٹی : حکیم نور الدین کی موت کے بعد قادیانی جماعت دو ٹیموں میں بٹ گئی: ایک بشیر الدین الیون، دوسری مولوی محمد علی لاہوری الیون۔ پہلی ٹیم کا مرکز پہلے قادیان اور پھر ربوہ ٹھہرا اور دوسری ٹیم کا مرکز لاہور۔ بشیر الدین مرزا قادیانی

صفحہ 69

کا بیٹا اور قادیانیوں کا دوسرا خلیفہ اور محمد علی مرزا قادیانی کا انتہائی قریبی ساتھی تھا۔ محمد علی ایک جدید تعلیم یافتہ آدمی تھا اور ایم۔ اے کی ڈگری رکھتا تھا۔ لیکن ابو الفضل اور فیضی کی طرح اس کی تعلیم اسے گمراہی سے نہ بچا سکی۔ قادیانیوں کا ماہوار رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ جو مرزا قادیانی کی زندگی میں جاری ہوا‘ اس کا پہلا ایڈیٹر تھا۔ مرزا قادیانی اور حکیم نور الدین کے ساتھ مل کر شب و روز جھوٹی نبوت کے لیے کام کیا اور اپنے ایمان کا کام تمام کیا۔

دونوں ٹیموں میں اختلاف یہ تھا کہ قادیانی جماعت مرزا قادیانی کو نبی اور رسول مانتی تھی اور لاہوری پارٹی مرزا قادیانی کو مجدد اعظم‘ مصلح اکبر اور مسیح موعود مانتی تھی۔ حالانکہ یہ اختلاف ایسے ہی تھا جیسے کسی گندی نالی میں گرے ہوئے کسی بے قیمت و بے وقعت پتھر پر دو فریق جھگڑ رہے ہوں۔ ایک فریق کہتا ہو کہ یہ یاقوت ہے اور دوسرا کہتا ہو کہ یہ زمرد ہے۔

مرزائیوں کی لاہوری اور قادیانی دونوں جماعتیں دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ ۱۹۷۴ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے بھی ان دونوں جماعتوں کو کافر قرار دے دیا۔

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا ”شاہ جی ! لاہوری اور قادیانی جماعت میں کیا فرق ہے“ تو شاہ جی نے فی البدیہہ جواب دیا کہ ”ایک کالا خنزیر ہے اور دوسرا سفید خنزیر!!!“

میں ماسٹر تھا لیکن مرزا بشیر الدین ان تمام ماسٹروں کا ہیڈ ماسٹر تھا۔ وہ کفر و ارتداد کی ہر جہت سے لاثانی تھا۔ وہ معصیت کے ہر زاویہ نگاہ سے منفرد تھا۔ وہ کذب و افتراء میں عدیم النظیر تھا۔ دجل و فریب میں امام عصر تھا۔ اس کے سارے وجود میں برائی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ نیکی کا کوئی ذرہ بھی اس کے جسم کو چھو کر نہیں گزرا تھا۔ اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ شیطان اس کے پیکر میں زمین پر پھرتا رہا اور

صفحہ 70

انسانیت کی فصل کو روندتا رہا۔ مرزا بشیر الدین نے فتنہ قادیانیت کے لیے وہ کام کیا ہے جو اس کا باپ اور اس کے باپ کا موجد انگریز بھی نہ کر سکا۔ وہ تقریباً پچاس سال تک اپنے باپ کی جھوٹی نبوت کی جھوٹی خلافت کی مسند پر بیٹھا گلشن اسلام پر انگارے پھینکتا رہا۔ وہ حکیم نور الدین کی موت کے بعد دوسرا قادیانی خلیفہ بنا۔ اس کے عہد میں قادیان و ربوہ عصمتوں کے مقتل بنے رہے۔ صنف نازک کی چیخیں قصر خلافت میں گونجتی اور دبتی رہیں۔ وہ سر پر پگڑی پہن کر لوگوں کی پگڑیاں مسلتا رہا۔ مذہب کا روپ دھار کر مذہب کو مصلوب کرتا رہا۔ وہ ہاتھ میں تسبیح پکڑتا لیکن تسبیح کے دانوں پر لوٹی ہوئی عصمتوں کو شمار کر کے گھوڑے کی طرح ہنہناتا۔ اس نے داڑھی بھی رکھی ہوئی تھی لیکن اکثر داڑھی شراب سے آلودہ رہتی۔ وہ نوجوان قادیانی مبلغین کو بیرونی ممالک میں قادیانیت کی تبلیغ کے لیے بھیج دیتا اور پیچھے رہ جانے والی ان کی نوجوان بیویاں اس کے گھڑے کی مچھلیاں بن جاتیں۔ زمانہ شاہد ہے کہ اس درندہ صفت انسان کے ہاتھوں اس کی بیٹیاں بھی محفوظ نہ رہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جو عصمت رسالت پہ ہاتھ ڈالتا ہے، اللہ پاک اس کے دل و دماغ سے عزت و عصمت کا مفہوم ہی چھین لیتا ہے۔ بشیر الدین قادیان و ربوہ کا آمر مطلق تھا۔ جو زبان بھی اس پر تنقید کرنے کی جرات کرتی، وہ زبان ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتی۔ اس نے غنڈوں کی ایک جماعت تیار کر رکھی تھی جو اس کے مخالف کو اس کے اشارۂ ابرو پر ایسا غائب کرتی کہ پھر کسی آنکھ کو وہ صورت نظر نہ آتی۔ اس نے پہلے قادیانی خلیفہ حکیم نور الدین کو قابو کرنے کے لیے ایک سازش کے تحت اس کی بیٹی سے شادی رچائی اور پھر بڑھاپے میں نور الدین کی کمر توڑنے کے لیے اس کے جوان بیٹے کو قتل کروا دیا۔ بشیر الدین اپنی آخری عمر میں بڑی مہلک بیماریوں میں جکڑا رہا۔ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اسے الگ کمرے میں بند رکھا جاتا۔ وہ پاخانہ سے فارغ ہونے کے بعد اپنا کچھ پاخانہ کھا جاتا اور کچھ جسم پہ مل لیتا۔ اس کا سر ہر وقت یوں ہلتا رہتا جیسے گردن میں سپرنگ لگے ہوں۔ پورا جسم فالج زدہ تھا، اس لیے چلنے پھرنے سے بھی عاری تھا۔ وہ

صفحہ 71

مہینوں نہ نہاتا۔ غلاظت کی تہیں اس کے جسم پر جم چکی تھیں۔ سر‘ داڑھی اور مونچھوں کے بال کئی سالوں سے نہ کٹوانے کی وجہ سے وہ بھوت دکھائی دیتا۔ وہ غصہ میں آ کر زور زور سے فحش گالیاں بکتا اور مطالبہ کرتا کہ مجھے میرے باپ مرزا قادیانی کی قبر پر لے کر چلو۔ قادیانیوں نے اس کی تسلی کے لیے ایک رات‘ جبکہ وہ سویا ہوا تھا‘ چپکے سے اس کے کمرے میں مٹی کی ایک ڈھیری بنا دی اور اسے کہا کہ یہ تیرے باپ کی قبر ہے۔ وہ قبر پر لیٹتا‘ چیختا چلاتا اور قبر کی مٹی کبھی منہ میں ڈالتا اور کبھی سر میں۔ آخر ایک دن سر ظفر اللہ کے کہنے پر یہ بناوٹی قبر اٹھا دی گئی۔ بشیر الدین کے علاج پر لاکھوں روپیہ خرچ ہو گیا۔ ہر ڈاکٹر اور دوائی آزمائی گئی لیکن ذرہ برابر بھی فرق نہ پڑا۔ آخر بیرون ملک سے ایک بہت بڑے ہومیوپیتھک ڈاکٹر کو بلایا گیا۔ اس نے بشیر الدین کا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد کہا ”میں بیماری کا علاج تو کر سکتا ہوں لیکن خدائی پکڑ کا علاج میرے پاس نہیں“۔

مرزا بشیر الدین کئی سال شدید بیمار رہنے اور کئی عبرت کی داستانیں چھوڑنے کے بعد انتہائی ذلت کی موت مر گیا۔ شام کے سات بجے اس کی جان نکلی لیکن قادیانی جماعت نے رات کے دو بجے اس کی موت کا اعلان کیا۔ ربوہ کے کسی مرزائی کو کانوں کان خبر نہ تھی کہ ان کا خلیفہ مردار ہو چکا ہے۔ شام کے سات بجے سے رات دو بجے تک یعنی سات گھنٹوں میں مردہ بشیر الدین کے سر‘ داڑھی اور مونچھوں کے بال کاٹے گئے۔ اس کے غلیظ دانتوں کو صاف کیا گیا۔ جسم کو رگڑ رگڑ کر غلاظت کی تہیں اتاری گئیں‘ پھر اس کے جسم پر بہترین خوشبوئیات چھڑکی گئیں تاکہ بدبو کا خاتمہ ہو۔ اس کے چہرے پر چمک پیدا کرنے والے کیمیکلز لگائے گئے اور پھر اس کی چارپائی کھلے دالان میں رکھ دی گئی۔ ایک بڑا مرکری کا بلب اس کے سرہانے اور دوسرا اس کے پاؤں کی طرف روشن کر دیا گیا۔ چمکدار کیمیکلز لگے چہرے پر جب مرکری کے بلب کی تیز روشنی پڑتی تو مردار بشیر الدین کا منہ چمکنے لگتا۔ اس پر بڑے قادیانی نو سرباز سادہ لوح قادیانی عوام کو کہتے ”واہ‘ واہ‘ حضرت صاحب کو کیسا روپ چڑھا ہے“۔

صفحہ 72

جی ہاں! بناسپتی نبوت کی دکان پر ایسے ہی سودے بکتے ہیں۔

لٹیروں نے جنگل میں شمع جلا دی
مسافر یہ سمجھا کہ منزل یہی ہے

ن - ناصر احمد مرزا: مرزا بشیر الدین کا سب سے بڑا بیٹا‘ مرزا قادیانی کا پوتا اور مرزا قادیانی کی دوسری بیوی نصرت جہاں بیگم کا سب سے بڑا پوتا تھا۔ اسے یہ ”اعزاز“ حاصل تھا کہ وہ مرتد ابن مرتد ابن مرتد اور زندیق ابن زندیق ابن زندیق تھا۔ دجل و فریب‘ کذب و افتراء اور کفر و ارتداد کی ابتدائی تعلیم گھر سے حاصل کی اور اعلیٰ درجے کا کفر و ارتداد سکھانے کے لیے اس فن کے مشہور قادیانی اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئیں۔ والد مرتد کی صحبت سے بھی خوب ”فیض“ حاصل کیا۔ پھر اعلیٰ انگریزی تعلیم کے لیے انگلینڈ بھیج دیا گیا‘ جہاں سے اس نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے بی۔ اے کیا۔ شاید انگریزی نبوت کا خلیفہ ہونے کے لیے انگریزی یونیورسٹی کی تعلیم ضروری ہے۔ ٹی۔ آئی کالج ربوہ کا پرنسپل بھی رہا۔ اس کے شاگرد کہتے ہیں کہ وہ انتہائی نالائق استاد تھا۔ اس نے کسی ریٹائرڈ پروفیسر سے نوٹس لے رکھے تھے اور وہ اپنے شاگردوں کو وہی نوٹس لکھوا دیتا۔ اگر کوئی طالب علم کلاس میں سوال کرتا تو اسے جھڑک کے بٹھا دیتا۔ اپنے باپ مرزا بشیر الدین کی موت کے بعد اپنی موروثی نبوت کی ”گدی“ پر بیٹھا اور وہ قادیانی نبوت کا تیسرا گدی نشین تھا۔ کئی قادیانی اسے بڑا منحوس خلیفہ مانتے ہیں کیونکہ اس کے دور میں انہیں کافر قرار دیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا دور حکومت تھا۔ ایئر مارشل ظفر چودھری قادیانی پاکستان فضائیہ کا سربراہ تھا۔ ربوہ میں قادیانیوں کا سالانہ جلسہ ہو رہا تھا۔ مرزا ناصر اور ایئر مارشل ظفر چودھری قادیانی کی تیار کردہ سازش کے تحت دوران جلسہ پاکستان ایئر فورس کا ایک جہاز اڑتا ہوا آیا اور اس نے غوطہ لگا کر مرزا ناصر کو سلامی دی۔ پھر دوسرا جہاز آیا‘ اس نے بھی یہی فعل دہرایا۔ پھر تیسرا جہاز آیا‘ اس نے بھی یہی حرکت کی۔ جہازوں کی سلامی وصول کرنے

صفحہ 73

کے بعد سٹیج پر کھڑے تقریر کرتے مرزا ناصر نے اپنی جھولی پھیلائی اور آسمان کی طرف منہ کر کے حاضرین کو مخاطب کر کے کہنے لگا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ احمدیت کا پھل پک چکا ہے اور وہ جلد ہی میری جھولی میں گرنے والا ہے۔ اس کا اشارہ اس طرف تھا کہ عنقریب پاکستان میں قادیانیوں کی حکومت قائم ہو جائے گی۔ مرزا ناصر کو پاکستان ایئر فورس کے طیاروں کی سلامی دینے پر عوامی حلقوں سے ایک زبردست شور اٹھا اور ذوالفقار علی بھٹو نے قادیانیوں کے خطرناک ارادوں کو بھانپتے ہوئے پاکستان فضائیہ سے ایئر مارشل ظفر چودھری قادیانی کو چلتا کیا۔ مرزا ناصر بڑے دھڑلے سے کہا کرتا تھا کہ اس کے دور میں قادیانی حکومت قائم ہو جائے گی۔ لیکن میرے اللہ کی شان کہ اس کے دور میں ہی ایک زبردست تحریک تحفظ ختم نبوت کے نتیجہ میں قادیانیوں کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے کافر قرار دے دیا۔ قومی اسمبلی میں دوران بحث مناظر اسلام سفیر ختم نبوت مولانا مفتی محمود نے وہ درگت بنائی کہ چھٹی کا دودھ یاد آگیا۔ مفتی صاحب سے بحث کے دوران بار بار رومال سے ماتھے کا پسینہ خشک کرتا اور پانی پیتا۔ کئی دفعہ بدحواسی کے عالم میں اول فول بکتا۔ مرزا ناصر رنگین آنچلوں سے کھیلنے کا بڑا شوقین تھا۔ اس رنگین و سنگین تاریخ کو اگر صفحہ قرطاس پر منتقل کیا جائے تو کئی دفاتر رقم ہو جائیں۔ ۱۱ اپریل ۱۹۸۲ء کو ۷۴ سال کی عمر میں ایک نو عمر دوشیزہ طاہرہ سے شادی رچائی۔ قادیانی اخبار ”الفضل“ میں کئی دن شادی کی بشارتیں اور فضائل چھپتے رہے‘ جسے سادہ لوح قادیانی بڑے شوق سے پڑھتے۔ ۲۳ مئی کو بڑھا کھوسٹ ہنی مون منانے کے لیے اسلام آباد پہنچا۔ ۲۶ مئی کو اس کی کوٹھی کے باہر مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے جلسہ ہوا۔ شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا کے گرجدار اور باطل شکن خطاب کے دوران مرزا ناصر کو دل کا دورہ پڑا۔ ۳۱ مئی کو دوسرا دورہ پڑا۔ ۸ جون کو دل کا تیسرا دورہ پڑا اور ۸ جون کی درمیانی شب کو مولانا اللہ وسایا کے خطاب کی تاب نہ لاتا ہوا مردار ہو گیا۔ ابھی سیکنڈ ہینڈ دولہا کی شادی کے پھول بھی نہ مرجھائے تھے‘ ابھی شادی کے فضائل اور بشارتوں کا سلسلہ بھی شروع نہ ہوا تھا‘ نو عمر

صفحہ 74

دلہن طاہرہ نے ابھی اپنے دادا کی عمر کے سرتاج کا جھریوں زدہ مکھڑا بھی نہ دیکھا تھا کہ عزرائیل مرزا ناصر کو اچک کر لے گیا اور ٹھاہ کر کے جہنم میں مرزا قادیانی کے پاس پھینک دیا۔ بیوہ طاہرہ، جو حاملہ ہو چکی تھی، قادیانی رائل فیملی نے اس کا حمل زبردستی اس لیے ضائع کروا دیا کہ کل پیدا ہونے والا وراثت کا حقدار بن جائے گا۔ قادیانیوں کے موجودہ خلیفہ مرزا طاہر نے خوشی خوشی بڑے بھائی کا نام نہاد جنازہ پڑھایا کیونکہ اس کی موت نے اسے قادیانی خلیفہ بنا دیا تھا۔ مرزا ناصر کو بہشتی مقبرہ میں مفت دفن کر دیا گیا کیونکہ قادیانی شریعت میں بہشتی مقبرہ میں تدفین کے لیے مرزا قادیانی کی اولاد سے کوئی فیس وصول نہیں کی جاتی۔ جبکہ دیگر قادیانیوں کو بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کے لیے اپنی جائیداد کا دسواں حصہ قادیانی جماعت کو دینا پڑتا ہے۔

۹ ۔ ورق: ایک ورق ۔۔۔ جس میں قادیانی نبوت کا تعارف ۔۔۔ جس میں قادیانی نبوت کا حسن ۔۔۔ جس میں قادیانی نبوت کا اخلاق ۔۔۔ جس میں قادیانی نبوت کی حیا ۔۔۔ اپنے تمام نقاب الٹے ہوئے ہے ۔۔۔ مرزا قادیانی کے ”گہر بار“ قلم اور ”رخشندہ دماغ“ سے نکلا ہوا تاریخ قادیانیت کا ایک ”سنہری ورق“ ۔۔۔ آپ بھی دیکھئے اور دوسروں کو بھی دعوت نظارہ دیجئے ۔۔۔ کیونکہ دیکھنے کی چیز ہے۔ مرزا قادیانی نے یہ لعنت سینہ قرطاس پر ایک ہزار دفعہ بکھیری ہے۔ یہ لعنت اس نے عالم اسلام کو تحفۃً پیش کی ہے۔ یہ لعنت پانچ صفحات پر مشتمل ہے، ہم نے بطور نمونہ صرف ایک صفحہ پیش کیا ہے۔ مرزا قادیانی! اگر تو اپنی زہریلی فطرت کے ہاتھوں لعنت بھیجنے پر اتنا ہی مجبور تھا تو سارا دن کاغذ قلم لے کر کیوں ایک ہزار مرتبہ لعنت لعنت لکھتا رہا۔ یہ سبق کسی چوہڑے سے لے لیتا جو جب آپس میں بدکلامی پر اترتے ہیں تو فن تلخیص سے کام لیتے ہوئے یک زبان ہی کہہ دیتے ہیں ”تجھ پہ ہزار بار لعنت“۔ تو تو چوہڑوں سے بھی کم عقل تھا۔۔۔ بہرحال مرزا قادیانی یہ لعنت مسلمانوں پر نہیں بلکہ تجھ پر اور تیری امت پر پڑ رہی ہے اور جو تیری امت کے چہروں پر واضح ہے!

صفحہ 75

١٦٢

اللعن٧٣٩نة اللعن٧٤٠نة اللعن٧٤١نة اللعن٧٤٢نة اللعن٧٤٣نة اللعن٧٤٤نة اللعن٧٤٥نة اللعن٧٤٦نة اللعن٧٤٧نة اللعن٧٤٨نة اللعن٧٤٩نة اللعن٧٥٠نة اللعن٧٥١نة اللعن٧٥٢نة اللعن٧٥٣نة اللعن٧٥٤نة اللعن٧٥٥نة اللعن٧٥٦نة اللعن٧٥٧نة اللعن٧٥٨نة اللعن٧٥٩نة اللعن٧٦٠نة اللعن٧٦١نة اللعن٧٦٢نة اللعن٧٦٣نة اللعن٧٦٤نة اللعن٧٦٥نة اللعن٧٦٦نة اللعن٧٦٧نة اللعن٧٦٨نة اللعن٧٦٩نة اللعن٧٧٠نة اللعن٧٧١نة اللعن٧٧٢نة اللعن٧٧٣نة اللعن٧٧٤نة اللعن٧٧٥نة اللعن٧٧٦نة اللعن٧٧٧نة اللعن٧٧٨نة اللعن٧٧٩نة اللعن٧٨٠نة اللعن٧٨١نة اللعن٧٨٢نة اللعن٧٨٣نة اللعن٧٨٤نة اللعن٧٨٥نة اللعن٧٨٦نة اللعن٧٨٧نة اللعن٧٨٨نة اللعن٧٨٩نة اللعن٧٩٠نة اللعن٧٩١نة اللعن٧٩٢نة اللعن٧٩٣نة اللعن٧٩٤نة اللعن٧٩٥نة اللعن٧٩٦نة اللعن٧٩٧نة اللعن٧٩٨نة اللعن٧٩٩نة اللعن٨٠٠نة اللعن٨٠١نة اللعن٨٠٢نة اللعن٨٠٣نة اللعن٨٠٤نة اللعن٨٠٥نة اللعن٨٠٦نة اللعن٨٠٧نة اللعن٨٠٨نة اللعن٨٠٩نة اللعن٨١٠نة اللعن٨١١نة اللعن٨١٢نة اللعن٨١٣نة اللعن٨١٤نة اللعن٨١٥نة اللعن٨١٦نة اللعن٨١٧نة اللعن٨١٨نة اللعن٨١٩نة اللعن٨٢٠نة اللعن٨٢١نة اللعن٨٢٢نة اللعن٨٢٣نة اللعن٨٢٤نة اللعن٨٢٥نة اللعن٨٢٦نة اللعن٨٢٧نة اللعن٨٢٨نة اللعن٨٢٩نة اللعن٨٣٠نة اللعن٨٣١نة اللعن٨٣٢نة اللعن٨٣٣نة اللعن٨٣٤نة اللعن٨٣٥نة اللعن٨٣٦نة اللعن٨٣٧نة اللعن٨٣٨نة اللعن٨٣٩نة اللعن٨٤٠نة اللعن٨٤١نة اللعن٨٤٢نة اللعن٨٤٣نة اللعن٨٤٤نة اللعن٨٤٥نة اللعن٨٤٦نة اللعن٨٤٧نة اللعن٨٤٨نة اللعن٨٤٩نة اللعن٨٥٠نة اللعن٨٥١نة اللعن٨٥٢نة اللعن٨٥٣نة اللعن٨٥٤نة اللعن٨٥٥نة اللعن٨٥٦نة اللعن٨٥٧نة اللعن٨٥٨نة اللعن٨٥٩نة اللعن٨٦٠نة اللعن٨٦١نة اللعن٨٦٢نة اللعن٨٦٣نة اللعن٨٦٤نة اللعن٨٦٥نة اللعن٨٦٦نة اللعن٨٦٧نة اللعن٨٦٨نة اللعن٨٦٩نة اللعن٨٧٠نة اللعن٨٧١نة اللعن٨٧٢نة اللعن٨٧٣نة اللعن٨٧٤نة اللعن٨٧٥نة اللعن٨٧٦نة اللعن٨٧٧نة اللعن٨٧٨نة اللعن٨٧٩نة اللعن٨٨٠نة اللعن٨٨١نة اللعن٨٨٢نة اللعن٨٨٣نة اللعن٨٨٤نة اللعن٨٨٥نة اللعن٨٨٦نة اللعن٨٨٧نة اللعن٨٨٨نة اللعن٨٨٩نة اللعن٨٩٠نة اللعن٨٩١نة اللعن٨٩٢نة اللعن٨٩٣نة اللعن٨٩٤نة اللعن٨٩٥نة اللعن٨٩٦نة اللعن٨٩٧نة اللعن٨٩٨نة اللعن٨٩٩نة اللعن٩٠٠نة اللعن٩٠١نة اللعن٩٠٢نة اللعن٩٠٣نة اللعن٩٠٤نة اللعن٩٠٥نة اللعن٩٠٦نة اللعن٩٠٧نة اللعن٩٠٨نة اللعن٩٠٩نة اللعن٩١٠نة اللعن٩١١نة اللعن٩١٢نة اللعن٩١٣نة اللعن٩١٤نة اللعن٩١٥نة اللعن٩١٦نة اللعن٩١٧نة اللعن٩١٨نة اللعن٩١٩نة اللعن٩٢٠نة اللعن٩٢١نة اللعن٩٢٢نة اللعن٩٢٣نة اللعن٩٢٤نة اللعن٩٢٥نة اللعن٩٢٦نة اللعن٩٢٧نة اللعن٩٢٨نة اللعن٩٢٩نة اللعن٩٣٠نة اللعن٩٣١نة اللعن٩٣٢نة اللعن٩٣٣نة اللعن٩٣٤نة اللعن٩٣٥نة اللعن٩٣٦نة اللعن٩٣٧نة اللعن٩٣٨نة اللعن٩٣٩نة اللعن٩٤٠نة اللعن٩٤١نة اللعن٩٤٢نة اللعن٩٤٣نة اللعن٩٤٤نة اللعن٩٤٥نة اللعن٩٤٦نة اللعن٩٤٧نة اللعن٩٤٨نة اللعن٩٤٩نة اللعن٩٥٠نة اللعن٩٥١نة اللعن٩٥٢نة اللعن٩٥٣نة اللعن٩٥٤نة اللعن٩٥٥نة اللعن٩٥٦نة اللعن٩٥٧نة اللعن٩٥٨نة اللعن٩٥٩نة اللعن٩٦٠نة اللعن٩٦١نة اللعن٩٦٢نة اللعن٩٦٣نة اللعن٩٦٤نة اللعن٩٦٥نة اللعن٩٦٦نة اللعن٩٦٧نة اللعن٩٦٨نة اللعن٩٦٩نة اللعن٩٧٠نة اللعن٩٧١نة اللعن٩٧٢نة اللعن٩٧٣نة اللعن٩٧٤نة اللعن٩٧٥نة اللعن٩٧٦نة اللعن٩٧٧نة اللعن٩٧٨نة اللعن٩٧٩نة اللعن٩٨٠نة اللعن٩٨١نة اللعن٩٨٢نة اللعن٩٨٣نة اللعن٩٨٤نة اللعن٩٨٥نة اللعن٩٨٦نة اللعن٩٨٧نة اللعن٩٨٨نة اللعن٩٨٩نة اللعن٩٩٠نة اللعن٩٩١نة اللعن٩٩٢نة اللعن٩٩٣نة اللعن٩٩٤نة اللعن٩٩٥نة اللعن٩٩٦نة اللعن٩٩٧نة اللعن٩٩٨نة اللعن٩٩٩نة اللعن١٠٠٠نة

١٦٢

صفحہ 76

سے بڑا یوم مبارک : قادیان میں ایک شخص میاں منظور محمد رہتا تھا۔ اس کی بیوی کا نام محمدی بیگم تھا۔ اس کی دو بیٹیاں تھیں۔ ایک کا نام حامدہ بیگم اور دوسری کا نام صالحہ بیگم تھا۔ صالحہ بیگم کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد ۱۹۰۶ء میں محمدی بیگم حاملہ ہو گئی۔ مرزا قادیانی قرب و جوار کی حاملہ عورتوں کے بارے میں خوب خبر رکھتا تھا۔ محمدی بیگم تو ویسے بھی اس کی رشتہ دار تھی۔ جب مرزا قادیانی کو اس کے حمل کا پتہ چلا تو اس نے فوراً پیشگوئی جھاڑ دی کہ میاں منظور محمد کی اہلیہ محمدی بیگم کے ہاں بیٹا پیدا ہو گا اور اس کا نام بشیرالدولہ ہو گا۔ پھر کہا کہ لڑکے کا نام ایک نہیں بلکہ دو ہوں گے۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتا ہے۔

”۷ جون ۱۹۰۶ء بذریعہ الہام معلوم ہوا کہ میاں منظور محمد کے گھر میں یعنی محمدی بیگم کا ایک لڑکا ہو گا جس کے دو نام ہوں گے (۱) بشیرالدولہ۔ (۲) عالم کباب)“——

(تذکرہ‘ طبع دوم‘ ص ۶۱۵)

پھر مرزا قادیانی کہتا ہے کہ مجھے اسی دن پھر الہام ہوا ہے کہ لڑکے کے نام دو نہیں بلکہ چار ہوں گے۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے:

”۷ جون ۱۹۰۶ء اس کے بعد معلوم ہوا کہ اس لڑکے کے دو نام اور ہیں۔ ایک شادی خان کیونکہ وہ اس جماعت کے لیے شادی کا موجب ہو گا‘ دوسرے کلمتہ اللہ خان کیونکہ وہ خدا کا کلمہ ہو گا جو ابتداء سے مقرر تھا‘ اس زمانے میں پورا ہو جائے گا اور ضرور ہے کہ خدا اس لڑکے کی والدہ کو زندہ رکھے جب تک یہ پیشگوئی پوری ہو اور گزشتہ الہام ”اے ورڈ اینڈ ٹو گرلز“ اس الہام کو پورا کرتا ہے جس کے معنی ہیں ایک کلمہ اور دو لڑکیاں ہیں تو جب کلمہ پیدا ہو گا تب یہ بات پوری ہو جائے گی‘ ایک کلمہ اور دو لڑکیاں“۔ (تذکرہ‘ طبع دوم‘ ص ۶۱۶)

گیارہ دن کے بعد مرزا قادیانی کو پھر الہام ہوا کہ لڑکے کے نام چار نہیں بلکہ نو

صفحہ 77

ہوں گے۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”۸ جون ۱۹۰۶ء میاں منظور محمد کے اس بیٹے کا نام جو بطور نشان ہو گا بذریعہ الہام الہی مفصلہ ذیل معلوم ہوئے

(۱) کلمتہ العزیز (۲) کلمتہ اللہ خاں (۳) ورڈ (۴) بشیر الدولہ (۵) شادی خان (۶) عالم کباب (۷) ناصر الدین (۸) فاتح الدین (۹) ہذا یوم مبارک

(تذکرہ‘ طبع دوم‘ ص ۶۳۰)

پورے قادیان میں نو ناموں والے لڑکے کا چرچا تھا۔ ماں باپ بڑی خوشی سے لڑکے کا انتظار کر رہے تھے۔ وہ خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے کہ ”ہذا یوم مبارک“ کب آئے گا جب ”شادی خان“ ہمارے گھر تشریف لائے گا۔ لیکن مرزے کے الہام جھاڑنے کے ٹھیک ستائیس دن بعد جب وضع حمل ہوا تو دیکھنے والوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کیونکہ محمدی بیگم کے ہاں نو ناموں والے لڑکے کی بجائے بغیر نام والی لڑکی پیدا ہوئی۔ جھوٹے مرزے نے جھوٹی تاویلوں کا سہارا لے کر کمال ڈھٹائی کا ثبوت دیا۔

کچھ عرصہ بعد لڑکی اور اس کی ماں محمدی بیگم دونوں مرگئیں۔ نو ناموں والا لڑکا نہ آیا۔ ماں بیٹے کا انتظار کرتے کرتے قبر کے گڑھے میں اتر گئی۔ میاں منظور کے گھر سے دو جنازے اٹھے۔ اموات کے دن میاں منظور مرزا قادیانی سے پوچھتا ہوگا‘ او کذاب! کیا یہی وہ ”ہذا یوم مبارک“ ہے جس کی تو نے پیشگوئی کی تھی۔ یہ کیسا ”ہذا یوم مبارک“ ہے کہ میری بیوی بھی مر گئی اور بیٹی بھی مر گئی۔ جس دن مرزا قادیانی جہنم میں مرا تھا‘ شاید اس دن میاں منظور زور زور سے نعرے لگا کر اپنے دل کی بھڑاس نکالتا ہوا کہہ رہا ہوگا:

”ہذا یوم مبارک“

صفحہ 78

ی سے یہود : ظہور اسلام سے لے کر آج تک یہود اسلام اور مسلمانوں کے بدترین دشمن ہیں۔ یہود کے فتنہ ساز دماغوں نے اسلام کے خلاف ہزاروں سازشوں کو جنم دیا اور سینکڑوں فتنوں کو پیدا کیا۔ حتیٰ کہ پیغمبر اسلام جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک یہودی عورت نے زہر بھی دے دیا۔ یہود کی موجودہ ریاست ”اسرائیل“ فلسطینیوں سے ان کا وطن چھین کر عربوں کے قلب میں قائم کی گئی ہے۔ اسرائیل نے فلسطینی مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے جو پہاڑ توڑے ہیں، وہ تاریخ انسانیت کے سیاہ ترین باب ہیں۔ اسرائیل مسلمانوں سے بیت المقدس چھین کر اس پر غاصبانہ قبضہ کر چکا ہے اور قبلہ اول کو آگ لگا کر اپنی شیطنیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔ اسرائیل نے عراق کی ایٹمی تنصیبات کو ایک گھناؤنی سازش کے تحت تباہ کیا اور اب پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو برباد کرنے کی کئی دفعہ دھمکیاں دے چکا ہے۔ کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے اسرائیلی کمانڈوز ہندوؤں کی امداد کے لیے پہنچ چکے ہیں اور وہ مسلمانوں کے خون سے اپنے ظالم ہاتھ رنگ رہے ہیں۔ بابری مسجد کو منہدم کر کے وہاں رام مندر بنانے کے لیے جب جنونی ہندوؤں نے بابری مسجد پر حملے شروع کیے تو دشمن اسلام اسرائیل نے ہندوؤں کو رام مندر کی بنیاد رکھنے کے لیے سونے کی اینٹ ”تحفہ“ بھیجی۔ اسلام کے ان ازلی دشمنوں کے ساتھ قادیانیوں کے بڑے پیار بھرے مراسم ہیں۔ دونوں ایک دوسرے پر صدقے واری جاتے ہیں۔ پاکستان کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات نہیں لیکن قادیانیوں کے لیے اسرائیل کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں۔ یہودی اپنے مذہب میں اتنے سخت ہیں کہ اسرائیل میں کوئی مذہبی مشن کام نہیں کر سکتا لیکن اسرائیل میں قادیانی مشن قائم ہے۔ اسرائیل کو قادیانیوں پر اس قدر اعتماد ہے کہ اسرائیل کی فوج میں چھ سو سے زائد قادیانی بھرتی ہیں اور وہ یہودیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگ رہے ہیں۔ ربوہ پاکستان میں اسرائیل کی برانچ ہے جہاں سے وطن عزیز کے رازوں سے اسرائیل کو باخبر رکھا جاتا ہے۔ اسرائیل کے جاسوسوں کی پناہ گاہ بھی ربوہ ہے۔ لندن میں قادیانی ریاست

صفحہ 79

”اسلام آباد“ جہاں دنیا کا جدید ترین پریس کام کرتا ہے‘ جسے نیویارک کی تاجر برادری کے یہودی چیئرمین ڈیوڈ مسلم نے مرزا قادیانی کی سالگرہ کے موقعہ پر ۱۹۸۵ء میں مرزا طاہر کو تحفۃً ”پیش کیا‘ تاکہ ان کا بھائی مرزا طاہر‘ اسلام کے خلاف زیادہ سے زیادہ ہرزہ سرائی کر سکے۔

صفحہ 28
PDF 81

اینٹی بائیوٹک

بیماریوں

ہسٹریا

اختلاج قلب

مائیگرین

سل

سلس البول

بواسیر

پیچش

کا

خونی

عالمی چمپئن

ذیابیطس

درد گردہ

گیس بادی

چکر

لکنت

خارش

پھوڑے

دق

سل

نبی افرنگ مرزا قادیانی کی وحشتناک و عبرتناک

داستان حیات سے ایک ورق

صفحہ 82

ایک دن میں اپنے ایک عزیز کی عیادت کے لئے میو ہسپتال لاہور چلا گیا۔ ہسپتال کی فضاؤں میں خوف و افسردگی پھیلی ہوئی تھی۔ وارڈوں سے باہر پلاٹوں میں مریضوں کے عزیز و اقارب زمین پر چادریں بچھائے کھلے آسمان تلے بیٹھے تھے۔ ایمبولینس گاڑیوں کے خوفناک ہارن‘ ماحول میں مزید خوف و ہراس پھیلا رہے تھے۔ مریضوں کو اٹھائے رہڑیاں اپریشن تھیٹر کی طرف رینگ رہی تھیں۔ اپریشن تھیٹر کے باہر لوگوں کا ایک ہجوم اپنے اپنے مریضوں کی خبر سننے کے لئے گوش بر آواز تھا۔ مختلف وارڈوں سے مریضوں کے کراہنے کی آوازیں آ رہی تھیں اور جب کہیں کوئی مریض دم توڑ جاتا تو اس کے لواحقین کے نالہ و شیون سے ہسپتال کے درودیوار کانپ اٹھتے میں نے ہسپتال کے پودوں اور درختوں کو دیکھا ان کے چہرے بھی اداس اداس اور افسردہ افسردہ تھے گویا وہ بھی انسانوں کی تکلیف میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے میں سوچ کی وادیوں میں سرگرداں تھا کہ اے اللہ! اگر کسی کو کھانسی آ رہی ہے تو وہ ساری ساری رات جاگتا ہے اور اسے کسی کروٹ چین نصیب نہیں ہوتا۔ اگر کسی کو تیز بخار ہے تو اس کا پورا جسم انگارہ بن چکا ہے اور بخار کی حدت اس کے جسم کا پنجر پنجر ہلا رہی ہے۔ اگر کسی کو دماغی خلل ہو گیا ہے تو اس کی عقل اس کو داغ مفارقت دے چکی ہے۔ اگر کسی کو خارش کا مرض لاحق ہے تو اس کا سکون غارت ہو چکا ہے۔ اگر کسی کا معدہ صحیح کام نہ کرے تو اس کا کھانا وبال جان بن جاتا ہے۔ اگر حادثے میں کسی کی ایک آنکھ ضائع ہو جائے تو اس کی قدر و قیمت کوئی اس سے پوچھے ۔ اگر کسی کو درد گردہ لاحق ہو تو اسے چھٹی کا دودھ یاد آ جاتا ہے۔ اگر کسی کو ذیابیطس کا مرض لگ جائے وہ زندگی کے صحیح لطف سے محروم ہو جاتا ہے۔ پھر میں مزید گہری سوچ میں چلا گیا کہ اے اللہ ! اگر صرف ایک بیماری ایک شخص کو لگ جائے تو وہ بلبلا اٹھتا ہے اور اگر تیری ساری بیماریاں کسی کو چمٹ جائیں تو اس کا حشر کیا ہو گا؟ اس کی زندگی کتنی اجیرن ہو گی؟ یک لخت میری آنکھوں کے سامنے ایک شخص آ گیا۔ جسے دنیا کی تمام بیماریاں لگی ہوئی تھیں۔ اس کے خون میں ہر ہر بیماری کے جراثیم تھے۔ ایک اچھے خاصے ہسپتال میں اتنے وارڈ نہیں ہوتے جتنی

صفحہ 83

اس کو بیماریاں لاحق تھیں۔ وہ پاؤں کے تلوؤں سے لے کر سر کے سب سے اونچے بال تک بیمار تھا۔ اس کا جسم بھی بیمار تھا۔ اس کی روح بھی بیمار تھی۔ اس کا دل بھی بیمار تھا۔ اس کا دماغ بھی بیمار تھا۔ اس کی سوچ بھی بیمار تھی۔ اس کا کردار بھی بیمار تھا۔ اس کی زبان بھی بیمار تھی۔ اس کا عقیدہ بھی بیمار تھا۔ اس کا عمل بھی بیمار تھا۔ اس کی تحریر بھی بیمار تھی۔ اس کی تقریر بھی بیمار تھی۔ اس کی عقل بھی بیمار تھی۔ اس کی شکل بھی بیمار تھی۔ اسے یہ بیماریاں اس کے کالے کرتوتوں کی وجہ سے لگی تھیں۔ قانون قدرت ہے کہ جب کوئی شخص برائی کرتا ہے تو اللہ پاک اس کے راستے میں ایک چھوٹی سی رکاوٹ کھڑی کر دیتے ہیں۔ اگر وہ باز آ جائے تو ٹھیک اور اگر وہ اس رکاوٹ کو توڑتا ہوا آگے بڑھ جائے تو پھر اس کے راستے میں اس سے بڑی رکاوٹ کھڑی کر دی جاتی ہے۔ اگر وہ اسے بھی پھلانگتا ہوا نکل جائے تو پھر اس کے راستے میں بتدریج بڑی سے بڑی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں اور اگر وہ ساری رکاوٹوں کو پھلانگ جائے تو اسے بے لگام کر دیا جاتا ہے۔ مذکورہ بالا شخص ہندوستان کا جعلی نبی مرزا قادیانی تھا۔ جس کی لگام شیطان کے ہاتھ میں تھی اور وہ ساری رکاوٹیں عبور کرتا، شاہراہ کفر و ارتداد پر سرپٹ بھاگتا ہی رہا اور آخر ارتداد کے گہرے کھڈ میں اوندھے منہ جا گرا۔ اب ہم آپ کے سامنے بطور نمونہ چند بیماریاں پیش کرتے ہیں جن کے شکنجے میں نبی افرنگ کسا ہوا تھا۔

نامردی :۔ جب میں نے شادی کی تھی تو اس وقت تک مجھے یقین رہا کہ میں نامرد ہوں۔

(خاکسار غلام احمد قادیان ۲۲ فروری ۱۸۸۷ء مکتوب احمدیہ جلد پنجم) (خط نمبر ۱۴ منقول از نوشتہ غیب مولف خالد وزیر آبادی)

اتنا پکا یقین تھا تو پھر شادی کیوں کی تھی؟ کس پر بھروسہ تھا؟ (ناقل)

کلی بلا :۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے حضرت مسیح موعود (یعنی والد صاحب) کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اول کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے آپ کو اٹھو آیا اور پھر اس کے بعد طبیعت خراب ہو

صفحہ 84

گئی مگر یہ دورہ خفیف تھا پھر اس کے کچھ عرصے بعد آپ ایک دفعہ نماز کے لئے باہر گئے اور جاتے ہوئے فرمانے لگے کہ آج کچھ طبیعت خراب ہے والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے بعد شیخ حامد علی نے دروازہ کھٹکھٹایا کہ جلدی پانی کی ایک گاگر گرم کر دو والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں سمجھ گئی کہ حضرت صاحب کی طبیعت خراب ہو گئی ہو گی چنانچہ میں نے کسی ملازم عورت کو کہا کہ اس سے پوچھو میاں کی طبیعت کا کیا حال ہے۔ شیخ حامد علی نے کہا خراب ہو گئی ہے میں پردہ کرا کر مسجد میں چلی گئی تو آپ لیٹے ہوئے تھے۔ جب میں پاس گئی تو فرمایا میری طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی لیکن اب افاقہ ہے۔ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی اور آسمان تک چلی گئی پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہو گئی۔

(سیرت المہدی حصہ اول ص ۱۳ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی)

(تمہارا یار شیطان ہی تو تھا۔ ایسے ہی ڈر گئے۔ ناقل)

دورے پر دورہ :۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں اس کے بعد آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے۔ خاکسار نے پوچھا دوروں میں کیا ہوتا تھا۔ والدہ صاحبہ نے کہا ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے تھے اور بدن کے پٹھے کھنچ جاتے تھے خصوصاً گردن کے پٹھے اور سر میں چکر ہوتا تھا۔

(سیرت المہدی حصہ اول ص ۱۳ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

خونی قے :۔ پھر یک لخت بولتے بولتے آپ کو ابکائی آئی اور ساتھ ہی قے ہوئی۔ جو خالص خون کی تھی جس میں کچھ خون جما ہوا تھا اور کچھ بہنے والا تھا۔ حضرت نے قے سے سر اٹھا کر رومال سے اپنا منہ پونچھا اور آنکھیں بھی پونچھیں جو قے کی وجہ سے پانی لے آئی تھیں۔

(سیرت المہدی حصہ اول ص ۸۰ مولفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

مراق :۔ مراق کا مرض حضرت مرزا صاحب کو موروثی نہ تھا بلکہ یہ خارجی اسباب

صفحہ 85

کے ماتحت پیدا ہوا تھا اور اس کا باعث سخت دماغی محنت، تفکرات، غم اور سوئے ہضم تھا۔ جس کا نتیجہ دماغی ضعف تھا اور جس کا اظہار مراق اور دیگر ضعف کی علامات مثلاً دوران سر کے ذریعہ ہوتا تھا۔ (رسالہ ریویو قادیان ص ۱۰ بابت اگست ۱۹۲۶ء)

ہسٹریا :۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔ لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹریا کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاً کام کرتے کرتے یک دم ضعف ہو جانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہو جانا، گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا، ایسا معلوم ہوتا کہ ابھی دم نکلتا ہے یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا وغیرہ ذالک۔ (سیرت المہدی حصہ دوم ص ۵۵ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

دق :۔ حضرت اقدس نے اپنی بیماری دق کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ بیماری آپ کو حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب مرحوم کی زندگی میں ہو گئی تھی اور آپ قریباً چھ ماہ تک بیمار رہے حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب آپ کا علاج خود کرتے تھے اور آپ کو بکرے کے پائے کا شوربہ کھلایا کرتے تھے اس بیماری میں آپ کی حالت بہت نازک ہو گئی تھی۔

(حیات احمد جلد دوم نمبر اول ص ۷۹ مولفہ یعقوب علی صاحب قادیانی)

سل :۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے ایک دفعہ تمہارے دادا کی زندگی میں حضرت مرزا صاحب کو سل ہو گئی۔ حتی کہ زندگی سے ناامیدی ہو گئی۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تمہارے دادا خود حضرت صاحب کا علاج کرتے تھے اور برابر چھ ماہ تک انہوں نے آپ کو بکرے کے پائے کا شوربا کھلایا تھا۔ (سیرت المہدی حصہ اول ص ۴۲ مولفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

صفحہ 86

زیابیطس اور پیشاب کی زیادتی:۔ اور دوسری بیماری بدن کے نیچے کے حصہ میں ہے جو مجھے کثرت پیشاب کی مرض ہے جس کو ذیابیطس کہتے ہیں اور معمولی طور پر مجھے ہر روز پیشاب کثرت سے آتا ہے اور اس سے ضعف بہت ہو جاتا ہے۔

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۲۹۱ منقول از اخبار پیغام صلح)

(لاہور جلد نمبر ۳۶ نمبر ۴۷ مورخہ یکم دسمبر ۱۹۳۸)

دائمی مریض:۔ میں ایک دائم المرض آدمی ہوں۔ ہمیشہ درد سر اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے۔ اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔

(ضمیمہ اربعین نمبر ۳ ، ۴ ص ۴ مصنفہ مرزا قادیانی)

مرزا قادیانی! تیرا سارا دن تو پیشاب میں صرف ہو جاتا تھا۔ سچی سچی وحی کس وقت لیکر آتا تھا؟ (ناقل)

ادھ کھلی آنکھیں:۔ مولوی شیر علی صاحب نے بیان کیا کہ باہر مردوں میں بھی حضرت (مرزا) صاحب کی یہ عادت تھی کہ آپ کی آنکھیں ہمیشہ نیم بند رہتی تھیں۔ ایک دفعہ حضرت مرزا صاحب مع چند خدام کے فوٹو کھنچوانے لگے تو فوٹو گرافر آپ سے عرض کرتا تھا کہ حضور آنکھیں کھول کر رکھیں ورنہ تصویر اچھی نہیں آئے گی اور آپ نے اس کے کہنے پر ایک دفعہ تکلیف کے ساتھ آنکھوں کو کچھ زیادہ کھولا بھی مگر وہ پھر اسی طرح نیم بند ہو گئیں۔

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ۷۷ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

سرعت پیشاب:۔ اور والدہ صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود عموماً ریشمی ازار بند استعمال فرماتے تھے کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی جلدی آتا تھا۔ اس لئے ریشمی ازار بند رکھتے تھے تاکہ کھلنے میں آسانی ہو اور گرہ بھی پڑ جاوے تو کھولنے

صفحہ 87

میں دقت نہ ہو۔ سوتی ازار بند میں آپ سے بعض اوقات گرہ پڑ جاتی تھی تو آپ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی۔

ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ (ناقل)

کیچڑ:- بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد نے بواسطہ مولوی رحیم بخش ایم اے کہ ایک مرتبہ والد صاحب سخت بیمار ہو گئے اور حالت نازک ہو گئی اور حکیموں نے ناامیدی کا اظہار کر دیا اور نبض بھی بند ہو گئی مگر زبان جاری رہی۔ والد صاحب نے کہا کہ کیچڑ لا کر میرے اوپر اور نیچے رکھو چنانچہ ایسا کیا گیا اور اس سے حالت رو بہ اصلاح ہو گئی۔ (سیرت المہدی حصہ اول ص ۲۲۱)

جیسی روح ویسا علاج (ناقل)

سفید بال :- خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرمایا کرتے تھے کہ ابھی ہماری عمر تیس سال کی ہی تھی کہ بال سفید ہونے شروع ہو گئے تھے اور میرا خیال ہے کہ ۵۵ سال کی عمر تک آپ کے سارے بال سفید ہو چکے ہوں گے۔ (سیرت المہدی ص ۱۱ حصہ دوم )

لکنت :- حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان میں کسی قدر لکنت تھی اور آپ پر نالے کو پنالہ فرمایا کرتے تھے (سیرت المہدی حصہ دوئم ص ۲۵)

جھوٹی نبوت میں علمی معیار یہی ہوتا ہے (ناقل)

چشم نیم باز:- آپ کی آنکھیں ہمیشہ نیم بند رہتی تھی اور ادھر ادھر آنکھیں اٹھا کر دیکھنے کی آپ کو عادت نہ تھی بسا اوقات ایسا ہوتا تھا کہ سیر میں جاتے ہوئے آپ کسی خادم کا ذکر غائب کے صیغہ میں فرماتے تھے حالانکہ وہ آپ کے ساتھ ساتھ جا رہا ہوتا تھا اور پھر کسی کے بتلانے پر آپ کو پتہ چلتا تھا کہ وہ شخص آپ کے ساتھ ہے۔

(سیرت المہدی حصہ دوئم ص ۷۷)

اب سمجھ آئی کہ بال سفید کیوں ہوئے تھے (ناقل)

داڑھوں کا کیڑا :- دندان مبارک آپ کے آخری عمر میں کچھ خراب ہو گئے تھے

صفحہ 88

یعنی کیڑا بعض داڑھوں کو لگ گیا تھا جس سے کبھی کبھی تکلیف ہو جاتی تھی چنانچہ ایک دفعہ ایک داڑھ کا سرا ایسا نوکدار ہو گیا تھا کہ اس سے زبان میں زخم پڑ گیا تو ریتی کے ساتھ اس کو گھسوا کر برابر بھی کرایا تھا۔ (سیرت المہدی حصہ دوئم ص ۴۵)

پھٹی ہوئی ایڑیاں :۔ پیر کی ایڑیاں آپ کی بعض دفعہ گرمیوں کے موسم میں پھٹ جایا کرتی تھیں۔ (سیرت المہدی حصہ دوم ص ۴۵)

ایڑیاں پھٹنے کا تو تمہیں بہت افسوس ہے۔ لیکن مرزا کے منہ پھٹ ہونے کا کوئی رنج نہیں (ناقل)

سردی گرمی :۔ گرم کپڑے سردی گرمی برابر پہنتے تھے (سیرت المہدی حصہ دوم ص ۴۵)

عقل جو ماری گئی تھی (ناقل)

انگوٹھے کا درد :۔ حضرت صاحب کو کبھی کبھی پاؤں کے انگوٹھے کے نقرس کا درد ہو جایا کرتا تھا ایک دفعہ شروع میں گھٹنے کے جوڑ میں بھی درد ہوا نامعلوم وہ کیا تھا مگر دو تین دن زیادہ تکلیف رہی پھر جونکیں لگانے سے آرام آیا۔

جن جونکوں نے مرزا قادیانی کا خون پیا ہو گا وہ تو بیچاری مرگئی ہونگی (ناقل)

انگوٹھے کی سوجن :۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ نقرس کے درد میں آپ کا انگوٹھا سوج جایا کرتا تھا اور سرخ بھی ہو جاتا تھا اور بہت درد ہوتی تھی۔ (سیرت المہدی حصہ دوم ص ۲۸)

ٹخنے کا پھوڑا :۔ ایک دفعہ حضرت صاحب کے ٹخنے کے پاس پھوڑا ہو گیا تھا جس پر حضرت صاحب نے اس پر سکہ یعنی سیسہ کی ٹکیا بندھوائی تھی جس سے آرام آگیا۔ (سیرت المہدی حصہ سوم ص ۲۸)

دل و دماغ پر تو سیسہ کی ٹکیا مستقل بندھوائی تھی (ناقل)

لتاڑا :۔ ایک دفعہ بمقام گورداسپور ۱۹۰۴ء میں حضرت مسیح موعود کو بخار تھا آپ نے

صفحہ 89

خاکسار سے فرمایا کہ کسی جسیم آدمی کو بلاؤ جو ہمارے جسم پر پھرے خاکسار جناب خواجہ کمال الدین وکیل لاہور کو لایا جو چند دقیقہ پھرے مگر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ان کا وجود چنداں بوجھل نہیں کسی دوسرے شخص کو لائیں شاید حضور نے ڈاکٹر محمد اسماعیل خاں دہلوی کا نام لیا۔ خاکسار ان کو بلا لایا جسم پر پھرنے سے حضرت اقدس کو آرام محسوس ہوا۔ (سیرت المہدی حصہ سوئم ص ۴۹)

کاش ڈاکٹر اسماعیل ایک پاؤں گردن پر بھی رکھ دیتا اور قصہ تمام جاتا اور یہ فتنہ اپنی موت مرجاتا (ناقل)

خارش :۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو غالباً ۱۸۹۴ء میں ایک دفعہ خارش کی تکلیف بھی ہوئی تھی۔ (سیرت المہدی حصہ سوئم ص ۵۳)

زبان اور قلم کی خارش تو تمام عمر جاری رہی (ناقل)

سردی اور متلی :۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب معتدل موسم میں بھی کئی مرتبہ پچھلی رات کو اٹھ کر اندر کمرہ میں جا کر سو جایا کرتے تھے اور کبھی کبھی فرماتے تھے کہ ہمیں سردی سے خشکی ہونے لگی ہے بعض دفعہ تو اٹھ کر پہلے کوئی دوا مثلاً مشک وغیرہ کھا لیتے تھے اور پھر لحاف یا رضائی اوڑھ کر اندر جا لیٹتے تھے غرض کہ سردی سے آپ کو تکلیف ہوتی تھی اور اس کے اثر سے خاص طور پر اپنی حفاظت کرتے تھے چنانچہ پچھلی عمر میں بارہ مہینے گرم کپڑے پہنا کرتے تھے۔ (سیرت المہدی حصہ سوئم صفحہ ۶۱)

کاش اپنے ایمان کی بھی ایسے ہی حفاظت کرتا (ناقل)

گرمیوں میں جرابیں :۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب بالعموم گرمی میں بھی جراب پہنا کرتے تھے۔ (سیرت المہدی حصہ سوئم صفحہ ۶۷)

یہی گرمی دماغ کو چڑھتی تو ہذیان بکتا تھا (ناقل)

کھانسی :۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت

صفحہ 90

صاحب کو سخت کھانسی ہوئی ایسی کہ دم نہ آتا تھا البتہ منہ میں پان رکھ کر قدرے آرام معلوم ہوتا تھا اس وقت آپ نے اس حالت میں پان منہ میں رکھے رکھے نماز پڑھی۔ (سیرت المہدی حصہ سوئم صفحہ ۱۰۳)

مائی اوپیا :۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کی آنکھوں میں مائی اوپیا تھا اس وجہ سے پہلی رات کا چاند نہ دیکھ سکتے تھے۔ (سیرت المہدی حصہ

سوئم صفحہ ۱۱۹)

بھانو تو رات کو بھی نظر آجاتی تھی (ناقل)

چکر :۔ میں نے حضرت ام المومنین سے پوچھا تو انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حضرت صاحب نے مجھ سے یہ بھی فرمایا تھا کہ مجھے بعض اوقات کھڑے ہو کر چکر آ جایا کرتا ہے اس لئے تم میرے پاس کھڑے ہو کر نماز پڑھ لیا کرو۔ (سیرت المہدی حصہ سوئم صفحہ ۱۳۱)

چکر باز کو چکر؟ (ناقل)

دل گھٹنے کا دورہ :۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رمضان کا روزہ رکھا ہوا تھا کہ دل گھٹنے کا دورہ ہوا اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے۔ اس وقت غروب آفتاب کا وقت بہت قریب تھا مگر آپ نے روزہ توڑ دیا (سیرت المہدی حصہ سوئم صفحہ ۱۳۱)

پیچش :۔ ایک دن حضور کو پیچش کی شکایت ہو گئی بار بار قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تھے حضور نے ہمیں سوئے رہنے کے لئے فرمایا جب حضور رفع حاجت کے لئے اٹھتے تو خاکسار اسی وقت اٹھ کر پانی کا لوٹا لیکر حضور کے ساتھ جاتا۔ تمام رات ایسا ہی ہوتا رہا۔ (سیرت المہدی حصہ سوئم صفحہ ۱۳۳)

اور آخر ایک دن اسی چکر میں جہنم رسید ہو گیا (ناقل)

گرمی دانے :۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ بعض اوقات گرمی میں

صفحہ 91

حضرت مسیح علیہ السلام کی پشت پر گرمی دانے نکل آتے تھے تو سہلانے سے ان کو آرام آتا تھا بعض اوقات فرمایا کرتے کہ میاں جلون کرو جس سے مراد یہ ہوتی تھی کہ انگلیوں کے پوٹے بالکل آہستہ آہستہ اور نرمی سے پشت پر پھیرو۔ (سیرت المہدی حصہ سوئم ص ۱۹۵)

ہاتھوں میں ایسی جلون ہوئی کہ قرآن میں بھی تحریف کر ڈالی (ناقل)

درد گردہ :۔ ایک دفعہ حضرت صاحب کو بہت سخت درد گردہ ہوا۔ جو کئی دن تک رہا۔ اس کی وجہ سے آپ کو بہت تکلیف رہتی اور رات دن خدام باہر کے کمرہ میں جمع رہتے۔ (ذکر حبیب ص ۲۹ از مفتی محمد صادق قادیانی)

دوران سر:۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو کبھی کبھی دوران سر کی تکلیف ہو جاتی تھی۔ جو بعض اوقات اچانک پیدا ہو جاتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب گھر میں ایک چارپائی کو کھینچ کر ایک طرف کرنے لگے تو اس وقت اچانک چکر آگیا۔ اور لڑکھڑا کر گرنے کے قریب ہو گئے۔ مگر پھر سنبھل گئے۔ (سیرت المہدی حصہ سوئم ص ۲۶۳ از مرزا احمد قادیانی)

مگر وادی ارتداد میں گر کر سنبھل نہ سکا (ناقل)

پشت پر پھنسی :۔ ایک دن آپ کی پشت پر ایک پھنسی نمودار ہوئی۔ جس سے آپ کو بہت تکلیف ہوئی۔ خاکسار کو بلایا اور دکھایا اور بار بار پوچھا کہ یہ کاربنکل تو نہیں۔ چونکہ ذیابیطس کی بیماری ہے۔ میں نے دیکھ کر عرض کیا کہ یہ بال توڑ یا معمولی پھنسی ہے۔ کاربنکل نہیں ہے۔ (سیرت المہدی حصہ سوئم ص ۳۲۷ مرزا بشیر احمد قادیانی)

مغز میں تو واقعی کاربنکل تھا (ناقل)

مراق :۔ سید غلام نبی نے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن کا ذکر ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے حضرت مسیح موعود سے فرمایا کہ حضور غلام نبی کو مراق ہے تو حضور نے فرمایا۔ ایک رنگ میں سب نبیوں کو مراق ہوتا ہے اور مجھ کو بھی ہے

صفحہ 92

(سیرت المہدی حصہ سوئم ص ۳۰۴)

جی ہاں ہر جھوٹے نبی کو مراق ہوتا ہو گا۔ (ناقل)

دانت درد :۔ ایک دفعہ مجھے دانت میں سخت درد ہوئی۔ ایک دم قرار نہ تھا کسی شخص سے میں نے دریافت کیا کہ اس کا کوئی علاج بھی ہے اس نے کہا کہ علاج دنداں اخراج دنداں اور دانت نکالنے سے میرا دل ڈرا۔ (حقیقۃ الوحی ص ۲۳۵ مصنفہ مرزا قادیانی)

دانت نکلوانے سے تو ڈرا مگر اللہ سے نہ ڈرا (ناقل)

پیر بھسوانا اور بدن دبوانا :۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود سر کے دورہ میں پیر بہت بھسواتے تھے۔ اور بدن زور سے دباتے تھے۔ اس سے آپ کو آرام محسوس ہوتا تھا۔ (سیرت المہدی حصہ سوئم صفحہ ۲۸۷)

دورہ دوران سر :۔ میں چند روز سے سخت بیمار ہوں۔ بعض اوقات جب دورہ دوران سر شدت سے ہوتا ہے تو خاتمہ زندگی محسوس ہوتا ہے۔ ساتھ ہی سر درد بھی ہے۔ ایسی حالت میں روغن بادام سر اور پیروں کی ہتھیلیوں پر ملنا اور پینا فائدہ مند محسوس ہوتا ہے۔ (مرزا قادیانی کا خط حکیم محمد حسین قریشی کے نام ۔۔ خطوط امام بنام غلام ص ۵)

نمرود کی طرح سر پر چھتر لگواتا تو زیادہ فائدہ ہوتا (ناقل)

پاخانے کی مصیبت :۔ ایک انگریزی وضع کا پاخانہ جو ایک چوکی ہوتی ہے اور اس میں ایک برتن ہوتا ہے۔ اس کی قیمت معلوم نہیں۔ آپ ساتھ لاویں۔ قیمت یہاں سے دیجاویگی۔ مجھے دوران سر کی بہت شدت سے مرض ہو گئی ہے۔ پیروں پر بوجھ دیکر پاخانہ پھرنے سے مجھے سر کو چکر آتا ہے۔ اس لئے ایسے پاخانہ کی ضرورت پڑی۔ اگر شیخ صاحب کی دوکان پر ایسا پاخانہ ہو تو وہ دے دیں گے مگر ضرور لانا چاہئے۔ (مرزا قادیانی کا خط حکیم محمد حسین قریشی کے نام ۔۔۔ خطوط امام بنام غلام ۔ ص ۶)

انگریز کے خود کاشتہ پودے کو انگریزی پاخانہ کے بغیر کہاں آرام آسکتا تھا (ناقل)

صفحہ 93

دم الٹ دینے والی کھانسی :۔ میری طبیعت بیمار ہے۔ کھانسی سے دم الٹ جاتا ہے۔ (مرزا قادیانی کا خط مفتی محمد صادق کے نام ۔۔۔ ذکر حبیب ص ۳۴۴) دم تو پاخانے میں الٹا اور عقل ہمیشہ ہی الٹی رہی (ناقل)

پاؤں کی سردی :۔ جوڑہ جراب خواہ سیاہ رنگ ہو یا کوئی اور رنگ ہو۔ مضائقہ نہیں۔ اس قدر پاؤں کو سردی ہے کہ اٹھنا مشکل ہے۔ (مرزا قادیانی کا خط حکیم محمد حسین قریشی کے نام ۔۔۔ خطوط امام بنام غلام ص ۷)

کھانسی اور جوشاندہ :۔ ایک دفعہ حضرت صاحب کو کھانسی تھی۔ حضور نے خرفہ ۲ ماشہ ۔ السی ایک ماشہ کا جوشاندہ بنا کر پیا۔ (ذکر حبیب ص ۲۱۷ از مفتی محمد صادق قادیانی)

کھانسی اور گرم گرم گنا :۔ سفر گورداسپور میں ۱۹۰۳ء میں ایک دفعہ حضرت صاحب کو کھانسی کی شکایت تھی۔ میں نے عرض کی کہ میرے والد مرحوم اس کا علاج گرم کیا ہوا گنا بتلایا کرتے تھے۔ تب حضور کے فرمانے سے ایک گنا چند پوریاں لیکر آگ پر گرم کیا گیا اور اس کی گنڈیریاں بنا کر حضور کو دی گئیں اور حضور نے چوسیں۔ (ذکر حبیب ص ۱۱۱ از مفتی محمد صادق قادیانی ) دنیا میں گرم گرم گنا اور آخرت میں گرم گرم گرز۔ کیا عجب ملاپ ہے۔ (ناقل)

سر کے بالوں کی بیماری :۔ آخری عمر میں حضور کے سر کے بال بہت پتلے اور ہلکے ہو گئے تھے۔ چونکہ یہ عاجز ولایت سے ادویہ وغیرہ کے نمونے منگوایا کرتا تھا غالباً اس واسطے مجھے ایک دفعہ فرمایا۔ " مفتی صاحب سر کے بالوں کے اگانے اور بڑھانے کے واسطے کوئی دوائی منگوائیں "

(ذکر حبیب ص ۱۷۳ از مفتی محمد صادق)

دو تین ٹنڈیں کرا کر کسی طاقتور مرید سے سرسوں کے تیل سے رگڑ دار مالش کروا لیتے۔ (ناقل)

صفحہ 94

گنجا پن :۔ دوا پہنچ گئی۔ ایک اشتہار بالوں کی کثرت کا شاید لندن میں کسی نے دیا ہے اور مفت دوا بھیجتا ہے۔ آپ وہ دوا بھی منگوا لیں تاکہ آزمائی جائے۔ لکھتا ہے کہ اس سے گنجے بھی شفا پاتے ہیں۔ (مرزا قادیانی کا خط مفتی محمد صادق قادیانی کے نام ۔۔۔ ذکر حبیب ص ۳۶۰)

لگتا ہے محمدی بیگم سے شادی کا شوق اس بڑھاپے میں سب کچھ کروا رہا ہے۔ (ناقل)

سخت دورہ اور ٹانگیں باندھنا :۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ اوائل میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سخت دورہ پڑا۔ کسی نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد کو بھی اطلاع دے دی اور وہ دونوں آگئے۔ پھر ان کے سامنے بھی حضرت (مرزا) صاحب کو دورہ پڑا۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں اس وقت میں نے دیکھا کہ مرزا سلطان احمد تو آپ کی چارپائی کے پاس خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہے۔ مگر مرزا فضل احمد کے چہرہ پر ایک رنگ آتا تھا اور ایک جاتا تھا۔ اور وہ کبھی ادھر بھاگتا تھا اور کبھی ادھر۔ کبھی اپنی پگڑی اتار کر حضرت صاحب کی ٹانگوں کو باندھتا تھا اور کبھی پاؤں دبانے لگ جاتا تھا اور گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ کانپتے تھے۔

(سیرت المہدی حصہ اول ص ۲۲ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

پرانا جوتا سونگھاتے تو یقیناً فرق پڑ جاتا (ناقل)

اوپر اور نیچے والے امراض :۔ دو مرض میرے لاحق حال ہیں۔ ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں اور دوسرا بدن کے نیچے کے حصہ میں ۔ اوپر کے حصہ میں دوران سر ہے اور نیچے کے حصہ میں کثرت پیشاب ہے اور یہ دونوں مرضیں اس زمانہ سے ہیں جس زمانہ سے میں نے اپنا دعویٰ مامور من اللہ ہونے کا شائع کیا ہے۔ (مرزا قادیانی کی تالیف حقیقت الوحی ص ۲۰۶، ۲۰۷ منقول از اخبار پیغام صلح لاہور جلد ۳۶ نمبر ۴۷ مورخہ یکم دسمبر ۱۹۳۸ء)

دیکھا دعوے کرنے کا مزہ (ناقل)

پرانی اور دائمی بیماریاں :۔ مجھے دو مرض دامن گیر ہیں۔ ایک جسم کے اوپر کے

صفحہ 95

حصہ میں کہ سر درد اور دوران سر اور دوران خون کم ہو کر ہاتھ پیر سرد ہو جانا۔ نبض کم ہو جانا اور دوسرے جسم کے نیچے کے حصہ میں کہ پیشاب کثرت سے آنا اور اکثر دست آتے رہنا۔ یہ دونوں بیماریاں قریب تیس برس سے ہیں۔ (نسیم دعوت ص ۶۸

مصنفہ مرزا قادیانی)

اعصابی کمزوری :۔ حضرت (مرزا) صاحب کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر، درد سر، کمی خواب، تشنج دل، بد ہضمی، اسہال، کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا۔ (رسالہ ریویو قادیان بابت مئی ۱۹۳۷ء)

حافظہ کا ستیاناس :۔ مکرمی اخویم سلمہ میرا حافظہ بہت خراب ہے۔ اگر کئی دفعہ کسی کی ملاقات ہو تب بھی بھول جاتا ہوں یاد دہانی عمدہ طریقہ ہے۔ حافظہ کی یہ ابتری ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔ خاکسار غلام احمد از صدر انبالہ احاطہ ڈاک بنگلہ

(مکتوب احمدیہ پنجم نمبر ۳ ص ۳۱ مجموعہ مکتوبات مرزا قادیانی)

نبی بننا تو خوب یاد رہا (ناقل)

پاخانوں کی یلغار :۔ باوجودیکہ مجھے اسہال کی بیماری ہے اور ہر روز کئی کئی دست آتے ہیں۔ مگر جس وقت بھی پاخانے کی حاجت ہوتی ہے تو مجھے افسوس ہی ہوتا ہے کہ ابھی کیوں حاجت ہوئی۔ اسی طرح جب روٹی کھانے کے لئے کئی مرتبہ کہتے ہیں تو بڑا جبر کر کے جلد جلد چند لقمے کھا لیتا ہوں۔ بظاہر تو میں روٹی کھاتا ہوا دکھائی دیتا ہوں مگر میں سچ کہتا ہوں کہ مجھے پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کہاں جاتی ہے اور کیا کھا رہا ہوں۔ میری توجہ اور خیال اسی طرف لگا ہوتا ہے۔

(ارشاد مرزا قادیانی مندرجہ اخبار الحکم قادیان جلد ۵ نمبر ۴۰ منقول از کتاب منظور الہی

ص ۳۴۹ مولفہ محمد منظور الہی قادیانی)

بے ہوشی :۔ پہلے بھی کئی دفعہ ایسا ہوا کہ جب حضور سخت جسمانی محنت کیا کرتے تو دماغی تھکاوٹ کے باعث ایک کمزوری کا حملہ ہوتا اور بے ہوش ہو جاتے۔

صفحہ 96

(منظر وصال از مفتی محمد صادق قادیانی مندرجہ اخبار الحکم قادیان خاص نمبر مورخہ ۲۶ مئی ۱۹۳۴ء)

مقعد سے خون :۔ ایک مرتبہ میں قولنج زحیری سے سخت بیمار ہوا اور سولہ دن تک پاخانہ کی راہ سے خون آتا رہا اور سخت درد تھا جو بیان سے باہر ہے۔ (حقیقۃ الوحی ص

۳۳۴ مصنفہ مرزا قادیانی)

انتہائی کمزوری و لاچاری :۔ مخدومی مکرمی حضرت مولوی صاحب اسلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ‘ اور اس عاجز کی طبیعت آج بہت علیل ہو رہی ہے۔ ہاتھ پاؤں بھاری اور زبان بھی بھاری ہو رہی ہے۔ مرض کے غلبے سے نہایت لا چاری ہے۔

(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ۲ ص ۲۱ مجموعہ مکتوبات مرزا قادیانی)

کسی مرید کا منی آرڈر آتا تو ہاتھ پاؤں ٹھیک ہو جاتے (ناقل)

سستی نبض اور گھبراہٹ :۔ کل سے میری طبیعت علیل ہو گئی ہے۔ کل شام کے وقت مسجد میں اپنے تمام دوستوں کے روبرو جو حاضر تھے۔ سخت درجہ کے عارضہ لاحق ہوا اور ایک دفعہ تمام بدن سرد اور نبض کمزور اور طبیعت میں سخت گھبراہٹ شروع ہوئی۔ اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا زندگی میں ایک دو دم باقی ہیں۔ بہت نازک حالت ہو کر پھر صحت کی طرف عود ہوا۔ مگر اب تک کلی اطمینان نہیں۔ کچھ کچھ اثرات عود مرض کے ہیں۔

(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم حصہ اول ص ۲۸ مجموعہ مکتوبات مرزا قادیانی)

ضعف دماغ :۔ میری طبیعت آپ کے بعد پھر بیمار ہو گئی۔ ابھی ریزش کا نہایت زور ہے۔ دماغ بہت ضعف ہو گیا ہے۔ آپ کے دوست ٹھاکر رام کے لئے ایک دن بھی توجہ کرنے کے لئے مجھے نہیں ملا۔ صحت کا منتظر ہوں۔

جو کبھی نہ ہوئی (ناقل)

والسلام

صفحہ 97

(خاکسار غلام احمد مورخہ یکم جنوری ۱۸۹۰ء) (مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ۲ مولفہ یعقوب علی عرفانی قادیانی)

مرض الموت ”ہیضہ“ :۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے اور میں بھی سو گئی لیکن کچھ دیر بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک دو دفعہ حاجت کے لئے پاخانہ تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا تو آپ نے ہاتھ سے مجھے جگایا۔ میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے اور میں آپ کے پاؤں دبانے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت نے فرمایا تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ میں نہ جاسکتے تھے۔ اس لئے چارپائی کے پاس ہی بیٹھ کر آپ فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں دباتی رہی مگر ضعف بہت ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہو گئی۔ اس پر میں نے گھبرا کر کہا ”اللہ یہ کیا ہونے لگا“ تو آپ نے کہا یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا۔ خاکسار نے والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ کیا آپ سمجھ گئیں تھیں کہ حضرت صاحب کا کیا منشاء ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا ہاں“ (سیرت المہدی ص ۹ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

اس سے چند ساعتیں بعد مرزا قادیانی اپنی چارپائی کے قریب اپنی پھیلائی ہوئی غلاظت پر چکرا کر گرا اور غلاظت سے لت پت ہو گیا اور اسی حالت میں فرشتہ اجل نے غلیظ جسم سے غلیظ روح نکال لی اور مرزا قادیانی پھرّ کر کے جہنم پہنچ گیا (ناقل)

آپ نے ملاحظہ کیا کہ مہلک بیماریاں کس طرح عذاب الٰہی بن کر نبی افرنگ کے بدن پر برس رہی ہیں کہیں کھانسی کا حملہ ہے۔ کہیں پیشاب کی یلغار ہے۔ کہیں ذیابیطس کا شب خون ہے۔ کہیں خارش کی کھجلیاں ہیں۔ کہیں درد گردہ کی چیخیں ہیں کہیں

صفحہ 98

جونکیں ہم آغوش ہیں کہیں سل و دق گلے کا ہار بنی بیٹھی ہیں کہیں خونی قے کی طوفانی آمد ہے۔ کہیں مراق و ہسٹریا کے تیروں کی بوچھاڑ ہے۔ کہیں دانت درد کی دھما چوکڑی ہے۔ کہیں عارضہ دل کی جھپٹ ہے۔ کہیں ہیضہ کے کلہاڑے سر پر برس رہے ہیں۔ کہیں دورہ ختم کرنے کے لئے انگریزی نبوت کی ٹانکیں باندھی جا رہی ہیں، کہیں بناسپتی نبی کے جسم پر کیچڑ ملا جا رہا ہے۔ اور کہیں کالی بلا دیکھ کر بے ہوشی کے دورے پڑ رہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمام بیماریاں جھوٹے نبی کو مل کر یوں گھسیٹ رہی ہیں جیسے مری ہوئی چھپکلی کو بہت سی چیونٹیاں گھسیٹ کر لے جا رہی ہوں۔ یا مرے ہوئے کتے کو بہت سی گدھیں کھا رہی ہوں۔

مندرجہ بالا سطور میں ہم نے صرف وہ بیماریاں رقم کی ہیں جو قادیانی کتابوں میں موجود ہیں۔ لیکن ہمارا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی کو اس کے علاوہ سینکڑوں بیماریاں لاحق تھیں جن کی اس وقت تشخیص نہ ہو سکی۔ اگر مرزا قادیانی آج کے تشخیصی دور میں ہوتا اور اس کا مکمل میڈیکل چیک اپ ہوتا تو اس کے جسم سے سینکڑوں بیماریاں دریافت ہوتیں۔ جن میں سے ایڈز سرفہرست ہوتی۔ یہ شخص پوری دنیا کے ڈاکٹروں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتا۔ دنیا جہان کے ڈاکٹر اسے دیکھنے کے لئے آتے۔ ڈاکٹروں میں لڑائی چھڑ جاتی۔ ماہرین دل کہتے یہ ہمارا مریض ہے۔ ماہرین جلد کہتے یہ ہمارا مریض ہے۔ ماہرین ناک، کان، گلا کہتے کہ یہ ہمارا مریض ہے۔ ماہرین معدہ و جگر کہتے یہ ہمارا مریض ہے۔ ماہرین ذیابیطس کہتے یہ ہمارا مریض ہے ماہرین نفسیات کہتے یہ ہمارا مریض ہے مرزے کا ٹوٹا ہوا بازو دیکھ کر آرتھوپیڈک سرجن کہتے یہ ہمارا مریض ہے اور مرزا قادیانی کے حمل کا قصہ پڑھ کر ماہرین زچہ و بچہ کہتے یہ ہماری مریضہ ہے۔ غرضیکہ ڈاکٹروں میں ایک بحث و تکرار چھڑ جاتی اور چھینا جھپٹی شروع ہو جاتی۔ میڈیکل کے طلباء کہتے اسے ہمارے حوالے کرو ہم نے اس پر ریسرچ کرنی ہے۔ کوئی محقق کہتا کہ اسے میرے حوالے کرو میں نے اس پر پی۔ ایچ۔ ڈی کا مقالہ لکھنا ہے۔ عجائب گھر والے کہتے اسے ہمیں دے دو۔ ہم اس پر ٹکٹ لگائیں گے اور کروڑوں روپے کما کر قومی آمدنی میں اضافہ کریں گے۔ جس سے کمر توڑ مہنگائی کا توڑ ہو گا۔ دنیا بھر کے صحافی

صفحہ 99

اسے دیکھنے کے لئے آتے اور ساری دنیا کی اخباروں میں اس کے انٹرویو چھپتے اور فوٹو شائع ہوتے۔ گنز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اس کا نام آتا۔ معاملہ عدالتوں تک جا پہنچتا۔ حکومت برطانیہ عدالت میں دعویٰ کرتی کہ مرزا قادیانی ہماری تخلیق ہے۔ اسے نبی ہم نے بنایا تھا اور نبی بننے کے جرم کی پاداش میں اللہ کی طرف سے اس پر لعنتوں اور بیماریوں کی بوچھاڑ ہوئی۔ کیونکہ اسے نبی ہم نے بنایا تھا اور ہماری ہی وجہ سے اس کو اتنی بیماریاں لگیں۔ لہٰذا ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم اس کا علاج معالجہ کرائیں۔ عدالت انگریز کے موقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے مرزا قادیانی کو انگریز کے حوالے کر دیتی اور بیماریوں کا عالمی چیمپیئن مرزا قادیانی اپنی تمام لعنتوں، نحوستوں اور بیماریوں کے ساتھ برطانیہ روانہ ہو جاتا۔ اور ہم کہتے۔

۔ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
صفحہ 28
PDF 101

مرزا قادیانی

کی

اکھ مٹکے کی

شادی

صفحہ 102

تقریباً ایک صدی بیتی، مشرقی پنجاب کے ضلع گورداسپور میں ایک نہر کی کھدائی کا کام شروع ہوا۔ اس نہر کو قادیان سے دو اڑھائی میل مغرب کی جانب سے بھی گزرنا تھا۔ قادیان کے قریب جب اس نہر کی کھدائی شروع ہوئی تو محکمہ نہر کے ایک ملازم میر ناصر نواب کی ڈیوٹی اس نہر پر لگی۔ میر ناصر نواب دہلی کا رہنے والا تھا اور ملازمت کے سلسلہ میں بمعہ اہل و عیال یہاں آیا تھا اور قادیان کے قریب ایک گاؤں ”تلہ“ میں رہائش اختیار کر لی تھی۔ قادیان میں اس کی ملاقات ایک شخص مرزا غلام قادر سے ہوئی تھی اور تھوڑی ہی مدت بعد یہ ملاقات ایک گہری دوستی میں بدل جاتی ہے۔ ایک دن میر ناصر نواب کی اہلیہ بیمار ہو جاتی ہے۔ پردیس میں آیا ہوا میر ناصر نواب بیماری سے پریشان ہو جاتا ہے اور وہ اپنی اس پریشانی کا اظہار اپنے دوست مرزا غلام قادر سے کرتا ہے، مرزا غلام قادر اسے کہتا ہے کہ تم فکر نہ کرو میرا باپ ایک ماہر طبیب ہے۔ تم بیوی کو لے کر میرے گھر آجانا‘ میں والد صاحب سے اس کا علاج کروا دوں گا۔ میر ناصر نواب بیوی کو لے کر قادیان پہنچتا ہے۔ اس کے دوست مرزا غلام قادر کا باپ مرزا غلام مرتضیٰ مریضہ کی نبض دیکھتا ہے اور ایک نسخہ لکھ دیتا ہے۔ اس واقعہ کے بعد دونوں کی دوستی اور پکی ہو جاتی ہے۔ اس واقعہ کے کچھ مدت بعد غلام قادر کا باپ مرزا غلام مرتضیٰ فوت ہو جاتا ہے۔ مرزا غلام قادر میر ناصر نواب سے کہتا ہے کہ آپ گاؤں ”تلہ“ میں رہتے ہیں۔ وہ گاؤں بدمعاشوں کا گاؤں ہے اور آپ پردیسیوں کا وہاں رہنا مناسب نہیں۔ میں گورداسپور میں رہتا ہوں اور ہمارا قادیان والا مکان خالی پڑا ہے۔ میرا چھوٹا بھائی مرزا غلام احمد اس مکان کے ایک حصہ میں رہتا ہے اور وہ بھی کبھی کبھی گھر آتا ہے ورنہ اس کا زیادہ وقت باہر ہی گزرتا ہے۔ اس لئے آپ کو پردہ وغیرہ کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی۔ میر ناصر نواب مرزا غلام قادر کی پیشکش کو قبول کر لیتا ہے اور اپنی فیملی کو لے کر قادیان میں منتقل ہو جاتا ہے۔ یہاں پہنچتے ہی مرزا غلام احمد اور میر ناصر نواب کی بیوی کے محبت بھرے تعلقات استوار ہو جاتے ہیں۔ طائرِ محبت آسمان سے باتیں کرنے لگتا ہے اور دونوں ایک دوسرے پر دل نثار کرنے لگتے ہیں۔ دونوں اطراف سے تحائف کا تبادلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جب ان

صفحہ 103

محبت بھرے خفیہ تعلقات کا پتہ مرزا غلام قادر کی بیوی یعنی مرزا غلام احمد کی بڑی بھاوج کو چلتا ہے تو وہ ان ناجائز تعلقات کا سختی سے نوٹس لیتی ہے۔ جس سے محبت بھرے جوڑے اور غلام قادر کی بیوی میں ٹھن جاتی ہے اس ساری صورت حال کو مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد اپنی کتاب سیرت المہدی میں میر ناصر نواب کی بیوی اور اپنی نانی کی زبان سے یوں بیان کرتا ہے۔

بیان کو ذرا پوری توجہ سے پڑہئے

" ان دنوں جب بھی تمہارے تایا (مرزا غلام قادر) گورداسپور سے قادیان آتے تھے تو ہمارے لئے پان لایا کرتے تھے اور میں ان کے واسطے کوئی اچھا سا کھانا تیار کر کے بھیجا کرتی تھی۔ ایک دفعہ جو میں نے شامی کباب ان کے لئے تیار کئے اور بھیجنے لگی تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ گورداسپور واپس چلے گئے ہیں۔ جس پر مجھے خیال آیا کہ کباب تو تیار ہی ہیں میں ان کے چھوٹے بھائی (مرزا غلام احمد) کو بھجوا دیتی ہوں۔ چنانچہ میں نے نائن کے ہاتھ تمہارے ابا کو کباب بھجوا دیئے اور نائن نے مجھے آکر کہا کہ وہ بہت ہی شکر گزار ہوئے تھے۔ اور انہوں نے بڑی خوشی سے کباب کھائے اور اس دن انہوں نے اپنے گھر سے آیا ہوا کھانا نہیں کھایا۔ اس کے بعد میں ہر دوسرے تیسرے دن ان کو کچھ کھانا بنا کر بھجوا دیا کرتی تھی۔ اور وہ بڑی خوشی سے کھاتے تھے۔ لیکن جب اس بات کی اطلاع تمہاری تائی کو ہوئی تو انہوں نے بہت برا منایا کہ میں کیوں ان کو کھانا بھیجتی ہوں۔ کیونکہ وہ اس زمانہ میں تمہارے ابا کے سخت مخالف تھیں اور چونکہ گھر کا سارا انتظام ان کے ہاتھ میں تھا۔ وہ ہر بات میں انہیں تکلیف پہنچاتی تھیں مگر تمہارے ابا صبر کے ساتھ ہر بات کو برداشت کرتے تھے۔" یعنی بہت ڈھیٹ تھے۔

(ناقل)

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ۱۱۰ مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)

مرزا غلام احمد نے جہاں اپنے شیطانی جال میں میر ناصر نواب کی بیوی کو جکڑ رکھا تھا۔ وہاں اس نے میر ناصر نواب کی نو خیز بیٹی نصرت جہاں بیگم پر بھی اپنی حریص آنکھ رکھی ہوئی تھی اور لڑکی کو بھی اس نے رام کر لیا تھا اور وہ بڈھا کھوسٹ اس سے شادی

صفحہ 104

رچانا چاہتا تھا۔ مرزا قادیانی کے پاس ماں بیٹی سے ملنے کے کھلے مواقع تھے اور وہ جی بھر کر ان سے فائدہ اٹھاتا تھا۔ مرزائی بھی اس سے انکار کی جرأت نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ان کی اپنی کتابیں مرزا قادیانی کی خباثت پر گواہی دے رہی ہیں۔

"بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ (زوجہ مرزا قادیانی) نے کہ جب میں چھوٹی لڑکی تھی۔ تو میر صاحب (یعنی خاکسار کے نانا جان) کی تبدیلی ایک دفعہ یہاں قادیان بھی ہوئی تھی اور ہم چھ سات ماہ یہاں ٹھہرے تھے۔ پھر یہاں سے دوسری جگہ میر صاحب کی تبدیلی ہوئی۔ تو وہ تمہارے تایا سے بات کر کے ہم کو تمہارے تایا کے مکان میں چھوڑ گئے تھے اور پھر ایک مہینہ کے بعد آ کر لے گئے۔ اس وقت تمہارے تایا قادیان سے باہر رہتے تھے اور آٹھ روز کے بعد یہاں آیا کرتے تھے اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے ان کو دیکھا ہے۔ خاکسار نے پوچھا کہ حضرت صاحب کو بھی ان دنوں میں آپ نے دیکھا تھا یا نہیں؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت صاحب رہتے تو اس مکان میں تھے مگر میں نے آپ کو نہیں دیکھا اور والدہ صاحبہ نے مجھے وہ کمرہ دکھایا جس میں ان دنوں حضرت صاحب رہتے تھے۔"

(سیرت المہدی حصہ اول ص ۵۷ - ۵۶۔ مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)

قارئین کرام! آپ نے دیکھا کہ میر ناصر نواب پورا ایک مہینہ گھر پر نہیں۔ مرزا قادیانی کا بھائی مرزا غلام قادر ہفتہ کے بعد صرف تھوڑی دیر کے لئے قادیان آتا ہے۔ گھر میں میر ناصر نواب کے اہل خانہ کے ساتھ مرزا قادیانی گھسا ہوا ہے اور اپنی شنیع حرکات میں مصروف ہے۔

؎ صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے

بیٹا ماں سے پوچھ رہا ہے کہ کیا آپ نے شادی سے پہلے مرزا قادیانی کو دیکھا تھا۔ جس کے جواب میں نصرت جہاں بیگم کمال سادگی سے کہہ رہی ہے کہ انہیں تو نہیں دیکھا تھا مگر ان کا کمرہ دیکھا تھا۔ یعنی مکان دیکھا ہے ۔ مکیں نہیں دیکھا۔

ہائے اس سادگی پہ کون نہ مرجائے

مرزا قادیانی نے نصرت جہاں بیگم سے شادی کے لئے اس کی ماں سے اصرار کیا تو اس

صفحہ 105

کی ماں نے اسے جواب دیا۔ تھوڑی دیر صبر کرو میں تمہارے لئے راستہ بناتی ہوں تاکہ ہماری عزت بھی لوگوں کی نگاہوں میں محفوظ رہے اور تمہارا کام بھی بن جائے۔ نصرت جہاں بیگم کے لئے جو بھی رشتہ آئے گا۔ میں اس کے باپ سے اس رشتہ کے بارے میں انکار کر دیا کروں گی اور پھر جب پانچ سات رشتوں کو ٹھکرا دوں گی تو اس کے ساتھ ہی تمہارے لئے راستہ ہموار کر دوں گی۔ میر ناصر نواب قادیان سے دفتری رخصت لیکر اپنے شہر دہلی واپس چلا جاتا ہے۔ وہاں پہنچ کر میر ناصر نواب کی بیوی اس سے کہتی ہے کہ اب نصرت جہاں بیگم اٹھارہ سالہ جوان ہو چکی ہے، ہمیں اس کی شادی کا سوچنا چاہئے اور اس کے ساتھ ہی وہ اپنے خاوند سے کہتی ہے کہ اس سلسلہ میں ہمیں مرزا غلام احمد کی ضرور مدد لینی چاہئے کیونکہ وہ بااثر اور تعلقات رکھنے والا آدمی ہے۔ میر ناصر نواب کی بیوی اسے شیشے میں اتار لیتی ہے۔ اور میر ناصر نواب فوراً مرزا قادیانی کو اس بارے میں خط لکھتا ہے اب اس کہانی کی صورت حال مرزا بشیر احمد سے سنئے۔ جسے وہ اپنی نانی کی زبانی بیان کر رہا ہے۔

” اس کے بعد ہم رخصت پر دہلی گئے اور چونکہ تمہاری اماں اس وقت جوان ہو چکی تھی۔ ہمیں ان کی شادی کا فکر پیدا ہوا اور میر صاحب نے ایک خط تمہارے ابا (مرزا قادیانی) کے نام لکھا کہ مجھے اپنی لڑکی کے واسطے بہت فکر ہے آپ دعا کریں کہ خدا کسی نیک آدمی کے ساتھ تعلق کی صورت پیدا کر دے۔ تمہارے ابا نے جواب میں لکھا کہ اگر آپ پسند کریں تو میں خود شادی کرنا چاہتا ہوں اور آپ کو معلوم ہے کہ گو میری پہلی بیوی موجود ہے اور بچے بھی ہیں مگر آجکل میں عملاً مجرد ہی ہوں۔ وغیرہ ذلک۔ کتنی بے تکلفی تھی ساس اور داماد میں۔ یہیں سے دال میں کالا کالا مرزا قادیانی پکڑا جاتا ہے۔ (ناقل)

میر صاحب نے اس ڈر کی وجہ سے کہ میں اسے برا مانوں گی مجھ سے اس خط کا ذکر نہیں کیا (اس بڈھو کو کیا پتہ تھا کہ سارا کھیل ہی تیرا بنایا ہوا ہے۔) اور اس عرصہ میں اور بھی کئی جگہ سے تمہاری اماں کے لئے پیغام آئے۔ لیکن میری کسی جگہ تسلی نہ ہوئی۔ حالانکہ پیغام دینے والوں میں سے بعض اچھے اچھے متمول آدمی بھی تھے اور

صفحہ 106

بہت اصرار کے ساتھ درخواست کرتے تھے۔ بالاخر ایک دن میر صاحب نے ایک لدھیانہ کے باشندے کے متعلق کہا کہ اس کی طرف سے بہت اصرار کی درخواست ہے اور ہے بھی وہ اچھا آدمی اسے رشتہ دے دو۔ میں نے اس کی ذات وغیرہ دریافت کی تو مجھے شرح صدر نہ ہوا اور میں نے انکار کیا۔ جس پر میر صاحب نے کچھ ناراض ہو کر کہا کہ لڑکی اٹھارہ سال کی ہو گئی ہے کیا ساری عمر اسے یونہی بٹھا چھوڑو گی۔ میں نے جواب دیا کہ ان لوگوں سے تو پھر غلام احمد ہی ہزار درجہ اچھا ہے۔ (تیر چلا دیا۔ ناقل) میر صاحب نے جھٹ ایک خط نکال کر میرے سامنے رکھ دیا کہ لو پھر مرزا غلام احمد کا خط بھی آیا ہوا ہے۔ (کسی ذریعہ سے مرزا قادیانی کو خط بھیجنے کا پیغام بھجوا دیا ہو گا) جو کچھ ہو ہمیں اب جلد فیصلہ کرنا چاہئے۔ میں نے کہا اچھا غلام احمد کو لکھ دو۔ چنانچہ تمہارے نانا جان نے اسی وقت قلم دوات لیکر خط لکھ دیا (تیر نشانے پر لگا۔ مبارک ہو۔ ناقل) اور اس کے آٹھ دن بعد تمہارے ابا دہلی پہنچ گئے۔ (سیرت المہدی حصہ دوم ص ۱۱۰ - ۱۱۱ مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)

میر ناصر نواب کے دہلی جانے کے وقت سے لیکر شادی کی ہاں ہونے تک کے درمیانی وقت میں مرزا قادیانی کے دل پر غم فراق کے آرے چلتے رہے۔ اس کی آنکھیں نصرت جہاں کو دیکھنے کے لئے تڑپتی رہیں اور تپ ہجر میں اس کا دماغ ابلتا رہا۔ اس کے دن انگاروں پر اور راتیں کانٹوں پر بسر ہوتی رہیں۔ وہ کس کرب، درد و سوز کے ساتھ چلاتا تھا۔ اس کیفیت کا پتہ ہمیں خود قادیانی ہی بتاتے ہیں، حوالہ پیش خدمت ہے۔

"خاکسار عرض کرتا ہے کہ مرزا سلطان احمد صاحب سے مجھے حضرت مسیح (مرزا قادیانی) موعود کی ایک شعروں کی کاپی ملی ہے۔ جو بہت پرانی معلوم ہوتی ہے۔ غالباً نوجوانی کا کلام ہے۔ حضرت صاحب کے اپنے خط میں ہے۔ جسے میں پہچانتا ہوں۔ بعض بعض شعر بطور نمونہ درج ذیل ہیں۔

عشق کا روگ ہے کیا پوچھتے ہو اسکی دوا
ایسے بیمار کا مرنا ہی دوا ہوتا ہے
کچھ مزا پایا میرے دل! ابھی کچھ پاؤ گے
تم بھی کہتے تھے کہ الفت میں مزا ہوتا ہے
صفحہ 107
ہائے کیوں ہجر کے الم میں پڑے مفت بیٹھے بٹھائے غم میں پڑے
اس کے جانے سے صبر دل سے گیا ہوش بھی ورطہ عدم میں پڑے
سبب کوئی خداوندا بنا دے کسی صورت سے وہ صورت دکھا دے
کرم فرما کے آ او میرے جانی بہت روئے ہیں اب ان کو ہنسا دے
کبھی نکلے گا آخر تنگ ہو کر دلا اک بار شور و غل مچا دے
نہ سر کی ہوش ہے تم کو نہ پا کی سمجھو ایسی ہوئی قدرت خدا کی
میرے بت اب سے پردہ میں رہو تم کہ کافر ہو گئی خلقت خدا کی
نہیں منظور تھی گر تم کو الفت تو یہ مجھ کو بھی جتلایا تو ہوتا
میری دلسوزیوں سے بے خبر ہو میرا کچھ بھید بھی پایا تو ہوتا
دل اپنا اس کو دوں یا ہوش یا جاں کوئی اک حکم فرمایا تو ہوتا

(سیرت المہدی حصہ اول ص ۲۳۲ ۔ ۲۳۳ مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)

پچپن سالہ دولہا اٹھارہ سالہ دولہن کو لینے کے لئے دہلی پہنچ گیا۔ بارات میں مرزا قادیانی کے قریبی ہندو دوست بھی شامل تھے۔ نکاح ہوا مرزا قادیانی اٹھارہ سالہ دولہن کو چھک چھک کرتی گاڑی میں بٹھا کر قادیان لے آیا۔ والدین نے بیٹی کے ساتھ ایک عورت کو بھی ساتھ بھیجا۔ قادیان پہنچ کر نصرت جہاں بیگم اداس اداس اور گھبرائی رہنے لگی۔ وہ دیدے کھول کھول کر فضاؤں میں گھورتی رہتی اور کبھی کبھی ان اداس دیدوں سے موٹے موٹے اور گرم گرم آنسو گر کر اس کے کپڑوں پر پھیل جاتے۔ وہ آنسو بھری سرخ آنکھیں پونچھ کر پھر فضاؤں میں گھورنے لگتی گویا اڑ کر دہلی جانا چاہتی ہو۔ دل کا غم قلم کے ذریعے کاغذ پر پھیل گیا یعنی نصرت جہاں بیگم نے اپنے والدین کو اپنی دلی

صفحہ 108

کیفیات بیان کرتے ہوئے خطوط لکھے۔ جس کی گواہی اس کی ماں ان الفاظ میں دیتی ہے۔

”جب تمہاری اماں قادیان آئیں تو یہاں سے ان کے خط گئے کہ میں سخت گھبرائی ہوئی ہوں اور شاید میں اس غم اور گھبراہٹ سے مرجاؤنگی۔ چنانچہ ان خطوں کی وجہ سے ہمارے خاندان کے لوگوں کو اور بھی اعتراض کا موقعہ مل گیا اور بعض نے کہا کہ اگر آدمی نیک تھا تو اس نیکی کی وجہ سے لڑکی کی عمر کیوں خراب کی۔ اس پر ہم لوگ بھی کچھ گھبرائے اور رخصتانہ کے ایک مہینہ کے بعد میر صاحب قادیان آکر تمہاری اماں کو لے گئے۔ جب وہ دہلی پہنچیں تو میں نے اس عورت سے پوچھا جس کو میں نے دلی سے ساتھ بھیجا تھا کہ لڑکی کیسی رہی؟ اس عورت نے تمہارے ابا کی بہت تعریف کی اور کہا لڑکی یونہی شروع شروع میں اجنبیت کی وجہ سے گھبرا گئی ہوگی ورنہ مرزا صاحب نے تو ان کو بہت ہی اچھی طرح سے رکھا ہے اور وہ بہت اچھے آدمی ہیں اور تمہاری اماں نے بھی کہا کہ مجھے انہوں نے بڑے آرام کے ساتھ رکھا مگر میں یونہی گھبرا گئی تھی۔ اس کے تھوڑے عرصہ کے بعد واپس ہمارے پاس آگئیں (سیرت المہدی حصہ دوم ص ۱۱۱ ۔ ۱۱۲ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

اس مندرجہ بالا بیان کو پڑھ کر ذہن میں بہت سے سوال ابھرتے ہیں۔

نصرت جہاں بیگم کیوں اداس اداس اور پریشان پریشان رہی؟

نصرت جہاں بیگم کیوں گھبراہٹ سے مری جا رہی تھی؟

تھوڑے دنوں کے بعد نصرت جہاں بیگم کا گھبرایا گھبرایا دل کیسے خوشی سے جھوم اٹھا؟

جب ہم ذہنوں پر زور دے کر ان سوالوں کے جوابات تلاش کرتے ہیں تو خود مرزا قادیانی ہی ہمیں ان تمام سوالوں کا جواب دے دیتا ہے۔ حوالہ پیش خدمت ہے۔

” اس شادی کے وقت مجھے یہ ابتلاء پیش آیا کہ بباعث اس کے کہ میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا اور دو مرضیں یعنی ذیابیطس اور درد سر مع دوران سر قدیم سے میرے شامل حال تھیں جن کے ساتھ بعض اوقات مجھے تشنج قلب بھی ہوتا تھا۔ اس لئے میری حالت مردی کالعدم تھی (دہلی کیا

صفحہ 109

لینے گئے تھے؟ ناقل) اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ غرض اس ابتلاء کے وقت میں نے جناب الٰہی سے دعا کی اور مجھے اس نے دفع مرض کے لئے الہام سے دو آیتیں بتائیں اور میں نے کشفی طور پر یہ دیکھا کہ ایک فرشتہ (حکیم نور الدین ۔ ناقل) وہ دوائیں میرے منہ میں ڈال رہا ہے۔ چنانچہ وہ دوا میں نے تیار کی اور اس میں خدا تعالیٰ نے اتنی برکت ڈال دی کہ میں نے دلی یقین سے معلوم کیا کہ وہ پر صحت طاقت جو ایک پورے تندرست انسان کو دنیا میں مل سکتی ہے وہ بھی دی گئی ....................... میں اس زمانہ میں اپنی کمزوری کی وجہ سی ایک بچہ کی طرح تھا اور اپنے آپ کو خداداد طاقت میں پچاس مردوں کے قائم مقام پایا (تریاق القلوب ص ۶۸ ۔ ۶۷ مصنفہ مرزا قادیانی)

واہ رے بھگتو! بیوی تو اس راز کو چھپاتی رہی اور تو نے ہنڈیا چوراہے میں پھوڑ دی۔ دوائیوں کے سہارے اور دوستوں کے تعاون سے مرزا قادیانی کا گھر پرانی سائیکل کی طرح چوں چوں اور کھڑ کھڑ کرتا چل تو پڑا لیکن نصرت جہاں بیگم نے گھر کے ہر میدان میں مرزا قادیانی کو شکست فاش دیتے ہوئے نصرت کے ایسے جھنڈے گاڑے کہ گھر میں مرزا قادیانی کی حالت اس تانگے کے مریل گھوڑے کی طرح تھی جس پر آٹھ سواریاں لدی ہوں اور وہ سخت گرمی میں پسینے میں شرابور، چابک کھاتا اور منہ سے جھاگ نکالتا ہوا کھڈے دار سڑک پر بٹالہ سے قادیان جا رہا ہو۔

صفحہ 28
PDF 111

بہشتی مقبرہ

روتا ہے!

***

قادیانی قبرستان کی شرمناک ہولناک داستان جہاں جنت کے نام پر جہنم کی

"ایڈوانس بکنگ" ہوتی ہے!

صفحہ 112
یاد ماضی عذاب ہے یارب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

وہ وقت کتنا حسین تھا، وہ دن اپنے دامن میں کتنی بہاریں لئے ہوئے تھے۔ وہ لمحے کتنے پرمسرت اور فرحت بخش تھے، جب میں چنیوٹ سے سرگودھا جانے والی سڑک کے کنارے دریائے چناب کے پل سے تھوڑی دور واقع ایک وسیع و عریض میدان تھا، دریائے چناب میرے پڑوس سے گزرتا، میں اس کی ہنستی کھیلتی اچھلتی کودتی لہروں کی شوخیاں اپنی آنکھوں سے دیکھتا اور کبھی پانی کی مست خرامی کی نغمگی کو سن کر جھوم جھوم جاتا۔ مشرق سے طلوع ہوتے سورج کی روشن روشن کرنیں مجھ پر پڑتیں۔ اور ہر روز مجھے ایک نئی روشنی اور جوانی عطا کرتیں۔ نسیم سحر مجھ سے لپٹ لپٹ کر جاتی، شبنم میرا منہ دھوتی، موسلادھار بارشیں مجھے نہلاتیں۔ شفق کی سرخی مجھے رعنائیاں عطا کرتی، کالی گھٹائیں میری آنکھوں میں کاجل لگاتیں، صبح مشرق کی کوکھ سے طلوع ہونے والا سورج سارا دن روشنی کی بزم سجا کر اپنے اجالوں سمیت مغرب کی گود میں سو جاتا تو رات کو چاند کی خنک چاندنی میرے قلب و جگر کو ٹھنڈک پہنچاتی، میں چرخ نیلوفری پر چمکتے ستاروں سے جی بھر کر باتیں کرتا اور پھر رات کو چلنے والی ٹھنڈی میٹھی ہوائیں اپنی رسیلی آواز میں مجھے لوریاں دیتیں اور تھپک تھپک کر سلا دیتیں۔ میں ایک شہزادے کی زندگی گزار رہا تھا۔ جس کی خدمت کے لئے درجنوں خادم ہر وقت دست بستہ کھڑے ہوں۔

وقت اپنے متحرک پہیوں سے اپنی منزل کی جانب دوڑتا رہا، زمانہ کروٹیں بدلتا رہا۔ ماہ و سال کی گردش جاری رہی، لیل و نہار آتے جاتے رہے، ایک دن میرے کانوں نے خوشخبری سنی کہ ہندوستان آزاد ہو رہا ہے۔ اور میرا وجود پاکستان میں شامل ہو رہا ہے۔ خوشی سے مجھ پر وجد کی کیفیت طاری ہو گئی۔ اور میرا ذرہ ذرہ اللہ کی حمد میں مصروف ہو گیا۔ ہزاروں آرزوئیں اور تمنائیں میرے دل میں مچلنے لگیں، میں وطن آنے والے قافلوں کے مسافروں کے پاؤں چومنے کے لئے تڑپنے لگا میں آرزوئیں کرنے لگا کہ آزادی وطن کا کوئی مجاہد میرے کسی حصہ کو اپنا مسکن بنا لے سب کچھ لٹا کر آگ و خون کا دریا عبور کر کے آنے والے مجھ پر اپنی بستی بسا لیں،

صفحہ 113

لیکن میری حسین آرزوئیں اس وقت راکھ کا ڈھیر بن گئیں۔ جب میرے کانوں میں یہ روح فرسا خبر پڑی کہ کائنات کی بدترین جماعت یعنی قادیانی جماعت جس نے ہندوستان میں جعلی نبوت کا ڈرامہ رچایا‘ میرے پڑوس میں ڈیرے ڈال رہی ہے ۔ اور ایک خطرناک منصوبے کے تحت انہوں نے مجھ پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ اس دن میں چیخیں مار مار کر رویا‘ گریہ و زاری کرتے کرتے میری آنکھیں سرخ ہو گئیں۔ اور میرا دامن آنسوؤں سے بھیگ گیا۔ ابھی سنبھلنے نہ پایا تھا کہ ایک دن مجھے پتہ چلا کہ قادیانیوں نے مجھے اپنا قبرستان بنا لیا ہے اور میرا نام بہشتی مقبرہ رکھ دیا ہے۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے دو دھاری خنجر سے میرا سینہ چاک کر کے اس میں مرچیں بھر دی ہیں۔ میں حیران و پریشان تھا کہ ان کے گروگھنٹال مرتد اعظم مرزا قادیانی نے تو قادیان میں ایک قبرستان بنایا تھا۔ جس میں وہ اپنے مرتدوں کی میتیں دفن کرتا تھا۔ اور اس نے اس قبرستان کا نام بہشتی مقبرہ رکھا تھا۔ اب قادیانیوں کی قادیان سے یہاں منتقلی سے بہشتی مقبرہ کیسے منتقل ہو گیا۔ یہ کتنا بڑا جھوٹ اور کتنا بڑا فراڈ ہے۔ لیکن جلد ہی ذہن مطمئن ہو گیا کہ جھوٹی نبوت میں ہر جھوٹ جائز ہے۔ قادیانی گروہ در گروہ آنے لگے میرے پڑوس میں انہوں نے ایک شہر آباد کیا۔ جس کا نام ربوہ رکھا۔ میں قادیانیوں کی منحوس اور پھٹکار شدہ صورتیں دیکھتا تو مجھے متلی ہونے لگتی۔ سادہ لوح اور غریب مسلمانوں کو مفت زمین کا لالچ دے کر انہیں ربوہ لایا جانے لگا اور یوں مرتدوں نے پاکستان میں مرتد سازی کی مہم شروع کر دی۔ پھر میں ان کی زبانوں سے ملک و ملت کے خلاف خوف ناک باتیں سننے لگا۔ پاکستان پر حکومت کرنے کے منصوبے بننے لگے اور وطن عزیز کے خلاف سازشوں کے جال تیار ہونے لگے۔ ملک دشمن عناصر اور دشمن ممالک کے جاسوسوں کی ربوہ میں آمدورفت شروع ہو گئی۔ ایک دن مجھے خبر ملی کہ ایک قادیانی مرتد مر گیا ہے۔ اور اسے مجھ میں دفن کرنے کے لئے لایا جا رہا ہے۔ مارے خوف کے میں لرز لرز گیا اور بے اختیار فضا میں میری چیخیں پھیلنے لگیں۔ میت کو قبرستان لایا گیا۔ پچاس ساٹھ آدمی جنازے کے ساتھ آئے‘ ایک آدمی رجسٹر لے کر آیا اس نے رجسٹر سے مرنے والے کا نام تلاش کیا اور دیکھا کہ آیا مرنے والے نے

صفحہ 114

اپنی کل جائیداد کا دسواں حصہ قادیانی جماعت کو ادا کیا ہے یا نہیں۔ حساب ٹھیک نکلا، مردے کو کلیرنس سرٹیفکیٹ NOC دے دیا گیا۔ میرے سینے پر اس مردے کی قبر کھدنے لگی، کسی اور کدال کی ضربوں سے میرا جسم ٹوٹنے لگا۔ قبر تیار ہو گئی، مردے کو قبر میں لٹا دیا گیا اور اوپر سے مٹی ڈال دی گئی۔ میں نے ڈرتے ڈرتے ایک نظر مردے پر ڈالی۔ مردہ کیا تھا بیلنے سے نکلا ہوا گنا تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ موت کے فرشتوں نے خوب چھترول کر کے روح نکالی ہے۔ میت سے اس قدر بدبو کے طوفان اٹھ رہے تھے کہ میرا دماغ ابلنے لگا۔ میرا سانس گھٹنے لگا، جلد ہی میں نے دیکھا کہ اللہ کے فرشتے ہاتھوں میں لمبے لمبے گرز لئے بجلی کی سرعت سے آپہنچے۔ مردے سے سوال و جواب ہونے لگے۔ لیکن مردہ ہر سوال کے جواب میں اول فول بکتا۔ پھر مردے کا ریمانڈ شروع ہو گیا، قبر میں آگ لگ گئی۔ اوپر سے گرزوں کی بارش شروع ہو گئی۔ سانپوں بچھوؤں اور دیگر خطرناک حشرات الارض نے مردے کی چیر پھاڑ شروع کر دی۔ مردہ اتنی زور سے چیختا کہ میرے پورے وجود میں ارتعاش پیدا ہو جاتا۔ اسی اثناء میں، میں نے باہر دیکھا تو مین گیٹ کے پاس بہشتی مقبرے کا مینجر مردے کی وصول ہونے والی رقم کے نوٹ مسکرا مسکرا کر گن رہا تھا۔ پھر ایک دن دوسرا مردہ آیا اس مرتد کے ساتھ بھی یہی میزبانی برتی گئی۔ پھر مردے آنے کی رفتار تیز ہوتی گئی۔ اور میرا نازوں سے پلا جسم داغدار ہوتا چلا گیا۔ پھر ایک دن مجھے خبر ملی کہ صوبہ سندھ سے ایک مردہ تدفین کے لئے لایا جا رہا ہے۔ اس دن میں رویا بھی اور ہنسا بھی۔ رویا اس بات پر کہ پہلے میں سمجھتا تھا کہ صرف ربوہ کی غلاظت ہی میرے اندر دفن ہو گی اور میرا حلقہ مرتداں صرف ربوے تک محدود ہے، لیکن اس دن پتہ چلا کہ میرا حلقہ مرتداں پوری دنیا ہے۔ پوری دنیا سے کوئی بھی قادیانی اپنی جائیداد کا دسواں حصہ دے کر مجھ میں دفن ہو سکتا ہے۔ اور ہنسی آئی سندھ سے آنے والے مردے پر کہ پیارے تمہاری چھترول کا کوٹہ تو متعین ہے۔ وہیں اپنا کوٹہ وصول کر لیتے اتنا سفر طے کرنے کا کیا فائدہ۔ ایک دن خبر ملی کہ مرزا قادیانی کی لاڈلی بیوی نصرت جہاں بیگم مجھ میں دفن ہونے کے لئے تشریف لا رہی ہے۔ اس دن چھترول کا پروگرام ڈبل اور سپیشل تھا۔ نصرت جہاں بیگم

صفحہ 115

بغیر چندے کے دفن ہوئی کیونکہ مرزا قادیانی نے بہشتی مقبرہ کے بارے میں کہا ہے کہ بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کے لئے کل جائیداد کا دسواں حصہ دینا شرط ہے لیکن میرے اہل خانہ اور میری اولاد اس چندہ سے مستثنیٰ ہو گی۔ قادیانی مردے آتے رہے، میری آبادی بڑھتی رہی۔ گرز برستے رہے۔ آگ کے شعلے بھڑکتے رہے۔ دھواں اٹھتا رہا۔ سانپ پھنکارتے رہے۔ بچھو ڈستے رہے۔ مردے تڑپتے رہے۔ کان پھاڑ دینے والی چیخیں بلند ہوتی رہیں اور بہشتی مقبرے کا جنرل مینیجر دولت کے انبار لگاتا رہا۔ یوں تو بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے والے ہر قادیانی کی داستان بڑی ہی عبرتناک ہے۔ لیکن کچھ موقعوں پر ایسی ہولناک مار پیٹ اور خوف ناک چیر پھاڑ ہوئی کہ میں انہیں قیامت تک فراموش نہ کر سکوں گا۔

جب بہشتی مقبرے کا افتتاح یعنی پہلا مردہ دفن ہوا۔

جب مرزا قادیانی کی بیوی نصرت جہاں بیگم کی آمد ہوئی۔

جب مرزا قادیانی کا بیٹا بشیر الدین محمود آیا۔

جب مرزے کی بیٹی امۃ الحفیظ کی ارتھی آئی۔

جب جلال الدین شمس مردود ہوا۔

جب جنرل اختر ملک زندان قبر میں پہنچا۔

جب مرزا ناصر مردار ہوا۔

جب ظفر اللہ خاں کو لایا گیا۔

جب شیزان فیکٹری کا مالک شاہنواز قبر میں گاڑا گیا۔

بہشتی مقبرے کے چاروں طرف دیواریں کی ہوئی ہیں۔ احاطہ کے اندر قبریں بڑے اہتمام سے بالکل سیدھی قطاروں میں بنائی گئی ہیں۔ قبروں کو سنگ مرمر، چینی ٹائلوں اور رنگین چپس کے فرشوں سے سجایا گیا ہے۔ قبروں پر مردوں کے سرہانے ان کا تعارف اور وصیت نمبر (قیدی نمبر) تحریر ہیں۔ قبروں کے درمیان راستے میں پھول دار پودے بھی لگائے گئے ہیں۔ رات کو ٹیوب لائٹس اور مرکری کے قمقمے روشن کئے جاتے ہیں۔ جس سے رنگین پتھریلی قبریں چمکنے لگتی ہیں۔ جنہیں دیکھ کر

صفحہ 116

قادیانی بڑے خوش ہوتے ہیں۔ لیکن میرا یہ سارا میک اپ طوائف کا سنگھار ہے۔ میں قادیانی رائل فیملی کے لئے سب سے منافع بخش ایجنسی ہوں۔ میری ایک ایک فٹ جگہ ہزاروں روپے میں فروخت ہوتی ہے۔ لندن فرار ہونے سے قبل مرزا طاہر اکثر میرا معائنہ کرنے کے لئے آیا کرتا تھا۔ وہ چاروں طرف نظریں گھما گھما کر اور مسکرا کر مجھے یوں دیکھتا جیسے کوئی بہت بڑا جاگیردار اپنی جاگیر کو دیکھنے آیا ہو۔ یا کوئی صنعت کار اپنے کارخانے کا دورہ کر رہا ہو۔

اے رب ذوالجلال! بہشتی مقبرے کے نام پر دنیا کا سب سے بڑا فراڈ ہو رہا ہے۔ جہاں جنت کے نام پر جہنم کی ایڈوانس بکنگ ہو رہی ہے۔ قادیانی رائل فیملی قبر فروشی کا دھندہ کر کے چھرے اڑا رہی ہے۔ اے میرے مالک! میرا نام بہشتی مقبرہ ایسے ہی ہے۔ جیسے سانپ کا نام حیات بخش، بچھو کا نام روح افزاء اور انگاروں کا نام پھول رکھ دیا جائے اور میرا بہشت سے وہی تعلق ہے جو مرزا قادیانی کا جنت سے۔ اے خداوند! میرا وجود گالی بن چکا ہے۔ میں اطراف عالم میں رسوا ہو چکا ہوں۔ بسوں، کاروں، ویگنوں میں سوار مسافر جب سڑک پر میرے قریب سے گزرتے ہیں۔ تو میرا مذاق اڑاتے ہیں۔ اور میری طرف منہ کر تھوکتے ہیں۔ میرا معاشرے میں وہی مقام ہے۔ جو فلتھ ڈپو کا! جس طرح سارے علاقے کی غلاظتیں اکٹھی کر کے فلتھ ڈپو میں پھینک دی جاتی ہے۔ اسی طرح ربوہ اور سارے پاکستان سے قادیانی مرتد زندیق گستاخ رسولؐ اور غداران وطن مجھ میں پھینک دیئے جاتے ہیں۔ اے سمیع و بصیر! میں بڑی حسرت کی نگاہ سے دیگر قبرستانوں کو دیکھتا ہوں۔ تو اپنی قسمت پر ماتم کرتا ہوں اور روتے روتے میری ہچکیاں بندھ جاتی ہیں۔ وہ بھی تو قبرستان ہیں، جہاں شہید آرام فرما ہیں۔ جہاں تیرے دین کے لئے لڑنے والے غازی محو استراحت ہیں۔ جہاں شیوخ القرآن جنت کی بہاریں لوٹ رہے ہیں۔ جہاں شیوخ الحدیث ابدی نیند سو رہے ہیں۔ جہاں حفاظ قرآن کی منور قبریں ہیں۔ جہاں مفسرین و محدثین جنت کی رحمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ اور اک بختوں کا مارا میں، ہوں جہاں صرف مرتد، زندیق، گستاخ رسولؐ، آلہ کاران یہود و نصاریٰ اور غداران ملک و ملت دفن ہیں۔

صفحہ 117

میرے مولا! میرے اعصاب شل ہو چکے ہیں۔ میری روح کچلی جا چکی ہے۔ میرے انگ انگ سے ٹیسیں اٹھتی ہیں، میرا دماغ ہنڈیا کی طرح ابل رہا ہے۔ میرا جگر عرق غم بن کر آنکھوں کے راستے بہہ گیا ہے۔ میرا وجود کانٹوں پر لٹائی لاش ہے۔ میرا دل دہکتا ہوا آتش فشاں ہے۔ میرے جذبات اکلوتے بیٹے کی موت پر ماں کے بین ہیں، میرے احساسات لق و دق صحرا میں دم توڑتے پیاسے کی موت کی ہچکیاں ہیں۔ میرے خیالات میرے جھلسے ہوئے وجود کا دھواں ہیں میرا ماضی بیوہ کا لٹا ہوا سہاگ ہے۔ میرا حال پھانسی چڑھے جواں کے جسم کی تڑپ اور مستقبل شکاری کتوں کے نرغے میں پھنسا ہوا ہرن جو آسمان کی طرف منہ اٹھائے زندگی کی بھیک مانگ رہا ہو۔ یاحی یاقیوم! میرا پیٹ مرتدوں اور زندیقوں سے بھر چکا ہے۔ اب صبر کا دامن ہاتھوں سے چھوٹ رہا ہے۔ اب قیامت لے آ۔ اسرافیل سے کہہ دے کہ صور پھونک دے۔ اور میں اپنے پیٹ سے یہ غلاظتیں باہر پھینک دوں۔ اور تیرے فرشتے دنیا کے ان عظیم مجرموں کو پابہ زنجیر حشر کے میدان میں کھینچتے ہوئے لے جائیں۔ اور پھر تیرے حکم سے یہ جہنم میں پھینک دیئے جائیں۔ مولا! مجھ دکھی کی فریاد سن لے۔ مولا میری التجا سن۔ مولا میری التماس سن لے مولا! میری درخواست سن لے۔ سسکیاں ۔ ہچکیاں ۔ آنسو ۔ چیخیں

بہشتی مقبرہ کے بارے میں قادیانی عقائد

بہشتی مقبرہ بہشتی لوگ :۔ حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) نے فرمایا کہ نماز سے کوئی بیس یا پچیس منٹ پیشتر میں نے خواب دیکھا کہ گویا ایک زمین خریدی ہے کہ اپنی جماعت کی میتیں وہاں دفن کیا کریں تو کہا گیا کہ اس کا نام مقبرہ بہشتی ہے۔ یعنی جو اس میں دفن ہو گا وہ بہشتی ہو گا۔

(مکاشفات ص ۳۳ مولفہ بابو

منظور الٰہی صاحب قادیانی)

جنت ارضی

فاوحی الی ربی و اشار الی ارض و قال انھا الارض تحتھا الجنۃ لمن د

صفحہ 118

من فيها دخل الجنته و انه من الامنين ٠

ترجمہ :۔ تو خدا تعالیٰ نے مجھے وحی کی اور ایک زمین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ وہ زمین ہے۔ جس کے نیچے جنت ہے۔ پس جو شخص اس میں دفن ہو گا وہ جنت میں داخل ہوا۔ اور وہ امن پانے والوں میں سے ہے۔ ( الاستفتاء عربی ص ۵۱ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

کشفی رنگ میں وہ مقبرہ مجھے دکھایا گیا۔ جس کا نام خدا نے بہشتی مقبرہ رکھا ہے اور پھر الہام ہوا۔

” کل مقابر الارض لا تقابل هذا الارض“ روئے زمین کی تمام مقابر اس زمین کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ (مرزا غلام احمد قادیانی کے مکاشفات ۵۹ مولفہ محمد منظور الٰہی صاحب)

بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کی فیس

” تمام جماعت میں سے اس قبرستان میں وہی مدفون ہو گا۔ جو یہ وصیت کرے کہ اس کی موت کے بعد دسواں حصہ اس کے تمام ترکہ کا حسب ہدایت اس سلسلہ کے اشاعت اسلام اور تبلیغ احکام قرآن میں خرچ ہو گا کہ ایک صادق کامل الایمان کو اختیار ہو گا کہ اپنی وصیت میں اس سے بھی زیادہ لکھ دے۔ فیس ادا کرنے والا جہاں بھی مرے‘ جنتی ہے۔ اگر کوئی صاحب دسویں حصہ جائیداد کی وصیت کریں اور اتفاقاً اس کی موت ایسی ہو مثلاً کسی دریا میں غرق ہو کر ان کا انتقال ہو یا کسی اور ملک میں وفات پاویں جہاں سے میت کو لانا متعذر ہو تو ان کی وصیت قائم رہے گی اور خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسا ہی ہو گا کہ گویا وہ اس قبرستان میں دفن ہوا ہے اور جائز ہو گا کہ ان کی یادگار میں اسی قبرستان میں ایک کتبہ اینٹ یا پتھر پر لکھ کر نصب کیا جائے اور اس پر واقعات لکھے جائیں۔“ (الوصیت ص ۱۱ تا ۲۳ مصنفہ مرزا قادیانی)

مرزا اور اس کے اہل و عیال کے لئے کوئی فیس نہیں

” میری نسبت اور میرے اہل و عیال کی نسبت خدا تعالیٰ نے استثناء رکھا ہے

صفحہ 119

باقی ہر ایک مرد ہو عورت ہو ان کو ان شرائط کی پابندی لازم ہو گی اور شکایت کرنے والا منافق ہو گا۔“ (الوصیت ص ۱۱ حاشیہ مصنفہ مرزا قادیانی)

بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کی وصیت نہ کرنے والا منافق

”حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے جو وصیت نہیں کرتا وہ منافق ہے اور وصیت کا کم از کم چندہ ۱/۱۰ حصہ مال کا رکھا ہے۔“ (منہاج الطالبین مجموعہ تقاریر میاں محمود احمد خلیفہ قادیان ص ۴۲)

جنت کا دروازہ کھل گیا : ” اگلے زمانہ میں انبیاء اپنے بعض خاص خاص مریدوں کو بہشت میں داخل ہونے کی بشارت دیا کرتے تھے اور یہاں تو یہ نظر آتا ہے کہ بہشت کا دروازہ کھل گیا ہے صرف ذرا کھڑا ہونے اور قدم اٹھانے کی دیر ہے۔“

(اخبار الفضل قادیان جلد ۲۴ نمبر ۲۵ مورخہ ستمبر ۱۹۳۶ء)

بہشت سے اخراج، چندہ ضبط : ” بموجب ارشاد حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کیا گیا ہے۔ کہ جو مومن وصیت کا چندہ واجب ہونے کی تاریخ کے چھ ماہ بعد تک رقم وصیت ادا نہ کرے گا۔ نہ دفتر سے اپنی معذوری بتا کر مہلت حاصل کرے گا۔ اس کی وصیت انجمن کار پردازان مصالح قبرستان کو منسوخ کرنے کا کامل اختیار ہے اور جس قدر روپیہ وہ وصیت میں ادا کر چکا ہے۔ اس کے واپس لینے کا موصی کو حق نہ ہو گا۔“ (سیکرٹری مقبرہ بہشتی قادیان) (اخبار الفضل

قادیان جلد ۲۴ نمبر ۳ مورخہ ۱۱ ستمبر ۱۹۳۶ء)

ابوبکرؓ کے ہم پلہ : ” آج تمہارے لئے ابوبکرؓ سی فضیلت حاصل کرنے کا موقع ہے اور وہ بہشتی مقام موجود ہے جہاں تم وصیت کر کے اپنے پیارے آقا المسیح الموعود کے قدموں میں دفن ہو سکتے ہو اور چونکہ حدیثوں میں آیا ہے کہ مسیح موعود رسول کریمؐ کی قبر میں دفن ہو گا اس لئے تم اس مقبرہ میں دفن ہو کر خود رسولؐ اکرم کے پہلو میں دفن ہو گے اور تمہارے لئے اس خصوصیت میں ابوبکرؓ کے ہم پلہ ہونے کا موقع

صفحہ 120

ہے۔" (افسر بہشتی مقبرہ کا اعلان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۳ نمبر ۹۹ مورخہ ۲ فروری ۱۹۱۵ء)

مرزا قادیانی کی چاندی کی قبر: "ایک جگہ مجھے ایک قبر دکھلائی گئی کہ وہ چاندی سے زیادہ چمکتی تھی۔ اور اس کی تمام مٹی چاندی کی تھی۔ تب مجھے کہا گیا کہ یہ تیری قبر ہے۔" (اخبار الفضل قادیان جلد ۲۴ نمبر ۵۴ مورخہ ۲ ستمبر ۱۹۳۶ء)

PDF 121

جب مرزا قادیانی

کو موت آئی!

ایک عبرت ۔ ایک سبق ۔ ایک تبصرہ

صفحہ 122

مرزا قادیانی ہیضہ کا شکار ہو کر 26 مئی 1908ء کو بروز منگل بوقت ساڑھے دس بجے رات لاہور میں واصل جہنم ہوا۔ اس کی ارتھی کو مال گاڑی پر لاد کر قادیان لے جایا گیا اور قادیان کی خاک سے اٹھنے والے اس مدعی نبوت کو قادیاں ہی کی خاک میں دفن کر دیا گیا۔ اس ملعون ازلی کے مرض الموت سے موت تک اور پھر موت سے تدفین تک کے پروگرام کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

مرض :- ہیضہ دن :- منگل وقت :- رات ٹائم :- ساڑھے دس بجے موسم :- گرما مہینہ :- مئی تاریخ :- 26 شہر :- لاہور جائے مرگ :- ٹٹی خانہ مدفن :- قادیاں لاہور سے قادیاں جس سواری پر لے :- مال گاڑی جایا گیا۔

بندہ حقیر پر تقصیر کی عقل و دانش کے مطابق مندرجہ بالا سارے پروگرام کی تشکیل یوں ہوئی کہ کذّاب زمان مرتد ہند و سندھ مرزائے قادیان نے کئی علمائے اسلام سے مباہلہ کیا۔ آخری مباہلہ قادیانیت پر برسنے والی شمشیر بے نیام مناظر اسلام حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ سے ہوا۔ جس میں مرزا قادیانی نے مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کو ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء کو ایک مطبوعہ اشتہار کے ذریعے مباہلے کا چیلنج دیا جس کا عنوان تھا۔ ”مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ“ اس میں مرزا قادیانی نے مولانا صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا!

”اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ آپ اکثر اوقات اپنے پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔ مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون اور ہیضہ کے امراض مہلکہ سے۔“

صفحہ 123

مباہلہ سنت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور مباہلہ میں جھوٹے پر اللہ کا عذاب لپک لپک کر نازل ہوا کرتا ہے کیونکہ اس مباہلہ میں مرزا قادیانی نے رب ذوالجلال سے لکھ کر درخواست کی تھی کہ مولا تو جھوٹے کو سچے کی زندگی میں مار دے۔ مباہلہ میں مرزا قادیانی جھوٹا تھا اس لئے اس کذاب کو اس کے سچے حریف مولانا امرتسریؒ کی زندگی میں مارنے کا پروگرام بن گیا لیکن سب سے پہلا سوال یہ اٹھا کہ مرزا قادیانی کو کس مرض سے مارا جائے اس سوال پر ساری بیماریاں اللہ کے حضور محو التجا ہوئیں۔

”بخار بولا! مولا تو اس کو میرے حوالے کر میں اپنی تپش سے اس کے وجود کو جلا کر خاک سیاہ بنا دوں گا۔“

”کھانسی بولی، اللہ ! تو اسے میرے حوالے کر میں اس کے پھیپھڑے پھاڑ دوں گی۔“

”کینسر بولا، رب ذوالجلال ! اسے میرے شکنجے میں دے میں اس کے پورے جسم کو پھوڑا بنا دوں گا۔ اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر اس کی جان قسطوں میں نکلے گی۔“

”سر درد بولا مالک کائنات ! تو مجھے اس پر مسلط کر دے میں اس کے دماغ کے پرخچے اڑا دوں گا۔“

”خارش بولی، یا حی ! یا قیوم ! تو مجھے موقع دے میں اسے ڈانس کرا کرا کر ماروں گی۔“

غرضیکہ ساری بیماریوں نے یہ سعادت حاصل کرنے کے لئے اپنے حق میں خوب سے خوب تر دلائل دیئے۔ ایک کونے میں مسٹر ہیضہ بیٹھا تھا۔ وہ بڑے احترام سے کھڑا ہوا اور اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا۔ مولا! تیرے پاس بڑی خطرناک اور ہولناک بیماریاں ہیں میں ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں لیکن مولا! کیونکہ تیری ساری بیماریوں میں سب سے گندہ میں ہوں اور تیری ساری مخلوق میں سب سے گندہ یہ ہے لہٰذا اصول یہی ہے کہ گندے کو گندہ مارے۔ اس لئے مرزے کو مارنے کا حق میرا بنتا ہے۔ ماحول پر خاموشی چھا گئی اور فیصلہ ہیضہ کے حق میں ہو گیا۔

پھر سوال اٹھا کہ اس کی موت کا دن کونسا رکھا جائے ؟

ہر دن اللہ سے التجائیں کرنے لگا کہ مرزے کی موت کے لئے اس کا انتخاب کیا جائے تاکہ مرزا اس کے دامن میں تڑپ تڑپ کر جان دے اور وہ اسے تڑپتا پھڑکتا دیکھ کر اپنے کلیجے کو ٹھنڈا کر سکے۔ لیکن منگل نے روتے ہوئے کہا۔ اے اللہ ! مرزا قادیانی کذاب کا کہنا تھا کہ منگل کا دن بڑا منحوس ہے

(واضح رہے کہ سیرت المہدی میں مرزا بشیر احمد ایم اے صفحہ ۸ پر اپنی والدہ کے حوالے سے

صفحہ 124

لکھتا ہے کہ حضرت صاحب منگل کے دن کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔) اس کے منہ سے طعن و تشنیع کے یہ نکلے ہوئے تیر میرے سینے میں پیوست ہو جاتے اور میں بلبلا اٹھتا خداوند! اب میرے ساتھ انصاف یہی ہو گا کہ اسے منگل والے دن ہی مارا جائے تاکہ رہتی دنیا تک جن و انس اس پر لعنتوں کی بوچھاڑ کرتے رہیں_____ کہ دیکھو مردود جس دن کو منحوس کہتا تھا اسی دن مر گیا۔ پھر کیا تھا منگل بازی لے گیا۔

سوال اٹھا کہ اسے دن کو مارا جائے یا رات کو؟

دن کہنے لگا میرے مالک اسے دن میں مارا جائے کیونکہ یہ اپنی نبوت کاذبہ کا سارا کام دن میں کرتا تھا۔ لوگوں سے پیسے دن میں بٹورتا تھا۔ بھاری رقوم کے منی آرڈر دن میں وصول کرتا تھا۔ دن میں ہی اپنے مریدوں کی محفل سجا کر انہیں اپنے الہامات سناتا تھا۔ دن میں ہی مناظرے اور مباحثے کرتا تھا۔ دن میں ہی کچہری میں رشوتیں وصول کرتا تھا۔ اکثر دن میں ہی لوگوں سے بیعت لیتا تھا۔ میرے مالک اس نے مجھ میں بڑے گناہ کئے ہیں اس لئے میرا قرض چکایا جائے اور اسے دن میں ہی مارا جائے۔ رات گلو گیر آواز میں بولی میرے خالق! اگر فیصلہ اس کے گناہوں اور سیاہ کرتوتوں کے تناسب سے ہی کرنا ہے تو میرے مولا! میرے دل کے زخموں کی زبان سے زخمی داستانیں بھی سن۔ میرے مولا! ای پلومر کی شراب رات کو پیتا تھا۔ بھانو سے ٹانگیں رات بھر دباتا تھا۔ رات کو ہی ابلیس آکر اسے اپنی شیطانی وحی سے نوازتا تھا اور اگلے دن کے لئے شیطانی پروگرام عطا کرتا تھا۔ رات کو ہی عریاں اور حیا سوز شاعری کرتا تھا۔ رات کے اندھیرے میں ہی اپنی باطل تصانیف کا فعل شنیع سرانجام دیتا تھا۔ لوگوں سے سارے دن کا بٹورہ ہوا چندہ رات کو ہی گنتا تھا اور خوشی سے آوارہ قہقہے لگاتا تھا۔ رات کو ہی بچی کھچی سے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کرتا تھا۔ اور پھر جب یہ شیطانی کام کرتے کرتے تھک جاتا تو بستر پر دراز ہو جاتا اور پھر رات کی تاریکی اور سناٹے میں نوجوان لڑکیاں اسے پنکھا جھلنے لگتیں اور یہ ننگ انسانیت بے حیائی کی ہواؤں میں بے غیرتی کی نیند سو جاتا۔ رات ہچکیاں لے لے کر روتی ہوئی کہنے لگی میرے مالک! میرے زیر زبان اور میرے دل کی تہوں میں ایسی ایسی داستانیں چھپی ہوئی ہیں کہ اگر شرم و حیا مجھے بیان کرنے کی اجازت دیں تو دن خود ہی میرے حق میں دست بردار ہو جائے گا۔

جواباً دن نے بھی تڑپ کر دلائل کی مشین گن چلا دی دونوں طرف کے دلائل بڑے وزنی تھے۔ لہٰذا دونوں کو راضی کرتے ہوئے فیصلہ ہوا کہ مرزا کو رات کو مارا جائے گا اور دن میں اس کا جنازہ نکالا جائے گا۔ یوں رات نے فرسٹ پوزیشن اور دن نے سیکنڈ پوزیشن حاصل کی۔

صفحہ 125

یہ فیصلہ تو ہو گیا کہ مرزا رات کو مردار ہو گا لیکن پھر سوال اٹھا کہ رات کو کتنے بجے مارا جائے۔

ایک بولا! اسے رات کے ایک بجے مارا جائے کیونکہ اس نے خدائے واحد کی شان میں بڑی ہرزہ سرائی کی ہے۔

دو بولا! اسے رات کے دو بجے ختم کیا جائے کیونکہ یہ روئے زمین پر کائنات کی دو عظیم ہستیوں یعنی اللہ اور رسول اللہ کا سب سے بڑا دشمن ہے۔

تین بولا! نہیں اسے تین بجے نچوڑا جائے کیونکہ اس نے اللہ ، رسول اللہ اور کتاب اللہ پر بڑے رکیک حملے کئے ہیں۔

چار بولا! نہیں نہیں اسے چار بجے مروڑا جائے کیونکہ یہ نبیؐ کے چار یاروں اور اللہ کے پیاروں سے انتہائی بغض و عناد رکھتا ہے۔

اسی طرح دیگر اعداد اپنے اپنے حق میں بڑے مضبوط اور قوی دلائل دیتے رہے۔ سب سے آخر میں ”دس“ اٹھا اور عرض کرنے لگا۔

اے سمیع و علیم! اگر اسے ایک بجے مارا جائے تو اسے ایک جرم کی سزا ملے گی۔

اگر اسے دو بجے ”کلین بولڈ“ کیا گیا تو اسے صرف دو جرائم کی سزا ملے گی۔ اگر اسے تین بجے ”ٹھاہ“ کیا گیا تو اسے صرف تین جرائم کا مرتکب سمجھا جائے گا۔

اگر اسے چار بجے رگڑا گیا تو اسے صرف چار جرائم کا مرتکب سمجھا جائے گا۔ اسی طرح اگر رات کے بارہ بجے بھی اس کا خاتمہ کیا گیا تو اس کی فرد جرم میں صرف بارہ جرائم ہونگے لیکن میرے مالک! اس کے جرائم تو ان گنت اور بے شمار ہیں۔ میرے مولا! معاشرے میں جو شخص ہر سمت سے، ہر پہلو سے اور ہر جہت سے مجرم ہو اسے ”دس نمبریا“ کہا جاتا ہے — کیونکہ مرزا قادیانی ہر پہلو، ہر سمت — اور ہر جہت سے اسلامی دنیا کا مجرم اعظم ہے — لہٰذا اس کے تمام جرائم کو ایک ”اصطلاح“ ”دس نمبریا“ قرار دے سکتے ہیں اور کیونکہ یہ دس نمبریا ہے اس لئے اسے دس بجے مارا جائے۔ نہیں بلکہ یہ تو ”دس نمبریا“ سے بھی بڑھ کر ”ساڑھے دس نمبریا“ ہے۔ لہٰذا اسے ساڑھے دس بجے مارا جائے۔ دس کا جواب بڑا منطقی اور عقل و دانش پر مبنی تھا۔ اس لئے فوری طور پر مرزا قادیانی کی موت کا وقت ساڑھے دس بجے مقرر ہو گیا۔

پھر سوال اٹھا کہ مرزا قادیانی کو کس موسم میں مارا جائے گرمی میں یا سردی میں؟

گرمی نے گرم گرم دلائل دیتے ہوئے کہا۔ اے خدا! اسے گرمی کے موسم میں مردار کر کیونکہ اگر یہ سردی کے موسم میں مرا تو اس کی میت بہ حیثیت ایک دو دن نکال جائے گی۔ اور اگر گرمی میں مرا تو اپنا جشن ہو جائے گا۔ ایک غلیظ مرتد مردہ، اوپر سے ہیضہ کی موت۔ منہ اور مقعد

صفحہ 126

سے غلاظت کا اخراج مسلسل، کفن کا غلاظت میں لتھڑا جانا اور اوپر سے چلچلاتی اور جلاتی دھوپ۔ میت سے بدبو کے ایسے بھبھوکے اٹھیں گے کہ قادیانیوں کے دماغ پھٹ جائیں گے۔ جنازے کا جلوس جہاں سے گزرے گا بدبو کی تاب نہ لاتے ہوئے لوگ بھاگ جائیں گے۔ اور اس جعلی نبی پر لعنتوں کے ڈونگرے برسائیں گے۔

گرمی کے دلائل سننے کے بعد سردی نے گرمی کی افادیت پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے گرمی کے حق میں دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا اور یوں مرزا قادیانی گرمی کے سپرد کر دیا گیا۔

موسم تو گرمی کا طے ہو گیا لیکن پھر سوال اٹھا کہ مہینہ کونسا رکھا جائے؟

موسم گرما میں آنے والے سارے مہینے ماہر قانون دانوں کی طرح اپنے اپنے حق میں خوب سے خوب تر دلائل دینے لگے۔ لیکن ماہ مئی سب پر سبقت لے گیا۔ مئی رب کے حضور نہایت ادب اور احترام کے ساتھ عرض کرنے لگا اے رب ذوالجلال! موسم گرما کا آغاز مجھ ہی سے ہوتا ہے۔ میرے آتے ہی لوگ کہنے لگتے ہیں کہ گرمی آگئی اور گرمی سے نمٹنے کے انتظامات کرنے لگتے ہیں ویسے تو سارے مئی میں گرمی اپنے جوبن پر ہوتی ہے لیکن اگر مئی کے آخری عشرے کا انتخاب کر لیا جائے تو یہ سونے پہ سہاگے والا کام ہو گا اور مرزے کی موت کا جشن بھی جوبن پر ہو گا۔ میری نوکیلی اور آگ برساتی ہوئی کرنیں مرزے کے جسم سے بدبو، تعفن اور سڑاند کے ایسے طوفان اٹھائیں گی کہ الامان والحفیظ۔ اس کے علاوہ میرا ایک قدرتی حق بھی بنتا ہے کہ م سے مئی اور م سے مرزا قادیانی۔ م سے مئی اور م سے ہی مسیح کذاب۔ م سے مئی اور م سے مینارۃ المسیح۔ م سے مئی اور م سے مرتد۔ ماہ مئی بولے جا رہا تھا اور سارے مہینے چپ سادھے اس کے دلائل سن رہے تھے فیصلہ میرٹ پہ ہو گیا اور مئی فاتح قرار پایا۔ مہینے نے انتہائی سرعت کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے بڑی گرم جوشی سے مئی سے مصافحہ کیا اور فرط مسرت سے بغلگیر ہو گیا کہ اچھی ٹیم تیار ہو رہی ہے!

پھر سوال اٹھا کہ مئی کی تاریخ کون سی رکھی جائے؟

ہر تاریخ کو باری باری بولنے کا موقع دیا گیا۔ ساری تاریخوں نے یہ "سعادت" حاصل کرنے کے لئے دلائل و براہین کے دریا بہا دیئے لیکن جب 26 تاریخ نے اپنے انمول دلائل دینے شروع کئے تو ساری تاریخیں اس کی ذہانت اور فطانت پہ عش عش کر اٹھیں اور ماحول علم و حکمت کی ہواؤں سے جھومنے لگا۔ 26 تاریخ اللہ کے حضور التجا کرتے ہوئے کہنے لگی۔ "اے رب السموات والارض! اس نبی کاذب کا پورا نام "مرزا غلام احمد قادیانی نبی فرنگ ہے" اگر اس کے پورے نام کے حروف تہجی کو گنا جائے تو وہ پورے چھبیس بنتے ہیں اس لئے یہ میرا قدرتی اور فطری حق ہے۔" پھر 26 تاریخ نے مرزا قادیانی کے پورے نام کے حروف تہجی گنواتے ہوئے کہا۔

صفحہ 127

مرزا = م - ر - ز - ا = 4 غلام = غ - ل - ا - م = 4 احمد = ا - ح - م - د = 4 قادیانی = ق - ا - د - ی - ا - ن - ی = 7 نبی = ن - ب - ی = 3 فرنگ = ف - ر - ن - گ = 4 ٹوٹل = 26

26 مئی کی اس انوکھی، نرالی اور اچھوتی دلیل پر سب نے اسے مبارکباد دی اور انہیں مبارک بادوں کی صداؤں میں 26 تاریخ کو فتح کا گولڈ میڈل دے دیا گیا۔

موت کی تاریخ مقرر کرنے کے بعد پھر سوال اٹھا کہ مرزا قادیانی کو کس شہر میں مارا جائے خدا کی دھرتی پر بسنے والے سارے شہر جھولیاں پھیلا پھیلا کر اللہ سے یہ مراد طلب کرنے لگے ہر ایک نے رب العزت کو مرزا قادیانی کے بارے میں اپنے غم و غصہ سے آگاہ کیا۔

شہر لاہور اپنی باری پر بڑے وقار سے اٹھا اور گویا ہوا، خداوندا! ہر شہر تیرے رسولؐ کے دشمن کو دبوچنے کے لئے تڑپ رہا ہے اس کی تڑپ اپنے پیچھے شعلہ زن جذبات لئے ہوئے ہے۔ لیکن اے مختار کل! اس کا میرے ذمہ ایک قرض ہے جو مجھے چکانا ہے آج سے کچھ برس قبل اس دجال نے تیرے ولی کامل پیر مہر علی شاہ گولڑوی کو لاہور کی شاہی مسجد میں مناظرے کا چیلنج دیا تھا۔ جواب میں حضرت پیر صاحب نے کہا تھا، اے مرزا قادیانی! تو بادشاہی مسجد میں آ۔ ایک مینار پر تو چڑھ جا اور دوسرے پر میں چڑھ جاتا ہوں اور دونوں چھلانگ لگاتے ہیں جو سچا ہو گا بچ جائے گا جو جھوٹا ہو گا مر جائے گا۔ اس دن میں بڑا خوش تھا کہ شکار قابو آگیا۔ اور اپنے نصیبوں پر رشک کر رہا تھا۔ لیکن عین وقت پر عیار مرزا قادیانی میدان سے فرار ہو گیا اور میں دانت پیستا رہ گیا۔ اور اس وقت سے آج تک انتقام کے شعلوں میں جھلس رہا ہوں۔ میرا وجود انگارہ بن چکا ہے۔ کریما! تو اسے میرے حوالے کر دے تاکہ میں اپنے جھلستے ہوئے کلیجے کو ٹھنڈا کر سکوں۔ مولا! میں یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ بعد از موت اس کے جنازے کے ساتھ جو سلوک لاہور کے جیالوں نے کرنا ہے وہ کوئی اور شہر نہیں کر سکتا۔ اور پھر میں اپنی دور بین نگاہوں سے یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ 1953 کی ختم نبوت کی تحریک میں لاہور کی بہادر مائیں اپنے دس ہزار سجیلے جوان بیٹے تیرے نبیؐ کی عزت و ناموس پر نثار کر دیں گی۔ لاہور نے اپنا مقدمہ خوب لڑا اور فاتح ٹھہرا۔

مسٹر بیضہ نے زیر لب مسکراتے ہوئے لاہور کو مبارکباد دی اور آنکھوں کی زبان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا انشاء اللہ جلد ہی لاہور میں ملاقات ہو گی۔

صفحہ 128

یہ مسئلہ تو طے ہو گیا کہ مرزا قادیانی لاہور میں مرے گا۔ لیکن پھر یہ سوال اٹھا کہ !لاہور میں کس مقام پر مرے گا۔ سوال سنتے ہی ”ٹٹی خانہ“ جست لگا کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا! اے ملک! لوگ میدانوں میں مرتے ہیں— صحراؤں میں مرتے ہیں— کوہساروں میں مرتے ہیں— سمندروں میں مرتے ہیں— فضاؤں میں مرتے ہیں— شاہراہوں پر مرتے ہیں— گلیوں میں مرتے ہیں— مکانوں میں مرتے ہیں— کمروں میں مرتے ہیں— برآمدوں میں مرتے ہیں— باورچی خانوں میں مرتے ہیں— حتیٰ کہ غسل خانوں میں مرتے ہیں— لیکن ٹٹی خانوں میں کوئی نہیں مرتا۔ کریما! میری بھی ایک حیثیت ہے، میرا بھی ایک محل وقوع ہے، میرا بھی ایک جغرافیہ ہے۔ ایک موت میرے اندر بھی ہو جائے۔ اگر اس جیسا گندہ انسان بھی مجھ میں نہ مرا تو قیامت تک مجھ میں کوئی نہیں مرے گا۔ اور اس کے ساتھ ہی ٹٹی خانہ ہچکیاں لے لے کر رونے لگا۔ رب العزت کو اس پر ترس آگیا۔ اور فیصلہ ٹٹی خانہ کے حق میں ہو گیا ٹٹی خانہ نے فوراً ہچکیاں روک لیں اور ایک زور دار قہقہہ لگایا اور پورا ماحول زعفران زار بن گیا۔

پھر سوال اٹھا کہ مرزا قادیانی کو دفن کس شہر میں کیا جائے؟

سوال سنتے ہی سارے شہر پریڈ کرتے ہوئے سپاہیوں کی طرح الرٹ ہو گئے۔ لیکن قادیان نے اجازت طلب کر کے سب سے پہلے اپنا خطاب شروع کیا۔ قادیان روتا، کانپتا بے تکان بولتا ہوا کہہ رہا تھا۔

اے عادل اعظم! اس نے میری کوکھ سے جنم لیا— میری فضاؤں اور ہواؤں میں پلا بڑھا۔ اپنے نام کے ساتھ میرا نام لکھا۔ مجھے ہی اس نے اپنی نبوت کا مرکز بنایا— اس کے برپا کردہ فتنہ کو میرے نام سے منسوب کیا جانے لگا یعنی فتنہ قادیان— اس لعین نے میرے وجود کو گالی بنا دیا— میری عزت خاک میں ملا دی— دنیا میں مجھے ذلیل و رسوا کر دیا— میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہا— دیگر شہر مجھے مذاق اور ٹھٹھہ کرنے لگے— میرے دن کانٹوں پر اور میری راتیں انگاروں پر بسر ہونے لگیں—

اب اسے دفن کرنے کا پروگرام ہے تو میری یہ التجا ہے کہ میری دھرتی پہ پلنے والا یہ زہریلا سانپ میرے ہی سپرد کیا جائے تاکہ قبر میں لٹا کر میں اس کی پسلیاں توڑ سکوں— لپکتے شعلوں میں اسے جلتا دیکھ سکوں— برستے کوڑوں میں اس کی چیخیں سن سکوں— بچھوؤں کو اس کے غلیظ دماغ پر ڈنک مارتا دیکھ سکوں اور سانپوں کو اس کی آوارہ زبان نوچتے ملاحظہ کر سکوں۔ مولا! یہ میرے ارمان ہیں جو میرے دل میں ایک لمبی مدت سے مچل رہے ہیں۔ خداوند! میری یہ التجائیں قبول کر لے۔ قادیان کے دلائل اتنے مبنی بر حقیقت تھے کہ فوراً قادیان کے حق میں فیصلہ سنا دیا گیا۔

صفحہ 129

پھر سوال اٹھا کہ مرزا قادیانی مرے گا تو لاہور میں اور دفن قادیان میں ہو گا۔ اس کے جنازے کو کس سواری پر رکھ کر قادیان لے جایا جائے گا؟

یکہ بولا! اسے میرے حوالے کر دے میں دولتیاں جھاڑ جھاڑ کر اس کا منہ توڑ دوں گا۔

کار بولی! اے مولا! اسے میرے سپرد کر دے میں راستے میں کسی ویرانے میں جاکر پنکچر ہو جاؤں گی اور یہ وہیں گل سڑ جائے گا۔

بس بولی۔ یا جبار! اسے مجھ میں سوار کر دے میں راستے میں خراب ہو جاؤں گی۔ یہ تو سڑاند سے پھول کر دوگنا ہو جائے گا۔ باقی قادیانی دھکا لگا کر پھول کر چوگنے ہو جائیں گے۔

آخر میں مال گاڑی بولی، اے قہار! یکے میں انسان سفر کرتے ہیں۔ کار میں بھی انسان سفر کرتے ہیں اور بس میں بھی انسان سفر کرتے ہیں لیکن مجھ میں بھیڑ، بکریاں، گدھے، گھوڑے، چھترے، دنبے، گائیں، بھینسیں، مرغیاں، بطخیں، کتے اور خنزیر لاد کر ایک مقام سے دوسرے مقام پر پہنچائے جاتے ہیں۔ اے عادل اعظم! یہ انسان کے روپ میں جانوروں سے بدترین مخلوق ہے۔ لہٰذا اس کا صرف مجھ میں سوار ہونے کا حق بنتا ہے۔ لہٰذا میں آپ کی عدالت میں بڑی عاجزی اور انکساری سے درخواست کرتی ہوں کہ مجھے میرا حق عنایت کیا جائے۔ مال گاڑی کے دلائل بڑے وزنی تھے۔ لہٰذا مال گاڑی کو اس کا مال دے دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی پروگرام مکمل ہو گیا۔ اور سیل کر دیا گیا۔ وقت مست خرام ندی کی طرح چلتا رہا— لیل و نہار کی گردش جاری رہی— سورج مشرق کی کوکھ سے طلوع ہو کر مغرب کی لحد میں ڈوبتا رہا۔ کئی صبحیں ہوئیں اور کئی شامیں گزر گئیں— آخر 26 مئی آگیا— منگل کا دن آگیا— مسٹر ہیضہ مسلح ہو کر لاہور پہنچ گیا — مرزا قادیانی 26 مئی بروز منگل اپنے ایک مرید کے گھر واقع برانڈرتھ روڈ لاہور وارد ہوتا ہے — مریدوں کے ہجوم میں شیطانی گفتگو کا دور چل رہا ہے— دن اپنی مسافت طے کر کے اپنے اجالوں سمیت رخصت ہوچکا ہے— رات کی جادوگرنی نے اپنی سیاہ زلفیں کھول کر تاریکیوں کے خیمے گاڑ دیئے ہیں— رات کے کھانے کا وقت ہو گیا ہے— دستر خوان بچھ گیا ہے— پلاؤ، قورمہ، مرغا، حلوہ، فرنی، تیتر اور بٹیر اپنی بہار دکھا رہے ہیں اور خوشبوئیں بکھیر رہے ہیں— پیٹ کا حریص مرزا قادیانی دونوں ہاتھوں اور بتیس دانتوں سے کھانے کا صفایا کر رہا ہے— کہیں مرغے پہ حملہ ہے کہیں بٹیر پہ یلغار ہے— کہیں پلاؤ سے دست پنجہ ہے اور کہیں فرنی پہ شب خون ہے— پیٹ کا مٹکا بھر چکا ہے لیکن نیت کا مٹکا خالی ہے— سامنے مسٹر ہیضہ کھڑا مسکرا رہا ہے اور حملے کے سگنل کا منتظر ہے— آن واحد میں ہیضہ ماہر کمانڈو کی طرح حملہ آور ہوتا ہے اور مرزا قادیانی کے پیٹ میں مروڑ اٹھتا ہے— پیٹ کو سنبھالتا ہوا لیٹرین کی طرف بھاگتا ہے— فارغ ہو کر آتا

صفحہ 130

ہے کہ فوراً دوسرا دست حملہ کر کے آجاتا ہے پھر گولی کی رفتار سے لیٹرین کی طرف دوڑتا ہے— کمزوری اور نقاہت جسم پر قبضہ کر لیتی ہیں جب فارغ ہو کر آتا ہے تو رات کو سورج نظر آرہا ہوتا ہے— چارپائی پر لٹا دیا جاتا ہے— پھر اتنی ہمت نہیں رہتی کہ اٹھ کر لیٹرین میں جائے— چارپائی کے ساتھ عارضی لیٹرین بنادی جاتی ہے— مسٹر ہیضہ اپنی سپیڈ تیز کر دیتے ہیں— دست مشین گن کی گولیوں کی طرح وارد ہونے لگتے ہیں— دستوں اور زندگی میں دست بدست لڑائی ہونے لگتی ہے— مرزا قادیانی چارپائی پر گر گیا ہے نبضیں ڈھیلی پڑ گئی ہیں— ماتھے پر ٹھنڈے پسینے آگئے ہیں— نتھنے پھیل رہے ہیں— آنکھیں پتھرا رہی ہیں اور انگریزی نبوت کا جسم ”ٹوسٹ“ کر رہا ہے قادیانی بھاگم بھاگ ڈاکٹروں کو لے آتے ہیں— ڈاکٹر انگریزی نبی کے جسم میں انگریزی ٹیکے لگا رہے ہیں— لیکن فاتح مرزا قادیانی ”مسٹر ہیضہ“ مرزا قادیانی کو چاروں شانے چت گرا کر سینے پر سوار ہو چکا ہے— دیوار پہ لگی گھڑی کی سوئیاں آہستہ آہستہ رینگ رہی ہیں— بجتے ساڑھے دس بجنے میں چند ساعتیں باقی ہیں— موت گھر کی دیوار عبور کر چکی ہے— اور فرشتہ اجل نے فولادی ہاتھوں سے غلیظ جسم سے روح نکال لی ہے— اور مرزا قادیانی زندگی کی پچ پر ہیضہ کی تباہ کن باؤلنگ سے کلین بولڈ ہو گیا ہے— فضاؤں میں قادیانی زبانوں کی چیخیں بلند ہوتی ہیں— نالہ و شیون شروع ہو جاتے ہیں— گریہ و زاری کا بازار گرم ہو گیا ہے— کفر بے سہارا ہو گیا ہے— ابلیس کا لاڈلا بیٹا داغ مفارقت دے گیا ہے— ملکہ وکٹوریہ کا چہیتا بھائی مر گیا ہے— فرنگی کا نبی انتقال کر گیا ہے— ٹچی ٹچی کا یارانہ توڑ گیا ہے— مسیلمہ کذاب کا سانڈہ منہ موڑ گیا ہے— جھوٹ کا ابا مر گیا ہے— خباثت کا تایا فوت ہو گیا ہے— دجل و فریب کا خالو چل بسا ہے— عریانی فحاشی کا پھوپھا خاموش ہو گیا ہے اور گالیوں کا ہیڈ ماسٹر جہنم میں ٹرانسفر ہو گیا ہے۔

مرید کے گھر میں مرزا قادیانی کی لاش پڑی ہے— بدبو نے اپنے جوہر دکھانے شروع کر دیئے ہیں— لاہور میں مرزا قادیانی کی موت کی نوید مسرت باد صبا کی طرح پھیل جاتی ہے— اور عاشق رسول اہل لاہور اس فرنگی نبی کو ”کڑاہی توپوں“ کے اکیس اکیس ”کڑاہی گولوں“ کی سلامی دینے کی خفیہ تیاری شروع کر دیتے ہیں— گھروں کا سارا کوڑا کرکٹ کڑاہیوں میں ڈال کر چھتوں کی منڈیروں پر رکھ دیا جاتا ہے— برانڈرتھ روڈ سے مرزا قادیانی کا جنازہ نکل کر ریلوے سٹیشن روانہ ہوتا ہے— جونہی جنازے کا جلوس مرید کے گھر سے سرکتا ہے مرزے کی لاش پر ”کڑاہی توپوں“ کی سلامی شروع ہو جاتی ہے— کڑاہیوں کے گولے فضا میں رقص کرتے ہوئے آتے ہیں اور مرزا قادیانی کا منہ چوم چوم جاتے ہیں— ایسی تاریخی ”کڑاہی باری“ ہوتی ہے کہ مرزا قادیانی غلاظت میں ڈوب ڈوب جاتا ہے— حفاظت کے لئے آئے ہوئے سپاہیوں کی وردیاں

صفحہ 131

بھی غلاظت سے بھر جاتی ہیں۔ بڑی مذمت اور مرمت کے بعد میت کو ریلوے سٹیشن پر لایا گیا۔ میت کو قادیاں لے جانے کے لئے مال گاڑی میں بکنگ کرائی جانے لگی۔ لیکن جب اصول پرست اور اکھڑ ریلوے افسر کو پتہ چلا کہ مرزے کی موت ہیضہ سے ہوئی ہے تو اس نے ریلوے قانون کے مطابق یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ ہیضہ ایک وبائی مرض ہے۔ اس لئے خطرہ کے پیش نظر میت کو بک نہیں کیا جا سکتا۔ قادیانی بھاگم بھاگ اعلیٰ انگریز ریلوے افسر کے پاس پہنچے اور رو رو کر کہنے لگے۔ جناب آپ کا انگریزی نبی ریلوے سٹیشن پر بے یار و مدد گار پڑا ہے۔ مسلمان ٹھٹھہ و مذاق کر رہے ہیں۔ اور ہم آپ کے بنائے ہوئے نبی کے خادم ذلت کی خاک چاٹ رہے ہیں۔ اعلیٰ ریلوے حکام کی طرف سے سپیشل حکم کے تحت میت کو مال گاڑی میں بک کیا جاتا ہے اور مرزا قادیانی بکروں، چھتروں، دنبوں، گائیوں، بھینسوں، گدھوں، گھوڑوں، مرغیوں، بطخوں اور خنزیروں کی رفاقت میں قادیاں روانہ ہو جاتا ہے۔ قادیان میں چند نفوس اس کا نام نہاد جنازہ پڑھتے ہیں اور پھر قادیان کی غلاظت کو قادیان میں گاڑ دیا جاتا ہے۔

آتش افشاں ہے زمیں ایسی جگہوں سے کہ جہاں !
لقمہ خاک ہوئے زہر اگلنے والے

(از بہزاد اثری)

صفحہ 28
PDF 133

نوکر

ووہٹی

دا

ایک پچپن سالہ بڈھے کھوسٹ کی کہانی جو ایک اٹھارہ سالہ دوشیزہ پر لٹو ہو گیا ۔

جس نے جھوٹی نبوت کا سارا چندہ بیگم کی فرمائشیں پوری کرنے کیلئے وقف کیا ہوا تھا۔

ملکہ ہندوستان ملکہ وکٹوریہ کے غلام کی رنگین و سنگین داستان جو ملکہ قادیان کا بھی غلام تھا۔

نبی قادیان مرزا قادیانی کی گھریلو زندگی کے خفیہ گوشوں کی تقریب رونمائی ۔

صفحہ 134

مسیلمہ ہند مرزا قادیانی زندگی کی چھپن خزائیں دیکھ چکا ہے۔ بڑھاپے کے سیاپے شروع ہو چکے ہیں۔ چہرے پر جھریاں بریک ڈانس کر رہی تھیں۔ بیماریوں نے نبی افرنگ کے جسم کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھ کر قبضہ کر لیا تھا۔ اعصاب ڈھیلے پڑ چکے تھے۔ چھوٹی چھوٹی آنکھیں مزید سکڑ گئی تھیں۔ دائیں آنکھ تو بالکل ہی سمارٹ ہو گئی تھی۔ ای پلومر کی شراب کی بوتلیں غٹاغٹ پینے کے باوجود چہرے کا رنگ خزاں رسیدہ پتوں کی طرح زرد تھا۔ پچیس سال کی مسلسل افیم خوری نے دماغ کا ستیا ناس کر دیا تھا اور اللہ اور اس کی مخلوق کی لاتعداد لعنتیں برسنے کی وجہ سے چہرہ ”لعنت ہاؤس“ بن چکا تھا۔ ان تمام مصائب میں جکڑے ہونے کے باوجود مرزا قادیانی کا بیمار دل ایک اٹھارہ سالہ لڑکی نصرت جہاں پر لٹو ہو جاتا ہے۔ مرزا قادیانی اس دوشیزہ کے حصول کے لئے دیوانہ وار کوششیں کرتا ہے۔ آخر لڑکی کی ماں کے تعاون سے رشتہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور یوں ایک اٹھتی ہوئی جوانی اور ایک گرتا ہوا بڑھاپا شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں۔ شادی کے بعد مرزا قادیانی دربار زوجہ کا غلام بن جاتا ہے۔ بیگم کے قدموں میں بچھ بچھ جاتا ہے۔ اس کے اشارہ ابرو پر ناچتا ہے اور ذرا سی آواز دینے پر بوتل کے جن کی طرح حاضر ہو کر کہتا ہے کہ ”کیا حکم ہے۔ میرے آقا!“ انگریزوں اور مریدوں سے بٹوری ہوئی دولت اس کی ہر ہر خواہش پہ لٹاتا ہے۔ نصرت جہاں بیگم گھر پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیتی ہے اور مرزا قادیانی گھر میں صرف ”نوکر ووہٹی دا“ بن کے رہ جاتا ہے۔ یہ ”نوکر ووہٹی دا“ کس اعلیٰ پائے کا تابعدار و فرمانبردار تھا‘ اس کے لئے قادیانی کتابوں کے حوالے شہادت کے لئے پیش کئے جاتے ہیں۔

جاناں سب کچھ تیرے لئے:۔ ”ایک دفعہ چٹھی رساں منی آرڈر لے کر آیا اور دروازہ پر آواز دی تو حضرت ام المومنین نے ایک خادمہ کو بھیج کر سارے فارم منگوا لئے۔ چٹھی رساں اس انتظار میں کھڑا رہا کہ حضرت صاحب دستخط کر کے فارم بھیج دیں گے تو میں اندر روپیہ بھیج دوں گا جب دیر ہو گئی اور فارم نہ آئے تو حضرت صاحب خود باہر تشریف لائے۔ جب حضرت صاحب کو معلوم ہوا کہ فارم بیوی صاحبہ کے پاس ہیں تو آپ نے بیوی صاحبہ سے کہا کہ فارم ہمیں دے دو چٹھی رساں انتظار

صفحہ 135

کر رہا ہے۔ بیوی صاحبہ نے کہا ہم نہیں دیتے۔ تب آپ تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر فرمایا آپ ان فارموں کو کیا کریں گے۔ بیوی صاحبہ نے کہا کہ آپ ہر روز روپیہ منگواتے ہیں آج روپیہ ہم منگوائیں گے۔ (یعنی ففٹی ففٹی ۔ ناقل) حضرت صاحب اس پر کچھ ناراض نہ ہوئے۔ نہ غصہ کا اظہار کیا بلکہ خندہ پیشانی سے فرمایا کہ وہ تو روپیہ ہمارے دستخطوں کے بغیر نہیں دے گا۔ لاؤ ہم دستخط کر دیتے ہیں پھر آپ ہی روپیہ منگوا لیں۔ اس پر بیوی صاحبہ نے فارم دے دیئے اور حضرت صاحب نے دستخط کر کے پھر فارم ان کو دے دیئے ”بہت اچھا کیا آخر گھر میں بھی تو رہنا تھا۔

(ناقل) (الفضل ۴۶ - ۴ - ۳)

بڑا مزہ ہے تیرے ساتھ ٹہلنے میں :۔ ”بیان کیا مجھ سے مولوی نورالدین صاحب نے کہ ایک دفعہ حضور کسی سفر میں تھے۔ جب سٹیشن پر پہنچے تو ابھی گاڑی آنے میں دیر تھی۔ آپ بیوی صاحبہ کو ساتھ لے کر سٹیشن کے پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگ گئے۔ یہ دیکھ کر مولوی عبدالکریم صاحب نے مجھے (یعنی مولوی نورالدین کو) کہا کہ پلیٹ فارم پر بہت لوگ ہیں، وہ حضرت صاحب اور بیوی کو اکٹھا پھرتے دیکھ کر کیا کہیں گے۔ آپ حضرت صاحب سے عرض کریں کہ بیوی صاحبہ کو الگ بٹھا دیں۔ مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں تو نہیں کہتا آپ کہہ کر دیکھ لیں۔ ناچار مولوی عبدالکریم خود حضرت صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ لوگ بہت ہیں۔ بیوی صاحبہ کو ایک طرف بٹھا دیجئے۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ ”جاؤ جی میں ایسے پردہ کا قائل نہیں“ (سیرت المہدی جلد اول ص ۴۳ مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)

عجیب ڈھیٹ آدمی تھا۔ مرید غیرت سے دانت پیس رہا ہے۔ جل بھن رہا ہے لیکن مجسمہ بے غیرتی مرزا قادیانی کو شرم ہی نہیں آ رہی۔ بیوی کو ساتھ لئے پلیٹ فارم پر ٹہل رہا ہے۔ لوگ دیکھ رہے ہیں لیکن ماڈرن جوڑا تماشہ بنے اپنی چہل قدمی میں مگن ہے۔

میں نوکر تیرا :۔ کذاب قادیاں فرسٹ کلاس رن مرید تھا۔ بیوی کے اشارہ ابرو پر صدقے واری جاتا۔ دربار زوجہ سے جو حکم ملتا فوراً سر تسلیم خم کر دیتا ہے۔ سارے خم کر دیتا ہے۔ سارے

صفحہ 136

مریدوں کی جیبیں کاٹ کر سب کچھ بیوی کے قدموں میں ڈھیر کر دیتا۔ ”مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی اپنی کتاب سیرت المہدی میں لکھتا ہے، مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے اپنی کتاب ”سیرت المسیح موعود“ میں لکھا ہے کہ ”اندرون خانہ کی خدمت گار عورتوں کو میں نے بارہا خود تعجب سے کہتے سنا ہے کہ مرزا بیوی دی گل بڑی مندا اے“ مرزا بیوی کی بات بہت مانتا ہے۔ (سیرت المہدی جلد اول ص ۲۵۹ مصنفہ بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)

تجھ سے گلہ نہیں :۔ مرزا قادیانی کی گھر میں کیا وقعت اور اہمیت تھی، ملاحظہ ہو ”منشی عبدالخالق صاحب لاہوری نے کمال محبت اور دوستی کی بنا پر بیماری کی نسبت پوچھا اور عرض کیا کہ آپ کا کام بہت نازک ہے اور آپ کے سر فرائض کا بھاری بوجھ ہے آپ کو چاہئے کہ جسم کی صحت کی رعایت کا خیال رکھا کریں اور ایک خاص مقوی غذا لازماً اپنے لئے ہر روز تیار کرایا کریں۔ حضرت نے فرمایا ہاں بات تو درست ہے اور ہم نے کبھی کبھی کہا بھی ہے مگر عورتیں کچھ اپنے ہی دھندوں میں مصروف رہتی ہیں اور ان باتوں کی پرواہ نہیں کرتیں“ (سیرت المسیح الموعود ص ۷)

یہ سارا چندہ تیرے لئے :۔ ”لدھیانہ کا ایک شخص تھا جس نے ایک دفعہ مسجد میں مولوی محمد علی صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب اور شیخ رحمت اللہ کے سامنے کہا کہ جماعت مقروض ہو کر اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کر چندہ میں روپیہ بھیجتی ہے مگر یہاں بیوی صاحبہ کے کپڑے اور زیورات بن جاتے ہیں“ (خطبہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان اخبار الفضل جلد ۲۶ ص ۳۳۰، ۲۱ اگست ۱۹۳۸ء)

سچ ہی تو کہا تھا دل جلے مرید نے۔ وہ تنگی کاٹ کر چندہ دے اور ”مسز مرزا قادیانی“ مریدوں کے چندوں سے نت نئے زیورات بنا بنا کر اپنی زیبائش و نمائش میں مصروف ہو۔ چندہ چور اور حرام خور مرزا قادیانی نے اپنی لاڈلی اور چہیتی بیوی نصرت جہاں بیگم کو جو زیورات پہنائے اس کی تفصیل دیکھئے اور سوچئے کہ ایک شخص جو پہلے کچہری میں منشی تھا، پھر گھر آکر بیکار بیٹھا ہے۔ پہلی بیوی اور اس کے بچے پڑے ہیں، دوسری بیوی کو اتنے زیورات کہاں سے پہنا رہا ہے؟ جب فہرست پر نگاہ ڈالتے ہیں تو

صفحہ 137

مزید سچا نظر آتا ہے اور انگریزی نبی جھوٹا۔ فہرست پیش خدمت ہے۔

کڑے خورد طلائی = ۲۵۰ روپے، بندے طلائی = ۵۰۰ روپے، کنٹھ طلائی ۲۲۵ روپے۔

کنگن طلائی = ۲۲۰ روپے، بندے طلائی = ۳۰۰ روپے، بالے گھنگھروں والے = ۳۰۰ روپے۔

حسیاں خورد = ۳۰۰ روپے پونچیاں طلائی = ۱۵۰ روپے، مونگے = ۲۰۰ روپے

چاند طلائی = ۵۰ روپے، بالیاں جڑاؤ = ۱۵۰ روپے، نتھ طلائی = ۴۰ روپے

ٹکہ جڑاؤ = ۷۰ روپے، کڑے کلاں طلائی = ۷۵۰ روپے

کل رقم = ۳۵۰۵ روپے (قادیانی نبوت ص ۸۵ بحوالہ فسانہ قادیان مصنفہ حافظ محمد ابراہیم میر پوری) اس زمانہ میں سونا تقریباً بیس روپے تولہ تھا۔ اس حساب سے اس زمانہ میں چندہ چور مرزا قادیانی نے اپنی بیوی کو تقریباً ۱۷۵ تولے سونا پہنایا یعنی دو سیر تین چھٹانک ۔ (مؤلف)

جیسے تیری مرضی :۔ قادیان کے سالانہ جلسہ منعقدہ دسمبر ۱۹۳۵ء میں مفتی محمد صادق نے مرزا قادیان کی ”گھریلو زندگی“ پر تقریر کی، جو الفضل ۳ اپریل ۱۹۳۶ء میں شائع ہوئی۔ مفتی صادق نے مرزا قادیانی کی گھریلو زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ” ایک دفعہ کسی نے خیر خواہی سے کہا کہ بیوی صاحبہ اپنے زیورات کو بار بار توڑواتی ہے اور نئی نئی شکل میں بنواتی رہتی ہے۔ اس طرح تو بہت سا نقصان ہوتا ہے اور بہت سا حصہ زرگر ہی کھا جاتے ہیں۔ بیوی صاحبہ کو روکنا چاہئے۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ ان کا مال ہے جس طرح چاہیں کریں“

بالکل ٹھیک کہا ۔ مال مفت دل بے رحم (ناقل)

بے غیرت خاوند ۔۔۔۔۔ ” بیوی صاحبہ مرزاجی کے مریدوں کو ساتھ لے کر لاہور سے کپڑے بھی خود ہی خرید لایا کرتی تھیں۔“ (کشف الفنون مرتبہ ڈاکٹر بشارت احمد ، لاہور ص ۸۸)

سچا نبی امت میں غیرت پیدا کرتا ہے لیکن نبی قادیان کے گھر پر بے غیرتی کا جھنڈا لہرا رہا ہے۔ شرافت سر پیٹ رہی ہے اور حیا منہ چھپائے بیٹھی ہے۔ توجہ فرمائیے! مرزا

صفحہ 138

قادیانی کی جوان بیوی جو اسے بڑھاپے میں ملی، مریدوں کے ساتھ ٹہلتی چہلتی جا رہی ہے....... گاڑی میں سوار ہو رہی ہے ....... قادیان سے لاہور آ رہی ہے ..... خاصا طویل سفر ہے ....... راستے میں کھانے پینے کی احتیاج ہے ...... لاہور آ گیا ہے ....... تانگہ میں سوار ہو کر بازاروں میں جا رہی ہے ... مریدوں کی معیت میں شاپنگ ہو رہی ہے ....... معلوم نہیں واپسی ایک دن میں ہے یا چار دن میں ....... اگر ایک دن سے زیادہ ہے تو رات کہاں ٹھہرتی ہے ....... پھر واپسی ہوتی ہے ....... رن مرید خاوند سر چڑھی بیوی کا استقبال کرنے کے لئے سراپا انتظار بنے سر کے بل کھڑا ہے۔ ایسا وہی کر سکتا ہے جس کی غیرت نے کفن پہن لیا ہو اور جس کی حمیت لاش بن چکی ہو۔ جی ہاں! خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر حملہ کرنے کی ناپاک جسارت کرنے والوں پر خدا کی پھٹکار اسی طرح پڑتی ہے اور رب ذوالجلال ان کے ذہنوں سے عزت و غیرت کا مفہوم چھین لیتا ہے۔ (مؤلف)

گھر میں کوئی عزت نہیں :۔ " خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اپنی کتاب ”سیرت المہدی الموعود“ میں لکھتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت اقدس نازک سے نازک مضمون لکھ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ عربی زبان میں بے مثل، فصیح کتابیں لکھ رہے ہیں اور پاس ہنگامہ قیامت برپا ہے۔ بے تمیز بچے اور سادہ عورتیں جھگڑ رہی ہیں، چیخ رہی ہیں، چلا رہی ہیں۔ یہاں تک کہ بعض آپس میں دست و گریبان ہو رہی ہیں اور پوری زنانہ کرتوتیں کر رہی ہیں۔ مگر حضرت صاحب یوں لکھے جا رہے ہیں اور کام میں یوں مستغرق ہیں کہ گویا خلوت میں بیٹھے ہیں۔ یہ ساری لا نظیر اور عظیم الشان عربی، اردو، فارسی کی تصانیف ایسے ہی مکانوں میں لکھی ہیں۔" (سیرت المہدی ص ۲۷۸ مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی) جس کے اپنے گھر میں اخلاقیات کا اس حد تک جنازہ نکلا ہو وہ لوگوں کے اخلاق کیا سنوارے گا؟ اس حوالہ سے یہ نکتہ بھی ابھرتا ہے کہ مرزا قادیانی کا اپنے گھر میں کوئی رعب نہیں تھا۔ بچے چیخیں مار رہے ہیں، عورتیں دست و گریبان ہیں اور مرزا قادیانی سامنے بیٹھا لکھ رہا ہے۔ لیکن کسی کو اس کی جوتی برابر بھی پروا نہیں۔ رہا یہ مسئلہ کہ

صفحہ 139

اس وقت مرزا قادیانی کیا لکھ رہا ہوتا ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ جس وقت عورتیں ایک دوسرے کا گریبان کھینچ رہی ہوں‘ زبانیں قینچی کی طرح چل رہی ہوں۔ بچوں نے لڑ لڑ کر آسمان سر پر اٹھایا ہوا ہو ۔ لازمی بات ہے کہ اس شدت کی لڑائی میں گالیوں کا تبادلہ بھی ہوتا ہو گا۔ ادھر سے فریقین گالیاں بک رہے ہیں اور مرزا قادیانی دھڑا دھڑ ان گالیوں کو لکھے جا رہا ہے اور پھر ساری گالیاں اکٹھی کر کے اپنی تصانیف میں مسلمانوں کو لکھ دیتا ہے جو اس کی تصانیف میں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ (ناقل)

بیگم کی ناز پروری :۔ ”اور آخری سالوں میں حضور عموماً ایک سالم سیکنڈ کلاس کمرہ اپنے لئے ریزرو کروا لیا کرتے تھے اور اس میں حضرت بیوی صاحبہ اور بچوں کے ساتھ سفر فرماتے تھے اور حضور کے احباب دوسری گاڑی میں بیٹھتے تھے مگر مختلف سٹیشنوں پر اتر اتر کر وہ حضور سے ملتے رہتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضور الگ کمرہ کو اس خیال سے ریزرو کروا لیتے تھے کہ تاکہ حضرت والدہ صاحبہ کو علیحدہ کمرہ میں تکلیف نہ ہو اور حضور اپنے اہل و عیال کے ساتھ اطمینان کے ساتھ سفر کر سکیں ۔“ (سیرت المہدی حصہ دوم ص ۱۰۱ مصنف مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)

ایک سیکنڈ کلاس کے کمرہ میں ایک سو چار (۱۰۴) مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے لیکن انگریز کا لاڈلہ نبی بیگم کے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے پورا کمرہ ریزرو کروا کے بیٹھا ہوا ہے ویسے اس شاہی خرچے میں مرزا قادیانی کی جیب سے کچھ نہیں جاتا تھا۔

ناز نخرے بیگم کے اور دولت انگریز کی !!!

ملکہ کا راج :۔ ”مکرمی مفتی محمد صادق صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں‘ میں کسی وجہ سے اپنی بیوی مرحومہ پر کچھ خفا ہوا۔ جس پر میری بیوی نے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی بڑی بیوی کے پاس جا کر میری ناراضگی کا ذکر کیا اور حضرت مولوی صاحب کی بیوی نے مولوی صاحب سے ذکر کر دیا۔ اس کے بعد میں جب حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سے ملا تو انہوں نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ مفتی صاحب آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہاں ملکہ کا

صفحہ 140

راج ہے‘ بس اس کے سوا اور کچھ نہیں کہا مگر میں ان کا مطلب سمجھ گیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے یہ الفاظ عجیب معنی خیز ہیں۔ کیونکہ ایک طرف تو ان دنوں میں برطانیہ کے تخت پر ملکہ وکٹوریہ متمکن تھیں اور دوسری طرف حضرت مولوی صاحب کا اس طرف اشارہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے خانگی معاملات میں حضرت ام المومنین کی بات بہت مانتے ہیں اور گویا گھر میں حضرت ام المومنین ہی کی حکومت ہے۔“ (سیرت المہدی ص ۱۰۳ حصہ دوم مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)

واہ ملکہ قادیان! کیا چرچے ہیں تیری حکومت کے! معلوم ہوتا ہے کہ ” رن مریدی “ مذہب قادیان کا ایک اہم رکن ہے۔

میاں فخر الدین صاحب ملتانی ثم قادیانی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب ۱۹۰۷ء میں حضرت بیوی صاحبہ لاہور تشریف لے گئیں تو ان کی واپسی کی اطلاع آنے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کو لانے کے لئے بٹالہ تک تشریف لے گئے۔ میں نے بھی مولوی سید محمد احسن صاحب مرحوم کے واسطے سے حضرت صاحب سے آپ کے ساتھ جانے کی اجازت حاصل کی اور حضرت صاحب نے اجازت عطا فرمائی مگر مولوی صاحب سے فرمایا کہ فخر الدین سے کہہ دیں کہ اور کسی کو خبر نہ کرے اور خاموشی سے ساتھ چلا چلے۔ بعض اور لوگ بھی حضرت صاحب کے ساتھ ہمرکاب ہوئے۔ حضرت صاحب پالکی میں بیٹھ کر روانہ ہوئے جسے آٹھ کہار باری باری اٹھاتے تھے۔ بٹالہ پہنچ کر حضرت صاحب نے سب خدام کی معیت میں کھانا کھایا اور پھر سٹیشن پر تشریف لے گئے۔ جب حضرت صاحب سٹیشن پر پہنچے تو گاڑی آ چکی تھی اور حضرت بیوی صاحبہ گاڑی سے اتر کر آئی ہوئی تھیں اور حضرت صاحب کو ادھر دیکھ رہی تھیں۔ حضرت صاحب بھی بیوی صاحبہ کو دیکھتے پھرتے تھے کہ اتنے میں لوگوں کے مجمع میں حضرت بیوی صاحبہ کی نظر حضرت صاحب پر پڑ گئی اور انہوں نے محمود کے ابا کہہ کر حضرت صاحب کو اپنی طرف متوجہ کیا اور پھر حضرت صاحب نے سٹیشن پر ہی سب لوگوں کے سامنے بیوی صاحبہ کے ساتھ مصافحہ فرمایا اور ان کو ساتھ لے کر فرود گاہ پر واپس تشریف لے

صفحہ 141

آئے۔" (سیرت المہدی ص ۱۰۷‘ ۱۰۶ حصہ دوم مصنف مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی) قارئین! مندرجہ بالا حوالہ پڑھ کر ہر ذی شعور کے ذہن میں سوال اٹھتے ہیں۔ نوجوان نصرت جہاں بیگم لاہور کیا لینے گئی تھی؟ اکیلی کیوں گئی تھی اور اکیلی کیوں آئی ؟ مرزا قادیانی غیر محرم مردوں کا ہجوم ساتھ لے کر سٹیشن پر بیوی کا استقبال کر کے کس غیرت کا مظاہرہ کر رہا ہے ؟ مرزا قادیانی کا مرید جو نصرت جہاں بیگم کی ہر ہر ادا دیکھ کر اور اس کی آواز سن کر ساری کہانی بیان کر رہا ہے‘ اس کا نصرت جہاں بیگم سے کیا تعلق ہے؟ نصرت جہاں بیگم کا مرزا قادیانی کو سٹیشن پر دور سے دیکھ کر پورے مجمع میں بے تکلفانہ " محمود کے ابا" کہہ کر پکارنے میں کس شوخی اور بے باکی کا اظہار ہے؟ مرزا قادیانی کا سینکڑوں دیکھتی آنکھوں کے سامنے نصرت جہاں بیگم سے پرجوش دست پنجہ لینا کس شرم و حیا کی تبلیغ ہے؟ کسی بزرگ نے کیا خوب کہا ہے کہ سچا نبی امت میں غیرت پیدا کرتا ہے اور جھوٹا نبی بے غیرتی! اور یہی بے غیرتی و بے حمیتی قادیانی نبوت کا شناخت نامہ ہے۔

الٰہی محفوظ رکھنا ہر بلا سے
خصوصاً آج کل کے انبیاء سے
صفحہ 28
PDF 143

اگر

مرزا قادیانی

آج کے دور میں

ھوتا

قادیان کا 420 جس کے فراڈ جتنے بھی بیان کئے جائیں کم ہیں

سور مار؟ معجون مرکب؟ سورج؟

چابک؟ زمیندار؟ کسان؟

چینی؟ مغل؟

صفحہ 144

خدا کی زمین پر لاتعداد عجائبات بکھرے پڑے ہیں۔ لیکن ان میں سے سات عجائبات آفاقی شہرت کے حامل ہیں اور انہیں خدا کی دھرتی پر سب سے بڑے عجوبے تسلیم کیا گیا ہے۔ ان عجائبات عالم میں اہرام مصر، جوپیٹر کا مجسمہ، رہوڈس کا مجسمہ، مقبرہ میسپر ناس، بابل کے معلق باغات، روشنی کا مینار سکندری، آرٹیمس کا معبد (ڈیانا) شامل ہیں۔ یہ شاہکار عجوبے کرہ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں کو دعوت نظارہ دے رہے ہیں اور دنیا بھر سے لاکھوں سیاح ہزاروں میل کی مسافتیں طے کر کے اور ہزاروں روپیہ خرچ کر کے انہیں دیکھنے جاتے ہیں۔

منعم حقیقی نے انسان کے ذہن کو غور، فکر، تحقیق اور جستجو کی عظیم نعمتوں سے نوازا ہے، اس لیے انسان ان عجائبات میں بڑی دلچسپی رکھتا ہے۔ اگر کسی گاؤں میں کوئی بھینس چھ ٹانگوں والے بچھڑے کو جنم دے تو ہزاروں لوگ اسے دیکھنے کے لیے دوڑے چلے جاتے ہیں۔ اگر کہیں سے یہ خبر آئے کہ فلاں مقام پر ایک ایسی گائے ہے جس پر اونٹ کی طرح کوہان ہے تو انسانوں کا ایک انبوہ وہاں اکٹھا ہو جاتا ہے۔ انسانوں کے اسی ذوق و شوق کو دیکھتے ہوئے مختلف کمپنیوں نے مختلف عجائبات اکٹھے کر رکھے ہیں اور گاؤں گاؤں، شہر شہر گھوم کر یہ عجائبات دکھاتے ہیں اور لاکھوں روپیہ کماتے ہیں۔ کمپنی کے گیٹ کے باہر لاؤڈ سپیکر پر اعلان ہو رہا ہوتا ہے کہ بھائی جان! ایک گدھا دیکھئے جو گدھی بھی ہے۔ ایک انسانی بچہ دیکھئے جس کی تین ٹانگیں ہیں۔ ایک مرد دیکھئے جس کا منہ انسان کا اور دھڑ شیر کا ہے۔ ایک بکرا دیکھئے جو شیر کی آواز نکالتا ہے۔ ایک بھینس دیکھئے جس کے آٹھ تھن ہیں۔ ایک بلی جس کی تین آنکھیں ہیں۔ ایک انسانی بچہ دیکھئے جس کے دو دھڑ ہیں وغیرہ وغیرہ۔ لیکن آج ہم آپ کا تعارف ایک ایسے شخص سے کراتے ہیں جو کائنات کا سب سے بڑا عجوبہ ہے۔ اس کی شخصیت ایک البیلی پہیلی ہے، اس کا وجود ایک بھارت ہے، اس کا انگ انگ حیرت ہے۔ اس کا پہلو پہلو سوالیہ پکار ہے اور اس کی ساری زندگی پراسرار ہے۔ نہ ماضی اس کا ثانی پیش کر سکتا ہے اور نہ حال اس کا ہم سر اور نہ ہی مستقبل اس کا ہم پایہ پیش کرنے کا

صفحہ 145

حوصلہ رکھتا ہے۔ وہ تاریخ عالم میں واحد اور یکتا ہے اور اس کے سامنے سارے عجوبوں پر طاری سکتہ ہے۔ اس کی سوانح حیات لکھنے والوں کے مطابق یہ شخص نو دفعہ پیدا ہوا۔ پہلی مرتبہ 1839ء دوسری مرتبہ 1834ء تیسری مرتبہ 1840ء چوتھی مرتبہ 1833ء پانچویں مرتبہ 1836ء چھٹی مرتبہ 1832ء ساتویں مرتبہ 1837ء آٹھویں مرتبہ 1831 اور نویں مرتبہ 1835ء میں۔ اس شخص نے خود کو خود ہی جنم دیا۔ یہ بیک وقت ماں بھی تھا اور بیٹا بھی، یہ خالق بھی تھا اور مخلوق بھی، نبی بھی تھا اور کرم خاکی بھی، مرد بھی تھا اور عورت بھی، ہندو بھی تھا اور سکھ بھی، عیسائی بھی تھا اور یہودی بھی، بشر بھی تھا اور فرشتہ بھی، چینی بھی تھا اور فارسی بھی! نکات کو ملاتے ملاتے اور اشارات کو پاتے پاتے آپ کے ذہن میں اس ”عجوبے“ کی تصویر تو آ ہی گئی ہوگی۔ جی ہاں! یہ شخص مرزا قادیانی ہے، جس نے ہندوستان میں جھوٹی نبوت کا ڈرامہ رچایا اور آج بھی اس کا برپا کردہ فتنہ اپنی تمام تر زہرناکیوں سمیت زندہ ہے۔ اذہان میں یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ اس شخص نے اتنے بہروپ کیوں اختیار کیے؟ وہ کیوں نت نئے چہرے سجاتا تھا؟ وہ کون سے مقاصد تھے جن کے حصول کے لیے وہ اتنے پینترے بدلتا اور اتنی قلابازیاں کھاتا تھا؟ اس کی وجہ صرف اور صرف یہ تھی کہ یہ شخص اقوامِ عالم کو اپنے گرد اکٹھا کرنا چاہتا تھا اور یہ پوری کائنات کا امام اور قائد بننا چاہتا تھا اور اس کا اعلان تھا کہ خدا نے مجھے تمام انسانوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے (نعوذ باللہ)۔ اب ذرا ذہن پر زور دے کر اس کے دعووں اور ان کے پیچھے کارفرما مذموم مقاصد کو سمجھئے۔ عیسائیوں کو اپنی جانب کھینچنے کے لیے اس کذاب نے دعویٰ کیا کہ ”میں مریم اور عیسیٰ ہوں“۔ یہودیوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے اس بہروپئے نے دعویٰ کیا کہ ”میں موسیٰ ہوں“۔ مسلمانوں کو گھیرنے کے لیے اس دجال نے دعویٰ کیا کہ ”میں محمد رسول اللہ ہوں“ (نعوذ باللہ)۔ ہندوؤں کو اپنا ہم نوا بنانے کے لیے اس مفتری نے دعویٰ کیا کہ ”میں کرشن ہوں“۔ سکھوں کو اپنا اسیر کرنے کے لیے اس رذیل نے دعویٰ کیا کہ ”میں جے سنگھ بہادر ہوں“۔ امراء جو دولت و اقتدار سے مرعوب ہوتے ہیں، انہیں

صفحہ 146

ورغلانے کے لیے اس نوسرباز نے دعویٰ کیا کہ ”میں مجسٹریٹ ہوں“۔ دلیر اور بہادروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کے لیے اس چڑی دل نے دعویٰ کیا کہ ”میں شیر خدا ہوں“۔ ادیبوں کو اپنے دام تزویر میں پھنسانے کے لیے کوچہ جہالت کے اس گداگر نے دعویٰ کیا کہ ”میں سلطان القلم ہوں“۔ مختلف قوموں اور برادریوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے اس انگریزی گرگٹ نے مختلف ذاتیں اور قومیں اپنائیں۔ کبھی سید بنا‘ کبھی چینی بنا‘ کبھی ایرانی بنا اور کبھی مغل بنا‘ تاکہ ہر قوم یہ سمجھے کہ یہ ہمارا فرد ہے اور لوگ جذبۂ قومیت کی وجہ سے اس کی جانب کھنچے چلے آئیں گے اور لاکھوں لوگ اس کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گے اور ان کی طاقت و قوت سے وہ معاشرے میں ایک طاقتور مقام حاصل کر لے گا۔ اس دجال اعظم کی سرتوڑ کوشش تھی کہ اس کے دعووں کی کمند سے کسی کی بھی گردن محفوظ نہ رہے اور ہر شخص اس کے کسی نہ کسی دعوے کے ناطے اس سے منسلک ہو جائے۔ دعووں کے ڈھیر میں سے چند دعوے پیش خدمت ہیں‘ ذرا ”بغور“ مطالعہ کیجئے!

”میں پہرہ دار ہوں“۔ ”میں سور مار ہوں“۔ ”میں سپہ سالار ہوں“۔ ”میں آریوں کا بادشاہ ہوں“۔ ”میں سراجاً منیرا ہوں“۔ ”میں غازی ہوں“۔ ”میں زمیندار ہوں“۔ ”میں چابک ہوں“۔ ”میں موتی ہوں“۔ ”میں برطانوی مورچہ ہوں“۔ ”میں چاند ہوں“۔

صفحہ 147

”میں سورج ہوں“۔

”میں بیت اللہ ہوں“۔

”میں مدینتہ العلم ہوں“۔

”میں میکائیل ہوں“۔

”میں معجون مرکب ہوں“۔

اب ذرا آپ غور کریں کہ زندگی کے اتنے گوشوں میں پھیلے اور بکھرے ہوئے مرزا قادیانی سے کتنے لوگ وابستہ ہوئے ہیں، مثلاً سور مار سے کسان، سپہ سالار سے فوجی، چابک سے کوچوان، موتی سے جوہری، برطانوی مورچہ سے انگریز، مدینتہ العلم سے طلباء وغیرہ وغیرہ۔ اور شاید مرزا قادیانی نے ”معجون مرکب“ ہونے کا دعویٰ اس لیے داغا کہ اگر کسی سے باقی تمام دعووں سے کوئی رابطہ یا تعلق نہ بنے تو ماسٹر دعویٰ ”معجون مرکب“ تو سب سے زبردستی تعلق پیدا کر لیتا ہے۔ مرزا قادیانی کی مثال اس شکاری کی سی ہے جو کسی خوبصورت مرغابی کو نیلگوں فضاؤں میں اڑتے دیکھتا ہے تو اسے شکار کرنے کے لیے صرف ایک چھرا نہیں مارتا بلکہ اپنے شکار کو یقینی بنانے کے لیے پورا کارتوس اس پر فائر کرتا ہے۔ کارتوس پھٹتا ہے اور چھرے فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ باقی چھرے تو ضائع ہو جاتے ہیں لیکن ایک یا دو چھرے مرغابی کو لگتے ہیں۔ مرغابی پھڑپھڑاتی ہوئی زمین پر آجاتی ہے اور اگلے ہی لمحے شکاری کا خنجر اس کی گردن پر چل رہا ہوتا ہے۔ اس طرح مرزا قادیانی بھی لوگوں کے ایمانوں کا شکار کرنے کے لیے اپنی ارتدادی بندوق میں ایک دعویٰ رکھ کر فائر نہیں کرتا تھا بلکہ سینکڑوں دعووں کا کارتوس چلاتا تھا۔ مرزا قادیانی کی ابلیسی انگلی ہلتی اور ارتدادی کارتوس ایک شیطانی قہقہے کی طرح پھٹتا اور اس کے ایمان شکن چھرے اپنے ہدف کی طرف لپک رہے ہوتے اور پھر کسی نہ کسی زہریلے دعوے کے چھرے سے کسی کا ایمان دم توڑ رہا ہوتا۔ مرزا قادیانی کے ان شیطانی دعووں کی کہانی 1908ء سے پہلے کی ہے، کیونکہ جعلسازوں کا یہ سربراہ اور نوسربازوں کا یہ امام 26 مئی 1908ء کو اپنے جھوٹے دعووں کی گٹھڑی

صفحہ 148

سر پر اٹھا کر جہنم پہنچ گیا۔ اب ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ اگر مرزا قادیانی آج کے دور میں ہوتا! تو اس کے دعووں کی نوعیت کیا ہوتی؟ اپنے دعووں کی دکان کس طرح سجاتا؟ اپنی ارتدادی تبلیغ پر کس طرح روانہ ہوتا؟ لوگوں سے کس طرح ملتا اور ان کو اپنے دام تزویر میں پھنسانے کے لیے کون کون سے حربے استعمال کرتا؟ 1908ء سے آج تک زمانے نے سینکڑوں مسافتیں طے کی ہیں۔ سائنس نے انسانی دنیا اور انسانی زندگی میں ایک حیرت انگیز انقلاب برپا کر دیا ہے۔ جہاں کل مٹی کے دیے ٹمٹماتے تھے، آج وہاں مرکری بلب ماحول کو بقعہ نور بنا رہے ہیں۔ دریاؤں کو ناقابل تسخیر سمجھنے والا انسان آج تحقیق کے نشتر سے سمندروں کے دل چیر رہا ہے۔ پرندوں کو ہوا میں اڑتا دیکھ کر حیران ہونے والا انسان آج خود ہواؤں میں محو پرواز ہے۔ تلواروں اور لاٹھیوں سے لڑنے والا انسان آج ایٹم بم سے مسلح ہے۔ چھکڑوں میں سفر کرنے والا آج چاند پر قدم رکھ چکا ہے اور مریخ پر کمند ڈالنے کا عزم اپنے سینے میں لیے بیٹھا ہے۔ آج تہذیب و تمدن نے ایک نئی کروٹ لے لی ہے۔ رسم و رواج نے ایک نئی دنیا بسا لی ہے۔ رہن سہن کے ماڈرن انداز ہیں۔ نت نئے ڈیزائنوں کے لباس ہیں۔ جدید طرز تعمیر کے مکانات اور بنگلے ہیں۔ جدید مواصلاتی نظام ہے۔ سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور دفاتر کی ایک بہار ہے، غرضیکہ انسانی زندگی میں ایک تغیر اور انقلاب آ چکا ہے، لہٰذا اگر مرزا قادیانی آج کے دور میں وارد ہوتا تو وہ نئے زمانے کے سانچوں میں ڈھل کے آتا۔ دجل و فریب کے جدید ہتھیاروں سے لیس ہوتا۔ جین کی پینٹ پہنتا۔ پینٹ پر بیلٹ سجاتا۔ رم جھم کی قمیص پہنتا۔ آکسفورڈ کی ٹائی لگاتا۔ امریکن سٹائل کا کوٹ پہنتا۔ کوٹ کی جیب میں لال رومال لگاتا۔ رے بین کی عینک آنکھوں پہ بہار دکھاتی اور راڈو کی گھڑی کلائی پر چمکتی نظر آتی۔ پاؤں میں ”انگلش شوز“ کا جوتا ہوتا۔ لباس سے چارلی پرفیوم خوشبوئیں بکھیر رہا ہوتا۔ منہ سے گولڈ لیف کا سگریٹ دھواں چھوڑ رہا ہوتا۔ ہاتھ کی انگلی میں ڈائمنڈ کی انگوٹھی چمک رہی ہوتی۔ گلے میں سونے کا لاکٹ لٹک رہا ہوتا اور ہاتھ میں دعووں سے بھرا ہوا بریف کیس پکڑا ہوتا اور یوں ”لوجیک“لوجیک”لوجیک ”لوجیک“

صفحہ 149

اور ”سکس ملین ڈالر مین“ اسے دیکھ دیکھ شرماتے! لیکن یہ ساری تیاری تو صرف جدید تہذیب کے دلدادہ لوگوں کے لیے ہوتی۔ مرزا قادیانی کو تو پرانی وضع اور پرانی بود و باش رکھنے والے لوگوں کے پاس بھی جانا ہے، اس لیے وہ نئی اور پرانی تہذیب کے اشتراک سے اپنا لباس سیٹ کرتا اور اپنے دعوے کے عین مطابق ”معجون مرکب“ بن جاتا اور وہ ”معجون مرکب“ کچھ یوں ہوتی: اگر ایک ٹانگ میں جین کی پینٹ پہنتا تو دوسری میں گھیرے دار شلوار۔ اگر ایک پاؤں میں ”انگلش شوز“ کا جوتا تو دوسری میں چوہدری شوز کا کھسہ۔ اگر ٹیڑھی آنکھوں پر رے بین کی عینک لگاتا تو سر پر پگڑی باندھتا۔ اگر گلے میں ٹائی لگاتا تو کانوں میں ”مندراں“ بھی ڈالتا اور بریف کیس میں دھوتی بھی رکھتا۔ پھر گلی گلی، کوچہ کوچہ، قریہ قریہ، گاؤں گاؤں، پیدل اور جوگنگ کرتے ہوئے اپنی شیطانی تبلیغ میں جت جاتا۔ موجودہ دور میں دجال قادیان کی باتیں، گھاتیں، وارداتیں اور ملاقاتیں کچھ یوں ہوتیں۔ اگر بچوں کے پاس جاتا تو کہتا، میں ”کھٹی میٹھی“ گولی ہوں۔ اگر زمیندار کے ہاں پہنچتا تو کہتا، میں ”زرعی ترقیاتی بینک“ ہوں۔ اگر طلباء کے پاس پہنچتا تو کہتا، میں ”گیس پیپر“ ہوں۔ اگر ڈاکوؤں کے گروہ سے ملاقات ہوتی تو کہتا، میں ”کلاشنکوف“ ہوں۔ اگر آوارہ نوجوانوں میں جا بیٹھتا تو کہتا، میں ”وی۔ سی۔ آر“ ہوں۔ اگر فوجیوں میں جا گھستا تو کہتا، میں F-16 ہوں۔ اگر ہیجڑوں سے ملاقات کرتا تو کہتا، میں ”گھنگھرو“ ہوں۔ اگر حکمرانوں کے ہاں جا ٹپکتا تو کہتا، میں ”امریکی امداد“ ہوں۔ اگر پہلوانوں کے اکھاڑے میں پہنچ جاتا تو کہتا، میں ”انوکی“ ہوں۔ اگر سرکاری ملازمین سے ملتا تو کہتا، میں ”مہنگائی الاؤنس“ ہوں۔ سائنس دانوں کی محفل میں داخل ہوتا تو کہتا، میں ”ایٹم بم“ ہوں۔ اگر کرکٹ کے شائقین کے حلقہ میں بیٹھ جاتا تو کہتا، میں ”تھامسن“ ہوں۔ اگر کسی کو ننگے پاؤں دیکھتا تو جھک کے کہتا، میں ”باٹا کا جوتا“ ہوں۔ اگر کسی سائیکل سوار سے ملتا تو لپک کے کہتا، میں ”میکرو“ ہوں۔ اگر کسی کو حقہ پیتے دیکھتا تو مسکرا کے کہتا، میں ”گولڈ لیف“ ہوں۔ اگر کسی نشہ باز سے ملتا تو گردن گھما کے کہتا، میں ”ہیروئن“ ہوں۔ اگر کنیا میں

صفحہ 150

بیٹھے کسی غریب کو چولہے میں گھاس پھونس ڈال کر روٹی پکاتے دیکھتا تو سر جھکا کے کہتا، میں ”سوئی گیس“ ہوں۔ اگر کسی تھانہ میں جانے کا اتفاق ہوتا تو کہتا، میں ”ایم۔ پی۔ اے“ ہوں۔ اگر فیشن کی دلدادہ خواتین کے جھرمٹ میں جا گھستا تو کہتا، میں ”بیوٹی پارلر“ ہوں۔ اگر موٹاپے سے تنگ آئے فربہ جسموں کی محفل میں بیٹھتا تو کہتا، میں ”سلمنگ سنٹر“ ہوں۔ اگر کسی انتہائی کمزور اور لاغر شخص سے ملتا تو کہتا، میں ”خمیرہ گاؤ زبان عنبری جواہر دار“ ہوں۔ اگر موسیقی کے پرستاروں کے حلقہ میں وارد ہوتا تو کہتا، میں ”میڈونا“ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن موجودہ دور میں مرزا قادیانی کا دعووں کا کاروبار ٹھپ ہو جاتا۔ ہر دعویٰ تھپڑ کا روپ دھار کے تڑاخ سے اس کے منہ پر واپس آتا۔ لوگ مرزا قادیانی کو بری طرح گھیر لیتے۔ ہر دعوے کا ثبوت مانگتے، ہر دعوے کی عملی صورت کی تصدیق چاہتے۔ لوگوں کا مطالبہ ہوتا کہ اگر تو کھٹی میٹھی گولی ہے تو ذرا داڑھ کے نیچے تو آ۔ اگر ایٹم بم ہے تو چل کے دکھا۔ اگر زرعی ترقیاتی بینک ہے تو پانچ لاکھ روپے قرض تو دے۔ اگر F-16 ہے تو فضا میں دو چار قلابازیاں تو لگا! اگر تھامسن ہے تو باؤلنگ کا مظاہرہ تو کر۔ اگر پاؤں کا جوتا ہے تو پاؤں کی زینت تو بن، اگر پجیرو ہے تو چار پانچ سواریوں کو اپنے کندھے پر تو اٹھا۔ اگر کلاشنکوف ہے تو اپنے منہ سے دو چار برسٹ تو نکال۔ لوگوں کے ٹھاہ ٹھاہ جواب سن کر مرزا قادیانی ہڑبڑا اٹھتا، سٹپٹا اٹھتا اور چکرا اٹھتا اور اپنے چکرائے ہوئے سر کو پکڑ کے اپنے آپ سے کہتا کہ کیسا ہوشیار زمانہ آگیا ہے! لوگ کس قدر ہوشیار ہو گئے ہیں۔ پہلے زمانے کے لوگ کس قدر سادہ لوح تھے۔ کس قدر مت ماری ہوتی تھی مجھ پر ایمان لانے والوں کی کہ میری چند شعبدہ بازیاں دیکھ کر متاع ایمان میرے ہاتھ پر رکھ دیتے تھے اور ان عقل کے اندھوں کو جہاں بٹھا دیتا، بیٹھے رہتے۔ لیکن ان لوگوں پر میری کوئی مکاری، عیاری، شعبدہ کاری اور دعویٰ بازی اثر نہیں کر رہی۔ لوگوں کے تیور بدل جاتے اور مرزا قادیانی کی گھبراہٹ میں اضافہ ہوتا۔ مرزا قادیانی چکمہ دے کر بھاگنے کی کوشش کرتا لیکن لوگ فوراً اسے دبوچ لیتے اور گھسیٹتے پیٹتے تھانے لے جاتے۔ جہاں اس کے خلاف

صفحہ 151

دعویٰ نبوت کرنے کے جرم میں توہین رسالتؐ کا مقدمہ درج ہوتا۔ پورے ملک میں احتجاجی تحریک شروع ہو جاتی۔ بپھرے ہوئے عوام سڑکوں پر نکل آتے۔ لوگ حکومت سے مطالبہ کرتے کہ اب تو انگریز کی حکومت نہیں‘ اب تو ہم غلام نہیں‘ اب تو پاکستان بن چکا ہے جس کی بنیادیں اسلام پر اٹھائی گئی ہیں‘ اب تو پاکستان میں توہین رسالتؐ کی سزا قتل نافذ ہوچکی ہے‘ اب انگریزی نبی کا لحاظ کیسا؟ اس گستاخ رسولؐ کو کیفر کردار تک پہنچاؤ۔ اس دشمن اسلام کو تختہ دار پر لٹکاؤ۔ عوام کے پرزور مطالبہ پر خصوصی عدالت میں مرزا قادیانی پر مقدمہ چلتا اور اسے توہین رسالتؐ اور دعویٰ نبوت کے جرم میں سزائے موت دی جاتی۔ مینار پاکستان کے وسیع و عریض گراؤنڈ میں پھانسی چڑھانے کا اعلان اخبارات‘ ریڈیو اور ٹیلی وژن پر کیا جاتا۔ اندرون اور بیرون ملک سے لاکھوں لوگ جوق در جوق اسے پھانسی چڑھتے ہوئے دیکھنے کے لیے آتے۔ لاکھوں کے مجمع میں اسے پھانسی چڑھایا جاتا۔ پھانسی کے بعد اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر لپک پڑتا اور جب لوگ اس قائد المنافقین اور پیشوائے مرتدین کو اس کی اصل صورت میں دیکھتے تو بار بار دیکھتے‘ بغور دیکھتے‘ سرتاپا دیکھتے اور پھر سبھی کی زبانوں پر جاری ہوتا۔

خرس کا سر‘ شکل بندر کی ہے‘ منہ خنزیر کا
ایک پہلو یہ بھی ہے انسان کی تصویر کا
(مجید لاہوریؒ)
صفحہ 28
PDF 153

مرزا قادیانی

کے

ابّے

سے ملیے !

صفحہ 154

ایک تپتی دوپہر میں مالی سے نظر بچا کر ایک لڑکا گاؤں کے آموں کے باغ میں گھس گیا اور درخت پر چڑھ کر دھڑا دھڑ آم توڑنے لگا۔ آہٹ اور سرسراہٹ سن کر مالی درخت کی جانب لپکا اور لڑکے کو جا پکڑا۔ منہ پر دو چار طمانچے رسید کئے اور غصہ میں لڑکے سے مخاطب ہو کر کہنے لگا ”چل تجھے تیرے باپ کے پاس لیکر چلتا ہوں۔ باقی سزا تجھے وہ دے گا“ اور پھر لڑکے کو کالر سے کھینچتے ہوئے کہنے لگا ”بتا تیرا باپ کدھر ہے؟“ لڑکا منہ بسور کر کہنے لگا ”وہ ساتھ والے باغ میں آم توڑ رہا ہے، اس نے ہی میری ڈیوٹی اس باغ میں لگائی ہے اور اسی نے مجھے چپکے چپکے پھل توڑنے اور درخت پر چڑھنے کے فن سکھائے ہیں“ یہ سن کر مالی، عالم حیرانی و پریشانی میں کھو گیا کہ الہی! یہ کیسے باپ بیٹا ہیں کہ باپ بھی چور اور بیٹا بھی چور! مالی انگلی منہ میں دبائے سوچ کی وادیوں میں گم سم کھڑا تھا کہ لڑکا موقع پا کر بھاگ گیا۔ یہ آپ نے ایک چور باپ اور ایک چور بیٹے کی کہانی سنی، جو آم چور تھے۔ لیکن آج ہم آپ کو ملت اسلامیہ کی خونچکاں تاریخ کے صفحات سے ایک چور باپ بیٹے کی کہانی سناتے ہیں۔ وہ دونوں ملت اسلامیہ کی عظمت و حرمت کے چور تھے۔ وہ دونوں قوم حجاز کی ملی غیرت کے لٹیرے تھے۔ ان دونوں کی تلواروں پر مظلوم مسلمانوں کا خون چمکتا تھا۔ وہ دونوں ملت بیضا کے غدار اور برطانوی گورنمنٹ کے وفادار تھے۔ وہ دونوں قوم مسلم کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مہکتے گلستانوں سے نکال کر صلیب کے منحوس جھنڈے تلے کھڑا کرنا چاہتے تھے۔ باپ کا نام مرزا غلام مرتضیٰ اور بیٹے کا نام مرزا غلام احمد قادیانی تھا۔ جب کہ مرزا غلام مرتضیٰ کا دوسرا بیٹا اور مرزا غلام احمد قادیانی کا اکلوتا بڑا بھائی مرزا غلام قادر بھی ساری زندگی انہیں شنیع دھندوں میں مصروف رہا۔ مرزا غلام احمد قادیانی انگریزی نبی بنا اور مرزا غلام قادر آزادی کے سپاہیوں کے خلاف فرنگی بے ایمان کا بازوئے شمشیر زن تھا۔ دنیا میں شاید ہی کسی شخص کی اولاد اتنی بدترین ہو۔

قادیانی اپنے نبی کے باپ کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں اور مرزا قادیانی کا اس کے گھر پیدا ہونے کو اس کی عظمت گردانتے ہیں، لیکن ہم نے قادیانی کتب سے حوالے ڈھونڈ ڈھونڈ کر، آئینہ حقیقت میں مرزا قادیانی کے ابے کی

صفحہ 155

شکل پورے خدوخال کے ساتھ دکھانے کا اہتمام کیا ہے۔ لیجئے مرزا قادیانی کا ”ابا“ برائے تفصیلی معائنہ آپ کے سامنے حاضر ہے اور آپ بھی اپنی آنکھوں اور دماغوں کو حاضر کر لیجئے!

دربار فرنگی میں مرزا غلام مرتضیٰ کی عزت :۔ دربار فرنگی جہاں سے آزادی کے متوالوں کو موت کے پروانے ملتے تھے، کالا پانی یعنی جزائر انڈیمان کے عقوبت خانوں کی سزائیں ملتی تھی، اسی دربار میں غدار وطن مرزا غلام مرتضیٰ کی کیا عزت و اہمیت تھی؟ اس واقعہ سے اندازہ لگائیے ۔ ”بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے کہ ایک دفعہ بٹالہ کے ایک ہندو حجام نے دادا صاحب سے کہا کہ میری معافی ضبط ہو گئی ہے۔ آپ ایجرٹن صاحب فنانشل کمشنر سے میری سفارش کریں۔ دادا صاحب اسے اپنے ساتھ لاہور لے گئے۔ اس وقت لاہور کے شالا مار باغ میں ایک جلسہ ہو رہا تھا۔ دادا صاحب نے وہاں جا کر جلسہ کی کارروائی ختم ہونے کے بعد ایجرٹن صاحب سے کہا کہ آپ اس شخص کا ہاتھ پکڑ لیں۔ صاحب گھبرایا کہ کیا معاملہ ہے۔ مگر دادا صاحب نے اصرار سے کہا تو اس نے ان کی خاطر اس حجام کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس کے بعد دادا صاحب نے صاحب سے کہا کہ ہمارے ملک میں دستور ہے کہ جب کسی کا ہاتھ پکڑ لیتے ہیں تو پھر خواہ سر چلا جائے، چھوڑتے نہیں۔ اب آپ نے اس کا ہاتھ پکڑا ہے۔ اس کی لاج رکھنا، پھر کہا کہ اس کی معافی ضبط ہو گئی ہے، کیا معافیاں دے کر بھی ضبط کیا کرتے ہیں؟ اس کی معافی بحال کر دیں۔ ایجرٹن صاحب نے اس کی مسل طلب کر کے معافی بحال کر دی۔ یہی ایجرٹن صاحب بعد میں پنجاب کا لیفٹیننٹ گورنر ہو گیا۔ (سیرت المہدی ص ۲۲۸ حصہ اول مصنفہ مرزا بشیر احمد بن مرزا قادیانی)

”مامے دا راج“ :۔ ”بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے کہ ایک دفعہ جب ڈیوس صاحب اس ضلع میں مہتمم بندوبست تھا اور ان کا عملہ بٹالہ میں کام کرتا تھا۔ قادیان کا ایک پٹواری جو قوم کا برہمن تھا اور محکمہ بندوبست مذکور میں کام کرتا تھا۔ تایا صاحب مرزا غلام قادر کے

صفحہ 156

ساتھ گستاخانہ رنگ میں پیش آیا۔ تایا صاحب نے وہیں اس کی مرمت کر دی۔ ڈیویس صاحب کے پاس شکایت گئی تو اس نے تایا صاحب پر ایک سو روپیہ جرمانہ کیا۔ دادا صاحب اس وقت امرتسر میں تھے۔ ان کو اطلاع ہوئی تو فوراً ایجرٹن صاحب کے پاس چلے گئے اور حالات سے اطلاع دی۔ اس نے دادا صاحب کے بیان پر بلا طلب مسل جرمانہ معاف کر دیا۔ (سیرت المہدی ص ۲۲۹ حصہ اول مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)

پٹواری صاحب! آپ نے ایسے ہی اپنی مرمت کروائی۔ آپ کو معلوم نہیں تھا کہ آپ نے کتنے بڑے غدار کے بیٹے کے سامنے زبان کھولنے کا جرم کیا۔ پٹواری جی آپ کی خوب پٹائی ہوئی لیکن مجرم کو بلا طلب مسل معاف کر دیا گیا۔

گھر کا قانون :۔ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ ایک دفعہ تایا صاحب پولیس میں ملازم تھے۔ نسبٹ صاحب ڈپٹی کمشنر ضلع نے کسی بات پر ان کو معطل کر دیا۔ اس کے بعد جب نسبٹ صاحب قادیان آیا تو خود دادا صاحب سے ذکر کیا کہ میں نے آپ کے بیٹے کو معطل کر دیا۔ دادا صاحب نے کہا کہ اگر قصور ثابت ہے تو ایسی سخت سزا دینی چاہئے کہ آئندہ شریف زادے ایسا قصور نہ کریں۔ صاحب نے کہا جس کا باپ ایسا ادب سکھانے والا ہو اس کو سزا دینے کی ضرورت نہیں اور تایا صاحب کو بحال کر دیا۔“ (سیرت المہدی ص ۲۲۹ حصہ اول مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)

ہم اس پیار بھری معطلی اور محبت بھری بحالی پر یہی کہہ سکتے ہیں۔

اس شرط پہ کھیلوں گی پیا تجھ سے میں بازی جیتوں تو تجھے پاؤں ہاروں تو پیا تیری

(ناقل) یا

دل کا کیا ہے اسے منا لیں گے وہی ہو گا جو آپ چاہیں گے (ناقل)

شوق حقہ نوشی :۔ ” بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے کہ دادا صاحب حقہ بہت پیتے تھے۔ (سیرت المہدی ص

صفحہ 157

۲۳۰ حصہ اول مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)

پینشن کماتے تھے اور حقہ پیتے تھے۔ کیا اعلیٰ شوق پائے تھے، فرنگی نبی کے ابا جان نے! بیٹا فرنگی نبی ہو کر افیم کھاتا تھا اور پلومر کی شراب سے دل بہلاتا تھا اور باپ بناسپتی نبی کا باپ ہو کر حقے کی نے منہ میں دبا کر گڑ گڑ کی آوازیں نکال کر خوشی سے پھولا نہ سماتا تھا۔ (ناقل)

تاکید نماز پر برہمی :۔ "بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے کہ ایک دفعہ قادیان میں ایک بغدادی مولوی آیا۔ دادا صاحب نے اس کی بڑی خاطر و مدارت کی۔ اس مولوی نے دادا صاحب سے کہا، مرزا صاحب آپ نماز نہیں پڑھتے؟ دادا صاحب نے اپنی کمزوری کا اعتراف کیا اور کہا کہ ہاں بے شک میری غلطی ہے۔ مولوی صاحب نے پھر بار بار اصرار کے ساتھ کہا اور ہر دفعہ دادا صاحب یہی کہتے گئے کہ میرا قصور ہے۔ آخر مولوی نے کہا آپ نماز نہیں پڑھتے۔ اللہ آپ کو دوزخ میں ڈال دے گا۔ اس پر دادا صاحب کو جوش آگیا اور کہا " تمہیں کیا معلوم ہے کہ وہ مجھے کہاں ڈالے گا۔" (سیرت المہدی ص ۲۳۱ حصہ اول

مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)

جہاں تیرے آقا انگریز کو ڈالے گا، وہیں تجھے ڈالے گا (ناقل)

محفل عیش و طرب :۔ "بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے کہ تایا صاحب کی شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی تھی اور کئی دن تک جشن رہا اور ۲۲ طائفے ارباب نشاط کے جمع تھے۔" (سیرت المہدی

حصہ اول ص ۲۳۳ مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)

قارئین! مرزا غلام مرتضیٰ کے بیٹے اور مرزا قادیانی کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر کی شادی بڑی دھوم دھام سے ہو رہی ہے ....... بزم عیش و طرب آراستہ ہے ....... رقاصاؤں کا حسن عریاں اپنی حشر سامانیاں دکھا رہا ہے ...... ٹھمکے پہ ٹھمکا لگ رہا ہے ........... شریر جسموں کے زاویئے بن اور ٹوٹ رہے ہیں ....... نوٹ لٹائے جا رہے ہیں ....... شہنائیاں بج رہی ہیں ........... گھنگروؤں کی جھنکار ہے ........ سرنگی کی کیں

صفحہ 158

کہیں ہے ..... ڈھولن کی تھاپ ہے ....... باجوں پہ نغموں کی دھنیں ہیں ........ اور قادیانی نبوت کا خاندان بدمستی میں سر دھن رہا ہے ...... اور شاید کسی مغنیہ کی رسیلی آواز پہ مرزا غلام مرتضیٰ اپنے دونوں بیٹوں اور دوستوں سمیت بدمست ہو کر لڈی اور دھمال ڈالتا ہوا یہ گا رہا ہو گا۔

”دم مارو دم مٹ جائے غم“ (ناقل)

غدار کے بیٹے کی عزت :۔ مرزا غلام مرتضیٰ مرتے وقت اپنے بیٹے مرزا غلام احمد کا ہاتھ اپنے آقا فرنگی کے ہاتھ میں دے گیا تھا اور فرنگی سے کہا تھا کہ میری اس سوغات کو سنبھال کر رکھنا۔ دیکھنے میں تو یہ پھٹا پرانا ہے، لیکن چیز بڑے کام کی ہے۔ یہ تمہارا وہ کام کرے گا جس کے تصور سے ہی بڑے بڑے غدار کانپ جائیں گے۔ انگریز نے بعد میں اسی سوغات سے دعویٰ نبوت کرایا اور مسلمانوں کی وحدت پر کاری ضرب لگائی۔ اپنے دعویٰ نبوت اور خاندانی غدار ہونے کے ناطے مرزا قادیانی کی فرنگی دربار میں کیا قدر و منزلت تھی۔ مندرجہ ذیل مثال اس پر خوب روشنی ڈال رہی ہے۔

”بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ جب مولوی محمد حسین بٹالوی قتل کے مقدمہ میں حضرت صاحب کے خلاف پیش ہوا تو اس نے کمرے میں آ کر دیکھا کہ حضرت صاحب ڈگلس کے پاس عزت کے ساتھ کرسی پر تشریف رکھتے ہیں‘ اس پر حسد نے اسے بے قرار کر دیا۔ چنانچہ اس نے بھی حاکم سے کرسی مانگی اور چونکہ وہ کھڑا تھا اور اسکے اور حاکم کے درمیان پنکھا تھا‘ جس کی وجہ سے وہ حاکم کے چہرہ کو دیکھ نہ سکتا تھا۔ اس لئے اس نے پنکھے کے نیچے سے جھک کر حاکم کو خطاب کیا۔ مگر ڈگلس نے جواب دیا کہ میرے پاس کوئی ایسی فہرست نہیں ہے۔ جس میں تمہارا نام کرسی نشینوں میں درج ہو۔ اس پر اس نے پھر اصرار کے ساتھ کہا۔ تو حاکم نے ناراض ہو کر کہا کہ بک بک مت کر پیچھے ہٹ اور سیدھا کھڑا ہو جا۔“ (سیرت المہدی حصہ اول ص ۲۴۸ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

انگریزوں کا نوکر :۔ مرزا قادیانی اپنے باپ کی غداریوں پر گواہی دیتا ہوا کہتا ہے۔

” اور میرا باپ اس طرح خدمات میں مشغول رہا۔ یہاں تک کہ پیرانہ سالی

صفحہ 159

تک پہنچ گیا اور سفر آخرت کا وقت آگیا اور اگر ہم اس کی تمام خدمات لکھنا چاہیں تو اس جگہ سما نہ سکیں اور ہم لکھنے سے عاجز رہ جائیں۔ پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرا باپ سرکار انگریزی کے مراحم کا ہمیشہ امیدوار رہا اور عندالضرورت خدمات بجا لاتا رہا۔ یہاں تک کہ سرکار انگریز نے اپنی خوشنودی کی چٹھیات سے اس کو معزز کیا اور ہر وقت اپنی عطاؤں کے ساتھ اس کو خاص فرمایا اور اس کی غم خواری فرمائی اور اس کی رعایت رکھی اور اس کو اپنے خیر خواہوں میں سے سمجھا۔ (نورالحق حصہ اول ص ۲۸ مصنفہ مرزا قادیانی)

لعنت بر پدر فرنگ (ناقل)

باپ کے بعد بیٹے، مسند غداری پر:۔ مرزا غلام احمد نے اپنے دونوں بیٹوں کی تربیت ایسے زہریلے انداز سے کی کہ اس کی موت کے بعد اس کے دونوں بیٹے اس سے زیادہ انگریز کے وفادار اور مسلمانوں کے لئے جفا دار ثابت ہوئے۔ اور انہوں نے اپنے باپ کے ناپاک مشن کو خوب چلایا۔ اس بات کی گواہی مرزا قادیانی سے سنئے۔ "پھر جب میرا باپ فوت ہو گیا۔ تب ان خصلتوں میں اس کا قائم مقام میرا بھائی ہوا۔ جس کا نام مرزا غلام قادر تھا اور سرکار انگریزی کی عنایات ایسے ہی اس کے شامل حال ہو گئیں جیسی کہ میرے باپ کے شامل حال تھیں اور میرا بھائی چند سال بعد اپنے والد کے فوت ہو گیا۔ پھر ان دونوں کی وفات کے بعد میں ان کے نقش قدم پر چلا اور ان کی سیرتوں کی پیروی کی" (نور الحق حصہ اول ص ۲۸ مصنفہ مرزا قادیانی) اور شیطان کی قیادت میں آج تک تیری ناپاک ذریت تیرے ناپاک نقش قدم پر چل رہی ہے۔ (ناقل)

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں انگریزوں کا سپاہی :۔ "میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے، میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا۔ جن کو دربار انگریزی میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی "تاریخ رئیسان پنجاب" میں ہے اور ۱۸۵۷ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی یعنی پچاس سوار اور

صفحہ 160

گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے، پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا اور جب تمون کی گزر گاہ پر غداروں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔" (کتاب البریہ اشتہار مورخہ ۲۰ ستمبر ۱۸۹۷ء ص ۳ مصنفہ مرزا قادیانی)

غدار خاندان کا سربراہ :۔ "سب سے پہلے میں یہ اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ میں ایسے خاندان میں سے ہوں جس کی نسبت گورنمنٹ نے ایک مدت دراز سے قبول کیا ہوا ہے کہ وہ خاندان اول درجہ پر سرکار دولت مدار انگریزی کا خیر خواہ ہے۔" (مرزا قادیانی کی لیفٹیننٹ گورنر بہادر کے حضور درخواست مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ہفتم ص ۸ ۔ ۹ ۔ ۱۱ مولفہ میر قاسم علی قادیانی)

انگریزوں کا پرورش کردہ خاندان :۔ مرزا غلام مرتضی کا خاندان انگریزوں کا پالا پوسا خاندان تھا۔ جن کی ہر جائز و ناجائز ضرورت پورا کرنا اور ان کی ہر طرح سے حفاظت کرنا برطانوی گورنمنٹ کا فرض تھا۔ اس موضوع پر مرزا قادیانی کس فخر کے ساتھ اظہار خیال کرتے ہوئے کہتا ہے۔

"ہمارا جاں نثار خاندان سرکار دولت مدار (سلطنت انگلیشیہ) کا خود کاشتہ پودا ہے۔ ہم نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنا خون بہانے اور جان دینے سے بھی کبھی دریغ نہیں کیا۔" (تبلیغ رسالت جلد ہفتم مصنفہ مرزا قادیانی)

مرزا غلام قادر کی موت پر انگریزی حکومت کا تمغہ خدمت :۔ مرزا قادیانی کے باپ کے جہنم رسید ہونے پر پنجاب کے فنانشل کمشنر نے مرزا قادیانی کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر کے پاس ۱۹ جون ۱۸۷۶ء کو جو مراسلہ بھیجا اس میں تعزیتی کلمات کے بعد لکھا گیا مضمون پیش خدمت ہے۔

صفحہ 161

"Ghulam Murtaza who was a great well wisher and faithful Chief of Government. In consideration of your family services, I will esteem you with the same respect as that on your loyal father, I will keep in mind the restoration welfare of your family when a favourable opportunity occurs"

ترجمہ : "مرزا غلام مرتضیٰ سرکار انگریز کا اچھا خیر خواہ اور وفادار رئیس تھا، آپ کے خاندان کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم آپ کی بھی اسی طرح عزت کریں گے، جس طرح تمہارے وفادار باپ کی کی جاتی تھی۔ ہم کو اچھے موقع کے نکلنے پر تمہارے خاندان کی بہتری اور پابجائی کا خیال رہے گا۔" (المرقوم ۲۹ جنوری ۱۸۷۶ء کتاب البریہ مصنفہ مرزا قادیانی)

خوب عہد نبھا رہے ہو۔ آج بھی اس کے پڑپوتے مرزا طاہر کو لندن میں سینے سے لگائے بیٹھے ہو۔ دنیا کی یہ دو اسلام دشمن قوتیں اس عہد کو کیوں نہ نبھائیں، دونوں ایک دوسرے کی ضرورت ہیں، دونوں کے مقاصد ایک ہیں اور دونوں کی منزل ایک ہے!

غدار نامہ یا اعمال نامہ :۔ قادیانیوں کی نئی نسل سے میں دست بستہ گذارش کرتا ہوں کہ وہ آنکھوں سے تعصب کی پٹی اتار کر اور خالی الذھن ہو کر دربار فرنگی سے مرزا قادیانی کے باپ مرزا غلام مرتضیٰ اور بھائی مرزا غلام قادر کے نام جاری ہونے والے ان خطوط کو پڑھیں، جن کے ہر ہر لفظ سے غداری کی بدبو اٹھتی ہے اور جن کی ہر ہر سطر سے ضمیر فروشی و وطن فروشی کا تعفن پیدا ہوتا ہے اور پھر اس خاندان سے انگریز کو اپنی انگریزی نبوت چلانے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کے صورت میں جھوٹا نبی ملتا ہے جو ملت اسلامیہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لئے عقیدہ ختم نبوت پر حملہ آور ہوتا ہے اور ہندوستان کے غلام مسلمانوں کو مزید غلامی کے قعر مذلت میں گرانے کے لئے جہاد کے حرام ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ قادیانی نوجوانو! ان خطوط کو پڑھ کر فکر کے اعتکاف میں بیٹھ کر سوچنا کہ تم کس قبیلے کے ساتھ وابستہ ہو؟ تمہاری آخرت کس

صفحہ 162

کے ساتھ وابستہ ہے؟ خدا نے آنکھیں دی ہیں دیکھو، خدا نے دماغ دیا ہے۔ پرکھو، سوچو، کیونکہ آمد عزرائیل کے بعد ہر سوچ لاحاصل ہو گی!

"مرزا صاحب مشفقی مہربان دوستان مرزا غلام مرتضیٰ خاں صاحب رئیس قادیان، بصد شوق ملاقات واضح ہو کہ پچاس گھوڑے مع سواران زیر افسری مرزا غلام قادر برائے امداد سرکاری و سرکوبی مفسدان مرسلہ آن مشفق ملاحظہ سے گزرے۔ ہم اس ضروری امداد کا شکریہ ادا کر کے وعدہ کرتے ہیں کہ سرکار انگریزی آپ کی اس وفاداری اور جاں نثاری کو ہرگز فراموش نہ کرے گی۔ آں مشفق اس مراسلہ کو بمراد اظہار خدمات سرکار اپنے پاس رکھیں۔ تاکہ آئندہ افسران انگریزی کو آپ کے خاندان کی خدمات کا لحاظ رہے۔ فقط (الراقم مسٹر جیمس نسبٹ صاحب) بہادر ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور دستخط بحروف انگریزی ۵۷ء مقام گورداسپور

خاکسار عرض کرتا ہے کہ مرزا غلام مرتضیٰ صاحب حضرت صاحب کے والد ماجد تھے۔ جنہوں نے ۱۸۵۷ء کے غدر کے موقعہ پر اپنی گرہ سے پچاس گھوڑے اور ان کا سارا ساز و سامان مہیا کر کے اور پچاس سوار اپنے عزیزوں اور دوستوں سے تیار کر کے سرکار کی امداد کے لئے پیش کئے تھے۔

از پیش گاہ (مسٹر جیمس نسبٹ صاحب بہادر) ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور دستخط بحروف انگریزی (مہر دفتر ڈپٹی کمشنر گورداسپور) عزیز القدر مرزا غلام قادر ولد مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان۔ بمقابلہ باغیاں ناعاقبت اندیش ۵۷ء آں عزیز القدر نے بمقام میر تھل اور ترموں گھاٹ جو شجاعت اور وفاداری سرکار انگریزی کی طرف سے ہو کر ظاہر کی ہے۔ اس سے ہم اور افسران ملٹری بدل خوش ہیں۔ ضلع گورداسپور کے رئیسوں میں سے اس موقعہ پر آپ کے خاندان نے سب سے بڑھ کر وفاداری ظاہر کی ہے، آپ کے خاندان کی وفاداری کا سرکار انگریزی کے افسران کو ہمیشہ مشکوری کے ساتھ خیال رہے گا۔ یہ جلدوئے اس وفاداری کے ہم اپنی طرف سے آں عزیز القدر کو یہ سند بطور خوشنودی

صفحہ 163

مزاج عطا فرماتے ہیں۔

المرقوم یکم اگست ۱۸۵۷ء

خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ مرزا غلام قادر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حقیقی بھائی تھے جو حضرت صاحب سے چند سال بڑے تھے اور ۱۸۸۳ء میں فوت ہوئے۔

دستخط بحروف انگریزی جنرل نکلسن بہادر

تہور پناہ شجاعت دستگاہ مرزا قادر خلف مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان۔

”چونکہ آپ نے اور آپ کے خاندان نے بمقابلہ باغیان بداندیش و مفسدان بدخواہ سرکار انگریزی غدر ۱۸۵۷ء میں بمقام ترموں گھاٹ و میرتھل وغیرہ نہایت دلیری اور جاں نثاری سے مدد دی ہے۔ اور اپنے آپ کو سرکار انگریزی کا پورا وفادار ثابت کیا ہے اور اپنے طور پر پچاس سوار معہ گھوڑوں کے بھی سرکار کی مدد اور مفسدوں کی سرکوبی کے واسطے امداد دیئے ہیں۔ اس واسطے حضور ایں جناب کی طرف سے بنظر آپ کی وفاداری اور بہادری کے پروانہ ہذا سنداً آپ کو دے کر لکھا جاتا ہے کہ اس کو اپنے پاس رکھو۔ سرکار انگریزی اور اس کے افسران کو ہمیشہ آپ کی خدمات اور ان حقوق اور جاں نثاری پر جو آپ نے سرکار انگریزی کے واسطے ظاہر کئے ہیں۔ احسن طور پر توجہ اور خیال رہے گا۔ اور ہم بھی بعد سرکوبی و انتشار مفسدان آپ کے خاندان کی بہتری کے واسطے کوشش کریں گے اور ہم نے مسٹر نسبٹ صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کو بھی آپ کی خدمات کی طرف توجہ دلا دی ہے۔ فقط

المرقوم اگست ۱۸۵۷ء

Mirza Ghlam Murtaza Khan Chief of Qadn

As you rendered great help in enlisting sowars and supplying horses to Government the Mutiny of 1857 and maintained loyalty since its begining up-to-date and thereby

صفحہ 164

gained the favour of the Government a khilat worth Rs.200/ = is presented you in recognition of good services and as a reward for your loyalty.

Moreover in accordance with the wishes of Chief Commissioner as conveyed in his No. 576, dated 10th August, 1858, this parwana is addressed to you as a token of satisfaction of Government for your fidelity and repute.

Financial Commissioner

Punjab

تہور و شجاعت دستگاہ مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان بعافیت باشند از آنجا کہ ہنگام مفسدہ ہندوستان موقوعہ ۱۸۵۷ء از جانب آپ کے رفاقت و خیر خواہی و مدد دہی سرکار دولتمدار انگلشیہ درباب نگہداشت و بہم رسانی اسپان بخوبی منصہ ظہور پہنچی۔ اور شروع مفسدے سے آج تک آپ بدل ہوا خواہ سرکار رہے۔ اور باعث خوشنودی سرکار ہوا۔ لہٰذا بتعلق اس خیر خواہی اور خیرسگالی کے خلعت مبلغ دو صد روپیہ سرکار سے آپ کو عطا ہوتا ہے۔ اور حسب منشا چٹھی صاحب کمشنر بہادر نمبر ۵۷۶ مورخہ اگست ۱۸۵۸ء پروانہ ہذا باظہار خوشنودی سرکار و نیک نامی وفاداری بنام آپ لکھا جاتا ہے۔

مرقومہ تاریخ ۲۰ ستمبر ۱۸۵۸ء

نقل مراسلہ

از فنانشل کمشنر پنجاب مشفق مہربان

دوستدار مرزا غلام قادر رئیس قادیان حفظہ

صفحہ 165

To

Mirza Ghulam Murtaza Khan Chief of Qadian

I have persued your application reminding me of your and your family's past services and rights. I am well aware that since the introduction of the British Government you and your family have certainly remained devoted faithful and steady subjects and that your rights are really worthy of regard. In every respect you may rest assured and satisfied that the British Government will never forget your family's rights and servises which will receive due consideration when a favourable opportunity offers itself.

You must continue to be faithful and devoted subjects as in it lies the satisfaction of the Government and your welfare.

Robert Casts Commissioner Lahore

مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان حفظہ

عریضہ شما مشعر بیاد دہانی خدمات و حقوق خود و خاندان خود بملاحظہ حضور ایں جانب در آمد۔ ما خوب میدانیم کہ بلاشک شما و خاندان شما از ابتدائے دخل و حکومت سرکار انگریزی جاں نثار وفا کیش ثابت قدم ماندہ اید و حقوق شما در اصل قابل قدر اند۔ بہر نہج تسلی و تشفی دارید۔ سرکار انگریزی حقوق و خدمات خاندان شما ہرگز فراموش نخواہد کرد۔ بموقعہ مناسب بر حقوق و خدمات شما غور و توجہ کردہ خواہد شد۔ باید کہ ہمیشہ ہوا خواہ و جان نثار سرکار انگریزی بمانند کہ دریں امر خوشنودی سرکار و بہبودی شما متصور است۔ فقط

المرقوم ۱۱ جون ۱۸۴۹ء مقام لاہور انار کلی نقل مراسلہ

صفحہ 166

رابرٹ کسٹ صاحب بہادر ۔ کمشنر لاہور

فرنگی کے اقتدار کو استحکام دینے کے لئے اپنا تن من دھن وقف کرنے والے ننگ دین و ننگ وطن مرزا غلام مرتضیٰ!

دسترخوان انگریز کی جھوٹی ہڈیاں چوسنے والے ضمیر فروش و وطن فروش مرزا غلام مرتضیٰ!

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے سپاہیوں کے قاتل مرزا غلام قادر کے مجرم باپ مرزا غلام مرتضیٰ!

بناسپتی نبی مرزا قادیانی کے منحوس والد مرزا غلام مرتضیٰ فخر ابلیس، امام تلبیس، مرزا بشیر الدین کے دادا مرزا غلام مرتضیٰ! کذاب زماں مرزا ناصر اور دجال عصر مرزا طاہر کے پڑدادا مرزا غلام مرتضیٰ! اگر ہوائیں میری آواز تیری قبر کی مٹی کو چیر کر تیرے کانوں تک پہنچا دیں تو غدار دین وملت! سن لے جس فرنگی کی حکومت کو دوام بخشنے کے لئے تو نے اپنی دنیا و آخرت برباد کی۔ وطن کے بیٹوں کی سرفروشیوں سے وہ ہندوستان سے بوریا بستر باندھ کر کب کا جا چکا ہے اور ہندوستان آزاد ہو چکا ہے۔ تیرے مدعی نبوت بیٹے مرزا قادیانی نے جس قوم کے دل سے حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جذبہ جہاد نوچنے کی کوشش کی تھی۔ اس قوم کے فرزندوں نے عشق رسولؐ میں ڈوب کر اور جذبہ جہاد سے سرشار ہو کر پاکستان میں قادیانی امت کو کافر قرار دے دیا ہے۔ انگریز نے قلب مسلم میں جھوٹی نبوت کا زقوم کا جو درخت لگانے کی جو ناپاک جسارت کی تھی، آج وہ درخت مسلمانوں نے جڑوں سمیت اکھیڑ کر انگریز کی گود میں پھینک دیا ہے۔ وہ قرآن جس کے کروڑوں نسخے انگریز نے جلائے اور تیرے بیٹے مرزا قادیانی نے جس قرآن میں تحریف و تبدل کے طوفان اٹھائے، آج وہی قرآن برطانیہ کی فضاؤں میں گونج رہا ہے اور وہاں تحفظ ختم نبوت کے لئے عظیم الشان کانفرنسیں منعقد ہو رہی ہیں۔ اور ہاں یہ بھی سن لے کہ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ مرزا قادیانی کی جعلی نبوت کی سب سے زیادہ نحوست خود

صفحہ 167

برطانیہ پر پڑی ہے۔ وہ برطانیہ جس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ اس کی سلطنت کئی ملکوں میں بٹ گئی۔ آج برطانیہ بالکل سمٹ گیا ہے اور مزید سمٹتا جا رہا ہے۔ اقتصادی اور معاشی مسائل نے اسے اپنے طاقتور جبڑوں میں کس رکھا ہے۔ اور یوں محسوس ہو رہا ہے، جیسے برطانیہ کے دونوں کانوں کے ساتھ منہ لگا کر وقت پوری

آواز سے کہہ رہا ہے۔

اسلام کا پرچم نہ جھکا ہے نہ جھکے گا
پھونکوں سے یہ فانوس بجھا ہے نہ بجھے گا
صفحہ 28
PDF 169

مواصلاتی سیّارے کے ذریعے

جہنّم سے

مرزا قادیّانی

کا

تاریخی انٹرویو

صفحہ 170

شاں شاں، فن، فن، شرر شرر، فرر فرر، شوں شوں ، ڈزن ڈزن، ٹھاہ ٹھاہ، تڑاخ تڑاخ، ہائے ہائے، ہو ہو، ہرل ہرل، ڈم ڈم، ٹھک ٹھک، چھڑل چھڑل، کرل کرل، دھڑن دھڑن، زوں زوں، فوں فوں ، دھبڑ دھبڑ، کھڑک کھڑک، کی دلدوز اور روح کو ہلا دینے والی صدائیں جہنم سے بلند ہو رہی ہیں۔ بڑی محنت، مشقت اور جانفشانی کے بعد مصنوعی سیارے کا رابطہ جہنم سے قائم ہو چکا ہے اور عنقریب زندان جہنم کے قیدی نمبر ۴۲۰ مرزا قادیانی سے رابطہ قائم ہو جائے گا ــــ لیجئے مرزا قادیانی سے رابطہ قائم ہو گیا ــــ ہیلو، مرزا قادیانی ...... ہیلو مرزا قادیانی ...... ہیلو مرزا قادیانی......

جی مرزا قادیانی بول رہا ہوں۔

س : مجھے آپ سے ایک انتہائی ضروری انٹرویو کرنا ہے۔

ج : گزشتہ پچاس برسوں سے میں نے کان پکڑے ہوئے ہیں اور جہنم کی آگ کے کوڑے میری پشت پر بجلی کی سرعت سے برسائے جا رہے ہیں جس کی تکلیف سے میری پشت کی ہڈیاں چکنا چور ہو گئی ہیں۔ ابھی چند ہی منٹ ہوئے ہیں کہ میرے عذاب میں کچھ تخفیف ہوئی ہے اور آپ اصرار کر رہے ہیں انٹرویو کے لئے۔

س : دیکھئے ہم نے آپ کے انٹرویو کے لئے کروڑوں روپے خرچ کیے ہیں اس لئے آپ ہمیں مایوس نہ کریں۔

ج : اچھا بابا میں انٹرویو کے لئے تیار ہوں۔

س : آپ سے ایک ضروری درخواست کرنا ہے کہ آپ کے منہ سے ساری زندگی جھوٹ کی آبشار گرتی رہی اور شاید ہی آپ نے کبھی سچ بولا ہو لیکن آج ہمارے سوالوں کا جواب سچ سچ دیں۔

ج : یہ سچ ہے کہ میں ساری زندگی جھوٹ ہی بکتا رہا۔ لیکن اب تو میں اپنے اعمال کی سزا پا کر جہنم کا دائمی مکین ہو چکا ہوں۔ اب مجھے جھوٹ بولنے کا کیا فائدہ۔ آپ یقین رکھئے، مجھے شیطان کی قسم، جو کہوں گا سچ کہوں گا۔

س : آج کل آپ کے مزاج ؟

ج : میرا جسم اور لپکتے شعلوں کا راج۔

س : آپ کا نام ؟

ج : میرا نام مرزا قادیانی ہے۔ بچپن میں مجھے سندھی اور دسوندی بھی کہتے تھے۔ ویسے عرف عام میں مجھے ”گاماں کانا“ کہا جاتا تھا۔

صفحہ 171

س : تاریخ پیدائش؟ ج : میری آٹھ دس تاریخ ہائے پیدائش ہیں۔ کیونکہ مجھے اپنے مختلف دعوؤں کے لئے مختلف تاریخ پیدائش درج کرنا پڑتی تھی۔ لہٰذا میری کھوپڑی کی طرح میری تاریخ پیدائش بھی بڑی ٹیڑھی ہے۔

س : کچھ والدین کے بارے میں؟ ج : میری والدہ کا نام چراغ بی بی عرف گھسیٹی اور والد کا نام غلام مرتضیٰ تھا جو بھارت کے صوبہ مشرقی پنجاب کے ضلع گورداس پور کی تحصیل بٹالہ کے ایک پسماندہ گاؤں ”قادیان“ کے رہائشی تھے اور میں ان کا آخری بچہ تھا۔ اتفاق زمانہ دیکھئے کہ میری ماں کا نام گھسیٹی اور دعویٰ نبوت کے بعد میرے فرشتہ کا نام ٹیچی ! میں اس اتفاق پر بڑا ناز کیا کرتا تھا۔

س : آباؤ اجداد کا پیشہ؟ ج : ضمیر فروشی، ایمان فروشی، غیرت فروشی، ملت فروشی اور وطن فروشی۔ آج تک ہماری موجودہ نسل شیطان کی سرپرستی میں اس بزنس کو خوب سنبھالے ہوئے ہے۔ میرے دادا غدار اعظم تھے۔ میرے ابا بہت بڑے جاسوس تھے۔ میرا بھائی انگریز کا بازوئے شمشیر زن تھا۔ اور میں انگریزی نبوت کا دیسی نبی! ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی ہو، سکھوں کے ساتھ مسلمانوں کی معرکہ آرائی ہو، خلافت عثمانیہ کی تباہی ہو، راج پال کا فتنہ ہو، کانپور کی مسجد کی خونچکاں داستان ہو یا کہیں بھی حق و باطل کا کوئی معرکہ ہو ہم نے ہر جگہ مسلمانوں سے غداری اور اپنے آقا انگریز سے وفاداری کا ثبوت دیا۔

س : تعلیم؟ ج : ”پرائمری فیل“ کیونکہ میں اکثر سکول سے بھاگ جایا کرتا تھا۔

س : بچپن کے مشاغل؟ ج : سرکنڈوں سے چڑیوں کے گلے کاٹنا، گھر سے کھانے پینے کی چیزیں چوری کرنا، راکھ کے ساتھ روٹی کھانا، لوٹے میں پرچی ڈال کر جادوگری کا فن سیکھنا، ابا کی پنشن لے کر گھر سے بھاگ جانا وغیرہ۔

س : سنا ہے سکول کے زمانہ میں آپ کی بہت پٹائی ہوتی تھی؟ ج : جی ہاں! مدرسہ میں مجھے دو دو گھنٹے کان پکڑائے جاتے اور اوپر سے تھپڑوں، گھونسوں اور

صفحہ 172

ٹھڈوں کی بارش کی جاتی، لیکن میں بھی ایسا ڈھیٹ تھا کہ پھر بھی سبق یاد نہ کرتا۔ بڑا سخت زمانہ تھا وہ۔ لیکن مدرسہ میں کان پکڑنے کی پریکٹس آج جہنم میں کان پکڑنے میں میرے بہت کام آرہی ہے۔

س : جوان ہو کر کونسا ذریعہ معاش اختیار کیا؟

ج : قادیان میں آوارہ پھرتا تھا۔ والدین کی سرزنش اور جھڑکیوں سے تنگ آکر گھر سے بھاگ اٹھا اور سیالکوٹ آکر کچہری میں پندرہ روپے ماہوار پر منشی بھرتی ہوگیا۔ یہیں پر دعویٰ نبوت کے لئے میرا انتخاب ہوگیا اور مجھے نوکری کے بوجھ سے فارغ کر کے قادیان بھیج دیا گیا۔ پھر کیا تھا، دولت میرے گھر کی باندی بن گئی اور میں شہزادہ!

س : مرتد ہوتے ہوئے اللہ اور اس کے رسولؐ سے حیا نہ آئی؟

ج : جب دماغ پر شیطان کا قبضہ ہو، حرص دنیا کی تلوار نے ضمیر کا گلا گھونٹ دیا ہو اور آنکھوں پر دولت کی چربی کی دبیز تہ چڑھی ہو تو کسی سے حیا کیسی!

س : متاثر کن شخصیت؟

ج : مسیلمہ کذاب

س : آئیڈیل؟

ج : ابلیس

س : پسندیدہ رنگ؟

ج : ”سیاہ“ کیونکہ یہی میرے دل کا رنگ ہے۔

س : کھیل کون سا پسند تھا؟

ج : ”آنکھ مچولی“ دعویٰ نبوت کے بعد اس کھیل نے مجھے بہت فائدہ پہنچایا۔

س : کس لباس کے سب سے زیادہ شوقین تھے؟

ج : ”غرارہ“ جو میں کبھی کبھی گرمیوں میں پہنا کرتا تھا۔

س : ہنسی کب آتی تھی؟

ج : جب دعویٰ نبوت کرتا تھا اور پھر آئینہ میں اپنی شکل دیکھتا تھا۔

س : شرم کب آتی تھی؟

ج : میں ساری زندگی شرم کا منتظر رہا لیکن شرم نہ آئی۔

صفحہ 173

س : زندگی میں ٹوٹ کر کسے چاہا؟ ج : ملکہ اور صرف ملکہ کو۔

س : حیات مستعار میں دشمنی کس سے رکھی؟ ج : اسلام، پیغمبر اسلام اور مسلمانوں سے۔

س : من پسند کھانا؟ ج : "بھنا ہوا گوشت" لیکن کسی مرید کے گھر کا۔

س : دل پسند مشروب؟ ج : پلومر کی ٹانک وائن۔

س : پسندیدہ مشغلہ؟ ج : آدھی رات کو بھانو سے ٹانگیں دبوانا۔

س : محبوب جانور؟ ج : "خنزیر" کیونکہ میں نے اس سے بہت کچھ سیکھا اور اس نے مجھ سے بہت کچھ سیکھا۔

س : چوبیس گھنٹوں میں سب سے زیادہ کون سا وقت پسند تھا؟ ج : جب کسی مرید کا منی آرڈر آتا تھا۔

س : پسندیدہ پھل؟ ج : "سنگھاڑے" کیونکہ یہ میرے منہ سے بہت مشابہت رکھتے تھے۔

س : ناپسندیدہ پھل؟ ج : "گنڈیریاں" کیونکہ انہیں کھانے سے میرے بے ڈھبے منہ کے جو زاویئے بنتے تھے لوگ انہیں دیکھ کر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جایا کرتے تھے۔

س : پسندیدہ سبزی؟ ج : "کچا پیاز" کیونکہ اسے سونگھنے سے میرے دماغ کی بدبو میں کمی واقع ہوتی تھی۔

س : ناپسندیدہ سبزی؟ ج : "بینگن" کیونکہ اسے کھانے سے مجھے بواسیر ہو جاتی تھی۔

س : پسندیدہ شہر؟ ج : شہر ملکہ معظمہ "لندن"

س : کانوں کو کون سی آواز بھاتی تھی؟

صفحہ 174

ج : ”الو کی آواز“ کیونکہ یہ مجھے اپنی ہی آواز معلوم ہوتی تھی! س : کون سا پھول طبیعت کو سب سے زیادہ پسند تھا؟ ج : میرا پھول سے کیا ناطہ، نہ مجھ میں خوشبو، نہ لطافت، نہ نفاست، میں تو ساری زندگی بد بو اور تعفن بکھیرتا رہا۔ میں نے ساری زندگی کانٹوں سے پیار کیا اور خود بھی ارتداد کا کانٹا تھا اور لوگوں کے دلوں میں چبھ چبھ کر ان کے ایمانوں کا خون کرتا رہا۔

س : پسندیدہ شاعر؟ ج : امراء القیس س : وہ شعر جو سب سے زیادہ پسند ہو؟ ج : میں خود بھی ایک بہت بڑا شعر کش شاعر تھا۔ مجھے اپنا ہی شعر سب سے زیادہ پسند ہے کیونکہ اس میں میری ساری شخصیت کا تعارف سمویا ہوا ہے۔ میرا یہ شعر میرے مجموعہ کلام ”در ثمین“ کے صفحہ ۱۱۶ پر موجود ہے۔

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

س : پسندیدہ سواری؟ ج : میں نے سواری کیا کرنی تھی۔ ساری زندگی شیطان ہی مجھ پر سوار رہا س : پسندیدہ گلوکار؟ ج : میں خود بہت بڑا گلوکار تھا اور اکثر اداس شاموں کو قادیان کے باہر ”چھپڑ“ کے کنارے اپنی سریلی آواز میں اپنا ہی کلام گایا کرتا تھا اور آواز کی نغمگی سے بے ہوش ہو جایا کرتا تھا۔ اگر آپ فرمائش کریں تو میں ابھی آپ کو اپنا کلام اپنی مترنم آواز میں سناتا ہوں جو میری کتاب ”آریہ دھرم“ کے صفحہ ۷۶، ۷۷ پر درج ہے۔

چپکے چپکے حرام کروانا
آریوں کا اصول بھاری ہے
نام اولاد کے حصول کا ہے
ساری شہوت کی بے قراری ہے
بیٹا بیٹا پکارتی ہے غلط
یار کی اس کو آہ و زاری ہے
صفحہ 175
دس سے کروا چکی ہے زنا لیکن
پاک دامن ابھی بے چاری ہے
زن بیگانہ پر یہ شیدا ہیں
جس کو دیکھو وہی شکاری ہے

س : آپ سیالکوٹ کی کچہری کی ملازمت کے زمانہ میں رات کو انگریزی زبان کی ٹیوشن بھی پڑھا کرتے تھے، کیوں؟

ج : کیونکہ انگریزی نبی بننے کے لئے تھوڑی بہت انگریزی زبان جاننا ضروری تھا۔

س : اپنی کس چیز پر سب سے زیادہ ناز تھا؟

ج : آنکھوں پر (شرماتے ہوئے)۔

س : کون سے رنگ کی روشنی سب سے زیادہ پسند تھی؟

ج : میرا روشنیوں سے کیا تعلق، میں تو اندھیروں کا عاشق تھا اور وہ بھی گھٹا ٹوپ۔

س : آپ کا قد؟

ج : دنیا میں تو تقریباً ساڑھے پانچ فٹ تھا لیکن یہاں پر قد ایک سا نہیں رہتا۔ جب پشت، کمر اور ٹانگوں پر زیادہ مار پڑتی ہے تو قد لمبا ہو جاتا ہے اور اگر یہی مار سر پر پڑنی شروع ہو جائے تو قد چھوٹا ہو جاتا ہے۔

س : فن گلو کاری میں آپ کا استاد کون تھا؟

ج : ”کوا“ میں نے گائیکی اور موسیقی کے سارے فنون ”کوے“ سے ہی سیکھے ہیں۔ کوا برادری سے الفت اور محبت کا یہی وہ رشتہ ہے جس کی وجہ سے آج بھی کوے میری قبر پر اکثر کائیں کائیں کرتے رہتے ہیں۔

س : آپ کے مرید مفتی صادق نے اپنی کتاب ”ذکر حبیب“ کے صفحہ ۱۸ پر لکھا ہے کہ ایک مرتبہ آپ تھیٹر بھی دیکھنے گئے تھے؟

ج : ہم تھیٹر دیکھنے چلے گئے تو کیا ہوا، بھئی ہم کون سے سچے نبی تھے۔

س : آپ کا پسندیدہ ایکٹر؟

ج : یہ سوال تو ایسے ہی ہے جیسے عقاب سے پوچھا جائے کہ سب سے تیز پرواز کس کی ہے۔ جناب! مجھ سے بڑا ایکٹر ماں نے کہاں جنم دیا ہو گا۔ اگر میں کریکٹر ایکٹر نہ ہوتا تو انگریز میرا انتخاب کیوں کرتے۔ میں نے سینکڑوں دعوے کیے، سینکڑوں بہروپ اختیار کیے، ہزاروں

صفحہ 176

رول ادا کیے اور ہزاروں لوگوں کو پیچھے لگایا اور میرا فن ایکٹری دیکھئے کہ آج بھی لاکھوں میری ایکٹنگ اور بہروپ کے اسیر ہیں۔ کیا اب بھی میں اس قابل نہیں کہ اپنے سینے پر ایکٹر اعظم کا تمغہ سجا سکوں ۔ میرا پوتا مرزا طاہر تو اس فن میں اس عروج پر ہے کہ ہالی وڈ کے اداکار بھی اسے اپنا استاد تسلیم کرتے ہیں۔

س : آپ کا بہترین دوست؟

ج : ”حکیم نور الدین“ بہت بڑا مرتد تھا۔ آج کل جہنم میں میرے ساتھ ہی ہوتا ہے اور خوب خوب جوتے کھاتا ہے، بڑا شوق تھا اسے صحابی بننے کا۔

س : آپ کی پسندیدہ زبان؟

ج : اپنے آقا کی زبان ”انگریزی“ لیکن کم بخت ساری زندگی مجھے بولنی اور لکھنی نہ آئی۔ ویسے بائی دی وے آپ نے میرے انگریزی الہامات پڑھے تو ہوں گے ۔ کیسی درگت بنائی ہے میں نے انگریزی کی۔

س : پسندیدہ کھلاڑی؟

ج : ”لڑاکا بٹیر“ کیونکہ مجھے بٹیر بازی کا بڑا شوق تھا۔

س : آپ کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے اپنی کتاب ”سیرت المہدی“ میں لکھا ہے کہ آپ نے ایک کتا پال رکھا تھا جس کا نام ”شیرو“ تھا اور وہ گھر کے دروازے کے ساتھ بندھا رہتا تھا۔ بڑا فضول شوق تھا آپ کا؟

ج : جناب ہم نے گھر میں کتا پال لیا تو کون سی قیامت ٹوٹ پڑی۔ انگریز نے بھی تو ہمیں پالا تھا اور ہمارے گلے میں اسی کا پٹہ تھا۔

س : پسندیدہ خوشبو؟

ج : بھئی کمال کرتے ہیں آپ بھی۔ ٹٹی خانہ میں مرنے والے کا خوشبو سے کیا تعلق!

س : پسندیدہ برتن؟

ج : ”ذاتی لوٹا“ کیونکہ وہ بھی میری طرح بے پیندہ تھا۔

س : تینوں میں سب سے زیادہ کسے چاہا؟ زن، زر، زمین۔

ج : تینوں کو پھدک پھدک کر چاہا۔ اچھل اچھل کر چاہا۔ تڑپ تڑپ کر چاہا۔ کروٹ کروٹ چاہا حتیٰ کہ تینوں کے حصول کے لئے مرتد ہو گیا۔

س : زندگی کے حسین لمحات؟

صفحہ 177

ج : جب ستر سال کی عمر اور ستر بیماریوں کی موجودگی میں نوخیز دلہن نصرت جہاں بیگم کو بیاہ کر لایا۔ ...... ہائے

س : زندگی میں پھوٹ پھوٹ کر کب روئے؟

ج : جب ایک نوجوان مرزا سلطان میری آسمانی منکوحہ محمدی بیگم کو میری آنکھوں کے سامنے پالکی میں بٹھا کر لے گیا۔

س : تکیہ کلام ؟

ج : لعنت، لعنت، لعنت، لعنت ......

س : وہ شخصیت جو شدت سے یاد آتی ہو ؟

ج : میرا فرشتہ ”ٹیچی ٹیچی“ جب سے مرا ہوں کبھی ملاقات کے لئے نہیں آیا۔ پتہ نہیں کہاں چلا گیا ہے کم بخت !

س : آپ کو دربار انگریز سے اچھی خاصی ماہانہ رقم آجاتی تھی لیکن سنا ہے اس کے علاوہ آپ سائیڈ بزنس بھی کرتے تھے۔ کیا تھا وہ سائیڈ بزنس؟

ج : جھوٹی مقدمہ بازی ! مجھے جھوٹے مقدمے لڑنے میں بڑی مہارت حاصل تھی۔ تھا جو کچہری کا کیڑا، ویسے بھی حکومت اپنے آقا کی تھی اور عدالت بھی اپنے آقا کی، پھر فیصلے بھی میرے حق میں ہوتے تھے۔ سمجھ گئے ناں آپ !

س : صبح اٹھتے ہی پہلا کام کون سا کرتے تھے؟

ج : پیشاب کرتا تھا

س : رات کو سوتے وقت آخری کام کون سا کرتے تھے؟

ج : پیشاب کی دھار مارتا تھا (غصہ سے)

س : آپ کی کتابوں میں پڑھا ہے کہ آپ کو دن میں سو دفعہ پیشاب آتا تھا۔ کیا یہ صحیح ہے؟

ج : جی ہاں! مجھے دن میں گن کر سو دفعہ پیشاب آتا تھا اور میرا آدھا دن اسی کھیل میں صرف ہو جاتا تھا۔

س : آج کل جہنم میں پیشاب آنے کا کیا سکور ہے؟

ج : جہنم کی تپش سے اول تو پیشاب بنتا ہی نہیں۔ کسی وقت جو تھوڑا سا بنتا ہے وہ بخارات بن کر میرے دماغ کو چڑھ جاتا ہے۔

س : سنا ہے آپ ریشمی ازار بند استعمال کرتے تھے؟ اور گھر کی ساری چابیاں ازار بند کے ساتھ

صفحہ 178

باندھ لیتے تھے اور جب چلتے تھے تو چھن چھن کی آواز آتی تھی اور یہی آواز آپ کی آمد کی اطلاع ہوتی تھی۔ کیا وجہ تھی اس کی؟

ج : پیشاب کے تابڑ توڑ حملوں کی وجہ سے مجھے بار بار لیٹرین میں بھاگنا پڑتا تھا اور اگر سوتی ازار بند استعمال کرتا تھا تو گرم گرم، تازہ تازہ پیشاب میرے کپڑوں میں نکل جاتا تھا اس لئے گرہ جلدی کھولنے کے لئے ریشمی ازار بند استعمال کرتا تھا باقی رہی چابیوں کی بات تو عرض ہے چونکہ میں خود چور تھا اس لئے مجھے گھر میں سب چور نظر آتے تھے لہٰذا میں گھر کے تمام صندوقوں اور الماریوں کو تالے لگا کر چابیاں ازار بند کے ساتھ باندھ لیتا تھا اور چھن چھن تو میرا دل پسند میوزک تھا۔

س : زندگی میں سب سے زیادہ غصہ کب آیا؟

ج : جب پادری آتھم سے میری مقابلہ بازی شروع ہوئی اور چپقلش اپنے عروج پر پہنچ گئی تو ایک دن میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ـــــ اور بڑ ہانک دی کہ آتھم فلاں تاریخ تک مرجائے گا

پورے ہندوستان میں اس بات کی شہرت پھیل گئی اور لوگ اس تاریخ کا انتظار کرنے لگے۔ میں منہ سے بکواس تو کر چکا تھا لیکن اب پچھتا رہا تھا۔ اپنے آقا شیطان کے سامنے پھوٹ پھوٹ کر رویا کہ پادری آتھم کو مار دو ورنہ میں ذلیل و رسوا ہو جاؤں گا۔ سارے مرید بھاگ جائیں گے۔ دوکانداری بند ہو جائے گی اور میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گا۔ میں اور میرے اہل خانہ نے رو رو کر دعائیں کیں جنتر منتر کئے لیکن بے سود! آخر میری مقرر کردہ موت کی تاریخ آپہنچی لیکن پادری آتھم زندہ رہا۔ پھر کیا تھا! عیسائیوں نے آتھم کو کندھوں پر اٹھایا، گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے، سڑکوں پر جلوس نکالا، خوشی سے بھنگڑے ڈالے، ڈھول بجائے، میرے خلاف نعرے بازی کی، لعن طعن کی، میرے نبی ہونے کا مذاق اڑایا، میری انگریزی نبوت کا منہ چڑایا، عیسائی مجھے چت کر کے ناچ رہے تھے اور میں مفرور مجرم کی طرح اپنے مکان میں دبکا بیٹھا تھا۔ مجھے اس دن اپنی زبان اور اپنی بکواس پر شدید غصہ آرہا تھا۔ میں نے عالم تنہائی میں اپنے منہ پر دونوں طرف خود ہی زناٹے دار تھپڑ رسید کئے۔ پھٹے ہوئے منہ سے جھوٹی زبان نکال کر اس پر خاک ڈالی اور غصہ کی کیفیت یہ تھی کہ شاید میں اپنی ناک ہی کاٹ ڈالتا تاکہ ساری زندگی کسی کو شکل نہ دکھاتا۔

صفحہ 179

س : جسم پر کوئی شناختی نشان؟

ج : میرے سینے پر بائیں طرف دل کے عین اوپر بطخ کے انڈے کے برابر سیاہ نشان تھا

س : کوئی خواہش جس کی دل میں شدید تڑپ ہو؟

ج : کاش مجھے موت آجائے لیکن اب ایسا نہیں ہو سکتا۔

س : دنیا میں تو نوکر چاکر ہر وقت خدمت کے لئے حاضر رہتے تھے اور رات کو آپ کی پسندیدہ ملازمہ بھانو ٹانگیں دباتی تھی۔ یہاں کون ٹانگیں دباتا ہے؟

ج : یہاں ٹانگیں دبانے والا تو کوئی نہیں البتہ ٹانگیں توڑنے والے بہت ہیں۔

س : آپ نے بڑھاپے سیاپے میں جب نو دوشیزہ نصرت جہاں سے شادی رچائی تو اسے ایک سو تولہ سے زائد زیور کہاں سے پہنایا؟ حالانکہ دوران ملازمت آپ کی آمدنی صرف پندرہ روپے ماہوار تھی اور بعد میں تو بالکل نکھٹو ہی رہے۔

ج : میں انگریز کا لاڈلا بیٹا تھا اور نصرت جہاں انگریز کی لاڈلی بہو۔ اپنی چہیتی بہو کو اتنا زیور میرے والدین نے ہی پہنایا تھا ورنہ میں تو لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں پہنا سکتا تھا۔

س : جسم کے کس حصہ پر سب سے زیادہ عذاب نازل ہو رہا ہے؟

ج : میری آوارہ اور لچر زبان پر، کیونکہ یہ اسلام کے خلاف بکواس کرنے میں قینچی کی طرح چلتی تھی آج کل جہنم کی آگ سے بنی ہوئی قینچی سے اس کے ٹکڑے کئے جاتے ہیں اور یہ عمل مسلسل جاری ہے

س : آپ کی شخصیت ہر پہلو اور ہر جہت سے ایک خطرناک، ہولناک زہرناک، ضرر رساں، شرر رساں، ایمان سوز اور انسانیت سوز شخصیت ہے۔ کیا آپ کی شخصیت کا کوئی فائدہ بھی ہے؟

ج : میری شخصیت کے بہت سے فوائد بھی ہیں لیکن لوگوں کی کم علمی کہ وہ ان فوائد سے آشنا نہیں چند فوائد پیش خدمت کرتا ہوں:

دیکھتے ہی انہیں ٹھنڈے پسینے آنے لگتے ہیں اور وہ سر پر پاؤں رکھ کر بھاگتے ہیں۔ بڑی خوفناک اور وحشت ناک شکل ہے میری! اس قدر نحوست برس رہی ہوتی ہے اس مکان پر کہ مکھی، مچھر، کھٹمل اور چھپکلی وغیرہ بھول کر بھی اس مکان کا رخ نہیں کرتے۔

PDF 180

کشتیاں کر چکا ہو لیکن ابھی تک وہ شیطان سے دوستی کا بندھن باندھنے میں ناکام رہا ہو اسے چاہئے کہ صبح سویرے نہار منہ روزانہ لیٹرین میں دس منٹ کان پکڑ کر (مرغا بن کر) شیطان کو تصور میں لاکر میرے نام کا ورد کرے پھر میرے نام کی تاثیر دیکھے اور مہینوں میں ہونے والا کام دو چار دنوں میں مکمل، دوستی بھی ایسی نصیب ہو گی کہ شیطان چوبیس گھنٹے اس کے رگ و ریشے میں گھسا ہو گا اور دونوں کے یارانے پر چھوٹے چھوٹے شیاطین رشک کریں گے۔

ساتھ مجھ پر لعنت کرے، تھوڑی ہی دیر میں اللہ تعالیٰ اسے مشکلات سے یوں نکال لیں گے جیسے مکھن سے بال، کیونکہ مجھ پر لعنت کرنے والا اللہ تعالیٰ کو بہت پیارا لگتا ہے۔

اگر ان کے بھٹے صحیح طور پر آگ نہ پکڑیں اور اینٹیں کچی نکلیں اور انہیں لاکھوں روپے کا نقصان ہو تو وہ کہیں سے میری قبر کی مٹی حاصل کریں اور بھٹے کو آگ دینے سے پہلے میری قبر کی مٹی کی چند چٹکیاں بھٹے میں پھینک دیں پھر دیکھیں کیسی زبردست آگ لگتی ہے اور کیسی عمدہ اینٹیں پک کر باہر نکلتی ہیں کیونکہ میری قبر کی مٹی کو آگ اس طرح پکڑتی ہے جس طرح بھوکی بلی چوہے کو پکڑتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے مٹی دستیاب نہ ہو تو یہی کام میری تصویر سے لیا جاسکتا ہے۔

میں کہہ دیں کہ اگر تم نے دودھ نہ دیا تو تمہارے گلے میں مرزا قادیانی کی تصویر ڈالی جائے گی۔ آپ دیکھیں گے کہ وہ تھرا اٹھیں گی اور فوراً دودھ دینے لگیں گی۔

س : آپ کی تصویر تو بہت کار آمد چیز ہوئی۔ برائے مہربانی یہ بتا دیں کہ آپ کی تصویر کہاں سے دستیاب ہو سکتی ہے؟

ج : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب شمع ختم نبوت کے پروانوں کی جماعت ہے۔ مجھ جیسے سارق ختم نبوت کو ذلیل و رسوا کرنے کے لئے اور میری منحوس ”بوتھی“ عوام الناس کو دکھانے کے لئے مجلس نے لاکھوں کی تعداد میں میری تصویر جوتوں کا حاشیہ لگا کر شائع کی ہے اور پاکستان اور بیرون پاکستان تقسیم کی ہے۔ میرے یہ ازلی و ابدی دشمن ہمیشہ اپنے سٹاک میں میری تصویر کی ایک بڑی تعداد محفوظ رکھتے ہیں۔ آپ آج ہی خط لکھ کر تصویر منگوا

صفحہ 181

سکتے ہیں اور اپنے کام سنوار سکتے ہیں۔ ضرورت مند پتہ نوٹ فرمالیں۔ متین خالد، دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، نسیم منزل، ریلوے روڈ، ننکانہ صاحب، ضلع شیخوپورہ۔

س : سنا ہے آپ جوتے کا دایاں پاؤں بائیں پاؤں میں اور بایاں پاؤں دائیں میں ڈال لیا کرتے تھے۔ قمیص کا نیچے والا بٹن اوپر والے کاج میں اور اوپر والا بٹن نیچے والے کاج میں بند کیا کرتے تھے، جب سر کو تیل لگاتے تھے تو ہاتھوں پر جو تیل لگا رہ جاتا تھا وہ تیل بھرے ہاتھ واسکٹ پر یا قمیص پر مل لیتے تھے۔ ان احمقانہ حرکات کی کیا وجہ تھی؟

ج : دراصل مجھے ایام لڑکپن سے افیون کھانے کی عادت تھی اور یہ سارے کمالات افیون ہی کے تھے۔

س : آپ شرافت کے اس زمانے میں افیون کھاتے تھے اور شراب پیتے تھے۔ اگر اس دور میں ہوتے تو کیا ہیروئن نہ پیتے بلکہ بیچتے؟

ج : دیکھئے زیادہ فری ہونے کی کوشش نہ کریں ورنہ میں انٹرویو بند کر دوں گا۔

س : زندگی میں اگر ایک دن کی بادشاہت مل جاتی تو؟

ج : سارے مسلمانوں کو مرتد قرار دے کر قتل کروا دیتا۔

س : آپ کی جماعت کو سب سے زیادہ نقصان کس نے پہنچایا؟

ج : پیر مہر علی شاہ گولڑوی، سید انور شاہ کشمیری، محمد حسین بٹالوی، ثناء اللہ امرتسری، پیر جماعت علی شاہ، محمد علی مونگیری وغیرہ نے پوری قوت سے میری مذمت و مرمت کی۔ تحریر و تقریر کے میدان میں مجھے زچ کیا۔ پورے عالم اسلام کو میری شرانگیزیوں سے آگاہ کیا اور میرے فتنہ ارتداد کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے اور لاکھوں لوگوں کو دریائے ارتداد کے کالے پانی میں بہہ جانے سے بچالیا۔ لیکن وہ شخص جو ایک طوفان بن کر اٹھا اور جس نے میری جماعت کی کمر توڑ دی اور گردن مروڑ دی۔ اس مرد آہن کا نام سید عطاء اللہ شاہ بخاری تھا۔ وہ بڑا بہادر، دلیر اور دلاور تھا۔ آتش بیاں مقرر تھا، ساری ساری رات اپنی خطابت کا رنگ جماتا اور لوگ فجر کی نماز تک اسے جھوم جھوم کر سنتے۔ اپنے نبیؐ کی محبت میں فنا تھا۔ میرے آقا انگریز اور میرے فتنہ کے لئے دو دھاری خنجر تھا۔ لاکھوں کے مجمع میں میری نبوت کا مذاق اڑاتا۔ میرے دجل و فریب کے پردے چاک کرتا اور لوگوں کو میرے برپا کردہ فتنہ ارتداد کے خلاف جہاد کے لئے گرماتا۔ میرا تعاقب کرتے کرتے ہزاروں بپھرے ہوئے مسلمانوں کو لے کر میرے شہر

صفحہ 182

قادیان میں آپہنچا۔ تاریخی جلسہ ہوا اور ایسی غضب کی تقریر کی کہ میرا دل قبر میں کانپ کانپ گیا اور ہڈیاں چیخ چیخ گئیں۔ بعد میں اس مرد مسلمان نے پاکستان میں میری جماعت کی ارتدادی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قائم کی اور اس کی شاخوں کو پوری دنیا میں پھیلایا۔ آج یہی مجلس پورے عالم میں مرزائیت کو ذلت کی خاک چٹوا رہی ہے اور آج کے دور میں منظور احمد چنیوٹی، اللہ وسایا، اکرم طوفانی اور حاجی عبدالحمید رحمانی سے بڑا تنگ ہوں۔

س : مرتے وقت زبان پر کیا الفاظ تھے؟

ج : دھڑا دھڑ گالیاں بک رہا تھا۔

س : جب فرشتہ اجل کو سامنے پایا تو کیا کیفیت تھی؟

ج : سپرنگ کی طرح لرز رہا تھا۔ جسم برف کے مانند ٹھنڈا ہو گیا اور مارے خوف کے کپڑوں میں پیشاب نکل گیا۔

س : جب جسم سے روح نکالی جا رہی تھی اس وقت کیا حالت تھی؟

ج : وہی جو ٹرک کے پہیے تلے کچلے ہوئے مینڈک کی ہوتی ہے۔ ویسے روح نکالتے ہوئے بڑا غضبناک تھا فرشتہ اجل!

س : جب موت کا فرشتہ اتنا غضبناک ہو کر آپ کو اس بری طرح ادھیڑ اور بکھیڑ رہا تھا تو اس وقت آپ کے فرشتے ٹچی ٹچی، موہن لعل، درشنی، رانی وغیرہ آپ کی مدد کے لئے کیوں نہ آئے؟

ج : بھئی نقلی چیز اصلی چیز کا مقابلہ کیسے کر سکتی ہے۔ جہاں جھوٹے نبی کا اتنی بری طرح ریمانڈ لیا جا رہا تھا وہاں شیطانی فرشتوں کی کیسی ”چھترول“ ہوتی! اندازہ تو کریں آپ!

س : کیا یہ صحیح ہے کہ آپ ٹٹی خانہ میں مرے؟

ج : بڑا مشکل سوال کیا ہے آپ نے، جہنم میں مجھ سے لاکھوں جہنمیوں نے بھی یہ سوال پوچھا لیکن میں جھوٹ بول گیا یا ٹرخا گیا لیکن آپ سے سچ بولنے کا وعدہ کر رکھا ہے اس لئے آپ کو صاف صاف بتائے دیتا ہوں کہ یہ صحیح ہے کہ میں ٹٹی خانے میں مرا تھا۔

س : آپ کی نرالی شخصیت کی نرالی موت ایک نرالے مقام پر ہوئی۔ تاریخ انسانیت کی اس نایاب موت کا واقعہ ذرا تفصیل سے بتائیے؟

ج : میں لاہور میں برانڈرتھ روڈ پر اپنے ایک بے وقوف مرید کے ہاں مقیم تھا اور اس کے گھر اور جیب کا صفایا کر رہا تھا۔ رات کو اس کے بہترین اور پر تکلف کھانے پر خوب ہاتھ صاف

صفحہ 183

کیا اور پیٹ کا جہنم بھرا لیکن بدہضمی ہو گئی۔ تھوڑی دیر بعد مجھے ایک لمبا چوڑا دست آیا اور اس کے ساتھ دستوں کی یلغار شروع ہو گئی۔ ایک۔ دو۔ تین۔ چار۔ پانچ۔ چھ۔ سات، دست کیا تھے، زندگی اور موت کی دست بدست لڑائی تھی، رفع حاجت کے لئے دو تین دفعہ تو اٹھ کر لیٹرین گیا۔ لیکن دستوں کی بوچھاڑ کی وجہ سے میں لیٹرین جانے سے دست کش ہو گیا، کمزوری اور نحیفی اس حد تک بڑھی کہ میری چار پائی کے پاس ہی اینٹیں رکھ کر لیٹرین بنا دی گئی۔ دستوں کی وجہ سے کمرے کا سارا فرش غلاظت سے بھر گیا۔ پھر مجھے مرض الموت کا آخری دست آیا اور میں چکر کھا کر اسی لیٹرین کے اوپر اوندھے منہ گرا، میرا منہ ہاتھ پاؤں اور کپڑے غلاظت سے بھر گئے اور اسی حالت میں جہنم روانہ ہو گیا۔

س : سنا ہے موت کے بعد آپ کے منہ سے پاخانہ بہہ رہا تھا۔ اور بار بار صاف کرنے کے باوجود اس کی روانی میں کوئی فرق نہیں آ رہا تھا؟

ج : آپ نے درست سنا موت کے بعد میرے منہ سے پاخانہ رواں تھا اور اسی غلاظت سے میرا کفن بھی تر ہورہا تھا۔ مقعد سے بھی غلاظت کا سلسلہ جاری تھا اور اس قدر بدبو آرہی تھی کہ مجھ جیسے متعفن شخص کا بھی دماغ پھٹا جا رہا تھا لیکن عقل کے اندھے اور الٹی کھوپڑی کے میرے مرید دیوانہ وار میرا منہ چوم رہے تھے۔ میرا دل چاہتا تھا کہ اٹھ کر ان پاگلوں کے چہروں پر زناٹے دار تھپڑ رسید کروں اور ان کے دماغوں پر جوتے مار کر کہوں کہ بے وقوفو! رب ذوالجلال نے مجھے ٹٹی خانہ میں مار کر اور میرے منہ سے غلاظت بہا کر تمہیں میرے بھیانک انجام سے آگاہ کر دیا۔ یہ تم پر قدرت کی طرف سے ایک احسان عظیم ہے کہ اس نے تمہاری آنکھیں کھولنے کے لئے میری عبرت ناک موت کا منظر تمہیں دکھایا۔ تاکہ تم حق و باطل میں تمیز کر سکو لیکن جہالت کی پٹی آنکھوں پر باندھے ہوئے میرے مرید مجھے پھر بھی نبی نبی کہہ رہے تھے لعنت ایسے دماغوں پر، تف ایسی سوچوں پر!

س : جنازے کا جلوس کیسے روانہ ہوا؟

ج : میں لاہور آیا تھا تو ایک مرید کے گھر پر ہاتھ صاف کرنے کے لئے، لیکن کیا خبر تھی کہ اسی منحوس مرید کے گھر میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھوں گا۔ میری جماعت نے مجھے لاہور میں دفن کرنے کی بجائے قادیان لے جاکر دفن کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ انہیں خطرہ تھا کہ اگر اس ”سونے کی چڑیا“ کو لاہور میں دفن کیا گیا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اسے پیوند خاک کر کے

صفحہ 184

آئیں اور رات کو کوئی منچلا قبر اکھاڑ کر اور بدبو دار لاشہ نکال کر چوک بھاٹی گیٹ کے باہر گلے میں رسی ڈال کر لٹکا دے اور پورے ہندوستان سے عوام کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ میرے عبرت ناک انجام کو دیکھنے آئیں اور مستقبل میں جھوٹی نبوت کا سارا کاروبار تباہ و برباد ہو جائے۔ لہٰذا قادیان پہنچانے کے لئے میرا جنازہ تیار ہوا۔ پولیس کے حصار میں میرے جنازے نے آہستہ آہستہ سرکنا شروع کیا۔ ابھی چند ہی قدم چلے تھے کہ ایک مکان کی چھت سے کسی نے غلاظت سے بھرا ہوا ٹوکرا میرے اوپر پھینک دیا۔ پھر کوڑے کرکٹ سے بھری ہوئی ایک کڑاہی ”ٹھاہ“ کر کے آئی۔ اس کے ساتھ ہی مختلف مکانوں سے کوڑے کرکٹ کی برسات لگ گئی۔ برانڈرتھ روڈ سے لاہور ریلوے سٹیشن تک ایسی تاریخی کوڑا پاشی ہوئی کہ ہندو آتش بازی بھول گئے۔ میری حفاظت کے لئے آئے ہوئے انگریزی سپاہی غلاظت میں لت پت ہو گئے اور ان کا انگریزی نبی تو غلاظت میں ڈوب ہی گیا۔ بڑے عاشق رسول ہیں یہ لاہوریئے، بڑے فدائے ختم نبوت ہیں یہ لاہوریئے! جھوٹے نبی کے ساتھ یہ رسوا کن اور تاریخی سلوک کر کے اپنے سچے نبیؐ سے محبت کا حق ادا کر دیا اور عشق و وفا کا ایک روشن باب رقم کر دیا۔ مجھے مال گاڑی میں بک کروا کر قادیان لے جایا گیا جہاں میرا نام نہاد جنازہ ہوا، جس میں چودہ آدمیوں نے شرکت کی۔ پھر قادیان کے خمیر کو قادیان کی مٹی میں گاڑ دیا گیا۔

س : قبر میں فرشتوں سے کیا گفتگو ہوئی؟ ج : مجھے قبر میں لٹا کر اوپر سے مٹی ڈال دی گئی۔ قبر میں گھپ اندھیرا ہو گیا۔ اندھیرے کی وحشت سے دل کانپ رہا تھا۔ اور اپنی ہی بدبو سے دم گھٹ رہا تھا کہ مجھے روشنی اور فرشتے آتے دکھائی دیئے، ان کی آنکھوں سے تیز شعاعیں نکل رہی تھیں۔ اور ہاتھوں میں بڑے بڑے گرز تھے۔ میرے منہ سے پاخانے کی غلاظت بہتے ہوئے دیکھ کر فرشتے کچھ چونک گئے شاید انہوں نے پہلی مرتبہ اس قسم کا مردہ دیکھا تھا۔ پھر آگے بڑھ کر انہوں نے میرا بغور جائزہ لیا۔ پھر ایک فرشتے نے سوال کیا تیرا رب کون ہے؟ میں نے جواب دیا میں خود رب ہوں (آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ میں نے خدائی کا دعویٰ بھی کیا تھا) ادھر میں نے یہ جواب دیا ادھر ایک زور دار گرز میری کھوپڑی پہ پڑا۔ پھر گرزوں کی بارش شروع ہو گئی۔ چند منٹ میں بجلی کی سرعت سے مجھ پر لاکھوں گرز برس گئے۔ اور میرا وجود دھنی ہوئی روئی کی طرح بکھر کے رہ گیا۔

صفحہ 185

س : وادی جہنم میں کیسے پہنچے؟ ج : جب میں وادی جہنم کی طرف عازم سفر ہوا تو جہنم کے کچھ فاصلے پر مجھے روک کر میرے گلے میں لاکھوں ٹن وزنی لعنتوں کا طوق ڈالا گیا اور سر پر لوہے کی بھاری ٹوپی رکھی گئی جس پر جلی حروف میں لکھا ہوا تھا ”مرتد اعظم“ جب میں جہنم کے مین گیٹ کے قریب پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا ہجوم میرے استقبال کے لئے کھڑا ہے۔ سب سے پہلے میرے ابا جان ”مسیلمہ کذاب“ آگے بڑھے اور انہوں نے مجھے سینے سے لگایا، منہ چوما، سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا بیٹا! کمال کر آئے ہو تم نے تو ہمارے بھی کان کتر دیئے۔ پھر میں نے دیکھا کہ دھنسی آنکھوں، پچکے گالوں، موٹے موٹے سیاہ ہونٹوں، بالوں کے بغیر سر، جہنم کی آگ میں جھلسی ہوئی جلد، ہاتھی جیسے کانوں، لومڑی جیسی ٹانگوں اور گیدڑ جیسی ناک والا ایک شخص مجھے بڑے جذبہ اشتیاق کے ساتھ دیکھ رہا تھا۔ میں نے ابا جان سے پوچھا کہ یہ شخص کون ہے؟ ابا جان حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ بیٹا تم نے انہیں پہچانا ہی نہیں، یہ تمہارے دادا جان ”اسود عنسی“ ہیں، جنہوں نے سب سے پہلے امت مسلمہ میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے جھوٹی نبوت کا پھاٹک کھولا تھا۔ بیٹا! تم جو کچھ بھی ہو انہیں کے طفیل ہو۔ ویسے پہلے یہ ٹھیک ٹھاک ہوتے تھے۔ آج کل جہنم کے ”خاص جوتے“ کھا کھا کر یہ حالت ہو گئی ہے ان کی۔

پھر میں آگے بڑھا اور دادا جان کی قدم بوسی کرنا چاہی لیکن دادا جان نے کمال پھرتی سے میرے قدم چوم لئے اور پھر کہنے لگے کہ بیٹا! تم عمر میں تو مجھ سے چھوٹے ہو لیکن شیطانی رتبے میں بڑے ہو۔ یقین کرنا تم میرے سمیت سارے جھوٹے نبیوں کے امام ہو۔ شیطانی پرواز میں جن بلندیوں پر تم پہنچے ہو، ہم سب مل کر تصور میں بھی وہاں تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔ پھر فرعون، نمرود، شداد، ہامان، ابو جہل، ابولہب، ولید بن مغیرہ، ابن سبا، شمر وغیرہ سے میرا تعارف کروایا گیا۔ سب بڑے مودب اور آنکھیں جھکا کر ملے۔ پھر ابا جان نے مجھ سے کہا کہ جلدی کرو بیٹا اندرون جہنم کروڑوں جہنمی بڑی شدت سے تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ وہاں تمہیں ایک جلسہ عام سے خطاب کرنا ہے، اور اس کے بعد ”ہاویہ“ میں تمہیں ایک تاریخی پریس کانفرنس بھی کرنا ہے۔ پھر مجھے جہنم کے کنارے کھڑا کیا گیا۔ ایک فرشتہ دور سے بھاگتا ہوا آیا اور اس نے مجھے فٹ بال سمجھ کر پوری قوت

صفحہ 186

سے میری ”پشت“ پر کک لگائی۔ اور میں ہوا میں قلابازیاں کھاتا ہوا جہنم کے کنویں میں جا گرا۔ چنگھاڑتی ہوئی آگ میری طرف یوں لپکی جیسے بھوکا شیر تازہ گوشت کی طرف لپکتا ہے۔ آگ کے شعلوں نے مجھے اپنی حراست میں جکڑ لیا اور چند سیکنڈ میں روسٹ کر کے رکھ دیا۔

س : جہنم میں جوتے کھانے کا کتنا کوٹہ آپ کے لئے مقرر ہے؟ ج : میں اکثر اپنے جسم پر برسنے والے جوتوں کو بڑی برق رفتاری سے گنتا رہتا ہوں۔ گنتے گنتے گنتی ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن کم بخت جوتے ختم نہیں ہوتے۔

س : دنیا میں تو آپ مرغ، قورمہ، زردہ، پلاؤ، بادام، یاقوتیاں اور پرندوں کا گوشت بڑے شوق سے کھاتے تھے۔ اور اوپر سے پلومر کی شراب پیتے تھے۔ یہاں کھانے پینے کا کیا انتظام ہے؟

ج : ہائے کیا سہانا زمانہ یاد کرا دیا آپ نے کہ دوزخ کی آگ میں جلتی ہوئی زبان پر بھی پانی آ گیا۔ یہاں کھانے کے لئے ایک کانٹوں سے بھرا ہوا پھل ملتا ہے جو حلق میں جا کر اٹک جاتا ہے۔ جب درد سے بلبلانے لگتا ہوں تو پیپ ابلتا ہوا پانی نوش کرنے کے لئے پیش کیا جاتا ہے۔

س : دنیا میں تو آپ بیش قیمت لباس پہنا کرتے تھے۔ مریدین عمدہ عمدہ کوٹ اور واسکٹیں سلوا کر آپ کی خدمت میں پیش کیا کرتے تھے۔ آج کل جہنم میں کون سا لباس زیب تن کرتے ہیں؟

ج : یہاں پر میں ننگا ہی ہوتا ہوں۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ جب ایک کھال جل جاتی ہے تو دوسری مل جاتی ہے۔

س : آپ ہمیشہ بیمار رہتے تھے۔ سینکڑوں بیماریوں نے ساری زندگی آپ کو جکڑے رکھا۔ آج کل صحت کیسی ہے؟

ج : دنیا میں تو میں دائمی مریض تھا۔ لیکن پہلی مرتبہ جب مجھے جہنم میں پھینکا گیا تو آتش جہنم کی زبردست تپش سے ساری بیماریوں کے جراثیم جل کر مر گئے اور میں تندرست ہو گیا۔

ویسے بھی جہنم میں جوتے کھانے کے لئے ”میڈیکلی فٹ“ ہونا ضروری ہے

س : شنید ہے کہ آپ کی آنکھیں چھوٹی بڑی تھیں، یعنی ایک آنکھ کا بلب ۱۰۰ واٹ کا اور دوسری کا بلب ۲۵ واٹ کا تھا۔ لوگ آپ کو چھیڑتے تھے اور ”گاماں کانا“ ”ڈیڑھ اکھا“

صفحہ 187

اور "یک چشم گل" کے آوازے کستے تھے آج کل آنکھوں کا کیا حال ہے؟ ج : میری آنکھوں کی بابت آپ نے درست سنا۔ جب مجھے سوئے دوزخ لے جایا جا رہا تھا تو مین گیٹ پر مجھے روک کر زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھنے کو کہا گیا۔ میں فوراً بیٹھ گیا اور سمجھا کہ شاید دوزخ میں گرانے سے قبل مجھے کھانا کھلایا جائے گا۔ لیکن اچانک ایک فرشتہ نمودار ہوا جس کے ہاتھ میں میرے قد کے برابر "چھتر" تھا اور اس پر موٹے حروف سے لکھا تھا "جی آیاں نوں" ایک فرشتے نے میرا سر پکڑا اور دوسرے نے سر کے عین مرکز میں تڑاخ سے "چھتر" جما دیا۔ میرے سر کے سارے پرزے ہل گئے اور آنکھوں کے خولوں میں پتلیاں ناچنے لگیں۔ پھر جب چند منٹ کے بعد میں نے آنکھیں کھولیں تو دونوں آنکھوں کا سائز برابر تھا۔ چھتر کی فولادی ضرب نے دونوں آنکھوں کی "کان" نکال دی تھی۔ جہنم میں آنے کے کچھ عرصہ بعد میں نے اپنی آنکھوں کی درستگی کے راز کو پایا کہ میری دونوں آنکھیں اس لئے ٹھیک کی گئی ہیں تاکہ میں دونوں آنکھوں سے عبرت گاہ جہنم کو دیکھوں ورنہ سوا یا ڈیڑھ آنکھ سے سارے ہولناک مناظر اس طریقہ سے نہ دیکھ سکتا جس طریق سے اب "مستفید" ہو رہا ہوں۔ چلو جہنم میں آنے سے جہاں کروڑوں نقصانات ہوئے ہیں وہاں ایک فائدہ یہ تو ہوا ہے کہ اب میں کانا نہیں اور کوئی مائی کا لال مجھے "ملاں کانا" نہیں کہہ سکتا (فخر سے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے)

س : آپ گالیاں بہت بکتے تھے۔ آپ کی کتابیں گالیوں سے بھری پڑی ہیں، حتیٰ کہ اولیائے کرام اور انبیائے کرام بھی آپ کی زبان زہر افشاں سے محفوظ نہیں۔ کیا گالیاں بکنے کا یہ سلسلہ جہنم میں بھی جاری ہے؟

ج : میرا دل گالیوں کا خزینہ اور میرا دماغ مغلظات کا دفینہ تھا۔ پنجابی، اردو، فارسی، اور عربی کی لاکھوں گالیاں مجھے ازبر تھیں، جنہیں میں بوقت ضرورت بڑی مہارت سے استعمال کرتا تھا۔ میری زبان گالیوں کے "برسٹ" مارتی تھی۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں سینکڑوں گالیوں کا موجد بھی ہوں۔ باقی رہا آپ کے سوال کا دوسرا حصہ تو سنئے گالیوں کا سلسلہ جہنم میں بھی اپنے پورے لوازمات سمیت پوری شدت سے جاری ہے۔ اکثر حکیم نور الدین دوزخ کی آگ میں جلتا ہوا مجھ پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ تو نے نبوت کا ڈھونگ رچا کر ہمارا ستیاناس کر دیا۔ جواباً میں اس سے دوگنا منہ کھول کر اور دوگنی لمبی زبان نکال کر گالیوں کی جوابی فائرنگ کرتا ہوا کہتا ہوں۔ او کذاب! تو ہی

صفحہ 188

وہ مردود ہے جس نے مجھے دعویٰ نبوت کے لئے اکسایا۔ جھوٹی نبوت کا سبق پڑھایا، انگریز سے ملوایا، دین و ملت کا غدار بنایا اور اب جہنم میں پہنچایا۔ بتا تو نے مجھے ڈبویا یا میں نے تجھے! اس کے بعد گالیوں کی شدت اپنے نقطہ عروج کو پہنچ جاتی ہے۔ آگ کے شعلوں پر تیرتے ہوئے جب میری جماعت کے لوگ میرے قریب سے گزرتے ہیں تو غصہ میں پھنکارتے ہوئے کہتے ہیں۔ لعنت ہے تیرے دعویٰ نبوت پر۔ میں انہیں دھتکارتا ہوا کہتا ہوں کروڑ لعنت ہے تم پر تصدیق دعویٰ نبوت کرنے پر، وہ کہتے ہیں لعنت ہے تیرے نبی ہونے پر۔ میں کہتا ہوں لعنت ہے تمہارے امتی ہونے پر، پھر گالیوں کا ایسا مشاعرہ گرم ہوتا ہے کہ جہنم ہماری گالیوں سے گونجنے لگتا ہے۔ آخر اہل جہنم کی پرزور شکایت پر ہمیں گرز مار مار کر خاموش کرایا جاتا ہے۔ پھر بھی سب سے بعد میں چپ میں ہی ہوتا ہوں۔ ٹھہرا جو سب کا استاد۔

س : آج کل جو قادیانی جہنم میں آ رہے ہیں، کیا آپ سے ان کی ملاقات ہوتی ہے؟ ج : جی ہاں! ملاقات ضرور ہوتی ہے۔ پچھلے دنوں پاکستان کے سابق وزیر خارجہ سر ظفر اللہ، میری بیٹی امۃ الحفیظ، اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندہ نسیم احمد، شیزان فیکٹری کا مالک چوہدری شاہنواز وغیرہ تشریف لائے۔ ان سے تفصیلی ملاقات ہوئی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا جو ماں بہن کی گالیوں پر ختم ہوا۔

س : آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے کہ آپ کی امت کا فلاں فرد جہنم میں آ گیا ہے۔ کیا سرراہ ملاقات ہوتی ہے یا باقاعدہ انتظام و اہتمام ہے؟ ج : جب میرا کوئی امتی جہنم میں آتا ہے تو اسے مین گیٹ پر روک لیا جاتا ہے۔ پھر مجھے اس کی آمد کی اطلاع کی جاتی ہے اور حکم ہوتا ہے کہ فوراً مین گیٹ پر پہنچو۔ میں فوراً پہنچ جاتا ہوں۔ حکم ہوتا ہے کہ اسے کندھوں پر اٹھاؤ اور جہنم میں فلاں مقام پر چھوڑ کر آؤ۔ میں اس ظالم کو اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھاتا ہوں اور ہانپتا، کانپتا، لڑکھڑاتا، بڑبڑاتا اسے اس کی سیٹ پر چھوڑ کر آتا ہوں کہ چند منٹ بعد دوبارہ بلا لیا جاتا ہوں کہ اور مہمان آیا ہے۔ اسے پہنچا کر سانس ہی لیتا ہوں کہ اطلاع آتی ہے کہ اپنی آمدنی کا دس فی صد حصہ دینے والا بہشتی مقبرے کا مہمان آیا ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے اور میرے پاؤں پتھر کے اور میری ٹانگوں کی نسیں پھول کر سائیکل کی ٹیوب کی طرح ہو جاتی ہیں۔ اکثر ظالم جہنم کی آگ کے خوف سے چیخیں مارتے ہوئے مجھ پر پیشاب کر دیتے ہیں۔ تین تین چار چار

صفحہ 189

من کے موٹے موٹے پیٹوں والے قادیانی مجھ پر سواری کرتے ہیں اور میں واحد بد قسمت سواری ہوں جس کا کوئی کرایہ نہیں۔ شاید اللہ نے مجھ پر یہ عذاب نازل کر رکھا ہے کہ اپنے فتنہ ارتداد سے گمراہ کردہ لوگوں کا بوجھ ان کے گناہوں سمیت اپنے کندھوں پر ہی اٹھاؤں۔ بعض مہینوں میں میری امت کے افراد کی آمد بہت بڑھ جاتی ہے۔ اور وہ مہینے میرے لئے بہت سخت ہوتے ہیں۔ ویسے ایک بات تو ہے کہ میرے امتی جائیں بھی تو کہاں، جہنم ہی میں تو آنا ہے۔ جنت کے دروازے تو ختم نبوت کے منکرین کے لئے بند ہیں۔

س : کیا نصرت جہاں بیگم سے جہنم میں ملاقات ہوتی ہے؟ ج : ہاں اکثر ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ سارے بچوں کو ساتھ لے کر آتی ہے۔ بچے رو رو کر کہتے ہیں کاش تو ہمارا ابا نہ ہوتا۔ نصرت جہاں بیگم چیختی ہے کہ کاش تو میرا خاوند نہ ہوتا۔ کاش تو پیدا نہ ہوتا تیرے جنم لینے سے لاکھوں لوگ جہنم کے سفاک جبڑوں میں کسے ہوئے ہیں اور کسے جارہے ہیں۔ اے فریبی! تو خود کو نبی کہتا تھا۔ مجھے ام المومنین کہتا تھا اور بچوں کو اہل بیت کا نام دیتا تھا۔ اور اب سب کو لے کر جہنم میں بیٹھا ہوا ہے۔ لعنت ہے تیری شخصیت پر۔ میرا سسر میر ناصر نواب چیختا پیٹتا میرے پاس آتا ہے اور مجھے گردن سے پکڑ لیتا ہے۔ اور گلا پھاڑتا ہوا کہتا ہے او دجال! مجھے کیا معلوم تھا کہ میرے گھر میں سہرا سجا کر آنے والا بڈھا دولہا کل جہنم کا بھی دولہا ہو گا۔ اور میں بد قسمت اس کا باراتی۔ کائنات میں نہ تجھ سا کوئی منحوس داماد ہو گا اور نہ مجھ سا بختوں کا مارا سسر!

س : بچوں میں سب سے زیادہ پیار کس سے تھا؟ ج : مرزا بشیر الدین سے۔ کیونکہ بچپن سے ہی اس میں ایسی نشانیاں آشکارا ہوتی تھیں۔ جس سے میں بہت خوش تھا کہ یہ میرا جانشین ہو گا۔

اور پھر میرا خلیفہ بن کر بھی۔

صفحہ 190

ہوں پاپا جان! میں اس سے از حد خوش تھا کیونکہ یہی وہ اوصاف تھے جو میرے ہر خلیفہ میں پائے جانے ضروری ہیں۔ تراخ تراخ جوتے پڑ رہے ہیں اب بیچارے کو!

س : کیا کسی بچے سے نفرت بھی تھی؟

ج : جی ہاں! مجھے اپنے بیٹے مرزا فضل سے شدید نفرت تھی کیونکہ وہ مجھے نبی نہیں مانتا تھا۔ مجھے صاف کہتا کہ ابا جھوٹی نبوت کا ڈرامہ بند کر دے۔ خدا کا خوف کر، ساری رات گھوڑے بیچ کر سویا رہتا ہے اور صبح اٹھ کر لوگوں سے کہتا ہے کہ آج رات مجھ پر فلاں فلاں وحی آئی ہے۔ میں اس کی پٹائی کرتا لیکن وہ باز نہ آتا۔ پھر وہ ایام جوانی میں مر گیا لیکن مجھے اس پر اتنا غصہ تھا کہ میں نے اس کی نماز جنازہ بھی نہ پڑھی اور شاید یہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ مجھ ایسا مرتد اعظم اس کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کر سکا۔

س : کبھی اپنی حسین و جمیل آنکھوں میں سرمہ بھی ڈالتے تھے؟

ج : بھئی میرا آپ کا مذاق نہیں ہے۔

س : سنا ہے آپ نے بڑھاپے میں اپنی رشتہ دار لڑکی محمدی بیگم سے بوڑھا عشق بھی فرمایا تھا اور شادی کے لئے بھی بہت ہاتھ پاؤں مارے تھے۔ چند الفاظ اس عشق ناکام کے بارے میں؟

ج : نہ چھیڑ میرے زخموں کو بہت رسوائی پائی ہے میں نے
محمدی بیگم کے عشق میں ذلت کی ٹوکری اٹھائی ہے میں نے
ہائے مرزا سلطان لے گیا میری آسمانی منکوحہ کو
بہت چیخا، بہت تڑپا، بہت دی دہائی ہے میں نے

س : امت مسلمہ کے پیران کرام، مشائخ عظام، خطباء، ادباء، علماء، صوفیا، شعراء اور ختم نبوت کے لاکھوں پروانوں نے آپ کے برپا کردہ فتنہ کو مٹانے کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر دیں اور صرف کر دیں، تاریخی تحریکیں چلائیں، جانوں کے نذرانے پیش کیے اور زندانوں کو آباد کیا لیکن کیا وجہ ہے کہ اس سخت جدوجہد کے باوجود آپ کا فتنہ ابھی تک زندہ ہے؟

ج : دشمن کو شکست دینے کے لئے اس کی طاقت کو تقسیم کرنے اور اس کی صفوں میں انتشار پیدا کرنا ایک اہم جنگی حکمت عملی ہے۔ ہم نے اس نہج پر خوب کام کیا ہے اور فرقہ پرستی کی تلوار سے آپ کی صفوں کو الٹ پلٹ کر کے رکھ دیا ہے۔ فرقہ پرستی کی وباء کو پھیلانے اور مزید پھیلانے کے لئے ہمارا

صفحہ 191

کروڑوں روپے کا بجٹ سالانہ منظور ہوتا ہے جس سے امت مسلمہ آپس میں خوب دست و گریباں ہوتی ہے۔ اور ہم ان کی آپس کی سر پھٹول دیکھ کر اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔ دشمن پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے کچھ غداروں کو ساتھ ملانا ضروری ہے آپ کے کتنے صحافی ہیں جو ہمارے وظیفہ خوار ہیں۔ آپ کے کتنے شاعر ہیں جو ہمارے دستر خواں کے خوشہ چیں ہیں۔ آپ کے کتنے سیاست دان ہیں جنہیں الیکشن ہم لڑاتے ہیں۔ کتنی لادین سیاسی جماعتیں ہیں جن کی جھولی میں ہماری عطا کردہ دولت ہوتی ہے اور جیب میں ہمارا عطا کردہ ہدایت نامہ ہوتا ہے۔ اور پھر جب کبھی پاکستان میں ہمارے خلاف کوئی آواز اٹھتی ہے تو یہی طبقہ ہمارے حق میں آواز اٹھاتا ہے اور آپ کی آواز کو دباتا ہے۔ یہ لوگ جو کچھ ہمارے لئے کرتے ہیں ہم خود اپنے لئے نہیں کر سکتے۔ یہی لوگ ہمارا سرمایہ ہیں یہی لوگ ہماری زندگی ہیں اور یہی لوگ ہماری جماعت کی روح ہیں۔

علاوہ ازیں ہمارے زندہ رہنے کے چند مندرجہ ذیل عوامل ہیں: مسلمان حکمرانوں کی بے حسی و بے حمیتی۔ دین سے بے بہرہ لوگوں کا اعلیٰ عہدوں پر تعینات ہونا۔ عوام کی کثیر تعداد کا فتنہ قادیانیت سے نا آشنا ہونا۔ کلیدی اور حساس عہدوں پر قادیانی افسران کا قبضہ اور ان کے وسیع اختیارات۔ صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی، سینٹ اور حکومت کے خفیہ اداروں میں ہمارے آدمیوں کی موجودگی۔ یہود، ہنود اور نصاریٰ سے گہرے تعلقات اور ان کی سرپرستی۔ بین الاقوامی صحافت پر ہمارا اثر و نفوذ۔ دونوں سپر پاورز کا ایجنٹ ہونا۔ دنیا کی انسانی حقوق کی محافظ نام نہاد تنظیموں کا ہمارے لئے واویلا کرنا اور دنیا میں ہمیں مظلوم ثابت کرنا۔

س : ۱۹۷۴ء میں مسلمانوں کے بھرپور مطالبہ پر پاکستان کی قومی اسمبلی نے آپ کو کافر قرار دے دیا۔ کیا آپ کی جماعت پر اس فیصلہ کا کوئی اثر پڑا؟

ج : ملت اسلامیہ اس فیصلہ پر پھولے نہیں سماتی تھی، لیکن یہ فیصلہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔ یہ فیصلہ ایک خانہ پری ہے اور ہم اسے ایک عام تحریر سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ آج یہ فیصلہ ہوئے سولہ سال بیت گئے لیکن آپ دیکھیں کہ اس فیصلہ نے کس حد تک ہمیں بیڑیاں

صفحہ 192

پہنائیں۔ آج آپ کے سامنے ہم خود کو دھڑلے سے مسلمان لکھتے ہیں، مسلمانوں ایسے نام رکھتے ہیں، کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں، ہمارے جرائد و رسائل و اخبارات شائع ہو رہے ہیں، میری نبوت کا لٹریچر دھڑا دھڑ چھپ رہا ہے، آج بھی مجھے نبی اور رسول، میری بیوی کو ام المومنین، میرے ساتھیوں کو صحابہ کہا اور لکھا جا رہا ہے، ملک کی کلیدی اور حساس آسامیوں پر ہمارا قبضہ ہے، خود کو مسلمان ظاہر کر کے صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینٹ میں ہمارے آدمی موجود ہیں۔ خود کو مسلمان ظاہر کر کے ہم حج کے موقع پر مکہ اور مدینہ جاتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے اندر ہمارا مرکز کفر و الحاد ”ربوہ“ موجود ہے۔ اور ہم پورے پاکستان میں بڑے ٹھاٹھ سے عین اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اور لاکھوں مسلمانوں کے حقوق ہڑپ کر رہے ہیں۔ اب آپ بتائیں کہ کیا دھچکا لگا ہے ہمیں پارلیمنٹ کے اس فیصلہ کے ہاتھوں!

س : تو پھر آپ کے فتنہ کا اصل علاج کیا ہے؟ ج : ہمارا اصل علاج وہی ہے جو آپ کے بڑوں نے ہمارے بڑوں کا کیا تھا یعنی جو علاج ابو بکر صدیقؓ نے مسیلمہ کذاب کا کیا تھا۔ میری ایک نہایت اہم بات پلے باندھ لیں کہ جب تک پاکستان میں اسلامی نظام نافذ نہیں ہوتا ہمارا فتنہ اپنی تمام تر حشر سامانیوں سمیت زندہ رہے گا کیونکہ اسلامی نظام ہمارے لئے پیغام موت ہے اور انگریزی نظام مژدہ حیات! آپ آج پاکستان میں مرتد اور زندیق کی شرعی سزا نافذ کریں اور پھر دیکھیں کہ ارض پاکستان سے ہمارا فتنہ یوں غائب ہو گا جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ قصور آپ کا ہے ہمارا نہیں، ذرا سوچئے اور سر پکڑ کر سوچئے!!

س : اگر ایک دفعہ پھر زندگی مل جائے تو؟ ج : اگر میں دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جاؤں تو اپنے کپڑے پھاڑ لوں، مینار پاکستان پر چڑھ جاؤں، قطب مینار کی چوٹی پر جا بیٹھوں، ”پیسا ٹاور“ پر چڑھ دوڑوں، فیصل آباد کے گھنٹہ گھر کی چوٹی پر کھڑا ہو جاؤں اور پھیپھڑوں اور گلے کی پوری طاقت سے چلاؤں، لوگو! میں دجال ہوں، میں کذاب ہوں میں وہ ذلیل و رذیل شخص ہوں جس نے جھوٹی نبوت کا ڈھونگ رچایا، اپنی ارتدادی کتابیں نذر آتش کر دوں، بہشتی مقبرہ اکھیڑ کر رکھ دوں، نام نہاد قصر خلافت کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں، ربوہ کو اس طرح آگ لگاؤں کہ پوری دنیا میں اس کا دھواں پھیلے، قادیان کو اس طرح مٹاؤں کہ رہتی دنیا تک تاریخ میں باب عبرت بن

صفحہ 193

جائے، قادیانی مرتدوں کو سولی چڑھا دوں، مرزا طاہر ملعون کا گلا دبا کر زبان اور آنکھیں نوچ لوں اور لاؤڈ سپیکر لگا کر سڑکوں پر اعلان کروں کہ خدا کی دھرتی پر رہنے والو! نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے اب قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آئے گا، جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ کذاب ہو گا، دجال ہو گا اور واجب القتل ہو گا۔ مگر ہائے افسوس اب ایسا نہیں ہو سکتا۔ میں ایسا نہیں کر سکتا ہر کسی نے دنیا میں ایک ہی دفعہ آنا ہے اور پھر موت کا پیالہ پی کر واپس چلے جانا ہے۔ ہائے کاش میں واپس جا سکوں۔ کاش میں واپس جا سکوں۔ کاش میں واپس جا سکوں ............. سسکیاں .......... ہچکیاں۔

س : اپنے موجودہ خلیفہ مرزا طاہر کو کبھی خواب میں سمجھایا ہے؟

ج : عالم خواب میں مرزا طاہر سے کئی ملاقاتیں کی ہیں اور اسے بڑے پیار سے سمجھایا ہے کہ بیٹا خدا کا خوف کر شیطان کے خول سے باہر نکل، پتہ نہیں چراغ زندگی کب بجھ جائے۔ وقت کو غنیمت جان اور تائب ہو کر اپنی آخرت سنوار لے، میں نے اسے کئی مرتبہ روتے ہوئے سمجھایا کہ بیٹا! میری طرف دیکھ، اپنی دادی نصرت جہاں بیگم کی طرف دیکھ، اپنے ابا بشیرالدین کی طرف دیکھ، اپنے بھائی مرزا ناصر کی طرف دیکھ اور اپنے دیگر چچاؤں اور پھوپھیوں کی طرف دیکھ سارا خاندان جہنم میں جل رہا ہے۔ تو تو ابھی زندہ ہے۔ تیرے پاس تو توبہ کی مہلت ہے، توبہ کر لے۔ جواباً وہ کہتا ہے دادا جان بات تو آپ کی درست ہے لیکن میں کھربوں روپے کی جھوٹی نبوت کا کاروبار کیسے چھوڑ دوں، جماعت کی کروڑوں روپے کی زمینیں، بلند و بالا عمارات، ہزاروں عبادت گاہیں، لمبی لمبی کاریں، شراب و کباب و شباب کی محفلیں، بہشتی مقبرہ کی لمبی چوڑی آمدنی، خدمت گاروں کا جھرمٹ، اندھے عقیدت مندوں کا ہجوم، یہود و نصاری سے دوستانہ یارانے، سپر طاقتوں سے تعلقات اور اربوں روپے کا بنک بیلنس چھوڑتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ ورنہ یہ تو میں بھی جانتا ہوں کہ نہ آپ نبی تھے اور نہ ہی میں خلیفہ، یہ تو ایک ناٹک ہے جو ہم پون صدی سے رچا رہے ہیں پھر مجھ سے گلہ کرتا ہوا کہتا ہے کہ دادا جان! آپ تو نبوت کا جبہ پہنے اس کاروبار کو ادھورا چھوڑ گئے تھے یہ تو ہماری محنت و لیاقت ہے کہ ہم نے اس ادھورے کاروبار کو سنبھالا، چلایا، اور چمکایا۔ اتنی جدوجہد کرنے کے بعد اس چلے چلائے اور چمکے چمکائے کھربوں ڈالر کے بزنس کو چھوڑنے کا فی الحال میرا کوئی ارادہ نہیں، آپ سب بڑے شوق سے جہنم میں جلیں، مجھے تو دنیا کی ہر آسائش میسر ہے اور میں ایک پرنس کی زندگی بسر کر رہا ہوں!

صفحہ 194

س : قادیانیوں کے نام کوئی پیغام؟ ج : میری طرف سے قادیانیوں سے کہنا کہ مرزا قادیانی نے ہاتھ جوڑ کر کہا ہے کہ قادیانیو! اپنی کھال بچاؤ۔ آل بچاؤ، مال بچاؤ اور اگر مرزا طاہر چندہ مانگے تو اس ملعون کے سر پر دھول جماؤ۔ ختم نبوت پر ایمان لاؤ، قرآن وحدیث پڑھو اور پڑھاؤ، مجھ پر لعنت بھیجو اور بھجواؤ ورنہ جہنم میں میرے پاس تشریف لاؤ، آگ پھانکو اور گرز کھاؤ اور جہنم کے دائمی مکین بن جاؤ۔

اچھا آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے گرزوں کی مار، چھتروں کی بوچھاڑ، آگ کی چنگاڑ، دھوئیں کی یلغار، دوزخ کی چیخ و پکار، سانپوں کی پھنکار اور فرشتوں کی دھتکار کے باوجود خاصا وقت عنایت کیا یہ آپ ہی کی ہمت و حوصلہ ہے کہ آپ نے اس عذاب شدید کے باوجود ہمارے سوالوں کے جوابات دیئے۔ اچھا اب آپ کو آگ اور گرزوں کے حوالے کرتے ہیں۔ آئندہ کبھی انٹرویو کی ضرورت پڑی تو پھر زحمت دیں گے.......... تب تک کے لئے اجازت!!!! (ٹھاہ ٹھاہ، تڑاخ تڑاخ، ڈزن ڈزن، ہائے ہائے، ہو ہو کی صدائیں ۔

PDF 195

ایڈیشن

قادیانی عملیات

مرزا قادیانی کے تحفے۔

صلائے عام ھے
یاران عقل فروشوں کیلئے
صفحہ 197

میں لاہور کی ایک سیر گاہ میں سیر کر رہا تھا۔ میرا گزر چپس کے بنے ہوئے ایک بینچ کے قریب سے ہوا جس پر ایک نوجوان اور ایک ادھیڑ عمر شخص بیٹھے باتوں میں مصروف تھے۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے ادھیڑ عمر شخص اس نوجوان کو کسی بات پر قائل کر رہا ہے۔ اچانک میرے کانوں میں مرزا قادیانی کا لفظ پڑا۔ میں ٹھٹک گیا اور قریب ہی پڑے دوسرے بینچ پر بیٹھ کر ان کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔ میں نے سنا کہ وہ شخص اس نوجوان کو قادیانیت کے "فضائل" سناتے ہوئے مرزا قادیانی کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہا تھا۔ وہ بے تکان بولے جا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ "مرزا قادیانی اللہ کا "نبی" ہے جسے اس دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ہے۔ اب صرف قادیانیت کا پیغام ہی انسانیت کے لئے نجات دہندہ ہے۔ مرزا قادیانی کی تعلیمات میں زندگی کے ہر پہلو کے لئے راہنمائی ہے۔ مرزا قادیانی نے انسان کی زندگی کے ہر دکھ درد کا علاج بتایا ہے۔ آپ زندگی کے کسی بھی شعبے سے اپنی الجھن لے کر آئیے اور مرزا قادیانی کی تعلیمات کی روشنی میں منٹوں میں اس کا حل پائیے۔"

قادیانی مبلغ کی یہ باتیں سن کر میں بھی ان کے پاس بینچ پر جا بیٹھا اور شریک گفتگو ہو گیا۔ جب میں نے اس مبلغ سے مرزا قادیانی اور قادیانیت کے بارے میں چند چبھتے ہوئے سوالات پوچھے تو وہ مجھے قادیانیت سے باخبر پا کر کھسیانا ہو کر ہی ہی کرنے لگا اور پھر جب میں نے صدارتی امتناع قادیانیت آرڈیننس کی دفعہ ۲۹۸ سی کا ذکر خیر چھیڑا تو وہ وہاں سے یوں غائب ہو گیا جیسے گدھے کے سر سے سینگ!۔ اس کے وہاں سے چلے جانے کے بعد میرے ذہن کی وادی میں اس کے الفاظ گونجنے لگے کہ "مرزا قادیانی کی تعلیمات میں زندگی کے ہر دکھ درد کا علاج بتایا گیا ہے۔" اچانک ایک بجلی سی کوندی اور میرے دماغ میں مرزا قادیانی کی کتابوں کے نقوش ابھرے اور انسانی زندگی کی مشکلات اور مرزا قادیانی کی تعلیمات سے ان کا "حل" آشکار ہونے لگا۔ اس ساری صورت حال کو آپ بھی اپنی چشمان بینا سے ملاحظہ فرمائیے۔

قادیانیو! ذیل میں درج نسخے میرے طبع زاد نہیں اور نہ ہی یہ سمجھنا کہ یہ کسی مسلمان کی ہانکی ہوئی گپیں ہیں۔ یہ سارے نسخے تمہارے انگریزی نبی مرزا قادیانی پر نازل

ہونے والی شیطانی وحی، رویا، کشوف، الہامات، تحریرات و اقوال اور ان کی شرمناک کے واقعات سے اخذ کئے گئے ہیں۔ میں نے ہر چیز کو تمہاری کتابوں کے حوالوں سے پیش کیا ہے اگر مرزا قادیانی کی زندگی کا کوئی واقعہ طویل تھا تو میں نے پورا واقعہ درج نہیں کیا۔ بلکہ اس واقعہ کی طرف صرف اشارہ کیا ہے، لیکن اس واقعہ کا حوالہ آپ کی کتب سے پیش کر دیا ہے۔

کھانے میں برکت ڈالنے کے لئے:۔

"ایک دانہ کس کس نے کھانا"

(البشریٰ جلد دوم ص ۱۷، مصنفہ مرزا قادیانی)

اگر آپ گھر میں بیٹھے کھانا کھا رہے ہیں اور ابھی آپ نے کھانا شروع ہی کیا ہے کہ آپ کے گھر میں آٹھ دس مہمان آگئے ہیں اور آپ کے پاس صرف وہی کھانا ہے جو آپ کھا رہے ہیں۔ آپ روٹی کو ہاتھ میں پکڑ کر فضا میں بلند کریں اور ایک آدمی کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھیں "ایک دانہ کس کس نے کھانا" وہ "لازما" جواب دے گا کہ آپ کھائیے پھر دوسرے سے پوچھئے "ایک دانہ کس کس نے کھانا" وہ بھی یقیناً کہے گا۔ آپ تناول فرمائیں۔ پھر تیسرے سے بڑی محبت سے پوچھئے۔ "ایک دانہ کس کس نے کھانا" ۔ اس کا جواب بھی یہی ہو گا کہ محترم آپ ہی تناول فرمائیں۔ پھر اس طرح ہر ایک سے پوچھتے جائیں جب سب سے ایک ہی جواب پا کر فارغ ہو جائیں تو پھر انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ کھانے پر دو ہاتھوں اور بتیس دانتوں سے حملہ آور ہو جائیے اور صرف ڈھائی منٹ میں سارا کھانا چٹ کر جائیے۔ دیکھا مرزا قادیانی کی مدد سے آپ کو مصیبت سے کس طرح نجات ملی۔

چہرے کے ڈنٹ دور کرنے کے لئے:۔ صبح سویرے اٹھئے۔ قادیانی ہاؤس سے فارغ ہونے کے بعد جانگیہ پہن کر صحن میں آلتی پالتی مار کر بیٹھ جائیے۔ چڑھتے سورج کی طرف منہ کرتے ہوئے سارا جسم ڈھیلا چھوڑ دیں۔ سانس کو آہستہ آہستہ اندر کھینچنا شروع کریں۔ اور تیزی کے ساتھ لعنت لعنت کا ورد شروع کریں۔ سانس اندر کھینچتے

صفحہ 197

ہونے والی شیطانی وحی ' رویا ' کشوف ' الہامات ' تحریرات و اقوال اور زندگی شرمندگی کے واقعات سے اخذ کئے گئے ہیں۔ میں نے ہر چیز کو تمہاری کتابوں کے حوالوں سے پیش کیا ہے اگر مرزا قادیانی کی زندگی کا کوئی واقعہ طویل تھا تو میں نے پورا واقعہ درج نہیں کیا۔ بلکہ اس واقعہ کی طرف صرف اشارہ کیا ہے، لیکن اس واقعہ کا حوالہ آپ کی کتب سے پیش کر دیا ہے۔

کھانے میں برکت ڈالنے کے لئے:۔

”ایک دانہ کس کس نے کھانا“

(البشریٰ جلد دوم ص ۱۰۷ مصنفہ مرزا قادیانی)

اگر آپ گھر میں بیٹھے کھانا کھا رہے ہیں اور ابھی آپ نے کھانا شروع ہی کیا ہے کہ آپ کے گھر میں آٹھ دس مہمان آگئے ہیں اور آپ کے پاس صرف وہی کھانا ہے جو آپ کھا رہے ہیں۔ آپ روٹی کو ہاتھ میں پکڑ کر فضا میں بلند کریں اور ایک آدمی کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھیں ”ایک دانہ کس کس نے کھانا“ وہ لازماً جواب دے گا کہ آپ کھائیے پھر دوسرے سے پوچھئے ”ایک دانہ کس کس نے کھانا“ وہ بھی یقیناً کہے گا۔ آپ تناول فرمائیں۔ پھر تیسرے سے بڑی محبت سے پوچھئے۔ ”ایک دانہ کس کس نے کھانا“۔ اس کا جواب بھی یہی ہو گا کہ محترم آپ ہی تناول فرمائیں۔ پھر اس طرح ہر ایک سے پوچھتے جائیں جب سب سے ایک ہی جواب پا کر فارغ ہو جائیں تو پھر انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ کھانے پر دو ہاتھوں اور بتیس دانتوں سے حملہ آور ہو جائیے اور صرف ڈھائی منٹ میں سارا کھانا چٹ کر جائیے۔ دیکھا مرزا قادیانی کی مدد سے آپ کو مصیبت سے کس طرح نجات ملی۔

چہرے کے ڈینٹ دور کرنے کے لئے:۔ صبح سویرے اٹھئے۔ قضائے حاجت سے فارغ ہونے کے بعد جاگنگ سوٹ پہن کر صحن میں آلتی پالتی مار کر بیٹھ جائیے۔ چڑھتے سورج کی طرف منہ کرتے ہوئے سارا جسم ڈھیلا چھوڑ دیں۔ سانس کو آہستہ آہستہ اندر کھینچنا شروع کریں۔ اور تیزی کے ساتھ لعنت لعنت کا ورد شروع کریں۔ سانس اندر کھینچتے

صفحہ 198

جائیں اور لعنت کے ورد اور آواز میں تیزی پیدا کرتے جائیں۔ چند منٹ کے بعد آپ اپنے چہرے کو سرخ اور پھولا ہوا دیکھیں گے۔ پچکے ہوئے گال ابھر آئیں گے۔ پھر یکدم شوں کی آواز نکال کر سانس کو چھوڑ دیں۔ دوبارہ آہستہ آہستہ سانس لیتے ہوئے یہی عمل دہرائیں۔ ہر روز دس دفعہ یہ ورزش کریں۔ ایک مہینہ کا کورس ہے۔

اگر راستے میں ڈاکو پڑ جائیں :۔ اگر آپ کہیں جا رہے ہیں اور کسی ڈاکو یا ڈاکوؤں نے آپ کا راستہ روک لیا ہے تو آپ بالکل نہ گھبرائیں۔ مرزا قادیانی کا نسخہ آپ کے لئے حاضر ہے۔ تن کر کھڑے ہو جائیں۔ چھاتی کو ابھار لیں۔ نتھنے پھلا لیں اور پوری آنکھیں نکال لیں اور انتہائی غصہ سے اور پوری طاقت سے اپنے منہ سے " غشم غشم غشم " کے الفاظ نکالیں۔ غشم غشم غشم کے الفاظ اپنے منہ سے اس طرح نکالیں کہ گویا الفاظ نہیں شعلے یا گولیاں نکل رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی شہادت کی انگلی کو اس طرح حرکت دیں کہ گویا آپ فائرنگ کر رہے ہیں۔ اس دوران دونوں پاؤں سے اس زور سے مٹی اڑائیں کہ مٹی آپ کے سر پر پڑے۔ آپ کی اس پیدا کردہ صورت حال سے ڈاکو خوفزدہ ہو کر بھاگ جائیں گے اور آپ غشم غشم غشم کی کلاشنکوف کے ذریعے محفوظ و مامون رہیں گے۔ (۲)

مخالفین کے جلسوں کو منتشر کرنے کے لئے :۔ اگر آپ کے شہر میں آپ کی کسی مخالف جماعت کا جلسہ ہو رہا ہے اور آپ اس جلسہ کو درہم برہم کرنا چاہتے ہیں تو آپ کی مشکل کے حل کے لئے مرزا قادیانی اپنے نسخے سمیت حاضر ہے۔ " پیٹ پھٹ گیا " (البشریٰ جلد دوم ص ۱۹)

ہزاروں کا مجمع ہے۔ دور دور تک انسانی سروں کی فصل لہلہاتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ سحر بیاں مقرر کا سحر پورے مجمع پر طاری ہے۔ مجمع مقرر کی مٹھی میں بند ہے اور وہ جب چاہتا ہے حاضرین کو ہنسا دیتا ہے اور جب چاہتا ہے رلا دیتا ہے۔ اس جمے ہوئے مجمع کو اکھیڑنے کے لئے آپ مجمع میں چھ سات مقامات پر اپنے دو دو آدمی بٹھا دیں۔ جلسہ شروع ہونے سے تھوڑی دیر بعد ان میں سے ایک آدمی اپنی جگہ تڑپنا شروع کر دے اور دوسرا شور مچاتا روتا پیٹتا ہوا مرزا قادیانی کا الہام پڑھے " پیٹ پھٹ گیا " " پیٹ

صفحہ 199

پھٹ گیا" اس کے شور مچانے پر لوگ تڑپتے ہوئے آدمی کی جانب لپکیں گے اور اسے فوری طبی امداد کے لئے ہسپتال پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ اس طرح جلسہ میں اچھی خاصی ہڑبونگ مچ جائے گی۔ اس واقعہ کے پورے پانچ منٹ بعد دوسری جگہ پر بیٹھی ہوئی جوڑی یہی عمل دھرائے۔ اس جگہ پر بھی ایک انتشار پھیل جائے گا۔ پھر صرف تین منٹ بعد تیسری جگہ سے شور اٹھے۔ " پیٹ پھٹ گیا " " پیٹ پھٹ گیا " اور اسی طرح باقی جگہوں سے بھی ٹھیک دو دو منٹ بعد چیخ و پکار ہو کہ " پیٹ پھٹ گیا " مقرر اور میزبانوں کی ہزار کوششوں کے باوجود جلسہ درہم برہم ہو جائے گا اور آپ فاتح بن کر گھر لوٹیں گے۔

آپ یہ نسخہ سیاسی جلسوں میں بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ مجرب ہے۔

اگر ہندو ہمسائے سے لڑائی ہو جائے :- اگر کسی وجہ سے آپ کی اپنے ہندو ہمسائے سے ان بن ہو جائے تو آپ کو لڑائی جھگڑے اور دھینگا مشتی کی کوئی ضرورت نہیں۔ صبح سویرے بیدار ہو جائیں۔ صحن میں ایک دری بچھائیں اور سارے گھر والے اس پر بیٹھ کر اونچی آواز سے انتہائی ترنم کے ساتھ مرزا قادیانی کا یہ "عارفانہ" کلام پڑھیں۔

چپکے چپکے حرام کروانا آریوں کا اصول بھاری ہے
نام اولاد کے حصول کا ہے ساری شہوت کی بے قراری ہے
بیٹا بیٹا پکارتی ہے غلط یار کی اس کو آہ و زاری ہے
دس سے کروا چکی ہے زنا لیکن پاک دامن ابھی بیچاری ہے
زن بیگانہ پر یہ شیدا ہیں جس کو دیکھو وہی شکاری ہے

(آریہ دھرم ص ۔ ۷۷ ۔ ۷۶ مصنفہ مرزا قادیانی)

کلام پڑھنے کے بعد پانچ پانچ قلا بازیاں لگائیں اور اس کے بعد حقے کے پانی کے دو دو گھونٹ پی لیں۔ یہ عمل پندرہ دن تک دھرائیں۔ ہندو گھر بیچ کر چلے جائیں گے۔

صحت و تندرستی کے لئے :- اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز کسی پیچیدہ بیماری کا شکار ہے اور ڈاکٹروں، حکیموں کے ہاں جا جا کر آپ کی کمر ہمت ٹوٹ گئی ہے اور جیب

صفحہ 200

اجڑ گئی ہے۔ تو مایوس نہ ہوں آج ہی مرزا قادیانی کے نسخہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تندرستی پائیں ایک کاغذ کی پرچی پر مرزا قادیانی کی وحی لکھیں۔ "مرزے ہم نے تیری صحت کا ٹھیکہ لیا ہے" پرچی کو لپیٹ کر ایک کیپسول میں بند کر دیں اور اس طرح کے 30 کیپسول بنا لیں۔ صبح دوپہر شام ایک ایک کیپسول کنوئیں کے پانی سے کھائیں۔ بعد میں گرم گرم ابلے انڈے کے ساتھ ٹھنڈا ٹھنڈا پیپسی کولا پیئں۔ دس دن کا علاج ہے۔

پرہیز :۔ دس دن تک اپنے گھر سے کوئی چیز نہیں کھانی۔ اگر مریض اتنا لاغر ہو کہ وہ کیپسول نہ کھا سکے تو کالی روشنائی کے ساتھ پرچی پر مذکورہ بالا الہام لکھیں اور اسے آدھا کپ پانی میں ڈبو دیں۔ ایک گھنٹہ کے بعد ساری تحریر پانی میں حل ہو جائے گی۔ پھر اس آدھا کپ پانی کو ایک بڑی سرنج میں بھر لیں اور اس پانی کو گلوکوز کی بوتل میں سرنج کے ذریعے داخل کر دیں اور مریض کو گلوکوز لگا دیں۔ تھوڑی ہی دیر بعد صحت یابی ہو جائے گی۔

پیچش :۔ اگر آپ کے بچے کو پیچش کی بیماری لگ گئی ہے اور لگا تار پاخانے آ رہے ہیں اور کوئی دوائی کارگر ثابت نہیں ہو رہی تو قطعاً نہ گھبرائیے۔ مرزا قادیانی کا مندرجہ ذیل الہام موٹے مارکر کے ساتھ بچے کے پیٹ پر لکھ دیں۔

۲۷ دسمبر ۱۸۹۱ ۔ ۲۲ ۔ ۲۸ ۔ ۲۷ ۔ ۱۳ ۔ ۳ ۔ ۲۷ ۔ ۲ ۔ ۲۶ ۔ ۲ ۔ ۲۸ ۔ ۱ ۔ ۲۳ ۔ ۱۵ ۔ ۱۱ ۔ ۱ ۔ ۲ ۔ ۲۷ ۔ ۱۴ ۔ ۲ ۔ ۱ ۔ ۲۸ ۔ ۲۷ ۔ ۲۷ ۔ ۱۱ ۔ ۲۴ ۔ ۱۴ ۔ ۱۱ ۔ ۱۷ ۔ ۱ ۔ ۵ ۔ ۳۴ ۔ ۲۳ ۔ ۴۲ ۔ ۱۱ ۔ ۷ ۔ ۱۴ ۔ ۲۳ ۔ ۱۴ ۔ ۱ ۔ ۱۴ ۔ ۵ ۔ ۲۸ ۔ ۷ ۔ ۳۴ ۔ ۱ ۔ ۷ ۔ ۴۴ ۔۱۱ ۔ ۱۶ ۔ ۱ ۔ ۱۴ ۔ ۷ ۔ ۲ ۔ ۱ ۔ ۷ ۔ ۵ ۔ ۱ ۔ ۱۴ ۔ ۱ ۔ ۱۴ ۔ ۲ ۔ ۲۸ ۔ ۱ ۔ ۷

(البشریٰ جلد دوم ص ۔ ۱۷۔ مجموعہ الہامات مرزا قادیانی)

اور اگر اسہال کسی بڑے کو لگ جائیں تو مرزا قادیانی کا مندرجہ ذیل الہام بڑے کے پیٹ پر موٹے مارکر کے ساتھ لکھ دیں۔

۲۸ ۔ ۲۷ ۔ ۱۳ ۔ ۳ ۔ ۲۷ ۔ ۲ ۔ ۲۶ ۔ ۲ ۔ ۲۸ ۔ ۱ ۔ ۲۳ ۔ ۱۵ ۔ ۱۱ ۔ ۱ ۔ ۲ ۔ ۲۷ ۔

صفحہ 201

۱۴ - ۱۰ - ۱۱ - ۲۸ - ۲۷ - ۳۷ - ۴ - ۱۱ - ۴۳ - ۱۱ - ۱ - ۵ - ۳۴ - ۲۳ - ۳۴ - ۱۱ - ۱۴ - ۱ - ۲۳ - ۱۴ - ۱ - ۱۴ - ۵ - ۲۹ - ۷ - ۴۳ - ۱۷ - ۳۴ - ۱۱ - ۴ - ۱ - ۴ - ۷ - ۲ - ۱ - ۷ - ۵ - ۱ - ۱۴ - ۲ - ۳۸ - ۲ - ۳۸ - ۱ - ۷۔ (تبلیغ رسالت جلد دوم ص ۸۵ - مجموعہ اشتہارات مرزا قادیانی) اور اگر الہام کی عبارت بچ جائے تو بقایا عبارت مریض کے منہ پر لکھ دیں۔ پرہیز = موسم جیسا بھی ہو مریض ۲ ماہ تک نہائے نہیں اور جب جسم سے بدبو کی لہریں اٹھیں تو منہ میں قادیاں قادیاں کا ورد کرے۔

تیز رفتاری کے لئے:۔ اگر آپ کسی نہایت اہم کام کے سلسلہ میں کہیں جا رہے ہیں اور آپ کو مقررہ وقت پر وہاں پہنچنا ہے ورنہ آپ کو ایک بہت بڑے نقصان سے دو چار ہونے کا اندیشہ ہے۔ آپ کے پاس سواری نہیں یا سواری ہے تو سست رفتار ہے۔ اس موقعہ پر آپ پریشان نہ ہوں۔ مرزا قادیانی کے فرشتے ٹیچی ٹیچی کا ورد کریں۔ آپ کی سپیڈ دوگنی ہو جائے گی۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ میرے فرشتے کا نام ٹیچی ٹیچی اس لئے ہے کہ یہ انتہائی برق رفتاری کے ساتھ مجھ پر وحی لے کر آتا ہے اور مرزا قادیانی یہ بھی کہتا ہے کہ ٹیچی کا لفظ ٹچ سے ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے ٹچ کر کے آنے والا۔ یعنی انتہائی برق رفتار۔ اگر آپ نے رفتار چار گنا کرنی ہو تو ”ٹچ ٹیچی ٹچ“ پڑھیں اگر آپ نے رفتار آٹھ گنا کرنی ہو تو ٹچو ٹیچی ٹچو پڑھیں۔ اور اگر سولہ گنا کرنی ہو تو ٹچن ٹیچی ٹچن ۔ بالفاظ دیگر یہ آپ کے پاس چار گیئر ہیں جنہیں آپ حسب منشا استعمال کر سکتے ہیں۔ احتیاط = صرف اس بات کی احتیاط رکھیں کہ کسی بھی وقت آپ کے یا گاڑی کے کتے فیل ہو سکتے ہیں۔ (۳)

لو بلڈ پریشر کے لئے:۔ اگر آپ لو بلڈ پریشر کے مریض ہیں جس سے آپ کی زندگی مفلوج ہو گئی ہے۔ بیٹھتے ہیں تو جسم گرتا ہے۔ چلتے ہیں تو چکر آتے ہیں۔ کمزوری اور نقاہت کی وجہ سے آپ کا کاروبار اور سوشل تعلقات ختم ہو چکے ہیں۔ حوصلہ نہ ہاریئے مرزا قادیانی کا نسخہ آپ کی مدد کے لئے حاضر ہے۔ مرزا قادیانی کی

صفحہ 202

سنت پر عمل کرتے ہوئے صبح و شام اسی پلومر کی شراب کا پاؤ پاؤ کا ایک ایک پیگ غٹا غٹ پی جائیں۔ شراب پیتے وقت مرزا قادیانی کی سنت کے مطابق آپ کی ایک آنکھ بند اور منہ قادیان کی طرف ہونا چاہئے۔ (۴) شراب پینے کے بعد بد زبانی کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ اگر آپ گالیاں بکنا نہیں جانتے تو مرزا قادیانی کے یہ دونوں الہام پڑھ لیا کریں۔

”آریوں کا پرمیشر (خدا) ناف سے دس انگل نیچے ہے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں“

(چشمہ معرفت ص ۱۱۷ ۔ مصنفہ مرزا قادیانی)

”جھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت لاف گزاف مارتے ہیں مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہو جاتے ہیں۔ (حیات احمدیہ جلد اول نمبر ۳ ص ۲۵)

پاؤں کی موچ :- اگر آپ کے پاؤں میں موچ آگئی ہے اور پاؤں پر ذرا بھی بوجھ ڈالنے سے ٹیسیں اٹھتی ہیں تو آپ کو کسی ڈاکٹر یا حکیم کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ مرزا قادیانی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے جوتی کا دایاں پاؤں بائیں پاؤں میں اور بایاں پاؤں دائیں پاؤں میں ڈال کر ہر چار گھنٹے بعد چار چار قدم چلیں۔ ہر مرتبہ چلنے کے بعد فوراً بیٹھ جائیں اور پھر سر کے بل چلتے ہوئے چار قدموں کے برابر فاصلہ طے کریں اور بعد میں خربوزے کے جوس کا ایک گلاس پی لیں۔

نوٹ = اگر آپ سر کے بل نہیں چل سکتے تو دو آدمی آپ کی ٹانگیں پکڑیں اور آپ سہارے سے سر کے بل آہستہ آہستہ چلیں۔ (۵)

شہرت حاصل کرنے کے لئے :- اگر آپ معاشرے میں شہرت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لوگوں میں خود کو متعارف کروانا چاہتے ہیں اور آپ کے دل میں یہ خواہش مچل رہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ آپ کو جاننے لگیں تو مرزا قادیانی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے قمیض کے نیچے والے چاک میں اوپر والا بٹن لگائیے اور اوپر والے چاک میں نیچے والا بٹن لگائیے۔ گھر کی ساری چابیوں کا گچھا شلوار کے ازار بند سے باندھ کر ازار بند نیچے لٹکائیں بائیں پاؤں میں دایاں جوتا اور دائیں پاؤں میں بایاں

صفحہ 203

جوتا پہنیں۔ تیار ہو کر محلے کے چوک میں آجائیں اور چہل قدمی شروع کر دیں۔ چابیوں کا گچھا چھن چھن کرتا آپ کے ہمرکاب ہو گا اور یہ چھن چھن کا میوزک جلد ہی لوگوں کو آپ کی جانب متوجہ کرا دے گا پھر جب لوگ آپ کی قمیض اور جوتوں کی صورت حال دیکھیں گے تو ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو جائیں گے۔ بچے تالیاں پیٹتے آوازے کستے آپ کے پیچھے لگ جائیں گے۔ جہاں سے آپ گزریں گے لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ جائیں گے۔ ٹریفک جام ہو جائے گا۔ روزانہ پانچ گھنٹے اس کام کو دیں اور روزانہ ایک نئے محلے میں نکل جائیں۔ پندرہ دن کے بعد آپ اپنے علاقے کی سب سے مشہور و معروف شخصیت ہوں گے۔ آپ نے دیکھا کہ جو کام آپ لاکھوں روپیہ خرچ کر کے نہیں کر سکتے تھے۔ وہ آپ نے مرزا قادیانی کی سنت پر عمل کر کے مفت میں کر لیا۔ (۶)

نوٹ = اگر مشق کے دوران گندے انڈے یا ٹماٹر پڑیں تو اپنے کپڑوں اور منہ سے ان کے داغ دور نہ کریں۔ کیونکہ یہ داغ آپ کے حسن میں اضافہ کریں گے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آپ کی جانب متوجہ کریں گے۔

قرض خواہوں سے نجات کے لئے :۔ اگر آپ درجنوں لوگوں کے مقروض ہیں اور آپ نے قرضہ لیا بھی اس لئے تھا کہ کسی کو ایک پائی بھی واپس نہیں کریں گے۔ قرض خواہ روزانہ آپ کا دروازہ اور آپ کو پیٹتے ہیں اور آپ ان کے ہاتھوں بڑے پریشان ہیں۔ لیجئے مرزا قادیانی کی سنت پر عمل کیجئے اور مصیبت سے نجات پائیے۔ صبح اٹھتے ہی آدھ تولہ افیون کھائیں، آدھ گھنٹہ کے بعد آپ اپنے آپ میں نہیں رہیں گے بلکہ کسی اور دنیا میں پہنچ جائیں گے۔ گھر والوں کو افیون کھانے سے پہلے کہہ دیں کہ مجھے افیون کھانے کے بعد گھر کے باہر بٹھا دیں۔ آپ نشے میں جھومتے جھامتے تھڑے پر بیٹھ جائیں گے۔ قرض لینے والے جب آپ سے قرض کا مطالبہ کریں گے تو جواب میں آپ صرف ہلکی ہلکی مسکراہٹ دیں گے۔ وہ آپ کو پکڑ کر ہلائیں گے تو آپ گر جائیں گے۔ وہ آپ کو بٹھائیں گے تو آپ سردی میں ٹھٹھرے ہوئے چوہے کی طرح بیٹھ جائیں گے۔ وہ پیسوں کی بات کریں گے تو آپ شاہی قلعے کی

صفحہ 204

سیر کا تذکرہ چھیڑیں گے وہ اپنی رقم کی بات کریں گے تو آپ چار کا پہاڑا سنائیں گے۔ وہ اپنا رونا روئیں گے تو آپ امریکی الیکشن میں بش کے ہارنے کے اسباب بتائیں گے۔ آخر وہ آپ کو فاتر العقل سمجھ کر چھوڑ جائیں گے اور اگر جاتی دفعہ آپ کو دو چار تھپڑ یا ٹھڈے رسید کریں گے تو نشے میں دھت ہونے کی وجہ سے آپ کو تکلیف کا احساس بھی نہ ہو گا۔ ایک مہینہ تک اس نسخہ کو باقاعدہ استعمال کریں اور قرض خواہوں سے نجات حاصل کریں۔ (۷)

سخت گیر افسران کی چاپلوسی کے لئے :۔ اگر آپ کسی سرکاری یا غیر سرکاری دفتر میں ملازم ہیں اور آپ کا افسر بڑا سخت گیر ہے۔ آپ سے کوئی سنگین غلطی ہو گئی ہے اور افسر نے اس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آپ کو میمو یا شوکاز نوٹس دے دیا ہے اور آپ کی نوکری خطرے میں ہے۔ اس خطرے کا مقابلہ مرزا قادیانی کے نسخہ سے کیجئے اور سہمے ہوئے دل کو خوش کیجئے۔ افسر کے سامنے حاضر ہو جائیں۔ پاؤں جوڑ لیں اور اس کے ساتھ ہاتھ بھی جوڑ لیں۔ خود کو افسر کے سامنے اس طرح جھکا دیں جس طرح مرزا قادیانی انگریز افسران کے سامنے جھکتا تھا اور پھر گلو گیر اور رندھی ہوئی آواز میں مرزا قادیانی کا یہ شعر پڑھیں۔

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(درثمین ص ۶۸ مصنفہ مرزا قادیانی)

افسر کا دل پسیج جائے گا۔ شعر کو بار بار پڑھئے اور پڑھتے پڑھتے رونے کی کوشش بھی کریں۔ جتنی دفعہ پڑھتے جائیں گے۔ افسر کا دل اتنا ہی نرم ہوتا جائے گا۔ نرم کیوں نہ ہو۔ آپ اسے اس شعر میں کہہ رہے ہیں کہ سر جی!

میں خاک کا کیڑا ہوں
”میں بندے دا پتر نہیں“
میں انسان کی جائے نفرت ہوں
میں انسانوں کی عار ہوں
صفحہ 205

افسر سمجھے گا کہ میمو یا شوکاز نوٹس سے اس بیچارے کا دماغی توازن بگڑ گیا ہے۔ لہٰذا وہ آپ کی اس دگرگوں صورت حال کو دیکھتا ہوا آپ کو معاف کر دے گا۔ کیوں جی! کیسا رہا مرزا قادیانی کا نسخہ باکمال۔

کسی لڑکی کو دام محبت میں پھنسانے کے لئے :۔

اگر آپ کا دل کسی لڑکی پر لٹو ہو گیا ہے۔ جس طرح مرزا قادیانی کا دل محمدی بیگم پر لٹو ہو گیا تھا اور آپ اس لڑکی کو ہر حال میں حاصل کرنا چاہتے ہیں تو مرزا قادیانی کی مندرجہ ذیل وحی صبح شام پچاس پچاس مرتبہ پڑھیں۔ جس راستے سے لڑکی گزرتی ہو۔ اس راستے کی مٹی پر پڑھ کر پھونکیں۔ دور کھڑے ہو کر لڑکی کے مکان پر دم کریں۔ اپنے بدن پر دم کریں۔ ایک مہینہ میں آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔

وحی پیش خدمت ہے I love you میں تم سے محبت کرتا ہوں I am with you میں تمہارے ساتھ ہوں۔

(حقیقۃ الوحی ص۔ ۴۰۳ مصنفہ مرزا قادیانی)

پڑھنے کے ساتھ ساتھ مندرجہ ذیل امور پر پوری توجہ دینا ہے پورا ایک مہینہ نہانا نہیں۔ پاؤں میں جوتا نہیں پہننا۔ ناخن اور بال نہیں کٹوانے سر میں روزانہ تھوڑی سی قادیان کی خاک ڈالنی ہے۔ پورا ایک مہینہ کپڑے نہیں بدلنے۔ قادیان کی طرف منہ کر کے روزانہ ایک گھنٹہ زور زور سے رونا ہے۔

نظر کی تیزی کے لئے :۔

روزانہ دوپہر کے وقت گھر کی سب سے اونچی چھت پر دھوپ میں بیٹھ جائیں اور مرزا قادیانی کی تصویر سامنے رکھ کر ٹکٹکی باندھ کر دیکھیں اور اپنی دونوں آنکھیں مرزا قادیانی کی چھوٹی والی آنکھ میں گاڑ دیں۔ کوشش کریں کہ اس دوران آپ کی آنکھ جھپکے نہیں۔ پانچ منٹ کے بعد پھر سورج کی طرف دیکھئے اور پھر مرزا قادیانی کی آنکھوں کی طرف دیکھئے۔ اسی طرح ایک دفعہ سورج اور دوسری دفعہ مرزا قادیانی کی آنکھوں کی طرف دیکھئے۔ یہ عمل جاری رکھئے۔ جب تک کہ سورج کو

صفحہ 206

دیکھنے سے آپ کی آنکھیں اس قدر خیرہ نہ ہو جائیں کہ آپ مرزا قادیانی کی تصویر نہ دیکھ سکیں۔ تب فوراً اٹھئے اور باہر گلی کی طرف دوڑ لگا دیں۔ اگر آپ اترتے ہوئے سیڑھیوں میں لڑھک جائیں یا گلی میں بھاگتے ہوئے آپ کا سر کسی کھمبے یا دوسری رکاوٹ سے ٹکرائے تو وہیں بیٹھ کر آرام کریں اور کچھ دیر بعد الٹے پاؤں واپس گھر آ جائیں۔ سات روز کا کورس ہے۔ کورس سخت ضرور ہے، لیکن مجرب ہے۔ (۸)

اگر پولیس سے کسی کیس میں جوتے پڑیں :۔ اگر آپ چوری یا فراڈ کے کسی کیس میں پکڑے گئے ہیں اور پولیس نے آپ پر زبردست تشدد کیا ہے جس سے آپ کے جسم پر زخم ہو گئے ہیں اور آپ بڑی سخت اذیت میں مبتلا ہیں تو دل نہ چھوڑیں۔ مرزا قادیانی کا الہام آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہے۔

”لائف آف پین“ یعنی زندگی دکھ کی (ص ۔ ۶۵ تذکرہ)

مرزے قادیانی کا یہ الہام کاغذ کی پرچیوں پر لکھ کر زخموں پر رکھیں آدھی رات کو اٹھیں اور زور زور سے پڑھیں۔ ”لائف آف پین“ ”لائف آف پین“ ہر تین دفعہ پڑھنے کے بعد ہلکی ہلکی چیخیں ماریں۔ آپ کا درد چیخ کی آواز کے ساتھ ہی جسم سے نکلتا جائے گا اور زخم ٹھیک ہوتے جائیں گے ایک رات میں بلند آواز سے پانچ سو مرتبہ پڑھنا ہے اور چیخیں بھی مارنی ہیں۔ دوران مشق اگر گلا بیٹھ جائے تو فوراً نمکین گرم پانی سے غرارے کریں۔ پانچ دن کا علاج ہے۔

قوت حافظہ کے لئے :۔ اگر آپ کی قوت حافظہ کمزور ہے تو مرزا قادیانی کا ایک اور مجرب طریقہ اپنائیے اور مضبوط حافظہ پائیے۔ ایک جیب میں وٹوانیاں رکھیں اور دوسری جیب میں گڑ کے ڈھیلے۔ کچھ دن جان بوجھ کر گڑ کے ڈھیلوں سے استنجا کریں اور وٹوانیاں کھائیں۔ کچھ دنوں بعد عادت پک جائے گی اور حافظہ بھی پک جائے گا۔ پھر تھوڑی سی مشق سے آپ کا حافظہ اپنے بام عروج پر پہنچ جائے گا اور ہر جگہ آپ کے حافظے کے چرچے ہونے لگیں گے۔ مثلاً آپ کہنے لگیں گے کہ سورج مغرب سے نکلتا ہے۔ ستارے دن کو چمکتے ہیں۔ دسمبر عیسوی سال کا پہلا مہینہ ہے۔ گھر والے اگر آپ سے کہیں گے کہ ذرا باورچی خانہ سے دودھ پکڑانا تو آپ غسل خانے سے جھاڑو

صفحہ 207

لے کر آ جائیں گے۔ اگر گھر والے آپ سے کہیں گے کہ چائے پی لیں تو آپ کہیں گے کہ میں تمباکو نہیں پیتا۔ اگر گھر میں بیٹھا کوئی بزرگ آپ سے کہے گا کہ ذرا میری ٹوپی پکڑانا تو آپ جوتا پکڑ لائیں گے۔ دیکھا مرزا قادیانی کی سنت پر عمل کرنے سے آپ کا حافظہ کتنی ترقی کر گیا اور اسی حافظہ کی وجہ ہے کہ ہر قادیانی مرزا قادیانی کو نبی مانتا ہے۔

موت کا خوف دور کرنے کے لئے:۔ اگر آپ کے دل و دماغ پر ہر وقت موت کا خوف طاری رہتا ہے جس کی وجہ سے آپ کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔ آپ ہر وقت بجھے بجھے اور گرے گرے رہتے ہیں تو آپ کے علاج کے لئے مرزا قادیانی کا الہام حاضر ہے۔

”لائف“ (تذکرہ ص ۵۹۴)

جس وقت زیادہ خوف محسوس ہو اپنے سارے کپڑے اتار دیں۔ صرف جانگیہ تن پر رہنے دیں۔ پورے جسم پر تیل ملیں اور ساتھ ساتھ بیٹھکیں لگاتے جائیں۔ تیل مالش اور بیٹھکوں کے دوران اونچی آواز سے لائف ۔ لائف ۔ لائف پڑھیں۔ پھر قادیان کی مٹی بدن پر مل لیں۔ اس کے بعد لائف بوائے صابن سے نہا لیں۔ آپ یہ علاج اپنے گھر‘ دفتر‘ فیکٹری‘ دوکان اور سر راہ کسی بھی جگہ کر سکتے ہیں۔ بس صرف تیل کی شیشی اور قادیان کی خاک کی پڑیا اپنی جیب میں رکھیں۔

اگر کسی بیمار کی جان نہ نکلتی ہو:۔ اگر کسی بیمار کی جان نہ نکلتی ہو تو وہ شدید تکلیف میں ہوتا ہے اور اس سے دوگنی تکلیف اس کے گھر والے محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ اس انتہائی مشکل وقت میں بھی مرزا قادیانی کا نسخہ آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔

”اس کتے کا آخری دم ہے“ (تذکرہ ص ۴۱۷)

بیمار کی چارپائی صحن میں رکھیئے اور سارے عزیز و اقارب چارپائی کے ارد گرد بیٹھ جائیں۔ گھر کا سمجھ دار آدمی اٹھے وہ بیمار کے بازو ٹانگیں اور گردن سیدھی کر کے اسے اٹم شین کرے۔ منہ سے زور دار سیٹی بجائے جس کا مطلب یہ ہو گا کہ گاڑی چلنے

صفحہ 208

والی ہے۔ پھر وہ شخص بیمار کے بالکل قریب بیٹھ جائے اور مندرجہ بالا الہام پڑھتا جائے۔ الہام پڑھتے وقت خود بھی غرائے۔ جتنی زور سے غرائے گا اتنی جلدی روح جسم سے نکلے گی۔

آسیب سے نجات کے لئے :۔ اگر آپ کے گھر میں آسیب ہے اور جنات نے آپ کا جینا دو بھر کر رکھا ہے تو قطعا نہ گھبرائیے۔ گھر کے جتنے کمرے ہیں اتنی ہی مرزا قادیانی کی تصویریں لیں اور انہیں گتے پر چسپاں کر کے ہر کمرے میں لٹکا دیں۔ صرف پانچ منٹ میں آپ دیکھیں گے کہ جنات چیخیں مارتے ہوئے گھر سے بھاگ رہے ہوں گے۔ بھاگیں کیوں نہ؟ مرزا قادیانی کی شکل ہی اتنی ہولناک، خوفناک، شرر ناک اور عبرتناک ہے۔ ویسے بھی جس گھر میں مرزا قادیانی کی تصویر لگی ہو۔ اس تصویر سے نحوست کی اتنی لہریں اٹھ رہی ہوتی ہیں کہ جنات کا وہاں پر دم گھٹنے لگتا ہے۔ یہ تو صرف قادیانیوں کی ہمت ہے جو اتنی نحوست اور تعفن کو برداشت کر جاتے ہیں۔ پھر چار مزید تصویریں لیں اور انہیں ایک ایک کر کے کمروں میں جلا کر دھواں دیں۔ جنات کبھی اس طرف کا رخ نہیں کریں گے۔

نوٹ :۔ روتے اور ضد کرتے بچوں کو بھی مرزا قادیانی کی تصویر دکھا کر چپ کرایا جا سکتا ہے۔

خوبصورت لباس پہن کر آئینہ دیکھنے پر :۔ نیا اور دیدہ زیب لباس پہنئے، چہرے پر ہلکا سا میک اپ کیجئے، کنگھے سے بالوں کو سنواریئے، کلائی پہ خوبصورت سی گھڑی باندھیئے اور پھر قد آدم آئینہ کے سامنے کھڑے ہو جائیے۔ اپنی شکل دیکھتے ہوئے مرزا قادیانی کا یہ الہام پڑھیئے ..........

" میں نے دیکھا کہ میں ایک جنگل میں ہوں اور میرے ارد گرد بہت سے بندر اور سؤر وغیرہ ہیں اور اس سے میں نے استدلال یہ کیا کہ یہ احمدی جماعت کے لوگ ہیں۔"

(نزول المسیح ماخوذ از پیغام صلح ۲۴ ۔ ۱۱ ۔ ۱۷ نقل از قادیانی مذہب)

اگر آپ کا بچہ جھوٹ بولنے سے شرماتا ہے :۔ اگر آپ کا بچہ جھوٹ بولنے

صفحہ 209

سے شرماتا ہے تو اسے مرزا صاحب کا مندرجہ ذیل نسخہ اپنی زیر نگرانی صبح، شام پچاس پچاس مرتبہ پڑھائیے۔

"کچھ عرصہ گزرا ہے کہ مظفر گڑھ میں ایک ایسا بکرا پیدا ہوا جو بکریوں کی طرح دودھ دیتا تھا"

(سرمہ چشم آریہ ص ۴۱ مصنفہ مرزا قادیانی)

"اس کے بعد تین معتبر اور ثقہ اور معزز آدمیوں نے میرے پاس بیان کیا کہ ہم نے بچشم خود چند مردوں کو عورتوں کی طرح دودھ دیتے دیکھا ہے۔ بلکہ ایک نے ان میں سے کہا کہ امیر علی نام ایک سید کا لڑکا، ہمارے گاؤں میں اپنے باپ کے دودھ سے ہی پرورش پایا تھا۔ کیوں؟ اس کی ماں مر گئی تھی۔"

(سرمہ چشم آریہ ص ۴۱)

"بعض نے یہ بھی دیکھا کہ چوہا مٹی خشک سے پیدا ہوا۔ جس کا آدھا دھڑ تو مٹی تھا اور آدھا چوہا بن گیا

(سرمہ چشم آریہ ص ۴۱ مصنفہ مرزا قادیانی)

چند دنوں کے بعد آپ دیکھیں گے کہ آپ کا بچہ بڑی بے شرمی اور ڈھٹائی سے جھوٹ بولے گا اور اس کے ساتھ ساتھ جھوٹ سازی میں ماہر بھی ہو جائے گا۔

اگر آپ پھسل جائیں :۔ آپ کے علاقے میں شدید بارش ہوتی ہے اور آپ گھر سے سودا سلف خریدنے کے لئے بازار جا رہے ہیں۔ راستہ میں کسی جگہ پھسلن ہونے کی وجہ سے آپ دھڑام سے گر جاتے ہیں تو گرتے ہی فوراً پڑھئے۔

"پٹی، پٹی گئی"

(تذکرہ ص ۸۰۱)

اس کے بعد اٹھئے اور چوٹ والی جگہ پر ہاتھ رکھ کر مندرجہ بالا نسخہ دس مرتبہ پڑھئے درد فوراً چوسا جائے گا اور آپ دوسری دفعہ پھسلن کے لئے دوبارہ بالکل فٹ ہوں گے۔

کرایہ دار سے مکان خالی کروانے کے لئے :۔ اگر آپ مکان کرایہ دار سے خالی کروانا چاہتے ہیں لیکن کرایہ دار کسی بھی صورت میں مکان خالی کرنے کے لئے تیار نہیں تو آپ ایک موٹا مارکر لے کر مکان کے مین گیٹ، کھڑکیوں، دروازوں اور دیواروں پر مرزا قادیانی کی مندرجہ ذیل وحی لکھ دیں۔ کرایہ دار گھبراہٹ سے بوکھلا اٹھے گا اور سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ جائے گا، لیکن شرط یہ ہے کہ وحی آدھی رات کو

صفحہ 210

اس وقت لکھی جائے جس وقت مرزا قادیانی بھانو سے ٹانگیں دبوایا کرتا تھا۔ وحی مندرجہ ذیل ہے۔ ”ماتم کدہ“

(تذکرہ ص ۷۵۲)

چوہے مار گولیاں بنائیے :۔ چھوٹی چھوٹی کاغذ کی پرچیوں پر مرزا قادیانی کی وحی لکھئے ”زندگیوں کا خاتمہ“

(تذکرہ ص ۵۷۷)

پرچیوں کو گول کر کے کالی مرچ کے برابر گولیاں بنائیے۔ گولی کے اوپر تھوڑی سی چینی اور تھوڑا سا دیسی گھی لگا دیں۔ خوشبو سے چوہا بھاگا بھاگا آئے گا اور فوراً گولی نگل جائے گا۔ ادھر گولی چوہے کے اندر ادھر چوہے کا دم باہر یعنی ”زندگیوں کا خاتمہ“

گلی محلے کے خاکروب سے کام لینے کے لئے :۔ اگر آپ کے گلی محلے کا خاکروب اکثر چھٹیاں کرتا ہے یا آپ کی گلی کی صفائی چھوڑ جاتا ہے صفائی کرنے کے لئے اکثر دیر سے آتا ہے تو آپ صبح صبح اٹھ کر مرزا قادیانی کی طرح ایک آنکھ پوری اور دوسری آنکھ آدھی کھول کر جھاڑو ہاتھ میں پکڑ کر دس مرتبہ مرزا قادیانی کی وحی پڑھیں۔

”ضیف مسبح“ (تذکرہ ص ۷۴۲) پڑھتے ہی آپ کے مکان پر خاکروب یوں آئے گا جس طرح نشیب کی طرف بہتا ہوا پانی۔

دولت مند بننے کے لئے :۔ دولت مند بننے کے لئے مرزا قادیانی کا الہام یاد رکھیں۔ ”کرنسی نوٹ“

(تذکرہ ص ۵۹۶)

اپنے کسی نومولود بچے کا نام کرنسی نوٹ رکھیں۔ ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی، چاچے، چچیاں، ماموں، ممانیاں اور دیگر رشتہ دار و محلے دار جب اس بچے کو کرنسی نوٹ کے نام سے پکاریں گے تو گھر میں کرنسی نوٹوں کی چہل پہل ہو جائے گی۔ مہینہ میں ایک دفعہ بچے کے گلے میں کرنسی نوٹوں کا ہار ڈال کر اسے علاقے کی گلیوں میں اچھی طرح گھما لیا کریں۔ اگر دولت کی زیادہ ضرورت ہو تو بڑے بیٹے کا نام بدل کر ”ڈالر اور بڑی بیٹی کا نام ”پونڈ“ رکھ لیں اور اپنا نام ”موری والا پیسہ“ رکھ لیں۔

فصلوں سے پرندے اڑانے کے لئے :۔ فصلوں کو خراب کرنے والے پرندوں

صفحہ 211

کو اڑانے کے لئے مرزا قادیانی کی وحی پیش خدمت ہے۔ پریش۔ عمر پر اطوس یا پلاطوس (مکتوبات احمدیہ جلد اول ص ۶۸) کھیت کی طرف منہ کر کے منہ کے گرد ہاتھوں کا ہالہ بنا کر دھماکے دار اور کڑاکے دار طریقہ سے مندرجہ بالا تین الفاظ ادا کیجئے۔ الفاظ کی ادائیگی اس طرح سے ہو کہ گویا آپ منہ سے الفاظ نہیں نکال رہے بلکہ الفاظ کے کارتوس چلا رہے ہیں۔ لفظوں کے اس دھماکے کے بعد آپ کو گھبرائے ہوئے پرندے بڑی تیزی سے اڑتے ہوئے دکھائی دیں گے ممکن ہے کہ کچھ پرندے آپ کے ”پریش۔ عمر پر اطوس یا پلاطوس“ کے کارتوس کی آواز سے ڈر کر مر جائیں جو کہ آسانی سے آپ کے کھانے کے کام آسکتے ہیں۔

گنجے پن کا فوری علاج :۔ اگر آپ گنجے ہیں اور اپنی ٹنڈ پر بہت سی دوائیاں اور رنگ برنگے تیل استعمال کر چکے ہیں لیکن ابھی تک آپ فارغ البال ہیں تو گھبرائیے نہیں۔ دواخانہ مرتدیہ قادیانیہ کا نسخہ پیش خدمت ہے۔ خواب میں دکھائے گئے۔ (۱) تین استرے (۲) عطر کی شیشی (تذکرہ ص ۷۷۴) آپ کچھا اور بنیان پہن کر کسی نہر کے کنارے بیٹھ جائیں۔ جسم بالکل ڈھیلا چھوڑ دیں اور آنکھیں بند کر لیں اور تصور کریں کہ تینوں استرے آپ سر پر پھیر رہے ہیں پورے ایک گھنٹے کے بعد تصور کریں کہ اب استرے چلنے بند ہو گئے ہیں اور آپ کے سر پر چھوٹے چھوٹے بال نمودار ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد تصور کریں کہ آپ کے بالوں کی عمر ایک ماہ ہو گئی ہے۔ اب ان پر عطر کی شیشی سے عطر چھڑکائیں۔ جس سے آپ کی ٹنڈ مہک اٹھے گی۔ اب تصور کریں کہ تینوں استرے آپ کے سر پر دوبارہ چلنے شروع ہو گئے ہیں اور ان کے چلنے سے ایک ماہ کی عمر کے سارے بال صاف ہو گئے ہیں۔ اب پھر تصور کریں کہ ایک مہینہ گزر گیا ہے۔ پھر تینوں استرے چلا دیجئے۔ ساتھ ساتھ عطر کی شیشی سے چھڑکاؤ بھی کرتے جائیں۔ تصور میں یہ عمل دس مرتبہ کریں لیکن اس بات کی احتیاط رہے کہ استروں کی چال سے آپ کے کان محفوظ رہیں۔ یہ عمل ایک مہینہ تک متواتر کرتے رہیں اور تصور میں یہ رکھیں کہ بالوں کی لمبائی چار

صفحہ 212

انچ ہو گئی ہے۔

پرہیز :- ایک مہینہ نہانا نہیں۔

ایک مہینہ آئینہ نہیں دیکھنا۔

ایک مہینہ سر کسی کو نہیں دکھانا بلکہ چادر سے اچھی طرح ڈھانپ کے رکھیں۔ ایک مہینہ کے بعد سر پر ہاتھ پھیریں۔ اگر سر پھر بھی صاف شفاف ہو تو ایک پیالی میں پانی لے کر اس میں ناک ڈبو کر مرنے کی کوشش کریں۔

اگر والدین کی سختی کی وجہ سے لڑکی سے ملاقات نہ ہو سکے :- اگر لڑکی کے والدین کو آپ کے عشق کا پتہ چل گیا ہے اور انہوں نے لڑکی کے باہر نکلنے پر پابندی لگا دی ہے اور آپ اپنے محبوب کی شکل دیکھنے کو ترستے ہیں تو فوراً مرزا قادیانی کا مندرجہ ذیل کلام پڑھیئے۔ مرزا قادیانی اپنی محبت میں یہی کلام پڑھا کرتا تھا۔

سبب کوئی خداوند بنا دے کسی صورت سے وہ صورت دکھا دے
کرم فرما کے آ او میرے جانی بہت روئے ہیں اب ہم کو ہنسا دے
کبھی نکلے گا آخر تنگ ہو کر دلا اک بار شورو غل مچا دے

(سیرت المہدی جلد اول ص ۲۳۳ - ۲۳۴ مصنفہ مرزا بشیر احمد)

اگر محبوب دھوکا دے جائے :- اگر آپ کا دل محبوب کی محبت میں جکڑا ہوا ہے، لیکن محبوب بے وفائی کر گیا ہے اور آپ اس کی جدائی میں انگاروں پہ لوٹ رہے ہیں۔ وقت کی ہر گھڑی آپ کے سینے پہ تلوار کی نوک چبھو رہی ہے اور آپ کی زندگی میں کسی کروٹ چین نہیں۔ تو ایمرجنسی چین حاصل کرنے کے لئے۔ مرزا قادیانی کا مندرجہ ذیل کلام پڑھئے۔ مجرب ہے۔ حکیم نور الدین اور مرزا بشیر الدین کے بھی زیر استعمال رہا اور اکسیر پایا۔

نہیں منظور تھی گر تم کو الفت تو یہ مجھ کو بھی بتلایا تو ہوتا
میری دلسوزیوں سے بے خبر ہو میرا کچھ بھید بھی پایا تو ہوتا
دل اپنا اس کو دوں یا ہوش یا جاں کوئی اک حکم فرمایا تو ہوتا

(سیرت المہدی حصہ اول ص ۲۳۳ - ۲۳۴ مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)

صفحہ 213

قادیانیو! ہم نے مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کی چھابڑی سے یہ چند نسخے بطور نمونہ پیش کئے ہیں۔ اگر ان کے علاوہ کسی اور بیماری یا مسئلے کے لئے نسخہ کی ضرورت ہو تو فوراً رابطہ کریں۔ ہم آپ کو مرزا قادیانی کی تعلیمات کی ”تاریکی“ میں اس کا جواب فوراً ارسال کریں گے۔

صفحہ 28
PDF 215

مرزا قادیانی

کا

شاعرانہ ریمانڈ

اشعار کے طنزیہ قہقہے ، مصرعوں کی گدگدیاں ، الفاظ کی چبھن

مزاح اور حقائق کا حسین امتزاج جس میں قادیانی نبوت کی

شناخت پریڈ بھی ہے اور ریمانڈ بھی!

صفحہ 216

راقم آثم شاعر تو نہیں لیکن، مطالعہ کی حد تک شاعری سے ایک تعلق ضرور ہے۔ گذشتہ چند ماہ سے دوران مطالعہ شاعری ایک عجیب اور دلچسپ صورت حال سامنے آرہی ہے کہ میری نظروں سے بہت سے اشعار ایسے گزرے جنہیں پڑھ کر یوں محسوس ہوا کہ عہد رفتہ اور عہد حاضر کے شاعروں نے یہ اشعار صرف مرتد زماں، کذاب ہندوستاں، مرزا قادیانی، اس کی سیرت رذیلہ اور اس کی جماعت خبیثہ کو سامنے رکھ کر کہے ہیں اور یہ اشعار اپنے موضوعات پر یوں پورے اترتے ہیں، جس طرح دجال، کذاب، مرتد اور زندیق کے الفاظ مرزا قادیانی کی شخصیت بے حیثیت پر پورے اترتے ہیں۔ بندہ اپنے اس خیال میں کس حد تک صحیح ہے۔ اس کے لئے میں آپ کو دعوت مطالعہ و تجربہ دیتا ہوں۔

لیجئے کتابچہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ بسم اللہ کیجئے!!!

مرزا قادیانی کی شکل دیکھ کر

خرس کا سر، شکل بندر کی ہے منہ خنزیر کا
ایک پہلو یہ بھی ہے انسان کی تصویر کا

مرزا قادیانی کی فطرت رذیلہ دیکھ کر

ہوتا ہے اک پل میں کھنڈر دل بسا ہوا
پانی بھی مانگتا نہیں تیرا ڈسا ہوا

مرزا قادیانی کی عادات و حرکات و سکنات دیکھ کر

ہلاکت آفریں ہے اس کی ہر بات
عبادت کیا، اشارت کیا، ادا کیا

مرزا قادیانی کا روپ بہروپ

سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح
دیکھو تو ایک شکن بھی نہیں ہے لباس میں

افیون کھانے پر

تھوڑی سے کھا کے دیکھئے تاثیر کبھی
پل میں تمہیں کرائے گی یہ سیر چاند کی
صفحہ 217

سر پر پگڑی باندھنے پر

دستار کی ہر تار کی تحقیق ہے لازم
ہر صاحب دستار معزز نہیں ہوتا

سر کے بال سفید ہونے پر

گو قلب سیاہ ہے ابھی تک
پر بال سفید ہو گئے ہیں

خوبصورت لباس پہن کر دربار انگریز میں سلام کرنے پر

ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں پرکھا تو ان کی روح
بے پیرہن تھی جسم سراپا لباس تھا

مٹی کے ڈھیلے کھانے اور گڑ سے استنجا کرنے پر۔

احمقوں کی کمی نہیں غالب
ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں

ایک سو ایک بیماریوں کا مجموعہ ہونے پر

بیٹھے ہو جو یوں جسم کی قبروں میں سمٹ کر
کتبہ بھی سر قبر لگا کیوں نہیں دیتے

ای پلومر کی شراب پینے پر

پی شوق سے ”مرزا“ ارے کیا بات ہے ڈر کی
دوزخ تیرے قبضے میں ہے جنت تیرے گھر کی

مریدوں کے گھر پُر تکلف دعوتیں اڑانے پر

بہت ہی مزے دار تھا تیرا کھانا
بڑھ کر ہاتھ ذرا مجھ کو اٹھانا

مرزا قادیانی اپنے خاص ساتھیوں کی محفل مئے و نوش میں

شام ہے آؤ لب جو بیٹھ کر دو ایک گھڑی
کچھ پئیں کچھ گردش ایام کی باتیں کریں
صفحہ 218

تعارف شخصیت مرزا قادیانی

ذہن آوارہ، دل آوارہ، نظر آوارہ
کیسے اس حال کو پہنچا، نہ کسی نے پوچھا!

مرزا قادیانی کی بانکی چال دیکھ کر

حضرت تمہاری چال بھی کتنی عجیب ہے
رکھتے کہیں ہو پاؤں اور پڑتا کہیں پہ ہے

جب مسلمانوں کی طرف سے قتل کی دھمکیاں ملیں

موت کا ایک دن معین ہے۔
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

مختلف روپ اختیار کرنے پر

اس کے قامت سے اسے جان گئے لوگ فراز
جو لبادہ بھی وہ چالاک پہن کے نکلا

مرزا قادیانی کے سونے پر

سر کہیں، بال کہیں، ہاتھ کہیں، پاؤں کہیں
ان کا سونا بھی کس شان کا سونا ہے

دعویٰ نبوت کرنے پر

کیا مصطفیٰ کے بعد آیا نہ مسیلمہ
پھر قادیاں میں کس لئے مجھ سا نبی نہ ہو

قرآن مجید میں تحریف کرنے پر

ڈھیٹ اور بے شرم بھی عالم میں ہوتے ہیں مگر
سب پہ سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی

امام زماں کا دعویٰ کرنے پر

اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ
صفحہ 219

منافق اعظم کا کردار ادا کرنے پر

غدار نے بھی دھار لیا روپ مسلماں
تسبیح کے دانوں میں چھپی تیغ ستم ہے۔

جعلی نبوت کو دیکھ کر

کاغذی پھول مہکتے نہیں گلدانوں میں
خون ہوتا نہیں تصویر کی شریانوں میں

عالم ہونے کا دعویٰ کرنے پر

مذہبی لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا آسان نہیں
احتیاطاً ہم نے بھی پہلا سپارہ پڑھ لیا

کفر و ارتداد میں لاثانی ہونے پر

آخر زمانہ آئینہ دکھلا کے رہ گیا
لانا پڑا تم ہی کو تمہارے جواب میں

چہرہ قادیانیت دیکھنے پر

اتنے حجاب پر بھی یہ عالم ہے ”کفر“ کا
کیا حال ہو جو دیکھ لیں پردہ اٹھا کے ہم

مختلف ذاتیں بدلنے پر

بدگمانی ہو جس کو خود سے جمالؔ
راستہ وہ بدلتا رہتا ہے!

شان رسالتؐ میں گستاخیاں کرنے پر

لب کشائی نہ کر نبی کے خلاف
ورنہ ہو جائے گی تیری زبان برباد

دولت کی خاطر انگریز کے در پر ایمان بیچنے پر

بیچتا پھرتا ہوں خود کو سر بازار حیات
مجھ کو رسوا کئے رکھتی ہے ضرورت میری
صفحہ 220

جہاد کو حرام قرار دے کر انگریزی حکومت کا ساتھ دینے پر

پرائی نعمتیں آؤ کہ بانٹ لیں دونوں!
کچھ اس طرح کہ شجر تیرے اور ثمر میرے

شیطان سے دوستی کا اظہار کرنے پر

چاہ میں ان کے طمانچے کھائے ہیں!
دیکھ لو سرخی میرے رخسار کی

حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کو مناظرے کا چیلنج دینے پر

ابتداء یہ تھی کہ میں تھا اور دعویٰ علم کا
انتہا یہ تھی کہ اس دعوے پہ شرمایا بہت

مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ سے تحریری مباہلہ کرنے پر

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

مولانا کرم الدین کے دائر کردہ مقدمہ کی پیشی پر قادیاں سے جہلم کا تکلیف دہ سفر کرنے پر

انہیں پتھروں پہ اگر چل کے آ سکو تو آؤ
میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

مسلمانوں کو مرتد بنانے کی کوشش کرنے پر

اللہ رے اسیری بلبل کا اہتمام
صیاد عطر مل کے چلا ہے گلاب کا

مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے عیسائیوں اور ہندوؤں سے ملی بھگت کر کے مناظرے کرنے پر

اب دام دگر کسی اور جا بچھائیے
بس ہو چکی نماز مصلےٰ اٹھائیے

قادیانیت کو عین اسلام کہنے پر

لٹیروں نے جنگل میں شمع جلا دی
مسافر یہ سمجھا کہ منزل یہی ہے
صفحہ 221

اسلام کا لبادہ اوڑھ کر شیطانی تصانیف شائع کرنے پر

وہ اک دھبہ ہیں علم و آگہی کے نام پر
تیرگی پھیلا رہے ہیں روشنی کے نام پر

کسی مسلمان کا فتنہ ارتداد کا شکار ہونے پر

جلا ہے دل یا کوئی گھر یہ دیکھنا لوگو
ہوائیں پھرتی ہیں چاروں طرف دھواں لے کر

مسلمانوں کی طرف سے مذمت و مرمت کرنے پر ملکہ کو غم کی کہانی سنانے پر

تجھے دکھاؤں گا وہ زخم جو لگے دل پر
عزیز جاں کچھ آساں نہیں وفا کرنا

ملکہ کا جواب محبت

تیرے بغیر کسی چیز کی کمی تو نہیں
تیرے بغیر طبیعت اداس رہتی ہے

جب ملکہ کا لاڈلا، سفر آخرت پہ جارہا تھا

دونوں جہاں تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی ”شب غم“ گزار کے

جب محمدی بیگم کے عشق میں پریشان بیٹھا تھا

نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی
تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں

عاشق نامراد جب محمدی بیگم کو خوابوں میں دیکھتا تھا

سو بار تیرا دامن ہاتھ میں میرے آیا
جب آنکھ کھلی دیکھا تو اپنا ہی گریباں تھا

جب محمدی بیگم سے عشق دیوانگی کی حد تک پہنچا

سر چڑھ کے کہا یار کی پاپوش نے مجھ سے
سنتے ہو؟ میں سودائے محبت کی دوا ہوں
صفحہ 222

جب محمدی بیگم کی نسبت مرزا سلطان سے طے پا گئی

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

محمدی بیگم کی بارات کی رخصتی کے وقت

آج بہت شرمندہ ہوں
تجھ سے بچھڑ کر زندہ ہوں

محمدی بیگم کی بارات کی رخصتی کے بعد مرزا قادیانی کی دیوانگی

اٹھا کر چوم لی ہیں چند مرجھائی ہوئی کلیاں
نہ تم آئے تو یوں جشن بہاراں کر لیا میں نے

محمدی بیگم کی رخصتی کے بعد جب لوگ مرزا قادیانی پہ ہنس رہے تھے

اے دیکھنے والو! مجھے ہنس ہنس کے نہ دیکھو
تم کو بھی محبت کہیں مجھ سا نہ بنا دے

عالم نزع میں محمدی بیگم کو یاد کرنے پر

تو کہاں دور جا بسی ہے مجھ سے!
اب تو آ جا کہ وقت آخر ہے!

مرنے کے بعد بھی محمدی بیگم کی یاد

آنکھیں کھلی ہوئی ہیں پس مرگ اس لئے
جانے کوئی کہ طالب دیدار مر گیا

نو سرباز ہونے پر

سجاتا رہتا ہوں کاغذ کے پھول پیڑوں پر
میں تتلیوں کو پریشان کرتا رہتا ہوں

مرکز قادیانی نبوت ”قادیان“ دیکھ کر

پھول ہیں کہ لاشے ہیں باغ ہے کہ مقتل
شاخ شاخ پر ہوتا ہے درد کا گماں یارو
صفحہ 223

بہشتی مقبرہ دیکھ کر

میں نے ایک ایسا شہر بھی دیکھا ہے یارو
جہاں جنت کے نام پر جہنم بکتا ہے یارو

قادیانی جماعت کے افراد دیکھ کر

روحیں تو اک زمانہ ہوا ہو چکیں فروخت
کس نرخ سے بکیں گے بدن دیکھتے رہو

مرزا قادیانی کے ساتھی ”قادیانی صحابہ“ دیکھنے پر

خنداں نہیں، مہک نہیں، رعنائیاں نہیں
قاتل یہ پھول ہیں کہ جنازے بہار کے

قادیانی جماعت کا سالانہ میلہ دیکھ کر

عجب شان سے نکلا تھا ”قادیانیوں“ کا جلوس
کہ پھول ہاتھ میں اور آستین میں خنجر تھے

شکار پر نکلے قادیانی مبلغین دیکھ کر

دیکھ کر دوستی کا ہاتھ بڑھاؤ
سانپ ہوتے ہیں آستینوں میں

لاہوری گروپ کے لیڈر محمد علی لاہوری سے مرزا قادیانی کی پر شکوہ گفتگو سن کر

تمام عمر کہاں کوئی ساتھ دیتا ہے۔
یہ جانتا ہوں مگر تھوڑی دور ساتھ چلو

محمد علی لاہوری قادیانی کا جواب شکوہ

ہے تجھ کو گلہ میرے خیالات سے اب تک
میں بھی ترے حالات سے شاکی تو رہا ہوں

اٹھارہ سالہ نصرت جہاں بیگم سے دوسری شادی رچانے کے بعد ستر سالہ بوڑھے کھوسٹ مرزا

قادیانی کے ہنی مون منانے پر

چلو آج چھٹی منانے چلیں
کسی باغ میں بیر کھانے چلیں
صفحہ 224

دوسری شادی کے وقت مرزا قادیانی کی قوت مردمی ساقط ہونے پر نصرت جہاں بیگم کا نوحہ

خوش نصیب کون زمانے میں ہے گوہر کے سوا
سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے شوہر کے سوا

پہلی شب برات کے موقعہ پر نصرت جہاں بیگم کے تحفہ مانگنے پر

تحفہ شب برات میں کیا دوں
میری جاں! تم تو خود پٹاخہ ہو

ستر سالہ بوڑھے کھوسٹ خاوند کی بونگی دیکھ کر نصرت جہاں بیگم کا تبصرہ

آنکھیں غلط ہیں آپ کی اور ہونٹ ہیں خراب
پورے جہاں میں آپ کا کوئی نہیں جواب

”بشیرے کی ماں“ سے ناراضگی کی وجہ

ہم نے دل اسے دیا دلدار سمجھ کر
وہ کھا گیا اسے نسوار سمجھ کر

نصرت جہاں بیگم کے سامنے بیٹھ کر سگریٹ سلگانے پر

تمہارے آتشیں ہونٹوں سے جاناں
اجازت ہو تو سگریٹ ہی جلا لوں

مرزا قادیانی کا ایک مرید جب دیوانگی میں آیا

قینچیاں نذر کروں کنگھے تجھے پیش کروں
اے میرے کانے گرو بتا تجھے کیا پیش کروں

ایک رات جب نصرت جہاں بیگم سے ناراضگی ہو گئی

تکیئے پہ شب کو پانی چھڑک کر میں سو گیا
وہ سمجھیں ان کے ہجر میں رویا تمام رات

محمدی بیگم کے والد کی سختی دیکھ کر

اس کا ابا بڑا ”ڈاکو“ ہے
پتہ نہیں بندہ ہے کہ ”کاکو“ ہے
صفحہ 225

نصرت جہاں بیگم کے میکے روانگی پر

ہماری یاد کبھی لے جو دل میں انگڑائی
برآمدے کے ستوں سے لپٹ کے رو لینا

نصرت جہاں بیگم سے شادی کے دو سال بعد مرزا قادیانی کی کیفیت

فائدہ یہ خوب شادی کا ہوا
ہم کو بھی کھانا پکانا آ گیا

مساجد کی طرز پر قادیانی عبادت گاہیں تعمیر کرنے پر

کاروانوں کو لوٹنے کے لئے
رہزنوں نے دیئے جلائے ہیں

جب انگریز کے دور میں مسلمانوں کو گالی گلوچ کرنے پر عدالت سے تحریری معافی مانگنی پڑی اس پر مرزا قادیانی کا گلہ

تمہیں نے مجھ کو تماشا بنایا
تمہیں ہنس رہے ہو تماشا سمجھ کر

ایک رات جب بھانو ٹانگیں دبا کر جانے لگی

میں نے کبھی یہ ضد تو نہیں کی پر آج شب
اے مہ جبیں نہ جا کہ طبیعت اداس ہے

آخری وقت میں جب طبیب علاج کے لئے آیا

اے طبیب ہٹ جا ذرا پرے میں مریض عشق ہوں لا دوا
مجھے جس نے درد عطا کیا اسی چارہ گر کی تلاش ہے

مریدوں کا چندہ کھانے پر

وفا کے نام پر کچھ شعبدہ گر
چرا لیتے ہیں ہاتھوں کی حنا تک

کسی قادیانی کا دل سے مرزا قادیانی کو جھوٹا سمجھنے کے باوجود زبان سے سچا کہنا

مروت کی قسم تیری خوشی کے واسطے اکثر!
سراب دشت کو آب رواں کہنا ہی پڑتا ہے
صفحہ 226

بھانو سے آدھی رات کو ٹانگیں دبوانے پر

پلی ہے مغربی تہذیب کے آغوش عشرت میں!
نبوت بھی رسیلی ہے، پیغمبر بھی رسیلا ہے

پادری آتھم کے ہاتھوں ذلیل و رسوا ہونے پر

فتح و شکست نصیبوں سے ہے ولے اے میر
مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا

وقت نزع شیطان کو پکارتے ہوئے

تیرا بیمار محبت نزع کے عالم میں ہے
دم ہے آخر اب تو آجا پھر چلا جا دیکھ کر

مرض الموت میں جب ٹیچی ٹیچی ملاقات کے لئے نہ آیا

زندگی کے اداس لمحوں میں
بے وفا دوست یاد آتے ہیں

جب فرشتہ روح نکالنے لگا

پسینہ موت کا ماتھے پہ آیا آئینہ لاؤ
ہم اپنی زندگی کی آخری تصویر دیکھیں گے

مرنے کے بعد جب فوٹو گرافر فوٹو اتار رہا تھا

ہے کس بلا کا فوٹو گرافر ستم ظریف
میت سے کہہ رہا ہے ذرا مسکرائیے

مرنے کے بعد جب مرزا قادیانی کی ذاتی اشیا برآمد ہوئیں

چند تصویر بتاں چند حسینوں کے خطوط
بعد مرنے کے میرے گھر سے یہ سامان نکلا

جب ٹٹی خانہ میں مرنے پر مسلمانوں نے ٹھٹھہ و مذاق کیا

ہوئے مرکے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
صفحہ 227

موت کے بعد جب منہ سے پاخانہ بہہ رہا تھا

دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو
میری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہو

جب جنازہ جا رہا تھا

دنیا سے جا رہا ہوں چھپا کر کفن سے منہ
افسوس بعد مرنے کے آئی حیا مجھے

مرزا قادیانی کی قبر دیکھ کر

آتش افشاں ہے زمین ایسی جگہوں سے کہ جہاں
لقمہ خاک ہوئے زہر اگلنے والے

عذاب قبر پر

وہ آگ ہے کہ میری پور پور جلتی ہے
”وہ گرز ہیں کہ میری نس نس کٹتی ہے“

وجہ مضمون:-

نہ تم صدمے ہمیں دیتے نہ ہم فریاد یوں کرتے
نہ کھلتے راز سربستہ نہ یوں رسوائیں ہوتیں
صفحہ 28
PDF 229

جب

مرزا قادیانی

کو

انگریزی نبوّت

ملی!

صفحہ 230

سوچ

ایک کشادہ اور خوبصورت کمرہ جس کی آرائش و زیبائش قابل دید ہے۔ کمرے میں نقش و نگار سے مزین ایک میز پڑا ہے۔ میز کے ارد گرد حلقہ بنائے کچھ آدمی بیٹھے ہیں۔ یہ لوگ کسی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے ہیں جیسے کسی نہایت اہم چیز کی تلاش ہو یا کسی الجھے ہوئے مسئلے کا حل مطلوب ہو۔ سوچنے والوں میں سے کسی کے ماتھے پر سوچ کی سلوٹیں ہیں۔ کوئی کرسی سے ٹیک لگائے پوری آنکھیں کھول کر خلاء میں گھور رہا ہے اور کوئی سگار منہ میں رکھے سوچوں کی وادیوں میں سرگرداں ہے۔ کمرے میں مکمل خاموشی ہے اور کبھی کبھی کسی کے کھانسنے یا بولنے سے یہ سکوت ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ لوگ کون ہیں؟ یہ انگریزی حکومت کے ہندوستان میں اعلیٰ عہدوں پر فائز سرکردہ لوگ ہیں۔ یہ مسلمانوں کی تاریخ اور ان کی نفسیات پر سوچ رہے ہیں۔ یہ ہندوستان کے سیاسی اور مذہبی حالات پر غور کر رہے ہیں۔ یہ ہندوستان میں اٹھنے والی مختلف دینی اور سیاسی تحریکوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ وہ ان سوچوں میں گم ہیں کہ ہمیں ہندوستان کو غلام بنائے ایک لمبا عرصہ بیت گیا لیکن ہندوستان کے باہمت مسلمانوں نے ہماری غلامی کو آج تک تسلیم نہیں کیا۔ ہم ان کے دلوں سے مذہب کی محبت کی حدت و حرارت نہیں نکال سکے۔ ان کی مساجد آباد ہیں۔ دینی مدارس سے ہمارے خلاف جری جوانوں کی فوج تیار ہو کر نکل رہی ہے۔ ان کے چھوٹے چھوٹے بچے اپنے سینوں میں قرآن لئے پھرتے ہیں۔ ان کے علماء ہمارے عیسائی مبلغین کے پاؤں نہیں جمنے دیتے۔ لاکھوں عیسائی مبلغین کی ڈاریں پورے ہندوستان میں بکھیرنے کے باوجود ہم ناکام و نامراد رہے۔ ہم ان کے دلوں سے ان کے نبیؐ کی محبت نہیں نکال سکے۔ قرآن کے لاکھوں نسخے جلوانے کے باوجود ان کے گھروں سے قرآن پڑھنے کی صدائیں اٹھتی ہیں۔ ہم نے انہیں پابند سلاسل کر کے دیکھ لیا لیکن ان کے دلوں میں فکر حریت کے چراغ کی لو کو مدھم نہ کر سکے۔ اگرچہ سیم و زر کے بل پر ہم نے چند غداروں کو خرید تو لیا لیکن انہوں نے ان غداروں پر لعنتوں کے ڈونگرے برسائے۔

کرسی صدارت پر بیٹھا ہوا گنجے سر والا آدمی اپنی مونچھوں کو مروڑتا ہوا بولا کہ

صفحہ 231

میں نے وہ راز پا لیا ہے جس سے مسلمانوں کو دائمی غلام بنایا جا سکتا ہے۔ وہ بولا کہ جہاد ہی وہ جذبہ ہے جو مسلمانوں میں جرأت‘ ہمت اور شجاعت پیدا کرتا ہے اور ان کے ہاتھ ہمارے گریبانوں تک پہنچاتا ہے۔ جب بھی کوئی مرد قلندر نعرہ جہاد بلند کرتا ہے تو فاقہ مست مسلمان اس کی صدا پر لبیک لبیک کہتے ہوئے میدان کار زار میں کود پڑتے ہیں اور دیوانہ وار اپنے دین پر نثار ہو جاتے ہیں۔ ایک مسلمان جب ہم سے برسر پیکار ہوتا ہے تو اس کی آنکھوں کے سامنے موت نہیں بلکہ نعمتوں سے لدی جنت اور دل میں اللہ اور اپنے رسولؐ سے ملاقات کی تڑپ ہوتی ہے۔ ایسی قوم کو غلام بنانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ ان کے دلوں سے جذبہ جہاد نوچ لیا جائے لیکن اس کے لئے ہمیں ایک جھوٹے نبی کی ضرورت ہو گی‘ جو اعلان کرے گا کہ خدا نے مجھے اس دھرتی پر نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ اعلان کرے گا کہ اب اللہ تعالیٰ نے جہاد کو حرام قرار دے دیا ہے۔ نبوت کا دعویٰ کرنے سے سادہ لوح مسلمانوں کی محبتوں اور عقیدتوں کا رخ اپنے نبی سے ہٹ کر اس جھوٹے نبی کی جانب ہو جائے گا اور اس طرح وہ شخص اپنی اچھی خاصی جماعت بنا لے گا اور پھر وہ اور اس کی جماعت جہاد کے حرام ہونے کی تبلیغ و تشہیر کرے گی۔

جھوٹے نبی کی تلاش

وائسرائے ہند کے کہنے پر جھوٹے نبی کی تلاش شروع ہو گئی۔ تلاش کرنے والے ماہرین کو تاکید کی گئی کہ سب سے زیادہ کوشش اس نکتہ پر کی جائے کہ مطلوبہ شخص پنجاب سے مل جائے! کیونکہ پنجاب کے لوگ بڑے بہادر‘ دلیر اور دلاور ہوتے ہیں۔ زیادہ تر دینی و سیاسی تحریکیں پنجاب ہی سے اٹھتی ہیں۔ جھوٹے نبی کی تلاش کرنے والی ٹیم اپنے مشن پر روانہ ہو جاتی ہے۔ کچھ دنوں بعد ٹیم کا ایک شخص اپنے ساتھ درمیانے قد کے ایک آدمی کو لاتا ہے۔ جس کا منہ میلا کچیلا‘ آنکھیں چھوٹی چھوٹی اور ادھ کھلی‘ موٹے موٹے ہونٹ جن پر سیاہی پھیلی ہوئی‘ سر اور داڑھی کے بال الجھے ہوئے اور کنگھی سے ناآشنا‘ بڑے بڑے اور گہرے کان جیسے چھوٹے چھوٹے

صفحہ 232

پیالے ہوں‘ دانتوں سے جھانکتی ہوئی پیلاہٹ‘ کپڑوں پر میل کی تہیں‘ خاک میں اٹے ہوئے جوتے اور غیر متوازن جسم۔ یہ شخص چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اور جھومتا ہوا کمرے میں داخل ہوتا ہے۔ جھوٹے نبی کا انتخاب کرنے والی ٹیم کے تمام ممبران کمرے میں بیٹھے ہیں۔ وہ حیرت زدہ ہو کر آنے والے آدمی سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے ساتھ یہ شخص کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ جناب یہ آپ کی نبوت کا امیدوار ہے۔ وہ غصے سے کہتے ہیں تمہیں اس کے سوا کوئی اور نہ ملا۔ یہ انسان ہے کہ بھوت؟ اس کی شکل دیکھ کر تو ہمیں متلی آ رہی ہے‘ لوگ اس کو کیسے نبی مان لیں گے۔ آنے والا شخص جواب دیتا ہے کہ جناب ہم نے سارا ہندوستان چھان مارا۔ بڑے بڑے غداروں اور دولت و اقتدار کے حریصوں کو اس کام کے لئے تیار کرنے کی انتہائی کوشش کی لیکن ہر ایک نے نفی میں جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ جناب نبوت کا دعویٰ تو بڑی دور کی بات ہے ہمیں تو یہ سوچ کر ہی کپکپی سی آتی ہے اور خوف سے جسم میں سرد لہر دوڑ جاتی ہے۔ جناب ہم نے یہ تجربہ کیا ہے مسلمان کتنا ہی گناہ گار ہو وہ اپنے نبی سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور اپنے نبی کی عزت و ناموس پر جان قربان کرنا اپنے لئے سعادت عظمیٰ سمجھتا ہے۔ جناب! یہی ایک بختوں کا مارا‘ نصیبوں کا ہارا ملا ہے جس کی مہار شیطان نے تھام رکھی ہے۔ آپ کی خدمت عالیہ میں پیش کر دیا ہے۔ آگے جناب کی مرضی لیکن یہ بات یاد رہے کہ دیکھنے میں تو یہ پھٹا پرانا اور فرسودہ و بد شکل معلوم ہوتا ہے لیکن ہے بڑے کام کی چیز اور جھوٹی نبوت کے لئے جن اوصاف رذیلہ کی ضرورت ہوتی ہے اس میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ آپ انٹرویو تو لے کر دیکھیں۔ چند منٹوں میں صورت حال نکھر کر آپ کے سامنے آ جائے گی۔

انٹرویو

بورڈ --- تمہارا نام‘ ولدیت‘ پتہ؟

مرزا قادیانی --- میرا نام مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ میرے باپ کا نام غلام مرتضیٰ اور میرا گھر مشرقی پنجاب کے ضلع گورداسپور کے چھوٹے سے گاؤں قادیان میں ہے۔

صفحہ 233

بورڈ ۔۔۔ تمہاری تعلیم؟ مرزا قادیانی ۔۔۔ میں ٹوٹی پھوٹی اردو، ٹوٹی پھوٹی انگریزی اور بہت ہی ٹوٹی پھوٹی عربی جانتا ہوں۔

بورڈ ۔۔۔ آج کل کیا کام کرتے ہو؟ مرزا قادیانی ۔۔۔ آج کل میں سیالکوٹ کی کچہری میں منشی ہوں۔

بورڈ ۔۔۔ نبی تو علم کا سمندر ہوتا ہے اور تمہاری تعلیم تو بہت کم ہے مگر ہمیں اپنی نبوت چلانے کے لئے بہت سارا لٹریچر اور بہت ساری کتابیں چاہئیں۔ تو پھر یہ لٹریچر اور کتابیں کون لکھے گا؟

مرزا قادیانی ۔۔۔ جناب آپ فکر نہ کریں میرا ایک دوست حکیم نور الدین ہے۔ وہ پڑھا لکھا آدمی ہے اور پہلے ہی اسلام کے بہت سے بنیادی عقائد کا باغی ہے۔ وہ ہر قدم پر میرے ساتھ ہو گا اور کچھ علمائے سو اس کے دوست ہیں، وہ بھی آ جائیں گے۔ باقی تحریف قرآن و حدیث کے لئے عیسائیوں اور یہودیوں کی ٹیم آپ مجھے دے دیں۔ وہ سب مل کر کتابیں اور لٹریچر تیار کریں گے اور کتابوں پر نام میرا چلے گا اور اس طرح پورے ہندوستان میں میرے علم کا ڈنکا بجے گا اور میں اپنا نام ”سلطان القلم“ رکھ لوں گا۔ (ہی ہی ہی ہی)

بورڈ ۔۔۔ نبی تو بڑے حسین و جمیل ہوتے ہیں اور تم تو بڑے کریہہ الصورت ہو۔ تمہارے نقوش انتہائی بھدے اور رنگ کالا ہے۔ لہٰذا اس رنگ اور شکل کے ساتھ تمہارا نبی بننا بہت مشکل ہے۔

مرزا قادیانی ۔۔۔ سر جی! دراصل میں بچپن میں دوپہر کو چلچلاتی دھوپ میں چڑیاں پکڑا کرتا تھا اور گاؤں میں آوارہ گردی کرتا تھا۔ جس سے میرا رنگ کالا ہو گیا۔ آپ کے ولایت میں رنگ گورا کرنے والی اعلیٰ سے اعلیٰ کریمیں بنتی ہیں آپ وہ کریمیں مجھے منگوا کر دیں، میں وہ کریمیں اپنے بوتھے پر خوب رگڑوں گا اور جتنا بھی ممکن ہو سکا اپنا رنگ صاف کروں گا اور جہاں تک میرے بھدے نقوش کی بات ہے اگر آپ کا دل مانے تو پھر آپ میری پلاسٹک سرجری کروالیں، ویسے میں آپ کو ایک بات بتاؤں

صفحہ 234

جھوٹے نبی ہوتے ایسی ہی شکلوں کے ہیں۔ امت مسلمہ میں سب سے پہلے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا اسود عنسی تھا۔ وہ انتہائی کالا اور بدشکل تھا۔ جس کی وجہ سے اسے اسود (کالا) کہا جاتا تھا اور عنسی اس کے قبیلے کا نام تھا۔ آپ مسیلمہ کذاب کو دیکھئے اس کا قد انتہائی ٹھگنا اور چہرے پر لعنتیں ملامتیں رقص کرتی تھیں۔

سر جی! جو بھی شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اس کا منہ سیاہی چوس کی طرح لعنت چوس ہو جاتا ہے اور اللہ‘ اس کے فرشتوں‘ انسانوں‘ جنوں اور حجر و شجر کی طرف سے اس پر لعنتیں پڑتی ہیں اور اس کا منہ لعنت ہاؤس بن جاتا ہے۔ آپ ابھی سے گھبرا رہے ہیں۔ ابھی تو جب میں دعویٰ نبوت کروں گا پھر دیکھنا میرا منہ کس طرح " فٹے منہ " بنتا ہے۔

بورڈ ۔۔۔ تم سے بدبو بہت آ رہی ہے تم نہاتے نہیں ہو۔

مرزا قادیانی ۔۔۔ سر جی! دراصل میں افیون کھاتا ہوں اور آپ کو تو پتہ ہے کہ جو افیون کھاتا ہے وہ پانی سے بڑا ڈرتا ہے۔

بورڈ ۔۔۔ ہم نے تم کو اب غور سے دیکھا ہے تو پتہ چلا ہے کہ تم تو کانے بھی ہو۔ تمہاری ایک آنکھ چھوٹی ہے اور ایک بڑی ہے اور ویسے بھی تمہاری دونوں آدھ کھلی آنکھیں ہر وقت خوابیدہ سی رہتی ہیں ان مست الست آنکھوں کا کیا کیا جائے۔

مرزا قادیانی ۔۔۔ سر جی! آپ بے فکر رہیں میں کہوں گا کہ میری آنکھوں کی یہ حالت کثرت عبادت کی وجہ سے ہے۔ لوگ سمجھیں گے کہ شب بیداری کی وجہ سے آنکھوں کی یہ حالت ہو گئی ہے اور وہ مجھے کوئی بہت ہی پہنچی ہوئی ہستی سمجھیں گے۔ (ہی ہی ہی ہی)

بورڈ ۔۔۔ ہم نے یہ بھی سنا ہے کہ جب تم زیادہ مقدار میں افیون کھا لیتے ہو تو گھٹنوں میں سر دے کر اونگھتے رہتے ہو۔

مرزا قادیانی ۔۔۔ سر جی! گھبرانے کی کوئی بات نہیں لوگ سمجھیں گے کہ حضرت صاحب مراقبے میں بیٹھے ہیں (ہی ہی ہی ہی)

بورڈ ۔۔۔ نبوت کی ذمہ داری بہت بھاری ذمہ داری ہوتی ہے۔ نبی کو انتہائی محنت و

صفحہ 235

مشقت کرنا پڑتی ہے۔ لمبے لمبے سفر کرنا پڑتے ہیں۔ دشمنوں سے برسرپیکار ہونا پڑتا ہے۔ فصاحت و بلاغت پر مبنی تقاریر کرنا پڑتی ہیں۔ لوگوں کی تربیت کرنا پڑتی ہے۔ لیکن تمہاری صحت تو بالکل کمزور اور رنگ زرد ہے۔ چلتے ہو تو ٹانگیں کانپتی ہیں اور سر گھومتا ہے۔ اس کا کیا تدارک ہے؟

مرزا قادیانی ۔۔۔ میں ایک غریب الوطن ہوں، پردیس میں نوکری کرتا ہوں۔ کچہری میں پندرہ روپے ماہوار میری تنخواہ ہے۔ گھر بھی پیسے بھیجنے پڑتے ہیں۔ یہاں بھی خرچ ہوتا ہے۔ غربت کی چکی میں پس پس کر میری یہ حالت ہو گئی ہے۔ بڑی مشکل سے دو وقت کی دال روٹی چلتی ہے اور وہ بھی اگر دس پندرہ روپے رشوت نہ لوں تو فاقوں سے مرجاؤں۔ جناب جب آپ مجھے اپنا نبی بنا لیں گے تو پھر میں بکرے، مرغے، مرغابی، تیتر، بٹیر، قورمہ، زردہ، پلاؤ اور انواع و اقسام کے پھل کھاؤں گا۔ اور اوپر سے ای پلومر کی شراب کی بوتل چڑھاؤں گا تو پھر میری صحت قابل رشک ہو جائے گی۔ (ہی ہی ہی ہی)

بورڈ ۔۔۔ تمہاری زبان میں لکنت ہے اس سے تو ہمیں بہت نقصان پہنچے گا جب تم تقریر کرو گے تو لوگ تمہارا مذاق اڑائیں گے۔

مرزا قادیانی ۔۔۔ سر جی! آپ بالکل بے فکر رہیں۔ میں لکنت کو اس انداز سے استعمال کروں گا کہ لوگ سمجھیں گے کہ فکر دین کی وجہ سے میری آواز رندھی ہوئی ہے اور مجھ پر رقت طاری ہے۔ (ہی ہی ہی ہی)

بورڈ ۔۔۔ تم کانے ہو ہمارا خیال ہے کہ ہم تمہاری آنکھ کا آپریشن کرا کے تمہاری آنکھ ٹھیک کرا دیں۔

مرزا قادیانی ۔۔۔ جناب میں پیدائشی کانا ہوں، میں قدرتی کانا ہوں۔ اس لئے آپریشن سے میری آنکھیں ٹھیک نہیں ہو سکتیں۔ ویسے آپ کی محبت کا بہت بہت شکریہ!

بورڈ ۔۔۔ تم مسلمانوں کو اپنے گرد کس طرح اکٹھا کرو گے؟

مرزا قادیانی ۔۔۔ میں عیسائیوں اور ہندوؤں سے مناظرے کروں گا۔ ان کے خلاف تقریریں کرونگا اور ان کے خلاف لٹریچر شائع کروں گا۔ جس سے مسلمان مجھے ملت

صفحہ 236

اسلامیہ کا مجاہد اور ہمدرد و غمگسار سمجھیں گے۔ اس طرح میں ان کا لیڈر بن جاؤں گا اور بہت سے لوگ میرے گرد اکٹھے ہو جائیں گے۔ کیسا ہے، جناب؟ (ہی ہی ہی ہی)

بورڈ ۔۔۔ ہم نے نوٹ کیا ہے کہ تم گالیاں بہت بکتے ہو۔

مرزا قادیانی ۔۔۔ سر جی! یہی تو میرے پاس حریف کو بھگانے کا ہتھیار ہے ورنہ میرے پاس رکھا ہی کیا ہے۔

بورڈ ۔۔۔ نبوت کاذبہ کو چلانے کے لئے بندے کو بہت جھوٹا، مکار، عیار، ڈھیٹ، بے شرم، دجال کذاب وغیرہ ہونا بہت ضروری ہے۔ کیا تم میں یہ ”خوبیاں“ پائی جاتی ہیں اور کیا اس کا تمہیں کوئی عملی تجربہ بھی ہے؟

مرزا قادیانی ۔۔۔ سر جی! جتنی عمر ہے اتنا ہی تجربہ ہے۔ یہ ساری ”خوبیاں“ جن کا آپ نے ذکر کیا ہے۔ میری گھٹی میں پڑی ہوئی ہیں اور میں ان تمام ”خوبیوں“ کا مظہر کامل ہوں۔ میں بچپن میں گھر سے چیزیں چرایا کرتا تھا۔ ساتھیوں سے چیزیں چھین کے کھا جاتا تھا۔ گھر سے پیسے غائب کر لیتا تھا۔ ابا کی پینشن لے کر بھاگ جاتا تھا۔ تھیٹر میں جا کر فلمیں دیکھتا تھا۔ پھر کچہری میں ملازم ہو گیا۔ یہاں سے رشوتیں وصول کرنے، جھوٹی تسلیاں دینے اور ادھر کا مال ادھر کرنے کے فنون میں مہارت تامہ حاصل کی۔ اب میں خود کو ایک نبی ہونے کے لئے سو فیصد فٹ سمجھتا ہوں۔

بورڈ ۔۔۔ تم اپنے مذہب اور نبوت کی داغ بیل کس طرح ڈالو گے؟

مرزا قادیانی ۔۔۔ میں نبی بن جاؤں گا۔ بیگم کو ام المومنین بنا لوں گا۔ بیوی بچوں کو اہل بیت بنا لوں گا۔ اپنے ساتھیوں کو صحابہ کہوں گا۔ اپنے شہر قادیاں کو مکہ و مدینہ کہوں گا۔ جنت البقیع کے مقابلہ میں قادیان میں بہشتی مقبرہ بناؤں گا۔ من گھڑت باتوں کو وحی کہوں گا۔ اپنی گفتگو کو حدیث کہوں گا۔ اپنے فرضی فرشتوں کی فہرست بناؤں گا اور خود کو اولی الامر قرار دے دوں گا اور اپنی اطاعت، اللہ اور رسول کی اطاعت قرار دے دوں گا، جہاد کو حرام قرار دے دوں گا۔ غرضیکہ اسلام کے مقابل اپنا اسلام کھڑا کر دوں گا۔ کیسا ہے میری سرکار؟ (ہی ہی ہی ہی)

بورڈ ۔۔۔ مسٹر مرزا قادیانی ہم نے ہر پہلو سے اور ہر طرح سے تمہارا انٹرویو کیا ہے،

صفحہ 237

جس میں تم نے ثابت کیا ہے کہ تم واقعی ایک عیار‘ مکار‘ دغاباز‘ فتنہ ساز‘ دجال‘ کذاب‘ ضمیر فروش‘ ایمان فروش اور ملت فروش شخصیت ہو۔ تمہیں مبارک ہو کہ ہم نے تمہیں اپنی ”نبوت“ کے لئے منتخب کر لیا ہے۔ ہم ابھی نائی کو بلاتے ہیں‘ وہ تمہارے آوارہ بالوں کی حجامت کرے گا۔ تمہاری داڑھی کی تراش خراش کرے گا۔ تمہاری بے مہار مونچھیں جو تمہارے دانتوں کو چوم رہی ہیں ان کو چھوٹا اور سیٹ کرے گا۔ جنگلی جانوروں کی طرح تمہارے بڑھے ہوئے ہاتھوں اور پاؤں کے ناخنوں کو کاٹے گا۔ پھر تمہیں انگلش صابن دیں گے اور تم اپنے جسم پر پچھلے دو برس سے جمی ہوئی میل کی تہوں کو دور کرو گے۔ پھر ہمارا میک اپ کا ماہر آدمی تمہارے تن سے یہ چیتھڑے اتار کر خوبصورت شلوار قمیض پہنائے گا اور شلوار قمیض کے اوپر واسکٹ پہنائے گا پھر تمہارے بدن سے اٹھنے والی بدبو کو مارنے کے لئے تم پر خوشبو چھڑکے گا۔ تمہاری اجڑی ہوئی آنکھوں میں دم دار سرمہ لگا کر انہیں چمکائے گا۔ تمہارے پھٹے پرانے جوتے اتار کر تمہیں لندن کے بوٹ پہنائے گا اور پھر تمہارے سر پر ایک بہت بڑی پگڑی باندھے گا۔ پھر تم مسکرائے گا اور وہ تمہارا فوٹو اتارے گا اور وہ فوٹو ملکہ کے پاس لندن بھیج دیا جائے گا اور تمہیں دولت کی تجوریاں دے کر انگریزی نبوت چلانے کے لئے قادیان بھیج دیا جائے گا۔ تم بھی خوش ۔۔۔ ملکہ بھی خوش ۔۔۔۔ ہم بھی خوش ۔۔۔ قہقہے ۔۔ قہقہے ۔۔ قہقہے ۔۔۔

صفحہ 28
PDF 239

قادیانیوں کے لطیفے

صفحہ 240

کاروبار

مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر الدین قادیان کے سکول میں پڑھتا تھا۔ ایک دن ماسٹر صاحب کو طلبہ کے کوائف اکٹھے کرنا تھے۔ لہٰذا انہوں نے ہر ایک طالب علم کو اپنے پاس بلا کر ان کے کوائف اکٹھے کئے۔ جب مرزا بشیر الدین کی باری آئی تو ماسٹر صاحب اور مرزا بشیر الدین کے مابین مندرجہ ذیل گفتگو ہوئی۔

ماسٹر صاحب:۔ آپ کا نام؟ مرزا بشیر الدین:۔ میرا نام مرزا بشیر الدین ہے۔ ماسٹر صاحب:۔ آپ کے والد کا نام؟ مرزا بشیر الدین:۔ میرے والد کا نام مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ ماسٹر صاحب:۔ آپ کے گھر کا پتہ؟ مرزا بشیر الدین:۔ ہمارا گھر قادیان میں ہے۔ ماسٹر صاحب:۔ آپ کے والد کیا کام کرتے ہیں؟ مرزا بشیر الدین:۔ بچپن کی سادگی میں کہتا ہے ”نبوت کا کاروبار کرتے ہیں“

محبت

ایک دفعہ کسی گاؤں کے چوپال پر ایک قادیانی اور ایک سکھ کی ملاقات ہو گئی۔ تھوڑی دیر کی ملاقات ہی میں دونوں بے تکلف ہو گئے۔ قادیانی سکھ سے کہنے لگا کہ میرے پاس ایک فن ہے جس کے ذریعے میں یہ بتا سکتا ہوں کہ تمہارے دل میں کیا ہے؟ سکھ جوش میں بولا تم نہیں بتا سکتے۔ تکرار بڑھی اور دونوں میں سو سو روپے کی شرط لگ گئی۔

سکھ = بتاؤ اس وقت میرے دل میں کیا ہے؟ قادیانی = اس وقت تمہارے دل میں تمہارے گرو کی محبت کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔

سکھ کو مجبوراً ہاں میں جواب دینا پڑا اور اس نے دانت پیستے ہوئے سو روپے قادیانی کو دے دیئے۔ چند دنوں کے بعد اسی چوپال پر دونوں کی دوبارہ ملاقات ہو گئی۔ سکھ بدلہ لینے کے لئے تیار ہو کر آیا تھا۔ اس نے مرزائی سے کہا کہ میں نے بھی وہ فن جان لیا ہے جس کے ذریعے میں تمہیں بتا سکتا ہوں کہ اس وقت تمہارے دل میں کیا ہے؟ قادیانی کہنے لگا

صفحہ 241

تم جیسا کوڑھ دماغ نہیں بتا سکتا۔ لہٰذا دونوں میں پھر سو سو روپے کی شرط لگ گئی۔ قادیانی = بتاؤ اس وقت میرے دل میں کیا ہے؟ سکھ = اس وقت تمہارے دل میں تمہارے نبی مرزا قادیانی کی محبت کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ قادیانی = ”مرزے پر لعنت بے شمار“ نکال سو روپیہ۔ سکھ ہار چکا تھا اس لئے اسے قادیانی کو سو روپیہ دینا پڑا۔ مرزائی سو کا نوٹ جیب میں ڈالے دانت نکال رہا تھا اور سارے لوگ اپنے دانتوں میں انگلیاں لئے اس کی بے غیرتی پر تصویر حیرت بنے بیٹھے تھے۔

امتحان

ایک شریر قادیانی بچہ سکول میں فیل ہو گیا۔ گھر پہنچا تو باپ نے جوتوں سے تواضع کرنا شروع کر دی۔ باپ جوتوں کی بارش برسا رہا تھا اور ساتھ ساتھ چلاتا ہوا کہہ رہا تھا کہ ہمیشہ باادب محنتی اور ذہین بچے ہر امتحان میں پاس ہوا کرتے ہیں اور بے ادب‘ نالائق‘ کند ذہن‘ خبیث اور الو کے پٹھے فیل ہوتے ہیں۔ بچہ جوتوں کی بوچھاڑ میں سے سر نکال کر بولا ”ابا جی ہمارے حضرت مرزا قادیانی بھی تو مختاری کے امتحان میں فیل ہوئے تھے“ بچے کا جواب باپ کے جگر میں تیر بن کے لگا اور وہ چونک اٹھا۔ جوتی اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور بچے کے منہ سے ہنسی چھوٹ گئی۔

نوٹ :۔ مرزا قادیانی اور اس کے ہندو دوست لالہ محکم سین نے اکٹھے مختاری کا امتحان دیا۔ لالہ جی تو پاس ہو گئے لیکن مرزا جی فیل ہو گئے۔

مرزا صاحباں

تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء اپنے زوروں پر تھی۔ شیخوپورہ میں ایک جلوس سڑک پر سے گزر رہا تھا کہ چند نوجوانوں کی نظر مخالف سمت سے آتے ہوئے ایک مرزائی پر پڑی۔ نوجوان چیتے کی پھرتی سے اس کی طرف لپکے اور اسے دبوچ لیا۔ مرزائی نے کہا کہ میں مسلمان ہو چکا ہوں اور ثبوت کے طور اس نے مرزا قادیانی کو دھڑا دھڑ گالیاں دینا شروع کر دیں۔ پنجابی اور اردو میں جتنی گالیاں یاد تھیں‘ زبان سے اگل دیں۔ نوجوان اس کی باتوں میں آگئے اور اسے چھوڑ دیا۔ رات کو مرزائیوں نے اس مرزائی کو اس کے مکان پر

صفحہ 242

جاپکڑا اور پوچھا کہ تم نے مرزا صاحب کو گالیاں کیوں دیں؟ میں نے اپنے مرزا صاحب کو تو گالیاں نہیں دی تھیں۔ میں نے مرزا صاحباں والے کو گالیاں دی تھیں۔ مرزائی اس کی نرالی منطق سے حیران تھے کہ ادھر سے بھی بچ گیا اور ہم سے بھی بچ گیا۔

شہر

فاتح قادیان مولانا محمد حیات اور ایک مرزائی مناظر کے مابین مناظرہ ہو رہا تھا۔ مولانا بڑی مہارت سے دلائل کا جال بنتے اور مرزائی مناظر کو جکڑ لیتے۔ مرزائی پٹخیاں کھا کھا کر حواس باختہ ہو گیا اور مولانا سے کہنے لگا کہ آپ کس شہر کے رہنے والے ہیں؟ مولانا نے اپنے شہر کا نام بتایا جس کے جواب میں مرزائی مناظر غصہ سے پھنکارتا ہوا کہنے لگا، میں تو آپ کے شہر پر پیشاب بھی نہیں کرتا۔ جواباً مولانا نے بڑے پرسکون اور میٹھے لہجے میں کہا "بھئی ہم تو بہت عرصہ قادیان میں رہے مگر ہم نے تو کبھی پیشاب روکا ہی نہیں تھا"

ہندو اور مرزائی

ایک حلوائی کی دوکان پر ایک ہندو اور مرزائی بیٹھے تھے۔ ایک مرزائی مبلغ بھی ان کے پاس آکر بیٹھ گیا اور مرزائیت کی تبلیغ شروع کر دی۔ مرزائی مبلغ بڑے زور و شور سے مرزائیت کے حق میں دلائل دیتا رہا اور ہندو ہنستا رہا۔ ہندو کے مسلسل ہنسنے پر مرزائی مبلغ نے یہ سمجھا کہ شکار پھنس گیا ہے۔ مرزائی مبلغ کہنے لگا "بھائی تمہارے مسلسل ہنسنے سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ تم نے مرزائیت کی سچائی کو قبول کر لیا ہے اگر قبول کر لیا ہے، تو پھر دیر کیسی؟ جلدی سے مرزا صاحب کو نبی تسلیم کر لو۔ ہندو کہنے لگا میں تمہاری ایک دلیل کو بھی نہیں مانتا۔ مرزائی مبلغ غصے سے کہنے لگا اگر نہیں مانتا تو پھر ہنس کیوں رہا تھا؟ ہندو کہنے لگا ہنسی تو مجھے اس بات پر آ رہی تھی کہ ہم نے تو آج تک سچے نبی کو نہیں مانا اور تم جھوٹے کو منوا رہے ہو۔

ہڑتال

مرزا قادیانی داہنی آنکھ سے کانا تھا۔ ایک دن وہ ایک بازار میں سے گزر رہا تھا۔

صفحہ 243

داہنی آنکھ تقریباً بند ہونے کی وجہ سے اس نے سمجھا کہ دائیں طرف کی ساری دوکانیں بند ہیں۔ جب سودا سلف خرید کر اس بازار سے واپس آ رہا تھا تو پھر اسے اپنے بائیں طرف کی ساری دوکانیں بند نظر آئیں یہ منظر دیکھ کر وہ اپنے مرتد ساتھیوں سے کہنے لگا کہ یہ بازار بھی عجیب بازار ہے پہلے اس طرف ہڑتال تھی اب اس طرف ہڑتال ہے۔

پکا مرزائی

سرزمین ننکانہ صاحب ختم نبوت کے شیروں کی کچھار ہے۔ ننکانہ کے غیور و جسور مسلمانوں نے قادیانیوں کی جو درگت بنائی ہے وہ تحفظ ختم نبوت کا ایک درخشاں باب ہے۔ ننکانہ کے کچھ قادیانیوں نے شعائر اسلام کو استعمال کیا۔ مسلمانوں نے فوراً پولیس سے رابطہ کیا اور قادیانیوں کو جیل کی ہوا کھانا پڑی۔ پندرہ دن جیل میں رہے۔ جہاں موٹے موٹے مچھروں نے میزبانی کا خوب حق ادا کیا پھر ضمانتیں ہو گئیں۔ ان قادیانیوں میں ایک بوڑھا شخص بھی تھا۔ ایک بڑھاپا اوپر سے مقدمات کا سیاپا کہ پتہ نہیں پھر کب گرفتار کر لیا جاؤں۔ وہ انہیں سوچوں میں گم اداس اداس رہنے لگا۔ ایک صبح بیدار ہوا اور رفع حاجت کے لئے لیٹرین میں گیا۔ لیکن کافی دیر باہر نہ آیا۔ گھر والوں کو تشویش ہوئی۔ انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا لیکن اندر سے کوئی جواب نہ آیا۔ دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا گیا۔ لیکن اندر سے پھر وہی سکوت! آخر دروازہ توڑا گیا تو دیکھا کہ موصوف ننگ دھڑنگ غلاظت پر پڑے ہیں اور روح پرواز کر چکی ہے۔ قادیانیوں نے پانی کی بالٹیاں گرا کر اسے دھویا۔ وہ شرم کے مارے راتوں رات اسے ربوہ لے جانا چاہتے تھے لیکن یہ خبر پورے شہر میں پھیل گئی۔ لوگ ایک دوسرے کو مبارک بادیں دینے لگے۔ سارا شہر کہہ رہا تھا کہ دیکھو کیسا پکا مرزائی ہے کہ عین اپنے نبی کی موت کے مطابق مرا اور زندگی کا آخری سانس وہیں لینا پسند کیا جہاں اس کے نبی نے لیا تھا۔

منجن

ننکانہ صاحب میں قادیانیوں کی طرف سے شعائر اسلام کی توہین کرنے کے جرم میں مسلمانوں نے علاقہ پولیس کو درخواست دی۔ پولیس نے پرچہ میں نامزد سارے قادیانی گرفتار کر لئے۔ لیکن ایک قادیانی ڈاکٹر عبدالغفور پولیس کو گھر پر نہیں ملتا تھا ایک رات

صفحہ 244

اڑھائی بجے تھانیدار صاحب خود ڈاکٹر عبدالغفور کے گھر گئے۔ دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے ایک آدمی باہر آیا۔ "ڈاکٹر عبدالغفور کہاں ہے"؟ تھانیدار نے پوچھا۔ "میں ہی ڈاکٹر عبدالغفور ہوں" باہر آنے والے شخص نے جواب دیا۔ ڈاکٹر صاحب آپ کے خلاف درخواست آئی ہے اور آپ کو میرے ساتھ تھانے چلنا ہے۔" "میں کپڑے بدل لوں ابھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔" قادیانی ڈاکٹر اور تھانیدار دونوں جیپ میں سوار ہو کر تھانے پہنچ گئے۔ تھانیدار نے ڈاکٹر عبدالغفور کو ایک پڑھا لکھا شخص اور علاقے کا ڈاکٹر سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا۔ تھانے میں اس کو کرسی پر بٹھایا جبکہ بقیہ قادیانیوں کو زمین پر بٹھایا گیا تھا۔ تھانے دار اور ڈاکٹر عبدالغفور کرسیوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ تھانیدار:۔ ڈاکٹر صاحب آپ کون سے ڈاکٹر ہیں۔ ڈاکٹر:۔ میں دانتوں کا ڈاکٹر ہوں۔ تھانیدار:۔ آپ نے تعلیم کون سے میڈیکل کالج سے حاصل کی اور آج کل کلینک کہاں کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر:۔ میرا کلینک تو کوئی نہیں میں ٹرینوں میں منجن بیچتا ہوں اور لوگ مجھے پیار سے ڈاکٹر کہتے ہیں حالانکہ میں نے سکول کی شکل تک نہیں دیکھی۔ تھانے دار نے بجلی کی سرعت سے اس کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کیا اور منجن ڈاکٹر قلابازیاں کھاتا ہوا چاروں شانے چت زمین پر پڑا تھا اور یوں چیخ رہا تھا کہ جیسے میلے میں منجن بیچ رہا ہو۔

پستول

مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر الدین اپنے لڑکپن کے زمانہ میں پلاسٹک کے پستول سے کھیل رہا تھا اچانک اس نے پستول سے مرزا قادیانی کا نشانہ لیا اور منہ سے ٹھاہ ٹھاہ کی آوازیں نکالنے لگا۔ مرزا قادیانی ہنسنے لگا اور کہنے لگا کہ بیٹا یہ تو نقلی پستول ہے اس سے کچھ نہیں ہو گا۔ آپ بھی تو نقلی نبی ہیں۔ آپ سے بھی کچھ نہیں ہو گا۔ مرزا بشیر الدین نے برجستہ "جواب دیا۔

صفحہ 245

دندان شکن جواب

مرزا ناصر تعلیم الاسلام کالج ربوہ کا پرنسپل تھا اور یہی مرزا ناصر بعد میں مرزائی نبوت کا تیسرا خلیفہ بھی بنا۔ کالج میں ایک علمی تقریب منعقد ہوئی۔ چیف جسٹس کیانی مرحوم مہمان خصوصی تھے۔ کالج کے پرنسپل مرزا ناصر نے اپنی تقریر کے دوران مہمان خصوصی کو بتایا کہ جب ہم لوگ شروع شروع میں ربوہ آئے تو یہ ایک بے آباد پتھریلا خطہ تھا اور یہاں درخت و سبزہ نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ ہمارے محنتی اور جفاکش لوگوں نے یہاں دس دس فٹ گہرے گڑھے کھودے اور گڑھوں میں باہر سے زرخیز مٹی ڈالی پھر ان میں پودے لگائے اور ان کی آبیاری کی لہٰذا آج آپ کو اس سنگلاخ زمین میں جو تن آور درخت نظر آ رہے ہیں یہ سب ہماری محنت شاقہ کا نتیجہ ہیں۔ جسٹس کیانی مرحوم مرزا ناصر کی تقریر کے دوران زیر لب مسکراتے رہے۔ جب ان کی تقریر کی باری آئی تو انہوں نے مرزا ناصر کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مرزا ناصر نے اپنی جس سخت کوشش و محنت کا ذکر کیا ہے وہ واقعی قابل ستائش ہے۔ یہ تو آپ کی ایک چھوٹی سی کوشش کا ذکر ہے۔ آپ نے تو ختم نبوت کی آہنی زمین سے نبی کھڑا کر کے دکھا دیا ہے۔ ربوہ کی پتھریلی زمین سے درخت کھڑا کر دینا تو آپ کے بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کا کھیل ہے۔

"تصویر کی برکت"

افریقہ میں قادیانیوں نے اپنے دجل و فریب کی تبلیغ سے ایک عیسائی کو قادیانی بنا لیا۔ اسے قادیانی ہوئے تقریباً چار سال گزر چکے تھے لیکن اس نے ابھی تک مرزا قادیانی کی تصویر نہیں دیکھی تھی۔ اتفاق کی بات کہ قادیانیوں نے اپنے ایک رسالہ کے ٹائٹل پر مرزا قادیانی کی رنگین تصویر چھاپی۔ اس نے جب مرزا قادیانی کی تصویر دیکھی تو وہ فوراً پکار اٹھا کہ انبیاء تو حسن و جمال کے پیکر ہوتے ہیں۔ ایسا بدشکل اور کریہہ الصورت شخص نبی نہیں ہو سکتا۔ یہ کہہ کر اس نے مرزا قادیانی کی تصویر پر تھوک دیا اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔

ہمت تیرے کی

ایک دفعہ مرزا قادیانی اپنے ایک مرید کے ہاں رات ٹھہرا ہوا تھا۔ صبح سو کر اٹھا تو

صفحہ 246

مرید سے کہا کہ میری جوتی کا ایک پاؤں تو چارپائی کے پاس پڑا ہے جب کہ دوسرا پاؤں نہیں مل رہا۔ مرید بڑی پھرتی سے جوتے کی تلاش کرنے لگا۔ سارے کمرے کو چھان مارا‘ پھر باہر صحن اور گلی میں دیکھ کر آیا کہ شاید کوئی بلی یا کتا لے گیا ہو۔ مرید کہتا ہے کہ میں بڑی پریشانی میں مرزا جی کی جوتی کی تلاش میں مصروف تھا کہ اچانک حضرت صاحب نے مجھے آواز دی کہ جوتا مل گیا ہے۔ میں نے تعجب سے پوچھا کہ حضرت کہاں سے ملا ہے؟ حضرت نے فرمایا کہ ایک پاؤں تو چارپائی کے پاس ہی پڑا تھا اور دوسرا میں رات کو پہن کر ہی سو گیا تھا۔

ہائے ملاقات

بدقسمتی سے جب سر ظفر اللہ خان پاکستان کا وزیر خارجہ تھا اور حکومت میں بڑا اثر و نفوذ رکھتا تھا۔ اس نے قادیانی مبلغین کو ایک بڑی اہم لائن دی کہ قادیانی مبلغین کی مختلف ٹیمیں وزیروں سے ملیں اور انہیں قادیانیت کی تبلیغ کریں۔ ظفر اللہ کے حکم کا اشارہ پاتے ہی قادیانی مبلغین کی ٹیمیں وزراء کے بنگلوں پر پہنچنے لگیں اور انہیں قادیانیت کی دعوت دینے لگیں۔ اس وقت کے وزیر تعلیم فضل الرحمان صاحب سے قادیانی مبلغین کی بڑی دلچسپ گفتگو ہوئی۔ قادیانی مبلغین مرزا قادیانی کی شیطانی کتابوں کی پٹاری لے کر وزیر صاحب کے ہاں چلے گئے۔ کتابوں کی پٹاری زمین پر رکھ کر گفتگو شروع کرنا ہی چاہتے تھے کہ وزیر صاحب یکدم کہنے لگے آپ کی بہت بہت مہربانی‘ کتابیں بند ہی رہنے دو۔ میں آپ سے زیادہ باتیں اور بحث کرنا نہیں چاہتا۔ آپ کھڑے کھڑے میری صرف ایک بات سن لیں کہ اگر دنیا بھر کے مسلمان جو مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے‘ کافر ہیں تو میں بھی کافر ہوں۔ خدا کے لئے مجھے کافر ہی رہنے دو۔ میں مسلمانوں کے ساتھ کافر رہنا چاہتا ہوں۔ میں آپ سے التجا کرتا ہوں‘ مجھے کافر رہنے دیں۔ قادیانی مبلغین اس اچانک اور زبردست حملہ سے حواس باختہ ہو گئے اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے ایک دوسرے کا منہ تک رہے تھے‘ گویا

بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے

بیعت کا جہنم

ایک مرزائی سے سوال کیا

صفحہ 247

تو جہنم سے کیوں نہیں ڈرتا؟

توند پر ہاتھ پھیر کر بولا
یہ جہنم جو یوں نہیں بھرتا

فاتح

”بھسین“ جلو موڑ ڈاک خانہ باٹا پور لاہور کے قریب ایک خوبصورت گاؤں ہے۔ جس کی آبادی ہزاروں افراد پر مشتمل ہے۔ گاؤں میں قادیانیوں کے بھی چند گھرانے آباد ہے۔ آج سے تقریباً دو سال قبل قادیانی اپنے پلید مذہب کی تبلیغ کرتے تھے یہاں تک کہ ایک دن انہوں نے قادیانیت کے دجل و فریب سے نا آشنا سادہ لوح دیہاتیوں کو دام فریب میں پھنسانے کے لئے گاؤں کے کھلے میدان میں وی سی آر پر مرزا طاہر بھگوڑے کی تقریر دکھانے کے لئے عوام کو مدعو کیا۔ چنانچہ سادہ لوح مسلمان کافی تعداد میں اس کی تقریر سننے کے لئے میدان میں جمع ہو گئے اور مرزا طاہر بھگوڑے کی تقریر شروع ہو گئی۔

ادھر ٹی وی کی سکرین پر مرزا طاہر نمودار ہوا۔ اور ابھی چند ہی جملے ادا کئے تھے کہ فصلوں سے اڑتا ہوا ایک موٹا تازہ کیڑا مرزا طاہر کی ناک پر آ بیٹھا۔ جس سے مرزا طاہر کی پہلے سے بگڑی ہوئی صورت مزید بگڑ گئی۔ پاس بیٹھے ہوئے قادیانیوں نے فوراً کپڑے سے اسے ٹی وی کی سکرین سے اڑا دیا۔ ابھی قادیانی اسے اڑا کر بیٹھے ہی تھے کہ وہ کیڑا پھر رقص کرتا ہوا آیا اور مرزا طاہر کی ایک آنکھ پر آ بیٹھا جس سے وہ اپنے مرتد دادا مرزا قادیانی کی طرح کانا ہو گیا۔ قادیانی اس پر جھپٹے اور اسے اڑا دیا۔ چند منٹوں کے بعد وہی کیڑا پھر آیا اور سکرین پر بیٹھ گیا۔ جونہی مرزا طاہر تقریر کرنے کے لئے منہ کھولتا۔ وہ اس کے منہ میں گھسنے کی کوشش کرتا۔ قادیانی اس پر حملہ آور ہوتے لیکن وہ پھر آ جاتا اور قادیانی گرو کے چہرے پر بیٹھ کر اس کے مختلف نقشے بناتا۔ یہ مقابلہ تقریباً آدھ گھنٹہ تک جاری رہا۔ اور آخر قادیانی اس مقابلے میں چت ہو گئے اور کیڑے نے دنگل جیت لیا۔

کیڑے کے ہاتھوں شکست کی خاک چاٹتے ہوئے قادیانی دانت پیستے ہوئے اپنا سامان باندھ کر جا رہے تھے اور کیڑا ان کے سروں پر چکر لگاتا ہوا فاتح پہلوان کی طرح دھمال ڈال رہا تھا۔

صفحہ 28
PDF 249

کل نمبر: ۱۰۰

پاس مارک: ۳۳

مرتد انک

ختم نبوت

سیرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام

انجام آتھم

قادیانی

امتحانی پرچہ

صفحہ 250

سوال نمبر ۱:۔ مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک پر مضمون لکھئے؟

سوال نمبر ۲ :۔ ایک کہانی لکھئے جس سے نتیجہ اخذ ہو کہ علم بڑی ۱۰ دولت ہے

سوال نمبر ۳ :۔ مرزا قادیانی کی موت پر اس کے بیٹے مرزا بشیر الدین ۵ کو اس کے ایک ہندو دوست نے ایک تعزیتی خط لکھا۔ اسے اپنے الفاظ میں تحریر کریں؟

سوال نمبر ۴ :۔ مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے سرکار انگریزی کی تنخواہ سے ۵ مرزا قادیانی کا گزارہ نہیں ہوتا۔ دربار فرنگی میں مرزا قادیانی نے تنخواہ کے اضافہ کے لئے جو درخواست دی اسے بطور نمونہ بیان کریں؟

سوال نمبر ۵ :۔ مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک کتاب پر تبصرہ ۱۰ کریں؟

سوال نمبر ۶ :۔ مندرجہ ذیل میں سے ایک بند کی تشریح کریں، شاعر کا ۱۰

صفحہ 251

نام بھی لکھیں؟

(الف)

نہیں منظور تھی گر تم کو الفت تو یہ مجھ کو بھی جتلایا تو ہوتا
میری دلسوزیوں سے بے خبر ہو میرا کچھ بھید بھی پایا تو ہوتا
دل اپنا اس کو دوں یا ہوش یا جاں کوئی اک حکم فرمایا تو ہوتا

(ب)

سبب کوئی خداوند بنا دے کسی صورت سے وہ صورت دکھائے
کرم فرما کے آ او میرے جانی بہت روئے ہیں اب ہم کو ہنسا دے
کبھی نکلے گا آخر تنگ ہو کر دلا اک بار شور و غل مچا دے

سوال نمبر ۷ :۔ مرزا قادیانی کی دوسری شادی پر اس کے والدین کی ۱۰ طرف سے جو دعوتی کارڈ ارسال کیا گیا اسے بطور نمونہ تحریر کریں؟

سوال نمبر ۸ :۔ مندرجہ ذیل محاورات کو اپنے فقرات میں ۱۰ استعمال کریں؟

سوال نمبر ۹ :۔ مندرجہ ذیل مونث کے مذکر تحریر کریں؟ ۵ چینٹی ۔ بھینس ۔ بھانجی ۔ ممانی ۔ بکری ۔

صفحہ 252

۵

سوال نمبر ۱۰ :۔ مندرجہ ذیل سوالات کے جواب لکھئے۔

کے ساتھ فرار ہو گئی تھی؟

اللہ وسایا کی تقریر کی ہیبت سے دل کا دورہ پڑا اور جہنم واصل ہو گیا؟

سکتا“ یہ الفاظ ڈاکٹر نے کس قادیانی خلیفہ کے علاج کے بارے میں کہے تھے؟

پاس ہو گیا۔ اس ہندو دوست کا نام بتائیں؟

اور خوشی سے بھنگڑا ڈالا؟

مرلے اراضی پر ۲ آنہ فی مرلہ کے حساب سے دی تھی؟

ناصر کو قادیانیوں کے سالانہ جلسہ میں ائیر فورس کے طیاروں نے سلامی دی؟

صفحہ 253

سوال نمبر ۱۱:۔ مختصر جواب دیجئے۔ ۱۵

مرے؟

سوال نمبر ۱۳:۔ خالی جگہ پر کریں

مختاری ۔ بی کام)

۔ حقہ ۔ گانجا)

کاٹا کرتا تھا۔ (الو ۔ چڑیا ۔ کبوتر)

.. تھا (جانو ۔ بھانو ۔ رانو)

گیا تھا۔ (۱۵۰ ۔ ۱۰۰۰ ۔ ۷۰۰)

افسر خزانہ ۔ مجسٹریٹ)

صفحہ 254

نسبتی)

دسوندی)

اس کی بیوی کو ....... کہتے تھے۔ (ماچھی ۔ پاچھی ۔ کاچھی)

(ٹریکٹر ۔ ٹرالی ۔ مال گاڑی ۔ رہڑہ)

۱۰

صفحہ 255

سوال نمبر ۱:۔ مرزا قادیانی ایک ماہر زراعت کی نظر میں

مرزا قادیانی انگلستان کی پنیری سے تیار کردہ ایک زقوم کا درخت تھا۔ جسے یہود و نصاریٰ نے اپنی سنگینوں کی باڑ لگا کر پالا تھا اور اس کی جڑوں کو اسلام دشمنی کا اتنا زہریلا پانی دیا تھا کہ جو بھی اس کے زہریلے سائے تلے سے گزرا‘ ارتداد کی باد سموم سے بھسم ہو گیا۔ مرزا قادیانی ایک ایسا شخص تھا جس کے ذہن کی زمین بنجر اور دل کی زمین پتھریلی تھی یعنی اس کے دل و دماغ کی زمین پر نیکی کی گھاس تک بھی نہ اگ سکتی تھی۔ اس کا کردار پکے کھیرے کی طرح بے وقعت اور گفتار کانے بینگن کی طرح بے قیمت تھا۔ وہ خربوزے جتنا منہ کھول کر تربوز جتنے بڑے جھوٹ بولتا اور اس کام میں اسے اسپغول کے دانے جتنی بھی شرم نہ آتی۔ اس کا ناک چھ دانوں والی مونگ پھلی جتنا لمبا اور سنگھاڑے جتنا موٹا تھا۔ اس کی آنکھیں اس طرح تھیں جیسے دو چھوٹے بڑے طاقوں میں دو چھوٹے بڑے جامن پڑے ہوں۔ اس کا سر بند گوبھی کی طرح اور سر کے لمبے لمبے بال یوں الجھے رہتے جیسے سر پہ بال نہیں بلکہ دھنیا اگا ہوا ہے اور جب وہ سر پہ مہندی لگاتا تو یوں محسوس ہوتا جیسے کسی نے سر پہ پکے ہوئے ساگ کی ہنڈیا دے ماری ہو۔ کھربوں گناہ کرنے سے اس کا دل ملوک کی طرح سیاہ ہو گیا تھا۔ مسلسل شراب نوشی سے اس کے پھیپھڑے کرم زدہ پالک بن گئے تھے۔ کفریہ عقائد سوچ سوچ کر اس کا دماغ گوبر اور پیشاب کا گارا بن گیا تھا۔ وہ ساری زندگی جھوٹ کے بھنگ والے پکوڑے تلتا رہا اور لوگوں کو کھلا کھلا کر انہیں مدہوش کر کے ان کے ایمانوں اور جیبوں کی صفائی کرتا رہا۔ وہ اپنے مریدوں کا مال اس طرح کھاتا جس طرح گیدڑ کھیتوں میں خربوزے کھاتا ہے۔ وہ انگریزوں کے لئے آلو میتھی اور مسلمانوں کے لئے ہری مرچ تھا۔ وہ کفر کے لئے گاجر کی طرح میٹھا اور اسلام کے لئے نیم چڑھے کریلے کی طرح کڑوا تھا۔ وہ جامنی رنگ کے سوٹ پر جب سبز رنگ کی پگڑی باندھتا تو دور سے آتا ہوا یوں لگتا جیسے بینگن چلا آ رہا ہو۔ جب سفید دھوتی پر سیاہ اچکن پہن کر ایک کھلی اور ایک نیم بند آنکھ کے ساتھ کسی کھیت میں کھڑا ہوتا تو یوں محسوس ہوتا جیسے پرندوں کو ڈرانے کے لئے ڈھانچہ کھڑا کر رکھا ہے۔ کچے راستے پر جب صبح کی لمبی

صفحہ 256

سیر کرنے کے بعد مٹی سے اٹے کپڑوں سے گھر واپس آتا تو محلے دار سمجھتے کہ مونجی جھاڑ کر آ رہا ہے۔ اسے ایک دن میں سو دفعہ پیشاب آتا تھا گویا وہ ایک ہفتے میں ایک ایکڑ زمین سیراب کر سکتا تھا۔ جب وہ نہاتا تو اتنی بدبو اٹھتی کہ گویا بھینسوں کے باڑے کو دھویا جا رہا ہے۔ وہ مناظرے کے لئے گنے کے برابر قد بنا کر حریف کو للکارتا، لیکن جب حریف سامنے آتا تو شکر قندی کی طرح زمین میں چھپ جاتا۔ وہ محمدی بیگم کے حصول کے لئے ہزاروں منٹ نرگس کی طرح روتا رہا، لیکن طاقتور حریف مرزا سلطان نے ”ویدوں“ کی روشنی نوچ لی اور دل کے خود ساختہ چمن پر بلدیہ کے بلڈوزر چلا دیئے۔ متعدد بیماریوں کے تابڑ توڑ حملوں سے اس کا رنگ شلجم کی طرح زرد اور وجود بھنڈی توری کی طرح ہلکا پھلکا ہو گیا تھا اور پھر محمدی بیگم کے عشق نے تو اسے مونگرے کی طرح سمارٹ کر دیا تھا اور موت کے بعد تو اس کے منہ سے دیسی کھاد نکل رہی تھی اور اس کا پورا جسم گدھوں کو دعوت طعام دے رہا تھا۔

سوال نمبر ۲:- کہانی

مرزا قادیانی اکثر کہا کرتا تھا کہ جو قادیان نہیں آتا مجھے اس کے ایمان کی فکر رہتی ہے۔ اس بدبخت کا فکر دور کرنے کے لئے بہت سے قادیانی بمعہ اہل و عیال قادیان جاتے رہتے تھے اور مرزا قادیانی ان کی جیبیں صاف کرتا رہتا تھا۔ ایک دفعہ گرمیوں کی چھٹیوں میں بہت سے قادیانی خاندان قادیان پہنچے ہوئے تھے۔ ایک دن مرزا قادیانی نے قادیان میں بیٹھے ہوئے اپنے مریدوں سے کہا کہ آج شام میں تمہارے بچوں سے کچھ علمی باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ تم لوگ آج شام ۴ بجے اپنے بچے لے کر عبادت خانہ میں اکٹھے ہو جانا۔ شام کے ۴ بج چکے تھے تمام بچے لائنوں کی صورت میں بیٹھے تھے۔ مرزا قادیانی کا انتظار ہو رہا تھا۔ اچانک دروازہ کھلتا ہے اور مرزا قادیانی جوتے گھسیٹتا اور افیون کے نشے میں جھومتا ہوا کمرے میں داخل ہوتا ہے۔ سارے بچے احتراماً کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مرزا قادیانی پیلے پیلے دانت نکال کر ہلکا ہلکا مسکراتا ہے۔ جس سے اس کی ڈیڑھ آنکھ بھی بند ہو جاتی ہے۔ مرزا قادیانی سر کے ہلکے سے جھٹکے سے بچوں کو بیٹھنے کا اشارہ کرتا ہے۔ بچے فوراً بیٹھ جاتے ہیں۔

صفحہ 257

"میں تم سے ایک سوال پوچھوں گا۔ ذرا اپنے دماغوں کو حاضر کر لو اور کانوں کی کھڑکیاں کھول لو" مرزا قادیانی نے رعب دار آواز میں کہا۔

"شدید گرمی ہے۔ سخت حبس ہے۔ مشرق کی سمت سے ایک زور دار سرخ آندھی اٹھتی ہے جس کی رفتار ایک سو بیس میل فی گھنٹہ ہے۔ اگر ایک سیر مونگ پھلی ہو تو اس میں سے ڈیڑھ پاؤ دانے نکلتے ہوں۔ تو بتاؤ میری عمر کتنی ہے۔؟

بچے مرزا قادیانی کا سوال سن کر حیران و ششدر رہ گئے۔ کمرے میں قبرستان کی خاموشی چھا گئی۔

"جواب کیوں نہیں دیتے" مرزا قادیانی نے پوچھا۔

بچے مرزا قادیانی کا ”الٹا پلٹا“ سوال سن کر حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ "بس اتنی ہی اہلیت‘ قابلیت ہے۔ تم میں؟" مرزا قادیانی نے پوچھا۔ ایک چھوٹا سا بچہ ہاتھ اٹھا کر کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے۔ کہ اجازت ہو تو میں بتاؤں۔

"ہاں ہاں ضرور بتاؤ سوال پوچھا ہی جواب کے لئے ہے۔" مرزا قادیانی بولا‘ بچہ کہتا ہے۔ "جناب! آپ کی عمر پچاس سال ہے۔"

مرزا قادیانی خوشی سے اچھل پڑتا ہے اور زور زور سے کہتا ہے۔ شاباش ۔ بالکل صحیح جواب دیا‘ لیکن یہ بتاؤ کہ تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میری عمر پچاس سال ہے؟

"ہمارے محلے میں ایک لڑکا رہتا ہے وہ آدھا پاگل ہے اور اس کی عمر پچیس سال ہے‘ کیونکہ آپ پورے پاگل ہیں لہٰذا اس حساب سے آپ کی عمر پچاس سال ہے۔" لڑکے نے انتہائی معصومیت سے جواب دیا۔

مرزا قادیانی مبہوت رہ گیا اور کمرے میں ایک دفعہ پھر قبرستان کی خاموشی چھا گئی اور اسی قبرستان میں مرزا قادیانی کی قبر بھی موجود تھی۔

نتیجہ = علم بڑی دولت ہے۔

سوال نمبر ۳:۔ ڈئیر بشیر الدین بشیری عرف لال بھکڑ‘ پٹھہ مرزا قادیانی۔

کل ایک دوست کے ذریعے یہ خبر ملی کہ آپ کے ڈیڈی اور ہمارے انکل مرزا قادیانی زندگی کی پچ پر حیضے کی تباہ کن باؤلنگ سے کلین بولڈ ہو گئے یہ خبر سن کر ہمیں

صفحہ 258

تمہارے ابا کی موت اور عقل پر شدید دکھ ہوا کہ بھئی اگر مرنا ہی تھا تو کسی اچھی سی بیماری سے مرتے‘ ہیضہ جیسی تھرڈ کلاس بیماری کے ہاتھوں مرنے کا کیا فائدہ ۔ یہ بات سن کر میرا سر شرم کے مارے جھک گیا کہ انکل لیٹرین میں مرے ۔ ہائے انکل کو اتنی بڑی عمر میں لیٹرین میں مرتے شرم نہ آئی ۔ بتانے والے نے بتایا کہ دنیا کی آنکھیں دیکھ رہی تھیں اور انکل پاخانے میں لت پت پڑے مزے سے استراحت فرما رہے تھے ۔ کیا زیادہ دماغ خراب ہو گیا تھا آخری وقت میں؟ میں تو داد دیتا ہوں اس غسال کو جس نے اتنے گندے انکل کو غسل دیا ۔ میں تمہیں پانچ سو روپیہ بھیج رہا ہوں ۔ یہ رقم اس غسال کو میری طرف سے انعام دے دینا ۔ دراصل کثرت شراب نوشی‘ افیم خوری اور محمدی بیگم سے عشق میں ناکامی نے ان کا انجر پنجر ہلا دیا تھا اور بڑھاپے کی شادی کے بعد تو وہ چتا میں جلتی لاش تھے ۔ اگر تمہارے پاس انکل کی تجہیز و تکفین کی تصویریں یا ویڈیو فلم ہو تو مجھے ضرور بھیج دینا ۔ میری طرف سے انکل کی قبر پر ایک زور دار سیلوٹ مارنا اور ہاتھ جوڑ کر نمستے کہنا ۔ نہایت سریلی آواز میں چند اشلوک پڑھنا اور بھجن گانا اور پھر گاؤ ماتا کے موتر سے قبر پہ لیپ کر دینا ۔ یہ سب کچھ میرا فرض ہے کیونکہ انکل نے ہم ہندوؤں کے کرشن ہونے کا بھی دعویٰ کیا تھا ۔

فقط تمہارا شریک غم تمہارا دوست طوطا رام

درخواست

سوال نمبر ۴ :۔ محترمہ ‘ مکرمہ ‘ معظمہ ‘ محسنہ ‘ لطیفہ ‘ کریمہ ‘ عظیمہ ‘ امینہ ‘ قیصرہ ہندوستان ملکہ صاحبہ

فدوی دست بستہ ‘ زانو شکستہ ‘ پاؤں پکڑتا ‘ ناک رگڑتا آپ کی خدمت عالیہ میں ہلکی ہلکی جنبش زبان سے گزارش و التماس کرتا ہے کہ کمر توڑ مہنگائی نے میری کمر توڑ اور گردن مروڑ دی ہے اور میں مہنگائی کے سیلاب میں ناک ناک ڈوبا غوطوں غوطوں

صفحہ 259

کر رہا ہوں۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ فدوی کا دل ۔ دماغ ۔ آنکھیں ۔ پھیپھڑے ۔ گردے ۔ معدہ ۔ جگر۔ انتڑیاں وغیرہم خراب ہو چکے ہیں جن کی مرمت پر ہر ماہ ایک خطیر رقم خرچ ہو جاتی ہے۔ فدوی نے آپ کے حکم پر نبوت کا دعویٰ کیا تھا جس کی پاداش میں میرے منہ پر اربوں لعنتیں پڑتی ہیں اور میرا منہ ”فٹے منہ“ بن چکا ہے، لیکن یہ منہ لوگوں کو دکھانا ہوتا ہے۔ لہٰذا منہ سے لعنتوں کے داغ دھبے اور چھائیاں دور کرنا انتہائی ضروری ہوتا ہے جس کے لئے انتہائی قیمتی میک اپ کا سامان خریدنا پڑتا ہے ای پلمر کی شراب کے نرخ پچیس فیصد بڑھ گئے ہیں۔ پچھلے ماہ سے افیون کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

حکیم نور الدین بھی پتی مانگتا ہے۔ رات کو ٹانگیں دبانے والی ملازمہ ”بھانو“ بھی تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ پچھلے مہینہ بیس عدد مرید بیعت توڑ گئے اور بیس عدد ہی طاعون کے حملہ میں بہہ گئے۔ جس سے ماہانہ آمدنی میں خاصا فرق پڑا ہے۔ دوسری شادی رچانے کے بعد میری جیبیں اجڑی اجڑی رہتی ہیں۔ نصرت جہاں بیگم کے نت نئے زیورات بنانے کے شوق اور سامان آرائش و زیبائش کی خریداری کے ذوق نے مجھے پیسنے کا گنا بنا دیا ہے۔ محترمہ ملکہ معظمہ! ہر ملازم کسی ایک عہدہ پر کام کرتا ہے اور اس عہدہ پر کام کرنے کی تنخواہ وصول کرتا ہے، لیکن میں بیک وقت مجدد‘ مامور من اللہ‘ مہدی موعود‘ کرشن‘ جے سنگھ بہادر‘ مسیح موعود‘ ظلی نبی‘ بروزی نبی‘ نبی‘ رسول‘ خدا اور معجون مرکب کے عہدوں پر کام کر رہا ہوں، لیکن مجھے تنخواہ ایک ہی عہدے کی دی جا رہی ہے۔ مجھے آج تک کبھی اوور ٹائم نہیں ملا۔ ٹی اے۔ ڈی اے نہیں ملتا۔ مہنگائی الاؤنس نہیں ملتا ۔ کنوینس الاؤنس نہیں ملتا اور سالانہ انکرمینٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔

پیاری ملکہ! لوگ آخرت حاصل کرنے کے لئے دنیا قربان کر دیتے ہیں میں نے آپ کے حکم پر دنیا حاصل کرنے کے لئے آخرت قربان کر دی، لیکن یہ دنیا بھی غربت کے قفس میں گزرے تو مجھے ایمان فروخت کرنے کا کیا فائدہ؟ میں جوتی اتار کر، کپڑے جھاڑ کر، جھولی پھیلا کر اور منہ کا کشکول بنا کر آپ کی خدمت

صفحہ 260

اقدس میں درخواست کرتا ہوں کہ میری تنخواہ میں اضافہ کیا جائے ورنہ میں دو موریہ پل سے چھلانگ لگا کر اپنی دونوں ٹانگیں توڑ لوں گا۔

(عرضے)

خاک در خاک، آپ کی جوتی کی خاک، خاکسار کرم خاکی مرزا قادیانی

سوال نمبر ۵:۔ تریاق القلوب پر تبصرہ

یہ رسوائے زمانہ کتاب رسوائے زمانہ شخصیت فرنگی نبی مرزا قادیانی کی تصنیف ہے۔ مصنف کی ذات کی طرح کتاب بھی انتہائی مہلک اور زہریلی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے پین میں سیاہی کی بجائے سانپ کا زہر استعمال کیا ہے مصنف نے اس کتاب میں کذب و افترا، کفر و ارتداد اور اسلام دشمنی میں شیطنت کی سب سے اونچی چوٹی پہ بیٹھا نظر آتا ہے اس کتاب میں مرزا قادیانی ملکہ وکٹوریہ کی قصیدہ خوانی کر رہا ہے۔ اسلام اور پیغمبر اسلام دشمن فرنگی کو ملت اسلامیہ کا محسن قرار دے رہا ہے روح اسلام جہاد کو حرام قرار دے کر ملت اسلامیہ کو صلیب کے نیچے اکٹھا کر رہا ہے۔ اپنی غلیظ ذات کو سارے نبیوں کا وجود قرار دے رہا ہے۔ انبیائے کرام کی شان میں اپنی زہریلی زبان سے بکواس کر رہا ہے۔ اولیائے امت پر بھونک رہا ہے۔ اپنے کذاب قلم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کشمیر میں ثابت کر رہا ہے اپنی نئی نئی شادیوں کے بارے میں الہام جھاڑ رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی ہونے والی اولاد کے بارے میں پیشگوئیاں کر رہا ہے۔ کتاب کا کاغذ قادیانی عقائد کی طرح رف ہے جبکہ چھپائی بعض جگہ پر واضح اور بعض جگہ پر مصنف کی ایک آنکھ کی طرح بجھی بجھی ہے۔ کتاب کا ٹائیٹل مرزا قادیانی کے چہرے کی طرح زرد جبکہ جلد مرزا قادیانی کے کفر کی طرح مضبوط اور موٹی ہے۔ حسن اتفاق ہے کہ کتاب ۱۹۰۲ء میں شائع ہوئی جبکہ مصنف خود ۴۲۰ ہے۔ کتاب کے صفحات ۴۲۰ سے صرف ۶۰ کم ہیں یعنی ۳۶۰، کتاب کا سائز مرزا قادیانی کے بیمار منہ کے سائز کے برابر ہے۔ یعنی ۴ x ۶ ۔ کتاب کے ہر لفظ سے ایک آہ اٹھتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنف نے کاتب کو پیسے نہیں

صفحہ 261

دئیے۔ کسی شخص نے کتاب کی تقریظ نہیں لکھی شاید ہر کوئی جوتوں اور لعنتوں کی بوچھاڑ سے ڈرتا تھا۔ کتاب کا نام تریاق القلوب ایسے ہی ہے کہ جیسے سات افراد کو کمرے میں بند کر کے زندہ جلا دینے والے سفاک قاتل سے عدالت کے کٹہرے میں جب جج نے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے تو مجرم نے جواب دیا ” رحمت الٰہی “ دراصل اس کتاب کا نام ” قاتل القلوب “ یا ” سارق القلوب “ ہونا چاہئے، کیونکہ یہ کتاب قلوب میں عقائد حقہ کو قتل کرتی ہے اور دلوں سے ایمان کی روشنیاں لوٹ کر کفر کے اندھیرے بھر دیتی ہے۔ یہ کتاب یہود و نصاریٰ کی خدمت میں مصنف کا بہترین تحفہ ہے۔ اسلام دشمن اس کتاب کے مطالعہ سے اسلام پر حملہ آور ہونے کے فن سیکھ سکتے ہیں۔ جھوٹ کو سچ ثابت کرنے والے شعبدہ بازوں کے لئے بھی یہ کتاب ایک راہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ مصنف کو کروٹ کروٹ جہنم نصیب فرمائے اور مصنف کے دل، دماغ اور ہاتھ پر اپنا سب سے شدید عذاب نازل فرمائے تاکہ وہ دل راکھ ہو جائے۔ وہ دماغ خاکستر ہو جائے اور وہ ہاتھ بھسم ہو جائیں جو اس کتاب میں استعمال ہوئے۔ آمین ثم ۔ آمین ۔

سوال نمبر ۶ :۔ یہ اشعار مرزا قادیانی کے ہیں جو اس کے بیٹے کی کتاب سیرت المہدی حصہ اول ص ۲۳۳ - ۲۳۴ پر درج ہیں۔

مکان کی کھڑکی میں کھڑی کسی لڑکی پہ مرزا قادیانی کی نظر پڑ گئی ہے۔ حریص مرزا قادیانی اس پہ لٹو ہو گیا ہے اور لڑکی کو دوبارہ دیکھنے کے لئے روزانہ کئی بار اس مکان کی طرف تانک جھانک کرتا ہوا گزرتا ہے۔ لڑکی کے بھائی اس کی حرکات کو کافی دنوں سے نوٹ کر رہے ہیں۔ ایک دن مرزا قادیانی حسب معمول مکان کے سامنے سے تانک جھانک کرتے ہوئے گزرنے لگا تو لڑکی کے باپ اور بھائیوں نے پروگرام کے مطابق آ دبوچا اور مرزا قادیانی پر تھپڑوں گھونسوں، ٹھڈوں اور جوتوں کی بارش کر دی۔ لوگوں نے بیچ بچاؤ کر کے چھڑایا کہ جناب! معاف کر دو ۔ مر جائے گا۔ یہ تو شکل سے ہی کوئی افیمی، چرسی معلوم ہوتا ہے۔ بڑی مشکل سے مرزے کی خلاصی ہوتی ہے وہ اپنے پٹے ہوئے وجود اور تار تار لباس کے ساتھ گھر پہنچتا ہے۔ جب تک زخموں

صفحہ 262

سے ٹیسیں اٹھتی رہتی ہیں اس وقت تک تو مرزے کے دماغ سے عشق کا بھوت نکلا رہتا ہے، لیکن جونہی زخم ٹھیک ہوتے ہیں عشق کا بھوت دماغ میں پھر گھس آتا ہے۔ اب مرزا قادیانی دوبارہ اس گلی میں جانے کی کوشش تو نہیں کرتا، لیکن وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپتا ہوا کہہ رہا ہے کہ کاش کوئی سبب بن جائے اور میں کسی صورت اس صورت کو دیکھ لوں۔ خود گلی میں جاتا ہے تو جوتے نظر آتے ہیں۔ اس لئے وہ لڑکی کو کہہ رہا ہے کہ میرے جانی تو کرم فرما کے خود ہی آ جا میں تیری یاد میں بہت رویا ہوں اور تو خود آ کر مجھے چپ کرا، لیکن اس طریقے سے بھی دیدار نہیں ہوتا۔ اب مرزا قادیانی تنگ آ کر اپنے دل کو پھر اس کی گلی میں جانے کا مشورہ دیتا ہے اور کہتا ہے اے میرے دل! تو اس کی گلی میں جا کر زور سے شور و غل مچا دے۔ میرا محبوب تنگ آ کر خود ہی باہر نکل آئے گا اور میں اسے ایک نظر دیکھ لوں گا، لیکن دل اسے غصہ میں کہتا ہے۔ بے غیرت کے بچے! شرم کر۔ حیا کر۔ ابھی چند دن پہلے تیری اتنی چھترول ہوئی ہے تجھے اب بھی شرم نہیں آتی یاد رکھ اب اگر وہاں گیا تو وہ لوگ تجھے پکڑ کر تیری ٹنڈ کریں گے، مونچھیں مونڈ دیں گے، منہ کالا کریں گے، گلے میں جوتوں کے ہار ڈالیں گے، گدھے پر بٹھائیں گے اور پورے محلے میں گھمائیں گے اس لئے زبان بند کر لے، صبر کر جا، یا کسی گٹر میں ڈوب کے مرجا۔

سوال نمبر ۷:۔

بلغمی و نزلی ............... ہمارے کانے اور ٹنڈے بیٹے مرزا قادیانی عرف دسوندھی ابن تحسینی قوم معجون مرکب کی دوسری محبت کی شادی ۵۵ سال کی عمر میں اور ۱۴۱ بیماریوں کی موجودگی میں ۲۰ سالہ دوشیزہ نصرت جہاں بیگم سے اسی ماہ کی کالی جمعرات کو ہونا قرار پائی ہے۔ بارات دوپہر بارہ بجے ٹھیک زوال کے وقت قادیان سے دہلی روانہ ہو گی۔ احباب ٹرانسپورٹ کے لئے فکر مند نہ ہوں، کیونکہ بارات ٹپچی ٹپچی پہ جائے گی اور صرف اڑھائی منٹ میں دہلی پہنچ جائے گی۔ مرزا صاحب کے مرید جو لڈی، دھمال، خٹک ڈانس، بریک ڈانس، اور ٹھمکا لگانے میں مہارت تامہ رکھتے ہوں اپنے نام پانچ دن کے اندر اندر چیئرمین بارات کمیٹی حکیم نور الدین کو پہنچا دیں۔ دیگر مریدوں کو حکم

صفحہ 263

ہے کہ وہ شرلیاں‘ پٹاخے‘ چمچڑ‘ چوہے‘ ہوائیاں وغیرہم اپنے ساتھ لے کر آئیں ۔ تاکہ بارات کی رونق دو بالا ہو سکے۔ یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ ولیمہ نہیں ہو گا کیونکہ مرزا صاحب کو تیسرا عشق فرماتے ہوئے تین سال ہو گئے ہیں۔ عشق کی کامیابی کی صورت میں تیسری شادی کے ساتھ دونوں ولیمے اکٹھے کر دیئے جائیں گے۔ نوٹ = کسی بھی مرید سے ۱۰۱ روپے سے کم سلامی وصول نہیں کی جائے گی۔ پھولوں اور تلے والے ہار صرف اس صورت میں وصول کئے جائیں گے جبکہ ان کے ساتھ کم از کم ایک سو روپے کا نوٹ لگا ہو۔

ج س م ف متمنی شرکت حکیم نور الدین مرتد بیگم گھسیٹی عرف سیٹی مرزا بشیر الدین زندیق مکان نمبر ۴۲۰ گلی مرداں والی عبد الکریم ہیرا پھیری محلہ دجالاں اسود عنسی روڈ مسٹر مکھن لال (فرشتہ قادیانی) نزد مسیلمہ کذاب ہائی سکول قادیان

سوال نمبر ۸ :۔

خاوند مرزا سلطان احمد کو دیکھتا تو آنکھیں چرا کر گزر جاتا۔

طاہر سمیت ساری مرزائیت پر تین حرف بھیج کر اسلام قبول کرلیں۔

کے لئے بیٹے مرزا بشیر الدین اور مرزا قادیانی کے مرید خاص مولوی محمد علی لاہوری کے درمیان جوتا چل گیا۔

صفحہ 264

بھرتا ہوا جہنم کی طرف پرواز کر گیا۔

اور دادا کے بھی کان کتر جاتا ہے۔

سوال نمبر ۹ :۔

ٹیچی ٹیچی ٹچا ٹچا کمینی کھیٹا بھانو بھانا مجے دی ماں مجے دا پیو وکٹوریہ وکٹورہ

سوال نمبر ۱۰ :۔

صفحہ 265

سوال نمبر ۱۱ :۔

I am with you

سوال نمبر ۱۲ :۔

صفحہ 28
PDF 267

؟

قادیانیت

اور

عقل

قادیانی جماعت کی کہانی جس سے عقل روٹھ گئی

مرزا قادیانی کے بنجر، سنگلاخ اور بانجھ دماغ کا تذکرہ

فہم دانش کا احتجاج، بصیرت کا ماتم، ذہانت کا نوحہ، فراست کا گریہ

صفحہ 268

مرزا قادیانی اور عقل کی شروع سے آپس میں لڑائی رہی ہے لیکن جب مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا۔ تو قادیانیوں اور عقل میں زبردست جنگ چھڑ گئی۔ لڑائی تیز سے تیز تر ہوتی گئی۔ آخر دونوں فریق فیصلے کے لئے ایک دانا کے پاس پہنچے۔ دانا نے ہر دو فریقین کے دلائل بڑے غور و توجہ سے سنے اور فیصلہ صادر فرمایا کہ آج کے بعد عقل قادیانیوں کے پاس نہیں جائے گی اور قادیانی عقل کے پاس نہیں جائیں گے۔ فریقین نے فیصلے کو بخوشی تسلیم کیا اور تاحیات اس فیصلے پر کاربند رہنے کا اعلان کرتے ہوئے اشٹام پیپر پر فیصلے کی تحریر کے نیچے اپنے اپنے دستخط کئے۔ اس کے بعد عقل قادیانی دماغوں سے پرواز کر گئی اور قادیانی دماغ سمجھ بوجھ سے بانجھ ہو گئے۔ ہماری ثقہ معلومات کے مطابق ابھی تک دونوں فریقین اپنے اپنے عہد پر قائم ہیں۔ ہم یہ بات قادیانی نبوت کا تمسخر اڑاتے ہوئے نہیں کہہ رہے بلکہ یہ بات اپنے دامن میں ہزاروں دلائل رکھتی ہے۔ اگر ہم ہر قادیانی کے عقل سے خالی دماغ کو پیش کریں تو کئی ضخیم کتابیں رقم ہو جائیں۔ جس کے ہم متحمل نہیں۔ لہٰذا اختصار کے قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہاں بطور نمونہ قادیانی نبی مرزا قادیانی کے دماغ کو پیش کرتے ہیں۔ ارسطو نے کہا تھا کہ اگر دریا کا پانی میٹھا ہو تو نہروں کا پانی بھی میٹھا ہوتا ہے اور اگر دریا کا پانی کڑوا ہو تو نہروں کا پانی بھی کڑوا ہوتا ہے۔ لہٰذا ہم نہروں اور ان سے نکلنے والی چھوٹی نہروں اور ان سے نکلنے والے نالوں اور ان سے نکلنے والی نالیوں کی بجائے، کفر و ارتداد کے قادیانی دریا کا متعفن اور کالا پانی چیک کرتے ہیں۔ لیجئے قادیانی دریا (مرزا قادیانی) سے نکالے گئے چند ڈول بطور مشاہدہ و تجربہ حاضر ہیں!

آگ :۔ ”ایک دفعہ میرے دامن کو آگ لگ گئی تھی۔ مجھے خبر بھی نہ ہوئی اور ایک شخص نے دیکھا اور بتلایا اور آگ کو بجھا دیا۔“ (سیرت المہدی حصہ اول ص ۲۳۶ از مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی) افیون کے کرشمے (ناقل)

جوتی کی دوات :۔ ” ایک دفعہ فرمانے لگے میرے لئے کسی نے بوٹ بھیجے ہیں۔ میری سمجھ میں اس کا دایاں بایاں نہیں آتا۔ آخر اس کو سیاہی ڈالنے کے لئے بنا لیا“ (الحکم ۱۴ دسمبر ۱۹۳۴ء ص ۵ کالم نمبر ۲) جس کی دوات جوتا ہو۔ اس کی تحریر کتنی پاکیزہ ہو گی؟ (ناقل)

صفحہ 269

نمک اور چینی:۔ ”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب سناتے تھے کہ جب میں بچہ ہوتا تھا۔ تو ایک دفعہ بعض بچوں نے مجھے کہا کہ جاؤ گھر سے میٹھا لاؤ۔ میں گھر میں آیا اور بغیر کسی کے پوچھنے کے ایک برتن میں سے سفید بورا اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی۔ بس پھر کیا تھا۔ میرا دم رک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی۔ کیونکہ معلوم ہوا کہ جسے میں نے سفید بورا سمجھ کر جیبوں میں بھرا تھا وہ بورا نہ تھا بلکہ پسا ہوا نمک تھا۔“ (سیرت المہدی حصہ اول ص ۲۴۲ مولفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

ذہانت کے آثار بچپن سے ہی نمایاں ہونے شروع ہو گئے تھے! (ناقل)

انداز طعام:۔ ”حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب کھانا کھایا کرتے تھے تو بشکل ایک پھلکا آپ کھاتے اور جب آپ اٹھتے تو روٹی کے ٹکڑوں کا بہت سا چورہ آپ کے سامنے سے نکلتا۔ آپ کی عادت تھی کہ روٹی توڑتے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرتے جاتے پھر کوئی ٹکڑا اٹھا کر منہ میں ڈال لیتے اور باقی ٹکڑے دسترخوان پر رکھے رہتے معلوم نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایسا کیوں کیا کرتے تھے مگر کئی دوست کہا کرتے کہ حضرت صاحب یہ تلاش کرتے ہیں کہ روٹی کے ان ٹکڑوں میں سے کون سا تسبیح کرنے والا ہے اور کون سا نہیں“ (میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۲ نمبر ۱۰۵ مورخہ ۳ مارچ ۱۹۳۵ء)

ہر قادیانی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے نبی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے روٹی اسی طرح کھائے تاکہ مہینے کا آٹا چار دنوں میں ختم ہو جائے۔ (ناقل)

جیب کی اینٹ:۔ ”آپ کے ایک بچے نے آپ کی واسکٹ کی جیب میں ایک بڑی اینٹ (روڑا) ڈال دی۔ آپ جب لیٹتے تو وہ چبھتی، کئی دنوں ایسا ہوتا رہا۔ ایک دن آپ ایک خادم کو کہنے لگے کہ میری طبیعت خراب ہے اور پسلی میں درد ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز چبھتی ہے۔ وہ حیران ہوا اور آپ کے جسم پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ اس کا ہاتھ اینٹ پر جا لگا۔ جیب سے اینٹ نکال لی۔ دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا کہ چند روز ہوئے محمود نے میری جیب میں ڈالی تھی اور کہا تھا کہ اسے نکالنا نہیں

صفحہ 270

میں اس سے کھیلوں گا۔" (حضرت مسیح کے مختصر حالات ملحقہ براہین احمدیہ طبع چہارم ص ۱۴)

پاگل ای اوے ۔ پاگل ای اوے (ناقل)

خوش خوراکی :۔ "بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ بعض بوڑھی عورتوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ بچپن میں حضرت صاحب نے اپنی والدہ سے روٹی کیساتھ کچھ کھانے کو مانگا۔ انہوں نے کوئی چیز شاید گڑ بتایا کہ یہ لے لو۔ حضرت نے کہا نہیں یہ میں نہیں لیتا۔ انہوں نے کوئی اور چیز بتائی۔ حضرت صاحب نے اس پر بھی وہی جواب دیا۔ وہ اس وقت کسی بات پر چڑی ہوئی بیٹھی تھیں۔ سختی سے کہنے لگیں۔ کہ جاؤ پھر راکھ سے روٹی کھا لو۔ حضرت صاحب روٹی پر راکھ ڈال کر بیٹھ گئے اور گھر میں ایک لطیفہ ہو گیا۔ یہ حضرت صاحب کا بالکل بچپن کا واقعہ ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ نے یہ واقعہ سنا کر کہا کہ جسوقت اس عورت نے مجھے یہ بات سنائی تھی۔ اسوقت حضرت صاحب بھی پاس تھے۔ مگر آپ خاموش رہے۔" (سیرت المہدی حصہ اول ص ۲۴۵ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

ہائے کاش ماں کہہ دیتی کہ جاؤ جا کر نیلے تھوتھے سے کھا لو اور مرزا قادیانی نیلا تھوتھا کھا کر ہلاک ہو جاتا تو لاکھوں لوگ مرتد ہونے سے بچ جاتے اور اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں آج مرزا قادیانی کی ہرزا سرائی بھی موجود نہ ہوتی۔

یادداشت :۔ "بیان کیا مجھ سے مولوی ذوالفقار علی خان صاحب نے کہ جن دنوں میں گورداسپور میں کرم دین کا مقدمہ تھا ایک دن حضرت صاحب کچہری کی طرف تشریف لے جانے لگے اور حسب معمول پہلے دعا کے لئے اس کمرہ میں گئے جو اس غرض کے لئے پہلے مخصوص کر لیا تھا۔ میں اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ باہر انتظار میں کھڑے تھے اور مولوی صاحب کے ہاتھ میں اس وقت حضرت صاحب کی چھڑی تھی۔ حضرت صاحب دعا کر کے باہر نکلے تو مولوی صاحب نے آپ کو چھڑی دی۔ حضرت صاحب نے چھڑی ہاتھ میں لیکر اسے دیکھا اور فرمایا کس کی چھڑی ہے؟ عرض کیا گیا کہ حضور ہی کی ہے جو حضور اپنے ہاتھ میں رکھا کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ اچھا میں تو سمجھا تھا کہ یہ میری نہیں ہے۔ خان صاحب کہتے ہیں کہ وہ چھڑی مدت سے آپ کے ہاتھ میں رہتی تھی۔" (سیرت المہدی حصہ اول ص ۲۴۵ مصنفہ مرزا بشیر

صفحہ 271

احمد قادیانی)

احمقوں کی کمی نہیں غالب
ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں

(ناقل)

ہنرمندی:۔ ”ایک دفعہ گھر میں ایک مرغی کے چوزہ کے ذبح کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ اور اس وقت گھر میں کوئی اور اس کام کو کرنے والا نہ تھا۔ اس لئے حضرت صاحب اس چوزہ کو ہاتھ میں لیکر خود ذبح کرنے لگے۔ مگر بجائے چوزہ کی گردن پر چھری پھیرنے کے غلطی سے اپنی انگلی کاٹ ڈالی جس سے بہت خون گیا۔“ (سیرت المہدی حصہ دوم ص ۴ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

واہ رے للو (ناقل)

خوش لباس:۔ ”شیخ رحمت اللہ صاحب یا دیگر احباب اچھے اچھے کپڑے کے کوٹ بنوا کر لایا کرتے تھے۔ حضور کبھی تیل سر مبارک میں لگاتے تو تیل والا ہاتھ سر مبارک اور داڑھی مبارک سے ہوتا ہوا بعض اوقات سینہ تک چلا جاتا۔ جس سے قیمتی کوٹ پر دھبے پڑ جاتے۔ (اخبار الحکم قادیان جلد ۳۸ نمبر ۶ مورخہ ۲ فروری ۱۹۳۵ء) قادیانیو! سچ سچ بتاؤ اگر تمہارا بچہ اس طرح سر کو تیل لگا کر اپنے کپڑے برباد کر لے تو کیا تم اسے لعن طعن نہیں کرو گے؟ اگر بچے کو لعن طعن کرو گے تو انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ مرزا پر بھی لعنت بھیج دو۔

فصاحت:۔ ”حضرت مسیح موعود کو زبان میں کسی قدر لکنت تھی اور آپ پرنالے کو پنالہ فرمایا کرتے تھے“ (سیرت المہدی حصہ دوم ص ۶۵ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی) کیا بات ہے۔ قادیانی نبوت کی فصاحت و بلاغت کی؟ (ناقل)

گھڑی اور وقت:۔ ”بیان کیا مجھ سے عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ کسی شخص نے حضرت صاحب کو ایک جیبی گھڑی تحفہ دی۔ حضرت صاحب اس کو رومال میں باندھ کر جیب میں رکھتے تھے۔ زنجیر نہیں لگاتے تھے اور جب وقت دیکھنا ہوتا تھا تو گھڑی نکال کر ایک کے ہندسے یعنی عدد سے گن کر پتہ لگاتے تھے اور انگلی رکھ رکھ کر ہندسہ گنتے تھے اور منہ سے بھی گنتے جاتے تھے۔“ (سیرت المہدی حصہ

صفحہ 272

اول ص ۶۲ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی) پانچویں جماعت کا بچہ گھڑی پر ایک نظر ڈالتے ہی وقت معلوم کر لیتا ہے لیکن انگریزی نبی کی علمیت اور ذہانت دیکھئے کہ پہلے چھوٹی سوئی کے لئے ہندسے گنتا ہے اور پھر بڑی سوئی کے لئے۔ پھر کہیں جا کر اسے وقت معلوم ہوتا ہے۔ (ناقل)

عقل کا نوحہ :۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جسمانی عادات میں ایسے سادہ تھے کہ بعض دفعہ جب حضور جراب پہنتے تھے تو بے توجہی کے عالم میں اس کی ایڑی پاؤں کے تلے کی طرف نہیں بلکہ اوپر کی طرف ہو جاتی تھی اور بارہا ایک کاج کا بٹن دوسرے کاج میں لگا ہوا ہوتا تھا اور بعض اوقات کوئی دوست حضور کے لئے گرگابی ہدیۃً لاتا تو آپ بسا اوقات دایاں پاؤں بائیں میں ڈال لیتے تھے اور بایاں دائیں میں ۔ چنانچہ اسی تکلیف کی وجہ سے آپ دیسی جوتی پہنتے تھے۔ اس طرح کھانا کھانے کا یہ حال تھا کہ خود فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں تو اس وقت پتہ لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں کہ جب کھاتے کھاتے کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت کے نیچے آ جاتا ہے۔ (سیرت المہدی حصہ دوم ص ۵۸ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

تم عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے

(ناقل)

حاضر دماغی :۔ ” بسا اوقات ایسا ہوتا تھا کہ سیر کو جاتے ہوئے آپ کسی خادم کا ذکر غائب کے صیغہ میں فرماتے تھے حالانکہ وہ آپ کے ساتھ ساتھ جا رہا ہوتا تھا اور پھر کسی کے بتلانے پر آپ کو پتہ چلتا تھا کہ وہ شخص آپ کے ساتھ ہے۔“ (سیرت المہدی حصہ دوم ص ۷۷ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

”بہت تیرے کی“ (ناقل)

گڑ اور ڈھیلے :۔ ” آپ کو (یعنی مرزا قادیانی) کو شیرینی سے بہت پیار ہے اور مرض بول بھی آپ کو عرصہ سے لگی ہوئی ہے۔ اس زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں ہی رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے

صفحہ 273

تھے۔" (مرزا قادیانی کے حالات زندگی مرتبہ معراج الدین عمر قادیانی تتمہ براہین احمدیہ جلد اول ص ۶۷)

یہ بات ضرب المثل کی طرح مشہور ہے کہ مرزا قادیانی گڑ سے استنجا کر لیتا تھا اور ڈھیلیاں منہ میں ڈال لیتا تھا۔ یہ عقل کا ماتم نہیں تو اور کیا ہے؟ (ناقل)

فیشن :۔ صدری گھر میں اکثر پہنے رہتے مگر کوٹ عموماً باہر جاتے وقت ہی پہنتے اور سردی کی زیادتی کے دنوں میں اوپر تلے دو دو کوٹ بھی پہنا کرتے۔ (سیرت المہدی حصہ دوم ص ۴۷ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

"در فٹے منہ" (ناقل)

پابندی وقت :۔ "گھڑی بھی آپ ضرور اپنے پاس رکھا کرتے مگر اسکے چابی دینے میں چونکہ اکثر ناغہ ہو جاتا۔ اس لئے اکثر وقت غلط ہی ہوتا تھا اور چونکہ گھڑی جیب میں سے اکثر نکل پڑتی اس لئے آپ اسے بھی رومال میں باندھ لیا کرتے۔" (سیرت المہدی حصہ دوم ص ۴۷ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

؎ جس پہلو سے بھی دیکھو بے مثال ہے (ناقل)

ننگا پاؤں :۔ "ایک مرتبہ مرزا صاحب اور سید محمد علی شاہ تلاش روز گار کے خیال سے قادیان سے چلے۔ کلا نور کے قریب ایک نالے سے گزرتے ہوئے مرزا صاحب کی جوتی کا ایک پاؤں نکل گیا۔ مگر اس وقت تک انہیں معلوم نہ ہوا جب تک وہاں سے بہت دور جا کر یاد نہیں کرایا گیا۔" (حیات النبی جلد اول ص ۵۸ مولفہ یعقوب علی قادیانی)

معلوم ہوتا ہے کہ افیم کی کچھ زیادہ ہی مقدار کھا لی ہو گئی (ناقل)

بٹن اور کاج :۔ "بارہا دیکھا گیا کہ بٹن اپنا کاج چھوڑ کر دوسرے ہی میں لگے ہوئے ہوتے تھے۔ بلکہ صدری کے بٹن کوٹ کے کاجوں میں لگائے ہوئے دیکھے گئے۔" (سیرت المہدی حصہ دوم ص ۱۴۶ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

پسند اپنی اپنی‘ نصیب اپنا اپنا (ناقل)

انوکھا انداز :۔ "بعض دفعہ دیکھا گیا کہ آپ صرف روکھی روٹی کا نوالہ منہ میں ڈال

صفحہ 274

لیا کرتے تھے اور پھر انگلی کا سرا شوربے میں تر کر کے زبان سے چھوا دیا کرتے تاکہ لقمہ نمکین ہو جاوے۔“ (سیرت المہدی حصہ دوم ص ۱۳۱ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی) تالیاں ................................... (ناقل)

کیا کھایا؟ :۔ ”بارہا آپ نے فرمایا کہ ہمیں تو کھانا کھا کر یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ کیا پکا تھا۔ اور ہم نے کیا کھایا۔“

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ۱۳۱ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

”رب دے تو مت کھسے“ (ناقل)

جرابیں :۔ ”چنانچہ پچھلی عمر میں بارہ مہینے گرم کپڑے پہنا کرتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب بالعموم گرمی میں بھی جراب پہنے رکھتے تھے۔“ (سیرت

المہدی حصہ دوم ص ۶۶ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

اور نہاتے تو سارا سال ہی نہیں ہوں گے اور کتنی بدبو آتی ہو گی۔ اف (ناقل)

چابیاں :۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاجاموں میں میں نے اکثر ریشمی ازار بند پڑا ہوا دیکھا ہے اور آزار بند میں کنجیوں کا گچھا بندھا ہوتا تھا۔ (سیرت المہدی حصہ دوم ص ۱۱۰ مصنفہ مرزا بشیر احمد

قادیانی)

قادیانی کتب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ مرزا قادیانی پہلے سوتی نالے استعمال کرتا تھا۔ لیکن جب ایک دن میں سو سو دفعہ پیشاب آنے لگا تو بعض اوقات سوتی نالے کی گرہ کھولتے کھولتے پیشاب کپڑوں میں نکل جاتا تھا۔ اس کی وجہ سے مرزا قادیانی نے پھر ریشمی آزار بند شروع کیا۔ تاکہ کھولنے میں آسانی رہے۔ پھر زیادہ سہولت کے لئے غرارہ استعمال کرنا شروع کیا۔ مرزا قادیانی جب چابیوں کا گچھا ازار بند کے ساتھ باندھ کر چلتا ہو گا تو چابیوں کے چھن چھن کے میوزک سے قادیانی مخلوق کو پتہ چل جاتا ہو گا کہ ہمارا گرو گھنٹال آ رہا ہے۔ ویسے اگر مرزا قادیانی جیسا مخبوط الحواس کہیں گم ہو جاتا ہو گا تو قادیانیوں کو ڈھونڈنے میں بڑی آسانی ہوتی ہو گی۔ (ناقل)

امامت :۔ ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی وجہ سے مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نماز نہ پڑھا سکے۔ حضرت خلیفۃ المسیح اول بھی

صفحہ 275

موجود نہ تھے تو حضرت صاحب نے حکیم فضل الدین صاحب مرحوم کو نماز پڑھانے کے لئے ارشاد فرمایا۔ انہوں نے عرض کی کہ حضور تو جانتے ہیں کہ مجھے بواسیر کا مرض ہے اور ہر وقت ریح خارج ہوتی رہتی ہے۔ میں نماز کس طرح سے پڑھاؤں۔ حضور نے فرمایا۔ حکیم صاحب آپ کی اپنی نماز باوجود اس تکلیف کے ہو جاتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے عرض کیا۔ ہاں حضور۔ فرمایا پھر ہماری بھی ہو جائے گی آپ پڑھائیے۔"

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ۱۱۱ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

سنا ہے آج کل مرزا طاہر بھی ایسا ہی امام ہے (ناقل)

گم صم :۔ "قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت احمد علیہ السلام جب مقدمہ گورداسپور کے ایام میں عدالت کے انتظار میں لب سڑک گورداسپور میں گھنٹوں تشریف فرما رہتے تو بسا اوقات لوگ خیال کرتے کہ آپ ان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ مگر آپ کسی اور خیال میں مستغرق ہوتے تھے اور بعض اوقات مجلس میں بیٹھے ہوئے بھی مجلس سے جدا ہوتے تھے" (سیرت المہدی حصہ سوم ص ۲۵۳ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

پلٹ تیرا دھیان کدھر ہے (ناقل)

بھاگ گیا :۔ "ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مسجد مبارک میں نماز ظہر یا عصر شروع ہو چکی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام درمیان میں سے نماز توڑ کر کھڑکی کے راستہ گھر میں تشریف لے گئے اور پھر وضو کر کے نماز میں آملے اور جو حصہ نماز کا رہ گیا تھا وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد پورا کیا۔ یہ معلوم نہیں کہ حضور بھول کر بے وضو آگئے تھے یا رفع حاجت کے لئے گئے تھے۔"

(سیرت المہدی حصہ سوم ص ۲۶۷ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

میرے خیال میں یا تو کپڑوں میں پیشاب نکل گیا ہو گا یا مرزا قادیانی نے سمجھا ہو گا کہ ڈاکیا کسی مرید کا منی آرڈر لے کر آیا ہے (ناقل)

تلاشی اور گدگدیاں :۔ "خاکسار عرض کرتا ہے کہ قاضی یار محمد صاحب بہت مخلص آدمی تھے مگر ان کے دماغ میں کچھ خلل تھا جس کی وجہ سے ایک زمانہ میں ان کا یہ طریق ہو گیا تھا کہ حضرت صاحب کے جسم کو ٹٹولنے لگ جاتے تھے اور تکلیف اور

صفحہ 276

پریشانی کا باعث ہوتے تھے۔" (سیرت المہدی حصہ سوم ص ۲۶۵ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

بلا تبصرہ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ (ناقل)

غرارہ :۔ ”آخری ایام میں حضور ہمیشہ ایسے پاجامے پہنا کرتے تھے جو نیچے سے تنگ اوپر سے کھلے گاؤ دم طرز کے اور شرعی کہلاتے ہیں لیکن شروع میں ۹۵ء ۱۹۰۰ء میں میں نے حضور کو بعض دفعہ غرارہ پہنے ہوئے دیکھا ہے۔" (ذکر حبیب ص ۳۹ از مفتی محمد صادق قادیانی)

کاش کوئی فوٹو گرافر غرارہ پہنے مرزا قادیانی کی تصویر لے لیتا اور ہم بھی قادیانی نبی کو اس کے من پسند لباس میں دیکھ لیتے۔ (ناقل)

تیل :۔ ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد میں آپ کی لڑکی عصمت ہی صرف ایسی تھی جو قادیان سے باہر پیدا ہوئی اور باہر ہی فوت ہوئی۔ اس کی پیدائش انبالہ چھاؤنی کی تھی اور فوت وہ لدھیانہ میں ہوئی۔ اسے ہیضہ ہوا تھا۔ اس لڑکی کو شربت پینے کی عادت پڑ گئی تھی یعنی وہ شربت کو پسند کرتی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کے لئے شربت کی بوتل ہمیشہ اپنے پاس رکھا کرتے تھے۔ رات کو وہ اٹھتی تو کہتی۔ ابا شربت پینا ہے۔ آپ فوراً اٹھکر شربت بنا کر اسے پلا دیا کرتے تھے۔ ایک روز لدھیانہ میں اس نے اسی طرح رات کو اٹھ کر شربت مانگا۔ حضرت صاحب نے اسے شربت کی جگہ چنبیلی کا تیل پلا دیا۔ جس کی بوتل اتفاقاً شربت کی بوتل کے پاس ہی پڑی ہوئی تھی۔" (سیرت المہدی حصہ سوم ص ۲۵۹ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

اس وقت سے لیکر آج تک مرزا قادیانی ہر قادیانی کے ساتھ یہی کام کرتا آ رہا ہے یعنی پیشاب کی بوتل پر آب زمزم کا لیبل لگا کر تمام قادیانیوں کو پلا رہا ہے۔ (ناقل)

قادیانیو! یہ میں نے تمہاری کتابوں میں چند حوالے دیئے ہیں جو اپنی زبان سے پکار پکار کر تمہیں مرزا قادیانی کی دماغی حالت سے آشنا کر رہے ہیں۔

اے گم کردہ راہ لوگو! جو شخص پاگل خانے کا حقدار تھا تم نے اسے تخت نبوت پہ بٹھا دیا۔ جو کسی دفتر میں چپڑاسی رکھے جانے کے قابل نہیں تھا تم نے اسے نبی بنا لیا۔

ارتداد کے تپتے ہوئے صحرا میں بھٹکنے والو! ذرا آنکھوں سے تعصب و ہٹ دھرمی کی

صفحہ 277

پٹی اتار دو۔ حق کی آواز نہ سننے کے لئے کانوں میں ٹھونسی ہوئی روئی نکال دو اور سروں کو ایک زور دار جھٹکا دے کر دماغوں پر لگے ہوئے کفر کے زنگ آلود تالے توڑ دو اور پھر سوچو کہ جو شخص سیدھی اور الٹی جوتی میں پہچان نہ کر سکتا ہو۔ جس کی قمیض کو آگ لگی ہو اور اسے پتہ ہی نہ چلے اور لوگ آ کر اس کی آگ بجھائیں۔ جو روٹی پر راکھ ڈال کر کھانے کے لئے بیٹھ جائے۔ جو نیچے والے کاج کا بٹن اوپر والے کاج میں اور اوپر والے کاج کا بٹن نیچے والے کاج میں لگا کر مٹرگشت کر رہا ہو۔ چلتے ہوئے جس کے پاؤں سے جوتا اتر جائے اور ایک لمبی مسافت طے کر جانے کے باوجود اسے پتہ ہی نہ چلے۔ جو اپنی بیمار بیٹی کو شربت اسہال کی جگہ چنبیلی کا تیل پلا دیتا ہو اور جو غرارہ پہن کر لوگوں کی محفل میں بیٹھتا ہو، جو گڑ کے ساتھ استنجا کرتا ہو اور ڈھیلیاں کھاتا ہو۔ جس کے کوٹ کی جیب میں کئی دن بھاری اینٹ پڑی رہی ہو اور اسے پتہ ہی نہ چلے وغیرہ ہم۔

قادیانیو! خدارا اب بتاؤ!

کیا مرزا فاتر العقل نہیں؟
کیا مرزا مخبوط الحواس نہیں؟
کیا مرزا کوڑھ دماغ نہیں؟

قادیانیو! نبوت عقل و دانش اور فہم و فراست کی معراج ہوتی ہے نبی اپنے وقت میں دنیا کا ذہین ترین انسان ہوتا ہے۔ اس کی ذات معصوم عن الخطا ہوتی ہے۔ زبان نبوت سے نکلنے والا ہر ہر لفظ کائنات میں علم و عرفان کی بارش برساتا ہے۔ نبی کائنات میں کسی انسان کا شاگرد نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف اللہ کا شاگرد ہوتا ہے۔ رب ذوالجلال خود اس کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتے ہیں۔ وہ ہستی جس کی تعلیم و تربیت رب کائنات خود کرے وہ کیوں نہ کائنات کے لئے مینارہ نور بنے اور تم نے اس جاہل مطلق‘ فاترالعقل اور مخبوط الحواس کو نبی مان لیا جو ایک شریف انسان بھی کہلانے کا مستحق نہیں اور اس کا دامن دنیا کی ہر ہر برائی سے داغدار ہے۔

قفس ارتداد کے اسیرو! عقیدہ ختم نبوت کو بازیچہ اطفال نہ سمجھو، یہی وہ عقیدہ ہے جس پر تمہاری آئندہ آنے والی لامتناہی زندگی کا انحصار ہے۔ مرزا قادیانی کو نبی ماننا جرم عظیم ہے۔ جس کی سزا سدا جہنم کا عذاب ہے۔

صفحہ 278

اے باغیان ختم نبوت! ہمارا کاروان زندگی بڑی تیزی سے اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ لیل و نہار کی گردش بڑی سرعت سے جاری ہے۔ ہر گزرتا ہوا لمحہ ہمیں موت کے قریب کرتا چلا جا رہا ہے۔ ہردم ہمارے اور قبر کے درمیان فاصلہ کم ہوتا جا رہا ہے اور ہر گزرتا ہوا لمحہ ہمیں صدا دے رہا ہے۔

غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹادی

زندگی کی ان تیزی سے گزرتی ہوئی گھڑیوں میں پتہ نہیں موت کی گھڑی کہاں چھپی بیٹھی ہے اور پتہ نہیں وہ گھڑی کب بجلی کی طرح کوندتی ہوئی آئے اور ہماری زندگی کا نشیمن جلا کر خاکستر کر دے۔ اس لئے کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر ختم نبوت پر ایمان لے آؤ۔

اللہ کے قرآن کو مانتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو مانتے ہوئے سورج سے بھی روشن ترین حقیقت اور سچائی کو مانتے ہوئے وحدت امت کو مضبوط و توانا کرنے کے لئے اپنے اہل و عیال اور اپنے آپ کو جہنم کی شعلہ زن آگ سے بچانے کے لئے!!!