ختم نبوت
محمد طاہر رزاق
قادیانیت
تحفظ ختم نبوت
محمد طاہر رزاق
شائع کردہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضوری باغ روڈ ملتان
باہتمام
پاسبان ختم نبوت 74072 ہلبران جرمنی
FAX+TEL: 07131/86346
آئینہ مضامین
- عقیدۂ ختم نبوت 27
- چہرہ قادیانیت 55
- اٹھو مسلمانو! قادیانی قرآن بدل رہے ہیں 65
- عاشقان مصطفیٰ ﷺ کہاں ہیں؟ 75
- عشق خاتم النبیین ﷺ 85
- شیزان کا بائیکاٹ 109
- مجرم اسلام (مرزا قادیانی) 121
- مسئلہ کشمیر اور فتنہ قادیانیت 165
- فتنہ قادیانیت کو پہچانئے 199
- قادیانیت انگریز کا خود کاشتہ پودا 233
- آستین کے سانپ 269
- قادیانی کلمہ طیبہ سے کیا مراد لیتے ہیں؟ 281
- ہم تحفظ ختم نبوت کا کام کیسے کریں؟ 299
انتساب
والد محترم اور والدہ محترمہ کے نام
سوئے منزل
کوئی چھ برس بیتے، میں ایک جمعہ کے دن نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے کشاں کشاں جامعہ رحمانیہ قلعہ گوجر سنگھ لاہور چلا گیا۔ خطیب اسلام مولانا محمد اجمل خان مدظلہ منبر پر جلوہ افروز تھے۔ مولانا کی خطابت کی جولانی اور سحر بیانی اپنے نقطہ عروج پر تھی۔ آواز میں گھن گرج، لہجہ میں رعب و دبدبہ، اشاروں میں شمشیر مومن کی کاٹ، الفاظ میں کہکشاں کا شکوہ، فقروں میں طغیانی بپا کئے دریا کی روانی اور مضمون میں علم و حکمت کی بہار کی گل فشانی تھی۔ حاضرین وجد و کیف کی کیفیت میں جھوم رہے تھے اور اپنے دامن قلب و نظر کو گلہائے رنگا رنگ سے بھر رہے تھے۔ اچانک مولانا کا روئے سخن ”فتنہ قادیانیت“ کی طرف پلٹا۔ انہوں نے قادیانیت کے تار و پود بکھیرنے شروع کئے۔ قادیانیت کے عقائد باطلہ کے بخیے ادھیڑے۔ مرزا قادیانی جہنم مکانی کی شخصیت بے حیثیت کا پوسٹ مارٹم کیا۔ پھر جب مولانا نے اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں مرزا قادیانی کی گستاخیوں کے چند حوالے پیش کئے تو پورا مجمع تھرا اٹھا۔ ہر کوئی غم و غصہ کا مجسمہ بنا بیٹھا تھا اور ہر زبان قادیانیت اور مرزا قادیانی پر بے شمار لعنتوں کے ڈونگرے برسا رہی تھی۔ میں بھی اس سوگوار ماحول میں تصویرِ غم بنے بیٹھا تھا۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے کسی نے میرے دل میں کانٹا چبھو دیا ہو اور شدت تکلیف سے میرے جسم کا ہر ہر رگ و ریشہ چیخ اٹھا ہو۔ دل کا غم آنکھوں کے راستے باہر آیا۔ محبت رسولؐ میں میری گناہ گار آنکھوں سے آنسوؤں کے چند قطرے ٹپکے اور میرے دامن پر پھیل گئے۔ قادیانیت کے خلاف زندگی میں یہ میرا پہلا احتجاج تھا۔ میں نے قمیض کے ایک کونے سے اپنی بھیگی آنکھوں کو خشک کیا اور صحن مسجد میں بیٹھ کر دل کا کشکول اللہ کے سامنے پھیلا کر اس فتنہ
کی سرکوبی کی دعا مانگی اور مسجد سے یہ عہد کر کے اٹھا کہ اے رب محمد ! زندگی میں مجھ کمزور و ناتواں سے جہاں تک بن پڑا‘ میں دامے درمے قدمے سخنے تیرے لاڈلے اور چہیتے رسول خاتم النبیین محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی حفاظت اور جھوٹی نبوت کی ذلت و رسوائی و بربادی کا سامان کرتا رہوں گا۔
غم کی چنگاریاں میرے سینے میں سلگتی رہیں۔ ایک دن دوستوں کی محفل جمی تھی۔ میں نے سنہری موقعہ سمجھتے ہوئے قادیانیت کا موضوع چھیڑ دیا اور جو کچھ مولانا سے سنا تھا‘ دوستوں کو سنا دیا۔ جدید تعلیم یافتہ طبقہ حیران و ششدر رہ گیا۔ سب کے چہروں پر غم و تشویش کی سلوٹیں اور آنکھوں میں غیرت کی چمک تھی۔ میں نے تاج و تخت ختم نبوت کی حفاظت‘ عظمت و عصمت رسولؐ کی پاسبانی اور اس فتنہ کی سرکوبی کی عملی منصوبہ بندی کرنے کی دعوت دی۔ قادیانیت سے برسرپیکار ہونے کے لئے ہر کوئی دوسرے سے بڑھ کر تیار تھا۔ ہمارے پاس جذبہ تو تھا لیکن تجربہ نہیں تھا۔ افراد تو تھے لیکن تربیت کے لئے کسی مربی کی ضرورت تھی۔ احباب تو تعلیم یافتہ تھے لیکن رد قادیانیت پر مطالعہ کے لئے لٹریچر نہ تھا۔ رحیم و کریم رب نے دستگیری فرمائی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے رابطہ ہو گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے ہماری راہنمائی فرمائی اور ہر ممکن تعاون سے نوازا۔ مناظر اسلام شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا نے لٹریچر اور لیکچرز کے ذریعے احباب کی تربیت فرمائی اور نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد کو قادیانیت کے خلاف صف آراء کیا۔ خطیب ختم نبوت ایڈیٹر ہفت روزہ ”لولاک“ صاحب زادہ طارق محمود نے سگے بڑے بھائیوں سے بڑھ کر پیار دیا اور ہر مشکل وقت میں ہماری سرپرستی و حوصلہ افزائی فرما کر اپنے عظیم والد مجاہد ختم نبوت مولانا تاج محمودؒ کی عظیم روایات کو زندہ و تابندہ رکھا۔ ہر دم گرم برادر مکرم محمد متین خالد نے اپنی زندگی کی لغت سے آرام و سکون کے الفاظ نکال کر نذر آتش کر دیئے اور حیات مستعار کی صبحیں اور شامیں تحفظ ختم نبوت کے لئے وقف کر دیں۔ انہوں نے جدید دور میں سائنٹیفک انداز سے تحفظ ختم نبوت کا جو کام کیا ہے‘ وہ تحریک تحفظ ختم نبوت کا ایک درخشاں باب ہے۔ اگر میں یہ کہوں تو عین انصاف ہوتا کہ اس کتاب میں نام میرا ہے اور
کام محمد متین خالد کا۔ مجاہد ختم نبوت سید علمدار حسین شاہ نے سٹیٹ بنک آف پاکستان لاہور میں قادیانیوں کی کھانے کی میزیں اور برتن مسلمانوں سے الگ کروا کر سرکاری اداروں میں جھوٹی نبوت کی ذلت و رسوائی کی ایک نئی تحریک شروع کی۔ پروانہ ختم نبوت عبد الخالق علوی نے اخلاص کی قوت اور دعاؤں کے سوز سے تحریک کو ایک نئی جلا بخشی۔
میں وطن عزیز کے مشہور خطاط جناب عنایت اللہ رشیدی صاحب (اردو ڈائجسٹ) کا تہ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے بڑی محبت و چاہت سے تمام کتابچوں کے ٹائٹل تیار کئے۔
آقائے نامدار جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کافی دوست احباب اکٹھے ہو چکے تھے۔ لہٰذا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بنک دولت پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جب عملی میدان میں نکلے تو معلوم ہوا کہ فتنہ قادیانیت کے زندہ رہنے کی ایک بہت بڑی وجہ‘ مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد کا قادیانیوں کے روح فرسا اور اعصاب شکن عقائد سے نا آشنائی ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ بانی فتنہ قادیانیت مرزا قادیانی نے ان کے پیارے نبیؐ اور پیارے دین اسلام کے بارے میں کیا کیا ہرزہ سرائی کی ہے؟ وہ اس حقیقت سے بھی ناواقف ہیں کہ قادیانیوں نے وطن عزیز پاکستان اور ملت اسلامیہ کو کتنے گہرے اور زہریلے زخم لگائے ہیں اور پاکستان کو تباہ کرنے کی کتنی گھناؤنی سازشیں کی ہیں اور کر رہے ہیں۔ لہٰذا ایک اہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قادیانیوں کے خلاف مسلمانوں میں بیداری کی لہر پیدا کرنے کے لئے تحفظ ختم نبوت اور رد قادیانیت کے مختلف موضوعات پر کتابچے تحریر کئے جائیں اور انہیں عوام الناس کے ہر شعبہ سے لے کر حکومت کے ایوانوں تک پہنچایا جائے۔ اس کام کی ذمہ داری بندہ پر تقصیر راقم الحروف کے نحیف کندھوں پر ڈالی گئی۔ مجھے اپنی کم علمی کا بھی اعتراف تھا۔ قلم پکڑنے کا بھی کوئی خاص ڈھنگ نہ تھا۔ لیکن فرنگی نبوت کے جگر میں قلم کے نشتر لگانے کی ڈیوٹی لگ چکی تھی۔ میں نے پھر اسی در پر ہاتھ پھیلا دیئے‘ جہاں سے سب کو سب کچھ ملا کرتا ہے‘ توفیق ایزدی سے لکھنا شروع کیا اور مختلف موضوعات پر کتابچے تحریر کئے جو آپ کے سامنے ہیں۔ اللہ کے فضل و کرم سے ان رسائل کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی‘ بیسیوں تنظیموں
نے انہیں شائع کر کے تقسیم کیا۔ ان میں سے کئی رسائل کا انگریزی اور سندھی میں ترجمہ بھی ہوا۔ بڑی مدت سے دوستوں کی خواہش تھی کہ اب ان رسائل کو کتابی صورت میں شائع کیا جائے۔ میں برادرم مکرم جناب محمد صدیق شاہ صاحب کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ممنون ہوں کہ انہوں نے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کیا اور شب و روز محنت کر کے کتاب کے مسودہ کی پروف ریڈنگ کی اور کئی مفید مشوروں سے نوازا۔ مکتبہ جدید کے مالک جناب حسن صاحب کا بھی میں انتہائی شکر گزار ہوں جنہوں نے انتہائی توجہ سے اس کتاب کی کتابت اور طباعت کا فریضہ سرانجام دیا۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ عرصہ دراز سے روزنامہ "جنگ" کراچی اور ہفت روزہ "ختم نبوت" کراچی میں قارئین کے دینی سوالوں کے جوابات دیتے ہیں۔ اخبار اور رسالہ "ختم نبوت" میں عقیدہ ختم نبوت اور قادیانیت پر ہزاروں قارئین کے پوچھے گئے سوالات اور مولانا کے دیئے گئے جوابات موجود ہیں جن سے لاکھوں انسان قادیانیت کے دجل و فریب اور عقائد و عزائم سے آشنا ہوئے ہیں، میں نے ان سوالات میں سے چند اہم سوالات کا انتخاب کر کے "فتنہ قادیانیت کو پہچانیے" کے نام سے شائع کیا۔ جسے بہت سراہا گیا۔ اب اس اہم کتابچہ کو بھی عوام کے فائدہ کے لئے کتاب میں شامل کیا جا رہا ہے۔
اے میرے خالق! میں نے یہ کتاب فقط تیری رضا اور تیرے پیارے نبیؐ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے لکھی ہے۔ میں اس سے کوئی نمود و نمائش اور شہرت نہیں چاہتا۔
اے میرے مالک! پیارے رسولؐ کے دفاع میں لکھے گئے میرے ان ٹوٹے پھوٹے فقروں کو اپنی بارگاہ عالی میں قبول و منظور فرما۔ اسے میرے لئے توشہ آخرت بنانا۔ اسے میری قبر کا چراغ بنانا۔ اسے میرے لئے حشر کے وحشت ناک میدان میں شفاعت محمدیؐ کا ذریعہ بنانا۔
اے دعاؤں کو قبول کرنے والے کریم! میں تحفظ ختم نبوت کے لئے قلم کا ادنیٰ سا مزدور ہوں۔ میں تجھے تیرے محمدؐ کا واسطہ دے کر تیرے حضور جھولی پھیلا کر دعا کرتا ہوں
کہ زندگی کے آخری سانس تک مجھ سے یہ مزدوری لیتے رہنا۔
(آمین ثم آمین)
خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر رزاق، لاہور بی۔ایس سی، ایم۔اے (تاریخ) ۲۰ ربیع الاول ۱۴۱۲ھ بمطابق ۳۰ ستمبر ۱۹۹۱ء
امیر مرکزیہ شیخ المشائخ حضرت خواجہ خان محمد مدظلہ کا پیغام
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مجھے یہ معلوم کر کے قلبی فرحت ہوئی کہ عزیزم مکرم جناب طاہر رزاق صاحب کے رسائل کو ایک مجموعہ کی شکل میں شائع کر کے محفوظ کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر میں اپنے ان رفقاء کو اس کاوش پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت ان رفقاء کو دنیا و آخرت میں اس کی بہتر جزا نصیب فرمائے۔ اس مجموعہ کو مخلوق خدا میں قبولیت عامہ و تامہ نصیب ہو۔ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ دنیا میں اللہ رب العزت کی رحمتوں اور آخرت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا بہترین وسیلہ ہے۔ حق تعالیٰ شانہ ہم سب کو اس کی توفیق مرحمت فرمائیں۔
والسلام دعا گو فقیر ابو الخلیل خان محمد عفی عنہ خانقاہ سراجیہ کندیاں۔ میانوالی ۞
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
سرور کائنات فخر موجودات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے 'انا خاتم النبیین لا نبی بعدی (میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان رکھنا مسلمانوں کا اجماعی اور بنیادی عقیدہ ہے۔ اس عقیدہ سے سرمو انحراف کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہوتا ہے اور اس عقیدے کے بغیر نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ حتیٰ کہ کوئی بھی عبادت قابل قبول نہیں۔ بقول مولانا ظفر علی خاں مرحوم
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
جب مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی علیہ ما علیہ نے آنحضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر دن دہاڑے ڈاکہ ڈالا اور اپنی جعلی نبوت کا اعلان کیا۔ تو اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے اللہ رب العزت نے مختلف ادوار میں متعدد حضرات مثلاً محدث کبیر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، حضرت مولانا پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ، مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ، حضرت مولانا مفتی محمود صاحبؒ، اور حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے زبردست تقریری اور تحریری تعاقب کیا اور اس کے کفریہ عقیدہ کو قرآن و سنت کی روشنی میں بے نقاب کیا۔
میرے مخلص عزیز طاہر رزاق سلمہ تعالیٰ کو خداوند قدوس نے یہ سعادت بخشی کہ انہوں نے اپنے اسلاف کرامؒ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مرزا آنجہانی کے کفریات پر متعدد رسائل تصنیف کئے اور اس مکروہ فتنہ کے چہرہ سے پردہ ہٹایا۔ مرزائیت کے عزائم سے عوام کو آگاہ کیا۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اس نوجوان مجاہد کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت بخشے اور اس کو اس کا ذخیرہ آخرت بنائے۔ اور اللہ پاک اس مولف کو مزید اس موضوع پر کام کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے اور ہم سب کا اس عقیدہ ختم نبوت پر خاتمہ فرمائے۔ (آمین ثم آمین)
احقر الانام محمد اجمل خان قائم مقام امیر جمعیت علمائے اسلام پاکستان
کلمتہ العزیز
الحمدللہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ ۔ اما بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک حدیث شریف میں قانون قدرت کی یوں ترجمانی فرمائی ہے۔ ارشاد ہے۔ لکل فرعون موسیٰ۔ ہر فرعون کی رعونت کو خاک میں ملانے کے لئے اللہ رب العزت ایک موسیٰ کو پیدا کرتے ہیں، مرزا غلام قادیانی اپنے زمانہ کا بدبخت فرعون صفت شیطان تھا۔ اس کی تردید اور اس کی رعونت کو پیوند خاک کرنے کے لئے اللہ رب العزت نے جلیل القدر رجال امت محمدیہؐ کو عطا فرمائے۔
انہیں رجال کار اور مجاہدین محافظین ناموس مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک ہمارے دوست اور بھائی جناب مکرم و محترم طاہر رزاق صاحب ہیں جنہیں قدرت حق نے بے پناہ خوبیوں سے نوازا ہے۔ ان کے پہلو میں قدرت نے عشق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تڑپنے والا دل رکھا ہے۔ موصوف عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے حدی خواں ہیں۔ بیک وقت آپ کو زبان و بیان تحریر و تقریر کا ملکہ حاصل ہے۔ تقریر میں بلا کی جولانی اور تحریر میں غضب کی روانی اور کاٹ ہے۔ ان کی تقریر کا ہر بول قادیانیت پر بجلی گراتا ہے اور تحریر کا ہر لفظ قادیانیت کی رگ جاں کے لئے دو دھاری تلوار کا کام کرتا ہے آپ جب سے ختم نبوت کے کاز کے لئے سرگرم عمل ہوئے ہیں۔ اس دن سے ان کی صلاحیتوں سے اللہ رب العزت نے رفقاء کو بے پناہ نفع نصیب فرمایا ہے۔ آپ نے مختلف اوقات میں مختلف عنوانات پر مختصر مگر جامع کتابچے تحریر فرمائے جو معلومات کا خزانہ اور ادب کا شاہکار ہیں۔
- ۱۔ عاشقان مصطفیٰؐ کہاں ہیں؟: عشاق نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے فکر
انگیز پیغام ہے، جلال و جمال کا حسین امتزاج ہے۔
- ۲۔ چہرہ قادیانیت : رسالہ میں قادیانیت کے مکروہ اور پرفریب چہرہ سے تمام
نقاب نوچ کر اس کے صحیح خدوخال کو ظاہر کیا گیا ہے۔
- ۳- قرآن مجید میں رد و بدل : رسالہ میں قادیانیوں کی طرف سے قرآن مجید
میں کی گئی تحریف لفظی و معنوی کے چند نمونے ذکر کئے گئے ہیں اور مسلمانوں کو قادیانی فتنہ کی شیطانیت سے باخبر کیا گیا ہے۔
- ۴- آستین کے سانپ رسالہ میں مرزا قادیانی‘ نور الدین‘ بشیر الدین‘ مرزا ناصر
اور مرزا طاہر قادیانی خناسوں کی زہرناکیوں اور ارتدادی ڈنگوں سے بچنے کا تریاق مہیا کیا گیا ہے۔
- ۵- عشق خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم : اس رسالہ میں ختم نبوت کے محاذ
پر کام کرنے والوں کو قدرت نے جن انعامات سے نوازا۔ ان کو جن بشارتوں سے سرفراز کیا گیا اس کی ایمان پرور کہانی مختصر مگر جامع انداز میں مرتب کی گئی ہے۔
- ۶- مجرم اسلام : قادیان کی ناپاک خاک کے گندے خمیر سے اٹھنے والے
خطرناک مجرم اور ڈاکو‘ مکار و عیار دھوکے باز و فراڈیئے مرزا قادیانی کی زندگی کو سمجھنے کے لئے انتہائی مفید رسالہ ہے۔
- ۷- شیزان کا بائیکاٹ : ہر قادیانی اپنی آمدنی کا دس فیصد قادیانیت کے ارتداد کو
پروان چڑھانے کے لئے اپنی جماعت کو دینے کا پابند ہے۔ شیزان ایک قادیانی فیکٹری ہے۔ قادیانی ارتداد کے رگ و ریشہ میں اس کا پیسہ خون حرام کی طرح گردش کرتا ہے۔ مسلمان قادیانی اشیاء کو خرید کر بالواسطہ قادیانی ارتدادی مہم میں شرکت کا جرم کرتا ہے۔ اس کیس کو سمجھانے کی کامیاب کاوش پر مشتمل یہ رسالہ ہے۔
- ۸- ہم تحفظ ختم نبوت کا کام کیسے کریں؟ کتابچہ میں مختلف شعبہ ہائے حیات
سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو ختم نبوت کا پیغام کیسے پہنچانا چاہئے۔ اس کی عمدہ و خوبصورت تجاویز و تراکیب پر مشتمل ہے۔ مزید برآں قادیانی اپنی خانہ ساز مذموم نبوت کو چلانے کے لئے کیا کیا ہتھکنڈے و حربے استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کیا توڑ ہے؟ سب کچھ بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔
- ۹- قادیانیت انگریز کا خود کاشتہ پودا : دم بریدہ سگان برطانیہ کی شناختی پریڈ۔
- ١٠۔ عقیدہ ختم نبوت : اس میں بنیادی و اساسی عقیدہ کی اہمیت و عظمت کو بیان
کیا گیا ہے۔
- ١١۔ کلمہ طیبہ سے قادیانی کیا مراد لیتے ہیں : عنوان سے مضمون واضح ہے
- ١٢۔ فتنہ قادیانیت اور مسئلہ کشمیر : قادیانیوں نے کشمیر اور کشمیری مسلمانوں پر
مصائب کے جو پہاڑ توڑے ہیں‘ ان کی ایک مکمل دستاویز
- ١٣۔ فتنہ قادیانیت کو پہچانئے (سوالاً جواباً) : قادیانیت کے بارے میں مختلف
پہلوؤں سے لوگوں کے پوچھے گئے سوالات اور مناظر اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ کے جوابات سے ایک حسین انتخاب!
یہ رسائل قدرت کی طرف سے مسلمانوں کے ایمانوں کو جلا بخشنے کا باعث ثابت ہوئے۔ قادیانیت چلا اٹھی۔ مرزا طاہر لندن میں تلملا اٹھا۔ ایک مجاہد اسلام کے کامیاب وار قادیانیوں کے سینوں سے پار ہو گئے۔ قادیانی زخمی سانپ کی طرح بل کھانے لگے ان کا گرو مرزا طاہر لندن میں اپنے خطبوں میں غرانے لگا۔
ان رسائل کی قبولیت کا یہ عالم ہے کہ بارہا مختلف جماعتوں نے ان کو شائع کیا اور کچھ کے مختلف زبانوں میں تراجم ہوئے۔ بعض تو بلا مبالغہ لاکھوں کی تعداد میں چھپ کر تقسیم ہوئے۔
ضرورت تھی کہ ان تمام رسائل کو ایک جلد میں یکجا کر دیا جائے۔ اس لئے کہ چھوٹے رسائل کو لائبریریوں میں سنبھالنا مشکل ہوتا ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے رفقاء نے اسے کتابی شکل میں شائع کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ اس موقع پر بندہ عاجز ان کے لئے دعا گو ہے کہ اللہ رب العزت اس کتاب کو شرف قبولیت سے نوازیں۔ مصنف اور ان کے دیگر رفقاء کو بیش از بیش عقیدہ ختم نبوت کی خدمت کی توفیق مرحمت فرمائیں!
(مولانا) عزیز الرحمان جالندھری ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان پاکستان
مسلمان اور قادیانی
الگ الگ مذہب ــــــــــ الگ الگ امتیں
جناب طاہر رزاق ایک ایسے نوجوان ہیں کہ جن پر رشک کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو قادیانی فتنے کی سرکوبی کے لئے وقف کر دیا ہے۔ قادیانیت کا مطالعہ انہوں نے خوب کیا ہے اور اس کا چہرہ اچھی طرح دیکھ لیا ہے۔ اب اپنے ہم وطنوں کو یہ چہرہ دکھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کے ہاں جذبات کی تندی ہے، الفاظ کی تیزی ہے‘ لیکن وہ مفروضوں کے تانے بانے نہیں بنتے۔ حقائق سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے جو کچھ لکھا ہے۔ اس کی بنیاد کسی مبالغے یا پروپیگنڈے پر نہیں۔ ایک ایک بات تول تول کر لکھی ہے۔ ایک ایک الزام سوچ سمجھ کر لگایا ہے ــــــ اور مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے حامیوں کی مستند کتابوں کے حوالے ڈھونڈ ڈھونڈ کر لائے ہیں۔
مجھے ان کے لہجے سے اور ان کے طرز اظہار سے کئی مقامات پر اختلاف پیدا ہوا ہے۔ لیکن یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ان کے اندر عشق نبیؐ کا دریا ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ ختم نبوت کا انکار کر کے قادیانیت نے امت مسلمہ میں جو تفرقہ ڈالا اور مسلمہ عقائد کو جس طرح متنازعہ بنانے کی کوشش کی‘ اس کے نتائج سے طاہر رزاق اچھی طرح آگاہ ہیں۔ انہوں نے ہزاروں نہیں لاکھوں الفاظ لکھے ہیں۔ ہزاروں صفحات ان کے قلم نے جگمگائے ہیں لیکن انہوں نے انہیں کسی دنیاوی فائدے یا کاروبار کا ذریعہ نہیں بننے دیا۔ اسے زیادہ سے زیادہ پھیلایا ہے اور اس کا اذن عام بھی دیا ہے کہ جو صاحب چاہیں‘ دوسروں کو پہنچانے کے لئے خود طبع کرا ڈالیں۔
جناب طاہر رزاق نے قادیانیت کے حوالے سے بڑے اہم موضوعات کو چھیڑا ہے۔ اور سادہ لوح مسلمانوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے لئے قادیانیوں کی طرف سے جو تاویلات کی جاتی ہیں، ان کو بے نقاب کر دیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ان کے مقالات کتابی صورت میں چھپ کر امت مسلمہ کے ایمانی جذبوں کو ولولہ تازہ عطا کریں گے۔ قادیانی حضرات کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ جو کچھ ہیں، اس کو مان بھی لیں۔ انہیں اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ ایک (نام نہاد) نبی کی امت ہیں۔ ایک طرح سے یوں کہا جاتا ہے کہ قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان وہی فرق ہے جو مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ہے۔ مسلمان محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا اور پیرو کار ہیں۔ عیسائی ان پر ایمان نہیں لاتے۔ اس بات نے انکے اور مسلمانوں کے درمیان دیوارِ چین سے بھی بڑی دیوار قائم کر دی ہے۔۔۔ قادیانی صاحبان جس شخص کو نبی قرار دیتے ہیں۔ مسلمان اس کو سراپا جھوٹ سمجھتے اور اس سے اظہار نفرت کو، اپنے ایمان کا حصہ جانتے ہیں۔ اگر قادیانیوں کا دعویٰ ایمان تسلیم کر لیا جائے تو پھر مسلمان کافر قرار پاتے ہیں۔ بات کو جس طرح بھی کہا جائے حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان ہمالہ سے بھی بڑا پہاڑ حائل ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں۔ قادیانیوں کی طرف سے اگر اسلام کا نقاب اوڑھنے کی کوشش نہ کی جائے۔ وہ اپنے علیحدہ امت ہونے کو برملا تسلیم کر لیں تو ان کے خلاف مسلمانوں کے غم و غصے کا رخ بدل سکتا ہے۔ وہ ان کے جھوٹ کی قلعی علمی انداز میں کھولنے پر سارا زور صرف کر سکتے ہیں۔ لیکن جب یہ نقاب پوش ڈاکو امت مسلمہ پر ڈاکہ ڈالتے ہیں اور اصلی کو نقلی قرار دے کر نقلی کو اصلی قرار دینے لگتے ہیں۔ اندھیرے کو اجالا اور اجالے کو اندھیرا کہنے پر اصرار کرتے ہیں۔ تو جذبات مشتعل ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ وہ سلوک کرنے کے لئے قدم بڑھ جاتے ہیں جو ڈاکوؤں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
طاہر رزاق صاحب کی مساعی کو اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ اگر وہ بعض مقالے اور کتابچے صرف قادیانیوں کے لئے لکھیں تو اس سے مفید نتائج کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔ ان کی زیر نظر تحریریں مسلمانوں کو تو قادیانیت کے خلاف دلائل سے مسلح کرتی ہیں۔ اس لحاظ سے ان کی افادیت مسلم ہے لیکن قادیانی حضرات کو مخاطب کرنے کے لئے ایک
دوسرے لہجے کی ضرورت ہے اور یہ لہجہ بھی وقت کی ضرورت ہے!!!
مجیب الرحمان شامی مدیر ہفت روزہ ”زندگی“ و ماہنامہ ”قومی ڈائجسٹ“ لاہور
دیباچہ ثانی
جب جرمن میں بہار آئی
جرمن قادیانیوں کے لئے شداد کی جنت بن چکا تھا۔ قادیانیوں کو باپ کی آغوش اور ماں کی لوریوں میں وہ مزا نہ ملا تھا جو مزے وہ جرمن میں لوٹ رہے تھے۔۔۔ قادیانی اپنی ابلیسی سیاست استعمال کرتے ہوئے دھڑا دھڑ جرمن میں سیاسی پناہ حاصل کر رہے تھے۔۔۔ پاکستان میں اپنے پر ہونے والے من گھڑت مظالم مگرمچھ کے آنسو بہا بہا کر بیان کر رہے تھے۔۔۔ گھر جلانے کی فرضی داستانیں سنائی جا رہی تھیں۔۔۔ جائیدادیں لوٹ لینے کے جھوٹ کے طومار باندھے جا رہے تھے۔۔۔۔ قادیانیوں کے قتل کی خود ساختہ کہانیاں سنا کر کذب بیانی کے ریکارڈ قائم ہو رہے تھے۔۔۔ پاکستان کے بے روزگار مسلمان نوجوانوں کو قادیانی بنا کر جرمن بھیجا جا رہا تھا اور جرمن میں مقیم مسلمانوں کو مختلف ترغیبات دے کر انہیں مرتد کیا جا رہا تھا۔ یوں قادیانی جرمن میں مسلمانوں کے ایمان اور جرمن کی دولت‘ دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے تھے۔ ہمیں جب جرمن سے قادیانیوں کی یہ روح فرسا خبریں پہنچتیں تو دل مسوس کے رہ جاتا‘ طبیعت پر بجلی سی گرتی اور دماغ کے افق پر غم و اندوہ کے سیاہ بادل چھا جاتے۔ ان حالات میں قلب حزیں سے یہ دعا نکلتی‘ اے مولا! سرزمین جرمن میں اپنے پیارے نبی ﷺ کی ختم نبوت کے محافظ پیدا فرما۔۔۔۔ ناموس رسالتؐ کے پاسبان عطا کر۔۔۔ ہماری دعا کی یہ کشتی جلد ہی اپنے ساحل مراد پر جا پہنچی۔۔۔ کہ ایک دن اچانک جرمن سے ایک مسلمان نوجوان جناب ظفر اقبال صاحب کا خط ہمارے پاس پہنچا۔ جس میں انہوں نے جرمن کے کربناک اور روح فرسا حالات اپنے ایمانی قلم کو خون جگر اور آنسوؤں میں ڈبو ڈبو کر لکھے تھے۔ خط کے آخر میں انہوں نے ہم سے تحفظ ختم نبوت اور رد قادیانیت کے موضوعات پر فوری طور پر لٹریچر مانگا تھا۔۔۔
ہم نے مجاہد ختم نبوت جناب ظفر اقبال صاحب کے حکم کی فوراً تعمیل کرتے ہوئے انہیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا لٹریچر روانہ کر دیا۔ جرمن میں جب یہ لٹریچر مسلمانوں میں پھیلایا گیا
تو اللہ تعالیٰ، اسلام، پیغمبر اسلام جناب محمد عربی ﷺ، قرآن پاک، احادیث رسول ﷺ امہات المومنینؓ، صحابہ کرامؓ، اہل بیت عظام اور اولیائے امت اور ملت اسلامیہ کی شان میں مرزا قادیانی اور اس کی جماعت کی طرف سے کی گئی گستاخیوں اور ہرزا سرائیوں کو پڑھ کر مسلمان کانپ اٹھے۔
پھر کیا تھا۔۔۔ سوئے ہوئے شیر جاگ گئے۔۔۔ خوابیدہ شاہین بیدار ہوئے۔۔۔ اور پھر جرمن کے غیور مسلمانوں نے قادیانیوں کو مخاطب کر کے اعلان کر دیا ’او قادیانیو! سن لو‘ ابھی ہماری غیرت نے کفن نہیں پہنا۔۔۔ ابھی ہماری حمیت لاش نہیں بنی۔۔۔ ابھی ہمارا عشق رسولؐ پیوند زمین نہیں ہوا۔۔۔ آج کے اس مادہ پرستی کے دور میں۔۔۔ آج کے اس نفسانفسی کے عالم میں بھی جب بھی نام محمدؐ پر آواز دی جاتی ہے۔۔۔ تو شمع ختم نبوت کے پروانے امڈ امڈ کر آتے ہیں اور اپنے خون ناب سے عشق رسولؐ کے لازوال باب رقم کر جاتے ہیں۔
پھر کیا تھا۔۔۔ جرمن میں ایمان کی بہار آگئی۔۔۔ کوئی مجاہد نسیم سحر بن کے آیا اور قادیانیت کے پھیلائے ہوئے حبس کو توڑ کر رکھ دیا۔۔۔ کوئی مجاہد باد صبا بن کر آیا اور قادیانی گھٹن زدہ ماحول میں اک نیا پیغام زندگی دے گیا۔۔۔ کوئی مجاہد خوشبو کا بادل بن کے آیا اور جھوٹی نبوت کے تعفن پر چھا گیا۔۔۔ کوئی مجاہد نار قادیانیت پر موسلا دھار بارش بن کے برسا۔۔۔ کوئی مجاہد قادیانیت کے خرمن پہ صاعقہ بن کے کڑکا۔۔۔ کوئی مجاہد بلبل بن کے آیا اور ختم نبوت کے گیت بکھیرے۔۔۔ کوئی مجاہد کوئل بن کے آیا اور عشق رسول ﷺ کے نغمے الاپے۔۔۔ کوئی مجاہد قادیانیت کے قفس پر شاہین بن کے جھپٹا اور قفس قادیانیت کی تیلیاں توڑ کر قادیانی اسیروں کو اپنے ہمراہ لے گیا اور ان کا ایمان مرزا قادیانی کے آتشیں پنجوں سے چھڑا کر انہیں دامن مصطفیٰ ﷺ سے وابستہ کر دیا۔۔۔
اے اسلام کے سربکف سپاہیو! تم ملت اسلامیہ کی آن ہو۔۔۔ پوری ملت تم پر فاخر ہے۔۔۔ تمہارے جذبوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔۔۔ تمہارے ولولوں کو ہدیہ تبریک پیش کرتی ہے۔۔۔ تمہاری جراتوں کو سلام پیش کرتی ہے اور تمہارے عشق رسول ﷺ پر تحسین و آفرین کے رنگین پھول نچھاور کرتی ہے۔۔۔!!!
ختم نبوت کے محافظو! تحفظ ختم نبوت صدیق اکبرؓ کی پکار ہے۔ تحفظ ختم نبوت خالدؓ بن ولید کی للکار ہے۔۔۔ تحفظ ختم نبوت جنگ یمامہ کے شہداء کے خون سے ضوفشاں کیا گیا چراغ
ہے۔۔۔ ختم نبوت اللہ کا قانون ہے۔۔۔ ختم نبوت رسول اللہ ﷺ کی آبرو ہے۔۔۔ ختم نبوت اسلام کی اساس ہے۔۔۔ ختم نبوت قرآن کی روح ہے۔۔۔ ختم نبوت وحدت امت کی سنہری زنجیر ہے۔۔۔
مجاہدو! اس پکار کو تھمنے نہ دینا۔۔۔ اس للکار کی گرج کو کم نہ ہونے دینا۔۔۔ اس چراغ کی لو کو مدہم نہ ہونے دینا۔۔۔ اس اللہ کے قانون کی حفاظت کرنا۔۔۔ اس آبرو پر کوئی میلی نگاہ پڑنے نہ پائے۔۔۔ اس اساس تک کسی نقب زن کو پہنچنے نہ دینا۔۔۔ اس روح تک کسی بدروح کا ہاتھ پہنچنے نہ دینا۔۔۔ اور اس سنہری زنجیر کی ہر ہر کڑی کی حفاظت کرنا۔
یہ نکتہ ہے مسلماں کی حیات جاودانی کا
غازیو! میں نے ایک اللہ والے سے سنا: "جو شخص تحفظ ختم نبوت کا کام کرتا ہے اس کی پشت پر رحمت دو عالم ﷺ کا ہاتھ ہوتا ہے۔
میں نے ایک ولی کامل سے سنا: "جو شخص فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کا کام کرتا ہے۔ میں اس شخص کی جنت کا ضامن ہوں۔"
میں نے ایک عارف باللہ سے سنا: "جس طرح کسی حکمران کی بہت سی فوجیں ہوتی ہیں، بری فوج، فضائی فوج، بحری فوج، پولیس، رینجرز، انٹیلی جنس وغیرہ۔۔ لیکن جو قربت اس کے ذاتی حفاظتی دستہ (پرسنل باڈی گارڈز) کو حاصل ہوتی ہے وہ کسی اور کو نصیب نہیں ہوتی۔ یہ حفاظتی دستہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہے۔ جہاں بھی حکمران جاتا ہے یہ دستہ اس کے ساتھ جاتا ہے اور حاکم کی نوازشات بھی سب سے زیادہ اسی دستہ پر ہوتی ہیں۔ اسی طرح رسول اللہ جناب محمد مصطفیٰ ﷺ کی بھی بہت سی فوجیں ہیں۔ لیکن تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والے آقائے دو عالم ﷺ کا ذاتی حفاظتی دستہ (پرسنل باڈی گارڈز) ہے۔
بس وہی آشنا خدا سے ہے
رابطہ شاہؐ دو سرا سے ہے
مجاہدو ! آؤ اپنے قول وعمل سے قادیانیوں کو سنا دیں----بتادیں
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
محمد ؐ کی محبت آن ملت، شان ملت ہے
محمد ؐ کی محبت روح ملت، جان ملت ہے
محمد ؐ کی محبت خون کے رشتوں سے بالا ہے
یہ رشتہ دنیوی قانون کے رشتوں سے بالا ہے
محمد ؐ ہے متاع عالم ایجاد سے پیارا
پدر، مادر، برادر، مال، جان، اولاد سے پیارا
خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر رزاق ۵/دسمبر ۱۹۹۵ء
یہ دیباچہ جرمنی کی تحفظ ختم نبوت کی تنظیم ”پاسبان ختم نبوت“ کی طرف سے راقم کی کتاب ”تحفظ ختم نبوت“ شائع کرنے پر تحریر کیا گیا۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ رب ذوالجلال تنظیم کے رفقاء اور کتاب کی اشاعت میں مدد گار احباب کو اجر عظیم سے نوازے اور میدان حشر میں انہیں شفاعت رسول اکرم ﷺ عطا فرمائے۔ (آمین)
طلوع سحر
میں ایک برائے نام مسلمان تھا، اپنی زندگی کے ۲۷‘۲۸ سال اپنے نفس اور شیطان ملعون کی پیروی میں گزار کر اپنی بداعمالیوں کا بوجھ سر پر اٹھائے پاکستان سے جرمن آ گیا۔ یہاں آ کر میرا تعلق بوسنیا سے آئے ہوئے چند مسلمانوں سے ہو گیا، جنہیں مرزائی اپنے مکر و فریب کے جال میں پھنسا کر مرتد بنا چکے تھے۔ یہ افسوس ناک صورتحال دیکھ کر میرے ضمیر نے ملامت کی کہ میرے سامنے اسلام کے قلعے پر کافر حملہ آور ہوں اور میں خاموش تماشائی بنا رہوں۔ بوسنیا کے لوگوں کو واپس اسلام میں لانے کے لیے ضروری تھا کہ میں اس فتنہ کے متعلق معلومات حاصل کروں۔ قادیانیت کے متعلق مجھے صرف اتنا علم تھا کہ اس گروہ کو پاکستان میں کافر قرار دیا جا چکا ہے۔ جرمن جیسے ملک میں رد قادیانیت کے متعلق لٹریچر کا ملنا ناممکن تھا۔ میرے کسی ملنے والے نے مجھے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب کا ایڈریس دیا۔ میرے پہلے ہی خط کے جواب میں مجاہد ختم نبوت جناب محترم محمد متین خالد صاحب نے فوراً رد قادیانیت کے متعلق کچھ کتابچے روانہ کیے۔ یہ کتابچے جناب محترم محمد طاہر رزاق صاحب کے مبارک ہاتھوں سے لکھے ہوئے تھے۔ جب میں نے ان کتابچوں کا مطالعہ شروع کیا۔ خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں مرزا قادیانی، اولاد شیطانی نے جو جو گستاخیاں کیں، صحابہ کرامؓ، اہل بیتؓ، ازواج مطہراتؓ کی شان و عظمت کے دامن پر جو جو چرکے لگائے، انہیں پڑھ کر میری آہیں نکل گئیں۔ الفاظ کانٹوں کی طرح میری آنکھوں میں چبھنے لگے۔ میری گناہگار آنکھوں سے آنسوؤں کی ندیاں بہہ گئیں۔ الفاظ نشتروں کی طرح میرے جگر کے آر پار ہونے لگے۔ میرا دل شدت کرب و اذیت سے پھٹا جا رہا تھا۔ میری روح لہولہان ہو گئی۔ میری رگوں میں خون کی جگہ انگارے دوڑنے لگے۔ مدتوں سے سویا ہوا ضمیر بھی تڑپ اٹھا۔ میری غیرت ایمانی جاگ گئی۔ ساری محبتوں پر محبت رسول اللہ ﷺ چھا گئی۔ میں جو خدائے بزرگ و برتر کا نافرمان گناہ گار اور ذلیل و رسوا بندہ تھا، اس ذات کریم و رحیم کے حضور سجدے میں گر گیا۔ اپنے گناہ آلود دامن کو پھیلا کر عرض کی کہ "اپنے محبوب کی
قسمیں کھانے والے رب ذوالجلال! میں تیری بارگاہ میں یہ عہد کرتا ہوں کہ جب تک میری رگوں میں خون کا آخری قطرہ، سانسوں میں گرمی اور بدن میں زندگی کی آخری رمق موجود ہے، میں تیرے پیارے اور لاڈلے محبوب شافع محشر سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کی ناموس اور تحفظ ختم نبوت کے لیے جو کچھ بھی کر سکا، کرتا رہوں گا"۔
"اے رب محمد ﷺ ! مجھے تیرے عظمتوں والے محمد ﷺ کی عزت کا واسطہ، اپنے اس کمزور و ناتواں گناہ گار بندے اور خاتم النبیین رحمت اللعالمین ﷺ کے نالائق و ناکارہ امتی کو اتنی ہمت و توفیق عطا فرما کہ بقایا زندگی تیرے محبوب کی نبوت کے ڈاکوؤں، صحابہ کرام، ازواج مطہرات کے گستاخوں، اہل بیت اور سیدۃ النساء، جگر گوشہ رسول حضرت بتول فاطمۃ الزہرہ کی حیا اور پاک دامنی پہ چرکے لگانے والوں کے خلاف جہاد کرتا رہوں اور اسی راہ میں مارا جاؤں"۔
ساری رات رو رو کر یہ دعائیں کرتا رہا اور اس قادر مطلق کو مناتا رہا...... یہ معمولات قدرت ہے کہ ہر رات کے بعد سحر طلوع ہوتی ہے، سورج رات کے پردہ کو چاک کر کے دنیا کو اجالا بخشتا ہے۔ اس رات کی بھی سحر ہوئی۔ اس صبح ایک نہیں بلکہ دو سورج طلوع ہوئے، ایک نے کائنات کو ضیا بخشی اور دوسرا آفتاب میرے ضمیر کی اندھیری اور تاریک دنیا میں طلوع ہوا اور وہ تھا آفتاب عشق مصطفیٰ ﷺ جس کی نورانی کرنوں نے میرے اندر گناہوں، نفس پرستی اور دنیاوی ہوس و طمع کے اندھیروں کو مٹا ڈالا اور میرا ہر رگ و ریشہ آفتاب عشق مصطفیٰ ﷺ کی پرنور کرنوں میں نہا گیا۔ صبح جب میں اٹھا تو مجھے اپنا ماضی یاد رہا نہ ہی مستقبل کے خوابوں کی فکر۔ سارے غم بھول گئے جب غم رسول ﷺ نے دل میں ڈیرے ڈال دیئے۔
حق کی قسم یہ زندگی، موت ہے زندگی نہیں
جب پیارے رسول ﷺ کی غلامی کا پٹہ میں نے اپنے گلے میں ڈال لیا، تو پھر میرے لیے یہ بات موت سے زیادہ اذیت ناک تھی کہ میرے آقا ﷺ کی ناموس رسالت و نبوت لٹ رہی ہو۔ میرے آقا ﷺ کی پیاری چہیتی بیٹی کی عظمت و حیا کے دامن کو یہ قادیانی تار تار کرتے رہیں اور میں خاموش تماشائی بنا رہوں۔ دل میں دکھ و کرب کی دہکتی آگ لیے میں کسی ایسے غیور مسلمان کی تلاش میں نکلا، جو نبوت کے ڈاکوؤں کے خلاف مسلمانوں کو متحد کر سکے۔ اس جستجو میں ایک سال تک میں جرمنی کے مختلف شہروں میں سرگرداں رہا اور اللہ تعالیٰ
نے کرم فرمایا میری ملاقات ہلبرون شہر کی بزرگ ہستی جناب محترم حاجی محمد رزاق صاحب سے ہوگئی۔ حاجی صاحب نے میری بات بہت شفقت کے ساتھ سنی۔ حاجی صاحب بڑے دین دار اور عاشق رسول ﷺ ہیں۔ انہوں نے فوراً اپنی خدمات اس جہاد اکبر کے لیے پیش کردیں۔ انہوں نے شہر کے مسلمانوں کو متحد کیا اور اس مشن کو ایک تحریک کی شکل دی اور اس کی سرپرستی فرمائی۔
یہاں اگر میں مجاہد ختم نبوت جناب ارشاد احمد خان صاحب کی انتھک کوششوں اور شب و روز کی محنت کا ذکر نہ کروں تو بخل ہوگا، جنہوں نے ہر مشکل وقت میں اس تحریک کی مدد اور حوصلہ افزائی فرما کر افغانیوں کی غیرت ایمانی اور اسلامی خدمات کی روایات کو زندہ و تابندہ کیا اور تحفظ ختم نبوت کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیا۔ قابل تحسین ہیں یہ مجاہدین ختم نبوت: راجہ فضل کریم، جناب ارشاد احمد صدیقی، چوہدری آفتاب احمد، جناب ثاقب خورشید، جناب ظفر گلزار اور راجہ مختار صاحب، جنہوں نے اپنے آرام و سکون کو اس جہاد پر قربان کردیا اور اپنی جدوجہد اور کوششوں سے اس تحریک کو ایک نئی قوت بخشی۔ اللہ تعالیٰ نے مزید احسان فرمایا، آقائے دو جہاں ﷺ نے نظر کرم کی اور متحدہ عرب امارات کے حضرت ڈاکٹر سید راشد علی دامت برکاتہم، جو "اینٹی احمدیہ موومنٹ ان اسلام" کے نام سے ایک انٹرنیشنل تنظیم چلا رہے ہیں، ان سے ہمارا رابطہ ہوگیا۔ انہوں نے اپنی خصوصی شفقت و محنت سے ہماری روحانی تربیت و راہنمائی فرمائی اور اس انجمن کی بنیاد رکھی۔ مجاہد ختم نبوت محمد حسین بھٹی نے انجمن کا نام "پاسبان ختم نبوت" پیش کیا، جسے تمام احباب نے منظور کیا۔ یورپ کے ترقی یافتہ دور میں لٹریچر کے بغیر ہم، مسلمانوں کو فتنہ قادیانیت کی زہرناکیوں سے محفوظ نہیں رکھ سکتے تھے۔ اس فتنے کے کفریہ عقائد اور اس کے مکر و فریب کے چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کے لیے ہمیں رد قادیانیت کے لٹریچر کی اشد ضرورت تھی جو کہ جرمنی میں دستیاب ہونا ناممکن تھا۔
پاسبان ختم نبوت کے مجاہدین اس فتنہ کے خلاف صف آرا ہو چکے تھے۔ لیکن ہمارے پاس ہتھیار نہیں تھا اور ہمارا ہتھیار لٹریچر تھا۔ میرے اللہ رحیم و کریم نے خاص فضل فرمایا اور آقائے کائنات ﷺ نے نظر کرم فرمائی اور ہمارا رابطہ سپہ سالار ختم نبوت مکرم جناب محمد طاہر رزاق صاحب سے ہو گیا، جنہوں نے اپنی شب و روز کی انتھک محنتوں سے ہماری لٹریچر کی ضرورتوں کو پورا کیا۔ ان کے بھیجے ہوئے لٹریچر سے جرمنی میں قادیانیت کے کفر و ارتداد کے بت پاش پاش ہو رہے ہیں۔
میں صدق دل سے دعا گو ہوں کہ اے رب ذوالجلال اپنے محبوب ﷺ کی ختم نبوت کے اس محافظ کو فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لیے عمر دراز نصیب فرما اور اسے اپنے حفظ و امان میں رکھنا۔ (آمین)
میں مجاہد ختم نبوت جناب ملک فیاض اختر صاحب کا بھی مشکور ہوں، جو میری ہر آواز پر میری مدد کو پہنچے اور مجھ جیسے پیاسے کو تحفظ ختم نبوت کے لٹریچر کا ٹھنڈا اور روح پرور مشروب پلاتے رہے۔
میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ممنون و مشکور ہوں جناب سید ودیع الحسن صاحب کا جنہوں نے اپنے نانا سید عالم ﷺ کی نبوت کے لٹیروں کے خلاف ہماری قدم قدم پر مدد فرمائی اور غیرت سادات کی اعلیٰ و بے مثال روایات کو چار چاند لگائے۔
آخر میں، میں اپنی اور پاسبان ختم نبوت کی طرف سے جناب چوہدری رشید احمد صاحب (اسٹیٹ گارڈ) کی محبت رسول ﷺ اور غیرت ایمانی کو زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس شاندار کتاب کی اشاعت کے لیے مالی قربانی دی اور خاتم النبیین ﷺ کے امتیوں کو فتنہ قادیانیت کی زہرناکیوں سے بچانے کا سامان کیا۔
اللہ تعالیٰ چوہدری صاحب کو اور ان کے والدین کو ان کی اس کاوش پر روز محشر شافع محشر سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ (آمین)
الحمد للہ آج پاسبان ختم نبوت کے مجاہدین باغیان خدا، گستاخان رسول، غداران قرآن، مجرمان اسلام، دشمنان امت محمدیہ اور منکرین ختم نبوت قادیانیوں کے خلاف مصروف جہاد ہیں اور اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس فتنہ کے خاتمے کے لیے جانی و مالی قربانی دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
خاکپائے مجاہدین ختم نبوت ظفر اقبال ہلبرون جرمن ۱۵۔ اکتوبر ۱۹۹۵ء
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِیْ
عقیدہ
ختم
نبوت
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِیْ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
رب کائنات نے جب گلشن ہستی کو آباد کیا تو اس میں ہنگامہ زندگی برپا کرنے کے لئے اپنی سب سے احسن تخلیق انسان کو اس میں بسایا اور اس کے ساتھ ساتھ انسانوں کی تعلیم و تربیت اور رشد و ہدایت کے لئے انبیائے کرام کو مبعوث فرمایا۔ یہ گراں قدر ہستیاں مختلف اوقات میں مختلف ادوار میں، مختلف مقامات پر تشریف لاتی رہیں اور انسانیت کی رہبری کا فریضہ عظیم سرانجام دیتی رہیں۔ نبوت کا یہ روشن سلسلہ ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور سید البشر جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہو گیا۔ اس بزم گیتی میں سب سے پہلے نبی آدمؑ اور سب سے آخری نبی خاتمؐ ہیں۔ آدم سے پہلے نبی کوئی نہیں اور خاتم کے بعد نبی کوئی نہیں۔ دین اسلام میں اس عقیدہ کو ”عقیدہ ختم نبوت“ کہا جاتا ہے۔ دین اسلام کی رفیع الشان عمارت اسی عقیدہ کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ دین اسلام کا مرکز و محور یہی عقیدہ ہے اور دین اسلام کی روح و جان یہی عقیدہ ہے۔ اس عقیدہ میں معمولی سی لچک یا جھول انسان کو ایمان کی رفعتوں سے گرا کر کفر کی پستیوں میں پٹخ دیتی ہے۔ عقیدہ ختم نبوت اس اہمیت و حیثیت کا حامل ہے کہ قرآن مجید ایک سو مرتبہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا اعلان کر رہا ہے اور صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو سو دس مرتبہ سے زائد اپنی زبان نبوت سے اس عقیدہ کی حقانیت پر گواہی دے رہے ہیں۔
اب ہم قرآن پاک کی چند آیات بینات سے مسئلہ ختم نبوت ثابت کرتے ہیں۔
اعلان ختم نبوت : رب العزت اپنے آخری نبی کو تخت ختم نبوت پر بٹھا کر آپ کے سر اقدس پر تاج ختم نبوت سجا کر اور کائنات کی فضاؤں میں ”لا نبی بعدی“ کا پرچم لہرا کر آپ کی ختم نبوت کا اعلان یوں کر رہے ہیں۔
ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين و كان الله بكل شيئ عليما O
(ترجمہ) ”نہیں ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن آپ اللہ کے رسول اور تمام انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں۔ اور ہے اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے والا۔“
جب ہم مندرجہ بالا آیات کی گہرائی میں جاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ زبان عرب میں خاتَم یا خاتِم کا لفظ جب کسی قوم یا جماعت کی طرف مضاف ہو تو اس کے معنی آخری اور ختم کرنے والا ہی ہوتے ہیں‘ اس کے علاوہ اور کوئی معنی نہیں ملتے۔ جیسا کہ عربی زبان کی سب سے ضخیم اور سب سے مستند لغت کی کتاب ”لسان العرب“ میں لکھا ہے۔
ختام القوم وخاتِمهم وخاتَمهم ختام القوم خاتم القوم (ت کے زیر سے) اور خاتم القوم اخرهم
لغت کی مشہور کتاب ”تاج العروس“ میں ہے کہ
ومن اسمائه عليه السلام الخاتَم والخاتِم وهو الذی ختم النبوة بمجيئه
اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں میں سے خاتَم اور خاتِم ہے۔ اور وہ ذات اقدس ہے جس نے آکر نبوت ختم کردی۔
خاتم کا مادہ ختم ہے۔ ختم کے لغوی معنی کسی چیز کو اس طرح بند کرنے کے ہیں کہ نہ اس کے اندر کی چیز باہر نکل سکے اور نہ باہر کی چیز اس کے اندر جاسکے۔ اس کے دوسرے معنی کسی چیز کو بند کرکے اس پر مہر لگانے کے ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کے اندر سے نہ کوئی چیز باہر نکل سکتی ہے اور نہ کوئی باہر کی چیز اندر جاسکتی ہے۔
حضور خاتم الانبیاء‘ صحابہ کرام‘ محدثین‘ مفسرین اور اکابرین امتؒ نے خاتم النبیین کے معنی آخری نبی کے کئے ہیں کہ جن کے بعد اور کوئی نبی پیدا نہ ہو۔
تکمیل دین: عرفات کا وسیع و عریض میدان تھا‘ حجۃ الوداع کا مبارک موقعہ تھا‘ جمعہ کا دن تھا‘ ختم نبوت کے تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار پروانے جمع تھے۔ نبیوں کے سردار ختم نبوت کے تاجدار جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان پروانوں کے جھرمٹ میں جلوہ افروز تھے اور تاریخ میں انقلاب برپا کردینے والا خطاب فرما رہے تھے‘
انسانیت کو دستور حیات عطا کر رہے تھے کہ ملائکہ کے سردار اور وحی کے پیامبر جناب جبرائیل علیہ السلام یہ آیت لے کر حاضر ہو جاتے ہیں۔
الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً
یہ آیت کریمہ اس بات کا اعلان تھا کہ دین اسلام ظاہری‘ باطنی‘ صوری‘ معنوی ہر لحاظ سے مکمل ہو چکا‘ نبوت کی نعمت پوری ہو چکی‘ قانون و شریعت کے معاملات طے ہو چکے عقائد‘ اعمال‘ اخلاق‘ حکومت‘ سیاست‘ مکروہات و مستحبات اور حرام و حلال کے اصول بن چکے۔ تاریخ انبیاء شاہد ہے کہ جب بھی کوئی نیا دین آیا‘ اسے کوئی نیا نبی لے کر آیا۔ اب تکمیل دین کی وجہ سے کوئی نیا دین نہیں آنا تو کوئی نیا نبی بھی نہیں آئے گا۔ اس لئے تکمیل نبوت کے ساتھ تکمیل دین بھی ہو گئی۔ لہٰذا نبوت و رسالت آپؐ پر ختم‘ دین آپؐ پر ختم‘ شریعت آپؐ پر ختم‘ سلسلہ وحی آپؐ پر ختم‘ آسمانی کتب آپؐ پر ختم‘ آپؐ کا دین خاتم الادیان‘ آپؐ کی شریعت خاتم الشرائع‘ آپؐ کی کتاب خاتم الکتب‘ آپؐ کی مسجد خاتم الانبیاء‘ آپؐ کی نبوت ختم نبوت اور آپؐ کی ذات اقدس خاتم النبیینؐ ہے۔
عالمگیر نبوت: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل تشریف لانے والے سارے نبیوں کی نبوتیں محدود علاقے‘ محدود وقت اور محدود انسانوں کے لئے تھیں۔ کوئی نبی ایک گاؤں کے لئے نبی بن کر آیا‘ کوئی ایک قصبہ کے لئے نبی بن کر آیا‘ کوئی ایک شہر کے لئے نبی بن کر آیا اور کوئی ایک ملک کے لئے نبی بن کر آیا۔ لیکن جب آمنہؓ کے لال اور عبداللہؓ کے در یتیم جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باری آئی تو رب کائنات نے نبیؐ کائنات کا تعارف یوں کرایا۔
قل یایہا الناس انی رسول اللہ علیکم جمیعاً
(ترجمہ) آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔
نبوت محمدی کا دامن ساری کائنات کی وسعتوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔
نبوت محمدی کا بحر بیکراں زماں و مکاں کی قیود سے بالاتر ہے۔ آپؐ کی نبوت ہر زماں کے لئے‘ ہر مکاں کے لئے‘ ہر جہاں کے لئے اور ہر انسان کے لئے! کوئی رنگت‘ کوئی زبان‘ کوئی قومیت اور کوئی وطن آپ کی عالمگیر نبوت سے مستثنیٰ نہیں۔ خاتم النبیین صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم نبی ہیں ہر گورے کے لئے‘ ہر کالے کے لئے‘ ہر عجمی کے لئے‘ ہر عربی کے لئے‘ مشرق سے مغرب تک‘ شمال سے جنوب تک‘ تحت الثریٰ سے ثریا تک اور فرش سے عرش تک۔ غرضیکہ جہاں تک خدا کی خدائی ہے‘ وہاں تک مصطفیٰ کی مصطفائی ہے۔
کسی کو اب نبی ہونے کا دعویٰ ہو نہیں سکتا
نبوت محمدی کا آفتاب عالمتاب
یایھا النبی انا ارسلنک شاھدا و مبشرا و نذیرا و داعیا الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سراجاً منیرا کے دلنواز نام سے پکارا ہے‘ یعنی روشنی دینے والا سورج۔ اس دلکش اور روح پرور نام سے مندرجہ ذیل دلنشیں حقائق ثابت ہوتے ہیں۔
- (۱) جس طرح مادی سورج اپنے خالق کے بتائے ہوئے مقررہ راستہ پر حرکت کرتا ہے
اور اپنی راہ سے نہیں بھٹکتا ورنہ کائنات کا نظام درہم برہم ہو جائے۔ اسی طرح ہادی برحق صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے مالک کے بتائے ہوئے صراط مستقیم پر گامزن رہے اور حق کا نور بکھیرتے رہے۔ نعوذ باللہ اگر آپؐ ذرا بھی اپنے راستہ سے ہٹ جاتے تو کائنات میں مایوسی‘ ہولناکی اور کفر و ضلالت کے سائے پھیل جاتے۔
- (۲) جس طرح سورج یوم آخر تک اس کائنات کو اپنی نورانی شعاعوں سے منور کرتا
رہے گا اسی طرح نبوت کا آفتاب بھی قیامت تک اپنی ضیا پاشیاں کرتا رہے گا اور منزل کی تلاش میں سرگرداں مسافران کو منزل تک پہنچاتا رہے گا اور ان کے قلب و نظر کو نور ایمان بخشتا رہے گا۔
- (۳) اگر سورج نہ ہوتا تو نہ قوس قزح کے رنگ ہوتے‘ نہ چمکتے ہوئے ستارے اور دمکتا
ہوا مہتاب ہوتا‘ نہ آسمان سے بارش کا مصفا پانی برستا‘ نہ گلستان میں بہار آتی۔ نہ پھل ہوتے‘ نہ سبزیاں‘ نہ درخت ہوتے نہ مہکتے پھول‘ نہ ہی حیوانات ہوتے اور نہ ہی انسانات۔ المختصر ثابت یہ ہوا کہ سورج پر انسانی حیات کا دارومدار ہے۔ اگر سورج کا
وجود نہ ہو تو انسانی زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
آؤ‘ اہل دنیا! اپنے خالق و مالک کی بات بھی سن لو کہ مادی سورج کا مالک اپنے ”سراجاً منیراً“ کے بارے میں کس اہم بات سے تمہارے کانوں کو نواز رہا ہے۔ حدیث قدسی ہے۔
لولاک لما خلقت الافلاک‘ لولاک لما خلقت الجنۃ‘ لولاک لما خلقت النار
ترجمہ : (اے میرے چہیتے اور لاڈلے رسول) اگر میں آپ کو پیدا نہ کرتا تو نہ زمین و آسمان ہوتے اور نہ کوئی مخلوق نہ جنت و جہنم پیدا ہوتے۔
ذرا ایک فرق ذہن نشین کر لیجئے کہ رب العزت نے فرما دیا کہ اگر یہ ”سراجاً منیراً“ نہ ہوتا تو یہ مادی سورج بھی نہ ہوتا۔ یہ مادی سورج جس کی روشنی میں ہم اپنی زندگی کا سفر طے کر رہے ہیں‘ اس سورج کو بھی روشنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات کے طفیل ملی ہے۔ جس طرح ہندوستان‘ پاکستان‘ افغانستان‘ ایران‘ یونان‘ جاپان‘ مصر‘ روس‘ امریکہ‘ افریقہ‘ مشرق‘ مغرب‘ شمال‘ جنوب کو روشن کرنے کے لئے صرف ایک ہی مادی سورج ہے۔ اسی طرح روحانیت کا نور بکھیرنے کے لئے صرف ایک ہی سراجاً منیرا ہے۔ جس کی روشنی سے دلوں سے کفر و ضلالت کے اندھیرے کافور ہو جاتے ہیں۔ مادی سورج اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کے سورج میں ایک نمایاں فرق ہے۔ مادی سورج طلوع ہوتا ہے اور چند گھنٹے روشن رہنے کے بعد شام کو غروب ہو جاتا ہے۔ لیکن آنحضرتؐ کی نبوت کا سورج قیامت تک غروب نہیں ہو گا۔ مادی سورج کو گرہن لگ جاتا ہے اور اس کی روشنی میں کمی واقع ہو جاتی ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سورج کو نہ کبھی گرہن لگا ہے اور نہ قیامت تک لگے گا اور نہ ہی اس کی درخشندگی میں فرق پڑے گا۔
معیار حق :
قد جاء کم من اللہ نور و کتب مبین
تمہارے پاس آئی اللہ کی طرف سے روشنی (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اور کتاب مبین (یعنی قرآن مجید) یہاں روشنی سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشن شخصیت اور کتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔
نبی خاتم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل جن انبیائے کرام پر آسمانی کتابیں اور صحیفے نازل ہوئے‘ ان میں سے آج بھی کوئی آسمانی کتاب اور صحیفہ اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں۔ ساری کتب اور صحائف دشمنان اسلام کے سفاک ہاتھوں سے تحریف و تبدل کا شکار ہو گئے۔ لیکن آخری نبیؐ پر نازل ہونے والی آخری کتاب کی حفاظت کا ذمہ رب ذوالجلال نے خود اٹھا لیا اور انسانیت کی راہنمائی کے لئے یہ کتاب قیامت تک اپنی حقیقی حالت میں موجود رہے گی۔ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے مبعوث ہونے والے سارے نبیوں میں سے کسی بھی نبی کی تعلیمات اور سیرت مکمل طور پر موجود اور دستیاب نہیں۔ اکثریت کے تو نام ہی معلوم نہیں‘ صرف چند مشہور انبیائے کرام کی زندگی کے بارے میں چند اوراق مطالعہ کے لئے مل جاتے ہیں۔ لیکن خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ اور تعلیمات کا ہر ہر جز اور ہر ہر پہلو اپنی پوری درخشانی اور دلکشی کے ساتھ زندہ تابندہ ہے اور روز آخر تک انسانیت کے مطلع حیات پر سیرت مصطفیٰؐ کا آفتاب اپنی ضوفشانیاں کرتا رہے گا اور انسانیت کے چہرے کو ضیا بخشتا رہے گا۔ کیونکہ قرآن آخری کتاب اور صاحب قرآن آخری نبیؐ۔ اس لئے خدائے رحیم و کریم نے قرآن مجید اور صاحب قرآن کی سیرت کو محفوظ و مامون کر لیا اور رہتی دنیا تک آنے والے جن و انس کو مخاطب کر کے یہ اعلان کر دیا۔
قد جاء کم من الله نور و کتب مبین ◯
اور خود خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات کے میدان میں موجود اور آئندہ آنے والے انسانوں کو مخاطب کر کے رشد و ہدایت کا یہ سرٹیفکیٹ عطا کر دیا۔ آپؐ نے فرمایا
”میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ جب تک ان کو تھام رکھو گے کبھی
گمراہ نہیں ہو گے وہ دو چیزیں اللہ کا قرآن اور میری سنت ہے۔“ الحمد للہ آج انسانیت کے پاس اللہ کے آخری نبیؐ پر نازل ہونے والی کتاب اللہ کے آخری نبیؐ کی سنت مطہرہ اور اللہ کے آخری نبیؐ کی سیرت طیبہ رہبری اور رہنمائی کے لئے موجود ہے۔ اس لئے انسانیت کو قطعاً کسی نئے نبی کی ضرورت نہیں۔ کتاب اللہ کے ساتھ ساتھ احادیث رسولؐ ہر دم ہر وقت ہماری رہبری و رہنمائی کے لئے چراغ فروزاں کئے ہوئے ہیں۔ آئیے اب ہم احادیث رسولؐ کی روشنی میں مسئلہ ختم نبوت ثابت کرتے ہیں۔ یوں تو سینکڑوں احادیث مسئلہ ختم نبوت پر دلالت کرتے ہوئے سورج سے بڑھ کر روشن وجود لئے ہوئے موجود ہیں۔ لیکن اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے بطور نمونہ چند احادیث پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔
آخری نبیؐ، آخری امت: حضرت ابو امامہ باہلیؓ نے ایک طویل حدیث کے ذیل میں روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں آخر الانبیاء ہوں اور تم سب سے آخری امت ہو۔
(ابن ماجہ)
پیدائش میں اول‘ بعثت میں آخر: میں پیدائش میں سب سے پہلے ہوں اور بعثت میں سب سے آخر میں ہوں
(”کنز العمال“ جلد ۱۱‘ ص ۱۱۳‘ ”ابن کثیر“ جلد ۸‘ ص ۸۹)
ازلی فیصلہ: فرمایا رسول برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے ”میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس وقت آخری نبی لکھا ہوا تھا جب کہ آدم علیہ السلام گندھی ہوئی مٹی کی حالت میں تھے۔
(”مشکوٰۃ شریف“ باب فضائل سید المرسلین)
آخری نبیؐ، آخری مسجد: میں خاتم الانبیاء ہوں اور میری مسجد خاتم المساجد
(مسلم)
نبوت کے آخری تاجدار: آدم علیہ السلام نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”انبیاء میں سے، آپ کے آخر الاولاد ہیں“
(رواہ ابن عساکر)
تکمیل نبوت: حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میں محمد ہوں اور احمد ہوں اور ماحی ہوں یعنی میرے
ذریعہ اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر ہوں، یعنی میرے بعد ہی قیامت آجائے گی اور حشر برپا ہو گا (اور کوئی نیا نبی میرے اور قیامت کے درمیان نہ آئے گا) اور میں عاقب ہوں اور عاقب اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے بعد اور کوئی نبی نہ ہو ۔“ (بخاری ومسلم)
ابتدائے نبوت و انتہائے نبوت: حضرت ابوذرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”سب انبیاء میں پہلے آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں ۔“ (ابن عساکر)
نبوت کے محل کی آخری اینٹ: نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میری مثال اور انبیاء کی مثال ایک ایسے محل کی سی ہے کہ جس طرح ایک عمارت نہایت خوبصورتی سے بنائی گئی ہو مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی ہو۔ لوگ اس محل کے گرد گھومتے ہیں اور اس کی خوبصورتی پر تعجب کرتے ہیں اور حیران ہیں کہ ایک اینٹ کی جگہ کیوں چھوڑ دی گئی۔ سو میں وہ اینٹ ہوں جس نے اس خالی جگہ کو پر کر دیا ۔ پورا ہو گیا میری ذات کے ساتھ نبوت کا محل اور اسی طرح ختم ہو گیا میری ذات پر رسولوں کا سلسلہ ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبوت کے محل کی آخری اینٹ میں ہوں اور میں ہی نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں ۔“ (بخاری‘ مسلم‘ مشکوٰۃ)
دین اسلام اور نبی محمدؐ: حضرت تمیم داریؓ ایک طویل حدیث کے ذیل میں سوال قبر کے بارے میں روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (منکر نکیر کے جواب میں) مسلمان کہے گا کہ میرا دین اسلام ہے۔ اور میرے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں اور خاتم النبیین ہیں۔ منکر نکیر یہ سن کر کہیں گے کہ تو نے سچ کہا (منقول از ”در منثور“ ص ۱۶۵‘ جلد ۴)
ہر زماں اور ہر انساں کا نبیؐ: حضرت حسنؓ مرسلاً روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس شخص کا بھی رسول ہوں جس کو میں زندگی میں پا لوں اور اس شخص کا بھی جو میرے بعد پیدا ہو گا (کنز العمال خصائص کبریٰ)
تیس جھوٹے دجال: حضرت ثوبانؓ روایت کرتے ہیں کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا ہے کہ قریب ہے میری امت میں تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے۔ جن میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں‘ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ (صحیح مسلم)
کلمہ طیبہ اور دلیل ختم نبوت: لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اس کلمہ طیبہ کے دو حصے ہیں
(۱) لا الہ الا اللہ (۲) محمد رسول اللہ
پہلے حصہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کی گئی ہے اور دوسرے حصہ میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی عالمگیر نبوت و رسالت کا ذکر ہے۔
پہلے حصہ کے حروف بارہ ہیں۔ اور دوسرے حصہ کے حروف بھی بارہ ہیں۔ پہلے حصہ میں کوئی نقطہ نہیں اور دوسرے حصہ میں بھی کوئی نقطہ نہیں۔ جو پہلے حصہ کے حروف کی تعداد میں تبدیلی کرے وہ بھی کافر۔ اور جو دوسرے حصہ کے حروف کی تعداد میں تبدیلی کرے وہ بھی کافر‘ جو پہلے حصہ میں کوئی نقطہ لگائے وہ بھی کافر اور جو دوسرے حصہ میں کوئی نقطہ لگائے وہ بھی کافر۔
حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو حکم دینا ہوتا تو ”یا“ جو عربی زبان میں خطاب کے لئے آتا ہے‘ سے خطاب کر کے اور نبی کا نام لے کر حکم دیا جاتا تھا۔ مثلاً قرآن مجید میں یا آدم‘ یا نوح‘ یا ابراہیم‘ یا موسیٰ‘ یا عیسیٰ۔ مالک کائنات اپنے بھیجے ہوئے انبیائے کرام سے اسی طرح خطاب فرماتے رہے لیکن جب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سارے قرآن مجید میں تاجدارِ ختم نبوت کو کہیں بھی ”یا محمد“ کہہ کر خطاب نہیں فرمایا۔ بلکہ سید المرسلین کو یا ایھا النبی اور یا ایھا الرسول سے خطاب فرمایا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل حضرت آدم‘ حضرت نوح‘ حضرت ابراہیم‘ حضرت موسیٰ‘ حضرت داؤد‘ حضرت یحییٰ‘ حضرت عیسیٰ علیہم السلام بھی اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں کہیں بھی یا ایھا النبی اور یا ایھا الرسول نہیں فرمایا اور اس لئے نہیں فرمایا کہ ان کے بعد نبی اور رسول آنے تھے۔ لیکن جس ذات اقدس کے بعد کوئی اور نبی و رسول پیدا نہیں ہونا تھا‘ اسے یا ایھا النبی اور یا ایھا الرسول کے خطاب سے نوازا گیا۔ لہٰذا کلمہ طیبہ سے ثابت ہوا کہ
جس طرح اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں‘ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں۔ ربوبیت اللہ پر ختم ہے اور نبوت و رسالت رسول اللہ پہ ختم ہے۔ خدا کے سوا جو خدائی کا دعویٰ کرے وہ فرعون‘ نمرود اور شداد ہے اور جو انہیں رب مانے وہ مشرک فی الربوبیت ہے۔ اور رسول اللہ کے بعد جو دعویٰ نبوت و رسالت کرے‘ وہ اسود عنسی‘ مسیلمہ کذاب اور مرزا قادیانی ہے اور جو انہیں نبی مانیں وہ مشرک فی النبوت ہیں۔ دونوں قسم کے مشرکین اپنے جعلی خداؤں اور جعلی نبیوں سمیت جہنمی ہیں۔
اب ہم مسئلہ ختم نبوت کی حقانیت پر بارگاہ ختم نبوت سے تربیت یافتہ طبقہ (صحابہ کرامؓ) کے اقوال پیش کرتے ہیں۔ یوں تو اس عظیم مسئلہ پر دلالت کرتے ہوئے صحابہ کرامؓ کے سینکڑوں اقوال موجود ہیں۔ لیکن طوالت کے خوف سے صرف چند اقوال پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
اسلام میں صحابہؓ کا جو سب سے پہلا اجماع ہوا‘ وہ مسئلہ ختم نبوت پر تھا۔ جب بدبخت مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا تو صحابہ کی جماعت نے اس روسیاہ کو متفقہ طور پر کافر اور مرتد قرار دیا۔ خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبرؓ نے اس ملعون کی سرکوبی کے لئے فوراً ایک لشکر روانہ کیا اور یمامہ کے میدان میں اس مرتد کو واصل جہنم کیا اور بعد میں آنے والے مسلمان حکمرانوں نے نبوت کے دعوے داروں کے ساتھ یہی سلوک روا رکھا۔ اب ہم صحابہ کرامؓ کے اقوال پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔
یار غار صدیق اکبرؓ: اب وحی منقطع ہوچکی اور دین الٰہی تمام ہوچکا۔ کیا میری زندگی میں ہی اس کا نقصان شروع ہو جائے گا (تاریخ الخلفاء للسیوطی ص ۹۴)
مراد رسولؐ عمر فاروقؓ: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو حضرت عمرؓ نے ایک طویل کلام کے ذیل میں فرمایا۔
”یا رسولؐ اللہ ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں۔ آپؐ کی فضیلت اللہ کے نزدیک اس درجہ کو پہنچی ہوئی ہے کہ آپؐ کو سب انبیاء کے بعد بھیجا اور آپ کا ذکر سب سے پہلے فرمایا۔ (”مواہب“ ص ۴۹۴‘ ج ۲)
داماد رسولؐ علی المرتضیٰؓ: آپؐ کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت ہے اور آپؐ انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں۔ (ترمذی)
حضرت عبداللہؓ بن مسعود: حضرت عبداللہؓ بن مسعود سے ابن ماجہ اور بیہقی نے الفاظ ذیل روایت کئے ہیں ”اے اللہ! اپنے درود اور برکتیں اور رحمت رسولوں کے سردار اور متقیوں کے امام اور انبیاء کے ختم کرنے والے پر نازل فرما“ (”شرح شفا“ ص ۵۰‘ ج۳)
ام المومنین سیدہ عائشہؓ صدیقہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سلسلہ نبوت ختم ہو گیا۔ (مشکوۃ)
اب ختم نبوت کے عظیم الشان مسئلہ پر محدثین‘ مفسرین‘ فقہاء‘ صوفیائے کرام اور اولیائے کرام کے اقوال پیش کئے جاتے ہیں۔ صرف چند اقوال پیش خدمت ہیں!
امام ابو حنیفہؒ: ایک شخص نے امام ابو حنیفہؒ کے زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ مجھے موقعہ دو کہ میں اپنی نبوت کی علامات پیش کروں۔ اس پر امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا کہ جو شخص اس سے اس کی نبوت کی دلیل طلب کرے گا‘ وہ بھی کافر ہو جائے گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں (”تفسیر روح البیان“ مصنف الشیخ اسماعیلؒ حقی)
علامہ ابو زرعہ عراقیؒ: مہر نبوت سے اس طرف اشارہ ہے کہ آپؐ انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں (کذا فی شرح الشمائل)
محدث عبدالرؤف مناویؒ: آپ اپنی شرح شمائل میں فرماتے ہیں۔ ”مہر نبوت کی اضافت نبوت کی طرف اس لئے ہے کہ وہ اختتام نبوت کی علامت ہے۔ کیونکہ مہر کسی شے پر جب ہی ہوتی ہے جب وہ ختم ہوچکے۔
علامہ قرطبیؒ: اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو چکی ہے (”مواہب لدنیہ“ ص۲۵۹)
امام طحاوی: اپنے رسالے ”عقیدہ طحاویہ“ میں تحریر فرماتے ہیں ”اور ہر دعویٰ نبوت
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بغاوت اور گمراہی ہے اور آپؐ ہی تمام مخلوق ، جن و انس کے لئے رسول ہیں" (عقیدہ ص ۱۴)
علامہ قسطلانیؒ : مشہور محدث علامہ قسطلانیؒ فرماتے ہیں کہ جب کوئی روضہ اقدس کی زیارت کرے تو یہ دعا پڑھنا چاہئے۔ السلام علیک یا سید المرسلین وخاتم النبیین (مواہب ص ۵۰۹ ج ۲) ترجمہ :۔ اے رسولوں کے سردار اور انبیاء کے ختم کرنے والے آپؐ پر سلام ترجمہ :۔ اے رسولوں کے سردار اور انبیاء کے ختم کرنے والے آپؐ پر سلام
علامہ ابن حبانؒ : ابن حبانؒ فرماتے ہیں "اور جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ نبوت کسب کر کے حاصل کی جا سکتی ہے اور وہ منقطع نہیں ہوئی یا یہ عقیدہ رکھے کہ ولی نبی سے افضل ہے تو یہ شخص زندیق ہے۔ اور اس کا قتل کرنا واجب ہے۔ ("زرقانی" ص ۱۸۸ جلد ۶)
علامہ ابن حجرؒ : اپنے فتاویٰ میں تحریر فرماتے ہیں، جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی وحی کا اعتقاد رکھے بالاجماع مسلمین کافر ہو گیا۔
ملا علی قاریؒ : شرح شمائل میں مہر نبوت کے متعلق تحریر فرماتے ہیں۔ مہر نبوت کی نسبت نبوت کی طرف اس لئے ہے کہ اس کے ذریعہ سے محل نبوت پر مہر لگ چکی ہے۔ یہاں تک کہ اس کے بعد کوئی اس میں داخل نہ ہو گا۔
علامہ سید محمود آلوسیؒ : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری نبی ہونا ان مسائل میں سے ہے جن پر تمام آسمانی کتابیں ناطق ہیں اور جن کو احادیث نبویہؐ نے نہایت وضاحت سے بیان کر دیا ہے۔ اور جن پر امت نے اجماع کیا ہے۔ اس لئے اس کے خلاف کا مدعی کافر سمجھا جائے گا اور اگر اصرار کرے گا تو قتل کر دیا جائے گا۔ (روح المعانی ۶۵ ج ۱)
امام غزالیؒ : بے شک امت نے اس لفظ (یعنی خاتم النبیین لا نبی بعدی) سے اور قرائن احوال سے بالاجماع یہی سمجھا ہے کہ آپؐ کے بعد ابد تک نہ کوئی نبی ہو گا اور نہ کوئی
رسول اور یہ کہ نہ اس میں کوئی تاویل چل سکتی ہے۔ نہ تخصیص۔ (الاقتصاد، طبع مصر ص ۱۴۸)
شاہ عبدالعزیزؒ : آپ میزان العقائد میں تحریر فرماتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم رسول ہیں اور انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں۔
قرآن و حدیث سے ختم نبوت کے موضوع پر روشن دلائل پیش ہو چکے۔ صحابہؓ کے پر انوار خیالات بھی آپ کی نظروں کو سعادت بخش چکے، مفسرینؒ، محدثینؒ، صوفیائے کرامؒ اور اولیائے کرامؒ کے اقوال زریں کا مطالعہ بھی آپ کر چکے۔ اب ہم اس مسئلہ پر کتب سماویہ، آپؐ کے پیش رو انبیائے کرامؑ اور ان کے ماننے والوں اور چند دیگر شہادتیں پیش کرتے ہیں۔ جنہیں پڑھ کر فتنہ انکار ختم نبوت کے مقلدین کو اپنے عقائد باطلہ سے تائب ہو جانا چاہئے اور فتنہ ارتداد کی دھوپ سے نکل کر زیست کے باقی دن شجر اسلام کی ٹھنڈی چھاؤں میں گزار دینے چاہئیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام : امام التفسیر ابن جریر طبریؒ آیہ کریمہ کے تحت الواح تورات کا ذکر کرتے ہوئے ایک طویل حدیث کے ذیل میں فرماتے ہیں۔
”حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے میرے رب! میں الواح تورات میں ایک ایسی امت دیکھتا ہوں جو پیدائش میں سب سے آخری ہے۔ اور دخول جنت میں سب سے مقدم، اے میرے رب! ان کو میری امت بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ وہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے۔ (بحوالہ ختم نبوت کامل از مفتی محمد شفیعؒ)
حضرت شعیب علیہ السلام : حضرت وہب بن منبہؒ نقل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی جس میں طویل کلام کے ضمن میں یہ کلمات بھی مذکور ہیں ”میں ایک نبی امی بھیجنے والا ہوں۔ جس کے ذریعے سے میں بہرے کانوں اور بند دلوں اور اندھی آنکھوں کو کھول دوں گا۔ ان کی جائے پیدائش مکہ اور ہجرت گاہ مدینہ اور اقتدار شام میں ہو گا۔ اس کے بعد فرمایا اور ان کی امت کو بہترین امت بناؤں گا، ان کی کتاب پر آسمانی کتابیں اور ان کی شریعت پر تمام شریعتیں اور ان کے دین پر تمام ادیان ختم کردوں گا“ (بحوالہ ختم نبوت کامل از مفتی محمد شفیعؒ)
حضرت ابراہیم علیہ السلام: امام شعبیؒ فرماتے ہیں کہ صحیفہ ابراہیم علیہ السلام میں لکھا ہوا ہے۔ ”آپ کی اولاد میں قبائل در قبائل ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ نبی امی آجائیں گے جو خاتم الانبیاء ہوں گے“ (بحوالہ ختم نبوت کامل از مفتی محمد شفیعؒ)
حضرت یعقوب علیہ السلام: ابن سعدؒ محمد بن کعبؒ قرظی سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب علیہ السلام پر یہ وحی نازل فرمائی۔ ”میں آپ کی ذریت میں بادشاہ اور انبیاء پیدا کروں گا یہاں تک کہ حرم والے نبی مبعوث ہوں، جن کی امت ہیکل بیت المقدس کو بنائے گی اور وہ خاتم الانبیاء ہوں گے اور ان کا نام ”احمد“ ہو گا“ (بحوالہ ختم نبوت کامل از مفتی محمد شفیعؒ)
حضرت آدم علیہ السلام: ابن عساکر نے بطریق ابو الزبیر حضرت جابرؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں شانوں کے درمیان لکھا ہوا تھا۔ محمد رسول اللہ خاتم النبیین (بحوالہ ختم نبوت کامل از مفتی محمد شفیعؒ)
یہودی کی گواہی: ابو نعیمؒ نے حضرت حسانؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں۔ ”میں آخر شب میں اپنے ٹیلہ پر تھا کہ یکا یک ایک بلند آواز سنی، جس سے زیادہ بلند اور رسا آواز میں نے کبھی نہیں سنی تھی۔ دیکھا گیا تو وہ ایک یہودی تھا جو مدینہ طیبہ کے ایک ٹیلہ پر ایک مشعل لئے ہوئے ہے، اس کو دیکھ کر لوگ جمع ہو گئے اور کہا، کیا ہوا، کیوں چلاتے ہو! حضرت حسانؓ کا بیان ہے کہ میں نے اس کو یہ کلمات کہتے ہوئے سنا۔ ”یہ ستارہ احمد طلوع ہو چکا، یہ ستارہ ہمیشہ نبوت کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اور انبیاء میں سے احمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سوا کوئی باقی نہیں رہا جو مبعوث نہ ہوا ہو“
(”دلائل النبوۃ“ ص۱۷)
نصرانی کی گواہی: طبرانی معجم کبیر میں سیدنا بلالؓ سے راوی ہیں۔ میں زمانہ جاہلیت میں ملک شام کو تجارت کے لئے گیا تھا۔ ملک کے اس کنارے پر اہل کتاب سے ایک شخص ملا۔ پوچھا کیا تمہارے یہاں کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے؟ ہم نے کہا ہاں۔
کہا تم ان کی صورت دیکھو تو پہچان لوگے۔ میں نے کہا ہاں، وہ ہمیں ایک مکان میں لے گیا جس میں تصاویر تھیں۔ وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت کریمہ مجھے نظر نہ آئی۔ اتنے میں ایک اور کتابی آکر بولا کس شغل میں ہو۔ ہم نے حال کہا، وہ ہمیں اپنے گھر لے گیا، وہاں جاتے ہی حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر منیر مجھے نظر آئی اور دیکھا کہ ایک شخص حضورؐ کے پیچھے حضورؐ کے قدم مبارک کو پکڑے ہوئے ہے۔ میں نے کہا یہ دوسرا کون ہے؟ وہ کتابی بولا!
”انہ لم یکن نبی الا بعدہ نبی الا ھذا فانہ لا نبی بعدہ وھذا الخلیفتہ بعدہ“
”بے شک کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جس کے بعد نبی نہ ہوا ہو سوائے اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں اور یہ دوسرا ان کے بعد خلیفہ ہے اسے جو میں دیکھوں تو ابو بکر صدیقؓ کی تصویر تھی۔
میت کی گواہی: نعمان بن بشیرؓ فرماتے ہیں کہ زید بن خارجہ انصار کے سرداروں میں سے تھے۔ ایک روز مدینہ طیبہ کے کسی راستہ میں چل رہے تھے کہ یکایک زمین پر گرے اور فوراً وفات ہو گئی۔ انصار کو اس کی خبر ہوئی تو ان کو وہاں جا کر اٹھایا اور گھر لائے اور چاروں طرف سے ڈھانپ لیا۔ گھر میں کچھ انصاری عورتیں تھیں جو ان کی وفات پر گریہ و زاری میں مبتلا تھیں اور کچھ مرد جمع تھے۔ اس طرح پر جب مغرب و عشاء کا درمیانی وقت آیا تو اچانک ایک آواز سنی کہ
”چپ رہو، چپ رہو“ لوگ متحیر ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ آواز اسی چادر کے نیچے سے آرہی ہے جس میں میت ہے۔ یہ دیکھ کر لوگوں نے اس کا منہ کھول دیا۔ اس وقت دیکھا گیا کہ زید بن خارجہ کی زبان سے یہ آواز آرہی ہے کہ محمد رسول اللہ النبی الامی خاتم النبیین لا نبی بعد ”یعنی محمد اللہ کے رسول ہیں اور نبی امی ہیں جو انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا“ یہی مضمون کتاب اول یعنی توریت و انجیل وغیرہ میں موجود ہے ”سچ کہا، سچ کہا“۔
گوہ کی گواہی: حضرت عمر فاروقؓ سے ایک طویل حدیث کے ذیل میں مروی ہے کہ
(ایک گاؤں والے کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی تو اس نے ایک گوہ آپ کے سامنے چھوڑ دی اور کہا) میں جب تک ایمان نہ لاؤں گا، جب تک یہ گوہ آپ پر ایمان نہ لائے۔ آپ نے گوہ سے خطاب کر کے فرمایا کہ بتلا میں کون ہوں؟ گوہ نے نہایت بلیغ عربی زبان میں جس کو ساری مجلس سمجھتی تھی، کہا لبیک و سعدیک یا رسول رب العالمین، یعنی ”اے رب العالمین کے سچے رسول میں حاضر ہوں اور آپ کی اطاعت کرتی ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ تو کس کی عبادت کرتی ہے؟ گوہ نے جواب دیا کہ اس ذات اقدس کی کہ آسمان میں اس کا عرش عظیم ہے۔ اور زمین پر اس کا قبضہ و سلطنت ہے۔ اور دریا میں اس کا بنایا ہوا راستہ ہے۔ اور جنت میں اس کی رحمت ہے اور دوزخ میں اس کا عذاب ہے۔ آپ نے فرمایا میں کون ہوں؟ گوہ نے جواب دیا کہ پروردگار عالم کے سچے رسول ہیں اور انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں (خصائص کبریٰ للسیوطی ص ۶۵ جلد ۲)
دراز گوش کی گواہی: ابن حبان و ابن عساکر حضرت ابن منظور اور ابو نعیم بوجه آخر حضرت معاذ بن جبل سے راوی ہیں جب خیبر فتح ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دراز گوش سیاہ رنگ دیکھا۔ اس سے کلام فرمایا، وہ جانور بھی تکلم میں آیا۔ ارشاد ہوا تیرا کیا نام ہے؟ عرض کی یزید بیٹا شہاب کا اللہ تعالیٰ نے میرے دادا کی نسل سے ساٹھ دراز گوش پیدا کئے۔ ان سب پر انبیاء سوار ہوئے۔ مجھے یقینی توقع تھی کہ حضور مجھے اپنی سواری سے مشرف فرمائیں گے کہ اب اس نسل میں سوا میرے اور انبیاء میں سوا حضور کے کوئی باقی نہیں، میں پہلے ایک یہودی کے پاس تھا۔ اسے قصداً گرا دیا کرتا۔ وہ مجھے بھوکا رکھتا اور مارتا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام یعفور رکھا۔ جسے بلانا چاہتے اسے بھیج دیتے، چوکھٹ پر سر مارتا۔ جب صاحب خانہ باہر آتا اسے اشارے سے بتاتا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم یاد فرماتے ہیں۔ جب حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال فرمایا وہ مفارقت کی تاب نہ لایا۔ ابو الہیثم بن التیہان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کنویں میں گر کے مر گیا۔
ہندو کی گواہی
ہوا ہے اور نہ ہو گا اب کوئی ہم سر محمد کا
(پیارے لعل رونق دہلوی)
سکھ کی گواہی
یہ فیض ہے ولادت ختمی مآب کا
(گوربخش سنگھ مخمور جالندھری)
- ختم نبوت کے باغی کہتے ہیں کہ نبوت رحمت خداوندی ہے۔ اگر نبوت بند ہو
گئی تو رحمت بند ہو گئی لہٰذا نبوت کا ختم ہونا رحمت نہیں بلکہ زحمت ہے۔ اس لئے اس رحمت کو جاری رکھنے کے لئے نبوت جاری ہے۔ ہم باغیان ختم نبوت سے کہتے ہیں کہ نبوت بہت بڑی رحمت خداوندی ہے۔ ہاں نبوت کی پہلی رحمت آدم علیہ السلام کی صورت میں آئی پھر یہ رحمت کبھی نوحؑ کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ کبھی ابراہیمؑ کی شکل میں، کبھی داؤدؑ کی شکل میں، کبھی موسیٰؑ کی شکل میں اور کبھی رحمت عیسیٰ علیہ السلام کی صورت میں تشریف لائی۔ لیکن یہ رحمتیں مخصوص مقامات اور مخصوص زمانوں کے لئے تھیں۔ ان میں کوئی بھی رحمت دائمی، ہمہ گیر اور عالمگیر نہ تھی۔ لیکن جب محبوب رب العالمین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم اس گلشن ہستی میں رونق افروز ہوئے تو مالک کائنات نے پوری کائنات کو مخاطب کر کے یہ مژدہ جان فزا سنا دیا۔
وما ارسلنک الا رحمتہ للعالمین
(ترجمہ) ”اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر تمام جہاں والوں کے لئے رحمت بنا کر“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو رب العزت نے سارے جہانوں اور سارے زمانوں کے لئے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔ اس کے ساتھ ہی رحمت کا سلسلہ جو ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا۔ تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ
وسلم کی عظیم شخصیت پر ختم ہو گیا اور رحمت اپنی تکمیل و معراج کو پہنچ گئی۔ اس کی مزید تفہیم کے لئے اس مثال کو دیکھئے۔ آسمان نبوت خالی پڑا تھا۔ نبوت کا کوئی بھی ستارہ ابھی آسمان نبوت پر چمکا نہیں تھا۔ نبوت کا پہلا ستارہ آدم علیہ السلام کی صورت میں چمکا، پھر نوح علیہ السلام کا ستارہ منور ہوا، پھر ابراہیم علیہ السلام کا ستارہ ضوفشاں ہوا، کہیں ہود علیہ السلام کا ستارہ ضیا بار ہوا، کہیں یعقوب علیہ السلام کا ستارہ جگمگانے لگا، کہیں عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا ستارہ تابندہ ہوا۔ ستارے آتے رہے اور اپنی اپنی روشنیاں بکھیرتے رہے۔ حتیٰ کہ آسمان نبوت ان ستاروں سے بھر گیا۔ مگر دنیا میں اجالا نہ ہوا، دن نہ نکلا۔ ابھی رات ہی رات تھی۔ پھر فاران کی چوٹیوں سے وہ آفتاب نبوت طلوع ہوا۔ جس کی ضیا بار کرنوں نے اندھیروں کے سینے چیر دیئے، کفر و شرک کے سائے چھٹ گئے، سحر کا سپیدہ نمودار ہوا اور یہ ظلمت کدہ کائنات بقعہ نور بن گئی۔ پھر آفتاب نبوت نے اعلان کر دیا کہ اب کسی ستارے سے روشنی لینے کی ضرورت نہیں۔ پوری دنیا کو روشن کرنے کے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں اور میں قیامت کی آخری شام تک روشن ہوں۔ مندرجہ بالا مثال سے ہر صاحب فہم یہ سمجھ گیا کہ جس طرح آفتاب کی موجودگی میں کسی ستارے سے روشنی لینے کی ضرورت نہیں اسی طرح خاتم النبیین محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی عالمگیر نبوت کی موجودگی میں کسی نبی کی نبوت کی ضرورت نہیں۔
- O فتنہ انکار ختم نبوت کے مبلغین و مقلدین کہتے ہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم کی نبوت پرانی اور فرسودہ ہو چکی۔ لہٰذا جدید پیدا شدہ مسائل کے حل کے لئے نئے نبی کا آنا ضروری تھا۔ سنت خیر الانام، عصر حاضر کے بے چین انسانوں کے سلگتے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لئے کافی نہیں۔ (نعوذ باللہ) اس عقیدہ باطل کو بیان کرتے ہوئے مرزائی کہتے ہیں ”نبی اکرمؐ کی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور، بوجہ تمدن کے نقص کے، نہ ہوا ورنہ قابلیت تھی۔ اب تمدن کی ترقی سے حضرت مسیح موعود کے ذریعے ان کا پورا ظہور ہوا“
(ریویو مئی ۱۹۲۲ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۲۶۶ اشاعت نہم مطبوعہ لاہور)
مزید زہر افشانی سنئے
”ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں (یعنی مکی بعثت میں) اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ اس روحانیت کی ترقیات کی انتہا نہ
تھا بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اسی روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی" (خطبہ الہامیہ ص ۱۷۷)
ان عقل کے اندھوں سے کوئی پوچھے کہ نبوت کے تمام مراتب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو چکے، نبوت اپنی تکمیل پر پہنچ گئی، دین مکمل ہو گیا۔ تم کون سی نبوت کی بات کرتے ہو؟ احمقوں کی کس جنت کے باسی ہو؟ تمہیں تو شیطان نے ریشمی دھاگوں سے بنے ہوئے دلفریب جال میں پھنسایا ہوا ہے۔ جاؤ عقل کے ناخن لو۔ اپنے قلب میں ایمان کی شمع فروزاں کرو اور تعصب و جہالت کی عینک اتار کر کلام اللہ اور کلام خاتم النبیینؐ کا مطالعہ کرو تو پھر تم لسان و قلب سے پکار اٹھو گے۔
اور جہاں تک تمہارے مسائل کا تعلق ہے تو جاؤ تمہیں چیلنج ہے۔ اپنے معاشی مسائل لے کر آؤ، اپنے معاشرتی مسائل لے کر آؤ، دنیا بھر کے مسائل کا پلندہ لے کر دوڑتے ہوئے آؤ اور آفتاب ختم نبوت کی روشنی میں پلک جھپکنے میں اپنے مسائل حل کر لو۔
طب و صحت کے میدانوں میں ساری زندگی سرگرداں رہنے والو! اگر دنیا کو صحت کی دولت سے مالا مال کرنا چاہتے ہو تو طب نبویؐ کا مطالعہ کرو۔
چاند پر پہنچنے اور مریخ کا عزم رکھنے والو! اگر خلائی سائنس پر عبور چاہتے ہو تو معراج النبیؐ کا مطالعہ کرو۔
معاشیات کے ماہرو! اگر خطہ ارضی پر بسنے والے انسانوں کو معاشی سکون دینا چاہتے ہو تو خاتم الانبیاءؐ کے نظام زکوۃ کو اپنا لو
عالمی عدالت کے ججو! اگر دنیا میں انصاف کا بول بالا کرنا چاہتے ہو تو مدینہ کے قاضی کی سیرت کو اپنا لو۔
لاشوں کے انبار اور سروں کے مینار تعمیر کرنے والے مغرور فاتحو! کیا تم نے فاتح مکہ کی جھکی ہوئی گردن کو نہ دیکھا؟
اولاد سے سختی کرنے والو اور رزق کے خوف سے اسے قتل کرنے والو! کیا تم نے مصطفیٰؐ کے لبوں کو حسینؓ کے رخساروں کو چومتے نہیں دیکھا؟
ماں سے گستاخانہ رویہ برتنے والو! کیا سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کو
ماں کے قدموں تلے نہیں بتایا؟ مزدوروں کے حقوق کے لئے صدائیں بلند کرنے والے لیڈرو! کیا تم نے رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے قبل ادا کرو؟
معاشرے میں یتیموں کے حقوق کی باتیں کرنے والو! کیا معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے یتیم سے شفقت کرنے والے کو جنت میں اپنی رفاقت کا مژدہ جاں فزا نہیں سنایا؟
غرضیکہ تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت تک کے لئے آنے والے انسانوں کو زندگی کے ہر ہر سلیقے سے آشنا کر دیا۔ زندگی کو مہد سے لحد تک علم کی روشنی سے منور کر دیا۔ اس دنیا کے باسیوں کو ہر زہر کے لئے تریاق فراہم کر دیا۔ آج بھی ختم نبوت کا آفتاب اپنی تابانیوں کے ساتھ روشن ہے اور ہم ہر گھڑی ہر لمحہ اس آفتاب عالم تاب سے روشنی حاصل کر سکتے ہیں۔
زندگی کی الجھنیں سلجھا گیا بطحا کا چاند
- ○ قادیانی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل
اطاعت کی وجہ سے نبوت ملی‘ اس نے سرور کائنات کی اتباع کا حق ادا کر دیا۔ وہ فنا فی الرسول تھا اور وہ نبوت کے راستے پر چلتے چلتے خود نبی بن گیا (نعوذ باللہ)
ان عیاروں‘ مکاروں‘ دغا بازوں اور جعلسازوں سے کوئی پوچھے کہ کیا حضرت ابو بکر صدیقؓ‘ حضرت عمر فاروقؓ‘ حضرت عثمان غنیؓ‘ حضرت علی المرتضیٰؓ‘ حضرت طلحہؓ‘ حضرت زبیرؓ‘ حضرت بلال حبشیؓ‘ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف‘ حضرت سلیمان فارسیؓ‘ حضرت ابو ہریرہؓ‘ حضرت خالد بن ولیدؓ‘ حضرت انسؓ‘ حضرت عباسؓ‘ حضرت ابو ذرؓ‘ حضرت جابرؓ‘ حضرت معاذ بن جبلؓ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود‘ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ‘ حضرت سعدؓ اور حضرت زید بن ثابتؓ ایسے جلیل القدر صحابہ کرام‘ امام بخاریؒ‘ امام مالکؒ‘ امام احمد بن حنبلؒ‘ امام ترمذیؒ‘ ابن ماجہؒ‘ طبرانیؒ‘ ابو نعیمؒ‘ ابن حبانؒ‘ ابن عساکرؒ‘ ابن جوزیؒ‘ حافظ ابن حجرؒ‘ طحاویؒ‘ اور نسائیؒ ایسے محدثین‘ ابن کثیرؒ علامہ زمخشریؒ‘ سید محمود آلوسی
”علامہ بغویؒ، امام رازیؒ، قاضی بیضاویؒ، علامہ جلال الدین سیوطیؒ، قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ اور علامہ اسماعیل حقیؒ ایسے مفسرین کتاب، چشتی اجمیریؒ، حضرت علی ہجویریؒ، بابا فرید گنج شکرؒ، حضرت میاں میرؒ، نظام الدین اولیاءؒ، قطب الدین بختیار کاکیؒ اور مجدد الف ثانیؒ ایسے اولیائے کرامؒ اور صوفیائے عظام نے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع نہیں کی؟
اطاعت کی تو تمہارے بناسپتی نبی مرزائے قادیانی نے جس نے فرنگی کی گود میں بیٹھ کر نبوت کا ڈرامہ رچایا، دین اسلام کی اتاری قبا پہننے کی ناپاک جسارت کی۔ قرآنی آیات میں تحریف کے جھکڑ چلائے، احادیث رسولؐ کو اپنے غلیظ قلم سے مسخ کیا، شعائر اللہ کو ابلیسی بلڈوزروں سے کچل ڈالا، اپنی زہریلی زبان سے جہاد کو حرام قرار دے دیا۔ دشمن اسلام فرنگی کی اطاعت کو فرض قرار دے دیا اور پوری امت مسلمہ کی اجلی پیشانی پر کفر کا ٹھپہ لگا دیا۔
قفس ارتداد کے اسیر قادیانیو! تمہارے انگریزی برانڈ نبی کی اطاعت کا یہ عالم کہ وہ عورتوں سے منہ کالا کرتا تھا، افیون کھاتا تھا، شراب کے جام لنڈھاتا تھا، بے تحاشا گالیاں بکتا تھا۔ مریدوں کا چندہ ہڑپ کر کے بیوی کے زیورات بناتا تھا۔ حیا سوز شاعری کرتا تھا، محمدی بیگم سے شادی رچانے کے لئے غلیظ خط و کتابت کرتا تھا اور مسلمانوں کو رسولِ رحمت کے دین سے ہٹا کر انہیں مرتد بنا کر جہنم کے گڑھے میں پھینکتا تھا۔ کیا یہی اطاعت ہے؟ کیا یہی اتباع ہے؟ کیا یہی پیروی ہے؟ ع
جھوٹی نبوت کے فریب خوردہ انسانو! نبوت ایک عطائی اور وہبی گوہر ہے۔ کوئی شخص اطاعت، اتباع، عبادت، ریاضت، محنت اور لیاقت کے ذریعے منصب نبوت پر فائز نہیں ہو سکتا، اگر نبوت ان اوصاف کے حصول سے ملتی ہوتی تو ابوبکرؓ کا کون ثانی تھا۔ عمرؓ کا کون ہمسر تھا، عثمان کا کون مثیل تھا، علیؓ کا کون مقابل تھا اور دیگر صحابہؓ ان اوصاف میں کتنے ممتاز تھے؟ لیکن ان میں سے کسی نے دعویٰ نبوت نہ کیا بلکہ ہمیشہ خاتم النبیینؐ کی ختم نبوت کا اعلان اور تحفظ کیا اور اس عقیدہ کی عصمت پر ڈاکہ ڈالنے والوں کی سرکوبی کی اور اس راہ میں کبھی بھی کسی قربانی سے دریغ نہ کیا۔
نہ ہماری بزم خیال میں نہ دکان آئینہ ساز میں
قادیانی اپنی دجل و فریب کی زبان استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی ظلی اور بروزی نبی ہے اور وہ نبیؐ اکرم کا بروز ہے تاریخ انبیاء شاہد ہے کہ مالک کائنات نے اہل کائنات کی رشد و ہدایت کے لئے تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام کو اس خاکدان ارضی پر مبعوث فرمایا۔ ان سارے نبیوں میں سے کوئی بھی کسی کا ظل یا بروز نہیں تھا اور نہ ہی دین اسلام میں ظل اور بروز کا کوئی تصور ہے۔ عیار مرزا قادیانی نے یہ تصور ہندوؤں سے مستعار لیا۔ ہم قادیانیوں سے سوال کرتے ہیں کہ بتاؤ دنیا کے کس گوشے اور معاشرے میں ظل و بروز کے عقیدے کو عملی حیثیت حاصل ہے؟ کتنے لوگ بروزی زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں کس کا بروز تسلیم کیا جا رہا ہے؟
قادیانیو! ذرا توجہ دینا‘ اگر کوئی عورت اپنے گھر میں کام کاج میں مصروف ہے دروازے پر کوئی شخص دستک دیتا ہے۔ عورت دروازے کے قریب جا کر پوچھتی ہے کون؟ وہ شخص جواب دیتا ہے میں تیرا بروزی خاوند ہوں۔ بتاؤ اس شخص کی کیسی ”چھترول“ ہو گی؟ اگر کوئی نوجوان کسی گاڑی میں سفر کر رہا ہو۔ سامنے کی نشست پر کوئی بوڑھا آدمی آکر بیٹھ جائے اور نوجوان سے کہے بیٹا! مجھے پانچ سو روپیہ دے۔ نوجوان سوال کرے کہ جناب میں تو آپ کو جانتا ہی نہیں۔ بوڑھا پلٹ کر بولے بیٹا! کمال کرتے ہو تم بھی‘ تم مجھے جانتے ہی نہیں‘ میں تمہارا بروزی ابا ہوں۔ بتائیے نوجوان کے جذبات کا کیا عالم ہو گا اور اس کی غیرت اس بوڑھے سے کیا سلوک کرے گی؟
اگر ہمارے معاشرے میں ظل و بروز کا چکر چل جائے تو پورا معاشرہ جہنم بن جائے اور معاشرتی زندگی تباہ و برباد ہو جائے۔ ملک کا نظام تلپٹ ہو جائے۔ کوئی بروزی صدر بن جائے کوئی بروزی وزیراعظم بن جائے‘ کوئی بروزی کمشنر بن جائے‘ کوئی بروزی سفیر بن جائے‘ کوئی بروزی مشیر بن جائے‘ کوئی بروزی ایم۔ این۔ اے بن جائے اور کوئی بروزی ایس پی بن جائے وغیرہم۔ کیا ان لوگوں کی کوئی سرکاری یا عملی حیثیت ہو گی؟ یہ تو بہت بڑے عہدوں کا تذکرہ ہے۔ اگر کوئی خاکروب کارپوریشن کے دفتر میں آکر کہے کہ جناب! آج خاکروب ”مہنگا مسیح“ نہیں آیا اور وہ پورا ایک مہینہ نہیں آئے گا۔ میں
”سستا مسیح“ اس کا بروز ہوں اور میں اس کی جگہ پورا مہینہ کام کروں گا اور اس کی تنخواہ بھی وصول کروں گا۔ یقینی بات ہے کہ کارپوریشن آفیسر اسے فوراً تھانے یا پاگل خانے بھجوائے گا۔ اگر کوئی چوہڑا کسی چوہڑے کا بروز نہیں ہو سکتا تو چوہڑوں کا ”چوہڑا“ مرزا قادیانی مردود کس طرح سید الاولین و آخرین جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ہو سکتا ہے؟ اگر وہ چوہڑا تھانے یا پاگل خانے جانے کا مستحق ہے تو یہ ”سپر چوہڑا“ بھی تھانے یا پاگل خانے جانے کا سزاوار ہے۔
- ○ قادیانی کہتے ہیں کہ خاتم کے معنی ”مہر“ سے یہ مراد ہے کہ نبی اکرمؐ کی مہر
نبوت لگانے سے نبی بنتے ہیں لیکن عقل کے مارے اور نصیبوں کے ہارے قادیانیوں کو سوچنا چاہئے کہ حضورؐ تو خاتم النبیین ہیں اور النبیین تو جمع ہے اور اس سے یہ معنی لینے چاہئیں کہ نبی پاکؐ کی مہر سے بہت سے نبی بنتے ہیں اور یہاں صدیوں کی مسافت کے بعد مہر نبوت سے ایک ہی نبی ”مسٹر گاماں“ معرض وجود میں آیا!! الامان والحفیظ۔
سب پہ سبقت لے گئی بے حیائی آپ کی
- ○ قادیانی سوال اٹھاتے ہیں کہ جب قرب قیامت عیسیٰ علیہ السلام نزول
فرمائیں گے تو اس وقت عقیدہ ختم نبوت پر زد پڑے گی کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تشریف لائیں گے۔
جواباً عرض ہے کہ عقیدہ ختم نبوت کا مفہوم یہ ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی بھی نبی پیدا نہیں ہو گا۔ جناب عیسیٰ علیہ السلام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل پیدا ہوئے اور ان کی نبوت کا زمانہ آپؐ سے پہلے کا ہے۔ اس کے بعد رب العزت نے انہیں زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا۔ قرب قیامت‘ دجال کے قتل اور اسلام کی تبلیغ کے لئے دوبارہ تشریف لائیں گے لیکن اپنی شریعت لے کر نہیں بلکہ شریعت محمدیؐ کے تابع ہو کر‘ اپنی نبوت کے تحت نہیں بلکہ نبوت محمدیؐ کے تحت!! علماء نے لکھا ہے کہ ساری کائنات کے انسانوں کا آخرت میں صرف ایک دفعہ حساب ہو گا لیکن عیسیٰ علیہ السلام کا دو دفعہ حساب ہو گا ایک دفعہ نبی ہونے کی حیثیت سے‘ دوسری مرتبہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کی حیثیت سے! اس گفتگو سے ہر صاحب عقل
سمجھ سکتا ہے عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے عقیدہ ختم نبوت پر کوئی آنچ نہیں آتی۔
- قادیانیوں کے لاہوری گروپ نے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے ایک
عجیب ڈرامہ رچا رکھا ہے۔ وہ اپنی دجالی زبان استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم مرزا قادیانی کو نبی و رسول نہیں بلکہ مجدد و امام مہدی مانتے ہیں (حالانکہ یہ بھی پرلے درجے کا کفر ہے۔ کیونکہ جو شخص مدعی نبوت ہو، اسے مجدد یا امام مہدی تو کجا، مسلمان ماننا بھی کفر ہے) ہم ان سے پوچھتے ہیں اے ماہرین دجل و فریب! کیا تمہیں مرزا قادیانی کی کتابوں میں بار بار اس کا اعلان نبوت نظر نہیں آتا۔ اگر تمہیں نظر نہیں آتا تو وہ ہم دکھائے دیتے ہیں مرزا قادیانی اعلان کر رہا ہے۔
- ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا“ (دافع البلاء ص ۱۱
مصنفہ مرزا قادیانی)
- ”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ کہ اس
نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔ اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے جو تین لاکھ تک پہنچے ہیں“ (تتمہ حقیقت الوحی ص ۶۸)
- ”اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راست باز مقدس نبی گزر
چکے ہیں، ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں، سو وہ میں ہوں“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۹۰۔ مباحثہ راولپنڈی ص ۱۴۵)
- ”حق یہ ہے کہ خدا کی وہ پاک وحی جو میرے اوپر نازل ہوتی ہے اس میں
ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ کہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ“ (براہین احمدیہ ص ۴۹۸)
- ”میں کوئی نیا نبی نہیں مجھ سے پہلے سینکڑوں نبی آچکے ہیں۔ (الحکم ۱۰ اپریل
۱۹۰۸ء از مباحثہ راولپنڈی ص ۱۳۳)
اب بتاؤ! کیا سوچ ہے؟ کیا فکر ہے؟ آئندہ کیا لائحہ عمل ہے؟
قادیانیو! قادیانیت کے گندے جوہڑ کو چھوڑ کر اسلام کے چشمہ صافی پر آجاؤ، تم نے ارتداد کی جھاڑیوں میں پھنس کر اپنے دامن کو تار تار کیا ہے۔ آؤ! ایمان کے
دھاگوں سے اسے رفو کر لو۔ ندامت کے چند آنسو بہا کر اپنے گناہوں کی سیاہی دھو لو۔ ارتداد کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ٹھوکریں نہ کھاؤ۔ آؤ! قرآن کے آفتاب اور نبوت کے مہتاب کی روشنی میں صراط مستقیم پر گامزن ہو جاؤ۔ کیوں جھوٹی نبوت کی بادِ صرصر میں جھلس رہے ہو اسلام کی بادِ صبا تمہارا انتظار کر رہی ہے۔ لا نبی بعدی کا نعرہ مستانہ لگا کر جھوٹی نبوت کی آہنی زنجیریں توڑ دو۔ جعلی نبی اور جعلی نبوت کے منحوس چہروں پر زناٹے دار تھپڑ رسید کر دو۔
ختم نبوت کے باغیو! زندگی کے چند ایام باقی ہیں، درِ توبہ کھلا ہے۔۔۔۔ تمہارا رحمان و رحیم رب تمہیں بلا رہا ہے۔۔۔۔ اپنے رب کی بات سن لو۔۔۔۔ قرآن تمہیں رشد و ہدایت کی روشنی دینے کے لئے پکار رہا ہے۔۔۔۔ خدارا! قرآن کی پکار سن لو۔۔۔۔ جناب خاتم النبیینؐ تمہیں جنت کے لئے صدائیں دے رہے ہیں۔۔۔۔ خدارا ان کی صدائے رحمت پر گوش ہوش رکھ دو۔۔۔۔ وقت تمہیں لپک لپک کے اور جھنجھوڑ جھنجھوڑ کے دہائی دے رہا ہے۔
ذرا میخانہ ”محمدؐ“ سے اک جام پیتا جا
- ○ تمام نبیوں نے اپنے بعد آنے والے نبیوں کے بارے میں پیش گوئیاں کیں
لیکن جب رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپؐ نے کسی نئے نبی کے آنے کی پیش گوئی نہ کی بلکہ اعلان فرمایا —— انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
- ○ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین کہا، خاتم المرسلین
نہیں کہ مبادا اس کا مطلب کوئی یوں لے کہ رسالت ختم ہو گئی اور نبوت ختم نہیں ہوئی کیونکہ ہر نبی رسول نہیں ہوتا اور ہر رسول نبی ضرور ہوتا ہے۔ خاتم النبیین میں ”النبیین“ رسول اور نبی دونوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ لہٰذا آپ کی ذات اقدس پر نبوت و رسالت دونوں ختم ہو گئیں۔
- ○ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم اول النبیین بھی ہیں اور آخر النبیین بھی
کیونکہ عالم ارواح میں سب سے پہلے منصب نبوت آپ کو عطا کیا گیا اور بعثت میں سب سے آخر میں۔
آپ کی ہستی مبارک پر نبوت ختم ہوئی تو نبوت کے سارے کمالات آپ پر ختم ہو گئے جملہ انبیائے کرام کو جزوی طور پر جو کمالات نبوت ملے تھے‘ وہ آپؐ کو کلی طور پر عطا کر دیئے گئے۔
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
- قانون فطرت ہے کہ ہر چیز کی ایک ابتداء ہوتی ہے اور ایک انتہا‘ نبوت کی
ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی اور انتہا جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر اور انتہا کے بعد کوئی گنجائش باقی نہیں رہا کرتی۔
- بعثت محمدیؐ سے پہلے خدا تک پہنچنے کے بہت سے دروازے تھے۔ یہ آدمؑ کا
دروازہ ہے‘ اس سے داخل ہو جائیے‘ خدا کا قرب مل جائے گا۔ یہ نوحؑ کا دروازہ ہے‘ اس سے داخل ہو جائیے‘ اللہ تک رسائی ہو جائے گی۔ یہ ابراہیمؑ کا دروازہ ہے‘ اس سے داخل ہو جائیے‘ خدا مل جائے گا۔ یہ موسیٰؑ کا دروازہ ہے‘ اس سے داخل ہو جائیے‘ خدا مل جائے گا یہ عیسیٰؑ کا دروازہ ہے‘ اس سے داخل ہو جائیے‘ اللہ کی معرفت نصیب ہو جائے گی‘ یہ عیسیٰؑ کا دروازہ ہے‘ مالک سے رابطہ ہو جائے گا۔ لیکن جب بعثت محمدیؐ ہو گئی تو یہ سارے چھوٹے چھوٹے دروازے بند کر دیئے گئے اور نبوت محمدیؐ کا ”مین گیٹ“ کھول دیا گیا اور رب ذوالجلال نے یہ اعلان کر دیا اب جو بھی مجھ تک پہنچنا چاہتا ہے‘ اسے ”مین گیٹ“ سے گزر کے آنا ہو گا۔
- جس طرح ہر مسلمان کا ایک جسمانی باپ ہے اسی طرح ہر مسلمان کا ایک
روحانی باپ ہے۔ جس کے جوتوں کی خاک کے ذروں پر جسمانی باپ کو قربان کیا جا سکتا ہے اس روحانی باپ کا نام نامی اسم گرامی ”محمدؐ“ ہے اگر کوئی شخص دوسرے جسمانی باپ کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ اپنی ماں کی عصمت کے سفینے کو اپنے ہاتھوں سے غرق کرتا ہے اور اگر کوئی دوسرے روحانی باپ کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ اپنے ایمان کی کشتی کو اپنے ہاتھوں سے ڈبو دیتا ہے لہٰذا جس طرح کسی مسلمان کا دوسرا جسمانی باپ نہیں ہو سکتا‘ اسی طرح کسی مسلمان کا دوسرا روحانی باپ (نبیؐ) نہیں ہو سکتا۔
تاجدارِ ختمِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت ختم نبوت نے پوری امت کو
وحدت کی لڑی میں پرو رکھا ہے اور اس لڑی کے موتی مومنین کہلاتے ہیں۔ ختم نبوت کی وجہ سے آج اسلامی برادری عالمگیر برادری ہے‘ ختم نبوت کی بدولت سب کے رہبر و رہنما محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں‘ ختم نبوت کے طفیل قرآن سب کا امام ہے‘ ختم نبوت کی برکت سے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سب کا کلمہ ہے‘ ختم نبوت کی رحمت سے بیت اللہ سب کا قبلہ ہے۔ اگر نبوت کا دروازہ کھلا رہتا تو امت چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں بٹ جاتی لہٰذا رب رحیم‘ نبوت کا باب بند کر کے اور رحمۃ العالمینؐ کو مبعوث فرما کر اہل دنیا کو بے پایاں رحمت سے نوازا ہے۔
درود انکا‘ کلام انکا‘ پیام انکا‘ قیام ان کا
کائنات کے باسیو! رب رحیم و کریم نے تمہیں ایسا رسولِ اعظم عطا کر دیا جس کے بعد کسی رسولؐ کی ضرورت نہیں۔ وہ ایسی کتاب لے کے آیا جس کے بعد انسانیت کو کسی کتاب کی احتیاج نہیں۔ وہ ایسی شریعت لے کے آیا جس کے بعد انسانیت کسی شریعت کی محتاج نہیں۔ وہ ایسا نظام لے کے آیا جس کے سوا کسی نظام کو دوام نہیں۔ اس کا وجود چراغ فروزاں جو تیرہ و تار شبوں میں روشنیاں پھیلائے۔ اس کی ہستی وہ ابر رحمت جو بحر و بر‘ کوہ و دمن‘ نشیب و فراز سب پر حیات بخش پانی کی بارش برسائے۔ اس کا جسم اطہر وہ خوشبو جو سارے عالم کے دماغوں کو مہکائے۔ اس کا سراپا وہ چشمہ شیریں جس سے ہر پیاسہ اپنی تشنگی بجھائے‘ اس کی ذات وہ بہار جو دلوں کی وادیوں میں ایمان کے پھول کھلائے اور اس کی شخصیت ”معلم اعظم“ جو تمام زمانوں کے انسانوں کو تمام علوم پڑھائے اور انسانیت کو علم کے نور سے جگمگائے۔
تو آؤ اس گلشن ہستی کے رہاشیو! اس محسن انسانیت‘ قائد انسانیت‘ فخر انسانیت اور باعث تخلیق انسانیت کے حضور نہایت ادب و احترام کے ساتھ زبان‘ دہن و دل سے ہدیہ تبریک پیش کریں۔
محمدؐ کہ حامد بھی محمود بھی محمدؐ کہ شاہد بھی مشہود بھی
محمدؐ سراج و محمدؐ منیر محمدؐ بشیر و محمدؐ نذیر
محمدؐ کلیم و محمدؐ کلام محمدؐ پہ لاکھوں درود و سلام
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّيْنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ (الحديث)
چہرۂ قادیانیت
اِس چہرے کو پڑھیئے ، چشمانِ دل و دماغ سے پڑھیئے ، پھر فکر کی
اتھاہ گہرائیوں میں اُتر کر سوچیئے جس ملک میں باغیانِ ختمِ نبوت کے
یہ جگر شکن عقائد چل رہے ہوں اور اُن کی تبلیغ و تشہیر ہو رہی ہو، کیا
وہ ملک اسلامی ہے ؟
اور ان رُوح فرسا عقائد کو سُن کر خاموش رہنے والے لوگ
مسلمان ہیں ؟
قادیانیت کیا ہے؟ قادیانیت محمد عربی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بغاوت کا نام ہے۔ قادیانیت سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف بغض و عناد کا ایک دہکتا ہوا آتش فشاں ہے۔ قادیانیت شافع محشر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ختم نبوت پر ڈاکہ زنی اور قزاقی کا نام ہے۔ قادیانیت جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سچی اور پکی نبوت کے متوازی مرزا قادیانی کی مکروہ انگریزی نبوت کا نام ہے۔ قادیانیت ' یہودیت کا دوسرا نام ہے اور بقول علامہ اقبال ”قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے۔“ قادیانیت مسیلمہ کذاب کے غلیظ اور پلید مشن کا نجس اور منحوس نام ہے۔
فتنہ قادیانیت کے بانی مرزا قادیانی ' جہنم مکانی ' نسل شیطانی نے ۱۹۰۱ء میں اشارہ فرنگی پر نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا۔ بھارت کے صوبہ مشرقی پنجاب کے ضلع گورداسپور کی تحصیل بٹالہ کے ایک چھوٹے اور غیر معروف گاؤں ”قادیان“ کے رہنے والے اس کذاب نے ایک ہی جست میں صرف نبوت کا دعویٰ ہی نہیں کیا بلکہ یہ بدبخت کبھی عالم کے روپ میں سامنے آیا۔ کبھی ایک سازش کے تحت عیسائیوں سے مناظرے کر کے ایک مناظر کی شکل میں روشناس ہوتا رہا۔ اور سادہ لوح مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کرتا رہا۔ کبھی دجل و فریب سے پر کتابیں لکھ کر خود کو ایک مصنف کی حیثیت سے متعارف کرواتا رہا۔ کبھی اپنی تعلیمات کے اشتہارات شائع کر کے سستی شہرت حاصل کرتا رہا۔ کبھی اپنے آپ کو مجدد کہا۔ کبھی مامور من اللہ بنا۔ کبھی ملہم بنا۔ کبھی خود کو محدث کہا۔ کبھی اپنے آپ کو امام زماں لکھا۔ کہیں مہدی کا بہروپ اختیار کیا۔ کبھی مسیح موعود ہونے کا اعلان کیا۔ کبھی ظلی و بروزی نبی بنا۔ کبھی ظلی طور پر محمد رسول اللہ بنا اور آخر ۱۹۰۱ء میں تمام حدود پھلانگتے ہوئے اپنی نبوت و رسالت کا اعلان کر دیا۔ رسالت کا اعلان کر دیا۔
مرزا قادیانی اور اس کی امت خبیثہ کے عقائد باطلہ ملاحظہ فرمائیں کہ ان قزاقوں نے کس طرح شعائر اور اصطلاحات اسلامی کو مسخ کرنے کی ناپاک جسارت کی ہے ان کے نزدیک۔
- □ مرزا قادیانی "خدا کا برگزیدہ نبی اور رسول" (نعوذ باللہ)
- □ مرزا قادیانی کی باتیں "احادیث" (نعوذ باللہ)
- □ مرزا قادیانی کا خاندان "اہل بیت" (نعوذ باللہ)
- □ مرزا قادیانی کا بیٹا بشیر احمد ایم اے "قمر الانبیاء و فخر المرسلین" (نعوذ باللہ)
- □ مرزا قادیانی کی بیٹی "سیدۃ النساء" (نعوذ باللہ)
- □ مرزا قادیانی کی بیویاں "امہات المومنین" (نعوذ باللہ)
- □ مرزا قادیانی کے ساتھی "صحابہ کرام" (نعوذ باللہ)
- □ مرزا قادیانی کا شہر "مدینۃ المسیح" (نعوذ باللہ)
- □ مرزا قادیانی کی امت "مسلمان" (نعوذ باللہ)
- □ مرزا قادیانی کے جانشین "خلفائے راشدین کی طرز پر خلفاء" (معاذ اللہ)
- □ مرزا قادیانی کی عبادت گاہ "مسجد اقصیٰ" (نعوذ باللہ)
- □ مرزا قادیانی کا قبرستان "جنت البقیع کے مقابلے میں بہشتی مقبرہ" (نعوذ باللہ)
- □ مرزا قادیانی کے ۳۱۳ گماشتے "اصحاب بدر" (نعوذ باللہ)
قادیانی کلمہ...... قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں محمد رسول اللہ سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے۔ ”مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی خود محمد رسول اللہ ہیں جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ تشریف لائے۔ اس لئے ہم مرزائیوں کو کسی نئے کلمے کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔“ (نعوذ باللہ) (کلمۃ الفضل ص ۱۵۸ مندرجہ ریویو آف ریلیجنز بابت مارچ / اپریل ۱۹۱۵ء)
مرزا قادیانی کی شان..... قادیانی عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی کی ٹھیک وہی شان‘ وہی نام‘ وہی رتبہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تھا۔ (نعوذ باللہ) (اخبار الفضل ۱۶ ستمبر ۱۹۱۵ء قادیانی مذہب ص ۲۷۵)
تمام انسانوں کے لئے نبی اور رسول..... قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ چودھویں صدی کے تمام انسانوں کے لئے نبی اور رسول مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ (نعوذ باللہ) (تذکرہ ص ۳۶۰، طبع دوم))
مرزا رحمۃ للعالمین ہے..... قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ رحمۃ للعالمین مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ (نعوذ باللہ) (تذکرہ ص ۸۳، طبع دوم)
وہ سید الاولین اور آخرین ہے..... مرزائی اخبار الفضل مورخہ ۲۶ ستمبر ۱۹۱۵ء کی اشاعت میں لکھتا ہے کہ وہ مرزا وہی ختم المرسلین تھا۔ وہی فخر الاولین و آخرین ہے۔ جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا۔ (نعوذ باللہ) (قادیانی مذہب ص ۲۶۲)
مرزا قادیانی باعث تخلیق کائنات ہے..... قادیانی عقیدہ ہے کہ آسمان و زمین اور تمام کائنات کو صرف اور صرف مرزا قادیانی کی خاطر پیدا کیا گیا۔ (نعوذ باللہ) (حقیقۃ الوحی ص ۹۹)
مرزا قادیانی کی روحانیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ تھی..... قادیانی عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ روحانی ترقیات کی طرف پہلا قدم تھا اور مرزا قادیانی کے زمانے میں روحانیت کی پوری تجلی ہوئی۔ (نعوذ باللہ) (خطبۃ الہامیہ ص ۱۷۷، طبع اول)
مرزا قادیانی کا تخت سب سے اونچا تھا..... قادیانی عقیدہ ہے کہ آسمان سے بہت سے تخت اترے لیکن مرزا قادیانی کا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔ (نعوذ باللہ) (حقیقۃ الوحی ص ۸۹)
مرزا قادیانی کو بڑی فتح نصیب ہوئی..... قادیانی عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چھوٹی فتح نصیب ہوئی تھی اور بڑی یعنی فتح مبین مرزا قادیانی کو ہوئی۔ (نعوذ باللہ) (خطبۃ الہامیہ ص ۱۹۳)
مرزا قادیانی کا اسلام افضل ہے..... قادیانی عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کا اسلام پہلی رات کے چاند کی طرح ناقص اور بے نور تھا اور مرزا قادیانی کے زمانے کا اسلام چودھویں رات کے چاند کی طرح تاباں اور درخشاں ہے۔ (نعوذ
باللہ) (خطبہ الہامیہ ص ۹۳ طبع اول)
مرزا قادیانی کے معجزے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ ہیں
قادیانی عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات تین ہزار تھے (تحفہ گولڑویہ ص ۴۰) اور مرزا قادیانی کے معجزے تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔ (نعوذ باللہ) (”حقیقتہ الوحی“ ص ۶۷)
مرزا قادیانی ذہنی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے افضل ہے
قادیانی عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی کا ذہنی ارتقاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ ہے (نعوذ باللہ) (ریویو مئی ۱۹۲۹ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۲۴۱)
- ٭ مرزا قادیانی کی روحانیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلیٰ ہے۔
قادیانی عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی کی روحانیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اقویٰ، اکمل اور اشد ہے (”خطبہ الہامیہ“ ص ۱۸۱)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرزا قادیانی کی شکل میں دوبارہ تشریف لائے ہیں..... قادیانی عقیدہ ہے کہ
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(نعوذ باللہ)
(اخبار ”بدر“ قادیان جلد نمبر ۴۲ مورخہ ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء)
نبیوں سے مرزا قادیانی کی بیعت کا عہد..... قادیانی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک ہر ایک نبی سے مرزا قادیانی پر ایمان لانے اور اس کی بیعت و نصرت کا عہد لیا تھا۔ (نعوذ باللہ)
(اخبار ”الفضل“ ۲۶ فروری ۱۹۲۴ء، ”قادیانی مذہب“ ص ۳۲۰)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی باعث نجات نہیں..... قادیانی عقیدہ ہے کہ اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی باعث نجات نہیں بلکہ صرف مرزا قادیانی کی پیروی سے نجات ہوگی۔ (نعوذ باللہ)
(”اربعین“ نمبر ۴‘ ص ۷ حاشیہ)
ہر انسان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے۔۔۔۔۔ قادیانی عقیدہ ہے کہ یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے۔
(نعوذ باللہ) (ڈائری مرزا محمود ابن مرزا قادیانی۔ اخبار ”الفضل“ ۱۷ جولائی ۱۹۲۲ء)
مرزا قادیانی جو چاہے کر سکتا ہے۔۔۔۔۔ قادیانی عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ مرزا قادیانی کے حکم سے فی الفور ہو جاتی ہے۔ (نعوذ باللہ) (تذکرہ ص ۵۲۵‘ ۶۵۲‘ ۸۲۶۔ ”حقیقتہ الوحی“ ص ۱۰۵)
قادیان کی برکتیں۔۔۔۔۔ قادیانی عقیدہ ہے کہ قادیان کی زمین پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔ (نعوذ باللہ) (بیان میاں محمود احمد ابن مرزا قادیانی۔ اخبار الفضل ۱۱ ستمبر ۱۹۳۲ء)
قادیان کا حج۔۔۔۔۔ قادیانی عقیدہ ہے کہ قادیان آنا نفلی حج ہے اور اب مکے والا حج خشک ہو گیا ہے۔ کیونکہ آج کل مکہ میں حج کے مقاصد پورے نہیں ہوتے۔ (نعوذ باللہ)
(”قادیانی مذہب“ ص ۳۶۲) (پیغام صلح ۱۹ اپریل ۱۹۳۳ء)
مرزا قادیانی نے تمام کمالات محمدیؐ حاصل کر لئے۔۔۔۔۔ قادیانی عقیدہ ہے کہ ہر ایک نبی کو اپنی استعداد اور کام کے مطابق کمالات حاصل ہوتے تھے کسی کو زیادہ کسی کو کم۔ مگر مسیح موعود کو اس وقت نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہؐ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا۔ (نعوذ باللہ) (کلمتہ الفصل ص ۱۱۳ مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
نبیؐ پاک نے مرزا قادیانی کو نبی اللہ کے نام سے پکارا!۔۔۔۔۔ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ مسیح موعود اللہ تعالیٰ کا ایک رسول اور نبی تھا جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نبی اللہ کے نام سے پکارا اور وہی نبی تھا جس کو خود اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی میں یا ایھا النبی کے الفاظ سے مخاطب کیا۔ (معاذ اللہ)
(”کلمتہ الفصل“ ص ۱۱۴‘ مصنف مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
یہ ہیں قادیانیوں کے وہ کفریہ عقائد جنہیں پڑھ کر رگوں میں خون کھولنے لگتا ہے اور ہر پڑھنے والا مسلمان غم و غصہ کا ایک مجسم طوفان بن جاتا ہے اور اس کے دل میں
قادیانیت کا سر کچلنے کا جذبہ جہاد جوش مارنے لگتا ہے۔
مسلمانو! اٹھو! خواب غفلت سے اٹھو!!..... مرزا قادیانی کی اسلام دشمن اولاد اپنے مرتد باپ کی فتنہ ارتداد کی بھڑکائی ہوئی آگ کو پھر ہوا دے رہی ہے۔ قادیانیت کی آندھیاں چراغ ختم نبوت کو گل کرنے کے لئے چل رہی ہیں۔ مرزا قادیانی کا برپا کردہ فتنہ ارتداد شجر اسلام کو (معاذ اللہ) جڑوں سے اکھاڑ دینا چاہتا ہے۔ جھوٹی نبوت کا اژدھا ہماری نئی نسل کے ایمانوں کو نگلنے کے لئے بڑھا چلا آرہا ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں مرزا قادیانی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جگہ متعارف کروایا جا رہا ہے۔ کلمہ طیبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جگہ مرزا قادیانی کا نام استعمال کیا جا رہا ہے۔
اب سوچنے کا مقام ہے کہ وہ کون سا مسلمان ہے جو روح کو تڑپا دینے اور دل کو ہلا دینے والے ان حالات میں آنکھیں بند کر کے بیٹھا رہے۔ وہ کون سا مسلمان ہے جو رسول برحق صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین تو سنے لیکن ہاتھ پاؤں توڑ کر اور لبوں پر مہر سکوت لگا کر بیٹھا رہے؟۔
مسلمانو اٹھو!..... رسول رحمت کا کلمہ پڑھنے والو اٹھو! ناموس محبوب رب العالمین کا تحفظ کرو۔ تاج و تخت ختم نبوت کی چوکیداری کرو۔ قادیانیوں کی زبان بے لگام کو لگام دو۔ ختم نبوت کا عالم گیر پیغام، عالم میں پہنچا دو اپنے بچوں کو زیور تعلیم ختم نبوت سے آراستہ کرو۔ اپنے حلقہ احباب میں مسئلہ ختم نبوت کو اچھی طرح متعارف کراؤ تاکہ کسی کی متاع ایمان نہ لٹ سکے اور کوئی بھی قادیانیوں کے دام ہمرنگ زمین میں نہ پھنس سکے۔
اے اہل اسلام! سنو گوش ہوش سے سنو! قادیانیوں کا ڈائریکٹ ٹکراؤ ہماری آنکھوں کے نور، دلوں کے سرور جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات اقدس سے ہے۔ ان کا واحد مقصد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کو مٹا کر مرزا قادیانی کی نبوت کو چلانا (نعوذ باللہ) اور تاج ختم نبوت مرزا قادیانی کے سر پر رکھنا ہے۔ (استغفر اللہ، العیاذ باللہ) اور کوئی بھی گنہگار مسلمان اس ناپاک جسارت کو برداشت نہیں کر سکتا۔ اور جو بھی مسلمان ختم نبوت کے اس جہاد میں شریک ہے، وہ جناب خاتم النبیین صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم کی ختم نبوت کا سپاہی ہے اور ہادی برحق صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ”دنیا میں جو شخص جس کے ساتھ محبت کرتا ہو گا۔ قیامت کے روز اسی کے ساتھ ہو گا“۔
اس حدیث کو مدار نجات سمجھتے ہوئے چاہئے کہ ہم اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ختم نبوت کا دفاع کر کے سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا تعلق پیدا کر لیں۔ تاکہ حشر کے روز آمنہ کے لال سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جھنڈے تلے ہوں۔ (آمین ثم آمین)
مسلمانو! زندگی کا بھروسہ نہیں۔ معلوم نہیں یہ کاروان زیست کب لٹ جائے۔ پتہ نہیں یہ سفینہ حیات کب موت کے گہرے پانیوں میں غرق ہو جائے۔ کون جانتا ہے کب عزرائیل کی آمد ہو اور ہمارا یہ گلشن ہستی اجڑ جائے اور دنیا کی محبت میں ہمارے دلوں میں آباد آرزوؤں اور تمناؤں کے سینکڑوں تاج محل منہدم ہو جائیں۔
اے فرزندان توحید! اگر قبر کی تاریک کوٹھڑی میں آقائے نامدار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پہچان چاہتے ہو تو ختم نبوت کے لئے کام کرو۔
- ☆ اگر حشر کی ہولناک و خوفناک گھڑیوں میں شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت
چاہتے ہو تو تاج و تخت ختم نبوت کی نگہبانی کرو۔
اگر ساقی کوثر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھوں جام کوثر پینا چاہتے ہو تو ناموس رسالت کی پاسبانی کرو۔
اگر حشر کی وحشت ناک گرمی میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کالی کملی کا ٹھنڈا سایہ چاہتے ہو تو ختم نبوت کے کام کو سنبھالو۔ (آمین ثم آمین)
قادیانی مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں؟
قادیانی ختم نبوت کے منکر، مرتد، زندیق اور توہین رسالت کے مرتکب ہیں۔ پوری ملت اسلامیہ انہیں کافر قرار دے چکی ہے۔ لیکن کمال ڈھٹائی کی بات یہ ہے کہ قادیانی اپنے آپ کو راسخ العقیدہ، سچا اور پکا مسلمان کہتے ہیں اور دیگر مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسلمان صرف وہ ہے جو مرزا قادیانی پر ایمان لاتا ہے اور
اسے اللہ کا سچا نبی اور رسول مانتا ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں قادیانیوں کے جو مذہبی عقائد ہیں‘ وہ کچھ یوں ہیں۔
خدا کے نافرمان اور جہنمی..... ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری جماعت میں داخل نہیں ہو گا‘ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے“۔
(”اشتہار“ مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد نمبر ۹‘ ص ۲۷)
رنڈیوں کی اولاد..... ”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے۔ مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی“۔ (”آئینہ کمالات اسلام“ ص ۵۴۷‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
مرد سور‘ عورتیں کتیاں..... ”میرے مخالف جنگلوں کے سور ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں“۔ (”نجم الہدیٰ“ ص ۱۵ مصنفہ مرزا قادیانی)
حرام زادے..... ”جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہو گا سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں“۔ (”انوار اسلام“ ص ۳۰ مصنفہ مرزا قادیانی)
پوری ملت اسلامیہ کافر..... (۱) ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے‘ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا‘ وہ کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں“ (”آئینہ صداقت“ ص ۳۵ مصنفہ مرزا محمود احمد ابن
مرزا قادیانی)
(۲) ”ایسا شخص جو موسیٰ کو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزا) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے (”کلمۃ الفصل“ ص ۱۱۰
مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
ابو جہل کی پارٹی..... قادیانیوں کا اخبار الفضل ۳ جنوری ۱۹۵۲ء کی اشاعت میں پوری ملت اسلامیہ کی تضحیک کرتا اور چیلنج کرتا ہوا لکھتا ہے۔ ”ہم فتح یاب ہوں گے۔ ضرور تم مجرموں کی طرح ہمارے سامنے پیش ہو گے‘ اس وقت تمہارا حشر بھی وہی ہو گا جو فتح مکہ کے دن ابو جہل اور اس کی پارٹی کا ہوا ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
انا خاتم النبیین ﷺ لا نبی بعدی
اُٹھو مسلمانو! قادیانی قرآن بدل رھے ھیں
قرآن مجید
میں ردّوبدل
قادیانیوں کی دین اسلام کے خلاف ایک بھیانک سازش
برادران اسلام!
قرآن مجید فرقان حمید جو کائنات کے تمام جن و انس کے لئے دستور حیات و منبع ہدایت ہے جو حق کے متلاشیوں کے لئے شمع فروزاں ہے۔ جس کی تابانیوں اور ضیا پاشیوں میں ہم زندگی کے تمام مسائل کا حل ڈھونڈ سکتے ہیں جو دین و دنیا میں مسلمان کا امام ہے۔ جس کی صداقت بیان کرتے ہوئے رب ذوالجلال نے قرآن حکیم کے آغاز ہی میں اعلان کر دیا ذلک الکتٰب لا ریب فیہ (یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں) خدا کی عظیم ترین اور آخری کتاب جو اس کے عظیم ترین اور آخری نبیؐ پر نازل ہوئی‘ اس کے بارے میں معلم کائنات نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو یہ سرٹیفکیٹ دے دیا۔
میرے بعد دو چیزوں کو تھام کر رکھنا تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔ (۱) اللہ کا قرآن
(۲) میری سنت۔
برادران اسلام!
قرآن اور مسلمانوں کا تعلق روح اور جسم کا تعلق ہے۔ اگر قلب میں قرآن کی مشعل روشن ہو تو جسم میں زندگی کا نور موجود ہے اور اگر نعوذ باللہ دل میں قرآن کی شمع کا نور نہیں ہے تو پھر جسم میں ہر طرف موت کا اندھیرا ہے۔ المختصر قرآن ہی مسلمان کا سرمایہ ایمان اور دستور حیات ہے۔
لیکن دشمنان اسلام اس بات سے بخوبی آشنا ہیں کہ جب تک امت مسلمہ کا تعلق اس عظیم کتاب کے ساتھ ہے‘ دنیا جہاں کی ساری شیطانی اور طاغوتی طاقتیں مل کر بھی اسے زیر نہیں کر سکتیں۔ لہٰذا ظہور اسلام سے لے کر آج تک اس ”کتاب مبین“
کے خلاف بڑی سنگین اور بھیانک سازشیں تیار کی گئیں لیکن خاک قادیان سے اٹھنے والے ایک جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی جہنم مکانی نے اپنی جھوٹی اور انگریزی نبوت چلانے اور چمکانے کے لئے قرآن مجید میں تحریفات کا ایک ایسا طوفان برپا کیا جسے دیکھ کر اسلام کے ازلی دشمن یہود و نصاریٰ بھی دنگ رہ گئے۔ اس کذاب نے قرآن کی پوری کی پوری آیات کو حذف کر دیا۔ جہاں چاہا قرآن سے الفاظ نکال لئے اور اپنے من گھڑت الفاظ لگا لئے۔ جہاں جی چاہا قرآن کے معانی کو اپنی مرضی کے مطابق بدل دیا۔ جہاں طلب محسوس کی قرآنی آیات کی شان نزول کو بدل کر اسے اپنے تئیں منسوب کر لیا۔
مرتد عصر اور زندیق زماں مرزا قادیانی ہیضہ کے مرض میں گرفتار ہوا اور ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو برانڈرتھ روڈ لاہور کی ایک بلڈنگ کے ٹٹی خانہ میں اوندھے منہ گرا اور ختم نبوت کا یہ ڈاکو سوئے جہنم روانہ ہوا اور نبوت کے جھوٹے دعویداروں اسود عنسی و مسیلمہ کذاب وغیرھم کے ساتھ جہنم کا ایندھن بنا۔
مرزا قادیانی تو لعنتوں کا طوق پہن کر اور ذلت و رسوائی کی گٹھڑی اٹھا کر اس دار فانی سے چلا گیا لیکن اپنے پیچھے مرتدوں اور زندیقوں کی ایک جماعت چھوڑ گیا۔ آج بھی مرزا قادیانی کی اولاد اور اس کے چیلے اپنے گرو گھنٹال کے کفریہ طریقہ کار پر چلتے ہوئے قرآن میں تحریفات کے قبیح دھندے میں مصروف ہیں۔
آج کل جنوبی ایشیا ان کی گھناؤنی سازشوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ قادیانیوں نے ہزاروں کی تعداد میں تحریف شدہ قرآن تقسیم کر دیئے جن میں قرآنی آیات میں ردو بدل کر کے اپنی مرضی کے مطابق پیش کیا ہے اور مرزا قادیانی کو خدا کا نبی اور رسول ثابت کیا ہے۔ افریقہ کے مسلمان اس صورت حال سے سخت پریشان ہیں۔ خاص کر نو مسلموں کو اصلی قرآن اور تحریف شدہ قرآن میں تمیز کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ ان سنگین حالات سے نمٹنے کے لئے افریقہ کے مسلمانوں نے عالم اسلام کے تمام مسلمان بھائیوں کو مدد کے لئے پکارا ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فوری طور پر ان کی مدد کا سامان کیا۔ رسائل میں اشتہارات دیئے، مخیر حضرات سے اپیلیں کیں۔ جس کے نتیجہ میں جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروانوں نے ہزاروں کی تعداد میں قرآن پاک خرید کر افریقہ روانہ کئے ہیں اور مزید قرآن پاک جنوبی افریقہ پہنچانے کے لئے مجلس دن رات کوشاں ہے تاکہ
تحریف قرآن کے اس سیلاب کو روکا جا سکے۔ دیکھئے قرآن پاک کی وہ آیات جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے متعلق ہیں۔ ان آیات بینات پر مرزا قادیانی کس طرح غاصبانہ قبضہ کرتا ہے چند نمونے پیش کئے جاتے ہیں۔
- ١۔ میرے پر وحی ہوئی۔ قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُوْلُ اللّٰهِ إِلَيْكُمْ جَمِيْعًا (تذکرہ
ص۔ ۳۵۲ مصنفہ مرزا قادیانی)
- ٢۔ الہام ہوا تُو بَرَا جَاتِيْرَ اِيْلَمِیْ چمکتا ہوا چراغ ہے۔ (تذکرہ ص۔ ۵۲‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
- ٣۔ الہام ہوا يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (تذکرہ ص۔ ۵۱ مصنفہ مرزا قادیانی)
- ٤۔ الہام ہوا وَ مَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِيْنَ (تذکرہ ص۔ ۵۱ مصنفہ مرزا قادیانی)۔
- ٥۔ الہام ہوا إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ اے (مرزا) ہم نے آپ کو کوثر دیا۔ (تذکرہ ص۔ ۹۴
مصنفہ مرزا قادیانی)
تمام مسلمان جانتے ہیں کہ مندرجہ بالا تمام آیات میں رسول رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خطاب ہے لیکن مسیلمہ پنجاب مرزا قادیانی ان تمام آیات کو اپنے تئیں منسوب کرتا ہے۔ (لعنت بر تو در کارِ تو) اب ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر اور جگر کو تھام کر مرزا قادیانی کی قرآن میں تحریفات دیکھئے اور قرآن کے اس ڈاکو پر بے شمار لعنتیں بھیجئے۔
تحریف قرآن حکیم لفظی .......١۔ اصل آیت قرآن۔
وَ مَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطٰنُ فِيْ أُمْنِيَّتِهِ۔
(سورہ حج۔ پ۔ ۱۷‘ ع ۷‘ آیت۔ ۵۲)
تحریف شدہ آیت۔
وَ مَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطٰنُ فِيْ أُمْنِيَّتِهِ..... الخ (ازالہ
اوہام ص۔ ۶۲۹ دافع الوساوس مقدمہ حقیقت اسلام ص۔ ۳۳۰ روحانی خزائن ص۔ ۴۳۹)
مرزا قادیانی نے قرآن شریف کی آیت سے مِنْ قَبْلِكَ خارج کر دیا ہے کیونکہ اگر مِنْ قَبْلِكَ یہاں رہتا تو مرزا کی نبوت کا ٹھکانہ نہ بنتا۔
٢۔ اصل آیت قرآن شریف۔
وَ جَاهِدُوْا بِأَمْوَالِكُمْ وَ أَنْفُسِكُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ (سورہ توبہ رکوع نمبر ۶ پارہ نمبر ۱۰ آیت نمبر ۴۱)
مرزا قادیانی کی تحریف کردہ آیت۔
أَنْ تُجَاهِدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَ أَنْفُسِهِمْ (سورہ توبہ رکوع ۶)
(اہل اسلام اور عیسائیوں میں مباحثہ) ص۔ ۱۹۴‘ (جنگ مقدس ) جون ۱۸۹۳ء)
مرزا قادیانی نے أَنْ تُجَاهِدُوْا بِأَمْوَالِهِمْ وَ أَنْفُسِهِمْ اپنی طرف سے داخل کیا اور وَ جَاهِدُوْا
بِأَمْوَالِكُمْ وَ أَنْفُسِكُمْ کو خارج کر کے فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ کو آخر سے اٹھا کر درمیان میں رکھ دیا۔
یہاں مسلمانوں سے خطاب اور جہاد کا حکم تھا۔ مرزا قادیانی نے مخاطب سے صیغے حذف کر کے جہاد کے حکم کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ مرزا قادیانی کے نزدیک جہاد حرام ہے۔ ملاحظہ ہو ۔ ”چھوڑ دو اے دوستو جہاد کا خیال“۔
۳۔ آیت قرآن حکیم كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَّ يَبْقٰی وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْاِ كْرَامِ (الرحمٰن پ۔ ۲۷)
مرزا قادیانی کی تحریف کردہ آیت كُلُّ شَيْئٍ فَانٍ وَّ يَبْقٰی وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْاِ كْرَامِ (ازالہ اوہام ص۱۴۶)
مَنْ عَلَيْهَا غائب، شَيْئٍ زائد اور دو آیتوں کو ایک آیت تحریر کیا۔
۴۔ اصل آیت قرآن مجید۔ وَلَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمِ (الحجر.....پ۔ ۱۴‘ آیت ۸۷)
تحریف شدہ آیت۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ اِنَّا اٰتَيْنَا كَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ وَالْقُرْاٰنِ الْعَظِيْمِ (براہین احمدیہ ص۔ ۵۵۸)
ولقد غائب انا زائد قرآن میں ن پر زبر ہے اور کتاب میں زیر ہے۔ العظیم کے م پر زبر اور مرزا کی کتاب میں زیر ہے۔
عجیب بات ہے کہ اشاریہ براہین احمدیہ ص۔ ۴۷ میں اس آیت کو صحیح لکھا گیا ہے۔
۵۔ اصل آیت قرآن شریف اَلَمْ يَعْلَمُوْا اَنَّهُ مَنْ يُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهُ فَاِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيْهَا ذٰلِكَ الْخِزْيُ الْعَظِيْم
قادیانی تحریف قَوْلِهِ تَعَالٰی ۔ اَلَمْ يَعْلَمُوْا اَنَّهُ مَنْ يُّحَادِدِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيْهَا ذٰلِكَ الْخِزْيُ الْعَظِيْمِ ۔ (الجزء نمبر ۱۰ سورہ توبہ ) (حقیقۃ الوحی ص۔ ۱۳۰)
مرزا قادیانی نے یدخلہ اپنی طرف سے داخل کیا اور فَاِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ کو خارج کر دیا۔
۶۔ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ يُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ
مرزا قادیانی کی تحریف کردہ آیت۔ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ يُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهِ..... (انفال ع۔ ۷) (دافع الوساوس ۱۷۷ آئینہ کمالات)
وَيَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهِ مرزا قادیانی نے داخل کیا۔ وَ يَغْفِرْلَكُمْ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ خارج کیا۔
- ۷۔ اصل آیت قرآن شریف۔
وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنَا فَاعْبُدُوْنِ
مرزا قادیانی کی تحریف کردہ آیت
وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِيٍّ وَلَا مُحَدَّثٍ اِلَّا اِذَا تَمَنّٰى اَلْقَى الشَّيْطَانُ فِيْ اُمْنِيَّتِهٖ فَيَنْسَخُ اللّٰهُ مَا يُلْقِى الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ (براہین احمدیہ
۴۴۸) اشاریہ (براہین احمدیہ ۳۸)
وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِيٍّ (ص ۵۲۸ ح حصہ چہارم)
ناظرین دیکھئے اصل آیت میں رسول تک تحریر کی گئی آگے اپنی طرف سے ساری عبارت لگائی اور محدث کا لفظ جو سارے قرآن مجید میں نہیں ہے داخل کر دیا۔ یہ سارا ڈھونگ مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو محدث وملہم من اللہ ثابت کرنے کے لئے رچایا۔
کلمہ طیبہ اور درود شریف میں تحریف
مسلمانوں کا کلمہ ..... لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ..... اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں حضرت محمد اللہ کے رسول ہیں۔
قادیانی امت کا کلمہ ...... لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ اَحْمَدُ رَّسُوْلُ اللّٰهِ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں احمد (مرزا غلام احمد) اللہ کے رسول ہیں۔
نوٹ ......... محمد حذف کر کے احمد لگا دیا ہے۔ مرزا ناصر احمد کے دورہ افریقہ پر تصویری کتاب AFRICA SPEAKS پر ”احمدیہ سنٹرل ماسک“ نائیجیریا کا فوٹو موجود ہے وہاں پر یہ کلمہ لکھا ہوا ہے۔
مسلمانوں کا درود شریف ....... اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَ عَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ
قادیانی امت کا درود ....... اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اَحْمَدٍ وَّ عَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ وَّ اَحْمَدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اَحْمَدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ وَّ اَحْمَدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَ عَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ ۔
ضیاء الاسلام پریس قادیان کے مطبوعہ رسالہ درود شریف ص۔ ۴۴ پر یہ درود شریف لکھا ہوا ہے۔
قادیانیوں کے قرآن کے بارے میں کفریہ عقائد
- ا۔ قصے کہانیوں کی کتاب ..... ”قرآن پہلوں کی قصے کہانیاں ہیں“ (نعوذ باللہ)
(”آئینہ کمالات“ مطبع لاہوری ص ۲۹۴)
- ۲۔ صرفی و نحوی غلطیاں ..... ”قرآن میں صرفی و نحوی غلطیاں ہیں“ (معاذ اللہ)
(”حقیقۃ الوحی“ ص ۳۰۴)
- ۳۔ قرآن اور میری وحی ایک ہیں ..... ”قرآن کریم اور میری وحی میں کوئی
فرق نہیں“ (معاذ اللہ) (”نزول مسیح“ ص ۹۹)
- ۴۔ میرے الفاظ خدا کے الفاظ ہیں ..... ”میرے منہ کے لفظ خدا کے لفظ
تھے“ (معاذ اللہ) (”تذکرہ“ ص ۲۰)
- ۵۔ قرآن اٹھا لیا گیا ہے ..... قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن حکیم ۱۸۵۷ء میں
اٹھا لیا گیا تھا۔
- ۶۔ ہم نے قرآن کو قادیان کے قریب نازل کیا ہے ..... انا انزلنا قریبا
من القادیان ”ہم نے قرآن کو قادیان کے قریب نازل کیا“ (”ازالہ اوہام“ ص ۵/۳۲‘
ص ۷۷/۳۴ مرزا قادیانی)
- ۷۔ تین شہروں کا نام قرآن مجید میں ..... ”تین شہروں کا نام قرآن شریف
میں اعزاز کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ مکہ‘ مدینہ‘ قادیان“ (”تذکرہ مرزا غلام احمد قادیانی“)
- ۸۔ مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے ”ہم کہتے ہیں کہ قرآن مجید کہاں
موجود ہے؟ اگر قرآن موجود ہوتا تو کسی کے آنے کی کیا ضرورت تھی۔ مشکل تو یہی ہے کہ قرآن دنیا سے اٹھ گیا ہے۔ اس لئے تو ضرورت پیش آئی کہ محمد رسول اللہ کو بروزی طور پر دوبارہ دنیا میں مبعوث کر کے آپ پر قرآن اتارا جائے گا۔ (”تذکرہ الفصل“ ص ۱۰۳ ریویو آف ریلیجنز)
(نوٹ..... قادیانیوں کا قرآن ”تذکرہ“ مرزا قادیانی جہنم مکانی کے شیطانی الہامات کا مجموعہ ہے)
اے صاحبو‘ قرآن کے امتیو!..... آج قرآن تمہیں اپنی حرمت کی حفاظت کے لئے پکارتا ہے۔ آج قرآن اپنے پڑھنے والوں سے اپنے تقدس کا سوال کرتا ہے‘ وہی قرآن جس کا تعارف رب کائنات نے یوں کرایا قد جاء کم من اللہ نور و کتاب مبین (ترجمہ..... بیشک آئے ہیں تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور اور روشن کتاب) کبھی اس کی شان یوں بیان کی۔ تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعلمین نذیرا (ترجمہ..... بڑی برکت والا ہے وہ کہ جس نے اتارا قرآن اپنے بندہ پر جو سارے جہان کو ڈر سنانے والا ہے) اور کبھی اس کی عظمت یوں بیان کی۔ لو انزلنا ھذا القران علی جبل لرایتہ خاشعا متصدعا من خشیۃ اللہ (ترجمہ..... اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے تو تو ضرور اسے دیکھتا جھکا ہوا پاش پاش ہوتا اللہ کے خوف سے) وہی قرآن جسے ملائکہ کے سردار جبریل امین علیہ السلام سنایا کرتے تھے اور انبیاء کے سردار جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سنا کرتے تھے۔ وہی قرآن جسے حضرت ابوبکرؓ نے اکٹھا کر کے امت پر احسان عظیم کیا۔ وہی قرآن جسے سن کر حضرت عمرؓ کا دل نور ایمان سے جگمگا اٹھا اور وہ اسلام کا شیدائی و فدائی بن گیا۔ وہی قرآن جسے حضرت عثمانؓ نے بوقت شہادت بھی نہ چھوڑا اور عثمانؓ کا خون مقدس قرآن کے مقدس اوراق پر گرا اور قرآن شہادت عثمانؓ کا گواہ ہو گیا۔ وہی قرآن جسے پڑھتے پڑھتے اور گریہ زاری کرتے
حضرت علیؓ کی راتیں گزر جاتی تھیں۔ لیکن افسوس صد افسوس! آج ہمیں قرآن سے وہ عقیدت و محبت نہیں رہی۔ آج ہمارے سامنے قادیانی قرآنی آیات کو اپنے کفر کی قینچی سے کاٹ کاٹ کر پھینک رہے ہیں۔ تحریف قرآن کا طوفان برپا کیا ہوا ہے لیکن محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت اپنے عظیم نبی پر اترنے والی اس عظیم کتاب کے ساتھ بدترین سلوک ہوتے دیکھ کر خاموش ہے اور اس پر طرہ یہ کہ تحریف قرآن کے ذلیل مجرموں کے ساتھ مسلمانوں کے دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔ مسلمان ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے‘ چلتے پھرتے اور کھاتے پیتے ہیں۔ ان سے سلام لیتے ہیں۔ ان کی شادیوں اور دیگر تقریبات میں جاتے ہیں حتیٰ کہ بعض ناعاقبت اندیش ان کے جنازوں میں بھی شریک ہوتے ہیں (جو کہ سب حرام ہے)
مسلمانو! ہماری زندگی کا یہ چمکتا ہوا آفتاب جلد ہی غروب ہو کر موت کی وادیوں میں داخل ہو جائے گا اور بروزِ محشر جب خدا تعالیٰ اپنے محبوبؐ کو منصب شفاعت پر فائز کریں گے اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دربار میں اگر قرآن نے ہماری شکایت کر دی تو پیارے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہم کیا منہ لے کر جائیں گے؟۔
اے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتیو! تمہاری غیرت کو مصلحت پسندی کی دیمک کیوں چاٹ رہی ہے؟ تمہاری بے حسی پر آج تاریخ اسلام ماتم کناں ہے۔ تحریف قرآن کے جسم پر تمہاری خاموشی تمہارے اسلاف کی روحوں کو تڑپا رہی ہے۔
اے مسلمان اٹھ! اس ہاتھ کو کاٹ دے جو تحریف قرآن کرے۔ اس زبان کو کاٹ دے جو تحریف شدہ قرآن کی تبلیغ کرتی ہے۔ اس دماغ کو کچل دے جو تحریف قرآن کے منصوبے تیار کرتا ہے۔ اس دل کے ٹکڑے کر دے جس میں قرآن کے خلاف بغاوت کے جراثیم ہوں۔ آؤ مسلمانو! آج ہم قادیانیوں کے خلاف جہاد کا عہد کرتے ہیں کہ جب تک روئے زمین پر ایک بھی قادیانی موجود ہے ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے تاکہ حشر کے روز آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دربار عالیہ میں سرخرو ہو سکیں۔ (آمین ثم آمین)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
توہین رسالت پہ اے مسلم تری خاموشی
کیا محبّت شاہِ لولاکؐ کا معیار یہی ہے؟
عَاشِقَانِ مُصْطَفٰی ﷺ
کہاں ہیں ؟
آقائے نامدار خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
دیوانوں اور پروانوں کے نام ایک
فِکْر اَنْگِیز پَیغَام
الحمدللہ ہم مسلمان ہیں۔ ختم نبوت پر ہمارا کامل ایمان ہے۔ عقیدہ ختم نبوت مسلمان کی ایک بنیادی پہچان ہے اور اس عقیدے پر دلالت کرتے ہوئے دو سو دس احادیث اور ایک سو آیات قرآن ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں۔ اس پر متفق افراد امت سبھی ہیں اور ان کے بعد جو دعویٰ نبوت کرے‘ وہ نبی نہیں غبی ہے۔ آمنہؓ کے لال کے بعد جو دعویٰ رسالت کرے‘ وہ رسول نہیں بلکہ فضول ہے۔ حضورؐ پر نازل ہونے والی کتاب خاتم الکتب‘ حضورؐ کا دین خاتم الادیان‘ حضورؐ کی شریعت خاتم الشرائع‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد خاتم المساجد‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم الانبیاء اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت ختم نبوت ہے۔ جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد مبارکہ کے بعد نبوت و رسالت کا دروازہ بند ہو گیا اور محسن انسانیت جناب محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ میں قصر نبوت کی آخری اینٹ ہوں اور میرے آنے کے بعد قصر نبوت اپنی تکمیل کو پہنچ گیا۔
عہد رسالت سے لے کر آج تک سینکڑوں بدبختوں نے نبوت کے دعویٰ کئے لیکن تاریخ اسلام شاہد ہے کہ جب بھی کسی ڈاکو نے تاج ختم نبوت کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھا۔ غیور مسلمانوں کی تلواریں اس کی طرف لپکیں اور اسے جہنم واصل کر دیا۔ سرزمین ہندوستان میں جب انگریز کے ایمان شکن دور میں کفر و الحاد کے سمندر ٹھاٹھیں مار رہے تھے اور اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے سر توڑ کوششیں کی جا رہی تھیں۔ اس ملحدانہ دور میں اسلام پر ضرب کاری لگانے کے لئے ایک جعلی نبوت کی بھیانک سازش تیار کی گئی اور اشارہ فرنگی پر ایک ضمیر فروش اور ایمان فروش مرزا قادیانی
جہنم مکانی نے 1901ء میں نبوت کا دعویٰ کر دیا۔
مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو خدا کا نبی اور رسول کہا۔ مرزا نے اپنے ماننے والے مرتدوں کی جماعت کو صحابہ رسولؐ کے نام سے پکارا‘ اپنی کافرہ بیویوں کو امہات المومنین کے نام سے تعبیر کیا۔ اپنے گھر والوں کو اہل بیت کا نام دیا۔ تین سو تیرہ بدری صحابہؓ کے مقابلہ میں مرزا قادیانی نے اپنے تین سو تیرہ چیلوں کی فہرست تیار کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نقل کرتے ہوئے اپنے ننانوے صفاتی نام رکھے۔ اپنے بیٹے کو قمر الانبیاء کے نام سے پکارا۔ قادیان آنے کو نفلی حج قرار دیا۔ جنت البقیع کے مقابلہ میں قادیان میں ایک بہشتی مقبرہ تیار کروایا۔ قرآن پاک میں تحریفات کیں۔ احادیث رسولؐ کو بگاڑا۔ اقوال صحابہؓ و بزرگان دینؒ کو مسخ کیا۔ جہاد کو حرام اور انگریز کی اطاعت کو لازمی قرار دیا۔
مرزا قادیانی نے صرف اسی پر بس نہ کیا۔ بلکہ اس نے اپنی بناسپتی اور انگریزی نبوت کو چلانے اور چمکانے کے لئے دین اسلام‘ پیغمبر اسلام اور مقدس ہستیوں پر رکیک حملے کرنے شروع کر دیئے۔ مرزا قادیانی اور اس کے شیطانی چیلوں نے جس دریدہ دہنی اور زہر افشانی کا مظاہرہ کیا ہے‘ اسے تحریر میں لاتے ہوئے قلم کانپتا ہے‘ بازو پر رعشہ طاری ہوتا ہے‘ قلب و جگر زخمی ہوتے ہیں‘ آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں اور روح تڑپتی ہے۔ لیکن دوسری طرف وقت پکار پکار کر کہتا ہے۔ کہ آمنہؓ کے لالؐ کے دیوانوں اور پروانوں کو بتا دو کہ سرور کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عزت و ناموس پر قادیانی گدھیں کس طرح حملہ آور ہو رہی ہیں۔ بغض و عناد کے زہر میں بجھے ہوئے ان کے زہریلے قلم کملی والے آقاؐ کی شان میں کیا کیا گستاخیاں کر رہے ہیں اور ان کے منہ میں بچھو نما زبانیں سرور دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لائے ہوئے دین حنیف کو کس طرح ڈنک مار رہی ہیں۔ لہٰذا ذہن و ضمیر پر بوجھ گراں محسوس کرنے کے باوجود وہ دل آزار اور روح فرسا تحریریں نقل کی جاتی ہیں جن کے ہر ہر حرف سے کفر و الحاد کا ایک طوفان اٹھتا ہے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین..... ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے۔" (نعوذ باللہ) (مرزا بشیر الدین محمود قادیانی خلیفہ ثانی مرزا قادیانی اخبار الفضل قادیان ۱۷ جولائی ۱۹۲۲ء کالم ۳)
نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کئی الہام سمجھ نہ آئے۔..... "نبیؐ سے کئی غلطیاں ہوئیں کئی الہام سمجھ نہ آئے۔" ("ازالہ الاوہام" مطبع لاہوری ۲/۳۶۳ مصنفہ مرزا قادیانی)
نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اشاعت دین مکمل طور پر نہ کر سکے..... "نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دین کی مکمل اشاعت نہ ہو سکی۔ میں نے پوری کی ہے۔" (معاذ اللہ) (حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص ۴۵ مصنفہ مرزا قادیانی)
نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سور کی چربی والا پنیر کھاتے تھے..... "آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے حالانکہ مشہور تھا کہ اس میں سور کی چربی پڑتی ہے۔" (معاذ اللہ) (ایک پرانا مکتوب مرزا قادیانی مندرجہ اخبار الفضل ۲۲ فروری ۱۹۲۴ء)
ہجرت گاہ کی توہین..... "ہجرت گاہ مصطفیٰ نہایت متعفن اور حشرات الارض کی جگہ ہے۔" (معاذ اللہ) (حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص ۱۱۲ مصنفہ مرزا قادیانی)
حدیث مصطفیٰؐ کی توہین..... "میری وحی کے مقابلے میں حدیث مصطفیٰؐ کوئی شے نہیں۔" (معاذ اللہ) (اعجاز احمدی ص ۵۶ مصنفہ مرزا قادیانی)
درود شریف کی توہین..... مرزا قادیانی اپنے بارے میں بکتا ہے۔ "خدا عرش پر تیری تعریف کرتا ہے، ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔" (نعوذ باللہ) (رسالہ درود شریف بحوالہ از اربعین نمبر ۲ ص ۱۵ تا ۱۸ نمبر ۳ ص ۲۴ تا ۲۶ مصنفہ مرزا قادیانی)
قرآن مجید کی توہین..... "قرآن شریف میں گندی گالیاں بھری ہیں اور قرآن عظیم سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے۔" ("ازالہ اوہام" ص ۲۸، ۲۹ مصنفہ مرزا قادیانی)
صحابہ کرام کی توہین..... ”بعض نادان صحابہ جن کو درایت سے کچھ حصہ نہ تھا۔“
(نعوذ باللہ) ضمیمہ نصرت الحق ص ۱۴۰)
ابو بکرؓ و عمرؓ کی توہین..... ”ابو بکرؓ و عمرؓ کیا تھے وہ حضرت مرزا قادیانی کی جوتیوں کے تسمے کھولنے کے لائق بھی نہ تھے۔“ (معاذ اللہ)
(”ماہنامہ المہدی“ بابت جنوری، فروری ۱۹۱۵ء، ۳/۲ صفحہ ۵۷)
حضرت علیؓ کی توہین..... ”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑ دو۔ اب نئی خلافت لو اور ایک زندہ علی (مرزا قادیانی) تم میں موجود ہے۔ اس کو تم چھوڑتے ہو اور مردہ علی (حضرت علیؓ) کو تلاش کرتے ہو۔“ (معاذ اللہ) (”ملفوظات احمدیہ“ ص ۱۳۱، جلد اول، ”انجمن احمدیہ“ اشاعت اسلام لاہور“
حضرت امام حسینؓ کی توہین..... ”کربلا میرے روز کی سیرگاہ ہے۔ حسین جیسے سینکڑوں میرے گریبان میں ہیں۔“ (نعوذ باللہ) (”نزول المسیح“ ص ۹۹)
حضرت فاطمۃ الزہراؓ کی توہین..... سیدۃ النساء کی ذات کے بارے میں مرزا قادیانی نے جو بکواس کیا ہے، میرا قلم اسے لکھنے سے قاصر ہے۔ (”ایک غلطی کا ازالہ“ حاشیہ ص ۱۱)
حضرت ابو ہریرہؓ کی توہین..... ”ابو ہریرہؓ کے قول کو ایک ردی متاع کی طرح پھینک دے۔“ (معاذ اللہ) (”ضمیمہ براہین احمدیہ“ جلد پنجم، ص ۲۳۵)
مسلمانوں کی توہین..... ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہو گا اور تیرا مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“ (”تذکرہ“ ص ۳۴۲-۳۴۳ طبع دوم)
قادیانیوں کا درود
اللهم صل علی محمد و علی ال محمد وعلی عبدک المسیح الموعود والمهدی الموعود وبارک وسلم انک حمید مجید۔ (نعوذ باللہ) (حوالہ ضیاء الاسلام پریس قادیان رسالہ درود شریف ص ۴۲)
قادیانی امت کا کلمہ
لا الہ الا اللہ احمد رسول اللہ (نعوذ باللہ) اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ احمد (مرزا غلام احمد) اللہ کے رسول ہیں۔
نوٹ.... محمدؐ حذف کر کے احمد لگا دیا ہے۔ مرزا ناصر احمد کے دورہ افریقہ پر تصویری کتاب Africa Speaks پر احمدیہ سنٹرل ماسک نائیجیریا کا فوٹو موجود ہے‘ وہاں پر یہ کلمہ لکھا ہوا ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس! مسلمانوں کے نبوت کے ان لٹیروں کے ساتھ برادرانہ‘ دوستانہ تعلقات ہیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گستاخوں کا یہ ذلیل گروہ مسلمانوں کے ساتھ ہی کھاتا پیتا ہے۔ یہ باغیان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کی شادیوں و دیگر خوشی کی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں اور بعض کی دینی غیرت وحمیت کا جنازہ یہاں تک نکل چکا ہے کہ ان کی بیٹیاں قادیانیوں کے گھر میں بیاہی ہوئی ہیں اور ان کے بطن سے ایک قادیانی نسل پیدا ہو رہی ہے۔ لیکن مسلمان لبوں پر مہر سکوت لگا کر بے فکر بیٹھا ہے۔
یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟ اس کے اسباب کیا ہیں؟ اس کے محرکات کیا ہیں؟ اس کے اسباب صرف یہ ہیں کہ آج سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہمارا الفت ومحبت کا رشتہ کمزور پڑ چکا ہے۔ ہمارے قلوب میں عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نور مدہم پڑ چکا ہے۔ ہم میں جوہر صدیقیؓ موجود نہیں۔ ہم میں غیرت فاروقیؓ موجود نہیں۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت وناموس پر مرمٹنے کے جذبہ عظیم سے ہم محروم ہو چکے ہیں۔ جذبہ اویسیؓ ہمارے دلوں سے اٹھ چکا ہے۔
لیکن نہیں ہم بھی غصہ میں آتے ہیں۔ ہمارے جذبات بھی بھڑکتے ہیں۔ ہم بھی کشت وخون کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔
لیکن کب؟ جب کوئی ہماری ماں کو گالی دیتا ہے‘ جب کوئی ہمارے باپ کی توہین کرتا ہے‘ جب کوئی ہمارے بزرگوں کی توہین کرتا ہے‘ جب کوئی ہمارے جگری یار کے بارے میں نازیبا کلمات کہتا ہے‘ جب کوئی ہمارے خاندان کے بارے میں ناشائستہ زبان استعمال کرتا ہے۔
آؤ مسلمانو! سوچتے ہیں۔ خوب سوچتے ہیں۔ عقل و فکر کے چراغ روشن کر کے سوچتے ہیں۔ دل و دماغ کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر کر سوچتے ہیں۔ کیا فاطمہؓ ہماری ماں نہیں‘ کیا نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم امت کے وہ روحانی باپ نہیں جن کی جوتی کی خاک پر ہمارے جسمانی باپ قربان‘ کیا ابو بکرؓ و عمرؓ ہمارے بزرگ نہیں؟ کیا علی المرتضیٰؓ و ابو ہریرہؓ سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جگری یار نہیں؟ کیا اس جہان رنگ و بو میں نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقدس خاندان‘ دنیا جہاں کے سارے خاندانوں میں اعلیٰ و ارفع نہیں؟۔
قادیانیوں کے ساتھ محبت بھرے تعلقات رکھنے والو! قادیانیوں کی تقریبات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والو‘ جب تم قادیانیوں سے ملتے ہو تو گنبد خضرا میں دل مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دکھتا ہے۔
مسلمانو! یاد رکھو زندگی کے چند روز ساون کے بادلوں کی طرح گزر جائیں گے اور بالآخر وہ وقت آجائے گا‘ جب خدا کے فرشتے ہمارا چراغ زندگی بجھانے کے لئے آجائیں گے..... جب جسم ڈھیلا پڑ جائے گا..... جب آنکھیں الٹ جائیں گی..... جب نتھنے پھیل جائیں گے..... جب سانس اکھڑ جائے گا..... جب گردن ایک طرف لڑھک جائے گی..... جب موت کی ہچکیاں لگیں گی..... جب روح جسم سے پرواز کر جائے گی اور ہمارا ناز و نعم سے پلا ہوا جسم‘ بے جان پتھر کی طرح پڑا ہو گا اور ہم اپنے چہرے سے مکھی اڑانے سے بھی قاصر ہوں گے..... اور پھر ہر مرنے والے کی طرح ہمیں بھی پیوند زمین کر دیا جائے گا..... قیامت کی صبح کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا..... پھر حشر کا میدان ہو گا..... سورج انگارے اگل رہا ہو گا..... تپتی ہوئی زمین ہو گی‘ گرمی کی ہولناکیاں و سفاکیاں ہوں گی۔ ہر کوئی اپنے اعمال کے بقدر‘ پسینے میں ڈوبا ہوا ہو گا۔ بھوک کی شدت سے انسان اپنا گوشت کھا رہے ہوں گے..... شدت پیاس سے زبان ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہی ہو گی..... دیگر انسانوں کی طرح اس روز ہم بھی نفسی نفسی پکار رہے ہوں گے..... اس روز ہمارے یار دوست سب ساتھ چھوڑ جائیں گے..... ہماری اولاد ہمارے سائے سے بھاگے گی..... ہمارے نوکر خدمت گار اس روز ہم سے چھین لئے جائیں گے..... ہماری دولت و
ثروت اس روز ہمارے کام نہ آئے گی..... غرضیکہ اس روز ہم بے بس و بے کس ہوں گے..... جب اس عالم کسمپرسی میں ہم شافع محشر ساقی کوثر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دربار میں حاضر ہوں گے اور جب سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہم سے سوال کریں گے کہ تمہارے سامنے میری نبوت و رسالت پر ڈاکہ زنی ہوتی رہی تم نے کیا کیا؟ مجھ پر نازل ہونے والی کتاب مبین میں تحریف و تبدل کے طوفان برپا ہوتے رہے‘ تم نے کیا کیا؟ میری احادیث کو لخت لخت کیا جاتا رہا‘ تم نے کیا کیا؟ میری چہیتی بیٹی فاطمہؓ اور لاڈلے حسینؓ کی شان میں گستاخیاں کر کے مجھے ستایا گیا۔ تم نے کیا کیا؟ میری ازواج مطہراتؓ میرے اہل بیتؓ‘ میرے صحابہؓ اور میری امت کے اولیاءؒ کے بارے میں قادیانی بازاری زبان استعمال کرتے رہے‘ تم نے کیا کیا؟ تمہاری زندگی میں تمہارے سامنے جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کی تشہیر و تبلیغ ہوتی رہی اور ہزاروں لوگ مرتد ہوتے رہے‘ تم نے کیا کیا؟
سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے امتیو! کیا ہمارے پاس ان سوالوں کے جواب ہیں؟ کیا ہم نے ان سوالوں کی تیاری کر رکھی ہے؟ وقت کے ہر لمحے کو مہلت جانئے ورنہ موت کے بعد کوئی مہلت نہیں اور یاد رکھو اگر حشر کے میدان میں شافع محشر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہم سے اپنا رخ انور پھیر لیا تو پھر ہم کس کے پاس جا کر شفاعت کا سوال کریں گے؟ اگر رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہم سے روٹھ گئے تو پھر کس کے دامن رحمت میں ہمیں پناہ ملے گی؟ اگر ساقی کوثر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہم سے خفا ہو گئے تو پھر کہاں جا کر ہم اپنی پیاس کے انگارے بجھائیں گے؟
محسن انسانیت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے امتیو! آج محبت رسولؐ ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم تاج و تخت ختم نبوتؐ کی پاسبانی و نگہبانی کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمرانو! قادیانی مرتد اور زندیق ہیں‘ ان کو واجب القتل قرار دو۔ ان کی عبادت گاہوں کو مسجد ضرار کی طرح مسمار کروا کر سنت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا عملی نمونہ پیش کرو۔ ان کی اربوں کی جائیدادوں کو بحق سرکار ضبط
کرو۔ دارالکفر ربوہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دو۔ وطن عزیز میں دہشت گردی اور خوف و ہراس پیدا کرنے والی قادیانی دہشت گرد تنظیموں کا سراغ لگا کر انہیں کیفر کردار تک پہنچاؤ۔ تحریف شدہ قرآن‘ مسخ شدہ احادیث اور فتنہ و ارتداد پر مبنی لٹریچر ضبط کرو۔ ان کے اخبار و رسائل پر پابندی لگاؤ۔ قادیانیوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹاؤ۔
ملت اسلامیہ کے مشائخ عظام! اپنے مریدوں اور عقیدت مندوں کو قادیانیوں کے خلاف جہاد کا حکم دیجئے اور حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ کی یاد تازہ کیجئے۔
ملت اسلامیہ کے نوجوانو! اپنی لہکتی ہوئی جوانیاں تحفظ ناموس رسالتؐ کے لئے وقف کر دو۔ اہل دولت و ثروت کا فرض ہے کہ اپنے مال کا ایک حصہ تحفظ ختم نبوت کے لئے وقف کر دیں۔ اہل قلم حضرات فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لئے قلم سے تلوار کا کام لیں۔ مقررین حضرات اپنی شعلہ نوائیاں‘ اپنی فصاحت و بلاغت‘ اپنا علم و عرفان تحفظ ختم نبوت کے لئے مختص کر دیں۔ طلبہ کو چاہئے کہ نئی نسل کو قادیانیت کے زہر سے محفوظ رکھنے کے لئے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ختم نبوت کے ذیشان موضوع پر لیکچرز کا اہتمام کریں تاکہ ہماری نئی نسل زیور تعلیم ختم نبوت سے آراستہ ہو سکے اور مجاہدین ختم نبوت کی ایک فوج ان اداروں سے تیار ہو کر نکلے۔ وکلاء کا فرض ہے کہ عدالت کے ایوانوں میں ختم نبوت کا ڈنکا بجا دیں۔ علماء کا فرض ہے کہ ملت اسلامیہ میں اتحاد و اتفاق کی فضا پیدا کریں تاکہ قادیانی کوئی رخنہ ڈال کر امت مسلمہ کی صفوں میں کوئی انتشار پیدا کر کے کسی قسم کا کوئی فائدہ حاصل نہ کر سکیں اور عوام الناس کا یہ فرض ہے کہ قادیانیوں کا معاشرتی‘ معاشی‘ سماجی بائیکاٹ کر کے دینی غیرت و حمیت کا ثبوت دیں تاکہ حشر کے میدان میں ہم آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سرخرو ہو سکیں اور شفاعت محمدیؐ کے مستحق بنیں۔
رب العزت ہمیں محبّت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لبریز یہ عمل صالح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(آمین ثم آمین)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
(حدیث)
اَنَا خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ
عشقِ خاتمُ النّبیّین صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم
انگریز کا پرفتن دور تھا۔ ہر طرف کفر و الحاد کے طوفانوں کا زور تھا۔ مسلمان غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ حریت پسند زندانوں میں پکڑے ہوئے تھے۔ مسلمانوں کے دلوں سے عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا نور نکالا جا رہا تھا اور کفر کا اندھیرا ڈالا جا رہا تھا۔ قرآن مجید کے نسخے جلائے جا رہے تھے‘ اسلامی تہذیب و تمدن کے نشانات مٹائے جا رہے تھے اور یہود و نصاریٰ کے اطوار پھیلائے جا رہے تھے۔ ملت اسلامیہ ایک سخت امتحان سے دو چار تھی اور مارے غم کے اشکبار تھی۔ ابھی ان پر آشوب حالات کی سنگینیاں جاری تھیں اور فسق و فجور کی تاریکیوں کی فضا طاری تھی کہ ان جاں گسل لمحات میں فرنگی نے مسلمانوں کے شکستہ بدن سے روح اسلام نکالنے کے لئے جھوٹی نبوت کا خنجر گھونپ دیا اور اپنی جعلی نبوت کا کاروبار ایک ننگ دین و ننگ ملت‘ مرزا قادیانی کو سونپ دیا۔ تاج و تخت ختم نبوت پر ڈاکہ زنی ہوتے دیکھ کر غیرت ایمانی سے مسلمانوں کے دل پھڑک اٹھے اور حرارت عشق رسولؐ سے جذبات شوق شہادت بھڑک اٹھے۔ وہ کفن بدوش ہو کر نکلے اور تاج و تخت ختم نبوت کے پاسبان بن گئے‘ ناموس رسالتؐ کے نگہبان بن گئے۔ مکار انگریز‘ اس کی جھوٹی نبوت اور جھوٹے نبی کے لئے تباہی کا سامان بن گئے۔ نبیؐ کے پروانے نبیؐ کی حرمت کے لئے خون میں نہا گئے اور جام شہادت نوش کر کے حیات جاوداں پا گئے۔ جھوٹی نبوت کے موجد انگریز نے ۱۹۴۷ء میں سرزمین ہندوستان سے انتقال کیا لیکن بانی پاکستان محمد علی جناحؒ کی وفات کے بعد گورے انگریز کے جانشین کالے انگریزوں نے کاروبار حکومت سنبھال لیا۔ انہوں نے پاکستان میں قادیانیت کو نئی بنیادوں پر استوار کیا اور قادیانیوں کے مشن ارتداد کو چلانے کے لئے راستہ ہموار کیا‘ انہیں کلیدی عہدوں پر بٹھایا گیا اور مجاہدین ختم نبوت کو خون کے آنسو رلایا گیا۔ آج بھی
غلامان محمدؐ کو تکلیفیں دے دے کر ستایا جا رہا ہے لیکن قادیانیت کو بچایا جا رہا ہے۔ آج بھی قادیانیوں کے لئے حکومت کی مہربانیاں ہیں لیکن پاسبانان ختم نبوت کے لئے قربانیاں ہیں۔ منکرین ختم نبوت کے لئے وفائیں ہیں اور محبان خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جفائیں ہیں۔ حالات کی ان سختیوں اور چیرہ دستیوں کے باوجود مجاہدین ختم نبوت کی فوج باغیان ختم نبوت سے ہر محاذ پر جہاد کر رہی ہے اور قادیانیت کے صنم کدوں کو برباد کر رہی ہے۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے پروانوں کا یہ اعلان ہے کہ اب دجل و فریب کے ریشمی دھاگوں سے بنی ہوئی قادیانیت کی قبا کو چاک کیا جائے گا اور پوری دنیا کو قادیانیت کی غلاظت سے پاک کیا جائے گا۔ جن خوش قسمت انسانوں نے اس مقدس مشن کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر دیں یا جان دو جہان صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں نچھاور کر دیں، ان کی محبت و وفا کے حسین واقعات آج بھی عشق رسالت کے آسمان پر ستاروں کی صورت میں چمک رہے ہیں۔ آپ بھی تخیل میں گنبد خضراء کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ کر دل میں روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سجا کر چشمان عشق سے عاشقان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ایمان پرور واقعات کو جھوم جھوم کر پڑھئے اور پھر سوچئے کہ تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں آپ کی کیا ذمہ داری ہے؟
سرور کائناتؐ کا پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کو حکم ..... حضرت پیر مہر علی شاہؒ نے فرمایا کہ ”حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خواب میں حکم فرمایا کہ مرزا غلام احمد قادیانی غلط تاویل کی قینچی سے میری احادیث کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے اور تم خاموش بیٹھے ہو“ (ملفوظات طیبہ ۱۲۶۔۱۲۷)
چنانچہ پیر مہر علی شاہؒ فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لئے میدان میں نکل آئے اور مسلمانوں کو اس فتنہ کی شرانگیزیوں سے آگاہ کیا۔ آپ کی اس فتنہ کے خلاف دن رات کوششوں سے بد حواس ہو کر قادیانی جماعت کے ایک وفد نے حضرت پیر مہر علی شاہؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ آپ مرزا قادیانی سے مباہلہ کرلیں۔ ایک اندھے اور ایک لنگڑے کے حق میں آپ دعا کریں۔ دوسرے اندھے اور لنگڑے کے حق میں مرزا قادیانی دعا کرے جس کی دعا سے اندھا اور لنگڑا ٹھیک ہو جائیں، وہ سچا ہے۔ اس طرح حق و باطل کا فیصلہ
ہو جائے گا۔ سید پیر مہر علی شاہؒ نے جواب دیا کہ یہ بھی منظور ہے اور جاؤ‘ مرزا قادیانی سے یہ بھی کہہ دو‘ اگر مردے بھی زندہ کرنے ہوں تو آجاؤ۔ مہر علی شاہؒ مردے زندہ کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔ سچ ہے کہ جو شخص حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کام کرتا ہے‘ اس کی پشت پر نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کا ہاتھ ہوتا ہے۔ قادیانی وفد یہ جواب پا کر واپس چلا گیا اور کچھ پتہ نہ چلا کہ مرزا قادیانی اور ان کے حواری کہاں ہیں“۔
(تحریک ختم نبوت از آغا شورش کاشمیریؒ)
باطل کو چیلنج..... حضرت پیر سید مہر علی شاہؒ گولڑوی نے مرزا قادیانی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا..... ”حسب وعدہ شاہی مسجد میں آؤ‘ ہم دونوں اس کے مینار پر چڑھ کر چھلانگ لگاتے ہیں۔ جو سچا ہو گا وہ بچ جائے گا‘ جو کاذب ہو گا مرجائے گا۔ مرزا قادیانی نے جواب میں اس طرح چپ سادھی‘ گویا دنیا ہی سے رخصت ہو گیا ہے“۔ (تحریک ختم نبوت ص
۵۲‘ آغا شورش کاشمیریؒ)
دربار رسالتؐ سے فرمان..... حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ صاحب کشف و کرامت بزرگ تھے۔ صوبہ بہار سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا زیادہ وقت وظائف‘ عبادات‘ مجاہدات میں گزرتا تھا۔ انہوں نے متعدد بار ذکر کیا کہ میں عالم رویاء میں حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار عالی میں پیش ہوا۔ نہایت ادب و احترام سے صلوٰۃ و سلام عرض کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا..... ”محمد علی تم وظیفے پڑھنے میں مشغول ہو اور قادیانی میری ختم نبوت کو تخریب کر رہے ہیں۔ تم ختم نبوت کی حفاظت اور قادیانیت کی تردید کرو“۔ حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ فرمایا کرتے تھے۔ اس مبارک خواب کے بعد نماز فرض‘ تہجد اور درود شریف کے علاوہ تمام وظائف ترک کر دیئے‘ دن رات ختم نبوت کے کام میں منہمک ہو گیا“۔
(روئیداد مجلس ص ۱۴‘ ۱۹۸۲)
اس دوران یہ واقعہ بھی پیش آیا کہ مراقبہ میں مولانا کو یہ القاء ہوا کہ گمراہی (قادیانیت) تیرے سامنے پھیل رہی ہے اور تو ساکت ہے اگر قیامت کے دن باز پرس ہوئی تو کیا جواب دے گا۔
(سیرت مولانا محمد علی مونگیریؒ ص ۲۹۷)
پیغام سوچ..... حضرت مولانا علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے ایک بڑے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا..... ”ہم سے تو گلی کا کتا ہی اچھا ہے‘ ہم اس سے بھی گئے گزرے
ہیں‘ وہ اپنی گلی و محلے کا حق نمک ادا کرتا ہے۔ ہمارے ہوتے ہوئے لوگ ناموس رسالتؐ پر حملہ کرتے ہیں اور ہم حق غلامی و امتی ادا نہیں کرتے۔ اگر ہم ناموس پیغمبرؐ کا تحفظ کریں گے تو قیامت کے دن شفاعت کے مستحق ٹھہریں گے۔ تحفظ نہ کیا یا نہ کرسکے تو ہم مجرم ہوں گے اور کتے سے بھی بدتر”۔
(کمالات انوریؒ)
عزت رسول صلی اللہ علیہ وسلم...... خطیب ختم نبوت صاحب زادہ فیض الحسن شاہؒ نے ملت اسلامیہ کی سوئی ہوئی غیرت کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا..... ”جو جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی حفاظت نہیں کر سکتا وہ اپنی ماں بہن کی عزت کی بھی حفاظت نہیں کر سکتا”۔
عظیم انعام..... سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ قادیانیت کے لئے درہ عمر فاروقؓ تھے۔ ساری زندگی مرزا قادیانی کی جعلی نبوت کے تعاقب میں صرف کر دی۔ قادیان و ربوہ میں جھوٹی نبوت کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا۔ ان کا ایمان پرور واقعہ جھوم جھوم کر پڑھئے۔
حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے فرمایا کہ حضرت مولانا رسول خانؒ نے جو بہت بڑے محدث تھے‘ فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جماعت صحابہؓ میں تشریف فرما ہیں۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (ایک سنہری طشت میں آسمان سے) ایک دستار مبارک لائی گئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب صدیق اکبرؓ کو حکم دیا کہ اٹھو اور میرے بیٹے عطاء اللہ شاہ کے سر پر باندھ دو۔ میں اس سے خوش ہوں کہ اس نے میری ختم نبوت کے لئے بہت سارا کام کیا ہے۔
(تقاریر مجاہد ملتؒ ص ۷)
قبر سے خوشبو..... مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ ختم نبوت کے شیدائی و فدائی تھے۔ حیات مستعار کی ساری بہاریں تحفظ ختم نبوت کے لئے وقف کر دیں۔ سرائیکی زبان کے، بہترین خطیب تھے۔ اس مجاہد ختم نبوت کا جنازہ بھی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر سے اٹھا۔ تدفین کے بعد آپ کی قبر سے تین روز تک خوشبو آتی رہی۔
ایسے جذبے کو سلام..... حضرت پیر سید جماعت علی شاہ صاحبؒ نے محاذ ختم نبوت پر گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ آپ کی ذات قادیانیوں کی شہ رگ پر نشتر تھی۔ جب مرزا قادیانی کا نام نہاد خلیفہ نور الدین نارووال ضلع سیالکوٹ میں وارد ہوا اور قادیانیت
کی تبلیغ شروع کر دی۔ آپ اس وقت صاحب فراش تھے۔ چارپائی سے اٹھا نہیں جاتا تھا لیکن عاشق رسولؐ کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ نور الدین دندناتا پھرے اور میں یہاں لیٹا رہوں۔ فوراً حکم دیا کہ میری چارپائی اٹھا کر نارووال لے چلو‘ آپ نے وہاں پہنچ کر نور الدین اور اس کے باطل مذہب کی ایسی مرمت کی کہ نور الدین وہاں سے سر پر پاؤں رکھ کر بھاگا۔
ایک عاشق رسولؐ کا جواب..... مولانا ظفر علی خان نے جب عوامی جلسوں میں قادیانیت کے بخیے ادھیڑنے شروع کئے اور مرزا قادیانی کا ریمانڈ لینا شروع کیا تو انگریزی قانون اپنے خود کاشتہ پودے کی حفاظت کے لئے حرکت میں آگیا۔ مولانا اور ان کے ساتھیوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوششیں کی گئیں اور پھر ان سے نیک چلنی کی ضمانت طلب کی گئی۔ جھوٹی نبوت کے خالق فرنگی کو عاشق رسولؐ ظفر علی خاں نے جو باغیرت جواب دیا اسے پڑھ کر آج بھی گلشن ایمان میں بہار آجاتی ہے‘ آپ نے فرمایا..... ”جہاں تک مرزا غلام احمد کا تعلق ہے‘ ہم اس کو ایک بار نہیں ہزار ہا بار دجال کہیں گے اس نے حضورؐ کی ختم المرسلینی میں اپنی نبوت کا ناپاک پیوند جوڑ کر ناموس رسالتؐ پر کھلم کھلا حملہ کیا ہے۔ اپنے اس عقیدہ سے میں ایک منٹ کے کروڑویں حصہ کے لئے بھی دست کش ہونے کو تیار نہیں اور مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی دجال تھا۔ دجال تھا۔ دجال تھا۔ میں اس سلسلہ میں قانون انگریزی کا پابند نہیں‘ میں قانون محمدیؐ کا پابند ہوں“
(تحریک ختم نبوت ص ۶۸ از شورش کاشمیریؒ)
حق گوئی و بیباکی..... نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت پر ڈاکہ زنی ہوتے ہوئے دیکھ کر مولانا احمد رضا خان بریلویؒ تڑپ اٹھے اور مسلمانوں کو مرزائی نبوت کے زہر سے بچانے کے لئے انگریز کے ظلم و بربریت کے دور میں علم حق بلند کرتے ہوئے اور شمع جرات جلاتے ہوئے مندرجہ ذیل فتویٰ دیا۔ جس کا حرف حرف قادیانیت کے سومنات کے لئے گرز محمود غزنویؒ ہے۔ قادیانیوں کے کفریہ عقائد کی بنا پر اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلویؒ نے مرزائی اور مرزائی نوازوں کے بارے میں فتویٰ دیا کہ ”قادیانی مرتد‘ منافق ہیں‘ مرتد منافق وہ کہ کلمہ اسلام اب بھی پڑھتا ہے‘ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتا ہے اور پھر اللہ عز و جل یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا کسی نبی کی توہین کرتا
یا ضروریات دین میں سے کسی شے کا منکر ہے‘ اس کا ذبیح محض نجس‘ مردار اور حرام قطعی ہے‘ مسلمانوں کے بائیکاٹ کے سبب قادیانی کو مظلوم سمجھنے والا اور اس سے میل جول چھوڑنے کو ظلم ناحق سمجھنے والا اسلام سے خارج ہے اور جو کافر کو کافر نہ کہے وہ بھی کافر۔" (احکام شریعت ص ۱۱۴‘ ۱۴۴‘ ۱۷۷ اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلویؒ)
مزید فرمایا کہ "اس صورت میں فرض قطعی ہے کہ تمام مسلمان موت و حیات کے سب علاقے ان سے قطع کردیں۔ بیمار پڑے پوچھنے کو جانا حرام‘ مرجائے تو اس کے جنازے پر جانا حرام‘ اسے مسلمانوں کے گورستان میں دفن کرنا حرام‘ اس کی قبر پر جانا حرام"۔
(فتاویٰ رضویہ ص ۵۱ جلد ۶۔ مولانا احمد رضا خان بریلویؒ)
ختم نبوت کانفرنس ربوہ..... طارق محمود صاحب خانیوال کے ایک زاہد و متقی نوجوان ہیں۔ انہوں نے ختم نبوت کانفرنس ربوہ میں اپنا خوش قسمت واقعہ بیان کیا..... "میں نے خواب میں دیکھا کہ مسلم کالونی ربوہ کی عظیم الشان مسجد کے باہر لوگوں کا کیف و مستی میں ڈوبا ہوا ایک بہت بڑا اجتماع ہے اور کسی کا منتظر ہے۔ میں نے لپک کر کسی سے پوچھا‘ کون آرہا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ دریائے چناب کی جانب سے جناب خاتم النبین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس کے پنڈال کی طرف تشریف لا رہے ہیں‘ میں پوری قوت سے اس جانب بھاگا‘ دیکھا تو آقا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لا رہے ہیں۔ میں نے سلام کی سعادت حاصل کی‘ عرض کیا‘ آقا کدھر کا ارادہ ہے؟ فرمایا میرے کچھ غلاموں نے میری عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے کانفرنس کا اہتمام کیا ہے۔ میں بھی شرکت کے لئے آیا ہوں"۔
خواجہ قمر الدین سیالویؒ کی للکار.... تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں برکت علی اسلامیہ ہال میں بلائے گئے تمام مکاتب فکر کے کنونشن میں پیکر جرات و غیرت قمرالملت خواجہ قمر الدین سیالویؒ نے انتہائی جذباتی انداز میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا..... "قادیانیوں کا مسئلہ باتوں سے حل نہیں ہو گا‘ آپ مجھے حکم دیں‘ میں قادیانیوں سے نپٹ لوں گا اور چند روز میں ربوہ کو صفحہ ہستی سے مٹا دوں گا" (تعارف علماء اہل سنت‘ مولانا محمد صدیق ہزاروی)
مظفر علی شمسی صاحب روایت کرتے ہیں کہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں ایک عورت اپنے بیٹے کی برات لے کر دہلی دروازہ کی جانب آرہی تھی۔ سامنے سے تڑ تڑ کی
آواز آئی، معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے لئے لوگ سینہ تانے بٹن کھول کر گولیاں کھا رہے ہیں تو برات کو معذرت کر کے رخصت کر دیا۔ بیٹے کو بلا کر کہا کہ بیٹا آج کے دن کے لئے میں نے تمہیں جنا تھا۔ جاؤ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر قربان ہو کر دودھ بخشوا جاؤ۔ میں تمہاری شادی اس دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں کروں گی اور تمہاری برات میں آقائے نامدار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مدعو کروں گی۔ جاؤ پروانہ وار شہید ہو جاؤ تاکہ میں فخر کر سکوں کہ میں بھی شہید کی ماں ہوں۔ بیٹا ایسا سعادت مند تھا کہ تحریک میں ماں کے حکم پر آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے لئے شہید ہو گیا۔ جب لاش اٹھائی گئی تو گولی کا کوئی نشان پشت پر نہ تھا۔ سب سینہ پر گولیاں کھائیں۔ رحمتہ اللہ رحمتہ واسعتہ
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں ایک طالب علم ہاتھ میں کتابیں لئے کالج جا رہا تھا۔ سامنے تحریک کے لوگوں پر گولیاں چل رہی تھیں۔ کتابیں رکھ کر جلوس کی طرف بڑھا کسی نے پوچھا یہ کیا۔ جواب میں کہا کہ آج تک پڑھتا رہا ہوں۔ آج عمل کرنے جا رہا ہوں۔ جاتے ہی ران پر گولی لگی، گر گیا، پولیس والے نے آکر اٹھایا تو شیر کی طرح گرجدار آواز میں کہا گولی ران پر کیوں ماری ہے۔ عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تو دل میں ہے یہاں دل پر گولی مارو تاکہ قلب و جگر کو سکون ملے۔ اسی تحریک ختم نبوت میں ایک مسلمان دیوانہ وار ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لاہور کی سڑکوں پر لگا رہا تھا۔ پولیس والے نے پکڑ کر تھپڑ مارا۔ اس پر اس نے پھر ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ پولیس والے نے بندوق کا بٹ مارا اس نے پھر نعرہ لگایا۔ وہ مارتے رہے۔ یہ نعرہ لگاتا رہا۔ اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالا یہ زخموں سے چور چور پھر بھی ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتا رہا۔ اسے گاڑی سے اتارا گیا تو بھی وہ نعرہ لگاتا رہا۔ اسے فوجی عدالت میں لایا گیا۔ اس نے عدالت میں آتے ہی ختم نبوت کا نعرہ لگایا۔ فوجی نے کہا ایک سال سزا، اس نے سال کی سزا سن کر پھر ختم نبوت کا نعرہ لگایا اس نے سزا دو سال کر دی، اس نے پھر نعرہ لگایا، غرض کہ فوجی سزا بڑھاتا رہا اور یہ مسلمان نعرہ ختم نبوت بلند کرتا رہا۔ فوجی عدالت جب بیس سال پر پہنچی تو دیکھا کہ بیس سال کی سزا سن کر یہ پھر بھی نعرے سے باز نہیں آ رہا تو فوجی عدالت نے کہا باہر لے جا کر گولی مار دو، اس نے گولی کا نام سن کر دیوانہ وار رقص شروع
کر دیا اور ساتھ ہی ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف ترانہ سے ایمان پرور وجد آفریں کیفیت طاری کردی۔ یہ حالت دیکھ کر عدالت نے کہا کہ رہا کر دو‘ یہ دیوانہ ہے‘ اس نے رہائی کا حکم سن کر نعرہ لگایا‘ ختم نبوت زندہ باد۔
(قارئین کرام ! میں لکھتے ہوئے نعرہ لگاتا ہوں اور آپ پڑھتے ہوئے نعرہ لگائیں)
ختم نبوت زندہ باد
آغا شورش کاشمیریؒ نے فرمایا..... ایک سپرنٹنڈنٹ پولیس نے خود راقم سے بیان کیا تھا کہ ہر روز مظاہروں کو سمیٹنے کے لئے تشدد کی لہر اٹھا کر تحریک کو ختم کیا گیا۔ چنانچہ حکام نے اپنے سفید پوش اہلکاروں کی معرفت پولیس پر پتھراؤ کرایا۔ اس طرح فائرنگ کی بنیاد رکھی۔ بعض منچلے قادیانی اپنی جیپوں میں سوار ہو کر مسلمانوں پر گولیاں داغتے اور انہیں شہید کرتے رہے۔ راقم نے لاہور میں چنیز لنچ ہوم مال روڈ پر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ۱۵ سے ۲۰ سال کی عمر کے نوجوانوں کا ایک مختصر سا جلوس کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے جا رہا تھا۔ وہ ایک بے ضمیر سپرنٹنڈنٹ پولیس سی آئی ڈی ملک حبیب اللہ کے حکم پر کسی وارننگ کے بغیر فائرنگ کا ہدف بنا۔ آٹھ‘ دس نوجوان شہید ہو گئے۔ ان کی لاشوں کو ملک صاحب نے اپنے ماتحتوں سے ٹرکوں میں اس طرح پھنکوایا جس طرح جانور شکار کئے جاتے ہیں۔ یہ نظارہ انتہائی درد ناک تھا۔ لاہور چھاؤنی میں ایک قادیانی افسر نے گولیوں کی بوچھاڑ کی لیکن گولی کھانے والوں نے انتہائی استقامت اور کردار کی پختگی کا ثبوت دیا۔ ایک نوجوان ملٹری ہسپتال میں زخموں سے چور چور بیہوش پڑا تھا۔ جب اسے قدرے ہوش آیا تو اس نے پہلا سوال سرجن سے یہ کیا کہ میرے چہرے پر کسی خوف یا اضمحلال کے نشان تو نہیں ہیں جب اسے کہا گیا کہ نہیں تو اس کا چہرہ نور مسرت سے تمتما اٹھا۔ جن لوگوں کو علماء سمیت گرفتار کر کے لاہور کے شاہی قلعہ میں تفتیش کے لئے رکھا گیا‘ ان کے ساتھ پولیس نے اخلاق باختگی کا سلوک کیا۔ ایک انتہائی ذلیل ڈی ایس پی کو ان پر مامور کیا۔ وہ علماء کو اس قدر فحش و فاش گالیاں دیتا اور عریاں فقرے کستا کہ خود خوف خدا تھرا رہا تھا
(تحریک ختم نبوت ص ۱۴۷)
تحریک ختم نبوت ۵۳ء میں دہلی دروازہ لاہور کے باہر صبح سے عصر تک جلوس
نکلتے رہے، لوگ دیوانہ وار سینوں پر گولیاں کھا کر آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر جان قربان کرتے رہے۔ عصر کے بعد جب جلوس نکلنے بند ہو گئے تو ایک اسی سالہ بوڑھا اپنے معصوم پانچ سالہ بچے کو کندھے پر اٹھا کر لایا۔ باپ نے خود ختم نبوت کا نعرہ لگایا، معصوم بچے نے جو باپ سے سبق پڑھا تھا، اس کے مطابق زندہ باد کا نعرہ لگایا، دو گولیاں آئیں اسی سالہ بوڑھے باپ اور پانچ سالہ معصوم بچے کے سینہ سے شائیں کر کے گزر گئیں۔ دونوں شہید ہو گئے مگر تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کر گئے کہ اگر آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر مشکل وقت آئے تو مسلمان قوم کے اسی سالہ بوڑھے خمیدہ کمر سے لے کر ۵ سالہ معصوم بچے تک سب جان دے کر اپنے پیارے آقا کی عزت و ناموس کا تحفظ کرتے ہیں۔
معلوم ہوا کہ اسی تحریک میں کرفیو لگ گیا۔ اذان کے وقت ایک مسلمان کرفیو کی خلاف ورزی کر کے آگے بڑھا، مسجد میں پہنچ کر اذان دی، ابھی اللہ اکبر کہہ پایا تھا کہ گولی لگی ڈھیر ہو گیا۔ دوسرا مسلمان آگے بڑھا۔ اس نے اشہد ان لا الہ الا اللہ کہا تھا کہ گولی لگی ڈھیر ہو گیا۔ تیسرا مسلمان آگے بڑھا ان کی لاشوں پر کھڑا ہو کر اشہد ان محمد رسول اللہ کہا کہ گولی لگی ڈھیر ہو گیا۔ چوتھا آدمی بڑھا تینوں کی لاشوں پر کھڑا ہو کر کہا حی علی الصلوٰۃ کہ گولی لگی ڈھیر ہو گیا۔ پانچواں مسلمان بڑھا۔ غرضیکہ باری باری نو مسلمان شہید ہو گئے مگر اذان پوری کر کے چھوڑی۔
مسلمان رسولؐ..... دعوتِ خدا..... مولانا خلیل احمد قادری مجاہد اسلام مولانا ابو الحسنات سید محمد احمد قادریؒ کے فرزند ہیں۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے جو مجاہدانہ کردار ادا کیا، اس سے مجاہدین جنگ یمامہ کی یاد تازہ ہو گئی۔ وفائے محبوبؐ کے جرم میں آپ کو سزائے موت دی گئی جب یہ خبر آپ کے والد گرامی تک پہنچی جو کراچی جیل میں سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور دیگر علماء کے ساتھ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے تو بہادر بیٹے کے بہادر باپ نے فوراً سجدہ میں سر رکھ دیا اور فرمایا..... ”میرے اللہ ! ناموس رسالتؐ پر ایک خلیل تو کیا میرے ہزاروں فرزند بھی ہوں تو اسوۂ شبیری پر عمل کرتے ہوئے سب کو قربان کردوں۔“
مولانا خلیل احمد قادری فرماتے ہیں کہ دوران قید اندھیری کوٹھڑی میں میرے سامنے زہریلا سانپ چھوڑا گیا۔ نماز پڑھنے سے روکا گیا۔ سارا سارا دن کھڑا رکھا گیا۔ کئی کئی دن کھانا نہ دیا گیا۔ دوران تفتیش گالیوں سے نوازا گیا۔ بھوک اور پیاس کی شدت سے میرے سینے سے درد اٹھتا، اسی لمحہ میں خیال آیا کہ یہاں بھوکا مر رہا ہوں، گھر میں ہوتا تو اپنی پسند کے کھانے کھاتا لیکن دوسرے ہی لمحے ضمیر نے ملامت کی اور صحابہ کرامؓ کی قربانیوں کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آگیا۔ میں نے سر بسجود ہو کر توبہ کی لیکن خدا کی قدرت دیکھئے کہ اندھیرے میں ایک ہاتھ آگے بڑھا اور آواز آئی۔ ”شاہ جی یہ لے لو“..... ایک لفافہ مجھے دیا گیا جس میں کچھ پھل اور مٹھائی تھی، میں حیران رہ گیا کہ اتنے سخت پہروں کے باوجود یہ سب کچھ مجھ تک کیسے پہنچ گیا لیکن میرے دل کو یہ یقین ہو گیا کہ یہ غیبی دعوت جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ میں ملی ہے۔ وہ پھل اور مٹھائی تین روز تک میں استعمال کرتا رہا۔“
اور مرزا قادیانی پکڑا گیا..... قادیانی فتنہ کے سر اٹھاتے ہی جن علماء حق نے نعرہ جہاد بلند کیا اور انگریزی نبوت سے برسر پیکار ہو گئے ان اولین مجاہدین کی فہرست میں مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کا اسم گرامی نہایت نمایاں ہے۔ مولانا کے تابڑ توڑ حملوں سے انگریزی نبی بوکھلا اٹھا۔ اس مجاہد ختم نبوت نے تحریر و تقریر اور مناظرہ کے میدان میں قادیانیت کو ذلیل و رسوا کیا اور آخر مولانا ہی سے ایک تحریری مباہلہ کے نتیجہ میں مرزا قادیانی ہیضہ کے موذی مرض میں مبتلا ہو کر جہنم واصل ہو گیا۔
مرزا قادیانی نے مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کو ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء کو ایک مطبوعہ اشتہار کے ذریعہ مباہلہ کا چیلنج دیا، جس کا عنوان تھا ”مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ“ اس میں مرزا قادیانی نے مولانا صاحب کو مخاطب کر کے لکھا!
”اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ آپ اکثر اوقات اپنے پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہلاک ہو جاؤں گا مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون اور ہیضہ کے امراض مہلکہ سے۔“
رب ذوالجلال کے باب عدل پر جھوٹے نبی نے خود ہی انصاف کی دستک دے دی۔ پھر کیا تھا رب کائنات نے فیصلہ کر دیا۔ مرزا قادیانی تقریباً ایک سال بعد اپنے منہ مانگے مرض ہیضہ میں مبتلا ہوا اور ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو سوئے دوزخ روانہ ہو گیا جبکہ حق و صداقت کی علامت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ مرزا قادیانی کی پر ذلت موت کے بعد تقریباً ۴۰ سال تک زندہ و تابندہ رہے اور قادیانیوں کے خلاف مسلسل جہاد میں مصروف رہے۔
جب بخاریؒ آئے گا..... مولانا احمد علی لاہوریؒ نے ساری زندگی مجاہدین ختم نبوت کی سرپرستی فرمائی۔ تحریر و تقریر کے ذریعے اس فتنہ کی سرکوبی فرمائی۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ تحفظ ختم نبوت کے سپاہیوں سے عشق کی حد تک لگاؤ تھا۔ خصوصاً "سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ" سے انتہائی محبت تھی۔ شاہ جی جیل میں ہوتے یا سفر و حضر میں ہمیشہ اپنے احباب سے ان کی خیریت دریافت کرتے رہتے۔ مولانا عبیداللہ انورؒ فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ آپؒ نے فرمایا محشر کا دن ہو گا‘ رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ افروز ہوں گے۔ صحابہؓ بھی ساتھ ہوں گے۔ بخاریؒ آئے گا۔ حضور نبی کریمؐ معانقہ فرمائیں گے اور کہیں گے بخاریؒ تیری ساری زندگی عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت میں گزری اور کتاب و سنت کی اشاعت میں صرف ہوئی۔ آج میدان حشر میں تیرا شفیع میں ہوں‘ تیرے لئے کوئی باز پرس نہیں۔ جا اپنے ساتھیوں سمیت جنت میں داخل ہو جا۔ تیرے اور تیری جماعت کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھلے ہیں۔ جس طرف سے چاہو‘ کھلے بندوں جنت میں داخل ہو سکتے ہو۔
یہ بڑے نصیب کی بات ہے..... قاضی احسان احمدؒ شجاع آبادی ! امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے شاگرد ارجمند‘ مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر‘ شعلہ بیاں خطیب‘ جرات و شجاعت کا مجسمہ‘ جو ساری زندگی گلی گلی‘ کوچہ کوچہ‘ گاؤں گاؤں اور شہر شہر جا کر قوم کو مسئلہ ختم نبوت سمجھاتا رہا اور قادیانیت کی دھجیاں بکھیرتا رہا۔ ختم نبوت کے اس شیدائی و فدائی کی زندگی کے آخری ایام کا واقعہ پڑھئے اور ختم نبوت کا کام کرنے کی اہمیت و افادیت دیکھئے! شیخ عبدالمجید صاحب سابق میونسپل کمشنر شجاع آباد‘ جو قاضی صاحبؒ کے ساتھ کافی عرصہ ایک بھائی اور دوست کی حیثیت سے رہے ہیں‘ بیان کرتے ہیں کہ بیماری کے ابتدائی ایام میں قاضی صاحبؒ نشتر ہسپتال ملتان میں ڈاکٹر عبدالرؤف کے زیر علاج
تھے، دوپہر کا وقت تھا، میں جاگ رہا تھا۔ قاضی صاحب کو نیند آگئی۔ تھوڑی دیر بعد کیا سنتا ہوں۔ کہ قاضی صاحب بڑی لجاجت سے کہہ رہے ہیں کہ حضور! میں آپ کی ختم نبوت کی خاطر اتنی بار جیلوں میں گیا ہوں، میں نے ملک کے ذمہ دار حکمرانوں کو قادیانی فتنہ سے آگاہ کیا ہے، حضور! یہ سب کچھ میں نے آپ کی خاطر کیا ہے۔“ اس کے تھوڑی دیر بعد درود شریف پڑھنے لگے، میں یہ سمجھتا شاید قاضی صاحب کا آخری وقت ہے مگر کچھ دیر بعد وہ خود بخود بیدار ہو گئے۔ ہشاش بشاش تھے درود شریف پڑھ رہے تھے۔ (قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ از قاری نور محمد ص ۵۵۵)
غیرت اقبالؒ ..... صاحب زادہ محمد اللہ شاہ استاد مظاہر العلوم سہارن پور بیان کرتے ہیں کہ سید آغا حیدر چیف جسٹس ہائیکورٹ نے لاہور کے عمائد اور مشاہیر کو کھانے پر مدعو کیا۔ حضرت علامہ اقبالؒ بھی مدعو تھے، اتفاق سے اس محفل میں جھوٹے نبی کا جھوٹا خلیفہ حکیم نور الدین بھی بلا دعوت آٹپکا، جب عاشق رسولؐ علامہ اقبالؒ کی نظر اس کذاب کے منحوس چہرہ پر پڑی تو غیرت ایمانی سے علامہ اقبالؒ کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور ماتھے پر شکن چڑھ گئے، فوراً اٹھے اور میزبان کو مخاطب کر کے کہا۔ آغا صاحب! آپ نے یہ کیا غضب کیا کہ باغی ختم نبوت اور دشمن رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی مدعو کیا ہے اور مجھے بھی! اور کہا ”میں جاتا ہوں، میں ایسی محفل میں ایک لمحہ بھی نہیں بیٹھ سکتا۔ حکیم نور الدین چور کی طرح فوراً حالات کو بھانپ گیا اور نو دو گیارہ ہو گیا۔ اس کے بعد میزبان نے علامہ اقبالؒ سے معذرت کی اور کہا میں نے اسے کب بلایا تھا یہ تو خود ہی گھس آیا تھا۔
موت و حیات..... ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں مولانا مودودیؒ کو ”قادیانی مسئلہ“ نامی پمفلٹ لکھنے کی پاداش میں مارشل لاء قوانین کے تحت موت کی سزا سنائی گئی اور پھر بین الاقوامی دباؤ سے گھبراتے ہوئے کہا گیا کہ اگر چاہیں تو سات دن کے اندر اندر کمانڈر انچیف سے رحم کی اپیل کر سکتے ہیں، یہ سن کر مولانا نے باوقار لہجہ میں جواب دیا۔ ”مجھے کسی سے کوئی اپیل نہیں کرنی ہے، زندگی اور موت کے فیصلے زمین پر نہیں، آسمان پر ہوتے ہیں، اگر وہاں میری موت کا فیصلہ ہو چکا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت میرا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی۔ (تذکرہ سید مودودیؒ) پھانسی کی سزا پر عوامی اور عالمگیر احتجاج کیا گیا۔ جس
پر سزائے موت عمر قید میں بدل گئی اور پھر انتہائی قانونی مجبوری کے تحت ۲ سال ۹ ماہ قید رکھ کر رہا کر دیا گیا۔
کفن بدوش قائد..... جب ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت چلی تو حضرت مولانا سید بنوریؒ تحریک کے امیر اور مولانا محمود احمد رضوی سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ مولانا یوسف بنوریؒ کے فولادی عزم اور ولولہ انگیز قیادت نے پوری قوم میں جہاد کی روح پھونک دی۔ آپ نے پورے ملک کا طوفانی اور ایمانی دورہ کیا اور مسلمانوں کی رگوں میں خون کی بجائے بجلی دوڑا دی‘ اور لوگ آپ کے نعرہ جہاد پر لبیک کہتے ہوئے میدان میں کود پڑے۔ جب گھر سے نکلے تو اپنے مدرسہ کے مفتی صاحب کے پاس گئے اور فرمایا کہ حضرت مفتی صاحب! میں تحریک کی راہنمائی کے لئے جا رہا ہوں اور اپنا کفن بھی ساتھ لے کر جا رہا ہوں پھر کفن نکال کر دکھایا۔ مزید فرمایا کہ مرزائیوں کو اس ملک میں آئین کی رو سے کافر ٹھہراؤں گا یا اپنی جان کا نذرانہ پیش کروں گا۔ واپس گھر جانے کا ارادہ نہیں۔ یہ مدرسہ تمہارے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اس کی حفاظت کرتے رہنا۔ (اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے پوری ملت اسلامیہ کی لاج رکھ لی اور قادیانیوں کو آئین کی رو سے کافر قرار دے دیا گیا)
زندگی..... مجاہد ملت‘ مرد غازی مولانا عبدالستار خان نیازی کو ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں پروانہ شمع ختم نبوت ہونے کے جرم میں سزائے موت کا حکم دیا۔ جیل میں اور پھر موت کی سزا سن کر مولانا نے جس جرات اور استقامت کا مظاہرہ کیا‘ وہ عشق رسالتؐ کا ایک روشن باب ہے۔ مولانا فرماتے ہیں۔ ”جب تحریک ختم نبوت کے مقدمہ کے بعد میری رہائی ہوئی تو پریس والوں نے میری عمر پوچھی اس پر میں نے کہا تھا کہ ”میری عمر وہ سات دن اور آٹھ راتیں ہیں جو میں نے ناموس مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کی خاطر پھانسی کی کوٹھڑی میں گزار دی ہیں کیونکہ یہی میری زندگی ہے اور باقی شرمندگی۔ مجھے اپنی اس زندگی پر ناز ہے۔“
اگر فیصلہ خلاف ہوا تو..... ! جس خوش قسمت انسان نے ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کا آغاز کیا وہ مولانا تاج محمودؒ تھے۔ قادیانی غنڈوں کے ہاتھوں زخموں سے چور طلبہ کی گاڑی جب ربوہ سے فیصل آباد ریلوے اسٹیشن پر پہنچی تو مولانا تاج محمودؒ اسلام کے
فرزندوں کے لئے چشم براہ تھے۔ ہزاروں کا مجمع تھا۔ پورا شہر امڈ آیا تھا۔ پلیٹ فارم کی دیوار پر چڑھ کر مولانا نے خون میں نہائے ہوئے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے پرجوش انداز میں کہا ”میرے بچو! جب تک تمہارے جسم میں سے بہے ہوئے خون کے ایک ایک قطرہ کا حساب نہیں لیں گے، اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔“ تحریک طوفان کی صورت پورے ملک میں پھیل گئی، مولانا نے تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے رات دن ایک کر دیا۔ آخر ۷ ستمبر (فیصلے کا دن) آگیا، مولانا اکابرین کے ساتھ راولپنڈی میں موجود تھے اور ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہے تھے۔ مولانا محمد رمضان علوی راولپنڈی بیان کرتے ہیں کہ اسی دن مولانا میرے مکان میں تشریف لائے، بڑے مضطرب تھے، کہنے لگے، ”تجھے ایک وصیت کرنے آیا ہوں، میری وصیت سن لو آج اگر فیصلہ ہمارے خلاف ہوا تو میری روح قفس عنصری سے یقیناً پرواز کر جائے گی۔ اکابرین راولپنڈی میں جمع ہیں، انہیں اطلاع نہ ہونے دینا۔ میرا جنازہ راتوں رات فیصل آباد پہنچانے کی کوشش کرنا۔ میرے اکلوتے بیٹے طارق محمود کو پہلے فون کر دینا کہ تمہارے باپ کو لا رہا ہوں۔ میرے لخت جگر کو ہر طرح سے تسلی دینا اور میری بچیوں کو صبر کی تلقین کرنا۔ متواتر بولے جا رہے تھے میں نے بمشکل چپ کرایا۔ حوصلہ دیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ ضرور مدد فرمائیں گے۔ ابھی آپ کی بہت ضرورت ہے پھر فرمایا ”جہاں میرے آقا کی ناموس کا تحفظ نہ ہو وہاں رہ کر کیا کرنا؟..... نماز مغرب بمشکل نیچے اتر کر مرحوم نے ادا کی۔ میں نے فکر کی وجہ سے کچھ مقوی اشیاء منگوا لیں اور پیش خدمت کیں لیکن کچھ نہ کھایا۔ پھر فرمایا ریڈیو اوپر منگواؤ۔ خبروں کا وقت قریب ہے۔ سوئچ آن کیا، سکوت طاری تھا جیسے ہی مرزائیوں مرتدوں کے غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے الفاظ کان میں پڑے، شیر کی طرح اٹھ کر بیٹھ گئے اور رات کو مرکزی جلسہ سے پرجوش خطاب فرمایا۔
بندوقوں کے سائے میں آواز حق..... کنری (سندھ) کو قادیانیوں نے ربوہ ثانی بنا رکھا تھا۔ قادیانی مبلغین پورے علاقہ میں مچھروں کی طرح اڑتے پھرتے تھے۔ سینکڑوں مسلمان مرتد ہو چکے تھے۔ قادیانی زمینداروں اور ان کے پالتو غنڈوں کی وجہ سے مسلمان بے بسی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ختم نبوت یا رد قادیانیت پر کچھ بیان کرنا اپنی موت کے پروانہ پر دستخط کرنے کے مترادف تھا۔ مجاہد ختم نبوت مولانا محمد علی جالندھریؒ کو جب
مسلمانوں کے ان ناگفتہ بہ حالات کا پتہ چلا تو تڑپ اٹھے اور فوراً کنری جانے کا ارادہ فرمایا۔ کنری پہنچتے ہی جلسہ کا اعلان کر دیا، مسلمان اکٹھے ہو گئے، جلسہ گاہ بھر گئی، پولیس انسپکٹر بھاگا بھاگا مولانا صاحب کے پاس آیا اور کہنے لگا مولانا قادیانی خون خرابہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس لئے میں آپ کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ برائے مہربانی جلسہ نہ کریں۔ مجاہد ختم نبوت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے بڑے وقار سے جواب دیا 'بھائی زندگی اور موت صرف خدا کے ہاتھ میں ہے۔ مجھے کسی کی حفاظت کی کوئی ضرورت نہیں۔ جلسہ ضرور اور ضرور کروں گا۔ ادھر مولانا تقریر کرنے کے لئے سٹیج پر تشریف لائے، ادھر بیس پچیس قادیانی غنڈے بندوقوں سے مسلح سٹیج پر چڑھ آئے اور سٹیج کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور مولانا کو مخاطب کر کے کہا اگر آپ نے مرزا قادیانی کے بارے میں کچھ کہا تو ساری بندوقیں گولیاں اگلیں گی اور آپ کے سینے سے پار ہو جائیں گی۔ مولانا نے بڑی جرات کے ساتھ ان کی دھمکی کو سنا اور پھر بڑی پھرتی کے ساتھ سٹیج سے نیچے اتر گئے اور اپنے ایک دوست کو زندگی کی آخری وصیت لکھوائی۔ بچوں، رشتہ داروں اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے بارے میں باتیں کیں اور پھر جلال میں آتے ہوئے شیر کی طرح جست لگا کر سٹیج پر پہنچ گئے اور قادیانی غنڈوں کو مخاطب کر کے کہا کہ میں مرزا قادیانی کی مرمت کرنے لگا ہوں، تم اپنی بندوقیں سیدھی کر لو۔ محمدؐ عربی کے غلام کا سینہ حاضر ہے۔ دو گھنٹے کی تقریر فرمائی۔ قادیانیت کا پوسٹ مارٹم کیا۔ مرزا قادیانی کی خرافات عوام کو سنائیں لیکن رب العزت کے فضل و کرم سے کسی قادیانی غنڈے کو ہاتھ اٹھانے کی جرات تک نہ ہوئی۔
فرض کفایہ اور فرض عین..... زین العابدین، مجاہد ملت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ شدید بیمار ہو گیا۔ مولانا اپنے لخت جگر کو دوائی دے رہے تھے۔ اس اثناء دروازے پر دستک ہوئی۔ مولانا باہر نکلے تو دیکھا ایک آدمی کھڑا ہے اس نے درخواست کی کہ بالاکوٹ کے مقام پر ایک بدنام زمانہ اور خطرناک قادیانی مبلغ اللہ دتہ گھس آیا ہے اور لوگوں کو اپنے دام فریب میں پھنسا رہا ہے۔ فتنہ پھیلنے کا انتہائی اندیشہ ہے۔ لہٰذا فوراً چلیئے۔ مولانا نے کتابوں کا ایک بیگ اٹھایا اور چل پڑے۔ بیوی نے کہا بچے کی حالت
سخت خراب ہے‘ فرمایا ضروری کام ہے‘ میرے جانے کے بعد بچہ مر جائے تو دفن کر دینا ابھی بس میں سوار ہوئے ہی تھے کہ گھر کی طرف سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا آپ کا نور نظر فوت ہو گیا ہے لیکن عاشق رسولؐ نے جواب دیا کہ میرے فرزند کو کفن پہنا کر دفن کر دیں‘ میں اپنے مشن پر جا رہا ہوں اور فرمایا نماز جنازہ فرض کفایہ ہے اور تحفظ ناموس رسالتؐ فرض عین! وہاں پہنچ کر اس مردود کو اس علاقہ سے ذلیل و خوار کر کے نکالا۔
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
ایک بہن کا مکتوب بھائی کے نام..... معروف احراری لیڈر اور مجاہد ختم نبوت مظفر علی شمسیؒ 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں دیگر رہنماؤں کے ساتھ گرفتار ہو گئے۔ سید عطاء شاہ بخاریؒ اور دیگر اکابرین کے ساتھ سکھر جیل کی ایک کوٹھڑی میں انہیں بند کر دیا گیا۔ عیدالفطر کا دن تھا‘ مظفر علی شمسی کی شدید بیمار بہن کا خط بھائی کو جیل میں اسی روز ملتا ہے جسے پڑھ کر آنکھیں پرنم ہو جاتی ہیں۔
”میرے بھیا“
اس امتحان میں آپ کو پریشان کرنا نہیں چاہتی۔ اب قریب المرگ ہوں۔ بخار دامن نہیں چھوڑتا۔ ایک سو چار درجہ حرارت سے گرتا نہیں‘ کھانسی زوروں پر ہے‘ محبوب بھائی ڈاکٹر کو لائے تھے۔ ایکسرے میں ٹی بی کی ابتدائی منزل ہے۔ ماں باپ نے مجھے آپ کے سپرد کیا تھا اور اب موت مجھے لئے جا رہی ہے۔ کاش! کہ میرے آخری وقت آپ میرے پاس ہوتے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر جو مصائب برداشت کر رہے ہیں۔ اللہ آپ کو استقلال بخشے اور قیامت کے دن آپ کی قربانی ہمیں دربار رسالتؐ میں سرخرو کرے! آپ بہادری سے قید کاٹیں۔ اگر زندہ رہی تو مل لوں گی۔ ورنہ میری قبر پر تو آپ ضرور آئیں گے۔ سب بچے سلام کہتے ہیں۔ اب ہاتھ میں طاقت نہیں۔ لہٰذا خط ختم کرتی ہوں۔“
بھیا سلام آپ کی بہن
اس خط سے میرے دل میں ایک ہوک اٹھی‘ شاہ صاحبؒ آبدیدہ ہو گئے۔ سب نے عزیزہ کی صحت کے لئے دعا کی۔ اس خط کا مطلب وہی سمجھ سکتا ہے جو وطن سے دور ہو اور پھر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہا ہو۔
یہ فریادیں ہیں مصطفیٰؐ کے لئے..... آغا شورش کاشمیریؒ ! جو قلم اور زبان کا دھنی تھا لیکن قلم اور زبان دونوں تحفظ ختم نبوت کے لئے وقف تھے۔ شورش کا نوک قلم قادیانی کلیجوں میں چبھتا اور شعلہ نوائیوں سے قادیانی کان جلتے۔ شورش کا ہفت روزہ ”چٹان“ قادیانیت کی یلغار کو روکنے کے لئے چٹان تھا۔
جب ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت چلی‘ اس وقت مسٹر ذوالفقار علی بھٹو ملک کے وزیر اعظم تھے۔ دوران تحریک آغا شورش کاشمیریؒ اپنے پیارے دوست مولانا تاج محمودؒ کے ساتھ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ملے‘ اس ملاقات کی روداد ہفت روزہ ”چٹان“ ۲۹ اکتوبر ۱۹۷۹ء میں موجود ہے جو مسٹر بھٹو کی بیان کردہ ہے۔ اس روداد کی تلخیص یوں ہے۔
مسٹر بھٹو کہتے ہیں ”شورش اپنے دوست مولانا تاج محمودؒ کے ساتھ میرے پاس آئے۔ شورش نے چار گھنٹے تک مسئلہ ختم نبوت اور قادیانیوں کے پاکستان کے بارے میں عقائد و عزائم پر گفتگو کی۔ دوران گفتگو شورش نے ایک عجیب حرکت کی۔ شورش نے باتوں کے دوران انتہائی جذباتی ہو کر میرے پاؤں پکڑ لئے۔ شورش جیسے بہادر اور شجاع آدمی کو ایسی حالت میں دیکھ کر میں لرز اٹھا‘ شورش کی عظمت کو دیکھ کر میں نے اسے اٹھا کر گلے سے لگا لیا۔ مگر وہ ہاتھ ملا کر پیچھے ہٹ گیا اور کہنے لگا:
”بھٹو صاحب! ہم جیسی ذلیل قوم کسی ملک نے آج تک پیدا نہیں کی ہوگی‘ ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تاج و تخت ختم نبوت کی حفاظت نہ کر سکے پھر شورش نے روتے ہوئے میرے سامنے اپنی جھولی پھیلا کر کہا‘ بھٹو صاحب! میں آپ سے اپنے اور آپ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم المرسلین کی بھیک مانگتا ہوں۔ آپ میری زندگی کی تمام خدمات اور نیکیاں لے لیں‘ میں خدا کے حضور خالی ہاتھ چلا جاؤں گا۔ خدا کے لئے محبوب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کی حفاظت کر دیجئے‘ اسے میری جھولی نہ سمجھئے بلکہ فاطمہؓ بنت محمدؐ کی جھولی سمجھ لیجئے“۔
اب اس سے زیادہ مجھ میں کچھ سننے کی تاب نہ تھی۔ میرے بدن میں ایک جھرجھری سی آگئی.... میں نے شورش سے وعدہ کر لیا کہ میں قادیانی مسئلہ ضرور بالضرور حل کروں گا"۔
آرزوئے شہادت..... مولانا امین گیلانی اسلاف کی یادگار ہیں، شاعر ختم نبوت ہیں، بڑھاپے میں قدم رکھ چکے ہیں لیکن آواز جوان اور جذبات گرم ہیں اور آج بھی اپنی آواز سے لوگوں کے جذبات کو گرما رہے ہیں۔ اپنی کتاب ”عجیب و غریب واقعات“ میں اپنی زندگی کا ایک واقعہ رقم کرتے ہیں۔ پڑھئے اور اپنے بزرگوں کی جرات و شجاعت کے کارنامے دیکھئے۔
جنرل اعظم کے حکم سے لاہور میں کشتوں کے پشتے لگ رہے تھے، تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء اپنے جوبن پر تھی۔ پولیس مجھے اور بہت سے میرے ساتھیوں کو ہتھکڑیاں پہنا کر قیدیوں کی بس میں بٹھا کر شیخوپورہ سے لاہور کی طرف روانہ ہو گئی، اسیران ختم نبوت بس میں نعرے لگاتے ہوئے جب لاہور کی حدود میں داخل ہوئے تو ملٹری نے بس روک لی اور سب انسپکٹر کو نیچے اترنے کا حکم دیا، ایک ملٹری آفیسر نے اس سے چابی لے کر بس کا دروازہ کھول دیا اور بڑے رعب و جلال سے گرجا، تمہیں معلوم نہیں نعرے لگانے والے کو گولی مارنے کا حکم ہے، کون نعرے لگاتا تھا؟ اس اچانک صورت حال سے سب پر ایک سکوت سا طاری ہو گیا۔ معاً ”میرا ہاشمی خون کھول اٹھا“ میں نے تن کر کہا ”میں لگاتا تھا“ اس نے بندوق میرے سینے پر تان کر کہا ”اچھا اب لگاؤ نعرہ“ میں نے پرجوش انداز سے نعرہ لگایا ”میرا کالی کملی والا“ سب نے بآواز بلند جواب دیا۔ ”زندہ باد“ اس کی بندوق کی نالی نیچے ڈھلک گئی۔ منہ پھیر کر کہا ”ہاں وہ تو زندہ باد ہی ہے“ اور بس سے اتر گیا ایسا معلوم ہوا جنت جھلک دکھا کر اوجھل ہو گئی پھر اس نے سب انسپکٹر سے کچھ کہا۔ اس نے بس کا دروازہ مقفل کر دیا۔ چند منٹوں کے بعد ہم بورسٹل جیل لاہور میں تھے۔“
پھولوں کی بارش..... عظیم مجاہد ختم نبوت اور بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر مولانا سید شمس الدین کو قادیانیوں نے ایک بھیانک سازش کے تحت شہید کروایا۔ اس شہید مصطفیٰؐ کے جسم اطہر سے بہنے والا خون جن افراد کے ہاتھوں کو لگ گیا، ان کے ہاتھوں سے کئی
دن خوشبو آتی رہی اور جب انہیں دفن کر دیا گیا تو یکا یک آسمان سے پھول برسنے لگے۔ لوگوں نے سمجھا کہ شاید قریبی باغ سے ہوا کے ساتھ بادام کے درختوں کے پھول اڑ کر آ رہے ہیں لیکن جب ان پھولوں کا موازنہ کیا گیا تو قطعی مختلف تھے۔۔۔۔ لوگوں نے اسے شہید کی کرامت قرار دیا۔
نجات آخرت: ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت اسلام اور مرزائیت کی ایک زبردست ٹکر تھی۔ یہ ٹکراؤ سڑکوں پر بھی ہوا اور میدانوں میں بھی لیکن اس معرکہ حق باطل کا فیصلہ کن راؤنڈ قومی اسمبلی میں لڑا گیا، مرزائیت کی طرف سے قادیانی پیشوا مرزا ناصر وکیل ذلیل بن کر آیا اور اہل اسلام کی طرف سے جو شخص سپہ سالار بن کر آیا، وہ صاحب مقام محمود صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عزت و ناموس و ختم نبوت کا محافظ مفتی محمودؒ تھے، جن کے ایمانی اور حقانی دلائل کے سیلاب کے سامنے مرزا ناصر خس و خاشاک کی طرح بہہ گیا اور پاکستان کی منتخب قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو متفقہ طور پر کافر قرار دے دیا۔ اس فرزند اسلام کی وفات کے بعد ان کے ایک عقیدت مند نے انہیں خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ حضرت کیسی گزری۔ آپ نے فرمایا ”ساری زندگی قرآن و حدیث کی تبلیغ میں گزری، اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے کوشش و کاوش کی۔ وہ سب اللہ رب العزت کے ہاں بحمدہ تعالیٰ قبول ہوئیں۔ مگر نجات اس محنت کی وجہ سے ہوئی، جو قومی اسمبلی میں مسئلہ ختم نبوت کے لئے کی تھی۔ ختم نبوت کی خدمت کے صدقہ اللہ تعالیٰ نے بخشش فرمادی۔
(”ایمان پرور یادیں“ ص ۳۵ از مولانا اللہ وسایا)
دل مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : خطیب اسلام مولانا محمد اجمل خان عہد حاضر میں عہد رفتہ کے مسلمانوں کی درخشاں روایات کے امین ہیں۔ اس دور میں اگر کسی نے میدان خطابت کے شہسوار اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی خطابت کی جھلک دیکھنی ہو تو وہ مولانا کی خطابت کی جولانی، روانی، طغیانی، شعلہ بیانی اور گل فشانی کو دیکھے۔ مولانا کی تقریر کا ہر ہر جملہ وادی دل کے لئے باد بہار کا ٹھنڈا جھونکا ہوتا ہے جس کی خوشبو سے قلب و دماغ معطر ہو جاتے ہیں۔ دین محمدیؐ کے اس سپاہی اور فدائی کا عشق خاتم النبیینؐ میں ڈوبا ہوا ایک ایمان پرور واقعہ ہدیہ قارئین ہے۔ ”ربوہ میں سالانہ
ختم نبوت کانفرنس سے چند روز قبل آپ کو دل کا شدید دورہ پڑا۔ کمزوری اور نقاہت سے اٹھا نہ جاتا تھا۔ احباب نے کانفرنس میں جانے سے روکا لیکن آپ نے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا۔ جان جاتی ہے تو جائے‘ میں ضرور بالضرور جاؤں گا۔ کانفرنس میں سٹیج پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا۔ مجھے بیماری نے اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ دوستوں نے کہا نہ جاؤ لیکن مجھے فخر المحدثین حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ یاد آگئے۔ شدید بیماری میں شاہ صاحب ڈابھیل سے بہاولپور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے وکیل بن کر آئے تھے۔ میں بھی کانفرنس میں لاہور سے ”ربوہ“ اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا وکیل بن کر آیا ہوں۔ شاہ صاحب نے کہا تھا میرے نامہ اعمال میں کچھ نہیں‘ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا شفیع بنانے کے لئے بہاولپور آیا ہوں۔ میرے بھی دفتر اعمال میں کچھ نہیں‘ میں بھی شفاعت محمدیؐ حاصل کرنے کے لئے ربوہ ”صدیق آباد“ آیا ہوں۔ پھر فرمایا‘ گھر سے چلا تو میرے بیمار دل نے میرے قدم روکے۔ لیکن اچانک مجھے گنبد خضرا میں تڑپتا ہوا دل مصطفیٰؐ یاد آیا۔ میں نے کہا میرا دل دھڑکے یا نہ دھڑکے لیکن میرے آقاؐ کا دل نہ تڑپے۔ میرے کروڑوں دل و جان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان!“
عظیم وظیفہ : ایک ہستی جس نے ہمیشہ مجاہدین ختم نبوت کے سروں پر اپنا دست شفقت رکھا‘ جس نے راتوں کو سجدوں میں سر رکھ کر اور گریہ و زاری کر کے کارکنان ختم نبوت کی کامیابی و کامرانی کے لئے دعائیں کیں‘ جس کی ہر مجلس میں ختم نبوت کا ذکر ہوتا اور وہ اپنے ہزاروں مریدوں کو قادیانیت سے برسرپیکار ہونے کا حکم دیتا۔ اس کی سوچ تحفظ ختم نبوت پر نثار اور اس کا سراپا قادیانیت کے لئے للکار‘ اس محافظ ختم نبوت کا اسم گرامی شیخ المشائخ امام الاولیاء حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ ہے‘ عشق رسالت ماب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشبو میں رچا بسا‘ ان کا درج ذیل واقعہ پڑھئے اور تحفظ نبوت کے کام کی اہمیت و افادیت دیکھ کر قادیانیت کے خلاف میدان جہاد میں کود جائیے۔
”مولانا لال حسین اخترؒ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور حضرت سے کوئی وظیفہ پوچھا‘ فرمایا۔ ختم نبوت کا مسئلہ بیان کرتے رہو‘ یہی وظیفہ ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد میں پھر حاضر خدمت ہوا اور
حضرت سے پھر درخواست کی کہ مجھے کوئی وظیفہ بتائیے۔ آپ نے فرمایا۔ ختم نبوت کا کام کرتے رہو۔ ختم نبوت کی حفاظت سب سے بڑا وظیفہ ہے۔ (ہفت روزہ ختم نبوت۔ ۲۶ اپریل ۱۹۸۵ء)
اے شفاعت محمدؐ کے طلب گارو! تم نے کبھی سوچا؟ کبھی تم نے فکر کیا؟ کبھی تم نے دھیان دیا کہ آج اس عظیم ترین نبیؐ کی عظیم ترین نبوت پر قادیانی بھونک رہے ہیں۔ پیارے نبیؐ کی دستار ختم نبوت پر قادیانی گدھیں حملے کر رہی ہیں۔ قادیان کے ایک چمگادڑ مرزا قادیانی جہنم مکانی رحمتہ العالمین (معاذ اللہ) بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کی بکواس کو حدیث مصطفیٰؐ کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ (معاذ اللہ) نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل کرتے ہوئے اس ذلیل زمان کے ۹۹ صفاتی نام رکھے گئے ہیں۔ (معاذ اللہ) اس ننگ انسانیت پر یہ قادیانی الو درود و سلام بھیجتے ہیں۔ (معاذ اللہ) اس بد معاش کی عیاش بیویوں کو امہات المومنین کے نام سے متعارف کرایا جا رہا ہے (معاذ اللہ) اس ملعون خلقت کے شرابی ساتھیوں کو صحابی کہا جا رہا ہے (معاذ اللہ) دنیا میں اس مقہور کو مشہور کیا جا رہا ہے۔ اس آلام زماں کو امام زماں کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس شیطان کو سب سے اعلیٰ انسان بنایا جا رہا ہے اس قبیح کو مسیح بنایا جا رہا ہے۔ اس غبی کو نبی بنایا جا رہا ہے۔ اس نامعقول کو رسول بنایا جا رہا ہے۔ اور اس کفر گر کو پیغمبر بنایا جا رہا ہے۔
رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے! قادیانیوں کی زبان پلید سے توہین رسالت سن کر تیری رگ حمیت کیوں نہیں پھڑکتی؟ قادیانی مرتدوں کو اسلام کی فصل برباد کرتے ہوئے دیکھ کر خاموش تماشائی کیوں ہے؟ ہر قادیانی کی خدائی پھٹکار شدہ صورت دیکھ کر تو غصہ و جلال میں کیوں نہیں آتا؟
قادیانی گستاخ رسولؐ کی دکان سے سودا خریدتے وقت تیرا عشق رسولؐ کہاں رہ جاتا ہے؟ بدنام زمانہ قادیانی مشروب ساز فیکٹری شیزان کی بوتل پیتے وقت اور اس کا جام جیلی، اچار اور چٹنی وغیرہ کھاتے وقت تیری زبان کیوں نہیں رکتی۔ تیرا گلا کیوں بند نہیں ہوتا؟ اور تجھے قے کیوں نہیں آتی؟ اے مسلمان جب تو قادیانیوں سے گلے ملتا ہے تو گنبد خضراء میں دل مصطفیٰؐ دکھتا ہے۔
لیکن قادیانیو! سن لو، رب العزت کا لطف و کرم ہے کہ آج کے اس مادہ پرستی
کے دور میں، آج کے اس نفسا نفسی کے عالم میں بھی، نام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر آواز دی جاتی ہے تو شمع ختم نبوت کے پروانے امڈ امڈ کر آتے ہیں اور اپنے خون ناب کے ساتھ عشق مصطفیٰؐ کے رخشندہ باب رقم کر جاتے ہیں۔ نبی کی حرمت پر کٹ مرنا اپنا مقصد حیات سمجھتے ہیں اور نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر شہید ہو جانا باعث نجات سمجھتے ہیں۔ ختم نبوت کے باغیو! ہم گستاخ رسولؐ کو اس دھرتی پر زندہ نہیں رہنے دیں گے۔ ہم تم پر صدیق اکبرؓ کا قہر بن کر گریں گے۔ تم پر فاروق اعظمؓ کا جلال بن کر گریں گے اور تمہیں جلا کر خاک سیاہ کر دیں گے۔ ہم خالدؓ کی شمشیر لے کر نکلیں گے۔ ہم وحشیؓ کا نیزہ لے کر آئیں گے۔ ہم معاذؓ معوذؓ کا جذبہ لے کر تم پر ٹوٹ پڑیں گے۔ شہدائے یمامہ کی داستان عشق و وفا کو دہرائیں گے۔ ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائیں گے۔ عالم کی فضاؤں میں ”لا نبی بعدی“ کا پرچم لہرائیں گے۔ پیر مہر علی شاہؒ کی محبت کے چراغ جلائیں گے، سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی جرات کے گیت گائیں گے، ابو الحسنات شاہ کی محبت رسولؐ کے قصے دنیا کو سنائیں گے۔ باغیان ختم نبوت کو خشکی سے بھگائیں گے اور پھر انہیں پکڑ کر جہاز میں لاد کر بحر اوقیانوس کی گہرائیوں میں غرق کر کے ہمیشہ کے لئے ان کا نام و نشان مٹائیں گے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ انہیں جہنم کے درد ناک عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ (انشاء اللہ)
توجہ طلب
قارئین حضرات سے درخواست ہے کہ اس قسم کا کوئی واقعہ جو آپ نے دیکھا ہو۔ پڑھا ہوا ہو‘ سنا ہو یا پیش آیا ہو۔ براہ کرم ثبوت کے ساتھ تفصیلاً ارسال فرمائیں تاکہ کتاب کے آئندہ ایڈیشن میں شامل اشاعت کیا جا سکے۔ شکریہ
شیزان
کا
بائیکاٹ
مسلمانوں کے ضمیر پر ایک دستک
"شیزان" قادیانیوں کی بدنام زمانہ مشروب ساز فیکٹری ہے۔ اقتصادی لحاظ سے یہ فتنہ قادیانیت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اسی کمپنی کے "پٹرول" سے جھوٹی نبوت کی گاڑی چلتی ہے۔ المختصر شیزان کمپنی قادیانی نبوت کا اقتصادی یونٹ ہے۔ جس طرح تاجدار ختم نبوت جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی نبوت کے لئے حضرت ابوبکرؓ صدیق اور حضرت عثمانؓ غنی اپنی دولت بے دریغ خرچ کیا کرتے تھے، آج اسی طرح مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کی تشہیر کے لئے شیزان کمپنی اپنا سرمایہ بے دریغ خرچ کر رہی ہے۔ گزشتہ برسوں میں شیزان کمپنی نے قادیانیت کی تبلیغ و تشہیر کا ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔ پاکستان میں قادیانیوں کے سالانہ جلسہ پر پابندی لگنے پر یہ جلسہ ملعون لندن میں منعقد ہوا جس پر ایک زر کثیر خرچ ہوا جس کا نصف شیزان نے ادا کیا۔ ۱۹۸۸ء میں اپنی سالانہ آمدنی کا دسواں حصہ (ایک کروڑ ساڑھے اکاون ہزار روپیہ) ربوہ فنڈ میں جمع کرایا۔ شیزان ہی وہ دشمن اسلام کمپنی ہے جو نبوت کاذبہ کے شائع ہونے والے درجنوں رسائل و جرائد کو اپنے اشتہارات دے کر انہیں مالی طور پر مضبوط رکھتی ہے۔ شیزان ہی وہ دشمن رسولؐ کمپنی ہے جس نے عقیدہ ختم نبوت کے خلاف کام کرنے والے قادیانی طلباء کے وظائف مقرر کر رکھے ہیں۔ دنیا میں مرزائی نبوت کا لٹریچر اور تحریف شدہ قرآن پھیلانے کے شیطانی منصوبے پر پوری قوتوں سے عمل پیرا ہے۔ پچھلے دنوں جب شیزان کمپنی کا مالک چوہدری شاہ نواز جہنم رسید ہوا تو اس کی مرگ بے ایمان پر قادیانی نبوت کے ترجمان "الفضل" نے اپنے مرتد سپوت کی شخصیت پر جو تعریفی کلمات کہے، وہ ان بھولے بھالے مسلمانوں کی آنکھیں کھولنے اور دماغوں کے دریچے وا کرنے کے لئے کافی ہیں جو کہتے ہیں کہ شیزان فیکٹری قادیانیوں کی نہیں یا شیزان فیکٹری پہلے قادیانیوں کی تھی اور اب
مسلمانوں نے خریدی ہے۔ قادیانی روز نامہ ”الفضل“ لکھتا ہے۔
”احباب جماعت کو نہایت افسوس سے اطلاع دی جاتی ہے کہ مکرم چوہدری شاہ نواز صاحب ۲۳ مارچ ۱۹۹۰ء کی شب لاہور میں حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے انتقال فرما گئے۔ آپ کی عمر ۸۵ برس تھی۔ محترم چوہدری شاہ نواز صاحب جماعت احمدیہ کے مخیر اور مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے احباب میں سے تھے۔ آپ کو روسی زبان میں ترجمہ و طباعت قرآن کریم کا سارا خرچ ادا کرنے کی بھی توفیق ملی۔ چنانچہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح (الرابع) ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ ۱۹۸۳ء کے دوسرے روز ۲۷ دسمبر کو خطاب فرماتے ہوئے محترم چوہدری شاہ نواز صاحب کا ذکر یوں فرمایا۔
”روسی زبان میں ہم ابھی تک ترجمہ قرآن شائع نہیں کر سکے تھے، اس کے اخراجات بھی بہت زیادہ اٹھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے محترم چوہدری شاہ نواز صاحب کے دل میں یہ تحریک ڈالی، انہوں نے کہا کہ وہ روسی زبان میں ترجمہ و نظر ثانی کے سارے اخراجات ادا کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں مزید نیکی کی توفیق دی.... ایک نیکی دوسری نیکی کو جنم دیتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے لکھا ہے کہ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں روسی زبان میں قرآن کریم کی طباعت کے بھی سارے اخراجات ادا کروں گا“ (الفضل ۱۴ جنوری ۱۹۸۴ء)
اسی طرح خطاب جلسہ سالانہ لندن ۱۹۸۷ء کے موقع پر فرمایا ”مکرم چوہدری شاہ نواز صاحب کو رشین قرآن کریم کا خرچ پیش کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔“ حضور نے مزید فرمایا۔
”جاپانی زبان کے متعلق چوہدری شاہ نواز صاحب کے بچوں نے اپنے باپ کے علاوہ یہ پیش کش کی ہے اور اس سلسلے میں بہت سی رقم جمع بھی کروا چکے ہیں۔“ (ضمیمہ قادیانی ماہنامہ ”خالد“ اکتوبر ۱۹۸۷ء۔ ص ۶ کالم ۲)
شیزان کمپنی کو مسلمانوں کی کمپنی کہنے والو! قادیانی جریدہ کے اس اعلان کو چشمان ہوش سے بار بار پڑھو، آپ پاکستان کے نمایاں صنعت کاروں میں سے تھے آپ نے نہایت کامیاب تجارتی ادارے قائم کئے ان میں شاہ نواز لمیٹڈ، شیزان انٹرنیشنل، شاہ تاج شوگر
طرز اور شاہ نواز ٹیکسٹائل ملز شامل ہیں۔" (الفضل ربوہ، ۲۶ مارچ ۱۹۹۰ء)
اے مسلمان! قادیانیوں کا یہ ترجمہ قرآن کیا ہے؟ یہ جھوٹی نبوت کے سفاک لٹیروں کی تیروں، نیزوں، خنجروں، برچھیوں، بھالوں اور کلہاڑیوں سے مسلح ہو کر قرآن پر یلغار ہے۔ قرآنی مطالب و معانی کا قتل ہے۔ مفاہیم قرآن کا گلا گھونٹنا ہے۔ الفاظ قرآن کو ارتدادی لباس پہنانا ہے اور دجل و فریب کے سہارے قرآن سے قادیانی نبوت کا جواز اور ثبوت پیش کرنا ہے۔
اے سادہ لوح مسلمان! قادیانی، ترجمہ قرآن کے اپنے باطل مشن پر کروڑوں روپیہ کیوں صرف کر رہے ہیں، پوری دنیا میں اس زہریلے ترجمے کو کیوں پھیلا رہے ہیں اور شیزان کمپنی اس فوج ابلیس کا ہراول دستہ کیوں ہے؟ اس لئے کہ وہ اسی ارتدادی ترجمہ قرآن کی مدد سے "عقیدہ ختم نبوت" کو جھٹلاتے ہیں اور سلسلہ نبوت کو جاری ثابت کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی نبوت کا جواز نکالا جاتا ہے اور اسے مسند نبوت و رسالت پر بٹھایا جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب دیا جاتا ہے۔ اور مرزا قادیانی کو آنے والا مسیح موعود کہا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی کو "محمد رسول اللہ" مانا جاتا ہے اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دین اسلام کی تبلیغ کے لئے دوبارہ اس دنیا میں مرزا قادیانی کی صورت میں تشریف لائے ہیں (نعوذ باللہ)۔ دین کی تکمیل مرزا قادیانی کی ذات پر کی جاتی ہے۔ قرآن کا اس کی ذات پر دوبارہ نازل ہونا ثابت کیا جاتا ہے۔ قرآن کی وہ آیات جن میں رب العزت نے اپنے محبوب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا ہے ان آیات مقدسہ کو مرزا قادیانی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس کے مرتد ساتھیوں کی جماعت کو "صحابہ رسول" کے نام سے پکارا جاتا ہے، اس کی بے ایمان بیویوں کو "امہات المومنین" کا عظیم نام دیا جاتا ہے، اس کے گھر والوں کے لئے "اہل بیت" کی مقدس اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، اسی ترجمہ قرآن میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر رکیک حملے کئے جاتے ہیں، عقیدہ توحید کی بنیادوں کو منہدم کیا جاتا ہے، منصب نبوت و رسالت پر پھبتیاں کسی جاتی ہیں، انبیائے کرام کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ مریم مقدسہ پر بہتان لگائے جاتے ہیں اور شعائر اسلامی کو اس بری طرح روندا جاتا ہے کہ الامان والحفیظ!
اے مسلمان! قادیانی اس قدر تندہی سے اس ارتدادی منصوبے پر اس لئے
عمل پیرا ہیں کیونکہ وہ قرآن اور صاحب قرآن سے مسلمانوں کا ناطہ توڑ کر مرتد عصر مرزا قادیانی سے جوڑنا چاہتے ہیں۔ ملت بیضا کی عقیدتوں کے دھاروں کا رخ مکہ اور مدینہ کے روحانی مراکز سے موڑ کر سوئے مرکز نبوت افرنگ ”قادیاں“ لے جانا چاہتے ہیں۔ اور نبوت محمدیؐ کا پرچم سرنگوں کر کے عالم کی فضاؤں میں قادیانی نبوت کا پرچم لہرانا چاہتے ہیں اور انسانیت کو اس پرچم تلے جمع کر کے مرزا قادیانی کے سر پر رہبر انسانیت کا تاج رکھنا چاہتے ہیں۔ (نعوذ باللہ)
اے مسلمان! جب تو مصنوعات شیزان خریدتا ہے تو تیری جیب سے ایک خطیر رقم نکل کر مالکان شیزان کی تجوریوں میں جا پہنچتی ہے اور پھر نبوت کاذبہ کا یہ کاروباری ادارہ تیری رقم کا دسواں حصہ قادیانیوں کے مرکزی فنڈ میں پہنچا دیتا ہے۔ اب اگر! تیری رقم کسی قادیانی عبادت گاہ کی تعمیر پر خرچ ہوئی تو اس بیت الشیطان کی تعمیر میں تو کتنا معاون و مددگار؟ تیری رقم سے کسی قادیانی مبلغ کو تنخواہ ملی اور اس نے کسی مسلمان کو قادیانیت کے دام میں پھنسا کر قادیانی بنا لیا تو اس کا ایمان لوٹنے میں تو کتنا ملوث؟ تیری رقم سے تحریف شدہ قرآن اور مسخ کردہ احادیث شائع ہوئیں تو اسلام کے خلاف اس گھناؤنی سازش میں تیرا کتنا حصہ؟ تیری رقم سے قادیانی اسلحہ خریدیں اور اس اسلحہ سے کسی مجاہد ختم نبوت کو شہید کر دیں تو اس قتل ناحق میں تو کہاں تک شامل؟ تیری رقم سے مرزا طاہر لعین مرغ‘ قورمہ‘ زردہ‘ پلاؤ اور دیگر مقوی اشیاء کھا کر اپنے قلب و جگر اور دماغ و زبان کو تقویت دے اور پھر ان قوتوں سے تیرے رسولؐ اور تیرے دین کے بارے میں بکواس کرے تو اس کی آواز میں تیری کتنی آواز؟
رسول رحمتؐ کے امتیو! مصنوعات شیزان خریدنا جھوٹی نبوت کے فنڈ میں پیسہ جمع کروانا ہے‘ ختم نبوت کے لٹیروں کی کمر مضبوط کرنا ہے۔ ناموس رسالتؐ کے ڈاکوؤں کے ہاتھوں میں خنجر دینا ہے‘ فرض کریں آپ پانچ بھائی ہیں‘ باپ نے آپ کو بڑی محبتوں اور چاہتوں سے پالا ہے۔ ایک شخص جو آپ کے ابا جان سے بغض و عناد رکھتا ہے۔ لیکن اس کا اظہار نہیں کرتا‘ آپ کے محلہ میں ایک دکان کھول لیتا ہے۔ آپ اس دوکاندار سے گھر کے لئے سودا سلف خریدتے ہیں۔ آپ کے ایک سال سودا سلف خریدنے سے دوکاندار کو جتنی آمدنی ہوتی ہے‘ وہ اس سے ایک ریوالور خریدتا ہے اور آپ کے پیارے
والد صاحب پر حملہ آور ہوتا ہے۔ حملہ کا صدمہ تو آپ کو ہو گا ہی۔ لیکن جب آپ کو یہ پتہ چلے گا کہ ہمارے ہی پیسوں سے اس شقی القلب نے ریوالور خریدا اور ہمارے ہی پیسوں سے خریدی گئی گولیاں والد صاحب پر چلائی گئیں۔ اس صورت میں غم‘ غصہ‘ افسوس اور ندامت کی جو کیفیات آپ پر طاری ہوں گی‘ الفاظ انہیں بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ آپ اس دوکاندار سے جس طرح کا برتاؤ کریں گے اور قانون اور طاقت کے ذریعے جس شدت سے اس کا محاسبہ کریں گے‘ یہ آپ کی غیرت اور باپ سے محبت کا اظہار ہو گا اور یقیناً محبت و غیرت کا یہ اظہار ایک روشن مثال ہو گی۔ لیکن اگر ہم لاکھوں مسلمان بھائی مصنوعات "شیزان" خریدیں اور لاکھوں روپیہ قادیانی فنڈ میں جمع کرائیں اور اس بھاری رقم کے توسط سے قادیانی خطرناک ہتھیاروں سے مسلح ہو کر سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر حملہ آور ہوں اور ہمیں پرواہ تک نہ ہو۔ بلکہ بار بار شیزان خرید کر ناموس رسالت کے ان قزاقوں کی جھولیاں سیم و زر سے بھرتے رہیں اور اس گناہ عظیم کا ارتکاب بار بار کرتے رہیں تو ہماری دینی غیرت و اسلامی حمیت کا معیار کیا ہوا؟ ہائے جسمانی باپ کے مسئلہ پر اتنا غم غصہ‘ افسوس اور ندامت اور روحانی باپ کی ذات اقدس پر خاموشی و بے اعتنائی! جس کے جوتوں کی خاک پر جسمانی باپ قربان! مسلمانوں کی بے حسی و بے حمیتی پر زمانہ یہی کہہ رہا ہے۔
اگر یہودیوں کی کوئی تنظیم پاکستان آئے اور پاکستان میں فروخت کرنے کے لئے بہت سی اشیاء ساتھ لائے اور ان کا منصوبہ یہ ہو کہ ان اشیاء کی فروخت سے جو رقم حاصل ہو گی‘ اس سے حج کے موقع پر خانہ کعبہ میں بموں کے دھماکے کرائے جائیں گے اور خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی (نعوذ باللہ) اگر مسلمانوں کو اس خطرناک منصوبہ کا علم ہو جائے تو اشیاء تو گئیں جہنم میں‘ اس شیطانی تنظیم کی ایسی درگت بنائیں گے کہ انہیں چھٹی کا دودھ یاد آ جائے گا۔ شیزان بھی ایک ایسی ہی تنظیم اور کمپنی ہے جو ایک ہی زبردست دھماکے سے اسلام کے پرخچے اڑا دینا چاہتی ہے۔ لیکن مسلمانوں کی سادہ لوحی دیکھئے کہ دھڑا دھڑ شیزان کی اشیاء خرید رہے ہیں اور اس دشمنِ اسلام کمپنی کی جیبوں کو اپنے نوٹوں سے بھر رہے ہیں۔
جب کسی دوکاندار سے شیزان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کو کہا جاتا ہے۔ تو وہ کہتا ہے کہ جناب! بائیکاٹ ایک ظلم ہے کیونکہ شیزان فیکٹری میں سینکڑوں مسلمان بھی کام کرتے ہیں۔ اگر شیزان کا بائیکاٹ کر دیا جائے تو بے چارے ملازمین بے روزگار ہو جائیں گے۔ ان دوکاندار بھائیوں کی خدمت میں التماس ہے کہ یہ مسلمان ملازمین شیزان کمپنی کا بہت موثر ہتھیار ہیں اور قادیانی اس ہتھیار کو کمال مہارت سے استعمال کرتے ہیں۔ شیزان کمپنی کی تمام کلیدی آسامیوں پر قادیانی قابض ہیں۔ مسلمان ملازمین تو معمولی تنخواہوں پر محنت مزدوری کرتے ہیں۔ ٹرکوں کے ڈرائیور، کنڈیکٹر اور بوجھ اتارنے چڑھانے والے مزدور مسلمان ہی ہوتے ہیں۔ جب کسی علاقہ میں شیزان کے بائیکاٹ کی تحریک اٹھتی ہے اور مسلمان دوکاندار دینی غیرت سے سرشار ہو کر شیزان کا بائیکاٹ کر دیتے ہیں تو ان حالات میں مالکان شیزان، مسلمان ملازمین والا ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ اور ان ملازمین کو علاقہ کے دوکانداروں کے پاس بھیج دیتے ہیں۔ جہاں جا کر یہ ملازمین منتیں سماجتیں کرتے ہیں۔ اور ہاتھ جوڑ کر انہیں کہتے ہیں۔ خدارا! ہمارے حال پر رحم کھاؤ۔ اگر تم نے مال لینا بند کر دیا تو ہماری ملازمتیں ختم کر دی جائیں گی۔ اور ہمارے بیوی بچے نان شبینہ کو ترسیں گے، بات شیزان کی نہیں، بات ہمارے مالی تحفظ کی ہے، بات بچوں کی دو وقت کی روٹی کی ہے۔ ہم تمہارے کلمہ گو مسلمان بھائی ہیں۔ ہمارے لئے مصنوعات شیزان رکھ لو۔ ان کی درد بھری باتیں سن کر اکثر دوکاندار ان پر ترس کھا جاتے ہیں۔ اور دوکانوں پر شیزان کا کاروبار پھر زور و شور سے شروع ہو جاتا ہے اور قادیانی اپنے اس خطرناک داؤ میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ عیار قادیانی مسلمان دوکانداروں کا شکار کرنے کے لئے ان مسلمان ملازمین کو اسی طرح استعمال کرتے ہیں جس طرح ایک مچھیرا مچھلی کے گوشت کا ٹکڑا کانٹے پر لگا کر دوسری مچھلیوں کا شکار کرتا ہے۔
شیزان فیکٹری میں کام کرنے والے مسلمان! اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے۔۔۔۔۔ اس کے رزق کے خزانے بڑے وسیع۔۔۔۔۔ مرتدوں کے ہاں تیری ملازمت باعث ندامت دنیا و آخرت ہے۔۔۔۔۔ اور تیری غیرت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔۔۔۔ رحمان و رحیم خدا پر بھروسہ کر۔۔۔۔ شیزان کی ایمان سوز نوکری کو جوتے کی ٹھوکر مار۔۔۔۔ یقیناً اللہ بہتر رزق دینے
والا ہے۔
اے شیزان پینے والے! شیزان پی کر اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دے..... مرتدین کا یہ موذی مشروب تجھے کسی موذی مرض میں مبتلا نہ کر دے..... اور زندگی کی ساری رعنائیاں تجھے داغ مفارقت نہ دے جائیں۔
اے شیزان بیچنے والے! شیزان بیچ کر اپنی غیرت اور عشق رسول نہ بیچ، دشمنان رسول کا کاروباری ایجنٹ بن کر قادیانیت نہ پال، یہ کاروبار شنیع کرنے سے جو چند ٹکے تیرے گھر آئیں گے وہ اپنے ساتھ لاکھوں نحوستوں کے انبار بھی لائیں گے۔ اللہ اور اس کے رسول کے لئے اس ذلیل کاروبار پر تھوک دے ورنہ تیری زندگی دوسروں کے لئے تماشہ عبرت نہ بن جائے۔
اے رب ذوالجلال مسلماں کو کیا ہوا
اے افراد ملت اسلامیہ، آج ہمارے معاشرے میں ڈاکٹر شوگر کے مریض کو میٹھی اشیاء استعمال کرنے سے روکے تو وہ فوراً رک جاتا ہے، اگر بلڈ پریشر کے مریض کو نمک استعمال کرنے سے منع کرے تو وہ فوراً منع ہو جاتا ہے، اگر کھانسی کے مریض کو کھٹی اشیاء سے باز رہنے کی تلقین کرے تو کھٹی اشیاء کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے، اگر دل کے مریض کو سخت کام کاج سے روکے تو فوراً اس کی نصیحت پر کان دھرے جاتے ہیں، لیکن اگر منبر و محراب سے شیزان کے بائیکاٹ کی آوازیں گونجیں اور دینی رسائل و جرائد مسلمانوں کی غیرت کو جھنجھوڑتے ہوئے شیزان کے خلاف بائیکاٹ کی مہم چلائیں تو کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ جان کی حفاظت کے لئے تو ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق سب کچھ چھوڑا جا سکتا ہے لیکن کیا ایمان کی حفاظت کے لئے شیزان نہیں چھوڑا جا سکتا؟
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
اے مسلمان! اگر روٹی جلی ہوئی ہو تو تیری طبیعت پر گراں گزرتی ہے، اگر سالن بدذائقہ ہو تو تیرے گلے سے نیچے نہیں اترتا، اگر اشیائے خوردنی پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہوں تو تجھے گھن آتی ہے لیکن شیزان جیسا ارتدادی مشروب اپنے معدہ میں انڈیلتے ہوئے تجھے کوئی
گھن نہیں آتی۔ اپنے دشمن کے گھر کی چیز تو' تو نہیں کھاتا۔ لیکن رسولؐ کے دشمن کے گھر کا مشروب غٹاغٹ پیتا ہے۔ جو تیری توہین کرے اس کے لئے تو تیرے گھر کا دروازہ بند ہو جاتا ہے لیکن شیزان کے لئے تیرے گھر کے دروازے کھلے اور پینے کے لئے تیرا منہ بھی کھلا! تو کتنے شوق سے اپنے فریج اور باورچی خانہ میں شیزان کی شیطانی بوتلوں کو سجاتا ہے۔ جو تجھے ضرر پہنچائے وہ تیری دعوت میں نہیں آسکتا لیکن دشمن اسلام "شیزان" کی تیری دعوتوں میں اجارہ داری! تیرے اسلاف نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی محبت میں وطن چھوڑ دیئے' ماں باپ چھوڑ دیئے' بیٹے چھوڑ دیئے' یارانے دوستانے چھوڑ دیئے اور ایک تو ہے کہ شیزان نہیں چھوڑ سکتا اور شاید حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ نے تیرے جیسوں کے لئے ہی کہا تھا!
اے آغوش دنیا میں مست مسلماں! موت ہر دم ہمارے تعاقب میں ہے۔ عنقریب یہ ہمیں اپنے پنجوں میں دبوچ لے گی اور ہماری رگ جاں کاٹ ڈالے گی اور ہم اپنے اعمال کی جوابدہی کے لئے اس جہان فانی سے اس جہان باقی میں پہنچ جائیں گے۔ موت کا کسی وقت بھی حملہ آور ہونا اور ہمیں اچک لے جانا' ذہن میں رکھ۔ اور سوچو اگر ہم نے صبح شیزان کی بوتل پی اور دوپہر کو مر گئے یا دوپہر کو شیزان کی چٹنی کھائی اور شام کو جان کی بازی ہار گئے یا شام کو شیزان کا اچار کھایا اور رات کو لقمہ اجل بن گئے۔ یا رات کو شیزان کی جیلی کھائی اور آدھی رات کو انتقال کر گئے۔ ان صورتوں میں شیزان ہمارے پیٹ میں ہوگی اور ہم قبر کے پیٹ میں جانے کے لئے تیار! جب ہمیں قبر کے پیٹ میں اتارا جائے گا اور منکر نکیر ہم سے سوال و جواب کے لئے آئیں گے تو ہمارے منہ سے "شیزان" کی بدبو آرہی ہوگی۔ قبر سے اٹھا کر جب میدان حشر میں لایا جائے گا وہاں بھی ہمارا منہ یہ بدبو اگل رہا ہوگا۔ ساقی کوثر صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور جب جام کوثر مانگنے جائیں گے تو وہاں بھی اس بدبو کے بار خجالت سے ہمارا سر نہیں اٹھے گا۔ جب ہمارے منہ سے دشمن رسولؐ "شیزان" کی ارتدادی بدبو کے بھبھوکے اٹھ رہے ہوں گے تو پھر ہم کس منہ سے شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم سے شفاعت کا سوال کریں گے؟ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا اور موت کسی کو مہلت نہیں دیتی..... زندگی کی چند مستعار گھڑیوں کو
مہلت جانیں.... خوب غور کریں.... سوچ کے مراقبہ میں بیٹھیں.... فکر کے اعتکاف میں بیٹھیں.... کیونکہ آمد عزرائیل کے بعد نہ سوچ سے کچھ حاصل ہو گا اور نہ فکر کا کچھ فائدہ!
روزنامہ الفضل
جلد ۴۲ سوموار ۲۶ شعبان ۱۴۱۰ھ ۲۶ مارچ ۱۹۹۰ء نمبر ۷۰
حقائق بولتے ہیں!
محترم چوہدری شاہنواز صا۔ رحلت فرما گئے
احباب جماعت کو نہایت افسوس سے اطلاع دی جاتی ہے کہ مکرم چوہدری شاہنواز صاحب ۲۳ مارچ ۱۹۹۰ء کی شب لاہور میں حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے انتقال فرما گئے۔ آپ کی عمر ۸۵ برس تھی۔
مکرم چوہدری شاہنواز صاحب جماعت احمدیہ کے مخلص اور مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے احباب میں سے تھے۔ آپ کو روسی زبان میں ترجمہ و طباعت قرآن کریم کا سارا خرچ ادا کرنے کی بھی توفیق ملی۔ چنانچہ سیدنا حضرت امام جماعت احمدیہ (الرابع) ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ ۱۹۸۹ء کے دوسرے روز ۲۷؍
دسمبر کو خطاب فرماتے ہوئے مکرم چوہدری شاہنواز صاحب کا ذکر یوں فرمایا:۔ ”روسی زبان میں ہم ابھی تک ترجمہ قرآن شائع نہیں کر سکے تھے اس کے اخراجات بھی بہت زیادہ اٹھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مکرم چوہدری شاہنواز صاحب کے دل میں یہ تحریک ڈالی انہوں نے کہا کہ
وہ روسی زبان میں ترجمہ قرآن کریم کے سارے اخراجات خود ادا کریں گے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں توفیق بھی دی توفیق دی۔ ۔۔۔ ایک نیک اور صالح لجنہ بھی ہے۔ چنانچہ انہوں نے بھی یہ تحریک اپنے ذمے لی ہے کہ باقی حصہ ص ۴ پر
طبعاً سخی اور صدقہ دینے والے تھے آپ پاکستان کے ان مایہ ناز صنعت کاروں میں سے تھے آپ نے قیام پاکستان میں قائد اعظم کے ساتھ کام کیا قیام پاکستان میں انٹرنیشنل سطح پر بھر پور فائدہ پہنچایا قومی ترقی میں آپ نے بڑی جدوجہد کی اور ہر قدم پر قائد اعظم کے ہمنوا بھی تھے۔ قائد اعظم نے ایک دفعہ کہا چوہدری میرا دست راست ہیں۔ محترم چوہدری صاحب نے بہت سی پاکستان کے مختلف علاقوں میں فیکٹریاں قائم کیں۔ آپ ان کے پہلے صدر تھے۔ آپ کی رہائش گاہ پر پاکستان میں پہلی بار وہ پرچم لہرایا گیا جو پاکستان میں لہرایا جانے والا تھا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرحوم چوہدری شاہنواز صاحب کو اپنے قرب میں اعلیٰ درجات سے نوازے اور آپ کے تمام قریبی عزیز و اقارب پر فضل کرے۔
روزنامہ جنگ
لاہور 28 شعبان 1410ھ 26 مارچ 1990ء
پاکستان کے ممتاز صنعت کار اور بزنس مین چوہدری شاہنواز پیر کی نماز مغرب کے وقت انتقال کر گئے۔ ان کی عمر ۸۵ سال تھی۔
مرحوم نے اپنے کیرئیر کا آغاز موٹر مکینک کی حیثیت سے کیا اور وہ ۱۹۴۷ء میں لاہور ہجرت کر کے آئے۔ انہوں نے ایک چھوٹی سی ورکشاپ سے کام شروع کیا تھا۔
مرحوم چوہدری شاہنواز ایک محنتی اور ذہین شخص تھے۔ انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے بہت جلد کامیابی حاصل کر لی اور وہ پاکستان کے ایک بہت بڑے تاجر اور صنعت کار بن گئے۔
روزنامہ آفتاب
راولپنڈی
آہ! چوہدری شاہنواز
وفات حسرت آیات نے پاکستان کی صنعتی و تجارتی دنیا کو سوگوار میں تبدیل کر دیا ہے۔ ہماری مراد شاہنواز گروپ، شیزان گروپ آف انڈسٹریز کے سربراہ چوہدری شاہنواز کی وفات سے ہے جنہوں نے اندرون و بیرون ملک شیزان کی مصنوعات متعارف کرائیں اور شیزان انٹرنیشنل کے زیر اہتمام پاکستان میں پھلوں کے رس کو بوتل میں بند کر کے متعارف کرایا۔
یہ اخباری خبریں اور تراشے اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ شیزان قادیانیوں کی ملکیت ہے۔
مجرم اسلام
- ایک ایسے انسان کی شرمناک داستان حیات جسے انسان کہتے ہوئے انسانیت کی پیشانی
عرق آلود ہو جاتی ہے ۔
- جس کا تذکرہ بد لکھتے ہوئے قلم کے قدم رُک رُک جاتے ہیں اور سینہ قرطاس سے چیخیں بلند ہوتی ہیں ۔
- اس عالم ہست و بود میں کسی ماں نے ایسا گستاخ رُسول جنم نہ دیا ــــــ چشم فلک نے ایسا منحوس چہرہ
نہ دیکھا ــــــ گوش زمین نے ایسی ہرزہ سرائی نہ سنی ۔
- وہ بدطینت شخص جس نے مُحسن انسانیت جناب خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اقدس سے
تاج ختم نبوت نوچنے کی ناپاک جسارت کی ۔
- خاک قادیاں کے گندے خمیر سے اُٹھنے والے مدعی نبوت ڈاکو ناموس رسالت مرزا قادیانی جہنم مکانی
کی پُر تعفن زندگی کا مختصر سا خاکہ ۔
بدگفتار۔۔ لعنتی کردار‘ ہرزہ سرائی میں منہ زور۔۔ نبوت کا چور‘ جھوٹ کا مجسمہ۔۔ انگریز کے بوٹ کا تسمہ‘ خواہشات کا بندہ۔۔ سوچ کا گندہ‘ عادات ذلیل۔۔ فطرت رذیل‘ بدشکل۔۔ کوتاہ عقل‘ مکروہ خدوخال۔۔ بے ڈھنگی چال‘ ایک آنکھ سے کانا۔۔ کفر میں سیانا‘ دل سیاہ۔۔ ضمیر تباہ‘ فرنگی کا غلام۔۔ دشمن خیرالانام‘ گالیوں کی برسات۔۔ ارتداد کی سیاہ رات‘ ایمان کا شکاری۔۔ در انگریز کا بھکاری‘ دولت کا حریص۔۔ منافقت کا مریض‘ اخلاق کا قاتل۔۔ سراپا باطل‘ ننگ شرافت۔۔ لائق حقارت‘ فتنہ ساز۔۔ نو سرباز‘ علامت فساد۔۔ منکر جہاد‘ کلیسا کا پجاری۔۔ ملکہ پہ صدقے واری‘ امام دجل و تلبیس۔۔ باعث فخر ابلیس‘ پیشوائے مرتدین۔۔ رہنمائے زندیقین‘ منکر حدیث۔۔ ازلی خبیث‘ غدار ابن غدار۔۔ انگریز کا زلہ خوار‘ کافر کبیر۔۔ زلف ملکہ وکٹوریہ کا اسیر‘ مسیلمہ کذاب کا ترجمان۔۔ اسود عنسی کا نشان‘ کفر کی برہان۔۔ شیطان کی پہچان‘ دشمن قرآن۔۔ بانی فتنہ قادیان‘ شخصیت بڑی شیطانی ہے۔۔ نام مرزا قادیانی ہے۔
یہ ننگ انسانیت بھارت کے صوبہ مشرقی پنجاب کے ضلع گورداسپور کے ایک پسماندہ گاؤں ”قادیان“ میں پیدا ہوا۔ اس کے بیٹے بشیر احمد نے اپنی کتاب ”سیرت المہدی“ میں اس کی تاریخ پیدائش ۱۸۳۹ء لکھی ہے۔ مرزا قادیانی کی ماں کا نام چراغ بی بی عرف گھسیٹی تھا۔ باپ کا نام غلام مرتضیٰ‘ دادا کا نام عطا محمد‘ اور پردادا کا نام گل محمد تھا۔ مرزا قادیانی کو بچپن میں مسیتی اور سندھی کے ناموں سے بھی پکارا جاتا تھا۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی پھر مکتب بھیجا گیا لیکن تعلیم حاصل کرنے کا ذوق و شوق نہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اکثر مکتب میں کان پکڑا کر اس کی پٹائی کی جاتی۔ آخر تعلیم ادھوری چھوڑی اور چند کتابیں پڑھ کر مکتب سے بھاگ اٹھا۔ پھر ادھر ادھر آوارہ گردی میں وقت
ضائع کرتا رہا۔ والدین اپنے نالائق و نابکار بیٹے کے ہاتھوں بڑے تنگ تھے۔ آخر گھر کی جھڑکیوں سے تنگ آکر مسٹر قادیانی گھر سے بھاگ کھڑا ہوا اور قادیان سے سیالکوٹ آگیا اور یہاں ایک دوست کی سفارش پر سیالکوٹ کی کچہری میں پندرہ روپے ماہوار پر بطور منشی ملازم ہوگیا۔ اسی حقیقت کی منظر کشی کرتے ہوئے مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا محمود احمد لکھتا ہے:
”اور ایسا ہوا کہ ان دنوں میں آپ گھر والوں کے طعنوں کی وجہ سے کچھ دنوں کے لیے قادیان سے باہر چلے گئے اور سیالکوٹ جاکر رہائش اختیار کرلی اور گزارہ کے لیے ضلع کچہری میں ملازمت بھی کرلی“۔ (”تحفہ شہزادہ ویلز“ ص ۳۴۱‘ بحوالہ ”رئیس قادیان“)
”سیرت المہدی“ کے حوالہ کے مطابق مرزا قادیانی کی سیالکوٹ کی کچہری کی مدت ملازمت ۱۸۶۴ء تا ۱۸۶۸ء ہے۔ دوران ملازمت فرنگی کو قادیان کے اس منشی کی صورت میں مسیلمہ کذاب کے گلے کی مالا کا موتی مل گیا۔ یہیں ایک خفیہ ملاقات میں مرزا قادیانی نے اپنا ایمان انگریز کے ہاتھوں فروخت کر دیا۔ اسی ملاقات میں ہی جھوٹی نبوت کا خطرناک اور بھیانک منصوبہ تیار ہوا اور مرزا قادیانی ”سرکاری نبی“ منتخب کر لیا گیا۔ انگریز اپنے انگریزی نبی کو نوکری سے فارغ کر کے اس کی جھولی کو سیم و زر سے بھر کر تکمیل مشن ارتداد کے لیے قادیان واپس روانہ کر دیتا ہے‘ جس کا اشارہ اس بات سے مل جاتا ہے ”پھر جب تمہاری دادی (مرزا قادیانی کی ماں) بیمار ہوئیں تو تمہارے دادا نے آدمی بھیجا کہ ملازمت چھوڑ کر آ جاؤ‘ حضرت صاحب فوراً روانہ ہوگئے“۔ (”سیرت المہدی“ حصہ اول‘ ص ۳۵‘ بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی) فکر معاش سے بے نیاز ہو کر نبی افرنگ نے مختلف دعوے داغنے شروع کر دیئے‘ الہامات کی بارش ہونے لگی‘ پیشین گوئیوں کے انبار لگ گئے‘ ایک سازش کے تحت مرزا قادیانی مختلف جگہوں پر مناظرے کرتا اور لیکچر دیتا ہوا نظر آنے لگا۔ کفر و ارتداد پر مبنی تصانیف کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
انگریز نے اپنے ”ریموٹ کنٹرول نبی“ کو بتدریج ترقی دینا شروع کی۔ اس نے اپنے ملازم نبی کو اس طرح ترقی دی جس طرح وہ اپنے دیگر دنیاوی ملازمین کو اپنے وضع
کردہ قوانین کے تحت عنایت کرتا تھا۔
مثلاً سب سے پہلے کانسٹیبل، پھر ہیڈ کانسٹیبل...... حوالدار...... اے ایس آئی...... سب انسپکٹر...... انسپکٹر...... ڈی ایس پی...... ایس پی...... ایس ایس پی...... ڈی آئی جی اور پھر آئی جی یعنی انسپکٹر جنرل۔
لحم خنزیر کھانے والے اور ام الخبائث پینے والے فرنگی نے بالکل ایسے ہی اپنے خود ساختہ نبی کو پرموشن (ترقی) دی۔ عالم بنایا...... مناظر بنایا...... مصنف بنایا...... محدث بنایا...... مجدد بنایا...... مہدی بنایا...... مثیل مسیح بنایا...... مسیح بنایا...... ظلی طور پر محمدؐ رسول اللہ بنایا...... عین محمدؐ بنایا اور آخر اسلام سے بغض و عناد اور نفرت و دشمنی کی انتہا کرتے ہوئے اسے محمدؐ رسول اللہ سے بھی افضل بنایا...... (معاذ اللہ) یہ الگ بات ہے کہ بنانے والا بھی کافر تھا اور بننے والا بھی کافر و مرتد!
قادیانی‘ مرزا قادیانی کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ اسے تخت نبوت پہ بٹھاتے ہیں۔ پوری دنیا میں اس کا تعارف خدا کے انتہائی برگزیدہ بندے کی حیثیت سے کراتے ہیں۔ اسے کردار کا آفتاب اور گفتار کا ماہتاب کہتے ہیں۔ ان کے بقول وہ علم و حکمت کا بحر بیکراں ہے۔ شرافت اس پہ نازاں ہے، صداقت اس کے قدموں میں بچھ بچھ جاتی ہے۔ روحانیت اس کی عظمت کو جھک جھک کر سلام عرض کرتی ہے۔ انسانیت اس کی شخصیت پر تحسین و آفرین کے پھول نچھاور کرتی ہے۔ غرض کہ وہ دین و ملت کا محسن اعظم ہے۔
لیکن ہم جھوٹ کے اس پہاڑ کو سچائی کی ٹھوکر سے اڑاتے ہوئے یہ اعلان کرتے ہیں کہ یہ بدخصلت اس فرش خاکی پہ جنم لینے والا بدترین انسان تھا جس کے رگ و ریشے پر شیطان کی حکمرانی تھی، جس کا دماغ ابلیسی سازشوں کا ہیڈ کوارٹر تھا، جس کا دل کفر و ارتداد کا اندھا کنواں تھا، جس کا باطن قبر کی تاریکی سے زیادہ کالا تھا اور جس کی زبان گالیوں اور گستاخیوں کی مشین گن تھی۔
یہ شخص شراب و افیون کا رسیا تھا، زنا جیسے فعل شنیع کا عادی تھا۔ بے غیرت و بے حیا تھا۔ جاہل مطلق اور مخبوط الحواس تھا۔ جھوٹ بولنا اور فراڈ کے ذریعہ لوگوں سے رقم حاصل کرنا اس کی سرشت میں داخل تھا۔ چور اور لٹیرا تھا۔ اسلام اور ملت اسلامیہ
کا غدار اور یہود و نصاریٰ کا پالتو تھا۔ اس کی زبان پلید نے دعویٰ نبوت اور جہاد کے حرام ہونے کا اعلان کیا۔ ہم آپ کے سامنے اس مجرم اسلام کی شخصیت کے چند پہلو رکھتے ہیں اور پھر فکر و تدبر کی دعوت دیتے ہیں اور قادیانیوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ یہ تمہاری ہی کتابوں کے حوالہ جات ہیں اور اگر کسی قادیانی مائی کے لال میں جرات و ہمت ہے تو جواب دے۔ حوالے پیش خدمت ہیں۔
پیدائش ...... مرزا قادیانی کی پیدائش ماہ و سال کی آنکھ مچولی ہے۔ قادیانی کبھی اپنے نبی کو چھوٹا کر لیتے ہیں اور کبھی بڑا کر لیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس کی مختلف جھوٹی پیش گوئیوں کو سچا ثابت کرنے کے لیے اس کی عمر گھٹاتے بڑھاتے رہتے ہیں۔ دلچسپ صورت حال سے آپ بھی لطف اندوز ہوں۔
مرزا قادیانی اپنی تصانیف میں کہتا ہے کہ میں ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں پیدا ہوا۔ اس کا بیٹا مرزا بشیر احمد کہتا ہے کہ نہیں میرا ابا ۱۸۳۶ء یا ۱۸۳۷ء میں پیدا ہوا۔ ("سیرت المہدی" جلد دوم‘ ص ۱۵۰)
پھر کہتا ہے کہ نہ نہ میرا باپو ۱۸۳۵ء میں پیدا ہوا۔ ("سیرت المہدی" جلد ۳‘ ص ۷۶)
پھر پلٹتا ہے اور کہتا ہے کہ ٹھہرو ٹھہرو میرا والد ۱۸۳۱ء میں پیدا ہوا۔ ("سیرت المہدی" جلد ۳‘ ص ۷۴)
لیکن پھر گھومتا ہوا کہتا ہے کہ میرا "پاپا" ۱۸۳۲ء میں پیدا ہوا۔ ("سیرت المہدی" جلد ۳‘ ص ۳۰۲)
پھر شطرنج کے کھلاڑی کی طرح پینترا بدل کے کہتا ہے کہ نہ جی نہ میرا ابو تو ۱۸۳۳ء یا ۱۸۳۴ء میں پیدا ہوا۔ ("سیرت المہدی" جلد ۳‘ ص ۱۹۴)
قارئین! آپ نے ملاحظہ کیا کہ کس طرح مرزا قادیانی کی عمر کو "اٹھک بیٹھک" لگوائی جا رہی ہے۔ ہم قادیانیوں سے پوچھتے ہیں کہ بتاؤ کیا مرزا قادیانی انسان تھا یا سپرنگ جسے کبھی دبا کر تم چھوٹا کر لیتے ہو اور کبھی کھینچ کر لمبا۔
آپ نے دیکھ لیا کہ ۱۸۳۱ء سے لے کر ۱۸۴۰ء تک مرزا قادیانی پیدا ہی نہیں ہو رہا۔
شاید جدید سائنسی دور میں مرزا طاہر لوگوں سے کہے کہ ہم نے کمپیوٹر کے ذریعے ریسرچ کی ہے کہ میرا دادا مرزا قادیانی پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ اگا تھا۔
نسل نامعلوم ...... جب ہم مرزا قادیانی کے حسب نسب اور نسل کی تحقیق کرتے ہیں تو بڑی عجیب و غریب صورت حال سامنے آتی ہے۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں اور اس چکرباز کی چکربازیاں اور قلابازیاں دیکھیں۔
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”کتاب البریہ“ کے صفحہ ۱۳۴ پر اپنی قومیت برلاس (مغل) لکھی ہے۔
اسی کتاب کے صفحہ ۱۳۵ کے حاشیہ پر لکھتا ہے، ”میرے الہامات کی رو سے ہمارے آباء اولین فارسی تھے“۔
اپنی کتاب ”ایک غلطی کا ازالہ“ کے صفحہ ۱۶ پر لکھتا ہے، ”میں اسرائیلی بھی ہوں اور فاطمی بھی“۔
اپنی تصنیف ”تحفہ گولڑویہ“ کے صفحہ ۴۰ پر لکھتا ہے، ”میرے بزرگ چینی حدود سے پنجاب آئے تھے“۔
اپنی کتاب ”نزول مسیح“ کے صفحہ ۵۰ پر لکھتا ہے، ”بنی فاطمہ میں سے ہوں۔ میری بعض دادیاں مشہور اور صحیح النسب سادات میں سے تھیں“۔
پھر ہندو ہونے کا اعلان کرتا ہے، ”کرشن میں ہی ہوں“۔ (”تذکرہ“ ص ۳۸۱)
پھر سکھ ہونے کا اعلان کرتا ہے، ”امین الملک جے سنگھ بہادر“ (”تذکرہ“ ص ۴۷۲)
پھر ایک اور قلابازی کھاتا ہے، جس سے عقل حیران و پریشان ہو کر ہاتھ باندھ لیتی ہے۔ مرزا قادیانی کہتا ہے۔ ؎
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
(”درثمین“ ص ۱۰۰، مصنفہ مرزا قادیانی)
پھر ان تمام نسلوں پر خط تنسیخ پھیرتے ہوئے ایک اور چھلانگ لگاتا ہے۔
(”در ثمین“ ص ۶۸)
یہاں کہتا ہے، میں ”آدم زاد“ ہی نہیں ہوں یعنی ”بندے دا پتر“ ہی نہیں۔ مندرجہ بالا تحقیق سے صورت حال انتہائی پیچ دار اور لچھے دار ہوگئی ہے۔ مرزا قادیانی کی نسل تلاش کرنا اتنا مشکل ہوگیا ہے جتنا گدھے کے سر سے سینگ۔ لہٰذا ہم مرزا قادیانی کی نسل کو ”نسل آوارہ“ قرار دیتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔
مرد یا عورت ۔۔۔۔۔ ابھی نسل کا مسئلہ حل ہوا ہی نہیں کہ ایک اور اہم مسئلہ سامنے آگیا ہے کہ ”مرزا قادیانی مرد تھا یا عورت؟“
مرزا قادیانی کہتا ہے ”الہام ہوا کہ تو فارسی جوان ہے“۔ (”تذکرہ“ ص ۱۴۴) مزید کہتا ہے، ”الہام ہوا سلامت بر تو اے مرد سلامت“ (”تذکرہ“ ص ۲۹۷) لیکن اس کے بعد دعویٰ مردانگی سے منحرف ہو کر دعویٰ نسوانیت کردیتا ہے۔
ملاحظہ ہو:
مرزا قادیانی کا ایک مرید قاضی یار محمد اپنے ٹریکٹ نمبر ۳۴ موسومہ ”اسلامی قربانی“ میں لکھتا ہے:
”حضرت مسیح موعود (مرزا) نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر طاری ہوئی گویا کہ آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا“۔ (سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے)
”خدا نے مجھے الہام کیا کہ تیرے گھر میں ایک لڑکا پیدا ہوگا“۔ (”حقیقۃ الوحی“ ص ۹۵، ”تذکرہ“ ص ۱۴۲)
پھر لکھتا ہے، ”بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے“۔ (”البشریٰ“ ۲/۶۵) کیوں قارئین کرام! کبھی آپ نے زندگی میں ایسا شخص دیکھا ہے جو بیک وقت عورت بھی ہو اور مرد بھی۔
تحقیق کرتے کرتے ہماری تو عقل تھک گئی۔ ہم مرزائیوں سے ہی پوچھتے ہیں کہ مرزائیو! تم ہی بتاؤ کہ تمہارا مرزا ”مرزا“ تھا یا ”مرزی“۔
شرابی ۔۔۔۔۔ مرزا قادیانی شراب کا رسیا تھا۔ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ مشروب جو
اس کے آقا انگریز کا من پسند ہو، انگریزی نبی اسے چھوڑ دے۔ کذاب قادیاں اپنے ایک چہیتے مرید حکیم محمد حسین کو ایک خط میں لکھتا ہے۔
”محبی اخویم محمد حسین سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیائے خریدی خود خریدیں اور ایک بوتل ٹانک وائن ای پلومر کی دکان سے خریدیں۔ مگر ٹانک وائن چاہیے اس کا لحاظ رہے باقی خیریت ہے“۔ والسلام
(خطوط امام بنام غلام، ص۵)
سودائے مرزا کے حاشیہ پر حکیم محمد علی پرنسپل طبیہ کالج امرتسر لکھتے ہیں، ’ٹانک وائن کی حقیقت لاہور میں ای پلومر کی دکان سے ڈاکٹر عزیز احمد صاحب کی معرفت معلوم کی گئی۔ ڈاکٹر صاحب جواباً تحریر فرماتے ہیں حسب ارشاد ای پلومر کی دکان سے دریافت کیا گیا جواب حسب ذیل ہے:
”ٹانک وائن ایک قسم کی طاقتور اور نشہ دینے والی شراب ہے جو ولایت سے سربند بوتلوں میں آتی ہے۔ اس کی قیمت ساڑھے پانچ روپے ہے“۔
(۲۱؍ دسمبر ۱۹۳۲ء، ”سودائے مرزا“ ص ۳۹، حاشیہ)
مرزا قادیانی کو شراب نوشی کا اس قدر شوق تھا کہ اسے خوابوں میں بھی شراب کی بوتلیں نظر آتی تھیں۔
۵؍ مئی ۱۹۰۶ء رویا:۔ ایک شخص نے ایک دوائی کولا وائن کی ایک بوتل دی جو سرخ رنگ کی دوائی ہے۔
(”مکاشفات“ ص ۵۲ مولفہ منظور الٰہی قادیانی)
کولا وائن کوئی اعلیٰ قسم کی شراب ہوگی، جس کو مرزا قادیانی شرابی ”دوائی“ کہتا ہے۔ جس کا رنگ بھی شراب جیسا یعنی سرخ ہے۔ ویسے بھی پرانے شرابی، شراب کو دوائی کہہ کر پکارتے ہیں۔
افیمی ...... ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تریاق الٰہی دوا، خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا ایک بڑا جز افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اول (حکیم نور الدین) کو حضور (مرزا قادیانی) چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوروں کے وقت استعمال کرتے رہے“۔
(مضمون میاں محمود احمد، اخبار ”الفضل“ جلد ۱۷، نمبر ۴، مورخہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۲۹ء)
مسٹر قادیانی کو افیون کھانے کی عادت کیسے پڑی؟ کس کی صحبت میں بیٹھ کر اسے یہ فیض حاصل ہوا؟ تو قادیانی اخبار ”الفضل“ کے مطالعہ سے سارے اسرار سے پردے ہٹ گئے اور حقیقت نکھر کر سامنے آگئی۔
”آپ (مرزا) فرمایا کرتے تھے، میرا ایک استاد تھا جو افیم کھایا کرتا تھا۔ وہ حقہ لے کر بیٹھا رہتا تھا۔ کئی دفعہ پینک میں اس سے حقہ کی چلم ٹوٹ جاتی۔ ایسے استاد نے پڑھانا کیا تھا“۔
(اخبار ”الفضل“ ۵؍ فروری ۱۹۲۹ء)
عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسٹر قادیانی افیمی استاد کا چہیتا شاگرد تھا اور بقول مسٹر قادیانی ایسے استاد نے پڑھانا کیا تھا، وہ تو چلمیں توڑتا تھا۔ اس لیے مرزا قادیانی بھی پڑھ نہ سکا۔ لیکن افیمی استاد نے اپنے محبوب شاگرد کو درس افیم سے خوب نوازا اور اسے افیم بنانے اور کھانے میں کامل کر دیا۔ شاگرد ہونہار نے بھی شاگردی کا حق ادا کر دیا۔ استاد سے حاصل کردہ فیض خوب پھیلایا۔ اپنے خلیفہ نورالدین کو بھی اس جوہر خاص سے مستفید کیا۔ اپنے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود کو بھی افیم کھانے پر لگا کر استاد کے مشن کو جاری رکھا۔
بے حیا...... ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ....
”حضرت ام المومنین (محترمہ نصرت جہاں بیگم زوجہ مرزا قادیانی) نے ایک دن سنایا کہ حضرت صاحب کے ہاں ایک بوڑھی ملازمہ مسماۃ بھانو تھی۔ وہ ایک رات جب کہ خوب سردی پڑ رہی تھی، حضور کو دبانے بیٹھی، چونکہ وہ لحاف کے اوپر سے دباتی تھی، اس لیے اسے پتہ نہ لگا کہ جس چیز کو میں دبا رہی ہوں، وہ حضور کی ٹانگیں نہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت نے فرمایا ”بھانو آج بڑی سردی ہے“۔ بھانو کہنے لگی ”ہاں جی، تدے تے تہاڈیاں لتاں لکڑی وانگ ہویاں ہویاں ایں“۔ (جبھی تو آج آپ کی ٹانگیں لکڑی کی طرح سخت ہو رہی ہیں) خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے جو بھانو کو سردی کی طرف توجہ دلائی تو اس میں غالباً یہ جتانا مقصود تھا کہ آج شاید سردی کی شدت کی وجہ سے تمہاری حس کمزور ہو رہی ہے“۔
(”سیرت المہدی“ جلد ۳،
ص ۲۱۰، مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
رات کا وقت، کمرے میں تنہائی، غیر محرم عورت کا ٹانگیں دبانا اور ٹانگیں
دبوانے کے دوران مرزا قادیانی کا یہ کہنا ”بھانو آج بڑی سردی ہے“۔ ساری تصویر آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتی ہے۔
بے غیرت ...... مرزا قادیانی اس قدر پرلے درجے کا بے غیرت تھا کہ اس نے اپنی پیدائش کے واقعہ کو بھی اپنے قلم سے لکھا ہے۔ اس شرمناک واقعہ میں جہاں اس نے اپنی غیرت کی دھجیاں بکھیریں، وہاں اپنی ماں کی عصمت کی چادر کو بھی اپنے غلیظ ہاتھوں سے تار تار کیا ہے۔ اس ننگ انسانیت کے آوارہ قلم کی آوارگی اور بے حمیتی ملاحظہ ہو۔
”میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ سے باہر نکلی تھی اور بعد میں اس کے میں نکلا تھا اور میرا سر اس کے پاؤں میں تھا“۔ (”تریاق القلوب“ ص۴۷۹‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
سب پہ سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی
زانی ...... لیجئے ”آج بڑی سردی ہے“ کا معمہ حل ہو گیا۔ جب اپنے ہی دل جلے مرید نے چھپے ہوئے بوڑھے زانی مرزا قادیانی کی نام نہاد پارسائی کا شیشہ چکنا چور کر دیا۔
میاں محمود احمد نے اپنے خطبہ میں لاہوری گروپ کی طرف سے لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا: ایک خط جس میں اس نے تسلیم کیا ہے کہ وہ اسی کا لکھا ہوا ہے، اس پر یہ تحریر کیا ہے۔ ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ولی اللہ تھے اور ولی اللہ کبھی کبھی زنا کر لیا کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے کبھی زنا کر لیا تو اس میں کیا حرج ہوا“۔ پھر لکھا ہے، ”ہمیں حضرت مسیح موعود پر اعتراض نہیں کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے، ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ (مرزا محمود احمد) پر ہے کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے“۔ (خطبہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیاں‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ مورخہ ۳۱؍ اگست ۱۹۳۸ء)
مرزا قادیانی کے زانی ہونے کے ثبوت میں اور بھی شہادتیں پیش کی جاسکتی ہیں لیکن ہم گندگی کو چھیڑ کر مزید تعفن پھیلانا نہیں چاہتے۔
مولانا ظفر علی خاں نے کیا خوب کہا ہے ۔
لٹیرا...... پٹیالہ کے ایک رئیس کے ہاں کوئی لڑکا پیدا نہ ہوا۔ مرزا صاحب کے خواص سے دعا کی سفارش کرائی۔ ان کو جواب دیا کہ محض رسمی طور پر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دینے سے دعا نہیں ہوتی۔ دو باتیں ہونی ضروری ہیں، گہرا تعلق ہو یا دینی خدمت۔ رئیس سے کہو ایک لاکھ روپیہ دے تو پھر ہم دعا کریں گے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ پھر اللہ تعالیٰ اس کو ضرور لڑکا دے گا‘‘۔ (”سیرت المہدی“ جلد اول، ص۲۵۷، مصنف مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
”دوا فروش“ تو دیکھے ہیں لیکن ”دعا فروش“ پہلی مرتبہ دیکھ رہے ہیں۔ (مؤلف)
چور ...... ”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانے میں حضرت مسیح موعود تمہارے دادا کی پنشن مبلغ ۷۰۰ روپے وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو آپ کو پھسلا کر اور دھوکا دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔ پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے گھر واپس نہیں آئے“۔ (”سیرت المہدی“ جلد اول، ص۳۵-۳۴، مولفہ مرزا بشیر الدین احمد ابن مرزا قادیانی)
قارئین! ذرا غور فرمائیے یہ واقعہ مرزا قادیانی کی جوانی کا ہے اور جوانی میں انسان عقلی طور پر بھی جوان ہوتا ہے۔ مرزا امام الدین مرزا قادیانی سے رقم لے کر بھاگا نہیں بلکہ دونوں چھّرے اڑاتے رہے۔ دونوں نے ۷۰۰ روپے کی خطیر رقم جو آج کل کے سات لاکھ سے بھی زائد بنتی ہے، خوب مزے لے کر اڑائی۔ پھر جب رقم ختم ہوئی تو مرزا قادیانی کو گھر یاد آیا لیکن جب باپ کا جوتا یاد آیا تو بجائے گھر آنے کے، گھر سے بھاگ گیا۔ پوری کہانی کو اگر بنظر غائر دیکھیں تو امام الدین ایک فرضی کردار نظر آتا ہے اور ساری ہیرا پھیری اور کارستانی مرزا قادیانی کی نظر آتی ہے۔ کیا مرزا قادیانی عین جوانی میں ایسا الو تھا کہ وہ امام الدین کے اشاروں پر ناچتا رہا؟ کیا مرزا قادیانی ایسا بھولا بھالا تھا
کہ امام الدین اس کو کئی دن جدھر چاہتا‘ گھماتا پھراتا رہا؟
رشوت خور ...... رشوت کسی بھی معاشرے کی بدترین لعنت ہے۔ ہر معاشرے میں رشوت خور کو نگاہ بد سے دیکھا جاتا ہے۔ کیونکہ رشوت خور جائز امور کو ناجائز اور ناجائز کو جائز قرار دے کر معاشرے کی اخلاقی اقدار کو پامال کر دیتا ہے۔ مرزا قادیانی بھی پکا رشوت خور تھا اور اس میں یہ برائی بدرجہ اتم موجود تھی۔ مرزا احمد علی شیعی اپنی کتاب ”دلیل العرفان“ میں لکھتے ہیں کہ ”منشی غلام احمد امرتسری نے اپنے رسالہ ”نکاح آسمانی کے راز ہائے پنہانی“ میں لکھا تھا کہ مرزا نے زمانہ محرری میں خوب رشوتیں لیں۔ یہ رسالہ مرزا کی وفات سے آٹھ سال پہلے ۱۹۰۰ء میں شائع ہو گیا تھا‘ مگر مرزا قادیانی نے اس کی تردید نہیں کی۔ اسی طرح مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے مناظرہ روپڑ میں جو ۲۱-۲۲؍ مارچ ۱۹۳۲ء میں ہوا‘ ہزارہا کے مجمع میں بیان کیا کہ مرزا صاحب نے سیالکوٹ کی نوکری میں رشوت ستانی سے خوب ہاتھ رنگے اور یہ سیالکوٹ ہی کی ناجائز کمائی تھی جس سے مرزا صاحب نے چار ہزار روپیہ کا زیور اپنی دوسری بیگم کو بنوا کر دیا“۔ (روداد مناظرہ روپڑ‘ مطبوعہ کشن سٹیم پریس جالندھر‘ ص ۳۵)
رشوت خوری کا ایک نرالا اچھوتا اور ماڈرن انداز بھی ملاحظہ ہو: ”ہمارے نانا فضل دین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ مرزا صاحب کچہری سے واپس آتے تو چونکہ آپ اہلکار تھے‘ مقدمے والے زمیندار ان کے مکان تک پیچھے آ جاتے“۔
(یا مرزا قادیانی خود لے آتا۔ مولف)
(”سیرت المہدی“ جلد ۳‘ ص ۹۴)
مخبوط الحواس ...... ”ایک مرتبہ مرزا صاحب اور سید محمد علی شاہ تلاش روزگار کے خیال سے قادیاں سے چلے۔ کلانور کے قریب ایک نالے سے گزرتے ہوئے مرزا صاحب کی جوتی کا ایک پاؤں نکل گیا مگر اس وقت تک انہیں معلوم نہ ہوا‘ جب تک وہاں سے بہت دور جا کر یاد نہیں کرایا گیا“۔ (”حیات النبی“ جلد اول‘ ص ۵۸‘ مولفہ یعقوب علی قادیانی)
(معلوم ہوتا ہے افیون کی کچھ زیادہ ہی مقدار کھا لی ہوگی۔ مولف)
بد زبان ...... دجال قادیاں کی بد زبانی‘ غلیظ اور گندی گفتگو کے چند نمونے قارئین
کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں:
- (۱) ”جھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت لاف گزاف مارتے
ہیں مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے‘ وہیں داخل ہو جاتے ہیں“۔ (”حیات احمد“ جلد اول‘ نمبر ۳‘ ص ۲۵)
- (۲) ”آریوں کا پرمیشر (خدا) ناف سے دس انگلی نیچے ہے۔ سمجھنے والے سمجھ
لیں“۔ (”چشمہ معرفت“ ص ۱۶)
- (۳) ”خدا تعالیٰ نے اس کی بیوی کے رحم پر مہر لگا دی“۔ (”تتمہ حقیقت الوحی“
ص ۱۳‘ مصنف مرزا قادیانی)
کذاب ...... دجال قادیاں کے رگ و ریشے میں جھوٹ رچا بسا تھا۔ یہ مجسمہ جھوٹ ساری زندگی بڑی ڈھٹائی سے جھوٹ بولتا رہا۔ ہزاروں صفحے جھوٹ لکھ لکھ کر سیاہ کر دیئے۔ مرزا قادیانی کی ہر کتاب کذب و افتراء کا پلندہ ہے۔ ہم بطور نمونہ مرزا قادیانی کا صرف ایک ایسا جھوٹ پیش کرتے ہیں جو آج بھی اس کے مرقد پر اتر کر جوتے مار مار کر اس کی ہڈیاں چٹخا رہا ہے۔ ملاحظہ ہو:
”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں“۔ (”تذکرہ“ ص ۵۳۶)
لیکن مرزا قادیانی ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو برانڈرتھ روڈ لاہور کی ایک بلڈنگ کے ”ٹٹی خانہ“ میں مرا۔ اس کی پرتعفن لاش بذریعہ مال گاڑی قادیاں پہنچائی گئی۔ اور خاک قادیاں کے گندے خمیر سے اٹھنے والا یہ فتنہ پرداز خاک قادیاں میں ہی دفن ہو گیا۔ کہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اور کہاں قادیاں کی گندی نالی کے کنارے پر رینگنے والا یہ کرم غلاظت!
گندا ...... ”بائیں طرف ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جو پاخانہ کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ مگر پاخانہ کے واسطے کوٹھے کے اوپر اور جگہیں بھی تھیں۔ پس اس نیچے والے کمرے کو حضور نے صاف کرایا اور اسے خوب دھویا گیا اور اس میں فرش کیا گیا۔ دوپہر کے وقت دو یا تین گھنٹے کے قریب حضور بالکل علیحدہ اندر سے کنڈی لگا کر اس میں بیٹھے رہتے تھے“۔ (”ذکر حبیب“ ص ۳۴‘ از مفتی محمد صادق قادیانی)
اور بھی کمرے موجود ہیں لیکن نبی افرنگ نے اپنے لیے ”ٹٹی خانہ“ کا انتخاب کیا۔ اندر سے کنڈی بند اور کمرے میں مرزا قادیانی تین تین گھنٹے بند‘ کیونکہ روح کو سرور آتا ہوگا۔ جس طرح مچھلی پانی میں شاداں و فرحاں ہوتی ہے‘ اسی طرح مرزا قادیانی بھی ”ٹٹی خانہ“ میں مسرت و فرحت محسوس کرتا ہوگا۔ ٹٹی خانہ سے اتنی عقیدت کہ زندگی کا آخری سانس بھی وہیں لینا پسند کیا۔ (مولف)
مزید عقیدت و محبت کی مثال دیکھئے :
”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو صفائی کا بہت خیال تھا۔ خصوصاً طاعون کے ایام میں اتنا خیال رہتا تھا کہ فینائل لوٹے میں حل کر کے خود اپنے ہاتھ سے گھر کے پاخانوں اور نالیوں میں جا کر ڈالتے تھے“۔
(”سیرت المہدی“ حصہ دوم‘ ص ۵۹‘ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)
گھر میں نوکر چاکر موجود ہیں۔ بھانو‘ مائی تابی اور مائی کاکو بھی حاضر خدمت ہیں۔ مریدان باطل بھی قطار در قطار سر جھکائے کھڑے ہیں۔ لیکن محب غلاظت مرزا قادیانی بھاگم بھاگ لوٹوں میں فینائل گھول رہا ہے اور اپنے عقیدت مند ہاتھوں سے پاخانوں اور غلیظ نالیوں میں ڈال رہا ہے۔ اپنا محبوب کام اپنے ہاتھوں سے کر رہا ہے۔ کیونکہ اسی سے اس کی روح کو چین اور دل کو سکون ملتا ہے۔ (ناقل)
نالائق...... ”چونکہ مرزا صاحب ملازمت کو پسند نہیں فرماتے تھے اس واسطے آپ نے مختاری کے امتحان کی تیاری شروع کر دی اور قانون کی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا‘ پر امتحان میں کامیاب نہ ہوئے“۔ (”سیرت المہدی“ حصہ اول‘ ص ۱۳۸‘ بشیر احمد قادیانی)
جب نبی ہی فیل ہونے لگے تو امتیوں کا کیا بنے گا؟ مزید سنئے:
”ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود جب کوئی نظم لکھتے اور ایسے موقع پر کسی اردو لفظ کی تحقیق منظور ہوتی تو بسا اوقات حضرت ام المومنین سے اس کی بابت پوچھتے تھے“۔ (”سیرت المہدی“ جلد ۳‘ ص ۷‘ مصنفہ بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)
جی ہاں! خانہ ساز نبوت میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ دعویٰ نبوت کا اور شاگردی بیگم
کی! کیا شان ہے تیری اے قادیانی نبوت! (مولف)
فاتر العقل ...... ”بعض اوقات کوئی دوست حضور کے لیے گرگابی (جوتا) ہدیۃً لاتا تو آپ بسا اوقات دایاں پاؤں‘ بائیں میں ڈال لیتے تھے اور بایاں‘ دائیں میں۔ چنانچہ اس تکلیف کی وجہ سے آپ دیسی جوتا پہنتے تھے۔ اسی طرح کھانا کھانے کا یہ حال تھا کہ خود فرمایا کرتے تھے‘ ہمیں تو اس وقت پتا لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں‘ جب کھانا کھاتے کھاتے کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت کے نیچے آجاتا ہے“۔
(”سیرت المہدی“ حصہ دوم‘ ص ۵۸‘ مصنفہ بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)
تماش بین ...... مرزا قادیانی کا نام نہاد صحابی مفتی محمد صادق بیان کرتا ہے: ”ایک شب دس بجے کے قریب میں تھیٹر میں چلا گیا جو مکان کے قریب ہی تھا اور تماشہ ختم ہونے پر دو بجے رات کو واپس آیا۔ صبح منشی ظفر احمد صاحب نے میری عدم موجودگی میں حضرت صاحب کے پاس میری شکایت کی کہ مفتی صاحب رات کو تھیٹر چلے گئے تھے۔ حضرت صاحب نے فرمایا‘ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے“۔
(”ذکر حبیب“ ص ۱۸‘ مصنفہ مفتی محمد صادق)
اس ”دین“ کے کیا کہنے جس میں ”نبی“ بھی تھیٹر میں اور ”صحابی“ بھی تھیٹر میں۔ (مولف)
دلال ...... ”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب میاں ظفر احمد کپور تھلوی کی پہلی بیوی فوت ہوگئی تو حضرت نے کہا کہ ہمارے گھر دو لڑکیاں رہتی ہیں‘ میں ان کو لاتا ہوں‘ آپ جس کو پسند کریں نکاح کر دیا جائے۔ چنانچہ حضور نے ان دونوں لڑکیوں کو بلا کر کمرے کے باہر کھڑا کر دیا۔ پھر اندر آ کر (میاں ظفر احمد سے) کہا کہ آپ چک کے اندر سے دیکھ لیں۔ میاں ظفر احمد نے دیکھ لیا تو لڑکیاں چلی گئیں اور حضرت صاحب نے پوچھا‘ بتاؤ کون پسند ہے؟ انہوں نے کہا کہ لمبے منہ والی تو حضرت نے فرمایا‘ ہمارے خیال میں گول منہ والی اچھی ہے۔ پھر فرمایا لمبے منہ والی کا چہرہ بیماری وغیرہ کے بعد بدنما ہو جاتا ہے لیکن گول چہرہ کی خوبصورتی قائم رہتی ہے“۔ (”سیرت المہدی“
جلد اول‘ ص ۲۵۹‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
یہ خوبرو دوشیزائیں کون تھیں؟ ان کے والدین کہاں تھے؟ بیٹیوں کے رشتے ناتے تو ہمیشہ والدین کرتے ہیں لیکن یہاں سب کچھ مرزا قادیانی کے ہاتھ میں ہے۔ کیا وہ اور ان جیسی درجنوں لڑکیاں اغوا شدہ تھیں اور مرزا قادیانی عورتوں کا کاروبار کرتا تھا؟ مرید بے مراد کی بیوی داغ مفارقت دیتی ہے۔ مرزا قادیانی فوراً وہاں پہنچتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ تیری ضرورت میرے پاس ہے...... وہ لڑکیاں لاتا ہے...... لڑکیاں انتخاب کے لیے کھڑی کر دی جاتی ہیں...... ورائٹی دکھاتا ہے...... ایک لمبے منہ والی‘ دوسری گول منہ والی...... پھر ایک شاطر دکاندار کی طرح گاہک کو گھیرنے کے لیے کہتا ہے...... پسند کرو...... پھر ایک فلاسفر کی طرح لمبے منہ اور گول منہ پر بحث کرتا ہے اور گول چہرہ کے حق میں دلائل دیتا ہے۔
مندرجہ بالا بحث سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ مرزا قادیانی نے گھر میں ”میرج سنٹر“ کھول رکھا تھا۔ لڑکیاں بہلا پھسلا کر یا اغوا کر کے لائی جاتی تھیں اور پھر نوجوان لڑکوں سے ان کی شادیاں کروا کر اپنی دلالی کی بھاری رقوم حاصل کرتا تھا۔ خود سوچئے کہ بھلا کیسے ہو سکتا ہے کہ جو شخص دعا کے لیے ہاتھ اٹھانے کا ایک لاکھ روپیہ مطالبہ کرتا ہے‘ وہ اتنی محنت مشقت والا کام مفت کرے۔ (مؤلف)
بے غیرت خاوند...... ”بیوی صاحبہ مرزا جی کے مریدوں کو ساتھ لے کر لاہور سے کپڑے بھی خود ہی خرید لایا کرتی تھیں“۔ (”کشف الظنون“ مرتبہ ڈاکٹر بشارت احمد لاہور‘ ص ۸۸)
سچا نبی امت میں غیرت پیدا کرتا ہے لیکن نبی قادیان کے گھر پر بے غیرتی کا جھنڈا لہرا رہا ہے‘ شرافت سر پیٹ رہی ہے اور حیا منہ چھپائے بیٹھی ہے۔ توجہ فرمائیے! مرزا قادیانی کی جوان بیوی جو اسے بڑھاپے میں ملی‘ مریدوں کے ساتھ ٹہلتی چہلتی جا رہی ہے...... گاڑی میں سوار ہو رہی ہے...... قادیاں سے لاہور آ رہی ہے...... خاصا طویل سفر ہے...... راستے میں کھانے پینے کی احتیاج ہے...... لاہور آ گیا ہے...... تانگہ میں سوار ہو کر بازاروں میں جا رہی ہے...... مریدوں کی معیت میں شاپنگ ہو رہی ہے...... معلوم نہیں واپسی ایک دن میں ہے یا چار دن میں...... اگر ایک دن سے زیادہ ہے تو رات کہاں ٹھہرتی ہے...... پھر واپسی ہوتی ہے...... رن مرید خاوند سر چڑھی بیوی کا
استقبال کرنے کے لیے سراپا انتظار بنے سر کے بل کھڑا ہے۔ ایسا وہی کر سکتا ہے جس کی غیرت نے کفن پہن لیا ہو اور جس کی حمیت لاش بن چکی ہو۔ جی ہاں! خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر حملہ کرنے کی ناپاک جسارت کرنے والوں پر خدا کی پھٹکار اسی طرح پڑتی ہے اور رب ذوالجلال ان کے ذہنوں سے عزت و غیرت کا مفہوم چھین لیتا ہے۔ (مولف)
باغی جہاد...... سات سمندر پار سے آیا ہوا فرنگی ہندوستان پر قابض ہوچکا تھا۔ لیکن باغیرت اسلامیان ہند نے اس کی غلامی کا طوق پہننے سے انکار کر دیا۔ فرنگی کے خلاف جب بھی کوئی مرد قلندر نعرۂ جہاد بلند کرتا تو کفن بدوش مجاہدین میدان کارزار میں کود پڑتے اور اپنے خون ناب سے جرات و شجاعت کی ایک رخشندہ تاریخ رقم کر جاتے۔ سفید چمڑی اور کالے دل والے انگریز نے مسند رسولؐ پر بیٹھنے والوں کو درختوں سے لٹکا کر پھانسیاں دیں۔ سربازار داڑھیاں مونڈ کر سنت محمدؐ کریم کا مذاق اڑایا۔ برف کے بلاکوں پر باندھ کر ان کی موت کا رقص دیکھا گیا۔ دہکتے ہوئے انگاروں پر لٹا کر ان کی چربی پگھلنے کا ہولناک منظر قہقہے لگا لگا کر ملاحظہ کیا۔ جیلوں میں بھوکا رکھ کر تڑپا تڑپا کر مارا گیا اور لاشوں کو سور کی کھال میں سی کر نذر آتش کیا گیا، لیکن شہیدان اسلام کے جسموں کے ریشے ریشے اور خون کے قطرے قطرے سے ”الجہاد الجہاد“ کی صدائیں بلند ہوتی تھیں لیکن اس وقت نبی افرنگ، دہلیز فرنگی پر بیٹھا اپنے پھٹے منہ اور ارتدادی زبان سے تنسیخ جہاد کے نغمے الاپ رہا تھا۔ ملاحظہ ہو:
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے دین کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد“
(اعلان مرزا غلام احمد قادیانی، مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد نہم، نمبر ۴۸، مولفہ میر قاسم علی
قادیانی)
(لعنت صد لعنت بر پدر افرنگ۔ مولف) انگریزی نبی کی ایک اور خدمت انگریز ملاحظہ ہو:
”میری زندگی کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریز کی تائید و حمایت میں گزرا ہے اور میں نے مخالفت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھیں کہ اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں“۔ (”تریاق القلوب“ ص ۱۵‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
انگریز کا بچہ جمورا ...... فرزندان اسلام‘ انگریز کو ہندوستان سے نکالنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے تھے لیکن انگریزی بچہ جمورا اپنے آقا کے اقتدار کے استحکام کے لیے ڈوب ڈوب کر دعائیں کر رہا تھا۔ ملاحظہ فرمائیے:
”اب میں اس دعا پر ختم کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہماری محسنہ ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو عمر دراز دے کر ہر ایک اقبال سے بہرہ ور کرے اور وہ تمام دعائیں جو میں نے اپنے رسالہ ”ستارہ قیصریہ“ اور ”تحفہ قیصریہ“ میں ملکہ موصوفہ کو دی ہیں‘ قبول فرمادے اور میں امید رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ محسنہ اس کے جواب میں مجھے مشرف فرمادے گی“۔ (حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست عریضہ خاکسار غلام احمد قادیان‘ المرقوم ۲۷؍ ستمبر ۱۸۹۹ء مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد ہشتم‘ مولفہ میر قاسم علی قادیانی)
مجاہدین آزادی پر زبان طعن دراز کرتا اور انگریز کی اطاعت کا درس ابلیسانہ دیتے ہوئے کہتا ہے ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں‘ یہ ہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرے‘ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو...... سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے...... سو اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں“۔ (ارشاد مرزا قادیانی مندرجہ رسالہ ”گورنمنٹ کی توجہ کے لائق“ ص ۳۰‘ جلد ۲۷‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
آوارہ شاعر...... انگریزی نبی پر شاعری کا بھی بھوت سوار تھا لیکن اس کی طبیعت کے عین مطابق اس کی شاعری بھی حیا سوز اور فحاشی کا مظہر تھی۔ طائفہ قادیانیت سے پرزور التماس ہے کہ وہ صبح سویرے اٹھ کر نہار منہ سارے اہل خانہ کو اکٹھا کر کے بہ آواز بلند اپنے نبی کا یہ عارفانہ کلام پڑھیں۔ کلام پیش خدمت ہے!
نام اولاد کے حصول کا ہے ساری شہوت کی بے قراری ہے
بیٹا بیٹا پکارتی ہے فقط یار کی اس کو آہ و زاری ہے
دس سے کروا چکی ہے زنا پاک دامن ابھی بے چاری ہے
زن بیگانہ پر یہ شیدا ہیں جس کو دیکھو وہی شکاری ہے
(”آریہ دھرم“ ص۷۶-۷۷‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
گپوڑیے ...... آپ نے منجن بیچنے والوں، سرمہ فروشوں اور مجمع لگا کر دوائیاں بیچنے والوں کی گپیں سنی ہوں گی، لیکن آج ہم آپ کو قادیان کے گپوڑیے کی چند گپیں سناتے ہیں۔ لیجئے مرزا قادیانی افیون کے نشہ میں دھت، ادھ کھلی آنکھوں کے ساتھ حاضر خدمت ہے اور اس کی گپیں نذر مطالعہ!
- (۱) ”کچھ عرصہ گزرا ہے کہ مظفر گڑھ میں ایک ایسا بکرا پیدا ہوا جو بکریوں کی طرح
دودھ دیتا تھا“۔ (”سرمہ چشم آریہ“ ص۴۱‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
- (۲) ”اس کے بعد تین معتبر اور ثقہ اور معزز آدمیوں نے میرے پاس بیان کیا کہ
ہم نے بچشم خود چند مردوں کو عورتوں کی طرح دودھ دیتے دیکھا ہے بلکہ ایک نے ان میں سے کہا کہ امیر علی نام ایک سید کا لڑکا ہمارے گاؤں میں اپنے باپ کے دودھ سے ہی پرورش پایا تھا کیونکہ اس کی ماں مر گئی تھی“۔ (”سرمہ چشم آریہ“ ص۴۱‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
- (۳) ”بعض نے یہ بھی دیکھا کہ چوہا مٹی خشک سے پیدا ہوا جس کا آدھا دھڑ تو
مٹی تھا اور آدھا چوہا بن گیا“۔ (”سرمہ چشم آریہ“ ص۴۱‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
کھسیانا ..... ”حضرت مسیح موعود کے اندرون خانہ ایک نیم دیوانی عورت بطور خادمہ کے رہا کرتی تھی۔ ایک دفعہ اس نے کیا حرکت کی کہ جس جگہ حضرت لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے، وہاں ایک کمرے میں گھڑا رکھا ہوا تھا جس کے پاس پانی کے گھڑے رکھے تھے۔ وہاں اپنے کپڑے اتار کر اور ننگی بیٹھ کر نہانے لگی۔ حضرت صاحب اپنے کام تحریر میں مصروف رہے اور کچھ خیال نہ کیا کہ وہ کیا کرتی ہے“۔ (”ذکر حبیب“ مولفہ مفتی محمد
صادق قادیانی، ص۳۸)
صاحبان عقل و خرد! عورت کا آنا...... قدموں کی چاپ...... گھڑوں کی کھڑکھڑاہٹ...... پانی کی تڑاخ تڑاخ...... عورت کا نہا کر کپڑے پہننا...... لیکن مکار قادیانی کا مصروف تحریر رہنا اور عورت کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھنا، عقل سے بالا ہے۔ ہو مرزا قادیانی جیسا شراب و کباب و عورت کا رسیا اور وہ اس منظر سے محروم رہے! درحقیقت عیار قادیانی اپنی کانی اور ٹیڑھی آنکھ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے دل پر اشرار کو تسکین بخش رہا تھا۔ (مولف)
اگر مرزا قادیانی کی تیز نگاہی اور تیز حسی کا مشاہدہ کرنا ہو تو مندرجہ ذیل واقعہ دیکھئے۔
”چہار شنبہ حضور نے فرمایا کہ ایک دفعہ ایک خاکروبہ نے ایک جگہ سے میلا اٹھایا اور اس کا ایک حصہ چھوڑ دیا۔ میں جو مکان کے اندر بیٹھا ہوا تھا مجھے نظر آیا کہ اس نے ایک حصہ چھوڑ دیا ہے، تو میں نے اس خاکروبہ سے کہا۔ وہ سن کر حیران ہوئی کہ میں نے اندر بیٹھے کیسے دیکھ لیا۔ میں نے اس پر خدا کا شکر ادا کیا کہ یہ باوجود میلے کے سر پر موجود ہونے کے نہیں دیکھ سکتی حالانکہ مجھے خدا نے اس قدر دور دراز فاصلہ سے دکھلا دیا“۔
(”مکاشفات“ ص۲۶، ۱۹۰۲ء)
ذرا تدبر فرمائیے ایک طرف اپنے کمرے میں شور کرتی چھ فٹ کی عورت نظر نہیں آ رہی اور دوسری طرف دور دراز کے فاصلہ سے کونوں میں چھپا ہوا میلا دیکھا جا رہا ہے اور خاکروبہ کی سرزنش کی جا رہی ہے۔ (ناقل)
عاشق نامراد...... ایام بڑھاپا میں انگریزی برانڈ نبی ایک نو عمر دوشیزہ ”محمدی بیگم“ پر دل ہار بیٹھا۔ ایسا لٹو ہوا کہ بار بار رشتہ کے پیغامات بھیجتا لیکن محمدی بیگم کے باپ نے کہا، اے بڈھے کھوسٹ اور مجموعہ امراض! شرم و حیا کر بے ایمان کہیں کے، تیرا ہمارا کیا تعلق۔ اس پر، دجال قادیان نے جھٹ الہام جھاڑ دیا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ محمدی بیگم تیرے نکاح میں آئے گی اور آسمانوں پر اللہ تعالیٰ نے میرا نکاح ”محمدی بیگم“ سے کر دیا ہے۔ جب شیطانی الہام سے بھی کام نہ بنا تو بدمعاش قادیان نے بڑکیں لگانا
شروع کر دیں کہ خبردار جو شخص اس لڑکی کے ساتھ شادی کرے گا، اس کا باپ تین سال میں اور شوہر اڑھائی سال میں مرجائے گا۔ دھمکیاں بھی فضا میں بکھر کے رہ گئیں اور کوئی ان سے مرعوب نہ ہوا تو ایک پیشہ ور بدمعاش کی طرح منتوں اور سماجتوں پر اتر آیا اور خود کو کوستے ہوئے اور ڈرامہ کرتے ہوئے کہنے لگا ”کیا میں چوڑا یا چمار ہوں، جو میرے ساتھ محمدی بیگم کی شادی نہیں رچاتے اور ہاتھ باندھ کے کہنے لگا ”میری درخواست مان لو، میں اپنی زمین اور جائیداد سے تیسرا حصہ اس کے نام کر دینا چاہتا ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ محمدی بیگم کے بھائی محمد بیگ کو پولیس میں اعلیٰ عہدے پر ملازم کروا دیتا ہوں اور ایک امیر کبیر گھرانے میں اس کی شادی بھی کروا دیتا ہوں لیکن مجنوں قادیان کی سب آرزوئیں دل ہی میں دم توڑ گئیں، سارے ارمانوں کا خون ہوا، شادی کے گیت نوحہ ہو گئے، گلے کے پھول حسرتوں کے مرقد پر بکھر کر رہ گئے، نکاح کے چھوہارے انگارے بن گئے، شہنائیوں نے ماتم کا روپ دھارا، نوٹوں کی سلامی کے بجائے عزت کی نیلامی ہوئی، سر پر سہرے کے بجائے گلے میں ذلت کا طوق پڑا اور مرزا قادیانی ”دولہا“ کے بجائے غم فراق میں جلنے والا ”چولہا“ بن گیا۔ کانٹوں پر تڑپتے مرزا قادیانی کی حسرتناک آنکھوں کے سامنے ایک نوجوان مرزا سلطان محمد کے ساتھ مرزا قادیانی کی آسمانی منکوحہ محمدی بیگم کی شادی ہو گئی۔ بارات شان سے آئی اور مرزا قادیانی کے سینے پر مونگ دلتے ہوئے روانہ ہو گئی۔ روانگی بارات کا جگر شکن منظر دیکھ کر مرزا قادیانی ٹپ ٹپ آنسو بہاتا اور موت کو پکارتا ہوا یہ گا رہا ہوگا۔ ؎
چندہ چور ...... ”لدھیانہ کا ایک شخص تھا جس نے ایک دفعہ مسجد میں مولوی محمد علی صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب اور شیخ رحمت اللہ کے سامنے کہا کہ جماعت مقروض ہو کر اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کر چندہ میں روپیہ بھیجتی ہے مگر یہاں بیوی صاحبہ کے کپڑے اور زیورات بن جاتے ہیں“۔ (خطبہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان، اخبار ”الفضل“ جلد ۲۹، ص ۳۰۰، ۲۱ اگست ۱۹۳۸ء)
سچ ہی کہا تھا دل جلے مرید نے۔ وہ تنگی کاٹ کر چندہ دے اور ”مسز مرزا قادیانی“ مریدوں کے چندوں سے نت نئے زیورات بنا بنا کر اپنی زیبائش و نمائش میں مصروف ہو۔
”چندہ چور“ اور ”حرام خور“ مرزا قادیانی نے اپنی لاڈلی اور چہیتی بیوی نصرت جہاں بیگم جو جو زیورات پہنائے اس کی تفصیل دیکھئے اور سوچئے کہ ایک شخص جو پہلے کچہری میں منشی تھا‘ پھر گھر آ کر بیکار بیٹھا ہے۔ پہلی بیوی اور اس کے بچے بڑے ہیں۔ دوسری بیوی کو اتنے زیورات کہاں سے پہنا رہا ہے؟ جب فہرست پر نگاہ ڈالتے ہیں تو مرید سچا نظر آتا ہے اور انگریزی نبی جھوٹا۔ فہرست پیش خدمت ہے۔
کڑے خورد طلائی = ۲۵۰ روپے‘ بندے طلائی = ۵۰۰ روپے‘ کٹمہ طلائی = ۲۲۵ روپے‘ کنگن طلائی = ۲۲۰ روپے‘ ڈنڈیاں = ۳۰۰ روپے‘ بالے گھنگھرو والے = ۳۰۰ روپے‘ حسیاں خورد = ۳۰۰ روپے‘ پونچیاں طلائی = ۱۵۰ روپے‘ مونگے = ۲۰۰ روپے‘ چاند طلائی = ۵۰ روپے‘ بالیاں جڑاؤ = ۱۵۰ روپے‘ نتھ طلائی = ۴۰ روپے‘ ٹیب جڑاؤ = ۷۰ روپے‘ کڑے کلاں طلائی = ۷۵۰ روپے
کل رقم = ۳۵۰۵ روپے (”قادیانی نبوت“ ص ۸۵ بحوالہ ”فسانہ قادیان“ مصنفہ حافظ محمد ابراہیم کیم پوریؒ) اس زمانہ میں سونا تقریباً بیس روپے تولہ تھا۔ اس حساب سے اس زمانہ میں چندہ چور مرزا قادیانی نے اپنی بیوی کو تقریباً ۱۷۵ تولے سونا پہنایا یعنی دو سیر تین چھٹانک۔ (مولف)
قادیاں کے سالانہ جلسہ منعقدہ دسمبر ۱۹۲۵ء میں مفتی محمد صادق نے مرزا قادیانی کی ”گھریلو زندگی“ پر تقریر کی جو ”الفضل“ ۱۳؍ اپریل ۱۹۲۶ء میں شائع ہوئی۔ مفتی صادق نے مرزا قادیانی کی ”گھریلو زندگی“ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ”ایک دفعہ کسی نے خیر خواہی سے کہا کہ بیوی صاحبہ اپنے زیورات کو بار بار تڑواتی ہے اور نئی نئی شکل میں بنواتی رہتی ہے۔ اس طرح تو بہت سا نقصان ہوتا ہے اور بہت سا حصہ زرگر ہی کھا جاتے ہیں۔ بیوی صاحبہ کو روکنا چاہیے۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ ”ان کا مال ہے جس طرح چاہیں کریں“۔
بالکل ٹھیک کہا: مال مفت‘ دل بے رحم (مولف)
کینہ پرور...... ”شادی میں ناکامی کے بعد مرزا قادیانی سر کچلے سانپ کی طرح تڑپ رہا تھا۔ اس کے دل میں آتش انتقام کے شعلے بھڑک رہے تھے۔ اس نے انتہائی کمینگی اور سنگدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی آتش انتقام کو ٹھنڈا کیا اور اپنے سیاہ دل کو سکون
بخشا۔
مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا فضل احمد کے ساتھ محمدی بیگم کے والد مرزا احمد بیگ کی بھانجی عزت بی بی بیاہی ہوئی تھی۔ مدعی نبوت نے اپنے بیٹے مرزا فضل احمد کو خط لکھا کہ فوراً عزت بی بی کو طلاق دے دو۔ ورنہ میں تجھے اپنی تمام جائیداد سے عاق کردوں گا۔ بیٹا اتنی بڑی جائیداد نہ ملنے سے گھبرا اٹھا اور اس نے پتھر دل باپ کا حکم خبیث مانتے ہوئے عزت بی بی کو طلاق دے دی اور یوں مرزا قادیانی نے ناکامی عشق کا بدلہ لے لیا۔ اپنے بیٹے کا ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا اور کسی کی بیٹی کے دامن سے خوشیاں چھین کر اس میں طلاق ڈال دی۔
پانی بھی مانگتا نہیں تیرا ڈسا ہوا
اب ذرا ”سیرت المہدی“ کی عبارت ملاحظہ ہو:
”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ جب محمدی بیگم کی شادی دوسری جگہ ہو گئی اور قادیاں کے تمام رشتہ داروں نے حضرت صاحب کی سخت مخالفت کی اور خلاف کوشش کرتے رہے اور سب نے احمد بیگ والد محمدی بیگم کا ساتھ دیا اور خود کوشش کر کے لڑکی کی شادی دوسری جگہ کرا دی‘ تو حضرت صاحب نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد دونوں کو الگ خط لکھا کہ ان سب نے میری سخت مخالفت کی ہے۔ اب ان کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں رہا اور ان کے ساتھ اب ہماری قبریں بھی اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔ لہٰذا اب تم اپنا آخری فیصلہ کرو۔ اگر تم نے میرے ساتھ تعلق رکھنا ہے تو پھر ان سے قطع تعلق کرنا ہوگا اور اگر ان سے تعلق رکھنا ہے تو پھر میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں رہ سکتا۔ اس صورت میں تمہیں عاق کرتا ہوں۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ مرزا سلطان احمد کا جواب آیا کہ مجھ پر مائی صاحبہ کے احسان ہیں‘ ان سے قطع نہیں کر سکتا مگر مرزا فضل احمد نے لکھا کہ میرا تو آپ کے ساتھ ہی تعلق ہے‘ اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ حضرت صاحب نے مرزا فضل احمد کو جواب دیا کہ اگر یہ درست ہے تو اپنی بیوی بنت مرزا علی شیر کو جو سخت مخالف تھی اور مرزا احمد بیگ کی بھانجی تھی‘ طلاق دے دو۔ مرزا فضل احمد نے فوراً طلاق نامہ لکھ کر حضرت صاحب کے پاس روانہ کردیا“۔
(”سیرت المہدی“ جلد اول، ص ۲۸، مصنفہ مرزا بشیر احمد)
حریص دولت...... مرزا قادیانی بہت بڑا حریص دولت تھا۔ حصول دولت کے لیے ہی ملت اسلامیہ سے غداری کی۔ متاع دنیا اکٹھی کرنے کے لیے متاع ایمان بیچ دی۔ مرزا قادیانی کو دولت سے اتنی محبت تھی کہ اسے خوابوں میں بھی روپے پیسے اور منی آرڈر نظر آتے تھے۔
مرزا قادیانی کہتا ہے، ”ایک دفعہ کشفی طور پر ۲۳ یا ۲۴ روپے دکھائے گئے اور یہ بھی الہام ہوا کہ ماجھے خاں کا بیٹا اور شمس الدین پٹواری ضلع لائل پور سے بھیجنے والے ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد کارڈ آیا جس میں لکھا تھا کہ ۲۰ روپے ماجھے خاں کے بیٹے اور چار روپے پٹواری کی طرف سے ہیں“۔ (”نزول مسیح“ ص ۴۰۹، ”مکاشفات“ ص ۳)
مرزا قادیانی کہتا ہے ”ایک دفعہ مجھے قطعی طور پر الہام ہوا کہ اکیس روپے آئیں گے۔ آنہ کم نہ زیادہ۔ چنانچہ اکیس روپے آگئے“۔ (”نزول مسیح“ ص ۱۲۸)
پھر کہتا ہے، ”رویا میں دیکھا کہ ایک لفافہ ہے جس میں سے کچھ پیسے نکل کر باہر آ گئے ہیں“۔ (”البدر“ ص ۵، ۱۹۰۵ء)
پھر کہتا ہے، ”رویا میں دیکھا کہ قدرت اللہ کی بیوی روپوں کی ایک ڈھیری سامنے پیش کرتی ہے“۔ (”بدر“ ج ۱، ص ۲۸، ۱۹۰۵ء)
جادوگر...... لالہ بھین سین وکیل سیالکوٹ کا بیان ہے کہ جب میں اور مرزا غلام احمد بٹالہ میں پڑھا کرتے تھے تو ان کی عادت تھی کہ مٹی کا ایک لوٹا (سبوچہ گلی) پانی سے بھرواتے اور دو لڑکوں سے کہتے کہ اسے ہاتھ میں ایک ایک انگلی سے اٹھائے رہو۔ لڑکے انگلیوں کے سہارے لوٹے کو تھام رکھتے۔ اس کے بعد مرزا صاحب کیمیا کے نسخوں کی دوائیں جدا کاغذ کے پرزوں پر لکھ کر گولیاں بناتے اور ایک ایک گولی اس لوٹے میں ڈالتے جاتے اور ساتھ ہی کوئی اسم پڑھتے جاتے تھے۔ جس گولی کی نوبت پر لوٹا گھوم جاتا تھا، اس گولی کا نسخہ پڑھ کر علیحدہ رکھ لیتے تھے اور پھر اس نسخہ کا تجربہ کرتے تھے، لیکن کیمیا گری میں کامیابی کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہوا“۔ (”چودھویں صدی کا مسیح“ مطبوعہ اہلحدیث امرتسر، طبع ۱۳۲۴ھ، ص ۱۱)
شعبدہ باز...... مولوی محمد حسین بٹالوی اور مرزا قادیانی بٹالہ میں ہم سبق تھے۔ ایک مرتبہ مولوی محمد حسین‘ مرزا غلام احمد اور چند لڑکے رات کے وقت قصبہ بٹالہ سے باہر کھیتوں میں قضائے حاجت کے لیے گئے۔ گرمی کا موسم تھا۔ جگنو (کرمک شب تاب) اڑ رہے تھے۔ رفع حاجت کے وقت ایک جگنو مرزا غلام احمد کے گریبان میں آگیا۔ مرزا صاحب نے اسے ہاتھ میں دبا لیا۔ جب سب لڑکے جمع ہوئے تو غلام احمد صاحب نے ہم جولیوں سے کہا ”دیکھو میرے پیرہن کے نیچے درخشاں چیز کیا ہے؟ اور کہا اگر اسی طرح کوئی شعبدہ کیا جائے تو لوگوں کو پھانسا جا سکتا ہے یا نہیں؟“ (”رئیس قادیاں“ ص۱۶‘ مولفہ مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوری)
بچپن سے ہی شعبدہ بازی کا شوق تھا۔ آخر نبوت کاذبہ کی شعبدہ بازی کی اور ہزاروں انسانوں کے ایمانوں کو دریائے کفر و ارتداد میں غرق کر دیا۔ (ناقل)
جاہل...... ”کہتے ہیں کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نوکر چائے کی پیالی لایا جب قریب آیا تو غفلت سے وہ پیالی‘ آپ کے سر پر گر پڑی۔ آپ نے تکلیف محسوس کر کے ذرا تیز نظر سے غلام کی طرف دیکھا“۔ (”ملفوظات احمدیہ“ جلد اول‘ ص۳۴۶‘ مرتبہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام‘ لاہور)
اس بدبخت سے کوئی پوچھے کہ کیا اس وقت چائے پینے کا رواج تھا۔ دعویٰ خدائی علم کا اور علمی پستی کی یہ حالت!
مرزا قادیانی کا چوتھا بیٹا مبارک احمد ۴ صفر ۱۳۱۷ھ کو بروز چہار شنبہ پیدا ہوا۔ بیٹے کی پیدائش پہ مرزا قادیانی کہتا ہے‘ ”اور جیسا کہ وہ چوتھا لڑکا تھا۔ اس حساب سے اس نے اسلامی مہینوں میں سے چوتھا یعنی صفر اور ہفتہ کے دنوں میں چوتھا دن یعنی چار شنبہ اور دن کے گھنٹوں میں سے بعد از دوپہر چوتھا گھنٹہ لیا“۔ (”تریاق القلوب“ ص۴۱‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
قارئین کرام! ذرا غور فرمائیے۔ اسلامی سال کا آغاز ماہ محرم سے ہوتا ہے اور صفر اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہے لیکن ابوالجہلا مرزا قادیانی ماہ صفر کو چوتھا مہینہ قرار دیتا ہے اسلامی ہفتہ شنبہ سے شروع ہو کر جمعہ پہ ختم ہوتا ہے۔ ملاحظہ کیجئے۔
۱ ۲ ۳ ۴ ۵ ۶ ۷ شنبہ یک شنبہ دوشنبہ سہ شنبہ چہار شنبہ پنج شنبہ جمعہ چہار شنبہ پانچواں دن ہے جبکہ کوڑھ دماغ مرزا قادیانی اسے چوتھا دن بتاتا ہے۔ اسلامی دنوں اور مہینوں کے نام نہیں آتے اور طرہ یہ کہ ”میں بغیر خدا کے بلائے بول نہیں سکتا اور بغیر اس کے دکھائے‘ دیکھ نہیں سکتا“۔ (”حقیقۃ الوحی“ ص ۲۷۸‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
غاصب...... مرزا قادیانی کی پہلی شادی لڑکپن میں ایک رشتہ دار لڑکی حرمت بیگم کے ساتھ ہوئی۔ جو مرزا فضل احمد کی ماں تھی‘ مرزا قادیانی نے اپنی پہلی بیوی پر بڑے ستم توڑے اور اسے گھر میں ایک جانور کی حیثیت سے رکھا ہوا تھا۔ ایک جھلک ملاحظہ ہو ”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اوائل سے ہی مرزا فضل احمد کی والدہ سے جس کو لوگ عام طور پر ”پھجے دی ماں“ کہا کرتے تھے بے تعلقی سی تھی....... اس لئے حضرت مسیح موعود نے ان سے مباشرت ترک کردی تھی۔ (”سیرت المہدی“ حصہ اول‘ ص ۴۶‘ مصنفہ بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)
استغفراللہ۔۔۔ کتنا بے غیرت خاندان تھا کہ بیٹا ماں باپ کے خلوت اور رازداری کے سارے حالات سے باخبر تھا اور کتنی حیا باختہ تھی وہ ماں جو بچوں کے کانوں تک یہ کہانیاں پہنچایا کرتی تھی۔ (ناقل)
پھر مرزا قادیانی کے سر پر دوسری شادی کا بھوت سوار ہوا۔ دوستوں کے توسط سے بڑھا مریض اٹھارہ سالہ دلہن دہلی سے بیاہ لایا۔ لڑکی کا نام نصرت جہاں بیگم تھا۔ رشتہ ہونے سے قبل لڑکی کے رشتہ داروں نے مرزا قادیانی کے بڑھاپے اور بیماریوں کے ”سیاپے“ کو زیر بحث لاتے ہوئے رشتہ کی مخالفت کی‘ پھر مرزا کا پہلے ہی شادی شدہ ہونا اور پہلی بیوی کا گھر میں موجود ہونا بھی وجہ مخالفت بنا۔ اس صورت حال کو کوے کی طرح بھانپتے ہوئے فوراً مرزا قادیانی نے اپنے سسر میر ناصر نواب کو خط ارسال کیا جس میں لکھا تھا ”کہ اگرچہ میری پہلی بیوی موجود ہے مگر میں عملاً مجرد ہی ہوں“ (”سیرت المہدی“ جلد دوم‘ ص ۱۱۰‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
او کذاب اعظم! اگر تو مجرد ہی تھا تو بتا کہ پھر مرزا فضل اور مرزا سلطان کہاں سے آئے۔ ہت تیرے کی! نئی نویلی دلہن بناسپتی نبی کے گھر آگئی۔ مرزا قادیانی اس کے ناز اٹھاتا، اپنی پونے دو آنکھیں اس کے قدموں میں بچھاتا، اس کے حسن و جمال کے گیت گاتا اور بدمستی کے عالم میں جھوم جھوم جاتا۔ اور دوسری طرف پہلی بیوی تھی، جو اس نام نہاد مسیحا کے لگائے ہوئے کاری زخموں کو چاٹ رہی تھی اور اپنے شقی القلب خاوند کے ظلم و ستم سے اندر ہی اندر پگھلی جا رہی تھی۔ غاصب خاوند نے اس کے سارے حقوق غصب کر رکھے تھے۔ نصرت جہاں گھر کی ملکہ تھی اور پھجے دی ماں خادمہ، ایک حکمران تھی اور دوسری محکومہ۔ خود مرزا قادیانی ایک کے لئے پھول تھا اور دوسری کے لئے خار۔ ایک کے لئے قند تھا اور دوسری کے لئے زہر، ایک اس کے سر کی ٹوپی تھی اور دوسری پاؤں کی جوتی۔ لیکن حرمت بیگم ہر قسم کی سختیوں، چیرہ دستیوں اور طعن و تشنیع کو برداشت کئے مجسمہ صبر بنے ایک شریف عورت کی طرح ماں باپ کی عزت سنبھالے گھر میں سر چھپائے بیٹھی تھی لیکن ظالم قادیانی نے اسے اس کروٹ بھی چین نہ لینے دیا اور برسوں کی رفیقہ کو بڑھاپے میں طلاق کا تحفہ دیا اور ٹھوکریں مار مار کر گھر سے نکال دیا۔
ڈرپوک۔۔۔۔۔۔ مرزا قادیانی انگریز کی ضرورت اور ایجاد تھا۔ انگریز نے اپنے اس ایجاد کردہ نبی کو اپنی سنگینوں کے سائے تلے پروان چڑھایا اور تازیست اپنے اس ”جوہر نایاب“ کو اپنی پولیس اور فوج کے پہروں میں رکھا۔ اتنے سخت حفاظتی انتظامات ہونے کے باوجود جھوٹا نبی ہر وقت خوف سے تھر تھر کانپتا رہتا تھا اور شاید اسی خوف کی وجہ سے دن میں سو سو دفعہ پیشاب بھی آتا اور دست بھی لگے رہتے تھے۔ بزدلی اور ڈرپوکی کی ایک جھلک ملاحظہ ہو!
”جب مخالفت زیادہ بڑھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قتل کی دھمکیوں کے خطوط موصول ہونے شروع ہوئے تو کچھ عرصے تک آپ نے سنکھیا کے مرکبات استعمال کئے تاکہ خدانخواستہ آپ کو زہر دیا جائے تو جسم میں اس کے مقابلے کی طاقت ہو“۔
(ارشاد میاں محمود احمد خلیفہ قادیاں، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیاں مورخہ ۵ فروری ۱۹۳۵ء)
سنکھیا تو فضول استعمال کیا کیونکہ کسی نے زہر ہی نہیں دیا۔ البتہ پیچش کی دوائی استعمال کرتے رہتے تو ٹٹی خانہ میں نہ مرتے اور یوں رسوائی اور جگ ہنسائی نہ ہوتی۔ (ناقل)
سنگدل...... ”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ہماری دادی ایمہ ضلع ہوشیار پور کی رہنے والی تھیں۔ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم اپنی والدہ کے ساتھ بچپن میں کئی دفعہ ایما گئے ہیں۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ وہاں حضرت صاحب بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے۔ اور چاقو نہیں ملتا تھا تو سرکنڈے سے ذبح کرلیتے تھے۔“ (”سیرت المہدی“ حصہ اول‘ ص ۴۵‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد)
چڑیا ایک گھریلو پرندہ ہے۔ بچے چڑیا سے بڑا پیار کرتے ہیں۔ بچے اپنے ہاتھوں سے چڑیا کو روٹی کے ٹکڑے کھلا کر بڑے خوش ہوتے ہیں۔ صبح اٹھتے ہی اپنے صحن میں چڑیا کا محبت بھرا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ چڑیا پہ نظر پڑتے ہی چہرہ دمک اٹھتا ہے۔ راتوں کو مائیں اپنے بچوں کو چڑیا کوے کی کہانی سناتی ہیں اور بچے بڑے مزے سے سنتے ہیں لیکن قادیاں کا ازلی شقی القلب بچہ چڑیوں کو روٹی کھلانے اور پیار کرنے کی بجائے سرکنڈوں سے ان کا سر کاٹتا تھا۔ پھر یہی سرکنڈا حدیث کی گردن پہ چلایا‘ قرآن کی گردن پہ چلایا‘ اسلام کی گردن پہ چلایا‘ ظالم کے ہاتھوں یہ سرکنڈا چلتا ہی رہا حتیٰ کہ ”صاحب سرکنڈا“ خود ٹٹی خانہ میں ٹھنڈا ہوگیا۔
شہرت کا بھوکا...... ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک عرب سوالی یہاں آیا۔ آپ نے اسے ایک معقول رقم دے دی۔ بعض نے اس پر اعتراض کیا تو فرمایا یہ جہاں بھی جائے گا ہمارا ذکر کرے گا۔ خواہ دوسروں سے زیادہ وصول کرنے کے لیے ہی کرے گا مگر دور دراز مقامات پر ہمارا نام پہنچا دے گا۔“ (اخبار ”الفضل“ قادیاں‘ جلد ۲۲‘ ص ۱۰۳‘ ۲۶؍ فروری ۱۹۳۵ء قادیان‘ لاہوری)
بہت اچھا طریقہ اختیار کیا‘ ہزاروں روپے جھوٹی نبوت کی تشہیر کے لیے خرچ کیے اور اس سوالی کو تو صرف چند روپے تھما کر اپنی شہرت کا چلتا پھرتا اشتہار بنا دیا۔ اور جب وہ سوالی دوسرے علاقوں میں جا کر مرزا قادیانی کی سخاوت کا ڈھنڈورا پیٹے گا تو لوگ
اس کی دریا دلی کے چرچے سن کر اس کے در پر حاضر ہوں گے اور گھات لگائے بیٹھا مرزا قادیانی انہیں دام ارتداد میں گرفتار کر لے گا۔ (ناقل)
آوارہ خیال ...... قادیاں کا مدعی نبوت عالم بیداری میں تو شراب و کباب اور عیش و عشرت کا عادی تھا ہی لیکن وہ عالم خواب میں بھی رنگ رنگیلی عورتوں سے بغلگیریاں کر کے اپنی راتوں کو رنگین بنایا کرتا تھا۔
”۲۵؍ جولائی ۱۸۹۲ء مطابق ۳۰ ذی الحجہ ۱۳۰۹ھ بروز دو شنبہ ۔ آج میں نے بوقت صبح صادق ساڑھے چار بجے خواب میں دیکھا کہ ایک حویلی ہے۔ اس میں میری بیوی‘ والدہ‘ محمود اور ایک عورت بیٹھی ہے۔ تب میں نے ایک مشک سفید رنگ میں پانی بھرا ہے اور اس مشک کو اٹھا کر لایا ہوں اور وہ پانی لا کر ایک اپنے گھڑے میں ڈال دیا ہے۔ میں پانی ڈال چکا تھا کہ وہ عورت جو بیٹھی ہوئی تھی یکایک سرخ اور خوش رنگ لباس پہنے ہوئے میرے پاس آگئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جواں عورت ہے۔ پیروں سے سر تک سرخ لباس پہنے ہوئے‘ شاید جالی کا کپڑا ہے۔ میں نے دل میں خیال کیا کہ وہی عورت ہے جس کے لیے اشتہار دیئے تھے۔ لیکن اس کی صورت میری بیوی کی صورت معلوم ہوئی۔ گویا اس نے کہا‘ یا دل میں کہا کہ میں آگئی ہوں۔ میں نے کہا‘ یا اللہ آ جاوے اور پھر وہ عورت مجھ سے بغلگیر ہوئی۔ (مبارک ہو۔ ناقل) اس کے بغلگیر ہوتے ہی میری آنکھ کھل گئی“۔ (”تذکرہ“ ص ۱۹۷‘ مجموعہ الہامات و مکاشفات مرزا قادیانی)
صدر محفل فحش گوئی ...... ”میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک مرتبہ ایک عرب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس بیٹھا ہوا افریقہ کے بندروں اور افریقن لوگوں کے لغو قصے سنانے لگا۔ حضرت صاحب بیٹھے ہوئے ہنستے رہے۔ آپ نہ تو کبیدہ خاطر ہوئے اور نہ ہی اس کو ان لغو قصوں کے بیان کرنے سے روکا کہ میرا وقت ضائع ہو رہا ہے بلکہ اس کی دلجوئی کے لیے اخیر وقت تک خندہ پیشانی سے سنتے رہے“۔ (”سیرت المہدی“ حصہ سوم‘ ص ۲۱۵)
قارئین! فحش گو‘ بندروں اور افریقی لوگوں کے فحش قصے اور لطیفے سنا رہا ہے اور قادیانی نبی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہا ہے۔ تادم اختتام محفل عیش و طرب دانت نکال
نکال کر اس کی دلجوئی و دلداری کر رہا ہے ممکن ہے کہ کسی انتہائی غلیظ لطیفے پر وجد میں آکر اور بھڑک لگا کر فحش گو کو انعام سے بھی نوازا ہو۔ (ناقل)
چور خاوند‘ چور بیوی ...... ”ایک دفعہ چٹھی رساں منی آرڈر لے کر آیا اور دروازہ پر آواز دی تو حضرت ام المومنین نے ایک خادمہ کو بھیج کر سارے فارم منگوا لیے۔ چٹھی رساں اس انتظار میں کھڑا رہا کہ حضرت صاحب دستخط کر کے فارم بھیج دیں گے تو میں اندر روپیہ بھیج دوں گا جب دیر ہوگئی اور فارم نہ آئے تو حضرت صاحب خود باہر تشریف لائے۔ جب حضرت صاحب کو معلوم ہوا کہ فارم بیوی صاحبہ کے پاس ہیں تو آپ نے بیوی صاحبہ سے کہا کہ فارم ہمیں دے دو‘ چٹھی رساں انتظار کر رہا ہے۔ بیوی صاحبہ نے کہا ہم نہیں دیتے۔ تب آپ تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر فرمایا‘ آپ ان فارموں کو کیا کریں گی۔ بیوی صاحبہ نے کہا کہ آپ ہر روز روپیہ منگواتے ہیں آج روپیہ ہم منگوائیں گے۔ (یعنی ففٹی ففٹی۔ ناقل) حضرت صاحب اس پر کچھ ناراض نہ ہوئے‘ نہ غصہ کا اظہار کیا بلکہ خندہ پیشانی سے فرمایا کہ وہ تو روپیہ ہمارے دستخطوں کے بغیر نہیں دے گا۔ لاؤ ہم دستخط کر دیتے ہیں پھر آپ ہی روپیہ منگوا لیں۔ اس پر بیوی صاحبہ نے فارم دے دیئے اور حضرت صاحب نے دستخط کر کے فارم ان کو دے دیئے“۔ (بہت اچھا کیا‘ آخر گھر میں بھی تو رہنا تھا۔ ناقل) (”الفضل“ ۳؍ اپریل ۱۹۳۶ء)
ماڈرن خاوند ماڈرن بیوی ...... ”بیان کیا مجھ سے مولوی نورالدین صاحب نے کہ ایک دفعہ حضور کسی سفر میں تھے جب سٹیشن پر پہنچے تو ابھی گاڑی آنے میں دیر تھی۔ آپ بیوی صاحبہ کو ساتھ لے کر سٹیشن کے پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگ گئے۔ یہ دیکھ کر مولوی عبدالکریم صاحب نے مجھے (یعنی مولوی نورالدین کو) کہا کہ پلیٹ فارم پر بہت لوگ ہیں۔ وہ حضرت صاحب اور بیوی کو اکٹھا پھرتے دیکھ کر کیا کہیں گے۔ آپ حضرت صاحب سے عرض کریں کہ بیوی صاحبہ کو الگ بٹھا دیں۔ مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں تو نہیں کہتا آپ کہہ کر دیکھ لیں۔ ناچار مولوی عبدالکریم خود حضرت صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ لوگ بہت ہیں‘ بیوی صاحبہ کو ایک طرف بٹھا دیجئے۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ ”جاؤ جی میں ایسے پردہ کا قائل نہیں“۔ (”سیرت المہدی“ ص ۱۳‘ مصنفہ مرزا
بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
عجیب ڈھیٹ آدمی تھا۔ مرید غیرت سے دانت پیس رہا ہے‘ جل بھن رہا ہے‘ لیکن مجسمہ بے غیرتی مرزا قادیانی کو شرم ہی نہیں آرہی۔ بیوی کو ساتھ لیے پلیٹ فارم پر ٹہل رہا ہے‘ لوگ دیکھ رہے ہیں‘ لیکن ماڈرن جوڑا تماشا بنے اپنی چہل قدمی میں مگن ہے۔
رن مرید ....... کذاب قادیاں فرسٹ کلاس رن مرید تھا۔ بیوی کے اشارہ ابرو پر صدقے واری جاتا۔ دربار زوجہ سے جو حکم ملتا فوراً سر تسلیم خم کر دیتا۔ سارے مریدوں کی جیبیں کاٹ کر سب کچھ بیوی کے قدموں میں ڈھیر کر دیتا۔ ”مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی اپنی کتاب ”سیرت المہدی“ میں لکھتا ہے‘ مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے اپنی کتاب ”سیرت المسیح موعود“ میں لکھا ہے کہ اندرون خانہ کی خدمتگار عورتوں کو‘ میں نے بارہا خود تعجب سے کہتے سنا ہے کہ ”مرزا‘ بیوی دی گل بڑی مندا اے“ (مرزا بیوی کی بات بہت مانتا ہے) (”سیرت المہدی“ جلد اول‘ ص ۲۵۹‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن
مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی گھر میں کیا وقعت اور اہمیت تھی ملاحظہ ہو:
”منشی عبدالحق صاحب لاہوری نے کمال محبت اور دوستی کی بنا پر بیماری کی نسبت پوچھا اور عرض کیا کہ آپ کا کام بہت نازک ہے اور آپ کے سر فرائض کا بھاری بوجھ ہے۔ آپ کو چاہیے کہ جسم کی صحت کی رعایت کا خیال رکھا کریں اور ایک خاص مقوی غذا لازماً اپنے لیے ہر روز تیار کرایا کریں۔ حضرت نے فرمایا‘ ہاں بات تو درست ہے اور ہم نے کبھی کبھی کہا بھی ہے مگر عورتیں کچھ اپنے ہی دھندوں میں مصروف رہتی ہیں اور ان باتوں کی پرواہ نہیں کرتیں“۔ (”سیرت المسیح موعود“ ص ۷)
نو سرباز ..... مرزا قادیانی نے ایک کتاب ”براہین احمدیہ“ لکھنے کا اعلان کیا اور ساتھ یہ بھی اعلان کیا کہ اس کتاب کی پچاس جلدیں ہوں گی۔ کتاب لکھنے سے پہلے ہی لوگوں سے پیشگی ادائیگی کا مطالبہ بھی کر دیا۔ کچھ لوگوں نے پچاس جلدوں پر مشتمل کتاب کے لئے ایڈوانس رقم جمع کروا دی۔ مرزا قادیانی نے کتاب لکھنا شروع کی۔ تھوڑے تھوڑے اوراق پر مشتمل پانچ حصے لکھ کر کتاب کے خاتمے کا نقارہ بجا دیا۔ لوگ حیرت زدہ رہ گئے
جب انہوں نے باقی پینتالیس حصوں کا مطالبہ کیا اور مطالبے نے زیادہ زور پکڑا۔ تو نوسر باز مرزا قادیانی نے انتہائی ڈھٹائی سے مندرجہ ذیل جواب دیا۔
”پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس میں سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ اس لئے پانچ حصوں سے پورا ہو گیا۔“ (دیباچہ ”براہین احمدیہ“ حصہ پنجم، ص۷، مصنفہ مرزا قادیانی)
کیا خوب منطق اور کیا خوب حساب ہے۔ (ناقل)
قادیانیو! اگر کوئی شخص تم سے ایک مہینہ کی مہلت پر ۵۰۰۰ روپیہ قرض لے۔ مہینہ کے بعد تم اپنی رقم حاصل کرنے کے لئے اس کے دروازے پر جاؤ۔ وہ شخص اندر جائے اور ۵۰۰ روپیہ لا کر تمہاری ہتھیلی پر رکھ دے اور کہے جناب بہت شکریہ۔ تم کہو جناب یہ تو ۵۰۰ روپیہ ہے۔ میں نے تو ۵۰۰۰ روپیہ دیا تھا۔ وہ تمہارے نبی والی منطق استعمال کرتے ہوئے کہے کہ ۵۰۰۰ اور ۵۰۰ میں صرف ایک صفر کا ہی فرق ہے۔ لہٰذا اب آپ کا فرض ہے کہ آپ اس عظیم استدلال کو فوراً تسلیم کریں۔ بحث نہ کریں۔ ہونٹ سی لیں۔ گردن جھکا لیں اور دل میں جلتے بھنتے گھر کی طرف چل پڑیں۔ ورنہ آپ کا مرزائی ایمان قتل ہو جائے گا اور دوزخ میں بیٹھا ہوا مرزا قادیانی تم سے خفا ہو جائے گا۔
بیگم صاحبہ کو اس پہ بس نہیں تھا بلکہ مزید ذوق و شوق ملاحظہ ہو۔
احمق ...... ”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ بعض بوڑھی عورتوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ بچپن میں حضرت صاحب نے اپنی والدہ سے روٹی کے ساتھ کچھ کھانے کو مانگا۔ انہوں نے کوئی چیز شاید گڑ بتایا کہ یہ لے لو۔ حضرت نے کہا نہیں یہ میں نہیں لیتا۔ انہوں نے کوئی اور چیز بتائی حضرت صاحب نے اس پر بھی وہی جواب دیا۔ وہ اس وقت کسی بات پر چڑی ہوئی بیٹھی تھیں۔ سختی سے کہنے لگیں کہ جاؤ پھر راکھ سے کھا لو۔ حضرت صاحب روٹی پر راکھ ڈال کر بیٹھ گئے اور گھر میں ایک لطیفہ ہو گیا“۔ (”سیرت
المہدی“ ص ۲۴۵، حصہ اول، مصنفہ مرزا بشیر احمد)
اگر ماں کہتی کہ جا غلاظت کے ساتھ کھا لے تو قادیانی نبی ضرور غلاظت سے لطف اندوز ہوتا۔ (ناقل)
فرشتگان مرزا ..... ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر افضل البشر حضرت محمدؐ تک سارے انبیائے کرام پر وحی لانے والے فرشتے کا نام ”جبرائیل“ ہے لیکن نبی قادیان پر وحی لانے والے فرشتے کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔ پڑھئے اور سر دھنئے کسی نے سچ ہی کہا ہے جیسی روح ویسے فرشتے!
ٹیچی ٹیچی ...... ”۵ مارچ ۱۹۰۵ء کو خواب میں ایک فرشتہ دیکھا جس نے اپنا نام ٹیچی ٹیچی بتایا“ (”حقیقت الوحی“ ص ۳۳۲‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
درشنی ...... ”ایک فرشتہ میں نے بیس برس کے نوجوان کی شکل میں دیکھا صورت اس کی مثل انگریزوں کی تھی اور میز کرسی لگائے ہوئے بیٹھا تھا۔ میں نے اس سے کہا۔ آپ بہت ہی خوبصورت ہیں اس نے کہا میں درشنی ہوں۔“ (”تذکرہ“ ص ۳۱)
خیراتی ...... ”تین فرشتے آسمان سے آئے اور ایک کا نام خیراتی تھا۔“ (”تریاق القلوب“ ص ۱۹۲‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
مٹھن لال ...... ”خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص مٹھن لال نام جو کسی زمانہ میں بٹالہ میں اسسٹنٹ تھا‘ کرسی پر بیٹھا ہوا ہے اور ارد گرد اس کے عملہ کے لوگ ہیں‘ میں نے جا کر کاغذ اس کو دیا اور یہ کہا کہ یہ میرا پرانا دوست ہے۔ اس پر دستخط کر دو‘ اس نے بلا تامل اس پر دستخط کر دیئے۔ یہ جو مٹھن لال دیکھا گیا‘ مٹھن لال سے مراد ایک فرشتہ ہے۔“ (”تذکرہ“ ص ۵۱۵)
معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسٹر گاماں کا ہندو فرشتہ ہے۔ (مولف)
شیر علی ...... ”میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ ایک شخص جو مجھے فرشتہ معلوم ہوتا ہے مگر خواب میں محسوس ہوا کہ اس کا نام شیر علی ہے۔“ (”تذکرہ“ ص ۳۱)
حفیظ ...... ”ایک فرشتہ مجھے خواب میں ملا جو چھوٹے لڑکے کی شکل میں تھا۔ میں نے پوچھا تمہارا نام کیا ہے؟ وہ کہنے لگا میرا نام حفیظ ہے۔“ (”تذکرہ“ ص ۷۵۷)
ہمدرد فرشتہ ...... ”میں نے کشف میں دیکھا کہ ایک فرشتہ میرے سامنے آیا اور کہتا
ہے کہ لوگ پھرتے جا رہے ہیں تب میں نے اس کو خلوت میں لے جا کر کہا کہ لوگ پھرتے جا رہے ہیں مگر کیا تم بھی پھر گئے تو اس نے کہا ہم تمہارے ساتھ ہیں۔“ (”انوار السلام“ ص ۵۲‘ قادیانی)
میٹھی روٹیوں والے فرشتے ...... ”ڈاکٹر سید عبدالستار صاحب نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ”اس مینار کے سامنے دو فرشتے میرے سامنے آئے جن کے پاس دو شیریں روٹیاں تھیں اور وہ روٹیاں انہوں نے مجھے دیں اور کہا کہ ایک تمہارے لئے اور دوسری تمہاری مریدوں کے لیے ہے۔“ (”سیرت المہدی“ حصہ سوم‘ ص ۲۶۳‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)
کشوف والہامات مرزا ...... انبیائے کرام کا کلام فصاحت و بلاغت کا مرقع ہوتا ہے جس سے حکمت و دانائی اور معرفت الٰہی کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ لسان نبوت سے نکلا ہوا ہر ہر لفظ رشد و ہدایت کا چراغ بنتا ہے اور یہی چراغ‘ معاشرہ انسانی میں ایمان و ایقان کی روشنیاں بکھیرتے ہیں اور شیطان کی پھیلائی ہوئی ظلمات کو بھگا کر شاہراہ انسانیت کو منور کرتے ہیں۔ لیکن اب ملاحظہ کیجئے انگلستانی نبی کے الہامات و کشوف جنہیں پڑھ کر کبھی متلی آنے لگتی ہے اور کبھی اس کی فاتر العقلی و بے ہودگی پہ ہنسی! یوں تو مرزا قادیانی کے الہامات کو بیان کرنے کے لیے کئی دفتر درکار ہیں لیکن بطور نمونہ چند الہامات پیش خدمت ہیں۔
عبرانی ...... ایلی ایلی لما سبقتنی ایلی اوس (”البشریٰ“ جلد اول‘ ص ۴۹ مصنفہ مرزا قادیانی)
پنجابی ...... ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نے یہ الہام سنایا کہ ”پٹی پٹی گئی“ (”تذکرہ“ ص ۸۰۱)
فارسی ...... الہام ہوا ”سلامت بر تو اے مرد سلامت“ (”تذکرہ“ ص ۲۹۷)
ہندی ...... ”ہے کرشن جی رودر گوپال“ (”البدر“ جلد دوم‘ نمبر ۴۳‘ ۴۴‘ مورخہ ۲۹ اکتوبر ۸ نومبر ۱۹۰۳ء ص ۳۲۲)
انگریزی...... میں تم سے محبت کرتا ہوں I Love You. میں تمہارے ساتھ ہوں I am With you. میں تمہاری مدد کروں گا I shall help you.
("حقیقۃ الوحی" ص ۳۰۳ مصنفہ مرزا قادیانی)
یہ الہامات مرزا قادیانی کی ملکہ معظمہ کی زبان میں ہیں جس نے اسے نبوت عطا کی لیکن نالائق قادیانی نبی اپنی ملکہ کی زبان بھی نہ سیکھ سکا اور غلط الہامات جھاڑتا رہا۔ بطور نمونہ He halts in the Zila Peshawar وہ ضلع پشاور میں ٹھہرتا ہے۔
("البشریٰ" جلد دوم ' ص ۴ ' مصنفہ مرزا قادیانی)
پانچویں جماعت کا بچہ بھی جانتا ہے کہ انگریزی میں ضلع کو District کہتے ہیں لیکن مرزا قادیانی ضلع کو Zila کہہ رہا ہے۔
عجیب و غریب الہامات
پیپر منٹ...... حضور مرزا جی کی طبیعت ناساز تھی حالت کشفی میں ایک شیشی دکھائی گئی۔ اس پر لکھا تھا "خاکسار پیپر منٹ" ("الحکم قادیان" ۲۴ فروری ۱۹۰۵ء)
شعنانعسا...... ہو شعنا عسا ("براہین احمدیہ" ص ۵۵۶ ' مصنفہ مرزا قادیانی)
پلاطوس...... پریش عمریر اطوس یا پلاطوس ("مکتوب احمدیہ" جلد اول ص ۶۸) قادیانیوں کا فرض ہے کہ اپنے گرو کے اس الہام کی تفسیر بھی لوگوں تک پہنچا دیں ورنہ دنیا محروم رہ جائے گی۔ (مولف)
غشم۔ غشم...... "غشم۔ غشم۔ غشم۔" ("البشریٰ" جلد دوم ' ص ۵۰ ' مصنفہ مرزا قادیانی)
شاید مرزا قادیانی پر اس کے فرشتے ٹیچی ٹیچی نے فائرنگ کر دی ہے۔ (مولف)
ایک دانہ...... ایک دانہ کس کس نے کھانا
("البشریٰ" جلد دوم ' ص ۱۰۵ مصنفہ مرزا قادیانی)
ایک انڈہ...... ایک انڈہ میرے ہاتھ میں ہے جو کہ ٹوٹ گیا۔ ("تذکرہ" ص ۶۴۵)
تین استرے...... خواب میں دکھائے گئے۔ (۱) تین استرے (۲) عطر کی شیشی۔
("تذکرہ" ص ۷۷۴)
خطرناک...... کل ایک دوائی میں استعمال کرنے لگا تو الہام ہوا ”خطرناک“
("تذکرہ" ص ۷۵۲)
ٹھیکہ...... الہام ہوا مرزے ”ہم نے تیری صحت کا ٹھیکہ لیا ہے“ ("تذکرہ" ص ۸۰۶)
پیٹ...... پیٹ پھٹ گیا (یہ دن کے وقت کا الہام ہے) (”البشریٰ“ جلد دوم، ص ۱۹)
برفی..... آپ نے ایک بار خواب میں نہایت خوش نما برفی ایک ڈبہ میں دیکھی
(”مکاشفات“ ص ۳۷)
بیر...... رویا میں کسی نے بیروں کا ڈھیر چار پائی پر لا کر رکھ دیا۔
(”مکاشفات“ ص ۳۶)
سونف...... رویا میں کسی نے ہمارے ہاتھ پر سونف رکھ دی۔ (”مکاشفات“ ص ۴۵)
مرزا قادیانی کی زبان یہود و نصاریٰ کی تلوار سے زیادہ خطرناک اور بچھو و سانپ کے ڈنک سے زیادہ زہریلی تھی۔ یہ بناسپتی نبی اپنے پھٹے ہوئے کفریہ منہ اور لچر و آوارہ قلم سے تامرگ ذلیل گستاخیوں کے انگارے اگلتا رہا۔ مرید خاص شیطان دجال قادیان ایسی بکواس کرتا ہے کہ ولید بن مغیرہ سن لے تو شرم کے مارے گردن جھکا لے۔ راجپال کے ماتھے پہ پسینہ آجائے اور ملعون سلمان رشدی بھی اس ملعون خلقت پر لعنت کرے۔ اس ازلی بدبخت نے رب العالمین کا بھی لحاظ نہ کیا۔ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی پاس نہ کیا۔ انبیائے کرام پر بھی سب و شتم توڑے ۔ قرآن پر بھی نشتر چلائے۔ احادیث کے بھی ٹکڑے کئے۔ صحابہؓ کی تابندہ ہستیوں پر کیچڑ اچھالا۔ اہل بیت پر زبان طعن دراز کی۔ درود شریف کی حرمت کو روندا۔ اولیاء کرام کی عزتوں کو پامال کیا اور علمائے اسلام و امت مسلمہ کو اس ”سراپا گالی“ نے وہ گالیاں دیں کہ گالیاں بھی توبہ توبہ پکار اٹھیں۔ اسلام اور شعائر اسلام کا وہ مذاق اڑایا کہ الامان الحفیظ! ذیل میں مرتد اعظم مرزا
قادیانی کی گستاخیوں اور ہرزہ سرائیوں کے چند نمونے سپرد قرطاس کئے جاتے ہیں جنہیں لکھتے ہوئے قلم رخصت چاہتا ہے اور ہاتھ احتجاج کر رہا ہے۔ لیکن ”چہرہ قادیانیت“ امت مسلمہ کو دکھانا اسلام کی ضرورت اور عشق رسول کا تقاضا ہے۔ لہٰذا نقل کفر کفر نہ باشد۔
گستاخ خدا ...... ”حضور مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے خدا اس طرح (نعوذ باللہ) مخاطب کرتا ہے اور اس طرح کی باتیں کرتا ہے اگر کچھ باتیں بیان کر دوں تو جتنے معتقد نظر آتے ہیں سب پھر جائیں“
(”سیرت المہدی“ جلد اول‘ ص ۸۸‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)
گستاخ رسولؐ ...... نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دین کی مکمل اشاعت نہ ہو سکی‘ میں نے پوری کی ہے۔ (نعوذ باللہ) (”حاشیہ تحفہ گولڑویہ“ ص ۴۵‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
گستاخ انبیائے کرام ...... ”زندہ شد ہر نبی بامدم۔ ہر رسول نہاں در پیرہنم“
(نعوذ باللہ) (”نزول مسیح“ ص ۱۰۰‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
ترجمہ ...... زندہ ہوا ہر نبی مری آمد سے۔ تمام رسول میرے کرتہ میں چھپے ہوئے ہیں (معاذ اللہ)
گستاخ قرآن ...... ”قرآن خدا کی کتاب اور میرے (مرزا) منہ کی باتیں ہیں۔“
(معاذ اللہ) (”تذکرہ“ ص ۱۰۲۔۱۰۳)
گستاخ حدیث ...... جو حدیث میرے خلاف ہے‘ وہ ردی کی ٹوکری میں ڈال دو۔
(معاذ اللہ) (”اعجاز احمدی“ ص ۳۰‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
گستاخ حج بیت اللہ ...... ”لوگ معمولی اور نفلی طور پر بھی حج کرنے کو جاتے ہیں مگر اس جگہ (قادیان) ثواب زیادہ ہے۔“ (معاذ اللہ) (”آئینہ کمالات اسلام“ ص ۳۵۲
مصنفہ مرزا قادیانی)
گستاخ صحابہ کرام ...... ”جو میری جماعت میں داخل ہوا‘ وہ دراصل صحابہ کرام کی جماعت میں داخل ہو گیا“ (معاذ اللہ) (”خطبہ الہامیہ“ ص ۱۷۱ طبع اول)
گستاخ اہل بیت ...... ”اور میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مال کا وارث بنایا گیا ہوں۔ پس میں اسکی آل برگزیدہ ہوں جس کو ورثہ پہنچ گئی“ (معاذ اللہ) (”اعجاز احمدی“ ص ۷۰‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
او بے لگام و بے ایمان! کہاں تو پدر شیطان اور کجا خاندان نبوت! (مولف)
گستاخ درود شریف ...... سلام علی ابراہیم۔ ابراہیم پر سلام یعنی اس عاجز (مرزا) پر (معاذ اللہ) (”اربعین“ نمبر ۴ ص ۱۷۔ حاشیہ‘ مصنفہ مرزا قادیانی) کتنی ڈھٹائی سے یہ مردود قادیانی جدالانبیاء خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جگہ اپنا نام لکھ رہا ہے۔ (مولف)
گستاخ حجر اسود ...... ”یکے پائے من بوسید‘ میگفتم کہ حجر اسود منم“ (معاذ اللہ) ایک شخص نے میرے پاؤں چومے میں نے کہا حجر اسود میں ہی ہوں (”تذکرہ“ ص ۳۶)
جہنمی اپنے غلیظ پاؤں کو حجر اسود کہہ رہا ہے۔ (مولف)
گستاخ روزہ ...... روزہ رکھو کہ وہ خصی کر دیتا ہے (معاذ اللہ) (”آریہ دھرم“ ص ۲۳‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
گستاخ اولیاء کرام ...... میں خاتم الاولیاء ہوں‘ میرے بعد کوئی ولی نہیں مگر وہ جو مجھ سے ہو گا۔ (”خطبہ الہامیہ“ ص ۳۵‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
گستاخ علماء اسلام ...... یہ (مولوی) جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھاتے ہیں (استغفر اللہ) (”ضمیمہ انجام آتھم“ مصنفہ مرزا قادیانی)
گستاخ امت مسلمہ ...... میرے مخالف جنگلوں کے سور ہو گئے اور ان کی عورتیں کتوں سے بڑھ گئیں ہیں (نعوذ باللہ) (”نجم الہدیٰ“ ص ۵۳‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
قادیانی حربوں سے نا آشنا سادہ لوح مسلمان اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر یہ شخص اس قدر گھناؤنے کردار کا مالک تھا تو پھر کیا وجہ ہے کہ سر ظفر اللہ‘ ایم ایم احمد‘ ڈاکٹر عبدالسلام‘ نسیم احمد‘ کنور ادریس‘ ائیر مارشل ریٹائرڈ ظفر چودھری وغیرہ ایسے بڑے بڑے لوگ اس کا کلمہ کیوں پڑھتے ہیں؟ اس کو نبی اور رسول کیوں مانتے ہیں؟ اس کو اپنا مرشد
اور رہبر کیوں تسلیم کرتے ہیں؟
جواباً عرض ہے کہ یہ ایک الگ اور طویل بحث ہے کہ ان ٹھگنوں کو بلند قامتی کا سرٹیفکیٹ کون عطا کرتا ہے؟ وہ کون سے خفیہ ہاتھ ہیں جو ان کند ذہنوں کو ذہانت کے تمغوں سے نوازتے ہیں؟ وہ کون سے پردہ نشین ہیں جو ان مرتدین کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اعلیٰ و حساس عہدوں پر بٹھاتے ہیں اور پھر بین الاقوامی صحافت پر قبضہ ہونے کے ناطے پوری دنیا میں ان کے ناموں اور کاموں کی تشہیر کرواتے ہیں؟ اس موضوع پر انشاء اللہ ایک الگ کتابچہ تحریر کیا جائے گا۔
بالفرض انہیں بڑا تسلیم کر بھی لیا جائے اور ان جیسے کلیدی آسامیوں پر بیٹھے ہزاروں قادیانیوں کو قابل اور ذہین مان بھی لیا جائے تو کیا مرزا قادیانی اللہ کا نبی اور رسول بن جائے گا اور ان دجالوں کی جماعت کو اس دجال کی نبوت کی دلیل کے طور پر تسلیم کر لیا جائے گا؟
اے سادہ لوح مسلمان! یاد رکھ ایمان‘ قدرت کا سب سے جلیل القدر تحفہ ہے اور ہدایت صرف رب ذوالجلال کے ہاتھ میں ہے‘ وہ چاہے تو محلات میں رہنے والوں کو نعمت ایمان سے محروم رکھے اور کسی دریا کے کنارے ٹوٹی پھوٹی جھونپڑی میں رہنے والے کے دل کو ایمان کا خزینہ بنا دے۔ وہ چاہے تو بادشاہوں کو حالت کفر میں مارے اور انہیں جہنم کا ایندھن بنا دے اور اس کی منشا ہو تو غربت و افلاس کی چکی میں پسنے والے کو مسند ولایت پر فائز کرے اور بعد از موت جنت الفردوس اس کا مقدر ٹھہرے۔ رئیس قریش ابو جہل دولت ایمان سے محروم رہا اور حبشہ کا غلام بلال حبشیؓ مؤذن رسولؐ کا اعزاز عظیم پائے۔ سیم و زر میں کھیلنے والا ابولہب رسول خداؐ کا چچا ہونے کے باوجود قفسِ کفر میں انتہائی عبرتناک موت مر جائے اور ایران سے آنے والا غربت کا مارا سلمان فارسیؓ رفیقِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم بنے‘ تاجدارِ ختم نبوت کا کلیوں کو شرماتا بچپن‘ شبنم سے مطہر لڑکپن اور رشکِ مہتاب و آفتاب جوانی اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے بہت سے بدقسمت کفر کی ظلمت میں دم توڑ گئے اور روم سے آنے والے صہیبؓ رومی آغوشِ نبوت میں آ بسے اور دامن مصطفیٰؐ کی ٹھنڈی ہواؤں سے لطف اندوز ہونے لگے۔
اے سوالی مسلمان! کیا تو نے نہیں دیکھا کہ برنارڈشا اور سٹیفن لی کاک ایسے
ادیب، ولیم ورڈزورتھ اور جان کیٹس ایسے شاعر، ابراہم لنکن اور ونڈل فلپ ایسے مقرر، لوئی پاسچر اور ہانمن ایسے ڈاکٹر، سٹارک اور اوپن ہائم ایسے قانون دان، چرچل اور گاندھی ایسے سیاست دان، ایڈیسن اور جارج سٹیفن سن ایسے سائنس دان، آئن سٹائن اور نیوٹن ایسے ماہرین طبیعیات، کارل مارکس اور آدم سمتھ ایسے ماہرین اقتصادیات، بورنگ اور بی مک گرا ایسے ماہرین نفسیات، مینڈل اور ڈارون ایسے ماہرین حیاتیات، ڈیمارگن اور ٹورنگ ایسے ماہرین ریاضیات، ٹائن بی اور سپنگلر ایسے ماہرین عمرانیات، رابرٹ بائل اور جان ڈالٹن ایسے ماہرین کیمیا، برٹرینڈ رسل اور ہیگل ایسے فلاسفر، نپولین اور منٹگمری ایسے جرنیل، ہٹلر اور سٹالن ایسے منتظمین، برژنیف اور کینیڈی ایسے حکمران، لین پول اور گبن ایسے مورخین، لارڈ میکالے ایسا ماہر تعلیم اور گلیلیو ایسا ماہر فلکیات، اس دنیا سے ناکام و نامراد چلے گئے، کیا یہ اپنے اپنے علم و فن کے دائرہ میں بڑے لوگ نہیں تھے؟ یقیناً یہ یکتائے روزگار اور نابغہ عصر تھے۔ لیکن کیا ان کا علم ان کو گمراہی سے بچا سکا اور ان کی ذہانتیں ان کی عاقبتوں کو سنوار سکیں؟ تکمیل نبوت کے بعد اس بزم ہستی میں ہر لمحہ فطرت کی یہ صدا گونجتی ہے کہ اب جو بھی منزل تک پہنچنا چاہتا ہے، اسے دامن مصطفیٰؐ سے وابستہ ہونا ضروری ہے جس کے ہاتھ میں دامن مصطفیٰؐ نہیں، اسے قدم قدم پر ٹھوکریں لگتی ہیں، اس کی عقل اسے کفر و ضلالت کے لق و دق ریگستانوں میں لئے گھومتی ہے اور منزل کی تلاش میں آبلہ پا سرگرداں مسافر ویرانوں میں سسک سسک کر دم توڑ دیتا ہے۔
اب آپ کے سامنے نور ایمان سے محروم اور عقل کے شکار کئے ہوئے چند قادیانی بڑوں اور چند دیگر بڑوں کا تماشہ پیش کیا جاتا ہے اور اس میں ان لوگوں کو ان کے سوال کا جواب بھی مل جائے گا جو یہ کہتے ہیں کہ اتنے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اعلیٰ عہدوں پر فائز قادیانی کیسے بھٹک سکتے ہیں۔ وہ دیکھیں گے کہ اس خار زار میں صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ قادیانی ہی دھکے نہیں کھا رہے بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ کفار بھی شریک سفر ہیں۔
اگر سر ظفر اللہ جیسا خود ساختہ عقل مند مرزا قادیانی جیسے کانے بھینگے اور فاتر العقل کو نبی مانتا ہے تو اس میں اچنبھے کی کیا بات! بنی اسرائیل کے دانشوروں نے بھی بچھڑے کو خدا مانا تھا۔ اگر ڈاکٹر عبدالسلام مرزا قادیانی کی گالیوں اور خرافات کو وحی مانتا
ہے تو اس میں فکر کرنے کی کیا ضرورت! بھارت کا سابقہ صدر مرار جی ڈیسائی بھی تو اپنا پیشاب پیتا ہے اور اسے Water of life (آب حیات) کہتا ہے۔ اگر ایم ایم احمد ختم نبوت کا انکار کرتا ہے تو اس میں پریشانی کی کیا وجہ! روس کا صدر گوربا چوف بھی خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے۔ اگر مرزا طاہر بھگوڑا خود کو مرزا قادیانی جیسی عجیب و غریب مخلوق کا خلیفہ کہلوانے میں فخر محسوس کرتا ہے تو اس میں کیسی حیرانی! ڈارون بھی تو خود کو بندر کا بیٹا کہلوانے میں فخر محسوس کرتا تھا۔ اگر الٹی کھوپڑی کی قادیانی امت مرزا قادیانی پر درود و سلام بھیجتی ہے تو اس میں کیسی پریشانی! بھارت کا وزیر اعظم راجیو گاندھی بھی تو موٹے تازے ننگے دھڑنگے بت کے سامنے ہاتھ جوڑ کر رام رام کرتا ہے۔
جھوٹی نبوت کے مجاورو! اب قادیانی نبوت کی دوکان بند کر دو۔ اب یہ سٹیج شو ٹھپ کر دو۔ میٹھی گولیوں کی صورت میں قادیانی نبوت کا زہر بیچنے کا شنیع دھندہ ختم کر دو۔ ہزاروں انسانوں کو جہنم کے رقصاں شعلوں کے حوالے کر چکے ہو‘ باقی بھولی بھالی صورتوں پر ترس کھاؤ۔ انسانوں کی ”جہنم سپلائی“ کا ٹھیکہ جو تم نے شیطان سے لے رکھا ہے‘ اسے واپس کر دو۔
جھوٹی نبوت کے جھوٹے پیروکارو! تم اپنے اس گرو گھنٹال کو خوبصورت سے خوبصورت لباس پہناؤ لیکن یہ ہر لباس میں ننگا نظر آتا ہے۔ تم اس کے جسم پر بہترین سے بہترین خوشبویات چھڑکو لیکن اس کے جسم سے ارتداد کی بدبو کے بھبھوکے اٹھتے رہیں گے۔ تم اس کے چہرے پر اعلیٰ سے اعلیٰ ملمع کاری کرو لیکن اس کے مکروہ خدوخال تم سے چھپائے نہ چھپیں گے۔ تم پوری قوت لگا کر اس کی جھوٹی نبوت کی تشہیر کر لو لیکن موٹر سائیکل کی پلیٹ جیسی اس کی پیشانی پر لکھے ہوئے دجال اور کذاب کے الفاظ تم سے مٹائے نہ مٹیں گے۔
در یتیم محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیو! دجال قادیان مرزا قادیانی کوئی معمولی نوعیت کا مجرم نہیں۔ یہ پورے عالم اسلام اور اسلام کا مجرم ہے۔ اس کی فرد جرم شیطان کی آنت سے بھی زیادہ طویل ہے۔
خدائی کا دعویٰ کرنے کے جرم میں یہ فرعون‘ نمرود اور شداد ہے۔ نبوت کا دعویٰ کرنے کے جرم میں یہ اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب ہے۔ توہین رسالت کرنے کے جرم
میں یہ ابو جہل، ابو لہب اور ولید بن مغیرہ ہے۔ قرآن مجید میں تحریف کرنے کے جرم میں یہ یہودی و نصرانی ہے۔ صحابہ کرام کی توہین کرنے کے جرم میں یہ ابن سبا ہے۔ دین اسلام سے پھر جانے کے جرم میں یہ مرتد ہے۔ تعلیمات اسلامیہ کو مسخ کرنے کے جرم میں زندیق ہے۔ حضرت علیؓ کی توہین کرنے کے جرم میں یہ خارجی ہے۔ امام حسینؓ کی شان میں بکواس کرنے کے جرم میں یہ شمر ہے۔ اسلام کو گالیاں دینے کے جرم میں یہ راجپال اور سلمان رشدی ہے۔ ظاہراً مسلمان اور باطناً کافر ہونے یعنی منافق ہونے کے جرم میں یہ عبداللہ بن ابی ہے۔ خود کو انسان کا بچہ نہیں بلکہ کرم خاکی بننے کے جرم میں یہ ڈارون کی اولاد ہے۔ جھوٹے خدا شداد نے بہشت بنائی اور جھوٹے نبی مرزا قادیانی نے بہشتی مقبرہ بنایا۔ اس کفریہ نقالی کے جرم میں یہ مشن شداد کا علمبردار ہے۔
اے مسلمان! یہ خطرناک مجرم آج بھی دندناتا ہوا زندہ ہے۔ کیونکہ کوئی بھی شخص اس وقت تک زندہ رہتا ہے۔ جب تک اس کے نظریات زندہ رہتے ہیں۔ پرسوں یہ ملعون مرزا بشیر الدین جہنمی کی صورت میں زندہ تھا۔ کل یہ مردود مرزا ناصر دوزخی کی صورت میں زندہ تھا اور آج یہ فخر شیطان مرزا طاہر کی صورت میں زندہ ہے اور جب تک فرش خاکی پر ایک بھی قادیانی زندہ رہے گا یہ اس کی صورت میں زندہ رہے گا۔ اس کی ارتدادی تحریریں چھپ رہی ہیں۔ اس کے ایمان سوز لٹریچر کی اشاعت بڑے زور و شور سے جاری ہے۔ اس کا یوم پیدائش اور یوم مرگ بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے۔ خود تو مر گیا لیکن اپنی قائم کردہ ”مرتد یونیورسٹی“ سے تعلیم یافتہ ہزاروں چیلے چانٹے کفر و ارتداد کی تبلیغ کے لیے چھوڑ گیا جو آج بھی چمن اسلام میں بارودی سرنگیں بچھا رہے ہیں اور معاذ اللہ بڑی شدت سے اس روز بد کا انتظار کر رہے ہیں جب یہ چمن ایک زور دار دھماکے سے ویرانے میں تبدیل ہو جائے گا اور دور دور تک خاک اڑتی دکھائی دے گی۔
اے فرزندان اسلام! اس دین برحق کے لیے ہادی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے بازاروں میں پتھر کھائے‘ میدان احد میں دندان مبارک شہید کرائے‘ عزیز و اقارب جان کے دشمن بن گئے‘ مکہ معظمہ جیسے وطن سے نکالے گئے‘ شان اقدس میں فحش گالیاں بکی گئیں‘ گلے میں کپڑے کا پھندہ ڈال کر دبایا گیا‘ حالت نماز میں جسم اطہر پر غلیظ اوجھری رکھی گئی۔ اسی دین متین کی عمارت کی تعمیر کے لیے صحابہ نے اپنی ہڈیوں کی
اینٹیں اور خون کا گارا پیش کیا۔ حضرت بلالؓ نے دہکتے ہوئے انگاروں پہ لیٹ کر وفائے اسلام کی تاریخ رقم کی۔ حضرت حمزہؓ نے جسم کے ٹکڑے کروا کر اسلام سے عشق کا لاثانی باب لکھا، حضرت خبیبؓ تختہ دار پہ جھول کر اسلام پر فدا ہو گئے۔ امام حسینؓ اسلام کی حفاظت کرتے کرتے سر کٹا کر اسلام پر نثار ہو گئے۔ طارق بن زیادؒ، نور الدین زنگیؒ، صلاح الدین ایوبیؒ، محمد بن قاسمؒ اور سلطان محمود غزنویؒ ایسے فرزندان اسلام نے باطل کے پرخچے اڑا دیئے اور چہار سو عالم اسلام کا پرچم لہرا دیا۔
لیکن، آج کے مسلمان! آج قادیانیوں کی یلغار میں گھرا ہوا اسلام تیرا منہ تک رہا ہے۔ تجھے مدد کے لیے صدا دے رہا ہے، تجھ سے سوال کر رہا ہے کہ میرے بیٹے تو کٹ مرا کرتے تھے لیکن میری حرمت پہ آنچ نہیں آنے دیتے تھے، تم کس قسم کے مسلمان ہو کہ آج جھوٹی نبوت نے میرے جسم پر زہریلے تیروں کی بارش شروع کر رکھی ہے اور تم خاموش تماشائی ہو۔ تمہاری غیرت کہاں گئی؟ تمہاری شجاعت کہاں گئی؟ نبی اکرمؐ سے تمہارا عشق و وفا کا رشتہ کہاں گیا؟۔
اے مسلمان! بہت سو چکا اب بیدار ہو جا۔ بہت لٹ چکا اب ہوشیار ہو جا اور نبیؐ کے دشمنوں سے برسر پیکار ہو جا۔ اپنے اسلاف کی تابندہ روایت کو پھر زندہ کر...... جہاد کا علم لہرا کر اٹھ...... شہادت کا جذبہ لے کر اٹھ...... طوفان کی صورت چل...... سیلاب کی صورت چل...... قادیانیت کے شجر خبیثہ کو بہا لے جا اور اپنی گرجدار آواز میں یہ اعلان کرتا جا۔
بعد از رسولِ ہاشمی کوئی نبی نہیں
مسئلۂ کشمیر
اور فتنہ قادیانیت
طلسماتی سپیدہ سحر، متبسم صبحیں، چمکتی چاندی، نکھرتی دوپہریں، سرمئی شامیں، چاندنی راتیں، گل پوش وادیاں، فلک کا ماتھا چومتے پہاڑ، دل نواز لالہ زار، باصرہ نواز چمنستان، کیف پرور مرغزار، سبزے کی مخملی چادریں، پھلوں سے لدے باغات، مہکتی ہوائیں، روح پرور فضائیں، دراز قامت محبوب کی طرح مستی میں کھڑے سرو کے درخت، قطار در قطار سینہ تان کر کھڑے چناروں کی دلربائی و زیبائی، موسم سرما کی خنک ہوائیں اور برف باری کی سحر انگیزی، مچل مچل کر بہتے شیریں چشمے، مست خرام ندیاں، شیروں کی طرح دھاڑتے بلندیوں سے گرتے آبشار، چیختے چنگھاڑتے پتھروں کو لڑھکاتے پٹختے تند و تیز اور اکھڑ پہاڑی دریا، شرما شرما کے سمٹتی مسکراتی کلیاں، شوخ و شنگ شگوفے، پھولوں کے چہروں پر شبنم کا میک اپ، نسیم سحر کی گلوں سے چھیڑ چھاڑ، مست ہواؤں سے سیب اور ناشپاتی کے درختوں کی ڈالیوں کا دلفریب جھولنا، بلبل کے سریلے نغمے، کوئل کی رسیلی کوک، تتلیوں کا وجدانی رقص، پو پھٹتے ہی چڑیوں کی چہکار، شام ہوتے ہی طوطوں کی ڈاروں کا ہواؤں کی مستی میں اپنے بسیروں کی جانب مسحور کن پرواز، ساون کی اندھیری بھیگی راتوں میں جگنوؤں کا چراغاں، امڈ امڈ کر آتی کالی گھٹائیں، کبھی جل تھل اور کبھی رم جھم کی موسیقی، بارش میں بھیگتے نہاتے درختوں کا حسن اور پھر بارش کے بعد پتوں اور شاخوں سے پانی کے قطروں کی ٹپ ٹپ کا ترنم، چرخ نیلو فری پر قوس و قزح کا رنگوں کی دنیا آباد کرنا، گھمبیر سیاہ بادلوں کی اوٹ سے چاند کی آنکھ مچولی، نیلگوں آسمان پر لٹکتی ستاروں کی قندیلیں، پہاڑوں کی اوٹ سے سر پہ کرنوں کا تاج سجائے آفتاب کا طلوع ہونا اور سارا دن روشنیاں بکھیرنے کے بعد سرخ گولے کا روپ دھار کر مغرب میں پہاڑوں کی گود میں چھپ جانا۔
یہ کون سا خطہ ہے جہاں فطرت کے حسن نے اپنے چہرے سے تمام نقابیں الٹ دی ہیں؟ یہ کون سی وادی ہے جس کی محبت میں ڈوب کر کسی مغل شہنشاہ نے کہا تھا۔
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
اہل دنیا اس وادی جنت نظیر کو ”کشمیر“ کے نام سے جانتے ہیں۔ کشمیر ایشیاء کے قلب میں واقع ہے۔ اس کا کل رقبہ چھیاسی ہزار مربع میل ہے۔ کشمیر کے ارد گرد چار ممالک چین، افغانستان، پاکستان اور بھارت واقع ہیں جبکہ کشمیر اور سابق سوویت یونین کے درمیان، افغانستان کی ایک تنگ پٹی ”واخان“ حائل ہے۔ کشمیر کی کل آبادی ایک کروڑ بیس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ اس وقت کشمیر کا ۶۳ فیصد حصہ بھارت کے غاصبانہ قبضہ میں ہے۔ جس کی آبادی تقریباً ستر لاکھ ہے جبکہ آزاد کشمیر کی آبادی ایک لاکھ پچاس ہزار کے قریب ہے۔ اس وقت دنیا میں ۱۶۰ آزاد اور خود مختار مملکتیں ہیں۔ اگر ان ممالک سے کشمیر کا موازنہ کیا جائے تو رقبہ کے اعتبار سے کشمیر دنیا کے ۶۸ ممالک سے بڑا ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے کشمیر کی سرحدوں کا زیادہ علاقہ بھارت کی نسبت پاکستان سے بہت زیادہ ملا ہوا ہے۔ کشمیر کی سات سو میل لمبی سرحد پاکستان سے ملی ہوئی ہے۔ آزادی سے قبل ریاست کی سڑکیں اور مواصلات پاکستان سے آ ملتے تھے اور کشمیری مصنوعات کی سب سے بڑی منڈی راولپنڈی تھا۔ دفاعی اعتبار سے ریاست جموں و کشمیر کی پہاڑیاں وطن عزیز پاکستان کے لیے دفاعی حصار کی حیثیت رکھتی ہیں اور پاکستان میں بہنے والے سندھ، جہلم اور چناب جیسے دریاؤں کا منبع کشمیر ہی ہے۔
لیکن آج اس ارضی جنت میں بھارت نے ظلم و بربریت کا محشر بپا کر رکھا ہے۔ یہ حسین وادی آگ و خون سے بھری پڑی ہے۔ کشمیری مسلمانوں کے جلے ہوئے گھروں کا دھواں اور ان کی چیخیں دنیا کے چاروں کونوں تک پھیل چکی ہیں۔ معصوم بچوں کی موت کی ہچکیاں عالمی ضمیر پر دستک دے رہی ہیں۔ گل پوش وادیوں میں شہیدوں کے لاشے بکھرے پڑے ہیں۔ چشمے خون اگل رہے ہیں۔ دریاؤں سے انسانی اعضاء برآمد ہو رہے ہیں۔ جہاں نسیم سحر کے ٹھنڈے جھونکے روح کو ایک نئی تازگی بخشا کرتے تھے، وہاں آنسو
نقشہ ماحول قادیان
(جو ضلع گرداسپور ہند کی تحصیل گرداسپور و بٹالہ کے حصہ پر مشتمل ہے)
پیمانہ بحساب فی میل ایک انچ
مقام جائیداد خریده جماعت احمدیہ دریائے بیاس تحصیل دسوھہ ضلع ہشیار پور نہر دوآب ریاست کپور تھلہ
چک شریف کھوکھر سید پور دھوپڑی بھاگوان بھٹیاں رحیم پور مٹھا پور کڑی افغاناں پلاہوال بھینی ننگل چکورا مستنی ننگل بھینی خادر ننگل ہرچووال بہادر پور پنڈوری چکوری کوٹ خاں جمیل کھاریاں قادیان سری گوبند پور
کاتب : قاضی محمد شفیع چشتی پٹیالوی
شمال مشرق مغرب جنوب بطرف پٹھانکوٹ نام علامات حد تحصیل حد دیہات حصار آبادی ریلوے لائن و سٹیشن پختہ راستے نہر و نالے دریا صدر مقام تھانہ " ذیل " حلقہ گرداور ہسپتال ہائے و ڈسپنسریاں ڈاکخانہ و تار گھر مڈل و ہائی سکول اڈا موٹر لاری دریا کا پتن مسلمان آبادی م احمدی آبادی الف سکھ آبادی س ہندو آبادی ہ مخلوط آبادی خ بے چراغ گاؤں x مسجد ہائے احمدیہ
باری دوآب نہر جو بطرف لاہور جاوے بطرف مکیریاں بطرف گورداسپور بطرف چکنی وغیرہ
تحصیل گورداسپور ضلع گورداسپور
تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور
بطرف ڈیرہ بابا نانک بطرف امرتسر
بٹالہ
تجویز کردہ و شائع کردہ
مرزا بشیر احمد
قادیان 15/7/1940
گیس کا راج ہے۔ جن فضاؤں میں ہوائیں سیٹیاں بجاتی تھیں، وہاں گولیوں کی تڑتڑ کی صدائیں ہیں۔ جہاں گل و بلبل محفل سجاتے تھے، وہاں کرفیو کی چڑیل پنجے جمائے بیٹھی ہے۔ بھارتی فوجی درندے راتوں کو مسلمانوں کے گھروں پر ہلہ بولتے ہیں اور عفت مآب عورتوں کی اجتماعی عصمت دری کر کے اپنے پاپی باپ راجہ داہر کی روح کو خوش کرتے ہیں۔ فوجی وردیوں میں ملبوس یہ مہذب درندے مسلمانوں کے گھروں پر دھاوا بولتے ہیں اور قیمتی سامان شیر مادر سمجھ کر چاٹ جاتے ہیں اور گھر کو نذر آتش کر کے کوئلہ بنا دیتے ہیں۔ مریض اور زخمی ادویات کی عدم موجودگی کی وجہ سے کراہ کراہ کر دم توڑ رہے ہیں اور ان کے کراہنے کی صدائیں انسانی حقوق کے عالمی چیمپئنوں کے بے سماعت اور بند کانوں کو کھولنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بچوں سے بد فعلیاں ہو رہی ہیں۔ خمیدہ کمر بوڑھوں پر سفاکانہ تشدد ہو رہا ہے۔ عقوبت خانوں میں حریت پسندوں کے اعضاء کاٹے جا رہے ہیں۔ آزادی کے متوالوں کو الٹا لٹکا کر نیچے آگ کے الاؤ روشن کر کے ان کی چربی پگھلنے کے مناظر پر ابلیسی قہقہے لگائے جا رہے ہیں۔ اسلام سے محبت کے جرم میں بجلی کے کرنٹ لگا لگا کر تڑپا تڑپا کر مارا جا رہا ہے۔ پاکستان سے دوستی کی پاداش میں دانت توڑے اور کھال ادھیڑی جا رہی ہے۔ غلامی سے نفرت کے جرم میں جنسی طور پر معذور بنایا جا رہا ہے اور جسم میں گہرا زخم بنا کر اس میں مرچیں بھری جا رہی ہیں۔ شرم گاہوں سے موچنے سے بال اکھیڑے جا رہے ہیں۔ داڑھی سے بھاری پتھر باندھ کر لٹکائے جا رہے ہیں۔ زور دار جھٹکوں سے ناخن اکھیڑے جا رہے ہیں۔ منہ میں کپڑا ٹھونس کر ناک کو پلاس سے بند کیا جا رہا ہے۔ سگریٹوں سے جسموں کو داغا جا رہا ہے۔ گرفتار حریت پسندوں سے ایک دوسرے کے منہ میں پیشاب کروایا جا رہا ہے۔ ہسپتالوں میں حریت پسندوں کے جسموں سے ایک ایک گردہ نکال کر ناپاک ہندو مریضوں کو لگایا جا رہا ہے۔ لیکن ظلم و بربریت کے اس خونی طوفان کے سامنے کشمیری مسلمان چٹان کی طرح کھڑا ہے۔ وہ میدان جہاد میں اپنے خون ناب سے ایمانی جرات و ہمت کی ایک اچھوتی تاریخ رقم کر رہا ہے۔ اس نے سفاک ہندو کی غلامی کی بھاری زنجیریں توڑنے کا عزم مصمم کر لیا ہے۔ اس نے ہتھیار اٹھا لیے ہیں۔ اس کے قدموں سے قرون اولیٰ کے مجاہدین کے گھوڑوں کی ٹاپوں کی صدا سنائی دیتی ہے۔ اس کے لبوں پر نعرہ تکبیر کا ترانہ ہے۔ اس کے دل میں شہادت کی تمنا مچل رہی
ہے۔ اس کی نگاہیں اپنے اللہ کی نصرت پر لگی ہوئی ہیں اور وہ بھارتی درندوں کو للکار للکار کے کہہ رہا ہے۔
صدا دبے گی تو حشر ہو گا دیا بجھے گا تو سحر ہو گی
اور گویا شہادت کے جام پینے والا ہر کشمیری مسلمان بہشت بریں میں جانے سے قبل اپنے پیچھے آنے والے ساتھیوں کو یہ پیغام دیتا جا رہا ہے
فصیل دار پہ دھرتے چلو سروں کے چراغ
کشمیری مسلمان تو ہمت اور صبر کے ہتھیاروں سے بھارتی ظلم و ستم کا مقابلہ کر رہے ہیں لیکن سوال یہ ابھرتا ہے کہ انہیں بھارتی بھیڑیوں کے نوکیلے دانتوں اور خونی پنجوں کے سپرد کس نے کیا؟ وہ کون سے ہاتھ ہیں جنہوں نے دھکا دے کر انہیں غلامی کی گہری کھڈ میں گرا دیا؟ وہ کون سے ہاتھ تھے جنہوں نے ان کے لیے غلامی کی زنجیروں کی کڑیاں تیار کیں اور انہیں پابہ زنجیر کر کے ہندوؤں کے قدموں میں پھینک دیا۔ جب کوئی مہم جو تاریخ کے چہرے سے نقاب اٹھاتا ہے تو اسے دو خطرناک ہاتھ نظر آتے ہیں جو اسلام اور پیغمبر اسلام سے بغض و دشمنی میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں۔ ان ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ قادیانی ہاتھ ہے جس نے جھوٹی نبوت کا ڈرامہ رچا کر ملت اسلامیہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی ناپاک جسارت کی جبکہ دوسرا ہاتھ ظالم فرنگی کا ہاتھ ہے جس کے دربار سے قادیانیوں کو جھوٹی نبوت عطا ہوئی
قادیانیوں نے ہر دور میں کشمیر کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھا ہے اور انہوں نے کشمیر پر قبضہ جمانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ کیونکہ انکی نبوت کا اندھا بیل کشمیر کے گرد گھومتا ہے۔ اس لئے کشمیر ان کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا ان کی نبوت میں مرزا قادیانی کی شخصیت! انہیں کشمیر میں کبھی عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ملتی ہے اور کبھی مریم علیہ السلام کی قبر اور کبھی انہیں وہاں سے حضرت عیسیٰؑ کے کفن کے ٹکڑے ملتے ہیں۔ وہ لٹریچر اور دیگر ذرائع ابلاغ پر کروڑوں روپیہ خرچ کر کے پوری دنیا میں یہ مشہور کر چکے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر زندہ نہیں بلکہ وہ وفات پا چکے ہیں اور کشمیر میں ان کی قبر ہے اور
اس قبر کی کروڑوں تصویریں اطراف عالم میں تقسیم کر چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ احادیث میں جس مسیح موعود کے آنے کی بشارت ہے وہ مرزا قادیانی ہے‘ جو آچکا ہے۔ یہ سارا ناٹک رچا کر وہ مرزا قادیانی کو مسیح موعود کے منصب پر بٹھاتے ہیں اور اس کی نبوت کا جواز پیدا کرتے ہیں۔
صیاد عطر مل کے چلا ہے گلاب کا
تاریخ احمدیت جلد ششم مولفہ دوست محمد شاہد کے صفحہ ۴۴۵ اور ۴۷۹ پر بروایت مرزا بشیر الدین محمود مرقوم ہے کہ جماعت احمدیہ کو کشمیر سے دلچسپی کیوں ہے؟
- اولاً...... کشمیر اس لیے پیارا ہے کہ وہاں اسی ہزار احمدی ہیں۔
- ثانیاً...... وہاں مسیح اول دفن ہیں اور مسیح ثانی (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بڑی بھاری
جماعت اس میں موجود ہے۔
- ثالثاً...... جس ملک میں دو مسیحوں کا دخل ہے وہ ملک بہرحال مسلمانوں کا ہے اور
مرزا صاحب کے نزدیک مسلمان ان کے پیروکار ہیں۔ (ص ۶۷۶)
- رابعاً”...... نواب امام الدین جنہیں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے گورنر بنا کر کشمیر بھجوایا
تھا‘ وہ اپنے ساتھ بطور مددگار ان کے دادا (مرزا بشیر الدین کے الفاظ میں) یعنی مرزا غلام مرتضیٰ کو بہ اجازت مہاراجہ رنجیت سنگھ ساتھ لے گئے تھے۔
- خامساً”...... ان کے استاد جماعت احمدیہ کے پہلے خلیفہ اور ان کے خسر مولوی حکیم نور
الدین کشمیر میں بطور شاہی حکیم کے ملازم رہے تھے۔ (ص ۴۳۷) ان حقائق سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ قادیانیوں کو کشمیر سے کتنی دلچسپی ہے اور ان کے دل میں کشمیر کے حصول کی خواہش کس کس طرح انگڑائیاں لے رہی ہے؟ وہ کس ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹی نبوت کی زبان استعمال کرتے ہوئے کشمیر کی آبادی کے ۸۰ ہزار لوگوں کو قادیانی ظاہر کر رہے ہیں اور پھر مسیح اول اور مسیح ثانی کی من گھڑت اصطلاحات استعمال کر کے کشمیر کو اپنے باپ مرزا قادیانی کی جاگیر سمجھ رہے ہیں۔ قادیانیوں نے کشمیر پر قبضہ کرنے اور اسے قادیانی سٹیٹ بنانے کے لیے جو گھناؤنے کردار ادا کئے اور کشمیر اور کشمیریوں کے ساتھ جو سفاکانہ سلوک کیا۔ ذیل میں مرحلہ وار اسے بیان کیا جاتا ہے۔
کشمیر کو قادیانی ریاست بنانے کا پہلا منصوبہ ...... حکیم نور الدین ریاست کشمیر میں مہاراجہ رنبیر سنگھ کا شاہی طبیب تھا۔ جہاں یہ مہاراجہ کشمیر کا شاہی طبیب تھا وہاں یہ مرزا قادیانی کا شیطانی طبیب بھی تھا۔ اسی نے مرزا قادیانی کو کفر و ارتداد کے خمیرے اور کُشتے کھلائے تھے جنہیں کھا کھا کر وہ مختلف دعوے کرتا تھا۔ یہی نباض مرزا قادیانی کی نبض پر ہاتھ رکھ کر اسے بتاتا تھا کہ اب جھوٹی نبوت کو کن دعووں کی ضرورت ہے اور ابھی کن کن دعاوی سے پرہیز کرنا ہے اور پھر مرزا قادیانی کی موت کے بعد یہی شخص اس کا پہلا ”خلیفہ“ نامزد ہوا۔ حکیم نور الدین کو انگریزوں نے جاسوسی کرنے کے لیے حکیم کے روپ میں مہاراجہ کشمیر کے دربار میں داخل کیا ہوا تھا‘ جو انہیں مہاراجہ کشمیر کے بارے میں ہر خبر پہنچاتا تھا۔
مہاراجہ رنبیر سنگھ کے بعد ان کے بڑے بیٹے مہاراجہ پرتاب سنگھ ۱۸۸۵ء میں گدی نشین ہوئے۔ لیکن ابھی ان کی حکومت کو چار سال ہی گزرے تھے کہ کرنل لنسٹ ریذیڈنٹ کی شکایات کی بنا پر حکومت ہندوستان نے مہاراجہ کے اختیارات ختم کر کے ایک کونسل مقرر کر دی۔ معزول مہاراجہ کے بھائی راجہ امر سنگھ اور راجہ رام سنگھ کونسل کے ممبر اور دیوان لچھمن داس کونسل کے صدر قرار پائے۔ لیکن تھوڑا ہی عرصہ بعد دیوان لچھمن داس کو صدارت سے برطرف کر دیا گیا اور ان کی جگہ راجہ امر سنگھ ممبر کونسل پریذیڈنٹ ہو گئے۔ راجہ امر سنگھ کی حکیم نور الدین سے گہری دوستی ہو گئی اور جلد ہی جھوٹی نبوت کے فرزند نے راجہ امر سنگھ کو شیشے میں اتار لیا۔ راجہ امر سنگھ نے حکیم نور الدین پر شاہی نوازشات کی بارش کر دی۔ حکیم نور الدین پوری سلطنت کے سیاہ و سفید کا مالک ہو گیا۔ راجہ نے حکیم نور الدین کا مشاہرہ چھ سو روپیہ ماہانہ مقرر کر دیا اور رہائش کے لیے ایک عالیشان محل تحفے میں عنایت کیا۔ راجہ سے کوئی بھی کام لینے کے لیے حکیم نور الدین کی سفارش کرانا ایک روایت بن گیا۔ بڑے بڑے لوگ حکیم سے ملاقات کو اپنے لیے باعث فخر سمجھنے لگے۔ غرضیکہ حکیم پوری ریاست کی باگیں سنبھالے بیٹھا تھا۔ راجہ امر سنگھ کی ایک علیحدہ جاگیر کشتواڑ کے علاقہ میں تھی۔ یہ ایک بڑا خوبصورت‘ سر سبز اور کوہستانی علاقہ ہے۔ اس زمانہ میں اس جاگیر کی آمدنی ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ تھی۔ راجہ پہلے ہی حکیم پر اندھا اعتماد کیے بیٹھے تھا۔ اعتماد اور بڑھا تو راجہ
نے اس جاگیر کا مکمل انتظام حکیم کے سپرد کر دیا۔ جب ریاست کی باگ دوڑ مکمل طور پر حکیم کے ہاتھ میں آگئی تو اتنا حسین و جمیل، سرسبز اور منافع بخش علاقہ دیکھ کر حکیم کے حریص دل نے وہاں اپنی سلطنت قائم کرنے کا خفیہ پروگرام بنا لیا۔ اس کا ذکر اس نے صرف اپنے گرو مرزا قادیانی سے کیا جو اس سے ملنے کے لیے اکثر ریاست میں آیا کرتا تھا۔ گرو اور چیلے نے اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کے منصوبے پر عمل شروع کر دیا۔ سب سے پہلے حکیم نے مرزائیوں کی وہاں آباد کاری شروع کی۔ پھر وہاں سے پرانے ملازموں کو نکال کر مرزائیوں کو دھڑا دھڑا بھرتی کرنا شروع کیا۔ بڑے بڑے عہدوں پر مرزائیوں کو فٹ کیا۔ پولیس، فوج اور تعلیم کے محکمے خصوصی طور پر مرزائیوں سے اٹے پڑے تھے۔ نئی بھرتی بھی صرف مرزائیوں کی ہو رہی تھی۔ مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں وغیرہ کے لیے ملازمتوں کے دروازے قطعاً بند تھے۔ جلد ہی کشتواڑ کے اعلیٰ عہدوں پر قادیانی مخلوق نظر آنے لگی۔ تیاری مکمل ہو گئی صرف بگل بجنے کا انتظار تھا۔ بگل بجنے سے پہلے مرزا قادیانی نے اپنے الہاموں میں اپنی ریاست کی خوشخبری سنانا شروع کر دی۔ مہاراجہ پرتاب سنگھ سب کچھ دیکھ رہا تھا اور جل کر کباب ہو رہا تھا کہ اگست ۱۸۹۲ء میں لارڈ لینسڈون وائسرائے ہند جموں آئے۔ راجہ پرتاب سنگھ نے موقع تاڑ کر وائسرائے ہند سے ایک خفیہ ملاقات کی اور اسے بتایا کہ اس کا بھائی راجہ امر سنگھ اور حکیم نور الدین ریاست میں کیا گل کھلا رہے ہیں اور حکیم نور الدین کس طرح کشمیر میں قادیانیوں کو اعلیٰ عہدوں پر بٹھا رہا ہے اور مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کے حقوق کس طرح پامال ہو رہے ہیں۔ راجہ پرتاب سنگھ نے انتہائی تشویش ناک لہجے میں وائسرائے کو یہ بتایا کہ حکیم نور الدین کشمیر میں اپنی ریاست قائم کرنے کے منصوبے کو کتنا عملی جامہ پہنا چکا ہے اور کتنا باقی ہے۔ راجہ امر سنگھ کا تیر صحیح نشانے پر بیٹھا۔ وائسرائے ہند پر پریشانی اور غصے کی کیفیت طاری ہوئی کہ کس طرح ہمارا ایک تنخواہ دار جاسوس ہم سے بغاوت کرتا ہوا اپنی ریاست کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ وائسرائے ہند نے فوری ایکشن لیا اور مہاراجہ پرتاب سنگھ کو کونسل کا پریذیڈنٹ اور راجہ امر سنگھ کو وائس پریذیڈنٹ بنا دیا۔ اب تمام اختیارات مہاراجہ پرتاب سنگھ کے پاس تھے اور وہ کرسی اقتدار پر جلوہ گر تھا۔ مہاراجہ پرتاب سنگھ دانت پیستا ہوا حکیم نور الدین کی طرف لپکا اور اسے حکم دیا کہ صرف بارہ گھنٹے میں
ریاست سے دفع ہو جاؤ۔ حکیم نے فوراً اپنے گرو مرزا قادیانی سے رابطہ قائم کیا اور اسے ساری صورت حالات سے آگاہ کیا۔ گرو جو جھوٹ بولنے میں لاثانی تھا‘ اس نے کہا گھبراؤ نہیں۔ میں نے ساری رات رو رو کر تمہارے لیے دعائیں کی ہیں اور رات مجھے تمہارے بارے میں بڑا اچھا خواب بھی آیا ہے۔ فکر نہ کرو‘ آرڈر منسوخ ہو جائیں گے۔ لیکن جھوٹے نبی کی جھوٹی نبوت کی طرح خواب بھی جھوٹا ثابت ہوا۔ دعائیں بھی ردی کی ٹوکری کی نذر ہوئیں اور حکیم نور الدین ہکلاتا‘ بڑبڑاتا‘ کپکپاتا اور لڑکھڑاتا ہوا ریاست سے اس طرح ذلیل و خوار ہو کر نکلا کہ پولیس والے ڈنڈے لہراتے ہوئے اسے کہہ رہے تھے کہ جلدی نکلو‘ وقت ختم ہو رہا ہے۔ اس طرح کشمیر میں قادیانی ریاست قائم کرنے کا منصوبہ کشمیر کی سرزمین میں ہی دفن ہو گیا اور قادیانی اس بچے کی طرح روتے پیٹتے رہ گئے‘ جس کا غبارہ اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کر اس کی آنکھوں کے سامنے فضا میں اٹھکیلیاں کرتا اڑا جا رہا ہو۔
حکیم نور الدین کشمیر سے کپڑے جھاڑتا ہوا اپنے گھر بھیرہ پہنچا اور پھر اس کے بعد اپنے گرو کے پاس قادیاں چلا گیا۔ اس کربناک صورت حال میں گرو نے چیلے کو اور چیلے نے گرو کو ملتے ہوئے کہا ہو گا۔
محرومیاں ملنی تھیں مفت میں ہونا تھا بدنام
کشمیر کمیٹی..... ڈوگرہ شاہی کے مظالم نے مسلمانان کشمیر کی زندگی اجیرن کر رکھی تھی۔ وہ انتہائی کسمپرسی کے عالم میں انتہائی صبر کے ساتھ حیات مستعار کے دن گزار رہے تھے۔ لیکن جب قرآن پاک کی بے حرمتی اور عید کا خطبہ روکنے کے واقعات رونما ہوئے تو ریاست کشمیر میں مسلمانوں کے دلوں میں غم و غصہ و بے چینی کی لہر دوڑ گئی اور مسلمان سراپا احتجاج بن گئے۔ ریاست جلسوں اور جلوسوں سے گونج اٹھی۔ زبردست ہڑتالیں ہوئیں۔ بیسیوں مسلمان جام شہادت نوش کر گئے۔ سینکڑوں زخمی ہوئے اور ہزاروں پس دیوار زنداں چلے گئے۔ سفاک ڈوگرہ فوج نے سینکڑوں مسلمانوں کے گھروں کو نذر آتش کر دیا اور تمام بڑے بڑے لیڈروں کو گرفتار کر لیا۔ ہندوستان کے مسلمان اپنے کشمیری بھائیوں کے غم میں تڑپ اٹھے اور ان کی ہر طرح کی مدد کو پہنچے۔ اس سلسلہ میں مجلس
احرار اسلام کی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ قادیانی جو کشمیر کے مسئلہ میں انتہائی دلچسپی رکھتے تھے ایک ہوشیار چوہے کی طرح بل سے سر باہر نکالے چاروں طرف کے حالات کا بغور جائزہ لے رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ تحریک اپنے جوبن پر ہے، لہٰذا اسی سنہری موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تحریک کی کمان اپنے ہاتھوں میں لے لینی چاہیے۔ اس بات کا اشارہ انہیں انگریز کی طرف سے بھی مل چکا تھا۔ کیونکہ انگریز جانتا تھا کہ قادیانی اپنے گھر کے آدمی ہیں۔ تحریک ان کے ہاتھ میں آگئی تو اپنے ہی ہاتھ میں ہو گی اور ہم جب چاہیں گے تحریک کے غبارے سے ہوا نکال دیں گے۔ قادیانی بھی اس تحریک سے کشمیر میں اپنے مذہب کا اثر و رسوخ اور تبلیغ کے ذریعے لوگوں کو قادیانی بنانا چاہتے تھے۔ اس سارے منصوبے کو حقیقی صورت میں اتارنے کے لیے "کشمیر کمیٹی" کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مشہور قادیانی نواز سر فضل حسین کی زیر صدارت ۲۵ جولائی ۱۹۳۱ء کو شملہ میں پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں کشمیر کمیٹی بنانے کا اعلان کیا گیا۔ کمیٹی کا بنیادی کام عوام کے غصب شدہ حقوق کی بحالی اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے مسلمانوں کو قانونی امداد فراہم کرنا تھا۔ مرزا قادیانی کے بیٹے اور قادیانی تحریک کے سربراہ مرزا بشیر الدین کو کشمیر کمیٹی کا صدر اور سیکرٹری ایک قادیانی مبلغ عبدالرحیم کو بنایا گیا جبکہ علامہ اقبالؒ جو کشمیری مسلمانوں سے ایک خاص تعلق رکھتے تھے، انہیں بطور رکن نامزد کیا گیا۔
ذہنوں میں سوال اٹھتا ہے کہ وہ گروہ جنہوں نے جھوٹی نبوت کا ڈھونگ رچا کر ملت اسلامیہ کے سامنے اپنا ایک خود ساختہ نبی کھڑا کیا اور فرنگی کے اقتدار کو طول دینے کے لیے ملت اسلامیہ کی وحدت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی ناپاک جسارت کی، وہ طائفہ جس نے خلافت عثمانیہ کی تباہی پر قادیاں میں چراغاں کیا تھا، وہ جماعت جس کے سربراہ اور کشمیر کمیٹی کے صدر مرزا بشیر الدین نے شاتم رسول راجپال کے قتل پر مسلمانوں کے زخمی سینے پر مرچیں چھڑکتے ہوئے کہا تھا۔
"وہ نبی بھی کیا نبی ہے جس کی عزت کو بچانے کے لیے خون سے ہاتھ رنگنے پڑیں"۔ (قادیانی روزنامہ "الفضل" قادیان، ۱۹ اپریل ۱۹۲۹ء)
وہ جتھہ جس کے بنیادی عقیدے کے مطابق تمام مسلمانان عالم کافر، کتے، خنزیر،
حرام زادے اور کنجریوں کی اولاد ہیں۔ وہ جماعت کشمیر کے مسلمانوں کی محبت میں کیوں تڑپنے لگی؟ وہ جماعت کیوں کشمیری مسلمانوں کے مقدمات کی پیروی کے لیے اپنے وکلا کشمیر بھیجنے لگی اور اپنے پلے سے پیسہ بھی خرچ کرنے لگی؟ یہ سب کچھ کشمیر کو قادیانی ریاست بنانے کی خواہش کار فرما تھی۔ قادیانی اخبار روزنامہ ”الفضل“ کی خبر کا تراشہ پڑھنے سے تمام صورت حال سامنے آجاتی ہے۔
”حضرت امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ تعالیٰ جو پہلے ہی مناسب موقعہ کے انتظار میں تھے۔ یکایک میدان عمل میں آگئے (“الفضل“ ۱۲؍ جون ۱۹۳۱ء)“
مرزا بشیر الدین نے ریاست کشمیر میں قادیانی مبلغین کی ڈاریں بکھیر دیں۔ یہ تربیت یافتہ مبلغین کشمیری مسلمانوں میں پورے زور و شور سے قادیانیت کی تبلیغ کرنے لگے اور انہوں نے بہت سے مسلمانوں کو قادیانی بنا لیا۔
”جب کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں آیا تو قادیانی زعما بڑی تعداد میں وہاں بھیجے گئے۔ اس دوران سینکڑوں مبلغین ریاست میں پہنچے اور ریاست کے چپے چپے کا دورہ کر کے قادیانی عقائد کی تبلیغ کرنے لگے۔ جماعت احمدیہ کی طرف سے تحریک آزادی کے مبلغین کی امداد کے لیے اکثر رقوم شیخ محمد عبداللہ کی معرفت دی گئیں۔“ (کچھ پریشاں داستانیں کچھ پریشاں ”تذکرے“ ”اشرف عطا“ ص ۱۳۰-۱۳۱)
یہی وجہ تھی جس کی بنا پر پنجاب میں شیخ عبداللہ کے قادیانی ہونے کے چرچے ہونے لگے۔ بعد میں انہیں بار بار اس کی تردید کرنا پڑی۔ مرزائیوں کے ہاتھوں استعمال ہونے کے بعد شیخ عبداللہ کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ چنانچہ اسی لئے انہوں نے حال ہی میں شائع ہونے والی اپنی سوانحی یادداشتوں ”آتش چنار“ میں احرار سے اپنے اختلافات کا ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے۔
”یہ تو معاملہ کا ایک پہلو تھا۔ بہت جلد ہم پر قادیانی حضرات کے اصل مقاصد بھی آشکار ہونے لگے۔ انہوں نے جب ہماری تحریک کی آڑ میں اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو عام کرنا شروع کیا تو میرے کچھ ساتھیوں نے اس غلط رجحان پر تشویش محسوس کی اور قادیانی حضرات بھی مجھ سے برگشتہ ہو گئے۔“ (”آتش چنار“ شیخ محمد عبداللہ، روزنامہ جنگ لاہور، ۶ جون ۱۹۸۶ء)
کشمیر کمیٹی کی آڑ میں قادیانیوں نے کشمیری مسلمانوں کے ایمانوں کی جو غارت گری کی اس کی روح فرسا اور ہوش ربا داستان وطن عزیز کے نامور بیورو کریٹ اور ادیب و دانشور جناب قدرت اللہ شہاب سے سنئے۔
"بدقسمتی سے صدارت مرزا بشیر الدین محمود نے کر ڈالی اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے صدر بھی وہی بن بیٹھے۔ یہ قادیانیوں کی ایک سوچی سمجھی چال ثابت ہوئی۔ اس کمیٹی کے قائم ہوتے ہی بشیر الدین محمود نے ہر خاص و عام کو یہ تاثر دینا شروع کر دیا کہ ان کی صدارت میں اس کمیٹی کو قائم کر کے ہندوستان بھر کے سرکردہ مسلمان اکابرین نے ان کو والد مرزا غلام احمد قادیانی کے مسلک پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ اس شر انگیز پراپیگنڈہ کے جلو میں قادیانیوں نے انتہائی عجلت کے ساتھ اپنے مبلغین کو جموں و کشمیر کے طول و عرض میں پھیلانا شروع کر دیا تاکہ وہ ریاست کے سادہ لوح عوام کو ورغلا کر انہیں اپنے خود ساختہ نبی کا حلقہ بگوش بنانا شروع کر دیں۔ یہ مہم کافی کامیاب رہی۔ کئی دوسرے مقامات کے علاوہ خاص طور پر ”شوپیاں“ میں مسلمانوں کی ایک خاص تعداد ”قادیانی“ بن گئی۔ پونچھ کے شہر میں بھی مسلمانوں کی اکثریت نے ”قادیانی“ مذہب اختیار کر لیا۔ یہ خبر سنتے ہی رئیس الاحرار مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری پونچھ شہر پہنچے اور اپنی خطیبانہ آتش بیانی سے قادیانیت کے ڈھول کا ایسا پول کھولا کہ شہر کی جو آبادی مرزائی ہو چکی تھی وہ تقریباً ساری کی ساری تائب ہو کر از سر نو مشرف بہ اسلام ہو گئی۔"
(”شہاب نامہ“ ص۳۶۱-۳۶۰، از قدرت اللہ شہاب)
جب یہ تمام ہولناک صورت حالات مسلمانوں کے سامنے آئی تو انہوں نے مرزا بشیر الدین کو کمیٹی کی صدارت سے چلتا کرنے کا پروگرام بنایا۔ اس کی تفصیل جناب محمد احمد خاں سے سنئے۔
"کشمیر کمیٹی ایک عرصے تک باقاعدگی سے کام کرتی رہی اور اس دوران میں قادیانیوں کی سرگرمیاں بھی ریاست میں زور پکڑتی گئیں۔ اس دوران میں کمیٹی میں شامل ہونے والے مسلم زعماء کو اس امر کا اندازہ ہو چلا
تھا کہ مرزا بشیر الدین محمود کمیٹی کو کشمیری مسلمانوں کے مفاد سے زیادہ اپنے جماعتی مفاد میں استعمال کر رہے ہیں۔ کمیٹی کا کوئی دستور بھی نہیں تھا۔ اس کمی کو بھی پورا کرنا پیش نظر تھا۔ چنانچہ نئے عہدہ دار منتخب کرنے کے لیے اور کمیٹی کا باقاعدہ دستور مدون کرنے کے لیے لاہور میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس میں مجلس احرار کے بعض رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں جب یہ مطالبہ کیا گیا کہ کمیٹی کا باقاعدہ ایک دستور مرتب کیا جائے تو قادیانی حضرات نے اس کی پر زور مخالفت کی۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ دستور مرتب کرنے سے دراصل ان کو علیحدہ کیا جانا مقصود ہے۔ مرزا بشیر الدین محمود نے بطور احتجاج کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا اور علامہ اقبالؒ کمیٹی کے نئے صدر منتخب کر لئے گئے۔"
("اقبال کا سیاسی کارنامہ" ص ۱۸۴، از محمد احمد خاں)
اس پر انتہائی خوش کن اضافہ یہ ہوا کہ علامہ اقبالؒ نے مئی ۱۹۳۳ء میں خود اور خاں بہادر حاجی رحیم بخش اور سید محسن شاہ وغیرہ، بارہ اشخاص نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کو لکھ بھیجا کہ آئندہ کشمیر کمیٹی کا صدر غیر قادیانی ہوا کرے گا۔ یہ قصر قادیانیت میں زلزلہ برپا کر دینے والی خبر تھی۔ علامہ اقبالؒ کو یہ بھی معلوم ہو چکا تھا کہ قادیانی کشمیر اور کشمیر کمیٹی کے متعلقہ سارے راز انگریزوں تک پہنچاتے ہیں۔ اس کی تصدیق کے لیے علامہ اختر فتح پوری فرماتے ہیں۔
میاں صاحب (مرزا بشیر الدین محمود) کے خاندان کے ایک انتہائی قریبی عزیز نے بلاواسطہ میرے پاس بیان کیا کہ
"حضور (مرزا بشیر الدین محمود) تمام کار گزاری کی رپورٹ باقاعدہ طور پر انگریزی حکومت کو بھجوایا کرتے تھے۔ ایک رات پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ کے دو آدمی علامہ اقبالؒ کے مکان پر آئے۔ انہوں نے علی بخش سے پوچھا۔ علامہ صاحب کہاں ہیں۔ ہم ان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ علی بخش نے کہا وہ سو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں فوراً جگا دیں۔ ہمیں ان سے ایک ضروری کام ہے اور اسی وقت ہم نے واپس بھی جانا ہے۔ علامہ قریب ہی سوئے ہوئے
تھے۔ ان کی آواز سن کر بیدار ہو گئے تو انہوں نے علامہ اقبالؒ کے سامنے وہ تمام ریکارڈ رکھ دیا جو میاں محمود احمد نے گورنمنٹ کو بھیجا تھا۔ نیز انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے متعلق یہ پتہ چل جائے کہ ہم یہ فائلیں اٹھا کر یہاں آئے ہیں تو ہماری سزا موت کے سوا کچھ نہیں۔ مگر ہمیں اس بات پر حیرت ہے کہ آپ نے ایک ایسے آدمی کو کشمیر کمیٹی کا صدر بنایا ہوا ہے جو گورنمنٹ کا جاسوس ہے۔“
(”قادیانی تحریک کا سیاسی پس منظر“ ص۳۰-۳۱‘ از علامہ اختر فتح پوری)
جب مرزا بشیر الدین نے کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا تو اس کے ساتھ ہی دوسرے قادیانی حضرات بھی ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ گئے۔ تجوریوں کے منہ بھی بند ہو گئے۔ جو قادیانی وکلاء ریاست میں مسلمانوں کے مقدمات لڑ رہے تھے انہوں نے مقدمات کی پیروی بند کر دی۔ گویا بشیر الدین کے صدارت سے ہٹنے سے سارے قادیانی کشمیر کمیٹی سے ہٹ پرے ہٹ گئے۔ جب کمیٹی کے کاموں میں بہت زیادہ رکاوٹیں پڑنے لگیں تو کمیٹی ایک تعطل کا شکار ہو گئی کیونکہ کمیٹی کے کرتا دھرتا تو قادیانی ہی تھے۔ علامہ اقبالؒ قادیانیوں کے رویئے سے تنگ آ چکے تھے۔ لہٰذا علامہ اقبالؒ قادیانیوں کے رویئے سے بددل ہو کر صرف ۲۳ دن بعد کشمیر کمیٹی سے مستعفی ہو گئے۔
علامہ اقبالؒ نے کشمیر کمیٹی سے اپنی صدارت کے استعفیٰ میں لکھا:
”بدقسمتی سے کمیٹی میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے مذہبی فرقہ کے امیر کے سوا کسی دوسرے کا اتباع کرنا گناہ سمجھتے ہیں۔ چنانچہ احمدی وکلاء میں سے ایک صاحب نے جو میرپور کے مقدمات کی پیروی کر رہے تھے‘ حال ہی میں اپنے ایک بیان میں واضح طور پر اس خیال کا اظہار کر دیا‘ انہوں نے صاف طور پر کہا کہ وہ کسی کشمیر کمیٹی کو نہیں مانتے اور جو کچھ انہوں نے یا ان کے ساتھیوں نے اس ضمن میں کیا‘ وہ ان کے امیر کے حکم کی تعمیل تھی۔“
(”اقبال اور سیاست ملی“ ص۳۰۳‘ از رئیس احمد جعفری)
کشمیر کمیٹی کے خاتمہ کے بعد بھی عیار قادیانی اپنی عیاری اور مکاری کو ریاست میں جاری رکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ ایک اور ادارہ ”تحریک
کشمیر“ کے نام سے قائم کرنا چاہا اور پھر اس سے بھی زیادہ ڈھٹائی سے علامہ اقبالؒ سے درخواست کی کہ وہ کرسی صدارت سنبھالیں۔
”ڈاکٹر صاحب اب قادیانی تحریک کے سخت مخالف بن چکے تھے اور ان کا خیال تھا کہ تحریک کشمیر کے نام پر قادیانی حضرات اپنے عقائد کی نشر و اشاعت کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے اس آفر کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔“ (”اقبال کا سیاسی کارنامہ“ ص ۱۸۵‘ از محمد احمد خاں)
حد بندی کمیشن اور قادیانیوں کا گھناؤنا کردار..... مسلمانان ہند کی طویل جدوجہد کے بعد جب غلامی کی شب دیجور سحر آشنا ہو رہی تھی اور دنیا کے نقشے پر سب سے بڑی اسلامی ریاست ”پاکستان“ معرض وجود میں آ رہی تھی۔ تقسیم ہندوستان کے لیے حد بندی کمیشن مصروف عمل تھا۔ مسلم اکثریت کے علاقوں کو پاکستان میں اور مسلم اقلیت کے علاقوں کو ہندوستان میں شامل ہونا تھا۔ کانگریس اور مسلم لیگ کے نمائندے اپنے اپنے دلائل دے رہے تھے۔ جب حد بندی کمیشن ضلع گورداسپور پہنچا تو قادیانیوں نے اپنی تعداد‘ اپنے علیحدہ مذہب‘ فوجی و سول ملازمین کی کیفیات اور دیگر تفصیلات درج کیں اور مطالبہ کیا کہ قادیان کو ویٹیکن سٹی قرار دیا جائے۔ قادیانیوں کا ویٹیکن سٹی کا مطالبہ تو منظور نہ ہوا۔ لیکن ان کے الگ محضر نامہ پیش کرنے کی وجہ سے مسلمان اقلیت میں رہ گئے اور گورداسپور کا ضلع ہندوستان کی جھولی میں ڈال دیا گیا۔ مسلم لیگ شروع سے اس زعم میں مبتلا رہی کہ قادیانی پاکستان کا ساتھ دیں گے لیکن مرزا قادیانی کی امت نے وہ ہاتھ دکھایا کہ مسلم لیگ ٹک ٹک دیکھتی رہ گئی۔ مسلم لیگ کے ساتھ یہ سلوک کیوں نہ ہوتا کیونکہ مسلم لیگ کے موقف کا وکیل ظفر اللہ قادیانی تھا۔ جس کا روحانی پیشواء متعدد مرتبہ متعدد جگہوں پر پاکستان کے بارے میں اپنے خبیث باطن کا اظہار اس طرح کرتا رہا۔
”ہم نے یہ بات پہلے بھی کئی بار کہی ہے اور اب بھی کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک پاکستان کا بننا اصولاً غلط ہے۔“
(”الفضل“ ۴۔۵؍ اپریل ۱۹۴۷ء خطبہ مرزا محمود احمد)
”ممکن ہے عارضی طور پر کچھ افتراق (علیحدگی) ہو اور کچھ وقت کے لیے دونوں قومیں (ہندو مسلم) جدا جدا رہیں مگر یہ حالت عارضی ہو گی اور
ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جلد دور ہو جائے۔ بہرحال ہم چاہتے ہیں اکھنڈ ہندوستان بنے۔" (قادیانی روزنامہ الفضل ۱۷ مئی ۱۹۴۷ء)
"میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضا مند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور ہم کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح متحد ہو جائیں۔"
("الفضل" ۱۶ مئی ۱۹۴۷ء خطبہ مرزا محمود احمد خلیفہ قادیاں)
یہ تو تھے اس کے روحانی لیڈر کے زہر آلود خیالات اور خود ظفر اللہ نے بانی پاکستان محمد علی جناح کا نماز جنازہ نہ پڑھی بلکہ باہر ٹانگیں پسارے بیٹھا رہا اور پھر جب وزیر اعظم لیاقت علی خاں نے اس کی وطن دشمن سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے اسے وزیر خارجہ کے عہدہ سے الگ کرنے لگے تو اس نے اپنے ایک جرمن نژاد لے پالک لڑکے کے ذریعے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان کو اس وقت قتل کروایا جب وہ راولپنڈی میں ایک جلسہ عام سے خطاب فرمانے والے تھے۔ ظفر اللہ خاں نے مسلم لیگ اور مسلمانوں کا موقف کیا خاک پیش کرنا تھا جس کی اپنی جماعت نے مسلمانوں سے الگ اپنا محضر نامہ پیش کیا۔
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
ستم بالائے ستم پھر یہ ظفر اللہ قادیانی مقدمہ کشمیر کا وکیل بن کر یو۔ این۔ او میں جا پہنچا اور لمبی لمبی، فضول اور بے ہودہ تقریریں کر کے وقت ضائع کرتا رہا اور مسئلہ کشمیر کو بے جان و کمزور کرتا رہا۔ ہم اس انہونی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے یہی کہہ سکتے ہیں۔
اسی سے اپنے دیئے کی ضمانتیں مانگوں
بھارت کے پاس کشمیر پہنچنے کے لیے گورداسپور واحد زمینی راستہ ہے۔ گورداسپور بھارت کے پاس جانے سے بھارت کو کشمیر میں مداخلت کا بھر پور موقع مل گیا اور اگر گورداسپور بھارت کے پاس نہ جاتا تو مہاراجہ کشمیر کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا
کہ وہ پاکستان سے الحاق کرتا۔ پاکستان کے سارے دریا کشمیر سے آتے ہیں اور یوں پاکستان کی دولت کی ساری کنجیاں بھارت کے ہاتھ میں چلی گئیں۔
گورداسپور کے مسلمان اپنے گھروں میں اس امید کے چراغ جلائے بیٹھے تھے کہ گورداسپور ضرور پاکستان میں شامل ہو گا لیکن جب قادیانیوں نے اپنے محضر نامہ کا خنجر ان کی پشت میں گاڑ دیا تو وہ مارے حیرت و تکلیف کے تڑپ اٹھے۔ ہندوؤں اور سکھوں نے ان کے گھر جلا دیئے۔ باہر بھاگے تو نیزے ان کی چھاتیوں کے استقبال کے لیے تیار تھے۔ معصوم بچوں کو ماؤں کی چھاتیوں سے نوچ کر ممتا بھری آنکھوں کے سامنے موت کا رقص کرایا گیا۔ نہتے گبھرو جوانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا گیا۔ ہزاروں لڑکیاں ایسی اغوا ہوئیں کہ پھر ان کا انتظار کرتے ہوئے والدین کی آنکھیں پتھرا گئیں۔ ہندو سورماؤں کے ہاتھوں گہرے زخم اٹھانے والے ہزاروں زخمی اور سفر کی مصیبتیں برداشت نہ کرنے والے بیمار‘ وطن کی دہلیز کا بوسہ لینے کی تمنا دل ہی میں لئے راہی ملک عدم ہو گئے۔ غرضیکہ وہ حشر برپا ہوا کہ گورداسپور کی زمین خون مسلم سے سرخ ہو گئی۔ فضائیں چیخوں اور آہوں سے بھر گئیں اور ہواؤں میں آنسو تیرنے لگے۔
اور ایک قادیانی آزاد کشمیر کا صدر بن گیا
آزاد کشمیر میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہونے سے قبل ہی قادیانیوں نے انتہائی مکاری و عیاری سے اپنی حکومت قائم کرلی۔ ریاست جموں و کشمیر کے قادیانی جماعت کے صدر غلام نبی گلکار کو آزاد کشمیر کا صدر بنا دیا گیا۔ یہ پروگرام انتہائی خفیہ طریقے سے عمل میں آیا اور انتہائی راز داری سے اسے عملی جامہ پہنا دیا گیا۔ پردے کے پیچھے بیٹھا قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین ساری ہدایات جاری کر رہا تھا۔ گلکار نے حکومت پر بیٹھتے ہی تمام کلیدی عہدوں پر قادیانی مہرے بٹھانے شروع کر دیئے۔ مشہور صحافی کلیم اختر کے مطابق گورنر کشمیر‘ ڈیفنس سیکرٹری‘ انسپکٹر جنرل پولیس‘ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس‘ وزیر تعلیم‘ وزیر زراعت‘ وزیر صحت‘ وزیر انصاف‘ ڈائریکٹر میڈیکل سروسز‘ چیف انجینئر اور دیگر بہت سے عہدوں پر قادیانی قابض تھے اور مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے ان قادیانی افسروں کے نام بھی تبدیل کر دیئے گئے تھے تاکہ مسلمان عوام قادیانیت کی اس سازش کو سمجھ نہ
سکیں اور اس بھیانک سازش کی گواہی قادیانیوں کی تاریخ سے مل جاتی ہے۔ ”اصلی نام مصلحتاً پوشیدہ رکھے گئے اور ان کی بجائے ان کے متبادل نام رکھے گئے تاکہ ان کو کام کرنے میں آسانی ہو۔“ (”تاریخ احمدیت“ ۔۔۔ از دوست محمد شاہد جلد ۲ حاشیہ ۶۵۷)
قادیانیوں کی یہ حکومت چند دن چل کر چل بسی اور حکومت مسلمانوں کے ہاتھ میں آگئی اور قادیانی عزائم و منصوبے پھر کشمیر کی مٹی میں دفن ہو گئے۔ یہ سارا واقعہ جناب قدرت اللہ شہاب سے سنئے۔
”اصلی آزاد کشمیر گورنمنٹ تو ۲۴ اکتوبر ۱۹۴۷ء کے روز قائم ہوئی تھی۔ لیکن پونچھ میں جہاد کا رنگ اور رخ بھانپ کر غلام نبی گلکار نامی کشمیری قادیانی نے ۲۰ روز قبل ہی ۴ اکتوبر کو اپنی صدارت میں آزاد کشمیر جمہوریہ کے قیام کا اعلان کر دیا۔ غالباً یہ اعلان راولپنڈی کے ایک ہوٹل ”ڈان“ میں بیٹھ کر کیا گیا۔ اسی ہوٹل کے کمرے میں بیٹھے بیٹھے مسٹر گلکار نے اپنی تیرہ رکنی کمیٹی بھی منتخب کر لی تھی۔ جو زیادہ تر ایسے افراد پر مشتمل تھی جن کا تعلق قادیانی مذہب سے تھا۔ اس اعلان کے دو روز بعد ۶ اکتوبر کو مسٹر گلکار مظفر آباد کے راستے سری نگر پہنچ گیا۔ جہاں پر اس کی ملاقاتیں شیخ عبداللہ سے بھی ہوئیں۔ اس کے بعد اس کی حرکات و سکنات عام طور پر پردہ راز میں رہیں۔ باور کیا جاتا ہے کہ بارہ مولا سے سری نگر کی جانب مجاہدین کی پیش قدمی کی وجہ سے قادیانیوں کے اپنے منصوبے خاک میں مل گئے۔ انہوں نے جب دیکھا کہ یہ جنت ارضی بلا شرکت غیرے قادیانیوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ پاکستان جانے والی ہے تو انہوں نے بھی ففتھ کالم کا روپ دھار کر اس امکان کو ملیامیٹ کر دیا۔“
(”شہاب نامہ“ ص ۳۸۱ ۔ ۳۸۰)
فرقان بٹالین ...... اسلام دشمن، پاکستان دشمن جنرل گریسی جو بدقسمتی سے پاکستانی فوج کا پہلا کمانڈر انچیف تھا، نے قادیانی نوجوانوں پر مشتمل ایک بٹالین تشکیل دی۔ یہ پاکستانی فوج کی ایک باقاعدہ بٹالین تھی۔ فرقان بٹالین اکتوبر ۱۹۴۸ء میں جہاد کشمیر کے
سلسلہ میں سیالکوٹ کے نزدیک جموں کے محاذ پر واقع گاؤں ”معراج کے“ میں متعین کی گئی۔ مرزا بشیر الدین محمود کے بیٹے مرزا ناصر احمد اور مرزا مبارک احمد اس بٹالین کے کرتا دھرتا تھے۔ دراصل یہ بٹالین انگریزوں کی جاسوس بٹالین تھی جو کشمیر سے ساری خبریں جنرل گریسی اور پھر جنرل گریسی کے ذریعے یہ خبریں بھارت کے کمانڈر انچیف جنرل سر آکن لیک تک پہنچ جاتیں۔ اس بٹالین کو کشمیر میں بھیجنے کا مقصد ریاست پر قادیانی قبضہ جمانے کا پروگرام تھا۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ جماعت جس کی بنیاد ہی فرنگی نے اس لئے اٹھائی کہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے قلوب سے جذبہ جہاد کی شمع فروزاں کو گل کر سکے۔ جس جماعت کا ”نبی“ ساری زندگی اپنے کفریہ منہ سے تنسیخ جہاد کی کفریہ کی تبلیغ میں جتا رہا۔
”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا، خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا ہے اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اس رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے۔“
(”خطبہ الہامیہ“ ص ۲۸-۲۹ مصنف مرزا قادیانی)
مزید زہر افشانی سنئے
اب آگیا مسیح جو دین کا امام ہے دین کے لئے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
(”ضمیمہ تحفہ گولڑویہ“ ص ۲۶ مصنف مرزا قادیانی)
اس جماعت کے افراد ایک بٹالین بنا کر اور وردی پہن کر اور ہتھیار اٹھا کر کشمیر میں کون سے جہاد کے لئے پہنچے تھے۔ یہ ”جہاد“ صرف کشمیر میں قادیانی ریاست قائم کرنے کا پروگرام تھا۔ اس مقصد قبیح کے لئے فرقان بٹالین کو جو فوجی ساز و سامان دیا گیا، اس کی فہرست اس طرح ہے۔
مکمل فوجی وردیاں۔ ادنیٰ سے اعلیٰ افسر تک ۶۰۰
تھری ناٹ کی رائفلیں ۵۹۹ سٹین گنیں ۲۲۶ گرنیڈ بم ۷۲ مشین گن ۲۰
اس کے علاوہ وائرلس سیٹ‘ ٹرانسپورٹ‘ جاسوسی کے آلات اور کروڑوں روپے کا دیگر سامان جہاد کے منکروں کو ”جہاد“ کے لئے دیا گیا۔
فرقان بٹالین نے محاذ کشمیر پر جرات و شجاعت و مردانگی کے کون سے درخشاں باب رقم کئے؟
کتنے قادیانی سورماؤں نے وطن عزیز کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا؟
کتنے مسلمانوں کے جان و مال اور عصمتوں کی حفاظت کی؟
یہ کام نہ تو انہوں نے کرنا تھے اور نہ ہی انہیں ان کاموں کے لئے بھیجا گیا تھا۔ جو ”جہاد“ انہوں نے کیا‘ وہ وہاں پکنک منانے‘ جاسوسی کرنے اور مفت کی تنخواہیں کھانے کے کام تھے اور یہ سارے کام انہوں نے کمال مہارت سے سرانجام دیئے۔ پھر جب مسلمانوں کے پرزور احتجاج پر وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اس شیطان بٹالین کو توڑ دیا تو نبوت چور کروڑوں روپے کا ملنے والا اسلحہ چوری کر کے ہضم کر گئے اور حکومت کو کچھ بھی واپس نہ کیا۔
سب پر سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی
لیکن قادیانی جماعت نے ۱۹۶۵ء میں فرقان بٹالین میں شامل ہر ادنیٰ اور اعلیٰ قادیانی کو ”تمغہ دفاع کشمیر“ عطا کیا۔ گویا چوروں کے سروں پر پگڑیاں باندھی گئیں اور ڈاکوؤں کی دستار بندی کی گئی۔ لیکن یہ بات کتنی ہوش ربا‘ خطرناک اور تشویش ناک ہے کہ ایک فوجی بٹالین کو اس کی ”کارکردگی“ پر ایک سول جماعت اسے تمغوں سے نواز رہی ہے۔
اس کے علاوہ اس کے سرپرست جنرل گریسی نے فرقان بٹالین کو خراج تحسین پیش کیا اور اسے سپاس کا خط لکھا۔ یہ خط تاریخ احمدیت کے ص ۶۷۴ پر موجود ہے۔ جنرل
گرین تحسین و آفرین کا خط کیوں نہ لکھتا، ہر آرٹسٹ اپنے شاہکار کی تعریف و توصیف کیا ہی کرتا ہے۔
قادیانی سازشیں اور جنگ ستمبر ۱۹۶۵ء ...... وطن عزیز پاکستان کو معرض وجود میں آئے اٹھارہ برس گزر چکے تھے۔ پاکستان پر جنرل محمد ایوب خان کی حکومت تھی۔ اتنا طویل عرصہ بیتنے کے بعد اور پاکستان میں انتہائی بااختیار ہونے کے باوجود قادیانیوں کو کشمیر اور قادیان نہیں بھولا تھا۔ ان کے جسم تو یہاں تھے لیکن دل کشمیر اور قادیان میں پڑے تھے۔ وہ بار بار کشمیر اور قادیان پر قبضہ کرنے کے لئے انگڑائیاں لیتے لیکن پھر کسی مصلحت کے تحت مجبوراً بیٹھ جاتے۔ ایوب خان کے ساتھ میجر جنرل اختر حسین ملک، سیکرٹری خارجہ عزیز احمد اور پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین ایم ایم احمد (پوتا مرزا قادیانی) کے انتہائی قریبی مراسم تھے۔ اس کے علاوہ کلیدی عہدوں پر فائز درجنوں قادیانیوں نے ایوب خان کے گرد گھیرا بنا رکھا تھا۔ قادیانیوں نے ان خصوصی تعلقات کو سنہری موقعہ سمجھتے ہوئے ایوب خان کو کشمیر پر حملہ کرنے کے لئے تیار کرنا شروع کیا اور اس پر عملدرآمد کے لئے انہوں نے سائنسی انداز سے منصوبہ بندی کرنی شروع کی۔
وہ اکثر و بیشتر اپنے ہم مذہبوں کو خوش رکھنے کے لئے اور ان کے حوصلے بڑھانے کے لئے انہیں مرزا بشیر الدین محمود کی یہ باتیں سنایا کرتے تھے کہ
”اگر حالات نے اجازت دی اور مشرقی پنجاب (انڈیا) میں جانوں کی حفاظت اور سلامتی کا یقین دلایا گیا تو ہم قادیان میں جو جماعت احمدیہ کا مقدس مرکز ہے، واپس جائیں گے“
(”روزنامہ الفضل“ ۱۸ مارچ ۱۹۴۸ء بیان مرزا بشیر الدین)
”پس مایوس نہ ہو اور اللہ پر توکل رکھو اللہ تعالیٰ کچھ عرصہ میں ایسے سامان پیدا کر دے گا۔ آخر دیکھو یہودیوں نے تیرہ سو سال انتظار کیا اور پھر فلسطین میں آگئے۔ مگر آپ لوگوں کو تیرہ سو سال انتظار نہیں کرنا پڑے گا ممکن ہے، تیرہ سال بھی نہ کرنا پڑے ممکن ہے، دس سال بھی نہ کرنا پڑے اور اللہ تعالیٰ اپنی برکتوں کے نمونے تمہیں دکھا دے“
(تقریر مرزا محمود بر سالانہ ”جلسہ“ ربوہ ۲۸ دسمبر ۱۹۵۶ء)
قادیانیوں نے کس حد تک منصوبہ بندی کر لی تھی۔ یہ ساری داستان مجاہد ختم
نبوت ممتاز صحافی اور خطیب آغا شورش کاشمیری سے سنئے
- ا۔ ”نواب کالا باغ نے ۱۹۶۵ء کی جنگ کے واقعات پر گفتگو کرتے ہوئے راقم سے
بیان کیا کہ ۱۹۶۵ء کی جنگ میں اللہ تعالیٰ نے ہماری حفاظت کی ورنہ صورت حال کے پامال ہونے کا احتمال تھا۔
نواب صاحب نے فرمایا‘ مرزائی پاکستان میں حصول اقتدار سے مایوس ہو کر قادیان پہنچنے کے لئے مضطرب ہیں۔ وہ بھارت سے مل کر یا بھارت سے لڑ کر ہر صورت میں قادیان چاہتے ہیں اور اس غرض سے پاکستان کو بازی پر لگانے سے بھی نہیں چوکتے۔
ایک دن میرے ہاں جنرل اختر حسین ملک آئے اور میرے ملٹری سیکرٹری کرنل محمد شریف سے کہا کہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے پس و پیش کی اور اپنے سیکرٹری سے کہا کہ میں نے جنرل ملک سے اگر ملاقات کی تو صدر ایوب جو مجھ سے پہلے ہی بدظن ہو چکے ہیں اور بدظن ہوں گے اور یہ حسن اتفاق ہے کہ میں بھی اعوان ہوں‘ جنرل ملک بھی اعوان ہے اور تم ملٹری سیکرٹری بھی اعوان ہو۔ صدر ایوب کے کان میں الطاف حسین (ڈان) نے بات ڈال رکھی ہے کہ اس سے کسی امریکن نے کہا ہے کہ نواب کالا باغ‘ ایوب خاں کے خلاف اندر خانہ خود صدر بننے کی سازش کر رہا ہے۔ اس وقت تو جنرل ملک لوٹ گئے لیکن چند دن بعد نتھیا گلی میں ملاقات کا موقع پیدا کر لیا۔ کہنے لگے ’’میں صدر ایوب کو آمادہ کروں کہ یہ وقت کشمیر پر چڑھائی کرنے کے لئے بہترین ہے۔ یقین ہے کہ ہم کشمیر حاصل کر پائیں گے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ بیٹھے بٹھائے جنرل کو یہ کیا سوجھی؟ بہرحال میں نے عذر کر دیا کہ میں نہ تو فوجی ایکسپرٹ ہوں نہ مجھے جنگ کے مبادیات کا علم ہے۔ آپ خود ان سے تذکرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ صدر نہیں مانتا۔ وہ کہتا ہے کہ لڑائی کے جلد بعد بھارت براہ راست پاکستان کی بین الاقوامی سرحدوں پر حملہ کر دے گا۔
میں نے کہا‘ صدر مجھ سے پہلے ہی بدگمان ہے۔ وہ لازماً خیال کرے گا کہ اعوان اس کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔
جنرل اختر ملک مجھ سے جواب پا کر چلے گئے۔ اس اثناء میں سی آئی ڈی کی معرفت مجھے ایک دستی اشتہار ملا جو آزاد کشمیر میں کثرت سے تقسیم کیا گیا تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ ’’ریاست جموں و کشمیر انشاء اللہ آزاد ہو گی اور اس کی فتح و نصرت احمدیت کے ہاتھوں ہو
گی" (پیش گوئی مصلح موعود)
اور میرے لئے یہ ناقابل فہم نہ تھا کہ جنرل اختر ملک اس پیش گوئی کو سچا بنانے کے لئے دوڑ دھوپ کر رہے تھے۔
راقم نے نواب کالا باغ کی یہ گفتگو محترم مجید نظامی ایڈیٹر نوائے وقت سے بیان کی تو انہوں نے تائید کی کہ ان سے بھی نواب صاحب یہی روایت کر چکے ہیں۔
- ۲۔ ڈاکٹر جاوید اقبال سے ذکر آیا تو حیران ہوئے فرمایا کہ اس جولائی میں سر ظفر اللہ
خان نے مجھے امریکہ میں کہا تھا کہ میں صدر ایوب کو پیغام دوں کہ یہ وقت کشمیر پر چڑھائی کے لئے موزوں ہے‘ پاکستانی فوج ضرور کامیاب ہو گی جہاں تک ہندوستان کے ہاتھوں بین الاقوامی سرحد کے آلودہ ہونے کا تعلق ہے ایسی کوئی چیز نہ ہو گی۔ میں نے صدر ایوب سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا‘ مجھ سے کہہ دیا ہے اور کسی سے نہ کہنا۔
صدر ایوب کو سر ظفر اللہ خان نے پیغام دے کر اور جنرل اختر ملک نے خود حاضر ہو کر علاوہ دوسرے زعماء کے یقین دلایا تھا کہ کشمیر پر حملہ کرنے سے بھارت اور پاکستان میں براہ راست جنگ ہو گی۔
("عجمی اسرائیل" ص ۳۳‘ ۳۴‘ ۳۵ از شورش کاشمیری)
آخر کار ایوب خان قادیانیوں کی سازش کا شکار ہو گئے۔ جنرل اختر ملک نے مقبوضہ کشمیر پر تسلط قائم کرنے کے لئے ایک مربوط پلان تیار کیا جس کا کوڈ نام "جبرالٹر" تھا۔ آپریشن جبرالٹر کے تحت پاکستان نے کشمیری حریت پسندوں کو منظم کیا۔ انہیں تربیت فراہم کی اور ان کی رہنمائی کے لئے ۶ جولائی کو تربیت یافتہ رضا کار مقبوضہ کشمیر میں بھیج دیئے۔ کشمیری حریت پسندوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں۔ جواباً بھارت نے بھی انگڑائی لی اور حریت پسندوں کے خلاف سخت کارروائی شروع کی۔ بھارت نے ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے اگست کے وسط میں ایک زبردست اور اچانک حملہ کر کے کارگل کی فوجی اہمیت کی چوٹی پر قبضہ کر لیا۔ جس سے پورے پاکستان میں سخت مایوسی پھیل گئی۔ جنرل اختر ملک کو انتقام کے نام پر موقع مل گیا اور اس نے اپنی قیادت میں جموں کے علاقے چھمب اور جوڑیاں میں بڑی سرعت کے ساتھ پیش قدمی کر دی۔ چھمب اور جوڑیاں کا محاذ پٹھان کوٹ اور قادیان کی طرف تھا۔ ان محاذوں کی کمان جنرل اختر ملک اور بریگیڈیئر عبدالعلی
کے ہاتھوں میں تھی۔ یہ دونوں سگے بھائی تھے اور کٹر قادیانی تھے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر حملہ کرنا ہی تھا تو کمان کسی مسلمان کے ہاتھ میں بھی دی جا سکتی تھی۔ قادیانی جرنیل آگے بڑھ کر یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ میں نے کارگل کی چوکی کا بدلہ لے لیا ہے۔ لیکن ۴ ستمبر کو بھارتی وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ بھارت اب اپنی پسند کا محاذ کھولے گا اور ۶ ستمبر کو بھارت نے اعلان کئے بغیر واہگہ سیکٹر پر نہتے مسلمانوں پر دھاوا بول دیا اور پاکستان جنگ کے شعلوں میں جلنے لگا۔ جب بھارت نے جبرالٹر آپریشن کے جواب میں لاہور اور سیالکوٹ کے محاذ کھولے تو پاکستانی افواج کو آپریشن جبرالٹر کو ادھورا چھوڑ کر فوری طور پر ان محاذوں پر آنا پڑا اور یوں یہ آپریشن بری طرح ناکام ہو گیا اور پاکستان ایک انتہائی خطرناک اور نقصان دہ جنگ میں الجھ گیا۔ یوں ایک قادیانی جنرل نے اپنی جھوٹی نبوت کی پیش گوئی کو سچا ثابت کرنے کے لئے پورے پاکستان کو داؤ پر لگا دیا۔
نہ کھلتے راز سربستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں
ستمبر ۱۹۶۵ء کی جنگ نے ملک کا انجر پنجر ہلا کر رکھ دیا اور وطن عزیز کو ایسا دھچکا لگا کہ اس کے اثرات آج بھی محسوس ہو رہے ہیں۔ قادیانی امت کی جھوٹی نبوت کے خنجر سے وطن اور اہل وطن کو جو زخم لگے، ان میں سے چند زخم ملاحظہ فرمائیے
- قادیانیوں نے سازش کے ذریعے جب یہ ہولناک جنگ شروع کروائی۔ اس وقت
ملک میں امن و سکون تھا۔ زرعی شعبے کی ترقی اپنے بام عروج پر تھی۔ صنعت و حرفت کی گاڑی کی رفتار بھی لائق تحسین تھی۔ ملک میں جگہ جگہ کارخانے اور ملیں لگ رہی تھیں۔ جس سے پاکستان کی اقتصادی حالت کافی بہتر ہو رہی تھی۔ نئے نئے کالج اور یونیورسٹیاں کھل رہی تھیں۔ لیکن ملک گیر جنگ کے پھیلے ہوئے دھوئیں نے سارا نظام تلپٹ کر کے رکھ دیا۔
جنگ ستمبر ۱۹۶۵ء سے قبل فوجی تعمیر و ترقی جدید بنیادوں پر ہو رہی تھی۔ فوج کے پاس کافی مقدار میں جدید اسلحہ موجود تھا۔ ملک میں بھی اسلحہ سازی کا کام بہت بہتر ہو گیا تھا۔ لیکن ستمبر کی بے مقصد جنگ میں یہ سارا اسلحہ استعمال ہو گیا۔ مزید جنگ لڑنے کے لئے کروڑوں روپے کا اسلحہ خریدنا پڑا۔ اس کے علاوہ اسلامی ممالک نے بھی
بڑی بھاری مقدار میں اسلحہ فراہم کیا۔ یوں افواج پاکستان قادیانی سازش سے ہل کر رہ گئیں۔
- اس جنگ میں چودہ ہزار پاکستانی شہید و زخمی ہوئے۔ ہندوستانی فوج نے گاؤں
کے گاؤں لوٹ لئے۔ کروڑوں روپے کی کھڑی فصلوں کو برباد کر دیا۔ مال مویشی ہانک کر لے گئے۔ درخت کاٹ لئے، ٹیوب ویل اکھیڑ لئے، لٹے پٹے بے گھر لوگوں کو خوراک و رہائش فراہم کرنا ایک بہت بڑا مسئلہ بن کر ابھرا۔
- اس جنگ کے بہانے بھارت نے کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ
دیئے۔ ہزاروں کشمیری حریت پسند شہید کر دیئے گئے۔ مسلمانوں کے گھر بار لوٹ لئے گئے۔ بھارتی درندوں کے ہاتھوں اسلام کی بیٹیوں کی عزتیں بھی محفوظ نہ رہیں۔ جس کے نتیجہ میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری مسلمانوں کو آگ و خون کا دریا عبور کر کے آزاد کشمیر اور پاکستان میں پناہ لینا پڑی۔
- قادیانیوں کی لگائی ہوئی ۱۹۶۵ء کی جنگ ۱۹۷۱ء کی جنگ کا سبب بنی جس میں وطن
عزیز دو لخت ہو گیا۔ ۱۹۶۵ء کی جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے وطن عزیز کے نامور صحافی جناب ضیا الاسلام انصاری لکھتے ہیں۔
”بعد کے واقعات اور شواہد نے ثابت کر دیا کہ یہ پاکستان کو ایک فضول اور نقصان دہ جنگ میں ملوث کرنے کی سازش تھی۔“ (”ہفت روزہ زندگی“ ۱۶ فروری ۱۹۹۰ء)
سابق وزیر خزانہ، ممتاز سفارت کار اور اقوام متحدہ کے مندوب سید امجد علی کہتے ہیں۔
”میں آج تک ۱۹۶۵ء کی جنگ کی وجہ نہیں سمجھ پایا۔ جو بہت تباہ کن تھی۔“
(”روزنامہ نوائے وقت جمعہ میگزین ۱۰ جنوری ۱۹۹۲ء)
لیکن قادیانیوں کو اس سازش کے ناکام ہونے اور خونی ڈرامہ رچانے کے باوجود ذرہ بھر شرم نہ آئی۔ شرم آتی بھی کیسے؟ جس جماعت کے بانی نے جناب سرور کائنات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں نبوت کا دعویٰ کیا ہو، اس جماعت سے شرم و حیا کی توقع کیسی؟ قادیانیوں نے کمال ڈھٹائی سے ۱۹۶۵ء کی جنگ کو بہت بڑی فتح قرار دیا اور جنرل اختر ملک و بریگیڈئیر عبدالعلی کو ہیرو قرار دیا۔ حکومت میں لمبے ہاتھ ہونے کی
وجہ سے پانچویں اور چھٹی جماعت کی کتاب ”تاریخ جغرافیہ“ میں جنرل اختر ملک کی سہ رنگی تصویر بھی شائع کی گئی تاکہ اس پہلو سے قوم کے نونہالوں میں ایک قادیانی جرنیل کا چرچا کیا جائے اور اسی حوالے سے نوخیز نسل میں قادیانیت کی تبلیغ کی جائے۔ لیکن تلخ حقائق اپنے چہرے سے نقاب الٹ الٹ کر کہہ رہے ہیں۔
غور سے پڑھئے انہیں اور فیصلہ خود کیجئے
اسرائیلی اور قادیانی کمانڈوز ارض کشمیر میں:
اس چونکا دینے والی خبر نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا کہ اسرائیلی کمانڈوز کشمیر میں گھس گئے ہیں۔ ڈل جھیل پر ابھی صبح کا سپیدہ نمودار ہوا ہی تھا کہ خاموش فضا فائرنگ سے گونج اٹھی۔ ارد گرد کی آبادی کے لوگ وجہ معلوم کرنے کے لئے بدحواسی کے عالم میں گھروں سے نکل آئے۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ دو گروہوں کے درمیان لڑائی ہو رہی ہے۔ واقعہ یوں ہوا کہ سات اسرائیلی اور ایک ڈچ سیاح عورت ایک ہاؤس بوٹ میں بیٹھے تھے۔ مجاہدین کو خبر مل گئی کہ ہاؤس بوٹ میں بیٹھے ہوئے لوگ سیاہ نہیں بلکہ سیاحوں کے روپ میں اسرائیلی کمانڈوز ہیں جو کشمیر میں حریت پسندوں کی تحریک کو کچلنے کے لئے بھارتی فوجیوں کا ساتھ دینے کے لئے اسرائیل سے خصوصی طور پر آئے ہیں۔ مجاہدین نے پہنچتے ہی ہاؤس بوٹ پر دھاوا بول دیا۔ اور ان سارے کمانڈوز کو گرفتار کر لیا۔ تھوڑی دور جا کر انہوں نے ڈچ سیاح عورت اور ایک اسرائیلی عورت کو رہا کر دیا اور باقی قیدیوں کو لے کر اپنے ٹھکانے کی طرف چل پڑے۔ جب ہاؤس بوٹ کنارے پر پہنچی تو نہتے اسرائیلی کمانڈوز نے مجاہدین پر حملہ کر دیا اور ان سے ایک دو رائفلیں اور میگزین بھی چھین لئے۔ اس حملے میں ایک اسرائیلی ہلاک اور تین اسرائیلی زخمی ہوئے جبکہ ایک مجاہد نے جام شہادت نوش کیا۔ ہلاک ہونے والے اسرائیلی کا نام ایریز کمانا اور زخمی ہونے والوں کے نام یائر ترکش، کوبی سیمنس اور انی مون ہیں۔ جبکہ شہید ہونے والے مجاہد کا نام علی احمد ہے۔ ایک اسرائیلی کمانڈو گرفتار ہوا اور باقی ماندہ بھاگ کر ایک امام مسجد محمد اکرم کے گھر گھس گئے۔ اور اس کے ساتھ اس کی بیوی اور دو بچوں کو یرغمال بنا لیا۔ جب لوگوں نے
اس مکان کو گھیر لیا تو اسرائیلی کمانڈو نے بلند آواز سے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا کہ پولیس کو بلا لو تو ہم ان یرغمالیوں کو چھوڑ دیں گے۔ چار افراد کی زندگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس آن واحد میں آئی اور اسرائیلیوں کو لے کر چلتی بنی۔
بھارت ان اسرائیلیوں کو سیاحوں کے روپ میں کونسی سیر کرا رہا تھا۔ کیا یہ لوگ سیاح تھے؟ کیا سیاح یکدم اپنے حریف سے ہتھیار چھیننے کا فن جانتے ہیں اور پھر ان آٹومیٹک ہتھیاروں کو استعمال کرنے کے طریقوں سے واقف ہوتے ہیں؟
کیا سیاح انتہائی پھرتی سے دیوار پھلانگ کر کسی کے گھر میں داخل ہونا اور پھر سارے گھر کو یرغمال بنانا اور ارد گرد اکٹھے ہوئے لوگوں کو خوفزدہ کرنا جانتے ہیں؟
جہاں تک سیاحت کی بات ہے بھارت نے ان دنوں جبکہ وادی کشمیر خون میں نہائی ہوئی ہے سیاحت پر مکمل پابندی لگا رکھی ہے۔ بھارت نے غیر ملکی سیاحوں کو انتباہ کر رکھا ہے کہ کشمیر کے حالات بہت خطرناک ہیں۔ کسی کی زندگی بھی وہاں محفوظ نہیں۔ اس لئے سیاح کشمیر کا رخ نہ کریں۔ حتیٰ کہ بھارت نے ریڈ کراس، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں کو ان کے بار بار اصرار کے باوجود انہیں کشمیر میں داخل نہیں ہونے دیا۔ غیر ملکی اخبارات اور پریس ایجنسیوں نے اپنے اپنے رسک پر کشمیر میں جانے کی اجازت طلب کی تھی مگر انہیں بھی انکار ہو گیا۔ تو پھر سوچنے کی بات ہے کہ ان اسرائیلیوں کو کشمیر میں داخل ہونے کی اجازت کس لئے مل گئی؟ دراصل یہ سیاح نہیں بلکہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے ممبران تھے۔ جن کی عمریں بیس سال سے کم تھیں۔ اور جو ڈل جھیل کی ہاؤس بوٹ میں مقیم تھے۔ ڈل جھیل اور کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کا فاصلہ صرف ۵۵ کلو میٹر ہے۔ اسرائیل کے سرپرست اعلیٰ امریکہ کے سرکاری ریڈیو وائس آف امریکہ نے اس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ اسرائیلی کمانڈوز کہوٹہ کی تباہی کی ریہرسل کرنے سرینگر آئے تھے۔ تل ابیب ریڈیو نے بھارتی سیاحوں کی فوجی حیثیت تسلیم کر لی ہے۔ بھارت کے مطابق وہاں ۱۶ اسرائیلی تھے لیکن حقیقتاً وہاں ایک سو سے زائد اسرائیلی موجود تھے۔
اسرائیل، بھارت اور قادیانی عالم اسلام بالخصوص پاکستان کے سب سے بڑے
دشمن ہیں اور امریکہ ان تینوں شیطانوں کا سربراہ ہے۔ ان سب کے آپس میں بڑے گہرے مراسم ہیں۔ پاکستان میں قادیانی بھارت اور اسرائیل کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ بھارت اور اسرائیل کے مفادات یکساں ہیں جو ان کی دوستی کو قوی در قوی کرتے جا رہے ہیں۔ بھارت کے سابق صدر مرار جی ڈیسائی نے اپنے دور اقتدار میں یہ انکشاف کیا کہ کانگریس کے زمانہ اقتدار میں نہ صرف یہ کہ بھارت اور اسرائیل کے خفیہ تعلقات قائم رہے بلکہ بمبئی میں اسرائیل کا باقاعدہ خفیہ قونصلیٹ موجود تھا۔ اس کو اندرا دور میں ترقی دی جانے والی تھی کہ اندرا دور کا خاتمہ ہو گیا۔
۱۹۷۱ء کی پاک بھارت جنگ میں اندرا گاندھی کے کہنے پر اسلام دشمن اسرائیل نے بھارت کو بہت ہی قیمتی اور نازک اسلحہ فراہم کیا۔ اس بات کا انکشاف جنگ کے بعد بھارتی سیاستدان سبرانیم سوامی نے کیا۔ ابھی جب دو سال پہلے ہندوؤں نے بابری مسجد کو شہید کر کے وہاں مندر بنانے کا ناپاک منصوبہ بنایا تو اسرائیل نے اپنے خبث باطن کا مظاہرہ کرتے ہوئے مندر کی تعمیر کے لئے سونے کی اینٹ بھارت کو بھیجی۔
رسوائے زمانہ اسلام دشمن امریکی سینیٹر سٹیفن سولارز جو کہ صہیونی یہودی ہے۔ اس نے حال ہی میں مسئلہ کشمیر پر بھارت کی وکالت کرتے ہوئے یہ بل پاس کروایا کہ کشمیر کا مسئلہ رائے شماری کے ذریعے نہیں بلکہ شملہ سمجھوتے کے ذریعے حل کیا جائے‘ جب مجاہدین کشمیر نے حکومت بھارتیہ پر دباؤ ڈالنے کے لئے دو سویڈش انجینئروں کو سو دن سے بھی زائد اپنی حراست میں رکھا تو بھارت نے اس اقدام کی قطعا ”پرواہ نہ کی اور ان کی بازیابی کی کوئی کوشش نہ کی اور کسی بھی سویڈش سفارتی افسر کو سری نگر جانے کی اجازت نہ دی گئی۔ لیکن جب معاملہ اپنے جگر کے ٹکڑوں اسرائیلیوں کا آیا تو بھارت تڑپ اٹھا۔ گرفتار اسرائیلی کمانڈو کی رہائی کے لئے اقوام متحدہ تک جا پہنچا اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پریز ڈی کوئیار سے ذاتی اپیل کروا کر مجاہدین سے رہا کروایا۔ بمبئی میں مقیم اسرائیلی قونصل جنرل موشے زوپیری کو نہ صرف مردہ یہودی کمانڈو کی لاش وصول کرنے کی اجازت دی گئی بلکہ خود ہندو گورنر گریش سکسینہ ہاتھ باندھے اس کے استقبال کے لئے کھڑا تھا۔ ان محبت بھرے تعلقات کے اسباب کیا ہیں؟ اس گہری دوستی کے محرکات کیا ہیں؟ اس کا صرف ایک ہی سبب ہے کہ بھارت‘ پاکستان‘ وسط ایشیا اور خلیج تک کے علاقے کو ملا کر
"اکھنڈ بھارت" بنانا چاہتا ہے جبکہ اسرائیل پورے عرب کو یہودیوں کی میراث سمجھ کر ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔
کئی سال قبل اسرائیل نے کمانڈوز کی مدد سے عالمی دہشت گردی کا ارتکاب کرتے ہوئے عراق کا ایٹمی پلانٹ تباہ کر دیا تھا اور اب خلیج کی تباہ کن جنگ کے نتیجہ میں عراق بحیثیت ایک عسکری قوت کے ختم ہو چکا ہے۔ اب یہود و ہنود کی غلیظ نگاہیں پاکستان پر مرکوز ہیں جس کے پاس ایٹمی صلاحیت موجود ہے اور وہ ان کی آنکھوں میں خار بن کر کھٹک رہا ہے۔ بھارت اور اسرائیل ایک عرصہ سے اس ناپاک کوشش میں مبتلا ہیں کہ مسلم دنیا کے اس واحد ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک کو اس صلاحیت سے محروم کر دیا جائے تاکہ اکھنڈ بھارت اور گریٹر اسرائیل دنیا کے نقشے پر ابھر سکیں۔ لیکن کشمیری مجاہدین نے کہوٹہ پلانٹ سے صرف ۵۵ کلو میٹر دور ڈل جھیل میں کہوٹہ پر حملہ کے لئے تیار بیٹھے اسرائیلیوں کو چیتے کی پھرتی سے دبوچ لیا اور یوں یہ منصوبہ ناکام رہ گیا۔ سوال اٹھتا ہے کہ وطن عزیز کے انتہائی اہم راز یہود و ہنود کی میز پر کون پہنچاتا ہے۔ یہ قبیح دھندہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں حساس عہدوں پر بیٹھے قادیانی کر رہے ہیں اور یہ دشمنان وطن لمحہ لمحہ کی رپورٹ اپنے آقاؤں کو پہنچاتے ہیں۔ کہوٹہ ایٹمی پلانٹ، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، جی ایچ کیو اور سفارت خانوں ایسے حساس اداروں میں قادیانی گھسے ہوئے ہیں اور اپنے فعل شنیع میں مصروف ہیں۔ بھارت قادیانیوں کے لئے ماموں جی کا گھر ہے۔ وہ وہاں بڑے امن و سکون سے رہتے ہیں۔ قادیان میں جھوٹے نبی مرزا قادیانی کی قبر پر اشرار اور اس کے ۳۱۳ درویشوں کی مکمل نگہداشت کی جاتی ہے۔ انہیں اپنی مذہبی پوجا پاٹ کی کھلی اجازت ہے۔ سرزمین بھارت وہاں کے بیکس مسلمانوں کے لئے مقتل کا روپ دھار چکی ہے۔ آئے دن مسلم کش فسادات ہوتے رہتے ہیں۔ مسلمانوں سے مساجد چھینی جا رہی ہیں۔ ان کے مذہبی تہواروں پر ان کا قتل عام کیا جاتا ہے۔ اور جب غم کے مارے مسلمان اپنے عزیزوں کے لاشے لے کر حکومت کے دروازوں پر دستک دیتے ہیں تو آوارہ قہقہے ان کا استقبال کرتے ہیں۔
ان ظالموں سے ”خوف خدا“ مانگتے ہیں لوگ
لیکن بھارت میں کبھی بھی ہندو قادیانی تصادم نہیں ہوا، کبھی بھی کسی قادیانی کے پاؤں میں کانٹا تک نہیں چبھا۔
حال ہی میں قادیانی سربراہ مرزا طاہر نے اپنا سالانہ جلسہ قادیان بھارت میں کرنے کا اعلان کیا۔ یہ بڑی حیرانگی کی بات تھی کہ مشرقی پنجاب جہاں سکھوں نے شورش برپا کر رکھی ہے اور کسی بھی پاکستانی کو وہاں جانے کا ویزا نہیں دیا جاتا۔ لیکن قادیانیوں نے قادیان میں حکومت کی کڑی نگرانی میں اپنا تین روزہ جلسہ منعقد کیا۔ دنیا کے مختلف ممالک سے قادیانی وہاں پہنچے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۶۰۰۰ قادیانی پاکستان سے بھارت پہنچے۔ مرزا طاہر کی تقریروں کو بھارتی ٹیلی ویژن ”دور درشن“ بڑے اہتمام سے دکھاتا رہا۔ ہاں اپنے جاسوسوں کی آؤ بھگت اسی طرح کی جاتی ہے۔ بھارت جب بھی کوئی دھماکہ کرتا ہے یا کوئی نیا اسلحہ تیار کرتا ہے تو رسوائے زمانہ قادیانی سائنس دان ڈاکٹر عبد السلام اسے مبارک باد کے پیغامات بھیجتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام بھارت کے کئی خفیہ اور اعلانیہ دورے کرتا رہتا ہے۔ ایک دشمن ملک کے ساتھ ایک پاکستانی کا یہ طرز تعلق کن کن خطرات کی گھنٹیاں بجا رہا ہے؟ اس قادیانی سائنس دان نے یہود و نصاریٰ کو کہوٹہ پلانٹ کی ڈمی بنا کر دکھائی جس کی تفصیل معروف صحافی جناب زاہد ملک کی کتاب ”ڈاکٹر عبدالقدیر خان“ اور اسلامی بم“ میں موجود ہے۔ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلقات نہیں کیونکہ اسرائیل برادر عرب اسلامی ممالک کے حقوق کا غاصب ہے۔ اسرائیل میں کوئی مذہبی مشن کام نہیں کر سکتا لیکن قادیانی مشن کو اسرائیل میں کام کرنے کی کھلی چھٹی ہے۔ ۱۹۷۲ء کی قومی اسمبلی میں مولانا ظفر احمد انصاری نے پارلیمنٹ کو یہ بتا کر ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ اسرائیل میں ۶۰۰ قادیانی باقاعدہ فوج میں بھرتی ہیں۔ اور انہیں سفاک قادیانی کمانڈوز نے فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے خون ناحق کے دریا بہائے ہیں۔ اب وہی قادیانی کمانڈوز اسرائیلی کمانڈوز کے ساتھ مل کر تحریک آزادی کشمیر کو کچلنے کے لئے کشمیر میں داخل ہو چکے ہیں۔ اور کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بھارت کی دہشت گرد فوج ”بلیک کیٹس“ کی تربیت کر رہے ہیں بھارت نے ان کمانڈوز کو اس لئے بلایا ہے کہ یہ کمانڈوز فلسطین کی تحریک جہاد ”انتفاضہ“ سے نمٹنے کا ایک وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان کمانڈوز نے کشمیر میں اپنے منحوس قدم رکھتے
ہی اپنے ظلم کے اذیت ناک طریقوں کو عمل میں لانا شروع کیا جس سے وادی جنت نظیر آگ خون' دھوئیں' لاشوں' چیخوں' سسکیوں' ہچکیوں اور آہ و بکا سے بھر کر جہنم زار بن گئی ہے۔
اس طویل بحث کو اختصار میں سموتے ہوئے ہم مندرجہ ذیل حقائق حاصل کر سکتے ہیں۔
- ضلع گورداسپور کو بھارت کے حوالے کر کے کشمیر پر بھارت کا تسلط قائم کرانے
والے مجرم۔۔۔ قادیانی
- دریاؤں کی کمان بھارت کے حوالے کر کے پاکستان کی معیشت کو ہندو بنئے کے
سفاک ہاتھوں میں دینے والے غدار۔۔۔ قادیانی
- نہری پانی کے جھگڑے کے بانی عیار۔۔۔ قادیانی
- کشمیر میں ۱۹۶۵ء کی فضول اور تباہ کن جنگ شروع کر کے ہزاروں کشمیری
مسلمانوں کو شہید و زخمی کرنے والے، انہیں بے گھر کرانے والے، اور عفت ماب عورتوں کی عصمتیں لٹوانے والے دشمن اسلام۔۔۔ قادیانی
- کشمیر کمیٹی کے نام پر کشمیری مسلمانوں میں ارتداد پھیلانے اور ان سے متاع
ایمان چھین کر انہیں مرتد بنانے والے ایمان کے ڈاکو۔۔۔ قادیانی
- اسرائیلی فوج میں بھرتی ہو کر اور جدید کمانڈو ٹریننگ لے کر ہندوستانی فوج کے
ساتھ مل کر کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے والے درندے۔۔۔ قادیانی
- پاکستان اور آزاد کشمیر کے کلیدی عہدوں پر بیٹھ کر وطن عزیز اور کشمیری مجاہدین
کے انتہائی اہم راز بھارت کو پہنچانے والے ہندو ایجنٹ۔۔۔ قادیانی
پانی بھی مانگتا نہیں تیرا ڈسا ہوا
اے مسلمان مرد و زن و پیر و جوان! آج ہمارے کشمیری مسلمان بھائی سربلندی اسلام کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ کائنات کے بدترین مشرک ہندو سے برسر پیکار ہیں۔ وہ گھر جلوا کر، بچے کٹوا کر اور عصمتیں لٹوا کر گلی گلی علم جہاد بلند کر چکے ہیں۔ وہ انتہائی نامساعد
اور کٹھن حالات میں گھرے ہوئے ہیں۔
دیکھو! ظالم ہندو کی مدد کے لئے یہود و نصاریٰ اور قادیانی پہنچ گئے ہیں۔ لیکن ہم لبوں پر مہر سکوت لگائے ساحل کے تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ اے آغوش دنیا میں مست مسلمان! کشمیری مسلمان تیری راہ تک رہا ہے۔ اس کے کان تیرے قدموں کی آہٹ سننے کے لئے بیتاب ہیں۔ وہ تجھے مدد کے لئے پکار رہا ہے۔ اس طرح جس طرح راجہ داہر کے لٹیروں میں گھری ہوئی مسلمان عورت نے حجاج بن یوسف کو پکارا تھا۔ دیکھو قرآن ہم دنیا مستوں کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر کہہ رہا ہے۔
”تمہیں کیا ہو گیا ہے۔ کہ تم خدا کی راہ میں ان مردوں، عورتوں اور بچوں کے لئے نہیں لڑتے جنہیں کمزور پا کر دبا لیا گیا ہے۔ اور جو دعائیں مانگتے ہیں کہ خدایا ہمیں اس بستی سے نکال جس کے کار فرما ظالم ہیں۔“
(سورہ النساء)
دیکھو صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم ہماری توجہ ان مظلوم و بے کس مسلمانوں کی طرف دلاتے ہوئے اور اس کار عظیم کا اجر و انعام بھی بتاتے ہوئے فرما رہے ہیں۔
”جس نے کسی مجاہد کو سامان دلا دیا اور روپیہ سے اس کی امداد کی یا اس کے بیوی بچوں کی اس کے پیچھے پوری پوری خدمت کی تو اس شخص کو غازی کے برابر ثواب ملتا ہے۔ اور غازی کے ثواب میں کچھ کمی نہیں ہوتی۔“
(صحاح)
اگر ہم نے قرآن اور صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کی صدا پر گوش ہوش نہ رکھے اور دنیا کی لذتوں کے اسیر رہے تو پھر خوبصورت گھروں میں بیٹھ کر ہمیں اللہ کے عذاب کا انتظار کرنا چاہئے۔
”جو مسلمان اپنی زندگی میں نہ کبھی اللہ کی راہ میں لڑا۔ نہ کسی مجاہد کے لئے سامان جہاد مہیا کیا اور نہ کسی مجاہد کے اہل و عیال میں خیر خواہی کے ساتھ مقیم رہا۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو قیامت سے پہلے ایک عذاب و مصیبت میں مبتلا کریں گے۔“
(ابو داؤد)
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا
بسم الله الرحمن الرحيم
انا خاتم النبیین لانبی بعدی
فتنۂ قادیانیت
کو
پہچانیے
(سوالاً جواباً)
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ
خشت اول
ہماری بدنصیبی کہ قادیانی مرتد‘ زندیق‘ گستاخ رسولؐ‘ باغی ختم نبوت‘ مجرمان تحریف قرآن و حدیث‘ غداران ملت و دین‘ آلہ کاران یہود و نصاریٰ ہونے کے باوجود خدا کی دھرتی پر بڑی عیش و عشرت اور کروفر کے ساتھ زندہ ہیں اور اپنی دجالی صورتیں اور منحوس وجود لیے اسلام اور ملت اسلامیہ کے خلاف تخریبی کارروائیوں میں پوری توانائیوں کے ساتھ جتے ہوئے ہیں۔
افسوس صد افسوس! وہ طائفہ مرتدین جسے تہ تیغ ہونا تھا‘ وہ گروہ زندیقین جسے تختہ دار پہ جھولنا تھا‘ سارقان ختم نبوت کی وہ جماعت جسے خاک و خون میں تڑپنا تھا اور جس کا بند بند کاٹا جانا تھا‘ آج ہمارے معاشرے کا رواں دواں حصہ ہے اور اپنے آقاؤں کی بخشی ہوئی دولت اور عطا کردہ کلیدی عہدوں کی طاقت سے سوسائٹی میں ایک طاقتور حیثیت حاصل کر چکے ہیں اور وہ مسلم معاشرے میں اس طرح گھل مل گئے ہیں جیسے دونوں کے مابین کوئی فرق ہی نہیں۔ جب فکر کے بلند مینارے پر بیٹھ کر ایک عمیق نگاہ اپنے معاشرے پر ڈالتے ہیں تو چشم حیرت دیکھتی ہے کہ کسی کا بھائی قادیانی‘ کسی کا چچا قادیانی‘ کسی کا شوہر قادیانی‘ کسی کی بیوی قادیانی‘ کسی کا استاد قادیانی‘ کسی کا شاگرد قادیانی‘ کوئی قادیانی کا افسر‘ کوئی قادیانی کا ماتحت‘ کوئی قادیانی کا جگری دوست‘ کوئی قادیانی کا شریک کاروبار‘ کوئی قادیانی کا ہمسایہ‘ کہیں قادیانی کی فیکٹری میں مسلمان ملازم‘ کہیں مسلمان کی فیکٹری میں قادیانی اعلیٰ عہدوں پر تعینات...... پھر یہ تعلقات مزید بڑھتے ہیں‘ پروان چڑھتے ہیں اور ایک خطرناک موڑ مڑ کر وادی ایمان شکن کے نشیب میں اتر جاتے ہیں..... پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک دوسرے کے جنازے پڑھے جا رہے ہیں..... آپس میں رشتے ناتے طے کیے جا رہے ہیں..... خوشی کے موقعوں پر تحائف کا تبادلہ ہو رہا ہے..... عید کے موقع پر بغل گیریاں ہو رہی ہیں اور ماتھے چومے جا رہے ہیں..... شادیوں میں کھانا اکٹھا کھایا جا رہا ہے‘ قہقہے لگ رہے ہیں اور خود کو مسلمان کہلوانے والا ”قادیانی دولہا“ کے وکیل کی حیثیت سے نکاح فارم پر دستخط کر رہا ہے...... چند ٹکوں کے لیے مسلمان اساتذہ قادیانیوں
کے گھروں میں ٹیوشن پڑھا رہے ہیں اور مرتدوں کے ہاں سے چائے شربت بھی اڑا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ تحریف قرآن کے مجرموں کے گھروں میں مسلمان بچے قرآن پڑھنے جا رہے ہیں‘ شعائر اسلامی کی توہین کرنے کے جرم میں اگر کوئی قادیانی پکڑا گیا ہے تو عدالت کے ایوان میں مسلمان وکیل دنیائے فانی کی دولت فانی کے چند روپوں کے عوض اس مجرم اسلام کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے بڑے پرجوش انداز میں دلائل کے انبار لگا رہا ہے۔ غرضیکہ کفر و ایمان کی حد فاصل کو منہدم کیا جا رہا ہے۔ لیکن ان میں سے بہتوں کو معلوم نہیں کہ وہ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے ایمان کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ وہ اس حقیقت سے آشنا نہیں کہ وہ جہالت کی شمشیر سے اپنی دینی غیرت کے ٹکڑے کر رہے ہیں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو تڑپا رہے ہیں اور اللہ کی آتش انتقام کو دعوت انتقام دے رہے ہیں۔ اللہ اجر عظیم عطا فرمائے مجاہد اسلام‘ پاسبان ختم نبوت‘ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ کو جو ایک طویل مدت سے ملت اسلامیہ کو فتنہ قادیانیت اور اس کی خطرناک چالوں سے آگاہ کر رہے ہیں اور افراد امت کی تربیت کر کے انہیں اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے صف آرا کر رہے ہیں۔ یہ کتابچہ ان سوالات کے مجموعہ سے انتخاب ہے جو اندرون و بیرون ملک کے قارئین روزنامہ ”جنگ“ کراچی اور ہفت روزہ ”انٹرنیشنل“ ختم نبوت میں مولانا سے پوچھتے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب نے حسن نیت اور حسن طباعت سے اسے شائع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ اب کتابچہ آپ کے ہاتھوں میں ہے اور آپ کے در دل پہ دستک دے رہا ہے کہ خدارا مجھے پڑھو اور پڑھاؤ۔۔۔۔۔۔ سمجھو اور سمجھاؤ۔۔۔۔۔۔ جاگو اور جگاؤ۔۔۔۔۔۔ بچو اور بچاؤ!!!
خاتم النبیین محمد عربی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے عشق و وفا کا رشتہ عظیم رکھنے والے تمام مسلمانوں سے التماس ہے کہ اس کتابچہ کو اپنی اپنی استعداد کے مطابق چھپوا کر گلی گلی‘ کوچہ کوچہ‘ قریہ قریہ‘ گاؤں گاؤں‘ قصبہ قصبہ اور ملک ملک میں پھیلا کر یہ ثابت کر دیں کہ
ناموس محمدؐ کے پاسدار ہیں ہم لوگ
محمد طاہر رزاق
مسلمان کی تعریف
س : قرآن اور حدیث کے حوالہ سے مختصراً بتائیں کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے؟ ج : ایمان نام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے پورے دین کو بغیر کسی تحریف و تبدیلی کے قبول کرنے کا اور اس کے مقابلہ میں کفر نام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی کسی قطعی و یقینی بات کو نہ ماننے کا۔ قرآن کریم کی بے شمار آیات میں ”ما انزل الی الرسول“ کے ماننے کو ”ایمان“ اور ”ما انزل الی الرسول“ میں سے کسی ایک کے نہ ماننے کو کفر فرمایا گیا ہے۔ اسی طرح احادیث شریفہ میں بھی یہ مضمون کثرت سے آیا ہے، مثلاً صحیح مسلم (جلد اول، ص۳۷) کی حدیث میں ہے ”اور وہ ایمان لائیں مجھ پر اور جو کچھ میں لایا ہوں اس پر“۔۔۔۔۔۔ اس سے مسلمان اور کافر کی تعریف معلوم ہو جاتی ہے یعنی جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی تمام قطعی و یقینی باتوں کو من و عن مانتا ہو، وہ مسلمان ہے اور جو شخص قطعیات دین میں سے کسی ایک کا منکر ہو یا اس کے معنی و مفہوم کو بگاڑتا ہو وہ مسلمان نہیں، بلکہ کافر ہے۔
مثال کے طور پر قرآن مجید نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم النبیین فرمایا ہے اور بہت سی احادیث شریفہ میں اس کی یہ تفسیر فرمائی گئی کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اور امت اسلامیہ کے تمام فرقے (اپنے اختلافات کے باوجود) یہی عقیدہ رکھتے آئے ہیں۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے اس عقیدے سے انکار کر کے نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس وجہ سے قادیانی غیر مسلم اور کافر قرار پائے۔
اسی طرح قرآن کریم اور احادیث شریفہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخری
زمانے میں نازل ہونے کی خبر دی گئی ہے۔ مرزا قادیانی اور اس کے متبعین اس عقیدے سے منحرف ہیں۔ اور وہ مرزا کے عیسیٰ ہونے کے مدعی ہیں‘ اس وجہ سے بھی وہ مسلمان نہیں۔ اس طرح قرآن کریم اور احادیث شریفہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیروی کو قیامت تک مدار نجات ٹھہرایا گیا ہے لیکن مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میری وحی نے شریعت کی تجدید کی ہے۔ اس لیے اب میری وحی اور میری تعلیم مدار نجات ہے (اربعین نمبر ۴‘ ص ۷ حاشیہ) غرض کہ مرزا قادیانی نے بے شمار قطعیات اسلام کا انکار کیا ہے۔ اس لیے تمام اسلامی فرقے ان کے کفر پر متفق ہیں۔
مسلمان اور قادیانیوں کے کلمہ اور ایمان میں بنیادی فرق
س : انگریزی دان طبقہ اور وہ حضرات جو دین کا زیادہ علم نہیں رکھتے لیکن مسلمانوں کے آپس کے افتراق سے بیزار ہیں‘ قادیانیوں کے سلسلہ میں بڑے گو مگو میں ہیں۔ ایک طرف وہ جانتے ہیں کہ کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہنا چاہیے جبکہ قادیانیوں کو کلمہ کا بیج لگانے کی بھی اجازت نہیں ہے‘ دوسری طرف وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جھوٹا دعویٰ نبوت کیا تھا۔ برائے مہربانی آپ بتائیے کہ قادیانی جو مسلمانوں کا کلمہ پڑھتے ہیں‘ کیونکر کافر ہیں؟
ج : قادیانیوں سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ اگر مرزا غلام احمد قادیانی نبی ہیں جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے تو پھر آپ لوگ مرزا صاحب کا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے؟ مرزا صاحب کے صاحب زادے مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے اپنے رسالہ ”کلمتہ الفصل“ میں اس سوال کے دو جواب دیئے ہیں۔ ان دونوں جوابوں سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمہ میں کیا فرق ہے؟ اور یہ کہ قادیانی صاحبان ”محمد رسول اللہ“ کا مفہوم کیا لیتے ہیں؟
مرزا بشیر احمد صاحب کا پہلا جواب یہ ہے کہ
”محمد رسول اللہ کا نام کلمہ میں اس لیے رکھا گیا ہے کہ آپ نبیوں کے سرتاج اور خاتم النبیین ہیں‘ اور آپ کا نام لینے سے باقی سب نبی خود اندر آ جاتے ہیں۔ ہر ایک
کا علیحدہ نام لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
ہاں! حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کے آنے سے ایک فرق ضرور پیدا ہو گیا ہے اور وہ یہ کہ مسیح موعود (مرزا صاحب) کی بعثت سے پہلے تو محمد رسول اللہ کے مفہوم میں صرف آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء شامل تھے مگر مسیح موعود (مرزا صاحب) کی بعثت کے بعد ”محمد رسول اللہ“ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہو گئی۔
غرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لیے یہی کلمہ ہے۔ صرف فرق اتنا ہے کہ مسیح موعود (مرزا صاحب) کی آمد نے محمد رسول اللہ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کر دی ہے اور بس“۔
یہ تو ہوا مسلمانوں اور قادیانی غیر مسلم اقلیت کے کلمے میں پہلا فرق۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ قادیانیوں کے کلمہ کے مفہوم میں مرزا قادیانی بھی شامل ہے اور مسلمانوں کا کلمہ اس نئے نبی کی ”زیادتی“ سے پاک ہے۔ اب دوسرا فرق سنئے! مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے لکھتے ہیں:
”علاوہ اس کے اگر ہم بفرض محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریمؐ کا اسم مبارک اس لیے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود (مرزا صاحب) نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ (یعنی مرزا صاحب) خود فرماتا ہے ”صار وجودی وجودہ“۔ (یعنی میرا وجود محمد رسول اللہ ہی کا وجود بن گیا ہے۔ از ناقل) نیز ”من فرق بینی و بین المصطفےٰ فما عرفنی و ما رائی“ (یعنی جس نے مجھ کو اور مصطفیٰ کو الگ الگ سمجھا‘ اس نے مجھے نہ پہچانا نہ دیکھا۔ ناقل) اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیینؐ کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔ (نعوذ باللہ ۔ ناقل) جیسا کہ آیت اخرین منھم سے ظاہر ہے۔
”پس مسیح موعود (مرزا صاحب) خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘ رسول اللہ ہیں جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔
ہاں! اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی“۔۔۔۔۔ فند
ہوا...... (”کلمۃ الفصل“ ص ۱۵۸‘ مندرجہ رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ جلد ۱۴‘ نمبر ۳-۴‘ بابت ماہ مارچ و اپریل ۱۹۱۵ء)
یہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمہ میں دوسرا فرق ہوا کہ مسلمانوں کے کلمہ شریف میں ”محمد رسول اللہ“ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں اور قادیانی جب ”محمد رسول اللہ“ کہتے ہیں تو اس سے مرزا غلام احمد قادیانی مراد ہوتے ہیں۔
مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے جو لکھا ہے کہ ”مرزا صاحب خود محمد رسول اللہ ہیں جو اشاعت اسلام کے لیے دنیا میں دوبارہ تشریف لائے ہیں“ یہ قادیانیوں کا بروزی فلسفہ ہے جس کی مختصر سی وضاحت یہ ہے کہ ان کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں دوبارہ آنا تھا۔ چنانچہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تشریف لائے اور دوسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرزا غلام احمد کی بروزی شکل میں معاذ اللہ مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر میں جنم لیا۔ مرزا صاحب نے ”تحفہ گولڑویہ“- ”خطبہ الہامیہ“ اور دیگر بہت سی کتابوں میں اس مضمون کو بار بار دہرایا ہے۔ (دیکھئے ”خطبہ الہامیہ“ ص ۱۷۱‘ ص ۱۸۰)
اس نظریہ کے مطابق قادیانی امت مرزا صاحب کو ”عین محمد“ سمجھتی ہے۔ اس کا عقیدہ ہے کہ نام‘ کام‘ مقام اور مرتبہ کے لحاظ سے مرزا صاحب اور محمد رسول اللہ کے درمیان کوئی دوئی اور مغائرت نہیں ہے‘ نہ وہ دونوں علیحدہ وجود ہیں بلکہ دونوں ایک ہی شان‘ ایک ہی مرتبہ‘ ایک ہی منصب اور ایک ہی نام رکھتے ہیں‘ چنانچہ قادیانی غیر مسلم اقلیت مرزا غلام احمد کو وہ تمام اوصاف و القاب اور مرتبہ و مقام دیتی ہے جو اہل اسلام کے نزدیک صرف اور صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے۔ قادیانیوں کے نزدیک مرزا صاحب بعینہ محمد رسول اللہ ہیں‘ محمد مصطفیٰ ہیں‘ احمد مجتبیٰ ہیں‘ خاتم الانبیاء ہیں‘ امام الرسل ہیں‘ رحمتہ للعالمین ہیں‘ صاحب کوثر ہیں‘ صاحب معراج ہیں‘ صاحب مقام محمود ہیں‘ صاحب فتح مبین ہیں‘ زمین و زمان اور کون و مکان صرف مرزا صاحب کی خاطر پیدا کیے گئے وغیرہ وغیرہ۔
اسی پر بس نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر بقول ان کے مرزا صاحب کی ”بروزی بعثت“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل بعثت سے روحانیت میں اعلیٰ و اکمل ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ روحانی ترقیات کی ابتدا کا زمانہ تھا اور مرزا صاحب کا زمانہ ان ترقیات کی انتہا کا۔ وہ صرف تائیدات اور دفع بلیات کا زمانہ تھا اور مرزا صاحب کا زمانہ برکات کا زمانہ ہے۔ اس وقت اسلام پہلی رات کے چاند کی مانند تھا جس کی کوئی روشنی نہیں ہوتی اور مرزا صاحب کا زمانہ چودھویں رات کے بدر کامل کے مشابہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تین ہزار معجزے دیئے گئے تھے اور مرزا صاحب کو دس لاکھ‘ بلکہ دس کروڑ بلکہ بے شمار۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذہنی ارتقاء وہاں تک نہیں پہنچا جہاں تک مرزا صاحب نے ذہنی ترقی کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت سے وہ رموز و اسرار نہیں کھلے جو مرزا صاحب پر کھلے۔
مرزا صاحب کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر فضیلت و برتری کو دیکھ کر قادیانیوں کے بقول...... اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت رسول اللہ علیہ وسلم تک تمام نبیوں سے عہد لیا کہ وہ مرزا صاحب پر ایمان لائیں اور ان کی بیعت و نصرت کریں۔ خلاصہ یہ کہ قادیانیوں کے نزدیک نہ صرف مرزا صاحب کی شکل میں محمد رسول اللہ خود دوبارہ تشریف لائے ہیں بلکہ مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر پیدا ہونے والا قادیانی ”محمد رسول اللہ“ اصلی محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے اپنی شان میں بڑھ کر ہے۔ نعوذ باللہ! استغفراللہ! لعنت اللہ علیہ۔
چنانچہ مرزا صاحب کے ایک مرید (یا قادیانی اصطلاح میں مرزا صاحب کے ”صحابی“) قاضی ظہور الدین اکمل نے مرزا صاحب کی شان میں ایک ”نعت“ لکھی جسے خوش خط لکھوا کر اور خوبصورت فریم بنوا کر قادیان کی ”بارگاہ رسالت“ میں پیش کیا۔ مرزا صاحب اپنے نعت خواں سے بہت خوش ہوئے اور اسے بڑی دعائیں دیں۔ بعد میں وہ قصیدہ نعتیہ مرزا صاحب کے ترجمان اخبار ”بدر“ جلد ۲‘ نمبر ۴۳ میں شائع ہوا۔ وہ پرچہ راقم الحروف کے پاس محفوظ ہے۔ اس کے چار شعر ملاحظہ ہوں:
غلام احمد ہوا دارالاماں میں
غلام احمد ہے عرش رب اکبر
مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمدؐ دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(اخبار ”بدر“ قادیان‘ ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء)
مرزا صاحب کا ایک اور نعت خواں‘ قادیان کے ”بروزی محمد رسول اللہ“ کو ہدیہ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتا ہے:
کہ جس پر وہ بدرالدجیٰ بن کے آیا
محمدؐ پئے چارہ سازی امت
ہے اب ”احمد مجتبیٰ“ بن کے آیا
حقیقت کھلی بعثت ثانی کی ہم پر
کہ جب مصطفیٰ مرزا بن کے آیا
(”الفضل“ قادیان‘ ۲۸ مئی ۱۹۲۸ء)
یہ ہے قادیانیوں کا ”محمد رسول اللہ“ جس کا وہ کلمہ پڑھتے ہیں۔
چونکہ مسلمان‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیینؐ اور آخری نبی مانتے ہیں‘ اس لیے کسی مسلمان کی غیرت ایک لمحہ کے لیے بھی یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیدا ہونے والے کسی بڑے سے بڑے شخص کو بھی منصب نبوت پر قدم رکھنے کی اجازت دی جائے کجا کہ ایک ”غلام اسود“ کو ”نعوذ باللہ“ ”محمد رسول اللہ“ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اعلیٰ و افضل بنا ڈالا جائے۔ بنابریں قادیان کی شریعت مسلمانوں پر کفر کا فتویٰ دیتی ہے۔ مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتے ہیں:
”اب معاملہ صاف ہے۔ اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) کا انکار بھی کفر ہونا چاہیے کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں بلکہ وہی ہے“۔
"اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریمؐ کا منکر بھی کافر نہیں کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت (مرزا قادیانی کی بروزی بعثت۔ ناقل) میں جس میں بقول مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔.... آپ کا انکار کفر نہ ہو"۔
("کلمۃ الفصل" ص ۱۴۷)
دوسری جگہ لکھتے ہیں : "ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے"۔
(ص ۱۱۰)
ان کے بڑے بھائی مرزا محمود احمد صاحب لکھتے ہیں : "کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں"۔
("آئینہ صداقت" ص ۳۵)
ظاہر ہے کہ اگر قادیانی بھی اسی محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھتے ہیں جن کا کلمہ مسلمان پڑھتے ہیں تو قادیانی شریعت میں یہ "کفر کا فتویٰ" نازل نہ ہوتا، اس لیے مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمہ کے الفاظ گو ایک ہی ہیں مگر ان کے مفہوم میں زمین و آسمان اور کفر و ایمان کا فرق ہے۔
لاہوری گروپ کیا چیز ہے؟
س : لاہوری گروپ کیا چیز ہے؟ اس کے پیرو کار کون لوگ ہیں؟ ان کا طریقہ عبادت کیا ہے؟ یہ اپنے آپ کو کون سی امت کہلاتے ہیں؟
ج : حکیم نورالدین کے مرنے کے بعد مرزائی جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی۔ جماعت کے بڑے حصہ نے مرزا محمود کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ یہ قادیانی مرزائی کہلاتے ہیں اور ایک مختصر حصہ نے مرزا محمود کی بیعت سے کنارہ کشی اختیار کی۔ ان کا مرکز لاہور تھا اور اس جماعت کا قائد مسٹر محمد علی لاہوری تھا۔ یہ جماعت لاہوری مرزائی کہلاتی ہے۔ ان دونوں جماعتوں میں اس پر اتفاق ہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود تھا۔
مدعی تھا، ظلی نبی تھا۔ اس کی وحی واجب الایمان اور اس کی پیروی موجب نجات ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ مرزا کو حقیقی نبی کہا جائے یا نہیں؟ لاہوری جماعت مرزا کو نبی کہنے سے گھبراتی ہے۔ اسے مسیح موعود، مہدی مسعود اور چودھویں صدی کے مجدد کے ناموں سے یاد کرتی ہے۔ اہل اسلام کے نزدیک ان دونوں جماعتوں کا ...... بلکہ مرزا کو ماننے والی تمام جماعتوں کا ایک ہی حکم ہے کیونکہ مرزا مرتد تھا۔ مرتد کو مسیح ماننے والے بھی مرتد ہوں گے۔
”احمدی“ یا قادیانی
س : ”ختم نبوت“ مسلمانوں کا بہترین رسالہ ہے۔ آپ صرف یہ بتائیں کہ احمدی کا قادیانی سے کیا تعلق ہے۔ کیا احمدی ہی قادیانی کا دوسرا نام ہے اور اگر احمدی کا قادیانی سے کوئی تعلق نہیں تو احمدی کے متعلق مفصل بتائیں کہ وہ کیا ہے اور اس کا اسلام سے کیا تعلق ہے؟
ج : قادیانی مرزائی ہی اپنے آپ کو ”احمدی“ کہتے ہیں اور ان کے ”احمدی“ کہلانے میں بھی بہت بڑا دجل ہے کیونکہ ”احمدی“ نسبت ہے ”احمد“ کی طرف اور قادیانی مرزائی، مرزا غلام احمد کو ”احمد“ کہتے ہیں اور اسے قرآن کی آیت ”ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد“ کا مصداق سمجھتے ہیں اس لیے وہ ”احمد“ کی طرف نسبت کر کے ”احمدی“ کہلاتے ہیں۔ گویا قادیانیوں / مرزائیوں کا اپنے آپ کو ”احمدی“ کہلانا دو باتوں پر موقوف ہے۔
- الف......... مرزا غلام احمد، احمد ہے۔
- ب......... وہ قرآنی آیت کا مصداق ہے۔
اور یہ دونوں باتیں جھوٹ ہیں کیونکہ مرزا کا نام ”احمد“ نہیں بلکہ غلام احمد تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس نالائق غلام نے آقا کی گدی پر قبضہ کر کے خود ”احمد“ ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے اور یہ دوسری بات اس لیے جھوٹ ہے کہ اسم احمد کا مصداق ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں نہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی، اس لیے مرزائیوں کو ”احمدی“ کہنا مسلمانوں کے نزدیک جائز نہیں۔ ہمارا انگریزی پڑھا لکھا طبقہ جو ان کو
”احمدی“ کہتا ہے‘ وہ حقیقت حال سے بے خبر ہے۔
احمد کا مصداق کون ہے؟
س : قرآن پاک میں ۲۸ ویں پارے میں سورۂ صف میں موجود ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے بعد ایک نبی آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا۔ اس سے مراد کون ہیں جبکہ قادیانی مرزا قادیانی مراد لیتے ہیں؟
ج : اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں کیونکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے کئی نام ہیں میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں“۔ (مشکوۃ‘ ص۵۱۵) قادیانی چونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں رکھتے اس لیے وہ اس کو بھی نہیں مانیں گے۔
کافر‘ زندیق‘ مرتد کا فرق
- س : (۱) کافر اور مرتد میں کیا فرق ہے؟
- (۲) جو لوگ کسی جھوٹے مدعی نبوت کو مانتے ہوں وہ کافر کہلائیں
گے یا مرتد؟
- (۳) اسلام میں مرتد کی کیا سزا ہے اور کافر کی کیا سزا ہے؟
- ج : (۱) جو لوگ اسلام کو مانتے ہی نہیں وہ تو کافر اصلی کہلاتے ہیں‘ جو لوگ
دین اسلام کو قبول کرنے کے بعد اس سے برگشتہ ہو جائیں وہ ”مرتد“ کہلاتے ہیں اور جو لوگ دعویٰ اسلام کا کریں لیکن عقائد کفریہ رکھتے ہوں اور قرآن و حدیث کے نصوص میں تحریف کر کے انہیں اپنے عقائد کفریہ پر فٹ کرنے کی کوشش کریں انہیں ”زندیق“ کہا جاتا ہے اور جیسا کہ آگے معلوم ہوگا ان کا حکم بھی ”مرتدین“ کا ہے بلکہ ان سے بھی سخت۔
- (۲) ختم نبوت اسلام کا قطعی اور اٹل عقیدہ ہے اس لیے جو لوگ دعویٰ
اسلام کے باوجود کسی جھوٹے مدعی نبوت کو مانتے ہیں اور قرآن و سنت کے نصوص کو اس جھوٹے مدعی پر چسپاں کرتے ہیں‘ وہ مرتد اور زندیق ہیں۔
- (۳) مرتد کا حکم یہ ہے کہ اس کو تین دن کی مہلت دی جائے اور اس کے
شبہات دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر ان تین دنوں میں وہ اپنے ارتداد سے توبہ کر کے پکا سچا مسلمان بن کر رہنے کا عہد کرے تو اس کی توبہ قبول کی جائے اور اسے رہا کر دیا جائے لیکن اگر وہ توبہ نہ کرے تو اسلام سے بغاوت کے جرم میں اسے قتل کر دیا جائے۔ جمہور آئمہ کے نزدیک مرتد خواہ مرد ہو یا عورت دونوں کا ایک ہی حکم ہے‘ البتہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک مرتد عورت اگر توبہ نہ کرے تو اسے سزائے موت کے بجائے حبس دوام کی سزا دی جائے۔
زندیق بھی مرتد کی طرح واجب القتل ہے لیکن اگر وہ توبہ کرے تو اس کی جان بخشی کی جائے گی یا نہیں؟ امام شافعی فرماتے ہیں کہ اگر وہ توبہ کر لے تو قتل نہیں کیا جائے گا۔ امام مالک فرماتے ہیں کہ اس کی توبہ کا کوئی اعتبار نہیں‘ وہ بہرحال واجب القتل ہے۔ امام احمد سے دونوں روایتیں منقول ہیں ایک یہ کہ اگر وہ توبہ کر لے تو قتل نہیں کیا جائے گا اور دوسری روایت یہ ہے کہ زندیق کی سزا بہر صورت قتل ہے خواہ توبہ کا اظہار بھی کرے۔ حنفیہ کا مختار مذہب یہ ہے کہ اگر وہ گرفتاری سے پہلے از خود توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول کی جائے اور سزائے قتل معاف ہو جائے گی لیکن گرفتاری کے بعد اس کی توبہ کا اعتبار نہیں۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ زندیق مرتد سے بدتر ہے کیونکہ مرتد کی توبہ بالاتفاق قبول ہے لیکن زندیق کی توبہ کے قبول ہونے پر اختلاف ہے۔
قادیانیوں کے ساتھ اشتراک تجارت اور میل ملاپ حرام ہے
س: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں؟
قادیانی اپنی آمدنی کا دسواں حصہ اپنی جماعت کے مرکزی فنڈ میں جمع کراتے ہیں جو مسلمانوں کے خلاف تبلیغ اور ارتدادی مہم پر خرچ ہوتا ہے۔ چونکہ قادیانی مرتد‘ کافر اور دائرۂ اسلام سے متفقہ طور پر خارج ہیں تو کیا ایسے میں ان کے اشتراک سے مسلمانوں کا تجارت کرنا یا ان کی دکانوں سے خرید و فروخت کرنا یا ان سے کسی قسم کے تعلقات یا راہ و رسم رکھنا از روئے اسلام جائز ہے؟
ج: صورت مسئولہ میں اس وقت چونکہ قادیانی کافر‘ محارب اور زندیق ہیں اور
اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت نہیں سمجھتے بلکہ عالم اسلام کے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ تجارت کرنا، خرید و فروخت کرنا ناجائز و حرام ہے کیونکہ قادیانی اپنی آمدنی کا دسواں حصہ لوگوں کو قادیانی بنانے میں خرچ کرتے ہیں۔ گویا اس صورت میں مسلمان بھی سادہ لوح مسلمانوں کو مرتد بنانے میں ان کی مدد کر رہے ہیں، لہٰذا کسی بھی حیثیت سے ان کے ساتھ معاملات ہرگز جائز نہیں۔ اسی طرح شادی، غمی، کھانے پینے میں ان کو شریک کرنا، عام مسلمانوں کا اختلاط، ان کی باتیں سننا، جلسوں میں ان کو شریک کرنا، ملازم رکھنا، ان کے ہاں ملازمت کرنا، یہ سب کچھ حرام بلکہ دینی حمیت کے خلاف ہے، فقط واللہ اعلم۔
قادیانیوں سے میل جول رکھنا
س : میرا ایک سگا بھائی جو میرے ایک اور سگے بھائی کے ساتھ مجھ سے الگ اپنے آبائی مکان میں رہتا ہے، محلہ کے ایک قادیانی کے گھر والوں سے شادی، غمی میں شریک ہوتا ہے۔
میرے منع کرنے کے باوجود وہ اس قادیانی خاندان سے تعلق چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ میں اپنے بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں اور الگ کرائے کے مکان میں رہتا ہوں۔ والد صاحب انتقال کر چکے ہیں۔ والدہ اور بہنیں میرے اس بھائی کے ساتھ رہتی ہیں۔
اب میرے سب سے چھوٹے بھائی کی شادی ہونے والی ہے۔ میرا اصرار ہے کہ وہ شادی میں اس قادیانی کو گھر مدعو نہ کریں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔
اب سوال ہے کہ میرے لیے شریعت اور اسلامی احکامات کی رو سے بھائیوں اور والدہ کو چھوڑنا ہوگا یا میں شادی میں شرکت کروں تو بہتر ہوگا۔ اس صورت حال میں جو بات صائب ہو اس سے براہ کرم شریعت کا منشا واضح کریں۔
ج : قادیانی مرتد اور زندیق ہیں اور ان کو اپنی تقریبات میں شریک کرنا دینی غیرت کے خلاف ہے۔ اگر آپ کے بھائی صاحبان اس قادیانی کو مدعو کریں تو آپ اس
تقریب میں ہرگز شریک نہ ہوں ورنہ آپ بھی قیامت کے دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مجرم ہوں گے۔ واللہ اعلم۔
مرزائیوں کے ساتھ تعلقات رکھنے والا مسلمان
س: ایک شخص مرزائیوں (جو بالاجماع کافر ہیں) کے پاس آتا جاتا ہے اور ان کے لٹریچر کا مطالعہ بھی کرتا ہے اور بعض مرزائیوں سے یہ بھی سنا گیا ہے کہ یہ ہمارا آدمی ہے یعنی مرزائی ہے مگر جب خود اس سے پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ ہرگز نہیں بلکہ میں مسلمان ہوں اور ختم نبوت اور حیات حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ الرحمۃ و فرضیت جہاد وغیرہ تمام عقائد اسلام کا قائل ہوں اور مرزائیوں کے دونوں گروپوں کو کافر، کذاب، دجال، خارج از اسلام سمجھتا ہوں، تو کیا وجوہ بالا کی بنا پر اس شخص پر کفر کا فتویٰ لگایا جائے گا؟ اگر ازروئے شریعت وہ کافر نہیں ہے تو اس پر فتویٰ کفر لگانے کے بارے میں کیا حکم ہے جبکہ ان کے عقائد مذکورہ معلوم ہونے پر بھی تکفیر کرتا ہو اور کفار والا ان کے ساتھ سلوک کرتا ہو اور اس کی نشر و اشاعت کرتا ہو؟
ج: ایسے شخص سے اس کے مسلمان رشتہ دار بائیکاٹ کریں، سلام و کلام ختم کریں، اس کو علیحدہ کردیں اور بیوی اس سے علیحدہ ہو جائے تاکہ یہ شخص اپنی حرکات سے باز آئے۔ اگر باز آگیا تو ٹھیک ہے ورنہ اس کو کافر سمجھ کر کافروں جیسا معاملہ کیا جائے۔
قادیانی کی دعوت اور اسلامی غیرت
س: ایک ادارہ جس میں تقریباً ۲۵ افراد ملازم ہیں اور ان میں ایک قادیانی بھی شامل ہے اور اس قادیانی نے اپنے احمدی (قادیانی) ہونے کا برملا اظہار بھی کیا ہوا ہے۔ اب وہی قادیانی ملازم اپنے ہاں بچے کی پیدائش کی خوشی میں تمام سٹاف کو دعوت دینا چاہتا ہے اور سٹاف کے کئی ممبران اس کی دعوت میں شریک ہونے کو تیار ہیں جبکہ چند ایک ملازمین اس کی دعوت قبول کرنے پر
تیار نہیں کیونکہ ان کے خیال میں چونکہ جملہ قسم کے مرزائی مرتد‘ دائرہ اسلام سے خارج اور واجب القتل ہیں اور اسلام کے غدار ہیں تو ایسے مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی دعوت قبول کرنا درست نہیں ہے۔ آپ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں کہ کسی بھی قادیانی کی دعوت قبول کرنا ایک مسلمان کے لیے کیا حیثیت رکھتا ہے تاکہ آئندہ کے لیے اسی کے مطابق لائحہ عمل تیار ہوسکے؟
ج: مرزائی کافر ہونے کے باوجود خود کو مسلمان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر اور حرامزادے کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ ”میرے دشمن جنگلوں کے سور ہیں‘ اور ان کی عورتیں ان سے بدتر کتیاں ہیں“۔ جو شخص آپ کو کتا‘ خنزیر‘ حرام زادہ اور کافر یہودی کہتا ہو اس کی تقریب میں شامل ہونا چاہیے یا نہیں؟ یہ فتویٰ آپ مجھ سے نہیں بلکہ خود اپنی اسلامی غیرت سے پوچھئے۔
قادیانیوں کی تقریب میں شریک ہونا
س: اگر پڑوس میں زیادہ اہلسنت والجماعت رہتے ہوں‘ چند گھر قادیانی فرقہ کے ہوں‘ ان لوگوں سے بوجہ پڑوسی ہونے کے شادی بیاہ میں کھانا پینا یا ویسے راہ و رسم رکھنا جائز ہے یا نہیں؟
ج: قادیانیوں کا حکم مرتدین کا ہے‘ ان کو اپنی کسی تقریب میں شریک کرنا یا ان کی تقریب میں شریک ہونا جائز نہیں قیامت کے دن خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی جوابدہی کرنا ہوگی۔
قادیانیوں کے گھر کا کھانا
س: قادیانی کے گھر کا کھانا صحیح ہے یا غلط؟
ج: قادیانی کا حکم تو مرتد کا ہے۔ ان کے گھر جانا ہی درست نہیں‘ نہ کسی قسم کا تعلق۔
قادیانی سے تعلقات
س : ۱۔ اگر کسی مسلمان کا رشتہ دار قادیانی ہو اور اس کے ساتھ تعلقات بھی ہوں تو اس کے ساتھ کھانے پینے، لین دین اور قرضے کی صورت میں کیا احکام ہیں؟ اور قادیانی عورت یا قادیانی مرد سے نکاح کرنا کیسا ہے؟
۲۔ اور اگر زوجین میں سے ایک قادیانی ہو جائے تو دوسرے یعنی مسلمان کو کیا کرنا چاہیے اور ان کی بالغ اولاد کے بارے میں کیا حکم ہے کہ انہیں مسلمان کہا جائے گا یا قادیانی؟
ج : ۱۔ قادیانی زندیق و مرتد ہیں، ان کے ساتھ کسی قسم کا تعلق رکھنا ناجائز ہے۔
۲۔ قادیانی اور مسلمان کا باہمی نکاح نہیں ہوسکتا۔ اگر زوجین میں کوئی خدا نخواستہ مرتد قادیانی ہو جائے تو نکاح فوراً فسخ ہو جاتا ہے۔ اولاد مسلمان کے پاس رہے گی۔
(نوٹ : میرے رسائل ”قادیانی جنازہ“۔ ”قادیانی مردہ“ اور ”قادیانی ذبیحہ“ کا مطالعہ ضرور کریں)
قادیانی سہیلی سے تعلق رکھنا
س : میری ایک بہت قریبی دوست ہے جو قادیانی ہے۔ جس وقت میری اس سے دوستی ہوئی تھی، مجھے اس بات کا علم نہیں تھا۔ جب دوستی انتہائی مضبوط اور پختہ ہو گئی اس کے بعد کسی اور ذریعے سے مجھے یہ بات معلوم ہوئی۔ میری اس دوست نے مجھے خود کبھی یہ بات نہیں بتائی اور کبھی دین کے مسئلہ پر کوئی بات بھی نہیں ہوئی۔ اب میری سمجھ میں کوئی بات نہیں آتی کہ کیا کروں؟
۱۔ کیا اپنی اس قادیانی دوست سے تعلق ختم کر لوں؟
ج : جی ہاں! اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق رکھنا ہے تو قادیانی سے تعلق توڑنا ہوگا۔
۲۔ کیا قادیانیوں یا کسی غیر مسلم سے دوستی رکھنا جائز ہے؟
ج : حرام ہے۔
۳۔ قادیانی کافر ہیں یا مرتد؟
ج: قادیانی مرتد اور زندیق ہیں۔ اس کے لیے میرا رسالہ ”قادیانیوں اور دوسرے کافروں کے درمیان کیا فرق ہے؟“ ملاحظہ فرمائیں۔
قادیانی شادی میں شرکت کا حکم
س: کئی سال قبل ایک شادی میں شرکت کی تھی، کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ ماں باپ اور چند اعزہ کی ملی بھگت سے وہ شادی غیر مسلم یعنی قادیانی سے کی گئی ہے۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس شادی میں جو لوگ نادانستہ شریک ہوئے، ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اس لڑکی سے جو اولاد پیدا ہو رہی ہے، اس کو کیا کہا جائے گا؟
ج: جن لوگوں کو لڑکی کے قادیانی ہونے کا علم نہیں تھا، وہ تو گنہگار نہیں ہوئے، اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔
۲۔ جن لوگوں کو علم تھا کہ لڑکی قادیانی ہے اور ان کو قادیانیوں کے عقائد کا علم نہیں تھا، اس لیے ان کو مسلمان سمجھ کر شریک ہوئے، وہ گنہگار ہیں، ان کو توبہ کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہیے۔
۳۔ اور جن لوگوں کو لڑکی کے قادیانی ہونے کا علم تھا اور ان کے عقائد کا بھی علم تھا اور وہ قادیانیوں کو غیر مسلم سمجھتے تھے مگر یہ مسئلہ معلوم نہیں تھا کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کا آپس میں نکاح نہیں ہو سکتا، وہ بھی گنہگار ہیں، ان کو توبہ کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہیے۔
۴۔ اور جن لوگوں کو لڑکی کے قادیانی ہونے کا بھی علم تھا اور ان کے عقائد بھی معلوم تھے، اس کے باوجود انہوں نے قادیانیوں کو مسلمان سمجھا اور مسلمان سمجھ کر ہی اس شادی میں شرکت کی، وہ ایمان سے خارج ہو گئے۔ ان پر تجدید ایمان اور توبہ کے بعد تجدید نکاح لازم ہے۔
قادیانیوں کا حکم مرتد کا ہے۔ مرتد مرد یا عورت کا اس سے نکاح نہیں ہوتا، اس لیے قادیانی لڑکی سے جو اولاد ہو گی، وہ ولد الحرام شمار ہو گی۔
نوٹ : ان مسائل کی تحقیق میرے رسائل ”قادیانی جنازہ“۔ ”قادیانی مردہ“ اور قادیانی ذبیحہ“ میں دیکھ لی جائے۔
مسلمان عورت سے قادیانی کا نکاح
س : ہمارے علاقے میں ایک خاتون رہتی ہیں جو بچوں کو ناظرہ قرآن کی تعلیم دیتی ہیں۔ نیز محلہ کی مستورات تعویذ گنڈے اور دینی مسائل کے بارے میں موصوفہ سے رجوع کیا کرتی ہیں۔ لیکن باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس کا شوہر قادیانی ہے۔ موصوفہ سے دریافت کیا گیا تو اس نے یہ موقف اختیار کیا کہ اگر میرا شوہر قادیانی ہے تو کیا ہوا، میں تو مسلمان ہوں۔ میرا عقیدہ میرے ساتھ اور اس کا اس کے ساتھ۔ اس کے عقائد سے میری صحت پر کیا اثر پڑتا ہے۔ آپ سے یہ دریافت کرنا مطلوب ہے کہ
- ۱- کسی مسلمان مرد یا عورت کا کسی قادیانی مذہب کے حامل افراد سے
زن و شوہر کے تعلقات قائم رکھنا کیسا ہے؟
- ۲- اہل محلہ کا شرعی معاملات میں اس خاتون سے رجوع کرنا نیز
معاشرتی تعلقات قائم رکھنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
ج: کسی مسلمان خاتون کا کسی غیر مسلم سے نکاح نہیں ہو سکتا، نہ قادیانی سے نہ کسی دوسرے غیر مسلم سے اور نہ کوئی مسلمان خاتون کسی قادیانی کے گھر رہ سکتی ہے، نہ اس سے میاں بیوی کا تعلق رکھ سکتی ہے۔ یہ خاتون، جس کا سوال میں ذکر کیا گیا ہے، اگر اس کو یہ مسئلہ معلوم نہیں تو اس کو اس کا مسئلہ بتا دیا جائے۔ مسئلہ معلوم ہونے کے بعد اسے چاہیے وہ قادیانی مرتد سے فوراً قطع تعلق کرلے اور اگر وہ مسئلہ معلوم ہونے کے بعد بھی بدستور قادیانی کے ساتھ رہتی ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ درحقیقت خود بھی قادیانی ہے، محض بھولے بھالے مسلمانوں کو الو بنانے کے لیے وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتی ہے۔ محلے کے مسلمانوں کو آگاہ کیا جائے کہ اس سے قطع تعلق کریں اور اس سے بھی وہی سلوک کریں جو قادیانی مرتدوں سے کیا جاتا ہے۔ اس سے بچوں کو قرآن کریم پڑھوانا، تعویذ گنڈے لینا، دینی مسائل میں اس سے رجوع کرنا، اس سے معاشرتی
تعلقات رکھنا حرام ہے۔
اگر کوئی جانتے ہوئے قادیانی عورت سے نکاح کرلے تو اس کا شرعی حکم
س : اگر کوئی شخص کسی قادیانی عورت سے یہ جاننے کے باوجود کہ یہ عورت قادیانی ہے‘ عقد کرلیتا ہے تو اس کا نکاح ہوا کہ نہیں اور اس شخص کا ایمان باقی رہا یا نہیں؟
ج : قادیانی عورت سے نکاح باطل ہے۔ رہا یہ کہ قادیانی عورت سے نکاح کرنے والا مسلمان بھی رہا یا نہیں؟ اس میں یہ تفصیل ہے کہ
- (الف) اگر اس کو قادیانیوں کے کفریہ عقائد معلوم نہیں۔ یا
- (ب) اس کو یہ مسئلہ معلوم نہیں کہ قادیانی مرتدوں کے ساتھ نکاح نہیں ہوسکتا تو
ان دونوں صورتوں میں اس شخص کو خارج از ایمان نہیں کہا جائے گا البتہ اس شخص پر لازم ہے کہ مسئلہ معلوم ہونے پر اس قادیانی مرتد عورت کو فوراً علیحدہ کردے اور آئندہ کے لیے اس سے ازدواجی تعلقات نہ رکھے اور اس فعل پر توبہ کرے اور اگر یہ شخص قادیانیوں کے عقائد معلوم ہونے کے باوجود ان کو مسلمان سمجھتا ہے تو یہ شخص بھی کافر اور خارج از ایمان ہے کیونکہ عقائد کفریہ کو اسلام سمجھنا خود کفر ہے۔ اس شخص پر لازم ہے کہ اپنے ایمان کی تجدید کرے۔
قادیانی نواز وکلاء کا حشر
س : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان دین متین اس مسئلے میں کہ گزشتہ دنوں مردان میں قادیانیوں نے ربوہ کی ہدایت پر کلمہ طیبہ کے بیج بنوائے‘ پوسٹر بنوائے اور بیج اپنے بچوں کے سینوں پر لگائے اور پوسٹر دکانوں پر لگا کر کلمہ طیبہ کی توہین کی۔ اس حرکت پر وہاں کے علماء کرام اور غیرت مند مسلمانوں نے عدالت میں ان پر مقدمہ دائر کردیا اور فاضل جج نے ضمانت مسترد کرتے ہوئے ان کو جیل بھیج دیا۔ اب عرض یہ ہے کہ وہاں کے مسلمان وکلاء صاحبان ان قادیانیوں کی پیروی کر رہے ہیں اور چند پیسوں کی خاطر ان کے ناجائز عقائد کو جائز کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان وکلاء صاحبان میں ایک سید ہے۔
براہ کرم قرآن اور احادیث نبویؐ کی روشنی میں تفصیل سے تحریر فرماویں کہ شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی رو سے ان وکلاء صاحبان کا کیا حکم ہے؟
ج: قیامت کے دن ایک طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیمپ ہو گا اور دوسری طرف مرزا غلام احمد قادیانی کا۔ یہ وکلاء، جنہوں نے دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف قادیانیوں کی وکالت کی ہے، قیامت کے دن غلام احمد کے کیمپ میں ہوں گے اور قادیانی ان کو اپنے ساتھ دوزخ میں لے کر جائیں گے۔ واضح رہے کہ کسی عام مقدمے میں کسی قادیانی کی وکالت کرنا اور بات ہے لیکن شعائر اسلامی کے مسئلہ پر قادیانیوں کی وکالت کے معنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مقدمہ لڑنے کے ہیں۔ ایک طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہے اور دوسری طرف قادیانی جماعت ہے۔ جو شخص دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں قادیانیوں کی حمایت و وکالت کرتا ہے، وہ قیامت کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل نہیں ہو گا، خواہ وہ وکیل ہو یا کوئی سیاسی لیڈر یا حاکم وقت۔
قادیانی نواز کو سمجھایا جائے
س: قادیانی کافر، مرتد اور زندیق ہیں۔ جو شخص ان کے ساتھ لین دین رکھتا ہے، کھاتا پیتا ہے اور مسلمانوں کی بات کو رد کرتا ہے، قرآن و سنت کے مطابق اس آدمی کا بائیکاٹ کیا جائے یا نہیں؟ اس کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے، جس سے وہ آدمی اس حرکت سے باز آجائے؟
ج: قادیانیوں کو کافر و مرتد اور زندیق بھی سمجھتا ہے، اگر ان سے کاروبار کرتا ہے تو اپنی ایمانی کمزوری سے ایسا کرتا ہے۔ اس کو سمجھانے کی کوشش کی جائے اور اس سے قطع تعلق نہ کیا جائے۔
قادیانی نوازوں کے بارے میں مفید مشورہ
س: ہمارے علاقہ میں کچھ مرزائی رہتے ہیں۔ جب ہم نے ان کے خلاف مہم شروع کی تو کچھ لوگوں نے تو ہمارا ساتھ دیا لیکن بعض نے ہماری مخالفت کی۔ ہمیں برا بھلا کہا لیکن ہم نے ان کی پروا کیے بغیر کام کیا۔ مخالفوں
نے مرزائیوں کی حمایت کی‘ ان کو پناہ دی‘ ان کو کاروبار چلانے کے لیے جگہ دی‘ ان کی ہر ممکن امداد کی‘ ان سے ہر قسم کا برتاؤ کیا‘ ان کے ساتھ کھانا کھایا‘ چائے پی‘ ہم نے ان کو ٹوکا تو ہمارے خلاف ہو گئے۔ آپ براہ مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں ان سوالوں کا جواب دیں۔
- ١- مرزائی نوازوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟
- ٢- ہمیں مرزائی نوازوں کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟
- ٣- مرزائی نواز مسجد میں نماز پڑھتے ہیں۔ کیا ان کو مسجد میں نماز پڑھنے
دینا چاہیے؟
- ٤- کیا مرزائی نوازوں کا ایمان خطرے میں نہیں ہے؟ ان سوالوں کا
جواب جلدی دیں‘ شکریہ۔ ہم رسالہ ”ختم نبوت“ مسلسل اڑھائی ماہ سے پڑھ رہے ہیں۔ اس کا انتظار رہتا ہے۔ ان سوالوں کا جواب جلدی اور ضرور دیں۔
ج: ان بے چاروں کو مرزائیوں کے عقائد کا علم نہیں ہو گا یا مرزائیوں نے ان کو کسی تدبیر سے جکڑ رکھا ہو گا۔ آپ انہیں ختم نبوت اور قادیانیوں کے متعلق لٹریچر پڑھائیں۔
قادیانیوں کا ذبیحہ حرام ہے
س: کیا قادیانیوں کے ہاتھ کا لایا ہوا سودا سلف اور ان کا ذبیحہ جائز ہے اور ان کا ذبح کیا ہوا جانور جائز ہے؟
ج: قادیانیوں کا ذبح کیا ہوا جانور تو مردار اور حرام ہے‘ ان کا لایا ہوا سودا سلف جائز ہے مگر ان سے منگوانا جائز نہیں اور ان سے قطع تعلق نہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔
س: کیا اسلام مجھے اپنی بیوی پر یہ پابندی لگانے کا حق دیتا ہے کہ میں اپنی بیوی کو قادیانی رشتہ داروں سے نہ ملنے دوں؟
ج: ضرور پابندی ہونی چاہیے۔
جس نے کہا قادیانی مسلمانوں سے اچھے ہیں‘ وہ قادیانیوں سے بدتر کافر
ہو گیا
س: میرے ایک (مسلمانوں) سے مرزائی اچھے ہیں‘ نماز پڑھتے ہیں‘ قرآن ہے کہ ستمبر ۱۹۷۴ء میں اس تھا‘ جس میں علمائے دین کے آپ قرآن و سنت کی روشنی سے مرزائی کو اچھا کہنے والے
ج: جس شخص نے سے بدتر کافر ہو گیا۔ اپنے اس کـ
قادیانیوں کو مسلمان سمجھنے
س: کوئی شخص قـ سے بہتر مسلمان ہیں۔ اسلام
ج: جو شخص قادیانیوں سمجھے تو ایسا شخص خود مرتد ہے کہ
مرزائی کا جنازہ
س: ہمارے گاؤں سے ٹھیک ٹھاک ہیں۔ گزشتہ نے اس مرزائی کا جنازہ پڑھـ قبرستان میں بطور افسوس چـ تمہارا جنازہ نہیں پڑھیں گے گے۔ پھر انہوں نے مولوی بلا چوں و چرا اس مرزائی کا جنا حیرت ہوئی کہ الٰہی کیا ماجرا ۔ پھر مغرب کی نماز کے وقت
س : میرے ایک مسلمان ساتھی نے بحث کے دوران کہا کہ آپ (مسلمانوں) سے مرزائی اچھے ہیں اور مرزائی مسلمان ہیں کیونکہ وہ کلمہ پڑھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، قرآن پاک پڑھتے ہیں حالانکہ یہ بات ہر ایک کے علم میں ہے کہ ستمبر ۱۹۷۴ء میں اس وقت کی قومی اسمبلی نے ان کو غیر مسلم قرار دے دیا تھا، جس میں علمائے دین کے کردار و خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اب آپ قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں کہ مرزائی کو مسلمان کہنا اور مسلمان سے مرزائی کو اچھا کہنے والے کے متعلق کیا حکم ہے؟
ج : جس شخص نے یہ کہا کہ قادیانی مسلمانوں سے اچھے ہیں، وہ خود قادیانیوں سے بدتر کافر ہو گیا۔ اپنے اس قول سے توبہ کرے اور اپنے نکاح و ایمان کی تجدید کرے۔
قادیانیوں کو مسلمان سمجھنے والے کا شرعی حکم
س : کوئی شخص قادیانی گھرانے میں رشتہ یہ سمجھ کر کرتا ہے کہ وہ ہم سے بہتر مسلمان ہیں۔ اسلام میں ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہے؟
ج : جو شخص قادیانیوں کے عقائد سے واقف ہو، اس کے باوجود ان کو مسلمان سمجھے تو ایسا شخص خود مرتد ہے کہ کفر کو اسلام سمجھتا ہے۔
مرزائی کا جنازہ
س : ہمارے گاؤں میں چند مرزائیوں کے گھر ہیں جو دنیاوی حالات سے ٹھیک ٹھاک ہیں۔ گزشتہ دنوں ان کا ایک جوان فوت ہو گیا تو ان کے مربی نے اس مرزائی کا جنازہ پڑھایا۔ ہمارے محلے کی مسجد کے امام صاحب بھی قبرستان میں بطور افسوس چلے گئے تو مسلمانوں نے کہا، ہم مرزائی امام کے پیچھے تمہارا جنازہ نہیں پڑھیں گے بلکہ ہم علیحدہ اپنا جنازہ اپنے امام کے پیچھے ادا کریں گے۔ پھر انہوں نے مولوی صاحب کو کہا کہ جنازہ پڑھاؤ تو مولوی صاحب نے بلا چوں و چرا اس مرزائی کا جنازہ پڑھ دیا۔ مجھے اور ایک اور باضمیر مسلمان کو بڑی حیرت ہوئی کہ الٰہی کیا ماجرا ہے۔ ہم دونوں نے جنازہ نہ پڑھا اور واپس آگئے۔ پھر مغرب کی نماز کے وقت مولوی صاحب مسجد میں کہنے لگے کہ مجھ سے گناہ
کبیرہ ہو گیا ہے‘ میرے لیے دعا کریں۔ نیز اس مرزائی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا ہے۔ مسئلہ دریافت طلب یہ ہے کہ کیا ایسے امام کے پیچھے نماز درست ہے؟ وہ جو کہتے ہیں کہ میں اس گناہ پر توبہ کرتا ہوں‘ کیا ایسے آدمی کی توبہ قبول ہے؟ دوسرے مسلمانوں کے متعلق کیا حکم ہے جنہوں نے مرزائی کا جنازہ پڑھا‘ ان سے کیا معاملات رکھیں؟
ج: مرزائی کا جنازہ جائز نہیں اور اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا بھی جائز نہیں۔ جن مسلمانوں نے مرزائی کو کافر سمجھ کر محض دنیاوی وجاہت کی وجہ سے جنازہ پڑھا‘ وہ گنہگار ہوئے۔ ان کو توبہ کرنی چاہیے اور توبہ کے اعلان کے بعد اس امام کے پیچھے نماز جائز ہے اور جن لوگوں نے مرزائیوں کے عقائد معلوم ہونے کے باوجود ان کو مسلمان سمجھ کر مرزائی کا جنازہ پڑھا‘ ان پر تجدید ایمان اور تجدید نکاح لازم ہے۔
کیا مسلمانوں کے قبرستان کے نزدیک کافروں کا قبرستان بنانا جائز ہے؟
س: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی کافر کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا تو جائز نہیں لیکن کسی مسلمان کے قبرستان کے متصل ان کا قبرستان بنانا جائز ہے یا کہ دور ہونا چاہیے؟
ج: ظاہر ہے کہ کافروں مرتدوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام اور ناجائز ہے‘ اس طرح کافروں کو مسلمانوں کے قبرستان کے قریب بھی دفن کرنے کی ممانعت ہے تاکہ کسی وقت دونوں قبرستان ایک نہ ہو جائیں۔ کافروں کی قبر مسلمانوں کی قبروں سے دور ہونی چاہیے تاکہ کافروں کے عذاب والی قبر مسلمانوں کی قبر سے دور ہو کیونکہ اس سے بھی مسلمانوں کو تکلیف پہنچے گی۔
قادیانی مردہ
س: کیا قادیانی اہل کتاب ہیں؟
ج: قادیانی اہل کتاب نہیں بلکہ مرتد اور زندیق ہیں۔
س: قادیانی کے سلام کرنے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟
ج: اس کو سلام نہ کیا جائے‘ نہ جواب دیا جائے۔
س : کیا قادیانی کے ساتھ کھانا پینا یا اس کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا جائز ہے؟
ج : اس کے ساتھ کھانا جائز نہیں۔
س : کسی مسلمان کا کسی قادیانی کی نماز جنازہ میں شریک ہونا یا اس کی میت کو کندھا دینا جائز ہے؟
ج : مرتد کا جنازہ جائز نہیں اور اس میں شرکت بھی جائز نہیں۔
س : کسی قادیانی کا کسی مسلمان کی نماز جنازہ میں شریک ہونے یا میت کو کندھا دینے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا اس کو روکنا صحیح ہے؟
ج : اس کو روک دیا جائے کہ وہ مسلمان کے جنازہ میں شریک نہ ہو‘ نہ کندھا دے۔
س : کسی قادیانی میت کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کے متعلق کیا حکم ہے؟
ج : قادیانی مرتد کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں۔ اگر دفن کر دیا جائے تو اس کا اکھاڑنا ضروری ہے۔
قادیانی مسجد میں داخل نہیں ہو سکتا
س : اگر کوئی قادیانی ہماری مساجد میں آ کر الگ ایک کونے میں جماعت سے الگ نماز پڑھ لے تو ہم اس کو اس کی اجازت دے سکتے ہیں کہ ہماری مسجد میں اپنی مرضی سے نماز پڑھے؟
ج : کسی غیر مسلم کا ہماری اجازت سے ہماری مسجد میں اپنی عبادت کرنا صحیح ہے۔ نصاریٰ نجران کا جو وفد بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا تھا‘ انہوں نے مسجد نبوی (علیٰ صاحبہ الف الصلوۃ والسلام) میں اپنی عبادت کی تھی۔ یہ حکم تو غیر مسلموں کا ہے لیکن جو شخص اسلام سے مرتد ہو گیا ہو‘ اس کو کسی حال میں مسجد میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس طرح جو مرتد اور زندیق اپنے کفر کو اسلام کہتے ہوں‘ جیسا کہ قادیانی مرزائی‘ ان کو بھی مسجد میں آنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
غیر مسلم سے مدرسہ کے لیے چندہ لینا بے غیرتی ہے۔
س : غیر مسلم مرزائی سے مدرسہ یا مسجد کے لیے چندہ لینا کیسا ہے؟
ج : بے غیرتی ہے۔
شیزان کا بائیکاٹ
میں اکثر رسالہ ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں۔ آپ کے رسالہ اور بعض پوسٹروں سے معلوم ہوا تھا کہ شیزان قادیانیوں کی کمپنی ہے‘ اس لیے شیزان کا بائیکاٹ کیا جائے۔ الحمدللہ ابھی تک اپنے ساتھیوں کے ساتھ شیزان کا بائیکاٹ جاری ہے۔
کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ کولڈ ڈرنک کی دکانوں میں ایک پیک ڈبے میں شیزان جوس مل رہا تھا۔ میں اور میرا ایک دوست کولڈ ڈرنک کی دکان میں گئے تو شیزان جوس دیا گیا۔ میں نے اپنے ایک دوست کو بتایا ’یہ قادیانیوں کی کمپنی ہے‘ اس کا بائیکاٹ کیا جائے تو میرے دوست نے بھی اس کا بائیکاٹ کیا۔ جب دکاندار کو معلوم ہوا تو انہوں نے بھی شیزان والوں سے جوس لینا بند کر دیا۔ جب جوس دینے والے نے دکاندار سے پوچھا کہ آپ ہمارا شیزان جوس کیوں نہیں لیتے تو انہوں نے جواب دیا ہمارے علماء کہتے ہیں کہ یہ قادیانیوں کی کمپنی ہے‘ یہ ہمارے دین اور نبیؐ کے دشمن ہیں‘ اس لیے اس کا بائیکاٹ کیا جائے۔ تو انہوں نے کہا کہ مشروبات میں بعض یہودی اور عیسائیوں کی بھی کمپنیاں ہیں‘ آپ ان کا بائیکاٹ کیوں نہیں کرتے ہیں اور وہ بھی پاکستان میں رہتے ہیں‘ ہم بھی پاکستانی ہیں۔
الحمدللہ ابھی کافی لوگوں کو پتہ چلا ہے تو شیزان جوس اور شیزان بوتل کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔
لیکن بعض لوگ پروپیگنڈوں کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں شبہ ڈال رہے ہیں‘ اس لیے میں بعض سوالات اس تحریر میں لکھ رہا ہوں۔
امید ہے آپ اپنے ہفت روزہ ”ختم نبوت“ رسالہ میں ان سوالات کے جوابات اور اس تحریر کو شائع کر کے بہت سے مسلمانوں کے شکوک و شبہات دور فرمائیں گے۔
س : بعض لوگ کہتے ہیں کہ شیزان کمپنی کو مسلمان نے خریدا ہے‘
اب وہ چلا رہے ہیں؟ ج: بظاہر قادیانیوں کا جھوٹا پروپیگنڈہ ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق یہ قادیانیوں کی ملکیت ہے۔
س: کیا شیزان جوس بھی قادیانیوں کی شیزان کمپنی کا تیار کردہ ہے؟ ج: ”شیزان کمپنی“ کے سوا دوسرا کوئی ”شیزان جوس“ کیسے تیار کر سکتا ہے؟
س: کیا بعض مشروبات کمپنیاں عیسائیوں اور یہودیوں کی بھی ہیں۔ اگر ہیں تو نشاندہی فرمائیے تاکہ ان سے بھی ہم اپنے آپ کو بچائیں؟ ج: قادیانی کافر ہیں مگر وہ خود کو مسلمان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر، کتے، خنزیر اور ولد الحرام کہتے ہیں اور پھر اپنی آمدنی کا بڑا حصہ مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لیے خرچ کرتے ہیں، اس لیے قادیانیوں کے ساتھ لین دین قطعاً ناجائز اور غیرت ملی کے خلاف ہے۔ قادیانی مصنوعات کا بائیکاٹ ضروری ہے۔ دوسرے کافروں کے ساتھ لین دین کی ممانعت اس صورت میں ہے جبکہ وہ ہمارے ساتھ حالت جنگ میں ہوں ورنہ ان کے ساتھ لین دین جائز ہے۔
کیا قادیانیوں کو جبراً قومی اسمبلی نے غیر مسلم بنایا ہے؟
س: ”لا اکراہ فی الدین“ یعنی دین میں کوئی جبر نہیں۔ نہ تو آپ جبراً کسی کو مسلمان بنا سکتے ہیں اور نہ ہی جبراً مسلمان کو آپ غیر مسلم بنا سکتے ہیں۔ اگر یہ مطلب ٹھیک ہے تو پھر آپ نے ہم (جماعت احمدیہ) کو کیوں جبراً قومی اسمبلی اور حکومت کے ذریعہ غیر مسلم کہلوایا؟ ج: آیت کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو جبراً مسلمان نہیں بنایا جا سکتا، یہ مطلب نہیں کہ جو شخص اپنے غلط عقائد کی وجہ سے مسلمان نہ رہا، اس کو غیر مسلم بھی نہیں کہا جا سکتا۔ دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ آپ کی جماعت کو قومی اسمبلی نے غیر مسلم نہیں بنایا۔ غیر مسلم تو آپ اپنے عقائد کی وجہ سے خود ہی ہوئے ہیں البتہ مسلمانوں نے غیر مسلم کو غیر مسلم کہنے کا ”جرم“ ضرور کیا ہے۔
منکرین ختم نبوت کے لیے اصل شرعی فیصلہ کیا ہے؟
س: خلیفہ اول بلافصل سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے دور خلافت میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو حضرت صدیق اکبرؓ نے منکرین ختم نبوت کے خلاف اعلان جنگ کیا اور تمام منکرین ختم نبوت کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ اس سے ثابت ہوا کہ منکرین ختم نبوت واجب القتل ہیں لیکن ہم نے پاکستان میں قادیانیوں کو صرف ”غیرمسلم اقلیت“ قرار دینے پر ہی اکتفا کیا۔ اس کے علاوہ اخبارات میں آئے دن اس قسم کے بیانات بھی شائع ہوتے رہتے ہیں کہ ”اسلام نے اقلیتوں کو جو حقوق دیئے ہیں‘ وہ حقوق انہیں پورے پورے دیئے جائیں گے“۔ ہم قادیانیوں کو نہ صرف حقوق اور تحفظ فراہم کیے ہوئے ہیں بلکہ کئی اہم سرکاری عہدوں پر بھی قادیانی فائز ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ منکرین ختم نبوت اسلام کی رو سے واجب القتل ہیں یا اسلام کی طرف سے اقلیتوں کو دیئے گئے حقوق اور تحفظ کے حقدار ہیں؟
ج: منکرین ختم نبوت کے لیے اسلام کا اصل قانون تو وہی ہے جس پر حضرت ابو بکر صدیقؓ نے عمل کیا۔ پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ان کی جان و مال کی حفاظت کرنا ان کے ساتھ رعایتی سلوک ہے۔ لیکن اگر قادیانی اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوں بلکہ مسلمان کہلانے پر مصر ہوں تو مسلمان حکومت سے یہ مطالبہ کرسکتے ہیں کہ ان کے ساتھ مسیلمہ کذاب کی جماعت کا سا سلوک کیا جائے لیکن اسلامی مملکت میں مرتدین اور زندیق کو سرکاری عہدوں پر فائز کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ مسئلہ نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر اسلامی ممالک کے ارباب حل و عقد کی توجہ کا متقاضی ہے۔
حضرت مہدیؑ کے بارے میں نشانیاں
س: حضرت مہدیؑ کے بارے میں نشانیاں کیا کیا ہیں؟ وہ کب تشریف لائیں گے اور کہاں آئیں گے؟ مسلمان انہیں کس طرح پہچانیں گے؟
ج: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتی ہیں کہ ”ایک خلیفہ کی موت پر (ان کی جانشینی کے مسئلہ پر) اختلاف ہوگا تو اہل
مدینہ میں سے ایک شخص بھاگ کر مکہ مکرمہ آ جائے گا (یہ مہدی ہوں گے اور اس اندیشہ سے بھاگ کر مکہ آجائیں گے کہ کہیں ان کو خلیفہ نہ بنا دیا جائے) مگر لوگ ان کے انکار کے باوجود ان کو خلافت کے لیے منتخب کریں گے۔ چنانچہ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان (بیت اللہ شریف کے سامنے) ان کے ہاتھ پر لوگ بیعت کریں گے"۔ "پھر ملک شام سے ایک لشکر ان کے مقابلے میں بھیجا جائے گا، لیکن یہ لشکر "بیداء" نامی جگہ میں، جو مکہ و مدینہ کے درمیان ہے، زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ پس جب لوگ یہ دیکھیں گے تو (ہر خاص و عام کو دور دور تک معلوم ہو جائے گا کہ یہ مہدی ہیں) چنانچہ ملک شام کے ابدال اور اہل عراق کی جماعتیں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے بیعت کریں گی۔ پھر قریش کا ایک آدمی، جس کی ننھیال قبیلہ بنو کلب میں ہوگی، آپ کے مقابلہ میں کھڑا ہوگا۔ آپ بنو کلب کے مقابلے میں لشکر بھیجیں گے۔ وہ ان پر غالب آئے گا اور بڑی محرومی ہے اس شخص کے لیے جو بنو کلب کے مال غنیمت کی تقسیم کے موقع پر حاضر نہ ہو۔ پس حضرت مہدی خوب مال تقسیم کریں گے اور لوگوں میں ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق عمل کریں گے اور اسلام اپنی گردن زمین پر ڈال دے گا (یعنی اسلام کو استقرار نصیب ہوگا)۔ حضرت مہدی سات سال رہیں گے پھر ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے"۔ (یہ حدیث "مشکوۃ شریف" ص ۴۲۱ میں ابوداؤد کے حوالے سے درج ہے اور امام سیوطی نے "العرف الوردی فی آثار المہدی" ص ۵۹ میں اس کو ابن ابی شیبہ احمد ابوداؤد ابویعلیٰ اور طبرانی کے حوالے سے نقل کیا ہے۔
حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے اور جس پر اہل حق کا اتفاق ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی نسل سے ہوں گے اور نجیب الطرفین سید ہوں گے۔ ان کا نام نامی محمد اور والد کا نام عبداللہ ہوگا۔ جس طرح صورت و سیرت میں بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے، اسی طرح وہ شکل و شباہت اور اخلاق و شمائل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوں گے۔ وہ نبی نہیں ہوں گے، نہ ان پر وحی نازل ہوگی، نہ وہ نبوت کا دعویٰ کریں گے، نہ ان کی نبوت پر کوئی ایمان لائے گا۔
ان کی کفار سے خونریز جنگیں ہوں گی۔ ان کے زمانے میں کانے دجال کا خروج ہوگا اور وہ لشکر دجال کے محاصرے میں گھر جائیں گے۔ ٹھیک نماز فجر کے وقت دجال کو قتل کرنے کے لیے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور فجر کی نماز حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں پڑھیں گے۔ نماز کے بعد دجال کا رخ کریں گے۔ وہ لعین بھاگ کھڑا ہوگا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کا تعاقب کریں گے اور اسے باب لد پر قتل کر دیں گے۔ دجال کا لشکر تہہ تیغ ہو گا اور یہودیت و نصرانیت کا ایک ایک نشان مٹا دیا جائے گا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نشانیاں
س : قادیانی کہتے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں جبکہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ وہ آسمان پر زندہ ہیں اور قرب قیامت میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔ براہ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے میں ارشاد فرمائیں، مزید برآں مسلمان انہیں کس طرح پہچانیں گے اور ان کی کیا کیا نشانیاں ہیں؟
ج : قرآن کریم اور احادیث طیبہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کو قیامت کی بڑی نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے اور قیامت سے ذرا پہلے ان کے تشریف لانے کی خبر دی ہے لیکن جس طرح قیامت کا وقت معین نہیں بتایا گیا کہ فلاں صدی میں آئے گی، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا وقت بھی معین نہیں کیا گیا کہ وہ فلاں صدی میں تشریف لائیں گے۔
قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ”اور بے شک وہ نشانی ہے قیامت کی۔ پس تم اس میں ذرا بھی شک مت کرو“۔ (سورۃ زخرف) بہت سے اکابر صحابہ و تابعین نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا قرب قیامت کی نشانی ہے۔ قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تذکرہ میں ہے:
”اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے، مگر ضرور ایمان لائے گا اس پر اس کی موت
سے پہلے اور قیامت کے دن وہ ہوگا ان پر گواہ"۔ (النساء)
اور حدیث شریف میں ہے:
"اور میں سب لوگوں سے زیادہ قریب ہوں عیسیٰ بن مریم کے کیونکہ میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا۔ پس جب تم اس کو دیکھو تو اس کو پہچان لینا، قد میانہ، رنگ سرخ و سفید، بال سیدھے، بوقت نزول ان کے سر سے گویا قطرے ٹپک رہے ہوں گے، خواہ ان کو تری نہ بھی پہنچی ہو، ہلکے رنگ کی دو زرد چادریں زیب تن ہوں گی۔ پس صلیب کو توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ کو بند کریں گے اور تمام مذاہب کو معطل کر دیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا تمام ملتوں کو ہلاک کر دیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں مسیح دجال کذاب کو ہلاک کر دیں گے۔ زمین میں امن و امان کا دور دورہ ہو جائے گا، یہاں تک کہ اونٹ شیروں کے ساتھ، چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چریں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے، ایک دوسرے کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ پس جتنا عرصہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا، زمین پر رہیں گے پھر ان کی وفات ہوگی۔ پس مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے اور انہیں دفن کریں گے۔ ("مسند احمد" ص ۴۳۷، ج ۲، "فتح الباری" ص ۴۹۳، جلد ۶، مطبوعہ لاہور، "التصریح بما تواتر فی نزول المسیح" ۱۶۱)
آپ کے زمانہ کے جو واقعات احادیث طیبہ میں ذکر کیے گئے ہیں، ان کی فہرست خاصی ہے۔ مختصراً
- آپ سے پہلے حضرت مہدی کا آنا۔
- آپ کا عین نماز فجر کے وقت اترنا۔
- حضرت مہدی کا آپ کو نماز کے لیے آگے کرنا اور آپ کا انکار فرمانا۔
- نماز میں آپ کا قنوت نازلہ کے طور پر یہ دعا پڑھنا...... قتل اللہ الدجال۔
- نماز سے فارغ ہو کر آپ کا قتل دجال کے لیے نکلنا۔
- دجال کا آپ کو دیکھ کر سیسے کی طرح پگھلنے لگنا۔
- "باب لد" نامی جگہ پر (جو فلسطین شام میں ہے) آپ کا دجال کو قتل کرنا اور
اپنے نیزے پر لگا ہوا دجال کا خون مسلمانوں کو دکھانا۔
- قتل دجال کے بعد تمام دنیا کا مسلمان ہو جانا، صلیب کے توڑنے اور خنزیر کو
قتل کرنے کا عام حکم دینا۔
- آپ کے زمانہ میں امن و امان کا یہاں تک پھیل جانا کہ بھیڑیئے بکریوں کے
ساتھ اور چیتے گائے بیلوں کے ساتھ چرنے لگیں اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلنے لگیں۔
- کچھ عرصہ بعد یاجوج ماجوج کا نکلنا اور چار سو فساد پھیلانا۔
- ان دنوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اپنے رفقاء سمیت کوہ طور پر تشریف
لے جانا اور وہاں خوراک کی تنگی پیش آنا۔
- بالاخر آپ کی بددعا سے یاجوج ماجوج کا یکدم ہلاک ہو جانا اور بڑے بڑے
پرندوں کا ان کی لاشوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینکنا اور پھر زور کی بارش ہونا اور یاجوج ماجوج کے بقیہ اجسام اور تعفن کو بہا کر سمندر میں ڈال دینا۔
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا عرب کے ایک قبیلہ بنو کلب میں نکاح کرنا اور اس
سے آپ کی اولاد ہونا۔
- ”فج الروحا“ نامی جگہ پہنچ کر حج و عمرہ کا احرام باندھنا۔
- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر پر حاضری دینا اور آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کا روضہ اطہر کے اندر سے جواب دینا۔
- وفات کے بعد روضہ اطہر میں آپ کا دفن ہونا وغیرہ وغیرہ۔
- آپ کے بعد مقعد نامی شخص کو آپ کے حکم سے خلیفہ بنایا جانا اور مقعد کی
وفات کے بعد قرآن کریم کا سینوں اور صحیفوں سے اٹھ جانا۔
- اس کے بعد آفتاب کا مغرب سے نکلنا، نیز دابتہ الارض کا نکلنا اور مومن و
کافر کے درمیان امتیازی نشان لگانا وغیرہ وغیرہ۔
کیا حضرت مہدیؒ و عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی ہیں؟
س : مہدی اس دنیا میں کب تشریف لائیں گے؟ اور کیا مہدی اور عیسیٰ ایک ہی وجود ہیں؟
ج : حضرت مہدی رضوان اللہ علیہ آخری زمانہ میں قرب قیامت میں ظاہر ہوں
گے۔ ان کے ظہور کے تقریباً سات سال بعد دجال نکلے گا اور اس کو قتل کرنے کے لیے عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر تیرہویں صدی کے آخر تک امت اسلامیہ کا یہی عقیدہ رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی دو الگ الگ شخصیتیں ہیں اور یہ کہ نازل ہو کر پہلی نماز حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت مہدی کی اقتداء میں پڑھیں گے۔ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی پہلے شخص ہیں جنہوں نے عیسیٰ اور مہدی کے ایک ہونے کا عقیدہ ایجاد کیا ہے۔ اس کی دلیل نہ قرآن کریم میں ہے، نہ کسی صحیح اور مقبول حدیث میں اور نہ سلف صالحین میں کوئی اس کا قائل ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر احادیث میں وارد ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت حضرت مہدی اس امت کے امام ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت نبی کے تشریف لائیں گے یا بحیثیت
امتی کے؟
س: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت نبی تشریف لائیں گے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کی حیثیت سے؟ اگر آپ بحیثیت نبی تشریف لائیں گے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین کیسے ہوئے؟
ج: حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب تشریف لائیں گے تو بدستور نبی ہوں گے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے ان کی شریعت منسوخ ہوگئی اور ان کی نبوت کا دور ختم ہوگیا، اس لیے جب وہ تشریف لائیں گے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی پیروی کریں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کی حیثیت سے آئیں گے۔ ان کی تشریف آوری ختم نبوت کے خلاف نہیں کیونکہ نبی آخر الزمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مل چکی تھی۔
قادیانیت
انگریز کا خودکاشتہ
پودا
اسرائیل
امریکہ
برطانیہ
جہاد دین اسلام کی روح ہے، ملت اسلامیہ کی نشوونما اور بقا جہاد ہی میں مضمر ہے۔ شہیدوں کا خون ملت اسلامیہ کے چہرے کا غازہ اور شہیدوں کی موت قوم کی حیات ہے۔ مجاہدین فی سبیل اللہ کی شمشیریں ملت کی تقدیریں ہوا کرتی ہیں۔ جہاد ہی وہ جذبہ ہے جس سے سرشار ہو کر ایک مسلمان بڑی سے بڑی طاغوتی طاقت سے ٹکرا جاتا ہے اور اسے پاش پاش کر دیتا ہے۔ جہاد ہی وہ ولولہ ہے جو ایک مسلمان کو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا سکھاتا ہے اور اس میں شہادت کی تڑپ پیدا کرتا ہے۔ قوم مسلم ایک لمحہ کے لیے بھی جہاد کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ جہاد کے بغیر نظام دنیا تلپٹ ہو کر رہ جاتا ہے۔ طاغوتی طاقتیں سر اٹھاتی ہیں، نئے نئے فتنے جنم لیتے ہیں، نظام ہائے باطل زمین پر اپنے پنجے گاڑنے لگتے ہیں، جھوٹے خدا اور جھوٹے نبی پیدا ہونے لگتے ہیں، طاقتور کمزوروں کے گلے کاٹنے لگتے ہیں، امراء غریبوں کا خون چوسنے لگتے ہیں۔ الغرض خدا کی زمین پر ظلم و بربریت کی ایک ایسی ہولناک آگ لگ جاتی ہے کہ انسانیت چیخ اٹھتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبیؐ پر نازل ہونے والی اپنی آخری کتاب قرآن مجید میں بار بار جہاد کا حکم دیا ہے کیونکہ جہاد ہی وہ واحد قوت ہے جس سے ابلیسی نظاموں اور ابلیسی کارندوں کی بیخ کنی کی جا سکتی ہے اور اس مادر گیتی کو امن و اخوت کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے، چنانچہ ارشادات ربانی ہیں۔ (تراجم)
- نکلو ہلکے اور بوجھل اور لڑو اپنے مال سے اور جان سے اللہ کی راہ میں۔
(سورۃ التوبہ)
- اللہ نے خرید لی مسلمانوں سے ان کی جان اور ان کا مال اس قیمت پر کہ ان
کے لیے جنت ہے۔ لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں، پھر مارتے ہیں اور مرتے ہیں۔
(التوبہ)
- اے ایمان والو! میں بتلاؤں تم کو ایسی سوداگری جو بچائے تم کو ایک عذاب
دردناک سے‘ ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسولؐ پر‘ اور لڑو اللہ کی راہ میں اپنے مال سے اور اپنی جان سے‘ یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔ بخشے گا وہ تمہارے گناہ اور داخل کرے گا تم کو باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں اور ستھرے گھروں میں بسنے کے باغوں کے اندر‘ یہ ہے بڑی مراد ملنی‘ اور ایک اور چیز دے‘ جس کو تم چاہتے ہو مدد اللہ کی طرف سے اور فتح جلدی اور خوشی سنا دے ایمان والوں کو۔ (سورۃ الصف)
- اور لڑو ان سے یہاں تک کہ نہ باقی رہے فساد اور حکم رہے اللہ تعالیٰ کا۔ (البقرہ)
- پھر جب گزر جائیں مہینے پناہ کے تو مارو مشرکوں کو جہاں پاؤ اور پکڑو اور گھیرو اور
بیٹھو ہر جگہ ان کی تاک میں پھر اگر وہ توبہ کریں اور قائم رکھیں نماز اور دیا کریں زکوٰۃ تو چھوڑ دو ان کا رستہ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (التوبہ)
- لڑو ان سے جو ایمان نہیں لائے اللہ اور نہ آخرت کے دن پر اور نہ حرام مانتے
ہیں اس کو جس کو حرام کیا اللہ نے اور اس کے رسولؐ نے اور نہ قبول کرتے ہیں دین سچا‘ ان لوگوں میں سے جو کہ اہل کتاب ہیں یہاں تک کہ وہ جزیہ دیں‘ اپنے ہاتھوں سے ذلیل ہو کر۔ (التوبہ)
- تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم خدا کی راہ میں ان مردوں‘ عورتوں اور بچوں کے لیے
نہیں لڑتے‘ جنہیں کمزور پا کر دبا لیا گیا ہے اور جو دعائیں مانگتے ہیں کہ خدایا ہمیں اس بستی سے نکال‘ جس کے کار فرما ظالم ہیں۔ (سورۃ النساء)
جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو جذبہ جہاد عطا کرتے ہوئے اور اللہ کی راہ میں کٹ مرنے کا عزم بانٹتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”قسم ہے خدا کی کہ میری خواہش یہ ہے کہ میں خدا کے راستے میں قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر قتل کیا جاؤں‘ پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں“۔ (مسلم)
جناب تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے متلاشیان جنت کو جنت کا راستہ بتاتے ہوئے فرمایا:
”جنت تلواروں کے سائے میں ہے“۔ (مسلم)
ایک شخص نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے اس حدیث کو سن کر اپنی نیام کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اپنے ساتھیوں کو آخری سلام کرتا ہوا دشمن کی طرف بڑھا اور کفار سے یہاں تک لڑا کہ آخر شہید ہو گیا۔
جو شخص گھر کی آسائشوں اور بیوی بچوں کو چھوڑ کر جہاد کے لیے گھر سے نکلتا ہے سید الخلق جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے جنت کا مژدہ جانفزا یوں سناتے ہیں:
”جو پاؤں خدا کے راستے میں گرد آلود ہوئے ان کو جہنم کی آگ مس نہیں کر سکتی“۔ (بخاری)
”جو خدا کے راستے میں صرف اتنی دیر لڑا جتنی دیر میں ایک اونٹنی کا دودھ دوہا جاتا ہے، تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی“۔ (ابوداؤد)
جو شخص راتوں کو جاگ کر اسلامی مملکت کی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے اور اپنے مسلمان بھائیوں کو کفار کے شر سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کھڑا رہتا ہے، امام الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی محنت کے اجر کا اعلان یوں فرماتے ہیں:
”اللہ کی راہ میں ایک رات کے لیے پہرہ دینا ان ہزار راتوں سے بہتر ہے، جس میں رات کو قیام کیا جائے اور دن کو روزہ رکھا جائے“۔ (اسے حاکم نے روایت کیا ہے اور صحیح الاسناد کہا ہے)
جب اللہ کے سپاہی لشکر کفار سے برسرپیکار ہوتے ہیں اور دوران جنگ کسی مجاہد کو زخم آتا ہے اور پھر زخم سے خون بہتا ہے۔ اللہ کو اپنے سپاہی کے نشانِ زخم اور اس سے بہنے والے خون سے جتنی محبت ہوتی ہے، اس محبت کو اللہ کے آخری نبیؐ نے اپنی زبان نبوت سے یوں بیان فرمایا:
”خدا تعالیٰ کو دو قطرے اور دو نشان بہت ہی زیادہ پسند ہیں۔ ایک آنسو کا
وہ قطرہ جو خدا کے خوف سے نکلے اور دوسرے خون کا وہ قطرہ جو جہاد میں کسی زخم سے ٹپکے۔ ایک وہ نشان جو فرائض ادا کرنے کے باعث جسم کے کسی حصہ پر پڑ جائے اور دوسرے وہ نشان جو اللہ کے راستے میں جہاد کی وجہ سے کسی جگہ واقع ہو جائے"۔ (ترمذی)
جہاد فی سبیل اللہ کے لیے جو شخص سامان حرب تیار کرتا ہے اور اس سامان حرب کی مشق کے دوران جو شخص مجاہد فی سبیل اللہ کا مددگار و معاون بنتا ہے، ان خوش قسمتوں کے اجر و ثواب کے بارے میں رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یوں لب کشائی فرماتے ہیں:
"ایک تیر کی وجہ سے تین آدمی جنت میں جائیں گے۔ ایک جس نے ثواب کی نیت سے تیر بنایا۔ دوسرے جس نے تیر اندازی کی مشق کے لیے تیر چلایا۔ تیسرے وہ جس نے اس مشق کرنے والے کو تیر اٹھا کر دیا"۔
جو شخص مجاہدین اسلام کو سامان جنگ سے لیس کرتا ہے، انہیں کھانے پینے کا سامان اور سواری وغیرہ بہم پہنچاتا ہے اور جب اللہ کے سپاہی اللہ کے دین کی عظمت کے لیے اپنے گھروں سے دور اللہ کے دشمنوں سے مصروف جہاد ہوتے ہیں تو وہ ان کے گھروں اور پیچھے رہنے والوں کی خدمت اور دیکھ بھال کرتا ہے۔ اس شخص پر اللہ کے انعامات کی جو بارش ہوتی ہے، اس کا ذکر سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی لسان مبارک سے یوں ادا کرتے ہیں:
"جس نے خطرے کے موقعہ پر مجاہدین کی پاسبانی کی، اس کی یہ رات شب قدر سے بہتر ہے"۔ (حاکم)
"جس نے کسی مجاہد کو سامان دلا دیا اور روپیہ سے اس کی امداد کی یا اس کی بیوی بچوں کی اس کے پیچھے پوری پوری خدمت کی تو اس شخص کو غازی کے برابر ثواب ملتا ہے اور غازی کے ثواب میں سے کچھ کمی نہیں ہوتی"۔
(صحاح)
وہ لوگ جو اللہ کے دین کے دشمنوں سے لڑتے ہوئے اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں، عظمت اسلام کی تاریخ اپنے خون سے لکھتے ہیں، ناز و نعم سے پلے ہوئے جسم کے
ٹکڑے کروا لیتے ہیں‘ لاشوں کو گھوڑوں کی ٹاپوں کے نیچے روندا جاتا ہے‘ ان کی عظمت و شان کے بارے میں رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات ملاحظہ فرمائیے:
- ☆ ”جنت میں جانے کے بعد کسی شخص کا دوبارہ دنیا میں آنے کو جی نہیں
چاہتا مگر شہادت کی لذت ایسی ہے کہ شہید کو جنت میں جاکر پھر یہ خواہش پیدا ہوتی ہے اور شہید اس امر کی درخواست کرتا ہے کہ اس کو دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ اللہ کے راستے میں مکرر سکرر بلکہ دس بار شہید ہو“۔
(بخاری و مسلم)
- ☆ ”شہید فی سبیل اللہ کو شہادت کے وقت صرف اتنی تکلیف محسوس
ہوتی ہے جیسے کسی چیونٹی نے کاٹ لیا“۔
(ترمذی)
- ☆ ”شہداء کی روحیں سبز پرندوں کی شکل میں جنت کے پھل کھاتی پھرتی
ہیں“۔
(ترمذی)
- ☆ ”قیامت میں جب اہل محشر حساب کتاب کی مصیبت میں مبتلا ہوں گے‘
لوگوں کا ایک جم غفیر تلواریں کاندھوں پر رکھے ہوئے جنت کے دروازے پر پہنچے گا۔ ان لوگوں کے زخموں سے خون بہتا ہوگا۔ اہل محشر کے دریافت کرنے پر بتایا جائے گا کہ یہ لوگ شہید ہیں۔ یہ موت کے بعد زندہ تھے اور ان کو رزق دیا جاتا تھا“۔
اور وہ شخص یا گروہ جو جہاد سے پہلو تہی کرتا رہا‘ گلشن اسلام کو اجڑتا دیکھ کر خاموش تماشائی بنا رہا‘ تن پرستی اور دنیا سنوارنے میں مصروف رہا‘ اس شخص یا گروہ کے بارے میں سرور کون و مکان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
- ☆ ”جو شخص اس حال میں مرا کہ نہ تو اس نے جہاد کیا اور نہ اپنے آپ کو
جہاد کا مشورہ دیا‘ وہ نفاق (منافقت) کے ایک حصہ پر مرا“۔
(صحیح مسلم)
- ☆ ”جو مسلمان اپنی زندگی میں نہ کبھی اللہ کی راہ میں لڑا‘ نہ کسی مجاہد کے
لیے سامان جہاد مہیا کیا اور نہ کسی مجاہد کے اہل و عیال میں خیر خواہی کے ساتھ مقیم رہا‘ اللہ تعالیٰ اس شخص کو قیامت سے پہلے ایک عذاب و مصیبت میں مبتلا کریں گے“۔
(ابو داؤد)
اللہ اور اس کے رسولؐ کا عطا کردہ یہی وہ جذبہ تھا جسے اپنے سینوں میں لے کر مسلمان نکلے اور چہار سو عالم پھیل گئے۔ خدا کی زمین ان کے قدموں تلے سمٹتی گئی۔ انہوں نے روم و فارس کی سلطنتوں کے ٹاٹ لپیٹ دیئے، شاہوں کے تاج اچھال دیئے اور حکمرانوں کے تخت اپنے قدموں تلے روند ڈالے۔ یورپ کے کلیساؤں میں اذانیں دیں، ایران کے آتش کدوں کو آب توحید سے بجھا دیا، ہندوستان کے بت کدوں میں اللہ اکبر کی صدائیں دیں، عرب کے ریگستانوں میں اسلام کے ڈنکے بجائے، افریقہ کے جنگلوں میں دین محمدؐ کی شمعیں فروزاں کیں، ان کی راتیں مصلوں پر اور ان کے دن گھوڑوں کی پیٹھوں پر بسر ہوتے، وہ میدان کارزار میں موت کو للکارتے اور ان کے دل میں شہادت کی آرزوئیں تڑپتیں، وہ میدان جہاد میں مرنا اعزاز اور گھر میں مرنا ندامت سمجھتے، جس گھر کا کوئی فرد شہید نہ ہوتا، وہ گھر معاشرہ میں شرمساری محسوس کرتا۔
یثربی تہذیب کتنی دلنشیں اور سادہ ہے
ان کے بچے میدان جہاد میں تلواریں لئے لشکر کفار کے سردار کو ڈھونڈتے۔ ان کے نوجوان کشتیاں جلا کر باطل کو للکارتے۔ ان کے بوڑھے دشمنان اسلام سے ٹکرانے کے لیے جوانوں کے دوش بدوش پہلی صف میں کھڑے ہوتے۔ ان کی عورتیں خیموں کی چوبیں لے کر لشکر کفار پر ٹوٹ پڑتیں اور انہیں گیدڑوں کی طرح بھگا دیتیں۔ مائیں اپنے بیٹوں سے کہتیں، بیٹا! جہاں جنگ کے شعلے زیادہ بھڑک رہے ہوں، وہاں اپنی بہادری کے جوہر دکھانا۔ ایک بیٹا جام شہادت نوش کرتا تو دوسرے کے گلے میں اپنے ہاتھوں سے تلوار حمائل کر کے ہنسی خوشی میدان جنگ میں بھیجتیں، دوسرا شہید ہوتا تو تیسرے کو روانہ کرتیں، تیسرا بھی اسلام پر نثار ہو جاتا تو چوتھے کو روانہ کرتیں اور جب سب شہید ہو جاتے تو شہداء کی عظیم مائیں آسمان کی طرف منہ اٹھا کر اللہ سے مخاطب ہو کر کہتیں، اے اللہ! تو گواہ رہنا ہم نے اپنے سارے بیٹے تیرے دین پر قربان کر دیئے۔ بہنیں بھائیوں کے گھوڑوں کی لگامیں پکڑ کر انہیں میدان جنگ میں روانہ کرتیں۔ باپ شہید ہو رہا ہوتا لیکن بیٹوں کو آگے بڑھنے کا حکم دیتا۔ بیٹا شہید ہوتا تو باپ کے عزم و ہمت میں ذرہ برابر فرق نہ پڑتا وہ فولادی حوصلہ سے باطل سے مصروف پیکار رہتا۔ مجاہدین راہ حق کو نہ بچوں کے
یتیم ہونے کا فکر تھا اور نہ بیوی کے سہاگ اجڑنے کا غم‘ نہ والدین کی محبت ان کے رستے کی دیوار بنتی اور نہ بھائیوں کی الفت ان کی راہ کی زنجیر‘ نہ دولت اور نہ ہی حب دنیا انہیں ان کے فرض عظیم سے غفلت دلا سکتی تھی۔ انہوں نے اپنی زندگیاں خدمت اسلام کے لیے وقف کر دی تھیں۔ انہوں نے اللہ سے اپنی جانوں کا سودا کر لیا تھا۔ وہ دوستی رکھتے تھے تو اسلام کے لیے اور دشمنی رکھتے تھے تو صرف اسلام کے لیے‘ ان کا جینا بھی اسلام کے لیے اور مرنا بھی اسلام کے لیے تھا۔
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو عجب چیز ہے لذت آشنائی!
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی!
وہ عظیم ہستی جس نے قوم مسلم کو جہاد کا یہ ولولہ عطا کیا‘ صرف زبانی طور پر جہاد کا درس نہیں دیا بلکہ انہوں نے عملی طور پر باطل کو میدان میں للکارا اور پچھاڑا ہے۔ محمد مصطفیٰ نے نبوت کے ہاتھوں سے شمشیر اٹھائی ہے اور زرہ زیب تن فرمائی ہے۔ کٹھن سفر کئے‘ خندقیں کھودیں‘ پتھر اور تیر کھائے‘ دندان مبارک شہید کرائے اور میدان جہاد میں اپنا مقدس خون بہایا۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں دس سالہ قیام کے دوران ۲۶ غزوات میں بطور کمانڈر بہ نفس نفیس شرکت فرمائی اور ۵۶ سرایا (مہمات) روانہ فرمائیں۔ گویا دس برس کے دوران ۸۲ جنگیں لڑیں گئیں۔ یہ ہے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مجاہدانہ!
سر زمین ہندوستان پر جب فرنگی سامراج قابض ہو چکا تھا اور ظالم فرنگی اسلام کو مسلمانوں کے دلوں میں اور خطہ ہندوستان سے نکالنے کے لیے تلا ہوا تھا۔ وجود اسلام کو چھلنی کرنے کے لیے اس کے ترکش میں بہت سے تیر تھے۔ جنہیں اس نے کمال مہارت سے استعمال کیا۔ اس کے پاس تحریف شدہ دین اسلام تھا‘ انتہائی زہریلا نظام تعلیم تھا‘ ابلیسی نظام معیشت تھا‘ مغربی تہذیب و تمدن کی عریانیاں تھیں‘ سنہری میموں کی حشر سامانیاں تھیں‘ درباری ملاؤں کے گروہ در گروہ تھے‘ جعلی گدی نشینوں اور بناوٹی صوفیوں کی ایک بہت بڑی کھیپ تھی‘ تنخواہ دار ”اولیاء“ کی لمبی قطاریں تھیں‘ فتوؤں کے ذریعے
ملت اسلامیہ میں انتشار پیدا کرنے والے فتوے بازوں کی ایک جماعت تھی۔ انگریزی حکومت کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے والے خطیبوں اور ادیبوں کا ایک انبوہ تھا اور انگریزی حکومت کی شان میں قصیدہ سرائی کرنے والے شاعروں کا ایک ہجوم تھا۔
ان تمام طاغوتی ہتھیاروں سے مسلح ہونے کے باوجود غلام ہندوستان میں غلامی کی راکھ سے آزادی کی چنگاریاں بھڑکتیں اور ایک ماحول کو آزادی کی روشنی سے منور کر جاتیں۔ ایک عالم حق کو پھانسی دی جاتی لیکن اس کی موت ہزاروں انسانوں میں آزادی کی زندگی کا شعور بیدار کر جاتی۔ ایک مجاہد شہید ہوتا لیکن اس کے خون سے جرات و ہمت کے لاکھوں چراغ جلتے۔ فرنگی ایک تحریک کو دباتا، ہزاروں نئی تحریکیں جنم لیتیں۔ فرزندان توحید کو پابند سلاسل کیا جاتا لیکن فرنگی ان کے جذبے کو پابند سلاسل نہ کر سکا۔ انہیں زندانوں میں اذیتیں دی جاتیں لیکن ہر اذیت ان کے ایمان کو تقویت دیتی۔
بہادروں کے پنجہ ہائے تیغ زن عجیب ہیں
یہ جسم ہائے خون چکاں و بے کفن عجیب ہیں
مجاہد و شہید کے یہ بانکپن عجیب ہیں
حیات گر حیات ہے تو موت بھی حیات ہے
مکار انگریز اپنے مکار دماغ کو ابلیسی سوچوں کے سمندر میں غرق کئے بیٹھا تھا اور سر کچلے سانپ کی طرح تڑپ رہا تھا کہ کسی طرح ملت اسلامیہ کے سینہ سے ایمان کی شمع فروزاں کو گل کر کے دل کی نگری کو کفر کے اندھیروں میں ڈبو دے اور قوم حجاز کی وحدت کو پارہ پارہ کر کے اسے دائمی غلام بنالے۔
اس شیطانی منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے فرنگی میدان عمل میں اتر آیا۔ ۱۸۹۶ء میں انگلستان سے برطانوی مدبروں، اعلیٰ سیاست دانوں، ممبران پارلیمنٹ اور مسیحی رہنماؤں پر مشتمل ایک وفد ان امور کا جائزہ لینے کے لیے ہندوستان میں طوفان کی صورت وارد ہوا کہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے اسباب و محرکات کیا تھے؟ کس جذبے نے مسلمانوں کو جنگ آزادی پر ابھارا اور اس جذبے نے پورے ہندوستان میں آزادی کی
ہلچل کیسے مچا دی؟ وہ کس ولولے کی حرارت ہے جو غلامی کی زنجیروں کو پگھلا کر رکھ رہی ہے۔ اور پوری قوم کو کفن بدوش کر کے میدان کارزار میں لا کھڑا کرتی ہے۔ وفد نے عیسائی مشنریوں اور سول سروس کے افسروں خصوصاً یہودیوں سے ملاقاتیں کیں۔ مسلم معاشرہ میں گھس کر ان کی مذہبی کیفیات کو بنظر غائر دیکھا۔ ہندوستان کے سیاسی حالات کا گہرا جائزہ لیا۔ مسلم عوام پر ان کے مذہبی رہنماؤں کے اثر و رسوخ کا مشاہدہ کیا۔ خفیہ اداروں کے ذریعے رپورٹیں حاصل کیں۔ ایک سال کی مدت گزارنے کے بعد یعنی ۱۸۷۰ء میں اس شیطانی وفد نے لندن میں ایک کانفرنس کا اہتمام کیا۔ جس میں عیسائی مشنریوں اور خفیہ اداروں نے آپس میں سر جوڑ کر عالم اسلام کے خلاف ایک بھیانک سازش تیار کی۔ انہوں نے دو الگ الگ زہریلی رپورٹیں تیار کیں جنہیں یک جا کر کے ”ہندوستان میں برطانوی سلطنت کا ورود“ (The Arrival of British Empire in India) کے نام سے شائع کر دیا۔ اس تخریبی اور روح فرسا رپورٹ کا ایک حصہ درج کیا جاتا ہے۔ جس میں ظالم فرنگی نے جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تاج و تخت ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے جھوٹی نبوت کا منصوبہ تیار کیا۔ رپورٹ کا اقتباس ملاحظہ ہو۔
Report of Missionary Fathers "Majority of the population of the country blindly follow their 'Peers' their spiritual leaders. If at this stage, we succeed in finding out some who would be ready to declare himself a Zilli Nabi (apostolic prophet) then the large number of people shall rally round him. But for this purpose, it is very difficult to persuade some one from the Muslim masses. If this problem is solved, the prophethood of such a person can flourish under the patronage of the Government. We have
already overpowered the native governments mainly persuing a policy of seeking help from the traitors. That was a different stage, for at that time, the traitors were from the military point of view. But now when we have sway over every nook of the country and there is peace and order every where we ought to undertake measures which might create internal unrest among the country."
(Extract from the printed Report, India Office Library, London)
ترجمہ:۔ ملک ہندوستان کی آبادی کی اکثریت اندھا دھند اپنے پیروں یعنی روحانی رہنماؤں کی پیروی کرتی ہے۔ اگر اس مرحلہ پر ہم ایک ایسا آدمی تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں جو اس بات کے لیے تیار ہو کہ اپنے لئے ظلی نبی (نبی کے حواری) ہونے کا اعلان کر دے تو لوگوں کی بڑی تعداد اس کے گرد جمع ہو جائے گی لیکن اس مقصد کے لیے مسلمان عوام سے کسی شخص کو ترغیب دینا بہت مشکل ہے۔ اگر یہ مسئلہ حل ہو جائے تو ایسے شخص کی نبوت کو سرکاری سرپرستی میں پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔ ہم نے پہلے بھی غداروں کی مدد حاصل کر کے ہندوستانی حکومتوں کو محکوم بنایا لیکن وہ مختلف مرحلہ تھا‘ اس وقت فوجی نقطۂ نظر سے غداروں کی ضرورت تھی لیکن اب جب کہ ہم نے ملک کے کونے کونے پر اقتدار جما لیا ہے اور ہر طرف امن اور آرڈر ہے‘ ہمیں ایسے اقدامات کرنے چاہیں جن سے ملک میں داخلی بے چینی پیدا ہو سکے۔ (مطبوعہ رپورٹ سے اقتباس : انڈیا آفس لائبریری لندن)
۱۸۶۹ء میں ہی وائسرائے ہند لارڈ میو (Mayo) نے بنگال سول سروس کے ایک افسر ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر کو اس اہم سوال کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرنے کو کہا۔
ہنٹر نے تمام صورت حالات کا بغور جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ میں لکھا۔
"جہاد ہی کا وہ نظریہ ہے جو ان کے شدید جوش‘ تعصب‘ تشدد اور قربانی کی
خواہش کی بنیاد ہے۔ اس قسم کا عقیدہ انہیں ہمیشہ حکومت کے خلاف متحد کر سکتا ہے۔ ان میں جہاد کا شعلہ سرد نہیں ہوا۔ ان پر مذہبی دیوانوں اور جہادی ملاؤں کا اثر نہایت قوی ہے اور وہ کسی لحظہ بھی ان کے جذبات کی آگ کو بھڑکا سکتے ہیں۔” (”ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر“ دی انڈین مسلمانز کامریڈ پبلشرز کلکتہ ۱۹۴۵ء)
فرنگی مسلمانوں کے جذبہ جہاد اور فخر دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات اقدس سے بے پناہ محبت و عقیدت سے بہت پریشان تھا۔ وہ مسلمانوں سے یہ دونوں متاع ہائے عظیم چھین لینا چاہتا تھا۔ مسلمانوں سے یہ دونوں انمول موتی چھیننا ان کے جسموں کے دونوں بازو کاٹ دینے کے مترادف تھا اور ظالم فرنگی بازو کٹے ان گوشت کے لوتھڑوں کو اپنے شبستانوں کی طرف جانے والی راہوں پر بیٹھے، گلے میں غلامی کی سیاہ زنجیریں پہنے دو وقت کی روٹی کے لیے بلک بلک کر روتا دیکھنا چاہتا تھا۔
شیطانی رپورٹ تیار ہو چکی تھی، اب انسان نما شیطان کی تلاش شروع ہو گئی جسے نبی بنا کر مارکیٹ میں لانا تھا۔ فرنگی نے جعلی نبوت کے ایک تیر سے دو شکار کرنا تھے۔ پہلا یہ کہ وہ شخص دعویٰ نبوت کرے گا اور خود پر نازل ہونے والی من گھڑت وحی کی عوام میں تشہیر کرے گا (نعوذ باللہ) محمد رسول اللہ بن جانے کے اعلان سے وہ مسلمانوں کی تمام محبتیں اور عقیدتیں سمیٹ لے گا جو انہیں اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات اقدس سے ہیں، پھر وہ یہ اعلان کرے گا کہ خدا نے مجھ پر وحی کی ہے کہ اب جہاد حرام قرار دے دیا گیا ہے۔ جب یہ دونوں کام ہو جائیں گے تو قوم مسلم قوم افرنگ کے قفس کی اسیر ہو گی۔
سپر شیطان کی تلاش میں بہت سے چہرے سامنے آئے لیکن فرنگی کو اس بدخصلت کی تلاش تھی جو صرف خود ہی ملت اسلامیہ کا غدار نہ ہو بلکہ غداری اسے وراثت میں ملی ہو۔ جو صرف خود ہی ایمان فروش نہ ہو بلکہ اس کی جیب میں ایمان فروش کا بیٹا ہونے کی سند بھی موجود ہو۔ جو صرف خود ہی جہاد کو حرام نہ کہتا ہو بلکہ اس کے آبا و اجداد کی شمشیروں پر شہیدان اسلام کا خون چمک رہا ہو۔ جو صرف خود ہی دربار انگریز کی دہلیز پر ماتھا نہ رگڑتا ہو بلکہ اس کے بڑوں کی زبانوں پر بھی انگریز کے جوتوں کی چاٹی ہوئی خاک موجود ہو۔ جو صرف خود ہی دستر خوان انگریز سے بچی کھچی روٹیوں کو من و
سلویٰ سمجھ کر کھاتا ہو بلکہ اس کا بڑا بھائی بھی انگریز کی جھوٹی ہڈیوں کو قلمی آم سمجھ کر چوستا ہو۔
لیکن زمین روز روز ایسے ننگ انسانیت پیدا نہیں کرتی۔ کئی صدیوں کی گردش کے بعد زمین اپنے پیٹ سے ایسی غلاظت باہر پھینکتی ہے۔ جس کے تعفن سے انسانیت کا دماغ پھٹنے لگتا ہے اور کائنات میں ہر سو بدبو کے بھبھوکے پھیل جاتے ہیں۔ فرنگی کو یہ نایاب غلاظت قادیاں کے منشی مرزا قادیانی جہنم مکانی کی صورت میں مل گئی۔ ہم مرزا قادیانی کے نبی بننے کی بقیہ کہانی بعد میں بیان کریں گے‘ پہلے انگریزوں اور مرزا قادیانی کے بڑوں کے شیطانی تعلقات کو مرزا قادیانی کی زبانی بیان کرتے ہیں۔ جسے پڑھ کر انگریز کے اس ”خود کاشتہ پودے“ کے چہرے سے نقاب اٹھتا ہے۔
”اور میرا باپ اس طرح خدمات میں مشغول رہا یہاں تک کہ پیرانہ سالی تک پہنچ گیا اور سفر آخرت کا وقت آگیا اور اگر ہم اس کی تمام خدمات لکھنا چاہیں تو اس جگہ سما نہ سکیں اور ہم لکھنے سے عاجز رہ جائیں۔ پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرا باپ سرکار انگریزی کے مراحم کا ہمیشہ امیدوار رہا اور عندالضرورت خدمتیں بجا لاتا رہا یہاں تک کہ سرکار انگریز نے اپنی خوشنودی کی چٹھیات سے اس کو معزز کیا اور ہر ایک وقت اپنی عطاؤں کے ساتھ اس کو خاص فرمایا اور اس کی غم خواری فرمائی اور اس کی رعایت رکھی اور اس کو اپنے خیر خواہوں میں سے سمجھا۔ پھر جب میرا باپ فوت ہو گیا۔ تب ان خصلتوں میں اس کا مقام میرا بھائی ہوا۔ جس کا نام مرزا غلام قادر تھا اور سرکار انگریز کی عنایات ایسے ہی اس کے شامل حال ہو گئیں جیسی کہ میرے باپ کے شامل حال تھیں اور میرا بھائی چند سال بعد اپنے والد کے فوت ہو گیا پھر ان دونوں کی وفات کے بعد میں ان کے نقش قدم پر چلا اور ان کی سیرتوں کی پیروی کی۔ (”نور الحق“ حصہ اول ص ۲۸‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
- مرزا قادیانی کے باپ کے جہنم رسید ہونے پر پنجاب کے فنانشل کمشنر نے مرزا
قادیانی کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر کے پاس ۱۹؍ جون ۱۸۷۶ء کو جو مراسلہ بھیجا اس میں تعزیتی کلمات کے بعد لکھا گیا مضمون پیش خدمت ہے۔
"Ghulam Murtzah who was a great well wisher
and faithful Chief of Government. In consideration of your family services. I will esteem you with the same respect as that of your loyal father. I will keep in mind the restoration welfare of your family when a favourable apportunity occurs."
ترجمہ:۔ ”مرزا غلام مرتضیٰ سرکار انگریز کا اچھا خیر خواہ اور وفادار رئیس تھا‘ آپ کے خاندان کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم آپ کی بھی اسی طرح عزت کریں گے۔ جس طرح تمہارے وفادار باپ کی‘ کی جاتی تھی۔ ہم کو اچھے موقع کے نکالنے پر تمہارے خاندان کی بہتری اور پا بجائی کا خیال رہے گا۔“ (”الرقوم“ ۲۹ر جنوری ۱۸۷۶ء‘ کتاب
البریہ‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
- ○ ”سب سے پہلے میں یہ اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ میں ایسے خاندان میں سے ہوں
جس کی نسبت گورنمنٹ نے ایک مدت دراز سے قبول کیا ہوا ہے کہ وہ خاندان اول درجہ پر سرکار دولت مدار انگریزی کا خیر خواہ ہے۔ (مرزا قادیانی کی لیفٹنٹ گورنر بہادر کے حضور
درخواست مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ہفتم، ص۸۔۹۔۱۱‘ مولفہ میر قاسم علی قادیانی)
- ○ ”میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے‘ میرا والد
مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا۔ جن کو دربار انگریزی میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور ۱۸۵۷ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریز کو مدد دی تھی یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا اور جب تریموں کی گزرگاہ پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔“ (”کتاب البریہ
اشتہار“ مورخہ ۲۰ر ستمبر ۱۸۹۷ء‘ ص۸‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
- ○ ”ہمارا جان نثار خاندان سرکار دولت مدار (سلطنت انگلشیہ) کا خود کاشتۂ پودا ہے۔
ہم نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنا خون بہانے اور جان دینے سے بھی کبھی دریغ نہیں کیا
(”تبلیغ رسالت“ جلد ہشتم)
- ”۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی ہندوستان کے مکینوں کی انگریز غاصب کے خلاف بغاوت
تھی، وہ مادر وطن میں غلامی کی شب دیجور ختم کر کے آزادی کی صبح سعید طلوع کرنا چاہتے تھے۔ لیکن ظالم فرنگی نے اپنی بربریت سے اس تحریک آزادی کو کچل کر رکھ دیا۔ ہزاروں انسانوں کو انتہائی سفاکی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ آزادی کے متوالوں کو جیلوں میں ٹھونس دیا، حریت پسندوں کو گرفتار کر کے فوری انصاف کی عدالتوں کے ذریعے انہیں سر بازار پھانسیاں دی گئیں۔ غرضیکہ وہ ظلم روا رکھا گیا کہ زمین و آسمان کانپ اٹھے۔ لیکن اس خونچکاں سانحہ پر فرنگی کے پالتو مرزا قادیانی نے یہ بکواس کر کے انگریزی سلطنت کی تائید کی ”ان لوگوں نے چوروں، قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ شروع کر دیا۔“ (”ازالہ“ ص ۷۲۷، مصنف مرزا قادیانی)
- ۱۹۲۹ء میں جب ایک خبیث الفطرت ہندو مہاشے راجپال نے محسن انسانیت صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخیوں کا سمندر بہاتے ہوئے رسوائے زمانہ کتاب ”رنگیلا رسول“ شائع کی تو یہ کتاب روئے زمین پر بسنے والے محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروانوں کے قلب و جگر پر بجلی بن کر گری اور انہیں تڑپا کر رکھ دیا۔ راجپال کی تکہ بوٹی کرنے کے لیے عالم اسلام بپھر گیا۔ ہر مسلمان راجپال کے لیے شعلہ جوالہ بن گیا۔ آخر قرعہ، قسمت کے دھنی غازی علم الدین شہیدؒ کے نام نکلا جو شیر کی طرح راجپال پر حملہ آور ہوا اور اس موذی کو خنجر مار مار کر واصل جہنم کر دیا اور خود سولی چڑھ کر عشق رسالتؐ کا ایک انوکھا باب رقم کر کے آمنہؓ کے لال کی عزت و حرمت پر نثار ہو گیا۔
سر مقتل بھی ان کا ذکر کرنا عین ایمان ہے
لیکن یہاں بھی انگریزی حکومت کا ساتھ دیتے ہوئے اور راجپال کی وکالت کرتے ہوئے غدار بن غدار قادیانی جماعت کا سربراہ مرزا محمود اپنی فطرت رذیلہ کے مطابق یہ ذلیل تبصرہ کر کے اپنی خباثت قلبی کا ثبوت دے گیا۔
”وہ نبی بھی کیسا نبی ہے جس کی عزت کو بچانے کے لیے خون سے ہاتھ رنگنے
پڑیں ..... وہ لوگ جو قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں۔ وہ مجرم ہیں اور اپنی قوم کے دشمن ہیں اور جو ان کی پیٹھ ٹھونکتا ہے، وہ بھی قوم کا دشمن ہے۔" (قادیانی اخبار "الفضل" ۱۹ اپریل ۱۹۲۹ء)
- ۱۹۱۳ء میں اسلام دشمن، مسلمان دشمن فرنگی نے مچھلی بازار کانپور کی ایک مسجد کا
ایک حصہ سڑک سیدھی کرنے کے لیے شہید کر دیا۔ کعبہ کی بیٹی کی اس بے حرمتی پر مسلمان سراپا احتجاج بن گئے اور پورے ہندوستان میں غم و غصہ کی ایک لہر دوڑ گئی۔ اس غم و غصہ نے ایک جلوس کا روپ دھارا۔ اس احتجاجی جلوس پر ظالم حکومت نے فائرنگ کر دی اور پہلے سے ہی زخمی سینوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ بیسیوں مسلمان شہادت کے جام نوش کر گئے۔ سینکڑوں کو قید و بند کی صعوبتوں میں ڈال دیا گیا۔ یہ روح فرسا حادثہ جو مسلمانوں پر ایک قیامت ڈھا گیا، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا محمود نے جو بے ایمان بیان جاری کیا۔ انسانیت آج بھی اس پر لعنتوں کے ڈونگرے برسا رہی ہے۔
"ایک حصہ مسجد کو گرائے بغیر گزارہ نہ تھا اور اسے منہدم نہ کرنا رفاہ عامہ کے کام میں رخنہ اندازی تھی۔ اس بارہ میں مسلمانوں نے بہت عاقبت نا اندیشی سے کام لیا۔" ("الفضل" مورخہ ۲۳ جولائی ۱۹۱۳ء)
- خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے اور دیگر اسلامی ممالک کو فتح کرنے میں قادیانی
انگریزوں کے شانہ بشانہ لڑے اور ہر سازش میں شریک کار رہے۔ قادیانیوں کے چند اقبالی حوالے پیش خدمت ہیں۔
"عراق کو فتح کرنے میں احمدیوں نے خون بہایا اور میری تحریک پر سینکڑوں آدمی بھرتی ہو کر چلے گئے۔" (بیان مرزا بشیر الدین، "الفضل" مورخہ ۳ر ستمبر ۱۹۳۵ء)
"ریاست کے قیام کے لیے گورنمنٹ کی فوج میں شامل ہو کر ان ظالمانہ روکوں کو دفع کرنے کے لیے گورنمنٹ کی مدد احمدیوں کا مذہبی فرض ہے۔" (بیان مرزا محمود احمد "الفضل" ۷ر جولائی ۱۹۳۱)
- جب انگریزوں نے عراق پر قبضہ کرنا چاہا اور اس غرض کے لیے لارڈ ہارڈنگ نے
عراق کا دورہ کیا تو مشہور قادیانی اخبار الفضل نے لکھا "یقیناً اس نیک دل افسر (لارڈ
ہارڈنگ) کا عراق میں جانا عمدہ نتائج پیدا کرے گا۔ ہم ان نتائج پر خوش ہیں کیونکہ خدا ملک گیری اور جہاں بانی اس کے سپرد کرتا ہے جو اس کی مخلوق کی بہتری چاہتا ہے۔ اور اسی کو زمین پر حکمران بناتا ہے جو اس کا اہل ہوتا ہے۔ پس ہم پھر کہتے ہیں کہ ہم خوش ہیں کیونکہ ہمارے خدا کی بات پوری ہوتی ہے اور ہمیں امید ہے کہ برٹش حکومت کی توسیع کے ساتھ ہمارے لیے اشاعت اسلام کا میدان بھی وسیع ہو جائے گا اور غیر مسلم کو مسلم بنانے کے ساتھ ہم مسلمان کو پھر مسلمان کریں گے۔“ (”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲‘ نمبر ۱۰۳‘ مورخہ ۱۱؍ فروری ۱۹۱۵ء)
”ہم یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ مذہباً“ ہمارا ترکوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم اپنے مذہبی نقطۂ خیال سے اس امر کے پابند ہیں کہ اس شخص کو اپنا مذہبی پیشوا سمجھیں جو حضرت مسیح موعود کا جانشین ہو اور دنیاوی لحاظ سے اسی کو اپنے سلطان و بادشاہ یقین کریں جس کی حکومت کے نیچے ہم رہتے ہیں۔ پس ہمارے خلیفہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے خلیفہ ثانی ہیں اور ہمارے سلطان و بادشاہ“ (اخبار ”الفضل“ جلد ۷‘ نمبر ۴۸‘ مورخہ ۲۲؍ دسمبر ۱۹۱۹ء)
”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) فرماتے ہیں کہ میں وہ مہدی موعود ہوں اور گورنمنٹ برطانیہ میری وہ تلوار ہے جس کے مقابلے میں ان علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ اب غور کرنے کا مقام ہے کہ پھر ہم احمدیوں کو اس فتح سے کیوں خوشی نہ ہو۔ عراق‘ عرب ہو یا شام ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔“ (اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۶‘ نمبر ۴۲‘ مورخہ ۷؍ دسمبر ۱۹۱۸ء)
”موجودہ ترکی کی حکومت اسلام کے لیے مفید ثابت ہونے کی بجائے مضر ثابت ہوئی ہے۔ اگر وہ اپنی بداعمالی اور بدکرداری کے باعث مٹتی ہے تو مٹنے دو“ (اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۲‘ نمبر ۱۱۷‘ مورخہ ۲۳؍ مارچ ۱۹۱۵ء)
”بہر حال واقعات اب بتلاتے ہیں کہ (ترکان) آل عثمان کا ستارہ اقبال اب غروب ہونے کے قریب ہے۔“ (اخبار ”الفضل“ قادیان جلد ۲‘ نمبر ۱۱۴‘ مورخہ ۱۶؍ مارچ ۱۹۱۵ء)
انگریزوں کی فتح اور ترکوں کی شکست پر ظالم قادیانیوں نے قادیان میں خوشی سے
لبریز ہو کر چراغاں کیا۔ حوالہ ملاحظہ ہو۔
”۷؍ ماہ نومبر کو انجمن احمدیہ برائے امداد جنگ کے زیر انتظام حسب ہدایات حضرت خلیفۃ المسیح ثانی اید اللہ تعالیٰ (میاں محمود احمد صاحب) گورنمنٹ برطانیہ کی شاندار اور عظیم الشان فتح کی خوشی میں ایک قابل یاد گار جشن منایا گیا۔ نماز مغرب کے بعد دارالعلوم اور اندرون قصبہ میں روشنی اور چراغاں کیا گیا جو بہت خوبصورت اور دلکش تھا۔ اندرون قصبہ میں احمدیہ بازار کے دونوں طرف مدرسہ احمدیہ اور بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کی عمارتوں پر بے شمار چراغ جلائے گئے۔ اور مینارۃ المسیح پر گیس کی روشنی کی گئی جس کا نظارہ بہت دلفریب تھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی اور خاندان مسیح موعود کے مکانات پر بھی چراغ روشن کئے گئے۔ اس کے علاوہ تمام احمدی اصحاب نے اپنے اپنے مکانات پر خوب روشنی کی۔ جس سے محلوں میں خاص رونق اور خوش نمائی پیدا ہو گئی۔ دارالعلوم میں بورڈنگ ہاؤس اور ہائی سکول کی شاندار عمارت کے بلند ترین پیش طاق کو چراغوں سے نہایت عمدگی سے سجایا گیا اور ساری عمارت کے طول و عرض کو بہت خوبی کے ساتھ روشن کیا گیا۔ دوسرے مکانات پر بھی روشنی کا عمدہ انتظام تھا۔ غرض کہ احمدیوں کا کوئی مکان اور کوئی عمارت ایسی نہ تھی جس پر روشنی نہ کی گئی۔ یہ پر لطف اور مسرت انگیز نظارہ بہت موثر اور خوشنما تھا اور اس سے احمدیہ پبلک کی اس عقیدت پر خوب روشنی پڑتی تھی جو اسے گورنمنٹ برطانیہ کے ساتھ ہے۔ کیونکہ روشنی کے ذریعہ خوشی کا اظہار کرنے میں ایسے لوگوں نے بھی بخوشی حصہ لیا جو موجودہ گرانی اور قحط سالی کے موسم میں نہایت تنگ دستی سے گزر اوقات کرتے ہیں۔ روشنی رات کے ایک بڑے حصہ تک ہوتی رہی۔ جس کی رونق لوگوں کی چہل پہل سے دوبالا تھی۔" (اخبار "الفضل" قادیان، جلد ۲۶، نمبر ۲۸۱، مورخہ ۳؍ دسمبر ۱۹۳۹ء)
یہ تھے فرنگی سامراج اور مرزا قادیانی کے بڑوں کے محبت بھرے تعلقات جنہیں مرزا قادیانی اپنی حیاتِ کفریہ میں خوب نبھاتا رہا اور آج بھی اس کی ناپاک ذریت ان دیرینہ تعلقات کو مضبوط اور مستحکم رکھے ہوئے ہے۔ اب ہم مرزا قادیانی کی اصل کہانی کی طرف واپس آتے ہیں۔
مرزا قادیانی انگریز ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کے دفتر میں بطور اہلمد پندرہ روپے ماہوار
پر ملازم تھا۔ اس کی مدت ملازمت ۱۸۶۴ء تا ۱۸۶۸ء ہے۔ ۱۸۶۸ء کے لگ بھگ ایک عرب محمد صالح سیالکوٹ آیا۔ روایت کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس حرمین شریفین کے بعض مفتیان کرام کا ایک فتویٰ تھا۔ جس میں ملک ہندوستان کو دارالحرب ثابت کیا گیا تھا۔ انگریز مخبروں نے محمد صالح کو گرفتار کرا دیا۔ محمد صالح پر دو الزامات لگائے گئے۔ ایک امی گریشن کی خلاف ورزی اور دوسرے برطانوی حکومت کے خلاف جاسوسی۔ سیالکوٹ کے یہودی ڈپٹی کمشنر پار کنسن (Parkinson) کے ذمہ اس مقدمہ کی تفتیش لگی۔ وہ ان تمام لوگوں کو گرفتار کرنا چاہتا تھا جن کے ساتھ محمد صالح کے روابط تھے۔ دوران تفتیش ایک ایسے شخص کی ضرورت پیش آئی جو عربی مترجم کے طور پر کام کرسکے، یہ خدمت خاندانی غدار مرزا قادیانی نے ادا کی اور اسلام دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پار کنسن کے دل میں اپنی قدر بٹھا گیا۔
دوران ملازمت سیالکوٹ کے پادری مسٹر بٹلر ایم۔ اے سے مرزا قادیانی کا گہرا یارانہ ہو گیا۔ دونوں میں گفتگو کی طویل نشستیں ہوتیں اور بڑی راز دارانہ باتیں کرتے۔ ایک دن پادری بٹلر نے ڈپٹی کمشنر سے ایک لمبی ملاقات کی اور انگلستان چلا گیا۔ پادری مسٹر بٹلر کے ہندوستان سے روانہ ہونے کے تھوڑے عرصے بعد اس کا جگری یار مرزا قادیانی ملازمت چھوڑ کر قادیان روانہ ہو گیا، دونوں کا آگے پیچھے چلے جانا کسی خطرناک منصوبے کی نشاندہی کر رہا تھا۔ بٹلر دراصل ہندوستان کی سنٹرل انٹیلی جینس کا ایک اہم رکن تھا اور وہ سیالکوٹ میں ایک پادری کے روپ میں کام کر رہا تھا۔ مرزا قادیانی اور ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کر کے اس کا فوراً انگلستان جانا اس بات کی غمازی کر رہا تھا کہ بٹلر دعویٰ نبوت کے لیے مرزا قادیانی کا انتخاب کر گیا ہے۔ وفد کی پیش کردہ رپورٹ کی روشنی میں گورنر پنجاب نے ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کے ذمہ یہ کام لگایا کہ وہ کمیشن کی رپورٹ میں مذکورہ شخص کا انتخاب کرے۔
برطانوی ہندوستان کی سنٹرل انٹیلی جینس کی روایت کے مطابق ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ نے چار اشخاص کو انٹرویو کے لیے طلب کیا تھا تاکہ ان میں سے کسی ایک کو نبوت کا مدعی بنا کر اپنے مقاصد حاصل کئے جائیں۔ ان میں سے تین فیل ہو گئے اور مرزا قادیانی پاس ہو گیا اور جھوٹے نبی کی حیثیت سے اس مردود کا انتخاب ہو گیا۔
پادری بٹلر اور مرزا قادیانی کے مابین ہونے والی ملاقاتوں سے قادیانی بھی انکار کی جرات نہیں کر سکتے۔ مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا محمود اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے۔ ”ریورنڈ بٹلر ایم۔ اے جو سیالکوٹ مشن میں کام کرتے تھے اور جن سے حضرت صاحب کے بہت سے مباحثات ہوتے رہتے تھے۔ جب ولایت واپس جانے لگے تو خود کچہری میں آپ کے پاس ملنے کے لیے چلے آئے اور جب ڈپٹی کمشنر نے پوچھا کس طرح تشریف لائے، کوئی کام ہو تو ارشاد فرمائیں مگر اس نے کہا کہ میں صرف آپ کے اس منشی سے ملنے آیا ہوں۔ یہ ثبوت ہے اس امر کا کہ آپ کے مخالف بھی تسلیم کرتے تھے کہ یہ ایک ایسا جوہر ہے جو قابل قدر ہے۔
(اخبار ”الفضل“ قادیان، ۲۴ اپریل ۱۹۳۴ء)
فرنگی کا بچہ جمورا مرزا قادیانی نبی بن بیٹھا اور اپنے آقا کے حکم کے مطابق اسلام کے بنیادی عقیدہ ”جہاد“ کو حرام قرار دے دیا۔ سچے نبیؐ نے تو امت میں جہاد کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے ساری زندگی وقف کر دی تھی۔ لیکن جھوٹے نبی نے جذبہ جہاد کو قتل کرنے کے لیے اپنے سارے وسائل میدان میں جھونک دیئے۔ اور تنسیخ جہاد کے نغمے الاپنے لگا۔ ملاحظہ فرمائیے!
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے! دین کے لیے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے، خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد‘
(ضمیمہ ”تحفہ گولڑویہ“ ص ۳۹، مصنف مرزا قادیانی)
- ◯ ”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا، خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔
اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا ہے اور اپنا نام غازی رکھتا ہے، وہ اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے۔“ (”خطبہ الہامیہ“ مترجم، ص ۲۸-۲۹، مصنف مرزا قادیانی)
- ◯ ”گورنمنٹ انگلشیہ خدائی نعمتوں سے ایک نعمت ہے۔ یہ ایک عظیم الشان رحمت
ہے۔ یہ سلطنت مسلمانوں کے لیے برکت کا حکم رکھتی ہے۔ خداوند رحیم نے اس سلطنت کو مسلمانوں کے لیے باران رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ ایسی سلطنت سے لڑائی اور
جہاد کرنا قطعی حرام ہے۔” (”شہادت القرآن“ ضمیمہ، ص ۱۱-۱۲، مصنف مرزا قادیانی)
- ”بعض احمق نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا
نہیں، سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے، کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض ہے اور واجب ہے، اس سے جہاد کیسا؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک بدکار اور حرامی آدمی کا کام ہے۔“ (مرزا قادیانی کی کتاب ”شہادت القرآن“ کا ضمیمہ بعنوان ”گورنمنٹ کی توجہ کے لائق“ ص ۳۰، منقول از اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد ۲۷، ص ۲۰۹، مورخہ ۱۲ ستمبر ۱۹۳۹ء)
- ”یہی وہ فرقہ (یعنی قادیانی فرقہ) ہے جو دن رات کوشش کر رہا ہے کہ مسلمانوں
کے خیالات میں سے جہاد کی بیہودہ رسم کو اٹھا دے“ (”الریویو آف ریلیجنز“ ص ۵۳۷-۵۳۸)
- ”دیکھو میں (غلام احمد قادیانی) ایک حکم لے کر آپ کے پاس آیا ہوں، وہ یہ ہے
کہ اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے۔“ (رسالہ گورنمنٹ ”انگریز اور جہاد“ ص ۱۴، مصنف مرزا قادیانی)
- ”اب سے زمینی جہاد بند کئے گئے اور لڑائیوں کا خاتمہ ہو گیا۔“ (ضمیمہ ”خطبہ
الہامیہ“ ص ۱۷، مصنف مرزا قادیانی)
- ”سو آج سے دین کے لیے لڑنا حرام کیا گیا۔“ (ضمیمہ ”خطبہ الہامیہ“ ص ۱۷،
مصنف مرزا قادیانی)
- ”جو شخص میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود مانتا ہے۔ اسی روز سے اس کو
یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانہ میں جہاد قطعی حرام ہے۔ کیونکہ مسیح آ چکا، خاص کر میری تعلیم کے لحاظ سے اس گورنمنٹ انگریزی کا سچا خیر خواہ اس کو بننا پڑا ہے۔“ (گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، ضمیمہ، ص ۷، مصنف مرزا قادیانی)
- ”اور میں نے بائیس برس سے اپنے ذمہ یہ فرض کر رکھا ہے کہ ایسی کتابیں جن
میں جہاد کی مخالفت ہو اسلامی ممالک میں ضرور بھیج دیا کرتا ہوں۔ اسی وجہ سے میری عربی کتابیں عرب کے ملک میں بھی شہرت پا گئی ہیں۔“ (تحریر مرزا قادیانی، مورخہ ۱۸ نومبر ۱۹۰۱ء مندرجہ تبلیغ رسالت، جلد ص ۲۶)
- ”میں نے یہ کتابیں اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں بخوبی شائع کی ہیں
اس کے علاوہ روم کے پایہ تخت، قسطنطنیہ، بلاد شام، مصر اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا، ان کی اشاعت کی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلیظ خیالات چھوڑ دیئے جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ مجھے اس خدمت پر فخر ہے، کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی کوئی نظیر کوئی مسلمان نہیں دکھلا سکتا۔“ (”تبلیغ رسالت“ جلد ہفتم، مصنف مرزا قادیانی)
- ”جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے، ویسے ویسے جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے
کیونکہ مجھے مسیح و مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“ (”تبلیغ رسالت“ جلد ہفتم، ص ۱۷، مصنف مرزا قادیانی)
- ”میں سولہ برس سے برابر اپنی تالیفات میں اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ
مسلمانان ہند پر اطاعت گورنمنٹ برطانیہ فرض اور جہاد حرام ہے۔“ (”تبلیغ رسالت“ جلد سوم، ص ۱۹۶، مصنف مرزا قادیانی)
یوں مرزا قادیانی اپنے فتنہ ساز قلم اور فتنہ پرور زبان سے حرمت جہاد پر حملہ آور ہوتا رہا اور جہاد کا وہ فرض عظیم جس کی ادائیگی کے لیے اللہ کا قرآن اور محمدؐ کے فرمان مسلمانوں کو بار بار پکار رہے ہیں، انہیں باطل قرار دیتا رہا۔ قوم مسلم جس نے تلواروں کے سائے تلے آنکھ کھولی ہے، انہیں سایہ صلیب میں کھینچ کھینچ کر لانے میں مصروف عمل رہا۔ انگریزی ٹٹو مرزا قادیانی نے انگریز کو اولی الامر قرار دے دیا۔ اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ خنزیر کھانے والے فرنگی کی اطاعت کو بھی فرض قرار دے دیا۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو غلامی کی ظلمات میں اسیر رکھنے والی ملکہ کو ”نور“ کے نام سے پکارا۔ قرآن کے نسخے جلوانے اور علمائے اسلام کی گردنیں کٹوانے والی خون آشام ملکہ کو رحمت کے نام سے موسوم کیا۔ بدطینت انگریز کو ملت اسلامیہ کا محسن قرار دیا۔ انگریزی سلطنت سے ٹکرانے والے حریت پسندوں کو خدا اور اس کے رسولؐ کا سرکش قرار دیا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں سرفروشانہ حصہ لینے والے مجاہدین آزادی کو چور، قزاق اور حرامی کہا۔ امت میں جذبہ جہاد ابھارنے والے علمائے اسلام کی شان میں غلیظ گالیاں بک بک کر فرنگی کے کلیجے کو ٹھنڈا کیا۔ ”انگریزی چمچہ کڑچھا“ مرزا قادیانی انگریز کے
جوتے چاٹنا اور اس کی چاپلوسیوں کے نغمے الاپنا اس حد تک قعر مذلت میں گر گیا کہ جھوٹے نبی کے جھوٹے پیرو کاروں کو بھی شرم آگئی۔ لیکن مجسمہ بے حیائی و ڈھٹائی مرزا قادیانی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ ملاحظہ فرمائیے ”حضرت مسیح موعود نے فخریہ یہ لکھا ہے کہ میری کوئی کتاب ایسی نہیں جس میں، میں نے گورنمنٹ کی تائید نہ کی ہو مگر مجھے افسوس ہے کہ میں نے غیروں سے نہیں بلکہ احمدیوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہمیں حضرت مسیح موعود کی ایسی تحریریں پڑھ کر شرم آ جاتی ہے۔ انہیں شرم کیوں آتی ہے؟ اس لیے کہ ان کی اندر کی آنکھ نہیں کھلی۔ (ارشادات میاں محمود احمد ”الفضل“ بابت ۷ جولائی ۱۹۳۲ء)
موجودہ قادیانی نسل بھی مرزا قادیانی کی ان تحریروں کو پڑھے۔ اگر انہیں شرم آ جائے تو مرزا قادیانی پر لعنت بھیج کر فوراً گلشن اسلام میں داخل ہو جائیں۔ تحریریں پیش خدمت ہیں:۔
- ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید و حمایت میں گزرا ہے۔ اور
میں نے مخالفت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی تمام کتابوں کو عرب ممالک اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں۔“ (”تریاق القلوب“ ص ۲۵، مصنف مرزا قادیانی)
- ”سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں کہ اسلام کے دو حصے ہیں‘ ایک یہ
کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو سو وہ سلطنت‘ حکومت برطانیہ ہے۔“ (”شہادۃ القرآن“ ص ۸۶، مصنف مرزا قادیانی)
- ”خدا تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے میری اور میری جماعت کی پناہ اس سلطنت کو
بنا دیا ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے۔ نہ یہ امن مکہ مکرمہ میں مل سکتا ہے نہ مدینہ میں“ (”تریاق القلوب“ ص ۲۷، مصنف مرزا قادیانی)
- ”اس لیے میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے
اولی الامر میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں۔“ (”ضرورت الامام“ ص۲۳‘ مصنف مرزا قادیانی)
- ”صرف یہی التماس ہے کہ سرکار دولت مدار.... اس خود کشتہ پودا کی نسبت
نہایت احترام و احتیاط اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت کی نظر سے دیکھیں‘ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنا خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔“ (مرزا قادیانی کی درخواست بحضور لیفٹینٹ گورنر بہادر پنجاب مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد۷‘ ص۱۸‘ مصنف مرزا قادیانی)
- ”انگریزی سلطنت تمہارے لیے ایک رحمت ہے۔ تمہارے لیے ایک برکت ہے
اور خدا کی طرف سے تمہاری وہ سپر ہے۔ پس تم دل و جان سے اس سپر کی قدر کرو۔“ (اشتہار مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد دہم‘ ص۱۲۳‘ مصنف مرزا قادیانی)
- ”گورنمنٹ برطانیہ کے ہم پر بڑے احسان ہیں اور ہم بڑے آرام اور اطمینان
سے زندگی بسر کرتے اور مقاصد کو پورا کرتے ہیں۔..... اور ارد گرد دوسرے ممالک میں تبلیغ کے لیے جائیں تو وہاں بھی برٹش گورنمنٹ ہماری مدد کرتی ہے۔“ (”برکات خلافت“ ص۶۵)
- ”ہم اس سلطنت کے سایہ کے نیچے بڑے آرام اور امن سے زندگی بسر کر رہے
ہیں اور شکر گزار ہیں اور یہ خدا کا فضل اور احسان ہے کہ اس نے ہمیں کسی ایسے ظالم بادشاہ کے حوالے نہیں کیا جو ہمیں پیروں کے نیچے کچل ڈالتا‘ کچھ رحم نہ کرتا بلکہ اس نے ہمیں ایک ایسی ملکہ عطا کی ہے جو ہم پر رحم کرتی ہے۔ اور احسان کی بارش سے اور مہربانی کے مینہ سے ہماری پرورش فرماتی ہے اور ذلت اور کمزوری کی پستی سے اوپر کی طرف اٹھاتی ہے۔“ (”نور الحق“ حصہ اول‘ ص۴‘ مصنف مرزا قادیانی)
- ”پس میں یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ میں ان خدمات میں یکتا ہوں اور میں کہہ سکتا
ہوں کہ میں ان تائیدات میں یگانہ ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس گورنمنٹ کے لیے بطور ایک تعویذ کے ہوں بطور ایک پناہ کے ہوں جو آفتوں سے بچاوے۔“ (”نور الحق“ ص۳۴‘ مصنف مرزا قادیانی)
- ”ہم اور ہماری ذریت پر فرض ہو گیا ہے کہ اس مبارک گورنمنٹ برطانیہ کے شکر
گزار رہیں۔“ (”ازالہ“ طبع دوم حاشیہ، ص۵۷)
- ”ابر رحمت کی طرح خدا تعالیٰ برطانوی حکومت کو دور سے لایا۔ جس کا شکر ہر فرد
ہندوستانی پر فرض عین سے بھی بڑھ کر فوقیت رکھتا ہے۔“ (”ازالہ اوہام“ مصنف مرزا قادیانی)
- ”میں اپنی جماعت کو حکم دیتا ہوں کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر
میں داخل سمجھتے ہوئے دل کی سچائی سے ان کی اطاعت کریں۔“ (”ضرورت الامام“ ص۲۳، مصنف مرزا قادیانی)
- ”میرے مریدوں کی ایک جماعت تیار ہوئی ہے جو اس گورنمنٹ کے دلی جاں نثار
ہیں۔“ (گورنمنٹ کے نام عریضہ ”تبلیغ رسالت“ جلد ششم، ص۱۵، مصنف مرزا قادیانی)
- ”اس پاک جماعت (فرقہ احمدیہ) کے وجود سے گورنمنٹ برطانیہ کے لیے انواع و
اقسام کے فوائد مقصود ہوں گے۔“ (”ازالہ اوہام“ ص۸۴۹-۵۶۱، مصنف مرزا قادیانی)
- ”اور میں گورنمنٹ (برطانیہ) کی پولیٹیکل خدمت و حمایت کے لیے ایسی جماعت
تیار کر رہا ہوں جو آڑے وقت میں گورنمنٹ کے مخالفوں کے مقابلے میں نکلے گی۔“ (”الہامی قاتل“ نمبر۱، جلد۱۸، ص۵)
- ”غرض یہ ایک ایسی جماعت ہے جو سرکار انگریزی کی نمک پروردہ اور نیک نامی
حاصل کردہ اور مورد مراحم گورنمنٹ ہے اور یا وہ لوگ جو میرے اقارب یا خدام میں سے ہیں ان کے علاوہ ایک بڑی تعداد علماء کی ہے جنہوں نے میری اتباع میں اپنے وعظوں سے ہزاروں دلوں میں گورنمنٹ کے احسانات جما دیئے ہیں۔“ (”تبلیغ رسالت“ جلد ہفتم، مصنف مرزا قادیانی)
- ”ہمیں اس گورنمنٹ کے آنے سے وہ دینی فائدہ پہنچا کہ سلطان روم کے
کارناموں میں اس کی تلاش کرنا عبث ہے۔“ (اشتہار مرزا قادیانی مندرجہ ”تبلیغ رسالت“ جلد ہشتم، ص۵)
- ”بلکہ اس گورنمنٹ کے ہم پر اس قدر احسان ہیں کہ اگر ہم یہاں سے نکل جائیں
تو نہ ہمارا مکہ میں گزارا ہو سکتا ہے اور قسطنطنیہ میں۔ (ارشاد مرزا قادیانی مندرجہ ”ملفوظات احمدیہ“ جلد اول، ص۴۶)
- ○ "میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں نہ روم میں نہ
شام نہ ایران میں نہ کابل میں مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لیے دعا کرتا ہوں۔" (اشتہار مرزا قادیانی، مورخہ ۲۲؍ مارچ ۱۸۹۷ء)
- ○ "یہ تو سوچو اگر تم اس گورنمنٹ کے سائے سے باہر نکل جاؤ تو پھر تمہارا ٹھکانہ
کہاں ہے۔ ہر ایک اسلامی سلطنت تمہیں قتل کرنے کے لیے دانت پیس رہی ہے۔ کیونکہ ان کی نگاہ میں تم کافر اور مرتد ٹھہر چکے ہو۔" ("تبلیغ رسالت" جلد دہم، ص ۱۳۲، مصنف مرزا قادیانی)
- ○ "جب تک جماعت احمدیہ نظام حکومت سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتی، اس وقت
تک ضروری ہے کہ اس دیوار (انگریزی حکومت) کو (اپنی حمایت و نصرت سے) قائم رکھا جائے۔" ("الفضل قادیان"، ۳؍ جنوری ۱۹۴۵ء بیان مرزا بشیر الدین محمود)
مندرجہ بالا تحریرات کو جب ہم دیکھتے ہیں تو مرزا قادیانی کہیں اپنے باپ دادا کی مسلمانوں سے غداریوں اور انگریزوں سے وفاداریوں پر نازاں نظر آتا ہے۔ کہیں خود کو انگریز کا خود کاشتہ پودا لکھ کر خوشی سے رقص کرتا دکھائی دیتا ہے۔ کہیں فرنگی کی حمایت و تائید میں کتابیں لکھ کر انہیں بیرونی ممالک میں بھیج کر اپنی شخصیت پر فخر کرتا نظر آتا ہے۔ کہیں ملکہ کے گلے کا تعویذ بن کر لٹک رہا ہے۔ کہیں انگریزی سلطنت کی حفاظت کے لیے خون بہا دینے کا اعلان کر کے اپنی بہادری و شجاعت کی خود ساختہ تاریخ رقم کر رہا ہے اور کہیں انگریزی حکومت کے تحفظ کے لیے اپنے چیلے چانٹوں کی فوج تیار کر کے دربار فرنگی میں اپنی قیمت میں اضافہ کر رہا ہے۔ ہم تو اس ننگ دین و ملت کے بارے میں یہی کہہ سکتے ہیں۔
عبارت کیا، اشارت کیا، ادا کیا
قادیانیوں کی یہ ضمیر فروشی، وطن فروشی، ایمان فروشی، غیرت فروشی اور قوم فروشی کس لیے تھی؟
اس لیے کہ قادیانیت اور ٹوڈی گری ایک ہی چیز کے دو نام تھے۔ دونوں کا کام ایک تھا۔ دونوں کا سفر ایک تھا۔ دونوں کی منزل ایک تھی اور وہ تھی کہ ارض سے اسلام
اور مسلمان کا خاتمہ !
ان میں سے ایک سفاک قاتل تھا‘ دوسرا اس کی تیغ جفاء‘ ایک ستم گر تیر انداز تھا دوسرا زہر میں بجھا ہوا تیر‘ ایک زہر ساز تھا دوسرا زہر فروش‘ ایک سانپ تھا دوسرا اس کو پالنے والا‘ المختصر ایک چور تھا اور دوسرا چور کی ماں! چور اور چور کی ماں میں کتنا گہرا تعلق تھا‘ وہ چور کے اس بیان سے واضح ہو جاتا ہے۔
”دینی طور پر ہماری جماعت کے جو تعلقات گورنمنٹ کے ساتھ ہونے چاہیں‘ ان کو حضرت مسیح موعود ہی سب سے بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ چنانچہ آپ نے اس کے متعلق خوب کھول کھول کر لکھا ہے۔ حتیٰ کہ آپ لکھتے ہیں کہ میں نے کوئی کتاب ایسی نہیں دیکھی جس میں گورنمنٹ کی وفاداری کی طرف توجہ نہ دلائی ہو۔ پھر فرماتے ہیں گورنمنٹ کے سکھ کو اپنا سکھ‘ گورنمنٹ کی تکلیف کو اپنی تکلیف‘ گورنمنٹ کی ترقی اپنی ترقی‘ گورنمنٹ کے تنزل کو اپنا تنزل سمجھنا چاہیے۔“ (بشیر الدین محمود کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار ”الفضل“ جلد ۴‘ نمبر ۶۶‘ مورخہ ۶؍ مارچ ۱۹۱۷ء)
پانی بھی مانگتا نہیں تیرا ڈسا ہوا
مرزا قادیانی نے اپنی ساری زندگی فرنگی کے دربار کا طواف کرتے کرتے گزار دی۔ اس کے قلم و زبان گورنمنٹ برطانیہ کے استحکام کے لیے ہمیشہ متحرک رہے۔ جس بات کا اس کا آقا اشارہ کرتا‘ وہ وہی بک بک شروع کر دیتا۔ جس چیز کے بارے میں اس کا مالک حکم دیتا‘ وہ وہی لکھ مارتا۔ اس کو انگریزی نبوت عطا کرنے والا اسے جہاں بلاتا‘ وہ اپنی پٹاری سمیت حاضر ہو جاتا۔ وہ ہمیشہ انگریز کے اشارہ ابرو پر ناچتا رہا۔ غرضیکہ وہ انگریزی روبوٹ تھا اور انگریز اسے اپنے حسب منشا استعمال کرتا رہا۔ یہ تو تھی مرزا قادیانی کی تابعداری و فدا کاری۔ اس کے جواب میں انگریز نے بھی اس پر اپنے انعام و اکرام کا موسلا دھار مینہ برسایا۔ اس کی جیب کو سیم و زر سے گرم رکھا۔ زمینوں سے نوازا۔ اس کی اولاد کو صحیح مرتد بنانے کے لیے اور اپنا کام چلانے کے لیے انہیں بہترین ارتدادی تعلیم و تربیت بہم پہنچائی۔ اس کے ذوق کو مد نظر رکھتے ہوئے شراب و کباب کا بندوبست کیا۔ اس کی آتش ہوس کو بجھانے کے لیے خوبرو دوشیزائیں اس کے گھر پر ہمیشہ پہنچائیں۔ اپنے
چہیتے کی خدمت کے لیے زنانہ و مردانہ نوکروں کا بندوبست کیا۔ سرکاری دفاتر اور حکومت کے اعلیٰ حلقوں میں اسے ایک فرد خانہ کی حیثیت سے متعارف کرایا۔ اس کے چیلے چانٹوں کو اعلیٰ سرکاری عہدوں سے نوازا گیا۔ اس کے مخالفوں کو اذیت ناک سزائیں دیں۔ اس کی شیطانی تصانیف کو شائع کرنے کے لیے زرکثیر خرچ کیا اور اس کی ذات کی حفاظت کے لیے مسلح دستے مقرر رکھے اور اس کے برپا کردہ ”فتنہ ارتداد“ کو اپنی سنگینوں کے سائے تلے پروان چڑھایا۔ فرنگی یہ سب کچھ کرتا بھی کیوں نہ؟ آخر یہ اس کا خود کاشتہ پودا تھا۔ اس نے بویا تھا۔ لہٰذا حفاظت بھی اس کے ذمہ تھی۔ فرنگی نے جس طرح قادیانیوں کو تحفظ دیا اور ان پر اپنی نوازشات کی بارش رکھی‘ ان کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔
- ”میاں معراج الدین صاحب عمر نے بواسطہ مولوی عبد الرحمٰن صاحب مبشر بیان کیا
کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود ایک مقدمہ فوجداری کی جوابدہی کے لیے جہلم جا رہے تھے۔ یہ مقدمہ کرم دین نے حضور اور حکیم فضل الدین صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب کے خلاف توہین‘ کا دعوٰی کیا ہوا تھا۔ اس سفر کی مکمل کیفیت تو بہت طوالت چاہتی ہے۔ میں صرف چھوٹی سی ایک لطیف بات عرض کرتا ہوں جس کو بہت کم دوستوں نے دیکھا ہو گا۔ جب حضور لاہور ریلوے اسٹیشن پر گاڑی میں پہنچے تو آپ کی زیارت کے لیے اس کثرت سے لوگ جمع تھے جس کا اندازہ محال ہے۔ کیونکہ نہ صرف پلیٹ فارم بلکہ باہر کا میدان بھی بھرا پڑا تھا۔ اور گویا نہایت منتوں سے دوسروں کی خدمت میں عرض کرتے تھے کہ ہمیں ذرا چہرہ کی زیارت اور درشن تو کر لینے دو۔ اس اثنا میں ایک شخص جن کا نام منشی احمد الدین صاحب ہے (جو گورنمنٹ کے پنشنر ہیں اور اب تک بفضلہ زندہ موجود ہیں اور ان کی عمر اس وقت دو تین سال کم ایک سو برس کی ہے لیکن قویٰ اب تک اچھے ہیں اور احمدی ہیں) آگے آئے جس کھڑکی میں حضور بیٹھے ہوئے تھے‘ وہاں گورا پولیس کا پہرہ تھا اور ایک سپرنٹنڈنٹ کی حیثیت کا ایک افسر اس کھڑکی کے عین سامنے کھڑا نگرانی کر رہا تھا کہ اتنے میں جرات سے بڑھ کر منشی احمد الدین صاحب نے حضور سے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ یہ دیکھ کر فوراً اس پولیس افسر نے اپنی تلوار کو الٹے رخ پر اس کی کلائی پر رکھ کر کہا کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔ اس نے کہا کہ میں ان کا مرید
ہوں۔ اس افسر نے جواب دیا کہ اس وقت ہم ان کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں‘ ہم اس لیے ساتھ ہیں کہ بٹالہ سے جہلم اور جہلم سے بٹالہ تک بحفاظت تمام ان کو واپس پہنچا دیں۔ ہمیں کیا معلوم ہے کہ تم دوست ہو یا دشمن۔ ممکن ہے کہ تم اس بھیس میں کوئی حملہ کر دو اور نقصان پہنچاؤ۔ بس یہاں سے فوراً چلے جاؤ۔“ (”سیرت المہدی“ جلد ۳‘ ص ۲۸۹‘ مصنف مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
جی ہاں! حفاظت کیوں نہ کریں اتنی محنت سے تو نبی بنایا تھا کوئی آئے حملہ کرے اور انگریزی نبی کو ٹھنڈا کر دے اور اس کے ساتھ ہی انگریز بہادر کی آرزوؤں کا خون ہو جائے۔ ایک اور پہلو انتہائی قابل توجہ ہے کہ انگریز اپنے بنائے ہوئے نبی کی حفاظت ہندوستانی پولیس سے نہیں کراتا۔ بلکہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری گورا پولیس کے سپرد ہے۔ چاہے نبی زندہ ہو یا اس کی ارتھی جا رہی ہو۔ تھا جو V.I.P!
- O مرزا قادیانی ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء کو مرض ہیضہ میں مبتلا ہو کر بیت الخلا میں نقد جان ہار
گیا۔ بعد از موت‘ دونوں راستوں سے غلاظت بہہ رہی تھی۔ سارق نبوت کا جنازہ لاہور میں اس کے ایک معتقد کے گھر میں تعفن کا باعث بنا ہوا تھا۔ جب مرزے کی عبرت ناک موت کی خبر باہر نکلی تو لاہور کے منچلوں نے خوشی سے سڑکوں پر بھنگڑا ڈالا اور مرزے کی ارتھی نکلنے سے پہلے مظاہرے کا پروگرام رکھا۔ مرزے کی ارتھی لاہور سے قادیان جانی تھی۔ اس لیے لاہور کے باسیوں نے ان سڑکوں پر واقع مکانوں کی چھتوں پر کوڑا کرکٹ جمع کر لیا جن سڑکوں سے اس گستاخ رسولؐ کی لاش گزرنا تھی تاکہ نبوت کے اس ڈاکو کی میت پر کوڑا پاشی کی جاسکے۔ جب یہ اطلاع جھوٹی نبوت کے خالق فرنگی تک پہنچی تو اپنے لاڈلے اور چہیتے کی محبت میں فرنگی دیوانہ ہو گیا اور اس نے فوراً سخت حفاظتی انتظامات کا بندوبست کیا۔ لہٰذا انگریز سپاہیوں کے پہرے میں انگریزی نبی کی ارتھی لاہور سے قادیان پہنچائی گئی اور قادیاں کی یہ غلاظت قادیاں ہی میں دفن ہو گئی۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ انگریز سپاہیوں کے سخت پہرے کے باوجود لاہور کے عاشقان رسولؐ نے اس موذی کی ارتھی پر کوڑے اور غلاظت کے ٹوکرے پھینک کر شفاعت محمدیؐ کا حق محفوظ کر لیا۔ یہ کوڑا کرکٹ جھوٹے نبی پر بھی پڑا اور حفاظت پر مامور انگریز سپاہیوں پر بھی۔ بعد میں انگریز سپاہیوں کو وردیاں دھونے کے لیے صابن کی ٹکیاں سرکاری طور پر ادا کی گئیں۔ O
قادیانی تو مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو قتل کرتے رہتے۔ قرآن کا مذاق اڑاتے احادیث کا تمسخر اڑاتے۔ عقیدہ ختم نبوت پر پھبتیاں کستے۔ معاشی اور معاشرتی طور پر مسلمانوں کے حق پر ڈاکہ زنی کرتے۔ لیکن اگر کبھی مسلمان ان ظالموں کی طرف ہاتھ بڑھاتے اور ان کی ناک رگڑتے تو انگریز اپنی اس نادر تخلیق کی حفاظت کے لیے فوراً سخت اقدام اٹھاتا۔ ایک حوالہ ملاحظہ فرمائیے۔
”چند ہی دنوں کا ذکر ہے کہ ہمارے مالا بار کے احمدیوں کی حالت بہت تشویش ناک ہو گئی تھی۔ ان کے لڑکوں کو سکولوں میں آنے سے بند کر دیا گیا۔ مردے دفن کرنے سے روک دیئے گئے۔ چنانچہ ایک مردہ کئی روز تک پڑا رہا۔ مسجدوں سے روک دیا گیا..... گورنمنٹ نے احمدیوں کی تکلیف دیکھ کر اپنے پاس سے زمین دی ہے کہ اس میں مسجد اور قبرستان بنا لو۔ ڈپٹی کمشنر نے یہ حکم دیا کہ اب اگر احمدیوں کو کوئی تکلیف ہوئی تو مسلمانوں کے جتنے لیڈر ہیں‘ ان سب کو نئے قانون کے ماتحت ملک بدر کر دیا جائے گا۔“
(”انوار خلافت“ ص۹۶-۹۵‘ مصنف میاں محمود احمد)
- اقتدار فرنگی میں قادیانیوں کی سرکاری اداروں میں کیا وقعت و اہمیت تھی اور
ملازمتوں کے دروازے ان کے لیے کس طرح کھل کھل جاتے تھے۔ صرف ایک واقعہ ہی حقیقت کے چہرے سے نقاب الٹ دیتا ہے۔
”ایک شخص جو کچھ مدت سے ایک احمدی کے پاس رہتا تھا۔ ملازمت سے پہلے ایک برطانوی افسر کے پاس گیا۔ جب مذکورہ افسر نے درخواست کنندہ کے حالات دریافت کئے اور پوچھا کہ کہاں رہتے ہو۔ تو اس شخص نے جواب دیا کہ ”فلاں احمدی کے پاس“ افسر نے پوچھا ”کیا تم بھی احمدی ہو“ امیدوار نے جواب دیا ”نہیں جناب“ اس پر افسر نے کہا ”افسوس! تو اتنی دیر احمدی کے پاس رہا مگر سچائی کو اختیار نہیں کیا۔ جاؤ پہلے احمدی بنو پھر فلاں تاریخ کو آنا“
(”الفضل“ ۷؍ جون ۱۹۱۹ء)
زمانہ کئی مسافتیں طے کر گیا۔ زمین نے کتنی گردشیں مکمل کیں۔ آسمان نے کتنی کروٹیں لیں۔ سورج ہزاروں مرتبہ مشرق کی کوکھ سے طلوع ہو کر مغرب کی لحد میں ڈوب گیا۔ مہتاب کتنی مرتبہ اپنے رخشندہ مکھڑے سے اندھیری راتوں کو منور کر کے سو گیا۔ ستاروں نے کتنی مرتبہ چرخ نیلوفری پر اپنی حسین بزمیں سجائیں اور برخاست کیں۔ لیکن
ایک صدی پرانے کفر کے یارانے ابھی تازہ ہیں۔ نبی بنانے والے اور نبی بننے والے آج بھی بغل گیر ہیں اور ایک دوسرے کا منہ چوم رہے ہیں۔ ان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ چوٹ ایک کو لگتی ہے چیخ دوسرے کے منہ سے نکلتی ہے۔ نقصان ایک کا ہوتا ہے۔ آنسو دوسرا بہاتا ہے۔ مثالیں تو بے شمار ہیں لیکن بطور نمونہ چند حقائق پیش خدمت!
- ”سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے اقتدار کے آخری ایام میں قادیانیت
کے نباض آغا شورش کاشمیریؒ کو بتایا کہ برسر اقتدار آنے کے بعد جب میں پہلی مرتبہ سربراہ مملکت کی حیثیت سے امریکہ کے دورہ پر گیا تو امریکی صدر نے مجھے ہدایت کی کہ پاکستان میں قادیانی جماعت ہمارا گروہ ہے۔ آپ ہر لحاظ سے ان کا خیال رکھیں۔ دوسری مرتبہ جب میں امریکہ کے سرکاری دورہ پر گیا تو دوبارہ پھر یہی ہدایت ملی، بھٹو نے کہا ”یہ بات میرے پاس قومی امانت تھی۔ ریکارڈ کے لیے پہلی مرتبہ انکشاف کر رہا ہوں۔“
(”قادیانیت کا سیاسی تجزیہ“ از صاحب زادہ طارق محمود)
ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر انسانیت کے پرخچے اڑا دینے والے سفاک، قادیانیوں کے بارے میں کتنا نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ حیرت ہے۔! تعجب ہے!
- ۱۹۴۷ء میں جب برطانوی سامراج نے ہندوستان سے کوچ کرنے کے لیے بوریا بستر
باندھا تو اسے ایک ہی فکر دامن گیر تھی کہ امت مرزائیہ جو مسلمانوں میں گھس کر کام کر رہی ہے۔ ان کے چلے جانے کے بعد بھی یہ فرائض قبیح سرانجام دیتی رہے گی۔ ان کا پاکستان میں مستقبل کیا ہو گا؟ آخر پاکستان کے اندر قادیانیوں کی ایک ریاست قائم کرنے کا خطرناک منصوبہ تیار کیا۔ انگریز گورنر سر فرانس موڈی نے قادیانیوں کو تعمیر ریاست کے لیے ۱۰۳۳ ایکڑ سات کنال آٹھ مرلے اراضی، پرانا آنہ فی مرلہ کے حساب سے عطا کر کے جہنم میں جلتے ہوئے مرزا قادیانی کی روح کو تحفہ بھیجا۔ ربوہ میں قادیانیوں کو ٹھاٹھ بھاٹھ کی زندگی گزارنے کے لیے لوازمات مہیا کئے گئے۔ دور دور سے قادیانیوں کو لا کر یہاں آباد کیا گیا۔ بہت سے مسلمانوں کو زمین دے کر مرزائی بنا لیا گیا۔ پاکستان میں رہنے والے مسلمان بھی ربوہ میں داخل نہیں ہو سکتے تھے۔ شہر ربوہ میں قادیانیوں کی اپنی حکومت تھی۔ اور قادیانیوں کے خلیفہ کا ہر حکم قانون کا درجہ رکھتا تھا۔ ۱۹۷۴ء میں امت کی تاریخی جدوجہد کے نتیجہ میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دے
دیا اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دے دیا گیا۔ لیکن آج بھی ربوہ شہر عملی طور پر قادیانیوں کے زیر تسلط ہے۔ پوری دنیا میں ارتدادی لٹریچر ربوہ سے روانہ کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں تخریب کاری کے منصوبے ربوہ ہی میں تیار کئے جاتے ہیں۔ بھارت اور اسرائیل کے جاسوسوں کی پناہ گاہ بھی ربوہ ہی ہے۔ ربوہ ہی فرنگی کا وہ تعمیر کردہ قلعہ ہے جس کے اندر بیٹھے قادیانی عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں اور کفر و ارتداد کے تیروں سے ملت اسلامیہ کے جگر کو گھائل کر رہے ہیں اور اپنے آقا کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔
- مکار انگریز کی دوسری خواہش، اقتدار پاکستان میں قادیانیوں کی شمولیت تھی۔ تاکہ
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اندرونی راز صبح و شام اس تک پہنچتے رہیں اور قادیانی امت معاشی و معاشرتی لحاظ سے مضبوط اور مستحکم ہو سکے۔ لہٰذا ایک سازش کے تحت بدنام زمانہ قادیانی سر ظفر اللہ خان کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ مقرر کرایا۔ وزارت خارجہ ایسے اہم قلمدان پر قابض ہونے کے بعد غدار پاکستان ظفر اللہ خان نے بیرون ملک پاکستان سفارت خانوں میں قادیانی افسران کا جال بچھا دیا۔ بیرونی یونیورسٹیوں میں سرکاری وظائف پر قادیانی طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجا۔ اندرون ملک اپنا اور اپنے آقا کا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے قادیانیوں کو کلیدی عہدوں پر بٹھایا۔ تھوڑی ہی مدت میں پاکستان کی اکثر کلیدی آسامیوں پر قادیانی سانپ لہراتے نظر آنے لگے اور فتنہ قادیانیت نے پاکستان میں مضبوط قدم جما لیے۔ انگریز اپنے ”خود کاشتہ پودے“ کو پاکستان میں ایک تناور درخت کے روپ میں دیکھ کر خوشی سے لوٹ لوٹ گیا۔
- اسرائیل میں کوئی مذہبی مشن کام نہیں کر سکتا۔ لیکن اسرائیل میں قادیانی مشن
کھلے عام مصروف عمل ہے۔ اور اس پر طرہ یہ کہ اسے اسرائیل کی سرپرستی حاصل ہے۔ اسرائیل قادیانیوں کے لیے ننھیال ہے۔ قادیانیوں کو کوئی تکلیف پہنچے تو اسرائیل تڑپ اٹھتا ہے۔ اس کے جواب میں کہوٹہ ایٹمی پلانٹ، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور افواج پاکستان میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات قادیانی ان اداروں کے خفیہ راز اسرائیل پہنچانے کا فریضہ بد سرانجام دیتے ہیں۔ یہ ہے دو دوستوں کا آپس میں تحائف کا تبادلہ!
- پاکستان میں جب قادیانیوں پر شعائر اسلامی کے استعمال پر پابندی لگائی گئی تو امریکہ
بہادر اپنے بچوں پر یہ قدغن برداشت نہ کر سکا تو امریکہ نے پاکستان پر معاشی دباؤ ڈالتے
ہوئے، ۱۹۸۷ء میں امریکی امداد کی یہ شرط عائد کر دی کہ ”امریکہ صدر ہر سال اس مفہوم کا سرٹیفکیٹ جاری کریں گے کہ حکومت پاکستان اقلیتوں مثلاً احمدیوں کو مکمل شہری اور مذہبی آزادیاں نہ دینے کی روش سے باز آ رہی ہے اور ایسی تمام سرگرمیاں ختم کر رہی ہے جو مذہبی آزادیوں پر قدغن عائد کرتی ہیں۔“ (بحوالہ روز نامہ ”جنگ“ ۵ مئی ۱۹۸۷ء)
- نوبل پرائزز یہودی لابی کی جیب کی ریوڑیاں ہیں۔ جنہیں وہ اندھے کی طرح اپنوں
ہی میں تقسیم کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام بھی ان کے جگر کا ٹکڑا ہے۔ لہٰذا شعبہ فزکس میں نوبل پرائیز کی ایک ریوڑی اسے بھی تھما دی گئی ہے تاکہ دنیا میں اسے سرفراز اور مشہور کیا جا سکے۔ وہ کسی کلیدی آسامی پر بیٹھ کر بین الاقوامی سطح پر قادیانیت کی تبلیغ و تشہیر کر سکے۔ نیز قادیانیت کے چھکڑے کو چلانے کے لیے بھاری فنڈز حاصل کر سکے۔ یہ ایک کافر کا دوسرے کافر پر احسان تھا۔ سپوت قادیانیت کو نوبل انعام ملنے پر تبصرہ کرتے ہوئے فخر ملت اسلامیہ ڈاکٹر عبدالقدیر فرماتے ہیں۔
”وہ بھی نظریات کی بنیاد پر دیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالسلام ۱۹۵۷ء سے اس کوشش میں تھے کہ انہیں نوبل انعام ملے۔ آخر کار آئن سٹائن کی صد سالہ یوم وفات پر ان کا مطلوبہ انعام انہیں دے دیا گیا۔ دراصل قادیانیوں کا اسرائیل میں باقاعدہ مشن ہے جو ایک عرصے سے کام کر رہا ہے۔ یہودی چاہتے تھے کہ آئن سٹائن کی برسی پر اپنے ہم خیال لوگوں کو خوش کر دیا جائے۔ سو ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی انعام سے نوازا گیا۔“ (ہفت روزہ ”چٹان“ لاہور، ۲۱ فروری ۱۹۸۶ء)
محفوظ ہیں تحریریں مرقوم ہیں تقریریں
ایک پردہ وفاداری صد سازش غداری
تعمیر کی آوازیں تخریب کی تدبیریں
- ۱۹۸۹ء میں انسانی حقوق کی دعوے دار تنظیم ”ایمنسٹی انٹرنیشنل“ کا ایک وفد پاکستان
آیا، جس نے صدر پاکستان، وزیر اعظم پاکستان اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں قادیانیوں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں۔
انہیں معاشرہ میں ان کے حقوق دیئے جائیں۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا ظلم ہے۔ اس لیے انہیں دوبارہ مسلمان تسلیم کیا جائے۔ حالانکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ ۱۹۷۴ء کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ لیکن ایمنسٹی انٹرنیشنل قادیانیوں کی ہمدردی اور وکالت میں اس قدر سرگرم ہے کہ نہ اسے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا پاس ہے اور نہ آئین پاکستان کے تقدس کا خیال! وہ تو قادیانیت کے عشق میں دیوانگی دکھاتے ہوئے کھلم کھلا مداخلت پر تلی ہوئی ہے۔ حالانکہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ قادیانی پاکستان میں پہلے ہی مسلمانوں کے حقوق غصب کئے کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔ اور ٹھاٹھ سے زندگی گزار رہے ہیں۔ کیا ایمنسٹی انٹرنیشنل صرف یہود و نصاری اور قادیانیوں کے حقوق کی محافظ تنظیم ہے یا ساری انسانیت کی؟ ایمنسٹی انٹرنیشنل کو مزے میں بیٹھے ہوئے قادیانیوں کے فرضی حقوق کی تو بہت فکر ہے۔ لیکن کیا افغانستان میں ذبح ہوتی انسانیت، مقبوضہ کشمیر میں غلام انسانیت، فلسطین میں مجروح انسانیت، بخارا و سمرقند میں زنجیروں میں جکڑی انسانیت، آذربائیجان میں سسکتی ہوئی انسانیت اور بلغاریہ میں روتی ہوئی انسانیت اسے نظر نہیں آتی؟
- " مجاہد ختم نبوت مولانا محمد اسلم قریشی کے مقدمہ اغوا کے سلسلے میں جب حکومت
کے تفتیشی ہاتھ قادیانی گرو گھنٹال مرزا طاہر کی طرف بڑھے اور حکومت نے اس خاندانی مجرم کو گرفتار کرنا چاہا تو وہ راتوں رات فرار ہو کر اپنی نانی کی گود میں لندن جا پہنچا۔ ننھیال نے اپنے لاڈلے فرزند کے دست و پا چومے اور ہر طرح کی مدد اور تحفظ فراہم کیا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ مرزا طاہر فرار ہو کر کسی اسلامی ملک میں کیوں نہ گیا؟ جواباً عرض ہے کہ اگر مرزا طاہر فرار ہو کر کسی اسلامی ملک میں جاتا تو انٹرپول کے ذریعے اسے فوراً گرفتار کر کے پاکستان لایا جاتا اور قادیانی گرو جیل کی ہوا کھاتا۔ لیکن وہ تو سیدھا بھاگا ہی وہاں، جہاں سے اس کے مرتد دادا کو جھوٹی نبوت ملی تھی۔ مرزا طاہر نے لندن میں اسلام آباد کے نام سے اپنا مرکز قائم کر رکھا ہے اور دندناتا ہوا اپنا ارتدادی مشن چلا رہا ہے۔ اب فرنگی کا دوسرا پالتو شیطان رشدی بھی عظمت اسلام پر بھونکتا بھونکتا اور بھاگتا بھاگتا اپنے آقا کے گھر لندن پہنچ گیا ہے۔ اور دونوں شیطان بھائی اپنے فرنگی محافظوں کی حفاظت میں بیٹھے مسلمانوں کا منہ چڑا رہے ہیں۔ فرنگی حفاظت کیوں نہ کرے؟ دونوں اسی کے شاہکار ہیں۔
دونوں کو زبان غلیظ اسی نے عطا کی ہے۔ دونوں اسی کے مشن کو چلا رہے ہیں ---- لہٰذا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے کارندوں کی حفاظت کرے!
قادیانیوں کی مثال کنگرو کے بچوں کی طرح ہے۔ جو کھیل کود اور شرارتوں میں مصروف رہتے ہیں اور جونہی کوئی خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ تو سر پر پاؤں رکھ کر بھاگتے ہیں اور ماں کے پیٹ کے ساتھ بنی ہوئی تھیلی میں دبک کر بیٹھ جاتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی قادیانی اپنی انسانیت کش سرگرمیوں میں جتے رہتے ہیں۔ اور جونہی کوئی خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ تو فوراً نانی کے گھر (لندن) تہہ خانے میں جاگھستے ہیں اور خطرہ ٹل جانے پر پھر باہر نکل کر اپنے تخریبی کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے۔ تب سے قادیانی اس مملکت خدا داد پر قبضہ کرنے کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ اس انتظار میں ان کے دن انگاروں اور راتیں کانٹوں پر گزر رہی ہیں۔ زمام اقتدار سنبھالنے کے لیے کئی سازشیں تیار کیں۔ لیکن رب خاتم النبیینؐ نے جناب خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس نام پر بننے والے اس ملک کو ہر سازش سے صاف بچا لیا اور قادیانی حملہ آور اور ان کی پشت پناہی کرنے والے یہود و نصاری خائب و خاسر ہو کر رہ گئے۔ مندرجہ ذیل حوالوں سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ قادیانی شروع سے انگریز کی اولاد ہونے کے ناطے ہندوستان پر حکومت کے خواب دیکھ رہے تھے۔ لیکن آزادی کے پروانوں نے ان کے سارے خواب خاک میں ملا دیئے۔ پاکستان بننے کے بعد انہوں نے پھر یہی سہانے سپنے دیکھنے شروع کر دیئے۔ حوالہ جات پیش خدمت!
- ”ہمیں احمدی حکومت قائم کرنا چاہیے۔“ (”الفضل“ ۱۴ فروری ۱۹۲۲ء‘ خلیفہ
قادیان مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر)
- ”اس وقت تک کہ تمہاری بادشاہی قائم نہ ہو جائے تمہارے راستے سے یہ کانٹے
ہرگز دور نہیں ہو سکتے۔“ (”الفضل“ قادیاں‘ ۸ جولائی ۱۹۲۲ء)
- ”ہم فتح یاب ہوں گے۔ ضرور تم مجرموں کی طرح ہمارے سامنے پیش ہو گے۔
اس وقت تمہارا حشر بھی وہی ہو گا جو فتح مکہ کے دن ابو جہل اور اس کی پارٹی کا ہوا۔“ (اخبار ”الفضل“ ۳ جنوری ۱۹۵۲ء) ”حالانکہ ابو جہل جنگ بدر میں واصل جہنم ہو گیا تھا۔“ (مولف)
- ”تم (مرزائی) اس وقت تک امن میں نہیں ہو سکتے جب تک تمہاری اپنی
بادشاہت نہ ہو۔“ (”الفضل“ ۲۵؍ اپریل ۱۹۳۰ء)
- ”احمدیوں (مرزائیوں) کے پاس چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا نہیں جہاں احمدی ہی
احمدی (مرزائی ہی مرزائی) ہوں۔ کم از کم علاقہ کو مرکز بنا لو اور جب تک ایسا مرکز نہ ہو جس میں کوئی غیر (مسلمان) نہ ہوں اس وقت تم اپنے مطالبے کے امور جاری نہیں کر سکتے۔“ (”الفضل“ مارچ ۱۹۳۲ء‘ خطبہ محمود)
- ”ہمارے ہاتھ حکومت آ جاوے گی‘ احمدی امراء اور بادشاہ ہوں گے تو اس وقت
۱/۱۰ حصہ کی وصیت کافی نہ ہو گی۔“ (ضمیمہ ”الوصیت“ ص ۲۶)
- ”حکومت ہمارے پاس نہیں کہ ہم جبر کے ساتھ ان لوگوں کی اصلاح کریں اور ہٹلر
یا مسولینی کی طرح جو شخص ہمارے حکموں کی تعمیل نہ کرے اس کو ملک سے نکال دیں اور جو ہماری باتیں سننے اور عمل کرنے پر تیار نہ ہو اس کو عبرتناک سزا دیں۔ اگر حکومت ہمارے پاس ہوتی تو ہم ایک دن کے اندر اندر یہ کام کر لیتے۔“ (تقریر خلیفہ قادیانی ”الفضل“ قادیان‘ ۶؍ جون ۱۹۳۲ء جلد نمبر ۲۴)
- ”اگر ہم ہمت کریں اور تنظیم کے ساتھ محنت سے کام کریں تو ۵۲ء میں ہم
انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔“ (اخبار ”الفضل“ ۱۶؍ جنوری ۱۹۵۲ء‘ خلیفہ محمود)
اے محبان پاکستان! آج پاکستان کو تباہ و برباد کر کے اس کے کھنڈرات پر قادیانی ریاست قائم کرنے کا منصوبہ اپنے نقطہ عروج کو پہنچ چکا ہے۔ (نعوذ باللہ) نئی نئی سازشیں۔۔۔۔۔ نئے نئے جال ہیں۔ جدید پھندے ہیں۔۔۔۔۔ نئی نئی گھاتیں ہیں۔۔۔۔۔ نئی نئی وارداتیں ہیں۔۔۔۔۔ خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔۔۔۔۔ خوفناک ہوائیں چل رہی ہیں۔۔۔۔۔ فضاؤں میں وحشت تیر رہی ہے۔۔۔۔۔ ارض وطن کا پتا پتا‘ بوٹا بوٹا اور ذرہ ذرہ اہل وطن کو چیخ چیخ کر صدا دے رہا ہے۔
عنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
انا خاتم النبیین ﷺ لا نبی بعدی
آستین کے سانپ
قادیانی نور الدین بشیر الدین مرزا ناصر مرزا طاہر
یعنی
قادیانی سانپ
- جنہوں نے قصر نبوت کی دیوار میں ارتداد کا ڈنک مار کر قادیانی نبوت چلانے کی ناپاک جسارت کی۔
- جنہوں نے پاکستان کی بنیادوں میں علیحدگی کا ڈنک مارا اور وطن عزیز دو لخت ہو گیا۔
- جو ملت اسلامیہ کی رگوں میں فرقہ پرستی کا زہر گھول کر انتشار و خلفشار کی فضا پیدا کر رہے ہیں۔
- یہ سانپ اسی دھرتی کا دودھ پیتے ہیں، اسی میں بلیں بنا کر رہتے ہیں اور ہر بل کا کنکشن اسرائیل
سے جاملتا ہے، ارض وطن ان کی زہرناکیوں اور سفاکیوں کی وجہ سے زخمی زخمی و لہولہو ہے اور تڑپ تڑپ کر محبان وطن کو پکار رہی ہے۔
پاکستان کا تصور حکیم الامت‘ ترجمان حقیقت‘ شاعر مشرق اور غرقاب عشق رسولؐ حضرت علامہ اقبالؒ نے پیش کیا تھا۔ جہاں مفکر پاکستان نے پاکستان کا عظیم تصور پیش کیا وہاں پیکر حکمت و دانائی اقبال مرحوم نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے واشگاف الفاظ میں امت مسلمہ کو دین اسلام اور ملت اسلامیہ کے خلاف یہود و نصاریٰ کی ایک بہت بڑی‘ گھناؤنی سازش ”فتنہ قادیانیت“ سے بھی خبردار کیا تھا۔ محسن قوم علامہ اقبالؒ فرنگی کی تیار کردہ جھوٹی نبوت اور جھوٹے نبی مرزا قادیانی کی سازشوں سے بخوبی آشنا تھے اس مرد قلندر نے قادیانیت کے غلیظ چہرے سے نقاب سرکا کر‘ اس کی بے وفا آنکھوں میں جھانک کر‘ اس کی لوح دماغ پڑھ کر اور اس کے دل کی تہوں میں اسلام اور ملت اسلامیہ سے بغاوت کے سرکش ارادوں کو اپنی چشم بینا سے دیکھ کر‘ دو تاریخی جملے کہے تھے ”قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے“۔ ”قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔“
قیام پاکستان کے بعد قادیانی‘ مرکز کفر و الحاد ”قادیان“ سے ایک سازش کے تحت ربوہ منتقل ہو گئے۔ انگریز گورنر سر فرانسس موڈی نے اپنے ان چہیتوں کو ربوہ میں ۱۰۳۳ ایکڑ سات کنال آٹھ مرلے اراضی‘ پونا آنہ فی مرلہ کے حساب سے ملت اسلامیہ سے غداری کے عوض تحفتاً عنایت کی۔ ”ربوہ“ ضلع جھنگ دریائے چناب کے کنارے چاروں طرف پہاڑوں سے گھرا ہوا ”پاکستان“ کے مرکز میں واقع ہے اور دفاعی لحاظ سے ضلع سرگودھا کے قریب ایک اہم علاقہ ہے۔ قادیانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ کی وزارت نے حکومت کی نوازشات کا رخ ربوہ کی طرف موڑ دیا۔ ربوہ میں ریلوے اسٹیشن قائم ہوا۔ سکولوں کی تعمیر شروع ہو گئی۔ تار گھر بنایا گیا۔ ہسپتال تعمیر ہوا۔ کالج معرض وجود میں آیا۔ بجلی پہنچائی گئی۔ سڑکیں بنائی گئیں اور دیگر تعمیر و ترقی کے بے شمار کام ہوئے۔ ربوہ
میں کسی مسلمان کو داخل ہونے کی اجازت نہ تھی۔ نام نہاد قادیانی خلیفہ کی اپنی مطلق العنان خلافت تھی۔ خلیفہ کی اپنی عدالتیں اور نظارتیں تھیں۔ ربوہ شہر کے اپنے الگ اسٹام پیپر تھے۔ سکولوں کالجوں کے اساتذہ کا تمام سٹاف قادیانی تھا۔ المختصر پاکستان میں ایک مضبوط اور ایک منظم قادیانی ریاست قائم ہو چکی تھی۔
اب ہم حقائق کی روشنی میں نہایت مختصر انداز میں ثابت کرتے ہیں کہ قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔
اکھنڈ بھارت ..... ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضا مند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح پھر متحد ہو جائیں (”الفضل“
۱۷ مئی ۱۹۴۷ء)
قادیانی مردے ”امانتاً“ دفن ہیں..... قادیانیوں نے آج تک وجود پاکستان کو تسلیم نہیں کیا۔ کیونکہ ان کا الہامی عقیدہ ہے کہ ایک نہ ایک دن پاکستان ٹوٹ کر رہے گا اور ہم اپنے قبلہ و کعبہ قادیان ضرور جائیں گے اس لیے قادیانی اپنے مردوں کو ربوہ کے نام نہاد بہشتی مقبرہ میں ”امانتاً“ دفن کرتے ہیں کیونکہ جب پاکستان ٹوٹ جائے گا تو ہم اپنے مردے یہاں سے نکال کر قادیان لے جائیں گے۔ مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی و دیگر قادیانی گرو گھنٹالوں کی قبروں پر ایسی ہی باغیانہ اور غدارانہ تحریریں رقم تھیں۔ جو اب کسی مصلحت کے تحت ہٹا دی گئیں ہیں۔
قائد اعظمؒ کا نماز جنازہ نہیں پڑھا..... محسن قوم، بانی پاکستان محمد علی جناحؒ کا نماز جنازہ اس وقت کے قادیانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ مرتد نے نہیں پڑھا تھا بلکہ غیر ملکی سفیروں کے ساتھ باہر بیٹھا رہا (وہ قائد اعظمؒ کو کافر سمجھتا تھا، کیونکہ قائد اعظمؒ مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے تھے۔)
تقسیم ملک کے وقت قادیانیوں نے پاکستان میں شمولیت کرنے سے انکار کر دیا تھا اور حد بندی کمیشن کے سامنے ایک الگ قادیانی ریاست کا مطالبہ کیا تھا اور اس میں اپنی تعداد، علیحدہ مذہب، اپنے سکول، فوجی ملازمین کی کیفیت اور آبادی وغیرہ کی تفصیلات درج کیں۔ حتی کہ قادیانی جماعت نے باؤنڈری کمیشن کو قادیانی ریاست کا الگ نقشہ بھی پیش
کیا یہ تمام تفصیلات حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب The Partition of the Punjab میں درج ہیں۔
بلوچستان پر قبضہ کرنے کا منصوبہ... قادیانی جب اپنی علیحدہ ریاست قائم کرنے میں ناکام رہے تو پھر انہوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ پاکستان میں ایک صوبہ قادیانی ہونا چاہیے‘ اس کے لیے انہوں نے بلوچستان کا انتخاب کیا انہوں نے سوچا کہ بلوچستان رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے اور آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا اور آبادی کی اکثریت ان پڑھ ہے لہٰذا یہاں ہمارا کھوٹہ سکہ خوب چلے گا۔ لیکن علماء حق نے ان کی اس سازش کے پرخچے اڑا دیئے۔
ملاحظہ ہو قادیانی منصوبہ‘
”بلوچستان کی کل آبادی پانچ یا چھ لاکھ ہے۔ زیادہ آبادی کو احمدی بنانا مشکل ہے لیکن تھوڑے آدمیوں کو تو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں۔ پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبہ کو بہت جلد احمدی بنایا جاسکتا ہے اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنا لیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو جائے گا جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے۔ پس تبلیغ کے ذریعہ بلوچستان کو اپنا صوبہ بنالو تاکہ تاریخ میں آپ کا نام رہے۔“ (مرزا محمود احمد کا بیان مندرجہ ”الفضل“ ۱۳ اگست ۱۹۴۸ء)
لیاقت علی خان کا قتل..... گزشتہ دنوں قومی اخبارات میں اور کراچی سے شائع ہونے والے ایک جریدہ ہفت روز تکبیر (مارچ ۱۹۸۶ء) میں پاکستان کے سراغرساں جیمز سالومن ونسنٹ کی یادوں کے حوالہ سے بتایا گیا کہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خاں کو سید اکبر نے نہیں بلکہ ایک جرمن قادیانی کنزے نے قتل کیا ہے۔ اس قادیانی کی پرورش سر ظفر اللہ خاں نے کی تھی‘ اب اس قتل کی وجہ بھی سنئے۔
”سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کو حکم فرمایا کہ وزیر اعظم پاکستان خان لیاقت علی خاں سے ملاقات کر کے انہیں قادیانیوں کی خرمستیوں اور سیاسی قلا بازیوں سے آگاہ کرو۔ لہٰذا ملاقات کے لیے صرف ۵ منٹ کا وقت دیا گیا لیکن جب قاضی صاحب نے قادیانیت کے سربستہ رازوں کی گرہیں کھولیں تو لیاقت علی خاں
ششدر رہ گئے اور یہ پانچ منٹ کی ملاقات اڑھائی گھنٹے میں بدل گئی۔ لیاقت علی خاں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ”اب یہ بوجھ آپ کے کندھوں سے میرے کندھوں پر آن پڑا ہے۔“ سیالکوٹ میں قاضی صاحب کی لیاقت علی خاں سے آخری ملاقات ہوئی اور اس کے بارے میں ایک روایت یہ ہے کہ لیاقت علی خاں نے سر ظفر اللہ کو وزیر خارجہ کے عہدہ سے علیحدہ کرنے کا پکا فیصلہ کر لیا تھا اور راولپنڈی کے جلسہ عام میں اس کا اعلان کرنے والے تھے، ادھر قادیانی سازشی قوتیں بھی تیار بیٹھی تھیں۔ جیمز کے بقول کنزے جلسہ عام میں سٹیج کے قریب ہی بیٹھا ہوا تھا، اس نے پٹھانوں والا لباس پہن رکھا تھا، جونہی شہید ملت سٹیج پر آئے، کنزے نے فائرنگ کر کے انہیں شہید کر دیا۔ شور و غل میں سید اکبر کو قاتل مشہور کر دیا گیا اور سوچی سمجھی سازش کے تحت اسے ہلاک کر دیا گیا۔
کنزے راولپنڈی سے فرار ہو کر ربوہ پہنچا اس کے بعد وہ مغربی جرمنی فرار ہو گیا اور بقول جیمز، کنزے آج بھی مغربی جرمنی کے شہر برلن میں زندہ ہے“۔
اسرائیل میں چھ سو قادیانی فوجی..... اسرائیل نے مسلمانان عرب پر جو ظلم و ستم توڑے ہیں، انہیں پڑھ کر ہلاکو، اور چنگیز خاں کے مظالم بھی ماند پڑ جاتے ہیں۔ خصوصاً اسرائیل نے فلسطین میں خون ناحق کے جو دریا بہائے ہیں، صرف وہی داستان ظلم پڑھ کر جسم پر رعشہ طاری ہو جاتا ہے اور شریانوں میں خون منجمد ہوتا محسوس ہوتا ہے لیکن آپ یہ پڑھ کر حیران رہ جائیں گے کہ ۱۹۷۲ء کی قومی اسمبلی میں مولانا ظفر انصاری نے پارلیمنٹ کو یہ بتا کر ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ جہاں ننگِ انسانیت یہودی درندے فلسطین و دیگر عرب ممالک کے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں، وہاں ۶۰۰ قادیانی فوجی بھی اسرائیل کی فوج میں باقاعدہ بھرتی ہیں اور اس چنگیزی فعل میں یہودی درندوں سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔
اسرائیل میں قادیانی مشن..... اسرائیل میں کوئی بھی مذہبی مشن کام نہیں کر سکتا لیکن قادیانی مشن کو اسرائیل میں کام کرنے کی کھلی اجازت ہے، حال ہی میں روزنامہ ”نوائے وقت“ کے اول صفحہ پر ایک چونکا دینے والی تصویر شائع ہوئی ہے جس میں اپنے فرائض قبیح سے سبکدوش ہونے والا قادیانی مشن کا سربراہ دوسرے نئے آنے والے
بلا تبصرہ
Friday, November 22, 1985 The Jerusalem Post
Sheikh Sharif Ahmed Amini (centre), the outgoing head of the Ahmediya, an Indian Moslem sect locally based in Haifa, introduces his successor, Sheikh Mohammed Hamid Kawpar, to President Chaim Herzog yesterday at Beit Hanassi. The new leader of the sect, which has 1,200 followers in Israel, brought numerous documents as evidence that the sect is persecuted in Pakistan. The outgoing sheikh, who is returning to India, praised Israel for allowing his sect to enjoy complete religious freedom. (Rahamim Israeli)
اسرائیل میں سبکدوش ہونے والے قادیانی سربراہ شیخ شریف امینی نئے سربراہ شیخ محمد حمید کا اسرائیلی صدر سے تعارف کرا رہے ہیں شیخ شریف نے قادیانیوں کو مکمل مذہبی آزادی دینے پر اسرائیل کی تعریف کی ۔
قادیانی مشن کے سربراہ کا تعارف اسرائیلی صدر سے کروا رہا ہے۔ اخبار میں راز فاش ہونے پر دار الکفر ربوہ کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کی آنکھیں بھی کھل گئیں۔
امریکی ایجنٹ ..... قادیانی دنیا کی ہر استعماری طاقت کے ایجنٹ ہیں۔ بڑی طاقتوں کے بغل بچے بن کر رہتے ہیں اور اپنے مفادات سمیٹتے رہتے ہیں‘ موجودہ حالات میں قادیانیوں کو روئے زمین پر ذلت کی خاک چاٹتے ہوئے دیکھ کر امریکہ اپنے ان پروردوں کی حمایت
میں کھل کر سامنے آگیا اور امریکہ نے واشگاف الفاظ میں حکومت پاکستان کو یہ کہہ دیا ہے کہ امریکہ پاکستان کی امداد صرف اس شرط پر دے گا کہ حکومت پاکستان قادیانیوں کے خلاف اٹھائے گئے سارے قانونی اقدامات واپس لے لے اور انہیں حقائق سے نقاب اٹھاتے ہوئے پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے اقتدار کے آخری ایام میں قادیانیت کے نباض آغا شورش کشمیریؒ کو بتایا کہ ”برسر اقتدار آنے کے بعد جب میں پہلی مرتبہ سربراہ مملکت کی حیثیت سے امریکہ کے دورہ پر گیا تو امریکہ صدر نے مجھے ہدایت کی کہ پاکستان میں قادیانی جماعت ہمارا گروہ ہے آپ ہر لحاظ سے ان کا خیال رکھیں۔ دوسری مرتبہ جب میں پھر امریکہ کے سرکاری دورہ پر گیا تو دوبارہ پھر یہی ہدایت ملی‘ بھٹو نے کہا کہ یہ بات میرے پاس قومی امانت تھی۔ ریکارڈ کے لیے پہلی مرتبہ انکشاف کر رہا ہوں“۔
روسی ایجنٹ.... قادیانی بین الاقوامی سازشوں اور جاسوسی کے اتنے بڑے ماہر ہیں کہ دونوں سپر طاقتوں امریکہ اور روس کو اپنے انسانیت سوز اور اخلاق شکن منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اس بدنام زمانہ گروہ کی خدمات مستعار لینا پڑتی ہیں۔ قادیانی فتنے کا ایک ہاتھ امریکہ اور دوسرا ہاتھ روس نے تھاما ہوا ہے۔ گزشتہ دنوں رسوائے زمانہ مرزائی صنعت کار اور دارالکفر ربوہ کی ایک اہم شخصیت نصیر اے شیخ نے لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر‘ پاکستان میں مقیم روسی سفیر کے اعزاز میں ایک پر تکلف عشائیہ کا اہتمام کیا جس میں ملک کی اہم شخصیات کو مدعو کیا۔ دعوت کے بعد نصیر اے شیخ قادیانی اور روسی سفیر کی ایک اہم اور خفیہ میٹنگ ہوئی۔
علاوہ ازیں اسلام آباد میں ایک قادیانی پروفیسر جمیل احمد روسی لٹریچر تقسیم کرتا ہوا پکڑا گیا اور اس وقت پاکستان میں قادیانی لابی پاکستان و افغانستان کے مابین تعلقات کی پوری رپورٹ روس کو پہنچا رہی ہے اور دوسری طرف قادیانیوں پر روسی نوازشات کی بارش بھی دیکھئے کہ ننگ وطن ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل پرائز سے نوازا گیا۔ در حقیقت یہ نوبل پرائز روسی اور یہودی لابی کی طرف قادیانیوں کو ان کی خدمات کے عوض دیا گیا۔
شاہ فیصلؒ کی شہادت..... جب ایک خطرناک یہودی سازش کے تحت محسن اسلام‘
خادم امت محمدیہ اور پاسبان حرم شاہ فیصلؒ کو شہید کر دیا گیا تو روئے زمین پر بسنے والے تمام مسلمانوں کی آنکھیں خون کے آنسو رو رہی تھیں ہر مسلمان کا دل زخموں سے چور چور تھا۔ لیکن اس وقت قادیان و ربوہ کی منحوس سرزمینوں پر قادیانی چراغاں کر رہے تھے کیونکہ ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں اس فرزند اسلام کا بڑا ہاتھ تھا۔ اس مجاہد ختم نبوت نے سابق وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کو خصوصی طور پر قادیانیوں کو کافر قرار دینے کے لیے کہا تھا چونکہ شاہ فیصل یہود کے ازلی دشمن تھے اور وہ اسرائیل کے وجود کو برداشت نہ کرتے تھے۔ جبکہ قادیانی یہودیوں کے دیرینہ ایجنٹ ہیں اور ان کا آب و دانہ اسرائیل سے آتا ہے۔
سقوط ڈھاکہ..... جب سقوط ڈھاکہ ہوا تو ہر گھر میں صف ماتم بچھی ہوئی تھی۔ جذبہ حب الوطنی سے لبریز ہر پاکستانی مجسمہ غم بنا بیٹھا تھا کیونکہ آج ان کے بھائی ان سے بچھڑ گئے تھے اور وطن عزیز کا ایک بازو کٹ گیا تھا۔ لیکن رنج و الم کی ان گھڑیوں میں ربوہ و قادیان میں شہنائیاں بج رہی تھیں۔ جھوٹی نبوت کے ان قادیانی نوجوانوں نے ربوہ کے بازاروں میں بھنگڑا ڈالا اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ پاکستان کے ان ازلی دشمنوں نے وجود پاکستان کو اپنی منافقت کی تیغ سے جس طرح دولخت کیا‘ وہ ایک دلدوز داستان ہے۔
غدار ملت مرزا قادیانی کا غدار پوتا اور قادیانی امت کی کفریہ مشینری کا اہم پرزہ ایم ایم احمد سقوط ڈھاکہ کے وقت ملک کی منصوبہ بندی کمیشن کا ڈپٹی چیئرمین تھا۔ یہ ملکی معیشت پر کالا ناگ بن کر بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے مشرقی پاکستان توڑنے کے لیے معاشی طور پر ایسی خطرناک سازش تیار کی کہ بنگالی اپنی معاشی زندگی اور احساس محرومی سے تنگ آکر پاکستان کے دشمن بن گئے۔ ایم۔ ایم۔ احمد نے یہ تاثر پھیلا دیا کہ محنت مشرقی پاکستان کرتا ہے اور مغربی پاکستان اس کے خون پسینے سے کمائی ہوئی دولت سے گلچھرے اڑاتا ہے ملک کی ساری دولت پر مغربی پاکستان کا قبضہ ہے اور مشرقی پاکستان کے باشندے غربت و افلاس کی چکی میں پس رہے ہیں۔ دو بھائیوں کے درمیان نفرت و تفرقے کی یہ پہلی سنگین دیوار تھی جو مشرقی پاکستان کے قاتل ایم۔ ایم۔ احمد نے اسرائیل کے اشارے پر تعمیر کی۔ وطن عزیز کا خون کرنے والے اس مجرم نے بحریہ کے لیے جدید ترین اسلحہ‘ آبدوزیں اور دیگر جنگی سازوسامان نہ خریدا حالانکہ اس کی خریداری کے لیے رقم بھی مختص ہو چکی تھی۔
گزشتہ سے پیوستہ سال راؤ فرمان علی جو مشرق پاکستان میں گورنر کے مشیر بھی تھے‘ انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی ایک بڑی وجہ عظیم قادیانی ریاست کے قیام کا نظریہ تھا۔ بنگالیوں کی علیحدگی کے کئی عوامل تھے جن میں غربت‘ ناخواندگی‘ پسماندگی‘ مواصلات کا فقدان بھی شامل تھا۔ یہ سبھی کچھ قادیانی امت کے فرزند ایم۔ ایم۔ احمد کے کمالات کا نتیجہ تھا۔ پروفیسر فرید احمد کے صاحب زادہ نے بھی یہ انکشاف کیا کہ مرزائی بھارت کے ایجنٹ اور آلہ کار ہیں اور انہیں سازشوں سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی معرض وجود میں آئی۔
حکومت پر قبضہ کرنے کے منصوبے..... انگریز نے جب اپنے خود کاشتہ پودے مرزا قادیانی کے سر پر جھوٹی نبوت کا ٹوکرا رکھا تو اس کے بعد قادیانیوں نے اپنی ایک خود مختار ریاست کے منصوبے بنانے شروع کر دیئے جہاں وہ اپنی انگریزی نبوت کے عقائد کو پھیلا سکیں چنانچہ ان کے خبث باطن کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں۔
- ا۔ ”ہم احمدی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔“ (”الفضل“ ۱۲ر فروری ۱۹۴۲ء‘ خلیفہ
قادیان مرزا بشیرالدین محمود کی تقریر)
- ۲۔ ”اس وقت تک کہ تمہاری بادشاہت قائم نہ ہو جائے تمہارے راستے سے یہ
کانٹے ہرگز دور نہیں ہو سکتے۔“ (”الفضل قادیان“ ۸ر جولائی ۱۹۲۲ء)
- ۳۔ ابو جہل کی پارٹی..... ”ہم فتح یاب ہوں گے۔ ضرور تم مجرموں کی طرح
ہمارے سامنے پیش ہوں گے‘ اس وقت تمہارا حشر بھی وہی ہو گا جو فتح مکہ کے دن ابو جہل اور اس کی پارٹی کا ہوا۔“ (اخبار ”الفضل“ ۳ر جنوری ۱۹۵۲ء)
قیام پاکستان سے لے کر آج تک قادیانی‘ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو قادیانی ریاست (نعوذ باللہ) بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان وطن دشمن عناصر نے کئی بار اقتدار پر قبضہ کرنے کی سازشیں تیار کیں لیکن جسے اللہ رکھے‘ اسے کون چکھے۔
مرزائیوں کا سالانہ جلسہ دسمبر ۱۹۷۳ء کو ربوہ میں ہو رہا تھا۔ نام نہاد قادیانی خلیفہ مرزا ناصر تقریر کر رہے تھے۔ پاکستان ائیر فورس کا ایک جہاز اڑتا ہوا آیا‘ اس نے فضا میں غوطہ لگا کر مرزا ناصر کو سلامی دی۔ دوسرا آیا اس نے بھی یہی عمل دہرایا۔ تیسرے نے بھی
یہی فعل قبیح کیا۔ یہ سارے مرزائی پائلٹ تھے۔ جنہوں نے ائیر فورس کے ائیر مارشل ظفر چودھری کے حکم سے ایسا کیا اس پر قادیانی خلیفہ مرزا ناصر خوشی سے پھولا نہ سمایا۔ اس نے اپنا دامن پھیلا لیا اور آسمان کی طرف منہ کر کے حاضرین سے مخاطب ہوا۔ ”میں دیکھ رہا ہوں کہ احمدیت کا پھل جلدی ہی پک کر میری جھولی میں گرنے والا ہے۔“
یہ قادیانی ریاست کی خوشخبری تھی لیکن جس کے دادا مرتد عصر مرزا قادیانی اور باپ قائد المنافقین مرزا بشیرالدین محمود نے کبھی سچ نہ بولا ہو‘ اس کی زبان پر سچ کیسے آ سکتا تھا اس بات کو تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت پورے زوروں سے اٹھی اور حکومت وقت نے انہیں کافر قرار دے دیا۔
سابق وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں قادیانی جرنیل میجر آدم خان نے حکومت کا تختہ الٹنے کی خطرناک سازش تیار کی۔ سادہ لوح مسلمان نوجوانوں کو بھی اس میں ملوث کر لیا گیا‘ سازش پکڑی گئی قادیانی جرنیل میجر آدم اور اس کے بیٹے میجر فاروق اور میجر افتخار جو ریٹائرڈ ائیر مارشل اصغر خاں کے بھائی کے سالے ہیں‘ قید کر لیے گئے اور قادیانی امت سردی میں سکڑے ہوئے سانپ کی طرح بیٹھ گئی۔
اے محبان پاکستان..... ہمارا وطن پاکستان۔ جان سے پیارا پاکستان جو کروڑوں قربانیوں کا ثمر ہے جسے حاصل کرنے کے لیے ہمارے اسلاف کو خون کی ندیاں عبور کرنا پڑیں جسے حاصل کرنے کے لیے ماؤں نے اپنے چہیتوں کو اپنے ہاتھوں سے کفن پہنا کر انہیں سوئے مقتل روانہ کیا جس کے حصول کے لیے طلباء کو اپنی تعلیم کو خیرباد کہنا پڑا۔ جس کے حصول کے لیے علماء کرام کو پھانسی کے پھندوں کو چومنا پڑا۔ جس کی آزادی کی قیمت بچوں کے نیزوں کی انیوں پر موت کا رقص کر کے ادا کی۔ جس کی آزادی کی تاریخ کے صفحات پر عفت ماب ماؤں بہنوں کی عزت و عصمت کے لٹے ہوئے قافلوں کی خونچکاں داستانیں پڑھ کر جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ لیکن.....
اے میرے وطن کے لوگو! قادیانی ہمارے اس گلستان پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں جس کی مٹی ہمارے شہداء کے خون سے گندھی ہوئی ہے۔ قادیانی اس اسلامی ریاست کو قادیانی ریاست بنانا چاہتے ہیں‘ وہ یہاں پرچم اسلام کو سرنگوں کر کے قادیانیت کا جھنڈا
لہرانا چاہتے ہیں (نعوذ باللہ) وہ یہاں اسلام زندہ باد‘ تاجدار ختم نبوت زندہ باد کی بجائے احمدیت (قادیانیت) زندہ باد اور مرزا قادیانی زندہ باد کے نعرے لگانا چاہتے ہیں (معاذ اللہ) ختم نبوت کے ڈاکوؤں کا یہ گروہ یہاں نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عالم گیر نبوت کی جگہ انگریزی نبی‘ مرزا قادیانی کی نبوت چلانا چاہتے ہیں۔ (العیاذ باللہ) یہ حریصان اقتدار کرسی اقتدار سے مسلمان حکمرانوں کو اتار کر وہاں اپنے نام نہاد خلیفہ کو بٹھانا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے یہودیوں کا غلام بنانا چاہتے ہیں۔
اے پاکستان کے سپاہیو و فدائیو! آستین کے ان سانپوں پر کڑی نگاہ رکھو! اور ان کے زہر قاتل سے ملت اسلامیہ کے ہر فرد کو بچاؤ۔ انہیں کلیدی اسامیوں سے ہٹاؤ کیونکہ یہ یہود و نصاری کے گماشتے ہیں‘ افواج پاکستان سے انہیں نکال باہر کرو کیونکہ یہ جہاد کے منکر ہیں۔ غرضیکہ زندگی کے ہر میدان میں ان کا سختی سے محاسبہ کرو۔ رب العزت ہمیں غداران دین و ملت سے جہاد کرنے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
کلمہ طیبہ
لا اله الا الله محمد رسول الله
قادیانی
اس سے
کیا مراد لیتے ہیں؟
ایک بھیانک سازش سے پردہ اٹھتا ہے
طائفہ قادیانیت نے ان دنوں وطن عزیز میں اپنی پوری قوت سے ایک خطرناک اور مہلک مہم کا آغاز کر رکھا ہے۔ اسلام کو اسلام کے لبادے میں لوٹنے کی اس تاریخی سازش کا نام ”قادیانیوں کی کلمہ مہم“ ہے۔ قادیانی جماعت کے افراد اپنے سینوں پر کلمہ طیبہ کے بیج لگاتے ہیں، اپنی گاڑیوں پر کلمہ طیبہ کے سٹیکر چسپاں کرتے ہیں اور اپنی عبادت گاہوں، رہائش گاہوں، دکانوں، دفاتر وغیرھم پر جلی حروف سے کلمہ طیبہ لکھتے ہیں۔ جس سے مسلمانوں کے جذبات شدید مجروح ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے دلوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ جاتی ہے اور وہ اس پر صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں۔ اس احتجاج کی آواز گلی محلوں سے لے کر تھانوں تک اور تھانوں سے حکومت کے ایوانوں تک پہنچ چکی ہے۔ عدالتوں میں مقدمات دائر ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ جرائد و رسائل و اخبارات میں اہل اسلام نے دنیا کے سامنے اپنا موقف پیش کیا ہے۔
مسلمان کہتے ہیں کہ قادیانی عقیدہ ختم نبوت سے بغاوت کے جرم میں کافر، مرتد اور زندیق ہیں۔ یہ اللہ کے آخری نبی جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد قادیان کے ایک شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول مانتے ہیں۔ اور جب یہ کلمہ طیبہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھتے ہیں تو ”محمد رسول اللہ“ سے مراد مرزا قادیانی لیتے ہیں۔ کیونکہ یہ کلمہ کے استعمال میں ایک سنگین دھوکہ دیتے ہیں۔ اس لیے یہ اپنی رہائش گاہوں، عبادت گاہوں وغیرھم پر کلمہ طیبہ نہیں لکھ سکتے، ان کا عقیدہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا میں دو مرتبہ تشریف لائے پہلی مرتبہ مکہ مکرمہ میں اور دوسری مرتبہ مرزا قادیانی کی صورت میں قادیان میں!
قادیانی کہتے ہیں کہ جب اس جدید تہذیب و تمدن کے دور میں اللہ تعالیٰ نے
اسلام کی تبلیغ کے لیے کسی نبی کو دنیا میں مبعوث فرمانے کی ضرورت محسوس کی تو ختم نبوت کی وجہ سے کسی نئے نبی کو تو دنیا میں آنا نہیں تھا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرزا قادیانی کی شکل و صورت میں دوبارہ دنیا میں بھیج دیا۔ (نعوذ باللہ) اس لیے مرزا قادیانی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کوئی فرق نہیں۔ مرزا قادیانی عین وہی محمدؐ ہے جو آج سے چودہ سو برس قبل عرب میں تشریف لائے تھے۔ (نعوذ باللہ)
قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ بعثت ثانی میں محمد رسول اللہ کا نام مرزا قادیانی ہے۔ (نعوذ باللہ)
جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود مرزا قادیانی کا وجود ہے۔ (نعوذ باللہ)
مرزا قادیانی کی وہی اہمیت ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تھی۔ (نعوذ باللہ)
مرزا قادیانی کو ان تمام خوبیوں اور اوصاف سے نوازا گیا ہے جن سے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نوازا گیا تھا۔ (نعوذ باللہ)
مرزا قادیانی وہی دین لے کر آیا ہے جس کی تبلیغ و اشاعت خود فخر انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے رہے۔ (نعوذ باللہ)
مرزا قادیانی پر ایمان نہ لانے والا اسی طرح کافر ہے جس طرح محبوب رب العالمین پر ایمان نہ لانے والا کافر ہے۔ کیونکہ دونوں کا وجود ایک ہے اس لئے دونوں میں سے کسی کا بھی انکار کفر ہے۔ (نعوذ باللہ)
مرزا قادیانی پر نازل ہونے والی شیطانی وحی قرآن ہے۔ (نعوذ باللہ)
مرزا قادیانی کی باتیں احادیث رسولؐ ہیں۔ (نعوذ باللہ)
مرزا قادیانی کا خاندان اہل بیت ہے۔ (نعوذ باللہ)
مرزا قادیانی کی بیٹی سیدہ النساء ہے۔ (نعوذ باللہ)
مرزا قادیانی کا شہر قادیاں مکہ و مدینہ ہے۔ (نعوذ باللہ)
مرزا قادیانی کے ساتھی صحابہ رسولؐ ہیں۔ (نعوذ باللہ)
مرزا قادیانی کی بیویاں امہات المومنین ہیں۔ (نعوذ باللہ)
قادیانی جو جھوٹ بولنے، جھوٹ بنانے اور اسے پھیلانے میں مہارت تامہ رکھتے ہیں، اپنے ان عقائد باطلہ کو اپنی چرب زبانی سے دجل و فریب کا ایسا لباس پہناتے ہیں کہ سادہ لوح مسلمان ان کی چرب زبانی کا شکار ہو جاتا ہے۔ مغرب زدہ لوگ تو ویسے ہی انہیں مسلمانوں کا ایک فرقہ سمجھتے ہیں اور اس بحث کو ایک فضول بحث گردانتے ہیں۔ قادیانی کسی کو اپنی منافقت کی میٹھی زبان سے دھوکہ دے لیں، کسی کے سامنے اپنے غلیظ عقائد پر سونے کے ورق چڑھا کر پیش کر لیں، کسی مذہب نا آشنا کے دل میں مسلمان بن کر اتر جائیں اور چاہے بیرونی دنیا میں اپنی مسلمانیت کا ڈھنڈورا پیٹیں لیکن ان کی ارتدادی کتابوں میں لکھا ہوا کفر و ارتداد منہ کھول کھول کر دھائی دے رہا ہے۔
محفوظ ہیں تحریریں' مرقوم ہیں تقریریں
اک پردہ وفاداری صد سازش غداری
تعمیر کی آوازیں تخریب کی تدبیریں
اب قادیانیوں کی غلیظ اور متعفن کتابوں کو کھنگال کر ان کے چند عقائد پیش کیے جاتے ہیں جنہیں پڑھ کر تمام مسلمانوں خصوصاً کلیدی عہدوں پر بیٹھے مسلمانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں کہ قادیانی اسلام کے ساتھ تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ کر رہے ہیں۔ مرزا قادیانی کو ”محمد رسول اللہ“ بنا کر اس کی جھولی میں پورا اسلام ڈال کر کائنات کے مسلمانوں کو اس ملعون ازلی کے پیرو کار بنانے کی ناپاک جسارت کر رہے ہیں۔
ان روح فرسا عقائد کو پڑھ کر ہر مسلمان کا فرض بنتا ہے کہ وہ سر پکڑ کر دماغ کی پوری صلاحیتوں سے سوچے کہ فتنہ قادیانیت کا سر کچلنے کے لیے اس کی ایمانی غیرت کا کیا فرض ہے؟ بصورت دیگر وہ میدان حشر میں شافع محشر کے سامنے کون سا منہ لے کر جائے گا؟
اب قلب و ذہن پر انتہائی بوجھ ہونے کے باوجود کفریہ اور ارتدادی عقائد عوام کی عدالت میں پیش کیے جاتے ہیں۔ جنہیں سن کر سنگلاخ چٹانوں کے جگر پاش پاش ہو جائیں اور شیطان بھی مرزا قادیانی کی شقاوت قلبی پر اپنا امام تسلیم کر لے
مرزا قادیانی نبی پاک کا مظہر
”پس چونکہ میں اس کا رسول یعنی فرستادہ ہوں مگر بغیر کسی نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے، بلکہ اسی نبی کریم خاتم الانبیا کا نام پا کر اور اسی میں ہو کر اور اسی کا مظہر بن کر آیا ہوں۔“ (نزول ”المسیح“ ص ۲، مصنفہ مرزا قادیانی (نعوذ باللہ)
مرزا قادیانی نبی پاک کا وجود
”خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہی وجود قرار دیا ہے“ (ایک غلطی کا ازالہ، ص ۱۰ مصنفہ مرزا قادیانی) (نعوذ باللہ)
نبی پاک کا قادیان میں مرزا قادیانی کی صورت میں نزول
- ۱- ”تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ
تعالیٰ نے پھر محمد صلعم کو اتارا تاکہ اپنے وعدہ کو پورا کرے۔ (نعوذ باللہ) (کلمتہ ”الفضل“، مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز، ص ۱۵ نمبر ۳، جلد ۱۵)
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(مندرجہ اخبار ”بدر“ قادیان، ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء) (نعوذ باللہ)
مرزا قادیانی محمد ثانی
”کیونکہ وہ محمد ہے گو ظلی طور پر پس باوجود اس شخص کے دعویٰ نبوت کے جس کا نام ظلی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا۔ پھر بھی سیدنا محمد خاتم النبین ہی رہا۔ کیونکہ محمد ثانی اس محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصویر اور اس کا نام ہے۔“ (”ایک غلطی کا ازالہ“ ص ۷، مصنفہ مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کو نبی پاک کی چادر پہنائی گئی
”اور ہمارے نزدیک تو کوئی دوسرا آیا ہی نہیں‘ نہ نیا نبی نہ پرانا بلکہ خود محمد رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کی چادر دوسرے کو پہنائی گئی۔ اور وہ خود ہی آئے ہیں۔ (ارشاد مرزا قادیانی مندرجہ اخبار ”الحکم“ قادیان‘ ۳۰؍ نومبر ۱۹۰۱ء منقول از جماعت مبائعین کے عقائد صحیحہ رسالہ منجانب قادیانی جماعت قادیان ص۱۷)
اگر نبی پاک کا منکر کافر‘ تو مرزا قادیانی کا منکر بھی کافر
”اب معاملہ صاف ہے اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود کا انکار بھی کفر ہونا چاہیے کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے۔ اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ آپ کا انکار کفر نہ ہو۔“ (”کلمتہ الفصل“ مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز‘ ص۱۴۷‘ نمبر۳‘ جلد۱۴)
نبی پاک اور مرزا قادیانی میں کوئی فرق نہیں
اور جو شخص مجھ میں اور مصطفیٰ میں تفریق پکڑتا ہے۔ اس نے مجھ کو نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے۔ (”خطبہ الہامیہ“ ص۱۷۱)
”اور جس نے مسیح موعود کی بعثت کو نبی کریم کی بعثت ثانی نہ جانا‘ اس نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا کیونکہ قرآن پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ محمد رسول اللہ ایک دفعہ پھر دنیا میں آئے گا۔“ (”کلمتہ الفصل“ مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز‘ قادیان‘ ص۱۰۵‘ نمبر۳‘ جلد۱۴)
جس طرح نبی پاک کا صحابہؓ پر فیض تھا اسی طرح مرزا قادیانی کا
اپنے صحابہ پر فیض تھا
"حضرت مسیح موعود کی جماعت در حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہی صحابہ کی ایک جماعت ہے اور جیسا کہ آنحضرت صلعم کا فیض صحابہ پر جاری ہوا ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے مسیح موعود کی جماعت پر بھی آنحضرت صلعم کا فیض ہوا۔" (اخبار "الفضل" قادیان‘ جلد ۳‘ نمبر ۷۶‘ مورخہ یکم جنوری ۱۹۱۶ء)
مرزا قادیانی نام‘ کام اور مقام کے لحاظ سے عین محمد ہے
"مسیح موعود در حقیقت محمد اور عین محمد ہیں اور آپ میں اور آنحضرت صلعم میں باعتبار نام‘ کام اور مقام کے کوئی دوئی یا مغائرت نہیں۔" (نعوذ باللہ) (اخبار "الفضل" قادیان‘ جلد ۳ نمبر ۷۶‘ مورخہ یکم جنوری ۱۹۱۶ء)
مرزا قادیانی تیرہ سو سال قبل رحمتہ اللعالمین بن کر آیا
"یہ وہی فخر اولین و آخرین ہے۔ جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمتہ اللعالمین بن کر آیا تھا اور اپنی تکمیل تبلیغ کے ذریعہ ثابت کر گیا کہ واقعی اس کی دعوت جمیع ممالک و ملل عالم کے لیے تھی۔ (نعوذ باللہ) (اخبار "الفضل" قادیان‘ جلد ۳‘ نمبر ۴۱‘ مورخہ ۲۶‘ ستمبر ۱۹۱۵ء)
قادیانیوں کو نئے کلمہ کی ضرورت نہیں
"اگر ہم بفرض محال مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریم کا اسم مبارک اس لیے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیوں کہ مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں جیسا کہ وہ (مرزا قادیانی) خود فرماتا ہے "صار وجودی وجودہ" نیز "من فرق بینی و بین مصطفی فما عرفنی و مارانی" اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔ جیسا کہ آیت آخرین منہم سے ظاہر ہے۔ پس مسیح موعود (مرزا صاحب) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لیے ہم کو کسی نئے کلمے کی ضرورت نہیں ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔" (کلمتہ "الفصل" مصنفہ صاحب زادہ بشیر احمد
قادیانی‘ مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان‘ ص ۱۵۸‘ نمبر ۴‘ جلد ۱۴)
ان عقائد کو چشم عدل سے پڑھنے اور دماغ انصاف سے پرکھنے والو! خدارا بتاؤ!
قادیانی‘ کلمہ طیبہ میں محمد رسول اللہ سے کیا مراد لے رہے ہیں؟
خدارا بولو! کیا قادیانی اسلام کی بنیاد ”کلمہ طیبہ“ کو منہدم کر کے مرزا قادیانی کے نجس وجود پر نبوت کی خلعت فاخرہ نہیں سجا رہے؟
خدارا فیصلہ دو! کیا قادیانی اپنے نوکیلے ارتدادی پنجوں سے عصمت رسولؐ کی چادر کو تار تار نہیں کر رہے؟
اور ہاں یہ بھی بتا دو------ یہ بھی سنا دو------
کیا قادیانیوں کو کلمہ طیبہ لکھنے کی اجازت دینا مرزا قادیانی کی انگریزی نبوت پر ایمان لانا نہیں؟ کیا قادیانیوں کو اپنے نجس سینوں پر کلمہ طیبہ کے پاک بیج لگانے کی اجازت دینا سامراجی نبی مرزا قادیانی کو عقل‘ شکل‘ نام‘ کام اور مقام کے لحاظ سے سو فی صد محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تسلیم کرنا نہیں؟ اور انہیں کلمہ طیبہ لکھنے کی اجازت دینے والے حکمران یا انتظامی پرزہ کتنا بدترین کافر ہے؟ اور کفر و ارتداد کی اس یلغار کو نہ روکنے والا حکمران عالم اسلام کا کتنا بڑا مجرم ہے؟
یقیناً آپ اس بھیانک سازش کے پیچ و خم کھولنے پر ورطہ حیرت میں گم ہو جائیں گے اور حیرانی و پریشانی کے عالم میں قلب و ذہن کی زبان سے پکار اٹھیں گے کہ
صیاد عطر مل کے چلا ہے گلاب کا
زہر قادیانیت سے نا آشنا لوگو! ظہور اسلام سے گزرتے لمحوں تک کفر‘ اسلام کو اس مادر گیتی سے ختم کرنے کے لیے پوری قوتوں سے جٹا ہوا ہے۔ وہ مختلف ادوار میں مختلف انداز میں اپنی یلغاریں کرتا رہا ہے۔ کبھی وہ ابو جہل کی للکار کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ کبھی وہ امیہ بن خلف کے ظلم و تشدد کی صورت میں وارد ہوا ہے۔ کبھی وہ ولید بن مغیرہ کی گندی زبان کی صورت میں پھنکارا ہے۔ کبھی وہ عبداللہ بن ابی کی منافقت کے پیکر میں رونما ہوا ہے اور کبھی وہ ابن سبا کی مکاری و عیاری کے روپ میں نکلا ہے۔ لیکن پھر کفر نے پینترا بدلا‘ پرانے ہتھیار توڑے اور نئے ہتھیار سجائے اسلام پر حملہ آور ہونے
کے لیے ایک نیا، نرالہ اور اچھوتا انداز اپنایا۔۔۔۔ اور پھر وقت نے رک رک کر دیکھا اور بوڑھے آسمان نے ٹھٹھک ٹھٹھک کر ملاحظہ کیا کہ تاریخ عالم میں کفر، اسلام کی وردی پہن کر لبوں پر اسلام کے نعرے سجا کر اور قرآن میں خنجر چھپا کر اسلام کی غارتگری کے لیے اسلام کی صفوں میں گھس گیا اور آج تک گھسا ہوا ہے۔ کفر نے اپنے اس انتہائی خطرناک ایکشن کو ”قادیانی ایکشن“ کا نام دیا۔ یہ ایکشن آج بھی سادہ لوح مسلمانوں کو بڑی مہارت سے دجل و فریب کے جال میں پھنسا رہا ہے۔ اس خوف ناک منصوبہ پر عمل کرتے ہوئے قادیانی فوج نے مسلمانوں کی طرح داڑھیاں رکھی ہوئی ہیں۔ نام مسلمانوں جیسے ہیں۔۔۔۔۔ ناموں کے ساتھ حاجی، صوفی، مولانا، ہاشمی، قریشی وغیرھم کے الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ ہاتھوں میں تسبیحات تھام رکھی ہیں، جعلی نمازیں پڑھی جا رہی ہیں، اپنی عبادت گاہوں کا نام مسجد رکھا ہوا ہے، نام نہاد روزے رکھے جا رہے ہیں، عیدیں منائی جا رہی ہیں، غرضیکہ دل بھر کر اسلامی شعائر استعمال ہو رہے ہیں اور خود کو پوری قوت سے مسلمان منوایا جا رہا ہے۔
سادہ لوح مسلمانوں سے یہی گزارش ہے کہ خدارا بیرونی میک اپ نہ دیکھئے، دلوں کی تہوں میں ارتداد کے دہکتے ہوئے انگارے دیکھئے۔ دشمن ملک کے جاسوس ہمیشہ مخالف فوج کی وردی پہن کر آیا کرتے ہیں۔ خطرناک ڈاکو عوام کو لوٹنے کے لیے پولیس کی یونیفارم پہن لیا کرتے ہیں۔
نگاہ زہر پہ، رکھ خوش نما بدن پہ نہ جا
- قادیانی اور قادیانی نواز کہتے ہیں کہ کلمہ طیبہ عالمگیر کلمہ ہے۔ اگر اسے قادیانی
استعمال کریں تو اس میں کون سا نقصان ہے بلکہ ان کے استعمال سے کلمہ طیبہ کی تبلیغ و تشہیر ہوتی ہے۔ جواباً عرض ہے کہ کلمہ طیبہ اسلام کی بنیاد ہے اور یہ مسلمانوں کا شناختی کلمہ ہے۔ قادیانی اسلامی تشخص اور اسلامی شناخت حاصل کرنے کے لیے اپنے مکانوں پر کلمہ طیبہ لکھتے ہیں حالانکہ خاتم النبیین محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا انکار کر کے وہ کلمہ سے بغاوت کا اعلان کر چکے ہیں اور کفر کی کھڈ میں اوندھے منہ گر چکے ہیں۔ وہ تو صرف اسلام اور مسلمانوں کے حقوق لوٹنے کے لیے کلمہ طیبہ کی رٹ لگائے
ہوئے ہیں جو کہ کائنات کا سب سے بڑا فراڈ ہے اور عام آدمی اس سے دھوکا کھا رہا ہے۔
مثلاً
اگر کسی قادیانی نے اپنے نجس سینے پر کلمہ طیبہ کا بیج یا سٹکر لگایا ہوا ہو تو لوگ اسے مسلمان سمجھیں گے اور وہ معاشرے میں مسلمان کہلائے گا۔
اگر کسی قادیانی کی دکان پر کلمہ طیبہ جلی حروف میں لکھا ہوا ہو تو عوام اسے کسی مسلمان کی دکان سمجھیں گے اور اس طرح وہ معاشی فوائد حاصل کرے گا۔
اگر کسی قادیانی گھر کے باہر کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہو تو عوام اسے کسی مسلمان ہی کا گھر سمجھیں گے اور اس طرح وہ مردود اپنے کفر کو اسلام کی سفید چادر کے پیچھے چھپائے بیٹھا ہو گا۔
تسبیح کے دانوں میں چھپی تیغ ستم ہے
- قادیانی نواز کہتے ہیں کہ قادیانیوں کو کلمہ طیبہ لکھنے پر گرفتار کرنا ظلم و زیادتی ہے۔
جواباً عرض ہے کہ قادیانیوں کی کلمہ طیبہ مہم جعل سازی کے زمرہ میں آتی ہے۔ کیونکہ جعلسازی سے ایک کافر و مرتد خود کو مسلمان ظاہر کر رہا ہے۔
اے حکمرانوں! اگر کلمہ طیبہ میں محمد رسول اللہ سے مرزا قادیانی مراد لینا جعلسازی نہیں تو پھر لوگوں کو اجازت دیجئے کہ وہ "گریس" کا نام دیسی گھی رکھیں، خنزیر کے گوشت کو بکرے کا گوشت کہہ کر بیچیں، شراب کو آب زمزم کا نام دیں۔ پیشاب کو روح افزاء کا نام دیا جائے وغیرہم۔ اے پاکستان کے بے حس حکمرانو! تمہارے معمولی پولیس کانسٹیبل کی وردی کو اگر کوئی جعلساز پہنے تو تمہارا قانون فوراً حرکت میں آتا ہے۔ اور جعل ساز کو حوالہ زنداں کر دیا جاتا ہے۔ ایک معمولی کانسٹیبل کی وردی کو تو اتنا قانونی تحفظ حاصل ہے۔ مگر ہائے افسوس کہ آمنہ کے لالؐ کی ختم نبوت کی وردی کا تم ذرا بھی تحفظ نہیں کرتے۔ تمہارے ہی ملک میں کائنات کی سب سے عظیم ہستی کی یہ عظیم وردی کائنات کے بدترین شخص ننگ انسانیت، ننگ ملت مرزا قادیانی جہنم مکانی کو پہنانے کی ناپاک جسارت کی جا رہی ہے۔ مسلمان تڑپ تڑپ کر پوچھتے ہیں..... بلک بلک کر پوچھتے ہیں..... جواب دو..... ورنہ قیامت کے روز کوئی جواب نہ ہو گا!!!
- قادیانی نواز کہتے ہیں کہ قادیانیوں کو کلمہ طیبہ کے استعمال سے روکنے سے
قادیانیوں کے بنیادی حقوق اور مذہبی آزادی متاثر ہوتی ہے اور یوں پاکستان کی ایک اقلیت پر زیادتی ہوتی ہے۔ کوئی مرتدوں کے ان وکیلوں سے پوچھے کہ پاکستان میں دیگر غیر مسلم اقلیتیں ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی، بدھش وغیرہم بھی بستے ہیں کیا انہوں نے بھی کبھی اپنے سینوں پر کلمہ طیبہ کے بیج لگائے ہیں۔ صرف یہ قادیانی ہی کیوں جنونی ہوئے جاتے ہیں اور اس غم میں کیوں گھلے جا رہے ہیں! ذرا سوچئے تو سہی کہ جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اور کسی مدعی نبوت کو نبی مانتا ہے۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھتا ہے اور وہ سخت توہین رسالت کا مرتکب ہے۔ کیونکہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان نبوت سے سینکڑوں مرتبہ اعلان ختم نبوت فرما رہے ہیں۔ لیکن ختم نبوت کا باغی قادیانی، آپؐ کے فرمانوں کو جھٹلا کر نیا نبی پیدا کر رہا ہے۔ اس لیے ہر قادیانی توہین رسالت کا مرتکب ہے۔ اب یہ کتنی حیرانی کی بات ہے کہ توہین رسالت کا مرتکب اپنے سینے پر کلمہ طیبہ کا بیج لگائے۔ جو شخص دل کی تختی پر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نہیں سجاتا اگر وہ اپنی قمیض پر کلمہ طیبہ کا بیج سجائے تو ضرور کوئی چکر ہے، ضرور کوئی سازش ہے!!! جب کہ کلمہ طیبہ دل میں نہیں، دماغ میں نہیں، بدن میں نہیں اور روح میں نہیں تو پھر قمیض یا مکان پر لکھنے کا کیا مقصد!
عبارت کیا، اشارت کیا، ادا کیا
جہاں تک بنیادی حقوق کی بات ہے۔ قادیانی اپنے حقوق سے ہزاروں گنا زیادہ حقوق حاصل کر رہے ہیں۔ اور بے دریغ مسلمانوں کے حقوق لوٹ رہے ہیں۔ ذرا حکومت کے بڑے بڑے اور حساس محکموں کا سروے تو کیجئے آپ کو ہر جگہ قادیانی سانپ لہراتے نظر آئیں گے۔ جو ملک کا اقتدار حاصل کرنے کے لیے انگاروں پر لوٹ رہے ہیں تاکہ وہ دن آئے جب اس ملک کی فضاؤں میں مرزائی نبوت کے نعرے لگیں اور ملت اسلامیہ پابہ زنجیر ان کے دربار میں پیش کی جائے۔ (نعوذ باللہ) اور جہاں تک قادیانیوں کی مذہبی آزادی کی بات ہے۔ انہیں تبلیغ و تشہیر کی قطعی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ کیونکہ انہیں تبلیغ کی اجازت دینا اسلام کی تخریب کی اجازت دینے کے مترادف ہے۔ افسوس کہ
پاکستان میں اسلامی قوانین کا راج نہیں ورنہ ان کا علاج تو وہی ہوتا جو خلیفہ اول سیدنا صدیقؓ اکبر نے اپنے عہد مبارک میں مسیلمہ کذاب اور اس کے حواریوں سے کیا تھا۔ کاش پاکستان میں اسلامی قوانین کا عملی نفاذ ہو اور یہ سر زمین مرتدوں اور زندیقوں کے نجس وجودوں سے پاک ہو (آمین)
حکومت پاکستان نے عوام کی تاریخی جدوجہد پر ۱۹۷۴ء میں اس طائفہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور پھر ایک زبردست تحریک کے نتیجہ میں ۱۹۸۴ء میں حکومت پاکستان نے صدارتی امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا۔ جس کی رو سے کوئی بھی قادیانی اپنے مذہب باطل کی کسی طرح اور کسی انداز میں ذرہ بھر تبلیغ نہیں کر سکتا۔ آرڈیننس کے مطابق ”قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بلاواسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرے، کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی ہی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہو گا“
اور اگر کوئی قادیانی اس آرڈیننس کی خلاف ورزی کرے تو اس کے خلاف زیر دفعہ ۲۹۸ سی / ۲۹۵ سی کے تحت کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔
جہاں تک تعلق ہے قادیانی نوازوں کے اس پراپیگنڈا کا کہ پاکستان میں مسلم اکثریت قادیانی اقلیت کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے۔ ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ برائے مہربانی اب اس پراپیگنڈا کی زبان کو بند کر دیں۔ قادیانی پچھلی پون صدی سے مسلمانوں کے سینوں پر مونگ دل رہے ہیں، زخم پہ زخم اور چرکے پہ چرکے لگا رہے ہیں اور پھر بھی قادیانی مظلوم ہیں۔ مسلم اکثریت اتنی ستم رسیدہ اور مظلوم ہے کہ ان کے نبی کی عزت بھی ان رذیلوں کے ہاتھوں میں محفوظ نہیں۔ ان کے دین کا لہو ان کے پنجوں پر چمک رہا ہے۔ ذرا ان خود ساختہ مظلوموں سے کوئی سوال کرے کہ میاں مظلوم صاحب!
- ❑ ذرا یہ تو بتاؤ کہ فرنگی سامراج کے اشارے پر نبوت کا ڈرامہ کس نے رچایا!
- ساری زندگی انگریز کے جوتوں کی خاک کس نے چاٹی اور غداریوں کی تاریک
تاریخ کے گھٹا ٹوپ اندھیرے باب کس نے رقم کئے۔؟
- وادی جنت نظیر کشمیر کو بھارت کی جھولی میں کس نے پھینکا؟
- تمہارے گرو گھنٹال سر ظفر اللہ نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا نماز
جنازہ پڑھنے سے کیوں انکار کیا؟
- لیاقت علی خان کے خون میں کس کی انگلیاں ڈوبی ہوئی ہیں؟
- وطن عزیز ربوہ میں قادیانی ریاست کس نے بنائی؟
- مشرقی پاکستان کا مقدس خون کس کے منہ پر ملا ہوا ہے؟
- اسرائیل میں تمہارے چھ سو فوجی کونسا گھناؤنا کھیل کھیل رہے ہیں؟
- تمہارے نام نہاد سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام نے شہیدوں کی زمین ”پاکستان“ کو
لعنتی زمین کہہ کر کس خبث باطن کا اظہار کیا تھا؟
- اسرائیل کے جاسوس ربوہ میں تمہارے پاس کس مشن پر آتے ہیں؟
- ننگ وطن ڈاکٹر عبدالسلام نے کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کا ماڈل امریکہ پہنچا کر وطن سے
کون سے انتقام لیا؟”
- تمہارا گرو گھنٹال مرزا طاہر ان دنوں پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی منحوس
پیش گوئیاں کس کے اشارے پر کر رہا ہے؟
کیا کروں طوالت میرا ہاتھ روک رہی ہے۔ ورنہ ملت اسلامیہ سے تمہاری غداریوں کی تاریخ رقم کی جائے تو یہود و نصاریٰ بونے نظر آئیں اور تم دیو ہیکل!
- قادیانی جب اپنے مکانوں‘ دکانوں‘ دفتروں پر کلمہ طیبہ لکھتے ہیں یا اپنے سینوں پر
کلمہ طیبہ کے سٹکر یا بیج لگاتے ہیں تو مسلمان صدارتی آرڈیننس کی رو سے فوراً مقامی پولیس کو رپورٹ کرتے ہیں اور کلمہ طیبہ محفوظ کرواتے ہیں۔ جس کے جواب میں قادیانی پراپیگنڈا مشینری کی لمبی زبانیں اور مکار قلم فوراً حرکت میں آجاتے ہیں اور اپنے روایتی دجل و فریب سے کام لیتے ہوئے عوام الناس سے کہتے ہیں کہ دیکھو‘ مسلمان کلمہ ہٹا کر کلمہ طیبہ کی توہین کر رہے ہیں۔ دیکھو‘ ابھی مکان کے مین گیٹ پر کتنا خوبصورت کلمہ طیبہ کا کتبہ لگا ہوا تھا۔ یہ جنونی مولوی پولیس کو لے کر آئے اور پولیس کلمہ طیبہ والا کتبہ اتار
کر لے گئی
جناب دیکھئے! میں نے اپنے سینے کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے اور دل کو فرحت و سکون بخشنے کے لیے اپنے سینے پر کلمہ طیبہ کا بیج لگایا تھا۔ میرا بیج لگانے کا مقصد اللہ کی وحدت اور نبیؐ کی نبوت کا اعلان تھا۔ فسادی مولویوں نے میرے خلاف تھانے میں رپورٹ درج کروا دی۔ پولیس نے مجھے گرفتار کر لیا۔ بیج میرے سینے سے اتار لیا۔
لوگو! یہ کلمہ طیبہ کی توہین کر رہے ہیں۔ کلمہ طیبہ پر پابندی لگا رہے ہیں۔ یہاں اللہ کا عذاب آئے گا اور ان لوگوں کا حشر عبرتناک ہو گا۔ دنیا کی آنکھیں دیکھیں گی کہ کلمے کو مٹانے والے خود مٹ جائیں گے۔ کئی سادہ لوح مسلمان ان کے واویلے کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی ہمدردیاں ان مداریوں کے ساتھ ہو جاتی ہیں۔
مسافر یہ سمجھا کہ منزل یہی ہے
اے سادہ لوح مسلمانو! قادیانیوں کے گھروں، دفتروں اور عبادت گاہوں سے کلمہ طیبہ ہٹانا کلمہ طیبہ کی توہین نہیں بلکہ کلمہ طیبہ کی حرمت کی حفاظت ہے۔
کلمہ پاک ہے اور اسے صرف پاک و صاف جگہوں پر لکھا جاتا ہے۔ اور اگر کوئی ملعون اسے کسی نجس جگہ پر لکھ دے تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اسے فوراً وہاں سے ہٹا کر اس کی حفاظت کا فریضہ عظیم سر انجام دیں۔ مثلاً کوئی بد بخت کسی ”غلہ ڈِپو“ پر کلمہ طیبہ لکھ دے تو کیا ہر مسلمان کی آنکھوں میں سرخی نہیں آ جائے گی اور مسلمان فوراً اس پر گاڑھی سفیدی پھیر کر کلمہ کی حفاظت کر کے اپنی دینی غیرت کا ثبوت نہیں دے گا؟ اگر کسی شراب خانے کے مین گیٹ پر کوئی خبیث کلمہ طیبہ کا کتبہ لگا دے تو کیا مسلمان شدت جذبات سے اس کتبہ کو اکھاڑ نہیں لیں گے؟
اگر کسی خاکروب نے اپنے گندے غلیظ کپڑوں پر کلمہ طیبہ کا بیج لگا رکھا ہو اور مسلمانوں کی نظر اس پر پڑ جائے تو کیا مسلمان جوش حمیت سے اسے دبوچ کر اس کی قمیض سے کلمہ طیبہ کا بیج اتار نہیں لیں گے؟
اب بتائیے! ان تینوں مواقع پر کلمہ طیبہ کی توہین کی گئی یا کلمہ کی حرمت کا تحفظ کیا گیا؟ اب ذرا مزید توجہ فرمائیے۔
قادیانی عبادت گاہوں سے کلمہ طیبہ اس لیے محفوظ کیا جاتا ہے کہ قادیانی عبادت گاہیں در اصل کفر و ارتداد کے اڈے ہیں۔ اور بقول امام ابن تیمیہؒ یہ عبادت گاہیں بیت الشیاطین ہیں۔ ان عبادت گاہوں میں جھوٹی نبوت کی تبلیغ و تشہیر کے منصوبے تیار ہوتے ہیں‘ ارتدادی مبلغین کی کھیپیں تیار ہو کر نکلتی ہیں۔ اب بتائیے کہ وہ جگہیں جہاں اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف سازشیں جنم لیں۔ کتنی غلیظ جگہیں ہیں اور ایسی غلیظ جگہوں سے کلمہ طیبہ محفوظ کرنا کتنا بڑا ثواب ہے۔
ہر قادیانی کا سینہ بغض مصطفیٰ کا دفینہ ہے۔ ہر قادیانی کے دل میں رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک آتش دہک رہا ہے۔ اس کی رگ رگ‘ ریشے ریشے اور خون کی بوند بوند سے بغاوت ختم نبوت کی بدبو اٹھتی ہے۔ غرض کہ وہ پاؤں کے تلوؤں سے لے کر سر کے سب سے اونچے بال تک اسلام اور پیغمبر اسلام سے نفرت و عداوت کا پیکر ہے۔ ذرا سوچئے کہ وہ سینہ کتنا گندہ ہے جس سے بغض رسولؐ کی بدبو کے بھبھوکے اڑ رہے ہوں اور اس سینے پر کوئی کلمہ طیبہ لگائے تو کیا اس سینے سے کلمہ طیبہ کا بیج اتار لینا قرین انصاف نہیں؟ اور ایسے مجرم کو حوالہ پولیس کرنا عدل نہیں؟ اور اسی طرح قادیانیوں کے دیگر مقامات سے کلمہ طیبہ اتارنے کی منطق کو سمجھا جا سکتا ہے۔
اگر پولیس کا کوئی جعلی انسپکٹر وردی پہنے پکڑا جائے تو کیا اس کے کندھوں سے سٹار اتارنا سٹارز کی توہین ہے یا سٹارز کی عزت کی حفاظت ہے۔ اس کے کندھوں سے سٹارز اس لیے اتارے جائیں گے کہ اس نے سٹارز کی بے حرمتی کی ہے اور سٹارز کی حرمت اسی میں ہے کہ اس کے کندھوں سے فوراً اتار لیے جائیں۔ اور اسی طرح اگر کوئی بھارتی فوجی‘ پاکستانی فوج کی وردی پہنے پکڑا جائے تو کیا اس کے تن سے فوراً پاکستانی فوج کی وردی اتار کر وردی کے تحفظ کا حق ادا نہیں کیا جائے گا؟
یہ تو صرف کلمہ طیبہ کی بحث ہے۔ اسلام تو کسی قادیانی عبادت گاہ کے وجود کو ایک سیکنڈ کے لیے بھی برداشت نہیں کرتا۔ تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور اقدس میں جب منافقین نے مسجد ضرار بنائی اور قادیانی عبادت گاہوں کی طرح وہاں اسلام دشمنی کی سازشیں جنم لینے لگیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً منافقین کی اس مسجد کو مسمار کروا کر آگ لگوائی کیونکہ یہ مسجد کے نام پر ایک بہت بڑا دھوکا تھا۔ تعمیر کی
آوازوں میں تخریب کا دھندا تھا۔ آج خدا کی دھرتی پر بنی ہوئیں تمام قادیانی عبادت گاہیں مسجد ضرار کی طرح ہیں۔ جن کی ہیئت اور نام تو مسجد کا ہے۔ اور ان کے اندر کام کفر و ارتداد کا ہے۔ اس لیے حکومت پاکستان کا فرض ہے۔ کہ تمام قادیانی عبادت گاہوں کو مسمار کروا کر جلا کر خاکستر کیا جائے اور سنت رسولؐ کو زندہ کیا جائے
کفر حق کے بھیس میں آیا ہے حق کے سامنے
قادیانی کلمہ مہم اور پوری قادیانی تحریک کا چند لفظوں میں خلاصہ اور نچوڑ حاصل کرنا ہو تو ہندوستان میں قادیانی تحریک کو اٹھانے اور تقویت پہنچانے والے ہندو طبقہ کے ایک اہم فرد ڈاکٹر شنکر داس کے مضمون کے مندرجہ ذیل اقتباس پڑھ لیجئے جس میں وہ قادیان کے جعلی رسول اور جعلی اسلام کے ذریعے اصلی رسولؐ اور اصلی اسلام کو ختم کرنے کے لیے قادیانیت کی اہمیت و افادیت پر زور دے رہا ہے۔
”سب سے اہم سوال جو اس وقت ملک کے سامنے در پیش ہے‘ وہ یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے اندر کس طرح قومیت کا جذبہ پیدا کیا جائے...... ہندوستانی مسلمان اپنے آپ کو ایک الگ قوم تصور کیے بیٹھے ہیں اور وہ دن رات عرب کے ہی گیت گاتے ہیں‘ اگر ان کا بس چلے تو وہ ہندوستان کو بھی عرب کا نام دے دیں۔ اس تاریکی میں‘ اس مایوسی کے عالم میں ہندوستانی قوم پرستوں اور محبان وطن کو ایک ہی امید کی شعاع دکھائی دیتی ہے۔ اور وہ آشا کی جھلک‘ احمدیوں کی تحریک ہے۔ جس قدر مسلمان احمدیت کی طرف راغب ہوں گے وہ قادیان کو اپنا مکہ تصور کرنے لگیں گے اور آخر میں محب ہند اور قوم پرست بن جائیں گے۔ مسلمانوں میں احمدیہ تحریک کی ترقی ہی عربی تہذیب اور پان اسلام ازم کا خاتمہ کر سکتی ہے۔
جس طرح ایک ہندو کے مسلمان ہو جانے پر اس کی شردہا اور عقیدت رام کشن‘ وید‘ گیتا اور رامائن سے اٹھ کر قرآن اور عرب کی بھومی میں منتقل ہو جاتی ہے‘ اس طرح جب کوئی مسلمان احمدی بن جاتا ہے تو اس کا زاویہ نگاہ بدل جاتا ہے۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) میں اس کی عقیدت کم ہوتی چلی جاتی ہے‘ مکہ‘ مدینہ اس کے لیے روایتی مقامات رہ جاتے ہیں‘ یہ بات عام مسلمانوں کے لیے جو ہر وقت پان اسلام ازم اور پان
عربی سنگٹھن کے خواب دیکھتے ہیں، کتنی ہی مایوس کن ہو مگر ایک قوم پرست کے لیے باعث مسرت ہے۔" (اخبار ”بندے ماترم“ لاہور، مورخہ ۲۲ اپریل ۱۹۳۲ء)
مندرجہ بالا مدلل بحث کے بعد حقائق نکھر کر سامنے آگئے ۔۔۔۔۔ سازشیں بے نقاب ہو گئیں ۔۔۔۔۔ انگریزی نبوت کا بت اوندھے منہ گر گیا ۔۔۔۔۔ نبوت چوروں کے کالے منہ ننگے ہو گئے ۔۔۔۔۔ لٹیروں کی گردنیں جھک گئیں ۔۔۔۔۔ جعلسازوں کی شناخت پریڈ ہو گئی ۔۔۔۔۔ مجرم کٹہروں میں کھڑے نظر آگئے ۔۔۔۔۔ ظالم اور مظلوم کا فیصلہ ہو گیا ۔۔۔۔۔ اور ہر ذی فہم اس خطرناک سازش کو سمجھ کر پکار اٹھا۔
تیرگی پھیلا رہے ہیں روشنی کے نام پر
(اقبال)
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
مرکزی دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
تحفظ
ختم نبوت
کا کام
کیسے کریں؟
چراغ مصطفویٰ سے شرار بولہبی
(اقبالؒ)
کفر نے اپنے ترکش سے جسد اسلام پر جتنے بھی تیر آزمائے ہیں، ان میں سے قادیانیت کا تیر مہلک ترین ہے۔ قلب مسلم سے عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نکالنے کے لیے فرنگی نے ارتداد کے زہر میں بجھا ہوا یہ تیر قلب مسلم میں اتار دیا۔ جس سے پوری ملت اسلامیہ چیخ اٹھی، کمین گاہ افرنگ کی طرف سے یہ تیر مرتد اعظم مرزا قادیانی کی صورت میں آیا جس نے قرآن و سنت کے دامن کو تار تار کیا، ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو زخم لگائے، جسد اسلام پر چرکے لگائے اور شریعت اسلامیہ کے وجود کو چھلنی چھلنی کردیا۔ اسی ارتدادی تیر کے زہر ارتداد نے ہزاروں مسلمانوں کو مرتد بنا دیا اور آج بھی یہ فعل خطرناک جاری ہے۔
انگریز نے اپنے انگریزی نبی اور اس کی انگریزی نبوت کو اپنی سنگینوں کے سائے تلے پروان چڑھایا۔ جھوٹی نبوت کے چھکڑے کو چلانے کے لیے پوری حکومت کا زور لگا دیا۔ کار تبلیغ کے لیے تجوریوں کے منہ کھول دیئے گئے۔ ایمانوں کے سودے ہونے لگے۔ قادیانی ہونے والوں پر حکومت کے انعامات، موسلا دھار بارش کی طرح برسنے لگے۔ گلے میں قادیانیت کا طوق پہننے والوں کے سروں پر اعلیٰ عہدوں کے تاج رکھے گئے۔ جو گروہ قادیانیت میں مل گئے، انہیں جاگیروں سے نوازا گیا۔ فاقوں کی جلن سے جن کے دل کباب تھے، ایمان فروشی کر کے نواب بن گئے۔ بس یونہی دولت اور لالچ کے زور سے قادیانی نبوت کا چھکڑا چلتا رہا۔ اس چھکڑے کا کوچوان مرزا قادیانی ۱۹۰۸ء میں اسہال میں
انتقال کر گیا۔ جھوٹے نبی نے اپنی غلیظ طبیعت کے عین مطابق اپنی پرتعفن زندگی کا آخری سانس بھی ”ٹٹی خانہ“ میں لینا پسند کیا۔ مرزا قادیانی کے جہنم رسید ہو جانے کے بعد حکیم نور الدین، در حقیقت ”فتور الدین“ (گدھی نشین) ہوا اور اس نے خانہ ساز نبوت کا کاروبار شنیع سنبھالا۔ چھ سال تک اپنے غلیظ ہاتھوں سے منزہ و پاکیزہ منصب نبوت و رسالت سے کھیلتا رہا اور آخر ۱۹۱۴ء میں موت کے آہنی ہاتھوں نے جانشین مرزا قادیانی کو آتش جہنم میں ہم نشین مرزا قادیانی بنا دیا۔ فتور الدین کی فتنہ ساز زندگی کے بعد مرزا قادیانی کا بیٹا بشیر الدین محمود اپنی موروثی نبوت کی مسند فراڈ پر نمودار ہوا۔ ۱۹۴۷ء میں جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو مرزا بشیر الدین رات کی تاریکی میں برقع پہن کر ”شہر ارتداد“ قادیاں سے فرار ہو کر لاہور آگیا اور پاکستان کے اندر قادیانیت کا دام تلبیس بڑی مہارت سے بچھانا شروع کیا۔ بے شمار کلیدی عہدے، جائدادیں اور مراعات لوٹیں، ظفر اللہ خاں قادیانی کو اسلامی مملکت پاکستان کا وزیر خارجہ بنایا اور اسلام اور ملت اسلامیہ کا مذاق اڑایا گیا۔
جب قادیانیوں کی خرمستیاں اور چیرہ دستیاں حد سے بڑھ گئیں تو مسلمانوں کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا اور ۱۹۵۳ء میں ملت اسلامیہ پاکستان نے ایک طوفانی اور تاریخی تحریک چلائی۔ مسند حکومت پر بیٹھے ہوئے جابر حکمرانوں نے مجاہدین ختم نبوت پر ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑے کہ انہیں دیکھ کر ہلاکو و چنگیز کی گردنیں بھی شرم کے مارے جھک جائیں۔ لاہور میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا۔ درندہ صفت جنرل اعظم خان کو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا۔ اس پتھر دل مرزائی نواز جرنیل نے صرف شہر لاہور میں دس ہزار عاشقان مصطفیٰؐ کو شہید کیا، اور ہزاروں علماء اور عوام کو جیلوں میں ٹھونس دیا۔
شہداء کی لاشوں کو سڑکوں پر گھسیٹا جاتا اور انہیں کارپوریشن کی کوڑا کرکٹ اٹھانے والی گاڑیوں میں بھر کر دور دراز کے علاقوں میں گڑھے کھود کر دفن کر دیا جاتا یا دریائے راوی کی لہروں کے سپرد کر دیا جاتا۔ پولیس کے انتہائی ظلم و تشدد اور فوج کی گولیوں کی بوچھاڑ میں تحریک کو دبا دیا گیا لیکن دلوں کے اندر مچلنے والا طوفان اپنی زبوں حالی سے پکار پکار کر کہہ رہا تھا
جگر کی آگ دبی ہے مگر بجھی تو نہیں
جفا کی تیغ سے گردن وفا شعاروں کی
کٹی ہے برسر میداں، مگر جھکی تو نہیں
لہٰذا اکیس سال بعد ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کی کوکھ سے ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت نے جنم لیا۔ تحریک ایک طوفان بن کر اٹھی اور ہر طرف پھیل گئی۔ عوامی سیلاب کے سامنے قادیانی اپنے تمام تر سہاروں اور سازشیوں سمیت خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے اور پاکستان کی قومی اسمبلی نے ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو انہیں کافر قرار دے دیا۔ لیکن قادیانی اپنے منصوبوں پر عمل پیرا ہیں۔ جھوٹی نبوت کی تبلیغ و تشہیر پورے زوروں سے جاری ہے اور مسلمان نوجوانوں کو مختلف ہتھکنڈوں سے قادیانی بنایا جا رہا ہے۔ مرزا قادیانی کی خرافات چھپ رہی ہیں۔ شعائر اسلامی کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ غرضیکہ یہ فوج ابلیس، نبوت محمدیؐ کو (نعوذ باللہ) ملیا میٹ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
لیکن دوسری طرف امت مسلمہ کی ایک کثیر تعداد قادیانیوں کی زہرناکیوں اور ان کے خبث باطن سے بالکل ناواقف ہے، جس سے قادیانی جی بھر کے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور انہوں نے اپنی ارتدادی مہم بہت تیز کر رکھی ہے۔ حالات کی ان سنگینیوں کو بھانپتے ہوئے راقم نے اس کتابچہ میں قادیانیت کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے کچھ تجاویز پیش کی ہیں، جن پر عمل کرنے سے انشاء اللہ جلد ہی آپ کو یہود و نصاریٰ کا یہ پالتو قادیانی ناگ، دم توڑتا دکھائی دے گا۔
اتحاد امت
سب سے پہلے اپنے علاقہ میں اتحاد امت کی فضا پیدا کریں۔ فرقہ واریت کے کانٹے چن کر وہاں اسلامی محبت و اخوت کے پھول کھلائیں۔ فروعی اختلافات کو ختم کر کے تمام مکاتب فکر کے مسلمانوں سے الفت بھرے تعلقات پیدا کریں تاکہ وطن عزیز میں اتحاد امت کی بہار آ جائے۔ یقین فرمائیے! فرقہ واریت کے زہریلے تیروں نے ملت اسلامیہ کے قلب و جگر کو چھلنی کر دیا ہے۔ قادیانیوں کے کثیر بجٹ کا نصف حصہ فرقہ واریت کی جنگ پر خرچ ہوتا ہے۔ فرضی تنظیموں کے ناموں سے مختلف شہروں میں قادیانی
"امت مسلمہ" کو آپس میں دست و گریبان کروانے کے لیے ضرورت کے مطابق انتہائی زہریلا لٹریچر تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ جس میں مختلف مذہبی تنظیموں اور جماعتوں کی ایک دوسرے کے خلاف اشتعال انگیز تحریریں موجود ہوتی ہیں، جسے پڑھ کر مسلمانوں کے مابین نفرت و حقارت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ بعض اوقات یہ نفرت کسی بڑے حادثے کا روپ اختیار کر لیتی ہے اور مسلمان، مسلمان کے ہاتھوں سے تڑپنے لگتا ہے۔ بھائی اپنے بھائی کے خون سے ہاتھ رنگ لیتا ہے لیکن قادیانی اپنی اس غلیظ اور قبیح حرکت پر مارے خوشی کے پھولے نہیں سماتے اور ساحل کے تماشائی بن کر تالیاں پیٹتے اور رقص ابلیس کرتے ہوئے خون مسلم کا تماشا دیکھتے ہیں۔
ایک ہی سب کا نبیؐ دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
(اقبالؒ)
خطیبوں اور ادیبوں سے رابطہ
جیسا کہ آپ حضرات اس امر سے بخوبی آشنا ہیں کہ بین الاقوامی صحافت پر یہودی لابی کا قبضہ ہے۔ چونکہ قادیانی پورے عالم اسلام بالخصوص پاکستان کے خلاف یہودیوں کے ایجنٹ ہیں، اس لیے یہودی صحافت پوری دنیا میں قادیانیوں کو مظلوم، ستم رسیدہ اور مسلمان ثابت کرنے کے لیے اپنے سارے وسائل استعمال کرتی ہے۔ اس پراپیگنڈہ کے لیے خود قادیانیوں کے بھی پاکستان سے درجنوں رسالے نکلتے ہیں، جن میں بچوں، نوجوانوں، عورتوں، بوڑھوں کے لیے الگ الگ رسائل ہیں۔ علاوہ ازیں چند ضمیر فروش مسلمان صحافیوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں۔ کراچی سے شائع ہونے والا ماہنامہ "مسرت ڈائجسٹ" اور لاہور سے شائع ہونے والا پندرہ روزہ "مہارت" اس کی واضح مثال ہے۔ اور کبھی دین سے بے بہرہ کسی سیاستدان سے اپنے حق میں بیانات اور آرٹیکلز شائع کروا کر اپنی نام نہاد مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ ان کے اس پراپیگنڈہ سے متاثر
ہو کر سادہ لوح مسلمان انہیں مظلوم سمجھنے لگتے ہیں۔ اور بعض انہیں اب بھی مسلمانوں کا ہی ایک فرقہ سمجھتے ہیں۔ اس لیے مجاہدین ختم نبوت کا فرض ہے کہ وہ قادیانیوں کے اس خطرناک حملے کا دندان شکن جواب دیں۔ اپنے علاقہ کے خطیبوں کے پاس جائیں اور ان کی توجہ ختم نبوت کے مسئلہ کی اہمیت اور نزاکت کی طرف مبذول کرائیں۔ ان کی خدمت میں گزارش کریں کہ اپنے جمعہ کے خطابات میں مسئلہ ختم نبوت بیان کریں۔ مرزا قادیانی، اس کی جھوٹی نبوت اور قادیانیوں کے عقائد و عزائم سے عوام الناس کو روشناس کرائیں۔ ادیبوں کی خدمت میں التماس کریں کہ وہ اپنے قلم کو قادیانیوں کے خلاف جہاد میں استعمال کریں۔ رسائل و جرائد اور اخبارات میں قادیانی سازشوں کو بے نقاب کریں۔ امت مسلمہ کے سامنے ان کا مکروہ ماضی رکھیں اور مستقبل میں ان کے شیطانی منصوبوں سے لوگوں کو آگاہ کریں۔ جب خطیب، بیانوں سے ان کے تار و پود بکھیریں گے اور ادیب، اپنے نوک قلم سے ان کی بھیانک سازشوں کے بخیے ادھیڑیں گے تو آپ کو قادیانیت کا لاشہ تڑپتا ہوا دکھائی دے گا۔
پیران عظام سے رابطہ
فتنہ قادیانیت کی بیخ کنی کے لیے برصغیر کے پیران عظام نے بڑی جلیل القدر خدمات سر انجام دی ہیں۔ خصوصاً پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ، پیر جماعت علی شاہؒ، شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ، مولانا محمد علی مونگیریؒ پیران سیال شریف، پیران تونسہ شریف وغیرہم کی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ موجودہ دور کے پیران کرام بھی اپنے اسلاف کی غیرت و حمیت کے امین ہیں۔ وہ مرزائیت سے شدید ترین نفرت رکھتے ہیں۔ مجاہدین ختم نبوت ان بزرگوں کی قیادت میں قادیانیت کے خلاف جہاد کا اعلان کریں۔ پیران عظام کے مریدان آپ کے ہم رکاب ہوں گے۔ ادھر آپ کے قافلہ ختم نبوت کی للکار فضا میں گونجے گی، ادھر قادیانیت شیطان کے کندھوں پر سوار ہو کر نو دو گیارہ ہو جائے گی۔
نصر من اللہ و فتح قریب
سیاستدانوں سے رابطہ
پاسبانان ختم نبوت سے درخواست ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقہ کے ممبران یونین کونسل، چیئرمین یونین کونسل، کونسلرز، میئرز، صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے ممبران، سینیٹرز حضرات اور وزرائے حکومت سے ملاقاتیں کریں۔ علاوہ ازیں علاقہ تھانہ کے ایس ایچ او، ڈی ایس پی، ایس ایس پی، اے سی، ڈی سی اور کمشنرز صاحبان سے رابطہ قائم کریں۔ عدالتوں میں وکلاء مجسٹریٹ اور جج صاحبان کے پاس جائیں اور انہیں فتنہ قادیانیت سے آگاہ کریں۔ ملک و ملت کے خلاف قادیانیوں کی ناپاک سرگرمیوں سے انہیں مطلع کریں۔ اور نہایت سلیقہ و اہتمام کے ساتھ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا لٹریچر خود جا کر ان کی خدمت میں پیش کریں تاکہ ضلعی انتظامیہ سے لے کر صوبائی اسمبلیوں اور حکومت کے ایوانوں تک ختم نبوت کی صدا بلند ہو اور قادیانیت ذلیل و خوار ہو۔
طلباء کی ذمہ داریاں
سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے اداروں کے قادیانی طلباء کی فہرستیں تیار کریں اور اگر قادیانی استاد بھی اس ادارے میں پڑھا رہے ہوں تو ان کے نام بھی نوٹ کریں اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ اداروں میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے موضوعات پر لیکچرز کا اہتمام کریں اور طلبا اور اساتذہ میں لٹریچر تقسیم کریں۔ ان میں دینی غیرت پیدا کریں اور قادیانی طلبہ کا مکمل سوشل بائیکاٹ کرائیں۔ ہوسٹلوں میں ان کے کھانے کے برتن الگ کرائیں۔ مسلمان طلباء قادیانی اساتذہ سے نفرت کریں کیونکہ جو شخص حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا باغی ہے، وہ ہمارے لیے محترم نہیں ہو سکتا۔ اگر بدقسمتی سے کوئی قادیانی استاد اسلامیات کا مضمون پڑھاتا ہو تو مسلمان طلبہ اس سے اسلامیات پڑھنے سے صاف انکار کر دیں----------- اور سربراہ ادارہ کے نوٹس میں فوراً یہ بات لائیں۔ کیونکہ کوئی کافر، مرتد اور زندیق مسلمانوں کو اسلامیات پڑھانے کا حق نہیں رکھتا۔
سادہ لوح قادیانیوں سے رابطہ
قادیانیوں میں کچھ ایسے بھولے بھالے افراد بھی موجود ہیں جو اپنی فلاح دارین کے لیے مرزا قادیانی کو نبی اور مجدد (نعوذ باللہ) تسلیم کرتے ہیں۔ نماز پنجگانہ ادا کرتے ہیں۔ زکوٰۃ دیتے ہیں۔ قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔ کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں اور دیگر عبادات و ریاضات میں بھی مصروف رہتے ہیں۔ (اگرچہ یہ سب کچھ ان کے اپنے طریقہ کار اور عقائد کے مطابق ہوتا ہے) مجاہدین ختم نبوت کا فرض ہے کہ وہ ایسے سادہ لوح قادیانیوں سے رابطہ رکھیں۔ اس کے سامنے مرزا قادیانی کا کریکٹر رکھیں۔ مرزا قادیانی کی خرافات سے پردہ اٹھائیں۔ مرزا قادیانی کے نبی بننے کی کہانی سنائیں۔ ختم نبوت کا صحیح اسلامی مفہوم سمجھائیں۔ قادیانیوں کی اللہ تعالیٰ، دین اسلام، قرآن مجید اور دیگر انبیائے کرام کے بارے میں کی ہوئی بکواس دکھائیں۔ آخرت کے انجام سے ڈرائیں۔ انشاء اللہ آپ کی کوششیں کارگر ثابت ہوں گی۔ اور بہت سے لوگ قادیانیت کے اندھیرے سے نکل کر اسلام کے اجالے میں آجائیں گے۔
مسافر یہ سمجھا کہ منزل یہی ہے
نو مسلموں کا تحفظ
رب العزت کے فضل و کرم سے جب کوئی قادیانی، قادیانیت کے خار زار سے نکل کر اسلام کے گلزار میں آجاتا ہے تو قادیانی اپنے جال سے نکلے ہوئے شکار کا تعاقب کرتے ہیں۔ اسے مختلف قسم کے لالچ دیتے ہیں، ڈراتے دھمکاتے ہیں۔ لہٰذا مجاہدین ختم نبوت کا فرض ہے کہ اپنے اس نو مسلم بھائی کو سینہ سے لگا کر رکھیں۔ اس کی ہر طرح سے حفاظت کریں۔ اگر وہ غریب ہے تو اس کی مالی معاونت کریں۔ اگر وہ پڑھا لکھا یا ہنر مند ہے تو کسی دفتر یا فیکٹری میں ملازمت دلوانے کا بندوبست کریں۔ انشاء اللہ رب العزت آپ کو دنیا و آخرت میں اس کار خیر کا اجر عظیم عطا کرے گا۔
میں اسی لیے مسلماں، میں اسی لیے نمازی
سرکاری ملازمین کی ذمہ داریاں
قادیانی وطن عزیز کی بیشتر کلیدی آسامیوں پر فائز ہیں۔ کچھ تو خود کو قادیانی ظاہر کرتے ہیں اور کچھ مسلمانوں کا لبادہ اوڑھ کر معاشرہ میں گھسے ہوئے ہیں۔ اور اپنے اختیارات سے قادیانیت پال رہے ہیں۔ اپنے اپنے محکموں میں قادیانیوں کو بھرتی کر رہے ہیں‘ مسلمان ملازمین سے امتیازی سلوک کرتے ہیں اور قادیانی ملازموں کو ترقی کے زینوں پر چڑھا رہے ہیں۔ بیسیوں محکمے اس وقت مکمل طور پر ان کے قبضہ میں ہیں اور سینکڑوں کو لوٹ کر ان کا دیوالیہ نکال چکے ہیں۔ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے اندر قادیانی تنظیمیں قائم ہیں اور حسب ضرورت ان کے اجلاس منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ ان کے ماتحت کام کرنے والے مسلمان ملازمین بے بسی اور بے کسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اگر کوئی ان کے خلاف تن تنہا اٹھ کھڑا ہو تو یہ بااثر ہونے کی وجہ سے دور دراز کے علاقوں میں اس کی ٹرانسفر کروا دیتے ہیں۔ دفتری ریکارڈ خراب کروا دیتے ہیں وغیرہم‘ اس لیے ضرورت ہے کہ ملک‘ اسلام اور مسلمان ملازمین کی بہتری کے لیے سرکاری‘ نیم سرکاری اور پرائیویٹ اداروں میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تنظیمیں قائم کی جائیں۔ قادیانی افسروں کی فہرستیں مرتب کی جائیں‘ ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے‘ جہاں کسی مسلمان ملازم کی حق تلفی ہو‘ وہاں اعلیٰ حکام سے فوراً رابطہ قائم کیا جائے اور اس پر احتجاج کیا جائے۔ اداروں میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا لٹریچر تقسیم کیا جائے۔ مسلمانوں کو دینی غیرت دلا کر قادیانیوں سے ان کے تعلقات ختم کرائیں۔ ان تجاویز پر عمل کرنے سے آپ تھوڑی ہی مدت میں قادیانیت کے بت کو اوندھے منہ پڑا پائیں گے۔
جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے
گناہ عظیم
قادیانیوں کو دستوری طور پر اقلیت قرار دیئے جانے سے پہلے بہت سے مسلمانوں نے قادیانیوں سے رشتے ناطے کر رکھے تھے۔ مسلمانوں کی بیٹیاں قادیانیوں کے گھروں میں بیاہی ہوئی تھیں۔ ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد کچھ مسلمانوں نے تو قادیانیوں سے اپنی بیٹیوں کی طلاقیں حاصل کر لیں اور قادیانیوں کی
بیٹیوں کو طلاقیں دے کر ہمیشہ کے لیے رشتے ناطے ختم کر لیے۔ لیکن افسوس صد افسوس! آج بھی کئی عاقبت نا اندیش مسلمانوں اور قادیانیوں کی بیٹیاں آپس میں ایک دوسرے کے ہاں بیاہی ہوئی ہیں۔ یوں خدا کی دھرتی پر ایک گناہ ہو رہا ہے۔
مجاہدین ختم نبوت ایسے مسلمانوں سے فوراً رابطہ قائم کریں اور انہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ قادیانی کافر اور مرتد ہیں، اس لیے ان کے ساتھ مسلمانوں کے نکاح نہیں ہو سکتے۔ انشاء اللہ آپ کی کوششیں رنگ لائیں گی۔ اور بہت سے مسلمان اس گناہ کبیرہ اور ذلت کی دلدل سے نہ صرف باہر نکل آئیں گے بلکہ اپنی طرح پھنسے ہوئے دیگر مسلمانوں کو نکالنے کے لیے آپ کے ساتھی اور معاون ہوں گے۔
دہر میں اسم محمدؐ سے اجالا کر دے
مختلف زبانوں میں لٹریچر کی اشاعت
قادیانی استعماری قوتوں کے ایجنٹ ہونے کے ناطے پوری دنیا میں وبا کی شکل میں پھیل چکے ہیں۔ دولت کی ریل پیل ہے۔ ہزاروں تربیت یافتہ مبلغین اپنے ابلیسی مذہب کا پرچار بڑے منظم انداز میں کر رہے ہیں۔ ایک مربوط پروگرام کے تحت دنیا کے مختلف ممالک میں ان کی زبانوں میں لٹریچر چھاپ کر وافر مقدار میں تقسیم کر رہے ہیں، جو ایک خطرناک صورت حال پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے ایسے تمام مسلمانوں کا فرض ہے جن کے دوست یا رشتہ دار یا واقف علمائے کرام، بیرونی ممالک خصوصاً افریقہ میں موجود ہیں، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا شائع کردہ لٹریچر ان کے پاس بھیجیں اور انہیں کہیں کہ وہ مقامی زبان میں اس کا ترجمہ کروا کر اپنے اپنے ملک میں تقسیم کریں تاکہ ہر جگہ پر فتنہ قادیانیت کا سدباب ہو سکے۔ اپنے عزیزوں اور دوستوں سے کہیں کہ وہ خود یہ کام سنبھالیں اور دوسروں کو بھی اس جہاد میں شامل کریں کیونکہ
لاریب وہ جنت کا سزاوار نہیں
ختم نبوت کے دو ترجمان
قادیانی کروڑوں روپیہ خرچ کر کے کفر و الحاد پر مبنی لٹریچر پوری دنیا میں ایک منظم طریقہ سے پھیلا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ درجنوں رسائل شائع کر کے کلیدی آسامیوں پر فائز اور اہل علم حضرات کو مفت بھیجتے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صحافت کے میدان میں قادیانیت کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے دو ہفتہ وار رسائل ”ختم نبوت انٹرنیشنل“ اور ”لولاک“ باقاعدگی سے شائع کر رہی ہے، جن میں ختم نبوت، رد قادیانیت، حیات عیسیٰ، قادیانیوں کا سیاسی تجزیہ ایسے عظیم موضوعات پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ قادیانیوں کے بارے میں تازہ تازہ خبریں شائع کی جاتی ہیں۔ آپ سے التماس ہے کہ فوری طور پر ان رسائل کے خریدار بنیں۔ دوستوں تک ان پرچوں کو پہنچائیں۔ اپنے علاقہ کی سرکاری اور پرائیویٹ لائبریریوں تک پہنچائیں۔ خود مضامین لکھیں۔ احباب سے لکھوائیں۔ اپنے علاقہ کی خبریں اشاعت کے لیے بھجوائیں۔ دونوں رسائل کے ایڈریس نوٹ فرمائیں۔
- (1) ہفت روزہ ختم نبوت انٹرنیشنل۔ مرکزی جامع مسجد باب الرحمت ٹرسٹ۔
ایم۔ اے جناح روڈ پرانی نمائش۔ کراچی نمبر ۳
- (2) ہفت روزہ لولاک: جامع مسجد محمودؒ۔ ریلوے کالونی۔ فیصل آباد۔
ان رسائل کو گھر گھر پہنچا کر یہ ثابت کر دیجئے کہ:۔
ناموس محمدؐ کے نگہدار ہیں ہم لوگ
اس کے علاوہ اپنے دوستوں کے نام یہ رسائل تحفتاً ”بھی جاری کرائیں۔ تاکہ حتی المقدور لوگ استفادہ کر سکیں۔
قادیانی مردہ مہم
شرعاً کوئی قادیانی مردہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہو سکتا۔ لیکن قادیانی خود کو مسلمان ظاہر کرنے کے لیے اپنے مردے اکثر مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن کرتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں بہت سے شہروں میں مسلمانوں اور قادیانیوں کے مابین لڑائی جھگڑے ہوئے اور مسلمانوں نے جوش حمیت سے قادیانی مردوں کو قبروں سے اکھاڑ باہر پھینکا۔ لہٰذا حکومت پاکستان نے مسلمانوں کے اصولی موقف کو مانتے ہوئے ملک کے
تمام ڈی سی حضرات کو حکم نامہ جاری کیا ہے کہ جس کی رو سے کوئی قادیانی مردہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہو سکتا۔ اگر آپ کے علاقہ میں قادیانی ایسی غلیظ حرکت کرنے کی کوشش کریں تو فوراً مقامی پولیس سے رابطہ قائم کریں اور اس قانون پر عمل در آمد کرائیں۔
قادیانی مصنوعات کا بائیکاٹ
قادیانی مسلمانوں کے ہاتھوں اپنی مصنوعات فروخت کر کے خوب دولت کماتے ہیں۔ اور پھر مسلمانوں سے کمائی ہوئی دولت کا ایک کثیر حصہ ربوہ بھیج دیتے ہیں۔ جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پاکیزہ ختم نبوت کے خلاف خرچ ہوتا ہے۔ اس رقم سے قادیانی مبلغین کو تنخواہیں ملتی ہیں۔ قادیانی نبوت کا لٹریچر چھپتا ہے۔ رائل فیملی گلچھرے اڑاتی ہے۔ قادیانی ادارے پرورش پاتے ہیں۔ غرض کہ نبوت کاذبہ کا سارا کاروبار چلتا ہے۔ لیکن حقیقت سے نا آشنا مسلمان غفلت میں اس سنگین جرم میں شریک ہیں۔ اس لیے انتہائی ضروری ہے کہ مسلمانوں کی توجہ اس نازک اور اہم نقطہ کی طرف مبذول کرائی جائے اور انہیں بتایا جائے کہ جس طرح قادیانی مردوں کا بائیکاٹ ضروری ہے، اسی طرح قادیانی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی انتہائی ضروری ہے۔ قادیانی مصنوعات میں ”شیزان“ سرفہرست ہے۔ مجاہدین ختم نبوت کا فرض ہے کہ وہ عوام الناس سے شیزان بوتل، شربت، چٹنی، اچار، جام اور جیلی وغیرہ کا مکمل بائیکاٹ کرائیں۔ اپنے اپنے حلقہ میں مقامی علماء اور معززین کو ساتھ لے کر بازاروں کا دورہ کریں اور دوکانداروں کو دینی غیرت دلاتے ہوئے شیزان کی مصنوعات نہ رکھنے کی پر زور اپیل کریں۔ بااثر لوگوں کی مدد سے علاقہ کی شیزان کی ایجنسی منسوخ کرائیں۔ شیزان کی مصنوعات کا بند کرنا قادیانی معیشت کے گلے پر چھری چلانے کے مترادف ہے۔ کیونکہ شیزان ہی وہ شیطان ہے، جو شیطانی نبوت کو چلا رہا ہے۔
نفرت ہے، مجھ کو شیطان، شیزان، اور قادیان سے
(نوٹ: شیزان کے بائیکاٹ کے پوسٹر، سٹیکرز ہم سے بذریعہ ڈاک فری منگوائے جا سکتے
ہیں ۔)
شیزان کمپنی کالجوں اور یونیورسٹیوں کی تقریبات میں شیزان کی سپلائی فری مہیا کرتی ہے۔ طلباء برادری پر یہ احسان چڑھا کر اس کے عوض کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ہوسٹلوں اور کینٹینوں میں شیزان سپلائی کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور مسلمانوں کو شیزان پلا پلا کر لاکھوں روپے کمائے جاتے ہیں۔ مختلف کھیلوں کے میچوں‘ علمی و ادبی سیمیناروں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پروگراموں کی اشتہار بازی کر کے شیزان کمپنی زبردست شہرت حاصل کر رہی ہے اور اس شہرت کی قوت سے اپنا کاروبار چمکا رہی ہے۔ مجاہدین ختم نبوت متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ قائم کریں اور مسلمانوں کو شیزان کمپنی کے بھیانک منصوبوں سے آگاہ کرتے ہوئے ان اداروں میں شیزان کا داخلہ ممنوع قرار دلائیں۔
قادیانیوں کی کلمہ مہم
مسلمانوں کے پر زور مطالبے پر صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے قادیانیوں کو شعائر اسلام کے استعمال سے روکنے کے لیے ۱۹۸۴ء میں امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا جس کے مطابق ”قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بلاواسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو مجروح کرے‘ کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی ہی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہو گا“
لیکن قادیانی خود کو مسلمان ظاہر کرنے کے لیے اپنے مکانوں‘ اپنی دکانوں اور عبادت گاہوں پر کلمہ طیبہ اور دیگر آیات قرآنی لکھتے ہیں‘ اور اپنے ناپاک سینوں پر بھی کلمہ طیبہ کے بیج لگاتے ہیں۔ ختم نبوت کے شاہینوں سے گزارش ہے کہ ایسے قادیانی جنہوں نے اپنے پلید سینوں پر کلمہ طیبہ کے بیج لگائے ہوں‘ انہیں پکڑ کر حوالہ پولیس
کریں۔ اور دفعہ ۲۹۵ سی کے مطابق مقدمہ درج کرائیں۔ جن قادیانیوں نے مکانوں‘ دوکانوں اور عبادت گاہوں پر کلمہ طیبہ یا کوئی قرآنی آیت لکھ رکھی ہو‘ وہاں علاقہ تھانہ میں ان کے خلاف زیر دفعہ ۲۹۸سی‘ ۲۹۵سی رپورٹ درج کرائیں اور پولیس کے ذریعے ان مقامات سے کلمہ طیبہ ہٹوائیں اور اگر پولیس بہانہ سازی کرے تو فوراً عدالت میں مقدمہ دائر کریں۔ اس طرح اگر کوئی قادیانی اپنی عبادت گاہ میں اذان دے تو اس کے خلاف بھی کاروائی کرائیں۔
(نوٹ: ضرورت پڑنے پر صدارتی آرڈیننس کی کاپی دفتر کے پتہ پر منگوائی جاسکتی ہے۔)
حلقہ وار تنظیمیں
قادیانی ناسوروں نے اپنے انگریزی نبی کی انگریزی نبوت چلانے کے لیے حلقہ وار تنظیمیں قائم کر رکھی ہیں۔ اور ہر حلقہ کے لیے ایک مربی مقرر ہے‘ مجاہدین ختم نبوت کو چاہیے کہ وہ بھی ختم نبوت کی حلقہ وار تنظیمیں قائم کریں‘ دفتر ختم نبوت کا قیام عمل میں لائیں۔ قادیانی مربی کا مربہ بنانے کے لیے اپنا ایک امیر مقرر کریں‘ دفتر ختم نبوت میں لائبریری کا قیام عمل میں لائیں‘ پورے علاقہ میں رد قادیانیت کا لٹریچر تقسیم کریں۔ پورے حلقہ کے قادیانیوں کی فہرست تیار کریں۔ علاقہ میں عقیدہ ختم نبوت کے ذیشان موضوع پر جلسے منعقد کرائیں۔ لوگوں سے قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ کرائیں۔ مسلمان‘ قادیانی دوکانداروں سے سودا سلف نہ خریدیں اور مسلمان دوکاندار‘ قادیانیوں کو سودا سلف نہ دیں۔ اگر قادیانی ڈاکٹر علاقہ میں موجود ہو تو مسلمانوں کو منحوس کے پاس جانے سے روکیں۔ مسلمانوں کو قادیانیوں کی شادیوں اور دیگر تقریبات میں شامل نہ ہونے دیں۔ خیال رکھیں کہ کہیں کوئی مسلمان کسی قادیانی لعین کی نام نہاد نماز جنازہ نہ پڑھے اور نہ ہی کسی قادیانی ملعون کو مسلمان کی نماز جنازہ میں گھسنے دیں۔ اس بات پر کڑی نگاہ رکھیں کہ کہیں کوئی قادیانی آپ کے علاقہ کی کسی مسجد میں نماز تو نہیں پڑھتا۔ اگر ایسی صورت ہو تو اس مردود کو فوراً پکڑ کر حوالہ پولیس کریں۔ اس بات کا بھی خاص خیال رکھیں کہ کہیں آپ کے علاقہ کا کوئی قادیانی خود کو مسلمان ظاہر کر کے کسی دفتر میں ملازمت تو نہیں کر رہا یا بیرون ملک ملازمت حاصل تو نہیں کر رہا یا حج وغیرہ کے لیے سعودی عرب تو نہیں جا رہا۔
ان اہم امور پر توجہ دیں۔ انشاء اللہ تھوڑی سی مدت میں قادیانیوں کو دن میں تارے اور رات کو سورج نظر آنے لگے گا اور انشاء اللہ ان میں سے کچھ تائب ہو کر مسلمان بھی ہو جائیں گے۔
قادیانی اور ملکی الیکشن
۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ لیکن قادیانیوں نے قومی اسمبلی کے اس تاریخ فیصلے کو آج تک تسلیم نہیں کیا۔ وہ آج بھی آئین پاکستان سے کھلم کھلا بغاوت کا اعلان کر رہے ہیں۔ قادیانی خود کو غیر مسلم اقلیت تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ ببانگ دہل مسلمانوں کو غیر مسلم کہتے ہیں۔ دیگر غیر مسلم اقلیتوں (ہندو، عیسائی، پارسی وغیرہ) کو حکومت نے ان کی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں نشستیں دی ہیں دوسری غیر مسلم اقلیتوں کے نمائندے تو اپنی اپنی نشستوں کے لیے بڑے زور و شور سے الیکشن میں حصہ لیتے ہیں۔ لیکن قادیانیوں نے خود کو غیر مسلم اقلیت تسلیم نہ کرتے ہوئے آج تک الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔ اور ان کی نشستیں بھی ہمیشہ خالی رہتی ہیں۔ لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ قادیانی ہمیشہ اپنے نام مسلم ووٹروں کی فہرست میں درج کراتے ہیں۔ یہ ان کے پاس ایک بڑا موثر اور خطرناک ہتھیار ہے۔ جس سے وہ لا دین سیاست دانوں سے اپنے ووٹوں کا سودا کر کے انہیں اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں۔ ان سے مراعات حاصل کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ان سے اپنے حق میں اخبارات میں بیانات چھپواتے رہتے ہیں۔ بعض قادیانی خود کو مسلمان ظاہر کر کے بطور امیدوار الیکشن میں حصہ لیتے ہیں۔ ماضی میں ایسی بہت سی مثالیں سامنے آ چکی ہیں۔
مجاہدین ختم نبوت کا فرض ہے کہ وہ الیکشن کے دنوں میں انتہائی مستعد رہیں۔ حالات و واقعات پر گہری نظر رکھیں۔ قادیانی نواز امیدواروں کے خلاف موثر مہم چلائیں۔ عوام سے قادیانی نواز سیاسی جماعتوں کا بائیکاٹ کرائیں۔ اور جو قادیانی خود کو مسلمان ظاہر کر کے الیکشن میں حصہ لے رہا ہو اور جن قادیانیوں نے اپنے نام مسلمان ووٹروں کی فہرست میں درج کرائے ہوں، ان کے خلاف قانونی کارروائی کریں اور
قادیانیوں کے اس خطرناک حربے کا قلع قمع کردیں۔
رد قادیانیت کورس
ملک میں فتنہ قادیانیت سے صحیح طور پر آگاہ افراد کی تعداد بہت کم ہے۔ اس افرادی کمی سے قادیانی خاصا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ لہٰذا طلباء، وکلاء، علماء، سرکاری وغیر سرکاری ملازمین غرض کہ زندگی کے ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا چلتا پھرتا مبلغ بنانے کے لیے ”عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مرکزی دفتر حضوری باغ روڈ ملتان“ ۱۵ شعبان تا ۳۰ شعبان ہر سال ایک رد قادیانیت کورس کا اہتمام کرتی ہے جس میں نامور علماء کرام قادیانیوں کی بھیانک سازشوں اور فتنہ قادیانیت کے دیگر خطرناک منصوبوں سے آگاہ کرتے ہیں۔ اور اس فتنہ کا محاسبہ کرنے کا فن سکھاتے ہیں۔ قیام و طعام کا بندوبست مجلس کا ذمہ ہوتا ہے، مجاہدین ختم نبوت اپنے اپنے علاقہ سے زیادہ سے زیادہ احباب کو لے کر تشریف لائیں، خوب تربیت حاصل کریں اور دلائل کے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر اپنے اپنے علاقوں میں تحفظ ختم نبوت کے عظیم کام کی ڈیوٹی سنبھالیں۔
عالمی گولڈ میڈل انعامی تحریری مقابلہ:
عالمی مجلس تحفظ نبوت ریلوے روڈ ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ، رب العزت کے فضل سے ہر سال عالمی سطح پر ”ختم نبوت و رد قادیانیت“ کے موضوعات پر ایک عظیم الشان انعامی تحریری مقابلہ کا انعقاد کرتی ہے۔ اخبارات، اشتہارات اور جرائد و رسائل کے ذریعے اس تحریری مقابلہ کی خوب تشہیر کی جاتی ہے، جس کے نتیجہ میں اندرون ملک و بیرون ملک سے سینکڑوں کی تعداد میں مضامین موصول ہوتے ہیں۔ اول دوم اور سوم آنے والوں کو بالترتیب گولڈ میڈل، سلور میڈل اور کانسی میڈل دیئے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں نچلی دس پوزیشنیں حاصل کرنے والوں کو حوصلہ افزائی کے دس انعامات (کتابوں کے قیمتی سیٹ) پیش کئے جاتے ہیں۔ اور مقابلہ میں شمولیت کا مقصد وحید ملت اسلامیہ کے افراد بالخصوص نوجوانوں کو مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت و افادیت اور قادیانیوں کے کفریہ عقائد اور خطرناک عزائم سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔
الحمد اللہ اس مقابلہ کی بدولت ہزاروں لوگ قادیانیوں کے دجل و فریب کو جان چکے ہیں اور سینکڑوں محلہ وار تنظیمیں اپنے اپنے علاقوں میں ان باغیان ختم نبوت سے جہاد کر رہی ہیں۔ آپ بھی ہر سال ہونے والے انعامی مقابلہ میں حصہ لیں۔ مضمون خود لکھیں اور احباب سے لکھوائیں۔ موضوع سے متعلق ہر قسم کا لٹریچر ہم فراہم کریں گے۔ خط و کتابت کے لیے پتہ نوٹ فرما لیجئے۔
"محمد متین خالد صدر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نسیم منزل روڈ ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ"
سربراہان اسلامی ممالک سے اپیل
بین الاقوامی گماشتہ‘ یہود و نصاریٰ کے ناک کا بال‘ مسٹر ظفر اللہ تو ۱۹۸۵ء میں جہنم واصل ہو گیا۔ اب اس کی جگہ رسوائے زمانہ قادیانی سائنس دان عبدالسلام عالمی سطح پر پاکستان اور عالم اسلام کے خلاف خطرناک سازشیں کرنے میں مصروف ہے۔ کلیساء کی مٹی کے خمیر سے بنے ہوئے اس نام نہاد سائنس دان کو یہودیوں نے اس کی ابلیسانہ کارکردگی سے خوش ہو کر نوبل انعام دیا تھا۔ جھوٹی نبوت کے اسی نمائندے نے وطن عزیز پاکستان کو لعنتی زمین کہا تھا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہی ننگ ملت ایک سازش کے تحت اسلامک سائنس فاؤنڈیشن کا چیئرمین بنا ہوا ہے اور سائنس کی آڑ میں اسلامی ممالک سے تحسین و آفرین کے علاوہ کروڑوں ڈالر بٹور چکا ہے اور اس خطیر رقم سے جھوٹی نبوت کا پیٹ بھر رہا ہے اور سائنسی اداروں میں کثیر تعداد میں قادیانیوں کو بھرتی کر رہا ہے۔ اس کی خباثت سے نا آشنا اردن کے شاہ حسین اور سعودی عرب کی رائل فیملی کے شہزادے نے بالخصوص خوش ہو کر اس کو مبارک باد اور ایک بھاری رقم عطا کی ہے۔ اس بھیانک سازش کے چہرے سے نقاب الٹنے کے لیے رابطہ عالم اسلامی اور دینی جماعتوں کے اکابرین کی خدمت میں گزارش کریں کہ وہ اسلامی سربراہان مملکت کو قادیانیوں کے کفریہ عقائد اور اسلام کے خلاف خطرناک عزائم سے آشنا کریں۔ انہیں آگاہ کریں کہ دشمن اسلام نام نہاد عبدالسلام دراصل یہودیوں کا ایجنٹ ہے، جو اپنے کفریہ ماتھے پر لفظ اسلام کندہ کر کے اشارہ یہود پر مسلمانوں کے خفیہ راز حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں میں گھسا ہوا ہے۔ لہٰذا عالم اسلام کی سلامتی اسی میں مضمر ہے کہ یہودیوں کے اس مہرے
کو چلتا کیا جائے۔
سالانہ صدیق آباد کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘ قادیانیت کے سورماؤں کو مرکز کفر و الحاد ”ربوہ“ میں للکارنے اور اس مرتد نگر میں ختم نبوت کا ڈنکا بجانے کے لیے ہر سال ماہ اکتوبر میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کرتی ہے۔ پاکستان کے تمام شہروں سے ختم نبوت کے پروانے قافلوں کی صورت میں دل میں عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شمعیں جلائے ہوئے اور دیوانہ وار ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے تشریف لاتے ہیں۔ دور دراز تک مجاہدین اور ان کے خیمے پھیلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ فروعی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوتے ہیں۔ اتحاد امت کا دلکش منظر دیکھ کر سینے میں دل خوشی سے رقص کرنے لگتا ہے۔ خطیبوں کی گھن گرج سے ”ربوہ“ کی کفریہ اور اداس فضائیں کانپ رہی ہوتی ہیں۔ اور قادیانی سہمے ہوئے چوہوں کی طرح اپنے بلوں میں گھسے ہوئے ہوتے ہیں۔ لہٰذا تمام مجاہدین ختم نبوت سے التماس ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کا قافلہ بنا کر اس کانفرنس میں شرکت فرمائیں۔ لوگوں کو ختم نبوت کے مسئلہ سے روشناس کرائیں۔ قادیانیوں سے نفرت دلائیں۔ سب کے ایمانوں کو گرمائیں اور قادیانیوں کو اس ملک سے بھگائیں۔
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
نومسلم کے قبول اسلام کی تشہیر
جو قادیانی بھی اسلام قبول کرے‘ اخبار و رسائل کی مدد سے اس کی خوب تشہیر کی جائے۔ اس کے اعزاز میں پارٹیوں کا اہتمام کیا جائے۔ ان پارٹیوں میں رد قادیانیت کے موضوع پر اس سے تقریریں کرائی جائیں۔ اس کی پریس کانفرنس کرائی جائے جس میں وہ قادیانیت پر لعنت بھیجے اور اسلام قبول کرنے کی وجوہات بیان کرے۔ اس سے قادیانیت ذلیل و خوار ہوگی اور انشاء اللہ بہت سے قادیانیوں کو یہ ہمت و حوصلہ ہو گا کہ وہ
بھی مشرف بہ اسلام ہو سکیں گے۔
ایڈیٹر کی ڈاک میں خطوط لکھے جائیں
اخبارات‘ ذرائع ابلاغ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن اخبارات کے صفحات سیاسی لیڈروں کی تصویروں‘ ان کے بیانات اور پریس کانفرنسوں کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ ادارتی صفحہ بھی بڑے بڑے لوگوں کے قبضہ میں ہوتا ہے۔ لیکن ”ایڈیٹر کی ڈاک“ ایک ایسا سلسلہ ہے جس میں عوام اپنے مذہبی‘ سماجی‘ سیاسی اور اقتصادی مسائل پر آواز اٹھاتے ہیں اور ایک عام آدمی کی آواز پورے ملک میں خواص و عوام تک پہنچ جاتی ہے۔ مسئلہ جس وزارت سے متعلقہ ہو‘ اس وزارت تک پہنچ جاتا ہے۔ مجاہدین ختم نبوت اس موثر ہتھیار کو فوراً استعمال میں لائیں اور مندرجہ بالا تجویز پڑھتے ہی ”ایڈیٹر کی ڈاک“ کے ذریعے حکومت کے سامنے قادیانیوں کے متعلق اپنے مطالبات پیش کریں۔ ملت اسلامیہ کے جذبات سے حکومت کو آگاہ کریں اور قادیانیوں کی شرانگیزیوں سے حکومت کو آشنا کریں۔ اخبارات کے علاوہ ملک کے تمام مذہبی و سیاسی رسائل و جرائد میں یہ سلسلہ ”آپ کی ڈاک“ ”آپ کے خطوط“ ”آپ نے لکھا“ وغیرہ وغیرہ کے عنوانوں سے قائم ہے آپ فوری طور پر ان رسائل و جرائد میں قادیانیت کے خلاف اپنے جذبات پیش کریں اور عوام و حکومت کو ان کی فتنہ سامانیوں سے ہوشیار کریں۔ آپ کے ایک روپیہ کا ڈاک ٹکٹ قادیانیت کی چولیں ہلا کر رکھ دے گا (انشاء اللہ) خود اس تحریر کو وظیفہ بنائیے اور احباب کو اس کار نیک کی دعوت دیجئے۔
چند مفید تجاویز:
عقیدہ ختم نبوت کی تبلیغ و تشہیر اور عوام کو اس عقیدہ کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے مجاہدین ختم نبوت مندرجہ ذیل تجاویز پر عمل کریں۔ انشاء اللہ بہت فائدہ ہو گا۔
- (۱) ہر سال ختم نبوت کیلنڈر شائع کیا جائے
- (۲) ہر سال ختم نبوت ڈائری شائع کی جائے۔
- (۳) مساجد میں جہاں دیگر آیات قرآنی و احادیث مقدسہ لکھی ہوئی ہیں۔ ان کے
ساتھ ساتھ ختم نبوت پر دلالت کرتی ہوئی قرآنی آیات اور احادیث مقدسہ جلی
حروف میں لکھی جائیں۔
- (۴) دینی مدارس اور سکولوں میں ”انا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ کے چارٹ
دیواروں پر لگائے جائیں۔
- (۵) ختم نبوت کے موضوع پر آیات قرآنی اور احادیث رسولؐ کی بہترین شیلڈز
بنوائی جائیں اور وہ گھروں میں لگائی جائیں۔
- (۶) پنسلیں تیار کی جائیں جن پر لکھا ہو کہ ”قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے
غدار ہیں۔“
- (۷) سکولوں اور کالجوں کے لیے ایسے سٹیکرز تیار کئے جائیں جن میں اوپر ختم
نبوت یا رد قادیانیت کے بارے میں ایک بہترین جملہ تحریر ہو اور اس کے نیچے نام ............... رول نمبر............... کلاس............... سکول............... کی جگہ ہو۔
- (۸) چابیوں کے چھلے (Key Rings) بنائے جائیں، جن کے دونوں طرف لکھا
ہو۔ قادیانیوں کا ایک ہی علاج............... الجہاد! الجہاد
- (۹) مسلمان دوکانداروں کے لیے دوکانوں پر آویزاں کرنے کے لیے ایسی تختیاں
بنائی جائیں جن پر جلی حروف میں یہ لکھا ہو ”یہاں قادیانیوں سے خرید و فروخت بند ہے۔“
- (۱۰) تمام علاقائی تنظیمیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا بیج بنوائیں اور تمام مجاہدین ختم
نبوت یہ خوبصورت بیج لگا کر سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، فیکٹریوں، دوکانوں اور سرکاری اداروں میں جائیں۔ انشاء اللہ یہ بیج علاقہ میں قادیانیوں کے خلاف ایک تحریک پیدا کر دے گا۔
کہ تیرے ساتھ دنیا میں ہزاروں دل دھڑکتے ہیں
قادیانیوں کے طریقہ ہائے واردات
قادیانیت دجل و فریب کا پلندہ اور کذب و افتراء کا مرقع ہے۔ اس مذہب باطل کی نیو فرنگی نے اٹھائی۔ دین اسلام، پیغمبر اسلام اور شعائر اسلام کے بارے میں زبان و
قلم چلانے کا فن قادیانیوں نے یہودیوں سے سیکھا۔ یہود نے انہیں ملت اسلامیہ سے جنگ لڑنے کی تربیت دی اور ہندو نے ہندوستان میں انہیں بھرپور تقویت دی۔ دنیا کی ان تین بد ترین قوموں نے قادیانیت کو بنایا اور اٹھایا۔ قوم انگریز، قوم یہود اور قوم ہندو میں انفرادی طور پر جو صفات رذیلہ پائی جاتی ہیں، وہ مجموعی طور پر قادیانیت میں پائی جاتی ہے۔ اس لیے ان صفات شیطانی میں ہر قادیانی لاثانی ہے۔ اس نے شیطان کی مکر و فریب کی کتاب کا ورق ورق پڑھا ہے۔ جھوٹ بولنے پر آئیں تو دلائل کے انبار لگا دیں۔ ظلم بھی کریں اور پھر پوری دنیا میں اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا اس طرح پیٹیں کہ سب ان پر ترس کھائیں، قتل بھی کرتے ہیں، اور ہاتھ بھی صاف رکھتے ہیں، مسلمان بھی کہلاتے ہیں اور قرآن و حدیث پر تحریف کی قینچی بھی چلاتے ہیں۔ اخلاق دکھانے پر آئیں تو سادہ لوح ان کے راستے میں اپنی آنکھیں بچھائیں۔ انسانیت کی خدمت کے بہانے محسن انسانیتؐ کے امتیوں کا ایمان لوٹتے ہیں۔ یہاں پر قادیانیوں کے چند طریقہ ہائے واردات درج کئے جاتے ہیں۔ انہیں پڑھئے، پڑھائیے، سمجھئے، سمجھائیے، اور پھر ان خطرناک حملوں کا تدارک کیجئے۔
قادیانی حوریں (چڑیلیں)
نام نہاد جنت ربوہ سے نکلی ہوئی قادیانی حوریں ایک پروگرام کے تحت مسلمان نوجوانوں کے دلوں پر ڈاکہ ڈالتی ہیں۔ اور انہیں اپنے دام عشق و محبت میں اسیر کر لیتی ہیں۔ طائر محبت ستاروں سے باتیں کرنے لگتا ہے۔ دونوں شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں۔ اولاد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جب بے چارے کی چشم ہوش کھلتی ہے تو قادیانیت کے دڑبے میں بند ہوتا ہے۔ لیکن اب کیا ہو؟
راقم نے اپنے علاقہ لاہور کے کونسلر جو مصالحتی عدالت کا چیئرمین بھی ہے، کے پاس ایک ایسا ہی کیس دیکھا۔ مسلمان نوجوان اور قادیانی حور دونوں کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ واقعہ کچھ یوں تھا کہ قادیانی حور اور مسلمان نوجوان دونوں ایک ہی دفتر میں ملازم تھے۔ قادیانی حور نے اس پر محبت کے ڈورے ڈالے اور وہ اس پر دل ہار بیٹھا۔ دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ قادیانی حور اسے اس کی والدہ اور تمام رشتہ
داروں سے چھڑوا کر الگ ایک مکان میں رہنے لگی۔ کچھ مدت کے بعد جب نوجوان کو معلوم ہوا کہ مذکورہ بالا عورت مرزائی ہے، تو وہ حیرانی و پریشانی کے عالم میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ اور اسے فوراً حکم دیا کہ ابھی میرے گھر سے نکل جائے۔ میری طرف سے تمہیں طلاق ہے۔ راقم نے کمرہ عدالت میں اس نوجوان کی بوڑھی اور خمیدہ کمر والدہ کو دیکھا، جو رو رو کر اور ہاتھ جوڑ جوڑ کر کہہ رہی تھی میں بیوہ ہوں۔ یہ میرا اکلوتا بیٹا ہے۔ خدا کے لیے میرے بیٹے کو اس دلدل سے نکال لو۔ میرا گھر لٹ چکا ہے۔ میرا سکھ چین چھن چکا ہے۔ اس کی آہ و فغاں سن کر سینے میں دل رو رہا تھا۔ اور حاضرین مبہوت تھے۔ قادیانی حور اپنے والدین کے ہمراہ اپنی جعلی شرافت دکھانے کے لیے برقع پہنے بیٹھی تھی۔ وہ طلاق نہ لینے پر مصر تھی، اس کی زبان قینچی کی طرح چل رہی تھی اور اس کی گفتگو میں وہی بازاری پن تھا جو اس کے دیسی نبی مرزا قادیانی نے اپنی تصنیفات میں استعمال کی ہے۔ بحث جاری تھی۔ راقم نے بحث کو روک کر عدالت کے چیئرمین کو مخاطب کر کے کہا کہ قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان کے کفر میں شک کرنے والا بھی کافر ہے۔ لہٰذا کسی بھی صورت میں ایک مسلمان کا مرزائی عورت سے نکاح نہیں ہو سکتا۔ جسے چیئرمین عدالت نے فوراً قبول کر لیا اور طلاق ہو گئی۔ اس طرح نوجوان اور اس کی بوڑھی والدہ کو ”قادیانی تحفے“ سے نجات مل گئی۔
قادیانی ارتدادی فیکٹریاں
ملک کے اندر سینکڑوں کی تعداد میں قادیانیوں کی چھوٹی بڑی فیکٹریاں چل رہی ہیں، جن میں ہزاروں مسلمان ملازمین محنت مزدوری کر رہے ہیں۔ یہ فیکٹریاں دراصل کفر و ارتداد کے اڈے ہیں۔ جہاں دیگر مصنوعات سازی کے ساتھ ساتھ مرتد سازی بھی ہوتی ہے۔ ان فیکٹریوں میں ترقی حاصل کرنے کے لیے قادیانی افسروں کی قربت حاصل کرنا لازمی امر ہے۔ ختم نبوت کے ڈاکوؤں کے خطرناک عزائم سے نا آشنا مزدور بھی قادیانی افسروں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ان کی خوب خدمت کرتے ہیں۔ ان فیکٹریوں میں اکثر مسلمان اور قادیانی اکٹھے کھاتے پیتے ہیں جس سے ان میں ایک دوستانہ فضا قائم ہو جاتی ہے۔ اگرچہ ماسوائے چند کے وہ قادیانی نہیں ہوتے لیکن قادیانیوں کے خلاف ان
کے دل میں نفرت بھی نہیں پیدا ہوتی۔ ان قادیانیوں کے خلاف جہاد میں وہ ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب ربوہ میں قادیانیوں کا سالانہ میلہ بڑے زور و شور سے لگا کرتا تھا، اور انہی فیکٹریوں سے مسلمانوں کی بسیں بھر بھر کر ربوہ جاتی تھیں۔ محنت کش ربوہ سے نبوت چوروں کی چرب زبانی سن کر آتے تو کئی دولت ایمان سے محروم ہو چکے ہوتے اور کئی اسلام کے بارے میں اپنے دل میں شکوک و شبہات لے کر آتے۔ غرض اثر سب پر ہوتا کسی پر زیادہ کسی پر کم۔
الحمد للہ اب سالانہ میلہ پر تو پابندی لگ چکی ہے۔ لیکن دیہاتوں اور شہروں میں سینکڑوں مقامات پر قادیانی اجتماعات ہوتے رہتے ہیں، جہاں ان فیکٹریوں کے محنت کشوں کی ایک کثیر تعداد شرکت کر رہی ہے جو کہ خطرے کا الارم ہے۔ ایک طرف مایوسی کا یہ گھپ اندھیرا ہے لیکن دوسرے طرف ایمان اور جرات کے چند چراغ ان اندھیروں میں روشنیاں بکھیر رہے ہیں۔ یعنی قادیانی فیکٹریوں میں دینی غیرت سے سرشار محنت کشوں نے قادیانیوں کے خلاف انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اور وہ اپنی فیکٹریوں میں قادیانی مالکان سے نبرد آزما ہیں اور وہ جھوٹے نبی کی امت کو للکار کر کہہ رہے ہیں۔
ہم اٹھائے ہوئے سورج کا علم آتے ہیں
سندھ میں قادیانی مالکان کے خلاف مزدوروں نے جو جہاد کیا ہے اور قادیانی مالکان و افسروں کی جو درگت بنائی ہے، وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ لاہور میں سکاٹ میٹر فیکٹری واقع ملتان روڈ کی لیبر یونین فیکٹری کے مالک کا اس مجاہدانہ انداز سے محاسبہ کیا ہے کہ وہ نیم پاگل ہو چکا ہے۔ اس کے خلاف کئی مقدمات درج ہو چکے ہیں۔ درجنوں مرتبہ ضمانت قبل از گرفتاری کروا چکا ہے۔ اور کئی دفعہ معافیاں مانگ چکا ہے۔ پوری مزدور برادری اس سے انتہائی نفرت کرتی ہے، اور وہ مزدوروں کی مرضی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا۔
بہر سو دین کی شمعیں جلانے کی ضرورت ہے
بے روز گار نوجوانوں کا شکار
بیروز گاری ہمارے ملک میں ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ان پڑھ تو اپنی جگہ کالجوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لیے ملازمتوں کی تلاش میں مارے مارے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اور بعض کمزور دل اور حساس نوجوان بیروز گاری اور غربت و افلاس سے تنگ آکر خود کشی ایسے گناہ عظیم کے مرتکب ہو چکے ہیں۔ جوان بیٹے کی موت سے والدین اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں۔ گھر کا چراغ بجھ جاتا ہے اور جواں مرگ اپنی دنیا و آخرت برباد کر بیٹھتا ہے۔
بیروز گار نوجوان قادیانیوں کے لیے لقمہ تر ہے۔ وہ حالات کے ستائے ہوئے ان پریشان نوجوانوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کو قادیانی بنا کر بیرونی ملک بھجوانے کے لیے ان کا ایک خصوصی شعبہ کام کر رہا ہے۔ اب تک قادیانی سینکڑوں مسلمانوں کو قادیانی بنا کر بیرونی ممالک میں بھیج چکے ہیں۔ پھر قادیانی گھرانوں میں ان کی شادیاں کر دی جاتی ہیں۔ اور وہ بری طرح قادیانی دلدل میں پھنس جاتے ہیں۔
قادیانی جن نوجوانوں کو بیرون ممالک لے جا رہے ہیں، ان میں اکثریت کو وہاں سیاسی پناہ لے کر دیتے ہیں۔ یہود و نصاریٰ کے ایجنٹ ہونے کے ناطے ان کے ہاتھ تو بہت لمبے ہوتے ہیں، اور بین الاقوامی صحافت پر بھی ان کا قبضہ ہے۔ اس لیے یہ غوغا آرائیاں کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان میں قادیانیوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ ان کی املاک کو لوٹا جا رہا ہے۔ ان کو ملازمتوں سے نکالا جا رہا ہے۔ اس لیے پاکستان میں رہنا ان کے لیے مشکل ہے۔ لہٰذا مگرمچھ کے آنسو بہا کر یہ سیاسی پناہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ سنگین صورت حال کا سختی سے نوٹس لے۔ بیرونی ممالک میں تعینات اپنے سفیروں کے ذریعے ان ممالک کی حکومتوں کو صحیح صورت حال سے مطلع کرے اور انہیں اس حقیقت سے آشنا کرے کہ مظلومیت کا رونا رونے والے نوسرباز ہزاروں مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگ چکے ہیں۔ اور تمام کلیدی عہدوں پر سانپ بن کر بیٹھے ہیں وغیرہم، مجاہدین ختم نبوت کا فرض ہے کہ وہ ان ممالک میں رہنے والے مسلمانوں سے فوری رابطہ قائم کریں اور انہیں اس المناک داستان سے واقف کریں۔ اور انہیں کہیں کہ وہ اپنے ممالک میں اس عظیم فراڈ کے خلاف آواز بلند کریں اور
تنظیمیں قائم کر کے ان کی سازشوں کو بے نقاب کریں۔ اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان لٹے ہوئے نوجوانوں سے رابطہ قائم کریں۔ ان کے قلوب میں ایمان کی چنگاری روشن کریں۔ ان کے ذہن اور ضمیر پر لگے ہوئے قادیانیت کی نحوست کے دھبے صاف کریں۔ انہیں ان کی خطرناک چالوں سے آگاہ کریں اور دولت ایمان کی قدر و قیمت بتاتے ہوئے انہیں سمجھائیں کہ
دین حق پہ رکھ یقین باطل کا شیدائی نہ ہو
کی محمدؐ پر نبوت ختم حق نے اے بشر
قدر ایمان ہے اگر تجھ کو تو مرزائی نہ ہو
زمین کے عوض یقین
انگریز نے اپنے انگریزی نبی مرزا قادیانی عرف مسٹر گاما کے کفر بھرے سر پر جب اپنی انگریزی نبوت کا ہیٹ رکھا تو ہیڈ مرتد مسٹر گاما اور دیگر چھوٹے مرتدین کو بے شمار مراعات سے نوازا۔ انگریز گورنر سر فرانسس موڈی نے جھوٹی نبوت کے ذلیل خاندان کو ربوہ ضلع جھنگ میں ۱۰۳۳ ایکڑ سات کنال آٹھ مرلے اراضی پرانا آنہ فی مرلہ کے حساب سے مرتدستان کی تعمیر کے لیے مہیا کی۔ قادیانیوں نے پورے ہندوستان سے مفلوک الحال لوگوں اور ایمان فروشوں کو لا کر ربوہ میں پلاٹ دے کر قادیانی سازی کی مہم شروع کی۔ ربوہ میں کالونیاں بنیں۔ بازار بنے۔ ہسپتال بنے، سکول بنے، کالج بنا، تار گھر بنا، ڈاک خانہ بنا، ریلوے اسٹیشن بنا غرض کہ ایک پورا شہر آباد ہو گیا مگر ہزاروں لوگوں کا ایمان برباد ہو گیا۔ جس نے بھی پلاٹ لیا اس نے تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا رشتہ کاٹ لیا۔ جس نے بھی ٹکڑا زمین لیا، اس نے اس کے عوض قادیانیوں کو ختم نبوت سے انحراف کا یقین دیا۔ لیکن قادیانیوں کی کمال ہوشیاری دیکھئے کہ لوگوں کے ایمانوں کی رجسٹریاں تو کرا لیں لیکن آج تک مکانوں کی مکینوں کے نام رجسٹریاں نہیں کیں۔ ربوہ کی ساری زمین قادیانیوں کی ”رائل فیملی“ کے نام ہے۔ رائل فیملی نے ربوہ میں بسنے والے تمام قادیانیوں کو زمین اور مکان کے شکنجے میں کس رکھا ہے۔ اگر کوئی قادیانی مسلمان ہونا
چاہے تو اسے مکان سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ جو اس کی کمزور معیشت پر ناقابل برداشت بوجھ ہوتا ہے۔ اگر آج ربوہ کی زمین ”رائل فیملی“ کی بجائے اس کے مکینوں کے نام کر دی جائے تو آج ہی ربوہ کے آدھے قادیانی مسلمان ہو جائیں گے۔
راقم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت ہونے والی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں حاضر تھا۔ راقم مسلم کالونی سے اپنے دوستوں کے ہمراہ اندرون ربوہ کا عجائب خانہ دیکھنے کے لئے ایک تانگہ میں سوار ہو کر روانہ ہوا۔ کوچوان جو ایک ساٹھ سالہ بوڑھا تھا۔ جب راقم نے اس سے پوچھا کہ کیا تم قادیانی ہو؟ تو اس نے جواب دیا ہاں میں قادیانی ہوں۔ راقم نے پوچھا تم قادیانی کیسے ہوئے؟ اس نے بتایا کہ تقسیم ملک کے بعد وہ اپنے والدین کے ہمراہ جڑانوالہ ضلع فیصل آباد میں آباد ہو گیا۔ کچھ دیر جڑانوالہ میں رہے۔ پھر اس کا والد ربوہ میں منتقل ہو گیا۔ اسے وہاں زمین مل گئی۔ اس کے ساتھ ہی والد قادیانی ہو گیا اور ہم سب اہل خانہ نے بھی یہی مذہب اختیار کر لیا۔ راقم نے جب اس سے مذہب قادیانیت کے بارے میں پوچھا تو وہ بالکل کورا تھا۔ کہنے لگا بابو جی! ہمیں کیا پتہ‘ ہم تو مزدور لوگ ہیں‘ صبح سے شام تک تانگہ چلاتے ہیں اور بیوی بچوں کے لئے روٹی کماتے ہیں۔ اس کی دلسوز داستان سن کر راقم تھرتھرا اٹھا اور سوچ رہا تھا کہ زمین کا ایک ٹکڑا دے کر قادیانیوں نے ارتداد کی تلوار سے ایک خاندان کے بیسیوں مسلمانوں کے ایمانوں کے ٹکڑے کر دیئے۔
قادیانی اداروں کی یلغار
قادیانیوں نے مسلمانوں کو قادیانیت کے جال میں پھنسانے کے لئے اور اپنے جعلی مذہب کی دھاک بٹھانے کے لئے اندرون و بیرون ملک مختلف اصلاحی و رفاہی ادارے بنا رکھے ہیں‘ جو در حقیقت ملت اسلامیہ کے لئے اصلاحی و رفاہی نہیں بلکہ باعث تباہی ہیں۔
قادیانیوں نے مختلف علاقوں میں سکول قائم کر رکھے ہیں‘ جہاں وہ نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی مذہبی تبلیغ بھی کرتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچے جو خالی الذہن ہوتے ہیں ان کے ذہن میں آہستہ آہستہ قادیانیت کا زہر انڈیلا جاتا ہے۔ استاد ہونے کے ناطے بچے
اور ان کے والدین قادیانی اساتذہ کا احترام کرتے ہیں‘ جس کے نتیجہ میں قادیانی اپنے علاقوں میں بااثر اور مقبول ہو جاتے ہیں اور ان کا ایک حلقہ ارادت قائم ہو جاتا ہے۔ کچھ قادیانی ملت اسلامیہ کی نوخیز نسل کو اپنے قریب کرنے کے لئے سکولوں اور کالجوں کے طلباء کو فری ٹیوشن پڑھاتے ہیں اور معاشرے میں اپنا مقام بنا رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں قادیانیوں نے فری ڈسپنسریاں بنا رکھی ہیں‘ جہاں غریبوں کا مفت علاج کر کے ان سادہ لوح لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کی جا رہی ہیں اور انہیں دوائی کی صورت میں قادیانی زہر پلایا جا رہا ہے۔ جسمانی علاج کے بہانے انہیں روحانی طور پر بیمار کیا جا رہا ہے۔ مجاہدین ختم نبوت کا فرض ہے۔ کہ وہ فوری طور پر قادیانیوں کے ان خطرناک حربوں کا سختی سے نوٹس لیں‘ نیز اپنے اپنے علاقوں میں ایسے قادیانی اڈوں (سکولوں) کا پتہ لگائیں اور بچوں کے والدین سے فوری طور پر رابطہ قائم کر کے انہیں اس خطرناک صورت حال سے آگاہ کریں۔ اور ان پر زور دے کر ان کے بچوں کو ایمان کے لٹیروں کے سکولوں سے نکلوائیں۔ انشاء اللہ چند دنوں میں قادیانیوں کا سکول کسی ویران آسیب زدہ مکان کا منظر پیش کرنے لگے گا۔ اور قادیانی وہاں منہ لٹکائے ہوئے جواریوں کی طرح بیٹھے دکھائی دیں گے۔
اسی طرح ان نوجوانوں سے ملیں جو قادیانیوں سے فری ٹیوشن پڑھ رہے ہوں انہیں سمجھائیں کہ اے ملت اسلامیہ کے شاہینو! ٹیوشن کی آڑ میں یہود و نصاریٰ کے یہ ایجنٹ تمہارے بال و پر کاٹ رہے ہیں۔ ان کا مقصد تمہیں زیور تعلیم سے آراستہ کرنا نہیں بلکہ زیور اسلام سے محروم کرنا ہے۔ اسی طرح قادیانیوں کی شکار گاہیں یعنی فری ڈسپنسریوں کا بھی صفایا کریں۔ علاقہ میں اگر کوئی اور قادیانی ڈاکٹر یا حکیم اپنا کلینک یا مطب چلا رہا ہو تو اس کا بائیکاٹ کروائیں۔ جب دینی غیرت و حمیت سے سرشار ہو کر مسلمان ان کا بائیکاٹ کریں گے‘ تو پھر ڈاکٹر کے کلینک میں الو بولے گا اور حکیم کے مطب میں مکڑی جالا بنے گی۔ اور یہ دونوں معالج سے مریض ہو جائیں گے۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی تڑپ کر اور مسلمان کو جھنجوڑ کر گلی گلی یہ صدا لگائے کہ
خواب سے بیدار ہو للہ دیوانو اٹھو
شعلہ سامانی دکھاؤ شعلہ سامانو اٹھو
قادیانی اور تعلیم قرآن
شیطان نے اپنے یار مرزائے قادیان کی امت کو ملت اسلامیہ سے لڑنے کے لئے اتنے داؤ پیچ سکھائے ہیں کہ ان کا شمار مشکل ہے۔ اور قادیانی بھی خوب شاگردی ادا کرتے ہیں۔ ایک داؤ ملاحظہ ہو۔
مختلف علاقوں میں قادیانی عورتیں اور مرد مسلمان بچوں اور بچیوں کو قرآن مجید پڑھا رہے ہیں۔ مرزا قادیانی کی نبوت کو سچا اور قادیانیت کو دین حق ثابت کرنے کے لئے غلط تراجم اور تشریحات کر رہے ہیں۔ بچے قرآن پڑھنے کے بعد ساری زندگی اپنے اساتذہ کی عزت کرتے رہتے ہیں، جو کہ قادیانیت کے لئے ایک بہت بڑا سہارا ہے۔ راقم کے ایک دوست نے جب ایک ایسے ہی قادیانی استاد کی سر بازار درگت بنائی تو وہ سر کچلے سانپ کی طرح بل کھاتا ہوا وہاں سے بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد دس بارہ مسلمان نوجوان راقم کے دوست سے بدلہ لینے کے لئے آگئے۔ اور انہوں نے کہا کہ تم نے ہمارے استاد کی بے عزتی کی ہے۔ جب راقم کے دوست نے انہیں مرزا قادیانی اور عقائد قادیانیت سے آگاہ کیا تو وہ ششدر رہ گئے۔ وہ حیرت کی تصویریں بنے ساری گفتگو سن رہے تھے اور کف افسوس مل رہے تھے۔
جو لباس بھی وہ چالاک پہن کر نکلا
آپ اپنے علاقوں کا فوراً دورہ کیجئے اور دیکھئے کہ کہیں کوئی قادیانی رہزن لباس رہبر میں مسلمان بچوں کو قرآن تو نہیں پڑھا رہا؟ اگر کہیں خدانخواستہ ایسی صورت حال ہو تو فوراً ظلم عظیم کو روکئے۔
خون کے ذریعے ایمان پر شب خون
آپ نے اکثر اخبارات اور ٹیلی ویژن پر یہ اپیل سنی اور پڑھی ہوگی کہ فلاں ہسپتال میں فلاں مریض شدید بیمار ہے اور اسے فلاں گروپ کے خون کی اشد ضرورت
ہے۔ راقم کے علم میں یہ بات آئی کہ قادیانیوں نے دکھی خاندانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے اور انہیں دام فریب میں پھنسانے کے لئے خون دینے والے مختلف گروپ بنا رکھے ہیں‘ جو اپیل سنتے ہی ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔ اور مریض کے وارثوں سے میٹھی میٹھی گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم احمدی ہیں‘ دکھی انسانیت کی خدمت ہمارا مقصد حیات ہے۔ یہ خون دے کر پورے خاندان کو ممنون احسان کر لیتے ہیں۔ اور پورے خاندان سے دوستانہ تعلقات پیدا کر کے قادیانیت کی تبلیغ شروع کر دیتے ہیں۔ مجاہدین ختم نبوت ایسے خون دینے والے گروپوں پر کڑی نظر رکھیں اور اس بات کا پہرہ دیں کہ کسی مرتد زندیق اور گستاخ رسول کا خون مسلمان کی رگوں میں داخل نہ ہو سکے اور کوئی مرزائی خون دینے کے بہانے کسی مسلمان کے ایمان کا خون نہ کر دے۔
محمد مصطفیٰ کے فدائی جاگ
قادیانی رہائش گاہیں یا شکار گاہیں
گاؤں قصبات اور چھوٹے شہروں سے جو لوگ ملازمت کے سلسلہ میں‘ محنت و مزدوری کے سلسلہ میں اور طلباء اپنی تعلیم کے سلسلہ میں بڑے شہروں میں آتے ہیں‘ تو رہائش کا مسئلہ ان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ ایک طرف تو معمولی تنخواہیں یا اجرتیں اور دوسری طرف بھاری کرایہ جات‘ ان کی معیشت کی کمر پر بھاری بوجھ ہوتا ہے۔ لہٰذا قادیانی شکاری ان پریشان حال لوگوں کے شکار میں نکلتے ہیں‘ اور ان کے غمگسار بن کر اپنے بڑے بڑے معبد خانوں میں بنے ہوئے کمرہ جات یا امیر قادیانی افراد کی کوٹھیوں میں ”سرونٹ کوارٹر“ سے ایک کمرہ دے دیتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ ان پر اپنے عقائد و نظریات کی چھاپ لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ اور کئی سادہ لوح ان کے جعلی اخلاق سے متاثر ہو کر مکان کے عوض ایمان دے دیتے ہیں۔
راقم کا واسطہ ایک ایسے ہی نو قادیانی نوجوان سے پڑا‘ جس کے ایمان کا گلا قادیانیوں نے اس رہائش کی تلوار سے کاٹا تھا۔
راقم نے اسے قادیانیت کے جوہڑ سے نکال کر اسلام کی مہکتی فضاؤں میں فضاؤں میں دوبارہ
لانے کی انتہائی کوشش کی۔ وہ دوبارہ مسلمان تو نہ ہوا لیکن اس مہم میں راقم کو قادیانیوں کے ایک خطرناک وار سے واقفیت حاصل ہو گئی۔ یہ نوجوان ایم اے انگلش ہے۔ سرکاری ملازم ہے۔ بہاولپور سے لاہور نوکری کے سلسلہ میں آیا۔ ایک قادیانی وکیل کے ہتھے چڑھ گیا جس نے یہی طریقہ واردات استعمال کر کے اس کی متاع ایمان چھین لی۔ راقم جب لاہور میں واقع اس قادیانی وکیل کی بہت بڑی رہائش پر گیا تو نیچے کی منزل کی ایک بوسیدہ سے کمرے میں تین چارپائیاں بچھی تھیں۔ اور تین کونوں میں کچھ لوگوں کا سامان وہاں پڑا تھا۔ راقم کے استفسار پر اس قادیانی نے بتایا کہ یہ تینوں چارپائیاں ہم تین ساتھیوں کی ہیں‘ جن میں سے دو احمدیت قبول کر چکے ہیں۔ تیسری چارپائی ایک طالب علم کی ہے‘ جو احمدیت قبول کرنے والا تھا۔ لیکن اس کے گاؤں کے مولوی صاحب کو پتہ چل گیا۔ مولوی صاحب اس کے والدین کو لے کر فوراً یہاں پہنچے اور اسے ساتھ لے گئے۔ اس کی چارپائی خالی پڑی ہے۔ اب یہاں کوئی اور آجائے گا۔ یہ تمام روح فرسا مناظر دیکھتے ہوئے راقم مجسمہ حیرت بنا کھڑا تھا۔ اور وارثان منبر و محراب سے گلہ کرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
مگر افسوس ابھی دین محمدؐ کے رکھوالے سو رہے ہیں۔
راقم کی ملاقات ایسے ہی ایک کیس میں ایک میڈیکل کالج کے طالب علم سے ہوئی۔ اس نے بتایا کہ مجھے لاہور میں رہائش کا مسئلہ درپیش تھا۔ مکان کی تلاش کے دوران میری ملاقات ایک شخص سے ہوئی جو بظاہر بڑا شفیق اور مہربان نظر آتا تھا۔ اس نے مجھے کہا آپ پریشان کیوں ہیں؟ میں آپ کو فری رہائش مہیا کرتا ہوں۔ چکنی چپڑی باتیں کرتا وہ مجھے لاہور کے قادیانی مرکز واقع گڑھی شاہو لے آیا۔ وہاں اس نے پیار بھرے لہجے میں ایک چھوٹا سا کمرہ دکھاتے ہوئے کہا یہ رہا آپ کا کمرہ۔ راقم کو اس طالب علم نے بتایا کہ مجھے یہ معلوم ہوا کہ یہ قادیانی معبد خانہ ہے‘ تو میں فوراً وہاں سے استغفار پڑھتا ہوا بھاگا۔
جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ مرزائیت کے اس خطرناک جال کو تار تار کر دیں۔ اور اس میں پھنسے ہوئے
مسلمان بھائیوں کو نکال لائیں۔ جو لٹ چکے ہیں ان سے رابطہ قائم کر کے ان پر محنت کریں۔ اگر ان کے والدین اور عزیز واقارب کو معلوم نہیں کہ ان کا فرزند جو تعلیم حاصل کرنے آیا تھا، وہ اب تعلیم مرزائیت حاصل کر کے مرزائی ہو چکا ہے۔ جو دولت کمانے آیا تھا وہ دولت ایمان سے محروم ہو چکا ہے۔ یہ خبر اس کے والدین، اس کے دوستوں اور اس کے خاندان پر بجلی بن کر گرے گی۔ اور وہ بجلی کی سرعت کے ساتھ آئیں گے اور خود ہی اس کا علاج کر لیں گے۔
قادیانی اجتماعات میں مسلمانوں کو لے جانا
مذہب لعین ”قادیانیت“ کے مبلغین اپنے اپنے علاقوں میں اپنے اس مذہب کے پرچار کے لئے اجتماعات کرتے رہتے ہیں۔ جس میں قادیانی مبلغین اپنے نوجوانوں سے کہتے ہیں کہ ہر نوجوان اس اجتماع میں پانچ پانچ دس دس مسلمان نوجوانوں کو اپنے ساتھ لے کر آئے۔ بعض قادیانی اپنی رہائش گاہوں پر اپنے نام نہاد خلیفہ مرزا طاہر کی تقریروں کی فلمیں وی سی آر پر اپنے محلے کے نوجوانوں کو اپنے گھروں میں مدعو کر کے دکھاتے ہیں۔ دیہاتوں میں بھی یہ فعل قبیح جاری ہے۔ تاج و تخت ختم نبوت کے محافظوں سے گزارش ہے کہ وہ ایسے قادیانیوں کا سختی سے محاسبہ کریں، کیونکہ قانوناً ”کوئی قادیانی اپنے باطل مذہب کا پرچار نہیں کر سکتا۔ لہٰذا فوراً تھانہ میں زیر دفعہ 298 - C پرچہ درج کرائیں۔ مرزا طاہر کی کفریہ تقریریں سننے والے نوجوانوں سے فرداً فرداً ملیں۔ انہیں قادیانیت کی غلاظت سے آگاہ کریں۔ اس علاقہ میں قادیانیت کے زہریلے اثرات کے تدارک کے لئے رد قادیانیت کے موضوع پر لیکچر یا جلسہ کا اہتمام کریں۔ عوام کا مسئلہ سمجھانے اور انہیں اپنا ہم نوا بنانے کے لئے صبح و شام محنت کریں اور پھر ضرب کاری لگا کر قادیانیت کا کام تمام کریں۔
چن چن کے میں اس قوم کو مٹی میں ملا دوں
اسلام سے جس قوم کو ہے کچھ بھی محبت
میں اس کے لئے راہ میں آنکھوں کو بچھا دوں
غریب مسلمانوں کو گھروں میں ملازم رکھنا
قادیانی غریب مسلمان بچوں یا بوڑھی عورتوں اور بوڑھے مردوں کو اپنے گھر کا کام کاج کرنے کے لئے ملازم رکھ لیتے ہیں۔ بچہ جس کے مذہبی خیالات و نظریات ابھی پختہ نہیں ہوتے، قادیانی اسے اپنے اجتماعات میں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ اسے اپنے مذہب بد کی تعلیم دیتے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ وقت آجاتا ہے جب وہ مکمل طور پر قادیانی ہو جاتا ہے۔ یہی طریقہ واردات بوڑھے ملازمین پر آزمایا جاتا ہے۔ انہیں خوش و خرم رکھا جاتا ہے۔ اماں جی اور میاں جی کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے۔ کھانے پینے کے لئے اچھی غذا اور پہننے کے لئے اچھا کپڑا دیا جاتا ہے۔ غرض کہ انہیں اپنے مصنوعی اخلاق کے شیشے میں اتار کر مرزائی بنا لیا جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ رائے ونڈ ضلع لاہور میں پیش آیا۔ جہاں ایک ساٹھ سالہ بوڑھی عورت ایک قادیانی گھرانے میں ملازمہ ہوئی اور کچھ ہی مدت کے بعد وہ ایمان کے شکاریوں کے ہاتھوں شکار ہو کر قادیانی ہو گئی۔ ہائے افسوس! کہ اس کا دامن رحمۃ للعالمینؐ سے کٹ کر زحمت للعالمین مرزا قادیانی سے وابستہ ہو گیا۔
خصوصاً آج کل کے انبیاء سے
مجاہدین ختم نبوت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر اپنے علاقہ کا سروے کریں۔ اگر آپ کے علاقہ میں کوئی مسلمان کسی قادیانی کے گھر میں ملازمت کر رہا ہے، تو اسے فوراً اس خطرناک جال سے نکالیں۔
الگ قطعہ زمین خرید کر وہاں کفر نگر آباد کرنا
کسی شہر یا گاؤں میں کچھ قادیانی خاندان مل کر ایک الگ قطعہ زمین خرید لیتے ہیں اور وہاں مکانات بنا کر رہائش اختیار کر لیتے ہیں۔ باہر کے علاقوں سے بھی قادیانی آکر وہاں آباد ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اپنی پوجا پاٹ کے لئے ایک عبادت خانہ تعمیر کرتے ہیں۔ غرض کہ ایک کفر گڑھ معرض وجود میں آجاتا ہے۔ امور تبلیغ کے لئے ایک قادیانی مربی وہاں پہنچ جاتا ہے اور ارتدادی مہم شروع ہو جاتی ہے۔ ارد گرد کے علاقوں میں قادیانیت پر مبنی لٹریچر مہیا کیا جاتا ہے۔ دیہاتوں میں بناسپتی نبوت کی تبلیغ کے لئے قادیانی مبلغین
پھیل جاتے ہیں اور سادہ لوح دیہاتیوں کے ایمانوں کو لوٹتے ہیں۔ قادیانی ایسی سینکڑوں کالونیاں وطن عزیز میں قائم کر چکے ہیں، جن کو یہ قادیانیت کے قلعے قرار دیتے ہیں۔ لیکن دینی غیرت ہمیں جھنجوڑ جھنجوڑ کے کہتی ہے۔
غیرت محمود کی ہم داستان تازہ کریں۔
تاج وتخت ختم نبوت کے محافظوں سے درخواست ہے کہ وہ ایسی صورت حال میں قادیانیوں سے نمٹنے کے لئے اس آبادی سے ملحقہ گاؤں کا کام کے لئے انتخاب کریں۔ وہاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا دفتر قائم کریں۔ جلسوں کا اہتمام کریں۔ وافر مقدار میں لٹریچر مہیا کریں۔ گھر گھر جا کر جھوٹی نبوت کے بارے میں لوگوں کو بتائیں۔ عوام کے دلوں میں مرزائیت کے خلاف نفرت کوٹ کوٹ کر بھر دیں۔ جب ایک گاؤں یا بستی کی ذہن سازی ہو جائے اور وہاں سے مجاہدین ختم نبوت کی ایک فوج تیار ہو جائے‘ تو اسکے ساتھ والے گاؤں میں بھی یہی طریقہ تبلیغ استعمال کریں۔ پھر ارد گرد کے چند دوسرے گاؤں میں بھی جذبہ جہاد کی لہر دوڑا دیں۔ قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ کرائیں۔ الیکشن میں ان کے ووٹ مسلمانوں کے ووٹوں میں داخل نہ ہونے دیں۔ اگر کوئی قادیانی مردود مرجائے تو اسے گاؤں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیں‘ دوکان دار حضرات انہیں سودا سلف دینا بند کر دیں۔ انشاء اللہ تھوڑا سا شکنجہ کسنے سے قادیانیت علاقہ سے یوں غائب ہو جائے گی جیسے گدھے کے سر سے سینگ!
قادیانی اور سماجی بہبود
قادیانی مسلم معاشرے میں باعزت مقام حاصل کرنے اور عوام الناس کے دلوں پر اپنی جعلی چھاپ لگانے کے لئے سماجی بہبود کے کاموں میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ۱۹۸۸ء میں جب اوجڑی کیمپ کا روح فرسا حادثہ پیش آیا جس میں سینکڑوں انسان جاں بحق ہوگئے۔ اسی المناک حادثہ پر پورا پاکستان جذبہ ایمانی کے ساتھ اپنے مسلمان بھائیوں کی امداد کے لئے امڈ آیا۔ متاثرین کے لئے ادویات‘ کپڑے‘ اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء کا بندوبست کیا۔ جہاں دیگر تنظیموں اور اداروں نے اپنے امدادی کیمپ لگائے‘ وہیں ایمان
کے شکاریوں ”قادیانیوں“ نے بھی اپنی ”دکان فریب“ سجائی۔ حالانکہ یہ بات منظر عام پر آچکی ہے کہ سانحہ اوجڑی کیمپ میں قادیانیوں کا کتنا ہاتھ تھا۔ ۱۹۸۸ء میں پنجاب میں جب بدترین سیلاب آیا تو لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے۔ کروڑوں روپے کی کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ پانی کی موجیں لوگوں کا سب کچھ بہا کر لے گئیں۔ ان آفت زدہ علاقوں میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ قادیانی شکاری بھی امداد کے بہانے اپنے شکار پر نکل آئے۔ لوگوں میں اشیاء تقسیم کیں اور قادیانیت کا پرچار کیا۔ متاثرین سے کہا کہ صرف احمدیت ہی خدمت انسانیت کا نام ہے۔
ان فریبوں اور جھوٹوں سے کوئی پوچھے تم ملت اسلامیہ کے ہمدرد اور غمگسار کہاں سے آگئے۔ تم نے تو ہمیشہ ملت اسلامیہ کو زخم لگا کر قہقہے لگائے ہیں۔ تم نے تو ہمیشہ مسلمانوں کو تڑپتے دیکھ کر خوشی سے رقص کیا ہے۔ تم نے خلافت عثمانیہ کی تباہی پر قادیان میں چراغاں کیا تھا۔ تم نے سقوط ڈھاکہ کے موقع پر حلوے کی دیگیں تقسیم کی تھیں۔ تم نے شاہ فیصل کی شہادت پر ربوہ میں بھنگڑا ڈالا تھا اور مٹھائی تقسیم کی تھی۔ تم کہاں سے آگئے ملت اسلامیہ کے غم خوار؟ تمہارے اس دجل و فریب پر ہم یہی کہہ سکتے ہیں۔
صیاد عطر مل کے چلا ہے گلاب کا
مجاہدین ختم نبوت کا فرض ہے کہ وہ ایسے موقع پر قادیانی لٹیروں کی کڑی نگرانی کریں اور خدمت انسانی کی آڑ میں صورت خضر میں نکلے ہوئے ان لٹیروں کو پکڑ کر باہر نکالیں‘ کیونکہ ان کا کام تعمیر نہیں بلکہ تخریب ہے اور وہ بھی تخریب ایمان!
بیواؤں اور یتیموں کی امداد
قادیانی اس ”نیکی“ کی آڑ میں بھی قادیانیت کا خوب خوب پرچار کر رہے ہیں۔ راقم الحروف کے نوٹس میں یہ بات بھی آئی ہے کہ ایک گھرانے کا کفیل مسلمان شخص فوت ہوگیا۔ اس کی بیوہ اپنے تین بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت نہ کرسکی اور اس نے بچوں کو سکول سے اٹھا لیا۔ ان بچوں میں سے ایک کا کلاس فیلو ایک قادیانی کا بیٹا تھا‘
جس نے اپنے باپ سے کہا کہ فلاں لڑکا سکول نہیں آتا۔ وہ قادیانی اپنے بیٹے کے ساتھ اس بیوہ کے پاس پہنچا اور اسے کہا کہ وہ اپنے تمام بچوں کو تعلیم دلوائے جس کے تمام اخراجات میں برداشت کروں گا۔ اس قادیانی نے بیوہ کی مالی امداد شروع کر دی۔ قادیانی چونکہ ہر سال ربوہ جاتا تھا۔ ایک دن بیوہ کے بچے بھی ضد کر کے اپنے نام نہاد "چچا" کے ساتھ ربوہ چلے گئے۔ آج وہ پورا خاندان قادیانی ہو چکا ہے۔
مسلمانوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے محلہ میں غریب لوگوں خصوصاً بیواؤں اور یتیم بچوں کا خاص خیال رکھیں اور اسلام کی روشن تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر بیواؤں اور یتیموں کی پرورش کریں تاکہ کوئی قادیانی ان کو لقمہ تر نہ بنا سکے۔
مطالبات
حقوق کبھی سونے کی طشتری میں سجا کر پیش نہیں کئے جاتے بلکہ اپنے حقوق کے لئے سخت محنت اور جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ جلوس نکالنا پڑتے ہیں۔ احتجاجی جلسے اور مظاہرے کرنا پڑتے ہیں، پس دیوار زنداں جانا پڑتا ہے۔ اور بعض اوقات جان کی قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ مجاہدین ختم نبوت کا فرض ہے کہ اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کریں۔ عوام کی عدالت سے لے کر حکمرانوں کے ایوانوں اور شبستانوں تک اپنی صدا پہنچائیں۔ ذیل میں چند انتہائی ضروری مطالبات درج کئے جاتے ہیں۔ پاسبانان ختم نبوت خطوط، ٹیلی گرام، ٹیلی فون، اخبارات و رسائل، جلسوں و کانفرنسوں، اشتہارات یا بالمشافہ ملاقاتوں کے ذریعے یہ مطالبات ارباب اقتدار تک پہنچائیں اور منظور کرائیں۔
مرتد کی شرعی سزا نافذ کی جائے ....... قادیانی مرتد و زندیق ہیں اور اسلامی شریعت میں مرتد و زندیق واجب القتل ہیں۔ کیونکہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اور عوام سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ارض وطن میں اسلامی قوانین کا نفاذ ہوگا۔ لہٰذا حکومت وقت کو مقصد حصول پاکستان یاد کرایا جائے اور شرعی قوانین کے ایفائے عہد کا مطالبہ کیا جائے اور شرعی قوانین کے تحت مرتد و زندیق کی سزا نافذ کرنے پر زور دیا جائے۔
ملازمتوں کا کوٹہ....... حکومت سے مطالبہ کیا جائے کہ فوری طور پر قادیانیوں کی مردم شماری کرائی جائے اور ان کی آبادی کے تناسب سے انہیں سرکاری ملازمتیں دی
جائیں۔ قادیانی کلیدی آسامیوں پر قابض ہونے کی وجہ سے اپنے ہم مذہبوں کو خوب نواز رہے ہیں اور انہیں دھڑا دھڑ ملازمتیں مل رہی ہیں جب کہ مسلمان نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں پکڑے سڑکوں پر دھکے کھا رہے ہیں۔ حکومت سے سختی سے مطالبہ کیا جائے کہ قادیانیوں کو تعداد کے تناسب سے سرکاری ملازمتیں دی جائیں۔ اور فالتو قادیانیوں کو ملازمتوں سے فارغ کیا جائے اور ان کی جگہ بے روزگار تعلیم یافتہ مسلمان نوجوانوں کو ملازمتیں دی جائیں، نیز دفاع وطن کے پیش نظر تمام قادیانیوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے۔
افواج پاکستان سے قادیانیوں کا انخلاء ....... جہاد، افواج پاکستان کی روح ہے۔ جہاد ہی وہ جذبہ ہے جس کے بل بوتے پر وطن عزیز کا سپاہی دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت سے ٹکرا جانے کا عزم رکھتا ہے۔ لیکن قادیانیوں کے نزدیک جہاد منسوخ ہو چکا ہے اور اب جہاد کرنا حرام ہے۔ یہ باطل عقیدہ رکھنے کے باوجود ہزاروں قادیانی پاکستان آرمی میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ لہٰذا حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ فوری طور پر قادیانیوں کو ”باغی جہاد“ ہونے کے جرم میں افواج پاکستان سے خارج کر دے کیونکہ جو عقیدہ جہاد سے محروم ہے اس کا افواج پاکستان میں کیا کام؟
حساس محکموں سے قادیانیوں کا اخراج ....... قادیانی اسلام اور وطن دونوں کے غدار ہیں۔ قادیانیوں نے آج تک پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا بلکہ ان کا عقیدہ ہے کہ ایک دن یہ ملک ٹوٹ جائے گا اور اکھنڈ بھارت بنے گا اور وہ اپنے نام نہاد خلیفہ کی اس پیشین گوئی کو پورا کرنے کے لئے بڑی شدت سے مصروف کار ہیں۔ لہٰذا جس گروہ کا قیام پاکستان و استحکام پاکستان پر یقین نہیں، اسے حساس محکموں میں تعینات کرنا، ڈاکو کے ہاتھ میں کلاشنکوف دینے کے مترادف ہے۔ لہٰذا حکومت کا فرض ہے کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، کہوٹہ ایٹمی پلانٹ، جی ایچ کیو، وزارت دفاع، اور وزارت خارجہ ایسے عظیم ادارے ان غداران وطن سے پاک کئے جائیں۔ اور ملک و ملت پر احسان عظیم کیا جائے۔
ربوہ فوجی آپریشن ....... ربوہ عالم اسلام بالخصوص پاکستان کے خلاف یہودیوں
نصرانیوں اور قادیانیوں کا ایک اہم مرکز ہے۔ بین الاقوامی دہشت گردوں، تخریب کاروں اور سمگلروں کی آماجگاہ ہے۔ بموں کے دھماکے، لسانی جھگڑے، اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے بھیانک منصوبے اور ملک میں جھوٹی افواہیں پھیلانے کے پلان وغیر ہم سارے ابلیسی امور کی منصوبہ بندی ربوہ میں کی جاتی ہے۔ قصر خلافت میں اسلحہ کے انبار لگے ہیں۔ مجاہدین ختم نبوت حکومت سے پر زور مطالبہ کریں کہ ربوہ میں فوری طور پر فوجی آپریشن کیا جائے۔ تمام مجرموں کو گرفتار کیا جائے۔ اسلحہ برآمد کیا جائے۔ قادیانی دفاتر کو سربمہر کیا جائے۔ قصر خلافت سے تمام خطرناک منصوبہ جات کی دستاویزات قبضہ میں لی جائیں، نیز اسلام اور وطن کے خلاف لٹریچر ضبط کیا جائے۔
قادیانی رسائل و جرائد پر پابندی...... ملک میں درجنوں قادیانی اخبار و رسائل شائع ہو رہے ہیں، جو کفر و ارتداد کی تبلیغ و اشاعت کے لئے وقف ہیں۔ ان میں ختم نبوت کا مذاق اڑایا جاتا ہے، اسلام پر طعن و تشنیع کے تیر چلائے جاتے ہیں۔ پاکستان کے خلاف زہر اگلا جاتا ہے، جس سے مسلمانوں کے جذبات شدید طور پر مجروح ہو رہے ہیں۔ حکومت سے مطالبہ کیا جائے کہ اسلام اور پاکستان دشمن ہونے کے ناطے قادیانیوں کے اخبار و رسائل بند کئے جائیں، ان کے ڈیکلریشن منسوخ کئے جائیں اور ان کے مالکان کے خلاف غداری اسلام و وطن کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لا کر سخت سزا دی جائے۔
امریکہ، اسرائیل، روس اور بھارت جانے والے قادیانیوں پر پابندی لگائی جائے ...... امریکہ، اسرائیل روس اور بھارت پاکستان کے بدترین دشمن ہیں اور چاروں پاکستان کی سالمیت کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اسرائیل سے تو پاکستان کے سفارتی تعلقات بھی نہیں۔ لیکن مادر وطن کے ان چاروں دشمنوں سے قادیانیوں کے انتہائی محبت بھرے تعلقات ہیں۔ چاروں ممالک میں قادیانی مشن قائم ہیں اور وطن عزیز میں کلیدی اور حساس عہدوں پر بیٹھے قادیانی ان دشمنان پاکستان کے اجرتی جاسوس ہیں، جو وطن عزیز کے اہم رازوں کو ان دشمن ممالک میں پہنچاتے ہیں۔ لہٰذا حکومت سے مطالبہ کیا جائے کہ قادیانیوں کو امریکہ، اسرائیل، روس اور بھارت جانے کی اجازت نہ دی
جائے اور ان کی کڑی نگرانی کی جائے۔
شناختی کارڈ پر مذہب کا خانہ ....... حکومت سے مطالبہ کیا جائے کہ شناختی کارڈ ایسی اہم دستاویز پر مذہب کا خانہ قائم کیا جائے‘ تاکہ قادیانیوں کی بنیادی شناخت ہو سکے اور قادیانی خود کو مسلمان ظاہر کر کے مسلمانوں کے حقوق نہ لوٹ سکیں۔
جماعت غلامیہ ....... قادیانی اپنی جماعت کو ”جماعت احمدیہ“ کہتے ہیں جو کہ ایک بہت بڑا دھوکا ہے کیونکہ یہ جماعت نام سے ایک مسلمان جماعت معلوم ہوتی ہے۔ احمد‘ اور محمد‘ جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمائے گرامی ہیں۔ احمدی بھی ہم ہیں اور محمدی بھی ہم ہیں۔ اس لئے قادیانی خود کو احمدی نہیں لکھ سکتے اور اپنی جماعت کو ”جماعت احمدیہ“ نہیں لکھ سکتے۔ مجاہدین ختم نبوت حکومت سے مطالبہ کریں کہ قادیانیوں کو احمدی اور اپنی جماعت کو ”جماعت احمدیہ“ کہلوانے یا لکھنے پر پابندی لگائی جائے۔ اور مرزا غلام احمد قادیانی کی نسبت سے انہیں غلام یا قادیانی اور ان کی جماعت کو جماعت غلامیہ یا جماعت قادیانیہ لکھا اور پکارا جائے۔
شعائر اسلام کے استعمال کی ممانعت ....... محافظان ختم نبوت حکومت سے مطالبہ کریں کہ قادیانیوں کو شعائر اسلام کے استعمال سے روکا جائے۔ ان کی عبادت گاہوں کو مسجد کہنے پر پابندی لگائی جائے۔ قادیانی‘ مرزا قادیانی کے لئے نبی اور رسول‘ اس کی بیویوں کے لئے امہات المومنین‘ اس کی بیٹی کے لئے سیدۃ النساء‘ اس کے ساتھیوں کے لئے صحابہ رسول‘ اس کی باتوں کو احادیث رسول‘ اور اس کے مشن ارتداد کو چلانے والوں کے لئے خلفاء رسول‘ کی مقدس اصطلاحات استعمال کرتے ہیں‘ جو کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا خون ہے اور ان پر ظلم عظیم ہے۔ لہٰذا حکومت اس پر فوری طور پر قدغن لگائے۔ نیز قادیانیوں کو مسلمانوں جیسے نام رکھنے سے منع کیا جائے تاکہ مسلمانوں اور قادیانیوں میں ایک تفریق قائم رہے۔
سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصابوں میں عقیدہ ختم نبوت اور رد قادیانیت پر مضمون رکھے جائیں ....... پاسبانان ختم نبوت وزارت تعلیم سے مطالبہ کریں کہ سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے رائج الوقت نصابوں میں قرآن وحدیث کی
روشنی میں عقیدہ ختم نبوت پر جید علمائے کرام سے مضامین لکھوا کر شامل کئے جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ فتنہ قادیانیت‘ بانی فتنہ قادیانیت اور جماعت قادیانیت کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کی جائیں۔ اس سے جہاں مسلمان طلباء قادیانیت کی شرانگیزیوں سے باخبر ہوں گے اور اپنے جواں جذبوں اور ولولوں سے اس مہلک تحریک کا سر کچلیں گے‘ وہاں انشاء اللہ قادیانی طلباء کی اصلاح بھی ہوگی جن کا ذہن صرف قادیانیت کے پنجرے میں مقید ہے۔ جن کی آنکھوں نے صرف پر فریب قادیانی لٹریچر ہی پڑھا ہے‘ اور جن کے کانوں نے صرف مرزا طاہر کی کذب بیانی‘ کیسٹوں کے ذریعہ سنی ہے‘ جب یہ طلباء قرآن وحدیث اور فقہائے امت کی عقیدہ ختم نبوت کے بارے میں اجلے اجلے اور روشن روشن دلائل سنیں گے اور شکوک وشبہات دور کرنے کے لئے اساتذہ کرام سے سوال کریں گے۔ پھر انشاء اللہ اساتذہ کے تسلی بخش جوابات سے ان کے ذہنوں سے قادیانیت کا زہریلا گردو غبار اڑ جائے گا اور دماغ روشنی اسلام سے چمک اٹھیں گے۔
حکومتی سطح پر ”ادارہ تحفظ ختم نبوت“ قائم کیا جائے....... شمع ختم نبوت کے پروانے مطالبات کے ذریعے حکومت کی توجہ اس اہم امر کی طرف مبذول کرائیں کہ حکومتی سطح پر ”ادارہ تحفظ ختم نبوت“ قائم کیا جائے جس کی ذمہ داری عقیدہ ختم نبوت کی تبلیغ و تشہیر اور محاسبہ قادیانیت ہو۔ یہ ادارہ عقیدہ ختم نبوت‘ تاریخ تحفظ ختم نبوت‘ حالات ہائے زندگی مجاہدین ختم نبوت و شہداء ختم نبوت‘ اور قادیانیوں کے مکر و کفر و ارتداد اور مرزا قادیانی کی شخصیت بے حیثیت پر کتابیں شائع کرے اور انہیں پوری دنیا میں پھیلائے یہی ادارہ ”پاسبان ختم نبوت“ کے نام سے ایک ماہنامہ جاری کرے‘ جس میں بنیادی عقائد کے ساتھ ساتھ عوام کو قادیانیوں کی شرانگیزیوں سے آگاہ کرے اور انسداد قادیانیت پر مبنی اپنی رپورٹ ملت اسلامیہ کے سامنے پیش کرے۔ یہی ادارہ قادیانیت کے تعاقب میں بیرون ملک علمائے کرام کے وفود روانہ کرے‘ تاکہ انسانیت جھوٹی نبوت کے زہر سے محفوظ رہے۔
ریڈیو اور ٹیلی وژن سے مطالبہ....... ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن قومی ادارے ہیں۔ اپنے وسائل کے ذریعے نظریہ پاکستان اور اسلام کا تحفظ کرنا ان دونوں
اداروں کا انتہائی اہم فریضہ ہے۔ لہٰذا مجاہدین ختم نبوت‘ وزارت اطلاعات و نشریات سے مطالبہ کریں کہ ریڈیو اور ٹیلی وژن پر مسئلہ ختم نبوت بیان کیا جائے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کے انٹرویو نشر کئے جائیں‘ اکابرین تحفظ ختم نبوت کی شخصیات پر مبنی معلوماتی پروگرام پیش کئے جائیں اور عوام کو قادیانیوں کی تخریبی سرگرمیوں سے آگاہ کیا جائے۔
بڑی بڑی شاہراہوں‘ اداروں اور دیگر اہم مقامات کو مجاہدین ختم نبوت
کے ناموں سے منسوب کیا جائے
مجاہدین ختم نبوت حکومت سے پرزور مطالبہ کریں کہ بڑی بڑی شاہراہوں‘ اداروں‘ سکولوں‘ کالجوں‘ یونیورسٹیوں‘ ہسپتالوں‘ ڈسپنسریوں‘ لائبریریوں‘ محلوں‘ دیہاتوں‘ قصبوں‘ شہروں اور مساجد وغیرہم کو مجاہدین ختم نبوت و شہیدان ختم نبوت کے ناموں سے منسوب کیا جائے۔ مثلاً شاہراہ سید انور شاہ کشمیریؒ‘ پیر مہر علی شاہؒ یونیورسٹی‘ سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ کالج‘ پیر جماعت علی شاہؒ لائبریری‘ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ میموریل ہسپتال‘ مولانا محمد علی جالندھریؒ میموریل ڈسپنسری‘ آغا شورش کاشمیریؒ ہائی سکول‘ مولانا تاج محمودؒ ہال‘ سید یوسف بنوریؒ ٹاؤن ”روزنامہ الاحسان“ بیاد گار قاضی احسان احمدؒ شجاع آبادی‘ مسجد خاتم النبیینؐ ختم نبوت چوک‘ مظفر علی شمسیؒ سٹریٹ‘ ہفت روزہ المحمود بیاد گار مفتی محمودؒ وغیرہ۔ اس سے نئی نسل اسلام کے ان سپوتوں اور ملت اسلامیہ کے محسنوں سے آشنا ہوگی۔ نوجوان نسل اپنے بزرگوں کی حیات ہائے مجاہدانہ سے جرأت و شجاعت کی روشنی حاصل کر لے گی اور ان کے نقوش پا پر چلتے ہوئے قادیانیت کے پرخچے اڑا دے گی۔
دیہات میں قادیانیوں کی نمبرداریاں ختم کی جائیں: پاکستان میں قادیانی انتہائی اقلیت میں ہیں لیکن لمبے ہاتھ اور کثرت دولت کی وجہ بہت سے دیہاتوں میں قادیانی نمبردار ہیں جو قادیانیت کی انتہائی مؤثر مشینری ہے۔ کسی بھی گاؤں میں نمبردار‘ گاؤں کا بادشاہ ہوتا ہے۔ تھانے اور پنچائتی فیصلوں میں اسے ایک ممتاز حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ نجی اور سرکاری کاموں کے سلسلہ میں لوگوں کو اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ قادیانی نمبردار اپنی معاشرتی حیثیت اور اثر و رسوخ سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ گاؤں کے غریب لوگوں
کے چھوٹے موٹے کام کاج کروا کر اور ان کی تھوڑی بہت مالی مدد کر کے انہیں قادیانی بنا لیتے ہیں۔ یہی نمبردار اپنے اثر و رسوخ سے گاؤں میں قادیانی اجتماع منعقد کرتے ہیں جس میں مسلمانوں کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔ بھولے بھالے مسلمان بھی اس ارتدادی اجتماع میں شریک ہوتے ہیں۔ مرزا طاہر کی تقریریں سنائی اور دکھائی جاتی ہیں، لٹریچر تقسیم ہوتا ہے۔ نتیجۃً علاقہ میں قادیانیت پنپنے لگتی ہے۔ اگر کوئی مسلمان اس پر احتجاج کرے تو نمبردار، طاقتور ہونے کے ناطے اس کی آواز دبا دیتا ہے۔ مختلف مشکلات میں پھنسا دیتا ہے۔ اس لئے ختم نبوت کی ضلعی تنظیم فوری طور پر اس اہم امر کی طرف توجہ دے اور اپنی تمام توانائیاں اور صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے قادیانی نمبردار کو اس اہم منصب سے چلتا کرے اور اس کی جگہ کسی باغیرت مسلمان کو نمبردار بنایا جائے۔ انشاء اللہ جب عقیدہ ختم نبوت سے سرشار مسلمان گاؤں کا نمبردار بنے گا تو پھر نہ گاؤں میں کوئی قادیانی بنے گا۔ نہ گاؤں میں قادیانی اذان دے سکیں گے، نہ اپنی عبادت گاہ تعمیر کر سکیں گے، نہ اپنا اجتماع منعقد کر سکیں گے اور نہ ہی کوئی قادیانی مردار مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہو سکے گا۔
قادیانی اوقاف کو سرکاری تحویل میں لیا جائے ملک میں مسلم اوقاف اور غیر مسلم اوقاف دونوں سرکاری تحویل میں ہیں اور حکومت کو ان سے خاصی آمدنی ہوتی ہے لیکن انتہائی تعجب کی بات ہے کہ قادیانی اوقاف سرکاری تحویل میں نہیں۔ قادیانی یہاں سے لاکھوں روپیہ کما کر اپنے دین باطل کی اشاعت کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ مجاہدین ختم نبوت حکومت سے زبردست مطالبہ کریں کہ قادیانی اوقاف کو فوری طور پر سرکاری تحویل میں لیا جائے۔ اس آواز حق کو اٹھانے کے لیے ابلاغیات کے تمام ذرائع استعمال کئے جائیں۔ انشاء اللہ تھوڑی سی محنت سے قادیانیوں کے منہ سے یہ سونے کا چمچ نکل جائے گا۔
بہر سو دین کی شمعیں جلانے کی ضرورت ہے
قادیانی جماعت کو خلاف قانون قرار دیا جائے: قادیانی، انگریز کا خود کاشتہ پودا ہونے کے ناطے اسلام کے ازلی دشمن ہیں، اس لئے پاکستان کو ایک اسلامی ریاست ہونے کی وجہ سے قادیانیوں نے آج تک وجود پاکستان کو تسلیم نہیں کیا، وہ آج بھی ملکی قوانین پر اپنے نام نہاد خلیفہ کے حکم کو ترجیح دیتے ہیں۔ ۱۹۷۴ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے
قادیانیوں کو کافر قرار دیا لیکن قادیانیوں نے آج تک خود کو کافر تسلیم نہیں کیا‘ بلکہ وہ کھلے باغی ہیں۔ لہٰذا مجاہدین ختم نبوت حکومت سے فوری مطالبہ کریں کہ آئین پاکستان سے بغاوت کے جرم میں قادیانی جماعت کو فوراً خلاف قانون قرار دیا جائے۔ کیونکہ یہ آئین پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے‘ اس لئے انہیں اس ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ لہٰذا قادیانیوں سے بنیادی سہولتیں فوراً چھینی جائیں اور انہیں ملک بدر کیا جائے۔ بنکوں میں ان کے اکاؤنٹس منجمد کئے جائیں۔ قادیانی پراپرٹی بحق سرکار ضبط کی جائے۔ قادیانی عبادت گاہوں کو مساجد میں تبدیل کر دیا جائے۔ قادیانی دفاتر اور قصر خلافت کو سر بمہر کیا جائے۔ قادیانی لٹریچر نذر آتش کیا جائے اور خطرناک قادیانیوں کو فوری طور پر حراست میں لیا جائے۔ انشاء اللہ دوران تفتیش ان سے انتہائی سنسنی خیز معلومات حاصل ہوں گی۔
جناب محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتیو! ہمارے نبیؐ نے ساری زندگی ہمارے لئے رو رو کر دعائیں کیں۔ ہماری مغفرت کے لئے اللہ سے سجدہ ریز ہو کر التجائیں کیں اور میدان محشر میں شفاعت کا وعدہ فرما کر ساری امت سے وفائیں کیں۔ ہمیں دوزخ کی پھنکارتی ہوئے آگ سے ڈرایا۔ دین اسلام کا سیدھا راستہ دکھایا۔ معبودان باطل کے آہنی پنجوں سے چھڑا کر ایک خدا سے ملایا‘ خدا تعالیٰ سے امت کو انسانیت کا دستور قرآن مجید کی صورت میں دلایا۔ کفر وضلالت کے گھپ اندھیروں سے نکال کر شاہراہ انسانیت پر چلنے کا طریقہ سکھایا اور ان کی امت بن کر ہم نے خدا تعالیٰ سے خیرالامم کا لقب پایا۔
نبی پاکؐ کو شافع محشر ماننے والو! ہمارے آقا تو ہمارے ساتھ اتنی محبت رکھیں کہ اپنے امتیوں کو یہ فرمائیں‘ اے میرے امتیو! رات کو سونے سے پہلے گھر کا چراغ بجھا دیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے گھر کو آگ لگ جائے‘ جب تمہارے گھر کو آگ لگے گی تو تمہیں تکلیف ہوگی اور جب تمہیں تکلیف ہوگی تو پھر مجھے بھی تکلیف ہوگی۔ اے میرے امتیو! جب جوتا پہننے لگو تو پہلے اچھی طرح جھاڑ لیا کرو‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ جوتے کے اندر کوئی کیڑا چھپا ہو اور جب تم جوتا پہنو تو کیڑا تمہیں کاٹ لے۔ جب کیڑا تمہیں کاٹے گا تو تمہیں تکلیف ہوگی اور جب تمہیں تکلیف ہوگی تو پھر مجھے بھی تکلیف ہوگی۔ امت کے دلدار نبیؐ کی محبت کا یہ معیار کہ سلطان دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم ہر عید الاضحیٰ
ہر دو قربانیاں دیا کرتے تھے۔ ایک اپنی طرف سے اور دوسری قیامت تک کے لئے آنے والے ان غریب امتیوں کی طرف سے جنہیں قربانی کی استطاعت نہ ہوگی، پھر امت سے عشق و لگاؤ کا یہ منظر بھی دیدنی ہو گا، حشر کا میدان ہو گا، ہر کوئی رب نفسی رب نفسی پکار رہا ہو گا، انبیاء بھی نفسی نفسی پکاریں گے۔ لیکن امت کے غم میں گریہ و زاری کرنے والے شافع محشر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لبوں پر رب امتی رب امتی کی صدائیں ہوں گی۔ کہیں رحمۃ اللعالمینؐ اپنے سامنے کھڑے ہو کر میزان پر اپنی امت کے اعمال تلوا رہے ہوں گے۔ کہیں امام النبیینؐ اپنی امت کے افراد کو پل صراط پار کرا رہے ہوں گے۔ کہیں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حوض کوثر پر بیٹھے آنے والے اپنے پیاسے امتیوں کو جام کوثر بھر بھر کر پلا رہے ہوں گے۔ اگرچہ ہولناکیوں اور خوفناکیوں سے بھرپور حشر کا میدان ہو گا، ہر کوئی پریشان ہو گا لیکن وہاں بھی آمنہؓ کا لالؐ اپنی امت کا میزبان ہو گا اور امتی اپنے کریم نبیؐ کا مہمان ہو گا۔ اس دن محب اپنے محبوب سے کہے گا اے محمدؐ! آپ شفاعت کرتے جائیں، میں قبول کرتا جاؤں گا۔ محبوبؐ شفاعت کرتا جائے گا محب قبول کرتا جائے گا۔ مصطفیٰؐ جس کی شفاعت کرے گا، رب مصطفیٰ اسے معاف کرے گا۔ یہاں تک کہ جس امتی کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو گا، کملی والے آقاؐ کے ذمہ اس کی شفاعت کا سامان ہو گا۔ پیارے آقاؐ اس کی شفاعت فرمائیں گے اور اسے جنت میں لے جائیں گے۔
اے مسلمان! ایک طرف تیرے نبیؐ کی تیرے غم میں بے قراریاں اور دوسری طرف تیری لاپرواہیاں، ایک طرف تیرے رسولؐ کا شوق و محبت کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اور دوسری طرف تیری بے حسی کا لق و دق صحرا۔ ایک طرف تیرے رسولؐ کا برستا ہوا ابر رحمت اور دوسری طرف تیری جفاؤں کی چلچلاتی دھوپ!
اے محمدؐ کے امتی کہلانے والے! تیرے نبیؐ کو تیری دنیا کی فکر، تیری آخرت کی فکر، تیری قبر کی فکر، تیرے ہر کام کی فکر لیکن اے مسلمان! تو بھی اپنا معیار محبت دیکھ! تیرے سامنے قادیانی دستار ختم نبوت کو روندیں اور تو خاموش! تیرے سامنے قادیانی ڈاکو تیرے نبیؐ کے تخت ختم نبوت پر مرزا قادیانی کو بٹھانے کی ناپاک جسارت کریں اور تیری شخصیت پر جمود! قادیانی تیرے نبیؐ کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کریں لیکن
تیرے ان کے ساتھ محبت کے بندھن!
قادیانی تو اپنے جھوٹے نبی کی جھوٹی نبوت کے پرچار کے لئے اپنی آمدنی کا ایک حصہ خرچ کریں اور تو دنیاوی رسم و رواج کے لئے تو پیسہ پانی کی طرح بہائے لیکن تحفظ نبوت پر خرچ کرنے کے لئے بخیل ہو جائے۔
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
لیکن زمانہ تجھے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر کہہ رہا ہے۔ وقت تجھے پکار پکار کے کہہ رہا ہے
اے عمر فاروقؓ کی غیرت رسولؐ کے وارث مسلمان!
رسولؐ کے قدموں پر اپنی ساری دولت نچھاور کر دینے والے عثمان غنیؓ کی سخاوت کے وارث مسلمان!
رسولؐ کے دین کے لئے بدر واحد و خندق میں لڑنے والے شیر خدا علی المرتضیٰؓ کی شجاعت کے وارث مسلمان!
عظمت اسلام کے لئے جام شہادت نوش فرمانے والے نواسہ رسولؐ امام حسینؓ کی شہادت کے وارث مسلمان! دہکتے انگاروں پر لیٹنے والے بلالؓ حبشی کی قربانیوں کے وارث مسلمان!
غازی علم الدین شہید اور غازی مرید حسین شہید کی جراتوں کے وارث مسلمان!
آج تیری غفلت کی نیند کے خراٹے قادیانیت کی گاڑی کے فراٹے ہیں، تیری خاموشیاں انہیں زبان عطا کر رہی ہیں، تیرا سکوت انہیں تحریک بخش رہا ہے، تیری بے حمیتی انہیں حوصلے عنایت کرتی ہے اور تیری دنیا داری نے انہیں دنیا میں پھیلا دیا ہے۔ آج تیرے اسلاف کی درخشندہ روایات تیری بے حسی پر آنسو بہا رہی ہیں۔ تاریخ اسلام تجھے کوس رہی ہے، بحر و بر اور دشت و جبل دامن پھیلائے تجھ سے تیرے بزرگوں ایسے حوصلے مانگ رہے ہیں اور زمانہ تمہیں ہلا ہلا کر صدا دے رہا ہے۔
اے آغوش دنیا میں مست مسلمان! قبائے بے حسی کو تار تار کر دے۔ ملت کے ٹھٹھرے ہوئے جذبات میں اک آگ لگا دے۔ خفتہ ضمیروں کو اللہ اکبر کی صدا سے جگا دے۔ سہل پسند جسموں کی رگوں میں انقلابی خون دوڑا دے۔ قلب سے ہوا و ہوس کے اندھیرے نوچ کر عشق مصطفیٰ کی شمع جلا دے۔ قرآن کی روشنی سے روحوں کو جگمگا دے۔ گٹار اور طبلے بجانے والے ہاتھوں میں شمشیر قادیانیت شکن تھمادے۔ قلمی نغمے الاپنے والوں کو شعلہ نوا خطیب بنا دے‘ ان کی حدت خطابت سے خرمن قادیانیت جلا دے اور ملت کی منتشر قوتوں میں جذبہ اتحاد جہاد پیدا کر کے قصر قادیانیت گرا دے۔
اے اللہ! یہ تیرے اس رسول معظم کی ذات گرامی کا مسئلہ ہے جو باعث تخلیق کائنات ہے۔ جو اس وقت بھی رسولؐ تھا‘ جب آدم آب و گل کی کیفیت میں تھے۔ جسے دنیا میں بھیج کر تو نے مومنین پر احسان عظیم کیا‘ جو تجھے اتنا محبوب کہ تو کلمہ طیبہ میں اپنے نام کے ساتھ اس کا نام سجائے اور اذانوں میں تیرے نام کے ساتھ اس کا نام آئے‘ جو تجھے اتنا لاڈلا کہ تو اسے یا ایہالمدثر اور یٰسین وطٰہٰ کے پیار بھرے ناموں سے پکارے۔ جو تجھے اتنا پیارا کہ تو اور تیرے فرشتے اس پر درود بھیجیں۔ جس کا سراپا تجھے اتنا پیارا کہ اس کا سایہ بھی پیدا نہ کرے جس کے بارے میں تو اتنا باغیرت کہ ساری زندگی اس کے جسم اطہر پر مکھی نہ بیٹھنے دے۔ جس کے شہر سے تجھے اتنی عقیدت کہ اس کے شہر کی تو قرآن میں قسم اٹھائے جسے تو یہ اعزاز بخشے کہ وہ سب سے پہلے باب جنت کھولے۔ جس کا تیرے ہاں یہ مقام کہ تو اسے مقام محمود پر فائز کرے۔ جسے تو یہ عزت عطا کرے کہ اسے ساقی کوثر بنائے۔ جو تیرے نزدیک اتنا محترم کہ تو اسے سب سے پہلے شفاعت کا اذن عطا فرمائے۔ جس کا تو اتنا محب کہ عرش پر لا کر اسے اپنا مہمان بنائے اور اپنا دیدار کرائے۔ جسے تو یہ عزت بخشے کہ روز محشر سارے نبی اس کے جھنڈے تلے جمع ہوں۔ جس کے احترام میں تو اتنا حساس کہ مسلمانوں کو حکم دے کہ اپنی آواز کو نبیؐ کی آواز سے بلند نہ کرو۔ جسے تو یہ شوکت عطا کرے کہ وہ انگلی کے اشارے سے چاند کو دو ٹکڑے کر دے۔ وہ تیرا اتنا چہیتا کہ تو اس کی امت کو خیرالامم قرار دے۔ جس کا روضہ اتنا اطہر کہ صبح و شام تیرے ستر ستر ہزار فرشتے وہاں حاضری دیں۔ جس کی یہ رفعت کہ تیرے جلیل القدر انبیاء ابراہیم و عیسیٰ علیہ السلام اس کی آمد مبارک کی دعائیں کریں۔ جس کی یہ شان کہ وہ
معراج کی رات سارے انبیاء کرام کی امامت کرے۔
خدا وندا! وہ تیرا ایسا رسول اعظم جسے تو نے ایسی نبوت و رسالت سے سرفراز کر کے مبعوث فرمایا کہ اس کی تشریف آوری کے بعد کسی نبی اور رسول کی ضرورت نہیں۔ وہ ایسی کتاب لے کر آیا کہ اب کسی اور کتاب کی ضرورت نہیں۔ وہ محسن انسانیت ایسا دستور حیات لے کر آیا کہ انسانیت کو کسی اور دستور حیات کی احتیاج نہیں۔ وہ ایسا رہبر انسانیت بن کے آیا کہ اب انسانیت کسی اور رہبر کی محتاج نہیں۔
مولا! تو نے اسے تخت ختم نبوت پہ بٹھایا۔ اس کے سر اقدس پہ تاج ختم نبوت سجایا۔ کائنات کے لئے اسے نمونہ بنایا۔ اسی انسان اکمل کے آنے پر دین اپنی تکمیل کو پہنچا۔ اپنی عالم گیر کتاب میں پورے عالم کو مخاطب کرتے ہوئے تو نے اس کا تعارف ”سراج منیر“ یعنی روشن چراغ کہہ کر کرایا اور اسی روشن چراغ سے آج یہ بزم ہستی جگمگا رہی ہے اور قیامت تک یہ چراغ اپنی روشنیاں بکھیرتا رہے گا۔ لیکن اے رب ذوالجلال! تیری اس زمین پہ تاریخ عالم کا سب سے بڑا فراڈ ہو رہا ہے۔ تیری مخلوق کو بہکانے کے لئے ایک مہلک دھوکا اور جعلسازی ہو رہی ہے۔ باغیان ختم نبوت نے شیطان کی ملی بھگت سے قادیان کے ایک کانے بھینگے شخص کو نبی بنا رکھا ہے اور وہ اسے ”محمد رسول اللہ“ قرار دے رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کی اشاعت کے لئے مرزا قادیانی کی شکل میں دوبارہ تشریف لائے ہیں۔ (نعوذ باللہ) یہ بد باطن مرزا قادیانی کو رحمۃ للعالمین اور خاتم النبیین قرار دیتے ہیں۔ تیرا قرآن جو تو نے قلب مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا، کے مقابلے میں مرزا قادیانی کی بکواس کو قرآن کہا جا رہا ہے۔ تیرا حبیب جو تیری اجازت کے بغیر بولتا نہیں، اس کی زبان نبوت سے نکلنے والے کلمات طیبات کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی ہرزہ سرائی کو احادیث رسول کہا جا رہا ہے۔ خدیجہؓ و عائشہؓ کے مقابلہ میں اس لعین کی آوارہ عورتوں کو امہات المومنین کہا جا رہا ہے۔ وہ نفوس قدسیہ یعنی صحابہ کرام جنہیں تو نے قرآن میں ”رضی اللہ عنہ ورضوا عنہ“ کا سرٹیفکیٹ عنایت کیا، ان جلیل القدر ہستیوں کے مقابلہ میں اس ننگ انسانیت کے گماشتوں کو صحابہ کہا جا رہا ہے۔ تیرے حبیب کے شہر مقدس یعنی مدینہ منورہ کے مقابلہ میں قادیان کو شہر محترم کہا جا رہا ہے۔ مکہ مکرمہ کے حج کے مقابلہ میں انہوں نے قادیان کا
حج بنا رکھا ہے۔ خلافت راشدہ کے مقابلہ میں انہوں نے اپنی خلافت قائم کر رکھی ہے۔ ابوبکرؓ! جسے تو نے اپنے قرآن میں ”ثانی اثنین“ کہا‘ اس کے مقابلہ میں یہ ایک کمینے شخص نور الدین کو خلیفہ اول قرار دیتے ہیں۔ عمر فاروقؓ! جسے تیرے مصطفےٰؐ نے اپنا دامن پھیلا کر تجھ سے مانگا‘ اس کے مقابلہ میں ایک بدفطرت شخص مرزا بشیر الدین کو خلیفہ دوم قرار دیتے ہیں۔ عثمان غنیؓ! جسے دربار نبوت سے ذوالنورینؓ کا خطاب ملا‘ اس کے مقابلہ میں ایک لائق حقارت مرزا ناصر کو خلیفہ سوم کہا جا رہا ہے۔ علی المرتضیٰؓ! جسے تلوار تو نے دی اور فاطمۃ الزہراؓ جیسی بیٹی تیرے نبیؐ نے دی۔ اس کے مقابلہ میں ایک کذاب سراپا نحوست مرزا طاہر کو خلیفہ چہارم کہا جا رہا ہے۔ جگر گوشہ رسولؐ فاطمۃ الزہراؓ کے مقابلہ میں اس خبیث زماں کی بیٹی کو سیدۃ النساء کا نام دیا جا رہا ہے۔ اور تحریک کفر و الحاد ”قادیانیت“ کو اسلام کی حیثیت سے پورے عالم میں تعارف کرایا جا رہا ہے اے رب السموات والارض! ہم دنیا کی غلاظتوں میں لتھڑ کے رہ گئے۔ ہماری غیرت قصہ پارینہ ہو گئی۔ ہمارا جذبہ جہاد مصلحتوں کے سرد خانوں میں منجمد ہو گیا ہے۔ تڑپنے پھڑکنے کی صفت سے ہم محروم ہو چکے ہیں۔ حب دنیا حب دین پر غالب آگئی ہے۔ نفس کی غلامی نے ہمیں کمزور و نحیف کر دیا ہے۔ آپس کی سرپھٹول نے ہمیں قعر مذلت میں پھینک رکھا ہے اور ہم کاسہ گدائی ہاتھ میں پکڑے اغیار کے دروں پر بھیک مانگ رہے ہیں۔
لیکن اے دلوں کے بھید جاننے والے رب ! ابھی تھوڑی سی ایمان کی رمق باقی ہے۔۔۔۔۔۔ یقین کی چمک باقی ہے۔۔۔۔۔۔ قلب میں سوز باقی ہے۔۔۔۔۔۔ جگر میں درد باقی ہے۔۔۔۔۔۔ آنکھوں میں نم باقی ہے۔۔۔۔۔۔ زبانوں پہ فریادیں باقی ہیں۔۔۔۔۔۔ تیرے یہ کمزور و نحیف بندے تجھ سے یہ فریاد کرتے ہیں کہ اللہ! تو‘ تو کمزور نہیں تو‘ تو طاقت کا سرچشمہ ہے۔۔۔۔۔۔ تو‘ تو غیرت والا ہے۔۔۔۔۔۔ تو‘ تو جلال و جبروت والا ہے۔۔۔۔۔۔ بات تیرے محبوبؐ کی ختم نبوت کی حرمت کی ہے۔۔۔۔۔۔ پھر دیر کیسی؟ پھر انتظار کیسا؟ اے رب محمدؐ! تجھے تیرے محمدؐ کی عزت کا واسطہ‘ ہم رو رو کر اور دل کو دامن بنا کر دعا کرتے ہیں کہ تو انہیں ہدایت دے دے۔ اور اگر یہ ازلی بدبخت ہیں اور ان کے مقدر میں ہدایت نہیں تو تو انہیں برباد کر دے۔۔۔۔۔ ناشاد کر دے۔۔۔۔۔ ان کے ناپاک وجودوں کو جلا دے۔۔۔۔۔ جلوہ کو مٹا دے۔۔۔۔۔۔
قادیاں کو مٹا دے------ شہر سدوم کی طرح------ شہر ثمود کی طرح------ قوم لوط کی طرح------ قوم ہود کی طرح------ لشکر ابرہہ کی طرح------
حق کے جلال سے یہی ایک ڈھیل ہو گئی
(مولانا ظفر علی خانؒ)
قادیانی افسانے
اور سنچری مکمل ہوگئی
وفا
ایسا بھی ہوتا ہے
تیری تصویر دیکھ کر
مردود کہیں کا
جال
جہنم سے فرار
تفسیر عثمانی
اور چور پکڑا گیا
نوحہ
جھوٹا
۵ ہزار
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوّت حضوری باغ روڈ ملتان
مطالعہ فرمائیے اور جہاد کے لیے قدم بڑھائیے
نغمات ختم نبوت
ترتیب و تدوین: محمد طاہر رزاق
- شاعری کی فصیح و بلیغ زبان میں نبی کائنات خاتم النبیین جناب محمد عربی ﷺ کی ہمہ گیر، ہمہ جہت اور زمان و مکان کی قیود سے بالاتر نبوت و رسالت کا بیان۔
- عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت، نزاکت اور صداقت کا تذکرہ۔
- دجال قادیان مرزا قادیانی اور فتنۂ قادیانیت کا علمی اور عقلی محاسبہ۔
اس عہد کی منظوم داستان
- جب عشق ختم نبوت ایک جرم تھا۔
- جب دار و رسن پر ایمان اور الحاد نبرد آزما تھے۔
- جب سینکڑوں مقتلوں کی زمینوں کو شہیدانِ ختم نبوت اپنے خونِ مقدس سے سیراب کر رہے تھے۔
- جب آدم خور جنرل اعظم خان عاشقانِ رسول کی لاشوں کے ڈھیر لگا کر ظلم و بربریت کی تاریخ میں ہلاکو اور چنگیز سے اپنا قد اونچا کر رہا تھا۔
چند شعرائے کرام
علامہ اقبالؒ ◯ مولانا ظفر علی خان ◯ علامہ طالوت ◯ آغا شورشؒ ◯ اکبر الہ آبادی
مظفر وارثی ◯ ساغر صدیقی ◯ امین گیلانی ◯ جانباز مرزا ◯ سیف الدین سیف
نعیم صدیقی ◯ وقار انبالوی ◯ حفیظ رضا پروری ◯ حنیف رضا ◯ حکیم آزاد شیرازی
عارف صحرائی ◯ سائیں حیات ◯ شریف ماہی اور دیگر درجنوں !
دیباچہ نگار پروفیسر محمد منور ● مظفر وارثی ● نذیر احمد غازی
بہترین کاغذ ◯ دیدہ زیب پرنٹنگ ◯ جاذب نظر چہار رنگہ ٹائیٹل ◯ صفحات : ۲۹۶
قیمت ۹۰ روپے ● مجاہدین ختم نبوت کیلئے صرف ۴۰ روپے ، ۱۰ روپے خرچ ڈاک
پڑھیے اور تحفظ ختم نبوت کیلئے آگے بڑھیے !
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
ازقلم: محمد طاہر رزّاق
- جھوٹی نبوت کے جگر پر قلم کے نشتر
- قادیانیت کے نجس وجود کی سرجری
- مرزا قادیانی کی شخصیت بد حیثیت پر جراحی قہقہے
- قادیانی نبوت کی شناخت پر ریڈ
قادیانی انجکشن
دیباچہ نگار
- عطاء الحق قاسمی
- صاحبزادہ طارق محمود
- ڈاکٹر محمد یونس بٹ • شفیق مرزا
O اعلیٰ سفید کاغذ O خوبصورت پرنٹنگ O انتہائی نفیس چار رنگہ ٹائیٹل O صفحات: ۲۸۰
قیمت : ۷۵ روپے
مجاہدین ختم نبوت کیلئے صرف ۴۰/- روپے ۱۰ روپے ڈاک خرچ
ایک ایسی کتاب جسے آپ کا ذوق مطالعہ ایک ہی نشست میں پڑھ جائے گا
شائع کردہ :
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی (القرآن)
قادیانیت
کے
خلاف
اعلیٰ عدالتوں
کے
تَارِیْخِیْ فَیْصَلَے
مرتبہ
فیاض اختر ملک
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
☎ 40978
لاہور ہائی کورٹ
1981
لاہور ہائی کورٹ
1982
وفاقی شرعی عدالت
1984
لاہور ہائی کورٹ
1987
کوئٹہ ہائی کورٹ
1987
سپریم کورٹ شریعت اپیل بنچ
1988
لاہور ہائی کورٹ
1991
وفاقی شرعی عدالت
1991
لاہور ہائی کورٹ
1992
سپریم کورٹ آف پاکستان
1993
قادیانیت ہماری نظر میں
ترتیب وتحقیق
محمد متین خالد
یہ کتاب صد سالہ فتنہ قادیانیت کے بارے میں مشاہیر ملت‘ علماء کرام‘ مشائخ عظام‘ قائدین قوم‘ ارباب اقتدار‘ پارلیمنٹرین حضرات‘ جسٹس صاحبان‘ شعرائے کرام‘ معروف سیاستدانوں‘ نامور صحافیوں‘ اہل قلم و دانشوروں‘ مزدور رہنماؤں‘ مشہور ادیبوں‘ قائدین طلبہ‘ معتبر وکلاء‘ نمائندہ غیر مسلم شخصیات‘ سابق قادیانیوں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے سرکردہ افراد کے فکر انگیز‘ مبنی بر حقائق‘ ایمان افروز اور ولولہ انگیز مشاہدات و تاثرات اور حیرت انگیز و ہوش ربا انکشافات پر مبنی مستند تاریخی و تحقیقی دستاویز جو پوری امت اسلامیہ کی آواز ہے۔
اس کتاب میں پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ ‘ میاں شیر محمد شرقپوریؒ ‘ خواجہ غلام فریدؒ ‘ شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ ‘ پیر جماعت علی شاہؒ ‘ خواجہ حسن نظامیؒ ‘ حضرت خواجہ خان محمد مدظلہ‘ خواجہ قمر الدین سیالویؒ ‘ حضرت میاں کریم بخش صاحب مدظلہ‘ مولانا اشرف علی تھانویؒ ‘ مولانا محمود الحسن اسیر مالٹاؒ ‘ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ ‘ مولانا احمد علی لاہوریؒ ‘ سید انور شاہ کشمیریؒ ‘ سید محمد علی مونگیریؒ ‘ مفتی محمد شفیعؒ ‘ ابوالحسن ندویؒ ‘ مفتی محمد حسنؒ ‘ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ ‘ مولانا محمد یوسف بنوریؒ ‘ مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ ‘ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ‘ مولانا محمد علی جالندھریؒ ‘ مولانا محمد الیاسؒ بانی تبلیغی جماعت‘ مولانا احمد رضا خان بریلویؒ ‘ سید ابوالحسنات شاہؒ ‘ مولانا احمد سعید کاظمیؒ ‘ مولانا محمد بخش مسلمؒ ‘ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ ‘ علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ ‘ سید مودودیؒ ‘ ڈاکٹر اسرار احمد‘ حق نواز جھنگوی‘ حافظ کفایت حسینؒ ‘ قائد اعظمؒ ‘ علامہ اقبالؒ ‘ ابوالکلام آزادؒ ‘ مولانا ظفر علی خانؒ ‘ چودھری افضل حقؒ ‘ لیاقت علی خانؒ ‘ ڈاکٹر عبد القدیر‘ حفیظ جالندھریؒ ‘ ایم۔ ایم۔ عالم‘ شیخ مجیب الرحمٰن‘ ذوالفقار علی بھٹو‘ ضیاء الحقؒ ‘ بے نظیر بھٹو‘ محمد خان جونیجو‘ غلام مصطفیٰ جتوئی‘ میاں نواز شریف‘ جنرل فضل حقؒ ‘ غلام حیدر وائیں‘ سردار عبد القیوم خان‘ خان عبد الولی خان‘ پیر پگاڑا‘ چودھری ظہور الٰہی‘ نوابزادہ نصر اللہ خاں‘ ایئر مارشل اصغر خان‘ مولانا مفتی محمودؒ ‘ مولانا محمد اجمل خان‘ مولانا عبد الحقؒ ‘ مولانا ظفر احمد انصاریؒ ‘ عبد الستار نیازیؒ ‘ حمزہ‘ طاہر محمود‘ شاہ احمد نورانیؒ ‘ مولانا فضل الرحمٰن‘ حافظ حسین احمد‘ ملک قاسم‘ میاں طفیل محمد‘ قاضی حسین احمد‘ مولانا گلزار احمد مظاہری‘ سید اسعد گیلانی‘ مولانا فتح محمد‘ مولانا عبد المالک‘ مولانا جان محمد عباسی‘ حافظ محمد ادریس‘ چودھری غلام جیلانی‘ چودھری رحمت الٰہی‘ چودھری محمد اسلم سلیمی‘ پروفیسر غفور احمد‘ چودھری نذیر احمد‘ سید منور حسن‘ فرید پراچہ‘ جسٹس مولانا غلام علی‘ ماہر القادری‘ مظفر ہاشمی‘ ایم این اے‘ ظفر جمال بلوچ‘ لیاقت بلوچ‘ عبد الشکور‘ مسعود کھوکھر‘ احسان اللہ وقاص‘ ارباب عالم‘ سعید عاصی‘ سلیم منصور خالد‘ محمد اویس قاسم‘ محمد اسماعیل قریشی‘ ایڈووکیٹ‘ جسٹس میاں نذیر اختر‘ جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ ‘ جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے‘ جسٹس جاوید اقبال‘ جسٹس رفیق تارڑ‘ مقبول الٰہی ملک ایڈووکیٹ جنرل‘ نذیر احمد غازی اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل‘ کمانڈر احمد شاہ مسعود وزیر دفاع افغانستان‘ شاہ فہد‘ مصطفیٰ کمال پاشا‘ شیخ احمد دیدات‘ پنڈت نہرو‘ دیوان سنگھ مفتون کے علاوہ ۱۳۰۰ سے زائد نامور شخصیات کے تاثرات شامل ہیں۔
پڑھیے اور تحفظ ختم نبوت کے لیے آگے بڑھیے!
- ٭ کمپیوٹر کتابت ٭ عمدہ کاغذ ٭ اعلیٰ طباعت ٭ بہترین جلد ٭ چار رنگا خوبصورت ٹائٹل ٭ صفحات 752 ٭ قیمت 200 روپے
نوٹ: جماعتی کارکنوں کے لیے ”خصوصی رعایت“ قیمت صرف 90 روپے۔ قیمت کا پیشگی منی آرڈر آنا ضروری ہے۔ ٭ وی پی ہرگز نہ ہوگی۔
ـــــ ملنے کا پتہ ـــــ
- ① عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘ حضوری باغ روڈ‘ ملتان۔ پاکستان فون نمبر: 42981
- ② مکتبہ سید احمد شہیدؒ ‘ الکریم مارکیٹ‘ اردو بازار۔ لاہور فون: 228916
اپیل
قادیانی اربوں روپے خرچ کر کے اپنے کفر و ارتداد پر مبنی لٹریچر پوری دنیا میں تقسیم کر رہے ہیں۔ یہ ایمان کے ڈاکو ہمارے نوجوانوں کو اپنے دام فریب میں پھنسا کر مرتد بنا رہے ہیں۔ ناموس رسول پر اپنے نوکیلے دانتوں سے حملہ آور ہیں۔ قرآن مجید احادیث مقدسہ اہل بیت صحابہ کرام کی شان میں ہرزہ سرائی کر رہے ہیں۔ شعائر اسلامی کو اپنے غلیظ قدموں تلے روند رہے ہیں۔ اس خطرناک صورت حال سے نمٹنے کیلئے سرور کائنات جناب محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقان سے پر زور اپیل کی جاتی ہے کہ وہ درج ذیل کتابچوں کو چھپوا کر فری تقسیم کریں تاکہ اُمت مسلمہ کی نئی نسل فتنہ قادیانیت سے آگاہ ہو سکے اور کسی کی متاع ایمان نہ لٹ سکے۔ خطاطی کتابت آپ کو مفت ملے گی ان کتابچوں کو شائع کرنیوالے عشاق جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے (آمین) طالب شفاعت محمدی بندہ عشرت محمد علی طوفان
- ۱ فتنہ قادیانیت پہچانیے (لیفلیٹ)
- ۲ مرزائیوں کا بائیکاٹ
- ۳ تعظیم رسول
- ۴ صحابہ کرام اور عشق رسول
- ۵ اسلام لٹ رہا ہے
- ۶ بہشتی مقبرہ روتا ہے
- ۷ قومی اسمبلی میں مسئلہ ختم نبوت
- ۸ ایک قادیانی کی آپ بیتی
- ۹ شہر ارتداد "قادیان"
- ۱۰ غضب کی بستی ربوہ
- ۱۱ قادیان کا عاشق نامراد
- ۱۲ بیرونی دنیا میں قادیانیوں کی خطرناک سرگرمیاں
- ۱۳ ہم قادیانیوں کو کیا سمجھتے ہیں
- ۱۴ قادیانیت ایک شیطانی نیٹ ورک
- ۱۵ مسلمان اور قادیانی کی رشتہ داری
- ۱۶ عاشقان مصطفےٰ کہاں ہیں؟
- ۱۷ اٹھو مسلمانو! قادیانی قرآن بدل رہے ہیں
- ۱۸ چہرہ قادیانیت
- ۱۹ آستین کے سانپ
- ۲۰ ہم تحفظ ختم نبوت کا کام کیسے کریں
- ۲۱ مجرم اسلام
- ۲۲ قادیانی لفاظی سے قدرت کا انتقام
- ۲۳ قادیانی اخلاق ایک ننگی حقیقت
- ۲۴ اقبال اور قادیانیت
- ۲۵ قادیانیوں کو دعوت اسلام
- ۲۶ ایک منہ دو زبانیں
- ۲۷ قادیانیوں کے عبرتناک انجام
- ۲۸ مقام نبوت و رسالت
- ۲۹ قادیانیت انگریز کا خودکاشتہ پودا
- ۳۰ قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ
- ۳۱ قادیانیوں اور مسلمانوں میں فرق
- ۳۲ قادیانی امت اور مسئلہ کشمیر
- ۳۳ قادیانیوں کے لطیفے
- ۳۴ قادیانی تاجر و صنعت کار
- ۳۵ قادیانی بچہ
- ۳۶ مرزا قادیانی کو نبوت کیسے ملی؟
- ۳۷ مرزا قادیانی سیاست کے کٹہرے میں
- ۳۸ ہم نے مرزا قادیانی کا انٹرویو
- ۳۹ قادیانیت اور عقل
- ۴۰ تشکیل دین
- ۴۱ فرنگی مجدّد کی تلاش میں
- ۴۲ اگر مرزا قادیانی آج کے دور میں ہوتا
- ۴۳ مرزا قادیانی کا لباس و خوراک
- ۴۴ مرزا قادیانی کا جسمانی ڈھانچہ
- ۴۵ احمق کی حماقتیں
- ۴۶ مرزا قادیانی کا شجرہ اور پیدائش
- ۴۷ مرزائیوں کا معاشی بائیکاٹ
- ۴۸ مرزا قادیانی کی اکلوتی لڑکی کی شادی
- ۴۹ لو کرو دوستی دا
- ۵۰ مرزا قادیانی کے اپنے دعوے
- ۵۱ مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کی پہچان
- ۵۲ عالم جہنم سے مرزا قادیانی کا خط (طنز و مزاح)
- ۵۳ قادیانی تعلیمات
- ۵۴ عشق خاتم النبیین
- ۵۵ ختم نبوت کے پاسبان
- ۵۶ عاشقان رسول کی پیش کش (وڈیو کیسٹ)
- ۵۷ ختم نبوت کے محافظ
- ۵۸ مرزائیت شکن مجاہد
- ۵۹ وہ ختم نبوت کے پروانوں کی باتیں
- ۶۰ ناسور قادیانیت کی پہچان
- ۶۱ ترک قادیانیت بسلسلہ
- ۶۲ مسئلہ جہاد اور قادیانی
- ۶۳ پاکستان کو قادیانیوں سے بچاؤ
- ۶۴ جنگ یمامہ
- ۶۵ عقیدہ ختم نبوت
- ۶۶ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء
- ۶۷ تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء
- ۶۸ نزول عیسیٰ علیہ السلام
- ۶۹ پاک بھارت جنگیں اور قادیانی
- ۷۰ مرتد اور اس کی شرعی سزا
- ۷۱ قادیان سے اسرائیل تک
- ۷۲ شاتم رسول کی سزا ... قتل
- ۷۳ قادیان کا راجپوت
- ۷۴ ملکہ وکٹوریہ کا غلام
- ۷۵ عقیدہ ختم نبوت (احادیث کی روشنی میں)
- ۷۶ فرعون زمانہ قادیانی کی موت کا منظر
- ۷۷ قادیانی نبوت ۔ ایک لعنت ۔ ایک عذاب
- ۷۸ منظوم سیرت مرزا قادیانی کذاب
- ۷۹ پاکستان قادیانی اور امریکہ گٹھ جوڑ
- ۸۰ دجال
- ۸۱ جہنم سے فرار
- ۸۲ قادیانی مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں؟
- ۸۳ کوہستانی باشندے اور قادیانی
- ۸۴ قادیان کا خاتم رسول
- ۸۵ اللہ کی گرفت
- ۸۶ قادیانی شعائر اسلامی استعمال نہیں کر سکتے
- ۸۷ قادیان کا حج؟
- ۸۸ مینارۃ المسیح کی کہانی
- ۸۹ حقوق انسانی کمیشن
- ۹۰ اشتہارات و شجرات و دیگر لٹریچر
شیزان گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم مرزائیوں کی مشروب ساز فیکٹری ہے۔ اس کی تمام تر مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا ہر مسلمان عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دینی وملی فرض ہے۔ علاوہ ازیں اگر آپ کی نظر میں کوئی دوسری قادیانی فیکٹری یا آپ کے شہر میں کوئی دکان ہے تو اس کا بھی بائیکاٹ کیجئے۔
یہ پمفلٹ پڑھکر اپنے کسی دوسرے مسلمان بھائی کو مطالعے کے لیے دے دیں۔ فتنہ قادیانیت سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے لٹریچر ھم سے مفت حاصل کریں۔