بسم اللہ الرحمن الرحیم
تقریر و تجاویز
علماء کنونشن
منعقدہ
۸، ۹ شوال المکرم ۱۴۰۰ھ مطابق ۲۱، ۲۲ اگست ۱۹۸۰ء
حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی
صدر مجاہدین احرار پاکستان
زیر صدارت
صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق بالقابہ
ــــ بشکریہ ــــ
وزارت مذہبی امور و اقلیتی امور، حکومت پاکستان
اسلام آباد
بسم اللہ الرحمن الرحیم
☆ گلستان پریس جناح مارکیٹ
سرگودھا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تقریر و تجاویز
علماء کنونشن
ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ
پاکستان
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ط
پیش لفظ
الحمد لله وحدہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ ۔ اما بعد انسان اشرف المخلوق ہے۔ جس نے تمام کائنات ارضی و سماوی پر فضیلت کا دعویٰ کیا۔ لیکن اس کا کوئی فرد انقلاب عروج و زوال اور رفعت و پستی سے مامون نہ رہ سکا۔
کبھی یہ ظلوم و جہول عزم و ہمت لیکر اوجِ سعادت کی طرف اٹھتا ہے تو طائرانِ قدس بھی اس کی پرواز سے نیچے ہی دھرے رہ جاتے ہیں اور کبھی یہی پاکباز انسان پستی اور دنائت کے سبب قعر مذلت میں گرتا ہے تو عالم کی ہر ذلیل سے ذلیل چیز اس سے اچھی اور برتر معلوم ہونے لگتی ہے۔
لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ثم رددناہ اسفل سافلین
ہم نے انسان کو بہت خوبصورت سانچے میں ڈھالا ہے۔ پھر ہم اس کو پستی والوں سے بھی پست تر کر دیتے ہیں۔
زمانہ کی روشن مثال جب اپنا چہرہ بے نقاب کرتی ہے تو سگِ اصحابِ کہف عزت و شرف میں بنی آدم کے دوش بدوش نظر آنے لگتا ہے۔
اور زمانہ ہی کی تصویر جب اپنا تاریک اور بد نما پہلو سامنے کرتی ہے تو ایک جلیل القدر اور اولوالعزم پیغمبر (نوحؑ) کا بیٹا اہلِ نار کے گروہ میں شامل ہو جاتا ہے اور خاندانِ نبوت سے خارج کر دیا جاتا ہے۔
یہی دستور بالخصوص وارثان انبیاء (علماء) کے بارے روز اول سے جاری و ساری ہے۔ اگر کسی وقت یہ فاقہ مست گروہ شاہوں کے گریبانوں سے کھیلتا رہا اور ابن حنبلؒ و مجدد الف ثانیؒ کا کردار اپنا کر منبر و محراب کا صحیح جانشین ثابت ہوتا رہا۔ تو دوسری طرف ابوالفضل اور فیضی بن کر وراثت نبوی کو آلودہ کرتا رہا اور منبر و محراب کی فرضی مخلوق ثابت ہوتا رہا۔
بہر حال اس اُمت مرحومہ کی تقدیر ان بوریہ نشینوں کے کردار سے وابستہ رہی اور ان کے کردار کی رفعت و پستی قوموں کے مقدر کا ستارہ بنی رہی۔
زیر نظر اوراق پریشان استاد محترم مولانا منظور احمد چنیوٹی کی اس تاریخی تقریر و تجاویز کی صدائے بازگشت ہیں جو علماء کنونشن کے نام سے ۲۱۔۲۲ اگست ۱۹۸۰ء کو صدر پاکستان جناب جنرل محمد ضیاء الحق کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
اگرچہ اس کے بعض اہم کلمات کو وزارت مذہبی امور نے شاہی آداب کے خلاف سمجھتے ہوئے حذف کر دیا تاہم بقیہ تمام تقریر من و عن نقل کی گئی ہے آخر میں اُن مطالبات کی مکمل فہرست بھی دی جا رہی ہے جو تحریری دستاویز کی صورت میں صدر محترم کو اُس وقت پیش کی گئی تھی اور جن میں سے بعض کا ذکر تقریر میں موجود ہے :
الحمد للہ ان مطالبات میں سے چند پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔ پاسپورٹ پر مذہب کا اندراج مسئلہ امیر المومنین، اُمّہات المومنین، خلیفہ اور صحابہ، مسیح موعود جیسی مقدس شرعی اصطلاحات کے استعمال سے قادیانیوں کو قانوناً روک دیا گیا ہے۔ ہم ان اقدامات پر صدر محترم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک و ملت کے مفاد کی خاطر دوسرے تمام مطالبات و تجاویز کو بھی فوری طور پر عملی جامہ پہنا کر اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوتے ہوئے مزید شکریہ کا موقعہ عطا فرماویں اور اُمت مسلمہ
و فدایان ختم نبوت سے بھی پُرزور التماس کرتے ہیں کہ بقیہ مطالبات کو ملک گیر بنا کر اپنی دینی و ملی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔
آخر میں ہم مولانا موصوف کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انھوں نے جس حق گوئی اور بیباکی کے ساتھ فرنگی سامراج کی ذریت کے تار و پود کو شاہی ایوان میں بکھیرا ۔ اس نے نہ صرف اسلاف ہی کی یاد تازہ کر دی بلکہ افضل جہاد کا فریضہ بھی ادا کر دیا۔
دنیا میں جب تک حق گوئی اور بیباکی نام کی چیز باقی رہے گی ۔ حق گوئی کے اس عظیم کردار کو سلام کرتی رہے گی۔
صدر محترم جناب ضیاء الحق نے اپنی اختتامی تقریر میں یقین دہانی کرائی کہ "میں مولانا منظور احمد چنیوٹی کو یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ احمدی جماعت کے لٹریچر پر کڑی نگاہ رکھی جائے گی اور خلاف اسلام مواد چھپنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔"
ہم امید کرتے ہیں کہ صدر محترم اپنے اس اہم اعلان کا احترام کرتے ہوئے عملی تدابیر اختیار فرما کر قوم کو مطمئن فرما دیں گے۔
خدایا ان کلمات کو شرف قبولیت عطا فرما۔
محمد رفیق عفی اللہ عنہ انچارج شعبہ تالیف و تصنیف و نشر و اشاعت ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ ۔ پاکستان
معرکۃ الآراء
خطاب
o
فاتح ربوہ مولانا منظور احمد صاحب مدظلہ
o
﷽
الحمد للہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ
صدر محترم و حاضرین گرامی !
یہ پہلا موقع ہے کہ صدر محترم نے بالمشافہ اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا ہمیں موقع دیا۔ میں اس بات پر انتہائی ممنون ہوں کہ انہوں نے ایک صحیح قدم اٹھایا ہے صبح سے اس وقت تک علمائے کرام نے نہایت ہی مفید تجاویز اور مثبت تنقید بڑے اچھے انداز میں پیش کی ہے۔ ضروری ہے کہ ان تجاویز کو عمل میں لایا جائے۔ جو باتیں پہلے ہو چکی ہیں ان کا دہرانا تحصیل حاصل ہے۔ برادر محترم مولانا تقی عثمانی صاحب بزرگ محترم مفتی سیاح الدین کاکاخیل، علامہ محمود احمد رضوی، پیر کرم شاہ صاحب اور بعض دیگر حضرات نے جو تجاویز پیش کی ہیں ان کی بھر پور تائید کرتے ہوئے ایک دو باتیں جناب صدر کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارا سرکاری مذہب اس آئین میں طے کر لیا گیا ہے کہ اسلام ہے۔ حکومت کا یہ فرض ہے کہ اسلام کی حفاظت کے لیے وہ تمام اقدامات کرے جو ایک سرکاری مذہب کی حفاظت کیلئے ضروری ہیں۔
جہاں پر اسلامی نظام کی کوششیں ہو رہی ہیں وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ اسلام دشمن طاقتیں جو اسلام پر حملہ آور ہیں ان کا محاسبہ کیا جائے۔ ان کی نگرانی کی جائے۔ مملکت خدا داد پاکستان کی سرحدوں کی جس طرح حفاظت ہمارا فریضہ ہے اس کی ایک ایک انچ مقدس ہے اور اس کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہمارے ملک کے بجٹ کا اکثر حصہ خرچ ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ ملک میں اسلامی نظریات کی سرحدوں کی حفاظت کی جائے۔ اگر ان سرحدوں کی حفاظت نہ
کی جائے اور ہر دشمن اسلام کو منکر اسلام کو ہر غلط اور باطل نظریئے والے کو کھلی چھٹی دی جائے کہ وہ جو چاہے اس ملک کے اندر اپنے باطل نظریات پھیلائے ۔ اور اس پر کسی قسم کی پابندی نہ ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ جو مثبت اقدامات اسلامی نظام کے لیے کئے جا رہے ہیں وہ بار آور اور نتیجہ خیز نہیں ہو سکتے ۔
اس گاڑی کے دو پہیے ہیں ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ۔ اگر آپ معروفات کیلئے کوشش کرتے ہیں تو اس کے لیے منکرات کو روکنے کا بھی کام ضروری ہے۔ ایک طرف کی ٹریفک سے کام نہیں چلے گا ۔ جہاں اس وقت تک کوششیں ہوئیں جن کی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اب توقع ہے کہ ان کو دور کیا جائے گا ۔ وہ صرف ایک پہلو ہے کہ اسلامی نظام کی کچھ حدود اور کچھ احکام کو جاری کیا گیا ہے۔ دوسری طرف کوئی نگاہ نہیں کی گئی ۔ یہاں اس ملک کا جب کہ سرکاری مذہب اسلام ہے تو اس اسلام کی حفاظت کیلئے اور غیر اسلامی نظریات پر پابندی کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے ۔ اس ملک میں عیسائی مشنریوں کو کھلی اجازت ہے ۔ ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کر لیا گیا ۔ اس کے باوجود قادیانی اس ملک کے اندر اپنے کفریہ اور باطل نظریات کو اسلام کے نام پر پیش کر رہے ہیں اور وہ اپنی کھلی تبلیغ کر رہے ہیں ۔ ان پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ ایک اسلامی مملکت کے اندر ہر فرقے کو ، ہر اقلیت کو اپنے مذہب کی آزادی ہے کہ وہ اپنے دائرے میں رہ کر اپنے مذہبی اعمال کر سکتا ہے لیکن ایک اسلامی مملکت کے اندر کسی غیر مسلم کو اپنے غیر اسلامی نظریات کی اشاعت کی اجازت نہیں ۔ اس کو ارتداد کہا جاتا ہے ۔
لیکن اس ملک میں دوسرے باطل نظریات والوں کی طرح ان کو بھی اجازت ہے میں ایک تو آپ کو یہ توجہ دلاؤں گا کہ جہاں آپ یہ کوشش کر رہے ہیں ۔ وہاں آپ اسلام جو سرکاری مذہب ہے اس کی حفاظت کیلئے ایسے اقدام کریں کہ کوئی دشمن اسلام
اسلام پر حملہ آور نہ ہو اور اسلام کے خلاف کسی قسم کی تبلیغی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے اسلام کا سب سے اساسی اور بنیادی عقیدہ ختم نبوت ہے۔ ختم نبوت ہمارے دین کی اساس ہے اور روح ہے۔ جس طرح میرے فاضل مقرر نے بیان کیا ہے کہ حضور نبی کریم صلعم کے بعد حضرت صدیق اکبرؓ نے اسلام کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے اور ان کی حفاظت کے لیے ایک روشن مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے حالات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسلام کی بنیادوں کی حفاظت کی خاطر اتنی عظیم قربانی دی ہے جو تاریخ کے اندر سنہری الفاظ میں موجود ہے۔ آپ مجھ سے بہتر واقف ہیں لیکن یہاں پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بعد اگرچہ انہوں نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور ختم نبوت کے اس عقیدے کے تحفظ کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ۔ حضور اکرم صلعم کی نبوت پر اور آپ کے اس آخری پیغام اسلام پر بدستور حملے ہو رہے ہیں۔ ان حملوں کی حفاظت اور روک تھام کا کوئی انتظام نہیں ہے۔
اس لیے جہاں ہم اسلامی نظام کیلئے کوشاں ہیں۔ اس کی کامیابی کیلئے نظام مصطفےٰؐ کے لیے عظیم قربانیاں دی گئیں اور اس کے لیے توقعات ہوئیں کوششیں ہوئیں لیکن اس سے پہلے میرے نزدیک سب سے زیادہ ضروری ہے کہ مقام مصطفےٰؐ کا تحفظ کیا جائے۔ میں ان نشاندہیوں کی تردید نہیں کرتا جو میرے پیش رو اس میں بیان کرچکے ہیں کہ اسلامی نظام کے نفاذ میں کیا کیا رکاوٹیں ہیں لیکن تکوینی اسباب میں میں یہ سمجھتا ہوں کہ سرور کائناتؐ کے صدقے ہمیں اسلام کی یہ نعمت ملی ہے۔ اگر ان کے مقام کا تحفظ نہیں ہے۔ ان کی عزت کا تحفظ نہیں ہے تو ہم اس ملک میں اسلام کی برکات سے کبھی بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔
سب سے پہلے ضروری ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مقام نبوت کا
تحفظ کیا جائے اور ہر قسم کی جھوٹی نبوت کے دعویدار کے لیے قانوناً اس دعوے کو تعزیری جرم قرار دیا جائے اور اس کی تبلیغ پر قانونی طور پر پابندی لگائی جائے۔ جب تک حضور اکرم صلعم اور دین اسلام کے وہ شعائر جن کی عزت و تکریم ہمارا عقیدہ اور فریضہ ہے ان کا تحفظ نہیں کیا جاتا ، میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت تک ہم کما حقہ دین اسلام کی برکات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ اس سلسلہ میں میری چند ایک تجاویز ہیں جو میں صدر محترم کی خدمت میں اختصار کے ساتھ پیش کرنا چاہتا ہوں۔
- (۱) علامہ رضوی صاحب کی ایک تجویز تھی کہ انبیاء ، صحابہ ، اہل بیت کے خلاف
ہر قسم کی گستاخی کو خلاف قانون قرار دیا جائے میں اس تجویز کی تائید کرتے ہوئے اس کے ساتھ چند اضافے کرتا ہوں۔
- (۲) مولانا مالک صاحب کی تجویز تھی جس میں حضرت صدیق اکبرؓ کا کردار پیش
کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ اسلام کی بنیادوں کی انہوں نے حفاظت کی تھی۔ اسلام کی بنیادوں میں سب سے بنیادی عقیدہ ختم نبوت کا ہے۔ اس کے تحفظ کے لیے میں یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ مملکت پاکستان میں ہر قسم کے دعویٰ نبوت ، دعویٰ مسیح موعود ، مہدی موعود اس کی تبلیغ و اشاعت کو خلاف قانون تعزیری جرم قرار دے کر ان کی شرعی سزا کا اعلان کیا جائے۔
- (۳) حد قصاص ، حد قذف اور چوری کی حدیں نافذ ہوتی ہیں تو ان سے پہلے زیادہ
ضروری ہے کہ اسلام کی حفاظت کے لیے ہم مرتد کی سزا کا اعلان کریں۔
- (۴) اس کے ساتھ ساتھ اسلام کی وہ مقدس اور مختص اصطلاحات القابات اور
خطابات جیسے نبی ، رسول ، مہدی ، اہل بیت ، خلفاء ، اُم المومنین اس قسم کے القابات اور ان کے غلط استعمال پر پابندی لگا دی جائے۔ یہ تمام مقدس اور مختص القابات ہیں جو شرعی نقطہ نظر سے مختص شخصیتوں کے سوا کسی پر استعمال نہیں کیے جاسکتے۔
یہ ہمارے ملک میں ہر روز بلا دریغ استعمال کئے جارہے ہیں۔ اس لیے ان پر پابندی لگائی جائے۔
میں صدر محترم سے گستاخی کرتے ہوئے ایک بات کی اجازت چاہوں گا کہ ہمیں یہ بتایا جائے کہ اس ملک کے اندر امیر المومنین کون ہے وہ جو ربوہ میں ہے؟ یہ لکھا ہوا ہے حضرت امیر المومنین حافظ مرزا ناصر احمد، ایک ملک میں دوسرا امیر المومنین؟ ہمیں یہ سمجھ نہیں آتی۔ قادیانی جو قانونی اور شرعی طور پر کافر ہیں ان کا لیڈر امیر المومنین نہیں کہلا سکتا۔ یہ خلاف قانون اور خلاف شرع ہے۔ جعلی امیر المومنین کے خلاف قانونی کاروائی کیوں نہیں ہوتی؟ قانون کے ضابطے حرکت میں کیوں نہیں آتے۔ اس لیے کہ یہ تمام مقدس اصطلاحات، خلیفہ اول، خلیفہ ثانی اور خلیفہ ثالث۔ یہ لکھا ہے مرزا ناصر کے نام کے ساتھ خلیفہ ثالث۔ پوری دنیائے اسلام کے اندر جب خلیفہ ثالث بغیر نام کے استعمال کیا جائے گا تو اس سے مراد حضرت عثمان غنی ہونگے خلیفہ ثانی سے مراد عمر فاروقؓ ہوں گے۔ خلیفہ اول حکیم نورالدین ہے۔ خلیفہ ثانی مرزا بشیر الدین محمود ہے اور خلیفہ ثالث ان کے نزدیک مرزا ناصر ہے۔ یہ مقدس اصطلاحات ہیں۔ اگر اس ملک میں محمد علی جناح جن کا خطاب قائد اعظم ہے کسی اور کو نہیں دیا جا سکتا۔ کوئی قائد عوام ہے اور کوئی قائد ملت۔ قائد اعظم کا خطاب سرکاری طور پر قانوناً جرم ہے۔ بڑے سے بڑے لیڈر کو ہم نہیں کہہ سکتے۔ تو میں نہیں سمجھتا کہ یہ اسلامی اور شرعی القابات و
لے اس موقعہ پر مولانا نے صدر محترم سے یہ سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا ایک ملک میں دو امیر المومنین ہو سکتے ہیں۔ جب صدر صاحب نے جواب نفی میں دیا تو مولانا موصوف نے ربوہ سے شائع شدہ مرزا ناصر خلیفہ ربوہ کے شائع شدہ خطبات پیش کیے۔ جن پر جلی قلم سے لکھا تھا۔ "حضرت امیر المومنین حافظ مرزا ناصر احمد"
خطابات کا ناجائز استعمال کیوں ہوتا ہے؟ میری تجویز یہ بھی ہے کہ ایسے سب خطابات اور القابات پر پابندی لگائی جائے۔ اُم المومنین اور امہات المومنین حضور صلعم کی بیویاں ہوسکتی ہیں۔ آج غلام احمد قادیانی کی بیوی کو اُم المومنین لکھا جاتا ہے۔ آج اس کی اولاد کو اہل بیت لکھا جاتا ہے۔ آج اس کے ماننے والوں کو صحابہ لکھا جاتا ہے۔ ہر روز ”الفضل“ کے اندر یہ القابات استعمال ہوتے ہیں اور یہ اسلام کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔ جب کہ انہیں خلاف اسلام اور غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے۔ وہ اسلام کے نام پر اس کفر کو دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں لہٰذا ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے ایسے استعمالات پر پابندی لگائی جائے۔
ساتھ ساتھ میں اس سلسلہ میں ایک اور مطالبہ جناب صدر کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں بلکہ میں پہلے اخبارات اور رسائل کے ذریعے سے پیش کر چکا ہوں۔ اب تحریری طور پر بھی پیش کر چکا ہوں۔ قرآن کریم کا ترجمہ اور تفسیر ایک غیر مسلم کو حق نہیں کہ وہ اپنے نظریات کے مطابق قرآن کا ترجمہ اور تفسیر کرے اور اس کو پاکستان کے نام سے پاکستان اور بیرونی دنیا میں تقسیم کرے۔ میں افریقہ اور یورپ کے ممالک کا دورہ کر چکا ہوں۔ قادیانیوں نے لاکھوں کی تعداد میں قرآن کریم کے غلط تراجم چھاپ کر تقسیم کیے ہیں جن کی بیسیوں صریح مثالیں ہیں۔ میں وہ قرآن کا نسخہ ساتھ لایا ہوں۔ صدر محترم کو پیش کرنے کے لیے کہ جناب یہ قرآن کا ترجمہ پاکستان کے نام سے بیرونی دنیا میں تقسیم ہو رہا ہے۔ لوگ باہر پاکستان کو اسلام کا قلعہ سمجھتے ہیں۔ جب وہ پاکستان کا لفظ دیکھتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ اس میں جو کچھ ہے وہ ٹھیک ہے حالانکہ اس کے اندر کفر بھرا پڑا ہے۔ جب قادیانیوں کو کافر اور غیر مسلم تسلیم کر لیا گیا تو انہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ قرآن کا اپنی منشا کے مطابق ترجمہ اور تفسیر کریں۔ لہٰذا ان کے تراجم اور تفاسیر کو ضبط کیا جائے اور ان پر پابندی لگائی جائے۔ اسی طرح خلاف اسلام لٹریچر کی
نشر و اشاعت پر مکمل پابندی عائد کر کے اسے خلاف قانون قرار دیا جائے۔
میں چند رسائل بھی لایا ہوں صدر صاحب کو پیش کرنے کی خاطر ۔ جس میں حضرت سیدنا عیسیٰ ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، صحابہ کرام اور اہل بیت کی شان میں اس قدر صریح گستاخیاں ہیں جو میں اس ہاؤس میں بیان کرنا مناسب نہیں سمجھتا لیکن میں صدر صاحب کی خدمت میں پیش کروں گا۔ یہ تازہ لٹریچر اسی ہفتے میں ربوہ سے آیا ہے ۔ میرے پاس اس کی رسیدیں موجود ہیں ۔ بعض لٹریچر انہوں نے مفت دیا ہے اور بعض ہم نے خریدا ہے۔ یہ لٹریچر چھپ رہا ہے اور اس پر سنسر شپ عائد نہیں ہوتی ۔ انبیاء علیہم السلام کی صریح توہین ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس میں شرابی اور غیر محرم کنجریوں کے ساتھ ان کا تعلق اس کے ساتھ ساتھ حضرت مریم علیہا السلام کا ناجائز یوسف نجار سے تعلق ، اس سے اس کی اولاد کا پیدا ہونا ۔ یہ تمام لٹریچر جس میں کفر بھرا ہے ۔ آپ کے ملک میں چھپ کر اس کی ملک کے اندر اور باہر اشاعت ہو رہی ہے اور تقسیم ہو رہا ہے میں نہیں سمجھتا کہ ایک طرف اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے جہاں ہم کوشش کر رہے ہیں دوسری طرف ہم اسلام کے خلاف جو اس قسم کی اسلام دشمن طاقتوں کے سیلاب روکتے نہیں اور اس کے سامنے بند نہیں باندھتے تو ہماری کوششیں کہاں تک کامیاب ہو سکتی ہیں ۔ اس لیے میرا ایک مطالبہ یہ ہے کہ ایسے لٹریچر کو ضبط کیا جائے ۔ اسلام کے خلاف جس قسم کا لٹریچر ہے اس کی اشاعت پر پابندی لگائی جائے ۔
اس کے ساتھ میرا مطالبہ یہ ہے کہ سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اسلامیات اور دینیات پڑھانے والے مسلم اساتذہ مقرر کیے جائیں اور کسی قادیانی ، کمیونسٹ ، ملحد اور غلط نظریات رکھنے والے کو کم از کم اسلامیات اور دینیات پڑھانے کے لیے ٹیچر نہ رکھا جائے ۔ ہمارے سکولوں اور کالجوں میں قادیانی جو غیر مسلم ہیں ، کمیونسٹ اور ملحد اسلامیات اور دینیات کے مضامین پڑھاتے ہیں ان پر پابندی لگائی جائے ۔
ہمارے موجودہ چیئرمین، ڈاکٹر تنزیل الرحمن صاحب نے اپنی ابتدائی تقریر میں فرمایا کہ ہم شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ کر رہے ہیں۔ میں آپ کے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس کے ساتھ تھوڑا سا اضافہ کرتا ہوں۔ یہ مطالبہ ہم ایک عرصے سے کر رہے تھے۔ شناختی کارڈ کے ساتھ ساتھ راشن کارڈ اور سرٹیفکیٹ پر جو سکولوں سے دیئے جاتے ہیں ان کے اندر بھی مذہب کے خانے کا اضافہ کیا جائے کیونکہ بات وہیں سے چلتی ہے ان میں مذہب کا خانہ ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ جو ہمارا انٹرنیشنل پاسپورٹ ہے اس کے اندر ہمارے مذہب کا اندراج نہیں ہوتا صرف نیشنلٹی ہوتی ہے لہٰذا انٹرنیشنل پاسپورٹ کے اندر مذہب کے خانے کا اضافہ کیا جانا ازحد ضروری ہے۔ اس لیے بھی کہ قادیانیوں کے نام مسلمانوں کی طرح ہیں۔ ان کی بظاہر شکل و صورت مسلمانوں کی طرح ہے لیکن سعودی عرب کے اندر ان کا داخلہ قطعاً ممنوع ہے پاسپورٹ میں اس کی وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے قادیانی وہاں چلے جاتے ہیں۔ یہ سعودی عرب حکومت کے لیے بھی پرابلم ہے اور دوسری عرب حکومتوں کے لیے بھی جہاں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ وہاں جب ہم ان کے سامنے اعتراض کرتے ہیں تو وہ ہم سے کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں کوئی امتیاز نہیں ہے مسلم اور غیر مسلم کا۔ آپ کے پاسپورٹ میں صرف قومیت لکھی جاتی ہے نیشنلٹی۔ میرے علم میں ہے ایک عیسائی لڑکا یوسف نام رکھ کر پاسپورٹ بنا کر مدینہ منورہ میں موجود ہے حالانکہ مدینہ اور مکہ یعنی حرمین شریفین میں کوئی غیر مسلم داخل نہیں ہو سکتا۔ ہماری کوتاہی کی وجہ سے غیر مسلم فائدہ اٹھاتے ہیں لہٰذا شناختی کارڈ کے ساتھ ساتھ پاسپورٹ کے اندر مذہب کے خانے کا اضافہ کیا جائے۔
نظام تعلیم کے سلسلے میں بہت عمدہ اور اچھی تجاویز آچکی ہیں۔ نظام تعلیم اور نصاب دونوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بنیادی طور پر قرآن کریم
کی تعلیم ایک ہے۔ قرآن کریم کے الفاظ ایک ہیں۔ قرآن کریم کے معانی اور اس کے مسائل۔ اس کی سکیمیں بنا دی جائیں۔ اس کے لیے درجات مقرر کر دیئے جائیں اور اس کی تعلیم کو لازمی کر دیا جائے اور انہیں ملازمتوں کے لیے شرط قرار دیا جائے جو مڈل یا میٹرک ہو اس کے لیے شرط ہو کہ وہ قرآن کریم ناظرہ پڑھا ہو۔ گریجویٹ کے لیے شرط ہو کہ وہ قرآن کریم کا ترجمہ جانتا ہو اور جو دوسری سروسز ہیں ان کے لیے کچھ اور شرطیں ہونی چاہئیں۔ اس طریقے سے اس کی اصلاح ہو سکتی ہے۔ یہ چند ایک مطالبات تھے جو میں نے آپ کی خدمت میں پیش کئے ہیں۔ بعض مطالبات اور تجاویز ایسی ہیں جو میں صدر محترم کی خدمت میں تحریری پیش کر رہا ہوں اور میں امید کرتا ہوں کہ صدر محترم ہمیں کچھ علیحدہ ٹائم بھی دیں گے کیونکہ کچھ ایسی باتیں ہیں جو ہم ان سے علیحدگی میں کرنا چاہتے ہیں۔ یہ باتیں وہ تھیں جو میں نے آپ حضرات کے سامنے کی ہیں۔ یہ تھوڑا سا لٹریچر اس وقت جو فوری طور پر مہیا ہوا ہے۔ وہ میں بطور نمونہ لایا ہوں جناب صدر کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ؎
؎ تقریر کے اختتام پر مولانا موصوف نے وہ لٹریچر جس کا سطور بالا میں ذکر ہے۔ صدر صاحب کی خدمت میں پیش کر دیا اور تحریر شدہ چند مطالبات بھی پیش کئے۔ جن میں سے بعض کی وضاحت تقریر میں کی گئی ہے۔ آئندہ صفحات میں وہ تحریری مطالبات بھی دیئے جا رہے ہیں۔
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بخدمت جناب جنرل محمد ضیاء الحق صاحب
صدر و چیف مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر پاکستان
جناب عالی !
گذارش آنکہ قبل ازیں میں مندرجہ ذیل گذارشات ۱۷؍ رمضان المبارک کو ایک خط کے ذریعے آپ تک پہنچا چکا ہوں۔ اس موقع پر ان کا اعادہ مناسب سمجھتا ہوں کیونکہ ان گذارشات پر عمل ہی ملکی سالمیت کا ضامن ہے۔ ۱۹۷۴ء کی پارلیمنٹ نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر اس کو آئین کا مستقل حصہ بنایا مگر بدقسمتی سے اسے ابھی تک کوئی عملی جامہ نہیں پہنایا گیا جس کی بناء پر قادیانیوں نے نہ صرف آئین کے فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکار کیا بلکہ ووٹروں کی فہرست میں بطور غیر مسلم اندراج سے انکار کر کے اس کا عملی ثبوت بھی فراہم کیا۔ اب ان کی ریشہ دوانیاں سول اور فوج میں بڑھ رہی ہیں جس کے ثبوت میں میں نے ایک محب وطن مخلص پاکستانی فوجی آفیسر کے ایک خط کی فوٹو کاپی ساتھ بھیجی تھی۔ مسئلہ کی نزاکت اور سنگین صورتِ حال اختیار کرنے سے پیشتر تمام عالم اسلام ضروری سمجھتا ہے کہ مندرجہ ذیل تجاویز کو بروئے کار لایا جائے تاکہ یہ فتنہ اپنی موت آپ مرجائے۔
٭ تجاویز و مطالبات ٭
- ۱۔ مرزائیوں کا خلافِ اسلام لٹریچر ضبط کیا جائے اور مزید اشاعت پر پابندی لگائی جائے
- ۲۔ مرزائیوں کو مسجد، نماز، اذان، نبی، رسول، خلیفہ، امیر المومنین، امہات المومنین
صحابہ جیسی اصطلاحات کے استعمال سے قانوناً باز رکھا جائے۔
- ۳۔ شناختی کارڈ، پاسپورٹ، راشن کارڈ، اسکول سرٹیفکیٹ میں مذہب کا اندراج
کیا جائے۔
له
- ۴۔ قرآن کریم کے غلط تراجم جو قادیانیوں نے اپنے کفریہ عقائد اور خلاف اسلام
نظریات کے مطابق کئے ہیں اور غیر ممالک میں جو بہت بڑی تعداد میں شائع کرکے پاکستان کے نام پر سادہ اور ناواقف مسلمانوں کی گمراہی کا باعث بن رہے ہیں ان پر فوری پابندی اور ان کی ضبطی کے احکام جاری کئے جائیں ۔
- ۵۔ قادیانیوں کے عالمی ہیڈ کوارٹر "ربوہ" کا نام تبدیل کیا جائے کیونکہ انہوں
نے قرآن کریم کے پارہ نمبر ۱۸، آیت نمبر ۵۰ میں جو خطرناک معنوی تحریف کی ہے اس سے آنے والی مسلمان نسلیں محفوظ ہو جائیں ۔
- ۶۔ سکولز ، کالجز اور یونیورسٹیوں میں عربی اسلامیات کی پوسٹوں پر مرزائی
اساتذہ کی تقرری روکی جائے ۔
- ۷۔ مرزائیوں کو کلیدی اسامیوں سے برطرف کیا جائے ۔
- ۸۔ ان کی نیم فوجی تنظیموں پر پابندی عائد کی جائے ۔
- ۹۔ پاکستان میں دعویٰ نبوت اور اس کی ہر قسم کی اشاعت کو قابل تعزیر
جرم قرار دیا جائے ۔
- ۱۰۔ ان کی جماعت کو اسلام اور ملک دشمن سرگرمیوں کی بناء پر خلاف قانون قرار دیا جائے
عالیجاہ ! ان ایمان افروز تجاویز پر جرأت ایمانی سے عمل کرائیں ، انشاء اللہ یہ تجاویز آپ کو اسلامی نظام کے اجراء میں ممد ثابت ہوں گی — واللہ المستعان
آپ کا مخلص ۔ خادم ختم نبوت (مولانا) منظور احمد چنیوٹی ناظم اعلیٰ ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ
له الحمدللہ کہ یہ مطالبہ اب منظور ہوچکا ہے ، اس کی شہادت اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں ۔
پاکستان میں سب سے زیادہ چھپنے والا DAILY NAWA-I-WAQT LAHORE قومی امنگوں کا ترجمان لاہور نوائے وقت لاہور، راولپنڈی، ملتان اور کراچی سے بیک وقت شائع ہوتا ہے
جلد ۴۱ پیر ۲۷ رجب المرجب ۱۴۰۱ھ، یکم جون ۱۹۸۱ء، ۱۹ جیٹھ ۲۰۳۸ ب فون نمبر : ۳۰۲۰۵۰ تا ۵۴ قیمت : ایک روپیہ رجسٹرڈ ایل ۳۵۹۹ شمارہ ۳۲۷
مرزا بشیر الدین محمود
کے ترجمہ کی ضبطی
کی اخباری شہادت
مرزا بشیر الدین محمود کا قرآن پاک
کا ترجمہ
ضبط کر لیا گیا
مذموم مقصد کے تحت دانستہ
غلط ترجمہ شائع کیا گیا ہے
لاہور ۳۱ مئی (پ پ ا) حکومت پنجاب نے مرزا بشیر الدین محمود احمد کے ترجمہ کردہ اور قرآن پبلیکیشنز ربوہ کے شائع کردہ اور شیخ عبدالواحد سن رائز پیکجز ۸ ڈیوس روڈ لاہور کے چھاپے ہوئے قرآن کریم معہ با محاورہ اردو ترجمہ کے تمام نسخے فوری طور پر بحق سرکار ضبط کر لئے ہیں۔ یہ کارروائی ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۹۹ اے کے تحت عمل میں لائی گئی ہے کیونکہ متذکرہ ترجمہ غلط اور خود ساختہ تھا اور قرآن پاک کے مستند ترجمہ کے بالکل برعکس تھا اور اس کا سوچا سمجھا مذموم مقصد مسلمانان پاکستان کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا تھا۔
مرزائیوں پر ایک اور کاری ضرب
اور
اُمتِ مُسْلِمَہ کی شاندار فتح!
قادیانی عرصہ دراز سے قرآن مجید کے ترجمہ وتفاسیر کی آڑ میں اپنے کفریہ عقائد اور باطل نظریات کا اندرون و بیرون ملک پرچار کر رہے تھے اور امت مسلمہ کو قرآن مجید کے تراجم کے ذریعہ اسلام اور پاکستان کے نام سے گمراہ کر رہے تھے۔ بیرون ملک یورپ اور افریقہ میں بطور خاص سادہ لوح مسلمان اس خطرناک تحریفی گمراہی سے زیادہ متاثر ہوئے، کیونکہ قادیانیوں نے ایسے تراجم لاکھوں کی تعداد میں مفت تقسیم کئے۔ فاتح ربوہ سفیر ختم نبوۃ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے اپنے بیرون ملک دوروں میں مسلمانوں کی اس حالت زار کا شدت سے احساس کیا اور ملک بھر میں تقریر وتحریر کے ذریعہ نہ صرف قوم کو ہی احساس دلایا ، بلکہ ۲۱، ۲۲ اگست کو علماء کنونشن اسلام آباد میں مؤثر انداز میں صدر مملکت سے پر زور مطالبہ بھی کیا ، بالآخر ۷ اپریل ۱۹۸۱ء کو صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کے ساتھ براہِ راست ملاقات کے دوران ان تحریف شدہ انگریزی / اردو قرآن مجید کے تراجم وتفاسیر کے مکمل سیٹ پیش کئے جن پر باقاعدہ نشان دہی اور غلط وصحیح تراجم کا تقابل کر دیا گیا تھا۔ اور امت مرحومہ کی اس حالت زار پر رحم کرنے کی پر زور درخواست کی۔ صدر محترم نے وعدہ کیا کہ عنقریب اسکے متعلق کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
الحمد للہ حکومت نے یکم جون ۱۹۸۱ء کو مرزا بشیر الدین محمود کے مترجم قرآن پاک کی باقاعدہ ضبطی کا اعلان کر کے اُمتِ مرزائیہ پر ایک کاری ضرب لگا کر اُمتِ مسلمہ کو اُن کے خطرناک دجل و فریب سے بچا لیا۔ ہم اس جرأت مندانہ اقدام پر جنرل محمد ضیاء الحق کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ظفر اللہ ، مولوی شیر علی ، ملک غلام فرید اور مولوی محمد علی میر لاہوری جماعت وغیرہ کے بقیہ اردو / انگلش تراجم و تفاسیر کو جو اس قسم کے کفریات اور اشتعال انگیز مواد سے بھرے پڑے ہیں فی الفور ضبط کیا جائے ۔ نیز حکومت پنجاب کے اس جرأت مندانہ اقدام کی باقی صوبائی حکومتیں فوری طور پر تقلید کریں تاکہ پورے ملک میں اس فتنہ کا سدِ باب ہو سکے۔