تحریک ختم نبوت (1954ء تا 1974ء) جلد 2 · مولانا اللہ وسایا
Tahreek Khatm-e-Nubuwwat · Vol. 2 · Moulana Allaha Vasaya
PDF 1

تَحْرِیکِ خَتْمِ نُبُوَّتْ

1954ء تا ابتداء 1974ء

۲

ترتیب وتحقیق

شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ۱

تحریک ختم نبوت جلد(2) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد(2) حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

(۱۹۵۴ء تا ابتداء ۱۹۷۴ء)

(۲)

ترتیب و تحقیق:

مولانا اللہ وسایا

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ملتان فون نمبر: 4783486 (061)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (۲) حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نام کتاب : تحریک ختم نبوت (۱۹۵۲ء تا ابتداء ۱۹۷۴ء) (جلد دوم)

ترتیب و تحقیق : مولانا اللہ وسایا صفحات : ۵۹۲ قیمت : ۳۰۰ روپے اشاعت اوّل : جولائی ۱۹۹۳ء اشاعت دوم : جنوری ۲۰۲۰ء مطبع : شمشاد پرنٹنگ پریس لاہور ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

جلد اوّل ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء جلد دوم ۱۹۵۲ء تا ابتداء ۱۹۷۴ء جلد سوم ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء تا ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء جلد چہارم ۸ ستمبر ۱۹۷۴ء تا ۳۱ دسمبر ۱۹۸۵ء جلد پنجم ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء جلد ششم ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء جلد ہفتم ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء جلد ہشتم ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء جلد نہم ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء جلد دہم ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء

Ph: 061-4783486

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

فہرست

انتساب ۳۱ شیخ المشائخ حضرت خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کا پیغام ۳۲ خراج تحسین ۳۳ باب اوّل ...... نگاہِ اوّلین ۳۴ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۵۴ء کے حالات و واقعات ۳۷ احتساب قادیانیت کی سرگزشت ۳۸ تحریک ختم نبوت کے آخری نظر بند کی رہائی ۳۸ جناب محمد نذیر کی سزائے پھانسی کی تنسیخ کے سلسلہ میں ۳۸ حضرت امیر شریعت کا مکتوب جناب سہروردی کے نام ۳۹ قادیانی جماعت میں اندرون خانہ رسہ کشی ۴۰ ہرچہ برخود ۴۰ رنگون میں قادیانیت ۴۲ مرزا محمود امریکہ نہ جاسکے ۴۳ مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد ۴۳ مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام ۴۴ مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۷۴ھ، مطابق ستمبر ۱۹۵۳ء تا اگست ۱۹۵۴ء ۴۶ قادیان ۴۶ ختم نبوت ٹرسٹ ۴۷ مقدمات کی بھرمار ۴۸ پیر سید محمد چراغ شاہ صاحب ۴۸ اجتماع تبلیغ ۴۸ اسلامیان ہند کی فراخ دلی ۴۸ قادیان کے سکول ۴۹ رکاوٹوں کا ازالہ ۴۹

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا

تحفظ ختم نبوت کی تنظیم جدید ۴۹

دفتر تحفظ ختم نبوت کراچی کا قیام ۵۱

مدرسہ تحفظ ختم نبوت کا قیام ۵۱

سرگودھا میں مدرسہ کی شاخ ۵۲

کراچی میں کام کی توسیع ۵۲

دورۂ سندھ ۵۲

بلوچستان ۵۲

صوبہ سرحد ۵۲

آزاد کشمیر ۵۲

انتخابات پنجاب اسمبلی اور قادیانی گروہ ۵۳

تبلیغی نظام کی ضرورت ۵۳

تبلیغ کا نتیجہ ۵۴

حضرت علامہ سید سلیمان ندوی ۵۴

جیل سے رہائی کے بعد ۵۵

دستور مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ۵۵

انتخاب ۵۶

تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۵۵ء تا ۱۹۵۶ء کے حالات و واقعات ۵۷

مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام اور لیگ حکومت کا عتاب ۵۸

سمندری و لاہور میں ختم نبوت کانفرنسیں ۵۸

مولانا محمد علی جالندھری کی گرفتاری اور رہائی ۵۹

شیخ حسام الدین کے نام عدالت کا نوٹس ۵۹

ختم نبوت کانفرنس جھنگ ۶۰

چٹان کا اداریہ ”خون رائیگاں“ ۶۰

ختم نبوت کانفرنس لاہور میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ...... سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی تقریر ۶۰

مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا محمد علی پر پابندی ۶۱

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد(2) حضرت مولانا اللہ وسایا

بہاول نگر میں مولانا لال حسین اختر کی ولولہ انگیز تقاریر ۶۲ ختم نبوت کانفرنس بھلوال ۶۲ سید عطاء اللہ شاہ بخاری پر پابندی ۶۳ سید عطاء اللہ شاہ بخاری پر مسلسل عتاب ۶۳ مولانا محمد علی جالندھری کی نقل و حرکت پر پابندی ۶۵ ظفر اللہ کے استعفیٰ سے سیاسی حلقوں میں سنسنی ۶۵ مولوی عبدالقیوم سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار ۶۵ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے خلاف مقدمہ کی سماعت ملتوی ۶۵ مولانا محمد علی جالندھری کے مقدمہ کی سماعت ملتوی ۶۶ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے خلاف مقدمہ کی سماعت ۶۶ مولانا محمد علی جالندھری کے مقدمہ کی سماعت ۶۶ ہندوستان ظفر اللہ خان کی شرکت پر اعتراض نہیں کرے گا ۶۶ گوجرانوالہ میں ختم نبوت کانفرنس ختم ہوگئی ۶۶ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی گرفتاری ۶۶ قادیانی کو مسلمان ہجوم نے سنگ سار کر کے قتل کردیا ۶۷ مملکت کے اندر مملکت نوائے وقت کا شذرہ ۶۷ چوہدری ظفر اللہ خان کی نئی نویلی دلہن کے پرانے شوہر کی دلچسپ داستان ۶۸ مولانا لال حسین اختر کے خلاف مقدمہ منتقل ۷۰ قابل اعتراض تقاریر کے مقدمہ کی سماعت ملتوی ۷۰ قابل اعتراض تقریر کرنے پر وارنٹ گرفتاری ۷۰ مولانا سلطان محمود پر پابندی ۷۰ مولانا محمد رمضان کی نقل و حرکت پر پابندی ۷۱ مفتی محمد شفیع کا مطالبہ...... فیروز خان نون کو برطرف کیا جائے ۷۱ یہود نواز وزیر خارجہ کو برطرف کرنے کا مطالبہ ۷۱ مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تحریک تحفظ ختم نبوت کے بعد کراچی میں پہلا عظیم الشان جلسہ عام ۷۲ مجلس تحفظ ختم نبوت کے سات رہنماؤں کا جھنگ میں داخلہ بند کردیا گیا ۷۲

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ٦

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا

مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۷۴ھ، ۱۳۷۵ھ مطابق ستمبر ۱۹۵۴ء تا اگست ۱۹۵۶ء ۷۴ حضور ﷺ کی پیشین گوئی ۷۴ متنبی قادیان ۷۴ علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری سابق صدر مدرس دارالعلوم دیوبند ۷۴ بشارتیں حضرت مونگیری ، حضرت درخواستی ۷۵ ہمہ گیر جدوجہد ۷۵ نئے عزائم و مقاصد ۷۶ مجلس کے اجتماعات ۷۶ لٹریچر ۷۶ مشکلات ۷۷ بلوچی، سندھی اور پشتو میں تبلیغ ۷۷ عربی مدارس اور مجلس تحفظ ختم نبوت ۷۷ ملکی دستور اور مجلس تحفظ ختم نبوت ۷۸ حضرت مولانا شمس الحق افغانی ۷۸ اکابرین کرام کے خطوط ۷۸ حضرت افغانی کا والا نامہ ۷۸ حضرت مولانا احمد علی لاہوری کا والا نامہ ۷۸ ختم نبوت کانفرنس سرگودھا ۷۹ طریق انتخابات ۸۰ مولانا عبدالستار نیازی ۸۰ مولانا شمس الحق ۸۰ مولانا مظہر علی اظہر ۸۰ مولانا لال حسین اختر ۸۱ مجلس تحفظ ختم نبوت اور اس کا تبلیغی نظام ۸۱ خلیفہ ربوہ کے متواتر مظالم اور حکومت کی خاموشی پر میرے آخری فیصلہ کا اعلان ۸۲

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا

مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۷۶ھ، مطابق اگست ۱۹۵۶ء تا جولائی ۱۹۵۷ء ۸۳

متنبی قادیان ۸۳

قادیان میں مظالم ۸۴

قادیانیوں کے خلاف سب سے پہلا فتویٰ تکفیر ۸۴

قادیان کے بعد ربوہ ۸۶

مجلس تحفظ ختم نبوت کی سنہری خدمات ۸۷

تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۵۷ء، ۱۹۵۸ء کے حالات و واقعات ۸۹

جماعت احمدیہ کے فہمیدہ اصحاب سے (ایک قادیانی کی گزارشات) ۹۰

احمدیہ تحریک (از ملک محمد جعفر ایڈووکیٹ) ۹۱

ترجمان اسلام لاہور میں مولانا غلام غوث کا اداریہ ۹۲

وزراء پاکستان اور امریکہ ۹۲

ربوہ میں مولوی صدر دین کا خاموش مظاہرہ ۹۳

مسیح موعود بننے کا پاکستانی دعویدار ۹۳

متحدہ عرب جمہوریہ میں قادیانیوں کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا ۹۴

مصر و شام میں قادیانیت خلاف قانون ۹۴

مجلس تحفظ ختم نبوت کے اجتماعات ۹۵

”خاتم النبیین“ ضبط قرار دے دی گئی ۹۵

اراکین مجلس تحفظ ختم نبوت کا اجلاس ۹۵

عرب ممالک میں پاکستان کے خلاف جذبات پائے جاتے ہیں ۹۵

سکھر میں ختم نبوت کانفرنس ۹۶

قادیانیوں کو متحدہ عرب جمہوریہ کے علاقہ شام میں غیر قانونی جماعت قرار دیدیا گیا ۹۶

قادیانی کافر ہیں۔۔۔۔۔۔ مفتی اعظم شام کا فتویٰ ۹۶

وزارت داخلہ شام کی کارروائی ۹۷

انسپکٹر جنرل پولیس کا اعلامیہ ۹۸

ری پبلکن پارٹی سے فرار ۹۸

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۸

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد(2) حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۵۹ء تا ۱۹۶۱ء تک کے حالات و واقعات ۹۹ مولوی غلام مرشد صاحب ۱۰۰ مجلس کے شعبہ تبلیغ کی خدمات پر ایک نظر ۱۰۲ تبلیغی مقامات کا نقشہ ۱۰۳ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۶۲ء کے حالات و واقعات ۱۰۵ سرگودھا، قادیانی عبادت گاہ کیس ۱۰۶ چوہدری ظفر اللہ پر امید ہیں ۱۰۷ صوبائی اسمبلی میں سوالات کرنے کا نوٹس ۱۰۷ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۶۳ء کے حالات و واقعات ۱۰۹ سکندر مرزا قومی غدار ۱۱۰ حکومت اور فرقہ واریت کے متعلق حضرت مفتی محمود و حضرت جالندھری کی پریس کانفرنس ۱۱۱ چٹان، قادیانی اور سرکار ۱۱۱ داتا ضلع ہزارہ کا شہر کفر و ارتداد کی لپیٹ میں ۱۱۴ برما رنگون میں مرزائیت کا احتساب ۱۱۴ تحفظ ختم نبوت ۲۱ویں سالانہ کانفرنس چنیوٹ ۱۱۵ مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۸۲ھ، مطابق جون ۱۹۶۲ء تا مئی ۱۹۶۳ء ۱۱۶ حفاظت ختم نبوت کی اہمیت اور بشارتیں ۱۱۶ حضرت گنگوہی ۱۱۶ حضرت تھانوی ۱۱۶ حضرت مولانا سید انور شاہ صاحب ۱۱۷ دعوت حفظ ایمان ۱۱۷ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی ۱۲۰ حضرت مولانا محمد علی صاحب مونگیری ۱۲۰ حضرت رائے پوری ۱۲۰ ایک خواب ۱۲۱ ہمہ گیر جدوجہد ۱۲۱ www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا

انقلابی حکومت ۱۲۲ نشر و اشاعت ۱۲۲ مرزائیت پھر حرکت میں ۱۲۲ انقلابی حکومت ۱۲۲ ہمارے قابل احترام صدر پاکستان کو اس طرف خاص توجہ کرنی چاہئے ۱۲۲ فرقہ وارانہ فسادات ۱۲۲ گوجرانوالہ و کوئٹہ ۱۲۵ جماعت کی تبلیغی مساعی ۱۲۵ آہ! حضرت امیر شریعت ۱۲۵ جدید انتخاب ۱۲۶ فہرست مبلغین و ملازمین جماعت ۱۲۶ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۶۴ء کے حالات و واقعات ۱۲۷ چنیوٹ میں دارالمبلغین کا قیام ۱۲۸ شہدائے ختم نبوت کو خراج عقیدت ۱۲۸ ختم نبوت کانفرنس ۱۲۸ مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چنیوٹ میں دارالمبلغین کا قیام ۱۳۲ مرزا غلام احمد قادیانی کے کتابچہ کی ضبطی ۱۳۲ مرزا غلام احمد قادیانی کا پمفلٹ ضبط کر لیا گیا ۱۳۳ حکومت جرأت سے کام لے ۱۳۳ ایک غلطی کا ازالہ ۱۳۳ قادیانیوں کی دھمکیاں اور واویلا ۱۳۴ ایک غلطی کا ازالہ ۱۳۶ حکومت مغربی پاکستان متوجہ ہو ۱۳۷ چنیوٹ میں دارالمبلغین کا افتتاح ۱۳۸ افتتاحی اجلاس کی کارروائی ۱۳۹ مرزائیوں کے لئے زرمبادلہ ۱۴۰

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا

گھر کا بھیدی ۱۴۰ تحریک ختم نبوت کا قاتل جنرل اعظم خان ۱۴۱ خواجہ ناظم الدین سے ۱۴۲ قادیانی پریس ۱۴۲ المنبر اور قادیانی پریس ۱۴۳ میں مرزائی نہیں ہوں، ایوب خان و جنرل محمد اعظم خان ۱۴۶ سر ظفر اللہ خان جواب دیں؟ ۱۴۷ ۱۳ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ ۱۴۹ جمعیۃ علمائے اسلام اور الیکشن ۱۴۹ قادیانی فتنہ ۱۵۰ مقدمہ روئداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۸۳ھ، مطابق جون ۱۹۶۳ء تا مئی ۱۹۶۴ء ۱۵۰ مجاہدین آزادی کے نام کی فہرستیں انگریز حکام کی خدمت میں ۱۵۰ محاذ قادیان پر کام کرنے والے علمائے کرام ۱۵۱ مجلس احرار اسلام ۱۵۲ ایک سوال ۱۵۲ قادیانی عقائد باطلہ ۱۵۲ قادیانی مذہب پر علمائے اسلام کے فتاویٰ ۱۵۴ ڈاکٹر محمد اقبال اور قادیانی گروہ ۱۵۵ ”قادیانیت“ یہودی مذہب کا چربہ ہے ۱۵۵ قادیانی گروہ وحدت اسلامی کا دشمن ہے ۱۵۶ قادیانی گروہ سرور عالم ﷺ کا گستاخ ہے ۱۵۶ قادیانی جماعت کو اقلیت قرار دیا جائے ۱۵۶ روح علامہ اقبال کو تکلیف ۱۵۶ اسلامیان پاکستان کا مرزائیوں کے غیر مسلم ہونے پر اجماع ۱۵۷ موجودہ حکومت ۱۵۷ مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۵۷

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا محمد حیات صاحب ۱۵۸ مجلس مرکزیہ کے عہدیداران ومجلس شوریٰ ۱۵۸ نشر و اشاعت ۱۵۸ ایک سرکاری آفیسر ۱۵۸ پاکستان کے صدر محترم ۱۵۸ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۶۵ء کے حالات و واقعات ۱۵۹ ایک اور شکست ۱۶۰ ہے یہ گنبد کی صدا! جیسی کہو، ویسی سنو ۱۶۰ پنجاب یونیورسٹی اور علامہ اقبال ۱۶۱ پانچ ہزار روپیہ ۱۶۶ پنجاب یونیورسٹی اور مرزائی ۱۶۷ پنجاب یونیورسٹی کے دانشور؟ ۱۶۸ قاضی محمد اسلم اور مسند اقبال ۱۶۸ عذر گناہ بدتر از گناہ ۱۶۹ پنجاب یونیورسٹی کی شاہکار معذرت ۱۶۹ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر کی تعمیر ۱۷۰ مجلس تحفظ ختم نبوت کے جلسہ سے علماء کا خطاب ۱۷۱ مجلس تحفظ ختم نبوت کا مرکزی دفتر ۱۷۱ علماء پر تقاریر کرنے کی پابندی ۱۷۲ ٹاؤن کمیٹی ربوہ کا بجٹ ۱۷۲ نیشنل اسمبلی ہال میں ۱۷۳ جنگ ۱۹۶۵ء ۱۷۷ متحدہ اسلامی محاذ کے وفد کی گورنر سے ملاقات...... قومی دفاعی فنڈ کے لئے سات ہزار کا عطیہ ۱۷۷ جہاد کو تمام عبادتوں سے مقدم قرار دیا گیا ہے...... مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کی تقاریر ۱۷۷ مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۸۴ھ، مطابق جون ۱۹۶۴ء تا مئی ۱۹۶۵ء ۱۷۸ اسلام سے مراد فرقہ احمدیہ ۱۷۹

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا

مردہ اسلام ۱۷۹

ہمارا مقصد تبلیغ قادیانیت ہوگا ۱۷۹

مرزاغلام احمد کے بغیر اسلام ایک خشک درخت ہے ۱۷۹

چوہدری ظفراللہ قادیانی کے اصل الفاظ ۱۸۰

مسلمانوں سے ہماری ہر ایک چیز جدا ہے ۱۸۰

مرزاغلام احمد قادیانی کے مذہب کے دو حصے ۱۸۰

قادیانیوں کا عاجی خدا ۱۸۱

گورنمنٹ انگریزی کی وفاداری ۱۸۱

پچاس ہزار کتابیں ۱۸۲

پچاس الماریاں ۱۸۲

گورنمنٹ برطانیہ کا اوّل درجہ کا خیرخواہ ۱۸۲

سینئر سول جج کرنال کی شہادت، مہدی بنانے کی کہانی ۱۸۳

بیرونی ممالک میں قادیانی تبلیغ کے چند نمونے ۱۸۵

افغانستان میں صاحبزادہ عبداللطیف کے قتل کی وجہ ۱۸۵

روس میں تبلیغ قادیانیت کے نتائج ۱۸۵

جرمنی میں تبلیغ قادیانیت کا نمونہ ۱۸۶

تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۶۶ء کے حالات و واقعات ۱۸۷

ظفر اللہ خان ۱۸۸

چوہدری ظفراللہ خان کے متعلق مولانا بہاء الحق قاسمی کا مکتوب ۱۸۸

قادیانی جماعت کا بجٹ ۱۹۰

یہ فرقان فورس کیا بلا ہے؟ ۱۹۲

اسرائیل میں قادیانی مشن اور ذوالفقار علی بھٹو ۱۹۳

اسرائیل میں قادیانی مشن ۱۹۳

وزیر خارجہ پاکستان سے اسٹوڈنٹس کے وفد کی ملاقات ۱۹۴

قادیانیوں کی تازہ ترین اشتعال انگیزی مرزا محمود فخر رسل ۱۹۶

لمحہ فکریہ! قادیانیوں کی علیحدگی پسندی ۱۹۷

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا

خلیفہ ربوہ کی سرگرمیاں، مسلم کانفرنس کشمیر کے چوہدری غلام عباس سے ملاقات ۱۹۹ ظفر اللہ خان اور ملک فیروز خان نون، جوتا برادری اور ملاقات مرزا محمود ۲۰۰ ظفر اللہ خان اور سر فضل حسین کے جوتے ۲۰۰ کیا ارباب ربوہ جواب دیں گے؟ ۲۰۱ جماعت احمدیہ کا پہلا یورپی کنونشن، قادیانی جماعت اور اقتدار ۲۰۱ خطیب پاکستان حضرت مولانا الحاج قاضی احسان احمد شجاع آبادی کا وصال ۲۰۳ مجلس تحفظ ختم نبوت کے تبلیغی اجتماعات ۲۰۴ مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۸۵ھ، مطابق مئی ۱۹۶۵ء تا اپریل ۱۹۶۶ء ۲۰۴

تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۶۷ء کے حالات و واقعات ۲۰۷

تین روزہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ ۲۰۸ ماہنامہ الفرقان قادیانی کی گستاخی پر احتجاج ۲۰۸ سر ظفر اللہ خان کی اشتعال انگیزی، ہمارے مخالف نہیں رہے ۲۰۸ چوہدری ظفر اللہ خان وضاحت کریں، ایک امیر، ایک خلیفہ ۲۰۹ سر ظفر اللہ خان کی منافرت انگیزی، کہاں ہیں عطاء اللہ شاہ بخاری؟ ۲۱۱ ربوہ کی حقیقت؟ ۲۱۴ ربوہ میں قادیانی دہشت پسندی اور بربریت کی انتہاء...... دو مسلمان طلباء کو حبس بے جا میں رکھ کر بیدزنی کا وحشت ناک سانحہ ۲۱۶ ربوہ تشدد کیس کے لئے ایکشن کمیٹی قائم کر دی گئی ۲۱۷ ربوہ تشدد کیس کی سماعت ۲۱۸ ڈپٹی کمشنر ساہیوال کا مولانا حبیب اللہ کو نوٹس ۲۱۸ باطنی جہاد کا اعلان، خواجہ حسن نظامی کا ایک چیلنج ۲۱۹ اجمیر شریف میں بلاوا ۲۲۱ افریقہ میں قادیانیوں کی سرگرمیاں ...... بریگیڈیئر گلزار احمد کے تأثرات ۲۲۲ قادیانی مشن صرف انگریزی علاقوں میں قائم ہیں ۲۲۲ افریقی باشندے قادیانی مشنوں سے نالاں ہیں ۲۲۲ قادیانی مشن افریقی ممالک میں انتشار پھیلا رہے ہیں ۲۲۳ مسلمانوں کو قادیانی بنایا جا رہا ہے ۲۲۳

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا

زر مبادلہ کا ہیر پھیر ۲۲۳ افریقہ کی جوڈیشل کونسل کا فتویٰ ۲۲۴ نائیجیریا سے تازہ ترین خط ۲۲۴ اسلامی مشاورتی کونسل ...... تحریک ارتداد کے خلاف سفارشات ۲۲۵ گستاخی اور شرانگیزی، مانوالہ ضلع لائل پور میں قادیانی شرارت ۲۲۵ مرکز اسلام میں قادیانیوں کی گرفتاریاں ۲۲۶ تمام ماتحت مجالس تحفظ ختم نبوت کے نام ضروری ہدایت ...... دینی جماعتوں اور مدارس عربیہ سے اپیل ۲۲۸ ظفر اللہ اور دیگر قادیانیوں کے حرم شریف میں داخلے پر احتجاج ۲۲۸ قرارداد لائل پور ۲۲۹ اجلاس عام لائل پور ۲۲۹ سعودی عرب سفارت خانہ کراچی سے پرزور احتجاج ۲۲۹ اسرائیل میں مرزائی مشن ۲۳۰ آزاد کشمیر کے دو قادیانی لیڈر ...... خورشید، ابراہیم گٹھ جوڑ کا پس منظر ۲۳۰ علامہ اقبال کا خط پنڈت جواہر لال نہرو کے نام ۲۳۱ مدیر لولاک کو وارننگ ۲۳۲ قادیانیوں کے لئے زر مبادلہ (۱۹۶۳ء سے ۱۹۷۶ء تک) ۲۳۳ صدر احرار شیخ حسام الدین کا سانحہ ارتحال ۲۳۴ الفضل کا لاہوری متنبّی ۲۳۵ مسیلمہ کے جانشین ۲۳۷ خلیفہ ربوہ کے خلاف مظاہرہ ۲۳۹ خلیفہ ربوہ کا عزم یورپ ۲۳۹ مرزا ناصر احمد کی پریس کانفرنس پر مولانا محمد علی جالندھری کا تبصرہ ۲۴۰ احمدیوں اور مسلمانوں کے عقائد مختلف ہیں ...... مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ کا بیان ۲۴۰ ختم نبوت ۲۴۱ کلمہ گو کی تکفیر ۲۴۱ وفات مسیح ۲۴۲

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا

پیش گوئی اسمہ احمد اور اس کا مصداق ۲۴۲ کلمہ گو کا جنازہ ۲۴۲ غیر از جماعت کے حق میں دعائے خیر ۲۴۳ معصوم کا جنازہ ۲۴۳ مرزا قادیانی کو سچا ماننے والے کا جنازہ ۲۴۳ عام مسلمانوں سے مناکحت ۲۴۳ عام مسلمانوں کو ”السلام علیکم“ کہنا ۲۴۳ عامۃ المسلمین کے ساتھ نماز پڑھنا ۲۴۴ مرزا قادیانی کو نہ ماننے والے کے پیچھے نماز ۲۴۴ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی برکات ختم ہوچکی ہیں (نعوذ باللہ) ۲۴۴ مقام محمدیت سے آگے کوئی مقام نہیں ہے ۲۴۴ مرزا ناصر احمد خلیفہ ربوہ متوجہ ہوں ۲۴۵ مرزا ناصر کی راولپنڈی میں بکواس ۲۴۵ مرزا ناصر کی فضول خرچیاں ۲۴۷ سپاس عقیدت...... مولانا لال حسین اختر کا دورۂ یورپ ۲۴۸ مولانا لال حسین اختر کا مرزا ناصر کو چیلنج ۲۵۰ انگلستان میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی عظیم الشان کامیابی ۲۵۱ ووکنگ مسجد میں تردید مرزائیت ۲۵۲ قادیانیوں سے چشم پوشی کب تک؟ ۲۵۳ قلم برداشتہ (آغا شورش کاشمیری) ۲۵۴ چور اور چوکیدار سے ایک جیسا سلوک (چٹان والفضل پر سنسر) ۲۵۶ ربوہ اردو کانفرنس ناکام ہوگئی ۲۵۷ ربوہ میں مسجد اقصیٰ کی تعمیر ۲۵۸ قادیانیوں کی اسلام دشمنی ۲۵۹ ایک واقعہ ۲۵۹ سرگودھا میں مرزائیوں کے جلسہ کا ردعمل ۲۶۰

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا

سرگودھا سے شائع ہونے والے اشتہار کا متن ۲۶۰

دوسرے اشتہار کا متن، سرگودھا کی صحافت پر بدنما زہریلا ناسور ۲۶۱

چوہدری ظفر اللہ کی لغزش ۲۶۱

سر ظفر اللہ کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار ۲۶۲

شرم تم کو مگر نہیں آتی ...... چوہدری ظفر اللہ خان سے ۲۶۳

مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۸۶ھ، مطابق مئی ۱۹۶۶ء تا اپریل ۱۹۶۷ء ۲۶۵

کفر کے لئے جاسوسی اور دعوئی مندرجہ ذیل ہے ۲۶۶

بقول مرزا قادیانی ۲۶۷

مردم شماری کے رجسٹرات ۱۸۸۱ء، ۱۹۱۱ء ۲۶۷

چار جگہ مناظرے ۲۷۱

حاجی محمد مانک کا اقدام ۲۷۱

تربیتی کورسز اور مولانا محمد حیات ۲۷۲

مرکزی دارالمبلغین ۲۷۲

مجلس کے تیسرے امیر کا انتخاب ۲۷۴

تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۶۸ء کے حالات و واقعات ۲۷۵

یاد خدارا بہانہ ساخت ۲۷۶

کشمیر کے بارے میں قادیانیوں کی غلط بیانیاں (تاریخ احمدیت جلد ششم ) ۲۷۶

آل پاکستان تحفظ ختم نبوت کا نفرنس چنیوٹ، جنوری ۱۹۶۸ء کی قرار دادیں ۲۷۸

ربوہ کا میلہ (جہاں گرد کے قلم سے) ۲۷۹

مرزا قادیانی چار آنے میں ۲۸۰

قادیانیوں نے چوہدری غلام عباس کے جنازہ میں شرکت نہیں کی ۲۸۰

انگریز ، کشمیر کمیٹی اور قادیانی ۲۸۱

قرار داد ۲۸۵

سرکاری حکم کہ الہامات و پیشین گوئیوں پر تبصرہ نہ کیا جائے ۲۸۵

چٹان ضبط ۲۸۶

ختم نبوت کا نفرنس ڈیرہ اسماعیل خان پر پابندی لگادی گئی ۲۸۶

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (۲) حضرت مولانا اللہ وسایا

چٹان ضبطی کیس اور مبلغین مجلس تحفظ ختم نبوت ۲۸۶

چٹان کے ڈیکلریشن کی بحالی ۲۸۷

چٹان کا دوبارہ اجراء ۲۸۷

آغا شورش کاشمیری کا ایک تازہ ترین مکتوب ۲۸۸

قادیانیوں کے کافر یا مسلمان ہونے کا مسئلہ ۲۸۸

سپریم کورٹ نے حکومت کی اپیل مسترد کر دی ...... آغا شورش کاشمیری کے مقدمہ کا فیصلہ ۲۹۰

ربوہ کے سالانہ اجتماع پر پابندی عائد کی جائے ۲۹۰

احمدی نوجوانوں کا سالانہ اجتماع ختم ۲۹۱

مولانا عبید اللہ انور پر لاٹھی چارج ۲۹۲

جمعیۃ علماء اسلام قانونی چارہ جوئی کرے گی ۲۹۲

امیر جمعیۃ علماء اسلام کا پیغام ۲۹۲

مقدمہ روئداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۸۷ھ، مطابق اپریل ۱۹۶۷ء تا مارچ ۱۹۶۸ء ۲۹۳

مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام ۲۹۴

اسماء گرامی ممبران مجلس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ۳۰۲

تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۶۹ء کے حالات و واقعات ۳۰۳

ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ ۱۹۶۹ء ۳۰۴

ذوالفقار علی بھٹو اور مرزا ناصر احمد ۳۰۵

ضعف الطالب والمطلوب ۳۰۵

پیر صاحب گولڑہ شریف کا پیغام ۳۰۶

حضرت مولانا محمد یوسف بنوری مدظلہ کا پیغام ۳۰۶

چک باوا لائل پور میں ، مرزائیت سے توبہ ۳۰۷

مولانا محمد علی صاحب جالندھری صدر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا پریس کانفرنس سے خطاب ۳۰۷

ضروری یادداشت برائے صدر مملکت ایوب خان، کنوینر جمہوری مجلس عمل ۳۰۸

جناب لیفٹیننٹ جنرل اختر حسین ملک کی میت بہشتی مقبرہ میں دفن نہ ہوسکی ۳۰۹

مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا محمد علی جالندھری کا بیان ۳۱۰

مولانا عبید اللہ انور کیس کی سماعت ۳۱۱

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا آغا شورش کی رہائی ۳۱۲ مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۸۸ھ، مطابق اپریل ۱۹۶۸ء تا ۱۹۶۹ء ۳۱۳ جیمس آباد عدالت کا فیصلہ ۳۱۵ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ ۱۹۶۹ء ۳۱۵ دوسرا اجلاس ۳۱۵ تیسرا اجلاس ۳۱۶ چوتھا اجلاس ۳۱۶ پانچواں اجلاس ۳۱۶ مولانا ہمدانی ۳۱۷ مولانا نیاز احمد شاہ ۳۱۷ چھٹا اجلاس ۳۱۷ ساتواں اجلاس ۳۱۷ خواجہ سیالوی ۳۱۸ آٹھواں اجلاس ۳۱۸ نواں اجلاس ۳۱۹ بریگیڈیئر گلزار احمد ۳۱۹ مولانا محمد علی جالندھری ۳۲۰ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۷۰ء کے حالات و واقعات ۳۲۱ مشرقی پاکستان میں مجلس کی سرگرمیاں ۳۲۲ ضلع کملا مقام ”کاسائٹ“ میں جلسہ عام ۳۲۲ ضلع کملا بمقام برہمن باڑیہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی ایڈہاک کمیٹی قائم ہوئی ۳۲۲ مفتی محمد شفیع صاحب اور مولانا احتشام الحق تھانوی کی دفتر آمد ۳۲۳ رسوائے زمانہ چوہدری سر ظفر اللہ خان ۳۲۴ ہاتھی کے دانت ...... الفرقان ربوہ کی نئی چال ۳۲۵ ایم ایم احمد کو علیحدہ کیا جائے ۳۲۶ کیا فوج کا ہیڈ کوارٹر ”ربوہ“ میں ہے ۳۲۶ www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ 19

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا

راولپنڈی سازش کیس کے ہیرو جنرل اکبر خان کھل کر سامنے آگئے ۳۲۷ ربوہ میں ٹیلیفون ایکسچینج ۳۲۹ قادیانی مجنونانہ حرکتیں ۳۳۰ خلیفہ ربوہ کے خلاف مقدمہ چلایا جائے ۳۳۰ ٹوبہ میں مرزائیوں کی فائرنگ ۳۳۱ بلی کو چھیچھڑوں کے خواب، افریقی ممالک میں حالات کے بدلنے کے اشارے ۳۳۳ مسئلہ قادیانیت اور سیاسی رہنما ۳۳۴ ریاست ربوہ کا ایک حکم، مرزائیوں کے اخراج کا حکم ۳۳۵ اشاعت اسلام کے لئے قادیانی کا تقرر؟ ۳۳۵ مودودی صاحب سے درخواست ۳۳۶ ایم۔ایم احمد، پکا وزیر ۳۳۹ ۱۹۷۰ء کے الیکشن میں قادیانیوں کا کردار ۳۴۰ مولانا مفتی محمود پر چنیوٹ میں خطرناک حملہ ۳۴۱ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۷۱ء کے حالات و واقعات ۳۴۳ مرزائیوں کی سیاسی جماعت سے وابستگی ۳۴۴ عذاب الٰہی کا نزول ۳۴۴ ربوہ کی بنیاد ۳۴۴ چپ بورڈ جہلم کے مزدوروں پر فائرنگ ۳۴۵ قادیانیت قبول نہ کرنے پر ملازمین کا تبادلہ ۳۴۶ چیچہ وطنی میں مٹھائی فروش غلام رسول کے قتل کا المناک سانحہ ۳۴۷ واقعہ چیچہ وطنی کی تحقیقات کرائی جائے ۳۴۷ سانحہ جہلم اور مارشل لاء ۳۵۱ سعودی عرب میں مرزائیوں کی پراسرار سرگرمیاں ۳۵۲ سانحہ چیچہ وطنی اور سی۔آئی۔اے؟ ۳۵۲ خلیفہ ناصر غور کریں ۳۵۳ مولانا محمد علی جالندھری کا سانحہ ارتحال ۳۵۴

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا

جھوٹے مدعی نبوت کا علاج کیا جائے ۳۵۵

خبر صحیح تھی یا تردید، ٹرانسمیشن سیٹ اور دو بوری نوٹ ۳۵۵

حجیت حدیث کے موضوع پر مذاکرہ ۳۵۶

نوائے وقت کا قابل اعتراض مضمون ۳۵۷

ایم ایم احمد قائم مقام صدر پاکستان ۳۵۸

ایم ایم احمد قادیانی اور منصوبہ بندی ۳۵۸

حضرت امیر مرکزیہ مولانا محمد علی صاحب جالندھری کا مشرقی پاکستان میں ورود مسعود ۳۶۱

بیرونی ممالک میں کام کی سرگزشت ۳۶۲

فجی آئی لینڈ سے رابطہ ۳۶۳

ہڈرسفیلڈ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا مستقل دفتر قائم کر دیا گیا ۳۶۷

تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۷۲ء کے حالات و واقعات ۳۶۹

احمدیوں کو تبلیغی مرکز قائم کرنے کی ممانعت ۳۷۰

دس سال میں احمدی حکومت قائم ہو جائے گی، حکیم ابراہیم قادیانی مبلغ کا اعلان ۳۷۰

بہاول پور میں مرزائیوں اور عیسائیوں کی تخریبی سرگرمیاں ۳۷۲

پشاور کے ایک شخص کی مرزائیت سے توبہ اور قبول اسلام ۳۷۲

چینی سفیر ربوہ میں ۳۷۲

عرب ممالک اور سرظفراللہ ۳۷۳

ختم نبوت کانفرنس لاہور، حضرت مفتی محمود صاحب کو استقبالیہ ۳۷۳

ترجمان اسلام کو ختم نبوت کے موضوع پر لکھنے کی وجہ سے وارننگ ۳۷۸

پاکپتن میں جھوٹے مدعی نبوت کا قتل ۳۷۹

بلوچستان میں قادیانیوں کی پراسرار سرگرمیاں، محرف قرآن کریم کی تقسیم ۳۸۰

صدر ذوالفقار علی بھٹو کے متعلق ایک وضاحت ۳۸۰

سفیر پاکستان مسٹر دولتانہ مرزائیوں کی عبادت گاہ فضل لندن کے جلسے میں کیوں گئے؟ ۳۸۲

یحییٰ خان کے ساتھ سرظفراللہ کے خلاف بھی مقدمہ چلایا جائے ۳۸۵

مرزائیوں کے اخبار کی غلط بیانی ۳۸۶

میجر جنرل اکبر خان کا خط ۳۸۷

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا

میں مرزائی نہیں ہوں...... خورشید حسن میر کی تردید ۳۸۷

احمدی مسلمان نہیں ہیں...... نمبرداری کے مقدمہ میں کمشنر کا فیصلہ ۳۸۸

مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۹۰ھ، مطابق مارچ ۱۹۷۰ء تا فروری ۱۹۷۱ء ۳۸۸

توہین ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا ۳۹۱

توہین امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ ۳۹۱

توہین حضرت سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا ۳۹۱

توہین سید الشہداء حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ۳۹۱

قادیان کے متعلق ۳۹۲

انتخاب ۳۹۳

اسمائے گرامی...... مرکزی مجلس شوریٰ، مجلس تحفظ ختم نبوت ۳۹۳

مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۹۱ھ، مطابق مارچ ۱۹۷۱ء تا فروری ۱۹۷۲ء ۳۹۴

حضرت مولانا محمد علی جالندھری ۳۹۴

دفاتر کا قیام ۴۰۱

کارکردگی ۱۳۹۱ھ، مطابق ۱۹۷۱ء ۴۰۴

دفتر جابہ ۴۰۵

دو اشتہارات کی اشاعت ۴۰۶

ایبٹ آباد فوجی چھاؤنی اور مرزائی ۴۰۶

قادیانی سازش کا انکشاف ۴۱۰

ایبٹ آباد میں مولانا لال حسین کی آمد ۴۱۰

ختم نبوت کمیٹی کا قیام ۴۱۰

ایبٹ آباد میں جلسہ اور جلوس ۴۱۱

وفد کی مولانا مفتی محمود وزیر اعلیٰ صوبہ سرحد سے ملاقات ۴۱۱

دفعہ نمبر ۱۴۴ کو چیلنج ۴۱۱

دفاتر کا افتتاح ۴۱۲

پہلی سازش اور اس کی ناکامی ۴۱۲

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۷۴ء کے حالات و واقعات ۴۱۳

مرزائی گھوڑے ۴۱۴ گھوڑ دوڑ کے مقابلوں کی اختتامی تقریب میں خلیفہ ربوہ کا خطاب ۴۱۴ ربوہ کالج میں قادیانیوں کی اندھیر نگری ۴۱۴ جناب محمد اسلم وڑائچ سابق طالب علم ربوہ کا بیان ۴۱۶ سانحہ سقوط مشرقی پاکستان ۴۱۷ درخواست ۴۱۸ دلائل متعلقہ جزو نمبر:۱ ۴۱۹ دلائل متعلقہ جزو نمبر:۲ ۴۱۹ دلائل متعلقہ جزو نمبر:۳ ۴۲۰ دلائل متعلقہ جزو نمبر:۴ ۴۲۱ دلائل بابت جزو نمبر:۵ ۴۲۱ عالمی استعمار کے ایجنٹ قادیانی اور اسرائیلی ۴۲۱ ربوہ کو ویٹی کن سٹی بنانے کا خیال ۴۲۲ تعلیمی اداروں میں قادیانیوں کی ارتدادانہ مہم کی ایک مثال ۴۲۲ لاہور کے کالجوں میں قادیانی جتھہ بندی ۴۲۳ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں مرزائی سرگرمیاں اور مسلمان طلباء کی طرف سے ان کا تعاقب ۴۲۴ ڈپٹی رجسٹرار صاحب! مبارک ہو ۴۲۶ نرحبكم يا قادة اسلام والمسلمين الملوک وروساء الدول الاسلامية ۴۲۷ پچاس ہزار اشتہارات تقسیم کئے گئے ۴۲۷ اعداء المسلمين في العالم ۴۲۷ قادیانی تعلیمات میں ۴۲۷ مرزائی دواساز فرم کی تشویش ناک صورتحال، الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے ۴۲۸ قادیانیوں کے متعلق صدر مملکت ذوالفقار علی بھٹو کے نام آغا شورش کاشمیری کا کھلا خط ۴۲۹ حضرت مولانا لال حسین اختر کا سفر آخرت...... آنکھوں دیکھا حال ۴۳۰

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء

فہرست جلد (۲) حضرت مولانا اللہ وسایا

ملتان ختم نبوت کے وفد کی لاہور حاضری ۴۳۱

دفتر سے مولانا کی آخری روانگی ۴۳۱

پہلا جنازہ ۴۳۲

دوسرا جنازہ ۴۳۲

دین پور شریف روانگی ۴۳۲

دین پور میں ۴۳۲

حضرت درخواستی کا خطاب ۴۳۳

حضرت دین پوری ۴۳۳

تدفین ۴۳۳

پسماندگان سوگوار ۴۳۴

مجلس شوریٰ کا اجلاس ۴۳۴

چوہدری ظفر اللہ خان کی خدمات پر بھٹو صاحب کے بیان کا تجزیہ ۴۳۶

قادیانیوں کے بارے میں پیپلز پارٹی کا موقف ۴۳۸

بہشتی مقبرہ قادیان اور اکھنڈ بھارت ۴۳۸

کافرگری قابل تعزیر ۴۳۹

قرآن مجید کے مترجم تحریف شدہ نسخوں کی تقسیم ...... فورٹ سنڈیمن میں مرزائی سازش کا تعاقب و نتیجہ ۴۳۹

قادیانیوں کی طرف سے قرآن مجید میں تحریف کرنے پر حاجی سیف اللہ کی تحریک التواء ۴۴۱

بلوچستان میں مرزائی سازش کی ناکامی لمحہ بہ لمحہ کی رپورٹ ۴۴۲

ہمیشہ کے لئے ژوب سے مرزائیوں کو نکال دیا گیا ۴۴۳

تحریک ختم نبوت کے کارکنوں و رہنماؤں کی گرفتاری ۴۴۳

وفاقی فورس نے حکم ماننے سے انکار کر دیا ۴۴۴

ژوب کی سرزمین سراپا احتجاج بن گئی ۴۴۴

مولانا شمس الدین کی گرفتاری ۴۴۴

ژوب کے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ مان لیا گیا ۴۴۵

ژوب میں جلسہ عام ۴۴۵

www.facebook.com/amtkn313

ameer@khatm-e-nubuwwat.com

www.amtkn.com

صفحہ ۲۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا شمس الدین کی شہادت ۴۴۵ قرآن مجید میں تحریف ۴۴۸ ربوہ غیر علاقہ ۴۴۹ ادارہ تحقیقات اسلامی کا سربراہ ۴۴۹ مرزائی سلطنت کے خواب ۴۵۰ (۱) مرزا ناصر کا دورۂ لندن (۲) حکومت وضاحت کرے ۴۵۲ لندن ایئر پورٹ پر قادیانیوں کا ذکر ۴۵۳ مرزائی آفیسر میاں افضل اور ٹریننگ کالج لائل پور ۴۵۳ زراندوزی اور جمع دولت ۴۵۴ مرزائیت کی تبلیغ، پروفیسر امان اللہ قادیانی ۴۵۴ فوج میں قادیانی سازش ۴۵۶ شاہینوں کی رہائی ۴۵۷ فوج میں قادیانی سازش ۴۵۸ حرم میں شرکت کا منصوبہ (ربوہ کی مشاورت کا فیصلہ) ۴۵۹ دارالامان پیپلز کالونی لائل پور میں مرزائیت کی تبلیغ ۴۵۹ محمد شریف جنجوعہ کا وعدہ (۲۰/لاکھ روپے جوبلی فنڈ میں) ۴۵۹ سی آئی ڈی میں سازش ”میرزائی امت کا ایک پلان“ ۴۶۰ انٹرنیشنل پریس ربوہ ۴۶۰ ایس. پی شیخوپورہ کی خدمت میں ۴۶۱ کیمبل پور انتظامیہ کی مرزائی نوازی ۴۶۱ ربوہ سازشوں کا مرکز ۴۶۲ مرزا غلام احمد کا نام قرآن پاک میں (مرزائیوں کی شوخ چشمانہ جسارت) ۴۶۴ قادیانی حج کا مقصد، حجاز میں قادیانی داخلہ؟ ۴۶۵ حدود حرم میں تمہارا داخلہ ممنوع ہے، قادیانی مبلغ کو جدہ سے واپس کر دیا گیا ۴۶۶ مرزائی حج پر نہ جا سکے ۴۶۷ قادیانی ارتداد کی مجنونانہ ظالمانہ اور بشریٰ فاطمہ ثروت کا سفاکانہ قتل کی ایک مثال ۴۶۷

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا

سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ ۴۶۸ اکیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۴۷۲ مندرجہ ذیل حضرات کانفرنس سے خطاب فرمائیں گے ۴۷۲ دفتر ختم نبوت اسلام آباد میں اجلاس ۴۷۳ ۱۹۷۳ء کا آئین پاکستان اور مسلمان کی تعریف ۴۷۴ باب اوّل...... صدر ۴۷۴ جدول سوم...... حلف ۴۷۵ صدر (دفعہ نمبر ۴۲) ۴۷۵ وزیر اعظم دفعہ ۹۱ (۴) ۴۷۵ قومی اسمبلی میں چوہدری ظہور الہی نے کہا ۴۷۶ خطاب مولانا تاج محمود ۴۷۸ خطاب حضرت مولانا مفتی محمود صاحب ۴۷۸ حضور ﷺ خاتم النبیین ہیں ۴۷۹ مرزائیوں کے متعلق سعودی حکومت کا فیصلہ ۴۸۱ آئین میں مسلمان کی تعریف ۴۸۲ مسلمان کی تعریف پر مخالفین کے اعتراضات ۴۸۳ مسلمان کی تعریف پر تمام علماء کا اتفاق ہے ۴۸۴ مولانا غلام غوث ہزاروی ۴۸۵ مناظر اسلام سرزمین اسلام آباد میں ۴۸۵ صدر مملکت ذوالفقار علی بھٹو اور مرزا طاہر احمد ۴۸۵ رابطہ عالم اسلامی کی قرارداد ۴۸۶ قرارداد ۴۸۶ ۲۹؍اپریل ۱۹۷۳ء آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد ۴۸۷ وزیر قانون آزاد کشمیر کا مکتوب ۴۹۰ آزاد کشمیر اسمبلی کو رابطہ عالم اسلامی کی مبارک باد ۴۹۱

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا

مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان، جلسہ عام ۴۹۲

راولپنڈی کی تمام مساجد میں ۴۹۴

صدر آزاد کشمیر کے نام تاریں ۴۹۴

لائل پور میں جلسہ تبریک ۴۹۴

صدر مجلس احرار اسلام کا تار ۴۹۴

چنیوٹ میں عظیم الشان جلسہ ۴۹۴

گوجرانوالہ میں جلسہ ۴۹۵

پشاور میں قراردادیں ۴۹۵

اسلام آباد کی مساجد میں قراردادیں ۴۹۵

مدیر ”لولاک“ کا تار صدر آزاد کشمیر کے نام ۴۹۵

آزاد کشمیر کے صدر گرامی قدر کے نام مدیر ”لولاک“ کا مکتوب ۴۹۵

صدر آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم خان صاحب کا مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے استقبالیہ میں خطاب ۴۹۶

مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا آزاد کشمیر اسمبلی کا عظیم اسلامی کارنامہ ہے ۴۹۶

پاکستان عزیز ہے، مرزائی نہیں ۴۹۷

نیشنل اسمبلی کا فرض تھا ۴۹۸

مرزائیوں کی چالاکی ۴۹۸

مطالبہ ان کا اپنا ہے ۴۹۸

مطالبہ واضح ہے ۴۹۹

مستحسن و مبارک فیصلہ ۴۹۹

علامہ اقبال کے فرمودات ۴۹۹

بنیادی سوال ۵۰۰

صرف مرزا ناصر نہیں بلکہ پورے ملک کے مرزائی زیر آتش پا تھے ۵۰۱

قومی اسمبلی میں ایک قرارداد بھجوائی گئی جس کا یہ حشر ہوا ۵۰۲

قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے خلاف قرارداد مسترد ۵۰۲

قادیانی فوجی بغاوت ۵۰۲

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا

اپیل ۵۰۷ یہ ربوہ کے جھنڈے ۵۰۷ ربوہ میں یہ پہرہ کیسا؟ ۵۰۸ انٹرنیشنل پریس کا بورڈ ۵۱۰ مرزائی جواب دیں ۵۱۰ آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد کے حکومتی سطح پر اثرات ۵۱۲ سندھ اسمبلی میں مرزائیوں کے اقلیت کی قرارداد ۵۱۲ ۱۹۵۳ء سے ۱۹۷۴ء تک مجلس کے اقدامات و کاوشیں ۵۱۳

تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۷۴ء کے حالات و واقعات ۵۱۵

چک جھمرہ کے اسٹیشن پر مرزائیوں کی پٹائی ۵۱۶ قائد کا قادیانی بردہ ۵۱۶ سرحد، بلوچستان حکومتیں اور مرزائی سازش ۵۱۷ ربوہ میں ظالمانہ قتل ۵۱۸ مرزائی سازش ایک نظر میں ۵۱۸ مرزا ناصر احمد کو پاکستان ایئرفورس نے سلامی دی، حکومت پاکستان تحقیقات کرے ۵۱۹

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا

خورشید حسن میر نے غلط فرمایا ۵۲۰

بھٹو حکومت کے خلاف ایک مرزائی سازش، غلام مصطفی کھر کی برطرفی ۵۲۱

چوہدری رفیق احمد باجوہ اور مرزائی جارحیت ۵۲۲

مرزائیت سے تائب طالب علم رفیق باجوہ پر قاتلانہ حملہ ...... مرزائیوں نے مسجد میں داخل ہوکر قرآن پاک کی بے حرمتی کی ۵۳۰

مرزائیوں نے قرآن مجید کی توہین کے بعد رفیق باجوہ مولانا محمد صدیق اور نہتے مسلمانوں کو زخمی کر دیا ۵۳۰

چونڈہ کے مرزائیوں کی داستان ستم ۵۳۲

بشریٰ باجوہ چونڈہ کا مرزا ناصر کے نام خط ۵۳۴

رفیق احمد باجوہ کا مرزا ناصر کے نام خط ۵۳۵

مرزائیوں نے مسلمان نابالغ لڑکی کو اغواء کرلیا...... جھنگ میں سخت اضطراب اور اشتعال پیدا ہوگیا ۵۳۶

جھنگ میں طلباء کا مظاہرہ ۵۳۷

محکمہ تعلیم اور قادیانی ...... رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی جواب دیں ۵۳۷

ایک ہزار نہیں ساڑھے تین ہزار فارم ۵۳۸

سرگودھا بورڈ ، ربوہ کی جاگیر ۵۳۸

راجہ غالب احمد ۵۳۹

اساتذہ اور طلباء کی غیرت ملی کو چیلنج ۵۳۹

اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور ۵۲۱

ایک اور حماقت ...... شیزان ریستوران ہی کیوں؟ ۵۲۲

اسلامی سربراہی کانفرنس اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات ۵۲۲

پاکستان میں مرزائی ریاست ابھر رہی ہے ۵۲۵

سندھ کا ہوم سیکرٹری کنور ادریس ۵۲۷

ساڑھے نو کروڑ کا مصرف کیا ہوگا ۵۲۸

براڈ کاسٹنگ ان دی ربوہ ۵۲۸

نائیجیریا کے قادیانی العقیدہ، حرمین شریفین میں داخل نہیں ہو سکتے ۵۲۹

افواج پاکستان اور مرزائی ۵۵۰

بری فوج (ARMY) ۵۵۰

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا

بحری فوج ۵۵۱

ذوالفقار علی بھٹو زندہ باد......ظفر چوہدری کی علیحدگی ۵۵۳

قادیانی اور فوج ۵۵۴

باب دوم...... مجلس تحفظ ختم نبوت کے قیام سے سانحہ ربوہ ۱۹۷۴ء تک مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی شوریٰ کے اجلاسوں کی کارروائیاں ۵۵۵

پہلا مرکزی دفتر ۵۵۵

امیر اول: امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ۵۵۷

امیر ثانی: خطیب پاکستان قاضی احسان احمد شجاع آبادی ۵۵۷

امیر ثالث: مولانا محمد علی جالندھری ۵۵۷

امیر رابع: مولانا لال حسین اختر ۵۵۷

امیر خامس: شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری ۵۵۷

(۱) ۱۹۵۴ء میں مرکزی شوریٰ کے دو اجلاس منعقد ہوئے ۵۵۸

(۲) دوسرا اجلاس اور مجلس کے دستور کی منظوری و انتخاب ۵۶۱

(۳) ۱۹۵۵ء میں شوریٰ کا صرف ایک اجلاس منعقد ہوا ۵۶۳

(۴) ۱۹۵۶ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس کی کارروائی کا ضروری حصہ یہ ہے ۵۶۴

(۵) ۱۹۵۷ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے دو اجلاس منعقد ہوئے، پہلے اجلاس کی کارروائی یہ ہے ۵۶۵

(۶) دوسرا اجلاس ۵۶۶

(۷) ۱۹۵۸ء میں مرکزی مجلس شوریٰ کے دو اجلاس منعقد ہوئے ۵۶۶

(۸) دوسرے اجلاس کی کارروائی ۵۶۷

(۹) ۱۹۵۹ء میں مجلس شوریٰ مدرسہ تعلیم القرآن لوہاری دروازہ ملتان کا ایک اجلاس ۱۸؍ اپریل ۱۹۵۹ء، مطابق ۹؍ شوال ۱۳۷۸ھ کو منعقد ہوا ۵۶۸

(۱۰) ۷؍ جولائی ۱۹۶۰ء، مطابق ۱۲؍ محرم ۱۳۸۰ھ کو مدرسہ تعلیم القرآن لوہاری دروازہ ملتان شہر میں مجلس شوریٰ کا ایک اجلاس منعقد ہوا ۵۶۸

(۱۱) ۱۹۶۱ء میں مجلس شوریٰ کا اجلاس مدرسہ تعلیم القرآن ملتان ۲۱؍ مارچ ۱۹۶۱ء، مطابق ۳؍ شوال ۱۳۸۰ھ کو منعقد ہوا ۵۶۹

(۱۲) دوسرا اجلاس اکتوبر ۱۹۶۱ء میں ہوا ۵۶۹

(۱۳) اجلاس شوریٰ ۷؍ اکتوبر ۱۹۶۱ء، مطابق ۲۶؍ ربیع الثانی ۱۳۸۱ھ بقیام گاہ مدعوین تبلیغی اجتماع ملتان ۵۷۰

(۱۴) ۱۹۶۲ء میں مجلس شوریٰ کا ایک اجلاس منعقد ہوا ۵۷۱

(۱۵) ۱۹۶۳ء میں مرکزی مجلس شوری کے چار اجلاس منعقد ہوئے ۵۷۲

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء فہرست جلد (2) حضرت مولانا اللہ وسایا

(۱۶) دوسرا اجلاس (جنرل کونسل) ۵۷۳

(۱۷) تیسرا اجلاس ۵۷۵

(۱۸) چوتھا اجلاس ۵۷۶

(۱۹) ۱۹۶۴ء میں مجلس شوریٰ کے تین اجلاس منعقد ہوئے ۵۷۶

(۲۰) دوسرا اجلاس ۵۷۷

(۲۱) تیسرا اجلاس ۵۷۷

(۲۲) ۱۹۶۵ء میں صرف ایک اجلاس شوریٰ منعقد ہوا ۵۷۸

(۲۳) ۱۹۶۶ء میں مرکزی شوریٰ کے دو اجلاس منعقد ہوئے...... پہلا اجلاس ۵۷۸

(۲۴) دوسرا اجلاس ۵۷۹

(۲۵) ۱۹۶۷ء میں مرکزی شوریٰ کے دو اجلاس منعقد ہوئے ۵۸۰

(۲۶) اجلاس جنرل کونسل ۵۸۱

(۲۷) دوسرا اجلاس ۵۸۳

(۲۸) ۱۹۶۸ء میں مرکزی شوریٰ کا صرف ایک اجلاس منعقد ہوا ۵۸۳

(۲۹) ۱۹۶۹ء میں صرف ایک اجلاس منعقد ہوا ۵۸۳

(۳۰) ۱۹۷۰ء میں مجلس شوریٰ کے دو اجلاس منعقد ہوئے ۵۸۴

(۳۱) دوسرا اجلاس ۵۸۵

(۳۲) ۱۹۷۱ء میں مجلس شوریٰ کے دو اجلاس منعقد ہوئے ۵۸۵

(۳۳) دوسرا اجلاس ۵۸۶

(۳۴) ۱۹۷۲ء میں صرف ایک اجلاس منعقد ہوا ۵۸۷

(۳۵) ۱۹۷۳ء میں مجلس شوریٰ کے تین اجلاس منعقد ہوئے ۵۸۷

(۳۶) اجلاس دوم ۵۸۹

(۳۷) اجلاس سوم ۵۹۰

(۳۸) ۱۹۷۴ء میں مجلس شوریٰ کے تین اجلاس منعقد ہوئے ۵۹۰

(۳۹) دوسرا اجلاس ۵۹۰

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

انتساب

تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے فاتح جرنیل

شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری

کے نام

آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

شیخ المشائخ حضرت خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کا پیغام

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نحمده ونصلى على رسوله الكريم. اما بعد!

عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ جس طرح ہم سب کے ایمان کا حصہ ہے، اسی طرح اس مشن کے لئے کام کرنے والے حضرات کی تاریخ کو محفوظ کرنا بھی ہماری جماعتی ذمہ داری ہے۔ مولائے پاک کا احسان ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے یہ سلسلہ شروع کیا ہے۔ جس میں خاصی حوصلہ افزاء کامیابی ہوئی ہے۔ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے حالات پر مشتمل کتاب آپ پڑھ چکے ہیں اور اب تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء پر مشتمل یہ کتاب آپ حضرات پڑھیں اور تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء کی ترتیب واشاعت کے لئے دعا فرمائیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا شعبہ نشر و اشاعت اپنا یہ فرض اور قرض محض اللہ پاک کے فضل واحسان سے ادا کر رہا ہے۔ اس کے لئے ہمیں خداوند قدوس کے حضور سجدۂ شکر بجالانا ہے، تاکہ ”لئن شكرتم لا زيدنكم (ابراهيم:۷) “ کے وعدۂ قرآنی کے مستحق بن سکیں۔ اس کتاب کی اشاعت پر مجھے جو دلی سکون و راحت، خوشی اور انبساط حاصل ہوا ہے، بس اتنا عرض کرتا ہوں: ”الحمد لله اوّلا واخرا “ مولائے پاک اسے شرف قبولیت سے نواز کر اپنی رضا کا سبب فرمائیں۔ آمین!

دعا گو: فقیر خان محمد عفی عنہ (فقیر ابو الخلیل خان محمد عفی عنہ) از خانقاہ سراجیہ، کندیاں، ضلع میانوالی

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خراج تحسین

الحمد لله وحده والصلوٰة والسلام علٰی من لا نبی بعدہ!

پیش نظر کتاب، سفیر ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا زید مجدہم نے ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت پر تحریر فرمائی ہے۔ اس سے پیشتر ان کی ایک مبسوط تالیف ۹۰۰ صفحات پر محیط ”تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء“ شائع ہو کر عوام و خواص سے خراج تحسین وصول کر چکی ہے۔ مولانا اللہ وسایا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بلند پایہ خطیب ہیں۔ اب ان کی تالیفات نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ بحیثیت مؤلف و مؤرخ بھی وہ کامیاب و سرفراز ہیں۔

ایک عرصہ سے شدت سے یہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کی تحریکوں کو معرض تحریر میں لا کر معاندین و مخالفین ختم نبوت کی تحریفات و تلبیسات سے محفوظ کر دینا چاہئے۔ الحمد للہ! مولانا اللہ وسایا زاد اللہ محاسنہم اس جوئے شیر کے فرہاد ثابت ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی عمر عزیز میں برکت دے۔ تادم حیات، حضور نبی کریم ﷺ کی ختم المرسلینی کی دیوانہ وار حفاظت کی توفیق دے اور آخرت میں حضور ﷺ کی شفاعت کبریٰ سے سرفراز فرمائے۔ آمین!

احقر نفیس الحسینی (سید انور حسین نفیس رقم) کریم پارک، لاہور ۱۵/ ذوالحجہ ۱۴۱۳ھ / ۷/ جون ۱۹۹۳ء

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

باب اوّل

نگاہ اوّلین

الحمد لله وحده والصلوة والسلام على من لا نبى بعده. اما بعد!

۱۹۹۱ء کے وسط میں غازی آباد لاہور کے ایک دینی اجلاس میں شرکت کے لئے لاہور جانا ہوا۔ ایک دوست نے تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے مرتب کرنے کی تجویز دی۔ ان کی گفتگو سے متاثر ہو کر فقیر نے ہامی بھر لی اور اس پر کام کرنے کا خاکہ مرتب کرنا شروع کر دیا۔ درمیان میں تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء پہلے لکھنے کا داعیہ پیدا ہوا۔ جس کی تفصیل کتاب تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے دیباچہ میں عرض کر چکا ہوں۔ حق تعالیٰ کی توفیق سے وہ کتاب شائع ہو کر تقسیم ہو چکی ہے۔ اللہ رب العزت نے اسے اس طرح شرف قبولیت سے نوازا کہ محاذ ختم نبوت پر کام کرنے والے ہر بزرگ و خورد نے اس کی توصیف فرمائی۔ محترم حضرت مولانا ظفر احمد صاحب قاسم مہتمم جامعہ خالد بن ولید ٹھینگی کالونی، وہاڑی نے روضہ رسول اکرم ﷺ سے بذریعہ مکتوب گرامی اطلاع دی کہ انہوں نے مدینہ طیبہ میں اس کتاب کا مطالعہ کیا اور اس کے لئے دعا فرمائی۔ فقیر راقم الحروف کے لئے یہ بہت بڑا اعزاز اور سعادت ہے۔ مولانا موصوف نے یہ بھی تحریر فرمایا کہ: ”حضرت مولانا سید نیاز احمد شاہ صاحب گیلانی، امیر جمعیۃ علماء اسلام پنجاب اس تحریک میں گرفتار ہوئے۔ آپ کی جوانی کا عالم تھا۔ آل رسول، مجاہد فی سبیل اللہ اور عالم ربانی تھے۔ ان کو ہتھکڑی لگائی گئی۔ جلال میں آ کر ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ بازوؤں کو جھٹکا دیا تو ہتھکڑی ٹوٹ گئی۔ ہتھکڑی بدلی گئی تو پھر اسی طرح ہوا۔ بالآخر پولیس والے قدموں میں گر گئے اور بغیر ہتھکڑی کے آپ کو گرفتار کر لیا گیا۔“ فقیر نے مولانا ظفر احمد قاسم سے وعدہ کیا کہ نئے ایڈیشن میں اس واقعہ کا اضافہ کر دیا جائے گا۔ مگر نا معلوم کہ کب موت کا بلاوا آ جائے۔ اس وعدہ کا ایفاء اس تقریب میں کرنا ضروری معلوم ہوا۔ اسی طرح حضرت شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم اور قبلہ حضرت مولانا صوفی عبدالحمید صاحب سواتی مہتمم، نصرۃ العلوم گوجرانوالہ نے بھی اس تحریک میں اسلامیان گوجرانوالہ کی قیادت فرمائی اور مہینوں جیل کاٹی۔ ان کا تذکرہ بھی اس کتاب میں رہ گیا تھا۔ اس کے علاوہ اور کسی فروگذاشت پر کسی نے متنبہ نہیں فرمایا۔ حق تعالیٰ شانہ میری کوتاہیوں کو معاف فرمائیں۔ آمین!

کتاب ”تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء“ کی تکمیل کے بعد کتاب زیرنظر ”تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء“ کو مرتب کرنا تھا۔ سید محمد صدیق شاہ صاحب اسٹیٹ بینک لاہور، مکرم بھائی جناب قدیر شہزاد صاحب ننکانہ صاحب اور میرے قابل احترام وقابل فخر بھائی جناب محمد متین خالد صاحب، دسمبر ۱۹۹۱ء میں ہفتہ بھر کے لئے دفتر مرکزیہ ملتان تشریف لائے۔ مخدومی صاحبزادہ طارق محمود صاحب فیصل آباد کے ارسال کردہ اور دفتر مرکزیہ میں موجود اخباری مواد کو دن رات ایک کر کے ترتیب دیا۔ ان ہر سہ حضرات کی محنت ومہربانی سے فقیر اس قابل ہوا کہ اس کی ترتیب وتدوین شروع کر سکے۔ کچھ تاریخوں کا ریکارڈ نہ مل سکا۔ مکرم بھائی محمد متین خالد صاحب نے محترم نصیر احمد صاحب اور خالد شبیر درانی صاحب (قائداعظم لائبریری لاہور) کی وساطت سے پنجاب پبلک لائبریری لاہور سے مطلوبہ تاریخ کے اخبارات کی نقول بھجوادیں۔ (اللہ پاک ان حضرات کی معاونت کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے بروز محشر حضور ﷺ کی شفاعت کا ذریعہ بنائیں)

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اب کتاب کی ترتیب قائم کرنے کے لئے فیصلہ کیا کہ اس کے چھ باب بنائے جائیں۔

پہلے تین باب مکمل کر کے کمپوزنگ کے لئے مکرم محمد متین خالد صاحب کو بھجوائے۔ جب کمپیوٹر سے پرنٹ آیا تو معلوم ہوا کہ مکمل کتاب اڑھائی ہزار صفحات سے کم نہ ہوگی۔ جسے ایک جلد میں لانا کسی طرح ممکن نہ تھا۔ بالآخر مجبوراً فیصلہ کیا کہ دو ابواب پر مشتمل پہلی جلد فی الحال شائع کر دی جائے۔ سو محض حق تعالیٰ کے فضل واحسان، رحمت عالم ﷺ کے طفیل اور شہدائے ختم نبوت کے صدقہ میں پہلی جلد آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل ہورہی ہے۔ حق تعالیٰ اسے اپنے رحم وکرم سے شرف قبولیت سے نوازیں۔ دوسری جلد کا کام بھی خاصا ہوچکا ہے۔ تھوڑا بہت باقی ہے۔ اس کے لئے دعا فرمائیں۔ ان شاء اللہ العزیز! وہ بھی بہت جلد آپ کی خدمت میں پیش ہوگی۔ اس کتاب کا دیباچہ مجاہد فی سبیل اللہ، عالم باعمل حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب (بھکر) سے لکھوانے کا وعدہ لے رکھا تھا۔ مگر اب کتاب پریس جانے کے مرحلہ میں ہے۔ مزید انتظار ناممکن ہے۔ قدرت کو منظور ہوا تو دوسری جلد میں اس ارادہ کی تکمیل ہوگی۔

تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کی کامیابی میں دیگر عوامل سمیت:

حضرت شیخ الاسلام محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوری کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت کے لئے تیار کرنا اور۔

یہ وہ عوامل تھے جن کے باعث یہ تحریک کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوئی اور دشمنان اسلام، منکرین ختم نبوت کا یہ اندھا ٹولہ ذلت آمیز طریقہ پر پسپا ہوا۔ فالحمدللہ! ان امور کی تفصیل آپ کو کتاب میں ملے گی۔ فقیر کو اسی ہفتہ ۲۰؍مئی ۱۹۹۳ء کو بروز پیر ضلع رحیم

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۶

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

یار خان کے ایک دینی جلسہ میں حاضر ہونے کا موقع ملا۔ وہاں کے عالم باعمل حضرت مولانا منظور احمد نعمانی، مفتی حبیب الرحمن درخواستی، برادر مکرم خطیب اہل سنت مولانا عبد الکریم ندیم خانپوری نے بتایا: ’’قطب عالم حضرت میاں عبد الہادی صاحب سجادہ نشین دین پور شریف، اپنے بڑھاپے اور بیماری کے باعث چلنے پھرنے سے معذور تھے۔ مگر اس تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء سے آپ کی قلبی وابستگی کا یہ عالم تھا کہ آپ کے حکم کی تعمیل میں آپ کی چارپائی کو خان پور جلوس میں لایا گیا۔ ویگن پر چارپائی رکھی گئی۔ اس حالت میں آپ نے جلوس کی قیادت کی۔ خان پور کے اس جلوس میں حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دیوبندی اور حضرت حافظ سراج احمد صاحب بریلوی آپ کے دائیں بائیں ہمراہ تھے۔ شرکاء جب ختم نبوت کا نعرہ لگاتے تو حضرت میاں عبد الہادی صاحب اپنی تمام تر توانائیوں کو جمع کر کے ’’زندہ باد‘‘ سے جواب دیتے۔ مرزائیت مردہ باد کہتے تو آپ پر جلال کی کیفیت طاری ہو جاتی۔ رفقاء کو اشارہ سے بلا کر فرماتے کہ میاں دیکھو! گواہ رہنا، کل قیامت کے دن رحمت عالم ﷺ کی بارگاہ شفاعت میں گواہی دینا کہ یہ عاجز (آگے جو اپنے متعلق انکساری کے جملے ارشاد فرمائے، فقیر لکھ نہیں سکتا) عبد الہادی محض اس عمل کے صدقہ سے نجات و شفاعت کی بھیک مانگے گا۔ گواہی دینا کہ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ ہی سے نجات ہوگی۔ نجات اور شفاعت حاصل کرنے کا یہ ’’شارٹ کٹ‘‘ راستہ ہے۔‘‘ انہیں حضرات کی ان اخلاص بھری دعاؤں اور جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ یہ تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ دشمن اپنے کئے کی پا رہا ہے اور اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔

حق تعالیٰ شانہ سید محمد صدیق شاہ صاحب، مکرم جناب قدیر شہزاد، محترم چوہدری محمد جاوید صاحب اسٹیٹ بینک لاہور، محترم محمد شاہین پرواز ننکانہ، جناب سجاد افضل صاحب، جناب عبد اللہ سلیم صاحب اسٹیٹ بینک لاہور، جناب عنایت اللہ رشیدی ’’اردو ڈائجسٹ‘‘ لاہور، جناب محمد یٰسین جہلم، جناب بیدار سرمدی، جناب محمود صادق کو جزائے خیر عطاء فرمائے کہ انہوں نے اس کتاب کے لئے میری مدد فرمائی۔ میں ان حضرات کا دلی طور پر مشکور ہوں۔ دفتر مرکزیہ کے رفیق محترم جناب جمعہ خان صاحب، مکرم مولانا عطاء الرحمٰن نے فوٹو اسٹیٹ کرنے کے لئے وقت بے وقت فقیر پر مہربانی فرمائی۔ کتاب کی پروف ریڈنگ کے لئے رفیق محترم راؤ محمد طفیل صاحب جاوید نے دن رات تعاون فرمایا۔ ان حضرات کا شکر گزار اور دعا گو ہوں۔ اللہ رب العزت ان کو جزائے خیر نصیب فرمائیں اور ختم نبوت کے مشن سے مزید دلی وابستگی و لگن سے کام کرنے کی سب کو توفیق بخشیں۔ حضرت اقدس امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی دعائیں، حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی حوصلہ افزائی، حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری صاحب کی کمال مہربانی اگر شامل نہ ہوتی تو فقیر یہ کام نہ کر پاتا۔ ان حضرات نے اکابر اسلاف کی طرح شفقت اور حوصلہ افزائی فرمائی۔ ان حضرات کی عنایات سے فقیر میں کام کرنے کا حوصلہ پیدا ہوا اور سب سے آخر میں مجھے برملا اس حقیقت کا اعتراف کرنا ہے کہ مکرم بھائی محمد متین خالد صاحب ’’اوّل سے لے کر آخر تک‘‘ اس کام کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھ کر کرتے رہے۔ وہ مہربانی نہ کرتے تو کتاب کے مواد کو جمع کرنا اور کتابت و طباعت کے مراحل فقیر کے بس کے نہ تھے اور آئندہ بھی وہ اور ان کے رفقاء اس کام کو اپنا کام اور دین و ایمان کی سعادت و برکت سمجھ کر کرتے رہے تو یہ سلسلہ جاری رہ سکے گا۔ رفقاء کرام اور قارئین محترم دعا فرمائیں کہ اس کتاب کی جلد ثانی اور تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء کی ترتیب و اشاعت کی بھی حق تعالیٰ شانہ محض اپنے فضل سے توفیق مرحمت فرمائیں۔

والسلام! طالب دعا: فقیر اللہ وسایا ۳؍ ذی الحجہ ۱۴۱۳ھ / ۲۵؍ مئی ۱۹۹۳ء بروز منگل بعد العصر، دفتر مرکزیہ ملتان

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۷

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۵۴ء

کے

حالات و واقعات

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

احتساب قادیانیت کی سرگزشت

۱۹۵۳ء کی مقدس تحریک ختم نبوت میں گرفتار ہونے والے رہنماؤں میں سے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور حضرت ماسٹر تاج الدین انصاری ۱۵؍ فروری ۱۹۵۴ء کو رہا ہوئے۔ ان کی رہائی کی خبر نوائے وقت لاہور نے درج ذیل شائع کی:

”لاہور ۱۵؍ فروری، آج آل مسلم پارٹیز کنونشن کی مجلس عاملہ کے دو ارکان مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور ماسٹر تاج الدین انصاری رہا کر دیئے گئے۔ یہ رہائی لاہور ہائیکورٹ کے آنریبل جسٹس ایس. اے رحمان کے حکم کی بناء پر عمل میں آئی ہے۔ آج فاضل جج ایس. اے رحمان کی عدالت میں متذکرہ دونوں اصحاب کی طرف سے دائر کردہ درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ عدالت عالیہ نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد اپنے مختصر فیصلہ میں لکھا ہے کہ درخواست دہندگان کی گرفتاری کے بعد انہیں مقرر کردہ میعاد کے اندر گرفتاری کی وجوہ سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ اس لئے ان کی نظر بندی ناجائز ہے۔ یاد رہے کہ چند دن قبل ہائیکورٹ کے حکم سے مجلس عمل کے چار ارکان مولانا ابوالحسنات، صاحبزادہ فیض الحسن، مولانا لال حسین اختر اور سید مظفر علی شمسی کو رہا کیا گیا تھا۔“

(نوائے وقت لاہور، مؤرخہ ۱۷؍ فروری ۱۹۵۴ء)

تحریک ختم نبوت کے آخری نظربند کی رہائی

منٹگمری (ساہیوال) سے تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں گرفتار ہونے والے نظر بند حافظ حیدر علی کو سینٹرل جیل منٹگمری سے ۱۸؍ فروری ۱۹۵۴ء کو رہا کیا گیا۔ موصوف کو ۱۵؍ مارچ ۱۹۵۳ء کو سیفٹی ایکٹ کی دفعہ ۲۱ کے تحت نظر بند کیا گیا تھا۔ حافظ صاحب ضلع منٹگمری کے اسیرانِ ختم نبوت کے آخری نظر بند تھے۔ جنہیں اب تک رہا نہ کیا گیا تھا۔

(امروز لاہور، مؤرخہ ۲۰؍ فروری ۱۹۵۴ء)

یہ تو عام نظر بند قیدی حضرات تھے۔ مگر جنہیں تحریک ختم نبوت کے قاتل جنرل اعظم خان کے پاکستان کی تاریخ میں پہلے مارشل لاء کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، ان کی صورتحال روز نامہ ہلال پاکستان لاہور کی خبر کے مطابق یہ تھی:

”دریں اثنا ہلال پاکستان کو معلوم ہوا کہ اس وقت لاہور جیل میں فوجی عدالتوں سے سزا پائے ہوئے تقریباً ڈیڑھ سو قیدی ہیں۔ جن کی سزاؤں کے خلاف انڈیمنسٹی ایکٹ کے تحت اپیل کے لئے اسلام لیگ کے جنرل سیکرٹری مسٹر قیصر مصطفیٰ بخاری ایڈووکیٹ نے ضروری قانونی امداد مہیا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جیل میں مارشل لاء کا ایک قیدی ایسا بھی ہے، جس کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔ لیکن اس سزا کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا تھا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ شخص اس وقت سے اب تک موت کی کوٹھڑی میں ہی پڑا ہے اور اس کا کوئی بھی پرسان حال نہیں ہے۔ اس قیدی کا نام نذیر بتایا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ اس قیدی کی طرف سے بھی انڈیمنسٹی ایکٹ کے تحت اسلام لیگ ایک اپیل دائر کرنے کے لئے ضروری کارروائی کر رہی ہے۔“

(روزنامہ ہلال پاکستان لاہور، مؤرخہ ۲۲؍ فروری ۱۹۵۴ء)

اپیل دائر ہوئی یا نہ، اگر ہوئی تو اس کا کیا فیصلہ ہوا، اس سلسلہ میں تو کوئی معلومات جمع نہ ہو پائیں۔ البتہ ہوا یہ کہ ۴؍ جنوری ۱۹۵۵ء کو اس کی سزائے موت پر عمل درآمد کا اعلان ہو گیا۔ اس سزا پر عمل درآمد رکوانے کے سلسلہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر نے جو کوششیں کیں ہفتہ وار کلیم ملتان کی رپورٹ کے مطابق یہ ہیں۔

جناب محمد نذیر کی سزائے پھانسی کی تنسیخ کے سلسلہ میں

یکا یک اخبارات میں یہ افسوس ناک خبر شائع ہوئی کہ مارشل لاء کے قیدی محمد نذیر کو جنہیں دوران مارشل لاء ایک مرزائی اسکول

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ماسٹر کے قتل کے الزام میں سزائے موت کا حکم سنایا گیا تھا، ۴؍جنوری کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے گا۔ اس خبر سے پورے ملک میں ایک ہیجان پھیل گیا۔ گورنر جنرل اور جناب حسین شہید سہروردی کے نام ٹیلی فون اور تاروں کا تانتا بندھ گیا اور ان سے انسانیت کے نام پر اپیل کی گئی کہ محمد نذیر کو پھانسی پر لٹکا کر اس کے غریب بچوں کو یتیم نہ کیا جائے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان اور ملتان کے تمام دینی مدارس اور دیگر اداروں کی طرف سے ملتان کی تمام مساجد میں قراردادوں کے ذریعہ گورنر جنرل سے رحم کی اپیل کی گئی۔

حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اپنی بیماری اور انتہائی تکلیف کی حالت میں جناب حسین شہید سہروردی وزیر قانون کے نام ایک درد بھرا مکتوب لکھا جس میں محمد نذیر کی سزائے موت کے حکم کی منسوخی کے لئے مداخلت کی درخواست کی گئی تھی۔ خدا کا شکر ہے کہ اسلامیان پاکستان کی پرخلوص دعائیں اور کوششیں کارگر ثابت ہوئیں...... اور گورنر جنرل نے محمد نذیر کی سزائے موت کا حکم عمر قید میں تبدیل کر دیا۔

اس پر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے صدر حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے گورنر جنرل پاکستان اور جناب حسین شہید سہروردی کے نام ایک تار میں مندرجہ ذیل الفاظ میں ان کا شکریہ ادا کیا کہ محمد نذیر اسیر مارشل لاء کی سزائے موت منسوخ کر کے آپ نے قوم پر احسان کیا ہے۔ میں اس پر مبارک باد دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے اس نیک عمل کو سال نو کے لئے فال نیک بنائے۔ آمین !

اس تار کی نقول اے. پی. پی کے ذریعہ تمام اخبارات کو بھی ارسال کی گئیں۔ حضرت امیر شریعت نے جناب سہروردی کے نام جو اپیل کا خط ارسال فرمایا تھا، اس کی نقل اسی صفحہ کے دوسرے کالموں میں درج کی جاتی ہے۔

حضرت امیر شریعت کا مکتوب جناب سہروردی کے نام

برادر عالی مرتبت جناب سہروردی صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اگرچہ میرا آپ پر کوئی حق نہیں ہے مگر فی سبیل اللہ ایک عرض کرتا ہوں کہ محمد نذیر لاہوری (سزا یافتہ مارشل لاء کورٹ) کی پھانسی کی سزا کو جس طرح بھی ہو سکے سزائے قید میں تبدیل کروا دیں۔ میں اور کسی کو اس قسم کا عریضہ لکھنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ آپ نے سنٹرل جیل لاہور میں چونکہ تین چار دفعہ شرف ملاقات بخشا۔ اس لئے ؎

کرمہائے تو مارا کرد گستاخ

میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت آپ حضرات کا یہ عمل ملک وملت کے لئے آئندہ سال کے لئے فال نیک اور برکتوں اور سعادتوں کا سبب بنے گا۔ افسوس کہ میں ڈیڑھ مہینے سے پلنگ پر پڑا ہوا ہوں۔ ورنہ میں خود حاضر خدمت ہو کر زبانی عرض معروض کرتا۔ آپ مجھ سے ہزاروں درجہ زیادہ دانا و بینا ہیں۔ معاملات کی نزاکتوں کو آپ بخوبی سمجھتے ہیں۔ عمرقید کی سزا بھی آخر سزا ہی ہے اور کچھ کم سزا نہیں ہے۔ اگر اتنا ہو جائے تو مسلمانان پاکستان کے پرانے زخم بھی مندمل ہو جانے کی امید ہے۔ دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس معاملہ میں اور تمام معاملات میں کامیابی عطاء کرے۔ آمین !

میں اپنے ہاتھ سے لکھنے سے معذور ہوں اور ابھی ہاتھ اچھی طرح کام نہیں کرتا۔ اس لئے اپنے لڑکے سے لکھوا رہا ہوں۔ والسلام مع الاکرام ! فقیر سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مؤرخہ ۳۱؍دسمبر ۱۹۵۴ء ملتان شہر (ہفتہ وار کلیم ملتان مؤرخہ ۱۲؍ جنوری ۱۹۵۵ء)

صفحہ ۴۰

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قارئین کرام! آگے چلنے سے قبل ایک وضاحت ضروری خیال کرتا ہوں کہ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں جن حضرات کو ”سزائے موت“ ہوئی تھی وہ چار افراد تھے۔ مولانا عبدالستار خان نیازی، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا خلیل احمد قادری، جناب نذیر احمد صاحب۔ محترم نیازی صاحب، مودودی صاحب، قادری صاحب تو رہا ہو گئے۔ جناب نذیر احمد صاحب رہا نہ ہو سکے۔ حضرت امیر شریعت اور دوسرے رہنما ان کی طرف سے بے خبر نہ تھے۔ مگر وہ حکومت وقت اور سفاک زمانہ مسلم لیگ کے معتوب تھے۔ مرزا بشیر الدین محمود کا نمائندہ ظفر اللہ قادیانی مسلم لیگ کا کرتا دھرتا اور حکومت کا لے پالک اور چہیتا بیٹا تھا۔ جونہی اس کی سزائے موت پر عمل درآمد کی خبر کا علم ہوا، زندگی بھر کسی سے درخواست نہ کرنے والے شخص حضرت امیر شریعت بھی بے قرار ہو گئے اور سہروردی مرحوم کو خط لکھا۔ اس شخص کی زندگی کی بھیک مانگی۔ جماعت اسلامی تحریک ۱۹۵۳ء میں اپنے طرز عمل کی وجہ سے عوام میں مشکوک ہو گئی تھی۔ اس مشکل وقت میں جماعت کے امیر میاں طفیل محمد صاحب کو موقع میسر آیا کہ وہ کریڈٹ کے لئے آگے بڑھے، انہوں نے اخبارات کو ایک بیان جاری کیا۔ مگر کیا کیا جائے خبث باطن کا کہ اس کارِ خیر میں بھی وہ تحریک کے مظلوم رہنماؤں کی کردار کشی سے باز نہ آیا۔ اس کا بیان کس قدر خود غرض، ملاوٹی ہمدردی اور تحریک کے رہنماؤں کی کردار کشی پر مبنی ہے، ملاحظہ فرمائیں:

کراچی، مؤرخہ ۳؍ دسمبر (بذریعہ ٹیلی فون) ناظم شعبہ نشر و اشاعت، جماعت اسلامی کراچی نے اطلاع دی ہے کہ میاں طفیل محمد صاحب قیم جماعت اسلامی پاکستان نے لاہور سے حسب ذیل بیان بذریعہ ٹیلی فون پریس کے لئے جاری کیا ہے: ”محمد نذیر اسیر مارشل لاء کو ۴؍ جنوری ۱۹۵۵ء کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے گا۔ اس فیصلہ نے مسلمانوں کے ان چھوٹے بڑے سارے زخموں کو از سر نو تازہ کر دیا ہے جو انہوں نے اہل حکومت کے ہاتھوں تحریک ختم نبوت کے دوران کھائے تھے اور مرور زمانہ سے اب قدرے مائل بہ اندمال تھے۔ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ تحریک کے اصل لیڈروں کے سارے گناہ معاف کر دینے کے بعد ایک بے کس کو پھانسی پر لٹکانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا ہے؟ جو سو فیصد ہی مجرم ثابت ہو جانے کے بعد بھی زیادہ سے زیادہ اشتعال انگیز تقریر ہی کا بدقسمت شکار قرار دیا جا سکتا ہے۔ میں تمام ملک کے مسلمانوں سے انسانیت اور عدل و انصاف کے نام پر اپیل کرتا ہوں کہ وہ جمعہ کے اجتماعات میں اس کے خلاف احتجاج کریں اور قرار دادوں، تاروں اور دوسرے جمہوری اور آئینی ذرائع سے اس ظالمانہ فیصلے کو منسوخ کروانے کے لئے حکومت پاکستان پر دباؤ ڈالیں۔ مسٹر حسین شہید سہروردی وزیر قانون اور مجلس احرار کے لیڈروں پر جو اب ان کے باقاعدہ حلیف بن چکے ہیں، اس بارے میں سب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کے حکومت میں اثر و رسوخ کے باوجود اگر میاں محمد نذیر کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا تو یہ انتہائی افسوس ناک صورت ہو گی۔“

(روزنامہ انجام کراچی، مؤرخہ یکم جنوری ۱۹۵۵ء)

قادیانی جماعت میں اندرون خانہ رسہ کشی

تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے نتیجہ میں مرزائیوں کے اندرون خانہ رسہ کشی شروع ہو گئی۔ مرزائی جماعت کے ڈکٹیٹر ثانی مرزا بشیر آنجہانی نے اپنی جماعت کے بعض لوگوں کو جماعت سے اخراج کی سزا دی۔ جس پر نوائے وقت لاہور نے نوٹ لکھا:

ہر چہ بر خود

”اخبار ”الفضل“ میں ”اعلان سزا“ کے نام سے یہ طویل تحریر شائع ہوئی ہے: ”حکیم نذیر احمد صاحب برق محلہ دار الفضل جو قادیان میں رہتے تھے اور وہاں نظارت امور عامہ کے علم میں ان کے خلاف بعض شکایات تھیں اور ان کو اصلاح کا موقع دیا گیا تھا۔ لیکن محکمہ سے عدم

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۴۱ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تعاون کی بناء پر انہیں اخراج از قادیان کی سزا دی گئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے توبہ کی اور انہیں پھر قادیان آنے کی اجازت دی گئی۔ لیکن باوجود توبہ کرنے کے وہ پھر اپنے طریق سے باز نہ آئے اور اندر ہی اندر اپنے گرد ایک جماعت جمع کرنی شروع کی۔ جن کو اپنے الہاموں کے ذریعے سے قسمہا قسم کی امیدیں دلا کر اپنے گرد اکٹھا کیا۔

نذیر احمد صاحب کی حرکات کو دیکھ کر میاں غلام رسول صاحب ٹھیکیدار بھٹہ نے اپنے بعض رشتہ داروں کو ان سے ملنے سے منع کیا۔ جس پر نذیر احمد صاحب نے کہا: چونکہ وہ غلام رسول صاحب سے خفا ہیں، اس لئے خدا تعالیٰ بھی ان سے خفا ہے اور جب تک وہ تین صد روپیہ نہ دیں، اس وقت تک وہ ابتلاء سے بچ نہیں سکتے۔ چنانچہ میاں صاحب کو مشورہ دیا گیا کہ ہرگز اس کو روپیہ نہ دیں۔ یہ ٹھگ ہے۔ یہ طریق صلحا کا نہیں ہوتا بلکہ لالچی آدمیوں کا ہوتا ہے اور کچھ دنوں کے بعد حکیم صاحب کو قادیان سے رخصت کر دیا گیا۔

چونکہ بہت سے ریکارڈ ہجرت کی وجہ سے تلف ہو گئے ہیں، اس لئے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس شخص (نذیر احمد برق) نے سندھ میں جاکر اپنے الہاموں کے ذریعہ سے بعض لوگوں کو اپنے گرد اکٹھا کرنا شروع کیا۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ (مرزا محمود قادیانی) نے اسے سندھ میں اپنی جائیداد پر دیکھا۔ منیجر صاحب سے وجہ دریافت فرمائی تو انہوں نے بتایا کہ یہ برق نہیں بلکہ ظفر ہے تو حضور نے فرمایا کہ پہلے بھی ان صاحب نے کئی نام بدلے ہیں۔ بالآخر انہوں نے سندھ کے بعض کارکنوں کو ورغلانے کی کوشش کی۔ ان کے متعلق معاملہ زیر تحقیق ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ جب تک کسی سلسلہ میں خدائی نظام قائم ہوتا ہے، اس قسم کے ملہم نہیں آسکتے جو اپنے گرد لوگوں کو جمع کریں۔ اگر ایسے لوگ آئیں تو خدائی نظام کے معنی کوئی نہیں رہتے اور اگر ایسے وقت میں کوئی آدمی آئے تو وہ اس نظام کو چیلنج کرے گا کہ اب خدائی نظام نہیں رہا۔ لیکن یہ شخص دو کشتیوں میں پیر رکھتا ہے۔ ادھر نظام کو خدائی قرار دیتا ہے۔ ادھر اپنے الہاموں کے دعووں پر ایک جتھا بناتا ہے۔ ایسا شخص سچا نہیں ہو سکتا، وہ غلطی خوردہ ہے یا وہ جھوٹ بولتا ہے۔ چنانچہ انہی حالات کی بناء پر ۲۰؍ جولائی ۱۹۴۸ء کے الفضل میں نظارت ہذا نے اس شخص کے مقاطعہ کا اعلان کیا اور ساتھ ہی وضاحت کی کہ اگر پھر بھی انہوں نے اپنی اصلاح نہ کی تو اخراج از جماعت کی سزا دی جائے گی۔ باوجود انہیں اپنی اصلاح کے لئے موقعہ دینے کے، اب پھر یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ابھی تک انہوں نے اپنی اصلاح نہیں کی۔ اس لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ حکیم نذیر احمد صاحب برق حال ظفر ساکن چک نمبر ۲۹۵ چنڈانوالہ براستہ گٹی ضلع لائل پور کے علاوہ سابقہ مقاطعہ کی سزا کے خارج از جماعت بھی کیا جاتا ہے۔

چوہدری علی محمد صاحب واقف زندگی نے باوجود صریح حکم اور امور عامہ کے مقاطعہ کے اعلان کے حکیم نذیر احمد صاحب برق سے تعلق رکھا ہے، اس لئے انہیں مقاطعہ کی سزا دی جاتی ہے۔ جب تک کہ وہ حقیقی توبہ نہ کریں۔ احباب جماعت احمدیہ اس اعلان سے مطلع رہیں اور اس کی پوری پوری تعمیل کریں۔ (ناظر امور عامہ سلسلہ عالیہ احمدیہ ربوہ) ”ہم کسی مذہبی بحث میں نہیں الجھنا چاہتے۔ مگر ان ”ناظر امور عامہ“ سے یہ عرض نامناسب نہ ہوگی کہ وہ ملاحظہ فرمائے اور سوچے کہ اگر دوسرے لوگ بھی آپ کو آپ ہی کے مقرر کردہ معیار پر جانچیں تو کیا آپ کی زندگی تلخ نہ ہو جائے گی؟ آپ جو سلوک اپنے لئے نامناسب سمجھتے ہیں وہ سلوک دوسروں سے کیوں کرتے ہیں؟“

(نوائے وقت لاہور، مورخہ ۲۳؍ نومبر ۱۹۵۴ء)

قادیانی جماعت میں نہ صرف اندرونی خلفشار ہوا بلکہ ان دنوں تحریک ختم نبوت کی وجہ سے قادیانی شاطر (مرزا محمود) اتنا پریشان تھا کہ انہوں نے ربوہ سے اپنا ہیڈ کوارٹر تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ جنگ کراچی کی یہ خبر ملاحظہ ہو:

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

”لاہور: مؤرخہ ۱۷/ مارچ (نمائندہ جنگ) معلوم ہوا ہے جماعت احمدیہ نے پاکستان میں ربوہ کے مقام پر اپنا ہیڈ کوارٹر انڈونیشیا منتقل کر دینے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس سلسلہ میں جماعت احمدیہ کے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کے ایک عزیز جن کا نام مرزا ناصر احمد بتایا جاتا ہے، تھوڑا عرصہ ہوا کہ انڈونیشیا کا دورہ کر کے لوٹے ہیں۔ یادرہے کہ قیام پاکستان سے پہلے جماعت احمدیہ کا ہیڈ کوارٹر قادیان (مشرقی پنجاب) میں تھا۔ جہاں اب بھی اسی جماعت کے ۳۱۳ ممبران مقیم ہیں۔ جماعت احمدیہ کے قریبی حلقوں نے بتایا ہے کہ جن دنوں تحریک تحفظ ختم نبوت کا پاکستان میں زور تھا اور اس قسم کا پروپیگنڈہ زوروں پر کیا جارہا تھا کہ احمدیوں کو ایک اقلیتی فرقہ قرار دیا جائے اور چوہدری محمد ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ سے ہٹا دیا جائے۔ انہی دنوں اس امر پر غور وخوض کرلیا گیا تھا کہ جماعت کا ہیڈکوارٹر ربوہ سے منتقل کر دیا جائے۔ چنانچہ مارشل لاء اور اس کے بعد چوہدری ظفر اللہ خان کے استعفیٰ اور چوہدری صاحب کے بین الاقوامی عدالت میں چلے جانے کے بعد ہیڈ کوارٹر کی تبدیلی کے منصوبہ پر غور شروع ہو گیا۔ ان حلقوں نے بتایا کہ چوہدری ظفر اللہ خان کے بحیثیت وزیر خارجہ پاکستان میں رہنے سے اگرچہ تبلیغی لحاظ سے جماعت احمدیہ کو کوئی خاص فائدہ نہیں تھا، مگر اس قسم کی ڈھارس سی تھی کہ حکومت میں ہمارا بھی نمائندہ ہے۔ اب اگرچہ حکومت کی طرف سے ہمارے ساتھ کوئی نا انصافی نہیں کی جارہی، لیکن اپنے تبلیغی ذرائع کو محدود اور ایک عدم تعاون کے نظریہ کو پاتے ہوئے ہم مجبور ہیں کہ ربوہ کو چھوڑ دیں۔ جس کے لئے انڈونیشیا کو منتخب کیا گیا ہے۔ جہاں بیٹھ کر ہم اپنا عالمی مشن چلائیں گے۔ ابھی یہ معلوم نہیں کہ کب ان کا ہیڈ کوارٹر منتقل ہو جائے ۔‘‘

(روزنامہ جنگ کراچی، مؤرخہ ۱۹/ مارچ ۱۹۵۵ء)

مارچ ۱۹۵۵ء کی خبر آپ نے پڑھی۔ قادیانی شاطر قیادت پاکستان سے نکلنے پر غور کررہی تھی۔ ظفر اللہ قادیانی وزارت خارجہ سے برطرف ہوگیا۔ لیکن برطانوی سامراج کے اس گماشتے طبقہ کو لیگی کم بخت قیادت نے غیر ملکی آقاؤں کے حسب منشا اتنا سہارا دیا کہ پاکستان تو درکنار بیرون ملک بھی قادیانی قیادت نے پر پرزے نکالنے شروع کردیئے۔ روزنامہ تسنیم لاہور کی یہ خبر ملاحظہ ہو:

رنگون میں قادیانیت

رنگون (ڈاک سے) ”رنگون میں مرزائی اور لاہوری قادیانی اپنے اپنے طور پر مسلمانوں کو مرتد بنانے کی جو چال چل رہے ہیں اس سے مسلمانوں کے تمام حلقوں میں اشتعال پیدا ہوتا جارہا ہے۔ مسلمانوں کا ذہن اور سمجھدار طبقہ قادیانیوں کی اس ناپاک جدوجہد کی شدید مذمت کر رہا ہے۔ مسلمانوں کی خواہش ہے کہ وہ سیدھے سادھے مسلمان رہیں اور کوئی ان کے مذہب میں مداخلت نہ کرے۔ لاہوری قادیانی مرزا غلام احمد کو مجدد اور مسیح موعود قرار دیتا ہے۔ وہ نہایت ہوشیاری سے راستہ ہموار کرتا ہے۔ تاکہ پہلے مرزا کو مجدد مان لیا جائے اور اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مردہ قرار دے کر مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود بنادیا جائے۔ قادیانیوں کا دوسرا طبقہ یعنی مرزائی قادیانی اس ہموار زمین سے فائدہ اٹھاتا ہے اور پھر وہ مرزا قادیانی کی نبوت اور رسالت یہاں تک کہ اس کی خدائی کا بھی قائل کرتا ہے۔

قادیانیوں کی یہ خفیہ تحریک اب مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت بنتی جارہی ہے اور وہ بیدار ہورہے ہیں۔ چنانچہ مسٹر ایس. ایم حسین سیکرٹری سوتھہ گوڈی نیسوڈوپتاری مسلم سوسائٹی (۲۲۱ گلی نمبر ۳۰ رنگون) نے ایک پمفلٹ بغرض اشاعت ارسال کیا ہے جس کا متن حسب ذیل ہے:

”اس وقت شہر رنگون میں خفیہ طور سے قادیانیوں کی تحریک کام کر رہی ہے اور بعض سادہ لوح مسلمان جو قرآن اور حدیث کے حصے سے ناواقف ہیں، انہیں احمدیہ انجمن کی آڑ میں قادیانی تحریک کا ممبر بنا لیا گیا ہے۔ جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں، ان کے مطابق بعض

صفحہ ۴۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چولیا مسلمان بھی قادیانیوں کی خفیہ تحریک کا شکار بن گئے ہیں۔ اس لئے سوتھہ گوڈی نیسودو پتاری مسلم سوسائٹی کی مجلس عاملہ نے فیصلہ کیا ہے کہ جن مسلمانوں نے مرزا غلام احمد قادیانی گورداسپور پنجاب کو اپنا نبی مان لیا ہے، ان کو بغیر کسی تاخیر کے سوسائٹی کی ممبر شپ سے خارج کر دے۔ کیونکہ ہم مسلمان خدا کی وحدانیت اور رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ ہمارے رسول اللہ ﷺ کا دوسرا نام احمد ہے۔ میں ہر اس شخص کو چیلنج کرنے کے لئے تیار ہوں جو مستند شہادتیں یا اپنی تقریر سے یہ ثابت کر دے کہ مرزا غلام احمد نبی کہلانے کا مستحق ہے۔‘‘

نقالی....... جو قادیانیت کا بنیادی اصول ہے اس کا ثبوت ان حالات میں ملتا ہے۔ جن پر مرزا قادیانی کو نبی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ اس ضمن میں سرکس کا وہ کھیل یاد رکھئے جب ایک شخص بغیر کسی سہارے کے تار پر چلتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔‘‘

(تسنیم لاہور، مؤرخہ ۳۰؍ نومبر ۱۹۵۵ء)

مرزا محمود امریکہ نہ جا سکے

حالانکہ اس سے قبل ستمبر ۱۹۵۴ء میں بھی ایک واقعہ سے مرزا بشیر الدین بد دل ہو چکے تھے، جو یہ ہے:

لائل پور: مؤرخہ ۲؍ ستمبر، قائد جماعت احمدیہ مرزا بشیر الدین محمود مؤرخہ ۳۱؍ اگست کو بذریعہ چناب ایکسپریس واپس ربوہ پہنچے۔ ربوہ سے تعلق رکھنے والے واقف کار حلقوں سے عندالگفتگو معلوم ہوا ہے کہ مرزا محمود قادیانی کو حکومت پاکستان نے امریکہ جانے کی اجازت نہیں دی۔

یاد رہے کہ آج سے چند ماہ پیشتر جب وزیر خارجہ پاکستان کا مفروضہ استعفیٰ زبان زد خلائق تھا تو اخباروں میں یہ خبر نشر ہوئی تھی کہ مرزا بشیر الدین محمود امریکہ کے دورہ پر جا رہے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں اس کا مطلب یہ لیا گیا تھا کہ وہ امریکہ جا کر حکومت امریکہ کے توسل سے حکومت پاکستان پر زور ڈالیں گے کہ ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ سے الگ نہ کیا جائے۔ کیونکہ مرزا محمود قادیانی کی ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ سے چمٹے رہنا چاہئے۔

مرزا بشیر الدین محمود احمد کا کئی ہفتے تک کراچی رہ کر واپس لوٹ آنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حکومت پاکستان کے اس فیصلے کے متعلق اب کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہی کہ وزیر خارجہ پاکستان کے مفروضہ استعفے کو منظور کر لیا جائے گا۔ اس خبر کی تائید اگلے روز کی اس خبر سے بھی ہوتی ہے جس میں یقینی طور پر کہا گیا تھا کہ عدالت کی ججی کے انتخاب میں چوہدری صاحب کی کامیابی یقینی ہے۔ جس کے بعد ان کا وزارت پر قائم رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘

(روزنامہ تاجر لائل پور، مؤرخہ ۴؍ ستمبر ۱۹۵۴ء)

رسوائے زمانہ جسٹس منیر کی انکوائری نے شیطان کی آنت کی طرح طوالت اختیار کی اور اس نے ۱۰؍ اپریل ۱۹۵۴ء کو حکومت پنجاب کے ہوم سیکرٹری کو رپورٹ پیش کی۔ اس وقت تک حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور آپ کے رفقاء اس میں الجھے رہے۔ انکوائری کے مکمل ہونے پر حضرت امیر شریعت اور آپ کے رفقاء نے از سر نو سفر کا آغاز کیا۔

مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد

تقسیم سے قبل مجلس احرار اسلام ہند کے شعبہ تبلیغ کی حیثیت سے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور ان کے رفقاء قادیانیت کے منہ زور گھوڑے کو کھرلی پر باندھنے کی کاوش کرتے رہے مگر وہ انگریز کے کھونٹے پر ناچ رہا تھا۔ ملک عزیز تقسیم ہوا تو جنوری

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۱۹۴۹ء میں ملتان کی ختم نبوت کانفرنس میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے نام سے مستقل جماعت کی داغ بیل ڈالی گئی۔

(الاحرار ج ۱ ش ۷، ص ۱۳)

امیر شریعت نے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے نام سے باقاعدہ جماعت قائم فرما کر رفقاء کو فتنہ قادیانیت کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بنا دینے کے لئے تمام تر توجہات مرکوز کر دیں۔ مگر مرزائیت ہوا کے گھوڑے پر سوار کی طرح رکنے کا نام نہ لیتی تھی۔ لیگی حکومت نے اسے آب و دانہ اور سر چھپانے کے لئے ”ربوہ“ جیسا آشیانہ مہیا کر دیا۔ ظفر اللہ خان بدبخت مرزا قادیانی کی متعفن لاش کو لے کر ملکوں ملکوں پھرا۔ مرزا محمود پاکستان پر قبضے کے خواب دیکھنے لگا۔ حضرت امیر شریعت نے آل پارٹیز مجلس عمل بنا کر مرزا بشیر کے مقابل پوری امت کو لا کھڑا کیا جس کی تفصیلات آپ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ تحریک ختم نبوت کے بعد از سرنو دوبارہ ”مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان“ کا باقاعدہ مستقل جماعت کی حیثیت سے ۱۳؍ستمبر ۱۹۵۴ء کو ”نقش ثانی“ قوم کے سامنے آیا۔ چنانچہ اس سلسلہ میں جناب زاہد منیر عامر لکھتے ہیں: ”ان (امیر شریعت) کے اخلاص کا اندازہ صرف اسی امر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد جب انہوں نے اپنی سیاسی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کیا تو اپنا محاذ مذہبی بنالیا۔“

مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام

”مجلس احرار اسلام اگرچہ برطانوی استعمار کے خلاف نبرد آزما تھی اور اس کے ساتھ ہی انگریزوں کے خود کاشتہ پودے مرزائیت کا احتساب اور تعاقب بھی انہوں نے اپنے ذمہ لیا ہوا تھا۔ بہر حال چونکہ مجلس احرار ایک پولیٹیکل جماعت تھی اور سیاسیات میں ہر مسلمان کا ان کے خیالات سے اتفاق ضروری نہ تھا، اس لئے مجلس احرار اسلام نے ایک خالص دینی تبلیغی اور غیر سیاسی شعبہ بھی قائم کیا۔ جس کا نام شعبہ تبلیغ تھا اور اس کا مرکز قادیان میں قائم کیا گیا۔ مولانا عنایت اللہ، ماسٹر تاج الدین انصاری، مولانا محمد حیات فاتح قادیان یکے بعد دیگرے وہاں قیام پذیر رہے اور مبلغوں کی ایک جماعت اپنے ساتھ لے کر قادیان اور گردو نواح میں خوب کام کیا۔ آخر ان مخلص لوگوں کی محنت رنگ لے آئی، وہاں کے کچھ مخلص مسلمانوں نے اپنی کچھ زمینیں شعبہ تبلیغ کے نام وقف کر دیں۔ ایک مسجد میں جمعہ اور نماز پنج گانہ ہوا کرتی تھی، جس میں یہ حضرات باقاعدہ درس اور خطبہ وغیرہ دیا کرتے تھے۔ مولانا محمد حیات اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر بعض دفعہ قادیان کے بازاروں میں مجمع اکٹھا کر لیتے اور مرزائیت کی تردید کھلے بندوں کی جاتی۔ قادیان کی املاک کا اس شعبہ تبلیغ کے زیر اہتمام ایک ٹرسٹ قائم کر دیا گیا۔ جس کے ٹرسٹیوں میں قادیان کے رہنے والے پیر شاہ چراغ بھی شامل تھے۔ مولانا محمد حیات اور بعض دوسرے اصحاب اس ٹرسٹ کے ممبر تھے۔ قیام پاکستان تک یہ شعبہ تبلیغ کام کرتا رہا۔ قیام پاکستان کے بعد یہ ختم ہو گیا اور نہ ہی پیر شاہ چراغ صاحب کی اولاد سے ان املاک کے بدلے میں پاکستان میں کوئی جائیداد حاصل کی جاسکی۔

قیام پاکستان کے بعد مجلس احرار اسلام اپنی جگہ قائم تھی اور اس کے سامنے دیانتداری سے پھر وہی مشکل درپیش تھی کہ جو لوگ مجلس احرار اسلام سے اختلاف رکھتے ہیں، ان کی ہمدردیاں تحفظ عقیدۂ ختم نبوت کے لئے کس طرح حاصل کی جائیں؟ ویسے بھی قیام پاکستان کے بعد احرار کے رہنماء اور کارکن ذہنی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو چکے تھے۔ کچھ لوگ بوجوہ اب سیاسی کام نہیں کرنا چاہتے تھے اور کچھ لوگ سیاسیات سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہ تھے۔

۲۰، ۲۱؍ اپریل ۱۹۵۴ء کو حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے مکان پر ملتان میں قائدین احرار کا ایک اجلاس ہوا۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جس میں حضرت شاہ صاحب کے علاوہ ماسٹر تاج الدین انصاری، شیخ حسام الدین، مولانا محمد علی جالندھری، قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا حافظ سید عطاء المنعم شاہ بخاری، مولانا تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا مجاہد الحسینی شامل تھے۔ اجلاس میں شریک حضرات کی روایات کے مطابق آخری اجلاس رات کے وقت حضرت شاہ صاحب کے مکان کی چھت پر ہوا جو رات گئے تک جاری رہا۔ اتفاق رائے سے یہ طے پایا کہ شیخ حسام الدین اور ماسٹر تاج الدین انصاری آئندہ احرار کے سربراہ ہوں گے۔ حضرت شاہ صاحب، قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور مولانا محمد علی جالندھری مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ ہوں گے۔ اسی اجلاس میں دفاتر وغیرہ تقسیم کر لئے گئے اور باہم محبت اور خیرسگالی قائم رکھنے کا عہد کیا گیا۔

۴، ۵؍ ستمبر ۱۹۵۴ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت کا پہلا باقاعدہ اجلاس ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہوا۔ اس اجلاس میں حضرت شاہ صاحب اپنی علالت کے باعث شریک نہ ہوسکے۔ باقی بانی ممبران کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا لال حسین اختر، مولانا تاج محمود، مولانا عبدالرحیم اشعر، سائیں محمد حیات پسروری، مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا قاضی عبداللطیف اختر شجاع آبادی، مولانا مجاہد الحسینی، مولانا محمد شریف بہاول پوری، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا غلام محمد، مولانا محمد صدیق، مولانا احمد، مولانا خلیل الرحمن، چوہدری بشیر احمد، حافظ احمد دین۔ اس اجلاس میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا دستور مرتب کرنے کے لئے ایک سب کمیٹی بنادی گئی۔ جو درج ذیل حضرات پر مشتمل تھی: مولانا محمد علی جالندھری، مولانا تاج محمود، مولانا مجاہد الحسینی۔

۱۳؍ دسمبر ۱۹۵۴ء کو مجلس کا ایک اجلاس مرکزی دفتر ملتان شہر میں منعقد ہوا اور دستور کی منظوری دی گئی۔ پہلی شوریٰ اور عہدیداروں کا اعلان کیا گیا جس میں حسب ذیل اصحاب کے اسمائے گرامی شامل ہیں:

حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری (امیر)، مولانا محمد علی جالندھری (ناظم اعلیٰ)، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا محمد شریف بہاول پوری، مولانا علاؤ الدین (ڈیرہ اسماعیل خان)، مولانا تاج محمود (فیصل آباد)، مولانا نذیر حسین (پنوعاقل سندھ)، مولانا محمد رمضان (راولپنڈی)، مولانا مجاہد الحسینی (فیصل آباد)، مولانا لال حسین اختر (ناظم تبلیغ)، مولانا محمد حیات فاتح قادیان، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا حبیب اللہ (ساہیوال)، مولانا حکیم عبدالرحمن آزاد (گوجرانوالہ)، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا عبدالرحیم اشعر وغیرہ۔

(سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور پاکستان از ازہر منیر عامر ص ۱۲۳ تا ۱۲۶، طبع سرگودھا)

اب واقعات کی ترتیب یہ ہوئی کہ فروری ۱۹۵۴ء کو حضرت امیر شریعت رہا ہوئے۔ ۱۰؍ اپریل ۱۹۵۴ء کو منیر رپورٹ تیار ہوئی۔ ۲۰، ۲۱؍ اپریل ۱۹۵۴ء کو حضرت امیر شریعت کے مکان پر رفقاء کا اجلاس ہوا اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے دوبارہ منظم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جو رفقاء سیاسی کام کرنا چاہتے تھے انہوں نے اپنے لئے سفر کا راستہ متعین فرمایا اور حضرت امیر شریعت اپنے رفقاء سمیت ختم نبوت کے محاذ پر سرگرم عمل ہوگئے۔

۴، ۵؍ ستمبر کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا پہلا باضابطہ اجلاس ہوا۔ اس اجلاس کی کارروائی شوریٰ کے رجسٹر سے پیش خدمت ہوگی۔ کارروائی کے آغاز پر حضرت مولانا محمد شریف جالندھری کا یہ نوٹ ہے: ’’مارچ ۱۹۵۳ء میں تحفظ ختم نبوت کی بے مثال تحریک شروع ہوئی تو سابقہ ریکارڈ حکومت نے ضبط کرلیا۔ تحریک میں سب حضرات جیل چلے گئے۔ رہائی کے بعد پہلا اجلاس ٹوبہ ٹیک سنگھ ضلع لائل پور میں ۴، ۵؍ ستمبر ۱۹۵۴ء کو ہوا۔ دراصل یہ اجلاس مجلس کے رہنماؤں، مبلغین اور کارکنان پر مشتمل ہے۔ مرکزی شوریٰ کا ابھی ڈھانچہ تیار نہیں ہوا۔‘‘ (محمد شریف)

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حضرت مولانا محمد علی جالندھری نے یہ نوٹ لگایا ہے۔

نوٹ: پہلا تمام ریکارڈ پولیس نے گرفتاریوں کے بعد جلا دیا اور مکان دفتر میں پولیس افسر نے رہائش اختیار کر لی۔ (اجلاس کی کارروائی آپ مجلس شوریٰ کی کارروائیوں کے باب میں دیکھیں گے)

مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۷۳ھ، مطابق ستمبر ۱۹۵۳ء تا اگست ۱۹۵۴ء

مجلس تحفظ ختم نبوت کی پہلی سالانہ روئیداد ۱۳۷۳ھ کے اختتام پر شائع ہوئی۔ اس کے مقدمہ میں مرزائیت کی ابتداء و عروج سے لے کر تحریک ۱۹۵۳ء کے اختتام اور مجلس کے قیام تک کی کسی قدر جستہ جستہ باتیں آگئی ہیں۔ وہ مقدمہ روئیداد پیش خدمت ہے:

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے انبیاء کرام علیہم السلام کا سلسلہ شروع فرمایا اور سب سے پہلے پیغمبر سیدنا حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری رسول سید الکونین، شفیع المذنبین، خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی یا رسول مبعوث نہیں کیا جائے گا۔ یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور اس میں کسی قسم کی تاویل اور ردو بدل کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔ حضرت رسول کریم ﷺ نے یہ بھی اطلاع دی کہ میرے بعد بہت سے لوگ ایسے ہوں گے جو امتی ہونے کے ساتھ ساتھ نبوت کا دعویٰ بھی کریں گے۔ آپ ﷺ نے ہر ایسے مدعی نبوت کو دجال اور کذاب کا خطاب دیا اور اس کے جھوٹے ہونے کی دلیل یہ دی کہ میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی بھی نبی پیدا نہ ہوگا۔ پیغمبر ﷺ نے جھوٹے مدعیان نبوت کا ذکر کرتے وقت کبھی بھی کسی سچے نبی کے پیدا ہونے کی اطلاع نہیں دی۔

اسلام کے ابتدائی دور میں ہی ایسے لوگ پیدا ہو گئے تھے جنہوں نے جھوٹا دعویٰ نبوت کرنے کی کوشش کی۔ مگر امت محمدیہ میں کبھی بھی یہ بات تسلیم نہیں کی گئی کہ پیغمبر ﷺ کے بعد کسی نبی کی گنجائش ہے۔ کسی بھی مدعی نبوت کو اس طرح نہیں جانچا گیا کہ اس کا دعویٰ کس قسم کا ہے اور وہ کس زمرہ میں ہے۔ بلکہ ہر مدعی نبوت کو بلا استثناء کذاب تصور کیا گیا اور ایسے واقعات کی تاریخ شاہد ہے کہ جھوٹے مدعیان نبوت اپنے دعوے کی بنا پر دنیا میں کیا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔

قادیان

قادیان ضلع گورداسپور (مشرقی پنجاب) میں ایک معمولی قصبہ ہے۔ اس قصبہ میں غلام مرتضیٰ نامی ایک شخص کے لڑکے مرزا غلام احمد نے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور اس دعویٰ کے لئے اس نے مختلف مدارج طے کئے۔ حتیٰ کہ مرزا غلام احمد محدث، ملہم و مجدد کے مدارج سے گزر کر نبی اور رسول کے درجہ تک پہنچنے کا دعویدار ہوا۔ اس وقت ہندوستان پر انگریز حکمران تھا۔ اس کے دور اقتدار میں ملک کی فضا اس نئے دعوے کے لئے بڑی سازگار پائی اور حکومت کے سہارے بڑھنا شروع کیا۔ دعویٰ نبوت کے ساتھ ساتھ حرمت جہاد اور انگریز کی اطاعت کی فرضیت کو اپنے عزائم کی تکمیل کا ذریعہ بنایا۔ رفتہ رفتہ جب مرزا غلام احمد نے انگریز کے بل بوتے پر چند آدمیوں کو اپنے ساتھ ملا

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کر ایک جماعت کی بنیاد ڈال دی تو قادیانی جماعت نے قوت کے ساتھ ہر مخالف طاقت کو دبانا شروع کر دیا اور من مانی کارروائیاں ہونے لگیں اور سب سے زیادہ ہدف مظالم قادیان کے مسلمان بنائے گئے۔ کسی مسلمان کا قادیان میں سکونت اختیار کرنا بڑی دشوار بات تھی۔ مسلمان قادیان میں مرزائیوں کی رعایا بن کر رہ سکتا تھا۔ قادیان میں عرصہ تک کسی مسلمان عالم دین کا وعظ کرنا یا مسلمانوں کا کوئی اسلامی تہوار منانا مشکل ہو گیا تھا۔ حتیٰ کہ وہاں کے قتل کی شہادت مہیا کرنے میں اس وقت کی حکومت بے بس ہو گئی تھی۔ الغرض قادیان میں رہنے والے مسلمانوں کی داستان انتہائی المناک ہے۔

ان حالات میں وہاں کے مسلمانوں نے حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری مدظلہ العالی کو اس افسوس ناک صورتحال سے مطلع کیا اور اس طرح آپ کی خصوصی توجہ مبذول کرائی گئی۔ آپ نے اپنے چند ساتھیوں کو قادیان میں جا کر کام کرنے کی تلقین فرمائی۔ چنانچہ وہاں شعبہ تبلیغ کے نام سے ایک ایسے ادارے کی بنیاد ڈالی گئی جو اپنا دائرہ عمل صرف تبلیغ دین تک محدود رکھے۔ اس کام کے لئے مشہور علماء کرام اور مبلغین کی خدمات حاصل کی گئیں اور وہ قادیان میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے تبلیغی خدمات انجام دیتے رہے۔ ان میں ماسٹر تاج الدین، مولانا عنایت اللہ چشتی، مولانا محمد حسین، مولانا شیخ احمد، مولانا علاؤ الدین حیدر، مولانا خلیل الرحمن، سید محمد غریب شاہ، حافظ محمد، مولانا محمد حیات اور مولانا محمد یعقوب و غیرہم حضرات کے اسمائے گرامی بالخصوص قابل ذکر ہیں۔

ختم نبوت ٹرسٹ

قادیان میں رہنے والے مسلمانوں کے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ وہاں کے مغل خاندان (مرزائیوں) نے اہل اسلام کا سوشل بائیکاٹ کر رکھا تھا اور بائیکاٹ کا یہ سلسلہ اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ ایک دفعہ انہوں نے مسلمانوں کو اپنے قبرستان میں میت کو دفنانے سے روک دیا اور مسلمانوں سے کہا کہ تم چونکہ ایک نبی (مرزا قادیانی) کو نہ ماننے کی وجہ سے مسلمان نہیں ہو، لہٰذا تم ہمارے قبرستان میں اپنی میت کو دفن نہیں کر سکتے۔ چنانچہ مسلمانوں نے مجبوراً وہ میت بٹالہ کے قبرستان میں جا کر دفن کی۔

اس بائیکاٹ میں عام دکانداروں سے سودا خریدنا اس وقت تک ترک کر دیا گیا جب تک وہ معاہد (ذمی) بننا قبول نہ کریں۔ بائیکاٹ نے اہل اسلام کو مجبور کر دیا کہ وہ اسلام سے منحرف ہو جائیں یا اپنی آزادی قربان کر دیں۔ اس طرح جو شخص ان کا معاہد (ذمی) ہو جاتا اس کی دوکان پر ذمی ہونے کی باقاعدہ تختی آویزاں کر دی جاتی۔ اس معاہدہ کا نام ”معاہدہ تجارت“ رکھا گیا تھا۔

قادیان میں عام مسلمانوں کا نہ تو کوئی سکول ایسا تھا جس میں وہ اپنے بال بچوں کو تعلیم دلا سکیں اور نہ ہی کوئی عبادت گاہ ایسی تھی جو اس مغل خاندان کے اثر سے محفوظ ہو۔ مسلمانوں کی اکثریت نے اگرچہ ”نئی نبوت“ کو قبول نہیں کیا تھا، مگر قادیان میں رہتے ہوئے اس خاندان سے اس قدر مرعوب تھے کہ ان کی آزادیٔ ضمیر ختم ہو چکی تھی۔ قادیان کے مسلمانوں کی مذہبی تعلیم کے انتظام اور دوسری دینی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے شعبہ تبلیغ نے ختم نبوت کے نام پر ایک ٹرسٹ قائم کیا جس کے زیر اہتمام ایک سکول اور تین مسجدیں تعمیر کی گئیں اور کچھ مکانات خرید کر وقف کر دیئے اور ۳۶ بیگھہ زمین خرید کر قادیان میں ایک عالی شان جامع مسجد کی بنیاد قائم کر دی اور اس کے ساتھ خالص مسلم آبادی کے لئے علیحدہ بستی کی صورت میں مکانات کی تعمیر کا سلسلہ شروع کر دیا۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مقدمات کی بھرمار

ختم نبوت ٹرسٹ کے نام پر خریدی ہوئی زرعی زمین پر حق شفعہ اور حق استقراء کے مقدمات شروع کر دیئے گئے اور قادیان کے برسراقتدار لوگوں نے ختم نبوت ٹرسٹ کے کارکنان اور مبلغین کو اس میں الجھائے رکھا۔ یہاں تک کہ انہیں بیک وقت آٹھ آٹھ مقدمات میں مبتلا کیا گیا۔ ان میں سے کئی مقدمات میں اللہ تعالیٰ نے فتح نصیب کی۔ گورداسپور کی ایک عدالت میں کسی مقدمہ کے سلسلہ میں روپے جمع ہیں۔ علاوہ ازیں کچھ مقدمات ابھی زیر سماعت تھے کہ ملک تقسیم ہو گیا۔

پیر سید محمد چراغ شاہ صاحب

نہایت ناشکری ہو گی کہ اگر قادیان کی ایک مخلص ہستی پیر سید محمد چراغ شاہ صاحب کا ذکر نہ کیا جائے۔ آپ وہاں کے ایک مخلص بزرگ تھے۔ ختم نبوت ٹرسٹ کے لئے تمام زرعی اراضی آپ ہی کے نام خریدی جاتی تھی اور اس طرح لاکھوں روپے کی جائیداد آپ کے نام پر امانت ہوئی جو شفعہ کی مدت گزرنے کے بعد ختم نبوت ٹرسٹ کے نام منتقل کرائی جاتی اور بہت سی زرعی زمین ابھی تک پیر سید محمد چراغ شاہ صاحب ہی کے نام ہے۔ پاکستان میں آ کر پیر صاحب نے کئی بار اصرار بھی کیا کہ وہ زمین ختم نبوت جماعت کے نام منتقل کرا دی جائے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں ضروری اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس محسن ملت کو جزا خیر عطا فرمائے۔ آمین!

اجتماع تبلیغ

ہمارے ملک کے جن علماء کرام نے باطل فرقوں کے مقابلہ میں اپنی زندگیاں وقف کر رکھی تھیں ان کی خدمات اگرچہ قابل تشکر و امتنان ہیں لیکن باطل کی مضبوط تنظیم کے مقابلہ میں اسلامی نظام تبلیغ بڑی اعلیٰ تنظیمی صلاحیتوں کا طالب تھا۔ چنانچہ برسوں کی شبانہ روز کوششوں کے بعد تحفظ ختم نبوت کے اراکین نے ان ہی بنیادوں پر یہ نظام قائم کیا۔ اس نظام تبلیغ کا پورے ملک میں خیر مقدم کیا گیا اور قادیان میں منعقدہ ایک عظیم الشان کانفرنس کے موقع پر ہندوستان کے شہرۂ آفاق علماء نے اس نظام میں شرکت کر کے اپنی خدمات تحفظ ختم نبوت اور اشاعت اسلام کے لئے وقف کر دیں۔ حتیٰ کہ حکیم الامت، قدوۃ السالکین، حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی قدس سرہ العزیز نے اس مقدس مشن میں شرکت فرماتے ہوئے جماعت کی باقاعدہ رکنیت قبول کی اور ایک روپیہ سالانہ چندہ رکنیت کی ادائیگی کے لئے آپ نے مبلغ بیس روپے ادا کر کے بیک وقت بیس سال کا چندہ رکنیت عطا فرمایا۔

اسلامیان ہند کی فراخ دلی

قادیان ایک معمولی قصبہ تھا اور وہاں کے مسلمان نہ صرف یہ کہ انتہائی مظلومیت کی زندگی گزار رہے تھے بلکہ وہ معاشی طور پر بڑے تنگ اور نان جویں کے محتاج تھے۔ ظاہر ہے کہ وہ ختم نبوت ٹرسٹ جیسے ادارے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ خدا بھلا کرے ان لوگوں کا جنہوں نے قادیان کے مسلمانوں اور ختم نبوت ٹرسٹ کی ہر ممکن امداد فرمائی اور عاشقان ختم نبوت نے اس ادارے کو پوری شان کے ساتھ قائم رکھا۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قادیان کے سکول

اجراء نبوت (یعنی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی آنے کا جواز )

موضوعات پر مشتمل ایسے سوالات کئے جاتے کہ ان سکولوں میں تعلیم پانے والے مسلمان بچے بھی قادیانیوں کے عقائد کے مطابق ہی ان مسائل کا جواب لکھتے۔ گویا ذہنی طور پر مسلمانوں کے بچے قادیانیت قبول کرنے پر مجبور تھے۔

ان حالات میں یہ ضرورت بڑی شدت سے محسوس کی گئی کہ مسلمان بچوں کی ذہنی نشو و ارتقاء کو اسلامیات سے روشناس کرانے کے لئے ایک مدرسے (School) کا قیام کیا جائے تاکہ مسلمان بچے قادیانیوں کی گمراہ کن تعلیم سے محفوظ رہ سکیں اور وہ قادیان کے سکولوں کے محتاج نہ رہیں۔ چنانچہ ختم نبوت ٹرسٹ نے ایک پرائمری سکول قائم کر کے اسلامی تعلیم کا انتظام کر دیا اور چند برس میں یہ مڈل کی حیثیت اختیار کر گیا۔

رکاوٹوں کا ازالہ

قادیان میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو مرزائیت قبول کرنے کے بعد یہاں آ کر آباد ہو گئے تھے۔ ان لوگوں کو مکانات بنانے کے لئے زمین کے ایسے قطعات دیئے جاتے جو قادیانی خلیفہ یا اس کے مقرر کردہ شخص کے نام کے ہوتے۔ اگر کوئی مرزائی اپنے عقیدہ سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیتا تو نہ صرف یہ کہ دوسرے قادیانی اسے طرح طرح کی ایذا پہنچاتے بلکہ اسے اپنے مکان سے بھی ہاتھ دھونا پڑتے۔ اس طرح ہر قادیانی اپنے اپنے مقام پر مرزائیت سے متنفر ہونے کے باوجود اس خوفناک انجام سے سہمے ہوئے تھا اور یہ بات ترک مرزائیت میں بڑی رکاوٹ بن رہی تھی۔ چنانچہ ختم نبوت ٹرسٹ نے ترک مرزائیت کر کے اسلام قبول کرنے والوں کے لئے رہائشی مکانات بنانے اور ان کے لئے روزگار مہیا کرنے کے لئے کھڈیوں کی فیکٹری قائم کرنے کا انتظام کیا۔ یہ کام بڑے وسیع پیمانہ پر جاری تھا کہ ملک تقسیم ہو گیا اور پاکستان کا قیام عمل میں آ گیا۔

تحفظ ختم نبوت کی تنظیم جدید

ملکی تقسیم کے بعد مبلغین ختم نبوت بھی باقی مہاجرین کی طرح جہاں انہیں سر چھپانے کو جگہ مل سکی قیام پذیر ہو گئے اور بسر اوقات کے لئے جو کچھ ان سے بن پڑا ذریعہ معاش اختیار کر لیا۔ ادھر ملکی تقسیم کے بعد قادیانی گروہ حکومت کے اہم اور بنیادی محکموں پر قابض ہو گیا اور اپنے اثر واقتدار کے بل بوتے پر عالی شان عمارتوں ، کوٹھیوں ، باغات ، زمین اور بڑی بڑی فیکٹریوں پر قبضہ کر لیا اور چنیوٹ (ضلع جھنگ) کے قریب ایک غیر آباد سرکاری زمین کا کافی حصہ کوڑیوں کے مول خرید کر اپنا ایک مستقل اڈہ قائم کر لیا۔

تحفظ ختم نبوت کے اراکین میں سے نہ تو کوئی حکومت کے کسی عہدہ پر متمکن تھا اور نہ ہی ان میں سے کوئی وزارت کی کرسی پر فائز تھا۔ ظاہر ہے کہ ان حالات میں مبلغین ختم نبوت اپنے لئے یا جماعت کے لئے کیا کر سکتے تھے؟ اور قادیانیوں کے مقابلہ میں دنیاوی اثر و اقتدار میں ان کا کیا حصہ ہو سکتا تھا؟

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قادیانیوں کے اثر و اقتدار نے یہاں کے عام مسلمانوں اور بالخصوص مہاجرین کو معاشی طور پر بری طرح کمزور کیا اور غیر مسلموں کی متروکہ جائیداد پر قبضہ کر کے وہ ہاتھ رنگے کہ ”وارے نیارے ہو گئے“ اور یہ بات ہم نہیں کہہ رہے بلکہ قادیانیوں کے موجودہ امیر مرزا بشیر الدین محمود نے اپنے ایک خطبہ میں اس امر کا خود اعتراف کیا کہ: ”ہمارے آدمی اب اچھی طرح آباد ہو گئے ہیں اور میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ بعض آدمی ہندوستان میں خوانچہ فروش تھے۔ مگر یہاں پاکستان میں اب وہ بڑے بڑے کارخانوں کے مالک ہیں۔ ہمارے کئی آدمی وہاں نان جویں کو ترستے تھے۔ مگر ..... یہاں اب ان کے قبضے میں دو دو کاریں ہیں اور وہ بنگلوں میں رہتے سہتے ہیں۔“

(روئیداد مجلس ۱۳۷۳ھ ص ۳ تا ۱۱)

قادیانی...... اس طرح لوٹ کھسوٹ میں مشغول تھے اور بیچارے مسلمانوں کو انتہائی بے کسی کے عالم میں سر چھپانے کے لئے جھونپڑی میسر نہ آ رہی تھی۔ چنانچہ قادیانیوں نے مسلمانوں کی معاشی بدحالی اور اقتصادی کمزوری سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے سرمائے کی امداد اور الاٹمنٹ کا لالچ دے کر مسلمانوں کو اپنے دام تزویر میں پھانسنے کی جدوجہد شروع کر دی اور مرزائی مبلغین نے سادہ لوح مسلمانوں کا ناک میں دم کر دیا۔

پاکستان کے مختلف علاقوں سے جماعت کے شعبہ تبلیغ کے نام بے شمار خطوط آنے لگے اور انہیں دعوت دی جانے لگی کہ جس قدر ممکن ہو سکے یہاں کے مسلمانوں کو قادیانی گروہ کی خلاف اسلام تبلیغی سرگرمیوں سے بچایا جائے۔ ادھر حال یہ تھا کہ ہمارا نظام تبلیغ معطل ہو چکا تھا۔ مبلغین حضرات ملک کے مختلف حصوں میں اپنی آبادکاری کے لئے ضروری انتظامات میں مشغول تھے اور ادھر مسلمانوں کا مطالبہ شدت اختیار کر رہا تھا کہ قادیانی گروہ مسلمانوں کے ایمان پر پوری قوت کے ساتھ ڈاکہ ڈال رہا ہے۔ خدا کے لئے اس سے بچاؤ کی صورت پیدا کیجئے۔

چنانچہ ابتداء میں مولانا محمد حیات صاحب فاتح قادیان کو ملتان آنے کی دعوت دی گئی۔ مولانا محمد حیات چونکہ ان دنوں ریاست خیر پور (سندھ) میں اپنے بھائیوں کے ساتھ مستاجری پر زمین لے کر بسر اوقات کر رہے تھے اور یہاں کسی کے پاس یہ نظام قائم کرنے کے لئے کوئی فنڈ موجود نہ تھا، اس لئے طے کیا گیا کہ مولانا محمد حیات جس طرح بھی ہو سکے ملتان تشریف لے آئیں اور خیر پور میں ان کی جگہ کاشتکاری کا کام کرنے کے لئے ایک آدمی ملازم رکھ دیا جائے۔ اس طرح تیس روپیہ ماہوار مولانا محمد علی جالندھری نے اپنے ذمہ لے کر ایک آدمی کا انتظام کر دیا اور مولانا محمد حیات تبلیغی نظام میں کام کرنے کے لئے ملتان پہنچ گئے۔ ان کی آمد پر جماعت کا باقاعدہ دفتر قائم کرنے کے لئے حضرت امیر شریعت مدظلہ العالی نے ایک مکان کرایہ پر لے کر دفتر کا قیام کر دیا۔ ابھی اس سلسلہ میں کوئی خاص انتظام بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ ملک کے گوشے گوشے سے یہ آواز بلند ہونے لگی کہ مرزائیوں کی خلاف اسلام تبلیغ مسلمانوں کو اسلام سے منحرف کر رہی ہے۔

ان دنوں مولانا عبد الرحیم اشعر، مولانا محمد علی جالندھری کے مدرسہ جامعہ محمدیہ حسین آگاہی ملتان میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد مدرسہ خیر المدارس سے بھی دورۂ حدیث سے فارغ ہو چکے تھے۔ چنانچہ وہ بھی اس جماعت میں شریک ہو گئے اور باقاعدہ طور پر تبلیغی کام شروع کر دیا گیا۔ جنوری ۱۹۴۹ء میں اس تبلیغی مشن سے عوام کو روشناس کرانے کے لئے ملتان میں آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے نام پر باقاعدہ جماعت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں گوجرانوالہ کے مخیر مسلمانوں نے ایک ہزار سے زائد اور ملتان کے ایک مخیر مسلمان نے ایک ہزار کی رقم دے کر اس مقدس پروگرام کو مضبوط بنا دیا۔

دفتر تحفظ ختم نبوت کراچی کا قیام

کراچی پاکستان کا مرکزی دارالحکومت ہے۔ قیام پاکستان کے بعد قادیانیوں نے اپنا دوسرا تبلیغی مرکز کراچی میں قائم کیا۔ چونکہ ان دنوں چوہدری ظفر اللہ خان سابق وزیر خارجہ پاکستان کے بھائی چوہدری عبداللہ خان ڈپٹی کمشنر (کسٹوڈین) کے عہدہ پر متمکن تھے۔ قادیانیوں کے حق میں اس اثر واقتدار کا جو نتیجہ ظاہر ہو سکتا ہے وہ عیاں ہے۔ کراچی کے مسلمانوں نے کئی بار رپورٹ دی کہ یہاں کے مسلمانوں میں ارتداد پھیلایا جا رہا ہے اور دنیاوی لالچ دے کر لوگوں کو بڑے پیمانے پر اسلام سے منحرف کیا جا رہا ہے۔ خود کراچی میں تو ایسی کوئی جماعت موجود نہ تھی جو اس ارتداد کی روک تھام کر سکے اور باہر سے جا کر کام کرنے کے لئے کسی جماعت کو ایسے ذرائع میسر نہ تھے، جن سے وہ اس کام کی تکمیل کے لئے کراچی جیسے شہر کے اخراجات برداشت کر سکے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے اسلامیان کراچی کو ارتداد و کفر سے بچانے کے لئے محض اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر منظم اور ٹھوس بنیادوں پر کام کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے ارشاد کے مطابق مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی کراچی بھیجے گئے تا کہ آپ وہاں جا کر کراچی کے حالات کا جائزہ لیں اور کراچی میں کام کرنے کی نوعیت اور طریق کار کے متعلق مجلس تحفظ ختم نبوت کو مطلع کریں۔

مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی نے کراچی میں ارتداد کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنے کے لئے مجلس کو فوری اقدام کرنے کی طرف متوجہ کیا۔ چنانچہ مولانا محمد علی جالندھری اور قاضی احسان احمد شجاع آبادی نے مشترکہ طور پر ایک بار پھر کراچی میں کام کی نوعیت کا جائزہ لینے کے بعد وہاں جماعت کا باقاعدہ دفتر قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ دفتر کے افتتاح اور ابتدائی انتظامات کے لئے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کراچی تشریف لے گئے۔ آپ نے وہاں مجلس کا باقاعدہ دفتر قائم کر کے مولانا لال حسین اختر کو مجلس کا مبلغ مقرر کر دیا۔

مدرسہ تحفظ ختم نبوت کا قیام

مجلس تحفظ ختم نبوت کی تبلیغی خدمات سے متاثر ہو کر ملک کے گوشے گوشے میں مبلغین مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات درکار ہونے لگیں اور جماعت کے مرکزی دفتر سے خصوصی تقاضا ہونے لگا۔ مگر جماعت کے پاس اتنے مبلغین موجود نہیں تھے جو عوام کی خواہشات کے مطابق فرق باطلہ کے گمراہ کن عقائد سے نہ صرف یہ کہ واقف ہوں بلکہ وہ اسلامی دلائل وبراہین کے ساتھ ان کا معقول جواب دینے کی اہلیت بھی رکھتے ہوں۔ چنانچہ مجلس تحفظ ختم نبوت نے ایک ایسے مدرسے کا افتتاح کیا، جس میں فارغ التحصیل علماء کرام داخل کر کے انہیں ایسی تعلیم وتربیت دینے کا انتظام کیا جو ایک مبلغ اسلام کے لئے لازمی اور ضروری درجہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ مدرسہ مجلس کے مرکزی دفتر ملتان میں جاری کر دیا گیا۔ اس مدرسہ میں کئی مبلغ تربیت یافتہ ہوئے۔ ان میں سے جن حضرات نے مجلس کے نظام میں شامل ہو کر کام کرنا چاہا تو انہیں مجلس کی طرف سے باقاعدہ مبلغ مقرر کر کے کسی موزوں علاقہ میں بھیج دیا جاتا۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سرگودھا میں مدرسہ کی شاخ

ملک میں مبلغین کی کمی اور مدارس عربیہ سے فارغ ہونے والے طلباء کی اکثریت چونکہ باطل فرقوں کے عقائد ونظریات کے متعلق کوئی خاص معلومات نہ رکھتی تھی، اس لئے مرکزی دفتر کے علاوہ سرگودھا میں بھی مدرسہ کی شاخ قائم کر کے مبلغین کی دو جماعتیں تیار کی گئیں۔

کراچی میں کام کی توسیع

کراچی میں کام کی وسعت دیکھ کر مزید آدمیوں کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔ مرکزی دفتر نے مہر عبدالرحیم جوہر اور چوہدری نیاز محمد لدھیانوی کراچی میں متعین کر دیئے۔ مولانا لال حسین اختر، مہر عبدالرحیم جوہر، چوہدری نیاز محمد ہر سہ دوست تحریک تحفظ ختم نبوت ۱۹۵۳ء کی ابتداء تک کراچی میں کام کرتے رہے۔ بالآخر یہ تینوں مبلغ کراچی میں ہی گرفتار کر لئے گئے۔

دورۂ سندھ

صوبہ سندھ میں جب نئی نہروں کا اجراء ہوا تو مرزائیوں کی دونوں جماعتوں نے وہاں بہت سی اراضی خرید کر اپنی آبادی بڑھانے اور وہاں کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا پروگرام بنایا۔ اس پر سندھ کے علماء کرام نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس عاملہ کو اس طرف متوجہ کیا تو مولانا محمد علی جالندھری اور مولانا لال حسین اختر نے کھوکھراپار کی سرحد تک تبلیغی دورہ کیا۔ اس سے پورے سندھ کے مسلمانوں میں ایک بیداری پیدا ہو گئی۔ حالات سازگار پا کر دوسرے دورہ میں حضرت امیر شریعت مدظلہ العالی خود تشریف لے گئے اور آپ کے ہمراہ مولانا محمد علی جالندھری، مولانا محمد عبداللہ مبلغ میانوالی، مولانا عبداللطیف اختر مبلغ گوجرانوالہ اور سائیں محمد حیات بھی اس دورہ میں شریک ہوئے۔ بعد ازاں مولانا محمد شریف بہاول پوری کو زیریں سندھ کا مبلغ مقرر کیا گیا۔

بلوچستان

مولانا عرض محمد مہتمم مدرسہ مطلع العلوم کوئٹہ نے ملتان پہنچ کر کوئٹہ اور سبی کے علاقہ میں دورہ کرنے کی دعوت دی۔ چنانچہ کوئٹہ کے دورہ کے لئے مولانا محمد علی جالندھری اور مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی تشریف لے گئے۔ اس دورہ میں ایجنٹ گورنر جنرل کمشنر دیگر افسران نمائندگان پریس اور دیگر ممتاز شہریوں سے ملاقات کر کے جماعت کے نظریات اور اس کا طریق کار واضح کیا گیا۔ سبی کے ایک پروگرام میں حضرت امیر شریعت مدظلہ تشریف لے گئے اور تین دن قیام کر کے علاقہ بلوچستان کے علماء کرام کے اجتماع سے خطاب کیا۔

صوبہ سرحد

صوبہ سرحد میں کام کی وسعت کے لئے مولانا غلام غوث (ہزاروی) صدر مبلغ کے مشورہ سے دو مبلغین مقرر کر دیئے گئے۔ یہ دونوں مبلغ پہلے مدرسہ تحفظ ختم نبوت ملتان میں تعلیم وتربیت حاصل کرتے رہے بعد میں انہیں صوبہ سرحد میں مقرر کیا گیا۔

آزاد کشمیر

آزاد کشمیر کے علاقہ سے مسلمانوں کا ایک وفد مولانا غلام غوث ہزاروی کی خدمت میں حاضر ہوا اور دوسرے وفد نے مولانا محمد علی

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جالندھری سے راولپنڈی میں ملاقات کر کے قادیانیوں کی تبلیغی سرگرمیوں کا ذکر کیا اور حکومت آزاد کشمیر میں قادیانی افسران کی فہرست پیش کی ( جو اس وقت شائع بھی کر دی گئی تھی ) ۔ وفد نے خصوصی طور پر دعوت دی کہ آزاد کشمیر پاکستان کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس علاقہ کے لوگوں کو قادیانیوں کی تبلیغی سرگرمیوں سے بچایا جائے ۔ چنانچہ کشمیر کے اکثر مقامات کے دورہ کے لئے مولانا غلام غوث ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی تشریف لے گئے اور بعد ازاں حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری مدظلہ اور مولانا محمد علی جالندھری نے علاقہ مظفر آباد کا دورہ کیا۔

انتخابات پنجاب اسمبلی اور قادیانی گروہ

پنجاب اسمبلی کے گزشتہ انتخابات کے موقع پر مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے مولانا محمد علی جالندھری اور مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی نے پنجاب مسلم لیگ کے صدر صوفی عبدالحمید اور جنرل سیکرٹری محمد اقبال چیمہ سے ملاقات کی ۔ اس ملاقات میں ذمہ داران مسلم لیگ سے درخواست کی گئی کہ مسلم لیگ نے اگر کسی بھی مرزائی کو مسلم لیگ کا ٹکٹ دے دیا تو ہم مسلم لیگ کے ڈسپلن کی پابندی نہ کر سکیں گے۔ مسلم لیگ کے ان حضرات نے اس معاملہ میں اپنی جدوجہد کا یقین دلایا۔ لیکن ہوا یہ کہ مسلم لیگ نے تین قادیانیوں کو اسمبلی کے ٹکٹ دے دیئے اور اس انتخاب میں سات دیگر مرزائی مسلم لیگ کے مقابلہ میں امیدوار کھڑے ہو گئے۔

مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین نے ان دس نشستوں پر قادیانی امیدواروں کا پوری طرح مقابلہ کیا۔ خدا کا شکر ہوا کہ ایک بھی قادیانی پنجاب اسمبلی کا رکن نہ بن سکا ۔ اس طرح مسلمانوں نے اپنے ووٹ کی قدر و قیمت سے مرزائیوں کو غیر مسلم ثابت کر دیا ۔ (اور عجیب تر بات یہ ہے کہ جن قادیانیوں کو مسلم لیگ کا ٹکٹ دیا گیا تھا ان میں سے ایک بھی کامیاب نہ ہو سکا ) ۔

تبلیغی نظام کی ضرورت

پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے صرف فریضہ تبلیغ ہی اپنی امت کے لئے چھوڑا ہے ۔ خود اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن مجید میں اس کام کے لئے تاکید فرمائی ہے ۔ ”ولتكن منكم امة يدعون الى الخير ويأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر (آل عمران : ۱۰۴) “ اور دوسری جگہ امت محمدیہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : ” كنتم خير امة اخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنكر (آل عمران : ۱۱۰) “ یعنی تم میں سے ایک ایسی جماعت کا وجود ضروری ہے کہ جو لوگوں کو نیکی کی دعوت دے ۔ لوگوں کو اچھے کاموں کی طرف متوجہ کرے اور برے کاموں سے روکے ۔

علاوہ ازیں خاتم الانبیاء حضرت رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو بار بار تاکید فرمائی ہے۔ چونکہ نبوت ورسالت کے تمام سلسلے منقطع ہو گئے ہیں ۔ اب اشاعت اسلام اور دین کی تبلیغ کا کام امت محمدیہ کے ذمہ عائد ہو گیا ہے۔ اس وقت تمام باطل فرقوں کے لوگ اپنے عقائد ونظریات کی اشاعت میں دن رات صرف کر رہے ہیں اور مسلمان اپنے دین کی تبلیغ واشاعت سے بالکل غافل ہیں ۔ دوسروں کا حال یہ ہے کہ مثلاً پاکستان کے سابق وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان کو کراچی میں تقریر کرنے سے سابق وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے جب منع کیا تو ظفر اللہ خان صاحب نے جواب دیا کہ میں اپنے عہدہ سے مستعفی تو ہو سکتا ہوں لیکن اپنی جماعت کے اجتماع میں تقریر کرنے سے ہرگز ہر گز نہیں رک سکتا ۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور ادھر مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ ہمارے ذمہ داران حکومت اور صاحب اقتدار لوگ اسلام کی تبلیغ کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کے اکثر مقامات ایسے بھی ہیں جہاں کے مسلمان نماز، روزہ سے بھی ناواقف ہیں اور برادریوں کی رسومات قبیحہ میں الجھ کر رہ گئے ہیں اور کئی علاقے ایسے بھی ہیں جہاں کے لوگ دین کی بات تک سننا پسند نہیں کرتے اور کئی ایسے بھی ہیں جو اپنے اندر یہ استطاعت نہیں رکھتے کہ کسی مبلغ کو بلا کر اس کے اخراجات کا بوجھ برداشت کر سکیں۔ اس طرح وہاں تبلیغ کے تمام راستے بالکل مسدود ہیں۔ تبلیغ اسلام کے لئے ایک ایسی جماعت کی سخت ضرورت تھی کہ جو اپنے اخراجات پر علماء کرام اور مبلغین بھیج کر اشاعت اسلام کی خدمت انجام دے تا کہ وہ ملک کے ایسے تمام علاقوں میں خود پہنچیں اور وہاں ان کی خدمت کے لئے رقم خرچ کرنے کا سوال ہی پیدا نہ ہو۔ چنانچہ مجلس تحفظ ختم نبوت نے ایک تبلیغی نظام قائم کر کے اس کمی کو باحسن طریق پورا کر دیا اور اپنے خرچ پر مبلغین کی ایک بڑی جماعت، پاکستان کے مختلف علاقوں میں مقرر کر دی۔ مبلغین اپنے جماعتی اخراجات پر ہر جگہ جا کر تبلیغ اسلام کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

تبلیغ کا نتیجہ

۱۹۴۹ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی تنظیم جدید کی گئی تھی۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت میں اگر حکومت اس کے دفاتر کو بند اور اس کے سامان کو اپنے قبضہ میں نہ لیتی تو یہ جماعت بڑی مضبوط ہو جاتی۔ پچھلے تین سالوں میں اس جماعت کے مبلغین کی تعداد سولہ تک پہنچ گئی تھی اور اس کے مبلغین اور دفتری عملہ کے ماہانہ خرچ کا تخمینہ تین ہزار روپے ماہوار تک پہنچ گیا تھا۔ ان دنوں ملک میں جماعت کے لئے ایسے حالات پیدا ہو گئے تھے کہ جماعت اپنے خرچہ پر اپنا کوئی مبلغ بنگال یا باہر کسی دوسرے ملک میں بھیج دیتی مگر تحریک کے دوران میں اس جماعت کے روپے، سامان اور دیگر ضروری کاغذات حکومت نے اپنے قبضہ میں لے لئے۔ اس طرح جماعت کی ترقی کو زبردست نقصان پہنچا۔

۱۹۵۰ء میں اس جماعت کی تبلیغ کے نتیجہ میں تین صد قادیانی اپنے عقائد سے تائب ہو کر اسلام میں داخل ہوئے۔ ۵۲-۱۹۵۱ء میں تائب ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہونے والوں کی تعداد اس سے بھی بڑھ گئی۔ اس وقت چونکہ دفتر کے ضروری کاغذات وغیرہ پولیس کے قبضہ میں ہیں، اس لئے کام کے متعلق پورے پورے اعداد و شمار پیش کرنا ہمارے لئے مشکل ہے۔

تحریک تحفظ ختم نبوت سے قبل مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنی تین سال کی مفصل رپورٹ شائع کرنے کا انتظام کیا تھا اور وہ رپورٹ ایک ماہ کے اندر شائع ہو جاتی۔ مگر افسوس کہ وہ مسودہ بھی دوسرے کاغذات کے ساتھ ضبط ہو گیا۔ اس مجبوری کی بنا پر نومبر ۱۹۴۹ء سے فروری ۱۹۵۳ء تک کا مفصل حساب کتاب شائع کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ گوجرانوالہ نے ۱۹۴۹ء میں تبلیغ کانفرنس ملتان کے موقع پر ایک ہزار روپے سے زائد رقم روانہ کی تھی۔ لائل پور، ٹوبہ ٹیک سنگھ، گوجرہ، اوکاڑہ، منٹگمری (ساہیوال)، ملتان، بہاول پور، احمد پور شرقیہ، چشتیاں، ڈیرہ نواب، حاصل پور، ہارون آباد، راولپنڈی، سرگودھا، اترا، چنیوٹ، سمندری، غازی پور، کراچی، میر پور خاص، ڈگری، نواب شاہ، ڈیرہ اسماعیل خان سمیت ہر علاقہ کے مسلمانوں نے زکوٰۃ اور چرم قربانی سے مجلس تحفظ ختم نبوت کی امداد ہمیشہ فرمائی۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین !

حضرت علامہ سید سلیمان ندوی

ملتان کے مدرسہ خیر المدارس کے سالانہ جلسہ کے موقع پر پاکستان کے چیدہ چیدہ اور ممتاز علماء کرام، مشائخ عظام ہمیشہ تشریف

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لاتے ہیں۔ تحریک تحفظ ختم نبوت سے قبل حضرت علامہ سید محمد سلیمان ندوی، مفتی محمد شفیع دیوبندی اور مولانا شبیر علی تھانوی بھی تشریف لائے۔ ضرورت تبلیغ کے موضوع پر ان سب حضرات سے تبادلہ خیالات کیا گیا۔ حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری بھی اس گفتگو میں شریک تھے۔ ان حضرات کے سامنے مجلس تحفظ ختم نبوت کی تبلیغی خدمات کی مختصر روئیداد پیش کی گئی۔ چنانچہ ان حضرات نے جماعتی امداد کے لئے اپنے تعاون کا یقین دلایا اور تبرکاً ایک ایک روپیہ عنایت فرما کر مجلس کی رکنیت قبول کرنے کا شرف بخشا۔ حضرت علامہ سید محمد سلیمان ندوی پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیائے اسلام میں ایک ممتاز حیثیت کے مالک تھے۔ آپ کے وصال سے پاکستان کے علمی و دینی گروہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین!

جیل سے رہائی کے بعد

مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی دفتر واقع ملتان کا تمام سامان پولیس نے اپنے قبضہ میں لے کر دفتر پر قبضہ کر لیا۔ حالانکہ مجلس نے کئی ماہ تک کے لئے مالک مکان کو پیشگی کرایہ ادا کر دیا تھا۔ دفتر میں پولیس کا ایک ذمہ دار افسر رہائش پذیر ہو گیا اور اس طرح یہ دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت کو آج تک نہیں مل سکا ہے۔ ان حالات کے پیش نظر مجبوراً مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کو اپنا دوسرا دفتر کرایہ پر لینا پڑا۔ مجلس کے دفتر کے قیام کے بعد باقاعدہ طور پر جماعتی کام شروع کر دیا گیا اور مجلس کے اخراجات پر اس وقت سترہ مبلغ پاکستان کے مختلف علاقوں میں تبلیغ دین کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

دستور مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان

مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے اپنا دستور شائع کر کے اپنے اغراض و مقاصد اور طریق کار کا واضح اعلان کر دیا ہے۔ تفصیلی معلومات تو دستور پڑھنے سے حاصل ہو سکتی ہیں۔ مگر اجمالی طور پر مجلس کا نصب العین اور طریق کار حسب ذیل ہے:

مروجہ سیاسیات یعنی الیکشنی سرگرمیوں اور جنگ اقتدار میں من حیث الجماعت قطعاً کوئی حصہ نہیں لیں گے۔

کے بعد شائع ہوا کرے گا۔

پوری نہ کر سکتے ہوں تو وہ مجلس کے معاون کہلائیں گے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور بالخصوص تحفظ عقیدہ ختم نبوت جس کے لئے مندرجہ ذیل ذرائع اختیار کئے جائیں گے:

اس وقت سترہ مبلغین پر مشتمل ایک تبلیغی جماعت اور مکتبہ تحفظ ختم نبوت کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے۔ باقی شعبہ جات ان شاء اللہ! بہت جلد قائم کر دیئے جائیں گے۔

انتخاب

مجلس کا دستور منظور ہونے اور موجودہ اراکین نے فارم رکنیت پر کر کے باقاعدہ ممبر بننے کے بعد فیصلہ کیا کہ مجلس کا عارضی انتخاب عمل میں لایا جائے۔ چنانچہ حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے صدر مرکزی منتخب کئے گئے۔ آپ نے دستوری قواعد و ضوابط کے تحت مرکزی مجلس شوریٰ کے لئے مندرجہ ذیل حضرات اراکین شوریٰ نامزد کئے:

مجلس کا یہ عارضی انتخاب اواخر ذوالحجہ ۱۳۷۴ھ تک رہے گا اور یکم محرم الحرام ۱۳۷۵ھ کو مجلس کا جدید انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ قبل ازیں اس بات کا ذکر ہو چکا ہے کہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران مجلس کے ضروری کاغذات پولیس نے اپنی تحویل میں لے لئے تھے۔ اس لئے تحریک سے قبل آمد و صرف کا حساب شائع کرنا فی الحال ناممکن ہے۔ اس سلسلہ میں قارئین کرام سے معذرت کی جاتی ہے۔ اس روئیداد میں جیل سے رہائی کے بعد شوال سے ذوالحجہ ۱۳۷۴ھ تک کی آمد و صرف کا حساب شائع کیا جارہا ہے۔ مجلس کا مالی سال چونکہ محرم سے شروع ہوتا ہے اس لئے آئندہ محرم سے ذی الحجہ تک کا حساب شائع کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ!

(مقدمہ روئیداد ۱۳۷۴ھ)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۷

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۵۵ء، ۱۹۵۶ء

کے

حالات و واقعات

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام اور لیگ حکومت کا عتاب

مجلس تحفظ ختم نبوت کا ۱۳ / دسمبر ۱۹۵۴ء کو باضابطہ پہلا انتخاب ہوا۔ جس میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری امیر مرکزیہ اور مولانا محمد علی جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ قرار پائے۔ مجلس کے قیام کے ساتھ ہی لیگی حکومت نے مرزائیت نوازی کی حد اور ظلم کی انتہاء کر دی۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ برسر اقتدار طبقہ کو مرزائیت کے احتساب کے لئے مجلس کا قیام قابل قبول نہ تھا۔ پابندیوں کے نت نئے احکامات جاری ہونے لگے۔ ان سب کا شمار کرنا تو ممکن نہیں، تاہم چند خبریں ملاحظہ ہوں :

مکھیانہ : مؤرخہ ۳۱؍ جنوری۔ ”اطلاع ملی ہے کہ سرگودھا پولیس نے پرسوں رات تین بجے کے قریب مولانا لال حسین اختر سے ایک نوٹس کی تعمیل کرائی ہے۔ جس کے تحت انہیں سرگودھا میونسپل حدود میں تین ماہ کے لئے پابند کر دیا گیا ہے۔ یہ نوٹس سیفٹی ایکٹ کی دفعہ ۵ کے تحت جاری کیا گیا تھا۔ حکم کی تعمیل اس وقت کرائی گئی۔ جب وہ مقامی مسجد قاضیانوالی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کر کے باہر نکل رہے تھے۔ دوسری اطلاع میں بتایا گیا ہے کہ جھنگ پولیس نے سیفٹی ایکٹ کے تحت جاری کردہ ایک نوٹس کی تعمیل مقامی مسجد قاضیانوالی کے خطیب وامام مولانا غلام قادر سے بھی کرائی ہے۔ اس میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ احمدیوں کے متعلق اپنی تقریروں کا سلسلہ بند کر دیں۔ خیال رہے مولانا غلام قادر خلاف قانون جماعت کے صدر تھے اور گزشتہ قادیانی تحریک کے سلسلہ میں سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار ہو کر سنٹرل جیل میں پابند رہے ہیں۔ یہ پابندی تین ماہ کے لئے لگائی گئی ہے ۔“

(روزنامہ غریب لائل پور مؤرخہ ۲؍فروری ۱۹۵۵ء)

سمندری ولاہور میں ختم نبوت کانفرنسیں

روزنامہ سعادت لائل پور ۱۸؍ جنوری ۱۹۵۶ء کی اطلاع کے مطابق ختم نبوت کانفرنس سمندری میں منعقد ہوئی اور مرزائیت کے خلاف تقریر کرنے کے جرم میں مولانا قاری لطف اللہ پر مقدمہ دائر کر دیا گیا۔

لاہور میں ۲۵ ، ۲۶ ، ۲۷؍فروری ۱۹۵۶ء کو ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تحریک کے بعد پہلی کانفرنس تھی۔ اس کی تقاریر اور گرفتاریوں کی خبریں ملاحظہ ہوں :

لاہور: ۲۵؍ فروری ۔ آج رات دہلی دروازے کے باہر احرار پارک میں ختم نبوت کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں مولانا محمد علی جالندھری نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ یہاں پر ایسا آئین رائج ہوگا جو قرآن وسنت کے احکام کے خلاف نہیں ہوگا تو پھر ہم کو حق پہنچتا ہے کہ ہم مطالبہ کریں کہ مرزائیوں کو مسلمانوں میں شامل نہ ہونے دیں۔ کیونکہ قرآن اور سنت کی رو سے رسول خدا کے بعد دعوائے نبوت کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ مولانا نے مزید کہا کہ تحریک ختم نبوت کے احباب ہم سے پوچھنے کی بجائے خواجہ ناظم الدین سے پوچھنے جائیں۔ اس لئے کہ یہ خواجہ ناظم الدین اور ان کی حکومت تھی جس نے مرزائیوں کو دائرہ اسلام میں شامل کرنے کی کوشش کی اور آج ہم پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہم نے مسلمانوں کی جانیں غلط طریقے سے ضائع کروا دیں۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انسان اپنے ایمان کے لئے جانیں دیتا ہے اور وہ یہ نہیں سوچا کرتا کہ آیا وہ کامیاب ہو گا یا نہیں ۔ اگر کسی تحریک میں سب سے پہلی شرط کامیابی ہوتی تو پھر آج امام حسین ؓ کی قربانی پر داد دینے والے تاریخ میں نہ ہوتے۔ اس لئے کہ امام حسین ؓ بھی تو کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ لیکن اس ناکامی کے باوجود امام حسین ؓ نے وہ کارہائے نمایاں کئے کہ جب تک اس دنیا میں سچائی باقی ہے لوگ امام حسین ؓ کے نقش قدم پر چل کر جانیں دیتے رہیں گے۔ ہم نے ختم نبوت کی صداقت منوانے کے لئے جدوجہد کی اور یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ مسلمانوں

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نے اس مقصد کے لئے جو قربانیاں دی ہیں ہم اس کی پوری ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

مولانا نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اور طرح سے اس مسئلے کو سوچئے کہ دو سو سال تک مختلف علمائے دین اور سیاسی زعما برطانوی شہنشاہیت کے خلاف لڑتے رہے۔ ان کو بہت دنوں تک کامیابی نہ ہوئی تو کیا ان کی قربانیاں رائیگاں گئیں؟ اگر وہ قربانیاں نہ دیتے تو کیا پاکستان کا قیام ممکن ہوتا؟ اس لئے آج ہم سے جو یہ سوال کرتے ہیں کہ ہم نے یہ قربانیاں ضائع کروادیں تو میں ان سے پوچھتا ہوں کہ جلیانوالہ باغ میں جنہوں نے گولیاں کھائی تھیں تو کیا وہ رائیگاں تھیں؟ جنہوں نے خلافت میں جیل کی کوٹھڑیوں کو آباد کیا تھا کیا وہ بے وقوف تھے؟ کیا قصہ خوانی کے بازار میں شہید ہونے والے پٹھان پاگل تھے؟ اگر ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں تو ہماری قربانیاں بھی رائیگاں نہیں جائیں گی اور ایک نہ ایک دن رنگ لائیں گی۔ لاہور میں ختم نبوت کانفرنس ۱۹۵۳ء مارچ کے بعد پہلی بار ہورہی ہے اور مولانا محمد علی جالندھری اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری بھی تقریباً ۳ برس کے بعد کسی کانفرنس سے خطاب کرنے کے لئے آئے ہیں۔ آج کے اجلاس میں سید عطاء اللہ شاہ بخاری تقریر نہ کرسکے، کیونکہ ان کی طبیعت ناساز تھی۔ اب وہ اتوار کو دوپہر ایک بجے کی کانفرنس میں تقریر کریں گے۔

مولانا محمد علی جالندھری کی گرفتاری اور رہائی

لاہور : مؤرخہ ۲۵؍فروری۔ آج مولانا محمد علی جالندھری کو جب وہ ملتان سے لاہور آرہے تھے، ۳ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ایک مبینہ قابل اعتراض تقریر کی بنا پر گرفتار کرلیا گیا۔ بعد میں انہیں ایک ہزار روپے کی ضمانت پر رہا کردیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کی طرف سے مولانا کو تحریری طور پر تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اشتعال انگیز تقریر سے گریز کریں۔

(روزنامہ امروز لاہور،مؤرخہ ۲۷؍فروری ۱۹۵۶ء)

شیخ حسام الدین کے نام عدالت کا نوٹس

لاہور : مؤرخہ ۲؍مارچ۔ معلوم ہوا ہے کہ لاہور کے ایک سول جج شیخ محمد شفیع کی عدالت سے مشہور احرار لیڈر اور روزنامہ ’’آزاد‘‘ لاہور کے پرنٹر پبلشر شیخ حسام الدین کے خلاف نوٹس جاری کرنے کا حکم صادر کردیا گیا ہے۔

(تسنیم لاہور، مؤرخہ ۲؍مارچ ۱۹۵۶ء)

حکومت نے پابندیاں لگائیں تو بعض حضرات نے کیا کچھ فرمایا، ایک خبر ملاحظہ ہو:

لاہور: مؤرخہ ۲؍مارچ۔ ناظم اعلیٰ جمعیۃ العلماء پاکستان مولانا مفتی محمد حسین نعیمی خطیب جامع مسجد دالگراں لاہور نے آج جمعہ کے روز مسجد دالگراں میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ احرار والے شروع سے لے کر آج تک ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت بھی ان لوگوں نے اس عظیم تحریک کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا اور لوگوں کے جذبات سے کھیل کھیلے۔

اب پھر یہ لوگ مقدس نام کی آڑ لے کر اس ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کے سربراہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور محمد علی جالندھری جگہ جگہ انتشار پسندانہ تقریریں کر کے عوام کے جذبات کو مشتعل کر رہے ہیں۔ اگر پھر ان لوگوں نے پہلے کی طرح ملک میں انتشار پھیلایا تو اس کے نتائج حد درجہ خطرناک ہوں گے۔ ہم لوگوں کو ان سے خبردار رہنا چاہئے۔ اگر یہ پھر اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے اور عوام جذبات میں بہہ کر ان کے پیچھے لگ گئے تو پھر اسی طرح اس ملک میں ہنگامے ہوں گے، انتشار پھیلے گا اور نوبت مقدمہ بازی تک پہنچے گی اور لوگوں کو بعد میں عدالتی کارروائیوں سے پتہ چل جائے گا کہ ان کے اغراض و مقاصد کیا تھے۔ اس لئے ہم سب کو ان لوگوں سے خبردار رہنا چاہئے اور جذبات میں بہنے کی بجائے تعمیری کاموں میں لگ جانا چاہئے۔ اب اس ملک کی حیثیت ایک مسجد کی سی ہے۔ دستور خدا کے فضل و کرم سے بن گیا ہے اور ہماری ایک راہ متعین ہوگئی ہے۔ ہم سب لوگوں کو اب تعمیری کاموں میں لگ کر اس عظیم نصب العین کو

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۶۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اپنانا چاہئے، جس کے لئے لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دی تھیں۔

(تسنیم لاہور، مؤرخہ ۲؍ مارچ ۱۹۵۶ء)

ختم نبوت کانفرنس جھنگ

جھنگ میں فروری کے آخری دنوں میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنمایان حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا غلام قادر اور دوسرے رہنماؤں نے خطاب کیا۔

(تسنیم مؤرخہ ۲۶؍ فروری ۱۹۵۶ء)

ختم نبوت کانفرنس کے شروع ہونے سے حکومتی کارندوں ، سرکاری درباری علمائے سوء اور اخبار تسنیم نے تحریک کے رہنماؤں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ آغا شورش کاشمیری نے ایک موقع سے مناسبت پیدا کر کے تحریر فرمایا:

چٹان کا اداریہ ’’خون رائیگاں‘‘

’’اخباروں میں ایک خبر چھپی ہے کہ ۲۱؍ فروری کو مشرقی پاکستان میں ’’یوم شہید‘‘ منایا گیا۔ وزیراعلیٰ ابوحسین سرکار نے ’’شہیدوں کی یادگار‘‘ کا سنگ بنیاد رکھا۔ شہر میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ صبح ایک جلوس نکالا گیا، جس میں وزیراعلیٰ، صوبائی وزراء اور مولانا عبدالحمید بھاشانی ننگے پاؤں چل رہے تھے۔ تمام سرکاری دفاتر حتیٰ کہ بینک اور تجارتی ادارے بھی دن بھر بند رہے۔ طلباء نے ہوٹلوں پر سیاہ پرچم لہرائے۔

آپ حیران ہوں گے کہ یہ کن شہیدوں کا احترام ہے۔ پھر یہ دن مشرقی پاکستان ہی میں کیوں منایا گیا۔ یہاں کیوں نہیں؟ کیا ان شہداء کی یاد میں تھا جو قیام پاکستان کے وقت شہید ہوئے تھے؟ کیا شہدائے کشمیر؟ جی نہیں۔ یہ اس نوجوان کی شہادت پر ہے جو بنگالی زبان کو پاکستان کی زبان بنوانے کے جذبے سے سرشار ہو کر شہید ہو گیا۔ اس کا نام برکت تھا اور وہ میڈیکل کالج کا طالب علم تھا۔ اسی کے احترام میں پاکستانی دستوریہ کا اجلاس پانچ منٹ کے لئے ملتوی کیا گیا۔

پھر آپ نے یہ بھی سنا یا دیکھا ہوگا کہ لاہور میں قیوم شاہی کے ہاتھوں قاضی عطاء اللہ ہسپتال میں دم توڑ گئے تھے۔ اس وقت ان کے جنازہ پر آتے ہوئے بڑے بڑے حریت مآب گھبراتے تھے۔ صرف اس لئے کہ ڈاکٹر خاں صاحب کی ماتحت پولیس کے موجودہ افسران کا نام سیاہ فہرست میں درج کرتے تھے۔ لیکن آج انہی قاضی صاحب مرحوم و مغفور کی یاد میں پشاور کے تمام لیگی و غیر لیگی روز ناموں نے اپنے خاص ایشو نکالے ہیں اور وہ سرخپوش جنہیں قیوم نے بھاڑہ میں گولیوں سے شہید کیا تھا ان کے وارث...... حیات ہیں۔

دو سیاسی تحریکیں تھیں، ان کے سیاسی ورثاء اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان شہیدوں کا بھی کوئی وارث ہے؟ جنہیں محمد ﷺ کی ختم المرسلینی کے جرم بے جرم میں رہنماؤں کی سازش اور امن عامہ کی گولیوں کا شکار ہونا پڑا؟ آخر اس خون رائیگاں کا ذمہ دار کون ہے؟ سازش کنندہ تو مصالحت کا ہاتھ بڑھا کر برسرکار آگئے لیکن محمد ﷺ کے نام پر مرنے والوں کا خون رائیگاں گیا؟ ان کے مزاروں پر کوئی وزیراعلیٰ پیدل چل کر جائے تو کیوں؟ ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں اور بیویوں کا تو کوئی آنسو پونچھنے والا بھی نہیں ہے۔‘‘

ببیں تفاوت راہ از کجاست تا بہ کجا

(چٹان لاہور، مؤرخہ ۲۷؍ فروری ۱۹۵۶ء)

ختم نبوت کانفرنس لاہور میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ

سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی تقریر

لاہور : مؤرخہ ۲۶؍ فروری ۔ آج شام ساڑھے پانچ بجے دوروزہ ختم نبوت کانفرنس ختم ہو گئی۔ آخری اجلاس میں سید عطاء اللہ شاہ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۶۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بخاری نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ختم نبوت کا عقیدہ مسلمانان عالم کا بنیادی عقیدہ ہے اور جب بھی کبھی کسی طرف سے نبوت کا دعویٰ کیا جائے گا تو مسلمان اس دعوے کے پیش کرنے والے اور اس کے حامیوں کے خلاف صف آرا ہو جائیں گے اور صدیق اکبرؓ کی سنت تازہ کر دیں گے۔ شاہ صاحب نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تحریک ختم ہو گئی ہے، وہ سخت غلطی پر ہیں۔ یہ تحریک کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے اور مرزائیوں کو اقلیت قرار نہیں دیا جاتا۔ اس تحریک کے نتائج ہم پوری طرح قبول کرتے ہیں اور اس تحریک میں جتنے ذمہ دارانہ یا غیر ذمہ دارانہ اقدامات کئے گئے ہیں، ان سب کی ذمہ داری میں قبول کرتا ہوں اور آئندہ بھی اس سلسلے میں مسلمان جو قدم اٹھائیں گے ان کی ذمہ داری بھی میں آج ہی قبول کرتا ہوں اور ان اقدام کی پاداش میں جو بھی سزا ملے گی اس کو ہنسی خوشی برداشت کروں گا۔

سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اپنی تقریر میں کہا کہ ختم نبوت کے سلسلے میں ہماری حکومت نے ہم سے جو سلوک کیا وہ کسی بھی آزاد ملک کے شایان شان نہیں۔ انگریز تو ہمیں سزائیں دیا ہی کرتا تھا، اس لئے کہ ہم اس کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے۔ لیکن اس حکومت کے خلاف تو ہم نہیں لڑ رہے ہیں۔ بلکہ ہم تو صرف مسلمانوں کے بنیادی عقیدے کی حفاظت کر رہے ہیں۔ لیکن اس حفاظت کے جرم میں جس جیل میں رکھا گیا اور ہماری رہائی حکومت کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ عدالت عالیہ کے فیصلے کے مطابق ہم رہا ہوئے تھے۔

شاہ صاحب نے جماعت اسلامی کے قائد مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے جو بیان تحقیقاتی عدالت میں دیا تھا اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ستم نہیں کہ ایک طرف مولانا مودودی تحریک ختم نبوت میں دوسرے علماء کے ساتھ رہے اور راست اقدام کی قرارداد کی تدوین میں شریک رہے۔ دوسری طرف تحقیقاتی عدالت میں اس تحریک میں شرکت سے صاف مکر گئے اور کہا کہ اس تحریک کی ذمہ داری مرزائیوں، مرکزی حکومت، صوبائی حکومت اور ان جماعتوں پر ہے جو اس تحریک سے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے خواہاں تھے اور مولانا مودودی نے بات یہاں تک نہیں رکھی بلکہ اس بیان میں یہ بھی مطالبہ کیا کہ ان پر مقدمہ چلایا جائے۔

شاہ صاحب نے کہا کہ میں بھی یہ چاہتا ہوں کہ مقدمہ چلایا جائے تاکہ پتہ چل جائے کہ آج دستور اسلامی کے داعی کتنے جھوٹے ہیں اور ان کے پراپیگنڈے اور تحریک کی پوری بنیاد کس قدر کذب وافتراء پر ہے۔ شاہ صاحب نے آخر میں کہا کہ حق کو سننا، حق کو ماننا اور حق کو منوانے کے لئے لڑنا میرا شیوہ ہے اور اس کو چھوڑنے کے لئے نہ عطاء اللہ شاہ تیار ہے اور نہ اس کے ساتھی۔ آج اس کانفرنس میں مختلف قراردادیں منظور کی گئیں جن میں مطالبہ کیا گیا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ انہیں کلیدی آسامیوں سے برطرف کیا جائے۔ یہ بھی کہا گیا کہ اگر دستور میں اس مطالبے کو تسلیم نہ کیا گیا تو یہ آئین قطعاً اسلامی نہیں ہو گا۔ ایک دوسری قرارداد میں تحریک ختم نبوت میں شہید ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ۴؍مارچ کو یوم شہدائے ختم نبوت منانے کی اپیل کی گئی۔

(امروز لاہور، مورخہ ۲۸؍فروری ۱۹۵۶ء)

مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا محمد علی پر پابندی

۱۲؍مارچ: معلوم ہوا ہے کہ ڈپٹی کمشنر لاہور نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا محمد علی جالندھری کے داخلہ لاہور پر پابندی عائد کر دی ہے۔

(روزنامہ تسنیم لاہور، مورخہ ۱۲؍مارچ ۱۹۵۶ء)

جامعہ رشیدیہ ساہیوال میں ۲۴، ۲۵، ۲۶؍مارچ ۱۹۵۶ء کو سہ روزہ تبلیغی کانفرنس تھی۔ انتظامیہ نے کانفرنس کی منظوری کے لئے شرط عائد کی کہ مرزائیوں کے خلاف کسی قسم کی تقریر نہ ہوگی۔ اس پر بھی ان کا کلیجہ ٹھنڈا نہ ہوا تو حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا محمد علی جالندھری کے داخلہ منٹگمری پر پابندی عائد کر دی۔

(تسنیم لاہور، مورخہ ۲۶، ۳۰؍مارچ ۱۹۵۶ء)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۶۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بہاول نگر میں مولانا لال حسین اختر کی ولولہ انگیز تقاریر

بہاول نگر: آج مورخہ ۲۴، ۲۵؍ مارچ ۱۹۵۶ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول نگر کا دو روزہ اجلاس ہوا۔ جس میں مناظر اسلام، زعیم ختم نبوت آقائے لال حسین اختر نے دو تقریریں کیں۔ ۲۴؍ مارچ کو بعد نماز عشاء جامع مسجد میں مولانا موصوف نے جمہور یہ اسلامیہ پاکستان اور مسئلہ جہاد پر بصیرت افروز تقریر فرمائی۔ آپ نے فرمایا کہ ہمارے ذمہ دو فرض ہیں۔ ایک فرض ملک کی حفاظت اور دوسرا مذہب کی حفاظت کرنا ہے۔ آج رات میں ملک کی حفاظت کے متعلق کچھ بیان کروں گا اور کل مذہب اور عقیدہ کی حفاظت کے متعلق بیان کروں گا۔ مولانا نے ملک کی آزادی کی تاریخ بیان فرمائی اور پھر مسئلہ جہاد کی حقیقت اور موجودہ وقت میں مسلمانوں کے لئے ملک کی حفاظت کا لائحہ عمل بیان فرمایا۔ مولانا کی تقریر پورے بارہ بجے ختم ہوئی۔

دوسرے دن بعد نماز عشاء جامع مسجد میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں آقائے لال حسین اختر نے عقیدہ ختم نبوت اور محمدی اسلام کے متعلق ایک مدلل تقریر فرمائی۔ سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ ہم نے عقیدہ ختم نبوت کے لئے ایک تحریک چلائی تھی۔ اس میں ملک کے تین سو جید علماء کرام نے باتفاق حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ دستور میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ اس کے لئے قربانیاں دی گئیں۔ ۷۵ ہزار آدمی جیلوں میں گئے۔ دس ہزار شمع رسالت کے پروانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ مگر ہمیں افسوس ہے کہ اب جو دستور بنا ہے اس میں مسئلہ ختم نبوت کے متعلق کوئی دفعہ نہیں۔ لیکن ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ جس دستور میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار نہ دیا گیا ہو، ہم اس کو مکمل طور پر اسلامی دستور نہیں سمجھیں گے اور ہم قادیانیوں کو اقلیت قرار دلائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ شہدائے ختم نبوت کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ آپ نے فرمایا کہ فتنہ مودودیت بھی فتنہ قادیانیت سے کم نہیں۔ مودودی صاحب، صحابہ کرام اور بزرگان دین پر تنقید کریں تو کوئی بات نہیں۔ اگر ہم مودودی صاحب پر تنقید کریں تو مودودیان کرام چیخ اٹھتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مودودیان کرام، کو صحابہ کرام کی عزت کی نسبت مودودی صاحب کی عزت زیادہ عزیز ہے۔ پچھلے دنوں یہاں مفسر قرآن حضرت مولانا احمد علی صاحب مدظلہ نے تقریر فرمائی تھی جس میں مودودیوں نے شور مچا کر کفار کی سنت کو پورا کیا تھا۔ اس دن والی تقریر کا میں ذمہ دار ہوں۔ مولانا نے میز پر گھونسا مارتے ہوئے بڑے فخر کے ساتھ اعلان کیا کہ مودودیو! اس دن آپ نے حضرت مولانا احمد علی صاحب پر اعتراض کئے تھے۔ وہی اعتراض آپ مجھ پر کریں۔ میری تقریر میں جو آپ کو اعتراض ہے یہاں آ کر کریں۔ میں آپ کو پانچ منٹ وقت دوں گا اور میں پانچ منٹ آپ کے سوالوں کا جواب دوں گا۔ پھر آپ پانچ منٹ میں سوال کریں۔ میں پانچ منٹ میں جواب دوں گا۔ اگر کوئی مائی کا لال ہے تو میدان میں آئے۔ یہ کہہ کر مولانا خاموش ہو گئے اور مودودیوں کا انتظار کرنے لگے۔ لوگوں نے ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔ مولانا نے پھر اعلان کیا: اگر کسی مودودی میں ہمت ہے تو میدان میں آئے۔ اس دن مودودیوں نے موقع دیکھ کر حضرت مولانا احمد علی صاحب کی تقریر کے دوران میں شور و غل شروع کر دیا تھا۔ کاش اس دن میں بھی یہاں موجود ہوتا۔ مولانا کا بیان رات کے بارہ بجے ختم ہوا۔ مولانا کی تقریر سن کر عوام نے مودودیت سے اظہار ناراضگی کیا اور کسی مودودی کو بھی اتنی ہمت نہ ہوسکی کہ اٹھ کر مولانا موصوف پر کوئی سوال کر سکے۔‘‘

(ہفتہ وار رفیق بہاول نگر، مورخہ یکم اپریل ۱۹۵۶ء)

ختم نبوت کانفرنس بھلوال

بھلوال: ۲۹، ۳۰؍ مارچ ۱۹۵۶ء کو دو روزہ تبلیغی کانفرنس کے سلسلے میں مولانا لال حسین اختر، مولانا غلام غوث سرحدی، مولانا محمد

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۶۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اکرم اور سائیں محمد حیات پسروری تشریف لائے۔ یہ کانفرنس ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ سرگودھا کے زیر اہتمام ہوئی اور مولوی حبیب الرحمن صاحب خطیب جامع مسجد بھلوال نے جلسہ کی صدارت فرمائی۔ مولانا لال حسین اختر نے اپنی تقریر میں بتایا کہ ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کا مقصد صرف ختم نبوت کی حفاظت کرنا ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ تمام دین کی حفاظت بھی مقصود ہے۔ مولانا نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ مرزائیوں کو جلد اقلیت قرار دے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اقلیت قرار دیئے بغیر اسلامیہ جمہوریہ پاکستان نامکمل رہ جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار فرمایا کہ ہمارے ملک پاکستان کا قانون اسلامی اصولوں پر مبنی ہوگا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اسے مکمل طور پر اسلامی قانون بنانے پر زور دیا۔

(ہفت روزہ عزم نو سرگودھا، مورخہ یکم اپریل ۱۹۵۶ء)

سید عطاء اللہ شاہ بخاری پر پابندی

ملتان: ۱۶؍ مئی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان نے اطلاع دی ہے کہ حکومت مغربی پاکستان نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری صدر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کو ۶ ماہ کے لئے ملتان کی بلدیاتی حدود میں نظر بند کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں مولانا محمد علی جالندھری ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کو بھی ۶ ماہ کے لئے ملتان میں پابند کرنے کے احکامات جاری ہو گئے ہیں۔ ان دونوں حضرات پر ۶ ماہ کی پابندیاں دوسری بار عائد کی گئی ہیں۔ ان کا لاہور، منٹگمری، سیالکوٹ میں بھی داخلہ بند ہے۔

(روزنامہ آفاق لاہور، مورخہ ۱۷؍ مئی ۱۹۵۶ء)

ان ناروا پابندیوں پر آغا شورش کاشمیری نے ہفتہ وار چٹان لاہور میں یہ مقالہ تحریر کیا:

سید عطاء اللہ شاہ بخاری پر مسلسل عتاب

”تازہ اطلاعات مظہر ہیں کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو بلدیہ ملتان کے حدود میں سیفٹی ایکٹ کی دفعہ ۶ کے ماتحت چھ ماہ کے لئے نظر بند کر دیا گیا ہے۔ مولانا محمد علی جالندھری پر بھی انہی احکام کا اطلاق کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے پیشتر ہر دو حضرات پر خانیوال اور ملتان میں علی الترتیب مقدمات چل رہے ہیں۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے کارکنوں پر مختلف مقامات پر نہ صرف مقدمات داغے جارہے ہیں، بلکہ ان کی سرگرمیوں کو بھی آئے دن محدود کیا جارہا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ ایک ایسا فعل ہے جس کی تائید کوئی جمہوریت پسند شہری نہیں کر سکتا۔

اوّل...... سیفٹی ایکٹ بجائے خود ایک غیر پسندیدہ قانون ہے۔ اس کے ماتحت اس قسم کی پابندیاں عائد کرنا اور بھی غیر پسندیدہ ہے۔ آج تک دو چار اخلاقی مقدموں کے سوا ایک مثال بھی ایسی نظر نہیں آرہی جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ سیفٹی ایکٹ جیسے مفید قوانین جن دعاوی کے ساتھ بنائے گئے تھے ان دعاوی میں سے کوئی مقصد یا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ تاہم مملکت کے تحفظ کا ضرور تاثر دیا۔ لیکن اس سے جو کام لئے گئے یا اب تک لئے جارہے ہیں، وہ قطعاً تحفظ مملکت کے حسب حال نہیں۔ ایسے قوانین سے عموماً کسی برسراقتدار گروہ کے ناموس کا تحفظ سامنے ہوتا ہے یا پھر گروہی مفاد یا پھر کسی ایسے فرد یا جماعت کی دلجوئی جو حکومت کے محبوبوں میں ہو، یا پھر افسروں اور وزیروں کے ہم عقیدہ دوائر کی نگہبانی۔ اس کے سوا سیفٹی ایکٹ نے کبھی کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دیا اور اگر کبھی اس سفلہ سیاست نے کوئی کارنامہ انجام دیا ہے تو ہمیں اعتراف ہے کہ وہ ہمارے علم میں نہیں۔

دوم...... سیفٹی ایکٹ اکثر ایسے لوگوں پر برتا جارہا ہے جو شاید اس کے جواز پر بھی اس کے سزاوار نہ ہوں۔ ہم ڈاکٹر خان صاحب کی وزارت کو کسی الجھن یا مخمصہ میں پھنسانا نہیں چاہتے۔ ورنہ ان سے یہ سوال جائز طور پر پوچھا جاسکتا ہے کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب سیفٹی

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۶۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ایکٹ کے تحت قابل مواخذہ ہیں تو کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ حضور سرور کائنات کی ختم المرسلینی کے نام لیوا ہیں اور ان کے بعد کسی بھی نبی کی نبوت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ایک طرف سخاوت یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب بدشہرت کے لوگوں کو اپنی کابینہ کا نگینہ بناتے ہوئے ہچکچاتے ہیں۔ دوسری طرف شقاوت یہ ہے کہ ایک فقیر کو جس نے اس برصغیر کی آزادی میں کسی بڑے سے بڑے سرفروش سے کم حصہ نہیں لیا اور جس نے مسلمانوں کی سیاسی خدمات ہی نہیں معاشرتی خدمات بھی انجام دی ہیں، آئے دن سیفٹی ایکٹ کا ہدف بنایا جا رہا ہے۔ آخر یہ کس جمہوری، اسلامی، اخلاقی اصول کی رو سے جائز ہے؟ کیا یہ اغماض کا سنگدلا نہ تماشا نہیں؟

بسوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بوالعجبی است

ستم کی حد ہو گئی کہ عظیم سے عظیم جمہوری جماعتیں اور بڑے بڑے جمہوری دماغ بھی اس سنگینی کے خلاف احتجاج نہیں کرتے اور تو اور خود عوامی لیگ اس پر چپ ہے۔ اس کی پنجابی شاخ نے سیاسی قرارداد پاس کر لینا تو ضروری سمجھا۔ لیکن اس کی عاملہ نے جس میں کچھ ایسے بزرگ بھی شریک ہیں جو تحریک ختم نبوت کے محرک تھے، اس دھاندلی کا نوٹس تک نہ لیا۔ جماعت اسلامی کے بعض صالحین کو احرار سے الٰہی بغض ہے اور ممکن ہے وہ سیفٹی ایکٹ کے اس استعمال کو شرعاً درست ہی سمجھتے ہوں۔ قریب قریب یہی معاملہ شہری آزادی کی بعض دوسری انجمنوں کا ہے۔ یعنی سبھی منہ میں گھنگنیاں ڈالے بیٹھی ہیں۔ کوئی اس تماشے پر نہیں بولتا۔ کیا اس لئے کہ شاہ صاحب اور ان کے رفقاء اس صحرائے سیاست میں تشنہ و تنہا ہیں؟ انہیں افتاد زمانہ نے سیاسی ستم بنا دیا ہے۔ وقت ان کے موافق نہیں رہا۔ حالات نے ان سے آنکھیں پھیر لیں۔ کچھ ساتھی بچھڑ گئے۔ وہ اس راست باز زبان کی طرح ہیں جنہیں سہانے بولوں کے بدلے انگارے ملتے ہیں۔

چٹان کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس نے سب سے پہلے خان برادران کی قید تنہائی اور نظر بندی کے خلاف احتجاج کیا اور ایک تنہا آواز کی حیثیت سے کئی سال تک لڑتا رہا۔ اس وقت ان دونوں مقتدر بھائیوں کا نام لینا جرم تھا۔ جو لوگ آج ڈاکٹر خان صاحب کے گرد جمع ہیں وہ چٹان سے اس لئے بغض رکھتے تھے کہ ہم ان بھائیوں کا نام لیتے اور ان کی بے غرضی کا اشتہار دیتے ہیں۔ لیکن آج یہ بات کس قدر افسوسناک ہے کہ ان لوگوں کی زنجیریں ابھی تک باقی ہیں جن کی بدولت ڈاکٹر خان صاحب کی زنجیریں کٹی ہیں۔

ہم ان علاقہ بندیوں اور پابندیوں کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک ہر وہ شخص جو ان کا ذمہ دار ہے ایک ایسے فعل کا مرتکب ہو رہا ہے جس کی صحت ہمیشہ سے محل نظر رہی ہے۔

محمد ﷺ (فداہ امی وابی) کی ختم المرسلینی کا ذکر و اذکار کوئی جرم نہیں۔ جو شخص اس کو جرم قرار دیتا ہے وہ خود مجرم ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا فرض ہے کہ وہ اس عاشورے سے فارغ ہونے کے بعد اصل حالات کا پتہ چلائیں۔ انہیں اپنا وعدہ یاد ہوگا؟ ہم سمجھتے ہیں کہ شاہ جی کے خلاف جو رپورٹیں مرتب کی جاتی ہیں وہ یکطرفہ ہوتی ہیں۔ ان کے خلاف ایک ذہنی سازش ہے جو خاص عقیدے کے چند افراد نے کر رکھی ہے۔ تمام افسانے اسی کے مطابق گھڑے جاتے ہیں۔ شاہ جی کے وجود سے ملک اور قوم کو اتنا اندیشہ بھی نہیں جتنی ماش کے دانے پر سفیدی ہوتی ہے۔ وہ ان لوگوں سے زیادہ محب وطن ہیں جنہیں محض اقتدار کی کرسی نے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ دے رکھا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہمارا یہ دعویٰ ہے بلکہ ہم چیلنج کرتے ہیں کہ جو لوگ ان کی تقاریر کے نوٹ لیتے ہیں وہ اس کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ وہ سیاق و سباق کے علمی پہلو چھوڑ دیتے اور خطابت کے عام حصے اپنی ادھوری قابلیتوں کے فہم پر درج کر لیتے ہیں۔ جس سے الف تا ی سیفٹی ایکٹ کی دفعات ڈھلتی چلی جاتی ہیں۔ یہ دھاندلی انتہائی خطرناک ہے اور ہم اس کے خلاف آواز اٹھانا جائز سمجھتے ہیں۔

ہمیں یقین ہے کہ ڈاکٹر خان صاحب موجودہ کشمکش سے فارغ ہوتے ہی ان پابندیوں اور علاقہ بندیوں کے احکام واپس لے لیں

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۶۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گے۔ ہماری اپنی معلومات کے مطابق ان بندشوں کے خلاف لوگوں میں سخت ہیجان موجود ہے اور وہ اس صورت حالات کو آزاد انتخابات کے دعویٰ کی نفی کے مصداق سمجھتے ہیں۔ شاہ جی اور ان کے مخلص ساتھی ہمارے احترام کے مستحق ہیں۔ انہوں نے تمام زندگی مسلمانوں کی بے لوث خدمت انجام دی ہے۔ آج تک کسی سے کوئی غرض نہیں رکھی۔ جو کام کیا مخلصانہ کیا۔ جذبے سے کیا۔ اگر ہم آزادی کے بعد ان کا احترام نہیں کر سکتے تو یہ تاریخ کی ایک ایسی فصل ہے جس کے چاروں طرف سیاہ حاشیہ کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ہے۔

(چٹان مؤرخہ ۲۱؍ مئی ۱۹۵۶ء)

اس دوران حضرت امیر شریعت بیمار ہو گئے تو حکومت نے لاہور بغرض علاج جانے کی اجازت دی۔

(نوائے وقت لاہور، مؤرخہ ۱۲؍ جولائی ۱۹۵۶ء)

مولانا محمد علی جالندھری کی نقل و حرکت پر پابندی

ملتان: مؤرخہ ۲۲؍ مئی ۔ مقامی پولیس نے مولانا محمد علی صاحب جالندھری ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان سے ایک حکم نامے کی تعمیل کروائی ہے۔ یہ پابندی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ملتان نے مولانا پر پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت لگائی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پابندی کے نوٹس کی تعمیل ملتان سے باہر صادق آباد سے دس میل دور ایک گاؤں میں جب وہ اپنی لڑکی کی شادی میں مصروف تھے، کروائی گئی۔ واضح رہے اس قسم کی پابندی قبل ازیں سید عطاء اللہ شاہ بخاری امیر جماعت پر بھی عائد کی جا چکی ہے۔

(امروز لاہور، مؤرخہ ۲۵؍ مئی ۱۹۵۶ء)

ظفر اللہ کے استعفیٰ سے سیاسی حلقوں میں سنسنی

کراچی: مؤرخہ ۷؍ مئی ۔ کل کے جنگ میں خبر دی جا چکی ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان نے دستور ساز اسمبلی کی بنیادی اصولوں کی کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس سلسلہ میں آج دستوریہ کے صدر مولوی تمیز الدین خان نے بتایا کہ ابھی تک استعفیٰ منظور نہیں ہوا۔ آج اسمبلی کی لیگ پارٹی کے چیف وہپ غیاث الدین خان نے چوہدری ظفر اللہ خان سے ملاقات کی۔ پہلا موقع ہے کہ اختلاف رائے کی بنا پر پاک کابینہ کے ایک رکن نے دستوریہ کی کسی کمیٹی سے استعفیٰ دیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں سنسنی پھیل گئی ہے۔

(روزنامہ جنگ کراچی، مؤرخہ ۱۹؍ مئی ۱۹۵۶ء)

مولوی عبدالقیوم سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار

مولوی عبدالقیوم خطیب مسجد چھپڑ والی کو سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مولوی صاحب کے خلاف ایک سال پہلے قادیانی تحریک کے سلسلہ میں حکومت کو کچھ شکایت تھی۔ چنانچہ اس سے ایک سال بعد آج نوٹس لیا گیا ہے۔

(امروز لاہور، مؤرخہ ۲۴؍ اگست ۱۹۵۶ء)

سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے خلاف مقدمہ کی سماعت ملتوی

ملتان: مؤرخہ ۳۱؍ اگست ۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری خرابی صحت کی بنا پر اپنے مقدمہ کی پیشی پر حاضر نہیں ہو سکے۔ مولانا کی طرف سے مولانا محمد علی جالندھری نے عدالت سے درخواست کی کہ مولانا بخاری کو خرابی صحت کی بنا پر عدالت میں حاضری سے معذور سمجھا جائے۔ عدالت نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے مقدمہ کی سماعت کو ۲۴؍ ستمبر پر ملتوی کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ مولانا بخاری پر یہ مقدمہ زیر دفعہ ۲۱ پبلک سیفٹی ایکٹ جلال پور پیروالہ میں ایک قابل اعتراض تقریر کرنے کے الزام میں راجہ محمد ایوب مجسٹریٹ درجہ اوّل ملتان کی عدالت میں زیر سماعت ہے۔

(امروز لاہور، مؤرخہ یکم ستمبر ۱۹۵۶ء)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۶۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا محمد علی جالندھری کے مقدمہ کی سماعت ملتوی

چوہدری ع۔ک خالد مجسٹریٹ دفعہ ۳۰ ملتان کی عدالت نے مولانا محمد علی صاحب جالندھری ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے خلاف مبینہ قابل اعتراض تقریر کرنے کے مقدمہ کی سماعت کو چھ نومبر پر ملتوی کر دیا ہے۔

سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے خلاف مقدمہ کی سماعت

چوہدری غلام مرتضیٰ مجسٹریٹ درجہ اوّل خانیوال کی عدالت نے مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری اور دوسرے مبلغین کے خلاف مبینہ قابل اعتراض تقاریر کے مقدمہ کی سماعت ۱۲؍نومبر پر ملتوی کر دی ہے۔ آئندہ سماعت کے موقعہ پر فاضل عدالت استغاثہ کے گواہان کے بیانات قلمبند کرے گی۔ یہ مقدمہ پولیس خانیوال نے سیفٹی ایکٹ کی دفعہ ۲۱ کے تحت مبینہ قابل اعتراض تقریر کرنے کے الزام میں قائم کیا۔

(امروز مؤرخہ ۲؍نومبر ۱۹۵۶ء)

مولانا محمد علی جالندھری کے مقدمہ کی سماعت

(امروز کے نامہ نگار سے) ملتان: مؤرخہ ۱۷؍اکتوبر۔ مقامی مجسٹریٹ مسٹر خالد کی عدالت نے مولانا محمد علی جالندھری ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے خلاف قابل اعتراض تقریر کرنے کے الزام میں مقدمہ کی سماعت ۲۶؍اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔

(امروز لاہور، مؤرخہ ۱۸؍اکتوبر ۱۹۵۶ء)

ہندوستان ظفر اللہ خان کی شرکت پر اعتراض نہیں کرے گا

نئی دہلی: مؤرخہ ۲۴؍اپریل۔ حکومت ہندوستان کے ایک ترجمان نے پاکستانی اخبارات کی اس اطلاع کی تردید کی ہے کہ پرتگال اور ہندوستان کے تنازعہ میں عالمی عدالت کے جج کی حیثیت سے سر ظفر اللہ خان کی شرکت پر ہندوستان اعتراض کرے گا۔ ترجمان نے کہا کہ یہ اطلاع قطعاً غلط ہے اور ہندوستان استحقاق کی بنیاد پر مخالفت کرے گا۔

(امروز لاہور، مؤرخہ ۲۶؍اپریل ۱۹۵۶ء)

گوجرانوالہ میں ختم نبوت کانفرنس ختم ہو گئی

گوجرانوالہ: مؤرخہ ۲۹؍فروری۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام یہاں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس کل ختم ہو گئی۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا مقصد نبوت کے منصب کا تحفظ ہے۔ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی، جب تک یہ مقصد حاصل نہ ہو جائے۔ مولانا محمد علی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دے۔

(امروز لاہور، مؤرخہ ۲؍مارچ ۱۹۵۶ء)

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی گرفتاری

مغربی پاکستان کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں ختم نبوت کے بوڑھے رہنما سید عطاء اللہ شاہ بخاری پر ایک عدالت میں سیفٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔ مقدمہ سے متعلق ہم کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ کیونکہ معاملہ کا فیصلہ کرنا فاضل عدالت کا کام ہے۔ اتنا ضرور کہیں گے کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری عاشق رسول ﷺ ہیں۔ ہند و پاکستان کی وہ ایک مقتدر شخصیت ہیں۔ شاہ صاحب سے عوام محبت کرتے ہیں۔ فرنگی کے دور حکومت میں انہیں بار ہا جیل جانا پڑا۔ مگر افسوس کہ ڈاکٹر خان صاحب جو جمہوریت کے علمبردار ہونے کے دعوے کرتے ہیں، ان کے دور حکومت میں بوڑھے سید صاحب کی بار بار زبان بندی کے ساتھ ساتھ سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتاری قابل

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۶۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تعجب ہے۔ اس ملک میں کمیونسٹ اور قادیانی من مانی کارروائیاں اور آزادانہ طور پر اپنے اپنے عقیدہ کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ مگر پولیس اور سی آئی ڈی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ شاہ جی گندی سیاست سے لگاؤ نہیں رکھتے۔ وہ سیاست سے کنارا کش ہو چکے ہیں اور اگر عقیدہ ختم نبوت کی تبلیغ ڈاکٹر خان کی حکومت کے نزدیک جرم ہے تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کا مقدس عقیدہ ہے اور اس کی تبلیغ کار ثواب، اس طرح سے پھر تمام مسلمان مجرم قرار دیئے جاسکتے ہیں؟ ہم ڈاکٹر خان صاحب سے استدعا کرتے ہیں کہ شاہ جی پر زبان بندی اور سیفٹی ایکٹ وغیرہ کی پابندی ختم کی جائیں۔

قادیانی کو مسلمان ہجوم نے سنگسار کر کے قتل کر دیا

کوئٹہ : اطلاع ملی ہے کہ ایک ہجوم نے کابل کی جیل پر حملہ کر کے ایک افغان باشندے داؤد جان کو اغوا کر لیا اور بعد میں اسے پتھر مار کر ہلاک کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ داؤد جان جو قادیانی ہے حال ہی میں ربوہ، پاکستان گیا تھا۔ جہاں اس نے قادیانیوں کے سالانہ جلسہ میں شرکت کی۔ جب وہ ربوہ سے واپس کابل آیا تو اسے پولیس نے مرتد ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ علماء نے فتویٰ دیا کہ وہ سزائے موت کا مستحق ہے۔ چنانچہ ہجوم نے جیل پر حملہ کر دیا اور داؤد جان کو باہر نکال کر سنگسار کر کے قتل کر دیا۔

(ہفت روزہ حکومت، ۳۰؍ اپریل ۱۹۵۶ء)

مملکت کے اندر مملکت نوائے وقت کا شذرہ

”قادیانی جماعت ان دنوں اندرونی اختلاف و انتشار کا شکار ہے۔ ہمیں اس جماعت کے جھگڑوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ مگر اس مسئلہ کا ایک پہلو پولیس، پبلک، حکومت سب کی توجہ کا مستحق ہے۔ ہمارا اشارہ اس سوشل بائیکاٹ کی طرف ہے جو جماعت کے موجودہ سربراہ کے حقیقی یا فرضی مخالفوں کا کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح وہ دھمکیاں بھی قابل توجہ ہیں جو جماعت کے سرکاری اخبار میں ان افراد کو دی جارہی ہیں جو سربراہ جماعت کے فرضی یا حقیقی نقاد ہیں۔ ان دھمکیوں کی بعض اوقات یہ تاویل کی جاتی ہے کہ قلع قمع سے ہماری مراد روحانی قلع قمع ہے۔ مگر یہ تاویل کسی غیر جانب دار انسان کی تسلی نہیں کر سکتی۔ جس سوسائٹی میں اکثریت سادہ لوح افراد کی ہو، وہاں مریدوں کو مذہب کے نام پر اپنے مخالفوں کے قلع قمع پر ابھارنا ایک خطرناک کھیل ہے۔ سادہ لوح مرید روحانی قلع قمع اور جسمانی قلع قمع میں امتیاز کے کچھ زیادہ اہل نہیں ہوتے۔

جہاں تک سوشل بائیکاٹ کا تعلق ہے، ممکن ہے جماعت کی طرف سے یہ کہا جائے کہ ہم نے کہیں سوشل بائیکاٹ کا حکم نہیں دیا۔ مگر جب اپنے مخالفوں یا معترضین کو منافق اور دشمن قرار دے کر یہ حکم دیا جائے کہ کوئی شخص ان کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھے تو یہ سوشل بائیکاٹ نہیں تو اور کیا ہے؟ ہمیں بتایا گیا ہے کہ ایک شخص سے اس کی بیوی بچے بھی چھین لئے گئے ہیں۔ ایک اور نوجوان محمد یونس نے ہمیں بتایا کہ اس کے باپ نے اخبار ”الفضل“ میں اسے منافق قرار دیا ہے اور یہ اعلان کیا ہے کہ جب تک مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اسے معافی نہیں دیں گے، باپ اپنے حقیقی بیٹے سے نفرت کرتا رہے گا۔ باپ کے اس اعلان پر محمد یونس کے خسر کے تصدیقی دستخط ثبت ہیں۔ محمد یونس نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ اس کے بیوی بچے اس سے چھین لئے جائیں گے۔ وہ کہتا ہے کہ میں سرے سے قادیانی یا احمدی ہی نہیں ہوں۔ مگر مجھے منافق قرار دے کر میرا بائیکاٹ کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ میں ان کے عقیدہ کے مطابق کافر تو ہوں، منافق کسی طرح بھی نہیں۔

اس مسئلہ کے باقی تمام پہلوؤں سے قطع نظر ہم قادیانی جماعت کے سربراہ اور اس جماعت کے دانشمند اصحاب سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ وہ جو سلوک اپنے لئے نا پسند کرتے ہیں وہی سلوک دوسروں کے لئے کیوں پسند کرتے ہیں؟ جن افراد کو جماعت قادیان کے سربراہ نے منافق قرار دیا ہے ان میں سے تقریباً نوے فیصدی کے معافی نامے الفضل میں چھپ چکے ہیں کہ ہم حضور کے غلام ہیں اور حضور کو اپنا آقا سمجھتے

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۶۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہیں ۔ یہاں حضور سے مراد مرزا بشیر الدین محمود احمد ہیں ۔ مگر مرزا محمود قادیانی کو اصرار ہے کہ نہیں ! تم منافق اور ریا کار ہو۔ تمہارا سوشل بائیکاٹ ہو گا ۔ عامۃ المسلمین سے احمدیوں یا قادیانیوں کا اختلاف بنیادی ہے ۔ جب اس بنا پر قادیانیوں کے بائیکاٹ یا انہیں اقلیت قرار دینے کی تحریک ہوتی ہے تو پھر مرزا محمود قادیانی کس منہ سے اس کی شکایت کر سکتے ہیں ؟ وہ اپنی جماعت میں ایسے افراد کے وجود کے بھی روادار نہیں جو ان کے والد محترم کو اپنا پیشوا مانتے ہیں اور خود مرزا محمود احمد صاحب سے بھی گڑ گڑا کر معافی مانگتے ہیں ۔ وہ سوچیں کہ کیا ان کا یہ طرز عمل ان لوگوں کے ہاتھ مضبوط نہیں کرتا ، جن کا مؤقف یہ ہے کہ احمدیوں یا قادیانیوں کو ایک جداگانہ اقلیت قرار دے کر ملت اسلامیہ کے دائرہ سے خارج کر دینا چاہئے؟

جیسا کہ ہم ابتداء میں ہی عرض کر چکے ہیں ، ہمیں جماعت قادیان کے اس اندرونی جھگڑے سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ مگر ہندو ، مسلمان ، عیسائی ، قادیانی ، غیر قادیانی پاکستان کے ہر شہری کی زندگی کی حفاظت حکومت کا فرض ہے۔ وہ قادیانی بھی جو مرزا محمود احمد صاحب کے واقعی خلاف ہیں یا مرزا صاحب نے فرض کر لیا ہے کہ وہ ان کے مخالف ہیں ، پاکستان کے شہری ہیں اور ان پر حکومت پاکستان کا قانون لاگو ہوتا ہے نہ کہ جماعت قادیان یا اس کے سربراہ کا قانون ۔ ہم ایک مرتبہ پہلے بھی ان کالموں میں یہ بات لکھ چکے ہیں اور آج پھر اسے دہراتے ہیں کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو مملکت پاکستان کے اندر ایک اپنی مملکت کے قیام کا کوئی حق نہیں ۔ اگر وہ ایسی کوشش کرتے ہیں تو حکومت کا فرض ہے کہ انہیں اس سے روکے ۔‘‘

(روزنامہ نوائے وقت لاہور ، مؤرخہ یکم ستمبر ۱۹۵۶ء)

چوہدری ظفر اللہ خان کی نئی نویلی دلہن کے پرانے شوہر کی دلچسپ داستان

”قاہرہ: مؤرخہ ۶؍اگست ۔ چوہدری ظفر اللہ سابق وزیر خارجہ پاکستان کی نئی نویلی بیوی بشریٰ ربانی کے پرانے شوہر مسٹر محمود قزاق نے مشہور مصری روزنامہ اخبار الیوم کے نمائندے کو اپنی نوجوان سابقہ بیوی اور بوڑھے ظفر اللہ خان کے معاشقہ کی جو رنگین داستان سنائی ہے اسے پڑھ کر مولانا حسرت موہانی کا یہ شعر بے ساختہ زبان پر آتا ہے ۔

نہ چھوڑی تم نے حسرت عشق بازی تمنا پیر ہو کر بھی جواں ہے

مسٹر محمود قزاق کی داستان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بشریٰ ربانی اور اس کے والدین بھی مرزائی ہیں ۔ اس کے ساتھ چوہدری ظفر اللہ خان کی عشق بازی کا آغاز دمشق کی مرزائی انجمن کے دفتر میں مرزا بشیر الدین محمود قادیانی کی آمد کے موقع پر ہوا تھا۔ مسٹر محمود لکھتے ہیں کہ جماعت مرزائیہ کے دفتر میں بشریٰ ربانی سے پہلی ملاقات کے موقع پر چوہدری ظفر اللہ خان نے اس سے اس کا نام پوچھا۔ بشریٰ نے چوہدری صاحب کو قادیانی خلیفہ کا معتمد خاص سمجھ کر ادب اور احترام سے ان کے ہاتھ چومے اور اپنا نام بتا دیا ۔ اس کے بعد چوہدری ظفر اللہ خان نے قادیانی خلیفہ سے سرگوشی کی اور خلیفہ جی نے بآواز بلند کہا: یہ تو اس کے خاندان کے لئے سب سے بڑی عزت ہے۔ سننے والے سمجھ گئے کہ کسی کی شادی کا تذکرہ ہے۔ اس کے بعد چوہدری ظفر اللہ خان نے مقامی مرزائیوں کے امیر سے کچھ کہا اور اس نے بلند آواز سے کہا: اس کا ایک ہی بھائی ہے۔ چوہدری ظفر اللہ خان نے پوچھا: کیا اس لڑکی کا بھائی یہاں دمشق کے پاکستانی سفارت خانے میں ملازمت پسند کرے گا؟ اور دوسرے ہی دن میری بیوی کے بھائی محمود ربانی کو سفارت خانے میں عہدہ مل گیا ۔ پھر ظفر اللہ خان نے اپنی خاص مجلس میں دمشق کے معزز احمدیوں سے کہا: میں اس لڑکی کو خوش نصیب اور اس کے خاندان کو خوشحال بنا دوں گا ۔ عرض کیا گیا کہ لڑکی اپنے خالہ زاد بھائی سے منسوب ہوچکی ہے ۔ جو خلیج فارس کے ایک ملک میں دولت کمانے گیا ہوا ہے ، تا کہ لڑکی کو رخصت کر کے لے جائے ۔ سر ظفر اللہ خان نے برہم ہو کر کہا: یہ کتنا بڑا جرم ہے کہ ایسے نازک پھول کو اس خوفناک کانٹے کی گود میں ڈال دیا جائے ۔ عرض کیا گیا: مگر دونوں کا نکاح بھی ہو چکا ہے ۔ ظفر اللہ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۶۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خان نے اور زیادہ خفگی سے کہا: طلاق کا بندوبست کر دو۔ عرض کیا گیا: ممکن ہے کہ خود لڑکی آپ کی عمر کے آدمی سے رشتہ جوڑنا پسند نہ کرے اور کہے کہ آپ کی بیوی بھی موجود ہے اور اولاد بھی۔ ظفر اللہ خان نے جواب دیا کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں گا اور انہوں نے یہ ہی کیا تھا کہ بشریٰ کو حاصل کر سکیں۔ دوسرے دن حضرت، لڑکی کے گھر ہی پہنچ گئے اور جب وہ چائے لے کر آئی اور اس پر نگاہیں گاڑے ہوئے کہنے لگے: بشریٰ! تو کیا کہتی ہے؟ دیکھنا، ظاہری شکل پر نہ جانا۔ میں آج بھی گھوڑا ہوں جوان ہوں اور طاقت سے بھر پور۔ بشریٰ کی نظریں شرم سے جھک گئیں اور چہرہ گلابی ہو گیا۔ پھر آہستہ سے کہنے لگی: مالک! میں تو حضور کی محض کنیز ہوں۔ یہ سنتے ہی ظفر اللہ خان نے جیب سے ایک ڈبیہ نکالی اور ہیرے کا لاکٹ نکال کر خود اپنے ہاتھ سے لڑکی کے گلے میں ڈال دیا۔ پھر اس کی انگلیوں پر ٹکٹکی باندھ دی۔ وہ سمجھ گئی۔ اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور انگلی سے میرے نکاح کی انگوٹھی اتار دی۔ تین دن بعد ظفر اللہ خان لاہائی (ہالینڈ) جانے کے لئے تیار ہو گئے۔ جہاں وہ بین الاقوامی عدالت کے جج ہیں۔ جاتے وقت بشریٰ کی ماں اور بھائی کے ہاتھ میں ایک بڑی رقم دیتے ہوئے حاکمانہ انداز سے فرمانے لگے: دیکھو! بشریٰ کی طلاق کا معاملہ جلد سے جلد انجام پا جانا چاہئے۔ خرچ کی پرواہ نہ کرنا۔ نہیں میری عقل کچھ کام نہیں دیتی۔ اب تک سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ آخر یہ کیا ہوا؟ اور سمجھ میں آئے بھی کیسے؟ میں نے اپنے وجود سے محبت کی تھی اور حق الیقین تھا کہ بشریٰ بھی مجھے سچے دل سے چاہتی ہے۔ ہم دونوں گھڑیاں گن رہے تھے کہ رخصتی کا دن آجائے اور ہم دونوں ایک جان ہو جائیں۔ میں خلیج فارس کے ایک علاقہ میں بہت دور تھا۔ مگر بشریٰ کے محبت بھرے خطوں سے ڈھارس بندھی رہتی تھی۔ بشریٰ ہر ہفتے کئی کئی خط لکھتی۔ تصویروں کے تراشے بھی بھیجتی۔ یہ دیکھئے! تراشے میں ایک جوڑے کی تصویر ہے جو عروسی لباس پہنے ہیں اور یہ عبارت تراشے پر خود بشریٰ کے قلم نے لکھی ہے: اللہ! ہم دونوں کب ایسا ہی جوڑا پہنیں گے؟ یہ دوسرا تراشہ ہے، دو بچے کھڑے ہیں اور بشریٰ نے اس پر لکھا ہے: خدا ہمیں بھی ایسے ہی بچے دے گا۔

بہت سے خط سنا کر بد نصیب شوہر چپ ہو گیا اور کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ پھر قہقہہ اس کے منہ سے پھوٹ پڑا اور اس نے کہنا شروع کیا: کوئی خیال بھی کر سکتا تھا کہ بشریٰ کے یہ سب جذبات سراسر فریب تھے اور وہ میرے دل سے صرف کھیل رہی تھی۔ کیا دولت کی طمع اس پر غالب آ گئی؟ میں کیونکر مان لوں، اس نے تو مجھے اس وقت قبول کیا تھا، جب میں بالکل فقیر تھا۔ میں قادیانی نہیں تھا۔ محض بشریٰ کو حاصل کرنے کے لئے قادیانیت میں نے قبول کر لی۔ کیونکہ بشریٰ اور اس کا خاندان قادیانی بن چکا تھا۔ ظفر اللہ خان قادیانی مذہب کے ایک بڑے رکن ہیں اور میرے دل میں وہم بھی پیدا نہیں ہو سکتا تھا کہ یہی ظفر اللہ میرے دل کو اس طرح گھائل کر کے کچل ڈالیں گے اور قادیانیت کے امام اور امیر المومنین اپنے ایک مرید و معتقد کی زندگی اس بے دردی سے اجاڑ کر رکھ دیں گے۔ بے شک اس قسم کی کوئی بات بھی خیال میں نہیں آ سکتی تھی۔ لیکن فلسطین میں ایک کہاوت ہے: گھنی داڑھیوں کی آڑ میں کبھی بندر بھی چھپے ملتے ہیں، اور ظفر اللہ کی داڑھی واقعی عجائبات کو چھپائے ہوئے تھی۔ محمود قزاق نے سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا: ۱۹۵۲ء میں میں نے کتنی کوشش کی کہ لبنان میں کوئی روزگار مل جائے مگر کامیابی نہ ہوئی۔ پھر میں شام چلا آیا اور ایک سکول میں مدرسی مل گئی۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنی خالہ سے ملنے دمشق آیا اور خالہ کی لڑکی بشریٰ کو دیکھتے ہی، دل دے بیٹھا۔ دوسرے دن بشریٰ کے ساتھ سینما گیا۔ فلم میں ہیرو اور ہیروئن کی شادی دکھائی جا رہی تھی۔ بشریٰ میرے کان میں کہنے لگی: یہ خوشی ہمیں کب نصیب ہو گی؟ ۱۹۵۴ء میں ہمارا نکاح ہو گیا۔ میں پھر خلیج فارس کی ایک ریاست میں چلا گیا تا کہ جلد سے جلد بہت سا روپیہ جمع کر کے لوٹوں اور اپنی دلہن کو رخصت کرا لاؤں۔ بشریٰ کے خط دسمبر کے مہینے سے بند ہو گئے۔ آخر ایک خط بہت دنوں کے بعد آیا۔ اس کی عبارت یہ تھی:

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۷۰

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا امیر المومنین دمشق کو آئے۔ ظفر اللہ خان بھی تھے۔ کس قدر چاہتی تھی کہ تم بھی یہاں موجود ہوتے اور حضرت ظفر اللہ کی زیارت کرتے۔ بشریٰ کے خط نے میرا دماغ اور بھی خراب کر دیا اور میں طرح طرح کے مطلب نکالنے لگا۔ دمشق پہنچتے ہی سیدھا خالہ کے گھر گیا۔ مگر بشریٰ کی انگلی میرے عقد کی انگوٹھی سے خالی تھی۔ میں نے کہا: انگوٹھی اور چوڑیاں غائب ہیں؟ بشریٰ: میں آزاد ہوں۔ تم میری خالہ کے بیٹے ہو اس لئے تم سے شادی منظور نہیں کر سکتی۔ اس کے بھائی محمود نے مجھ سے کہا: بشریٰ تمہیں پسند نہیں کرتی۔ تم طلاق کیوں نہیں دے دیتے۔ میں نے بے اختیار کہا: ابھی قاضی کے پاس چلو، طلاق نامہ لکھے دیتا ہوں۔ قاضی نے جب معاملہ سنا تو خفا ہوئے۔ میں تو غصہ سے بے خود ہو ہی رہا تھا۔ کہا گیا: قاضی صاحب نکاح فرضی تھا اور میں بشریٰ کو طلاق دے چکا ہوں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ظفر اللہ خان نے ۴۵ ہزار پونڈ میں بشریٰ کو خرید لیا ہے اور بیس ہزار پونڈ میں بشریٰ کے خاندان کے لئے ایک مکان دمشق کے محلہ بستان الجھری میں مول لے دیا ہے۔ پھر سنا کہ ظفر اللہ چند ہی روز میں دمشق آ رہے ہیں تا کہ بشریٰ سے شادی رچائیں اور میں نے طے کر لیا کہ اس شخص کو قتل کر ڈالوں گا۔ میں نے پستول خرید لیا۔ مگر بشریٰ کے خاندان نے ظفر اللہ کو بھی خبر کر دی۔ اس پر جلسے کا پروگرام رد کر دیا گیا اور آدھے گھنٹے کے اندر ہی ظفر اللہ نکاح کر کے ہوائی جہاز سے بھاگ گئے۔‘‘

(روزنامہ انجام کراچی، مورخہ ۸؍اگست ۱۹۵۶ء)

مولانا لال حسین اختر کے خلاف مقدمہ منتقل

ملتان: ایس. ڈی. او علی پور کی عدالت میں پولیس نے مولانا لال حسین اختر کے خلاف قابل اعتراض تقریر کے الزام میں چالان پیش کر دیا۔ فاضل عدالت نے مولانا سے دریافت کیا کہ کیا آپ اپنی تقریر میں بیان کردہ حوالہ جات پیش کر سکتے ہیں؟ مولانا کے اثبات میں جواب دینے پر عدالت نے مقدمہ کی سماعت اگلے روز پر ملتوی کی۔ اگلے روز فاضل عدالت نے مقدمہ مظفر گڑھ منتقل کرتے ہوئے مقدمہ کی سماعت کو غیر معینہ عرصہ کے لئے ملتوی کر دیا۔ مولانا پر پولیس نے زیر دفعہ ۱۴ پبلک سیفٹی ایکٹ علاقہ علی پور کے ایک جلسہ میں قابلِ اعتراض تقریر کرنے کے الزام میں یہ مقدمہ قائم کیا ہے۔

قابل اعتراض تقاریر کے مقدمہ کی سماعت ملتوی

راجہ محمد ایوب مجسٹریٹ درجہ اوّل ملتان کی عدالت نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے پانچ علماء مبلغین کے خلاف قابل اعتراض تقاریر کرنے کے مقدمہ کی سماعت ۸؍اکتوبر پر ملتوی کر دی۔ یادرہے کہ عدالت مذکورہ میں پانچ علماء پر پبلک سیفٹی ایکٹ کی دفعہ ۲۱ کے تحت یہ مقدمات زیر سماعت ہیں۔

قابل اعتراض تقریر کرنے پر وارنٹ گرفتاری

ملتان: مورخہ ۲۷؍ ستمبر ۔ معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مولانا محمد لقمان ساکن علی پور (مظفر گڑھ) کے خلاف ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سرگودھا نے زیر دفعہ ۲۱ پبلک سیفٹی ایکٹ وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ مولانا نے محرم کے روز جامع مسجد سرگودھا میں ایک قابل اعتراض تقریر کی تھی، جس کی بنا پر مندرجہ بالا اقدام کیا گیا۔

(امروز لاہور، مورخہ ۲۸؍ستمبر ۱۹۵۶ء)

مولانا سلطان محمود پر پابندی

ملتان: خبر ملی ہے کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ڈیرہ غازی خان نے مولانا سلطان محمود ساکن مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت کو ڈیرہ غازی خان فوراً چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ 71

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۷۱ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا محمد رمضان کی نقل و حرکت پر پابندی

ملتان: مورخہ ۵/اکتوبر۔ خبر ملی ہے کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ میانوالی نے مولانا محمد رمضان رکن مرکزی مجلس شوریٰ ختم نبوت پاکستان ساکن میانوالی کی نقل و حرکت کو تین ماہ کے لئے میانوالی شہر کی حدود میں محدود کر دیا ہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے یہ اقدام پبلک سیفٹی ایکٹ کی دفعہ ۵ ضمن ڈی کے تحت کیا ہے۔ ادھر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ میانوالی نے مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد شریف بہاول پوری اور مولانا عبد اللطیف اختر شجاع آبادی کے میانوالی ضلع کی حدود میں داخلہ پر تین ماہ کے لئے پابندی عائد کر دی ہے۔ (امروز مورخہ ۶/اکتوبر ۱۹۵۶ء)

مفتی محمد شفیع کا مطالبہ...... فیروز خان نون کو برطرف کیا جائے

کراچی: مورخہ ۱۳/نومبر۔ مولانا مفتی شفیع صاحب صدر عاملہ مرکزی جمعیۃ علمائے اسلام نے پریس کو حسب ذیل بیان جاری کیا ہے: ”ملک فیروز خان نون کا حالیہ بیان جو انہوں نے لندن میں دیا ہے، اس نازک وقت میں جب کہ ممالک اسلامیہ مصائب میں گھرے ہوئے ہیں، ان کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہے۔ ان کے اس بیان پر جس قدر نفرت و بیزاری کا اظہار کیا جائے، کم ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر خارجہ یورپ میں اپنے آقاؤں کے اشاروں پر جس طرح ناچ رہے ہیں، اس سے پاکستان کے مسلمانوں کی گردن شرم سے جھک گئی ہے۔ بہر حال جن خیالات کا اظہار برطانیہ کے اس قدیم نمک خوار نے کیا ہے، پاکستان کے عوام کا اس سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں وزیر اعظم پاکستان مسٹر سہروردی سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اس سلسلہ میں اپنی حکومت کی پالیسی غیر مبہم الفاظ میں واضح کریں اور اگر یہ ان کی حکومت کی پالیسی نہیں ہے تو میں ان سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ایسے بے سمجھ اور اسلام دشمن، پاکستان کے بدخواہ کو فوراً پاکستان واپس بلا کر وزارت سے علیحدہ کر دیں۔ یہ ہرگز اس قابل نہیں ہیں کہ انجمن اقوام متحدہ میں یا کسی جگہ پاکستان کی ترجمانی کرسکیں یا دنیا کے سامنے اسرائیل، فرانس اور برطانیہ کی درندگی کو بے نقاب کرسکیں۔ پاکستان کے عوام کو سہروردی صاحب سے کم از کم اس مسئلہ میں بہت کچھ امیدیں وابستہ تھیں۔ مگر تہران کانفرنس کی روئیداد اور ان کی حکومت کے وزیر خارجہ کے بیانات نے اس معاملہ میں بھی پاکستان کو اسی طرح مایوس کر دیا ہے، جس طرح دستور اسلامی اور طریق انتخاب کے مسئلہ میں عوام کو مایوسی و بیزاری ہوئی تھی۔ ان اقدامات سے ممالک اسلامیہ کے دلوں میں پاکستان کی طرف سے نفرت کے جذبات کی خلیج کو وسیع تر کرنے کا کام جو مسلسل جاری ہے اس کا مداوا پاکستان کے عوام اپنی ہمدردیوں سے کب تک کرتے رہیں گے؟ وقت کا اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان ایسے پاکستان دشمن اور اسلام کش افراد سے ملک کا پیچھا چھڑائیں۔ ورنہ عوام یہ رائے قائم کرنے میں بالکل حق بجانب ہوں گے کہ یہ سہروردی حکومت کی سوچی سمجھی پالیسی کی ترجمانی کی جا رہی ہے۔ ملک نون صاحب کو واضح الفاظ میں ہم یہ کہہ دینا چاہتے ہیں کہ ان جیسے لوگوں کے لئے بہتر ہے کہ وہ مملکت اسرائیل ہی میں جو ان کے نزدیک قائم رہنے کے لئے وجود میں آئی ہے یا اپنے آقاؤں کے زیر سایہ جن کی چاکری میں انہوں نے ساری زندگی گزاری ہے، زندگی گزارنے کا بھی انتظام کر لیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان ان جیسے مسلم بیزار، اسلام دشمن، یہود نواز اور انگریز پرست افراد سے جس قدر جلد پاک ہو جائے، اس کی خوش نصیبی ہو گی۔“ (روزنامہ انجام کراچی، مورخہ ۱۵/نومبر ۱۹۵۶ء)

یہود نواز وزیر خارجہ کو برطرف کرنے کا مطالبہ

لاہور: مورخہ ۲۶/نومبر۔ (ڈاک سے) مجلس احرار اسلام کے کارکنوں نے محمد اشرف بھٹی کی صدارت میں ایک قرارداد پاس کی ہے۔ جس میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یو.این.او پر زور دے کہ وہ فلسطین کے مسلم مہاجرین کو ان کے گھروں میں آباد

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۷۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کرے اور وہاں سے یہودیوں کو نکال کر ان ملکوں کو درآمد کئے جائیں، جہاں سے برآمد کئے گئے تھے۔ قرارداد میں مغربی سامراجیوں کی پرزور مذمت کی گئی جو مشرق وسطیٰ میں اسرائیل جیسے ناسور کی پرورش کر کے عرب مسلمانوں میں ایک دائمی خطرہ رکھنا چاہتے ہیں۔ نیز مصر میں غیر ملکی فوجوں کی موجودگی کو امن عالم کے لئے خطرہ قرار دیا۔ اجلاس غیر ملکی فوجوں کے مصر سے انخلاء میں تاخیر کو مغربی طاقتوں کی ایک خطرناک سازش قرار دیتا ہے اور یو این او سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ مصر سے حملہ آور فوجوں کو فوراً نکالا جائے۔ ایک اور قرارداد میں ملک فیروز خان نون کے ناعاقبت اندیشانہ اور غیر ذمہ دارانہ بیانات کی مذمت کی گئی اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل نواز وزیر خارجہ کو فوراً برطرف کر دیا جائے۔ اس کے علاوہ حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ دولت مشترکہ اور معاہدہ بغداد سے فوراً نکل جائے اور تمام اسلامی ملکوں کا ایک اسلامی بلاک بنایا جائے۔‘‘

(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۲۸؍ نومبر ۱۹۵۶ء)

فقیر مختلف خبریں آپ کے سامنے لاتا جارہا ہے تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ قادیانیت کس طرح پروان چڑھ رہی تھی اور ہمارے حضرات کس طرح زیرعتاب تھے۔ کراچی میں ختم نبوت کا جلسہ تھا۔ خبر شائع نہ ہوسکی۔ مجبوراً کارروائی شائع کرانے کے لئے ذیل کا اشتہار جنگ کراچی میں شائع کرانا پڑا۔

مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تحریک تحفظ ختم نبوت کے بعد کراچی میں پہلا عظیم الشان جلسہ عام

مقام: آرام باغ تاریخ: ۲۳؍ دسمبر ۱۹۵۶ء دن: اتوار پہلا اجلاس: ساڑھے دو بجے سے شام تک۔ دوسرا اجلاس: ساڑھے سات بجے رات سے گیارہ بجے تک۔

۳۱ علماء کرام اور ان کی جماعتوں کی مسلسل جدوجہد اور تحریک تحفظ ختم نبوت کے نتیجہ میں بحمدللہ! ایک ایسا دستور مرتب ہو چکا ہے جس کی بنیاد پر دینی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ دین حق کی تبلیغ اور اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرت طیبہ اور ان کی رسالت کے تمام پہلوؤں کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کریں۔ مندرجہ بالا اجلاس اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ مسلمانان کراچی سے التماس ہے کہ وہ ان جلسوں میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت فرما کر ثواب دارین حاصل کریں۔ حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان اور خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور سید مظفر علی شمسی ناظم ادارہ تحفظ حقوق شیعہ خطاب فرمائیں گے۔

شعبہ نشر واشاعت: مجلس تحفظ ختم نبوت مقابل ریڈیو پاکستان بندر روڈ کراچی۔

(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۲۳؍ دسمبر ۱۹۵۶ء)

مجلس تحفظ ختم نبوت کے سات رہنماؤں کا جھنگ میں داخلہ بند کر دیا گیا

مکھیانہ: مورخہ ۲۸؍ دسمبر۔ (نمائندہ خصوصی) اطلاع ملی ہے کہ حکومت مغربی پاکستان نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے متعدد رہنماؤں پر جھنگ میں داخلہ پر پابندی لگا دی ہے تاکہ وہ چنیوٹ میں ۲۸؍ دسمبر کو ہونے والی تبلیغی کانفرنس میں شامل نہ ہوسکیں۔ ان پابند شدہ رہنماؤں میں حضرت مولانا محمد علی جالندھری، صاحبزادہ سید فیض الحسن، مولانا غلام غوث سرحدی، قاضی احسان احمد، مولانا لال حسین اختر، مولانا تاج محمود، مولانا محمد لقمان، مولانا مجاہد الحسینی بھی شامل ہیں۔ ضلعی پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ربوہ کے سالانہ جلسہ کے موقع پر جماعت ختم نبوت کا چنیوٹ میں جلسہ رکھنا ایک شرارت ہے۔ لیکن چنیوٹ میں ان پابندیوں کے خلاف شدید نفرت وحقارت پائی جاتی ہے اور مولانا محمد لقمان نے پابندی کے باوجود بھی کل رات شاہی مسجد میں تقریر کی اور کہا کہ جب تک دنیا میں ایک مسلمان بھی زندہ ہے، ختم نبوت کا کام

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۷۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جاری رہے گا، حکومت خواہ کتنی ہی پابندیاں لگاتی رہے۔ گزشتہ رات کے اجلاس عام میں صاحبزادہ افتخار الحسن نے بھی تقریر کی۔ چنیوٹ میں ان پابندیوں کے خلاف سخت احتجاج کیا جارہا ہے۔

ہمارے نمائندہ کا کہنا ہے کہ اب چنیوٹ میں ہر سال انہیں تاریخوں میں مسلمانوں نے تبلیغی کانفرنس کرنے کا اعلان کر دیا ہے تاکہ ربوہ کے مرزائیوں کی خانہ ساز نبوت کے تار پود کھولے جاسکیں۔ کانفرنس کے تین اجلاس آج بھی منعقد ہوئے۔ یہ کانفرنس ۲۹؍دسمبر تک جاری رہے گی۔ کل رات شاہی مسجد کے اردگرد پولیس کی بھاری اور مسلح جمعیت پہرہ دیتی رہی۔ تاہم کانفرنس کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا۔

(روزنامہ غریب لائل پور، مؤرخہ ۲۹؍دسمبر ۱۹۵۶ء)

مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۷۴ھ، ۱۳۷۵ھ مطابق ستمبر ۱۹۵۴ء تا اگست ۱۹۵۶ء

اس میں سال بھر کے کام کا خلاصہ آ گیا ہے، پیش خدمت ہے!

الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ وعلی اصحابہ الذین اوفوا عہدہ!

اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ شروع فرمایا۔ سب سے پہلے پیغمبر حضرت سیدنا آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری پیغمبر رحمت اللعالمین، شفیع المذنبین، خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے بعد کوئی نبی یا رسول مبعوث نہیں کیا جائے گا۔ ختم نبوت کا یہ عقیدہ اسلام کا بنیادی اور اجتماعی عقیدہ ہے جو قرآن مجید کی صریح آیات اور احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ اس میں کسی قسم کی تاویل اور ردو بدل کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔ مسئلہ ختم نبوت قرآن وحدیث میں متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ صرف برکت کے لئے دو تین مقامات تحریر کئے جاتے ہیں۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (المائدۃ:۳)“ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو پسندیدہ دین قرار دیا۔

دوسری جگہ فرمایا: ”ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین و کان اللہ بکل شئ علیما (الاحزاب:۴۰)“ حضرت محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ لیکن اللہ کے رسول اور آخر النبیین ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز کو جاننے والا ہے۔ حضور سرور کائنات ﷺ نے خاتم النبیین کی تشریح اور مسئلہ ختم نبوت کی وضاحت یوں ارشاد فرمائی:

ترجمہ: میری اور انبیاء سابقین کی مثال ایسے محل کی سی ہے جو نہایت خوبصورت بنایا گیا ہو۔ مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی ہو۔ لوگ تعجب سے اس محل کو دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک اینٹ کی جگہ کیوں چھوڑ دی گئی۔ سو میں نے اس اینٹ کی جگہ کو پر کر دیا ہے اور وہ عمارت مجھ پر ختم ہوئی اور رسولوں کا سلسلہ بھی مجھ پر ختم ہوا۔

(متفق علیہ)

حضور ﷺ کی پیشین گوئی

مخبر صادق حضور سرور کائنات ﷺ نے یہ خبر بھی دی کہ میرے بعد میری امت سے کچھ لوگ دعویٰ نبوت کریں گے۔ لیکن وہ کذاب اور دجال ہوں گے۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ کیونکہ میں اللہ کا آخری نبی ہوں۔

چنانچہ حضور ﷺ کا ارشاد: ”سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلھم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (ترمذی ج۲ ص۴۵)“ میری امت میں تیس بڑے بڑے کذاب ظاہر ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک یہ خیال کرے گا کہ وہ اللہ کا

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۷۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

حضور ﷺ کی امت سے کئی لوگوں نے مسیح، مہدی، نبی اور رسول ہونے کے دعوے کئے۔ اسلام کے ابتدائی دور ہی میں مسیلمہ کذاب نے دعوئی نبوت کیا۔ وہ حضور ﷺ کی نبوت کا اقرار کرتا تھا۔ اس کا موذن اذان میں ”اشہد ان محمداً رسول اللہ“ کہتا تھا۔ چند ہی دنوں میں اس کے پیروکاروں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ حضرت صدیق اکبر ؓ نے خلافت کے بعد سب سے پہلا کام یہی کیا کہ مسیلمہ کذاب کے فتنہ کی بیخ کنی کے لئے ایک لشکر خالد بن ولید ؓ کی سرکردگی میں روانہ کیا جس نے مسیلمہ سے یہ دریافت کئے بغیر کہ اس کی نبوت ظلی ہے یا بروزی، اس کے پاس اپنی نبوت کے دلائل یا معجزات ہیں یا نہیں، جہاد کیا سینکڑوں صحابہ کرام ؓ شہید ہوئے اور بالآخر مسیلمہ کذاب اپنے اٹھائیس ہزار پیروکاروں سمیت قتل ہوا۔

یہ پہلا اجماع امت تھا جو مسئلہ ختم نبوت پر ہوا کہ مدعی نبوت کو قتل کر دیا جائے۔ بعد ازاں جہاں کہیں بھی کسی شقی ازلی نے دعویٰ نبوت کیا، اہل حق نے ڈٹ کر اس کا مقابلہ کیا اور اس کے فتنہ سے امت محمدیہ کو بچایا۔ تاریخ شاہد ہے کہ خلفاء و سلاطین نے مدعیان نبوت کا وہی حشر کیا جو مسیلمہ کذاب کا صدیق اکبر ؓ نے کیا تھا۔

متنبئ قادیان

مغلوں کے زوال کے بعد جب برطانوی استعمار نے ہندوستان پر قبضہ جمالیا تو قادیان کے گاؤں میں ایک شخص مرزا غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ نے دعوئی نبوت کیا۔ برطانوی حکومت نے اپنی مخصوص مصلحتوں کے لئے اس فتنہ کی پشت پناہی کی۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکاروں نے اندرون اور بیرون ملک برطانیہ کے لئے خیر سگالی اور جاسوسی کی خدمات سرانجام دیں۔ برطانوی استعمار نے قادیانی نبوت کی ترقی اور استحکام میں ہر ممکن مدد کی اور اس طرح اسلام اور مسلمانوں کے لئے مرزائیت کا ایک عظیم فتنہ بپا ہو گیا۔

دنیا عالم اسباب ہے، قادر مطلق اپنے بندوں کی اسباب ہی سے مدد کرتا ہے۔ جنگ بدر میں فرشتوں کی امداد اس وقت نازل ہوئی جب تین سو تیرہ مجاہدین اسلام کفر و باطل کے مقابلہ میں صف آراء ہو گئے۔ شب ہجرت کفار مکہ کی آنکھیں اس وقت بیکار ہوئیں جب حضور ﷺ نے مٹی کی مٹھی مشرکین کی طرف پھینکی۔ چنانچہ مرزا کے فتنہ سے امت محمدیہ کو بچانے کے لئے رب العزت نے اپنے مقبول بندوں کو اس طرف متوجہ کیا اور وہ فتنہ مرزائیت کے استیصال کے لئے میدان عمل میں آئے۔ اس سلسلہ میں جہاں تک انفرادی کوششوں کا تعلق ہے، علامہ العصر، فرید الدہر، آیۃ من آیات اللہ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب کشمیری نور اللہ مرقدہ، حضرت مولانا ثناء اللہ صاحب مرحوم امرتسری، حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی، مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی، مولانا عبد القادر صاحب لدھیانوی، مولانا محمد علی صاحب مونگیری کے اسماء گرامی بالخصوص قابل ذکر ہیں۔ ان حضرات کی انفرادی کوششوں کے مد مقابل مرزائیت ایک منظم اور مضبوط جماعت کی حیثیت سے مسلمانوں کو گمراہ کر رہی تھی اور حکومت برطانیہ کے وسیع ذرائع اسے برابر پروان چڑھا رہے تھے۔ ان مخدوش حالات کے پیش نظر یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ فتنہ مرزائیت کے استیصال کے لئے منظم اور اجتماعی جدوجہد کی جائے۔ چنانچہ مجلس احرار اسلام نے شعبہ تبلیغ کا قیام عمل میں لا کر اس جدوجہد کا آغاز کیا اور مرزائیت کے مرکز قادیان ہی کو اس شعبہ تبلیغ کا مرکز بنایا گیا۔

علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری سابق صدر مدرس دارالعلوم دیوبند

جوں جوں ملک میں مرزائیت کا سیلاب بڑھ رہا تھا، توں توں اہل نظر اس فتنہ کو بری طرح محسوس کر رہے تھے۔ چنانچہ مولانا سید محمد انور

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۷۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

شاہ کشمیری بھی اپنی جگہ بے حد فکر مند تھے۔ یہاں تک کہ ان پر ایک ایسا دور بھی آیا کہ متواتر کئی راتوں کی نیند حرام ہو گئی ۔ لیکن ایک دفعہ وضو کرتے ہوئے منجانب اللہ ان پر یہ حقیقت منکشف ہو گئی کہ آپ عزم واستقلال سے کام کرتے رہیں ۔ ان شاء اللہ ! فتنہ مرزائیت دنیا سے ختم ہو جائے گا۔ جس پر انہیں اطمینان قلب نصیب ہوا اور وہ بے چینی جاتی رہی۔ اس کے بعد حضرت کشمیری نے اپنا یہ معمول بنا لیا کہ مذہبی اور سیاسی شخصیتوں کو اس مسئلے کے حل کے لئے مؤثر کام کرنے پر آمادہ کرتے رہے۔ چنانچہ ان کی اسی جدو جہد کا نتیجہ تھا کہ ایک طرف حضرت امیر شریعت اسد اللہ الباری حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری متعنا اللہ بطول حیاتہ نے پوری زندگی فتنہ مرزائیت کے استیصال اور عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے وقف کر دی اور دوسری طرف حکیم الامت علامہ اقبال مرحوم نے حضرت انور شاہ صاحب کی ملاقاتوں اور اس مسئلہ میں ان کی خصوصی راہنمائی سے متاثر ہو کر مرزائیت کے خلاف جدوجہد کی ۔ مرزائیت کے خلاف نظمیں اور مضامین تحریر کئے اور نہ صرف یہ کہ حکومت برطانیہ سے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا، بلکہ انجمن حمایت اسلام اور کشمیر کمیٹی سے مرزائیوں کو نکال باہر کر کے عملی طور پر اس بات کا ثبوت دیا کہ مرزائی مسلمانوں سے علیحدہ ہیں اور جب بہاول پور میں مرزائی مرد اور مسلمان عورت کے فسخ نکاح کا تاریخی مقدمہ شروع ہوا تو حضرت علامہ کشمیری نے اس میں گہری دلچسپی لی ۔ مسلمانوں کی طرف سے عدالت میں دلائل اور براہین مہیا کئے اور باوجود بیماری ونقاہت کے عدالت میں تشریف لاتے رہے ۔ جب مقدمہ طول پکڑ گیا اور ادھر حضرت شاہ صاحب بیمار پڑ گئے تو مولانا محمد صادق بہاول پوری کو فرمایا کہ اگر میری زندگی میں مقدمہ کا فیصلہ نہ ہوا تو میری قبر پر آ کر اس مقدمہ کا فیصلہ ضرور سنا دینا ۔ حضرت شاہ صاحب کی اس وصیت کے مطابق آپ کی وفات کے بعد مولانا محمد صادق صاحب نے دیوبند پہنچ کر آپ کی قبر پر مقدمہ کی مسلمانوں کے حق میں کامیابی کا فیصلہ سنا دیا۔

بشارتیں حضرت مونگیری، حضرت درخواستی

عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے خود آنحضرت ﷺ نے بعض بزرگوں کو خصوصی بشارتیں دیں اور اس کام کی تکمیل کے لئے انہیں آمادہ فرمایا۔ مولانا محمد علی مونگیری مرحوم کو ایک دفعہ خواب میں حضور ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپ نے فرمایا : محمد علی! تم یہاں حجرے میں بیٹھ کر وظائف میں مشغول ہو اور میری نبوت پر کتے حملہ آور ہیں ۔ مولانا محمد علی صاحب مرحوم مونگیری نے اپنی بقیہ زندگی اس فتنہ کے استیصال میں بسر کر دی ۔ اسی طرح حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ صاحب درخواستی کو بھی آنحضرت ﷺ نے خواب میں یہی ارشاد فرمایا اور ساتھ ہی حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کے نام پر پیغام دیا کہ مسئلہ ختم نبوت کے سلسلہ میں جو خدمات سرانجام دے رہے ہیں ، انہیں ترک نہ کریں ۔

ایں سعادت بزور بازو نیست تانہ بخشد خدائے بخشندہ

ہمہ گیر جدوجہد

یہ آنحضرت ﷺ کی توجہ کا ہی نتیجہ تھا کہ ملک میں مرزائیوں کے خلاف ایک منظم اور ہمہ گیر جدو جہد شروع ہو گئی اور مختلف مکاتب فکر کے لوگ متحد ومتفق ہو کر سرگرم عمل ہو گئے ۔ چنانچہ اخبارات ورسائل اور دوسری مطبوعات کے ذریعہ تحریری طور پر اور ملک کے گوشے گوشے میں عوامی اجتماعات منعقد کر کے تقریری طور پر فتنہ مرزائیت سے عوام کو آگاہ کیا گیا ۔ خصوصی وفود کی معرفت ارباب حکومت کو اس فتنہ سے آگاہ کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر مستقل طور پر عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ کریں ۔ اس وقت کے ارباب حکومت کی عاقبت نا اندیشی سے یہ جدوجہد ۱۹۵۳ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت پر منتج ہوئی ۔ لاکھوں عقیدت مندان ختم نبوت

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۷۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نے ارباب حکومت کے جبر وتشدد کا پورے صبر واستقامت کے ساتھ مردانہ وار مقابلہ کیا اور بالآخر مرزائیت کا وہ بڑھتا ہوا طوفان رک گیا۔ اندرون اور بیرون ملک کے لوگ مرزائیت کے صحیح خدوخال سے واقف ہو گئے۔ سابق وزیر خارجہ ظفر اللہ اور اس کے بعض حامیوں سے ملک کو نجات حاصل ہو گئی اور مرزائیوں کو اپنے خطرناک عزائم میں بری طرح ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑا۔

نئے عزائم ومقاصد

اگرچہ ۱۹۵۳ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت سے قبل تحفظ ختم نبوت کے نام پر پاکستان میں ایک مستقل جماعت موجود تھی، لیکن اس کا نظم وضبط اور دائرہ کار کافی وسعت طلب تھا۔ چنانچہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا باقاعدہ دستور وضع کر کے جماعت کی از سر نو تشکیل کی گئی۔ جماعتی دستور کی روشنی میں ملک کے گوشے گوشے میں ماتحت جماعتیں قائم کی گئیں اور کراچی سے پشاور تک بڑے بڑے شہروں میں مبلغین مجلس تحفظ ختم نبوت کا تقرر عمل میں لایا گیا۔ اس وقت اٹھائیس مبلغین کی ایک جماعت مصروف عمل ہے جن کے جملہ مصارف جماعت کے ذمہ ہیں۔ مبلغین مجلس ان علاقوں میں بھی تبلیغی فرائض سرانجام دیتے ہیں جہاں ان کے مصارف اور ضروریات کا کوئی کفیل نہیں ہوتا۔ مجلس اپنے اغراض ومقاصد اور پروگرام کے لحاظ سے پورے دین کی تبلیغ واشاعت کی جماعت ہے۔ صرف مسئلہ تحفظ ختم نبوت تک اس کی مساعی کا انحصار نہیں ہے۔ مسئلہ ختم نبوت کی اشاعت وحفاظت اور تردید مرزائیت اس کا اولین فرض ہے۔ مرزائیت کے علاوہ ملک کے دوسرے گمراہ فتنوں سے بھی غافل نہیں ہے جو دین حنیف میں رخنہ اندازی کر رہے ہیں۔ مجلس کے مبلغین کو ان دوسرے گمراہ فرقوں کی تردید اور ان کے اثرات سے ملت کو بچانے کی تربیت کا پورا پورا انتظام کر دیا گیا ہے۔

مجلس کے اجتماعات

اس سال (۱۹۵۵ء) ملک کے کونے کونے میں مجلس کے تبلیغی اجتماعات منعقد ہوئے جن میں مبلغین واراکین مجلس نے ، اصلاح عقائد واعمال ، مسئلہ ختم نبوت اور تردید مرزائیت، ضرورت حدیث و فتنہ انکار حدیث، عصمت انبیاء، فضائل صحابہؓ ، اتحاد بین المسلمین، مطالبہ تحفظ ختم نبوت اور اسلامی نظام حکومت، کے موضوعات پر تقاریر کیں۔ مجلس کے تنظیمی امور پر غور وفکر کرنے کے لئے مجلس شوریٰ کے سال میں دو اجلاس منعقد ہوئے۔ ملک کے طول وعرض میں عام تبلیغی اجتماعات اور جلسوں کے علاوہ مجلس کی طرف سے لائل پور اور ملتان میں آل پاکستان عظیم الشان کانفرنسیں منعقد ہوئیں جن میں ملک کے دوسرے علمائے کرام کے علاوہ حضرت امیر شریعت صدر مجلس نے بیماری ونقاہت کے باوجود شرکت فرمائی۔ ان کانفرنسوں میں مجلس کی طرف سے مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ دہرایا گیا۔ تبلیغ واشاعت اسلام کے لئے بعض علاقوں میں مبلغین واکابرین مجلس کی طرف سے طوفانی دورے کئے گئے۔ چنانچہ مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین اختر، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا محمد شریف بہاول پوری نے مبلغین علاقہ سندھ کی معیت میں سندھ ڈویژنوں کا دورہ کیا۔ اسی طرح کوئٹہ، پشاور اور بہاول پور کے ڈویژنوں میں لاکھوں انسانوں تک مجلس کا پیغام پہنچایا گیا۔

لٹریچر

چونکہ ملک کی اکثریت اور عظیم آبادی ناخواندہ ہے، اس لئے مبلغین کی معرفت تقریری نشر واشاعت کی طرف مجلس کی زیادہ توجہ رہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود نشر واشاعت کی طرف سے غفلت نہیں برتی گئی۔ ہزارہا پوسٹر اور اشتہارات مرکز اور ماتحت جماعتوں کی طرف سے شائع کئے گئے۔ رد مرزائیت اور رد انکار حدیث کے سلسلہ میں شائع کردہ کتابیں اور ٹریکٹ عوام تک پہنچائے گئے۔ دستور ساز اسمبلی کے

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۷۷

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اراکین اور برسر اقتدار تعلیم یافتہ طبقہ کو مرزائیوں کی پوزیشن سمجھانے کے لئے راولپنڈی کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کا فیصلہ ”مرزائی غیر مسلم ہیں“ انگریزی اور اردو میں شائع کیا گیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے خلاف مودودی صاحب اور ان کی جماعت کی طرف سے جو مہم شروع کی گئی اس کا جواب دینے کے لئے ، بیان صادق، جائزہ ، دعوت مباہلہ ، ٹریکٹوں کی صورت میں شائع کئے گئے ۔

مشکلات

”لا یزال من امتی امة قائمة بامر الله لا یضرهم من خذلهم ولا من خالفهم حتی یاتی امر الله وهم علی ذالک“، مجلس کے کارکنوں ، رہنماؤں اور مبلغین نے اپنی شبانہ روز محنت سے جماعت کے لئے بے پناہ کام سر انجام دیا ۔ لیکن حکومت اور گمراہ جماعتوں کی طرف سے موانع اور مشکلات کی دیواریں حائل کرنے کی کوشش کی گئی ۔ امسال حکومت کی طرف سے مجلس کے صدر امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، ناظم مجلس مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین اختر ، مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا محمد شریف بہاول پوری ، مولانا خلیل اللہ پانی پتی ، مولانا فیض الحسن تنویر ، مولانا عبد الرحمٰن میانوی، سائیں محمد حیات پسروری اور ماتحت جماعتوں کے متعدد کارکنوں پر سیفٹی ایکٹ کے تحت بارہا مختلف مقدمات، مختلف قسم کی پابندیاں اور نظر بندیاں عائد کی گئیں۔ جنہیں جماعت نے نہایت صبر واستقامت سے برداشت کیا۔ حکومت کے علاوہ مودودی جماعت کے لیڈروں اور اخبارات نے گزشتہ تحریک ختم نبوت سے کی گئی اپنی غداریوں پر پردہ ڈالنے کے لئے مجلس ختم نبوت کے اکابرین اور کارکنوں کے ساتھ سوچی سمجھی اسکیم کے تحت الجھاؤ شروع کیا اور فی سبیل الطاغوت افتراق بین المسلمین کا کردار ادا کیا۔ مجلس نے دستور اسلامی اور مطالبہ تحفظ ختم نبوت کی تحریک کے پیش نظر مصالحت اور خاموشی کی پالیسی اختیار کی ۔ لیکن جب معاملہ حد سے گزر گیا تو بہ امر مجبوری ان کے گمراہ کن پروپیگنڈے کی ضروری باتوں کا ” بیان صادق“ وغیرہ شائع کر کے جواب دیا گیا اور اصلی حقیقت سے ملک کو آگاہ کیا ۔

بلوچی، سندھی اور پشتو میں تبلیغ

مجلس کا دائرہ کار اس سے قبل زیادہ تر انہیں علاقوں میں تھا جہاں پنجابی اور اردو زبان بولی اور سمجھی جاتی تھی۔ لیکن جماعت نے محسوس کیا کہ پنجاب اور بہاول پور کے ڈویژنوں میں مرزائیت نے منہ کی کھانے کے بعد بلوچستان اور سندھ کے دیہی علاقہ کو اپنی ارتداد کی سرگرمیوں کے لئے منتخب کر لیا ہے تو مجلس نے سندھی، بلوچی اور پشتو زبان میں تبلیغ واشاعت کرنے والے مبلغین کی خدمات حاصل کر لیں اور اس طرح لسانی مشکلات پر قابو پا لیا گیا ۔ چنانچہ اس وقت سوئی کے دور دراز علاقوں میں فتنہ ارتداد کو روکنے کے لئے مجلس کا پیغام پہنچایا جا رہا ہے ۔

عربی مدارس اور مجلس تحفظ ختم نبوت

چونکہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا مقصد اشاعت وحفاظت اسلام ہے اور اس سلسلہ میں عربی مدارس بھی تعلیم وتدریس کی قابل قدر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اس لئے مبلغین اور اکابرین مجلس نے مدارس عربیہ کے سالانہ جلسوں میں شرکت کر کے ان سے پورا پورا تعاون کیا۔ علاوہ ازیں ان عربی مدارس میں پڑھنے والے طلباء کو فرق باطلہ سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ امسال حضرت مولانا احمد علی لاہوری اور مولانا غلام اللہ خان راولپنڈی کے فارغ التحصیل سینکڑوں علمائے کرام کو مولانا لال حسین اختر نے مستقل قیام کر کے فرق باطلہ کی تردید کے لئے تیاری کرائی ۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۷۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ملکی دستور اور مجلس تحفظ ختم نبوت

امسال ملک میں دوبارہ دستور ساز اسمبلی کا قیام عمل میں لایا گیا اور از سر نو دستور سازی کا کام شروع ہوا۔ چونکہ پاکستان میں مذہب اور اس کی تبلیغ واشاعت کی ترقی کا انحصار بہت حد تک ملکی دستور کے مبنی بر کتاب وسنت ہونے اور اس طرح مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کا دارومدار بھی دستور کے مسئلہ سے وابستہ ہے، اس لئے مجلس نے اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کی پوری کوشش کی۔ تمام مبلغین اور کارکنوں کو ہدایات بھیجی گئیں کہ وہ خود اور دوسری جماعتوں سے مل کر اسلامی نظام حکومت کے لئے سعی کریں اور مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تجاویز دستور ساز اسمبلی کو بھجوائیں۔ چنانچہ دستور ساز اسمبلی کے اراکین سے بذریعہ تار و خطوط مطالبہ کیا گیا۔

حضرت مولانا شمس الحق افغانی

مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے لئے یہ بات باعث عزت وافتخار ہے کہ مخدوم ومکرم حضرت مولانا شمس الحق صاحب سابق وزیر معارف قلات نے جماعت کی رکنیت قبول فرمائی ہے۔ تمام خدام مجلس آپ کی رکنیت کو اپنی سرپرستی تصور کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہم سب کو مولانا موصوف سے استفادہ کرنے کی توفیق بخشے۔

اکابرین کرام کے خطوط

حضرت افغانی کا والا نامہ

محترم القدر زید مجدکم !

السلام علیکم ورحمۃ اللہ خیریت مطلوب نصیب

گرامی نامہ مرقومہ ۱۶؍ دسمبر ۱۹۵۵ء موصول ہوکر کاشف احوال ہوا۔ قبول دعوت کے سلسلہ میں عرض ہے کہ آئندہ جنوری، فروری تک میں بوجہ مرض ضعف کے قابل سفر نہیں۔ اس کے بعد بشرط صحت ان شاء اللہ تعالیٰ ! شرکت کرسکوں گا۔ مجلس مرکزیہ ختم نبوت، اشاعت و بقاء دین کے سلسلے میں جو مساعی کر رہی ہے ان سے قلب بے حد مسرور ہوا۔ اللّٰھم زد فزد ! بارگاہ الٰہی میں دعا ہے کہ نصرت واعانت الٰہی شامل حال ہو اور جادہ رضا الٰہی پر استقامت کی توفیق نصیب ہو۔ احقر: شمس الحق افغانی عفا اللہ عنہ ترنگ زئی ضلع پشاور

حضرت مولانا احمد علی لاہوری کا والا نامہ

’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کی خدمت میں اس امر کی مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرقہائے باطلہ کی بیخ کنی کے لئے ایک منظم نظام کے چلانے کی توفیق دی ہے۔ ”وذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذو الفضل العظیم“ اور بے حد ممنون ہوں کہ آپ نے حضرت مولانا لال حسین اختر کو ہر دو فرقہ ہائے باطلہ مرزائیہ اور مودودیت کی کتابوں کے اقتباسات پیش کرنے کے لئے لاہور متعین فرمایا تاکہ دورۂ تفسیر میں آمدہ علماء کرام کو ان سے آگاہ کریں۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۷۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

الحمد للہ! حضرت مولانا ممدوح نے بڑی ہمت اور محنت سے ۳۵ علماء کرام کو ان اقتباسات سے مطلع فرمایا اور وہ پورے طور پر مطمئن ہو کر رہ گئے ہیں۔ گویا کہ آپ نے ۳۵ مبلغ تیار کر دیئے جو کہ پاکستان کے مختلف حصوں میں جا کر اسلام کی تائید اور فرق ہائے باطلہ کی تردید کریں گے۔

میں درخواست پیش کرتا ہوں کہ آئندہ بھی دورۂ تفسیر میں شامل ہونے والے علماء کرام کو اس اعزاز سے سرفراز فرمائیں گے کہ حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر کو چند دن کی مخصوص تعلیم کے لئے لاہور تشریف کی تکلیف دیا کریں گے۔ فقط!‘‘

احقر الانام احمد علی عفی عنہ ۲۶/ ذیقعدہ ۱۳۷۴ھ / ۱۸/ جولائی ۱۹۵۵ء

ختم نبوت کانفرنس سرگودھا

حسب اعلان سرگودھا میں ۸، ۹، ۱۰/نومبر کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ایک تاریخی کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مغربی پاکستان سے چیدہ چیدہ علمائے کرام، مفتیان دین، مبلغین اسلام اور مجاہدین مجلس تحفظ ختم نبوت نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کے پانچ عام پبلک اجتماع ہوئے جو تھوڑے تھوڑے وقت کے ساتھ منعقد ہو رہے تھے اور جن سے قریباً ڈیڑھ دو لاکھ نفوس نے استفادہ کیا۔ اس اجلاس میں علمائے کرام نے ۲۲ گھنٹے مسلمانان پاکستان سے خطاب کیا۔

مجلس کی طرف سے مدعوین کے لئے قیام و طعام کا انتظام تھا۔ جس کی نگرانی شیخ عبدالعزیز ، حاجی محمد ابراہیم اور شیخ محمد اقبال صاحبان کے ذمہ تھی۔ ۷/ نومبر سے ۱۰/ نومبر تک ان صاحبان کی زیر نگرانی قریباً ۲/ ہزار مدعوین کو کھانا کھلایا گیا اور قریباً چار صد حضرات کی رہائش کا انتظام کیا گیا۔

کانفرنس کے پنڈال میں مولانا محمد یوسف صاحب نظیری کی زیر نگرانی دفتر معلومات عامہ قائم کیا گیا۔ جہاں سے ہر فرد بشر کو اجلاس کے اوقات، علمائے کرام کی رہائش گاہ کا پتہ، نئے آنے والوں کے ٹھہرنے کی جگہ اور مزید آنے والے حضرات کی آمد کے متعلق صحیح اطلاعات بہم پہنچائی جاتی تھی۔ پنڈال کے اندر ایک طرف دینی کتب کی فروخت کے پانچ اسٹال تھے، جنہوں نے قریباً ۷/ ہزار روپیہ کی کتب فروخت کیں۔ علمائے کرام اور مبلغین تحفظ ختم نبوت کے علاوہ قریباً دو سو علمائے اسلام نے پنجاب، سندھ، صوبہ سرحد، بہاول پور، قلات اور کراچی سے بھی شرکت کی۔ کانفرنس کے پہلے دوسرے اور آخری اجلاس میں قریباً چالیس چالیس ہزار مسلمانوں نے شرکت کی۔ اجلاس متواتر ساڑھے سات گھنٹے جاری رہا۔ جس میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا محمد علی جالندھری نے متواتر پانچ گھنٹے اور دس منٹ تقریر کی۔

اس کانفرنس میں جن علمائے کرام نے تقاریر فرمائیں، ان میں مولانا غلام غوث سرحدی، مولانا عبدالستار خان نیازی، مولانا احمد علی لاہوری، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا حبیب اللہ، مولانا محمد لقمان، مولانا مظہر علی اظہر، حافظ عبداللہ درخواستی، مولانا شمس الحق قلاتی، مولانا محمد رمضان، مولانا لال حسین اختر اور مولانا محمد علی جالندھری کے نام قابل ذکر ہیں۔

عوام میں مولانا عبداللہ درخواستی اور مولانا شمس الحق قلاتی کے علاوہ مولانا محمد علی جالندھری کی تقاریر کو بہت سراہا گیا۔ جو ہر قسم کی سیاسی آمیزشوں سے پاک اور براہ راست فضائل و کردار رسول اکرم ﷺ پر تھیں اور جن میں اسلام، قرآن وسنت اور ہماری عمومی و خصوصی زندگی کا مقابلہ کیا گیا تھا۔ دوسرے علماء بھی اس کانفرنس میں حتی الوسع سیاست سے دور ہی رہے اور کسی فرقے یا فرد واحد پر بہتان طرازی کی

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۸۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کوشش نہ کی گئی۔ ذکر اسلام کے علاوہ اس کانفرنس میں جناب منیر کی تحقیقاتی رپورٹ کے مختلف پہلوؤں پر تنقید کی گئی اور مسٹر حسین شہید سہروردی کے رویّہ پر سخت نکتہ چینی کی گئی۔ ایسے افسران کو ضرور ہدف تنقید بنایا گیا جنہوں نے قادیانیوں یا عیسائی مشنریوں کے علاوہ شیعوں کو تو جلسے کرنے کی اجازت دے دی لیکن مجلس تحفظ ختم نبوت کے جلسوں کے انعقاد پر دفعہ ۱۴۴ کا سہارا ڈھونڈ لیا تھا۔

کانفرنس میں شیعہ سنی فساد کی سختی سے مذمت کی گئی۔ نیز اجلاس میں موضع بلالی ضلع جھنگ میں حضرت عمرؓ کا مجسمہ بنانے اور جلانے پر شدید احتجاج کیا گیا اور حکام سے فی الفور ان لوگوں کے خلاف سختی سے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

طریق انتخابات

مولانا محمد علی جالندھری نے اپنی تقریر میں جداگانہ اور مخلوط انتخابات کی موجودہ ہیئت ترکیبی کو اسلام کے قطعاً خلاف قرار دیا اور کہا کہ چونکہ دونوں ناجائز ہیں لہٰذا اوّل تو انہیں اسلام کے مطابق بنایا جائے، ورنہ اگر یہ ناجائز ہی رہنے ہیں تو جداگانہ انتخاب رائج کیا جائے۔ جداگانہ بل پیش کرتے وقت مرزائیوں کو قطعاً فراموش نہ کیا جائے کہ یہ غیر مسلم ہیں اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر حکومت کو مسلمانوں کے جذبات سے بھی آگاہ رہنا چاہئے۔

مولانا عبدالستار نیازی

مولانا عبدالستار نیازی نے اپنی تقریر میں مطالبہ کیا کہ حکومت اس بل میں اس امر کی واضح ترمیم کرے کہ خاتم النّبیین ﷺ کا منکر مسلمان نہیں ہے۔ نیز مرزائی غیر مسلموں کی فہرست میں لکھے جائیں۔ مولانا محمد لقمان نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمارا عقیدہ گولیوں سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ صرف اسی صورت میں ہم خاموش رہ سکتے ہیں کہ دین محمد ﷺ کی صحیح تعمیل کی جائے اور نبوت کے جھوٹے مدعیوں کے ساتھ وہی حشر کیا جائے جو افغانستان والوں نے کیا تھا۔ مولانا نے کہا کہ ہم غلط پروپیگنڈے کا شکار بھی نہیں ہوسکتے ، جیسا کہ فیروز خان نون نے شروع کرایا تھا۔ ختم نبوت پر پابندیاں فیروز خان نون نے لگوائی تھیں لیکن الزام مسلم لیگ پر لگایا تھا ، حالانکہ ان دنوں یہ خود وزیر اعلیٰ تھا۔

مولانا شمس الحق

مولانا شمس الحق قلاقی نے فرمایا کہ اس مسئلہ کا فیصلہ اقتدار کی گولیوں سے نہیں ہوسکتا بلکہ اس کا واحد حل تعمیل دین محمد ﷺ ہے۔ آپ نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا۔ سالہا سال اسلام کے نام کا ڈھنڈورا پیٹا گیا، مگر افسوس کہ عمل اس کے بالکل برعکس ہو رہا ہے۔

مولانا مظہر علی اظہر

مولانا مظہر علی نے کہا کہ تیرہ سو سال میں متعدد اچھے اور برے سے برے مسلمان بادشاہوں نے حکومت کی، تاریخ نے ان پر سخت سے سخت الزامات عائد کئے ، لیکن غیر مسلم مؤرخ بھی اس امر کے گواہ ہیں اور تاریخ شاہد ہے کہ بدنام ترین مسلمان بادشاہ بھی کسی جھوٹے نبی کو برداشت نہ کرسکا اور جہاں کسی نے سر اٹھایا اسے کچل دیا گیا۔ حالانکہ اس وقت مسلمان بادشاہوں کے ملک ، اسلامی ملک نہ کہلاتے تھے۔ لیکن مقام افسوس ہے کہ ہمارے پاکستان میں جسے ہم نے اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا ، یہاں ہر روز جھوٹے نبی پیدا ہوتے ہیں اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں اور اگر کوئی اللہ کا بندہ احتجاج کرتا ہے تو اس کے سینہ کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے۔ مولانا نے جنرل

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۸۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اکبر خان کی پارٹی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ قوم کا ایک مجاہد، کشمیر کے لئے تو دل میں تڑپ پا کر نئی پارٹی بنا بیٹھا ہے، لیکن میں حیران ہوں کہ اس نے اپنے منشور میں منکرین خاتم النبیین کے لئے ذکر تک بھی نہیں کیا۔

مولانا لال حسین اختر

مولانا لال حسین اختر نے کہا کہ میں تو حکومت کی پالیسی کو آج تک نہیں سمجھ سکا۔ اگر آج ہم یہ کہہ دیں کہ مرزائی کافر اور مرزائی دجال، تو ہمارے خلاف یہ کہہ کر کہ تم نے ایک فرقہ کے عالم کی بے عزتی کی ہے، مقدمہ چلایا جاتا ہے۔ لیکن اگر مرزائی ملک کی تقسیم کو غلط کہہ کر ساڑھے سات کروڑ انسانوں کا دل دکھائیں، یعنی پاکستان کی روح کو تڑپائیں اور ملک کے آئین کی دھجیاں اڑائیں تو انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں اور تعزیرات پاکستان کی تمام دفعات اس موقع پر خاموش تماشائی بن جاتی ہیں اور سیفٹی سیکورٹی ایکٹ کی دفعات منسوخ دکھائی دینے لگتی ہیں۔ مولانا محمد علی جالندھری نے اس تقریر میں حکومت مغربی پاکستان کے ایک ذمہ دار افسر پر الزام لگایا کہ انہوں نے سندھ کے سرمایہ داروں اور زمینداروں سے دولاکھ روپیہ اکٹھا کر کے مولوی محمد علی لاہوری پارٹی والے مرزائی کو دیا تھا۔ جس کا گواہ موجودہ مرکزی حکومت کا ایک وزیر ہے۔

کیا حکومت اس کی تحقیقات کرائے گی۔ اس کانفرنس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں عوام نے بہت ضبط و تحمل و ڈسپلن کا مظاہرہ کیا اور اپنے علمائے کرام کی باتوں کو نہایت محتاط رہ کر سنتے رہے۔ کانفرنس میں پولیس کا انتظام نہایت شاندار تھا۔ ضلعی پولیس کے افسر اعلیٰ مسٹر محمد یوسف اورکزئی خود دن میں دو دفعہ جلسہ گاہ کے پنڈال میں تشریف لاکر منتظمین جلسہ سے پولیس کے انتظام کے متعلق استفسار کرتے رہے اور قانون کے مطابق ہر طرح کی امداد بہم پہنچائی۔

کانفرنس میں حضرت امیر شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری بوجہ انفلونزا تشریف نہ لاسکے۔ انہوں نے اپنے فرزند کو اپنی چٹھی کے ہمراہ سرگودھا بھیجا، جس میں معذرت کی گئی تھی۔ کانفرنس میں الحاج امین گیلانی، سائیں حیات اور جانباز مرزا کی نظموں کو بہت سراہا گیا۔

(ہفت روزہ انجم لاہور، مؤرخہ ۲۲ نومبر ۱۹۵۷ء)

مجلس تحفظ ختم نبوت اور اس کا تبلیغی نظام

۱۹۴۹ء میں : مبلغ ۲ ماہوار خرچ ۱۰۰۰ روپے ۱۹۵۵ء میں : مبلغ ۲۸ ماہوار خرچ ۵۰۰۰

الحمدللہ! مغربی پاکستان میں بولی جانے والی تمام زبانوں میں مبلغ مقرر ہو چکے ہیں۔ دعوت حق اور تبلیغ دین کا جو پیغام ایک وقت میں پشاور ڈویژن میں پشتو زبان میں پہنچایا جارہا ہے، وہی پیغام ٹھیک اسی وقت علاقہ بلوچستان اور علاقہ سندھ کے دیہات میں بلوچی اور سندھی زبان میں پہنچ رہا ہے اور یہ ایک ایسا امتیاز ہے کہ ایک ہی نظم کے ماتحت ملک بھر میں کسی ادارے کو میسر نہیں۔ ذالک فضل الله یوتیه من یشاء!

عزائم: امیر شریعت مدظلہ کی سرپرستی میں تبلیغی نظام کو وسیع سے وسیع تر کرنے کا عزم کئے ہوئے ہیں تاکہ مسلمانان پاکستان اپنے عقائد و اعمال کی اصلاح کر کے دنیا کی امامت کے لئے آگے بڑھیں۔ تبلیغ دین، اشاعت اسلام، تحفظ عقیدہ ختم نبوت ایسے مقدس کام کو سرانجام کے لئے مالی اور جانی قربانی کے لئے السابقون الاولون کی مثال پیش کیجئے۔

صفحہ ۸۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمدؐ سے اجالا کر دے

ناظم دفتر مرکزیہ تحفظ ختم نبوت پاکستان (ملتان)

نوٹ: مقدمہ روئیداد ختم ہوا اب ذیل میں ایک قادیانی کا اشتہار پیش خدمت ہے:

خلیفہ ربوہ کے متواتر مظالم اور حکومت کی خاموشی پر میرے آخری فیصلہ کا اعلان

میں پیدائشی مرزائی تھا۔ میری عمر اس وقت قریباً ۶۲ سال ہے۔ مجھے مرزا محمود احمد خلیفہ ربوہ نے اپنی انجمن کا حساب پڑتال کرنے پر مامور کیا۔ حساب میں لاکھوں روپے کا خرد برد پایا گیا، جو خلیفہ ربوہ اس کے خاندان اور دوسرے دوستوں نے کیا تھا۔ میں نے رپورٹ بنا کر دے دی۔ اس رپورٹ سے برہم ہو کر مجھ سے تمام غبن کے کاغذات جو میرے پاس تھے طلب کئے، مگر میں نے دینے سے انکار کر دیا۔ پھر میں نے اپنی وہ رقم جو کہ انہوں نے چندہ کی صورت میں ناجائز دھوکہ دے کر وصول کی تھی، واپس مانگی۔ اس پر انہوں نے میرے قتل کی اسکیم حسب عادت بنائی۔ جس کا مجھے بروقت علم ہو گیا اور میں نے بھاگ کر ایس. پی جھنگ کے پاس پہنچ کر درخواست دی۔ جس پر مقدمہ نمبر ۳۹ مورخہ ۲۳؍ اپریل ۱۹۵۷ء جرم زیر دفعہ ۴۰۶/۴۰۹ و ۴۲۰/۴۶۸ تعزیرات پاکستان مرتب ہوا۔ اس کے بعد میں نے ۲۷؍ ستمبر ۱۹۵۷ء تک سب انسپکٹر پولیس سے لے کر آئی. جی پولیس اور وزیر اعلیٰ تک ہر ایک کے پاس کئی بار التجا کی کہ اگر مقدمہ سچا ہے تو چالان کیا جائے اور اگر جھوٹا ہے تو خارج کر کے مجھ پر مقدمہ چلایا جاوے۔ اس دوران میں مکمل ثبوت پیش کر چکا تھا۔ آخر کار ۲۷؍ ستمبر ۱۹۵۷ء کو بھوک ہڑتال کی اور مجھے یقین دلایا گیا کہ مقدمہ سچا ہے۔ جلد عدالت میں پیش کر دیا جاوے گا۔ مگر اس بھوک ہڑتال کو بھی چار ماہ گزر چکے ہیں اور میں بذریعہ پمفلٹ، درخواست ہائے اخبارات، چھوٹے سے چھوٹے افسر سے لے کر صدر پاکستان تک آواز دادرسی پہنچا چکا ہوں۔ مگر سوائے خاموشی اور کچھ حاصل نہیں ہوا۔ ادھر ربوہ والے یہ شور مچا رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ اور آئی. جی نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ مقدمہ کو عدالت میں پیش نہیں ہونے دیں گے۔ بلکہ دبائے رکھیں گے (میں اس کو تسلیم نہیں کرتا) مگر بظاہر حالات ربوہ والوں کے دعاوی کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس وقت تک میرے بیوی بچے بھی مرزا محمود احمد کی نگرانی میں ہیں۔ وہ بھی باپ کے ہوتے ہوئے یتیم کر دیئے گئے ہیں۔ ان کو مجھ سے ملنے تک کی اجازت نہیں اور میں ان تک نہیں پہنچ سکتا۔ حالات مندرجہ بالا سے ظاہر ہے کہ حکومت بھی ربوہ والوں کے ساتھ مل کر مجھے ختم کرنے پر آمادہ ہے۔ اس لئے میں مجبور ہوں کہ میں اپنا یہ آخری فیصلہ حکومت کے کانوں تک پہنچا کر اگر کوئی شنوائی نہ ہوئی تو آئندہ آنے والے بجٹ سیشن پر مغربی پاکستان اسمبلی کے سامنے بھوک ہڑتال کروں گا اور تا فیصلہ جاری رکھوں گا۔

پروگرام حسب ذیل ہوگا:

شروع اجلاس سے لے کر آخر اجلاس تک اسمبلی کے سامنے، اس کے بعد اگر زندہ رہا تو پندرہ یوم گورنمنٹ ہاؤس کے سامنے اس کے بعد اگر زندہ رہا تو کراچی میں وزیر اعلیٰ پاکستان ہاؤس کے سامنے اور پھر اس کے بعد بھی زندگی ہوئی تو فیصلہ صدر پاکستان کے دروازہ کے سامنے۔ صدر الدین چک سکندر کھاریاں ضلع گجرات معرفت مرکزی حقیقت پسند پارٹی رجسٹرڈ (پوسٹ بکس نمبر ۳۳۲ لاہور)

ذیل میں ۱۳۷۶ھ، مطابق ۱۹۵۶ء کی روئیداد کا مقدمہ دیا جا رہا ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۸۳

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۷۶ھ، مطابق اگست ۱۹۵۶ء تا جولائی ۱۹۵۷ء

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ، وعلیٰ اصحابہ الذین اوفوا عہدہ۔ اما بعد!

عقیدۂ ختم نبوت اسلام میں اساس دین کا درجہ رکھتا ہے۔ اس میں کسی قسم کی تاویل اور ردو بدل کی قطعاً گنجائش نہیں۔ چنانچہ حضرات خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لے کر اسلام کی سیزدہ صد سالہ تاریخ شاہد ہے کہ کبھی کسی مدعی نبوت کو برداشت نہیں کیا گیا۔ دین مبین کی جس عمارت کو قرآن کریم جیسی مکمل کتاب اور محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی سے کامل واکمل کیا گیا تھا، تاریخ اسلام میں جب کسی کذاب و دجال نے اس طرف نگاہ اٹھائی تو عمائدین اسلام نے اس سے ظلی و بروزی کا سوال کئے بغیر ایسے بدبخت کی آنکھ بند کر دی اور ایسے بدزبان کو گدی سے نکال دیا گیا۔

متنبی قادیان

اسلامی تاریخ میں یہ ایک حادثہ ہے کہ ایک جھوٹا مدعی نبوت انگریزی دور میں انگریز کا خودکاشتہ پودا بن کر اٹھا۔ انگریز کے سایہ شفقت میں پروان چڑھا اور اسلامی تاریخ میں عقائد باطلہ کے وہ گل کھلائے کہ الامان والحفیظ!

قادیان ضلع گورداسپور کا ایک قصبہ تھا۔ ناظرین کرام یہ سن کر حیران ہوں گے کہ یہ جھوٹا مدعی نبوت دراصل ایک دیہاتی زمیندار کا بیٹا تھا۔ جو ابتدائً کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازمت کرتا تھا۔ پیٹ کے دوزخ کو بھرنے کے لئے امتحان مختاری میں بیٹھا۔ مگر بدقسمتی سے فیل ہوکر تلاش روزگار میں سرگرداں رہا۔ تبلیغ اسلام کے نام پر چندہ جمع کرنا شروع کیا۔ جب انگریز کی دوربین نظر نے اپنے مقاصد کے لئے اسے جوہر یگانہ سمجھ کر پرورش کی اور کچھ چندہ کی فراوانی ہوئی تو اس کی روحانیت نے بھی مبلغ اسلام سے ترقی کر کے مجدد دین کا دعویٰ کیا۔ جب انگریز کی مہربانیوں سے حالات اور سازگار ہوئے تو رسول بن بیٹھا۔ اپنی روحانیت کو آنحضرت ﷺ کی روحانیت سے (العیاذ باللہ) بڑھ کر بتایا۔ مسجد اقصیٰ کے مقابل مسجد اقصیٰ بنائی۔ اپنے مریدوں کو صحابہ کرام کا خطاب، قادیان کو رسول کی تخت گاہ قرار دیا اور اپنی بیوی کو ام المومنین کہلوایا۔ وغیرہ وغیرہ! غرضیکہ تمام خصوصیات نبوی علیٰ صاحبہا الصلوۃ والسلام پر ڈاکہ مارا۔ یہی نہیں بلکہ عقائد میں اور آگے بڑھا۔

(آئینہ کمالات ص ۵۶۴، ۵۶۵، خزائن ج ۵ ص ۵۶۴، ۵۶۵) پر مرزا غلام احمد لکھتا ہے: ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اللہ کا عین ہوں اور یقین کیا کہ میں وہی ہوں اور خدائی الوہیت میرے رگ و ریشہ میں گھس گئی ہے اور میں نے اس حالت میں دیکھا کہ ہم نیا نظام بنانا چاہتے ہیں۔ نئی زمین، نیا آسمان، پس میں نے پہلے آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی تفریق و ترتیب نہ تھی۔ پھر میں نے ان کو مرتب کیا اور میں اپنے دل سے جانتا تھا کہ میں ان کے پیدا کرنے میں قدرت رکھتا ہوں۔ پھر میں نے سب سے قریبی آسمان کو پیدا کیا۔ پھر میں نے کہا: ’’انا زینا السماء الدنیا بمصابیح‘‘ پھر میں نے کہا کہ ہم انسانوں کو بھی پیدا کریں گے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ۸۶، خزائن ج ۲۲ ص ۸۹) میں لکھا ہے: ’’انت منی بمنزلۃ ولدی‘‘ یعنی خدا نے مجھے کہا کہ تو میرے بیٹے کی مانند ہے۔ (العیاذ باللہ)

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۸۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اخبار الحکم قادیان مؤرخہ ۲۴؍ فروری ۱۹۰۵ء میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”خدا نے مجھے کہا کہ اب تیرا یہ مرتبہ ہے کہ جس چیز کا تو ارادہ کرے صرف اس قدر کہہ کہ ہو جا، پس وہ ہو جائے گی۔“

قادیان میں مظالم

ان بدعقائد نے جب اعمال کا لبادہ اوڑھا تو غیر مرزائیوں کے لئے قادیان کی سر زمین تنگ ہو گئی۔ انگریز صاحب بہادر کا دست شفقت سر پر تھا۔ قتل کے الہام، طاعون کے خواب، زلزلوں کی پیشین گوئیاں کر کے اپنے معترضین کو دھمکیاں دینے لگا۔ قتل و غارت، لوٹ مار کے واقعات سرزد ہونے لگے اور جب اس مدعی نبوت کے بعد نور الدین خلیفہ بنا اور نور الدین کے بعد خلافت خاندان میں واپس آئی تو موجودہ خلیفہ بشیر الدین محمود قادیانی جو اپنے کو فضل عمر لکھ کر اس بات کا عملی دعوے کرتا ہے کہ میرا باپ محمد رسول اللہ ﷺ سے افضل تھا تو میں حضور ﷺ کے خلیفہ دوم حضرت فاروق اعظمؓ سے افضل ہوں، جب یہ صاحب مسند آرائے خلافت ہوئے تو قادیان غیر مرزائیوں کے لئے دوزخ کا نمونہ پیش کرنے لگی۔ اپنے مریدوں کو ہجرت کے نام پر جمع کر کے قادیان میں اکثریت بلکہ غالب اکثریت بنائی اور دیگر اثر و رسوخ سے ممتاز حیثیت حاصل کر کے غریب مسلمانوں کا بائیکاٹ، آتشزدگی، قتل و غارت سے عرصہ حیات تنگ کر دیا۔

گزشتہ دنوں حضرت مفکر اسلام مولانا محمد علی صاحب جالندھری نے ایک تقریر کے دوران جب قادیان میں مرزائیوں کے مظالم بیان کئے تو تقریر کے بعد ایک صاحب نے کہا کہ مولانا آپ نے جو کچھ ارشاد فرمایا: یہ ان واقعات کا عشر عشیر بھی نہیں جو قادیان میں رونما ہوتے تھے۔ کہا کہ میں پولیس اسٹیشن قادیان کا انچارج رہا ہوں۔ قتل، اغوا، زنا بالجبر، ناجائز بچوں کے قتل کے جو واقعات ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے تھے وہ بیان سے باہر ہیں۔ غرضیکہ ایک طرف انگریز کے جھنڈے تھے۔ قادیانی اگر قادیان میں مسلمانوں کے مکانات کو جلا رہے تھے، مخالفین کو موت کے گھاٹ اتار رہے تھے، محمد حسین بٹالوی کی شہادت اور محمد امین کا قتل اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے تو دوسری طرف مسلمان ممالک کی شکست پر قادیان میں گھی کے چراغ جلائے جاتے تھے اور قادیانی مبلغ اسلامی ممالک میں جاسوسی کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ اس ظلم و ستم کی فراوانی کے ساتھ علماء حق اور حق پرست مسلمان تصویر کا دوسرا رخ پیش کر رہے تھے۔

قادیانیوں کے خلاف سب سے پہلا فتویٰ تکفیر

سب سے پہلے لدھیانہ کے علماء کرام نے مرزا غلام احمد قادیانی کے اوّل دعاوی کو سن کر اسے لدھیانہ میں مناظرہ کی دعوت دی اور اس کے متعلق کفر کا فتویٰ دیا۔ اس سلسلہ میں جہاں تک انفرادی کوششوں کا تعلق ہے علامۃ العصر، آیت من آیات اللہ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ نور اللہ مرقدہ، اعلیٰ حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب مرحوم گولڑہ شریف، مولانا محمد حسین صاحب مرحوم بٹالوی، حضرت ثناء اللہ صاحب مرحوم امرتسری، مولانا عبد القادر لدھیانوی، مولانا محمد علی صاحب مونگیری، مولانا ظفر علی خان، حضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم کے اسماء گرامی بالخصوص قابل ذکر ہیں۔ لیکن ان حضرات کی انفرادی کوششوں کے بالمقابل مرزائیت ایک منظم اور مضبوط جماعت کی حیثیت سے مسلمانوں کو گمراہ کر رہی تھی اور حکومت برطانیہ کے وسیع ذرائع اسے پروان چڑھا رہے تھے۔ ان حالات میں مذہبی دیوانوں کا ایک گروہ مجلس احرار کے نام سے ملک میں اہم ملکی وملی خدمات سرانجام دے رہا تھا کہ حضرت علامہ سید انور شاہ قدس سرہ نے اس جماعت کو حضرت یادگار سلف، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی زیر سرکردگی قادیانیوں کے خلاف کام کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ قادیان میں دم مارنا دل گردہ کا کام تھا۔ بہت سے مخالفین مرزائیت قتل کئے جاچکے تھے۔ بہت سے علماء کو بے عزت کر کے قادیان سے نکالا جا چکا تھا اور تبلیغ دین

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۸۵

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے دروازے قادیان میں بمہر بند کر دیئے گئے تھے کہ مجلس احرار نے اس طرف توجہ دی۔ سب سے پہلے ۱۹۳۴ء میں تبلیغ کانفرنس قادیان کا اعلان کر دیا گیا۔ انگریزی استعمار اور مرزائیوں کے گھروں میں ایک ساتھ زلزلہ آیا۔ قادیان اور دہلی کا وائسریگل لاج ایک ہو گئے۔ قادیان میں کوئی ٹکڑا اراضی اہل اسلام کی تبلیغی کانفرنس کے لئے میسر نہ آسکا۔ قادیان کی حدود کے باہر لیکن بالکل متصل احرار تبلیغ کانفرنس حضرت اقدس امیر شریعت مدظلہ کی صدارت میں شروع ہوئی۔ احرار رضا کاروں نے دشمنان دین کے ظلم وستم ، انگریزی حکومت کی رکاوٹ کے باوجود نظم وضبط کا وہ عدیم النظیر ثبوت بہم پہنچایا کہ آج امن وامان کی دنیا میں نظم وضبط کی دعویدار جماعتیں بھی اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ ہزاروں سامعین کا پرامن اجتماع، احرار رضا کاروں کا کیمپ، لنگر، نمازوں کی باجماعت ادائیگی، مقررین کی حق وصداقت سے بھر پور تقریریں، شیر اسلام حضرت مولانا حبیب الرحمٰن مرحوم لدھیانوی کی گرج، حضرت امیر شریعت مدظلہ کے خطبہ صدارت نے مسلمان قوم میں ایک جذبہ عمل پیدا کر دیا اور قادیانی قصر خلافت میں زلزلہ آ گیا۔ امیر شریعت مدظلہ نے والہانہ انداز میں کہا: وہ نبی کا بیٹا ہے۔ میں نبی کا نواسہ ہوں۔ وہ آئے۔ تم سب چپ چاپ بیٹھ جاؤ۔ وہ مجھ سے اردو، پنجابی، فارسی، عربی میں ہر معاملہ میں بحث کرے۔ یہ جھگڑا آج ہی ختم ہو جائے گا۔ وہ پردہ سے باہر آئے۔ نقاب اٹھائے۔ کشتی لڑے۔ مولا علی کے جوہر دیکھے۔ وہ ہر رنگ میں آئے۔ وہ موٹر میں بیٹھ کر آئے۔ میں ننگے پاؤں آؤں۔ وہ ریشم پہن کر آئے۔ میں گاندھی جی کی کھڈی کھدر شریف، وہ مزعفر، کباب، یاقوتیاں اور پلومر کی ٹانک وائن شراب اپنے ابا کی سنت کے مطابق کھا کر آئے اور میں اپنے نانا کی سنت کے مطابق جو کی روٹی کھا کر آؤں۔ بس کیا تھا، مقدمہ چلا۔ سزا ہوئی۔ لیکن باپ کے صحیح جانشین بیٹے کو عدالت میں اقرار کرنا پڑا کہ ہاں! میرے ابا مرزا غلام احمد نے شراب پی ہے۔ ان حالات کے بعد جماعت نے فیصلہ کیا کہ کام جاری رکھا جائے۔ قادیان میں حضرت خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد کے جمعہ پڑھانے کا اعلان کیا۔ سرکار نے پابندی لگا دی۔ قاضی صاحب پابندی کو توڑ کر تشریف لے گئے۔ گرفتار ہوئے۔ سزا ہوئی، کئی بزرگ اور ساتھی جمعہ کے خلاف پابندی کی خلاف ورزی کر کے گرفتار ہوئے۔ انگریز نے پابندی کے جواز کے لئے دلیل دی کہ قادیان میں مرزائیوں کی اکثریت ہے اور اقلیت کو وہاں جلسہ یا تقریر کی اجازت نہیں۔ اکابرین جماعت نے انگریز کی دلیل تسلیم کر لی اور کہا کہ قادیان کے باہر جہاں جہاں مرزائی اقلیت میں ہیں وہاں ان کے جلسے جلوس بند کئے جائیں اور اگر بند نہ کئے گئے تو احرار رضا کار خود ایسے جلسے بند کرنے کا انتظام کریں گے۔ انگریز تو کیا بند کرتا، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ اس سال سرفروش احرار رضا کاروں نے ملک کے کسی کونہ میں مرزائیوں کا جلسہ کامیاب نہ ہونے دیا۔ حتیٰ کہ ظفر اللہ دہلی میں با وجود انگریز کی پوری مدد کے جلسہ کرنے میں کامیاب نہ ہوا تو قادیان میں جلسہ کرنے کی پابندی واپس لے لی گئی۔ اب فیصلہ کیا کہ جس طرح بھی ممکن ہو شعبہ تبلیغ احرار اسلام کے ماتحت قادیان میں دفتر کھولا جائے۔ چنانچہ قادیان میں مدرسہ اسلامیہ کے لئے اراضی خریدی گئی۔ اراضی ضروریات مدرسہ سے زائد حاصل کی گئی۔ تاکہ مدرسہ کی ضروریات خوردونوش پیدا کی جاسکیں۔ آبپاشی کے لئے کنواں لگایا گیا۔ مکانات خرید لئے گئے۔ قادیان کے مسلمانوں میں زندگی پیدا ہوئی۔ وہ سمجھنے لگے کہ ہم یتیم نہیں۔ ہر سال مرزائیوں کے سالانہ جلسہ کے مقابل تبلیغی جلسہ ہونا شروع ہو گیا۔ مہمانوں کے لئے مہمان خانہ اور لنگر خانہ، مطالعہ کے لئے عظیم الشان کتب خانہ جاری کیا گیا۔ دین سیکھنے کے لئے طالب علم آنے لگے۔ مدرسہ کامیاب چل رہا تھا کہ قیام پاکستان عمل میں آیا۔ اس وقت اہل اسلام کی طرف سے شعبہ تبلیغ کے انچارج فاتح قادیان مولانا محمد حیات صاحب تھے۔ مرزائی، جنہوں نے دل سے تقسیم ملک کو قبول نہ کیا تھا بلکہ بشیر الدین محمود مرزائی خلیفہ نے کہا کہ اگر خدانخواستہ ملک تقسیم ہو گیا تو خدا کی مشیت یہی ہے کہ وہ دوبارہ ایک ہو جائے۔ اس قسم کے اور بھی رؤیا، مبشرات بیان کئے گئے جن میں تقسیم ملک کو ناممکن العمل قرار دیا۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۸۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قادیان کے بعد ربوہ

اسی لئے محمود مرزا قادیان کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھے۔ ابا کی قبر پر کھڑے ہو کر ہر روز عہد و پیمان ہوتے تھے کہ اے وقت کے نبی اور مسیح موعود! میں تیرا بیٹا اور جانشین ہوں۔ کبھی بے وفائی نہ کروں گا اور قادیان دارالامان کو ہرگز نہ چھوڑوں گا۔ لیکن وقت آیا تو مسلمانوں کا یہ جابر قاتل، رات کی تاریکی میں برقع اوڑھ کر قادیان سے نکلا۔ قادیان کے باہر کیمپ سے لے جانے کے لئے ظفر اللہ کی وساطت سے پورا انتظام تھا۔ جب مرزائی قادیان کو چھوڑ چکے تو مولانا محمد حیات صاحب بھی غریب مسلمانوں کے ساتھ پاکستان تشریف لے آئے۔ ناظرین کرام نے اندازہ لگایا ہوگا کہ مرزائی انگریز کی نوازشات کے باعث کس قدر منظم اور اقتدار مل جانے کے بعد کس قدر مملکت در مملکت کے لئے بے تاب ہیں۔ ایسے میں ضروری تھا کہ پاکستان کی نوزائیدہ مملکت میں ان کی خاص نگرانی رکھی جاتی۔ لیکن مسلمان کی بدقسمتی سے آزادی کے بعد بھی انگریز کام آیا اور اسلامی ممالک میں اسرائیل کی طرح وسط پاکستان میں کوڑیوں کے مول محفوظ پہاڑی علاقہ میں ایک وسیع رقبہ خاص مرزائیوں کے ہاتھ انگریز گورنر کے ذریعہ فروخت کر دیا گیا اور حق گو اور درد دل رکھنے والوں کی بات نہ سنی گئی۔ اس طرح وطن عزیز کے وسط میں ربوہ قائم کر کے مملکت اندر مملکت کے قیام کے لئے انگریز نے راستہ ہموار کر دیا۔ بس پھر کیا تھا۔ محمود صاحب کھل کھیلے، بلوچستان کو مرزائی صوبہ بنانے کے خواب نظر آنے لگے اور ساتھ ہی فوج میں مرزائی افسروں کی ترقی کا ظفر اللہ کے ذریعے انتظام کیا جانے لگا۔ تاکہ بوقت ضرورت مرزائی خلیفہ ابا کی پیشین گوئی کہ: ”انگریز کے جانے کے بعد احمدی اس قابل ہوں گے کہ وہ حکومت کو سنبھال سکیں ۔“ کو پورا کر سکے۔ لیکن ان کے رمز آشنا پاکستان میں موجود تھے۔ خاک نشینوں کی جماعت نے مجلس احرار اسلام کے ساتھ ہی خاص اس مسئلہ کی تبلیغ اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ و دفاع کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت کے قیام کا اعلان کر دیا کہ یہ جماعت خالص تبلیغی و مذہبی جماعت ہوگی اور اس کے کارکن ملکی سیاست کے اتار چڑھاؤ میں کسی قسم کا حصہ نہ لیں گے۔ ابتداً گنتی کے چند مبلغوں اور مفلسی و تنگ دستی کے دور کے ساتھ تخت و تاج ختم نبوت کی حفاظت کا کام شروع کر دیا گیا۔ جب مرزائیوں کے عزائم اور ان کے حالات ملت کے سامنے آئے تو فوراً مذہبی جماعتوں پر مشتمل مجلس عمل کا قیام عمل میں آیا۔ جس کے لیڈروں نے ناظم الدین حکومت سے مرزائیت کے متعلق مطالبات منوانے کی تحریک شروع کی۔ اس وقت کی حکومت نے مطالبات ٹھکراتے ہوئے ایک بات یہ بھی کہی کہ اس سے انگریز اور امریکہ ناراض ہو جائیں گے۔ غرضیکہ ناظم الدین وزارت نے جیل، خون، گولی کا ڈرامہ کھیلا۔ مجلس عمل کے علماء کی بات نہ مانی۔ علماء کرام جیل کی لمبی زندگی ختم کر کے باہر تشریف لائے تو ناظم الدین خود غفرلہ ہو چکے تھے۔ ان نامساعد حالات میں بھی مجلس تحفظ ختم نبوت اپنی مذہبی اور تبلیغی سرگرمیوں میں برابر ترقی کرتی گئی۔ چنانچہ اس سال ۱۳۷۶ھ تک مجلس کا تبلیغی نظام عامۃ المسلمین کے تعاون و اشتراک عمل سے بہت ترقی کر چکا ہے۔ پانچ مدارس عربیہ مختلف جگہوں پر مجلس کے زیر اہتمام کامیابی سے چل رہے ہیں، جن کے جملہ اخراجات مجلس ادا کرتی ہے۔ مبلغین اسلام کا ایک مضبوط اور قابل گروپ پیدا ہو چکا ہے جو اسلام کے نظریات کی تبلیغ کے ساتھ فرق باطلہ کی تردید کا فریضہ باحسن وجوہ ادا کر رہا ہے۔ جماعت کے اس سال کے اہم واقعات میں مقدمات کی بھر مار اہم ترین واقعہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے امسال ۲۱ سیفٹی ایکٹ کا اندھا دھند استعمال مبلغین مجلس تحفظ ختم نبوت کے خلاف کیا۔ آپ جس مبلغ کو بھی دیکھیں، اس کے سر پر سیفٹی ایکٹ کی تلوار آویزاں ہے۔ کسی کے خلاف کسی جگہ داخلہ کی پابندی ہے تو دوسرے کو کسی ایک شہر سے باہر جانے سے جبراً روک دیا گیا ہے۔ ۲۱ سیفٹی ایکٹ کی تلوار ہر ایک کے لئے بے نیام ہے۔ اس کا وار مجلس تحفظ ختم نبوت کے قابل صد عزت صدر حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے لے کر چھوٹے مبلغین تک بے دریغ چل رہا ہے۔ ملک میں خدا کے منکر موجود ہیں۔ ختم نبوت کے منکر موجود ہیں۔ حدیث رسول علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے منکر موجود ہیں۔ باری تعالیٰ، ختم نبوت، حدیث رسول کو

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۸۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نکال دیجئے، اسلام کا کیا باقی رہتا ہے؟ لیکن جمہوریہ اسلامیہ کا سیفٹی ایکٹ خاموش ہے اور جب ایک مرد درویش اعلان کرتا ہے کہ آمنہ کے لال حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے تو سیفٹی ایکٹ حرکت میں آتا ہے۔ کیس رجسٹرڈ ہوتا ہے اور ملزم کو عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے۔ یا للعجب!

یہ ہے کہ سیفٹی ایکٹ اور اس کا وار، چنانچہ مبلغین کے خلاف ایک ساتھ ۱۵ مقدمات زیر دفعہ ۲۱ سیفٹی ایکٹ ملک کی مختلف عدالتوں میں دائر کئے گئے۔ اکابرین نے فیصلہ کیا کہ ہر الزام کو متعلقہ عدالت میں چیلنج کریں گے اور صفائی پیش کریں گے۔ چنانچہ جب کیس عدالتوں میں آئے اور مرزا غلام احمد اور خلیفہ محمود کی تحریرات کی روشنی میں الزامات کا تجزیہ کیا گیا تو بعض مقدمات میں جو ذرا پہلے سے چل رہے تھے مبلغین جماعت کو معزز عدالتوں نے باعزت بری کردیا۔ جب گورنمنٹ نے عدلیہ سے ان کشتہ سیفٹی ایکٹ کی بریت کا تماشا دیکھا تو جملہ مقدمات کو واپس لے لیا گیا۔

مجلس تحفظ ختم نبوت کی سنہری خدمات

اور اس طرح اپنی ناجائز زیادتی پر مہر تصدیق ثبت کر دی اور یوں مقدمات کی یہ عظیم پریشانی دور ہوئی اور مجلس کے منتظمین اور مبلغین یکسوئی سے پرامن تبلیغ پر اپنی پوری توجہ دینے لگے اور ملک میں نئے نئے دفاتر اور ان کے ساتھ دینی تربیت کے لئے دارالمطالعوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ کئی جگہ ماتحت مجالس نے تعلیم بالغان کا کام باحسن وجوہ سرانجام دیا۔ کوئٹہ میں اگرچہ کام ابتداء سے ہورہا تھا، مگر دفتر نہ ہونے کے سبب مبلغین اور کارکنوں کو تکلیف تھی۔ امسال کوئٹہ کے مخلص اور ایثار پیشہ ساتھیوں نے ستر روپے ماہوار کا مکان دفتر کے لئے کرایہ پر لے کر اس کمی کو پورا کر دیا۔ یہ دفتر شارع اقبال کی نکڑ پر ایسے با رونق چوک میں واقع ہے کہ وہاں صرف تحفظ ختم نبوت کے بورڈ کا آویزاں ہونا ہی باطل پرستوں کی پریشانی کا باعث ہے۔ مبلغین کا قیام اور کام، مزید سونے پر سہاگہ ملک میں فرقہ وارانہ فسادات اس سال کی خصوصیت ہے۔ دراصل تحریک کے بعد ایسے حالات کا پیدا ہونا ناگزیر تھا۔ کیونکہ دین کے دشمنوں کو جملہ مسلمان فرقوں کا اتحاد عمل، مجلس عمل کی صورت میں ہرگز گوارا نہ تھا۔ اس اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لئے روپیہ پانی کی طرح بہایا گیا اور طرح طرح کے حیلوں بہانوں سے مسلمان فرقوں میں خانہ جنگی کرائی گئی۔ مجلس نے ملک کے کونے کونے میں عظیم تبلیغی کانفرنسیں اور اجتماعات منعقد کر کے مسلمانوں کی باہمی فرقہ وارانہ لڑائیوں کے خلاف اظہار نفرت کیا اور مبلغین میں دیوبندی اور بریلوی نقطہ نگاہ کے مبلغین کے اشتراک عمل سے ثابت کر دکھایا کہ یہ لڑائی محض انگریز کی پیدا کردہ ہے۔ دراصل دونوں فرقوں کے عقائد میں کوئی اختلاف نہیں۔ دونوں فرقے توحید، رسالت، ختم نبوت کے اساسی عقیدوں پر کار بند ہیں۔ مجلس کے مبلغین نے شیعہ سنی تنازعات کے متعلق اپنا جماعتی نظریہ باحسن وجوہ پیش کیا اور اس سال خصوصیت سے مبلغین کو جس غیر اسلامی فرقہ سے واسطہ پڑا وہ عیسائی فرقہ ہے، جس کے پادریوں نے مختلف جگہوں پر جلسہ جات منعقد کر کے جمہوریہ اسلامیہ میں مسلمان علماء کو دعوت مناظرہ دی۔ علماء کرام جو اس مسئلہ کو عرصہ ہوا کہ ختم سمجھ چکے تھے، ایسے مناظروں کے لئے تیار نہ تھے۔ الحمدللہ! کہ ان حالات میں حضرت صدر المبلغین مولانا لال حسین صاحب اخترؒ کا وجود گرامی نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوا۔ رحیم یار خان، بہاول پور اور منٹگمری میں خصوصیت سے عیسائیوں کے اعتراضات کا دندان شکن جواب دیا گیا اور ان کے مناظرہ کے چیلنج کو قبول کیا گیا۔ مگر ان تین خداؤں کے پجاریوں کی یہ کہاں مجال کہ اسلامی توحید کے دلائل کا مقابلہ کر سکیں۔

الحمدللہ کہ مبلغین کرام کو ایسے اکابر میسر آئے ہیں جن کی زندگیاں اعلاء کلمۃ اللہ کی خاطر مصائب سے لبریز ہیں۔ جنہوں نے عمر بھر اس راہ میں ہر آنے والی مصیبت کا خندہ پیشانی سے استقبال کیا۔ یادگار سلف حضرت امیر شریعت مدظلہ، قبلہ مولانا قاضی احسان احمد صاحب

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۸۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور حضرت مولانا محمد علی صاحب اس کی زندہ مثال ہیں۔ مبلغین کرام نے بحیثیت مجموعی اپنے اکابر کے نقش قدم پر چلنے کی پوری کوشش کی۔ مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر مبلغین کے صدر ہیں۔ ان کی رہنمائی، کام میں مزید کوشش اور ایثار کا باعث ثابت ہوئی۔ اطراف ملک سے سینکڑوں خطوط شکریئے کے دفتر میں موصول ہوئے کہ مبلغین نے کس طرح بلوچستان، سندھ، سرحد، سابقہ ریاست بہاول پور کے دور دراز دیہات میں جا کر تبلیغ اسلام کا فریضہ سر انجام دیا۔ بلکہ بعض جگہوں سے مخلصین نے دفتر مرکزیہ کو از راہ ہمدردی ہدایت کی کہ ایسے کٹھن علاقہ میں مبلغین کو بھیجنے سے قبل وہاں کے دور نزدیک کے کارکنوں کو اطلاع کر دیا کریں تاکہ مبلغین کرام کے ساتھ وہ ہو جایا کریں۔ ایسا ہی ایک واقعہ ۹؍ ذیقعد ۱۳۷۲ھ کو سلانوالی ضلع سرگودھا کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب کہ حضرت مناظر اسلام (مولانا لال حسین اختر) موضع عنایت پور کے مرزائی مبلغین کے الزامات کا جواب دے کر واپس سوبھاگا اسٹیشن تشریف لا رہے تھے۔ جناب مولانا حکیم شریف الدین پانی پتی اور مولانا سید فضل الرحمن شاہ صاحب جگرانوی ہمراہ تھے۔ بے آباد، سنسان راستہ ، لق ودق صحرا، آندھی اور بارش کا طوفان، راستہ کی ناواقفیت، خدا خدا کر کے بندگان خدا کا یہ قافلہ اسٹیشن پر پہنچا تا کہ مولانا لال حسین صاحب اگلے دن پکا انا اسٹیشن ضلع لائل پور اتر کر چک نمبر ۲۷۷ میں بروقت پہنچ سکیں۔ مولانا حکیم شریف الدین نے دفتر مرکزیہ کو درخواست کی کہ مبلغین کا اتنا مصروف پروگرام مرتب نہ کیا جایا کرے اور جن علاقوں میں وہ راستہ سے واقف نہ ہوں وہاں واقفیت کا انتظام کئے بغیر مبلغین کو روانہ نہ کیا جایا کرے۔ ایسا ہی ایک مخلص کارکن نے چنڈ ضلع جھنگ سے اس وقت دفتر مرکزیہ کو خط لکھ کر درخواست کی جب کہ حضرت مولانا محمد لقمان صاحب، مولانا سلطان محمود صاحب، مولانا محمد ابراہیم صاحب چنڈ اسٹیشن اتر کر چودہ میل پر کسی گاؤں میں تبلیغ کے لئے جارہے تھے۔ بارش زور سے ہو چکی تھی۔ جلسہ کے منتظمین نے راستہ خراب دیکھ کر خیال کیا کہ ایسے میں علماء کرام کیا تشریف لائیں گے اس لئے سواری نہ بھیجی۔ لیکن منتظمین جلسہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ علماء کرام بارش کے پانی اور راستہ کے کیچڑ کا خیال کئے بغیر اپنی اپنی کتابیں سروں پر اٹھائے تبلیغ واشاعت اسلام کے لئے موضع میں پہنچ گئے ہیں۔ ایسی کئی مثالیں جملہ مبلغین کو پیش آئیں۔ بالخصوص مولانا محمد شریف صاحب بہاول پوری نے بہت ایثار کا ثبوت دیا۔

ثم الحمد للہ! کہ اگر ایک طرف مبلغین کرام کا یہ ایثار اور دین کے لئے یہ خلوص تھا تو دوسری طرف اہل اللہ اور صوفیائے کرام نے اپنی توجہات عالیہ سے مبلغین کی امداد فرمائی۔ بالخصوص حضرت حافظ الحدیث مولانا محمد عبداللہ صاحب درخواستی زید مجدہم نے مبلغین اور کارکنان کی سر پرستی فرما کر انہیں ہر قسم کی امداد سے نوازا۔ مبلغین کے اجتماعات میں شرکت فرما کر سنہری نصائح اور روحانی تربیت سے نوازا۔ عام کانفرنسوں اور پبلک کے تبلیغی اجتماعات میں شرکت فرما کر اپنے مواعظ حسنہ سے مستفید فرمایا۔ اپنے حلقہ اثر سے جماعت کی مالی امداد کی طرف پوری توجہ مبذول فرمائی۔ جزاهم الله خير الجزاء!

ان جملہ امور میں کچھ نہ ہو پاتا اگر جماعت کے مخلص اور ایثار پیشہ کارکن اطراف ملک میں جان سوزی سے جماعت کی مالی امداد کی طرف کوشش نہ فرماتے اور ملک کا مخیر طبقہ تبلیغ اسلام واشاعت دین کے لئے مجلس کی مالی امداد کی طرف متوجہ نہ ہوتا۔ مجلس مرکزیہ ان تمام حضرات کی شکر گزار ہے۔ جنہوں نے دامے، درمے، قدمے، سخنے مجلس کا اس کے تبلیغی امور میں ہاتھ بٹایا اور دعا گو ہے کہ خدا ہم سب کی امداد قبول فرمائے۔

بعض محسنین کی مفارقت اس سال کا اہم صدمہ ہے۔ بالخصوص حضرت رأس الاتقیاء مولانا محمد عبداللہ صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف، حضرت حافظ محمد موسیٰ صاحب سجادہ نشین جلال پور پیروالہ، حضرت شیخ احمد صاحب، حضرت مولانا حافظ قاری لطف اللہ صاحب (شہداء حادثہ لاری) کا اس جہان فانی سے دار بقاء کی طرف تشریف لے جانا جماعت کے لئے حزن وملال کا باعث بنا اور جماعت ان حضرات کے روحانی فیض اور تعاون سے محروم ہوگئی۔

(مقدمہ روئیداد ختم شد)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۸۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۵۷ء، ۱۹۵۸ء

کے

حالات و واقعات

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۹۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قارئین کرام! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا شعبہ نشر واشاعت ہر سال باقاعدگی سے سالانہ مجلس کی روئیداد شائع کرتا ہے۔ ایک مقدمہ کے سلسلہ میں ۱۳۷۷ھ تا ۱۳۸۱ھ مطابق ۱۹۵۷ء سے ۱۹۶۲ء تک پانچ سال کی روئیدادیں دفتر مرکزیہ کی لائبریری سے نکالی گئیں جو واپس نہ آسکیں۔ ان کے حصول و تلاش کے لئے رفقاء کو خطوط لکھے مگر میسر نہ پائیں۔ اس لئے ان سالوں کی جس قدر تفصیل شامل اشاعت کرنے کا جو ارادہ تھا وہ پورا نہ ہو پایا۔ تاہم جو کچھ میسر آسکا، وہ پیش خدمت ہے۔ ۱۱؍ جنوری ۱۹۵۸ء کے نوائے وقت کا ایک اداریہ آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ اس پر ایک قادیانی نے ایڈیٹر کے نام خط لکھا جو یہ ہے:

جماعت احمدیہ کے فہمیدہ اصحاب سے (ایک قادیانی کی گزارشات)

مکرمی! ۱۱؍ جنوری کے نوائے وقت میں ایک اداریہ بعنوان، سوشل بائیکاٹ اور مملکت اندر مملکت شائع ہوا ہے۔ جو ہر ذی فہم احمدی کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ اداریہ میں بیک وقت جماعت کے اصحاب فہم اور حکومت پاکستان سے سوالات کئے گئے ہیں۔ گزشتہ سال سے جماعت احمدیہ ایک ابتلاء میں ہے۔ پہلے تو احمدی اصحاب اور عوام اسے خلافت کا جھگڑا ہی خیال کرتے رہے۔ لیکن یہ جھگڑا روز بروز خطرناک اور نازک ہوتا جارہا ہے اور اپنی حقیر معلومات کی بنا پر میں کہہ سکتا ہوں کہ جماعت کے نوے فیصد احباب سہمے ہوئے ہیں کہ حالات سنگین نہ ہوجائیں اور ہم اپنی مظلومیت کے ثبوت میں دلیل بھی نہ لاسکیں۔ ملکی پریس گزشتہ ڈیڑھ سال سے ان لوگوں کا ساتھ دے رہا ہے جنہیں ملزم گردان کر جماعت سے نکال دیا گیا ہے۔ ہم پریس پر یہ الزام نہیں دے سکتے کہ وہ جماعت کی دشمنی پر کمر بستہ ہے۔ بلکہ ہم ننانوے فیصد احمدی یہ یقین رکھتے ہیں کہ اخبارات کا ایک غیور طبقہ غیر جانبدار بھی ہے جس کا ماضی مظلوم کی امداد کی شاندار روایات سے بھرا پڑا ہے۔ بدقسمتی سے جماعت کا آرگن (روزنامہ الفضل) یا اکابرین میں سے کوئی بھی پریس کے بعض معقول سوالوں کا جواب ابھی تک نہیں دے سکا۔ نوائے وقت ۱۹۵۶ء سے ہمارے فہمیدہ رہنماؤں سے اپیل کر رہا ہے کہ وہ کام نہ کیجئے کہ جب آپ سے ایسا ہی سلوک کیا جائے تو آپ کے لئے شکایت کی گنجائش نہ رہے۔ سخت جائے حیرت و ندامت ہے کہ ہمارے اکابرین نے ادھر ابھی تک توجہ نہیں دی۔

ہم میں سے ہر ذی شعور اور فہمیدہ شخص سوچتا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ روسی نظام کی طرح ہمارے ہاں بھی مطلق العنانی نے ہر فرد کے قلب پر خوف وہراس کا خول چڑھا دیا ہے کہ بابا اپنے کو بچائیں۔ ”باقی جائیں بھاڑ میں“ اور نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ باپ سے بیٹے کے خلاف ، سسر سے داماد کے خلاف ، بہن سے بہن اور بھائی سے بھائی کے خلاف خطرناک قسم کے قطع تعلق پر دو دو صفحے کے اعلانات شائع ہورہے ہیں اور پھر افسوس صد افسوس کہ گزشتہ سال سے لے کر اب تک انہیں ہولناک صدموں کی تاب نہ لا کر کتنی جانیں داعی اجل کو لبیک کہہ چکی ہیں۔ میں اس جگہ جماعت احمدیہ کی مجلس مشاورت سے اپیل کروں گا کہ وہ زیادہ نہیں تو کم از کم مندرجہ ذیل تین امور پر آنے والے سیشن میں بحث کر کے افراد جماعت کے سامنے ان تعزیرات کو قانون، مذہب یا اخلاق کی رو سے جائز ثابت کرے یا ان احکام کو علانیہ واپس لے:

سکتی ہے۔ کیا یہ اقدام قانون سے ٹکراتا تو نہیں؟

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۹۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ثالثاً: ملزمین آیا واقعی مجرمین بھی ہیں یا نہیں۔ اس کے لئے ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن کیوں نہ مقرر کیا جائے تا کہ یہ الزام نہ دہرایا جاسکے کہ یک طرفہ تشددانہ کارروائی کی جاتی ہے؟

اس طرح ہم اس وقار کو دوبارہ بحال کرسکیں گے جو پچھلے ڈیڑھ سال سے ختم ہو رہا ہے یا موجب رسوائی بن رہا ہے۔ میں آخر میں جماعت کی انتظامیہ سے عرض کروں گا کہ کسی شخص کو محض اس واسطے سزا نہ دی جائے کہ وہ آپ کے نزدیک کسی ناپسندیدہ شخص کے پاس ملازم رہ کر اپنا پیٹ پال رہا ہے۔ ہمارے بہت سے اکابرین نے فرنگی کی نوکری کر کے اپنا پیٹ پالا ہے۔ مثلاً مرزا شریف احمد، مرزا مظفر احمد، مرزا داؤد احمد، مرزا عزیز احمد، مرزا ظفر احمد صاحبان، سر ظفر اللہ خان اور اس طرح سینکڑوں ہزاروں افراد۔

(نوائے وقت لاہور، مؤرخہ ۲۰؍ جنوری ۱۹۵۸ء)

عبدالحمید احمدی چک نمبر ۱۶۸، ڈاک خانہ فقیر والی ضلع بہاول نگر

جنوری ۱۹۵۸ء میں ملک جعفر خان ایڈووکیٹ نے قادیانیوں کے خلاف ایک کتاب لکھی، اس پر نوائے وقت نے یہ تبصرہ شائع کیا:

احمدیہ تحریک (از ملک محمد جعفر ایڈووکیٹ)

تحریک احمدیہ پر گزشتہ ساٹھ ستر سال میں بہت کافی لکھا گیا ہے۔ حق میں بھی اور خلاف بھی۔ لیکن غالباً یہ پہلی کتاب ہے جس میں احمدی تحریک اور اس کے بانی کے متعلق علمی نقطۂ نظر سے بحث کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ مرزا قادیانی کے دعاوی کا سرچشمہ کیا تھا اور وہ کون سے حالات تھے جن سے مرزا قادیانی کی مذہبی قیادت اور احمدی تحریک کی نشوونما میں مدد ملی؟ مصنف نے ”پیش لفظ“ میں لکھا ہے کہ اس کتاب کے اولین مخاطب احمدی جماعت کے نوجوان ہیں اور یہ کہ میں خود ایک احمدی خاندان سے تعلق رکھتا ہوں اور چند سال پہلے تک احمدیہ جماعت (قادیانی) میں شامل تھا۔ مصنف کو اس بات کا اعتراف ہے کہ اب تک احمدیت کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا، وہ اکثر معاندانہ جذبے کے تحت لکھا گیا۔ چنانچہ موصوف نے مرزا قادیانی کے دعویٰ اور احمدی جماعت پر جو تنقید کی وہ ہمدردانہ ہے اور اس میں ان کا مقصد بقول ان کے: ”دراصل احمدیوں کو قائل کرنا اور انہیں احمدیہ جماعت چھوڑنے پر آمادہ کرنا ہے۔“

مصنف کے نزدیک ایک تو مرزا قادیانی کے اپنے بارے میں جو بھی دعاوی تھے وہ صحیح نہ تھے۔ مذہبی اعتبار سے بھی اور آنے والے دور کے جمہوری اور عقلی تقاضوں کے لحاظ سے بھی۔ انہوں نے پہلے تو قرآن مجید کی آیات اور احادیث کو مسخ کر کے ان کا بالکل غلط طور پر اپنے اوپر اطلاق کیا اور پھر حضرت عیسیٰ کے دوبارہ نازل ہونے کے مسئلے کو مسلمانوں کے لئے قومی غیرت کا سوال بنا کر ان کے جماعتی تعصب کو ابھارا اور اس طرح اپنے مریدوں کی جماعت پیدا کر لی۔ دعویٰ نبوت کے معاملے میں بھی ان کا رویہ عجیب تھا۔ جماعت سازی کے لئے وہ مدعی نبوت ہونا ضروری سمجھتے تھے لیکن جب دیکھتے تھے کہ مخالفت بہت زیادہ ہے تو اس دعویٰ سے انکار بھی کر دیتے تھے۔

مصنف کا کہنا ہے کہ اس وقت احمدی تحریک ایک مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ اصل میں اب یہ ایک سیاسی و معاشرتی سوال ہے۔ چنانچہ آزادی اور قیام پاکستان کے بعد اس قسم کی نبوت، امامت اور خلافت پر مبنی جداگانہ جماعتی تنظیم نہ صرف قومی و جمہوری تنظیم کے منافی ہے بلکہ اس طرز کی جداگانہ تنظیم خود احمدیوں کے لئے باعث صد آفات ثابت ہوئی جس کا کچھ مظاہرہ ۱۹۵۳ء میں ہو چکا ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۹۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مصنف نے بڑی تفصیل سے ان سب مباحث پر روشنی ڈالی ہے اور ختم نبوت کے مسئلے پر بھی عالمانہ بحث کی ہے۔ انہوں نے نہایت محکم دلائل سے ثابت کیا ہے کہ تاریخ نے احمدیت کو غلط ثابت کر دیا ہے اور اب ضرورت ہے کہ احمدی نوجوان آنکھیں کھولیں اور اس حقیقت کو دیکھیں۔

علامہ اقبال نے احمدیت کے بارے میں لکھا تھا کہ یہ جمہوریت کی روح جو ملک کے اندر پھیل رہی ہے وہ یقیناً احمدیوں کی آنکھیں کھول دے گی اور انہیں یقین ہو جائے گا کہ ان کی دینی ایجادات بالکل بے سود ہیں۔ اسی آرزو اور مقصد کی تکمیل کے لئے دراصل مصنف نے یہ کتاب لکھی ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ موجودہ خلیفہ کے تمام تر طریقہ ہائے کار کے جراثیم خود تحریک میں موجود تھے اور خاندانی اقتدار اس کا لازمی نتیجہ ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ اس موضوع پر یہ ایک مؤثر، معقول اور مدلل کتاب ہے۔ کتاب مجلد ہے اور قیمت پانچ روپیہ ہے۔ ناشر سندھ ساگر اکادمی چوک مینار پاکستان انار کلی، لاہور۔‘‘

(نوائے وقت لاہور،مورخہ ۲۶؍جنوری ۱۹۵۸ء)

ترجمان اسلام لاہور میں مولانا غلام غوث کا اداریہ

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے آرگن ہفتہ وار ترجمان اسلام لاہور کی اشاعت ۲۰، ۲۴؍مارچ ۱۹۵۸ء میں مجاہد اسلام، مولانا غلام غوث ہزاروی نے ذیل کا شذرہ تحریر فرمایا: ”یادش بخیر چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی جس طرح پاکستانی سیاست پر چھائے ہوئے تھے وہ اظہر من الشمس ہے۔ بقول محمد ہاشم صاحب گزدر (سابق ڈپٹی سپیکر سنٹرل اسمبلی) اسمبلی میں ایسی کوئی بات بھی اسلامی دستور یا دین کی خاطر پیش نہیں ہوتی تھی، جس کی مخالفت چوہدری مذکور نے نہ کی ہو اور اسی لئے سابق مجلس احرار اسلام اور علماء دین کا فیصلہ تھا کہ جب تک راستے کی یہ رکاوٹ دور نہ کی جائے آگے چلنا دشوار ہے۔

مودودی فرقہ والے جابجا انسداد فتنہ مرزائیت اور اینٹی ظفر اللہ تحریک کو فروعی کہہ کر نہ صرف اس سے پہلو تہی کرتے بلکہ اوروں کو بھی پیچھے ہٹانے اور اس کی جگہ مودودی کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ اگرچہ رائے عامہ کے سیلاب میں ان کا یہ پروپیگنڈا خس و خاشاک کی طرح بہہ گیا اور ان کو تحریک تحفظ ختم نبوت میں شریک ہونا پڑا اور یہ سب کچھ مجبوری سے تھا۔ چنانچہ بعد میں مودودی صاحب نے اعلان کر دیا کہ سول نافرمانی میں ہمارے جن آدمیوں نے حصہ لیا تھا ہم نے ان کو جماعت سے خارج کر دیا اور پھر آج تک انہوں نے مرزائیت کے خلاف کوئی کام کرنا ضروری نہ سمجھا۔ بلکہ اپنے عدالتی بیان میں فسادات کی ذمہ داری میں قادیانیوں اور عام علماء دین کو برابر کا ذمہ دار ٹھہرایا اور اب بھی جب کہ ان کو جداگانہ انتخابات کا دورہ پڑا ہوا ہے آپ مرزائیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ کرنے کا نام نہیں لیتے۔ بلکہ انہوں نے اسلامی حکومت کے قیام اور معاشرے کی تبدیلی کا اپنا اصول ترک کر کے علماء کے طریقہ کو قبول کرتے ہوئے پہلے حکومت تبدیل کرنے کا نعرہ لگا دیا ہے۔

وزراء پاکستان اور امریکہ

بہر حال یہ قطعی امر ہے کہ امریکہ سے معاہدات کر کے پاکستان کو ذلیل کرنے اور خارجہ سیاست کو امریکہ کی لونڈی بنانے کی رسوائی کی بڑی ذمہ داری چوہدری ظفر اللہ خان پر ہے۔ اس نے پہلے خواجہ ناظم الدین صاحب کو چلتا کیا۔ پھر امریکہ سے سفیر کو بلوا کر وزیر

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ 93

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بنوایا۔ اس کے بعد چوہدری محمد علی صاحب وزیر اعظم بنے۔ ان سب نے پاکستان کی خارجہ سیاست کو اپنے اپنے مخصوص پروگراموں کی خاطر گروی رکھا۔ پھر مسٹر سہروردی آئے۔ انہوں نے تو امریکہ نوازی کو امریکہ پرستی میں بدل کے رکھ دیا۔ انہوں نے عرب ممالک کا دورہ کیا جو عربوں کی خاطر نہ تھا اور اسی لئے عربوں میں پاکستان کی بڑی بدنامی ہوئی اور ان کی تمام نقل و حرکت کو بحق امریکہ سمجھا گیا۔‘‘

جنوری ۱۹۵۸ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت سرحد کا قادیانیوں سے کوئی مناظرہ ہوا۔ فقیر یہ سطور اسلام آباد میں بیٹھ کر لکھ رہا ہے۔ جب کہ لائبریری دفتر مرکزیہ ملتان میں ہے۔ تفصیل کا علم نہیں، ترجمان اسلام لاہور میں جمعیۃ علماء اسلام مردان کی ایک قرارداد سے جو معلوم ہوئی وہ پیش خدمت ہے:

ضلع مردان جمعیۃ کا خصوصی اجلاس زیر صدارت امیر ضلع ہوا۔ مختلف مسائل پر غور و خوض کیا گیا۔ دو قراردادیں پاس کی گئیں۔ ایک قرارداد میں مجلس تحفظ ختم نبوت سرحد کو مرزائیوں کے ساتھ مناظرہ پر فتح حاصل کرنے کی مبارک باد اور دوسری قرارداد لاہور میں اس لٹریچر کی کھلے بندوں فروخت پر حکومت سے ضبط کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جس میں شعائر اسلام اور انبیاء علیہم السلام کے خلاف زبان طعن دراز کرنے کے علاوہ خیالی تصاویر شائع کی گئی تھیں۔

(ترجمان اسلام مورخہ ۲۲؍ مارچ ۱۹۵۸ء)

ربوہ میں مولوی صدر دین کا خاموش مظاہرہ

چنیوٹ: مؤرخہ ۳۰؍ اپریل۔ معلوم ہوا کہ ربوہ کے سابق مبلغ مولوی صدر دین نے احمدیوں کے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کے خلاف دو روز خاموش مظاہرہ کیا۔ مولوی صدر دین نے مطالبہ کیا ہے کہ احمدی خلیفہ کو سوشل بائیکاٹ سے روکا جائے۔ چندہ کی غبن شدہ رقم کی تحقیقات کرائی جائے۔ میری جائیداد اور بچے واپس دلائے جائیں۔ نیز مرزا صاحب کو بحث کے لئے تیار کیا جائے۔

(جنگ کراچی، مؤرخہ ۲؍ مئی ۱۹۵۸ء)

مرزا قادیانی کی طرح ایک اور مرزائی کو اس کی دیکھا دیکھی پاگل پن کا دورہ پڑا۔ خبر ملاحظہ ہو:

مسیح موعود بننے کا پاکستانی دعویدار

’’شہزادی مارگریٹ سے شادی کرنے انگلستان جائے گا۔ گجرات ۲۵؍ ستمبر (ی۔پ۔پ) آپ یقین کریں یا نہ کریں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ کنجاہ پبلک ہائی سکول کا ہیڈ ماسٹر، شہزادی مارگریٹ سے شادی کرنے کا خواہشمند ہے اور برطانیہ جانا چاہتا ہے۔ اس نے پاسپورٹ حاصل کرنے کی بھی درخواست دی ہے۔‘‘

(جنگ کراچی، مؤرخہ ۲۷؍ ستمبر ۱۹۵۱ء)

مرزا قادیانی نے ملکہ وکٹوریہ کو زمین کا نور اور اپنے آپ کو آسمان کا نور قرار دیا اور مذکورہ قادیانی دونوں ’’نور‘‘ کو یکجا کرنے کے لئے نکل دوڑا۔ لعنت بر پدر فرنگ!

روزنامہ آزاد لاہور، مؤرخہ ۱۰؍ مئی ۱۹۵۸ء کی اشاعت میں مولانا محمد علی جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت کا ماتحت مجالس کارکنان اور مبلغین کے نام فرمان شائع ہوا کہ اپنی کارکردگی اور جماعتی سرگرمیوں کی اطلاعات روزنامہ آزاد کو باقاعدہ بھیجا کریں۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۹۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مگر اس وقت آزاد کی فائل فقیر کو دستیاب نہ ہو سکی، اس لئے تفصیلات جمع نہ کر پایا۔ مئی میں قادیانیوں کو ”شام“ میں خلاف قانون قرار دیا گیا، اس پر مجلس تحفظ ختم نبوت نے ذیل کا ہینڈ بل شائع کر کے ہزاروں کی تعداد میں تقسیم کیا:

متحدہ عرب جمہوریہ میں قادیانیوں کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا

”دمشق (بذریعہ ڈاک) گزشتہ ماہ شام کے سرکاری دار الافتاء سے ایک فتویٰ صادر ہوا تھا، جس میں قادیانیوں کو کافر مرتد قرار دیا گیا ہے۔ مصر و شام کی متحدہ عرب جمہوریہ کی حکومت نے فوری طور پر اس فتویٰ پر عمل درآمد کرتے ہوئے شام کے علاقہ میں قادیانیوں کے تمام مراکز اور دفاتر کو بند کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ قادیانی لٹریچر اور املاک کو ضبط کر لیا ہے اور آئندہ کے لئے نہ صرف قادیانیوں کو اپنی تبلیغی سرگرمیوں سے روک دیا ہے بلکہ ان کو باہمی میل جول رکھنے پر قدغن لگا دی ہے۔ یہ فتویٰ شام کے تمام اخبارات میں شائع ہوا ہے اور شام کے مسلمان اس پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔“

(روزنامہ کوہستان، مورخہ ۴؍جون ۱۹۵۸ء)

مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان

شام کے علاوہ مصر میں بھی قادیانیوں کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا۔ ملاحظہ ہو:

مصر و شام میں قادیانیت خلاف قانون

”قاہرہ: ۱۸؍جون۔ حکومت جمہوریہ عربیہ (سابقہ مصر و شام) کے صدر جمال ناصر نے ایک فوری اعلان کے ذریعہ حکم نافذ کیا ہے کہ جماعت احمدیہ کے تمام پیروں کو گرفتار کر کے خلاف قانون کارروائیوں کے الزام میں ان پر مقدمہ چلایا جائے۔ یادرہے کہ گزشتہ ہفتے مصر و شام میں احمدیوں کی جماعت کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا تھا اور ان کی تمام کارروائیوں پر پابندی لگا کر ان کے دفاتر کو سربمہر کر دیا گیا تھا، لیکن ان پابندیوں کے باوجود احمدیوں نے اپنی کارروائیاں برابر جاری رکھی ہیں، جس کے باعث یہ حکم نافذ کیا گیا ہے۔ اعلان میں کہا گیا ہے کہ احمدی مذہب کے ملاؤں کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔ کراچی میں مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنے ایک جلسہ میں صدر ناصر کے اس حکم کا خیر مقدم کرتے ہوئے صدر ناصر کو مبارک باد پیش کی ہے اور ان کے اس حکم کو ایک عظیم دینی خدمت قرار دیا ہے۔ نیز حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ احمدیوں کو خلاف قانون قرار دے۔“

(روزنامہ وحدت کراچی، مورخہ ۲۰؍جون ۱۹۵۸ء)

”لائل پور: (جون ڈاک سے) بشیر احمد آفس سیکرٹری مجلس تحفظ ختم نبوت اطلاع دیتے ہیں کہ یہاں مولانا تاج محمود صاحب صدر مجلس تحفظ ختم نبوت لائل پور نے صدر متحدہ عرب جمہوریہ کرنل جمال عبدالناصر کو متحدہ عرب جمہوریہ میں مرزائیوں کو خلاف قانون جماعت قرار دینے پر مبارک کا تار ارسال کیا ہے۔ اس سلسلہ میں نماز جمعہ سے قبل جامع مسجد کلاں، جامع مسجد اہل حدیث، جامع مسجد ریلوے اسٹیشن اور شہر کی تمام مساجد میں خطیب صاحبان نے اسلامیان لائل پور کو یہ خوشخبری دی کہ مصر و شام میں مرزائیوں کو خلاف قانون جماعت قرار دے دیا گیا ہے اور ان کے املاک اور لٹریچر ضبط کر لئے گئے ہیں۔ ارتدادی تبلیغ پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ عرب جمہوریہ حکومت کو اس اقدام پر اسے خراج تحسین پیش کیا گیا اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھی مرزائیوں کو مملکت پاکستان میں خلاف قانون قرار دیں۔“

(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۱۱؍جون ۱۹۵۸ء)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۹۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مجلس تحفظ ختم نبوت کے اجتماعات

”مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۹ تا ۱۵؍اگست ۱۹۵۸ء حلقہ وار اجتماعات منعقد ہوں گے۔ جس میں مندرجہ ذیل حضرات مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی کارکردگی، نصب العین اور اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالنے کے علاوہ اسلامی فکر اور نظریات کے مخالف فتنوں سے آگاہ کریں گے: مولانا قاضی عبداللطیف اختر، ڈاکٹر عبدالرحیم صدیقی، آغا غیاث الرحمن کشمیری، قاری عبدالغفور سرحدی۔“

(امروز لاہور، مورخہ ۲؍اگست ۱۹۵۸ء)

”خاتم النّبیین“ ضبط قرار دے دی گئی

”لاہور: مورخہ ۲؍اگست۔ حکومت مغربی پاکستان نے پادری بوٹامل کی لکھی ہوئی کتاب خاتم النّبیین کو جسے پنجاب ریلیجئس بک سوسائٹی نے شائع کیا ہے، ضبط کر لیا ہے۔ سرکاری اعلان میں کہا گیا ہے کہ اس کتاب سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے کا امکان ہے۔“

(امروز لاہور، مورخہ ۳؍اگست ۱۹۵۸ء)

”مورخہ ۲۷؍ستمبر بعد از نماز عشاء مبارک مسجد بی بلاک، ماڈل ٹاؤن میں ایک جلسہ عام منعقد ہوگا۔ جس میں معلم اعظم ﷺ کی سیرت مقدسہ پر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ناظم اعلیٰ محمد علی صاحب جالندھری، مولانا مفتی زین العابدین خطیب جامع مسجد لائل پور، سائیں محمد حیات پسروری خطاب کریں گے۔“

(امروز مورخہ ۲۷؍ستمبر ۱۹۵۸ء)

اراکین مجلس تحفظ ختم نبوت کا اجلاس

”مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے کارکنوں کا ایک اہم اجلاس ۱۵؍جولائی کو بعد نماز مغرب دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت بیرون دہلی گیٹ لاہور میں منعقد ہوگا۔ مجلس کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد علی جالندھری اراکین سے خطاب کریں گے۔“

(امروز لاہور، مورخہ ۱۶؍جولائی)

بدبخت ظفر اللہ قادیانی آنجہانی کی ناکام و نامراد خارجہ پالیسی کا یہ اثر بھی ہوا کہ برادر عرب ممالک میں پاکستان کے خلاف جذبات ابھرنے لگے۔ اس پر مغربی پاکستان اسمبلی کے ایک سرکاری ممبر نے مجبوراً یہ بیان دیا:

عرب ممالک میں پاکستان کے خلاف جذبات پائے جاتے ہیں

”لاہور: مورخہ ۴؍اگست۔ مغربی اسمبلی کے رکن ملک فیض حسین نے کہا ہے کہ عرب ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں پاکستان کی ناکامی کی اصل وجہ اسلامی ممالک میں نشر و اشاعت کا فقدان ہے۔ ملک فیض حسین نے جو حال ہی میں عراق اور سعودی عرب کا دورہ کر کے آئے ہیں، کہا کہ وہاں کے عوام آج بھی پاکستان کو ہندوستان کا حصہ سمجھتے ہیں اور جو اسے جانتے ہیں ان کا خیال ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے پاکستان بنوایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہندوستان وہاں عوام کی حمایت حاصل کرنے اور پاکستان کی مخالفت کے لئے لاکھوں روپیہ صرف کر رہی ہے۔ ہمارے سفارت خانے اس کا جواب دینے میں قطعاً ناکام رہے ہیں۔ ملک فیض حسین نے جو عراق میں انقلاب کے وقت وہاں موجود تھے، کہا کہ انقلاب کے بعد ایک دن عوام نے پنڈت نہرو اور صدر ناصر کی تصاویر ہاتھوں میں اٹھا کر ایک

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۹۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جلوس نکالا اور ان دونوں کو عرب عوام کا نجات دہندہ قرار دیا۔ بغداد میں پاکستانیوں سے کہا گیا کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں، کیونکہ پاکستان کے خلاف عوام میں شدید غم وغصہ ہے۔ ادھر ہندوستانی باشندے آزادی کے ساتھ گھوم رہے تھے۔“

(امروز لاہور، مورخہ ۱۵؍اگست ۱۹۵۸ء)

سکھر میں ختم نبوت کانفرنس

”سکھر میں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس ۱۶؍اگست ۱۹۵۸ء کو منعقد ہوئی۔ سندھ کے ممتاز علماء کرام سجادہ نشین حضرات کے علاوہ حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد شریف بہاول پوری، مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا قاضی عبداللطیف اختر، مولانا محمد ابراہیم، مولانا نذیر حسین، مولانا خدا بخش سندھی، مولانا بشیر احمد اور سید امین گیلانی نے شرکت فرمائی۔“

(جنگ کراچی)

پہلے گزر چکا ہے کہ مصر وشام میں قادیانیوں کو خلاف قانون قرار دیا گیا۔ اس پر روزنامہ الفضل ربوہ سراپا روزنامہ الدجل بن گیا۔ چنانچہ روزنامہ مغربی پاکستان کی ۱۴؍اگست ۱۹۵۸ء میں ذیل کا ایک آرٹیکل شائع ہوا:

قادیانیوں کو متحدہ عرب جمہوریہ کے علاقہ شام میں غیر قانونی جماعت قرار دیدیا گیا

”لاہور: مورخہ ۱۳؍اگست سے بعض اہم دستاویزات موصول ہوئی ہیں، جن کی بنا پر اب اس بارے میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہتی کہ شام میں قادیانیوں کو سرکاری طور پر غیر قانونی جماعت قرار دے دیا گیا ہے۔ اس خبر کا پس منظر یہ ہے کہ مورخہ ۳؍جون ۱۹۵۸ء کو روزنامہ تسنیم لاہور میں ایک خبر شائع ہوئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ متحدہ عرب جمہوریہ کے علاقہ شام میں قادیانیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور ان کے دفاتر سر بمہر کر دیئے گئے ہیں۔ یہ خبر لاہور کے چند دوسرے روزناموں میں بھی کچھ ردو بدل کے بعد شائع ہوئی۔ اس پر ایک دینی جماعت کے سربراہوں نے کرنل ناصر کو مبارک باد کا پیغام بھیج دیا۔ روزنامہ الفضل ربوہ نے جو قادیانیوں کا ناقوس خصوصی ہے، اس خبر کی تردید کر دی۔ اس کے بعد ربوہ کے ایک صاحب بشارت احمد مرزا کا نوائے وقت مورخہ ۵؍جولائی ۱۹۵۸ء میں مراسلہ شائع ہوا جس میں عربی اخبار صوت العرب کے ایک تراشہ کا حوالہ دیتے ہوئے کرنل ناصر کی طرف سے شام کے قادیانی مبلغ منیر کی ارسال کردہ چند کتابوں کی وصولی پر شکریہ کے ایک خط کو اپنی صفائی میں پیش کیا گیا اور اصل واقعات کو جھٹلایا گیا تھا۔ اس سلسلے میں ہم نے ایک قابل اعتماد دوست کو جو دمشق میں رہتے ہیں اس خبر کا پس منظر اور اس کے دستاویزی شواہد کی فراہمی کے سلسلہ میں لکھا۔ انہوں نے بڑی کاوش سے اصل واقعات کی ذاتی طور پر تحقیق کی اور اس کے نتیجے میں دوسرے اہم دستاویزی شواہد کے علاوہ انہوں نے قادیانیوں کے مرکز کی تین تصاویر بھی ارسال کی ہیں۔ وہ بہ نفس نفیس قادیانیوں کے مرکز زاویہ گئے۔ مرکز کو تالا لگا ہوا اور سر بمہر تھا۔ انہوں نے اس کے تین مختلف سمتوں سے فوٹو لئے ہیں۔ یہ فوٹو ۱۳؍جولائی ۱۹۵۸ء کو لئے گئے ہیں۔“

قادیانی کافر ہیں ...... مفتی اعظم شام کا فتویٰ

دستاویزی شواہد کو پیش کرنے سے قبل یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ قادیانیوں پر اس پابندی میں کرنل ناصر کا کوئی حصہ نہیں۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۹۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دراصل قادیانیوں کو غیر قانونی جماعت قرار دینے کی تحریک متحدہ عرب جمہوریہ کے قیام سے قبل ۱۹۵۶ء کے آغاز سے ہی شروع ہو چکی تھی۔ یہاں قادیانی مسئلہ از سید ابوالاعلیٰ مودودی کا عربی ایڈیشن ہزاروں کی تعداد میں شائع ہوا اور شام کے عوام قادیانیوں کے بارے میں از حد پریشان تھے۔ چنانچہ سب سے پہلے مفتی اعظم شام نے اپنی سرکاری حیثیت سے اپنے فتویٰ مؤرخہ ۱۰/ اکتوبر ۱۹۵۷ء میں قادیانیوں کو کافر قرار دے دیا۔ یہ فتویٰ وزارت داخلہ کے خطوط مؤرخہ ۱۰/ اکتوبر ۱۹۵۷ء کی بنیاد پر تھا۔ ان کے فتویٰ کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے۔

مفتی شیخ ابوالیسر عابدین مفتی اعظم جمہوریہ

الحمد للہ تعالیٰ!

چونکہ فرقہ قادیانیہ سیدنا محمد ﷺ کو آخری نبی نہیں تسلیم کرتا، جس سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد خاتم النبیین کی مخالفت لازم آتی ہے، نیز دین اسلام کے بیشتر عقائد کا منکر ہے۔ لہٰذا جو شخص بھی ان کے عقائد اختیار کرے گا، میں اس کے کافر ہونے کا فتویٰ دیتا ہوں۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ۔

دمشق، ۲۱/ ربیع الاوّل ۱۳۷۷ھ دستخط: مفتی اعظم مطابق ۱۵/ اکتوبر ۱۹۵۷ء، جمہوریہ شام

وزارت داخلہ شام کی کارروائی

اس کے علاوہ مفتی اعظم جمہوریہ شام نے صدر کابینہ جمہوریہ شام کے نام ایک خط میں ان کے مراسلہ مؤرخہ ۱۰/ اکتوبر ۱۹۵۷ء کا جواب دیتے ہوئے جو سفارشات پیش کیں ان کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے:

حوالہ ۶-۶-۵۵، بتاریخ ۲۱/ ربیع الاوّل ۱۳۷۷ھ، مطابق ۱۵/ اکتوبر ۱۹۵۷ء

بنام صدر کابینہ!

(آپ نے نوٹ نمبر ۱۰۳۹۳-۲۵۹۷، مؤرخہ ۱۰/ اکتوبر ۱۹۵۷ء کے جواب میں جو وزارت داخلہ کے خط پر مندرج تھا اور جس میں دمشق میں قادیانی جماعت کے کوائف کے متعلق رائے طلب کی گئی تھی)

اس سے پہلے ہم وزارت داخلہ سے بتاریخ ۲۸/اگست ۱۹۲۸ء بموجب عریضہ نمبر ۳۸۹۰-۳۵۲ جس کی کاپی مع اس مراسلت کے جو ہمارے اور عدالت زیرین کے درمیان ہوئی ہے، منسلک ہذا ہے، مطالبہ کر چکے ہیں کہ چونکہ قادیانی فرقہ دین اسلامی کے احکام کے خلاف شعائر سرانجام دیتا ہے، اس لئے قبل اس کے کہ معاملہ ہاتھ سے نکل جائے اس فرقے کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے اور ان کے تمام زاویوں (مراکز) کو محکمہ اوقاف کے سپرد کر دیا جائے۔

قادیانیوں کے عقائد وافکار کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان کے عقائد سراسر باطل ہیں۔ ہم ہمراہ عریضہ قادیانیوں کے متعلق اپنا شرعی فتویٰ ارسال کر رہے ہیں۔ ہم متوقع ہیں کہ یہ عریضہ متعلقہ بااختیار اداروں تک پہنچا کر اس بارے میں ضروری قانون کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا۔ نیز ہمیں اس کارروائی کے نتیجے سے آگاہ کیا جائے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۹۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

انسپکٹر جنرل پولیس کا اعلامیہ

وزارت داخلہ کی ضروری کارروائی کے بعد حکومت شام نے انسپکٹر جنرل پولیس کو بذریعہ تار اپنے فیصلہ سے مطلع کیا جس کی بنا پر انسپکٹر جنرل پولیس نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے۔ یہ اعلامیہ دمشق سے ۲۲ / مارچ ۱۹۵۸ء کو جاری ہوا۔

(حوالہ ۱۲۱، نوٹیفکیشن نمبر ۱۵۸۱-ب بموجب تعمیل برقیہ نمبر ۲۳۳-ب،س، بتاریخ ۲۵ / مارچ ۱۹۵۸ء)

بروئے نوٹس ہذا لازم ہے کہ فرقہ احمدیہ (قادیانیہ) کی سرگرمیوں پر قدغن لگائی جائے۔ ان کے مراکز اور دفاتر پر چھاپے مار کر ان کی تمام املاک قبضہ میں کر لی جائیں اور انہیں اوقاف اسلامیہ کے محکموں کی تحویل میں دے دیا جائے اور ان کے قبضے سے جو ایسے کاغذات برآمد ہوں جو فتویٰ شرعی کے صدور اور ہمارے اعلامیہ کے اجراء کے بعد کی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتے ہیں وہ ہم تک پہنچائے جائیں۔

دمشق ۲۷ / مارچ ۱۹۵۸ء، العمید محمد الجراح بنام انسپکٹر جنرل پولیس

(روزنامہ مغربی پاکستان مؤرخہ ۱۴ / اگست ۱۹۵۸ء)

۱۸ / اگست ۱۹۵۸ء کو وزیر اعلیٰ سر مظفر علی قزلباش نے مجلس احرار اسلام سے پابندی اٹھائی۔ جونہی یہ خبر مرزائیوں نے سنی ان کے اوسان خطا ہو گئے۔ خبر ملاحظہ ہو:

ری پبلکن پارٹی سے فرار

ربوہ (ڈاک سے) ایک اور اطلاع مظہر ہے کہ احرار اسلام پر سے پابندی اٹھ جانے کے بعد جماعت ربوہ اپنی سیاسی پالیسی پر نظر ثانی کر رہی ہے۔ اس کے نزدیک یہ فیصلہ ناجائز اور زیادتی ہے، اس لئے ری پبلکن پارٹی کو سپورٹ کرنے کے فیصلہ پر نظر ثانی کی جا رہی ہے۔

(پندرہ روزہ چناب لاہور، مؤرخہ ۱۵ / ستمبر ۱۹۵۸ء)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۹۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۵۹ء تا ۱۹۶۱ء

تک کے

حالات و واقعات

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۰۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۱۹۵۹ء سے ۱۹۶۲ء تک کا دور اسلامیان پاکستان کے لئے عجیب وغریب دور تھا۔ حضرت امیر شریعت اس عرصہ میں علیل رہے۔ گاہے بگاہے طبیعت سنبھل جاتی تو اللہ کا نام بلند کرنے اور ختم نبوت کا پھریرا لہرانے کے لئے میدان عمل میں آ جاتے۔ حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد حیات، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا محمد شریف بہاول پوری اور ان کے گرامی قدر رفقاء نے مقدور بھر محنت فرمائی۔ سارے ملک میں دیوانہ وار ختم نبوت کے تحفظ کی صدا بلند کی۔

ان حضرات کی محنتوں کے صدقے اللہ رب العزت نے فضل فرمایا اور اسلامیان پاکستان قادیانی فتنہ کی سرکوبی کو اپنا فرض سمجھنے لگے۔ ۱۹۵۸ء میں ”قادیانیت“ نام کی کتاب مولانا ابوالحسن علی ندوی سے مرتب کرا کر مجلس تحفظ ختم نبوت نے عربی، اردو میں شائع کر کے پوری دنیا بالخصوص عرب ممالک میں تقسیم کی۔ اس کے بہت اچھے اثرات مرتب ہوئے۔

اس عرصہ میں مولانا سید حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد، حضرت مولانا احمد علی لاہوری، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، حضرت مولانا تاج محمود امروٹی، شاہ عبدالقادر رائے پوری، حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ایسی نابغہ روزگار حضرات کے سانحہ ارتحال سے مسلمانان ہند و پاک کو دو چار ہونا پڑا۔

ایوب خان کا دور تھا۔ قادیانی جال نے انہیں بری طرح جکڑ رکھا تھا۔ ڈاکٹر فضل الرحمن ایسا بے دین وملحد شخص ادارہ تحقیقات اسلامی ایسے حکومتی ادارہ کی سربراہی پر براجمان تھا۔ یہ دور اس لحاظ سے بھی سیاہ دور تھا کہ ایسے مدارس ومساجد جہاں پر حکومتی اثر تھا یا وہ حکومت کی تحویل میں تھے، وہاں پر بھی بے دینی نے پر پرزے نکالنے شروع کر دیئے تھے۔ اس سلسلہ میں ایک مثال پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔ لاہور کی بادشاہی مسجد کی تاریخی ومذہبی اہمیت سے کون واقف نہیں۔ مگر یہاں کیا ہو رہا تھا، ملاحظہ ہو:

مولوی غلام مرشد صاحب

”مولوی غلام مرشد صاحب شاہی جامع مسجد لاہور کے پرانے خطیب ہیں۔ آپ کے عقائد کے بارہ میں ہمیشہ اہل اسلام کو اشتباہ رہا۔ تیس برس سے زیادہ ہوتے ہیں کہ خاتم المحدثین حضرت علامہ انور شاہ صاحب کشمیری لاہور تشریف لائے تھے۔ حضرت شاہ صاحب کا کیا مقام تھا۔ علم وفضل، زہد وورع اور تحقیق واجتہاد میں وہ کیا مرتبہ رکھتے تھے۔ اس کا ادراک عام عقلوں سے بالا تر ہے۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی فرماتے تھے کہ اسلام کی صداقت کی ایک دلیل یہ ہے کہ انور شاہ مسلمان ہے۔ اگر اسلام حق نہ ہوتا تو وہ اس کو قبول نہ کرتے۔ سلف صالحین اور اکابر امت کے بارہ میں علمی اور عملی لحاظ سے جو فوق العادۃ روایات کتابوں میں ذکر کی جاتی ہیں، حضرت شاہ صاحب کو دیکھ کر ان کی تصدیق ہو جاتی تھی۔ وہ حفاظتِ مسئلہ ختم نبوت اور تردید مرزائیت کو اپنے لئے توشۂ آخرت قرار دیتے تھے۔ ان کو اس سلسلہ میں اتنا شغف تھا کہ وہ اسلام کے فلسفی شاعر علامہ اقبال سے ملے۔ علامہ اقبال بھی جوہری تھے۔ حضرت انور شاہ کی جلالت قدر کا اندازہ وہ لگا سکتے تھے۔ مرزائیت کے چہرے کو جس طرح حضرت شاہ صاحب نے بے نقاب فرمایا اور علمی مباحث میں جو پتے کی باتیں ارشاد فرمائیں، ان سے علامہ اقبال کا متاثر ہونا لازم تھا۔ چنانچہ اس کے بعد علامہ اقبال نے ختم نبوت کے مخالفین کے بارہ میں جو کچھ اظہار خیال کیا اس نے انگریزی دان طبقہ کے ایمانوں کو بچا لیا اور شیوع مرزائیت کی راہ میں سدِ سکندری کا کام دیا۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۰۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس دورہ میں حضرت علامہ انور شاہ صاحب نے مولوی غلام مرشد صاحب کے عقائد کے بارہ میں کچھ سنا تھا۔ چونکہ وہ شاگرد تھا، اس لئے آپ نے اس کو بلایا مگر وہ نہ آیا۔ حضرت شاہ صاحب نے جلسہ میں اعلان فرمایا اور کہا کہ جس کسی کو کوئی شک ہو وہ مجھ سے ملے۔ حضرت استاد علامہ انور شاہ صاحب کی ناراضی کے بعد کیا توقع ہوسکتی تھی مولوی غلام مرشد صاحب کو توبہ نصیب ہوگی۔ انہوں نے ابھی تک اپنے ان خیالات سے رجوع نہیں کیا، بلکہ اس کے بعد کہیں کوئی فتنہ اٹھا، مولوی غلام مرشد صاحب نے اس کو سہارا دینے کی ناکام کوشش کی۔ کچھ پہلے انہوں نے قربانی کے بارہ میں اسلامی شریعت کے برخلاف اظہار کر کے اہل الحاد کے لئے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔ چونکہ قربانی شعائر اسلام میں سے ہے اور مذہبًا ضروری ہے، اس لئے علماء کرام نے فتویٰ دیا کہ اگر مولوی غلام مرشد صاحب ان خیالات سے توبہ نہیں کرتا تو اس کی اقتداء میں نماز پڑھنی جائز نہیں ہے اور ان دنوں میں ایسی افواہ بھی اڑی تھی کہ مولوی غلام مرشد صاحب کو خطابت سے برطرف کر دیا گیا۔

حیات مسیح علیہ السلام کے بارہ میں بھی ان کے متعلق اہل اسلام مطمئن نہیں ہیں۔ سنہری مسجد (لاہور) میں جو درس دیتے ہیں اس کی نگرانی کرنے والے مسلمان ان کے حق میں اچھی رائے نہیں رکھتے۔ چند دن پہلے انہوں نے سیرت و حدیث کی کتابوں کے بارہ میں جو لب کشائی کی تھی وہ بھی دل آزار تھی۔ سیرت پاک پر ہر زمانہ میں بہتر سے بہتر کتاب لکھی جاسکتی ہے مگر پرانی کتابوں کو ضائع کرنے یا ان کتابوں میں تحریف کر کے بد دیانتی کرنا ، صرف بد دیانت آدمیوں کا ہی کام ہو سکتا ہے۔ یہ حضرت اپنے طریق کار سے پرویزی الحاد کو طاقت پہنچارہے ہیں۔ ہم ان سے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ اس کی گرفت بڑی سخت ہے۔ مگر وہ ڈٹے ہوئے ہیں۔

حال میں ان کا بیان بعض اخباروں میں شائع ہوا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ خاندانی منصوبہ بندی برحق ہے۔ حکومت کو اس سلسلہ میں سستی نہیں کرنی چاہئے۔ حکومت کی آڑ لے کر آپ یہ نہ کہتے تو آپ چاروں طرف سے اس برحق کا جواب سنتے۔ ہم مغرب سے درآمد کئے ہوئے اس برتھ کنٹرول کے بارہ میں کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ اس کے متعلق بارہا بہت کچھ بیان ہو چکا ہے۔ یہاں صرف اتنا اشارہ کافی ہے کہ اس کے موجد اور اس کے استعمال کرنے کے پہلے شائقین جس نیت سے اس کا استعمال کرتے تھے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ صرف آپ کے برحق پر ایک بات یاد آتی ہے۔ وہ سنائی جاتی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے بارہ میں فرمایا: ”کانا علی الحق“ (کہ یہ دونوں حق پر تھے ) یہ سب کی کتابوں میں موجود ہے۔ ایک شخص نے جس کو حضرت شیر خدا رضی اللہ عنہ کے اس فرمان سے اتفاق نہ تھا ، اس کا معنیٰ یوں کیا کہ: ”کانا غالبین علی الحق“ (کہ یہ دونوں بزرگ حق پر غالب آگئے تھے یعنی انہوں نے حق کو مغلوب کر ڈالا تھا ) ”سبحان اللہ العظیم“ کتنی دور کی کوڑی لائے ہیں۔ ممکن ہے کہ مولوی غلام مرشد صاحب بھی برحق کا معنیٰ یہی کرتے ہوں۔

ایک عجیب بات یہ ہے کہ اس بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ مسلمانوں میں مرزائیوں کا طبقہ پڑھا لکھا ہے۔ انہوں نے اس مسئلہ پر ایک بڑا بہترین رسالہ بھی لکھا ہے۔ لیجئے جناب! کیا مرزائیوں کا رسالہ لکھنے سے، برحق ہونا ثابت ہو گیا۔ معلوم نہیں، اس طرح مولوی صاحب موصوف نے مرزائیوں کی تعریف میں کیوں لذت محسوس کی اور حکومت کے بعد ان کا سہارا کیوں لیا؟ صرف مرزائیوں کا پروپیگنڈا منظور ہے۔ بہرحال مولوی غلام مرشد صاحب کا رویہ عام اہل اسلام کے خلاف رہا ہے اور اب تو ان کی طرف سے فتنوں کی تائید ہوتی رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے شر سے مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔ آمین!“

(ہفتہ وار خدام الدین لاہور، مؤرخہ ۸؍ستمبر ۱۹۶۱ء)

محرم ۱۳۸۲ھ سے ۱۳۸۳ھ، جمادی الاول بمطابق جولائی ۱۹۶۲ء سے اکتوبر ۱۹۶۲ء تک کی پانچ ماہی رپورٹ پر مشتمل دو صفحاتی خط مولانا محمد علی جالندھری نے مجلس کے معاونین کے لئے شائع فرمایا۔ ذیل میں وہ ملاحظہ کریں: اس میں مجلس کے تبلیغی اسفار کا حصہ دیکھ کر آپ اندازہ فرمائیں گے کہ مجلس کے شعبہ تبلیغ کی کتنی عظیم و وسیع خدمات ہیں۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۰۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مجلس کے شعبہ تبلیغ کی خدمات پر ایک نظر

باسمہ تعالیٰ و تقدس

مخدوم محترم عالی جناب ................................................ زید مجدکم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

دینی تبلیغ کا کام حقیقت میں اتنا اہم اور ضروری ہے کہ انبیاء علیہم السلام اس کام کے لئے مبعوث فرمائے گئے۔ اس مقدس ترین جماعت نے اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ میں بے انتہاء مصائب برداشت کئے۔ حتیٰ کہ اس راہ میں اپنی جانی قربانی تک پیش کر دی۔

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کے علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں۔ یعنی تبلیغ کی وراثت علماء امت کے سپرد کر دی گئی۔

بھری پڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمادے۔

طریق کے ساتھ کہ حسب ضرورت صرف فی سبیل اللہ اپنے خرچ پر باطل کے مقابلہ کے لئے کوئی نکلے، یہ بات موجود نہ تھی۔

اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمادے امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم کو کہ انہوں نے آج سے تیرہ برس پہلے صرف تبلیغی جماعت (مجلس تحفظ ختم نبوت) کی بنیاد ڈالی۔ جس جماعت نے تیرہ برس میں اسلام کی تبلیغ اور مرزائیت سے تحفظ کے لئے بڑی خدمات سرانجام دیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے ایسی جگہ بھی اپنے خرچ پر مبلغین بھیجے جاتے ہیں جہاں کوئی خرچ برداشت نہ کر سکے۔ چنانچہ ابھی چند روز کی بات ہے کہ احقر خود اور مولانا لال حسین صاحب اختر، جماعت کے خرچ پر دینی ضرورت کے لئے حیدر آباد پہنچے۔ امسال ضلع سرگودھا سے ایک پنشنر سرکاری ملازم راتوں رات ملتان پہنچے۔ ان کے گاؤں میں مرزائیوں نے مسلمانوں کو بہت تنگ کر رکھا تھا۔ لیکن میں خود، مولانا لال حسین صاحب، مولانا محمد لقمان صاحب داخلہ کی پابندی کی وجہ سے نہ جاسکے تھے، دوسرے مبلغین بھیجے گئے۔ بحمد اللہ! چار پانچ کنبے توبہ کر کے داخل اسلام ہوئے۔

دوسری دفعہ جب دوبارہ پروگرام بنایا گیا، میرا داخلہ پھر بند کر دیا گیا۔ قادیانی چونکہ حکومت میں اکثر ملازم ہیں، غلط رپورٹ کرا کے داخلہ بند کرا دیتے ہیں۔ ان مشکلات میں بھی ہم نے ہمت نہ ہاری اور کام جاری ہے۔ اس وقت جماعت میں مبلغین و مدرسین اور دفتری کارکنان کی تعداد ۲۴ ہے اور سالانہ خرچ تقریباً ۷۰۰۰۰ روپے ہے۔

مسلمانوں کا کوئی فرقہ دوسرے فرقہ کے خلاف چاہے کتنا ہی گند اچھالے، قانون حرکت میں نہیں آتا۔ لیکن مرزائیت کی وجہ سے مقدمات، داخلہ کی پابندیاں عائد ہوتی رہتی ہیں۔ گزشتہ دنوں میں جماعت کے مبلغین پر چھ چھ مقدمات مدت تک زیر سماعت رہے۔ بدنی سزا کے علاوہ مالی جرمانوں کی سزائیں بھی ہوئیں۔ قادیانیوں کو اب بھی دفتری اقتدار اتنا حاصل ہے کہ کراچی، سکھر، گوجرانوالہ میں ختم نبوت کے نام سے جلسہ جات کی اجازت نہ ملی۔ بلکہ بعض جگہ یہ کہا گیا: ”ختم نبوت کا لفظ چھوڑ دیا جاوے تو اجازت مل سکتی ہے۔“ انا للہ وانا الیہ راجعون! اندریں حالات جماعت کو مضبوط بنانا ہر مسلمان کا فرض اولین ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۰۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

گرامی قدر قابل صد احترام حضرت قبلہ امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری مرحوم کی وفات جماعت کے لئے سانحہ عظیمہ بن کر آئی ۔ جس سے ہم سب کے حوصلے متزلزل ہو گئے ۔ اللہ تعالیٰ نے غیبی امداد فرمائی ۔ ملک وملت کے علماء کرام مثلاً حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب درخواستی، حضرت مولانا شمس الحق صاحب افغانی اور ۲۵-۲۰ کے قریب دیگر بزرگان دین نے گزشتہ سال ختم نبوت کانفرنس ملتان میں شرکت فرما کر ہماری حوصلہ افزائی فرمائی اور ڈھارس بندھائی کہ یہ تبلیغی کام جاری رہنا چاہئے ۔ آپ ہمت نہ ہاریں۔ ہماری تمام ہمدردیاں مبلغین ومنتظمین کے ساتھ رہیں گی ۔ الحمدللہ کہ جماعت بدستور کام کرتی ہے اور مبلغین میں کوئی کمی نہیں ہوئی ۔ البتہ آمدنی میں کمی ضرور آئی ہے ۔ آپ سے دردمندانہ اپیل ہے کہ اس سال خود اور اپنے حلقہ اثر میں کوشش کر کے زیادہ سے زیادہ جماعت کی زکوۃ، خیرات سے امداد فرما کر مشکور فرماویں۔

محرم الحرام ۱۳۸۲ھ سے جمادی الاوّل ۱۳۸۲ھ تک پانچ ماہ کا مختصر خاکہ، کارگزاری اور آمد وصرف کا موازنہ تحریر خدمت ہے ۔ مفصل روئیداد ان شاء اللہ ! علیحدہ شائع کی جائے گی۔ کوئٹہ میں تین مبلغین دینی تبلیغ و تعلیم میں مصروف ہیں۔ ملتان میں دو مبلغین اور کراچی ، سکھر، گوجرانوالہ میں ایک ایک مبلغ کا قیام ہے ۔ بعض دینی مکتب بھی کام کر رہے ہیں۔ چار ماہ کے جلسہ جات اور تبلیغی دوروں کا اجمالی نقشہ حسب ذیل ہے :

اس کے علاوہ ہر سال شعبان اور رمضان المبارک میں حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر صدر المبلغین، فرقہائے باطلہ کی تردید کے لئے لاہور حضرت مولانا احمد علی صاحب اور خانپور حضرت مولانا محمد عبد اللہ صاحب درخواستی کے ہاں علمائے کرام کو تیاری کراتے رہے ہیں۔ امسال بھی مولانا موصوف کے سکھر شہر ، علی پور (ضلع مظفر گڑھ ) خانپور ، بہاول پور میں دس دس اور پندرہ پندرہ دن مقرر ہو چکے ہیں ۔ تاکہ وہاں کے علماء وطلباء اور جدید تعلیم یافتہ حضرات کو فتنہ مرزائیت وعیسائیت ودیگر فرقہائے باطلہ کی تردید کے لئے معلومات بہم پہنچائیں ۔ بحمد اللہ کہ ایسے پروگرام پر بزرگان دین نے بہت ہی خوشی اور رضا کا اظہار فرمایا ہے اور ہمیشہ دعاؤں سے یاد فرمایا ہے ۔ ویسے بزرگان دین نے اس بارے میں کافی خطوط کے ذریعہ سے شرف بخشا ہے ۔

تبلیغی مقامات کا نقشہ

نام اضلاع نام مقامات بہاول پور عثمان پور، اوچ شریف، کوٹلہ گاموں، عنایتی، احمد پور شرقیہ، گوڈڑی، بخشن خان، واہی جوگیاں، ڈیرہ نواب، قائم پور، خیر پور ٹامیوالی، بہاول پور بہاول نگر محمد پور سنساراں پشاور اکوڑہ خٹک، پشاور شہر جہلم للہ شریف، پنڈ دادنخان، چکوال، جہلم، منڈا چک، نورنگ، مرید درابی، کویاں جیکب آباد کندکوٹ جھنگ حویلی لال، جھنگ شہر حیدر آباد حیدر آباد شہر ڈیرہ غازی خان چوٹی زریں، مندوس والا، کوٹ ہیبت، ڈیرہ غازی خان شہر

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۰۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ڈیرہ اسماعیل خان پہاڑ پور، ٹانک، روڑہ رحیم یار خان خان بیلہ، فیروزہ، لیاقت پور، ظاہر پیر، تاج پور، بستی کورائی، اسلام پور راولپنڈی راولپنڈی شہر سرگودھا پھلروان، سرگودھا شہر، جھاوریاں، ناڑی، چک ۱۹ شمالی، بڈھیال، بھلوال، جوکہ، بنگلہ بھاگٹ، کوڑڈھی، خوشاب، کوٹ ملوکر، منڈھ رانجھا، سلانوالی، جابہ، چنیوٹ، سنگورا کا سیالکوٹ غوطہ فتح گڑھ، نارووال سکھر گھوٹکی، خان پور، غوث پور، پنوعاقل، سکھر شہر شیخوپورہ چوہڑکانہ کیمبل پور تلہ گنگ، حضرو، چکوالیاں گوجرانوالہ رسول نگر، گوجرانوالہ شہر گجرات تہال وعلاقہ کھاریاں، گجرات شہر لائل پور (فیصل آباد) سمندری، کمالیہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، لائل پور شہر لاہور لاہور شہر ملتان گڑھا ٹبل سنگھ، چک شیر خان، بوریوالہ، مخدوم رشید، کچا کھوہ، چک گاندھی والہ، چاہ چاندی والہ، ٹبہ سلطان پور، پیراں غائب، لگڑہٹہ، کوٹ لیکھر، چک ۶۵، بہاول پورگھلواں، عنایت پور، میلسی، ممتاز آباد، چک ۲۷۷، راج بھڑ، کہروڑ پکا، کنڈسرگانہ، جہانیاں، آراء واہن، ملتان شہر مظفر گڑھ بستی شمار، باز شریف، وسندے والی، محمودکوٹ، واڑیانوالہ، گرمانی، رنگ پور، کینجھر، ماڑہ، خان گڑھ، سناواں، کوٹ ادو، جتوئی، مظفر گڑھ شہر منٹگمری (ساہیوال) چیچہ وطنی، عارف والہ، کوٹلہ میرک، اوکاڑہ، چک ۱۱۶، حویلی لکھا میانوالی بھکر، چکڑالہ، تھمے والی، موسیٰ خیل، پپلاں، موچھ، دریا خان، کلورکوٹ، کندیاں، جنڈانوالہ، پنج گرائیں مظفرآباد (آزادکشمیر) مظفرآباد شہر میر پور خاص (سندھ) میر پور خاص شہر، میرواہ، کڑی نواب شاہ (سندھ) شہداد پور، پٹ عیدن

محرم الحرام تا جمادی الثانی خسارہ : ۱۲-۳۲۹۶ میں آپ اور آپ کے احباب سے ادب سے درخواست کرتا ہوں کہ امسال بہت توجہ سے مجلس تحفظ ختم نبوت کی امداد فرما کر مشکور فرماویں۔ امداد کی جملہ رقوم ہمارے کارکنان و مبلغین سے رسید لے کر دیں یا دفتر کے مندرجہ ذیل پتہ پر روانہ فرماویں۔ (مولانا) محمد علی جالندھری صدر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، بیرون لوہاری دروازہ ملتان ۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۰۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۶۲ء

کے

حالات و واقعات

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۰۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تاہم اس دور پرفتن اور جانگسل حالات میں مجلس تحفظ ختم نبوت نے فتنہ مرزائیت کو بھسم کرنے والی بھٹی میں برابر ایندھن جھونکنے کا عمل جاری رکھا۔ اس زمانہ میں تحریری طور پر بہت زیادہ کام ہوا۔ جس کی تفصیل بیان کرنا اس کتاب کا موضوع نہیں، تاہم جسے دلچسپی ہو وہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کی مطبوعہ کتاب ”قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت“ میں اس کی تفصیل ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی اسمبلی کے ممبر تھے۔ حضرت مفکر اسلام مولانا مفتی محمود کی قیادت و سیادت کا جمعیۃ علماء اسلام کو شرف حاصل تھا۔ اس بے دینی کے سیلاب کو روکنے کے لئے ان حضرات کی کاوشوں کی جھلک ترجمان اسلام لاہور کی فائلوں میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ حضرت قاضی احسان احمد، حضرت مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد حیات، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا محمد شریف بہاول پوری کی خطابت نے ملک بھر میں فتنہ قادیانیت کے خلاف امت کے محاذ کو سرگرم عمل رکھا۔ دینی مدارس کے جلسہ جات، عام تبلیغی اجتماعات اور مجلس کی کانفرنسوں میں شامل ہونے والوں کو ان حضرات کی خطابت نے سراپا عمل اور تحریک بنادیا۔ دیگر اہم واقعات کے علاوہ ۱۹۶۲ء میں یہ بھی ہوا کہ:

سرگودھا، قادیانی عبادت گاہ کیس

سرگودھا ڈویژن کے کمشنر ایس افضل آغا نے سرگودھا کے سرکردہ علماء اور معزز شہریوں کے ایک وفد کو یقین دلایا ہے کہ نیوسول لائنز کے علاقہ میں احمدیہ جماعت کی طرف سے عبادت گاہ تعمیر کرنے کے مسئلے پر غور و خوض کیا جائے گا اور جب تک کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا یہ تعمیر روک دی جائے گی۔ کمشنر نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ عید کے فوراً بعد کر دیا جائے گا۔ علماء کا یہ وفد ۱۴؍مئی ۱۹۶۲ء کو کمشنر سرگودھا ڈویژن سے ملا تھا۔ اس وفد میں دوسرے لوگوں کے علاوہ مسجد اہل سنت والجماعت کے خطیب سید حامد علی شاہ، جامع مسجد سرگودھا کے خطیب مفتی محمد شفیع، ملاں عبدالعزیز اور حاجی محمد مقصود بھی شامل تھے۔ علماء اور معززین کے وفد نے کمشنر کو آگاہ کیا کہ سرگودھا کے مسلمان قادیانیوں کی اس عبادت گاہ کی تعمیر پر غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔ کمشنر کو مزید بتایا گیا کہ سول لائنز میں جس جگہ عبادت گاہ تعمیر کی جارہی ہے، اس کے قریب ہی عیدگاہ واقع ہے۔ علاوہ بریں نزدیک ہی لڑکیوں کا گورنمنٹ ہائی سکول ہے۔ اس کے علاوہ قادیانیوں کی ایک عبادت گاہ پہلے ہی بلاک نمبر ۹ میں موجود ہے جو ان کی آبادی کے مطابق بہت کافی ہے۔ اس لئے ان کی جانب سے ایک اور عبادت گاہ تعمیر کئے جانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مسٹر افضل آغا نے وفد کے خیالات سننے کے بعد ارکان وفد کو یقین دلایا کہ اس بات کا فیصلہ ہونے تک کہ قادیانیوں کی یہ عبادت گاہ تعمیر ہونی چاہئے یا نہیں، اس کی تعمیر روک دی جائے گی اور اس کا فیصلہ عید کے بعد جلد ہی کر دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ کمشنر سرگودھا نے ۱۰؍ اپریل ۱۹۶۲ء کو قادیانی جماعت کی درخواست پر نیو سول لائن کے علاقہ میں عبادت گاہ کی تعمیر کے لئے پرائیویٹ الاٹمنٹ کے تحت چار کنال زمین ۱۳۸۸ روپے فی کنال کے حساب سے فروخت کرنے کی منظوری دے دی تھی اور قادیانیوں نے نہایت تیزی سے میونسپل کمیٹی سے نقشہ منظور کرا کر تعمیر شروع کر دی تھی۔

اسٹاف رپورٹر ”وفاق“ کی اطلاع کے مطابق کل شام تک تین فٹ تک قادیانی عبادت گاہ کا چبوترا تعمیر ہو چکا تھا اور جلد سے جلد تعمیر مکمل کرنے کے لئے دھڑادھڑ سامان لایا جارہا تھا۔ یادرہے کہ ۱۲؍مئی کو سرگودھا کے علماء اور معزز شہریوں کا ایک وفد جس میں ڈویژنل کونسل کے ایک رکن آل احمد بھی شامل تھے، میانوالی میں کمشنر سرگودھا ڈویژن سے ملا تھا۔ لیکن انہوں نے وفد کو سرگودھا ملنے کے لئے کہا تھا۔

گزشتہ جمعہ کو سرگودھا شہر اور چھاؤنی کی تمام مساجد میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں اس بات پر گہرے غم وغصہ کا اظہار کیا گیا کہ قادیانیوں کو ان کی عبادت گاہ کی تعمیر کے لئے زمین دے دی گئی ہے اور حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ زمین کی فروخت فوراً منسوخ کر دی جائے۔ اس سلسلہ میں معزز شہریوں کا ایک وفد گزشتہ جمعرات کو ڈپٹی کمشنر سرگودھا چوہدری محمد اسلم باجوہ سے بھی ملا تھا۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۰۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چوہدری ظفر اللہ پرامید ہیں

نیویارک:مؤرخہ ۱۶؍ مئی ۱۹۶۲ء۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے چوہدری سر ظفر اللہ نے جو کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کے عہدہ کے لئے امیدوار ہیں، آج یہاں کہا کہ مجھے اس عہدہ کے لئے بہت زیادہ ممالک کی حمایت حاصل ہے۔

(و-ا،امریکہ)

سرگودھا:مؤرخہ ۷؍ مئی ۱۹۶۲ء، جون ۱۹۶۲ء میں مغربی پاکستان اسمبلی کا اجلاس تھا۔ مولانا غلام غوث ہزاروی نے اس مسئلہ سمیت جو سوالات اسمبلی کو بھجوائے ، وہ یہ ہیں:

صوبائی اسمبلی میں سوالات کرنے کا نوٹس

از حضرت مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی (ایم. پی. اے)

حضرت مولانا غلام غوث صاحب ممبر پراونشل اسمبلی مغربی پاکستان نے مندرجہ ذیل سوالات کرنے کا نوٹس دیا ہے:

بخدمت جناب سیکرٹری صاحب پراونشل اسمبلی مغربی پاکستان! میں بذریعہ تحریر ہذا آپ کو نوٹس دیتا ہوں کہ میں صوبائی اسمبلی میں مندرجہ ذیل سوالات کروں گا:

سوال: کیا وزیر متعلقہ از راہ نوازش یہ بتائیں گے کہ ملک میں اکثریتی فرقے کے عوام وخواص اور حکام فرقہ وارانہ تعصب سے علیحدہ ہوکر پوری احتیاط سے کام کرتے ہیں اور اقلیت سے تعلق رکھنے والے بعض حکام اپنے مخصوص فرقوں کی غلط حمایت اور بے جا رعایت کرتے ہیں، جس سے وہ عوام میں حکومت کے خلاف غلط رائے قائم کرنے کا باعث بنتے ہیں؟

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۰۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دی گئی اور بعض اضلاع کے افسروں نے کھلم کھلا ان کی حمایت کا پارٹ ادا کیا ہے؟

رنڈیوں کی تعداد ۳۵ ہزار کے لگ بھگ ہے؟

جس طرح راولپنڈی والی بسوں کو ہزارہ جانے کی اجازت ملی ہے؟

باوجود وعدہ کے کیوں نہیں ملا؟

حالات اور کم آمدنی سے متاثر ہو کر ہزارہ کی مشکلات کا اعتراف کیا۔ پھر باوجود اس کے دوسرے میدانی علاقہ کی طرح ہزارہ ٹرانسپورٹ پر بھی دس روپے فی سیٹ ٹوکن ٹیکس کی بجائے یکدم چالیس روپے فی سیٹ کر دیا گیا۔ جس سے ہر ایک مالک کو سالانہ ہزاروں روپوں کا زیر بار ہونا پڑتا ہے۔ کیا حکومت مارشل لاء سے پہلے کے ٹوکن ٹیکس پر اس خطرناک اضافہ کو منسوخ کر کے ضلع ہزارہ کی داد رسی فرمائے گی؟

میں مناسب کمی کرنے کو تیار ہے؟

اور مولوی فاضل کو ۱۹۵۵ء سے نئے گریڈس لسٹ کے مطابق تنخواہیں دی گئی ہیں؟

طرح ہے اور وہاں پنجاب کی طرح دو سال کے بعد او. ٹی کی سند کی ضرورت نہیں سمجھی جانی چاہئے؟

لئے اڑھائی ہزار کے خرچ سے مکان بنوایا ہے اور مسجد کے لئے خیمہ اب تک کرایہ پر لیا جاتا ہے جس سے محکمہ کا غلط خرچ ہو رہا ہے؟

العبد: (مولانا) غلام غوث ہزاروی (ایم. پی. اے) ناظم اعلیٰ جمعیت علماء مغربی پاکستان ساکن: ضلع ہزارہ، مورخہ ۱۵؍جون ۱۹۶۲ء

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۰۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۷۳ء

کے

حالات و واقعات

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۱۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سکندر مرزا یکے از قاتلان تحریک ختم نبوت ہے۔ اس کے متعلق آغا شورش ایک شذرہ تحریر فرماتے ہیں:

سکندر مرزا قومی غدار

”برسوں کے بعد سکندر مرزا کا نام نیشنل اسمبلی میں جمہوریت کے ایک قاتل کی حیثیت سے لیا گیا ہے۔ مشرقی پاکستان کے ایک ممبر مسٹر ایم ۔ اے رشید نے بنیادی حقوق کے بل پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسا شخص جس نے اپنی ذاتی اغراض کے لئے عوام کے تمام بنیادی حقوق سلب کر لئے، آئین کو منسوخ کر ڈالا، اسے زرمبادلہ مہیا کرنا غریب عوام سے بے انصافی ہے۔ اس شخص کے خلاف بدعنوانیوں کے جرم میں مقدمہ چلنا چاہئے تھا، نہ کہ اسے وہ مراعات دی جائیں جس سے جمہوریت کا یہ قاتل متمتع ہو رہا ہے۔

یہ ایک ایسا مطالبہ ہے کہ ہم اس کی حرف بحرف تائید کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ افسوس ہے کہ قومی اسمبلی نے بہت دیر بعد اس کا نوٹس لیا ہے اور وہ بھی حزب اختلاف کے ایک فرد کو یہ نعرہ مستانہ بلند کرنے کی توفیق ہوئی ہے۔ حالانکہ اس ملک کے ساتھ جو سلوک اس بدبخت انسان نے کیا ہے اس کا تقاضا تھا کہ اس شخص کو عبرتناک سزا دی جاتی۔ انگریزوں کا یہ پروردہ جس نے تمام عمر آقایان ولی نعمت کی دم سے بندھے رہنا اپنے لئے مایہ افتخار سمجھا جو نہ صرف نسلاً بعد نسل قومی غدار تھا بلکہ اس ملک اور اس قوم کی سیاہ بختی کے باعث حکمران بن بیٹھا اور ملک کو ایک خطرناک ویرانے تک لے آیا تھا۔ ہم ذاتی معلومات کی بنا پر کہہ سکتے ہیں کہ:

اور سازشیوں کا اڈہ بنا ہوا تھا۔

ہوتے تھے۔

جس کے ذہنی اثرات آج بھی موجود ہیں۔ لیکن بفضلِ تعالیٰ یہ بلا ٹل چکی ہے۔

شخص کو لاہور گورنمنٹ ہاؤس میں اس وقت نشہ میں چور شہدائے ختم نبوت کو گالیاں بکتے پایا ہے جب یہ محض سیکرٹری تھا اور لاہور کا دامن مسلمانوں کے لہو سے گلگوں ہورہا تھا۔

پھر اس کو راتوں رات ملکہ بنا ڈالا اور ہمارے ملک کے کسی گوشے کو اس پر حیا وحجاب محسوس نہ ہوا۔

صحیح تو یہ تھا کہ اس شخص کو انقلابی حکومت گولی سے اڑا دیتی۔ لیکن اسے قومی سرمایہ سے زرمبادلہ دیا گیا۔ آخر کیوں؟

(ہفتہ وار چٹان لاہور، مورخہ ۲۵ / مارچ ۱۹۶۳ء)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۱۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حکومت اور فرقہ واریت کے متعلق حضرت مفتی محمود و حضرت جالندھری کی پریس کانفرنس

ملتان: مورخہ ۲۵؍اپریل (اسٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی کے رکن مولانا مفتی محمود اور صدر مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا محمد علی جالندھری نے آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی حکام سے مطالبہ کیا کہ فرقہ وارانہ اتحاد کے لئے چند سال قبل جو مجلس ’’مجلس اخوت اسلامیہ‘‘ کے نام سے تشکیل کی گئی تھی، اسے دوبارہ زندہ کیا جائے۔ دونوں علماء نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ حکومت جان بوجھ کر فرقہ وارانہ تنازعات کو ہوا دے رہی ہے تاکہ مولوی مشہور ہو کر بدنام ہو جائیں اور انہیں رائے عامہ کی حمایت حاصل نہ رہے۔ مولانا محمد علی نے بتایا کہ چند سال قبل مجلس اخوت اسلامیہ کے نام سے ایک مجلس تشکیل کی گئی تھی، جس میں دیوبندی اور بریلوی مکتبہ فکر کے علماء شامل تھے۔ اس میں باہمی اتحاد کی جو شرائط طے کی گئی تھیں وہ یہ تھیں کہ ہر فریق اپنے مسلک کے مطابق تقریر کرے گا، لیکن اسے دوسرے فریق کے عقائد سے موازنہ کر کے تذلیل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کوئی فریق دوسرے فریق کے بزرگوں کی کتابوں کے حوالے دے کر تردید نہیں کرے گا۔ ملتان کی جس مسجد میں جس مکتب فکر کا امام ہوگا اسی مکتب فکر کے لوگ باجماعت نماز پڑھ سکیں گے۔ امام دوسرے مکتب فکر کے لوگوں کو نماز پڑھنے سے نہیں روک سکے گا، لیکن وہ باجماعت نماز نہیں پڑھ سکیں گے۔ صرف انفرادی طور پر نماز پڑھنے کی اجازت ہوگی۔ ایک فرقہ کے امام مسجد کو دوسرے فرقہ کے لوگ نہیں نکال سکیں گے۔ مجلس انتظامیہ اگر چاہے تو امام کو مسجد چھوڑنے کی ہدایت کر سکتی ہے۔ اگر امام مسجد نہ چھوڑے تو مجلس انتظامیہ کو دیوانی مقدمہ کر کے مسجد خالی کرانی ہوگی۔ امام کو زبردستی نہیں نکالا جائے گا۔ جہاں کشیدگی کا خطرہ ہو، وہاں پولیس اس فریق کا چالان نہیں کرے گی جس فریق کا امام مسجد ہوگا، بلکہ دوسرے فریق کے لوگوں کا چالان کیا جائے گا۔ آخری شرط یہ تھی کہ اگر کوئی باہر کا عالم اس فیصلے کے خلاف تقریر کرے تو اسی فرقے کا مقامی عالم تردید میں تقریر کرے گا۔ مولانا جالندھری نے کہا کہ اس مجلس میں دیوبندی اور بریلوی دونوں مکاتب فکر کے علماء شامل تھے۔ کافی عرصہ تک اس مجلس کی کوششوں کے باعث کوئی دل آزار بات نہ ہوسکی، لیکن بعد میں پھر وہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اس مجلس کو دوبارہ زندہ نہ کیا جائے، فرقہ وارانہ فضا خراب رہے گی۔ آپ نے کہا کہ ضابطہ فوجداری میں ۲۹۵۔اے اور ۲۹۸ کے دو ضابطے موجود ہیں، جن کے تحت دل آزار بات کرنے والے کے خلاف مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔ لیکن حکومت نے ان دو ضابطوں کے تحت آج تک کوئی مقدمہ درج نہیں کیا۔ ہم جب مرزائیوں کے خلاف کوئی بات کرتے ہیں تو حکومت ان ضابطوں کے تحت مقدمہ درج کرتی ہے، لیکن باقی کسی فرقے کے بارے میں قانون حرکت میں نہیں آتا۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت دو فرقوں کے افراد کو لڑا رہی ہے تاکہ ملک کا ذہن طبقہ علماء کو فسادی قرار دے کر انہیں عوامی تائید سے محروم کر دے۔

(نوائے وقت مورخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۶۳ء)

صوبائی حکومت نے مدیر ہفتہ وار چٹان لاہور کو ایک نوٹس بھیجا جس پر موصوف نے ذیل کا آرٹیکل تحریر فرمایا:

چٹان، قادیانی اور سرکار

صوبائی گورنمنٹ کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کی ہدایات پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لاہور نے ایڈیٹر ’’چٹان‘‘ کو اپنے دفتر میں بلا کر ۲۵؍ جون کی صبح کو وارننگ دی ہے کہ قادیانی نبوت اور اس کے اعوان وانصار کی بابت کچھ نہ لکھے، کیونکہ اس سے مسلمانوں کے مابین مغائرت بڑھتی

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۱۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہے ۔ اس خط میں (بحوالہ ۱۱/۶۳ N.S.L /۳، مورخہ ۱۲/جون) افسر مجاز نے لکھا ہے کہ:

کیا گیا تھا کہ وہ دیوبندی اور بریلوی مناقشہ میں دو ماہ تک حصہ نہ لے۔

یکم /اپریل کے شمارہ کا ایک مقالہ قادیانی امیر المؤمنین جو سید سرور شاہ گیلانی ایڈیٹر ”الجماعت“ کراچی کے قلم سے ہے اور ان کے پرچہ ہی سے نقل کیا گیا ہے، قابل اعتراض قرار دے دیئے گئے ہیں۔

اب ذرا اہل کاروں کی اہل کاری ملاحظہ ہو:

غلطی قرار دے کر کچھ عرض نہیں کرتے۔ تاہم اپنی جگہ یہ غلطی نظر انداز کئے جانے کے قابل نہیں۔

سے دو اور ایک ماہ پہلے کے ہیں۔ فرمائیے! رخ موڑنے کا الزام کیونکر وارد ہوتا ہے؟ ہم یہ سمجھیں کہ:

لطف کی بات یہ ہے کہ ۳/مئی کے بعد محض اتفاق سے قادیانی امت، ان کے مصنوعی نبی اور بناوٹی خلیفہ کی بابت ”چٹان“ میں کوئی سا مضمون بھی نہیں چھپا۔

ان واضح حقائق کے بعد وارننگ کا سارا مفہوم غارت ہو جاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کے کسی ماتحت شعبہ میں جیسے کوئی صاحب ہمارے خلاف کسی خفی اشارہ پر مواد فراہم کر رہے ہیں۔ جو لازماً اسی طرح کے جھوٹ کا پلندہ ہو گا۔ جہاں تک مسلمانوں کے دوسرے فرقوں کا تعلق ہے، ان میں اختلاف فروعی ہیں۔ ان فروعات کے باوجود سب سرور دوجہاں کے حلقہ بگوش ہیں۔ جو شخص ان میں سے کسی فرقے کو مناقشہ کی راہ پر لاتا، وہ اتحاد بین المسلمین کو تباہ کرتا ہے۔ یہ اتحاد ملک و ملت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتا ہے اور اس عنوان سے ہم حکومت کے ہم آواز ہیں، بلکہ مسلمانوں کے قومی اتحاد کو اپنا جزو ایمان سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں شیعہ و سنی فساد سے بے حد قلق ہوا اور ہم اس اتحاد کو جان ہار کر بھی حاصل کرنے کے حق میں ہیں۔ لیکن مرزائیوں کا معاملہ مختلف ہے۔ انہیں پاکستان کے شہری کی

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۱۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حیثیت سے قانون و انصاف کے پورے مواقع اور ضمانت حاصل ہونی چاہئے۔ ان کی عزت و آبرو پر کوئی انگشت نما ہو تو قرار واقعی سزا کا مستحق ہے۔ لیکن جیسا کہ تمام دنیائے اسلام کے علماء کا متفقہ فیصلہ ہے: وہ خارج از اسلام ہیں۔ ہم انہیں مسلمان نہیں سمجھتے اور نہ ان کے مرزا بشیر الدین کو امیر المومنین، انہیں امیر المومنین لکھنا مسلمانوں کی دل آزاری کا باعث ہے۔ تمام قادیانی جرائد اپنے متنبی کی بیگم کو امہات المومنین لکھتے اور وہ تمام القابات و خطابات سرقہ کرتے ہیں جو حضور ﷺ کے صحابہ واہل بیت ؓ کے لئے مخصوص ہیں۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ اس دل آزاری کا نوٹس کیوں نہیں لیتا؟ نوٹس کے لئے اسے صرف مسلمانوں ہی کے جرائد نظر آتے ہیں۔ ’چٹان‘ کے ’’ختم نبوت نمبر‘‘ میں علامہ اقبال کا تاریخی مضمون درج تھا کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت قرار دیا جائے۔ قادیانی امیر المومنین ’’الجماعت‘‘ کراچی کے ایڈیٹر سید سرور شاہ کے قلم سے ایک مختصر مضمون ہے۔ جس میں یہی کہا گیا ہے کہ مرزا بشیر الدین محمود کے نام کے ساتھ امیر المومنین نہ لکھا جائے، کیونکہ یہ عام مسلمانوں کی دل آزاری کا باعث ہوتا ہے۔

معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی امت مختلف دفتروں میں موجود ہے اور وہ اپنے حق میں اس قسم کی فضا پیدا کرتی رہتی ہے۔ ہر قادیانی خواہ وہ جنرل اسمبلی کا صدر ظفر اللہ خان ہو، خواہ صدر مملکت کے پرسنل سیکرٹری سر فاروقی، خواہ فنانس سیکرٹری مسٹر مظفر احمد، خواہ پولیس کے کسی شعبہ میں کوئی قادیانی آفیسر، سب اپنے داؤں پر رہتے ہیں اور کسی حالت میں بھی اپنے متنبی اور اس کی امت کی بہبود و نگہداشت ترک نہیں کرتے۔ یہ لوگ اپنے مناصب سے فائدہ اٹھا کر اپنے ساتھ کے مسلمان افسروں کی مذہب سے لاتعلقی کو متأثر کرتے ہیں اور وہ غلطی سے انہیں مسلمان ہی سمجھتے ہیں۔

رواداری بڑی اچھی چیز ہے۔ لیکن اس لفظ کا استعمال غلط ہو رہا ہے۔ کیا کوئی شخص چور یا قاتل سے رواداری برتے گا؟

قادیانی اسلام کے سارق اور ختم نبوت کے غاصب ہیں۔ ایک ایسی جماعت جو حضور ﷺ کی ختم المرسلینی میں نقب لگاتی ہو، ہم سے کس رواداری کا مطالبہ کرتی ہے؟ پھر اس مطالبہ سے رواداری کہاں ختم ہوتی ہے کہ قادیانی امت کو مسلمانوں سے الگ ایک جماعت قرار دیا جائے۔ یہ عین رواداری ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ وہ نمازوں میں ہم سے الگ، ربوہ ان کا الگ، اپنے امیر کے سوا کسی دوسرے مسلمان کو امیر نہ مانیں، سب مسلمانوں کو کافر گردانیں۔ لیکن ملازمتوں میں مسلمانوں کے حقوق سے فائدہ اٹھائیں۔ ...... کیوں؟ ہر چیز میں ان سے رواداری برتی جاسکتی ہے، لیکن عقائد میں نہیں، اور اس سے کوئی مناقشہ پیدا نہیں ہوتا۔ قادیانی پاکستان کے شریف شہری بن کر رہیں، ہمیں کوئی تعرض نہیں۔ ہم ان کی عزت و آبرو کے بھی محافظ ہیں۔ مگر ان کی نبوت اور اس کا کاروبار ہمارے لئے سخت ذہنی اذیت کا باعث ہے۔ اب اگر ہم اس کا نوٹس لیتے ہیں تو ہمیں نوٹس جاری کیا جاتا ہے کہ اس سے فرقہ واریت کو ہوا ملتی ہے۔ حالانکہ قادیانی سرے سے مسلمانوں کا فرقہ ہی نہیں۔

حکومت بعض نامعلوم وجوہ کے باعث ابھی اس چیز کو نہیں سمجھ رہی۔ لیکن اس کو جلد احساس ہوگا کہ اس امت نے اندر ہی اندر نقب لگا کر کیا گل کھلا رکھا ہے اور اس کے دماغی ارادوں کا پس منظر کیا ہے؟ بہرحال ہوم ڈیپارٹمنٹ کا فرض ہے کہ وہ چٹان کے خلاف غلط وارننگ کے مواد جمع کرنے والے فرد یا گوشہ سے باز پرس کرے کہ اس نے ایک غلط بنیاد کس طرح قائم کی؟

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۱۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۱۱۴ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دوم: قادیانی امت کو مسلمانوں کا فرقہ نہ سمجھا جائے۔ اسے روکا جائے کہ وہ مسلمانوں کی مقدس اصطلاحات والقابات کو اپنے وجود پر چسپاں نہ کرے۔ اس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔

سوم: حکومت کو صرف وہاں ہاتھ بڑھانا چاہئے جہاں امن عامہ میں خرابی پیدا ہونے کا احتمال ہو، یا لاء اینڈ آرڈر کی نزاکتیں ملوث ہوتی ہوں۔ مرزا بشیر الدین محمود اور اس کی امت کے دینی تعاقب سے عامۃ المسلمین کو روکنا غلط ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہم نے وارننگ کے اس کاغذ پر بھی احتجاج کر دیا تھا اور اس کے بعد ایک ذاتی خط میں بھی اپنے عقائد کی ابدیت کو ہوم سیکرٹری پر واضح کر دیا ہے۔

(ہفتہ وار چٹان مؤرخہ یکم جولائی ۱۹۶۳ء)

داتا ضلع ہزارہ کا شہر کفر و ارتداد کی لپیٹ میں

ضلع ہزارہ تحصیل مانسہرہ کا یہ گاؤں داتا ایک پرانا شہر ہے جو اپنی آب و ہوا کی نفاست کی بناپر بہترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس شہر کو بڑی بزرگ اور بلند سیرت ہستیوں نے شرف سکونت بخشا اور بہت سے اولیاء کبار نے یہاں کے رہنے والے کو اپنے فیوض و برکات سے نوازا۔ لیکن ہر جا کہ گل است خار است! آج کل مرزائیت کے زہریلے جراثیم نے اس شہر کے مسلمانوں کو بری طرح متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس وقت شہر کے چند با اثر افراد کی خطرناک مرزائیت نواز بلکہ مرزائیت ساز پالیسی سے اب سارے کا سارا شہر کفر و ارتداد کی لپیٹ میں ہے۔ انتہائی افسوس ناک موجودہ صورت جو پیدا ہو گئی ہے وہ یہ کہ اس شہر کے پیر حضرات اور دیگر مسلمانوں سے مرزائیوں نے رشتے ناتے لینے دینے شروع کر کے اپنے کفر و اسلام کی بحث کو ختم کر دیا ہے۔ سرکاری اثر و نفوذ کے بل بوتے پر ملازمت کی طمع اور اپنی سرمایہ داری سے متاثر کر کے شہر کے با اثر شخص پیر معظم شاہ صاحب اور خطیب شہر فرید الدین صاحب کو اپنے حق میں انتہائی مرزائیت نواز بنا لیا ہے۔ پیر معظم شاہ صاحب کے لڑکے کی منگنی قادیانیوں نے اپنے گھر سے کرا دی ہے۔ شادی عنقریب ہونے والی ہے اور خطیب صاحب فرید الدین کے چھوٹے بھائی کو قادیانیوں نے اپنی لڑکی کا رشتہ دینے کی بات چیت مکمل کر لی ہے۔ مرزائیوں نے سرکاری اثر و نفوذ اور ملازمت و سرمایہ داری کے بل بوتے پر ان دو حضرات کو پورے طور پر قبضے میں کر کے تبلیغ مرزائیت کی آسانی کے لئے اس طرح راستہ ہموار کر لیا ہے کہ سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کا سوال ہی باقی نہ رہ سکے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ شہر داتا کی جامع مسجد ہے تو اہل سنت والجماعت کی، مگر اس میں اب مرزائیت کے خلاف بات تک کرنا ممنوع ہو چکا ہے۔ اس نازک وقت میں علمائے کرام کی توجہ کی اشد ضرورت ہے۔ اس لئے اس علاقہ کے علماء کرام کی خدمت میں بالخصوص اور ملک کے دوسرے علماء کرام کی خدمت اقدس میں بالعموم دردمندانہ گزارش ہے کہ بہت جلد اس علاقہ کی طرف توجہ فرمائیں۔ بالخصوص اس شہر کے مسلمانوں کو کفر و ارتداد کی لعنت سے محفوظ رکھنے کی ابھی سے کوشش فرمائیں۔ ورنہ کچھ عرصہ بعد اس فتنہ کا شکار ہونے والے افراد کا تدارک مشکل ہو جائے گا۔

(ہفتہ وار خدام الدین لاہور، مؤرخہ ۲۶؍ جولائی ۱۹۶۳ء)

برما رنگون میں مرزائیت کا احتساب

”روزنامہ پرواز رنگون کی اطلاع کے مطابق سابق وزیر صنعت و محنت اور سیاست کے سر این ۔ اے خان قادیانی کا رنگون میں انتقال

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۱۵

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہوا۔ اس کی قبر مسلمانوں کے قبرستان میں کھودی گئی۔ مسلمانوں کی مسجد سے نہلانے کا تختہ دیا گیا۔ ایک مسلمان مؤذن نے اسے غسل دیا۔ جونہی مسلمانوں کو پتہ چلا، قبر بند کر دی گئی۔ غسل کا تختہ جلا کر خاکستر کر دیا گیا۔ مؤذن کو مسجد سے فارغ کر دیا گیا اور بعد میں توبہ کرنے پر اس کا دوبارہ نکاح پڑھا گیا۔ جنازہ میں شریک ہونے والے مسلمانوں کا تجدید ایمان و تجدید نکاح کیا گیا۔ یہ منظر قابل دید تھا۔ این۔اے خان قادیانی کے ساتھ ہی قادیانیت کا جنازہ بھی نکل گیا۔ اس سلسلہ میں جمعیۃ علماء برما کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ تفصیلات از

(روزنامہ پرواز رنگون، اشاعت ۹، ۱۰؍ ستمبر ۱۹۶۳ء)

رنگون میں لاہوری مرزائی محمد علی کا ترجمہ شائع ہوا۔ اس پر جمعیۃ علماء برما سراپا احتجاج بن گئے۔ مسلمان قادیانیوں کے خلاف سراپا تحریک بن گئے۔ مرزائیت دم بخود ہو گئی۔

(روزنامہ دورِ جدید رنگون مؤرخہ ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۶۳ء)

مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ربوہ کے مقابلہ میں ہر سال چنیوٹ میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوتی تھی۔ ۱۲؍ ویں سالانہ کانفرنس کا اشتہار خدام الدین لاہور میں شائع ہوا۔

۲۷، ۲۸، ۲۹؍ دسمبر ۱۹۶۳ء، جمعہ، ہفتہ، اتوار

تحفظ ختم نبوت ۱۲؍ ویں سالانہ کانفرنس چنیوٹ

جس میں نامور علمائے امت، زعمائے ملت اور شعرائے کرام ایمان پرور خطاب فرمائیں گے۔

مجلس تحفظ ختم نبوت چنیوٹ۔

(خدام الدین لاہور، مؤرخہ ۲۷؍ دسمبر ۱۹۶۳ء)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۱۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۸۲ھ، مطابق جون ۱۹۶۲ء تا مئی ۱۹۶۳ء

ذیل میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی ۱۳۸۲ھ کی روئیداد کا مقدمہ دیا جارہا ہے۔ یہ مولانا محمد شریف جالندھری کا مرتب کردہ ہے۔ یہ جون ۱۹۶۲ء سے مئی ۱۹۶۳ء محرم الحرام تا ذی الحجہ ۱۳۸۲ھ کے حالات پر مشتمل ہے۔ ابتدائیہ کے بعد حالات ملاحظہ فرمائیے اور اپنے ایمان کو جلا بخشئے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نحمده ونصلى علٰے رسوله الكريم . اما بعد !

حفاظت ختم نبوت کی اہمیت اور بشارتیں

اسلام کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضور سرور کائنات، سید الاولین والآخرین، خاتم النبیین، رحمت للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم نبوت پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی بیسیوں آیات میں متعدد عنوانات سے ختم نبوت کے ناقابل تردید دلائل پیش کئے۔ خود حضور سرور کائنات ﷺ نے اپنی امت کو ختم نبوت کا عقیدہ ذہن نشین کرانے کے لئے مختلف عبارات اور مختلف انداز میں دو سو سے زائد احادیث میں اس مسئلہ کی وضاحت فرمائی۔ حضرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مسیلمہ کذاب، اسود عنسی اور سجاح کے دعویٰ نبوت کے مقابل حضور ﷺ کی ختم نبوت پر قولی و فعلی اجماع کا اعلان کیا۔ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام نے قطعی فیصلہ کر دیا کہ: ”دعویٰ النبوة بعد نبيناﷺ كفر بالاجماع“ ہمارے نبی ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ باجماع امت کفر ہے۔

گزشتہ صدی میں مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز کے قانون اور اس کی پولیس کی حفاظت کے سایہ میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ علماء کرام اور صوفیاء عظام نے اس نئی نبوت کی سرکوبی اور ختم نبوت کی حفاظت کے لئے بیش بہا خدمات انجام دیں۔ سینکڑوں کتابیں اور ہزاروں اشتہارات شائع کئے۔ پاک و ہند کے گوشہ گوشہ میں ختم نبوت کا پیغام پہنچایا۔ قادیانی نبوت کے استیصال کے سلسلہ میں نظر بندیوں، ضمانت کی ضبطیوں اور قید و بند کے بے پناہ مصائب برداشت کئے۔ تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد کا دھندلا سا نقشہ پیش کرنے کے لئے سینکڑوں صفحات لکھے جاسکتے ہیں۔ اس روئیداد میں عدم گنجائش کی وجہ سے ان حضرات کے چند واقعات و ارشادات پیش کئے جاتے ہیں۔

حضرت گنگوہی

قطب العالم، زبدۃ العارفین، حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی نے تقاریر اور فتاویٰ کے ذریعہ اس فتنہ عظیمہ کی مقدور بھر تردید فرمائی اور اپنے شاگردان رشید و متوسلین حضرات کو اس کے استیصال کی وصیت فرمائی۔

حضرت تھانوی

حکیم الامت، مجدد ملت، حضرت شاہ محمد اشرف علی صاحب تھانوی نے فتاویٰ اور مواعظ سے قادیانی متنبیٰ کی حقیقت عامۃ المسلمین پر آشکار کی۔ الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح جیسی بلند پایہ کتاب تصنیف فرمائی۔ حضرت مولانا مرتضیٰ حسن، حضرت مولانا اسعد اللہ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۱۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سہارنپوری، حضرت مولانا محمد منظور نعمانی، حضرت مولانا ابوالوفاء شاہجہان پوری، جنہوں نے ہندوستان میں مرزائی مبلغین کا ناطقہ بند کر دیا تھا، حضرت تھانوی کے متوسلین میں ہیں۔ حضرت والا ان حضرات کی تردید مرزائیت کی سرگرمیوں کو سراہتے اور ان کے لئے دعا فرماتے۔

مولانا لال حسین صاحب اختر سابق مبلغ جماعت مرزائیہ نے مرزائیت ترک کی اور حضرت کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ آپ نے نہایت شفقت و محبت کا اظہار فرمایا۔ ان سے مرزائیوں کے مناظروں اور مرزائی مناظرین کی ذلیل ترین شکستوں کی روئیداد سن کر مسرت کا اظہار فرمایا اور دعا کے بعد انہیں فرمایا کہ آپ تحفظ ختم نبوت اور مرزائیت کی تردید کر کے عظیم دینی فریضہ ادا کر رہے ہیں اور یہ دونوں امور عبادت ہیں۔ ان میں شرک کا شائبہ نہ ہونا چاہئے۔ کیونکہ جس عبادت میں شرک ہو، اللہ تعالیٰ اسے قبول نہیں فرماتا اور اس میں شرک یہ ہے کہ تقریر یا مناظرہ کے وقت دل میں خیال آئے کہ لوگ میرے وعظ یا مناظرہ سے خوش ہوں۔ اگر باوجود کوشش کے یہ خیال دل سے نہ نکل سکے تو یہ تخیل کر لیا کیجئے کہ میرے وعظ اور مناظرہ سے مسلمان خوش ہوں، کیونکہ مؤمن کی خوشی سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے۔ تحفظ عقیدہ ختم نبوت اور تردید مرزائیت کی وجہ سے حضرت والا زندگی بھر مولانا لال حسین صاحب اختر کی امداد فرماتے رہے۔

حضرت کو علم ہوا کہ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے زیر اہتمام شعبہ تبلیغ مجلس احرار اسلام قادیان میں تبلیغی وتدریسی خدمات انجام دے رہا ہے، مبلغین اسلام کی ایک جماعت قادیان اور اس کے مضافات میں تحفظ ختم نبوت اور تردید مرزائیت کا فریضہ ادا کر رہی ہے تو حضرت حکیم الامت نے شعبہ تبلیغ مجلس احرار کی رکنیت قبول فرما کر پچیس سال کا زر رکنیت پیشگی عطا فرما دیا۔

حضرت مولانا سید انور شاہ صاحب

فخر المحدثین حضرت مولانا سید انور شاہ صاحب کی زندگی کا اہم ترین مقصد تحفظ ختم نبوت تھا۔ آپ نے تردید قادیانیت کے لئے ”اکفار الملحدین“، ”عقیدۃ الاسلام“ اور ”خاتم النبیین“ جیسی لاجواب کتب تصنیف فرمائیں۔ اپنے شاگردان رشید کو ”دعوت حفظ ایمان“ کا پیغام دیا جو حسب ذیل ہے:

دعوت حفظ ایمان

از: حضرت مولانا انور شاہ کشمیری قدس سرہ

”حامداً ومصلياً ومسلماً! السلام علیکم یا اهل الاسلام ورحمة الله وبركاته“

محمد انور شاہ کشمیری عفا اللہ عنہ بحیثیت ایمان و اسلام واخوت دینی اور امت مرحومہ محمدیہ ﷺ کے اعضاء ہونے کے لحاظ سے کافہ اہل اسلام، خواص وعوام کی عالی خدمت میں عرض گزار ہے کہ اگرچہ فتنے، طرح طرح کے حوادث اور وارداتیں اس دین سماوی پر وقتاً فوقتاً گزرتی رہی ہیں اور باوجود اس کے کہ آخری پیغام خدائے برحق کا یہ ہے کہ: ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا“ آج کے دن میں نے دین تمہارا کمال کو پہنچایا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور اسلام پر ہی تمہارا دین ہونے کے لئے راضی ہوا۔

”ما کان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شئ عليما“ نہیں محمد ﷺ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۱۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کسی کے باپ تمہارے مردوں میں سے، لیکن ہیں رسول خدا کے اور خاتم پیغمبروں کے، اور خدا ہر چیز کا اپنے امور میں سے عالم ہے۔ اور اس کے قطعی الدلالت ہونے پر بھی امت محمدیہ کا اجماع منعقد ہو گیا اور ختم نبوت کا عقیدہ دین محمدی کا اساسی اصول قرار پایا اور جس امت نے ہم تک یہ آیت پہنچائی اسی امت نے یہ مراد بھی پہنچائی اور اسی دعویٰ پر مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کاذب کو قتل کیا اور بوجہ کفر دونوں کا یہ دعویٰ قرار دے کر کذاب مشتہر کیا اور باقی جرائم کو کذاب کے ماتحت رکھا۔ مگر پھر بھی بحکم حدیث نبوی بہت سے دجالوں نے نبوت کے دعوے کئے اور ان کی حکومتیں بھی رہیں اور بالآخر واصل جہنم ہوئے۔ ہمارے اس منحوس زمانے میں جو یورپ کی افتاد سے ایمان اور خصائل ایمان کی فنا زمانہ ہے منشی غلام احمد قادیانی کا فتنہ درپیش ہے اور گزشتہ فتنوں سے مزید اور شدید ہے اور حکومت وقت بھی بمقابلہ مسلمانوں کے قادیانی جماعت کی امداد اور اعانت کر رہی ہے۔ یہ جماعت بہ نسبت یہود اور نصاریٰ و ہنود کے اہل اسلام کے ساتھ زیادہ عداوت رکھتی ہے۔ کوئی چیز ان کے اور اہل اسلام کے درمیان مشترک اور اتحادی باقی نہیں رہی۔ منشی غلام احمد قادیانی جو اس زمانہ کا دجال اکبر ہے، بیس جزوی قرآن مجید پر اضافہ کرتے ہیں جو کوئی ان کی اس بیس جزوی کا انکار کرے اور ان کو نبی نہ مانے وہ ان کے نزدیک کافر ہے اور اولاد زنا ہے اور کوئی اسلامی تعلق مثل جنازہ کی نماز اور نکاح کے اس کے ساتھ جائز نہیں۔ پھر قرآن مجید کی تفسیر اس نے اپنے قبضہ میں کر رکھی ہے۔ دوسرے کسی کا کوئی حصہ نہیں لگتا۔ جیسے فارسی مثل ہے:

خوردن زمن و لقمہ شمردن از تو

اس کی تفسیر کے متعلق خواہ کل امت کا اختلاف ہو وہ سب اس کے نزدیک گمراہ ہیں۔ حدیث پیغمبر اسلام کی جو اس کی وحی کے موافق نہ ہو، اس کی نسبت اس کی تصریح ہے کہ ردی کے ٹوکرے میں پھینک دی جائے۔ ان دو اصول اسلام یعنی کتاب اور سنت کی تو اس کے نزدیک یہ حالت ہے اور بحسب تصریح اس کے اس پر شریعت بھی نازل ہوئی ہے اور بمقابلہ اس عقیدہ اسلامیہ کے بعد ختم نبوت کے آئندہ کوئی شریعت نہیں ہوگی ، صریح ادعاء شریعت کیا ہے؟ اور نیز اس کا اعلان ہے کہ آئندہ حج قادیان میں ہوا کرے گا اور نیز جہاد شرعی اس کے آنے سے منسوخ ہو گیا اور پیغمبر اسلام ﷺ کے معجزات تو تین ہزار نقل ہوئے ہیں، منشی غلام احمد قادیانی کے تین لاکھ اور دس لاکھ تک ہیں۔ جن میں تحصیل چندہ کی کامیابی بھی شمار ہے اور اس کے اشعار ہیں ؎

زندہ شد ہر نبی با آمدنم ہر رسولے نہاں بہ پیرہنم
آنچہ حق داد ہر نبی را جام داد آں جام را مرا بہ تمام

(نزول المسیح ص۹۹، ۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷، ۴۷۸)

نیز اپنی مسیحیت کی تائید حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کہ جن پر ایمان دین محمدی ہے، ایسی توہین کی ہے کہ جس سے دل اور جگر شق ہوتا ہے اور اس کے نزدیک تحقیق توہین ہے۔ الزامی یا بقول نصاریٰ تو درکنار رہی۔ توہین عیسیٰ علیہ السلام میں علاوہ اپنی تحقیقی توہین کے ایک اور طریقہ بھی اختیار کیا ہے کہ نقل نصاریٰ کے سر رکھ کر توہین سے اپنا دل ٹھنڈا کرتا ہے۔ ع گفتہ آید در حدیث دیگراں! یہ معاملہ پیشتر اسی پیغمبر کے ساتھ کیا ہے تا کہ عظمت ان کی دلوں سے اتار دے اور خود مسیح بن بیٹھے۔ اسی واسطے ہنود کے پیشواؤں کے ساتھ ایسا نہیں کیا بلکہ توقیر کی ہے اور ایسے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۱۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہی بزرگان اسلام امام حسینؓ وغیرہم کی تحقیر اور اپنی تعلی میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا۔ غرض یہ کہ اس دجال کی دعوت اس کے نزدیک سب انبیاء اور رسول صلوات اللہ علیہم سے بڑھ چڑھ کر اور افضل واکمل ہے۔

علماء اسلام نے اس فتنہ کے استیصال میں خاصی خدمتیں کیں ۔ مگر وہ خدمتیں انفرادی اور خصوصی تھیں ۔ اس وقت کہ ایک لطیفہ غیب نمودار اور نمایاں ہوا ہے کہ مجاہد ملت جناب سامی القاب مولوی ظفر علی خان صاحب دام ظلہ اس خدمت کا فرض ادا کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے اس وقت جناب ممدوح اور ان کے رفقاء جناب مولوی عبدالحنان صاحب ، مولوی لال حسین صاحب اختر اور احمد یار خان صاحب سپرد حوالات ہیں ۔ ہم کو کچھ حمیت اور حمایت اسلام سے کام لینا چاہئے ۔ اہل خطہ کشمیر سمجھ اور بوجھ لیں کہ کچھ قادیانی جماعت ان کی امداد کر رہی ہے، وہ اہل خطہ کے ایمان کی قیمت ہے اور ناممکن ہے کہ کوئی امداد اور ہمدردی اس فرقہ کی ایمان خریدنے کے سوا ہو ۔

دانی کہ چنگ دعویٰ چہ تقریر می کنند
پنہاں خورید یا کہ تکفیر می کنند

اور جن لوگوں نے اس فرقہ کے ساتھ کسی قسم کی رواداری بھی برتی ہے وہ خطرہ میں ہیں یہ نہ سمجھیں کہ یہ کوئی معمولی بیعت ہے ، بلکہ ایک چھوٹی پیغمبری سے ایک بڑی پیغمبر قادیانی میں تحویل ہونا ہے اور جس کا جی چاہے ان عقائد ملعونہ قادیانی کا ثبوت ہم سے لے اور اس شدید وقت میں کہ وطن کو بے خبر کر کے ایمان پر چھاپہ مارا گیا ہے ، کچھ غیرت ایمانی کا ثبوت دے۔

جن حضرات نے اس احقر ہیچ چیز سے حدیث شریف کے حرف پڑھے ہیں جو تقریباً دو ہزار ہوں گے وہ اس وقت کچھ ہمدردی اسلام کی کر جائیں اور کلمۂ حق کہہ جائیں اور انجمن دعوت وارشاد میں شرکت فرمائیں۔ اس فرقہ کی تکفیر میں توقف یا تو اس وجہ سے ہے کہ صحیح علم نصیب نہیں ہوا اور اب تک ایمان اور کفر کا فرق ہی معلوم نہیں ہوا اور نہ کوئی حقیقت محصلہ ایمان کی ان کے ذہن میں ہے اور یا کوئی مصلحت دنیاوی دامن گیر ہے۔ ورنہ اسلام کوئی نسبی اور نسلی لقب نہیں ہے ، جیسے یہود اور ہنود کہ زائل نہ ہو اور جو کوئی بھی اپنے آپ کو مسلمان کہے بس وہ قوم نسبی لقب یا ملکی وشہری نسبت کی طرح لاینفک رہے۔ بلکہ عقائد اور عمل کا نام ہے اور ضروریات قطعیہ اور متواترات شرعیہ میں کوئی تاویل یا تحریف بھی کفر و الحاد ہے۔ جب کوئی ایک حکم قطعی اور متواتر شرعی کا انکار کر دے وہ کافر ہے۔ خواہ اور بہت سے کام اسلام کے کرتا ہو۔ ”ان اللہ لیؤید الدین بالرجل الفاجر“ اسی میں وارد ہوا ہے۔ حق تعالیٰ صحیح علم اور صحیح سمجھ اور توفیق عمل نصیب کرے۔ آمین!

انتباہ

آخر میں یہ عاجز بحیثیت رعیت ریاست کشمیر ہونے کے حکومت کشمیر کو متنبہ کرنا چاہتا ہے کہ قادیانی عقیدہ کا آدمی عالم اسلام کے نزدیک مسلمان نہیں ہے ۔ لہٰذا حکومت کشمیر، جمیع اہل اسلام اور مذہب قدیمی اہل کشمیر کی رعایت کرتے ہوئے قادیانیوں کی بھرتی اسکولوں اور محکموں میں نہ کرے ۔ ورنہ اختلال امن کا اندیشہ ہے۔

محمد انور کشمیری عفا اللہ عنہ

از : دیو بند محلہ خانقاہ ۱۲؍ ذیقعدہ ۱۳۵۱ھ (۱۰؍ مارچ ۱۹۳۳ء)

آپ ہی کی نگاہ کرم اور ارشاد کا نتیجہ تھا کہ علامہ محمد اقبال نے کشمیر کمیٹی (جس کا صدر مرزائی خلیفہ مرزا محمود تھا) کی نظامت سے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ 120

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

استعفیٰ دے دیا اور انجمن حمایت اسلام لاہور (جس کے آپ لائف پریذیڈنٹ تھے ) کو لکھا کہ قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں، اس لئے انجمن فیصلہ کرے کہ کوئی قادیانی انجمن کا رکن نہیں ہوسکتا ۔ چنانچہ اس تحریر کی بناء پر انجمن حمایت اسلام لاہور کی جنرل کونسل نے فیصلہ کیا کہ موجودہ قادیانی اراکین کو انجمن کی رکنیت سے علیحدہ کیا جاتا ہے اور آئندہ کوئی قادیانی انجمن کا رکن نہ ہو سکے گا۔

حضرت شاہ صاحب نے اپنے آخری قیام لاہور کے ایام میں باغ بیرون موچی دروازہ لاہور کے قریباً تیس ہزار کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جو مسلمان قیامت کے دن حضور سرور کائنات ﷺ کی شفاعت چاہتا ہے، وہ قادیانیت کی تردید کرے۔ کیونکہ اس تحریک کا مقصد حضور ﷺ کی نبوت کو مٹا کر قادیانی نبوت کو فروغ دینا ہے۔

حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی

پیر طریقت، علامہ دوراں حضرت سید پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کو تردید مرزائیت میں بے حد شغف تھا۔ آپ نے عقیدہ حیات مسیح علیہ السلام کے اثبات اور مسیحیت مرزا کی تردید کے لئے ”سیف چشتیائی“ تصنیف فرمائی۔ باوجود انتہائی کوشش کے خود مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزائی اس بلند پایہ کتاب کا جواب نہ لکھ سکے۔ حضرت گولڑوی کا ارشاد ہے کہ قطب زمان حضرت مولانا حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی نے مجھے قیام مکہ معظمہ کے دوران ارشاد فرمایا تھا کہ آپ یہاں قیام نہ فرمائیں۔ واپس ہندوستان تشریف لے جائیں۔ وہاں ایک عظیم فتنہ بپا ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے اس فتنہ کے بالمقابل آپ سے حفاظت دین کا کام لے گا۔ حضرت گولڑوی فرماتے ہیں کہ میری دانست میں اس فتنہ سے مراد مرزائیت ہے۔ چنانچہ آپ اپنے وصال تک تردید مرزائیت میں منہمک رہے۔ نیز فرمایا کہ حضور پر نور ﷺ نے بھی مجھے خواب میں اس فتنہ کے خلاف کام کرنے کی ہدایت فرمائی تھی۔

حضرت مولانا محمد علی صاحب مونگیری

حضرت مولانا محمد علی صاحب مونگیری صوبہ بہار (ہند) کے جید عالم دین اور صاحب کشف و کرامات بزرگ تھے۔ ان کی ذات گرامی سے ہزاروں متوسلین وابستہ تھے۔ حضرت کا زیادہ وقت عبادات ومجاہدات اور وظائف میں گزرتا تھا۔ انہوں نے متعدد مرتبہ اپنے خواب کا ذکر فرمایا کہ میں عالم رؤیا میں حضور سرور کائنات فخر موجودات خاتم الانبیاء ﷺ کے دربار عالی میں حاضر ہوا اور نہایت ادب واحترام سے صلوٰۃ وسلام عرض کیا۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: محمد علی ! تم وظیفے پڑھنے میں مشغول ہو اور قادیانی میری ختم نبوت کی تخریب کر رہے ہیں۔ تم ختم نبوت کی حفاظت اور قادیانیت کی تردید کرو۔ حضرت مولانا فرمایا کرتے تھے کہ اس خواب کے بعد نماز فرض، تہجد اور درود شریف کے علاوہ اور تمام وظائف چھوڑ دیئے ہیں۔ رات دن تحفظ ختم نبوت اور تردید قادیانیت میں منہمک ہوں۔ حضرت نے اس سلسلہ میں بیسیوں رسائل و کتب شائع کئے۔

حضرت رائے پوری

عمدۃ المحققین زبدۃ العارفین بقیۃ السلف حضرت مولانا عبدالقادر صاحب رائے پوری کو حفاظت ختم نبوت اور تردید مرزائیت میں اس قدر شغف تھا کہ آپ کی مجلس میں عموماً قادیانیت کی اسلام دشمنی کا تذکرہ ہوتا رہتا تھا۔ جب بھی حضرت کی مجلس میں حضرت امیر شریعت،

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۲۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حضرت مولانا محمد علی جالندھری، حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، حضرت مولانا محمد حیات، حضرت مولانا لال حسین اختر حاضر ہوتے۔ حضرت اقدس ان حضرات کو فرماتے کہ ختم نبوت حیات حضرت مسیح علیہ السلام اور کذب مرزا کے دلائل بیان کیجئے تاکہ حاضرین مجلس ان دلائل کو محفوظ کر کے تردید مرزائیت کی جدوجہد میں حصہ لے سکیں۔ حضرت نے اپنے وصال سے پندرہ دن پہلے مولانا لال حسین صاحب اختر سے فرمایا کہ مجھے آپ سے اور مولانا محمد علی سے اور مولانا محمد حیات سے بہت زیادہ پیار ہے۔ کیونکہ آپ ختم نبوت کی حفاظت کا کام کرتے ہیں۔ مولانا لال حسین اختر نے عرض کیا کہ پڑھنے کے لئے کوئی وظیفہ ارشاد فرمائیں۔ حضرت والا نے فرمایا: مولوی صاحب! آپ روزانہ کچھ درود شریف پڑھ لیا کیجئے۔ آپ کے لئے وظیفہ یہ ہے کہ ختم نبوت پر وعظ کیا کریں۔ یہ چھوٹا وظیفہ نہیں، بہت بڑا وظیفہ ہے۔ پورے دین کا مدار حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت پر ہے۔

حضرت کے ارشاد کی تعمیل میں مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت ملتان نے حضرت مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کی شہرہ آفاق کتاب ”شہادت القرآن فی حیات مسیح علیہ السلام“ دو ہزار کی تعداد میں طبع کرائی۔ حضرت والا نے حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کو فرمایا کہ آپ تردید مرزائیت پر اردو اور عربی میں دو کتابیں تصنیف کریں۔ چنانچہ حضرت مولانا ندوی نے عربی اور اردو میں ”قادیانیت“ کے نام سے دو بہترین کتابیں تصنیف فرمائیں۔ جو ہزاروں کی تعداد میں مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے بھیجی گئیں اور عربی میں لکھی ہوئی کتاب ”القادیانی والقادیانیہ“ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان (ملتان) کے خرچ پر طبع شدہ تمام عربی اسلامی ممالک میں تقسیم کی گئی۔ جس سے اسلامی ممالک کے مسلمانوں کو بہت نفع ہوا اور تمام ممالک کو اجازت دی گئی کہ آئندہ شائع کر سکتے ہیں۔ چنانچہ یہ کتاب اور محاکمہ سیشن جج راولپنڈی کے فیصلہ کو بیرونی ممالک میں کثرت سے شائع کیا جا رہا ہے۔

ایک خواب

قریباً بارہ سال کا عرصہ ہوا، مولانا سید تجمل حسین شاہ صاحب کشمیری فاضل دیو بند حج بیت اللہ کے لئے تشریف لے گئے۔ فراغت حج کے بعد منیٰ میں انہیں ایک بزرگ صورت ہستی کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی۔ آپ نے انہیں فرمایا: ”محمد علی جالندھری کو میرا پیغام پہنچا دینا کہ وہ تحفظ ختم نبوت کا کام کرتا رہے۔ اس کام کو نہ چھوڑے۔“

ہمہ گیر جدوجہد

یہ آنحضرت ﷺ کی توجہ ہی کا نتیجہ تھا کہ ملک میں مرزائیوں کے خلاف ایک منظم اور ہمہ گیر جدوجہد شروع ہو گئی اور مختلف مکاتب فکر کے لوگ متحد ومتفق ہو کر سرگرم عمل ہو گئے۔ چنانچہ اخبارات و رسائل اور دوسری مطبوعات کے ذریعہ تحریری طور پر اور ملک کے گوشہ گوشہ میں عوامی اجتماعات منعقد کر کے تقریری طور پر فتنہ مرزائیت سے عوام کو آگاہ کیا گیا۔ خصوصی وفود کی معرفت ارباب حکومت کو اس فتنہ سے آگاہ کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر مستقل طور پر عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ کریں۔ اس وقت کے ارباب حکومت کی ناعاقبت اندیشی سے یہ جدوجہد ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت پر منتج ہوئی۔ لاکھوں عقیدت مندان ختم نبوت نے ارباب حکومت کے جبر و تشدد کا پورے صبر واستقامت کے ساتھ مردانہ وار مقابلہ کیا اور بالآخر مرزائیت کا وہ بڑھتا ہوا طوفان رک گیا۔ اندرون اور

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۲۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بیرون ملک کے لوگ مرزائیت کے صحیح خدوخال سے واقف ہو گئے۔ سابق وزیر خارجہ ظفر اللہ اور اس کے بعض حامیوں سے ملک کو نجات حاصل ہو گئی اور مرزائیوں کو اپنے عزائم میں بری طرح ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑا۔

انقلابی حکومت

ہمارے ملک میں ۱۹۵۸ء میں انقلابی حکومت قائم ہوئی۔ بہادر ارکان حکومت فوجی تھے۔ جن میں جذبہ اخلاص اور عزم راسخ ہوتا ہے، لیکن عوام سے علیحدہ رہنے کی وجہ سے عوامی تحریک سے ابتداء میں ناواقف ہوتے ہیں۔ یہ ہمارے بہادر اور مخلص دوست مرزائیت اور اس کے فتنہ سے واقف نہ تھے اور پرانے سیاست دانوں نے تحریک ختم نبوت میں عوام اور فوج میں اپنی خود غرضی کی وجہ سے تصادم کرا دیا۔ جس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ قادیانی گروہ نے مختلف طریق سے آگے بڑھنے کی کوشش کی اور اب پھر دفتروں میں آگے بڑھے اور چوہدری ظفر اللہ پاکستان کے نمائندہ ہو گئے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ! آہستہ آہستہ ہمارے صدر محترم خان محمد ایوب خان صاحب، قادیانی فتنہ کی مزید معلومات حاصل کرتے رہیں گے اور ان کو اپنے اردگرد سے دور کرتے رہیں گے۔ ہمیں ان کی بہادری اور جذبہ ایمانی سے یہ توقع ہے کہ آپ اس سازشی گروہ سے ہوشیار رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔ آمین!

نشر و اشاعت

اس وقت موجودہ دور میں تبلیغ کا ذریعہ دینی کتابوں کی اشاعت بھی ہے۔ اگرچہ جماعت تحفظ ختم نبوت مقررین کی جماعت ہے، تالیف و تصنیف کے اہل کم ہیں، تاہم جماعت حسب استطاعت اس طرف متوجہ رہتی ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۲۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس وقت جماعت کی خاص طور پر سر پرستی فرما رہے ہیں۔ آپ کے حکم سے حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر کو تبلیغی دورہ بند کر کے تالیف و تصنیف پر لگا دیا ہے۔ چنانچہ مولانا لال حسین صاحب کا ہیڈ کوارٹر چنیوٹ تجویز کر دیا ہے اور مولانا صاحب یکم ربیع الاول سے تالیف و تصنیف پر لگا دیئے گئے ۔ ان شاء اللہ! ان کی پہلی تصنیف مسئلہ ختم نبوت عنقریب طبع ہو جائے گی۔

کس طرح فریب دیا جاتا رہا۔ انہوں نے فرمایا کہ شیخ محمد اکبر کا فیصلہ انگریزی میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا شائع کردہ نائیجیریا میں تقسیم کیا گیا۔ وہاں کی مسلم جماعتوں نے پھر خود چھاپ کر بہت تقسیم کیا جس سے وہاں کے مسلمانوں کو بہت نفع ہوا۔

نوٹ : واضح ہو کہ ایک پاکستانی مسلمان کیپٹن نذیر الدین کے خلاف امتہ الکریم قادیانی عورت نے مہر کا دعویٰ کیا۔ نذیر الدین نے کہا کہ تم قادیانی ہو، میں مسلمان ہوں ۔ یہ نکاح شرعاً درست نہ تھا، اس لئے مہر واجب نہیں ہوتا۔ قادیانیوں کی طرف سے بڑے بڑے وکیل پیش ہوئے ۔ نذیر الدین نے ہماری جماعت کو اطلاع دی، مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے عدالت میں مولانا لال حسین صاحب پیش ہوتے رہے اور آپ ہی نے بحث میں حصہ لیا۔ ابتدائی عدالت اور سیشن کورٹ سے فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوا۔ اس مقدمہ کے اخراجات مجلس تحفظ ختم نبوت کے فنڈ سے ادا کئے گئے۔

ملتان میں تشریف لائے اور اپنے دورہ فلپائن و دیگر مقامات کے حالات کا ذکر کرتے رہے اور جماعت کی شائع کردہ ”القادیانی والقادیانیہ“ کی نسبت فرمایا کہ عربی ممالک میں اس کتاب سے بہت نفع ہوا۔ چنانچہ آپ نے مزید کتابیں روانہ کرنے کی سفارش فرمائی ۔ مولانا محمد علی صاحب جالندھری ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت نے بیس نسخہ القادیانی عربی کے اور ایک صد نسخہ انگریزی فیصلہ جج محمد اکبر صاحب کے دفتر کی طرف سے آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ تا کہ اسلامی ممالک میں روانہ کر دیا جائے۔

خرید کر دیں ۔ مولانا بشیر احمد صاحب بہت نیک طبیعت ، ذہین ، اہل علم خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو گزشتہ روز افریقہ روانہ ہو گئے۔ وہاں مجلس تحفظ ختم نبوت کی تنظیم کریں گے اور انہوں نے مرزائیت کے خلاف زندگی وقف کر دی ہے۔

موجودہ ہیں۔ ہمارے لئے پاسپورٹ کا مسئلہ مشکل ہے ۔ ان مشکلات کا تذکرہ مناسب نہیں ۔۲۲؍ مارچ ۱۹۶۳ء کو مولانا لال حسین صاحب اختر کو جماعت نے ڈھاکہ روانہ کر دیا ۔ وہاں کے ایک نیک دل تاجر کی کوشش سے کلکتہ کا پاسپورٹ مل گیا اور ایک ماہ تک کلکتہ قیام کیا ۔ مرزائیت پر ۱۴ تقریریں کیں ۔ مناظرہ کی شرائط طے ہوئیں، لیکن جب مرزائیوں کو یہ علم ہوا کہ مناظر لال حسین ہیں تو مناظرہ سے فرار کیا۔ حکومت میں شکایات کیں کہ............. رنگون کے مرزائیوں نے مسلمانوں کے خلاف عدالت میں ایک مقدمہ دائر کیا ہوا ہے ۔ رنگون کی جمعیۃ العلماء نے اس مقدمہ میں امداد طلب کی ہے ۔ ضروری کتب، نقل مقدمہ عدالت

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۲۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

فیصلہ حج محمد اکبر روانہ کر دیئے ہیں۔ ان شاء اللہ ! ایک مبلغ بھی روانہ کر دیا جائے گا۔ دفتر مرکزیہ کوشش میں مصروف ہے۔

نوٹ : مختصر روئیداد میں تمام حالات تحریر نہیں کئے جاسکتے۔ اطلاع حال کے لئے چند واقعات پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔

مرزائیت پھر حرکت میں

تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کو اس وقت کے سیاستدانوں نے بے شک مارشل لاء لگا کر کچل ڈالنے کی ناپاک کوشش کی، مگر تحریک اپنے اثرات چھوڑ گئی۔ کوئی ایسا آدمی نہیں جس نے ظلم کیا ہو رضا کاروں پر اور اس کو دست قدرت نے سزا نہ دی ہو۔ مسلمانان پاکستان کے دل مجروح تھے۔ خواجہ ناظم الدین کے پنجابی ساتھیوں نے بتایا کہ جب تک مرزائیت کی نسبت اپنا رویہ نہ بدلیں گے، ہم پنجاب میں کامیاب نہ ہوں گے۔ اس لئے چوہدری ظفر اللہ اور دیگر بعض ایسے مرزائیوں کو جو کلیدی آسامیوں پر تھے آہستہ آہستہ ادھر ادھر کر دیا گیا اور مرزائی ملازموں نے خاص قسم کی داڑھی رکھنا چھوڑ دی اور اپنے مرزائی ہونے کو چھپا لیا۔

انقلابی حکومت

جب سکندر مرزا کی سازشوں سے ملک تنزلی کی طرف جا رہا تھا چند دردمند فوجیوں نے ملک کا نظم سنبھال لیا۔ جس کا ملک میں خیر مقدم کیا گیا۔ جہاں ہماری انقلابی حکومت کے ارکان بہادر اور مخلص تھے۔ وہاں اندرون ملک کی جماعتوں کے حالات سے ناواقف بھی تھے۔ ادھر سابق حکومت نے جہاں اور خرابیاں پیدا کیں، وہاں مرزائیوں کی امداد میں مارشل لاء لگا کر عوام اور فوج کے دلوں میں بعد پیدا کر دیا تھا۔ جس کی وجہ سے مرزائیوں کو آگے بڑھنے کا موقعہ ملا۔ اب ظفر اللہ اور دیگر قادیانی آفیسر پھر بعض اہم پوسٹوں پر آتے ہیں اور کامیاب ہو جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مرزائیوں نے اپنی سرگرمیاں پھر تیز کر دیں۔ مناظرہ کا چیلنج دیا جاتا ہے۔ دن رات باہر سے خطوط آ رہے ہیں اور قادیانی افسران پھر تبلیغ کا وہ پہلو اختیار کرتے نظر آتے ہیں، جس کا تذکرہ جسٹس محمد منیر کرنے پر مجبور تھے۔

ہمارے قابل احترام صدر پاکستان کو اس طرف خاص توجہ کرنی چاہئے

سر ظفر اللہ اور قادیانیوں کی جارحانہ سرگرمیوں اور مرزا محمود کی شرانگیز تقریروں، خطبوں نے ملک کے حالات خراب کر دیئے ہیں۔ مسلمان سب کچھ برداشت کر لے گا مگر حضور ﷺ کے بعد کسی مدعی نبوت کے دعویٰ کو برداشت نہیں کرے گا۔ نوائے وقت کے مضمون نے ہمیں پریشان کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کے صدر محترم کو مرزائیوں کی چالیں سمجھنے کی توفیق بخشے اور اپنی حفاظت میں رکھے۔

فرقہ وارانہ فسادات

ہمیں یاد ہے کہ جب کبھی ہندو مسلم اتحاد ہو جاتا تو بعد ازاں ہندو مسلم فساد ہوا کرتا۔ اسی طرح ۱۹۵۳ء میں مسلمانوں کے تمام فرقوں میں وہ اتحاد ہوا جو ہندوستان کی تاریخ میں بے مثل تھا۔ آہستہ آہستہ مسلمان فرقوں میں تلخی پیدا ہونی شروع ہوئی۔ حتیٰ کہ قتل تک نوبت پہنچی۔ ہمیں شکایت ہے کہ جو لوگ فرقہ وارانہ فضا کے ذمہ دار ہیں، ان کی طرف توجہ نہیں دی جاتی بلکہ تحفظ ختم نبوت کے مبلغین پر مقدمات اور پابندیاں زیادہ لگائی جاتی ہیں۔ ہم گورنر مغربی پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ تمام فرقوں کے اعلیٰ ممبروں کو بلا کر مستقل لائحہ عمل تجویز کریں۔ جس سے فرقہ وارانہ فضا درست ہو جاوے۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۲۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گوجرانوالہ و کوئٹہ

الحمد للہ! تمام ملک میں مجلس تحفظ ختم نبوت بہت مقبول ہے اور عوام بڑی خوشی سے ہماری جماعت کی رکنیت قبول کرتے ہیں۔ مگر گوجرانوالہ، کوئٹہ دونوں شہر کے عوام کو جماعت سے بہت دلچسپی ہے۔ گوجرانوالہ کا دیندار طبقہ جماعت کی مالی امداد میں زیادہ دلچسپی لیتا ہے۔ کوئٹہ میں اس وقت جماعت ترقی پر ہے۔ جو دینی لٹریچر بھی شائع کرتی رہتی ہے۔ اس وقت ۵/۶ آدمی وہاں کام کرتے ہیں۔ وہاں کی جماعت مبلغین کے مشاہرات کے علاوہ سالانہ اچھی خاصی امداد کرتی ہے۔

جماعت کی تبلیغی مساعی

ان مقامات کے علاوہ جہاں لوگ ہمارے مبلغین کو تبلیغ کے لئے بلا کر اخراجات ادا کرتے ہیں۔ جماعت اپنے خرچ پر بھی مبلغین روانہ کرتی ہے۔ بعض جگہ لوگ اطلاع کرتے ہیں کہ مرزائی تنگ کرتے ہیں اور جارحانہ تبلیغ کرتے ہیں۔ وہاں فوراً جماعت اپنے خرچ پر تبلیغی پروگرام مرتب کرتی ہے۔ امسال سرگودھا میں ایک مسلمان لڑکی کے خلاف قادیانیوں نے مقدمہ دائر کیا۔ یہ مقدمہ عرصہ سے چل رہا تھا۔ جب مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مبلغ کو مقدمہ کی پیروی کے لئے بھیجا گیا تو قادیانی مقدمہ چھوڑ کر بھاگ گئے۔ چنانچہ ان کے خلاف یکطرفہ کارروائی ہو کر مقدمہ خارج ہو گیا۔ لیکن بعض جگہ افسران سے شکایات کر کے ہمارے مبلغین پر پابندی لگانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

مجلس تحفظ ختم نبوت کے عمومی مبلغین کے علاوہ گوجرانوالہ، لاہور، سکھر، بہاول پور، کوئٹہ، کراچی میں مستقل مبلغین قیام پذیر ہیں۔

مجلس تحفظ ختم نبوت صرف تبلیغی جماعت ہے۔ اس جماعت نے انتخابات میں کبھی حصہ نہیں لیا اور نہ ہی کسی فریق کی مخالفت کی۔ جماعت کا کوئی عہدہ دار سیاسیات (انتخابات) میں حصہ نہیں لے سکتا اور نہ ہی کسی مسلم جماعت کی مخالفت کر سکتا ہے۔

ہماری جماعت کا ہر بالغ مسلمان مرد ہو یا عورت، رکن بن سکتا ہے۔ بشرطیکہ حضور ﷺ کو بایں معنی خاتم النبیین تسلیم کرتا ہو کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔ ہم ملک کے ہر مرد و عورت سے استدعا کرتے ہیں کہ سیاسی طور پر چاہے جس جماعت میں شریک ہوں لیکن مجلس تحفظ ختم نبوت کی رکنیت ضرور قبول کر لیں۔

آہ! حضرت امیر شریعت

گزشتہ تھوڑے عرصہ میں ملک سے بہت گراں قدر علمی و روحانی ہستیاں ہم سے جدا ہوگئیں۔ مولانا مفتی محمد حسن صاحب امرتسری، حضرت مولانا احمد علی، قبلہ حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری، حضرت مولانا حماد اللہ ہالیجوی یہ سب بزرگ جماعت کے روحانی سرپرست تھے۔

سب سے بڑا حادثہ یہ ہوا کہ حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ہم سے جدا ہوگئے۔ ان کی وفات جماعت کے لئے سانحہ عظیمہ تھی۔ جماعت کے ہر کارکن کا حوصلہ پست ہو گیا۔ آپ کے وصال کے فوراً بعد ملک وملت کے علماء کرام، صوفیاء عظام نے ختم نبوت کانفرنس ملتان منعقدہ اکتوبر ۱۹۶۲ء میں تشریف لاکر جماعت کی ہمت بندھوائی اور جماعت کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد علی صاحب کو یقین دلایا کہ ہماری ہمدردیاں آپ کے ساتھ رہیں گی۔ اگرچہ حضرت امیر شریعت کی جدائی ناقابل تلافی نقصان ہے، لیکن آپ کی برکت سے جماعت بدستور کام کر رہی ہے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ 126

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جدید انتخاب

حضرت امیر شریعت صدر مجلس تحفظ ختم نبوت کے وصال کے بعد خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد صاحب نے صدارت مرکزیہ کا عہدہ قبول فرما کر مولانا محمد علی صاحب کو ناظم اعلیٰ اور حضرت مولانا محمد عبد اللہ صاحب شیخ الحدیث جامعہ رشیدیہ (منٹگمری)، مولانا سراج الدین صاحب (ڈیرہ اسماعیل خان)، مولانا نذیر حسین صاحب (پنوعاقل، سکھر)، حکیم محمد ابراہیم صاحب (بہاول پور)، مولانا تاج محمود صاحب (لائل پور)، مولانا لال حسین صاحب اختر، مولانا عبد الرحمٰن صاحب میانوی، ماسٹر اختر حسین صاحب ملتان کو ارکان شوریٰ نامزد کر دیا۔

فہرست مبلغین و ملازمین جماعت

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۲۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۱۲۷ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۷۴ء

کے

حالات و واقعات

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ 128

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی دارالمبلغین کا شعبہ قائم کیا گیا۔ جس کی تفصیلات آپ کسی دوسری جگہ ملاحظہ فرمائیں گے۔ یہ دارالمبلغین ۱۹۶۴ء میں چنیوٹ منتقل ہوا۔ اس کے اجراء سے متعلق ہفتہ وار خدام الدین میں ذیل کا اشتہار شائع ہوا:

چنیوٹ میں دارالمبلغین کا قیام

مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان (ملتان) کے زیر اہتمام عرصہ سے ملتان دارالمبلغین کا مرکز رہا ہے۔ اب مجلس مرکزیہ نے مولانا لال حسین اختر مناظر اسلام کو چنیوٹ تبدیل کر کے دارالمبلغین کو بھی چنیوٹ منتقل کر دیا ہے۔

دارالمبلغین میں جملہ مذاہب باطلہ کی تردید اور حقانیت اسلام کی تائید باقاعدہ پڑھائی جائے گی۔ یہ نصاب ایک سال کا ہوگا۔ شوال ۱۳۸۳ھ کے آخری ہفتہ سے تعلیم کا آغاز ہوگا۔ تحقیق ومناظرہ اور تبلیغی ذوق رکھنے والے نوجوان، قادر الکلام، فارغ التحصیل علماء کرام آخر رمضان تک داخلہ کے لئے اپنی درخواستیں بنام ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت چنیوٹ ضلع جھنگ ارسال فرمائیں۔

مدارس عربیہ کے دستور کے مطابق شامل ہونے والے علماء کرام کے خوردونوش اور دیگر ضروریات کی کفیل مجلس ہوگی۔ اس تعلیم میں معیاری قابلیت حاصل کرنے والے علماء کرام کو مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت اپنے مبلغین میں شامل کرنے کی کوشش کرے گی۔

(ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت چنیوٹ ضلع جھنگ، خدام الدین مؤرخہ ۳۱؍ جنوری ۱۹۶۴ء)

شہدائے ختم نبوت کو خراج عقیدت

سمندری ۶؍مارچ ۱۹۶۴ء کو جامع مسجد محمدیہ میں مولانا محمد علی جانباز نے شہدائے ختم نبوت کو خراج عقیدت پیش کیا اور ورثاء کی تسکین کے لئے دعائیں کرائی گئیں اور عہد کیا گیا کہ ہم خاتم النبیین ﷺ کے بعد اجرائے نبوت کے عقیدہ کو کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے۔

(ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت سمندری ضلع لائل پور، خدام الدین، مؤرخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۶۴ء)

ختم نبوت کانفرنس

گوجرانوالہ ۱۲، ۱۳؍اپریل ۱۹۶۴ء ۔ ۲۸، ۲۹؍ذیقعدہ ۱۳۸۳ھ اتوار، پیر مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے زیر اہتمام دوروزہ تبلیغی واصلاحی کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے مولانا محمد علی صاحب جالندھری، مولانا عبدالرحمن میانوی، قاضی عبداللطیف شجاع آبادی، مولانا عبدالشکور دین پوری، مولانا محمد لقمان علی پوری، عبدالرحیم صدیقی (شکر گڑھ)، مولانا عبدالقیوم سرحدی، سائیں محمد حیات پسروری، سید محمد امین گیلانی، مرزا غلام نبی جانباز نے اہالیان گوجرانوالہ سے خطاب فرمایا۔

(ناظم دفتر مجلس ختم نبوت گوجرانوالہ)

دارالمبلغین چنیوٹ میں قائم ہوا۔ مولانا لال حسین اختر نے اپنے تبلیغی اسفار سے کچھ وقت نکالا تو کئی رسالے بھی ترتیب دیئے۔ جن کے مجموعہ رسائل کو ’’احتساب قادیانیت‘‘ کے عنوان سے عالمی مجلس کے مرکزی دفتر نے آج سے دو سال قبل شائع کیا تھا۔ اس زمانہ میں آپ نے رسالہ ختم نبوت اور بزرگان امت تحریر کیا۔ اس پر ہفتہ وار خدام الدین میں ذیل کا تبصرہ شائع ہوا ۔

نام رسالہ: ختم نبوت اور بزرگان امت تالیف: مولانا لال حسین اختر صدرالمبلغین (مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت ملتان شہر) صفحات: ۳۲ ہدیہ: ۲۵ پیسے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۲۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قادیانیوں کی عادت ہے کہ اسلاف کی تحریریں بلا سیاق و سباق نقل کر کے اور اپنی مرضی اور مفاد کے مطابق ان تحریروں کے معنی بیان کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ناپاک کوشش کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اللہ کے خاص بندے اور اسلام کے مبلغ ان کو ہر میدان میں جا لیتے ہیں۔ مولانا لال حسین اختر صاحب کی ذات محتاج تعارف نہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی رد مرزائیت کے لئے وقف کر رکھی ہے۔ آپ کا یہ تازہ رسالہ معلومات افزاء ہے اور قصر نبوت باطلہ پر ضرب کاری ہے۔ رسالہ مجلس تحفظ ختم نبوت چنیوٹ سے دستیاب ہو سکتا ہے۔ ہم اپنے قارئین کو اس رسالہ کے پڑھنے کی سفارش کرتے ہیں تا کہ وہ مرزائیوں کے دجل سے آگاہ ہو سکیں۔

(خدام الدین مورخہ ۱۷ اپریل ۱۹۶۴ء)

مجلس تحفظ ختم نبوت کو سرے سے کسی رسالہ کا ڈیکلریشن نہ ملتا تھا۔ مولانا تاج محمود مرحوم نے سیرت کے مقدس عنوان سے اپنی تقریروں سے فیصل آباد میں حلقہ قائم کر لیا تھا۔ ان کا احترام تھا۔ انہیں رسالہ کا ڈیکلریشن مل گیا۔ مولانا نے ”جھوٹے نبیوں کے سچے حالات“ عنوان قائم کر کے مرزا قادیانی کے آباؤ اجداد (جھوٹے مدعیان نبوت) کے رد کے لئے کچھ صفحات وقف کر دیئے۔ حالات ایسے تھے کہ براہ راست قادیانیت پر کچھ لکھنا حکومت کے لئے نا قابل برداشت تھا۔ ہوا یہ کہ الفرقان ربوہ نے حضرت امیر شریعت پر ایک غلیظ مضمون لکھ دیا۔ اس کے جواب میں مولانا نے تحریر فرمایا:

”ربوہ سے الفرقان نامی (ماہ جون) کا شمارہ ہمیں موصول ہوا ہے۔ اس کے ایڈیٹر قادیانی انجمن ربوہ کے ایک ملازم مولوی ابوالعطاء صاحب ہیں۔ اس رسالہ کے ص ۲۸ پر ایک کالم کا عنوان ”بے غیرت لوگ“ ہے جس کے تحت روز نامہ ”ہلال پاکستان“ کا ایک اقتباس شائع کیا گیا ہے۔

اس مضمون میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو ہدف ملامت بنایا گیا ہے۔ انہیں پاکستان کا دشمن، غدار، ہندوؤں سے روپیہ لینے والا اور ناقابل معافی مجرم گردانا ہے۔ ان سطور میں ان اخبارات جنگ، انجام، امروز، کوہستان، چٹان، پیام اسلام، تبصرہ، خدام الدین، دعوت اسلام وغیرہ جنہوں نے حضرت شاہ صاحب کی وفات پر خاص مضامین شائع کئے اور خاص نمبر نکالے تھے، کو بے غیرت لوگ کہا گیا ہے اور اس بہانہ سے اس قادیانی ملا نے اپنے دل کی بھڑاس نکالی ہے۔ جہاں تک ہفت روزہ ”لولاک“ کا تعلق ہے ہم نے روز اوّل ہی سے یہ اعلان کر دیا تھا کہ یہ رسالہ نہ کسی جماعت کا ترجمان اور نہ کسی جماعت کے خلاف ہے۔ اس کا مقصد اللہ کے لاڈلے محبوب سرور کونین ﷺ کے فضائل اور محاسن بیان کرنا اور حضور کی زبان مبارک کے ارشاد کے مطابق عقائد، اعمال صالح، اخلاق اور معاملات کی تبلیغ کرنا ہے۔ ہفت روزہ ”لولاک“ کسی اختلافی یا کسی نزاعی بحث میں الجھنے کو اپنے مشن اور مقصد سے ہٹ جانے کے مترادف سمجھتا ہے۔ لیکن اس بات کا کیا علاج کیا جائے کہ ربوہ والوں سے ہماری دینی، دنیاوی کوئی رشتہ داری اور تعلق نہیں ہے۔ اس رسالہ جس میں حضرت شاہ صاحب مرحوم پر غلاظت پھینکنے کی کوشش کی گئی ہے، اس کے ہم خریدار ہی نہیں ہیں۔ حد یہ ہے کہ ہم نے اپنا رسالہ ربوہ کے کسی اخبار یا کسی شخصیت کو خریداری یا اعزازی کسی حیثیت سے جاری نہیں کیا تا کہ ہمارا وہاں رسالہ پہنچنا شرارت نہ سمجھا جائے۔ کبھی قادیانیوں کے متعلق اشارۃً یا کنایۃً ہم ذکر ہی نہیں کرتے تھے۔ ”جھوٹے نبیوں کے سچے حالات“ کے کالم میں بعض دفعہ ان کا تذکرہ ضروری طور پر آ گیا تھا۔ ہم نے وہاں سے مضمون کا وہ حصہ کاٹ دیا تا کہ پہل کرنے کا الزام ہمارے ذمہ نہ آئے۔ یہ سب کچھ جاننے کے باوجود یہ رسالہ ہمارے نام بھیجا گیا۔ یہ قادیانی صاحب یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کی طرح ایڈیٹر ہفت روزہ ”لولاک“ کی رگوں میں حضرت شاہ صاحب مرحوم کی محبت اور عقیدت خون کی طرح گردش کرتی ہے اور اس بیہودہ عبارت سے جو سراسر غلط

صفحہ ۱۴۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہے، افتراء اور بہتان عظیم ہے، بغض اور عناد پر مبنی ہے، خبث باطن اور دجل وکذب کی مظہر ہے، ہمارا اور دوسرے کروڑوں مسلمانوں کے دل زخمی ہو سکتے ہیں۔

اس سلسلہ میں تمام اخلاقی اور اسلامی تقاضوں سے ہٹ کر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ موجودہ حکومت ایک عرصہ سے ملک میں ہر قسم کے اندرونی انتشار کو روکنے کے لئے مختلف تدابیر اختیار کر رہی ہے۔ جن سے سیاسی، مذہبی، لسانی اور علاقائی تعصبات ختم ہو جائیں اور ان واقعات کا اعادہ نہ ہو، جنہوں نے اس سے پہلے ملک کو تباہی اور بربادی کے کنارے پر لا کھڑا کیا تھا۔ ان تدابیر میں مختلف مذہبی فرقوں کے علماء پر پابندیاں، پبلک سیفٹی آرڈر کا استعمال، اخبارات اور مطبوعات پر پابندیاں، لاؤڈ اسپیکروں کے استعمال پر کنٹرول وغیرہ چیزیں شامل ہیں۔

حکومت کی ان تمام پابندیوں اور احتیاطی تدابیر کے باوجود اس قادیانی رسالہ کا یہ مضمون شائع کرنا کہاں تک جائز اور شریفانہ حرکت کہلا سکتا ہے؟ پھر اس میں مزید قابل غور یہ امر ہے جو اس قادیانی مولوی صاحب کی نیت کو اظہر من الشمس کرتا ہے کہ جون ۱۹۶۴ء کے رسالہ میں ۲۳؍ اگست ۱۹۶۳ء کے کسی گمنام اخبار کا حوالہ شائع کیا جا رہا ہے۔ یہ حوالہ اگر ستمبر ۱۹۶۴ء کے اس قادیانی رسالہ میں شائع ہوتا تو کسی حد تک یہ سمجھا جا سکتا تھا کہ اس کے پیچھے کوئی زیادہ بد نیتی اور شرارت نہیں ہے۔ لیکن اگست ۱۹۶۳ء کا ایک حوالہ ایک برس بعد شائع کرنا سراسر شرارت اور ملک کی امن سوزی پر مشتمل حرکت ہے۔ حکومت اس بات کو اچھی طرح جانتی ہے کہ مسلمانوں کے سواد اعظم کے جذبات اس فرقہ کے متعلق کیا ہیں۔ اس طرح کے اقتباسات چھاپنے سے حضرت شاہ صاحب کے مقام کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ بلکہ اس بات کا امکان ہے کہ حکومت ان واقعات کو معمولی سمجھ کر درخور اعتناء نہ سمجھے اور حکومت کی اس نرم پالیسی اور کلیدی آسامیوں پر متعینہ قادیانی افسروں کی شہ پر یہ لوگ اپنی عقربی فطرت کا مظاہرہ کرنے میں بڑھتے چلے جائیں تو اس اشتعال انگیزی سے پھر ان کے خلاف ۱۹۵۳ء کے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ مولوی صاحب حکومت کی باز پرس پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے ایک مسلمان اخبار کا اقتباس اور حوالہ شائع کیا ہے۔ اس میں ہماری کوئی بد نیتی اور شرارت نہیں ہو سکتی۔ یہ لوگ جس تعریف کے مستحق ہیں وہی تعریف ان کی ایک اخبار میں شائع ہوئی ہے اور ہم نے صرف اسے اپنے رسالہ میں نقل کر دیا ہے۔ اس تاویل پر ہم حکومت اور قادیانیوں دونوں سے با ادب گزارش کریں گے کہ اگر قادیانیوں کی رائے میں ...... کسی مسلمان اخبار کے اس طرح کے اقتباس چھاپنے سے ملک کی وحدت اور ملت کے اتحاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا اور قومی اتحاد کی دیوار میں کوئی دراڑ پیدا نہیں ہو سکتی بلکہ اس دیوار کو اس طرح کے حوالے شائع کرنے سے سیمنٹ کا پلستر لگ کر مضبوطی آتی ہے تو ماشاء اللہ ! ہم اس کو تسلیم کر لیں گے اور ہفت روزہ ”لولاک“ کے صفحات میں سے کچھ حصہ ملک وقوم کی اس خدمت کے بھی مجبوراً وقف کر دیں گے۔ اور صرف ان قادیانی دوستوں اور مضامین کے اقتباسات شائع کرنا شروع کریں گے، جنہوں نے ربوہ اور خلیفہ قادیانی کے رنگین اور سنگین حالات تحریر کئے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ الفرقان کے فاضل مولوی صاحب کو سید عطاء اللہ شاہ مرحوم کی پاکستان دشمنی اور غداری کا غم کھائے جا رہا ہو اور اپنی وطن دوستی اور خدمت ملت کا فخر چین نہ لینے دیتا ہو تو ہم اس سلسلہ میں بھی گزارش کر دیں کہ ہم قادیانی جماعت اور ان کے خلیفہ وقت اور ”محسن“ پاکستان سر محمد ظفر اللہ خان کی پاکستان دوستی اور ان کی ملک و ملت سے وفاداری کی شرمناک داستان کو بھی شائع کر کے ان کی یہ غلط فہمی بھی دور کر سکتے ہیں۔ لیکن ہم اخلاق و شرافت کا دامن ہاتھ سے ہرگز نہیں چھوڑیں گے، صرف وہ باتیں شائع کریں گے، جس سے بقول علامہ اقبال ہمیں ان قادیانی مولوی صاحب کو کہنا پڑے کہ حضور ؎

آپ بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسار کر

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۴۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آخر میں ہم پھر ایک دفعہ اپنے صوبہ کے مضبوط اور نیک دل گورنر کی خدمت میں عرض کریں گے کہ ملک کا قانون ملک کے تمام طبقوں کے لئے یکساں ہونا چاہئے۔ قادیانی صاحبان کے لئے اتنی ہی رعایت کافی ہے کہ وہ اسلام کو غارت و برباد کرنے کی سرگرمیاں جاری رکھنے کے باوجود ملک میں امن اور سلامتی سے رہ رہے ہیں اور ملک کی کلیدی آسامیوں پر متمکن ہیں۔

قادیانی رسالہ کے مولوی صاحب کو حکومت بڑے ادب کے ساتھ سمجھا دے کہ اس قسم کی بحثیں چھیڑ کر ملک کے اندر کوئی جواب اور جواب الجواب کا نیا فتنہ کھڑا نہ کرے۔‘‘

(ایڈیٹر لولاک، مؤرخہ ۱۹؍جون ۱۹۶۲ء)

اس سے اگلی اشاعت میں مولانا نے تحریر فرمایا: گزشتہ روز ربوہ سے ایک رسالہ موصول ہوا تھا جس میں حضرت امیر شریعت شاہ صاحب کے متعلق ایک دل آزار اقتباس شائع کیا گیا تھا جس پر ہم نے اس رسالہ کے مدیر اور حکومت دونوں سے گزارش کی تھی کہ یہ چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے۔ اس سے جواب اور جواب الجواب کا سلسلہ شروع ہونے کا اندیشہ ہے اور موجودہ دور اس قسم کی چیزوں کا متحمل نہیں ہے۔ اس ہفتہ ہمیں ربوہ سے ایک اور پمفلٹ موصول ہوا ہے۔ اللہ جانے! ایڈیٹر ”لولاک“ پر یہ نوازشات کیوں شروع ہوگئی ہیں۔ ہم ابھی تک اس کی وجہ نہیں سمجھ سکے۔ جہاں تک ہم نے غور کیا ہے اس سے ربوہ والوں کے تین مقصد ہو سکتے ہیں۔

پالیسی سے دور کیا جائے تاکہ جب وہ جواب اور جواب الجواب کے چکر میں پھنس جائے تو حکومت کے حلقوں میں بیٹھے ہوئے مرزائی ہفت روزہ لولاک کو پھانسی لگانے کی سعی و کوشش کر سکیں۔

باغی، روٹھے ہوئے اور افسردہ مرزائیوں کو موجودہ قیادت کے گرد فرضی خطرہ کا مقابلہ کرنے کے لئے جمع کیا جائے۔

جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہماری دعا اور کوشش یہی ہے کہ ہمارے قادیانی بہی خواہوں کی یہ تینوں خواہشات پوری نہ ہوں۔ میں اپنے لئے کائنات کی سب سے بڑی سعادت اس بات کو سمجھتا ہوں کہ مجھے اللہ نے آمنہ کے لال شفیع المذنبین رحمت للعالمین کی امت میں پیدا کیا ہے اور امت محمدیہ کی آخری صفوں کے ایک آخری گناہگار مسلمان ہونے کا شرف عطا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے حضور سرور کائنات کے دین پر ثابت قدم رکھے۔ اسی پر میرا خاتمہ ہو اور حضورﷺ کے لوائے رحمت ہی کے نیچے جگہ نصیب ہو۔ جہاں تک ان کی دوسری خواہش یعنی ہمیں مشتعل کرنے کا تعلق ہے، اللہ کے فضل و کرم سے ایسا بھی ہرگز نہیں ہوگا۔ بے شک ہم باطل سے کبھی صلح نہیں کریں گے۔ لیکن اخلاق نبوی کا دامن بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے۔

اوّل تو یہ چیزیں ہمارے لئے درخور اعتناء ہی نہیں ہیں۔ ہمارا مشن حضورﷺ کی سیرت، حضورﷺ کے اخلاق اور حضورﷺ کی دعوت لوگوں کو یاد دلانا ہے۔ لیکن اگر کہیں جواب دینا پڑا تو نہایت ٹھنڈے دل سے دلائل اور حقائق کی روشنی میں...... جواب دیا جائے گا۔ پھر اس حق گوئی پر جو ہم پر بیتے گی، بیتے گی۔ ہم ان شاء اللہ! اس کی پرواہ نہیں کریں گے۔

رہی تیسری بات کہ وہ ہمیں آلہ کار بنا کر اپنی مردہ قیادت کو زندہ کر لیں گے۔ اس کے لئے بھی انہیں کوئی اور گھر تلاش کرنا ہوگا۔ ہم ان خدمات کے لئے موزوں نہیں ہیں۔‘‘

(ہفتہ وار لولاک مؤرخہ ۲۶؍جون ۱۹۶۲ء)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۳۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس سے آگے مولانا نے پمفلٹ کا مکمل جواب تحریر فرمایا۔ مگر وہ چونکہ کتاب کا موضوع نہیں ہے، اس لئے صرف اسی پر اکتفاء کیا گیا۔ ان چیزوں کے عرض سے مقصود یہ ہے کہ یہ وہ حالات تھے جن میں اس رفتار، دور اندیشی اور مصلحت سے ہمارے بزرگوں نے تحریک کے کام کو جاری رکھا۔

مصروفیات کے باعث دارالمبلغین کا اجلاس شوال کی بجائے عید قربان کے بعد قائم کرنے کا فیصلہ ہوا، اس کے لئے مرکز نے ذیل کا اشتہار خدام الدین میں شائع کیا:

مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چنیوٹ میں دارالمبلغین کا قیام

مناظر اعظم، علامہ مذاہب، فخرالاماثل، صدرالمبلغین، حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر مدظلہ پڑھائیں گے۔

زبردست دلائل پڑھائیں گے۔

شعبہ نشر واشاعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان (فون: ۷۸۳۴۸۶-۰۶۱)

(خدام الدین مؤرخہ ۵؍جون ۱۹۶۲ء)

مرزا غلام احمد قادیانی کے کتابچہ کی ضبطی

”۲۳؍جون کے اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ جناب ملک امیر محمد خان صاحب گورنر مغربی پاکستان نے مرزا غلام احمد قادیانی کا ایک پمفلٹ ”ایک غلطی کا ازالہ“ ضبط کر لیا ہے۔ اس پمفلٹ کو الشرکۃ الاسلامیہ ربوہ نے شائع کیا تھا اور اس میں ایسا مواد تھا جس سے مختلف فرقوں کے درمیان منافرت پھیلنے کا خطرہ تھا۔

ہم حکومت کے اچھے کاموں کی تائید اور تحسین کرنا اپنا اسی طرح کا اخلاقی فرض سمجھتے ہیں جس طرح اس کے غلط کاموں پر اسے ٹوکنا۔ ملک امیر محمد خان گورنر مغربی پاکستان جن کے حکم سے یہ دل آزار کتابچہ ضبط کیا گیا ہے، یقیناً مبارک باد کے مستحق ہیں۔ ملک صاحب نے اس پمفلٹ کو ضبط کر کے جہاں عوام کے ایک دیرینہ مطالبہ کو پورا کیا ہے، وہاں فخر دو عالم ﷺ کی ایک کھلی توہین کا بھی ازالہ کر دیا ہے۔

اس کتابچہ کی ضبطی میں جو وجہ بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس کتاب میں ایسا مواد موجود ہے جو دو مختلف فرقوں کے درمیان منافرت پیدا کرنے کا سبب ہو سکتا ہے۔ ملک کے اندرونی امن کے قیام کے لئے یہ ضروری ہے کہ کوئی فرقہ ایسے نظریات کی اشاعت نہ کرے، جس سے کسی دوسرے فرقہ کی دل آزاری ہوتی ہو کیونکہ نظریات وعقائد کی آویزش بالآخر دست وگریباں کی جنگ پر منتج ہوتی ہے۔ جب یہ باہمی جنگ اور آویزش ملک گیر فرقوں کے درمیان ہو تو بعض اوقات اس سے ملک اور قوم کے لئے ناقابل تلافی نقصان کی صورت پیدا ہو سکتی

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۳۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہے۔ جس اصول اور بنیاد پر حکومت نے اس کتابچہ کو ضبط کیا ہے ہم اسی اصول کی بنیاد پر گزارش کریں گے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا صرف ایک پمفلٹ ضبط کرنے سے جمہور مسلمین کا نہ تو مطالبہ پورا ہوتا اور نہ ہی شافع محشر ﷺ کی تعظیم اور تقدیس کے سارے تقاضے ہی پورے ہوتے ہیں، جب تک کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے جانشینوں کے پورے لٹریچر کی چھان بین نہ کی جائے اور ان تمام مطبوعات کو ضبط نہ کر لیا جائے، جن کی وجہ سے امت میں یقیناً نفرت اور اختلاف پیدا ہوتا ہے۔‘‘

(لولاک مؤرخہ ۲۶؍ جون ۱۹۶۲ء)

اخبارات میں اس رسالہ کی ضبطی کی جو خبر شائع ہوئی وہ یہ تھی۔

مرزا غلام احمد قادیانی کا پمفلٹ ضبط کر لیا گیا

’’لاہور: مؤرخہ ۲۲؍ جون۔ گورنر مغربی پاکستان کے ایک حکم کے مطابق ایک اردو پمفلٹ ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ کی تمام کاپیاں بحق سرکار ضبط کر لی ہیں۔ اس پمفلٹ کے مصنف مرزا غلام احمد قادیانی ہیں اور اسے الشرکۃ الاسلامیہ ربوہ نے شائع کیا تھا۔ سرکاری اطلاع کے مطابق اس سے مختلف فرقوں کے درمیان منافرت پیدا ہونے کا خطرہ تھا۔ اسی طرح ایک اور اردو پمفلٹ ’’پس منظر کربلا‘‘ مصنفہ سبط حسین بھی ان ہی اسباب کی وجہ سے بحق سرکار ضبط کر لیا گیا ہے۔‘‘

اس رسالہ کے ضبط ہوتے ہی مرزائی قیادت کو ’’ہلکا‘‘ ہو گیا، حکومت بھی مرزائی سازشوں سے اپنے کئے پر پچھتانے کے لئے تیار ہو گئی۔ اس پر لولاک نے تحریر کیا:

حکومت جرأت سے کام لے

گزشتہ ہفتے حکومت نے مختلف فرقوں کے دو کتابچے ضبط کئے ہیں جن میں منافرت انگیز اور دل آزار مواد موجود تھا۔ حکومت کے اس اقدام کو ملک میں بہت سراہا گیا ہے۔ بلکہ تاروں، خطوط اور پبلک اجتماعات کے ذریعہ گورنر مغربی پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا گیا ہے۔ کسی ملک کا استحکام اور ترقی اور دارو مدار زیادہ حد تک اس کے داخلی اتحاد اور سکون پر ہوتا ہے۔ اندرون ملک جو چیز سب سے زیادہ ملی شیرازہ کو بکھیر کر قوم میں انتشار پیدا کرتی ہے، وہ مذہب کے نام پر فساد فی سبیل اللہ ہے۔ اس فساد فی سبیل اللہ کی محرک اور جڑ، بنیاد وہ کتابیں ہیں جو ایک دوسرے کے رد میں لکھی گئی ہیں۔ اس تردیدی اور تکفیری لٹریچر میں بعض عبارات ایسی اشتعال انگیز اور منافرت خیز ہوتی ہیں جن کی تلخی فرقوں میں اتحاد پیدا نہیں ہونے دیتی۔ موجودہ حکومت جو اس وقت ایک مضبوط حکومت ہے اور اسے عوام میں بڑی مقبولیت حاصل ہے، اس کا فرض ہے کہ ایک اعلیٰ اختیارات کی کمیٹی بنائے جو تمام فرقوں کی کتابوں کا قرآن مجید اور سنت رسول ﷺ کی روشنی میں جائزہ لے۔ ان کتابوں میں جس قدر عبارتیں منافرت خیز اور دل آزار پائی جائیں انہیں ضبط کر لیا جائے یا اگر کوئی پوری کتاب ہی منافرت انگیز اور دل آزار ہو تو اس پوری کتاب کو ہی ضبط کر لیا جائے۔ اس میں شک نہیں کہ وقتی طور پر کچھ لوگ ان کتابوں اور عبارات کے ضبط ہونے کو محسوس کریں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان عبارات کے ساتھ مسلمانوں کے باہمی اختلافات بھی دفن ہو جائیں گے۔

(لولاک مؤرخہ ۳؍ جولائی ۱۹۶۲ء)

ایک غلطی کا ازالہ

اخبارات میں یہ خبر شائع ہو چکی ہے کہ جناب ملک امیر محمد خان صاحب گورنر مغربی پاکستان کے حکم سے مرزا غلام احمد قادیانی کا ایک پمفلٹ ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ ضبط کر لیا گیا ہے۔ اس پمفلٹ کو الشرکۃ الاسلامیہ ربوہ نے شائع کیا تھا اور اس میں ایسا مواد موجود تھا جس سے مختلف فرقوں کے درمیان منافرت اور اشتعال پھیلنے کا خطرہ تھا۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۳۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہمارے خیال میں گورنر صاحب نے ”ایک غلطی کا ازالہ“ نامی پمفلٹ کی ضبطی کا حکم صادر فرما کر واقعی حکومت مغربی پاکستان کی ایک غلطی کا ازالہ کر دیا ہے۔ وہ پمفلٹ جس کے الفاظ سے انبیاء کی توہین کا پہلو نکلتا ہو، جس سے ختم نبوت کے بنیادی عقیدہ پر زد پڑتی ہو، جس سے امت مسلمہ کے دل مجروح ہوتے ہوں اور جس سے فرقہ وارانہ منافرت پھیلتی ہو، اس کی اشاعت کی اجازت دینا کسی طرح مناسب نہیں۔ ہماری رائے میں وہ تمام رسائل اور کتابیں جن سے انبیاء کی اہانت کا پہلو نکلتا ہو اور جن میں بزرگانِ دین اور اسلاف کے خلاف زہر اگلا گیا ہو بلا تفریق مذہب وملت قابل ضبطی ہونی چاہئیں۔

ہم گورنر صاحب مغربی پاکستان کو اس قابل تحسین اقدام پر مبارک باد دیتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ انہوں نے یہ اقدام کر کے پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کی ہمدردیاں اور دعائیں حاصل کر لی ہیں۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس قسم کی دوسری کتابوں کے خلاف بھی اپنے اختیارات استعمال کرنے میں دریغ نہیں فرمائیں گے۔

(خدام الدین مؤرخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۶۲ء)

قادیانیوں کی دھمکیاں اور واویلا

امسال جون میں مغربی پاکستان کے نیک دل اور مضبوط گورنر ملک امیر محمد خان نے قادیانیوں کے ایک کتابچہ ”ایک غلطی کا ازالہ“ کو ضبط کرنے کے احکام صادر فرمائے تھے۔ اس خبر کا پورے پاکستان میں خیر مقدم کیا گیا۔ عوام اور علمائے کرام نے اخبارات، تاروں، خطوط، قراردادوں اور خطبوں کے ذریعہ گورنر صاحب کے اس اقدام کی تعریف وتحسین کی۔ لیکن قادیانی صاحبان نے اس ضبطی کے متعلق جو رَوّیہ اختیار کیا ہے وہ ہر لحاظ سے افسوسناک ہے۔ قادیانی مولوی صاحبان اور اخبارات (الفضل، پیغام صلح، ہفت روزہ لاہور، ماہنامہ الفرقان) وغیرہ نے ایک سوچا سمجھا فریاد نما دھمکی آمیز واویلا شروع کر رکھا ہے جو عدل وانصاف کے تقاضوں کے خلاف، ملک کی وفاداری اور موجودہ حکومت سے ادنیٰ تعاون کے صریحاً منافی ہے۔

اس کتابچہ کی ضبطی سے قبل ملک میں متعدد ایسے رسالے، کتابیں، پمفلٹ حکومت ضبط کرتی رہی ہے جن میں پاکستان کے دو فرقوں کے درمیان منافرت پیدا کرنے والا مواد موجود تھا۔ اسی عام قانون اور دستور کے مطابق قادیانیوں کے اس کتابچے کو بھی ضبط کیا گیا ہے۔

اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ آیا یہ کتابچہ دل آزار اور دو فرقوں میں منافرت پیدا کرنے والا تھا یا نہیں؟ قادیانی مبلغین اور اخبارات کہے چلے جا رہے ہیں کہ یہ معصوم اور بے ضرر کتابچہ تھا اور اس سے کسی کی دل آزاری نہ ہوتی تھی اور نہ ہو رہی تھی۔ قادیانیوں کا اس کتابچہ کو بے ضرر اور معصوم کہنا کوئی وقعت نہیں رکھتا۔ کسی تصنیف اور تالیف کے بے ضرر اور معصوم قرار دینے کا حق اس کے مصنف یا مصنف کے پیروکاروں کو نہیں دیا جا سکتا۔ اس کی بے عصمتی اور دل آزاری کا اندازہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کے خلاف وہ کتاب لکھی گئی ہو، یا جن پر اس تصنیف کا اثر پڑتا ہو۔ پورے پاکستان کی آبادی جس کتابچے کو اسلام اور پیغمبر اسلام کی توہین پر مشتمل اور تمام مسلمانوں کے قلوب کو چھلنی کرنے والا یقین کرتی ہو، اسے اگر مرزا قادیانی اور ان کے مرید باعصمت اور بے ضرر کہیں تو اس کا کیا علاج ہے۔ دنیا کے کسی دستور اور انصاف کے کسی قاعدے میں یہ رواج نہیں کہ جرم کرنے والا خود ہی اپنا فیصلہ کرے کہ اس کا فعل جرم ہے یا نہیں ہے۔

”کہتے ہیں کہ اگلے زمانے میں ایک امیر آدمی تھا۔ اس کے پاس جو سائل جاتا وہ اسے دیکھ کر اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیر کر بالوں کو پکڑ کر چھوڑ دیتا۔ جتنے بال اس کے ہاتھ میں رہ جاتے اتنی اشرفیاں اس سائل کو دے دیتا تھا۔ ایک دن ایک ذہین سائل اس کی خدمت میں حاضر ہوا۔ امیر آدمی نے حسب معمول اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرا تو اس کے ہاتھ میں داڑھی کا کوئی بال نہ آیا۔ امیر نے کہا: سائل میاں تیری

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۳۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قسمت! ہاتھ میں بال ہی کوئی نہیں آیا۔ سائل نے آہ بھرتے ہوئے کہا کہ امیر صاحب بڑے افسوس کی بات ہے۔ داڑھی بھی آپ کی اور ہاتھ بھی آپ کا۔ اے کاش! داڑھی آپ کی ہو اور ہاتھ میرا ہو، پھر دیکھوں کہ میری قسمت میں کوئی بال آتا ہے یا نہیں آتا ہے۔‘‘

قادیانی صاحب بھی اس امیر کی طرح اپنی داڑھی پر اپنا ہاتھ پھیر کر ہی اس کتابچے کو بے ضرر اور با عصمت قرار دے رہے ہیں۔ اگر ہٹ دھرمی اور تعصب چھوڑ دیا جائے تو اس بات کا سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے کہ اللہ کی اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے بعد آمنہ کے لال محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کا کوئی ثانی اور مثیل نہیں ہے۔ آپ تمام کائنات سے بلند اور اعلیٰ ہیں۔ زمین و آسمان میں کوئی مخلوق اور کوئی فرد انبیاء، اولیاء، ملائکہ میں سے ایسا نہیں جو حضور سرور کائنات ﷺ کے درجے اور مقام کے برابر درجہ اور مقام رکھتا ہو۔ اگر مرزا قادیانی کسی کتابچے میں یہ لکھیں کہ میرا درجہ حضور کے برابر ہے تو مسلمانوں کے لئے تو یہ بات بھی ناقابل برداشت ہے۔ چہ جائیکہ اگر وہ یہ لکھیں کہ میں تو محمد (ﷺ) ہی ہوں اور مجھے محمد (ﷺ) کی طرح نبوت ہی ملی ہے اور میرے دعویٰ نبوت سے خاتم النبیین کی خلاف ورزی ہی نہیں ہوئی تو یہ بات کیسے برداشت کی جاسکتی ہے؟ اس طرح کی عبارتیں اگر دل آزار نہیں تو دل آزاری اور کس بلا کا نام ہے؟

ہمارا یقین ہے کہ قادیانیوں کی یہ سب غوغا آرائی بناوٹی اور غلط ہے۔ انہیں اس بات سے قطعاً مجال انکار نہیں ہو سکتی کہ ضبط ہونے والا کتابچہ دل آزار اور منافرت انگیز مضامین پر مشتمل نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی یہ ساری بے چینی اور اضطراب کسی اور چیز کے پیش نظر ہے، جیسا کہ ایک قادیانی رسالہ ماہنامہ ”الفرقان“ کی اشاعت جولائی ۱۹۶۲ء کے صفحہ اوّل پر واضح طور پر لکھا گیا ہے:

ہم اپنے دردمند احمدی بھائیوں سے تین گزارشات کرنا چاہتے ہیں:

اس موہوم خطرے کا بھوت ان کے سر پر سوار ہے جو انہیں پریشان کئے ہوئے ہے۔

اگر قادیانی صاحبان ملک کی وفاداری کے دعویٰ میں سچے ہیں اور موجودہ حکومت سے تعاون کی ضرورت سمجھتے ہیں تو انہیں اس بات کو بڑھانا نہیں چاہئے۔ اندرون ملک اور بیرون ملک حکومت کے خلاف منافرت کی تحریک کو فوراً بند کر دینا چاہئے۔ یہ دھمکی آمیز داد خواہی اور ظلم یقیناً حکومت کے خلاف منافرت کی تحریک ہے۔

اس سلسلہ میں ایک اور تجویز کا ذکر کرنا بے جا نہ ہوگا۔ وہ یہ ہے کہ اگر قادیانیوں کو اپنی معصومیت اور بے ضرری پر زیادہ اصرار ہے تو اس کا حل یہ ہے کہ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل ایک بنچ کے روبرو اس مسئلہ کو رکھا جائے۔ قادیانیوں کو حق ہو کہ وہ اس بنچ کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کریں کہ ان کے وجود، ان کے مسیح اور اس کے لٹریچر کا اسلام میں کیا مقام ہے اور ہمیں بھی موقعہ دیا جائے کہ ہم اسلام کے خلاف کی گئی اس سازش کے خدوخال فاضل اور بالغ النظر عدالت میں پیش کر سکیں۔ جو فیصلہ وہ بنچ دے فریقین کے لئے قابل قبول ہو۔ قادیانی صاحبان تو ایک کتابچے کا ماتم کرتے پھرتے ہیں، انہیں اپنے مسیح، اپنے لٹریچر اور خود اپنے وجود کے متعلق پوری روشنی حاصل ہو جائے گی۔

خدا نخواستہ اگر قادیانی صاحبان ہمارے ججوں کو بھی، مولویوں کی طرح جنونی اور متعصب گمان کرتے ہیں تو ترکی، ایران اور پاکستان، مصر، سعودی عرب اور عراق کی اسلامی حکومتوں کے ایک ایک جج کی خدمات حاصل کر کے اس بنچ کے سامنے یہ مسئلہ رکھ دیا جائے۔ حق اور باطل کا فیصلہ ہو جائے گا اور ان ٹسوؤں کی حقیقت سامنے آجائے گی۔ ان دونوں صورتوں میں قادیانی جس بات کے لئے آمادہ ہوں حکومت کو وہی مان جانی چاہئے اور اگر اس عدالت کے اخراجات حکومت نہ برداشت کرنا چاہے تو بحمد اللہ مسلمانوں میں اپنے نبی کی عزت کا

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۳۶

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اتنا جذبہ ابھی باقی ہے۔ وہ ان مصارف کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ قادیانی ہماری کون سی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ”فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی اعدت للکفرین (قرآن)“

(لولاک مؤرخہ ۷؍اگست۱۹۶۴ء)

ایک غلطی کا ازالہ

گزشتہ ماہ حکومت نے مرزا غلام احمد قادیانی کا ایک دل آزار کتابچہ ”ایک غلطی کا ازالہ“ کی ضبطی کے احکامات صادر کئے تھے۔ حکومت کے اس اقدام کو پورے ملک میں سراہا گیا۔ عوام نے اس سے یہی تأثر قبول کیا کہ موجودہ حکومت نے یہ اقدام کر کے اسلامی شعار کی حفاظت اور دینی اقدار کے احترام کا لحاظ کیا ہے۔ کوئی مسجد یا منبر ایسا نہیں ہوگا جہاں سے حکومت مغربی پاکستان کے اس اقدام کو سراہا نہ گیا ہو۔ بے شمار لوگوں نے تاروں، خطوں، قراردادوں کے ذریعے حکومت کو مبارک بادیں دیں۔ لیکن اچانک قادیانی اخبارات و رسائل میں ایک افسوس ناک اعلان شائع ہوگیا۔ جس سے معلوم ہوا کہ حکومت نے اس اسلام دشمن کتابچہ سے پابندی ہٹادی ہے اور قادیانیوں کو اس کتابچے کے شائع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ قادیانی رسالہ الفرقان کا اعلان حسب ذیل ہے:

”۲۸؍جولائی ۱۹۶۴ء کو صدر انجمن احمدیہ ربوہ پاکستان کی طرف سے ایک وفد محترم جناب گورنر صاحب مغربی پاکستان کی خدمت میں حاضر ہوا اور ایک نہایت مدلل اور مفصل یادداشت ان کے سامنے رکھی اور رسالہ ”ایک غلطی کا ازالہ“ میں مندرجہ کشف کے متعلق عرض کیا گیا کہ جناب اوّل تو یہ کشف ہے اور ایسے کشوف امت کے بہت سے اولیاء نے پہلے بھی دیکھے ہیں اور کتابوں میں شائع شدہ ہیں۔ دوسرے بانی سلسلہ نے ”ایک غلطی کا ازالہ“ نامی رسالہ میں اس کشف کو اختصار سے درج کیا ہے اور ساتھ ہی تحریر فرمادیا ہے کہ یہ کشف براہین احمدیہ میں موجود ہے۔ چنانچہ براہین احمدیہ سے پورا کشف مجلس میں پڑھا گیا۔ اس میں درج تھا:

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ذات نے محبت اور شفقت سے مادر مہربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ دیا۔ جب یہ ساری عبارت پڑھی گئی تو گورنر صاحب بہادر نے فرمایا کہ اس صورت میں تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ آپ لوگ یوں کریں کہ براہین احمدیہ کی یہ عبارت بھی ایک غلطی کا ازالہ کے حاشیہ میں نیچے درج کردیں اور پھر بے شک رسالہ ایک غلطی کا ازالہ طبع کریں۔ انہوں نے اس مشورہ کا یہ فائدہ بھی بتایا ہے کہ اصل عبارت پڑھ کر عوام کی پوری تسلی ہوجائے گی اور کسی طرح کا اعتراض پیدا نہ ہوگا۔ اس سمجھوتے پر یہ ملاقات ختم ہوئی۔“

(ماہنامہ الفرقان، بابت ماہ اگست ۱۹۶۴ء)

اس پابندی ہٹائے جانے کا علم ہمیں صرف قادیانیوں کے اخبارات سے ہوا ہے۔ سرکاری ذرائع یا دوسرے مسلمان اخبارات میں حکومت کی طرف سے کوئی اعلان اب تک نظر سے نہیں گزرا۔ اس لئے اوّل تو ہمیں اس سمجھوتے کی صداقت پر شک ہے کہ ایک کتاب جس ناپاک عبارت کی بنیاد پر پابند اور ممنوع قرار دی گئی تھی، وہ عبارت جوں کی توں رہے اور صرف حاشیہ میں وقتی طور پر دوسری جگہ کا ایک لفظ مادر مہربان آج شائع کر دیا جائے۔ بعد کے شائع کرنے والے جس کے پابند نہیں ہوں گے۔ یہ سمجھوتا ہماری سمجھ سے بالا ہے۔ ہمارا دماغ تسلیم کرنے کے لئے آسانی سے تیار نہیں ہورہا کہ ملک امیر محمد خان جیسا نمازی، پرہیزگار اور اسلام پر سچا یقین رکھنے والے گورنر نے اس طرح کا کوئی سمجھوتا کرلیا ہوگا۔ لیکن بفرض محال اگر قادیانیوں کے اعلان کے مطابق یہ مہمل اور غلط سمجھوتا ہوا ہی ہے تو اس پر سواد اعظم کی طرف سے صاد نہیں کیا جاسکتا بلکہ اسے بھی قادیانیوں کا دجل شمار کیا جائے گا کہ انہوں نے الفاظ کے چکر سے وقتی طور پر فائدہ اٹھانے کی کوشش کرلی ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۳۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس صورت میں ہمیں حکومت سے گلہ یہ ہے کہ آخر قادیانیوں کے اس کتابچہ پر مسلمانوں کو بھی کوئی اعتراض تھا۔ ضبطی کے بعد اگر قادیانیوں نے اس کے حق میں اور اس کی صفائی میں کچھ کہنا سنا تھا تو حکومت کا فرض یہ تھا کہ وہ دوسری طرف مسلمانوں سے بھی اس کے بارے میں کچھ دریافت کر لیتی۔

اس کتابچے کے بارے میں مسلمانوں کا مؤقف یہ ہے:

رکھا، اس میں مادر مہربان کے الفاظ کے اضافے سے بھی یہ ناپاک عبارت کسی صورت پاک نہیں ہوسکتی۔ حضرت سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء ؓ کی ذات کے ساتھ اس امت کے اتنے نازک جذبات وابستہ ہیں کہ مرزاغلام احمد تو درکنار کسی ولی ،کسی مجدد، کسی غوث، کسی صحابی، کسی فرشتے کے لئے بھی یہ الفاظ زیبا نہیں ہیں کہ اس نے ان کی ران پر سر رکھا۔ پھر جب کہ اس ناپاک عبارت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی بلکہ حاشیہ پر دوسری جگہ کی عبارت وقتی طور پر لکھ دی جائے گی۔

جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی ہے۔ اس کتابچے میں مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے آپ کو محمد رسول اللہ لکھا ہے اور کہا ہے: میں ہی وہ محمد رسول اللہ ہوں جو پہلے بھی نبی بن کر آیا تھا اور اب پھر نبی بن کر آیا ہوں اور محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی ہے۔ کوئی نیا نبی نہیں آیا ہے کہ خاتم النبیین کی آیت کو کوئی گزند پہنچے۔

یہ عبارت ناقابل برداشت ہے۔ اس کائنات میں محمد رسول اللہ ﷺ صرف آمنہ کی گود کو ہی نصیب ہوا ہے۔ کوئی انسان، کوئی فرشتہ ،کوئی مخلوق، محمد رسول اللہ ﷺ کے برابر درجہ اور کمالات کو نہیں پاسکتا۔ مرزائیوں کی یہ تاویل کہ ایسے ہوا۔ بیہودہ ، بودی ، بے کار، حکومت کا اس رسالہ کو واگزار کرنا افسوس ناک۔‘‘

(لولاک مؤرخہ ۲۱؍ اگست ۱۹۶۴ء)

حکومت کے اس اقدام کے خلاف خدام الدین نے یہ اداریہ تحریر کیا:

حکومت مغربی پاکستان متوجہ ہو

’’ہمیں اخبارات میں یہ پڑھ کر سخت صدمہ ہوا کہ گورنر مغربی پاکستان نے مرزاغلام احمد قادیانی کے پمفلٹ ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ کی ضبطی کا حکم واپس لے لیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون !

ہم اس سے قبل گورنر مغربی پاکستان کے متعلق یہ یقین رکھتے تھے کہ وہ ایک متدین، غیر متزلزل قوت ارادی کے مالک اور صاف گو مسلمان ہیں۔ وہ ایک حکم دے کر کسی کے دباؤ سے اسے واپس نہیں لے سکتے۔ لیکن یہ خبر پڑھ کر ہمارے گمان کو ٹھیس پہنچی ہے اور ہم یہ باور کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ وہ بھی قادیانیوں کے دباؤ اور دام فریب میں آگئے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قادیانیوں نے چال چلی ہو۔ کیونکہ یہ اطلاع عام حلقوں میں گرم ہے کہ قادیانی پہلے خود ہی اپنی کتابوں کو ضبط کراتے ہیں اور پھر انہیں واگزار کرا کے اس کا اشتہار دیتے ہیں تا کہ کتاب زیادہ سے زیادہ ہاتھوں تک پہنچ جائے۔ نفسیاتی طور پر لوگوں کے ذہنوں پر یہ تاثر ہوتا ہے کہ جو کتاب ضبط ہوئی ہے، اسے دیکھنا چاہئے کہ آخر اس میں کیا ہے؟ اور اس طرح وہ کتاب دھڑا دھڑ بک جاتی ہے۔ یہ صورتحال اور بھی افسوس ناک ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ قادیانی کس حد تک حکومت کی کارکردگی میں دخیل ہیں۔ ہم اپنی معزز حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس صورت حال کا جائزہ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۳۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لے۔ اس سلسلے میں عوام کی بدگمانیوں کو دور کرے اور اپنے تازہ فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے اس ناپاک کتاب کی ضبطی کے فوری احکامات صادر کرے، جس میں انبیاء علیہم السلام اور بزرگان دین کی واضح توہین کی گئی ہے۔ خدا کرے! یہ آواز صدا بصحرا نہ ثابت ہو۔‘‘

(خدام الدین مؤرخہ ۲۷؍ اگست ۱۹۶۴ء)

اس بحث کو میں اس روایت پر ختم کرتا ہوں جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مرکز ملتان کی مطبوعہ کتاب ’’تذکرہ مجاہدین ختم نبوت‘‘ (ص ۳۷، ۳۸) پر درج ہے۔ مرزائیوں کے وہ (گورنر امیر محمد خان) سخت مخالف تھے۔ ان کی ملک اور اسلام دشمنی سے پوری طرح آشنا تھے۔ قاضی احسان احمد شجاع آبادی نے ایک ملاقات میں مرزا قادیانی کی کتاب ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ دکھائی اور اس کے مندرجات پڑھ کر سنائے تو امیر محمد خان آبدیدہ ہو گئے۔ انہوں نے فوراً اس کتاب کو خلاف قانون قرار دے دیا۔ قاضی صاحب نے انہیں مبارک باد کا تار بھیجا۔ مرزائیوں نے اس پابندی کے خلاف زور وشور سے آواز بلند کی اور ایوب خان تک رسائی کی، جس نے بالآخر کتاب سے پابندی ہٹا دی۔ امیر محمد خان کو سخت صدمہ ہوا۔ مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا مفتی محمود صاحب ان سے ملے اور پابندی اٹھانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ امیر محمد خان نے کہا: مفتی صاحب! مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ مرزائیت کتنی بڑی طاقت اختیار کر گئی ہے۔

اس کتاب پر پابندی کے بعد جب اندرون و بیرون ملک سے مجھ پر اور صدر مملکت پر دباؤ پڑنا شروع ہوا تو مجھے احساس ہوا کہ مرزائیت کتنی بڑی طاقت ہے۔ آج مرحوم زندہ نہیں۔ کوئی ان کی قبر پر جا کر مرزائیت کی رسوائی و پسپائی کا حال ان سے بیان کرے تا کہ ان کی قبر کو ٹھنڈک پہنچے اور ثابت ہو کہ العظمة لله ولرسوله!

چنیوٹ میں دارالمبلغین کا افتتاح

۲۷؍ جون ۱۹۶۵ء بروز جمعتہ المبارک بعد نماز عصر محلہ انصاریاں چنیوٹ میں ’’دارالمبلغین‘‘ کے افتتاح کی تقریب سعید منعقد ہوئی۔ یہ درس گاہ ملک میں اپنی نوعیت کی واحد درس گاہ ہوگی جس کا اہتمام پاکستان کی مشہور دینی اور تبلیغی جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت نے کیا ہے۔ اس درسگاہ میں صرف ایسے فارغ التحصیل علماء کو داخلہ مل سکے گا جو نہ صرف تکمیل علوم ہی کر چکے ہوں بلکہ تحریر و تقریر سے بھی خاص مناسبت رکھتے ہوں گے۔ ایسے طلباء کو ادارہ اندرون ملک اور بیرون ملک تبلیغ اسلام کرنے کی تربیت دے گا۔ توحید، رسالت، مسئلہ ختم نبوت، قیامت، فلسفۂ اسلام، صداقت اسلام، اتباع سنت و قرآن، فضائل و محاسن فخر دو عالم ﷺ، فضائل صحابہ، فضائل اہل بیت، فضائل اولیائے کرام، فضائل امت محمدیہ اور دوسرے اوامر و نواہی اسلام کے مضامین کی تیاری کے علاوہ ایسے فرقہائے باطلہ جو پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک میں اسلام کے خلاف تبلیغ کرتے ہوئے مسلمانوں کو مرتد بناتے ہیں، کی تردید کی تعلیم بھی دی جائے گی۔ اس درسگاہ کی تعلیم و تربیت کا ایک اہم پہلو یہ ہوگا کہ اس میں طلباء کو اسلام اور اس کے اہم مسائل کے ثبوت میں قرآن و سنت کے شواہد کے علاوہ سائنٹفک دلائل نوٹ کرائے جائیں گے۔ دارالمبلغین کی اس درسگاہ کے ناظم اور پرنسپل پاکستان کے مشہور اور جید عالم مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر مقرر ہوئے ہیں۔ مولانا کو تعلیم و تبلیغ اسلام میں خاص مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ مولانا خود اپنے ابتدائی دور میں مرزائی رہے ہیں اور انہیں کے ہاں آپ کی تعلیم و تربیت ہوئی ہے۔ وہ اردو، انگریزی، فارسی، عربی، سنسکرت زبان کی یکساں طور پر مہارت رکھتے ہیں۔ ایک عرصہ ارتداد کی تبلیغ کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں توفیق اسلام عطا فرمائی اور اس کے بعد سے وہ تبلیغ اسلام کے لئے زندگی وقف کئے ہوئے ہیں۔ آپ آریہ سماج، عیسائیوں، قادیانیوں کے مذہب کے ان سے زیادہ ماہر عالم ہیں۔ مولانا اپنی زندگی میں آریہ سماجیوں،

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۴۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عیسائیوں اور قادیانیوں کو ہند و پاک کے کئی مقامات پر شکست فاش دے کر عظمت و صداقت اسلام ثابت کر چکے ہیں۔ آپ تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں ہند و پاک کے علاوہ افریقہ، عراق، ایران اور برما کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔ آپ کی فن مناظرہ میں علمی دھاک کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اہل باطل آپ سے گفتگو کرنے کے لئے سامنے آنے سے ہچکچاتے ہیں۔ ایسے فارغ التحصیل علماء جو اس درسگاہ میں زیر تعلیم و تربیت رہیں گے، دوران تعلیم ۵۰ روپے ماہوار وظیفہ بھی دیا جائے گا۔ مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنے بجٹ میں اس ادارہ پر صرف کرنے کے لئے ایک ہزار روپیہ ماہوار کی منظوری دی ہے۔

افتتاحی اجلاس کی کارروائی

محلہ انصاریاں کی مسجد کے متصل دارالمبلغین کی ایک منزلہ عمارت میں یہ مبارک اجتماع حکیم شیخ محمد گلزار صاحب دہرہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجتماع میں چنیوٹ کی سیاسی، مذہبی، سماجی اور تجارتی انجمنوں اور جماعتوں کے معززین شریک تھے۔ مولانا محمد حسین، مولانا حبیب الغفور، مولانا دوست محمد ساقی، مولانا عبدالکریم، مولانا عتیق الرحمٰن، مولانا طالب غفار، حافظ دوست محمد، ڈاکٹر محمد اسماعیل، ڈاکٹر علی محمد خان، شیخ محمد انور، شیخ اللہ دین، محمد صدیق، ظہور احمد، شیخ منظور احمد، شیخ محمد بشیر، میاں احمد بخش، حاجی اللہ دین، چوہدری محمد شفیع، محمد بشیر، میاں اللہ دتہ، چوہدری غلام محمد، میاں محمد عادل، میاں محمد شریف، عبدالکریم سالاری، چوہدری حبیب احمد، نذر حسین، عبدالحکیم، اشفاق احمد، منظور احمد وغیرہ دوسرے معززین شہر شامل تھے۔ مولانا تاج محمود آف لائل پور اور مولانا مجاہد الحسینی سابق ایڈیٹر آزاد لاہور بھی شریک اجلاس تھے۔

تلاوت قرآن مجید کے بعد مولانا لال حسین اختر نے ان نو علمائے کرام کا تعارف کرایا جو اب تک اس عظیم الشان درس گاہ میں داخلہ لے چکے ہیں۔ اس کے بعد مولانا موصوف نے اپنی مختصر اور جامع تقریر میں تبلیغ اسلام کی اہمیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام کے سب سے پہلے مبلغ خود جناب محمد رسول اللہ ﷺ تھے۔ آپ کو تبلیغ اسلام کی راہ میں بڑے بڑے مصائب برداشت کرنے پڑے۔ لیکن آپ نے اللہ کی تعلیمات کو ہر سختی کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کرتے ہوئے مخلوق خدا تک پہنچایا۔ آپ ﷺ کی صداقت، محنت اور خلوص رنگ لائی اور آج چار دانگ عالم میں اسلام کے پھریرے لہرا رہے ہیں۔ آپ نے حضور ﷺ کے شاگردوں، صحابہ کرام ؓ اور ان سے فیض پانے والے بزرگان اسلام کی تاریخ مختصراً بتائی کہ کس طرح انہوں نے دنیا کے کونے کونے تک اسلام کا پیغام پھیلا دیا۔ مولانا نے اسلام کے لئے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور ان کے جانشینوں کی تحریری اور تقریری خدمات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آج جب کہ گمراہ کن فتنے امت مصطفیٰ کا ایمان خراب کرنے کے لئے چاروں طرف سے اٹھ رہے ہیں، ہمیں اس فریضہ اسلام سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا چاہئے۔

آپ کے بعد مولانا تاج محمود ایڈیٹر ”لولاک“ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آپ نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد اسلام پر ہے۔ اس ملک میں جس قدر اسلامی اعمال اور اخلاق کو فروغ حاصل ہوگا یہ ملک اتنا ہی ترقی اور استحکام حاصل کرے گا اور خدانخواستہ اگر خلاف اسلام ارتدادی تحریکیں کامیاب ہوں گی تو جہاں اس ملک کے عوام عقائد و اعمال میں گمراہ ہوں گے، وہاں اس ملک کا وجود اور استحکام خطرے میں پڑ جانے کا احتمال ہے۔ آپ نے بعض ارتدادی فتنوں کا پس منظر اور پیش منظر وضاحت کے ساتھ بیان کیا اور چنیوٹ کی اہمیت بتائی۔ مولانا نے کہا کہ سر فرانسس موڈی انگریز گورنر پنجاب نے چنیوٹ اور اس کے گردونواح پر جو خاص مہربانی فرمائی ہے اس کی وجہ سے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۴۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چنیوٹ کے لوگوں کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔ آپ نے چنیوٹ کے عوام کو خبردار کیا کہ آپ لوگوں کی تجارت، اولاد اور ایمان تینوں ہی اس تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں جس سے بچاؤ کرنا آپ کا اولین فرض ہے۔ آخر میں خطیب اہل سنت والجماعت مولانا محمد حسین صاحب نے اس تقریب کا اختتام دعائے خیر سے کیا۔‘‘

(ہفت روزہ لولاک مؤرخہ ۳؍ جولائی ۱۹۶۴ء)

سالہا سال تک چنیوٹ میں دارالمبلغین قائم رہا۔ مولانا لال حسین اختر ۱۹۶۸ء میں غیر ملکی سفر پر تشریف لے گئے تو دارالمبلغین کو دفتر مرکزیہ ملتان منتقل کر دیا گیا، جو عرصہ تک اسی آب و تاب سے رواں دواں رہا۔ پھر اس کو چناب نگر منتقل کر دیا گیا۔ اللہ رب العزت کا کرم ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں رد قادیانیت کے عنوان پر کام کرنے والے تمام علماء ومناظرین بالواسطہ یا بلاواسطہ اسی دارالمبلغین کے تربیت یافتہ ہیں۔ چنیوٹ میں قائم دارالمبلغین کی کارکردگی مجلس چنیوٹ کی سالانہ روئیدادوں میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔

مرزائیوں کے لئے زرمبادلہ

مرکزی حکومت نے ۱۹۵۹ء سے اب تک مرزائی مشنوں کو بیرونی ممالک میں ان کی تبلیغی اور دوسری سرگرمیوں کے لئے بارہ لاکھ گیارہ ہزار نوسو اٹھائیس روپے (۱۲۱۱۹۲۸) کا زرمبادلہ دیا ہے۔ اس امر کا انکشاف خزانہ کے پارلیمینٹری سیکرٹری مسٹر محمد حنیف خان نے آج قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران کیا۔ مسٹر یوسف کے ایک سوال کے جواب میں مسٹر محمد حنیف نے کہا کہ مرزائی مشنوں سے کوئی رعایت نہیں برتی گئی، کیونکہ حکومت کی یہ پالیسی ہے کہ جو بھی مذہبی ادارہ درخواست کرے حکومت اس کے لئے زرمبادلہ منظور کرتی ہے۔ ان تمام مذہبی اداروں کو جو بیرونی ملکوں میں کام کرنا چاہیں زرمبادلہ دیا جائے گا۔ مسٹر یوسف نے دریافت کیا تھا کہ کیا حکومت اس بات سے باخبر ہے کہ مرزائی فرقہ ختم رسالت کا قائل نہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ عقیدہ اسلام کے منافی ہے۔ اس لئے مرزائیوں کو زرمبادلہ کیوں دیا گیا؟ اسپیکر نے اس سوال کی اجازت نہیں دی۔ لیکن مسٹر حنیف کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ میں سب کچھ جانتا ہوں۔‘‘

(لولاک مؤرخہ ۲۸؍ اگست ۱۹۶۴ء)

جناب سید نور احمد صاحب نے روزنامہ مشرق لاہور میں مارشل لاء سے مارشل لاء تک (۱۹۱۹ء سے ۱۹۵۸ء) کی کہانی لکھنا شروع کی۔ قسط نمبر ۱۳۸ مؤرخہ ۳؍ فروری ۱۹۶۴ء، قسط نمبر ۳۴۶، قسط نمبر ۳۴۷، قسط نمبر ۳۴۸، مؤرخہ ۵، ۶، ۷؍ ستمبر میں مرزائیوں کی گورداسپور کو پاکستان کی بجائے ہندوستان کو دلوانے کی سازش کا پردہ چاک کیا۔ یہ قسطیں ہمارے پاس اصل محفوظ ہیں۔ اہم ترین ہونے کے باوجود طوالت کے خوف سے شامل اشاعت نہیں کر رہے۔ تاہم اس سلسلہ میں ایک اقتباس ایشیاء لاہور سے پیش خدمت ہے جو اہم بھی ہے اور ضروری ومختصر بھی۔

گھر کا بھیدی

اور یہ حصہ ہم بلا تبصرہ پیش کر رہے ہیں: ’’معاصر مشرق (۲۵؍ جون ۱۹۶۴ء) میں ’’بھیدی کی شہادت‘‘ کے عنوان سے ’’آج کی باتیں‘‘ کے کالم میں لکھا ہے: ’’مشرق میں راجہ غضنفر علی خان مرحوم کی سرگزشت کے آئینہ میں برصغیر پاک وہند کے چالیس سالہ دور کی جو تاریخ میر نور احمد صاحب لکھ رہے ہیں، اس میں تقسیم پنجاب کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے قادیانی حضرات کے اس کردار پر اظہار افسوس کیا تھا کہ انہوں نے ضلع گورداسپور کے سلسلے میں باؤنڈری کمیشن کے سامنے اپنا کیس مسلمانوں کے مقدمے سے علیحدہ پیش کیا تھا اور ان کے اس اقدام سے مسلمانوں کو خاصا نقصان پہنچا تھا۔‘‘

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۴۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس قسط کے چھپنے کے بعد قادیانی حضرات کی طرف سے ہمارے دفتر میں احتجاجی مراسلات کے ڈھیر لگ گئے۔ یہ مراسلے چونکہ ایک خاص ہدایت کے تحت لکھے گئے تھے، اس لئے ان میں بڑی یکسانی تھی اور کم وبیش ہر ایک نے ایک ہی سے دلائل دیئے تھے۔ ان مراسلوں میں جن دو حضرات کو انہوں نے بالاتفاق اپنی حسن خدمت کے ثبوت میں پیش کیا تھا، ان میں ایک جسٹس محمد منیر بھی تھے جو باؤنڈری کمیشن کے رکن اور مسلم مفاد کی نمائندگی کرتے تھے۔ حسن اتفاق دیکھئے کہ ان دنوں معاصر عزیز پاکستان ٹائمز میں جسٹس صاحب خود اس دور کی کہانی لکھ رہے ہیں۔ اس داستان کی تیسری قسط میں گورداسپور کے ذیلی عنوان سے انہوں نے لکھا ہے :

’’گورداسپور کے سلسلے میں، میں ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ بات کبھی میری سمجھ میں نہیں آئی کہ آخر احمدیوں نے ایک علیحدہ عرضداشت کیوں پیش کی؟ اس علیحدہ نمائندگی کی ضرورت صرف اس وجہ سے پیدا ہوسکتی تھی کہ احمدی حضرات مسلم لیگ کے موقف سے متفق نہ تھے اور یہ بات خود اپنی جگہ بڑی افسوس ناک تھی۔ ممکن ہے کہ ان کی نیت یہ ہو کہ مسلم لیگ کا مقدمہ مضبوط کیا جائے۔ لیکن انہوں نے شکر گڑھ کے مختلف حصوں کے بارے میں جو اعداد وشمار پیش کئے ان سے الٹا یہ ثابت ہو گیا کہ دریائے بین اور دریائے بسنتر کے درمیان علاقے میں غیر مسلم آبادی کی اکثریت ہے۔ اسی طرح انہوں نے یہ دلیل فراہم کر دی کہ اگر دریائے اوجھ اور دریائے بسنتر کا دوآبہ بھارت کو دے دیا جائے تو بین بسنتر دوآبہ اپنے آپ بھارت کا حصہ بن جائے گا۔ بہر کیف یہ علاقہ ہمارے پاس رہا۔ مگر احمدیوں نے جو موقف اختیار کیا وہ گورداسپور کے معاملے میں ہمارے لئے خاصی پریشانی کا موجب بن گیا۔‘‘

(پاکستان ٹائمز مورخہ ۲۴؍ جون ۱۹۶۲ء)

اہل ربوہ تاویل کے امام ہیں۔ دیکھئے! جسٹس موصوف کی اس شہادت کے بعد وہ کیا موقف اختیار کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ جسٹس محمد منیر احمدی فرقے کے معاملہ میں عام مسلمانوں کی طرح ’’متعصب‘‘ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حضرات فسادات پنجاب کے سلسلے میں ان کی رپورٹ کو بڑی قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اٹھتے بیٹھتے اس کا حوالہ دیتے رہتے ہیں۔‘‘

(ایشیاء لاہور، مورخہ ۳۰؍ جون ۱۹۶۲ء)

تحریک ختم نبوت کا قاتل جنرل اعظم خان

تحریک ختم نبوت کے قاتل جنرل اعظم خان کے متعلق صدر مملکت جناب ایوب خان نے ایک تقریر میں کہا کہ : ’’جنرل اعظم خان مشرقی پاکستان سے وفاداری نہیں کریں گے۔‘‘

(صدر ایوب)

کھلنا، پیر (ا.پ.پ) صدر ایوب نے آج یہاں بتایا کہ انہوں نے لیفٹیننٹ جنرل اعظم خان کو مشرقی پاکستان کے گورنر کے عہدہ سے اس لئے برطرف کیا تھا کہ وہ دونوں صوبوں کے عوام کے درمیان منافرت پھیلا رہے تھے۔ انہوں نے جنرل اعظم پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ گورنر کی حیثیت میں ملک دشمن عناصر سے روابط بڑھا رہے تھے۔ صدر ایوب نے یہ بات آج یہاں تعارفی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ صدر ایوب نے کہا کہ انہوں نے آج تک سابق فوجی افسر اور وزیر پر کھلے بندوں نکتہ چینی سے احتراز کیا ہے، لیکن جنرل اعظم خان ملک بھر کے دورہ میں ان کے (صدر ایوب) اور فوج کے خلاف باتیں کر رہے ہیں۔

صدر ایوب نے کہا کہ جنرل اعظم خان یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہیں مشرقی پاکستان سے بڑی محبت ہے، لیکن جب انہیں مشرقی پاکستان کا گورنر مقرر کیا گیا تھا تو انہوں نے اس علاقہ میں آنے سے پس و پیش کیا تھا۔ صدر ایوب نے الزام عائد کیا کہ جنرل اعظم خان فوج اور میرے وفادار نہیں ہیں، اسی طرح وہ عوام کے ساتھ بھی وفادار نہیں ہیں۔ اس لئے مشرقی پاکستان کے عوام کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ جنرل

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اعظم ان سے وفاداری کریں گے۔ جنرل اعظم کے دماغ میں عقل سلیم سے زیادہ حرص و آز ہے۔‘‘

(روزنامہ مشرق لاہور مورخہ ۲۲؍دسمبر ۱۹۶۴ء)

تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے قاتل خواجہ ناظم الدین ایک دفعہ پھر سیاست کو منہ مارنے لگے تو مسلمان لیڈر تاج محمود نے تحریر فرمایا:

خواجہ ناظم الدین سے

’’یادش بخیر خواجہ ناظم الدین صاحب کو آج کل پھر دورہ پڑا ہے اور وہ مغربی پاکستان آئے ہیں۔ انہوں نے لاہور آتے ہی ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ اس وقت جمہوریت کی بحالی سب سے ضروری مسئلہ ہے۔ وہ موجودہ حکومت کو جمہوریت کے لئے سب سے زیادہ نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔

ہم اللہ و رسول کی حمد و نعت کو اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہیں۔ ملکی سیاست کی ہمیں کچھ زیادہ سمجھ نہیں ہے۔ لیکن ہمارا دل چاہتا ہے کہ کوئی بھلا آدمی خواجہ ناظم الدین صاحب سے عرض کرے کہ خدا کے واسطے آپ جمہوریت کے لئے کچھ نہ کہا کریں۔ کیونکہ آپ کا جمہوریت کے حق میں کچھ کہنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی طوائف، عصمت کے موضوع پر وعظ و تلقین کرے۔ سیاست دان لوگ کہا کرتے ہیں کہ لوگوں کا حافظہ کمزور ہوتا ہے اور لوگ بھول جایا کرتے ہیں۔ پہلے تو ہمیں اس جملہ پر حیرت ہوا کرتی تھی لیکن خواجہ صاحب کا وعظ سن کر اس بات کا یقین آنے لگا ہے۔ ہمارے ملک میں جمہوریت نامی اگر کوئی چیز تھی تو اس کو ذبح کرنے والے خواجہ ناظم الدین صاحب ہی تو تھے۔ پوری قوم ایک طرف تھی لیکن انہوں نے کسی ایک کی نہ مانی۔ پرامن اور جائز مطالبہ کرنے والی قوم پر آگ اور لوہا برسا کر اسے کچل کر رکھ دیا۔ جمہوریت کا خون بہایا۔ فوج اور پولیس کو بے دریغ استعمال کر کے جمہور کے منہ بند کر دیئے۔ لاہور، لائل پور، سیالکوٹ اور راولپنڈی کی سڑکوں پر ختم الرسل ﷺ کا نام لینے والوں کے لاشے تڑپائے گئے۔ عشق رسول میں سرشار معصوم نوجوانوں کو ٹکٹیوں سے باندھ کر بید زنی کی سزائیں دی گئیں۔ علمائے کرام و سجادہ نشین حضرات کو ذلیل و رسوا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی۔ پاکستان کی ساری خدائی ایک طرف اور انگریزوں کا خود کاشتہ پودا دوسری طرف لیکن خواجہ صاحب کو اسلام، خدا اور رسول اور جمہوریت میں سے کوئی چیز ظلم کرنے سے باز نہ رکھ سکی۔

(لولاک مؤرخہ ۳؍جولائی ۱۹۶۴ء)

قادیانی پریس

ہر ملک اور ہر قوم کو ہمیشہ داخلی سکون اور امن وامان کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ بڑے سے بڑے مستحکم ملک اور عظیم سے عظیم قومیں نظم وضبط کے فقدان اور داخلی امن وامان نہ رہنے کی وجہ سے کمزور ہو جایا کرتی ہیں۔ مملکت پاکستان کو موجودہ حالات میں جن نازک اور اہم مسائل کا سامنا ہے، ان حالات میں خاص طور پر ملکی امن وامان اور داخلی سکون کی اسے سخت ضرورت ہے۔ اختلاف وانتشار خواہ مذہبی بنیادوں پر ہوں، خواہ علاقائی، نسلی، لسانی بنیادوں پر ہوں، وہ ملک کے لئے نہایت مضر اور نقصان دہ ہیں۔

علاوہ ازیں ملک میں عام انتخابات ہو رہے ہیں۔ عام انتخابات کے بعد صدارتی، صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے انتخابات کا مرحلہ درپیش ہے۔ مختلف قوتیں حصول اقتدار کے لئے رسہ کشی میں مبتلا ہیں۔ ملک میں سیاسی شعور اور سیاسی تربیت ناپید ہے۔ ایسے نازک ترین وقت میں کوئی ایسا شوشہ جو ملک میں کسی نئے فتنے کی آگ کو بھڑکائے، پرلے درجہ کی ملک دشمنی اور ملت کشی ہے۔ یہ امر واقعہ ہے اور اس میں کسی تعصب اور تنگ دلی کا شائبہ تک نہیں کہ موجودہ حالات میں قادیانی پریس جارحانہ اور اشتعال انگیز پروپیگنڈے کی مہم میں مصروف ہے۔ ہم نے قادیانی فرقہ کی بجائے قادیانی پریس کا لفظ استعمال کیا ہے۔ تقسیم سے قبل قادیانی جماعت کا ایک معمولی ترجمان الفضل ہی ہوا

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۴۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کرتا تھا۔ جو بحیثیت اخبار کے بالکل ناکام تھا اور جس کے متعلق ایک دفعہ مغربی پاکستان کے مشہور مزاح نگار صحافی چراغ حسن حسرت مرحوم نے لکھا تھا کہ قادیانیوں نے نبوت باطلہ کا کاروبار چلا لیا ہے، لیکن الفضل اخبار نہیں چلا سکے۔

لیکن اب انقلاب کے زمانے میں انہی قادیانیوں کے مختلف ناموں سے بیسیوں پرچے نکل رہے ہیں۔ وہ قادیانی خفیہ تحریک جو ملک میں گہری اور جڑ دار بنیادوں پر منظم ہو رہی ہے، یہ تمام پرچے اس کی شاخیں اور اسی کی بولی بولنے والے ساز ہیں۔ الفضل، لاہور، الفرقان، رفتار زمانہ، پیغام صلح اور دوسرے قادیانی پرچے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح منظم طریقہ سے وہ اپنے سیاسی اور مذہبی مقاصد کے لئے کوشاں ہیں ہفت روزہ ”لولاک“ کی امروزہ اشاعت میں لائل پور کے ایک معاصر کا اداریہ ہم من وعن شائع کر رہے ہیں، جس سے ہمارے اس خیال کی تائید ہوتی ہے کہ کس طرح قادیانی پریس منظم طریقہ پر ملک میں دہشت پھیلانے اور اشتعال انگیزی کی مہم میں مصروف ہے:

”گزشتہ دنوں لائل پور میں جناب صدر مملکت سے لائل پور کے علماء کرام کے وفد نے دوران ملاقات دوسرے مسائل کے علاوہ اس خاص مسئلہ کی طرف بھی صدر مملکت کی توجہ مبذول کرائی تھی کہ قادیانی جماعت اپنے ایسے نظریات اور عقائد کی نشر واشاعت بڑے دھڑلے سے کر رہی ہے جو مسلمانوں کے لئے نہایت منافرت خیز اور اشتعال انگیز ہیں اور اس امر کی قطعاً پرواہ نہیں کرتی کہ اس لٹریچر اور پروپیگنڈے کا ملت اسلامیہ میں کیا ردعمل ہوگا؟ اراکین وفد نے یہ بھی عرض کیا کہ ہمارے لئے بڑی مشکل یہ ہے کہ اگر ہم جواب اور جواب الجواب کا سلسلہ شروع کریں تو ملک کا امن وامان برباد ہو کر رہ جائے گا اور اگر خاموشی اختیار کریں تو یہ امر علمائے حق کے دینی اور ایمانی فرائض سے غفلت کے مترادف ہے۔

چنانچہ اس معقول درخواست کو صدر مملکت نے درخور اعتناء سمجھتے ہوئے مغربی پاکستان کی حکومت کے ایک محترم نمائندے سے فرمایا کہ اس شکایت کا ازالہ ہونا چاہئے۔ اس لئے ہم حکومت مغربی پاکستان سے درخواست کریں گے کہ وہ اپنی گوناگوں ذمہ داریوں اور مصروفیتوں کے باوجود اس خاص مسئلہ کی طرف توجہ کرے اور اس بات کی تحقیقات کی جائیں کہ گزشتہ سال میں کتنے کتابچے، پمفلٹ، اشتہارات، دو ورقے اور اخبارات ربوہ سے شائع ہو کر ملک میں تقسیم ہوئے اور ان کا مواد کس حد تک ملت اسلامیہ کے لئے قابل برداشت تھا۔

اگر ہماری گزارشات صداقت پر مبنی ہوں تو ملت اسلامیہ کے صبر کو اس سے زیادہ نہ آزمایا جائے۔ آج اگر مغربی پاکستان میں خواجہ ناظم الدین مرحوم کی جماعت کے لوگوں اور سابقہ مرد آہن خان عبدالقیوم، جنرل اعظم اور میاں دولتانہ کو کوئی نہیں پوچھتا اور وہ اپنے زخم چاٹتے پھرتے ہیں تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ مغربی پاکستان کے مسلمانوں کو ان کی وہ سرد مہری یاد ہے جو انہوں نے قادیانی مسئلہ کے سلسلہ میں اختیار کی تھی اور اسی طرح ان کے وہ مظالم بھی عوام کو یاد ہیں جو ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران انہوں نے مسلمانوں پر ڈھائے تھے۔ ’فاعتبروا یا اولی الابصار‘“

(ہفتہ وار لولاک مؤرخہ ۶؍نومبر ۱۹۶۲ء)

المنبر اور قادیانی پریس

معاصر ہفت روزہ ”المنبر“ نے پچھلے دنوں قادیانیت اور اسلام کے درمیان بنیادی فرق بیان کرتے ہوئے چند مضامین شائع کئے تھے جو ہمارے قادیانی معاصرین کو ناگوار گزرے۔ قادیانی دوستوں کی یہ عجیب وغریب منطق ہے کہ وہ آئے دن اسلام کے بنیادی عقائد اور تعلیمات کے خلاف اپنے خود ساختہ مذہب کی تبلیغ پر مشتمل کتابچے اور پمفلٹ ملت اسلامیہ میں تقسیم کرتے رہتے ہیں، لیکن اگر علماء اسلام یا اخبار نویسوں میں سے کوئی صاحب ایمان ان کا نوٹس لے تو پورا قادیانی پریس پنجے جھاڑ کر اس کے پیچھے پڑ جاتا ہے۔ چنانچہ مولانا

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عبدالرحیم اشرف پر آج کل قادیانیوں کی یہی سازشی یلغار ہو رہی ہے۔ جس کے جواب میں مولانا موصوف نے اصل حالات سے پردہ اٹھا کر عوام اور پریس برانچ کے حکام کو متوجہ کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے میں قادیانیوں کا رویہ نہایت اشتعال انگیز ہے۔ وہ اس طرح کا سازشی واویلا کر کے پورے اسلامی پریس اور ہر مکتب فکر کے علماء کرام کو اپنے خلاف منظم جدوجہد کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ ہم معاصر ”المنبر“ کا ادارتی نوٹ من وعن شائع کر رہے ہیں:

(ایڈیٹر لولاک)

اس بات پر تو ہم اللہ ذوالجلال والاکرام کے حضور سجدہ ریز ہیں کہ اس وہاب حقیقی نے ”المنبر“ کو جو سعادت قادیانیت کی حقیقت کو بے نقاب کرنے کی عطاء فرمائی اس کے برحق، مدلل اور وزنی ہونے کا اعتراف قادیانی پریس نے اس صورتحال میں کیا ہے کہ ”الفضل“، ”الفرقان“، ”رفتار زمانہ“ لاہور اور ”پیغام صلح“ سبھی نے ”المنبر“ پر یورش کی ہے اور یہ یورش لامحدود ہی نہیں اشتعال انگیز بھی ہے اور ہم قادیانیت کی تاریخ اور قادیانی لٹریچر کے عمیق مطالعہ سے اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی سے مرزا محمود تک، مولوی عبدالکریم سیالکوٹی سے ابوالعطاء اللہ دتہ جالندھری تک، میر قاسم علی سے روشن دین تنویر تک اور خواجہ کمال دین سے دوست محمد ایڈیٹر پیغام صلح تک تمام قادیانی مصنفین، ایڈیٹروں اور مقالہ نگاروں کی مشترکہ خصوصیت یہ ہے کہ یہ حضرات جب دلائل کے مقابلے سے عاجز آجاتے ہیں تو اپنے مدمقابل کے خلاف اشتعال انگیزی، غلط بیانی اور گالم گلوچ پر اتر آتے ہیں اور اس بات میں ان کا اصول بعینہ وہی ہے جو جرمنی کے بدنام گوئبلز نے معمول بنایا تھا کہ جھوٹ اس کثرت، اس تکرار اور اس تسلسل سے بولو کہ سننے والے اسے باور کرنے پر مجبور ہوجائیں۔

”المنبر“ نے اب تک جو جرم کیا ہے وہ صرف یہ ہے کہ اس نے اس کھلی حقیقت کے ناقابل تردید شواہد پیش کئے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اس نفسیاتی عارضہ میں مبتلا تھے کہ وہ خود بڑا بننے کے لئے فی الواقع بڑے انسانوں کے منہ رکھتے تھے اور ان کی خوبیوں کو اس انداز سے پیش کرتے تھے کہ مرزا غلام احمد کی ذاتی برائیاں ان سے ہم آہنگ دکھائی دینے لگتیں۔

اسی طرح ”المنبر“ نے دوسری تابندہ حقیقت جو پیش کی ہے وہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد، نبوت کے مدعی تھے۔ انبیاء سابقین سے افضل ہونے کے دعویدار تھے اور خاکم بدہن...... اس بات پر مصر تھے کہ انہیں سیدالاولین والآخرین، خاتم النبیین محمد ﷺ کا ظل اور بروز ہی نہیں، مجسم محمد مصطفیٰ تسلیم کیا جائے اور یہ مانا جائے کہ مرزا غلام احمد، رحمۃ للعالمین بھی تھے۔ ”لولاک لما خلقت الافلاک“ کے مصداق بھی تھے۔ خاتم النبیین بھی تھے اور ان کی شان یہ تھی کہ محمد ﷺ کی صداقت کا ثبوت تو خدائے ذوالجلال نے چاند گرہن (مرزا غلام احمد قادیانی معجزہ شق القمر کی شان گھٹانے کے لئے اسے چاند گرہن سے تعبیر کرتے ہیں) سے پیش کیا ہے، مگر مرزا غلام احمد کے لئے سورج اور چاند دونوں کو گرہن لگا۔ اسی طرح مرزا غلام احمد کا دعویٰ یہ ہے کہ شیعہ جس علی (ؓ) کو مانتے ہیں وہ تو مردہ علی (ؓ) ہے اور یہ (مرزا قادیانی) زندہ علی بھی ہیں اور سینکڑوں حسین (ؓ) ان کے گریبان میں بھی ہیں۔

یہ اور اس قسم کے بلکہ ان سے بھی زیادہ اشتعال انگیز دعاوی ہیں۔ ”المنبر“ کی خطا صرف یہ ہے کہ اس نے تمام دعاوی کو خود مرزا غلام احمد کے اپنے الفاظ میں پیش کر دیا۔ بس! لیکن قادیانی امت کے ہاں ایک عجیب افراتفری اس سے مچ گئی اور وہ انتہائی کرب واضطراب کے عالم میں ”المنبر“ کے خلاف حکام کے کان بھرنے اور ”المنبر“ کے بند کرانے کے لئے مسلسل لکھے جارہے ہیں۔

قادیانی اخبارات ورسائل نے اس مہم کو ایسے انداز سے شروع کیا ہے کہ جس سے ان کی اندرون خانہ سازش بے نقاب ہوکر رہ گئی ہے۔ ”الفضل“ نے اس مہم کا آغاز یہ کہہ کر کیا کہ ”المنبر“ کے مقالات اتنے سخت ہیں کہ ہمیں اس کے بند کئے جانے کا مطالبہ کرنا چاہئے تھا، مگر ہم ایسا نہیں کر رہے ہیں۔ ”الفرقان“ آگے بڑھا تو اس نے لکھا کہ ”المنبر“ کا ایڈیٹر پاکستان کا دشمن نمبر ایک ہے، لہٰذا اس کی گرفت ضروری ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۴۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

”لاہور“ نے اپنے خاص انداز میں ”المنبر“ کو اشتعال انگیز قرار دیا ہے اور حکام کو سیاسی زبان میں اس کی جانب متوجہ کیا۔ ”رفتارِ زمانہ“ نے قیامت کی چال چلی، اس نے دیانت اور شرافت کے تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر ”المنبر“ میں شائع شدہ ایک فتویٰ کی یہ عبارت نقل کی ہے:

ایسی باتیں کرنے والے شخص سے قرآن وسنت کے دلائل واضح کرنے کے بعد توبہ کا مطالبہ ضروری ہے۔ اگر وہ توبہ کرکے حق کی طرف رجوع کرے، بہتر۔ ورنہ اسے کفر کی حالت میں قتل کردیا جائے۔ یہ ایک پیراگراف تھا اس فتوے کا جو مدینہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز ابن باز نے ایک سوال کے جواب میں لکھا تھا۔ ”المنبر“ نے عام صحافتی اصول کے مطابق یہ فتویٰ تو من وعن شائع کیا لیکن اس نے اس پیراگراف پر حسب ذیل حاشیہ میں اپنی رائے غیرمبہم الفاظ میں واضح کی، ”المنبر“ نے لکھا: ”اس مسئلے کا تعلق اسلامی حکومت سے ہے، اسلام عوام کو ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ قانون ہاتھ میں لے کر کوئی اقدام کریں۔“

اگر کوئی نجیب انسان ہوتا تو وہ ”المنبر“ کے اس طرزعمل کی داد دیتا کہ اس نے ایک اہم مسئلہ میں بےباکی کے ساتھ ایسی رائے ظاہر کی جو ہر قسم کے غیرقانونی اقدام کا سدباب کرنے کے لئے کافی ہے اور وہ یہ محسوس کرتا کہ مرتد کے ”واجب القتل“ ہونے کا جو عقیدہ امت مسلمہ کے تقریباً سبھی طبقات کے ہاں مسلمہ ہے اس سے اس امر کا احتمال ہوسکتا ہے کہ کوئی عام شخص اس عقیدے سے متاثر ہوکر کوئی اقدام کرگزرے، ”المنبر“ نے اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے اس بےباکانہ رائے کا اظہار کیا کہ ایسا کرنا صراحتاً اسلام کے خلاف ہوگا اور اسلام ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شخص (بجز حکومت کے) قانون ہاتھ میں لے۔ لیکن ”رفتارِ زمانہ“ کی بددیانتی ملاحظہ ہوکہ اس نے ”المنبر“ کی اس وضاحت کو یکسر نظرانداز کردیا اور صرف فتویٰ کی عبارت کو نقل کرکے پریس برانچ کو مشتعل کرنا شروع کردیا کہ ”المنبر“ بدامنی پھیلانے کا مرتکب ہوا ہے، لہٰذا اسے بند کردیا جائے۔

ہم نے گزشتہ سے پیوستہ اشاعت میں ”رفتارِ زمانہ“ کی اس صریح بددیانتی پر اسے اور پریس برانچ کے ذمہ داروں کو متوجہ کیا تو ”پیغام صلح“ اپنے سازشانہ فیصلے کے تحت میدان میں آ کودا اور اس نے یہ منطق بگھاری کہ: ”اگر اس فتوے پر عمل کرنا، اسلامی حکومت ہی کا کام ہے تو اب اس کی اشاعت کا کیا مطلب ہے جب کہ ”المنبر“ کی مزعومہ اسلامی حکومت ابھی موجود ہی نہیں، سوائے اس کے کہ عوام کے جذبات کو برانگیختہ کیا جائے۔ ایسے فتوؤں کے شائع کرنے کا مقصد کیا ہے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ ”المنبر“ کی مزعومہ اسلامی حکومت کے آنے سے پہلے ہی اس کے فتویٰ کو پڑھ کر سرپھرے لوگ قائلین وفات مسیح کو قتل کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں؟ ان حالات میں ہم حکومت مغربی پاکستان کو بڑے زور سے توجہ دلاتے ہیں کہ ”المنبر“ کی جسے پہلے بھی فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے جرم میں دو ماہ کے لئے بند کردیا گیا تھا، زبان بندی کرکے پاکستان کو اس فتنہ وفساد سے بچایا جائے جو ”المنبر“ کے شائع کردہ فتوے سے پیدا ہوسکتا ہے۔“

(پیغام صلح، ۲۱؍اکتوبر۱۹۶۴ء)

قطع نظر اس کے کہ ”المنبر“ کی مزعومہ اسلامی حکومت کے خدوخال کیا ہیں؟ اور یہ کہ ”المنبر“ موجودہ حکومت کو کیا سمجھتا ہے اور کیا نہیں سمجھتا ہے، سوال یہ ہے کہ ”پیغام صلح“ موجودہ حکومت کو کیا واقعی اسلامی حکومت تصور کرتا ہے۔ کیا ”پیغام صلح“ میں یہ اخلاقی جرأت ہے کہ وہ اس سوال کا غیرمبہم جواب دے کہ جو مسلمان مرزا غلام احمد کے دعویٰ نبوت، دعویٰ مسیحیت اور ان کے دعویٰ مہدویت میں ان کو غیرصادق مانتے ہیں (جیسا کہ صدر ایوب اور ان کے ساتھی وزراء) ایسے لوگوں پر مشتمل حکومت اگر اپنے آئین، قانون، تعزیرات اور نظم ونسق کو قرآن وسنت کے تابع بنادے تو کیا ”پیغام صلح“ ایسی حکومت کو ”اسلامی حکومت“ تسلیم کرے گا؟

خیر یہ تو مسئلہ ہے قادیانیوں کے اساسی عقائد سے متعلق اور یہاں بطور جملہ معترضہ یہ پیراگراف عرض کرنا پڑا، اصل سوال یہ ہے کہ ”المنبر“ میں جملہ تو یہ شائع ہوتا ہے کہ حیات مسیح کا منکر اگر کتاب وسنت کے دلائل پیش کئے جانے کے باوجود اپنے باطل عقیدے سے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۴۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رجوع نہ کرے تو اسے قتل کیا جائے اور دوسرا پیراگراف اس کے ساتھ یہ شائع ہوتا ہے کہ اسلام کسی بھی فرد عام کو ہرگز اس امر کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے اور کسی منکر حیات مسیح کو ضرر پہنچانے کے لئے درپے ہو تو کیا وجہ ہے کہ لوگ پہلے جملے سے تو مشتعل ہو کر دفتر ”پیغام صلح“ اور ”رفتار زمانہ“ پر یلغار کر دیں گے اور دوسرے جملے سے کوئی بھی تاثر نہیں لیں گے؟ کیا پہلا جملہ ایٹمی روشنائی سے لکھا ہوا تھا اور دوسرا جملہ کوئلے کی سیاہی سے کہ پہلا تو لوگوں کو مشتعل کر دے گا اور دوسرا غیر موثر ثابت ہوگا۔

اگر ذرہ بھر دیانت کسی شخص میں موجود ہے تو وہ یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ”المنبر“ کی یہ وضاحت نہ صرف یہ کہ فتویٰ کی صحیح وضاحت ہے کہ اس وضاحت سے اس کے غلط استعمال کے تمام امکانات ہی ختم ہو جاتے ہیں اور غیر محتاط افراد کے لئے قانون کو ہاتھ میں لینے اور امن کو نقصان پہنچنے کا دروازہ ہی بند ہو جاتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص اس وضاحت کو تو اپنی جبلی خیانت کے باعث چھپا لیتا ہے اور فتوے کی عبارت سے اشتعال انگیزی میں مسلسل مصروف ہو جاتا ہے تو اس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے کہ وہ امن کا بھی دشمن ہے اور حکومت کے ذمہ داروں کو بھی دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ اس مقام پر ہم بالفاظ واضح تر اپنا یہ بنیادی عقیدہ بار دگر واضح کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم قادیانیوں کو مسلمان سے قطعی طور ایک الگ امت یقین کرنے کے باوجود ان کی جان، ان کے مال اور ان کی عصمت کی حفاظت کو ضروری خیال کرتے ہیں، الاّ کہ کوئی حکومت اسلام کے اساس پر ان کے کسی عقیدے یا عمل یا کسی قانون شکنی کی بنا پر انہیں مستوجب سزا قرار دے۔ اس کا حق صرف حکومت کو ہے۔ افراد اگر قانون اپنے ہاتھ میں لے لیں گے تو ان کا یہ اقدام خود اسلام کے نزدیک فتنہ فساد ہوگا اور انہیں قانون شکنی کا مرتکب قرار دے کر قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

ہم اس مرحلہ میں محکمہ پریس برانچ کے ذمہ داروں کو محسوس کرائیں گے اور ہم یہ تو نہیں کہتے کہ ان سب قادیانی اخبارات کو فوراً بند کرنے کے احکام جاری کر دیں، البتہ ہم یہ ضرور کہیں گے کہ انہیں اشتعال انگیزی سے روکیں اور اس شرانگیزی سے باز رکھیں کہ وہ اندرون خانہ حکام کے کان بھرتے ہیں۔ انہیں خفیہ چٹھیاں لکھتے ہیں اور اس انداز سے اپنے مخالفین پر جھپٹتے ہیں، جیسے انہوں نے دفاتر میں جا کر حکام سے تو اپنے مخالف اخبار کو بند کروانے کا فیصلہ کر رکھا ہو اور اب صرف مواد مہیا کرنے کے لئے وہ اشتعال انگیز ماحول تیار کر رہے ہوں۔

قادیانیوں کا لب ولہجہ ”ایک غلطی کا ازالہ“ کی بحالی کے بعد بے حد جارحانہ ہوگیا ہے، وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ہم اشتعال انگیز پروپیگنڈے، چند مقامات سے ریزولیشن اور خطوط بھجوانے اور جھوٹا واویلا مچانے سے حکومت کو متاثر کر سکتے ہیں اور اپنی ہر بات منوا سکتے ہیں۔

یہ تاثر ملک وملت کے لئے تباہ کن ہے۔ جمہور مسلمانوں کو یہ باور کرانا کہ حکومت قادیانیوں کے قبضہ وتصرف میں ہے اور یہ لوگ جسے نقصان پہنچانا چاہیں اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں، یہ احساس باشندگان ملک اور حکومت کے مابین نفرت کی خلیج پیدا کر رہا ہے اور حکومت کے ذمہ داروں کا فرض ہے کہ وہ قادیانیوں کی اس گہری چال کو سمجھیں کہ وہ بغیر سامنے آئے حکومت کو عوام میں مشکوک پوزیشن دے رہے ہیں۔“

(ہفت روزہ لولاک مورخہ ۶؍نومبر ۱۹۶۲ء)

میں مرزائی نہیں ہوں، ایوب خان و جنرل محمد اعظم خان

”گزشتہ دنوں مغربی پاکستان کے کسی پبلک جلسہ میں صدر مملکت خان محمد ایوب خان نے اعلان کیا تھا کہ میں مرزائی نہیں ہوں۔ میں مسلمان ہوں۔ ہمیں ان وجوہات کا قطعاً کوئی علم نہیں کہ صدر مملکت کو یہ اعلان کیوں کرنا پڑا، کیونکہ کم از کم پبلک طور پر کبھی کسی نے انہیں اس الزام کا مورد قرار نہیں دیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ان کے ارد گرد بعض اہم مناصب پر قادیانی حضرات متمکن ہیں۔ یہ بات پبلک طور پر بھی ناپسند کی

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۴۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گئی تھی اور جناب صدر مملکت کے نوٹس میں بھی لائی گئی تھی۔ بعض اوقات ملک کے بڑے بڑے مذہبی رہنماؤں اور ان کے پیروکاروں نے انہی افسروں کو صدر مملکت اور اپنے درمیان حجاب بھی محسوس کیا۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود وہ لوگ صدر مملکت کی ملکی اور ملی خدمات کے کسی حد تک معترف ہیں اور انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس بات کی وضاحت نہیں ہوئی کہ صدر صاحب کو یہ جملہ کہ ”میں قادیانی نہیں ہوں“ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ابھی ہم صدر مملکت کے اس جملہ کے متعلق سوچ رہے تھے کہ اب خان محمد اعظم خان صاحب نے مشرقی پاکستان کی کسی تقریب میں اعلان کیا ہے کہ ”میں قادیانی نہیں ہوں۔ میں سنی مسلمان ہوں ۔“ اعظم خان صاحب کے اعلان کی حقیقت کو بھی ابھی تک نہیں سمجھ سکے کہ انہیں یہ اعلان کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے اس اعلان کی وجہ وہ بیانات ہوں جو کچھ لوگ ختم نبوت کی تحریک کے دوران اعظم خان صاحب کے نافذ کردہ مارشل لاء کے متعلق دے رہے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ مغربی پاکستان کے دیندار لوگوں کی اکثریت اعظم خان کو شہدائے ختم نبوت کا قاتل سمجھتی ہے۔ بہر حال حزب اقتدار کے محترم قائد خان محمد ایوب خان اور حزب مخالف کے مرد آہن خان محمد اعظم خان دونوں نے تردید کی ہے کہ ہم قادیانی نہیں ہیں بلکہ سنی ہیں، مسلمان ہیں، وغیرہ۔ اس تردید کی کوئی بھی وجہ ہو اور ان بزرگوں کی کوئی بھی ضرورت ہو جس کے باعث یہ تردید کی گئی ہے، ہم سر دست اس کے متعلق بحث ہی نہیں کرنا چاہئے۔

اس وقت ہم ان دونوں بزرگوں کے اس ارشاد کا کہ ہم قادیانی نہیں ہیں بلکہ سنی ہیں، مسلمان ہیں، ایک ہی مطلب سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ملت اسلامیہ کے اس مطالبے کو درست تسلیم کر لیا ہے کہ قادیانی مسلمان نہیں بلکہ دائرہ اسلام سے خارج ایک علیحدہ اقلیت ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس حق گوئی پر قائم رکھے اور جہاں تک ان کا اثر و رسوخ اور اختیار واقتدار ہے، اس دائرے میں بھی انہیں اس حق گوئی کا عملی ثبوت دینے کو توفیق بخشے ۔“

(لولاک، مورخہ ۲۰/نومبر ۱۹۶۲ء)

سر ظفر اللہ خان جواب دیں؟

یادش بخیر! سر ظفر اللہ خان قادیانی آج کل پاکستان میں آئے ہوئے ہیں اور چھانگا مانگا ایسوسی ایشن، دھوکہ منڈی کلب قسم کے اجتماعات میں تقاریر کرتے پھر رہے ہیں۔ ان کی تقریریں کچھ فلسفیانہ مضامین پر ہو رہی ہیں۔ اگرچہ ان کے سامعین قادیانی نوجوان اور ان نوجوانوں کے لگے بندھے یاد آشنا قسم کے لوگ ہی ہوتے ہیں، تاہم وہ دورہ کر رہے ہیں۔ یہ تو نہیں معلوم ہو سکا کہ وہ اپنی تقاریر میں مردہ اسلام اور زندہ اسلام کے فلسفہ کو بھی زیر بحث لا رہے ہیں یا نہیں، لیکن یہ یقین ہے کہ ۲/ جنوری کو اگر صدر ایوب خان کامیاب ہو گئے تو وہ اپنی آخری تقریر اسی بیان پر ختم کریں گے کہ دراصل میرے آنے کا مقصد صدر ایوب خان کی کامیابی کے لئے دورہ کرنا تھا اور جہاں جہاں میں قادیانیوں کو ملنے کے لئے گیا تھا درحقیقت اس سے میرا مقصد صدر ایوب کے لئے کنویس کرنا ہی تھا اور یہ بھی کوئی بعید نہیں کہ وہ صدر ایوب خان کی کامیابی کو اپنے دورہ کا ہی مرہون منت قرار دے لیں۔

خیر! جہاں تک صدر ایوب خان اور ان کے ساتھیوں کا تعلق ہے، ان کے اس غلط فہمی میں مبتلا ہونے کا سوال اس لئے نہیں پیدا ہوتا کہ پورے ملک میں خیر سے بنیادی جمہوریتوں کے انتخابات میں کوئی قادیانی کامیاب ہی نہیں ہوا۔ ملت اسلامیہ میں بڑی کوتاہیاں ہیں، لیکن آفرین ہے کہ اس مسئلہ میں قوم نے شہدائے ختم نبوت کے خونیں کفنوں کی لاج رکھ لی ہے اور جہاں جہاں کسی قادیانی نے کھڑے ہونے کی حماقت کی تھی فرزندان توحید نے ان کی ضمانتیں تک خطرے میں ڈال دی ہیں۔ مسئلہ ختم نبوت پر اس سے بڑھ کر اور کیا استصواب رائے ہو گا اور یہ گنہگار امت اپنے نبی ﷺ کی محبت کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت پیش کرے گی۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۴۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بہر حال! چوہدری صاحب اپنی طرف سے دورہ کر رہے ہیں اور اپنے پرانے ملاقاتیوں سے مل رہے ہیں اور ربوہ کے جلسہ میں شرکت بھی کر رہے ہیں۔ وہاں بھی ان کی ایک آدھ یو۔این۔او کے اجلاس کے برابر لمبی تو نہیں لیکن کافی لمبی چوڑی تقریر ہونے کا امکان ہے، اس لئے نہایت مناسب ہے کہ ایک خاص مسئلہ کی طرف ان کی توجہ منعطف کرائی جائے اور ان سے سوال کیا جائے کہ وہ براہ کرم حالیہ تقریروں میں اس سوال کا جواب بھی دے دیں۔ وہ مسئلہ یہ ہے کہ ۱۹۵۲ء میں بعض ذمہ دار لیڈروں نے قادیانیوں پر یہ چارج لگایا تھا کہ انہوں نے تقسیم ملک کے موقع پر باؤنڈری کمیشن کے سامنے کانگریس اور مسلم لیگ سے علیحدہ تیسرے فریق کی حیثیت سے اپنا کیس الگ پیش کیا تھا۔ جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے، مبینہ طور پر قادیانیوں نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے ایک محضر نامہ پیش کیا تھا جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ قادیانی ایک علیحدہ قوم ہیں۔ قادیان ان کا مقدس مرکز ہے۔ اتنی ان کی تعداد ہے۔ اتنی تعداد میں ان کے افسر فوجوں اور دوسرے محکموں میں ہیں۔ سرکاری افسروں کی فہرست محضر نامہ کے ساتھ شامل کی گئی تھی۔ قادیانیوں کے متعلق مسلمانوں اور ہندوؤں کے موقف کی بھی وضاحت کی گئی تھی اور اس قسم کی وجوہات کی بنا پر مطالبہ کیا گیا تھا کہ قادیان کو کھلا شہر (Open City) قرار دیا جائے۔ قادیان کھلا شہر تو نہ قرار دیا گیا، لیکن اس محضر نامہ کے مندرجات اور اس کے ساتھ منسلک نقشوں کی نحوست یہ ہوئی کہ گورداسپور کا ضلع جو لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے پہلے اعلان کے مطابق پاکستان میں شامل تھا، باؤنڈری کمیشن نے اسے ہندوستان میں شامل کر دیا اور گورداسپور کے ضلع کے ہندوستان میں شمول سے کشمیر جو ہر لحاظ سے پاکستان کا جزو تھا، پاکستان سے کٹ کر رہ گیا اور آج تک بے شمار مالی و جانی قربانیوں کے باوجود اس کشمیر کی الجھی ہوئی گتھی سلجھنے میں نہیں آ رہی ہے۔

اس موقع پر یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے متعلق حالات اور واقعات کی تحقیقات کرنے والی عدالت میں بھی یہ سوال آیا تھا۔ قادیانیوں نے اس الزام کے جواب میں واقعات کا سرے سے انکار کیا تھا اور حد یہ ہے کہ تحقیقاتی عدالت کے ایک رکن اور صدر صاحب، چیف جسٹس منیر صاحب نے قادیانیوں کی صفائی قادیانیوں سے بھی بڑھ چڑھ کر دی تھی اور بڑے تند و تیز لہجے میں الزام عائد کرنے والوں کا استخفاف کیا تھا۔

لیکن جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ دس گیارہ سال کے قلیل عرصہ میں یہ انقلاب آیا کہ انہی منیر صاحب سابق چیف جسٹس نے بقلم خود ایک مضمون پچھلے دنوں پاکستان ٹائمز میں تحریر فرمایا، جس کا ایک اقتباس ہم یہاں من وعن شائع کر چکے ہیں۔ کیا فرماتے ہیں چوہدری ظفر اللہ خان سابق وزیر خارجہ پاکستان اس الزام کی تردید میں؟ جب کہ یہ الزام اب احرار کی طرف سے نہیں بلکہ ان کے چہیتے سابق چیف جج ہائیکورٹ مسٹر منیر احمد صاحب کی طرف سے ہے۔

آخری گزارش ہم اس سلسلہ میں یہ کرنا چاہتے ہیں کہ جسٹس منیر صاحب بھی کتنے سادہ ہیں کہ اب تک ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ احمدیوں نے مسلم لیگ سے علیحدہ باؤنڈری کمیشن کے سامنے عرضداشت پیش ہی کیوں کی تھی۔ اگر ہماری نحیف آواز ان تک پہنچ سکے تو ہم ان کی خدمت میں صرف اتنی گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ آپ اب تک ان کی نیک نیتی کے امکان سوچتے اور حیران ہونے کی زحمت گوارا فرما رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ پر بھی رحم فرمائے۔

ہماری خدا سے دعا ہے کہ سابق چیف جسٹس منیر صاحب کی خدا عمر دراز کرے۔ شاید کوئی ایسا وقت آجائے کہ سارے حالات کھل کر سامنے آجائیں اور جن سے آگاہی کے بعد جسٹس منیر صاحب حقیقت حال کو اچھی طرح سمجھ جائیں اور ان کی سمجھ میں آجائے کہ کیوں احمدیوں نے اپنی علیحدہ عرضداشت پیش کی تھی اور ساتھ ہی جسٹس صاحب کے یہ بھی سمجھ میں آجائے کہ احمدیوں کے نیلے اور پیلے نقشے دینے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۴۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے باوجود اگرچہ شکرگڑھ کا علاقہ تو ہمارے پاس ہی رہا، لیکن باقی گورداسپور ضلع اور پٹھان کوٹ کا علاقہ پھر بھی بھارت میں چلا ہی گیا تھا۔

قریب ہے یارو روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیونکر
جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستین کا

(لولاک مؤرخہ ۲۵؍ دسمبر ۱۹۶۴ء)

۱۳؍ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ کا ’’خدام الدین‘‘ ۲۵؍دسمبر ۱۹۶۴ء میں یہ اشتہار شائع ہوا: ”انا خاتم النبیین لا نبی بعدی (الحدیث)“ ۲۷، ۲۸، ۲۹؍ دسمبر ۱۹۶۴ء، بروز اتوار، پیر، منگل

۱۳؍ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ

۲۷، ۲۸، ۲۹؍دسمبر ۱۹۶۴ء کو چنیوٹ ضلع جھنگ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہو رہی ہے جس میں پاکستان بھر کے مشہور مذہبی اور سیاسی رہنما شریک ہو رہے ہیں۔ دسمبر کے آخری دن عیسائیوں کے بڑے دن گنے جاتے ہیں۔ ان دنوں میں مسیحی اقوام میلے ٹھیلے مناتی ہیں۔ ہمارے قادیانی دوست بھی مسیح موعود کی امت کہلاتے ہیں۔ یہ نئے مسیحی بھی پرانے مسیحیوں کی طرح انہی بڑے دنوں میں ربوہ میں جمع ہو کر سالانہ میلہ قائم کرتے ہیں، جس میں تقریباً سارے قادیانی مرد عورتیں بچے بوڑھے اکٹھے ہوتے ہیں۔ اس موقع پر ہر قادیانی کو اپنے مرکز کی طرف سے ہدایت ہوتی ہے کہ وہ اپنے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ غیر احمدیوں یعنی مسلمانوں کو اپنے خرچ پر ربوہ کے سالانہ میلہ پر لائیں۔ اس حرکت سے بعض بے غیرت مسلمان وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ مرزائیوں کی تعداد اگر کم بھی ہو تو وہ تماشہ دیکھنے والے مسلمانوں کی وجہ سے زیادہ معلوم ہوتی ہے اور یہ جو نما گندم فروش گروہ عام مسلمانوں اور حکومت دونوں کو اس مصنوعی مظاہرے سے دھوکہ دے کر مرزائیت کی تبلیغ کے لئے راہیں ہموار کرتا ہے۔ ربوہ کے گردونواح کے وسیع علاقہ کے لوگوں کے لئے سخت قسم کی پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ اس علاقہ کے سادہ دل اور ان پڑھ مسلمانوں میں سے بعض مرتد ہو کر قادیانی بھی ہو گئے ہیں۔ اس لئے علمائے حق کا یہ فرض ہے کہ اس علاقہ میں پہنچ کر زیادہ سے زیادہ دین کی تبلیغ کریں تاکہ امت مصطفیٰؐ کا کوئی فرد اس دام ہمرنگ زمین میں پھنس کر دولت ایمان سے محروم نہ ہو جائے۔

چنیوٹ کے زندہ دل مسلمان، وہاں کے علمائے کرام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکن مبارک باد کے مستحق ہیں۔ جنہوں نے چنیوٹ میں ہر سال تبلیغی کانفرنس منعقد کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چنانچہ ۲۷، ۲۸، ۲۹؍دسمبر کو ہونے والی کانفرنس اسی سلسلہ میں منعقد ہو رہی ہے۔ تمام مسلمانوں کو خواہ وہ سرکاری ملازم ہی کیوں نہ ہوں، چاہئے کہ وہ کانفرنس کو کامیاب بنانے میں حصہ لے کر حمیت اسلامی کا ثبوت دیا کریں۔

(خدام الدین مؤرخہ ۲۵؍ دسمبر ۱۹۶۴ء)

جمعیتہ علمائے اسلام اور الیکشن

جمعیتہ علمائے اسلام نے پہلے فیصلہ کیا تھا کہ وہ صدارتی انتخابات میں اپنا نمائندہ کھڑا کرے گی۔ نامزدگی کے کاغذات کے داخل کرنے کے موقع پر وقت کی کمی کے باعث ایسا نہ ہوسکا اور جمعیتہ اس آزمائش سے مصلحت خداوندی کے تحت بچ گئی۔ اب جمعیتہ کے بزرگوں نے فریقین کے سامنے مندرجہ ذیل تین شرائط پیش کی ہیں جو فریق ان شرائط کے متعلق جمعیتہ کو اطمینان دلائے گا، جمعیتہ اس کی حمایت کرے گی:

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۵۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کو حق حاصل ہو۔

(۲۵؍ دسمبر ۱۹۶۲ء، ہفت روزہ لولاک کے ٹائٹل کی نظم)

قادیانی فتنہ

قادیانی فتنہ اٹھا ہے، مسلمانو! اٹھو خواب سے بے دار ہو للہ، دیوانو! اٹھو
حرمت دین محمد کے نگہبانو! اٹھو شعلہ سامانی دکھاؤ، شعلہ سامانو! اٹھو
مٹ رہا ہے دین وحدت اور ہم دیکھا کریں آؤ پھر پہلا سا جوش زندگی پیدا کریں
آ گیا ہے ”روسیاہ“ تخت نبوت کے قریب کفر صف آرا ہوا ہے نور وحدت کے قریب
چھا رہی ہیں ظلمتیں شمع رسالت کے قریب خیمہ زن ہیں بجلیاں باران رحمت کے قریب
فتنۂ دجال کی قربت کا پیغام آ گیا لو خبر اسلام کی، نرغے میں اسلام آ گیا
فتنہ یہ اٹھا ہے ہنگامہ اٹھانے کے لئے مشعل نور محمدؐ کو بجھانے کے لئے
یہ بلا آئی ہے تم سب کو جگانے کے لئے غیرت دینی تمہاری آزمانے کے لئے
تم ہو ناموس محمدؐ کے نگہبان، یاد ہے؟ تم مسلماں ہو، مسلماں ہو، مسلماں، یاد ہے؟
خواب سے بے دار ہو، روح الامیں کا واسطہ متحد ہو، رحمۃ للعالمین کا واسطہ
پستیوں کو چھوڑ دو، دین مبیں کا واسطہ رفعتوں کو ڈھونڈ لو، عرش بریں کا واسطہ
فتنے جتنے اٹھ رہے ہیں، سب فنا ہو جائیں گے تم جو چونکو گے، حوادث خود فنا ہو جائیں گے

مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۸۳ھ، مطابق جون ۱۹۶۳ء تا مئی ۱۹۶۴ء

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مجاہدین آزادی کے نام کی فہرستیں انگریز حکام کی خدمت میں

چنانچہ جب مرزا غلام احمد قادیانی نے جاسوسی کا پیشہ اختیار کر لیا اور خدائی الہام کے بہانہ سے انگریزی حکومت کی وفاداری کا قلادہ اپنے گلے میں ڈال لیا تو پھر انگریزی حکومت کی پولیٹیکل خیر خواہی کے لئے ان مجاہدین آزادی کے ناموں کی فہرستیں حکومت کو مہیا کرتا رہتا تھا۔ جن کے دل میں اب بھی جذبہ حریت موجزن تھا اور وہ انگریزی حکومت کا جواء اپنے گلے سے اتار پھینکنے کی کوشش میں مصروف تھے۔

مرزا غلام احمد اپنی عرضداشت میں ان علماء کرام کو نہایت برے ناموں سے یاد کیا کرتا تھا۔ مثلاً نادان، جاہل، باغی، مفسد، نافہم، مسلمان،

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۵۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ناحق شناس ، اندرونی بیماری والے وغیرہ وغیرہ اور ان کے ناموں کے نقشے ایک پولیٹیکل راز کی طرح پیش کیا کرتا تھا ، جس کا نمونہ حسب ذیل ہے:

نمبرشمار نام مع لقب وعہدہ سکونت ضلع کیفیت

ملاحظہ ہو: درخواست بعنوان ” قابل توجہ گورنمنٹ“ مندرجہ تبلیغ رسالت جلد پنجم ص ۱۱ ، ۱۲ ، مجموعہ اشتہارات ج ۲ ص ۲۲۷

پھر مرزا غلام احمد کی موت کے بعد اس کی جماعت نے بھی وہی پیشہ اختیار کیا اور انگریز گورنمنٹ کی ایجنٹی اپنے فرائض میں داخل کی ۔ چنانچہ مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان اپنی ایک تقریر میں فرماتے ہیں : ” سلسلہ احمدیہ کا گورنمنٹ برطانیہ سے جو تعلق ہے وہ باقی تمام جماعتوں سے نرالا ہے ۔ ہمارے حالات ہی اس قسم کے ہیں کہ گورنمنٹ سے ہمارے فوائد ایک ہو گئے ہیں ۔ گورنمنٹ برطانیہ کی ترقی کے ساتھ ہمیں بھی آگے قدم بڑھانے کا موقع ملتا ہے ۔“

(اخبار الفضل مورخہ ۲۷؍ جولائی ۱۹۱۸ء)

اسی سلسلہ میں قادیانیوں کا سرکاری ترجمان الفضل رقم طراز ہے : ”پس کیوں ہم گورنمنٹ کے شکر گزار نہ ہوں ۔ ہمارے فوائد اس گورنمنٹ سے متحد ہو گئے ہیں اور اس گورنمنٹ کی تباہی ہماری تباہی ہے اور اس گورنمنٹ کی ترقی ہماری ترقی ہے۔“

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۱۹؍ اکتوبر ۱۹۱۵ء)

محاذ قادیان پر کام کرنے والے علمائے کرام

مندرجہ بالا علمائے کرام نے اپنے زمانہ میں قادیانیت کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور اپنی طاقت کے موافق اس فتنہ کی سرکوبی کی۔

مندرجہ بالا علماء کرام میں سے حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیری نے جب قادیانیت کے سیلاب کو بڑھتے ہوئے دیکھا تو لاہور میں انجمن خدام الدین کے اجلاس میں اس محاذ قادیان کے لئے حضرت شاہ صاحب کشمیری نے حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کو منتخب کیا اور خدام الدین کے بھرے اجلاس میں حضرت مولانا موصوف کو امیر شریعت کا خطاب دیا اور پہلی بیعت حضرت شاہ صاحب کے ہاتھ پر خود کی ۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۵۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دوسرے نمبر پر حضرت شیخ التفسیر مولانا احمد علی صاحب لاہوری نے بیعت کی۔ حتیٰ کہ اس وقت پانچ سو علماء نے حضرت بخاری صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی کہ ہم آپ کو امیر شریعت مانتے ہیں اور محاذ قادیان پر ہم آپ کی ہر آواز پر لبیک کہیں گے۔

مجلس احرار اسلام

انفرادی کوششوں کے بعد جب علمائے کرام کی مجلس میں متفقہ طور پر حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کو امیر تسلیم کیا گیا تو شاہ صاحب اور مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی کی قیادت میں مجلس احرار اسلام نے قادیان میں اپنا دفتر قائم کیا اور اس انگریزی نبوت کے خلاف جہاد شروع فرمایا۔ جن علمائے کرام نے اس محاذ پر اپنی خدمات وقف کی ہیں ان کی فہرست بھی طویل ہے، مگر چند اکابرین کے نام تحریر کئے جاتے ہیں: حضرت مولانا محمد علی جالندھری، حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، حضرت مولانا محمد حیات فاتح قادیان، مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر، حضرت مولانا عنایت اللہ آف کالا باغ، مولانا عتیق الرحمٰن آف چنیوٹ، حضرت مولانا محمد چراغ آف گوجرانوالہ، مولانا عبدالکریم مباہلہ۔

ایک سوال

آپ حضرات یہ سوال کریں گے کہ آخر ان حضرات نے قادیانیت کے خلاف اتنا بڑا محاذ قائم کیا تو اس کے محرکات کیا تھے؟ اس سوال کا جواب نمبر ۱ تو گزر چکا ہے کہ یہ فرقہ انگریز کو ہندوستان میں رکھنے کا خواہشمند تھا۔ کیونکہ گورنمنٹ برطانیہ کے ماتحت قادیانیت کے مقاصد کی تکمیل کے لئے عقیدہ ختم نبوت کے خلاف ایک نئی نبوت تسلیم کر لی اور عالم اسلام کی اس نبوت جدیدہ کے نہ ماننے کی وجہ سے تکفیر کی اور ایسے عقائد باطلہ اختراع کئے جن میں توحید، رسالت، ختم نبوت، شان انبیاء وغیرہم تمام عقائد ایک گورکھ دھندا بن کر رہ گئے۔ اس فرقہ کے عقائد باطلہ کی فہرست بھی طویل ہے۔ ہماری مختصر روئیداد اس کی متحمل نہیں ہے، مگر ان عقائد باطلہ سے چند ایک آپ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں تاکہ آپ کو عالم اسلام کے اضطراب کی وجہ سمجھ میں آسکے۔

قادیانی عقائد باطلہ

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۴، خزائن ج۵ ص۵۶۴)

(البشریٰ ص۴۹ حصہ اوّل، مرتبہ منظور الٰہی)

(ایک غلطی کا ازالہ ص۳، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷)

(ازالہ اوہام ص۶۷۳)

(حقیقت الوحی ص۱۰۲، خزائن ج۲۲ ص۱۰۵)

گئی ہے۔

(خطبہ الہامیہ ص۷۰، خزائن ج۱۶ ص۷۰)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۵۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(خطبہ الہامیہ ص ۲۷۱، ۲۷۲، خزائن ج ۱۶ ص ۲۷۱، ۲۷۲)

مرزا غلام احمد کے مرید نے مرزا قادیانی کی اس عبارت کا ترجمہ اردو نظم میں حسب ذیل کیا ہے:

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(اخبار بدر قادیان مورخہ ۲۵/اکتوبر ۱۹۰۶ء)

طرف سے آیا ہے، جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔

(انجام آتھم ص ۶۲، خزائن ج ۱۱ ص ۶۲)

نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔

(تذکرہ ص ۲۸۰، طبع چہارم، مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۲۷۵)

مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔

(حقیقت الرؤیا ص ۴۶، طبع اول از مرزا بشیر الدین محمود قادیانی)

سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم ﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرضیکہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان (مسلمانوں) سے اختلاف ہے۔

(خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ۱۹ نمبر ۱۳، مورخہ ۳۰/ جولائی ۱۹۳۱ء)

نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔

(انوار خلافت ص ۹۰، مندرجہ انوار العلوم ج ۳ ص ۱۴۸، از مرزا بشیر الدین محمود)

سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں۔

(آئینہ صداقت ص ۳۵)

(مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

(کلمۃ الفصل ص ۱۱۰)

غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مرجائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ تو مسیح موعود کا منکر نہیں؟ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۵۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندو اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا؟ کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں؟

(انوار خلافت ص ۹۳)

میں سے ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو مگر وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دے دیتے ہو۔

(ملائکۃ اللہ ص ۴۶)

باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں؟ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں: ایک دینی دوسرے دنیوی، دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناتہ ہے، سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔

(کلمۃ الفصل ص ۱۶۹)

قادیانی مذہب پر علمائے اسلام کے فتاویٰ

مندرجہ بالا عقائد جب قادیانی فرقہ نے قبول کر لئے بلکہ ہندوستان کے ۱۰ کروڑ مسلمانوں پر ان عقائد باطلہ کو تھوپنے کی ناپاک کوشش کی تو علماء نے ان عقائد کو قرآن وحدیث اور ائمہ سلف کے بیانات کی روشنی میں پرکھ کر دیکھا تو ان عقائد کو سراسر کفر و الحاد اور زندقہ کا مجموعہ پایا، اس لئے تمام ہندوستان کے علمائے کرام نے متفقہ طور پر اس فرقہ ضالہ کے کفر و ارتداد کا فتویٰ صادر کیا۔ اس مختصر روئیداد میں پورے فتاویٰ نقل کرنے کی گنجائش نہیں، البتہ علمائے کرام کی تعداد اور ہندوستان کے مختلف شہروں کے اور متفرق عربی مدارس کے علمائے اسلام ومفتیان عظام کے نام درج کئے جاتے ہیں تاکہ آپ چشم بصیرت سے قادیانیت کے کفر و ارتداد کو ملاحظہ فرماسکیں:

مع تصدیق ۱۶ کابرین و علمائے کرام خانقاہ رائے پور۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۵۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

یہ ہندوستان کے مختلف شہروں کے ایک سو بیس علمائے کرام کے اسمائے گرامی ہیں جنہوں نے قادیانیت کے عقائد پر کفر و ارتداد کا فتویٰ صادر فرمایا ہے۔

ڈاکٹر محمد اقبال اور قادیانی گروہ

قارئین کرام! جہاں پر ہم آپ کے سامنے علمائے اسلام کی خدمات جلیلہ کا ذکر کر چکے ہیں اور محاذ قادیان پر ان کے کارناموں کی محض فہرست ہی پیش کر سکے ہیں، وہاں پر ہم چوٹی کے انگریزی دان اور صاحب بصیرت، ملت اسلامیہ کے بہی خواہ، اسلام کے شاعر عظیم کا ذکر بھی آپ کے سامنے کریں گے تاکہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ شاید یہ چند مولوی ہی قادیانی تحریک کے خلاف ہیں۔ بلکہ آپ کو اندازہ ہوگا کہ علمائے اسلام تو صرف دینی نکتہ نگاہ سے قادیانی فرقہ کے دشمن تھے، مگر علامہ مرحوم سیاسی اور ملکی ہر اعتبار سے اس گروہ کو خطرناک سمجھتے تھے اور وقتاً فوقتاً وہ اس کا اظہار اخبارات کے ذریعہ کرتے رہتے تھے۔ چند اقتباسات پیش خدمت ہیں:

’’قادیانیت‘‘ یہودی مذہب کا چربہ ہے

’’میرے نزدیک ’بہائیت‘ قادیانیت سے زیادہ مخلص ہے، کیونکہ وہ کھلے طور پر اسلام سے باغی ہے، لیکن مؤخر الذکر (یعنی قادیانیت) اسلام کی چند نہایت اہم صورتوں کو ظاہری طور پر قائم رکھتی ہے لیکن باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لئے مہلک ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۵۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس کے (قادیانی فرقہ کے) حاسد خدا کا تصور کہ جس کے پاس دشمنوں کے لئے لاتعداد زلزلے اور بیماریاں ہوں، اس کا (قادیانی فرقہ کا) نبی کے متعلق نجومی کا تخیل اور اس کا روح مسیح کے تسلسل کا عقیدہ وغیرہ یہ تمام چیزیں اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہیں گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے۔‘‘

(حرف اقبال ص ۱۲۳)

قادیانی گروہ وحدت اسلامی کا دشمن ہے

”حکومت (انگریزی) کو موجودہ صورتحال پر غور کرنا چاہئے اور اس معاملہ میں جو قومی وحدت کے لئے اشد اہم ہے، عام مسلمانوں کی ذہنیت کا اندازہ لگانا چاہئے۔ اگر کسی قوم کی وحدت خطرے میں ہو تو اس کے لئے اس کے سوا چارہ کار نہیں رہتا کہ وہ معاندانہ قوتوں کے خلاف اپنی مدافعت کرے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مدافعت کا کیا طریقہ ہے؟ اور وہ طریقہ یہی ہے کہ اصل جماعت جس شخص (مثلاً مرزا غلام احمد) کو تلعب بالدین کرتے پائے، اس کے دعاوی کو تحریر و تقریر کے ذریعہ سے جھٹلایا جائے۔ پھر کیا یہ مناسب ہے کہ اصل جماعت کو رواداری کی تلقین کی جائے؟ حالانکہ اس کی وحدت خطرہ میں ہو اور باغی گروہ (قادیان) کو تبلیغ کی پوری اجازت ہو؟ اگر چہ وہ تبلیغ جھوٹ اور دشنام سے لبریز ہو۔‘‘

(حرف اقبال ص ۱۲۶)

قادیانی گروہ سرور عالم ﷺ کا گستاخ ہے

”ذاتی طور پر میں اس تحریک (قادیانیت) سے اس وقت بیزار ہوا تھا جب ایک نئی نبوت، بانی اسلام کی نبوت سے اعلیٰ تر نبوت کا دعویٰ کیا گیا اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا۔ بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی جب میں نے تحریک کے ایک رکن (قادیانی) کو اپنے کانوں سے آنحضرت کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنے: ”درخت جڑ سے نہیں، پھل سے پہچانا جاتا ہے۔“

(حرف اقبال ص ۱۳۲)

قادیانی جماعت کو اقلیت قرار دیا جائے

”میری رائے میں حکومت کے لئے بہترین طریق کار یہ ہو گا کہ وہ قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کرے۔ یہ قادیانیوں کی پالیسی کے عین مطابق ہو گا اور مسلمان ان سے ویسی رواداری سے کام لے گا جیسے وہ باقی مذاہب کے معاملہ میں اختیار کرتا ہے۔‘‘

(حرف اقبال ص ۱۲۸، ۱۲۹)

”ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو (مسلمانوں سے) علیحدہ کر دیا جائے۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے، کیونکہ وہ ابھی اس قابل نہیں کہ چوتھی جماعت کی حیثیت سے مسلمانوں کی برائے نام اکثریت کو ضرب پہنچا سکے۔ حکومت نے ۱۹۱۹ء میں سکھوں کی طرف سے علیحدگی کے مطالبہ کا انتظار نہ کیا، اب وہ قادیانیوں سے ایسے مطالبہ کے لئے کیوں انتظار کر رہی ہے؟‘‘

(حرف اقبال ص ۱۳۸)

روح علامہ اقبال کو تکلیف

ناظرین کرام! آپ نے علامہ مرحوم کے چند اقتباسات سے اندازہ لگا لیا ہو گا کہ مرحوم قادیانی تحریک کو ملت اسلامیہ کے لئے کتنا خطرناک سمجھتے تھے۔ حتیٰ کہ پاکستان سے قبل انگریز حکمرانوں سے علامہ نے خطاب کیا کہ قادیانی فرقہ کو ملت اسلام سے الگ گروہ تسلیم کیا جائے اور عملی طور پر علامہ مرحوم نے ملت اسلامیہ کو اتنا بیدار کر دیا تھا کہ قادیانی خود ہر معاملہ میں ملت اسلامیہ سے الگ غیر مسلم گروہ شمار

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۵۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہونے لگا تھا۔ مگر پاکستان میں قادیانیوں نے ازسرنو مسلمانوں کے مذہبی اداروں میں گھسنے کی کوشش شروع کر دی ہے اور مختلف مذہبی اداروں کو چندہ دے کر اپنے آپ کو مسلمان شمار کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔

آج اہل پاکستان سے علامہ مرحوم کی روح سوال کرتی ہے کہ جو پاکستان میرے خواب کی تعبیر ہے، اس میں قادیانیوں کو ملت اسلامیہ میں گھسنے کی اجازت دی جا رہی ہے؟ حالانکہ میں انگریزی گورنمنٹ سے ان کے غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کر چکا تھا اور انجمن حمایت اسلام جیسی اسلامی بین الاقوامی تعلیم گاہ سے قادیانیوں کو بیک بینی و دو گوش الگ کرا چکا تھا۔ اے اہل پاکستان! ”الیس منکم رجل رشید“ تم میں کوئی سمجھدار انسان نہیں کہ علامہ کی بے چین روح کو جواب دے؟

اسلامیان پاکستان کا مرزائیوں کے غیر مسلم ہونے پر اجماع

سرور کونین سرور دو عالم ﷺ کی روحانیت کی برکت سے مسلمانان پاکستان قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلانے پر متفق ہوئے۔ ایسا اتحاد امت میں اپنی نظیر آپ ہی تھا۔ یہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کا زمانہ تھا، کوئی فرقہ اور کوئی جماعت مسلمانوں میں ایسی نہ تھی جس نے اس نظریہ کی تائید نہ کی ہو۔ سابقہ حکومت کے جن ذمہ داران نے اس مطالبہ سے غداری کی وہ اپنی سزا بھگت رہے ہیں اور ان شاء اللہ آئندہ! جو بھی اس بنیادی عقیدہ سے غداری کرے گا جلد یا بدیر دونوں جہان میں ذلیل ہوگا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!

موجودہ حکومت

موجودہ حکومت کی خدمت میں گزارش ہے کہ ایک غلطی کا ازالہ قادیانی پمفلٹ ضبط کر کے پھر واگزار کرنے سے ملک میں اتنی بے چینی ہے کہ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ مولانا محمد علی صاحب جالندھری ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت سے جب اس کا ذکر کیا گیا اور تفصیل بتائی گئی تو انہوں نے فرمایا: خاموش رہو! ذکر نہ کرو، مجھ کو یہ خبر سننے کا تحمل نہیں، اور کئی روز تک اپنے سامنے ذکر کرنے نہ دیا اور فرمایا کہ موجودہ گورنر صاحب جیسے بہادر اور مستقل مزاج شخص سے امید نہ تھی کہ ایسے تکلیف دہ پمفلٹ کو ضبط کر کے واگزار کر دیں گے۔ کئی دن تک اس خبر کے سننے سے طبیعت بے قابو ہو جاتی رہی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!

نامعلوم حکومت پاکستان کے ذمہ داروں نے یہ کیوں کیا کہ قادیانی کتاب ضبط شدہ واگزار کر کے قادیانیوں کو مزید تبلیغ کا موقع فراہم کیا؟ گورنر صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ مختلف فرقوں کے چوٹی کے علماء کو بلا کر اصل مسئلہ کا حل سوچیں اور اللہ تعالیٰ کی غیرت کو چیلنج نہ کریں۔

مجلس تحفظ ختم نبوت

مجلس تحفظ ختم نبوت میں ۲۵ آدمی کام کرنے والے ہیں جن کی ضروریات کی جماعت کفیل ہے۔ ان میں ۱۸ مبلغین، ۳ مدرسین، ۴ دفتری کارکن ہیں۔ مبلغین حضرات میں سے بعض ضلعوں میں متعین ہیں جو درس قرآن، خطابت و دیگر دینی کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔ باقی مبلغین سال بھر مغربی پاکستان میں تبلیغی جلسہ جات کے ذریعہ تبلیغ دین میں مشغول رہتے ہیں۔

چونکہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا نصب العین اسلامیان پاکستان کو مرزائیت سے بچانا ہے اور مرزائی اس وقت بڑی کوشش سے ملک میں تبلیغ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے غریب مسلمان پریشان ہیں، ہمارے مبلغین رات دن ایسے مقامات پر آتے جاتے رہتے ہیں۔ ان میں سے اکثر جگہ کے مسلمان دفتر کو اطلاع کرتے ہیں اور جو دعوت نہیں دیتے، وہاں دفتر اپنے اخراجات پر مبلغین روانہ کرتا ہے۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۵۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا محمد حیات صاحب

مولانا محمد حیات صاحب جماعت کے قدیم ترین مبلغ ہیں اور قادیان میں جماعت کی تبلیغی مساعی کے نگران اعلیٰ تھے۔ ۱۹۴۷ء میں قادیان سے ہی مہاجر ہو کر پاکستان میں آئے۔ مارشل لاء کے بعد جماعتی ذمہ داری سے علیحدہ ہو کر لاہور اقامت اختیار کر لی تھی، اب دوبارہ باقاعدہ جماعت کے مبلغین میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

مجلس مرکزیہ کے عہدیداران و مجلس شوریٰ

مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر حضرت مولانا قاضی احسان احمد صاحب شجاع آبادی اور ناظم اعلیٰ حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری ہیں۔ صاحب صدر نے مندرجہ ذیل حضرات کو مرکزی مجلس شوریٰ کے اراکین نامزد کیا ہے:

نشر و اشاعت

نشر و اشاعت کے سلسلہ میں جماعت اب زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ چنانچہ اس سال چار پانچ پمفلٹ چھاپے گئے جن کی کل تعداد ۲۴ ہزار تھی۔ اگرچہ باقاعدہ اعلان اخبارات میں نہیں کیا گیا تاہم باہر سے لوگ ایسے رسائل طلب کر رہے ہیں اور بعض سرکاری ملازمین طلب کرتے ہیں۔ کیونکہ قادیانیوں نے ان کو تنگ کر رکھا ہے۔

ایک سرکاری آفیسر

ایک سرکاری آفیسر ہمارے لاہور کے دفتر میں تشریف لائے۔ بہت مغموم تھے۔ فرمایا کہ میں ایک آفیسر ہوں، اس لئے اپنا نام اور پتہ نہیں بتا سکتا۔ میرے لڑکے مرزائیت سے متاثر ہو رہے ہیں، کوئی کتاب دیں جس سے ان کی تسلی کراؤں۔

پاکستان کے صدر محترم

صدر محترم سے گزارش ہے کہ مرزائی آفیسر کھلم کھلا اپنے مذہب کی تبلیغ کریں لیکن مسلمان آفیسر اپنا نام و پتہ بتانے سے ہچکچائے۔ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اس لئے کہ مرزائیوں کے خلاف ایسی حرکت کا ایکشن نہیں لیا جاتا۔ اگر کوئی مسلمان اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے بات کرے تو مرزائی اس کے خلاف سازش کر کے نقصان پہنچاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کب تک مسلمان اس سلسلہ میں کسمپرسی کی حالت میں مبتلا رہیں گے۔“

(مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ۱۳۸۳ھ)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۵۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۶۵ء

کے

حالات و واقعات

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۶۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ایک اور شکست

ہے یہ گنبد کی صدا ! جیسی کہو، ویسی سنو

ابھی دسمبر کے ”الفرقان“ میں قادیانیوں نے معاصر ”المنبر“ کو مناظرہ کی دعوت دی تھی۔ جس پر ہم نے گزشتہ اشاعت میں سخت احتجاج کیا تھا کہ یہ شرارت کی ابتداء ہے۔ قادیانی مسلمانوں کو پہلے خود چھیڑتے ہیں، انہیں مناظروں اور مباہلوں کی دعوت دیتے ہیں، لیکن جب جواب آئے تو شور مچانے لگتے ہیں۔ چنانچہ ”الفرقان“ کی سلسلہ جنبانی کا رد عمل شروع ہوا ہے اور سیالکوٹ کے دو احرار رہنماؤں نے قادیانیوں کا چیلنج قبول کرتے ہوئے لکھا ہے:

مرزائی رسالہ ”الفرقان“ ربوہ بابت مارچ ۱۹۶۴ء میں ایک مضمون شائع ہوا ہے جس کا عنوان تھا: مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے کبھی مباہلہ نہیں کیا۔ اس مضمون میں اس رسالہ کے ایڈیٹر مولوی ابوالعطاء اللہ دتہ جالندھری نے یہ ثابت کرنے کی بے دلیل اور ناکام کوشش کی ہوئی تھی کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے مشہور اشتہار ” مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ“ میں مولانا ثناء اللہ صاحب کو مباہلہ کا چیلنج دیا تھا۔ جس کو مولانا صاحب نے منظور نہیں کیا تھا اور اگر وہ منظور کر لیتے تو ضرور مرزا قادیانی سے پہلے فوت ہو جاتے اور مرزا قادیانی بقول خود اپنی مقبول دعا ” مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ“ کے مطابق مولانا ثناء اللہ صاحب سے (اکتالیس سال) پہلے فوت ہو کر بھی کاذب ثابت نہیں ہوئے۔ اس کے اس مضمون میں آخری فیصلہ مرزا قادیانی کے علم وفضل کے متعلق کچھ اور بے بنیاد، غیر مدلل، غلط اور بے ربط باتیں لکھی ہوئی تھیں۔

مجلس احرار الاسلام سیالکوٹ کی طرف سے مولوی اللہ دتہ جالندھری صاحب کے اس مضمون کا ۲۳ فل اسکیپ صفحات میں مکمل اور مدلل جواب لکھا گیا جس میں ان کے مضمون کی ایک ایک قابل جواب بات کا جواب بالصواب دیا گیا۔ اس کا عنوان تھا: ”مرزا غلام احمد قادیانی کو کبھی کسی سے مباہلہ کرنے کی جرأت ہی نہ ہوئی ۔“ اس مضمون میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ یہ مولانا صاحب نہیں بلکہ مرزا قادیانی تھے جنہوں نے مولانا صاحب کے دو دفعہ للکارنے پر راہ فرار اختیار کی تھی اور انہیں کو مباہلہ کی جرأت نہیں ہوسکی تھی اور مرزا قادیانی اپنی مقبول دعا آخری فیصلہ کے مطابق ہی فوت ہو کر کاذب ثابت ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ مرزا محمد بشیر سالار مجلس احرار سیالکوٹ اور حافظ محمد صادق صاحب ناظم اعلیٰ مجلس احرار اسلام سیالکوٹ کی طرف سے مولوی ابوالعطاء اللہ دتہ صاحب جالندھری اور سیالکوٹ کے مرزائی مولوی احمد علی صاحب کو چیلنج دیا گیا تھا کہ اچھا! اگر آپ لوگ کہتے ہیں کہ مولانا نے مرزا قادیانی کے مباہلہ کے چیلنج کو منظور نہیں کیا تھا، تو آئیے ! ہم دو شخص آپ دونوں کو مباہلہ کی دعوت دیتے ہیں تاکہ اگر تب آخری فیصلہ نہیں ہوا تو اب ہو جائے کہ خدا کے نزدیک جھوٹا کون ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی لکھا تھا کہ ہمیں امید نہیں کہ آپ اپنے مرزا قادیانی کی سنت کے مطابق اسے قبول کرنے پر آمادہ ہوں ۔ بلکہ ہم کسی ظلی بروزی نبی ہونے کی بنا پر نہیں صرف علی بصیرت المومنین پیش گوئی کرتے ہیں کہ خدا کے فرمان ”وَلَنْ یَّتَمَنَّوْا اَبَدًا“ وہ ہرگز اس کی تمنا نہیں کریں گے، یعنی قبول نہیں کریں گے کے مصداق آپ بھی اسے منظور کرنے کی جرأت نہیں کر سکیں گے۔ چنانچہ ہمارا خیال نہیں بلکہ یقین بلکہ اس سے بھی بڑھ کر پیش گوئی درست ثابت ہوئی۔

۱۰؍ جون ۱۹۶۴ء کو دونوں مولوی صاحبان کو رجسٹرڈ خطوط کے ذریعہ یہ مضمون بھیجا گیا (جس کی وصولی کی رسیدیں ہمارے پاس ہیں) اور جس کا مرزائیوں کے ہیڈ مولوی ابوالعطاء اللہ دتہ صاحب جالندھری نے آج تک کوئی جواب نہیں دیا۔ (جن کی شان میں ان کے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۶۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رسالہ الفرقان میں اس طرح قصیدہ اور مدح سرائی کی گئی ہے کہ ان کے مقابلہ میں مشہور پادری عبدالحق نے دو پرچے لکھنے کے بعد کچھ لکھنے سے انکار کر دیا) انہوں نے نہ مباہلہ کی منظوری کی اجازت دی ہے اور نہ ہمارے مدلل جواب پر قلم یا زبان ہلائی ہے۔

(لولاک، جنوری ۱۹۶۵ء)

پنجاب یونیورسٹی اور علامہ اقبال

علامہ اقبال کو عالم اسلام میں مفکر اسلام کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اللہ نے انہیں جن بے شمار اوصاف اور محاسن سے نوازا تھا ان میں عشق رسول ﷺ سرفہرست ہے۔ حضور سرور کائنات ﷺ کے مقام ختم نبوت کو انہوں نے ملت بیضاء کے لئے مرکز قرار دیتے ہوئے قادیانیت سے متعلق ایمان پرور اور بصیرت افروز مضامین، مقالات اور اشعار لکھے تھے۔ جو لولاک کے آئندہ شمارہ میں تفصیل کے ساتھ پیش کئے جائیں گے۔ ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اقبالیات پر ایک ایسے پروفیسر کو تعینات کیا گیا ہے جو نہ صرف علامہ اقبال کے علوم و معارف کی خدمت کے قابل نہیں بلکہ سراسر ان کے مکتب فکر اور مسلک کے ہی خلاف ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی اس سہو و خطاء پر علامہ شورش کاشمیری مدیر چٹان جو مجلس اقبال کے سیکرٹری بھی ہیں، نے مندرجہ ذیل مقالہ خصوصی تحریر کیا ہے۔ جسے ہم قارئین لولاک کے لئے شائع کر رہے ہیں۔ (ادارہ)

”یہ خبر آئی اور نکل گئی کہ پنجاب یونیورسٹی کے ”دانشوروں“ نے علامہ اقبال کے نام پر جو Chair قائم کی ہے اس کو شعبہ فلسفہ کے رئیس پروفیسر قاضی محمد اسلم کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔ پروفیسر موصوف ظاہراً و باطناً قادیانی ہیں۔ ان میں وہ تمام عصبیتیں بدرجہ آخر موجود ہیں جو ایک قادیانی کے رگ وریشہ میں خون کی طرح گردش کرتی ہیں۔ قاضی صاحب قادیان + ربوہ کی نبوت و خلافت کے قصر خانہ ساز کا ستون ہیں۔ وہ نہ صرف مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت اور مرزا بشیر الدین محمود کی خلافت پر حاضر و غائب ایمان رکھتے ہیں بلکہ ان کے فکر ونظر کا تار و پود بھی اس سے تیار ہوا ہے۔ اپنے اس عقیدہ کو وہ چھپاتے نہیں انہیں اس کا اقرار و اعتراف ہے۔ اس کے باوجود مسند اقبال کو ان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

و آسمان کا فرق ہے اور دونوں ایک دوسرے کی مخالف سمتوں کے راہرو ہیں۔

اگر یہ فیصلہ بے خبری میں ہوا ہے تو اس سے زیادہ افسوس ناک بات کوئی نہیں ہو سکتی کہ مغربی پاکستان کی سب سے بڑی یونیورسٹی کے کار پرداز، ملک کے سب سے بڑے مفکر کے افکار و نظریات سے اتنے بے خبر ہیں یا جس شخص کے حوالے اس کے افکار و نظریات کی تعلیم و تدریس کی جا رہی ہے، یونیورسٹی اس کے دینی حدود اربعہ سے ناواقف ہے۔

اور اگر ان کار پردازوں کے علم میں تھا کہ علامہ اقبال نور اللہ مرقدہ اور قاضی محمد اسلم علیہ ما علیہ کے معتقدات میں کوئی میل نہیں بلکہ صبح و شام کا فاصلہ ہے تو انہوں نے یہ مذاق کیوں روا رکھا؟ مقصد فکر اقبال کو سبوتاژ کرنا ہے یا اسے عام کرنا ہے؟ کیا یونیورسٹی کے ارباب بست و کشاد کو قاضی محمد اسلم سے بڑھ کر پورے ملک میں ایک شخص بھی اقبال کا رمز شناس نظر نہیں آیا؟ قاضی محمد اسلم کی نگرانی میں فکر

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۶۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اقبال کا مطلب ہے: ”حسین ؓ کی شہ رگ پر یزید کا خنجر“ قاضی محمد اسلم ہی سے دریافت کر لیا ہوتا کہ وہ اقبال کی تعلیمات سے بکمال و تمام متفق ہیں؟ حضرت علامہ کو فکری اعتبار سے مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کا راہنما تسلیم کرتے ہیں؟ ان کے نزدیک اقبال کے فکر و نظر کا مقام کیا ہے؟ اقبال کے خطبات بہ عنوان تشکیل جدید الہیات کے مندرجات کی روح سے انہیں کس حد تک اتفاق ہے؟ مرزائیوں کے بارے میں حضرت علامہ نے جو بیانات دیئے تھے اور جن مقالات کو حوالہ قلم کیا قاضی صاحب محترم کی ان کے بارے میں کیا رائے ہے؟ قاضی صاحب کے نزدیک شاہراہ اسلام پر اقبال کا درجہ و مقام کیا ہے؟

”احمدیوں“ کو اقلیت قرار دینے کے مطالبہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے قاضی صاحب کا اقبال کے بارے میں کیا خیال ہے؟ وہ اقبال کو مسلمان بھی سمجھتے ہیں یا نہیں؟ ان کے نزدیک اقبال اور غلام احمد میں سے کون سی شخصیت اس صدی میں اسلام کی رہنما ہے؟ اس قسم کے بیسیوں سوالات موجود ہیں اور ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ قاضی صاحب مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت اور مرزا بشیر الدین محمود کی خلافت کو خارج کر کے ان سوالات پر سوچ ہی نہیں سکتے ہیں۔ جب اتنی واضح اور واشگاف صورتحال موجود ہو تو اقبال کی فکر کو ان کے حوالے کرنا حادثہ نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ ایک ایسا حادثہ ہے جیسا کہ انگریزی میں ضرب المثل ہے کہ ”شیطان بائبل کا حافظ ہو گیا ہے“۔ ہم نہیں کہہ سکتے ہیں کہ قاضی صاحب نے یہ منصب کیونکر قبول کیا؟ اور اس کے تہہ منظر میں کون سے مقاصد کارفرما ہیں؟ کل کلاں کوئی شخصیت یہ تجویز کرے اور علم و دانش کے وہ پتلے جو اس ملک میں عام پائے جاتے ہیں اس پر صاد کر دیں کہ قائد اعظم کی سوانح عمری ، مولانا مظہر علی اظہر لکھیں یا انجمن ترقی اردو کی باگ ڈور بھارت کی ہندی پرچارنی سبھا کے حوالے کر دی جائے یا اسلام کی تعبیر و تفسیر کا کام پرشوتم داس ٹنڈن کی نگرانی میں ہو یا کعبہ اور اس کی عظمت پر ماسٹر تارا سنگھ مقالہ لکھیں تو کیا عقل سلیم کے نزدیک یہ صحیح ہوگا؟ ظاہر ہے کہ ہر شخص جو حواس خمسہ سے بہرہ یاب ہے ان کو مضحکہ خیز قرار دے گا۔

معلوم ہوتا ہے کہ یونیورسٹی کے کارپردازوں کی اکثریت حیات دین اور روح اسلام سے نابلد ہے۔ ان لوگوں کے نزدیک اسلام صرف ان کے اسلامی ناموں اور معاشرتی رواجوں کے اظہار واقرار کا نام ہے اور دین و دانش کا جوہر فہم و فراست کے اس مغز کا نام ہے جو اس کھپڑ کی کھوپڑیوں میں اپنا ایک خاص طول و عرض رکھتا ہے۔ علامہ اقبال نے عمر بھر یورپی دانش و علم کی کارفرمائیوں کا ماتم کیا اور جو لوگ اسی کے ہو گئے ہیں یعنی جن کا پیکر خاکی یورپی عمارت گروں کا تیار کردہ ہے، ان کے خلاف ہمیشہ نالۂ احتجاج بلند کیا۔ ان کی نظمیں ان کی تحریریں، ان کے بیان، ان کے خطوط آخر دم تک یورپی تصویروں اور مصوروں کا ماتم کرتے رہے۔ سید سلیمان ندوی کو انہوں نے ۱۷؍ستمبر ۱۹۳۳ء کے ایک خط میں لکھا کہ مسلمانوں کا مغرب زدہ طبقہ نہایت پست فطرت ہے۔ (اقبال نامہ ص ۱۶۸) یہی نہیں بلکہ ان کے بے شمار خطوط میں بار بار یہ اضطراب موجود ہے کہ مسلمانوں کے وہ ”دانشوران بے دین“ جن کی تربیت یورپی دانش و حکمت کے گہوارہ میں ہوئی ہے اور جن کے علم و نظر کی معراج یورپی فلسفہ و فکر پر ہے، نہ صرف روح اسلام سے بے بہرہ ہیں بلکہ عملاً اسلام کے باغی ہیں۔ وہ اسلام سے صرف سیاسی فوائد حاصل کرتے ہیں۔ اس کے دینی فرائض کو پورا نہیں کرتے۔ ایک دوسری جگہ علامہ اقبال نے اس طبقہ کو بے حمیت اور بے غیرت لکھا ہے۔ کیونکہ یورپی عقل و دانش سے مرعوب ہو کر یہ اسلام کے معاملہ میں ہر نئی تعبیر سے سمجھوتا کرنے کے لئے تیار رہتے اور اس کے مقابلہ میں سپر انداز ہونے میں لذت محسوس کرتے ہیں۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۶۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

یہ ستم ظریفی ہے کہ اقبال کی بعض چیزوں کو تو اپنے حسب حال پا کر قومی تقاضوں کا جزو قرار دیا گیا ہے اور بعض ایسی چیزیں جو اقبال کے نزدیک اسلام کی حیات تازہ اور مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے لئے لازم وملزوم تھیں انہیں طاق نسیاں پر رکھ دیا گیا ہے۔ اقبال کی بدنصیبی ہے یا مسلمانوں کی بدنصیبی یا پھر اسلام کے دور انحطاط کے برگ وبار کہ اقبال کی فکر عنقا ہے۔ پوست موجود ہے، مغز غائب ہے۔ ہڈیوں سے رشتہ باندھا جا رہا ہے۔ یہ لوگ اقبال اور اس کی فکر سے نہیں بلکہ اپنے کسی خلا کو پورا کرنے کے لئے اقبال کا نام لے رہے ہیں۔

قادیانیوں کے بارے میں اقبال نے جو کچھ کہا وہ کسی اہم دینی مسئلہ پر ان کی سب سے بڑی تحریر ہے یہ تحریر اس وقت قلمبند ہوئی اور سامنے آئی، جب وہ اپنی عمر عزیز گزار چکے تھے اور ان کی حیات مستعار کے ڈیڑھ دو سال باقی تھے۔ ان کی فکر مکمل ہو چکی اور ان پر علم فضل کے دروازے ہر رخ سے کھل چکے تھے۔ بڑے غور وخوض کے بعد انہوں نے اس مسئلہ پر قلم اٹھایا تھا۔ ان کی یہ تحریر ہمہ جہت مکمل ہے۔ ظاہر ہے کہ اس وقت یہ ملک غلام تھا اور پاکستان بھی معرض وجود میں نہیں آیا تھا۔ پاکستان کا تصور وہ پیش کر چکے تھے لیکن ابھی مسلم لیگ نے بھی اس کو اپنا نصب العین قرار نہیں دیا تھا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان نے گول میز کانفرنس کے ضمنی اجلاسوں میں اس تصور کو احمقانہ تخیل قرار دیا تھا۔

جواہر لال نہرو قادیانی جماعت کی حمایت میں کمر بستہ ہو کر سامنے آئے تو علامہ نے بصیرت افروز مقالہ میں قادیانی جماعت کے تار و پود بکھیر دیئے اور اس حقیقت کو اچھی طرح افشا کیا کہ اس جماعت کو مسلمانوں سے الگ رکھنا کیوں ضروری ہے۔ یہ تحریریں ڈھکی چھپی نہیں عام ہیں۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی زندگی کے آخری سالوں میں ان خطوط کا مجموعہ شائع کیا جو ان کے نام بعض اکابر نے لکھے تھے۔ ان خطوط میں علامہ اقبال کا بھی ایک خط ہے۔ جس میں انہوں نے واضح طور پر لکھا ہے کہ قادیانی اسلام ہی کے نہیں بلکہ ہندوستان کے بھی غدار ہیں۔

یہ خط ان کے مرض الموت میں مبتلا ہونے سے کچھ ہی دن پہلے کا ہے۔

اقبال نے جب اس فرقہ ضالہ کے احوال وظروف معلوم کر لئے تو سب سے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ انہیں خارج از اسلام قرار دے کر انجمن حمایت اسلام سے نکلوا ڈالا۔ اس ضمن میں انہوں نے لاہوری اور قادیانی گروہوں کی تفریق کو بھی تسلیم نہ کیا۔ دونوں کو ایک ہی ٹہنی کا پتہ سمجھا۔ ۲۰/ جون ۱۹۳۳ء کو انہوں نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا اور ایک زبردست بیان میں قادیانی جماعت کے اغراض مشؤمہ کا پردہ چاک کیا۔ پھر ۲/ اکتوبر ۱۹۳۳ء کے بیان میں قادیانی حضرات کی دو ذہنی اور دو عملی کی پچھاڑ کی، ۱۹۳۵ء میں قادیانی جماعت کے چہرے سے ہر نقاب اٹھا دیا اور کھلے بندوں اعلان کیا کہ دینی اور سیاسی دونوں بنیادیں اس امر کی متقضی ہیں کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک اقلیت کا درجہ دیا جائے۔ علامہ نے جو کچھ سپرد قلم کیا وہ علم وفکر کی بنیاد پر تھا اور آج تک کسی اسلامی گوشے سے بھی اس کے خلاف کوئی کلمہ نہیں نکلا ہے۔

حضرت علامہ فرماتے ہیں:

جو اس کے الہامات پر اعتقاد نہ رکھتے ہوں، ایسی جماعت کو مسلمان اسلام کی وحدت کے لئے ایک خطرہ تصور کریں گے۔ کیونکہ اسلامی وحدت ختم نبوت ہی سے استوار ہوتی ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۶۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ملتی ہے۔ بہائیت، قادیانیت سے کہیں زیادہ مخلص ہے۔ کیونکہ وہ کھلے طور پر اسلام سے باغی ہے، لیکن قادیانیت اسلام کی چند نہایت اہم صورتوں کو ظاہری طور پر قائم رکھتی ہے لیکن باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لئے مہلک ہے۔

کر دیا ہے۔

ہے کہ اصل جماعت کو تو رواداری کی تلقین کی جائے حالانکہ اس کی وحدت خطرے میں ہو، باغی گروہ کو تبلیغ کی پوری اجازت ہو اگرچہ وہ تبلیغ جھوٹ اور دشنام سے لبریز ہو۔ جس قوم کی وحدت خطرے میں ہو تو اس کے لئے اور کوئی چارہ کار نہیں رہتا کہ معاند قوتوں کے خلاف اپنی مدافعت کرے۔

پالیسی کے عین مطابق ہوگا اور مسلمان ان سے ویسی رواداری سے کام لے گا جیسی وہ باقی مذاہب کے معاملے میں اختیار کرتا ہے۔

(ماخوذ از قادیانی اور جمہور مسلمان ص ۱۲۱ تا ۱۳۴، حرف اقبال مطبوعہ المنار اکادمی لاہور)

حضرت علامہ کے اس بیان پر ”سٹیٹس مین“ کے انگریزی ایڈیٹر نے اپنے اداریہ میں تنقید کی۔ اس تنقید پر حضرت علامہ نے ایڈیٹر کے نام ایک خط لکھا جو ۱۰؍ جون ۱۹۳۵ء کی اشاعت میں طبع ہوا۔ اس خط میں حضرت علامہ نے اپنے مطالبہ کا اعادہ کیا۔ فرمایا کہ:

انتظار نہ کرے کہ مسلمان کب یہ مطالبہ کرتے ہیں۔

سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔ جب قادیانی مذہبی اور معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں تو پھر سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل رہنے کے لئے کیوں مضطرب ہیں؟

مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے۔

اس تحریک میں قادیانیوں کو سب سے پہلے اس وقت کے انگریز گورنر سر ہربرٹ ایمرسن کی حمایت حاصل ہوئی۔ پھر ”سٹیٹس مین“ کے انگریزی ایڈیٹر نے پشت پناہی کی۔ آخر میں پنڈت جواہر لال نہرو مدافع کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے ماڈرن ریویو کلکتہ میں تین مضامین لکھے، جن میں بزعم خود مسلمانوں کے مذہبی افکار کا تجزیہ کرنا چاہا اور اس تجزیے میں اس اصل کے پیش نظر قادیانی جماعت کی مدافعت کی کہ پیغمبر عرب کے مقابلے میں غلام احمد بہرحال ایک ”ہندوستانی پیغمبر“ ہے۔ حضرت علامہ نے جواب میں ایک طویل مقالہ لکھا جس کے بعض ضروری اجزاء حسب ذیل ہیں:

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۶۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(ماخوذ از حرف اقبال ص ۱۳۸ تا ۱۷۱، مطبوعہ المنار اکادمی لاہور)

پروفیسر قاضی محمد اسلم کا تقرر ان ثقہ حوالوں اور واضح نظریوں کے بعد بالکل ہی بے محل ہو جاتا ہے۔ ادھر شروع میں جو سوال ہم نے قائم کئے تھے، ایک ایک کر کے جواب کے خواہاں ہیں۔ ظاہر ہے کہ قاضی صاحب جس جماعت کے ”صحابی“ یا ”تابعی“ ہیں اس کی نفی نہیں کر سکتے اور نہ اس کے خلاف کسی ایسے شخص کے ساتھ مخلص ہو سکتے ہیں جو ان کے مذہب، نبی، گروہ اور عقیدہ پر مندرجہ بالا الفاظ میں تجزیہ کر چکا ہو اور آخری وقت تک مصر رہا ہو کہ اس جماعت کو اسلام کا باغی سمجھا جائے اور اس بغاوت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسے ایک علیحدہ اقلیت قرار دیا جائے اور اگر انگریزی حکومت کو یہ تسلیم کرنے میں مصلحت اور ہچکچاہٹ ہو تو آنے والی اسلامی ریاست مجبور ہوگی کہ اس فرض سے عہدہ برآ ہو۔ کیونکہ اسلام اپنے دائرے میں ایسے کسی باغی کو تسلیم نہیں کرتا ہے جو اس کے گھر میں نقب زنی کا مرتکب ہو۔

اس ضمن میں کچھ نئے سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں :

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۶۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہیں ۔ انہوں نے کچھ دن ہوئے اپنے ساتھی طلباء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اقبال کا شہرہ ۷۱-۱۹۷۰ء تک ہے۔ اس کے بعد اقبال کے لئے زوال ہے اور جو ان کے نزدیک شروع ہوچکا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ قاضی محمد اسلم نے شاید اسی مفروضہ پر یہ فرض اپنے فرائض میں شامل کیا ہے؟ ہمارے اپنے علم و آگاہی کے مطابق قاضی محمد اسلم صاحب اقبال کے فکرونظر سے مطلقاً آشنا نہیں۔ انہیں اقبال کے اشعار بھی صحیح پڑھنے نہیں آتے ہیں۔ نہ وہ ان صداقتوں اور نزاکتوں سے آگاہ ہیں جو اقبال کے کلام کی روح ہیں اور ان کی تحریروں کے مطالب کی پیشانی کا جھومر۔ ان کی نظر سے شاید اقبال کے کلام و پیام کا پورا حصہ نہیں گزرا۔ وہ اقبال کی مصطلحات کے مفہوم ہی سے بے بہرہ ہیں۔ اپنے عقائد کی بوقلمونی (ہمارے نزدیک خرابی) کے باعث وہ اقبال کے ذوق وشوق کو سمجھنے کی استطاعت سے محروم ہیں۔ وہ یورپی فلسفہ کے پروفیسر ہیں۔ انہیں اس کا احساس ہی نہیں کہ اقبال مغربی فلسفہ کا نقاد ہے۔ اقبال نے اپنے خطبات میں جن اسلامی شخصیتوں اور دینی مصطلحات کو بے تکلف استعمال کیا ہے اور اس سے جن نتائج کا استخراج کیا ہے، قاضی صاحب اپنے عقیدہ کی روح سے اس کے مخالف ہیں اور اپنے دماغی نشوونما کی وجہ سے اس کا فہم نہیں رکھتے۔ پھر جس عقیدہ وفکر کو اقبال جس ایمان وآگہی سے مانتا ہے قاضی صاحب اس عقیدہ وفکر کو اس انداز واسلوب سے نہیں مانتے۔ یہ اختلاف وتضاد بنیادی ہے۔ قاضی صاحب کا ضمیر تو اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہوگا، لیکن یونیورسٹی کے جن دانشوروں نے انہیں اس خدمت پر مامور کیا ہے افسوس ہے کہ وہ اوّلاً: اس کے فہم ہی سے قاصر ہیں۔ ثانیاً: اس کی نزاکت واہمیت کو نہیں سمجھتے۔ ثالثاً: اپنی ذات کے سوا ہر معاملہ میں روادار واقع ہوئے ہیں۔ ان لوگوں نے جب اسلام کیمبرج اور آکسفورڈ کی یونیورسٹیوں سے سیکھا ہے تو اقبال کو ایک قادیانی کیوں نہیں پڑھا سکتا؟ انہیں مطلقاً خبر نہیں کہ مصیبت کی طرح گمراہی بھی تنہا نہیں آتی اور آتی ہے تو ہمہ گیر ہو جاتی ہے۔ ہمارے یہ دانشور اسی گمراہی کا شکار ہیں۔

”ایک رواداری فلسفی کی ہوتی ہے جس کے نزدیک تمام مذاہب یکساں طور پر صحیح ہیں۔ ایک رواداری مؤرخ کی ہے جس کے نزدیک تمام یکساں طور پر غلط ہیں۔ ایک رواداری مدبر کی ہے جس کے نزدیک تمام مذاہب یکساں طور پر مفید ہیں۔ ایک رواداری ایسے شخص کی ہے جو ہرقسم کے فکر وعمل کے طریقوں کو روا رکھتا ہے، کیونکہ وہ ہرقسم کے فکر وعمل سے بے تعلق ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ دانش گاہ پنجاب کے بیشتر کار پرداز اسی قبیلہ کے فرد ہیں۔ ایک رواداری کمزور آدمی کی ہے جو محض کمزوری کی وجہ سے ہر قسم کی ذلت، جو اس کی محبوب اشیاء یا اشخاص پر روا رکھی جاتی ہے، برداشت کرلیتا ہے۔ (گبن)

اس آخری رواداری کا ہدف ان دنوں مسلمانوں کا سوادِ اعظم ہے۔ فی الجملہ اس تقرر پر ہم کسے مخاطب کریں؟ یونیورسٹی کے ان کار پردازوں کو جو اس تقرر کا باعث ہوئے ہیں؟ مولانا ظفر علی خان کے بھائی پروفیسر حمید احمد خان کو جو اقبال سے معنوی اور ظفر علی خان سے خونی رشتہ رکھنے کے باوجود اس فتنہ پر غور نہیں کرسکتے ہیں یا پھر ہم صوبہ کے راسخ العقیدہ مسلمان گورنر ملک امیر محمد خان سے درخواست کریں کہ وہ بحیثیت چانسلر اسلام اور اقبال کو یونیورسٹی کے ان بردہ فروشوں سے بچائیں جن کی نیام میں کوئی تلوار نہیں ہے اور جن کی فکر مستعار پر پچرنگی مصلحتوں کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔“

(چٹان لاہور، مؤرخہ ۱۲؍اپریل ۱۹۶۵ء)

پانچ ہزار روپیہ

”علامہ اقبال نور اللہ مرقدہ نے فرمایا تھا کہ قادیانی مذہب کا تجزیہ وتاریخ ایک طاقتور قلم کے منتظر ہیں۔ ۱۸۹۹ء سے ہندوستان

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۶۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میں اسلامی دینیات کی جو تاریخ رہی ہے اس کی روشنی ہی میں احمدیت کے اصل محرکات تلاش کئے جاسکتے ہیں۔ یہ سال وہ تھا جب ٹیپو سلطان کو شکست ہوئی اور ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی نفوذ کی آخری امید منقطع ہو گئی۔ علامہ اقبال نے اپنے پہلے بیان میں اس امر کی ضرورت کو محسوس کر کے اظہار کیا تھا کہ قادیانیت سے مذہبی بحث میں الجھنا عبث ہے، اصلی چیز تحریک احمدیت کا نفسیاتی تجزیہ ہے۔ ان کے نزدیک یہ تمام تر سیاسی تحریک تھی۔ اس تحریک نے مسلمانوں کے لئے نبوت کے نام پر برطانوی غلامی کے طوق مہیا کئے اور الہام کی بنیاد پر مسلمانوں میں نسخ جہاد کا نظریہ رائج کرنا چاہا۔ جب تک ہم اس عہد کے سیاسی حالات پر نگاہ نہ رکھیں اور ان احوال و ظروف کو معلوم نہ کر لیں جو اس وقت کے ہندوستانی مسلمانوں کی ملی زندگی کا جزو غیر منفک ہو رہے تھے، اس وقت تک ہم قادیانی جماعت کی تاریخ اور تجزیہ نہیں کر سکتے ہیں۔ قادیانی جماعت پیدا ہوئی یا پیدا کی گئی؟ یہ سوال بھی کسی طاقتور قلم ہی کے تجزیہ و تحلیل کا منتظر ہے اور ان شاء اللہ ! کسی دور میں یہ نقاب اٹھ کر رہے گا۔ تاہم یہ امور یا نکات اب ڈھکے چھپے نہیں رہے کہ قادیانی جماعت نے انگریزوں کے بہترین خدمت گزار پیدا کئے۔ اس فرقے نے نہ صرف انگریزوں کے وثیقہ غلامی کا جواز پیدا کیا بلکہ اپنی جماعت سے باہر کے مسلمانوں کو کافر قرار دے کر اخوت اسلام کے اس تصور کو ہلاک کرنا چاہا جو محمد عربی ﷺ کے شانہ نبوت سے پیدا ہوا تھا۔ اس امر کے شواہد و نظائر بھی موجود ہیں کہ قادیانی جماعت کے ارکان غیر ملکوں میں جاسوسی کے فرائض انجام دیتے رہے اور مسلمانوں کی بعض قومی تحریکوں کو داخلی طور پر ختم کرنے یا رسوا کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

ایسا شخص جو مسلمانوں کی سیاسی تاریخ کا طالب علم ہو اور اس کی نگاہ انگریزوں کی ہندوستان میں آمد سے لے کر ان کے اخراج تک کے حالات پر ہو، نیز اس کو اس امر کی تحقیق کا بھی شوق ہو کہ اس عرصہ میں انگریزوں کے ہاتھوں اسلام پر کیا گزری۔ غرض علامہ اقبال کی مہیا کردہ بنیادوں پر قادیانیت کے سیاسی تجزیہ و تاریخ کو مرتب کرنے والا شخص نہ صرف اپنے اس عظیم کارنامہ کے لئے تمام مسلمانوں کے شکریہ کا مستحق ہو گا بلکہ اس کے لئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بارگاہ میں بڑا اجر ہے۔ اس کی یہ کتاب تاریخ کا ایک یادگار کارنامہ ہو گی۔ ایڈیٹر چٹان کی طرف سے اعلان کیا جاتا ہے کہ وہ اس کتاب کے مرتب و مصنف کو کتاب کے معیاری و مستند ہونے پر اپنی جیب سے پانچ ہزار روپیہ نقد دیں گے۔ ہم چندہ فراہم کرنے کے عادی نہیں اور نہ ہم اس عنوان سے عطیات کے قائل ہیں۔ ورنہ اس رقم میں دگنا تگنا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ جہاں تک کتاب کے انتخاب کا تعلق ہے، یہ کتاب چار مختلف ججوں کے پاس بھیجی جائے گی اور وہ اس امر کا فیصلہ کریں گے کہ کتاب واقعی تاریخ و تجزیہ کے اس معیار پر پوری اترتی ہے جس کی نشاندہی حضرت علامہ اقبال نے کی ہے۔ ان چاروں ججوں کے بارے میں ہمارا خیال یہ ہے کہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا ابوالحسن علی ندوی اور شیخ حسام الدین یہ فرض انجام دیں تو ہر لحاظ سے وہ اس منصب کے اہل ہیں۔ ایڈیٹر چٹان کتاب کا فیصلہ ہوتے ہی یہ رقم ان کے حوالہ کر دیں گے۔ اس غرض سے دو سال کی مدت کافی ہوگی اور اواخر اپریل ۱۹۶۷ء تک جو صاحب قلم اٹھائیں اپنے رشحات و کاوشات ایڈیٹر چٹان کی وساطت سے ان ججوں کو پیش کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ان ججوں کو عذر و انکار نہ ہو۔ عذر و انکار کی صورت میں کسی دوسرے بزرگ کا انتخاب ہو جائے گا۔ اللہ کرے! یہ تاریخ تیار ہو جائے۔‘‘

(چٹان لاہور، مورخہ ۱۲؍ اپریل ۱۹۶۵ء)

پنجاب یونیورسٹی اور مرزائی

’’علامہ اقبال نور اللہ مرقدہ نے مرزائیوں کی دونوں شاخوں کو خارج از اسلام قرار دے کر انجمن حمایت اسلام کے دروازے ان پر

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۶۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بند کر دیئے تھے۔ مرزائی لاہوری ہو یا قادیانی، انجمن کا ممبر نہیں ہو سکتا تھا۔ اس واقعہ کی پوری تفصیلات انجمن کے تحریری ریکارڈ میں موجود ہیں۔ اس کے ایک عینی گواہ لاہور کے سب سے بڑے شہری میاں امیر الدین بفضل تعالیٰ بقید حیات ہیں، یونیورسٹی کی انتظامیہ کے بھی رکن ہیں۔ ان سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ علامہ اقبال انجمن کی جنرل کونسل کے اجلاس عام کی صدارت فرمانے لگے تو آپ نے سب سے پہلے کھڑے ہو کر اعلان فرمایا کہ مسلمانوں کی اس انجمن کا کوئی مرزائی (لاہوری یا قادیانی) ممبر نہیں ہو سکتا۔ مرزا غلام احمد کے متبعین کی یہ دونوں جماعتیں خارج از اسلام ہیں۔ اس وقت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ کرسی صدارت کے عین سامنے بیٹھے تھے۔ ان کے ساتھ ہی میاں امیر الدین فروکش تھے۔ حضرت علامہ نے ڈاکٹر صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے صدر رکھنا ہے تو اس شخص کو نکال دو۔ مرزا صاحب لاہوری جماعت کے پیرو تھے۔ حضرت علامہ کے اس اعلان سے تھرّا گئے۔ کانپ اٹھے۔ جزبز ہوئے، کچھ کہنا چاہا۔ حتی کہ ان کا رنگ فق ہو گیا۔ حضرت علامہ مصر رہے کہ اس شخص کو یہاں سے جانا ہوا۔ چنانچہ مرزا یعقوب بیگ، بیک بینی دو گوش نکال دیئے گئے۔ ان کی طبیعت پر اس اخراج کا یہ اثر ہوا کہ بے حواس ہو گئے۔ دو چار دن ہی میں مرض الموت نے آلیا اور اس صدمہ کی تاب نہ لا کر انتقال کر گئے۔

پنجاب یونیورسٹی کے دانشور؟

پنجاب یونیورسٹی کے دانشور بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے مسند اقبال کس بنا پر ایک قادیانی کے حوالے کی ہے۔ علامہ کی عظمت مقصود ہے یا اہانت؟ جس انسان نے اپنی صدارت میں ایک مرزائی کا وجود گوارا نہ کیا ہو، اس کے فکر کی صدارت قادیانی کے حوالے کر دینا ہمارے نزدیک ایک خوفناک جسارت سے کسی طرح بھی کم نہیں ہے۔‘‘

(چٹان لاہور، مورخہ ۱۹؍ اپریل ۱۹۶۵ء)

قاضی محمد اسلم اور مسند اقبال

’’روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ کا اداریہ بہ عنوان ’’غلط بخشی‘‘ مؤرخہ ۱۶؍ اپریل ۱۹۶۵ء: پنجاب یونیورسٹی میں مسند اقبال کے اہتمام کا فیصلہ مبارک باد کا مستحق ہے۔ علامہ اقبال نظریہ پاکستان کے خالق اور مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے راہ نما ہیں۔ چنانچہ فکری افلاس کے اس دور میں ان کے پیغام اور افکار کو عام کرنے کا عزم وقت کی اہم ترین ضرورت ہی نہیں، ملک وقوم اور اسلام کی بہت بڑی خدمت بھی ہے۔ ہمیں یہ حسن ظن تھا کہ جن ارباب اختیار نے ایک انتہائی مستحسن فیصلہ کرنے کا لازوال اعزاز حاصل کیا ہے وہ نئے منصب پر کسی موزوں شخصیت کو فائز کرنے کی سعادت بھی حاصل کریں گے۔ یہ کام چنداں دشوار بھی نہیں تھا۔ کیونکہ اس گئے گزرے دور میں بھی ہمارے ہاں ایسے بزرگوں کی کوئی کمی نہیں تھی، جو نہ صرف تعلیمات اقبال کی حقیقی روح سے پوری طرح آگاہ ہیں بلکہ انہیں خود بھی اسلام کے اس فلسفی شاعر کی صحبتوں سے استفادہ کے مواقع حاصل ہوئے۔ لیکن اس انکشاف نے اقبال کے ہر شیدائی اور دردمند مسلمان کو اذیت ناک مایوسی اور اضطراب میں مبتلا کر دیا کہ حکیم الامت کے پیغام اور فلسفہ کو فروغ دینے کی ذمہ داری جن صاحب کو تفویض کی گئی ہے، انہوں نے یونیورسٹی میں یورپی فلسفہ پر تو سینکڑوں لیکچر دیئے ہوں گے اور بیسیوں کتابوں کا مطالعہ بھی کیا ہو گا لیکن وہ عقیدتاً اسلام کے اس فلسفہ سے یقیناً بے بہرہ ہوں گے، جو پیغام اقبال کی روح اور اساس ہے۔ یہ انتخاب ایسا ہی ہے جیسا کہ یورپ کے کسی مستشرق کو سیرت و قرآن کی تعبیرات اور توضیحات کے کام پر مامور کر کے مؤثر نتائج کی توقع کی جائے۔ بلکہ ہمیں تو یقین ہے کہ مسند اقبال سنبھالنے والے پروفیسر قاضی محمد اسلم سے بھی اگر یہ دریافت کیا جائے کہ آیا کوئی مستشرق قادیانیت کے اسرار و رموز کی نقاب کشائی کر سکتا ہے تو ان کا جواب بھی نفی میں

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۶۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہوگا۔ قاضی صاحب کے فرقہ کے متعلق حکیم الامت کا جو موقف رہا ہے اس کے پیش نظر آپ کے لئے یہ ممکن ہو گا کہ اپنے نئے منصب سے انصاف کر سکیں۔ اقبال سب مسلمانوں کی طرح حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو خاتم النبیین خیال کرتے تھے۔ ان کے نزدیک نبوت کی کوئی نوع نہیں۔ چنانچہ انہوں نے فرمایا ۔

اے ترا حق زبدہ اقوام کرد
ختم بر تو دورہ ایام کرد

اس نظر انتخاب سے تو اس شبہ کو تقویت ملتی ہے کہ یونیورسٹی کے حل و عقد نے ایک قومی تقاضا پورا کرنے کی بجائے محض ایک اسامی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یونیورسٹی کے حکام سے کوئی اپیل اب عبث معلوم ہوتی ہے، البتہ ہم قاضی صاحب سے یہ کہیں گے کہ انہوں نے مسند اقبال کی سربراہی قبول کر کے اپنے آپ کو بھی بڑی الجھن میں ڈال دیا ہے۔ لہٰذا مناسب یہی ہوگا کہ وہ خود ہی اس ذمہ داری سے سبکدوش ہو جائیں۔‘‘

(اداریہ نوائے وقت مورخہ ۱۶/ اپریل ۱۹۶۵ء)

عذر گناہ بدتر از گناہ

’’لولاک‘‘ کے گزشتہ شمارہ میں ہم نے معاصر ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ اور روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ کے وہ خصوصی مقالے نقل کر دیئے تھے جو انہوں نے مسند اقبال ایک ناموزوں شخص کے حوالے کرنے پر سپرد قلم کئے تھے۔ اس اعلائے کلمۃ الحق کے جواب میں یونیورسٹی کے ارباب حل و عقد کی طرف سے جو وضاحت شائع ہوئی اسے عذر از گناہ بدتر گناہ قرار دیتے ہوئے معاصر چٹان نے ذیل کا مقالہ خصوصی بعنوان ’’ پنجاب یونیورسٹی کی شاہکار معذرت‘‘ سپرد قلم کیا ہے۔ جسے ہم قارئین ’’لولاک‘‘ کے لئے نقل کر رہے ہیں:

پنجاب یونیورسٹی کی شاہکار معذرت

پنجاب یونیورسٹی میں مسند اقبال کو ایک قادیانی پروفیسر کے حوالے کرنے پر ہم نے جو کچھ عرض کیا تھا، ’’نوائے وقت‘‘ نے اپنے الفاظ میں ہمنوائی کی۔ یونیورسٹی کے دانشوروں نے دوسرے ہی دن ایک وضاحتی بیان ارسال کیا جو روزناموں میں چھپ چکا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ بیان ’’عذر گناہ بدتر از گناہ‘‘ کے رنگ و روغن کی ایک اچھوتی بانگی ہے۔ آج ’’کوہستان‘‘ اور ’’امروز‘‘ نے بھی ہمارے خیال کی توثیق کی ہے۔

تعلیم و تشریح سے اس کا کوئی تعلق نہیں تو یہ امر اور بھی افسوس ناک ہے۔ اقبال اس اقرار و اعتراف کے محتاج نہیں۔ کوئی سا شخص اس عنوان سے اشکبار نہ تھا کہ یونیورسٹی اس انداز میں اشک شوئی کرتی۔ اقبال کے نام پر مسند محض کا قیام کوئی چیز نہیں۔

جہان تازہ کی افکار سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

یونیورسٹی کے ارباب انتظام نے وضاحتی بیان دے کر خود اپنے چہرے سے نقاب اٹھا دیا ہے کہ ’’مسند اقبال صرف مسند اقبال ہے، فکر اقبال نہیں‘‘ اور ظاہر ہے کہ عوام و خواص میں سے کوئی فرد بھی اس سے مطمئن نہیں۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۷۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

وضاحتی بیان خود اپنے مطالب کی رو سے اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ جو شخص حکمت اقبال کی نگرانی پر مامور ہوا ہے وہ اس منصب کے لئے سب سے زیادہ ناموزوں شخص ہے۔ ہم نے قادیانی جماعت کے بارے میں علامہ اقبال کے جو نظریات پیش کئے ہیں،

سوال یہ ہے کہ یونیورسٹی کے کارپردازوں اور قاضی محمد اسلم کے اعوان و انصار کا اس بارے میں مسلک کیا ہے؟

کیا یونیورسٹی علامہ اقبال نور اللہ مرقدہ کے ان افکار کو غلط سمجھتی ہے؟ ظاہر ہے کہ وہ یہ حوصلہ نہیں کر سکتی اور اگر صحیح سمجھتی ہے تو اس نے ایک قادیانی پروفیسر کو اس منصب پر فائز کیوں کیا؟ اور اگر اس نے مداہنت کی ہے تو یہ اقبال و اسلام کی روح کے ساتھ بزدلانہ مذاق ہے۔ آخر قاضی محمد اسلم خود ہی مستعفی کیوں نہیں ہو جاتے؟ جب کہ وہ اس بات سے کما حقہ واقف ہیں کہ علامہ اقبال ان کے نبی کو متنبّی اور ان کی جماعت کو خارج از اسلام سمجھتے تھے۔“

(ہفت روزہ ”لولاک“ ،مورخہ ۳۰؍ اپریل ۱۹۶۵ء)

مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر کی تعمیر

مجلس تحفظ ختم نبوت کے پہلے ملکیتی ہیڈ آفس ملتان تغلق روڈ کے سنگ بنیاد کی تقریب ۲۹، ۳۰؍ اپریل ۱۹۶۵ء کو منعقد ہوئی۔ اس تقریب کے لئے ذیل کا دعوت نامہ جاری کیا گیا:

محترم المقام جناب .................................................. صاحب ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ!

آپ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ مذہب اسلام کے خلاف لاتعداد فتنوں کا سیلاب امڈ آیا ہے۔ مذاہب باطلہ کے سرپرست عظیم وسائل سے ہر ممکن ذرائع اور کثیر سرمایہ کے ساتھ خدا کے پسندیدہ دین (اسلام) اور مبلغین اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور اسلامی نظریات و عقائد کو ذہن و فکر سے بالکل محو کر دینے کے لئے منظم طاقتیں اور حربے استعمال کر رہے ہیں جو انتہائی مہلک اور خطرناک ہیں۔ چنانچہ اس سیلاب کو روکنے اور حقانیت اسلام کو واضح کرنے کے لئے مسلمانوں کا واحد تنظیمی ادارہ ”مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان“ شب و روز تبلیغی مشن میں سرگرم ہے۔ اندرون ملک جہاں تیس مبلغین حضرات کی جماعت مجلس کے اخراجات پر تبلیغ و تدریس کے فرائض ادا کر رہی ہے وہاں مجلس بیرون و اندرون ملک عربی، انگریزی، اردو لٹریچر اپنے خرچ پر مہیا کرنے سے بھی غافل نہیں ہے۔

مجلس کے زیر اہتمام چنیوٹ ضلع جھنگ میں دارالمبلغین کا قیام ہوئے کافی عرصہ ہو چکا ہے۔ جہاں سے بفضل تعالیٰ ہر سال فارغ شدہ طلباء کی ایک معقول تعداد کو حقانیت و صداقت اسلام اور فرق ہائے باطلہ خصوصاً مرزائیت، عیسائیت، پرویزیت اور بہائیت کے موضوع پر زیر سرکردگی مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر، دلائل و براہین کے علاوہ مناظرانہ تربیت بھی دی جاتی ہے تاکہ یہ طلباء فرق باطلہ کے ناپاک ارادوں کو جو وہ اسلام کے خلاف کئے ہوئے ہیں، ناکام بنانے میں ممد و معاون ہوں۔ ان طلباء کی رہائش و خوراک اور وظائف کا معقول انتظام بھی مجلس نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہے۔

نیز آپ پر یہ بات بھی واضح ہے کہ حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کو حضور سرور کائنات ﷺ کی ذات گرامی سے جو عشق تھا، اسی کا نتیجہ تھا کہ آپ فرق ہائے باطلہ کے استیصال اور خصوصاً عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے زندگی بھر

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۷۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مصروف جہاد رہے ۔ اس سلسلہ میں اتنے عزم ویقین کی پختگی کا مظاہرہ فرمایا کہ نبوت کاذبہ کی پشت پناہ انگریزی حکومت کی پروا نہ کرتے ہوئے قیدوبند کی صعوبتوں کے علاوہ دارورسن کو چومنے کے لئے عاشقانہ انداز میں یہ شعر وردزبان کرتے ہوئے ؎

مدتے است کہ آوازہ منصور کہن شد من از سر نو جلوہ دہم دار و رسن را

ثابت قدمی کا وہ منظر پیش کیا کہ چار دانگ عالم میں آپ کے ثبات واستقلال کے چرچے ہونے لگے۔ آج جماعت حضرت امیر شریعت کی بتلائی ہوئی راہوں پر گامزن ہوکر تاج وتخت ختم نبوت کی حفاظت کے لئے سینہ سپر ہے۔ اسی مقدس مقصد کی تکمیل کے لئے حضرت امیر شریعت کے ایما پر جماعت کا مرکزی دفتر تقسیم ملک سے قبل قادیان میں قائم کیا گیا تھا۔ تقسیم کے بعد سے مجلس کرائے کے مکان میں گزر اوقات کر رہی ہے۔ اب الحمدللہ ! ملتان شہر میں گھنٹہ گھر کے نزدیک تغلق روڈ پر تقریباً ڈیڑھ فرلانگ برلب سڑک دفتر کے لئے جگہ خرید کر لی ہے۔ مجلس کے اسی دفتر کا سنگ بنیاد پروانہ شمع رسالت عاشق رسول ﷺ حافظ القرآن والحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب درخواستی مدظلہ ۲۷؍ ذی الحجہ ۱۳۸۴ھ جمعہ کے دن اپنے دست مبارک سے رکھیں گے۔ اس نادر و بابرکت موقع پر دو شبانہ اجلاس منعقد کئے جا رہے ہیں۔

پہلا اجلاس: جمعرات بعد نماز عشاء دوسرا اجلاس: جمعۃ المبارک بعد نماز عشاء

اس موقع پر کانفرنس بھی منعقد کی گئی۔ اس کی کارروائی پر مشتمل اخبارات کے تراشے ملاحظہ ہوں ۔

مجلس تحفظ ختم نبوت کے جلسہ سے علماء کا خطاب

ملتان: ۲۹؍ اپریل (اسٹاف رپورٹر) آج مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا محمد لقمان اور مولانا لال حسین اختر نے رسول اکرم ﷺ کی سیرت پر روشنی ڈالی۔ تینوں علماء نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فرقوں کو اپنے اختلافات ختم کر کے رسول اکرم ﷺ کی نبوت پر ناواجب حملوں کا دفاع کرنا چاہئے۔ جلسہ عام میں ایک قرارداد بھی منظور کی گئی۔ اس قرارداد میں مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ علامہ پرویز کو ملتان میں خطاب کرنے سے روکا جائے۔

(نوائے وقت مورخہ ۳۰؍ اپریل ۱۹۶۵ء)

مجلس تحفظ ختم نبوت کا مرکزی دفتر

ملتان: ۳۰؍ اپریل (اسٹاف رپورٹر) آج امیر جمعیتہ علمائے اسلام مولانا محمد عبداللہ درخواستی نے تغلق روڈ پر دفتر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر بہاول پور اور ملتان ڈویژنوں کے علمائے دین موجود تھے۔ ان میں مولانا محمد علی جالندھری، مولانا مفتی محمد عبداللہ اور قومی اسمبلی کے رکن مولانا مفتی محمود بھی شامل تھے۔ مولانا درخواستی نے اس موقع پر ناموس رسالت ﷺ کے پروانوں کے بہت بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا یہ بہت بڑا کارنامہ ہے کہ ملت میں فرقہ باطلہ کے خیالات کی ترویج بند ہوگئی ہے۔ اگر مجلس کے کارکن قربانیاں پیش نہ کرتے تو دین میں تحریف کے دروازے کھل جاتے۔ آپ نے تلقین کی کہ ہر مسلمان کو اس میں شامل ہونا چاہئے۔ آپ نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ دینی مدارس کھولے جانے چاہئیں۔ اجلاس میں سائیں محمد حیات نے فی البدیہہ نظم

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۷۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پڑھی۔ مجلس کے ناظم مولانا محمد علی جالندھری نے بتایا کہ یہ نیا دفتر ۱۴ مرلے اراضی پر بنایا جائے گا۔ اس کی تعمیر پر ایک لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔ اس منصوبے کی تکمیل کا انحصار مسلمانوں کے تعاون پر ہے۔ (نوائے وقت مورخہ ۴؍ مئی ۱۹۶۵ء) اور ساتھ ہی یہ خبر بھی ملاحظہ ہو:

علماء پر تقاریر کرنے کی پابندی

ملتان: ۱۱؍ مئی (اسٹاف رپورٹر) مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے لیڈر قاضی احسان احمد شجاع آبادی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے کہ وہ ملتان اور لاہور کے کسی بھی مقام پر دو ماہ تک تقریر نہیں کر سکتے۔ اسی طرح مولانا محمد علی جالندھری کو راولپنڈی اور جہلم کے اضلاع میں، مولانا محمد لقمان کو ضلع سرگودھا میں، مولانا عبدالرحیم اشعر کو ضلع مظفر گڑھ میں، مولانا غلام محمد کو ضلع لاہور میں کسی اجتماع سے خطاب کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

(نوائے وقت ملتان، مورخہ ۱۲؍ مئی ۱۹۶۵ء)

ٹاؤن کمیٹی ربوہ کا بجٹ

۷؍ جولائی ۱۹۶۷ء کے ”نوائے وقت“ میں ”ٹاؤن کمیٹی ربوہ کا خسارہ کا بجٹ“ کے عنوان سے مندرجہ ذیل خبر شائع ہوئی ہے: ٹاؤن کمیٹی ربوہ نے آئندہ مالی سال کے لئے ۳۳۱۶۰ روپے خسارہ کا بجٹ منظور کر لیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ کل ۱۲۵۵۰۰ روپے آمدنی کے مقابلہ میں اخراجات ۱۵۹۶۶۰ روپے کے لگ بھگ ہوئے۔ اخراجات کی تفصیلات بتاتے ہوئے آپ نے کہا کہ کمیونٹی ہال کی تعمیر پر ۲۰۰۰۰ روپے خرچ ہوں گے۔ اسٹریٹ لائٹ، تعلیم، نالیوں کی تعمیر اور شجر کاری کے علاوہ سڑکوں کی تعمیر کے منصوبہ پر ۴۰۰۰۰ روپے صرف ہوں گے۔ بجٹ کے خسارہ کو گزشتہ سال کی بچت اور سرکاری گرانٹ سے پورا کیا جائے گا۔

گزشتہ دنوں کسی اخبار میں یہ بھی پڑھا تھا کہ ڈسٹرکٹ کونسل جھنگ اس سلسلہ میں ۱۵۰۰۰ روپے کی گرانٹ ربوہ کو دے رہی ہے۔ اس سلسلہ میں ہم بڑے دکھ کے ساتھ چند حقائق تحریر کرنے پر مجبور ہیں۔ جہاں تک ملکی اتحاد اور قومی یکجہتی کی ضرورت کا تعلق ہے ہمیں اس کا پورا پورا احساس ہے، لیکن اندرون پردہ کچھ اس قسم کے واقعات اور حقائق ہیں جن پر سے ملک اور ملت کی بہی خواہی کے لئے پردہ ہٹانا ضروری ہے۔

چو مے بینم کہ نابینا و چاہ است اگر خاموش بنشینم گناہ است

حقیقت یہ ہے کہ تقسیم ملک کے موقع پر سر فرانس موڈی اس وقت کے گورنر پنجاب نے اپنے اس خود کاشتہ پودے کو ربوہ کی زمین سوا روپیہ کنال کے حساب سے دے دی۔ اس زمین کی ملکیت کے حقوق انجمن احمدیہ کو حاصل ہوئے۔ انجمن احمدیہ نے اس زمین میں سڑکیں گلیاں کاٹ کر احاطے وغیرہ بنا کر دینے شروع کئے۔ مبینہ طور پر تین صد روپے اوسطاً فی مرلہ کے حساب سے وہ احاطے صرف اور صرف قادیانیوں کو دیئے گئے، تاہم مالکانہ حقوق انجمن احمدیہ کو ہی حاصل رہے۔ ابتدائی شرائط کے مطابق ہر قادیانی کو اپنے مکان کی ہر سال تجدید کرانا بھی لازمی قرار دیا گیا۔ پورے پاکستان میں ربوہ واحد ایسی آبادی ہے جہاں صرف قادیانی ہی آباد ہو سکتا ہے اور اس زمین پر کسی دوسرے محبّ وطن پاکستانی کو خواہ وہ فیلڈ مارشل صدر محمد ایوب خان اور گورنر مغربی پاکستان ملک امیر محمد خان ہی کیوں نہ ہوں وہاں نہیں رہ سکتے۔ ربوہ وہ بستی ہے جس کے متعلق مرحوم لیاقت علی خان سابق وزیر اعظم پاکستان نے مولانا احتشام الحق صاحب کو کہا تھا کہ ہاں! مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ پاکستان میں ایک ایسی آبادی بھی بن گئی ہے جہاں صرف قادیانی رہ سکتے ہیں اور وہ وہاں جو کچھ کرتے رہیں ہمیں اس کی خبر نہیں ہو سکتی۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس ٹاؤن کمیٹی کی زمین مبینہ طور پر انجمن احمدیہ کی ملکیت ہے اور جس ٹاؤن کمیٹی کے تعلیمی ادارے ایک

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۷۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مخصوص فرقہ کی ملکیت اور مخصوص نظریات کی نشر و اشاعت کا ذریعہ ہیں، جن نظریات سے پاکستان کی دس کروڑ آبادی کو نہ صرف اختلاف ہے بلکہ ان کے درمیان کفر و اسلام کا فرق ہے، اس آبادی کو ٹاؤن کمیٹی کی آڑ میں سرکاری گرانٹ لینے کا کیا حق حاصل ہے اور کسی قومی یا ملی ادارے کا اس کے لئے گرانٹ منظور کرنا ملکی اور قومی مفاد کے پیش نظر کیا حیثیت رکھتا ہے؟

ہم صوبہ کے عظیم محبّ وطن ، مضبوط اور مسلمان دل و دماغ رکھنے والے گورنر ملک امیر محمد خان سے اپیل کریں گے کہ ملک میں قادیانی اپنی جارحانہ تبلیغی سرگرمیوں کے سلسلہ میں امت اسلامیہ کے سینہ پر جس طرح مونگ دل رہے ہیں، اس پر کسی مزید قادیانیت نوازی کا موقع فراہم نہ کیا جائے ۔‘‘

(ہفتہ وار لولاک مؤرخہ ۹؍ جولائی ۱۹۶۵ء)

نیشنل اسمبلی ہال میں

بہتر یہ ہے کہ متوازن ذہن و فکر کے حامل علمائے دین ، اسلام ومحبّ وطن ارکان اسمبلی اس مسئلہ پر غور و خوض کریں اور اس کے حل کی کوئی مناسب شکل تجویز کر کے صدر مملکت اور حکومت کے ذمہ دار اصحاب سے اس تجویز کے بارے میں گفت وشنید کریں تا کہ یہ مسئلہ سنجیدہ فضا میں زیر غور آسکے اور اس کا کوئی معقول حل تلاش کیا جا سکے۔

(لولاک مؤرخہ ۱۳؍ اگست ۱۹۶۵ء)

ستمبر ۱۹۶۵ء میں پاکستان کی بھارت کے ساتھ جنگ ہوئی۔ اس سلسلہ میں مرزائی سازشوں نے کیا گل کھلائے؟ ان کی تفصیلات جاننے کے لئے ’’عجمی اسرائیل‘‘ از آغا شورش کاشمیری کی تصنیف لطیف کا مطالعہ ضروری ہے۔ وہ فرماتے ہیں : ’’ بات معمولی ہے لیکن عجیب ہے کہ کشمیر کے محاذوں کی جنگ میں قادیان سے ملحق سرحدات کی کمان ہمیشہ مرزائی جرنیلوں کے ہاتھ میں رہی ہے۔ چونکہ یہ ایک حربی عمل ہے، لہٰذا اس کا ذکر مناسب نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ فرقان بٹالین ہو یا اس کے بعد ۱۹۶۵ء کی جنگ جو کشمیر سے شروع کی گئی، وہاں چمب جوڑیاں کا محاذ پٹھان کوٹ قادیان کی طرف تھا۔ ابتدائً ان محاذوں کی کمان جنرل اختر ملک اور بریگیڈیئر عبدالعلی ملک کے ہاتھ میں تھی جو سگے بھائی ہونے کے علاوہ قادیانی العقیدہ تھے۔ جنرل اختر ملک ترکی میں وفات پا گئے۔ ان کی نعش وہاں سے ربوہ لائی گئی۔ جہاں بہشتی مقبرے سے باہر ہمیشہ کی نیند سو رہے ہیں ۔ پنجاب میں پانچویں اور چھٹی جماعت کی تاریخ و جغرافیہ کے نصاب میں ۱۹۶۵ء کی جنگ کا ہیرو جنرل اختر ملک اور بریگیڈیئر عبدالعلی کو بتایا گیا اور اوّل الذکر کی سہ رنگی تصویر شامل کی گئی ہے۔

ایک دوسری تصویر جنرل ابرار حسین کی بھی ہے۔ لیکن ۱۹۶۵ء کی جنگ کو اس طرح محدود کرنا اور صرف جنرل اختر حسین ملک یا بریگیڈیئر عبدالعلی کا ذکر کرنا مرزائی امت کا پنجاب میں نئی پود کو ذہنًا اپنی طرف منتقل کرنے کا ہتھکنڈا ہے۔ عزیز بھٹی وغیرہ کو نظر انداز کر کے اور اس وقت کے آتش بجانوں کے سر سے گزر کے جنرل اختر ملک کو قومی ہیرو بنانا اور پڑھانا قادیانی سیاست کی شوخی ہے جو حصول اقتدار کی آئندہ کوششوں میں رنگ و روغن کا کام دے گی۔

بات سے بات نکلتی ہے۔ جنرل اختر ملک کے تذکرے کی رعایت سے اس ضمن کی دو باتیں حافظہ میں اور تازہ ہوگئیں :

ہماری محافظت کی ورنہ صورت حال کے پامال ہونے کا احتمال تھا۔

نواب صاحب نے فرمایا: مرزائی پاکستان میں حصول اقتدار سے مایوس ہو کر قادیان پہنچنے کے لئے مضطرب ہیں ۔ وہ بھارت سے

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۷۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مل کر یا بھارت سے لڑ کر ہر صورت میں قادیان چاہتے ہیں اور اس غرض سے پاکستان کو بازی پر لگانے سے بھی نہیں چوکتے۔ ایک دن میرے ہاں جنرل اختر حسین ملک آئے اور میں نے ملٹری سیکرٹری کرنل محمد شریف سے کہا کہ میں نے جنرل ملک سے اگر ملاقات کی تو صدر ایوب جو مجھ سے پہلے ہی بدظن ہوچکے ہیں، اور ہوں گے اور یہ حسن اتفاق ہے کہ میں بھی اعوان ہوں۔ جنرل ملک بھی اعوان ہے اور تم (ملٹری سیکرٹری) بھی اعوان ہو۔ صدر ایوب کے کان میں الطاف حسین (ڈان) نے بات ڈال رکھی ہے۔ اس سے کسی امریکن نے کہا ہے کہ نواب کالا باغ ایوب خان کے خلاف اندرون خانہ خود صدر بننے کی سازش کر رہا ہے۔

اس وقت تو جنرل ملک لوٹ گئے، لیکن چند دن بعد نتھیا گلی میں ملاقات کا موقع پیدا کر لیا۔ کہنے لگے: ”میں صدر ایوب کو آمادہ کروں کہ یہ وقت کشمیر پر چڑھائی کرنے کے لئے بہترین ہے۔ یقین ہے کہ ہم کشمیر حاصل کر پائیں گے۔“ مجھے حیرت ہوئی کہ بیٹھے بٹھائے جنرل کو یہ کیا سوجھی؟ بہرحال میں نے عذر کیا کہ میں نہ تو فوجی ایکسپرٹ ہوں، نہ مجھے جنگ کے مبادیات کا علم ہے۔ آپ خود ان سے تذکرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ صدر ایوب نہیں مانتا۔ وہ کہتا ہے کہ اس لڑائی کے جلد بعد بھارت براہ راست پاکستان کی بین الاقوامی سرحد پر حملہ کردے گا۔

میں نے کہا کہ صدر مجھ سے پہلے ہی بدگمان ہے۔ وہ لازماً خیال کرے گا کہ اعوان اس کے خلاف کوئی سازش کر رہے ہیں۔ جنرل اختر ملک مجھ سے جواب پا کر چلے گئے۔ اس اثناء میں سی آئی ڈی کی معرفت مجھے ایک دستی اشتہار ملا جو آزاد کشمیر میں کثرت سے تقسیم کیا گیا تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ: ”ریاست جموں و کشمیر ان شاء اللہ! آزاد ہوگی اور اس کی فتح ونصرت احمدیت کے ہاتھوں ہوگی۔“

(پیش گوئی مصلح موعود)

اور میرے لئے یہ ناقابل فہم نہ تھا کہ جنرل اختر ملک اس پیش گوئی کو سچا بنانے کے لئے دوڑ دھوپ کر رہے تھے۔ راقم نے نواب کالا باغ کی یہ گفتگو محترم مجید نظامی، ایڈیٹر نوائے وقت کو بیان کی تو انہوں نے تائید کی کہ ان سے بھی نواب صاحب یہی روایت کر چکے ہیں۔

کو پیغام دوں کہ یہ وقت کشمیر پر چڑھائی کے لئے موزوں ہے۔ پاکستانی فوج ضرور کامیاب ہوگی۔ جہاں تک ہندوستان کے ہاتھوں بین الاقوامی سرحد کے آلودہ ہونے کا تعلق ہے، ایسی کوئی چیز نہ ہوگی۔ میں نے صدر ایوب سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: مجھ سے کہہ دیا ہے اور کسی سے نہ کہنا۔

صدر ایوب کو سر ظفر اللہ نے پیغام دے کر اور جنرل اختر ملک نے خود حاضر ہو کر علاوہ دوسرے زعماء کے یقین دلایا تھا کہ کشمیر پر حملہ کرنے سے بھارت اور پاکستان میں براہ راست جنگ نہ ہوگی۔ لیکن پاکستانی فوجیں جب کشمیر کی طرف بڑھنے لگیں تو پاکستان کی بین الاقوامی سرحدیں ایکا ایکی بھارتی فوج کے حملہ کا شکار ہو گئیں۔ واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کو ہندوستان کے تابع کرنے اور اس کی جغرافیائی ہیئت کو نئی صورت دینے کے لئے عالمی استعمار کا جو منصوبہ تھا اس کو پروان چڑھانے کے لئے پاکستان کے بعض پراسرار لیکن مخفی و معلوم ہاتھ بھی تھے۔ قدرت نے استعماری منصوبہ خاک میں ملا دیا۔ منصوبہ یہ تھا کہ مغربی پاکستان میں پنجاب کو بالواسطہ یا بلاواسطہ شکست ہو تو پاکستان کا عسکری بازو ٹوٹ جائے گا اور مشرقی پاکستان نتیجتاً الگ ہو جائے گا۔ پنجاب کی پسپائی کے بعد سرحد، بلوچستان اور سندھ بلقان ریاستوں یا عرب ریاستوں کی طرح چھوٹی چھوٹی ریاستیں بن جائیں گے۔

کشمیر اور احمدیت کے بارے میں اس سے پہلے یہ بات سطور بالا میں رہ گئی ہے کہ قادیانی امت نے تحریک کشمیر (قبل از آزادی)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۷۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور جنگ کشمیر (بعد از آزادی) میں صرف اس لئے حصہ لیا کہ مرزا بشیر الدین محمود جس قادیانی ریاست کا خواب دیکھتے تھے، ان کی نگاہ میں کشمیر ہر لحاظ سے موزوں تھا۔ جماعت احمدیہ کی کشمیر سے دلچسپی کا سبب دوست محمد شاہد نے تاریخ احمدیت جلد ۶ ص ۴۲۵ تا ۴۸۹ میں مرزا محمود کی روایت سے لکھا ہے:

ان نکات ہی کو ملحوظ رکھا جائے تو ظاہر ہے کہ قادیانی امت کی کشمیر سے ہمدردی کسی عام انسانی مسئلہ یا عام مسلمانوں کی ہمدردی کے جذبہ سے نہیں تھی، نہ ہے، بلکہ وہ اپنے شخصی تعلق اور حربی مفاد کے لئے پورے پاکستان اور تمام مسلمانوں کو استعمال کرتے رہے ہیں۔

بلوچستان کو احمدی ریاست بنانے کا خواب پراگندہ ہو گیا۔ (اس کے لئے ہم شاہ ایران کے بھی شکرگزار ہیں) ادھر کشمیر سے متعلق ۱۹۴۸ء، ۱۹۶۵ء کی دونوں مہمیں بے نتیجہ رہیں۔ ادھر ۱۹۶۵ء کے بعد برصغیر سے متعلق عالمی استعمار نے کانٹا بدلا۔ قادیانی امت کا اس کے ساتھ بدلنا ایسا ہی تھا جیسے انجن مڑتے ہی گاڑی مڑ جاتی ہے۔ اب پاکستان کو ملیا میٹ کرنے کی استعماری کوشش میں سے ایک کوشش یہ تھی کہ:

لئے شکایات کو جنم دیا، پھر پروان چڑھایا۔ ایم. ایم. احمد نے حکومت پاکستان کے فنانس سیکرٹری مالی مشیر اور منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کی حیثیت سے بنگالیوں کو اتنا بے بس اور بیزار کر دیا کہ وہ علیحدگی کی تحریک میں ڈھل گئے۔ مشرقی پاکستان کے مصیبت زدگان کو سرکاری امداد سے محروم رکھا گیا اور اس کے مسئول ایم. ایم. احمد تھے۔

پاکستان کی تھی اور شیخ مجیب الرحمٰن قادیانی امت کی ان حرکات کو بھانپ کر ان سے باخبر ہو گئے تھے۔ وہ ایم. ایم. احمد کی حرکات پر پبلک میں بیان دے چکے اور ان کی فوری علیحدگی کے خواہاں تھے۔ اس بیان کے فوراً بعد چوہدری ظفر اللہ خان ان سے ملنے ڈھاکہ گئے۔ دوسرے یا تیسرے دن تخلیہ میں ملاقات ہوئی اور آخر وہی ہوا جو مرزائی امت کے ظفر اللہ خان یا ایم. ایم. احمد سے ٹکراؤ کا نتیجہ ہو سکتا تھا کہ ایم. ایم. احمد کو علیحدہ کرنے سے پہلے مجیب الرحمٰن پاکستان سے ہمیشہ کے لئے علیحدہ ہو گئے۔

یہودیوں کی طرح ملک کی مالیات (بینکنگ، انشورنس اور انڈسٹری) میں اس قسم کا اقتدار حاصل کر لیا ہے کہ انہیں ان کے پس منظر، پیش منظر اور تہہ منظر سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ اب ان کے اقتدار کی راہ میں یہ چیزیں معاون ہو سکتی ہیں اور یہ کہنا جرم نہ ہوگا کہ پاکستان کی فضائیہ کے چیف سے لے کر آئندہ جانشینوں کی ایک کڑی تک ان کے ہاتھ میں ہے۔ اسی طرح بری فوج کے دونوں کور کمانڈر (جنرل عبدالعلی اور جنرل عبدالحمید) ان کے ہیں۔ ان کے ساتھ ایک ڈار بندھی ہوئی ہے۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۷۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے بہاول پور کے علاقہ کی انشورنس کارپوریشن کا جنرل منیجر جنجوعہ قادیانی ہے۔ لاہور میو ہسپتال کا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ قادیانی ہے۔ غرض ایسے کئی ادارے قادیانی امت کے ہاتھ میں ہیں جہاں اس کے افراد کی بڑی سے بڑی اکثریت معاشی طور پر پرورش پاسکتی اور سیاسی طور پر اقتدار کی راہیں ہموار کرتی ہے۔

بیشتر ورکنگ جرنلسٹوں میں کرپشن کی نیو رکھ دی گئی ہے۔ جس کی بدولت قادیانیت کے پیچ وخم کا مسئلہ خارج از احتساب ہو چکا ہے۔

ہیں جس سے قادیانی امت کے مخالفین ضعیف ہوتے جائیں اور اس انتشار وافتراق کو ہوا ملتی رہے جو ان کے آئندہ اقتدار کی ضروری اساس ہے۔

الرحمن کو رگیدا جارہا تھا۔ مرزائی امت بظاہر پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے، لیکن اس کے مختلف نوجوان مختلف پارٹیوں میں حسب ہدایت شامل ہیں۔ پنجاب نیشنل عوامی پارٹی میں ایک ایسا احمدی نوجوان شریک ہے جس کا بھائی بڑے دنوں سے کراچی کا ڈپٹی کمشنر ہے اور باپ مرزا غلام احمد قادیانی کا صحابی ایک زمانہ میں پبلک کا قانونی مشیر تھا۔ قادیانی امت کا طرزِ عمل یہ ہے کہ مذمت کے روپ میں سرحد و بلوچستان کی سیاسی فضا کو اتنا مسموم کر دیا جائے کہ علیحدگی کا مطالبہ حقیقت بن جائے۔ جب عالمی استعمار کی خواہش کے مطابق پاکستان جو کبھی مغربی پاکستان تھا کئی ریاستوں مثلاً پختونستان، بلوچستان اور سندھ دیش وغیرہ میں تقسیم ہو تو پنجاب میں حکمران طاقت یا سکھوں کے ساتھ مشترکہ طاقت کی سربراہی ان کے ہاتھ میں ہو۔

مرزائی سیاست کا نقشہ یہ ہے کہ عالمی استعمار اس پاکستان کو ضرب و تقسیم سے تین چار ریاستوں میں بانٹنے کا ارادہ کر چکا ہے۔ پختونستان بنے گا۔ بلوچستان بنے گا۔ سندھ دیش بنے گا۔ ان کے اضلاع میں تھوڑا بہت ردو بدل ہوگا۔ ہو سکتا ہے سندھ کا کچھ علاقہ بھارتی راجستھان کو چلا جائے۔ پختونستان میں پنجاب کے ایک دو اضلاع آجائیں۔ بلوچستان سندھ کے ایک دو اضلاع لے جائے اور پنجاب میں ڈیرہ غازی خان کے ضلع پر اس کی نگاہ ہو۔ لیکن جتنی جلدی یہ ہو، قادیانی اپنے لئے اتنا ہی مفید سمجھتے ہیں۔ قادیانی امت کی اس مہرہ بازی کا حاصل کلام یہ ہے کہ اپنے اس بلقانی مقدر کے بعد پاکستان ختم ہو جائے گا تو سکھ استعماری شہ اور بھارتی تعاون سے پنجاب پر اپنے اس استحقاق کا دعویٰ کریں گے کہ وہ ان کے گوروؤں کی نگری ہونے کے باعث ان کا ہے جس طرح یہود نے فلسطین کو اپنے پیغمبروں کے مولد و مسکن و مرقد ہونے کی بنا پر حاصل کیا اور اسرائیل بنا ڈالا ، اسی طرح پنجاب سکھوں کے لئے ہوگا۔ بعض معلوم وجوہ کے باعث پنجاب اس وقت پختونستان ، سندھو دیش اور بلوچستان کی ناراضی میں گھرا ہوگا۔ مرزائی امت گوروؤں کی نگری کے طالبین سے معانقہ کر کے اپنے ”مدینۃ النبی‘ قادیان کی مراجعت پر خوش ہوگی۔ تب عالمی استعمار کی مداخلت سے ایک نیا پنجاب پیدا ہوگا جو سکھ احمدی ریاست ہوگا اور جس کا پاکستانی وجود ختم ہو جائے گا۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۷۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پاکستان کا اصل خطرہ یہ ہے کہ پنجاب اس خوفناک سانحہ کی زد میں ہے، نہ جانے حزب اقتدار اور حزب اختلاف اس بارے میں کیوں غور نہیں کرتیں۔ اس سیاسی مسئلہ کا اس وقت تعاقب نہ کیا گیا اور ایک پولیٹیکل خطرہ کے طور پر اس کا محاسبہ نہ کیا گیا تو کیا پاکستان کی آنکھ اس وقت کھلے گی جب طوفان سر سے گزر چکا ہوگا اور پاکستان کی تاریخ استعماری انقلاب کے ہاتھوں الٹ چکی ہوگی؟ تب مؤرخ یہ لکھیں گے کہ ان علاقوں میں ایک ایسی قوم رہتی تھی جس نے اپنے مسلمان ہونے کی بنیاد پر برعظیم ہندوستان سے کٹ کے ایک علیحدہ ملک پاکستان بنوایا تھا، لیکن اس پر تیسری یا چوتھی دہائی بھی نہ گزری تھی کہ اپنی مجرمانہ غفلتوں اور احمقانہ سرکشیوں سے اس ملک کو خود مٹا ڈالا اور اب وہ ملک و قوم ماضی کی ایک طربناک یاد کا المناک تتمہ ہیں۔‘‘

(تحریک ختم نبوت از شورش کاشمیری ص ۲۰۲ تا ۲۱۰)

جنگ ۱۹۶۵ء

آغا شورش کاشمیری نے جن حالات کا ذکر کیا، مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے اس مشکل وقت میں اسلامیان پاکستان کو جذبہ جہاد سے سرشار کرنے کے لئے ملک کے طول و عرض کے سفر کئے۔ جہاد کانفرنسیں منعقد کیں۔ تمام دینی جماعتوں پر مشتمل اسلامی جمہوری محاذ قائم کیا۔ اس سلسلہ میں ذیل کی دو خبروں پر اکتفا کیا جاتا ہے:

ملتان: مورخہ ۸؍ ستمبر (اسٹاف رپورٹر) ملتان ڈویژن بھر میں بھارتی افواج کا سر کچلنے کے لئے زبردست جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ آج ملتان کے اکسٹھ نوجوان وکلاء نے اعلان کیا ہے کہ وہ مجاہدین کے لئے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال پہنچ کر خون دیں گے۔ آج ملتان کی ٹریڈ یونینوں کے ایک سو ارکان نے ہسپتال میں خون دیا۔ ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان مولانا محمد علی جالندھری نے بتایا ہے کہ تحفظ ختم نبوت کے تیس مبلغ جہاد کی تبلیغ کے لئے مختص کر دیئے گئے ہیں اور جماعت کے رضا کار جہاد میں شرکت کرنے کے لئے تیار ہیں۔‘‘

(نوائے وقت ملتان مورخہ ۹؍ ستمبر ۱۹۶۵ء)

متحدہ اسلامی محاذ کے وفد کی گورنر سے ملاقات

قومی دفاعی فنڈ کے لئے سات ہزار کا عطیہ

لاہور: مورخہ ۱۹؍ ستمبر۔ آج متحدہ اسلامی محاذ کے وفد نے صوبائی گورنر ملک امیر محمد خان سے ملاقات کی اور انہیں سات ہزار روپے کا چیک قومی دفاعی فنڈ کے لئے پیش کیا۔ وفد میں مجلس احرار اسلام، جمعیۃ علمائے اسلام، تنظیم اہل سنت، تنظیم اہل حدیث، مجلس تحفظ ختم نبوت، دیوبندی اور بریلوی مکتبہ فکر کے نمائندے شامل تھے۔ جن میں شیخ حسام الدین، مولانا کوثر نیازی، مولانا غلام غوث ہزاروی اور جامعہ اشرفیہ کے مولانا عبد الرحمن کے نام نمایاں ہیں۔ انہوں نے پیشکش کی کہ محاذ کے ارکان دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔ گورنر نے ان کے احساسات اور جذبات کی تعریف کی اور اس آزمائش کے دور میں ان کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔‘‘

(امروز لاہور، مورخہ ۲۰؍ ستمبر ۱۹۶۵ء)

جہاد کو تمام عبادتوں سے مقدم قرار دیا گیا ہے

مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کی تقاریر

بہاول پور: مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد الصادق میں ایک عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر مجلس

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۷۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

تحفظ ختم نبوت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی نے افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا اور صدر ایوب کی دانشمندانہ قیادت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ صدر ایوب نے ایک غیرتمند مسلمان کی طرح بڑی طاقتوں سے صاف صاف کہہ دیا اور ان کا یہ فقرہ تاریخ پاکستان میں آب زر سے لکھا جائے گا کہ ہمیں دوستوں کی ضرورت ہے، آقاؤں کی نہیں۔ قاضی صاحب نے کہا: دین نام ہے غیرت کا۔ اگر قوم غیور وخودشناس نہ ہو تو وہ دھرتی کا بوجھ ہے۔ اسے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے راجستھان سے لے کر آزاد کشمیر تک کے محاذوں کا دورہ کیا ہے اور محسوس کیا ہے کہ ہماری فوجیں اور ہمارے عوام جذبہ جہاد سے پوری طرح سرشار ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس جذبہ کے ساتھ ساتھ ملی اتحاد کو بھی قائم رکھا جائے۔ قاضی احسان احمد کی تقریر سے قبل مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد علی جالندھری نے ایک مؤثر تقریر کی۔ انہوں نے قرآن حکیم کی ایک آیت کریمہ کے حوالہ سے میدان جنگ میں مسلمانوں کی کامیابی کے لئے دو شرطوں کا ذکر کیا: ایک دشمن کے مقابلہ میں ثابت قدمی اور دوسرے میدان جنگ میں اللہ کا بکثرت ذکر۔ قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی کامیابی کا راز اسی میں مضمر تھا کہ وہ اللہ کے ذکر کو اپنا سب سے بڑا ہتھیار سمجھتے تھے۔

(لولاک مورخہ ۲۶؍ نومبر ۱۹۶۵ء)

مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۸۴ھ، مطابق جون ۱۹۶۴ء تا مئی ۱۹۶۵ء

ذیل میں مجلس کی روئیداد ۱۳۸۴ھ مطابق از جون ۱۹۶۴ء تا مئی ۱۹۶۵ء کا مقدمہ پیش خدمت ہے جو مولانا محمد شریف جالندھری کا مرتب کردہ ہے۔ قادیانیت کے عقائد اور مجلس کی خدمات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

آپ کے سامنے یہ بات بالکل واضح ہے کہ دنیائے اسلام کے مسلمانوں کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ پر نبوت کے خاتمہ کے بعد ہر مدعی نبوت (خواہ وہ ظلی و بروزی کا سہارا کیوں نہ لیتا ہو) دجال، کذاب، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ موجودہ فتنہ عمیاء جو اسود ہندی اور مسیلمہ پنجاب کے پیروکاروں نے ملک میں برپا کیا ہوا ہے، اس کا رد کرنا اور عالم اسلام کو عموماً اور اہل پاکستان کو خصوصاً ان کے عقائد باطلہ سے خبردار کرنا جماعت کے اولین مقاصد میں سے ہے۔ اپنے عقیدہ کی حفاظت اور تمام ملت اسلامیہ جو عقیدۂ ختم نبوت کو ایمان کا جزو اعظم سمجھتی ہے اس کو بیرونی واندرونی فتنوں سے خبردار کرنا ہمارا بنیادی اور جمہوری حق ہے۔

نیز اپنے ہم عقیدہ لوگوں کو اپنے مسلک کے دلائل اور براہین سے روشناس کرانا کوئی قانونی جرم اور اخلاقی ضابطہ کی خلاف ورزی نہیں ہے، جب کہ مندرجہ بالا فتنہ ہماری ہی ملت میں گھس کر ہمارے ہم عقیدہ لوگوں کو رات دن گمراہ کرنے کی کوشش میں منہمک ہے تو ہم پر اور زیادہ ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے کہ اس فتنہ سیاہ کے چہرہ سے نقاب کشائی کریں۔ اس روئیداد میں ہم آپ کو اس فرقہ ضالہ کے اس گمراہ کن پروپیگنڈہ کی حقیقت سے روشناس کرانا چاہتے ہیں کہ ان کا یہ لکھنا کہ اسلام دنیا کے کناروں تک پھیلانے والے صرف ہم قادیانی ہیں، کہاں تک مبنی بر حقیقت ہے جس سے بظاہر بعض حضرات متأثر ہوتے ہیں کہ دیکھا! یہ جماعت ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کر رہی ہے اور اس پروپیگنڈے کو تقویت دینے والے قادیانی جماعت کے وہ قد آدم پوسٹر اور پمفلٹ بھی ہیں جو مندرجہ بالا عنوان سے چھاپ کر ہماری مسلم آبادی میں ان کی دکانوں اور چوراہوں میں پھینک جاتے ہیں۔ یہ قادیانی مرکز سے ان کے نام بذریعہ ڈاک روانہ کئے جاتے ہیں۔ چنانچہ ایک پمفلٹ بعنوان: ”جماعت احمدیہ کا تبلیغی نظام‘‘ ربوہ سے شائع شدہ ملتان کے قادیانی فرقہ کے سیکرٹری منور احمد نے ایک مسلمان جناب

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۷۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بشیر احمد صاحب ۲۵۰-بی اسکیم نمبر ۲ ملتان شہر کے نام روانہ کیا ہے اور اس پمفلٹ میں مرزا مبارک احمد کی ایک تقریر چھاپ کر تقسیم کی گئی ہے ۔ جس میں مرزا قادیانی کے الہاموں کے نام سے یورپ میں اسلام پھیلانے کا تذکرہ ہے اور چند آدمیوں کے نام دے کر یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ گویا یہ لوگ کفر سے نکل کر ملت اسلام میں داخل ہو گئے اور لفظ اسلام کا تکرار اس رسالہ میں اتنی بار کیا گیا ہے کہ خواہ مخواہ سادہ دل مسلمان یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یار ! جن لوگوں کو ہمارے علمائے اسلام مسلمان نہیں سمجھتے ، یہ تو باہر لوگوں کو مسلمان بنا رہے ہیں ۔ پس ! اس ضمن میں اس فریب کا پردہ چاک کرنا ہے کہ کیا واقعی یہ اسی اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں جو حضرت خاتم الانبیاء نبی کریم ﷺ لائے تھے یا قادیانی اپنا اختراعی اسلام پیش کرتے ہیں ۔ نام اسلام کا لیتے ہیں اور مراد اس سے قادیانیت ہوتی ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے ! مرزا غلام احمد قادیانی لفظ اسلام کی مندرجہ ذیل تعریف کرتے ہیں:

اسلام سے مراد فرقہ احمدیہ

”دیکھو وہ زمانہ چلا آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا اس سلسلہ کی دنیا میں بڑی قبولیت پھیلائے گا اور یہ سلسلہ ( قادیانیہ ...... مؤلف ) مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب میں پھیلے گا اور دنیا میں اسلام سے مراد یہی سلسلہ ہوگا ۔“

(ملاحظہ ہو تحفہ گولڑویہ ص ۵۶ ، خزائن ج ۱۷ ص ۱۸۲)

اگر شبہ ہو کہ خواہ وہ اسلام سے مراد قادیانی مذہب ہی لیتے ہوں، مگر باہر کے ملکوں میں اسلام ہی کی تبلیغ کرتے ہیں، تو یہ شبہ بالکل غلط ہے کہ قادیانی فرقہ کے بانی کے نزدیک جس اسلام میں ان کا تذکرہ نہ ہو، وہ مردہ اسلام ہے۔

مردہ اسلام

چنانچہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ قادیانی راوی ہیں کہ : ” حضرت مسیح موعود ( مرزا قادیانی ) کی زندگی میں مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کی تجویز پر ۱۹۰۵ء میں ایڈیٹر صاحب اخبار ”وطن“ نے ایک فنڈ اس غرض سے شروع کیا تھا کہ اس (رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ) کی کاپیاں بیرونی ممالک میں بھیجی جائیں، بشرطیکہ اس میں حضرت مسیح موعود کا نام نہ ہو مگر حضرت اقدس ( مرزا قادیانی ) نے اس تجویز کو اس بنا پر رد کر دیا کہ مجھ کو چھوڑ کر کیا مردہ اسلام پیش کرو گے؟“

(اخبار الفضل قادیان مؤرخہ ۱۹ / اکتوبر ۱۹۲۸ء)

ناظرین کرام ! جس اسلام کی تبلیغ کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے کہ ہم دنیا کے کناروں تک اس کی تبلیغ کر رہے ہیں، وہ تبلیغ قادیانیت ہے نہ کہ تبلیغ اسلام ۔ چنانچہ مرزا بشیر الدین محمود کے الفاظ ملاحظہ فرماویں ! وہ فرماتے ہیں:

ہمارا مقصد تبلیغ قادیانیت ہوگا

”ہندوستان سے باہر ہر ایک ملک میں ہم اپنے واعظ بھیجیں ۔ مگر میں اس بات کہنے سے نہیں ڈرتا کہ اس تبلیغ سے ہماری غرض سلسلہ احمدیہ کی صورت میں اسلام کی تبلیغ ہو ۔ میرا یہی مذہب ہے اور حضرت مسیح موعود ( مرزا قادیانی ) کے پاس رہ کر اندر باہر ان سے بھی یہی سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ اسلام کی تبلیغ یہی میری تبلیغ ہے۔ پس اس اسلام کی تبلیغ کرو جو مسیح موعود لایا۔“

(منصب خلافت ص ۲۱، ۲۲)

مرزا غلام احمد کے بغیر اسلام ایک خشک درخت ہے

اور یہی چیز چوہدری محمد ظفر اللہ قادیانی نے پاکستان بن جانے کے بعد جہانگیر پارک کراچی میں مئی ۱۹۵۲ء میں دہرائی تھی جس

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۸۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سے مسلمان مشتعل ہوگئے اور اس کے نتیجہ میں تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء شروع ہوئی۔ اس اشتعال کا اعتراف مسٹر محمد منیر صدر انکوائری کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔

(تحقیقاتی رپورٹ ص ۷۷)

چوہدری ظفر اللہ قادیانی کے اصل الفاظ

”ان تمام باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ احمدیت خدا تعالیٰ کا لگایا ہوا پودا ہے۔ یہ پودا اسلام کی حفاظت کی غرض سے کھڑا کیا گیا ہے، جس کا وعدہ قرآن مجید میں دیا گیا تھا۔ اگر نعوذ باللہ آپ کے وجود (یعنی مرزا غلام احمد) کو درمیان سے نکال دیا جائے تو اسلام کا زندہ مذہب ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اسلام بھی دیگر مذاہب کی طرح ایک خشک درخت شمار کیا جائے گا اور اسلام کی کوئی برتری دیگر مذاہب سے ثابت نہیں ہوسکتی۔“

(الفضل لاہور، مورخہ ۳۱ مئی ۱۹۵۲ء، المصلح کراچی، مورخہ ۲۳ مئی ۱۹۵۲ء)

آپ نے سن لیا کہ چوہدری صاحب کے نزدیک بھی غلام احمد کے وجود کو اگر نکال دیا جائے تو یہ اسلام، مردہ اسلام ہے، زندہ اسلام نہیں۔ یہی وہ الفاظ ہیں جو مسلمانان کراچی برداشت نہ کر سکے اور پورے پاکستان میں یوں محسوس ہونے لگا کہ اب قادیانیت کی تبلیغ سنگینوں کے زیرسایہ خواجہ ناظم الدین مرحوم نے اپنے ذمہ لے لی ہے۔ اس قدر حقیقت واضح ہونے کے بعد اب بھی اگر آپ اس شبہ میں مبتلا ہوں کہ آخر قادیانی فرقہ بھی خدا، رسول، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کو مانتا ہے پھر ان کا اور ہمارا اسلام جدا کیسے ہوگا؟ تو اس شبہ کا جواب بھی آپ خلیفہ قادیانی مرزا محمود احمد کی زبانی سن لیں۔ فرماتے ہیں:

مسلمانوں سے ہماری ہر ایک چیز جدا ہے

”حضرت مسیح موعود کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم ﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرضیکہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان (مسلمانوں) سے اختلاف ہے۔“

(اخبار الفضل قادیان، مورخہ ۳۰؍جولائی ۱۹۳۱ء)

ناظرین کرام! آپ نے مندرجہ بالا حوالوں سے یہ معلوم کرلیا کہ قادیانیوں کا اسلام اور ہے اور مسلمانوں کا اسلام اور ہے۔ اب مرزا غلام احمد قادیانی نے جو اپنے اسلام کی تعریف کی وہ خود ان کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں۔ لکھتے ہیں:

مرزا غلام احمد قادیانی کے مذہب کے دو حصے

”سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسری اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو، جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“

(مقدمہ شہادت القرآن ص ج)

دیکھ لیا آپ نے! مرزا غلام احمد قادیانی کے اسلام کے دو حصے ہیں: خدا کی اطاعت اور گورنمنٹ برطانیہ کی اطاعت، لیکن مسلمانوں کے اسلام کے پانچ حصے ہیں: (۱) کلمہ شہادت ۔ (۲) نماز ۔ (۳) روزہ ۔ (۴) حج ۔ (۵) زکوٰۃ ۔ معلوم ہوا کہ قادیانی اسلام دو رکنوں پر قائم ہے اور مسلمانوں کا اسلام پانچ ارکان پر قائم ہے تو پتہ چلا کہ واقعتاً قادیانی اسلام اور

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۸۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہے اور ہمارا اسلام اور۔ رہی یہ بات کہ قادیانی فرقہ نے باقی احکام میں گو ترمیمیں کر لی ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی ذات میں کوئی اختلاف نہیں، وہ تو دونوں کا ایک ہے۔ تو واضح رہے کہ قادیانی مذہب کا خدا بھی مسلمانوں کے خدا سے جدا ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کا خدا ”لیس کمثلہ شی“ اور ”قل ھو اللہ احد• اللہ الصمد• لم یلد ولم یولد• ولم یکن لہ کفواً احد“ ہے۔ یعنی وہ ایک ہے، بے نیاز ہے، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ خود کسی سے جنا گیا ہے اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے۔ غرضیکہ تمام صفات رذیلہ سے پاک ہے۔ لیکن قادیانی مذہب کے خدا کے متعلق سنئے! مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ:

قادیانیوں کا عاجی خدا

مجھے الہام ہوا: ”ربنا عاج“

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ۵۵۵، خزائن ج ۱ ص ۶۶۲)

اس کتاب میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ اس لفظ کے معنی ابھی تک نہیں کھلے۔ اب آئیے! کتب لغت کے ذریعے ہم آپ کو عاج کا معنی بتاتے ہیں۔ تو عاج کا ترجمہ: ہاتھی دانت، یا گوبر کے ہوتے ہیں تو معلوم ہوا کہ قادیانی خدا ہاتھی دانت یا گوبر کا بنا ہوا ہے۔ نیز اس الہام کے ساتھ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ یاد رہے کہ اس لفظ (عاج) کے معنی ابھی تک نہیں کھلے۔ یہ الہام ۱۸۸۴ء کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن اس کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ متنبی کاذب اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر ان کی زندگی کے آخری لمحات (۱۹۰۸ء) تک ٹیچی ٹیچی نے ان کو اس کا ترجمہ تک نہیں بتایا۔

اب ناظرین پر بخوبی واضح ہوچکا ہے کہ قادیانی خدا مسلمانوں کے خدا سے جدا ہے اور ان کا اسلام بھی ہمارے اسلام سے مختلف ہے۔ جب یہ بات واضح ہو گئی کہ قادیانی باہر کے ممالک میں اسلام محمدی ﷺ کی تبلیغ نہیں کرتے بلکہ اپنے من گھڑت اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں جس کا رکن اعظم سلطنت برطانیہ کی اطاعت ہے تو خیال گزرتا ہوگا کہ آخر بیرونی ممالک میں ان کے یہ مشن کیسے قائم ہوگئے؟ تو اس کا جواب آپ کو مرزا غلام احمد قادیانی کی مندرجہ ذیل تحریر سے ملے گا:

گورنمنٹ انگریزی کی وفاداری

چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے حالات زندگی تحریر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: ”میں ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے۔ میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا۔ جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور ۱۸۵۷ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی، یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے۔“

(اشتہار واجب الاظہار ص ۳، ملحقہ کتاب البریہ ص ۳، خزائن ج ۱۳ ص ۴)

پھر اسی اشتہار کے ص ۴، ۵ پر تحریر کرتے ہیں: ”پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا اور جب تریموں کے گزر پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔“

نیز اسی اشتہار کے ص ۶، ۷ پر تحریر کرتے ہیں: ”پھر میں نے اپنے والد اور بھائی کی وفات کے بعد جو ایک گوشہ نشین آدمی تھا تاہم

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۸۲

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سترہ برس سے سرکار انگریزی کی امداد اور تائید میں اپنی قلم سے کام لیتا ہوں، اس سترہ برس کی مدت میں جس قدر میں نے کتابیں تالیف کیں ان سب میں سرکار انگریزی کی اطاعت اور ہمدردی کے لئے لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی ممانعت کے بارے میں نہایت مؤثر تقریریں لکھیں اور پھر میں نے قرین مصلحت سمجھ کر اس امر ممانعت جہاد کو عام ملکوں میں پھیلانے کے لئے عربی ، فارسی میں کتابیں عرب، بلاد شام اور روم اور مصر اور بغداد اور افغانستان میں شائع کی گئی۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی نہ کسی وقت ان کا اثر ہوگا۔‘‘

(اشتہار واجب الاظہار ملحقہ کتاب البریہ،خزائن ج۱۳ ص۷، ۸)

قارئین کرام! مرزا غلام احمد قادیانی نے جو کچھ مسئلہ جہاد کے خلاف اور اطاعت گورنمنٹ انگریزی کے بارے میں لکھا ہے ان رسالوں اور کتابوں کی تعداد معلوم کرنا چاہیں تو مندرجہ ذیل حوالہ ملاحظہ فرمائیں! مرزا غلام احمد لکھتا ہے:

پچاس ہزار کتابیں

’’اور مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے، لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکرگزار اور دعا گو رہے، اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو، فارسی، عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں۔ یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں بھی بخوبی شائع کر دیں۔‘‘

(ستارہ قیصرہ ص۳، خزائن ج۱۵ ص۱۱۴)

آپ کے سامنے پچاس ہزار کی تعداد جب آ ہی گئی تو حجم اور ضخامت بھی مرزا قادیانی ہی سے سن لیجئے۔ تحریر کرتے ہیں:

پچاس الماریاں

’’میری عمر کا اکثر حصہ اسی سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔‘‘

(تریاق القلوب تختی خورد ص۱۵، خزائن ج۱۵ ص۱۵۵)

اگر آپ یہ شبہ کریں کہ کون سی چیز تھی جس نے مرزا غلام احمد قادیانی کو انگریز کا اتنا کاسہ لیس بنا دیا تھا تو اس کا جواب بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی حسب ذیل تحریر میں موجود ہے۔ ملاحظہ فرماویں:

گورنمنٹ برطانیہ کا اوّل درجہ کا خیر خواہ

’’میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا خیرخواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیرخواہی میں اوّل درجہ پر بنا دیا ہے۔ اوّل والد مرحوم کے اثر نے، دوم اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے، تیسرے خدا تعالیٰ کے الہام نے۔‘‘

(ضمیمہ نمبر۳ منسلکۂ تریاق القلوب باردوم ص ج، خزائن ج۱۵ ص۴۹۱)

مندرجہ بالا اقتباس میں مرزا قادیانی نے گورنمنٹ انگریزی کے احسانات کا تذکرہ اتنا مبہم الفاظ میں کیا ہے کہ ہر شخص ان کی نوعیت کو نہیں سمجھ سکتا۔ ہمارے خیال میں اس سلسلہ میں ایک بیرونی شہادت نقل کی جائے۔ شاید ان احسانات پر روشنی پڑ سکے!

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۸۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سینئر سول جج کرنال کی شہادت، مہدی بنانے کی کہانی

”جناب میاں غلام علی صاحب سابق جج کا بیان۔ ایک تاریخی واقعہ۔“

میں ۱۹۳۴ء سے ۱۹۳۵ء تک ضلع کرنال میں سینئر سول جج تعینات تھا۔ اس دوران میں غالباً مجھے کسی معائنہ کے موقع کے لئے ”پونڈری“ کے ڈاک بنگلہ میں دو روز قیام کرنا پڑا۔ ”پونڈری، کرنال اور کیتھل“ کی درمیانی سڑک پر ایک مشہور قصبہ ہے۔ ڈاک بنگلہ میں ایک الماری ہے جس میں پرانی کتابیں رکھی ہوئی تھی۔ میں نے ایک کتاب لی جو مجلد تھی۔ دراصل اس میں لندن کے رسالے کے کئی حصے یکجا کئے ہوئے تھے۔ میں نے ایک حصہ کے مضامین کی ہیڈنگ پڑھنا شروع کی۔ اس خیال سے کہ جو ہیڈنگ میری دلچسپی کا باعث ہوگی اسے پڑھوں گا۔ اتفاق سے ایک ہیڈنگ ”مہدی“ تھی۔ اس مضمون کو کسی پادری نے لکھا تھا جس کا نام ایڈورڈ لکھا تھا۔ میں نے اس مضمون کو بغور پڑھا بلکہ دو مرتبہ پڑھا۔ کئی صفحوں کا یہ نہایت دقیق مقالہ تھا۔ مجھے پورے پورے الفاظ تو یاد نہیں مگر یہ ضرور یاد ہے کہ پادری صاحب نے مضمون کو اس طرح شروع کیا تھا کہ آج کل مسلمانوں کے سنہ ہجری کی چودھویں صدی شروع ہورہی ہے اور مسلمانوں میں یہ خیال مذہبی حیثیت کی حد تک پہنچ گیا ہے کہ اس صدی ہجری میں ایک مہدی آئے گا جو مسلمانوں کی گئی ہوئی عظمت پھر بحال کرے گا۔ مسلمانوں کی فتح ہوگی۔ مذہب اسلام تمام دنیا میں پھیل جائے گا۔ پھر پادری صاحب نے اس آنے والی مصیبت کی روک تھام کے لئے دو تجاویز پیش کی تھیں: اوّل یہ کہ نہایت غور اور صحت سے معلوم کرو کہ کہاں اور کسی جگہ یہ مہدی پیدا ہورہا ہے اور اس کو وہیں کچل ڈالو۔ دوسری تجویز یہ پیش کی کہ ہم خود مسلمانوں میں کوئی مہدی بنائیں اور اس کی ہر طرح امداد کریں۔ اس سے وفاداری کا عہد لے کر اس کی اس طرح شہرت کریں کہ مسلمان اصل مہدی کو بھول کر اسے قبول کر لیں۔ پادری صاحب نے دوسری تجویز کی حمایت کی تھی۔ میں نے مطالعہ کے بعد کتاب اس الماری میں رکھ دی اور واپس کرنال چلا آیا۔ اس مضمون کا میرے دل پر گہرا اثر رہا۔ میں اکثر اس مضمون کا ذکر اپنے دوستوں بلکہ احمدی صاحبان سے بھی کرتا تھا۔

۱۹۳۸ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد میں نے دہلی قرول باغ میں مستقل سکونت اختیار کر لی اور وہاں ایک اپنا مکان تعمیر کر لیا۔ ایک روز کا ذکر ہے کہ میرے پاس دو صاحب تشریف لائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کو غلام احمد صاحب پرویز نے بھیجا ہے۔ پرویز صاحب ان ایام میں گورنمنٹ آف انڈیا میں کسی اچھے عہدے پر فائز تھے۔ ان دونوں صاحبان نے مجھے کہا کہ پرویز صاحب ایک کتاب ختم نبوت پر لکھ رہے ہیں اور ان کو معلوم ہوا ہے کہ اس امر میں آپ کے پاس کچھ مواد ہے۔ وہ یہ مواد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے ان کو ”پونڈری“ ڈاک بنگلہ کا حوالہ دیا اور پتہ بتایا تا کہ وہاں الماری میں جو کتابیں پڑی ہیں ان میں سے یہ مضمون تلاش کر کے حوالہ نوٹ کر لیں یا نقل کر لیں۔ چند روز کے بعد وہ صاحبان میرے پاس پھر آئے اور کہنے لگے کہ ہم نے پونڈری ڈاک بنگلہ سے وہ کتاب تلاش کر لی ہے، مگر اس میں جو مضمون ”مہدی“ پر تھا وہ غائب ہے اور نکالا ہوا ہے اور باقی کتاب قائم ہے۔ ہمارا یہ خیال ہوا کہ جس کے خلاف یہ مضمون ہوگا۔ اس نے ہی نکالا ہے۔ بعد ازاں یہ معاملہ کم از کم میرے لئے کوئی دلچسپی کا باعث نہ رہا مگر میں اس کا ذکر کبھی کبھی دوستوں میں کر دیا کرتا تھا۔

۱۹۵۳ء میں جب مرزائیوں کے خلاف ایجی ٹیشن ہوئی تو پھر اس معاملہ کا خیال خصوصیت سے آیا اور میں نے مندرجہ بالا امور جہاں تک مجھے یاد تھے تحریر کر کے تحقیقاتی عدالت کو بھیج دیئے۔ علاوہ ازیں میں نے خود بھی غلام احمد صاحب پرویز کو خط لکھا، وہ ان دنوں

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ١٨٤

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کراچی میں تھے۔ ان کا جواب آیا کہ دہلی میں ہی انہوں نے اس رسالے کے ناشران کو لندن میں لکھا تھا کہ اس رسالے کی کاپیاں پرویز صاحب کو مہیا کریں اور قیمت وصول کر لیں۔ میں رسالے کا نام بھول گیا تھا مگر پرویز صاحب کو معلوم تھا۔ رسالہ ”بلیک وڈ میگزین“ لندن تھا۔ ناشران رسالہ نے پرویز صاحب کو جواب دیا کہ ان کے پاس اتنی پرانی کاپیاں نہیں ہیں۔ میں نے یہ سارا قصہ مولانا مظہر علی صاحب اظہر کو بیان کیا تھا۔ ”ملاحظہ ہو: روزنامہ نوائے پاکستان لاہور، مؤرخہ ۲۵؍ فروری ۱۹۵۷ء۔

اب اس سلسلہ اس کی اندرونی شہادت یعنی مرزا غلام احمد کی اپنی تحریر ملاحظہ فرماویں۔ تحریر کرتے ہیں:

”اے بابرکت قیصرہ ہند! تجھے یہ تیری عظمت اور نیک نامی مبارک ہو۔ خدا کی نگاہیں اس ملک پر ہیں جس پر تیری نگاہیں ہیں۔ خدا کی رحمت کا ہاتھ اس رعایا پر ہے جس پر تیرا ہاتھ ہے۔ تیری ہی پاک نیتوں کی تحریک سے خدا نے مجھے بھیجا ہے۔“

(ستارہ قیصرہ ص ۸، خزائن ج ۱۵ ص ۱۲۰)

اس عبارت سے ملتی جلتی عبارت مندرجہ بالا کتاب کے ص ۶ پر لکھ چکے ہیں۔ اصل الفاظ ملاحظہ فرماویں: ”اے ملکہ معظمہ! تیرے وہ پاک ارادے ہیں جو آسمانی مدد کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں اور تیری نیک نیتی کی کشش ہے جس سے آسمان رحمت کے ساتھ زمین کی طرف جھکتا جاتا ہے۔ اس لئے تیرے عہد سلطنت کے سوا اور کوئی بھی عہد سلطنت ایسا نہیں ہے جو مسیح موعود کے ظہور کے لئے موزوں ہو، سو خدا نے تیرے نورانی عہد میں آسمان سے ایک نور نازل کیا۔ کیونکہ نور، نور کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور تاریکی، تاریکی کو۔“

(ستارہ قیصرہ ص ۵، خزائن ج ۱۵ ص ۱۱۷)

مندرجہ بالا دونوں قسم کی شہادتوں سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو لندن کے اس پادری کی اسکیم کے تحت مہدی بنا کر کھڑا کیا گیا ہے۔ اس لئے وہ ملکہ وکٹوریہ کی پاک نیتوں کی تحریک کا تذکرہ بھی فرما رہے ہیں کہ آپ کی تحریک پر خدا نے مجھے بھیجا اور انگریز کے عہد عادلانہ کو مسیح موعود کے آنے کا موزوں وقت بتلا رہے ہیں اور پادری صاحب کی تحریک کی بنا پر مختلف طریقوں سے بار بار گورنمنٹ انگریزی کو اپنی وفاداری کا یقین دلا رہے ہیں اور گورنمنٹ برطانیہ کو مطمئن کرنے کے لئے حسب ذیل الفاظ لکھتے ہیں:

”اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“

(تبلیغ رسالت ج ۷ ص ۱۷، مجموعہ اشتہارات مرزا ج ۳ ص ۱۹)

لیجئے! جو کچھ لندن کے پادری صاحب چاہتے تھے وہ بات پوری ہوگئی کہ مسلمانوں کو ایک انقلابی مہدی کے تصور سے ہٹا کر خود ساختہ اور گورنمنٹ انگریزی کے کاسہ لیس مہدی کی ذات پر اکٹھا کرنے کی ناپاک سعی کی گئی۔ باقی رہی یہ بات کہ پادری صاحب نے فرمایا تھا کہ اس خود ساختہ مہدی کی زیادہ سے زیادہ مدد کی جائے تو اس وعدہ کی یاد دہانی کے لئے مرزا قادیانی نے لیفٹیننٹ گورنر بہادر کو ایک عرضداشت بھیجی ہے جس میں رقمطراز ہیں کہ: ”صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولتمدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار، جان نثار خاندان ثابت کرچکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خود کاشت پودے کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۸۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔ لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم خدمات گزشتہ کے لحاظ سے سرکار دولتمدار کی پوری عنایات اور خصوصیت توجہ کی درخواست کریں۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۷ ص۱۹، ۲۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۰)

مندرجہ بالا حوالہ جات سے ناظرین پر اب تو بخوبی واضح ہو گیا ہے کہ لندنی پادری کی اسکیم کامیاب ہوئی۔ مرزا غلام احمد کو ملکہ وکٹوریہ کے عہد میں تیار کیا گیا اور پادری صاحب کے کہنے کے مطابق ان سے وفاداری کا عہد لیا گیا اور پھر ہر طرح مرزا غلام احمد کی امداد کی گئی۔ جس کا مطالبہ مرزا قادیانی اپنی محولہ بالا درخواست میں کر رہے ہیں اور خود ہی انگریز کو یاد دلایا کہ میں ’’آپ کا لگایا ہوا پودا ہوں ۔‘‘ اب یہ بات قطعاً کسی وضاحت کی محتاج نہیں رہی کہ مرزا غلام احمد گورنمنٹ انگریزی کا جاسوس تھا اور مرزائیوں کے بیرونی ممالک میں قائم کردہ اڈے تبلیغی ادارے نہ تھے بلکہ انگریز کے جاسوسوں کی ایک منڈلی تھی جو تبلیغ کے نام پر دیگر ممالک میں پھیلا دی گئی تھی۔ جس کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ جب یہ بات ذہن نشین ہو گئی تو اب ہم ان کی بیرونی ممالک میں تبلیغ کے چند نمونے پیش کرتے ہیں تاکہ قادیانی تبلیغ کی قلعی کھل جائے۔

بیرونی ممالک میں قادیانی تبلیغ کے چند نمونے

سب سے پہلے ہم افغانستان میں مرزائی تبلیغ کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان اپنے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:

افغانستان میں صاحبزادہ عبداللطیف کے قتل کی وجہ

’’ہمیں یہ معلوم نہ تھا کہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب (قادیانی) شہید کی شہادت کی وجہ کیا تھی۔ اس کے متعلق ہم نے مختلف افواہیں سنیں ، مگر کوئی یقینی اطلاع نہ ملی تھی۔ ایک عرصہ دراز کے بعد اتفاقاً ایک لائبریری میں ایک کتاب ملی جو چھپ کر نایاب بھی ہو گئی تھی۔ اس کتاب کا مصنف ایک اطالوی انجینئر ہے جو افغانستان میں ایک ذمہ دار عہدہ پر فائز تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب (قادیانی) کو اس لئے شہید کیا گیا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دیتے تھے اور حکومت افغانستان کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ اس سے افغانستان کا جذبۂ حریت کمزور ہو جائے گا اور ان پر انگریزوں کا اقتدار چھا جائے گا۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۳۱، مورخہ ۶؍اگست ۱۹۳۵ء)

روس میں تبلیغ قادیانیت کے نتائج

دوسرا ملک روس ہے جس میں قادیانی صاحبان نے اپنا مبلغ بھیجا۔ اس کا حال بھی انہی کی زبانی سن لیجئے۔ مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان اعلان کرتے ہیں: ’’چونکہ برادرم محمد امین خان صاحب (قادیانی) کے پاس ’’پاسپورٹ‘‘ نہ تھا، اس لئے وہ روس میں داخل ہوتے ہی روس کے پہلے ریلوے اسٹیشن ’’قضہ‘‘ پر انگریزی جاسوس قرار دیئے جاکر گرفتار کئے گئے۔ کپڑے اور کتابیں جو کچھ پاس تھا وہ ضبط کرلیا گیا اور ایک مہینہ تک آپ کو وہاں رکھا گیا۔ اس کے بعد آپ کو عشق آباد کے قید خانہ میں تبدیل کیا گیا۔ وہاں سے مسلم روس پولیس کی حراست میں آپ کو براستہ سمرقند، تاشقند بھیجا گیا اور وہاں دو ماہ تک قید رکھا گیا اور بار بار آپ سے بیانات لئے گئے تاکہ یہ ثابت ہو جائے کہ آپ انگریزی حکومت کے جاسوس ہیں اور جب بیانات سے کام نہ چلا تو قسم قسم کی لالچوں اور دھمکیوں سے کام لیا گیا اور فوٹو لئے گئے

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۸۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تاکہ عکس محفوظ رہے اور آئندہ گرفتاری میں آسانی ہو اور اس کے بعد ”گوشکی“ سرحد افغانستان پر لے جایا گیا اور وہاں سے ہرات افغانستان کی طرف اخراج کا حکم دیا گیا۔ مگر چونکہ یہ مجاہد گھر سے اس امر کا عزم کر کے نکلا تھا کہ میں نے اس علاقہ میں حق کی تبلیغ کرنی ہے اس لئے واپس آنے کو اپنے لئے موت سمجھا اور روس پولیس کی حراست سے بھاگ نکلا اور بھاگ کر ”بخارا“ جا پہنچا۔ دو ماہ تک آپ وہاں آزاد رہے، لیکن دو ماہ کے بعد پھر انگریزی جاسوس کے شبہ میں گرفتار کئے گئے۔“

(الفضل قادیان ج ۱۱ نمبر ۱۲، مؤرخہ ۱۴ اگست ۱۹۲۳ء)

آپ نے پڑھ لیا کہ بیرونی ممالک میں یہ تبلیغ ہورہی ہے۔ البتہ اتنا شبہ آپ کے دل میں ہوگا کہ وہ انگریزی جاسوس خیال کرتے تھے وہ خود تو انگریزی جاسوس نہ تھا تو اس شبہ کا جواب آپ قادیانی مبلغ کی زبانی سنئے:

محمد امین قادیانی مبلغ کا مکتوب (مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ۱۱ نمبر ۲۵، مؤرخہ ۲۸ ستمبر ۱۹۲۳ء) روسیہ میں اگر چہ تبلیغ احمدیت کے لئے گیا تھا۔ لیکن چونکہ سلسلۂ احمدیہ اور برٹش حکومت کے باہمی مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہیں، اس لئے جہاں میں اپنے سلسلہ کی تبلیغ کرتا تھا وہاں لازماً مجھے گورنمنٹ انگریزی کی خدمت گزاری کرنی پڑتی تھی، کیونکہ ہمارے سلسلہ کا مرکز ہندوستان میں ہے تو ساتھ ہی ہندوستانی حکومت کے احسانات اور مذہبی آزادی کا ذکر لوگوں کے سامنے کرنا پڑتا تھا۔“

قارئین محترم! آپ نے دیکھ لیا کہ قادیانی مبلغ خود ہی معترف ہیں کہ میں باہر جا کر انگریزوں کی تعریف کیا کرتا تھا، کیونکہ انگریزی گورنمنٹ اور ہمارے مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

جرمنی میں تبلیغ قادیانیت کا نمونہ

مرزا محمود احمد خلیفہ قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”جب لوگوں پر یہ اثر تھا کہ احمدی انگریز قوم کے ایجنٹ ہیں تو تعلیم یافتہ طبقہ کی اکثریت ہماری باتیں سننے کے لئے تیار نہیں تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ گو یہ مذہب کے نام سے تبلیغ کرتے ہیں مگر دراصل انگریزوں کے ایجنٹ ہیں۔ یہ اثر اتنا وسیع تھا کہ جرمنی میں جب ہماری عبادت گاہ بنی تو وہاں کی وزارت کا ایک افسر اعلیٰ بھی ہماری عبادت گاہ میں آیا یا اس نے آنے کی اطلاع دی۔ اس وقت مصریوں اور ہندوستانیوں نے مل کر جرمنی حکومت سے شکایت کی کہ احمدی حکومت انگریزوں کے ایجنٹ ہیں اور یہ یہاں اس لئے آئے ہیں کہ انگریزوں کی بنیاد مضبوط کریں۔ ایسے لوگوں کی ایک تقریب میں ایک وزیر کا شامل ہونا تعجب انگیز ہے۔ اس شکایت کا اتنا اثر پڑا کہ جرمنی حکومت نے اس وزیر سے جواب طلبی کی کہ احمدی جماعت کے کام میں تم نے کیوں حصہ لیا۔“

(الفضل قادیان مؤرخہ ۶ اگست ۱۹۳۵ء)

ناظرین کرام! اس وقت مختصر طور پر مختلف ممالک میں تبلیغ اسلام کے نام سے جو پروپیگنڈا تھا اس کی وضاحت کردی اور قادیانی تحریک، اس کا بانی اور اس کی مہدویت کا کچا چٹھا ہم نے آپ کے سامنے رکھ دیا ہے۔ امید ہے کہ اس نقاب کشائی کے بعد اب ہر سمجھدار پاکستانی کے لئے مزید حوالہ جات کی اور کدوکاوش کی ضرورت نہ ہوگی۔ جیسے انگریز منحوس ہمارے ملک سے نکل گیا ہے، خداوند ذوالجلال اس طرح انگریزی خودکاشتہ پودا کو بھی ختم کر کے سرزمین پاکستان کو حقیقی معنی میں پاک کر کے مسلمانوں کو ملت واحد کی صورت میں زندگی بسر کرنے کی توفیق دے۔ آمین!

(مقدمہ روئیداد ۱۳۸۲ھ)

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۸۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۶۶ء

کے

حالات و واقعات

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۸۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۷؍ فروری ۱۹۶۶ء کو جمعیتہ علماء اسلام پاکستان کا لاہور میں اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں دیگر قراردادوں کے علاوہ ذیل کی قرارداد بھی منظور کی گئی:

ظفر اللہ خان

”جمعیتہ علماء اسلام پاکستان کی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس چوہدری ظفر اللہ خان کے لئے سرکاری ذرائع سے جلسوں کے انتظامات اور اس کو عوام میں مقبول بنانے کے طریق کار کو بنظر تشویش دیکھتا اور اس کو کروڑوں مسلمانوں اور ہزاروں شہداء ختم نبوت سے وابستگان کے جذبات کو پامال کرنے کے مترادف سمجھتا ہے۔ جیسے ڈی سی منٹگمری نے اس کے اعزاز میں عصرانہ دلایا اور تقریروں اور جلسوں کا انتظام کیا۔ یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ عوامی جذبات و معتقدات کا احساس کرتے ہوئے اس طریق کار کے خلاف احکام جاری کرے۔

ڈپٹی کمشنر منٹگمری نے مخلوط فلمی کرکٹ میچ اور ظفر اللہ کے اعزازات کرا کے اور اپنے زیر نگرانی رسالہ ”فردا“ منٹگمری میں علماء اسلام اور دینی طبقات کے خلاف زہریلا اور گمراہ کن لکھوا کر مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے، اس کی تحقیقات کرائی جائیں اور آئندہ ایسے حالات پیدا نہ ہونے دیئے جائیں۔ محرک: فاضل رشیدی۔ مؤید: مولانا سید گل بادشاہ (سرحد) مؤید ثانی: مولانا احمد سعید لائل پوری۔“

(خدام الدین مؤرخہ ۱۸ فروری ۱۹۶۶ء)

چوہدری ظفر اللہ خان کے متعلق مولانا بہاء الحق قاسمی کا مکتوب

محترم ایڈیٹر صاحب ہفت روزہ لولاک لائل پور السلام علیکم!

گزارش ہے کہ نوائے وقت (۱۱/ فروری ۱۹۶۶ء) میں سرراہے کے کالم نویس نے علماء اسلام کی تنقیص و مذمت اور چوہدری ظفر اللہ خان کی مدح و منقبت کے سلسلے میں جو کچھ لکھا ہے میں اس کے بعض اجزاء کی نسبت مختصراً گزارشات پیش کرتا ہوں۔ کالم نویس نے اپنے بزرگ چوہدری ظفر اللہ خان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ : ”ہم نے اللہ تعالیٰ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ جب پاکستان مل جائے گا تو ہم اس میں اسلامی اور قرآنی نظام حیات قائم کریں گے، لیکن ہم نے دین کو دنیا کے تابع کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کی گرفت دیر سے شروع ہوتی ہے، لیکن بڑی سخت ہوتی ہے۔“

میں کالم نویس صاحب کی وساطت سے ان کے بزرگ چوہدری صاحب سے پوچھتا ہوں کہ آپ اسی پاکستان کے کئی سال تک وزیر خارجہ رہ چکے ہیں۔ کیا آپ نے اپنے زمانہ وزارت میں پاکستان میں قرآنی اور اسلامی نظام حیات قائم کرنے کی کوشش کی تھی؟ اگر کی تھی تو بتائیے اس کی نوعیت کیا تھی؟ اور اس کا کیا نتیجہ برآمد ہوا؟ اور اگر آپ نے ایسی کوئی کوشش نہیں کی تو آپ کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ آپ نے دین کو دنیا کا تابع بنایا۔ پھر آپ کس منہ سے مسلمانوں کو خدا کی گرفت میں آنے کی وعید سنا رہے ہیں؟ آپ کو خود ”کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا مالا تفعلون “ کی وعید سے ڈرنا چاہئے اور اگر قرآنی نظام حیات سے آپ کی مراد آپ کے مخصوص عقائد کی تبلیغ اور اس کے لئے فضا ہموار کرنا ہے تو بلاشبہ آپ نے اس فرض کی ادائیگی میں اپنے دور وزارت میں بھی نہ صرف پاکستان میں بلکہ بیرونی ممالک میں بھی نہایت اہم کردار پیش کیا ہے۔ اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ہر کہ شک آرد کافر گردد! چوہدری صاحب کا قول مذکور نقل کرنے کے بعد ”نوائے وقت“ کے کالم نویس صاحب فرماتے ہیں : ”ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ مسلمانوں کو اس یاد دہانی کی سعادت ایک ایسے بزرگ کو حاصل ہوئی ہے جسے عام مسلمان ”مرزائی“ کہتے ہیں اور علماء دین ”مسلمان“ ہی تسلیم نہیں کرتے۔ اب ہم علماء دین کو کیسے یاد دلائیں کہ یہ فرض ان کا تھا

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۸۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لیکن ادا کرنے کی سعادت سر چوہدری ظفر اللہ خان کو ہوئی۔‘‘

خدا جانے! کالم نویس صاحب کو کس مسخرے نے کہہ دیا کہ یہ سعادت صرف چوہدری صاحب کے حصہ میں آئی اور علماء اسلام اس سعادت سے محروم رہے؟ واقعہ یہ ہے کہ علماء اسلام پاکستان کے یوم تاسیس سے اس وقت تک پاکستان کی تمام وزارتوں اور حکومتوں کے دور میں اسلامی نظام کے قیام کا پرزور مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ تقریروں، تحریروں، قراردادوں، تاروں، محضر ناموں اور ارباب اقتدار سے ملاقاتوں کے ذریعہ برابر صدائے حق بلند کرتے رہے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔ لیکن علماء کرام کی یہ آواز وزارتوں اور حکومتوں کے نقار خانے میں ہمیشہ طوطی کی صدا بن کر رہ گئی۔ حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی اور جمعیۃ علماء اسلام کی کوشش سے خان لیاقت علی خان مرحوم کے عہد میں خدا خدا کر کے قرارداد مقاصد منظور ہوئی تھی۔ لیکن شاطران سیاست نے اس قرارداد کو مات دے دی۔ پھر اس صورتحال کے ہوتے ہوئے چوہدری ظفر اللہ خان کی عمر کے آخری دور کی ایک خلاف معمول تقریر کو (جس کے راز داروں کا پردہ مستقبل ہی اٹھائے گا) بنیاد ٹھہرا کر علماء اسلام کو اعلائے کلمۃ الحق کی سعادت سے محروم قرار دینا انتہائی غیر ذمہ دارانہ حرکت نہیں تو اور کیا ہے؟

کالم نویس صاحب نے یہ بھی تحریر فرمایا کہ: ’’بارشیں نہیں ہو رہیں۔ ہوتی ہیں تو نہ ہونے کے برابر۔ ابر آتا ہے لیکن برستا نہیں۔ روزانہ زلزلے آ رہے ہیں۔ لیکن ہم مسلمان ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اشارہ نہیں سمجھ رہے ہیں۔ کوئی عجب نہیں، گرفت شروع ہو چکی ہو اور بڑوں اور علماء کرام کی نافرمانیوں کی سزا ساری ملت کو بھگتنا پڑے۔‘‘

اس عبارت کو پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی بول رہے ہوں۔ مرزا قادیانی بعینہٖ اسی طرح تمام زمینی اور آسمانی بلاؤں کے نزول کا سبب علماء کرام کی نافرمانیوں کو قرار دیا کرتے تھے۔ اگر نوائے وقت کے کالم نویس صاحب ’’کرے مونچھوں والا اور پکڑا جائے داڑھی والا‘‘ کے فلسفہ کے قائل نہیں ہیں تو وہ مہربانی کر کے بتائیں تو سہی کہ خدا کی نافرمانیوں اور گناہوں کا جو سیلاب موجود ہے اور معصیتوں اور بدمعاشیوں اور الحاد و زندقہ کا جو طوفان برپا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ زنا کاری، قمار بازی، شراب نوشی، ناچ رنگ، سینما، فحاشی، بے حیائی، سود، چوری، ڈکیتی، رشوت، خیانت کے کاروبار کون کرتا ہے؟ اور اس کاروبار کو فروغ دینے والے کون لوگ ہیں؟ اور کیا یہی وہ جرائم نہیں ہیں جن کی گرم بازاری خدائے قہار کے عذاب کو دعوت دینے کا موجب ہے؟ پھر یہ بھی سوچئے کہ کیا بدعملی کے ساتھ بداعتقادی اور الحاد و زندقہ کی اعلانیہ نشر واشاعت نے قوم کو ’’نیم چڑھا کریلا‘‘ بنا کر نہیں رکھ دیا ہے؟

جب کچھ لوگ ختم الانبیاء والمرسلین ﷺ کے بعد نبوت و پیغمبری کا دعویٰ کرنے لگیں اور ان کی تصدیق کے لئے کچھ لوگ اٹھ کھڑے ہوں اور بعض لوگ ’’رواداری‘‘ کے ہیضہ کا شکار ہو کر ان کی پیٹھ ٹھونکنے لگیں اور بعض منافقین حضور ﷺ کی اطاعت کو حاکمانہ اور وقتی اور ہنگامی اطاعت قرار دے کر مسلمانوں کو اسلام ہی سے باغی بنانے کی سعی لا حاصل میں لگے ہوئے ہوں تو اللہ تعالیٰ کا غضب و غصہ کیوں نہ بھڑکے؟

یہ وہ ہولناک جرائم ہیں جو اس ملک میں ڈنکے کی چوٹ پر ہو رہے ہیں اور جن پر قرآن وحدیث میں جا بجا شدید عذابوں سے ڈرایا گیا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی دنیا کے آخر پر مختلف عذابوں کے آنے کی پیش گوئی فرمائی ہے۔ یہ پیش گوئی انجیل متی باب ۲۴ آیت ۴ تا ۱۱ میں موجود ہے۔ آپ نے فرمایا (جس کا خلاصہ یہ ہے) کہ: ’’بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے اور تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہ سنو گے۔ قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کرے گی اور جگہ جگہ کال پڑیں گے اور بھونچال آئیں گے۔ (الیٰ قولہ) بہت سے جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور بہتیروں کو گمراہ کریں گے۔‘‘

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۹۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

علماء اسلام دنیاوی وسائل و اسباب سے محرومی بلکہ بے نیازی کے باوجود دین کے مختلف شعبوں کی جو خدمات سرانجام دے رہے ہیں اس پر اگر نوائے وقت ان کو داد تحسین نہیں دے سکتا تو کم از کم ان کی توہین کر کے دشمنان دین کے ہاتھ بھی تو مضبوط نہ کرے۔ نوائے وقت کے کالم نویس صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ: ”ممکن ہے کل یہ علماء ہمارا جنازہ پڑھانے سے ہی انکار کر دیں۔ لیکن ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے مصلحت پسند علماء کو جو حق بات کہنے کی بھی جرأت نہیں رکھتے، جلد سے جلد اپنے پاس بلالے۔ ہم ان کے بغیر ہی اچھے ہیں۔“

آپ نے بجا فرمایا۔ لیکن مطمئن رہئے! آپ نماز جنازہ کے بغیر دفن نہیں ہوں گے۔ مرزا ناصر احمد یا ان کا کوئی قائم مقام آپ کا جنازہ پڑھا دے گا بشرطیکہ آپ علماء اسلام کی موت اور ربوہ اور قادیان کی سلامتی کی دعائیں بالالتزام فرماتے رہیں۔“

(مولانا بہاء الحق قاسمی، ہفتہ وار لولاک مؤرخہ ۱۱؍مارچ ۱۹۶۶ء)

قادیانی جماعت کا بجٹ

اخبارات میں خبر شائع ہوئی ہے کہ قادیانیوں کی مجلس مشاورت نے اپنے سالانہ بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس سال قادیانی جماعت کا سالانہ بجٹ تقریباً ۷۹ لاکھ روپیہ ہے۔ یہ بجٹ نظر بظاہر ایک جماعت کا بجٹ ہے اور اس بجٹ کا مقصد تبلیغ اسلام بتایا جاتا ہے۔ لیکن دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حقیقت اس کے خلاف ہے۔ پاکستان میں سب سے بڑی جماعت جو اس وقت برسراقتدار ہے مسلم لیگ ہے اور جس کا صدر، صدر مملکت، فیلڈ مارشل محمد ایوب خان ہے۔ ملک کے گورنر، وزراء، امراء، کارخانہ دار اور درجہ بدرجہ قوم کی اکثریت اس کی ممبر ہے۔ لیکن اس کا سالانہ بجٹ ۷۹ لاکھ کا نہیں ہے۔ ملک کی کوئی مذہبی جماعت خواہ وہ مودودی صاحب کی جماعت ہو یا کسی اور عالم دین کی جماعت، اس کا بجٹ بھی ۷۹ لاکھ کا نہیں ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قادیانی جماعت جو ایک معمولی تعداد پر مشتمل لوگوں کی جماعت ہے، اس نے یہ ۷۹ لاکھ روپیہ کہاں سے حاصل کیا اور یہ روپیہ کہاں خرچ کرے گی؟

اس سوال کا جواب کوئی معمہ نہیں جو حل نہیں ہو سکتا۔ ہم اس سوال کے جواب سے کما حقہ آگاہ ہیں۔ اس مسئلہ کی حقیقت حال ہمارے سامنے روز روشن کی طرح واضح ہے۔ لیکن ہمیں ان کانوں کی تلاش ہے جو اس حقیقت کو سننے کے لئے تیار ہوں اور اگر کوئی کان سننے کے لئے تیار بھی ہو جائیں تو ہم وہ دل کہاں سے پیدا کریں جسے ہماری بات کا یقین آجائے؟ یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے کہ گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل ! خدا جانے کس شخص نے ہمارے حسب حال کہا تھا ؎

مرا دردیست اندر دل اگر گویم زبان سوزد وگر دم در کشم ترسم کہ مغز استخوان سوزد

ہمیں اس بات کے اظہار میں کوئی حجاب اور باک نہیں ہے کہ یہ بجٹ نہ تو کسی مذہبی جماعت کا بجٹ ہے اور نہ ہی اسلام کی تبلیغ کے لئے ہے۔ یہ بجٹ ایک متوازی حکومت کا بجٹ ہے۔ (کاش! اس حقیقت کو دیکھنے والی آنکھ دیکھ سکے اور سمجھنے والے دل و دماغ سمجھ سکیں) اس طرح یہ بجٹ اسلام کی جڑیں کاٹنے اور دنیا بھر میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تباہ کن قسم کی سازشوں اور بربادیوں کے لئے منظور کیا گیا ہے۔

ہم اس بات کو یقین کے درجہ میں سمجھے ہوئے ہیں کہ پاکستان کا وجود قادیانیوں کے مذہبی مصالح اور عقائد کے علی الرغم قائم ہوا تھا۔ یہ بات قادیانیوں کے مذہبی مصالح اور عقائد میں داخل ہے کہ وہ کوشش کریں تا کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان پھر ختم ہو جائے، یہ ملک پھر

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۹۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اکھنڈ بھارت بن جائے۔ گزشتہ ستمبر میں پاکستان کو جو زخم اور نقصان اٹھانا پڑا اس کی بنیاد کشمیر کا مسئلہ ہے۔ کشمیر کا مسئلہ قادیانیوں کا پیدا کردہ ہے۔ کشمیر سے قادیانیوں کی پرانی اور تازہ دلچسپیوں سے ہم پوری طرح آگاہ ہیں۔ وہ اس سلسلہ میں جو کچھ پہلے کر چکے ہیں اور جو کچھ انہوں نے حال ہی میں کیا ہے ہم ایک ایک کڑی سے واقف ہیں اور اس فرصت کے منتظر ہیں کہ صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان، جناب ملک امیر محمد خان گورنر مغربی پاکستان اور وزیر خارجہ جناب ذوالفقار علی بھٹو پر قادیانیوں کی ان سرگرمیوں اور ان کے اس بجٹ کی پوری حقیقت کو واضح کر سکیں اور ان سے عرض کر سکیں کہ حضور! آپ کہیں غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔ جو شخص یا جو جماعت محسن کائنات، سرور انبیاء فداہ ابی وامی کی وفادار نہیں رہی، وہ آپ کی آپ کے ملک اور قوم کی وفادار کیسے ثابت ہو سکتی ہے؟

قادیانیوں کے سلسلہ میں پاکستان کے عوام، ارباب اقتدار کی اس پالیسی کو کبھی نہیں سمجھ سکے۔ یہ بات مختلف شکوک وشبہات پیدا کرنے کا باعث بھی ہو سکتی ہے کہ قادیانیوں کے املاک کو محکمہ اوقاف نے اپنے قبضہ میں کیوں نہیں لیا؟

امر واقعہ یہ ہے کہ قادیانی جماعت، بانی جماعت کے قول کے مطابق انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے۔ مخصوص مصلحتوں (جو یقیناً اسلام دشمنی پر مشتمل ہیں) کے لئے اس خود کاشتہ پودے کا اہتمام کیا گیا اور اس پودے کو پروان چڑھانے کے لئے سندھ اور دوسرے مقامات پر زرعی زمین اور دوسری املاک عطا کی گئیں۔ مارشل لاء کی حکومت نے جہاں اور بے شمار اچھے کام کئے وہاں زرعی اصلاحات اور محکمہ اوقاف کا قیام بھی تھا۔ تمام جاگیرداروں کی فالتو زمینیں لے لی گئیں اور انہیں مزارعین میں تقسیم کر دیا گیا۔ لیکن جب قادیانی خلیفہ کی زمین کی باری آئی تو کہا گیا کہ یہ زمین جو میرے نام ہے یہ دراصل جماعت کی ملکیت ہے۔ چنانچہ وہ زمین زرعی اصلاحات سے مستثنیٰ کر دی گئی۔ اس کے بعد جب اوقاف کی زمینوں پر قبضہ کیا گیا اور قادیانی جماعت کی زمینوں کی جانچ پڑتال شروع ہوئی تو کہا گیا کہ دراصل جماعت کے نام بعض زمینیں میری ہیں اور میرے نام بعض زمینیں جماعت کی ہیں۔ یوں اوقاف سے بچنے کی ترکیب سوچ لی اور اس روایتی شتر مرغ کا پارٹ ادا کیا جس نے اونٹ بن کر اڑنے سے انکار کیا تھا اور پرندہ بن کر بوجھ اٹھانے سے معذوری کا اظہار کر لیا تھا۔

سوال یہ ہے کہ اگر قادیانی ایک فرقہ ہے تو جہاں سنیوں، شیعوں، اہل حدیثوں، حنفیوں، حنبلیوں، مالکیوں، سہروردیوں، چشتیوں، قادریوں اور نقشبندیوں کے اوقاف لئے گئے ہیں وہاں قادیانی فرقہ اور جماعت کا اوقاف بھی قبضے میں لے لیا جائے۔ جہاں باقی جاگیرداروں کی زمینیں زرعی اصلاحات کے تحت مزارعین میں بانٹ دی گئی ہیں وہاں ربوہ کے اس متوازی حکمران جاگیردار کی جائیداد پر بھی قبضہ کر لیا جائے اور اگر قادیانی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ ایک الگ مذہب ہیں تو مہربانی فرما کر حکومت انہیں الگ مذہبی اقلیت قرار دے دے تاکہ اندرون ملک اور بیرون ملک بے شمار قسم کی مذہبی اور انتظامی الجھنیں ختم ہو جائیں۔ اس کے ساتھ ہی اس بجٹ کی آمدنی کی مدات کی پڑتال بھی ضروری ہے۔ کتنی ٹرانسپورٹوں کے لائسنس اور روٹ پرمٹ حاصل کئے گئے ہیں مرزا مظفر احمد کے جو سابق خلیفہ کے حقیقی بھتیجے اور داماد ہیں؟ اسی طرح دوسرے بڑے بڑے قادیانی افسروں کے عہدوں سے کیا کیا فوائد حاصل کئے گئے ہیں۔ گزشتہ تین چار سال کے اندر کون کون سی نئی املاک حاصل کی گئی ہیں۔ ان سب باتوں کی انکوائری ملک، قوم اور موجودہ حکومت کے مفاد میں ہو گی۔

املاک کے سلسلہ میں عدل وانصاف کا ایک اور تقاضا بھی حکومت کے ذمہ ہے۔ پاکستان میں قادیانیوں کی تمام زرعی اور سکنی املاک انجمن احمدیہ رجسٹرڈ قادیان کی ملکیت ہیں، جو ہندوستان میں رہ گئی ہے اور وہاں تاحال کام کر رہی ہے۔ اس لحاظ سے یہ تمام املاک دراصل متروکہ جائیداد کے حکم میں ہیں۔ جن پر ۱۹۴۷ء سے ایک نئی جماعت انجمن احمدیہ ربوہ نے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے حالانکہ یہ عام

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۹۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مہاجرین میں تقسیم ہونی چاہئے تھی۔

بہر حال! سطور بالا کے لکھنے سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ قادیانی جماعت کا یہ سالانہ بجٹ اس کے علاوہ ان کا فضل عمر فاؤنڈیشن کا سرمایہ، ان کی مقامی اور ضلعی تنظیموں کا روپیہ، یہ لاکھوں اور کروڑوں روپیہ ناجائز ذرائع کا روپیہ ہے جو ہمارے مذہب اور ملک دونوں کے مفاد کے منافی مدات کے لئے مختص کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو عوام کی بالعموم اور صوبہ کے نیک نہاد گورنر جناب ملک امیر محمد خان اور ملک کے بیدار مغز صدر جناب فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی خصوصی توجہ کی مستحق ہے۔ وما علینا الا البلاغ!

(ہفتہ وار لولاک مؤرخہ ۲۲؍اپریل ۱۹۶۶ء)

یہ فرقان فورس کیا بلا ہے؟

”قادیانیوں کے ترجمان اخبار الفضل نے اپنی اشاعت ۲۳؍ مارچ ۱۹۶۶ء میں اعلان کیا ہے کہ فرقان فورس میں شامل ہو کر جن قادیانیوں نے ۴۵ دن یعنی ۳۱؍ دسمبر ۱۹۴۸ء (فائر بندی کی تاریخ) تک کشمیر کی لڑائی میں حصہ لیا تھا وہ اب مندرجہ ذیل نمونہ کی رسید بنا کر اس پر دستخط ثبت کر کے مقامی قادیانی جماعت کے امیر کے دستخط کروا کے ملک محمد رفیق دارالصدر غربی ربوہ کو بھجوا دیں۔ جس افسر کو ایڈریس کرنا ہے وہ جگہ خالی چھوڑ دی جائے۔ یہ رسیدیں ربوہ سے راولپنڈی جائیں گی۔ راولپنڈی سے ان لوگوں کے کشمیر میڈل ربوہ آئیں گے اور اس کی اطلاع ”الفضل“ میں شائع ہوگی اور پھر یہ میڈل ربوہ میں ان قادیانیوں کو تقسیم کئے جائیں گے۔

قادیانی جماعت کے ترجمان الفضل میں ملک محمد رفیق صاحب کے یہ پراسرار اعلانات پڑھ کر سخت تعجب اور حیرت ہوئی کہ اٹھارہ برس کے بعد ”فرقان فورس“ کے قادیانیوں کو کشمیر میڈل ملنے کا آخر قصہ کیا ہے؟ فرقان فورس کے متعلق اس پراسرار اعلان کا تعلق ملک کے محکمہ دفاع سے ہے۔ محکمہ دفاع کی نزاکت اور تقدیس کے پیش نظر ہم اس بہت بڑے اسکینڈل کی تفصیلات میں جانے سے قاصر ہیں۔

اس خطرناک اسکینڈل کی تفصیلات میں جانا دراصل انٹیلی جنس بیورو کا کام ہے۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ ارباب ربوہ کا یہ اعلان محکمہ انٹیلی جنس کے نوٹس میں آیا ہے یا نہیں؟ اور اگر یہ اعلان اس محکمہ کے کار پرداز تیز بین کے نوٹس میں آیا ہے تو وہ اس پراسرار اعلان کے تہہ منظر کو بھی سمجھ سکے ہیں یا نہیں۔ اسی طرح اگرچہ اس محکمہ کے سربراہ بھی ایک قادیانی افسر بتائے جاتے ہیں تاہم ہمیں ان کی حب الوطنی پر کوئی شبہ نہیں ہے۔

ہم اس اسکینڈل کو براہ راست مغربی پاکستان کے عظیم المرتبت گورنر جناب ملک امیر محمد خان، پاکستان کی قابل فخر فوج کے جرنیل خان محمد یحییٰ خان صاحب، پاک فوج کے جنرل محمد موسیٰ خان اور ملک کے بیدار مغز صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے نوٹس میں لانا چاہتے ہیں کہ قادیانیوں کی یہ سرگرمیاں ملک کی قابل احترام فوج کے مقام و منصب کے منافی ہیں۔ ہمارا ملک ایک عرصہ تک سیاسی گندگی میں آلودہ رہا۔ گزشتہ ۱۸ برس کے عرصہ میں مختلف قسم کے دور آئے، لیکن ملک اور قوم نے ہمیشہ اپنی فوج کی تعظیم اور تقدیس دل و جان سے کی ہے۔ اگر سچ پوچھا جائے تو ہمارے ملک میں صرف فوج ہی ایک ایسا ادارہ ہے جس پر پوری قوم کو اعتماد اور فخر ہے اور اس کی تنظیم کی کوئی سی قدر قوم میں اختلافی نہیں ہے۔

قادیانیوں نے قبل ازیں مذہب اسلام کی اصطلاحات نبوت، رسالت، صحابہ، اہل بیت، ازواج مطہرات، سیدۃ النساء وغیرہ کو نہ صرف یہ کہ اختلافی امر بنایا بلکہ ان کو ذلیل اور رسوا کیا۔ ہمیں یہ بات لکھنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ حضور سرور کائنات فداہ ابی و امی کی جس

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۱۹۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قدر توہین اور بے ادبی اس فرقہ ضالہ نے کی ہے اور اسلام کے خلاف جتنی بڑی سازش اس ٹولے نے کر رکھی ہے اتنی بڑی توہین اور سازش چودہ سو سال میں کبھی کسی نے نہیں کی ہے۔ جس کا احساس جس قدر تمام مسلمانوں اور خصوصاً ارباب اختیار کو ہونا چاہئے، نہیں ہے۔ لیکن اب قادیانی دینی اصطلاحات کی غارتگری سے آگے بڑھ کر ملکی معاملات میں بھی پر پرزے نکالتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اور ملکی معاملات میں سے خصوصاً فوج کے متعلق ایک خاص قسم کے معاملہ کو جس طرح ربوہ اور قادیانی نبوت کے ساتھ متعلق اور منسلک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ فوج کی تعظیم و آداب اور غیر جانبداری کے بلند مقام کے قطعاً منافی ہے ۔

ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں
تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں

اس وقت ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ یہ فرقان فورس ہے کیا بلا؟ اگرچہ ربوہ کے متوازی حکمران یہی سمجھتے ہیں کہ عوام کا حافظہ کمزور ہوتا ہے اور شاید اب کسی کو یاد نہیں ہوگا کہ اس فرقان فورس کی حقیقت کیا ہے۔ غالباً انہوں نے اب یہی سوچا ہے کہ فرقان فورس میں شریک قادیانیوں کو مجاہدین کشمیر کا نام دے کر عوام میں مانوس کیا جائے اور جس قسم کی افواہیں ربوہ سے پھیلائی جا رہی ہیں ان افواہوں کو ان پر رمز اعلانات سے تقویت پہنچائی جائے اور نبوت باطلہ کے مذہبی کاروبار کو چمکانے کے علاوہ کسی اسرائیل کو معرض وجود میں لانے کے لئے کسی دام ہمرنگ زمین کے تار و پود مہیا کئے جائیں۔

فرقان فورس نے ۱۹۴۸ء کے ۲۵ دن جس جہاد کشمیر میں حصہ لیا تھا اور جو خدمات سرانجام دی تھیں، اس کی تفصیلات آزاد کشمیر کی مسلم کانفرنس کے رہنما جناب اللہ رکھا ساغر کے اس بیان میں درج ہیں جو موصوف نے فرقان فورس کے متعلق ان دنوں اخبارات میں شائع کرایا تھا اور جس کے بعد قادیانیوں کے محسن اعظم جنرل گریسی نے فرقان فورس کو پراسرار اور فوری طور پر توڑ دیا تھا اور ان کی عزت بچانے کے لئے ایک خاص تقریب میں انہیں سندات دے دی گئی تھیں۔ اس وقت ہم اس موضوع پر بھی کچھ کہنے سے قطعاً گریز کرنا چاہتے ہیں کہ حالیہ جنگ میں مجاہدین کشمیر کے معروف الفاظ کو فرقان فورس کے قادیانیوں کے لئے ۱۹۴۸ء کی جنگ کا حوالہ دے کر کیوں استعمال کیا گیا ہے؟ اس وقت ہم اپنے مذکورہ بالا قابل صد احترام اکابر کی خدمت میں نہایت خلوص اور ادب کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ قادیانیوں نے مملکت کے اندر مملکت، اور فوج کے اندر فوج، کا جو مشغلہ اختیار کر رکھا ہے اس اسکینڈل کی تحقیقات کرائی جائیں اور ملک کی قابل تقدیس قدروں خصوصاً فوجی معاملات سے کسی کو تلعب کرنے اور کھیل رچانے کی اجازت نہ دی جائے۔‘‘

(لولاک مؤرخہ ۱۰ مئی ۱۹۶۶ء)

اسرائیل میں قادیانی مشن اور ذوالفقار علی بھٹو

’’پاکستان کے وزیر خارجہ جناب ذوالفقار علی بھٹو نے ۳؍ جون ۱۹۶۶ء کو قومی اسمبلی میں کہا کہ اگر کوئی شخص اسرائیل میں قادیانی مشن کی موجودگی کے متعلق ہمیں ٹھوس معلومات بہم پہنچائے تو ہمیں بڑی خوشی ہوگی۔ چنانچہ راقم الحروف نے وزیر خارجہ جناب ذوالفقار علی بھٹو کو بذریعہ تار اطلاع دی کہ اسرائیل میں قادیانی مشن موجود ہے، جس کا ثبوت قادیانیوں کی اپنی شائع کردہ کتاب ’’اور فارن مشن‘‘ کے ص ۸۹ پر درج ہے۔ ذیل میں ہم قادیانیوں کی مذکورہ بالا کتاب کا حوالہ ہو بہو شائع کر رہے ہیں:

(تاج محمود مدیر لولاک)

اسرائیل میں قادیانی مشن

احمدیہ مشن اسرائیل میں حیفہ (ماؤنٹ کرملا) کے مقام پر واقع ہے اور وہاں ہماری ایک عبادت گاہ، ایک مشن ہاؤس، ایک

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۹۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لائبریری، ایک بک ڈپو اور ایک سکول موجود ہے۔ ہمارے مشن کی طرف سے ”البشریٰ“ کے نام سے ایک ماہانہ عربی رسالہ جاری ہے جو تیس مختلف ممالک میں بھیجا جاتا ہے۔ مسیح موعود کی بہت سی تحریریں اس مشن نے عربی میں ترجمہ کی ہیں۔ فلسطین کے تقسیم ہونے سے یہ مشن کافی متاثر ہوا۔ چند مسلمان جو اس وقت اسرائیل میں موجود ہیں، ہمارا مشن ان کی ہرممکن خدمت کر رہا ہے اور مشن کی موجودگی سے ان کے حوصلے بلند ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ہماری مشنری کے لوگ حیفہ کے میئر سے ملے اور ان سے گفت وشنید کی۔ میئر نے وعدہ کیا کہ احمدیہ جماعت کے لئے کبابیر میں حیفہ کے قریب وہ ایک سکول بنانے کی اجازت دے دیں گے۔ یہ علاقہ ہماری جماعت کا مرکز اور گڑھ ہے۔ کچھ عرصہ بعد میئر صاحب ہماری مشنری دیکھنے کے لئے تشریف لائے۔ حیفہ کے چار معززین بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ان کا پروقار استقبال کیا گیا۔ جس میں جماعت کے سرکردہ ممبر اور سکول کے طالب علم بھی موجود تھے۔ ان کی آمد کے اعزاز میں ایک جلسہ بھی منعقد ہوا۔ جس میں انہیں سپاسنامہ پیش کیا گیا۔ واپسی سے پہلے میئر صاحب نے اپنے تاثرات مہمانوں کے رجسٹر میں بھی تحریر کئے۔ ہماری جماعت کے موثر ہونے کا ثبوت ایک چھوٹے سے مندرجہ ذیل واقعہ سے ہو سکتا ہے: ۱۹۵۶ء میں جب ہمارے مبلغ چوہدری محمد شریف صاحب ربوہ پاکستان واپس تشریف لا رہے تھے اس وقت اسرائیل کے صدر نے ہماری مشنری کو پیغام بھیجا کہ چوہدری صاحب روانگی سے پہلے صدر صاحب سے ملیں۔ موقع سے فائدہ اٹھا کر چوہدری صاحب نے ایک قرآن حکیم کا نسخہ جو جرمن زبان میں تھا، صدر محترم کو پیش کیا۔ جس کو خلوص دل سے قبول کیا گیا۔ چوہدری صاحب کا صدر صاحب سے انٹرویو اسرائیل کے ریڈیو پر نشر کیا گیا اور ان کی ملاقات اخبارات میں جلی سرخیوں سے شائع کی گئی۔“

(لولاک مورخہ ۱۰؍جون ۱۹۶۶ء)

وزیر خارجہ پاکستان سے اسٹوڈنٹس کے وفد کی ملاقات

جناب عالی مرتبت چوہدری صاحب السلام علیکم !

تاریخی شہر چنیوٹ کے اسلامیہ کالج کے جلسہ تقسیم اسناد میں آپ کا قدوم میمنت لزوم اہلیان چنیوٹ کے لئے باعث صد افتخار ہے۔ گرمی کے اس شدید موسم میں اپنے اوقات کیمیا صفات سے کچھ وقت نکال کر ہماری دعوت کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے چنیوٹ میں تشریف آوری پر ہم بڑے ممنون و شکر گزار ہیں۔ آپ کی اس کرم نوازی اور تشریف فرمائی کے لئے ہماری زبان توصیف ناشناس کا درجہ رکھتی ہے۔ اس موقع پر ہم اسٹوڈنٹس ختم نبوت ایسوسی ایشن اور معززین شہر کی طرف سے چند اہم مطالبات جو کہ مرزائیوں اور ربوہ سے متعلق ہیں، سمع عالی میں لانا چاہتے ہیں اور آپ کی دینی وملی حمیت سے متوقع ہیں کہ آپ ہماری گزارشات کو شرف پذیرائی بخشتے ہوئے ہمدردانہ غور فرمائیں گے اور ان کا ازالہ فرما کر ملت میں بڑھتے ہوئے اضطراب وتشویش کو رفع فرمائیں گے:

آزاری کا وافر عنصر شامل ہے اور جس میں عصمت انبیاء علیہم السلام، صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار پر شدید توہین آمیز ریمارکس دیئے گئے ہیں اور جب ہم جواباً کوئی لٹریچر پریس میں لے جاتے ہیں تو پریس آرڈیننس کی وجہ سے انکار کر دیتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ پریس آرڈیننس کا اطلاق مرزائیوں کے ایسے لٹریچر پر لازماً ہونا چاہئے جس میں ملت اسلامیہ کے مسلّمہ عقائد پر بھرپور حملے کئے جاتے ہیں۔ ایسے لٹریچر پر قدغن لگائی جائے جن کی ہم نشاندہی کر سکتے ہیں۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۹۵

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہے۔ اس کے ثبوت میں ہم کچھ رسائل یادداشت ہذا سے منسلک کر رہے ہیں۔

اس پر اڑھائی ماہ بعد انہیں انکم ٹیکس معافی کی رعایت محکمہ کی طرف سے مل چکی ہے۔ قواعد کی رو سے کسی ادارہ کو اس وقت تک یہ رعایت نہیں مل سکتی جب تک اس کے قیام پر کم از کم تین سال کا عرصہ نہ بیت جائے اور اس کا حساب باقاعدہ آڈٹ نہ کرا لیا جائے ۔ نیز جس ادارہ کے مقاصد تبلیغی ہوں، اس کو بھی یہ رعایت نہیں مل سکتی۔ گزارش ہے کہ فضل عمر فاؤنڈیشن کو ان قواعد سے مستثنیٰ کیوں کیا گیا ہے؟

باوجود پوری ملت اسلامیہ کے پرزور احتجاج کے اسے محکمہ اوقاف نے اپنی تحویل میں نہیں لیا۔ حالانکہ اسی شہر چنیوٹ میں ایسی مساجد کو بھی شامل وقف کر لیا گیا ہے جن کے ساتھ صرف چند دکانیں موجود ہیں۔ یہ امتیازی سلوک ناقابل برداشت ، غیر منصفانہ اور جانبدارانہ ہے۔

زر مبادلہ کی شکل میں فراہم کیا گیا ہے۔ یہ بات کسی ثبوت کی محتاج نہیں کہ مرزائی ایک فرقہ ضالہ ہے اور ان کی تبلیغ ارتداد کی تبلیغ ایک ہے۔ ایسے ملک میں جو کہ زر مبادلہ کی کمی سے دوچار ہے، محض ایک فرقہ کو اتنی کثیر رقم فراہم کرنا ملک وملت کے ساتھ صریح زیادتی اور ملت اسلامیہ کی حق تلفی ہے۔

بتفصیل عہدہ ربوہ ارسال کریں تاکہ انہیں سابقہ خدمات کے سلسلہ میں میڈل عطا کئے جائیں۔ سوال یہ ہے کہ فوجی معاملات میں مرزائیوں اور ربوہ کا عمل دخل کیوں ہے؟ اگر الفرقان بٹالین گورنمنٹ کی تھی تو انہیں میڈل وانعامات ربوہ کی معرفت کیوں دیئے جارہے ہیں اور اگر مذکورہ بٹالین مرزائیوں کی تھی تو یہ معاملہ اور بھی افسوس ناک ہو جاتا ہے کہ ایسے افراد کی بٹالین بنانا جن کی ملک وملت کے ساتھ وفاداری مشتبہ ہے، مفاد پاکستان کے ساتھ صریح نا انصافی ہے اور پھر سترہ سال گزر جانے کے بعد یہ انعامات و میڈل ملت کے قلوب واذہان میں بیسیوں شبہات کو جنم دے رہے ہیں۔ اس کی غیر جانبدارانہ تحقیق ہونی چاہئے۔

موجود ہو۔ لیکن ہم حیران ہیں کہ ہمارے کالجوں اور یونیورسٹی کی لائبریریوں اور سفارت خانوں میں مرزائیوں کا لٹریچر وافر مقدار میں بھیجا جا رہا ہے۔ اس پر پابندی عائد کی جائے۔

مرزائیت کی تبلیغ ہر جمعرات کی جاتی ہے۔ حالانکہ اصولاً ہوسٹل میں کسی خاص فرقہ کو تبلیغ کا حق حاصل نہیں ہے۔ یہ مسلمانوں کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ جس کا احمدیوں کو کوئی حق حاصل نہیں ۔ اس کا حکماً ازالہ ہونا چاہئے۔ اسٹوڈنٹس ختم نبوت ایسوسی ایشن مرکزیہ چنیوٹ ۔ (معززین شہر )

(لولاک مورخہ ۱۰؍جون ۱۹۶۶ء)

صفحہ ۱۹۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قادیانیوں کی تازہ ترین اشتعال انگیزی مرزا محمود فخر رسل

مشہور قادیانی سر ظفر اللہ خان نے مرزا محمود آنجہانی کی موت کے بعد ان کے متعلق ایک مضمون سپرد قلم کیا ہے۔ جس میں قادیانی روایات کے مطابق اپنے خبث باطن کا اظہار کرتے ہوئے فخر موجودات، سرور کائنات، سرور انبیاء و اولیاء، خواجہ یثرب و بطحاء فداہ ابی وامی ﷺ کی شان اقدس میں ناقابل برداشت گستاخیاں کی ہیں۔ نقل کفر کفر نہ باشد! پہلے ذرا اس گستاخ رسول کی دریدہ دہنی اور بکواس ملاحظہ فرمائیں:

اے فخر رسل! قرب تو معلوم شد دیر آمدہ از راہ دور آمدہ

حسرتیں دل ہی میں رہ گئیں۔ وہ تو از آسمان بودی بآسمان رفتی ہو گئے۔ ”کان اللہ نزل من السماء“ میں یہی راز مضمر تھا کہ جو آسمان سے آئے گا وہ آسمان کو لوٹ جائے گا۔

ہونے کے لحاظ سے ایک رنگ میں، میں بھی مسیح موعود ہوں۔ مثیل مسیح ہونے کے لحاظ سے آپ (مرزا محمود) حضور (مرزا غلام احمد قادیانی) کے حسن و احسان میں نظیر تھے اور حضور (مرزا قادیانی) نے خطبہ الہامیہ میں فرمایا: جس نے میرے اور میرے آقا محمد مصطفیٰ ﷺ کے درمیان فرق کیا، اس نے میرے مقام کو نہیں پہنچا۔ خلاصہ یہ کہ مثیل مسیح موعود (مطابق مرزا محمود خلیفہ ربوہ) اپنے آقا محمد ﷺ کے رنگ میں رنگین تھے۔ آپ کا خلق خلق محمدی کا ظل اور عکس تھا۔

ویسے ہی تیز روشنی ہوئی اور اس تیز روشنی میں رسول مقبول ﷺ مع ایک زمرہ انبیاء علیہم السلام کے تشریف لائے اور فرمایا: ”ہم محمود کو لینے آئے ہیں“۔ ان نیک بی بی نے باادب عرض کی کہ یا حضور! ہمارا تو سالانہ جلسہ ہونے والا ہے۔ پھر ہمارے پاس کون ہوگا؟ حضور نے فرمایا: ”تمہارے پاس ناصر ہوگا۔“

(ہفت روزہ ختم نبوت ج ۳ ش ۱۷، ۱۸، مورخہ ۸؍جولائی ۱۹۶۶ء)

اس مضمون میں چوہدری ظفر اللہ خان نے سابق خلیفہ ربوہ مرزا محمود کو فخر رسل، مظہر الاوّل والآخر، ایک رنگ میں مثیل مسیح موعود محمد ﷺ کے رنگ میں رنگیں اور یہ کہ حضور ﷺ مرزا محمود کے استقبال کو آئے، لکھا ہے۔

دنیا کے ایک ارب مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے کہ ”فخر رسل“ اور مظہر الاول والآخر کے مصداق صرف شہنشاہ لولاک، خواجہ ہر دوسرا جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ ہی ہیں۔ حکیم الامت علامہ اقبال کے الفاظ میں ؎

وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا
نگاہ عشق ومستی میں وہی اوّل وہی آخر
وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یٰسین، وہی طہٰ

لیکن اس مضمون میں انگریزوں کا یہ ذلیل ترین کاسہ لیس اور بین الاقوامی جاسوس، سابق خلیفہ ربوہ کو فخر رسل اور مظہر الاوّل والآخر لکھتا ہے۔ جس خلیفہ ربوہ پر خود اس کی اپنی جماعت کے لوگوں نے زنا کاری، اغلام بازی، فریب کاری اور خیانت مجرمانہ کے الزامات

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۹۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عائد کئے ہیں۔ حد یہ ہے کہ یہ الزامات عدالتوں کے کٹہروں میں لگائے گئے۔ ضخیم کتابیں لکھ کر لگائے گئے اور پبلک اسٹیجوں پر کھڑے ہو کر لگائے گئے ہیں۔ جن کے ایک نہیں بیسیوں ثبوت پیش کئے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کے دس کروڑ مسلمان راعی اور رعایا اور حکام قہر خداوندی سے ڈریں کہ ان کے ملک میں ایسے عقائد کے دجال صفت لوگ موجود ہیں جنہیں برطانیہ کے سگان دم بریدہ ہونے کا شرف حاصل ہے اور جو آئے دن جناب رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کی شان میں امریکہ کے یہودیوں اور برطانیہ کے نصاریٰ سے بڑھ کر توہین کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں۔

ہم اس سے پیشتر بھی اس سازشی فرقہ ضالہ کی ملک اور مذہب دشمن سرگرمیوں کو حکومت کے نوٹس میں لا چکے ہیں اور آج پھر نہایت ادب کے ساتھ صدر مملکت اور گورنر مغربی پاکستان کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ اگر آپ کی حکومت کے ایک سپاہی یا کسی ادنیٰ ملازم کا عہدہ اور منصب جعلی طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا اور اگر کوئی ایسا اقدام کرے تو وہ مجرم ہے، اسے سزا دی جاتی ہے تو آپ اس امر کو کس طرح روا رکھے ہوئے ہیں کہ آپ کے سامنے ابلہ ترین قسم کے لوگ رحمۃ للعالمین ﷺ کے القاب اور صفات سے متصف اور منسوب ہو رہے ہیں۔ یہ گروہ اور ان کے لیڈر براہ راست سرکار دو عالم ، فخر دو عالم ﷺ کے گستاخ اور توہین کرنے والے ہیں۔ اللہ کے محبوب نبی کے دشمن ہیں۔ ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ گواہ ہے کہ مالک الملک نے ہر جرم کے خطا کار کو اپنی سرزمین پر برداشت کیا ہے لیکن اپنے نبی کے دشمنوں اور نبی کے دشمنوں کو پناہ دینے والوں کو کبھی امان نہیں دی۔

نہ جا اس کے تحمل پر کہ بے ڈھب ہے گرفت اس کی
ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا

(لولاک مؤرخہ ۸؍جولائی ۱۹۶۶ء)

لمحہ فکریہ! قادیانیوں کی علیحدگی پسندی

قادیانیوں کا اہل اسلام سے بنیادی اور اصولی اختلاف ہے۔ اس بنیادی اختلاف کے علاوہ وہ ایک خطرناک قسم کی سیاسی جماعت بھی ہیں۔ ان کے مذہبی عقائد کی اشاعت سے اسلام کی تخریب اور ان کے سیاسی عزائم کی کامیابی سے ملک کی بربادی لازمی ہے۔ قادیانیوں کے متعلق ذیل میں ہم جناب خلیق قریشی مدیر روزنامہ عوام کے شکریہ کے ساتھ ان کا ایک ادارتی نوٹ قارئین ”لولاک“ اور حکومت کی خاص توجہ کے لئے شائع کر رہے ہیں۔ (ادارہ)

ہمارے محترم اور معزز معاصر ہفت روزہ لولاک نے اپنی ایک حالیہ اشاعت میں قادیانی فرقے کے متعلق نہایت چونکا دینے والا مواد شائع کیا ہے۔ مولانا تاج محمود سیاسی اعتبار سے مجلس احرار سے وابستہ رہے ہیں اور ہماری بدقسمتی ہے کہ سیاست کے محاذ پر ہمیں اکثر و بیشتر مولانا صاحب سے اختلاف رہے اور ہم اپنے ان اختلافات پر کبھی شرمندہ نہیں ہوئے۔ لیکن مولانا تاج محمود کی علمی فضیلت، دینی محبت اور ثقہ شخصیت ہمارے لئے ہمیشہ محبوب و محترم رہی ہے۔ وہ جس طرح منبر پر ارشادات کتاب وسنت اور ذکر سرور کائنات ﷺ سے عامۃ المسلمین کو مستفیض فرماتے ہیں، اس سے ان کے لئے احترام کے نقوش زیادہ گہرے اور اجاگر ہو جاتے ہیں۔

اس احترام و عقیدت کے باوجود بالعموم لولاک کی ان تحریروں کو جو قادیانی حضرات کے متعلق ہوں ہم زیر بحث لانے سے اجتناب کرتے ہیں۔ اس کی یہ وجہ نہیں کہ خدانخواستہ ہمارے عقائد میں کوئی شمہ بھر خامی ہے۔ خدائے تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ بندہ عاصی ہونے کے باوجود عقیدے کے لحاظ سے ہم اسی شدت سے مسلمان ہیں جس شدت سے ہمارے محترم بزرگ ہو سکتے ہیں۔ ہم نے ان بحثوں

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۱۹۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سے دامن بچانے کی ہمیشہ اس لئے کوشش کی ہے کہ متانت و احتیاط کی حد قائم نہیں رہتی اور اس کے نتائج ملک کے لئے افسوس ناک ہوتے ہیں ۔ لیکن زیر نظر مضمون اور اس کے پس منظر پر خاموش رہنا ناممکن ہے ۔ ہم نہیں چاہتے کہ دانستہ یا نادانستہ ملک میں تشتت وافتراق پیدا کرنے کی وجہ بنیں ۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وطن عزیز کی حفاظت و حصانت اوّلین اور مقدم ہے اور وطن سے مقدم صرف اسلام کی عظمت ہے، جس کے لئے پاکستان قائم ہوا ہے۔

قادیانی حضرات کے متعلق ہم کسی تلخ تنقید یا ترش اعتراض کو تحریر میں نہیں لانا چاہتے ۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان صدر پاکستان اس مسئلے کی اہمیت کی طرف متوجہ ہوں ۔ قادیانی حضرات کا مرکز ربوہ پاکستان میں ایک الگ انتظامی وحدت کی نشاندہی کرتا ہے جو خواہ کسی وجہ سے بھی ہو اب اس کی حیثیت پاکستان میں ایک (ویٹکن) کی نہیں ہونی چاہئے بلکہ جس طرح قادیانی حضرات کو پورے پاکستان میں شہری حقوق حاصل ہیں اسی طرح ربوہ میں تمام پاکستانیوں کو شہری حقوق حاصل ہونے چاہئیں تاکہ ایک ناگوار احساس اجنبیت ختم ہو اور اس پر قادیانی حضرات کو بھی احساس نہیں کرنا چاہئے ۔

ہم سمجھتے ہیں کہ عام مسلمانوں میں یہ طاقت ہے کہ وہ اپنے عقیدہ کی حفاظت کر سکتے ہیں ۔ اس کے لئے حکومت کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ۔ لیکن علیحدگی پسندی کے رجحانات اور امکانات کو کاملاً ختم کرنا خود پاکستان کی سالمیت اور ملی یکجہتی کے لئے ضروری ہے ۔ جہاں تک ربوہ میں قادیانیت کی مرکزی تحریک کا تعلق ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ جو حالات پیدا ہو چکے ہیں اور جو کوائف اکثر خواص و عوام کی زبانوں پر ہیں ان کے پیش نظر قادیانیت کی تحریک کے سربراہوں اور کارپردازوں کے لئے بھی یہ صورتحال مفید نہیں ہے بلکہ شکوک و شبہات کا ایک طوفان ہے جو اٹھتا رہتا ہے اور اس سے کئی ناخوشگوار اثرات مرتب ہوتے رہتے ہیں ۔

اس وقت ہم ایک نہایت کڑی آزمائش سے گزرے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے پاکستان نے اپنے بدترین دشمن کو سر میدان شکست فاش دی ہے ۔ مگر اس کی جنگ کے ختم ہونے کے بعد جو حقیقتاً ابھی ختم نہیں ہوئی، کچھ ایسی ناگفتنی حکایات بھی سنی جارہی ہیں جو اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی مقتضی ہیں ۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ قادیانی حضرات میں سے ایک عنصر ایسا ہے جن کے بارے میں یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ وہ خواہ کسی منصب پر ہوں، کوئی ملازمت کر رہے ہوں یا کسی اور ذمہ داری پر فائز ہوں، ان کا اوّلین مرجع اعتماد ان کا اپنا مرکز ہوتا ہے اور اس طرح پاکستان میں ریاست در ریاست کا افسوس ناک تصور مرئی اور غیر مرئی طور پر پروان چڑھتا رہتا ہے۔

ہم تسلیم کرتے ہیں کہ قادیانی حضرات میں ایسے لوگوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے جو پاکستان کے شہری ہونے کی حیثیت سے ملک کے لئے باعث فخر ہیں ۔ جن کی پہلی اور آخری غیر متزلزل ہمدردیاں اپنے وطن کے ساتھ ہیں ۔ لیکن اسے بھی جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ گروہی اور جماعتی طور پر اس عقیدے کے پیرو ایسے بھی ہیں جو بہر حال ایک ایسا ذہن رکھتے ہیں جس میں پاکستان بحیثیت وطن دوسری جگہ رکھتا ہے اور جن خطرات سے ہم دو چار ہیں ان کے ہوتے ہوئے قادیانی حضرات یا کوئی ایسے اشخاص جو پاکستان کے بارے میں کسی قسم کے ذہنی تحفظات رکھتے ہوں آسانی سے برداشت نہیں کئے جاسکتے ۔ ہم ایک سادہ سی گزارش کرنا چاہتے ہیں، وہ یہ پاکستان میں کسی فرد، کسی گروہ، کسی طبقے یا کسی جماعت نے علیحدگی کو ضروری نہیں سمجھا۔ اس لئے ربوہ کی موجودہ حیثیت کو پاکستان کے دوسرے شہروں کی طرح بنایا جائے ۔ باخبر اور اعلیٰ سطح پر ان بعض روایات و حکایات کی تحقیقات کی جائیں جو اس وقت عام طور پر پھیلی ہوئی ہیں اور اگر قادیانی حضرات کے خلاف من حیث الجماعت ایسے الزامات غلط ثابت ہوتے ہیں تو پبلک طور پر پوری شرح وبسط کے ساتھ ان کی تردید کی جائے اور اگر یہ الزامات یا ان کا کوئی جزو درست ثابت ہو جائے تو حکومت متعلقہ جماعت کو اپنے رویے میں صحیح تبدیلی کا موقع دے اور اس سلسلے میں

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ 199

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔ جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں، ہم اپنے عقیدے پر واضح ہیں اور بحیثیت مسلمان ہم اس کی حفاظت بھی کر سکتے ہیں ۔ہمیں قادیانی حضرات کے بارے میں کسی تلخی اور ترشی کے بغیر یہ سب کچھ اس لئے لکھنا پڑا ہے کہ پاکستان اس کا تقاضا کرتا ہے۔‘‘

(لولاک،مؤرخہ ۲۲؍جولائی ۱۹۶۶ء)

خلیفہ ربوہ کی سرگرمیاں،مسلم کانفرنس کشمیر کے چوہدری غلام عباس سے ملاقات

معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ قادیانی ریاست کے سربراہ مرزا ناصر احمد خلیفہ ربوہ نے مسلم کانفرنس کے سربراہ چوہدری غلام عباس سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات مری میں ہوئی ہے جو کسی بند کمرے میں پانچ گھنٹے تک جاری رہی۔ ہو سکتا ہے کہ ریاست ربوہ اس ضمن میں یہ اعلان کر دے کہ خلیفہ ربوہ نے چوہدری غلام عباس جو ایک عرصہ بیمار رہے ہیں، کی مزاج پرسی کی۔ انہیں براہین احمدیہ کی ایک جلد پیش کرتے ہوئے احمدیت کی تبلیغ کی اور ان سے ان پانچ سو احمدی خاندانوں کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا جو مقبوضہ کشمیر سے نکل کر آزاد کشمیر میں آئے ہیں۔ لیکن ابھی تک ایسا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

مرزا ناصر احمد خلیفہ ربوہ خالص سیاسی ذہن اور فکر رکھنے والے قادیانی رہنما ہیں۔ انہیں مذہب کا کوئی خاص مطالعہ یا ذوق نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے قادیانی جماعت کا خلیفہ بنتے ہی لاہوری قادیانیوں (جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے بلکہ مجدد مانتے ہیں) کو بھی اپنی بیعت میں شامل ہو جانے کی دعوت دی ہے اور خلیفہ بنتے ہی فضل عمر فاؤنڈیشن قائم کر دی جس کے لئے ۲۴ لاکھ روپیہ کی فراہمی کا اعلان کیا گیا۔ جو ۲۴ لاکھ کی بجائے ۶۸ لاکھ روپیہ ہو گیا اور بعض اندرون پردہ کے راز جاننے والوں کی روایت کے مطابق اس مد میں دو کروڑ روپیہ جمع ہو چکا ہے۔ یہ فضل عمر فاؤنڈیشن کیا ہے؟ یہ ۲۴ لاکھ یا ۶۸ لاکھ یا دو کروڑ روپیہ کہاں سے آ گیا ہے؟ اس روپے کا مصرف کیا بتایا گیا اور یہ کہاں خرچ ہونے والا ہے؟ ان سب باتوں سے مرزا ناصر احمد خلیفہ ربوہ کے سیاسی ذہن کے پس منظر کا پتہ چلتا ہے اور ان کے سیاسی عزائم واضح ہو رہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ چوہدری غلام عباس سے مرزا ناصر احمد کی ملاقات بھی انہیں سیاسی مقاصد کے لئے ہوتی ہے جو مرزا ناصر احمد کے پیش نظر ہیں۔

مرزا ناصر احمد اور قادیانی جماعت کی مسئلہ کشمیر سے پیچ دار اور خطرناک دلچسپی ایک پرانی بیماری ہے۔ ہم خدا کے فضل و کرم سے قادیانیوں اور مرزا ناصر احمد کے اس سیاسی ذہن کے پس منظر سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کے عزائم اور ان کی تکمیل کے لئے کروڑوں روپیہ کے فنڈز کی فراہمی کی حقیقت ہمارے سامنے ہے۔ امریکہ کے ادارہ سی۔ آئی۔ اے کی ہوشربا طلسماتی کہانیاں ہم پہلے سے ہی جانتے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ چوہدری غلام عباس جو ایک مخلص بہادر اور مسئلہ کشمیر کے متعلق مخلصانہ رائے رکھنے والے کشمیری رہنما ہیں اور مرزائیوں کو ۱۹۳۱ء کی کشمیر کمیٹی کے وقت سے اچھی طرح جانتے ہیں، وہ مرزا ناصر احمد کے دام ہمرنگ زمین میں کہاں تک قابو آ سکتے ہیں۔ مرزا ناصر احمد کی یہ ملاقاتیں آزاد کشمیر کے قادیانی رہنماؤں، سردار ابراہیم، کے۔ایچ خورشید، غلام نبی گلکار، مسلمان رہنماؤں چوہدری غلام عباس سردار، عبد القیوم وغیرہ کے درمیان صلح کا باعث بنتی ہیں یا نہیں اور اس صلح کے نتیجہ میں مرزا ناصر احمد صاحب خان عبدالحمید خان صاحب کی حکومت کو شکست دے کر کے۔ ایچ خورشید یا سردار ابراہیم کو دوبارہ آزاد کشمیر کی حکومت میں برسراقتدار لا سکتے ہیں یا نہیں۔‘‘

(لولاک مؤرخہ ۲۶؍اگست ۱۹۶۶ء)

۶؍ستمبر ۱۹۶۶ء کی رات آغا شورش کاشمیری کو گرفتار کر کے ساہیوال جیل بھیج دیا گیا۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۰۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۲۰۰ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ظفر اللہ خان اور ملک فیروز خان نون، جوتا برادری اور ملاقات مرزا محمود

”یادش بخیر! ملک فیروز خان نون بھی بڑے مزے کے بزرگ ہیں۔ نوائے وقت کی اشاعت مؤرخہ ۲؍ اکتوبر ۱۹۶۶ء میں ان کے کچھ رشحات قلم شائع ہوئے ہیں۔ ملک صاحب نے اپنے انہی قلم قتلوں میں ایک خاص واقعہ کا اشارہ بھی کیا ہے کہ: ایک دفعہ وہ سرظفر اللہ خان کی دعوت پر ربوہ گئے اور مرزا بشیر الدین محمود سے ملے۔ جب ملاقات کے کمرہ میں داخل ہوئے تو احتراماً جوتے اتار دیئے۔ ملاقات کے بعد جب اٹھے تو سرظفر اللہ خان نے ان کے جوتے اٹھا کر ان کے سامنے رکھ دیئے۔ ملک صاحب سرظفر اللہ خان کی اس انکساری اور تواضع سے بہت متاثر ہوئے۔“

ملک صاحب بھی عجیب سادہ لوح بزرگ ہیں۔ انہیں یہ معلوم نہیں کہ دراصل سرظفر اللہ خان پاکستان کے وزیر اعظم یعنی ملک کے دس کروڑ باشندوں کے نمائندہ کو اپنے گرو کے پاس لے جانے میں کامیاب ہوگیا اور اس طرح سے اس نے پورے ملک کی انتظامیہ اور افسروں کو یہ تاثر دیا کہ قادیانیوں کے متعلق باملاحظہ ہوشیار ہو کر رہئے۔ کیونکہ میرے گرو کے دربار میں ملک کا سب سے بڑا حاکم بھی پاپوش کشیدہ اور نفس گم کردہ حاضر ہوتا ہے۔

ملک صاحب کا خیال ہے کہ دربار ربوہ میں سرظفر اللہ خان نے ملک صاحب کا جوتا اٹھا کر انکساری اور تواضع کی اعلیٰ مثال پیش کی۔ لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ سرظفر اللہ خان نے ملک نون کو ربوہ کی سرکار میں پیش کر کے پوری ملت پاکستانیہ کے سر پر جوتے رسید کئے۔ اصل میں ملک فیروز خان نون بہت بھولے آدمی ہیں۔ تحریک پاکستان کے آخری ایام میں وہ مسلم لیگ میں شامل ہو کر تحریک پاکستان کی تائید کرنے لگے تھے بلکہ تحریک پاکستان کے سلسلہ میں گرفتار ہو کر کچھ دنوں کے لئے قید بھی ہوگئے تھے۔ ملک صاحب کی گرفتاری اور قید کا سن کر ہمارے ایک بزرگ نے غالب کا یہ شعر پڑھا تھا ؎

ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی اب آبروئے شیوہ اہل نظر گئی

ملک صاحب کا انہی دنوں کا ایک لطیفہ بڑا مشہور ہے کہ کسی جلسے میں انہوں نے کہا تھا کہ مسلمانو! پڑھو کلمہ: ”اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد وبارک وسلم“

ظفر اللہ خان اور سر فضل حسین کے جوتے

بات چوہدری ظفر اللہ خان کے جوتے اٹھانے کی ہورہی تھی۔ چوہدری صاحب کے جوتے اٹھانے کا ایک اور واقعہ بھی سن لیجئے! جس زمانہ میں ان کو میاں سر فضل حسین کی جگہ وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کا ممبر بنایا جارہا تھا، ان دنوں کا ذکر ہے کہ ایک وفد میاں سر فضل حسین کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میاں صاحب اس وقت شملہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ اس وفد میں (۱) سید مرتضیٰ بہادر ممبر سنٹرل اسمبلی۔ (۲) منظور علی تائب مالک آرمی پریس شملہ۔ (۳) خطیب صاحب جامع مسجد شملہ۔ (۴) مولانا لال حسین اختر۔ (۵) میر احمد حسین شملوی شامل تھے۔ وفد نے میاں صاحب سے عرض کیا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل سے فارغ ہو کر پنجاب میں ہونے والے الیکشنوں میں حصہ لے کر وزیر اعلیٰ پنجاب بننا چاہتے ہیں اور اپنی جگہ مسلمان نمائندے کے طور پر سرظفر اللہ خان قادیانی کو کونسل کا ممبر بنوارہے ہیں۔ آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے اور ظفر اللہ قادیانی کی جگہ کسی مسلمان کو کونسل کا ممبر بنوانا چاہئے۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۰۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میاں صاحب نے وفد کی معلومات کی تصدیق کی اور کہا کہ میں ظفر اللہ خان کے علاوہ کسی اور کو ممبر بنوانا پسند نہیں کروں گا۔ وفد مایوس ہو کر باہر نکلا تو میاں فضل حسین مرحوم کے ایک ملازم نے پوچھا کہ کہو بھائی! میاں صاحب نے تمہارا مطالبہ مان لیا۔ انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ اس نے کہا: میری ایک بات سنو۔ پھر تمہاری سمجھ میں آجائے گا کہ میاں صاحب ظفر اللہ خان کو ہی کیوں ممبر بنوانا چاہتے ہیں۔ ہوا یہ کہ ایک دن میاں صاحب دفتر جانے کے لئے تیار ہو رہے تھے۔ اس وقت چوہدری ظفر اللہ خان بھی میاں صاحب کے پاس موجود تھے۔ میاں صاحب نے مجھے آواز دی اور کہا کہ میرا جوتا لاؤ۔ میں ساتھ والے کمرے میں تھا۔ جلدی سے آیا، کیا دیکھتا ہوں کہ میرے آنے سے قبل ہی سر ظفر اللہ خان نے میاں صاحب کو جوتا اٹھا کر ان کے سامنے رکھ دیا۔ یہ واقعہ سنا کر وہ ملازم کہنے لگا: نواب آف چھتاری یا سر علی امام یا نواب اسماعیل یا ہندوستان اور پنجاب کا کوئی اور بڑا مسلمان میاں صاحب کی اتنی خوشامد کر سکتا ہے جتنی سر ظفر اللہ خان کر رہے ہیں؟ اس لئے آپ جائیں، یہ ظفر اللہ خان کو ہی ممبر بنوائیں گے۔ کسی اور کو ممبر بنوانا کبھی پسند نہیں کریں گے۔ اسی لئے تحریک آزادی کے دنوں میں مولانا ظفر علی خان اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری ایسے لوگوں کے متعلق یہ کہا کرتے تھے کہ: ’’فلاں شخص انگریزوں کے بوٹ کی ٹو چاٹتا ہے۔‘‘

ایسے کسی آدمی نے اگر ملک نون کا جوتا اٹھا کر رکھ دیا تو کون سی قیامت آ گئی۔ جس سے ملک نون شرمائے جا رہے ہیں۔ بیچارے چوہدری ظفر اللہ خان جس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں اس کی بنیاد ہی انگریزوں کی کفش برداری اور خوشامد پر ہے اور چوہدری صاحب اس فرقہ کے مخلص اور سچے پیروکار ہیں۔‘‘

(لولاک مؤرخہ ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۶۶ء)

کیا ارباب ربوہ جواب دیں گے؟

گزشتہ سال یورپی ممالک میں رہنے والے قادیانی مبلغین کا ایک خاص کنونشن لندن میں منعقد ہوا تھا۔ اس کنونشن کا افتتاح بین الاقوامی عدالت کے جج مشہور قادیانی مبلغ چوہدری سر ظفر اللہ خان نے کیا۔ اس کنونشن میں ایک خاص اور اہم مسئلے پر زور دیا گیا۔ اس کنونشن کی خبر پاکستان کے بعض اہم اور مشہور اخبارات میں شائع ہوئی۔ اس کنونشن کے متعلق روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی خبر کو ہم من وعن نقل کر رہے ہیں:

جماعت احمدیہ کا پہلا یورپی کنونشن، قادیانی جماعت اور اقتدار

’’لندن: مؤرخہ ۳؍ اگست (نمائندہ جنگ) جماعت احمدیہ کا پہلا یورپی کنونشن جماعت کے لندن مرکز میں منعقد ہو رہا ہے۔ جس میں تمام یورپی ممالک کے احمدیہ مشن شرکت کر رہے ہیں۔ کنونشن کا افتتاح گزشتہ روز ہیگ کی بین الاقوامی عدالت کے جج سر ظفر اللہ خان نے کیا۔ یہ کنونشن مؤرخہ ۷؍ اگست تک جاری رہے گا۔ جماعت نے مختلف ممالک میں اپنے مشن قائم کر لئے ہیں۔ برطانیہ میں جماعت کے اٹھارہ مرکز قائم ہو چکے ہیں۔

کنونشن میں شریک مندوبین نے اس بات پر زور دیا کہ اگر احمدی جماعت برسر اقتدار آ جائے تو امیروں پر ٹیکس لگائے جائیں اور دولت کو از سر نو تقسیم کیا جائے۔ ساہوکارے اور سود پر پابندی لگا دی جائے اور شراب نوشی ممنوع قرار دی جائے۔‘‘

(روزنامہ جنگ راولپنڈی مؤرخہ ۴؍ اگست ۱۹۶۵ء، ج ۷ ش ۲۰۹، فرسٹ ایڈیشن چناب ایڈیشن)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۰۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قادیانی جماعت کے متعلق ہم بڑی سخت مشکل اور پریشانی سے دوچار ہیں۔ قادیانی جماعت کیا ہے؟ اس کے مذہبی عقائد کیا ہیں؟ وہ اپنے سامنے کون سے سیاسی عزائم رکھتی ہے؟ وہ اپنے مذہبی عقائد کے پرچار کے لئے کیا کچھ کر رہی ہے؟ وہ اپنے سیاسی مقاصد کے کس قدر قریب پہنچ چکی ہے؟ اس کا رویہ اندرون ملک کیا ہے؟ وہ بیرون ملک بین الاقوامی طاقتوں سے کیا تعلقات رکھتی ہے؟ اس کی تنظیم کیا ہے؟ اس کے پاس روپیہ کتنا ہے؟ اس روپے کی آمد کے ذرائع کیا ہیں؟ اس روپے کا ظاہری اور خفیہ مصرف کیا ہے؟ علمائے کرام انہیں کیا سمجھتے ہیں؟ تحفظ کی کیا صلاحیت رکھتے ہیں؟ اس سلسلے میں ان کی کارکردگی کیا ہے؟ اس ملک کے متعلق قادیانیوں کے مذہبی عقائد اور عزائم کیا ہیں؟ حکومت سے ان کا رویہ کیا ہے؟ حکومت کا رویہ ان سے کیا ہے؟ حکومت ان کے متعلق کیا جانتی ہے؟ اس وقت اس کے کتنے اخبارات اندرون ملک اور بیرون ملک کے لئے شائع ہوتے ہیں؟ کتنے کتابچے، تصنیفات، تالیفات اور دوسرا تبلیغی لٹریچر چھپ کر تقسیم ہوتا ہے؟ ان کے پاس کتنی وقف جائیداد ہے؟ ان کے پاس کتنی ملکیتی جائیدادیں ہیں؟ یہ چند موٹی موٹی باتیں ہیں جن میں سے ہر ایک بات کی وضاحت ملک اور مذہب کے مفاد کے نقطۂ نظر سے ضروری اور لازمی ہے اور ان میں سے ہر بات کی وضاحت خدا کے فضل و کرم سے پورے دلائل کے ساتھ کی جاسکتی ہے۔ لیکن دوسری طرف ہمیں اپنی حکومت سے تعاون کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوڑنا۔ اس مملکت کی حفاظت، تعمیر اور ترقی کے لئے جو کچھ موجودہ حکومت نے کیا ہے اسے ہم نہ صرف یہ کہ بنظر استحسان دیکھتے ہیں بلکہ دامے درمے قدمے سخنے اس کے ساتھ ہیں۔ اس کی مجبوری، ہماری مجبوری ہے۔ اس لئے جب تک کہ خود حکومت مذہبی اور ملکی مفاد کے لئے ان سوالات کے جواب کی ضرورت محسوس نہ کرے، ہمیں اس کی مشکلات میں کسی قسم کا اضافہ بھی نہیں کرنا ہے۔ البتہ بعض باتیں ایسی آ جاتی ہیں جہاں ہمیں ملک اور مذہب کی عزت کی خاطر ہر مصلحت قربان کرنا پڑتی ہے۔

چو مے بینم کہ نابینا و چاہ است اگر خاموش بنشینم گناہ است

ایسی ہی ایک ناگزیر بات وہ قرارداد ہے جو قادیانی مبلغین نے لندن کے کنونشن میں پاس کی۔ ہم اس قرارداد سے پہلے ہی روز آگاہ تھے لیکن اس کے اظہار کا وقت نہیں تھا۔ اب گزشتہ ستمبر کے حالات سے الحمد للہ! کسی حد تک حکومت نمٹ چکی ہے۔ اس لئے اب اس کا اظہار بے جا بھی نہیں ہوگا۔ اس سلسلہ میں ہمیں افسوس اس بات کا ہے کہ یہ فرض بھی پاکستان انٹیلی جنس بیورو کا تھا کہ وہ لندن کی اس قرارداد کے پس منظر اور حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتی اور اب بھی اس کی پوری پوری چھان بین کرنی چاہئے کہ اس قرارداد کا مطلب کیا تھا۔ سردست اس کے متعلق ہم ارباب ربوہ سے براہ راست درخواست کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اس کنونشن اور اس کے زیر بحث آنے والے مسئلہ اور پاس ہونے والی قرارداد کی وضاحت فرمائیں اور اس وضاحت میں مندرجہ ذیل امور کو پیش نظر رکھیں:

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر جماعت احمدیہ برسراقتدار آ جائے تو امیروں پر ٹیکس لگائے جائیں۔ دولت کو ازسر نو تقسیم کیا جائے۔ ساہوکارے اور سود پر پابندی لگا دی جائے اور شراب نوشی ممنوع قرار دی جائے؟

اور پروگرام میں شامل ہے تو برسراقتدار آنے کے لئے وہ کون کون سی مساعی بروئے کار لا رہی ہے؟

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۰۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خیال میں جماعت احمدیہ کے برسر اقتدار آنے کا کہاں احتمال پیدا ہو گیا تھا یا اب احتمال ہے۔ برطانیہ میں یا امریکہ میں یا ہندوستان یا پاکستان میں یا وہ کون سا ملک اور علاقہ ہے جہاں جماعت احمدیہ کے برسر اقتدار آنے کا امکان ہے؟

مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت اور مسیحیت ہے۔ اسلام اور قادیانیت کے ان خالص تبلیغی مسائل کے بجائے صرف اس مسئلہ پر ہی کیوں زور دیا گیا کہ اگر جماعت احمدیہ برسر اقتدار آ جائے تو امیروں پر ٹیکس لگائے گی۔ دولت از سر نو تقسیم کرے گی۔ ساہوکارے اور سود پر پابندی عائد کرے گی؟ یعنی مذہبی مسائل اور احکام کی بجائے سیاسی مسائل اور احکام کے متعلق ہی قرارداد پاس کی گئی حالانکہ لاکھوں روپیہ کے خرچ سے یہ ان کی پہلی کنونشن تھی اور جس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ سر ظفر اللہ خان جیسے اہم قادیانی لیڈر نے اس کا افتتاح کیا۔

بھارت پاکستان پر اچانک حملہ کرنے والا ہے اور بھارت ، امریکہ اور برطانیہ کی سازش کے مطابق پاکستان کی سالمیت خطرہ میں پڑنے والی ہے؟ جیسا کہ ایک ماہ بعد اور اس سازش میں بھارت کے ساتھ مبینہ طور پر امریکہ، برطانیہ پائے گئے ۔ اس سازش اور اس حملے کو پاکستان کی جیالی غیور بہادر اور جانباز فوجوں نے روکا ۔ پوری پاکستانی قوم کفن بر دوش ہو گئی ۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے ”لا اله الا الله محمد رسول اللہ “ پڑھتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑنے کا حکم دیا اور فوج کے جرنیلوں اور سپاہیوں نے قرون اولیٰ کے غازیوں کی یاد تازہ کر دی اور اس سب کچھ کے ساتھ اللہ کا فضل اور اس کے حبیب ﷺ کی نظر رحمت سے مملکت پاکستان بچ گئی اور دشمن کی کمر ٹوٹ گئی اور سازشی کھسیانے ہو کر ادھر ادھر کی باتیں بنانے لگے۔ ہمیں امید ہے کہ ارباب ربوہ ہمارے ان سیدھے سادھے سوالات کا سیدھا سادھا جواب دیں گے اور کسی روایتی تاویل اور تعبیر سے کام لے کر بات کو الجھانے کی کوشش نہیں کریں گے۔“

(لولاک مؤرخہ ۱۴؍اکتوبر ۱۹۶۶ء)

۲۳؍ نومبر ۱۹۶۶ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے سربراہ مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی خطیب پاکستان رحلت فرما گئے ۔ ان کی وفات کی خبر لولاک کے ٹائٹل پر یہ شائع ہوئی:

خطیب پاکستان حضرت مولانا الحاج قاضی احسان احمد شجاع آبادی کا وصال

”شجاع آباد: ۲۳؍ نومبر۔ ملک کے نامور مذہبی رہنما، تحریک آزادی کے قافلہ کے عظیم سپہ سالار ، مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ حضرت مولانا قاضی احسان احمد صاحب آج ساڑھے تین بجے شام شجاع آباد میں واصل بحق ہو گئے ۔ قاضی صاحب کچھ عرصہ سے بیمار تھے۔ انہیں یرقان اور سرطان جگر کا مرض تھا۔ قاضی صاحب کا ہر ممکن علاج کرایا گیا۔ لیکن آخر انہیں قضائے الہی کے سامنے سپر انداز ہونا پڑا اور انہوں نے اپنی پیاری جان اپنے محبوب، جان آفرین کے سپرد کر دی ۔ قاضی احسان احمد صاحب شجاع آباد کے مشہور قاضی خاندان کے مشہور عالم دین اور شاہی مسجد شجاع آباد کے خطیب حضرت مولانا قاضی محمد امین صاحب مرحوم کے اکلوتے فرزند ارجمند تھے۔ آپ نے

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۰۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آغاز جوانی میں ہی حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اپنی زندگی حفاظت دین مصطفیٰ ﷺ اور تحریک آزادی وطن کے لئے وقف کردی تھی۔ آپ کا شمار مجلس احرار اسلام کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ برصغیر ہند و پاک کا کوئی کونہ، گوشہ، بستی اور شہر ایسا نہیں ہوگا جہاں قاضی احسان احمد شجاع آبادی نے اپنا عشق رسالت و توحید میں ڈوبا ہوا پیغام نہ پہنچایا ہو۔

آپ نے تحریک آزادی وطن اور بالخصوص تحریک آزادی کشمیر میں کئی بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ فرنگی حکومت کے مظالم سہے ۔ فرنگی پولیس کے تشدد کا شکار ہوکر ہی لاٹھی چارج میں ان کا ایک بازو توڑ دیا گیا تھا۔ جو اگرچہ جڑ گیا تھا لیکن آخر تک کمزور تھا۔

قاضی صاحب کا رونگٹھا رونگٹھا عشق رسول ﷺ میں ڈوبا ہوا تھا۔ انہوں نے آزادی وطن کے بعد حضور ﷺ فداہ ابی و امی کے تاج و تخت ختم نبوت کی حفاظت کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا ہوا تھا۔ ملک کی آزادی، تحریک آزادی کشمیر، دین مصطفیٰ ﷺ کی تبلیغ، ملک کے غریبوں، کسانوں، مزدوروں کے حقوق کے لئے آواز، مسئلہ ختم نبوت کی تبلیغ وحفاظت اور اسلام کے خلاف فرنگی سازشوں کے تار و پود بکھیرنے کے سلسلے میں قاضی صاحب نے کیا کیا عظیم خدمات سرانجام دی ہے، اس کے متعلق کسی انصاف پسند مؤرخ کے قلم کی عظیم خدمات کی ضرورت ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی زندگی بھر کی دینی، ملی، قومی اور ملکی خدمات کو قبول فرمائے۔ ان کی روح کو اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے اور ملت اسلامیہ کو بالعموم اور قاضی صاحب مرحوم کے لواحقین اور ساتھیوں کو بالخصوص اس صدمہ کے برداشت کرنے کی توفیق ارزاں فرمائے۔‘‘

(ہفتہ وار لولاک مؤرخہ ۲۵؍نومبر ۱۹۶۶ء)

مجلس تحفظ ختم نبوت کے تبلیغی اجتماعات

لاہور: مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے زیراہتمام مؤرخہ ۱۹ / ۲۶؍رمضان المبارک مطابق یکم ، ۸؍جنوری ۱۹۶۷ء بروز اتوار ساڑھے نو بجے صبح مسجد باغ والی بیرون شاہ عالم گیٹ سرکلر روڈ لاہور میں تبلیغی اجتماعات منعقد ہوں گے۔ جن میں جانشین شیخ التفسیر مولانا عبیداللہ انور، مجاہد ملت مولانا محمد علی صاحب جالندھری، ترجمان اہل سنت علامہ دوست محمد صاحب قریشی، مجاہد اسلام مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی، سیف بے نیام مولانا عبدالستار خان نیازی، علامتہ المذاہب مولانا لال حسین اختر، معاصر العلماء مولانا ڈاکٹر مناظر حسین، خطیب اعظم مولانا محمد اجمل صاحب، صاحبزادہ منظور احمد شاہ، مولانا مختار احمد صاحب الحسینی، شاعر اسلام حضرت مضطر گجراتی، شاعر جانباز مرزا، شاعر اہل سنت حافظ نور محمد انور خطاب فرمائیں گے۔ بلند اختر نظامی، ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور

(خدام الدین مؤرخہ ۳۰؍دسمبر ۱۹۶۶ء)

مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۸۵ھ، مطابق مئی ۱۹۶۵ء تا اپریل ۱۹۶۶ء

مرتبہ مولانا محمد شریف جالندھری پیش خدمت ہے:

۱۹۴۷ء کے بعد پاک و ہند کی جن سرحدات کا قانونی طور پر تعین کیا گیا، ان کی دیکھ بھال بہرحال ہر ملک کے لئے لازمی ہے۔ پاکستان نے اپنی سرحدات کے استحکام کے لئے جو حالات پیدا کئے اس کے باوجود بھارت کے رہنماؤں نے اپنی فوجی قوت کی بنا پر جو انہوں نے امریکہ جیسے سامراج ملک سے پاکستان اور چین کا خوف دلا کر حاصل کی تھی اس کے بل بوتے پر ستمبر ۱۹۶۵ء میں پاکستان کی سرحدات پر

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۰۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رات کے اندھیرے میں حملہ کر دیا۔ اگر پاکستان کے جیالے نوجوان سینہ سپر ہو کر بھارتی سورماؤں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار نہ بن جاتے تو پاکستان کا استحکام خطرے میں تھا۔

دشمن کے ارادے اور اس کے عزائم کے پیش نظر ہر پاکستانی کا یہ فرض ہے کہ وہ جہاد کے لئے اپنے آپ کو تیار کرے اور ہر وہ قوت مہیا کرے جو میدان کارزار میں دفاع ملک کے لئے کام آ سکے۔ ایسے وقت میں جب کہ جہاد کی ضرورت شدت سے بڑھ رہی ہے پاکستان میں ایک ایسا گروہ بھی کام کر رہا ہے جس کے مندرجہ ذیل نظریات کی اشاعت شب و روز جاری و ساری ہے۔ یہ فرقہ قادیانی ہے۔ جو مرزاغلام احمد کی نبوت اور مجددیت پر یقین رکھتا ہے اور اس کی ہر پیش گوئی کو پورا کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ چنانچہ مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی کتابوں میں اسلامی جہاد کو موقوف و منسوخ، حرام اور ختم قرار دیا ہے اور یہ کتابیں جن کے حوالے درج ذیل ہیں، آج کل اہل ربوہ ان کی نشر و اشاعت میں مصروف ہیں:

حوالہ نمبر ۱: مرزاغلام احمد قادیانی اپنی کتاب (تجلیات الہیہ حاشیہ ص ۸، خزائن ج ۲۰ ص ۴۰۰) پر تحریر کرتے ہیں کہ: ’’اس حدیث سے بھی ثابت ہے کہ مسیح کے وقت میں جہاد کا حکم منسوخ کر دیا جائے گا۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں بھی مسیح موعود کی صفات میں لکھا ہے۔ ’’ یضع الحرب‘‘ یعنی مسیح موعود جب آئے گا تو جنگ اور جہاد کو موقوف کر دے گا۔‘‘

حوالہ نمبر ۲: ’’جہاد یعنی دینی لڑائی کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔‘‘

(اربعین نمبر ۴ ص ۱۳ حاشیہ، خزائن ج ۱۷ ص ۴۴۳)

حوالہ نمبر ۳:

چھوڑ دو اب دوستو جہاد کا خیال دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے دین کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

(حوالہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ۲۶، خزائن ج ۱۷ ص ۷۷)

حوالہ نمبر ۴: ’’دیکھو میں ایک حکم لے کر آپ لوگوں کے پاس آیا ہوں، وہ یہ ہے کہ اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے۔‘‘

(ارشاد مرزاغلام احمد قادیانی مندرجہ رسالہ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ص ۱۴، خزائن ج ۱۷ ص ۱۵)

حوالہ نمبر ۵: ’’اب یہ زمینی جہاد بند کئے گئے اور لڑائیوں کا خاتمہ ہو گیا جیسا کہ حدیثوں میں پہلے لکھا گیا تھا کہ جب مسیح آئے گا تو دین کے لئے لڑنا حرام کیا جائے گا، سو آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو دین کے لئے تلوار اٹھاتا ہے اور غازی

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۰۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نام رکھ کر کافروں کو قتل کرتا ہے، وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔ سو مسیح آچکا اور یہی ہے جو تم سے بول رہا ہے۔“

(خطبہ الہامیہ اشتہار چندہ منارۃ المسیح ص ۱۷، خزائن ج ۱۶ ص ۱۷)

حوالہ نمبر ۶: ”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا ہے۔ اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا ہے اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اس رسول کریم کی نافرمانی کرتا ہے جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرما دیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔“

(خطبہ الہامیہ ص ۲۸، ۲۹، اشتہار چندہ منارۃ المسیح خزائن ج ۱۶ ص ۲۸، ۲۹)

حوالہ نمبر ۷: ”یاد رہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کا انتظار ہے بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہری طور پر نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا اور قطعاً اس بات کو حرام جانتا ہے کہ دین کی اشاعت کے لئے لڑائیاں کی جائیں۔“

(اشتہار واجب الاظہار مندرجہ تریاق القلوب ص ۱، خزائن ج ۱۵ ص ۵۱، مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۴۵۷)

ناظرین کرام ! آپ نے مندرجہ بالا حوالوں میں ملاحظہ فرمالیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام کی مسند پر زبردستی بیٹھنے کے بعد آنحضرت ﷺ کے فرمان کی غلط تشریح کر کے حکومت برطانیہ کو مطمئن کرنے کے لئے یہ اعلان کر رہا ہے کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کا انتظار ہے۔

مندرجہ بالا نظریات کی موجودگی میں یہ حقیقت واشگاف ہوگئی کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے مذہب کو ماننے والے جہاد کے قائل نہیں اور ان کے نزدیک مذہبی نقطۂ نظر سے کسی وقت اور کسی صورت میں جائز نہیں۔ یہی وجہ تھی کہ ستمبر ۱۹۶۵ء کے پاک بھارت جنگ کے دنوں مرزا بشیر الدین محمود ( آنجہانی ) نے اپنی پارٹی کی طرف سے ایک لاکھ روپیہ پاکستان گورنمنٹ کے دفاعی فنڈ میں دیا اور ایک لاکھ روپیہ ان کے بیٹے وسیم احمد نے انہی دنوں بھارت گورنمنٹ کو دیا۔

اگر ان کے نزدیک پاک بھارت جنگ کے موقع پر پاکستان کا مؤقف صحیح ہوتا اور وہ اس کو جہاد خیال کرتے تو دفاعی رقم صرف پاکستان کو ملتی ۔ بھارت کو پاکستان کے خلاف یہ خطیر رقم کبھی نہ دی جاتی ۔ موجودہ حالات میں قادیانی مذہب کے ماننے والوں کا مرکز پاکستان میں ہے اور تمام رقم پاکستان سے جاتی ہے تو معلوم ہوا کہ قادیانی مذہب کے رہنماؤں کے نزدیک پاکستان بھارت سے جنگ ، جہاد نہیں تھا اور نہ ہی جہاد کو اپنے اصولوں کی بنا پر جائز سمجھتے ہیں۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۰۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۶۷ء

کے

حالات و واقعات

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۰۸

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تین روزہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ

۲۷، ۲۸، ۲۹ / جنوری ۱۹۶۷ء جمعہ، ہفتہ، اتوار کو چنیوٹ پبلک پارک میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مغربی پاکستان کے کونے کونے سے علمائے کرام اور مندوبین کانفرنس میں شرکت کرنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ کانفرنس کے مختلف اجتماعات سے مولانا عبداللہ درخواستی، مولانا عبدالستار نیازی، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا تاج محمود، مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد لقمان، مولانا محمد شریف بہاول پوری، مولانا عبدالرحیم اشعر اور دوسرے علمائے کرام نے تقاریر کیں۔ کانفرنس کے آخری اجلاس میں حسب ذیل قراردادیں بھی منظور کی گئیں:

(ہفت روزہ لولاک مؤرخہ ۳/فروری ۱۹۶۷ء)

ماہنامہ الفرقان قادیانی کی گستاخی پر احتجاج

”سمندری: ۱۴/جنوری جمعۃ المبارک کے عظیم اجتماع سے مولانا محمد علی جانباز نے خطاب کرتے ہوئے ماہنامہ الفرقان (ربوہ) کے ”فضل عمر نمبر“ کی گستاخی کی کڑی مذمت کی اور اس کو سرور کائنات ﷺ کی توہین قرار دیا، جب کہ ایک قادیانی اپنے خواب میں مرزا بشیر الدین کو حضور ﷺ کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ (العیاذ باللہ نقل کفر کفر نہ باشد) آپ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کی ایسی نازیبا اور توہین آمیز حرکات کی کڑی نگرانی کی جائے۔ آپ نے پرزور لہجہ میں فرمایا کہ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے، مگر حضور پرنور ﷺ کی توہین ہرگز ہرگز برداشت نہیں کر سکتا اور پاکستان اور حصول کشمیر کے لئے دعا کی گئی۔“

(اسلامیان سمندری، لولاک مؤرخہ ۳/فروری ۱۹۶۷ء)

سر ظفر اللہ خان کی اشتعال انگیزی، ہمارے مخالف نہیں رہے

”ربوہ کے سالانہ جلسہ ۱۹۶۶ء میں قادیانی جماعت کے بہت بڑے لاٹ پادری سر ظفر اللہ خان نے نہایت اشتعال انگیز تقریر کی ہے اور قادیانی جماعت کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ ہماری جماعت کی مخالفت کرنے والا کوئی نہیں رہا ہے۔ وہ سب لوگ جو اس جماعت کے مخالف تھے وہ ختم ہوگئے ہیں اور یہ بات ہماری صداقت کی دلیل ہے۔ قادیانیوں کے اس لاٹ پادری نے اپنی تقریر میں اشتعال انگیزی کے علاوہ دنیا کا بہت بڑا جھوٹ بھی بولا ہے اور اس جھوٹ کے ذریعہ باہر سے آئے ہوئے قادیانیوں پر نفسیاتی اثر ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ ذرا ایثار اور قربانی سے کام لو اور زیادہ سے زیادہ چندہ دو تا کہ ہم جو ساحل مراد تک پہنچنے ہی والے ہیں جلد از جلد کامیاب ہو جائیں۔

ہمارا روز اوّل سے یہ پختہ یقین ہے کہ قادیانی جماعت جس کے سربراہ نے اسے انگریزوں کا خود کاشتہ پودا قرار دیا ہے، انگریزوں جیسی دشمن اسلام قوتوں کی خاص مصلحتوں کو پورا کرنے کے لئے معرض وجود میں لائی گئی تھی اور آج تک وہ اپنی اسی طبعی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔ آزادی سے قبل انگریزوں نے اپنے اس خود کاشتہ پودے کو بے پناہ مراعات اور فوائد پہنچائے اور غلامستان ہندوستان میں اس کی جڑیں مضبوط کیں۔ آزادی کے بعد سے اب تک جتنی حکومتیں قائم ہوئی ہیں ان کا اپنا نقطہ نگاہ برطانوی ساخت پرداخت سے مشابہ ہے، اس لئے وہ اس ارتدادی تحریک کے مضر اثرات، ملک اور اسلام دشمن نتائج سے آگاہ نہیں ہو سکے۔ وہ اس

صفحہ ۲۰۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جماعت کی ظاہری اور وقتی خوشامد اور چاپلوسی کو اپنی وفاداری سے تعبیر کر کے خطرناک دھوکا کھاتے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانی جماعت ایک طرف تو موجودہ حکومت سے ظاہری وفاداری کا عہد باندھے ہوئے ہے اور اندر ہی اندر ایسی سرگرمیوں میں مصروف ہے جو موجودہ حکومت سے وفاداری کے قطعاً منافی ہیں۔

چوہدری ظفر اللہ خان کی ربوہ میں حالیہ تقریر بھی اسی سلسلے کی ایک ریاکارانہ اور مکارانہ کڑی ہے جس میں جماعت کو کسی سبز باغ دکھانے اور کسی موہوم امید کے قریب تر ہونے کی نوید اور خوشخبری دی گئی ہے۔ ورنہ اصل حقائق کی روشنی میں چوہدری صاحب کے فرمودات سراسر غلط اور جھوٹ کے ایک بہت بڑے پلندے سے کم نہیں ہیں۔ حقیقت حال یہ ہے کہ قادیانی جماعت کی مخالفت پاکستان کے غیور مسلمانوں میں پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ پہلے چند علمائے کرام ہی ان کی مخالفت میں پیش پیش تھے لیکن اب قوم کا بچہ بچہ ان کے دجل و تلبیس سے آگاہ ہو چکا ہے۔ کوئی شخص ان کی ظلی بروزی جھوٹی نبوت کے دام تزویر میں پھنسنے کو تیار نہیں ہے۔

چوہدری ظفر اللہ خان کو یہ تاریخی جھوٹ بولنے کی غالباً اس لئے ضرورت پیش آئی اور انہیں سادہ لوح قادیانیوں کو دھوکا دینے کی کوشش اس لئے کرنا پڑی، کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کی جماعت جس مخالفت سے اب دوچار ہے شاید اتنی مخالفت سے کبھی دوچار نہیں رہی۔ اندرون ملک اور بیرون ملک کے تمام مسلمان شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، حنفی، اہل حدیث، بالاتفاق ان کی ارتدادی اور ملک دشمن سرگرمیوں کے تو مخالف تھے ہی لیکن اب خیر سے ان کی اپنی جماعت کے اندر سے ایک لاوا پھوٹ نکلا ہے اور وہ حقیقت پسند گروہ کے مخلص نوجوان ہیں جنہوں نے نیک نیتی سے اپنی زندگیاں قادیانیت کی تبلیغ کے لئے وقف کی تھیں، لیکن جب وہ ربوہ کے ماحول میں پہنچے اور وہاں انہوں نے جو کچھ دیکھا اسے ان کے ضمیر، جو ظفر اللہ خان کے ضمیر کی طرح ابھی مردہ نہیں ہوئے تھے، برداشت نہ کر سکے اور انہوں نے ربوہ کی عیاشی اور بددیانت خلافت کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا۔ ”ربوہ کا مذہبی آمر“ اور ”تاریخ محمودیت“ جیسی کتابیں لکھی گئیں، ان کی اشاعت ہوئی۔ ربوہ کی خلافت نے ان نوجوانوں کو ربوہ سے سوشل بائیکاٹ کر کے نکال دیا۔ انہیں قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔ اب ان میں سے ہر نوجوان چوہدری صاحب کی جماعت کے لئے عذاب الہی بنا ہوا ہے۔

ایسے حالات میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا ربوہ میں اعلان کرنا کہ جماعت کی مخالفت کرنے والا اب کوئی نہیں رہا، صفحہ ہستی کا بہت بڑا جھوٹ ہے۔ چوہدری ظفر اللہ خان نے یہ بھی کہا ہے کہ مولانا ثناء اللہ امرتسری اور مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری وغیرہ علمائے کرام سلسلہ احمدیہ کے مخالف تھے۔ وہ ختم ہوگئے ہیں، لہذا ہماری جماعت کی صداقت ثابت ہوگئی ہے۔ اس دھوکا دہی اور فریب کاری کے متعلق کیا کہا جائے کہ کسی بزرگ کی موت کو اپنے سلسلے کی صداقت کا ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔ اگر قادیانیوں کی صداقت کی دلیل علمائے امت کے بزرگوں کی موت ہو سکتی ہے تو خود مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے بیٹے مرزا محمود کی موت کو ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل بھی کہا جا سکتا ہے۔

(ہفت روزہ لولاک ج ۳ ش ۴۷، مورخہ ۳؍ فروری ۱۹۷۷ء ص ۳)

چوہدری ظفر اللہ خان وضاحت کریں، ایک امیر، ایک خلیفہ

جدید مسیحی جماعت (قادیانی) کے لاٹ پادری ظفر اللہ خان نے اس سال ربوہ کے سالانہ جلسہ کے موقع پر عجیب و غریب تقریر کی ہے۔ ہم ”لولاک“ کی گزشتہ اشاعت میں چوہدری صاحب کی ایک اشتعال انگیز تقریر کا نوٹس لے چکے ہیں، آج کے اداریہ میں بھی ہمیں چوہدری صاحب کی ایک اور بات کا نوٹس لینا ہے۔ چوہدری صاحب نے اپنی تقریروں میں مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ ایک خلیفہ یا ایک امیر

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۱۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کی زیر قیادت متحد و مجتمع ہو جائیں ۔ تاریخ اسلام اس امر کی منہ بولتی دلیل ہے کہ مسلمان ہمیشہ اس دور میں ترقی اور خوشحالی سے ہم کنار رہے جس دور میں ان پر کسی طاقتور خلیفہ یا امیر کی حکومت تھی۔

بظاہر چوہدری صاحب نے بڑی معصوم اور معقول بات کہی ہے کہ مسلمانوں کی ترقی اور خوشحالی کا راز ایک طاقتور خلیفہ یا امیر کے زیر قیادت متحد ہونے میں ہے۔ لیکن چوہدری صاحب کی معصوم اور معقول بات کے پس پردہ نامعقولیت کے ہزاروں شیطان ناچتے دکھائی دے رہے ہیں۔ چوہدری صاحب نے غضب یہ کیا ہے کہ اپنی پوری بات زبان پر نہیں لائے۔ آدھی بات کہی اور آدھی بات کو کسی دوسرے مناسب وقت تک کے لئے روک لیا ہے۔ ہم چوہدری صاحب سے کہیں گے کہ براہ کرم وہ اس نسخہ کیمیا کی جلد از جلد وضاحت فرمادیں کہ مسلمان موجودہ دور میں کس خلیفہ یا امیر کی زیر قیادت متحد ہو جائیں؟ تاکہ ان کی زبوں حالی دور ہو جائے۔ وہ ترقی اور خوشحالی سے ہم کنار ہو جائیں۔ وہ امیر سعودیہ عربیہ کے شاہ فیصل، افغانستان کے ظاہر شاہ، انڈونیشیاء کے صدر سویکارنو، متحدہ عربیہ جمہوریہ کے صدر ناصر اور پاکستان کے صدر ایوب خان میں سے کوئی صاحب ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ اس سلسلہ میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہم چوہدری صاحب کے دل کی بات سے پوری طرح آگاہ ہیں ؎

بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش من انداز قدت را می شناسم

جہاں تک ہماری ناقص سمجھ کا تعلق ہے چوہدری صاحب کے ذہن میں جو امارت اور خلافت مسلمانوں کی خوشحالی اور ترقی کی ضامن ہو سکتی ہے، وہ ربوہ کی خلافت اور امارت ہی ہے۔ اسی لئے انہوں نے یہ بات ربوہ کی خلافت اور امارت کی دہلیز پر کھڑے ہو کر کہی ہے اور چوہدری صاحب ہماری اس بات کی تردید نہیں کریں گے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ انہیں اپنی امارت اور خلافت کو دنیا کے سامنے کھل کر پیش کرنے کی جرأت نہیں ہوگی۔ ہم اپنی اس رائے کے حق میں جو سب سے بڑی وزنی دلیل رکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ دنیائے اسلام کا کوئی شخص جو مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیحیت کو جھوٹا جانتا ہو وہ مرزائیوں کے نزدیک عیسائیوں اور یہودیوں کی طرح اسلام سے خارج ہے۔ اس لئے چوہدری ظفر اللہ خان کے مجوزہ خلیفہ یا امیر سے کوئی ایسا شخص مراد ہی نہیں ہو سکتا جو امت محمدیہ سے تعلق رکھتا ہو۔ امت محمدیہ کے افراد کے لئے ضروری ہے کہ وہ حضور ﷺ کے بعد کسی مدعی نبوت کو سچا نہ مانیں، بلکہ اسے کذاب اور دجال یقین کریں۔

جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے، چوہدری ظفر اللہ خان کی مراد مجوزہ خلیفہ اور امیر سے خلیفہ ربوہ ہی ہے تو اس صورت میں دنیائے اسلام کے مسلمانوں کے لئے چوہدری صاحب کے خلیفہ اور امیر کو تسلیم کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی وہی چیز ہے جس چیز کی وجہ سے چوہدری ظفر اللہ خان خلیفہ ربوہ کے علاوہ کسی دوسرے مسلمان کو خلیفہ یا امیر تسلیم نہیں کر سکتے۔ چوہدری ظفر اللہ خان کے ربوہ کے خلیفوں اور امیروں کا ہی یہ فتویٰ ہے کہ جو مسلمان مرزائے قادیان کے منکر ہیں، وہ عیسائیوں اور یہودیوں کی طرح اسلام سے خارج ہیں۔

اب یہ یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح کے خارج عن الاسلام (مسلمان) کس طرح خلیفہ ربوہ کو اپنا خلیفہ اور امیر تسلیم کر لیں؟

بہر حال ہم چوہدری ظفر اللہ خان کے وضاحتی بیان کے منتظر ہیں کہ وہ وضاحت کریں کہ ان کی مراد کون سے خلیفہ اور امیر سے ہے، اور اگر وہ مناسب خیال کریں تو ہماری اس تجویز کے متعلق بھی نفی اثبات میں جواب دیں کہ اگر سردست سارے عالم اسلام کے متعلق ممکن نہ ہو اور فی الحال صرف پاکستان کے مسلمان بالفرض صدر محمد ایوب خان کو ہی اپنا خلیفہ یا امیر تسلیم کر لیں جو کہ یقیناً ایک طاقتور خلیفہ اور امیر ہوگا تو چوہدری صاحب اور ان کے دوسرے جدید مسیحی بھائیوں اور (قادیانیوں) کی پوزیشن کیا ہوگی؟ وہ صدر محمد ایوب خان کو اپنا امیر اور خلیفہ تسلیم کرتے ہوئے ان کی زیر قیادت امت مسلمہ کے ساتھ متحد اور مجتمع ہونے کو تیار ہیں یا نہیں؟‘‘

(لولاک مورخہ ۳؍ فروری ۱۹۶۷ء)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۱۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سر ظفر اللہ خان کی منافرت انگیزی، کہاں ہیں عطاء اللہ شاہ بخاری؟

قادیانی جماعت کا سالانہ جلسہ ہر سال ربوہ میں ہوا ہی کرتا ہے اور اس مرتبہ بھی ہوا مگر اس سال جلسہ کے انداز کچھ نرالے ہی تھے جس کی وجہ سے پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات بری طرح مجروح ہوئے ہیں اور ان میں اس طائفہ کے خلاف شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ اشتعال انگیزی کا سب سے بڑا سبب پاکستان کے بدنام ترین سابق وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کا وہ ”بھاشن“ ہے جو انہوں نے اس جلسہ میں دیا اور جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اب ہماری جماعت کی مخالفت کرنے والا کوئی شخص باقی نہیں رہا اور وہ تمام لوگ جو طائفہ قادیانیہ کے مخالف تھے، ختم ہو گئے ہیں۔ ان کے الفاظ جو ہم تک مختلف ذرائع سے پہنچے ہیں کچھ اس قسم کے ہیں: کہاں ہے عطاء اللہ شاہ بخاری، ثناء اللہ امرتسری، ابوالحسنات اور مجلس احرار جو ہماری مخالفت کیا کرتے تھے؟ وہ سب ختم ہو گئے اور ۱۹۵۳ء بھی گزر گیا۔ لیکن ہم باقی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم سچے ہیں۔ اسی کو کہتے ہیں: ”ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ“ اگر کسی شخص کا اس دنیا سے عالم جاودانی کی طرف سدھار جانا ہی صداقت کی دلیل ہے تو دنیا میں کسی شخص کو بھی جھوٹا ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ ہر شخص کے مخالف کو بہر حال ایک نہ ایک دن موت کی آغوش میں چلے ہی جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اس دنیا میں بقا نہیں، جو آیا ہے وہ جانے ہی کے لئے آیا ہے۔ اگر امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری وصال فرما گئے ہیں تو مدت ہوئی! مرزا غلام احمد قادیانی بھی آنجہانی ہوچکے ہیں اور جس حالت میں انہوں نے آخری سانس لئے، لاہور کے بڑے بوڑھے اور برانڈرتھ روڈ پر واقع احمدیہ بلڈنگ کا وہ مکان جس میں انہوں نے دم توڑا، اس پر گواہ ہیں۔ تفصیل کی شاید قانون اجازت نہ دے، اجمالاً یہی کہا جاسکتا ہے ؎

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی

ان کا جانشین بشیر الدین محمود بھی کئی سال تک موت وحیات کی عبرتناک کشمکش میں مبتلا رہ کر کارکنان قضا و قدر کے حوالے ہو چکا ہے اور اس کا وہ اعلان بھی کہ ۱۹۵۳ء نہ گزرنے دو، پادر ہوا ہو چکا ہے۔ پھر آپ سے زیادہ کون واقف ہو گا کہ خلیفہ صاحب کن کن اذیتوں سے دوچار ہو کر دنیا سے گئے ہیں اور کیا کیا تمغہ ہائے خدمت اپنے ہی ماننے والوں سے لے کر گئے ہیں۔ یقین نہ آئے تو ”تاریخ محمودیت“ اور ”ربوہ کے مذہبی آمر“ کا مطالعہ فرما لیجئے اور ”اقرا کتابک“ کا منظر اپنی آنکھوں کے سامنے لائیے۔ ان شاء اللہ! آپ کے ”ویاکھیان“ کی تمام قلعی کھل جائے گی اور اس کے بعد اگر چشم عبرت وا نہ ہو تو وزارت خارجہ سے جدائی اور دھرمسالہ روڈ لاہور چھاؤنی کی کوٹھی سے لے کر لبنان تک بکھری ہوئی داستان عبرت وموعظت پر ہی ٹسوے بہا لیجئے۔ لیکن جب آنکھوں پر پردہ اور دل و دماغ پر تالے پڑ جائیں تو نہ خسوف بدر سے کسی شخص کو سبق ملتا ہے اور نہ ہی ”بشریٰ“ سے محرومی اسے راہ پر لاسکتی ہے۔

اب آپ نے سوال کیا کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور دوسرے مسلمان رہنما کہاں ہیں؟ تو سن لیجئے کہ وہ جنت میں اپنے آقا و مولا فداہ ابی وامی جناب محمد مصطفیٰ ﷺ کے دامن رحمت میں ابدی زندگی کے مزے لے رہے ہیں اور رہ گیا ان کا مشن یعنی عقیدہ ختم نبوت کی تبلیغ تو وہ بھی زندہ و تابندہ ہے اور جب تک کوئی ایک فرد بھی ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کہنے والا موجود ہے، یہ مشن باقی رہے گا اور خانہ ساز نبوتوں کے بخیے ادھڑتے ہی رہیں گے۔ آپ نے مجلس احرار کو اپنے خطاب میں للکارا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ خواب میں بھی ان کا خیال آپ کے قلب و ذہن پر ضرور مسلط رہتا ہوگا۔ کیونکہ انہوں نے آج تک آپ کے کسی امیدوار کو بھی تحریک ختم نبوت کے بعد ملک میں قومی یا صوبائی اسمبلی کا ممبر نہیں بننے دیا اور ہر محاذ پر سارقین ختم نبوت کی گوشمالی کی ہے۔ آپ کو علم ہونا چاہئے کہ یہ جماعت اب

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۱۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بھی موجود ہے اور اس کے آزمودہ کار قائدین اور جواں ہمت رضا کار آج بھی اپنے امیر سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے تجویز کردہ مشن کے حفظ و بقا اور ترقی کے لئے سرگرم کار ہیں۔ البتہ ان میں سے مجلس تحفظ ختم نبوت نے حضرت شاہ صاحب ہی کے ایما پر سیاسیات سے کنارہ کرلیا تھا اور اب وہ علمی و تبلیغی محاذ پر مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری اور مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر کی قیادت میں باطل کی ہر قوت کے مقابلہ میں ڈٹی ہوئی ہے۔ قلمی میدان میں ملک کے شیر دل اور عظیم صحافی آغا شورش کاشمیری کا ’’چٹان‘‘ اسی ذہن کا ترجمان ہے۔ جسے قائد احرار چوہدری افضل حق اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے پیدا کیا تھا اور بحمد اللہ تعالیٰ آپ کے تمام چیتھڑوں پر یہ اکیلا بھاری ہے۔ اس کے علاوہ مولانا عبدالرحیم اشرف کا ’’المنبر‘‘ مولانا تاج محمود کا ’’لولاک‘‘ ماہنامہ ’’تبصرہ‘‘ اور روزنامہ ’’آزاد‘‘ اور دوسرے کئی اخبارات و جرائد احراریت ہی کے نقیب ہیں اور اس کے بعد بھی اگر آپ کو احرار کا سیل رواں نظر نہ آئے تو قصور آپ کی خیرہ چشمی کا ہے، چشمۂ آفتاب کا نہیں۔

لیکن سب سے بڑی غور طلب بات یہ ہے کہ آپ کو یہ باتیں اسی مرحلہ پر ہی کیوں سوجھیں اور آپ نے ان اشتعال انگیز باتوں کے لئے یہی وقت کیوں منتخب کیا جب کہ ملک مشکلات میں گھرا ہوا ہے؟ کیا آپ اس موقع پر اپنے آقایان ولی نعمت اور اپنی جماعت کی کسی خفیہ سازش کو بروئے کار لانے کے خواب تو نہیں دیکھ رہے اور ان کے اشارۂ چشم و ابرو پر ملک میں اشتعال اور افراتفری کو ہوا دے کر اور حکومت وعوام کے درمیان منافرت کی خلیج حائل کر کے کسی طے شدہ پروگرام کی تکمیل تو نہیں چاہتے؟ لیکن یاد رکھئے! مسلمان ان شاء اللہ تعالیٰ آپ کے کسی منصوبے کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور آپ کا کوئی خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔ یہاں ہم اپنی حکومت اور کار پردازان مملکت سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ ربوہ کی سرگرمیوں کا پورا جائزہ لیں۔ سالانہ اجلاس میں ہونے والی تقاریر کا مکمل نوٹس لے کر عوام کے اضطراب کو دور کریں اور حالات کا رخ سمجھنے کی کوشش فرمائیں۔ ہمارے خیال میں اس سارے ڈرامہ کا پس منظر جو اس موقع پر ربوہ میں کھیلا گیا، یہ ہے کہ ملک میں بدامنی اور انتشار کو ہوا دے کر کسی سازش کے لئے راہ ہموار کی جائے۔ چنانچہ ہمارے اس قیاس کو مندرجہ ذیل امور سے تقویت ملتی ہے:

پاکستانی افسروں کو بد دیانت تصور کرتی ہے اور اس طرح ایک طرف پاکستانی عوام کے دلوں میں افسری طبقے کے خلاف نفرت کو ہوا دینے اور پاکستانی عوام اور افسری طبقے کے درمیان منافرت کی خلیج حائل کرنے کی کوشش کی ہے اور دوسری طرف ربوہ کے سالانہ اجلاس میں مذکورہ بالا ’’بھاشن‘‘ کے دوران مسلمان رہنماؤں کے خلاف زہر اگل کر اور ۱۹۵۳ء کے واقعات یاد دلا کر مسلمانوں کے جذبات کو مجموعی طور پر مشتعل و مجروح کرنے کا بیہودہ مظاہرہ کیا ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ ملک میں انتشار و تشتت ہوسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ موجودہ حالات میں جب کہ حکومت پہلے ہی مشکلات میں گھری ہوئی ہے، غلے اور دوسری ضروریات زندگی کی گرانی کا دور دورہ ہے، مزدوروں، مذہبی حلقوں اور عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے، کشمیر کے حالات خراب سے خراب تر ہورہے ہیں اور سب سے بڑھ کر گورنر مغربی پاکستان جنرل محمد موسیٰ کے الفاظ میں ہمارے سر پر ایک کمینہ دشمن کھڑا ہے، اس قسم کی منافرت انگیزی حکومت کے لئے مزید مشکلات اور انتظامیہ کے لئے اپنے فرائض کی انجام دہی کی راہ میں رکاوٹوں کا سبب بن سکتی ہے اور ملک و قوم کے کسی بھی خیر خواہ یا ہمدرد سے اس وقت میں ایسی تقریروں اور اشتعال انگیزیوں کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ چنانچہ ہماری رائے یہ ہے کہ یہ سب کچھ کسی اشارے پر ہورہا ہے اور سر ظفر اللہ خان اور ان کا طائفہ پاکستان اور حکومت پاکستان

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۱۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کا ہرگز خیر خواہ نہیں ہے۔

خوشحالی سے ہمکنار رہے، جس دور میں ان پر کسی طاقتور خلیفہ یا امیر کی حکومت تھی۔ چنانچہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ایک خلیفہ یا امیر کی زیر قیادت مجتمع اور متحد ہو جائیں۔“ (نوائے وقت مورخہ ۳۰؍جنوری ۱۹۶۷ء) واضح بات ہے کہ یہ الفاظ کہہ کر سرظفراللہ نے مملکت در مملکت کا نظریہ پیش کیا ہے اور صدر ایوب سمیت ساری قوم کو مرزا ناصر احمد کی اطاعت کی دعوت دی ہے۔ وہ مرزا ناصر احمد کو مطاع اور صدر ایوب کو عقیدۃً مطیع سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک مذہباً ساری دنیا میں مرزا ناصر احمد کے علاوہ کوئی دوسرا شخص خلیفہ نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ ہم صدر مملکت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ان کا محاسبہ کریں اور پوچھیں کہ آیا وہ مرزا ناصر احمد کے علاوہ بشمول امت مرزائیہ کسی بھی دوسرے شخص کو طاقتور خلیفہ یا امیر ماننے کے لئے تیار ہیں یا دنیا کے کسی مسلمان خلیفہ یا امیر کو اسلامی خلیفہ تسلیم کر سکتے ہیں؟ اگر نہیں اور جیسا کہ ان کا مذہبی عقیدہ ہے یقیناً نہیں مان سکتے تو پھر وہ سارے ملک پر حکومت کے خواب دیکھ رہے ہیں اور بشمول صدر مملکت سارے ملک کے مسلمانوں کو مطیع دیکھنے کے آرزومند ہیں۔ نیز جہاں تک ہمیں یاد ہے، مرزا بشیر الدین محمود نے ایک مرتبہ اس قسم کے الفاظ بھی کہے تھے کہ جب ہماری حکومت ہوگی تو ہم مسلمانوں سے چوہڑے چماروں کا سا سلوک کریں گے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ ریاست در ریاست قائم کئے ہوئے ہیں اور اس ملک پر حکمرانی کا خاکہ بنائے ہوئے ہیں۔

حکومت قائم ہو جائے تو وہ کس قسم کی ہونی چاہئے اور ان کی اس کانفرنس کے ٹھیک، چند دنوں بعد بھارت نے پاکستان پر چوروں کی طرح چڑھائی کر دی۔

نظریہ کے ساتھ دفن کیا گیا تھا کہ وقت آنے پر اس کی لاش کو قادیان لے جایا جائے گا۔ جس کا مطلب یہی لیا جا سکتا ہے کہ قادیانی امت ابھی تک پاکستان کو صدق دل سے تسلیم ہی نہیں کرتی اور اس پر مرزا بشیر الدین آنجہانی کا ایک ”رؤیا“ بھی ہم بطور شہادت پیش کر سکتے ہیں۔

غرض! اس قسم کے کئی حقائق ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ امت قادیانیہ من حیث الجماعت پاکستان اور حکومت پاکستان کی وفادار نہیں ہے اور سر ظفر اللہ خان ملک میں اپنی تقریروں سے انتشار پھیلا کر اپنے کسی خفیہ پروگرام کو عملی شکل دینا چاہتے ہیں، اس لئے حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ سر ظفر اللہ خان کو ایسی تقریر کرنے سے روکے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔ اس موقع پر ہم اپنے مسلمان بھائیوں سے بھی استدعا کرتے ہیں کہ وہ ان کی تقریروں سے مشتعل ہو کر کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس کا بالواسطہ فائدہ امت قادیانیہ کو پہنچ جائے۔ چنانچہ اس وقت مسلمانوں کو لازم ہے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں۔ ان کی سرگرمیوں اور سازشوں سے باخبر رہیں اور ان کی تمام سرگرمیوں کو مختلف ذرائع سے حکومت کے نوٹس میں لائیں تا کہ حکومت کوئی مناسب کارروائی کر سکے۔ وما علینا الا البلاغ !

(خدام الدین مورخہ ۱۷؍فروری ۱۹۶۷ء)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۱۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ربوہ کی حقیقت؟

پچھلے دنوں ربوہ میں چنیوٹ کے دو طالب علموں مسٹر احمد نواز (ایف۔اے)، مسٹر سید اظہر حسین شاہ (بی۔اے) کو قادیانیوں نے مبینہ طور پر ربوہ میں پکڑ لیا۔ حبس بے جا میں رکھا اور دونوں کو ۸۰، ۸۰ کے قریب کوڑے مارے۔ قادیانیوں کو شبہ یہ تھا کہ یہ طالب علم سالانہ جلسہ کے موقعہ پر ہمارے سالانہ جلسہ کی ڈائری چنیوٹ کے مسلمانوں کو پہنچاتے تھے۔ اب یہ معاملہ چونکہ ایک قابل احترام عدالت کے سپرد ہو چکا ہے اس لئے ہم اس واقعہ کے متعلق کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ البتہ یہ کہنے کی اجازت چاہتے ہیں کہ عوام کو بتایا جائے کہ یہ ربوہ کیا چیز ہے۔ بدگمانی کرنا اچھی بات نہیں ہے، لیکن ہمیں شبہ ہے کہ شاید ہمارے ارباب اقتدار کی اکثریت کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ ربوہ کی حقیقت کیا ہے؟

تقسیم ملک کے زمانہ میں صوبہ پنجاب کے گورنر سر فرانسس موڈی تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ یہ انگریزوں کا خود کاشتہ پودا جڑ سے اکھڑ گیا ہے، موڈی بھی انگریز تھا، اس نے اپنے بڑوں کے لگائے ہوئے خود کاشتہ پودے کو ایک مرتبہ پھر دریائے چناب کے کنارے لگا دیا۔ موڈی صاحب نے دریائے چناب کے کنارے پڑا ہوا ایک بقایا رقبہ انجمن احمدیہ ربوہ کو سوا روپیہ کنال یک آنہ فی مرلہ کے حساب سے فروخت کر دیا۔ انجمن احمدیہ نے اس زمین کے پلاٹ بنا دیئے اور سڑکیں وغیرہ لکیر کر ایک آبادی کا نقشہ بنالیا۔ ادھر اتفاق ایسا تھا کہ چوہدری ظفر اللہ خان کے بھائی چوہدری عبداللہ محکمہ بحالیات میں بہت بڑے افسر تھے۔ اسی طرح مرزا مظفر احمد سابق خلیفہ ربوہ کے داماد وغیرہ قادیانی افسران اہم مناصب پر فائز تھے۔ ان قادیانی افسروں کی جرأت مندانہ قادیانیت نوازی اور خویش پروری سے اکثر قادیانی بڑی بڑی املاک کے مالک بن گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے مفلس قلاش قسم کے لوگ لاکھ اور کروڑ پتی بن گئے۔ ربوہ کے یہ پلاٹ ان نو دولت قادیانیوں کو کئی کئی ہزار روپے مرلہ کے حساب سے (Lease) پر دیئے گئے، جس پر انہوں نے مکان تعمیر کر لئے۔ پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں شرط یہ تھی کہ پلاٹ صرف قادیانی لے سکتا ہے اور اسے ہر سال معاہدہ کی تجدید کرانا ہوگی تاکہ اوّل تو کوئی غیر احمدی پلاٹ ہی نہ حاصل کر سکے اور اگر کوئی غلطی سے لے لے یا قبضہ لینے کے بعد کوئی قادیانی ہی مسلمان ہو جائے تو اسے نکالنے کے لئے یہ شرط رکھ لی کہ ہر سال تجدید معاہدہ ضروری ہے۔

اب یہ صرف قادیانیوں کی آبادی پر مشتمل ایک شہر ہے، جس میں دوسرے عقیدے اور خیال کا کوئی آدمی نہ ہے اور نہ رہ سکتا ہے، یہاں تک کہ اس شہر میں گورنر مغربی پاکستان محمد موسیٰ خان۔ گورنر مشرقی پاکستان خان عبدالمنعم خان، کمانڈر انچیف افواج پاکستان محمد یحییٰ خان اور خود صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کو بھی حقوق ملکیت اور حقوق رہائش نہیں مل سکتے۔ جب تک کہ وہ خدانخواستہ قادیانی مذہب نہ قبول کر لیں۔ صرف قادیانی عقیدہ کے لوگوں پر مشتمل آبادی کے قیام کا فلسفہ بغیر کسی وجہ کے نہیں ہے۔ مغل شاہزادوں کی بدچلنیوں کے واقعات کی پردہ پوشی، قادیانی گشٹاپو کے تشدد آمیز سانحات کا ہضم، اپنے دیس میں اپنے راج کا مزہ، اس قسم کے فوائد تو انہیں حاصل ہیں، اس کے علاوہ اور دوسری کئی خطرناک وجوہات بھی سمجھ میں آسکتی ہیں جو یقیناً اس آبادی کے تہ منظر میں موجود ہیں۔ ربوہ انجمن احمدیہ کی ایک نجی زمین اور آبادی تھی، لیکن اسے ایک اہم شہر بنانے کے لئے ہماری حکومتوں نے افسوس ناک حد تک مرزائیت نوازی کا ثبوت دیا ہے۔ ہمیں دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ جن جن حکومتوں نے اس شہر کی تعمیر میں قادیانیت نوازی کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے ملک اور قوم کے مفادات کے ساتھ غداری کی ہے۔ اس قادیانیت نوازی کی چند ایک مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

مشنری کالج ہے) حکومت کے خزانے سے تیرہ لاکھ روپے کی گرانٹ دی۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۱۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

یہ دریائے چناب کے پل اور سیاحوں کا تو صرف نام ہی بدنام ہے، یہ ساری تکنیک ربوہ کی دلکشی اور آبادی کو زینت بخشنے اور بڑے بڑے قادیانی مہمانوں کے لئے ایک مفت کا ریسٹ ہاؤس تیار کرنے کے لئے اختیار کی جارہی ہے۔ وغیرہ وغیرہ! بے شمار باتیں ایسی ہیں جو قومی اور ملکی مفادات کو قربان کرنے کے بعد قادیانیوں کے اس مرکز کی خاطر کی گئی ہیں اور برابر کی جارہی ہیں۔ حکومت کے متعلقہ محکمے یہ سب کچھ کرتے رہے اور کسی اللہ کے بندے کو یہ سوچنے کی توفیق نہ ہوئی کہ آخر کس چیز کے لئے یہ قومی مفادات کو ایک فرقہ کی انجمن کی نجی جائیداد کی ترقی کے لئے صرف کر رہے ہیں؟ حالانکہ اس شہر کی حقیقت صرف اسی قدر ہے جو ہم تحریر کر چکے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ ملک میں ایک ایسی آبادی جس میں صرف ایک عقیدے کے لوگ ہوں اور جس آبادی کے حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہاں جو کچھ بھی ہو اس کا علم نہ تو حکومت کو ہو سکتا ہے اور نہ ہی دوسرے لوگوں کو اور نہ ہی اس کے متعلق کوئی انسدادی کارروائی بر وقت کی جاسکتی ہے۔ اس سلسلہ میں نمونہ کے طور پر ہم چند واقعات کا ذکر کرتے ہیں:

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۱۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قوم اور پورے ملک نے سول ڈیفنس کے حکام سے تعاون کیا، لیکن یہ بات بتائی گئی ہے کہ چنیوٹ کے حکام کو مبینہ طور پر ربوہ کی بجلی کا کنکشن کاٹ دینا پڑا تھا کیونکہ ربوہ بلیک آؤٹ کے سلسلہ میں ان سے تعاون نہیں کرتا تھا۔

گئے۔ ان میں سے بعض کے بچے اور گھر کا سامان تک چھین لیا گیا اور وہ راتوں رات اپنی جان بچا کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس سلسلہ کے کئی مظلوم افراد اور خاندان ربوہ کی سیاہ پیشانی پر سفید داغ کے طور پر ملک میں موجود ہیں۔

انہیں بچا لیا گیا۔ یہ شرمناک شرف بھی ربوہ کو حاصل ہے کہ وہاں کنواری ماؤں نے بیٹوں کو جنم دیا جن کے والدین ربوہ کے اس احسان کو نہ بھولتے ہوئے ترک سکونت پر مجبور ہو گئے۔

ہے کہ وہاں مسلمان لڑکوں کو مرزائیت کا لٹریچر بطور نصاب پڑھنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور انہیں علیحدہ نماز تراویح اور جمعہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ حالانکہ یہ کالج یونیورسٹی سے ملحق ہے اور یونیورسٹی سے ملحق کالجوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ یونیورسٹی کے قواعد وضوابط کی پابندی کریں۔ یونیورسٹی کے رولز میں یہ بات شامل ہے کہ کوئی مشنری ادارہ یونیورسٹی کے مجوزہ نصاب کے علاوہ اپنی (تعلیمات یا) کوئی چیز پڑھانے پر مجبور نہیں کر سکتا۔

سطور بالا میں ہم نے ربوہ کا ہلکا سا تعارف کرایا ہے۔ ہم موجودہ حکومت سے ایک بار پھر درخواست کریں گے کہ وہ اس شہر کی ہئیت کذائی کے متعلق گہرے غور و خوض سے کام لے اور اس شہر کو کھلا شہر قرار دے۔ ہر مکتب فکر اور ہر طرح کے لوگوں کو وہاں کے حقوق ملکیت اور حقوق رہائش دلانے کے لئے یہ شہر کھلا نہیں قرار دیا جاتا تو تمام سرکاری مراعات جن کا بوجھ تمام ملک اور پوری قوم کے خزانے پر پڑتا ہے، واپس لے لی جائیں۔ اگر حکومت دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے ربوہ کی موجودہ حیثیت کو ختم نہیں کرے گی تو اس شہر میں کتنے مظلوموں کے قتل اور کتنے ہی بے گناہوں کو بیدخلی اور کتنے ہی مجبور انسانوں کے اخراج اور بائیکاٹ کے واقعات ہوتے رہیں گے۔ نہ صرف اس قسم کے واقعات رونما ہوں گے بلکہ خدا جانے کس قسم کی خوفناک سازشیں یہاں پروان چڑھیں گی جو ملک اور ملت کے مفاد کے منافی ہوں گی۔‘‘

(لولاک مورخہ ۱۰؍مارچ ۱۹۷۶ء)

ربوہ میں قادیانی دہشت پسندی اور بربریت کی انتہاء

دو مسلمان طلباء کو حبس بے جا میں رکھ کر بیدزنی کا وحشت ناک سانحہ

چنیوٹ (بذریعہ ڈاک) چنیوٹ سے آمدہ اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ پچھلے دنوں دو طالب علم مسٹر احمد نواز (ایف۔اے) اور مسٹر اظہر حسین شاہ (بی۔اے) کو مبینہ طور پر ربوہ میں پکڑ کر حبس بے جا میں رکھا گیا اور انہیں تقریباً ۸۰، ۸۰ کوڑے مار کر شدید جسمانی سزا دی گئی، جس کی وجہ سے دونوں طالب علم بیہوش اور ادھ موئے ہو گئے۔

اس واقعہ کی تفصیلات یہ معلوم ہوئی ہیں کہ مسٹر احمد نواز سابق اسٹوڈنٹ اسلامیہ کالج اس سال ایف۔اے کے امتحان میں بطور پرائیویٹ امیدوار شریک ہونا چاہتے تھے۔ وہ اپنا فارم داخلہ تصدیق کرانے کے لئے پرنسپل اسلامیہ کالج چنیوٹ کے پاس آئے لیکن وہ موجود نہ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۱۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نہ تھے۔ مسٹر احمد نواز ایک دوسرے طالب علم سید اظہر حسین شاہ صاحب کو ساتھ لے کر پرنسپل ٹی آئی کالج ربوہ کے پاس فارم داخلہ تصدیق کرانے کے لئے ربوہ چلے گئے۔ جب یہ دونوں طالب علم ربوہ کی حدود میں پہنچے تو چند قادیانیوں نے انہیں روک کر پوچھ گچھ شروع کر دی اور پھر انہیں دفتر امور عامہ میں جانے پر مجبور کیا۔ وہاں لے جا کر انہیں سخت زدوکوب کیا گیا۔ دونوں طالب علموں کے جسموں پر تقریباً ۸۰،۸۰ کوڑے لگائے گئے، جس کی وجہ سے ان کی حالت غیر ہو گئی۔ شام تک انہیں بند رکھا گیا۔ اس اثناء میں انہیں ریوالور دکھا کر قتل کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ شام کو جب کچھ دوسرے لوگوں کو بھی اس واقعہ کا علم ہو گیا تو مذکورہ طالب علموں اور کچھ دوسرے لوگوں کی مداخلت اور منت سماجت سے انہیں اس شرط پر رہا کیا گیا کہ وہ ایک لکھوائے ہوئے معافی نامہ پر دستخط کر دیں۔ اگرچہ انہیں رہا کر دیا گیا لیکن ان کے پاس جو کچھ تھا وہ چھین لیا گیا۔ جب یہ طالب علم چنیوٹ پہنچے تو قادیانیوں کی اس دہشت پسندی کی خبر آگ کی طرح سارے شہر میں پھیل گئی۔ جس سے عوام کو سخت صدمہ ہوا۔

طلباء کی طرف سے دادرسی کے لئے پولیس اور عدالت کی طرف رجوع کیا گیا۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ ریذیڈنٹ مجسٹریٹ چنیوٹ کی عدالت میں استغاثہ دائر کر دیا گیا ہے۔ اس استغاثہ میں عبدالعزیز بھانپڑی اور ان کے ہیڈ کلرک کو ملزم گردانا گیا ہے۔ سرسری شہادت کے لئے ۲/مارچ کی تاریخ مقرر ہوئی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چنیوٹ کی تمام پارٹیوں اور معززین کا ایک وفد حکام اعلیٰ سے مل کر قادیانیوں کی روز افزوں جارحانہ اشتعال انگیز کارروائیوں سے انہیں آگاہ کرنے والا ہے۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ قادیانیوں کو مذکورہ طلباء کے متعلق یہ شبہ تھا کہ انہوں نے ربوہ کے سالانہ جلسہ کی ڈائری احرار لیڈروں کو پہنچائی ہے۔‘‘

(لولاک مورخہ ۳/فروری ۱۹۶۷ء)

ربوہ تشدد کیس کے لئے ایکشن کمیٹی قائم کر دی گئی

چنیوٹ (بذریعہ ڈاک) ۱۱/مارچ جامع مسجد تبلیغ الاسلام چنیوٹ میں چنیوٹ کے تمام مذہبی، سماجی اور تعلیمی اداروں کے نمائندگان اور دوسرے معززین شہر کا ایک نمائندہ اجتماع زیر صدارت مولانا منظور احمد صاحب پرنسپل جامعہ عربیہ منعقد ہوا۔ اس اجلاس سے صاحب صدر کے علاوہ مولانا تاج محمود مدیر لولاک ’لائل پور‘ حافظ عبید اللہ خان وائس پرنسپل اسلامیہ کالج، شیخ محمد صادق بی۔اے، ایل۔ایل۔بی، میاں محمد رفیق سہگل، میاں ظہور احمد صاحب جنرل سیکرٹری مجلس تحفظ ختم نبوت، جناب ملک اللہ دتہ صاحب صدر مجلس احرار اسلام، ڈاکٹر محمد اسماعیل ڈویژنل سالار خاکسار تحریک، مولانا محمد وارث جمعیۃ علمائے اسلام، ہیڈ ماسٹر اصلاح ہائی سکول جناب محمد یوسف صاحب دوہرہ نے خطاب کیا۔

اجلاس میں طے پایا کہ گزشتہ دنوں اسلامیہ کالج چنیوٹ کے جن دو سابقہ اسٹوڈنٹس کو ربوہ میں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ان کی قانونی امداد کے لئے ایک ایکشن کمیٹی قائم کی جائے جو مستغیثین کو ہر طرح کی قانونی امداد مہیا کرے۔ اس اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ چنیوٹ کے معززین کے نمائندہ وفود اعلیٰ حکام سے مل کر ربوہ میں آئے دن ہونے والے تشدد آمیز واقعات کی طرف ان کی توجہ مبذول کرائیں تاکہ اعلیٰ حکام قانون کو ہاتھ میں لینے والوں اور شہریوں کے سکون کو نقصان پہنچانے والے مجرموں کے خلاف انسدادی کارروائی کریں۔ اس اجلاس میں ایک ایکشن کمیٹی بنائی گئی، جس کے کنوئیر ڈاکٹر محمد اسماعیل اور سیکرٹری چوہدری ظہور احمد صاحب ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت منتخب کئے گئے۔ اس اجلاس میں قادیانیوں کی ربوہ تشدد کیس میں منظم مداخلت پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

دریں اثناء روزنامہ نوائے وقت لاہور کی اطلاع کے مطابق ریذیڈنٹ مجسٹریٹ چنیوٹ رائے سلطان محمد کی عدالت میں گزشتہ روز استغاثہ کی سماعت ہوئی جو احمد نواز دھاڑیوال نے عبدالعزیز بھانپڑی اور عبدالرشید وغیرہ کے خلاف دائر کر رکھا ہے۔ استغاثہ میں عبدالعزیز وغیرہ پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے دو طالب علموں احمد نواز اور اظہر حسین کو ربوہ میں ایک کمرہ میں محبوس رکھ کر انہیں بیدوں

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۱۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سے مضروب کیا اور انہیں صبح گیارہ بجے سے لے کر شام ۷ بجے تک بند رکھا۔ سماعت کے دوران مستغیث کا بیان از سر نو قلمبند کیا گیا۔ بیان میں مستغیث نے تمام واقعات بیان کئے۔‘‘

(لولاک مؤرخہ ۲۲؍ مارچ ۱۹۶۷ء)

ربوہ تشدد کیس کی سماعت

۳؍اپریل چنیوٹ سے آمدہ اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ ربوہ تشدد کیس کی سماعت ریذیڈنٹ مجسٹریٹ نے آئندہ پیشی تک کے لئے ملتوی کر دی ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس کیس کی فائل جناب ڈپٹی کمشنر جھنگ نے اپنے پاس منگوا لی ہے۔ استغاثہ کی طرف سے قائم ہونیوالی ایکشن کمیٹی کے قریبی حلقوں میں یہ افواہ گشت کر رہی ہے کہ غالباً ربوہ کے تمام قادیانیوں نے ڈپٹی کمشنر جھنگ سے درخواست کی ہے کہ اس کیس کی سماعت چنیوٹ سے جھنگ میں منتقل کر دی جائے۔ چنیوٹ سے مقدمہ کی منتقلی کی ضرورت اس کیس کے مبینہ ملزموں کو غالباً کسی فرضی خوف کی بنا پر لاحق ہوئی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جب اس مقدمہ کے مبینہ ملزمان عدالت میں پیش ہونے کے لئے چنیوٹ آئیں گے تو چنیوٹ کے مشتعل مسلمان ان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی کریں گے۔ ایکشن کمیٹی کے قریبی حلقوں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایکشن کمیٹی اس امر پر غور کر رہی ہے کہ ہائیکورٹ لاہور میں انتقال مقدمہ کی درخواست استغاثہ کی طرف سے پیش کی جائے۔ جس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ چونکہ مبینہ ملزمان نہایت ہی بااثر جماعت کے افراد ہیں، اس لئے اس مقدمہ کی سماعت اوّل تو ہائیکورٹ میں ہو، ورنہ سرگودھا اور جھنگ کے علاوہ کسی اور ضلع کی اعلیٰ عدالت میں ہونی چاہئے۔ مزید اطلاعات کا انتظار ہے۔‘‘

(لولاک مؤرخہ ۷؍اپریل ۱۹۶۷ء)

ڈپٹی کمشنر ساہیوال کا مولانا حبیب اللہ کو نوٹس

ڈپٹی کمشنر ساہیوال نے اپنے ایک میمورنڈم کے ذریعے ملک کے مشہور عالم دین حضرت مولانا حبیب اللہ فاضل رشیدی ناظم اعلیٰ جامعہ رشیدیہ منٹگمری کو ’احمدیہ فرقے اور رؤیت ہلال کمیٹی‘ پر کسی قسم کی تنقید یا تبصرہ سے باز رہنے کا نوٹس دیا ہے۔ انہوں نے اپنے حکم نامے میں تحریر فرمایا ہے کہ ایس. پی ساہیوال کی معرفت انہیں پتہ چلا ہے کہ مولانا موصوف جامعہ رشیدیہ کی مسجد میں خطبہ جمعہ کے دوران احمدیہ فرقے اور رؤیت ہلال کمیٹی کو نشانہ تنقید بناتے ہیں اور اس کی وجہ سے شہر میں فرقہ وارانہ منافرت اور کھچاؤ پیدا ہو رہا ہے۔ اس لئے وہ آئندہ ان ہر دو موضوعات پر خطبۂ جمعہ کے دوران کوئی اظہار رائے نہ کریں۔ ورنہ ”ویسٹ پاکستان مینٹیننس آف پبلک آرڈر“ کے تحت ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

جہاں تک ڈپٹی کمشنر ساہیوال کے اس میمورنڈم یا انتباہ کا تعلق ہے ہمیں اپنے اس حسن ظن کا اظہار کرنے میں کوئی باک نہیں کہ انہوں نے رواداری اور سمجھ داری کا ثبوت دیا ہے اور معاملہ کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے کسی قسم کے الجھاؤ کے بغیر باہمی افہام وتفہیم سے اس کو سلجھانے کی راہ پیدا کی ہے، ورنہ اگر وہ پولیس کی رپورٹ پر براہ راست کوئی فوری اقدام کر بیٹھتے تو انہیں اس سے کون روک سکتا تھا؟ تاہم اس مرحلہ پر ہم ڈی سی صاحب کے بجائے حکومت سے یہ سوال کرنا چاہتے ہیں کہ آخر اس قسم کے اقدامات ایک طرفہ کیوں ہو رہے ہیں اور قادیانی فرقے کے لوگوں کو کیوں ہدایات جاری نہیں کی جاتیں کہ وہ بھی اپنی زبانوں کو بند رکھیں اور نت نئی قسم کی اشتعال انگیزیوں سے باز آ جائیں۔ درحقیقت مسلمان علماء تو عوام کا ایمان بچانے کے لئے دفاعی تقاریر کرتے ہیں اور امت قادیانیہ کی طرف سے پھیلائی گئی غلط فہمیوں اور فتنہ پردازیوں کا ازالہ کرتے ہیں۔ یہ علماء کا مذہبی فریضہ اور شہری حق ہے، جسے چھیننا یقیناً مداخلت فی الدین اور غیر جمہوری وغیر قانونی اقدام ہے۔ ہمارے سامنے اس قسم کے بیشتر واقعات ہیں کہ امت قادیانیہ کے بعض سرکردہ افراد نے ملکی دستور کے علی الرغم

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۱۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اور افسری اثر و رسوخ کے بل بوتے پر ملک کے کئی مقامات میں عام مسلمانوں سے بہیمانہ، انسانیت کش اور ایمان سوز سلوک کیا۔ ابھی چند دنوں کی بات ہے کہ چنیوٹ کے دو مسلمان طالب علم ٹی آئی کالج کے پرنسپل سے اپنے کاغذات داخلہ تصدیق کرانے کے لئے ربوہ گئے۔ لیکن انہیں ربوہ کے ناظم الامور نے شام تک حبس بے جا میں رکھا۔ کوڑوں سے بری طرح زدوکوب کرایا۔ قتل کرنے کی دھمکیاں دیں اور بالآخر بعض افراد کی مداخلت پر ان سے خود ساختہ اور من گھڑت معافی ناموں پر دستخط لے کر رہا کر دیا گیا۔ چنانچہ ہر دو طالب علموں نے ریذیڈنٹ مجسٹریٹ چنیوٹ کی عدالت میں استغاثہ بھی دائر کر دیا ہے اور اب بعض قادیانی افسر اپنے اثر و رسوخ سے کام لے کر اسے ختم کرانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

غرض! اس قسم کے بہت سے نظائر ہیں جنہیں بطور شہادت پیش کیا جا سکتا ہے اور یہ تازہ واقعہ ان کا مؤید ہے۔ لیکن چونکہ یہ معاملہ اس وقت عدالت میں ہے، اس لئے ہم اس پر کسی قسم کی رائے زنی سے قاصر ہیں اور اس کا فیصلہ عدالت کی صوابدید پر چھوڑتے ہیں۔ علاوہ ازیں بعض معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سندھ کے کسی شہر میں ایک قادیانی مبلغ نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا، اسی طرح دیگر قادیانی مبلغین بھی مختلف مقامات پر خلاف اسلام اور اشتعال انگیز سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ جن کی بنا پر علماء کرام اور عوام میں اضطراب اور بے چینی کا پھیلنا ناگزیر ہے۔ پھر مرزا غلام احمد قادیانی کی وہ تحریریں اس پر مستزاد ہیں جن میں انہوں نے نہ صرف عام مسلمانوں کو کنجریوں کی اولاد کہا ہے بلکہ امام حسین ؓ ، سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء ؓ ، دیگر بزرگوں اور بعض جلیل القدر پیغمبروں تک کو ہدف تنقید بنایا اور ان کی توہین کی ہے۔ مزید برآں ان کی بعض کتابیں ایسی بھی ہیں جن میں لعنت کا استعمال اس کثرت سے کیا گیا ہے کہ لعنت کے سوا ان کتابوں میں کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ مگر حکومت نے آج تک نہ اس قسم کی تحریروں کی ضبطی کے احکام صادر فرمائے ہیں اور نہ قادیانیوں کے خلاف قانونی اور اسلام دشمن سرگرمیوں کا نوٹس لیا ہے۔ اس کے برعکس اگر مسلمان علماء کرام اسلام اور ملک وملت کش سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے واویلا کرتے ہیں اور اپنا دینی فریضہ ادا کرتے ہیں تو ان پر پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں جس کے متعلق اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے ؎

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

(لولاک ج ۲ ش۴،مورخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۶۷ء، ۲۶؍ذی الحجہ ۱۳۸۶ھ)

باطنی جہاد کا اعلان، خواجہ حسن نظامی کا ایک چیلنج

’’صد حسین است در گریبانش‘‘

آج کل ربوہ کے سارقین ختم نبوت گردو نواح کے سادہ لوح دیہاتیوں کو مرزا قادیانی کی ایک کتاب دکھاتے پھرتے ہیں جس میں درج ہے کہ انہوں نے اپنے وقت کے تمام علماء و مشائخ کو دعوت مباہلہ و مناظرہ دی تھی، لیکن کوئی مقابلے کی ہمت و جرأت نہ کر سکا۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ مولانا محمد حسین بٹالوی، مولانا ثناء اللہ امرتسری، پیر مہر علی شاہ اور کئی دوسرے اکابرین اسلام نے مرزا قادیانی کو للکارا، لیکن وہ لطائف الحیل سے ٹال گئے۔ بعد کے بزرگوں نے مرزا قادیانی کے صاحبزادے اور خلیفہ محمود قادیانی کو للکارا، لیکن وہ بھی اپنے باوا کی طرح میدان میں نہ نکلے۔ ذیل میں ہم روزنامہ ’’ستارہ صبح‘‘ ۱۶؍دسمبر ۱۹۱۷ء سے خواجہ حسن نظامی مرحوم کا ایک چیلنج شائع کر رہے ہیں۔ روزنامہ ’’ستارہ صبح‘‘ مولانا ظفر علی خان کی ادارت میں لاہور ہی سے شائع ہوتا تھا۔ (ادارہ)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۲۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

”مرزا غلام احمد قادیانی کا نام سنا ہوگا۔ کسی نبی، کسی ولی اور کسی واجب الاحترام بزرگ کو انہوں نے پھبتی اور آوازہ کشی سے باقی نہیں چھوڑا۔ عنوان میں جو فقرہ ہے یہ ان ہی صاحب کا فرمودہ ہے۔ انہوں نے تو یہ فرمایا تھا: صد حسین است در گریبانم (سینکڑوں حسین میرے گریبان میں پڑے ہوئے ہیں) مگر مجھ سے یہ بے ادبی نہ ہوسکی کہ ”گریبانم“ لکھ کر اپنی ذات کو اس کفر کا ہدف بناتا، اس واسطے ”گریبانش“ کر دیا تاکہ سوءادبی کے مرتکب وہی رہیں۔

خبر نہیں ...... یہ روش انہوں نے کہاں سے سیکھی تھی۔ میرے خیال میں یہ امن کے فلسفہ، تدبیر اجتماع کا ایک لٹکا (ٹوٹکا) تھا جس سے وہ طبائع کو چونکا کر اپنی طرف متوجہ کرنے کا مقصد پیش نظر رکھتے تھے۔ اپنی بیوی کو ام المؤمنین، اپنے گھر کو حرم، اپنے کنبہ کو خاندان نبوت کہنا اور اپنے نام کے ساتھ ”علیہ الصلوٰۃ والسلام“ لکھوانا، اسی مصلحت اجتماع کے ماتحت تھا کہ خلقت اس عجیب و غریب طرز حالات و خطابات سے متعجب ہو اور پھر اس کے دل میں ان کی حقیقت معلوم کرنے کا شوق پیدا ہو جائے۔ کیونکہ وہ تحریریں عموماً قرآن وحدیث کے حوالوں اور ان کی غلط تاویلوں کے لباس میں ہوتی ہیں، ایک سیدھا سادہ مسلمان خواہ مخواہ کچھ نہ کچھ ان میں معقولیت کا خیال کرنے لگتا ہے۔ یہ فقرہ ”صد حسین است در گریبانم“ بھی اسی اصول سیاسی و تدبیری سے ارشاد فرمایا گیا تھا کہ شیعان حسین علیہ السلام اور محبان اہل بیت اہل سنت و جماعت اس سے بھڑکیں گے اور ان کو قدرتاً مرزا قادیانی کے موجود ہونے کا احساس پیدا ہوگا۔

میں ایک زمانہ میں بسبب اخلاق و مروت کے مرزا قادیانی آنجہانی کے بعض حالات کا مداح تھا اور مرزا قادیانی بھی میرے ساتھ بہت ملنساری کا برتاؤ رکھتے تھے۔ جب وہ مرے ہیں تو میں نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ صوفیوں کے مختلف سلاسل کی طرح ان کی جماعت کو بھی ایک سلسلہ سمجھنا چاہئے۔ مخالفت اور جھگڑے کی ضرورت نہیں اور میری اس تحریر پر اہل سنت والجماعت فرقہ نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔ مگر جب میں نے اس جماعت کے اہم اور کارکن افراد کے طرز عمل مشاہدہ کئے تو میں نے سابقہ خیالات سے توبہ کر لی۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری و دیگر واقف کار حضرات کے قطع نظر ! غالباً اہل دہلی میں جتنا علم مجھ کو اس گروہ مقدس کے حالات عجیب سے ہے، اتنا اور کسی کو کم ہوگا۔ ان کی ظاہر داریاں ان کی دنیاوی حکمت عملیاں اور ان کا گندم دکھا کر جو فروخت کرنا، میں نے اچھی طرح دیکھ کر اور سمجھ کر ان کے خلاف قلم اٹھایا۔ مجھے اپنے ان کمزور دماغ اور کمزور ارادہ احباب کی حالت پر رحم آتا ہے جو قادیانی چرواہے کے آگے بکریاں بن کر سر جھکائے دودھ دے رہے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے اور غالباً میرے قدیمی دوست ایڈیٹر صاحب ”الحکم“ اور ایڈیٹر صاحب ”بدر“ نے بھی اس کو فراموش نہ کیا ہوگا، ان کے مرزا قادیانی جب درگاہ حضرت محبوب الٰہی میں حاضر ہوئے اور مزار مبارک کے پہلو میں مراقب رہ کر انہوں نے دعائیں مانگیں تو وہ ان دونوں ایڈیٹرز مذکور کے ہمراہ میرے حجرے میں بھی تشریف لائے تھے اور اس وقت ہمراہیوں کو علیحدہ کر دیا گیا تھا۔ حجرے میں صرف وہ تھے، ان کے یہ دو ایڈیٹر تھے اور میں تھا۔ اس وقت انہوں نے ایک مشاہدہ یا خواب بیان کیا تھا جس کا مفہوم غالباً یہ تھا: ”ہم نے دیکھا کہ آنحضرت ﷺ تشریف لائے اور انہوں نے ہمارے سر کو اپنے زانو پر رکھ لیا۔ پھر حضرت علی ؓ آئے اور انہوں نے ہم کو ایک کتاب دی، جس کی جلد ابری کی تھی۔ پھر حسین ؓ تشریف لائے جن کے چہرے مغموم تھے۔ پھر ایک بی بی صاحبہ تشریف لائیں جن کی نسبت بتایا گیا وہ فاطمۃ الزہرا ؓ ہیں۔ ان کی صورت بالکل ہماری بہن کی سی تھی۔“

یہ پہلا موقع تھا جب میں نے سیدہ عالم بنت رسول اللہ ﷺ کو ایک مغل زادی کے ساتھ مشابہت دیتے ہوئے سنا اور میرے دل کی حالت مارے غصہ کے متغیر ہوگئی۔ مگر ان صاحب کے تاویلی الفاظ سن کر میں نے ضبط کیا اور خیال ہوا کہ ان کا منشا بے ادبی کرنے کا نہیں ہے، جیسا کہ وہ ظاہر کرتے ہیں۔ مگر بعد کے واقعات وحالات نے میرے عقائد کو بدل دیا۔ میں نے اس معاملہ میں صلح کلی اور رواداری کو

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۲۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ایک سخت گناہ خیال کیا اور اپنے قادیانی احباب کی ناراضی سے بے پروا کھلم کھلا اصلیت ظاہر کر دی۔ جس سے قدرتاً قادیانی کیمپ میں ایک تہلکہ مچ گیا اور امام و مقتدیٰ سب کے سب کچھ آپ ہی آپ سرگوشیاں کرنے لگے۔ اس کے بعد میرے ایک دوست کی معرفت جو اپنی جسمانی ناتوانی کے سبب بہت بودے عقائد کے ہیں اور قادیانی ہو گئے ہیں، ایک الٹی میٹم بھجوایا جس کا آخری فقرہ یہ تھا کہ ”نتیجہ اچھا نہ ہوگا‘‘ میں اس پیام جنگ کا جواب محرم میں بہت خوشی اور شوق شہادت کے ساتھ یہ دیتا ہوں کہ آگے بڑھو! لکھنا پڑھنا بہت ہو چکا۔ زبان درازیوں کی حد ہوگئی۔ اب باطنی طاقتوں کا کرشمہ بھی تو دکھاؤ! میرے بزرگوں نے اس سے روکا ہے اور منع کیا ہے۔ وہ ان خرافات تراشیوں میں اپنی مخفی ہمتوں اور غیبی تصرفات کو ظاہر نہیں کیا کرتے۔ مگر جب تمہاری زبان درازیاں حد سے بڑھیں گی تو مجبوراً کوئی خدا کا بندہ اپنے پروردگار سے ان قوتوں کے استعمال کی اجازت بھی لے گا۔ اس وقت تم کو معلوم ہوگا کہ درویشوں کا خرقہ خالی نہ تھا۔

اجمیر شریف میں بلاوا

میں تمہارے امیر المؤمنین مرزا محمود احمد کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اجمیر شریف میں آئیں۔ میں بھی دہلی سے وہاں حاضر ہو جاؤں گا۔ آستانہ خواجہ غریب نواز کی مسجد میں مرزا محمود قادیانی میرے ساتھ کھڑے ہوں اور اپنی باطنی قوت کے تمام حربے مجھ پر آزمائیں اور جب وہ اپنی ساری کرامت آزما چکیں تو مجھ کو اجازت دی جائے کہ میں صرف یہ کہوں: ”اے خدا! بطفیل اس صاحب مزار کی حقانیت کے اپنی صداقت کو ظاہر کر اور ہم دونوں میں جو جھوٹا ہو اس کو اسی وقت اور اسی لمحہ میں ہلاک کر دے۔‘‘

اور اس کے بعد مرزا محمود کو اجازت دی جائے کہ وہ اپنے الفاظ میں جو دعا چاہیں کریں۔ ایک گھنٹہ کی مدت مقرر کی جائے، یعنی دونوں آدمیوں میں سے ایک پر ایک گھنٹہ کے اندر اس دعا کا اثر ظاہر ہونا چاہئے۔ مرزا محمود قادیانی دیکھ لیں گے کہ قدرت کیا تماشا دکھاتی ہے۔ کون مرتا ہے اور کون زندہ رہتا ہے۔ مردانگی ہے، صداقت ہے تو آؤ اس آزمائش گاہ کی سیر کرو! جہاں ایک گھنٹہ کے اندر سب کچھ نظر آ جائے گا۔ ڈرو مت! میرے پاس اڑنے والا زہر یا گیس نہ ہوگی۔ نہ میں تم کو دیکھوں گا جس سے تم کو اندیشہ ہو کہ مسمریزم یا ہپناٹزم کے ذریعہ مار ڈالا۔ میں تم سے دس قدم کے فاصلہ پر تمہاری طرف سے منہ پھیر کر گنبد خواجہ کی جانب رخ کر کے کھڑا ہوں گا۔ اگر تم کو یہ مطالبہ منظور ہو تو ربیع الاول ۱۳۳۶ھ کی چھٹی تاریخ کو اپنے حواریوں کو لے کر اجمیر شریف آ جاؤ اور مسجد میں پوری جماعت کے ساتھ آؤ اور میں بالکل اکیلا آؤں گا۔ مسجد میں بھی میرے پاس کسی دوسرے کو کھڑے ہونے کی اجازت نہ ہوگی، تاکہ تم کو یہ اندیشہ نہ ہو کہ میرے آدمی تم پر حملہ کر کے مار ڈالیں گے۔

گورنمنٹ سے اجازت لینا اور انتظام کرنا یہ سب تمہارے ذمے ہوگا اور تم کو باضابطہ ایک تحریر دینا پڑے گی کہ اگر میں آج مر گیا تو میرے وارث حسن نظامی پر خون کا دعویٰ نہ کریں گے، نہ سرکار کو اس میں دخل دینے کا اختیار ہوگا۔ ایسی ہی تحریر میں بھی اپنے وارثوں سے سرکار میں داخل کرا دوں گا۔

دیکھو! بہت آسان بحث ہے۔ بہت جلدی ہندوستان کی ایک مصیبت ختم ہو جائے گی جو تمہارے وجود سے پیدا ہو گئی ہے۔ اس میں دریغ نہ کرو۔ ایسا موقع قسمت ہی سے آیا کرتا ہے۔ دیر نہ کرو اور فوراً اس دعوت کو قبول کر لو۔ جب تم اس ارادہ سے اجمیر شریف آؤ تو اپنی والدہ صاحبہ سے دودھ بخشوا کر آنا اور ریلوے کمپنی سے ایک گاڑی کا بندوبست کرالینا جس میں تمہاری لاش قادیان روانہ ہو سکے اور نیز اپنی اہلیہ صاحبہ سے مہر بھی معاف کرا لینا اور قادیان کو والد ماجد کی قبر سمیت ذرا غور سے دیکھ کر آنا کہ پھر تم کو زندگی میں وہ درو دیوار دیکھنے نصیب نہ ہوں گے اور ضرورت ہے کہ وصیت نامہ بھی مکمل کر دینا اور جانشین کے مسئلہ کو بھی طے کر کے آنا۔ یہ میں اس واسطے کہتا ہوں کہ مجھے

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۲۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اپنے برحق ہونے اور تمہارے مرنے کا پورا یقین ہے۔ اس کے علاوہ کچھ اور وجوہات بھی ہیں جن کو میں جانتا ہوں اور میرا قبول کر لینے والا اور میری بات کا لاج رکھنے والا خدا جانتا ہے، جن کو بیان کرنا تمہاری طرح خودستائی کرنا ہے۔ اس پیام جنگ کا جلدی چاہنے والا حسن نظامی۔ (نظام المشائخ)

(لولاک مؤرخہ ۲۲؍ مارچ ۱۹۶۷ء)

افریقہ میں قادیانیوں کی سرگرمیاں ...... بریگیڈیئر گلزار احمد کے تاثرات

قادیانیت اپنے مخصوص عقائد اور عزائم کی روشنی میں بلاشبہ ایک ایسی تحریک ہے جو انگریزوں کی سرپرستی میں ہی معرض وجود میں آئی اور انگریزوں نے ہی اپنے اس خود کاشتہ پودے کی آبیاری بھی کی اور اسے ملت اسلامیہ میں نفاق وافتراق اور انتشار پھیلانے کے لئے استعمال کیا۔ اس جماعت نے نہ صرف ہندو پاک میں بلکہ دوسرے ممالک میں بھی تبلیغ اسلام کا ڈھونگ رچا کر انگریزوں کے لئے جاسوسی کے فرائض سرانجام دیئے اور اب تک برابر اسی مقدس فریضہ کی ادائیگی میں سرگرم ہے۔ انگریزوں کی جاسوسی مرزائیوں کے لئے کوئی باعث شرم بات نہیں بلکہ مرزائیوں نے اسے اپنے لئے باعث فخر سمجھتے ہوئے اپنے اخبار میں خود ہی لکھا ہے کہ ایک دفعہ جرمنی کے ایک شہر میں ہماری ایک عمارت (عبادت گاہ) کا افتتاح تھا۔ اس تقریب میں ہم نے وہاں کے ایک وزیر کو بھی مدعو کیا ہوا تھا۔ جب وہ وزیر صاحب ہماری تقریب میں شرکت کرنے کے بعد واپس گئے تو ان کی حکومت نے ان سے اس بنا پر جواب طلبی کر لی کہ تم ایک ایسی جماعت کی تقریب میں کیوں شریک ہوئے جو انگریزوں کی جاسوس ہے؟ ۱۹۶۰ء میں موجودہ حکومت کی طرف سے ایک وفد نے افریقہ کا دورہ کیا تھا۔ اس وفد کے ساتھ ایک رکن کی حیثیت سے ہمارے مایہ ناز فوج کے ایک سپوت بریگیڈیئر گلزار احمد بھی شامل تھے۔ بریگیڈیئر صاحب موصوف نے واپسی پر اپنے اس دورہ کے تاثرات ”تذکرہ افریقہ“ نامی کتاب کی شکل میں قلمبند کئے۔ زیرنظر مضمون میں ہم ”تذکرہ افریقہ“ سے ہی چند اقتباسات شائع کر رہے ہیں۔ جن سے بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے کہ قادیانی بیرونی ممالک میں کون سی تبلیغ کر رہے ہیں؟ ان کے ہاتھوں وہاں کے مسلمانوں پر کیا بیت رہی ہے اور یہ کس طرح سے اسلام اور پاکستان کی رسوائی کا باعث بنے ہوئے ہیں؟

قادیانی مشن صرف انگریزی علاقوں میں قائم ہیں

بریگیڈیئر گلزار احمد گھانا کے ایک عالم دین مولانا محمد سبیعی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: انہوں (مولانا) نے بتایا کہ گھانا میں احمدی مشن کام کر رہا ہے۔ (ساتھ ہی یہ بھی) پوچھنے لگے کہ احمدی مشن صرف انگریزی علاقوں میں کیوں ہیں؟ اور فرانسیسی یا دوسرے علاقوں میں کیوں نہیں؟ ہم اس پر خاموش رہے، انہیں شکایت تھی کہ وہ (قادیانی) مسلمانوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟

(تذکرہ افریقہ ص ۲۸)

افریقی باشندے قادیانی مشنوں سے نالاں ہیں

بریگیڈیئر گلزار احمد صاحب باتھرسٹ (گامبیا) میں قادیانی مشن کی رنج دہ حالت کے متعلق لکھتے ہیں: احمدیہ مشن کے لوگ کبھی کبھی یہاں آتے رہتے ہیں۔ مگر اب مقامی لوگوں کے کہنے پر ان کا آنا بند کر دیا گیا ہے۔ ایک مقامی افریقی نے ملتے ہی شکایت کی کہ آپ لوگ کیوں ہم میں افتراق پھیلا رہے ہیں؟ ہم نے پوچھا: کیوں کیا بات ہے؟ اس نے کہا کہ آپ کے لوگ (قادیانی) اپنے آپ کو کہتے مسلمان ہیں مگر ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھتے۔ ان پڑھ آدمی تھا، مگر سادہ سا استدلال، کہنے لگا: آپ کے ہم وطن (قادیانی) کہتے ہیں کہ ایک نیا پیغمبر آیا ہے، مگر فرق بہت تھوڑا بتاتے ہیں۔ اتنے تھوڑے فرق کے لئے خدا کو پیغمبر بھیجنے کی ضرورت کیوں پڑی؟

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۲۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

برگیڈیئر گلزار احمد اس واقعہ کو تحریر کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ یہاں (باتھرسٹ گامبیا) میں صرف مالکی مسلمان ہیں، کوئی اور فرقہ یا مکتب خیال نہیں بستا۔ ان میں تفرقہ پیدا کرنا از حد تنگ نظری اور کوتاہ اندیشی ہوگی ...... اگر ہم اپنی ضد صد پارگی کو یہاں بھی داخل کردیں گے تو ہم روز قیامت اس رخنہ اندازی کے لئے جواب دہ ہوں گے۔

(تذکرہ افریقہ ص ۱۱۱)

قادیانی مشن افریقی ممالک میں انتشار پھیلا رہے ہیں

اس سرکاری وفد کے اراکین جہاں بھی گئے انہیں قادیانی مشنوں کی ناپسندیدہ سرگرمیوں سے آگاہ کیا گیا۔ باتھرسٹ (گامبیا) کے امام مسجد الحاج مولانا محمد الامین بدر سے وفد کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے وفد کو قادیانیوں کی مفسدانہ اور مرتدانہ سرگرمیاں تفصیل کے ساتھ بتائیں۔ برگیڈیئر صاحب، مولانا بدر کی گفتگو نقل کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: (مولانا بدر نے) پھر پوچھا: ”آپ احمدی ہیں“ ہم نے کہا: کیوں کیا بات ہے؟ مولانا نے کہا کہ وہ یہاں آ کر ہم لوگوں میں فساد پیدا کرتے ہیں۔ اپنی حکومت سے کہئے کہ ان لوگوں کو یہاں نہ بھیجا کریں۔ ممکن ہے کہ یہاں پر آ کر احمدیہ مشن والے بتاتے ہوں کہ وہ حکومت کے بھیجے ہوئے ہیں۔ آج کچھ اس قسم کی باتوں سے دو چار ہونا پڑا تھا۔ ان (مولانا بدر) سے اجازت لے کر دوسری سڑک پر گئے تو وہاں ایک صاحب سڑک کے کنارے آرام کرسی پر نیم دراز تھے۔ ہم گزر رہے تھے کہ آواز آئی: ”ارے ہندی“ ہم نے کہا: نہیں بھئی! پاکستانی، وہ بولے: ”اچھا جہاں کے لوگ احمدی ہوتے ہیں“، ہم میں سے کسی نے کہا کہ سب تو نہیں، کچھ احمدی ہیں۔ وہ بولے تو پھر ان کو یہاں کیوں بھیجتے ہو اور پھر شکایت بالتفصیل شروع کردی۔

(تذکرہ افریقہ ص ۱۱۴)

مسلمانوں کو قادیانی بنایا جارہا ہے

برگیڈیئر صاحب نے لائبیریا میں قادیانی مشن کے ضمن میں تحریر کیا ہے کہ احمدیہ مشن کے امیر مسٹر صدیقی ملنے آئے۔ امیر جماعت احمدیہ کی علمی استعداد محدود نظر آتی ہے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ اب تک توجہ مسلمانوں کو احمدی بنانے پر صرف کی ہے تا کہ ان میں سے مبلغین پیدا ہوسکیں۔ عیسائیوں اور ارواح پرستوں کی طرف پھر متوجہ ہوگا۔

(تذکرہ افریقہ ص ۱۲۵)

زرمبادلہ کا ہیر پھیر

گزشتہ سے پیوستہ سال قومی اسمبلی میں مولانا محمد یوسف رکن قومی اسمبلی کے ایک سوال کے جواب میں خزانہ کے پارلیمینٹری سیکرٹری مسٹر محمد حنیف خان نے انکشاف کیا تھا کہ مرکزی حکومت نے مرزائی مشنوں کو بیرونی ممالک میں ان کی تبلیغی اور دوسری سرگرمیوں کے لئے بارہ لاکھ گیارہ ہزار نو سو اٹھائیس روپے کا زر مبادلہ دیا ہے۔ اس قسم کا پروپیگنڈہ ربوہ سے شائع ہونے والے مرزائی لٹریچر میں بھی آئے دن ہوتا رہتا ہے۔ افریقہ میں اسلام کی اشاعت کے نام پر مرزائیت کی تبلیغ کے لئے لاکھوں روپے کا زر مبادلہ حاصل کر لیا جاتا ہے لیکن حقیقت الامر یہ ہے کہ افریقہ میں یہاں سے بھیجا ہوا زر مبادلہ خرچ نہیں کیا جاتا ، جس کا ایک ثبوت برگیڈیئر صاحب کے درج ذیل اقتباس سے مل سکتا ہے: ” کل یعنی ۱۱؍ جون (۱۹۶۰ء) کی صبح کو جب اپنے ہائی کمیشن کے دفتر گئے تو وہاں گھانا کی احمدیہ جماعت کے امیر جماعت ملنے آئے۔ انہیں یہاں چودہ سال ہو چکے ہیں۔ ان کے ساتھ اکرا کے مبلغ بھی تھے جو حال ہی میں آئے ہیں۔ مبلغ تیز طبع اور خود پسند ہے۔ ملاقات کے دوران ہی ہم پر اپنی تبلیغ کا زور دکھانا شروع کر دیا۔ یہاں کا مشن بھی خود کفیل ہے۔ تمام مشن جو ہم نے دیکھے ہیں وہ یہی کہتے ہیں کہ پاکستان سے افریقی مشنوں کو مالی امداد نہیں دی جاتی۔ مشن کے امیر تجارت وغیرہ کر کے اپنی ضروریات بھی پوری کر لیتے ہیں اور مشن بھی چلاتے ہیں۔ مقامی مسلمانوں سے اب مخالفت شروع ہو گئی ہے۔ مشن ایک ہائی سکول اور تین چار پرائمری سکول چلا رہا ہے۔ استادوں

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۲۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کی تنخواہ حکومت دیتی ہے۔ سکول شروع ہونے کے بعد تمام اخراجات حکومت کے ذمہ ہو جاتے ہیں۔‘‘

(تذکرہ افریقہ ص ۱۶۷)

اسی طرح مرزائیوں کے ذمہ دار حلقوں کی طرف سے یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ انہیں صرف لندن سے پچاس ہزار پاؤنڈ چندہ جمع ہوتا ہے۔ یہی بات گزشتہ سال مشہور شیعہ عالم جناب علامہ رشید ترابی کو حکومت کی کسی انتہائی ذمہ دار شخصیت نے مرزائیوں کی روایت کے طور پر بتائی۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ بریگیڈیئر گلزار احمد صاحب کے ارشاد کے مطابق پورے افریقہ میں پاکستان سے کوئی امداد قادیانی مشنوں کو نہیں دی جاتی اور لندن میں قادیانی پچاس ہزار پاؤنڈ کسی دست غیب سے چندہ حاصل کرلیتے ہیں تو پاکستان کے قومی خزانے سے حاصل کردہ زرمبادلہ کہاں خرچ کرتے ہیں؟

افریقہ کی جوڈیشل کونسل کا فتویٰ

بریگیڈیئر گلزار احمد کے مذکورہ حوالہ جات سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ۱۹۶۰ء میں افریقہ کے مسلمان قادیانیوں سے سخت متنفر اور بیزار تھے۔ انہیں مفسد، تخریب پسند اور انتشار پھیلانے والے قرار دے رہے تھے۔ افریقہ سے بعد میں آنے والی اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ افریقہ کے مسلمانوں کو آہستہ آہستہ قادیانیوں کی حقیقت کا علم ہوگیا اور انہوں نے نہ صرف یہ کہ ان کی تبلیغ بند کرنا شروع کردی ہے، بلکہ انہیں سرکاری طور پر کافر قرار دے دیا ہے۔ چنانچہ مولوی صدر دین امیر جماعت احمدیہ (لاہوری) کے خطبہ جمعہ مورخہ ۱۱؍جون ۱۹۶۵ء کی روئیداد اخبار پیغام صلح لاہور مورخہ ۱۶؍جون ۱۹۶۵ء میں شائع ہوئی ہے۔ جس میں لکھا ہے: ’’جنوبی افریقہ میں احمدیوں کے خلاف فتوے۔‘‘

’’داؤد سیڈو صاحب جنوبی افریقہ سے آئے ہیں۔ افریقہ کی جوڈیشل کونسل نے فتویٰ دے دیا ہے کہ احمدی اور بہائی کافر ہیں۔ ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہیں۔‘‘

(خطبہ جمعہ پیغام صلح لاہور، مورخہ ۱۶؍جون ۱۹۶۵ء)

نائیجیریا سے تازہ ترین خط

ابھی حال ہی میں شمالی نائیجیریا سے ایک پاکستانی استاد نے اپنے خط میں مرزائیت کے فتنے کا رونا رویا ہے۔ اس خط کا آخری حصہ ملاحظہ فرمائیں:

’’تیسرا فتنہ قادیانیت کا ہے۔ خصوصیت سے نائیجیریا کے یوربا مسلمان مغربی نائیجیریا میں لیگاس میں شمالی اور مغربی نائیجیریا کی سرحد پر رہتے ہیں، اس فتنے کا شکار ہورہے ہیں، جو مسلمان مغربیت یا عیسائیت سے بچے ہوئے ہیں اور دین سے دلچسپی رکھتے ہیں اور اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ قادیانی ان کو اپنا لٹریچر مفت دیتے ہیں۔ طلباء کو ربوہ سے برابر لٹریچر ملتا رہتا ہے۔ تین چار سال قبل تک ان لوگوں کی عملی سرگرمیاں مغربی نائیجیریا اور خصوصاً لیگاس تک محدود تھیں لیکن اب ان کے مراکز شمالی نائیجیریا میں بھی کھل گئے ہیں۔‘‘

اس سلسلے میں ایک بہت اہم بات عرض کرنا ضروری ہے۔ یہاں جتنے پاکستانی آئے تقریباً سب نے اپنے طور پر دین کا کام کیا۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ یہاں کے عام مسلمان اور خصوصیت سے طلباء پاکستانی مسلمانوں کے دینی جذبہ اور معلومات سے متاثر ہوئے اور سمجھنے لگے کہ پاکستانی مسلمان اچھے مسلمان ہیں اور صحیح دین کی تعلیم دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے قادیانی بھی پاکستانی ہیں، اس لئے جب وہ دین کو پیش کرتے ہیں تو مسلمان اس کو بھی صحیح سمجھ کر فوراً قبول کرلیتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ اگر پہلی منزل پر مرزا غلام احمد کو پیغمبر کہہ کر پیش کرتے تو مسلمان بھڑک جاتے! لیکن یہ لوگ بہت چالاکی کے ساتھ پہلے صرف ان باتوں کو پیش کرتے ہیں جن پر کسی مسلمان کو کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا اور جب آدمی اس منزل پر آجاتا ہے کہ اپنے مبلغوں کی ہر بات پر آمنا وصدقنا کہہ دے تب یہ قادیانیت کے انجکشن لگاتے ہیں۔ ان کی فتنہ سامانی اسی پر

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۲۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ختم نہیں ہوتی ، یہ لوگ پاکستان اور اس کے عام مسلمانوں کے خلاف بھی پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کی جنگ کے دوران انہوں نے اپنے ماننے والوں کو پاکستان کے حق میں دعا مانگنے سے یہ کہہ کر روکا کہ پاکستان کے مسلمانوں اور ہندوستان کے کافروں میں کوئی فرق نہیں ، اس لئے کسی کے لئے دعا کرنے کا کوئی سوال نہیں۔ البتہ امن کی دعا مانگو۔‘‘

(لولاک مؤرخہ ۷؍ اپریل ۱۹۶۷ء)

اسلامی مشاورتی کونسل ...... تحریک ارتداد کے خلاف سفارشات

اسلامی مشاورتی کونسل نے حکومت پاکستان سے سفارش کی ہے کہ ملک میں موجودہ قانون وراثت کی بجائے اسلامی قانون وراثت نافذ کیا جائے اور مرتد ہونے والے مسلمانوں کو جائیداد سے محروم کر دیا جائے اور انہیں قانون شریعت کے مطابق سزا دی جائے۔ کونسل نے یہ سفارش بھی کی ہے کہ ملک میں ایسے منظم اور غیر منظم افراد یا اداروں کا فوری طور پر محاسبہ کیا جائے اور انہیں سخت ترین سزائیں دی جائیں جو مسلمانوں کو مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعہ مرتد بنانے میں مصروف ہیں۔ کونسل کی سفارش میں مزید کہا گیا ہے کہ مرتد ہونے والے کو مردہ تصور کیا جائے اور انہیں مسلمان والدین کی جائیداد سے محروم کر کے جائیداد قریبی رشتہ داروں یا بصورت دیگر حکومت کے قبضہ میں دے دی جائے۔ کونسل نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں منظم طور پر مسلمانوں کو مرتد کرنے کا کام جاری ہے اور اس کا محاسبہ نہیں کیا جارہا۔ حالانکہ اسلام میں مرتد ہونے والے بھی قابل تعزیر ہیں۔ غیر مسلموں کو اسلامی ریاست میں صرف اتنی اجازت ہے کہ وہ غیر مسلموں میں ہی اپنے نظریات کا پرچار کر سکتے ہیں۔ انہیں مسلم ریاست میں مسلمانوں کے درمیان اپنے مذہب کی تبلیغ یا نشر واشاعت کی ہرگز اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

اسلامی مشاورتی کونسل مبارک باد کی مستحق ہے کہ اس نے تحریک ارتداد کے خلاف یہ مستحسن سفارش کر کے اپنا فرض منصبی ادا کیا ہے۔ اس وقت پاکستان میں عیسائیوں اور مرزائیوں کے مشن بلا کسی روک ٹوک کے مسلمانوں کو مرتد کرنے میں مصروف ہیں۔ دونوں کے پاس بے پناہ ظاہری اور باطنی وسائل موجود ہیں۔ لاکھوں روپیہ ہر سال خرچ کرتے ہیں۔ غریبوں اور سادہ لوح مسلمانوں کا ایمان خرید کر انہیں مرتد بنا رہے ہیں۔ ہمیں حکومت سے اب بجا طور پر توقع رکھنی چاہئے کہ وہ اپنے ہی قائم کردہ ایک اہم ترین اسلامی ادارہ یعنی اسلامی مشاورتی کونسل کی سفارش کو ضرور شرف قبولیت بخشے گی اور پاکستان کو تحریک ارتداد سے پاک کر دے گی۔

گستاخی اور شرانگیزی ، مانانوالہ ضلع لائل پور میں قادیانی شرارت

ماہ رواں ، مانانوالہ متصل لائل پور میں وہاں کے مسلمانوں کا ایک جلسہ بسلسلہ محرم شریف ہو رہا تھا۔ جس میں ایک عالم دین سیرت اہل بیت اطہار اور مناقب شہدائے کربلا پر تقریر کر رہے تھے۔ مانانوالہ کی قادیانی جماعت کے ایک رکن سعید احمد کو خدا جانے کیا سوجھی کہ انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی اہل بیت اطہار میں شامل کرنے کے لئے مندرجہ ذیل رقعہ تحریر کر کے اسٹیج پر بھیج دیا۔ ”نقل کفر کفر نہ باشد۔“

مکرم محترم مولوی مشتاق احمد صاحب

حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ میں نے عالم کشف میں دیکھا کہ حضرت پنجتن سیدہ کونین فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ عین بیداری کی حالت میں آئے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کمال محبت ، مادرانہ عطوفت کے رنگ میں اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔ میرے وجود میں ایک حصہ اسرائیلی ہے اور ایک حصہ فاطمی۔

(ایک غلطی کا ازالہ ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۱۳)

حضرت مسیح موعود ثابت فرما رہے ہیں کہ میں فاطمہ کی اولاد سے ہوں اور عبارت میں مادرانہ عطوفت کا لفظ بھی موجود ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۲۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں کہ میرا سر بیٹوں کی طرح حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ران پر ہے۔ (نزول مسیح حاشیہ در حاشیہ ص ۴۹، خزائن ج ۱۸ ص ۴۲۶) مادر مہربان کی طرح، براہین احمدیہ حصہ چہارم۔ ان عبارتوں میں کس طرح صراحت کے ساتھ اپنے آپ کو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بیٹا قرار دیا ہے۔ مہربانی فرما کر حضرت سید عبد القادر جیلانی کے کشف کی تعبیر کر دینا (ترجمہ عربی عبارت) فرمایا: حضرت عبد القادر جیلانی نے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی گود میں ہوں اور ان کے دائیں پستان کو چوس رہا ہوں۔ پھر میں نے بایاں پستان باہر نکالا اور اس کو چوسا۔ اس وقت آنحضرت ﷺ اندر تشریف لے آئے، بتائیے! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی توہین تو نہیں ہوئی؟ محترم مولوی صاحب اللہ تعالیٰ سے ڈر اور چودھویں صدی کے علماؤں کی طرح حد سے بڑھنے والا نہ ہو۔ حضرت مولانا قاسم نانوتوی ”تحذیر الناس“ میں فرماتے ہیں: اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی کوئی نبی پیدا بھی ہو جائے تو خاتمیت محمدی میں کوئی فرق نہیں آوے گا۔

(نمبر ۱ حوالہ قلائد الجواہر فی مناقب شیخ عبدالقادر جیلانی، مطبوعہ مصر ص ۷۵، خاکسار سعید احمد بٹ احمدی، مؤرخہ ۱۸؍اپریل ۱۹۷۶ء)

یہ تحریر لائل پور پولیس کے قبضہ میں ہے۔ مسلمانوں کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس گستاخی اور شرانگیزی کے مرتکب کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ذلیل رقعہ انتہائی شرمناک اور توہین آمیز ہے۔ حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کی شان میں یہ گستاخی نا قابل برداشت ہے۔ حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کی گود میں پلنے کا شرف اور اس مقدسہ کے ران پر سر رکھنے کا منصب صرف حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور امام حسین رضی اللہ عنہ کو ہی حاصل ہے۔ حضرت جبرائیل جو مقربین بارگاہ میں سے ہیں اور نوری مخلوق ہیں، اگر بالفرض وہ بھی یہ کلمات کہیں تو ہم اس کو بھی حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کی شان اقدس کے خلاف توہین سمجھیں گے۔ چہ جائیکہ مرزائے قادیان یہ لغو اور بیہودہ الفاظ کہے اور پھر آج کل کے قادیانی مرزائے قادیان کو اہل بیت اطہار میں شامل کرنے کے لئے اس ذلیل ترین عبارت کو اس طرح مسلمانوں کے سامنے لا کر گستاخی اور شرانگیزی کی کوشش کریں۔

ہم براہ راست قادیانیوں سے بھی کہیں گے کہ وہ یہ خرمستیاں چھوڑ دیں۔ شرافت اور اخلاق کے دامن کو ہاتھ سے بالکل ہی نہ چھوڑیں۔ کیا وہ اس بات کو گوارا کر سکتے ہیں کہ کوئی شخص نہایت نیک دلی سے ان کی یا ان کے خلیفہ ربوہ کی بیٹیوں کے متعلق اس خواہش کا اظہار کرے کہ وہ ان کی رانوں پر سر رکھ کر ان کا بیٹا بننے کا شرف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ نہ تو کوئی قادیانی اور نہ ہی خلیفہ ربوہ یہ بات تسلیم اور برداشت کرنے کو تیار ہوگا اور نہ ہی دنیا کا کوئی باغیرت آدمی اس مطالبے کو تسلیم کر سکتا ہے۔ جو بات کوئی قادیانی یا کوئی دوسرا عام انسان اپنی بیٹی کے لئے برداشت نہیں کر سکتا، وہ بات خواجہ کون و مکان ﷺ کی بیٹی کے لئے کس طرح برداشت کی جاسکتی ہے؟

آخر میں ہم حکومت سے مؤدبانہ گزارش کریں گے کہ اس حادثہ کی تحقیقات کرائی جائیں۔ اگر یہ واقعہ ہماری اطلاع کے مطابق درست پایا جائے تو قادیانیوں کی ان جارحانہ اور دل آزارانہ سرگرمیوں کا قلع قمع کیا جائے۔

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

(لولاک مؤرخہ ۲۸؍اپریل ۱۹۷۶ء)

مرکز اسلام میں قادیانیوں کی گرفتاریاں

”حجاز مقدس سے آمدہ اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ اس سال سعودی حکومت نے حج کے موقع پر دو قادیانیوں کو گرفتار کر لیا ہے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۲۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جنہیں ابھی تک رہا نہیں کیا گیا۔ چند سالوں سے قادیانی پراسرار طور پر حج کے لئے حجاز مقدس جانے لگے تھے۔ کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ سعودی حکومت کو معلوم ہو گیا تو انہوں نے ان پراسرار عازمین حج کو بیک بینی و دو گوش واپس کر دیا یا یہیں سے ان کا ویزا ہی جاری نہ کیا۔ اس سال قادیانیوں کا ایک وفد چوہدری ظفر اللہ خان کی زیر قیادت حج کے بہانے حجاز مقدس گیا تھا۔ جس زمانہ میں چوہدری ظفر اللہ خان پاکستان کے وزیر خارجہ تھے اسی زمانہ میں سعودی حکومت کے وزیر خارجہ سعودی مملکت کے موجودہ تخت نشین شاہ فیصل تھے۔ چنانچہ شاہ فیصل نے چوہدری ظفر اللہ خان کی درخواست پر انہیں حجاز مقدس میں داخلہ اور شاہی مہمان خانے میں ٹھہرنے کی اجازت بخش دی۔ شاہ فیصل کا چوہدری ظفر اللہ خان سے یہ فیاضانہ اور روادارانہ سلوک حقیقت میں چوہدری صاحب کے سابقہ منصب اور مملکت پاکستان کے احترام کے لئے تھا، نہ کہ قادیانیوں کے وفد کے قائد کے لئے۔

حج تو محض بہانہ تھا، یہ وفد دراصل کسی ترکیب سے مرکز اسلام میں اپنے لٹریچر کی تقسیم واشاعت کی فکر میں تھا۔ جونہی انہیں وہاں پاؤں جمانے کا موقع ملا انہوں نے اپنا اصل کام شروع کر دیا۔ یہ وفد ابتداءً مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک عربی نظم چھاپ کر ساتھ لے گیا ہوا تھا، جس پر نظم کے علاوہ بانی جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ربوہ کے الفاظ درج تھے۔ دو قادیانی اس لٹریچر کو تقسیم کرنے پر مامور تھے۔ جب یہ بات سعودی حکومت کے نوٹس میں آئی، فوراً ان کی گرفتاری کے احکام صادر ہو گئے اور انہیں پابہ زنجیر کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ چوہدری صاحب نے ان کی رہائی کے لئے بڑی کوشش کی۔ لیکن وہ رہا نہ کرائے جاسکے اور اب تک وہ جیل میں ہی ہیں۔ قادیانیوں کی اس حرکت نے حکومت کے علاوہ وہاں کے دوسرے لوگوں کو بھی مشتعل اور متأثر کیا۔ چنانچہ اس واقعہ کے بعد مکہ مکرمہ کے مشہور روزنامہ اخبار ”الندوة“ نے اپنی اشاعت ۸؍اپریل ۱۹۶۷ء میں ایک طویل مضمون ”ما ہی القادیانیۃ؟“ (قادیانیت کیا ہے؟) عنوان سے شائع کیا۔ یہ اخبار اس وقت ہمارے سامنے ہے۔ اسے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ اشاعت قادیانی نمبر ہے۔ عنوان بالا کے ساتھ جلی خط سے چھ کالمی سرخیاں جمائی گئی ہیں کہ علمائے پاکستان کا اس امر پر اجتماع ہے کہ قادیانی اسلام سے خارج ہیں اور حضور ﷺ سرور کائنات ﷺ کو ہی آخری نبی یقین کرتے ہیں۔

ابھی حال ہی میں ہم نے کسی اشاعت میں افریقہ میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کے زیر عنوان جناب بریگیڈیئر گلزار احمد صاحب کی کتاب ”تذکرہ افریقہ“ سے چند اقتباسات شائع کئے تھے۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی بیرونی ممالک میں پہنچ کر وہاں کے مسلمانوں میں فتنہ و فساد پیدا کر کے خواہ مخواہ پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ اب سعودی عرب میں قادیانیوں کی تازہ ترین حرکت اور اس پر گرفتاری پاکستان کے عوام اور حکام دونوں کے لئے قابل غور ہے۔ ہماری نپی تلی رائے یہ ہے کہ قادیانی بزعم خویش جس اسلام کی تبلیغ میں سرگرداں ہیں وہ در حقیقت ارتداد کی تبلیغ ہے۔ پاکستان کی حکومت کو جرأت سے قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں کا قلع قمع کر دینا چاہئے تاکہ اندرون اور بیرون ملک کوئی فتنہ و فساد پیدا ہی نہ ہو سکے۔“

(لولاک مؤرخہ ۱۲؍مئی ۱۹۶۷ء)

ظفر اللہ قادیانی کے حج پر جانے کا واقعہ مسلمانوں کے لئے انتہائی افسوس ناک امر تھا۔ اس پر مجلس تحفظ ختم نبوت نے پاکستان میں یوم احتجاج منایا۔ سعودی سفارت خانہ پاکستان اور سعودی حکمرانوں کو ریاض وغیرہ ٹیلی گرام بھجوائے۔ ظفر اللہ قادیانی کیسے پہنچا؟ یہ ایک راز ہے جسے اس وقت افشا کرنا مناسب خیال نہیں کرتا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر نے اس عنوان پر ایک رسالہ بھی ترتیب دیا۔ جسے مجلس کی مطبوعہ کتاب احتساب قادیانیت جلد اوّل میں دیکھا جاسکتا ہے۔ یوم احتجاج کے سلسلہ میں مولانا محمد علی جالندھری نے جو اسلامیان پاکستان کے نام سرکلر جاری کیا وہ یہ ہے:

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۲۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تمام ماتحت مجالس تحفظ ختم نبوت کے نام ضروری ہدایت

دینی جماعتوں اور مدارس عربیہ سے اپیل

حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری امیر مرکزیہ ختم نبوت کا ارشاد گرامی!

واضح ہو کہ اس سال سر ظفر اللہ قادیانی بغرض اداء فریضہ حج حرمین شریفین مکہ و مدینہ زادہما اللہ شرفاً وتعظیماً میں داخل ہوا۔ قادیانیوں کے مخصوص عقائد اہل اسلام پر روشن ہیں۔ علماء اہل اسلام نے متفقہ طور پر منکرین ختم نبوت اور مرزا آنجہانی کی امت کو خارج از اسلام قرار دیا ہے۔ سر ظفر اللہ خان کو عامۃ المسلمین کے ساتھ حرمین شریفین میں ارکان حج وعمرہ میں شریک ہونے کی اجازت سے پاکستان کے مسلمانوں کے جذبات بری طرح مجروح ہوئے ہیں۔ جہاں ہم اپنی پاکستانی حکومت کے اس رویہ کے خلاف احتجاج کرتے ہیں کہ اس نے مسلمانوں کے اس عظیم مطالبہ کو مسلسل نظر انداز کیا ہوا ہے کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ، وہاں ہم سعودی عربیہ حکومت کے اس رویہ کے خلاف بھی پر زور احتجاج کرتے ہیں کہ انہوں نے مرزائیوں کو بالعموم اور ظفر اللہ خان کو بالخصوص حرمین شریفین میں داخل ہونے کی اجازت دے کر عالم اسلام کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔

بنابریں میں اپنی جماعت کی ماتحت شاخوں اور تمام دینی جماعتوں ، عربی مدارس سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سفارت خانہ مملکت سعودیہ عربیہ کراچی کے نام تار اور خطوط لکھ کر مندرجہ ذیل مطالبہ کریں:

”مملکت سعودیہ عربیہ نے ظفر اللہ خان قادیانی کو حرمین شریفین میں حج کے لئے داخل ہونے کی اجازت دے کر ہمارے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔ ان کے اس اقدام کے خلاف ہم شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ آئندہ قادیانی فرقہ کے لوگوں کو حرمین شریفین میں داخلہ کی اجازت نہ دیں۔“

نیز پورے ملک میں ۱۵؍ صفر ۱۳۸۷ھ مطابق ۲۶؍مئی ۱۹۶۷ء یوم جمعہ کو یوم احتجاج منایا جائے اور جمعہ کے خطبوں میں خطیب حضرات خصوصیت سے اس موضوع پر احتجاجی تقاریر کریں۔ جس کی اطلاع سعودی سفارت خانہ کراچی اور دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان شہر کو ضرور دیں۔“

ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان (ملتان)

(خدام الدین مورخہ ۱۹؍مئی ۱۹۶۷ء)

اس پر خدام الدین نے ذیل کا اداریہ بھی تحریر فرمایا:

ظفر اللہ اور دیگر قادیانیوں کے حرم شریف میں داخلے پر احتجاج

کراچی: ۲۶؍مئی ۱۹۶۷ء بروز جمعہ تقریباً ستر مساجد میں ائمہ اور خطباء حضرات نے حکومت سعودی عربیہ سے اس بات پر شدید احتجاج کیا ہے کہ اس نے امسال حج کے موقعہ پر ظفر اللہ خان اور دیگر قادیانیوں کو حدود حرم میں داخلے کی اجازت دے کر مسلمانان عالم اور بالخصوص پاکستان کے مسلمانوں کے جذبات کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ کراچی کی بڑی بڑی مساجد جیکب لائن میں حضرت مولانا احتشام الحق صاحب تھانوی، جامع مسجد دارالعلوم لانڈھی میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب، نیوٹاؤن میں مولانا محمد یوسف صاحب بنوری، آرام باغ میں مولانا محمد شفیع صاحب اوکاڑوی پیر کالونی میں مولانا عبدالحامد بدایونی اور جامع مسجد کورنگی میں مولانا منظور احمد صاحب عباسی

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۲۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور دیگر کثیر مساجد میں مندرجہ ذیل قرارداد پاس کی گئی :

قرارداد ”مملکت سعودی عربیہ نے ظفر اللہ خان قادیانی کو حرمین شریفین میں حج کے لئے داخل ہونے کی اجازت دے کر ہمارے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ ان کے اس اقدام کے خلاف ہم احتجاج کرتے ہیں۔ آئندہ قادیانیوں کو داخلہ کی اجازت نہ دیں۔“

(لولاک مؤرخہ ۹/جون ۱۹۷۷ء)

قرارداد لائل پور

مفتی محمد نعیم صاحب خطیب جامع مسجد جناح کالونی لائل پور نے یہ تجویز پیش کی جو بالاتفاق پاس ہوئی۔ جناح کالونی جامع مسجد میں جمعہ کا یہ عظیم اجتماع یہ امر واضح کر دینا ضروری سمجھتا ہے کہ ایسی اسلامی حکومت جو شریعت اسلام کی فرمانروائی کے لئے قائم ہوئی ہے۔ اس میں اسلام کے نام پر کسی ایسی جماعت کا قیام یا بقاء جو اسلامی اعتقاد، عمل اور نظریات کی تشریح اسلامی احکام کی چودہ سو سالہ متفقہ اور متحدہ تشریح کے خلاف کرتی ہو، شریعت اسلام سے بغاوت کے مترادف ہو گا جو کہ درحقیقت اس ملک کے اصل قانون سے بغاوت ہے۔ جسے کسی حالت میں برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ ان حالات میں حکومت پاکستان سے درخواست ہے کہ وہ دیگر کمیونسٹ، سوشلسٹ جماعتوں کی طرح مرزائی جماعت کو خلاف قانون قرار دے کر اپنا ملکی اور ملی فرض ادا کرے۔ جیسا کہ مصر وشام نے اس جماعت کو خلاف قانون قرار دے کر اس کا تمام اثاثہ اور جائیداد بحق سرکار ضبط کر لی ہے اور اس کا تمام لٹریچر بھی ضبط کر لیا اور حکومت سعودیہ نے ان کا داخلہ مکہ مدینہ میں ممنوع قرار دے رکھا ہے۔ امیر فیصل کے ذاتی تعلقات کی بنا پر چوہدری ظفر اللہ خان کو حج کی اجازت دینا اس کے اپنے ہی نافذ کردہ قانون کے منافی ہے۔

ہم انتہائی افسوس ظاہر کرتے ہیں اور آئندہ مطالبہ کرتے ہیں کہ کسی بھی تعلق کی بنا پر مرزائیوں کو حج کے بہانہ حجاز مقدس میں داخلہ کی اجازت نہ دی جائے۔ نیز یہ اجتماع تمام اسلامی اداروں اور جماعتوں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اس قسم کے ریزولیوشن پاس کرا کے حکومت کو روانہ کریں۔

اجلاس عام لائل پور

نور پور لائل پور کے مسلمانوں نے ایک اجلاس عام میں ظفر اللہ خان اور دوسرے مرزائیوں کے حجاز مقدس میں داخلے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ حکومت پاکستان اور سعودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ اس دشمن اسلام ٹولے کو اس امر کی اجازت نہیں ملنی چاہئے۔

سعودی عرب سفارت خانہ کراچی سے پرزور احتجاج

”مجلس تحفظ ختم نبوت سمندری ضلع لائل پور حکومت سعودی عرب سے پرزور احتجاج کرتی ہے کہ اس نے امسال سر ظفر اللہ قادیانی اور دوسرے قادیانیوں کو حرمین شریفین میں حج کے لئے داخل ہونے کی اجازت دی۔ اس عمل سے حکومت سعودی عرب نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں قادیانی مرتد اور خارج از اسلام فرقہ ہے۔ مجلس ہذا مطالبہ کرتی ہے کہ وہ آئندہ قادیانی فرقہ کے لوگوں کو حرمین شریفین میں داخلہ کی اجازت نہ دے اور ان کو خلاف اسلام اور خلاف قانون فرقہ قرار دے، کیونکہ یہ فرقہ مسلمانوں کے خلاف جاسوسی کے فرائض سرانجام دیتا ہے۔“ از: مولانا محمد علی جانباز، صدر مجلس تحفظ ختم نبوت سمندری ضلع لائل پور

(لولاک مؤرخہ ۹/جون ۱۹۷۷ء)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۳۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اسرائیل میں مرزائی مشن

’’جس سال انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ کا اجلاس اسرائیل میں ہوا تھا، پاکستان کے ارکان نے صدر مملکت سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اس اجلاس میں معمول کے مطابق شریک ہونا چاہتے ہیں۔ صدر نے جواباً کہا کہ ہمارے تو اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہی نہیں ہیں۔ ایک ایڈیٹر نے کہا کہ اسرائیل کی مقامی کمیٹی کے ارکان سے ٹوکیو میں بات ہوئی تھی۔ انہوں نے استدعا کی کہ آپ لوگ بیت المقدس پہنچ جائیں۔ ہم وہاں سے اپنے طیاروں پر لے جائیں گے۔ صدر ایوب نے اتفاق نہ کیا۔ ایڈیٹر نے کہا کہ ہم لوگ عرب ملکوں کے پابند نہیں، جب کہ ان میں سے بعض ہندوستان کے معاملہ میں ہمارے ساتھ بھی نہیں ہیں۔ کیا ہمارا ہی فرض ہے کہ ہم ان کی خواہشوں کو ملحوظ رکھیں؟ صدر نے جواب دیا کہ معاملہ یہی ہوتا تو مجھے عذر نہیں تھا۔ عرب ملکوں کی اس روش سے قطع نظر اصل مسئلہ دینی غیرت کا ہے۔ آپ لوگوں کو نہیں جانا چاہئے۔ چنانچہ صدر کی اس خواہش پر مقامی ارکان رہ گئے بلکہ اس وقت انٹرنیشنل پریس ٹرسٹ کے تمام پاکستانی ارکان نے صدر مملکت کی اس غیرت مندانہ خواہش کو حاضر وغائب میں سراہا اور اپنے طور پر تسلیم کرلیا کہ انہیں یہ ارادہ ہی نہیں کرنا چاہئے تھا۔ مقام تعجب ہے کہ اسرائیل میں قادیانی جماعت کا مشن ہے اور وہاں کی حکومت نے اسے تمام سہولتیں مہیا کررکھی ہیں، اسرائیل سے اس مشن کا لٹریچر عربی میں طبع ہو کر مختلف عرب ملکوں میں تقسیم ہورہا ہے۔

پاکستان کی حکومت کا فرض ہے کہ ربوہ خلافت سے دریافت کرے کہ یہ مشن وہاں کیوں کر قائم ہوا؟ اس کو روپیہ کہاں سے ملتا ہے؟ اور کیا ان کے نزدیک عرب ممالک کے مسلمان واقعی مسلمان ہیں؟ اگر مسلمان ہیں تو تبلیغ کن لوگوں میں ہورہی ہے اور اس تبلیغ کا مفہوم کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ اسرائیل کی حکومت یہودیوں کو مسلمان بنانے کے لئے تو مشن کو کام کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ لازماً اس مشن کے مقاصد سیاسی ہوں گے! قادیانی جماعت غیر عرب ملکوں کے لئے بھی اسرائیل کی حیثیت رکھتی ہے۔

کیا فرماتے ہیں خلیفہ ثالث کہ اسرائیل سے تصادم کی صورت میں ان کا مشن عرب ملکوں کی اسلامی حمیت کا ساتھ دے گا یا اپنے پیدائشی عقیدے کے مطابق اسرائیل کا وفادار ہوگا۔ اسرائیل کے حکمرانوں کو لازماً اندازہ ہوگا کہ اس مشن سے کام لیا جاسکتا ہے۔ ہم اپنے صوابدید کی بنا پر کہہ سکتے ہیں کہ قادیانی اسرائیل کے لئے وہی کچھ کریں گے جو برطانیہ کے لئے پہلے جنگ عظیم میں کرتے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر مسلمان جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نہیں مانتا، خارج از اسلام ہے۔ اصل خرابی یہ ہے کہ قادیانی تمام اسلامی ملکوں میں بحیثیت مسلمان داخل ہوتے ہیں، لیکن عقیدۃً انہیں نامسلمان سمجھ کر جاسوسی کرتے اور ہر وہ کام کرگزرتے ہیں جو ان کی جماعت سے باہر کے مسلمانوں کی بربادی کا باعث ہو۔ اس وقت اسرائیل سے عرب ملکوں کی ٹھن چکی ہے۔ لازم یہی ہے کہ اسرائیل سے قادیانی مشن ختم کیا جائے اور وہ تمام افراد واپس بلا لئے جائیں جو وہاں کام کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ فرض حکومت انجام دے گی یا قادیانی جماعت خود اپنے مشن کو واپس بلا لے گی۔ حیرت ہوتی ہے کہ حکومت پاکستان نے تو اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم نہیں کئے، لیکن ’’قادیانی خلافت‘‘ کا تبلیغی مشن اسرائیل میں برابر کام کررہا ہے اور یہ اجازت نامہ اس کو نہ جانے کس نے عطا کیا ہے؟

(ہفت روزہ چٹان مورخہ ۲۹ مئی ۱۹۶۷ء)

آزاد کشمیر کے دو قادیانی لیڈر...... خورشید، ابراہیم گٹھ جوڑ کا پس منظر

مسٹر خورشید نے خان عبدالغفار خان اور شیخ مجیب الرحمٰن کی مانند علیحدگی پسندی کے تباہ کن رجحان کے زیر اثر حکومت آزاد کشمیر کو تسلیم کرانے کا نعرہ ایک بار پھر پورے زور وشور سے لگادیا ہے اور سردار ابراہیم نے لاہور کی پریس کانفرنس میں اس مطالبے کی حمایت کردی

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۳۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہے ۔ اس طرح شرانگیز مخصوص مقاصد کے تحت خورشید، ابراہیم ناپاک گٹھ جوڑ ہو گیا ہے، جس کی مشترک اقدار مندرجہ ذیل ہے : سردار ابراہیم اور مسٹر خورشید دونوں آزاد کشمیر کے صدر رہے اور دونوں کو صدر ایوب کے عہد اقتدار میں یکے بعد دیگرے بوجوہ آزاد کشمیر کی صدارت سے الگ کیا گیا ۔

آزاد کشمیر کی صدارت سے علیحدگی کے بعد دونوں گرفتار ہوئے ۔ سردار ابراہیم ایک ماہ جیل میں رہے اور مسٹر خورشید سوا پانچ ماہ، لہٰذا دونوں پاکستان کی موجودہ حکومت سے شاکی ہیں۔ دونوں چوہدری غلام عباس و سردار عبدالقیوم مسلم کانفرنس کے مخالف ہیں ۔ دونوں پر دھاندلیوں ، بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کے ان گنت الزامات عائد ہوئے اور دونوں کے خلاف سرکاری تحقیقات اور عدالتی چارہ جوئی کا عوامی مطالبہ جاری رہا اور آج بھی قائم ہے ۔ دونوں کا ایک ایجنڈا ہے مگر تابکے ۔ دونوں پاکستان کی حزب مخالف سے وابستگی کے دعویدار ہیں ۔ ایک نے کراچی میں اور دوسرے نے لاہور میں تعلقات بھی قائم کر رکھے ہیں ۔ لیکن یہ صریحاً دھوکہ اور فریب ہے۔ کیونکہ اگر صدر ایوب آج انہیں چپڑاسی کا عہدہ بھی پیش کریں تو یہ دونوں سر کے بل دوڑتے ہوئے جائیں گے اور حزب اختلاف کو لات مار کر یہ عہدہ قبول کر لیں گے۔ مگر صدر مملکت ان کے کردار سے بخوبی واقف ہو چکے ہیں ۔ دونوں پاک بھارت جنگ ۱۹۶۵ء کے خلاف تھے اور دونوں نے اپنے قول وفعل سے کفر و اسلام کی اس تازہ جنگ کی مخالفت کی تھی۔ اب یہ دونوں حکومت آزاد کشمیر کو تسلیم کرانے اور پاکستان سے اسے جدا کرنے کے مذموم مقصد پر متحد ہو گئے ۔ مگر مسلم کانفرنس ان کے ناپاک گٹھ جوڑ کا ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کرے گی ۔

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

(ہفت روزہ جہاد مورخہ ۲۸؍مئی ۱۹۶۷ء)

علامہ اقبال کا خط پنڈت جواہر لال نہرو کے نام

لاہور : ۲۱؍جون ۱۹۳۶ء

میرے محترم پنڈت جواہر لال نہرو !

آپ کے خط کا جو مجھے کل ملا ، بہت بہت شکریہ۔ جب میں نے آپ کے مقالات کا جواب لکھا تب مجھے اس بات کا یقین تھا کہ احمدیوں کی سیاسی روش کا آپ کو کوئی اندازہ نہیں ہے۔ دراصل جس خیال نے خاص طور پر مجھے آپ کے مقالات کا جواب لکھنے پر آمادہ کیا وہ یہ تھا کہ میں دکھاؤں علی الخصوص آپ کو کہ مسلمانوں کی یہ وفاداری کیونکر پیدا ہوئی اور بالآخر کیونکر اس نے اپنے لئے احمدیت میں ایک الہامی بنیاد پائی۔ جب میرا مقالہ شائع ہو چکا تب بڑی حیرت واستعجاب کے ساتھ مجھے یہ معلوم ہوا کہ تعلیم یافتہ مسلمانوں کو بھی ان تاریخی اسباب کا کوئی تصور نہیں ہے ، جنہوں نے احمدیت کی تعلیمات کو ایک خاص قالب میں ڈھالا ۔ مزید برآں پنجاب اور دوسری جگہوں میں آپ کے مقالات پڑھ کر آپ کے مسلمان عقیدت مند خاصے پریشان ہوئے ۔ ان کو یہ خیال گزرا کہ احمدی تحریک سے آپ کو ہمدردی ہے اور یہ کہ اس سبب سے ہوا کہ آپ کے مقالات نے احمدیوں میں مسرت وانبساط کی ایک لہر سی دوڑا دی۔ آپ کی نسبت اس غلط فہمی کے پھیلانے کا ذمہ دار بڑی حد تک احمدی پریس تھا۔ بہر حال ! مجھے خوشی ہے کہ میرا تاثر غلط ثابت ہوا ۔ مجھ کو خود ”دینیات“ سے کچھ زیادہ دلچسپی نہیں ہے مگر احمدیوں سے خود انہی کے دائرہ فکر میں نمٹنے کی غرض سے مجھے بھی ”دینیات“ سے کسی قدر جی بہلانا پڑا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں نے یہ مقالہ اسلام اور ہندوستان کے ساتھ بہترین نیتوں اور نیک ترین ارادوں میں ڈوب کر لکھا۔ ”میں اس باب میں کوئی شک

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۳۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

وشبہ اپنے دل میں نہیں رکھتا کہ یہ احمدی اسلام اور ہندوستان دونوں کے غدار ہیں۔‘‘

’’لاہور میں آپ سے ملنے کا جو موقع میں نے کھویا اس کا سخت افسوس ہے۔ میں ان دنوں بہت بیمار تھا اور اپنے کمرے سے باہر نہیں جاسکتا تھا۔ مسلسل اور پیہم علالت کے سبب میں عملاً عزلت گزیں ہوں اور تنہائی کی زندگی بسر کر رہا ہوں۔ آپ مجھے ضرور مطلع فرمائیں کہ آپ پھر پنجاب کب تشریف لا رہے ہیں۔ شہریا زادیوں کی انجمن کے بارے میں آپ کی جو تجویز ہے اس سے متعلق میرا خط آپ کو ملا، یا نہیں؟ چونکہ آپ اپنے خط میں اس خط کی رسید نہیں لکھتے، اس لئے مجھے اندیشہ ہو رہا ہے کہ یہ خط آپ کو ملا ہی نہیں ۔‘‘ آپ کا مخلص : محمد اقبال

ایم ۔اے، ایل۔ایل۔بی ص۲۹۳ سے نقل کیا گیا۔ پاکستان میں علامہ اقبال کے مجموعہ ہائے خطوط شائع کئے جارہے ہیں، لیکن اس خط کو قادیانی اثرات کی بوقلمونی کے تحت کسی مجموعہ میں شامل نہیں کیا گیا۔ کیا یہ اخفاء و تحریف جائز ہے؟

حمید اختر نجیب، سیکرٹری حزب اللہ، مغربی پاکستان لاہور

(ہفت روزہ لولاک ٹائٹل پیج مورخہ ۲۶؍ مئی ۱۹۷ء)

مدیر لولاک کو وارننگ

’’گزشتہ دسمبر میں ربوہ کے سالانہ جلسہ کے موقع پر قادیانیوں کے لاٹ پادری چوہدری ظفراللہ خان نے اپنی تقریر میں قادیانیت کی صداقت پر دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے بڑے بڑے مخالفین مولانا ثناء اللہ امرتسری اور مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری وغیرہ علمائے کرام اب کہاں ہیں؟ یہ سب ختم ہوگئے ہیں اور ان کی موت ہی ہمارے مذہب کے سچا ہونے کی دلیل ہے۔ چوہدری صاحب کی اس تقریر کا ہم نے نوٹس لیا اور ۳؍ فروری ۱۹۷ء کے لولاک میں ’’ظفراللہ خان کی اشتعال انگیزی‘‘ کے عنوان سے ایک مقالہ سپرد قلم کیا۔ اس مقالہ میں ہم نے لکھا کہ موت سے کسی شخص کو مفر نہیں ہے اور کسی کی موت اس کے سچے اور جھوٹے ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ تمام انبیاء، اولیاء اور دوسرے بزرگان دین اپنی اپنی زندگی بسر کر کے ”کل نفس ذائقۃ الموت“ کی وادی میں چلے گئے ہیں۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری اور حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی موت بھی خدا کے اسی اٹل قانون کے تحت وقوع پذیر ہوئی ہے۔ اگر مرزا قادیانی کے مخالف علمائے حق نے داعی اجل کو لبیک کہا ہے تو مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کا بیٹا خلیفہ بشیر الدین محمود بھی زندہ نہیں رہے بلکہ وہ بھی مر چکے ہیں۔

ہم نے اپنے اس مقالہ میں چوہدری ظفراللہ خان کی اس تقریر کو اشتعال انگیز سمجھتے ہوئے حکومت کو توجہ دلائی تھی کہ چوہدری صاحب اس طرح کی چیلنج بازی کر کے کسی سوئے ہوئے فتنہ کو پھر جگانے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ کہ ان کی یہ اشتعال انگیزی موجودہ حالات میں بغیر کسی وجہ کے نہیں ہے بلکہ پس پردہ کوئی وجہ رکھتی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم ہوسکا کہ اس سلسلہ میں حکومت نے ظفراللہ خان کے خلاف کوئی تحقیقات کی ہیں یا نہیں؟ اور اس کو اس قسم کی چیلنج بازی اور اشتعال انگیزی سے منع کرنے کے لئے کیا کارروائی کی ہے؟ البتہ ایڈیٹر لولاک کو اس مقالہ کے تحریر کرنے پر ضلع حکام کی معرفت وارننگ بھیج دی گئی ہے۔ ہمیں اپنی حکومت کے احکام کا احترام ہے، لیکن مذکورہ مقالہ کے بار بار پڑھنے کے باوجود ہم یہ نہیں سمجھ سکے کہ آخر ہمیں کس جرم کی پاداش میں یہ وارننگ دی گئی ہے؟

چوہدری ظفراللہ خان نے ربوہ کے سالانہ جلسہ کے موقع پر جو تقریر کی تھی وہ ملک بھر کے علماء کے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس میں علمائے کرام اور عامۃ المسلمین کو اکسایا گیا تھا کہ وہ قادیانیوں کے ساتھ اپنی مذہبی کشمکش کی آگ کو ٹھنڈا نہ ہونے دیں۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۳۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مناظرہ بازی، فتویٰ نویسی اور ہر طرح کی مخالفت کا بازار گرم کیا جائے تاکہ انہیں اپنے آقایان ولی نعمت سے مزید گرانٹ مل سکے اور ساتھ ہی یہ فائدہ بھی پہنچ سکے کہ جو انتشار اور اختلاف ان کی صفوں میں موجود ہے وہ علمائے کرام کی مخالفت کا ہوا دکھا کر ختم کیا جاسکے۔ ایڈیٹر لولاک ملک اور مذہب دونوں کا مفاد اسی میں سمجھتا ہے کہ موجود حالات میں کسی قسم کی اشتعال انگیزی اور ایجی ٹیشن ملک میں پیدا نہ ہو۔ اندرون ملک اتحاد اور سکون کی ضرورت ہے تاکہ بیرونی دشمنوں سے ملک کا خاطر خواہ دفاع کیا جاسکے۔ ایسے حالات میں ظفر اللہ خان کی کسی اشتعال انگیزی کا نوٹس نہ لینا مذہب سے بے وفائی اور ملک سے غداری کے مترادف ہے۔

ہم آئے دن اخبارات میں بعض حلقوں کی طرف سے صدر ایوب پر تنقید پڑھتے رہتے ہیں۔ خود حکومت کے ذمہ داران کی طرف سے بار ہا یہ بات کہی جاتی ہے کہ حکومت تعمیری تنقید کا خیر مقدم کرے گی۔ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ صدر مملکت تک کے اعمال وافعال پر تعمیری تنقید ہو سکتی ہے بلکہ بعض دفعہ لوگ حد سے تجاوز بھی کر جاتے ہیں اور حکومت اسے بھی برداشت کر لیتی ہے۔ لیکن اگر چوہدری ظفر اللہ خان کی سرگرمیوں کا جائز نوٹس لیا جائے یا ان کی اسلام دشمنی اور ملک کے مفاد کے خلاف تقریروں پر تنقید کی جائے تو اس کی بجائے الٹا ہمیں زبان بند کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ ہم سمجھ نہیں سکے کہ آخر مرزائیوں کا یہ لاٹ پادری مملکت میں اس امتیازی حیثیت کا مالک کیوں بنایا جا رہا ہے اور اس کو مافوق الاحتساب گرداننے میں کون سا فلسفہ کار فرما ہے۔

ہم ایک دفعہ پھر ذمہ دار حضرات سے درخواست کرتے ہیں کہ لولاک کے صفحات پر قادیانیوں کے متعلق جو کچھ لکھا جاتا ہے اس پر ملکی مفاد کے نقطۂ نگاہ سے غور کیا جائے اور اس طرح سے ہمیں دبا کر انگریزوں کے اس خود کشتہ پودے کو ہمارے سروں پر مزید مسلط نہ کیا جائے۔‘‘

(لولاک مؤرخہ ۲۶؍مئی ۱۹۶۷ء)

قادیانیوں کے لئے زرمبادلہ (۱۹۶۳ء سے ۱۹۶۷ء تک)

وزیر خزانہ مسٹر این ایم عقیلی نے مرکزی اسمبلی میں بتایا کہ: ”تبلیغی“ کام کرنے والوں کو دوسرے ملکوں میں ”تبلیغ اسلام“ کے ۶۴۔۶۳ء سے ۱۵؍مئی ۱۹۶۷ء تک پندرہ لاکھ بارہ ہزار سات سو نوے روپے کا زرمبادلہ دیا گیا، جس میں آٹھ لاکھ اکیاون ہزار ایک سو انتیس روپے کا زرمبادلہ غیر افریقی ملکوں میں ہے، چھ لاکھ اکسٹھ ہزار چھ سو سڑسٹھ روپے کا زرمبادلہ افریقی ملکوں میں تبلیغ کے لئے دیا گیا۔ وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ یہ زرمبادلہ تبلیغ اسلام کے لئے پانچ اداروں کو دیا گیا جو یہ ہیں:

عقیلی صاحب کی بڑی مہربانی ہوتی اگر وہ یہ بھی واضح کر دیتے کہ کل سوا پندرہ لاکھ روپے میں سے قادیانیوں کی تین جماعتوں:

کے لئے کتنا زرمبادلہ دیا گیا ہے؟ مکی مسجد کراچی (تبلیغی جماعت مسلمان) اور تعلیم القرآن ٹرسٹ گوجرانوالہ (مسلمان) کے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۳۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لئے کتنا زرمبادلہ خرچ ہوا ہے؟ جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے، آخرالذکر دونوں مسلمان جماعتوں کا زرمبادلہ برائے وزن بہت معمولی رقم پر مشتمل ہے اور اصل رقم قادیانیوں نے ہی ہضم کی ہے۔‘‘

(مراسلہ: لولاک مؤرخہ ۹؍ جون ۱۹۷۷ء)

۲۱؍ جون ۱۹۷۷ء کو شیخ حسام الدین صدر احرار انتقال کر گئے۔ اس پر آغا شورش کاشمیری نے ذیل کا تعزیتی نوٹ تحریر کیا:

صدر احرار شیخ حسام الدین کا سانحہ ارتحال

’’۲۱؍ جون کو چھ بجے مجلس احرار پاکستان کے صدر شیخ حسام الدین واصل بحق ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! اس وقت ان کی عمر ۷۱ اور ۷۲ برس کے درمیان تھی۔ مرحوم ایک زمانہ سے بیمار چلے آ رہے تھے۔ آخر پیمانۂ عمر لبریز ہو گیا۔ ۲۰؍ جون کی شام کو گھر سے نکلے۔ اپنے ایک دوست کے ہاں گئے۔ لوٹے تو نبض کا توازن ٹوٹ رہا تھا۔ ٹھہری ہوئی بیماری نے قدم اٹھایا۔ ایک بجے شب اعزہ میو ہسپتال میں لے گئے۔ چھ بجے صبح دم توڑ دیا اور اس طرح قربانی و ایثار، جرأت و استقامت اور حوصلہ و اعتماد کا ایک باب ختم ہو گیا۔

شیخ صاحب نے جس دور میں سیاسیات کا سفر شروع کیا اس دور کو اس کا اندازہ ہی نہیں کہ کیا لوگ تھے وہ جو برطانوی استعمار کے خلاف سر پر کفن باندھ کر نکلے تھے اور کیا زمانہ تھا کہ اس آزادی کے حصول کی نیو رکھی گئی۔ شیخ صاحب اس عظیم قافلہ کے برگزیدہ رہنماؤں کی یادگار تھے۔ ان کا وجود ان تحریکوں کا سرمایہ تھا۔ جنہیں اس زمانے کے لوگ پہچانتے ہی نہیں۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کا دل اسلام کے لئے دھڑکتا رہا۔ اب وہ افراد رہے نہ جماعت اور نہ وہ دل ہی رہے کہ دھڑکیں۔ اس دور میں بہت کچھ ہے لیکن وہ لوگ نہیں ہیں جن کے پہلو میں دھڑکتا ہوا دل ہو۔ آزادی کا ولولہ ہی جاتا رہا ہے۔ پرانی قدریں بدل گئی ہیں اور ان کی جگہ جو نئی قدریں پیدا ہوئی ہیں ان کا حدود اربعہ ہی مختلف ہے۔

سوال شیخ حسام الدین کا نہیں کہ یہ لوگ تو اب جا ہی رہے ہیں۔ ایک آدھ چراغ کسی گمشدہ طاق پر جل رہا ہے تو موت کی صرصر اسے بھی بجھا دے گی۔ اب سوال اس روایت کا ہے جس کو ان لوگوں نے اپنے خون جگر سے پیدا کیا اور جس کے اداشناسوں سے یہ زمانہ خالی ہوچکا ہے۔ ان لوگوں کو اسلام نے پیدا کیا اور یہ لوگ اسلام کے لئے تھے۔ جہاں تہاں اسلام کو گزند پہنچا یہ ماہی بے آب ہو گئے۔ آج اسلام تفسیروں کی زد میں ہے۔ قیادت کی کلاہ ان لوگوں کے سر پر بندھی ہوئی ہے جن کی سیاسی پیدائش اتفاقی اور حادثاتی ہے۔ جنہیں معلوم ہی نہیں کہ جس آزادی سے وہ متمتع ہو رہے ہیں اس کا خمیر کن لوگوں کے خون سے تیار ہوا تھا۔

زمانہ نیا داستانیں نئی

شیخ صاحب اور ان کے ہمراہیوں کو جس زمانہ سے اب گزرنا پڑا۔ حقیقتاً وہ زمانہ ان کے لئے نیا تھا اور وہ اس زمانے کے لئے بڑے پرانے تھے۔ دونوں میں سنگم نہ ہوسکا۔ زمانہ کی بے بصری اور ان کی تیز قدمی میں تصادم رہا۔ نتیجتاً سیاسیات کے اس بیاباں میں وہ اجنبی ہو گئے۔ نئی پود کے لئے بھی وہ اجنبی ہی تھے۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا تھا اور ان کے جنون وشوق کی وسعتیں کہاں تک تھیں۔ ان کا زمانہ پہلے مر گیا۔ انہوں نے بعد میں وفات پائی۔

(تلخ نوائی معاف)...... آزادی کے بعد اقوام وملل کے حوصلے صیقل شمشیر ہوجاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں حوصلے دولخت ہوچکے بلکہ ان کی خاکستر اڑ رہی ہے۔ لوگ شراروں سے ڈرتے اور سایوں سے بھاگتے ہیں۔ زمانہ تھا کہ لوگ آگ میں کودتے اور کلمۃ الحق کی پشت پناہی کرتے تھے۔ شیخ صاحب کا سب سے بڑا وصف یہ تھا کہ بڑے ہی بہادر انسان تھے۔ پندرہ بیس برس میں ان کا سارا قافلہ منتشر ہوگیا۔ چوہدری افضل حق بہت پہلے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ چوہدری عبدالعزیز بیگوالیہ کو قضا کھا گئی۔ آزادی کے بعد مولانا حبیب الرحمٰن

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۳۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رخصت ہوئے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو بلاوا آ گیا۔ قاضی احسان احمد جواں مرگ ہو گئے۔ شیخ صاحب ۔

داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے

اس گئے گزرے دور میں بھی پرانا دم خم باقی تھا۔ حسین شہید سہروردی کے ساتھ عوامی لیگ میں شامل ہو گئے۔ ایک دن سہروردی صاحب نے ان سے کہا: ’’شیخ صاحب! اسکندر مرزا (تب صدر مملکت) کو احرار کے بارے میں غلط فہمی ہے۔ میں نے کوشش کی ہے کہ اس کا ذہن صاف ہو جائے، لیکن آپ کی اس سے ملاقات مفید ہو گی۔‘‘

غرض! شیخ صاحب اور ماسٹر تاج الدین انصاری، اسکندر مرزا سے ملاقات کے لئے گورنمنٹ ہاؤس لاہور میں گئے۔ اسکندر مرزا اپنے صدارتی جاہ و جلال کے ساتھ برآمد ہوا اور شاہانہ بے نیازی کے ساتھ فروکش ہو گیا۔ ڈاکٹر خان صاحب صوبہ کے وزیر اعلیٰ ہمراہ تھے۔

سہروردی نے مرزا سے کہا: ’’دونوں احرار رہنما شیخ صاحب اور ماسٹر جی آئے ہیں۔‘‘

اسکندر مرزا نے حقارت سے جواب دیا: ’’احرار پاکستان کے غدار ہیں۔‘‘

ماسٹر جی، ٹھنڈی طبیعت کے مالک، کہنے لگے: غدار ہیں تو پھانسی پر کھنچوا دیجئے، لیکن الزام کا ثبوت ہونا چاہئے۔

اسکندر مرزا نے اسی رعونت سے جواب دیا: ’’بس میں نے کہہ دیا ہے کہ احرار غدار ہیں۔‘‘

ماسٹر جی نے تحمل کا رشتہ نہ چھوڑا، لیکن مرزا نے سرکش گھوڑے کی طرح پٹھے پر ہاتھ ہی دھرنے نہ دیا۔ ...... وہی ٹرائٹر خائی۔

شیخ صاحب نے غصہ میں کروٹ لی۔ مرزا سے پوچھا : کیا کہا آپ نے؟

میں نے؟

جی ہاں!

احرار پاکستان کے غدار ہیں۔ مرزا نے مٹھی بھینچتے ہوئے کہا۔

شیخ صاحب کہاں رکتے؟ گورنمنٹ ہاؤس، گورنر موجود، وزیراعلیٰ موجود، وزیراعظم موجود، صدر مملکت کی بارگاہ؟ فوراً جواب دیا: احرار غدار ہیں کہ نہیں؟ اس کا فیصلہ ابھی تاریخ کرے گی۔ تمہارا فیصلہ تاریخ کر چکی ہے کہ تم غدار ابن غدار ہو۔ تمہارے جد امجد میر جعفر نے سراج الدولہ سے غداری کی تھی، تم اسلام کے غدار ہو۔

ڈاکٹر خان صاحب نے شیخ صاحب کو آغوش میں لے لیا اور اسکندر مرزا سے پشتو میں کہا: میں نے تمہیں پہلے کہا تھا کہ ان لوگوں کے ساتھ شریفانہ لہجہ میں بولنا۔

یہ بڑے بے ڈھب لوگ ہیں

ظاہر ہے کہ بلی ایک ہی جھٹکے میں سپر انداز ہو جاتی ہے۔ یکا یک اس کا لب ولہجہ ہی بدل گیا اور یہ تھے، شیخ حسام الدین! افسوس کہ جرأت و مردانگی کی تمام تصویریں یکے بعد دیگرے ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ آمین!

الفضل کا لاہوری متنبیٰ

ہم کہتے ہیں:

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۳۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دے چکے ہیں۔

www.facebook.com/amtkn313

ameer@khatm-e-nubuwwat.com

www.amtkn.com

صفحہ ۲۳۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

فرمائیے! ان نقاط میں کوئی بات ایسی ہے جس کی تائید خود مرزائیوں کے لٹریچر سے نہ ہوتی ہو؟ اگر ہمارا دعویٰ غلط ہے تو ہم قابل گردن زنی اور اگر صحیح ہے تو اس پر جزبز ہونا اور سب وشتم کرنا کس ضابطہ اخلاق کی رو سے جائز ہے؟ ہم گالی نہیں دے رہے، بلکہ گالی دینے والے کو کمینہ سمجھتے ہیں۔ ہماری کسی تحریر سے کوئی سا لفظ نکال کر دکھائیے جس پر دشنام کا اطلاق ہوتا ہو۔ ہم نے جو حوالے دیئے ہیں ان کی تغلیط فرمائیے۔ پھر جو سزا بھی آپ تجویز کریں، ہمیں عذر نہیں ہوگا۔ لیکن ہماری ان تحریروں اور تقریروں سے تلملا کر لاہور کے ایک نمک خور نے جو لب ولہجہ اختیار کیا اور اپنے مرشد موعود کے انداز میں سب وشتم کی جو برکھا شروع کی ہے وہ اس کی تعلیم و تربیت کا شاہکار ہے۔ ہمیں اس کے خلاف شکایت نہیں کیونکہ اس کا وجود ہی اس ٹکسال میں ڈھلا ہے۔ الفضل کے اس لے پالک کا نام چٹان میں لکھنا اس کی عزت بڑھانا ہے بلکہ ہماری توہین ہوگی۔ لہٰذا ہم ربوہ کے خلیفہ ثالث سے یہ دریافت کرنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ اپنے بارے میں یہی لب ولہجہ پسند کرتے ہیں؟ انہیں گوارا ہے کہ ہم تاریخ محمودیت کے حقائق شائع کریں۔ ہم سے کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں، بہتر یہی ہے کہ خلیفہ صاحب اپنے اس یک رخے کو لگام دیں۔ بصورت دیگر ؎

ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں

اس ہفتگی میں پردۂ زنگاری کے ’’معشوق‘‘ نے جو حوالے گھڑے ہیں اور متنبی کے الہامی لہجہ میں جو گالیاں تصنیف فرمائی ہیں۔ توبہ نہ کی تو ان کا جواب ربوہ کے ’’قصر خلافت‘‘ کی غزلہائے رواں کو دیا جائے گا۔ ہمیں ہفتگی کے نقاب پوش اور عبدالسلام خورشید سے کوئی واسطہ نہیں، کیونکہ ہم انہیں مرفوع القلم سمجھتے ہیں۔ خود ’’چٹان‘‘ بھی اس بحث میں نہیں آئے گا۔ البتہ منبر و محراب اور کوچہ و بازار اس ’’طلسم ہوشربا‘‘ کے افسانوں سے گونجیں گے، جس کی تسوید و ترتیب قدرت نے اس احقر کو سونپ دی ہے۔

مرزائی اگر یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے قلم کا ہدف نہ بنیں تو انہیں سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا ظفر علی خان اور علامہ اقبال کے معاملہ میں اپنی زبانوں کو قابو میں رکھنا چاہئے۔ ربوہ کے اخلاقی ویرانے میں بیٹھ کر بڑ ہانکنا آسان ہے کہ ظفر علی خان کہاں ہے؟ اور عطاء اللہ شاہ بخاری کدھر ہے؟ یہ سوال لاہور میں یا پاکستان کے کسی بھی شہر میں دریافت کیا ہوتا تو جواب کماحقہ عرض کیا جاسکتا تھا۔

بہر حال! عرض مختصر یہ ہے کہ الفضل کا لاہوری ’’شتونگڑہ‘‘ اپنی حیثیت عرفی پر غور کرے اور خلیفہ ثالث اس کو ہدایت کردیں۔ اگر اس خانوادے کو اپنے موجودہ لب ولہجہ پر اصرار ہے اور اس کے ساتھ یقین بھی ہے کہ سیاسی شطرنج پر انہی کے مہرے جیت رہے ہیں تو شیش محل میں بیٹھ کر پتھر پھینکنا دانش مندی نہیں، احمقانہ جسارت ہے۔ بیاس اور چناب کے رنگا رنگ قافیوں کا دفتر کھلا تو کیا کچھ سامنے نہیں آ جائے گا۔ اب یہ فیصلہ کرنا خلیفہ ثالث کا کام ہے کہ وہ جواب آں غزل چاہتے ہیں یا فی الواقع لاہوری متنبی کو روک دیتے ہیں۔

(ایڈیٹر چٹان بحوالہ ہفت روزہ لولاک مؤرخہ ۲۳؍جون ۱۹۶۷ء)

مسیلمہ کے جانشین

مخاطب لاہور کا لے پالک ہفتہ وار جریدہ ’’ہمارا‘‘ نہیں، وہ شوق سے ہمیں گالیاں دیتا رہے۔ ہم نہ تو اس کو منہ لگائیں گے اور نہ اس کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ اس کی ہفوات پر قلم اٹھائیں۔ ہمیں مرزائیوں سے بحیثیت انسان کوئی تعرض نہیں۔ ایک پاکستانی کی حیثیت سے ہم ان کے وجود، ناموس اور آبرو کی حفاظت ملکی حکومت کے فرائض کا جزو غیر منفک سمجھتے ہیں۔ لیکن جس دن سے ہم نے اس جماعت کے سیاسی عزائم کا محاسبہ کیا اور حکومت سے درخواست کی ہے کہ ان پر کڑی نگاہ رکھے، اس دن سے ربوہ کی خلافت کے تمام سرکاری بزرجمہر اپنے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۳۸

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۲۳۸ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رسوخ واقتدار کے نیزے لے کر ہمارے جسم کو چھلنی کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

ہمارے خلاف اندرون خانہ محاذ باندھا جا رہا ہے اور ہمیں صرف اس جرم میں سزا دلوانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہم نے صدر ایوب کو ان کی فطرت اور سرشت کے احوال و آثار سے آگاہ کیا ہے۔ پھر سن لیجئے ! ہماری خواہش صرف اتنی ہے کہ :

کو اپنے نام کے ساتھ استعمال نہ کریں، کیونکہ یہ سرمایہ مسلمانوں کی محبوب ترین متاع ہے۔ جب قادیانی روزنامہ ’’الفضل‘‘ اس سرمایہ کا استعمال اپنے حلقہ بگوش کے لئے کرتا ہے تو مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ مرزا غلام احمد کی کسی بیوی کو ام المؤمنین لکھنا اور کسی لڑکی کو سیدۃ النساء کہنا ہمارے نزدیک ہولناک جسارت ہے۔ ایک طرف دلجوئی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ خلافت راشدہ کا تذکرہ تاریخ کے تعلیمی نصاب سے حذف کیا جارہا ہے، دوسری طرف مٹھی بھر مرزائیوں کے ناقوس ’’الفضل‘‘ کو اذن عام ہے کہ وہ مسلمانوں کے مسلمات کا استخفاف کرے اور اس سرمایہ اسلام کو ہتھیاتا رہے، جس پر محمد عربی ﷺ (فداہ امی وابی) کے اسلام کی اساس ہے۔ دلجوئی کے مقابلہ میں اس دل آزاری کا جواز کیا ہے؟

فرمائیے ! ان گزارشات میں کوئی ایسی بات ہے جس سے قانون اور اس کی منشاء پر آنچ آتی ہو یا پاکستان کی اقلیت اور اکثریت کے مابین نفرت پیدا ہونے کا شائبہ ہو۔ ہماری گزارش کا مدعا یہ ہے کہ مرزائی، نبوت کا کھڑاک رچا کر جس نفرت کو پیدا کر چکے ہیں ان کے ایک علیحدہ اقلیت ہو جانے سے اس نفرت کا خاتمہ ہو جائے۔

علامہ اقبال کی اس بارے میں قطعی رائے دیکھنی ہو تو اقبال اکادمی پاکستان کراچی کی تازہ کتاب ’’انوار اقبال‘‘ مرتبہ بشیر احمد ڈار اور پیش لفظ جناب ممتاز حسن کا صفحہ ۴۴ ملاحظہ فرما لیجئے۔ اصل خط چھاپ دیا گیا ہے۔ اس کا دوسرا پیرا کتابت میں غائب کر دیا گیا لیکن متن میں من و عن چھپا ہوا ہے۔ مسیلمہ کذاب اور سزا کے جواز پر واضح اشارہ موجود ہے۔

یہ جرم ہے جس کی بناء پر مرزائی اپنے اقتدار و رسوخ کو استعمال کر کے ’’چٹان‘‘ اور ایڈیٹر چٹان کو سزا دلوانا چاہتے ہیں اور حکومت کے سربراہوں کو بدگمان کر رہے ہیں۔ انہوں نے لاہور کے ہفتہ وار پرچے کو اسی غرض سے تیار کیا ہے۔ لیکن ہمارا اس سے کوئی مقابلہ نہیں، نہ ہمیں اس سے کوئی شکایت ہے نہ ہم نے اسے لائق مخاطبت سمجھا۔ ہمارے صفحات میں اس کے خلاف کچھ نہیں لکھا گیا۔ ہمارا حریف بلکہ مسلمانوں کا حریف ’’الفضل‘‘ ربوہ ہے۔ اس نے ہمارے خلاف سب وشتم کا انبار لگایا۔ اپنی پیدائش سے لے کر اب تک وہ مسلمانوں کے لئے دل آزاری کا باعث بنا ہوا ہے۔ اگر اس کو محفوظ رکھنے کے لئے کسی مرزائی گوشہ سے یہ فتنہ اٹھے کہ چٹان زیر عتاب ہو اور لاہور کا لے پالک برائے وزن بیت نتھی کیا جائے تو اس کا مطلب ہوگا کہ مرزائی ’’چٹان‘‘ کو اس لئے مٹانا چاہتے ہیں کہ ان کے نزدیک اقبال ، ظفر علی خان اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری تو موت کی آغوش میں جا چکے ہیں، باقی ان کے خدنگ ناز کی چوٹ سے سہم گئے ہیں۔ صرف ایک ’’چٹان‘‘ ہے جس نے ان کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے، اس کو مٹا کر پھر ان کے لئے سب اچھا ہو جائے گا۔ کیا یہ ممکن ہے؟ اور قانون مطالع یہ نہیں سوچے گا کہ وہ ایک خانہ ساز نبوت کی حفاظت کے لئے نافذ نہیں ہوا بلکہ اس کی حدود میں مملکت کا استحکام اور اس کے لوازمات ہیں؟

ہم اس سے غافل نہیں کہ مرزائی ہمارے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ لیکن الفضل صحیفہ اقدس نہیں کہ اس کو عصمت مریم

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۳۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کا درجہ دے کر محفوظ رکھا جائے؟ اور مرزائی بزعم خویش مطمئن ہو جائیں کہ انہوں نے جیسا کہ وہ لکھ رہے ہیں، علامہ اقبال، مولانا ظفر علی خان اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے ترکش کا آخری تیر بھی توڑ ڈالا ہے۔ معاف کیجئے! قانون کا مقصد مرزائیوں کی حفاظت نہیں، اس ملک، اس دین اور اس قوم کی حفاظت ہے۔“

(ہفت روزہ چٹان مورخہ ۱۰/ جولائی ۱۹۶۷ء)

خلیفہ ربوہ کے خلاف مظاہرہ

”گزشتہ دنوں جب خلیفہ ربوہ مرزا ناصر صاحب کراچی جانے کے لئے بذریعہ چناب ایکسپریس چنیوٹ ریلوے اسٹیشن سے گزرا تو چنیوٹ کے غیور مسلمانوں نے زبردست مظاہرہ کیا۔ مظاہرین مرزائیت مردہ باد، غداران پاکستان مردہ باد، غداران عرب مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرین نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس امر کی تحقیقات کرائے کہ حالیہ عرب اسرائیل جنگ کے دوران قادیانی اسرائیل مشن نے کیا کردار ادا کیا اور بیت المقدس پر اسرائیلی قبضہ کے بعد وزیر اعظم اسرائیل کو مبارک باد کا پیغام بھیجا ہے؟

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل میں قادیانی مشن بند کیا جائے۔ کیونکہ یہ مشن عربوں کے خلاف جاسوسی کا اڈہ ہے اور عرب دشمنی پر قائم ہے۔ مظاہرین نے بڑے بڑے کتبے اٹھائے ہوئے تھے، جن پر حکیم الامت علامہ اقبال کے تین مطالبات درج تھے:

اس کے بعد چند کتبوں کے عنوانات یہ تھے:

چنیوٹ ریلوے اسٹیشن پر خلیفہ ربوہ کے خلاف زبردست مظاہرے کے پیش نظر ریلوے اسٹیشن پر پولیس طلب کرنا پڑی۔“

خلیفہ ربوہ کا عزم یورپ

”مرزائی امت کے تیسرے خلیفہ مرزا ناصر احمد مورخہ ۶/ جولائی میں اپنے راج بھون سے یورپ کے لئے روانہ ہوگئے۔ حسن ظن اچھی چیز ہے۔ لیکن سوال ہے کہ انہیں اور ان کے ساتھ کی ایک جماعت کو اس نازک مرحلہ میں سفر یورپ کی اجازت دی گئی ہے تو اس کے ساتھ یہ بھی غور کیا گیا ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان بھی لندن میں ہیں، ادھر پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین مسٹر ایم ایم احمد بھی چار ہفتے کے لئے سرکاری دورے پر چلے ہیں، مسٹر ایم ایم احمد بھی اس نبوت ہی کے فرزند ہیں۔ گزارش اتنی ہے کہ اس امر کا ضرور خیال رکھا جائے۔ تثلیث کی ملاقاتیں کس رخ پر چلتی ہیں، وہ کن کن لوگوں سے ملتے، ان کے لئے کیا انتظام کئے جاتے اور ان کے سفر کی غایت کیا ہے؟ آواز حقیر سہی، لیکن دردمندانہ ہے اور ملک کے مفاد کو ملحوظ رکھ کر عرض کیا گیا ہے۔“

(ہفت روزہ لولاک مورخہ ۱۴/ جولائی ۱۹۶۷ء)

”مرزا ناصر انگلستان سے واپسی پر کراچی پہنچا تو ۲۳/ اگست ۱۹۶۷ء کو پریس کانفرنس سے خطاب کیا کہ مسلمانوں کے تمام فرقے اختلافات بھلا کر سات سال اسلام کی تبلیغ کریں۔ ایک دوسرے پر تنقید نہیں کریں گے۔ اس تجویز کے مفید نتائج برآمد ہوں گے۔“

(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۲۴/ اگست ۱۹۶۷ء)

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۴۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس پر مولانا محمد علی جالندھری نے ایک پریس کانفرنس کی جو صرف انہی اخبارات میں شائع ہوئی:

مرزا ناصر احمد کی پریس کانفرنس پر مولانا محمد علی جالندھری کا تبصرہ

ملتان: ۲۶؍ اگست ۱۹۶۷ء ۔ مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا محمد علی جالندھری نے مرزائی رہنما مرزا ناصر احمد کی حالیہ پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرزا ناصر قادیانی نے اتحاد المسلمین کی بات کی ہے اور یہ تجویز پیش کی ہے کہ سات سال تک مسلمانوں اور ان کے فرقہ کے درمیان اختلافات کی نوعیت فروعی ہے۔ مولانا جالندھری نے کہا کہ مرزا قادیانی کے فرقہ اور ہمارے درمیان اختلافات کی نوعیت سیاسی نہیں، مذہبی ہے۔ اس لئے جب تک نبوت کے بارے میں مرزا قادیانی اور ان کے پیروکار اپنے نظریات تبدیل نہ کریں۔ اتحاد کا کوئی امکان نہیں۔ پھر اس اتحاد میں یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ مرزا غلام احمد کا درجہ کیا ہوگا؟ مولانا جالندھری نے کہا کہ مرزا ناصر قادیانی اور ان کے پیروکاروں سے عام مسلمانوں کے اختلافات شدید ہیں۔ آج کل مسلمان عربوں کی شکست کی وجہ سے اتحاد کے خواہاں ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کی جانب سے اتحاد کی پیشکش ناقابل فہم ہے۔

(روزنامہ کوہستان مؤرخہ ۲۷؍ اگست ۱۹۶۷ء)

احمدیوں اور مسلمانوں کے عقائد مختلف ہیں...... مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ کا بیان

ملتان: ۲۶؍ اگست (امروز کے اسٹاف رپورٹر سے) مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ مولانا محمد علی جالندھری نے کہا ہے کہ تمام مسلمان ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں، اس لئے احمدیہ فرقہ کے ساتھ مسلمانوں کے تعاون اور اس کے فرقہ کے ساتھ مل کر تبلیغ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے آج اخباری نمائندوں کی کانفرنس میں مرزا ناصر احمد کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ احمدیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات بنیادی ہیں۔ اس لئے مرزا ناصر احمد کی اسلامی اتحاد کی اپیل گمراہ کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب احمدی افراد خود کو عقائد کی بنا پر مسلمانوں سے علیحدہ تصور کرتے ہیں تو ان سے کس طرح تعاون ہو سکتا ہے؟ مولانا محمد علی جالندھری نے کہا کہ مرزا ناصر احمد مسلمانوں اور احمدیوں کے درمیان فروعی اختلافات کا تاثر دے کر احمدی لیڈر کی وزارت میں شمولیت کے لئے راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔

(روزنامہ امروز، مؤرخہ ۲۷؍ اگست ۱۹۶۷ء)

اس پریس کانفرنس کا ہفتہ وار لولاک لائل پور میں بھی مفصل جواب دیا گیا، جو یہ ہے:

’’یورپ کی زیارت سے واپس آکر انہوں نے کراچی میں یہ بیان دیا تھا کہ: ’’تمام فرقہ ہائے اسلامی سات سال کے لئے آپس کے اختلافات ختم کر دیں‘‘ اور اب انہوں نے سرگودھا میں ایک سیاسی بیٹھک میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ’’تمام مسلمان فرقوں کو اسلام کی سربلندی اور خدا اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ کی خاطر دس بیس سال کے لئے آپس میں صلح کر کے تمام فروعی اختلافات کو خیر باد کہہ دینا چاہئے اور اپنی ساری توجہ تبلیغ اسلام پر مرکوز کرنی چاہئے۔‘‘

(روزنامہ امروز مؤرخہ ۲۳؍ نومبر ۱۹۶۷ء)

بظاہر کس قدر نیک اور مقدس تحریک کا بوجھ خلیفہ صاحب نے اپنے نازک کندھوں پر اٹھانے کی پیشکش کی ہے۔ مگر جو لوگ اس جماعت کے ماضی اور حال سے آشنا ہیں، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ دام ہمرنگ زمین کس ’’مستقبل‘‘ کا پتہ دیتا ہے۔ خلیفہ ربوہ کی خواہش ہے کہ تمام فرقہ ہائے اسلامی جماعت ربوہ کے ’’کچھوے‘‘ کو آہستہ آہستہ اپنی منزل کی طرف بڑھنے دیں اور خود ’’خواب خرگوش‘‘ کے مزے لیتے ہوئے ذرا دس بیس سال کے لئے میٹھی نیند آرام کریں، تاکہ جب ان کی آنکھ کھلے تو جماعت ربوہ کے خلیفہ ’’ایک نئی زمین اور ایک نیا آسمان تعمیر کر چکے ہوں‘‘

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۴۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزا ناصر احمد خلیفہ ربوہ کو خوب معلوم ہونا چاہئے کہ گزشتہ نصف صدی میں قادیان اور ربوہ سے جس قسم کے افکار و خیالات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، ان تیروں سے تمام مسلمانوں کے خواہ وہ مشرق میں بستے ہوں یا مغرب میں سینے چھلنی ہوتے رہے ہیں۔ گو ہمارے نزدیک آپ کی جماعت سے تمام اسلامیان عالم کے اختلافات بنیادی ہیں، کیونکہ خلیفہ مرزا محمود احمد کا قول ہے کہ: ”ان کا اسلام اور ہے اور ہمارا اور۔ ان کا خدا اور ہے اور ہمارا اور۔ ہمارا حج اور ہے اور ان کا حج اور۔ اس طرح ہر بات میں اختلاف ہے۔“ (الفضل مورخہ ۲۱؍اگست ۱۹۲۷ء) مگر چونکہ سابق خلیفہ نے عدالت میں حلفیہ بیان دیتے ہوئے یہ کہا تھا کہ عام مسلمانوں سے ہمارے اختلافات فروعی ہیں۔ جن کو فراموش کر دینے کا آج آپ مشورہ دے رہے ہیں، جیسا کہ ذیل کے سوال و جواب سے ظاہر ہے:

سوال: کیا احمدیوں اور غیر احمدیوں کے درمیان اختلافات بنیادی ہیں؟ جواب: اگر بنیادی کا وہی مفہوم ہے جو ہمارے رسول کریم ﷺ نے اس لفظ کا لیا ہے تب یہ اختلافات بنیادی نہیں ہیں۔ سوال: اگر لفظ ”بنیادی“ عام معنوں میں لیا جائے تو پھر؟ جواب: عام معنوں میں اس کا مطلب اہم ہے، لیکن اس مفہوم کے لحاظ سے بھی اختلافات بنیادی نہیں ہیں بلکہ فروعی ہیں۔

(تحقیقاتی عدالت کا بیان)

اس لئے بفرض محال فروعی ہی سمجھ کر عامۃ المسلمین سے آپ کی جماعت کے بڑے بڑے اختلافات کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ آپ ان اختلافات کی عظمت کا اندازہ لگا سکیں اور آئندہ سے ان اختلافات کو فراموش کر دینے کا مشورہ دینے سے پہلے سوچ لیا کریں کہ اختلافات ختم کرنے کا وقت وہ تھا کہ جب آپ اور آپ کے اسلاف نبوت اور خلافت کے محل تعمیر کر رہے تھے یا یہ وقت ہے کہ جب تمام فرقہ ہائے ملت مسلمہ آپ کے دعویٰ ہائے ناکردنی اور حرکات نا گفتنی سے سخت نالاں و پریشان ہیں۔

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

ختم نبوت

سب سے پہلا اور عظیم اختلاف جماعت ربوہ کا عام مسلمانوں سے یہ ہے کہ تمام عالم اسلام کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ نبوت اور رسالت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی اور ختمیت مآب سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر آ کر ختم ہو گئی اور اب آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی اس جہان میں تا قیامت برپا نہیں ہو سکے گا۔ مگر آپ کی جماعت کا عقیدہ ہے کہ:

(قول مرزا محمود احمد انوار خلافت ص ۶۲)

تو میں اسے کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے، کذاب ہے، آپ کے بعد نبی آ سکتے ہیں اور ضرور آ سکتے ہیں۔“

(انوار خلافت ص ۶۵)

کلمہ گو کی تکفیر

آنحضرت ﷺ بانی اسلام نے دین اسلام میں داخل ہونے کی واحد شرط کلمہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کو قرار دیا اور فرمایا: ”من قال لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ“ کلمہ گو خدا کی امان میں آ جاتا ہے۔ مگر آپ کی جماعت کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ غیر از جماعت کروڑ ہا کلمہ گو تمام کے تمام کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ جیسا کہ ذیل کے حوالہ جات سے واضح ہے:

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۴۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔“

(آئینہ صداقت ص ۳۵)

آپ ہم لوگوں کو کافر کہتے ہیں۔ میں نہیں مان سکتا کہ آپ ایسے وسیع حوصلہ رکھنے والے ایسا کہتے ہوں۔ اس سے شیخ یعقوب علی صاحب باتیں کر رہے تھے۔ میں نے ان کو کہا کہ آپ کہہ دیں کہ واقع میں ہم آپ لوگوں کو کافر کہتے ہیں۔ یہ سن کر وہ حیران سا ہو گیا ۔“

(انوار خلافت ص ۹۲)

مومن اور جو ایمان نہیں لائے خواہ ان کے ایمان نہ لانے کی کوئی وجہ ہو وہ کافر ہیں ۔“

(ذکر الٰہی ص ۲۲)

وفات مسیح

عامۃ المسلمین کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بہ جسد عنصری آسمان پر تشریف لے گئے تھے اور اب تک وہاں زندہ موجود ہیں اور آخری زمانہ میں امت محمدیہ کی اصلاح کے لئے نزول فرمائیں گے۔ مگر اس کے برعکس آپ کی جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ وفات پاچکے ہیں اور نزول عیسیٰ کی تمام احادیث قابل تاویل ہیں۔ جیسا کہ آپ کے خلیفہ نے کہا: ” ہمارے مخالفوں کا سب سے پہلا اعتراض تو ہم پر یہ ہے کہ ہم حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو وفات یافتہ مانتے ہیں۔“

(دعوت الامیر ص ۱۰)

پیش گوئی اسمہ احمد اور اس کا مصداق

تمام امت محمدیہ کا بلا کسی اختلاف کے یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جس پیش گوئی کا ذکر آیا ہے اور جو ”ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد“ کی آیت مبارکہ میں مذکور ہے۔ اس کے مصداق حضرت سرور کائنات محمد مصطفیٰ، احمد مجتبیٰ ﷺ ہیں۔ مگر اس متفقہ عقیدہ کے خلاف آپ کی جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ:

(انوار خلافت ص ۱۸)

ہے۔ اس آیت کا مصداق صحیح معنوں میں مسیح موعود ہی ہے، آنحضرت نہیں ۔

(الفضل مؤرخہ ۱۸؍ مئی ۱۹۱۴ء)

حضرت مسیح موعود کے متعلق ہی ہے۔“

(انوار خلافت ص ۱۸)

کلمہ گو کا جنازہ

جنازہ ایک دعا ہے جو ہر مسلمان کے فوت ہو جانے پر حضور ﷺ نے امت کو سکھلائی ہے۔ مگر جماعت ربوہ کے نزدیک کسی ایسے شخص کا نماز جنازہ جائز نہیں ہے جو ان کی جماعت کا فرد نہ ہو اور جماعت ربوہ کی گمراہی کی حد کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ غیر احمدی والد، والدہ ، بیوی ، بیٹے کسی غیر احمدی عزیز کا جنازہ بھی نہیں پڑھتے ۔ حتیٰ کہ سر ظفر اللہ خان نے محسن پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا جنازہ بھی نہیں پڑھا اور کہہ دیا کہ: ”مجھے کافر حکومت کا مسلمان ملازم یا مسلمان حکومت کا کافر ملازم سمجھ لیں ۔“

(ذمہ دار اخبار مؤرخہ ۸؍ فروری ۱۹۵۰ء)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۴۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۲۴۳ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

غیر از جماعت کے جنازہ کے متعلق جماعت ربوہ کا عقیدہ ہے کہ:

غیر از جماعت کے حق میں دعائے خیر

”قانون یہ ہے کہ جو شخص مرزا صاحب کا انکار کرتا ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اس کے لئے دعا جائز نہیں ہے۔“

(الفضل مورخہ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۲۲ء)

معصوم کا جنازہ

”اب ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے۔ اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے۔ لیکن اگر ایک غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا اور کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہے۔ اس لئے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔“

(انوار خلافت ص ۹۱)

مرزا قادیانی کو سچا ماننے والے کا جنازہ

”باقی رہا ایسا شخص جو حضرت صاحب کو سچا مانتا ہے لیکن اس نے ابھی بیعت نہیں کی۔ ہمیں اس کے متعلق یہی کرنا چاہئے کہ اس کا جنازہ نہ پڑھیں۔“

(انوار خلافت ص ۹۳)

عام مسلمانوں سے مناکحت

جماعت ربوہ کے عقائد میں یہ امر داخل ہے کہ کسی لڑکی کا غیر از جماعت لڑکے سے نکاح نہ کیا جائے اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں انہیں مختلف قسم کی سزاؤں کا شکار بنایا جاتا ہے۔ جماعت کو ہدایات ہیں کہ:

اس رشتہ میں شریک نہ ہو۔“

(ملائکۃ اللہ ص ۴۶)

غیر احمدیوں میں ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو۔ مگر اس معاملہ میں وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دیتے ہو۔“

(ملائکۃ اللہ ص ۴۶)

کیا رہ گیا جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا اور دنیوی تعلقات کا رشتہ ناتہ ذریعہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے ہیں۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔“

(کلمتہ الفصل ص ۱۶۹)

عام مسلمانوں کو ”السلام علیکم“ کہنا

عامتہ المسلمین کو جب کوئی ربوہ کی جماعت کا شخص السلام علیکم کہتا ہے تو اس وقت بھی اس کی نیت میں فتور ہوتا ہے۔ دراصل وہ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۴۴

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

منافقت سے کام لے رہا ہوتا ہے۔ دل میں وہ سلامتی کی دعا پر راضی نہیں ہوتا اور اس کا جواز یہ پیش کیا گیا ہے ۔’ اور اگر یہ کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام کیوں کیا جاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریم ﷺ نے یہود تک کو سلام کا جواب دیا ۔“

(کلمۃ الفصل ص ۷۹)

عامتہ المسلمین کے ساتھ نماز پڑھنا

کسی ایسے شخص کی امامت میں نماز ادا کرنا جو جماعت ربوہ سے منسلک نہ ہو ، ان کے نزدیک سخت کفر ہے اور اس سے سختی سے روکا جاتا ہے۔ مرزا ناصر احمد فروعی اختلافات ختم کرنے کا مشورہ دیتے وقت اپنے مندرجہ ذیل اقوال واعتقادات کو نظر میں رکھیں ۔

مرزا قادیانی کو نہ ماننے والے کے پیچھے نماز

نہیں ۔“

(الفضل مؤرخہ ۵ اگست ۱۹۱۵ء)

غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں ، جائز نہیں ۔“

(انوار خلافت ص ۸۹)

صرف خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔“

(القول الفصل ص ۴۵)

مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی برکات ختم ہوچکی ہیں (نعوذ باللہ )

ہر مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ ایسے مقدس مقامات ہیں جہاں سے محسن انسانیت کا بابرکت وجود روحانیت کا سورج بن کر طلوع ہوا اور ان مبارک مقامات کو منبع فیض قرار دیا گیا ہے اور تا قیامت یہ چشمہ فیض جاری و ساری رہے گا اور اس کی برکات کبھی ختم نہ ہوسکیں گی اور لاکھوں تشنگان معرفت اپنی پیاس بجھانے کے لئے کسب فیض کے لئے ہر سال ان مقامات پر جاتے اور فیضیاب ہوتے ہیں ۔ مگر اس بنیادی عقیدہ کے بالکل برعکس جماعت ربوہ کا عقیدہ ہے کہ مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے دودھ خشک ہوچکا ہے ۔

نقل کفر کفر نہ باشد

” قادیان تمام بستیوں کی ام (ماں) ہے ۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا ۔ وہ کاٹا جائے گا ۔ تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے ۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا ۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے ۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں؟“

(حقیقت الرؤیا ص ۴۶)

مقام محمدیت سے آگے کوئی مقام نہیں ہے

ہر حلقہ بگوش اسلام کا یہ دلی ایمان ہے کہ آنحضرت ﷺ نے قرب الہی کا جو مقام حاصل کیا وہ نہ کسی کو ملا نہ آئندہ کسی کو مل سکے گا۔ مگر ربوہ کے خلیفہ نے یہ کہہ کر کہ انسان ترقی کرتا کرتا (نعوذ باللہ ) آنحضرت ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے ، تمام مسلمانوں کے دلوں میں خنجر گھونپ دیا اور ہر کلمہ گو کا جگر یہ سن کر چھلنی ہو گیا کہ : ”یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے ۔ حتیٰ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۴۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کہ محمد ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔‘‘

(ڈائری مندرجہ الفضل مؤرخہ ۷؍جولائی ۱۹۲۲ء)

مرزا ناصر احمد خلیفہ ربوہ متوجہ ہوں

خلیفہ جی آپ کا مشورہ سر آنکھوں پر کہ دس سال کے لئے فروعی اختلافات کو خیر باد کہہ دیا جائے۔ آپ نے مندرجہ بالا اختلافات کا مطالعہ فرمالیا۔ اب آپ فرمائیں کہ کیا دس سال تک اپنی تمام سرگرمیاں سیاسی اور غیر سیاسی ترک کرتے ہوئے ان اختلافات کے متعلق جنہیں آپ کے والد نے فروعی اختلافات کا نام دیا ہے۔ ترک کرنے کے لئے تیار ہیں۔

آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کو ختم ماننے کے لئے تیار ہیں؟

اصطلاحات اسلامیہ کے غلط استعمال سے اجتناب برتیں گے؟

اگر آپ اور آپ کی جماعت ان تمام باطل عقائد سے توبہ کر کے یہ فروعی اختلافات ختم کرنے کو تیار ہے تو آئیے تبلیغ اسلام کا مشترکہ پروگرام تجویز کیجئے اور باہم شیر و شکر ہو کر اس نیک مقصد کے لئے کوشاں ہو جائیے۔ آپ ان عقائد سے دستبردار ہو جائیں۔ ہم آپ کا نوٹس لینا چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ اگر ایسا کرنے کو تیار نہیں ہیں تو یاد رکھئے گا کہ عامتہ المسلمین کو دھوکہ دینے اور اس قسم کے سیاسی ہتھکنڈے استعمال کرنے کا نسخہ آپ کو مہنگا پڑے گا۔‘‘

(لولاک مؤرخہ یکم؍ دسمبر ۱۹۶۷ء)

کراچی کی طرح مرزا ناصر نے راولپنڈی میں بھی ایک پریس کانفرنس کی جس کا لولاک نے یہ جواب دیا۔

مرزا ناصر کی راولپنڈی میں بکواس

مرزا ناصر احمد خلیفہ ربوہ نے اپنے حالیہ یورپ کے دورہ سے واپس آنے کے بعد ۱۷؍ستمبر ۱۹۶۷ء کو راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی اور اس میں اعلان کیا کہ: ’’میرے فرقہ کے لوگوں نے اگرچہ میرے دورہ یورپ کا پروگرام پہلے سے تیار کر رکھا تھا۔ لیکن اس دورہ کے سلسلہ میں مجھ پر وحی نازل ہوئی تو میں اس دورہ پر روانہ ہوا۔ میرا یہ دورہ تبلیغی تھا۔‘‘

(نوائے وقت مؤرخہ ۱۸؍ ستمبر ص آخر، کالم ۵، ۶)

ہم نے مرزا ناصر احمد کے ان الفاظ کو بار بار پڑھا اور ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد ان کا نوٹس لے رہے ہیں۔ ہمارا ایک خام خیال یہ بھی تھا کہ شاید یہ الفاظ نوائے وقت کے کسی کاتب کی سہو کتابت کے باعث شائع ہو گئے ہوں۔ لیکن اب تک ان کی تردید نہیں ہوئی۔ جس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اغلباً یہ اعلان کیا گیا ہے۔ ادھر ہمیں (قادیانی) معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ تمام قادیانی فرقہ کے لوگ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۴۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۲۴۶ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزا ناصر سے دوبارہ بیعت نبوت کر کے تجدید بیعت کر رہے ہیں۔ قادیانیوں کے رہنما مرزا ناصر احمد صاحب اب کے یورپ تشریف لے گئے تھے۔ اس سے پہلے ان کے والد مرزا بشیر الدین محمود نے قادیانی خلیفہ کی حیثیت سے متعدد بار یورپ کا سفر کیا۔ لیکن جو اہمیت مرزا ناصر احمد صاحب کے حالیہ دورہ کو دی گئی ہے۔ وہ صورت پہلے کبھی پیش نہیں آئی تھی۔ اس مرتبہ مرزا ناصر احمد صاحب کا ملک سے باہر جانا اور واپس آنا بالکل ایسے ہی منایا گیا۔ جیسے کوئی سربراہ مملکت ملک سے باہر جاتا اور پھر واپس آتا ہے۔ چنانچہ مرزا ناصر احمد قادیانی کا دورۂ یورپ سے واپسی پر ملک کے دارالخلافہ راولپنڈی میں پہنچ کر پریس کانفرنس سے خطاب کرنا بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔

مرزا ناصر احمد نے پریس کانفرنس میں جو کچھ کہا ظاہر ہے کہ وہ صرف ان کے فرقہ کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے ہے۔ اگر وہ کوئی بات اپنی جماعت کے افراد سے ہی کہنا چاہتے تو ظاہر ہے کہ اس کے لئے الفضل اور دوسرے قادیانی اخبارات میں اسے شائع کرا دینا ہی کافی ہوتا۔ انہوں نے اپنی نبوت اور وحی کے نازل ہونے والی بات کو اہم اور پوری قوم سے تعلق رکھنے کی وجہ سے بذریعہ پریس کانفرنس کہا ہے۔ مرزا ناصر احمد کا یہ نیا اعلان نہایت ہی افسوس ناک اعلان ہے۔ ہمارے جیسے ایک ادنیٰ مسلمان سے لے کر صدر مملکت محمد ایوب خان تک کے لئے لازمی اور ضروری ہے کہ اس نئے صاحب وحی کے متعلق بھی فیصلہ کریں کہ آیا یہ اپنے اعلان اور دعویٰ میں سچا ہے یا جھوٹا۔ اگر سچا ہے تو اس کی تصدیق اور تائید فرض ہے اور اگر جھوٹا ہے تو اس کا انکار اور اس کا استیصال لازمی ہے۔

اس سے پہلے مرزا ناصر احمد کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی صاحب وحی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس زمانہ میں یہاں برطانوی شہنشاہیت کا دور دورہ تھا۔ خود مرزا قادیانی کی نبوت اور ان کی تنظیم برطانوی حکومت کے خود کاشتہ پودے کی حیثیت رکھتی تھی۔ مسلمان عوام محکوم اور مجبور تھے۔ غلام اور پرائے دیس میں تھے۔ ہندو کی اقتصادی غلامی اور انگریزوں کی سیاسی غلامی میں جکڑے ہوئے تھے۔ ان حالات میں مرزا غلام احمد نے اپنی جھوٹی نبوت کا کاروبار انگریزی حکومت کی سنگینوں کے سایہ میں چمکایا۔ لیکن اب حالات وہ نہیں ہیں۔ ملک آزاد ہو چکا ہے۔ انگریز جا چکا ہے۔ ہندوؤں اور سکھوں کی مشارکت ختم ہو چکی ہے۔ ملک اپنا، فوج اپنی، خزانے اپنے، عمال حکومت اپنے، غرض اپنے دیس میں اپنوں کا راج ہے۔ ایسے حالات میں اگر کسی مسیلمہ کذاب نے اس مقدس نام پر کسی مکروہ کاروبار کو چلانے کی جسارت کی تو یقیناً اس کے لئے حالات سازگار نہیں ہوں گے۔ اس میں شک نہیں ہماری بے حمیتی اور تبلیغ کے فریضہ سے غفلت کی بدولت چند قادیانیوں کو سول اور فوج میں بڑے بڑے مناصب حاصل ہیں۔ لیکن سواد اعظم محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر یقین رکھتا ہے۔ مسلمان اپنی ہر کوتاہی کے باوجود حضور سرور کائنات ﷺ کی ذات اقدس کے معاملے میں ہر بڑی سے بڑی قربانی کر سکتے ہیں۔

ہم صدر مملکت کی خدمت میں نہایت ادب کے ساتھ عرض کرتے ہیں اور وہ اس لئے کہ وہ اس مملکت کے مسلمان سربراہ ہیں۔ جہاں وہ ملک کے محافظ اور امور مملکت کے ذمہ دار ہیں۔ وہاں دین محمدی کی حفاظت اور اشاعت کے بھی ذمہ دار ہیں کہ وہ اس نئے صاحب وحی کے کھڑے کئے گئے نئے فتنے اور اس کے نتائج کو اپنی خداداد بصیرت سے فوراً بھانپ لیں۔ مرزا ناصر احمد اندرون ملک سے اپنے مساعد اور موافق حالات اور بیرون ملک سے سیاسی اور سازشی امداد کے بل بوتے پر اب ایک ایسی راہ پر چل پڑے ہیں جو نہایت ہی خطرناک راہ ہے۔ فتنہ و فساد، سازش و بغاوت، قتل و غارت اور ملکی اور دینی تباہی کی راہ ہے۔

آخر میں ہم اسلام کے ایک ادنیٰ خادم اور سواد اعظم کے عقائد و نظریات کے ترجمان کی حیثیت سے اعلان کرتے ہیں کہ مرزا ناصر احمد نے پاکستان کے دارالخلافہ میں ۱۷؍ستمبر کو جو اعلان کیا ہے کہ میں صاحب وحی یعنی نبی ہو گیا ہوں۔ یہ اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ سراسر گمراہی اور کفر ہے۔ انہیں کوئی وحی نہیں ہوئی اور نہ ہی ہو سکتی ہے۔ وحی کا دروازہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب جناب محمد رسول

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۴۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اللہ ﷺ کے وصال کے بعد قیامت تک ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا ہے۔ انہیں جو کچھ ہوا ہے وہ یا تو شیطانی وسوسہ ہوا ہے اور یا انہوں نے سی۔ آئی۔ اے کے مخصوص الفاظ میں کسی خاص بات کا اعلان کیا ہے۔ ہم پوری ذمہ داری سے اعلان کرتے ہیں کہ پاکستان میں کسی جھوٹی نبوت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مرزا ناصر احمد اپنے اس گمراہ عقیدے اور اعلان سے توبہ کریں۔ ورنہ ان کا صاحب وحی ہونے کا اعلان انہیں دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کے شدید عذاب میں مبتلا کر دے گا۔

ہم آخر میں ان تمام دینی جماعتوں سے جو حضور سرور کائنات ﷺ کی ختم المرسلینی پر یقین و ایمان رکھتی ہیں اور اس مسئلہ کی حفاظت و اشاعت کی مدعی بھی ہیں۔ درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہوا کا رخ دیکھیں۔ ربوہ میں اسلام اور پاکستان کے خلاف جو کچھ سوچا سمجھا جا رہا ہے اس کا بغور مطالعہ کریں۔ ملک اور مذہب کی حفاظت کے لئے اپنے بزرگوں کی سنت کے مطابق سروں پر کفن باندھ کر گھروں سے نکلیں یا خود رسول اللہ ﷺ کے عشق ومحبت میں سنت نبوی کے مطابق قربانیاں کرتے ہوئے مٹ جائیں یا باطل کے خس وخاشاک کو راکھ کر ڈالیں۔‘‘

(لولاک مورخہ ۲۹؍ ستمبر ۱۹۷ء)

مرزا ناصر کی فضول خرچیاں

کچھ عرصہ ہوا قادیانیوں کے خلیفہ مرزا ناصر احمد یورپ کے دورے پر آئے تھے۔ جب یہ حضرت پاکستان پہنچے ہوں گے تو ان کے ربوہ کے سرکاری ڈھنڈورچیوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہوگا کہ: ’’حضرت ربوہ نے اسلام کا پیغام یورپ کے بچے بچے تک پہنچا دیا ہے اور حضرت کا دورہ بڑا ہی کامیاب ہوا۔ یورپ کے لوگ خلیفہ صاحب سے بہت متاثر ہوئے اور بس احمدیت قبول کرنے کے بالکل قریب ہیں۔ وغیرہ وغیرہ!‘‘

لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ خلیفہ صاحب کے اس دورے کا اسلام کی تبلیغ سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ یہ محض ان کا اور ان کے ساتھیوں کا سیر وسیاحت کا پروگرام تھا جو احمق قادیانیوں کی جیبوں سے بٹورے ہوئے روپے کے ساتھ پورا کیا گیا۔ خلیفہ صاحب نے یورپ میں کیسی تبلیغ کی؟ اور پورے یورپ کے دورہ میں انہوں نے کیا کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ اس کا اندازہ آپ اس ڈائری کے مندرجات سے لگا سکتے ہیں۔

خلیفہ ربوہ مرزا ناصر احمد جب فرینکفرٹ (جرمنی) آئے تو مجھے بھی ایک احمدی ساتھی کے ساتھ ائیر پورٹ جانا پڑا۔ وہاں پر (۱) قادیانی امام فرینکفرٹ۔ (۲) ایک ساتھی ہیمبرگ کا۔ (۳) ایک احمدی اور (۴) راقم الحروف نے ان کا استقبال کیا۔ مرزا صاحب کے ساتھ عورتیں اور مرد تھے۔ ان سب مہمانوں کو فرینکفرٹ کی عبادت گاہ میں ٹھہرایا گیا۔ یہ پاکستانی مسجدوں کی طرح نہیں۔ جہاں جوتے اتار کر اندر جایا جاتا ہے بلکہ مذکورہ عبادت گاہ میں جوتے پہنے عام آدمی موجود تھے اور اسی میں ٹیلی ویژن بھی لگا ہوا ہے۔ ننگے فوٹو دیکھے جاتے اور اسی میں قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ ساتھ ’’پلے بوائے‘‘ رسالہ جسے ایک شریف آدمی اپنے ہاتھ میں بھی نہیں پکڑ سکتا۔ وہاں پڑھا جاتا ہے اور میں نے اپنی آنکھوں سے یہ رسالہ وہاں کے امام کے پاس دیکھا ہے۔ اسی میں جرمن لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے اٹھتے بیٹھتے اور راز و نیاز کی باتیں بھی کرتے ہیں اور وہاں گفتنی اور نا گفتنی سب کچھ ہوتا ہے۔ مرزا صاحب اور ان کی پارٹی نے دل کھول کر وہاں خریداری کی اور فرینکفرٹ کی عبادت گاہ میں ہی ایک دن جلسہ کے نام پر ایک جرمن نے ایسی فلم دکھائی جس میں درہ خیبر میں غریب پاکستانیوں کو پکوڑے بناتے اور سائیکلوں کو پنکچر لگاتے ہوئے دکھایا گیا تھا اور کراچی کے ایک بازار میں امریکن پرانے کپڑے فروخت کرتے ہوئے دکھائے۔ جس پر ایک محب وطن پاکستانی مسلمان نے احتجاج کیا تھا کہ جلسہ کے نام پر اگر آپ نے تقریریں کرنے کی بجائے فلمیں ہی دکھانا تھیں تو

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۴۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آپ درہ خیبر میں پکوڑے بناتے اور پنکچر لگاتے پاکستانی دکھانے کی بجائے لاہور، راولپنڈی اور کراچی کی بڑی بڑی عمارتیں بھی دکھائی جاسکتی تھیں۔ منگلا ڈیم، تریموں ہیڈ، غلام محمد بیراج اور اسلام آباد سے بھی جرمن عوام کو روشناس کروایا جاسکتا تھا۔ آپ نے ذلیل فلمیں دکھا کر پاکستانی عوام اور حکومت پاکستان کی سخت توہین کی ہے۔ چنانچہ احتجاج مؤثر ثابت ہوا اور فلم بند کر دی گئی۔

آج کل یہاں کے احمدیوں میں چندہ اکٹھا کرنے کے سلسلہ میں زبردست اختلافات پیدا ہوچکے ہیں اور وہ دوگروہوں میں بٹ گئے ہیں۔ ایک گروہ جن کا لیڈر فرینکفرٹ کا امام اور دوسرے گروہ کا رہنما احمد نگر ربوہ کا ایک پاکستانی احمدی ہے۔ امام کی ماہوار تنخواہ ساٹھ مارک ہیں اور اس کے بیوی بچے ربوہ میں ہیں جہاں اس نے اپنا مکان بنانے کے علاوہ ایک بھینس بھی رکھی ہوئی ہے۔ بیوی بچوں اور بھینس کا خرچ اسے ساٹھ مارک میں سے ہی پورا کرنا ہوتا ہے۔ مگر میاں مولوی صاحب کا یہ حال ہے کہ فرینکفرٹ کی بین الاقوامی نمائش کے ایک سٹال پر انہوں نے سات ہزار ڈی مارک (چودہ ہزار پاکستانی روپیہ) خرچ کیا ہے اور یہی خرچ جرمن احمدیوں کو دو گروہوں میں بانٹنے کا سبب بنا ہے۔ احمد نگری گروہ کا کہنا ہے کہ جب تک مولوی صاحب اپنے حساب کتاب نہیں دکھائیں گے۔ ہم چندہ نہیں دیں گے۔ مولوی صاحب کہتے ہیں کہ میں چندہ وصول کر سکتا ہوں۔ مگر حساب کتاب نہیں دکھا سکتا۔ میرا حساب تو صرف خلیفہ ربوہ ہی چیک کر سکتے ہیں۔

الغرض یہ اختلافات سنگین نوعیت اختیار کر رہے ہیں اور مخالف گروپ اندر ہی اندر خلیفہ ربوہ کے خلاف زبردست محاذ قائم کر چکا ہے۔ مخالف گروپ یہ کہتا ہے کہ اسلامی تبلیغ کے مقدس نام پر ذاتی سامان کی خریداری اور عیش وعشرت کی خاطر سفر کو مقدس عنوان دے کر پروپیگنڈا کرنا اسلام سے مذاق ہے اور پاکستانی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ جن کے خون پسینہ کی کمائی زرمبادلہ کی صورت میں اس طرح چند عیش پرست مذہبی شاہ خرچوں کے حوالے کر دی جائے۔ فرینکفرٹ مغربی جرمنی میں خلیفہ ربوہ کی تبلیغ اسلام کا جو حال میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے: ”قیاس کن زگلستان من بہار مرا“ کے مصداق یورپ کے سارے دورے کا آپ اسی سے اندازہ کرلیں۔ خاندان خلافت کی عورتوں اور مردوں نے جس طرح یہاں بے دریغ شاپنگ کی ہے۔ اگر اس کا پتہ پاکستان کے مخلص اور سادہ لوح قادیانیوں کو چل جائے تو اس خلافت سے توبہ ہی کر لیں۔

(لولاک مؤرخہ ۲۲؍ دسمبر ۱۹۶۷ء)

سپاس عقیدت ...... مولانا لال حسین اختر کا دورۂ یورپ

۲۹؍ جون ۱۹۶۷ء کو ساڑھے پانچ بجے شام مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر، ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے اعزاز میں مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے اراکین نے ایک الوداعی ضیافت کا اہتمام کیا۔ حضرت مولانا موصوف انٹرنیشنل تبلیغی اسلامی مشن انگلستان کی دعوت پر راؤ شمشیر علی خان جنرل سیکرٹری انٹرنیشنل تبلیغی اسلامی مشن کی معیت میں ۳۰؍ جون ۱۹۶۷ء کو بذریعہ کار انگلستان اور یورپ میں تبلیغ اسلام کی غرض سے اور خانہ ساز نبوت کے تار و پود بکھیرنے کے لئے عازم انگلستان ہورہے تھے۔ یہ تقریب مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے دفتر میں نہایت تزک واحتشام سے منعقد ہوئی۔ جس میں کم و بیش ڈیڑھ سو افراد شریک ہوئے۔ شرکاء میں جانشین شیخ التفسیر حضرت مولانا عبیداللہ انور، سید انور حسین نفیس رقم، خلیفہ مجاز حضرت رائے پوری قدس سرہ، میاں خان محمد کٹیار ایم. پی. اے، آغا شورش کاشمیری مدیر چٹان، ڈاکٹر مناظر حسین نظر ایڈیٹر خدام الدین، جناب حمید اصغر مجید نائب مدیر چٹان، محمد حسین صاحب فوٹو گرافر چٹان، چوہدری ثناء اللہ بھٹہ ناظم اعلیٰ مجلس احرار اسلام، حکیم مختار احمد الحسینی ناظم دفتر متحدہ اسلامی محاذ، چوہدری سلطان احمد ناظم اعلیٰ مجلس احرار اسلام لاہور، خواجہ محمد صادق صاحب صدر مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور، مولانا عبدالرشید ارشد، چوہدری بشیر احمد صاحب ناظم مکتبہ ”القادر“، پروفیسر عبدالقیوم صاحب، مسٹر

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۴۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رحمت علی، مولانا سید منظور احمد شاہ، مسٹر فاروقی صاحب مدیر سیرت کے اسماء گرامی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اس مبارک تقریب میں محترم بلند اختر صاحب ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور پروپرائٹر ویسٹ پاک ٹریڈرز شاہ عالمی گیٹ لاہور نے مندرجہ ایڈریس پیش کیا۔ ادارہ!

بزرگان محترم! زندگی میں بارہا ایسے واقعات پیش آتے ہیں جب کسی معاملہ میں دل اور دماغ جدا جدا فیصلہ کرتے ہیں اور کبھی تو پھر ایسے معاملات میں پاسبان عقل کی نگرانی ختم کر دی جاتی ہے اور عشق وجذبات کو آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے۔ تاہم بعض امور ایسے ہوتے ہیں جہاں صرف عقل اور دماغ کے فیصلوں کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ کچھ اس کشمکش سے آج ہم دو چار ہیں۔ مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے عزم انگلستان پر دل تو یہی چاہتا ہے کہ مولانا عمر خضر پائیں، اپنے وطن ہی میں رہیں اور ہم سے کبھی جدا نہ ہوں۔ کیونکہ اس قحط الرجال کے دور میں حضرت مولانا اہل حق کی طرف سے باطل فرقوں کے مقابلہ میں سد سکندری اور شمشیر بے نیام سے کم نہیں۔ انہی کی ایک ذات گرامی ہے جسے تمام اکابر کی دعائیں اور سرپرستی حاصل رہی ہے۔ اس صدی کے محدث اعظم حضرت مولانا سید انور شاہ، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، شیخ العرب والعجم سیدی ومولائی حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی، قطب العالم، امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوری، شیخ العصر حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور دوسرے تمام بزرگ انہیں ملت اسلامیہ کی متاع عزیز اور فرق باطل کے خلاف حق کی تلوار سمجھتے رہے ہیں۔ اس لئے ہمیں بھی یہ محبوب ہیں اور ہم انہیں اپنا مقتداء اور قیمتی اثاثہ سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے ایسی گراں مایہ شخصیت کی جدائی اور اس کے فیوض و برکات سے عارضی محرومی بھی دل پر پتھر رکھ کر ہی برداشت کی جا سکتی ہے۔ تاہم یورپ میں مرزائیوں اور دیگر باطل مذاہب کی دسیسہ کاریوں اور مسلمان دوستوں کی کم فرصتی اور غفلت کے پیش نظر حضرت مولانا کا وہاں ورود مسعود ہمارے معزز دوست راؤ شمشیر علی خان اور دوسرے انگلستانی دوستوں کے نزدیک از بس ضروری ہے اور تبلیغی تقاضوں کے مطابق ہے۔ اس لئے ہم دیار غیر میں بسنے والے اپنے پاکستانی بھائیوں کے جذبات کے احترام میں اور تبلیغی تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے دل کی بجائے دماغ کا فیصلہ ماننے پر مجبور ہوئے ہیں اور بصمیم قلب دعا کرتے ہیں کہ حضرت مولانا مدظلہ، جہاں کہیں رہیں اور جس جگہ تشریف لے جائیں صحت وعافیت کے ساتھ خوش وخرم اور شاداں وفرحاں رہیں اور خرمن باطل پر بجلی بن کر ٹوٹیں اور اسے صفحہ ہستی سے نیست ونابود کردیں۔

آخر میں ہم مولانا سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ انگلستان جا کر اس سر زمین کو نہ بھول جائیں۔ جہاں ان کے مقتداء و پیشواء حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری اور امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوری آرام فرما ہیں اور ہم ناکاروں کو بھی فراموش نہ فرمائیں جو ان کے اکابر کے نام لیوا اور آپ کے حقیقی خدمت گزار ہیں۔ ہمیں پوری امید ہے کہ حضرت مولانا جس مقدس مشن کی تکمیل کی خاطر یورپ تشریف لے جا رہے ہیں۔ اس میں محبوب رب العالمین ﷺ کی ختم المرسلینی کے صدقے ضرور کامیاب ہوں گے اور شیخ الہند سے لے کر حضرت لاہوری اور حضرت امیر شریعت تک کے مسلک و مشرب کے محافظ ثابت ہوں گے۔

آخر میں ہم ایک مرتبہ پھر دعا کرتے ہیں کہ حضرت مولانا جس مشن کی خاطر اتنا طویل سفر اختیار کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ اس میں انہیں توقع سے زیادہ کامیابی عطاء فرمائے۔ انہیں بیش از بیش ہمت عطاء فرمائے کہ یہ اکابرین کا نام مزید اونچا کر سکیں۔ صحت وعافیت اور ایمان ویقین کی دولت سے بہرہ ور رہیں اور باطل کے سر پر حق کی تلوار بن کر لہراتے رہیں۔ ”ایں دعا از من واز جملہ جہاں آمین باد۔ سلامت روی و باز آئی۔“

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۵۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس کے ساتھ ہم تمام علماء کرام اور معزز کرم فرما جماعتی حضرات کے شکر گزار ہیں جنہوں نے مقامی جماعت کی درخواست کو قبول فرما کر قدم رنجہ فرمایا۔ پھر ہم آپ حضرات سے توقع رکھتے ہیں کہ آپ ہمیں ہر قسم کے مفید مشوروں سے سرفراز فرماتے رہیں گے۔ بلند اختر ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور!

(خدام الدین مؤرخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۶۷ء)

مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر تبلیغ اسلام کے لئے انگلستان روانہ ہوئے تو دفتر مرکزیہ ملتان میں ایک تقریب منعقد کی گئی۔ جس میں مولانا مفتی محمود، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا مفتی محمد عبداللہ اور مجلس کے مبلغین ورفقاء جمع ہوئے۔ آپ کو اپنی نیک تمناؤں سے ان حضرات نے رخصت کیا۔ مرزا ناصر بھی ان دنوں انگلستان گیا ہوا تھا۔ چنانچہ مولانا نے اسے مناظرے کا چیلنج دیا۔ مگر وہ منحرف ہو گیا۔ اس سلسلہ میں مدیر لولاک مولانا تاج محمد کے نام اپنے ایک مکتوب میں فرماتے ہیں۔

مولانا لال حسین اختر کا مرزا ناصر کو چیلنج

ہڈرسفیلڈ انگلستان! مؤرخہ ۱۹؍ شعبان ۱۳۸۷ھ، مطابق ۲۲؍ نومبر ۱۹۶۷ء

برادر محترم حضرت مولانا تاج محمود صاحب زید مجدکم السلام علیکم!

جیسا کہ میں نے لکھا تھا برطانوی حکومت نے ابتداء میں مجھے ایک ماہ کا ویزا دیا تھا۔ مزید ویزا کے لئے ہوم آفس سے رابطہ قائم کیا گیا۔ ڈیڑھ ماہ تک میں انتظار کرتا رہا کہ آج جواب آتا ہے یا کل، انکوائری ہوتی رہی۔ مرزائیوں نے مقدور بھر کوشش کی کہ برطانیہ میں میرا قیام نہ ہو سکے۔ ان کی جدوجہد کے علی الرغم ڈیڑھ ماہ کے بعد مجھے مزید چھ ماہ کا ویزا مل گیا۔ ممکن ہے اس کے بعد مزید قیام کی اجازت مل جائے۔ برطانیہ میں تقریباً پانچ لاکھ پاکستانی اور ہندوستانی مسلمان فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں۔ ہر شخص پانچ یوم میں کم از کم ۲۰ پونڈ (یعنی ۲۰۰ روپے پاکستانی) کی مزدوری کر لیتا ہے۔ ہفتہ میں دو یوم ہفتہ اور اتوار کی چھٹی ہوتی ہے۔ اس ملک میں مزید غیر ملکی مزدوروں کی ضرورت نہیں۔ اس لئے حکومت نے پابندی لگا رکھی ہے کہ کسی فیکٹری کے واؤچر کے بغیر کوئی نیا مزدور یہاں نہیں آ سکتا۔ بعض لوگ ناجائز طور پر داخل ہوتے ہیں تو حکومت انہیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیتی ہے اور پھر انہیں ان کے ملک میں بھیجا جاتا ہے اور اس ملک سے ان کا کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔ صرف سیر کے لئے وزیٹر کا ویزا ملتا ہے اور یہاں نئے داخل ہونے والوں پر کڑی پابندی ہے۔

یہاں مرزائیوں کا خلیفہ مرزا ناصر احمد براجمان ہوا تھا۔ مسلمانان لندن نے اسے تحریری چیلنج بھیجا کہ لال حسین اختر مبلغ مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت پاکستان یہاں بغرض تبلیغ آئے ہوئے ہیں۔ ہمارے لئے بہترین موقع ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے صدق وکذب کو جانچ سکیں۔ ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ مجمع عام میں آپ یا آپ کی جماعت کا کوئی عالم، مولانا موصوف سے صدق وکذب مرزا غلام احمد قادیانی کے موضوع پر مناظرہ کریں۔ مناظرہ ٹیپ ہو کر شائع کر دیا جائے۔ مرزائیوں کے خلیفہ کو جرات نہ ہوئی کہ مسلمانان لندن کے اس چیلنج کو قبول کرتا۔ مرزائیوں کے خلیفہ نے لال حسین اختر کے قول کی تصدیق کر دی کہ: ”قادیانی مبلغ اور مناظر زہر کا پیالہ پینا منظور کر لیں گے ۔ لیکن میرے ساتھ صدق و کذب مرزا کے مضمون پر مناظرہ منظور نہ کریں گے ۔“

مختلف مقامات پر صداقت اسلام، سیرت النبی ﷺ، تردید عیسائیت و دہریت پر میری اسی (۸۰) سے زیادہ تقریریں ہو چکی ہیں۔ آٹھ شہروں میں مجالس تحفظ ختم نبوت کی تشکیل ہو گئی ہے۔ یہاں مادیت ہی کو فروغ ہے۔ روحانیت کا نام و نشان نہیں۔ سڑکوں کے فٹ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۵۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پاتھوں پر، باغیچوں میں، سیر گاہوں میں، میدانوں میں، بنگلوں میں، سبز، سرخ، زرد، سفید، نیلے پھولوں کی فراوانی ہے۔ یہاں کا ہر خطہ پھولوں سے اٹا پڑا ہے۔ مگر خوشبو کسی میں نہیں۔ علامہ اقبال نے شاید اسی خطہ کے پیش نظر فرمایا تھا ؎

ریاض دہر میں یوں تو رنگ رنگ کے پھول
وفا کی جس میں ہو بو وہ کلی نہیں ملتی

شراب، زنا اور جوئے کی کثرت ہے انہیں زندگی کے لوازمات میں سے سمجھا جاتا ہے۔ یہاں سفارش نہیں، رشوت نہیں، ظلم نہیں ملکی قانون کی حکمرانی ہے۔ بوڑھوں اور معذوروں کے لئے حکومت نے علیحدہ بنگلے بنا رکھے ہیں۔ ان کے تمام اخراجات حکومت ادا کرتی ہے۔ تمام بیماروں کا علاج مفت ہے۔ خواہ کسی بیمار کے علاج پر دس ہزار پاؤنڈ خرچ ہوں۔ ڈاکٹر مکان پر آکر معائنہ اور علاج کرتا ہے۔

عزیزم محمد اقبال، طارق محمود، محمد بشیر، محمد نذیر کو السلام علیکم۔

(لولاک مؤرخہ یکم؍ دسمبر ۱۹۶۷ء)

مولانا لال حسین اختر تین سال تک بیرون ملک تبلیغ اسلام کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ ان کے دورہ کے اہم واقعات سے ووکنگ مسجد کی قادیانیوں سے واگزاری بھی ہے۔ جس کی تفصیل ”انگلستان میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی کامیابی“ خدام الدین سے پیش خدمت ہے۔ مولانا کے سفر سے متعلق جو خبریں آگے آئیں گی، اپنے اپنے مقامات پر درج کرتا چلا جاؤں گا۔ انہیں یکجا کرنے کے لئے اس سفر کو روکنا فقیر کے لئے ممکن نہیں۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھری کے حکم پر مولانا سعید الرحمن علوی نے مولانا لال حسین اختر کا ان کے تبلیغی سفر سے واپسی پر تفصیلی انٹرویو لیا تھا جو سفر نامہ انگلستان کے عنوان سے لولاک میں قسط وار شائع ہو چکا ہے۔ اللہ رب العزت کو منظور ہوا تو کسی اگلی صحبت میں اسے نقل کر سکوں گا۔

انگلستان میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی عظیم الشان کامیابی

شیخ العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت رائے پوری اور حضرت لاہوری اور دیگر اکابرین کی دعاؤں اور برکات سے حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے مجلس احرار اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ذریعے تردید مرزائیت کا محاذ بنا کر مسلمانان عالم پر احسان عظیم فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں کہ کتنے مرزائی مشرف بہ اسلام ہوئے اور کتنے مسلمانوں کو مرزائیت کے مہلک اثرات سے بچایا۔ حضرت امیر شریعت قدس سرہ کے ارشاد کے پیش نظر مجلس تحفظ ختم نبوت کا مدت سے عزم تھا کہ انگلستان میں (جو کہ مرزائیت کا حقیقی گہوارہ ہے) تردید مرزائیت کا محاذ قائم کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے گزشتہ سال مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر ہمارے ہاں انگلستان تشریف لائے۔ ان ہی ایام میں قادیانی خلیفہ مرزا ناصر احمد بھی انگلستان آئے ہوئے تھے۔ مسلمانان انگلستان نے احقاق حق کے لئے موقع غنیمت جانتے ہوئے مناظرہ کا چیلنج دے دیا جو من وعن درج ذیل ہے:

بخدمت جناب مرزا ناصر احمد صاحب، خلیفہ جماعت احمدیہ قادیانیہ حال وارد یو۔ کے

معلوم ہوا ہے کہ آپ یہاں تشریف لائے ہیں۔ ان ہی ایام میں ہند و پاکستان کے مشہور مبلغ و مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بسلسلہ تبلیغ یہاں تشریف فرما ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے احقاق حق کے لئے بہترین ماحول عطاء فرمایا ہے۔ حضور سرور کائنات، سید الاولین والآخرین، شفیع المذنبین، خاتم النبیین، رحمت للعالمین، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے وفد نجران سے مناظرہ کیا تھا اور آپ (مرزا ناصر احمد) کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی زندگی میں آریوں، عیسائیوں اور مسلمانوں سے پانچ مناظرے کئے تھے۔ مناظرہ تبلیغ دین کا ایک نہایت اہم شعبہ ہے۔ ہم آپ سے التماس کرتے ہیں کہ آپ خود یا آپ کا نمائندہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی کے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۵۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

صدق و کذب کے موضوع پر مولانا لال حسین اختر صاحب سے مناظرہ کر کے مسلمانان انگلستان کو احمدیت کی حقیقت سے روشناس کرائیں۔ از راہ کرم جواب سے مطلع فرمائیں۔

(حاجی) محمد اشرف گوندل امیر انٹرنیشنل تبلیغی مشن ۲۵ کونزڈ روڈ ہنسلو ویسٹ مڈکس، یو۔کے۔مؤرخہ ۳۰؍جولائی ۱۹۶۷ء

مرزائیوں کے خلیفہ کو ہمت نہ ہوئی کہ مسلمانوں کا چیلنج منظور کرتا۔ اس نے مولانا لال حسین صاحب اختر ناظم اعلیٰ مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت پاکستان کے اس مشہور مقولہ کی تصدیق کر دی کہ: ”مرزائی مبلغین کے لئے زہر کا پیالہ پی لینا آسان ہے۔ مگر میرے آمنے سامنے ہو کر مناظرہ کرنا مشکل ہے۔“

اس فیصلہ کن چیلنج نے مرزائیوں کے حوصلے پست کر دیئے۔ ان کی سرگرمیاں ماند پڑ گئیں۔ آج تک اپنے خلیفہ کے فرار کا جواز پیش نہیں کر سکے۔ ان پر مایوسی طاری ہو گئی ہے اور ان کی نام نہاد تبلیغ کا بھرم کھل گیا ہے۔

انگلستان کے مشہور شہروں میں مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر کی معراج النبی ﷺ، ختم نبوت، حیات مسیح علیہ السلام، تردید مرزائیت، صداقت اسلام، تردید تثلیث و کفارہ، تردید الوہیت وابنیت مسیح علیہ السلام پر ڈیڑھ سو سے زائد تقاریر ہو چکی ہیں اور ایک پادری سے کامیاب مناظرہ بھی ہوا ہے۔

ووگنگ مسجد میں تردید مرزائیت

انگلستان کا مشہور شہر ووگنگ، لندن سے پچیس میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں بیگم صاحبہ بھوپال نے ”شاہ جہاں مسجد“ کے نام سے وسیع اور خوبصورت مسجد بنوائی تھی۔ (مرزائی ہندوستان میں یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ یہ ہماری تعمیر کردہ ہے) یہ انگلستان میں پہلی مسجد تھی۔ قریباً پچیس برس سے یہ مسجد مرزائیت کے پروپیگنڈے کا مرکز رہی ہے۔ اس میں رات دن مرزا غلام احمد قادیانی کی محدثیت، مجددیت، مسیحیت، مہدویت اور ظلی بروزی نبوت پر خواجہ کمال الدین، مسٹر صدرالدین اور مسٹر یعقوب خان ایڈیٹر ”لائٹ“ کے لیکچر ہوتے رہے ہیں اور اس مسجد کو مرزائیت کا عظیم قلعہ سمجھا جاتا ہے۔ آج کل اس مسجد کے امام اور خطیب مولانا حافظ بشیر احمد مصری ہیں۔ جناب نور محمد صاحب لودھی کی تحریک پر، جناب ظہیر احمد صاحب سیکرٹری پاکستان مسلم ایسوسی ایشن ووگنگ نے مولانا بشیر احمد صاحب مصری سے ملاقات کر کے بتایا کہ ہم مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر کی ختم نبوت اور تردید مرزائیت پر تقریر کرانا چاہتے ہیں۔ مولانا بشیر احمد صاحب نے تقریر کے لئے شاہجہان مسجد کا انتخاب فرمایا۔ چنانچہ ۱۱؍فروری ۱۹۶۸ء بروز اتوار تین بجے تقریر کا اعلان کر دیا گیا۔ مقررہ وقت پر مقامی حضرات کے علاوہ لندن، ساؤتھ ہال اور ہنسلو سے اہل اسلام کا ایک سیلاب امڈ آیا اور مسجد سامعین سے کھچا کھچ بھر گئی۔ مولانا بشیر احمد نے مولانا لال حسین اختر صاحب کا پر تپاک خیر مقدم کیا۔ جلسہ کی صدارت جناب ظہیر احمد صاحب سیکرٹری پاکستان مسلم ایسوسی ایشن ووگنگ نے فرمائی۔ تلاوت قرآن پاک کے بعد مناظر اسلام مدظلہ نے مسئلہ ختم نبوت اور تردید دعاوی مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان افروز تقریر فرمائی۔ آپ نے وضاحت سے بیان کیا کہ مسلمانوں اور مرزائیوں میں کفر و اسلام کا اختلاف ہے اور پونے چودہ سو سال سے مسلمانوں کا اجتماعی عقیدہ ہے کہ سرور کائنات ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔

مناظر اسلام مدظلہ نے مرزا قادیانی کے خلاف اسلام دعاوی اور توہین انبیاء علیہم السلام و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر مفصل روشنی ڈالی۔ آپ کی تقریر کے بعد مولانا بشیر احمد مصری نے تقریر کی تائید کرتے ہوئے کہا میں مرزائی یا احمدی نہیں ہوں بلکہ میں مسلمان ہوں اور تاجدار

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۵۳

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مدینہ ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت کو کذاب اور کافر سمجھتا ہوں اور حضور ﷺ کو آخرالزمان پیغمبر مانتا ہوں۔ مولا نالال حسین اختر نے سوال کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوی کے متعلق آپ کا عقیدہ کیا ہے؟ مولانا بشیر احمد صاحب نے جواب دیا کہ میں مرزا غلام احمد کو اس کے تمام دعاوی میں جھوٹا سمجھتا ہوں۔ اس پر حاضرین نے جذبہ مسرت سے نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے اور ایک دوسرے کو مبارک باد دی کہ پچیس سال کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اس مسجد میں کلمہ حق بلند ہوا اور مرزا غلام احمد قادیانی کی تردید ہوئی۔ نماز عصر و مغرب کی امامت کے فرائض مناظر اسلام مدظلہ العالی نے انجام دیئے۔ مولانا بشیر احمد صاحب مصری نے اعلان کیا کہ جب تک میں اس مسجد کا امام ہوں یہ مسجد مرزائیوں کی نہیں بلکہ مسلمانوں کی ہے۔ عامتہ المسلمین نے جناب مناظر اسلام مدظلہ اور مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عظیم کامیابی پر مبارک باد پیش کی۔ اجلاس کے اختتام پر مولانا لال حسین اختر صاحب مدظلہ نے آیت: ’’قل جاء الحق وزھق الباطل‘‘ کی تلاوت کرتے ہوئے نہایت سوز و گداز کے ساتھ طویل دعا فرمائی اور اجلاس بخیر و خوبی انجام پذیر ہوا۔

مولانا بشیر احمد صاحب مصری نے چائے سے مہمان نوازی فرمائی اور مولانا لال حسین صاحب سے استدعا کی کہ ووکنگ مسجد کے لئے بہت جلد کسی آئندہ اتوار کی تاریخ مقرر کی جائے ۔ جسے مولانا لال حسین صاحب نے بخوشی قبول فرمالیا۔ عید کے بعد مولانا مدظلہ کسی اتوار کا تعین فرمادیں گے۔ والسلام! ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت، ۳۲/اپر جارج سٹریٹ ہڈرسفیلڈ انگلینڈ

(خدام الدین مورخہ ۲۹ / مارچ ۱۹۶۸ء)

قادیانیوں سے چشم پوشی کب تک؟

قادیانیوں کے لاٹ پادری چوہدری ظفر اللہ خان جنہیں قادیانیت کی تبلیغ کا جنون ہے اور جو بڑے سازشی دل ودماغ کے قادیانی لیڈر ہیں۔ آج کل جنوبی افریقہ گئے ہوئے ہیں۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے اپنی پاکستان دشمنی خصوصاً صدر ایوب خان کی حکومت کی خارجہ پالیسی کی مخالفت کا کھلا ہوا ثبوت پیش کر دیا ہے۔ زیر نظر اداریہ میں ہم اسی کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔

’’پریٹوریا : مورخہ ۴/نومبر۔ کل کیپ ٹاؤن کی ۳۵ہزار مسلم آبادی نے جماعت احمدیہ (قادیانی تحریک) کے ممتاز رہنما سر ظفر اللہ خان کا بائیکاٹ کر دیا۔ واضح رہے کہ ظفر اللہ خان ان دنوں جنوبی افریقہ میں احمدیہ تبلیغی مشنوں کا دورہ کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں وہ پرسوں کیپ ٹاؤن پہنچے۔ جہاں ۳۵/ہزار مسلمان ہیں۔ تقریباً ایک سو احمدی ہیں۔ ظفر اللہ خان کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ گزشتہ ہفتے مساجد کی انتظامی کمیٹیوں اور اسلامی اداروں کے نمائندوں کے ایک جلسہ میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سر محمد ظفر اللہ خان جس تحریک سے تعلق رکھتے ہیں ہم اسے اسلامی تحریک تسلیم نہیں کرتے۔ ظفر اللہ خان بذریعہ ہوائی جہاز جوہانسبرگ سے کیپ ٹاؤن جاتے ہوئے چند گھنٹے کے لئے بیوفاؤنٹین پہنچے۔ جہاں جنوبی افریقہ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس لوکاسٹین نے انہیں لنچ دیا۔ ان کی کیپ ٹاؤن روانگی سے پہلے میئر نے انہیں پارٹی دی اور انہوں نے اپیل کورٹ میں ججوں کے ساتھ چائے پی۔ پرسوں رات کیپ ٹاؤن کے قریب لاؤڈیم کی بستی میں جہاں بھارتی آباد ہیں۔ سر ظفر اللہ خان نے ایک جلسہ میں تقریر کی جہاں ان سے انڈین نیشنل کونسل کے ایک ممبر ایچ .وی حبیب نے درخواست کی کہ وہ اپنے اثرات کو کام میں لا کر پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان بات چیت شروع کرائیں تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر ہوں اور تجارتی بائیکاٹ ختم ہو۔ واضح رہے کہ جنوبی افریقہ کے ساتھ پاکستان نے سفارتی تعلقات کبھی قائم نہیں کئے۔ تقسیم سے پہلے ۱۹۴۶ء میں حکومت ہند نے برصغیر کے باشندوں کے ساتھ جنوبی افریقہ کی حکومت کی بدسلوکی پر احتجاج کرتے ہوئے اس کے ساتھ تجارت

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۵۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ممنوع قرار دے دی تھی۔ انڈین نیشنل کونسل کے ممبر حبیب نے ظفر اللہ خان کو جو پاکستان کے وزیر خارجہ رہ چکے ہیں، بتایا کہ جنوبی افریقہ کا بائیکاٹ کامیاب نہیں رہا ہے۔ بعد میں ظفر اللہ خان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر میری وجہ سے پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان تعلقات بہتر ہونے میں مدد ملتی ہے تو میں اپنی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں کروں گا۔ سر محمد ظفر اللہ خان کیپ ٹاؤن کے ایک بڑے ہوٹل میں مقیم ہیں جو صرف گوروں کے لئے مخصوص ہے۔ کل انہیں اسی ہوٹل میں ایک استقبالیہ دیا جائے گا۔ جہاں گورے اور کالے دونوں مدعو ہوں گے۔‘‘

(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۶؍ نومبر ۱۹۶۷ء)

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ قادیانی ایک طرف تو صدر ایوب خان کی خارجہ پالیسی جس پر پوری قوم کو فخر اور ناز ہے، برابر ناکام بنانے کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ لیکن دوسری طرف وہ صدر ایوب خان کی حکومت کی ہواخواہی کا منافقانہ دم بھی بھرتے ہیں اور حکومت کے جلیل القدر مناصب پر قبضہ کئے ہوئے ہیں۔

صدر ایوب خان کو یہ یقین کر لینا چاہئے کہ قادیانیوں کا وجود ہی انگریزوں اور مغربی آقایان ولی نعمت کی وفاداری اور اسلام دشمنی کے لئے معرض وجود میں آیا ہے۔ یہ اس کے ہرگز ہرگز وفادار نہیں ہیں۔

ایم۔ ایم احمد وغیرہ قادیانی جو پاکستان کی کلیدی آسامیوں پر فائز ہیں۔ وہ صدر مملکت کو اسی طرح دھوکہ دیں گے جس طرح ان کے چچا چوہدری ظفر اللہ خان نے خواجہ ناظم الدین مرحوم کو دیا تھا۔ اس لئے انہیں ان کے مناسب کھونٹے سے باندھیں۔ اسی میں ان کی اپنی ذات کا مفاد ہے اور اسی میں ملک اور مذہب کا بھلا ہے۔‘‘

(لولاک، مورخہ ۱۷؍نومبر ۱۹۶۷ء)

قلم برداشتہ (آغا شورش کاشمیری)

الفضل کا لاہوری فرزند بے قابو ہو گیا ہے۔ ہر ہفتہ در ثمین کے انداز میں گالیاں بکے جا رہا ہے۔ کوشش اس کی یہ ہے کہ ہم اسے منہ لگائیں اور وہ اپنی قیمت بڑھالے۔ قیمت لگ چکی ہے۔ سرکاری اشتہار، مرزائی اداروں کی سرپرستی پھر جہاں تہاں قادیانی بیٹھے ہیں۔ اپنا صدقہ اور زکوٰۃ اس کو دے رہے ہیں۔ پرچہ مفت تقسیم ہو رہا ہے۔ افسروں، ججوں اور دوستوں کے ہاں حقے کی نے بنا ہوا ہے؟

غرض بوبک حجام کو جو چاہئے تھا مل گیا۔ سکت کہاں؟ کہ بتاشوں کی طرح بٹتا رہے۔ خواہش یہ ہوگی کہ روٹیاں توڑتا رہے۔ سو قسمت جاگ اٹھی ہے۔ ہم اس کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اسے کچھ نہیں کہیں گے۔ آموختہ دہراتا رہے جواب اس کو دیا جاتا ہے جس کی عزت یا حیثیت ہو، برات پر سہرا پڑھنے سے کوئی شخص معزز نہیں ہو جاتا۔ ہماری طرف سے کھلی اجازت ہے۔ شوق سے بکتے رہئے بلکہ ہنہنائیے...... ذرا زور سے ہنہنائیے۔

آپ کے متنبی کی سنت ہے۔ جس شخص کی آنکھ کا پانی مر چکا ہو، اس سے مختلف زبان کی توقع ہی عبث ہے۔ اس طائفہ کا انحصار ہی دشنام ہے۔ جس کی دم اٹھائی مادہ، جسے پایا ٹھگ، کھال اوڑھی۔ بال روکھے کہے کون؟ کہ آج کے تھپے آج ہی نہیں جلا کرتے، چمچوں کا دھواں اسے اڑنے دو، اپنا بستر کھول رکھا ہے۔ پنجہ عبدالسلام خورشید کے ہاتھ میں ہے۔ ڈور کی چرخی مرزائیوں کے ہاتھ میں ہے۔ مرزا کدال پشت پر ہیں۔ مرزا چڑیا کھونٹیوں میں تانی اتار رہے ہیں۔ مرزا جھر جھری کی شہ پر دو تاری اور سہ تاری پینگیں بڑھا رکھی ہیں۔ غرض ہر چٹی داڑھی ان کے ساتھ ہے۔

جی ہاں! گڈی اڑانا مشکل نہیں۔ مرزائی الجھن ہمیشہ ہی کٹتی ہے۔ ہم نے پیچ لڑایا تو اس کنکولے سے نہیں۔ مرزا رنگیلے اور مرزا

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۵۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۲۵۵ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رسيلے سے دو دو ہاتھ ہوں گے ۔ یہ بیچارہ تو لنڈوری بن پنچھلا ہے ۔ زیادہ سے زیادہ اس کو ٹمپل روڈ کا اڈھا کہہ لیجئے۔ ادھر پینچا چھوڑا ادھر ڈوریں زمین تک لٹک آئیں گی۔ بھلا کانے پتنگ میں بوتا کہاں کہ جھونک سنبھال سکے۔ ہم طرح دے رہے ہیں۔ لیکن یہ پرنالے کی طرح دھائیں دھائیں بہہ رہا ہے۔

ہذیان اس بری طرح اس کو چمٹا ہے کہ زبان لگا تار مغلظات اگلتی جارہی ہے۔ مثلاً ابکے اس نے گالیوں کی بوچھاڑ لگا دی ہے۔ یہاں تک کہ وہ تمام محاورے، اشارے، کنائے، تلمیحیں اور رمزیں اڑائی ہیں۔ جن کے بارے میں ایک ثقہ راوی کا خیال ہے کہ میر ناصر نواب دہلوی نے عقد کی شرینی میں ساتھ کر دی تھیں ۔ ”اس بازار“ کا خلجان عموماً اس بے سرے کو رہا ہے۔ حالانکہ جس ٹہنی کا یہ پتہ ہے اس کی جڑیں چاوڑی سے پھل پھول لائی تھیں ۔

گالی دینا شیوۂ شرفاء نہیں ۔ نہ ہفوات بکنا ہی ادب وانشاء ہے۔ سوالات بنیادی تھے۔ جوابات استادی ہیں۔ چٹان نے آپ کی عزت و آبرو پر حملہ نہیں کیا۔ کوئی ایسی بات نہیں کہی جو محض گالی ہو ۔ لیکن آپ کو دشنام کے سوا سوجھتا ہی نہیں ۔ آپ نے لکھا ہے : ”کرلٹی چنڈی داس یا پر بودھ آپ کو چار چھ ماہ کی خرچی دے کر ششکار دیتا تھا ۔“

مسیح موعود کے اس انداز میں بھی جواب دیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ صحافت نہیں سخافت ہو گی ۔ خرچی ہی کا شوق ہے تو ربوہ سے رجوع کیجئے اور مبشر اولاد سے پوچھ کر فرمائیے کہ : ”مہدی موعود“ جب دوسری شادی کے لئے دہلی تشریف لے گئے تھے تو بحوالہ تاریخ احمدیت ص ۵۶ ، سطر ۱۵ حافظ حامد علی اور لالہ ملاوامل کو ساتھ رکھا تھا۔ ان لالہ ملاوامل کا ایک نبی کی شادی سے کیا تعلق تھا ؟ ملاوامل کے نام پر بھی غور کر لیجئے۔ معانی کی بہت سی گرہیں کھلتی جائیں گی۔ ہم سے نہ کہلوائیے ہم وہ زبان استعمال نہیں کر سکتے جو آپ کے سلطان القلم کی زبان ہے؟ البتہ یہ بات ضرور ذہن میں رکھئے کہ ؎

ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں

چنیوٹ میں ایڈیٹر ”چٹان“ کی تاریخی تقریر سے آپ کے قراقر اٹھا ۔ آپ نے گالیاں دیں ۔ ہم نے اغماض کیا ۔ آپ نے ہمارے اغماض کو اپنے لئے حیاتین سمجھا اور غرّانے لگے ۔ ہم نے پھر بھی منہ نہ لگایا۔ آپ نے ننگی گالیاں بکیں ۔ ہم نے معذور سمجھا ۔ کچھ نہ کہا۔ محسوس ہوتا ہے آپ شرفاء کی زبان ہی نہیں سمجھتے ۔ اچھا صاحب ! اور گالیاں دے لیجئے ۔ جی بھر کر دیجئے ۔ بہشتی مقبرے پر فاتحہ پڑھ کر الاپئے ۔ چشم ما روشن دل ما شاد! لیکن ہم نے دہلی کے میر ٹوٹرو کا تانا بانا کھولا تو نہ صرف خرچی کا مفہوم آپ کے ذہن پر اچھی طرح نقش ہو جائے گا۔ بلکہ ربوہ کی اقلیدسی شکلیں بھی دانت نکوس دیں گی۔ خدا جانے آپ کس کھونٹے پر ناچ رہے ہیں ؟ ضرور ناچئے اس کھونٹے پر ۔ یہ کھونٹا آپ ہی کے لئے ہے ۔ دہلی مرحوم کا محاورہ ہے۔

سیاں بھئے کوتوال اب ڈر کا ہے کا

لیکن جس نبوت یا خلافت کو آپ جیسے قلمکار ( بروزن اداکار ) مل جائیں ۔ اس کی ہڈیاں بھی چٹخنے لگتی ہیں۔ عزتیں برابر کی چیز ہیں ۔ اپنی زبان، اپنے قلم، اپنے الفاظ، اپنی نگارش غرض ایک ایک چیز پر غور کر لیجئے ۔ انسانوں کی طرح گفتگو کیجئے۔ ہم نے چھیڑا تو آ قایان ولی نعمت سے شکایت نہ کیجئے گا ۔ اس وقت تو آپ بے تو ا کا سونٹا بنے پھرتے ہیں ۔ نہ بڑوں کا ادب نہ چھوٹوں کی لاج ہم نے قلم اٹھایا تو پھر الاپچی اور ملائی کی طرح نرم زبان نہیں چلے گی۔ اصطبل میں بندھے رہئے ۔ آپ کی کون سی چیز چھپی ہوئی ہے کہ آپ مور پنکھی ناچ پر اتر آئے ہیں ۔ احرار کا نام وضو کر کے لیا کیجئے۔ آپ کو سالک صاحب کا درد بھی اٹھا ہے اور آپ نے ایک فرضی خط میں متلی فرمائی ہے۔ خورشید سلمی کو بھی ہم

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۵۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مشورہ دے چکے ہیں۔ آپ سے بھی گزارش ہے کہ سالک صاحب کی نمائندگی نہ کیجئے۔ انہیں قبر میں آرام کرنے دیجئے۔ ہم نے سالک صاحب کا ذکر کیا تو اس لئے کہ شاید بیٹے کو عزت ہو، اور باپ کے احترام میں ان کے دوستوں کا ذکر کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھے۔ بکنا ہے تو ہمارے خلاف بکئے۔ خوب بکئے۔ کھل کے بکئے۔ غصہ ایڈیٹر ’’چٹان‘‘ پر ہے۔ گالیاں مولانا آزاد کو دے رہے ہو۔ مولانا حسین احمد پر زبان کھولنے سے توبہ کیجئے۔ توبہ! ان مرحومین کا اس بحث سے کیا تعلق؟ مولانا آزاد وہی ہیں۔ جن کے آستانہ پر آپ قادیان کے بہشتی مقبرے کی حفاظتی بھیک مانگنے دہلی گئے تھے۔ مولانا حسین احمد کی ہتک کر کے آپ کس کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ تحریک پاکستان کا فائدہ نہ اٹھائیے۔ آپ کا اس سے کیا تعلق؟ کسی قادیانی کا نام لیجئے۔ جو تحریک پاکستان میں شامل تھا۔ صف اول صف ثانی یا صف ثالث کے لیڈروں میں تھا؟ زعیم تھا؟ کارکن تھا؟ لیگ کے ٹکٹ پر کسی اسمبلی کا ممبر منتخب ہوا۔ قادیانی لیگ کا نام لیں۔ تو یوں محسوس ہوتا ہے ابولہب مسلمان ہو گیا ہے۔

الفضل کے لاہوری فرزند نے ابکے پربودھ کا بھی ذکر کیا ہے۔ جناب والا منہ نہ کھلوائیے۔ پربودھ گورداسپور کے حلقہ سے جس میں قادیان بھی ہے۔ شروع سے صوبائی اسمبلی کے ممبر ہیں۔ آپ انہیں مسلسل ووٹ دیتے اور ان کی وزارتوں سے مستفید ہوتے رہے ہیں۔ آپ کا بہشتی مقبرہ ان کے طفیل بچا تھا۔ تفصیل درکار ہیں؟ آپ کا یہی لہجہ رہا تو سب کچھ حاضر کر دیا جائے گا۔ اصل مطالبہ ہمارا آپ سے یہ ہے کہ ہمارے بزرگوں کے نام ادب سے لیجئے۔ ورنہ اس حقیقت سے آپ انکار نہیں کر سکتے کہ خود کاشتہ پودے کا ایک ایک فرد چھلنی ہے یا چھاج۔

ربوہ والو! علامہ اقبال، سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا ظفر علی خان کا نام ادب سے لو، ادب سے۔ ورنہ بے پیندے کے بدھنو، تمہارے ٹھیکرے بھی ہو سکتے ہیں۔ حد ہے کہ جب کبھی ان سے سیدھا سادا سوال کیا جائے اس امت کا سارا کنبہ بدگوئی پر اتر آتا ہے؟ انہیں اپنی آبرو زیادہ عزیز ہے اور کوئی شخص آبرو نہیں رکھتا؟ ہر ایک قلمکار کے خط وخال ہمیں معلوم ہیں۔ عبدالسلام خورشید آج اس تھیٹریکل کمپنی کا پلے بیک سنگر ہے۔ لحاظ اس وقت تک ہو سکتا ہے۔ جب تک اس کلال کی زبان حدود میں ہو۔ اب اگر زبان بدرنگ ہو گئی ہے تو اس کی گراریاں درست کرنا ہمارا فرض ہے۔

چور اور چوکیدار سے ایک جیسا سلوک (چٹان والفضل پر سنسر)

’’حکومت نے ہفت روزہ چٹان اور روزنامہ الفضل پر تین ماہ کے لئے سنسر بٹھا دیا ہے۔ اس تعزیر کا پس منظر یہ ہے کہ ہفت روزہ چٹان میں قادیانیوں کی سیاسی سرگرمیوں کے متعلق اداریئے اور مضامین شائع ہو رہے تھے۔ ہفت روزہ چٹان کے مضامین کا خلاصہ اور نچوڑ یہ تھا کہ قادیانی جماعت کوئی مذہبی جماعت نہیں ہے بلکہ یہ انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے اور خطرناک سازشی قسم کا ایک سیاسی ٹولہ ہے۔ وہ اندرون ملک اور بیرون ملک سے مختلف قسم کے ناجائز مفادات حاصل کر کے ایک مضبوط تنظیم کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں اور گزشتہ کئی سالوں سے اس فکر میں ہیں کہ برصغیر کے کسی چھوٹے سے چھوٹے ٹکڑے پر اپنی خود مختار ریاست قائم کر کے عربی اسرائیل کے بالمقابل ایک عجمی اسرائیل کو جنم دیں۔ چٹان نے قادیانیوں کی ان خطرناک سیاسی سرگرمیوں کا پردہ چاک کیا۔ ملک کے پڑھے لکھے طبقہ نے قادیانیوں کے متعلق پہلی دفعہ ایک نئے زاویہ سے سمجھنا اور سوچنا شروع کیا ہی تھا کہ حکومت نے چٹان پر سنسر کی پابندی عائد کر کے اس کا منہ بند کر دیا اور اپنے اس غلط فیصلہ پر غیر جانبداری کا پردہ ڈالنے کے لئے ’’چٹان‘‘ کے ساتھ الفضل پر بھی سنسر کی تین ماہ کی پابندی عائد کر دی۔ حکومت کا یہ اقدام ملک اور ملت کے حقیقی مفاد کے نقطہ نظر سے ہرگز صحیح نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اس اقدام سے یہی نتیجہ نکل سکتا ہے کہ ہمارے ہاں چور اور چوکیدار کے ساتھ ایک جیسا سلوک روا رکھنے کا قانون جاری ہے۔ حکومت کو اپنے اس فیصلہ پر نظر ثانی کر کے اس ناروا پابندی کو دور کر دینا چاہئے۔ حکومت کی خدمت میں

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۵۷

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

یہ عرض کرنا بھی نامناسب نہ ہوگا کہ اس سلسلہ میں صحیح راہ عمل یہ ہے کہ حکومت قادیانیوں پر چٹان کے عائد کردہ الزامات کی تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطح کا کوئی کمیشن قائم کرے اور اگر یہ الزامات درست ہوں تو اس فتنہ کو جڑ سے اکھاڑ دینے کا فیصلہ کیا جائے۔

آخر میں ہم حکومت پر غیر مبہم الفاظ میں یہ بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اگر قادیانیوں کی اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشوں کو بے نقاب کرنا اور ان کے خطرناک سیاسی عزائم سے عوام کو آگاہ کرنا اور اس سیاہ فتنے سے بچنے کے لئے ملت اسلامیہ کو بیدار کرنا جرم ہے تو اس جرم کا مرتکب صرف چٹان ہی نہیں اس جرم کی پاداش میں سزا پانے کے خواہشمندوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ اگر حکومت کے کار پردازوں کو ہماری اس گزارش کا یقین نہ ہو تو وہ ایک مرتبہ پھر منیر انکوائری رپورٹ کا مطالعہ کریں۔‘‘

(چٹان ۱۴؍ اگست ۱۹۶۷ء)

ربوہ اردو کانفرنس ناکام ہو گئی

قادیانیوں کے مرکز ربوہ سے آنے والی اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ قادیانی صاحبان ایک عرصہ سے علم پروری اور ادب گستری کے لئے وسط اکتوبر میں منعقد ہونے والی جس اردو کانفرنس کا پروپیگنڈا کر رہے تھے وہ بالآخر ہوئی اور نہایت شاندار طور پر ناکام ہوگئی۔ کانفرنس میں شرکت کرنے کے لئے پون صد کے قریب مندوبین کو دعوت دی گئی تھی۔ جن میں سے صرف ۱۴؍ صاحبان تشریف لائے۔ جن کی اکثریت قادیانی تھی۔ ملک کے اکثر و بیشتر ادباء اور فضلاء نے شرکت سے معذرت کر لی کہ اردو زبان پر جان تو قربان کی جاسکتی ہے۔ ایمان نہیں قربان کیا جاسکتا۔ صدر مملکت اور دوسرے اعیان ملت نے پیغام تک نہیں بھیجے۔ دو ایک قابل ذکر بزرگ کسی نہ کسی طرح قادیانیوں کے جال میں پھنس کر ربوہ پہنچ گئے۔ لیکن وہاں پہنچ کر انہیں معلوم ہوا کہ اس کانفرنس کا اصل مقصد کیا ہے۔ چنانچہ وہ برائے نام شرکت کر کے واپس چلے گئے۔

قادیانی ادیبوں نے اردو زبان کے متعلق ربوہ کانفرنس میں ایک نیا نعرہ ایجاد کیا کہ: ”اردو زبان ہماری قومی زبان ہی نہیں بلکہ مذہبی زبان بھی ہے۔‘‘ بس اسی نعرے نے انہیں ان بھولے بھٹکے مہمان ادیبوں کے سامنے ننگا کر دیا کہ اس کانفرنس کے انعقاد اور اردو زبان کی سرپرستی کا مطلب یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت باطلہ کا لٹریچر اردو زبان میں ہے لیکن مہمانوں نے قادیانیوں کی اس ادب نوازی پر زیر لب صرف اتنا ہی کہا کہ ؎

بہر رنگے کہ خواہی جلوہ مے پوش من انداز قدت را مے شناسم

اصل میں ربوہ والوں کے دماغ پر ایک بھوت سوار ہے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان یا اس کے کسی چھوٹے بڑے علاقہ پر انہیں اقتدار حاصل ہو جائے۔ بس انہیں دن رات اسی کی فکر ہے اور اسی مقصد کے لئے وہ بڑی ترکیب اور تنظیم کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں۔ اندرون ملک اور بیرون ملک سے انہیں بے پناہ روپیہ مل رہا ہے۔ پاکستان کی اکثر کلیدی آسامیاں ان کے قبضہ میں ہیں۔ ان تمام باتوں نے انکا دماغ خراب کر رکھا ہے۔ پاکستان کی دشمن طاقتوں کے وہ ازلی ایجنٹ ہیں اور اب بھی آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔

ایسے حالات میں ان کے حصول اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ”نفرت و حقارت“ ہے جو عام مسلمانوں کے دلوں میں ان کے خلاف موجود ہے اور اسی نفرت اور حقارت کی بدولت ان کی حالیہ اردو کانفرنس میں علماء، ادباء اور فضلاء شریک نہیں ہوئے اور وہ ناکام ہو گئی۔ مرزا ناصر احمد قادیانیوں کے موجودہ خلیفہ صاحب جس دن سے سریر آرائے ریاست ربوہ ہوئے ہیں۔ اس دن سے انہوں نے حصول اقتدار کے راستے کی اس سب سے بڑی رکاوٹ کو دور کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ چنانچہ آپ نے بڑے اہتمام کے ساتھ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۵۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بیانات داغے ہیں کہ قادیانیوں اور عام مسلمانوں میں کوئی بڑا اختلاف نہیں ہے۔ چند فروعی سے اختلافات ہیں اور یہ کہ قادیانی دنیا میں اسلام کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ بس کچھ عرصہ کے لئے باہمی اختلافات کو بند کر دیا جائے چونکہ دنیا قادیانیوں کی تبلیغ سے متاثر ہو کر ان کے ہاتھ پر مشرف باسلام ہوا ہی چاہتی ہے۔ اسی طرح خلیفہ ربوہ نے جماعت کے طریق کار میں ایک تبدیلی یہ کر دی ہے کہ لوگوں سے مذہبی مباحث اور تکرار نہ کیا جائے۔ بلکہ مذہبی جھمیلوں کی بجائے ربوہ میں باسکٹ بال میچ، کبڈی ٹورنامنٹ، مختلف مجلس ہائے مذاکرہ کا انعقاد، کالج کا سالانہ کانوکیشن اور اس میں غیر قادیانی صاحبان کی صدارت، آل پاکستان اردو کانفرنس اور دوسری سرگرمیاں، تقریبات جاری اور ساری کردی ہیں۔ اسی طرح پریس کانفرنسیں۔ بڑے بڑے اہم مریدوں کے گھروں میں جانا۔ سرکاری ملازمین اور ان کے اداروں کا معائنہ کرنا جیسا کہ آپ نے حال ہی میں ایٹمی توانائی کے ری ایکٹر کا معائنہ کیا اور یہ قادیانی ملازمین کے بدولت ہوا۔ ورنہ وہاں کوئی پبلک کا آدمی جانے کا مجاز نہیں ہے۔ یہ ساری تکنیک اور یہ دام ہمرنگ زمین کا پھیلانا محض اس لئے ہے کہ عوام کی توجہ دوسری طرف مبذول کرائی جائے اور ان کے دلوں سے وہ نفرت دور کی جائے جس نے قادیانیوں کو اتنے مقام ومنصب کے باوجود اچھوت بنا رکھا ہے۔

مرزا ناصر احمد خلیفہ ربوہ اور قادیانی لیڈروں کو عوام کے دلوں سے نفرت دور کرنے کی اتنی فکر ہے کہ وہ غالباً اب اپنے بعض اصولوں میں ترمیم کرنے والے ہیں۔ اس سے پہلے انہوں نے اپنی تنظیم اور وحدت کو قائم کرنے کے لئے اپنے مریدوں کے لئے یہ فرض کیا ہوا تھا کہ وہ مسلمانوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے۔ اسی طرح کسی مسلمان کے جنازہ میں بھی شریک نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ چوہدری ظفر اللہ خان نے نہایت نمک حرامی کرتے ہوئے اپنے محسن حضرت قائد اعظم کے جنازہ میں شرکت نہ کی تھی اور یہ کہا تھا کہ: ”میں مسلمان حکومت کا کافر ملازم ہوں یا کافر حکومت کا مسلمان ملازم ۔“ اسی طرح مسلمانوں سے شادی بیاہ نہیں کیا جاتا۔ لیکن اب اس میں بھی ترمیم کی جائے گی اور کوئی منافقانہ حکم جاری کیا جائے گا تا کہ کسی نہ کسی طرح عام مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان جو حد فاصل اور ایک نفرت کی مضبوط دیوار ہے وہ دور ہو جائے۔ لیکن ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ مرزائی دنیا بھر کے جتن کر لیں۔ عامۃ المسلمین انہیں کبھی بھی قبول نہیں کریں گے۔ وہ اپنے مذہبی مقاصد اور سیاسی عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے ۔“

(لولاک مؤرخہ ۲۱؍ اکتوبر ۱۹۷۱ء)

ربوہ میں مسجد اقصیٰ کی تعمیر

معاصر کوہستان لاہور نے ”آپ کی رائے“ کے کالم میں ”ربوہ میں مسجد اقصیٰ کی تعمیر کو روکا جائے“ کے زیر عنوان ایک مراسلہ شائع کیا ہے جس کے مندرجات یہ ہیں: ”مسجد اقصیٰ پر اسرائیل کے قبضہ سے عالم اسلام حد درجہ دکھ محسوس کر رہا تھا اور اس معراج کے موقع پر اس مسجد میں جس کی طرف رسول اللہ ﷺ نے معراج میں سفر کیا معراج کی تقریب نہ منا سکنے پر مسلمانوں کے دل خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ ایسے موقع پر ربوہ کے اندر اقصیٰ نامی عبادت گاہ تعمیر کرنے کا منصوبہ ایک بہت بڑی جسارت ہے۔ یہ حرکت کیوں کی جارہی ہے۔ بیت المقدس کی مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اور اس کے احترام کا تقاضا یہ ہے کہ خود حکومت ربوہ والوں کو مشورہ دے کہ وہ یہ نام بدل دیں اور مسلمانوں کے زخمی قلوب پر نمک پاشی سے باز رہیں۔ تمام مسلمان فرقے پہلے ہی سے ربوہ والوں کی طرف سے مقدس اسلامی اصطلاحات مثلاً نبوت، خاندان نبوت، ام المؤمنین، خلیفہ وغیرہ کے استعمال پر خاصے زخم خوردہ ہیں۔ لیکن ایسے موقع پر اب مسجد اقصیٰ کو ربوہ میں تعمیر کرنا ایک ایسی جسارت ہے جس سے بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کا زخم اور بھی زیادہ گہرا ہو جائے گا۔“

(کوہستان لاہور ، مؤرخہ ۵؍ نومبر ۱۹۷۱ء)

معاصر کوہستان کے مراسلہ نگار کے معقول مطالبے سے دینی غیرت وحس رکھنے والے مسلمان کے لئے اختلاف کی گنجائش نہیں

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۵۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۲۵۹ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہے ۔ مراسلہ نگار نے بروقت نشاندہی کر کے ایک اہم دینی مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے ۔ اہل ربوہ کی تاریخ کا یہ پہلو نہایت تاریک اور بڑا ہی گھناؤنا ہے کہ انہوں نے کسی نازک سے نازک مرحلہ میں بھی اہل اسلام کے جذبات سے کھیلنے اور ان کے دینی جذبات مجروح کرنے سے کبھی احتراز نہیں کیا ہے ۔ سقوط بغداد کا سانحہ ہو یا حیدر آباد دکن کا ، مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں پر مصائب و آلام کے پہاڑ ٹوٹیں یا دشمنان اسلام کی گہری سازش کے وقت اہل اسلام کے قبلۂ اوّل بیت المقدس پر خدا کی مغضوب قوم یہود کا غاصبانہ قبضہ ہو جائے ۔ اہل ربوہ ضرور کوئی ایسی نئی حرکت کریں گے جو مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کے زمرہ میں شامل ہو ۔ چنانچہ بقول مراسلہ نگار کوہستان ربوہ میں ”مسجد اقصیٰ“ کے نام پر ایک نئی مسجد تعمیر کرنے کی جسارت بھی اسی سلسلہ کی ایک اشتعال انگیز کڑی ہے ۔

قادیانیوں کی اسلام دشمنی

ربوہ میں قادیانی ایک عبادت گاہ تعمیر کر رہے ہیں ۔ جس کا نام انہوں نے مسجد اقصیٰ رکھا ہے ۔ ملک کے اخبارات میں اس کے متعلق بہت کچھ شائع ہو چکا ہے ۔ پورے ملک میں اس کے خلاف نفرت اور اس پر ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ قادیانیوں نے اپنے ہاں تعمیر ہونے والی کسی عمارت کا نام مسجد اقصیٰ رکھ کر مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے ۔ پورا اسلام مسجد اقصیٰ کے لئے رنجیدہ اور سوگوار ہے ۔ عرب مسجد اقصیٰ کی واپسی کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانے کی سوچ رہے ہیں ۔ دنیائے اسلام خدا کے حضور گڑ گڑا کر دعائیں مانگ رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو چھینا ہوا قبلۂ اوّل واپس دلا دے ۔ عین ایسے حالات میں قادیانیوں نے ربوہ کے کفر گڑھ میں اپنی کسی بلڈنگ کا نام مسجد اقصیٰ رکھ کر اسلام دشمنی اور مسلمان آزاری کی انتہاء کر دی ہے ۔ ایک قادیانی رسالہ ”ہفتہ وار لاہور“ میں مضمون تحریر کیا گیا ہے کہ اگر قادیانیوں نے ربوہ میں تعمیر ہونے والی مسجد کا نام اقصیٰ رکھ دیا ہے تو اس میں حرج کی بات ہی کیا ہے؟ شعائر اللہ کے نام پر نام رکھے ہی جانے چاہئیں ۔ لوگ تو انبیاء علیہم السلام کے ناموں پر نام رکھتے ہیں ۔ اس میں گناہ اور مخالفت کی بات ہی کون سی ہے؟ اس کو کہتے ہیں چوری اور اس پر سینہ زوری ۔ شعائر اللہ کی توہین اور اس پر عذر گناہ بدتر از گناہ ۔

ہم قادیانی رسالہ لاہور کے مدیر صاحب کو تو سمجھا نہیں سکتے ۔ اس لئے کہ وہ سب کچھ جانتے ہوئے پھر انجان بننے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ البتہ دوسروں کو سمجھانے کے لئے تاکہ کوئی صاحب قادیانیوں کی اس انوکھی تاویل سے غلط فہمی کا شکار نہ ہو ، عرض کریں گے کہ یہ بالکل درست ہے کہ لوگ نبیوں کے نام پر برکت حاصل کرنے کے لئے نام رکھتے ہیں ۔ بے شک محمد اور احمد نام رکھنا درست اور باعث سعادت ہے۔ لیکن محمد رسول اللہ نام رکھنا جائز اور درست نہیں ہے ۔ فاطمہ نام رکھنا درست ہے۔ لیکن سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء نام رکھنا جائز نہیں ہے۔ ہر محمد کو محمد رسول اللہ نہیں کہہ سکتے ۔ ہر عیسیٰ کو عیسیٰ روح اللہ کہنا درست نہیں ہے ۔ ہر فاطمہ کو سیدۃ النساء نہیں کہا جاسکتا ۔ ہر عائشہ امہات المؤمنین نہیں بن سکتی ۔ اسی طرح ہر کالے پتھر کو حجر اسود نہیں کہا جاسکتا ۔ ہر مکعب عمارت، کعبۃ اللہ نہیں بن سکتی اور ہر مسجد کو مسجد حرام ، مسجد اقصیٰ اور مسجد نبوی نہیں کہا جاسکتا ۔

ایک واقعہ

اس پر ایک واقعہ یاد آ گیا ہے جس سے صورتحال کی اچھی طرح وضاحت ہو جائے گی ۔ جن دنوں میں جسٹس منیر اور جسٹس کیانی تحریک ختم نبوت کے بعد اضطرابات پنجاب کی تحقیقات کر رہے تھے تو اسلامی اصطلاحات کے ناجائز استعمال کا سوال عدالت کے سامنے آیا ۔ مسلمانوں کی طرف سے اس پر اعتراض کیا گیا کہ قادیانی اسلامی اصطلاحات کا اپنے اوپر اطلاق کر کے اسلام کی مقدس اصطلاحات سے تلعب کرتے ہیں ۔ قادیانیوں نے اس بات کی توجیہ کچھ اس طرح سے کی ، جس طرح اب قادیانی رسالہ لاہور کے مدیر نے کی ہے کہ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ 260

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سیدہ کا معنی سردار اور نساء کا معنی عورتیں یعنی عورتوں کی سردار، چونکہ مرزا قادیانی کے خاندان کی فلاں عورت ہمارے فرقہ کی عورتوں کی سردار ہے۔ اس لئے ہم اس کو سیدۃ النساء کہہ سکتے ہیں۔ خدا غریق رحمت کرے حضرت مولانا قاضی احسان احمد مرحوم کو وہ کھڑے ہو گئے اور چیف جسٹس منیر کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا۔ مائی لارڈ! ہمارے بھنگیوں اور چوہڑوں کی ایک الگ بستی ہے۔ انہوں نے اپنے جھگڑے طے کرنے کے لئے ایک پنچایت بنا رکھی ہے اس پنچایت کے ممبروں کو وہ پنچ کہتے ہیں اور جو تمام پنچوں کا سردار ہوتا ہے اسے سرپنچ کہا جاتا ہے۔ جب ان میں دنگہ فساد یا کوئی اور ظلم زیادتی ہوتی ہے تو وہ پنچایت ان میں از روئے انصاف فیصلہ کر دیتی ہے۔ کیا آپ اس بات کی اجازت دیں گے کہ اس پنچایت کا نام ہائی کورٹ اور ان پنچوں میں سے ہر پنچ کا نام جسٹس اور سرپنچ کا نام چیف جسٹس رکھ لیا جائے۔

چیف جسٹس منیر صاحب بآواز بلند کہا کہ ہر گز نہیں۔ قاضی احسان احمد مرحوم نے فرمایا تو ہر سردار عورت کو سیدۃ النساء بھی نہیں کہا جاسکتا۔ یہ لفظ رسول اللہ کی بیٹی کے لئے مخصوص ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ قادیانی مسلمانوں کی بے حسی سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اسلام کی تمام اصطلاحات کو اپنے اوپر چسپاں کر کے اپنی دکانداری کا چکر چلائے ہوئے ہیں۔ ورنہ وہ جانتے ہیں کہ اسلام نے جن الفاظ کو عزت بخشی ہے وہ ان کو استعمال کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مقرر کردہ الفاظ تو درکنار جو الفاظ کوئی حکومت کسی خاص فرد کے لئے مخصوص کر دے اسے اپنے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ کوئی شخص مجاز نہیں ہے کہ پولیس کا ملازم نہ ہوتے ہوئے اپنے آپ کو کانسٹیبل ظاہر کرے۔ ڈپٹی کمشنر، کمشنر، گورنر یا صدر مملکت کہلانے لگے۔ اگر کوئی شخص دنیاوی حکومت کے ان مخصوص الفاظ کو استعمال کرتا ہوا پکڑا جائے تو اس کی سزا خود قادیانی ہم سے بہتر جانتے ہیں۔ لیکن ستم بالائے ستم ہے کہ اسلام کے تمام مقدس اور مخصوص الفاظ کو ربوہ میں ذلیل و رسواء کیا جا رہا ہے اور کوئی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔

ہم ایک بار پھر اپنی حکومت سے عرض کریں گے کہ وہ صرف ہمارا منہ بند کرانے کی ہی کوشش نہ کرے۔ ہوا کے رخ کو دیکھے یہ چھوٹی چھوٹی باتیں مل کر ملت اسلامیہ کو ناراض اور برہم کرنے کا باعث ہو رہی ہے۔ اگر حکومت اسی طرح قادیانیوں کی پشت پناہی کرتی رہی اور انہیں ان خلاف اسلام سرگرمیوں اور اسلام کی مقدس اصطلاحات کے ساتھ تلعب کرنے سے نہ روکا گیا تو عوام اور حکومت کے درمیان ناراضگی اور نفرت کی ایک ایسی خلیج واقع ہونے کا امکان ہے جو کسی طرح بھی دور نہیں ہو سکے گی۔ مرزائیوں کو بھی چاہئے کہ وہ مملکت پاکستان میں ان شرارتوں سے باز آجائیں اور حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ انہیں ان حرکتوں سے باز رکھنے کے لئے حرکت میں آئے۔“

(لولاک مورخہ یکم دسمبر ۱۹۶۷ء)

سرگودھا میں مرزائیوں کے جلسہ کا ردعمل

گزشتہ ماہ سرگودھا میں قادیانیوں کا ایک اجتماع ہوا۔ جس میں چند دوسرے غیر قادیانی دوستوں کو بھی دعوت دی گئی۔ اس موقعہ پر سرگودھا کے ایک معاصر روزنامہ ”شعلہ“ نے اپنے اخبار کا ایک خاص نمبر شائع کیا جس میں مرزا ناصر احمد اور دوسرے مرزائیوں کی تصاویر اور مضامین وغیرہ شائع کئے۔ سرگودھا میں مرزائیوں کی ان سرگرمیوں کا شدید ردعمل ہوا ہے۔ مسلمانوں میں شدید برہمی اور ناراضگی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ چنانچہ اس ردعمل کا ثبوت ان اشتہارات سے بھی ملتا ہے جو آج کل سرگودھا کے درودیوار کی زینت بن رہے ہیں۔ حکومت کو توجہ دلانے کے لئے دو اشتہارات بطور نمونہ ذیل میں درج ہیں۔ (ادارہ)

سرگودھا سے شائع ہونے والے اشتہار کا متن

حضرات! ملت اسلامیہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ مرزائی قادیانی مسلمانوں سے الگ ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ پوری امت

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۶۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کا یہ فیصلہ روز روشن کی طرح واضح ہے۔ یہی نہیں بلکہ خود مرزائی اپنے آپ کو تمام مسلمانوں سے الگ سمجھتے ہیں۔ اسی ظفر اللہ قادیانی نے علی الاعلان قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا تھا۔ مگر ۲۳؍نومبر ۱۹۷۶ء ’’امروز‘‘ لاہور ص ۴ کے مطابق قائد اعظم کی قیادت پر یقین رکھنے والے مسلمانوں کے چند مشہور لیڈروں نے قادیانی گروہ کے مرزا ناصر کے اعزاز میں بلائی گئی دعوت میں شریک ہو کر سرگودھا کے غیور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو سخت پامال کرنے کے ساتھ قائد اعظم کی انتہائی توہین کی ہے۔

آقائے مدنی ﷺ کے غلامو! کیا دس ہزار شہیدان ختم نبوت کے مقدس خون کا ایک ایک قطرہ پکار پکار کر مرزائی کے کافر ہونے کا اعلان نہیں کر رہا۔ مگر ابھی تک یار دوست مرزا ناصر کے کفر کے تبلیغی دورہ کی تفصیلی رپورٹ سننے کے لئے مرزا ناصر کی مجلس میں حاضری دیتے ہیں۔ آہ! شرم ان کو مگر نہیں آتی اور پورے سکون واطمینان سے یہ پیغام مرزا ناصر سے سنتے ہیں کہ مسلمانوں کو فروعی اختلافات ختم کر دینے چاہئیں۔ گویا اس سچی بات کے ضمن میں لوگوں کو یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے اختلافات بھی فروعی ہیں۔

شمع نبوت کے پروانو! کیا روئے زمین کے مسلمانوں کی ہر جماعت نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ نہیں دے دیا کہ مرزائی ختم نبوت کے منکر ، خاتم النبیین ﷺ کے باغی اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ کیا شہیدان ختم نبوت کی تڑپتی ہوئی لاشیں زبان حال سے مرزائیوں کی نبوت سے بغاوت کا اعلان نہیں کر گئیں۔ کیا ہماری مذہبی غیرت مر گئی ہے کہ ختم نبوت کے باغی گروہ کے اعزاز کے لئے بحوالہ امروز مؤرخہ ۲۳؍نومبر ۱۹۷۶ء ص۴ سرگودھا کے مشہور لیڈر جناب ملک فتح محمد صاحب ٹوانہ صدر ضلع مسلم لیگ سرگودھا، چوہدری بشیر احمد تارڑ وائس چیئرمین بلدیہ سرگودھا اور میر مظاہر حسنین ایڈووکیٹ سابق صدر شہری مسلم لیگ سرگودھا مرزائیوں کی مجلس میں حاضر ہوتے ہیں اور پھر مسلمان قوم کی راہنمائی کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ ایسے لوگ پوری قوم کے مجرم ہیں۔ تاوقتیکہ خدا اور رسول اور قوم کے سامنے اپنی اس شرمناک حرکت سے علی الاعلان توبہ کریں۔‘‘

(المشتہرین مسلمانان سرگودھا)

دوسرے اشتہار کا متن، سرگودھا کی صحافت پر بد نما زہریلا ناسور

ایک مردہ ضمیر ٹانگہ بان عبدالرشید اشک مالک و مدیر روز نامہ ’’شعلہ‘‘ جس نے ہزاروں روپ بھرے اور معمولی اخبار کا مالک بن گیا۔ محنت اور علمی صلاحیت سے نہیں بلکہ ضمیر اور ایمان کی تجارت سے۔ عرصہ سے یہ مردہ ضمیر اور ایمان فروش اپنے اخبار میں انگریز کے خود کاشتہ پودا کی ثنا خوانی کر رہا ہے۔ اب ۱۹؍نومبر ۱۹۷۶ء کو مرزائیت کا نمبر شائع کر رہا ہے۔ یہ ضمیر فروش جس کے دماغ میں احساس کمتری کا مہیب دیو سما گیا ہے۔ شمع رسالت کے پروانوں کے دلوں کو مجروح کر کے مقبول ہونا چاہتا ہے۔ وہ عظیم مائیں جن کے بیٹے، وہ بہنیں جن کے بھائی ختم نبوت کی راہ میں جام شہادت نوش کر گئے، صحافیان سرگودھا سے پوچھتی ہیں کہ ہمارے آنچل میں شعلے گر رہے ہیں اور آپ کیوں خاموش ہیں؟

ہم نو جوانان اسلام سرگودھا کے با ضمیر اور غیور صحافیوں سے پوچھتے ہیں کیا آپ کی صحافت اتنی ہی گندی ہے کہ جس کا جی چاہے تاجدار نبوت، آقائے نامدار حضور ﷺ کی توہین کرے۔ جواب تو دو...... اپنی قلموں کو جنبش تو دو۔ تم کہاں ہو؟ اہل سرگودھا اس مردہ ضمیر بکاؤ انسان کو جس نے صحافت کا روپ بھرا ہے اس کو اصل مقام (ٹانگہ ہانکنے) دیکھنا چاہتے ہیں۔ انجمن نوجوانان اسلام سرگودھا!

(لولاک مؤرخہ ۸؍دسمبر ۱۹۷۶ء)

چوہدری ظفر اللہ کی لغزش

دفتر خارجہ کے ترجمان نے جنوبی افریقہ کے بارے میں حکومت پاکستان کی پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے یہ یقین دلایا ہے کہ اس

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۶۲

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پالیسی میں سرمو فرق واقع نہیں ہوا اور چوہدری ظفراللہ خان نے جو ایک نجی دورے پر جنوبی افریقہ گئے ہوئے ہیں اس ضمن میں جو کچھ کہا ہے وہ ان کے ذاتی خیالات ہیں۔ اگرچہ اس وضاحت کے بعد کسی کے لئے پاکستان کے بارے میں غلط فہمی پیدا کرنے کی گنجائش نہیں رہے گی۔ لیکن ہمیں امید رکھنی چاہئے کہ ہمارے پاکستانی بھائی بھی آئندہ ایسے اہم معاملات پر اپنے ”ذاتی خیالات“ کے اظہار سے گریز کریں گے۔

چوہدری ظفراللہ خان کے اس بیان پر ”تعمیر“ نے اعتراض کیا تھا۔ اگرچہ ہمیں معلوم تھا کہ جنوبی افریقہ کے بارے میں حکومت پاکستان کی پالیسی نہایت غیر مبہم ہے اور چوہدری صاحب کے اس بیان سے جس میں انہوں نے جنوبی افریقہ سے پاکستان کے تعلقات بہتر بنانے کے لئے اپنا ”اثر ورسوخ“ استعمال کرنے کا وعدہ کیا تھا پاکستان میں کوئی غلط فہمی پیدا ہونے کا احتمال نہیں تھا۔ لیکن ہم اس حقیقت کو فراموش نہیں کر سکتے کہ پاکستان کے بداندیش دشمن ہر وقت اس تاک میں رہتے ہیں کہ کوئی موقع ملے اور وہ پاکستان کو دنیا میں بالخصوص افریشیائی برادری میں بدنام کریں۔ جب سے پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی نے افریشیائی برادری کو پاکستان سے قریب کیا ہے اور ہندوستان کی غیر جانب داری کے ڈھونگ سے دنیا واقف ہوئی ہے اس وقت سے ہندوستان کے لیڈر، اخبارات اور سفارتی نمائندے اور بھی زیادہ شدومد کے ساتھ ایسے مواقع استعمال کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے جہاں یہ ضروری ہے کہ پاکستان کی جانب سے ایسے معاملات میں انتہائی محتاط اور مضبوط پالیسی اختیار کی جائے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ کوئی پاکستانی جسے ملک کا مفاد کچھ بھی عزیز ہے ایسے نازک معاملات پر زبان کھولنے میں احتیاط سے کام لے۔

بدقسمتی سے اس معاملہ میں جو شخص ملوث ہے وہ پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ میں پاکستان کا مندوب ہی نہیں رہ چکا بلکہ آزادی سے قبل کے دور میں انجمن اقوام متحدہ میں بھی ہندوستان کی نمائندگی کر چکا ہے اور ان دنوں ہیگ کی بین الاقوامی عدالت کا جج ہے۔ اس لئے کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اتنا جہاں دیدہ شخص جو جنوبی افریقہ کے مسئلہ کی نزاکت، پاکستان سے اس ملک کے تعلقات کی نوعیت، اس معاملہ میں افریشیائی برادری بالخصوص افریقی اقوام کے جذبات کی شدت اور پاکستان کی معمولی سی لغزش سے ان ملکوں سے پاکستان کے تعلقات پر ممکنہ اثرات سے بخوبی واقف ہو، لاعلمی کے سبب اتنی بڑی غلطی کا ارتکاب کر بیٹھا ہے۔ اس لئے ہم یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ چوہدری ظفراللہ خان سے اس بیان کی وضاحت طلب کی جائے گی اور آئندہ کے لئے انہیں مناسب فہمائش کی جائے گی تاکہ وہ کسی اور معاملہ میں حکومت پاکستان پر ”اپنا اثر ورسوخ استعمال کرنے“ کا یقین نہ دلا بیٹھیں اور ان پر یہ بھی واضح ہو جائے کہ وہ اس ملک کے معاملات میں کتنا اثر ورسوخ رکھتے ہیں۔“

(روزنامہ تعمیر راولپنڈی مورخہ ۱۵؍نومبر ۱۹۶۷ء)

سر ظفراللہ کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار

”وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے سر ظفراللہ خان کے اس بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ جس میں انہوں نے جنوبی افریقہ کے بارے میں پاکستان کا رویہ نرم کرانے کی حامی بھری تھی۔ ترجمان نے کہا ہے کہ چوہدری ظفراللہ خان کے نظریات پاکستان کی پالیسی کی ترجمانی نہیں کرتے۔ چنانچہ وزارت خارجہ نے یقین دلایا ہے کہ جب تک جنوبی افریقہ نسلی امتیاز کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اس کے بارے میں پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

ترجمان کے بیان سے معلوم ہوا ہے کہ سر ظفراللہ جنوبی افریقہ کے کسی تاجر کی نجی دعوت پر جنوبی افریقہ گئے تھے اور انہوں نے پاکستان کی پالیسیوں کا بھرپور علم رکھنے کے باوجود ذاتی حیثیت سے ایک غلط وعدہ کیا۔ سر ظفراللہ پاکستان کے وزیر خارجہ رہ چکے ہیں۔ عالمی عدالت میں بحیثیت جج کے تقرر بھی یقیناً بہت بڑا اعزاز ہے۔ یوں بھی ملکی سیاست میں عمل دخل نہ رکھنے کے باوجود وہ پاکستان کے اونچے

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۶۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سیاسی حلقوں میں خاصے بااثر تصور ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہ بالخصوص غیر ملکی دوروں میں بسا اوقات ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں جن پر کسی نہ کسی رنگ میں پاکستان پر حرف آنے کا احتمال ہوتا ہے۔

چوہدری ظفر اللہ خان ایک بارسوخ شخصیت ہونے کے علاوہ پاکستان کے ایک مخصوص مذہبی فرقے کے مبلغ اور رہنما بھی ہیں۔ چنانچہ وہ اپنی اس حیثیت کو تمام باتوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن ان کی مصلحت شناسی پاکستان کو آزمائش میں ڈال دیتی ہے۔ امکان یہی ہے کہ وہ اپنے کسی ہم مذہب دوست سے ملاقات کرنے یا جماعتی مشن پر جنوبی افریقہ گئے ہوں گے۔ ممکن ہے کہ وہاں انہیں اپنی جماعتی تبلیغ کے لئے میدان وسیع نظر آیا ہو اور انہوں نے جنوبی افریقہ کو خوش کرنے کے لئے ایک بیان داغ دیا۔ چوہدری صاحب کی مبلغانہ حیثیت ان کا ذاتی فعل ہے۔ لیکن ان کی نجی مصلحتوں کو کسی طور پر ملک کے مفادات اور پالیسیوں پر اثر انداز نہیں ہونا چاہئے۔ مناسب ہوگا کہ چوہدری ظفر اللہ خان کو اس معاملہ میں سخت تنبیہ کی جائے تاکہ وزارت خارجہ تردیدی بیانات کی زحمت سے بچ جائے۔‘‘

(روزنامہ مغربی پاکستان لاہور، مورخہ ۱۶؍نومبر ۱۹۶۷ء)

شرم تم کو مگر نہیں آتی...... چوہدری ظفر اللہ خان سے

’’بین الاقوامی عدالت انصاف کے جج اور پاکستان کے سابق وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان جیسے صاحب فراست بین الاقوامی سیاست کار سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ جنوبی افریقہ اور پاکستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کے بارہ میں کوئی بیان دیں گے۔ جس سے پاکستان کے بین الاقوامی وقار کو صدمہ پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ انہوں نے بہت اچھا کیا کہ جنوبی افریقہ کی سیاحت کے دوران ان سے جو فقرے منسوب ہوئے تھے اور جن سے متاثر ہو کر پاکستان کی وزارت خارجہ کو فوراً تردیدی بیان جاری کرنا پڑا۔ ان کے بارے میں ایک وضاحتی بیان دے دیا۔ چوہدری صاحب کہتے ہیں میں نے ہرگز یہ نہیں کہا کہ جنوبی افریقہ کے بارے میں اپنے تصورات بدل چکا ہوں اور نہ میں نے یہ ارادہ ظاہر کیا کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کروں گا۔

بہرحال چوہدری صاحب کے وضاحتی بیان کے چند پہلو ابھی تک محل نظر ہیں۔ مثلاً وہ فرماتے ہیں کہ سیاحت کے دوران مجھے پاکستانی اور ہندوستانی باشندوں کو متاثر کرنے والی بہت سی ایسی باتوں کا پتہ چلا جن سے میں پہلے بے خبر تھا۔ مفصل معلومات کی بنا پر مجھے پاکستانیوں اور ہندوستانیوں کی مشکلات اور مسائل کے بارے میں اپنے تناظر کو مسلسل بدلنا پڑا۔ دوسرا انہوں نے یہ انکشاف فرمایا ہے کہ میں نے خوش خلقی کے تقاضوں کی بناء پر جنوبی افریقہ کے وزیر اعظم ، وزیر خارجہ اور وزیر برائے امور پاکستانیوں و ہندیاں سے ملاقات کی۔ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس وضاحتی بیان سے معاملہ کچھ زیادہ الجھ گیا ہے۔ چوہدری صاحب بین الاقوامی عدالت انصاف کے رکن ہونے کی حیثیت سے سیاسی تنازعات میں مداخلت کے حقدار نہیں ہیں۔ دوسرے وہ پاکستان کے شہری بھی ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ:

مسلسل آ رہی ہیں اور جنوبی افریقہ اسے دور کرنے سے مسلسل انکار کر رہا ہے۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۶۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہر سال جنرل اسمبلی میں کرتی ہے۔

وجہ سے پاکستان کو تمام افریقی قوموں کی خیر سگالی حاصل ہے۔

ایسے میں مناسب ہوتا کہ وہ خوش خلقی کے مظاہرے کے لئے جنوبی افریقہ کے ان وزراء سے نہ ملاقات کرتے جن کی افریشیائی قوموں اور پاکستان سے دشمنی ایک مسلمہ امر ہے۔ رہی نئی معلومات کی بناء پر چوہدری صاحب کے طرز عمل میں تبدیلی تو تعجب کی بات ہے کہ یہ معلومات پاکستان تک نہیں پہنچیں۔ حالانکہ اگر واقعی پاکستانی اور ہندوستانی باشندوں سے سلوک میں کوئی خوشگواری پیدا ہوتی تو جنوبی افریقہ کی حکومت ساری دنیا میں اس کا ڈھنڈورہ پیٹتی۔ چوہدری صاحب کی سیاسی سوجھ بوجھ کے بارے میں پورے حسن ظن کے باوجود ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ انہیں اس مرحلے پر جنوبی افریقہ جانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ کیا موصوف سے یہ حقیقت پوشیدہ ہے کہ اصلاً یہ مسئلہ اس وقت اٹھا جب جنوبی افریقہ کی سفید فام حکومت نے اپنے پانچ لاکھ پاکستانی عوام کے خلاف ایسے نئے قوانین منظور کئے جن کا مقصد یہ تھا کہ انہیں جن دقتوں سے سابقہ پڑ رہا تھا وہ دو آتشہ ہو جائیں اور یہ لوگ اپنے صد سالہ کاروبار کو سمیٹ کر وہاں سے بوریا بستر گول کر لیں؟ کیا یہ درست نہیں کہ چوہدری صاحب خود اپنی وزارت خارجہ کے زمانے میں مجلس اقوام کی جنرل اسمبلی میں ان مظلوموں کے حق میں اور سفید فام حکومت کے خلاف فصاحت و بلاغت کے دریا بہاتے رہے۔ جنرل اسمبلی نے جنوبی افریقہ سے اصلاح احوال کا مطالبہ کیا۔ لیکن نہ صرف اس پر جوں تک نہ رینگی بلکہ اس نے اور قوانین منظور کئے اور ہمارے بھائیوں پر عرصہ حیات تنگ کیا؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ اس کے بعد جنرل اسمبلی میں اس مسئلے کو نسلی برتری کے عمومی مسئلے کے ساتھ زیر غور لایا گیا؟ کیا کوئی باخبر شخص اس حقیقت سے انکار کر سکتا ہے کہ جنوبی افریقہ کے تقریباً ایک کروڑ سیاہ فام اور رنگ دار نسل کے باشندوں کو ووٹ کا حق حاصل نہیں۔ پچیس لاکھ یورپی باشندے ان پر حکومت کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں سب کے سب گورے ہیں اور وزارت بھی گوروں پر مشتمل ہے؟ کیا یہ صحیح نہیں کہ جنوبی افریقہ میں کالوں اور گوروں کے لئے برابر کی تنخواہ قانوناً ممنوع ہے۔ کالوں کو کسی ہنر کی تربیت نہیں لینے دی جاتی۔ سیاہ فام آبادی کے دو تہائی بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوتا۔ تعلیم کا یہ حال ہے کہ صرف تین فیصد سیاہ فام بچے پرائمری کی تعلیم پاسکتے ہیں۔ سیاہ فام باشندوں کے لئے نظر بندی کے وسیع کیمپ بنے ہوئے ہیں۔ جہاں سے باہر نکلنے کی انہیں اجازت نہیں۔ وہ سونے کی کانوں میں آج سے نصف صدی پہلے کی شرح معاوضہ پر کام کرتے ہیں؟ کیا اس بات سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ سیاہ فام باشندوں کے لئے بستیاں الگ ہیں۔ بسیں الگ ہیں۔ ٹرام الگ ہیں۔ ریل کے ڈبے الگ ہیں۔ پلیٹ فارم الگ ہیں۔ ویٹنگ روم الگ ہیں۔ ڈاک خانے الگ ہیں۔ سکول الگ ہیں۔ حتی کہ خدا کے گھر بھی الگ ہیں۔ گویا سفید فام حکومت کے نزدیک ایک مذہب (مسیحیت) ہونے کے باوجود کالوں کا خدا الگ ہے اور گوروں کا الگ؟

کیا یہ حقیقت دنیا سے پوشیدہ ہے کہ جنرل اسمبلی ہر سال غالب اکثریت سے جنوبی افریقہ کی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ نسلی برتری کی پالیسی کو روز بروز سخت تر کر رہا ہے اور اب اس کا ارادہ یہ ہے کہ سیاہ فام آبادی کو چند بنجر علاقوں میں مرتکز کر کے وہاں ”بانٹوسٹان“ بنا دے اور استحصال کا بازار اور گرم کرے؟ کیا یہ درست نہیں کہ جنرل اسمبلی نے اس سے مطالبہ کیا کہ وہ جنوب مغربی افریقہ میں نسلی برتری کی پالیسی نہ چلائے۔ کیونکہ یہ خطہ لیگ آف نیشنز نے اس کو امانت کے طور پر دیا تھا اور یہ امانت اصل میں مجلس اقوام کی ہے۔ لیکن وہ اس علاقے میں بھی وہی دھاندلی مچا رہا ہے جو اپنے ملک میں مچا رکھی ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۶۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

یہ سب حقائق علیٰ حالہ قائم ہیں۔ ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی بلکہ جنوبی افریقہ پرتگیزی موزمبیق اور انگولا سے بھی سیاہ فام باشندے غلاموں کے طور پر خرید رہا ہے اور روڈیشیا کا بھی پشت پناہ بنا ہوا ہے۔ جہاں چالیس لاکھ سیاہ فام باشندوں پر دو لاکھ سفید فام باشندوں کی حکومت قائم ہے۔ ایسے میں جنوبی افریقہ کے وزراء سے مل کر چوہدری ظفر اللہ خان نے نہ پاکستان کی خدمت کی ہے نہ انسانیت کی اور نہ ہی اس دین کی جس کی بنیاد انسانی مساوات، عظمت آدم اور شرف انسانی پر قائم ہے۔‘‘

(روزنامہ مشرق کراچی مورخہ ۱۸؍ نومبر ۱۹۶۷ء)

مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۸۶ھ، مطابق مئی ۱۹۶۶ء تا اپریل ۱۹۶۷ء

مرتبہ مولانا محمد شریف جالندھری پیش خدمت ہے:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

انیسویں صدی عیسوی کا نصف آخر عالم اسلام کی تنزلی اور انحطاط کا دور تھا۔ اس نصف آخر میں برصغیر پر انگریز کا قبضہ مکمل ہوا اور انگریز نے پوری دنیائے اسلام پر غاصبانہ قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ ایک طرف اہل دل مسلمان خون کے آنسو روئے اور انگریز کے خلاف مصروف جہاد ہوئے۔ انگریز نے مغلیہ سلطنت کے وارث شہزادے، خواتین، ملک کے ہزاروں نواب، علماء کرام اور محدثین عظام کو پھانسی کی سزا دی۔ سینکڑوں کو سؤر کی کھال میں بند کر کے زندہ جلا دیا گیا۔ انگریز کے مقابلہ کے لئے بہادر شاہ ظفر، میسور کے سلطان ٹیپو شہید اور دہلی کے سید احمد شہید اور مولانا محمد اسماعیل شہید نے راہ جہاد اختیار کر کے کفر کا مقابلہ کیا۔ دوسری طرف مسلمانوں ہی سے غدار پیدا ہوئے۔ بنگال کے جعفر اور دکن کے صادق، قادیان کے غلام مرتضیٰ (والد مرزا غلام احمد قادیانی بانی مرزائیت) نے دنیاوی لالچ میں اسلام اور مسلمانوں سے غداری کی۔ انیسویں صدی کے ربع آخر کے انہی ایام میں مرزا غلام احمد قادیانی گورداسپور کی ایک بستی قادیان سے انگریز کی وفاداری کا خاندانی پشتارہ اٹھائے ہوئے نمودار ہوا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب کہ ۱۸۷۰ء میں سرولیم ہنٹر اور پادری صاحبان نے لندن میں رپورٹ پیش کی کہ ہم برصغیر کی تمام حکومتوں کو غدار تلاش کرنے کی حکمت عملی سے شکست دے چکے ہیں۔ اب ایسے غدار کی ضرورت ہے جو ظلی نبوت کا دعویٰ کرے اور مسلمانوں کے داخلی انتشار کا باعث ہو۔ مرزا غلام احمد نے انگریز کی اس ضرورت کو پورا کیا اور ملک کی آزادی کے لئے کی گئی ہر تحریک کی مخالفت کی، ۱۸۵۷ء کا وہ جہاد جس کی رہنمائی مغلیہ سلطنت اور علمائے اسلام نے متفقہ طور پر کی۔

اس کے متعلق فرماتے ہیں: ’’ان لوگوں (مسلمانوں) نے چوروں، قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کیا اور اس کا نام جہاد رکھا۔‘‘

(حاشیہ ازالہ اوہام ص ۲۴، خزائن ج ۳ ص ۲۹۰)

۱۸۹۱ء میں انگریزوں اور روس کی لڑائی کا امکان تھا۔ مرزا قادیانی نے اپیل کی: ’’ہر ایک سعادت مند مسلمان کو دعا کرنی چاہئے کہ اس وقت انگریزوں کی فتح ہو۔ کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ۵۰۹، خزائن ج ۳ ص ۳۷۳)

’’گورنمنٹ انگلشیہ خدا کی نعمتوں سے ایک نعمت ہے۔ یہ ایک عظیم الشان رحمت ہے۔ یہ سلطنت مسلمانوں کے لئے آسمانی برکت کا حکم رکھتی ہے۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص ۱۱، خزائن ج ۶ ص ۳۸۸)

’’اسلام کی دوبارہ زندگی انگریز کی سلطنت کے امن بخش سائے سے پیدا ہوئی۔‘‘

(تریاق القلوب ص ۲۸، خزائن ج ۱۵ ص ۱۵۶)

ابتدائے آفرینش سے کفر و اسلام کا مقابلہ ہے۔ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں نصرانی اسلام اور مسلمانوں کے کھلے دشمن ہیں۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۶۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہر محاذ پر انگریزوں نے اسلام، اسلامی کلچر اور اس کی تعلیمات کا مقابلہ کیا ہے۔ تاریخ اسلام کا کوئی دور ایسا نہیں جب انگریز مسلمان کے مقابلہ میں نہیں۔ لیکن چودھویں صدی کے مرزائیوں کے نبی انگریز کی حکومت کو آسمانی برکت اور اسلام کی دوبارہ زندگی کا باعث سمجھتے ہیں اور اس دشمن اسلام حکومت کے لئے جاسوسی کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔

”قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو درپردہ اپنے دلوں میں ”برٹش انڈیا“ کو ”دارالحرب“ سمجھتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ ان نقشوں کو ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی۔ ایسے لوگوں کے نام مع پتہ یہ ہیں۔ اس کے نیچے طویل فہرست شائع کی۔“

(تبلیغ رسالت ج۵ ص۱۱، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۲۷)

کفر کے لئے جاسوسی اور دعویٰ مندرجہ ذیل ہے

منم مسیح زمان و منم کلیم خدا منم محمد احمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص۳، خزائن ج۱۵ ص۱۳۲)

پھر اسی جاسوسی کا حال برصغیر ہی میں نہیں، انگریز پرستی اور دنیاوی لالچ بیرون ملک بھی یہ فرض ادا کراتا ہے۔ حکومت کابل نے دو احمدیوں ملاں عبدالحلیم چہار آسیانی اور ملاں انور علی کو موت کی سزا دی تو وہاں کی وزارت خارجہ نے یہ اعلان جاری کیا۔ ”مملکت افغانیہ کے مصالح کے خلاف غیر ملکی لوگوں کے سازشی خطوط ان کے قبضے سے پائے گئے جن سے پایا جاتا ہے کہ یہ افغانستان کے دشمنوں کے ہاتھ بک چکے تھے۔“

(اخبار امان افغان کابل، ماخوذ از الفضل قادیان مؤرخہ ۳؍مارچ ۱۹۳۵ء)

جب خلیفۃ المسیح نے مولوی محمد امین کو روس میں مبلغ بنا کر بھیجا تو وہاں گرفتار ہو گیا۔ کیوں؟ خود مبلغ کی زبانی سنئے: ”چونکہ سلسلہ احمدیہ اور برٹش گورنمنٹ کے باہمی مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ اس لئے جہاں میں اپنے سلسلہ کی تبلیغ کرتا وہاں لازماً مجھے انگریزی گورنمنٹ کی خدمت گزاری کرنی پڑتی تھی۔“

(الفضل قادیان مؤرخہ ۲۸؍دسمبر ۱۹۲۳ء)

انیسویں صدی کے آخر میں ترکی حکومت طرابلس تک پھیلی ہوئی تھی۔ مراکش الجیریا آزاد اسلامی حکومتیں تھیں۔ انگریز، دشمن اسلام نے ہندوستان پر قبضہ کرنے کے بعد ممالک اسلامیہ پر حملے شروع کر دیئے۔ سرزمین ہند میں جہاں ایک طرف محب وطن علماء حضرات آزادی کے حصول اور دوبارہ اسلامی حکومت کے قیام کے لئے طرح طرح کی تحریکیں چلا رہے تھے۔ حضرت شیخ الہند قدس سرہ کی زیرقیادت سید احمد قدس سرہ کی جماعت کے پسماندگان دوبارہ منظم ہو رہے تھے۔ مکہ معظمہ کے گورنر کے ذریعہ سلطان عبدالحمید والئی ترکی سے ساز باز کی جا رہی تھی۔ دوسری طرف چودھویں صدی کے پیر اور نام نہاد نبی انگریز کو اولی الامر ہونے کا فتویٰ دے رہے تھے۔ ان کے فتویٰ کے زیر اثر ہزاروں مسلمان دنیاوی لالچ میں ترکوں کے بچوں کو یتیم اور مستورات کو بیوہ کرنے کے لئے انگریز کی فوج میں بھرتی ہو کر جا رہے تھے۔ ۱۹۱۴ء کی جنگ میں سقوط بغداد و شکست ترکی ایسے ہی حضرات کی مرہون منت ہے۔ ۱۹۰۸ء میں مرزا غلام احمد قادیانی کی وفات ہوئی۔ نورالدین خلیفہ اوّل بنے۔ ۱۹۱۴ء میں ان کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کے لڑکے بشیرالدین محمود خلیفہ دوم قرار پائے۔ حضرت عمرؓ کے نام سے دنیائے کفر لرزاں تھی۔ اب ان ”فضل عمر“ کے کارنامے اور ارشاد گرامی سنئے۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ: ”گورنمنٹ برطانیہ میری تلوار ہے۔ پھر احمدیوں کو اس فتح (فتح بغداد) پر کیوں خوشی نہ ہو۔ عراق عرب ہو یا شام ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔ (نعوذ باللہ) دراصل اس کے محرک خدا تعالیٰ کے وہ فرشتے تھے جن کو گورنمنٹ کی مدد کے لئے خدا نے اتارا تھا۔“

(الفضل مؤرخہ ۷؍ستمبر ۱۹۱۸ء)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۶۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بدر میں خدا کے فرشتے کافروں کی سرکوبی اور حق پرست مظلوموں کی مدد کے لئے اترے تھے۔ چودھویں صدی میں مرزائیوں کے خدا نے فرشتوں کو کفر و ظلم کی سربلندی کے لئے اور مظلوم مسلمانوں کی تباہی کے لئے نازل کیا۔ (نعوذ باللہ) جنگ عظیم اوّل کے بعد جب دنیائے اسلام کا نقشہ بدل گیا۔ نصاریٰ سربلند ہوئے اور اہل اسلام مفتوح، تو دنیا اسلام میں صف ماتم بچھ گئی۔ ہندوستان کا مسلمان بلبلا اٹھا۔ تو ۲۷؍ نومبر ۱۹۱۸ء کو ترکوں کی مکمل شکست پر قادیان میں زبردست چراغاں کیا گیا۔ جشن ہوئے اور یہ پر لطف اور مسرت انگیز نظارہ بہت مؤثر اور خوشنما تھا اور اس سے احمدیہ پبلک کی اس عقیدت پر خوب روشنی پڑتی ہے جو اسے گورنمنٹ برطانیہ سے ہے۔‘‘

(الفضل قادیان مؤرخہ ۳؍ دسمبر ۱۹۱۸ء)

اچانک ترکی کے مردِ بیمار نے مصطفیٰ کمال کی قیادت میں انگڑائی لی اور اپنی خداداد جرأت سے کام لے کر ترکوں نے بیک بینی و دو گوش انگریزوں کو ترکی سے نکال باہر کیا تو دنیائے اسلام نے زبردست جشن منائے۔ اس موقع پر کسی مرزائی نے خلیفہ المسیح سے دریافت کیا کہ: ’’ترکوں کی فتح کی خوشی میں روشنی وغیرہ کے لئے چندہ دینے کا کیا حکم ہے تو آپ نے فرمایا روشنی وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘

(الفضل قادیان مؤرخہ ۷؍ دسمبر ۱۹۲۲ء)

حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول کے متعلق حدیث پاک میں آتا ہے کہ ان کی آمد سے صلیب جو عیسائیوں کا امتیازی نشان ہے ختم ہو جائے گا اور لڑائی بوجہ خاتمہ کفار کے ختم ہو جائے گی۔ یعنی دنیا اسلامی سلطنت ہونے کی وجہ سے امن کا گہوارہ بن جائے گی۔ مرزا علیہ ماعلیہ نے کہا کہ جس مسیح موعود کی خوشخبری دی گئی ہے وہ میں ہوں۔ اب ان دو باتوں کا جواب کیا دینا۔ لڑائیوں کا اختتام اور کسر صلیب درکنار صلیب کو غلبہ نصیب ہوا اور لڑائیوں کی شدت اس کے متعلق مرزا قادیانی کی سنئے: ’’مسیح دنیا میں آکر صلیبی مذہب کی شان وشوکت کو اپنے پیروں کے نیچے کچل ڈالے گا اور ان لوگوں کو جن میں خنزیروں کی بے شرمی اور خوکوں کی بے حیائی و نجاست خواہی ہے۔ ان پر دلائل قاطعہ کا ہتھیار چلا کر سب کا کام تمام کرے گا۔‘‘

(ازالہ اوہام ج۱ طبع حاشیہ ص ۸۱، خزائن ج ۳ ص ۱۴۲)

’’مسیح کا خاص کام کسر صلیب اور قتل دجال اکبر ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص ۴۷، خزائن ج ۱۱ ص ۳۲۱)

آئیے دلائل قاطعہ کا ہتھیار چلا کر عیسائیوں کا کام تمام کرنے کے نتائج کا موازنہ کریں۔ مردم شماری کے اعدادوشمار۔

بقول مرزا قادیانی

عیسائی پنجاب میں ۱۸۸۱ء ۲۸۰۵۲ عیسائی پنجاب میں ۱۹۱۱ء ۱۹۹۷۵۱ تیس برس میں پونے دو لاکھ کا اضافہ ہوا عیسائی ہندوستان میں ۱۸۸۱ء ۱۸۶۲۶۳۲ عیسائی ہندوستان میں ۱۹۱۱ء ۳۸۷۶۲۰۳ تیس برس میں بیس لاکھ چودہ ہزار کا اضافہ ہوا

مردم شماری کے رجسٹرات ۱۸۸۱ء، ۱۹۱۱ء

مرزا قادیانی کے کام کے یہی تیس برس ہیں جن میں عیسائیت کو اس شدت سے ترقی ہوئی۔ مسیح علیہ السلام کی آمد کے وقت دوسری برکت یہ ہوگی کہ فساد خونریزی عالم انسانیت میں ختم ہو جائے گی۔ مرزا قادیانی کا وجود چونکہ کفر کی برتری کے لئے تھا۔ اس لئے لڑائی بند ہونے کا مفہوم یہ دیا۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۶۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ۲۶، خزائن ج ۱۷ص ۷۷)

اعلائے کلمۃ اللہ اشاعت دین اور اللہ کی راہ میں قربان ہو جانے کا نام جہاد ہے۔ جسے مرزا قادیانی نے حرام قرار دیا۔ لیکن فی سبیل الطاغوت اور کفر کی بلندی کی خاطر لڑنے کے لئے خود کو اور اپنی جماعت کو پیش پیش رکھا۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے ۲۴ فروری ۱۸۹۸ء کو گورنر پنجاب کی خدمت میں ایک عرضی بھیجی جس کا مضمون یہ تھا۔ ”جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح موعود مان لینا ہی جہاد کا انکار ہے۔ غرض یہ ایک ایسی جماعت ہے جو سرکار انگریزی کی نمک پروردہ ہے۔ صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار اس خود کاشتہ پودے کی نہایت احترام اور احتیاط اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ کرے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو خاص عنایت کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنا خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔“

(تبلیغ رسالت ج۷ ص ۱۸، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص ۱۹)

”جب کابل کے ساتھ ۱۹۱۹ء میں (انگریز کی لڑائی امان اللہ خان کے خلاف ) ہوئی، تب بھی ہماری جماعت نے علاوہ اور کئی قسم کی خدمات کے ڈبل کمپنی پیش کی۔ خود ہمارے سلسلہ کے بانی کے چھوٹے صاحبزادے نے اپنی خدمات پیش کیں اور چھ ماہ تک ٹرانسپورٹ کور میں آنریری طور پر کام کرتے رہے۔“

(جماعت احمدیہ کا سپاسنامہ بخدمت لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند مورخہ ۲۴؍ جنوری ۱۹۲۱ء)

اور سنئے ! خلیفہ المسیح فرماتے ہیں : ”عراق کو فتح کرنے میں احمدیوں نے خون بہایا اور میری تحریک پر سینکڑوں آدمی بھرتی ہو کر چلے گئے ۔“

(الفضل قادیان مورخہ ۳؍ ستمبر ۱۹۳۵ء)

شاباش! اگر اعلاء کلمۃ اللہ مقصد ہوتا تو دین کی سربلندی کے لئے کفر کے خلاف کام کرتے مقصد ہی انگریز کی خدمت اور جاگیر داریاں حاصل کرنا تھا۔ دین کے لئے جہاد حرام، انگریز، نصاریٰ اور تثلیث کے لئے بغداد، عراق کے مسلمانوں کا خون بہانا جائز ۔ یہ ہیں مرزا قادیانی کی تعلیمات ۔

غرض ملک میں جو تحریک بھی اسلام کی سربلندی کے لئے شعائر اسلام کی حفاظت یا انگریز کی مخالفت میں اٹھی ، مرزائیوں نے اس سے اختلاف کیا۔ حتیٰ کہ ۱۹۲۹ء میں لاہور کے ایک آریہ راجپال نے حضور ﷺ کے خلاف ایک کتاب ”رنگیلا رسول“ کے نام سے لکھی ۔ مسلمانان ہند میں کہرام مچا۔ جلسے ہوئے ۔ جلوس نکلے ۔ حضرت امیر شریعت قدس سرہ کے خطابات نے سوئے ہوئے مسلمانوں کو بیدار کیا۔ یہاں تک کہ لاہور کے ایک نوجوان غازی علم الدین شہید نے راجپال کا کام تمام کر دیا۔ ایسے میں مرزا بشیر الدین محمود گویا ہوئے :

”وہ نبی بھی کیسا نبی ہے جس کی عزت بچانے کے لئے خون سے ہاتھ رنگنے پڑیں ۔ وہ لوگ جو قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں وہ مجرم ہیں اور اپنی قوم کے دشمن ہیں اور جو ان کی پیٹھ ٹھونکتا ہے وہ بھی قوم کا دشمن ہے ۔“

(الفضل قادیان مورخہ ۱۵؍ اپریل ۱۹۲۹ء)

لیکن تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ۔ جب محبت رسول ﷺ کا زبانی دعویٰ کرے اور دل میں خدا اور رسول ﷺ سے عناد ہو۔ اس کا روسیاہ ہونا ہے۔ غازی علم الدین شہید کے خلاف مذکورہ بالا بیان دینے کے ٹھیک ایک سال بعد اپریل ۱۹۳۰ء میں اخبار مباہلہ (قادیان) کے مدیر مولوی عبدالکریم جو مرزا بشیر الدین کی اخلاقی کمزوریوں کو دیکھ کر احمدیت سے تائب ہو کر ان کی تعلیمات پر تنقید کرنے لگے تو محمود صاحب نے کہا: ”اپنے دینی اور روحانی پیشوا کی معمولی ہتک بھی کوئی برداشت نہیں کر سکتا۔ اس قسم کی شرارتوں کا نتیجہ لڑائی جھگڑا، حتیٰ کہ قتل

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۶۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

وخونریزی بھی معمولی بات ہے۔ اگر اس سلسلہ میں کسی کو پھانسی بھی دی جائے اور وہ بزدلی دکھائے تو ہم ہرگز اسے منہ نہیں لگائیں گے۔ بلکہ میں تو اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھوں گا۔“

(الفضل قادیان مورخہ ۱۱؍اپریل ۱۹۳۰ء)

یہ ایک خفیہ سکیم تھی جس کا اظہار ۲۳؍اپریل ۱۹۳۰ء کو اس وقت ہوا جب کہ محمد علی نامی ایک احمدی نے مولوی عبدالکریم مباہلہ اور مولوی محمد حسین بٹالوی پر قاتلانہ حملہ کر دیا۔ مولوی عبدالکریم صاحب زخمی ہوئے اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی شہید، ملزم پر ۱۶؍مئی ۱۹۳۱ء کو وار ہوا۔ اس کے جنازہ کو خود خلیفۃ المسیح نے کندھا دیا اور وہ نوجوان نہایت احترام سے بہشتی مقبرہ میں مدفون ہوا۔

آمنہ کے لال، یتیم مکہ، سرور کائنات، احمد مجتبیٰ، محمد ﷺ کی توہین کرنے والے کا قاتل مجرم اور قوم کا دشمن اور تمہاری اغراض مذمومہ کی تکمیل کے لئے کسی مسلمان کو شہید کرنے والے کی یہ توقیر کہ خلیفہ المسیح جنازے کو کندھا دیں اور اسے احترام کے ساتھ بہشتی مقبرہ میں دفن کیا جائے۔

جو چاہے تیرا حسن کرشمہ ساز کرے

قارئین کرام! مذکورہ بالا حوالہ جات سے اندازہ فرما لیا ہوگا کہ مرزائیت کی تاریخ کیا ہے اور یہ جماعت کفر کی اغراض کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کس طرح عالم وجود میں لائی گئی۔ اس جماعت نے تقسیم سے قبل ہر ملی تحریک کی مخالفت اور انگریز کی حمایت کی۔ اپنے مذہبی عقائد کی روشنی میں تقسیم کی مخالفت کی اور کہا کہ مرزا قادیانی کا الہام یہ ہے کہ وہ جے سنگھ بہادر اور کرشن ہیں۔ اگر ملک تقسیم ہو گیا تو مرزا قادیانی کا الہام غلط ثابت ہوگا۔ محمود صاحب کی طرف سے برملا اعلان ہوا کہ اگر ملک تقسیم ہوا تو ہمارا فرض ہوگا کہ ہم اسے پھر سے اکھنڈ بھارت بنائیں۔ چنانچہ قادیان کی ایک مجلس عرفان میں اپنی رؤیا صادقہ بیان کرتے ہوئے کہا: ”ممکن ہے عارضی طور پر افتراق ہو۔ (اسی لئے جماعت احمدیہ کا الہامی عقیدہ ہے کہ پاکستان کا وجود عارضی ہے) اور کچھ وقت کے لئے دونوں قومیں جدا جدا رہیں۔ مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جلد دور ہو جائے۔ بہرحال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں باہم شیر وشکر ہو کر رہیں۔“

(الفضل قادیان مورخہ ۱۵؍اپریل ۱۹۴۷ء)

کانگریس اور مسلم لیگ نے تقسیم ملک کا فیصلہ کر لیا۔ پنجاب اور بنگال کی تقسیم بھی طے ہوئی۔ تقسیم پنجاب کمیشن میں مسلمانوں کی نمائندگی جسٹس دین محمد اور جسٹس محمد منیر کر رہے تھے اور ہندوؤں کی نمائندگی جسٹس مہر چند مہاجن اور جسٹس تیجا سنگھ نے کی۔ جب کہ کمیشن کے سربراہ ریڈکلف تھے۔ ۸؍اگست ۱۹۴۷ء کو اس کمیشن نے رپورٹ پر دستخط کر کے وائسرے کو پیش کی۔ اس میں ضلع گورداسپور پاکستان میں ظاہر کیا گیا۔ لیکن جب ۱۷؍اگست کو وائسرائے نے فارمولے کا اعلان کیا تو گورداسپور ماسواء تقسیم شدہ تحصیل شکرگڑھ کے ہندوستان میں تھا۔ کمیشن کے مسلمان ممبر اور زعماء اسلام حیران تھے کہ یہ ردو بدل کیوں ہوا؟

ناظرین کرام! ضلع گورداسپور کی آبادی کا تناسب اس طرح تھا کہ اگر مرزائی مسلمانوں سے ملیں تو ضلع میں مسلم اکثریت اور اگر مسلمانوں سے نہ ملیں تو غیر مسلم اکثریت۔ کمیشن میں مسلمانوں کی وکالت ظفر اللہ کر رہے تھے۔ لیکن نہ معلوم وجوہات کی بناء پر بشیر احمد مرزائی علیحدہ پیش ہوئے اور انہوں نے بصراحت کہا کہ مرزائی مسلمانوں سے علیحدہ ہیں۔ وائسرائے نے اسی وجہ سے مرزائیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ شمار کر کے گورداسپور کو غیر مسلم اکثریت کا ضلع گردانا اور وہ ہندوستان کے حوالہ کر کے اس کے کشمیر جانے کا راستہ کھول دیا۔ کیونکہ ماؤنٹ بیٹن کو جواہر لال نے شیشہ میں اتار لیا تھا۔ جو آج تک وطن عزیز کے لئے بے پناہ پریشانیوں اور کشمیر کے نہتے بے گناہ مسلمانوں کی خونریزی و بے آبروئی کا باعث بنا ہوا ہے۔

راجہ غضنفر علی صاحب مرحوم نے مارشل لاء سے مارشل لاء تک کی قسط (۱۳۸) میں یہی رائے ظاہر کی۔ مشرق مورخہ ۳؍فروری

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۷۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۱۹۶۲ء اور یہی رائے تقسیم کمیشن کے معزز رکن جسٹس محمد منیر نے (بعد از ریٹائرمنٹ) ظاہر کی۔

(نوائے وقت مورخہ ۶؍ جولائی ۱۹۶۲ء)

واہ رے انگریز، ملک تقسیم ہوا۔ مرزائی انگریزوں کے وفادار ابدی تھے۔ موڈی انگریز گورنر پنجاب کے ذریعہ بے بہا قیمتی الاٹمنٹوں کے چکر کے علاوہ ضلع جھنگ ایسے مرکزی ضلع میں چند پیسے مرلہ کے حساب سے سرکاری اراضی فروخت کر دی اور پاکستان میں ربوہ کے نام پر عرب ممالک میں اسرائیل کی مثال قائم کر دی تاکہ ازلی وفاداروں کو وقتاً فوقتاً استعمال کیا جا سکے۔

تقسیم سے قبل نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا؟ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ ایسی مملکت میں مدعی نبوت اور اس کی جماعت کا مقام مخدوش تھا۔ اسلام کی چودہ صد سالہ تاریخ سامنے تھی کہ کسی مسلمان حکومت نے کسی دور میں بھی مدعی نبوت کو زندگی کا حق نہیں دیا۔ لیکن بدقسمتی سے تقسیم کے بعد ہم اس نعرہ کو بھول گئے۔ ظفر اللہ وزیر خارجہ بنے۔ قائد اعظم مرحوم کا جنازہ ہوا۔ ظفر اللہ علیحدہ کھڑے ہیں۔ کسی نے پوچھا کہ آپ شریک کیوں نہیں ہوئے تو برملا کہا کہ: ’’مجھے مسلمان حکومت کا کافر وزیر خارجہ سمجھو یا کافر حکومت کا مسلمان وزیر خارجہ۔‘‘ اس طرح اپنے عقیدہ کا کھلا اعلان کیا۔ ظفر اللہ کی وزارت خارجہ کے باعث اعلیٰ کلیدی آسامیوں پر مرزائیوں کا تقرر ربوہ کی اراضی کی صورت میں انگریز صاحب بہادر کی نوازش بے بہا قیمتی متروکہ املاک کی الاٹمنٹ فرقان بٹالین کے نام سے فوجی قوت مرزا بشیر الدین کا سازشی ذہن دیکھتے ہی دیکھتے مرزائی اپنی حکومت کا خواب دیکھنے لگا۔

محمود صاحب نے اعلان کیا: ’’۱۹۵۲ء کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔ کم از کم بلوچستان کا صوبہ ایسا ہونا چاہئے جسے مرزائی صوبہ کہا جاسکے۔‘‘

(اخبار الفضل مورخہ ۱۶؍ جنوری ۱۹۵۲ء)

علماء اسلام نے گرفت کی۔ مرزائیوں کے خلاف آواز بلند ہوئی۔ الفضل نے خونی ملاں کے آخری دن کے عنوان سے لکھا: ’’ہاں! آخری وقت آن پہنچا ہے۔ ان تمام علماء حق کے خون کا بدلہ لینے کا جن کو شروع سے لے کر آج تک یہ خونی ملاں قتل کراتے آئے ہیں۔ ان سب کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ عطاء اللہ شاہ بخاری سے، ملاں بدایونی سے، ملاں احتشام الحق سے، ملاں محمد شفیع سے، ملاں مودودی پانچویں شاہ سوار سے۔‘‘

(الفضل مورخہ ۱۵؍ جولائی ۱۹۵۲ء)

انگریز کے لئے جاسوسی کرتے وقت جو مرزائی افغانستان میں مارے گئے وہ علماء حق اور مذکورہ بالا علماء سے ان (علماء حق) کے خون کا بدلہ، ناطقہ سر بگریباں ہے۔ اسے کیا کہئے۔ ان حالات میں تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء شروع ہوئی اور اہل اسلام کی قربانی نے مرزائیوں کے منصوبے خاک میں ملا دیئے اور مرزائیت ایک دشنام بن کر رہ گئی۔ کہتے ہیں کہ بارہ برس بعد کھاد کے ڈھیر کی بھی سنی جاتی ہے۔ ۱۹۵۳ء کے بارہ برس بعد اگست ۱۹۶۵ء کے آخری عشرہ میں مرزائی اپنے مربی انگریز کے دارالحکومت لندن میں جمع ہوئے۔ ظفر اللہ نے صدارت کی اور مرزائی حکومت قائم ہونے کی خوشخبری دی۔ ہمارا ماتھا ٹھنکا کہ یا اللہ یہ انگلینڈ میں مرزائی حکومت کس جگہ قائم ہوگی۔ مرزائیوں کے اس اجتماع کے چند دن بعد ہندوستان نے وطن عزیز پر حملہ کر دیا۔ یہ اب ڈھکی چھپی بات نہیں کہ دشمن کا یہ حملہ امریکہ اور انگریز کے اشارہ پر تھا۔ ستمبر کی اس کفر و اسلام کی لڑائی میں ہندوستان کے مسلمان کو بہت مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ ہر جگہ مسلمان زعماء کو پاکستان کا جاسوس کہہ کر گرفتار کیا گیا اور یہ پکڑ دھکڑ کا سلسلہ دہلی، بمبئی، کلکتہ ایسے سرحد سے دور دراز شہروں تک بھی جاری رہا۔ لیکن مرزائی سرحد کے بالکل قریب قادیان میں محفوظ اور بشیر الدین محمود کے بیٹے نے قادیان جماعت کی طرف سے ہندوستان حکومت کو ایک لاکھ روپے امداد جنگ کے طور پر دیئے۔ اس جنگ میں کفر کی شکست کے ساتھ اگرچہ مرزائی حکومت کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا۔ لیکن مرزائیوں نے پھر پر، پرزے نکالنے شروع کئے۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۷۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چار جگہ مناظرے

چنانچہ سال رواں ۱۳۸۶ھ میں مرزائیوں نے کئی برسوں کے بعد اہل اسلام کو صدق و کذب مرزا، ختم نبوت، حیات مسیح علیہ السلام پر مناظرہ کے چیلنج دینا شروع کئے اور ملک بھر میں جارحانہ اقدامات شروع ہو گئے۔ چنانچہ چار جگہ مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب اختر نے مرزائی مبلغوں سے کامیاب مناظرے کئے۔ (۱) میانوالی شہر ۱۸؍ ذی الحجہ ۱۳۸۵ھ، مطابق مؤرخہ ۱۰؍ اپریل ۱۹۶۶ء۔ (۲) ڈسکہ ضلع سیالکوٹ ۱۸ تا ۲۰؍ محرم ۱۳۸۶ھ، مطابق ۱۰ تا ۱۲؍ مئی ۱۹۶۶ء۔ (۳) چک نمبر ۱۰۵ براستہ پپلاں ضلع میانوالی مؤرخہ ۴؍ جمادی الاول ۱۳۸۶ھ، مطابق ۲۱؍ اگست ۱۹۶۶ء۔ (۴) کرونڈی ضلع نواب شاہ مؤرخہ ۲۹؍ رجب ۱۳۸۶ھ، ۱۳؍ نومبر ۱۹۶۶ء۔

کرونڈی ضلع نواب شاہ میں مرزائیوں نے اودھم مچایا۔ اہل اسلام کو مناظرہ کا چیلنج دیا۔ مسلمانان کرونڈی نے مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کی طرف رجوع کیا۔ چنانچہ ۲۹؍ رجب ۱۳۸۶ھ کو حضرت مناظر اسلام کرونڈی تشریف لے گئے۔ کرونڈی کے مناظرہ میں شرائط طے کرتے وقت ہی مرزائی بھاگ گئے۔ مناظرہ کی نوبت نہ آئی۔ چک نمبر ۱۰۵ ضلع میانوالی میں حسب عادت مرزائیوں نے اودھم مچایا۔ عوام اور علاقہ کے علماء کو چیلنج کیا۔ خیال کیا کہ میدان خالی ہے۔ مرزائی مبلغوں نے چیلنج پر چیلنج شروع کیا۔ اہل اسلام نے مناظرہ کے لئے ۴؍ جمادی الاول ۱۳۸۶ھ کی تاریخ مقرر کر کے ملتان دفتر ختم نبوت سے رابطہ قائم کیا۔ دفتر نے حضرت مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب اختر اور حضرت مولانا غلام محمد صاحب کا وقت دے دیا۔ جب مرزائیوں کو پتہ چلا کہ تحفظ ختم نبوت کے مناظر تشریف لا رہے ہیں تو مناظرہ میں خفت و شرمساری کا میدان سامنے آیا۔ اسی وقت حکام ضلع میانوالی کو درخواست دے کر مناظرہ بند کرا دیا اور اسے نام نہاد مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی کی کامیابی قرار دیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!

میانوالی شہر مؤرخہ ۱۸؍ ذی الحجہ ۱۳۸۵ھ، ڈسکہ ضلع سیالکوٹ ۱۸ تا ۲۰؍ محرم ۱۳۸۶ھ بالترتیب مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب اختر کے ساتھ قاضی نذیر مرزائی مبلغ لائل پور اور احمد علی شاہ مرزائی مبلغ نے مناظرے کئے اور منہ کی کھائی۔ جب کہ مولانا لال حسین صاحب کے ساتھ فاضل نوجوان مولانا عبد الرحیم صاحب اشعر نائب ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان تشریف لے گئے۔

حاجی محمد مانک کا اقدام

جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے۔ اس سال ملک کے طول وعرض میں مرزائیوں نے جارحانہ کارروائی جاری رکھی اور جگہ جگہ اہل اسلام کے عقائد کے خلاف شہروں، بازاروں اور قصبات میں مہم چلائی گئی۔ ضلع نواب شاہ کے عبد الحق نامی مرزائی نے اس سلسلہ میں بڑا کام کیا۔ ایک شخص حاجی محمد مانک حر کو کئی دن تک تبلیغ کرتا رہا۔ اسی اثناء میں حاجی صاحب نے مرزا قادیانی کے اخلاق و عادات کے متعلق کچھ باتیں معلوم کر لیں۔ ایک دن حاجی صاحب اس مبلغ کے گھر رات رہے۔ صبح کے وقت عبد الحق مرزائی نے کہا کہ میں اتنے دن سے تمہیں مسیح موعود اور ان کی نبوت کے متعلق تبلیغ کر رہا ہوں۔ تم پر کیا اثر پڑا۔ حاجی صاحب نے کہا کہ مرزائی اقوال اور تحریرات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی غیر محرم عورتوں سے خلط ملط رہتے تھے اور کبھی کبھی شراب بھی استعمال کیا کرتے تھے۔ ایسے شخص کا نبی اور مسیح موعود ہونے سے کیا تعلق؟ عبد الحق مرزائی نے برملا کہا کہ محمد رسول اللہ (نعوذ باللہ خاکم بدہن) بھی غیر محرم عورتوں سے خلط ملط رہتے تھے۔ عبد الحق قادیانی نے حضور سرور کائنات ﷺ کے متعلق یہ بات کئی دفعہ کہی۔ حاجی صاحب کے کہنے پر باز نہ آیا تو حاجی صاحب نے مبینہ طور پر اسے قتل کر دیا۔ حاجی صاحب جیل میں ہیں اور ان کا مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ ہمیں تو محض مرزائیوں کے اس سال کے نئے جارحانہ اقدامات سے بحث ہے۔

بھریا روڈ مین لائن پر ریلوے اسٹیشن ہے۔ یہیں سے حاجی محمد مانک کے گھر کو راستہ جاتا ہے۔ مذکورہ مبینہ قتل کا واقعہ ۸؍ رمضان

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۷۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۱۳۸۷ھ، مطابق ۱۱/ دسمبر ۱۹۶۷ء کو وقوع پذیر ہوا۔ رمضان المبارک کے گزرنے کے ساتھ ہی چند آدمی جیپ میں سوار بھریار روڈ کے بازار میں ایک دوکاندار سے کہتے ہیں کہ ہم لوگ لاہور سے آئے ہیں۔ یہاں قریب میں ایک غازی نے کسی مرزائی کو قتل کیا ہے۔ ہم ان کی زیارت اور ان کے بچوں کو ملنا چاہتے ہیں۔ کسی نے کہا کہ ان کا برادر زادہ سامنے ہوٹل میں چائے پی رہا ہے۔ اسے بلایا کہ ہمارے ساتھ چلو۔ اس نے کہا کہ میں نے گڑ بیچا ہے۔ آڑھت سے حساب کرا کر رقم لے لوں۔ کہنے لگے کہ ہم اتنی دور سے آئے ہیں۔ ہمیں جلدی لے چلو۔ رقم پھر کسی وقت لے لینا۔ نوجوان جیپ میں بیٹھ گیا۔ راستہ بتایا جیپ اس راستہ پر چل پڑی۔ شہر سے باہر دور جا کر جیپ نے راستہ بدل دیا۔ اس نوجوان نے کہا کہ آپ غلط راستہ پر ہولئے۔ دائیں ہاتھ والی سڑک پر جانا ہے۔ سنی ان سنی کر دی۔ کافی دور جا کر جب جیپ ایک جنگل عبور کر رہی تھی۔ نوجوان نے دوبارہ کہا کہ راستہ غلط ہے تو فوراً اسی کی چادر سے اس کا منہ اور آنکھیں بند کر کے پاؤں میں گرا لیا اور کہا کہ ہم تم سے عبدالحق (مرزائی مقتول) کا بدلہ لیں گے۔ رات گئے جیپ کسی نامعلوم بستی میں رکی۔ نوجوان مذکور کا منہ اور آنکھیں کھولیں اور مشکیں کس دیں۔ ایک کمرے میں بند کر دیا کہ صبح اس کا کام تمام کریں گے۔

نوجوان کا بیان ہے کہ رات کے کسی حصہ میں تالا کھلا اور ایک نقاب پوش اندر داخل ہوا۔ میں نہ سمجھ سکا کہ مرد ہے یا عورت مشکیں کھولیں۔ ہاتھ سے اشارہ کیا کہ میرے پیچھے چلے آؤ۔ جب اس بستی سے کچھ دور نکل آئے تو تاروں کے حساب سے کہا کہ ٹھیک اس جگہ باندی کا اسٹیشن ہے۔ وہاں سے ریل ملے گی۔ جہاں چاہے چلے جانا۔ یہ کہہ کر وہ انسانی شرافت کا پیکر واپس چلا گیا۔

مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس سال مرزائیوں کی جارحیت کا مقابلہ صبر و سکون اور علمی دلائل سے کیا۔ مبلغین مجلس تحفظ ختم نبوت نے ملک کے طول و عرض میں انتھک محنت کر کے وعظ و رشد کی مجالس میں مرزائیوں سے مسلمانوں کو محفوظ رکھا۔ مناظرین تحفظ ختم نبوت نے میدان مناظرہ میں باطل کو شکست دی۔ مرکز اور ماتحت جماعتوں نے مقامی اور مرکزی ضرورت کے پیش نظر مختلف پمفلٹ و رسائل شائع کئے اور ملک میں تقسیم کئے۔

تربیتی کورسز اور مولانا محمد حیات

اس کے علاوہ اطراف ملک میں تربیتی کورس کا ایک نیا نظام جاری کیا گیا۔ جس کی صورت یہ پیدا کی کہ فاتح قادیان مولانا محمد حیات صاحب کا پروگرام جلسہ جات کی شرکت سے علیحدہ مرتب کیا گیا۔ جس کی ضرورت اکابرین تحفظ ختم نبوت دیر سے محسوس کر رہے تھے۔ ایسا علاقہ یا شہر جسے مرزائیوں نے خصوصیت سے اپنی آماجگاہ بنایا ہوا تھا۔ وہاں حسب ضرورت مولانا محمد حیات کا ہفتہ، دو ہفتہ، تین ہفتہ کا پروگرام دیا گیا۔ مولانا نے قیام فرمایا: اس شہر یا قصبہ میں درس قرآن وحدیث تردید مرزائیت وعیسائیت کے اجتماعات منعقد ہوئے۔ جن میں علاقہ کے علماء، طلباء، تاجر، وکلاء سب کو دعوت دی گئی۔ مولانا کے بیان کے بعد افہام و تفہیم اعتراضات کے جوابات کا وقت دیا گیا۔ جس سے سب طبقوں کے مسلمانوں نے فائدہ اٹھایا۔ خود تردید مرزائیت وعیسائیت کا کام کرنے لگ گئے۔ ایسے تربیتی کورس گوجرانوالہ، ملتان، احمد پور شرقیہ، مظفر گڑھ، ڈگری، جھنگ، لائل پور، بہاول پور، ڈیرہ غازی خان اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اضلاع و دیہات میں مقرر کئے گئے اور اس کا فائدہ دور رس اور مستقل صورت میں نمودار ہوا۔ جگہ جگہ سے دفتر مرکزیہ میں تحسین و آفرین کے خطوط وصول ہوئے۔

مرکزی دارالمبلغین

مستقل مبلغ پیدا کرنے کے لئے دارالمبلغین کا قیام زیر سیادت مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب ملتان دفتر مرکزی میں ہوا۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۷۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جہاں آنے والے علماء کے قیام وطعام وغیرہ کا مجلس کی طرف سے انتظام کیا گیا۔ مجلس مرکزیہ ملتان کی وسیع عمارت ایسے آنے والے حضرات کے لئے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئی۔ علاوہ ازیں بدستور سابق شعبان اور رمضان میں ایسے مراکز درس قرآن کریم جہاں کے ممتاز علماء کرام، فارغ شدہ علماء کو اپنے مخصوص طرز پر درس کلام پاک سے مستفیض فرماتے ہیں۔ وہاں حضرت امیر مرکزیہ مدظلہ کے حکم سے حضرت مولانا لال حسین صاحب نے قیام فرمایا اور فارغ التحصیل علماء کی عظیم تعداد کو مرزائیت وعیسائیت کی تردید سے روشناس کرایا۔ ان علماء کی تعداد محض حضرت یادگار سلف حافظ القرآن والحدیث مولانا محمد عبد اللہ صاحب درخواستی دامت برکاتہم کے ہاں خانپور میں اڑھائی صد تھی۔ مولانا لال حسین صاحب اسی غرض سے خان پور کے علاوہ خدام الدین لاہور، چوکیرا ضلع سرگودھا میں بھی تشریف لے گئے اور علماء کی کثیر تعداد کو اس قابل کیا کہ وہ باطل کے اعتراضات کے جواب دے سکیں۔ کام کی وسعت کے پیش نظر نئے مبلغین کی خدمات حاصل کی گئیں۔

(۱) محمد شریف صاحب جالندھری۔ (۲) مولانا منظور احمد صاحب عباسی۔ (۳) مولانا عبد المجید صاحب۔ (۴) مولانا محمد خان صاحب۔ (۵) مولانا بشیر احمد صاحب ان حضرات کی تعیناتی حسب ذیل مقامات پر کی گئی۔ مولانا محمد شریف صاحب جالندھری دفتر مرکزیہ ملتان، مولانا منظور احمد صاحب اور مولانا عبد المجید صاحب کراچی، مولانا محمد خان صاحب گوجرانوالہ، مولانا بشیر احمد اطراف ربوہ میں مبلغ ختم نبوت چنیوٹ کی معاونت کے لئے متعین کئے گئے۔

حضرت خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد صاحب شجاع آبادی مرحوم ومغفور امیر مرکزیہ تحفظ ختم نبوت پاکستان عرصہ دراز سے بعارضہ سرطان جگر صاحب فراش تھے۔ حضرت قاضی صاحب مرحوم اپنے مربی حضرت امیر شریعت قدس سرہ کے وصال مبارک کے بعد تحفظ ختم نبوت کے مرکزی صدر تھے اور مجلس آپ کی سیادت میں تبلیغ اسلام و تردید باطل کا کام انجام دے رہی تھی کہ جان نثاران بخاری کا یہ مجاہد ۱۰؍ شعبان ۱۳۸۶ھ کو اپنے اس قافلہ اور قافلہ سالار سے جاملا۔ جن کی عظیم نشانی یہ ہمارے پاس موجود تھی۔ اس طرح مجلس مرکزیہ اپنے عظیم رہنما اور پروانہ شمع ختم نبوت کی سیادت و قیادت سے محروم ہوگئی۔ سکرات موت کے وقت جو حضرات موجود تھے ان کی روایت سے یقین ہوتا ہے کہ ختم نبوت کی خدمت کے صلہ میں نجات اخروی کی خوشخبری اسی دنیا میں دے دی گئی۔

حضرت خطیب پاکستان کے علاوہ اس سال ملت اسلامیہ پاکستان کو عالم ربانی حضرت مولانا محمد بدر عالم مدینہ طیبہ، حضرت شیخ الحدیث مولانا عبد الرحمن صاحب کیمبل پوری، حضرت شیخ الفقہ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب سراج العلوم سرگودھا، حضرت مولانا عبد الحنان صاحب راولپنڈی، حضرت شیخ الحدیث مولانا عبد الخالق صاحب دارالعلوم کبیر والہ داغ مفارقت دے کر اپنے خالق ازلی سے جاملے۔ ان حضرات کا وجود مسعود امت مسلمہ کے لئے عموماً اور علماء حق کے لئے خصوصاً باعث رحمت ایزدی تھا۔ جناب حکیم محمد ابراہیم صاحب مرحوم بہاول پوری رکن مرکزی مجلس شوریٰ ختم نبوت و خادم ختم نبوت ملک اللہ وسایا صاحب جابہ ضلع سرگودھا، حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب میانوی کے برادر خورد مولوی خلیل الرحمن کی وفات سے جماعت کو عملی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مرحومین کو اپنی رحمتوں سے نوازے اور ان ممتاز علماء کرام کے درجات میں ترقی عطاء فرمائے۔

مرکزی مجلس شوریٰ نے دستور کی دفعہ نمبر ۶ شق نمبر ۴ کے رو سے اپنے اجلاس مؤرخہ ۲۶؍ شعبان میں عارضی طور پر چھ ماہ کے لئے حضرت اقدس مولانا محمد علی صاحب جالندھری زیدمجدہم کو امیر مرکزیہ مقرر فرمایا۔ دستور کی شق مذکور کی رو سے مستقل انتخاب چھ ماہ کے اندر ضروری ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۷۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مجلس کے تیسرے امیر کا انتخاب

لہٰذا کل پاکستان تحفظ ختم نبوت کی جنرل کونسل کا اجلاس مورخہ ۲۷؍ ذیقعدہ ۱۳۸۶ھ کو بہاول پور شہر میں آل پاکستان تحفظ ختم نبوت کانفرنس کے موقع پر بلایا گیا۔ حکیم محمد ابراہیم صاحب مرحوم رکن مرکزی مجلس شوریٰ نہایت تندہی خلوص کے ساتھ جماعت کے دفتر اور تبلیغی امور کے علاوہ دو مدارس تعلیم القرآن بھی جماعت کے ماتحت چلا رہے تھے۔ ان کے اٹھ جانے کے بعد ان کے رفقاء کار نے مرکز سے مستقل مبلغ طلب کیا۔ حضرت امیر مرکزیہ زید مجدہم نے فاضل نوجوان حضرت مولانا غلام محمد صاحب کو مقرر فرمایا۔ چونکہ حکیم صاحب مرحوم کے رفقاء نے نہ صرف حکیم صاحب کے کام کو محفوظ رکھا بلکہ اسے اور پروان چڑھایا۔ اس لئے امیر مرکزیہ نے آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس کی منظوری بہاول پور میں عطاء فرمائی۔ لیکن بدقسمتی سے حکام ضلع نے دفعہ ۱۴۴ نافذ کر کے جماعت کے کھلے اجلاس پر پابندی عائد کر دی اور ضلع کی انتظامیہ نے فرقہ وارانہ کشیدگی کا بہانہ تراش لیا۔ جس کے جواب میں تمام مسلمان فرقوں شیعہ، سنی، اہل حدیث، دیوبندی، بریلوی نے مشترکہ وفد کے ذریعہ حکام کو یقین دلایا کہ یہ مسئلہ جزو ایمان ہے۔ لیکن بہاول پور کی انتظامیہ نے نہ معلوم کن وجوہات کی بناء پر پابندی واپس نہ لی۔

کھلے اجلاس ہائے پر پابندی کی وجہ سے اطراف ملک سے آئے ہوئے اراکین کا اجلاس مکان کے اندر ہوا اور اس طرح ضلعی انتظامیہ عوام سے قریب آنے کی بجائے زیادہ دوری کا باعث بنی۔ جنرل کونسل کے اجلاس نے بالاتفاق مرکزی امارت کے لئے حضرت اقدس مولانا محمد علی صاحب جالندھری زید مجدہم کو منتخب کیا۔ اکابرین جماعت کی خواہش کے پیش نظر جماعت کی رجسٹریشن کا اہتمام کیا گیا۔ چنانچہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے نام پر جماعت رجسٹرڈ کرالی گئی جس کا نمبر MR-41 ہے۔

قادیان کی تاریخ پون صدی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی کے پیش نظر دنیائے اسلام کا کوئی ایک ممتاز عالم دین ایسا نہیں جس نے اس کے کفر کا فتویٰ نہ دیا ہو اور قادیانی امت کو سرکار دو عالم ﷺ کی امت سے علیحدہ قرار نہ دیا ہو۔ اسی کے پیش نظر آج تک کوئی بھی مرزائی حج بیت اللہ شریف کے لئے حجاز مقدس نہ جاسکا۔ چونکہ مرزائی خود کو امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے علیحدہ شمار کرتے ہیں۔ اس لئے کسی غیر نام سے ایک دفعہ مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ ثانی مرزائی حج بیت اللہ کے لئے گئے اور آ کر اپنی سرگزشت بیان کی۔ ”اگر کبھی ہم نے مجبوراً بیت اللہ شریف میں نماز باجماعت ادا کی تو اپنے مکان میں آ کر اسے دہرایا۔ کیونکہ ہماری نماز بیت اللہ کے امام کی اقتداء میں ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔“

اسی لئے ہر حکومت نے مرزائیوں کو بحیثیت مرزائی بیت اللہ شریف ہی میں نہیں بلکہ مملکت حجاز میں بھی داخل نہ ہونے دیا۔ لیکن شاہ فیصل والیٔ حجاز نے چوہدری ظفر اللہ خان مرزائی کو اس سال داخلہ حجاز بیت اللہ شریف کی اجازت دے کر تمام اہل اسلام کے متفقہ فیصلہ کی خلاف ورزی کی جس پر مرکزی جماعت نے آل پاکستان یوم احتجاج مورخہ ۱۵؍ صفر ۱۳۸۷ھ کو منایا اور امت مسلمہ کی اس ناراضگی کی اطلاع مملکت سعودیہ عربیہ کی سفارت کے ذریعہ شاہ فیصل تک پہنچائی گئی۔

حضرت امیر مرکزیہ زید مجدہم آئندہ سال مشرقی پاکستان میں مستقل دفتر مرکزیہ ختم نبوت کے اجراء بیرونی ممالک خصوصاً جزائر فیجی اور انگلستان میں تبلیغی وفود بھیجنے کا مستقل پروگرام طے فرما چکے ہیں اور عنقریب اس پر عمل شروع ہو جائے گا۔

وما علينا الا البلاغ

(مقدمہ روئیداد ۱۳۸۶ھ)

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۷۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۶۸ء

کے

حالات و واقعات

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۷۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

یاد خدارا بہانہ ساخت

شیطان جب کسی کو گمراہ کرنے کے لئے تجویز کرتا ہے تو اس کے ذوق وشوق کا عمیق جائزہ لیتا ہے اور اس کی طبیعت کے میلان کے مطابق اس کی گمراہی کے سامان کرتا ہے۔ یہی حال دیار مشرق میں رہنے والوں کا ہے۔ ان کو اگر غلط راستہ پر بھی ڈالنا مقصود ہو تو مذہب کا نام لینا ضروری ہے تاکہ وہ اس کام کو نیکی سمجھ کر شروع کریں اور بالآخر نتیجتاً گمراہ ہو کر رہ جاویں۔ یہی حال یہاں کے لیڈروں اور پیروں، فقیروں کا ہے۔ مذہب اور دین کا نام لے کر سادہ لوح عوام کے ایمانوں پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ جماعت ربوہ کے اندرونی عزائم کی جھلک گاہے بگاہے پیش کی جاتی رہے گی۔ فی الحال جماعت ربوہ سے گزارش ہے کہ جس کو وہ ”مصلح موعود“ سمجھتے ہیں اس کے حالات پر غور کریں اور کنویں سے باہر کی دنیا کا بھی جائزہ لیں کہ وہ کیا کہتی ہے۔ ورنہ صرف اپنے خلیفہ کے مندرجہ ذیل اعتراف ہی ملاحظہ کریں۔

کیا بتاؤں کس قدر کمزوریوں میں ہوں پھنسا سب جہاں بیزار ہو جائے جو ہوں میں بے نقاب
جو کچھ عشق کی خبر ہو تو سب کریں ایسی بے حیائی یہ اہل ظاہر جو مجھے کہتے ہیں کچھ تو اے بے حیا، حیا کر

(ہفت روزہ لولاک مؤرخہ ۹؍فروری ۱۹۶۸ء)

کشمیر کے بارے میں قادیانیوں کی غلط بیانیاں (تاریخ احمدیت جلد ششم)

”تاریخ احمدیت کے نام سے جماعت احمدیہ نے اپنی سرگرمیوں کی جو تاریخ لکھی ہے یہ اس سلسلے کی چھٹی جلد ہے اور اس کا تعلق تحریک حریت کشمیر میں اس جماعت کے رول سے ہے۔ تحریک کشمیر کے ابتدائی ایام میں ”کشمیر کمیٹی“ کے صدر کی حیثیت میں جماعت احمدیہ کے سابق امیر مرزا بشیر الدین محمود صاحب اور ان کے زیر اثر ان کی جماعت کے دیگر لوگوں نے خاص دلچسپی لی ہے۔ چنانچہ ۲۵؍جولائی ۱۹۳۱ء کو برصغیر کے مسلم رہنماؤں نے شملہ اجلاس میں کشمیری مسلمانوں کی تحریک آزادی میں مدد دینے کے لئے ”آل انڈیا کشمیر کمیٹی“ کے نام سے ایک کمیٹی قائم کی۔ انگریزوں سے احمدیوں کے خصوصی روابط کے پیش نظر مرزا قادیانی کو اس کمیٹی کا صدر مقرر کیا۔ چنانچہ اس کتاب کے صفحہ ۴۶۴ میں لکھا ہے۔

علامہ اقبال کا خیال تھا کہ مرزا محمود قادیانی ولایت میں پروپیگنڈا کرنے کے علاوہ وائسرائے اور اس کے سیکرٹریوں سے ملاقات کر سکیں گے۔ تحریک کشمیر سے قادیانی جماعت کی یہ دلچسپی ۱۹۳۴ء تک جاری رہی۔ جب کشمیر کمیٹی کے اکثر ارکان کے مطالبہ پر مرزا محمود قادیانی کو اس کمیٹی کی صدارت سے مستعفی ہونا پڑا۔ ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ کشمیر کمیٹی اور ان کے فنڈز کو کشمیر میں اپنے مذہبی مقاصد کے لئے استعمال کر رہے تھے۔ تحریک کشمیر میں احمدی جماعت کا رول خاصا الجھا ہوا ہے۔ مشہور کشمیری مؤرخ پنڈت پریم ناتھ بزاز نے اپنی کتاب ”دی سٹرگل فار فریڈم ان کشمیر“ میں لکھا ہے کہ : ”قادیانی کشمیر کمیٹی کو اپنے مذہبی مقاصد کے لئے استعمال کر رہے تھے۔“

بعض لوگوں کی رائے ہے کہ احمدی جماعت نے انگریزوں کے ایماء پر تحریک کشمیر میں حصہ لیا ہے۔ اس کی تصدیق اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ ہمیں میر پور کے بعض پرانے سیاسی کارکنوں نے بتایا کہ میر پور کی تحریک عدم ادائیگی مالیہ کو دبانے کے لئے جب ڈوگرہ حکومت کی درخواست پر انگریز فوج آئی تو انگریز فوجی آنکھ سے اشارہ کرتے ہوئے دیہاتیوں کو کہتے تھے کہ ”مالیہ مٹ دو“ (مالیہ مت دو) اس تحریک کو دبانے میں مدد دینے کے عوض انگریزوں نے ڈوگرہ حکمران سے گلگت کی عملداری حاصل کی۔ یہ بھی اتفاق ہے کہ انگریزوں کو گلگت ملنے پر احمدی جماعت کی تحریک کشمیر میں دلچسپی ختم ہو کر رہ گئی۔ کشمیر میں سیاسی حلقوں کو مدت سے اس امر کا خدشہ تھا کہ احمدی

صفحہ ۲۷۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اپنے مخصوص طریقہ کار کے مطابق تحریک حریت کشمیر کو بھی اپنے طور پر پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کتاب کی صورت میں یہی خدشہ حقیقت کے روپ میں سامنے آیا ہے کہ اس کتاب میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور خودنمائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ممتاز کشمیری رہنماؤں کی توہین کی گئی ہے۔ مثلاً کتاب کے ص ۴۸۹ پر مرزا محمود قادیانی نے دعویٰ کیا ہے کہ : ”میں تو آپ کو کشمیر کی تحریک آزادی کا لیڈر مقرر کرتا ہوں۔“

اس طرح ممتاز کشمیری لیڈروں خاص کر شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے وہ رسمی خطوط اور رسیدوں کے فوٹوگراف شائع کئے گئے جو وہ کشمیر کمیٹی کے صدر کی حیثیت میں مرزا قادیانی کو لکھتے رہے۔ یہ اس مالی امداد کی رسیدیں ہیں جو کشمیر کمیٹی کے فنڈز سے تحریک کشمیر کے کارکنوں کو ملتی رہیں، لیکن قادیانی حضرات کی اندرون خانہ دیانت داری ملاحظہ ہو کہ اس امداد کو جماعت احمدیہ کی امداد ظاہر کر کے عام مسلمانوں کے دلوں میں کشمیری مسلم لیڈر شپ کے بارے میں بدگمانی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور جہاں کشمیری لیڈروں کے رسمی خطوط کی فوٹو گراف کتاب میں موجود ہیں وہاں شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ، رئیس الاحرار چوہدری غلام عباس اور میر واعظ مولوی یوسف شاہ کے ان بیانات کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ جن میں ان لیڈروں نے قادیانی جماعت کی سرگرمیوں سے لاتعلقی اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ جن کا اعتراف خود مرزا محمود قادیانی نے کشمیر میں اپنی جماعت کے آرگن ہفت روزہ ”اصلاح“ مورخہ ۴؍جولائی ۱۹۴۶ء میں ان الفاظ میں کیا تھا۔ ”خود کشمیری لیڈروں نے میرے متعلق یہ مشہور کر دیا تھا کہ ان کی (مرزا محمود قادیانی کی) وجہ سے ہمیں (کشمیریوں کو) نقصان پہنچا ہے۔“

کتاب میں اس اہم تاریخی فیصلہ کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے۔ شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کی موجودگی میں اور قائد کشمیر چوہدری غلام عباس کی صدارت میں مسلم کانفرنس نے قادیانیوں کو جماعت سے خارج کیا گیا تھا اور ۱۹۴۷ء تک اس پر عمل ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ نیشنل کانفرنس ایسی سیکولر جماعت میں بھی شیر کشمیر نے کسی قادیانی کو گھسنے نہیں دیا۔ کتاب میں امیر جماعت احمدیہ کے اہم اور غیر اہم بیانات خطوط حتیٰ کہ نجی گفتگو کا بھی مکمل ریکارڈ موجود ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کے اس طویل بیان کا ذکر سرسری ہے جو انہوں نے شیر کشمیر کی تحریک ”کشمیر چھوڑ دو“ کے خلاف اور ہری سنگھ کے حق میں جاری کیا تھا جو ان کے آرگن ”اصلاح“ (۴؍ جولائی ۱۹۴۶ء) میں پورے دو صفحات پر شائع ہوا تھا۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ میری تمام تر ہمدردیاں مہاراجہ بہادر کے ساتھ ہیں۔

کتاب میں یہ مضحکہ خیز دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ آزاد کشمیر حکومت کی بنیاد ۱۴؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کو مرزا محمود قادیانی نے رکھی ہے۔ کتاب میں واقعاتی طور پر بے شمار غلط بیانیاں کی گئی ہیں۔ جن کی تردید کے لئے اتنی ہی بڑی کتاب کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر اس کے صفحہ ۶۰۳ پر لکھا ہے کہ مسلم کانفرنس کا چوتھا سالانہ اجلاس اکتوبر ۱۹۳۵ء میں بمقام سری نگر چوہدری غلام عباس خان صاحب کی صدارت میں ہوا تو اس کی مجلس استقبالیہ کے صدر احمدیہ جماعت کے ایک رکن (خواجہ غلام نبی گلکار) تھے۔ حالانکہ یہ تاریخی اجلاس اکتوبر نہیں۔ ستمبر ۱۹۳۵ء میں ہوا ہے اور اس استقبالیہ کمیٹی کے صدر میر واعظ ہمدانی نہیں مولانا غلام نبی ہمدانی صاحب تھے۔ ان کا چھپا ہوا خطبہ استقبالیہ ہمارے پاس موجود ہے (جو بخشی غلام محمد سیکرٹری مجلس استقبالیہ کے زیر اہتمام سری نگر سے شائع ہوا ہے)

کتاب میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ ۱۹۴۸ء میں مسلم کانفرنس کے خلاف جو جماعت انجمن مہاجرین کشمیر کے نام سے بنائی گئی تھی۔ اس کے تمام اخراجات مرزا محمود قادیانی برداشت کرتے رہے۔ حالانکہ مرزا محمود قادیانی ان دنوں ایک اخباری بیان میں اس انجمن سے لاتعلقی کا اظہار کر چکے ہیں۔ لیکن کتاب میں فخر کے ساتھ درج ہے۔ ”اس انجمن کے جملہ اخراجات کے کفیل حضور تھے۔“

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۷۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کتاب کے آخر میں یہ دعویٰ درج ہے کہ کشمیر میں مسیح اول دفن ہیں اور وہاں ۸۰ ہزار احمدی آباد ہیں۔ قبر عیسیٰ کی داستان ان حضرات کی خود ساختہ ہے۔ جس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے اور ریاست میں احمدیوں کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہیں۔ جب تحریک حریت کے ابتدائی دور میں تحریک کی وجہ سے مسلمانوں کو ملازمتیں ملیں تو احمدیوں نے اپنے مخصوص طور طریقوں سے کام لے کر ان ملازمین میں سے بعض کو احمدی بنایا۔

کتاب میں کشمیر کی تاریخ اور بالخصوص تحریک حریت کشمیر کی تاریخ کو بے دردی کے ساتھ مسخ کیا گیا ہے اور کشمیری رہنماؤں خاص طور پر شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے روشن کردار کو عام مسلمانوں کی نظروں میں مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریک حریت کا کوئی اہل قلم کارکن اس کا جواب لکھے۔ خاص طور پر شیر کشمیر کے خطوط اور رسیدوں کی فوٹو گراف شائع کر کے مسلمانوں میں بدگمانیاں پیدا کرنے کی جو کوشش کی گئی ہے، اس کا ازالہ ضروری ہے کہ آج قادیانی حضرات اپنے مخصوص مقاصد کے پیش نظر شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے ”ہمدرد“ اور ”اجارہ دار“ بنے ہوئے ہیں۔‘‘

(بشکریہ ہفت روزہ کشمیر راولپنڈی، ہفتہ وار المنبر لائل پور، مؤرخہ ۱۶؍فروری ۱۹۶۸ء)

آل پاکستان تحفظ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ، جنوری ۱۹۶۸ء کی قراردادیں

۱۱ تا ۱۳؍شوال ۱۳۸۷ھ، بمطابق ۱۲ تا ۱۴؍جنوری ۱۹۶۸ء

پاکستان کے انگلستان میں تبلیغ اسلام و تردید باطل کے لئے تشریف لے جانے کو بنظر استحسان دیکھتا ہے اور حضرت موصوف کی مساعی جمیلہ پر انہیں مبارک باد پیش کرتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں زیادہ سے زیادہ تبلیغ اسلام کی توفیق عطاء فرمائے اور شرف قبولیت بخشیں۔

ختم نبوت کے مبلغین کو تبلیغ اسلام کے لئے جزائر فیجی میں آنے کی اجازت دے۔ یہ اجلاس حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مسلمانان جزائر فیجی کی اس درخواست کو قبول فرما کر شکریہ کا موقع دے۔

سے کئی لاکھ روپے کا زر مبادلہ مرزائی جماعتوں کو بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کے نام پر دیا جاتا ہے۔ مرزائی، حکومت کی اس فیاضی کو بیرونی ممالک میں مسلمانوں کو مرتد کرنے پر خرچ کرتے ہیں۔ دنیائے اسلام مرزائیوں کو خارج از اسلام قرار دیتی ہے۔ مصر، شام، عراق، حجاز، جنوبی افریقہ اور دیگر اسلامی ممالک مرزائیوں کی سرگرمیوں کے خلاف نفرت کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس لئے یہ اجلاس درخواست کرتا ہے کہ آئندہ زر مبادلہ کی کوئی رقم مرزائیوں کو نہ دیتے ہوئے اسلامی ممالک میں اچھی فضا قائم کرے۔

از جلد مرزائی اوقاف کو محکمہ اوقاف کی تحویل میں دے کر انصاف کا تقاضا پورا کرے۔ اس معاملہ میں حکومت کا تساہل اور چشم پوشی گوناگوں شکوک پیدا کر رہی ہے۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۷۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزائی حکومت قائم کرنا چاہتی ہے۔ یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت اس مسئلہ پر غیر جانبدار تحقیقاتی کمیشن مقرر کرے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت ایسا مواد مہیا کر سکتی ہے۔

روز روشن کی طرح واضح ہے کہ وہ ملازمت محض مرزائیت کی نشرواشاعت کے لئے کرتے رہے ہیں۔ اس لئے یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ انہیں ایسی عوامی اور اہم آسامی سے علیحدہ کر کے اہل اسلام کے بڑھتے ہوئے اضطراب کو دور کرے۔

مرزائی بوجہ مرزا غلام احمد کو نبی ماننے کے امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام سے علیحدہ ہیں۔ اس لئے حکومت قانونی طور پر انہیں علیحدہ ”اقلیت“ قرار دے۔

سے دردمندانہ اپیل کرتا ہے کہ وہ مسئلہ ختم نبوت کی عظمت کے لئے مشترکہ لائحہ عمل تجویز کرنے میں اشتراک عمل کی راہ اختیار کریں۔

(خدام الدین مؤرخہ ۱۶/فروری ۱۹۶۸ء)

ربوہ کا میلہ (جہاں گرد کے قلم سے)

”قادیانی حضرات اسلام کے خلاف سادہ لوگوں کے پھانسنے کے لئے جس طرح دام ہمرنگ زمین بچھاتے ہیں۔ وہ بھی ان کی ریشہ دوانیوں سے آگاہ حضرات سے کوئی مخفی نہیں ہے۔ اب کچھ مدت سے اندرون ملک سیدھے سادھے مسلمانوں کو اپنے دام میں لانے کا خاص حربہ ان کا سالانہ جلسہ ربوہ ہے۔ جس کی تعریف میں ان کے شاعروں مسٹر روشن دین تنویر اور ثاقب زیروی نے زمین و آسمان کے قلابے ملانے کی ناکام سعی فرمائی ہے ”جہاں گرد“ کے ایک قادیانی کرم فرما ہمیشہ سے سالانہ جلسہ ربوہ کی دعوت دیا کرتے تھے۔ ایک بار ”جہاں گرد“ نے خیال کیا کہ چلو دیکھوں تو سہی وہاں کیا کچھ ہوتا ہے۔ چنانچہ جہاں گرد نے پروگرام بنایا اور ربوہ کے سالانہ جلسہ میں جا دھمکا۔ وہاں کیا کچھ دیکھا؟ اور جہاں گرد کے قلب و دماغ پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے؟ وہاں کا ماحول کیا تھا؟ جہاں گرد ان تمام امور سے قارئین ”المنبر“ لائل پور کو بھی مطلع کرنا ضروری خیال کرتا ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ وہاں اچھی خاصی بھیڑ تھی۔ یہ دینی جلسہ سے زیادہ کسی میلہ کا منظر پیش کرتا تھا۔ ایک مبصر کی حیثیت سے ربوہ کا جلسہ دیکھ کر جہاں گرد کے ذہن پر جو اثرات مرتب ہوئے وہ یہ تھے کہ یہ لوگ دین کا نام یونہی لیتے ہیں۔ ان میں دینداری، نیکی، تقویٰ، خلوص کی کوئی بات ان کے چہرہ سے نمایاں نہ تھی۔ نماز کے اوقات میں ان میں نماز کی تڑپ وغیرہ بھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ نمازوں کے اوقات میں ان کی بڑی تعداد ادھر ادھر گھومتی پھرتی رہی۔ یوں تو خواتین کا الگ اجتماع تھا۔ لیکن ان کی اکثریت بھی قادیانی مردوں کی طرح دینی جذبات واحساسات سے خالی نظر آئی۔ ان کی خواتین بھی مستورات سے زیادہ مکشوفات تھیں۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ ربوہ میں حسن و جمال کی کوئی نمائش لگی ہے۔ جہاں گرد کے ناقص خیال میں اگر قادیانی حضرات اپنے آپ کو ایک دینی جماعت (خواہ دین باطل ہی سہی) خیال کرتے ہیں تو ایک دینی جماعت کے دینی جلسہ میں مستورات کو یوں بے باکانہ و بے حجابانہ نہیں پھرنا چاہئے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۸۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزا قادیانی چار آنے میں

ربوہ کے سالانہ جلسہ میں جہاں گرد نے قادیانی حضرات میں بت فروشی بڑے زوروں پر دیکھی۔ مرزا غلام احمد، بشیرالدین محمود اور مرزا ناصر احمد چار چار آنے میں فروخت ہوتے دیکھے۔ یعنی ان کی تصاویر بہت بڑی تعداد میں فروخت کی جا رہی تھیں اور ہر قادیانی انہیں یوں خرید رہا تھا جیسے ان تصاویر کی پرستش کرتا ہے۔ ایک دینی خاندان اور دینی جماعت کو ان تصاویر سے کیا تعلق ہوسکتا ہے؟ جب کہ جناب رسالت مآب ﷺ نے تو تصاویر سے قطعاً منع فرمادیا ہے۔ آپ ان کی اس حرکت سے ان کی دینداری کا اندازہ لگالیں۔

جلسہ ربوہ میں توہین انبیاء کا وہ منظر دیکھا جس کا جہان گرد کبھی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ یعنی ایوان محمود کے باہر ایک مذہبی عجائب گھر کے نام سے نمائش لگی ہوئی تھی۔ اس میں مختلف ریفارمروں مصلحین حتیٰ کہ بعض انبیاء کرام علیہم السلام اور حضرت مریم کی ہاتھوں سے بنائی ہوئی تصاویر تھیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے حواریوں اور ان کی والدہ محترمہ کی تصاویر ایسے بھونڈے اور سوقیانہ انداز سے بنائی اور سجائی گئی تھیں کہ ایک صحیح العقیدہ مسلمان اسے ایک لمحہ کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ اسی عجائب گھر میں ایک جگہ ایک نقشہ میں دمشق سے مری سری نگر محلہ خانیار کا راستہ دکھایا گیا تھا۔ جہاں بزعم قادیانی حضرات حضرت عیسیٰ علیہ السلام (نعوذ باللہ) مدفون ہیں۔ وہاں ایک صاحب گلا پھاڑ پھاڑ کر وفات مسیح علیہ السلام ثابت کر رہے تھے۔ جب جہاں گرد نے از راہ تفہیم ان سے یہ دریافت کیا کہ قرآن کی کون سی آیت یا حدیث نبوی یا سلف وخلف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ورود ہندوستان کا ثبوت ملتا ہے یا کم از کم دنیا کی کون سی قدیم مستند تاریخ ایسا ثبوت مہیا کرتی ہے۔ اس کا جواب دینے کی بجائے اس بزرگ نے جہاں گرد بیچارے کو آڑے ہاتھوں لیا۔ جہاں گرد نے جب ان کے جلال وغضب کو دیکھا تو خاموشی سے آگے کھسک جانے میں عافیت سمجھی۔

ہر طرف بے شمار نوجوانوں سے جہاں گرد نے یہ دریافت کیا کہ تم کون ہو؟ چند ایک کے علاوہ قریباً سبھی نے یہ بتایا کہ ہم مسلمان ہیں۔ ہمارا قادیانیت سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم تو صرف یہ میلہ ہی دیکھنے آئے ہیں۔ جہاں گرد کو چند تقریریں سننے کا بھی اتفاق ہوا۔ ایک تقریر مرزا ناصر احمد کی جو اپنے باپ دادا کی طرح علماء کرام کو ملاں کہہ کر اپنے دل کا غبار نکال رہے تھے اور اپنے اسلاف کی طرح دشنام طرازی فرما رہے تھے۔ دوسری معروف قادیانی مبلغ جناب چوہدری ظفر اللہ خان کی تقریر تھی۔ عنوان تھا ”اسلام میں اقتصادی نظام“ جہاں گرد یہ سن کر حیرت میں گم ہو گیا ہے کہ جس گروہ کے سربراہ کا خاندان بہت بڑا دولت مند اور جاگیردار ہو جس کے پیرو کار ملک کے بہت بڑے صنعتکار سرمایہ دار ہوں جو بذات خود بہت بڑے رئیس ہوں۔ انہیں اسلام کے اقتصادی نظام سے کیا تعلق برعکس نام زنگی نہند کافور کی اس سے اچھی مثال کیا ہو سکتی ہے؟ قادیانی حضرات کے نظم و نسق کا جو شہرہ سنا تھا نہان خانہ میں اس کا منظر دیکھ کر جہاں گرد یہ پڑھتا ہوا باہر نکلا ؎

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا جو چیرا تو اک قطرہ خون نکلا

(المنبر لائل پور مورخہ ۱۶؍فروری ۱۹۶۸ء)

قادیانیوں نے چوہدری غلام عباس کے جنازہ میں شرکت نہیں کی

”قائد کشمیر چوہدری غلام عباس خان مرحوم کے جنازہ میں فرقہ قادیانی کے کسی فرد نے شرکت نہیں کی اور جو چند قادیانی حضرات اس موقعہ پر لیاقت باغ میں موجود تھے اور بعد میں ماتمی جلوس میں بھی شامل رہے۔ وہ بھی نماز جنازہ کے وقت ایک طرف کھڑے رہے۔ واضح رہے کہ قادیانی حضرات کسی مسلمان کا جنازہ نہیں پڑھتے ہیں۔“

(المنبر لائل پور، مورخہ ۱۶؍فروری ۱۹۶۸ء)

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۸۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

انگریز، کشمیر کمیٹی اور قادیانی

”ریاست جموں وکشمیر میں ۱۳/ جولائی ۱۹۳۱ء کے واقعہ کے بعد مہاراجہ کی حکومت نے مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے ایک نئے دور کا آغاز کیا اور جموں اور سرینگر میں ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ مہاراجہ کی انتقامی کارروائی کے باوجود ریاست کے مسلمانوں میں تحریک آزادی نے تیزی سے پھیلنا شروع کر دیا اور جلد ہی کم و بیش ریاست کے ہر علاقے میں حکومت کے خلاف مظاہرے ہونے لگے۔ حکومت نے جب دیکھا کہ حالات اس کے قابو سے باہر ہوتے جارہے ہیں تو اس نے برطانوی فوج کی مدد طلب کر لی۔

کشمیر میں ۱۹۳۱ء کی تحریک آزادی کی تائید و حمایت کے لئے شمالی ہند کے مسلمانوں نے پنجاب سے دو مختلف تحریکوں کا آغاز کیا۔ ایک تحریک جس کی نوعیت انقلابی تھی۔ مجلس احرار کے اہتمام اور سرکردگی میں شروع کی گئی۔ مجلس احرار کی عاملہ نے ۱۹۳۱ء کے وسط میں اس امر کا فیصلہ کیا کہ وہ کشمیری مسلمانوں کے جائز حقوق دلوانے کے لئے کسی بڑے سے بڑے اقدام سے بھی گریز نہیں کرے گی۔ بحوالہ اشرف عطاء ”کچھ شکستہ داستانیں کچھ پریشان تذکرے ص ۱۳۱“

ابتداء میں احرار نے مولانا مظہر علی اظہر کی رہنمائی میں وزیر اعظم کشمیر کے پاس ایک وفد بھیجا۔ لیکن گفت و شنید ناکام رہی اور کشمیر کی حکومت نے احرار کی طرف سے پیش کئے جانے والے مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ پرامن گفت و شنید کی ناکامی کے بعد احرار نے ایک عظیم الشان تحریک کا آغاز کیا اور حکومت کے امتناعی احکامات کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں رضا کاروں کو ریاست کی طرف روانہ کیا جو رضا کار ریاست میں داخل ہوتے تھے۔ انہیں گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا جاتا تھا۔ جب مہاراجہ کی حکومت نے دیکھا کہ صورتحال اس کے قابو سے نکلتی جارہی ہے تو اس نے حکومت پنجاب سے درخواست کی کہ احرار رضا کاروں کو ریاست کی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی گرفتار کیا جائے۔ چنانچہ حکومت پنجاب نے احرار جتھوں کو اپنی سرحد پر ہی روکنا شروع کر دیا۔

(بحوالہ محمد احمد خان، اقبال کا سیاسی کارنامہ ص ۱۷۹)

ریاستی مسلمانوں کی تائید کے لئے شمالی ہند کے مسلمانوں کی دوسری تحریک کی نوعیت دستوری اور آئینی تھی اور یہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے نام سے منسوب تھی۔ کشمیر کمیٹی کا قیام ۲۵/ جولائی ۱۹۳۱ء کو شملہ میں عمل میں آیا اور اس کے پہلے صدر جماعت احمدیہ (قادیانی جماعت) کے امیر مرزا بشیر الدین محمود تھے۔ مرزا محمود قادیانی کے علاوہ اس کمیٹی میں قادیانیوں کے اور بھی کئی افراد شامل تھے۔ علامہ اقبال بھی کشمیری مسلمانوں سے اپنے مخصوص تعلق کی بناء پر ابتداء سے آخر تک اس کمیٹی میں شامل رہے اور بعد میں اس کے صدر بھی بنے۔

اس کمیٹی نے اپنے قیام کے وقت جو مقاصد اپنے لئے مقرر کئے تھے ان میں آئینی ذرائع سے کشمیری مسلمانوں کو ان کے جائز اور واجبی حقوق دلانا اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے مظلوم کشمیری مسلمانوں کی قانونی امداد بھی شامل تھی۔ کشمیر کمیٹی کے بارے میں اب تک جو تفصیلات سامنے آئی ہیں اور جو حقائق و شواہد بعد میں رونما ہونے والے حالات و واقعات کی روشنی میں واضح ہوئے ہیں ان کے پیش نظر یہ کہنا ہرگز مبالغہ نہ ہوگا کہ کشمیر کمیٹی کا قیام قادیانیوں کے مخصوص مقاصد و مفادات کے حصول کے لئے عمل میں لایا گیا تھا۔ کشمیر کمیٹی کے سلسلہ میں قادیانیوں کا رول تحریک کشمیر میں ان کی سرگرم شمولیت ہی سے مشکوک نہیں ٹھہرتا بلکہ ٹھوس تاریخی شواہد بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ شمولیت بے معنی یا محض مسلمانوں کی ہمدردی کے سبب سے نہیں تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کے اجتماعی مسائل سے قادیانی ہمیشہ غیر متعلق رہے۔ بلکہ برعکس اس کے انہوں نے مسلمانوں کی مخالف قوتوں کو تقویت دینے کی کوشش کی۔ مثلاً ۱۹۱۸ء میں جب

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۸۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پورا مسلم ہندوستان ترکی کے خلاف انگریز جارحیت پر سراپا احتجاج بنا ہوا تھا۔ ترکی کی شکست اور بغداد پر برطانوی قبضے کی خوشی میں قادیان میں ”جشن فتح“ منایا گیا اور چراغاں کیا گیا۔ ملاحظہ ہو (منیر رپورٹ ص ۹۶) اسی طرح برصغیر کے مسلمانوں کا اہم ترین مسئلہ آزادی کا حصول اور پاکستان کا قیام تھا۔ اس پر قادیانیوں کا ردعمل یہ تھا کہ اوّل تو وہ اس بات کے خواہشمند تھے کہ انگریزی اقتدار برصغیر سے ختم ہی نہ ہو۔ جب انہوں نے دیکھا کہ انگریزوں کا برصغیر سے رخصت ہونا ناگزیر ہو گیا ہے تو انہوں نے مسلمانان ہند کے مطالبے کے برعکس برطانیہ اور کانگریس کی ہمنوائی میں متحدہ ہندوستان کی تائید کی۔ کیونکہ ایک الگ اسلامی ریاست کے قیام کی صورت میں انہیں اپنا وجود ہی ختم ہوتا نظر آرہا تھا۔ منیر رپورٹ شاہد ہے کہ ان کی بعض تحریروں سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ اگر تقسیم معرض عمل میں آ بھی گئی تو وہ برصغیر کے دوبارہ اتحاد کے لئے جدوجہد کریں گے۔

(منیر رپورٹ ص ۱۹۶)

اب یہ پہلا موقعہ تھا کہ قادیانیوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے کسی اجتماعی مسئلے پر نہایت سرگرمی سے ساتھ دیا تھا۔ تحریک کشمیر میں قادیانیوں کا اس قدر جوش وخروش سے شرکت کرنا کشمیری مسلمانوں کو مفت قادیانی امداد مہیا کرنا اور کشمیری رہنماؤں کو امداد دینا ان کے سابقہ رویے اور سیاسی نظریات کے پیش نظر معنی خیز معلوم ہوتا ہے اور یہ باور کرنا پڑتا ہے کہ مرزا بشیر الدین محمود صاحب اور ان کے دیگر پیروکاروں کی تحریک کشمیر میں شمولیت مسلمانوں کے اجتماعی مفادات کی خاطر نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے کچھ اور خفیہ مقاصد تھے۔ جن کی تکمیل کشمیر کمیٹی ہی کی وساطت سے ہوسکتی تھی۔ یہ خفیہ مقاصد کیا تھے؟ اور ان کا تعلق ریاست کشمیر سے کیا تھا؟ ان سوالات پر غور کرنے سے قبل ہمیں ریاست کشمیر اور اس سے ملحقہ سرحدی علاقوں کے بارے میں برطانوی حکومت کی اس پالیسی کو سامنے رکھنا ہو گا جو ۱۹۲۰ء سے کچھ عرصہ قبل سامنے آرہی تھی۔

ریاست کشمیر کی مخصوص جغرافیائی اہمیت انیسویں صدی کے وسط سے ظاہر ہونی شروع ہوئی۔ جب ایشیاء دو بڑی یورپی طاقتوں انگلستان اور روس کی جنگ اقتدار کی بازی بنا۔ اس سارے عرصے میں حالات کچھ اس طرح کنٹرول میں رکھے گئے کہ یہ دونوں طاقتیں براہ راست ایک دوسرے سے نبرد آزما نہیں ہوئیں۔ لیکن اعصابی جنگ بیسویں صدی کے نصف اوّل تک جاری رہی۔ (بلکہ آج تک جاری ہے)

انیسویں صدی کے اوائل سے روس نے توسیع پسندی کی، جس پالیسی پر عمل کرنا شروع کیا اس نے برطانوی حکومت کو بجا طور پر اس خدشے سے دوچار کر دیا کہ روس وسط ایشیاء میں بڑھتے بڑھتے ہندوستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ افغانستان، ایران اور چین کے شمالی علاقوں پر قابض ہو جانے کے بعد سنکیانگ کی طرف بڑھنے سے روک دیا جائے۔

(بحوالہ جوزف کوربل ص ۲۷۴)

اسی بناء پر برصغیر کے شمال مغربی سرحدی صوبے کے اہم مقامات پر برطانوی فوجی چوکیاں قائم کی گئیں اور روسی خطرے سے بچاؤ کی خاطر ہی پہلی ۱۸۴۲-۱۸۳۹ء، دوسری ۱۸۸۱ء-۱۸۷۹ء اور تیسری جنگ افغانستان (۱۹۱۹ء) لڑی گئی۔ اس سے قبل جب روس نے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا اور سمرقند، تاشقند اور وادی جیحوں اور سیحوں کے علاقہ پر قبضہ جمالیا تو برطانیہ نے روسی خطرے کے پیش نظر فوج کا ایک معتد بہ حصہ ریاست جموں کشمیر کے شمالی علاقے میں بھجوادیا۔ روس اپنے بعض یورپی مواعید اور داخلی مسائل کی بناء پر اگر برصغیر پر حملہ نہیں کر سکا تو اس سے انگریزوں کے خدشات کی معقولیت پر شبہ نہیں کیا جانا چاہئے۔ یہ حقیقت ہے کہ انقلاب سے قبل روسی حکومتوں نے انیسویں صدی میں متعدد بار برصغیر پر حملہ آور ہونے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی تھی۔ برصغیر پر روسی حملوں کی منصوبہ بندی اور ہندوستان کے بارے میں روسی پالیسی کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہوں۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۸۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

روس میں اشتراکی انقلاب کے بعد ایشیاء اور مشرق وسطیٰ میں روس اور برطانیہ کے روایتی تعلقات میں اہم تبدیلی رونما ہوئی۔ جنگ عظیم اوّل کے بعد برطانوی مقبوضات میں آزادی کی تحریکوں کا آغاز ہوا۔ عرب ممالک نے آزادی کی طرف قدم بڑھانے شروع کئے۔ ادھر افغانستان اور ایران بھی برطانوی اثرات سے آزاد ہونے کی کوشش کرنے لگے۔ ہندوستان میں آزادی کی تحریک نے آئینی اور غیر آئینی اطراف سے ابھرنا شروع کیا۔ چین میں داخلی جنگوں نے عارضی امن کی اس صورتحال کو درہم برہم کر دیا جو برطانیہ کے اطمینان کا باعث تھی۔ یہ ساری صورتحال برطانیہ کی نظر میں اشتراکی نظریے اور روسی اثرات کی توسیع پسندی کے لئے آئیڈیل صورت حال تھی۔ اب روس کے ہاتھ میں جو ہتھیار تھا، وہ تھا۔ ایک طرف تو وہ برصغیر میں قومیت پرستی کے اٹھتے ہوئے جذبات سے فائدہ اٹھا کر اور تحریک آزادی کی حمایت کر کے برطانوی حکومت کے خلاف برصغیر کے عوام کی ہمدردیاں حاصل کر سکتا تھا اور دوسری طرف اشتراکی انقلاب کے لئے بھی راہ ہموار کی جاسکتی تھی۔

روس کو برطانیہ سے جو خطرہ تھا وہ ایشیاء میں نہیں بلکہ یورپ میں تھا اور یورپ میں برطانوی خطرے کے سدباب کے لئے ضروری تھا کہ وہ ایشیاء میں برطانوی اقتدار کو کمزور کرے۔ روس کے لئے آسانی یہ تھی کہ وہ اپنے ملکی وقومی عزائم کو نظریاتی رنگ دے کر برصغیر میں داخل ہو سکتا یا کم از کم اپنا حلقہ اثر قائم کر سکتا تھا۔ چنانچہ اسی پس منظر میں جنگ عظیم اول کے بعد سے آزادی تک روس برصغیر کی سیاست میں سرگرم حصہ لیتا رہا۔ برصغیر کی سیاست میں روس کی شمولیت دو نوعیتوں کی تھی۔ ایک تو اس نے سنکیانگ اور شمالی علاقوں کی طرف سے کشمیر پر فوجی دباؤ ڈال کر برطانوی حکومت کو چوکنا کر دیا اور دوسرے تحریک آزادی میں حصہ لینے والے ایک فعال عنصر کے قوم پرستانہ جذبات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اشتراکی نظریئے کی وساطت سے اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ چنانچہ آزادی کے متوالے متعدد ہندوستانیوں کو روسی سرزمین میں توڑ پھوڑ کی سرگرمیوں اور حکومت کے کاروبار کو معطل کرنے والی دوسری کارروائیوں کی تربیت دی جانے لگی۔ مثلاً مہندر پرتاپ سنگھ جو باقاعدہ روسی حکومت کے ملازم تھے۔ کابل میں بیٹھ کر وسطی ایشیاء اور ہندوستان میں روسی مفادات کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ اسی طرح کا کام ایک اور ہندوستانی انقلابی برکت اللہ نے انجام دیا۔

(جوزف کوربل کی کتاب ص ۲۸۲،۸۳)

تاشقند اور شمال مغربی سرحدی صوبے سے ملحقہ علاقے کو ہندوستانی انقلابیوں کا تربیتی مرکز بنا دیا گیا۔ سمرقند کے ایک ادارے میں ۱۹۲۰ء میں تین ہزار پانچ سو ہندوستانیوں کو انقلابی سرگرمیوں کے لئے تیار کیا جارہا تھا۔ ان میں ۹۳۱؍ افراد ہندو تھے۔ یہ ماہر اور تربیت یافتہ انقلابی ریاست کشمیر اور دوسرے شمالی دروں سے ہندوستان بھیجے جاتے تھے۔ جہاں یہ لوگ آزادی کی تحریکوں میں فارورڈ بلاک کی حیثیت سے کام کرتے۔ ۱۹۳۰ء تک روس نے اپنی ان سرگرمیوں میں اس قدر اضافہ کر دیا کہ تیسری انٹرنیشنل کی چھٹی کانگریس نے تو ہندوستان میں اشتراکی انقلاب کی صاف صاف پیش گوئی بھی کر دی اور ہندوستانی کمیونسٹوں سے کہا کہ اب وہ پرولتاری طبقے کو ساتھ لے کر برطانوی استعمار

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۸۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے ساتھ ساتھ آزاد خیال قومی بورژواؤں کے خلاف بھی جدوجہد شروع کر دیں۔ ملاحظہ ہو روسی مصنف بیلا کن کی مرتب کردہ کتاب ، اس پس منظر میں برطانوی ہند کی حکومت نے برصغیر کو روسی اشتراکی حملے سے بچانے کے لئے اور برصغیر میں اپنی حکومت کے استحکام کے لئے ضروری سمجھا کہ وہ شمال مغربی ہند کے ان تمام علاقوں کو براہ راست اپنے کنٹرول میں لے لے جو اشتراکی سرگرمیوں کا مرکز بنے ہوئے تھے یا جہاں سے روس کی مداخلت ممکن تھی۔ نیز سرحدی علاقوں میں ایسی وفادار جماعتوں کو پھلنے پھولنے کا موقع دے جو ایک طرف تو آزادی کی رو کو دبا سکیں اور دوسری طرف برطانوی حکومت کے خلاف کی جانے والی سرگرمیوں کی اطلاعات بھی اسے پہنچاتے رہیں۔

روس اور چین سے ملحقہ علاقے جو ریاست جموں و کشمیر کی حدود میں تھے۔ براہ راست اپنے کنٹرول میں لے لینے میں مشکل یہ تھی کہ معاہدہ امرتسر کے تحت ریاستی علاقے کے انتقال کے لئے مہاراجہ کی رضامندی لازمی تھی اور مہاراجہ کشمیر اپنی ریاست کے ایک انچ سے بھی دستبردار ہونے کو تیار نہ تھا۔ چنانچہ انگریزوں نے جو اس سے قبل ریاست کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم وتشدد سے اپنی بے نیازی کے لئے جواز لاتے تھے کہ وہ قانوناً ریاست کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ ۱۹۳۱ء کی تحریک حریت سے فائدہ اٹھانے کا منصوبہ بنایا۔ ان کی سکیم یہ تھی کہ شمالی ہند کے علاقہ میں مہاراجہ کی انتظامیہ کے خلاف محدود پیمانے پر ایک تحریک کا آغاز کیا جائے اور برطانوی ہند کی رائے عامہ کے دباؤ کا جواز پیدا کر کے ریاست کے داخلی معاملات میں مہاراجہ کو کمزور کر کے گلگت اور روس چین سے ملحقہ دیگر سرحدی علاقے حاصل کر لئے جائیں۔ احرار کی تحریک فوری اور انقلابی نوعیت کی تھی اور انگریز احرار سے معاملہ بھی نہیں کر سکتے تھے۔ قادیانیت ہی وہ مناسب ترین جماعت تھی جنہیں اس مقصد کے لئے تیار کیا جا سکتا تھا اور مقصد پورا ہو جانے کے بعد ان سے مہاراجہ کے خلاف یہ تحریک ختم بھی کروائی جا سکتی تھی۔ اگر اس تحریک کا آغاز کسی اور جماعت یا طبقے کی طرف سے ہوتا تو انگریز پوری طرح نہ تو اس کو کنٹرول کر سکتے تھے اور نہ ہی اسے مناسب طور پر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر سکتے تھے۔ اس پس منظر سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قادیانیوں کا کشمیر کمیٹی قائم کرنا دراصل انگریزوں ہی کی شہ پر تھا۔

ہمارے لئے یہ خیال کرنا ممکن نہیں ہے کہ قادیانی اپنی سیاسی زندگی کے کسی مرحلہ پر بھی کسی ایسی تحریک میں شامل ہو سکتے تھے یا کسی ایسی تحریک کا آغاز کر سکتے تھے جو انگریزوں کی شہ پر نہ شروع کی گئی ہو یا جسے انگریزوں کی تائید حاصل نہ ہو یا کم از کم جسے انگریز ناپسند کرتے ہوں۔ قادیانی جماعت ابتداء ہی سے انگریزی حکومت کی وفادار ترین جماعت رہی ہے اور انہوں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جو ہندوستان میں برطانوی اقتدار ومفادات کو معمولی سا بھی نقصان پہنچانے کا امکان رکھتا ہو۔ اس ضمن میں قادیانی مذہب کے بانی مرزا غلام احمد کے متعدد حوالہ جات پیش کئے جا سکتے ہیں۔ چند ایک ملاحظہ ہوں: ”سنو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں (یعنی مسلمانوں) کے ہاتھ سے اپنے سائے میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“

(ضمیمہ شہادۃ القرآن ص ۳، خزائن ج ۶ ص ۳۸۰)

ایک اور اعتراف ملاحظہ ہو: ”میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں۔ اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کا دور کروں جو ان کو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔“

(ماخوذ از تبلیغ رسالت ج ۷ ص ۱۰، مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۱۱)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۸۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اسی کتاب تبلیغ رسالت جلد ۷ کے ص ۱۳، مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۱۵ پر ارشاد ہوتا ہے: ’’میں زور سے کہتا ہوں اور میں دعویٰ سے گورنمنٹ کی خدمت میں اعلان دیتا ہوں کہ باعتبار مذہبی اصول کے مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے گورنمنٹ کا اوّل درجے کا وفادار اور جانثار یہی نیا فرقہ ہے۔‘‘ برعکس اس کے قادیانیوں نے مثبت طور پر انگریزی سامراج کی نہ صرف یہ کہ حمایت کی بلکہ اپنے عملی کارناموں سے ہندوستان اور بیرون ہندوستان میں انگریزی حکومت کو تقویت پہنچانے کی کوششیں بھی کیں۔ ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو ریاست کشمیر میں جماعت احمدیہ کے صدر خواجہ غلام نبی گلکار آزاد کشمیر حکومت کے پہلے صدر بنے اور اس طرح کشمیر کو قادیانی ریاست بنانے کا پہلا پتھر رکھنے کی کوشش کی گئی۔ خواجہ غلام نبی گلکار نے مارشل لاء کے دوران آزاد کشمیر کے صدارتی انتخابات میں بھی کے. ایچ خورشید اور سردار عبدالقیوم کے مقابلے میں حصہ لیا تھا۔ لیکن چند ووٹوں سے زیادہ حاصل نہ کر سکے۔

۱۹۴۷ء میں خواجہ غلام نبی گلکار کی صدارت اگر زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ آزاد علاقے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں بھی ایک انڈر گراؤنڈ قادیانی حکومت قائم کرنے کے خواب دیکھنے لگے تھے۔ غلام نبی گلکار کے اس انڈر گراؤنڈ حکومت کے جن عہدہ داروں کا اعلان کیا ان کی اکثریت جماعت احمدیہ کے عقائد سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق رکھتی تھی۔ بحوالہ کلیم اختر کتاب مذکورہ بالا ص ۱۴۳ ان میں گورنر کشمیر ڈیفنس سیکرٹری انسپکٹر جنرل پولیس ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس، وزیر تعلیم، وزیر زراعت، وزیر صحت، وزیر انصاف، ڈائریکٹر میڈیکل سروسز اور چیف انجینئر کے عہدے تو واضح طور پر قادیانی حضرات کے پاس تھے۔‘‘

(چٹان لاہور، مؤرخہ ۲۶؍ فروری ۱۹۶۸ء)

قرار داد

ملتان کی دینی جماعتوں کا یہ نمائندہ اجتماع ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ملتان کے دفعہ ۱۴۴ کے اس حکم کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے جس میں موصوف نے دیوبندی مکتب فکر کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے ہیں۔ اس حکم کے اجراء سے مسلمانوں کے مختلف مکاتیب فکر کے اندر نفرت پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ بنابریں یہ اجلاس حکومت مغربی پاکستان سے پرزور احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ ایسے افسران جو فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوشش کریں ان کے خلاف سخت انضباطی کارروائی کی جائے۔ (محمد شریف جالندھری ناظم دفتر ختم نبوت ملتان)

(خدام الدین مؤرخہ ۹؍ اگست ۱۹۶۸ء)

سرکاری حکم کہ الہامات و پیشین گوئیوں پر تبصرہ نہ کیا جائے

یکم؍ اپریل ۱۹۶۸ء کو گورنر مغربی پاکستان (موسیٰ خان) کی طرف سے ملک بھر کے تمام جرائد کے ایڈیٹران سے ایک نوٹس کی تعمیل کرائی گئی کہ آپ کو ایسے مضامین و بیانات خیالات اطلاعات تنقید چھاپنے سے روکا جاتا ہے۔ جس سے مسلمانوں کا دوسرے فرقے کی مذہبی پیشین گوئیوں، اس کی اصل بنیاد، الہامات، اعتقاد کے خلاف کوئی پہلو نکلتا ہو اور اسی سے مسلمانوں کے دو فرقوں کے درمیان منافرت عداوت تعصب کے جذبات پیدا ہونے کا امکان ہو۔ (لولاک مؤرخہ ۳۱؍ مئی ۱۹۶۸ء) ظاہراً یہ ایک مسلمان حکومت کا سرکلر ہے۔ مگر اس کے الفاظ بتاتے ہیں کہ کس طرح وقت کے حکمران مرزائیت کی ترجمانی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ اس پر بس نہیں بلکہ ۲۵؍ اپریل ۱۹۶۸ء کو حکومت نے:

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۸۶

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چٹان ضبط

اس کا باعث یہ بتایا کہ ۲۲؍اپریل کے شمارہ میں الحمدللہ کے عنوان کے تحت جو شذرہ لکھا تھا وہ مسلمان فرقوں کے درمیان منافرت کا باعث تھا۔ حالانکہ وہ شذرہ مرزائیوں کے خلاف تھا۔ اس پر پورے ملک کے علماء مشائخ سراپا احتجاج بن گئے۔ جمعیتہ علماء اسلام کی آل پاکستان شریعت کانفرنس لاہور میں ۵؍مئی ۱۹۶۸ء کو اکابرین جمعیتہ کی دعوت پر آغا شورش کاشمیری نے دھواں دھار تقریر کی تو اسی رات گرفتار کر لئے گئے۔ تفصیلات پس دیوار زنداں میں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ حکومت نے عوامی ردعمل کو دیکھ کر ایک ٹربیونل مقرر کر دیا۔ مگر اس میں سرکاری وکیل نے کہہ دیا کہ حکومت (ایوب کی) مرزائیوں کو مسلمان سمجھتی ہے۔ قارئین یہ وہ حالات تھے جس میں آپ کے اکابرین نے تحریک ختم نبوت کے الاؤ کو روشن رکھا۔ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود کارواں بڑھتا رہا۔

ملاحظہ ہو: قومی اسمبلی میں وزیر خزانہ این۔ایم عقیل نے بتایا کہ حکومت نے قادیانیوں کو پونے دو لاکھ کا زرمبادلہ تبلیغ مرزائیت کے لئے دیا۔ مرزائیوں پر یہ نوازشات اور مسلمانوں پر یہ کرم کہ:

ختم نبوت کانفرنس ڈیرہ اسماعیل خان پر پابندی لگا دی گئی

’’ڈیرہ اسماعیل خان سے آمدہ اطلاعات کے مطابق وہاں گزشتہ جمعہ ہفتہ کو ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہورہی تھی۔ جو مبینہ طور پر دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ کی وجہ سے وقوع پذیر نہ ہوسکی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چونکہ باہر سے آنے والے کچھ مدعو حضرات ڈیرہ پہنچ چکے تھے۔ اس لئے پبلک پارک کی بجائے شہر کی جامع مسجد میں جلسہ منعقد کر لیا گیا۔ جہاں علمائے کرام نے اسلامیان ڈیرہ سے مسئلہ ختم نبوت کے موضوع پر خطاب کیا۔‘‘

(لولاک مؤرخہ ۷؍جون ۱۹۶۸ء)

مولانا محمد علی جالندھری نے اعلان فرمایا کہ چونکہ چٹان کی ضبطی اور آغا شورش کاشمیری کی گرفتاری مرزائیت کی مخالفت کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ اس لئے کیس کی پیروی مجلس تحفظ ختم نبوت کرے گی۔ چنانچہ اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔ ملاحظہ ہو:

چٹان ضبطی کیس اور مبلغین مجلس تحفظ ختم نبوت

’’یکم؍جولائی ۱۹۶۸ء سے ۸؍جولائی ۱۹۶۸ء تک عدالت عالیہ لاہور کے ایک سپیشل بنچ مشتمل بر جسٹس محمد گل اور جسٹس کرم الٰہی چوہان کے روبرو چٹان کی بندش اور اس کے پریس کی ضبطی کے کیس کی سماعت ہوتی رہی۔ اس کیس میں بنیادی نکتہ یہ تھا کہ آیا قادیانی اسلام کا ایک فرقہ ہیں یا نہیں ہیں۔ درخواست دہندگان آغا شورش کاشمیری اور خواجہ صادق کاشمیری کے وکلاء صاحبان کو اس مذہبی نکتہ کی تیاری کرانے اور دینی مذہبی مواد دینے کے لئے تمام علمائے اسلام نے بالعموم اور مجلس تحفظ ختم نبوت نے بالخصوص بھر پور حصہ لیا۔ ۲۹؍جون سے ہی حضرت مولانا محمد علی جالندھری صدر مجلس تحفظ ختم نبوت معہ اپنے تین فاضل مبلغین حضرت مولانا محمد حیات فاتح قادیان مولانا عبدالرحیم اشعر اور مولانا نورالحق ملتان سے لاہور تشریف لے آئے تھے۔ بڑی محنت اور کاوش سے کیس کے لئے مواد تیار کیا گیا۔ جسے درخواست

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۸۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دہندگان کے وکلاء صاحبان کی معرفت عدالت عالیہ میں پیش کر دیا گیا ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جس روز سے چٹان کے خلاف اقدامات کئے گئے ہیں ۔ اسی روز سے مغربی پاکستان کے تمام علمائے حق حکومت کے ان اقدامات کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں اور جس بنیاد پر یہ کارروائی کی گئی ہے اسے مداخلت فی الدین قرار دے رہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں جمعیۃ العلمائے اسلام پاکستان، مجلس تحفظ ختم نبوت ، جمعیۃ اہل حدیث، تنظیم اہل سنت والجماعت پاکستان، اشاعت توحید وسنت اور دوسری دینی جماعتیں خاص طور پر مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں ۔“

(لولاک مؤرخہ ۱۲؍ جولائی ۱۹۶۸ء)

چٹان کے ڈیکلریشن کی بحالی

”عدالت عالیہ کے فیصلہ کے مطابق ہفت روزہ ”چٹان“ کا ڈیکلریشن بحال ہو چکا ہے اور تادم تحریر اس کے دو شمارے شائع ہو چکے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اس فیصلہ سے ہر سچے مسلمان اور عقیدہ ختم نبوت پر ایمان رکھنے والے ہر محب وطن پاکستانی کو دلی خوشی اور قلبی فرحت نصیب ہوئی ہو گی ۔ کیونکہ جس جرم کی پاداش میں ”چٹان“ پر یہ ضرب لگائی گئی تھی وہ ایک ایسا جرم ہے جس کا ارتکاب ہر سچا مسلمان اور تاجدار ختم نبوت کا ہر غلام اپنے عقیدے اور کتاب وسنت کی رو سے ہر گھڑی کرتا رہتا ہے ۔ ہم چٹان کے دوبارہ اجراء پر اس کے کار پردازوں کو اور عدالت عالیہ کے ججوں کو ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے انصاف کی لاج رکھ لی اور دعا کرتے ہیں کہ ”چٹان“ جلد ہی صاحب چٹان کے قلم کی جولانیوں اور نغمہ ریزیوں سے بھر پور اور چٹان پریس کی گلکاریوں سے لبریز نظر آئے ۔“

ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد

(خدام الدین مؤرخہ ۹؍اگست ۱۹۶۸ء)

چٹان کا دوبارہ اجراء

”ہفت روزہ چٹان تین ماہ کی بندش کے بعد ۲۲؍ جولائی ۱۹۶۸ء کو پھر منصہ شہود پر آ گیا ہے ۔ ہم ہفت روزہ چٹان کے ایڈیٹر اور ادارہ کے دوسرے کارکنوں کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں اور دست بدعا ہیں کہ اللہ تعالیٰ آغا شورش کاشمیری کو جلد از جلد رہائی عطاء فرمائیں ۔ تاکہ وہ حسب سابق اپنے حقیقی ترجمان قلم سے ملک وملت کی خدمت کر سکیں ۔ ذیل میں ہم قارئین لولاک کے لئے چٹان کے پہلے شمارہ کا اداریہ من وعن شائع کر رہے ہیں جو الحمد للہ کے زیرعنوان اشاعت پذیر ہوا ہے۔ (ادارہ)

”تین ماہ کے التواء کے بعد ہفت روزہ ”چٹان“ عدالت عالیہ کے فیصلہ کے تحت پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہو رہا ہے۔ قارئین بخوبی آگاہ ہیں کہ چٹان نے اپنی اکیس سالہ تاریخ میں ہمیشہ ملکی استحکام، ملی اتحاد اور عشق رسول ﷺ کو اپنا مطمح نظر اور ایمان سمجھا اور اس کے لئے جدوجہد کی ہے ۔ اس عرصہ میں مختلف قسم کے مصائب و آلام کے پہاڑ ٹوٹتے رہے ۔ لیکن چٹان اپنے مسلک پر قائم رہا اور اس کے بانی و مدیر آغا شورش کاشمیری نہ کسی جبر سے مرعوب ہوئے اور نہ ہی انہوں نے کبھی ذاتی مفاد کی پرواہ کی ۔ بلکہ وطن عزیز اور ملت اسلامیہ کی بے باکانہ خدمت کا فریضہ سرانجام دیتے رہے ۔ آج جب کہ آغا صاحب نظر بند ہیں ہم کوشش کریں گے کہ ان کے اصولوں اور مسلک کو قائم رکھیں ۔ قارئین سے توقع ہے کہ وہ اس سلسلہ میں ہمیں پورا پورا تعاون مہیا کریں گے ۔ چٹان کا یہ شمارہ بڑی عجلت میں شائع کیا جا رہا ہے ۔ آئندہ شمارہ اپنی روایتی شان کے ساتھ حاضر ہو گا ۔“

(چٹان ، مؤرخہ ۲۲؍ جولائی ۱۹۶۸ء)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۸۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آغا شورش کاشمیری کا ایک تازہ ترین مکتوب

کراچی سنٹرل جیل مؤرخہ ۲۳؍اگست ۱۹۶۸ء

برادر مکرم مولانا تاج محمود صاحب

سلام مسنون! کئی دنوں سے نامہ گرامی نہیں ملا۔ خدا کرے آپ خیریت سے ہوں۔ خواجہ صادق نے مجھے خط لکھا تھا کہ وکلاء یہاں آنے میں تذبذب کر رہے ہیں۔ بات ان کی ٹھیک ہے۔ ہر چیز فی سبیل اللہ نہیں ہوتی۔ قانونی نقطہ ہے اس کا صحیح صحیح جواب آگیا تو آئندہ لوگوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ صحیح حل نہ ہوا تو اور خرابیوں کی طرح ایک عظیم خرابی یہ بھی سہی۔ پہلے بھی لوگ کہاں آزاد ہیں کہ اب کسی آزادی کے گم ہونے کا ماتم کیا جائے۔ میں تو اس مقدمہ بازی کے خلاف تھا۔ آپ لوگوں نے شروع کی۔ اب اس بات سے نہیں چوکنا چاہئے کہ مرزائی اپنے بارے میں مسلمان ہونے کا فتویٰ حاصل کر لیں اور ہم چپ رہیں۔ عدالت سے بہرحال صحیح فیصلہ حاصل کرنا چاہئے۔ بحمد اللہ عدالتیں زندہ ہیں۔ سیاسی نٹ کھٹ ان کو نیچے اوپر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن انصاف بہرحال انصاف ہے۔ جج کسی مسئلہ کی تعبیر میں چوک سکتے ہیں۔ لیکن ان کا پیشہ بہرحال ایک عبادت ہے۔ آپ عدالت سے رجوع کرتے رہیں۔ اگر میرے دفتر کی مالی حالت متحمل نہ ہو جیسا کہ سرکار نے زبردست نقصان پہنچا کر خلل پیدا کر دیا ہے تو بے شک میری بچیوں کا زیور بیچ کر اس مسئلہ کو عدالت میں جاری رکھیں۔ کسی کا شرمندہ احسان ہونے کی ضرورت نہیں۔ زیور پھر بن سکتا ہے لیکن ختم المرسلین کا مسئلہ حکومت کی مداخلت فی الدین سے خراب ہو گیا تو اسلام کے لئے بڑی مشکلیں پیدا ہو جائیں گی۔ جو لوگ ہمارے مخالف ہیں ایک دفعہ چھوڑ کر سو دفعہ مخالف رہیں انہیں پرکاہ وقعت نہ دیں۔ ہمارا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ میری سب سے بڑی دولت یہ ہے کہ اہل اللہ میرے جیسے فقیر اور عاصی کے لئے دعائیں کر رہے ہیں۔ مجھے دنیا داروں کی ضرورت نہیں۔ حضرت دین پوری مدظلہ کا خط آیا ہے۔ فرماتے ہیں تمہارے لئے حضور (فداہ امی وابی) بھی اللہ کے ہاں دعا کرتے ہوں گے۔ میں نے پڑھا تو کانپنے لگا۔ اب اس کے بعد مجھے کس چیز کی ضرورت رہ جاتی ہے؟ طارق سلمہ بشیر سلمہ اور نذیر سلمہ کو سلام بچیوں کو دعا۔ شورش کاشمیری

(لولاک مؤرخہ ۲۸؍اگست ۱۹۶۸ء)

اس خط کے بعد حضرت مولانا تاج محمود صاحب نے حضرت مولانا محمد علی جالندھری سے رابطہ کیا۔ مولانا محمد علی جالندھری نے فیصل آباد تشریف لانے کا فرمایا۔ چنانچہ تشریف لائے اور فیصلہ ہوا کہ:

قادیانیوں کے کافر یا مسلمان ہونے کا مسئلہ

’’ہفت روزہ چٹان کے ڈیکلریشن کی منسوخی کے مقدمہ میں یہ مسئلہ بھی زیر بحث آیا کہ کیا قادیانی مسلمان ہیں یا نہیں اور مسلمانوں کو یہ حق حاصل ہے یا نہیں کہ قادیانیوں کو کافر کہیں۔ یہ نکتہ بھی عدالت کے غور و فکر کا عنوان بنا کہ ’’مرتد‘‘ واجب القتل ہے یا نہیں۔ ان ہر دو امور پر ہائیکورٹ نے جو فیصلہ صادر کیا اس کا ترجمہ درج ذیل ہے اور ہم متوقع ہیں کہ علماء دین زیر بحث عنوانات کی اہمیت کے پیش نظر انفرادی اور اجتماعی ہر دو حیثیتوں سے اس پر غور کریں گے اور جو اہم ترین فرض ان پر عائد ہوتا ہے۔ بطریق احسن اس سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کریں گے۔‘‘

(المنبر مؤرخہ ۱۸؍رجب ۱۳۸۸ھ)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۸۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

جہاں تک بنیادی حقوق نمبر ۱۸ اور ۱۹ جو کاروبار تجارت یا پیشہ کی آزادی اور تقریر کی آزادی کے بارے میں ہیں، کا تعلق ہے۔ وہ ہنگامی حالت کے اعلامیہ کے باعث معطل پڑے ہیں۔ اپنے مذہب پر عمل کرنے اور کاربند ہونے کی آزادی بنیادی حق نمبر ۱۰ زیر عمل ہے۔ لیکن اس پر عمل درآمد کی آزادی کو واضح طور پر ”قانون، امن عامہ اور اخلاقیات کے تابع کر دیا گیا ہے۔ اس لئے یہ مطلق وخود مختارانہ نہیں ہے۔ درخواست دہندگان کے فاضل وکیل کا سارا زور اس دلیل پر تھا کہ احمدی اسلام کا ایک فرقہ نہیں ہیں اور ایسا کہنے کے اس حق کی آئین ضمانت دیتا ہے۔ لیکن فاضل وکیل اس امر واقعہ کو نظر انداز کرتے ہیں کہ پاکستان کے شہریوں کی حیثیت سے احمدیوں کو بھی آئین کی طرف سے اس اعلان و دعوے کی وہی آزادی ہے کہ وہ اسلام کے دائرہ کے اندر ہیں۔ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ درخواست دہندگان اپنے لئے جس حق کا دعویٰ کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کے لئے اس سے انکار کیسے کر سکتے ہیں۔ یقیناً انہیں دہشت زدہ کر کے ایسا نہیں کیا جا سکتا۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ درخواست دہندگان اور ان کے ہم خیال دوسرے لوگ احمدیوں کو یہ دعوے کرنے سے قانوناً کہاں تک روک سکتے ہیں کہ اسلام کے دوسرے فرقوں کے ساتھ اپنے عقائد کے اختلافات کے باوجود وہ اسلام کے اتنے ہی اچھے (نیک) پیروکار ہیں۔ جیسا کہ کوئی دوسرا شخص جو اپنے آپ کو مسلمان کہلاتا ہو۔ درخواست دہندگان کے فاضل وکیل نے اس سوال کا جواب صاف طور پر نفی میں دیا کہ کیا کوئی ایسی درخواست جس میں اس اعلان کے لئے کہا جائے کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں یا احمدیوں کے خلاف کوئی ایسا مستقل حکم امتناعی کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہنے سے باز رہیں۔ عدالت اس کی اہل ومجاز ہوگی؟ عدالت کے لئے قابل سماعت ہوگا؟ درخواست دہندگان کے کسی قانونی حق کی عدم موجودگی میں کسی جائیداد یا عہدہ کے حق کی صورت سول درخواست قابل سماعت ہو سکتی ہے۔ مؤخر الذکر قسم کے معاملات مثلاً سجادہ نشین یا کسی خانقاہ کے متولی یا اس قسم کے ایسے دوسرے ادارے جن کے عہدے سنبھالنے کے لئے مذہبی عقائد اولین بنیادی شرط ہوتے ہیں، کے سلسلہ میں تو سول درخواست قابل سماعت ہو سکتی ہے۔ ہمارے مقصد کی سب سے برمحل وموزوں مثال آئین کا آرٹیکل نمبر ۱۰ ہے۔ جس کے مطابق صدارتی انتخاب کے امیدوار کے لئے دوسری اہلیتوں کے ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ وہ مسلمان ہو۔

صدارتی انتخاب کے قانون مجریہ ۱۹۶۴ء کی دفعہ ۸ کے تحت ریٹرننگ آفیسر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ آئین کے تحت تسلی کے لئے صدر منتخب ہونے والوں کے بارے میں سرسری انکوائری کا اہتمام کرے۔ اس سرسری انکوائری میں اس کے مسلمان ہونے کے بارے میں استفسار بھی شامل ہے۔ اگر کسی امیدوار کے کاغذات نامزدگی منجملہ دوسری باتوں کے اس بنیاد پر مسترد کر دیئے جائیں کہ وہ مسلمان نہیں تو انتخابی کمیشن سے اپیل کی جا سکتی ہے اور اس قسم کی اپیل پر کمیشن جو حکم دے وہ بمطابق ذیلی دفعہ (۵) قطعی ہوگا۔ آئین کے آرٹیکل نمبر ۱۷۱ میں یہ اہتمام بھی کیا گیا ہے کہ انتخاب سے متعلقہ تنازعات کا فیصلہ صرف ایسے طریق سے ہوگا۔ جو یہاں دیا گیا ہے یا اس مقصد کے لئے قائم کردہ ٹربیونل کے ذریعہ اس کے علاوہ کسی اور طرح نہیں۔ آرٹیکل کی دفعہ (۲) میں لکھا ہے: ”جب کسی شخص کے بارے میں صدر منتخب ہو جانے کا اعلان کیا جا چکا ہو تو اس کے انتخاب کے جواز پر کسی عدالت یا دوسری اتھارٹی کے ذریعہ اعتراض نہیں کیا جائے گا۔“

اس طرح یہ دیکھا جائے گا کہ صدارتی انتخاب کے مقصد کے لئے بھی ایک خاص دائرہ اختیار و سماعت پیدا کیا گیا ہے جو اس تعین میں قطعی اور آخری فیصلہ کرنا ہے کہ کیا انتخاب کے لئے امیدوار مسلمان ہے یا نہیں۔ اس طرح سول عدالتوں کے دائرہ اختیار کو محدود و پابند کر دیا گیا ہے۔

۲۵: ہم معاملہ کے اس پہلو پر غور کرنے کے لئے مجبور ہوئے۔ کیونکہ درخواست دہندگان کے فاضل وکیل نے اپنی بحث کے دوران میں منیر انکوائری رپورٹ کے بعض حصوں کے حوالے دیئے۔ جو ۱۹۵۳ء میں پنجاب کے ہنگاموں پر ہیں اور جن میں احمدیوں اور مسلمانوں کے دوسرے فرقوں کے درمیان عقائد کے اختلافات پر روشنی ڈالی گئی ہے اور بعض ایسے حادثات کا ذکر ہے۔ جن میں بعض افراد،

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۹۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جو اپنے آپ کو احمدی کہتے تھے کو ”مرتد“ کہا گیا اور بعض واقعات میں قتل کر دیا گیا۔ دو فیصلے بھی ریکارڈ میں رکھے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک فیصلہ سابق پنجاب کی ایک ماتحت عدالت کا اور دوسرا کسی وقت کی ریاست بہاول پور کا ہے۔ ان میں قرار دیا گیا ہے کہ احمدی مسلمانوں کا فرقہ نہیں ہیں۔ ہمیں حیرت ہے کہ یہ مثالیں کس طرح متعلقہ ہو سکتی ہیں۔ فیصلہ ماتحت عدالتوں کے ہیں اور وہ شہادتوں کے ایکٹ مجریہ ۱۸۷۲ء کی دفعہ ۱۳ کے تحت بھی متعلقہ نہیں ہیں۔

سپریم کورٹ نے حکومت کی اپیل مسترد کر دی

آغا شورش کاشمیری کے مقدمہ کا فیصلہ

لاہور : ۸؍ نومبر ۱۹۶۸ء ۔ سپریم کورٹ نے آغا شورش کاشمیری کے مقدمہ میں حکومت کی اپیل مسترد کر دی اور فیصلہ دیا کہ ہائی کورٹ آغا شورش کاشمیری کے مقدمہ کی سماعت کر سکتا ہے۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے نامزد چیف جسٹس جناب حمود الرحمن نے لکھا ہے۔ پورا فیصلہ ۲۹ صفحات پر مشتمل ہے۔ فیصلہ میں لکھا ہے کہ آئین کی دفعہ ۹۸ کے تحت ہائی کورٹ کو جو اختیار حاصل ہے۔ وہ ڈیفنس رولز آف پاکستان کی وجہ سے یا ان میں کسی ترمیم کی وجہ سے متاثر نہیں ہوئے۔

یاد رہے کہ آغا شورش کاشمیری کو حکومت مغربی پاکستان نے ۷، ۸؍ مئی ۱۹۶۸ء کی درمیانی شب ڈیفنس رولز آف پاکستان کے تحت گرفتار کر لیا تھا۔ یہ گرفتاری ۵؍ مئی کی رات کو موچی دروازہ کے باہر جمعیتہ العلمائے اسلام کی کانفرنس میں ایک تاریخی تقریر کی بناء پر عمل میں لائی گئی تھی۔ بیگم آغا شورش کاشمیری نے عدالت عالیہ سے ایک رٹ درخواست کی تھی کہ حکومت نے میرے خاوند کو غلط طور پر گرفتار کیا ہے۔ اسے رہا کیا جائے۔ ہائی کورٹ میں پانچ روز مسلسل بحث کے بعد یہ رٹ درخواست سماعت کے لئے منظور کر لی گئی۔ حکومت نے چیف جسٹس مغربی پاکستان ہائی کورٹ سے درخواست کی کہ اس مقدمہ کی سماعت لاہور کی بجائے کراچی میں ہونی چاہئے۔ اگر آغا شورش کاشمیری کو لاہور لایا گیا تو ملک میں ۱۹۵۳ء کی طرح ختم نبوت کی تحریک چل جانے کا خطرہ ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اب ہائی کورٹ کا سابقہ بنچ کراچی میں شورش کیس کی سماعت کرے گا۔

(لولاک مورخہ ۱۵؍ نومبر ۱۹۶۸ء)

ربوہ کے سالانہ اجتماع پر پابندی عائد کی جائے

دسمبر کے آخری ہفتہ میں قادیانی جماعت کا سالانہ جلسہ ربوہ میں ہو رہا ہے۔ اس جلسہ کو بجا طور پر قادیانی پولیٹیکل کانفرنس بھی کہا جاسکتا ہے۔ دنیا بھر کے قادیانی اس کانفرنس میں شرکت کریں گے اور پاکستان میں بیٹھ کر پاکستان ہی کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مشورے ہوں گے۔ ہم قادیانی جماعت کو ایک سیاسی جماعت تصور کرتے ہیں اور ان کے سیاسی عزائم کے متعلق اپنے خدشات عوام اور حکومت دونوں کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا یہ پختہ یقین ہے کہ قادیانی جماعت روزِ اوّل ہی سے ایک سیاسی جماعت ہے۔ وہ مخصوص سیاسی مقصود ہی کے لئے پیدا کی گئی تھی۔ چونکہ ہمارے عوام مذہب کے دلدادہ ہیں اور مذہب کے نام پر وہ فریب بھی کھا جاتے ہیں۔ اس لئے اسے مذہبی لبادہ پہنا دیا گیا تاکہ لوگوں کو آسانی کے ساتھ دھوکہ دیا جا سکے۔ برطانوی سامراج کے بقاء واستحکام کے لئے یہ جماعت سیاسی کام کرتی رہی۔ قیام پاکستان کے بعد بھی اس نے اپنے ایک سیاسی جماعت ہونے کے کئی ثبوت فراہم کئے۔ مثال کے طور پر ہم چند باتوں کا ذکر کرتے ہیں۔ گزشتہ ماہ ربوہ میں مرزائی نوجوانوں کی ایک فوجی ریلی ہوئی۔ جس کی خبر روزنامہ امروز ملتان مورخہ ۲؍ نومبر ۱۹۶۸ء میں شائع ہوئی۔ خبر کے الفاظ حسب ذیل ہیں۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۹۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

احمدی نوجوانوں کا سالانہ اجتماع ختم

(امروز کے نامہ نگار سے) ربوہ یکم نومبر کل یہاں احمدی نوجوانوں کی بین الاقوامی تنظیم مجلس خدام الاحمدیہ مرکزی اور بچوں کی تنظیم مجلس اطفال الاحمدیہ کے سالانہ اجتماعات تین روز جاری رہنے کے بعد ختم ہو گئے۔ ان جلسوں میں ہزاروں نوجوانوں نے تین روز تک نیم فوجی زندگی گزاری۔ نوجوانوں نے مختلف عملی تقریری اور جسمانی مقابلوں میں بھی حصہ لیا۔ بچوں نے بھی حسن قرأت، تقاریر، عام معلوماتی اور پیغام رسانی کے مقابلوں میں شرکت کی۔ آخر میں امام جماعت احمدیہ حافظ مرزا ناصر احمد نے خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ اپنے اندر خدمت خلق کا جذبہ پیدا کریں۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کو زبانی نعروں کی نہیں، جانی اور مالی قربانیوں کی ضرورت ہے۔ احمدی خواتین کی تنظیم لجنۃ اماء اللہ کا اجتماع بھی تین روز جاری رہا جس میں صنعتی نمائش ہوئی۔

اس خبر کے الفاظ ربوہ کی سیاسی جماعت کے خطرناک عزائم کی چیخ چیخ کر غمازی کر رہے ہیں۔ مرزائی نوجوانوں کو تین دن تک فوجی زندگی کی تربیت انہیں پیغام رسانی ٹریننگ دیئے جانے کا مطلب واضح طور پر یہی ہے کہ قادیانی ایک سیاسی جماعت ہیں۔ ربوہ ان کا مرکز ہے اور وہ اپنے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنے عزائم کی روشنی میں تیار کر رہے ہیں۔ تقریروں وحسن قرأت کا مقابلہ صنعتی نمائش وغیرہ یہ سب ان عزائم پر پردہ ڈالنے کے حیلے اور بہانے ہیں۔ ہم قادیانیوں سے براہ راست سوال کرتے ہیں اور یہ بھی دعویٰ سے کہتے ہیں کہ وہ ہمارے اس سوال کا جواب کبھی نہیں دیں گے کہ اگر ربوہ کسی مذہبی جماعت کا مرکز ہے اور اگر مرزائیت ایک تبلیغی جماعت ہے تو اس مرکز میں مرزائیت پر یقین رکھنے والے نوجوانوں کا تین دن فوجی کیمپ کیوں لگایا گیا۔ انہیں نیم فوجی زندگی بسر کرنے اور انہیں خالص جنگی نوعیت کی ایک ضرورت یعنی پیغام رسانی کی ٹریننگ کس لئے دی گئی۔

ان چیزوں سے بالکل واضح ہے کہ قادیانی جماعت کو آئندہ چل کر ان نوجوانوں سے کیا کام لینا ہے۔ اس سلسلہ میں ہم اپنی حکومت سے بھی دریافت کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ جب وہ ملک کی کسی جماعت کو رضا کارانہ وردی تک پہننے کی اجازت نہیں دیتی۔ خاکساروں اور احرار رضا کاروں کا نظام عسکری نوعیت کا تھا۔ ان پر پابندی ہے اور وہ نہ تو وردی پہن سکتے ہیں اور نہ مارچ پاسٹ کر سکتے ہیں۔ احرار اور خاکسار کو چھوڑیئے خود حکمران جماعت مسلم لیگ کے نیشنل گارڈ جو مسلم لیگ کی ایک خاص رضا کار تنظیم ہے۔ اس پر پابندی عائد ہے وہ نہ وردی پہن سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی اور مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ سیاسی تنظیموں کے رضا کاروں کو بھی چھوڑیئے۔ پوری قوم نے مطالبہ کیا کہ تمام سکولوں اور کالجوں کے طلباء کے لئے فوجی تربیت لازمی قرار دی جائے۔ لیکن حکومت نے اس مطالبہ کو آج تک شرف قبولیت نہیں بخشا۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ پورے ملک کی رضا کار تنظیموں پر پابندی ہو۔ طلباء پر پابندی ہو۔ لیکن قادیانی نوجوانوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دے کر انہیں کھلی چھٹی دے دی جائے کہ وہ فوجی تربیت حاصل کریں اور اپنے پاکستان دشمن عزائم کو بروئے کار لانے کی کھلے بندوں تیاریاں مکمل کر لیں۔

انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قادیانی مملکت در مملکت کے قیام کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ اس سلسلہ میں حکومت کے نوٹس میں متعدد چیزیں لائی جا چکی ہیں۔ لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سے کوئی باز پرس نہ کر کے انہیں اپنے عزائم کی تکمیل کا پورا پورا موقعہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ ایوب حکومت مرزائیت نوازی اور اسلام دشمنی میں اس حد تک اندھی ہوگئی کہ جمعتہ الوداع کو ایک جلوس پر جس کی قیادت مولانا عبید اللہ انور کر رہے تھے۔ لاٹھی چارج کر دیا۔ تفصیلات ملاحظہ ہوں۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۹۲

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا عبید اللہ انور پر لاٹھی چارج

لاہور: ۲۳؍دسمبر (نمائندہ خصوصی) ممتاز دینی رہنما مولانا عبید اللہ انور نے عوام سے اپیل کی ہے کہ پاکستان میں دینی اقدار کے احیاء کے لئے قرآن وسنت کے مطابق قوانین کے نفاذ کی جدوجہد کو سرد نہ پڑنے دیا جائے اور پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک اسلامی مملکت بنانے کی کوشش کو تیز تر کیا جائے۔ مولانا عبید اللہ انور آج یہاں میو ہسپتال کے البرٹ وارڈ کے کمرہ نمبر ۲۳ میں بستر علالت پر نمائندہ نوائے وقت سے بات چیت کر رہے تھے۔ مولانا عبید اللہ انور جمعتہ الوداع کی نماز کے بعد جمعیۃ علماء اسلام کی طرف سے نکالے گئے۔ جلوس کے سلسلہ میں اپنے دوسرے ساتھیوں سمیت گرفتار کئے گئے تھے اور عیدالفطر کے روز سہ پہر قریباً چار بجے صوبائی حکومت کے احکام پر رہا کر دیئے گئے تھے۔

مولانا عبید اللہ انور نے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی گرفتاری کے بعد کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جمعتہ الوداع کی نماز کے بعد بیرون کشمیری دروازہ پولیس نے جو لاٹھی چارج کیا تھا اس سے نہ صرف مجھے بلکہ دوسرے گرفتار شدگان کو بھی چوٹیں آئیں۔ آپ نے کہا کہ گرفتاری کے موقع پر پولیس نے میرے پیٹ پر لاٹھیاں اور لاتیں ماریں۔ جس کے باعث مجھے پیشاب اور پاخانے میں خون آنا شروع ہو گیا۔ لیکن حوالات یا جیل میں فوراً کسی قسم کی طبی امداد مہیا نہ کی گئی۔ آپ نے بتایا کہ جمعتہ الوداع کی رات کو قریباً دس گیارہ بجے کے درمیان ہم گرفتار شدہ زخمیوں کو پولیس کی معیت میں پولیس سرجن کے پاس لے جایا گیا۔ لیکن وہاں سے زخموں پر ادویات لگانے کی بجائے ڈاکٹر نے نہایت غیر ہمدردانہ رویہ اختیار کیا اور زخمیوں کے زخموں کو دیکھ کر مذاق کیا۔ مولانا کے بیان کے مطابق آپ عیدالفطر کے روز تکلیف کی وجہ سے بے ہوش رہنے کے سبب نماز عید بھی ادا نہ کر سکے۔ آپ نے ملک کی موجودہ صورتحال اور جمعتہ الوداع کے روز علماء کرام پر پولیس کے لاٹھی چارج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ اس مملکت کو اسلامی بنانے کے لئے ضروری تھا کہ یہاں قرآن وسنت کے مطابق قوانین نافذ کئے جاتے۔ لیکن اس کے برعکس یہاں اسلامی اصولوں کی اکثر نفی کی جاتی ہے۔ آپ نے کہا کہ علماء کرام نے محض اسلامی قوانین کے نفاذ اور شہری آزادیوں کی بحالی کے لئے جمعتہ الوداع کے روز لاٹھیاں کھائی ہیں۔ لیکن قرآن وسنت کی تعلیمات کے فروغ کے لئے علماء اپنی جانیں دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ آپ نے کہا کہ میں پاکستانی قوم سے اپیل کرتا ہوں جس نے لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر پاکستان حاصل کیا تھا کہ پاکستان میں دینی اقدار کے احیاء کے لئے قرآن وسنت کے مطابق قوانین کے نفاذ کی جدوجہد سرد نہ پڑنے دیں اور ملک کو صحیح معنوں میں ایک اسلامی ریاست بنانے کی کوششیں تیز تر کر دیں۔

جمعیۃ علماء اسلام قانونی چارہ جوئی کرے گی

جمعیۃ العلماء اسلام پاکستان کے ناظم مولانا محمد اکرم نے پیر کی سہ پہر ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ جمعیۃ نے فیصلہ کیا ہے کہ جمعتہ الوداع کی نماز کے بعد بیرون کشمیری دروازہ میں طلباء، وکلاء، علماء اور دوسرے پرامن شہریوں پر لاٹھی چارج کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے۔ اس سلسلے میں جن زخمی علماء کرام کو گرفتار کیا گیا تھا ان کی ڈاکٹری رپورٹ حاصل کی جائے گی۔ علاوہ ازیں ان تمام مجروحین کا بھی ڈاکٹری معائنہ کرایا جائے گا۔ جو لاٹھی چارج کے دوران زخمی ہوئے تھے۔

امیر جمعیۃ علماء اسلام کا پیغام

حافظ الحدیث والقرآن حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی مدظلہ امیر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے اپنے ایک بیان میں جمعتہ الوداع کے دن علماء کرام اور نمازیوں کے ایک عظیم اجتماع جو فریضہ نماز ادا کرنے کے بعد بیرون شیرانوالہ گیٹ کے میدان میں جمع ہوا تھا۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۹۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

شدید اور ظالمانہ و بے رحمانہ لاٹھی چارج کی شدید مذمت کی اور کہا کہ حکومت کے وہ کارندے جو اس حادثہ فاجعہ کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے یادگار سلف حضرت مولانا عبید اللہ انور کے پیٹ پر ٹھوکریں ماریں ہیں اور ارباب اقتدار سے دشمنی مول لی ہے۔ انہوں نے اس ظالمانہ کارروائی کے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر حکومت نے ان انسانیت دشمن اور اسلام دشمن کا محاسبہ نہ کیا تو ملک کے کروڑوں فرزندان اسلام کے جذبات مزید مشتعل ہوں گے اور وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہوں گے کہ اس ملک میں ارباب اقتدار کے ہاتھوں اسلام اور فرزندان اسلام کی عزت ہرگز محفوظ نہیں ہے۔ انہوں نے جمعیۃ کے ارکان اور ملک کی دیگر مذہبی جماعتوں سے حفاظت اسلام کے لئے تیزی سے سرگرم عمل ہو جانے کی تلقین کی اور کہا کہ انہیں متحد ہو کر اپنی مساعی کو تیز تر کر دینا چاہئے۔ نیز انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس وقت جمعیۃ علماء اسلام پاکستان، تنظیم اہل سنت پاکستان، مجلس تحفظ ختم نبوت اور مجلس احرار اسلام کامل طور پر متحد ومتفق ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت ان کے اتحاد کو پارہ پارہ اور متزلزل نہیں کر سکتی۔ انہوں نے طلباء، وکلاء اور مزدور رہنماؤں پر مظالم اور پابندیوں کے خلاف بھی شدید احتجاج کیا اور ان سے پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کیا۔ نیز عوام سے اپیل کی کہ وہ مشترکہ مقاصد کے لئے متحد و متفق ہو کر کام کریں اور زندگی کا بنیادی مقصد صرف نظام اسلامی کے احیاء و بقاء کو قرار دیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ ہر اس جماعت سے تعاون کرے گی جو اپنے منشور میں نظام اسلامی کے قیام کو اولین حیثیت دے۔‘‘

(خدام الدین مورخہ ۲۷؍ دسمبر ۱۹۶۸ء)

مقدمہ روئداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۸۷ھ، مطابق اپریل ۱۹۶۷ء تا مارچ ۱۹۶۸ء

از: مولانا محمد شریف جالندھری پیش خدمت ہے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قرآن کریم نے سورۃ فتح کے اخیر میں صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ابتدائی زندگی کو کھیتی سے تشبیہ دی ہے کہ ابتداء میں جب اس کی سوئی نکلتی ہے تو نہایت نرم و نازک ہوتی ہے۔ پھر وہ مضبوط ہو جاتی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ابتداء میں عددی قلت اور کمزوری کے باعث بے پناہ مظالم اور تکالیف کا سامنا کیا۔ لیکن گنتی کے چند برس جو حق کی اطاعت کے باعث اپنے شہر سے نکالے گئے، نہ صرف اپنے شہر پر قابض ہوئے بلکہ حق وصداقت کا علم لے کر دنیا کے جس حصے کی طرف بھی متوجہ ہوئے، فتح و کامرانی نے ان کے پاؤں چومے۔

غور کیا جائے تو سب اصلاحی تحریکوں کا یہی حال ہے کہ ابتداء میں ان کی کیفیت بالکل کمزور ہوتی ہے۔ لیکن اپنی حق پرستی، ایثار وخلوص کے باعث بہت جلد وہ مرکزی حیثیت حاصل کر جاتی ہیں۔ دارالعلوم دیوبند کی ابتداء ایک محلہ کی بہت ہی چھوٹی سی مسجد چھتہ میں ہوئی۔ جب کہ انار کے درخت تلے استاد نے اپنے شاگرد رشید کو ابتدائی درس دیا۔ اس وقت استاد ملا محمودؒ تھے اور شاگرد محمود حسنؒ ۔ جو بعد میں شیخ الہند کے امتیازی نام سے دنیا اسلام میں متعارف ہوئے اور اکابر علماء کو حضرت شیخ الہند قدس سرہ سے تلمذ کا شرف حاصل ہوا۔ آج وہی دارالعلوم جس کی ابتداء مسجد چھتہ سے ہوئی تھی، دنیائے اسلام کی عظیم یونیورسٹی ہے۔ ہزار ہا علماء کرام یادگار قاسمی سے فیضیاب ہو کر اطراف عالم میں اشاعت اسلام کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

مولانا محمد الیاس صاحب قدس سرہ بانی تبلیغی جماعت نظام الدین اولیاء کی بستی کی مسجد میں قیام فرما ہیں۔ دیہات کے مسلمان میو مزدور صبح دیہات سے دہلی آتے ہیں اور مزدوری کے بعد شام مسجد کے قریب سے ہی واپس جاتے ہیں۔ ایک دن مولانا نے دریافت فرمایا تو ان مزدوروں نے کہا کہ ہم مزدوری کے لئے آتے ہیں۔ سارے دن کی محنت کے عوض جو چند پیسے ملتے ہیں وہ ہمارے بچوں کی قوت

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ 294

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۲۹۴ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لایموت ہے۔ ایک دن چند مزدوروں کو بلایا کہ جس قدر مزدوری شہر سے ملتی ہے، وہ ہم دیں گے۔ مسجد میں کام کرو۔ وضو کا طریقہ سمجھانے کے بعد کلمہ طیبہ پڑھایا۔ شام ہوگئی۔ مزدوری کے پیسے دے کر واپس بھیج دیا اور فرمایا کہ صبح پھر آنا۔ مزدوری ملتی رہی اور مزدور اپنا کلمہ اور نماز درست کرتے رہے۔ چند دن بعد خدمت اقدس میں عرض کی: ”مولوی جی! جس کام کی آپ مزدوری دیتے ہیں یہ تو ہم سب کا کام ہے۔ ہمیں بھی کام میں شریک فرمائیے ۔“ ارشاد فرمایا: ”اپنے دیہات میں اسی طرح لوگوں کا کلمہ اور نماز درست کراؤ۔“

میوات کا وہ علاقہ جہاں شدھی کی تحریک نے سب سے زیادہ ارتداد پھیلایا تھا تبلیغی وفود کا اڈہ بن گیا۔ حضرت مولانا محمد الیاس قدس سرہ، بانی تحریک اور ان کے نامور فرزند حضرت مولانا محمد یوسف مرحوم ومغفور کے خلوص و ایثار کے باعث چند مزدوروں سے شروع کی گئی۔ تبلیغی جماعت آج چار دانگ عالم پھیل چکی ہے اور اس کے تبلیغی وفود یورپ و ایشیاء کے ہر ملک میں سرگرم عمل ہو کر اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا موجب بن رہے ہیں۔ اللهم زد فزد !

مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام

حضرت اقدس مولانا محمد علی صاحب جالندھری زید مجدہم ۱۹۴۰ء میں مسجد سراجاں حسین آگاہی ملتان تشریف لے آئے تھے۔ تقسیم کے بعد حضرت امیر شریعت قدس سرہ نے باوجود امرتسر اور پٹنہ میں عظیم شہری جائیداد چھوڑ کر آنے کے کسی متروکہ جائیداد پر قبضہ گوارا نہ فرمایا اور لاہور سے سیدھے جناب نوابزادہ نصر اللہ خان کے ہاں خان گڑھ تشریف لے گئے اور جب خان گڑھ کو راوی اور چناب کے سیلاب نے نقصان پہنچایا تو ملتان کوئلہ تولے خان کے ایک کرایہ کے مکان میں رہائش اختیار فرمائی۔ چودہ برس کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر رہنے کے بعد اسی مکان سے اس مرد مجاہد کا جنازہ اٹھا۔ خان گڑھ کے دوران قیام میں حضرت امیر شریعت قدس سرہ نے اپنے احباب کو ایک خط کے ذریعہ مطلع فرمایا کہ: ”ہماری جدوجہد کا ایک حصہ آزادی وطن تھا اور دوسرا حصہ حفاظت و تبلیغ دین۔ ایک مقصد پورا ہو چکا ہے اب میری رائے میں احباب کو صرف تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کرنا چاہئے ۔“

ادھر تقسیم نے جماعت احرار کے شیرازہ کو منتشر کر دیا تھا۔

فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحب جو عرصہ دراز تک قادیان میں مجلس احرار کے شعبہ تبلیغ کی انچارج رہ چکے تھے، فرق باطلہ کی تردید کے سلسلہ میں مولانا کو امتیازی مقام حاصل تھا۔ تبلیغی نظام قائم نہ رہ سکنے کے باعث مولانا محمد حیات نے اپنے بھائیوں کے ہمراہ خیر پور میرس سندھ میں مزارعت شروع فرما دی تھی۔

احباب چونکہ حضرت مولانا محمد علی صاحب کے قیام ملتان سے واقف تھے۔ اس لئے اطراف ملک سے دوستوں نے بذریعہ خطوط مولانا سے عرض کیا کہ ملک میں تبلیغی نظام کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ سارقین ختم نبوت نے اہل اسلام کو مرتد بنانے کی تحریک زور و شور سے شروع کر دی تھی۔ مولانا زید مجدہم نے حضرت امیر شریعت قدس سرہ سے مشورہ کیا تو مولانا محمد حیات کی تلاش شروع کی۔ پتہ چلنے پر مولانا محمد حیات کو ملتان بلایا۔ مولانا محمد حیات نے فرمایا کہ میں اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر کھیتی باڑی کا کام شروع کر چکا ہوں۔ اب اگر اسی وقت چھوڑ کر آؤں تو نقصان ہوتا ہے۔ حضرت مولانا محمد علی صاحب کا ذہن رسا ایسی حالت میں نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوتا ہے۔ فرمایا کہ جس قدر کھیتی کا کام کرتے ہیں اس سے زیادہ کام کرنے والا آدمی آپ کی جگہ دے دیتے ہیں۔ آپ گاہے گاہے نگرانی کر لیا کریں۔ چنانچہ تیس روپے ماہوار اور کھانے پر ایک جاٹ کی خدمات حاصل کر لی گئیں۔ مولانا محمد حیات صاحب کے بھائی سے طے ہوا کہ جو کھانا مولانا کھاتے تھے وہ اس مزارع کو دیجئے۔ کھیتی کا کام یہ مولانا سے زیادہ اور بہتر کر سکے گا۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۹۵

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حضرت مولانا محمد علی صاحب نے تیس روپے ماہوار خرچ کی ذمہ داری اٹھا کر تبلیغی نظام کی نیو اٹھائی اور اس تبلیغی جماعت کا پہلا دفتر مسجد سراجاں حسین آگاہی ملتان کا حجرہ قرار پایا۔ اس طرح ایک روپیہ یومیہ کے مستقل خرچ سے اس عظیم نظام کی ابتداء شروع ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد حضرت امیر شریعت قدس سرہ نے جگہ کی قلت کے باعث اسٹینڈرڈ بیکری کچہری روڈ ملتان پر دفتر کا انتظام فرما دیا اور دارالمبلغین کا پہلا کورس اسی دفتر میں شروع ہوا۔

اکابرین جماعت کی زندگی کا اکثر حصہ آزادی وطن کے لئے جیل میں گزرا۔ انہوں نے ملک کی آزادی اور دین کے تحفظ کے لئے انگریز جیسی جابر حکومت کے ساتھ بھر پور ٹکر لی۔ آزادی وطن کے لئے برادران وطن کے ساتھ مل کر جدوجہد کی تو ختم نبوت، مدح صحابہ، شاتم رسول، راج پال ایسی مذہبی تحاریک میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ آزادی وطن کے جانباز سپاہی ہونے کے ساتھ ہی ان کا نعرہ تھا کہ سرور کائنات ﷺ کے خلاف کہنے والی زبان نہ رہے گی۔ یا سننے والے کان نہ ہوں گے۔

چنانچہ انگریز، انگریز پرست قوتوں سے نبرد آزمائی کے ساتھ منکرین ختم نبوت کے خلاف بھی کام برابر ہوتا رہا اور مدعی نبوت کے ان عقائد باطلہ کی باز پرس بھی جاری رہی۔

منم مسیح زمان و منم کلیم خدا منم محمد احمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص ۳، خزائن ج ۱۵ ص ۱۳۲)

نصاریٰ (انگریز) اسلام اور مسلمانوں کے ازلی دشمن ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو سیاسی غلبہ سے محروم رکھنے کے لئے ان کے ساتھ چودہ سو برس میں بہت سی لڑائیاں لڑیں۔ گزشتہ دو سو برس میں اسلامی ممالک کو کمزور کر کے ان پر سیاسی غلبہ قائم رکھا۔ ان کے حصے بخرے کر کے اہل اسلام کی سیاسی قوت کو ختم کیا اور اسلامی سلطنت کا مذاق اڑا کر اسلامی تہذیب و تمدن کو کمزور کیا۔ انہوں نے ہمیشہ بوعلی سینا مسلمان سائنس دان کو ایوی سینا کے نام سے یاد کیا۔ تاکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا نام نہ لینا پڑے۔ حضرت طارق کے کارنامہ کے باعث جس پہاڑ کا نام جبل الطارق مشہور تھا۔ اسے جبرالٹر کہا۔ ابوموسیٰ جابر سپہ سالار کو جیمبر کے نام سے پکارا اور سلطان ٹیپو شہید والیٔ ریاست میسور کو جنہوں نے انگریز کے خلاف جہاد کیا۔ ذلیل کرنے کے لئے کتے کو ٹیپو ٹیپو کہا اور شہید مرحوم کی شہادت کے وقت وردی کے نمونہ پر عدالتوں کے چپڑاسیوں کی وردیاں بنا کر مرحوم کی تذلیل کا سامان پیدا کیا۔ ایسے میں برخود غلط مسیح موعود نے نعرہ بلند کیا کہ: ”میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں۔ یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں اور دوسری اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“

(ضمیمہ ملحقہ شہادۃ القرآن ص ۳، خزائن ج ۶ ص ۳۸۰)

ہندوستان پر قبضہ کرنے کے لئے انگریز نے مسلمان حکومت کو شکست دی۔ لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا۔ آخری تاجدار ہند کے سامنے دستر خوان کی صورت میں اس کے شہزادوں کے سر پیش کئے۔ بادشاہ کو جلا وطن کیا۔ شہزادیوں اور بیگمات کو بے عزت کیا۔ علمائے حق اور اہل اللہ نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا۔ لیکن ؎

عصر من پیغمبرے ہم آفرید آنکہ در قرآن غیر از خود ندید
دولت اغیار را رحمت شمرد رقص ہا گرد کلیسا کرد و مرد

(علامہ اقبال)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۹۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

انگریز کی خدمت کے صلے میں حکومت کے خواب آنے شروع ہوئے۔ فرمایا: ”مجھے تو ان غیر احمدی مولویوں پر رحم آیا کرتا ہے۔ جب میں خیال کیا کرتا ہوں کہ ان کی تو اب ذلت ورسوائی کے سامان ہو رہے ہیں اور خدا نے ہمیں قوت اور سطوت عطاء کرنی ہے۔“

(الفضل مؤرخہ ۱۵؍اکتوبر ۱۹۲۲ء)

”تم اس وقت امن میں نہیں رہ سکتے۔ جب تک تمہاری اپنی بادشاہت نہ ہو۔“

(خطبہ خلیفہ محمود احمد، الفضل ۲۵؍اپریل ۱۹۳۰ء)

”جماعت احمدی کے نزدیک خلیفہ وقت ہی اس کا مذہبی پیشوا ہے۔ پس جو بادشاہ بھی احمدی ہو گا وہ اپنے آپ کو خلیفہ وقت کا ماتحت اور اس کا نائب سمجھے گا۔“

(خطبہ محمود احمد الفضل مؤرخہ ۲۷؍اگست ۱۹۳۷ء)

کاروان آزادی رواں دواں رہا۔ حتیٰ کہ انگریز اپنا بستر بوریا لپیٹنے پر مجبور ہوا۔ ملک کی آزادی آزاد اسلامی مملکت پاکستان اور بھارت کی صورت میں نمودار ہوئی۔ چونکہ انگریز کا یہ خودکاشتہ پودا امتِ مرحومہ کے بنیادی عقائد کے خلاف انگریز کے زیر سایہ پروان چڑھ رہا تھا۔ اس لئے اس فرقے کو انگریز کی جانشینی کے خواب آ رہے تھے۔ مگر آزادی کی رفتار نے انگریزوں کی جانشینی کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہونے دیا۔ چنانچہ جسٹس محمد منیر انکوائری رپورٹ میں رقم طراز ہیں: ”جب تقسیم ملک سے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن کا دھندلا سا امکان افق پر نظر آنے لگا تو احمدی آنے والے واقعات کے متعلق متفکر ہونے لگے۔ ۱۹۴۵ء سے ۱۹۴۷ء کے آغاز تک ان کی بعض تحریروں سے یہ منکشف ہوتا ہے کہ انہیں پہلے انگریزوں کا جانشین بننے کی توقع تھی۔ لیکن جب پاکستان کا دھندلا سا خواب مستقبل کی ایک حقیقت کا روپ اختیار کرنے لگا تو ان کو یہ امر کس قدر دشوار معلوم ہوا کہ ایک نئی مملکت کے تصور کو مستقل طور پر گوارا کر لیں۔ ان کی بعض تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تقسیم کے مخالف تھے اور کہتے تھے کہ اگر ملک تقسیم ہو گیا تو وہ اسے دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کریں گے۔“

(منیر انکوائری رپورٹ ص۲۰۹)

چونکہ اس جماعت کے عقائد و اعمال ایک اسلامی حکومت اور جمہور مسلمانوں کے خلاف تھے۔ اس لئے تقسیم کی مخالفت کی اور اس مخالفت کو اپنا مذہبی عقیدہ اور مرزا غلام احمد کی بعثت کا نتیجہ قرار دیا۔ انگریز چلا گیا۔ لیکن جاتے جاتے سر فرانس موڈی گورنر مغربی پنجاب کے ذریعہ ضلع جھنگ کی سرکاری اراضی کا بہت بڑا ٹکڑا چند پیسے فی مرلہ کے حساب سے اپنی اس پروردہ کو دے گیا۔ ملک کی تقسیم کے بعد آناً فاناً حالات بدل گئے۔ مرزائیوں کی اس وقت کی مالی حالت کا اندازہ لگائیں۔

”اب اکثر دوست آباد ہو چکے ہیں اور ان کی مالی حالت پہلے سے بہت اچھی ہے۔ کیونکہ ہندوؤں کی بچی ہوئی تجارتیں اور کارخانے انہیں مل گئے ہیں اور ان میں سے بعض آگے سے دس دس بیس بیس گنا زیادہ کما رہے ہیں۔ مجھے بعض لوگوں کا حال معلوم ہے۔ مشرقی پنجاب میں اگر وہ سات آٹھ ہزار کا مال لٹا کر آئے تھے تو آج وہ آٹھ دس لاکھ کے مالک بن گئے ہیں۔ ایک شخص کے متعلق میں نے سنا ہے کہ وہ قادیان کا ایک تاجر تھا۔ چھابڑی پر چیزیں رکھ کر بیچا کرتا تھا۔ اس نے بائیس ہزار کی موٹر خریدی ہے۔ اکثر حصہ غرباء کا ہے جو ہزاروں سے لکھ پتی بن گیا ہے۔“

(الفضل، دسمبر ۱۹۴۸ء)

مرزا بشیر الدین نے ۱۹۲۲ء میں لکھا تھا کہ: ”احمدیوں کے پاس چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا نہیں جہاں احمدی ہی احمدی ہوں۔ کم از کم ایک علاقہ کو مرکز بنا لو اور جب تک ایسا مرکز نہ ہو جس میں کوئی غیر نہ ہو۔ اس وقت تک تم اپنے مطالبہ کے امور جاری نہیں کر سکتے۔“

(خطبہ بشیر الدین محمود، الفضل قادیان مارچ ۱۹۲۲ء)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۲۹۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جب ۱۹۲۲ء کی آرزو ”ربوہ“ کی صورت میں پوری ہوئی اور چھابڑی لگانے والے بائیس بائیس ہزار کی کاروں کے مالک اور ہزاروں والے لکھ پتی بن گئے۔ اس وقت ایک روپیہ یومیہ کے مختصر خرچ سے حضرت امیر شریعت قدس سرہ کی سرپرستی میں مولانا محمد علی صاحب نے تبلیغی نظام کی نیو اٹھائی جو بہت جلد ایک مؤثر تبلیغی (اصلاحی) ادارہ کی صورت اختیار کر گئی۔ ملک کی قیادت قائد ملت لیاقت علی خان کے ہاتھوں میں تھی۔ جنہوں نے ۹؍مارچ کو دستور ساز اسمبلی میں قرارداد مقاصد پیش فرماتے وقت اعلان کیا کہ ملک کا دستور اسلامی ہوگا اور پاکستان اسلامی اصولوں کی روشنی میں دکھی انسانیت کی رہنمائی کرے گا۔

ختم نبوت ایک مبلغ کے کام سے ترقی کر کے مبلغین کی ایک جماعت کی صورت اختیار کر گئی۔ حضرت مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب جماعت میں تشریف لے گئے۔ دارالمبلغین نے نئے مبلغین کی تربیت شروع کر دی۔ علمی اور تبلیغی نیز مناظرانہ میدان میں منکرین ختم نبوت کا تعاقب شروع ہوا۔ حضرت امیر شریعت قدس سرہ کے ایماء پر خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد صاحب نے اراکین حکومت سے عموماً اور قائد ملت سے خصوصاً ملاقات کر کے منکرین ختم نبوت کے عزائم سے آگاہ کیا اور انہوں نے اس طرف توجہ کی تو بہت جلد اس عارضی قوت کا نشہ کافور ہونا شروع ہو گیا۔ چنانچہ کوئٹہ کی ایک تقریب میں یوں گویا ہوئے: ”اور لوگ اس طرح آرام سے بیٹھے ہیں جس طرح قادیان میں رہتے تھے اور بار بار یہی سوال کرتے رہے ہیں کہ ہمیں قادیان کب ملے گا۔ حالانکہ ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ ہمیں ربوہ سے نکل کر آگے کہاں جانا پڑے گا۔ کیونکہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کی جماعت کو ان حالات میں سے نہ گزرنا پڑا ہو۔“

اس تقریب میں آگے چل کر تجویز بیان کی: ”حضور نے فرمایا: اگر مختلف ممالک میں ہماری لڑکیاں چلی جائیں تو کسی مصیبت کے آنے پر اگر ہماری جماعت کے افراد ان ملکوں میں جانے پر مجبور ہوں گے تو وطنی تعلق کی وجہ سے ہمیں وہاں جتھہ بنانے اور پھیل جانے میں کوئی سہولت حاصل ہوگی اور ہم آسانی کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھ سکیں گے۔“

(الفضل لاہور، مؤرخہ ۱۰؍ اگست ۱۹۵۰ء)

ایک طرف وطن سے ہجرت بوجہ مخالفت کے یہ جماعت بھی ایک نبی کی جماعت ہے اور انبیاء علیہم السلام کی جماعت کو ان حالات سے گزرنا ہی پڑا ہے۔ دوسری طرف اپنے ذرائع سے اقتدار کی طرف کوشش تا آنکہ قائد ملت خان لیاقت علی مرحوم ۱۶؍ اکتوبر ۱۹۵۱ء کو راولپنڈی میں ایک خوفناک سازش کے تحت شہید کرائے گئے۔ جن کی شہادت کا مسئلہ آج تک معمہ بنا ہوا ہے۔ خان موصوف کی شہادت نصف اکتوبر میں واقع ہوئی۔ اگست ۱۹۵۰ء میں ربوہ سے ہجرت سوچنے والا ذہن خلیفہ ربوہ ٹھیک ڈیڑھ ماہ بعد حکم کرتا ہے۔ ”اب سر دھڑ کی بازی لگانے کا سوال ہے یا کفر جیتے گا اور ہم مر جائیں گے یا کفر مرے گا اور ہم جیتیں گے۔ درمیان میں اب بات نہیں رہ سکتی۔“

(الفضل مؤرخہ ۳۰؍نومبر ۱۹۵۱ء)

ناظرین کرام! غور فرمائیے۔ کیا یہ ارشادات ایک مذہبی اور اصلاحی جماعت کے سربراہ کے ہیں؟ یا کسی سیاسی آمر اور ڈکٹیٹر کے؟ اہل اسلام کو چند مسائل میں الجھا کر انگریزی سامراج نے اپنی مطلب آری کے لئے ایک گروہ پیدا کر لیا اور اس کی سرپرستی کی۔ چنانچہ ان کی جماعتیں اور کام دنیا کے انہی خطوں میں ہے جہاں جہاں انگریزی اقتدار قائم ہے یا قائم رہا ہے۔ مرزائی جماعت کے دفاتر بغداد ومصر کی بجائے مقبوضہ اسرائیل میں ہیں یا انگریزی اقتدار کے علاقوں میں۔ ۱۹۵۲ء کے ان حالات میں حضرت امیر شریعت قدس سرہ نے اپنے والہانہ خلوص کے ساتھ اعلان کیا کہ منکرین ختم نبوت کی اقتدار کی آرزو کبھی پوری نہ ہوگی۔ ۱۹۵۲ء اگر بشیر الدین محمود کا ہے تو ۱۹۵۳ء اہل اسلام کا۔ چنانچہ ۱۹۵۳ء کی تحریک جسے مرزائی کی شاطرانہ چال نے بدامنی کی طرف مائل کر دیا اور پھر حکومت وقت نے بدامنی کی آڑ میں ہزاروں مسلمانوں کو شہید کر دیا۔ جس کے نتائج اس صورت میں واضح ہوئے کہ تحریک کے بعد حکومت نے منیر انکوائری بورڈ کے ذریعہ

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۹۸

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

انکوائری کی تو وہ مرزا بشیر الدین محمود جن کا اعلان تھا کہ : ”میرے نزدیک کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہ سنا ہو، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

(آئینہ صداقت ص ۳۵)

جب انکوائری بورڈ میں پیش ہوئے تو:

سوال: کیا آپ مرزا غلام احمد کو ان مامورین میں شمار کرتے ہیں جن کا ماننا مسلمان کہلانے کے لئے ضروری ہے؟ جواب: میں اس سوال کا جواب پہلے دے چکا ہوں۔ کوئی شخص جو مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان نہیں لاتا، دائرہ اسلام سے خارج قرار نہیں دیا جا سکتا۔

(بیان مرزا محمود انکوائری بورڈ ص ۲۸)

دیکھئے! حضور پاک ﷺ کی بعثت ثانیہ کے داعی کا بیٹا کس طرح چوکڑی بھول رہا ہے۔ حضور پاک ﷺ کے ادنیٰ خدام، صحابہ ؓ نے اعلان حق کے لئے جان و مال قربان کر دیا اور یہ انکوائری بورڈ میں اپنے سابقہ دعویٰ سے ہی منحرف ہو گیا۔ اگر مرزا غلام احمد سچے تھے تو ان کی تعلیمات کی روشنی میں جن عقائد کا اعلان کیا تھا۔ ان سے انحراف کیا معنی؟ باطل کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اس کے پاؤں نہیں ہوتے ۔ ”اما الزبد فيذهب جفاء“ جب ذرا ڈھیل ملی تو اپنے مخالفین کو قتل کرنا۔ قتل و غارت کی دھمکی دینا، اپنی بادشاہت کے خواب دیکھنا، جب ذرا آزمائش کا دور آیا تو ملک سے فرار کا سوچنا اور اپنے عقائد سے منحرف ہونا، یہ سب باطل کی علامات ہیں۔ جس کا مظہر مرزائی تعلیمات ہیں اور بس۔

فیلڈ مارشل صدر محمد ایوب خان کی قیادت میں ملک کا دفاع مثالی طور پر مضبوط ہوا۔ خارجہ پالیسی کے آزادانہ رائے کا اظہار کیا تو ۱۹۶۵ء میں بھارت نے خارجی اشارہ پر وطن عزیز پر حملہ کر دیا تو موجودہ مرزائی خلیفہ مرزا ناصر احمد کے بھائی مرزا وسیم احمد نے ایک لاکھ روپے بھارت کو بطور جنگی امداد عطاء کئے۔ بشیر الدین محمود کہتے ہیں کہ احمدی بادشاہ جس جگہ بھی ہو گا وہ خلیفہ وقت ہی کی اطاعت کرے گا۔ اس طرح وسیم احمد، جو احمدی بادشاہ کی بجائے بشیر الدین کے لڑکے ہیں، نے ایک لاکھ روپیہ دے کر خلیفہ وقت اور اپنے باپ کی اطاعت کی۔ ادھر اس تاریخی حملہ سے چند دن قبل ظفر اللہ نے لندن میں مرزائیوں کے کنونشن میں مرزائی حکومت کا مژدہ سنایا۔ ۱۹۵۳ء کے انحراف کے بعد پھر حالات سازگار معلوم ہوئے تو مزاج یار میں انقلاب پیدا ہوا۔ ۱۹۶۵ء سے لے کر آج تک پھر سے رفتار دگرگوں ہے۔ غرض یہ گروہ انگریز نے اپنی ضرورت کے لئے پیدا کیا اور آج تک اینگلو امریکن بلاک کے لئے کام کر رہا ہے۔ مذہب کا لبادہ نمائشی ہے۔ خیال فرمائیے! آج جب کہ ملک تقسیم ہو چکا ہے۔ ہندوستان کسی جمہوری اصول کی پابندی کے لئے تیار نہیں۔ پاکستان کے معاملہ میں اس کی دشمنی ظاہر و باہر ہے۔ پھر مرزائی گروہ کا اپنے ہم عقیدہ لوگوں میں پراپیگنڈہ ”موصی صاحبان کی لاشیں بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن کی جائیں گی۔“ کیا معنی رکھتا ہے۔ اس وقت مطبوعہ فارم ہمارے سامنے ہے۔ اس کی شق اوّل میں مرقوم ہے کہ: ”میں وصیت کرتا ہوں کہ میرے مرنے پر نعش کو بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن کرنے کے لئے قادیان پہنچایا جائے۔ بشرطیکہ انجمن کارپرداز مصالح قبرستان کی طرف سے ایسا کرنے کی مجھے یا میرے ورثاء کو اجازت ہو جائے۔“

ابتداء سے قادیان کی تقدیس کا اعلان، پھر قادیان میں بہشتی مقبرہ کی ایجاد، تقسیم کے بعد پھر عام مرزائیوں کو بہشتی مقبرہ میں دفن کرنے کا حکم اور پھر غضب یہ کہ نعش کو قادیان لے جانے کے لئے متوفی یا اس کے ورثاء کو انجمن کارپرداز مصالح قبرستان کی طرف سے اجازت یعنی قادیان لاش لے جانے کے لئے اگر اجازت کی ضرورت ہے تو انجمن کارپرداز مصالح قبرستان ربوہ سے اور بس ناطقہ سربگریباں ہے۔ اسے کیا کہئے۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۲۹۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

الحمدللہ! تحریک ختم نبوت جس کی ابتداء حضرت امیر شریعت قدس سرہ اور مولانا محمد علی صاحب جالندھری کے مبارک مشورہ سے ایک روپیہ کے خرچ سے شروع کی گئی تھی۔ آج ”اصلها ثابت وفرعها فی السماء“ کی زندہ مثال ہے۔ مجلس کا میزانیہ ایک لاکھ سے تجاوز کر چکا ہے۔ مبلغین اسلام کی تنظیم ایک مثالی تنظیم کی صورت اختیار کر گئی ہے۔

(۳) دارالمبلغین کے قیام سے ”فرق باطلہ کے لئے سینکڑوں جدید مبلغ و مناظر تربیت حاصل کر کے ملک کی اس خاص ضرورت کو پورا کر رہے ہیں۔ ابتداء میں اکابرین نے محسوس کیا کہ جمہور علماء اسلام کی جو جماعت اس وقت کام کر رہی ہے۔ اس کی موجودگی میں اس خاص شعبہ میں ان کی جگہ سنبھالنے والے حضرات ہونے چاہئے۔ اس کے لئے ابتداء مرکزی دفتر میں دارالمبلغین کا قیام عمل میں آیا۔ فارغ التحصیل علماء اس میں داخل ہوں جن کی رہائش خوردونوش کاغذ قلم کا انتظام دفتر مرکزیہ کرے۔ ان حضرات کو پڑھانے کا کام فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحب اور مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب کے سپرد ہوا۔ مرزائیت اور عیسائیت کے متعلق ان حضرات کی معلومات پچاس سالہ ریاضت کا نتیجہ ہیں۔ مولانا محمد حیات اگر دھیمے مزاج سے باطل کا تعاقب کرتے ہیں تو مولانا لال حسین صاحب اپنی ذہانت اور حاضر جوابی سے اپنے مدمقابل مناظر کو راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ عیسائیوں اور آریہ سماج وسناتن دھرم کے ساتھ مناظرہ کرنے میں مولانا لال حسین صاحب کی ذات گرامی ملک بھر میں واحد شخصیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ان حضرات کو سلامت باکرامت رکھے تاکہ اس خاص شعبہ میں وہ مزید اپنے جانشین پیدا کر سکیں۔ الحمدللہ! کہ علماء کے ایک مستقل گروہ نے ان حضرات سے فیض حاصل کیا۔ ان میں سے کچھ حضرات جماعت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور کچھ حضرات تربیت کے بعد انفرادی یا اجتماعی طور پر تبلیغ دین وتردید باطل کا فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ حضرت مولانا قائم الدین صاحب علی پوری، مناظر اسلام حضرت مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی، حضرت مولانا یار محمد صاحب چیچہ وطنی، حضرت مولانا قاضی عبد اللطیف صاحب شجاع آبادی، حضرت مولانا غلام مصطفیٰ صاحب بہاول پوری۔ اگرچہ جماعتی تنظیم میں شریک نہیں۔ لیکن اپنی اپنی جگہ اہم ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔ ان حضرات نے دارالمبلغین کے ابتدائی دور میں تربیت حاصل کی اور اب خود اس قابل ہیں کہ ان سے فرق باطلہ کی تردید کا اہم کام انجام پا رہا ہے۔ جماعت میں اس وقت جو پینتیس علماء کرام کی جماعت فرائض ادا کر رہی ہے۔ ان میں اکثریت دارالمبلغین ختم نبوت ہی کی فیض یافتہ ہے۔

عرصہ دراز سے اکابرین جماعت بالخصوص حضرت امیر شریعت قدس سرہ کی خواہش تھی کہ ملک کے باہر تبلیغ اسلام وتردید مرزائیت کا کام شروع کیا جاوے۔ جماعت کو یہ شرف اس سال تیسری امارت مرکزیہ کے دور میں نصیب ہوا کہ قدرت کی کرشمہ سازیوں سے مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب کے انگلستان جانے کے ذرائع پیدا ہوئے۔ حضرت اقدس حضرت رائے پوری قدس سرہ کے خدام میں سے جناب راؤ شمشیر علی صاحب انگلینڈ میں کاروبار کے ساتھ ساتھ تبلیغ اسلام کا کام تقریر و تحریر سے کرتے ہیں۔ ایک ہی شیخ سے تعلق کے باعث حضرت امیر مرکزیہ مدظلہ سے ان کے گہرے مراسم ہیں۔ حضرت امیر مدظلہ، ایک جلسہ میں شرکت کے سلسلہ میں راؤ صاحب کے گاؤں احمد نگر ضلع گوجرانوالہ تشریف لے گئے۔ راؤ صاحب ہر سال حج کے لئے ولایت سے حجاز مقدس تشریف لاتے ہیں۔ حجاز مقدس سے وطن عزیز اور پھر انگلینڈ تشریف لے جانے میں موصوف کا سارا سفر خشکی کے راستے ہوتا ہے۔ وطن عزیز میں رہائش کے دوران وہ بہت سی تبلیغی کتب شائع کرتے ہیں جو انگلستان جاکر تقسیم کرتے ہیں۔ انہوں نے بصد شوق حضرت امیر مدظلہ کے ارشاد پر حضرت مناظر اسلام کو ہمراہ لے جانے کی رضامندی ظاہر کی۔

(۴) حضرت لاہوری قدس سرہ سے تعلق رکھنے والے ایک بڑے رئیس لیکن اسلام کا درد رکھنے والے بزرگ کے ذریعہ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۰۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پاسپورٹ وغیرہ کی تکمیل ہوئی۔ ۲۱/ ربیع الاول ۱۳۸۳ھ مطابق ۳۰/ جون ۱۹۶۴ء بروز جمعہ یہ حضرات ملتان دفتر مرکزیہ سے انگلینڈ کے لئے روانہ ہوئے۔ دفتر مرکزیہ ملتان میں علماء ملتان کے ایک روح پرور اجتماع نے حضرت مناظر اسلام کو تبلیغ اسلام کے لئے انگلینڈ روانہ کیا۔ جہاں حضرت مناظر اسلام تردید باطل اور تبلیغ اسلام کا کام زور و شور سے انجام دے رہے ہیں۔ انگلستان جاتے ہی خلیفہ ربوہ سے صداقت مرزائیت کے متعلق مناظرہ کا چیلنج دیا۔ جس کا جواب خلیفہ ربوہ نے لندن سے بعجلت آگے روانگی کی صورت میں دیا۔ مناظر اسلام کے علاوہ دوسرے احباب مقیم انگلستان کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ تبلیغ اسلام کی کئی صورتوں پر عمل ہو رہا ہے۔ انگریزی اردو میں مختلف رسائل و بیانات کی اشاعت، صداقت اسلام پر منعقد کئے گئے مذاکرات میں خطبات جن کے انگریزی ترجمہ کا اہتمام بطور خاص کیا جاتا ہے۔ ایسے اجتماعات کا قیام جن میں مولانا کے علاوہ انگریز مسلمان بھی ”میں مسلمان کیوں ہوا“ کے موضوع پر خطبات دیتے ہیں۔

خدا کے فضل و کرم سے درجن بھر شہروں میں مجالس ختم نبوت کا قیام عمل میں آچکا ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت ہی ملک بھر میں ایک ایسا تبلیغی ادارہ ہے جس کے دفاتر غیر ممالک میں قائم ہیں اور ایک منصوبہ کے تحت تبلیغ اسلام کا کام جاری ہے۔ انگلستان کے ختم نبوت کے دفاتر اپنا لٹریچر و اشتہارات شائع کرتے ہیں اور ان کی کاپیاں دفتر مرکزیہ ملتان میں بھی آتی ہیں۔

این سعادت بزور بازو نیست تانہ بخشد خدائے بخشندہ

اور مرزا اور اس کے متبعین کے خارج اسلام ہونے کا اعلان فرمایا۔ مولانا لال حسین صاحب کی موجودگی میں آئندہ تبلیغ اسلام کے لئے کام کرنے کا اعلان فرمایا۔ حضرت مناظر اسلام انگلستان میں کام کی ایک نوع کی تکمیل کے بعد جزائر فجی آئی لینڈ تشریف لے جاچکے ہیں۔ جیسا کہ اس سے قبل آپ حضرات کو معلوم ہے کہ جزائر فجی کے مسلمان ایک عرصہ سے حضرت امیر مرکزیہ مدظلہ کو اس کے متعلق لکھ رہے تھے۔ حضرت مناظر اسلام جزائر فجی میں پانچ ماہ کے قیام کے بعد پھر واپس انگلستان تشریف لے آویں گے اور اتنی دیر قیام فرمائیں گے۔ جب تک کہ ان کی جگہ کوئی دوسرے عالم مبلغ ختم نبوت تشریف نہ لے جائیں۔

جن کی مساعی جمیلہ کے باعث عبدالستار بی۔ اے مبلغ اشاعت اسلام انجمن احمدیہ نے اسلام قبول کیا۔

ملک میں اشتعال انگیز کارروائی شروع کیں ایسے بورڈ چسپاں کرنے کی کوشش کی جن سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں اور یہ کہ نبوت جاری ہے اور مرزا غلام احمد نبی ورسول ہیں۔ انہی اشتعال انگیزیوں کے باعث علی پور ضلع مظفر گڑھ، مانا نوالہ ضلع لائل پور اور دوسری بہت سی جگہوں پر پولیس کو ۱۰۷/ ۱۵۱ کی کارروائی کرنا پڑی۔ مجلس کے مبلغین نے ہر جگہ حضرت امیر مدظلہ کی ہدایات کی روشنی میں نہایت صبر وسکون کا ثبوت دیا۔ اس طرح مرزائیوں کی بدامنی پیدا کرنے کی سازش کو ناکام بنادیا۔

ہمہ ختم نبوت کا قافلہ منزل کی طرف رواں دواں رہا۔ دارالمبلغین کا کورس اس سال نہ صرف علماء کے لئے بلکہ ایک نیک والد کی خواہش پر ان کی تعلیم یافتہ ایم۔اے صاحبزادی اور ان کے ساتھ دوسری بچیوں کو تردید مرزائیت سے روشناس کرایا گیا اور یہ کورس فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحب نے پایۂ تکمیل تک پہنچائے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۰۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا غلام محمد مبلغ ختم نبوت حلقہ بہاول پور ملتان، مولانا جمال اللہ صاحب مبلغ ختم نبوت سابقہ سندھ نے تھر پارکر کے اس علاقہ کا کیا جہاں میلوں تک پانی کا نام و نشان نہیں۔ صحراء ہی صحراء ہے۔ باطل فرقے ایسے علاقہ کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ جماعت کنری کی دعوت پر مبلغین ختم نبوت نے اس علاقہ کا دورہ کیا۔ جس کی قیادت حضرت مجدد الف ثانی سرہندی قدس سرہ کے خاندان کے ایک فرد حضرت پیر مولانا ابوالعطاء محمد ابراہیم صاحب گلزار خلیل سامارو تھر پارکر نے فرما کر حضرت مجدد سرہندی قدس سرہ کی روح مبارک کو خوش کیا اور جن کے طفیل تبلیغ اسلام کی آواز ایسے دور دراز علاقوں تک صحرا تھر پارکر میں پہنچی۔ جہاں ان کے بغیر اس آواز کا پہنچنا نہ صرف مشکل بلکہ امر محال تھا۔ اللہ پاک حضرت موصوف کو مزید کام کرنے اور اپنے جدامجد کے مشن کی تکمیل کی توفیق عطاء فرمائے۔

دیکھئے! اکابرین کے خلوص وللہیت کا نتیجہ۔ حسین آگاہی مسجد سراجاں کے ایک حجرہ سے ایک روپیہ یومیہ کے خرچ سے شروع کی گئی۔ تحریک ختم نبوت آج نہ صرف ملک کے کونہ کونہ بلکہ غیر ممالک میں بھی جادہ پیما ہے۔ اللهم زد فزد!

جماعت کے مبلغین کی دو قسمیں ہیں۔ مبلغین مرکزی و مبلغین مقامی مرکزی مبلغین کا تبلیغی پروگرام دفتر ملتان مرتب کرتا ہے اور اس فہرست میں حضرت مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب اختر، حضرت فاتح قادیان مولانا محمد حیات صاحب، حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب میانوی، حضرت مولانا محمد شریف صاحب بہاول پوری، حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر، مولانا ابوالانوار قاضی اللہ یار خان صاحب، مولانا ڈاکٹر عبداللہ صاحب جتوئی، مولانا سید منظور احمد شاہ صاحب، مولانا حافظ عبدالحفیظ صاحب، مولانا ارشاد احمد صاحب اور مولانا اللہ وسایا صاحب کے اسماء قابل ذکر ہیں۔ ان سب حضرات اور مقامی مبلغین کی تربیت و رہنمائی کا فریضہ حضرت امیر مرکزیہ مولانا محمد علی صاحب جالندھری سرانجام فرما رہے ہیں۔ مقامی مبلغین کی فہرست معہ پتہ جات حسب ذیل ہے:

مولانا منظور احمد صاحب عباسی مبلغ ختم نبوت، بندر روڈ کراچی۔ مولانا محمد انور صاحب مبلغ تحفظ ختم نبوت شارع لیاقت، کوئٹہ۔ مولانا بشیر احمد صاحب مبلغ تحفظ ختم نبوت نواں گوٹھ، سکھر۔ مولانا جمال اللہ صاحب مبلغ تحفظ ختم نبوت محلہ شاہ غازی جیکب آباد۔ مولانا غلام محمد صاحب ومولانا خدا بخش صاحب مبلغین ختم نبوت متصل جامع مسجد الصادق بہاول پور۔ مولانا صوفی اللہ وسایا صاحب مبلغ تحفظ ختم نبوت ڈیرہ غازی خان۔ مولانا عبدالحق صاحب مدرس مدرسہ ختم نبوت پرمٹ ضلع مظفر گڑھ۔ مولانا نور محمد صاحب مبلغ تحفظ ختم نبوت علی پور ضلع مظفر گڑھ۔ مولانا زرین احمد خان صاحب مبلغ تحفظ ختم نبوت حلقہ کچا کھوہ، ضلع ملتان۔ مولانا بشیر احمد صاحب مبلغ تحفظ ختم نبوت منڈی شاہ جیونا ضلع جھنگ۔ مولانا خلیل الرحمن صاحب مبلغ تحفظ ختم نبوت چنیوٹ ضلع جھنگ۔ مولانا محمد یار صاحب مبلغ تحفظ ختم نبوت امین پور بازار، لائل پور۔ مولانا محمد علی صاحب مبلغ تحفظ ختم نبوت سمندری ضلع لائل پور۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۰۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا نور الحق صاحب نعمانی مبلغ تحفظ ختم نبوت بیرون دہلی دروازہ لاہور۔ مولانا محمد خان صاحب مبلغ تحفظ ختم نبوت اندرون سیالکوٹی دروازہ گوجرانوالہ۔ مولانا محمد عبداللہ صاحب لدھیانوی ، ناظم شعبہ نشر واشاعت مرکزیہ ملتان۔ جناب عبدالغفار صاحب کوثر مخدوم پوری کلرک دفتر مرکزی تحفظ ختم نبوت ملتان ۔

مشرقی پاکستان میں حضرت مولانا محمد ہارون صاحب، ادارۃ المعارف فرید آباد ڈھاکہ کے زیر قیادت مولانا محمد عثمان اور ان کے ساتھی تبلیغ دین کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ مشرقی پاکستان میں اسی سال کام شروع کیا گیا ہے۔ الحمد للہ ! کہ علماء مشرقی پاکستان کی سرپرستی میں یہ قافلہ نہایت سرعت سے آگے بڑھ رہا ہے۔ مشرقی پاکستان علوم اسلامیہ کا گہوارہ ہے۔ وہاں کے عوام والہانہ طور پر جماعت ختم نبوت کے مقاصد کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کے دفاتر کے ساتھ ذیلی دفاتر اور ذیلی مدارس کے ذریعہ تبلیغ وتدریس کا کام ہو رہا ہے۔ پانچ کارکن دفتر مرکزیہ ملتان میں انتظامی امور سر انجام دے رہے ہیں۔

اسماء گرامی ممبران مجلس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان

یہ ہیں ان حضرات گرامی قدر کے اسماء جو اس دور پرفتن میں قافلہ تحفظ ختم نبوت کی سرپرستی ورہنمائی قبول فرمائے ہوئے ہیں۔ جماعت کے کارکنوں ، اراکین اور عامتہ المسلمین سے التجاء ہے کہ بارگاہ رب العزت میں جماعت کی کامیابی خلوص اور قبولیت کی دعا فرما دیں۔ نیز یہ کہ اللہ پاک ہم سب کو ختم نبوت علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے لئے زیادہ سے زیادہ کام کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔

آمین ! وما علینا الا البلاغ ! ناظم دفتر مرکزیہ،مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۰۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۶۹ء

کے

حالات و واقعات

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۰۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ ۱۹۶۹ء

۲۷، ۲۸، ۲۹ دسمبر ۱۹۶۹ء کو چنیوٹ ضلع جھنگ میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ یوں تو یہ کانفرنس دسمبر کے آخری ہفتہ میں ہر سال منعقد ہوا کرتی ہے۔ لیکن اس دفعہ یہ کانفرنس بہت زیادہ کامیاب ہوئی۔ ملک بھر سے شیدایان ختم نبوت شریک ہوئے ۔ بے پناہ حاضری ہوتی رہی۔ چنیوٹ جیسے معمولی قصبہ میں منعقد ہونے والی کانفرنس کے اجلاسوں میں لاکھوں نفوس کی حاضری کوئی معمولی بات نہیں۔ اس بے پناہ اور غیر معمولی حاضری کے علاوہ روحانی طور پر جو انوار و برکات اس دفعہ وہاں نظر آئے۔ وہ بھی پہلے کم دیکھے گئے تھے۔ اس وقت ملک میں افراتفری اور بدترین انتشار کا دور دورہ ہے۔ جماعتیں گروہوں اور گروہ ٹولیوں میں بٹ رہے ہیں۔ اخلاقی انحطاط کی بدولت کوئی بھی ایسی جماعت نہیں ہے جس کی صفوں میں اتفاق و اتحاد ہو۔ ہر جگہ نفاق، حسد اور عناد جلوہ گر نظر آ رہا ہے۔ لیکن مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چنیوٹ ختم نبوت کانفرنس میں شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی اتحاد کے وہ روح پرور اور ایمان افروز نظارے دیکھنے میں آئے۔ جنہوں نے ۱۹۵۳ء کے برکت علی محمڈن ہال کے آل پارٹیز اجتماع کی یاد تازہ کر دی۔

اتنی نپی تلی، صاف ستھری مناسب اور بر محل تقریریں ہوئیں کہ لکھے پڑھے سامعین سے لے کر ان پڑھ اور دیہاتی تک سبھی، کچھ نہ کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ حاصل کر کے گھروں کو واپس گئے ۔ ہماری رائے میں اس دفعہ کانفرنس کی کامیابی کی مندرجہ ذیل وجوہات تھیں:

حضرت خواجہ قمر الدین سجادہ نشین سیال شریف، صاحبزادہ افتخار الحسن شاہ بریلوی، مولانا محمد صدیق خطیب اہل حدیث، مولانا خان محمد صاحب کندیاں شریف، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا حبیب اللہ فاضل جالندھری دیوبندی، جناب سید مظفر علی شمسی شیعہ ایک ایسے اسٹیج پر جمع ہوئے جو مولانا محمد علی جالندھری اور ان کی جماعت کی زیر سرپرستی ہوا تھا۔

ہفت روزہ لولاک کی خدمات جو اب مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے وقف ہیں، جماعت کے ترجمان وخادم کی حیثیت سے لولاک نے ملک میں ایک ایسی فضا پیدا کر دی ہے کہ عوام کو ایک بار پھر مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت کا احساس ہونے لگا ہے اور وہ اسلام کے اس بنیادی

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۰۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عقیدہ کے تحفظ کے لئے عملی طور پر ہر اس آواز پر لبیک کہنے کے لئے آمادہ نظر آتے ہیں جو مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما بلند کریں۔ اس کانفرنس میں جو ایمان پرور باتیں کہی گئیں اور جو نورانی سماں دیکھا گیا اس سے ایک بار پھر یقین حاصل ہوا کہ اس امت کے اتحاد کا مرکزی نقطہ صرف اور صرف محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات اقدس ہے۔ اسلام اور قرآن و کعبہ دوسرے شعائر اپنی جگہ مسلم ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی ایک پر یہ امت جمع نہیں ہو سکتی۔ اس امت میں قدر مشترک حضور انور ﷺ کی ذات گرامی ہے اور حضور ﷺ کے نام و ناموس کے تحفظ ہی کے لئے یہ امت جمع ہو سکتی ہے۔

اس وقت تمام دینی جماعتیں اپنی اپنی سمجھ اور استطاعت کے مطابق دین کی سرخروئی اور سر بلندی کے لئے کام کر رہی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ۲۲ سال سے انہیں کامیابی حاصل نہیں ہو رہی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دینی جماعتوں اور دیندار لوگوں میں اتفاق و اتحاد نہیں ہے۔ ان میں اختلاف و انتشار ہے۔ جب تک دینی جماعتوں کی قوت میں یکجہتی نہ پیدا ہو اس وقت تک ان کی کامیابی ناممکن ہے۔ اگر دینی جماعتیں اخلاص کا ثبوت دیں اور دینداروں کو اکٹھا کرنا چاہیں تو حضور ﷺ کی ختم نبوت کے عنوان پر وہ سب کو جمع کر سکتے ہیں۔ اگر وہ ایسا کرنے کے لئے تیار ہو جائیں تو ہر ناممکن ممکن ہو جائے گا اور ان کی ناکامیاں کامیابیوں میں بدل جائیں گی۔

ذوالفقار علی بھٹو اور مرزا ناصر احمد

روزنامہ ندائے ملت لاہور، روزنامہ مشرق لاہور میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ جناب ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت احمدیہ کے خلیفہ مرزا ناصر احمد سے متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور وہ آئندہ بھی ان سے ملاقاتیں کریں گے۔ لولاک کسی سیاسی جماعت کا نہ ترجمان ہے اور نہ مخالف۔ وہ اسلام کا داعی اور ختم نبوت کا علمبردار اور تمام مسلمانوں کا خادم ہے۔ وہ تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کو اسی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد مدح و قدح میں کچھ عرض کرنے کی جسارت کرتا ہے۔ لولاک نے سیاسی نظریات کے اختلاف کی بناء پر نہ کسی کو کافر قرار دیا ہے اور نہ غدار کہا ہے۔ لیکن وہ ختم نبوت کے منکروں اور ان سے راہ و رسم رکھنے والوں کو نہ اسلام کا دوست سمجھ سکتا ہے اور نہ ملک کا خیر خواہ۔

انتخابات قریب ہیں۔ سندھ میں قادیانیوں کی وسیع علاقوں پر مشتمل تین ریاستیں موجود ہیں۔ بھٹو صاحب کو وہاں کے ووٹوں کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ بھٹو صاحب یہ بھی جانتے ہیں کہ ملک بھر کے قادیانیوں کے ووٹ مرزا ناصر احمد کی ہدایات کے مطابق کسی بھی جماعت کو مل سکیں گے۔ اس لئے انہوں نے مرزا ناصر احمد سے ملاقاتیں کی ہیں اور آئندہ بھی ان سے ملنے کی تمنا کا اظہار کیا ہے۔

یہ بات بھی ہمارے نوٹس میں ہے کہ بعض پختہ فکر قادیانی، مزدور لیڈروں کا لبادہ اوڑھ کر لیبر پارٹیوں میں شامل ہیں اور لیبر پارٹیوں کی معرفت سوشلسٹوں کے کیمپ میں گھسے ہوئے ہیں۔ غالباً قادیانی یہ سوچتے ہیں کہ انہیں برطانوی سامراج کا خود کاشتہ پودا سمجھا جاتا ہے۔ اگر ملک میں سوشلسٹ انقلاب بپا ہو گیا تو اس صورت میں یہ لیبر پارٹیوں کا تعلق اور ذوالفقار علی بھٹو کی یہ ملاقاتیں ان کے لئے وسیلہ نجات اور ذریعہ فلاح بن سکیں گی۔

ضعف الطالب والمطلوب

ہم ان دونوں صاحبان کی خدمت میں عرض کریں گے کہ وہ عارضی مفاد کے لئے کیوں ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جو گروہ محسن کائنات محمد مصطفیٰ ﷺ کا وفادار ثابت نہیں ہوا اور جس نے پوری امت سے کٹ کر ارتداد قبول کرتے ہوئے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۰۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اپنے آپ کو علیحدہ مشخص اور ممیز کر رکھا ہے وہ گروہ بھٹو صاحب کا خاک وفادار ثابت ہو گا اور اسی طرح جس سوشلزم کے ہاتھوں سمرقند اور بخارا تباہ ہوئے اور جہاں سے آج بھی روح اسلام کے نالہ و بکا کی دردناک آوازیں سنی جاسکتی ہیں وہ سوشلزم قادیانیت کو کیا تحفظ دے سکے گا۔

(لولاک مؤرخہ ۹/ جنوری ۱۹۷۰ء)

پیر صاحب گولڑہ شریف کا پیغام

آل پاکستان تحفظ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ کے سلسلہ میں اس دفعہ متعدد مشائخ، علماء اور عوامی رہنماؤں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ جن میں سے اکثر حضرات نے کانفرنس میں شرکت کی۔ حضرت شیخ المشائخ صاحبزادہ غلام محی الدین صاحب سجادہ نشین گولڑہ شریف اور حضرت مولانا محمد یوسف بنوری صاحب کراچی نے ناسازی طبع کی وجہ سے کانفرنس میں شرکت سے معذوری ظاہر فرماتے ہوئے اپنی طرف سے عقیدہ ختم نبوت کے سلسلہ میں حضرت امیر مرکز یہ مولانا محمد علی جالندھری کو پورے تعاون کا یقین دلایا۔

اس سلسلہ میں حضرت صاحبزادہ غلام محی الدین صاحب سجادہ نشین گولڑہ شریف نے حضرت امیر مرکز یہ مولانا محمد علی صاحب جالندھری کو مندرجہ ذیل پیغام ارسال فرمایا:

محترم ومکرم .............................. وعلیکم السلام ورحمة الله

عنایت نامہ موصول ہو کر کاشف مافیہا ہوا۔ مجھے کبھی جلسے جلوسوں میں شمولیت کا اتفاق نہیں ہوا اور نہ ان کے لوازمات سے واقفیت ہے۔ مجھے آپ کے اس کار خیر میں آپ کے ساتھ اور دیگر جملہ ساعیان کے ساتھ دلی تعاون اور ہمدردی ہے۔ اللہ تعالیٰ کامیابی بخشے اور زیادہ سے زیادہ توفیق عطاء فرمائے۔ آمین! والسلام!

دعا جو ...... از: گولڑہ شریف ۱۳/ دسمبر ۱۹۶۹ء

حضرت مولانا محمد یوسف بنوری مدظلہ کا پیغام

محترم المقام گرامی مفاخر مولانا محمد علی صاحب جالندھری

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ یہاں سفر حرمین شریفین سے یکم شوال کی صبح عید کو پہنچ گیا ہوں۔ آنے پر معلوم ہوا کہ آپ کی کانفرنس ۷/ شوال سے منعقد ہوگی اور میں نے وعدہ یا نیم وعدہ کر لیا ہے۔ اتفاق سے اس سفر میں گھٹنوں کا درد بہت بڑھ گیا ہے اور بعض اوقات جماعت کی نماز سے بھی محروم رہا۔ ان حالات میں سفر میرے لئے بہت دشوار ہے۔ خصوصاً رات باہر گزارنا، نیز آپ کو معلوم ہے کہ نہ تقریر کرنی آتی ہے، نہ اس قسم کے جلسوں کے لئے موزونیت ہے۔

میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کانفرنس کو کامیابی عطاء فرمائے۔ والسلام!

محمد یوسف بنوری ۱۸/ دسمبر ۱۹۶۹ء

(لولاک مؤرخہ ۹/ جنوری ۱۹۶۹ء)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۰۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

چک باوا لائل پور میں، مرزائیت سے توبہ

قارئین کرام! یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جس طرح ملک میں دیگر دینی جماعتیں تبلیغ دین میں منہمک ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت بھی کسی سے کم نہیں ہے۔ اپنی بساط کے مطابق جماعت نے ۴۰ مبلغ رکھے ہوئے ہیں۔ جن کی تنخواہ، کرایہ، ڈاک، قلی و دیگر سفر خرچ جماعت کے ذمہ ہے۔ ان میں سے بعض ایسے ہیں جو مرکز ملتان میں رہتے ہیں اور ان کا پروگرام مرکز بناتا ہے اور بعض ایسے ہیں جو ملک کے ہر مرکزی شہر میں رہتے ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اس جماعت کا طرۂ امتیاز ہے۔ اس لئے جہاں پر منکرین ختم نبوت کے اثرات پھوٹتے ہیں وہاں پر مقامی مبلغ ان کی سرکوبی کے لئے کتب مرزا اٹھائے ہوئے حاضر ہوتا ہے۔ بدیں وجہ عرض ہے کہ جہاں پر اس سیاسی گروہ کی شرانگیزی کا خطرہ ہو وہاں کے قریبی مبلغ کو اطلاع دے کر اپنا فرض ادا کرنا ہر دیندار آدمی کا کام ہے۔ اس ساری تمہید کا خلاصہ فقط اتنا ہے کہ لائل پور شہر کے متصل چک باوے والا ہے۔ وہاں پر مستری محمد رمضان صاحب مقیم ہیں۔ وہ چونکہ ہر روز شہر میں کام کرنے کے لئے جاتے ہیں اور کند ہم جنس باہم جنس پرواز کے مطابق ہر مستری کا دوسرے مستری سے تعلق ہو ہی جاتا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مرائیوں کا ہر چھوٹا بڑا آدمی مستقل مبلغ ہوتا ہے۔ مستری صاحب کو ایک مرزائی مبلغ علی احمد سے واسطہ پڑ گیا۔ وہ مبلغ بھی مستریوں کا کام کرتا تھا۔ چنانچہ وہ مستری صاحب کو ربوہ لے گیا۔ فارم پر کرنے کی غرض سے دیا۔ گویا کہ وہ اس غریب کو مرتد بنا چکے تھے کہ فقیر کو پتہ چلا۔ کتابیں اٹھائیں اس چک میں حاضر ہوا۔ خدا بھلا کرے مولانا غلام حسین صاحب مہتمم مدرسہ رفیق العلوم کا کہ انہوں نے میرے سے تعاون کیا۔ رات کو رد مرزائیت پر تقریر ہوئی اور سویرے درس ہوا۔ جب مستری صاحب نے مرزا کا چہرہ مرزا کے آئینہ میں دیکھا تو توبہ کر کے مرزائیت سے اپنا دامن صاف کیا اور اعلان کیا کہ مرزا اور اس کی امت کافر ہے۔ مجھے ان سے اب کوئی تعلق نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ موصوف کو حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کا سپاہی بنائے۔

اللہ وسایا مبلغ ختم نبوت لائل پور (لولاک مورخہ ۷؍ مارچ ۱۹۶۹ء)

لائل پور میں مولانا جالندھری نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس کا نمبر ۴۳، ۴۴ سنسر شپ کے باعث انفارمیشن آفیسر نے کاٹ دیا۔

مولانا محمد علی صاحب جالندھری صدر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا پریس کانفرنس سے خطاب

اس وقت ملک ایک بحرانی کیفیت سے دوچار ہے۔ پوری قوم کی نگاہیں صدر مملکت اور جمہوری مجلس عمل کے رہنماؤں کی گول میز کانفرنس پر لگی ہوئی ہیں۔ میں اس وقت ایک دینی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے اپنا ملی اور ملکی فرض سمجھتا ہوں کہ گول میز کانفرنس کے شرکاء کی توجہ چند ضروری امور کی طرف مبذول کراؤں تاکہ وہ ان ضروری مطالبات کو عوام کی خواہش کے مطابق حل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر ان امور کو نظر انداز کر کے کوئی فیصلہ نہ کیا گیا تو عوام کی موجودہ پریشانی جوں کی توں رہے گی۔ نہ صرف یہ کہ ملک کے امن وامان کی صورتحال مخدوش رہے گی بلکہ ملک کا مستقبل بھی غیر یقینی ہو کر رہ جائے گا۔

کر دیئے جائیں۔ اس وقت مشرقی، مغربی پاکستان میں جو دوری رونما ہورہی ہے اسی طرح بنگالی، سندھی، بلوچی، پنجابی، پختون اور علاقائی بنیادوں پر جو نزاعات ابھر رہے ہیں ان کا حل بھی قرآن وسنت کے مطابق قوانین کا نفاذ ہے۔ ملک کے تمام علاقوں میں قدر مشترک صرف اسلام ہے اور صرف اسلام ہی انہیں آپس میں وابستہ رکھ سکتا ہے۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۰۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ پاک بھارت جنگ کے دوران بھی ان کے قابل اعتراض رویہ کو بری طرح محسوس کیا گیا تھا اور اب بھی اس بات کا قوی خدشہ ہے کہ حالیہ عوامی تحریک کے دوران رونما ہونے والے تشدد آمیز واقعات اور تخریبی کارروائیوں میں بھی انہی غیر ملکیوں کا ہاتھ ہو۔ اس لئے ملکی وملی مفاد کا تقاضہ ہے کہ ان تمام مشنریوں کو فوراً بند کر دیا جائے اور ان کے زیر اہتمام چلنے والے اداروں کا نظم ونسق حکومت اپنی تحویل میں لے لے۔

بجائے پاکستان کے مختلف مکاتب فکر کے جید علماء کرام کو نمائندگی دی جائے۔

اور روحانی قدروں سے بھی بہرہ ور ہو سکے۔

اختیار کی جائے جو ملک سے افلاس اور غربت کا خاتمہ کردے۔

آخر میں تمام دینی جماعتوں کے ذمہ دار رہنماؤں اور دیگر اسلامی فرقوں کے سربراہوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ملک کے بقاء واستحکام اور دین کی اشاعت وحفاظت کے لئے متحد ہو کر کام کریں۔ میری جماعت ان مقاصد کی تکمیل کے لئے ہر دینی جماعت سے تعاون واشتراک کے لئے حاضر ہے۔ قادیانی مسئلہ کے متعلق میں نے آج ہی صدر مملکت اور کنوینیئر جمہوری مجلس عمل کو منسلکہ تار دیا ہے۔

(لولاک، مؤرخہ ۲۱؍ مارچ ۱۹۶۹ء)

ضروری یادداشت برائے صدر مملکت ایوب خان، کنوینیئر جمہوری مجلس عمل

سہ نکاتی مطالبات پر مشتمل یہ ہینڈ بل گول میز کانفرنس راولپنڈی میں صدر مملکت اور دیگر شرکاء کو پیش کیا گیا۔ (ادارہ)

بخدمت جناب صدر پاکستان محمد ایوب خان صاحب و نوابزادہ نصر اللہ خان صاحب کنوینیئر جمہوری مجلس عمل و تمام معزز شرکائے گول میز کانفرنس

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

اس انقلابی فیصلہ کن وقت میں آپ کی توجہ ادھر مبذول کرانا ضروری ہے کہ:

مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں کو غیر مسلم قرار دے کر ان کو کلیدی آسامیوں سے برطرف کر دیں تا کہ سرور کائنات ﷺ کی خوشنودی کے علاوہ انگریزی سامراج کی ریشہ دوانیاں بھی ختم ہو جائیں۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۰۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

امید ہے کہ آپ بحیثیت دردمند مسلمان ہونے کے ان بنیادی امور کو نظر انداز نہ فرمائیں گے جو کہ ہماری تمام مشکلات اور دردوں کا مداوا ہیں اور پوری قوم کا یہ مطالبہ ہے۔

آپ کا خیر اندیش: (مولانا) عبدالحکیم خطیب ومہتمم جامعہ فرقانیہ مدنیہ وناظم عمومی ڈویژنل جمعیۃ العلماء اسلام راولپنڈی

(خدام الدین مؤرخہ ۲۱؍ مارچ ۱۹۶۹ء)

”حکومت پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی تعاون کے لئے ایک خاص کمیٹی قائم کی۔ جس کا سربراہ کٹر قادیانی بد بخت ایم۔ ایم احمد مقرر ہوا۔“

(امروز ملتان، مؤرخہ ۶؍ مئی ۱۹۶۹ء)

جناب لیفٹیننٹ جنرل اختر حسین ملک کی میت بہشتی مقبرہ میں دفن نہ ہو سکی

از: قرۃ العین ایم۔ اے (ربوہ)

کہا جاتا ہے کہ آج سے تقریباً ساٹھ سال قبل بانی جماعت احمدیہ نے خواب میں ایک ایسی جگہ دیکھی جہاں پر ان کی اور ان کے چند رفقاء کی قبریں دکھلائی گئیں اور یہ بتلایا گیا کہ جولوگ اس قطعہ زمین میں دفن ہوں گے وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک جنتی ہوں گے۔ اس خواب کی تعبیر اور تفاول کے طور پر بانی جماعت نے اپنے باغ سے ملحق جگہ پر قادیان میں ایک قطعہ زمین مخصوص کیا۔ جس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا اور اشاعت اسلام کے لئے زندگی بھر اپنی آمدنی کا دسواں حصہ ادا کرنے والے اور ترکہ میں سے دسویں حصہ کی ادائیگی کی وصیت کرنے والوں کو وہاں دفن کیا جاتا رہا۔ مگر اس میں بھی اپنے خاندان کا استثناء رکھا۔

۱۹۴۷ء میں جب پاکستان بن گیا اور قادیان بمعہ اس مقبرہ کے جماعت کے ہاتھوں سے چھن گیا اور لاکھوں روپیہ کی ماہوار آمدنی سے انہیں محروم ہونا پڑا تو خلیفہ صاحب ربوہ نے آمدنی کی اس یکلخت کمی کو بری طرح محسوس کیا اور اس آمدنی کو برقرار رکھنے کے لئے یہ منصوبہ بنایا کہ ربوہ کے مقام پر پہاڑوں کے دامن میں ایک قطعہ زمین مخصوص کر دیا اور جماعت کو یہ باور کرانا شروع کر دیا کہ پاکستان میں آجانے کے باوجود بھی (بہشتی مقبرہ) میں دفن ہونے کے نادر مواقع موجود ہیں اور آمدنی کے دسواں حصہ کی ادائیگی اور وصیت کے بعد اب بھی بہشتی مقبرہ کے دروازے کھلے ہیں اور جولوگ قادیان سے محرومی کے بعد وہاں دفن ہونے کے خیال سے ”یہاں“ دفن ہو جائیں گے تو وہ بھی جنتی تصور کئے جاویں گے۔ لہٰذا وہ دھڑا دھڑ اپنی آمدنی کا دسواں حصہ ربوہ میں جمع کروا کر جگہ مخصوص کروالیں۔ (جگہ بہت تھوڑی ہے۔ ختم ہونے سے پہلے جگہ ریزرو کروالیں۔ ورنہ مایوس ہونا پڑے گا) حکومت پاکستان کے لئے یہ امر ایک لمحہ فکریہ تھا کہ قادیان کا بہشتی مقبرہ ربوہ میں کیسے آگیا اور پھر کس طرح لوگوں کی عقیدت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر ناجائز آمدنی کے ذرائع پیدا کئے جارہے ہیں اور دوگز زمین کے عوض ہزار ہا روپیہ کی آمدنی پیدا کی جارہی ہے۔ اگر اس طریق پر بھارت میں واقع دوسری درسگاہوں سے عقیدت رکھنے والوں کی عقیدت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر پاکستان میں ان کے لئے متبادل قبرستان تیار کر کے بعض مجاور حضرات ذریعہ آمدن پیدا کریں اور دوگز زمین اتنے مہنگے داموں فروخت کرنے لگ پڑیں تو کیا اسے جائز تصور کیا جائے گا اور حکومت اس بات کی اجازت دینے کو تیار ہے؟

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com mtkn.com mtkn.com t. www.amtkn.com

صفحہ ۳۱۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لیفٹیننٹ جنرل اختر حسین ملک ”ہلال جرأت“ جو حال ہی میں ترکی میں ایک کار کے حادثہ میں انتقال کر گئے۔ ان کے متعلق ان کے عزیزوں نے فیصلہ کیا تھا کہ انہیں ان کے آبائی گاؤں پنڈوری میں دفن کیا جائے گا۔ مگر بعض مصالح کی بناء پر ربوہ سے حکم صادر ہوا کہ انہیں ربوہ میں دفن کیا جائے۔ لہذا ان کی میت پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ربوہ لائی گئی۔ ربوہ آ کر کار پردازانِ بہشتی مقبرہ نے یہ فیصلہ سنایا۔ چونکہ ملک صاحب اپنی آمدنی کا دسواں حصہ نہ دیتے رہے تھے اور نہ انہوں نے وصیت کی تھی۔ لہذا انہیں بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کا اہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ البتہ ان کی بیگم صاحبہ نے یہ شرائط پوری کی ہیں۔ لہذا انہیں دفن ہونے کی اجازت دی جاسکتی ہے اور ملک صاحب کو بہشتی مقبرہ کی چار دیواری سے باہر دفن کیا جاسکتا ہے۔ فوج کی نمائندگی کرنے والے اعلیٰ فوجی افسران نے کہا کہ ہمیں ان دونوں کو یکجا دفن کرنے کا حکم ہے۔ ہم انہیں علیحدہ علیحدہ دفن نہیں کر سکتے یا دونوں کو باہر دفن کیا جاوے۔ کیونکہ ہم نے دونوں کو ایک جگہ پہلو بہ پہلو دفن کر کے سلامی اتارنی ہے۔ سینٹ اور فوج کے نمائندگان نے یہ بھی کہا کہ ملک صاحب کو بھی چار دیواری کے اندر دفن کرنے کی اجازت دے دی جاوے۔ اگر زمین کے معاوضہ کے طور پر یا ان کے ذمہ کوئی واجبات ہوں تو ہم نقدی کی صورت میں اسی وقت ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔

اس پر جماعت کے سر براہ سے مری میں رابطہ قائم کیا گیا کہ ایسے موقع پر کیا کیا جاوے؟

وہاں سے حکم نافذ ہوا کہ ملک صاحب بہشتی مقبرہ میں دفن نہیں کئے جاسکتے۔ انہیں اور ان کی اہلیہ کو بہشتی مقبرہ کی چار دیواری سے باہر ہی دفن کر دیا جاوے۔ چنانچہ دونوں میتوں کو چار دیواری سے باہر دفن کر دیا گیا۔ حکومت سے استدعا ہے کہ وہ اس امر کی تحقیق کروائے کہ کیوں ایک لمبے عرصہ سے لوگوں کی اندھی عقیدت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر دو گز زمین کے عوض ہزاروں روپیہ کمایا جا رہا ہے۔ جنرل ملک صاحب کا جنازہ ربوہ لا کر ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا ہے۔ جماعت کے ایک سرکردہ رکن ملک غلام فرید ایم۔اے کی لڑکی ایک مرتبہ کار کے حادثہ میں ہلاک ہو گئی تھی تو خلیفہ صاحب نے کہہ دیا کہ اچانک حادثہ میں ہلاک ہو جانے والا شہید ہوتا ہے۔ لہذا بہشتی مقبرہ میں دفن کر دیا جاوے۔ حالانکہ جنرل اختر ملک بھی بعینہ اسی قسم کے حادثہ کا شکار ہوئے ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ کوئی کسی مخصوص قطعہ زمین میں دفن ہو کر بہشتی ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ اس قسم کے ناجائز کاروبار کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ اگر حکومت تھوڑی سی ہمت کرے تو پاکستان کے وجود میں آنے سے لے کر اب تک لاکھوں روپیہ کی آمدنی کا سراغ آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔ جو اس طریق پر لوگوں کی عقیدت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر کمایا گیا ہے۔“

(لولاک مؤرخہ ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء)

مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا محمد علی جالندھری کا بیان

مولانا محمد علی جالندھری نے ۳ ستمبر (۱۹۶۹ء) کو لاہور سے ڈھاکہ جاتے ہوئے کہا کہ قبلہ اوّل کے جانکاہ واقعہ کے بعد عالم اسلام کو متحد ہو جانا چاہئے اور انہیں کوئی ایسا ٹھوس پروگرام مرتب کرنا چاہئے کہ آئندہ ہونے والی نسل کو ایسی مذموم حرکت کی جسارت نہ ہو سکے اور گنبد خضریٰ اور بیت اللہ کے علاوہ پورا عالم اسلام بھی محفوظ ہو جائے۔ اس وقت سلامتی کونسل سے کسی قسم کی اپیل یا درخواست کرنا اصل معاملے کو معرض التواء میں ڈالنا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر اسلامی ملک میں اسلامی قانون نافذ ہو۔ نظامِ تعلیم صحیح بنیادوں پر استوار ہو۔ نوجوانوں کی فوجی تربیت دی جائے تاکہ دشمن کی اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جا سکے اور مسلمان دنیا میں باعزت زندگی بسر کر سکیں۔ آپ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۱۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نے فرمایا: علماء کرام اور سیاسی لیڈروں کو ریڈیو پر جہاد کے موضوع پر تقاریر کرنے کی اجازت حاصل ہونی چاہئے۔‘‘

(خدام الدین مؤرخہ ۱۹؍ستمبر ۱۹۶۹ء)

مولانا کا مشرقی پاکستان کا سفر جماعتی اعتبار سے بڑا ہی مبارک ثابت ہوا۔ مولانا کے شب و روز مختلف اہم شہروں میں بیانات ہوئے۔ ہفتہ وار ختم نبوت کراچی کے ایڈیٹر جناب عبدالرحمٰن یعقوب باوا ان دنوں مشرقی پاکستان میں مجلس کے کام کے نگران تھے۔ انہوں نے حضرت مرحوم کی تشریف آوری سے خوب فائدہ اٹھایا اور یوں مولانا کے سفر سے پورا مشرقی پاکستان قادیانی فتنہ کی زہرناکیوں کو بھانپ کر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اپنی جان کی قربانی تک پیش کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔

مولانا عبیداللہ انور کیس کی سماعت

مولانا عبیداللہ انور پر ڈی.ایس.پی شریف چیمہ نے لاٹھی چارج کرایا۔ مولانا زخمی ہو کر ہسپتال داخل ہو گئے۔ پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا۔ ملک کے تمام اہم اخبارات نے اس پر احتجاجی اداریے تحریر کئے۔ ۱۰؍جنوری کو آغا شورش کاشمیری نے آپ سے ہسپتال میں ملاقات کی۔ مولانا میاں عبد الہادی سجادہ نشین دین پور شریف ایسے معتدل رہنما مولانا انور کی خبر سن کر اپنے آنسو ضبط نہ کر سکے۔ صرف میاں صاحب نہیں پورا ملک اس پر اشکبار تھا۔ خدام الدین لاہور کی اشاعت ۱۱؍جولائی کے مطابق جسٹس شوکت علی ہائی کورٹ کے جج کی عدالت میں کیس کی سماعت ہوئی۔ استغاثہ کے گواہ ڈاکٹر ظہور الحق نے بتایا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ سجدہ کی حالت میں مجھ پر لاٹھیاں برسائی گئیں۔ قاضی سلیم ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ مولانا پر لاٹھیاں برسائی گئیں۔ ان کے پیٹ پر لاتیں ماری گئیں۔ جس سے وہ خون کی قے کرنے لگے۔ مگر پولیس کو پھر بھی رحم نہ آیا۔ ہائیکورٹ نے چیمہ کی درخواست مسترد کردی۔

۱۰؍جولائی کو مولانا نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے فرمایا کہ پولیس ایک فرلانگ تک مجھے گھسیٹتی ہوئی ٹرک میں سوار کرانے کے لئے لے گئی۔ ٹرک میں ایک سپاہی نے میری داڑھی نوچی اور دوسرے نے میری پشت پر لاتیں ماریں۔‘‘

(خدام الدین مؤرخہ ۱۸؍جولائی ۱۹۶۹ء)

۱۴؍اکتوبر ۱۹۶۹ء کو فاروق احمد فوٹوگرافر نوائے وقت نے عدالت کو بتایا کہ مجھے نماز کی حالت میں مارا گیا اور لاٹھیاں برسائی گئیں۔ ۲۱؍اکتوبر کو ڈی.ایس.پی (افضل) چیمہ نے عدالت میں مولانا عبیداللہ انور سے بلامشروط معافی طلب کی۔ اس پر مولانا نے اسے فوراً معاف کر کے اپنے اکابر کی یاد تازہ کر دی۔ اس پر خدام الدین نے ایک نوٹ لکھا ملاحظہ ہو:

مولانا عبیداللہ انور نے چند روز پہلے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جو ان جیسا ایک وسیع القلب عالم دین ہی انجام دے سکتا تھا۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ گزشتہ رمضان المبارک میں جمعۃ الوداع کی نماز کے بعد پولیس نے لاہور میں بعض ممتاز علماء کرام اور سیدھے سادھے نمازیوں کے ساتھ ایک قطعی نامناسب سلوک روا رکھا تھا۔ ان علماء میں مولانا عبیداللہ انور بھی شامل تھے۔ جن کے ساتھ جو سلوک ہوا اس کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ جب جھگڑا حتمی طور پر طے پا گیا ہو تو پرانے زخموں کو ہرا کرنا درست نہیں ہو گا۔ مولانا عبیداللہ انور نے پولیس کے اس طرزِ عمل کے خلاف ایک نہایت نیک اور مبارک مقصد کے تحت مقدمہ دائر کر دیا۔ مگر جب متعلقہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس نے مولانا سے

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۱۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

معافی مانگ لی تو مولانا نے ایک سچے اور کھرے مسلمان کی طرح کمال فراخ دلی سے کام لے کر صحیح معنوں میں ایک عالم دین کا کردار ادا کیا اور افسر مذکور کی معذرت قبول کر لی۔ بظاہر یہ ایک معمولی سی بات ہے کہ عدالتوں میں مقدمات کے دوران معافی اور درگزر کے واقعات ہوتے ہی رہتے ہیں۔ مگر اس واقعہ کو بڑا واقعہ اس حقیقت نے بنایا ہے کہ مولانا عبید اللہ انور یہ مقدمہ کسی ذاتی انتقامی جذبے کے تحت نہیں لڑ رہے تھے بلکہ اصولی طور پر لڑ رہے تھے اور یہ اتنا اہم اصول تھا۔ اگر یہ اصول پامال ہو جائے تو تمام بنیادی شہری حقوق کا جنازہ نکل جائے اور ایک آزاد جمہوریہ ایک پولیس اسٹیٹ میں بدل جائے۔ پھر یہ مولانا عبید اللہ انور کی محترم شخصیت کا مسئلہ تھا۔ اوّل تو وہ بذات خود ایک متبحر عالم دین ہیں۔ دوسرے وہ حضرت مولانا احمد علی کے صاحبزادے ہیں جن کے معتقدین کی تعداد کروڑوں تک پہنچتی ہے۔ قرونِ اولیٰ میں مسلمانوں کا یہی طرزِ عمل تھا جس سے بیگانے بھی متاثر ہوئے۔ مولانا عبید اللہ انور نے بھی معذرت قبول کر کے ثابت کر دیا ہے کہ مسلمان جس رحمۃ للعالمین ﷺ کے غلام ہیں۔ اس کے درسِ حیات کا ایک اہم عنوان رحمت، محبت اور سلامتی تھا۔ خدا کا شکر بجالانا چاہئے کہ آج بھی ہم لوگوں میں ایسی شخصیتیں موجود ہیں۔ جن کے حسن کردار کو دیکھ کر زندہ رہنے کو جی چاہتا ہے۔‘‘

(خدام الدین مؤرخہ ۱۴؍ نومبر ۱۹۶۹ء)

آغا شورش کی رہائی

ہائیکورٹ میں ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کی توہین کی۔ یہ ایوب خان کی آمریت کے زوال کا باعث بنا۔ آغا شورش نے بھوک ہڑتال کر دی۔ پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا۔ راقم الحروف کو یاد ہے کہ مولانا محمد علی جالندھری، مولانا مفتی محمود نے ملتان میں ہڑتال کرائی اور جلوس کی قیادت کی۔ سارے ملک کا یہی حال تھا۔ جمعیۃ علماء اسلام کے سٹیج سے گرفتاری تھی اور تھی عقیدۂ ختم نبوت کے سلسلہ میں۔ چنانچہ جمعیۃ علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت نے شورش کیس کو پورے ملک میں سراپا تحریک بنا دیا۔ ۲۲ دن کی بھوک ہڑتال کے بعد ۲۵؍ دسمبر ۱۹۶۹ء کی شام کو آغا شورش رہا کر دیئے گئے۔ طبیعت سنبھلنے پر آپ نے سفر کیا۔ کراچی سے لاہور تک والہانہ استقبال ہوا۔ خان پور اسٹیشن پر میاں عبد الہادی سجادہ نشین نے آپ کو خوش آمدید کہا اور مولانا مفتی محمود نے ملتان اسٹیشن پر آغا صاحب کا استقبال کیا۔ غرضیکہ پوری دینی قیادت نے ایک ہی دن میں کراچی سے لاہور تک قادیانیت نوازی کے خلاف اپنے ردِّ عمل کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ آغا صاحب نے بعد میں پورے ملک کا دورہ کیا اور یوں پورے ملک میں فتنہ قادیانیت کے خلاف ایک لہر اٹھی جس نے اسلامیانِ پاکستان کو ایک دفعہ پھر قادیانیت کے خلاف بیدار کر دیا ہے۔

استاذ العلماء حضرت مولانا سید محمد انور شاہ قدس سرہ العزیز فرمایا کرتے تھے کہ: ’’مسیلمہ کذاب و مسیلمہ ہند کا کفر فرعون کے کفر سے بڑھ کر ہے۔ اس لئے کہ فرعون مدعی الوہیت تھا اور الوہیت میں کوئی التباس و اشتباہ نہیں۔ ادنیٰ عقل والا بھی سمجھ سکتا ہے کہ جو شخص کھاتا پیتا، سوتا اور جاگتا ہے اور ضروریات انسانی میں مبتلا ہے۔ وہ خدا کہاں ہو سکتا ہے۔ مسیلمہ مدعی نبوت تھا اور انبیاء کرام جنس بشر سے تھے۔ اس لئے ظاہری بشریت کے اعتبار سے سچے نبی اور جھوٹے نبی میں التباس ہو سکتا ہے۔ اس لئے مدعی نبوت کا فتنہ مدعی الوہیت کے فتنہ سے کہیں اہم اور اعظم ہے اور ہر زمانہ میں خلفاء اور سلاطین اسلام کا یہی معمول رہا کہ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ اسی وقت اس کا سر قلم کر دیا۔‘‘

امام اعظم حضرت مولانا ابو حنیفہ کے زمانہ میں کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اپنی نبوت پر دلائل پیش کرنے کے لئے مہلت مانگی

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۱۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تو حضرت امام اعظم نے فتویٰ دیا کہ جو شخص اس کی نبوت کی دلیل طلب کرے گا۔ وہ کافر ہے۔ اس لئے کہ وہ ارشاد نبوی ”لا نبی بعدی“ کا منکر اور مکذب ہے۔

مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۸۸ھ، مطابق اپریل ۱۹۶۸ء تا ۱۹۶۹ء

”عقیدہ ختم نبوت کی طرح نزول حضرت مسیح علیہ السلام پر امت محمدیہ کا اجماع ہے۔ امت مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اپنے جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔ زندہ ہیں قیامت کے قریب دوبارہ اس دنیا میں نازل ہوں گے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول سے قبل جب دنیا سے عدل وانصاف اٹھ جائے گا اور یہ دنیا ظلم وجور سے بھر جائے گی تو حسب فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی آل پاک میں سے ایک شخص پیدا ہوگا۔ جن کا نام ”محمد“ ہوگا۔ باپ کا نام عبداللہ ہوگا۔ دمشق کی جامع مسجد میں نماز فجر کی امامت کے لئے تیار ہوں گے کہ جامع مسجد کے مشرقی مینار کے پاس حضرت مسیح علیہ السلام دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔ زرد رنگ کی دو چادریں زیب تن ہوں گی۔ سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے۔ گویا کہ غسل فرما کر حمام سے نکلے ہیں۔ امام صاحب احتراماً امامت کے مصلےٰ سے الگ ہو جائیں گے تو اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے کہ مجھے آپ ہی کی اقتداء میں نماز ادا کرنا ہے۔ اس طرح حضرت مسیح علیہ السلام امام مہدی کی اقتداء میں دمشق کی جامع مسجد میں نماز فجر ادا کریں گے۔

ارشاد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ان کا نام عیسیٰ علیہ السلام ہوگا۔ مریم کے بیٹے ہوں گے۔ لقب ”مسیح“ ہوگا۔ غرضیکہ وہی ہوں گے جو آج سے دو ہزار برس قبل زمین سے اٹھائے گئے تھے۔ نزول کے بعد چالیس برس اس خطہ اراضی پر قیام فرمائیں گے۔ نکاح کریں گے۔ اولاد پیدا ہوگی۔ صلیب توڑیں گے۔ خنزیر خطہ اراضی سے ختم ہو جائے گا۔ دجال سے مقابلہ کریں گے جسے لد کے مقام پر قتل کر دیں گے۔ تمام دنیا مسلمان ہو جائے گی۔ دنیا عدل وانصاف کا گہوارہ بن جائے گی۔ حج کریں گے۔ روضہ اقدس علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام پر حاضری دیں گے۔ صلوٰۃ والسلام عرض کریں گے۔ روضہ اطہر سے سلام کا جواب ملے گا۔

افسوس! آج عقائد باطلہ کا دور دورہ ہے۔ اجراء نبوت کی بحث ہے۔ مدعی نبوت پر کوئی پابندی نہیں۔ مثیل مسیح کے دعوے ہیں نہ حج ہے، نہ دمشق کے مشرقی مینارہ قریب نزول نہ قتل دجال نہ روضہ اطہر پر حاضری نہ صلوٰۃ وسلام، ہندی نژاد یہیں کی بود و باش یہیں کا انجام لیکن امت ہے کہ شور سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ یہ نبی ہیں یہ ظلی نبی ہیں۔ یہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کامل ہیں۔ یہی امام مہدی ہیں۔ یہی مسیح علیہ السلام ہیں۔ مینارہ جو ان کے آنے کے بعد تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ وہی دمشق کی جامع مسجد کا شرقی مینارہ ہے۔ نعوذ باللہ من ذلک! اللہ پاک فرمان مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان واعتقاد کو مضبوط رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

سابق سندھ کے علاقہ میں ایک بدباطن مرتد نے محبوب رب العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کی ایک غیرت مند مسلمان سرکار یثرب صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ توہین برداشت نہ کر سکا اور اس مرتد کو قتل کر دیا۔ جماعت نے اس غیرت مند مسلمان کی مقدمہ میں امداد کی اس کے ورثاء کی خبر گیری کی۔ ۲۳ محرم ۱۳۸۸ھ جناب سیشن جج صاحب خیر پور میرس کی عدالت سے موصوف کو تین سال قید بامشقت کی سزا ہوئی اور موصوف کے مذہبی تقدس اور دنیاوی وجاہت کے پیش نظر بی کلاس تجویز ہوئی۔ موصوف سکھر جیل میں شب بیداری، تلاوت کلام پاک اور ذکر الہی کے ساتھ سکون واطمینان کی جیل کی زندگی پوری کر رہے ہیں۔ جماعت ان کے خردسال بچوں کی طرف سے بے خبر نہیں۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۱۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اجلاس میں ایوبی حکومت کی ایک خاص فرقہ پر بے جا رعایتوں کا نوٹس لیا اور الحمد للہ کے عنوان کے تحت اپنے ہفت روزہ چٹان میں غیر مضر چند سطور سر قلم فرمائیں جن کے باعث ہفت روزہ چٹان ضبط۔ ڈیکلریشن منسوخ اور آغا صاحب کو ایوبی حکومت نے پابند سلاسل کر دیا۔ جیل میں اس مرد مجاہد کو طرح طرح کی عقوبتیں دی گئیں۔ اپنا کھانا کھانے کی اجازت نہ دی گئی اور غیر معتمد کھانا کھانے پر مجبور کیا گیا۔ جس پر آغا صاحب نے غیر معین عرصہ کے لئے بھوک ہڑتال کر دی۔ جس کی وجہ سے پورے ملک کے عوام میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ کئی ہفتے مسلسل خوراک بند رہنے کے باعث ذیابیطس اور خفقان قلب کا یہ مریض اور جان نثار ختم نبوت ، موت کے دروازے پر پہنچ گیا۔ ایوبی حکومت نے ان کی موت کی ذمہ داری قبول نہ کرنے کی وجہ سے انہیں رہا کر دیا۔ مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت اور اس کے رہنماؤں نے آغا صاحب کی گرفتاری کے دوران اور ان کی رہائی کے وقت مکمل ساتھ دیا۔ ختم نبوت کے سلسلہ میں ایوبی حکومت کا یہ قبیح فعل اور ایک خاص فرقہ کے ساتھ ناجائز مراعات ان کے خلاف عظیم تحریک کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔

سراج الدین کراچی ، مولانا عبدالغفور غفاری لاہور ، مولانا اللہ وسایا لائل پور ، مولانا سید ممتاز الحسن لائل پور اور ایک کو حیدرآباد متعین کیا گیا۔

فرمایا۔ حضرت فاتح قادیان نے ملتان دفتر کے علاوہ سجاول ضلع ٹھٹھہ ، بہاول پور ، لاہور ، گوجرانوالہ ، لائل پور وغیرہ شہروں میں قیام فرما کر تبلیغ دین کے لئے بہت سے حضرات کو تیار کیا۔

مرکزی نے ماتحت جماعتوں کی مالی امداد کے علاوہ بہاول پور اور جیکب آباد میں مدارس عربیہ کی امداد کے لئے خطیر رقم عطاء کی۔

”۱۹۷۰ء ہمارے ملک کی تاریخ میں کئی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے۔“

(مقدمہ روئیداد ۱۳۸۸ھ)

۱۹۷۰ء میں عام الیکشن ہوئے۔ ملک بھر کی جماعتوں نے الیکشن میں حصہ لیا۔ اس الیکشن میں قادیانی جماعت نے جماعتی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا اور چند ایک اپنے صوبائی ممبر کامیاب کرائے۔ کل چودہ مقامات پر مرزائی الیکشن میں کھڑے ہوئے۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھری نے جماعتی رفقاء کی میٹنگ طلب کی اور پھر تمام مبلغین حضرات کو ان حلقوں میں تبلیغ اسلام کے لئے بھیج دیا۔ اللہ رب العزت نے فضل فرمایا کہ سوائے تین مقامات ، راجہ منور چکوال ، اعظم گھمن سمبڑیال اور بشیر انور مانانوالہ یا شیخوپورہ کے علاقہ باقی ہر جگہ قادیانیوں کی ضمانتیں ضبط ہو گئیں۔

الیکشن میں جمعیۃ علماء اسلام نے باضابطہ اپنے دستور میں اعلان کیا تھا کہ وہ قادیانیوں کو اسمبلیوں میں غیر مسلم اقلیت قرار دلوائے گی۔ الیکشن کے بعد مجلس نے فوری طور پر ایسا لٹریچر تیار کیا جو ممبران اسمبلی میں تقسیم کیا جاسکے۔ اس کی تفصیلات میں اس وقت جانے کی ضرورت نہیں۔ اس طرح مشرقی پاکستان کے ممبران سے رابطہ کے لئے ایک وفد ترتیب دیا گیا۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۱۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جیمس آباد عدالت کا فیصلہ

۱۳؍ جولائی ۱۹۷۰ء کو الیکشن کے زمانہ میں جیمس آباد کی فیملی کورٹ کے جج مسٹر محمد رفیق کوریجہ نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیتے ہوئے مسلمان عورت سے قادیانی نکاح فسخ کر دیا۔ مرزائی دامے درمے قدمے سخنے پیپلز پارٹی کے ساتھ اور پیپلز پارٹی کے گڑھ سندھ میں ان کے خلاف یہ فیصلہ قدرت کی طرف سے ایک تازیانہ تھا۔ لندن تک کے اخبارات نے اس فیصلہ کو اپنے اخبارات میں جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا۔ ہمارے ملک کے تقریباً ہر قومی اخبار نے بالاقساط اس کا ترجمہ شائع کیا۔ قادیانی پریس اس پر بہت سٹپٹایا۔ دینی حلقوں نے اس فیصلہ کو اپنے لئے نیک فال قرار دیا۔ ۶؍ اکتوبر ۱۹۷۰ء کو مولانا محمد علی جالندھری نے جناب محمد عثمان ایڈووکیٹ کو جنہوں نے اس کیس کی پیروی کی تھی۔ ان کو دفتر مرکزیہ ملتان میں استقبالیہ دیا۔ رات کو ان کے اعزاز میں قلعہ قاسم باغ پر ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔

ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ ۱۹۶۹ء

۲۷؍ دسمبر قبل از دوپہر آپ نے فرمایا کہ ملک اس وقت ایک نازک مرحلہ میں ہے۔ قوم کو شدید معاشی، سیاسی اور سماجی مسائل درپیش ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے قوم کو متحد ہو جانا چاہئے۔ مولانا نے فرمایا کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ آج اس ملک میں غیر ملکی اور غیر اسلامی نظریات کی اشاعت، اسلام کے نام پر ہو رہی ہے۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ صحیح اسلامی نظریہ پر ڈٹے رہیں اور تمام غیر ملکی اور غیر اسلامی نظریات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔

آپ نے فرمایا کہ اس ملک کا استحکام عقیدہ ختم نبوت کے ساتھ وابستہ ہے۔ جب تک عقیدہ ختم نبوت کو آئین کی بنیاد نہیں بنا دیا جاتا۔ اس وقت تک ملک سے یہ انتشار اور افراتفری ختم نہیں ہو سکتی۔ امیر مرکزیہ کی افتتاحی تقریر کے بعد استاد المبلغین مولانا محمد حیات فاتح قادیان نے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر ایک مفصل اور جامع خطاب فرمایا۔ آپ نے قادیانیوں کی طرف سے اس سلسلہ میں کئے گئے اعتراضات کا مدلل جواب دیا اور مسلمانوں پر واضح کیا کہ قادیانی جب بھی کسی مسلمان کے ایمان کو نقب لگائیں گے تو ان کا پہلا مسئلہ حیات اور ممات عیسیٰ علیہ السلام ہوگا۔ اس لئے مسلمانوں کو کتاب وسنت اور اجماع امت کی روشنی میں اس عقیدہ کا اچھی طرح علم ہونا چاہئے۔

دوسرا اجلاس

۲۷؍ دسمبر بعد نماز ظہر کانفرنس کے دوسرے اجتماع میں جمعیۃ اہل حدیث کے مقتدر رہنما مولانا محمد صدیق خطیب جامع اہل حدیث لائل پور نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔ ختم نبوت کے خلاف ایک خاص قسم کا شیطانی پروگرام شروع ہی سے چلا آ رہا ہے۔ حضور ﷺ کے بعد مختلف زمانوں میں کذاب پیدا ہوتے رہے۔ انہوں نے نبوت کے دعوے کئے۔ مگر متنبی ہند نے تو کمال ہی کر دیا۔ اپنے آپ کو مسیح ثابت کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دیں۔ من گھڑت قصے بنائے۔ حضور سرور کائنات ﷺ، صحابہ کرام ؓ اور اہل بیت اطہار ؓ کی توہین کی، الہام کا دعویٰ کیا۔ اپنے آپ کو نبی ثابت کرنے کے لئے مسجد اقصیٰ ............ کے مقابلہ میں اقصیٰ نامی عبادتگاہ، صحابہ کے مقابلہ میں صحابہ اور اہل بیت کے مقابلہ میں اہل بیت بنائے۔ اپنی بیوی کو ام المؤمنین اور سیدۃ النساء کہا۔ جنت البقیع کے مقابلے میں جنت البقیع بنایا۔ غرضیکہ اسلام اور اصطلاحات اسلام کی مقدور بھر تذلیل اور توہین کی۔ مولانا نے کتابوں کے حوالوں سے ان کی تمام کفریات کو بیان کیا اور مسلمانوں کو ان سے ایمان بچانے کی اپیل کی۔ مولانا محمد صدیق صاحب سے پہلے مجلس تحفظ ختم نبوت کے مشہور رہنما اور حلقہ بہاول پور کے مبلغ مولانا غلام محمد صاحب کی مسئلہ ختم نبوت پر ایک جامع اور مدلل تقریر ہوئی۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۱۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تیسرا اجلاس

۲۷؍ دسمبر بعد از نماز عشاء کانفرنس کا تیسرا اجتماع زیر صدارت مولانا حیدر زماں خطیب شاہی مسجد چنیوٹ منعقد ہوا۔ جمعیۃ علمائے پاکستان کے نائب صدر اور مشہور بریلوی عالم دین صاحبزادہ سید افتخار الحسن شاہ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مولانا محمد علی جالندھری امیر مرکزیہ مجلس ختم نبوت پاکستان اور اسلامیان چنیوٹ مبارک باد کے مستحق ہیں کہ عین اس وقت جب غداران ختم نبوت کا ربوہ میں اجتماع ہو رہا ہے انہوں نے چنیوٹ میں اہل حق کو اکٹھا کیا ہے۔ آپ نے کہا کہ میں بحیثیت بریلوی ہونے کے حضرت مولانا محمد علی صاحب کو یقین دلاتا ہوں کہ مسئلہ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے وہ جو قدم بھی اٹھائیں گے میں اور میری جماعت ان کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرنے کو تیار ہوں گے۔ میں یہ اعلان کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ آئندہ الیکشن ختم نبوت کی بنیاد پر ہوگا اور جو نمائندہ عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے گا اسے ووٹ نہیں دیا جائے گا۔ مسئلہ جہاد کا ذکر کرتے ہوئے صاحبزادہ نے کہا کہ جہاد ایک ابدی چیز ہے جو شخص جہاد کا انکار کرتا ہے وہ گویا کہ غلامی کی زنجیروں کو اور زیادہ مضبوط کرتا ہے۔ مرزا قادیانی نے محض انگریزوں کے اقتدار کو مضبوط اور دیر پا کرنے کے لئے جہاد کے حرام ہونے کا اعلان کیا۔ آپ نے پرجوش لہجہ میں فرمایا کہ نبی وہ ہوتا ہے جو میدان میں تلوار لے کر نکلے۔ نبی وہ نہیں ہوتا جو تلوار اٹھانے کی مخالفت کرے۔

صاحبزادہ صاحب نے عوام سے اپیل کی کہ آپ کو صدر یحییٰ خان کی مہربانی سے ایک دفعہ پھر ووٹ دینے کا ایک موقعہ مل رہا ہے۔ اگر آپ نے سوچ سمجھ کر اس حق کو استعمال نہ کیا تو ہماری مصیبتوں کا خاتمہ کبھی نہیں ہوگا۔ صاحبزادہ سے قبل مولانا نذیر احمد مجلس تحفظ ختم نبوت نے کذب مرزا قادیانی پر تقریر کی۔

چوتھا اجلاس

۲۸؍ دسمبر قبل از ظہر حضرت امیر شریعت کے دیرینہ رفیق اور خادم خاص حضرت مولانا عبد الرحمن میانوی نے ایک رقت انگیز تقریر کی۔ مولانا نے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی سوانح زندگی پر سیر حاصل تبصرہ کرتے ہوئے تحفظ ختم نبوت اور رد قادیانیت کے سلسلہ میں ان کی عظیم الشان خدمات بیان کیں۔ مولانا کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کے مشہور مبلغ اور واعظ خوش بیان مولانا بشیر احمد اختر نے اپنے مخصوص لہجہ میں اسوۂ نبوی پر ایک مفصل تقریر کی۔ آپ نے فرمایا کہ اگر دنیا والے دنیا میں امن کے متلاشی ہیں تو انہیں امن کی بھیک حضور سرور کائنات ﷺ کے دروازہ سے ہی مل سکتی ہے۔ اس اجلاس سے مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے مبلغ مولانا عبد الحفیظ اور ڈیرہ غازی خان کے مبلغ مولانا صوفی اللہ وسایا نے خطاب کیا۔

پانچواں اجلاس

۲۸؍ دسمبر بعد نماز ظہر کانفرنس کے پانچویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا حبیب اللہ فاضل جالندھری نے فرمایا کہ آج کل ملک میں اشتراکیت کی مخالفت زوروں پر ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اشتراکیت کی مخالفت ضرور ہونی چاہئے۔ لیکن اشتراکیت سے بڑھ کر قادیانیت کا فتنہ ہے۔ اشتراکیت کی بنیاد لادینیت پر ہے اور قادیانیت کی بنیاد ارتداد پر ہے۔ مولانا نے کہا کہ اہل حق کا فرض ہے کہ دونوں کو باطل سمجھ کر ان کی مخالفت کی جائے۔ میں ذمہ داری سے اعلان کرتا ہوں کہ جس طرح قادیانیوں کو کھلے بندوں اجتماعات کرنے اور لٹریچر تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اسی طرح ہم اشتراکیوں کو بھی کھلے بندوں اشتراکیت کی تبلیغ نہیں کرنے دیں گے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۱۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا ہمدانی

مجلس تحفظ ختم نبوت کے مشہور رہنما مولانا سید محمد اشرف ہمدانی نے فرمایا: ختم نبوت پر ہزاروں دلائل ہیں۔ لیکن ہم بغیر کسی دلیل کے حضور ﷺ کی ختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم اس ملک کے وفادار ہیں اور اس ملک میں کسی جعلی نبوت کے کاروبار کو نہیں چلنے دیں گے۔

مولانا نیاز احمد شاہ

ملک کے مشہور عالم دین اور جمعیۃ العلمائے اسلام ملتان ڈویژن کے صدر مولانا سید نیاز احمد شاہ نے تجویز پیش کی کہ آنے والے انتخابات مسئلہ ختم نبوت کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ آپ نے ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت شیدایان ختم نبوت نے اپنا خون اس لئے بہایا تھا کہ منکرین ختم نبوت کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ لیکن ابھی تک یہ مطالبہ پورا نہیں ہوسکا۔ ہمارا فرض ہے کہ اس مطالبہ کے لئے پرامن جدوجہد جاری رکھیں۔

چھٹا اجلاس

۲۸؍ دسمبر ۱۹۶۹ء بعد از نماز عشاء کانفرنس کا چھٹا اجتماع زیر صدارت ڈاکٹر علی محمد صاحب منعقد ہوا۔ اس اجتماع سے مولانا تاج محمود مدیر لولاک، مجاہد اوّل سردار عبدالقیوم خان، مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا اللہ وسایا اور خطیب ملت مولانا ضیاء القاسمی نے خطاب کیا۔ مولانا تاج محمود، سردار عبدالقیوم خان اور مولانا ضیاء القاسمی نے اپنی مفصل اور پرجوش تقریر میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ آپ نے فرمایا حضرت شاہ صاحب تحریک ختم نبوت کے بانی تھے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت آپ کی آخری یادگار ہے۔ مولانا نے کہا کہ افسوس ہے کہ کسی برسر اقتدار جماعت نے آج تک قادیانی مسئلہ کو حل نہیں کیا۔ آپ نے حکومت سے اسلام دشمن قوتوں کے محاسبہ کی اپیل کی۔ مولانا نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ملک میں ہر مکتب فکر کے لوگوں کو تحریر و تقریر اور اپنے عقائد و نظریات کی آزادی اس طرح دی جائے کہ کسی دوسرے عقیدہ کے افراد کی دل آزاری نہ ہو۔

ساتواں اجلاس

۲۹؍ دسمبر ۱۹۶۹ء ۱۰ بجے قبل دوپہر کے اجلاس میں حضرت خواجہ قمر الدین صاحب سجادہ نشین سیال شریف کی عالمانہ اور بصیرت افروز تقریر ہوئی۔ حضرت سیالوی کے ہزاروں مرید اجتماع میں شریک تھے۔ مولانا محمد علی جالندھری امیر مرکزیہ نے حضرت کا خیر مقدم کیا اور فرمایا کہ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ کے بعد میں اپنے آپ کو یتیم سمجھنے لگا ہوں۔ آج خواجہ سیالوی کی ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر آنے سے میری بڑی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ میں آپ کو حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی جگہ اپنا سرپرست اور بزرگ خیال کرتا ہوں۔ مولانا تاج محمود مدیر لولاک نے حضرت خواجہ سیالوی کا خیر مقدم کرتے ہوئے پیر صاحب کو یقین دلایا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا سٹیج سیاسی آلودگیوں سے مبرّا ہے۔ ہم اس اسٹیج کو تمام مسلمانوں کی امانت سمجھتے ہیں۔ یہ سٹیج کسی خاص فرقہ کے لوگوں کا سٹیج نہیں ہے۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۱۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا نے خواجہ سیالوی کو یاد دلایا کہ آپ کے آستانہ سیال شریف کے ایک فیض یافتہ بزرگ حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب نے تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں شاندار خدمات سرانجام دی تھیں۔ آپ حرمین شریفین کی زیارت کے لئے گئے ہوئے تھے۔ آپ کا ارادہ مدینہ طیبہ رہائش اختیار کرنے کا تھا۔ لیکن حضرت مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے آپ کو وہاں حکم دیا تھا کہ آپ واپس ہندوستان تشریف لے جائیں۔ وہاں ایک فتنہ اٹھنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ سے دین کی خدمت لیں گے۔ حضرت گولڑوی نے فرمایا کہ بعد میں مجھے یقین ہوا کہ وہ فتنہ، فتنہ قادیان تھا اور اللہ تعالیٰ نے اس فتنہ کے سلسلہ میں حضرت سے عظیم کام لیا۔ مولانا نے اس موقعہ پر حضرت مولانا سید ابوالحسنات مرحوم کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور حضرت خواجہ سیالوی سے درخواست کی کہ وہ اب مولانا ابوالحسنات کی طرح آگے بڑھیں۔ حضور کی ختم نبوت کا پرچم اپنے ہاتھ میں لیں۔ ہم آپ کے رضا کار کی حیثیت سے کام کریں گے اور ان شاء اللہ آپ کے چشم و آبرو کے اشارے پر ختم نبوت کے لئے اپنی جانیں قربان کردیں گے۔

خواجہ سیالوی

حضرت خواجہ سیالوی نے قرآن مجید و احادیث نبویہ سے ثابت کیا کہ حضور آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ آپ نے حضور ﷺ کی ایک صحیح حدیث پاک کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ: ”حضور نے فرمایا تھا کہ مشرق سے ایک فتنہ اٹھے گا۔ جو ”لا رباط ولا جہاد“ کا نعرہ لگائے گا۔“ یعنی حرمت جہاد کا اعلان کرے گا۔ آج ہم جس فتنہ کے لئے جمع ہوئے ہیں اس حدیث پاک کا مصداق بھی وہی ہے۔ کیونکہ مرزا غلام احمد نے جہاد کی حرمت کا اعلان کیا تھا۔ آپ نے فرمایا جہاد وسعت دین کا وسیلہ ہے۔ دین محمدی کا عین رکن ہے۔ جو شخص یا فرقہ جہاد کا مخالف ہے وہ قرآن وسنت کی رو سے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں نہ تو دیوبندی ہوں اور نہ میرا تعلق احرار اور مسلم لیگ سے ہے۔ لیکن میں تحفظ ختم نبوت کے لئے ہر ممکن تعاون کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اس اجلاس میں پیر صاحب کے بعد حضرت مولانا محمد شریف بہاول پوری مرکزی مبلغ مجلس ختم نبوت نے مقام صحابہ ؓ پر ایک پراثر تقریر ارشاد فرمائی۔

آپ کے بعد قاضی اللہ یار صاحب مرکزی مبلغ مجلس ختم نبوت نے اصلاح معاشرہ پر مفید ترین خطاب کیا۔ آپ کے بعد مرکزی جماعت کے ناظم اعلیٰ مولانا عبدالرحیم نے تاریخ مرزائیت بیان کی اور اس تحریک کا سیاسی پس منظر پیش کیا۔ آپ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی تبلیغی سرگرمیوں سے حاضرین کو آگاہ کیا اور مولانا لال حسین اختر جو اس وقت انگلستان میں مجلس کی طرف سے فریضہ تبلیغ ادا کر رہے ہیں، کی کارکردگی کے متعلق تفصیلات مہیا کیں۔

آٹھواں اجلاس

۲۹؍دسمبر بعد از ظہر کانفرنس کے آٹھویں اجلاس میں مشہور شیعہ رہنما مولانا سید مظفر علی شمسی مرحوم نے ایک ولولہ انگیز تقریر ارشاد فرمائی:

شمسی صاحب نے حضرت مولانا امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو خراج عقیدت پیش کیا۔ آپ نے مولانا محمد علی جالندھری کو اپنے فرقہ کی طرف سے تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا۔ آپ نے فرمایا کہ قادیانی سمجھ رہے تھے کہ حضرت شاہ صاحب کے بعد ختم نبوت کا پرچم شاید سرنگوں ہو جائے گا۔ لیکن ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہم ان کی روحانی اولاد اب بھی موجود ہیں۔ ہم

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۱۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ختم نبوت پر مرنا اپنے لئے زندگی سمجھتے ہیں۔ آپ نے مطالبہ کیا کہ جو لوگ عقیدہ ختم نبوت کے منکرین ہیں انہیں پاکستان میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ آخر میں مولانا محمد علی جالندھری نے شمسی صاحب کا کانفرنس میں شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

نواں اجلاس

۲۹؍دسمبر کانفرنس کا آخری اور نواں اجلاس چنیوٹ کے مشہور رہنما ڈاکٹر محمد اسماعیل کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جمعیۃ العلمائے اسلام کے مشہور رہنما حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی نے اس عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کے سلسلہ میں حضرت مولانا محمد علی جالندھری ہم سب کی طرف سے ایک اہم فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ ہم ان کے شکر گزار ہیں اور ان کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ تحفظ ختم نبوت کے لئے جو فیصلہ فرمائیں گے، جمعیۃ العلمائے اسلام کے ہزاروں رضا کار اور علماء آپ کے ساتھ ہوں گے۔ آپ نے بڑے دکھ کے ساتھ فرمایا کہ مرزائیوں نے دین کو کھیل بنا دیا ہے۔ آپ نے مرزائیوں کے اس عقیدہ پر زبردست تنقید کی کہ نبوت بھی ولایت کی طرح کسبی ہوتی ہے۔ آپ نے اعلان کیا کہ نبوت کا تعلق کسب سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے اسے اس درجہ بلند پر فائز فرماتے ہیں۔ حضرت مولانا غلام غوث نے مرزائیوں کی سیاسی سرگرمیوں پر کڑی نکتہ چینی کی۔ آپ نے صدر یحییٰ خان کو مبارک باد پیش کی کہ انہوں نے ۳۰۳ بڑے چغادری افسروں کو نکالا ہے۔ آپ نے فرمایا ان ۳۰۳ میں راولپنڈی کا سابق ڈپٹی کمشنر میجر اشرف مرزائی بھی تھا اور انہی ۳۰۳ میں ہزارے کا سابق ڈپٹی کمشنر عبدالسلام مرزائی بھی تھا۔ ان دونوں نے مجھے ایک سال تک جھوٹے مقدموں میں پھنسا کر عدالتوں میں خراب کرنے کی کوششیں کیں۔ الحمدللہ! آج میں سلامت ہوں۔ لیکن یہ گئے اور اپنے انجام کو پہنچ گئے۔

بریگیڈیئر گلزار احمد

مولانا کے بعد ملک کے مایہ ناز مجاہد اور صاحب طرز ادیب دفاع پاکستان اور تذکرہ افریقہ کے مصنف جناب بریگیڈیئر گلزار احمد نے اس آخری اجتماع سے خطاب کیا۔ آپ نے مسئلہ جہاد پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ جہاد سنت نبوی کی وہ مثال ہے جس کی نظیر اور کسی مذہب میں نہیں ملتی۔ جہاد عظمت دین، وسعت دین محمدی ﷺ کے لئے اور اسی طرح مظلوموں کی امداد کے لئے فرض کیا گیا ہے۔ جہاد کی فرضیت میں عرب وعجم کی کوئی تفریق نہیں۔ کسی قوم اور ملک کی حدود جہاد کی فرضیت میں مانع اور رکاوٹ نہیں ہیں۔ قبلہ اوّل کی بے حرمتی ہوئی تو جس طرح عرب پر جہاد فرض ہوا اسی طرح دنیا کے تمام مسلمانوں پر جہاد فرض ہو گیا۔ آج مسلمانوں کا قبلہ اوّل یہود ملعون کے قبضہ میں ہے۔ لیکن مسلمان جہاد کا اعلان نہیں کر سکے۔ مجھے خطرہ ہے کہ اگر صہیونیت کے فتنہ کو جہاد کے ذریعہ نہ کچلا گیا اور قوم جہاد سے غافل رہی تو جس طرح ان کے قبضہ سے قبلہ اول چلا گیا ہے۔ کہیں ان کے قبضہ سے خاکم بدہن کعبہ بھی نہ چلا جائے۔ آج مسلمان فریضہ جہاد کو ادا نہ کرتے ہوئے جس طرح قبلہ اوّل کو دشمنوں سے آزاد نہیں کرا سکے۔ ڈر ہے کہ وہ قبلہ دوم کی بھی حفاظت نہیں کرسکیں گے۔

بریگیڈیئر صاحب نے مسلمانوں پر زور دیا کہ اتحاد اسلامی کو قائم کریں۔ اختلافات کو بھول جائیں اور قرآن مجید پڑھیں۔ حدیث پاک سیکھیں۔ قرآن وسنت کی تعلیم کے علاوہ سائنس پڑھیں۔ تمام ٹیکنیکل علوم پڑھیں اور اعدولھم ما استطعتم کے حکم کے مطابق کفار سے جہاد کرنے کے لئے ہر قسم کی تیاری کریں۔

بریگیڈیئر گلزار نے قرآن مجید کی آیات جہاد تلاوت کرتے ہوئے ثابت کیا کہ مسلمانوں کے ملک کی محافظ فوج وہی ہو سکتی ہے جو کتاب وسنت پر ایمان رکھتی ہو۔ آپ نے جہاد کی فرضیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جو شخص جہاد کا منکر ہے وہ مسلمان نہیں ہے اور جو شخص

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۲۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عقیدہ کے اعتبار سے جہاد کو حرام یقین کرتا ہے وہ پاکستان کی فوج میں کیسے شامل کیا جاسکتا ہے۔ بریگیڈئیر گلزار نے بڑے اخلاص اور دردمندانہ لہجہ میں مختلف علمائے کرام سے اپیل کی کہ وہ عقیدہ ختم نبوت اور اسلام و ملک کی حفاظت کے لئے متحد ہو جائیں۔ آپ نے دینی رہنماؤں کو ان خطرات سے آگاہ کیا۔ جن خطرات میں اس وقت پاکستان اور مسلمان قوم گھری ہوئی ہے۔ ختم نبوت کے سٹیج سے یہ پہلا موقعہ تھا کہ فوج کا ایک جرنیل جو دنیا کے جدید ترین طریقہ ہائے جنگ سے آگاہ ہے۔ قرآن مجید کی ان صداقتوں کی تائید کر رہا تھا جو قرآن مجید نے جہاد اور اس کے ضمن میں ارشاد فرمائی ہیں۔

مولانا محمد علی جالندھری

بریگیڈئیر گلزار صاحب کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ اور ملک کے مشہور عالم دین مولانا محمد علی جالندھری نے آخری تقریر کی۔ مولانا نے اپنی دو گھنٹہ کی تاریخی تقریر میں مختلف مسائل پر اظہار خیال فرمایا کہ اس وقت ملک میں انتخابات کی آمد آمد ہے۔ تمام جماعتیں اپنے اپنے منشور پیش کریں گی۔ لیکن ہم کسی ایسے منشور کی تائید نہیں کر سکتے۔ جس میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی ضمانت نہ دی گئی ہو۔ مجلس تحفظ ختم نبوت سیاسی جماعت نہیں ہے۔ وہ براہ راست الیکشن میں حصہ بھی نہیں لے گی۔ لیکن وہ کسی ایسے نمائندے کو کامیاب بھی نہیں ہونے دے گی جو ختم نبوت کا منکر ہو یا منکرین ختم نبوت کا حامی ہو۔ مولانا نے فرمایا کہ تمام نمائندوں کو اعلان کرنا ہوگا کہ وہ اسمبلیوں میں پہنچ کر حضور سرور کائنات ﷺ کی نبوت کا تحفظ کریں گے۔ آخر میں مولانا محمد علی جالندھری نے فرمایا کہ تحفظ عقیدہ ختم نبوت کے لئے تمام دینی جماعتوں کا اتحاد ضروری ہے۔

سب سے پہلے میں جمعیتہ العلمائے اسلام جو دیوبندی عقیدہ کے علماء کی جماعت ہے۔ ان سے اس بناء پر اپیل کرتا ہوں کہ وہ اور ہم ایک مدت تک اکٹھے مل کر ملک کی آزادی اور دین کی سربلندی کا کام کرتے رہے ہیں اور اس لئے میرا ان پر حق ہے کہ میں ان کو عرض کروں کہ تمام دینی جماعتوں کو دعوت دیں اور انتخابات سے قبل یہ فیصلہ کیا جائے کہ تمام دین سے محبت رکھنے والے لوگ ایک جماعت ہو کر ایک محاذ قائم کر کے عقیدہ ختم نبوت کی بنیاد پر انتخاب لڑیں۔ میں مولانا احتشام الحق اور مولانا مفتی محمد شفیع صاحب سے عرض کروں گا کہ آپ تمام دینی جماعتوں کو جمع کریں۔ آپ نے پاکستان کے بنانے میں حصہ لیا تھا۔ آپ قائد اعظم کے ساتھیوں میں سے ہیں۔ مولانا شبیر احمد عثمانی کے وارث اور جانشین ہیں۔ آپ کا حق ہے کہ پاکستان کو اسلامی مملکت بنوانے اور مسئلہ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے سب کو اکٹھا کریں۔ اس کے بعد میں جمعیتہ العلمائے پاکستان سے جو بریلوی مکتب فکر کے علماء کی تنظیم ہے۔ درخواست کرتا ہوں وہ اس مقصد کے لئے دینی جماعتوں کو اتحاد کی دعوت دیں۔ اس لئے کہ وہ مسلمانوں کے سواد اعظم کے نمائندہ ہیں۔ میں اہل حدیث حضرات سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سنت نبوی کے اتباع کے مدعی ہیں اور قرآن وسنت کے دلدادہ ہیں۔ مسئلہ ختم نبوت قرآن وسنت کی روشنی میں بہت اہم مسئلہ ہے۔ اس کی حفاظت کے لئے وہ دینی جماعتوں کو دعوت دیں۔ میں شیعہ بھائیوں سے بھی کہتا ہوں کہ وہ اہل بیت کے محبّ ہیں۔ انہیں چاہئے کہ جنہوں نے اہل بیت کی توہین کی ہے ان کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے تمام جماعتوں کو جمع کریں۔ ہم اس سب کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہیں۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۲۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۷۰ء

کے

حالات و واقعات

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۲۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مشرقی پاکستان میں مجلس کی سرگرمیاں

مؤرخہ ۳۰/جون ۱۹۷۰ء مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چاند پور پران بازار (ضلع کملا) کی جامع مسجد میں بعد نماز جمعہ زیر صدارت ممتاز عالم دین حضرت مولانا محمد عبد الحق صاحب امام و خطیب مسجد مذکور ایک جلسہ عام منعقد ہوا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت ڈھاکہ کے ناظم حضرت مولانا ابو محمود ہدایت حسین صاحب نے حاضرین جلسہ سے مسئلہ ختم نبوت پر نہایت بلیغ و فصیح انداز میں خطاب کیا۔

انہوں نے بیان میں فرمایا کہ مسلمانان عالم خصوصاً مشرقی پاکستان آج طرح طرح کی باطل سازشوں کا شکار ہیں۔ ایک طرف عیسائی مشینری اور پادری لوگ، صوبہ کے اطراف وجوانب میں اپنے جال پھیلا رہے ہیں۔ دوسری طرف منکرین ختم نبوت مرزائی مسلمانوں کے اس مجمع علیہ عقیدہ میں ضرب پہنچانے کے درپے ہیں۔ اسی غرض کے پیش نظر دونوں طبقے صوبہ کے گوشہ گوشہ میں کثرت سے لٹریچر پھیلا رہے ہیں اور طمع وحرص میں مبتلا کر کے مسلمانوں کے ایمان وعمل کو لوٹ رہے ہیں۔ آپ حضرات ان کے مکر وفریب اور لٹریچر سے ہوشیار رہیں اور غیر اسلامی نظریہ اور معاشرہ کو بکلی ترک کر دیں۔ انہوں نے کہا اگر ہم زندگی کے ہر شعبہ میں آنحضرت ﷺ کے جاری کردہ نظام کو اپنا لیں اور آپ ﷺ کی سیرت پاک کو اپنی زندگی بنا لیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں گمراہ نہیں کر سکتی۔ آپ نے فرمایا کہ موجودہ زمانہ کے سارے مسائل کا حل صرف اسلام میں موجود ہے۔

انسان کے تخلیق کردہ کسی نظام اور ازم میں شر کے سوا کوئی خیر نہیں۔ بعد ازاں آپ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی مقامی مجلس کی طرف حاضرین جلسہ کی توجہ منعطف کی۔ چنانچہ اسی غرض سے بالاتفاق رائے حضرت مولانا عبد الحق صاحب کو داعی مقرر کر کے ایک ایڈہاک کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی گئی۔

ضلع کملا مقام ”کاسائٹ“ میں جلسہ عام

ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت ڈھاکہ حضرت مولانا ابو محمود ہدایت حسین کا خطاب۔ مؤرخہ ۵/جولائی برہمن باڑیہ کے قریب کاسائٹ گاؤں میں باشندگان گاؤں کے زیر اہتمام ایک جلسہ عام منعقد ہوا۔ صدر مدرس تالشہر سنیہ مدرسہ حضرت مولانا محمد عبد الباری صاحب نے کرسی صدارت کو رونق بخشی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت ڈھاکہ کے ناظم حضرت مولانا ابو محمود ہدایت حسین اور مبلغ جناب مولانا محمد اظہر الحق صاحب فرید پوری نے بحیثیت مہمان خصوصی اس جلسہ میں شرکت کی۔ منکرین ختم نبوت مرزائیوں کے شر انگیز خفیہ پروپیگنڈہ فریب و سازش اور طمع وحرص کے دام میں پھنس کر چند مسلمانوں کے بے راہ اور گمراہ ہونے کا قوی خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ صدر مذکور اور مقامی مشہور عالم جناب مولانا عبدالرحمن صاحب نے اسے محسوس کرتے ہوئے مرزائیت کے چہرہ کو اچھی طرح بے نقاب کیا اور خود مدعی نبوت مرزا غلام احمد کی تصانیف سے ان کے دعاوی نقل کر کے قرآن وحدیث کی رو سے ان کی تردید کی۔ بعد میں عوام کو ان کے دام و فریب اور سازشوں سے ہوشیار رہنے کی ہدایت وتلقین کی۔ ان کے بیان کے بعد فوراً چند آدمیوں نے کھڑے ہو کر توبہ کرتے ہوئے زندگی بھر مرزائیوں کی صحبت سے دور رہنے کا اعلان کیا۔

ضلع کملا بمقام برہمن باڑیہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی ایڈہاک کمیٹی قائم ہوئی

گزشتہ جولائی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ یونسیہ برہمن باڑیہ میں طلباء اور علمائے کرام کا ایک اجتماع منعقد ہوا۔ جامعہ کے نائب صدر حضرت ابو محمود ہدایت حسین صاحب نے اجتماع سے خطاب کیا۔ دوران تقریر انہوں نے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۲۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے اغراض و مقاصد اور طریقہ کار کی تفصیل بتائی اور ہر جگہ اس کی مقامی مجلسیں قائم کر کے حق کی تائید و اشاعت اور باطل کی تردید و مدافعت کی طرف حاضرین مجلس کی توجہ منعطف کی۔ بعد ازاں باتفاق رائے مندرجہ ذیل پانچ ارکان پر مشتمل وہاں تحفظ ختم نبوت کی ایک ایڈہاک کمیٹی قائم ہوئی۔

(لولاک مورخہ ۳۱؍ جولائی ۱۹۷۰ء)

مفتی محمد شفیع صاحب اور مولانا احتشام الحق تھانوی کی دفتر آمد

چاٹ گام : ۷؍ ذیقعدہ دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت چاٹ گام کی اطلاع کے مطابق حضرت احتشام الحق تھانوی مدظلہ آج ڈھاکہ روانہ ہونے سے قبل دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت چاٹ گام میں تشریف لائے اور ان کے ہمراہ روزنامہ ’’وفاق‘‘ کے نامہ نگار بھی تھے۔ حضرت مولانا احتشام الحق صاحب تھانوی نے مختلف النوع مسائل پر گفتگو کی۔ فتنہ قادیانیت کا سدباب کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ مختصر قیام کے بعد واپس تشریف لے گئے۔ ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت چاٹ گام نے انہیں الوداع کہا۔

ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت چاٹ گام عبدالرحمان یعقوب باوا، حضرت مولانا احتشام الحق صاحب کو الوداع کہنے کے بعد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کی خدمت میں گئے اور مجلس ختم نبوت چاٹ گام کے زیر اہتمام دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا۔ حضرت مفتی صاحب کے ہمراہ صاحبزادہ مولانا تقی صاحب، ڈھاکہ کے حضرت مولانا محی الدین صاحب، چاٹ گام کے حضرت مولانا مفتی محمد یوسف صاحب کے علاوہ کئی اور لوگوں نے دعوت میں شرکت کی۔ نماز جمعہ کے بعد حضرت مفتی صاحب دفتر مجلس ختم نبوت تشریف لے گئے۔ جہاں انہوں نے دفتر کا معائنہ کیا۔ رسمی گفتگو کے دوران انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ قادیان میں ہمارا جلسہ تھا جس میں حضرت مرتضیٰ حسن چاند پوری کے ہمراہ میں بھی تھا اور جلسہ طے کر رکھا تھا کہ مرزا غلام احمد کی ذات پر بحث کریں۔ اس پر قادیانیوں نے سارے قادیان میں یہ مشہور کر رکھا تھا کہ عوام میں ذاتی بحث کرنے سے لوگ مشتعل ہو جائیں گے اور فساد کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ یہ شکایات انہوں نے سرکاری افسروں کو پہنچا دیں۔ سرکاری افسروں سے درخواست کی کہ یہاں جلسہ نہ کیا جائے۔ اس وقت تمام علماء کرام نے کہا کہ مرزا غلام احمد نے اپنے نہ ماننے والوں کو جہنمی قرار دیا تو پھر ہمارے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ان کو بھی پرکھیں اور یہ جلسہ ان کی ذات کو پرکھنے کے لئے بلایا گیا ہے۔ لہٰذا یہاں صرف ان کی ذات پر بحث ہوگی۔ آخر افسروں نے اجازت دے دی۔

حضرت مفتی صاحب نے آگے چل کر فرمایا کہ فتنہ قادیانیت خطرناک ہے اور یہ فرقہ واریت نہیں بلکہ فرقہ واریت اسے کہتے ہیں جن کے مسائل میں فروعی اختلاف ہوں۔ جیسے دیو بندی، بریلوی، شیعہ لیکن قادیانی ختم نبوت کے منکر ہیں اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لہٰذا انہیں فرقہ واریت قرار دینا سخت نادانی ہوگی۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۲۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پھر فرمایا کہ میں نے ایک کتاب پہلے تحریر کی تھی جس کا نام مسیح موعود کی پہچان ہے۔ وہ مرزا کو جانچنے کے لئے بہترین کتاب ہے۔ انہوں نے فرمایا۔ مرزائیت کی تردید کرنا نہایت ضروری ہے اور کام کرتے رہنا چاہئے۔ ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت نے حضرت کو چاٹ گام میں قادیانیوں کے متعلق تمام حالات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے یہاں کے کام کو اطمینان بخش قرار دیا اور حوصلہ افزائی کی۔ مختصر دعا کے بعد مجلس برخواست ہوئی اور حضرت مفتی صاحب کو ائیر پورٹ تک پہنچا دیا گیا۔ راستے میں انہوں نے فرمایا کہ حضرت مولانا محمد علی جالندھری صاحب اکثر میرے پاس آتے رہتے ہیں۔

مجلس تحفظ ختم نبوت چاٹ گام نے ایک انگریزی دو ورقہ پمفلٹ شائع کیا ہے۔ جس میں علامہ اقبال کا وہ خط تحریر ہے جو انہوں نے پنڈت نہرو کو لکھا کہ قادیانی اسلام اور ہندوستان دونوں کے غدار ہیں اور اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ قادیانی کسے کہتے ہیں۔ اس میں ہمارا اعلان بھی شامل ہے۔ جدید تعلیم یافتہ میں اسے تقسیم کرنا شروع کر دیا ہے۔

چاٹگام : ۱۷ رذیقعدہ ۔ دفتر مجلس ختم نبوت چاٹ گام سے موصول ہونے والی اطلاع کے مطابق آج بعد نماز مغرب ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت چاٹ گام عبدالرحمن یعقوب باوا نے سیلون کے ہائی کمشنر جناب صادق فرید صاحب سے ان کی قیام گاہ پر ملاقات کی۔ انہوں نے گہری دلچسپی سے تبادلہ خیال کیا۔ ان سے ملاقات کی غرض یہ تھی کہ ان کے دورہ چاٹگام کے موقع پر قادیانیوں نے اسلام کے نام سے دھوکا دے کر اپنے عبادت گاہ میں دعوت دی جس پر انہوں نے دعوت قبول کر لی۔ دوسرے دن اخبارات میں یہ خبریں شائع ہوئیں کہ سیلون کے ہائی کمشنر قادیانیوں کے احمدیہ مشن میں تشریف لے گئے ۔ یہ خبر پڑھ کر ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت نے درخواست کی جس پر وہ فوراً رضامند ہو گئے۔ دوران گفتگو انہیں یہ بتایا گیا کہ احمدیہ مشن اصل قادیانیوں کی تحریک ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں اور انہوں نے ساری دنیا میں ارتداد پھیلانے کے لئے اسلام کا نام استعمال کیا ہے۔ حالانکہ علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دعوت پر صرف یہ ہی بتایا کہ ہم ساری دنیا میں کس طرح اسلام کی خدمت کرتے ہیں۔ پھر جناب ہائی کمشنر صاحب نے کہا کہ یہ علم ہوتا کہ یہ قادیانیوں کا عبادت خانہ ہے تو میں ہرگز نہ جاتا۔ پھر فرمایا کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت کو کافر سمجھتے ہیں اور لعنت بھیجتے ہیں۔ انہوں نے بار بار اس بات کو دہرایا کہ میں قادیانی نہیں بلکہ مسلمان ہوں۔

(لولاک، مورخہ ۲۶؍ فروری ۱۹۷۰ء)

رسوائے زمانہ چوہدری سر ظفر اللہ خان

”پاکستان کے رسوائے زمانہ سابق وزیر خارجہ سر ظفر اللہ قادیانی کو عالمی عدالت کا صدر مقرر کر دیا گیا۔ بلاشبہ یہ ایک بڑا عالمی اعزاز ہے۔ جو پاکستان کے حصہ میں آیا۔ لیکن پاکستان کے کسی غیرت مند مسلمان کو اس اعزاز کے حصول پر کوئی خوشی نہیں ہوئی۔ بلکہ الٹا صدمہ اور رنج ہوا ہے کہ ایک بین الاقوامی اعزاز ایک اسلامی مملکت کے توسط سے ایک ایسے شخص کو حاصل ہوا ہے۔ جس نے گزشتہ بائیس برس میں اپنی گوناگوں حیثیتوں کے باوجود پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کی اور وہ اپنے عقائد و اعمال اور افکار ونظریات کے اعتبار سے امت مسلمہ سے دور کا تعلق بھی نہیں رکھتا۔ بلکہ وہ ایک ایسے گمراہ فرقہ کا رکن ہے جس نے نہ صرف قیام پاکستان کی پرزور مخالفت کی بلکہ کشمیر کے مسئلہ کو پیدا کرنے میں بھی اسی فرقہ کا ہاتھ تھا۔ ایک ایسا فرقہ جس کا قبلہ و کعبہ آج بھی بھارت کے پاس رہن ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۲۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہم یہ بھی عرض کر دینا چاہتے ہیں کہ مسٹر ظفر اللہ خان کو یہ اعزاز درحقیقت اپنے مغربی آقاؤں کی خدمت کی وجہ سے ملا ہے۔ چوہدری صاحب اس سے قبل عالمی عدالت کے رکن کی حیثیت سے جنوبی افریقہ اور اسرائیل میں اہم خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ جن کا صلہ اس صدارت کی صورت میں دیا گیا۔ بہرحال مسلمانوں کو اس سلسلہ میں کوئی خوشی ہے اور نہ ہی کوئی غلط فہمی۔

(لولاک ج۶،ش۲۴،مورخہ۶؍مارچ۱۹۷۰ء)

ہاتھی کے دانت......الفرقان ربوہ کی نئی چال

معاصر مرزائی ماہنامہ الفرقان ربوہ نے اپنی اشاعت مارچ ۱۹۷۰ء میں ”ہر کلمہ گو کو ملت اسلامیہ کا فرد قرار دیا جائے“ کے عنوان سے ایک اداریہ سپرد قلم کیا ہے۔ معاصر نے اپنے اس اداریہ میں لکھا ہے: ”سب کو معلوم ہے کہ مسلمانوں کے اس آخری قلعہ (پاکستان) کی تعمیر کے وقت مسلمانوں نے محض کلمہ گو ہونے کی حیثیت سے حصہ لیا تھا اور اسی بنیاد پر ہندوؤں اور سکھوں نے قیام پاکستان کے وقت ان کا قتل عام کیا اور انہیں پاکستان دھکیلا تھا۔ اس وقت شیعہ، سنی، اہل حدیث، احمدی، بریلوی اور اہل قرآن کی کوئی تفریق نہ تھی۔ گویا دوست دشمن بھی یہ جانتے تھے کہ ملت اسلامیہ کی بنیاد کلمہ گو ہونے پر ہے۔“

آگے چل کر معاصر پھر لکھتا ہے: ”ہمارے نزدیک اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت پاکستان مارشل لاء کے ضابطہ دفعہ ۶۰ کے ماتحت فوری طور پر مداخلت کر کے تکفیر کی آگ پر قابو پالے۔ جس کی صرف یہی راہ ہے کہ ہر کلمہ گو شخص کو حکومت کی طرف سے مسلمان قرار دے دیا جائے۔“

(الفرقان ربوہ مارچ ۱۹۷۰ء)

ہم اس تجویز کے سو فیصد حق میں ہیں۔ مسلمانوں کو جتنا نقصان باہمی اختلافات نے پہنچایا ہے اتنا کسی اور بات سے نہیں پہنچا۔ لیکن ہمیں معاصر الفرقان کی یہ اپیل سمجھ میں نہیں آئی کہ ہر کلمہ گو کو ملت اسلامیہ کا فرد قرار دیا جائے اور فرقوں کے ناموں میں اپنے احمدی فرقے کا نام بھی شامل کر رکھا ہے۔ معاصر الفرقان دوسروں کو نصیحت کرنے کی بجائے اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھ لیں۔ اگر احمدی کلمہ پڑھتے ہیں اور اس کلمے پڑھنے کی بنیاد پر وہ یہ حق رکھتے ہیں کہ انہیں بھی ملت اسلامیہ کا فرد قرار دیا جائے تو دنیا کے ستر کروڑ مسلمانوں کا کیا قصور ہے کہ وہ کلمہ پڑھتے ہیں۔ ذبیحہ کھاتے ہیں۔ قبلہ کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھتے ہیں۔ توحید باری تعالیٰ پر ایمان، تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان، قیامت پر ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن ایڈیٹر ماہنامہ الفرقان ربوہ کے مرشد و ہادی و مصلح موعود ان تمام ستر کروڑ مسلمانوں کو ملت اسلامیہ سے خارج اور جہنمی قرار دیتے ہیں اور ایڈیٹر الفرقان اور ان کی پوری جماعت احمدیہ اپنے مرشد و ہادی مصلح موعود کے حکم کے مطابق کسی مسلمان کا نہ تو نماز جنازہ جائز سمجھتے ہیں اور نہ کسی مسلمان کو لڑکی کا رشتہ دینا حلال خیال کرتے ہیں۔ ان حالات میں ایڈیٹر الفرقان ربوہ کی یہ نصیحت ہاتھی کے دانتوں کی مانند ہے جو کھانے کے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔

یہ جذباتی باتیں کہ قائد اعظم نے تمام کلمہ گو مسلمانوں کو ایک جھنڈے تلے جمع کر کے پاکستان حاصل کیا تھا۔ ان سے حقائق نہیں بدل سکتے۔ اوّل تو آپ کی جماعت احمدیہ قائد اعظم کے جھنڈے کے نیچے جمع ہی نہیں ہوئی تھی بلکہ پاکستان بن جانے کے بعد بھی آپ کے نفاق کا یہ عالم تھا کہ قائد اعظم وفات پا گئے۔ وہ اثنا عشری تھے۔ چونکہ فادر آف دی نیشن تھے۔ ان کا جنازہ مولانا شبیر احمد عثمانی دیوبندی نے پڑھایا۔ مولانا بدایونی جیسے بریلوی اور اہل حدیث، شیعہ اور تمام ملت جنازہ میں شامل ہوئی۔ چوہدری ظفر اللہ خان وزیر خارجہ ہونے کے باوجود قائد اعظم کے جنازے میں شریک نہ ہوا۔ بلکہ غیر مسلم اور غیر ملکی سفیروں اور افسروں میں بیٹھا رہا۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۲۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

باقی رہا یہ کہ ایڈیٹر الفرقان نے موجودہ حکومت سے اپیل کی ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت دفعہ نمبر ۶۰ مارشل لاء کے تحت فوری طور پر مداخلت کر کے تکفیر کی آگ پر قابو پائے۔ ہم حکومت کے اس اقدام کو خوش آمدید کہیں گے بلکہ ہم انتظار میں ہیں کہ وہ کون سی حکومت ہوگی۔ جس کو خدا توفیق دے گا جو ایسے لٹریچر اور کتابوں کا محاسبہ کرے گی۔ جس میں مسلمانوں کو مرزا غلام احمد قادیانی کے نبی نہ ماننے پر کنجریوں کی اولاد کتے اور خنزیر لکھا ہے۔ مسلمانوں کے معصوم بچوں کو جہنمی اور یہود و نصاریٰ کی اولاد کی طرح قرار دیا ہے۔

(لولاک مؤرخہ ۲۷؍ مارچ ۱۹۷۰ء)

ایم۔ایم احمد کو علیحدہ کیا جائے

مشرقی پاکستان کی متعدد جماعتوں کے رہنماؤں نے ایم۔ایم احمد ڈپٹی چیئرمین منصوبہ بندی کی موجودہ عہدہ سے علیحدگی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان رہنماؤں نے ایم۔ایم احمد پر کئی الزامات عائد کئے ہیں اور مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان کے خلاف جو نفرت اور غلط فہمی پائی جاتی ہے اس کا مجرم ایم۔ایم احمد کو گردانا ہے۔ حکومت کے ارباب بست و کشاد کو یہ علم ہونا چاہئے۔ مغربی پاکستان سرے سے ہی ایم۔ایم احمد کی ادنیٰ درجہ کی افادیت کا قائل نہیں ہے۔ مغربی پاکستان کا بچہ بچہ اسے انگریز اور امریکہ کا ایجنٹ اور مسلمانوں کا دشمن سمجھتا ہے۔ ایم۔ایم احمد کی منصوبہ بندیوں نے نہ صرف مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے ذہنی طور پر دور کیا ہے بلکہ مغربی پاکستان کے مختلف یونٹوں میں بھی دوری اور منافرت پیدا کر کے ون یونٹ کی ناکامی کا سبب بنا ہے۔ ایم۔ایم احمد مغربی پاکستان کی کسی جماعت، کسی طبقہ کا نمائندہ نہیں ہے۔ اسے صرف مرزائیوں کا اعتماد حاصل ہے اور وہ صرف مرزائیوں کے مفاد کے لئے اس اعلیٰ ترین منصب پر براجمان ہے۔

ایم۔ایم احمد قابلیت کے لحاظ سے بھی چوہدری ظفر اللہ خان کی طرح کوئی قابل ذکر شخصیت نہیں ہے۔ اس کی نااہلی کا سب سے بڑا ثبوت ون یونٹ کا ٹوٹنا اور مشرقی پاکستان کی تمام جماعتوں کا اس کے حق میں عدم اعتماد کا اظہار اور اس کی علیحدگی کا مطالبہ کرنا ہے۔ موجودہ حکومت نے عوامی مفاد کو ہمیشہ مدنظر رکھا ہے اور انتہائی غیر جانبداری کا ثبوت بہم پہنچا کر ملک و ملت کی خدمت کی ہے اور اس راہ میں حکومت نے کسی کی کوئی رو رعایت نہیں کی۔ ہم حکومت سے بجا طور پر اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر مشرقی اور مغربی پاکستان کے عوام کا یہ مطالبہ تسلیم کرے اور ایم۔ایم احمد کو جو اس ملک پر اس ملک کے عوام کی مرضی کے خلاف پیر تسمہ پا کی طرح مسلط ہیں موجودہ اہم ترین منصب سے علیحدہ کر کے اپنی مقبولیت میں مزید اضافہ کرے۔‘‘

(لولاک مؤرخہ ۲۹؍ مئی ۱۹۷۰ء)

کیا فوج کا ہیڈ کوارٹر ”ربوہ“ میں ہے

’’ابھی مارشل لاء کی حکومت ہے۔ حکومت یوں بھی فوج کے احترام و وقار اور اس کے ڈسپلن کی نگران ہوتی ہے۔ لیکن فوجی حکومت تو سرتا پا فوج کے احترام کی امین ہوتی ہے اور اگر کوئی حکومت اس بات میں کوتاہی کی مرتکب ہو تو باوجود کہ اس کا یہ جرم ناقابل معافی ہوگا۔ اسے اس کی نالائقی پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ مگر فوجی حکومت کے بارے میں تو یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ اس کے سامنے فوج کے وقار اور اس کی روایات کے خلاف کوئی بات ہو اور وہ اسے برداشت کرے۔

لیکن ادھر ہم دیکھ رہے ہیں کہ صدر ایوب کی حکومت کا آغاز فوج ہی کی حکومت سے ہوا تھا اور صدر ایوب بہر حال فی الاصل ایک فوجی ہی تھے، کے زمانہ میں یہ سانحہ رونما ہوا کہ قادیانیوں کے دارالخلافہ ”ربوہ“ میں قادیانی نظم و نسق کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ جن

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۲۷

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قادیانیوں نے ۱۹۴۸ء کی جنگ کشمیر میں شجاعت دکھائی، انہیں ”فوجی تمغہ جات“ حاصل کرنے کے لئے قادیانی نظارت عامہ کی جانب رجوع کرنا چاہئے۔

ہم نے انہی کالموں میں بصراحت اس وقت اس جسارت کی جانب حکومت کو متوجہ کیا۔ مگر یہ سانحہ رونما ہو کر رہا اور حکومت نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ اس سلسلہ کی ایک کڑی، قادیانی آرگن الفضل کی اشاعت مؤرخہ ۲؍جون ۱۹۷۰ء میں بھرتی کا ایک اشتہار شائع ہوا ہے۔ جس میں اضلاع میانوالی، سرگودھا اور جھنگ کے متعدد ریسٹ ہاؤسز، اسکولوں اور یونین کونسلوں میں بھرتی کی تاریخیں دی گئی ہیں۔ اشتہار میں بظاہر اجمال ہے۔ لیکن ایک جملہ جو ظاہر کر رہا ہے کہ بھرتی سے مراد فوج ہی کی بھرتی ہے۔ نیوی کی بھرتی بھی ہوگی۔ مگر تعجب خیز چیز یہ ہے کہ مشتہر، فوج کے کسی شعبہ یا تعلقات عامہ کا کوئی افسر نہیں۔ اشتہار شائع کیا گیا ہے۔ ناظر امور ربوہ کی جانب سے۔ اس اشتہار سے متعدد سوالات، فوری توجہ کے مستحق سامنے آتے ہیں۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ”اشتہار“ الفضل کو حکومت کی جانب سے بطور اشتہار بھیجا گیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا یہ اشتہار ملک کے دوسرے روزناموں کو بھی دیا گیا؟ اگر نہیں تو اس امتیاز کی وجہ کیا ہے؟

اگر یہ اعلان، حکومت کی جانب سے بطور اشتہار الفضل کو مہیا نہیں کیا گیا اور بظاہر ایسے ہی درست محسوس ہوتا ہے تو بھرتی کے اس پروگرام کا علم ”الفضل“ کو کیسے ہوا؟ اس نے اسے بطور اشتہار کس وجہ سے شائع کیا؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ فوجی بھرتی کا اشتہار ناظر امور عامہ ”ربوہ“ کی جانب سے شائع ہونے کا جواز کیا ہے؟

ہم فوج کی عظمت کو ملک وملت کا عزیز ترین سرمایہ تصور کرتے ہیں اور اسے برداشت بھی نہیں کر سکتے کہ کوئی گروہ، فوج کے بلند مقام کو دانستہ نقصان پہنچانے کی جرأت کرے۔ اسی بناء پر ہم مارشل لاء حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ان سوالات کا اطمینان بخش جواب دے اور معاملہ کی اہمیت ونزاکت کے پیش نظر اس کی مکمل چھان بین کرے۔“

(المنبر مؤرخہ ۳؍جون ۱۹۷۰ء)

راولپنڈی سازش کیس کے ہیرو جنرل اکبر خان کھل کر سامنے آ گئے

”قارئین کو یاد ہوگا کہ ۱۹۵۰ء میں اس ملک کے خلاف کمیونزم لانے کے لئے سب سے پہلی سازش جنرل اکبر خان اور ان کے بعض رفقاء نے فوج میں رہ کر کی اور اس سازش میں ان کی بیوی اب مطلقہ نسیم جہاں دختر بیگم شاہنواز کے علاوہ فیض احمد فیض، کمیونسٹ لیڈر سجاد ظہیر اب نیپ کے لیڈر تب میجر اسحاق وغیرہ بھی شریک تھے۔ ان کے ساتھ مشہور قادیانی جنرل نذیر احمد آنجہانی بھی گرفتار ہوئے تھے۔ اس سازش کے مقدمہ کی کارروائی کا بیشتر حصہ خفیہ رکھا گیا۔ تب بعض اخباری حلقوں سے بارہا مطالبہ کیا گیا کہ سازش کی پوری کارروائی اور فیصلہ کا پورا متن شائع کیا جائے۔ لیکن حکومت نے مصلحت اسی میں سمجھی کہ سازش کی کہانی اخفاء میں رہے۔ جنرل اکبر خان اور ان کے بیشتر ساتھی سزایاب ہو گئے۔ رہا ہو کر انہوں نے پالیٹکس کے بہت سے پاپڑ بیلے۔ لیکن پاؤں کہیں جمے نہیں۔ اب ایک مدت سے وہ مسٹر بھٹو کے دست راست بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے دست راست بنتے ہیں یا نہیں؟ بھٹو کی مخصوص روایتوں کے پیش نظر یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ انہیں اپنا دست راست بناتے ہیں یا نہیں؟ لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ اکبر خان آج کل مسٹر بھٹو کی مونچھ کا بال بنے ہوئے ہیں۔ چونکہ بھٹو صاحب کی مونچھیں نہیں، بے ریش و بروت ہیں۔ اس لئے یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ وہ بھٹو صاحب کے سیاسی عقد میں ہیں۔

جنرل اکبر اور دوسرے جرنیلوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ فوج سے ریٹائر ہو کر وہ سیاست میں شامل ہوئے ہیں۔ یہ فوج میں

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۲۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سازش کر کے پکڑے گئے۔ سزا پائی اور وہاں سے نکالے گئے۔ پھر باقی جرنیلوں کی ملک وملت کے لئے خدمات ہیں۔ مثلاً میجر جنرل سرفراز خان بلاشبہ ۱۹۶۵ء کی جنگ میں لاہور کے محافظ تھے۔ جنرل امراؤ خان کی خدمات سے انکار ناممکن ہے۔ انہوں نے مشرقی پاکستان اور اس کے بعد واہ فیکٹری میں بے نظیر خدمات انجام دی ہیں۔ ائیر مارشل اصغر خان یا ائیر مارشل نور خان وہ لوگ ہیں کہ ملک وقوم ان کے احسان سے عہدہ برا نہیں ہو سکتی۔ مگر جنرل اکبر خان ایسی کوئی خدمت نہیں بتا سکتے۔ اگر وہ بتا سکیں تو ہم ان کے ممنون ہوں گے۔ یہ ضرور سنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں وہ انگریزوں کے لئے مختلف محاذوں پر اس استعمار کے لئے لڑتے رہے ہیں۔ جس نے ایشیاء اور افریقہ کو غلام بنایا اور اپنے اجیروں کی معرفت مسلمان ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجائی، یا پھر جنرل اکبر صاحب کی سب سے بڑی خدمت جو الم نشرح ہے یہ ہے کہ: ”پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی حکومت کے خلاف انہوں نے فوج میں سازش کی کہ ان کا تخت الٹ دیا جائے۔ اگر ان کی سازش کامیاب ہو جاتی تو وہ سید اکبر سے پہلے لیاقت علی خان کے قاتل ہوتے۔ کیا وہ اس سے انکار کر سکتے ہیں؟

اب ۷؍ جون کو کورنگی (کراچی) میں بھٹو کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ان جنرل اکبر خان نے بڑے دور کی لی۔ فرمایا: ”چونکہ ہمیں ملا مودودی، ملا شبیر علی، ملا گورمانی اور ملا تھانوی کو ٹھیک کرنا ہے۔ اس لئے جماعت اسلامی کے ایک ایک ممبر کے پیچھے پیپلز پارٹی کے دو دو رضا کار لگے رہیں۔ مزید فرمایا کہ ان رضا کاروں کو میں خود تربیت دوں گا۔ جو مار مار کر ان تمام لوگوں کا چمڑا اتار دیں گے۔“

پیپلز پارٹی کا اجتماعی مزاج ہی تشدد پر ہے۔ خود بھٹو صاحب تشدد کے سوا کوئی بات نہیں کرتے۔ ہم نے ایوب خان کے خلاف اجتماعی تحریک کے دنوں میں اس پارٹی کے ارکان کو خود دیکھا ہے کہ وہ تشدد کے منصوبے باندھتے اور خون خرابے کی اسکیمیں سوچتے تھے۔ اب بھی ان کی انتہائی خفیہ مجلسوں میں اسی پر غور ہوتا ہے۔ جنرل اکبر خان نے جو کچھ کہا ہے وہ بجائے خود اس کا بین ثبوت ہے۔

یہ کہنا کہ بھٹو تشدد سے باز آئیں گے، ناممکن ہے۔ وہ برسر اقتدار آنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ان کی زبان پر ایک ہی کلمہ ہے کہ میں اقتدار میں آ کے رہوں گا۔ ایک تو ان کا مشن ہی یہی ہے کہ ہر قیمت پر انہیں حکومت مل جائے۔ دوسرے بار بار ان کا یہ کہنا ہمارے اس شبہ کو یقین میں بدلتا ہے کہ ان کی پشت پناہی ضرور کوئی بیرونی طاقت کر رہی ہے۔ ہمارے ذاتی علم کے مطابق وہ بیرونی اشاروں پر حصول اقتدار کے پتے لگانے کی عادت کا شکار ہیں۔ دوسرے اپنی حکومت کے بننے کا اعلان کر کے وہ عوام کو مرعوب کرنا چاہتے ہیں کہ میرے ساتھ مل جاؤ۔ میں ناگزیر ہوں۔ تیسرے وہ صنعت کاروں کو پکارتے ہیں کہ میری پارٹی کے لئے مال نکالو۔ آج مال نہ دو گے تو کل اقتدار میں آنے کے بعد تمہیں سیدھا کر دوں گا اور یہ سب تہدیدی فضا ہے جو بھٹو اور ان کے ساتھ پیدا کر رہے ہیں۔ بھٹو صاحب کسی دوست کی غلط بخشی سے کبھی وزیر ہو جائیں تو الگ بات ہے۔ لیکن وہ اس ملک کے ماؤ کبھی نہیں ہو سکتے۔ اوّل تو انہیں ماؤ سے کوئی نسبت نہیں۔ ماؤ چین کا عظیم لیڈر اور بھٹو اس ملک کا یتیم لیڈر ہے۔

انہیں مشرقی پاکستان میں کوڑی کی حیثیت حاصل نہیں۔ بلوچستان میں ان کا سکہ نہیں۔ سرحد میں وہ اپنا پکا راگ چھیڑ کر بھی پٹھانوں کو مسحور نہیں کر سکتے۔ رہ گیا پنجاب تو یہاں نوجوانوں کی ایک خاص جماعت میں ان کی آواز کا چرچا ضرور ہے۔ لیکن یہ چرچا نور جہاں کی آواز کی طرح ہے۔ بھٹو یہاں سے سیاسی طاقت حاصل نہیں کر سکتے۔ پنجاب میں اپنی پارٹی کے ارکان ہی سے اندازہ کر لیں کہ ان کی حیثیت کیا ہے؟ اور وہ کس کینڈے کے لوگ ہیں؟

لیکن یہ بات ہم ضرور جانتے ہیں کہ انہوں نے ہر ضلع، ہر شہر، ہر قصبہ میں ان لوگوں کی اکثریت کو اپنے ساتھ ملا رکھا ہے جو اپنے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۲۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

علاقے یا بازار میں اپنی قبیح عادتوں کے باعث عوام کی نگاہ میں ساقط الاعتبار ہیں۔ ان نوجوانوں کو گالیاں بکنے میں تو کمال حاصل ہے۔ لیکن ان سے کسی سیاسی تنظیم کی آبرو کا قائم رہنا ناممکن ہے اور نہ یہ کسی سیاسی تحریک کے لئے سودمند ہو سکتے ہیں۔

جنرل اکبر خان اس کھیپ کو ساتھ ملا کر پیپلز گارڈ بنانا چاہتے ہیں تو شوق سے بنالیں۔ ہمارے پاس اس امر کی اطلاعات موجود ہیں کہ پیپلز پارٹی کے بزرجمہر ان تمام لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کی سازش کرتے رہے اور کر رہے ہیں۔ جن کا ذکر جنرل اکبر خان نے کیا اور جو ان کی گالی گلوچ کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ اپنے فوجی تجربے کے باوجود شاید اس حقیقت سے آشنا نہیں کہ فوج کے جوانوں کا جنرل ہونا اور بات ہے۔ عوام کی سیاسی کھیپ کا راہنما ہونا بالکل دوسری بات، اور وہ یہ بوجھ اٹھانا بھی چاہیں تو اٹھا نہیں سکتے۔ پیپلز پارٹی والے گالی خوب دے سکتے ہیں۔ گولی نہیں چلا سکتے اور جس دن اس ملک میں اس کی نیو رکھی گئی وہ دن اس ملک کے لئے بد نصیبی کا آخری دن ہوگا اور ہم سمجھیں گے کہ جنرل اکبر خان نے جو خواب راولپنڈی سازش کے ایام میں دیکھا تھا اس کی تعبیر بہت دنوں بعد انہیں مل گئی ہے اور اگر جنرل اکبر خان نے کچھ سو گوریلے تیار کر لئے جو ان لوگوں سے متعاقب رہے، جن کا ذکر اکبر خان نے بڑے کرب سے کیا ہے تو اس کا نتیجہ ایک طویل لیکن خونیں کشمکش ہوگا۔

کیا مودودی، نصر اللہ، تھانوی، شیر علی اور گورمانی کا سر اتارنے والے اپنے شانے پر سر رکھ سکیں گے۔ ناممکن ! اکبر خان بھولیں نہیں کہ جن لوگوں کی وہ چمڑی اتروانا چاہتے ہیں انہوں نے چوڑیاں نہیں پہن رکھی ہیں۔ ان کی یہ زندگی بیوی نہیں کہ ایک کو طلاق دی، دوسری کر لی۔ زندگی ایک ہی دفعہ ملتی ہے اور جولوگ اسلام کا نام لے رہے ہیں وہ زندگی کو ہر کڑی افتاد میں گزارنا جانتے ہیں۔ وہ پہلے بھی طوفانوں سے گزرتے رہے اور اب بھی طوفانوں سے گزر سکتے ہیں۔ ان کے لئے صرف اللہ کی رضا کافی ہے۔‘‘

(اداریہ چٹان مؤرخہ ۱۵؍ جون ۱۹۷۰ء)

ربوہ میں ٹیلیفون ایکسچینج

اور سنئے ! روزنامہ غریب اشاعت مؤرخہ ۲۳؍ جون ۱۹۷۰ء میں یہ خبر شائع ہوئی ہے: ’’صوبائی اسمبلی کے دو سابق ارکان نوابزادہ افتخار احمد انصاری اور چوہدری محمد ادریس نے محکمہ ٹیلی فون کے حکام کے اس فیصلہ کے خلاف احتجاج کیا ہے کہ جھنگ میں نئے مکمل شدہ ٹیلی فون ایکسچینج کو بند کر کے ربوہ میں ایک دوسرا ایکسچینج کھولا جائے گا۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شہر میں حال میں مکمل کیا گیا خود کار ایکسچینج مقفل کر دیا گیا ہے اور ربوہ میں اسی قسم کے ایکسچینج کا کام شروع کر دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ محکمہ ٹیلی فون کے حکام نے اس مجوزہ تبدیلی کی وجہ یہ بتائی ہے کہ جھنگ شہر میں ایکسچینج کے لئے عملہ دستیاب نہیں ہے۔ نوابزادہ افتخار احمد انصاری اور چوہدری محمد ادریس نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کریں اور جھنگ میں واقع ایکسچینج کو پہلے چلائیں۔‘‘

اس خبر کو بار بار پڑھئے اور اس سے اندازہ لگائیے کہ ملک میں کیا ہورہا ہے۔ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ ربوہ کو جو خالص قادیانیوں کا نجی شہر ہے، پاکستان کے خزانہ سے روپیہ خرچ کر کے کیوں ترقی دی جارہی ہے۔ انجمن احمدیہ ربوہ کو اس کے محسن اعظم انگریز گورنر موڈی نے جاتے ہوئے نوازا اور ایک وسیع و عریض قطعہ اراضی کوڑیوں کے بھاؤ بخش دیا۔ انجمن نے وہاں متبنیٰ قادیان کے خاندان کے علاوہ صرف قادیانیوں کو رہنے کی اجازت دی۔ کسی مسلمان کو خواہ وہ آغا محمد یحییٰ خان ہی کیوں نہ ہوں وہاں رہائش کے حقوق نہیں مل سکتے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۳۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اب ظاہر ہے کہ اس آبادی کی ضروریات انجمن احمدیہ یا متنبی قادیان کے خاندان یا ان کے چیلوں چانٹوں کے ذمہ ہیں۔ پاکستانی عوام کے خون پسینہ کی کمائی وہاں کیوں خرچ کی جائے۔ لیکن اس شہر کے آباد ہونے کی ابتداء سے اب تک کروڑوں روپیہ مسلمان عوام کے خون پسینہ کی کمائی کا وہاں خرچ ہوا ہے۔ جن دنوں عبدالحمید دستی وزیر تعلیم تھے۔ ان دنوں صوبہ پنجاب کے خزانہ سے عوام کے لئے مخصوص رقم سے ڈاکہ مار کر تیرہ لاکھ روپیہ ربوہ کی تعلیم الاسلام ہائی سکول کو تعلیم الاسلام کالج بنانے کے لئے بطور بخشش دیا گیا۔

(لولاک مؤرخہ ۲۶؍ جون ۱۹۷۰ء)

قادیانی مجنونانہ حرکتیں

آج کل مرزائیوں نے گلی کوچوں میں مسلمانوں کو تنگ کر رکھا ہے۔ کوئی نہ کوئی بات چھیڑ کر مسلمانوں کو مرزائیت کی دعوت دینے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اگر کوئی مسلمان از خود گفتگو کرتا ہے تو دجل وفریب سے اس کو ربوہ لے جا کر مختلف طریقوں سے مرزائی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اگر کوئی مسلمان اپنے علمائے کرام کی طرف رجوع کرنے کا ذکر کرتا ہے تو مرزائی مناظرہ کا چیلنج دے کر دباؤ ڈالتے ہیں۔ اگر کوئی ناواقف عالم آجائے تو پھر اس کو بھی دجل وفریب میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر اتفاق سے مجلس تحفظ ختم نبوت کا مبلغ آجائے تو مجلس میں آنے سے انکار کر کے فرار ہو جاتے ہیں۔

چنانچہ لاہور میں ۷؍ صفر مناظرہ مقرر ہوا۔ مولانا لال حسین اختر صاحب اور مولانا محمد حیات صاحب جب لاہور پہنچے تو مرزائیوں نے مناظرہ سے انکار کر دیا اور تین صد روپیہ ہرجانہ دے کر فرار ہو گئے اور دوسرے فرار کا واقعہ یوں ہوا۔

ملتان تغلق روڈ پر مرزائیوں نے ادھر ادھر دکانوں پر تبلیغ شروع کی۔ مسلمان نوجوانوں اور مرزائیوں کے درمیان ۲۳؍ ربیع الثانی بروز اتوار ۸؍ بجے صبح مسجد سید رمضان شاہ میں گفتگو قرار پائی۔ دو تین دن مرزائی گفتگو کرنے پر پختگی کا اظہار کرتے رہے۔ دو مسلمان نوجوان ہفتہ کے دن بعد مغرب دفتر ختم نبوت میں آئے اور کہا کہ صبح ۸؍ بجے کوئی مبلغ چاہئے۔ اتفاقاً اس دن کوئی مبلغ موجود نہ تھا۔ اسی وقت ایک آدمی کبیر والا بھیجا گیا۔ مولانا محمد حیات جو مدرسہ دارالعلوم میں طلباء و مدرسین کو مرزائیت کے حوالہ جات تحریر کرانے کے لئے چار روز سے گئے ہوئے تھے، صبح ۷؍ بجے لے آیا۔ جب مولانا محمد حیات صاحب ملتان پہنچ گئے تو مرزائیوں نے مقررہ جگہ پر آنے سے انکار کر دیا۔

(لولاک مؤرخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء)

خلیفہ ربوہ کے خلاف مقدمہ چلایا جائے

روزنامہ دی گارڈین لندن اشاعت ۱۹؍ مئی ۱۹۷۰ء کے صفحہ نمبر ۴ پر مرزا ناصر احمد خلیفہ ربوہ کا ایک پریس بیان شائع ہوا ہے:

’’خلیفہ ربوہ نے گزشتہ دنوں انگلستان کے قیام کے دوران لندن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر برٹش غیر ملکیوں کو پسند نہ کریں تو انہیں پورا حق حاصل ہے کہ وہ ان کا داخلہ بند کر دیں۔ یا پھر انہیں واپس بھیج دیں۔‘‘

اخبارات میں آئے دن اس مضمون کی خبریں شائع ہو رہی ہیں کہ آج کل انگلستان میں پاکستان سے گئے ہوئے لوگوں کے خلاف غنڈوں نے کہرام مچایا ہوا ہے۔ ان غنڈوں کو بعض برطانوی سیاسی لیڈروں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ حالیہ انتخابات میں ٹوری پارٹی کو جن وجوہات کے باعث فتح حاصل ہوئی ہے۔ ان میں ایک وجہ یہ بھی شامل ہے کہ ٹوری پارٹی کے مسٹر پاول اور ان کے ہمنوا اُس بات کے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۳۱

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

علمبردار بنے ہوئے ہیں کہ تمام وہ پاکستانی لوگ جو مدتوں سے وطن چھوڑ کر انگلستان میں آباد ہو چکے ہیں اور وہاں کی شہریت اختیار کر چکے ہیں۔ انہیں انگلستان سے نکال باہر کیا جائے۔ ہزاروں تارکین وطن اس صورتحال سے سخت پریشان ہیں۔ لیکن انگریزوں کی خودکاشتہ پودا جماعت احمدیہ کے خلیفہ لندن پہنچتے ہیں تو ان غریبوں کے خلاف اور مسٹر پاول کے حق میں بیان دیتے ہیں۔

اس سلسلہ میں حکومت پاکستان مندرجہ ذیل حقائق پر غور کرے اور ان کی روشنی میں مرزا ناصر احمد کے خلاف ملک دشمنی اور غداری کے الزام میں مقدمہ چلائے۔ پاکستان سے گئے ہوئے مسلمانوں کی انگلستان میں رہائش اور وہاں محنت مزدوری کرنے سے حکومت پاکستان کو کافی مقدار میں زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ مرزا ناصر نے مسٹر پاول کی حمایت میں بیان دے کر پاکستان کو حاصل ہونے والے زرمبادلہ کو رکوانے کی براہ راست کوشش کی ہے جو ملک کے ساتھ بہت بڑی غداری ہے۔

قانون اور اخلاق کا کوئی ضابطہ اجازت نہیں دیتا کہ انہیں وہاں تنگ کیا جائے اور تنگ کر کے اپنے سابقہ وطن واپس جانے پر مجبور کر دیا جائے۔ نیگرو امریکہ کے اصل باشندے نہیں ہیں۔ لیکن انہیں کالے ہونے کے باوجود امریکہ کے شہری حقوق حاصل ہیں۔ اگر آج امریکن گورے ان پر مسٹر پاول یا اس کے فلسفہ کے مطابق ظلم ڈھاتے ہیں تو دنیا بھر سے نیگرو کے حق میں حمایت کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ مرزا ناصر احمد کا ان تارکین وطن کے خلاف بیان دینا ایسا ہی ہے جیسا کہ وہ کل کو بھارتی ہندوؤں کے اس مطالبے کی حمایت کا اعلان کر دیں کہ بھارت کے مسلمانوں کو بھارت سے نکل جانا چاہئے۔ اس لئے کہ وہ باہر سے آئے ہوئے ہیں۔

سیاسی جماعت نہیں ہے۔ ہم ان سے یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ انگلستان کے بعض انتہاء پسندوں اور ایشیائی و افریقی تارکین وطن کے درمیان ایک خالص سیاسی مسئلے کے پھڈے میں مرزا ناصر احمد کے ٹانگ اڑانے کا کیا جواز ہے۔ ۱۹۶۵ء میں اسی لندن میں مرزائیوں کا ایک کنونشن ہوا تھا اور اس میں اس بات پر غور کیا گیا تھا کہ اگر مرزائیوں کی کہیں حکومت بن جائے تو اس کا آئین کیا ہوگا۔ ۱۹۶۵ء میں مرزائیوں کا یہ کنونشن اور اس میں پیش ہونے والی تجویز بھی ایک سیاسی بات تھی اور اپنے پیچھے خوفناک پس منظر رکھتی تھی اور آج مرزا ناصر احمد کا لندن میں تارکین وطن کے خلاف بیان دینا اور مسٹر پاول کی پالیسی کی حمایت کرنا بھی ایک سیاسی بات ہے اور یقیناً کوئی خطرناک پس منظر رکھتی ہے۔‘‘

(لولاک مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء)

ٹوبہ میں مرزائیوں کی فائرنگ

۱۸؍ مئی ۱۹۷۰ء ٹوبہ ٹیک سنگھ چک ۲۹۵ پیریاں والہ متصل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مرزائیوں نے دہشت پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے مسلمانوں کے پرامن اجتماع پر فائرنگ کر دی۔ اس افسوسناک حادثہ کی تفصیلات یہ ہیں کہ چک پیریاں والہ میں مرزائیوں کے چند گھر آباد ہیں۔ مرزائی اس گاؤں میں سرکاری جگہ پر بغیر مرضی گاؤں والوں کی اور بغیر اجازت ڈپٹی کمشنر اپنی عبادت گاہ تعمیر کرنا چاہتے تھے۔ مسلمانوں کا خیال تھا کہ مرزائیوں کا یہ اڈہ بننے کے بعد یہاں مستقل فتنہ و فساد کی بنیاد قائم ہو جائے گی۔ اس سلسلہ میں انہوں نے دیوانی عدالت میں دعویٰ دائر کر کے عبوری سٹے آرڈر حاصل کر لیا تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ ۱۷، ۱۸؍ مئی کی درمیانی رات مرزائیوں نے مسلح ہو کر متنازعہ جگہ پر زبردستی

صفحہ ۳۳۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عبادت گاہ کے عنوان سے فتنہ و فساد کا اڈہ تعمیر کرنا شروع کر دیا۔ اسی رات اس جگہ کے قریب مسلمانوں کا جلسہ تھا جس میں مرزائیوں کی اس سینہ زوری پر احتجاج کیا جارہا تھا اور پرامن مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ مرزائیوں کو بغیر اجازت حکام ضلع اور بغیر رضامندی مسلمانوں کے یہ اڈہ تعمیر نہیں کرنا چاہئے۔ اسی اثناء میں مرزائیوں نے خاص سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت مسلمانوں کے پرامن اجتماع پر فائرنگ کر دی۔ جس کے نتیجہ میں تین مسلمان شدید زخمی ہو گئے۔ اطلاع کے مطابق ان تینوں زخمیوں کی حالت نازک بیان کی جاتی ہے۔

۱۸؍مئی کو اس حادثہ کے افسوس میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مکمل ہڑتال ہوئی اور احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ مسلمانوں کے قائدین نے اعلیٰ حکام سے ملاقات کر کے مرزائیوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے فریقین کی رپورٹ پر کیس درج کر لئے۔ مرزائیوں کے خلاف زیر دفعہ ۳۰۷ / ۳۶۵ ، ۱۴۸ ، ۱۴۹ اور حد یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف بھی زیر دفعہ ۳۰۷ ، ۱۴۸ ، ۱۴۹ مقدمہ درج کیا گیا ۔ لیکن ٹوبہ ٹیک سنگھ کے پولیس افسران بڑی مستعدی سے تفتیش کر رہے ہیں۔ مسلمانوں نے گیارہ مرزائیوں کو ملزم نامزد کیا ہے۔ جن میں سے تاحال تین گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ باقی مفرور اور روپوش ہوگئے ہیں۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ حملہ ربوہ سے باقاعدہ ساز باز کر کے اور وہاں سے ہدایات اور اسلحہ حاصل کر کے کیا گیا۔ مرزا ناصر احمد کے ایک صاحبزادے اس سلسلہ میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔‘‘

(لولاک مؤرخہ ۲۲؍مئی ۱۹۷۰ء)

پیر یانوالہ نزد ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۹، ۲۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء کو ختم نبوت کانفرنس بلائی گئی تھی۔ مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام مدعو تھے۔ کانفرنس کے انتظامات مکمل کر لئے گئے تھے۔ تین روز پہلے انتظامیہ نے کانفرنس کو روک دینے کا فیصلہ کر لیا اور پیر یانوالہ میں کانفرنس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ کانفرنس کے داعی حضرات نے لائل پور ملتان اور لاہور سے مدعو حضرات کو مطلع کیا کہ کانفرنس روک دی گئی ہے۔ یہ کانفرنس اس صورتحال پر غور کرنے اور کوئی ٹھوس فیصلہ کرنے کے لئے طلب کی گئی تھی کہ پیر یانوالہ میں مرزائی اتنی بڑی گڑ بڑ اور فتنہ و فساد بپا کرنے کے باوجود اس بات پر مصر ہیں کہ وہ متنازعہ جگہ پر اپنی عبادت گاہ تعمیر کریں گے۔ دوسری طرف مسلمان اس بات کا تہیہ کئے ہوئے ہیں کہ کچھ بھی ہو ہم یہاں مرزائیوں کو فتنہ و فساد کا اڈہ ناجائز طور پر تعمیر نہیں کرنے دیں گے۔

مرزائیوں کو اس صورتحال کا علم تھا کہ ختم نبوت کانفرنس میں اردگرد کے دیہات سے ۲۵۰۰۰ ہزار اسلامیان علاقہ شامل ہونے والے ہیں اور یہ کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاوہ لائل پور، لاہور اور ملتان سے مختلف جماعتوں کے رہنما بھی پہنچ رہے ہیں اور یہ کہ اس کانفرنس کے انعقاد کے بعد مرزائیوں کے لئے متنازعہ جگہ پر قبضہ اور تعمیر ناممکن ہو جائے گی۔ اس لئے انہوں نے انتظامیہ سے جھوٹی فریاد کی جس پر انتظامیہ نے مسلمانوں کو وہاں جمع ہونے سے منع کر دیا ہے اور متنازعہ جگہ کے فیصلہ کے لئے ۲۰؍جولائی کو آل پارٹیز کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ مسلمانوں کا اصرار تھا کہ انتظامیہ کا یہ فیصلہ غیر جانبدارانہ نہیں ہوسکتا۔ انتظامیہ کو چاہئے کہ ۲۰ سے پہلے میٹنگ بلائے اور فیصلہ کرے کہ مرزائی وہاں تعمیر نہیں کر سکتے۔ ورنہ وہاں تصادم نہ ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ کانفرنس پر پابندی عائد ہو جانے کے بعد ٹوبہ ٹیک سنگھ اور پیر یانوالہ کے کارکنوں اور رہنماؤں کا ایک اجلاس مولانا محمد علی جالندھری کی صدارت میں ٹوبہ ٹیک سنگھ منعقد ہوا۔ مولانا موصوف اس اجلاس میں شرکت کے لئے ملتان سے پہنچے تھے۔

اجلاس میں اس امر پر غور کیا گیا کہ پیر یانوالہ کانفرنس کو انتظامیہ کے فیصلہ کے مطابق ملتوی کر دیا جائے یا ہر قیمت پر منعقد کیا

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۳۴

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۳۳۴ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جائے۔ علاقہ کے مسلمانوں کا اصرار تھا کہ وہ ہر قیمت پر کانفرنس منعقد کریں گے۔ انتظامیہ کو جانبداری کا ثبوت نہیں دینا چاہئے۔ لیکن بزرگ رہنماؤں نے اس معاملہ کو ۲۳؍جولائی لائل پور میں منعقد ہونے والی میٹنگ پر ملتوی کردیا کہ وہاں تمام فرقوں کی اعلیٰ سطح کی میٹنگ میں تمام امور کا فیصلہ کیا جائے گا۔‘‘

(لولاک، مورخہ ۲۴؍جولائی ۱۹۷۰ء)

بلی کو چھیچھڑوں کے خواب، افریقی ممالک میں حالات کے بدلنے کے اشارے

مرزائیوں کی جماعت احمدیہ نے بعض ملکوں میں مبلغ بھیج رکھے ہیں۔ جو عموماً انہی ملکوں میں ہیں جہاں کہیں مغربی سامراجیوں یعنی امریکیوں اور انگریزوں وغیرہ کا اقتدار ہے۔ تبلیغ کیا کرتے ہوں گے۔ ملکی زرمبادلہ حاصل کرنے کا ایک ڈھونگ بنایا ہوا ہے تاکہ جب کبھی مرزا غلام احمد قادیانی کے شاہی خاندان کے شہزادے یورپ امریکہ کی سیر کو جائیں تو انہیں تبلیغ کے بہانہ سے باہر گیا ہوا زرمبادلہ مل جائے یا پھر یہ مبلغ صاحبان باہر ان ملکوں میں وہی خفیہ خدمات سرانجام دیتے ہیں، جن خدمات کے لئے انجمن احمدیہ کو انگریزوں نے بطور خود کاشتہ پودے کے منظم کیا تھا۔

آج کل قادیانی مبلغین اور ان کے خلیفہ صاحب مظلوم وستم رسیدہ افریقی ممالک میں بڑی شوخی سے ناچتے پھرتے ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت بھی ان خفیہ ریشہ دوانیوں اور سیاسی سرگرمیوں سے غافل نہیں ہے۔ مرزائی اخبارات میں مرزا ناصر احمد خلیفہ ربوہ کے اس شاہی دورہ کی روئیداد شائع ہوچکی ہے جو اس نے حال ہی میں ان افریقی ممالک کا کیا ہے۔ ہمیں پرائیویٹ ذرائع سے بھی بعض رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں۔ ربوہ کی باسی کڑھی میں اچانک ابال آنا یقیناً کوئی پس منظر رکھتا ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے ربوائی لیڈروں کی ان پراسرار سیاسی سرگرمیوں پر غور کرنے کے لئے ملتان میں اپنی مجلس شوریٰ کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔

ربوہ کی اس باسی کڑھی کے ابال کا یہ پہلو بڑا ہی دلچسپ ہے کہ گزشتہ روز کراچی میں مرزائیوں کے گھانا سے آئے ہوئے مبلغ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس پریس کانفرنس میں قادیانی مبلغ نے کہا کہ گھانا کی آبادی ۸۰ لاکھ ہے۔ جس میں بارہ فیصد مسلمان ہیں۔ ان بارہ فیصد مسلمانوں میں سے چار فیصد کو ہم نے احمدی بنالیا ہے اور بہت جلد گھانا میں احمدیوں کو غلبہ حاصل ہو جائے گا۔ یعنی بلی کو چھیچھڑوں کے خواب آرہے ہیں۔ ادھر خلیفہ ربوہ افریقی ممالک کے دورہ اور اپنے پرانے آقاؤں کے شہر لندن کے طواف اور اسپین کے جنرل فرانکو سے کوئی معنی خیز ملاقات کرنے کے بعد پاکستان آپہنچے ہیں اور آتے ہی جناب نے سادہ لوح مرزائیوں کی جیبوں سے پیسہ بٹورنے کے لئے فرمایا کہ مرزائیوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک اسکیم بنائی ہے اور وہ اسکیم مجھے بتائی ہے کہ روپیہ جمع کرو اور اس سے افریقی ممالک میں کام کرو۔ چلو ہمیں اس سے غرض نہیں کہ مرزائیوں سے وہ کس لطائف الحیل کے ساتھ پیسہ اکٹھا کرتا ہے۔ افریقہ میں وہ پیسہ اپنے آقاؤں کے چشم و آبرو کے اشارے سے عیسائی حکومتوں کے مفاد پر خرچ کرتا ہے یا خود ہی ڈکار لیا جاتا ہے۔ ہم ان ساری باتوں کو تھوڑی دیر کے لئے نظر انداز کردیتے ہیں۔ لیکن ہماری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ اس سنہرے خواب میں مرزا ناصر احمد نے یہ کیا بھاشن دے دیا کہ ہمیں موجودہ حکومت زرمبادلہ نہیں دے رہی اور حالات بدل جایا کرتے ہیں اور ایک رات میں بدل جایا کرتے ہیں جو حکومت ہمیں آج زرمبادلہ نہیں دے رہی۔ پھر روکنا اس کے بس میں نہیں رہے گا۔

آپ روپیہ اکٹھا کرلیں تاکہ جس صبح کو اچانک حالات بدلے ہوئے ہوں اسی صبح کو میں وہ جمع شدہ روپیہ باہر بھیج سکوں گا۔ ہوسکتا

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۳۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہے مرزا ناصر احمد کا یہ تازہ ترین ارشاد پاکستان کے کار پردازان محکمہ انٹیلی جنس کی نظر سے ہی نہ گزرا ہو اور اگر انہوں نے اس کو پڑھ لیا ہو تو یہ بھی ممکن ہے وہ اس کا مفہوم اور مطلب ہی نہ سمجھ سکے ہوں۔

مرزا ناصر احمد کا یہ افریقی ممالک کا دورہ وہاں مسلمانوں کی قاتل عیسائی حکومتوں کے سربراہوں سے ملاقاتیں اور آتے ہی ایک کروڑ روپیہ کی فراہمی نصرت جہاں فنڈ کے نام پر اور اس میں یہ جملہ کہ ”اے مرزائیو دس روپیہ دو موجودہ حکومت اب زر مبادلہ نہیں دیتی تو پرواہ نہیں۔ ایک ہی رات میں حالات بدل جایا کرتے ہیں۔“ یہ سب چیزیں اپنے مریدوں سے رمز کنایہ اور کوڈ ورڈز کی زبان کا درجہ رکھتی ہیں۔

صدر یحییٰ خان کو مرزا ناصر احمد کے اس خطبہ کا نوٹس لینا چاہئے اور خلیفہ سے دریافت کرنا چاہئے کہ ایک ہی رات میں حالات بدل جانے کا مطلب کیا ہے؟ ہم اس کا مطلب یہی سمجھ پائے ہیں کہ خلیفہ صدر یحییٰ کی حکومت کا تختہ راتوں رات الٹائے جانے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ ممکن ہے کوئی بات اس کے ذہن میں ہو جس کی وجہ سے اس کی زبان سے یہ جملہ بطور خوشخبری نکل گیا ہو۔ کیونکہ موجودہ حکومت سے انہیں شکایت ہے کہ وہ انہیں ان کے حسب دلخواہ زر مبادلہ نہیں دیتی۔

ہمیں الہام تو نہیں ہوتا۔ لیکن ایک پیش گوئی ہم بھی کئے دیتے ہیں۔ صدر محمد یحییٰ پاکستانی فوج کے سربراہ ہیں۔ پاکستان کی فوج عوام کو بہت عزیز ہے۔ لازماً صدر محمد یحییٰ بھی قوم کو عزیز ہیں اور پھر محمد یحییٰ خان نے جس غیر جانبداری اور تدبر سے جمہوریت بحال کرنے کے اقدامات کئے ہیں اور برابر کرتے چلے جارہے ہیں اس کی وجہ سے وہ ہر دلعزیز ہیں۔ اگر مرزا ناصر احمد کا یہ کہنا کہ حالات ایک رات میں بدل جایا کرتے ہیں۔ آپ مجھے روپیہ دیں تا کہ میں حالات کے راتوں رات بدل جانے کے بعد اگلی صبح کو روپیہ باہر بھجوا سکوں گا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ خدانخواستہ صدر یحییٰ خان کی حکومت کا تختہ راتوں رات الٹوانے کے متمنی ہیں یا اس سلسلہ میں کوئی اسکیم بنا چکے ہیں تو ہمیں یقین ہے کہ وہ صبح مرزا ناصر احمد کی اور ان کی جماعت کے لئے صبح امید نہیں ہوگی ، بلکہ شام غم ثابت ہوگی ۔ ہمیں بالکل یقین ہے کہ بلی کو چھیچھڑوں کے خواب آ رہے ہیں۔ مرزائیوں اور ان کے خلیفہ کے دل میں اقتدار پر قبضہ کرنے کی خواہش چٹکیاں لے رہی ہے۔ لیکن غالباً وہ اس کے انجام سے آگاہ نہیں ہیں۔“

(لولاک مؤرخہ ۲۴؍ جولائی ۱۹۷۰ء)

مسئلہ قادیانیت اور سیاسی رہنما

اسلام کی علمبردار سیاسی جماعتیں قادیانیوں کے لئے ممبر سازی کے دروازے بند کریں۔

قادیانیت کی خطرناکیوں اور قادیانیوں کی اسلام دشمنی روش محتاج وضاحت نہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک قادیانیت ایک گالی کی حیثیت اختیار کر گئی ہے اور عوام میں اس قدر نفرت وحقارت کے جذبات پائے جاتے ہیں کہ کوئی سیاسی رہنما اپنے آپ کی قادیانی گروہ کے ساتھ اپنی وابستگی یا تعلق ظاہر کرنے کی جسارت نہیں کرسکتا۔ بقول ملک امیر محمد خان مرحوم سابق گورنر مغربی پاکستان خود قادیانیوں کا اپنا بھی یہ حال ہے کہ اس فرقے کے بڑے افسر بھی قادیانی گروہ کے ساتھ اپنی وابستگی یا تعلق ظاہر کرنے کی جسارت نہیں کر سکتے۔

۱۹۶۲ء کے صدارتی انتخاب کے مرحلہ میں جب سابق صدر محمد ایوب خان نے بڑے بڑے قادیانی افسروں کو اپنے گرد جمع کرلیا اور مسٹر ایم ایم احمد اور سائنسی مشیر عبدالسلام جیسے حواری بن گئے تو لوگوں کو شبہ گزرا کہ مسٹر ایوب بھی قادیانی ہو گئے ہیں۔ اس پروپیگنڈے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۳۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نے جب شدت اختیار کی تو سابق ناظم اعلیٰ اوقاف مسٹر مسعود نے ایک ملاقات میں صورتحال سے مطلع کیا کہ یہ پروپیگنڈا اگر وسعت اختیار کر گیا تو یہ آپ کے عہدہ واقتدار کے لئے خطرناک حربہ ثابت ہوگا۔ چنانچہ سابق صدر محمد ایوب خان نے اپنے مشیر خاص فدا حسین صاحب کو حکم دیا کہ وہ میرے قادیانی ہونے کی تردید کر دیں۔ بعد ازاں سابق صدر لاہور آئے تو گورنمنٹ ہاؤس میں علماء وخطباء کے ایک خاص وفد سے ملاقات کے دوران ممتاز عالم دین سید امین الحق صاحب خطیب شیخوپورہ نے پھر وہی سوال کر کے صحیح صورتحال معلوم کی تو مسٹر ایوب خان نے علماء کے سامنے پھر اس الزام کی تردید کی کہ میں ہرگز قادیانی نہیں ہوں۔ سابق صدر ایوب خان کا اقتدار ختم ہوا اور ائیر مارشل اصغر خان (ریٹائرڈ) نے میدان سیاست میں قدم رکھا تو بعض قادیانی افسروں نے اے. بی اعوان سابق سیکرٹری داخلہ کے ساتھ ان کی گہری رشتہ داری کی وجہ سے قادیانی ہونے کا الزام عائد کیا جس کی انہوں نے تردید کردی۔

پھر میجر جنرل سرفراز (ریٹائرڈ) خارزار سیاست میں قدم رنجہ ہوئے تو بعض مصدقہ معلومات کی بناء پر ان پر بھی قادیانی ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا۔ جس سے انہوں نے بریت کا اعلان کیا اور چند روز ہوئے پاکستان میں اسلامی سوشلزم کے داعی مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں معاصر مشرق لاہور کے نمائندے نے یہ بات منسوب کر دی کہ ان کا بھی قادیانیوں کے ساتھ باقاعدہ انتخابی معاہدہ ہو گیا ہے۔ جب ان کی توجہ اس خبر کی طرف مبذول کرائی گئی تو انہوں نے بھی قادیانیوں کے ساتھ معاہدے کی تردید کرتے ہوئے یہ جملہ بھی فرما دیا کہ انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ممکن ہے وہ اس جملہ کی بھی تردید کر دیں۔ تردید و بریت کا یہ پہلو اس امر کا غماز ہے کہ کوئی بھی سیاسی رہنما نہ تو قادیانی گروہ سے کسی قسم کی وابستگی کی جسارت کر سکتا ہے اور نہ ہی عوام کسی قادیانی کو اپنے رہنما کی حیثیت سے برداشت کر سکتے ہیں۔

ریاست ربوہ کا ایک حکم، مرزائیوں کے اخراج کا حکم

مرزائیوں کے ترجمان روزنامہ الفضل کی اشاعت یکم اکتوبر ۱۹۷۰ء میں ریاست ربوہ کے وزیر اعظم (ناظم امور عامہ انجمن احمدیہ پاکستان) کا حکم نامہ شائع ہوا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

”مرزا محمد لطیف، مرزا محمد سلیم اختر، مرزا محمد رفیق انور، مرزا محمد حسین آف فتح پور گجرات اور سید محمد داؤد احمد انور ولد پیر محمد یوسف حال راولپنڈی سابق مربیان سلسلہ کے متعلق یہ ثابت ہونے پر کہ وہ سلسلہ کے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔ انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ اب ان کا جماعت سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ احباب مطلع رہیں۔“

(الفضل یکم اکتوبر ۱۹۷۰ء)

اس حکم نامہ کو بار بار پڑھیں اور اس بات کا تصور کریں کہ خدانخواستہ، خدانخواستہ اگر ملک کا اقتدار مرزائیوں کے ہاتھ آجائے تو اس صورت میں تمام مسلمان سرکاری ملازموں کو یا تو ملازمتیں چھوڑنا ہوں گی اور یا سلسلہ میں شامل ہونا ہوگا۔

اس حکم نامہ سے مسلمانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں اور انہیں اس بات کی فکر رہنی چاہئے کہ کہیں اللہ اور اس کے رسول کے باغیوں کا گروہ کسی حادثہ کے نتیجہ میں یہاں برسر اقتدار نہ آجائے۔ جہاں تک مرزائیوں کا تعلق ہے۔ وہ اس دن کے برابر خواب دیکھ رہے ہیں۔ جب ان کے ہاتھ اس ملک کی باگ ڈور آ جائے اور وہ اسلام اور مسلمانوں سے ذلت آمیز سلوک روا رکھیں۔

(لولاک مؤرخہ ۹ اکتوبر ۱۹۷۰ء)

اشاعت اسلام کے لئے قادیانی کا تقرر؟

کراچی ٹیلی ویژن کے ایک خالص دینی پروگرام ”بصیرت“ کے پروڈیوسر کے عہدہ پر ایک قادیانی عبیداللہ علیم کے تقرر کی خبر سن

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۳۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کر پاکستان کے ہر غیور اور حساس و دردمند مسلمان کو رنج ہوا ہے۔ مختلف مکاتیب فکر کے نامور علماء نے اس تقرری کے خلاف احتجاج کیا ہے اور اسے مسلمان قوم کے ساتھ شرمناک مذاق سے تعبیر کیا ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ عبید اللہ علیم کو اس عہدہ کے لئے کیوں منتخب کیا گیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس ملک میں غلام احمد قادیانی کی امت کے کسی فرد کو یہ حق کیوں کر دیا جا سکتا ہے کہ وہ ملک کی غالب اکثریت کے عقائد ونظریات کے علی الرغم ، نشر و اشاعت کے جدید ترین ذرائع پر قابض ہو کر ایک خالص دینی پروگرام کا انچارج بن جائے۔ کیا ایسے شخص کو جسے اللہ تعالیٰ کا قانون کافر قرار دے چکا ہے اور جس کے ارتداد کا فیصلہ عدالت صادر کر چکی ہے۔ ریڈیو یا ٹیلی ویژن پر درسِ قرآن وحدیث کے لئے قانوناً اور اخلاقاً اور سیاستاً مقرر کیا جا سکتا ہے؟

کیا موجودہ حکومت کو قادیانیوں کے بارے میں مسلمانانِ پاکستان کے احساسات و جذبات کا علم نہیں ہے؟ کیا موجودہ ارباب اقتدار یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں ایک قادیانی کے تقرر سے اشتعال پیدا ہو اور حکومت کے خلاف نفرت و حقارت کا طوفان برپا ہو جائے۔ ایک خالص دینی پروگرام کا پروڈیوسر ایک قادیانی کو بنا دینا، کیا جمہوری اقدار کے منافی نہیں؟ اور کیا ایسی حکومت سے جمہوریت کی بحالی کی توقع کی جاسکتی ہے جو جمہوریہ کی رضا ومنشاء کے خلاف ایسے اقدامات کرے۔ نہ صرف برصغیر کے مسلمان بلکہ پوری دنیائے اسلام غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین کے کفر وارتداد پر بار ہا اتفاقِ رائے کا اظہار کر چکی ہے۔ ایسی صورت میں ایک خالص دینی پروگرام کے لئے کسی قادیانی کو مامور کرنا مسلمانانِ عالم کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

بنابریں ہم حکومت پاکستان بالخصوص اسلام پسند وزیر اطلاعات سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس شخص کو فوری طور پر اس پروگرام سے علیحدہ کیا جائے اور کسی مسلمان اہل علم و قلم کو اس کی جگہ مقرر کیا جائے۔ یہ کیا ستم ظریفی ہے کہ محمد عربی ﷺ کی امت کو بصیرت کا درس دینے کے لئے ایک ایسے شخص کی خدمات حاصل کی جائیں۔ جس کے پورے طائفہ کی بے بصیرتی پر امت محمدیہ کا اجماع واتفاق ہو چکا ہے۔ امید ہے حکومت اس مسئلہ کا فوری نوٹس لے گی اور اس معاملہ میں روایتی تساہل سے کام نہیں لے گی۔‘‘

(خدام الدین مؤرخہ ۱۶/ اکتوبر ۱۹۷۰ء)

مودودی صاحب سے درخواست

آج کل انتخابات کا زمانہ ہے۔ انتخابی رسہ کشی کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کا پارہ چڑھا ہوا ہے اور اچھے اچھے ذمہ دار لوگ موجودہ فضا سے متأثر ہو کر انتہائی نامناسب باتیں کہتے پھرتے ہیں۔ تاہم مجلس تحفظ ختم نبوت اور اس کا ترجمان لولاک اس رسہ کشی میں غیر جانبداری کی پالیسی پر گامزن ہے اور یہ غیر جانبداری کسی کمزوری یا غرض کے لئے نہیں محض مسئلہ ختم نبوت کی تقدیس کے لئے ہے۔ چونکہ یہ مسئلہ سارے مسلمانوں کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ اس لئے ہم اس مقدس پلیٹ فارم کو نہ کسی کے حق میں اور نہ ہی کسی کے خلاف استعمال ہونے دینا چاہتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی احساس ہے کہ اس انتخاب میں وہ لوگ بھی ایک فریق ہیں جنہوں نے اس مسئلہ کی خاطر تحریک تحفظ ختم نبوت میں ہمارے ساتھ ہر بڑی سے بڑی قربانی پیش کی تھی۔ وہ بھی ایک فریق ہیں جنہوں نے فدایان ختم نبوت کے سینوں میں گولیاں مروائی تھیں اور وہ بھی ایک فریق ہیں جو ختم نبوت کی تحریک کے خلاف سرکاری گواہ بن گئے تھے۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود مسئلہ کی عظمت اس کی تقدیس کا تقاضہ یہ ہے کہ اسے پوری امت کا متفقہ مسئلہ بنایا جائے اور جس پلیٹ فارم سے یہ مسئلہ اٹھایا جا رہا ہے۔ اسے انتخابی کشمکش میں رسوا نہ کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ انتخاب کے سلسلہ میں ہمارا قلم بالکل غیر جانبدار ہے اور ہم نے کسی کی تائید اور کسی کی تردید نہیں کی ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۳۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خصوصاً وہ جماعتیں جو ملک میں اسلامی نظام کی داعی اور آئین شریعت کے نفاذ کی علمبردار ہیں۔ ان کے متعلق ادنیٰ تنقید سے بھی احتراز کیا گیا ہے۔ دینی جماعتوں کے اتحاد کے لئے تو کوئی کلمہ خیر بلند کیا گیا ہے۔ لیکن ان کی باہمی چپقلش میں کوئی حصہ نہیں لیا گیا۔ اس تمہید سے غرض یہ ہے کہ جہاں تک مجلس تحفظ ختم نبوت کا تعلق ہے وہ تمام دینی جماعتوں کا احترام اور ان کی باہمی کشمکش میں غیر جانبدار ہے۔ لیکن اس کا کیا علاج کہ ایسے نازک دور اور پر آشوب فضا میں مولانا مودودی صاحب نے تحریک ختم نبوت کے متعلق ایک ایسی غیر ذمہ دار بات فرمادی ہے جس کا اگر صحیح جواب دیا جائے تو نہ صرف یہ کہ ہم غیر جانبدار نہیں رہتے بلکہ ہمیں ان کے خلاف ایک فریق کی حیثیت حاصل ہوسکتی ہے اور ان شہیدوں کے خون سے بے وفائی کا ڈر ہے۔ جنہوں نے ختم المرسلین ﷺ کی عظمت کے لئے اپنے سینوں میں مردانہ وار گولیاں کھائی تھیں اور مولانا مودودی صاحب سمیت تمام فرقوں کے چیدہ علماء پرمشتمل مجلس عمل کے حکم اور کہنے پر گولیاں کھائی تھیں۔

گڑے مردے اکھاڑنا مولانا مودودی صاحب کی عادت ہے۔ اب سترہ برس کے بعد ایک دفعہ پھر مولانا صاحب نے تحریک تحفظ ختم نبوت کے متعلق فرمایا ہے: ”جیل سے باہر آکر ہم نے پھر مطالبہ شدت سے اٹھایا کہ اب قرارداد مقاصد کے مطابق اسلامی دستور بنایا جائے اور خواجہ ناظم الدین کے دور وزارت میں دستور کی تیاری شروع بھی ہوگئی تو اس کا راستہ روکنے کے لئے ایک نئی سازش اٹھا کر کھڑی کی گئی اور جماعت اسلامی پر تیسرا حملہ ۱۹۵۳ء میں کر ڈالا گیا۔ میں صاف صاف کہتا ہوں کہ ختم نبوت کی تحریک اٹھوائی ہی اس غرض کے لئے گئی تھی کہ مطالبہ نظام اسلامی کو روکا جائے۔ منیر رپورٹ سے یہ بات پوری طرح ثابت ہوگئی ہے۔ اس موقعہ پر ختم نبوت تحریک کے لیڈروں کو بہتیرا سمجھایا گیا اور ان سے کہا گیا کہ خدا کے لئے ایک مرتبہ دستور پاس ہو جانے دو۔ اس کے بعد تم اس مسئلے کو اٹھا سکتے ہو۔ خواجہ ناظم الدین کی رپورٹ تیار ہوچکی تھی۔ دستور پاس ہونے میں کچھ زیادہ دیر نہ تھی۔ صرف اتنا کام باقی تھا کہ دستور ساز اسمبلی میں بنیادی اصولوں کی رپورٹ پیش ہو اور دستور پاس ہوجائے۔ لیکن عین وقت پر ہنگامہ برپا کر دیا گیا۔ خواجہ ناظم الدین کی رپورٹ دھری کی دھری رہ گئی۔ لاہور میں مارشل لاء لگا دیا گیا۔ خواجہ ناظم الدین وزارت عظمیٰ سے رخصت کر دیئے گئے اور بیوروکریسی اس طرح ملک کے سینہ پر سوار ہوگئی کہ آج تک اس سے پیچھا نہیں چھڑایا جاسکا۔“

یہ ہیں حضرت مولانا مودودی صاحب کے خیالات اور ارشادات تحریک ختم نبوت کے متعلق جو انہوں نے عین اس وقت فرمائے ہیں جب انتخابی مہم شروع ہے اور پہلے ہی ملک کی تقریباً تمام دینی جماعتیں ان کے خلاف برسر پیکار ہیں یا متفق نہیں ہیں۔

مولانا مودودی صاحب اور ان کی جماعت کا یہ عجیب فلسفہ ہے کہ ان کے منہ میں جو آئے کہہ دیتے ہیں۔ خواہ وہ عصر حاضر کے علمائے کرام کے خلاف ہو یا قرون اولیٰ کی برگزیدہ ہستیوں کے خلاف ہو، ان کا ہر اناپ شاپ کہا ہوا اسلام کی خدمت اور اتحاد اسلامی کی سعی ہوتا ہے۔ لیکن اگر ان کے متعلق کچھ کہا جائے انہیں ان کی ان بیہودگیوں پر ٹوکا جائے تو وہ شور مچانے لگ جاتے ہیں کہ جماعت اسلامی اور مولانا مودودی کی مخالفت کر کے اسلامی نظام کی دعوت اور مطالبہ کو نقصان پہنچایا جارہا ہے اور اتحاد اسلامی کو پارہ پارہ کیا جارہا ہے۔ یعنی افتراق و انتشار کی جو کوشش جماعت اسلامی اور مولانا مودودی کی طرف سے ہو وہ خدمت اسلام ہے اور دوسرے اگر جائز کلمہ خیر بھی بلند کریں تو وہ اسلام کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دی جاتی ہے۔

تحریک تحفظ ختم نبوت کے متعلق یہ کہنا کہ وہ کوئی سازش تھی اور اسلامی نظام کی دعوت مطالبہ یا اس کے متعلق جو کوشش ہو رہی تھی اسے سبوتاژ کرنے کے لئے شروع کی گئی تھی۔ یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جو مرزائیوں کا کھلا ہوا ایجنٹ ہو یا جس کا سینہ نور ایمان سے بالکل

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۳۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خالی ہو۔ یہ تحریک جس طرح شروع ہوئی ان حالات کو دیکھنے والے جاننے والے اور ان سے گزرنے والے ابھی کروڑوں مسلمان زندہ ہیں ۔ وہ تحریک کسی ایک رات میں منظم نہیں ہوئی تھی بلکہ سالہا سال سے اس کا پرچار ہو رہا تھا۔ مرزائیوں کی جارحانہ تبلیغی سرگرمیوں افسروں کی خیرہ دستیوں اور حکومت کی اس سلسلہ میں مجرمانہ خاموشی نے حالات کو بتدریج اس نہج پر پہنچا دیا کہ لوگ یہ محسوس کرنے لگے کہ شاید یہ ملک ہی مرزائیوں کے لئے بنایا گیا ہے۔

یہاں تک کہ مرزا محمود احمد نے اعلان کیا کہ : وقت آ پہنچا ہے کہ مرزائی مولویوں کے خون کا بدلہ لیا جائے گا ملاّ مودودی ، ملاّ احتشام الحق ، عطاء اللہ شاہ بخاری، ملاّ بدایونی اور ملاّ شفیع سے ۔ ۱۹۵۲ء میں اس نے اعلان کیا کہ ۱۹۵۲ء گزرنے سے پہلے ہمارے دشمن ہمارے قدموں پر گرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔ پھر جس بی۔ پی۔ سی رپورٹ پر مولانا مودودی صاحب کو بہت ناز ہے اس میں مرزائیوں کو مسلمانوں میں شامل کر لیا گیا تھا۔ ان حالات نے جو سالہا سال کی جدوجہد کے بعد پیدا ہوئے تھے صرف احرار کو ہی نہیں دیوبندیوں ، بریلویوں ، اہل حدیثوں اور شیعوں کو مجبور کیا کہ وہ جمع ہوں اور ایک پلیٹ فارم سے مل کر اس فتنہ کی سرکوبی اور بیخ کنی کی کوشش کریں ۔ مجلس عمل بنی اور مولانا مودودی اس مجلس عمل کے رکن ٹھہرے ۔ اس مجلس عمل نے کراچی میں اجلاس کر کے متفقہ طور پر حکومت کو نوٹس دیا کہ مطالبات تسلیم کرو ۔ ورنہ تمہارے خلاف ایک ماہ بعد ڈائریکٹ ایکشن کیا جائے گا۔ مولانا مودودی صاحب اس اجلاس میں موجود اور اس نوٹس دینے میں شامل تھے ۔ حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کئے۔ ایک ماہ بعد دوبارہ مجلس عمل کی میٹنگ کراچی میں ہوئی ۔ اگرچہ مولانا مودودی صاحب اس میٹنگ میں خود تو حاضر نہ تھے ۔ لیکن ان کا ذمہ دار نمائندہ مولانا سلطان احمد امیر جماعت اسلامی کراچی اس اجلاس میں موجود تھا۔ اس اجلاس میں تحریک شروع کرنے کا بالاتفاق فیصلہ ہوا اور قرار پایا کہ پانچ پانچ رضا کاروں کے جتھے خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم اور غلام محمد گورنر جنرل کی کوٹھیوں پر جائیں گے اور ان سڑکوں سے جائیں گے جو زیادہ پر رونق اور زیادہ ٹریفک کی وجہ مصروف نہ ہوں ۔ جماعت اسلامی کے نمائندہ نے اصرار کیا کہ جتھے شہر کی پر رونق اور مصروف سڑکوں سے جانے چاہئیں اور اس سلسلہ میں ہم بھی رضا کار مہیا کریں گے۔

اگلی صبح کو تحریک کے سارے لیڈر گرفتار کر لئے گئے ۔ لیکن جماعت اسلامی کا کوئی رہنما گرفتار نہ ہوا۔ تحریک شروع ہونے کے تین روز بعد ہمیں معلوم ہوا کہ جماعت اسلامی تو تحریک کے ساتھ ہی نہیں ہے۔ مارچ کے پہلے ہفتہ میں لاہور گورنمنٹ ہاؤس میں گورنر صاحب نے معززین شہر کی ایک میٹنگ بلائی اور ان سے درخواست کی گئی کہ وہ تحریک کو بند کرانے میں گورنمنٹ سے تعاون کریں ۔ مولانا مودودی صاحب نے اس میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ گورنمنٹ کے سامنے دو ہی راستے ہیں یا تو مطالبات تسلیم کرے اور یا سختی سے تحریک کو کچل دے ۔ بعد میں معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے ”قادیانی مسئلہ“ نامی ایک پمفلٹ کی اشاعت کے سلسلہ میں نہ کہ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں مولانا مودودی صاحب اور ان کی جماعت کو بھی پکڑ لیا ۔ مولانا کو سزائے موت ہوئی اور تحریک کے لیڈروں کی رہائیوں کے ساتھ آخر انہیں بھی رہا کر دیا گیا۔

جماعت اسلامی نے تحریک ختم نبوت کے لیڈروں کے خلاف تحقیقاتی عدالت میں سرکاری گواہ کی حیثیت سے شہادتیں دیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ اب سترہ برس بعد مولانا نے تحریک ختم نبوت کو اسلامی نظام کے خلاف سازش قرار دے دیا ہے۔ حالانکہ تحریک ختم نبوت کو اسلامی نظام کی جدوجہد کے خلاف سازش قرار دینا ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی یہ کہے کہ مولانا مودودی پاکستان سے پہلے تحریک پاکستان

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۳۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے مخالف تھے اور اب پاکستان بن جانے کے بعد انہوں نے پاکستان کو مٹانے کے لئے سازش کی ہوئی ہے اور اس سازش کے تحت یہاں اسلامی نظام کی تحریک شروع کئے ہوئے ہیں۔“

(لولاک مورخہ ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۷۰ء)

ایم۔ ایم احمد، پکا وزیر

لائل پور آج جامع مسجد ریلوے اسٹیشن میں مولانا تاج محمود مدیر لولاک نے ایم۔ ایم احمد کی نئی تقرری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے جمعہ اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ صدر محمد یحییٰ خان نے ایم۔ ایم احمد کو ڈپٹی چیئر مین منصوبہ بندی کمیشن کے عہدہ سے علیحدہ کر دیا ہے۔ ہمیں اس سے بہت خوشی ہوئی۔ کیونکہ یہ ایک پرانا مطالبہ تھا جو تسلیم کیا گیا۔ مشرقی پاکستان کے لوگوں نے پچھلے دنوں ایم۔ ایم احمد کی علیحدگی کا بڑے زور شور سے مطالبہ کیا تھا ان کا خیال ہے کہ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں جتنی غلط فہمیاں اور دوریاں پیدا ہوئی ہیں ان کا واحد ذمہ دار ایم۔ ایم احمد ہے۔ مغربی پاکستان کے لوگ ۱۹۵۳ء سے ہی مرزائیوں کے کلیدی آسامیوں پر مقرر ہونے کے خلاف ہیں اور وہ برابر مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں کہ ایم۔ ایم احمد کو اتنے بڑے منصب سے علیحدہ کیا جائے۔ اگر کسی حکومت نے تحقیقات کرائیں کہ ایم۔ ایم احمد کے دور میں مرزائیوں کو کس قدر فائدے ہوئے ہیں تو لوگ حیران ہو جائیں گے۔

مولانا نے فرمایا کہ بھائی میں نے پچھلے جمعہ ایم۔ ایم احمد کی علیحدگی کی خبر پڑھ کر ارباب اقتدار کے لئے بڑی دعائیں کیں۔ بڑی مبارک باد دیں لیکن اگلے روز ہی خبر آ گئی کہ ایم۔ ایم احمد کو صدر کا اقتصادی مشیر مقرر کر دیا گیا ہے۔ ان کا عہدہ وزیر کا ہوگا۔ تمام مراعات وزراء کی حاصل ہوں گی۔ لیکن وہ کابینہ میں شامل نہیں ہوں گے۔ وغیرہ وغیرہ ! ہم حیران اور پریشان رہ گئے کہ یا خدایا ! یہ کیا معاملہ ہوا ، ہم کو جتنی دعائیں یاد تھیں انہیں دے ڈالیں اور انہوں نے اسے پہلے سے بھی اونچے منصب پر بٹھا دیا ہے۔ مولانا نے ایک لطیفہ سنایا کہ ایک میراثی کا لڑکا دیر سے اٹھنے کا عادی تھا۔ بیچاری ماں بہت تلملاتی ، گالیاں دیتی۔ اٹھانے کی کوشش کرتی رہتی۔ لیکن وہ مانتا ہی نہ تھا اور برابر کافی سورج چڑھ آنے تک پڑا سوتا رہتا۔ خدا کی قدرت ایک دن وہ علی الصبح اٹھ بیٹھا۔ ماں نے بلائیں لینا شروع کیں۔ میں صدقے، میں واری، میں قربان میرا چاند بیٹا آج صبح سویرے اٹھ بیٹھا۔ برکت والے وقت میں پیروں والے وقت میں وہ دعائیں دے رہی تھی۔ لڑکا بولا تو خواہ مخواہ مجھے دعائیں دے رہی ہے۔ میں تو پیشاب کرنے کے لئے اٹھا ہوں اور پیشاب کر کے پھر سونے لگا ہوں۔ یہی حال ہمارا ہوا۔ دعائیں کرتے رہ گئے کہ یار لوگوں نے اسے ایک جگہ سے اٹھایا اور اس سے اونچی جگہ پر بٹھا دیا اور پھر بٹھایا کہاں۔ اعلان میں ہے کہ انہیں وزراء کی تمام سہولتیں دی گئی ہیں۔ لیکن وہ کابینہ میں شامل نہیں سمجھے جائیں گے۔ یعنی پکا وزیر لگا دیا ہے۔ کیونکہ کابینہ کے وزیر تو کچے وزیر ہیں۔ آج ہیں کل کو نہیں ہیں۔ آج صدر یحییٰ صاحب کابینہ توڑ دیں کل کو انتخاب کے بعد توڑ دیں تو سب وزیر ختم ہو جائیں گے۔ لیکن ایم۔ ایم احمد پکے وزیر ہیں۔ ان کی وزارت ایسی ہے جسے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ اختیارات اور مراعات کے لحاظ سے وہ وزیر ہیں لیکن عارضی نہیں بلکہ پکے وزیر ہیں۔

مولانا نے مزید فرمایا کہ ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایم۔ ایم احمد کو دباؤ ڈال کر عہدہ دلوایا گیا ہے۔ حکومت مجبور ہے کہ اسے ملک کی اقتصادیات کا سب سے بڑا افسر بنائے اور ملک کی اہم ترین جگہ پر اس کی تقرری کرے۔ اس لئے کہ ملک کو قرضوں کی ضرورت ہے اور قرضے جن سے ملنے ہیں ایم۔ ایم احمد ان کا ازلی ابدی وفادار اور دوست ہے۔ اس لئے حکومت مجبور ہے یہ کتنے افسوس کی بات ہے۔ ۱۹۵۳ء

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۴۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میں خواجہ ناظم الدین سر ظفر اللہ خان کو عوام کے مطالبہ کے پیش نظر نکالنا چاہتے تھے۔ لیکن نکال نہیں سکتے تھے۔ انہوں نے انکوائری کورٹ میں بیان دیا کہ اگر چوہدری ظفر اللہ خان کو نکال دیا جائے تو امریکہ کشمیر کے مسئلہ میں ہماری کوئی امداد نہیں کرے گا اور گندم کا ایک دانہ نہیں دے گا۔ ۱۹۵۳ء میں یہاں مرزائیوں کی یہ پوزیشن تھی۔ اب تو ۱۹۷۰ء ہے۔ اب تو وہ اور بھی زیادہ جڑیں پھیلا چکے ہیں۔ اب ایم ایم احمد کو کون نکالے۔

لیکن کتنا افسوس ہے قرضہ ملے تو ملک چل سکتا ہے اور ایم ایم احمد سب سے بڑا افسر ہو تو قرضہ مل سکتا ہے۔ منطقی نتیجہ یہ ہوا کہ ایم ایم احمد ہو تو ملک چل سکتا ہے۔ حالانکہ قرضہ ملنا چاہئے اس کو جس نے ادا کرنا ہے۔ قرضہ ملنا چاہئے اس کو جس کو ادا کرنے والی قوم کا اعتماد حاصل ہے۔ ملک کا سربراہ صدر یحییٰ خان ہیں۔ قوم کے متولی۔ سرپرست صدر یحییٰ خان ہیں۔ ملک ان کے ہاتھ میں، طاقت ان کے ہاتھ میں، خزانے ان کے ہاتھ میں، لیکن قرضہ ملتا ہے ایم ایم احمد کو، ہم امریکہ کی اس حرکت کو اچھی طرح جانتے ہیں اور پھر ہمیں ایسے قرضوں کی کیا ضرورت ہے جو ہماری عزت نفس کے خلاف ہوں جو ہمارے اعتماد اور وقار کو مجروح کر کے دیئے جائیں۔ علامہ اقبال کے بقول:

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

صدر مملکت سے ہم یہی عرض کریں گے کہ وہ اپنے دل سے غیر کا خوف نکال دیں۔ عزت اور ذلت خدا کے قبضہ میں ہے۔ اگر ہمارا ایمان درست ہو جائے تو امریکہ کوئی چیز نہیں۔ وہی امریکہ جسے ویت نام کی ایک چھوٹی سی قوم نے ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں اور وہی امریکہ جس کا جمبو جٹ عرب نوجوانوں نے جلا کر امریکہ کی آبرو کا دھواں اڑا دیا ہے۔ قوم آپ کے ساتھ ہے۔ آپ اللہ پر بھروسہ کریں۔ اس مرتد کو حکومت سے نکالیں اور امریکہ کی بلیک میلنگ میں نہ آئیں۔‘‘

(لولاک مورخہ ۱۸؍ ستمبر ۱۹۷۰ء)

۱۹۷۰ء کے الیکشن میں قادیانیوں کا کردار

انتخابات سے تقریباً دو ماہ قبل قادیانیوں نے پیپلز پارٹی سے مکمل اشتراک کر لیا۔ ان کے درمیان جو مبینہ معاہدہ ہوا اس کی تفصیل حاصل نہیں ہوسکیں۔ البتہ مرزا ناصر احمد کے جمعہ کے خطبوں اور ’’الفرقان‘‘ کی تحریرات سے اتنا واضح ہے کہ قادیانی بہت بوکھلائے ہوئے تھے اور انہیں خطرہ تھا کہ یہ عوامی سیلاب ان کو بہا نہ لے جائے۔ اس لئے انہوں نے جو معاہدہ کیا ہے لازمی ہے کہ اس میں ایک تو اپنے مفادات کا تحفظ ہو گا دوسرے پاکستان کے اندر قائم ہونے والی اسٹیٹ ربوہ کی حفاظت ہوگی۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے اقلیت قرار دیئے جانے کا سدباب کیا ہوگا۔ اسرائیل میں اپنے مشن کے قائم رہنے اور زر مبادلہ کی سہولت ملنے کا عہد کیا ہوگا۔ ایوبی دور میں انہوں نے انہیں خطوط پر اپنی تنظیم استوار کی۔

یہ ایک المناک داستان ہے کہ قادیانی نے کس طرح اسلامی آئین کی راہ میں روڑے اٹکائے۔ انہوں نے ہر مرحلے پر اسلامی انقلاب کی مخالفت کی اور اپنے پورے مادی وسائل اس کام میں صرف کئے۔ انہوں نے مسلمانوں کے سیاسی مفادات کو سبوتاژ کیا اور نئی نبوت کے نام سے اپنے کاروبار کو پھیلا کر کئی معاشرتی مسائل پیدا کئے۔ مسلمانوں کے ملازمتوں کے کوٹے پر مسلمان بن کر چھاپہ مارا اور مسلمانوں ہی کے خزانے سے روپیہ لے کر پاکستان میں ان کو قادیانی بنانے اور بیرونی ممالک میں مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا پرچار کرنے کے لئے صرف کیا۔ کیا پیپلز پارٹی ان کے لئے ڈھال کا کام دے گی اور انہیں پھلنے کے مواقع بہم پہنچائے گی؟

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۴۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۳۴۱ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قادیانی نوجوانوں کی جماعت خدام الاحمدیہ نے پیپلز پارٹی کے لئے بڑھ چڑھ کر کام کیا۔ انہوں نے نوجوانوں میں اثر ورسوخ پیدا کر کے ان کے جلسوں کی سرپرستی کی ، جماعت سے نان ونفقہ لے کر کچھ تو خود اڑایا، کچھ پیپلز پارٹی کے جھنڈے، تلوار کے نشان وغیرہ خریدنے پر صرف کیا۔

پیپلز پارٹی کی وارڈ کمیٹیوں میں خدام الاحمدیہ کے کارکن کپڑے کے پلندے پہنچاتے ہوئے دیکھے گئے اور قادیانی عورتوں نے اپنے گھروں میں ہزاروں جھنڈے سی سی کر لوگوں کو مہیا کئے۔ قادیانی عورتوں کی تنظیم لجنہ اماء اللہ جس میں بارہ برس کی دوشیزاؤں سے لے کر بوڑھی عورتیں شامل ہیں۔ سب نے بڑی جانفشانی سے پیپلز پارٹی کے لئے انتھک جدوجہد کی۔ قومی انتخابات سے دو تین دن قبل لجنات کی ٹولیاں سڑکوں پر گھومتی دکھائی دیتی رہیں۔ انہوں نے گھر گھر جا کر عورتوں کو پیپلز پارٹی کے لئے ووٹ دینے پر مجبور کیا اور بذات خود پارٹی کا لٹریچر خواتین تک پہنچایا۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ مرزاغلام احمد کی نبوت کا پرچار کرنے والے تنخواہ دار مبلغین نے لوگوں میں یہ تاثر پھیلایا کہ ان کی جماعت سوشلزم کی سخت مخالف ہے۔ اس ذیل میں انہوں نے مرزا قادیانی کے الہام اور مرزا بشیر الدین کا سوشلزم کی مخالفت میں طویل لیکچر اور سابق ڈپٹی چیئرمین منصوبہ بندی کے والد مرزا بشیر احمد کی تصانیف پیش کر کے عوام کو دھوکہ دیا۔ حال ہی میں موجود قادیانی خلیفہ کے جمعہ کے خطابات کا مجموعہ شائع کیا گیا ہے جو سوشلزم کی بھر پور مخالفت میں ہے۔ لیکن دوسری طرف اس منافق سامراج نواز اور اسلام دشمن جماعت نے سوشلزم کے لئے ہر ممکن اعانت کی اور اس کی محض یہ وجہ تھی کہ جماعت اسلامی برسر اقتدار نہ آئے۔ انتخابات سے ایک ہفتہ قبل، انجمن تحفظ پاکستان ، پیپلز فیڈریشن اور ایسی وضعی تنظیموں کے نام سے لاکھوں پوسٹر شائع کروا کے پاکستان کے طول وعرض میں لگوائے ۔ قائد اعظم کے نام نامی کو ایکسپلائٹ کر کے ”احمدی مسلمان ہیں۔“ والے پوسٹر چھپوا کر خدام سے لگوائے۔ تا کہ رائے عامہ پھسلائی جاسکے۔

اٹھائے گی۔

دولت کو لوٹا جا رہا ہے؟

قادیان کے ۳۱۳ درویشوں کی گتھی سلجھائے گی۔

ہمیں امید نہیں کہ ایسا ہو کیونکہ پیپلز پارٹی خود سرمایہ داروں کی پشت پناہی کے نتیجے میں سیاسی بالا دستی حاصل کر رہی ہے اور وہ انہی کے درپے نہیں ہو سکتی۔

(چٹان مورخہ ۲۴/جنوری ۱۹۷۱ء)

مولانا مفتی محمود پر چنیوٹ میں خطرناک حملہ

”گزشتہ دنوں چنیوٹ میں قومی اسمبلی کے رکن، جمعیۃ علماء اسلام کے قائد اور عوام کے محبوب راہنما مولانا مفتی محمود پر تیز رفتار

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۴۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کاروں کے ذریعہ جو خطرناک حملہ ہوا اس کی تفصیلات اخباروں میں آچکی ہیں۔ یہ حملہ کراچی میں ہالینڈ کے وزیر خارجہ اور صدر پر کئے گئے حملہ کے بعد اسی نوعیت کی حیثیت کا حامل ہے۔ واقعات کے مطابق مفتی محمود صاحب ممبر قومی اسمبلی ”تحفظ ختم نبوت کانفرنس“ میں شرکت کے لئے بذریعہ کار لائل پور سے چنیوٹ تشریف لائے تو اہالیان چنیوٹ کے ایک عظیم الشان جلوس نے آپ کا والہانہ خیر مقدم کیا۔ مفتی صاحب کو جلوس کی شکل میں شہر کی طرف لے جایا جارہا تھا کہ ربوہ کی طرف سے آنے والی تیز رفتار کار مجمع کو چیرتی ہوئی اور استقبال کرنے والے لوگوں کو کچلتی ہوئی مفتی صاحب کی جیپ کی طرف بڑھنے لگی۔ بے پناہ ہجوم کی افراتفری اور پیچھے آنے والی دوسری کاروں کے ٹکراؤ کے باعث مفتی صاحب خطرناک حملہ سے بال بال بچ گئے۔ لیکن چند افراد شدید طور پر زخمی ہو گئے۔

یہ خطرناک حملہ مفتی صاحب پر کیوں کیا گیا؟ اور تیز رفتار کار نے مجمع کو دیکھ کر رکنے کی بجائے مجمع کو کچلنے کی کیوں کوشش کی؟ اس کا پس منظر تو ارباب حکومت ہی واضح کر سکیں گے۔ البتہ یہ پہلو خصوصی توجہ کے لائق ہے کہ اس کار میں مبینہ طور سے ربوہ کی نیم فوجی تنظیم کے سالار اعلیٰ عبدالعزیز بھابڑی اور محمد شریف ڈرائیور بھی سوار تھے۔ ارباب حکومت کو اس خطرناک حملہ کے محرکات کا جائزہ لے کر اور حملہ کے اسباب معلوم کر کے عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی دور کرنی چاہئے اور عوام کے منتخب نمائندوں اور جماعتوں کے رہنماؤں کے خلاف تشدد آمیز رجحانات کا سختی کے ساتھ سد باب کرنا چاہئے۔“

(خدام الدین مؤرخہ ۸؍جنوری ۱۹۷۱ء)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۴۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۷۱ء

کے

حالات و واقعات

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزائیوں کی سیاسی جماعت سے وابستگی

مرزا ناصر احمد امیر جماعت احمدیہ پاکستان نے اپنے سالانہ جلسہ ربوہ سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کی جماعت نے حالیہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی باقاعدہ حمایت کی تھی۔ امیر جماعت احمدیہ کے اعتراف حقیقت کے بعد اب حکومت پاکستان کے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اس جماعت کے ساتھ دوسری سیاسی جماعتوں جیسا سلوک کرے اور اپنے آپ کو مذہبی وتبلیغی جماعت ظاہر کر کے لاکھوں روپیہ کا جو زر مبادلہ بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کے نام پر حاصل کر رہی ہے۔ اسے بند کر دیا جائے۔ کیونکہ یہ جماعت اسلام کے نام پر اپنی سیاسی آباد کاری کر رہی ہے۔ آخر یہ کیسا انصاف ہے کہ ایک جماعت اندرون ملک اور بیرون ممالک خصوصاً افریقہ میں اسلام کے مقدس نام پر اور مذہبی لبادہ اوڑھ کر اپنی سیاسی آباد کاری کرتی رہے اور اس کے لئے پاکستان کے عوام اختلاف عقائد ونظریات کے باوجود ان کے لئے کثیر زر مبادلہ مہیا کرتے رہیں۔ اگر جماعت احمدیہ کے ساتھ یہ خصوصی سلوک روا ہے تو اس کی پشت پناہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے ساتھ ساتھ دوسری جماعتوں کا کیا قصور ہے؟ انہیں بھی تبلیغ کے نام پر دوسرے ممالک میں سیاسی آباد کاری کے لئے زر مبادلہ مہیا ہونا چاہئے۔ ہمارا خیال ہے کہ امیر جماعت احمدیہ اور دیگر مرزائی رہنماؤں کے تازہ بیانات اور اپنی سیاسی حیثیت کے اعتراف کے بعد اب اس سیاسی جماعت کے ساتھ مذہبی فرقہ یا تبلیغی جماعت کا سلوک نہیں کیا جائے گا بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح یکساں سلوک روا رکھا جائے گا۔ ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ حکومت مذہب اور تبلیغ کے مقدس نام پر ایک خاص سیاسی جماعت کو خاص تحفظ دے رہی ہے۔

(خدام الدین مؤرخہ ۱۵؍جنوری ۱۹۷۱ء)

عذاب الٰہی کا نزول

ضلع لائل پور کے ایک گاؤں چک چوہلہ سے ہمیں ایک مخلص نے یہ اطلاع دی ہے کہ یہاں کی مرزائی جماعت کے امیر نے خلیفہ ربوہ کو لکھا ہے کہ چوہدری خان بہادر نعمت خان ریٹائرڈ سیشن جج کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے کرنل نصر اللہ خان وعبد الرحمٰن خان جج صاحب کی لڑکی جو سندھ سنڈیکیٹ کے سابق منیجر چوہدری محمد یوسف خان کی بیوی ہے اور محمد چراغ خان سابق امیر جماعت احمدیہ مرزائیت کو ترک کرنے کے سبب مرتد ہو گئے ہیں۔ جج صاحب کی لڑکی نے اپنی لڑکی کا رشتہ بھی غیر احمدیوں کو دے دیا ہے اور اس طرح جج صاحب کی اولاد پر خدا کا عذاب نازل ہو گیا ہے۔ یہ ہے مرزائی مذہب کی حقیقت۔ جس شخص کی تحقیق اور دیانت اسے مرزا غلام احمد قادیانی کے مذہب سے بچا کر محمدی اسلام پر لے آئے۔ تو وہ شخص مرزائیوں کے نزدیک مرتد ہو گیا ہے اور اس پر خدا کا عذاب نازل ہو گیا ہے۔ لیکن اس کے برعکس اگر کوئی مسلمان جو پشت ہاپشت سے مسلمان ہو اور مرزائیوں کے چکر میں پھنس کر متاع ایمان لٹا بیٹھے اور مرزائی ہو جائے۔ اگر اسے دوسرے مسلمان مرتد کہیں تو ربوہ کے تنخواہ دار مولوی شور مچاتے ہیں کہ صاحب ہمیں گالی دی جا رہی ہے اور ہمارے ساتھ تنگ دلی اور تعصب کا سلوک کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ ان کے اپنے تعصب اور تنگ دلی کا حال یہ ہے۔

(لولاک مؤرخہ ۲۰؍جنوری ۱۹۷۱ء)

ربوہ کی بنیاد

اس سال ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ میں جمعیۃ العلمائے اسلام کے شیخ محمد اقبال ایم۔ پی۔ اے نے تقریر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۴۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزائیوں کے مرکزی شہر ربوہ کی آباد کاری شاہ جیونہ کے میجر سید مبارک علی شاہ اور انگریز گورنر موڈی کی سہ طرفہ سازش کے نتیجہ میں ہوئی تھی اور اس طرح اس ناپاک مرکز کا قیام عمل میں آیا تھا۔ چنانچہ شیخ صاحب نے میجر مبارک علی شاہ کی اپنی تصنیف کردہ کتاب ”خدمت خلق“ کے ایک حوالے سے یہ ثابت کیا کہ مرزائیوں کو یہ زمین کوڑیوں کے بھاؤ دلوانے میں میجر صاحب موصوف کا عمل دخل تھا۔ ہم ذیل میں میجر صاحب کی کتاب خدمت خلق کا وہ حوالہ من وعن شائع کر رہے ہیں تاکہ لولاک کے صفحات پر یہ اہم دستاویزی ثبوت ریکارڈ ہو جائے۔ (ادارہ)

”نواب افتخار حسین ممدوٹ کی وزارت سے ممتاز محمد خان دولتانہ، سردار شوکت حیات خان اور میاں افتخار الدین یہ کہہ کر مستعفی ہو گئے کہ ہم دیکھیں گے کہ ہمارے بغیر نواب ممدوٹ وزارت کا کام کیوں کر چلاتے ہیں۔ حضرت قائد اعظم نے ان لوگوں کو ہر چند بہت سمجھایا اور وزارت میں رہ کر کام کرنے کے لئے بہت کچھ کہا سنا، مگر یہ صاحبان مانے نہیں۔ نواب ممدوٹ نے فوراً ہی دوبارہ وزارت قائم کر لی اور سردار عبدالحمید خان دستی، حاجی میاں نور اللہ صاحب، چوہدری فضل الہی صاحب اور راقم الحروف (یعنی مصنف کتاب میجر سید مبارک علی آف شاہ جیونہ ضلع جھنگ) کو وزارت میں لے لیا۔ قادیان کی جماعت احمدیہ لٹ لٹا کر جھنگ پہنچی اور اپنا نیا مرکز قائم کرنے کی فکر اور تگ و دو میں تھی۔ سردار شوکت خان وزیر مال تھے اور انہوں نے جماعت احمدی کو ایک علیحدہ شہر بسانے کے لئے سستی زمین دینے سے انکار کر دیا۔ خان بہادر چوہدری دین محمد ڈپٹی کمشنر رہ چکے تھے اور میرے ساتھ ان کے تعلقات تھے۔ ادھر چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان نے بھی مجھے امداد کے لئے خط لکھا۔ لہٰذا میں نے درخواست لے لی۔ اس پر نہایت پرزور الفاظ میں سفارش لکھی اور چوہدری دین محمد کو ہمراہ لے کر گورنر موڈی سے ملا اور ربوہ آباد کرنے اور شہر بسانے کی اجازت لے دی۔ یہ پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ میری تربیت کشادہ ظرفی، پاک باطنی اور فراخ مشربی کی فضا میں ہوئی تھی۔ سنی، شیعہ یا احمدی، غیر احمدی قسم کی فضول باتیں میری نگاہ میں کوئی معنی نہیں رکھتی تھیں۔ میں تو اتنا جانتا تھا کہ احمدی حضرات پاکستان کی رعایا اور ایک اقلیتی فرقہ تھے۔ ان کے چند حقوق تھے جن کی نگہ داری اور پاسداری حکومت کا فرض تھا۔ آج ربوہ ضلع جھنگ کا اہم تہذیبی، تعلیمی اور ثقافتی مرکز ہے۔ یہاں ایم.اے تک تعلیم کا انتظام ہے۔ شفا خانے، تار گھر، ٹیلی فون سسٹم اور بجلی موجود ہے۔“

(کتاب خدمت خلق مصنفہ میجر مبارک علی سابق وزیر پنجاب ص ۶۲، ۶۳، مطبوعہ مسلم پریس جھنگ، لولاک مورخہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۱ء)

چپ بورڈ جہلم کے مزدوروں پر فائرنگ

چپ بورڈ فیکٹری جہلم کے پرامن ہڑتالی مزدوروں پر کسی اشتعال کے بغیر فیکٹری کی انتظامیہ اور حفاظتی دستہ کی افسوس ناک فائرنگ کی خبریں تمام قومی اخبارات میں شائع ہوچکی ہیں۔ اس سلسلہ میں ہمیں جمعیۃ العلمائے اسلام جہلم کے دفتر نے جو مصدقہ تفصیلات ارسال کی ہیں وہ یہ ہیں۔

۱۱ فروری ۱۹۷۱ء کی صبح چپ بورڈ فیکٹری جہلم کی انتظامیہ نے جو کہ مرزائیوں پر مشتمل ہے، فیکٹری کے باہر ہڑتالی مسلمان مزدوروں پر اچانک چھ بندوقوں اور دو پستولوں سے فائرنگ شروع کر دی، جس سے دس مزدور شدید زخمی ہوگئے، جنہیں سول ہسپتال جہلم میں داخل کر دیا گیا ہے۔ مزدور یونین کے صدر وسیکرٹری، مولانا عبداللطیف صاحب کی خدمت میں آئے اور تفصیلی واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ فیکٹری کے مالک میاں منیر احمد جو کہ ایم.ایم احمد کے بھائی ہیں، نے مسلمانوں کی چھانٹی شروع کر دی۔ جس کے خلاف احتجاج کے طور پر مزدوروں نے ہڑتال کر دی اور فیکٹری کے باہر کیمپ لگا دیا۔ ۱۲ فروری ۱۹۷۱ء کے جنگ و امروز لاہور میں اس واقعہ کے بارے میں تمام

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۴۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تفصیل آ چکی ہے اور مولانا عبد اللطیف صاحب کا مذمتی بیان بھی آچکا ہے۔ حادثہ کے ذمہ دار فیکٹری کے مالکان مرزائی ہیں ۔ ضمانت قبل از گرفتاری کرالی ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کر دی۔ عماد الدین احمد از دفتر جمعیتہ العلمائے اسلام جہلم

اس حادثہ پر مزید روشنی چپ بورڈ کے مزدوروں کی یونین کے ذمہ دار عہدیداران کے اس حلفیہ بیان سے پڑتی ہے جو انہوں نے اس حادثہ کے وقوع پذیر ہونے کے بعد جمعیتہ العلمائے اسلام جہلم کے امیر اور مشہور ملی رہنما مولانا عبد اللطیف صاحب مدظلہ کو لکھ کر دیا ہے۔ یونین کے عہدیداران کا وہ حلفیہ بیان حسب ذیل ہے۔

جناب مولوی عبد اللطیف صاحب امیر جمعیتہ العلمائے اسلام جہلم السلام علیکم !

میں حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ ہم ہڑتالی مزدور باہر ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے تھے اور کچھ آدمی چائے پی رہے تھے کہ میاں منیر احمد جو کہ (چپ بورڈ) فیکٹری کا مینیجنگ ڈائریکٹر ہے، اس کے ساتھ مرزا ادریس احمد، بشیر احمد، منصور احمد، خدا بخش، عابد حسین اور دیگر جو انہوں نے غنڈے بلا رکھے تھے انہوں نے فائرنگ کرنی شروع کر دی۔ دو پستول اور چار رائفلیں چلائی گئیں۔ جس سے دس آدمی زخمی ہوئے۔ یہ لوگ جنہوں نے ہم پر فائرنگ کی سب مرزائی ہیں۔ ان کی مرضی یہ تھی کہ اس فیکٹری میں سب مرزائی ہوں۔ کیونکہ یونین بن چکی ہے۔ اس لئے ان کا یہ حربہ کارگر ثابت نہ ہو سکا۔

۲۱؍ اگست ۱۹۷۰ء کو ہماری یونین رجسٹرڈ ہو چکی ہے۔ ستمبر سے مالکان کی کوشش ہے کہ یہاں مرزائی ملازمین ہوں۔ اس چیز کا ثبوت ہمارے پاس موجود ہے کہ مالکان نے مرزائیوں سے درخواست منگوائیں اور بعد میں یونین کے دو ممبران پر جھوٹے الزام لگا کر فیکٹری سے علیحدہ کیا ۔ یونین یہ چاہتی ہے کہ اس کے ممبران کو واپس ملازمت میں لیا جائے اور جو غنڈے فیکٹری میں مزدوروں کو ہراساں کرنے کے لئے فیکٹری میں بلا رکھے ہیں باہر کیا جائے۔ والسلام ! دستخط: تاج محمد صدر یونین پاکستان چپ بورڈ فیکٹری جہلم ، دستخط عبد اللطیف جوائنٹ سیکرٹری ایمپلائیز یونین پاکستان چپ بورڈ فیکٹری، جہلم مورخہ ۱۲؍ فروری ۱۹۷۱ء

قادیانیت قبول نہ کرنے پر ملازمین کا تبادلہ

لاہور: مورخہ ۱۷؍ فروری ۱۹۷۱ء (سٹاف رپورٹر ) لینڈ اینڈ واٹر مینجمنٹ ٹیوب ویل آپریٹر کے قانونی مشیر جناب رانا اعجاز احمد ایڈووکیٹ نے ٹیوب ویل آپریشن ڈویژن شیخوپورہ کے ایگزیکٹو انجینئر مسٹر عبد السمیع پر الزام لگایا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر ملازمتوں کی تقرری اور تنزلی کر کے انہیں مرزائیت قبول کرنے کی تلقین کرتے ہیں اور اگر کوئی شخص ان کی بات نہ مانتے ہوئے مرزائیت قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے تو اسے فوراً تبدیل کر کے دوسرے دور دراز مقامات پر بھیج دیا جاتا ہے۔ رانا اعجاز احمد فاروق نے یہ بات آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اعجاز احمد خان نے کہا کہ مسٹر عبد السمیع سرکاری عہدہ سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے قادیانیت کی تبلیغ واشاعت میں مصروف ہیں۔ حال ہی میں مسٹر عبد السمیع نے مسٹر عبدالعزیز، محمد حنیف ، اصغر علی اور شاہد علی ٹیوب ویلز آپریٹروں کو قادیانی بننے پر مجبور کیا اور انہیں کہا کہ دین و دنیا کی فلاح قادیانیت میں مضمر ہے اور مرزا قادیانی سچے نبی تھے اور چونکہ اب پیپلز پارٹی برسر اقتدار آ گئی ہے اس لئے لوگوں کو

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۴۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بزور قادیانیت قبول کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ نیز ان آپریٹروں کو قادیانی لٹریچر بھی دیا گیا۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود ان افراد نے قادیانیت قبول کرنے سے انکار کر دیا تو ان کے تبادلے کر دیئے گئے اور اب ملازمت سے نکالنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ جو لوگ قادیانی بننے پر تیار ہو جاتے ہیں انہیں اعلیٰ عہدے دیئے جاتے ہیں۔ اب تک آپریٹرز جنہوں نے قادیانیت قبول کر لی ہے، فورمین بنا دیئے گئے ہیں۔ اعجاز احمد خان نے مطالبہ کیا کہ مسٹر عبد السمیع کا تبادلہ کیا جائے اور قادیانیوں کو دی گئی مراعات فوراً واپس لی جائیں۔

(لولاک،مورخہ ۲۶؍فروری ۱۹۷۱ء)

چیچہ وطنی میں مٹھائی فروش غلام رسول کے قتل کا المناک سانحہ

چیچہ وطنی کے ایک مٹھائی فروش غلام رسول کو وہاں کی احمدیہ جماعت کے امیر نذیر احمد باجوہ نے مبینہ طور پر مغرب کے بعد اپنے مکان میں دھوکہ سے بلوایا اور قتل کرا دیا۔ اتنی بے دردی سے قتل کرایا گیا کہ اس ہولناک سانحہ کی تفصیلات سے سارا ملک لرزہ براندام ہو گیا ہے۔ نذیر احمد باجوہ کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ لاکھوں پتی بہت بڑے زمیندار ہیں۔ چوہدری ظفر اللہ خان کے عزیزوں میں سے ہیں۔

گزشتہ سال چک بیریا نوالہ ضلع لائل پور میں ایک مسجد کے تنازعہ پر مرزائیوں نے گاؤں کے مسلمانوں پر بلاوجہ فائرنگ کر دی اور کئی مسلمانوں کو زخمی کر دیا۔ مقدمہ درج ہوا اور وہ ابھی تک ٹوبہ ٹیک سنگھ کی کسی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ پچھلے دنوں چپ بورڈ فیکٹری جہلم میں ایم۔ایم احمد کے چھوٹے بھائی مرزا منیر احمد نے اسی فیکٹری کے ہڑتالی مزدوروں پر بلاوجہ فائرنگ کرا دی۔ جس سے ۱۰ مسلمان شدید زخمی ہو گئے۔ ابھی چپ بورڈ فیکٹری کے مظلوم مزدوروں کا رونا دھونا بند نہیں ہوا تھا کہ چیچہ وطنی کا سانحہ رونما ہو گیا اور مقامی پولیس کی زبر دست کوتاہی سے نہ صرف یہ مسئلہ طول پکڑ گیا بلکہ وہاں پولیس فائرنگ سے تین مسلمان شہید ہو گئے اور پچاس زخمی ہو گئے۔

معلوم ہوا ہے کہ چیچہ وطنی تھانہ کا سارا عملہ وہاں سے بدل دیا گیا ہے اور تحقیقات ہو رہی ہیں۔ خدا کرے تحقیقات میں اصل مجرموں کی نشاندہی ہو جائے تا کہ وہ بلا رو رعایت اپنے کئے کی سزا پا کر کیفر کردار کو پہنچ سکیں۔ اس سلسلہ میں حکومت کو یہ بھی نوٹ کر لینا چاہئے کہ مرزائیوں کے مسئلہ میں لوگوں کے جذبات نہایت ہی نازک واقع ہوئے ہیں۔ یہ مسئلہ آئے دن حکومت اور عوام کے لئے نئی نئی پریشانیوں کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ اس درد سر کا اصل حل وہی ہے جس کا ایک مدت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے اور وہ یہ کہ انہیں ایک غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے تا کہ مسلمانوں کا ایمان ان کی مرتدانہ سرگرمیوں سے محفوظ رہے اور ایک اقلیت کی حیثیت سے ان کے مال، جان و آبرو کا بھی خاطر خواہ تحفظ ممکن ہو سکے۔

آخر میں ہم جہاں حکومت سے غلام رسول مرحوم کے درد ناک قتل اور پولیس فائرنگ کے سلسلہ میں حق و انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی اپیل کریں گے وہاں یہ بھی اپیل کریں گے کہ اس سلسلہ میں ناحق گرفتار کئے جانے والے مسلمان طلباء اور علماء کو فوری طور پر رہا کر دیا جائے تا کہ عوام کا اضطراب دور ہو۔

(لولاک مورخہ ۳؍ مارچ ۱۹۷۱ء)

واقعہ چیچہ وطنی کی تحقیقات کرائی جائے

غلام رسوم مرحوم جسے چیچہ وطنی کے ایک سیاہ باطن مرزائی نذیر احمد باجوہ نے دھوکہ سے اپنے گھر بلوا کر بڑی بے دردی سے قتل کروایا، اس سنگدلانہ قتل کے بعد چیچہ وطنی میں پندرہ ہزار مظاہرین نے احتجاج اور مظاہرہ کیا جس پر فائرنگ ہوئی اور تین مظلوم مسلمان مزید

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۴۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

شہید ہوگئے۔ غلام رسول مرحوم کے قتل اور چیچہ وطنی میں ظالمانہ فائرنگ کے خلاف ہر جگہ سے آواز بلند ہوئی تھی۔

ندائے ملت لاہور نے لکھا کہ: ابھی عوام کے دلوں سے کھاریاں ”اور وہاڑی کیس“ کے اذیت ناک نقوش مٹنے بھی نہیں پائے تھے کہ سانحہ چیچہ وطنی کی صورت میں ہماری پولیس کا ایک اور کارنامہ سامنے آیا ہے۔ چند روز قبل چیچہ وطنی کے ایک نوجوان مٹھائی فروش غلام رسول عرف گھوٹو کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس پر پولیس نے جس شان بے نیازی کا مظاہرہ کیا اور جس طرح دیدہ دانستہ کیس کو بگاڑنے کی کوشش کی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ غلام رسول کی طرح نہ جانے کتنے غریب وبے کس لوگوں کے خون پولیس کی دھاندلیوں کی وجہ سے رائیگاں جاتے ہوں گے؟ انگریزی ذہنیت کے مارے ہوئے ہمارے اعلیٰ پولیس حکام اگر کبھی اپنے محل سراؤں اور بیوروکریسی کے حصار سے باہر آکر تبدیلی وقت کا جائزہ لیں تو خود انہیں بھی اس حقیقت حال کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ آج ملک بھر میں ہر جگہ جس ہیجان انگیزی اور بحرانی کیفیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کا سب سے بڑا سبب پولیس کی بے انصافیوں، ظلم وتشدد، رشوت اور دھاندلیوں کا فطری ردعمل ہے۔ چیچہ وطنی میں یہ عوام کا فطری ردعمل ہی تھا جس نے صورتحال کو بگاڑنے کے ساتھ ساتھ ایسے پولیس افسروں کی دھاندلیوں کو ملک بھر میں بے نقاب کر دیا جنہوں نے مقدمہ قتل درج کرنے کی بجائے قتل کی اطلاع ملنے کے دس گھنٹے بعد تک بھی اپنی روایتی بے نیازی کا مظاہرہ کیا۔ انصاف کی خاطر جب نوجوان مقتول کا بوڑھا باپ روتا اور گڑگڑاتا ہوا اپنے رشتہ داروں کے ہمراہ تھانے کے انسپکٹر کے پاس پہنچا تو انسپکٹر نے الٹا اس کی بے عزتی کی۔ شہر کے لوگ تھانے جانے لگے تو ان کو دھمکایا اور کہا کہ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ ”کھاریاں“ یا ”وہاڑی“ کے کیس کی سی صورت بنالیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔ غلام رسول کا قتل کن وجوہات کی بناء پر ہوا۔ اس کا پورا علم تو قاتلوں کو ہی ہوسکتا ہے۔ لیکن جس بات کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے اور جس کا اظہار غلام رسول کے بھائی انور نے پولیس کی رپورٹ درج کراتے وقت بھی کیا، وہ ہے کسی لڑکی سے ناجائز تعلقات۔

آج تک جتنے قتل ہوئے ان کی بناء بھی زن، زمین اور زر میں سے ہی کوئی نہ کوئی رہی ہے۔ اگر غلام رسول کے قریبی دوستوں، ہمسائے میں اس کے ساتھ کاروبار کرنے والوں اور گھر والوں کی اس بات کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ غلام رسول کے متصل ۵۰ گز کے فاصلے پر واقع نذیر احمد باجوہ کے دومنزلہ مکان کی بالکونی میں اکثر اوقات ایک ۱۴/ ۱۵ سالہ لڑکی کو مخصوص اشارے کرتے ہوئے دیکھا گیا اور غلام رسول نے ان اشاروں کے بعض اوقات جواب بھی دیئے تو تب بھی جس بے دردی سے غلام رسول کو محض شک وشبہ کی بناء پر قتل کیا گیا اس پر مقدمہ قتل درج کرنے سے انکار کر دینا کسی صورت جائز نہیں۔ اشاروں، کنایوں کو ناجائز تعلقات کا نام دینا بھی صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ تاہم جو لوگ کھلم کھلا چیچہ وطنی میں اس کا پرچار کر رہے ہیں انہیں یہ بات بہ خوبی یاد رکھنی چاہئے کہ وجہ خواہ کوئی بھی ہو مقتول کو اب بدنام کرنے سے انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ عوام نے غلام رسول سے ہمدردی نہیں جتائی تھی بلکہ انسانیت سے ہمدردی کا دم بھرا تھا کہ انہوں نے بے انصافی، ظلم وتشدد اور دھاندلی کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور ان کے خلاف اٹھائی گئی آواز کی شدت میں وقتی طور پر کمی آ بھی جائے تو تب بھی ایسی آوازوں کو خاموش کرنا ممکن نہیں۔ اگر اس مفروضہ پر غور بھی کیا جائے کہ نذیر باجوہ جیسے لینڈ لارڈ اور لکھ پتی شخص کے گھر رہنے والی کوئی لڑکی جس کی تربیت بھی اچھے انداز میں ہوئی ہو کسی ان پڑھ مٹھائی فروش کو اشارے کر سکتی ہے تو پھر بھی اس امر کا کوئی جواز نہیں ملتا کہ قتل کی ایک واردات کے بعد پولیس نصف دن تک محض ٹال مٹول کرتی رہے اور الٹا مقتول کے ورثاء کو دھمکاتی رہے۔ جہاں تک میں نے حالات کا جائزہ لیا اور تقریباً ڈیڑھ سو افراد سے پوچھ گچھ کرنے کے بعد رائے قائم کی اس کے مطابق غلام رسول کے نذیر باجوہ کے گھر والوں سے

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۴۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تعلقات ضرور تھے۔ لیکن کسی صورت بھی انہیں ”ناجائز“ کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ جس طرح رواجا پڑوسی دکان داروں سے ضروری اشیاء ادھار پر لی جاتی ہیں۔ اسی طرح غلام رسول سے بھی ادھار پر اشیاء منگوائی جاتی تھیں۔ غلام رسول کو چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے نذیر باجوہ کے گھر پر بھی بلایا جاتا تھا۔ اس کا آنا جانا وہاں پر رہنے والے دو افراد بشیر مسیح اور ظفر کو سخت ناپسند تھا۔ بلکہ کسی حد تک وہ غلام رسول کے ساتھ رقابت رکھنے لگے تھے۔ وقوعہ سے قبل نذیر احمد باجوہ کے گھر ایک فوجی بھی اپنی بیوی کے ہمراہ ملتان سے چیچہ وطنی آیا ہوا تھا۔ اس سے قبل گھریلو ملازم نذیر احمد باجوہ کے پاس غلام رسول کی ایسی شکایت کرتے رہتے تھے اور دوسرے لوگوں سے بھی شکایت کرا کر نذیر باجوہ کو غلام رسول کے خلاف اکسایا جاتا تھا۔ ان میں کچھ اشاروں، کنایوں کا ذکر بھی ہوتا۔ حالانکہ مجھے تقریباً ایک درجن دوکانداروں نے بتایا کہ نذیر باجوہ کا مکان واحد ایسا مکان تھا جس کی دوکانداروں کی طرف کھلنے والی بالکونی میں ایک نوجوان لڑکی اکثر و بیشتر پورا پورا دن کھڑی ہوئی نظر آتی تھی اور راتوں کو بھی اس کھڑکی میں کئی بار روشنی جلائی اور بجھائی جاتی تھی۔ چونکہ بالکونی غلام رسول کی دکان کے ٹھیک سیدھ میں واقع تھی۔ اس لئے بہت سے لوگوں نے خواہ مخواہ ایسا تاثر لینا شروع کر دیا تھا جس سے غلام رسول پر بھی اعتراض کا پہلو نکلتا اور نذیر باجوہ کے گھر میں رہنے والی اس لڑکی پر بھی اعتراض کیا جاتا۔ جس کے متعلق پورا پورا دن بالکونی (کھڑکی) میں جھانکنے کی اطلاع ملی ہے۔ تاہم ان تمام امور کے ہوتے ہوئے بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دشمنوں نے قتل کا منصوبہ پہلے سے تیار کر رکھا تھا۔ غلام رسول کو خود نذیر احمد باجوہ دوپہر کو گھر بلانے آیا اور کہا کہ بھئی گھر آ ذرا اپنا حساب کر جاؤ۔ میں شاید باہر چلا جاؤں اور پھر تمہیں رقم نہ مل سکے۔ یہ رقم وہ تھی جو مٹھائی وغیرہ منگوانے کے سلسلہ میں نذیر باجوہ کے ذمہ واجب الاداء تھی۔ غلام رسول نے یہ کہہ کر کہ باجوہ صاحب رقم پھر آ جائے گی۔ نذیر باجوہ کا یہ وار خالی کر دیا۔ چنانچہ شام تک غلام رسول نہ گیا۔ شام کو نذیر باجوہ کا مہمان فوجی ارشاد دوکان پر آیا اور اس نے غلام رسول سے کہا کہ تمہیں باجوہ صاحب نے مکان پر بلایا ہے۔ اس پر غلام رسول نے کہا کہ وہ دوکان بند کر کے ہی آئے گا۔ کیونکہ دوکان پر دوسرا کوئی شخص دیکھ بھال کرنے والا نہیں۔ ۹ بجے کے بعد جب وہ دوکان بند کر کے نذیر باجوہ کے گھر پہنچا تو زندہ واپس نہ آ سکا۔ طے شدہ منصوبہ کے مطابق اسے رسیوں سے جکڑ لیا گیا۔ نذیر باجوہ کی زمینوں پر سے اس روز بہت سے لوگ آئے ہوئے تھے۔ چنانچہ رات کو اذیتیں دے دے کر غلام رسول کو قتل کر دیا گیا۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے ایسی شرمناک اذیتیں دینے کا بھی پتہ چلا ہے جن کی تفصیل قلمبند نہیں کی جا سکتی۔ زیادہ قرین قیاس یہی ہے کہ اس وقوعہ میں نذیر باجوہ نے پولیس انسپکٹر سے بھی ساز باز کر رکھی تھی۔ کیونکہ چار بجے تھانہ والوں نے غلام رسول کے خلاف فوجی کلرک ارشاد کی رپورٹ پر زیر دفعہ ۴۵۶ مقدمہ بھی درج کر لیا۔ ارشاد نے اس امر کی رپورٹ کی تھی کہ وہ نذیر باجوہ کے مکان میں سویا ہوا تھا کہ آدھی رات کے وقت شور ہوا۔ اسے نوکروں بشیر مسیح اور ظفر نے جگایا اور کسی چور کے متعلق اطلاع دی۔ وہ باہر آیا تو اس نے چور کو جس کا نام بعد میں غلام رسول معلوم ہوا دیکھا۔ چنانچہ اس نے اسے پکڑ لیا۔ اتنے میں اس کی مدد کرنے دونوں نوکر آ گئے۔ جنہوں نے ڈنڈوں سے چور کو پیٹا جو وہاں گر گیا۔ اس پر اسے رسیوں سے جکڑ دیا گیا۔ (اللہ دتہ اور خیر سلا) اس سب کے بعد نذیر باجوہ کو بذریعہ ٹیلی فون اطلاع دی گئی۔

پولیس رپورٹ میں یہ درج ہی نہیں کرایا گیا کہ ٹیلی فون کب، کتنے بجے، کہاں اور کس نمبر سے کیا گیا۔ کیونکہ نذیر باجوہ کے ہاں تو ٹیلی فون موجود نہیں تھا۔ تاہم پولیس نے تفتیش شروع کر دی اور اس اطلاع کے دو گھنٹے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچی۔ وہاں سے نعش کو تھانے لایا گیا۔ ورثاء کو اطلاع ۷ بجے صبح ملی۔ انہوں نے پس منظر کو سمجھتے ہوئے جب پولیس سے کہا کہ وہ ظلم نہ کرے اور صحیح وقوعہ معلوم کر کے

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۵۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مقدمہ قتل درج کرے تو پولیس نے انکار کر دیا۔ چوری کی نیت سے آنے والے چور کو مارنے کی رپورٹ کو صحیح سمجھتے ہوئے اس پر کارروائی کی گئی۔ رپٹ درج کرانے والے ارشاد کی اس اطلاع کو بھی صحیح سمجھ لیا گیا۔ غلام رسول جو خود ایک خوشحال گھرانے کا فرد ہے۔ نذیر باجوہ کے گھر چوری کی نیت سے داخل ہوا۔ اس غلام رسول کو جسے تمام اہل خانہ جانتے ہیں اور گھر کے نوکر جس سے روزانہ سودا ادھار لاتے ہیں۔ پہنچان بھی نہ سکے اور خود شکایت کنندہ جو شام کو کافی دیر تک غلام رسول کی دکان پر بیٹھا رہا۔ یہ لکھواتا رہا کہ بعد میں چور کا نام غلام رسول معلوم ہوا۔ غرض پولیس دیدہ دلیری سے مقدمہ بگاڑنے پر اتر آئی کہ اس حرکت کے خلاف پورے شہر میں نفرت اور غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ لوگ جل بھن کر باہر نکل آئے اور مقتول کے پوسٹ مارٹم سے قبل ہی تھانہ کے باہر ہزاروں لوگ جمع ہو گئے۔ صورتحال کو قابو سے باہر جاتے ہوئے دیکھ کر پولیس انسپکٹر نے مقدمہ درج تو کر لیا لیکن بقول ڈی۔آئی۔جی پولیس ملتان زیر دفعہ ۳۰۲/۳۴ ت۔پ لکھنے کی بجائے اس نے زیر دفعہ ۳۰۴/۳۴ ت۔پ لکھ دیا۔ ڈی۔آئی۔جی صاحب کے مطابق جن سے میری خاصی دیر تک اس سلسلہ میں بات چیت ہوئی۔ یہ کوئی ایسی غلطی نہیں تھی جس کا نوٹس لیا جائے۔ ان کے مطابق بعد میں جب غلطی کا پتہ چلا تو ۳۰۴ کو ۳۰۲ت۔پ میں بدل دیا گیا۔ (یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ۳۰۴ ت۔پ کسی کو اتفاقیہ موت کے گھاٹ اتارنے کی دفعہ ہے۔ جب کہ ۳۰۲ ت۔پ کسی کو جان بوجھ کر اور کسی محرک کی بناء پر موت کے گھاٹ اتار دینے کی دفعہ ہے) بات یہیں تک محدود رہتی تو بھی ممکن تھا کہ شہری رو دھو کر چپ ہو جاتے ہیں۔ لیکن اسی پر بس نہیں کیا گیا۔ پولیس نے نذیر باجوہ کے ساتھ پروگرام طے کیا اور اسے حفاظت سے دوسری جگہ منتقل ہونے میں مدد دی۔ خود انسپکٹر پولیس نے شہر میں دوسری جگہ نذیر باجوہ، اس کے بھائی نصیر باجوہ اور بال بچوں کو معہ ضروری سامان منتقل کرا دیا۔ وقوعہ کی صبح کے دوسرے روز جب شہر میں ہڑتال ہوئی اور عوام کے دلوں کی بات نعروں کی صورت میں زبان پر آ گئی اور پولیس کے مظالم، زیادتی اور ناانصافی کے خلاف مظاہرے ہوئے تو پولیس ایک بار پھر حرکت میں آ گئی۔ جوش میں لوگ نذیر باجوہ کے مکان پر پہنچ گئے۔ جہاں نصیر باجوہ تھا وہاں ایک بار پھر پولیس نے چابک دستی کا مظاہرہ کیا اور اس سے قبل کہ ہجوم وہاں پہنچتا مکان کے اندرونی حصہ کو نذر آتش کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی پولیس نصیر باجوہ کو اپنی تحویل اور حفاظت میں لے کر چلی۔ عوام نے جب قاتل پارٹی کے اس فرد کو یوں بہ حفاظت اور مسلح ہو کر جاتے دیکھا تو آوازے کسے جس کے جواب میں آنسو گیس پھینکی گئی۔ آنسو گیس سے جب ہزاروں کا مجمع زیادہ مشتعل ہوا تو انسپکٹر صاحب نے فائرنگ شروع کر دی اور خود بھی فائر کھول دیا۔ نذیر باوجوہ کے مکان پر بندوقوں سے فائرنگ ہوئی۔ جس کا ثبوت ہسپتال میں بعض زخمیوں کے جسم سے چھرے نکلنے پر ملا۔ یہ سین کسی حد تک ڈراپ سین تھا۔ کیونکہ اس کے بعد عوام کو قاتل پارٹی کے ساتھ پولیس کی ملی بھگت کی صحیح تصویر نظر آ گئی۔ نذیر باجوہ کے گھر میں مسلح پولیس کے ہوتے ہوئے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ مکان کے اندر سے آگ لگائی جاتی۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو یہ امر لازمی تھا کہ پولیس آگ لگانے والوں میں سے کم از کم ایک آدھ کو ہی گرفتار کر لیتی۔ تمام امور سوچی سمجھی سکیم کے تحت طے پائے۔ آگ مکان کے اندر سے لگائی گئی اور تمام ضروری سامان اس سے قبل منتقل کر دیا گیا۔

ان دنوں احراری لیڈر عطاء المہیمن بھی سامنے آئے۔ انہوں نے اور مقتول کے بعض ورثاء نے تانگوں میں لاؤڈ سپیکروں کے ذریعہ وقوعہ کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی۔ مقامی پولیس کے خلاف نعرے لگے۔ فائرنگ کے بعد تو صورتحال مزید پریشان کن ہوگئی۔ نائب تھانیدار نے موقع پر موجود صحافیوں کو بتایا کہ اس نے فائرنگ کا حکم نہیں دیا تھا۔ البتہ صرف ایک آدھ ہوائی فائر کرنے کے لئے کہا تھا۔ ڈی۔ایس۔پی خود اس غصہ میں رہا کہ انسپکٹر پولیس نے یہ اچانک فائرنگ کس کے حکم سے شروع کر دی ہے؟

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۵۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جو کچھ ہوا اسے مذہبی رنگ دینے کا قصہ فضول تھا۔ اس ضمن میں محض عوام کی توجہ پولیس سے ہٹانے کے لئے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اس تمام ڈرامے کا ہیرو ”انسپکٹر پولیس“ ہے۔ جس نے مقتول کے خلاف غیر واقعاتی پرچہ درج کیا۔ پھر ۱۰ گھنٹے تک شہادتیں موجود ہونے کے باوجود بھی قتل کا مقدمہ درج نہ کیا اور اسی پر بس نہیں کی۔ کسی قسم کے واضح حکم نہ ہونے کے باوجود فائرنگ کر کے تین افراد کو ہلاک اور پچاس سے زائد کو زخمی کر دیا اور صورتحال کو قابو سے باہر دیکھتے ہوئے واقعہ کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی۔ حالانکہ مقدمہ سیدھا سادھا قتل کا مقدمہ تھا۔ جس میں مقتول کو بااثر لینڈ لارڈ نے اپنے اثر و رسوخ کی بناء پر گھر کی ایک لڑکی سے ناجائز تعلقات کے شبہ میں دھوکے سے بلوایا اور اذیت ناک طریقے سے اسے جان سے مار ڈالا۔ رسیوں سے جکڑ کر مقتول کے منہ میں کپڑا اور مرچیں ٹھونس دی گئیں اور اس رات گھر میں ریڈیو رات ۱۲ بجے تک پوری آواز کے ساتھ لگائے رکھا تاکہ پڑوس میں کسی قسم کا شور تک سنائی نہ دے۔ جہاں تک وقوعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش ہے۔ اس کا بھید اب کھل چکا ہے اور ماسوائے پولیس کے خلاف مظاہروں کے اب صورتحال کافی بہتر ہو چکی ہے۔ اگر آج بھی پولیس کے اعلیٰ حکام اپنی آنکھوں سے انگریزی ذہنیت کی پٹی اتار پھینکیں اور عوام پر ظالمانہ طریقے سے حکومت کرنے کی بجائے وقت کے تقاضوں کو پہچانیں تو ایسے واقعات پر قابو پانا کوئی مشکل نہیں۔ اگر ایک پولیس افسر کی حماقتوں، کوتاہ اندیشوں اور دھاندلیوں پر کسی بڑے سے بڑے ذاتی مفاد کے لئے بھی اعلیٰ حکام نے پردہ ڈالنے کی کوشش کی تو انہیں اس کے خطرناک نتائج بھگتنا پڑیں گے اور عوام میں ظلم و بے انصافی سے نجات پانے کے لئے قربانی دینے کی عادت راسخ ہوتی چلی جائے گی۔ جو کسی صورت بھی ملک کے لئے سودمند نہیں ہے۔

(روزنامہ ندائے ملت لاہور، مورخہ ۲۶؍ فروری ۱۹۷۱ء)

سانحہ جہلم اور مارشل لاء

معلوم ہوا ہے کہ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے آئی۔ جی پولیس پنجاب کو حکم صادر فرمایا۔ چپ بورڈ فیکٹری جہلم کے چوتھائی حصہ کے مالک لیفٹیننٹ کرنل خان محمد عشائی کی درخواستوں کے مطابق ایم۔ ایم احمد کے بھائی مرزا منیر احمد اور اس کی پارٹی کے خلاف مقدمہ درج کر کے باقاعدہ کارروائی کی جائے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ آئی۔ جی پولیس پنجاب نے ایس۔ پی صاحب جہلم کو مقدمہ درج کر کے کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ کرنل خان محمد عشائی ایک عرصہ سے مرزا منیر احمد اور اس کے دوسرے ہمراہیوں کے خلاف سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے درخواستیں دے رہے تھے۔ پچھلے دنوں مرزا منیر احمد اور ان کے ہمراہیوں نے چپ بورڈ فیکٹری کے بے گناہ مسلمانوں پر فائرنگ کی جس سے ۱۰ مسلمان شدید زخمی ہوئے۔ جس کی تفصیلات تمام قومی اخبارات نے شائع کیں۔ لولاک نے پچھلے شمارہ میں چپ بورڈ فیکٹری کے تمام حالات اور کوائف شائع کئے اور مطالبہ کیا تھا کہ چپ بورڈ فیکٹری میں ہونے والی تمام دھاندلیوں اور مظالم کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائی جائے اور ملزموں کو مارشل لاء کے سپرد کر کے مقدمے چلائے جائیں۔ تاکہ مجرم اپنے کیفر کردار کو پہنچ سکیں۔

دریں اثناء پورے ملک میں چپ بورڈ فیکٹری میں دھاندلیاں کرنے اور وہاں کے بے گناہ مزدوروں پر فائرنگ کر کے انہیں زخمی کرنے، اسی طرح چیچہ وطنی کے عظیم سانحہ کے متعلق اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرانے اور مجرموں کو سنگین سزائیں دلوانے کے مطالبات بڑی شدومد کے ساتھ کئے جا رہے ہیں۔ معتبر ذرائع سے معلوم ہوا کہ چیچہ وطنی کے سانحہ کے اصل ملزم نذیر باجوہ کے خلاف ۳۰۲ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور پولیس اس کی گرفتاری کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ خبریں شائع ہو چکی ہیں کہ تھانہ چیچہ وطنی کا سارا عملہ وہاں سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۵۲

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عوام کا مطالبہ یہ ہے کہ پولیس کے جو افسر اس سلسلہ میں ملوث ہیں انہیں معطل کر کے اس سانحہ میں شامل تفتیش کیا جائے۔

(لولاک مؤرخہ ۳؍مارچ ۱۹۷۱ء)

سعودی عرب میں مرزائیوں کی پراسرار سرگرمیاں

اخبارات میں چنیوٹ کے قریب بس اور کار کے تصادم کی جو خبر شائع ہوئی ہے اسے پڑھ کر یہ انکشاف ہوا کہ مرزائی فرقہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد کا چھوٹا بھائی مرزا منور احمد سعودی عرب میں ٹریفک کے حادثہ میں ہلاک ہو گیا۔ اس کی لاش ربوہ لائی جا رہی تھی کہ ایک اور حادثہ رونما ہو گیا اور اس طرح مزید تین قادیانی موت کا شکار ہو گئے۔ اس خبر میں اہل اسلام کے لئے جو بات وجہ تشویش اور باعث اضطراب بنی وہ قادیانی فرقہ کے ایک اہم رکن کا سعودی عرب جانا اور وہاں جا کر حادثہ کا شکار ہونا ہے۔ سعودی عرب کی حکومت اگرچہ مطلق العنان شخصی حکومت ہے۔ لیکن اس کے بارے میں عام تاثر یہ پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اپنی مملکت میں اسلامی قوانین کے نفاذ پر بڑی سختی سے کاربند ہے اور اس گئے گزرے دور میں بھی دینی روایات کا علم بلند کر رکھا ہے۔

اس پروپیگنڈا کو ہوادینے میں وہ طالع آزما لوگ پیش پیش ہیں جو یہاں سعودی عرب کے خوان نعمت سے اپنے لئے آذوقۂ عیش فراہم کرتے ہیں اور زر کثیر کے عوض ایسے ایسے مضامین شائع کرتے رہتے ہیں جن میں سعودی عرب کے حکمرانوں کی مدح سرائی اور قصیدہ خوانی ہوتی ہے اور حکومت سعودیہ کو دنیا کی ایک مثالی حکومت ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن ایک اسلامی مملکت کا یہ عجیب طرز عمل ہے کہ قادیان کے متنبیٰ کذاب کی امت کو اپنی سلطنت میں اذن عام دیتی ہے کہ وہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی سرزمین مطہرہ میں دندناتے پھریں اور حج کے بہانے اپنے ناپاک اور مذموم عزائم کی تکمیل کرتے رہیں۔

پاکستان کے نامور صحافیوں اور معروف علماء کرام نے جب سعودی عرب کا سفر کیا تو انہوں نے اس مقدس سرزمین سے واپسی پر اپنے اخباری بیانات ومضامین کے ذریعے انکشاف کیا کہ سر ظفر اللہ خان کے بعد مرزا غلام احمد کے پوتے اور مرزا بشیر الدین محمود کے برادر نسبتی مسٹر ایم. ایم احمد (مشیر خصوصی صدر مملکت پاکستان) بھی کئی بار سعودی عرب جاچکے ہیں اور وہ تو پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اقتصادی تعاون کی جو کمیٹی مقرر ہوئی ہے۔ اس کے سربراہ بھی ہیں۔ مزید برآں یہ کہ سعودی عرب میں وہ بعض اہم عہدہ دار جو انجینئروں اور ڈاکٹروں کی صورت میں وہاں گئے ہیں۔ ”قادیانی احمدی فرقہ“ سے تعلق رکھتے ہیں اور اب یہ افسوس ناک خبر ملی ہے کہ مرزائی فرقہ کے سربراہ کا چھوٹا بھائی مرزا منور احمد احمدی بھی سرزمین عرب میں داخل ہو گیا تھا۔ اس کے داخلے کی خبر تو اس کی حادثاتی موت سے واضح ہوئی۔ نامعلوم اس کے ساتھ حکومت سعودیہ نے کس نوعیت کا شاہانہ سلوک کیا ہوگا؟

(خدام الدین مؤرخہ ۵؍مارچ ۱۹۷۱ء)

سانحہ چیچہ وطنی اور سی. آئی. اے؟

سابق جماعت اسلامی اور حال پیپلز پارٹی کے رہنما جناب کوثر نیازی صاحب نے اپنے ہفت روزہ شہاب لاہور مؤرخہ ۲؍مارچ ۱۹۷۱ء میں سانحہ چیچہ وطنی کے متعلق انکشاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ”اس چھوٹے سے قصبے میں ایک بڑی عالمی طاقت نے اس قسم کا بھیانک ناٹک رچانے کے لئے بڑی منصوبہ بندی اور تیاریوں سے کام لیا تھا۔“

سوال یہ ہے کہ ایک عالمی طاقت نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کرنے کے لئے ایک ایسی غیر معروف جگہ کا انتخاب کیوں کیا؟

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۵۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس کی متعدد وجوہ موجود ہیں۔ پہلی یہ کہ کسی بڑے شہر میں سی آئی اے کی سرگرمیاں بہت جلد بے نقاب ہو جاتی ہیں۔ دوسری یہ کہ فرقہ وارانہ نفرت کو ہمیشہ ایسے مقامات پر زیادہ تیزی سے پھیلایا جاسکتا ہے۔ جہاں عوام کے دینی تصورات پر توہمات وتعصبات کا غلبہ ہو۔ تیسری یہ کہ فسادات کی ابتداء ایسے مقام سے ہو جو غیر معروف ہو اور تحریکوں کے مراکز کا درجہ نہ رکھتا ہو۔ چیچہ وطنی میں یہ تینوں خوبیاں موجود تھیں۔ شہاب کے اس اداریئے میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ عالمی طاقت سی آئی اے نے باقاعدہ سازش کے تحت یہ ڈرامہ کھیلا ہے۔ مدیر شہاب کا انکشاف مبنی برحق تسلیم کر لیا جائے تو سیدھے لفظوں میں بات یہ بنتی ہے کہ سی آئی اے نے ایک منصوبہ کے تحت پہلے چیچہ وطنی کے امیر جماعت احمدیہ نذیر احمد باجوہ کے ساتھ رابطہ قائم کر کے وہاں کے ایک دوکاندار کو قتل کرنے کا پروگرام بنایا اور جب اس میں کامیابی ہو گئی تو جماعت اسلامی کی خدمات حاصل کر کے اس قتل کو مسلم مرزائی کشمکش کا عنوان دیا گیا اور اس طرح فساد کی آگ کو چیچہ وطنی، ساہیوال، میاں چنوں اور اوکاڑہ تک وسعت دے کر ان مقامات کا امن وسکون غارت کر دیا گیا۔

اس انکشاف میں کوثر نیازی صاحب نے اعتراف کیا ہے کہ سی آئی اے کا احمدیوں (مرزائیوں) کے ساتھ بھی گہرا تعلق ہے اور قبل ازیں ملک میں یہ بات زبان زدعام ہے کہ حالیہ انتخابات کے مرحلہ میں پیپلز پارٹی اور مرزائی جماعت کا پراسرار معاہدہ ہوا تھا۔ بعد ازاں اپنے سالانہ جلسہ منعقدہ ربوہ کے موقع پر مرزائی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد صاحب نے بھی اس کا اعتراف کیا تھا کہ ہماری جماعت نے پہلی بار ایک سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کی باقاعدہ حمایت کی ہے۔ ان حقائق کی موجودگی میں کوثر نیازی صاحب کا مرزائیوں کی حمایت کرنا چنداں موجب حیرت و استعجاب نہیں۔

کوثر نیازی صاحب کو یاد رکھنا چاہئے کہ مسئلہ ختم نبوت اور خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس سے بے وفائی اور غداری جماعت اسلامی کی طرح نہیں کہ اس کے صلے میں دولت واقتدار کی راہیں کھل جائیں گی۔ جیسا کہ ان کا حال ہے۔ حضور ﷺ سے بے وفائی اور غداری کا معاملہ بڑا نازک اور سنگین ہے۔ بالآخر اس کے نتائج عبرت ناک ہوتے ہیں۔

سانحہ چیچہ وطنی چونکہ تحقیقات کے مرحلہ میں ہے۔ ایسے موقع پر کوثر صاحب کو نئی بات نہ چھیڑنی چاہئے اور توجہ اسباب ومحرکات پر ہی مرکوز رکھنی چاہئے تھی۔ اگر واقعی اس مسئلہ کا کوئی سیاسی پس منظر ہے اور اس میں سی آئی اے کا ہاتھ ہے تو پھر تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرنا پڑے گا اور انتخابی مرحلہ سے لے کر آج تک امریکی سفیر نے جن جن رہنماؤں سے ملاقات کی ہے اور جن جماعتوں سے ساز باز کی ہے۔ وہ سب کچھ عوام کے سامنے لانا پڑے گا۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو اس سلسلہ میں پہلے اپنی جماعتی پالیسی کا اعلان کرنا چاہئے کہ واقعی وہ اس کے لئے تیار ہیں؟

(خدام الدین مورخہ ۱۹؍ مارچ ۱۹۷۱ء)

خلیفہ ناصر غور کریں

قادیانی امت کے پاکستانی مستقر ربوہ کے خلیفہ ناصر سے یہ کہنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ اپنے پیروؤں کو ملکی امور میں عام کردار ادا کرنے سے روکیں اور اپنی امت کو ہدایت کریں کہ وہ سیاست میں اس انداز سے حصہ نہ لیں کہ جن لوگوں کو ان کے مسلمانوں سے علیحدہ اور الگ ہونے پر اصرار ہے۔ بلکہ ان کے عقیدہ کا جزو لاینفک ہے۔ وہ ان کے سب وشتم اور ہلا غلا کا شکار بنتے رہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان کی امت کے طلباء پیپلز پارٹی کے سائے میں چوکڑی بھر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی میں تبریٰ بازی کے سرخیل قادیانی طالب علم ہوتے ہیں۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۵۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خلیفہ جی کو احساس نہیں کہ سیاست میں اس قسم کے مراحل تنبول کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جوابی تنبول قبولنا ان کے بس کا روگ نہیں۔ وہ غلط فہمی کا شکار ہیں کہ اس تنبول کو ہضم کرنے کا ان میں بوتا ہے یا یہ بھی ان کے ذہن کی کج نہادی ہے کہ پیپلز پارٹی انہیں پاکستان میں روما کے پوپ کا درجہ دلا سکتی ہے اور اس طرح وہ پاکستان کی برأت کا دولہا ہو جائیں گے۔ اس سے پہلے کہ وہ شادی مرگ کا شکار ہوں ۔ یعنی انہیں اپنے سیاسی زخم چاٹنے کا دن دیکھنا پڑے۔ بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے سیاسی احوال پر نظر ثانی کرلیں۔ مسلمان سب کچھ قبول کر سکتے ہیں لیکن ان کی نبوت وخلافت نہیں۔ یہ ان کی ایلوا ہے اور خلافت کا حنظل سیاست ان کے لئے تھوہر ہے۔

(چٹان مؤرخہ ۱۵؍ مارچ ۱۹۷۱ء)

مولانا محمد علی جالندھری کا سانحہ ارتحال

ملتان : مؤرخہ ۲۲؍ اپریل ۱۹۷۱ء ۔ ممتاز عالم دین تحریک آزادی وطن کے جیالے مجاہد، امیر شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری کے معتمد خاص اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر حضرت مولانا محمد علی جالندھری کل دو بج کر پانچ منٹ پر حرکت قلب بند ہو جانے سے رحلت فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ! ان کی نماز جنازہ کے لئے مغربی پاکستان کے تمام علاقوں سے ان کے عقیدت مند اور جید علماء ملتان پہنچے اور آج دو بجے انہیں مدرسہ خیر المدارس میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ نماز جنازہ دو مرتبہ ادا کی گئی۔ مولانا محمد علی جالندھری گزشتہ پندرہ روز سے صاحب فراش تھے۔ ان پر دو ہفتوں میں دو مرتبہ دل کا دورہ پڑا۔ لیکن ان کی طبیعت سنبھل گئی تھی۔ گزشتہ روز وہ صبح سویرے باجماعت نماز ادا کر کے چند منٹ کے لئے دفتر ختم نبوت میں ٹہلنے لگے۔ لیکن دوستوں اور عقیدت مندوں نے منع کر دیا اور وہ بستر پر آرام کرنے کے لئے لیٹ گئے۔ ایک بجے تک مختلف لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ ڈیڑھ بجے تک کئی دوستوں کو خطوط لکھے۔ دو بجے میں دس منٹ باقی تھے کہ ان کے پہلو میں درد محسوس ہوا اور وہ چارپائی پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے مولانا لال حسین اختر اور دوسرے احباب سے کہا کہ میرے دل میں درد ہو رہا ہے۔ اس لئے ڈاکٹر کو بلایا جائے۔ ڈاکٹر نے آتے ہی دو ٹیکے لگائے اور آرام کے لئے لٹا دیا۔ لیکن درد میں کمی کی بجائے شدت آگئی اور پانچ منٹ کے بعد ٹھیک دو بج کر پانچ منٹ پر انہوں نے مولانا لال حسین اختر ، مولانا غلام حیدر، مولانا عزیز الرحمن ، حافظ عبدالحفیظ اور دفتر میں موجود دوسرے احباب کو بلا کر کوئی بات کرنا چاہی ۔ انہوں نے بڑی مشکل سے ’’اللہ‘‘ کہا ۔ پھر شدت درد کی وجہ سے چپ ہو گئے ۔ اگلے لمحے انہوں نے پوری توانائی سے کام لیتے ہوئے بات کرنی چاہی۔ لیکن جونہی انہوں نے ’’ختم نبوت‘‘ کہا ان پر غشی کا عالم طاری ہو گیا۔ ان کے لب حرکت میں تھے لیکن بات سنائی نہیں دے رہی تھی۔ احباب نے ان کے لبوں کے قریب کان لے جا کر بات سننے کی کوشش کی ۔ لیکن ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ ان کی آنکھیں بند ہوگئیں اور ہونٹوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ کھیلنے لگی۔

مولانا کو پندرہ روز میں یہ دل کا تیسرا دورہ تھا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ اس سے قبل ۵ اور ۶؍ اپریل کی درمیانی شب مولانا ضلع سرگودھا کے قصبہ سلانوالی میں تقریر کر رہے تھے کہ انہیں دل کی تکلیف محسوس ہوئی۔ انہوں نے تقریر ختم کر دی۔ ساڑھے گیارہ بجے کے قریب انہیں دل کا دورہ پڑا۔ یہ پہلا دورہ تھا جو انہیں سلانوالی میں پڑا۔ مولانا کو فوری طور پر ملتان لایا گیا ۔ جہاں ان کا علاج ہوا اور اگلے روز ان کی طبیعت سنبھل گئی ۔ تاہم ڈاکٹروں نے انہیں مکمل آرام کے لئے کہا اور وہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں آرام کرنے لگے ۔ ۸؍ اپریل کو انہیں دل کا دوسرا دورہ پڑا لیکن دوسرے ہی روز ان کی طبیعت دوبارہ سنبھل گئی ۔ تاہم ڈاکٹروں کے مشورے پر آپ مکمل طور پر آرام کر رہے تھے۔ البتہ دن میں آنے والے عقیدت مندوں سے باتیں کرتے اور دوستوں کو خطوں کے جواب دیتے۔ ۲۱؍ اپریل کو صبح فجر

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۵۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کی نماز باجماعت ادا کر کے حسب معمول دوستوں سے ملاقات کی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ مولانا لال حسین اختر جو گزشتہ ایک ہفتے سے ملتان میں ہیں، سے باتیں کرتے رہے۔ پونے دو بجے کے قریب انہیں دل کا تیسرا اور زبردست دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ ان کی عمر ۷۵ سال کے قریب تھی۔

حضرت مولانا کی رحلت کے ساتھ عوام پروانہ وار دفتر تحفظ ختم نبوت کی طرف روانہ ہوئے اور چند لمحوں کے بعد دفتر تحفظ ختم نبوت میں ان کے عقیدت مندوں کا زبردست ہجوم ہو گیا۔ ان کی رحلت کی اطلاع فون کے ذریعہ لاہور، کراچی، لائل پور، ساہیوال اور دوسرے شہروں میں ان کے عقیدت مندوں کو دی گئی۔

(خدام الدین مورخہ ۳۰؍اپریل ۱۹۷۱ء)

جھوٹے مدعی نبوت کا علاج کیا جائے

لاہور میں ان دنوں نیوز پرنٹ پر ایک اشتہار نما (اردو اور انگریزی میں) ”آسمانی اعلان“ تقسیم ہو رہا ہے۔ جس کی ایک کاپی ہمارے دفتر میں بھی موصول ہوئی ہے۔ اس میں قرآن مجید کی آیت کریمہ: ”کل من علیہا فان ویبقی وجہ ربک ذو الجلال والاکرام“ تحریر کر کے نیچے لکھا ہے۔

مندرجہ بالا وحی مقدس مورخہ ۲۸؍اپریل ۱۹۷۱ء کو مجھ پر نازل ہوئی۔

اور آگے احکام مقدسہ کی حقیقت کے زیر عنوان لکھا ہے: ”گزشتہ دس سال سے بحیثیت رسول اللہ المسیح مخلوق کو عذاب قیامت سے انذار کرتا چلا آیا ہوں اور اس طویل مدت میں لا انتہاء عالمگیر قہری نشانات ظاہر ہوئے جن سے میری صداقت روز روشن کی طرح نمایاں ہوگئی۔“

اس اشتہار نما دو ورقی پمفلٹ کے نیچے دوشنبہ مورخہ ۱۰؍مئی ۱۹۷۱ء کی تاریخ کے علاوہ النبی خواجہ محمد اسماعیل رسول اللہ المسیح ، الناشر ۔ السابقون ۵۹۱ /۱۔ بی ملک پورہ محلہ اسلامیہ ہائی سکول جہلم ، درج ہے اور مدینہ پرنٹنگ ہاؤس لاہور میں طبع ہوا۔

مقام حیرت ہے کہ یہ اشتہار اور اس کا طابع و ناشر پریس برانچ والوں اور پھر مارشل لاء حکام کی نگاہ احتساب سے اب تک کس طرح بچا رہا؟ ممکن ہے کہ یہ اشتہار اور اس کے مندرجات مارشل لاء حکام کے نوٹس میں نہ آئے ہوں۔ ہمیں حکام متعلقہ کی غیرت اسلامی اور حضور خاتم الانبیاء ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ ان کی والہانہ عقیدت و محبت سے پوری توقع ہے کہ ایک گستاخانہ اور اشتعال انگیز اشتہار یا پمفلٹ کی اشاعت کا علم ہو جانے کے بعد ضرور ایسا قدم اٹھایا جائے کہ آئندہ کسی کو ایسے ناپاک اقدام کی جسارت ہی نہ ہو سکے۔

(خدام الدین مورخہ ۴؍جون ۱۹۷۱ء)

خبر صحیح تھی یا تردید، ٹرانسمیشن سیٹ اور دو بوری نوٹ

خبر آئی تھی!

(مساوات مورخہ ۱۱؍جون ۱۹۷۱ء ص اول نام کے اوپر کالم کی خبر)

اخبار کے نمائندہ نوید بٹ کے قلم سے متن کے اجزاء:

صفحہ ۳۵۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اگلے روز اسی اخبار کے صفحہ اوّل کے آخری (آٹھویں) کالم میں آخری خبر (سرخیاں) ایک کالم کی:

پولیس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ گلبرگ کے بنگلے پر چھاپہ مارنے کے بعد نیشنل بینک گلبرگ کے سابق منیجر مسٹر حامد احمد خان (حماد یا حامد) کے قبضے سے دو بوریاں ملی تھیں۔ ان میں کرنسی نوٹوں کی بجائے کتابیں برآمد ہوئیں۔ ملزم کا ایم. ایم احمد سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ خبر اور ”تصحیح“ ہم نے اس لئے نقل کی ہے کہ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس لاہور ازراہ کرم اس کی وضاحت کریں کہ حقیقت حال کیا ہے؟ ملزم کا رشتہ دار ہے یا نہیں؟ ہمیں اس سے سروکار نہیں۔ سوال یہ ہے کہ بوریاں نکلیں؟ پولیس نے بنگلہ میں نوٹ فرض کر لئے اور جب کھولیں تو کتابیں نکلیں۔ پھر یہ سارا افسانہ تھا یا کچھ حقیقت بھی ہے۔ حقیقت ہے تو کس قدر۔

خبر بھی دلوں سے ہے نمایاں اور جلی تردید بھی وثوق سے پنہاں اور خفی

اس لطیفہ غیبی پر پولیس کے افسران مجاز ہی روشنی ڈال سکتے ہیں۔

(چٹان مورخہ ۲۱؍ جون ۱۹۷۱ء)

حجیت حدیث کے موضوع پر مذاکرہ

بستی نوشہرہ منچن آباد ضلع بہاول نگر کے قریب واقع ہے۔ جناب کفایت اللہ ایم. اے منکر حدیث وہاں کے باشندے ہیں۔ آج کل لاہور میں منکرین حدیث کی کسی مسجد میں امام اور مبلغ ہیں۔ ان کی انتہائی کوشش تھی کہ غریب عوام کسی نہ کسی طرح حدیث سے انکار کر کے اسلام کی صحیح تعلیمات سے منحرف ہو جائیں۔ عوام نے اس کی چیلنج بازی کا نوٹس لینا اپنا ایمانی فریضہ سمجھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے نامور مبلغ حضرت مولانا خدا بخش اور جناب صابر علی صاحب ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول نگر سے ملاقات کر کے ان کو اپنے نیک جذبات سے آگاہ کیا اور گزارش کی کہ کفایت اللہ کی چیلنج بازی کا انسداد اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ آپ حضرات کسی ایسے جید عالم دین کو لائیں جو اس سے گفتگو کر سکے۔

مولانا خدا بخش صاحب اور جناب صابر صاحب نے ان کو اپنی اور مجلس کی طرف سے تعاون کا یقین دلایا۔ چنانچہ مولانا خدا بخش صاحب نے دفتر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان سے رابطہ قائم کیا۔ مجلس کے سربراہ مولانا لال حسین صاحب اختر کا ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۱ء کا وقت مقرر کیا گیا۔ آپ بستی نوشہرہ جگہ متعینہ پر پہنچے۔ کفایت اللہ نے شرائط نامہ لکھ کر بھیج دیا جس کی اہم شرطیں یہ تھیں۔ موضوع حجیت حدیث ہو گا۔ مدعی اہل سنت والجماعت کے نمائندہ ہوں گے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۵۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قرآن مجید کے علاوہ کوئی حوالہ پیش نہ کیا جاسکے گا۔ مولانا نے شرائط نامہ کو بصد خوشی من وعن قبول کر لیا۔ ۱۰/ جولائی کی رات پونے دس بجے فریقین کے منتخب صدر مولانا فضل الرحمن صاحب کی زیر صدارت مناظرہ شروع ہوا۔ حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر نے قرآن مجید کی تیرہ آیات سے اتباع رسول پر استدلال کیا۔ جس کا وہ کوئی صحیح جواب نہ دے سکا۔

مولانا نے اسے دوبارہ چیلنج کیا اور قرآن مجید کی آیت: ”اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول“ سے حجیت حدیث پر استدلال کیا۔ اس نے کہا کہ الرسول سے مراد قرآن مجید ہے نہ کہ حضور ﷺ کی ذات۔ مولانا نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو قرآن میں محمد رسول اللہ ﷺ فرمایا ہے۔ لیکن القرآن رسول اللہ کہیں نہیں کہا۔ سارے قرآن سے کسی جگہ قرآن کو رسول اللہ دکھا دیں۔ مولانا نے ”واذ یعدکم اللہ احد الطائفتین (الانفال)“ آیت پڑھی کہ اس میں جس وعدہ کا ذکر ہے وہ سارے قرآن میں کہیں مذکور نہیں تو ثابت ہوا کہ قرآن کے علاوہ بھی حضور ﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی۔ جس میں یہ وعدہ دیا گیا ہے اور وہ وحی حدیث ہے۔ اسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔

مولانا نے اس کے تمام سوالات کا ایسا مسکت اور دندان شکن جواب دیا کہ وہ حواس باختہ ہو گیا۔ حتیٰ کہ وہ قرآن مجید کی آیت غلط سلط پڑھنے لگا۔ آخر کار مولانا فضل الرحمن صاحب صدر مناظرہ نے فرمایا کہ اب حق واضح ہو چکا ہے اور عوام صحیح فیصلہ کرنے پر پہنچ چکے ہیں۔ اس لئے اب مناظرہ بند ہونا چاہئے۔ چنانچہ مولانا لال حسین صاحب اختر نے حسب ضابطہ آخری تقریر کی۔ وہاں کے عوام کا کہنا ہے کہ مولانا کے حجیت حدیث پر قرآنی دلائل کا پرویزی مناظر کوئی صحیح جواب نہ دے سکا۔

(خدام الدین مورخہ ۶/ اگست ۱۹۷۱ء)

نوائے وقت کا قابل اعتراض مضمون

حضرت امیر شریعت کی ذات کو ہدف تنقید بنا کر منکرین ختم نبوت کو خوش نہ کیجئے۔

روزنامہ ”الفضل“ ربوہ کے بعد شاید روزنامہ نوائے وقت ہی ایک ایسا اخبار ہے۔ جس نے عاشق رسول، محافظ عقیدہ ختم نبوت اور تحریک آزادی کے مخلص و جاں نثار رہنما امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی ذات سے متعلق سوقیانہ اور گھٹیا مضمون شائع کر کے دینی حلقوں میں اضطراب اور اشتعال کی فضا پیدا کر دی ہے۔ اس مضمون میں شاہ صاحب کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی اور گندی لغت سامنے رکھ کر جو گالیاں نوائے وقت کی زینت قرطاس بنائی گئی ہیں حد درجہ افسوس ناک ہیں۔

مقام حیرت ہے کہ جس اخبار میں چند روز قبل جناب اختر کاشمیری کا ایک بلند پایہ مضمون حضرت امیر شریعت ہی کی دینی و ملی خدمات کے اعتراف میں شائع ہوا تھا۔ اسی اخبار میں چند روز بعد ایک گھٹیا اور گمراہ کن مضمون کی اشاعت ضرور اپنا کوئی پس منظر رکھتی ہے۔ اس مضمون کی تحریر اور اشاعت سے حضرت امیر شریعت ہی کے حلقہ ارادت میں نہیں عقیدہ ختم نبوت پر ایمان رکھنے والے کروڑوں مسلمانوں کے دل مجروح ہوئے ہیں۔ کیونکہ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی ذات کو ہدف تنقید و تنقیص بنانے کا مقصود منکرین ختم نبوت کی خوشنودی اور اس سے مادی مفادات کے حصول کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے؟

ثانیاً: یہ کہ ملک کے نازک حالات اور ”آتش گیر“ ماحول میں حضرت امیر شریعت کی ذات کو ہدف بنا کر برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے صحیح یا غلط ہونے کی بحث چھیڑنا اور لوگوں کے دل و دماغ میں شکوک و شبہات کی فضا پیدا کرنا ملک دشمنی کے مترادف ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۵۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۳۵۸ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ایم۔ ایم احمد قائم مقام صدر پاکستان

جناب یحییٰ خان صاحب صدر مملکت و چیف مارشل لاء، ایران کے صد سالہ جشن پر تہران یاترا کے لئے تشریف لے گئے تو انہوں نے مرزا قادیانی کے پوتے ایم۔ ایم احمد قادیانی کو جو ان کی کیبنٹ کا سینئر رکن تھا، قائم مقام صدر بنا دیا۔ اس کا اخبارات میں اعلان نہ کیا گیا۔ ان دنوں مولانا محمد حیات فاتح قادیان اسلام آباد دفتر ختم نبوت میں رد قادیانیت کورس کرا رہے تھے۔ اسلم قریشی بھی اس کورس میں شریک ہوتا تھا۔ الیکٹریشن کے طور پر گورنمنٹ کا ملازم تھا۔ ایم۔ ایم احمد قادیانی پاکستان کی صدارت کی کرسی پر پہلے دن براجمان ہونے کے لئے جونہی لفٹ پر سوار ہوا، اسلم قریشی نے اس پر حملہ کر دیا۔ نتیجتاً ایم۔ ایم احمد ہسپتال میں اور اسلم قریشی حوالات میں چلے گئے۔ قدرت کی شان بے نیازی کہ ایم۔ ایم احمد قادیانی اس وقت تک ہسپتال میں رہا۔ تا آنکہ یحییٰ خان صاحب واپس نہیں آ گئے۔ اسلم قریشی پر مارشل لاء کے تحت کیس چلا۔ جناب راجہ ظفر الحق صاحب نے کیس کی پیروی کی۔ حضرت مولانا لال حسین اختر نے حوالہ جات کی تیاری کرائی۔ مولانا محمد شریف جالندھری ہمہ وقت کیس کے لئے سر توڑ کاوش کرتے رہے۔

ایم۔ ایم احمد قادیانی نے مارشل لاء عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ میرا دادا مرزا غلام احمد قادیانی نبی تھا اور اس کے تمام منکرین کو میں کافر سمجھتا ہوں۔ اس پر پورے ملک میں ایک ہیجان برپا ہو گیا۔ ایم۔ ایم احمد کا بیان ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک نے شائع کیا اور دوسرے اخبارات نے بھی۔ اسلم قریشی کو سزا ہو گئی۔ پھر بھٹو صاحب کے زمانہ میں جناب غلام مصطفیٰ کھر پنجاب کے گورنر تھے۔ مولانا غلام غوث ہزاروی کے کہنے پر کھر صاحب نے اسلم قریشی کی سزا میں تخفیف کر دی اور یوں موصوف رہا ہو گئے۔

ایم۔ ایم احمد قادیانی اور منصوبہ بندی

بھٹو صاحب نے منصوبہ بندی کا محکمہ توڑ دیا۔ لیکن ایم۔ ایم احمد کو اسی طرح حکومت میں شامل رکھا۔ اس پر مجلس کے مولانا محمد شریف جالندھری نے تحریر فرمایا:

”صدر مملکت جناب ذوالفقار علی بھٹو نے خاندانی منصوبہ بندی کے محکمہ کو یکم جولائی سے توڑ دینے کا فیصلہ کر کے ملک کو عظیم نقصان سے نجات دلائی ہے۔ ہم صدر کے اس فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ صدر کے الفاظ میں خاندانی منصوبہ بندی ایک سفید ہاتھی تھا جس نے ملک کے قرضہ سے حاصل کردہ ایک ارب پچاس کروڑ روپیہ کی رقم سات برس میں ضائع کر دی۔“

(نوائے وقت لاہور، مورخہ ۱۵؍اپریل ۱۹۷۲ء)

مجلس نے صدر مملکت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک غیر جانبدار انکوائری کے ذریعہ معلوم کریں کہ اس محکمہ کے تیس ہزار ملازمین میں مرزائیوں کا تناسب کتنا ہے اور جب محکمہ ٹوٹ جانے کے بعد پچاس فیصد ملازم بیکار ہو جائیں گے۔ ان میں مرزائی کتنے فیصد ہوں گے۔ اس سے یہ معلوم کرنے میں آسانی ہوگی کہ ایم۔ ایم احمد محض مرزائیوں کی پرورش کے لئے کس طرح غیر ضروری اور غیر مفید منصوبہ بندی کے ذریعہ ملک و ملت کو نقصان پہنچاتے رہے ہیں۔ نہ صرف خاندانی منصوبہ بندی بلکہ ایم۔ ایم احمد نے اپنے تحت ہر شعبہ میں ملکی ضروریات کی جگہ مرزائیت نوازی کو پیش نظر رکھا ہے۔ آج جب کہ ملک میں عوامی حکومت قائم ہے۔ ایم۔ ایم احمد کی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ جائزہ ضروری ہے۔

صدر مملکت سے قبل مغربی پاکستان کے سابق گورنر جناب محمد موسیٰ ایک انٹرویو میں ارشاد فرما چکے ہیں کہ ۱۹۶۵ء کے بعد جب ملک قحط سالی کا شکار تھا اور جناب گورنر فوجی نقطہ نظر سے حالت جنگ کی لائنوں پر ملک کو غلہ کے معاملہ میں خود کفیل بنانے کی سر توڑ کوشش کر

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۵۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رہے تھے تو جناب ایم۔ ایم احمد نے کروڑہا روپے کی رقم غلہ میں خود کفالت کی ضرورت پر خرچ کرنے کی بجائے لاہور تا خانیوال بذریعہ بجلی ریل چلانے کی غیر ضروری مد پر خرچ کرنے کو ترجیح دی۔ جناب گورنر نے ملک کی غذائی قلت کا بھیانک نقشہ پیش کیا تو یہ کہہ کر ان کی بات ٹال دی کہ برطانیہ نے قرضہ ہی اس کارخاص (ریل بذریعہ بجلی) کے لئے دیا ہے۔ حالانکہ برطانیہ سے قرض ملکی ضروریات کے لئے لیا گیا تھا۔ کیا برطانیہ نے شرط اس لئے لگائی کہ ایم۔ ایم احمد کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی برطانیہ کے خود کاشتہ پودا تھے۔

آج ملکی و غیر ملکی انجینئر اس تجویز کو غیر ضروری قرار دے چکے ہیں۔ ملک میں اس ریل بذریعہ بجلی سے زیادہ بہت سے ضروری کام تھے۔ لیکن ایم۔ ایم احمد نے اس غیر ضروری مد پر کروڑ ہا روپیہ خرچ کرتے وقت دلیل دی کہ بجلی سے چلنے کے باعث ریل کی رفتار بہت تیز ہو جائے گی۔ جس سے صارفین کے وقت میں بہت بچت ہوگی۔ جناب گورنر نے کہا کہ وقت کی بچت سے زیادہ عوام کی بھوک کا سوال ہے۔ جس پر زرمبادلہ کا کروڑوں روپیہ غیر ملک سے اجناس منگوانے پر خرچ ہو رہا ہے۔ لیکن وہ مرزائی ہی کیا جو عوام اور ملک کے نام پر اپنی تجویز اور ضد کو چھوڑ دے۔ حالانکہ اب بجلی سے چلنے پر ریل کی رفتار حسب سابق ہے اور اب کہا جارہا ہے کہ ہماری لائن تیز رفتاری کی متحمل نہیں اور اگر اس منصوبہ پر تعطل کے دوران بجلی کے کھمبوں سے سر ٹکرا کر مارے جانے والے مسافروں اور کھمبوں کے کرنٹ سے مارے جانے والے عوام اور جانوروں کا حساب کیا جائے تو ایم۔ ایم احمد کی تجویز کا ہی نہیں بلکہ خود ان کے ماتم کئے جانے کو دل چاہتا ہے۔

یہ کروڑوں کی رقم اگر ریل پر صرف کرنی ہی ضروری تھی تو لودھراں تا لاہور دوہری لائن بچھادی جاتی، لیکن ایم۔ ایم احمد ایک خاص مشن کے آدمی ہیں۔ وہ مشن جو عالم اسلام اور پاکستان کا وفادار نہیں۔ ایم۔ ایم احمد کی ملکی و فوجی ضروریات سے بے رخی ہی نہیں بے وفائی کا نمونہ سنئے۔ ”سازش کا پانچواں حصہ“ ہماری بحریہ کو جس قدر نظر انداز کیا گیا وہ بڑا ہی تکلیف دہ المیہ ہے۔ یحییٰ خان نے وائس ایڈمرل مظفر کو اختیار دیا کہ وہ ہر سال دس کروڑ روپے اپنی مرضی سے خرچ کر سکتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اس کے متعلق پلان تیار کیا گیا۔ مگر آخری وقت پر جناب ایم۔ ایم احمد نے جواب دے دیا کہ ہم یہ رقم نہیں دے سکتے۔

(اردو ڈائجسٹ جنوری ۱۹۷۲ء ص ۵۵)

۱۹۵۸ء میں جناب محمد ایوب خان ڈرامائی طور پر ملکی قیادت کے لئے آگے بڑھے۔ انہوں نے ایک حکم کے ذریعہ سینکڑوں سیاسی و غیر سیاسی حضرات کو سیاست سے جبراً ریٹائر کر دیا۔ تمام سیاسی جماعتوں اور لیڈروں پر پابندی عائد کر دی۔ ۱۹۶۹ء میں جناب محمد ایوب خان نے زمام اقتدار یحییٰ خان کے سپرد کی۔ ملک دوبارہ مارشل لاء کا شکار ہوا۔ یحییٰ خان نے انتظامیہ کے ۳۱۳ اعلیٰ افسروں کو چلتا کیا۔ خصوصاً وہ آفیسر جو ایوب خان کے زیادہ وفادار معلوم ہوئے۔ الطاف گوہر اور قدرت اللہ شہاب کی مثال موجود ہے۔ دسمبر ۱۹۷۱ء میں عوامی لیڈر جناب ذوالفقار علی بھٹو سیدھے امریکہ سے تشریف لائے۔ چوہدری ظفر اللہ خان دو دن قبل اسلام آباد آ چکے تھے۔ جناب صدر مملکت اسلام آباد پہنچ کر بحیثیت صدر و چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کرسی اقتدار پر فروکش ہوئے اور سب سے پہلے دن فوجی حکام کو حکماً ریٹائر کیا جو یحییٰ خان کے ساتھ اس سازش میں شریک تھے۔ جس کے باعث سقوط مشرقی پاکستان کا المیہ ظہور پذیر ہوا۔

ہر آنے والے نے اپنے پیش رو کے ساتھیوں کو نکالا اور اپنے ساتھ اپنے معتمد نئے چہرے لایا اور یہی مناسب تھا۔ لیکن مرزائیوں کی پس پشت قوت کا اندازہ لگائیے کہ مرزائی خصوصاً ایم۔ ایم احمد تینوں صدارتوں میں بدستور چوہدری رہے اور تینوں صدارتوں نے ہی ایم۔ ایم احمد کی قابلیت کے گن گائے۔ حالانکہ ان میں اگر کوئی قابلیت ہے تو وہ صرف مرزائیوں کے لئے ہے ملک کے لئے نہیں۔ کیا وجہ ہے کہ صدر مملکت نے یحییٰ خان کے معتمد جرنیلوں کو چلتا کیا اور ایم۔ ایم احمد بدستور براجمان ہیں۔ حالانکہ وہ سب سے زیادہ یحییٰ خان کے معتمد

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۶۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تھے۔ حتی کہ جب یحییٰ خان ملک سے باہر گئے تو ایم ایم احمد کو قائم صدر بنا کر گئے دوسرے کسی پر ان کی نظر انتخاب نہ پڑی۔ وہ کون سی مجبوری ہے کہ جس کے باعث ایم ایم احمد ہر حکومت کے مقبول نظر ہوتے ہیں۔

ہم بار بار حکومت سے کہہ چکے ہیں اور ہم نے حمودالرحمان کمیشن کو درخواست بھی دی کہ مرزائی نہ صرف مذہبی لحاظ سے دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ بلکہ ملکی غدار بھی ہیں۔ افسوس ہے کہ ہماری گزارشات پر غور نہیں کیا گیا بلکہ الٹا اس کی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد دوسال کے لئے توسیع کر دی گئی۔ یہ بات ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ کون سی مجبوری ہے جس کے تحت یہ کھیل کھیلا جارہا ہے۔ مبلغین اور کارکنان مجلس کو چاہئے کہ وہ ملکی سالمیت کے لئے کام کی رفتار کو تیز کردیں۔ ملک جس صوبائی ولسانی اختلافات کا شکار ہے۔ اس کے خلاف اسلامی اخوت کے نام پر عوام کو متحد کیا جائے۔ تاکہ پاکستان ہندوستان کی جارحیت کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہو سکے۔

(مولانا محمد شریف جالندھری ناظم عمومی دفتر مجلس ختم نبوت ملتان)

جب سقوط ڈھاکہ کے اسباب وعلل پر غور کرنے کے لئے حمودالرحمن کمیشن قائم ہوا تو مولانا لال حسین اختر امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت نے ایک تحریری بیان داخل کرایا جو احتساب قادیانیت جلد اوّل ازمولانا لال حسین اختر (شائع کردہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان) میں مستقل رسالہ کی شکل میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

(مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۸۹ھ، مطابق اپریل ۱۹۶۹ء تا مارچ ۱۹۷۰ء)

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

قارئین کرام! مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان آپ کا جانا پہچانا ادارہ ہے۔ جس کا کام پاکستان کے گوشہ گوشہ میں احسن طریق سے ہورہا ہے۔ اس کا مرکزی دفتر ملتان ایسے تاریخی شہر میں واقع ہے۔ ملکی حالات وزمانہ کی نیرنگیوں نے بارہا اس تبلیغی جماعت کو اپنی لپیٹ میں لینے کی کوشش کی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلوص کی بدولت ان حوادث سے جماعت کو محفوظ ومامون رکھا۔ نبوت کاذبہ کا تعاقب اس جماعت کا طرّۂ امتیاز ہے۔ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے پہلے مغربی پاکستان میں جماعت نے اپنی تمام تر خدمات صرف کردیں۔ اس کے بعد مشرقی پاکستان کے احباب کی خواہش پر وہاں کام شروع کیا۔ مدت قلیل میں اللہ رب العزت نے وہاں پر جو کامیابی نصیب فرمائی، اس پر جتنا شکر خداوندی کیا جائے کم ہے۔ چار پانچ سال سے وہاں پر جماعت کا قیام ہوچکا ہے۔ مرکز کی طرف سے سب سے پہلے مبلغ مولانا محمد عثمان اختر اور مولانا ابوالحسنات کو مرزائیت کے دجل وتلبیس سے مکمل واقفیت کرا کر وہاں بھیجا گیا۔ کام کی وسعت کے پیش نظر مناظر اسلام مولانا عبدالرحیم اشعر گزشتہ برس وہاں پر ایک ماہ کے دورہ کے لئے تشریف لے گئے۔

مولانا عبدالجبار صاحب مدرس امداد العلوم، مولانا الطاف حسین صاحب مدرس مدرسہ اشرف العلوم، مولانا محمد ہارون صاحب ناظم ادارۃ المعارف ڈھاکہ، مولانا محمد عثمان صاحب اختر، مناظر اسلام حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر ان پانچ ارکان پر مشتمل ”کاروان ختم نبوت“ کے نام سے ایک وفد مرتب کیا گیا۔ جس کی قیادت کے فرائض حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر نے سرانجام دیئے۔ چنانچہ وفد نے ضلع کمیلا میں برہم باری، کشور گنج، شمالی بنگال میں دیناج پور، پنچا گڑھ اور اس کے ملحقہ گاؤں کا دورہ کیا۔ پنچا گڑھ میں ایک قادیانی شمس الدین نے مولانا کی تقریر کے دوران اسلام قبول کیا اور قادیانی مظالم کی انسانیت سوز داستان خوں چکاں سنائی۔ مندرجہ ذیل علاقے قادیانی ریشہ دوانیوں کے مراکز بن چکے تھے۔ بعد ازاں ڈھاکہ صوبائی دارالحکومت کے اہم مراکز میں تقریریں ہوئیں۔ جن

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۶۱

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میں چوک والی مسجد لال باغ، مدرسہ قرآنیہ، بیت المکرم، عظیم پور کالونی، نواب گنج بخشی بازار، فرید آباد ڈھاکہ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ اسلامی اکیڈمی میں دانشور وکلاء، خطباء، علماء کے لئے خصوصی خطاب کا اہتمام کیا گیا۔ غرضیکہ دورہ نہایت ہی کامیاب رہا۔

حضرت امیر مرکزیہ مولانا محمد علی صاحب جالندھری کا مشرقی پاکستان میں ورود مسعود

حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر کے دورہ نے مشرقی پاکستان میں کام کی رفتار کو چار چاند لگا دیئے۔ جگہ جگہ جماعتوں کے قیام عمل میں لائے گئے اور دفاتر کھلنے لگے۔ کام کی رفتار جوں جوں بڑھتی گئی۔ احباب کا تقاضا بڑھتا گیا کہ اب حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم تشریف لائیں۔ چنانچہ حضرت امیر مرکزیہ مولانا محمد علی صاحب جالندھری نے مشرقی پاکستان مجلس تحفظ ختم نبوت کی دعوت کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے ۲۰؍ جمادی الثانی ۱۳۸۹ھ کو لاہور سے بذریعہ ہوائی جہاز ڈھاکہ تشریف لے گئے۔ ڈھاکہ کے ہوائی اڈہ پر آپ کا عدیم المثال استقبال کیا گیا اور آپ کو جلوس کی شکل میں دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت ڈھاکہ واقع آرمینین سٹریٹ ڈھاکہ نمبر ۱ لایا گیا۔ جہاں پر آپ نے مختصر خطاب فرمایا اور اہل مشرقی پاکستان کو ختم نبوت کی دوستی پر مبارک باد پیش کی۔ ڈھاکہ میں قیام کے دوران آپ کی مصروفیت کی تفصیل ترجمان ختم نبوت ہفت روزہ لولاک میں شامل ہو چکی ہے۔

اس کے بعد ۲۴؍ جمادی الثانی ۱۳۸۹ھ بروز اتوار ڈھاکہ سے بذریعہ فون چاٹگام حضرت کی آمد کی اطلاع دی گئی۔ اطلاع ملتے ہی استقبال کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ تمام مدارس عربیہ میں حضرت کی آمد پر تعطیل کا اعلان کر دیا گیا۔ علماء، وکلاء، خطباء، تاجر، دانشور حضرات کا جم غفیر ڈھاکہ سے آنے والی گاڑی کی انتظار میں چاٹگام کے اسٹیشن پر منتظر تھا۔ گاڑی کا وقت جوں جوں قریب ہوتا گیا۔ لوگوں کے اژدہام میں اضافہ ہوتا گیا۔

گاڑی ٹھیک ساڑھے سات بجے جب اسٹیشن پر پہنچی۔ حاضرین نے اپنے محبوب رہنما کو پہلی نظر دیکھتے ہی ختم نبوت زندہ باد کا فلک شگاف نعرہ لگایا۔ جس سے فضا گونج اٹھی۔ نعروں کی گونج اور گرج میں حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم مدینہ مسجد واقع بایزید بسطامی روڈ اپنی قیام گاہ پر پہنچے۔

پونے نو بجے شاہی مسجد اندرون قلعہ میں علماء سے منکرین ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریوں کے عنوان سے خطاب فرمایا۔ آپ کے خطاب سے پہلے آپ کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا گیا۔ بعد از دوپہر اسی روز ایک جلسہ عام سے خطاب کیا۔ مغرب کے بعد پروگرام کے مطابق مدرسہ عزیز العلوم بابونگر کی طرف روانہ ہونا تھا۔ رکشہ اور دیگر سواری کا چلنا محال تھا۔ کیونکہ بوجہ بارش شدید کے راستہ خراب ہو چکا تھا۔ دوستوں کے روکنے کے باوجود حضرت امیر نے پیدل چلنے کا حکم فرمایا۔ بجلی بند ہونے کی وجہ سے مدرسہ کے طلباء نے بتیاں پکڑے ہوئے دورویہ کھڑے ہو کر آپ کا استقبال کیا۔ اس مختصر سفر کا منظر بھی دیکھنے کے لائق تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت زندہ باد، مولانا جالندھری زندہ باد، اسلام زندہ باد کے نعروں کی گونجتی ہوئی فضا میں تقریباً ایک گھنٹہ تک منزل مقصود پر کاروان ختم نبوت پہنچا۔ عشاء کے بعد جلسہ عام کا انتظام کیا گیا۔ ابتدائی کارروائی کے بعد مدرسہ کے اراکین کی طرف سے آپ کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا گیا۔ جس میں مدرسہ کا تعارف، مجلس تحفظ ختم نبوت کی میں سرگرمیوں پر مختصر مگر جامع تبصرہ تھا۔ آخر میں حضرت امیر مرکزیہ کی تشریف آوری کو سراہا گیا۔

حضرت امیر مرکزیہ نے دو گھنٹہ سپاسنامہ کے جواب میں تقریر فرمائی۔ اپنے خطاب میں عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت، علماء کی ذمہ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۶۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

داریاں اور دوسرے اہم ترین عنوانوں سے حاضرین کو سرفراز فرمایا۔ جلسہ کے اختتام پر علماء کرام کی خصوصی میٹنگ میں آدھ گھنٹہ خطاب فرمایا۔

دوسرے روز بعد از ظہر مدرسہ عربیہ دارالعلوم معین الاسلام میں خطاب فرمایا۔ آپ نے اپنی تقریر میں ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی سے پاکستان کی آزادی تک کی مکمل داستان سنائی۔ جس میں نہایت ہی تفصیل سے مرزائیوں کی سیاسی سرگرمیوں پر تبصرہ فرمایا۔ اسی روز بعد از عشاء مدرسہ ضمیریہ قاسم العلوم پٹیہ میں جلسہ عام سے خطاب فرمایا۔

۲۶/ جمادی الثانی بعد از نماز صبح درس کے اختتام پر شہر کے لئے روانہ ہوئے۔ نماز ظہر کے بعد مدرسہ کے علماء وطلباء سے خطاب فرمایا۔ بعد از عشاء مکی مسجد میں جلسہ عام سے خطاب ہوا۔

۲۷/ جمادی الثانی کو بعد از صبح جیری کے لئے دریائی سفر شروع کیا۔ سوا گھنٹے کے بعد مدرسہ جیری پہنچے۔ ساڑھے گیارہ بجے جلسہ عام سے خطاب کیا۔ دو بجے مدرسہ حمایت الاسلام کینسگرام کے لئے سفر شروع کیا۔ اڑھائی بجے مذکور میں تشریف آوری ہوئی۔ ظہر کے بعد جلسہ عام سے خطاب کیا۔ بعد از عشاء سوسائٹی جامع مسجد میں ”اسلام میں مرتد کی سزا“ کے عنوان سے خطاب کیا۔ آخر جلسہ میں حاضرین کے سوالات کے جوابات دیئے۔

۲۸/ جمادی الثانی کو ڈھاکہ واپسی ہوئی۔ اس سفر میں مولانا مفتی محمد یوسف صاحب ساتھ رہے۔ جہاں کہیں بنگالی ترجمہ کی ضرورت ہوئی۔ ترجمان کے فرائض مولانا مفتی محمد یوسف صاحب نے سرانجام دیئے۔

چند دن ڈھاکہ قیام رہا۔ اس کے بعد ۳/رجب ۱۳۸۹ھ مطابق ۱۶/ستمبر ۱۹۶۹ء کو وہاں سے مغربی پاکستان کے لئے ڈھاکہ کے ہوائی اڈہ سے بذریعہ ہوائی جہاز روانہ ہوئے۔ الوداع کے وقت تمام احباب جو ہوائی اڈہ پر آپ کو رخصت کرنے آئے تھے۔ چشم پرنم اپنے محبوب رہنما کو روانہ کیا۔ لاہور کے ہوائی اڈے پر مولانا ضیاء القاسمی خطیب لائل پور، مولانا محمد شریف جالندھری اور دوسرے علماء کی زیر قیادت جماعتی احباب نے آپ کا استقبال کیا۔ آپ کے اس کامیاب دورہ سے ملک کے دوسرے بازو میں بھی مجالس تحفظ ختم نبوت کی جماعتوں اور سرگرمیوں کا توازن پورا کیا جارہا ہے۔

جناب عبدالرحمن یعقوب صاحب باوا جیسے مخلص اور جانباز بزرگ کے مل جانے سے جماعت کو بے حد ترقی ہوئی۔ موصوف کی محنت اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نتیجہ ہے کہ قادیانیت جس طرح مغربی پاکستان سے بھاگ کر مشرقی پاکستان میں احمد نگر کو ربوہ ثانی بنانے کی دھن میں لگ گئی تھی۔ مسلسل جماعتی کام کے نتیجے سے اتنی گھبرا اٹھی کہ اپنے حواس کھو بیٹھی۔ نہایت کسمپرسی کے عالم میں چیخ و پکار شروع کی۔ حکام کے دروازے پر دستک بھی دی کہ ہم مارے گئے۔ ہمارے خلاف نفرت کے جذبات ابھارے جارہے ہیں۔ لیکن وہاں کے حکام نے مسلمان اکثریت کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے اقلیتی غیر مسلم فرقہ کے جھوٹے واویلا کی پرواہ نہ کر کے ہمارے اکابر کی تقاریر پر کوئی قدغن نہیں لگائی۔

بیرونی ممالک میں کام کی سرگزشت

ساری دنیا جانتی ہے بلکہ خود مرزائیت کو بھی یہ تسلیم ہے کہ قادیانیت انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے۔ انگریز کی بدولت باہر کے ممالک میں مرزائیت کا پھیلاؤ روز بروز ترقی پر جارہا تھا۔ ہمارے اکابر امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے انگریز کی مخالفت کو حرز جان بنایا

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۶۳

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کہ جب تک انگریز ملک سے نکل نہ جائے۔ مرزائیت کی بیخ کنی آسان نہیں ہے۔ جب انگریز نے اس ملک کو اپنے وجود سے پاک کیا اور وہ بسترہ بوریا لے کر چل دیا تو ملک عزیز کے دونوں حصوں میں جماعت ختم نبوت نے ”نبوت کاذبہ“ سے عوام الناس کو خوب روشناس کرا دیا۔ دوسری ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی تھی کہ ہم غیر ممالک میں اپنے مبلغ اور سفیر اسلام بھیج کر عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کا اہم فریضہ ادا کریں۔

اتفاقاً ہمارے ہمسایہ ملک سے پریشان کن خبر ملی ہے کہ کلکتہ (انڈیا) میں مرزائیوں نے چیلنج بازی کر کے عام مسلمانوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ آپ اپنی جماعت کے مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر کو بھیج کر ممنون فرمائیں۔ دل تو چاہتا تھا کہ اہل اسلام کی درخواست پر آنکھ جھپکنے کی دیر میں عمل ہو جائے۔ لیکن ویزا کا ملنا قیامت صغریٰ سے ہمارے لئے کم نہ تھا۔ چنانچہ مشرقی پاکستان کے دوستوں سے باہم طے پایا کہ مولانا موصوف ڈھاکہ تشریف لائیں۔ وہاں سے انڈیا کا ویزا لے کر پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ جب کلکتہ براستہ ڈھاکہ مولانا پہنچے تو مرزائیوں کے اوسان خطاء ہو گئے۔ مناظرہ سے فرار میں اپنی نجات سمجھی۔ کلکتہ میں مولانا موصوف نے پندرہ دن تک قلعہ قادیانیت پر دلائل و براہین کی بمباری کی۔ ویزا کی مدت ختم ہونے پر مولانا واپس ملتان تشریف لائے۔ اہلیان کلکتہ نے مولانا کے کامیاب دورہ پر مسلمانان پاکستان اور بالخصوص اراکین مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا بذریعہ خطوط شکریہ ادا کیا۔

فیجی آئی لینڈ سے رابطہ

ہمارے اکابر رہنمایان مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان اس سوچ میں تھے کہ غیر ملک میں کام کی کوئی صورت پیدا ہو جائے۔ حسن اتفاق کہئے یا خدا کی دین۔ ہمیں شہر ناندی آئی لینڈ سے جناب محمد حنیف صاحب سیکرٹری مسلم لیگ ناندی کا خط ملا۔ فیجی آئی لینڈ کیا ہے۔ یہ ایک جزیرہ ہے جس میں چالیس ہزار مسلمان آباد ہیں۔ مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم مسلم لیگ جس کے بتیس ہزار مسلم ممبر ہیں۔ وہاں پہلے لاہوری مرزائیوں نے یلغار کی۔ اس کے بعد قادیانی ربوہ سے آ نکلے اور خوب تبلیغ کا ڈھونگ رچایا۔ علیحدہ تنظیم اور نعرہ یہ کہ جو ہمارے مرزا قادیانی کو نہ مانے وہ مسلمان ہی نہیں۔ سیکرٹری مسلم لیگ لکھتے ہیں کہ: ”ہم مرزائیت سے قطعاً ناواقف تھے اور نہ ہمارے پاس کوئی لٹریچر تھا کہ ان کی سرکوبی کر سکیں۔ اس نو وارد قادیانی کے ساتھ بحث و چیلنج بازی سے مسلمانوں میں انتشار و اختلاف کی راہ ہموار ہو گئی۔ جو ہمارے حالات کے قطعاً ناموافق تھی۔ انہی ایام میں ناندی شہر کے ہوائی اڈے پر ایک پاکستانی مسافر جناب منظور الٰہی ملک سے اتفاقاً ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے ہمارے حالات سن کر آپ کے دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کا پتہ دیا اور خود بھی رد مرزائیت پر رسالے بھیجے۔“

آخر میں موصوف لکھتے ہیں کہ: ”آپ صرف پاکستان کے مسلمانوں کی رہنمائی نہیں بلکہ فیجی آئی لینڈ کے مسلمانوں کو بھی اس فرقہ سے بچانے کا بندوبست کریں۔ ایسے رسالے روانہ فرمائیں جس سے مرزائیت کے متعلق پوری معلومات حاصل ہوں۔ امید ہیکہ آپ ہماری مدد کر کے ایسے بدکار لوگوں سے نجات دلائیں گے۔“

اس خط کے ملتے ہی جماعت نے اپنا شائع شدہ لٹریچر اردو، انگریزی کافی تعداد میں روانہ کیا اور ہر ممکن امداد و تعاون کا یقین دلایا۔ جواب الجواب میں موصوف نے لکھا کہ:

مترادف ہے۔ کیونکہ جزیرہ فیجی پاکستان سے تقریباً تیرہ ہزار میل دور ہے۔ وہاں پر حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر نے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۶۴

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مدرسہ قائم کیا۔ جس میں حفظ وناظرہ، قرآن مجید کا کام شروع کیا اور مدرس اوّل کے فرائض مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب اختر نے خود انجام دیئے۔

تشریف لائے۔ سات برس راندھیر میں تکمیل علم کر کے سند فراغ واجازت تعلیم لے کر پاکستان میں دفتر ختم نبوت میں قیام کیا اور رد مرزائیت کے سلسلہ میں مولانا محمد حیات صاحب استاذ دارالمبلغین سے تعلیم حاصل کی۔ ابھی مولانا عبدالمجید صاحب کا قیام دفتر میں ہی تھا کہ حضرت مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب اختر جزیرہ فجی میں پہنچ گئے۔ وہاں سے مولانا لال حسین صاحب نے ملتان دفتر ٹیلی فون کیا کہ حضرت مولانا عبدالمجید صاحب کو فجی جلدی روانہ کریں تاکہ میں ان کو اپنی موجودگی میں کام پر لگا سکوں۔ چنانچہ ٹیلی فون ملنے کے بعد مولانا عبدالمجید صاحب کو قادیانیت کی مکمل کتب اور رد قادیانیت کا مکمل لٹریچر جو کم از کم اڑھائی صد روپیہ کا تھا، دے کر براہ کراچی ہوائی جہاز پر روانہ کیا۔ مولانا موصوف اپنے وطن پہنچ گئے اور تعلیم القرآن کے مدرس مقرر ہو گئے ہیں۔

قادیانی مناظروں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ وہاں سے جلدی فرار ہونے میں اپنی عافیت سمجھی۔

اب رہ گئے لاہوری مرزائی تو جب مناظر اسلام نے چیلنج کیا تو ان کو بغیر مناظرہ کے چارہ کار نہ رہا۔ چنانچہ مولوی احمد یار جو وہاں پر لاہوری جماعت کے مبلغ تھے انہیں تیار کیا گیا۔ چنانچہ یکم؍ فروری ۱۹۶۹ء کو لٹوکا شہر میں مناظرہ ہوا۔ اس مناظرہ کی پوری روئیداد ریکارڈ شدہ ہمارے دفتر میں آ چکی ہے۔ جہاں پر مناظرہ ہوا وہاں پر اس مناظرہ کا کیا اثر ہوا تو اس سلسلہ میں فجی کے ایک بزرگ جناب ایم۔ ٹی خان صاحب جو مسلم لیگ فجی کے نائب جنرل سیکرٹری ہیں، ان کے تاثرات جو اپنے خط میں تحریر کئے ہیں، حسب ذیل ہیں۔

مولانا صاحب! (مولانا محمد علی جالندھری)

ہمیں یہ لکھتے ہوئے بڑی مسرت ہورہی ہے کہ بتاریخ یکم؍ فروری ۱۹۶۹ء کو دن نو بجے کسان ہال لٹوکا میں فجی مسلم لیگ کی طرف سے حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر اور احمدیہ انجمن اشاعت اسلام فجی کی طرف سے مولوی احمد یار صاحب مرزائی ایم۔ اے کے درمیان مناظرہ ہوا۔ مضامین یہ تھے:

پہلا مناظرہ تین گھنٹے دس منٹ کا ہوا۔ جس میں مدعی فجی مسلم لیگ کے مناظر تھے اور دوسرے مناظرہ میں انجمن احمدیہ فجی کے مناظر مدعی تھے۔ اس کا وقت بھی پہلی کی طرح تھا۔ تقریباً بارہ سو تک کی حاضری تھی۔ یہ فجی کے مذہبی جلسے کے لئے بہت بڑی تعداد ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اور آپ بزرگوں کی دعا سے ہمارے مولانا صاحب کو عظیم کامیابی ہوئی۔ ہمارے مولانا لال حسین صاحب اختر نے ان کی خوب گت بنائی۔ مولوی احمد یار صاحب سوالات کے صحیح جوابات دینے سے بالکل قاصر رہے اور غلط سلط باتیں بیان کر کے اپنے وقت کو پورا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ مولانا لال حسین صاحب اختر نے اپنے خاص خاص اعتراضات کو بار بار دہرایا اور للکار للکار کر ان سے جوابات طلب کئے۔ مگر مولوی احمد یار ان اعتراضات کو نظر انداز کرتے رہے اور صحیح جواب بالکل نہ دے سکے۔ سامعین پر خوشی

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۶۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کی لہریں دوڑ گئیں۔ انہوں نے اپنی خوشیاں ظاہر کیں اور دعائیں دیں اور یہ کہا کہ ہم آج حقیقت سے اچھی طرح واقف ہوگئے۔ مرزائیت کا بھانڈا پھوٹ گیا اور ہم اب ان کے دجل وفریب سے بالکل واقف ہوگئے۔ ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو دجال اور جہنمی کہتے ہیں۔ اس بدبخت اور مدعی نبوت کو انسان کہنا انسانیت کی توہین ہے۔

دونوں طرفین کے مناظرے کی تقریر کی ٹیپ ریکارڈنگ بھی کی گئی ہے۔ ان شاء اللہ! مرکز کے لئے ہم ایک سیٹ جلد ہی روانہ کریں گے۔ امید واثق ہے کہ اب مرزائیوں میں یہ ہمت کبھی بھی نہ ہوگی کہ وہ اس طرح کا مناظرہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔ بڑی مشکل سے یہ مناظرہ قائم کیا گیا تھا۔ وہ بہت طرح کے حیلے بہانے کرتے تھے۔ مگر آخر اس آفت میں وہ خود بخود پھنس گئے اور انہیں منہ کی کھانی پڑی۔ فجی مسلم لیگ کے تمام ممبران اور دیگر احباب مولانا لال حسین صاحب اختر کو مناظرے میں اس عظیم کامیابی کے لئے اپنی دلی مبارک باد پیش کر چکے ہیں۔

(اقتباس از خط جناب ایم۔ ٹی خان صاحب، نائب جنرل سیکرٹری فجی مسلم لیگ، مورخہ ۱۱؍فروری ۱۹۶۹ء)

غرض جب مولانا جزائر فجی سے رخصت ہوئے، وہاں کی مسلم لیگ نے حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر کو ایک سپاسنامہ پیش کیا اور مولانا کے تشریف لانے کے بعد امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا محمد علی صاحب کے نام جو شکریہ کا خط لکھا وہ پورے کام کی ایک مختصر روئیداد ہے جو ذیل میں نقل کی جاتی ہے۔

حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

کی مذہبی تعلیمی اور معاشرتی خدمات انجام دے رہی ہے۔ جزائر فجی کی جملہ مساجد اس جماعت کے زیر اہتمام ہیں اور مختلف مقامات پر اس کے دو سیکنڈری سکول اور پرائمری سکول ہیں۔

ادا کرتی ہے کہ آپ نے ہماری درخواست پر مجسمہ شرافت بلند اخلاق بے نظیر عالم ومناظر اور مشہور مبلغ اسلام مولانا لال حسین صاحب اختر ناظم اعلیٰ مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت ملتان پاکستان کو انگلستان سے فجی بھیجا۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آپ نے نو ماہ کے قیام میں جزائر فجی کے مختلف مقامات پر توحید، رسالت، ختم نبوت، اصلاح عقائد اعمال، معراج النبی ﷺ، سیرت النبی ﷺ، حیات حضرت مسیح علیہ السلام، صداقت اسلام، تردید مرزائیت، معجزات انبیاء علیہم السلام، حجیت حدیث، ضرورت مذہب، ضرورت تعلیم دین، اتحاد بین المسلمین، عظمت و ترقی پاکستان کے مضامین پر تقریباً ڈیڑھ سو تقریریں کیں۔ ان خطابات نے یہاں کے مسلمانوں میں تعلیم قرآن مجید وحدیث شریف، تبلیغ اسلام، تردید مرزائیت، اتحاد بین المسلمین، اشاعت وحفاظت اسلام کے لئے قربانی اور ایثار کی روح پھونک دی۔ جزائر فجی میں اشاعت وحفاظت اسلام اور مرزائیت سے مسلمانوں کو بچانے کے لئے کوئی مستقل انتظام نہ تھا۔ نہ تعلیم قرآن مجید کی کوئی درس گاہ تھی نہ ہی کوئی مسلم لائبریری تھی۔ حضرت مولانا کی تحریک پر فجی مسلم لیگ کے جنرل اجلاس نے اپنے ماتحت تحفظ ختم نبوت کمیٹی مقرر کی جو اشاعت وحفاظت اسلام، مدرسہ تعلیم القرآن اور مسلم لائبریری کے قیام اور ان کے چلانے کے فرائض سرانجام دے گی۔ چنانچہ مولانا لال حسین صاحب نے تحفظ ختم نبوت کمیٹی

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۶۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے زیر اہتمام لٹوکا میں مدرسہ تعلیم القرآن کا افتتاح کیا۔ جس میں ناظرہ کے علاوہ سترہ طالب علم قرآن مجید حفظ کر رہے ہیں۔ ان طلباء کے جملہ اخراجات یہ کمیٹی ادا کرتی رہے گی۔ مولانا لال حسین اختر کے مبارک ہاتھوں سے فجی مسلم لیگ کے دفتر میں مسلم لائبریری کا افتتاح کیا گیا۔ آپ نے صووا برانچ مسلم لیگ کے پرائمری سکول کی نئی بلڈنگ کا بنیادی پتھر نصب کیا اور مدرسہ تعلیم القرآن لٹوکا کی اقامت گاہ کی بنیاد رکھی۔

مرزائیوں نے کفر بازی کا (جو) فتنہ (یہاں) برپا کر رکھا تھا حضرت مولانا کی تقریروں، انفرادی ملاقاتوں، مناظرہ اور ریڈیو فجی پر عقائد حقہ کی نشریات سے بطریق احسن اس فتنہ کی سرکوبی ہو گئی ہے۔ اے کاش! مولانا یہاں تین چار سال قیام فرما سکتے تو تمام ملک میں مذہبی انقلاب برپا ہو جاتا۔ لیکن آپ کے اور انگلستان کے خطوط سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا انگلینڈ جانا نہایت ضروری ہے۔ حضرت مولانا لال حسین صاحب کے اخلاق اور ان کی خدمات اسلامی کی یاد نہایت عزت و احترام سے مدت العمر ہمارے قلوب میں جاگزیں رہے گی۔ ہم مولانا کو افسردہ دلوں اور پرنم آنکھوں سے الوداع کر رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے خاتم الانبیاء ﷺ کی ختم نبوت کے طفیل مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت کے جملہ اکابرین، اراکین، مبلغین ومولانا لال حسین صاحب اختر کو بیش از بیش اشاعت و حفاظت اسلام کی توفیق عطاء فرمادے۔ آمین! ان شاء اللہ العزیز تحفظ ختم نبوت کمیٹی کی رپورٹ وقتاً فوقتاً ارسال خدمت کی جایا کرے گی۔ امید ہے کہ آپ حسب سابق تبلیغی امور میں ہماری راہنمائی فرمائیں گے۔ والسلام!

(محمد طاہر خان، نائب جنرل سیکرٹری فجی مسلم لیگ) مؤرخہ ۳۰؍ مئی ۱۹۶۹ء، مطابق ۱۳؍ ربیع الاول ۱۳۸۹ھ

حضرت مولانا مناظر اسلام نے لندن پہنچنے پر جو مرکز ملتان کو ۲۶؍ ربیع الاول کو خط تحریر فرمایا اس میں ہوائی سفر کی تفصیل اس طرح ہے۔ ہوائی جہاز فجی سے روانہ ہو کر ”ہونولولو“ پھر سان فرانسسکو، نیویارک (امریکہ)، پیرس (فرانس)، فرینکفرٹ (ویسٹ جرمنی) سے ہوتا ہوا لندن پہنچا۔

مولانا مدظلہ العالی اپنے گرامی نامہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ امریکہ اور پیرس میں انفرادی طور پر ہوٹلوں میں تبلیغ کا فریضہ ادا کیا۔ میں نے پیرس سے ناگی صاحب کو ٹیلیفون کر دیا تھا۔ وہ فرینکفرٹ کے ہوائی اڈہ پر موجود تھے۔ ایک ہفتہ فرینکفرٹ (ویسٹ جرمنی) میں قیام کیا۔ مولانا لال حسین صاحب ۲۱؍ ربیع الثانی ۱۳۸۹ھ کے گرامی نامہ میں تحریر فرماتے ہیں۔ چونکہ ناگی صاحب کو میں نے پیرس سے ٹیلی فون کر دیا تھا۔ اس لئے وہ ہوائی اڈے پر موجود تھے۔ ان کے مکان پر پہنچا۔ یہاں ہندوستانی اور پاکستانی مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے۔ لیکن بیس ہزار سے زائد ترک رہتے ہیں۔ قادیانی مرزائیوں نے یہاں مسجد ضرار بنائی ہوئی ہے۔ ترک، ہندوستانی اور پاکستانی مسلمان مرزائیوں کی عبادت گاہ میں مرزائی امام کی اقتداء میں نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ ناگی صاحب جب یہاں تشریف لائے اور انہوں نے ترکوں کو بتایا کہ مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان کی اقتداء میں ہماری نماز نہیں ہوتی تو ترکوں نے کہا کہ وہ ہمارے جیسی اور ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں۔ ناگی صاحب نے ترکوں سے کہا کہ جمعہ کی نماز کے وقت آپ ان لوگوں (مرزائیوں) سے کہیں کہ ہم تمہارے امام کی اقتداء میں نماز ادا کرتے رہے ہیں۔ آج تم ترک امام کی اقتداء میں نماز ادا کرو۔

چنانچہ جمعہ کی نماز سے پہلے ترکوں نے مرزائیوں کو کہا کہ آج ہمارا امام نماز پڑھائے۔ مرزائیوں نے انکار کر دیا کہ اپنی عبادت گاہ میں ہم تمہیں امامت کی اجازت نہیں دیتے اور نہ ہی تمہاری اقتداء میں ہم نماز ادا کرتے ہیں۔ کچھ ردوکد کے بعد پاکستانی، ہندوستانی اور ترک

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۶۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مسلمان مرزائیوں کی عبادت گاہ سے بغیر نماز ادا کئے نکل آئے اور نماز جمعہ نہ ادا کر سکے۔ کیونکہ مسلمانوں کے پاس نماز ادا کرنے کے لئے کوئی جگہ نہ تھی۔ اسی وقت ترک مسلمانوں نے چندہ جمع کر کے نماز ادا کرنے کے لئے ایک تین منزلہ مکان کرایہ پر لے لیا اور اس میں نماز ادا کرنے کے لئے اجازت حاصل کر لی۔ اس مکان میں اتنی گنجائش نہیں کہ تمام نمازی جمعہ کے دن اس میں سما سکیں۔ میں نے دیکھا برستی بارش میں ترک کاغذ اور کپڑے بچھا کر صحن اور باہر گلی میں بھیگ رہے تھے اور نماز ادا کر رہے تھے۔ ترک مسلمان کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی موزوں ہال خرید لیں یا جگہ خرید کر فراخ مسجد تعمیر کر لیں۔ اس خط میں مولانا تحریر فرماتے ہیں کہ اس عارضی مسجد میں میری تین تقریریں ہوئیں۔ جمعرات بعد نماز جمعہ اور ہفتہ کے دن، پہلے دن میں نے تقریر اردو میں شروع کی۔ کنزر صاحب (جرمن مرزائی سے نو مسلم) نے انگریزی میں ترجمہ شروع کیا تو ترکوں نے کہا کہ ہم انگریزی نہیں سمجھتے۔ انہوں نے جرمن زبان میں ترجمہ کیا تو ترکوں نے کہا کہ ہم جرمن زبان بھی اچھی طرح نہیں سمجھتے۔ ترکیوں کے ایک نوجوان امام جو حافظ اور بلند پایہ قاری ہیں انہوں نے مجھے فرمایا کہ آپ عربی میں تقریر کریں، میں اس کا ترکی میں ترجمہ کروں گا۔ ان کے کہنے پر میں نے عربی میں تقریر شروع کی۔ وہ ساتھ ساتھ ترجمہ کرتے جاتے۔ توحید، ختم نبوت، حیات مسیح علیہ السلام اور کفر مرزا پر تین تقریریں کیں۔ حضرت مولانا تحریر فرماتے ہیں: اس نئے مکان کی تینوں منزلیں کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں۔

حضرت مولانا کے لندن پہنچنے پر ایک تو ووکنگ کے کام میں حصہ لیا۔ کیونکہ وہاں اب مسجد کی ٹرسٹ کمیٹی بن گئی ہے جو پاکستان ہائی کمشنر کے ماتحت کام کرے گی۔ ساتھ ساتھ مولانا نے مندرجہ ذیل شہروں میں تبلیغی دورہ کیا اور مختلف موضوعات پر تقریریں کیں۔ شہروں کے نام یہ ہیں: ہڈرسفیلڈ، باٹلے، بریڈفورڈ، ساؤتھ ہال، مانچسٹر، کارڈف (لندن) بلیک برن، شیفیلڈ، ڈیوز بری، گویا نو شہروں کا دورہ کیا۔

ویسٹ جرمنی کے دوران قیام ایک پچیس سالہ امریکن نوجوان مشرف با اسلام ہوا۔ ان کا پہلا نام (PETER SCHLEMPP) تھا۔ اب ان کا نام احمد اردور رکھا گیا۔ اردو ترکی نام ہے۔

(اقتباس خط ۲۶؍ ربیع الاول ۱۳۸۹ھ) مولانا لال حسین اختر

ہڈرسفیلڈ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا مستقل دفتر قائم کر دیا گیا

حضرت مناظر اسلام اپنے گرامی نامہ محررہ ۵؍ شعبان ۱۳۸۹ھ میں تحریر فرماتے ہیں: یہاں کے احباب نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ انگلستان میں مستقل تبلیغی کام آگے بڑھانے کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت کو اپنے دفتر کی ضرورت ہے۔ چنانچہ احباب نے تلاش شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے ایک مکان مہیا فرمایا۔ جس کی قیمت دو ہزار چھ سو پونڈ ہے۔ یہ رقم پاکستانی سکہ کے حساب سے باون ہزار روپیہ بنتی ہے۔ اس کی رجسٹری مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان کے نام کرائی گئی ہے۔ وہاں کی جماعت کے ذمہ دار حضرات میں سے پانچ دوستوں کو ٹرسٹی مقرر کیا گیا ہے۔ جن کے نام حسب ذیل ہیں۔ چوہدری غلام نبی صاحب، چوہدری محمد علی جاوید، چوہدری شاہ محمد، جناب محمد سرور، مولانا لال حسین اختر ٹرسٹی حضرات صرف مقامی منتظم مقرر کئے گئے ہیں۔ مجلس مرکزیہ کے امیر اور ناظم اعلیٰ کے تحریری اجازت نامہ کے بغیر کوئی ردو بدل نہ ہو سکے گا۔ نہ اسے بغیر مرکز کی اجازت کے فروخت کر سکیں گے۔ چنانچہ مجلس مرکزیہ کے صدر اور ناظم اعلیٰ نے مندرجہ بالا ٹرسٹیوں کی تصدیق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے کرا کر لندن روانہ کر دی ہے تا کہ وہ حضرات اپنے کام کو جاری رکھ سکیں۔ چونکہ مکان قابل مرمت ہے اور اس میں فرنیچر اور قالین وغیرہ بھی مہیا کئے گئے ہیں۔ دوسرے اخراجات ڈال کر مجلس مرکزیہ کو یہ مکان ساٹھ ہزار روپیہ میں پڑا ہے۔ اس میں جن احباب مجلس نے ایثار سے کام لے کر اعانت فرمائی ہے، حسب ذیل ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۶۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چوہدری غلام نبی صاحب ۱۰۰ پونڈ

چوہدری محمد علی صاحب جاوید (صدر) ۱۰۰ پونڈ

مولانا لال حسین صاحب نے مرکزی دفتر کی طرف سے ۱۰۰ پونڈ

جناب نور محمد صاحب لودھی ۵ پونڈ

چوہدری شاہ محمد صاحب ۱۰۰ پونڈ

جناب محمد سرور صاحب (ناظم) ۱۰۰ پونڈ

جناب عبدالحکیم صاحب ۱۰ پونڈ

مجلس ختم نبوت ہڈرسلفیڈ ۱۳۰ پونڈ

قرض برائے خرید بلڈنگ چوہدری شاہ محمد صاحب نے ایک ہزار پونڈ عنایت فرمایا۔ دفتر کی مکانیت حسب ذیل ہے۔

ایک تہہ خانہ، اس کے علاوہ ۹ کمرے ہیں۔ مقامی مجلس نے اس کو اپنی تحویل میں لے کر مدرسہ تعلیم القرآن قائم کر دیا ہے۔ جس میں پچاس بچے زیر تعلیم ہیں۔ محض اللہ کا فضل و کرم ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مناظر اسلام کے باہر جانے سے دینی تبلیغ کے راستے کھول دیئے اور ہمیشہ کے لئے دینی مرکز قائم ہوا۔ لندن میں جن احباب نے اپنے اخلاص سے حد سے زیادہ تعاون فرمایا ہے بعض احباب کے نام اوپر آ گئے ہیں اور بعض حضرات کے نام حسب ذیل ہیں:

جناب محمد الیاس صاحب (انگلینڈ)، جناب حاجی محمد اشرف گوندل، ہنسلو (لندن)، جناب محمد شفیق صاحب ابن مولانا عبدالمجید صاحب (انگلینڈ)، جناب محمد فاضل صاحب (انگلینڈ)، جناب عبدالخالق صاحب (ہڈرسفیلڈ)

یہ احباب جماعتی کام میں تعاون فرماتے ہیں۔ وقتاً فوقتاً مرکز میں ان کے خطوط آتے ہیں جس کے ذریعہ مرکز سے ان کا باقاعدہ رابطہ ہے۔ خدا تعالیٰ ان تمام حضرات کو جزائے خیر عطاء فرمائے جو انگلینڈ جیسے ملک میں اپنی دنیاوی مصروفیات کے باوجود جماعتی کام میں اپنی ہمت سے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ حضرت مولانا لال حسین صاحب ان سب کاموں کی تکمیل فرما کر ۲۸؍ ذیقعدہ کو لندن سے بذریعہ ہوائی جہاز حجاز مقدس تشریف لے آئے۔ حج سے فارغ ہو کر مدینہ طیبہ میں زیارت روضہ صاحب ختم نبوت صلوٰۃ اللہ وسلام علیہ سے مشرف ہوئے۔ وہاں شیخ عبدالعزیز بن باز، وائس چانسلر مدینہ یونیورسٹی کی دعوت پر طلباء مدینہ یونیورسٹی کے سامنے فتنہ مرزائیت پر مدلل ومفصل تقریر فرمائی۔ جس کا عربی ترجمہ مولانا عبدالغفار حسن جیسے فاضل جو مدینہ یونیورسٹی کے استاذ ہیں، نے فرمایا۔ وہاں کے ذمہ دار حضرات نے مولانا لال حسین اختر کا شکریہ ادا کیا اور مولانا سے فرمائش کی کہ لاہوری اور قادیانی دونوں فریق کے حالات پر ایک مقالہ لکھ کر ہمیں روانہ فرمادیں۔ ہم اسے عربی، انگریزی اور دیگر ملکی زبانوں میں چھاپ کر تقسیم کریں گے۔ حضرت مولانا محترم ۱۳؍ مارچ کو حجاز سے کراچی تشریف لائے۔

۱۸؍ مارچ ۱۹۷۱ء کو کراچی سے روانہ ہوئے۔ احباب نے کوٹری، حیدرآباد، روہڑی، صادق آباد، رحیم یارخان، خان پور، ڈیرہ نواب، سمہ سٹہ، بہاول پور، شجاع آباد، ملتان، ساہیوال غرضیکہ لاہور تک مولانا کا پرجوش استقبال کیا۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۶۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۷۴ء

کے

حالات و واقعات

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۷۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۳۷۰ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

احمدیوں کو تبلیغی مرکز قائم کرنے کی ممانعت

رحیم یار خان مؤرخہ ۲۰؍فروری ایڈمنسٹریٹر سول جج چوہدری محمد نسیم نے ایک دعویٰ کا فیصلہ سناتے ہوئے محلہ قاضیاں میں احمدیوں کو مسجد تعمیر کرنے، اذان دینے اور وہاں تبلیغی مرکز قائم کرنے کی ممانعت کر دی ہے۔ عدالت نے یہ حکم امتناعی دوامی، مولوی عبدالرشید کی درخواست پر جاری کیا ہے۔ قبل ازیں مؤرخہ ۳؍ستمبر کو عدالت نے تا فیصلہ مقدمہ حکم امتناعی جاری کیا تھا۔ اس حکم میں کہا گیا تھا کہ فریقین کے عقائد میں شدید اختلاف ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں۔ ان حالات میں اس محلہ میں احمدیوں کو مسجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ بصورت دیگر نقص امن کا شدید خطرہ ہے اور کسی وقت بھی وہاں کا امن متاثر ہوسکتا ہے۔ یہ دعویٰ مولوی عبدالرشید وغیرہ نے شیخ عبدالعزیز ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ رحیم یار خان کے محلہ قاضیاں میں ایک مکان کو احمدیوں کی مسجد میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اس محلہ میں احمدیوں کا کوئی خاندان آباد نہیں ہے۔ مسجد یا تبلیغی مرکز قائم ہونے سے اہل محلہ کے مذہبی جذبات مجروح ہوں گے۔ اس لئے مدعا علیہان کو مسجد تعمیر کرنے سے روک دیا جائے۔ مخالف فریق کے وکیل چوہدری پرویز احمد نے یہ موقف اختیار کیا کہ فریقین کی نماز اور طریقہ اذان میں کوئی تفاوت نہیں ہے۔ اس لئے یہ کہنا صحیح نہیں کہ اہل محلہ کے مذہبی جذبات مجروح ہوں گے۔ فاضل جج نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ۳۰؍ستمبر کو عارضی حکم امتناعی کا اجراء کر دیا۔ گزشتہ روز مدعا علیہ سیف اللہ وغیرہ کے وکیل پرویز احمد باجوہ نے جواب دعویٰ داخل کرنے کی بجائے مدعی کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے اس امر سے اتفاق کیا کہ عدالت کے حکم امتناعی جاری کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ الغرض جج نے فیصلہ سناتے ہوئے حکم امتناعی دوامی جاری کر دیا۔

(امروز ملتان مؤرخہ ۲۲؍فروری ۱۹۷۲ء)

دس سال میں احمدی حکومت قائم ہو جائے گی، حکیم ابراہیم قادیانی مبلغ کا اعلان

مرزائی مبلغ کی پریس کانفرنس اور اس پر اخبارات کے احتجاجی مقالات بغیر تبصرہ پیش خدمت ہیں۔

لائل پور: مؤرخہ ۲۱؍مارچ ۱۹۷۲ء۔ احمدیہ تبلیغی مشن کے ایک رکن ڈاکٹر حکیم محمد ابراہیم جو یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں تعلیم الاسلام سکول کے منیجر بھی ہیں اور ان دنوں پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ آج شام ایک مقامی ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ احمدیوں کی حکومت دس سال کے اندر اندر قائم ہو جائے گی اور احمدیوں کی حکومت کے بارے میں جو پیش گوئی کی گئی تھی ان کا ایمان ہے کہ وہ حرف بحرف سچی ثابت ہوگی۔ ڈاکٹر محمد ابراہیم یوگنڈا نے اپنی تبلیغی تفصیلات اور وہاں کے قدیم بادشاہوں کے قصے سنانے میں تقریباً ایک گھنٹہ صرف کیا اور اخبار نویسوں کے سوالات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ڈاکٹر حکیم ابراہیم نے صحافیوں کو اپنی تیار کردہ خوشبویات کے علاوہ یوگنڈا کی زرعی اجناس کے بیج بھی دکھائے اور اس کے چکر میں اصل حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی۔ لیکن اخبار نویسوں کے اصرار پر انہوں نے اقرار کیا کہ وہ احمدی ہیں اور احمدی تبلیغی مشن سے تعلق رکھتے ہیں۔ غیر ممالک میں تبلیغ کے لئے لٹریچر اور دوسری سہولیات ان کو احمدیہ مشن کی طرف سے ملتی ہیں۔ اخبار نویسوں کو انہوں نے اپنی کامیابیوں کی جو داستانیں سنائیں۔ ان میں سے ظاہر ہوتا تھا کہ بیرونی ملکوں میں احمدیہ مشن اپنی تبلیغ ’’اسلام‘‘ کے نام پر کرتے ہیں۔ اپنی احمدیت چھپاتے ہیں۔ اخبار نویسوں کے اصرار پر انہوں نے چند سوالوں کے جواب دیئے۔

سوال: آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو کیا سمجھتے ہیں؟ جواب: میں مرزا غلام احمد کو وہ سب کچھ سمجھتا ہوں جس کا انہوں نے دعویٰ کیا ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۷۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سوال: مرزا نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ آپ اس کے مطابق ان کو نبی مانتے ہیں۔

جواب: میں مرزا غلام احمد کو نبی مانتا ہوں۔ وہ دوسرے نبیوں سے الگ نبی نہیں ہیں۔ نبی کا تعلق براہ راست خدا سے ہوتا ہے۔ وہ جھوٹا ہے یا سچا اس کی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے۔ ماننے والوں پر نہیں۔ نبی کے معنی خبر دینے والا ہوتے ہیں۔ اس لفظ پر جوش میں نہیں آ جانا چاہئے۔

سوال: جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی تصور نہیں کرتے یا نبی نہیں مانتے ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: جو نبی کا انکار کرے گا وہ منکر ہے۔

سوال: کیا آپ اسلام کی تبلیغ کے لئے حکومت پاکستان سے کوئی امداد حاصل کرتے ہیں یا کریں گے؟

جواب: ہم حکومت کی امداد کے محتاج نہیں ہیں۔

سوال: سر ظفر اللہ خان نے قائد اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا تھا؟

جواب: سر ظفر اللہ میرا بھائی ہے۔ مگر میں اس سے نفرت کرتا ہوں۔ کیونکہ جو اسلام کے سلسلہ میں تعاون نہیں کرتے میں ان سے نفرت کرتا ہوں۔

سوال: کیا آپ قادیان کے حصول کے لئے بھارت سے بات چیت کرنے کو تیار ہیں؟

جواب: پیش گوئی یہ ہے کہ قادیان ہمیں حاصل ہو کر رہے گی اور اسے ہم خدائی طاقت سے حاصل کریں گے۔ اس کے لئے ہم بھارت سے بات چیت کے لئے تیار نہیں ہیں۔

سوال: کیا سقوط مشرقی پاکستان میں ایم ۔ ایم احمد بھی اتنے قصور وار ہیں جتنے کے یحییٰ خان؟

جواب: اس بارے میں کچھ نہیں جانتا لیکن مسلمانوں کا جو طرز عمل ہے۔ اس سے ایک بنگلہ دیش تو کیا کئی بنگلہ دیش بن سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قادیان میں احمدیہ مشن نے بنگلہ دیش کو اس لئے تسلیم کیا کہ حکومت ہند نے اس پر دباؤ ڈالا تھا۔

سوال: احمدیوں کی حکومت کے بارے میں کوئی پیش گوئی ہے؟

جواب: اس بارے میں واضح پیش گوئی ہے اور احمدیوں کی حکومت دس سال کے اندر اندر قائم ہو جائے گی۔

ڈاکٹر ابراہیم کی پریس کانفرنس یہاں ختم ہو گئی اور اخبار نویس اٹھ کھڑے ہوئے۔ لیکن کسی صاحب نے پھر سر ظفر اللہ کا نام لیا تو ڈاکٹر صاحب نے اپنے ایک جواب کے بالکل برعکس یہ کہا کہ سر ظفر اللہ قوم کا باپ ہے۔ اس نے پاکستان بنایا ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ قائد اعظم نے اسے وزیر خارجہ بنا دیا۔

(بحوالہ روزنامہ پیام لائل پور، مؤرخہ ۲۷/ مارچ ۱۹۷۲ء)

۲۶/ مارچ (سٹاف رپورٹر) احمدی مبلغ ڈاکٹر محمد ابراہیم صاحب جو کہ یوگنڈا کے شہر کمپالا میں مقیم ہیں اور ان دنوں پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ سر ظفر اللہ بابائے قوم ہیں اور پاکستان انہوں نے بنایا تھا۔ لیکن اس کے برعکس ڈاکٹر ابراہیم نے یہ بھی کہا کہ وہ سر ظفر اللہ سے اس وجہ سے نفرت کرتے ہیں کہ وہ اسلام کے لئے ان سے تعاون نہیں کرتے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیش گوئی کے مطابق احمدیوں کی حکومت دس سال کے اندر اندر قائم ہو جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مرزا غلام احمد نے اپنے بارے میں جو دعویٰ کیا ہے میں انہیں اس کے مطابق سمجھتا ہوں اور جو شخص نبی کو نہیں مانتا وہ منکر ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں ڈاکٹر ابراہیم نے کہا کہ احمدیہ مشن ان کو تبلیغ کے لئے لٹریچر وغیرہ اور سہولیات فراہم کرتا ہے اور وہ حکومت کی امداد کے محتاج نہیں ہیں۔

(روزنامہ عوام لائل پور مؤرخہ ۲۷/ مارچ ۱۹۷۲ء)

www.amtkn.com

ameer@khatm-e-nubuwwat.com

www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۷۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بہاول پور میں مرزائیوں اور عیسائیوں کی تخریبی سرگرمیاں

بروز جمعہ بہاول پور شہر کی تمام جامع مساجد (تقریباً تیس جامع مساجد) کے اجتماعات میں مرزائیوں اور عیسائیوں کی تخریبی سرگرمیوں پر اظہار افسوس کیا گیا۔ خاص طور پر مرزائی آفیسروں کی مسلسل تخریبی کارروائیوں اور مرزائیت نوازی اور بہاول پور کی پرامن فضا کو مکدر کرنے کا ذکر کرتے ہوئے تمام خطباء حضرات نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک دشمن عناصر کی سخت نگرانی کی جائے اور عوام سے پرامن رہنے کی ہدایت کی گئی کہ سالمیت ملک اسی میں ہے۔ مندرجہ ذیل قراردادیں منظور کی گئیں۔ ”یہ اجتماعات مرزائی اور عیسائی لوگوں کی تخریبی سرگرمیوں کو بری نگاہ سے دیکھتے ہوئے حکام بالا سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اولین فرصت میں ایسے تخریبی عناصر کی تخریبی سرگرمیوں کو فوراً بند کیا جائے اور کڑی نگرانی رکھی جائے۔

صادق پبلک سکول جیسے بڑے تعلیمی ادارے کے اہم منصب ”پرنسپل“ کے لئے ایسے شخص کو منتخب کیا جارہا ہے جو مرزائی عقائد رکھتا ہے اور ہر مرزائی افسر اپنے قادیانی مشن کی تبلیغ اور اہل اسلام کی حق تلفی سے باز نہیں آتا۔ لہٰذا انتظامیہ کمیٹی اور حکومت سے مطالبہ ہے کہ اس تعلیمی ادارے کو تخریبی اور سازشی عناصر سے پاک رکھا جائے تاکہ ملت اسلامیہ کے نونہالوں کے معصوم ذہن تخریبی اور خلاف اسلام سازشوں سے محفوظ رہیں۔

کنٹونمنٹ بورڈ بہاول پور کا ایک اعلیٰ آفیسر مرزائی ہے۔ کافی عرصہ سے بہاول پور کی پرامن فضا کو مکدر کرنے کی سازشیں کر رہا ہے۔ بہاول پور شہر میں سقوط ڈھاکہ کے عظیم المیہ کے بعد عیسائی مشنری کا ”دارالحیات“ کتب خانہ کھولنا اور لٹریچر تقسیم کرنا یہ کسی اور عظیم المیہ کے لئے ایک بڑی سازش کی کڑی معلوم ہوتی ہے۔ لہٰذا حکام بالا سے پرزور مطالبہ ہے کہ جلد از جلد اس عیسائی کتب خانہ کو بند کر کے مسلمانوں کے جذبات کو مطمئن کرے۔“ عمر دین ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور

پشاور کے ایک شخص کی مرزائیت سے توبہ اور قبول اسلام

پشاور کے پرفیومری کے ممتاز تاجر جناب شیخ عبدالحمید صاحب ولد شیخ محمد جان نے قادیانیت سے تائب ہو کر جامع مسجد قائم علی خان میں نماز عصر کے بعد مولانا محمد یعقوب القاسمی مہتمم ”دارالعلوم پشاور“ کے دست حق پرست پر مذہب اہل سنت والجماعت اسلام قبول کر لیا اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور ختم نبوت پر ایمان لا کر مرزا غلام احمد قادیانی کو دجال، کذاب اور کافر قرار دیا۔ اس مبارک موقع پر موجود سینکڑوں مسلمانوں نے نعرۂ تکبیر اللہ اکبر اسلام اور ختم نبوت زندہ باد کے ایمان افروز نعرے لگائے اور شیخ عبدالحمید صاحب کو مبارک باد دی۔ محترم شیخ صاحب موصوف کے والد آنجہانی شیخ محمد جان بہت بڑے قادیانی گزرے ہیں۔

(خدام الدین مورخہ ۱۲؍اپریل ۱۹۷۲ء)

چینی سفیر ربوہ میں

۱۷؍اپریل ۱۹۷۲ء کو چینی سفیر پاکستان کی بدنام ترین بستی ربوہ میں پہنچے۔ ایک دن اور رات ربوہ میں بسر کی۔ ربوہ میں مرزائیوں کے دفاتر ان کی عبادت گاہوں اور درس گاہوں کو دیکھا۔ مرزائیوں نے ان کی آمد پر انہیں استقبالیہ دیا۔ جس میں کافی تعداد میں مرزائی شامل ہوئے۔ خلیفہ ربوہ اور دوسرے قادیانی حکام نے علیحدگی میں ان سے مذاکرات کئے۔ یہ خبر آج تک ملک کے کسی روزنامہ میں شائع نہیں ہوئی۔ مرزائیوں نے اسے مصلحتاً پریس میں نہیں آنے دیا۔

چین ہمارا ایک عظیم ہمسایہ ملک ہے اور اس نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کی قابل قدر امداد وحمایت کی ہے۔ پاکستانی عوام

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۷۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چین کو نہایت ہی احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چینی سفیر کے ربوہ جیسی بدنام بستی میں اچانک جا پہنچنے پر سفیر موصوف کو نشانہ تنقید بنانے کی بجائے ربوہ کو ہی ہدف ملامت بنایا جا رہا ہے۔ در حقیقت مرزائی چند سالوں سے نہایت ہی خطرناک قسم کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش میں تبدیل ہو جانے میں مسٹر ایم ایم احمد اور چوہدری ظفر اللہ خان کی مساعی سیاہ کا بھی عمل دخل بتایا جاتا ہے اور مختلف بیرونی ممالک سے مشتبہ قسم کے تعلقات بھی خالی از خطرہ نہیں ہیں۔

تعجب ہے کہ چین ایک آزاد اور سامراج دشمن ملک ہے اور ربوہ انگریزوں کی روحانی تخلیق اسی طرح اہل ربوہ انگریزوں کی خود کاشتہ پودا جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگو تیلی ۔ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ یہ اجتماع ضدین کیسے وقوع پذیر ہوا ہے۔ ایک طرف تو ربوہ نے پاکستان اور چین کی دوستی سے یہ فائدہ اور اعزاز حاصل کرنے کی کوشش کی کہ اس نے چینی سفیر کو ربوہ میں بلا کر اس سے براہ راست رابطہ پیدا کرنا چاہا ہے۔ لیکن دوسری طرف وہ عربوں کے سلسلہ میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے خلاف اسرائیل سے گہرے اور مشکوک قسم کے تعلقات استوار کر کے تبلیغی مشن کے نام پر وہاں اپنا سفارت خانہ قائم کئے ہوئے ہے۔ یہ سب متضاد اور ناقابل فہم حالات ایک ایسا معمہ ہیں جو ربوہ کی مہدویت، مسیحیت اور نبوت کے گورکھ دھندے کی طرح ہماری سمجھ سے بالاتر ہیں۔ ملک جن مصائب میں مبتلا ہے اور جس نازک دور سے گزر رہا ہے اور مشرقی پاکستان کے غارت ہو جانے کے بعد اس حصہ وطن کے متعلق دشمن جو عزائم رکھتا ہے ایسی نازک صورتحال کے ہوتے ہوئے کوئی ایسی چیز جو پاکستان کے عوام کو مشتبہ اور مشکوک معلوم ہوتی ہو، ناقابل برداشت ہے۔ عوامی حکومت کو ملک کے مفادات اور عوامی جذبات کے پیش نظر نہایت ہی چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

(لولاک مؤرخہ ۱۰ مئی ۱۹۷۲ء)

عرب ممالک اور سر ظفر اللہ

عرب لیگ کونسل نے ہیگ کی بین الاقوامی عدالت کی رکنیت کے لئے پاکستان کے سر ظفر اللہ کا نام واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سر ظفر اللہ خان مرزائی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے کئی سال تبلیغ مرزائیت کے لئے وقف کئے اور حکومت پاکستان کے خزانہ عامرہ سے خطیر رقم حاصل کر کے بیرونی ممالک میں تبلیغ مرزائیت کے اڈے قائم کئے ہیں۔ پاکستان کے عوام ان کے خلاف بے حد نفرت و حقارت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ لیکن پاکستان کے سابق حکمرانوں نے غیر ملکی طاقتوں کے دباؤ کے تحت سر ظفر اللہ خان کو وزارت کی کرسی پر براجمان رکھنا ضروری سمجھا۔ ۱۹۵۳ء میں جب سر ظفر اللہ کے خلاف زبردست تحریک اٹھ کھڑی ہوئی تو اس دور کے حکمرانوں نے انہیں وزارت سے ہٹا کر بین الاقوامی عدالت انصاف کا جج مقرر کر دیا۔

آج عرب ممالک پر جب سر ظفر اللہ خان کی حقیقت واضح ہوئی اور انہیں علم ہوا کہ سر ظفر اللہ خان سامراجی طاقتوں کا ایجنٹ اور نبوت کاذبہ پر ایمان رکھنے والا مرزائی مبلغ ہے تو انہوں نے اس کی تائید و حمایت سے انکار کر دیا۔ عرب ممالک کے علاوہ حکومت پاکستان کو اس غیر مقبول، غیر نمائندہ اور عوام کی نگاہ میں ناپسندیدہ شخص کی تائید و حمایت سے دست کش ہو جانا چاہئے اور کسی ایسے شخص کی تائید کرنی چاہئے جو پاکستانی عوام میں مقبول ہو اور ہمارے ملکی و ملی مفادات کی نگہداشت کرنے کی پوری پوری اہلیت کا مالک ہو۔

(خدام الدین مؤرخہ ۲۶ مئی ۱۹۷۲ء)

ختم نبوت کانفرنس لاہور، حضرت مفتی محمود صاحب کو استقبالیہ

حضرت مولانا مفتی محمود مرحوم صوبہ سرحد میں وزیر اعلیٰ بننے کے بعد پہلی بار پنجاب تشریف لا رہے تھے۔ حضرت مولانا لال حسین اختر نے پشاور جا کر آپ کو مبارک باد پیش کی اور ساتھ ہی درخواست کی کہ پنجاب تشریف لاتے ہی سب سے پہلے آپ ختم نبوت کانفرنس سے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۷۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خطاب فرمائیں۔ حضرت مفتی محمود صاحب اس کے لئے دل و جان سے آمادہ ہو گئے۔ لاہور شہر ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں قربانیوں کا محور ومرکز تھا۔ یہ اس تحریک میں پاکستان کے پہلے مارشل لاء کی صعوبت سے دو چار ہوا۔ دس ہزار شہدائے ختم نبوت کے ایثار واخلاص کی داستانیں اس سے وابستہ تھیں۔ چنانچہ مجلس تحفظ ختم نبوت نے حضرت مولانا مفتی محمود صاحب وزیراعلیٰ کی حیثیت سے پہلی بار پنجاب میں تشریف آوری پر اس شہر کو کانفرنس کے لئے منتخب کیا۔ ۴؍ جون ۱۹۷۴ء کو کانفرنس عین اس جگہ دہلی دروازہ کے ساتھ کے گراؤنڈ میں منعقد ہوئی۔ جہاں سے ۱۹۵۳ء میں نکلنے والے جلوس پر گولیاں چلائی گئی تھیں۔ رات کو کانفرنس منعقد ہوئی۔ مارچ ۱۹۵۳ء میں حضرت لاہوری نے اس میدان سے پہلا جلوس نکال کر تحریک ۱۹۵۳ء کا آغاز کیا تھا۔ آج اسی درویش حضرت لاہوری کے صاحبزادے مولانا عبیداللہ انور اسی کانفرنس کے صدر تھے۔ جلسہ منعقد ہوا۔ سبحان اللہ! العظمۃ للہ!! فقیر راقم کو اس جلسہ میں شمولیت کا شرف حاصل ہے۔ اس کی اخباری رپورٹ ملاحظہ ہو:

لاہور: مورخہ ۴؍ جون۔ آج تیسرے پہر لاہور کے ہوائی اڈے پر اسلامیان لاہور کے ایک جم غفیر نے مولانا مفتی محمود وزیر اعلیٰ صوبہ سرحد کا والہانہ استقبال کیا۔ مفتی صاحب وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی بار لاہور آئے تھے۔ حضرت مفتی صاحب جب مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا عبیداللہ انور کی معیت میں ہوائی جہاز سے باہر آئے تو لاہور کا ہوائی اڈہ مفتی محمود زندہ باد، مولانا غلام غوث ہزاروی زندہ باد، جمعیۃ العلمائے اسلام زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ جمعیۃ کے سیاہ وسفید دھاری دار پرچم ہوائی اڈے کی فضاء میں لہرا رہے تھے۔ رات ساڑھے نو بجے باغ بیرون دہلی دروازہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان یک روزہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ پورا باغ حاضرین سے بھرا ہوا تھا۔ شمع رسالت کے ایک لاکھ پروانوں کا اجتماع ان کا جوش وخروش تحریک تحفظ ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے دنوں کی یاد تازہ کر رہا تھا۔

وطن عزیز پاکستان، اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا۔ اس لئے ملک کا نیا دستور اسلامی روایات واقدار کا حامل ہونا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا لال حسین صاحب اختر صدر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے ختم نبوت کانفرنس لاہور کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔ اس کانفرنس میں اندازاً ایک لاکھ افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت شیخ التفسیر حضرت مولانا محمد عبیداللہ انور نے فرمائی۔ جب کہ مہمان خصوصی حضرت مفتی محمود صاحب وزیراعلیٰ صوبہ سرحد کی ذات ستودہ صفات تھی۔ مولانا لال حسین صاحب نے اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانی انگریز کا خودکاشتہ پودا اور اس کے مفادات کے ایجنٹ ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ آئین میں ختم نبوت کے تحفظ کی مؤثر ضمانت دی جائے اور جس آئین میں عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت نہ کی گئی ہو۔ وہ ہمارے نزدیک غیر اسلامی ہوگا۔ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیئے جانے کے سلسلہ میں مولانا نے ارشاد فرمایا کہ یہ عوام کا متفقہ مطالبہ ہے۔ اس پر ملک میں ریفرنڈم ہونا چاہئے۔

مولانا تاج محمود مدیر لولاک لائل پور نے اپنی تقریر کے دوران قادیانیوں کی ملک دشمنی کے واضح ثبوت پیش کئے اور الزام لگایا کہ ۱۹۶۵ء کی جنگ قادیانیوں کے لندن پلان کے تحت ایک سازش تھی۔ آپ نے فرمایا کہ مرزائی دن رات اس تگ و دو میں ہیں کہ پاکستان کو ہندوستان میں ضم کر کے اکھنڈ بھارت بنا دیا جائے۔ کیونکہ ان کی جماعت کے مفادات اسی میں مضمر ہیں۔ مرزائیوں نے روز اوّل سے ہی پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ سقوط مشرقی پاکستان کی سازشوں کی ایک کڑی ہے۔

مولانا نے فرمایا کہ مرزائی مبلغ کی ۲۶؍ مارچ کو لائل پور میں پریس کانفرنس کے دوران مرزائیوں کی حکومت قائم ہونے کی دھمکی ان کی خفیہ منصوبہ بندی کی نشان دہی کرتی ہے۔ مولانا حبیب اللہ فاضل جالندھری ساہیوال نے اپنی تجویز پر اظہار خیال فرماتے ہوئے پاکستان کی سالمیت کے لئے اسلامی آئین کو شرط اوّل قرار دیا۔ مولانا تاج محمود نے اپنی پیش کردہ تجاویز کے ذریعہ مطالبہ کیا کہ آئین میں

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۷۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہر نوع کے دعویٰ نبوت کو قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے۔ نیز قادیانیوں کو کلیدی آسامیوں سے برطرف کیا جائے۔ مولانا تاج محمود نے شراب کی بندش، اردو کو سرکاری زبان قرار دینا، رخصت جمعہ وغیرہ کے اہم اقدامات پر سرحد حکومت کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ دوسرے صوبوں کو بھی اس نیک کام میں صوبہ سرحد کی تقلید کرنا چاہئے۔ آپ کے بعد مولانا لال حسین اختر نے مہمان خصوصی حضرت مفتی محمود وزیر اعلیٰ سرحد کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا۔ مولانا لال حسین نے دین اسلام کے تحفظ اور جنگ آزادی میں علماء کی خدمات کا مفصل تذکرہ کیا اور اسلامی آئین نافذ کرنے کے سلسلہ میں مفتی صاحب کی کوششوں کو سراہا اور اپنی اور اپنی جماعت کی طرف سے مکمل تعاون پیش کیا۔ آپ نے اس یقین کا اظہار فرمایا کہ ان شاء اللہ ! آئین اسلامی کے سلسلہ میں آپ کی کوشش بار آور ہوں گی اور عقیدہ ختم نبوت کا مؤثر تحفظ ہوگا۔ قادیانی ارتداد سے امت مسلمہ کی حفاظت ہوگی۔ آپ کے بعد قائد انقلاب اسلامی مفتی اعظم مولانا مفتی محمود نعروں کی گونج میں مائیک پر تشریف لائے۔ خطبہ مسنونہ کے بعد ارشاد فرمایا کہ تحفظ ختم نبوت کے اس اجلاس میں شرکت نہ صرف سعادت بلکہ ذریعہ نجات سمجھتا ہوں۔ مولانا لال حسین نے جو توقعات سپاسنامہ میں مجھ سے وابستہ کی ہیں۔ ان شاء اللہ ! وہ پوری ہوں گی۔ اسلامی روایات واقدار کے احیاء کے لئے آپ مجھے ہر جگہ موجود پائیں گے۔ میری تمام کوششیں اور صلاحیتیں اسلامی آئین کے لئے وقف ہوں گی۔ فرمایا کہ ملک پچیس برس آئین سے محروم رہا۔ آج پہلی دفعہ مرکز اور صوبوں میں ایسی حکومتیں قائم ہوئی ہیں، جنہیں براہ راست عوام نے منتخب کیا ہے۔ آج سے پہلے یہ ملک آمریت کا گہوارہ تھا اور عوام ظلم و ستم سے کراہ رہے تھے۔ لیکن آج عوام کی اپنی حکومت ہے۔ اس لئے مولانا لال حسین اور مولانا تاج محمود صاحب کو پریشان نہ ہونا چاہئے۔ آج آپ کی اپنی حکومت ہے۔ آپ جو چاہیں گے وہی ہوگا۔ یہ حکومت عوام کی حکومت ہے۔ جو عوام حکومت بنا سکتے ہیں، وہ گرا بھی سکتے ہیں۔ اس لئے کہ جمہوریت میں عوام ہی قوت کا اصل سرچشمہ ہوتے ہیں۔

آج مارشل لاء مر چکا ہے۔ میں نے اس سے قبل آپ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم مارشل لاء کو ایسی گہری قبر میں دفن کریں گے جہاں سے وہ دوبارہ سر نہ اٹھا سکے۔ الحمد للہ ! اب یہ وعدہ پورا ہو چکا ہے۔ آج کے بعد یہاں مارشل لاء نہ آسکے گا۔ آپ نے فرمایا کہ عبوری آئین میں کافی نقائص ہیں۔ ہم اس سے مطمئن نہیں۔ اس لئے نہ ہم نے اس کے حق میں ووٹ دیا نہ اس کے خلاف، مخالفت اس لئے نہیں کی کہ مارشل لاء اسی طرح اپنی موت مرسکتا تھا۔ آج مستقل آئین کے لئے ۲۵ رکنی کمیٹی کام کر رہی ہے۔ میں بھی اس کا رکن ہوں۔ ہم ان شاء اللہ ! آپ کو اس طرح کا آئین دیں گے جو آپ کی توقعات اور خواہشات کے مطابق ہو۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ آئین میں اس بات کا واضح اعتراف ضروری ہے کہ پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہوگا۔ شام، عراق، لیبیا، مصر میں سرکاری مذہب اسلام ہے۔ جب کہ ان حکومتوں نے اسلام کو قبول کیا ہے اور ہم نے اس سلطنت کو صرف اسلام کے لئے ہی حاصل کیا ہے۔ جب وہ ملک اسلام کو سرکاری مذہب قبول کرتے ہیں تو ہمیں فوراً ایسا کر کے اپنے وعدہ کو پورا کرنا چاہئے۔ آپ نے فرمایا کہ میری تقریر نہ کسی کے خلاف ہے نہ کسی کے حق میں ہے۔ اس لئے کہ میری آواز عوام کی آواز ہے۔ آپ نے ملک بھر کی تمام مذہبی وسیاسی جماعتوں کا نام لے کر ارشاد فرمایا کہ سب جماعتیں مسلمانوں کی ہیں۔ ان میں سے کوئی پارٹی اسلام کے بغیر ایک منٹ نہیں چل سکتی۔ اس لئے کوئی جماعت آئین کے سلسلہ میں میری اس آواز کے خلاف نہیں اٹھ سکتی۔ میں پاکستانی عوام کے جذبات کی ترجمانی کر رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ حکومت کا مذہب اسلام ہوگا۔ اسلام میں اقلیتی پارٹیوں کو نہ صرف رہنے کا حق ہے بلکہ اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ وہ غیر مسلم اقلیت کی عزت، مال وجان کی اسی طرح حفاظت کرے۔ جس طرح وہ مسلمانوں کی کرتی ہے۔

آپ نے فرمایا کہ کرۂ ارض پر بہت سے کمیونسٹ ممالک موجود ہیں جن کا سرکاری مذہب کمیونزم ہے۔ وہاں ناممکن ہے کہ ملک کا

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۷۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سربراہ گورنر، کمانڈر انچیف یا کوئی اور عہدیدار کمیونزم پر یقین نہ رکھتا ہو۔ اسی طرح جب ہم نے فیصلہ کر لیا کہ مملکت پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہو گا تو ناممکن ہے کہ کوئی غیر مسلم کسی کلیدی آسامی پر آئے۔ آپ نے فرمایا کہ اسی طرح سرکاری مذہب اسلام قبول کرنے کے بعد لازم ہوگا کہ آئین میں مسلمان کی تعریف کی جائے تاکہ کوئی شخص جو خدا، رسول، ختم نبوت اور آخرت کا منکر ہو اور اپنا نام مظفر احمد یا عبدالعلی رکھ کر پاکستان کا صدر بن سکے۔ ہم نے اپنے مسودہ میں مسلمان کی جامع مانع تعریف کر دی ہے۔

ہمیں کہا جاتا ہے کہ علماء کا مسلمان کی تعریف پر اتفاق نہیں۔ ہم نے اس چیلنج کو اس وقت قبول کر لیا اور اسمبلی کے اجلاس میں مسلمان کی تعریف کر دی جو ریکارڈ میں موجود ہے۔ اس لئے اب اسمبلی پر لازم ہے کہ اس تعریف کو آئین میں شامل کرلے۔ آپ نے فرمایا کہ جب یہ تسلیم کر لیا جائے کہ مملکت کا سرکاری مذہب اسلام ہو گا تو پھر لازم ہوگا کہ کسی مسلمان کو مذہب تبدیل کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ غیر مسلم تو اسلام قبول کر سکے گا۔ لیکن مسلمان کو حق نہ ہو گا کہ وہ یہودی ، عیسائی یا مرزائی بن سکے۔ یہودی مرزائی بن سکے گا اور مرزائی کو حق ہو گا کہ عیسائیت کو قبول کر لے۔ لیکن مسلمان کو قطعاً تبدیلی مذہب کی اجازت نہ ہوگی۔ آپ نے فرمایا: کہا جاتا ہے کہ پاکستان کی بنیاد جمہوریت پر ہونی چاہئے۔ میں جمہوریت کا نہ صرف قائل بلکہ جمہوریت کی بحالی کے لئے میں نے جو کوشش کی ہیں وہ آپ کے سامنے ہیں۔ لیکن مسلمانوں اور کافروں کی جمہوریت میں فرق ہے۔ ہمیں اسلام کی جمہوریت چاہئے یورپ کی نہیں۔ کیونکہ یورپ کی جمہوریت کے بانی انسان ہیں اور اسلام کی جمہوریت کا بانی خدا ہے۔ مغربی جمہوریت میں حاکمیت عوام کی ہے۔ جب کہ اسلام میں حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے۔ تمام دنیا کے عوام اگر شراب، زنا کو حلال کہیں تو اسلامی جمہوریت میں حلال نہ ہو سکے گی، حرام ہی رہے گی۔ کیونکہ خدا اور اس کے رسول ﷺ نے حرام کیا ہے۔ انگلینڈ کی جمہوریت نے مرد کے مرد کے ساتھ جنسی تعلقات کو جائز قرار دے دیا ہے۔ ہم ایسی جمہوریت کے قائل نہیں۔ اسلامی جمہوریت میں عوام کو اتنا بلند مقام دیا گیا ہے کہ ایک عام انسان خلیفہ وقت پر عین جمعہ کے وقت اس کے کرتے اور تہبند کے متعلق سوال کر سکتا ہے اور خلیفہ مجبور ہے کہ اس عوامی آدمی کی تسلی کرائے۔ آپ نے فرمایا کہ جب ہم تسلیم کرلیں کہ مملکت کا سرکاری مذہب اسلام ہوگا تو لازم ہے کہ ہم قرآن وسنت کے خلاف کوئی قانون نہ بنائیں۔ کیونکہ اسلام کی اساس انہی پر قائم ہے۔ فرمایا کہ ہم ایسا آئین چاہتے ہیں جس کے ذریعہ سے پاکستانی عوام خوشحال ہوں۔ ملک مستحکم ہو اور ملک سے سامراج کا جنازہ نکل جائے۔

آپ نے واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا کہ ہمارے متعلق کوئی غلط فہمی نہ ہونی چاہئے۔ میں صوبہ سرحد کا وزیر اعلیٰ ہونے کی حیثیت سے آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ سرحد کے مردوزن ، خورد و کلاں پاکستان کے اتنے ہی وفادار ہیں جتنے آپ خود۔ اب غدار غدار کی رٹ لگانی چھوڑ دو اور اگر تم نے ایک دوسرے کو غدار کہہ کر ملک کے حصے بخرے کر دیئے تو غدار تم خود ہوگے۔ یہ نہ سمجھو کہ سرحد پاکستان سے علیحدہ ہو جائے گا۔ نہ ہم علیحدہ ہوں گے نہ آپ کو علیحدہ ہونے دیں گے۔ ہمارا ایک پاکستان پر ایمان ہے۔ آپ نے مثال دے کر ارشاد فرمایا کہ ملک اور صوبوں کی مثال جسم کی ہے۔ اگر جسم کا ایک حصہ علیحدہ کر دیا جائے تو جسم باقی رہے گا۔ اگرچہ ادھورا ہو جائے گا۔ لیکن جو حصہ علیحدہ ہوا وہ گل سڑ کر ختم ہو جائے گا۔ ہم پاکستان کے ساتھ رہیں گے۔ علیحدہ ہو کر اپنی موت پر دستخط نہ کریں گے۔ کیونکہ جو صوبہ علیحدہ ہوگا ختم ہو جائے گا۔ میں آپ سے اپیل کرتا ہوں، اب صوبائی منافرت نہ پھیلائیں۔ اخبارات صوبائی منافرت کو قومی سالمیت کے لئے ختم کرنے کی کوشش کریں۔ ہمارا ملک اب کسی قسم کے انتشار کا متحمل نہیں۔ صوبہ سرحد ، پنجاب کا چھوٹا بھائی ہے اور بڑے بھائی کا ادب و احترام ضروری خیال کرتا ہے۔ پنجاب سے بڑے کی حیثیت میں دست شفقت کا متمنی ہے تاکہ ہمارا ملک باہمی اعتماد واخوت کی فضا میں پھلے، پھولے اور دشمنوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہو۔ آپ نے فرمایا کہ ایک صاحب نے جو جمعیۃ کی مخالف جماعت سے تعلق رکھتے ہیں یہ بے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313 ```

صفحہ ۳۷۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پر کی اڑائی ہے کہ ایک صوبائی وزیر نے کسی محفل میں شراب پی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ میری وزارت میں اگر کوئی شراب نوشی کرے تو وہ میری وزارت میں وزیر نہیں رہ سکتا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بندش شراب کے بعد باڑہ (آزاد قبائل) میں شراب کی دوکانیں کھل گئی ہیں۔ فرمایا یہ قطعاً غلط ہے۔ قبائلیوں نے جو ہم سے بہتر مسلمان ہیں اس شبہ میں ایک دوکان کو آگ لگادی کہ اس کے مالک کے متعلق انہیں معلوم ہوا تھا کہ وہ شراب کا کاروبار کرتا ہے۔ ان کے جرگہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر کسی کے پاس شراب برآمد ہوئی تو اسے پانچ صد روپے جرمانہ کیا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ صوبہ سرحد میں شراب کی چور بازاری کی سب افواہیں غلط ہیں۔ اس قسم کی افواہیں وہ لوگ پھیلاتے ہیں جو دل سے بندش شراب کے خلاف ہیں یا شراب بندی کا کریڈٹ جمعیۃ کے قبضہ میں دیکھ کر انہیں تکلیف ہوتی ہے۔ فرمایا کہ آپ نے اخبارات میں پڑھا ہوگا کہ سابق صدر یحییٰ نے ایبٹ آباد (سرحد) میں شراب چھوڑ دی ہے۔ اس نے شراب چھوڑی نہیں بلکہ چھڑائی گئی ہے۔ جب سپلائی ہی بند ہے تو وہ کہاں سے پیئے۔ گزشتہ دنوں ایک ملک کے بادشاہ صوبہ سرحد تشریف لائے تو انہوں نے یہ کہہ کر شراب کو منہ نہ لگایا کہ جب صوبہ میں شراب پر پابندی ہے تو میں پی کر قانون کی خلاف ورزی نہیں کرنا چاہتا۔ آپ نے اپنی تقریر میں فرمایا: میں نے پانچ رکنی بورڈ بنادیا ہے۔ جس میں تین جید علماء اور دو ماہرین قانون موجود ہیں۔ وہ بہت جلد اپنی رپورٹ حکومت سرحد کو پیش کر دیں گے۔ جس کی روشنی میں حکومت سرحد اپنے تمام قوانین اسلام کے سانچے میں ڈھال لے گی۔

کانفرنس کی ابتداء میں مولانا سید منظور احمد شاہ مرکزی مبلغ تحفظ ختم نبوت اور اللہ وسایا مبلغ ختم نبوت لائل پور نے بھی خطاب کیا۔ شاعر ختم نبوت جناب سید محمد امین گیلانی نے اپنے مخصوص والہانہ انداز میں ختم نبوت کے متعلق اپنا جذباتی کلام سنا کر سامعین کو مسحور کر دیا۔ کانفرنس کا عظیم الشان اجلاس ایک بجے شب بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔

قرارداد نمبر ۱: مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا یہ عظیم الشان اجتماع پاکستان کی دستور ساز اسمبلی پر بالعموم اور اس کی متعین کردہ پچیس رکنی آئین کمیٹی پر بالخصوص یہ واضح کرنا مناسب سمجھتا ہے کہ تشکیل پاکستان کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اس سرزمین کا آئین اسلامی ہوگا اور یہاں پر اسلامی روایات اور اقدار کو فروغ دیا جائے گا۔ گزشتہ ۲۵ سال سے مسلمانان پاکستان ایک آواز ہو کر یہ مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں کہ پاکستان کا آئین اسلامی بنیادوں پر بنایا جائے۔ اب جب کہ دستور ساز اسمبلی کی متعین کردہ پچیس رکنی کمیٹی دستور کی ترتیب میں مصروف ہے۔ مسلمانان پاکستان اس عظیم کانفرنس کے توسط سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ آئین کو مختلف مکاتیب فکر کے علماء کرام کے متفقہ ۲۲ نکات کی بنیاد پر مرتب کیا جائے۔

قرارداد نمبر ۲: مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا یہ عظیم الشان اجتماع اپنے جذبہ ملی کے پیش نظر حکومت پاکستان پر یہ واضح کر دینا ضروری سمجھتا ہے کہ قادیانی جماعت اپنے کفریہ عقائد کے علاوہ خطرناک سیاسی عزائم رکھتی ہے۔ جس میں حرمت جہاد اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف اکھنڈ بھارت کا الہامی عقیدہ شامل ہے۔ قادیانی آفیسر اس سلسلہ میں حکومت پاکستان کی بجائے ربوہ کی ہدایات کے پابند رہے ہیں۔ اس لئے ملک وملت کی سالمیت کے لئے ضروری ہے کہ تمام اہم اور کلیدی آسامیوں سے قادیانی آفیسروں کو فوراً ہٹایا جائے۔

قرارداد نمبر ۳: مجلس تحفظ ختم نبوت کی یہ عظیم الشان کانفرنس پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سے بالعموم اور آئین کمیٹی کے پچیس ارکان سے بالخصوص یہ مطالبہ کرتی ہے کہ عقیدۂ ختم نبوت جو اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور جس میں امت اسلامیہ کی وحدت اور بقاء کا راز مضمر ہے، کو دستور کی ترتیب میں مؤثر تحفظ دیا جائے اور مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے جملہ متبعین جنہوں نے عقیدۂ ختم نبوت سے انکار کرتے ہوئے قادیانی نبوت اور قادیانی امت کو جنم دیا۔ ان کے عقائد باطلہ اور عزائم فاسدہ کی روشنی میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور حضور اکرم ﷺ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۷۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے بعد ہر نوع کے دعویٰ نبوت کو قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے۔

قرارداد نمبر ۴: مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا یہ عظیم الشان اجتماع اپنے جذبہ ملی کے پیش نظر حکومت سرحد کو بالعموم اور جناب ارباب سکندر خان خلیل گورنر سرحد اور حضرت مفتی محمود وزیراعلیٰ صوبہ سرحد کو بالخصوص ان کے تمام اہم اسلامی اقدامات جن میں شراب پر مکمل پابندی، اردو سرکاری زبان قرار دینا، صوبائی قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لئے علماء و وکلاء پر مشتمل بورڈ کا قیام، جہیز پر پابندی، جمعہ کے روز سرکاری تعطیل شامل ہیں۔ دلی مبارک باد پیش کرتا ہے اور ان کے لئے دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں نیک عزائم میں کامیابی دے۔ نیز یہ اجلاس پاکستان کے دوسرے صوبوں کی حکومتوں سے بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ صوبہ سرحد کی حکومت کے ان نیک اقدامات کی تقلید کرتے ہوئے اسلامی معاشرہ کے قیام واحیاء کے لئے کوشش کرے۔

(خدام الدین مؤرخہ ۱۶؍ جون ۱۹۷۲ء)

ترجمان اسلام کو ختم نبوت کے موضوع پر لکھنے کی وجہ سے وارننگ

لاہور: مؤرخہ ۳۱؍ مئی۔ آج مولانا عبید اللہ انور امیر جمعیۃ علماء اسلام صوبہ پنجاب و ایڈیٹر ہفت روزہ ’’ترجمان اسلام لاہور‘‘ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لاہور کی ہدایت کے مطابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر صاحب کی عدالت میں پیش ہوئے۔ جناب اے. ڈی. سی صاحب کا رویہ کرخت اور توہین آمیز تھا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ترجمان اسلام میں کوئی ایسی قابل اعتراض بات نہ شائع کی جائے۔ جس سے سرکار دو عالم ﷺ کی ختم نبوت کا اظہار ہوتا ہو۔ اگر آئندہ ایسا کیا گیا تو ہفت روزہ ترجمان اسلام کا ڈیکلریشن منسوخ کر دیا جائے گا۔

اس موقعہ پر مولانا عبید اللہ انور نے کہا کہ ہم نے بحیثیت مسلمان حق بات کا اظہار کیا ہے اور یہ ہمارے عقیدے اور نظریئے کے مطابق ہے۔ ہم اپنے عقیدے کے خلاف نہیں کر سکتے۔ اے. ڈی. سی صاحب نے کہا ہم عقیدے اور حقوق کو نہیں جانتے۔ قانون کو جانتے ہیں۔ قانون کے خلاف کوئی بات ہو گئی تو ہم اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔

(خدام الدین مؤرخہ ۱۹؍ جون ۱۹۷۲ء)

لاہور کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی وساطت سے ہفت روزہ ترجمان اسلام کے ناشر حضرت مولانا عبید اللہ انور کو وارننگ دی گئی ہے کہ آئندہ ترجمان اسلام میں یہ نہ لکھا جائے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت قابل جرم قرار دیا جائے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی وارننگ پر حضرت مولانا عبید اللہ انور نے کہا چونکہ مروجہ قانون میں ہر شخص کو اپنے مذہبی عقیدے کے اظہار اور اس کی تبلیغ کی اجازت ہے۔ لہٰذا ہم اپنا مذہبی فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ عقیدۂ ختم نبوت ہمارا جزو ایمان ہے۔ ہم نے حق بات کا اظہار کیا ہے اور کر رہے ہیں۔ اس پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر صاحب نے دھمکی آمیز لہجہ میں وارننگ دی کہ اگر باز نہ آئے تو ترجمان اسلام کا ڈیکلریشن منسوخ کر دیا جائے گا۔ افسر مذکور کی وساطت سے قبل ازیں جب خدام الدین کو وارننگ دی گئی تھی تو ہمارا خیال تھا کہ افسر مذکور چونکہ ایک خاص فرقے سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے ان کے اہانت آمیز رویئے پر چنداں حیرت نہ کرنی چاہئے۔ لیکن جب ترجمان اسلام کو بھی اس نوعیت کی وارننگ دی گئی تو اس کا نوٹس لینا ضروری سمجھا گیا۔

خدام الدین اور ترجمان اسلام کے ناشر مولانا عبید اللہ انور کو ضلع کے ایک افسر کی وساطت سے جس بات کے اظہار سے منع کیا گیا ہے، وہ زبانی نہیں بلکہ تحریری طور سے ہونا چاہئے تاکہ اس سلسلہ میں حکومت کی واضح پالیسی معلوم ہو سکے اور یہ قطعی رائے قائم کی جاسکے کہ ارباب حکومت قانون کی کس دفعہ کی خلاف ورزی کی ارتکاب سے منع فرما رہے ہیں؟

جہاں تک عقیدۂ ختم نبوت کے اظہار اور اس کی تبلیغ کا تعلق ہے ارباب حکومت نہ اس سے منع کر سکتے ہیں اور نہ ہی مروجہ قانون میں اس امر کی اجازت ہے کہ کسی ملکی باشندہ کو اس کے مذہبی عقائد و نظریات پر بزور حکومت پابندی عائد کر دی جائے۔ ضلعی افسر کی وساطت سے ارباب

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۷۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حکومت نے ملک کے دو مذہبی ودینی جرائد کے ناشر کو زبانی طور پر جس بات سے منع کرنے کی تلقین کی ہے افسر مذکورہ خود اس کی وضاحت نہیں کر سکے کہ حکومت کا منشاء کیا ہے؟ حکومت کو تحریری طور سے اس کی وضاحت کر دینی چاہئے۔ اگر واقعی موجودہ حکومت کا منشاء یہی ہے کہ وہ پاکستان میں عقیدۂ ختم نبوت کے اظہار کو خلاف قانون قرار دینا چاہتی ہے اور بعض قادیانی و مرزائی ارباب اقتدار جان نثاران محمد عربی ﷺ کے عشق و محبت اور ان کے جذبہ ایمانی کا امتحان لینا چاہتے ہیں تو اس کے لئے صرف پاکستان کے چھ کروڑ مسلمان ہی نہیں پوری دنیائے اسلام حاضر ہے۔

تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں

(خدام الدین مؤرخہ ۱۹؍ جون ۱۹۷۴ء)

پاکپتن میں جھوٹے مدعی نبوت کا قتل

لوگ اپنے مذہبی جذبات واحساسات پر کس طرح قابو پائیں؟

چند روز ہوئے پاکپتن ضلع ساہیوال سے اخبارات میں ایک خبر شائع ہوئی تھی کہ پاکپتن فاضل گاہ اسلامیہ ہائی سکول کے ایک ٹیچر ماسٹر عبدالقیوم نے امام مہدی ہونے اور اپنے اوپر وحی الٰہی کے نزول کے سلسلہ میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کی آمد کا دعویٰ کیا تھا۔ ۱۴؍ جون کے امروز لاہور میں شائع شدہ اس خبر کو پڑھ کر کثیر تعداد میں لوگ اس کی تصدیق کے لئے مدعی مذکور کے پاس آنے لگے۔ ان میں علاقہ بورے والا کے معروف دینی رہنما مولانا شیخ احمد مرحوم سابق مبلغ ختم نبوت کے دو صاحبزادگان قاری مسعود احمد اور حافظ منصور احمد اور ان کے ایک ساتھی محمد رفیق بھی بورے والا سے آئے اور مدعی سے اس کے دعویٰ کے متعلق معلومات حاصل کیں تو اس نے مبینہ دعویٰ کا پھر اعلان کرتے ہوئے اپنے بارے میں امام مہدی اور مسیح علیہ السلام ہونے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھ پر امامت ختم ہو چکی ہے اور نبوت پھر جاری ہوگی اور حضرت محمد ﷺ پھر تشریف لائیں گے۔

ان مبینہ دعویٰ کو حضور پیغمبر آخر الزمان ﷺ اور حضرت مسیح علیہ السلام کی شان اقدس میں گستاخی پر محمول کرتے ہوئے مشتعل حملہ آوروں نے جھوٹے مدعی نبوت و امامت کو موقع پر ہلاک کر دیا۔ اخباری اطلاعات اور لوگوں کی زبانی جو معلومات فراہم ہوسکیں ان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مبینہ حملہ آوروں نے اپنے مذہبی جذبات سے مغلوب ہو کر جھوٹے مدعی نبوت وامامت کو ختم کیا ہے۔ حملہ آور گرفتار کئے جاچکے ہیں اور عدالت ان کا فیصلہ کرے گی۔ پوری دنیائے اسلام میں حضور خاتم الانبیاء ﷺ کے بعد کسی قسم کا دعویٰ نبوت خلاف قانون ہے اور کسی جگہ بھی اس نوعیت کی گستاخانہ جسارت کا ارتکاب نہیں ہوتا کہ جس طرح بلا جھجک ہمارے ہاں اس کا ارتکاب ہو رہا ہے۔ قیام پاکستان سے قبل انگریزی دور اقتدار میں اس طرح کی گستاخانہ جسارت فرنگیوں کی شہ پر اور ان کی انگیخت سے ہوتی تھی۔ اسلامی غیرت وحمیت رکھنے والے فرزندان اسلام اسے ہرگز برداشت نہ کرتے تھے۔ ایک اسلامی مملکت معرض وجود میں آجانے کے بعد مسلمانوں کو یقین تھا کہ اس نازک مسئلہ کی عظمت واہمیت کا ضرور خیال رکھا جائے گا۔ لیکن پورے ملک کے متفقہ مطالبہ کے باوجود ارباب اقتدار ٹس سے مس نہ ہوئے۔ اہل اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ دوسرے اسلامی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ہر قسم کے دعوائے نبوت، رسالت، مسیحیت اور امامت وغیرہ کو خلاف قانون قرار دیا جائے تاکہ عامۃ المسلمین کے مذہبی جذبات مشتعل نہ ہوں اور اسلامی جوش سے مغلوب ہو کر قتل وغارت تک نوبت نہ آئے۔

اگر یہاں کے ارباب اقتدار فرنگی سامراج کی کفش برداری کی بجائے اپنی اسلامی روایات کے علمبردار ہوتے تو یہاں پر نہ کسی کو دعویٰ نبوت ورسالت کی جسارت ہوتی اور نہ ایسے اقدامات کا ارتکاب ہوتا۔ یہاں پر اگر کوئی ارباب اقتدار کی شان میں ادنیٰ گستاخی کرے تو

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۸۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اسے فوراً گرفتار کیا جاتا ہے۔ فاتر العقل ہو تو پاگل خانے میں اس کا علاج کرایا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلہ میں ملک گیر تحریک کو کچلا جاسکتا ہے۔ جان نثاران محمد عربی ﷺ کے سینے گولیوں سے چھلنی کئے جاسکتے ہیں۔ ہزاروں مسلمان جیل خانوں میں قید کئے جاسکتے ہیں۔ مرکز اور صوبائی وزارتوں کی شکست و ریخت برداشت ہوسکتی ہے۔ لیکن جھوٹے مدعیان نبوت پر نہ کوئی پابندی عائد ہو سکتی ہے اور نہ ہی پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی عظمت و ناموس کے تحفظ کے لئے کوئی ضابطۂ قانون و اخلاق وضع ہوسکتا ہے۔

جہاں یہ صورتحال موجود ہو وہاں لوگ اگر اپنے مذہبی جذبات واحساسات سے مغلوب ہو کر کوئی انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جائیں تو اس پر چنداں حیرت و استعجاب نہیں۔

(خدام الدین مؤرخہ ۷؍ جولائی ۱۹۷۴ء)

بلوچستان میں قادیانیوں کی پراسرار سرگرمیاں، محرف قرآن کریم کی تقسیم

بلوچستان میں قادیانی جماعت کی طرف سے تحریف کردہ قرآن کریم کی تقسیم پر جو ہنگامہ اور فساد برپا ہوا اس کی تفصیلی خبر خدام الدین کے دیگر صفحات پر شریک اشاعت ہے۔ بلوچستان میں سیاسی اعتبار سے جو کبڈی کھیلی جارہی ہے اس سے ہمیں کچھ زیادہ سروکار نہیں۔ ہمارے پیش نظر دینی اور مذہبی پہلو ہے کہ بلوچستان میں مرزائیوں نے قرآن حکیم کے ترجمہ وتفسیر میں تحریف کر کے موجودہ نازک حالات میں تقسیم کرنے کی جسارت کیوں کی؟

اس اشتعال انگیز اقدام کے اسباب و محرکات کیا ہیں۔ قادیانیوں کا اس سے مقصود بلوچستان میں افراتفری اور اشتعال پیدا کر کے صوبہ کو پاکستان سے الگ کرانا تو نہیں۔ کیونکہ قادیانی جماعت کے سربراہ ایک مدت سے بلوچستان کو الگ احمدی صوبہ بنانے کا اعلان کرتے چلے آئے ہیں اور ان کے اس اعلان پر پاکستان کے مسلم لیگی ارباب اقتدار کو بارہا متوجہ کیا گیا۔ مگر یہ احتجاج ”صدا بصحرا“ سے زیادہ کوئی حیثیت اختیار نہ کر سکا۔

فوج میں قادیانی عمل دخل کے بل بوتے پر حکومت کا تختہ الٹنے کی بابت ملک میں ایک عرصہ سے چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں۔ قادیانیوں کی نیم فوجی تنظیم ”فرقان فورس“ ملک میں گڑبڑ پیدا کرنے کے لئے مسلح ہو کر میدان میں کود پڑی ہے۔ قادیانی حضرات کان کھول کر سن لیں کہ پاکستان کو قادیانی ریاست میں تبدیل کرانے یا بلوچستان کو الگ احمدی صوبہ بنانے کی ناپاک کوشش میں کامیابی پاکستان کے چھ کروڑ فرزندان اسلام کی لاشوں پر ہی ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ صاحب ان دنوں جن کی توجہات اور نظر کرم کا مرکز آزاد کشمیر ہے، انہیں بلوچستان کی اس صورتحال کا بھی جائزہ لینا چاہئے اور یہ ان کا فرض منصبی ہے کہ وہ ان اسباب ومحرکات کا پس منظر معلوم کر کے قوم کو آگاہ کریں کہ اس علاقے میں قادیانیوں نے تحریف کردہ قرآن مجید کو تقسیم کرنے کی جسارت کیوں کی؟ اور ان کا مقصود کیا تھا؟ خبر کے مطابق حکومت نے قرآن مجید کے تحریف کردہ نسخے تقسیم کرنے والوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاری ان افراد کے جانی تحفظ کے لئے ہے یا سزا کے لئے۔ قوم اس سوال کا بھی جواب چاہتی ہے۔

(خدام الدین مؤرخہ ۲۷؍ جولائی ۱۹۷۴ء)

صدر ذوالفقار علی بھٹو کے متعلق ایک وضاحت

تحریر: رفیع اللہ شہاب

ہمارے ہاں عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ صدر ناصر نے عربوں کو اسلام کے راستے سے ہٹا کر عرب نیشنلزم کا گرویدہ بنا دیا ہے اور پھر اس غلط بات کو اتنی بار دہرایا کہ اسے ایک حقیقت سمجھ لیا گیا۔ یہاں تک کہ جن لوگوں نے صدر ناصر کی حمایت میں بھی کچھ لکھا تو انہوں

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۸۱

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نے بھی عرب نیشنلزم کو ایک حقیقت تصور کر کے اپنی بات شروع کی۔ لیکن جب ان سطور کے راقم کو الجزائر میں منعقد ہونے والے چھٹے سیمینار میں شرکت کا موقع ملا تو اصل حقیقت بالکل اس کے برعکس پائی۔ یہ سیمینار عرب دنیا کا بہت بڑا سیمینار تھا جو ۲۴؍جولائی ۱۹۷۲ء سے لے کر ۱۰؍ اگست ۱۹۷۲ء تک پورے اٹھارہ دن جاری رہا۔ اگرچہ اس سے پہلے کے سالوں میں بھی پانچ سیمینار منعقد ہوچکے تھے۔ لیکن الجزائر کی آزادی کی دسویں سالگرہ کی وجہ سے اس کی شان نرالی تھی۔ تقریباً تمام دنیائے اسلام سے ایک سو چوبیس نمائندوں نے اس میں شرکت کی جن میں سے پینتالیس کے قریب بین الاقوامی شہرت کے مالک علمائے اسلام نے مندرجہ ذیل چار موضوعات پر لیکچر دیئے۔

سیمینار کا افتتاح الجزائر کے صدر جناب بومد صاحب نے فرمانا تھا۔ لیکن کسی دوسری اہم مصروفیت کی وجہ سے وہ خود تو حاضر نہ ہوسکے، البتہ ان کی تقریر الجزائر کے وزیر بنیادی تعلیم اور امور دینیہ السید مولود قاسم نے پڑھ کر سنائی۔ مختلف ممالک سے آنے والے وفود کا شکریہ ادا کرنے کے بعد انہوں نے اسلامی مساوات، اسلامی انصاف اور اسلامی اخوت کے سنہری اصولوں کو اپنانے کی دعوت دی اور پورے سیمینار میں یہی روح کارفرما رہی۔ مندوبین کو خالص اسلام کے سوا کسی چیز پر بولنے کی اجازت نہیں تھی۔ ایک دفعہ ایک مقرر نے عرب نیشنلزم کی طرف ہلکا سا اشارہ کیا ہی تھا کہ وزیر موصوف نے سٹیج پر آکر فوراً اسے روک دیا اور اعلان فرمایا کہ خیال رکھئے یہ سیمینار اسلامی فکر کے بارے میں ہے اور کسی کو عرب نیشنلزم یا کسی اور علاقائی تصور کے بارے میں بولنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ چنانچہ ان کی اس تنبیہ کا اثر یہ نکلا کہ سرزمین عرب پر منعقد ہونے والا یہ سیمینار اسلامی اخوت کی ایک جیتی جاگتی تصویر بن گیا۔

ہر لیکچر کے بعد اس پر بحث ہوتی تھی۔ جس میں مختلف ممالک کے نمائندے اور طالب علم حصہ لیتے تھے۔ یہ بحثیں بڑی سنجیدہ اور دلچسپ ہوتی تھیں اور زیادہ تر پرسکون ماحول میں ہوئیں۔ صرف دو امور پر کافی لے دے ہوئی۔ ایک عثمانی حکومت کے بارے میں تھی کہ اس نے مختلف اسلامی علاقوں بشمول الجزائر کو اسلامی خلافت میں شامل کر کے وہاں استعماری طاقتوں جیسا طرز عمل اختیار کیا۔ اکثر مندوبین نے اس کی مخالفت کی اور دلائل کے ذریعے ثابت کر دیا کہ ترکوں نے ان تمام علاقوں کو متحد کر کے اسلام کی عظیم خدمت سرانجام دی تھی۔ دوسرا نقطہ جس پر گرما گرم بحث ہوئی وہ مستشرقین کے بارے میں تھا۔ سیمینار میں کوئی پندرہ کے قریب مستشرق بھی موجود تھے۔ بعض مندوبین کا کہنا تھا کہ ان حضرات نے یورپ کی یونیورسٹیوں میں اسلامی علوم کے شعبے کھول کر اہل مغرب کو اسلام سے روشناس کرانے میں بڑی مدد دی ہے۔ خاص کر نایاب عربی مخطوطوں کو بڑی محنت سے تلاش کر کے انہیں زیور طبع سے آراستہ کیا جو بجائے خود ایک بہت بڑی علمی خدمت ہے۔ جب کہ بعض مندوبین کا مؤقف یہ تھا کہ ان حضرات نے یہ سب کچھ اہل مشرق پر اہل مغرب کے تفوق کو قائم رکھنے کے لئے کیا اور ان کے عزائم استعمار پسندانہ تھے۔ ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ کسی نہ کسی شکل میں اہل مشرق پر اہل مغرب کی سیادت کا سکہ جمارہے۔ چنانچہ انہوں نے عربی مخطوطوں کو شائع کرنے میں ان کتابوں کو یکسر نظر انداز کر دیا جو انقلابی نوعیت کی حامل تھیں۔ بعض مندوبین نے تو اس سے بھی زیادہ سخت بات کہہ دی کہ اکثر مستشرقین کی اصل اہل یہود سے ہے اور یہ کہ مملکت اسرائیل کا وجود انہی مساعی کا نتیجہ ہے۔

اس سیمینار میں مراکش، الجزائر اور تیونس کی یونیورسٹیوں کے کوئی دو ہزار طالب علم شریک ہوئے انہوں نے جس ضبط و نظم سے

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۸۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بحث ومباحثہ میں حصہ لیا۔ راقم اس سے بہت ہی متاثر ہوا۔ یہ طالب علم اٹھارہ دن تک سات گھنٹے روزانہ لیکچر اور بحث ومباحثہ نہایت ہی سکون سے سنتے رہے اور ایک مرتبہ بھی ضبط ونظم کی خلاف ورزی نہیں کی۔ انہوں نے جس کسی مندوب سے کوئی بات دریافت کرنا ہوتی لکھ کر کرتے یا کانفرنس ہال سے باہر، میں نے اپنی زندگی میں ایسے نظم وضبط کے پابند طالب علم نہیں دیکھے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کسی قسم کی سیاست میں حصہ نہیں لیتے۔ بلکہ محنت کے علاوہ انہیں کسی اور کام سے کوئی سروکار نہیں۔ اس بارے میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا کہ وزیر امور دینیہ کو کئی دفعہ مندوبین حضرات، جن کی اکثریت مختلف یونیورسٹیوں کے پروفیسر پر مشتمل تھی، سے درخواست کرنی پڑی کہ وہ سیمینار کے نظم وضبط کا خیال رکھیں۔ لیکن طالب علموں نے انہیں ایسا کوئی موقعہ نہ دیا۔

سیمینار کے روح رواں وہاں کے وزیر بنیادی تعلیم اور امور دینیہ السید مولود قاسم صاحب تھے۔ وہ شروع سے لے کر سیمینار کے اختتام تک بنفس نفیس اس کی نگرانی کرتے رہے۔ لیکن یہ کام ایک گمنام گوشے میں بیٹھ کر سرانجام دیتے اور صدارت کے لئے الجزائر کے مختلف اہل علم کو باری باری موقعہ دیا گیا۔ ہاں! جب بھی کوئی بات سیمینار کے مزاج کے خلاف ہوتی تو وزیر موصوف فوراً سٹیج پر تشریف لے آتے اور معاملہ کو صاف کرتے۔ عام طور پر وہ مندوبین کے ساتھ ہوٹل تشریف لاتے اور کھانے کی میز پر ان سے اسلامی ممالک کے بارے میں گفتگو فرماتے رہتے۔ تاہم ایک دفعہ جب مجھے یونیورسٹی ہاسٹل جانے کا اتفاق ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وزیر موصوف ہاتھ میں ٹرے لئے ہوئے طالب علموں کی قطار میں کھڑے اپنے کھانے کی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ جس نے بھی اس نظارے کو دیکھا وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔ ان کی شب وروز کی محنت کو دیکھتے ہوئے عام مندوبین کا یہ تاثر تھا کہ اگر وزیر موصوف کو اسلامی سیکرٹریٹ کا انچارج بنا دیا جائے وہ اس ادارے میں روح پھونک کر اسے عالم اسلام کا ایک مفید ادارہ بنا دیں گے۔

ویسے تو سیمینار بغیر کسی چھٹی کے لگاتار جاری رہا۔ لیکن جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد مندوبین کو مختلف علاقوں کی سیر کرائی جاتی تھی۔ پہلا جمعہ ہم نے وہاں کی مشہور مسجد جامع کتشاوہ میں پڑھا اور اس کے بعد وہاں کے صحت افزاء مقام شریعہ کی طرف روانہ ہو گئے جو الجزائر شہر سے کوئی اسی کلومیٹر کے فاصلہ پر تھا۔ دوپہر کا کھانا راستے میں ایک مقام پر جو انفلعہ کے نام سے مشہور تھا کھایا۔ یہ علاقہ پہاڑی ہونے کی وجہ سے الجزائر کی جنگ آزادی میں خاصی اہمیت رکھتا تھا۔ چنانچہ ہماری سیر کے دو مقاصد ہوتے تھے کہ ایک تو جنگ آزادی کے مشہور مقامات کی زیارت اور دوسرے آئندہ کے لئے تروتازگی، دوسرے جمعہ کے لئے ہم لوگ الجزائر شہر سے ایک سو بیس کلومیٹر کے فاصلہ پر ملیانہ شہر میں گئے۔ جس کی ہزار سالہ تقریب تھی۔ وہاں کی جامع مسجد مشہور عالم مسجد قرطبہ کے نمونے پر تھی۔ ملیانہ کے شہریوں نے مندوبین کو اپنے گھروں میں کھانے کی دعوت دے رکھی تھی۔ مختصر یہ کہ الجزائر کی حکومت اور وہاں کے عوام نے مندوبین کو خوش رکھنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی۔

مشرقی پاکستان کے المیہ پر اکثر و بیشتر مندوبین نے گہرے رنج وغم کا اظہار کیا اور پاکستان کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔ شیخ الازہر ڈاکٹر محمد الفحام جنہیں پاکستان میں چھ ماہ گزارنے پر فخر تھا اور وہ اہل پاکستان کی دینداری سے بہت متاثر تھے، نے المیہ مشرقی پاکستان پر خصوصی ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ انہیں سندھ کے لسانی جھگڑے پر بھی بڑی تشویش تھی اور راقم کو اہل پاکستان کے نام ایک خاص پیغام دیا جس کے عکس کو اس مضمون میں شائع کیا جارہا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ یہ نازک وقت اختلافات کو ہوا دینے کا نہیں اور میں آپ لوگوں سے توقع کرتا ہوں کہ تم ہمیشہ کی طرح ایک وحدت بنے رہو گے اور دشمن کے مقابلہ کے لئے تم میں اتحاد ہونا چاہئے اور حضور ﷺ کا بھی یہی فرمان ہے کہ ایک مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے۔ نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ ہی اسے جھٹلاتا ہے اور تمہیں جاننا چاہئے کہ وحدت سے قوت پیدا ہوتی ہے۔ امید ہے کہ ہمارے پاکستانی بھائی دنیائے اسلام کی اس سب سے بڑی

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۸۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

شخصیت کے اس پیغام پر عمل کر کے ملکی اتحاد کے لئے کوشش کریں گے۔

اکثر مندوبین نے پاکستان میں نئی حکومت کے بارے میں دریافت کیا تو انہیں بتایا گیا کہ موجودہ حکومت عام انتخابات کے ذریعے برسر اقتدار آئی ہے اور ہمارے ملک میں مکمل جمہوریت کا آغاز ہو چکا ہے۔ اب ہماری پالیسیاں پہلے پارلیمنٹ میں پیش کی جاتی ہیں اور بحث ومباحثہ کے بعد انہیں اکثریت کے ووٹ کے ساتھ آخری شکل دی جاتی ہے۔ اسی بارے میں انہیں معاہدۂ شملہ کی مثال دی گئی کہ کس طرح اس معاہدہ کو پارلیمنٹ میں بحث مباحثہ کے لئے پیش کیا گیا اور اس کے بعد اس کی توثیق کی گئی۔ خوش قسمتی سے مجھے صدر بھٹو کی نیشنل اسمبلی کی افتتاحی تقریر کے عربی ترجمے کے کوئی پچاس نسخے مل گئے جو پاکستان کے بارے میں دلچسپی رکھنے والے مندوبین کی خدمت میں پیش کر دیئے۔ شیخ مجیب الرحمن کے بارے میں یہ غلط فہمی تھی کہ وہ کوئی بڑے عالم دین ہیں۔ راقم نے وضاحت کی کہ ہمارے ملک میں ”شیخ“ سے مراد ایسے لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے ہندو سے اسلام قبول کیا ہو۔

سعودی عرب کے مندوب ڈاکٹر محمد علوی مالکی پروفیسر ملک عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ اور السید الشاذلی بالقاضی پروفیسر زیتونہ کالج تیونس نے خفیہ طور پر مجھ سے دریافت کیا کہ کیا صدر ذوالفقار علی بھٹو قادیانی ہیں؟ مجھے اس سوال نے چونکا دیا اور میں نے فوراً جواب دیا کہ یہ بہتان عظیم ہے اور مزید وضاحت کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ قادیانی ہمارے ملک میں بمشکل ایک یا دو فیصد ہیں۔ جب کہ صدر بھٹو کو پاکستانی عوام کی اکثریت نے منتخب کیا ہے۔ میری اس وضاحت سے وہ بہت خوش ہوئے اور سعودی عرب کے نمائندے جناب ڈاکٹر محمد علوی مالکی نے مجھے دو کتابیں بطور تحفہ دیں۔ لیکن مجھے اس بات کا قلق ہے کہ ہمارے بھائی جو پیپلز پارٹی کے مخالف ہیں دوسرے ممالک میں ایسا غلط اور جھوٹا پروپیگنڈا کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ جس سے خود مملکت پاکستان کے مفاد پر کاری ضرب پڑتی ہے۔ عوامی حکومت کو اس غلط پروپیگنڈے کا خصوصی نوٹس لینا چاہئے۔

صرف دو اشخاص نے مودودی صاحب کے بارے میں بڑی تفصیل سے دریافت کیا۔ ان میں سے ایک کا نام محمد بن یوسف تھا اور وہ الجزائر کی تیل کمپنی میں کسی بڑے عہدے پر فائز تھے۔ دوسرے صاحب لبنان سے شائع ہونے والے اخبار شہاب کے نمائندے تھے۔ ان کو اور کچھ دوسرے حضرات کو یہ غلط فہمی تھی کہ مودودی صاحب کسی اسلامی یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔ راقم نے ان کی یہ غلط فہمی دور کر کے بتایا کہ وہ ایک سیاسی لیڈر اور عالم دین ہیں۔ تیونس کے ایک صاحب نے کہا تو پھر وہ شیخ مودودی ہیں۔ ان کے سیاسی اثرات کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہیں بتایا گیا کہ پچھلے عام انتخابات میں ان کی جماعت ایک فیصد نشستیں بھی حاصل نہیں کرسکی۔ مراکش کے ایک صاحب نے کہا کہ ہمیں تو اس جماعت نے یہ تاثر دے رکھا ہے کہ وہ پاکستان کیا ایشیاء کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔

ایک مراکشی خاتون محترمہ حبیبہ بورقاری جو وہاں کی اسلامی یونیورسٹیوں کی نمائندہ تھی، نے مراکش کی دعوت دی۔ راقم نے کہا کہ اصولاً یہ دعوت حکومت پاکستان کی معرفت ہونی چاہئے۔ اس پر اس نے شکایت کی کہ ہماری پہلی دعوت کا جواب نہیں دیا گیا۔ راقم نے عذر پیش کیا کہ ہمارے ملک میں عربی میں لیکچر دینے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ کہنے لگیں کوئی بات نہیں۔ آپ لوگ انگریزی میں بھی لیکچر دے سکتے تھے۔ مودودی صاحب جب ہمارے ملک میں تشریف لائے تھے تو ان کے ساتھ ڈاکٹر خلیل احمد حامدی پروفیسر پنجاب یونیورسٹی بطور ترجمان آئے تھے۔ مندوبین کی فہرست میں بھی ڈاکٹر صاحب کا نام بطور پروفیسر پنجاب یونیورسٹی درج تھا۔ راقم پنجاب یونیورسٹی کے اکثر وبیشتر پروفیسروں کو جانتا تھا۔ لیکن اس نام سے ناواقف تھا۔ یہاں آ کر معلوم ہوا ہے کہ حامدی صاحب نہ تو پی۔ایچ۔ڈی ہیں اور نہ ہی پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر بلکہ وہ تو جماعت اسلامی کے ایک کارکن ہیں۔ لیبیا کے مندوب نے جنہوں نے اپنے مقالہ میں مودودی صاحب کی

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۸۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کتاب کا حوالہ دیا تھا، مجھ سے دو دفعہ دریافت کیا کہ مودودی صاحب ہندوستان میں رہتے ہیں یا پاکستان میں۔ ایک صاحب کا خیال تھا کہ وہ علی گڑھ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ وغیرہ وغیرہ!

ہندوستان عرب ممالک میں اپنا پروپیگنڈا بڑے منظم طریقے سے کرتا ہے۔ اس مقصد کے لئے سب سے اہم طریقہ جو اس نے اختیار کر رکھا ہے وہ یہ کہ مختلف عرب ممالک کی یونیورسٹیوں میں اس نے ہندوستانی طالب علم اور اساتذہ بھیج رکھے ہیں۔ جن کی صرف وہاں موجودگی سے یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ ہندوستان کوئی اسلامی ملک ہے۔ اس سیمینار میں اگرچہ ہندوستان کو دعوت نہیں دی گئی تھی۔ لیکن عرب ممالک میں تعلیم حاصل کرنے والے کچھ ہندوستانی طالب علم موجود تھے۔ لیبیا کے مندوب ڈاکٹر عمر مولود عبدالحمید نے مجھے بتایا کہ صرف ان کے کالج میں تین ہندوستانی اساتذہ موجود ہیں جو وہاں کے ہندوستانی سفیر کی ذاتی کوششوں سے ملازم ہوئے۔ اس کے برعکس پاکستان سے ڈاکٹر اور انجینئر تو کافی تعداد میں آچکے ہیں۔ لیکن کوئی استاد یا طالب علم نہیں ہے۔ ہماری حکومت کو اس بارے میں توجہ دینی چاہئے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے ملک میں عربی زبان کو فروغ دیا جائے اور یہ ایک ایسا کام ہے کہ سرکاری خزانے پر کسی قسم کا بوجھ ڈالے بغیر پورا ہوسکتا ہے۔‘‘

(ہفت روزہ نصرت لاہور، مورخہ ۲؍اگست ۱۹۷۲ء)

آپ نے یہ مقالہ پڑھا۔ شہاب صاحب کا یہ کہنا کہ بھٹو صاحب کے قادیانی ہونے کی افواہ میں پیپلز پارٹی کے مخالفین کا زیادہ دخل تھا۔ ایسے نہیں بلکہ حقیقت میں قادیانی لابی کا یہ پروپیگنڈا تھا وہ محض اپنی دھونس کا بھرم قائم رکھنے کے لئے ہمیشہ سے مقتدر شخصیتوں کے قادیانی ہونے کا بے جا اور غلط پروپیگنڈا کرنے کے عادی مجرم ہیں۔

مرزائی لندن پلان کا بھی نوٹس لیجئے

سفیر پاکستان مسٹر دولتانہ مرزائیوں کی عبادت گاہ فضل لندن کے جلسے میں کیوں گئے؟

روز نامہ جنگ لندن ۱۷؍اگست ۱۹۷۲ء نے یہ خبر نمایاں طور سے شائع کی ہے کہ قیام پاکستان کی پچیسویں سالگرہ کے موقع پر قادیانی عبادت گاہ فضل لندن میں ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ جس میں پاکستان کے سفیر ممتاز محمد خان دولتانہ نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا قیام نظریہ جمہوریت کی بناء پر ہوا ہے اور اس میں ہماری کامیابی اور ترقی کا راز ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آج اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ نوجوان نسل کو نظریہ پاکستان اور اس کے بنیادی اصولوں سے آگاہ کیا جائے۔ تقریر کی ابتداء میں انہوں نے کہا کہ میں لندن قادیانی عبادت گاہ میں ”تجدید وفا“ کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ کیونکہ آج سے ۳۹ برس پہلے جب میں پہلی بار یورپ آیا تو ”میری مغربی زندگی“ کے ابتدائی ایام اسی جگہ کے زیر سایہ گزرے۔ یوم پاکستان کی اس تقریب میں سینکڑوں پاکستانیوں نے شرکت کی، عبادت گاہ فضل لندن کی طرف سے اس موقع پر ایک دعوت عصرانہ کا اہتمام کیا گیا۔

اس خبر کے نیچے ایک تصویر شائع کی گئی ہے جس میں چوہدری ظفر اللہ خان سابق مرزائی وزیر خارجہ کرسی صدارت پر بیٹھے اور قادیانی عبادت گاہ فضل کے مرزائی امام تقریر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے لئے اس خبر کا قابل اعتراض پہلو یہ ہے کہ مسٹر ممتاز دولتانہ ان دنوں لندن میں پاکستان کے سفیر کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہیں۔ وہ لندن میں مرزائی مبلغ کی حیثیت سے نہیں بلکہ پاکستان کے کروڑوں فرزندان اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے وہاں گئے ہیں۔ قیام پاکستان کی پچیسویں سالگرہ کا انتظام قادیانی عبادت گاہ فضل میں اگر پاکستانی سفارت خانہ کی جانب سے کیا گیا ہے تو ملکی عوام کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کی یہ ایک خطرناک مثال ہے اور اگر جماعت

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۸۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

احمدیہ مرزائیہ نے اس کا اہتمام کیا تھا تو سفیر پاکستان مسٹر دولتانہ کو مرزائیوں کے بارے میں مسلمانوں کے نازک جذبات کا احساس کر کے شرکت سے گریز کرنا چاہئے تھا۔

اور مسٹر دولتانہ تو آج تک اسی تحریک ”ختم نبوت“ کی مخالفت کی پاداش میں اقتدار سے راندۂ درگاہ کی حیثیت میں ”بے نیل و مرام“ در بدر ٹھوکریں کھاتے رہے ہیں۔ انہیں خدا خدا کر کے بڑی مشکل سے سفارت کا اقتدار نصیب ہوا ہے۔ وہ اسے ہی بچانے کی کوشش کریں تو غنیمت ہے۔

جہاں تک دولتانہ صاحب کے اس فرمان کا تعلق ہے کہ پاکستان کا قیام نظریۂ جمہوریت کی بناء پر ہوا ہے۔ جناب دولتانہ صاحب اور ان کی جماعت کی مرکزی حکومت نے ۱۹۵۳ء میں لاہور کی سڑکوں پر جو خون خرابہ کیا تھا، لاتعداد نوجوانوں کے سینے گولیوں کی بوچھاڑ سے چھلنی کئے اور بقول سرفراز خان نون صرف پنجاب سے دس ہزار مسلمان قید و بند کر کے جیل خانوں میں ڈالے گئے تھے۔ کیا وہ جمہوریت تھی؟ انہیں جمہوری حق سے کیوں محروم رکھا گیا؟ اور صرف ملکی نہیں ایشیائی تحریک میں سب سے بڑی تحریک کو قوت و طاقت کے ذریعہ کیوں کچلا گیا؟ کیا وہ نوجوان نسل نظریۂ پاکستان اور اس کے بنیادی اصولوں (اسلام اور ناموس محمد مصطفیٰ ﷺ) کے تحفظ کی خاطر اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش نہیں کر رہے تھے؟

ایک مسلمہ اور بلا اختلاف جمہوریت کو ۱۹۵۳ء میں ذبح کر کے جناب دولتانہ صاحب آج ایک مرزائی عبادت گاہ فضل لندن میں کس جمہوریت کا درس دینے گئے ہیں؟ اور نوجوان نسل کو کون سا نظریہ پاکستان سمجھانے لگے ہیں؟ اگر اس سے مراد ”مرزائیت و احمدیت“ کا درس ہے تو دولتانہ صاحب یاد رکھیں۔ جس خداوند قدوس نے ۱۹۵۳ء میں تمہارے اور تمہاری پوری جماعت کا آفتاب اقتدار ہمیشہ ہمیشہ کے لئے غروب کیا تھا۔ وہ آج بھی حی و قیوم ہے۔

باقی رہی یہ بات کہ ہمارے ارباب اقتدار ان چند سیاستدانوں کی لندن میں ملاقاتوں کا تو فوراً نوٹس لیتے ہیں جو ان کے سیاسی اقتدار کو معمولی خطرہ لاحق کرنے کا ادنیٰ اشارہ بھی کریں۔ لیکن ان لوگوں سے کوئی باز پرس کیوں نہیں جو خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت و ناموس کے گستاخ ...... ختم نبوت کے منکر، دنیائے اسلام کے فکری و نظری مخالف اور پاک و ہند کی موجودہ عارضی تقسیم کہہ کے ”اکھنڈ بھارت“ قائم کرنا اپنا مذہبی عقیدہ اور فریضہ سمجھتے ہیں۔ کیا لندن میں دولتانہ، سر ظفر اللہ خان اور دیگر مرزائی احمدی لیڈروں کی یہ ملاقاتیں اور بقول دولتانہ تجدید وفا؟ اہل اسلام اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف کوئی خطرناک سازش کا پیش خیمہ تو نہیں؟

اس ”قادیانی لندن پلان“ کا بھی نوٹس لیا جائے۔ کیونکہ ۱۹۶۵ء کی جنگ سے پہلے سر ظفر اللہ خان کی زیر صدارت ایک ایسا ہی اجلاس منعقد ہوا تھا۔ جس کے نتیجہ میں پاکستان کو دو خطرناک جنگوں سے دو چار ہونا پڑا ہے۔ خدا نہ کرے...... انہوں نے پھر کوئی ایسا پلان تیار کیا ہو۔

(خدام الدین مورخہ ۲۹؍ ستمبر ۱۹۷۲ء)

پاکستان کی سیٹو سے علیحدگی ...... مرزائی سازش کا خاتمہ

یحییٰ خان کے ساتھ سر ظفر اللہ کے خلاف بھی مقدمہ چلایا جائے

حکومت پاکستان نے باضابطہ طور پر سیٹو (جنوب مشرقی ایشیاء کے معاہدے کی تنظیم) سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے اور اس سلسلہ میں اسلام آباد میں مقیم فلپائن کے سفیر کی وساطت سے حکومت فلپائن کو رسمی نوٹس دے دیا ہے جو سیٹو کے آرٹیکل نمبر ۱۰ کے تحت ضروری تھا۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۸۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

فلپائن کے سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے یہ نوٹس دیا گیا۔ حکومت پاکستان نے یہ فیصلہ کر کے پاکستان کی عظمت و وقار میں اضافہ کیا ہے اور صدر مملکت جناب ذوالفقار علی بھٹو نے انتخابات کے دوران سیٹو سے علیحدگی کا جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کر دیا گیا ہے۔

حکومت کے اس اعلان کا پاکستان کے تمام ”حریت پسند‘ اور محب وطن ارباب فہم وفراست نے زبردست خیر مقدم کیا ہے اس ضمن میں پاکستان کے سابق مرکزی وزیر اور الاحباء کے صدر چوہدری نذیر احمد نے سیٹو سے علیحدگی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنے بیان میں جو انکشاف کیا ہے وہ خصوصی توجہ کے لائق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”جنوب مشرقی ایشیاء“ کے معاہدے کی تنظیم پاکستان کے لئے بالکل بے کار تھی ۔۱۹۵۴ء کے وزیر خارجہ نے اس معاہدے پر حکومت پاکستان کی اجازت حاصل کئے بغیر دستخط کر دیئے تھے۔ جس سے ملک ایک تکلیف دہ صورتحال سے دوچار ہو گیا اور اسے اپنے وزیر خارجہ کے دستخطوں کا احترام کرنا پڑا۔ گزشتہ پاک بھارت جنگ میں ایک کمیونسٹ طاقت نے اعلانیہ بھارت کا ساتھ دیا اور اسے پاکستان پر حملہ کرنے کے لئے عملاً امداد دی۔ لیکن سیٹو کے ملکوں نے اشتراکی جارحیت روکنے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ حالانکہ اس کا مقصد وجود یہی تھا۔ سیٹو کے ایک اور رکن نے پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے دوسری طاقت کا ساتھ دیا۔

چوہدری نذیر احمد کا یہ انکشاف واقعی زبردست اہمیت رکھتا ہے۔ ۱۹۵۴ء میں پاکستان کے وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان تھے جو مرزائی گروہ کے سرکاری مربی کی حیثیت رکھتے تھے۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت کے دوران قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے ساتھ ساتھ پورے ملک کا یہ متفقہ مطالبہ تھا کہ چوہدری ظفر اللہ خان مرزائی وزیر خارجہ کو الگ کر دیا جائے۔ کیونکہ اس کی سرگرمیاں اور کوششیں ملکی اور قومی مفادات کے سراسر خلاف ہیں اور وہ عہدہ ومنصب سے ناجائز فائدہ اٹھا کر ضرور کوئی ایسا قدم اٹھائے گا جس کا خمیازہ پاکستان اور ملت اسلامیہ کو بھگتنا پڑے گا۔

چنانچہ وہی صورت بالآخر سامنے آگئی کہ معاہدہ سیٹو میں شمولیت کے باعث پاکستان کے حصے میں بدنامی کے سوا اور کچھ نہ آیا۔ لیکن اس کے برعکس بڑی طاقتیں خصوصاً روس کھل کر بھارت کی ہرممکن امداد کرتا رہا اور بالآخر طاقت کے بل بوتے پر پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی اسکیم کامیاب ہوگئی اور مشرقی پاکستان کو الگ کر کے اسے مستقل مملکت بنگلہ دیش کا نام دے دیا گیا۔ بہر حال جو کچھ بھی ہوا وہ مرزائی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کی مہربانیوں کی بناء پر ہے۔ آج قوم کی نگاہیں بنگلہ دیش پر ہیں۔ یحییٰ خان کی غداری، روس کا کردار اور بھارت کی مداخلت ہمارا موضوع بحث ہے۔ لیکن اس پورے ڈرامے کا اصلی کردار اور اس کا ہیرو مرزائی وزیر خارجہ اور ان کی پوری جماعت احمدیہ قادیانیہ ہے۔

بہرنوع : پاکستان کے موجودہ ارباب اقتدار خصوصاً جناب ذوالفقار علی بھٹو پوری قوم کے محسن اور اس کے شکریئے کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ملک وملت کے مفادات کے خلاف ایک پرانی سازش کا خاتمہ کر دیا اور دفاعی معاہدے کی آڑ میں پاکستان کو ختم کر کے اکھنڈ بھارت قائم کرنے کا جو پلان تیار کیا گیا اور جو خطرناک منصوبہ وضع کیا گیا تھا۔ اسے بیخ وبن سے اکھاڑ دیا گیا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان، اس کے ارباب اقتدار اور ملت اسلامیہ کو اپنی خاص حفاظت میں رکھے اور انہیں دشمن کے شرور وفتن سے ہر طرح محفوظ مصئون رکھے۔ آمین !

(خدام الدین مؤرخہ ۱۴؍نومبر ۱۹۷۲ء)

مرزائیوں کے اخبار کی غلط بیانی

مرزائیوں کی ایک عادت یہ بھی ہے کہ یہ ہر اس وسیع المشرب مسلمان پر جو تحقیق کے لئے ہی سہی ذرا ان کے قریب سے گزر جائے۔ مرزائی ہونے کا لیبل چسپاں کر دیتے ہیں۔ اپنی اسی حس کی تسکین کے لئے انہوں نے اپنے ایک اخبار ماہنامہ الفرقان ربوہ میں کچھ عرصہ پیشتر ”حدیث دفاع“ کے مصنف میجر جنرل اکبر خان کے متعلق یہ تاثر دینے کی کوشش کی۔ گویا وہ بھی ہماری جماعت سے تعلق رکھتے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۸۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہیں ۔ مجھے سخت حیرت ہوئی کہ جس شخص نے مسئلہ جہاد پر بے مثال کتابیں لکھی ہوں اور پڑھی لکھی پود میں جہاد کی اہمیت کو زندہ و پائندہ کر دیا ہو وہ مرزائی کیسے ہوسکتا ہے۔ جن کے مذہب میں جہاد سرے سے ہی حرام ہے۔

چنانچہ میں نے انہیں کراچی کے پتہ پر خط لکھا۔ الفرقان کے مضمون اور اپنی حیرت کا اظہار کیا جس کے جواب میں جنرل صاحب نے درج ذیل خط لکھا اور مرزائی ہونے کی سخت تردید کی اور مرزائیوں کے حیل و فریب پر اظہار افسوس کیا۔ اس وقت چونکہ میرے پیش نظر محض اپنا اطمینان تھا۔ اس لئے وہ خط لولاک میں شائع نہیں کیا گیا۔ لیکن اب مجھے خیال آیا کہ اب تو جنرل صاحب اللہ کے فضل سے زندہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں تادیر سلامت رکھے۔ لیکن آخر دنیا سے ہر ایک کو جانا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی وفات کے بعد یہ انہیں اپنی پکی فہرست میں شمار کرنے لگ جائیں کہ ایسا صاحب علم وفضل شخص بھی جماعت احمدیہ کا ہی فیض یافتہ تھا۔ اس لئے مناسب سمجھا گیا کہ جنرل صاحب کا یہ خط لولاک میں شائع کر دیا جائے تا کہ ان کے متعلق کبھی کوئی جھوٹ یا دجل پروان نہ چڑھ سکے۔

(ایڈیٹر لولاک)

میجر جنرل اکبر خان کا خط

محترمی مولانا تاج محمود صاحب

السلام علیکم ! لائل پور والے مجھے خوب جانتے ہیں۔ گو ان میں سے بہت سے میرے ساتھی اللہ میاں کو پیارے ہو گئے ہیں۔ پھر بھی محترم شیخ ممتاز حسین ناز صاحب ۴۶۴۔ ڈی پیپلز کالونی اور محترم عبدالمجید اختر صاحب ایڈووکیٹ میرے ۱۹۴۷ء کے ساتھی ہیں۔ ان سے مل کر دریافت کر سکتے ہیں۔ الفرقان نے غلط بیانی کی جس کا مجھے افسوس ہے۔ چند برس ہوئے ہیں ربوہ گیا تھا۔ وہاں بھی میں نے لیکچر سے پہلے اعلان کیا تھا کہ میں احمدی نہیں ہوں۔ گو میں آپ کی جماعت کو ۱۹۵۳ء سے جانتا ہوں ۔

بہر حال یہ غلط بیانی صرف پاکستان ہی میں نہیں میں نے لندن ٹائمز میں ایک مضمون ۱۹۶۵ء میں دیا تھا اور پھر بیان ۱۹۷۱ء میں، دونوں کو توڑ مروڑ کر دیا تھا۔ میں نے شکایت کی تو مجھے جواب ملا کہ اخباری دنیا میں اکثر ایسا جان بوجھ کر کیا جاتا ہے۔ اس وقت سے مجھے صبر آ گیا ہے۔ میرے متعلق یار لوگ بہت کچھ لکھ جاتے ہیں۔ مگر پڑھ کر میں خاموش ہو جاتا ہوں۔ چونکہ لائل پور سے مجھے خاص انس ہے۔ اس لئے یہ عریضہ لکھ دیا۔ میں نے اکاون کتابیں مسئلہ جہاد پر لکھی ہیں۔ بہر حال آپ کے ان خیالات کے اظہار کا شکریہ۔ والسلام!

محمد اکبر خان (رنگروٹ) میجر جنرل ریٹائرڈ

(ہفت روزہ لولاک، مؤرخہ ۴؍ ستمبر ۱۹۷۲ء)

میں مرزائی نہیں ہوں ...... خورشید حسن میر کی تردید

پچھلے دنوں روزنامہ غریب میں شائع ہونے والی ایک خبر کی بنیاد پر ہم نے لولاک میں خورشید حسن میر اور مرزائی کے عنوان سے ایک اداریہ تحریر کیا تھا۔ جناب خورشید حسن میر نے اس الزام کی تردید کے لئے مدیر لولاک کو حسب ذیل خط لکھا ہے۔ جسے ہم شائع کر رہے ہیں اور ہم جناب میر صاحب کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف ہونے والی مبینہ سازشوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے جو کچھ لکھا گیا وہ محض دینی جذبہ کے تحت لکھا گیا اب آپ کی تردید بھی اسی جذبہ کے تحت شائع کر رہے ہیں۔ (مدیر)

محترمی مولانا تاج محمود ایڈیٹر ہفت روزہ لولاک لائل پور

السلام علیکم ! آپ کا ارسال کردہ جریدہ مؤرخہ ۶؍ جولائی ۱۹۷۲ء کو موصول ہوا۔ روز نامہ غریب لائل پور کی جس خبر کا آپ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۸۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نے حوالہ دیا ہے وہ میری نظر سے نہیں گزری۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ نے مجھ سے تصدیق کئے بغیر اس خبر پر لمبی چوڑی حاشیہ آرائی کی ہے۔ میں اس مبینہ خبر کی پرزور تردید کرتا ہوں۔ میں نے ایسا کوئی بیان نہ تو دیا ہے اور نہ کسی سے ایسا سوال کیا ہے۔ امید ہے آپ کم از کم یہ تردید اسی طرح نمایاں طور پر اپنے اخبار میں چھاپیں گے۔ جس طور آپ نے اس بے بنیاد خبر کو چھاپا۔ انتخابات کے دوران بھی میرے خلاف ایسی ہی سازش کی گئی تھی اور مجھ سے منسوب کر کے یوں غلط بیان کوہستان اخبار نے چھاپا تھا اور میری فوری تردید کے باوجود میرے خلاف مضامین لکھے گئے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسی سازش کا اعادہ کیا جا رہا ہے۔ فقط: خورشید حسن میر!

(لولاک، مورخہ ۲؍ ستمبر ۱۹۷۲ء)

احمدی مسلمان نہیں ہیں

نمبرداری کے مقدمہ میں کمشنر کا فیصلہ

بہاول پور: مورخہ ۱۴؍ دسمبر ۱۹۷۲ء (نامہ نگار) ڈویژنل کمشنر ملک احمد خان نے نمبرداری کے ایک مقدمہ میں تاریخی فیصلہ دیا ہے۔ جس کے ذریعہ کمشنر نے قرار دیا ہے کہ احمدی کو مسلمان پتی داروں کی نمبرداری نہیں سونپی جاسکتی۔ کیونکہ احمدی فرقہ کے اعتبار سے مسلمان سے بالکل جدا ہیں۔ نمبرداری کا یہ مقدمہ صادق آباد سب ڈویژن سے متعلق تھا۔ فاضل عدالت نے اپنے فیصلہ میں احمدی عقائد کے پابند ایک امیدوار کو مسلمان پتی داروں کی نمبرداری کے نااہل قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اپیل کنندگان اور فریق ثانی اگرچہ (جٹ) قوم سے متعلق ہیں۔ لیکن ان کے مذہبی، سماجی اور معاشرتی اختلافات نے انہیں ایک دوسرے سے بالکل جدا کیا ہوا ہے جب کہ نمبرداری کے عہدہ کے لئے یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ پتی داروں اور نمبردار میں کوئی بنیادی اختلاف نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ لینڈ ریونیو رولز نمبر ۱۹۲۱ کے رول نمبر ۱۰ میں قوم کے بجائے کمیونٹی کی اہمیت اور طاقت کے زیر غور رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ فاضل کمشنر نے کمیونٹی کے عنوان پر اپیل کنندگان کے وکیل میاں اللہ نواز ایڈووکیٹ کے دلائل سے اتفاق کیا اور کہا کہ متذکرہ نمبرداری میں صرف ایک ہی پتی دار احمدیہ فرقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ جب کہ دوسرے پتی داروں کی غالب اکثریت اس عقیدہ کے خلاف ہے۔ اس لئے احمدیہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے امیدوار کو مسلمان پتی داروں کی نمبرداری نہیں سونپی جاسکتی۔ فاضل کمشنر نے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ جو شخص اپنی پتی کے زمینداروں میں سماجی، معاشرتی اور مذہبی لحاظ سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔ بلکہ ان سے جدا حیثیت کا حامل ہو اسے پتی کی نمبرداری کے لئے کسی طرح بھی موزوں قرار نہیں دیا جاسکتا۔

(روزنامہ امروز ملتان مورخہ ۱۵؍ دسمبر ۱۹۷۲ء)

مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۹۰ھ ، مطابق مارچ ۱۹۷۰ء تا فروری ۱۹۷۱ء

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

’’برطانیہ نے پچھلی صلیبی لڑائیوں کے نتیجہ میں فیصلہ کیا کہ محض عسکری طاقت اہل اسلام کے مقابلہ کے لئے کافی نہیں۔ دجل و تلبیس اور منافقت سے کام لے کر مشرق پر چڑھائی کرنی چاہئے۔ انیسویں صدی عیسائیانِ یورپ کے لئے اور خصوصاً برطانیہ کے لئے سازگار ثابت ہوئی۔ انگریزوں نے ہندوستان سے مسلمانوں کی حکومت کو ختم کیا۔ یہاں بھی سیدھی لڑائی کے علاوہ ڈپلومیسی سے کام لیا گیا اور ظلم و ستم کی انتہاء کر دی۔ آخری مسلمان بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو دہلی فتح کرنے کے کئی دن بھوکا رکھ کر جب خوان پیش کیا تو اس میں شاہ کے بیٹوں کے سر تھے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۸۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جن کے بعد شاہ کی آنکھیں نکال دی گئیں۔ تا کہ بیٹوں کے کٹے ہوئے سروں کا نقشہ آخری دید کے طور پر عمر بھر ذہن میں محفوظ رہے۔ ازاں بعد شاہ کو جلاوطن کر دیا گیا۔ دہلی اور ہندوستان کے دوسرے شہروں میں خون مسلم سے ہولی کھیلی گئی۔ انگریزی مظالم کی داستان سے ملک کی پڑھی لکھی دنیا بخوبی واقف ہے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی ، انگریز کی کامیابی اور اس کے ظلم وستم سے کون واقف نہیں۔ نہ صرف ہندوستان بلکہ تمام عالم اسلام سے اسلامی فتوحات اور صلیبی لڑائیوں میں شکست کا بدلہ انگریز نے لیا۔ مسلمانوں ہی سے غدار تلاش کر کے اپنے مفید مطلب کام نکالا۔ انیسویں صدی کے اخیر اور بیسویں صدی کے شروع میں تمام عالم اسلام کو یورپی درندوں نے روند ڈالا۔ انگریزی سیاست نے مسلمان کے ذریعہ مسلمان کا گلہ کاٹا اور خلافت عثمانیہ کے خلاف مسلمان ہی سے بغاوت کرا کے مسلمانوں کی سیاسی قوت کو ختم کیا۔

لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی پر عمل کر کے ترکوں کے خلاف عربوں سے بغاوت کرائی اور خلافت کو ختم کر کے وحدت اسلامی کا شیرازہ منتشر کر دیا۔ بغداد کے گلی کوچے خون مسلم پر رنگین ہوئے۔ قسطنطنیہ کے بازاروں میں خلیفہ وقت کی بچیوں کو ننگے سر بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا۔ اس طرح فاروقی اور ایوبی فتوحات کا بدلہ عالم اسلام سے لیا گیا۔ یہی وہ زمانہ ہے جب تمام عالم اسلام میں درد دل رکھنے والے مسلمانوں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق انگریز کے خلاف صف بندی کی اور انگریز کے مظالم اور غلامی سے عالم اسلام کو آزاد کرانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔ مسلمانوں کا جذبہ جہاد اور مرکز اسلام سے وابستگی انگریزی عزائم کے آگے سد سکندری ثابت ہوئی۔ مسلمانوں نے اپنی غلامی ، سیاسی کمزوری، مادی مشکلات کے باوجود شعائر اسلام اور بالخصوص ذات اقدس خاتم الانبیاء ﷺ کے ساتھ اپنی دلی وابستگی کا اظہار کیا۔

انہی ایام میں جب کہ اسلامی ممالک کے زعماء، علماء، سیاستدان اپنے اپنے دوائر میں انگریز کے خلاف اسلامی جذبہ کے تحت کام کر رہے تھے۔ غلام آباد ہند سے بزعم خود مجدد، محدث، ملہم اور پھر نبی۔ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے خاندان کی قدیمی انگریز پرستی کا پروانہ وفاداری ہاتھ میں لے کر نمودار ہوئے۔ دنیا پہلی دفعہ ایک ایسے مصلح مجدد سے روشناس ہوئی جس کی ساری قوت کفر کے لئے وقف تھی۔ اس نے برملا کہا کہ وہ انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے۔ اس نے انگریزی حکومت کے نام ایک عاجزانہ درخواست میں صاف صاف لکھا: ”میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے گورنمنٹ انگریزی کا خیر خواہ بنا دیا ہے۔ اوّل والد مرحوم کا اثر ، دوم اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانات ، تیسرے خدا تعالیٰ کا الہام ۔“

(ضمیمہ نمبر ۳، تریاق القلوب ص ج ،خزائن ج ۱۵ ص ۴۹۱)

چودھویں صدی ہجری نے یہ عجیب و غریب مجدد ، ملہم ، محدث، نبی پیدا کیا جسے والد کے اثر ، انگریزوں کے احسانات اور خدا تعالیٰ کے الہام نے دشمن اسلام انگریز کا خیر خواہ بنا دیا اور اس نے اپنی زندگی انگریزی استبداد کی جڑیں مضبوط کرنے کے لئے وقف کر دی۔ والد کا اثر سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ اس نے جنگ آزادی میں مادر وطن سے غداری کی اور انگریز کی امداد گھوڑوں اور گھوڑ سواروں سے کی۔ اس اطاعت وفرمانبرداری کی جزاء انگریز کے احسانات کی صورت میں ظاہر ہونا بھی سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ کا یہ الہام، جس نے اپنے ملہم کو انگریز ایسے ابدی دشمن اسلام کا خیر خواہ بنا دیا، سمجھ سے بالا تر ہے۔ اسی عاجزانہ درخواست میں مرزا قادیانی نے لکھا: ”بیس برس کی مدت سے میں اپنے دلی جوش سے ایسی کتابیں زبان فارسی اور عربی اور اردو اور انگریزی میں شائع کر رہا ہوں جن میں بار بار یہ لکھا گیا ہے کہ مسلمانوں کا فرض ہے جس کے ترک سے وہ خدا تعالیٰ کے گنہگار ہوں گے کہ اس گورنمنٹ کے سچے خیر خواہ اور دلی جاں نثار ہو جائیں۔“

(ضمیمہ نمبر ۳۔ب، تریاق القلوب ج ۱۵ ص ۴۸۸)

ناظرین کرام! غور فرمائیے کہ مرزا غلام احمد دشمن اسلام قوت کی خیر خواہی اور جاں نثاری کے لئے کس طرح مسلمانوں کو تیار کر

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۹۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مرزائیوں نے انگریزی اقتدار کے دور میں بین الاقوامی طور پر انگریز کے لئے جاسوسی کی اور عالم اسلام سے غداری اور آج جب کہ اہل اسلام کی جدوجہد سے انگریزی اقتدار مسلمان ملکوں سے ختم ہو رہا ہے مرزائی پھر انگریزوں کے گماشتہ کے طور پر اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔ اس عاجزانہ درخواست میں مرزا قادیانی نے لکھا کہ: ’’میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے، ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۹، تبلیغ رسالت ج۷ ص۱۷)

ایک دوسری جگہ مرزا قادیانی رقمطراز ہیں: ’’میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریز کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۵، خزائن ج۱۵ ص۱۵۵)

حضرات! ایک طرف سے اس خوں چکاں تاریخ کا مطالعہ فرمائیے جس سے امت مسلمہ کو اپنی چودہ سو سالہ تاریخ میں واسطہ پڑا۔ انگریزوں اور صلیبیوں کے ہاتھوں ہر زمانہ میں لاکھوں مسلمان جام شہادت نوش کرتے رہے۔ اس چودہ سو سال کے عرصہ میں مسلمانوں پر صلیبیوں کے مظالم پر نگاہ ڈالئے اور مجاہدین اسلام کی قربانیوں پر غور فرمائیے۔ نشہ جہاد میں سرشار ان سرفروشان اسلام نے کس طرح صلیبیوں کا مقابلہ کر کے شعائر اسلام کی حفاظت کی اور پھر اس چودھویں صدی کے انگریزی نبی کی تعلیمات پڑھئے۔ جہاد کو حرام قرار دیتا ہے اور انگریز کی اطاعت و خیر خواہی کو فرض گردانتا ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی، انگریز ضرورت کی پیداوار ہے اور اپنے (عقائد و نظریات کے لحاظ سے) دائرہ اسلام سے خارج۔ جب دنیائے کفر نے دیکھا کہ مسلمان جب شہادت اور جہاد کے نشہ سے سرشار ہوتا ہے تو وہ اپنی تعداد اور اسلحہ کا خیال کئے بغیر میدان عمل میں کود جاتا ہے تو ضرورت محسوس کی کہ کسی طرح مذہبی طور پر جذبہ جہاد کو ختم کیا جائے۔ مرزا قادیانی نے مجددیت، محدثیت (لاہوری پارٹی کے خیال میں) اور نبوت (قادیانی پارٹی کے خیال میں) کا لبادہ اوڑھا اور حرمت جہاد کا فتویٰ صادر کر دیا۔ دنیائے کفر نے دیکھا کہ مسلمان مشرق میں ہو یا مغرب میں، شمال میں ہو یا جنوب میں، سفید فام ہو یا سیاہ فام، ایشیائی ہو یا یورپین، اسے مرکز اسلام اور ذات اقدس خاتم الانبیاء ﷺ سے والہانہ عقیدت ہے۔ وہ سب کچھ برداشت کرتا ہے لیکن حضور اکرم ﷺ اور مرکز اسلام سے اپنی عقیدت و جان نثاری میں فرق نہیں آنے دیتا تو کفر نے کوشش کی کہ کسی طرح مرکز اسلام سے اس کی وفاداری کو ختم کر کے وحدت اسلامی کو پاش پاش کیا جائے۔

دنیائے کفر کو اپنی مطلب برآری کے لئے مرزا غلام احمد مل گیا اور مرزا غلام احمد کو اپنی سرپرستی کے لئے انگریز کا دست شفقت ملا تاکہ وہ اور اس کا خاندان پھل پھول سکے۔ مرزا قادیانی نے ایک طرف حرمت جہاد کا فتویٰ دیا۔ دوسری طرف اپنی بعثت کو محمد رسول اللہ کی بعثت ثانیہ قرار دیا۔ قادیان کو مکہ و مدینہ کے ہم پلہ گردانا۔ اپنے ساتھیوں کو صحابہ کا لقب دیا۔ مرزائیوں نے مرزا قادیانی کے خاندان کو (نعوذ باللہ) خاندان نبوت قرار دیا۔ اس کی بیوی کو ام المؤمنین اس کی لڑکی کو سیدۃ النساء اور عام مستورات کو سیدہ کے لقب سے نوازا۔ خلیفہ ثانی کو فضل عمر کا خطاب دے کر اہل اسلام کی دل خراشی کی۔

ذیل میں چند حوالہ جات کا مطالعہ فرمائیے جس سے معلوم ہوگا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے خاندان نبوت علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے متعلق کیا کچھ تحریر کیا ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۹۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

توہین ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا

مرزا قادیانی نے دہلی میں دوسرا نکاح کیا۔ ان خاتون کا نام نصرت جہاں بیگم تھا جسے بچپن میں نصو بھی کہتے تھے۔ اس کے متعلق

الہام سنئے: ”اشکر نعمتی رایت خدیجتی“

(الہام نمبر ۱۴۴، ۱۸۸۳ء، تذکرہ ص ۱۰۵)

(ترجمہ) میری نعمت کا شکر ادا کرو۔ تم نے میری خدیجہ کو دیکھ لیا۔

ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا حضرت رسالت مآب ﷺ کی ازواج مطہرات میں سیدۃ النساء فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی والدہ محترمہ ہیں، جنہیں امت محمدیہ میں سب سے پہلے مشرف بہ اسلام ہونے کا شرف حاصل ہے۔ مرزا غلام احمد نے اپنی بیوی کا نام ”خدیجہ“ ثابت کرنے کے لئے کس چالاکی سے الہام تراشا۔

ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند

توہین امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ

ایک شیعہ سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں: ”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے۔ اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔“

(ملفوظات مرزا قادیانی ج ۲ ص ۱۴۲)

اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ میں علی مرتضیٰ ہوں۔

(ملفوظ نمبر ۳۰، تذکرہ ص ۲۰۸)

توہین حضرت سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا

میں جاگ رہا تھا مجھے نیند یا اونگھ نہ تھی۔ نہ میں سونے والوں سے تھا، اسی حالات میں میں نے دروازہ کھٹکانے کی آواز سنی۔ میں نے دیکھا کہ دروازہ کھٹکانے والے جلدی سے میری طرف آرہے ہیں۔ جب وہ میرے قریب ہوئے تو میں نے پہچانا کہ پنج تن پاک ہیں۔ یعنی حضرت علی ان کے دونوں صاحبزادے، ان کی زوجہ مبارکہ حضرت زہرا اور سید المرسلین ﷺ۔ میں نے دیکھا کہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا نے میرا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۵۰، خزائن ج ۵ ص ۵۵۰)

توہین سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ

اے شیعو! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ حسین سے بڑھ کر ہے اور اگر میں اپنی طرف سے یہ باتیں کہتا ہوں تو میں جھوٹا ہوں اور اگر میں ساتھ اس کے خدا کی گواہی رکھتا ہوں تو تم خدا سے مقابلہ مت کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تم اس سے مقابلہ کرنے والے ٹھہرو۔

(دافع البلاء ص ۱۳، خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۳)

کربلا ئیست سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم

(درثمین فارسی ص ۱۶۳، نزول المسیح ص ۹۹، خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۷)

میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے سو حسین ہر وقت میری جیب میں ہیں

”لوگ اس کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ میں سو حسین کے برابر ہوں۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ اس سے بڑھ کر اس کا مفہوم یہ ہے کہ سو حسین کی قربانی کے برابر میری ہر گھڑی کی قربانی ہے۔“

(خطبہ میاں محمود، اخبار الفضل قادیان ج ۱۳ش ۸۰، مورخہ ۲۶ / جنوری ۱۹۲۶ء)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۹۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ایک صاحب صاحبزادہ عبداللطیف خوسف، امیر حبیب اللہ خان مرحوم والی افغانستان کی مالی امداد اور اجازت سے حج کے لئے روانہ ہوئے۔ پنجاب سے گزرے، مرزا قادیانی کی لن ترانیوں کا دور تھا، تو لاہور سے سیدھے قادیان چلے گئے۔ بیعت کر لی۔ کچھ عرصہ قیام کے بعد واپس افغانستان پہنچے۔ ان کے خیالات معلوم ہوئے۔ قاضی القضاۃ نے علماء افغانستان کے مشورہ سے ارتداد اور سنگساری کا فتویٰ دیا۔ امیر صاحب مرحوم کے حکم سے اسے سنگسار کر دیا گیا۔ مرزا قادیانی کا اس سنگسار کے متعلق ارشاد سنئے: ”امام حسین کی شہادت سے بڑھ کر مولوی عبداللطیف کی شہادت ہے۔ جنہوں نے صدق اور وفا کا اعلیٰ نمونہ دکھایا۔“

(ملفوظات ج ۸ ص ۱۲)

قادیان کے متعلق

مرزاغلام احمد قادیانی نے اس کے متعلق بڑا زور دیا ہے کہ : جو بار بار یہاں نہیں آتے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔

(حقیقت الرؤیا بشیر الدین محمود ص ۴۶)

قارئین کرام! آپ نے ان حوالہ جات سے مطالعہ فرمایا کہ کس طرح مرزائی تحریک جہاد کو حرام قرار دے کر کفر کی امداد کر رہی ہے۔ اگر جہاد حرام ہے تو وہ لوگ جو ۱۹۴۷ء میں کفار کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے اور وہ حضرات جنہوں نے ہندو جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے ۱۹۶۵ء میں جام شہادت نوش کیا، ان کو کس کھاتہ میں شمار کریں گے۔ کیا مسلمان، کافر، ظالم، مظلوم ہر ایک کی موت برابر ہوگی، اور کس طرح یہ تحریک مرکز اسلام، خاندان نبوت، شعائر اسلام سے تعلق منقطع کر کے قادیانی خاندان مرزا غلام احمد کے ساتھ وابستہ کر رہی ہے۔

امت مرحومہ اپنی چودہ صد سالہ زندگی میں کسی وقت بھی ختم نبوت و اجراء نبوت کے مسئلہ میں نہیں الجھی۔ امت کا اجماع رہا کہ مدعی نبوت کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ لیکن چودھویں صدی میں انگریز کے سایہ تلے غلام احمد نے دعویٰ نبوت کر کے امت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ قادیان کو مرکز اسلام بتایا۔ خاندان رسالت مآب ﷺ کی جملہ خوبیاں اپنے خاندان میں بیان کیں۔

تقسیم ملک کے وقت خلیفہ قادیان نے اعلان کیا: ”میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن قوموں کی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے، یہ اور بات ہے۔ ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح متحد ہو جائیں۔“

(الفضل مورخہ ۱۷ مئی ۱۹۴۷ء)

شاید اسی لئے مرزائی آج تک ربوہ میں اپنی لاشیں امانتاً دفن کرتے ہیں۔

مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا قیام ہی اس لئے ہے کہ وہ پاکستان بھر کے تمام مسلمان فرقوں کو ملکی سالمیت اور ملی ضرورت کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے ملت اسلامیہ کو مرزائیوں کی گمراہ تعلیم اور ملکی سالمیت کے خلاف ان کی سیاسی سرگرمیوں سے مطلع کرے۔ چنانچہ مجلس کے رہنماؤں اور مبلغین نے اس سال ۱۳۹۰ھ میں اس میدان میں بڑھ چڑھ کر کام کیا۔ چنیوٹ اور ملک کے دوسرے شہروں میں ختم نبوت کے عام اجلاس بلا کر تمام فرقوں کے رہنماؤں سے بذریعہ خطاب عوام کو اس تحریک بد سے روشناس کرایا۔

اس سال آغا محمد یحییٰ خان صدر مملکت پاکستان نے ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ حق رائے دہندگی بالغاں کی سطح پر عام انتخابات کا انتظام کیا۔ اس پر امن انتخابات پر تمام دنیا کے جمہوریت پسندوں نے صدر مملکت کے حسن انتظام کو سراہا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں اور مبلغین نے مجلس کی اس پالیسی کو قائم رکھا کہ یہ جماعت الیکشن کی سرگرمیوں سے علیحدہ رہے گی۔ چنانچہ مجلس نے عوام سے الیکشن میں اپنی اپنی

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۹۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

صوابدید کے مطابق پرامن ووٹ دینے کی اپیل کی۔ لیکن مرزائی جو اپنے کو ایک مذہبی جماعت کہتے تھے، انہوں نے ان انتخابات میں بحیثیت جماعت حصہ لیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے انہیں ٹکٹ دیئے۔ جن حلقوں میں مرزائی امیدوار کھڑے تھے وہاں مجلس نے اپنی پوری قوت خرچ کی کہ مرزائی اہل اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے نیشنل اسمبلی یا صوبائی اسمبلیوں میں نہ جائیں۔

الحمدللہ! مجلس کی کوششیں بار آور ہوئیں۔ پیپلز پارٹی کی مقبولیت کے باوجود اور مرزائیوں کے لاکھوں روپے خرچ ہونے کے باوجود کوئی مرزائی نیشنل اسمبلی میں نہ جاسکا۔ نہ ہی پنجاب کے باہر کسی دوسرے صوبہ میں۔ پنجاب میں بھی مرزائی امیدواروں کی اکثریت ناکام ہوئی۔ صرف وہ مرزائی امیدوار جنہوں نے الیکشن کے دوران اپنے ووٹران کو یقین دلایا کہ ہم مرزائی نہیں، کامیاب ہوسکے۔

مجلس نے ملک گیر دارالمبلغین کا قیام کر کے اہل اسلام کو مرزائیوں اور عیسائیوں کے متعلق معلومات بہم پہنچائیں۔ فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحب نے جابجا کئی کئی دن قیام کر کے فرق باطل کے متعلق تربیتی کورس کا انتظام کیا۔ مقامی اور مرکزی مبلغین نے محنت شاقہ کے ساتھ سال بھر تبلیغی سرگرمیوں کو جاری رکھا۔ جابجا مرزائی مناظروں اور مبلغوں کے اعتراضات کے جوابات دیئے گئے۔ دارالمبلغین کے قیام سے نئے مبلغ تیار کئے گئے۔ جو اطراف ملک میں گمراہ فرقوں کی تردید اور اتحاد بین المسلمین کا کام کر رہے ہیں۔

انتخاب

مجلس تحفظ ختم نبوت کا مرکزی انتخاب دستور کی دفعہ نمبر ۶ شق نمبر ۳ کے تحت تین سال بعد ضروری ہے۔ چنانچہ کل پاکستان مجلس تحفظ ختم نبوت کی جنرل کونسل کا اجلاس چنیوٹ مرکزی کانفرنس کے موقع پر ہوا۔ جس میں جنرل کونسل نے باتفاق مرکزی امارت کے لئے مفکر اسلام حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری زیدمجدہم کا انتخاب کیا اور حضرت مولانا محمد علی صاحب زیدمجدہم نے حسب ذیل حضرات کو ۱۳۹۱ھ سے آئندہ تین سال کے لئے مجلس شوریٰ کے لئے بطور ارکان نامزد فرمایا۔

اسمائے گرامی ...... مرکزی مجلس شوریٰ، مجلس تحفظ ختم نبوت

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۹۴

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حضرت مولانا محمد علی صاحب زید مجدہم کو مجلس شوریٰ نے اراکین نامزد کرنے کے بعد، ۸؍صفر ۱۳۹۱ھ، مطابق ۶؍اپریل ۱۹۷۱ء کو بمقام سلانوالی ضلع سرگودھا میں ان کو دل کا شدید دورہ پڑا اور بذریعہ ہوائی جہاز ملتان تشریف فرما ہوئے۔ ۱۶؍روز علالت کے بعد ۲۴؍صفر ۱۳۹۱ھ، مطابق ۲۲؍اپریل ۱۹۷۱ء بروز چہار شنبہ بوقت ۲ بج کر ۱۰ منٹ پر سفر آخرت اختیار فرمایا۔ جس کے بعد حضرت اقدس مرحوم ومغفور کی نامزد کردہ شوریٰ کا اجلاس مقرر وقت پر مؤرخہ ۲؍ربیع الاوّل کو منعقد ہوا۔ جس میں مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر کو باتفاق مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا امیر مرکزیہ منتخب کیا۔

منتخب امیر مرکزیہ حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر نے مندرجہ ذیل عہدہ داران کو نامزد فرمایا:

تاسیس مجلس تحفظ ختم نبوت سے لے کر تاریخ مذکورہ تک یہ پہلا اجلاس تھا جس میں حضرت اقدس مولانا جالندھری شریک نہ تھے۔ مجلس شوریٰ نے بچشم اشکبار مجوزہ کارروائی کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔‘‘

(مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۹۰ھ ص ۳ تا ۱۵)

مقدمہ روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۳۹۱ھ، مطابق مارچ ۱۹۷۱ء تا فروری ۱۹۷۲ء

حضرت مولانا محمد علی جالندھری

مولانا محمد شریف تحریر فرماتے ہیں:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

گزشتہ سال روئیداد مرتب ہو چکی تھی کہ مفکر اسلام حضرت اقدس مولانا محمد علی صاحب جالندھری امیر مرکزیہ کا سانحہ ارتحال پیش آیا۔ قارئین کرام کو یاد ہوگا کہ آئندہ روئیداد میں حضرت مرحوم ومغفور کی سوانح حیات لکھنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ چنانچہ مختصراً عرض ہے۔ مجاہد ملت مفکر اسلام حضرت مولانا محمد علی صاحب قدس سرہ ضلع جالندھر کے سرسبز وشاداب گنجان آباد اور علم وادب کی گہوارہ تحصیل نکودر کے ایک گاؤں رائے پور آرائیاں میں پیدا ہوئے۔ چونکہ پیدائشی سن وسال عموماً لکھنے کا رواج نہ تھا۔ اس لئے حضرت اقدس کی عمر کے لحاظ سے تقریباً ۱۸۹۶ء ہوگا۔ آپ کے والد ماجد حاجی محمد ابراہیم صاحب مرحوم کا اپنے علاقہ کے بڑے زمینداروں میں شمار ہوتا تھا۔ حاجی صاحب مرحوم اپنے خلوص، پاک بازی، شب بیداری اور مہمان نوازی کی وجہ سے علاقہ بھر میں مشہور ومعروف تھے۔ گو حاجی صاحب مرحوم عقیدۃً اہل حدیث تھے۔ لیکن دیوبندی مکتب فکر کے علماء کرام سے گہرے مراسم اور روابط تھے۔ ان کے گاؤں کے قریب رائے پور گوجراں ان دنوں دیوبندی مکتب فکر کے علماء کا مرکز تھا۔ چنانچہ حضرت مولانا حافظ محمد صالح صاحب خلیفہ مجاز حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب رائے پوری کی

www.amtkn.com

ameer@khatm-e-nubuwwat.com

www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۹۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مساعی جمیلہ سے رائے پور گوجراں میں دینی درسگاہ کا اجراء ہوا۔ حضرت مولانا فضل احمد صاحب مہتمم اور حضرت مولانا مفتی فقیر اللہ صاحب تلمیذ ارشد شیخ الہند صدر مدرس کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہوئے۔

یہی وہ نادرۂ روزگار درس گاہ ہے جس میں اس دور کے بڑے بڑے علماء کرام نے تعلیم و تربیت حاصل کی تھی اور مصری علماء کے وفد نے اس درسگاہ کے متعلق تبصرہ فرمایا تھا کہ : ”اگر ہم شہری فضا سے دور اور خاموش فضا لیکن علم و حکمت اور روحانی تربیت سے معمور اس مرکز علم و ادب کو نہ دیکھتے تو ہمارا سفر ہند ناکام ہوتا ۔“

آپ کے والد محترم حاجی صاحب مرحوم نے بھی اپنے ذہین وفطین ہونہار لخت جگر کے لئے اسی درسگاہ کو منتخب فرمایا اور مولانا مرحوم نے صرف ونحو اور فقہ کی ابتدائی تعلیم اسی مدرسہ عالیہ (مدرسہ فیض محمدی) میں حاصل کی اور علم ادب، منطق و فلسفہ حدیث وتفسیر کی کچھ کتابیں اور علم فقہ کی تکمیل کے لئے استادالعلماء حضرت مولانا خیر محمد صاحب قدس سرہ سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ فوقانی تعلیم اور حدیث وتفسیر کی تکمیل اور علمی تشنگی کی سیرابی کے لئے درس نظامی کی دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا۔

بلا مبالغہ دارالعلوم دیوبند ہمیشہ شہرۂ آفاق علماء واساتذہ کا مرکز رہا ہے۔ بالخصوص شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب قدس سرہ تو دارالعلوم دیوبند کا شاہکار و یادگار زمانہ ہے۔ حضرت شاہ صاحب سے شرف تلمذ حاصل ہوا۔ حضرت شاہ صاحب کی فر است اور بصیرت افروز نظر نے جانچ لیا کہ محمد علی جوہر قابل ہے۔ پھر باقی کیا رہ گیا تھا۔ بقول اکبر مرحوم ؎

نہ کتابوں سے نہ زر سے پیدا علم ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا

حضرت شاہ صاحب کے فیضان صحبت تربیت اور کیمیاء اثر نظر نے جوہر قابل کو جلا بخشی اور مولانا مرحوم کے قلب کی سلگتی ہوئی آگ کو موج نفس سے شعلہ جوالہ بنا دیا۔ بقول اقبال ؎

جلا سکتی ہے شمع کشتہ کو موج نفس ان کی الہی کیا چھپا ہوتا ہے اہل دل کے سینوں میں

یہ حقیقت ہے کہ شاہ صاحب کی تربیت نے حضرت مولانا مرحوم کو علم وادب کا ایسا شاہسوار بنا دیا کہ درس وتدریس کی مسند، وعظ و پند کے منبر اور سیاسی پلیٹ فارم پر تبحر عالم، روحانی پیشوا اور سیاست کے نشیب وفراز سے آشنا سیاست دان تھے اور یقین جانئے کہ رد مرزائیت اور تحفظ ختم نبوت کا جذبہ بھی حضرت شاہ صاحبؒ کی ہی ودیعت تھا۔

دارالعلوم دیوبند سے سند فراغت حاصل کر کے وطن واپس آئے تو دل میں دین مصطفوی کی خدمت کی تڑپ پیدا ہوئی تو مدرسہ اہل سنت والجماعت وجوہہ خرد ضلع جالندھر میں صدر مدرس کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہوئے۔ افہام وتفہیم اور قوت گویائی میں مولانا مرحوم یکتا تھے۔ اپنی خداداد قابلیت سے طلباء کو ایسا مسحور کرتے کہ طلباء مولانا مرحوم کے سوا کسی دوسرے استاد کی طرف رخ نہ کرتے تھے۔

۱۹۲۶ء، ۱۹۲۷ء میں سلطان پور لودھی ریاست کپور تھلہ کے احباب کے اصرار پر مدرسہ عربیہ اسلامیہ سلطان پور میں تشریف لے گئے۔ مدرسہ عربیہ اسلامیہ میں تعلیم وتدریس کے علاوہ عید گاہ میں نماز جمعہ کا اجراء فرمایا تو خطابت میں ایسے جواہر بکھیرے کہ شہر تو شہر مضافات کے عوام وخواص جواہر چینی کے لئے امڈ آئے۔ پوری ریاست مولانا مرحوم کی خطابت سے گونج اٹھی۔ اصلاح معاشرہ کا فکر ہمیشہ دامنگیر رہا۔ تدریسی مشغلہ کے ساتھ ساتھ رد بدعات، تردید مرزائیت اور اصلاح رسوم کے موضوعات پر بالعموم دیہات وقصبات میں اپنے مخصوص انداز میں بیان فرماتے اور سامعین کو مسحور کرتے۔ اس میں شک نہیں کہ جالندھر کے لوگ تعلیم میں ( سرکاری ہو یا دینی ) ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔ تحصیل نکودر میں اگر دینی تعلیم کا مرکز تھا تو سب سے پہلے اسلامیہ ہائی سکول ننگل انبیاء بھی اسی تحصیل میں قائم ہوا۔ جالندھر

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۹۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

شہر میں دینی تعلیم کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ چنانچہ حضرت رائے پوری کی مساعی سے مدرسہ عربی فیض محمدی قائم ہوا۔ طلباء کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر منتظمین مدرسہ (حضرت مولانا فضل احمد صاحب مہتمم، حضرت منشی رحمت علی صاحب، خلیفہ مجاز حضرت رائے پوری سرپرست اور حضرت العلام مولانا مفتی فقیر اللہ صاحب) نے مدرسہ کی توسیع وترقی کے لئے استاد العلماء حضرت مولانا خیر محمد صاحب اور حضرت مولانا محمد علی صاحب کو بسلسلہ تدریس مدرسہ عربی فیض محمدی میں تشریف لانے کی دعوت دی۔ دونوں حضرات مرحومین استاد، شاگرد ادارہ مدرسہ عربی فیض محمدی میں شامل ہو گئے۔ حضرت مولانا خیر محمد صاحب ناظم تعلیمات اور حضرت مولانا محمد علی صاحب بطور مبلغ و مدرس تعینات ہوئے۔ ہر دو حضرات کے عملہ میں اضافہ کے بعد جوق در جوق طلباء داخلہ کے لئے آنے لگے۔ چند سالوں میں مدرسہ نے توقع سے بڑھ کر ترقی کی اور مدرسہ علماء وطلباء کی توجہات کا مرکز بن گیا اور دورۂ حدیث بھی پڑھایا جانے لگا۔ اگر حضرت مولانا خیر محمد صاحب اہتمام وانتظام اور تدریس میں بے نظیر تھے تو حضرت مولانا محمد علی صاحب مرحوم نے اپنی تقاریر اور خطابت سے نہ صرف جالندھر شہر اور مضافات بلکہ پورے ملک میں مدرسہ کو متعارف کرایا اور اتنا وسیع حلقہ اثر بنایا جس سے مدرسہ کی مالی پریشانیاں یکسر ختم ہو گئیں اور ہزاروں روپے ماہوار کے اخراجات حسب معمول پورے ہونے لگے۔

مدرسہ عربیہ فیض محمدی بام عروج پر پہنچ چکا تھا اور بھر پور دینی خدمات بجالا رہا تھا۔ یکا یک حالات میں تبدیلی رونما ہوئی۔ پورے حالات حضرت اقدس تھانوی کی خدمت میں پیش کئے گئے۔ حضرت تھانوی نے فرمایا کہ: ”خیرالمدارس“ کے نام سے الگ مدرسہ کا اجراء کیا جائے۔ چنانچہ حضرت تھانوی کے حکم سے خیر المدارس کی بنیاد عالمگیری مسجد میں رکھی گئی۔ بعد ازاں ریلوے روڈ پر ایک قطعہ اراضی خرید کر مسجد اور مدرسہ خیر المدارس کی عمارت بنائی گئی۔ یہ عمارت بھی طلباء کی کثرت اور ضروریات مدرسہ کے لئے ناکافی ثابت ہوئی۔ مدرسہ کی ترقی پذیر رفتار سے متاثر ہو کر خان بہادر مولوی فتح الدین صاحب ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت نے لاڈو والی روڈ پر ایک قطعہ اراضی خرید کر مدرسہ کے لئے وقف کر دی۔ حضرت مولانا محمد علی صاحب نے اس کی تعمیر میں بھر پور حصہ لیا۔ ملک کے دور دراز علاقوں کا سفر کیا۔ مدرسہ اور مسجد کی تعمیر کے لئے احباب اور قوم کے مخیّر لوگوں کو مالی تعاون پر راغب کیا اور زر کثیر کے صرف سے یہ عمارت پایۂ تکمیل کو پہنچی اور اس میں مولانا مرحوم کی مساعی کا بہت بڑا حصہ ہے۔ یہ نیا مدرسہ تکمیل کی آخری منازل طے کر رہا تھا کہ انقلاب ۱۹۴۷ء رونما ہوا اور ہندوستان دو حصوں پاک و ہند میں تقسیم ہو گیا۔

حضرت مولانا مرحوم کی زندگی کا پہلا دور جو کم وبیش ۱۶ سال ہے، درس نظامی سے عملاً وابستگی کا دور ہے۔ اس دور کا زیادہ تر حصہ حضرت مولانا خیر محمد صاحب کی رفاقت میں خیر المدارس کی فلاح و بہبود اور نشو و نما میں گزرا۔ خدا جانے یہ تعلق کتنا مستحکم تھا کہ تادم واپسیں قائم رہا۔ جالندھر میں اکٹھے رہے۔ ملتان میں بعد از انقلاب اکٹھے اور اب قبر کی زندگی میں بھی ایک دوسرے کے ہمراہی اور رفیق ہیں۔ استاد و شاگرد ہر دو نے پوری زندگی نہایت وضع داری سے گزاری۔ گو رشتہ داری میں بھی منسلک ہوئے۔ چنانچہ حضرت مولانا خیر محمد صاحب کی صاحبزادی کا نکاح حضرت مولانا محمد علی صاحب مرحوم کے بڑے صاحبزادے حافظ حبیب الرحمن صاحب سے ہوا اور وہ صاحب اولاد بھی ہوئے۔ لیکن حضرت مولانا محمد علی صاحب مرحوم نے اس سمدھیانہ رشتہ کو کبھی بھی درخور اعتناء نہیں سمجھا بلکہ وہی استاد و شاگرد کا تعلق قائم رکھا۔

مولانا مرحوم کی زندگی کا پہلا دور جو تعلیم وتربیت کے زمانہ کے بعد سے شروع ہوا تھا۔ مدرسہ خیر المدارس سے سبکدوشی پر ختم ہو گیا۔ حضرت مولانا مرحوم کو قدرت نے متنوع صلاحیتیں عطاء فرمائی تھیں اور ہر ہر صلاحیت کو اپنے اپنے وقت پر اجاگر ہونا تھا اور منشاء ایزدی بھی یہی ہے کہ ہر انسان کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کا موقعہ عطاء فرمائے۔ مولانا مرحوم تقریباً ۱۶ سال مسند آرائے تدریس رہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۹۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس شعبہ میں ایسے کارہائے نمایاں انجام دیئے کہ اکابر معاصرین اساتذہ سے خراج تحسین حاصل کیا۔ اب وقت آ گیا تھا کہ مولانا مرحوم درس وتدریس کے محدود دائرہ سے نکل کر سیاست کے وسیع میدان میں اپنی خداداد صلاحیتوں سے لانیحل مسائل حل کریں اور سیاسی پیچیدہ گتھیاں سلجھائیں۔ یوں تو مولانا قضیہ مسجد شہید گنج کے دوران تقریباً ۱۹۳۵ء یا ۱۹۳۶ء سے مجلس احرار اسلام جالندھر کی کارروائیوں میں شریک ہونے لگے تھے اور زیادہ متاثر اس وقت ہوئے جب مسجد احرار اسلام جالندھر کے زیر اہتمام ایک جلسہ میں مولانا مظہر علی صاحب اظہر تشریف لائے۔ مسلم لیگیوں نے جلسہ میں گڑبڑ ڈالی اور سٹیج توڑ دیا۔ جلسہ ناکام کر دیا۔ اس وقت مولانا کے بعض دوستوں نے درخواست کی کہ اب آپ کی قیادت کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر جالندھر شہر میں مجلس احرار کے رضا کاروں کے لئے کام کرنا مشکل ہے۔ مجلس احرار نے تحریک کشمیر، زلزلہ کوئٹہ کے آفت زدگان کا انتظام اور تحفظ عقیدۂ ختم نبوت اور تعاقب مرزائیت، تحریک میکلیگن کالج غازی علم الدین کے مقدمہ میں ایثار وقربانی، جاں نثاری، جاں سپاری کی وجہ سے عوام و خواص میں مقبول ہو چکی تھی اور ملک وملت میں اعلیٰ وارفع مقام حاصل کر چکی تھی۔ اس لئے انگریزی حکومت اور اس کے پٹھوؤں کے نظر میں کھٹکتی تھی اور ان کو یقین تھا کہ انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵ء کے تحت ہونے والے الیکشن میں مجلس احرار کو راستے سے ہٹائے بغیر کامیابی ناممکن ہے۔ چنانچہ حکومت اور اس کے پٹھوؤں نے مسجد شہید گنج کا قضیہ صرف مجلس احرار کا کانٹا نکالنے کے لئے اٹھایا تاکہ مجلس اس سلسلے میں الجھ جائے اور ہم اطمینان کے الیکشن لڑ سکیں۔ یہ سارے حالات مولانا کے سامنے تھے اور انہوں نے گہری نظر سے مطالعہ کیا تھا کہ انہی دنوں میں حکیم عبدالغنی صاحب مرحوم سابق صدر مجلس احرار ضلع جالندھر نے اپنے قصبہ دھوگڑی میں احرار کانفرنس منعقد کی۔ جس میں احرار رہنما مولانا حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی، امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے علاوہ مولانا محمد علی صاحب جالندھری کو بھی شرکت کی دعوت دی۔ اس کانفرنس میں مولانا مرحوم کو احرار رہنماؤں کو قریب سے دیکھنے اور ان سے بالمشافہ ملکی سیاست اور حالات حاضرہ پر گفتگو کرنے کا موقعہ ملا۔ مولانا کو قدرت نے حساس دل ذہن رسا اور دور بین نگاہ عطاء فرمائی تھی۔ بے حد متاثر ہوئے۔ نبض شناس رہنماؤں نے احرار میں شرکت کی دعوت دی اور مولانا نے منظور فرمالی اور یہ معاہدہ تادم واپسین قائم رہا اور امیر شریعت قدس سرہ کے رفیق سفر وحضر رہے۔ اگر کہا جائے کہ یک جان ودو قالب تھے تو اس میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔

حضرت مولانا، احرار میں شامل ہونے سے پہلے بھی تقریر وتبلیغ کے ذریعہ اپنا وسیع حلقہ اثر پیدا کر چکے تھے بلکہ دینی مدارس کے سالانہ جلسوں میں شمولیت کے باعث بلند پایہ خطیبوں میں شمار ہوتے تھے۔ مجلس احرار میں شرکت فرمائی اور وہاں بھی اپنا مقام پیدا کرلیا۔ پہلے آل انڈیا مجلس احرار کے رکن ہوئے۔ بعد ازاں صوبہ پنجاب کے صدر منتخب ہوئے۔ تقسیم ملک کے وقت آپ ہی پنجاب کے صدر تھے۔ حضرت مولانا محمد علی صاحب قدس سرہ ۱۹۳۵-۳۶ء سے مجلس احرار میں شامل ہو چکے تھے۔ کچھ عرصہ تدریسی اور سیاسی مشاغل برابر جاری رہے۔ لیکن بالآخر عملاً سیاست میں حصہ لینے لگے کہ سیاست ان کا اوڑھنا بچھونا بن گئی۔

خاکساران جہاں را بحقارت منگر توچہ دانیکہ درین گرد سوارے باشد

یہ حقیقت ہے کہ مولانا مرحوم جس طرح تعلیم وتدریس کی مسند پر جلیل القدر اساتذہ میں شمار ہوتے تھے۔ اسی طرح سیاسی سٹیج پر بھی تجربہ کار سیاست دان، مدبر ومعاملہ فہم رہنما، بے مثال مقرر، شعلہ بیان لیکچرار اور تحفظ ختم نبوت کے پرعزم سپاہی ثابت ہوئے۔ اگر سادگی اور جفاکشی ان کا شعار تھا تو بے نظیر حاضر جوابی، خود اعتمادی، جرأت دلیری، قوت فیصلہ سے بدرجہ اتم متصف تھے۔ کفایت شعاری اور انتظامی امور میں مہارت تامہ نہ صرف ان کے معاصرین میں ضرب المثل تھی بلکہ ان اوصاف کی بناء پر اکابر بھی تحسین فرمایا کرتے تھے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۳۹۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

۱۹۳۹ء میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی تو انگریزی حکومت نے رہنمایان ہندوستان سے مشورہ کئے بغیر ہماری فوجوں کو جنگ میں جھونک دیا اور فوجی بھرتی شروع کر دی۔ اس پر مجلس احرار نے نہ صرف پر زور احتجاج کیا بلکہ فوجی بھرتی کے خلاف تحریک چلائی۔ حضرت مولانا نے بھی ایک بے باک لیڈر کی طرح ایسی معرکۃ الآراء تقریریں کیں کہ ملک میں فوجی بھرتی کے خلاف نفرت انگیز جذبہ پیدا ہو گیا۔ گرفتار ہوئے ، مقدمہ عدالت میں چلایا گیا۔ لیکن احرار رہنمایان کے فیصلہ کے مطابق نہ مقدمہ لڑا گیا نہ وکیل کیا گیا۔ صرف ایک مختصر بیان پر کفایت کی کہ : ”مجھے اس حکومت سے انصاف کی توقع نہیں ہے ۔“

انگریزی عدالت نے سزا دی۔ قید کا زیادہ تر حصہ امرتسر جیل میں گزار کر رہا ہوئے۔ یہ حضرت کی پہلی گرفتاری اور آزمائش وابتلاء کے دور کی ابتداء تھی۔ رہائی کے بعد جالندھر شہر میں تنظیم جماعت ، تردید مرزائیت، اصلاح معاشرہ کے سلسلہ میں مصروف تھے کہ ۱۹۴۱ء میں ایک جلسہ میں شرکت کے لئے ملتان تشریف لائے۔ مولانا کی بے مثال خطابت سے متاثر ہو کر ملک برخوردار صاحب مرحوم والد ملک عبدالغفور صاحب انوری اور مشہور احرار ورکر حافظ محمد یار صاحب نے ملتان میں مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی سے ملاقات کر کے عرض کیا کہ مولانا محمد علی صاحب کو ملتان میں مستقل رہائش کا حکم دیں ۔ انہوں نے حضرت رائے پوری قدس سرہ سے عرض کرنے کا مشورہ دیا۔ اس طرح اکابر کے حکم سے مولانا مرحوم جامع مسجد سراجاں حسین آگاہی ملتان میں تشریف لے آئے اور جامعہ محمدیہ کا اجراء فرمایا۔ خطبہ جمعہ کا سلسلہ شروع ہوا تو چند ماہ میں جمعہ کے اجتماع نے ایسی مرکزی حیثیت اختیار کی کہ قرب و جوار کے مکانوں ، دوکانوں کی چھتیں ، سڑکیں ، گلیاں اس اجتماع جمعہ کے سامنے اپنی تنگ دامانی کا شکوہ کرنے لگیں۔

مولانا مرحوم ، قبل تقسیم ملک بھر میں احرار کانفرنسوں اور مدارس عربیہ کے سالانہ جلسوں میں شرکت فرمایا کرتے تھے۔ لیکن مسجد سراجاں کے جمعہ کی مداومت کا یہ حال تھا کہ دہلی ایسے دور دراز علاقہ سے محض جمعہ کے لئے ملتان تشریف لاتے اور جمعہ کے بعد بقایا کام کے لئے واپس تشریف لے جاتے۔ بار ہا ایسا بھی ہوا کہ شب جمعہ ریلوے اسٹیشن سے دور کسی جگہ تقریر ہے اور تقریر کے بعد ریل پکڑنے کے لئے وقت کم اور مسافت زیادہ ہے۔ سواری کا کوئی انتظام نہیں تو یہ مجاہد فی سبیل اللہ مبلغ اسلام دوڑ لگا رہا ہے تاکہ ریل پکڑ کر جمعہ کے وقت تک ملتان پہنچ سکے۔ وضع دار اور عزم کی پختگی کا یہ عالم تھا کہ ایک اسٹیشن پر مولانا مرحوم پہنچے ہی تھے کہ گاڑی چل دی۔ پیچھے بھاگے، گاڑی پہلا سگنل کراس کر رہی تھی۔ دروازے کا ڈنڈا پکڑ لیا۔ لیکن پائیدان پر پاؤں نہ رکھ سکے۔ کافی دور تک گھسٹتے چلے گئے۔ گھٹنے چھل گئے ۔ بوگی کی دو سواریوں کی مدد سے سوار ہوئے۔ مگر ملتان کا جمعہ نہ چھوڑا۔

کفایت شعاری انسان کو احتیاج سے بچاتی ہے اور پس اندازی کا سلیقہ پیدا کرتی ہے۔ مولانا کا یہ وصف بہت نمایاں تھا اور اسی کفایت شعاری کا نتیجہ ہے کہ احرار میں رہے تو احرار کی مالی پریشانیاں یکسر ختم جب مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام ۱۹۴۹ء کے بعد عمل میں آیا اور مولانا ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے تو پورے ملک کے اہم شہروں میں دفاتر قائم کرائے۔ ملتان میں ایک لاکھ روپے کے صرف سے دفتر مرکزیہ کی عمارت تعمیر کروائی۔ بسا اوقات فرمایا کرتے تھے کہ چوہدری افضل حق صاحب کے ساتھ کام کرنے کا وقت بہت کم میسر آیا۔ ورنہ چوہدری صاحب کو مالی لحاظ سے بے فکر کر دیتا۔ تقسیم ملک سے قبل دیہاتی جلسوں میں امیر شریعت اور مولانا حبیب الرحمن صاحب دوسرے اکابر کے ساتھ شرکت فرمایا کرتے تھے۔ مولانا مرحوم نے نظام اپنے ہاتھ میں لیا تو گروپ بندی کر دی اور فرمایا کہ جس جلسہ میں امیر شریعت شریک ہوں گے ۔ وہاں مولانا حبیب الرحمن نہ ہوں گے۔ جہاں قاضی احسان احمد صاحب مرحوم ہوں گے۔ وہاں محمد علی شرکت جلسہ کے لئے نہ

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۳۹۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جائے گا۔ مقصد خرچ کو کم کرنا تھا اور فیصلہ کر دیا کہ کسی بھی کانفرنس میں شرکاء اجلاس کے لئے ایک وقت میں دو کھانے نہیں پکیں گے۔ اس کفایت شعاری اور تنظیم نے کام کو آگے بڑھایا اور مالی مشکلات پر قابو پانے میں مدد ملی۔

تقسیم ملک ۱۹۴۷ء کے وقت سارے ملک میں قیامت صغریٰ بپا تھی۔ ہر تنفس کرب واضطراب میں مبتلا تھا۔ ہر شخص کو جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ کسی کی بھی جان ومال اور آبرو محفوظ نہ تھی۔ آج ۲۵ سال گزرنے کے بعد بھی وہ تصور دل میں آتا ہے تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور وہ ہولناک مناظر آنکھوں کے آگے گردش کرنے لگتے ہیں۔ ان حالات میں لٹے پٹے خون میں لت پت قافلے واہگہ کی سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہوتے تو مستقبل کی فکر دامن گیر ہوتی۔ جس جانب کوئی سہارا، کوئی جائے پناہ نظر آتی اسی طرف رخ کرتے اور بعض مہاجرین کو حکومت پاکستان خود ہی منزل مقصود پر پہنچا دیتی۔ جہاں بھی سر چھپانے کی جگہ پاتے شکر گزاری کے ساتھ بیٹھ جاتے۔ لیکن احرار رہنماؤں اور ورکرز کے لئے دوہری مشکلات تھیں۔ انڈیا میں جن سنگھی مسلمانوں کے دشمن تھے اور وہ کوئی امتیاز روا نہ رکھتے تھے ادھر مسلم لیگی حکومت کی نظروں میں احرار معتوب تھے۔ ’’دو گونہ رنج است وعذاب جان مجنوں را‘‘ سرحد واہگہ عبور کرتے ہی جہاں پناہ ملی وہیں پناہ گزیں ہوگئے۔ قافلہ احرار منتشر ہوگیا۔ مولانا محمد حیات صاحب خیر پور میرس میں مولانا لال حسین صاحب اختر سرگودھا میں، ماسٹر تاج الدین اور شیخ حسام الدین صاحب لاہور میں اور امیر شریعت قدس سرہ اپنے عزیز ساتھی نوابزادہ نصراللہ خان کے ہاں خان گڑھ تشریف لے گئے۔ جب خان گڑھ سیلاب میں گھر گیا تو شاہ صاحب خان گڑھ کو خیر باد کہہ کر ملتان تشریف فرما ہوئے۔ خوش قسمتی سے مولانا جالندھری مرحوم تقسیم ملک سے بہت پہلے ملتان میں مستقل قیام فرما چکے تھے۔ نیز حضرت مولانا قاضی احسان احمد صاحب کا اصلی وطن شجاع آباد ضلع ملتان ہے۔ اس لئے قافلہ احرار کے لئے پاکستان میں آمد کے بعد آخری امید گاہ حضرت قاضی صاحب تھے۔ ان لٹے پٹے مہاجر احرار کی آباد کاری اور از سر نو جماعت کی تنظیم میں قاضی صاحب مرحوم کا بہت بڑا حصہ ہے۔ احرار رہنمایان اور رضا کاروں نے ملتان میں مقیم حضرات سے بذریعہ مکاتبت ومراسلت رابطہ قائم کیا اور آمد ورفت جاری ہوگئی۔ یوں سنگ تفرقہ تقسیم ملک کے زخم خوردہ احرار رہنما ملتان میں جمع ہونے لگے۔ جس طرح کوئی بہادر سپہ سالار شکست سے دوچار ہونے کے بعد اپنی باقی ماندہ فوج کو از سر نو مرتب کرتا ہے۔ اسی طرح حضرت امیر شریعت خطیب ملت مولانا قاضی احسان احمد اور مولانا جالندھری مرحوم نے احرار ورکرز کے منتشر شیرازہ کو جمع کر کے تنظیم وتربیت شروع کر دی اور حضرت امیر شریعت قدس سرہ نے ابتداء میں ہی فرمایا کہ انگریز چلا گیا۔ ملک آزاد ہو گیا اور پاکستان معرض وجود میں آچکا ہے۔ ان حالات میں احرار کے سیاسی پلیٹ فارم کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ اب ملک کے سب سے بڑے فتنے مرزائیت اور منکرین ختم نبوت کے تعاقب اور اصلاح معاشرہ پر تمام تر توجہ مرکوز ہونی چاہئے۔ چنانچہ بے سرو سامانی میں توکلاً علی اللہ کام شروع کر دیا۔

انہی ایام میں استاذ الاساتذہ حضرت مولانا خیر محمد صاحب قدس سرہ بھی جالندھر سے ہجرت کر کے ملتان تشریف لے آئے اور مدرسہ عربی خیر المدارس کا ملتان میں اجراء فرمایا تو مولانا محمد علی صاحب نے اپنے مدرسہ جامعہ محمدیہ کا تمام سرمایہ اور کتب خانہ اور درجہ حفظ قرآن کے اساتذہ مدرسہ خیرالمدارس کے حوالہ کر دیئے اور اپنے کو امیر شریعت قدس سرہ کی رفاقت میں تحفظ ختم نبوت اور دین متین کی خدمت کے لئے وقف کر دیا۔

ادھر تقسیم ملک مرزائیوں کے لئے سازگار ثابت ہوئی۔ باوجودیکہ مرزائی عقیدۃً پاکستان کے خلاف ہیں۔ مرزاغلام احمد کے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۰۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

الہامات اور نام نہاد خلیفہ ثانی کے ارشادات کی روشنی میں ان کا مذہبی عقیدہ ہے کہ اگر ملک تقسیم ہوا تو وہ کسی نہ کسی طرح اسے دوبارہ اکھنڈ بنائیں گے۔ مرزائیوں نے بالعموم اور ظفر اللہ خان نے بالخصوص قائد اعظم کا جنازہ تک نہیں پڑھا۔ باایں ہمہ ہماری سابقہ حکومت کی بے تدبیری اور کوتاہ اندیشی کے باعث ربوہ ایک مستقل اور محفوظ مرزائی آبادی کی شکل میں مرزائیوں کو مل گیا۔ مرزائی بہت جلد پاکستان میں اعلیٰ عہدوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ فوج اور سول محکموں میں کلیدی آسامیوں پر براجمان ہو گئے۔ ظفر اللہ خان وزارت خارجہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا تو مرزائی بلوچستان میں مرزائی سٹیٹ کے خواب دیکھنے لگے۔ چنانچہ قادیانی خلیفہ بشیر الدین محمود طاقت کے نشہ میں چور ہو کر بولا کہ ۱۹۵۲ء کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔ کم از کم صوبہ بلوچستان تو مرزائی صوبہ بن جانا چاہئے۔

ختم نبوت کے جانباز مجاہد، عاشق رسول ﷺ، خطیب امت امیر شریعت قدس سرہ نے ربوہ کے قریب تر چنیوٹ پہنچ کر مرزائی خلیفہ کو للکارا کہ دیکھو ۱۹۵۲ء تمہارا ہے تو ۱۹۵۳ء اہل اسلام کا ہے۔ مرزائی خلیفہ کے اس اعلان سے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہو گیا۔ امیر شریعت کی راہنمائی میں خطیب اسلام مولانا قاضی احسان احمد صاحب اور مولانا محمد علی مرحوم کی بے مثال ذہانت اور مدبرانہ حکمت عملی تمام مسلمان فرقوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ تحمل و بردباری کے کوہ ہمالیہ حضرت مولانا ابو الحسنات قدس سرہ نے تحریک ختم نبوت کی قیادت فرمائی اور مرزائیوں کے صوبہ بلوچستان پر قبضہ کرنے کے منصوبہ کو خاک میں ملا دیا۔ درحقیقت ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت نے مرزائیوں کی کمر توڑ دی۔ مرزائی آج تک اپنے زخموں کو چاٹ رہے ہیں اور ان شاء اللہ العزیز پاکستان کے کسی حصہ پر قبضہ کرنے کا مرزائیوں کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوگا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد تقسیم ملک کے معا بعد رکھ دی گئی تھی۔ لیکن تحریک ختم نبوت تک احرار اور ختم نبوت کا اشتراک عمل رہا۔

تحریک ختم نبوت کے خاتمہ کے بعد حضرت امیر شریعت قدس سرہ کے دولت کدہ پر رہنمایان احرار کا ایک اجلاس ہوا۔ جس میں حضرت امیر شریعت قدس سرہ نے اپنے سابقہ ارشاد کا اعادہ فرمایا کہ آئندہ مجلس تحفظ ختم نبوت ایک غیر سیاسی ادارہ ہوگا۔ سیاست سے اس کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔

حضرت امیر شریعت کی قیادت میں مجلس تحفظ ختم نبوت نے عظیم الشان ترقی کی اور شاہ صاحب کے زور خطابت نے قصر مرزائیت میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ پروانہ شمع رسالت مجاہد اعظم، عاشق رسول ہاشمی، حضرت امیر شریعت، منکرین ختم نبوت کے وجود کو برداشت ہی نہ کرتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے کہ: ”خاتم النبیین کی توہین کرنے والی زبان نہ رہے یا سننے والا کان نہ رہے۔“

مرزائیت کا استیصال ان کی زندگی کا مشن تھا۔ اس راہ میں بارہا قید و بند کی صعوبتیں اٹھانا پڑیں۔ لیکن ہر صعوبت رضاء الٰہی کا موجب اور عشق رسول اللہ ﷺ کے ازدیاد کا باعث ہوتی تھی۔ آخر عمر میں علالت طبع کے سبب صاحب فراش ہوئے اور طویل علالت کے بعد ۲۱ اگست ۱۹۶۱ء میں داعی اجل کو لبیک کہا اور جان، جان آفرین کے سپرد کر دی۔ اللہ تعالیٰ ہزار ہا ہزار رحمتیں ان کی قبر پر نازل فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین ثم آمین!

حضرت امیر شریعت کے بعد خطیب پاکستان، نابغہ روزگار حضرت مولانا قاضی احسان احمد صاحب شجاع آبادی نے ۱۲ شوال ۱۳۸۲ھ، مطابق ۹ مارچ ۱۹۶۳ء کو مسند امارت کو امیر ثانی کی حیثیت سے زینت بخشی۔ حضرت خطیب پاکستان کی تربیت حضرت امیر شریعت قدس سرہ نے فرمائی تھی۔ حضرت قاضی صاحب نے اپنے محسن و مربی کی تربیت سے کما حقہ استفادہ فرمایا تھا اور ان کے نقش قدم

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۰۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پر چلے۔ حضرت قاضی صاحب اپنے زمانے کے بے مثل خطیب اور بے نظیر مقرر تھے۔ حضرت امیر شریعت قدس سرہ کی طرح حاضرین وسامعین کو زعفران زار بنا دیتے تھے۔ تردید مرزائیت اور منکرین ختم نبوت کے تعاقب کا ایک بھاری بھرکم صندوق ہر وقت ساتھ ہوتا اور مرزا غلام احمد کی قابل اعتراض اور دل خراش عبارتوں کے کٹنگ، فوٹوسٹیٹ کاپیاں اور قلمی مسودوں کی فائلیں سفر اور حضر میں ساتھ رہتی تھیں۔ حضرت قاضی صاحب کو اپنے شیریں گفتاری، ظاہری اور باطنی پاکیزگی کی بناء پر حکام کے ہاں خاص مقام حاصل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ختم نبوت کے مشن کو جسے حضرت امیر شریعت شاہراہ ترقی پر گامزن فرما گئے تھے۔ حضرت قاضی صاحب نے ملک کے صدروں، گورنروں اور ان کے وزراء و دیگر اعلیٰ مناصب پر فائز حکام تک پہنچا کر اتمام حجت قائم کر دی۔ اس سلسلہ میں بالخصوص حضرت قاضی صاحب یکتا و بے مثل تھے۔ قدرت کاملہ نے ان کو خاص ملکہ عطاء فرمایا تھا۔ بالآخر خطیب پاکستان بھی ۲۳؍ نومبر ۱۹۶۶ء بمطابق ۱۰؍ شعبان ۱۳۸۶ھ کو اس دار الفناء سے دار البقاء کی طرف رحلت فرما گئے۔ سفر آخرت کے وقت ان کی عمر ۶۲ سال ۵ ماہ تھی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کی قبر پر انوار رحمت کی بارش برسائے اور بلند مراتب عطاء فرمائے۔ آمین!

بلاشبہ خطیب امت حضرت امیر شریعت قدس سرہ اور خطیب پاکستان حضرت قاضی احسان احمد صاحب کے مبارک عہدہائے امارت میں مجلس تحفظ ختم نبوت نے ترقی کے گوناگوں منازل طے کئے۔ لیکن ہر دو پیش رو امیر اوّل و امیر ثانی نے اپنے عہدہائے امارت میں مولانا محمد علی صاحب جالندھری کو ناظم اعلیٰ کے عہدہ جلیلہ پر فائز رکھا اور مولانا جالندھری ان کے معتمد علیہ رہے۔ امیر ثانی حضرت مولانا قاضی احسان احمد صاحب قدس سرہ کی رحلت کے بعد مجلس شوریٰ کے اجلاس مورخہ ۲۳؍ شعبان ۱۳۸۶ھ، مطابق ۱۰؍ دسمبر ۱۹۶۶ء منعقدہ دفتر مرکزیہ میں حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری دستور کی دفعہ ۴ کے تحت امیر نامزد ہوئے اور جنرل کونسل کے اجلاس مورخہ ۲۷؍ ذیقعدہ ۱۳۸۶ھ، مطابق ۹؍ مارچ ۱۹۶۷ء منعقدہ بہاول پور میں بالاتفاق مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر منتخب ہوئے۔

چنانچہ ۲۷؍ ذیقعدہ ۱۳۸۶ھ، مطابق ۹؍ مارچ ۱۹۶۷ء کو حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری بحیثیت امیر ثالث مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان مسند امارت پر متمکن ہوئے۔ چونکہ امیر ثالث اپنے پیشروؤں کے دوران امارت ناظم اعلیٰ اور معتمد علیہ رہے تھے اور شعبہ مالیات اور تنظیم جماعت کا کام عموماً انہی کے سپرد رہا۔ مولانا جالندھری کو اس سلسلہ میں وسیع تجربہ تھا بلکہ مہارت تامہ حاصل تھی۔ چنانچہ ۱۹۵۲ء سے ۱۹۶۶ء تک اپنے پیشروؤں کی قیادت میں اور ۱۹۶۷ء سے ۱۹۷۱ء تک اپنے عہد امارت میں کارہائے نمایاں سرانجام دیئے۔

دفاتر کا قیام

کراچی، حیدرآباد، سکھر، جیکب آباد، رحیم یار خان، علی پور، ڈیرہ غازی خان، چشتیاں، ٹوبہ ٹیک سنگھ، بہاول پور، بہاول نگر، ملتان، لائل پور، گوجرانوالہ، جھنگ، چنیوٹ، جابہ، سرگودھا، کوئٹہ، لاہور، فورٹ سنڈیمن، حافظ آباد، لورالائی وغیرہ میں تحفظ ختم نبوت کے دفاتر قائم کئے اور مبلغین کا تقرر کیا۔ اس کے علاوہ بہت سے قصبات میں جماعتیں موجود ہیں۔ گو دفاتر نہیں ہیں۔ ملتان شہر میں تقریباً لاکھ روپے کے خرچ سے قصر ختم نبوت کے نام سے دفتر مرکزیہ کے لئے شاندار عمارت تعمیر کروائی اس کے علاوہ کنری، سکھر، گوجرانوالہ، نور پور کے دفاتر بھی مجلس کے ملکیتی ہیں۔

مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب اختر، یورپین ممالک میں بسلسلہ تبلیغ تشریف لے گئے تو انگلینڈ میں ساٹھ ۶۰ ہزار روپے کی لاگت سے دفتر خریدا جس میں اب مدرسہ تعلیم القرآن جاری ہے۔ ایک مرد اور ایک خاتون بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دے رہے ہیں۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۰۴

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۴۰۴ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مناظر اسلام اس سفر میں فجی آئی لینڈ بھی تشریف لے گئے اور تقریباً چھ مہینے قیام رہا۔ وہاں بھی آپ کی مساعی جمیلہ سے مدرسہ تعلیم القرآن کا اجراء ہوا۔ تقریباً ۳۳ ماہ حضرت مناظر اسلام یورپین ممالک میں رہے اور اکثر ممالک میں تردید مرزائیت اور ردعیسائیت وغیرہ وغیرہ موضوعات پر خطاب کیا۔

مولانا جالندھری نے مبلغین کی تنظیم اور دفتری نظام کے قیام میں بہت جدوجہد فرمائی بلکہ ایک نئی طرز کا دفتری نظام قائم کیا جو دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ آمد وصرف کو درست رکھنے کے لئے نئے نئے قواعد وضوابط مرتب فرمائے۔ جن سے دو اور دو چار کی طرح صحیح نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ آمد وصرف کے رجسٹرات کی صفائی اور صحت اندراج پر خاص توجہ فرماتے اور اکثر وبیشتر خود پڑتال فرماتے اور عموماً کسی اچھے محاسب سے حسابات چیک کرواتے۔ گزشتہ سال گورنمنٹ کے منظور شدہ آڈیٹران چوہدری حسین احمد کمپنی لاہور سے مجلس کے ۱۳۸۷ھ، ۱۳۸۸ھ، ۱۳۸۹ھ کے حسابات آڈٹ کروائے۔ آڈیٹران، حساب کی صفائی اور صحت اندراج پر بہت خوش ہوئے اور انہوں نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ: ”ہم نے مندرجہ بالا سالہائے کے حسابات آڈٹ کئے۔ حسابات درست ہیں اور ایسے صحیح اور عمدہ حسابات بہت کم دیکھنے میں آئے ہیں۔“

مولانا جالندھری نے امیر اوّل اور امیر ثانی کی قیادت میں اور محبوب از جان ساتھیوں کی ہمراہی میں اپنا سرمایہ حیات جماعت ختم نبوت کے لئے قربان کر دیا۔ ذیل میں ہم مولانا مرحوم کی اجلاس مبلغین منعقدہ مورخہ ۸، ۹؍مئی ۱۹۵۷ء دفتر مرکزیہ ملتان میں کی گئی تقریر کا اقتباس پیش کرتے ہیں۔ جس سے مولانا کی فطرت سلیمہ اور جماعت کے سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ گو یہ تقریر آج سے پندرہ برس پہلے کی ہے۔ مگر ان کے خلوص اور جماعت سے محبت کے پیش نظر یوں معلوم ہوتا ہے کہ آج ہی کی ضرورت پر حضرت عالم بالا سے ارشاد فرما رہے ہیں۔

اجلاس ۸؍مئی ۱۹۵۷ء حضرت مولانا محمد علی صاحب نے اجلاس کی ابتداء کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ : ”جس وقت مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام پر تحریک کے بعد کام شروع کیا گیا تو نہایت نازک دور تھا۔ کسمپرسی کا عالم تھا۔ لیکن ان مشکلات کے باوجود خواہش تھی کہ جس طرح اکابر نے ملک میں مفت دینی تعلیم کا انتظام کیا ہوا ہے۔ اسی طرح ایک ادارہ ہو جو تبلیغ دین کا کام مفت انجام دے۔ الحمدللہ ! کہ امید سے کہیں زیادہ بہتر نتائج برآمد ہوئے۔ ساتھی منظم ہوگئے۔ قوم نے روپے سے امداد کی۔ اس سے قبل کوئی ادارہ اس مطلب کا نہیں تھا۔ میں اس کامیابی پر خدا تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں اور آپ ساتھیوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ عیسائیوں نے ابتداء اسلام میں کہا تھا کہ اسلام تین چیزوں کی وجہ سے سربلند ہے۔ (۱) اتحاد، (۲) موت سے محبت، (۳) دنیا سے بیزاری۔ اگر غور کیا جائے تو یہی تین چیزیں مسلمان میں پیدا ہو جائیں تو پھر سے مسلمانوں میں زندگی آ جائے۔ الحمدللہ کہ جماعت کے نظم کے ماتحت تمام ساتھی تن دہی سے کام کر رہے ہیں۔ لیکن اس ترقی پر مجھے کچھ فکر بھی لاحق ہے۔ جوں جوں نظم میں وسعت آتی ہے۔ ذمہ داریاں بڑھتی ہیں۔ ساتھیوں کی مقبولیت سے شیطان کو وسوسہ ڈالنے کا موقعہ ملے گا۔ اس لئے نہایت خلوص کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے اور ہر وقت ہمیں دست بدعا رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کام کو قبول فرمائے اور مزید توفیق عطاء فرمائے۔“

ہم لوگ دیہات میں تبلیغ دین کے لئے جاتے ہیں۔ اکثر جگہ جلسہ کے منتظم ایسے ہوتے ہیں جو نان شبینہ تک کے محتاج ہوتے ہیں۔ لیکن علماء کی منت کر کے لاتے ہیں۔ مرغیاں کھلاتے ہیں۔ سواری کے لئے گھوڑی لاتے ہیں۔ خدمت کرتے ہیں۔ حالانکہ تبلیغ دین کے لئے مصائب برداشت کرنے کا بوجھ عوام سے کہیں زیادہ علماء پر ہے۔ ڈرتا ہوں کہ کہیں یہی بات علماء کی گرفت کا باعث نہ بن جائے۔ پچھلے دنوں خان پور سے آ رہا تھا۔ گاڑی میں حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب بہلوی مدظلہ بھی موجود تھے۔ جو اس دور میں غنیمت ہیں۔ ان کے ساتھ جن کا

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۰۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تعلق ہو جاتا ہے۔ ان کی اصلاح ہو جاتی ہے۔ تعلق باللہ اور اعراض عن الدنیا پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ دوران سفر ماننے لگے کہ تبلیغ بہت گراں ہوتی جارہی ہے۔ علماء زاد راہ بہت چارج کرتے ہیں۔ جب میں نے جماعت کے حالات بیان کئے کہ ہم خدام بغیر فیس وصول کئے اور بغیر مقرر کئے جاتے ہیں تو بہت خوش ہوئے۔ ایسے ہی پیر صدرالدین خان گڑھی نے کہا۔ دفتر میں اطراف ملک سے ایسے خطوط آتے ہیں کہ ہم نے فلاں فلاں جماعتوں کو اس لئے چھوڑ دیا ہے کہ وہ خرچ بہت کرواتے ہیں۔ ابھی دن ہوئے ایسا ہی ایک خط ضلع کیمبل پور سے آیا ہے۔

حضرت تھانوی نے صحیح پیر کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ لکھی ہے کہ اس علاقہ کے اہل علم اور دین دار لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں۔ حدیث پاک میں بھی یہی مضمون فرمایا گیا ہے کہ مقبولیت پہلے آسمان پر ہوتی ہے۔ پھر دنیا میں آتی ہے۔ اس ملک میں حضرت اقدس مولانا احمد علی صاحب لاہوری، حضرت حافظ الحدیث مولانا درخواستی مدظلہ اہل اللہ کے سرتاج ہیں۔ وہ ہماری جماعت کے کام کی تعریف کرتے ہیں اور کامیابی کے لئے دعا فرماتے ہیں۔ حضرت درخواستی مدظلہ نے اس سال دستار بندی کے جلسہ میں اکابر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”هُؤُلَاءِ آبَائِی“ اور مبلغین کی طرف سے اشارہ کر کے فرمایا: ”هُؤُلَاءِ اِخْوَانِی“ اور طلب علموں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ: ”هُؤُلَاءِ اَبْنَائِی“

معلوم ہوا کہ ہمارے معزز مبلغین اہل اللہ کے ہاں محبوب ہیں۔ کسی نے حضرت اقدس رائے پوری کے ہاں حضرت مولانا (عبدالرحمٰن) میانوی صاحب کی شکایت عین کھانے کے وقت کی تو حضرت مدظلہ نے کھانا چھوڑ دیا اور فرمایا کہ یہ لوگ صحابہ ؓ کے نقش قدم پر ہیں۔ یہی بات حضرت نے لاہور اور لائل پور میں فرمائی۔ اتحاد، محبت اور خلوص کی ضرورت ہے۔ نبوت کا کام ہمارے ذمہ ہے۔ ملک کی اقتصادی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ ایسے میں خدا کا شکر کرو کہ لوگ تمہاری خدمت کر رہے ہیں۔ وہ شخص بہت خوش قسمت ہے کہ اللہ تعالیٰ دین کے کام میں روٹی دیتا ہے۔ تمہارے ساتھ بہت سے لوگ فارغ ہوئے۔ کیا وہ علماء تنگدست ہیں جو تمہارے ساتھ ہیں؟ ذی الحجہ میں ہم سب لوگ پابند تھے۔ لیکن آمد گزشتہ سال سے زیادہ ہوئی۔ ذالک فضل اللہ!

مولانا لال حسین اختر صاحب کے واقعات کو مشعل راہ بناؤ کہ وہ تم سے قابل اور معمر ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ مشقت برداشت کرتے ہیں اور وہ اپنے منتظم کی بات ہر حال میں مانتے ہیں۔ مولانا نے سرگودھا میں چند دن کام نہ کیا تو از خود تنخواہ وضع کرادی۔ دو باتیں کہتا ہوں، ایک ضابطہ کی پابندی، ضابطہ بناتے وقت جیسا چاہو بنالو۔ اگر سخت ہے نرم کرلو۔ لیکن جب طے کرلو تو اس کی پابندی کرو۔ دوم: جلسوں پر جاؤ تو کوئی چیز نہ مانگو جو ملے کھالو۔ آپس میں محبت سے رہو۔ اپنے منتظم کی اطاعت کرو۔ ”وَلَوْ سُلِّطَ عَلَیْکُمْ عَبْدًا حَبَشِیًّا“ اپنے بنائے کی لاج رکھو۔ وعدہ خلافی نہ کرو۔ طے شدہ پروگرام میں ردو بدل نہ کرو۔ رخصت حاصل کردہ سے زیادہ نہ گزارو۔ باہر جلسوں پر آئندہ کے لئے وقت خود نہ دو۔ بلکہ داعی سے کہو کہ دفتر کو لکھے۔

اکابر نے ۱۸۵۷ء کی تحریک آزادی میں ناکامی کے بعد مدارس عربیہ کا جال بچھا کر میکالے وائسرائے ہند کے چیلنج کو قبول کیا اور مدارس عربیہ کو انگریز کے خلاف دفاعی قلعوں کی حیثیت دے دی۔ تقسیم ملک کے بعد انہی اکابر کے نام لیوا جب جنگ آزادی سے فارغ ہوئے تو مولانا محمد علی، قاضی احسان احمد، مولانا لال حسین اختر اور ان کے جاں باز ساتھیوں نے حضرت امیر شریعت کی قیادت میں مفت تبلیغ دین کا بیڑا اٹھایا اور اس میں سو فیصد کامیاب ہوئے۔ تبلیغ اسلام، تردید مرزائیت، مخالفین ختم نبوت کے ساتھ مناظرے کے لئے ملک کے کسی بھی حصے سے دس پیسے کا خط لکھ دینا ہی کافی ہے۔ خطیب، لبیب، مناظر بے مثل، کا از خود پہنچ جانا ضروری ہے۔

جماعت کو مضبوط کرنے اور اس عمارت کو سر بفلک پہنچانے کے لئے حضرت امیر شریعت کی قیادت میں سب ساتھیوں نے بے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۰۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مثل خلوص و ایثار کا ثبوت دیا۔ اگر ایک طرف مولانا لال حسین اختر، مولانا عبد الرحمن میانوی، مولانا محمد حیات، مولانا محمد شریف بہاول پوری ایسے کہنہ مشق خطیب اور مناظرین نے معمولی قوت لایموت پر اپنی خدمات تادم واپسیں وقف کر دیں تو دوسری طرف مولانا عبد الرحیم اشعر ، مولانا غلام محمد ، مولانا قاضی اللہ یار ، مولانا خلیل الرحمن اور مولانا سید منظور احمد شاہ ایسے نوجوان فضلاء کرام نے نہایت معمولی قوت لایموت حاصل کر کے اپنے بزرگوں کا ساتھ دیا۔ یہ آگے چل کر ہم نئے نوجوان مبلغین کی ایک مخلص جماعت جو مجلس کے کام کو آگے بڑھانے کے لئے دن رات کوشاں ہے، کی مکمل فہرست عرض کریں گے۔ لیکن ان سب میں مولانا محمد علی صاحب کا مزاج اور کام سراسر نرالا تھا۔ مولانا مرحوم صاحب جائیداد تھے۔ جب جائیداد اولاد میں تقسیم کر کے فارغ ہوئے تو جماعت سے مشاہرہ لینا بند کر دیا۔ بارہا ایسا بھی ہوا کہ سردیوں کا موسم بھاری بھر کم بستر ہمراہ ہے۔ کتابوں اور ضروریات کی اشیاء کا بکس بھی ہے۔ ریل سے اترتے ہیں۔ قلی نہیں کرتے۔ خود ہی سامان اٹھا کر تانگہ سٹینڈ تک لاتے ہیں اور دعا جاری ہے کہ : ”اللہ میاں جو پیسے قلی کو دینے تھے وہ میری طرف سے مجلس تحفظ ختم نبوت کا چندہ قبول فرما۔“

تقسیم ملک سے قبل مولانا مرحوم جیل میں تھے کہ دو بھائی فوت ہو گئے اور ایک بھائی تقسیم کے بعد فوت ہوئے۔ اتنے بڑے کنبے میں تنہا رہ گئے۔ لیکن صلہ رحمی کا یہ حال تھا کہ اپنی اولاد کے ساتھ ساتھ مرحوم بھائیوں کی اولاد کے لئے بھی باعث شفقت ورحمت تھے اور ان کی ہر ضرورت کو اولاد کے حقوق کی طرح ضروری خیال فرماتے رہے۔ لیکن اس کے باوجود جماعت کے کام کو ہر کام پر ترجیح دیتے تھے۔

حضرت مولانا کے خلوص، کفایت شعاری ، سادگی اور ساتھیوں کی مخلصانہ رفاقت سے کروڑوں روپے سالانہ بجٹ اور بے پناہ ذرائع آمدن رکھنے والی قادیانی جماعت کے مقابلہ میں ایک لاکھ سالانہ بجٹ اور غریب ساتھیوں کے تعاون اور مخیر حضرات کی مالی امداد سے کامیابی حاصل کی ۔ مفت تبلیغ کا انتظام خوب سے خوب تر قائم ہوا۔ مرزائی مناظر جو آئے دن اہل اسلام کو مناظرے کا چیلنج کیا کرتے تھے ایسے دم دبا کر ربوہ کی طرف بھاگے کہ اب ملک کے کسی گوشہ میں مرزائیوں میں مناظرے کے چیلنج کی سکت باقی نہیں رہی بلکہ مبلغین ختم نبوت کی یلغار کے سامنے بے بس ہیں۔ شبانہ روز محنت سے مسئلہ ختم نبوت کی ایسی تبلیغ فرمائی کہ ان شاء اللہ العزیز ملک بھر میں کسی پہاڑ کی غار صحراء کی جھونپڑی، شہروں کی متمدن آبادی میں کوئی شخص دعوئی نبوت کی جرأت نہیں کر سکتا۔ جماعت کے مبلغین نے مرزائیت کا ہر میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کے ہر مکروفریب اور ملک وملت کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنادیا اور ہر ناپاک کوشش کو طشت از بام کر کے حکام اور حکومت کو بروقت آگاہ کیا۔ بلاشبہ حضرت مولانا جالندھری ہر دور میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے روح رواں رہے ہیں۔ خواہ نظامت اعلیٰ کا دور ہو خواہ عہد امارت۔

کار کردگی ۱۳۹۱ھ، مطابق ۱۹۷۱ء

گزشتہ سال بالغ رائے دہندگی کی بنیاد پر ملک میں عام انتخابات ہوئے۔ مولانا جالندھری کی معیت میں مبلغین نے ہر مرزائی امیدوار کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور مسلمانوں کو مرزائی امیدواروں کے دجل وفریب سے آگاہ کیا اور اس کے نتائج بد سے بھی خبردار کیا۔ جونہی مرکز اور صوبوں میں صدارت گورنر اور وزارتوں کے قیام کی اطلاع ملی۔ حضرت مولانا نے اراکین اسمبلی صدر محترم اور وزراء کو مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت سمجھانے کے لئے فوراً مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب اختر سے اس موضوع پر ایک کتابچہ مرتب کرنے کے متعلق ارشاد فرمایا۔ چنانچہ حضرت مناظر اسلام نے مولانا تاج محمود صاحب لائل پوری ، مولانا عبد الرحیم صاحب کی اعانت سے ”قادیانی مذہب

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۰۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۴۰۵ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

وسیاست‘‘ کے نام سے ایک کتابچہ مرتب کیا۔ (جو احتساب قادیانیت کی جلد ۱۶ میں شامل ہے)

حضرت مولانا نے اردو، انگریزی اور بنگالی میں اشاعت کا انتظام کیا۔ اردو اور انگریزی میں رسالہ کی طباعت ہو کر اراکین اسمبلی کو بھیجا جا چکا تھا کہ حضرت اقدس اتمام حجت کے بعد ۲۴؍ صفر ۱۳۹۱ھ، مطابق ۲۱؍ اپریل ۱۹۷۱ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ جماعت کے بانی مخلص رہنما اور عاشق ختم نبوت نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر میں ہی اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کی۔ دفتر سے ہی جنازہ اٹھا۔ قاسم باغ میں نماز جنازہ ادا ہوئی۔ تقریباً ایک لاکھ افراد نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔ کراچی سے پشاور تک کے علماء وعوام نے جنازہ میں شرکت فرمائی اور حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب زراعتی فارم ساہیوال خلیفہ مجاز حضرت رائے پوری نے نماز جنازہ پڑھائی۔ اللہ تعالیٰ حضرت کے مدارج میں ترقی عطاء فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!

امیر ثالث مرحوم کی رحلت کے بعد ۲؍ ربیع الاول ۱۳۹۱ھ، مطابق ۲۸؍ اپریل ۱۹۷۱ء کو مجلس شوریٰ کا اجلاس ہوا جو مرحوم کا خود طلب کردہ تھا۔ مجلس شوریٰ نے دستور کی دفعہ ۶ ضمن ۴ کے تحت مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر کو ۶ ماہ کے لئے عارضی امیر نامزد کیا۔ جس کی توثیق جنرل کونسل کے عام اجلاس منعقدہ ۱۱، ۱۲؍ شعبان ۱۳۹۱ھ، مطابق ۲، ۳؍ اکتوبر ۱۹۷۱ء بہاول پور میں عام اراکین نے باتفاق کی۔

چنانچہ حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر ۱۲؍ شعبان ۱۳۹۱ھ کو بحیثیت امیر رابع مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان مسند امارت پر جلوہ افروز ہوئے۔ حضرت امیر رابع، جماعت کے گرم وسرد چشیدہ تجربہ کار رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ سابقہ امراء کے عہد امارت میں مشیر خصوصی رہے ہیں۔ غیر ممالک کا دورہ کر چکے ہیں۔ رد مرزائیت کے فن کے امام ہیں۔

اب قافلہ تحفظ ختم نبوت مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر امیر رابع کی قیادت میں رواں دواں ہے۔

دفتر جابہ

مرزائیوں نے وادی سون سکیسر میں مرزائی خلیفہ بشیر الدین محمود کے لئے النخلہ کے نام سے گرمائی ہیڈ کوارٹر تعمیر کیا۔ اس کو ایئر کنڈیشنڈ بنانے کے لئے جنریٹر لگائے۔ اس کی تعمیر اور آرائش و زیبائش پر لاکھوں روپے صرف کئے۔ تیار شدہ ہیڈ کوارٹر میں دو ایک گرمیاں ہی گزاری تھیں کہ کپتان غلام محمد صاحب اور حافظ نجیب الدین صاحب آف انگہ نے حضرت امیر شریعت مرحوم کو اس کی اطلاع دی۔ حضرت وہاں تشریف لے گئے۔ سرگودھا روڈ پر کھلے میدان میں جلسہ کیا۔ تردید فتنہ مرزائیت کے متعلق جلسہ کی کارروائی سے متاثر ہو کر ملک اللہ وسایا صاحب نے دو کنال اراضی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام پر وقف کر دی۔ ’’اللہ تعالیٰ ان کو سعادت دارین عطاء فرمائے۔‘‘

مجلس کے مبلغین کی یلغار اور علاقہ کے غیور مسلمانوں سے مرعوب ہو کر مرزائی تو ’’فاما الزبد فیذھب جفاء‘‘ کے ابدی اصول کے تحت النخلہ کو کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ کر ربوہ واپس پہنچ گئے اور ’’کانھم اعجاز نخل خاویۃ‘‘ کا منظر پیش کرتے ہیں۔ لیکن جماعت کا کام بحمد اللہ! ’’واما ما ینفع الناس فیمکث فی الارض‘‘ کے ربانی ارشاد کے مطابق جاری بلکہ ترقی پذیر ہے۔ امسال مبلغ تین ہزار روپے کے صرف سے اس دو کنال اراضی کے گرد چار دیواری اور کمروں کی تعمیر ہوئی۔ مدرسہ تعلیم القرآن کا اجراء اور حافظ محمد حیات صاحب انگوی مدرس مقرر ہوئے۔ ان شاء اللہ! آئندہ سال عظیم الشان مسجد کا سنگ بنیاد رکھنے کی تجویز زیر غور ہے اور مدرسہ میں بیرونی طلباء کی تعلیم کا انتظام بھی کیا جائے گا۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۰۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گو جابہ کے دفتر اور مدرسہ کی تعمیر اور مدرسہ کے اخراجات جماعت برداشت کرتی ہے۔ لیکن حضرت مولانا فضل احمد صاحب تلہ گنگ اور حضرت مولانا قاضی محمد رضا صاحب نلی مقامی طور پر اس ادارہ کی سرپرستی اور نگرانی فرماتے ہیں۔ یہ سب اللہ کریم کی عنایات اور ساتھیوں کی انتھک محنت وخلوص اور علاقہ کے علماء اور عوام کے تعاون کے برکات ہیں۔

دو اشتہارات کی اشاعت

اس سال نہ صرف پاکستان بلکہ پورا عالم اسلام سقوط مشرقی پاکستان کے اندوہ ناک سانحہ سے متاثر ہوا۔ دشمنان اسلام کامیاب ہوئے اور پاکستان اپنے نصف سے زائد حصہ سے محروم ہو گیا تو جماعت نے احساس ذمہ داری کے تحت ایک اشتہار بعنوان: ’’موجودہ بحران کا ذمہ دار کون؟‘‘ دس ہزار کی تعداد میں طبع کرا کے تقسیم کیا۔ پھر دوسرا اشتہار بعنوان: ’’عوام کی حکومت سے عوام کا مطالبہ‘‘ پندرہ ہزار کی تعداد میں پورے ملک میں تقسیم کیا کہ المیہ سقوط مشرقی پاکستان میں صدر کے مشیر ایم۔ ایم۔ احمد (مرزائی) بھی صدر یحییٰ اور اس کے جنرلوں کے برابر کے شریک ہیں۔ پھر جب صدر پاکستان جناب ذوالفقار علی صاحب بھٹو نے سانحہ مشرقی پاکستان کی تحقیقات کے لئے حمود الرحمن کمیشن مقرر کیا اور کمیشن کے چیئرمین جناب حمود الرحمن نے اعلان کیا کہ جن لوگوں کے پاس سقوط مشرقی پاکستان کے متعلق کوئی معلومات ہوں وہ تحریر کر کے کمیشن میں پیش کریں تو اس پر مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر امیر مرکزیہ نے ایک درخواست ان کے دفتر واقعہ ہائیکورٹ لاہور میں رجسٹرڈ کرائی۔ جس میں عرض کیا تھا کہ: ’’ہمارے پاس اس بات کے دلائل اور تحریری ثبوت موجود ہیں کہ سقوط مشرقی پاکستان کے المناک حادثہ میں سابق صدر یحییٰ اور اس کے جنرلوں کے علاوہ مرزائی جماعت بالخصوص ایم۔ ایم۔ احمد بھی برابر کے شریک ہیں۔‘‘ لیکن افسوس حمود الرحمن کمیشن پر حکومت نے توجہ نہیں کی بلکہ مسلمانوں کی بے حسی اور مرزائی اثر ورسوخ کا شکار ہو کر رہ گئی۔

اس سال حسب معمول مبلغین کی تربیت کے لئے ’’دارالمبلغین‘‘ کا اجراء ہوا جو چار ماہ تک جاری رہا اور اس میں فارغ التحصیل علماء کرام نے داخلہ لیا اور نصاب ختم کر کے فارغ ہوئے اور ان کے تمام اخراجات جماعت نے برداشت کئے۔ نیز امسال کانفرنسوں اور جلسوں کے علاوہ بڑے بڑے شہروں (گوجرانوالہ، سیالکوٹ، کھاریاں، اسلام آباد، راولپنڈی، ساہیوال) میں مقامی طور پر تربیت گاہیں قائم کی گئیں۔ جن میں مقامی علماء کرام اور دینی مدارس کے طلباء بھاری تعداد میں شریک ہوئے اور فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحب نے ضعف پیری کے باوجود ہر تربیت گاہ میں حسب ضرورت قیام کر کے مسئلہ ختم نبوت، حیات مسیح علیہ السلام اور کذبات مرزا سے کما حقہ آگاہ فرمایا اور اپنے پچاس سالہ معلومات سے عوام و خواص کو آگاہ کیا اور طلباء کو مذکورہ بالا مسائل پر مکمل تیاری کروائی۔

(مقدمہ روئیداد ۱۳۹۱ھ ص ۲ تا ۳۴)

ایبٹ آباد فوجی چھاؤنی اور مرزائی

قادیانی، وطن عزیز کے اہم شہروں میں قادیانی آبادیاں قائم کرنے کے لئے جس انداز میں سوچتے، منصوبہ بندی کرتے اور اس کی تلاش کرتے ہیں۔ اس کا اندازہ ایبٹ آباد کے چھوٹے ربوہ کی تعمیر کے پس منظر سے کیا جاسکتا ہے۔ چھوٹا ربوہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے نزدیک قائم کیا جارہا ہے اور اس منصوبہ کی ابتداء ۶۹-۱۹۶۸ء میں اس وقت ہوئی جب ایک بااثر قادیانی افسر عبدالجلیل ایبٹ آباد چھاؤنی کا چیف ایگزیکٹو افسر تھا۔ ان دنوں ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد عبدالسلام زیدی یہ مردان کا قادیانی تھا۔ ۷؍ جون ۱۹۶۲ء میں ایک خصوصی آرڈیننس کے تحت بعض علاقوں کو ایبٹ آباد چھاؤنی میں شامل کرتے ہوئے ایبٹ آباد جوائنٹ کنٹونمنٹ بورڈ قائم ہوا اور ان نئے علاقوں کی ترقی وتعمیر کی ذمہ داری ایبٹ آباد کنٹونمنٹ بورڈ پر ڈالی گئی۔ ترقیاتی بورڈ نے اپنا پہلا تعمیراتی منصوبہ جناح ٹاؤن شپ سکیم کی صورت میں

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۰۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تیار کیا۔ یہ سکیم ٹوبہ کیمپ سے متصل اور کئی سو کنال رقبہ پر مشتمل تھی۔ یہ سارا رقبہ ملکیت میں تھا۔ چنانچہ اسے لینڈ ایکوزیشن کے مجریہ ۱۸۹۴ء کے تحت حاصل کر لیا گیا۔ اس کے معاوضہ کے طور پر مبلغ ۱۲۰۰، ۳۲، ۳۵ روپے مالکان کو ادا کئے گئے۔ اس کے لئے مرکزی حکومت سے ۳۵ لاکھ روپے کا قرضہ لیا گیا تھا۔ یہ ہاؤسنگ سکیم ۴۴۰ رہائشی پلاٹوں پر مشتمل تھی اور ان کی الاٹمنٹ کے لئے بورڈ نے First Come First Serve کا طریقہ طے کیا تھا۔ لیکن مسٹر عبدالجلیل نے جو ۶۹-۱۹۶۸ء میں ایبٹ آباد کے چیف ایگزیکٹو افسر اور ترقیاتی بورڈ کے سیکرٹری تھے قادیانی سول اور فوجی افسروں سے مل کر الاٹمنٹ کا ایسا طریقہ اختیار کیا کہ قادیانی کمیونٹی نے ۴۴ پلاٹ حاصل کر لئے۔ بعد ازاں وہ چھ پلاٹ حاصل کر لئے گئے جو شروع میں بوگس ناموں پر الاٹ کئے گئے تھے۔ اگر ماسٹر پلان اور موقعہ کا ملاحظہ کیا جائے تو انکشاف ہوگا کہ ان ۵۰ پلاٹوں میں سے ۲۷ ایک دوسرے سے متصل تھے۔ جب کہ ۲۳ پلاٹ پوری کالونی میں پھیلے ہوئے تھے۔ ذیل میں پلاٹوں اور ان الاٹیوں کی فہرست دی جا رہی ہے۔ جن سے اندازہ ہو سکتا ہے مسٹر جلیل نے الاٹمنٹ چھوٹے ربوہ کے قیام اور پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے متصل قادیانی مشنری سنٹر کے اجراء میں کیا کردار ادا کیا ہے؟

چھوٹے ربوہ کے قیام کے سلسلہ میں مسٹر جلیل کے خلاف تحقیقات ہوئی۔ مگر اس پر کوئی کارروائی نہ کی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالعلی ملک اور بعض دوسرے اعلیٰ افسروں نے اس معاملہ میں مداخلت کر کے مسٹر جلیل کو سزایابی سے بچالیا۔ چنانچہ مسٹر جلیل ڈپٹی ڈائریکٹر ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹس راولپنڈی ریجن کے بااثر عہدے پر فائز ہے اور حسب ذیل قادیانی افسر اس کی براہ راست نگرانی میں کام کرتے رہے۔

مزید برآں اس کی سفارش پر آٹھ ماہ کی ملازمت کے حامل نہایت جونیئر افسر مسٹر الطاف احمد کو ملٹری اسٹیٹ افسر راولپنڈی ریجن مقرر کیا گیا۔ مسٹر جلیل خان کا بیان ہے کہ یہ تعیناتی کوارٹر ماسٹر جنرل اور سیکرٹری دفاع جنرل فضل مقیم خان کی پیشگی منظوری سے کی گئی۔

مسٹر جلیل نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ایک قادیانی افسر مسٹر محمود کی مدد سے ڈائریکٹر ملٹری لینڈز کے دفتر سے مسٹر احسان الحق اے. ڈی. سی کو تبدیل کرا دیا تاکہ اس کی جگہ کسی قادیانی کو تعینات کیا جاسکے اور اس کے لئے اس کی نظر میں غالباً مسٹر یحییٰ خضر یا مسٹر اعجاز بھی تھے اور یوں وہ ملٹری اینڈ کنٹونمنٹس کے دفتر کو قادیانی مرکز میں تبدیل کر رہا تھا۔ مسٹر درانی ڈائریکٹر ملٹری لینڈز آج کل بیرون ملک تربیت پر گئے ہوئے تھے اور مسٹر جلیل ان دنوں محکمے میں اثر و رسوخ پیدا کرنے میں مصروف تھے۔ مسٹر جلیل نے ڈپٹی ڈائریکٹر ہوتے ہی چیف ایگزیکٹو افسر ایبٹ آباد کو ہدایت کی کہ جناح ٹاؤن میں قادیانیوں کو تعمیر کی اجازت دے دی جائے۔ چنانچہ تعمیر پر جو پابندی تھی وہ ختم کر دی گئی۔ کنٹونمنٹ بورڈ ایبٹ آباد کے دفتر میں جو نقشہ موجود ہے اس کے مطابق پلاٹ نمبر ۴۶، ۴۷ اور ۴۸ کا تعمیراتی منصوبہ حسب ذیل ہے۔

پلاٹ نمبر رقبہ (مربع گز میں) مالک کا نام ۴۶ ۱۲۰۸ ء۸۹ صدر انجمن احمدیہ ربوہ پاکستان

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۰۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۴۷ ۱۲۰۸ ء۸۹ صدر انجمن احمدیہ ربوہ پاکستان ۴۸ ۱۲۰۸ ء۸۹ مسماۃ منصورہ بیگم زوجہ مرزا ناصر احمد

اس تفصیل سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ محولہ بالا عمارتیں واقعتاً رہائشی عمارتیں نہیں تھیں۔ چنانچہ جوائنٹ ڈویلپمنٹ بورڈ بیع نامہ کی شق ۱۶؍ اور شق ۸ (الف) کے تحت (دس فیصد کم قیمت پر اس زمین کو واپس لینے کا مجاز تھا اور اس پر جو تعمیر ہوئی تھی اس کا کوئی معاوضہ ادا نہیں کرنا پڑا تھا)

مسٹر جلیل روزانہ پاکستان سیکرٹریٹ نمبر: ۱، اور نمبر: ۲ کا چکر لگاتے اور اس کوشش میں مصروف رہتے کہ مسٹر درانی کو واپسی پر جوائنٹ سیکرٹری مقرر کر دیا جائے تاکہ مسٹر جلیل ڈائریکٹر ملٹری لینڈز کے عہدہ پر ترقی پاسکیں اور اس طرح کنٹونمنٹ بورڈ اور ملٹری لینڈز و کنٹونمنٹس کے دفاتر، کنٹونمنٹ بورڈ کے سکولوں اور ہسپتالوں میں قادیانیوں کے مفادات کا تحفظ کیا جاسکے۔ مری میں قادیانیوں کے ایک خفیہ اجلاس میں اس نے اپنے منصوبہ پر اپنے ہم خیالوں سے تبادلہ خیال بھی کیا۔ مرزائیوں کو جو پلاٹ الاٹ ہوئے اس کی تفصیل یہ ہے:

پلاٹ نمبر رقبہ (مربع گز میں) الاٹی کا نام و پتہ ۱۰ ۱۸۱۶ ء۶۷ مسٹر شاہنواز، معرفت شاہنواز لمیٹڈ راولپنڈی ۱۲ ۱۸۱۶ ء۶۷ مسماۃ ماجدہ بیگم معرفت شاہنواز لمیٹڈ راولپنڈی ۱۳ ۱۸۵۹ ء۰۰ مرزا فرید احمد ربوہ ۱۹ ۱۳۸۱ ء۱۱ کلیم اللہ شاہ معرفت شاہ نواز لمیٹڈ راولپنڈی ۲۷ ۶۱۰ ء۰۰ امت المنان قمر نصرت گرلز ہائی سکول ربوہ ۳۲ ۱۲۰۸ ء۸۹ چوہدری مشتاق احمد باجوہ احمدیہ مشن زیورخ ۳۵ ۱۲۰۸ ء۸۹ کیپٹن سیفی چوہدری، شیزان انٹرنیشنل لمیٹڈ بندر روڈ لاہور ۳۶ ۱۲۰۸ ء۸۹ مسماۃ صادقہ بیگم دختر شیخ عبدالرحیم ۲۰۲ جناح کالونی لائل پور ۳۷ ۱۱۹۱ ء۱۱ ڈاکٹر مسز رفعت آراء احمد، ۹۷-ایف ماڈل ٹاؤن لاہور ۳۸ ۱۹۲۱ ء۷۸ مسٹر اے ڈی احمد منیجنگ ڈائریکٹر پان اسلامک سٹیم شپ کراچی ۴۱ ۱۲۰۸ ء۸۹ زبیر احمد چوہدری ماڈرن موٹرز لمیٹڈ کراچی ۴۲ ۱۲۰۸ ء۸۹ آصف احمد چوہدری، ماڈرن موٹرز لمیٹڈ کراچی ۴۳ ۱۲۰۸ ء۸۹ جاوید احمد چوہدری ماڈرن موٹرز لمیٹڈ کراچی ۴۵ ۱۲۰۸ ء۸۹ چوہدری بشیر احمد موٹرز لمیٹڈ کراچی ۴۶ ۱۲۰۸ ء۸۹ صدر انجمن احمدیہ ۴۷ ۱۲۰۸ ء۸۹ صدر انجمن احمدیہ ربوہ پاکستان ۴۸ ۱۲۰۸ ء۸۹ مسماۃ منصورہ بیگم معرفت مرزا ناصر احمد ربوہ ۴۹ ۱۶۱۶ ء۸۹ ایچ ایم ناصر احمد ربوہ

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۰۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۵۰ ۸۹ء ۱۲۰۸ نوابزادہ مسعود احمد خان ربوہ ۵۱ ۸۹ء ۱۲۰۸ ونگ کمانڈر سید محمود احمد معرفت شیزان انٹرنیشنل ۵۲ ۸۹ء ۱۲۰۸ مرزا مبارک احمد ربوہ ۵۳ ۸۹ء ۱۲۰۸ مسماۃ قدسیہ بیگم ربوہ ۵۴ ۸۹ء ۱۲۰۸ مسٹر غلام یسین معرفت مسٹر غلام محمد مکان نمبر ۱۱۱، منصف بلڈنگ چنیوٹ ۵۵ ۸۹ء ۱۲۰۸ محمد عبداللہ، عبداللہ کلاتھ ہاؤس لائل پور ۵۶ ۸۹ء ۱۲۰۸ حمید اللہ شریف اللہ پسران محمد عبداللہ، عبداللہ کلاتھ ہاؤس لائل پور ۵۹ ۶۴ء ۱۶۱۱ مساۃ بدر بیگم معرفت شاہنواز لمیٹڈ راولپنڈی ۷۹ ۰۰ء ۱۱۴۱ عماد مصطفیٰ، صفیہ بیگم، مصطفیٰ پارک اوکاڑہ ۸۷ ۸۹ء ۱۲۰۸ کرنل انوار احمد تمغہ پاکستان اصغر مال راولپنڈی ۹۱ ۸۹ء ۱۲۲۹ محمد اسحق قریشی ماڈرن موٹرز کراچی ۱۰۳ ۰۰ء ۶۰۰ ملک محمد عبداللہ ریزیڈنٹ انجینئر مکان نمبر ۸۹-بی لیاقت آباد راولپنڈی ۱۰۷ ۰۰ء ۵۹۵۱ میجر اے. کے باجوہ زونل منیجر خیبر انڈسٹریز کمپنی لمیٹڈ لاہور ۱۴۱ ۰۰ء ۶۰۰ محمد ابراہیم خان پولیس انسپکٹر (ریٹائرڈ) پیپلز پارٹی کالونی نمبر ۲ لائل پور ۱۸۹ ۴۴ء ۱۳۴۴ ایم. ایم احمد راولپنڈی ۲۱۱ ۳۲ء ۳۹۳ چوہدری محمد دین ایڈووکیٹ اوکاڑہ ۲۱۲ ۳۳ء ۵۷۳ چوہدری محمد سلطان اکبر تعلیم الاسلام کالج ربوہ ۲۱۳ ۰۰ء ۵۶۰ قاضی عبدالحمید اسلام، ۲۱۳ صدر بازار اوکاڑہ ۲۴۰ ۳۳ء ۶۰۴ محمد احمد ثاقب موضع بھینی ڈاکخانہ شرقپور ۲۴۷ ۴۴ء ۶۰۰ ڈاکٹر بشیر احمد خان معرفت مسٹر عبدالقدوس خان سعید آباد پشاور یونیورسٹی ۲۶۹ ۰۰ء ۵۹۰ بیگم عذرا ظفر معرفت چوہدری مسعود احمد باجوہ، ۶۰-ایف بلاک اوکاڑہ ۲۷۰ ۰۰ء ۵۹۰ بیگم ثریا مسعود معرفت چوہدری مسعود احمد باجوہ، ۶۰-ایف بلاک اوکاڑہ ۲۷۱ ۰۰ء ۵۹۰ حبیبہ منظور زوجہ چوہدری منظور بسرا ایڈمنسٹریٹر سول جج شیخوپورہ ۲۷۲ ۰۰ء ۵۹۰ مس خورشید اسماعیل معرفت مس انجمن آراء بیگم جونیئر سکول لارنس کالج گھوڑا گلی ۲۷۳ ۰۰ء ۵۹۰ مس انجمن آراء بیگ لارنس کالج گھوڑا گلی ۳۰۶ ۸۹ء ۸۸۴ چوہدری مسعود احمد باجوہ، ۶۰-ایف بلاک اوکاڑہ ۳۱۸ ۰۰ء ۶۰۰ مسماۃ صالحہ بیگم معرفت ڈاکٹر سعید احمد دارالسعید ایبٹ آباد ۳۱۹ ۰۰ء ۶۰۰ مسٹر مسرور احمد خاں معرفت ڈاکٹر سعید احمد ایبٹ آباد

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ 410

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۳۵۸ ۶۰۰ ء ۵۶۴ مسماۃ صفیہ بیگم معرفت ڈاکٹر علی بہادر خان ممتاز ہسپتال اوکاڑہ ۳۰۹ ۶۰۰ ء ۵۶۴ مسز علی احمد خان معرفت میجر علی احمد خان سٹاف کالج کوئٹہ ۳۶۴ ۶۰۰ ء ۵۸۸ مسٹر محمود احمد معرفت محمود احمد اینڈ سنز جناح روڈ کوئٹہ

۱۹۶۹ء میں تعمیر کا آغاز کرنا تھا۔ لیکن ۱۹۶۸ء کے آخر میں ایوب آمریت کے خلاف جدوجہد گہما گہمی کی وجہ سے اس منصوبہ پر عمل نہ ہوسکا۔ ۱۹۶۹ء اور ۱۹۷۰ء بھی ایسے ہی گزرے۔ ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان میں فوجی اقدام کی وجہ سے حالات راس نہ آئے۔ حتیٰ کہ ۱۹۷۲ء میں سازگار ماحول نصیب ہوا۔ چنانچہ تعمیر شروع ہوئی۔ کچھ بنگلے تعمیر ہوگئے اور کچھ زیرتعمیر تھے کہ جولائی اگست ۱۹۷۲ء میں قادیانی خلیفہ مرزا ناصر قصر خلافت کی سنگ بنیاد رکھنے کے لئے ایبٹ آباد آئے۔ اس آمد پر راز فاش ہوا۔ ورنہ اس سے قبل لوگوں کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ یہاں کیا بن رہا ہے؟

قادیانی سازش کا انکشاف

جب ۱۴؍اگست ۱۹۷۲ء کو ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد میں شرکت کے لئے مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان تشریف لے گئے تو اس دوران ایک ذمہ دار دوست نے مولانا کو اس سازش کے متعلق بتایا۔ جس کی تحقیق کے لئے حضرت امیر مرکزیہ نے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ناظم امور عامہ مولانا محمد شریف جالندھری جو ان دنوں اسلام آباد میں تھے، کو ایبٹ آباد بھیج دیا۔ جہاں انہوں نے اس گرمائی ربوہ کا جا کر بذات خود پہلی دفعہ معائنہ کیا۔ جماعتی دوستوں کی میٹنگ ہوئی۔ جس میں اس سازش کے تمام پہلوؤں کا بغور مطالعہ کیا گیا۔ طے پایا کہ ۱۸؍اگست ۱۹۷۲ء جمعہ کے روز حضرت امیر مرکزیہ مولانا لال حسین اختر ایبٹ آباد تشریف لائیں تاکہ ان کی ہدایات اور سرپرستی میں اس سازش کو ناکام کرنے کے لئے مؤثر اقدام اٹھایا جائے۔

ایبٹ آباد میں مولانا لال حسین کی آمد

حسب پروگرام ۱۸؍اگست ۱۹۷۲ء کو حضرت امیر مرکزیہ تشریف لے گئے۔ ایبٹ آباد میں جماعتی دوستوں نے آپ کا استقبال کیا۔ جامع مسجد الیاسی ملٹری اکیڈمی میں قبل از جمعہ اور بعد از جمعہ آپ نے ولولہ انگیز خطاب عام فرمایا۔ جس میں قادیانیوں کی دوسری ملک دشمن اور اسلام دشمن سازشوں کے علاوہ ایبٹ آباد میں گرمائی ربوہ کی تعمیر کا بھی انکشاف کیا۔ مولانا نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ اس گرمائی ربوہ میں حضور سرور کائنات ﷺ کی ختم نبوت کے خلاف سازشیں کی جائیں گی۔ تمہارے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کے منصوبے بنائے جائیں گے۔ لہٰذا میں آپ سے خدا اور رسول ﷺ کے نام پر اپیل کرتا ہوں کہ یہاں کسی قیمت پر گرمائی ربوہ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دو۔ آپ کی ایمان افروز تقریر سننے کے بعد ایبٹ آباد کے عوام سڑکوں پر نکل آئے اور اپنی سرزمین پر ربوہ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

ختم نبوت کمیٹی کا قیام

تقریر کے بعد امیر مرکزیہ مولانا لال حسین اختر کی زیر صدارت ایبٹ آباد کے سرکردہ افراد کی میٹنگ ہوئی۔ جس میں ختم نبوت کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کمیٹی نے حضرت مولانا لال حسین اختر سے گزارش کی کہ آپ آئندہ جمعہ کو پھر دوبارہ تشریف لائیں۔ حضرت نے وعدہ فرمایا اور حسب پروگرام ۲۵؍اگست ۱۹۷۲ء کے جمعہ پر وہاں تشریف لے گئے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۱۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ایبٹ آباد میں جلسہ اور جلوس

۲۵؍ اگست ۱۹۷۴ء کے جمعہ پر اسلامیان ایبٹ آباد کے اتفاق و اتحاد کا منظر قابل دید تھا۔ سارے شہر کی مساجد کے خطیبوں نے جمعۃ المبارک کی چھٹی کر کے شہر کی سب سے بڑی عید گاہ میں مولانا لال حسین اختر کی امامت میں جمعہ پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ بیس ہزار کا اجتماع تھا۔ جس سے حضرت امیر مولانا لال حسین اختر نے خطاب فرمایا۔ اس گرمائی ربوہ کے ذریعہ آئندہ رونما ہونے والی خوفناک اور ہولناک تباہیوں کا خاکہ پیش فرمایا۔ کیونکہ حیرت انگیز طور پر گرمائی ربوہ کے لئے پاکستان ملٹری اکیڈمی کے قریب جگہ کا تعین کیا گیا تھا۔ بعد از نماز جمعہ عید گاہ سے ایک عظیم جلوس نکلا جس کی قیادت مولانا لال حسین اختر نے فرمائی۔ یہ جلوس کیا تھا، اس گرمائی ربوہ کو ایک کھلا چیلنج تھا۔ اس کے خلاف بغاوت تھی، مکمل اظہار نفرت تھا۔ پندرہ پندرہ میل سے عوام کے ہجوم شمع رسالت ﷺ کے پروانے بن کر اس جلوس میں شریک تھے۔ ہزارے کے غیور مسلمان آج بیدار تھے۔ وہ تخت یا تختہ کا فیصلہ کر کے گھر سے نکلے تھے۔ جلوس کا رخ یہ بتا رہا تھا کہ آج ہم سب کچھ قربان کر سکتے ہیں۔ مگر یہاں ربوہ ثانی نہیں بننے دیں گے۔ انتظامیہ حواس باختہ اور ہراساں تھی۔ یہی وہ موقع تھا۔ وکلاء جن کی قیادت کہنہ مشق وکیل جناب الحاج سردار بہادر خان صدر بار ایسوسی ایشن اور ماہر قانون جناب غلام مصطفیٰ کر رہے تھے۔ میدان میں نکلے اور علماء کے دوش بدوش چلنے کا عملی مظاہرہ کیا۔ ان کی شمولیت نے اس عوامی جدوجہد اور عوامی تحریک کو ایک منظم آئینی تحریک کی شکل دے دی تھی۔ لیکن با ایں ہمہ مشتعل جلوس نے مرزائی تعمیرات کو پیوند خاک کر دیا۔

جلوس شہر کے مختلف بازاروں سے گزرتا ہوا جناب ڈپٹی کمشنر کے دفتر پہنچا۔ جناب ڈپٹی کمشنر نے جلوس سے خطاب کیا اور ان کو یقین دلایا کہ میں نے دفعہ ۱۴۴ نافذ کر کے تعمیرات پر پابندی عائد کر دی ہے اور آپ کے جذبات صوبائی حکومت اور مرکزی حکومت تک پہنچا دوں گا۔ اس یقین دہانی پر مولانا لال حسین اختر نے جلوس کو منتشر ہونے کا حکم دے دیا۔ الحمد للہ! جلسہ اور جلوس پر امن اور کامیاب رہا۔ مولانا لال حسین اختر کی دوسرے دن پنجاب واپسی تھی۔ چنانچہ آپ نے مولانا قاضی محمد نواز صاحب خطیب جامع مسجد الیاسی، مولانا محمد ایوب الرحمٰن، مولانا شفیق الرحمٰن کیہال اور دوسرے دوستوں کو ہدایات دیں۔ آئندہ کا لائحہ عمل وضع کر کے دیا اور روانہ ہو گئے۔ طلباء، تاجر، دکاندار، مزدور غرض کہ ہر طبقہ میدان میں اتر چکا تھا۔ مگر چونکہ تحریک کی قیادت محفوظ ہاتھوں میں تھی۔ اس لئے تحریک پر امن رہی۔

وفد کی مولانا مفتی محمود وزیر اعلیٰ صوبہ سرحد سے ملاقات

مولانا لال حسین اختر نے روانگی کے وقت دوستوں کو مشورہ دیا تھا کہ نمائندہ وفد تیار کر کے مرکزی وزیر داخلہ اور صوبائی گورنمنٹ سے ملاقات کی جائے۔ چنانچہ ۳؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو ایک نمائندہ وفد پاسبان ختم نبوت قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی اعظم مفتی محمود وزیر اعلیٰ صوبہ سرحد سے ملا اور ساری پوزیشن عرض کی۔ حضرت مفتی صاحب مرحوم نے اس وقت ڈپٹی کمشنر کو معاملہ کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم فرمایا۔

دفعہ نمبر ۱۴۴ کو چیلنج

دوسری طرف قادیانی پارٹی نے دفعہ ۱۴۴ کے خلاف درخواست دے دی۔ مولانا شفیق الرحمٰن کیہال نے حضرت امیر مرکزیہ مولانا لال حسین اختر کو ملتان دفتر مرکزیہ کے پتہ پر خط لکھا کہ آپ اس کیس کی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے پیروی کرنے کے لئے ۲۵؍ ستمبر کو تشریف لے گئے۔ وکلاء سے ملے ان کو مناسب مشورے دیئے اور یہ پابندی برقرار رہی اور بعد میں مرزائیوں کی الاٹمنٹ منسوخ کر کے یہاں کالج بنا دیا گیا۔ جس میں آج ختم نبوت کی تنظیم قائم ہے۔ (الحمد للہ)

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۱۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دفاتر کا افتتاح

اس موقعہ پر حضرت امیر مرکزیہ مولانا لال حسین اختر نے ایبٹ آباد میں کئی ایک دفاتر کا افتتاح کیا۔ ایبٹ آباد نہیں بلکہ سارے صوبہ میں اس کارنامہ کی وجہ سے جماعت ختم نبوت کی مقبولیت بڑھ گئی۔ اس سے سترہ سال قبل مرزائی ایک اور ربوہ سرگودھا میں بنانے کے لئے کوشاں ہوئے جس کی تفصیل یہ ہے۔

پہلی سازش اور اس کی ناکامی

تلہ گنگ ، سرگودھا روڈ پر وادی سون سیکسر میں جابہ مرکزی مقام ہے۔ ۱۹۵۵ء میں قبل مرزائیوں نے جابہ کے قریب کچھ اراضی حاصل کر کے ”النخلہ“ کے نام پر اس جگہ اپنا گرمائی مرکز قائم کیا۔ ٹیوب ویل لگائے، دفاتر قائم کئے، محلات بنائے۔ انہیں ایئر کنڈیشنڈ بنانے کے لئے مشینیں خریدی گئیں۔ بجلی گھر تعمیر کیا گیا۔ آنجہانی مرزا بشیر الدین محمود علیہ ماعلیہ پہلی دفعہ وہاں گیا تو اس کا شاہانہ استقبال کیا گیا۔ علاقہ کی پسماندگی سے خوب فائدہ اٹھا کر سادہ لوح مسلمانوں کو ہر قسم کے دنیاوی لالچ سے مرزائی بنانے کی سازش کی گئی۔ خدا تعالیٰ کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری امیر اوّل مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کو، جب ان کو اطلاع ہوئی تو آپ نے علاقہ کو مرزائی ارتداد سے محفوظ رکھنے کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت کو تبلیغ کا کام شروع کرنے کا حکم دیا۔ مولانا عبدالرحمن میانوی مبلغ اعظم ختم نبوت پاکستان کی قیادت میں وہاں مبلغین ختم نبوت کی ایک جماعت روانہ کی گئی۔ جس نے سارے علاقہ کا دورہ کر کے مسلمانوں کو مرزائی ارتداد سے بچایا۔ ختم نبوت کی اہمیت اور مرزائیوں کی اسلام دشمنی پر تقریریں کیں۔ سچ کہا کسی نے کہ مسلم قوم گنہگار ہو سکتی ہے۔ مگر بے غیرت نہیں ہو سکتی۔

مبلغین ختم نبوت کی ولولہ انگیز تقریروں سے مسلمانوں کی رگ غیرت وحمیت پھڑک اٹھی۔ مرزائیوں کا سوشل بائیکاٹ کیا گیا۔ حتیٰ کہ مسلمانوں نے ان کو دودھ اور انڈے قیمتاً دینے سے بھی انکار کر دیا۔ حضرت امیر شریعت، حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور مولانا جالندھری کے دور میں ہر سال وہاں پر کانفرنس ہوتی رہی۔ جس میں ملک بھر کے علماء اسلام اور مبلغین ختم نبوت شریک ہو کر اہل علاقہ کو فیضیاب کرتے رہے۔ ایک سال کثرت کار کی وجہ سے کانفرنس کے انعقاد میں تاخیر ہوئی۔ ملکوال (تلہ گنگ) کے ایک حاجی صاحب نے خواب دیکھا کہ خود حضور سرور کائنات ﷺ، میدان جلسہ گاہ میں تشریف فرما ہیں اور ارشاد فرما رہے ہیں کہ اس سال کیوں تاخیر کی جا رہی ہے؟ حاجی صاحب نے مولانا فضل احمد صاحب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت تلہ گنگ کی وساطت سے حضرت مولانا محمد علی جالندھری مرحوم کو خط لکھا۔ چنانچہ اس خواب کے بعد پھر کبھی بھی تاخیر نہیں کی گئی۔

مولانا جالندھری مرحوم و مغفور اپنے عہد امارت میں وہاں قطعہ اراضی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ لیکن اللہ رب العزت نے دفتر کی تعمیر کا شرف حضرت مولانا لال حسین اختر کے حصہ میں رکھا تھا۔ آج (النخلہ) ویران ہو چکا ہے۔ مرزائیوں نے رہائش ترک کر دی۔ مرزائی خلیفہ دوم کے محلات مسمار ہو چکے ہیں۔ ان کے تمام منصوبے خاک میں ملا دیئے گئے ہیں۔ جب کہ دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت جابہ تبلیغ اسلام وتعلیم دین کا مرکز بن چکا ہے۔ باطل کی بربادی اور حق کی سربلندی کا یہ منظر قابل دید ہے۔ چنانچہ ایبٹ آباد کی طرح یہاں بھی مرزائی سازش ہمیشہ کے لئے ناکام ہو گئی۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۱۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۷۳ء

کے

حالات و واقعات

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۱۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزائی گھوڑے

ہمیں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے شعبہ نشر و اشاعت کے ناظم نے قادیانیوں کے ترجمان رسوائے زمانہ الفضل سے ایک خبر اپنے مختصر تبصرہ کے ساتھ اشاعت کے لئے بھجوائی ہے۔ خبر حسب ذیل ہے:

گھوڑ دوڑ کے مقابلوں کی اختتامی تقریب میں خلیفہ ربوہ کا خطاب

”اس وقت دیر ہو گئی ہے۔ نماز عصر کا وقت ہو گیا ہے۔ اس لئے میں زیادہ کچھ کہنا نہیں چاہتا اور ایک خواہش کا اظہار کئے بغیر رہ بھی نہیں سکتا۔ اس سال گھوڑ دوڑ کے مقابلہ میں چالیس گھوڑوں نے حصہ لیا ہے۔ آئندہ سال تو نہیں لیکن آئندہ چار پانچ سال کے اندر چالیس سو گھوڑوں کو اس مقابلہ میں حصہ لینا چاہئے۔ اس لئے دوست اس طرف توجہ کریں۔ گھوڑے خریدیں۔ گھوڑوں کی نسلیں پالیں اور ڈھونڈیں۔“

(الفضل ربوہ مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۷۳ء)

اصحاب عقل و دانش! غور فرمائیں کہ ربوہ میں اتنی کثیر تعداد میں گھوڑوں کی تیاری۔ آغا خاں بننے کا شوق ہے یا کوئی دوسری تجویز؟ اس خبر کے بین السطور سے ہر اس آدمی کا ذہن جو ربوہ کی سیاست سے ادنیٰ واقفیت رکھتا ہو ان عزائم کو بھانپ لیتا ہے جو قادیانی سیاست دانوں کے دلوں میں کروٹیں لے رہے ہیں۔

ہمیں مرزا ناصر احمد کے اس خطبہ سے کہ چار پانچ سال کے دوران ربوہ میں گھوڑوں کا ایک رسالہ تیار ہو جائے گا یا اس کے علاوہ فرقان فورس کی تیاری، اسلحہ کی ذخیرہ اندوزی، ان چیزوں پر قطعاً تعجب نہیں ہوتا بلکہ ہمیں تو اس بات پر افسوس ہے کہ کبھی حکومت ان چیزوں پر حب الوطنی کے نقطۂ نظر سے غور کرے گی بھی یا نہیں؟ ہم یہ بدگمانی کر کے گناہ گار نہیں ہونا چاہتے کہ ہم یہ الزام عائد کریں کہ حکومت یہ باتیں جانتی نہیں ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ ارباب حکومت یہ سب کچھ جانتے ہیں۔ لیکن غالباً جو چیز ان کے یقین میں نہیں ہے۔ وہ یہ ہے کہ جو شخص یا گروہ محسن انسانیت کا وفادار نہیں۔ وہ کسی اور دوسرے کا وفادار ہو سکتا ہی نہیں ہے۔ زرخالص جسے سمجھ رہے ہو وہ زرکم عیار ہوگا۔“

(لولاک مورخہ ۲۷؍جنوری ۱۹۷۳ء)

ربوہ کالج میں قادیانیوں کی اندھیر نگری

گورنمنٹ تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے پرنسپل صاحب اور کالج کی سابقہ انتظامیہ کی دھاندلیوں اور کالج کے طلباء سے مظالم کی کچھ روئیداد اس سے پہلے لولاک کے گزشتہ شماروں میں نمائندہ لولاک چنیوٹ کی ارسال کردہ رپورٹ کی روشنی میں شائع کی جا چکی ہے۔ اس سلسلہ میں گزشتہ ہفتہ ربوہ کالج کے طلباء کی تنظیم یونائیٹڈ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سیکرٹری چوہدری ظہیر احمد چٹھہ نے لائل پور پہنچ کر ۱۵؍جنوری ۱۹۷۳ء کو پریس کلب لائل پور میں ایک پریس کانفرنس طلب کی اور اپنی تنظیم کے دوسرے ساتھیوں کے خلاف ربوہ کے غنڈوں کے سلوک اور مظالم کی تمام داستان بیان کی۔ ہمارے نمائندہ کی اطلاع کے مطابق چوہدری ظہیر احمد چٹھہ پریس کانفرنس میں اپنے خون آلود کپڑے بھی لایا ہوا تھا جو اس کے زخمی ہونے کے دوران خون آلود ہو گئے تھے۔ ہم آج کے شمارہ میں چوہدری صاحب موصوف کا پریس بیان شائع کر رہے ہیں تاکہ حکومت کے ایوانوں تک ان مظلوم طلباء اور ربوہ کی ظالم انتظامیہ کے کارناموں کی روئیداد پہنچ سکے اور اگر خدا اسے توفیق دے تو وہ اس ظلم کو روک سکے۔

(ادارہ)

”لائل پور گورنمنٹ تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے طلباء کی تنظیم یونائیٹڈ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سیکرٹری چوہدری ظہیر احمد چٹھہ نے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۱۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مطالبہ کیا ہے کہ ربوہ کالج میں طلباء پر ڈھائے جانے والے مظالم کی تحقیقات کرائی جائے اور اس سے قبل کالج کے پرنسپل کو تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یکم ستمبر ۱۹۷۲ء سے تعلیم الاسلام کالج ربوہ بھی ملک کے دوسرے پرائیویٹ کالجز کی طرح سرکاری تحویل میں آچکا ہے۔ لیکن کالج کی سابق انتظامیہ اور اس کے ہم خیال پرنسپل آپس میں ملی بھگت کر کے کالج کے حالات کو مسلسل خراب کر رہے ہیں اور برابر اس کوشش میں ہیں کہ کسی نہ کسی طرح یہ کالج پھر سابقہ انتظامیہ کو واپس کر دیا جائے۔ کالج کے سرکاری تحویل میں آجانے کے بعد کالج کے طلباء نے جائز طور پر یونائیٹڈ سٹوڈنٹس فیڈریشن قائم کر لی۔ جس کا مقصد احمدی اور غیر احمدی تمام طلباء کے حقوق کی نگہداشت قرار پایا۔ اس تنظیم کے صدر رفیق باجوہ تھرڈ ایئر کے ایک احمدی طالب علم منتخب ہوئے۔ رفیق باجوہ نے صدر منتخب ہونے کے بعد مطالبہ کیا کہ اب یہ ادارہ ایک سرکاری کالج ہے۔ اس میں سرکاری قواعد و ضوابط کا نفاذ کیا جائے اور سابقہ انتظامیہ کو مکمل طور پر ختم ہو جانا چاہئے۔ یہ اعلان کالج کی سابقہ انتظامیہ اور پرنسپل صاحب چوہدری محمد علی کو سخت ناگوار گزرا۔ انہوں نے چند پٹھوؤں کے فیصلے کے مطابق رفیق باجوہ کو زدوکوب کرنے کی کوشش کی۔ جس سے طلباء میں سخت اشتعال پھیل گیا اور کالج میں سٹرائیک ہو گئی۔ طلباء نے جوانمردی سے غنڈہ گردی کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ پرنسپل صاحب نے کالج کی انتظامیہ کے اشارے پر رفیق باجوہ کو کالج چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور ان سے مائیگریشن کے فارم پر دباؤ ڈال کر دستخط کرا لئے۔ اسی طرح تنظیم کے دوسرے عہدیداروں کو بھی دھمکانا شروع کر دیا۔ جس پر کالج کے طلباء کا ایک نمائندہ وفد ۱۲/ جولائی ۱۹۷۲ء کو وزیر تعلیم ڈاکٹر عبدالخالق سے لائل پور میں آکر ملا اور انہیں اپنی تکالیف اور مشکلات سے آگاہ کیا۔ وزیر تعلیم نے وفد سے وعدہ کیا کہ وہ رفیق باجوہ کی مائیگریشن منسوخ کرا دیں گے۔ سابقہ انتظامیہ کی کالج کے معاملات میں مداخلت روک دی جائے گی اور پرنسپل صاحب یا کوئی اور شخص طلباء پر آئندہ کوئی زیادتی نہیں کرے گا۔ اس پر پرنسپل صاحب کا رویہ طلباء سے اور زیادہ سخت ہو گیا اور سابقہ انتظامیہ کی مداخلت بھی بڑھ گئی۔ طلباء اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگے۔ چنانچہ ربوہ کالج کے پچاس طلباء کا ایک نمائندہ وفد گورنر صاحب اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کرنے لاہور گیا تا کہ اپنی شکایات سے انہیں باخبر کر کے ان کا ازالہ کیا جائے۔

اس وفد کو گورنر صاحب سے ملنے میں کامیابی نہ ہوسکی بلکہ شیخ جاوید الرحمن مشیر گورنر سے ملاقات ہوئی۔ دوسرے روز یہ وفد ملک معراج خالد وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملا۔ انہوں نے پرنسپل صاحب کے نام طلباء کے مطالبات پر لکھ دیا کہ طلباء کی جائز شکایات کا ازالہ کیا جائے۔ پرنسپل نے اس چٹھی کو پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ ۱۲/ دسمبر ۱۹۷۲ء کو مجھے (ظہیر احمد چٹھہ)، غضنفر علی، عبدالسلام، وحید احمد اور دیگر چند طلباء کو علیحدہ علیحدہ مقامات پر زدوکوب کر کے زخمی کر دیا۔ حبس بے جا میں رکھا گیا۔ ہماری گھڑیاں نقدی اور سامان چھین لیا گیا۔ میں ضربات کی وجہ سے لہولہان ہو کر دس گھنٹے تک بیہوش رہا۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں نے اپنے آپ کو ایک بند کمرے میں پڑا ہوا پایا۔ دوسرے دن میرا دروازہ کھولا گیا اور کچھ وقت کے بعد وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ معلوم ہوا کہ میرے علاوہ میرے دوسرے ساتھیوں کو بھی مختلف جگہوں پر ربوہ میں زدوکوب کیا گیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اسی رات رفیق باجوہ کے گھر کا بھی غنڈوں نے گھیراؤ کیا اور رفیق باجوہ پر قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن گھر کی خواتین کی ہمت سے وہ جان بچا کر ربوہ سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس کے والدین کو ربوہ سے زبردستی نکال دیا گیا اور وہ ۲۵ سالہ انجمن احمدیہ کا وقف زندگی کارکن ربوہ سے نکل گیا۔ میں اور غضنفر علی زخمی حالت میں اسسٹنٹ کمشنر چنیوٹ کے پاس حاضر ہوئے۔ انہوں نے ہمیں تھانہ لالیاں بھیج دیا۔ جہاں ۱۴/ دسمبر ۱۹۷۲ء کو ہم نے تمام واقعات اور ضربات کی رپورٹ درج کرادی۔ پولیس کے علاوہ ان واقعات کی اطلاع صدر مملکت، گورنر پنجاب، آئی.جی پولیس کو بھی بذریعہ تار دی گئی۔ ڈپٹی کمشنر صاحب ربوہ اور تھانہ لالیاں تشریف لائے۔ لیکن وہ طلباء کی عدم موجودگی میں افسران کو ہدایت دے کر معاملہ گول کر گئے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۱۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۴۱۶ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مقامی انتظامیہ کی ہدایت پر پولیس ہمیں منت سماجت کر کے ربوہ کالج میں لے گئی اور پرنسپل صاحب سے ہماری صلح کرادی۔ لیکن ہمیں یقین دلایا گیا کہ جو رپورٹ تھانہ میں درج کی گئی ہیں اس کی تفتیش کی جائے گی اور مجرموں کو سزائیں دلوائی جائیں گی۔ لیکن دوسرے روز پرنسپل صاحب نے ہمیں کہا کہ اگر کوئی شخص اب آپ کو ربوہ میں گولی مار دے تو میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں گا۔ اس لئے بہتر ہے کہ آپ لوگ مائیگریشن کے فارم پر دستخط کردیں اور کالج چھوڑ جائیں۔ چنانچہ ہم پر دباؤ ڈال کر مائیگریشن کے فارموں پر دستخط کروا لئے گئے۔ اس طرح ہمیں وہاں سے جبراً نکال دیا گیا۔ اس وقت تک میرے علاوہ رفیق باجوہ، انور دیو، منظور بھٹی، جمیل چیمہ، نعیم پراچہ، الطاف، عبدالسلام خان سندھو وغیرہ ربوہ کالج سے نکالے جاچکے ہیں اور ابھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ میں اخبارات کے توسط سے حکومت پاکستان سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ:

وہاں کوئی غیر جانبدار اور حکومت کا وفادار پرنسپل متعین کیا جائے۔

جارہے ہیں۔ ان کا سلسلہ بند کیا جائے اور وصول شدہ رقوم سرکاری خزانہ میں جمع کرائی جائے۔

رہے۔ یہاں تک کہ پرنسپل صاحب کی نئی مہر پر بھی گورنمنٹ کا لفظ شامل نہیں ہے۔‘‘

(لولاک مؤرخہ ۲۷؍ جنوری ۱۹۷۳ء)

جناب محمد اسلم وڑائچ سابق طالب علم ربوہ کا بیان

میں نے نومبر ۱۹۷۱ء میں گورنمنٹ تعلیم الاسلام ربوہ میں داخلہ لیا اور اب بی۔ایس سی میں زیرتعلیم تھا۔ میرا تعلق اگرچہ گجرات سے ہے۔ لیکن والدین نے محض اس لئے ربوہ کالج میں داخل کروایا کہ وہاں تعلیم و تربیت کا بہتر انتظام ہے۔ لیکن مجھے اس کا سخت اور تلخ تجربہ ہوا اور میرے والدین کو بھی سخت مایوسی ہوئی اور اب میں ربوہ کالج سے دوسرے بیسیوں طلباء کی طرح زبردستی مائیگریٹ ہوا ہوں جس کالج کے متعلق خدا جانے ہم کیسے کیسے اچھے تصورات لے کر گئے تھے۔ اس کے منتظم اور متولی اتنے متعصب اور بھیانک قسم کے لوگ ہیں کہ ان کے تصور سے ہی روح لرز اٹھتی ہے۔ یہ کالج احمدی جماعت کا کالج تھا جس کا رویہ طلباء کے ساتھ ظالمانہ اور آمرانہ قسم کا تھا۔ کالج کا یونیورسٹی سے اگرچہ باقاعدہ الحاق تھا۔ لیکن وہاں حکومت کے رولز ریگولیشنز نافذ نہ تھے۔ بلکہ ربوہ کی مقامی انتظامیہ کے ہی کالے قوانین رائج تھے۔ جس میں احمدی اور غیر احمدی تمام طلباء نالاں اور پسے ہوئے تھے۔

یکم ستمبر ۱۹۷۲ء سے یہ کالج بھی گورنمنٹ کی تحویل میں آگیا تو لڑکوں نے سجدہ شکر ادا کیا اور انہیں امید بندھ گئی کہ اب یہاں سے سابقہ انتظامیہ کی فسطائیت ختم ہوجائے گی اور سرکاری رولز ریگولیشنز کا نفاذ ہوجائے گا۔ جو حقوق سرکاری تعلیمی اداروں میں طلباء کو حاصل ہیں وہ یہاں بھی حاصل ہوجائیں گے۔ طلباء نے ایک غیر فرقہ وارانہ اور غیر سیاسی طلباء کی تنظیم یونائیٹڈ سٹوڈنٹس فیڈریشن قائم کی اور پرنسپل

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۱۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

صاحب سے اپنے لئے جائز حقوق کا مطالبہ کیا۔ لیکن سابقہ انتظامیہ اور پرنسپل صاحب نے مل کر طلباء پر ایسے ایسے مظالم ڈھائے جس سے ہٹلر اور مسولینی کی بھی روح کانپ گئی۔ طلباء نے وزیر تعلیم ، گورنر کے مشیر خصوصی اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقاتیں کیں۔ تاریں دیں اور قرار دادیں بھیجیں کہ ہمیں ان ظالموں کے پنجے سے چھڑایا جائے۔ لیکن ہماری کوئی دادرسی نہیں کی گئی۔ ہماری تنظیم کے صدر رفیق احمد باجوہ ، سیکرٹری ظہیر چٹھہ اور عبدالسلام غضنفر علی اور وحید احمد پر قاتلانہ حملے ہوئے انہیں لہولہان کیا گیا۔ ان کی گھڑیاں اور سامان چھین لیا گیا۔ مقدمات درج ہوئے لیکن کوئی کارروائی نہ کی گئی۔ یو۔ایس۔ایف پر ربوہ کی سرزمین تنگ کر دی گئی۔ دباؤ ڈال کر درمیان سال میں انہیں وہاں سے مائیگریشن پر مجبور کر دیا گیا۔

ہم یہ سنتے چلے آئے تھے کہ ربوہ ایک ایسا شہر ہے جس میں ایک خیالات کے لوگوں کی آبادی ہے۔ آبادی نہیں حکومت ہے۔ ہمیں اس کا تلخ تجربہ ہوا اور ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ اس شہر میں حکومت پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ ورنہ گورنمنٹ کی تحویل میں آجانے کے بعد ایک گورنمنٹ کالج سے اتنی تعداد میں طلباء کو درمیان سال مائیگریشن پر مجبور نہ کیا جاتا اور انہیں جس بے دردی سے زدوکوب کیا گیا اور جس طرح ان پر قاتلانہ حملے ہوئے اس طرح ظلم زیادتی اور دھاندلی نہ ہوتی۔

آخر میں میں حکومت پاکستان اور عوام سے دردمندانہ اپیل کروں گا کہ وہ اس سلسلہ میں اپنے فرائض اور حب الوطنی کے تقاضوں کو پہچانیں۔ پاکستان کے اندر اس ظالمانہ اور آمرانہ مرزائیت کے وجود کو محسوس کریں اور آئندہ چل کر جس قسم کے حالات اور نتائج پیش آسکتے ہیں۔ ان کے سدباب کی کوشش کریں۔ گورنمنٹ تعلیم الاسلام کالج کے پرنسپل صاحب کو فوراً وہاں سے تبدیل کر دیا جائے اور وہاں کسی ایسے غیر جانبدار پرنسپل کو بھیجا جائے جو وہاں مقامی انتظامیہ کا آلہ کار بننے کی بجائے گورنمنٹ کی نیشنلائزیشن اور دیگر تعلیمی پالیسی کو کامیاب بنائے۔ محمد اسلم وڑائچ ، صدر یونائیٹڈ سٹوڈنٹس فیڈریشن گجرات

(لولاک ، مورخہ ۱۹؍ مارچ ۱۹۷۴ء)

سانحہ سقوط مشرقی پاکستان

۱۹۷۰ء کے الیکشن میں مشرقی پاکستان میں جناب مجیب الرحمٰن اور مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے واضح اکثریت حاصل کی۔ پاکستان میں اس وقت مارشل لاء نافذ تھا۔ فوجی سربراہ یحییٰ خان خود پاکستان کا صدر رہنے کا خواہاں تھا۔ مجیب الرحمٰن اس پر راضی نہ ہوتا تھا۔ اگر انتخابات کے نتائج تسلیم کر کے اقتدار منتقل کیا جاتا تو مجیب الرحمٰن کو اقتدار ملتا اور بھٹو صاحب اپوزیشن میں ہوتے۔ بھٹو صاحب کو یہ صورت گوارہ نہ تھی۔ غرضیکہ مغربی پاکستان کی اکثریتی پارٹی کے سربراہ بھٹو صاحب نے نعرہ لگایا۔ ادھر تم ادھر ہم۔ اس صورتحال سے یحییٰ خان نے فائدہ اٹھایا اور ڈھاکہ میں اجلاس طلب کر لیا۔ بھٹو صاحب نے اعلان کیا کہ جو ڈھاکہ جائے گا اس کی ٹانگیں توڑ دی جائے گی۔ یحییٰ خان ان حالات و واقعات کی روشنی میں مجیب الرحمٰن کو اپنے ڈھب میں لانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتے رہے کہ مجھے صدر مان لو اور اقتدار لے لو۔ مجیب کا موقف تھا کہ آپ فوجی ہیں۔ مارشل لاء کے ڈنڈے سے برسر اقتدار آئے ہیں۔ میں منتخب نمائندہ ہوں۔ اقتدار میرا حق ہے مجھے دیا جائے۔ پھر میں فیصلہ کروں گا کہ صدر کون ہوگا؟ اور وزیر اعظم کون؟ یحییٰ خان اپنے ساتھ مذاکرات کے لئے اپنی کابینہ کے سینئر رکن ایم۔ایم۔احمد سکہ بند قادیانی کو بھی جو مرزا قادیانی کا پوتا ہے ، اسے ساتھ لے کر گئے۔ اس موقعہ پر بین الاقوامی سامراجی گماشتہ ظفر اللہ خان قادیانی بھی ڈھاکہ جا دھمکا۔ مجیب نے ایم۔ایم۔احمد اور ظفر اللہ خان کو ڈھاکہ میں پا کر برہمی کا اظہار کیا کہ قادیانی مشرقی پاکستان کو کمزور

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۱۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کرنے اور یہاں کے عوام میں احساس محرومی پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ مشرقی پاکستان کے حقوق غصب کر کے ان میں بے چینی پیدا کرنے میں ان کا ہاتھ ہے۔ ان قاتلوں اور ظالموں کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لئے میں تیار نہیں۔ قادیانی لابی نے اس ’’انکار‘‘ سے یحییٰ خان کو اپنے شیشہ میں اتارا۔ وہ بھی ذہناً ہر قیمت پر برسر اقتدار رہنے کے لئے پریشان تھا۔ نتیجتاً مجیب الرحمن گرفتار ہوا۔ مشرقی پاکستان کے عوام جس لیڈر پر بے پناہ اعتماد کر کے اسے اکثریت سے جتوا چکے تھے۔ اس کی گرفتاری سے برہم ہوئے۔ مشرقی پاکستان میں احتجاج نے شدت اختیار کی۔ فوجی ٹولہ اور قادیانی دلالوں نے فوج کشی کی۔ عوام بپھرے، فوج کے مقابلہ کے لئے انڈیا نے فوج بھیج دی۔ ۱۹۷۱ء کی جنگ شروع ہوئی۔ یحییٰ خان نے بھٹو صاحب کو اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کے لئے بھجوایا۔ اس نے وہاں جا کر ان کی ہمدردی حاصل کرنے کی بجائے ڈرامائی انداز اختیار کیا۔ مشرقی پاکستان کے سقوط کا سانحہ پیش آیا۔ عوام کی آنکھیں یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ بھٹو صاحب واپس آتے ہی اقتدار پر براجمان ہو گئے۔ یحییٰ کی حماقت، بھٹو کی ہوس اقتدار قادیانیوں کی عیاری و سازش۔ اس تثلیث نے مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے ہمیشہ کے لئے جدا کر دیا اور یوں دنیا کے نقشہ پر ایک نیا ملک بنگلہ دیش کے نام سے قائم ہو گیا۔ مغربی پاکستان کا نام پاکستان رہ گیا۔ یہاں کے عوام کے ردعمل کو دیکھ کر حکومت نے مسٹر جسٹس حمود الرحمن کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کیا۔ جس نے سقوط مشرقی پاکستان کے عوامل کی تحقیقات کیں۔ ان دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر تھے۔ آپ نے حمود الرحمن کمیشن میں اپنا تحریری بیان داخل کرایا اور مشرقی پاکستان کے سانحہ میں ملوث قادیانی ہاتھوں کو بے نقاب کیا۔ آپ کا مکمل بیان آپ کی تصنیف احتساب قادیانیت کے ص۱۹۶ سے ص۱۹۹ تک چھپ چکا ہے۔ جو یہ ہے۔

درخواست

مولانا لال حسین اختر، امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان

واجب الاحترام جناب عالی مقام جسٹس حمود الرحمن صاحب صدر تحقیقاتی کمیشن برائے سقوط مشرقی پاکستان

جناب عالی!

سقوط مشرقی پاکستان صرف پاکستان ہی کے لئے نہیں بلکہ دنیائے اسلام کے لئے عظیم المیہ ہے۔ اس سلسلہ میں چند گزارشات پیش خدمت کرتا ہوں۔

کہ جناب ایم. ایم. احمد ایسے فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں جن کے نزدیک :

کی تصدیق کی ہے) لہٰذا ان کے نزدیک پاکستان اسلامی ملک نہیں۔

کوشش کریں گے۔

سخت مخمصہ پیدا کر دیا۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۱۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کی علیحدگی کا مطالبہ کیا۔

کو کمزور رکھا۔

تعاون کا یقین دلایا۔ جب کہ قادیان میں مقیم ان کے ممبران کو خلیفہ ربوہ ہی مقرر کرتے ہیں اور ان کے مصارف ادا کرتے ہیں۔

”جناب والاشان“

بحریہ کے بجٹ کے متعلق شہادت کے لئے جناب مظفر وائس ایڈمرل کو طلب فرمایا جاوے۔ دیگر تمام امور کے متعلق تحریری شہادت موجود ہے جو عندالطلب پیش کی جاسکتی ہے۔ لال حسین اختر فیض باغ لاہور، امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، تغلق روڈ ملتان

دلائل متعلقہ جزو نمبر: ۱

سقوط مشرقی پاکستان یحییٰ خان اینڈ کو کی حرکات قبیح، فرض ناشناسی، ملک وملت سے غداری کا نتیجہ ہے جو لوگ یحییٰ خان کے ساتھ شریک کار تھے۔ ان میں سب سے زیادہ یحییٰ خان کو ایم۔ایم احمد پر ہی اعتماد تھا اور مسٹر احمد نے ہی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا پلان تیار کیا۔ یحییٰ خان کا سب سے زیادہ معتمد ایم۔ایم احمد تھا۔ جس پر محمد اسلم قریشی ایک شخص نے حملہ کیا۔ یہ حملہ آپ پر اس وقت کیا گیا جب کہ محترم جناب صدر مملکت آغا محمد یحییٰ خان صاحب ملک سے باہر دو روز کے لئے ایران تشریف لے گئے تھے اور محترم صاحبزادہ ایم۔ایم احمد بطور قائم مقام صدر کام کر رہے تھے۔

(ماہنامہ الفرقان ربوہ، ستمبر ۱۹۷۱ء ص ۲)

”قومی اسمبلی کی بساط لپیٹ دینے کے ساتھ مشرقی پاکستان کی قسمت کا فیصلہ ذہنی طور پر کر لیا گیا تھا۔ یہ بات عام طور پر کہی جاتی ہے کہ جناب ایم۔ایم احمد نے ایک مبسوط رپورٹ تیار کی جس میں اعداد وشمار سے ثابت کیا گیا کہ مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہو جانے سے مغربی پاکستان کی حیثیت قائم رہے گی اور اس میں استحکام پیدا ہوگا۔“

(اردو ڈائجسٹ ص ۳، فروری ۱۹۷۲ء)

دلائل متعلقہ جزو نمبر: ۲

ذیلی دفعہ (الف) ایم۔ایم احمد نے مبینہ حملہ آور محمد اسلم قریشی کے مقدمے میں فوجی عدالت کو بیان دیتے ہوئے کہا۔ میرا دادا نبی تھا اور جو شخص اسے نبی نہیں مانتا وہ کافر ہے۔

(مندرجہ ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک رمضان ۱۳۹۱ھ)

ایم۔ایم احمد کے والد بشیر احمد ایم۔اے نے اپنی کتاب (کلمۃ الفصل ص ۱۱۰) پر لکھا ہے کہ: ”ہر ایک شخص جو موسیٰ کو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو تو مانتا ہے مگر محمد ﷺ کو نہیں مانتا یا محمد ﷺ کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

”ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی ﷺ کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکیں۔“

(بشیر الدین محمود خلیفہ دوم انوار خلافت ص ۹۰)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۲۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۴۲۰ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مسٹر ظفر اللہ نے بے باکی اور جرأت سے کہا بے شک میں نے قائد اعظم کا جنازہ عمداً نہیں پڑھا۔ مولانا نے پوچھا کیوں؟ مسٹر ظفر اللہ نے جواب دیا کہ میں اس کو سیاسی لیڈر سمجھتا تھا۔ حضرت مولانا نے دریافت فرمایا : کیا تم مرزائے قادیانی کو پیغمبر نہ ماننے والے سارے مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہو؟ حالانکہ تم اسی حکومت کے وزیر بھی ہو۔ ”سر ظفر اللہ نے کہا کہ آپ مجھے کافر حکومت کا مسلمان ملازم سمجھ لیں یا مسلمان حکومت کا کافر نوکر ۔“ تم کو بھی ایسا سمجھنے کا حق ہے۔ سر ظفر اللہ خان بجواب مولانا محمد اسحاق صاحب خطیب جامع مسجد ایبٹ آباد۔

(زمیندار مؤرخہ ۸/فروری ۱۹۵۰ء بحوالہ الفلاح پشاور، مؤرخہ ۲۸ / اگست ۱۹۴۹ء)

جب پاکستان کے تمام اسلامی فرقے مرزائیوں کی نظر میں مسلمان ہی نہیں تو پاکستان اسلامی حکومت بھی نہیں۔

ذیلی دفعہ (ب) ان کی بعض تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ : ”وہ تقسیم کے مخالف تھے اور کہتے تھے کہ اگر ملک تقسیم ہو گیا تو وہ اسے دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کریں گے۔“

(رپورٹ تحقیقاتی عدالت مرتبہ جسٹس محمد منیر ص ۲۰۹)

” قادیان جماعت احمدیہ کا مرکز ہے۔ جس کی شاخیں ساری دنیا پر پھیلی ہوئی ہیں۔ ۱۹۴۷ء کے فسادات کی وجہ سے متعدد احمدیوں کو مجبوراً قادیان چھوڑنا پڑا تھا اور وہ واپس آ کر یہاں بسنے کے لئے بے قرار ہیں۔“

(کارروائی قادیاں میں جماعت احمدیہ کا ۵۹ واں اجلاس، مندرجہ الفضل لاہور مؤرخہ ۳۱ / دسمبر ۱۹۴۹ء)

ذیلی دفعہ (ج) ”اس ضمن میں ایک بہت ناگوار واقعہ کا ذکر کرنے پر مجبور ہوں۔ میرے لئے یہ بات ہمیشہ نا قابل فہم رہی ہے کہ احمدیوں نے علیحدہ نمائندگی کا کیوں اہتمام کیا۔ اگر احمدیوں کو مسلم لیگ کے موقف سے اتفاق نہ ہوتا تو ان کی طرف سے علیحدہ نمائندگی کی ضرورت ایک افسوس ناک امکان کے طور پر سمجھ میں آ سکتی تھی۔ شاید وہ علیحدہ ترجمانی سے مسلم لیگ کے موقف کو تقویت پہنچانا چاہتے تھے۔ لیکن اس سلسلہ میں انہوں نے شکر گڑھ کے مختلف حصوں کے لئے حقائق اور اعداد و شمار پیش کئے۔ اس طرح احمدیوں نے یہ پہلو اہم بنا دیا کہ نالہ بھین کے درمیانی علاقہ میں غیر مسلم اکثریت ہے اور اس دعویٰ کے لئے دلیل میسر کر دی کہ نالہ اچھ اور نالہ بھین کا درمیانی علاقہ از خود بھارت کے حصہ میں آ جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ علاقہ ہمارے (پاکستان کے) حصہ میں آ گیا ہے۔ گورداسپور کے متعلق احمدیوں نے اس وقت ہمارے لئے سخت مخمصہ پیدا کر دیا۔“

(بیان جسٹس محمد منیر اخبار نوائے وقت لاہور ، مؤرخہ ۶ / جولائی ۱۹۶۴ء)

دلائل متعلقہ جزو نمبر : ۳

”یحییٰ: مجیب مذاکرات ۱۹۷۱ء میں ایم.ایم احمد کی حرکات کے باعث مشرقی پاکستان کے انتہائی ذمہ دار حلقوں نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ ۲۴ /مارچ کو ڈھاکہ میں ایم.ایم احمد کی موجودگی پر انتہائی ذمہ دار حلقوں نے شکوک کا اظہار کیا کہ انہوں نے اقتصادی امور کے سیکرٹری منصوبہ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین، صدر کے اقتصادی امور کے مشیر اور مشرقی پاکستان میں طوفان زدہ افراد کی آباد کاری کی۔ رابطہ کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے ہمیشہ مشرقی پاکستان کو اقتصادی طور پر محروم کر دیا۔“

(بحوالہ جنگ کراچی ، مؤرخہ ۲۶/ مارچ ۱۹۷۱ء ص ۸ کالم ۵)

”مولانا شاہ احمد نورانی ایم. این. اے نے عوام پر زور دیا کہ وہ ملک کے اتحاد اور سالمیت کی خاطر مزید قربانیاں دینے کے لئے تیار رہیں اور ملک کو تقسیم کرنے کی تمام سازشوں کو ناکام بنادیں۔ انہوں نے بتایا کہ مشرقی پاکستان کے اخبارات صدر کے اقتصادی مشیر مسٹر ایم.ایم احمد کی ڈھا کہ میں موجودگی پر نکتہ چینی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر احمد اقتصادی ماہر ہیں۔ سیاسی امور کے ماہر نہیں۔ اس کے باوجود وہ مذاکرات میں صدر کے مشیر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔“

(روزنامہ مشرق لاہور ، مؤرخہ ۲۵ / مارچ ۱۹۷۱ء ص آخر، کالم ۲)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۲۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دلائل متعلقہ جزو نمبر: ۴

”سازش کا پانچواں حصہ“ ہماری بحریہ کو جس طرح نظر انداز کیا گیا وہ بڑا ہی تکلیف دہ المیہ ہے۔ یحییٰ خان نے وائس ایڈمرل مظفر کو اختیار دیا تھا کہ وہ ہر سال دس کروڑ روپے اپنی مرضی سے خرچ کر سکتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اس کے متعلق پلان تیار کیا گیا تھا۔ مگر آخری وقت پر جناب ایم.ایم احمد نے جواب دے دیا کہ ہم یہ رقم نہیں دے سکتے۔“

(اردو ڈائجسٹ، جنوری ۱۹۷۲ء ص ۵۵)

دلائل بابت جزو نمبر: ۵

”جناب ایم.ایم احمد جس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی قادیان (بھارت) شاخ نے بنگلہ دیش کی حمایت کی اور بھارت سرکار کو مکمل تعاون کا یقین دلایا اور بھارتی وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی کی حمایت کے علاوہ مالی امداد دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔“

(ایڈیٹر کا مضمون روزنامہ جسارت کراچی، مؤرخہ ۱۳؍ ستمبر ۱۹۷۱ء)

قادیان، بھارت میں مرزائی جماعت کو مالی امداد میں پاکستانی مرزائیوں کی طرف سے دیئے جانے کا اعتراف ایم.ایم احمد نے فوجی عدالت کے بیان میں کیا ہے اور نیز یہ کہ قادیان کا نظم و نسق نظامت ربوہ ہی کے ماتحت ہے۔

حمود الرحمٰن کمیشن نے یکم فروری ۱۹۷۲ء کو راولپنڈی میں تحقیقات شروع کی اور ۲۶؍ اپریل ۱۹۷۲ء تک شہادتیں بند کیں۔ تب ۲۱۳؍ افراد نے شہادتیں دیں۔ جن میں ۸۸ فوجی افسر ۲۵ فضائیہ کے افسر اور ۲۱ بحریہ کے افسر تھے۔ ان کے علاوہ ۲۲ سیاسی لیڈروں، ۲۳ سول ملازموں، ۳ جرنلسٹوں اور ۲ عوامی نمائندوں نے بھی شہادتیں دیں۔ کمیشن نے جولائی ۱۹۷۲ء میں رپورٹ مکمل کر لی۔ ایک ہزار ٹائپ شدہ صفحات تھے جو آٹھ ہزار صفحات کی شہادتوں سے مرتب کی گئی۔ اب ضمنی رپورٹ کی چار جلدیں پیش کی گئی ہیں۔ جن میں ایک جلد رپورٹ کی۔ باقی تین تحریری اور زبانی شہادتوں سے متعلق ریکارڈ ہے۔ ضمنی رپورٹ جنگی قیدیوں کی رہائی کے بعد ان افراد کی شہادت پر مشتمل ہے جو سقوط مشرقی پاکستان کے وقت وہاں مختلف مناصب پر مامور تھے۔ مثلاً لیفٹیننٹ جنرل اے۔اے۔ کے نیازی بعض دوسرے اعلیٰ فوجی آفیسر، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس اور ڈویژنل کمشنر وغیرہ۔

۲۵؍ دسمبر ۱۹۷۴ء کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر حمود الرحمٰن نے اپنے دو رفقاء مسٹر جسٹس انوار الحق اور مسٹر جسٹس فضل علی عبدالرحمٰن کے دستخطوں سے سقوط مشرقی پاکستان کے اسباب وعلل سے متعلق اپنی ضمنی رپورٹ بھی وزیراعظم پاکستان مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کو پیش کردی۔

بھٹو حکومت نے اس رپورٹ کو شائع نہ کیا کہ وہ بھی اس کا ایک کردار تھے۔ بعد میں جنرل محمد ضیاء الحق تشریف لائے۔ وہ فوجی تھے اور فوجی جرنیل یحییٰ خان بھی سقوط مشرقی پاکستان کا ایک کردار تھا۔ آج اس تحریر کے وقت ایک کردار بھٹو صاحب کی بیٹی برسراقتدار ہے۔ اس لئے یہ توقع عبث ہے کہ وہ رپورٹ شائع ہوگی۔ اے کاش! ان غداران وطن کو دیواروں میں اس وقت چن دیا جاتا تو آج پاکستان کے یہ حالات نہ ہوتے۔ بہرحال سانحہ سقوط مشرقی پاکستان میں ایک بھیانک کردار قادیانی لابی کا تھا جس سے پاکستان کے عوام کی صفوں میں قادیانیوں کے خلاف نفرت کی ایک لہر دوڑ گئی۔

عالمی استعمار کے ایجنٹ قادیانی اور اسرائیلی

دمشق سے ”القادیانیہ“ ایک رسالہ شائع ہوا۔ محمد خیر القادری نے اس کے ص ۱۲، ۱۴ پر لکھا: ”جب قادیانیوں نے عرب ممالک میں اپنی تبلیغ کا ارادہ کیا تو انہوں نے اس بات پر بحث کی کہ کون سا شہر اور ملک ایسا ہو سکتا ہے جو ان کے مقاصد کے لئے نفع مند ہو۔ کافی بحث کے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۲۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بعد ان کو حیفاء (اسرائیل) سے بہتر کوئی شہر اس مقصد کے لئے نہ مل سکا اور اس پسندیدگی اور چناؤ کی محض وجہ انگریزی حکومت کی علمداری تھی۔ جس کے زیر سایہ وہ اپنے لئے بہترین جائے امن واستقرار حاصل کر سکتے تھے اور اپنی بہترین صلاحیتیں بروئے کار لا سکتے تھے۔ آخر کار انہوں نے حیفاء میں اپنا تبلیغی مرکز قائم کیا جہاں سے وہ عرب ممالک میں اپنے دعوت واثر ورسوخ پھیلاتے رہے۔ انگریزی حکومت کے اخلاء کے بعد انہوں نے فوراً اسرائیلی حکومت سے اپنی وفاداری ظاہر کر کے پوری تندہی سے اپنا کام جاری رکھا اور تاحال ان کا تبلیغی مرکز ”حیفا“ میں موجود ہے۔ جہاں سے وہ براستہ فلسطین عرب ممالک میں نقب لگاتے ہیں اور یہ بات پوری ذمہ داری سے کہی جاسکتی ہے کہ قادیانیوں سے چشم پوشی مسلمانوں کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ خصوصاً جاسوسی کے بارے میں کیونکہ پہلی جنگ عظیم کے وقت انگریز سامراج نے ایک قادیانی مسمی ولی اللہ زین العابدین کو سلطنت عثمانیہ میں بھی جس نے وہاں یہ ظاہر کیا کہ وہ سلطنت عثمانیہ کا بہی خواہ ہے اور مسلمان ہے، عثمانی دھوکہ کھا گئے اور اس کو پانچ ڈویژن کے کمانڈر جنرل پاشا کے پاس بھیج دیا جس نے اس کو ۱۹۱۷ء میں قدس یونیورسٹی میں تاریخ و دینیات کا لیکچرر مقرر کر دیا۔ بعد میں جب انگریزی فوجیں دمشق میں داخل ہوئیں تو ولی اللہ زین العابدین اس لشکر میں شامل ہو گیا۔“

ولی اللہ زین العابدین مرزا محمود کا سالہ اور قادیانی جماعت کا ناظر امور عامہ تھا۔ ان کے سگے چھوٹے بھائی میجر حبیب اللہ شاہ پنجاب میں جیل خانہ رہے۔ پہلی جنگ عظیم میں عراق گئے۔ جب انگریزوں نے عراق فتح کر لیا تو وہ انگریزوں کی طرف سے بغداد میں کچھ عرصہ کے لئے پہلے گورنر مقرر ہوئے تھے۔ ان کی گورنری کے زمانہ میں انگریز فوج نے مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا۔ مرزائیوں کی عرب دشمنی اور اسرائیل دوستی نے عرب وعجم کے مسلمانوں میں ان کے خلاف غم وغصہ اور ہیجان کی کیفیت روز بروز بڑھتی جارہی تھی۔

ربوہ کو ویٹی کن سٹی بنانے کا خیال

۱۹۷۲ء کے سالانہ جلسہ ربوہ میں مرزا ناصر نے اعلان کیا کہ دنیا میں ہماری جماعت کے ممبروں کی تعداد ایک کروڑ ہے۔ ۲۱/جنوری ۱۹۷۳ء کے ”چٹان“ میں اس کا جواب دیا گیا کہ مرزا ناصر اسی طرح کی تعلی سے حکومت کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ اگر اس کے بیان میں صداقت ہے تو آئندہ مردم شماری میں قادیانیوں کو ”احمدی“ لکھوانے کا مرزا ناصر اعلان کرے تا کہ ان کے بیان کی حقیقت لوگوں پر واضح ہو جائے۔ چٹان نے لکھا کہ قادیانیوں کے اس جلسہ میں اخباری مبالغوں کے مطابق اسی (۸۰) ہزار آدمی شریک ہوئے۔ اس تعداد کو سامنے رکھ کر بڑی آسانی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سارے پاکستان میں قادیانیوں کی تعداد دو لاکھ سے کسی طرح زائد نہ ہے۔ مرزا ناصر اس قسم کا بیان دے کر عوام کو مرعوب اور حکومت کو بلیک میل کرنا چاہتا تھا تا کہ ربوہ کو ”ویٹی کن سٹی“ کی حیثیت حاصل ہو جائے۔

(چٹان)

تعلیمی اداروں میں قادیانیوں کی ارتدادانہ مہم کی ایک مثال

ذیل میں ایک مکتوب ملاحظہ فرمائیں جو نواب شاہ کے عبدالعزیز نے مدیر چٹان کو لکھا: ”اس ضمن میں نواب شاہ میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کے متعلق کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ نواب شاہ شہر اور باندی میں جتنے بھی قادیانی ہیں، سب کے سب مال دار ہیں اور نہایت چالاکی سے سندھیوں کو بے وقوف بنا کر علاقائی تعصبات کو ہوا دے رہے ہیں۔ ڈاہری قوم کے کچھ افراد قادیانی بھی ہو گئے ہیں اور ان کی بیویاں ربوہ کی معرفت در آمد کی گئی ہیں جو مبلغہ ہیں اور جاہل ومعصوم عورتوں کو بہکاتی رہتی ہیں۔ ان ہی میں سے ایک عبدالقادر ڈاہری ہے، جس نے گورنمنٹ سچل سرمست کالج نواب شاہ کی پرنسپل شپ پر قبضہ کر رکھا ہے، جو اپنی نااہلیت کو چھپانے کے لئے سندھی مہاجر کا سوال پیدا کئے ہوئے ہے۔ اس کا دفتر کالج کے اوقات میں قادیانی مبلغوں کا مرکز بنا رہتا ہے، جو اساتذہ اور طلباء کو ”تبلیغ“ کرتے ہیں۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۲۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پرنسپل بذات خود اساتذہ کو قادیانی لٹریچر پڑھنے اور وسعت قلبی سے کام لینے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کے بھائی عبداللہ ڈاہری کے بنگلہ میں پچھلے دنوں قادیانی لٹریچر کی نمائش لگائی گئی۔ پرنسپل نے اساتذہ، طلباء اور دیگر عملہ کو نمائش دیکھنے اور قادیانی تبلیغی جلسوں میں شامل ہونے پر مجبور کیا اور اس کے لئے ایک قادیانی استاد عبدالواحد کو اساتذہ کے گھر جا کر انہیں نمائش میں لانے پر مقرر کیا۔ اس نمائش میں قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ ( تحریف شدہ) تقسیم کیا گیا۔ اساتذہ، پرنسپل کی خوشنودی کے لئے سب کچھ کرنے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ یہ اتنا با اثر زمیندار ہے کہ جس کو چاہے وہ ملازمت سے نکلوا دیتا ہے۔ البتہ وائس پرنسپل راؤ صالح محمد اس کی راہ میں رکاوٹ تھے جو قادیانی امت کو بے نقاب کرتے رہے۔ چنانچہ اسی جرم میں قادیانی امت کی پوری مشینری ان کے خلاف حرکت میں آگئی۔ پرنسپل نے پیپلز پارٹی کے عہدیداروں اور وڈیروں سے مل کر راؤ صالح محمد کے خلاف مہم شروع کر دی کہ وہ طلباء اور اساتذہ کو حکومت کے خلاف بھڑکاتے ہیں اور یوں پہلے تو ان کا تبادلہ نواب شاہ سے رتوڈیرو ضلع لاڑکانہ میں بطور سزا کروا دیا اور پھر ایک مہینہ بعد انہیں نوکری سے معطل کروا دیا۔ اس طرح قادیانی دشمنی کو حکومت دشمنی کا نام دے کر راؤ صاحب کو ذہنی اور مالی مصائب میں مبتلا کر دیا۔ لیکن وہ ابھی تک اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ راؤ صاحب نہایت تجربہ کار، محنتی ایماندار اور شریف استاد ہیں۔ نو سال سے اس کالج کا نظم و نسق سنبھالے ہوئے تھے۔ مگر ان کی خدمات کا صلہ یہ ملا ہے۔ کیا اہل نواب شاہ ناموس رسالت مآب ﷺ کی حفاظت کرنے والے استاد پر یہ ظلم اور پرنسپل کی قادیانی تبلیغ کے لئے کالج کی تباہی یونہی برداشت کرتے رہیں گے؟

(چٹان مؤرخہ ۱۷؍دسمبر ۱۹۷۱ء)

لاہور کے کالجوں میں قادیانی جتھہ بندی

(الفضل ربوہ مؤرخہ ۲۶؍مئی ۱۹۷۶ء ص ۵) پر احمدیہ انٹر کالیجیٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداران کا انتخاب کے عنوان سے دو کالمی خبر شائع ہوئی جو یہ ہے: ”لاہور کے مختلف تعلیمی اداروں کے لئے احمدیہ انٹر کالیجیٹ ایسوسی ایشن کے مندرجہ ذیل عہدیداران کا انتخاب برائے سال ۷۵ / ۷۶ء حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے منظور فرمالیا ہے۔ جملہ احباب سے درخواست دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عہدیداران کو اپنے فرائض کماحقہ ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین !“

(مرزا طاہر احمد)

نمبر شمار ادارہ نام عہدیدار عہدہ ۱...... پنجاب یونیورسٹی لاہور مکرم نصیر احمد صاحب صدر پنجاب یونیورسٹی لاہور مکرم قریشی غیاث الدین صاحب نائب صدر پنجاب یونیورسٹی لاہور مکرم نصیر احمد صاحب جنرل سیکرٹری پنجاب یونیورسٹی لاہور مکرم مسعود احمد صاحب اسسٹنٹ سیکرٹری ۲...... انجینئرنگ یونیورسٹی مکرم سمیع اللہ باجوہ صاحب صدر انجینئرنگ یونیورسٹی مکرم اقتدار حسین صاحب نائب صدر انجینئرنگ یونیورسٹی مکرم اعجاز احمد صاحب جنرل سیکرٹری انجینئرنگ یونیورسٹی مکرم منیر الدین جوائنٹ سیکرٹری ۳...... ایف سی کالج مکرم عبدالسلام صاحب صدر ایف سی کالج مکرم وقار مصطفیٰ صاحب جنرل سیکرٹری

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۲۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ایف سی کالج مکرم زاہد احمد صاحب جوائنٹ سیکرٹری ۴ ...... حمایت اسلام لاء کالج مکرم خادم حسین وڑائچ صدر حمایت اسلام لاء کالج مکرم سیف اللہ صاحب چیمہ جنرل سیکرٹری حمایت اسلام لاء کالج مکرم شریف احمد صاحب چغتائی عمومی سیکرٹری ۵ ...... کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج مکرم طاہر احمد صاحب صدر کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج مکرم منیر احمد صاحب سہیل جنرل سیکرٹری کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج مکرم نعیم احمد صاحب جوائنٹ سیکرٹری ۶ ...... پولی ٹیکنک مغل پورہ مکرم محمد عابد صاحب صدر پولی ٹیکنک مغل پورہ مکرم مبشر احمد ارشد جنرل سیکرٹری ۷ ...... اینیمل ہسبنڈری کالج مکرم مظفر احمد صاحب گوندل صدر اینیمل ہسبنڈری کالج مکرم منور احمد صاحب جنرل سیکرٹری ۸ ...... گورنمنٹ کالج لاہور مکرم اصغر سلطان صدر گورنمنٹ کالج لاہور مکرم اعجاز احمد صاحب جنرل سیکرٹری گورنمنٹ کالج لاہور مکرم حافظ حیات صاحب جوائنٹ سیکرٹری ۹ ...... اسلامیہ کالج آف کامرس مکرم اعجاز احمد صاحب صدر اسلامیہ کالج آف کامرس مکرم منور احمد صاحب جنرل سیکرٹری ۱۰ ...... اسلامیہ کالج لاہور مکرم محمد داؤد صاحب منیر صدر اسلامیہ کالج لاہور مکرم الیاس احمد صاحب جنرل سیکرٹری ۱۱ ...... دیال سنگھ کالج مکرم عبداللطیف صاحب صدر دیال سنگھ کالج مکرم سعید احمد صاحب جنرل سیکرٹری ۱۲ ...... کالج آف ڈینٹسٹری مکرم عبدالسمیع صاحب صدر

اس خبر سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کالجز میں کس طرح قادیانی جتھہ بندی کر کے پراسرار خدمات سرانجام دینے کے لئے اپنے آپ کو منظم کر رہے تھے۔ یہی وہ حالات و واقعات تھے جنہوں نے مسلمان طلباء کے لئے ایک ”تشویشناک“ صورتحال پیدا کر دی تھی۔ مسلمان سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ قادیانیت کی یہ پراسرار سرگرمیاں بھی کسی حادثہ کا پیش خیمہ ہو سکتی ہیں۔

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں مرزائی سرگرمیاں اور مسلمان طلباء کی طرف سے ان کا تعاقب

رفیقان ہمسفر : ہمیں اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ آپ اپنے امتحانات میں مصروف ہیں اور اپنی مسلسل کوششوں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ آپ کا قیمتی سال بعض عناصر کی سازشوں کے باوجود بچ جائے گا جو مسلسل آپ کو ذہنی انتشار میں مبتلا کرنے میں مصروف ہیں ۔ یقیناً آپ میں سے ہر شخص یہ جاننا چاہتا ہے کہ آخر یکا یک ایک روز میں اس قدر تبدیلی کیوں؟ یہ کیا سازش تھی؟ اس ڈرامے کا مرکزی

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۲۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کردار کون ہے؟ یہ کیا ہوا؟ اور کس نے کیا؟ آئیے ہم باری باری آپ کی تسکین قلب کے لئے مرکزی کردار اور سازشی عنصر کو بے نقاب کرتے ہیں۔

آپ کے ان منتخب نمائندوں سے یونین کے چند ممبران ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیئر ز، سینئر ٹیوٹر ، مرزائی ٹولہ، ان کے حواری اور وائس چانسلر کو اختلاف تھا۔ اس لئے کہ ہم نے:

کے آگے بند باندھا۔

یونین کے راتب پر پلنے والے سیاسی گماشتوں اور ربوہ کی ہدایت پر ناچنے والوں کو یہ باتیں ناگوار گزریں۔ اس لئے یہ تمام عناصر آپ کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ ہم اس میدان میں کسی لالچ اور کسی دھمکی سے مرعوب نہ ہو سکے۔ سردار عبد القیوم خان کی آمد ان عناصر کے مستقبل پر تازیانہ کی حیثیت رکھتی تھی جو وائس چانسلر کو سب اچھا کی نوید سنا کر اشیر باد حاصل کرتے تھے۔

چنانچہ اس سلسلے میں صدر یونین اور نائب صدر یونین کو اتھارٹیز نے مؤرخہ ۱۷ نومبر ۱۹۷۳ء دو گھنٹے تک وائس چانسلر کے آفس میں حقائق کا انکشاف نہ کرنے کی تلقین کی۔ لیکن صدر یونین کے واضح انکار پر اتھارٹیز اور مرزائی ٹولہ کی مشترکہ میٹنگ ہوئی۔ جس میں اپنی مطلب برآری کے لئے ”اوکے سر“ کہنے والے صاحب کو استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تا کہ دیگر مقررین کی تقریروں کو عین موقع پر ہی بے اثر کر دیا جائے اور اس طرح مرزائی کاروبار کے تحفظ کا حق ادا کیا جائے۔ چنانچہ سردار قیوم کی آمد کے عین موقع پر صدر یونین نے واضح اعلان کیا کہ مجاہد اوّل سردار عبد القیوم خان ہر قیمت پر جلسہ سے خطاب کریں گے۔

پروگرام شروع ہوا جونہی ”اوکے سر“ نے طے شدہ پروگرام کے مطابق مرزائی ٹولہ کی صفائی پیش کرنا شروع کی۔ جامعہ کے غیور طلباء نے خاموش، خاموش، بند کرو اور بکواس مت کرو کے نعروں سے ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس طرح رجسٹرار صاحب نے بذات خود سردار صاحب کو تقریر کی دعوت دی۔ ”اوکے سر“ کی مدد کے لئے ہزارہ کی سلاجیت پر پلنے والے گماشتہ کی بھی چلے جاؤ، بھاگ جاؤ، اور فنڈز کا حساب دو، کے جوابی نعروں سے مرمت کی گئی۔ ”اوکے سر“ نے اپنے نمک حلال ہونے کا واضح ثبوت مہیا کر دیا۔ جس کی انہیں طلباء کے سامنے قیمت ادا کرنا پڑی اور اتھارٹیز اور مرزائی ٹولہ سے انہوں نے اس کی معقول قیمت وصول کی۔

سردار صاحب کی تقریر کے بعد صدر یونین کے اعلانات اور ان پر طلباء کی متفقہ تائید میں قادیانی ڈپٹی رجسٹرار کی برطرفی، مرزائیوں کے میس کی علیحدگی اور بقیہ مطالبات سرفہرست تھے۔ طلباء نے اتھارٹیز، مرزائیوں اور ان کے حواریوں کی پلاننگ کو خاک میں ملا دیا۔ چنانچہ سردار صاحب کی روانگی کے بعد پہلے طارق ہال اور بعد میں ڈائریکٹر سٹوڈنٹس آفیرز کی سرکردگی میں یونین آفس میں کٹھ پتلی

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۲۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ٹولہ کی میٹنگ ہوئی۔ جہاں اتھارٹیز اور ربوہ کے گماشتوں کو اپنی صداقت کا ثبوت دینے کے لئے ممبران سے استعفے طلب کئے گئے اور بعد میں وائس چانسلر کو اپنی بے گناہی کا یقین دلانے کے لئے یہ کارواں وی سی ہاؤس (V.C House) روانہ ہوگئے۔

ڈپٹی رجسٹرار صاحب! مبارک ہو

ربوہ کی ہدایت پر ہمارے خلاف آپ کے آخری داؤ کے استعمال کے باوجود ہم زندہ ہیں اور ایک ایک طالب علم آپ کی برطرفی اور مرزائیوں کے میس کی علیحدگی کے جذبات سے سرشار ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ جامعہ کے یہ جیالے اور غیور طالب علم جنہوں نے ہمیں ووٹ دے کر کامیاب بنایا ہے وہ کیا بزدل اور بے حمیت ہیں کہ آپ کی سازشوں اور غاصبانہ حملے کو معاف کردیں گے؟

طالب علم باخبر ہیں کہ : وہ ممبران جو کہ سردار صاحب کی آمد سے قبل خاموش تھے، سردار صاحب کی آمد، ڈپٹی رجسٹرار کی برطرفی کے مطالبہ، طلباء مطالبات تسلیم کرانے کی آخری تاریخ کے اعلان کے فوراً بعد مستعفی کیوں ہوگئے؟ آخر صرف ایک دن میں یہ سب کچھ کیوں اور کیسے ہو گیا؟ صرف اس لئے کہ اگر یہ لوگ مستعفی نہ ہوتے تو:

گاہ کی تلاش میں اکٹھا ہونے پر مجبور کردیا۔

طالب علم پوچھتے ہیں کہ آخر:

ہمارے خلاف الزامات سے کیوں پر ہے۔

دوستو: گواہ رہنا کہ عین اس وقت جب کہ ختم نبوت کے منکروں کے احتساب اور طلباء مطالبات کے تسلیم کئے جانے کی مہم اپنے عروج پر تھی تو یونیورسٹی میں کس کے اشارے پر کس کس نے استعفے دے کر آپ کی اس مہم کو ناکام بنادینے میں مذموم کردار ادا کیا۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم سرخرو ہیں کہ ہم نے ہر لمحہ پر طلباء کے جذبات کی ترجمانی کی ہے اور جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے سے باز نہ آئے اور ان شاء اللہ! ہم آپ کے جذبات کی ترجمانی اس وقت تک کرتے رہیں گے۔ جب تک ہمارے جسم میں خون کا آخری قطرہ موجود ہے۔

ہم واضح کرتے ہیں کہ دنیا کی کوئی طاقت اقتدار کا کوئی کوڑا، غلامی کی کوئی یادگار، جیلوں کے آہنی دروازے اور کسی قسم کی دھونس دھاندلی ہمیں اپنے عزم سے نہیں ہٹاسکتی۔ آپ کی یونین تمام رکاوٹوں کے باوجود آپ کے مفادات کے لئے کام کرتی رہے گی۔ ہم لوگ چراغوں کی طرح ظلمت شب میں مل جل کر زمانے کو ضیا دیتے رہیں گے۔ طوفان اٹھیں آندھیاں راہوں کو مٹادیں۔ ہم لوگوں کو منزل کا پتہ دیتے رہیں گے۔ حافظ وصی محمد خان (صدر) محمد اسلم (جنرل سیکرٹری) سٹوڈنٹس یونین زرعی یونیورسٹی فیصل آباد

(لولاک، مؤرخہ ۲۳؍ نومبر ۱۹۷۴ء)

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۲۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نرحبكم يا قادة اسلام والمسلمين الملوك وروساء الدول الاسلامية

"ونهنئ السيد ذوالفقار على البهتو على تشرفه بضيافتكم لازالت الامة المحمدية قاطبة قائمة على ان نبينا محمد ﷺ هو خاتم النبيين ولا نبى بعده فنلفت انظاركم الى مايجب اليوم على الزعما المسلمين من حفظ هذه العقيده“

مجلس تحفظ ختم النبوة الباكستان

پچاس ہزار اشتہارات تقسیم کئے گئے

اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقعہ پر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی طرف سے درج ذیل عبارت پر مشتمل اشتہار پچاس ہزار کی تعداد میں چھاپ کر تقسیم کئے گئے۔

اعداء المسلمين فى العالم

مجلس تحفظ ختم النبوة الباكستان

اميرها الخطيب الاكبر السيد عطاء الله شاه

اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقعہ پر عالمی مجلس کی طرف سے عربی میں اشتہارات کی تقسیم کے علاوہ ذیل کا اشتہار اردو میں عوام کے لئے تقسیم کیا گیا۔ جب کانفرنس کے اختتام پر جناب کرنل قذافی سٹیڈیم میں تقریر کے لئے تشریف لانے والے تھے تو اس وقت سرعت کے ساتھ سامعین میں ذیل کا اشتہار تقسیم کیا گیا۔

قادیانی تعلیمات میں

(خلیفہ قادیان کی ڈائری مندرجہ اخبار الفضل مورخہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۲۲ء)

(اخبار الفضل قادیان، مورخہ ۱۸؍ فروری ۱۹۳۰ء)

(الحکم قادیان، مورخہ ۱۴؍ اپریل ۱۹۲۰ء، بحوالہ قادیانی مذہب)

www.facebook.com/amtkn313

ameer@khatm-e-nubuwwat.com

www.amtkn.com

صفحہ ۴۲۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مذکورہ بالا حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ قادیانیوں کے نزدیک مسلمان، یہود، نصاریٰ، ہندو، سکھ بحیثیت اہل کتاب برابر ہیں۔ اب غور فرمائیے کہ مذہبی اور روحانی عقیدت کے لحاظ سے روئے زمین پر کون ملک قادیانیوں کے نزدیک مقدس ہو سکتا ہے جس میں ان کے نبی کا مولد و مدفن ہے۔ پھر اکھنڈ بھارت کے الہامی عقیدہ اور ظفر اللہ خان کے حالیہ خفیہ دورہ بھارت کی روشنی میں سوچئے کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے بغیر بھی کوئی اس سیاہ فتنہ کا علاج ہے؟

مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان

مرزائی دوا ساز فرم کی تشویش ناک صورتحال، الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے

لاہور کی ایک مرزائی فرم شفاء میڈیکو فیکٹری کے متعلق اخبارات میں عجیب و غریب خبریں شائع ہوئی ہیں۔ ان میں معاصر امروز لاہور ۲۲/ فروری ۱۹۷۳ء کی خبر کا یہ حصہ خصوصی توجہ کے لائق ہے۔

”دریں اثناء شفاء میڈیکو فیکٹری میں کام کرنے والی گیارہ لڑکیوں کی جانب سے آج ایک مشترکہ بیان میں مالک فیکٹری کے حالیہ دعوؤں کو چیلنج کیا گیا اور بتایا گیا کہ فیکٹری کے حالات کے اخبارات میں خبریں شائع ہونے پر لڑکیوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر ان سے اس مفہوم کے اس بیان پر دستخط لئے گئے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے تہ خانہ والے ہوسٹل میں رہ رہی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ادارے میں بیشتر لڑکیاں محض حالات کی مجبوری کی وجہ سے کام کر رہی ہیں اور ملازمت کے چلے جانے کے خوف سے زبان کھولنے سے معذور ہیں۔ ان سے فالتو کام لینے کے لئے انہیں ہوسٹل میں رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ان کے قیام و طعام پر جو خرچ آتا ہے اس سے کہیں زیادہ رقم اوور ٹائم ادا نہ کرنے سے بچالی جاتی ہے۔ لڑکیوں سے آٹھ بجے صبح سے چھ بجے شام تک روزانہ کام لیا جاتا ہے۔ تہواری چھٹی کے عوض فالتو کام کرنا پڑتا ہے۔ دو عیدوں کے علاوہ آج تک کوئی سرکاری یا تہواری چھٹی نہیں دی گئی۔ لڑکیوں کو قرآن شریف کی تعلیم قادیانی نقطہ نظر سے دی جاتی ہے اور انہیں ربوہ میں جماعت احمدیہ کے سالانہ جلسوں میں حکماً شریک کیا جاتا ہے۔

بیان میں ان الزامات کی تحقیقات کرانے پر زور دیا گیا اور یہ مطالبات پیش کئے گئے کہ لڑکیوں کو ہوسٹل میں رہنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ اوور ٹائم کام کرنے کا الگ معاوضہ دیا جائے۔ قادیانی تعلیم حاصل کرنے اور ربوہ جانے پر مجبور نہ کیا جائے۔“

(امروز)

”اس سے قبل شفا میڈیکو کے مالک چوہدری سمیع اللہ نے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے بتایا کہ لڑکیوں کو ہر روز صبح ورزش کرائی جاتی ہے۔ رائفل چلانے اور تیرنے کی تربیت دلائی جاتی ہے۔ دن بھر کے کام سے فارغ ہونے پر انہیں قرآن حکیم عربی اور انگریزی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دوسرے شہر جاتے وقت وہ لڑکیوں کو از خود ساتھ نہیں لے جاتے بلکہ بعض اوقات لڑکیاں ان کی کار کے آگے لیٹ جاتی ہیں اور ساتھ لے جانے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ لڑکیوں کی تفریح کا بھی خیال رکھتے ہیں اور انہیں فلم دکھانے کے لئے سینما ہال کا ایک حصہ مخصوص کرا لیتے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کو ملازم رکھنے کے لئے محکمہ محنت سے کوئی اجازت نہیں لی گئی۔“

(امروز لاہور، مورخہ ۲۱/ فروری ۱۹۷۳ء)

”ان خبروں کی اشاعت کے بعد صوبائی وزیر محنت جناب محمد افضل وٹو صاحب نے مداخلت کر کے معاملہ رفع دفع کرا دیا۔ المیے کا ڈراپ سین تسلی بخش نہیں ہے کیونکہ ایک دوا ساز فیکٹری میں کام کرنے والی لڑکیوں کے بارے میں جو معلومات شائع ہوئی ہیں حد درجہ تشویش ناک ہیں۔ ہم ان خبروں پر تنقید و تبصرہ کا حق محفوظ رکھتے ہوئے ارباب حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس ”المیے“ کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۲۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کرائیں تا کہ عوام کے دلوں میں ایک دوا ساز فیکٹری کے بارے میں جو شکوک وشبہات پیدا ہوئے اور دینی ومذہبی اعتبار سے ان کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ان کے بارے میں اطمینان بخش صورت حال سامنے آسکے۔‘‘

(خدام الدین مؤرخہ ۴؍ مارچ ۱۹۷۴ء)

قادیانیوں کے متعلق صدر مملکت ذوالفقار علی بھٹو کے نام آغا شورش کاشمیری کا کھلا خط

پاکستان میں اسرائیل کی مداخلت کے سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر مملکت ذوالفقار علی بھٹو نے اظہار تشویش کیا اس پر آغا مرحوم نے موصوف کو ایک خط لکھا جو ۹؍ اپریل ۱۹۷۴ء کے چٹان میں شائع ہوا جو یہ ہے۔

’’صدر عالی مرتبت: میں یہ خط اس حالت میں آپ کو لکھ رہا ہوں کہ بیمار ہوں اور ڈھانچہ قطعی طور پر متزلزل ہو چکا ہے۔ لیکن میرے دل میں ایک درد بار بار کروٹ لے رہا ہے۔ مجھے اس سے سخت بے چینی ہے۔ میں اس درد کے تمام پہلو...... فی الحال ایک خاص پہلو نوٹس میں لانا چاہتا ہوں اور وہ پہلو یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی امت جو مسلمانوں کی دینی وحدت سے بغاوت کر کے درپردہ ان میں شامل رہنا چاہتی ہے۔ آپ کے عہد میں معاشی وسیاسی اعتبار سے طاقت ور ہوتی جارہی ہے بلکہ وہ اپنے تصرفات قائم کرنے کے لئے اس نے وہی پوزیشن لانے کی ٹھان لی ہے جو امریکہ اور انگلینڈ میں یہودیت، اس طور پر مرزائیت اس کی توام بہن ہے۔ لیکن عمر اس سے بہت بڑی اور اپنی ایک تاریخی خصوصیت کے اپنے پس منظر کے ساتھ برسر اقتدار ہے۔ پاکستان کے جو حالات ہیں اور سیاسی لحاظ سے ملک میں جو کٹا چھنی ہے۔ اس نے مرزائیت کے لئے فضا سازگار بنادی۔ چونکہ سیاسی بکھیڑوں میں آپ نہایت درجہ مصروف ہیں۔ اس لئے مرزائیت پر آپ کی نگاہ شاید اس احتساب کے ساتھ نہیں جو اس کے مضمرات کے لئے ضروری ہے۔

عالی جاہ! آپ نے پچھلے دنوں ایک غیرملکی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے اسرائیل کی پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں کا ذکر کیا تھا۔ یہ کوئی انکشاف نہیں تھا۔ ایک تاریخی حقیقت تھی۔ آپ کے اعتراف سے بات کا وزن اس لئے بڑھ گیا ہے کہ آپ نے فرمایا اور اس طرح تمام دنیا کے سامنے ایک حقیقت حال ہے کہ اسرائیل کی مداخلت کس طرح ہوئی۔ اسرائیل نے کس کی معرفت دخل دیا؟ یا کس پولیٹیکل پارٹی اس کا آلہ کار یا پھر کوئی فرد یا شخصیت پاکستان میں اس کی ایجنٹ بنی ہو تو آپ اس کے چہرے سے نقاب اٹھا دیتے تاکہ ہم ایسے دعا گو حقیقت حال سے واقف ہوجاتے۔

گرامی منزلت! آپ کے علم میں ہے اور انٹیلی جنس بیورو کا فرض ہے کہ وہ آپ کے علم میں اس حقیقت کی جزیات تک لائے کہ اسرائیل میں صرف قادیانی مشن کو یہ رعایت حاصل ہے کہ وہاں اس کا بظاہر تبلیغی لیکن باطناً سیاسی دفتر قائم ہے۔ آج تک قادیانی یہ نہیں بتا سکتے کہ وہاں ان کے مشن کی غایت کیا ہے؟ کس پر تبلیغ کرتے ہیں؟ کیا مسلمان عربوں کو مسلمان بناتے ہیں؟ یا اسرائیلیوں میں تبلیغ اسلام کرتے ہیں؟ جس اسرائیلی حکومت نے عیسائیوں کو تبلیغ کا حق نہیں دیا وہ قادیانی تبلیغ کے بارے میں اتنی فیاض کیوں ہے؟ میں شکر گزار ہوں گا اگر ربوہ کا تبلیغی دفتر یہ بتا سکے کہ تل ابیب کا تبلیغی مشن کتنے یہودیوں کو احمدی بناسکا ہے؟ ظاہر ہے کہ اس کے پاس کوئی جواب نہیں، لیکن تعجب ہے کہ قادیانی مشن وہاں برابر براجمان ہے آخر کیوں؟

محترم المقام: حیرت ہے کہ پاکستان میں شروع سے لے کر اب تک جو حکومت بھی قائم ہوئی ہے اس نے قادیانی مسئلہ کو فرقہ وارانہ مسئلہ کی سطح پر رکھ کر اس کے خلاف آواز اٹھانے اور احتجاج کرنے والوں کو معتوب گردانا ہے۔ میرے علم میں ہے کہ اس کے وجوہ کیا ہیں؟ سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ عالمی امپریلزم نے مسلمانوں میں سے جن نام نہاد ’’مسلمان عناصر‘‘ کو اسلامی مملکتوں میں اپنے مقاصد

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۳۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مذمومہ کی تکمیل کے لئے چن رکھا ہے۔ ان میں قادیانی سرفہرست ہیں۔ پاکستان چونکہ عالمی امپریلزم کے سامنے بعض امور میں ”بے بس“ ہے۔ اس لئے اس کے حکمران قادیانی امت کی دل جوئی کے لئے مجبور ہیں۔ لیکن اب یہ دل جوئی پاکستان کی کمزوری بن گئی ہے۔

جناب والا! میں آپ کے قادیانیت سے متعلق خیالات سے بخوبی واقف ہوں۔ مجھے بھی ایک زمانہ میں آپ کی نیاز مندی کا شرف حاصل تھا۔ آپ آج اگر قادیانیت کے بارے میں توجہ نہیں فرماتے یا اس کو ہلکی سی چیز سمجھتے ہیں تو یہ آپ کی فیاضی ہے، ورنہ سرطان کا یہ مرض پوری امت کے رگ وریشے میں دوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پنجاب کا مسلمان (چند روشن چہروں کے سوا) اس باب میں اندھا ہوچکا ہے۔ وہ سمجھتا ہے شاید قادیانی مسلمانوں کا جزو ہیں۔ بالفاظ دیگر مسلمانوں کا ایک فرقہ ہیں۔ حالانکہ قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کے نہ ماننے والوں کو مسلمان ہی نہیں سمجھتے ، بلکہ ان کی کتابوں میں درج ہے کہ جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا وہ ذریۃ البغایا فاحشہ عورتوں کی اولاد ہے۔ وغیرہ! یہ گالی ہم سب کے لئے ہے۔ لیکن ہم اس امت کے بارے میں ضرورت سے زیادہ فیاض ہوچکے ہیں۔

گرامی جاہ! مرزائی یہ غلط تاثر دیتے ہیں کہ جو لوگ انہیں مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کرتے وہ ان کی عزت جان اور مال کے دشمن ہیں۔ یہ ایک بہتان ہے۔ یہ ایک جھوٹ ہے۔ یہ ایک افتراء ہے۔ میں ان مسلمانوں میں سے ہوں جو علامہ اقبال کے مسلک کی ہم نوائی میں قادیانی امت کو اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ لیکن جہاں تک کسی بھی مرزائی کی ہر نوعی عزت کا تعلق ، اس کی جان کا سوال اور اس کے مال کا معاملہ ہے۔ اس کی نگہداشت ہم سب کا فرض ہے۔ اگر ہم میں سے کوئی ان کی جان مال عزت کے لئے خطرہ بننا چاہتا ہے یا ان اقدار کا دشمن ہے تو وہ انسان نہیں جانور ہے۔ میرے نزدیک کافر و مسلمان کی بیٹی یکساں ہے۔ اس کی عصمت و آبرو سب کی عصمت وآبرو ہے۔ ایسا شخص جو اس طرح کی دشمنی کرتا ہے۔ بڑی سے بڑی سزا کا مستحق ہے۔ قانون اس سے رعایت کرتا ہے تو قانون خود مجرم ہے۔

والا مرتبت! میری تشویش کا اصل باعث یہ ہے کہ پیپلز پارٹی جس کو پنجاب اور سندھ کے عوام نے سند نمائندگی دی ہے۔ اس مسئلہ کو محسوس نہیں کرتی اور آپ کے بعض لادین وزراء یا دین کے معاملہ میں سخی وزراء کی بدولت مرزائی سرکاری زندگی کے مختلف شعبوں پر سربراہ کی حیثیت سے چھا رہے ہیں۔ آپ کے زیر سایہ بعض ایسے قادیانی افسر براجمان ہیں جو نوکری پاکستان کی کرتے لیکن ہدایات ربوہ سے لیتے ہیں۔ ان لوگوں نے ملک میں سیاسی اقتدار کا حصول اپنا وظیفہ حیات بنالیا ہے۔

عالی جاہ! ممکن ہے میری یہ آواز آپ کے لئے بہت حقیر ہو۔ لیکن میں نے آپ کو آئندہ کے مہلک خطرے سے آگاہ کردیا ہے۔ یہ سوال اپوزیشن کا نہیں، محمد عربی ﷺ کا ہے۔ جن کی غلامی کے حلقے میں ہم سب شامل ہیں۔ بلال حبشی ؓ سے لے کر ابوبکر صدیق ؓ تک اور شورش کاشمیری سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو تک۔

مخلص : شورش کاشمیری

حضرت مولانا لال حسین اختر کا سفر آخرت ...... آنکھوں دیکھا حال

۱۰؍جون ۱۹۷۳ء بروز اتوار مغرب کے قریب لاہور سے ملتان دفتر فون آیا کہ حضرت مولانا لال حسین اختر کی بیماری خطرناک حالت میں داخل ہوگئی ہے۔ اطلاع ملتے ہی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کے مبلغ مولانا غلام محمد صاحب ملتان سے لاہور کے لئے روانہ ہو گئے۔ رات کے پونے گیارہ بجے پھر اطلاع ملی کہ حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر سوادس بجے انتقال فرماگئے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی دفتر میں موجود مبلغ ایک دوسرے کے گلے لگ کر رونے لگے۔

”انا للہ وانا الیہ راجعون“ سے دفتر کی عمارت گونج اٹھی۔ کیونکہ مولانا مرحوم نہ صرف جماعت کے امیر تھے بلکہ تمام مبلغین کے روحانی مربی اور پیشوا تھے۔ مولانا کے انتقال پر ملال سے جہاں جماعت یتیم ہوگئی تھی، وہاں مبلغین بھی اپنے عظیم قائد کے سایہ شفقت

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۳۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سے محروم ہو چکے تھے۔ بالآخر اپنے جذبات پر کنٹرول کر کے مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے حضرت مولانا تاج محمود صاحب کو فون کیا۔ حضرت مولانا تاج محمد صاحب مولانا مرحوم کے دکھ سکھ کے ساتھی اور ہم سفر ہونے کے علاوہ مجاہدین حریت کے ایک ہی قافلہ کے بچھڑے ہوئے مسافر تھے۔ مولانا تاج محمود صاحب نے ہدایات دیں، پروگرام سمجھایا، ملک بھر میں اطلاعات کے لئے کہا اور ساتھ ہی اخبارات میں خبریں شائع کرانے کی ذمہ داری قبول فرمائی۔

ملتان ختم نبوت کے وفد کی لاہور حاضری

حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب میانوی کی قیادت میں مولانا محمد حیات صاحب فاتح قادیان، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا سید منظور احمد شاہ اور مولانا اللہ وسایا، مولانا کے جنازہ میں شرکت کے لئے بارہ بجے رات دفتر ملتان سے روانہ ہوئے۔ خانیوال سے سندھ ایکسپریس پر سوار ہو کر صبح پونے سات بجے لاہور پہنچے۔ دوران سفر ساتھیوں کی حالت دیکھی نہ جاتی تھی۔ سارے مغموم اور پریشان تھے۔ مولانا محمد حیات جنہیں اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صبر کی دولت سے نوازا ہے۔ سخت غمزدہ تھے۔ ایک دفعہ فرمایا کہ مولانا لال حسین اختر صاحب اور میں رد مرزائیت میں ایک دوسرے کا سہارا تھے۔ مگر وائے قسمت کہ مجھے وہ اکیلا چھوڑ کر جارہے ہیں۔ یہ کہا اور زار و قطار رو دیئے۔

دفتر ختم نبوت لاہور ہی میں مولانا کا انتقال ہوا تھا اور وہیں سے جنازہ اٹھنا تھا۔ جب دفتر پہنچے تو مولانا محمد شریف صاحب جالندھری نے تمام ساتھیوں کو تسلی دی۔ صبر و تحمل کی تلقین فرمائی۔ سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا کہ آپ ہی کا انتظار تھا۔ میرا جی چاہتا تھا کہ ہم تمام مبلغ اپنے ہاتھوں ہی مولانا کو غسل دیں۔ چنانچہ فوراً مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا ممتاز الحسن شاہ اور مولانا کے صاحبزادے اطہر محمود صاحب غسل دینے میں مشغول ہوئے۔ دفتر کا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ باہر سے مہمان آ رہے تھے۔ آٹھ بجے حضرت مولانا تاج محمود، مولانا مفتی زین العابدین، مولانا مجاہد الحسینی، مولانا غلام محمد صاحب لائل پوری، جناب قاضی فیض احمد، جناب حاجی منظور الحق لائل پور سے تشریف لائے۔ نو بجے جنازہ کا وقت دیا ہوا تھا۔ چنانچہ مولانا تاج محمود صاحب کی نگرانی میں انتظام کو آخری شکل دی گئی۔ دہلی دروازہ کے باغ میں شامیانے لگوائے گئے۔ وضو کے لئے پانی کا انتظام کیا گیا۔ نظم و نسق کو برقرار رکھنے کے لئے رضا کاروں کی ڈیوٹی لگائی گئی۔ پونے نو بجے مولانا کی چارپائی دفتر کے باہر والے کمرہ میں رکھ دی گئی تاکہ گھر کی مستورات آخری دیدار کر سکیں۔ پونے نو بجے ہی دفتر کے باہر بازار میں بے پناہ ہجوم ہو گیا۔ مدارس عربیہ کے اساتذہ اور طلباء، مجلس کے کارکن و معاون اور عقیدت مند مولانا کے جنازہ کو آخری کندھا دینے کے لئے آخری ملاقات اور زیارت سے بہرہ ور ہونے کے لئے بے قرار تھے۔ جناب آغا شورش کاشمیری، سید مظفر علی شمسی اور حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمی صاحب ساتھیوں کو صبر کی تلقین فرما رہے تھے۔ اتنے میں مولانا تاج محمود صاحب دفتر سے اترے اور درد انگیز لہجہ میں فرمایا کہ ملک کے عظیم مجاہد کا جنازہ ابھی دفتر سے آنے والا ہے، راستہ دیجئے۔

دفتر سے مولانا کی آخری روانگی

مجلس ختم نبوت پاکستان کے امیر مولانا لال حسین اختر جن کی ساری زندگی اس مسئلہ کی خدمت میں گزری اور جنہوں نے اپنی زندگی کا آخری سانس بھی دفتر میں لیا۔ آج ان کا جنازہ دفتر ختم نبوت سے اٹھنے والا ہے۔ حسن اتفاق کہیے یا خدا کی دین، مولانا کی وصیت تھی کہ اگر ہسپتال یا کہیں اور میرا انتقال ہو جائے تو مجھے دین پور شریف دفن کرنا اور دین پور جاتے وقت راستہ میں کسی ختم نبوت کے دفتر میں مجھے دس منٹ ضرور رکھنا۔ اللہ تعالیٰ نے مولانا کی یہ خواہش بھی پوری فرمادی کہ ان کا جنازہ دفتر ختم نبوت سے اٹھا۔ مبلغین ختم نبوت مولانا محمد

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۳۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

شریف، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا محمد حیات، مولانا غلام محمد، مولانا سید منظور احمد شاہ، مولانا عزیز الرحمن، مولانا ممتاز الحسن اور مولانا اللہ وسایا نے اپنے امیر اور مربی کا جنازہ دفتر سے نیچے اتارا۔ آخری دیدار کے مشتاق ہزاروں مسلمانوں نے مولانا کی چارپائی کو کندھا دیا اور جنازہ گاہ میں لائے۔

پہلا جنازہ

نو بجے کا وقت دیا ہوا تھا۔ سوا نو بجے تک انتظار کیا۔ اجتماع کی کثرت کی وجہ انتظار برقرار رکھنا مشکل تھا۔ چنانچہ جنازہ حضرت مولانا مفتی زین العابدین نے پڑھایا۔ جس میں مبلغین ختم نبوت کے علاوہ مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا مجاہد الحسینی، مولانا سرفراز خان صفدر، مولانا تاج محمود، مولانا محمد ضیاء القاسمی، مولانا حامد میاں، مولانا غلام محمد لائل پوری، مولانا اشرف ہمدانی، جناب آغا شورش کاشمیری، جناب سید مظفر علی شاہ شمسی، ڈاکٹر منیر الحق، جناب حکیم عبدالسلام ہزاروی، بلند اختر نظامی ناظم ختم نبوت لاہور و حافظ محمد صادق صدر جماعت لاہور اور ان کے علاوہ ملک کے ہر گوشہ سے مجلس ختم نبوت کے نمائندے اور مولانا کے ہزاروں عقیدت مند شریک تھے۔

دوسرا جنازہ

ہزاروں ساتھیوں کے رہ جانے کی وجہ سے دوسرا جنازہ ساڑھے دس بجے حضرت مولانا عبیداللہ انور نے پڑھایا جس میں ہزاروں عوام مسلمانوں کے علاوہ جناب سید انور حسین شاہ، خلیفہ مجاز حضرت رائے پوری، مولانا قاری اجمل خان بھی شریک ہوئے۔ اس کے بعد بھی ہجوم اکٹھے ہوتے رہے اور نماز جنازہ پڑھتے رہے۔

دین پور شریف روانگی

مغرب کے قریب لاہور اسٹیشن سے تیز رو پر مولانا مرحوم کے جنازہ کو رکھا گیا۔ مجلس ختم نبوت کے مبلغین کے علاوہ بیسیوں مولانا کے عزیز اور عقیدت مند مولانا کے جنازہ کے ساتھ سفر کی سعادت حاصل کرنے کے لئے تیز رو پر سوار ہوئے۔ اسٹیشن پر ڈاکٹر منیر الحق، مولانا حامد میاں، سید انور حسین شاہ، مولانا تاج محمود، حاجی محمد ابراہیم، حاجی سلطان لائل پوری اور دیگر سینکڑوں عقیدت مندوں نے مولانا کے جنازہ کو رخصت کیا۔ ساہیوال جب تیز رو پہنچی تو مولانا حبیب اللہ اور مولانا مقبول احمد کی قیادت میں علاقہ بھر کے علماء، طلباء اور عوام اسٹیشن پر مولانا کے آخری دیدار کے لئے منتظر تھے۔ عارف والا، ہڑپہ، ساہیوال، اوکاڑہ، پتوکی، پاکپتن کے سینکڑوں دوستوں کی عقیدت قابل رشک تھی۔ حضرت مولانا حبیب اللہ اور عارف والا کے حافظ محمد اسماعیل، مولانا محمد یوسف اور دوسرے ساتھی دین پور کے لئے ساتھ روانہ ہو گئے۔ چیچہ وطنی اسٹیشن پر پیر جی عبداللطیف صاحب کی قیادت میں سینکڑوں دوست موجود تھے۔ پیر جی نے دعاؤں سے نوازا اور ملتان کے لئے گاڑی چل پڑی۔ ملتان اسٹیشن پر مولانا غلام حیدر، مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی مبلغین ختم نبوت کی قیادت میں سینکڑوں دوست موجود تھے۔ جن میں مدرسہ قاسم العلوم، خیر المدارس کے اساتذہ اور طلباء خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ یہاں سے جناب مولانا غلام حیدر اور محمد عبداللہ صاحب بھی سوار ہو گئے۔

دین پور میں

صبح سوا پانچ بجے خان پور اسٹیشن پر تیز رو پہنچی۔ اسٹیشن پر مولانا محمد عبداللہ شیخ الحدیث جامعہ رشیدیہ و نائب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۳۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پاکستان، مولانا محمد ابراہیم شیخ الحدیث خان پور کی قیادت میں علاقہ کے علماء اور خان پور کے طلباء صوبہ سندھ اور بہاول پور کے وفود نے مولانا کے جنازہ کو اپنی آنکھوں پر لیا اور دین پور شریف کے لئے ٹرک، تانگوں، کاروں کے ذریعے روانہ ہوئے۔ دین پور شریف میں پہلے اطلاع ہوچکی تھی۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد عبداللہ درخواستی نے جنازہ کو بڑھ کر کندھا دیا اور جنازہ گاہ میں لاکر رکھوا دیا۔ تمام دوستوں نے صفیں بنائیں۔ حضرت درخواستی نے تمام دوستوں کو بیٹھ جانے کا حکم دیا اور تقریر شروع فرمائی۔

حضرت درخواستی کا خطاب

مولانا نے خطبہ مسنونہ ہی ایسے رقت آمیز لہجہ میں پڑھا کہ سنتے ہی تمام حاضرین پر گریہ طاری ہوگیا۔ آپ نے فرمایا کہ مولانا لال حسین اختر کی وفات سے شاہ جی، قاضی صاحب، مولانا جالندھری کی جدائی کے زخم تازہ ہوگئے ہیں۔ بخاری کے قافلہ کے یہ لوگ ایک ایک کر کے ہم سے جدا ہورہے ہیں۔ جب کہ ملک وملت کو ان کی شدید ضرورت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ مولانا لال حسین اختر جیسے موتی صدیوں بعد پیدا ہوا کرتے ہیں۔ مولانا کی ذات گرامی ہمارے لئے ایک عظیم سرمایہ تھی۔ ہمیں مولانا کی قابلیت اور میدان مناظرہ میں انفرادیت پر فخر تھا۔ مگر خدا کی تقدیر کے سامنے کس کی چلتی ہے۔ آج مولانا چند منٹوں کے لئے ہمارے مہمان ہیں۔ (جنازہ سامنے پڑا تھا) چند منٹوں بعد ہم سے ایسے روٹھ جائیں گے کہ قیامت تک شدید اشتیاق اور محبت کے باوجود ہم زیارت نہ کرسکیں گے۔ یہ فرمایا اور پھر زار و قطار روتے رہے۔ تمام حاضرین بھی رو رہے تھے۔ عجیب کیفیت تھی مولانا نے پھر فرمایا کہ مولانا لال حسین اختر جیسے لوگوں کی بھی جدائی اس بات پر دال ہے کہ قیامت قریب ہے اس لئے کہ حضور سرور کائنات ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے قریب علم اٹھ جائے گا۔ یعنی عالم ایک ایک کر کے خدا کو پیارے ہو جائیں گے۔

آخر میں آپ نے مجلس ختم نبوت کو جمعیۃ علماء اسلام اور اپنی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلایا اور موجود مبلغین کو شفقت بھرے لہجہ میں جوانمردی اور بہادری سے کام کرنے کی ہدایت فرمائی اور عوام سے وعدہ لیا کہ مولانا کی اصل تعزیت اسی میں ہے کہ مولانا مرحوم کے مشن ختم نبوت کو زندہ رکھا جائے۔

حضرت دین پوری

دین پور شریف گدی کے جانشین مولانا خلیفہ عبد الہادی صاحب دامت برکاتہم قطب الاقطاب بہت بیمار ہیں۔ کمزوری کی وجہ سے چل نہیں سکتے۔ چارپائی پر بٹھا کر ساتھی مسجد کے صحن میں جنازہ کے قریب لائے۔ مولانا دین پوری نے فرمایا کہ بھائی میں نے کہا ہے کہ جوان (مولانا لال حسین) دور سے آرہا ہے۔ محبت سے آرہا ہے۔ اس لئے میں نے اپنی قبر کی جگہ ان کو دے دی ہے۔

تدفین

حضرت درخواستی دامت برکاتہم نے جنازہ پڑھایا۔ حضرت درخواستی، حضرت دین پوری، مولانا عبداللہ (ساہیوال)، مولانا حبیب اللہ (ساہیوال)، مولانا محمد ابراہیم شیخ الحدیث خان پور، مولانا واحد بخش، مولانا غلام حیدر، مولانا غلام مصطفیٰ بہاول پوری، مولانا عبد الشکور دین پوری، سردار قاسم خان (ڈیرہ)، سردار رشید خان، میاں غلام قادر (رحیم یار خان)، حافظ حنیف سہارن پوری، مولانا غلام احمد (احمد پور شرقیہ)، مولانا محمد شریف احرار (کراچی) کے علاوہ سندھ، بہاول پور ڈویژن، ڈیرہ غازی خان کے ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۳۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قبر پہلے سے تیار تھی۔ جنازہ کے بعد قبرستان لے جایا گیا۔ جہاں حضرت درخواستی دامت برکاتہم کی موجودگی میں مبلغین ختم نبوت اور دوسرے سینکڑوں علماء، طلباء اور عقیدت مندوں نے حضرت مولانا غلام محمد صاحب دین پوری کے پاؤں میں اور حضرت مولانا عبیداللہ سندھی مرحوم کے پہلو میں (مغرب کی جانب تین قبریں چھوڑ کر ) حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر کو رحمت خداوندی کے سپرد کر دیا۔ مٹی برابر کرنے تک حضرت درخواستی درمیان میں بار بار دعا کراتے رہے۔ ساڑھے سات بجے تدفین سے فارغ ہوئے۔ خان پور میں حضرت درخواستی نے خصوصی مجلس میں حضرت مولانا صاحبزادہ اطہر محمود خان کی اپنے رومال مبارک سے دستار بندی کرائی۔ دعائیں دی اور اجازت مرحمت فرمائی۔

پسماندگان سوگوار

مولانا مرحوم نے اپنے پیچھے ایک بیوہ، ایک جواں سال صاحبزادہ، ایک صاحبزادی، ختم نبوت کے پچاس مبلغین اور ملک کے ہر کونہ سے لاکھوں عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق ارزاں فرمائے۔

(لولاک جون ۱۹۷۳ء)

مجلس شوریٰ کا اجلاس

۱۷؍ جون ۱۹۷۳ء ملتان مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی مجلس شوریٰ کے مرکزی دفتر واقع ملتان میں زیر صدارت مفتی محمد عبداللہ صاحب رائے پوری منعقد ہوا۔ ملک کے دور دراز علاقوں سے اراکین شوریٰ شریک اجلاس ہوئے۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی نے مجلس کی خاص دعوت پر اجلاس میں شرکت فرمائی۔ نہایت ہی رقت انگیز منظر اور ماحول میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی قائم کردہ جماعت کے امیر مولانا لال حسین اختر کی وفات کے بعد نئے امیر کے انتخاب پر غور کیا گیا۔ متفقہ طور پر طے پایا کہ جماعت میں اس وقت حضرت امیر شریعت اور مولانا محمد علی جالندھری کے قدیم ترین ساتھیوں میں مولانا محمد حیات مدظلہ سر فہرست ہیں۔ انہوں نے حفاظت اسلام، اشاعت دین اور تحریک آزادی برصغیر میں بے مثال محنت ، شجاعت اور قربانی کا مظاہرہ کیا ہے۔ مولانا موصوف کی صحت اگرچہ گرتی ہوئی دیوار ہے۔ لیکن تاہم اس کے باوجود ان کی خدمات کے اعتراف اور ان کے فیوض و برکات سے بہرہ مند ہونے کے لئے یہ مناسب خیال کیا گیا کہ انہیں دستور کے مطابق چھ ماہ کے لئے عارضی طور پر امیر جماعت منتخب کر لیا جائے اور اس کے بعد نئی ممبر شپ ہو کر چھ ماہ کے بعد نیا انتخاب کرایا جائے۔ مجلس شوریٰ نے فیصلہ کیا کہ آئندہ چھ ماہ میں نئی ممبر شپ کے دوران ملک بھر سے مسئلہ ختم نبوت کے ساتھ گہری وابستگی رکھنے والے اصحاب کو مجلس کا رکن بنایا جائے گا اور آئندہ انتخاب میں جماعت کو ایک مضبوط فعال اور مؤثر جماعت کی حیثیت سے منظم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مجلس شوریٰ نے ۲۷؍ مئی ۱۹۷۳ء کو ربوہ میں منعقد ہونے والے مرزائیوں کے اہم ترین اجلاس اور اس کے متعلق تشویش ناک اطلاعات پر غور کیا۔

مجلس شوریٰ کو اس امر پر انتہائی صدمہ ہوا کہ مرزائی جو اس وقت موجودہ حکومت کے خلاف فضا بنانے اور ایک اور شخصیت کو ملک پر برسراقتدار لانے کے لئے کوشاں ہیں اس کے باوجود حکومت فرقہ وارانہ سرگرمیوں کو روکنے کی آڑ میں بلاوجہ مرزائیوں کو تحفظ دے رہی ہے۔ مجلس میں ان تمام پہلوؤں پر غور کیا گیا جو اس وقت ملک کو درپیش ہیں اور جس صورت حال سے مرزائی پورا پورا فائدہ اٹھا کر ملک میں افراتفری انتشار اور گڑ بڑ پیدا کرنا چاہتا ہے تا کہ کسی نہ کسی صورت میں ملک میں مستقل آئین کا نفاذ ناممکن بن جائے۔ مجلس شوریٰ نے طے کیا کہ حکومت پر واضح کیا جائے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت ملک میں کسی فرقہ وارانہ صورت حال کو خراب کرنے کے حق میں ہرگز نہیں ہے۔ لیکن

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۳۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزائی مذہبی جماعت کے بھیس میں جو خطرناک سیاسی کھیل کھیل رہے ہیں اس سے غفلت کے نتائج خطرناک ہوں گے۔ اس لئے مجلس حکومت کو ان تمام امکانی خطرات سے آگاہ کرے گی جو اس جماعت سے اس وقت ملک کو درپیش ہیں۔ شوریٰ نے فیصلہ کیا کہ رائے عامہ کو مرزائی خطرہ سے آگاہ کرنے اور بیدار کرنے کا کام بڑی مستعدی اور تنظیم سے کیا جائے گا۔ اسی مقصد کے لئے ضروری اور مؤثر لٹریچر کی اشاعت پر بھی زور دیا جائے گا۔ مجلس شوریٰ نے آغا شورش کاشمیری کے کتابچہ ’’عجمی اسرائیل‘‘ کو اس سلسلہ میں مفید ترین قرار دیتے ہوئے اس کی اشاعت پر زور دیا۔ بتایا گیا کہ جماعت کی طرف سے کافی تعداد میں یہ کتابچہ خرید کر تقسیم کیا جا رہا ہے۔ مجلس شوریٰ نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ بعض سرکاری محکمے جن کے ہیڈ مرزائی ہیں وہاں مرزائی اپنا لٹریچر بڑی تیزی اور کثرت سے پھیلا رہے ہیں۔ طے پایا کہ یہ صورت حال صدر مملکت کے نوٹس میں لائی جائے اور جن مسلمان سرکاری ملازمین کے مرزائی لٹریچر سے متاثر ہونے کا امکان ہے انہیں اسلام کے متعلق ضروری معلومات پر مشتمل لٹریچر پہنچایا جائے تاکہ ان کے ایمان کی حفاظت ہو سکے۔ حضرت درخواستی نے بڑے دردمندانہ لہجہ میں اجلاس سے خطاب فرمایا اور اپنی تقریر میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرحوم پیشواؤں حضرت امیر شریعت، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین اختر کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ مجلس کے رہنماؤں کو حوصلہ دلایا اور فرمایا کہ میں اور میرے تمام ساتھی ان شاء اللہ تحفظ ختم نبوت کے لئے آپ کے ساتھ ہیں۔ مولانا نے عصر حاضر کے فتنوں کا ذکر کیا اور اس امر پر گہرے رنج کا اظہار فرمایا کہ اسلام کی جڑیں کاٹی جا رہی ہیں۔ ختم نبوت کے مسئلے کو دبایا جا رہا ہے۔ علماء حق کی تذلیل کی جا رہی ہے۔ پیروں اور مولویوں میں سے بعض کو لالچ دے کر اہل حق کے مقابل کھڑا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حضرت نے بعض اندرونی خطرناک حالات اور خطرات کی نشان دہی کرتے ہوئے فرمایا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود آپ اپنے حوصلے بلند رکھیں اور باطل کے خلاف صف آراء رہیں۔ حق تعالیٰ کی خاص نصرت آپ کے اور ہمارے شامل حال ہو گی۔ حضرت نے جماعت کے نئے امیر مولانا محمد حیات فاتح قادیان کو بھی زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے جماعت کو مبارک باد دی کہ انہوں نے درست انتخاب فرمایا ہے۔ مجلس شوریٰ نے گزشتہ سال کے مصارف کی منظوری دی اور بعض دفتری امور میں انتظامیہ کی سفارش کے مطابق دفتر کو انہیں سرانجام دینے کا اختیار دے دیا۔

مجلس شوریٰ نے تمام جماعتی امور کو سرانجام دینے کے لئے مجلس کے امیر مولانا محمد حیات فاتح قادیان مجلس کے ناظم اعلیٰ مولانا عبد الرحیم اشعر اور خازن مولانا عزیز الرحمٰن خلف الرشید مولانا محمد علی جالندھری اور مجلس کے امور عامہ کے انچارج اور امیر مرکزیہ کے خصوصی مشیر مولانا محمد شریف جالندھری ہر چار اصحاب پر ایک پینل مقرر کر دیا کہ تمام امور باہمی مشاورت سے طے کئے جائیں اور مجلس شوریٰ کے فیصلوں کو عملی جامہ پہنایا جائے۔

آخر میں حضرت مولانا محمد حیات فاتح قادیان نے مجلس شوریٰ کو یقین دلایا کہ وہ اپنے بڑھاپے اور بیماری کے باوجود کوشش کریں گے کہ وہ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے لگائے ہوئے اس پودے کو زیادہ سے زیادہ مضبوط اور مستحکم کریں اور یہ جماعت زیادہ سے زیادہ ترقی کرے۔ مجلس شوریٰ نے تین قراردادیں منظور کیں جن کا مفہوم درج ذیل ہے۔

پہلی قرارداد میں جماعت کے مرحوم امیر مولانا لال حسین اختر کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور اسے عالم اسلام کے لئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا گیا۔ مولانا کے لئے مغفرت کی دعا کی گئی اور مولانا کے پسماندگان سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔

دوسری قرارداد میں اس سال ملک میں وصال پانے والے ایسے اکابر کے لئے دعائے مغفرت اور اظہار ہمدردی کیا جو اسلام اور مسلمانوں کے لئے عظیم سرمایہ تھے۔ تیسری قرارداد میں حکومت کے اس رویہ پر احتجاج کیا گیا کہ اس نے بلاوجہ ملک میں دفعہ ۱۴۴ یہ کہہ کر نافذ کر دی کہ

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۳۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کا خطرہ ہے۔ حالانکہ مسلمانوں کی طرف سے کوئی ایسا خطرہ نہیں ہے۔ اب حکومت نے دفعہ ۱۴۴ ہٹالی ہے۔ لیکن فرقہ وارانہ تقاریر پر پابندی موجود ہے۔ یہ فرقہ وارانہ لفظ محض ایک بہانہ ہے۔ در حقیقت بلا وجہ ناجائز طور پر مرزائیوں کو ان کی ملک دشمن سرگرمیوں کے باوجود تحفظ دے رہی ہے۔

(لولاک، مؤرخہ ۲۸؍جون ۱۹۷۳ء)

چوہدری ظفر اللہ خان کی خدمات پر بھٹو صاحب کے بیان کا تجزیہ

گزشتہ دنوں مرزائیوں کے مشہور لاٹ پادری چوہدری ظفر اللہ خان عالمی جج کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے تو انہیں سبکدوشی کے موقعہ پر صدر بھٹو کی طرف سے ایک رسمی پیغام بھیجا گیا ہے۔ جو پاکستان کے اخبارات میں شائع ہوا ہے۔ اس پیغام میں صدر بھٹو نے چوہدری صاحب موصوف کو بڑا خراج تحسین پیش کیا ہے۔ انہیں مسلمانوں کا بہت بڑا محسن اور ان کے لئے عظیم خدمات سرانجام دینے والا خصوصاً پاکستان کے بنانے میں بہت بڑا حصہ لینے والا بتایا ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہم صدر مملکت کا دلی احترام کرنے کے باوجود ان کے اس بیان سے اتفاق نہیں کر سکتے یا تو یہی بیان سرے سے صدر مملکت کا ڈرافٹ کیا ہوا ہی نہیں اور اگر اس بیان کو انہوں نے خود مرتب کیا ہے تو وہ اپنی تمام تر تاریخ دانی کے باوجود خلاف واقعہ بات کہہ گئے ہیں اور ان کی معلومات صحیح نہیں ہیں۔ انہوں نے وہی کچھ کہہ دیا ہے۔ جو چوہدری صاحب کے متعلق مرزائی کہتے رہتے ہیں۔ چوہدری صاحب کے متعلق مرزائی حلقے جو باتیں کہتے ہیں۔ وہ حسب ذیل ہیں۔

یہ تینوں باتیں خلاف واقعہ ہیں۔ چوہدری صاحب بڑے قانون دان نہیں اور نہ ہی وہ کبھی کامیاب ہوئے ہیں۔ کسی پی۔ ایل۔ ڈی میں کسی ایسے مقدمہ کا حوالہ موجود نہیں ہے جو چوہدری صاحب نے جیتا ہو اس مقدمے کے حوالے کو ججوں نے قانون کی ایک سند کے طور پر پی۔ ایل۔ ڈی میں درج کیا ہو۔ بلکہ انہوں نے کبھی کوئی قابل ذکر مقدمہ جیتا ہی نہیں ہے۔ یو۔این۔او میں مسئلہ کشمیر کے سلسلہ میں وہ کئی کئی گھنٹے لمبی تقریریں کرتے رہے۔ لیکن انہوں نے محض لمبی لمبی تقریریں کیں۔ کشمیر کا کچھ نہ بنا۔ لہٰذا مقدمہ لمبا ہوا۔ دشمن کو موقعہ مل گیا۔ اس نے کشمیر پر اپنا قبضہ مضبوط سے مضبوط تر کر لیا اور نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔

چوہدری صاحب کی قابلیت کا ایک واقعہ بھی سن لیجئے۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری پر ایک دفعہ قادیان کی ایک تقریر کے مقدمہ میں حضرت شاہ نے اپنی صفائی کے گواہوں میں چوہدری ظفر اللہ خان کے مرشد اور مرزائیوں کے بڑے بشپ مرزا محمود صاحب خلیفہ قادیان کو طلب کر لیا۔ جب مرزا محمود بحیثیت گواہ عدالت میں پیش ہوئے تو چوہدری صاحب نے آگے بڑھ کر عدالت سے عرض کیا کہ میں حضرت صاحب کی طرف سے پیش ہونا چاہتا ہوں۔ عدالت نے دریافت کیا کہ آپ کس حیثیت سے پیش ہونا چاہتے ہیں۔ چوہدری صاحب نے کہا کہ میں حضرت صاحب کے وکیل کی حیثیت سے پیش ہونا چاہتا ہوں۔ عدالت نے کہا چوہدری صاحب آپ ہوش میں ہیں؟ کبھی گواہ کی طرف سے بھی کوئی وکیل پیش ہو سکتا ہے۔ چوہدری صاحب ہوش میں آئے کہنے لگے ”آئی ایم سوری“۔

حقیقت یہ ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان ایک نالائق وکیل تھا۔ اس نے یو۔این۔او میں کشمیر کا مسئلہ لڑا اور اس کا بھٹہ گل کر دیا۔ اسے ایسا الجھایا اور اتنا لمبا کیا کہ اب شاید وہ کبھی سلجھنے کے قابل نہ ہو سکے گا۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ 437

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قائداعظم مرحوم کی یہ کہہ کر توہین کی تھی کہ پاکستان کا نعرہ دیوانے کی بڑ ہے۔

چوہدری ظفر اللہ مرزا محمود خلیفہ قادیان کے زبردست چیلے تھے۔ چوہدری صاحب کے گرو خلیفہ قادیان نے پاکستان کے خلاف بیان دیئے اور آخری وقت تک پاکستان کی مخالفت کرتے رہے۔ ان کا پاکستان کی مخالفت میں آخری بیان ۱۵؍مئی ۱۹۴۷ء کے ’’الفضل‘‘ قادیان میں شائع ہوا تھا اور جون ۱۹۴۷ء کو پاکستان کا اعلان ہوا جب گرو ۱۵؍مئی تک پاکستان کی مخالفت کر رہا تھا تو گروہ کے اس چیلے نے کب اور کہاں پاکستان بنانے میں خدمات سرانجام دین اور حصہ لیا۔

چوہدری صاحب اکیلے وہ ٹوڈی تھے۔ جنہوں نے آخر دم تک انگریز کا طوق امتیاز و وفا اپنے گلے میں ڈالے رکھا۔ قائداعظم کے حکم پر بڑے بڑے ٹوڈی مسلمانوں نے بھی اپنے خطابات و القابات واپس کر دیئے تھے۔ لیکن چوہدری صاحب کو خدا نے توفیق ہی نہ دی کہ وہ سرکاری خطاب ترک کر دیں۔ وہ کسی بات میں بھی قائداعظم کے پیروکار نہ تھے۔

خلاف واقعہ ہے۔ چوہدری صاحب نے اتنی ناکام خارجہ پالیسی کی بنیاد استوار کی کہ آج تک ملک کو اس کو صحیح مقام حاصل ہو ہی نہیں سکا۔ انہوں نے وزیر خارجہ کی حیثیت سے مرزائی مہروں کو اور مرزائی مفادات کو دنیا کے کونے کونے میں سیٹ کر دیا۔ ملک اور قوم کو برطانیہ کو دم چھلہ بنا دیا۔ ظفر اللہ خان کی وزارت خارجہ سے علیحدگی کے بعد ہم نے آنکھیں کھولنا شروع کیں۔ انگریزوں اور امریکیوں کے علاوہ چین اور بعض دوسرے ملکوں سے تعلقات قائم ہوئے۔ اگر سر ظفر اللہ خان ہم پر مسلط رہتے تو چین جیسے ہمسایہ ملک سے ہمارے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ اس موقعہ پر ہم چوہدری صاحب کی وزارت خارجہ کے زمانہ کے واقعات کا ذکر بطور نمونہ عرض کئے دیتے ہیں۔

جب عرب نمائندے فلسطین کا مسئلہ یو۔این۔او پیش کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے یو۔این۔او میں اپنی قرارداد کے حق میں فضا سازگار کرنے کے لئے دوست ملکوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور اپنی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلہ میں وہ چوہدری ظفر اللہ خان سے بھی ملے اور ان سے تعاون کی التجاء کی، ظفر اللہ خان نے انہیں کہا کہ اگر ان کے امام جماعت احمدیہ مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ ربوہ انہیں اس بات کی ہدایت کریں گے تو وہ ان کی ضرور مدد کریں گے۔ اس لئے آپ لوگ مجھے کچھ کہنے کی بجائے ربوہ میں ہمارے خلیفہ صاحب سے رابطہ قائم کریں۔ بے چارے عرب نمائندوں نے کسی نہ کسی طرح مرزا محمود صاحب سے رابطہ قائم کیا اور ان سے امداد کی درخواست کی۔ مرزا محمود نے عرب نمائندوں کو یہاں سے تار دیا کہ ہم نے چوہدری ظفر اللہ خان کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ یو۔این۔او میں تمہاری امداد کرے۔

اتفاق سے یہ تار خطیب پاکستان قاضی احسان احمد شجاع آبادی مرحوم کے ہاتھ آ گیا۔ انہوں نے لیاقت علی خان مرحوم سے ملاقات کی اور ان سے دریافت کیا کہ مملکت پاکستان کے سربراہ آپ ہیں یا مرزا محمود؟ اور پھر انہیں تار اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ لیاقت علی مرحوم نے قاضی صاحب مرحوم سے وہ تار اور چند دوسری چیزیں لے لیں اور ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ سے علیحدہ کرنے کا ارادہ کر لیا۔ کچھ عرصہ بعد لیاقت علی مرحوم شہید ہو گئے اور ظفر اللہ خان علیحدہ نہ کئے جاسکے۔

دوسرا واقعہ جہانگیر پارک کراچی کے جلسہ کا ہے۔ وہاں مرزائیوں کا سالانہ جلسہ ہو رہا تھا۔ ظفر اللہ خان جلسہ میں شریک ہونے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۳۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

والے تھے۔ کراچی کے مسلمانوں نے احتجاج کیا۔ خواجہ ناظم الدین وزیراعظم پاکستان نے ظفر اللہ خان کو منع کیا کہ ایسے حالات میں آپ اس جلسہ میں شرکت نہ کریں۔ اس سے حکومت کے وقار کو نقصان پہنچتا ہے۔ لیکن ظفر اللہ خان نے اپنے وزیراعظم کا کہنا ماننے سے انکار کر دیا۔ جلسہ میں گئے، فساد ہوا اور وہی فساد پھیل کر بالآخر ایک زبردست تحریک بن گیا۔ ان دونوں واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ ظفر اللہ خان حکومت پاکستان کے وفادار نہ تھے۔ اپنے ہیڈکوارٹر ربوہ کے وفادار تھے۔ آج بھی یہی حال ہے جتنے مرزائی سرکاری، ملازمتوں میں ہیں وہ تنخواہیں پاکستان کے خزانے سے وصول کرتے ہیں۔ لیکن احکام ربوہ سے حاصل کرتے ہیں۔ ان میں رازداری اور باہمی رابطے کا اتنا زبردست نظام قائم ہے جسے صرف وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے صیہونی تحریک کا کچھ مطالعہ کیا ہوا ہو۔ پہلے بھی وقت نے بتایا کہ ظفر اللہ خان پاکستان کا اور نہ پاکستان کے سربراہوں کا وفادار تھا۔ اب بھی وقت بتائے گا کہ تمام مرزائی سرکاری ملازمین نہ بھٹو صاحب اور نہ ہی ملک کے وفادار ہیں بلکہ وہ صرف ربوہ کے وفادار ہیں۔ غرضیکہ ہم صدر بھٹو صاحب کے ظفر اللہ خان والے بیان کی نہ صرف یہ کہ تائید نہیں کرسکتے بلکہ تاریخی اور واقعاتی اعتبار سے اسے غلط سمجھتے ہیں اور اس پر احتجاج کرتے ہیں۔‘‘

(لولاک، مؤرخہ ۷؍اپریل ۱۹۷۴ء)

قادیانیوں کے بارے میں پیپلزپارٹی کا مؤقف

پاکستان کے اسلامی آئین کے مطابق مرزائیوں کو جلد غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے

صوبائی وزیرتعمیرات ومواصلات میاں افتخار احمد تاری نے جناح اسلامیہ کالج سیالکوٹ میں جلسہ عید میلاد النبیﷺ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے: ’’ہمارے مخالفین بالخصوص جماعت اسلامی والے پیپلزپارٹی پر یہ الزام لگاتے رہے کہ یہ مرزائی فرقہ کے قائدین کی ہدایات اور اشاروں پر چلتی ہے اور موجودہ حکومت کو ربوہ سے حکم آتے ہیں۔ اگر یہ الزام درست ہوتا تو آئین میں اسلامی قوانین کو کیسے اپنایا جاسکتا تھا۔ نیز اس آئین میں حضرت محمد مصطفیٰﷺ کو نبی آخرالزمان ہونے کی بنیاد بنا کر ان شکوک وشبہات کو قطعی دور کر دیا گیا۔ جن کی آڑ میں پیپلزپارٹی کو ہدف تنقید بنایا جاتا ہے۔‘‘

(روزنامہ امروز لاہور، مؤرخہ ۲۱؍اپریل ۱۹۷۴ء ص۲، ڈاک ایڈیشن)

میاں افتخار احمد تاری کے اس نعرۂ حق اور سچے مومنانہ عقائد ونظریات کے اظہار پر پورے ملک کے دینی ومذہبی حلقوں میں زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا ہے کہ لاہور کے جس وزیر کی بابت اس کے لادینی نظریات اور ملحدانہ خیالات کو سب سے زیادہ ہدف تنقید بنایا گیا اور اس کے خلاف گمراہ کن پراپیگنڈہ کی زبردست مہم چلائی جارہی تھی۔ اس وزیر نے اپنے پاکیزہ عقائد ونظریات کو سب سے زیادہ واضح صورت میں پیش کیا ہے۔ ہم میاں افتخار احمد تاری وزیرتعمیرات ومواصلات سے پوری توقع رکھتے ہیں کہ وہ نئے اسلامی آئین کے عملاً نفاذ کے وقت قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلانے میں پیش پیش ہوں گے۔ تاکہ ختم نبوت کی اساس پر مرتب شدہ ’’اسلامی آئین‘‘ کی کسی شخص یا جماعت کو خلاف ورزی کرنے کی جرأت نہ ہوسکے۔

(خدام الدین مؤرخہ ۴؍مئی ۱۹۷۴ء)

بہشتی مقبرہ قادیان اور اکھنڈ بھارت

ہفت روزہ چٹان لاہور نے ج ۲۵، ش ۱۰، مؤرخہ ۱۴؍مئی ۱۹۷۴ء کے ٹائٹل پر مرزا بشیر الدین اور نصرت جہاں بیگم کے مرگھٹوں پر قطعہ کا فوٹو شائع کیا۔ جس پر یہ عبارت کندہ ہے۔ ’’جماعت کو نصیحت ہے کہ جب بھی ان کو توفیق ملے حضرت ام المؤمنین (ام المرزائین) اور دوسرے اہل بیت کی نعشوں کو مقبرہ بہشتی قادیان میں لے جا کر دفن کریں۔ چونکہ مقبرہ بہشتی کا قیام اللہ تعالیٰ کے الہام سے ہوا ہے۔ اس میں حضرت ام المؤمنین (ام المرزائین) اور خاندان حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے دفن کرنے کی پیش گوئی ہے۔ اس لئے یہ بات

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۴۹

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

فرض کے طور پر ہے۔ جماعت کو اسے بھی نہیں بھولنا چاہئے۔‘‘ اس قطعہ کو شائع کرنا تھا کہ ملک بھر میں قادیانیوں کے متعلق عوام میں یہ بحث شروع ہوگئی کہ قادیانی کس طرح قادیان کو حاصل کرنے کے لئے بے قرار ہیں اور کس طرح وہ پاکستان کو ہندوستان میں ضم کر کے اپنے الہامی عقیدہ ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کو پورا کرنے کے لئے سازشوں میں مصروف ہیں۔

کافر گری قابل تعزیر

منگورہ سوات میں پیپلز پارٹی کے وزیر مولانا کوثر نیازی کی ایک تقریر کو لادین اور ان کے ہم زلف قادیانی جرائد نے خوب اچھالا۔ جس میں موصوف کی طرف سے فقرہ منسوب کیا گیا ۔ ’’کافر سازی کا مشغلہ جاری رہا تو حکومت ایسے سخت قانون بنائے گی جس کے تحت کسی کلمہ گو مسلمان کو کافر ٹھہرانا قابل سزا ہو گا۔‘‘

یہ فقرہ ۲۸؍ مئی ۱۹۷۴ء کے چٹان میں آغا شورش نے نقل کر کے اس پر نوٹ لگایا ۔ ’’یہ مرزائی امت کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ارباب اقتدار اس قسم کا قانون بنوا دیں تو بھی قادیانی علامہ اقبال کے الفاظ میں دائرہ اسلام سے خارج ہی رہیں گے۔ قانون بنوا کر دیکھ لیجئے۔ تب آپ کو معلوم ہوگا مسلمانوں کی دینی حرارت کس درجہ میں ہے۔‘‘ مولانا کوثر نیازی کا یہ بیان ۲۸؍ مئی ۱۹۷۴ء کو شائع ہوا تقریر اس سے چند روز پہلے ہوگی ۔ وفاقی وزیر اور ایک ’’عالم‘‘ کی شہ پا کر قادیانی امت کا ’’پانچوں گھی میں‘‘ والا معاملہ ہو گیا ۔ وہ اس سے اتنے بپھرے کہ ۲۹؍ مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر ہنگامہ کر دیا۔ مولانا کوثر نیازی کا امت مسلمہ کے عقائد کے علی الرغم یہ بیان قادیانی جارحیت کی تمرد و سرکشی میں اضافہ کا باعث بن گیا۔

قرآن مجید کے مترجم تحریف شدہ نسخوں کی تقسیم

فورٹ سنڈیمن میں مرزائی سازش کا تعاقب و نتیجہ

جولائی ۱۹۷۴ء میں مرزائیوں نے قرآن مجید کے ترجمہ میں تحریف کر کے محرف نسخوں کو پورے پاکستان میں منظم سازش کے ذریعے تقسیم کرنا شروع کیا۔ بلوچستان فورٹ سنڈیمن میں اس سازش کے خلاف مسلمانوں نے منظم جدوجہد کی۔ اس وقت ہفت روزہ لولاک فیصل آباد کی مورخہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۴ء کی اشاعت میں مولانا تاج محمود نے ذیل کا مقالہ تحریر کیا جو اس وقت کے حالات کا آئینہ دار ہے۔ وہ یہ ہے : ’’مرزائیوں کا اس وقت پروگرام یہ ہے کہ ملک میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکا کر ملک کو برباد کر دیا جائے تاکہ ہنگاموں اور فسادات کی آڑ میں کوئی نا گفتنی صورت حال پیدا کر کے آئین کو منسوخ کروا دیا جائے ۔‘‘

اس مقصد کے لئے انہوں نے کچھ عرصہ پیشتر آزاد کشمیر میں اپنے حامی تین مرکزی وزیروں کے تعاون سے فتنہ و فساد کی آگ بھڑکائی تھی۔ آزاد کشمیر کی جماعت احمدیہ کے امیر منظور احمد وکیل مرزائی نے ربوہ سے بھیجا ہوا روپیہ پانی کی طرح بہایا اور کوٹلی وغیرہ میں فساد کرایا۔ لیکن آزاد کشمیر کے صدر سردار عبدالقیوم کے تدبر اور حکمت عملی سے مرزائی کامیاب نہ ہو سکے۔ پھر صدر بھٹو کو آزاد کشمیر کے فتنے کی حقیقت حال سے آگاہی ہو گئی اور مرزائی آزاد کشمیر سے کوئی فساد پھیلانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

اب کچھ دنوں کی خاموشی کے بعد مرزائیوں نے بلوچستان میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکائی ہے اور اس طرح بلوچستان سے بدامنی کی مہم شروع کر کے وہ پورے پاکستان میں کوئی بڑی بربادی پھیلا دینا چاہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں مرزائیوں نے ایک خوفناک سازش کے

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۴۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ذریعہ بلوچستان سے فسادات کا آغاز کر دیا ہے۔

بلوچستان سے آمدہ اطلاعات کے مطابق وہاں، مرزائیوں نے ربوہ سے ایسا لٹریچر منگوا کر تقسیم کیا۔ جس سے مسلمانوں میں اشتعال پھیلنا ناگزیر تھا۔ خصوصاً ربوہ میں ایسے قرآن مجید چھپوائے گئے ہیں۔ جس کی آیات کے ترجمہ میں ردو بدل کر لیا گیا ہے۔ یہ تحریف شدہ قرآن مجید جب فورٹ سنڈیمن کے علاقہ میں تقسیم ہوئے تو وہاں سخت ناراضگی اور برہمی پیدا ہو گئی۔ چنانچہ فورٹ سنڈیمن اور لورالائی وغیرہ میں مکمل احتجاجی ہڑتالیں ہوئیں۔ فورٹ سنڈیمن کے مسلمانوں نے مکمل ہڑتال کی اور مولانا شمس الدین ایم۔ پی۔ اے اور صوفی محمد علی ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت کی قیادت میں زبردست احتجاجی جلوس نکالا۔ یہ جلوس ڈپٹی کمشنر کی کوٹھی پر پہنچ کر اپنے مطالبات پیش کرنا چاہتا تھا کہ مرزائیوں کی اشتعال انگیزی بند کرائی جائے۔ آئندہ اس قسم کا لٹریچر تقسیم نہ ہونے دیا جائے اور قرآن مجید کی بے حرمتی اور تحریف کے مجرموں کو سزائیں دی جائیں۔ تمام شہر بند تھا لیکن ایک بھائی کی دوکان کھلی تھی جسے دوکان بند کرنے کے لئے کہا گیا۔ اس نے وجہ دریافت کی۔ بتایا گیا کہ قرآن مجید کی بے حرمتی اور تحریف کے خلاف ہڑتال اور جلوس ہے۔ اس نے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید اب منسوخ ہو چکا ہے۔ لہٰذا اس کے احترام کے لئے جلوس کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اس پر مسلمان مشتعل ہو گئے اور وہ شخص مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مارا گیا۔ یقیناً مرزائیوں کی انٹیلی جنس کے لوگ بھی اس ہجوم میں شامل تھے اور اس بھائی کے قتل کے اصل ذمہ دار وہی لوگ تھے لیکن حکومت نے اصل صورت حال کو معلوم کرنے کی بجائے ڈیڑھ درجن کے قریب ایسے علماء اور بے گناہ کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔ جن کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہ تھا۔

جب بے گناہ لوگوں کو پولیس گرفتار کر کے تھانہ لے جانے لگی تو غیور مسلمان نے مورچے سنبھال لئے اور مطالبہ کیا کہ وہ بے گناہ مسلمانوں کو فوراً رہا کر دے۔ معلوم ہوتا ہے، آزاد کشمیر کی طرح بلوچستان کی حکومت میں بھی مرزائی عنصر اپنا کام کر رہا ہے۔ حکومت نے اصلاح احوال کی بجائے فورٹ سنڈیمن میں کرفیو نافذ کر دیا۔ فورٹ سنڈیمن کے غیور مسلمانوں نے کرفیو کو توڑ دیا اور اس کی دھجیاں فضائے آسمانی میں بکھیرتے ہوئے باہر سڑکوں پر نکل آئے۔ جمعیۃ علماء اسلام کے راہنما مولانا شمس الدین ایم۔ پی۔ اے تھانہ کے باہر پہنچ گئے اور مطالبہ کیا کہ یا تو حکومت بے گناہ مسلمانوں کو رہا کرے اور یا انہیں بھی گرفتار کرے۔ لیکن حکومت نے مولانا شمس الدین کو گرفتار کرنے سے انکار کر دیا۔ اس وقت فورٹ سنڈیمن میں کرفیو نافذ ہے۔ لیکن لوگ سڑکوں پر نکل کر بے گناہ مسلمانوں کی رہائی کے لئے برابر مظاہرے کر رہے ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر سے امیر مرکزیہ کے مشیر خاص مولانا محمد شریف جالندھری کوئٹہ روانہ ہو گئے ہیں۔ ان کی مفصل رپورٹ کا انتظار ہے۔ تفصیلات موصول ہونے پر مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما بلوچستان روانہ ہو جائیں گے اور کوئٹہ میں آل پارٹیز کنونشن طلب کر کے مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔ دریں اثناء مجلس کے رہنماؤں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں مرزائیوں کی غنڈہ گردی کو فوراً ختم کرا دے اور گورنر بگٹی کو ہدایت کرے کہ وہ ختم نبوت کی تحریک کے جواز کو پیدا کرنے سے گریز کریں۔ اگر یہ آگ ایک دفعہ بھڑک اٹھی تو اکبر بگٹی اس پر قابو نہیں پاسکیں گے۔ بلکہ یہ آگ پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ ہم اس وقت حکومت سے الجھنا نہیں چاہتے۔ لیکن مرزائیوں کی کوشش ہے کہ کسی عنوان پر کوئی تحریک اٹھے تو اسے فتنہ و فساد کی آگ میں بدل دیا جائے تا کہ پاکستان کا مستقل دستور منسوخ ہو جائے۔

پنجاب، سندھ اور سرحد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر اس قادیانی شرارت کے خلاف احتجاج شروع ہوا۔ بلوچستان حکومت نے قادیانی محرف شدہ نسخے اور دوسرا قادیانی لٹریچر ضبط کیا۔ پنجاب اسمبلی میں حاجی سیف اللہ صاحب نے تحریک التواء پیش کی کہ

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۴۱

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قادیانیوں کے محرف شدہ نسخے پنجاب میں بھی ضبط کئے جائیں۔ حاجی سیف اللہ کی قرارداد جو انہوں نے پنجاب اسمبلی میں پیش کی۔ اس کی تفصیل یہ ہے۔

قادیانیوں کی طرف سے قرآن مجید میں تحریف کرنے پر حاجی سیف اللہ کی تحریک التواء

”لاہور (ا.پ.پ) پنجاب کے وزیراعلیٰ جناب معراج خالد نے پنجاب اسمبلی کو بتایا کہ محکمہ اوقاف اس خبر کے بارے میں تحقیقات کر رہا ہے کہ قادیانیوں کی طرف سے جو قرآن مجید شائع کر کے فروخت کیا جا رہا ہے۔ اس میں تحریف کی گئی ہے۔ اگر یہ الزام درست ثابت ہوا تو تمام متعلقہ افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ ، حاجی سیف اللہ کی ایک تحریک التواء پر تقریر کر رہے تھے۔ جس میں کہا گیا تھا کہ مرزائیوں کی طرف سے قرآن مجید طبع کروا کر فروخت کیا جا رہا ہے۔ جس میں تحریف کی گئی ہے۔ حاجی سیف اللہ نے تحریک التواء پیش کرتے ہوئے کہا قرآن مجید کے ایسے نسخے بازار میں دستیاب ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت نے ان متعلقہ افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ یاد رہے گزشتہ دنوں مرزائیوں نے خاص طور پر صوبہ بلوچستان میں وسیع پیمانے پر تحریف شدہ قرآن مجید کے ہزاروں نسخے تقسیم کئے۔ جس سے فورٹ سنڈیمن میں اشتعال پیدا ہو گیا اور مسلمانوں نے اس شر انگیز اقدام کے خلاف سخت ترین انضباطی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ہڑتال کی گئی اور زبردست ہنگامہ کے بعد اس علاقہ میں حکومت مسلمانوں کے مطالبات تسلیم کرنے اور مرزائیوں کو سزا دینے پر مجبور ہو گئی۔ دریں اثناء مرزائیوں نے ربوہ میں تحریف شدہ قرآن مجید طبع کروا کر مسلمانوں اور عالم اسلام میں انتشار پھیلانے کی جو سازش کی ہے۔ اس کے خلاف اسلامیان پاکستان میں زبردست ردعمل پایا جاتا ہے۔

پنجاب اسمبلی میں پیش کی جانے والی تحریک التواء اس ردعمل اور مرزائیوں کے خلاف نفرت کا نتیجہ ہے۔ مرزائیوں کے اس شرانگیز اقدام کا دائرہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ انہوں نے عالم اسلام کے خلاف اس منصوبے کو وسیع بنیادوں پر ترتیب دیا ہے۔ چنانچہ معتبر ذرائع کے مطابق مرزائیوں نے یہ پروگرام بنایا ہے کہ مغربی ملکوں اور افریقی ممالک میں تحریف شدہ قرآن مجید اتنی زیادہ تعداد میں پھیلا دیا جائے کہ عالم اسلام میں اس فتنے پر قابو پانا مشکل ہو جائے۔ معلوم ہوا ہے ربوہ کے مذہبی آمر مرزا ناصر احمد نے گزشتہ دنوں اپنے یورپ اور افریقی ملکوں کے دورہ میں اس مذموم مقصد کی تکمیل کے لئے خاص انتظامات کا جائزہ لیا اور ان کو آخری شکل دی۔“

مرزائی جارحیت کی روز بروز بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو دیکھ کر مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے محسوس کر لیا کہ ملک میں قادیانی کیا گل کھلانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ حکومت کو مرزائی سازشوں سے باخبر کرنے کے لئے مولانا تاج محمود مرحوم نے ۱۶؍نومبر ۱۹۷۳ء کو پھر اداریہ تحریر کیا۔ جو یہ ہے:

”وطن کے گوشے گوشے میں آج یہ احساس شدت سے ابھر رہا ہے کہ برصغیر میں اسلام کی سب سے بڑی دشمن تحریک احمدیہ جو حقیقت میں نبوت محمدی ﷺ کے خلاف انگریز کی بدترین سازش اور اسلام کی ابدیت اور امت کی وحدت کے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے درپے ہے۔ قادیانی جو ابتداء میں اور قیام پاکستان کے کافی عرصہ بعد تک اپنے آپ کو ایک مذہبی فرقہ ظاہر کر کے یہاں پاؤں جما رہے تھے۔ علماء کی تبلیغ اور جدوجہد کی بابت ایکسپوز ہوئے۔ پھر سیاسی پناہ گاہیں تلاش کر کے اپنے قدم مضبوط کرتے رہے اور اس وقت جب کہ یہ پاکستان کی بہادر فوج، سول کے تمام شعبوں اور شخصیات کے ساتھ وزارت خارجہ میں اثر

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۴۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حاصل کر چکے ہیں ۔ بیرونی اشاروں پر نہ صرف پاکستان کی سیاست میں غلط فہمیاں پھیلانے ، امن وسکون کو برباد کرنے اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہیں ۔ بلکہ عالم اسلام میں استعماری طاقتوں کے مہرے کی حیثیت سے امت کے اتحاد اور روح جہاد کو مٹانے کی مذموم کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔

یہ امر باعث اطمینان ہے کہ موجودہ حکومت کے بعض ذمہ دار رہنماؤں کو بھی قادیانیوں کی سازشوں اور زیر زمین سرگرمیوں کی فکر لاحق ہے جو منتخب حکومت کے خلاف کی جا رہی ہیں ۔ غالباً اس احساس کی بناء پر صوبہ پنجاب کے نو منتخب وزیر اعلیٰ اور حکومتی پارٹی کے مضبوط ستون جناب غلام مصطفیٰ کھر نے پنجاب اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں ہی صاف لفظوں میں اشارہ کر دیا ہے کہ غیر آئینی ہتھکنڈوں سے اقتدار پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھنے والوں سے نمٹنا ہی پڑے گا ۔ ہم عرصہ دراز سے کہتے چلے آئے ہیں کہ مرزائی جن کو انگریز نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے پروان چڑھایا تھا ۔ اسلام اور پاکستان کے وفادار نہیں ہو سکتے ۔ یہ بات بلا خوف تردید اور پوری ذمہ داری کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ قادیانیوں نے مشرقی پاکستان کو علیحدہ کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے ۔ اب یہ بچے کچھے پاکستان کے حصے بخرے کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ بلوچستان جو مغربی حصے کی سیاست کا نازک ترین محاذ ہے ۔ قادیانی جماعت کی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ وہاں اشتعال انگیز لٹریچر اور تحریف شدہ قرآن مجید کے نسخے تقسیم کر کے فساد پھیلایا جا رہا ہے ۔ پچھلے دنوں پنجاب اور سندھ سے بھی اس فتنے کی ہوا آئی تھی ۔ ادھر آزاد کشمیر اور سرحد میں مرزائیوں کی ریشہ دوانیاں عروج پر ہیں ۔

ہم وطن کی سالمیت اور حضور ختمی مرتبت ﷺ کی عزت کے نام پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمرانوں سے ایک بار پھر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ مرزائیوں کی طرف سے تقسیم کیا جانے والا اشتعال انگیز لٹریچر ضبط کیا جائے ۔ قرآن مجید میں تحریف کے مرتکب افراد کو عوام کے سامنے لایا جائے اور سخت ترین سزائیں دی جائیں ۔ ربوہ جہاں حکومت کے مقابلے پر ایک متوازی نظام حکومت چل رہا ہے ۔ اس پر ملکی مفاد کی خاطر قبضہ کر کے مرزائیوں کے ملک دشمن عزائم کی تحقیقات کی جائے ۔ مرزائیوں کو بحری ، بری اور فضائی فوج کے کلیدی عہدوں کے علاوہ سول کے تمام اہم عہدوں سے الگ کر دیا جائے اور ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر پاکستان کو بچا لیا جائے ۔‘‘

بلوچستان میں مرزائی سازش کی ناکامی لمحہ بہ لمحہ کی رپورٹ

۱۹۷۳ء میں مرزائیوں نے ربوہ کے چھپے ہوئے قرآن مجید کے تحریف شدہ نسخے ژوب میں تقسیم کئے ۔ ان کی اس سازش کے اطلاع ملتے ہی صوفی محمد علی ناظم اعلیٰ نے نو روز ہزاروی نامی ایک شخص سے یہ تحریف شدہ نسخہ قیمتاً حاصل کیا ۔ دوسرا نسخہ سکندر شاہ بی ۔ اینڈ ۔ آر ٹریکٹر ڈرائیور سے حاصل کیا ۔ اس وقت ژوب میں قادیانیوں کے تقریباً ساٹھ گھرانے آباد تھے ۔ مختلف عہدوں پر فائز ہونے کے باعث ان کی فرعونیت اپنے عروج پر تھی ۔ وہ خاطر میں کسی کو نہ لاتے ہوئے ، دن رات مرزائیت کی تبلیغ میں مصروف تھے ۔ ان قرآن مجید کے محرف و مبدل نسخوں پر علماء کرام کی میٹنگ میں غور و فکر کیا گیا ۔ اس میٹنگ میں مولانا محمد شاہ ، مولانا میرک شاہ ، مولانا رحمت اللہ ، مولانا محمد زاہد ، مولانا عبد الرحمن ، مجاہد ختم نبوت مولانا شمس الدین اور حافظ عبد الغفور نے شرکت کی ۔ علماء کرام نے بالاتفاق فیصلہ دیا کہ قرآن مجید کے ان نسخوں میں تحریف و تبدیلی کر کے مسلمانوں کو مرتد کرنے کی سازش کی گئی ہے ۔ ان کی اس جارحانہ سازش و شرارت کے خلاف احتجاجی جلسہ کا انتظام کیا گیا ۔

چنانچہ مجلس تحفظ ختم نبوت ژوب کے ناظم اعلیٰ صوفی محمد علی نے جیپ میں لاؤڈ سپیکر نصب کر کے شہر میں احتجاجی جلسہ عام کا اعلان

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۴۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کیا۔ ۱۳؍ جولائی ۱۹۷۴ء ظریف شہید پارک میں جلسہ عام منعقد ہوا۔ جلسہ کی صدارت شیخ محمد عمر امیر مجلس ختم نبوت نے کی۔ حاضرین کی تعداد تیس چالیس ہزار سے متجاوز تھی۔ علماء کرام کی ایمان پرور تقریروں نے عوام میں جوش و جذبہ پیدا کر دیا۔ مقررین نے غازی علم الدین شہید اور دوسرے عاشقان رسالت مآب ﷺ کے مجاہدانہ کارنامے سنائے تو عوام بھڑک اٹھے۔ جلسہ کے بعد جلوس نکالا گیا۔ شہر میں ہڑتال ہوگئی۔ پورا شہر سڑکوں پر امڈ آیا۔ رزاق نامی بھائی کی دکان کھلی دیکھ کر مظاہرین میں سے کسی نے اس پر پتھراؤ کیا۔ رزاق زخمی ہو کر ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گیا۔

جلوس شہر کے مختلف راستوں سے گزر کر ڈی سی آفس گیا اور بالاتفاق ایک ہی مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کو ہمیشہ کے لئے فورٹ سنڈیمن (ژوب) سے نکال دیا جائے۔ اس سے کم کسی بات پر سمجھوتہ ناممکن ہے۔ احتجاجی جلوس، ہڑتال اور مظاہروں کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ حکومت نے حالات کی نزاکت کے پیش نظر مرزائیوں کو فورٹ سنڈیمن ضلع سے ہمیشہ کے لئے نکالنے کا وعدہ کر لیا۔ مگر عوام کے جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے بالاتفاق کہہ دیا کہ جب تک اس وعدہ پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ ہڑتال و احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ہمیشہ کے لئے ژوب سے مرزائیوں کو نکال دیا گیا

بلوچستان کو احمدی صوبہ بنانے کا مرزا بشیر الدین محمود نے ۱۹۴۸ء میں اپنی جماعت کو مژدہ سنایا۔ مگر آج ۱۶؍ جولائی ۱۹۷۴ء کو چشم فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ وہی صوبہ جس کی طرف مرزائی للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ آج اس کے ایک اہم ضلع ژوب سے مرزائیوں کو ہمیشہ کے لئے وفاقی فورس نے نکال دیا۔ چنانچہ پاکستان کی تاریخ میں یہ واحد ضلع ہے۔ جہاں حکماً مرزائیوں کا داخلہ بند کر دیا گیا اور یوں مرزائی نحوست کو اس ضلع سے دیس نکالا دے دیا گیا۔ ژوب کے عوام، مجلس کے کارکن، تمام علماء کرام بالخصوص حضرت مولانا شمس الدین شہید جو ان دنوں بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر تھے۔ اس عظیم معرکہ کو سر کرنے کا سہرا ان کے سر ہے۔ ان دنوں ژوب کے ڈپٹی کمشنر فقیر محمد صاحب بلوچ تھے۔ جو آج کل صوبائی حکومت کے چیف سیکرٹری ہیں۔

تحریک ختم نبوت کے کارکنوں و رہنماؤں کی گرفتاری

رزاق بھائی کے مرنے کی وجہ سے تحریک ختم نبوت کے ۳۴ کارکنوں و رہنماؤں کو تھانہ میں بند کر دیا گیا۔ شیخ محمد خان انسپکٹر پولیس نے گفتگو کے لئے بلایا اور دھوکہ سے بند کر دیا۔ ان دنوں بلوچستان کے گورنر اکبر بگٹی تھے اور چیف سیکرٹری ایس۔ بی اعوان مرزائی تھے۔ وہ فورٹ سنڈیمن سے مرزائیوں کے اخراج پر سیخ پا تھے۔ مگر عوام کے جوش و خروش کے سامنے دم مارنے کی ان کو ہمت نہ تھی۔ چنانچہ بھائی رزاق کے قتل کے جرم میں ۳۴ آدمی تھانہ میں بند کر دیئے گئے۔ صبح سویرے مولانا شمس الدین ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی اور حافظ نور الحق صاحب بھی تھانہ میں قیدیوں کے ہمراہ شامل ہو گئے۔ ادھر شہر میں جس وقت مرزائیوں کو نکالا جارہا تھا تو غازی عبدالرحمن بنگش زرگر نے پستول سے فائر کر کے ایک قادیانی اللہ یار کو زخمی کر دیا۔ چنانچہ غازی عبدالرحمن کو گرفتار کر کے حوالات میں قیدیوں کے ساتھ بند کر دیا۔ وفاقی فورس ان قیدیوں کی نگرانی کے لئے تعینات کر دی گئی۔ وہ ان قیدیوں کو شہر سے باہر منتقل کرنا چاہتی تھی۔ مگر تمام قیدیوں نے باہر جانے سے انکار کر دیا۔ گورنر بگٹی وفاقی فورس پر بڑے برہم ہوئے اور تشدد کا حکم دے دیا۔ ایس۔ بی اعوان بھی یہی چاہتے تھے۔

وفاقی فورس نے حکم ماننے سے انکار کر دیا

مگر وفاقی فورس جس میں سرحد کے پٹھان تھے انہوں نے ختم نبوت تحریک کے کارکنوں پر تشدد کرنے اور گولیاں چلانے سے انکار کر دیا۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ژوب کی سرزمین سراپا احتجاج بن گئی

قیدیوں کے چلے جانے کے بعد جب اہالیان ژوب کو معلوم ہوا کہ ہمارے ساتھ حکومت نے دھوکہ کیا ہے۔ انہوں نے شہر میں مکمل ہڑتال کر دی۔ پہیہ جام ہڑتال، یہ صورت حال آٹھ دن تک جاری رہی۔ مغرب کے قریب ایک آدھ دکان کھلتی۔ لوگ خوردونوش کا سامان لے لیتے۔ دن بھر مکمل بازار سنسان، ہو کا عالم، چار سو ویرانہ، حکومت اس صورت حال سے سخت پریشان ہو گئی۔ جناب عبدالرحیم صاحب ایڈووکیٹ اور جناب صالح محمد خان کو مجلس عمل کی سربراہی سونپی گئی۔ ژوب روڈ بلاک کر دیا گیا۔ شیریں روڈ، وزیرستان روڈ، دانا سر روڈ، لورالائی روڈ سب بند کر دیئے گئے۔ ملٹری وغیرہ یا حکومت کی کوئی گاڑی اگر ایمرجنسی جانا ہوتا تو مجلس عمل سے اجازت نامہ لے کر چل سکتے تھے، ورنہ نہیں۔ گویا حکومت و انتظامیہ عملاً معطل اور مجلس عمل کا چار سو غلغلہ بلند ہو رہا تھا۔ جس دن قیدیوں کو کوئٹہ لے جایا گیا اسی رات مجلس عمل کے زیر اہتمام ژوب میں عدیم المثال جلسہ عام منعقد ہوا۔ سخت احتجاج کیا گیا اور قیدیوں کی بلامشروط رہائی تک ہڑتال واحتجاج کو جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ جلسہ کے نتیجہ میں رات مولانا شمس الدین کو گرفتار کر لیا گیا۔

مولانا شمس الدین کی گرفتاری

اسی رات کو چار بجے کے وقت وفاقی پولیس نے مولانا شمس الدین کے گھر پر گھیرا ڈال دیا۔ مولانا شمس الدین کو گھر سے نکل آنے کا حکم دیا۔ مولانا شمس الدین کی بہنوں نے آپ کی پگڑی اور چپل کو چھپا دیا کہ ہم آپ کو نہیں جانے دیں گے۔ اس پر مولانا شمس الدین نے کہا کہ خدا کے لئے ایسا نہ کرو۔ یہ شرم کی بات ہے۔ ہماری پگڑی اور چپلی دے دو۔ اسی وقت انہوں نے اپنی بہنوں اور اہلیہ سے کہا کہ یہ میرا سینہ گولی کے لئے بنا ہوا ہے۔ شہادت کا رتبہ پا کر مجھے بڑی خوشی ہوگی۔ گھر میں سب نے رونا دھونا شروع کیا۔ آپ نے سب کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ مرنا تو ایک دن ہے۔ روز روز کیا مرنا۔

اس سے قبل جب حضرت مولانا شمس الدین دفعہ ۱۴۴ کو توڑ رہے تھے تو اس وقت بھی گھر میں والدہ نے ایک بیل منت مانی۔ والد مولوی زاہد صاحب نے دو دنبوں کی منت مانی۔ بہنوں نے نفلیں مانیں اور جب وہ سرخ لکیروں کو پار کر گئے تو سب نے چین کا سانس لیا۔ مولانا شمس الدین پہلے سے ہی اپنی بہنوں سے کہہ چکے تھے کہ اگر ختم نبوت کے لئے شہید ہو جاؤں تو مجھے مبارک باد دینا۔ جب راستہ میں قبیلہ کے عوام کو معلوم ہوا کہ ہمارے رہنماؤں کو لے جایا جا رہا ہے تو ان سب نے اپنے ہاتھوں میں لاٹھیاں وغیرہ لیں اور انہیں کپڑوں سے چھپا لیا تاکہ لوگ سمجھیں کہ رائفل ہیں۔ مورچے سنبھال لئے۔ ملیشیاء والے سمجھ گئے کہ بندوقیں ہیں۔ چنانچہ قبیلہ والوں نے کہا کہ آپ مولانا شمس الدین کو ہماری عورتوں سے بھی نہیں لے جاسکتے ہیں۔ ہم تو مرد ہیں۔ ملیشیاء والے رک گئے اور انہیں بتایا کہ مولوی صاحب کو واپس شغالہ پوسٹ لے جاؤ۔ چنانچہ اسے واپس شغالہ پوسٹ پہنچا دیا گیا اور حکومت کو اطلاع کر دی کہ ہم لوگ مولانا شمس الدین صاحب کو باہر نہیں لے جاسکتے ہیں۔ پھر حکومت نے ہیلی کاپٹر کا بندوبست کیا۔ ہیلی کاپٹر میں شغالہ سے مولانا شمس الدین کو سوار کر کے سیدھا میوند پہنچایا گیا۔ میوند میں دس پندرہ منٹ میں انہیں پھرایا گیا۔ احتجاجی ہڑتال چار سو عالم، تحریک کے حالات میں گورنر بگٹی اور ایس بی اعوان مجبور ہو گئے اور انہوں نے سبی میں موجود قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم دیا۔ سوائے غازی عبدالرحمٰن زرگر کے، چنانچہ تحصیلدار محمد جان مندوخیل، مولانا محمد خان شیرانی، حاجی شیخ عمر، صوفی محمد علی وغیرہ نے فیصلہ کرایا کہ ہم لوگ عبدالرحمٰن کے بغیر نہیں جائیں گے۔ عبدالرحمٰن کو فرنٹ سیٹ پر بٹھایا جائے تب ہم جائیں گے۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۴۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ژوب کے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ مان لیا گیا

۲۴؍ جولائی ۱۹۷۴ء کو دن کے تقریباً ایک بجے پولیس کی بند گاڑی میں بٹھا کر سبی سے سب قیدیوں کو روانہ کیا گیا۔ عبدالرحمن زرگر کو فرنٹ سیٹ پر بٹھایا گیا۔ عصر کے وقت کوئٹہ پہنچے۔ کوئٹہ سے ۱۵ میل کے فاصلے پر جمعیتہ علماء اسلام کے نمائندے عبدالمنان کاکڑ بازئی نے کچلاک میں ۳۲ آدمیوں کے کھانے کا بندوبست ہوٹل میں کیا۔ کھانا کھانے کے بعد وہاں سے روانہ ہوئے۔ رات بھر سفر کیا۔ قلعہ سیف اللہ جب پہنچے تو وہاں پر خوب بارش ہوئی۔ کچھ دیر کے لئے وہاں پر ٹھہرے۔ قلعہ سیف اللہ ہی میں کوئٹہ والے سات آدمی بھی پہنچ گئے۔ صبح تقریباً نو بجے ژوب پہنچ گئے۔

امیر ختم نبوت ژوب شیخ محمد عمر نے ان قیدیوں اور ختم نبوت کے دیگر پروانوں کو بڑی پر تکلف دعوت دی۔ قیدیوں کو رہا کرنے کے بعد تمام قیدیوں نے مولانا شمس الدین کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ ظریف شہید پارک میں خیمہ گاڑ کر شہریوں نے بھوک ہڑتال کی ۔ یہ ہڑتال مولانا شمس الدین کی رہائی کے واسطے کی گئی۔ ۱۵، ۱۶ دن کے بعد کیپٹن ایس۔ بی اعوان نے ان کی رہائی کا مطالبہ منظور کر لیا اور انہیں کوئٹہ پہنچا دیا گیا۔ کوئٹہ سے آنے پر ژوب سے ایک میل کے فاصلے پر تمام شہر والوں نے مولانا شمس الدین کا استقبال کیا۔ وہ منظر قابل دید تھا۔ پورا ماحول ختم نبوت زندہ باد کی فضاؤں سے گونج رہا تھا۔

ژوب میں جلسہ عام

دوسرے دن جامع مسجد میں جلسہ عام ہوا۔ مولانا شمس الدین نے اپنے تاثرات بیان کئے اور بھٹو کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں بھی بتایا۔ بھٹو نے مولانا شمس الدین سے کہا تھا کہ ہم بینک کا چیک آپ کے ہاتھ میں دے دیں گے۔ آپ جتنی رقم چاہیں لکھ لیں۔ مگر مولانا شمس الدین نے رقم لینے سے انکار کر دیا اور صاف صاف بتایا کہ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نام پر فروخت ہو جائے۔ پھر وہ کسی اور کے ہاتھوں فروخت نہیں ہو سکتا۔ یہ سننے کے بعد بھٹو صاحب نے اسی وقت آپ سے کہا تھا کہ ملا، پھر گولی کے لئے تیار ہو جاؤ۔ آپ نے کہا مجھے منظور ہے۔ اس کے بعد مولانا شمس الدین حج پر گئے۔ حج سے واپس سیدھے خانپور گئے اور مولانا درخواستی صاحب سے ملاقات کی۔ درخواستی صاحب نے بعد میں بتایا کہ مولوی شمس الدین کو دیکھ کر میں نے اس وقت محسوس کر لیا کہ یہ آدمی بچنے والا نہیں ہے۔ ضرور شہید ہوگا۔ وہاں سے پھر مولانا شمس الدین کوئٹہ آئے۔

مولانا شمس الدین کی شہادت

کوئٹہ سے ژوب آتے ہوئے بلگٹی کے مقام پر مولانا شمس الدین مردہ پائے گئے۔ ملک گل حسن کے پیٹرول کی گاڑی اس وقت وہاں سے گزر رہی تھی۔ انہوں نے ژوب اطلاع کر دی کہ مولوی صاحب موٹر میں مردہ پڑے ہیں۔ کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے۔ لوگ وہاں گئے اور انہیں ژوب لے آئے۔ یوں بھٹو حکومت کی شرارت پر ۱۳؍ مارچ ۱۹۷۴ء کو مولانا شمس الدین نے جام شہادت نوش کر لیا۔ گھر لانے پر سب گھر والوں عزیز و اقارب اور دوستوں نے انہیں شہید ہونے پر مبارک باد دی۔ ۱۴؍ مارچ ۱۹۷۴ء کو ہزاروں اشکبار آنکھوں نے انہیں رخصت کیا۔ انہیں دفن کرنے کے بعد ان کی قبر پر پھولوں کی بارش ہوئی۔ ان کے خون سے عطر کی خوشبو آ رہی تھی۔

(ماخوذ از: ژوب میں تحریک ختم نبوت ایک نظر میں)

مولانا شمس الدین مرحوم کی شہادت پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مؤقف کو مولانا تاج محمود نے ۲۶؍ مارچ ۱۹۷۴ء کے لولاک

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۴۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

میں بیان کرتے فرمایا: گزشتہ دنوں جمعیۃ العلمائے اسلام کے مشہور رہنما اور بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر مولانا شمس الدین کو کوئٹہ سے فورٹ سنڈیمن جاتے ہوئے قلعہ سیف اللہ کے قریب نامعلوم اشخاص نے شہید کر دیا۔ مولانا کار کے ذریعے اپنے گھر واپس جا رہے تھے کہ راستے میں یہ سانحہ رونما ہوا۔

مولانا کی شہادت کے بعد بلوچستان کی حکومت اور وہاں کے برسر اقتدار لوگوں نے اظہار ہمدردی، تعزیتی بیانات ملزموں کو گرفتار کرنے اور انہیں سخت سزائیں دینے کے متعلق گھڑے گھڑائے بیانات دیئے ہیں۔ جن کا اصلی مفہوم و مطلب ہر ذی شعور آدمی اچھی طرح سمجھتا ہے۔ یہی ڈرامہ پچھلے دنوں خان عبدالصمد خان اچکزئی کی شہادت کے وقت بھی سٹیج کیا گیا تھا۔ لیکن آج تک نہ عبدالصمد اچکزئی کے قاتلوں کا کوئی سراغ مل سکا اور نہ ہی مولانا شمس الدین کے قاتلوں کا کوئی سراغ مل سکے گا۔ قتل کی تحقیقات وزیر اعلیٰ نے اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔ تحقیقاتی افسر رپورٹ مرتب کر رہے ہیں۔ یہ ہو رہا ہے، وہ کیا جا رہا ہے۔ ان سب باتوں کی حقیقت طفل تسلیوں سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ ملک میں آج تک جتنے سیاسی قتل ہوئے ہیں ان کے قاتل کب پکڑے گئے ہیں جو مولانا شمس الدین کے قاتل پکڑے جائیں گے۔

مولانا شمس الدین بہادر مجاہد اور غیور و جسور عالم دین تھے۔ اللہ کے سوائے کسی طاقت کے سامنے نہ جھکنے والے اور کسی قیمت پر نہ بکنے والے رہنما تھے۔ حکومت نے انہیں جھکانے اور خریدنے کے لئے بڑے بڑے جتن کئے۔ لیکن ان کے پاؤں راہ حق سے ذرہ برابر بھی نہ ڈگمگائے اور وہ اہل حق کے ساتھ ڈٹے رہے۔ کچھ عرصہ پہلے مرزائیوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت مولانا کے آبائی وطن فورٹ سنڈیمن میں تحریف شدہ قرآن مجید کے نسخے تقسیم کئے تھے۔ وہاں کے غیور مسلمانوں میں اس کے خلاف ناراضگی کی لہر دوڑ گئی۔ سخت احتجاج ہوا۔ ہڑتالیں ہوئیں۔ جلوس نکالے گئے۔ جلسے ہوئے اور مطالبہ کیا گیا کہ مرزائیوں کو فورٹ سنڈیمن کے علاقہ سے نکال دیا جائے۔ مرزائیوں کے خلاف اس تحریک کی قیادت مولانا شمس الدین کر رہے تھے۔ حکومت نے انہیں گرفتار کرنا چاہا۔ لیکن عوام مسلح ہو کر مقابلے میں نکل آئے۔ حکومت ، مولانا کی گرفتاری میں کامیاب نہ ہو سکی۔ پھر دھوکے سے انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعہ سینکڑوں میل دور میوند کے علاقہ میں ایک فوجی چھاؤنی میں لے جایا گیا اور انہیں وہاں نظر بند رکھا گیا۔ فورٹ سنڈیمن کے مسلمانوں نے ایک ماہ تک مکمل ہڑتال رکھی اور زبردست مظاہرے کئے۔ قومی اسمبلی میں مولانا مفتی محمود اور دوسرے رہنماؤں نے یہ سوال اٹھایا تو حکومت نے مولانا مرحوم و مغفور کو رہا کر دیا۔ جب مولانا شمس الدین کی قیادت میں تحریف قرآن مجید کے خلاف جلوس نکالے جا رہے تھے تو مرزائیوں نے بڑی عیاری کے ساتھ ایک بھائی کو قتل کروا دیا تھا تا کہ فورٹ سنڈیمن میں مسلمانوں کی تحریک تشدد کا شکار ہو کر ناکام ہو جائے۔

لیکن مولانا شمس الدین کی جرأت، بہادری، استقامت، تدبر اور مجاہدانہ قیادت کے سبب فورٹ سنڈیمن کی تحریک کامیاب ہوئی۔ بگٹی حکومت نے مسلمانوں کے مطالبات تسلیم کر لئے اور مرزائی گھرانوں کو فورٹ سنڈیمن سے نکال دیا گیا۔ تحریف شدہ قرآن مجید کے نسخے واپس لے لئے گئے۔ مرزائیوں کے چند کتابچوں کو خلاف قانون قرار دے کر ضبط کر لیا گیا۔ ادھر بلوچستان میں موجودہ حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی کشمکش ہے۔ حکومت نے بہت کوشش کی کہ مولوی صالح محمد اور مولوی حسن شاہ کی طرح مولانا شمس الدین بھی کسی قیمت پر مولانا مفتی محمود کا ساتھ چھوڑ دیں اور اقتدار کے سنہری تمغے زیب تن کر لیں۔ لیکن مولانا نے بکنے اور جھکنے سے انکار کر دیا۔

قارئین لولاک اس بات کے گواہ ہیں کہ ہم نے ۷؍ جون ۱۹۷۳ء کے شمارہ میں یہ انکشاف کیا تھا کہ مرزائیوں نے ۲۷؍ مئی ۱۹۷۳ء کو ربوہ میں اپنی شوریٰ کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ اس اہم ترین اجلاس میں مرزا ناصر احمد نے ایک طویل ترین تقریر کی۔ ہال کے باہر اور گرد کے مکانوں، گلیوں، بازاروں اور چھتوں پر دوسرے شہروں سے منگوائے ہوئے ایک ہزار رضا کار سخت گرمی میں پہرہ دیتے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۴۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رہے۔ اس اجلاس میں جو فیصلے ہوئے ان میں ایک فیصلہ یہ بھی تھا کہ ملک میں سیاسی قتل کرائے جائیں۔ چنانچہ ہم نے اس اجلاس کی کارروائی کے ضمن میں یہ بھی لکھا تھا کہ: ”ایک تجویز یہ بھی آئی کہ خدام الاحمدیہ کے فوجی اور ٹرینڈ نوجوانوں کے ذریعہ ملک کی نامور شخصیتوں کو قتل کرا دیا جائے۔ خدام الاحمدیہ کے یہ نوجوان اپنی جان پر کھیل کر یہ کام سرانجام دیں۔ اس فہرست میں کون کون لوگ شامل ہیں۔ اس سلسلہ میں مرزا ناصر احمد اور مرزا طاہر احمد کے ساتھ مشاورت کے لئے ایک خاص کمیٹی بنادی گئی جو معلومات فراہم کرے گی اور خدام الاحمدیہ کو ہدایات جاری کرے گی۔ غالباً اس کمیٹی کو کابینہ کی شکل اور ایک خفیہ متوازی حکومت کی شکل دی گئی ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ جماعت کی ۹۰ سالہ تاریخ میں پہلی دفعہ جماعت کے جھنڈے ربوہ کے سیکرٹریٹ پر لہرا دیئے گئے ہیں۔“

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد، مورخہ ۱۷ جون ۱۹۷۴ء)

”مرزائیوں نے یہ سیاسی قتل کروانے کا کیوں فیصلہ کیا تھا؟ اس کی دو وجوہات تھیں۔ پہلی وجہ مرزائیوں کی بھٹو سے ناراضگی ہے۔ مرزائی یہ یقین رکھتے تھے کہ پاکستان کی دوسری تمام جماعتوں کے بالمقابل بھٹو اور ان کی پیپلز پارٹی سیکولر نظام کی حامی ہے۔ ملک میں جس قدر لادینی کی فضاء زیادہ ہو، مرزائی اس میں باقی اور زندہ رہ سکتے ہیں۔ لیکن اگر دینی فضاء ہو اور اسلام کسی شکل میں اور کسی بھی حد تک نفاذ پذیر ہو جائے تو مرزائیت نہ زندہ رہ سکتی ہے اور نہ باقی۔ جب بھٹو صاحب نے مستقل دستور میں یہ تسلیم کرلیا کہ ملک کا سرکاری مذہب اسلام ہوگا اور مسلمان کی تعریف بھی دستور میں شامل ہوگئی تو اس سے مرزائی اور کمیونسٹ دونوں بھٹو صاحب سے ناراض ہوگئے۔ اس ناراضگی کے سلسلہ میں ۲۷ مئی ۱۹۷۴ء کو یہ میٹنگ بلائی گئی اور ایسے فیصلے کئے گئے جن کے بعد ”نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری“ کے مصداق نہ بھٹو رہے اور نہ دستور ہی رہے بلکہ یہ ملک ہی تباہ و برباد ہو جائے۔ مرزائیوں کے اس فیصلہ کی دوسری وجہ یہ ہے کہ بھٹو صاحب کا مزاج ون پارٹی سسٹم کا ہے ہی، وہ جمہوریت کا نام ضرور لیتے ہیں۔ عوام عوام بھی کرتے ہیں اور اپوزیشن کا لفظ بھی بولتے ہیں۔ لیکن ان کے اندرون خانہ دل و دماغ میں حکومت، پارٹی، جمہوریت اور ہم، سب کچھ ان کی اپنی ذات ہی ہے۔ ان کی اس کمزوری کو مرزائیوں نے خوب سمجھ لیا ہے۔ وہ بھٹو صاحب کی اس افتاد طبع کی وجہ سے ان کے اور اپوزیشن کے درمیان تصادم سے خوب خوب فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ پچھلے سال اپوزیشن نے پنجاب میں جلسے کرنا چاہے۔ ظاہر ہے پیپلز پارٹی نے وہ جلسے نہیں ہونے دیئے۔ ان جلسوں میں اکثر پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان تصادم بھی ہوئے۔ ایسے مواقع مرزائیوں کی فوجی اور نیم فوجی تنظیموں کے لئے غنیمت تھے۔ جو کچھ ان ہنگاموں میں ہوتا تھا اس کی بدنامی خواہ مخواہ پیپلز پارٹی کے نام اور اس میں جس نشانے پر تیر لگتا تھا وہ قادیانیوں کے لئے مطلوب ہوتا تھا۔

اسی پالیسی کے تحت ملک میں بعض اہم شخصیتوں کو قتل کرنے کی فہرست تیار کی گئی اور اہل وطن دیکھیں گے کہ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ملک میں یہ سیاسی قتل ہوتے رہیں گے۔ یہ سب سیاسی قتل بھٹو صاحب کے کھاتے میں لکھے جاتے رہیں گے۔ لیکن درحقیقت ان کے مرتکب قادیانی فوجی اور نیم فوجی ہوں گے یا مرزائیوں کے کرایہ پر لئے ہوئے غنڈے ہوں گے۔ خواجہ رفیق، ڈاکٹر نذیر احمد خان، عبد الصمد اچکزئی کا قتل ہو یا مجاہد اسلام مولانا شمس الدین کا قتل۔ یہ سب ایک ہی منصوبہ کے تحت اور ایک ہی تنظیم کی ہدایات پر ہورہے ہیں۔ حال ہی میں مرزائیوں نے ۹ کروڑ روپے جمع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جس میں غالباً چھ کروڑ روپیہ جمع ہو گیا ہے۔ برسر اقتدار پارٹی اوّل تو کوئی پارٹی ہی نہیں۔ پیپلز پارٹی اور پیپلز پارٹی کی حکومت صرف الفاظ ہی الفاظ ہیں۔ دونوں سے مراد صرف بھٹو صاحب ہیں اور اگر بھٹو صاحب کے علاوہ پارٹی اور حکومت کوئی چیز ہے تو وہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہیں۔ کسی کو اس طرف دھیان دینے کی فرصت ہی نہیں ہے کہ مرزائی ۹ کروڑ روپیہ کیوں جمع کر رہے ہیں؟ ۱۰ ہزار گھڑ سوار فوج کیوں بنائی جارہی ہے؟ انہوں نے اس قدر اسلحہ کیوں جمع کر لیا ہے؟

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۴۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خود بھٹو صاحب کے اردگرد مرزائی مہرے اسی طرح سیٹ ہوچکے ہیں۔ جس طرح ایوب خان کے اردگرد سیٹ تھے۔ ہم نے ۷؍جون ۱۹۷۴ء کو یہ اعلان کیا تھا کہ مرزائیوں نے اہم ترین شخصیتوں کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کی ایک فہرست مرتب کی ہے۔ آج ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے معلومات اور ہماری دانست کے مطابق مرزائیوں نے قتل کروانے کے لئے جن اہم ترین شخصیتوں کی فہرست تیار کی ہوئی ہے۔ ان میں آخری نام بھٹو صاحب کا بھی شامل ہے۔

مرزائیوں کا مقصد مرزائی ریاست کا قیام ہے۔ اقتدار پر قبضہ ہے۔ اقتدار پر قبضہ بھٹو صاحب کو راستے سے ہٹائے بغیر ناممکن ہے اور بھٹو صاحب کو راستے سے ہٹانے کا وہی طریقہ ہے جس طریقہ سے ڈاکٹر نذیر، خواجہ رفیق اور مولانا شمس الدین کو راستے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ آج بھٹو صاحب کی حکومت منافقانہ بیانات دے کر یہ کوشش کر رہی ہے کہ گویا یہ قتل اتفاقی قتل ہیں اور حکومت ان سے لاتعلق ہے۔ لیکن جلد وہ وقت آنے والا ہے جب حکومت کا سربراہ خود اسی چتا میں بھسم ہوجائے گا۔ جس چتا کو ان کے سامنے صاحب غرض لوگ جلا کر بھٹو صاحب کے مختلف کیمپوں سے تعلق رکھنے والے مخالفوں کو تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ایک ایک کر کے اس میں جھونک رہے ہیں۔

دیدی کہ خون ناحق پروانہ شمع را چنداں اماں نہ داد کہ شب را سحر کند

اے کاش! ہماری یہ گزارشات بھٹو صاحب تک پہنچ سکیں اور اے کاش ہم انہیں یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوسکیں کہ مولانا شمس الدین کا قتل اتفاقی قتل نہیں ہے بلکہ سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت سیاسی قتل ہے۔ شرافت اور انسانیت کا قتل ہے۔ جمہوریت اور ملکی سالمیت کا قتل ہے اور خود بھٹو صاحب کے قتل کی تمہید ہے۔

(لولاک مؤرخہ ۱۴؍جون ۱۹۷۴ء)

ان حالات وواقعات کا بھی تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کی کامیابی میں گہرا عمل دخل ہے۔ قادیانی جوں جوں آگے بڑھتے گئے توں توں امت محمدیہ ان کے تعاقب میں تیزی کے ساتھ رواں دواں رہی۔ مرزائیوں کی اس تحریف سے متاثر ہو کر نوائے وقت جیسے ثقہ اور محتاط اخبار نے بھی پچھلے دنوں ایک اداریہ ’’قرآن مجید میں تحریف‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے جسے ہم یہاں من وعن نقل کر رہے ہیں۔

قرآن مجید میں تحریف

’’گزشتہ تین چار ماہ سے قرآن مجید کے تحریف شدہ نسخوں کے بارے میں دینی حلقوں کی جانب سے زبردست احتجاج کیا جارہا ہے۔ اس کی صدائے بازگشت صوبائی اسمبلی میں بھی سنی گئی تھی۔ جس پر اس وقت کے وزیر اعلیٰ نے ایوان کو یقین دلایا تھا کہ حکومت اس معاملہ کی چھان بین کرنے کے بعد ایسے نسخوں کو ضبط کر کے اس کے مرتکبین کے خلاف کارروائی کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ ایسے نسخوں کے بارے میں محکمہ اوقاف کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ ان کی نشاندہی کرے۔ دینی حلقوں کے اس اضطراب کے بارے میں ہم نے بھی ان کالموں میں دو مرتبہ ارباب حکومت کی توجہ مبذول کرائی ہے جس کے جواب میں ایک صاحب ہمیں قرآن مجید کا نسخہ دے گئے کہ اس میں کہاں تحریف کی گئی ہے؟ اس پر ہم نے علماء کرام کو دعوت دی تھی کہ اگر ان کی نظر سے کوئی تحریف شدہ نسخہ گزرا ہے تو وہ اسے منظر عام پر لائیں۔ اس کے جواب میں ہمیں متعدد مضامین موصول ہوئے ہیں جن میں ایک مخصوص فرقہ کے بانی کی تصانیف میں بطور حوالہ درج بعض آیات قرآنی میں لفظی تحریف کی نشان دہی کی گئی ہے۔ اسی طرح اس فرقہ کے طبع شدہ قرآن مجید کے ترجمہ میں معنوی تحریف کی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ چونکہ حکومت اس معاملہ میں خود دلچسپی کا اظہار کرچکی ہے۔ اس لئے ہم کسی قسم کے تبصرہ کے بغیر توقع کرتے ہیں کہ صوبائی حکومت نے محکمہ اوقاف کو جو فرض سپرد کیا تھا، اس کی ادائیگی میں مزید تاخیر نہیں ہوگی تاکہ سواد اعظم میں پھیلی ہوئی غلط فہمی کا مداوا ہوسکے۔‘‘

(روزنامہ نوائے وقت مؤرخہ ۴؍ دسمبر ۱۹۷۴ء)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۴۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ربوہ غیر علاقہ

”مرزا ناصر احمد خلیفہ ربوہ کے ٹھاٹھ باٹھ، باڈی گارڈوں اور حفاظتی انتظامات کے طور طریقے بتا رہے ہیں کہ یہ خلیفہ کے نام پر اس آزاد اور خود مختار معلوم ہونے والی ریاست کے والی، سلطان یا سربراہ ہیں۔ کوئی غیر احمدی اس قصبہ میں رہائش پذیر نہیں ہو سکتا۔ جو لوگ وہاں رہتے ہیں وہ انتہائی سہمے ہوئے دبے اور گھٹے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ ربوہ کی سیکورٹی پولیس ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہے۔ وہاں جاتے ہی آدمی محسوس کرتا ہے کہ وہ کسی کٹر کمیونسٹ یا فاشسٹ ملک میں داخل ہو گیا ہے۔ وہاں کا ماحول اور پاکستان کا ماحول بالکل مختلف ہے۔ کوئی شخص بلا فرق مرتبہ و حیثیت وہاں اپنے آپ کو اجنبی غیر محفوظ اور پریشان پاتا ہے۔ حالانکہ پاکستان کا ہر صوبہ، ہر علاقہ، ہر ضلع، ہر تحصیل، ہر تھانہ، ہر حلقہ، ہر گاؤں، ہر بستی، ہر گلی، ہر کوچہ، ہمارا دیس ہے۔ جس کے ذرے ذرے سے ہم کو محبت ہے۔ جس کے ہر حصے میں ہمارے لئے سکون، امن اور پناہ ہے۔ لیکن ربوہ میں کیفیت دوسری ہے۔ ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ اگر بھٹو صاحب خود بھیس بدل کر یا ان کے معتمد خاص جناب غلام مصطفیٰ کھر صاحب ذرا غیر معلوم حالت بنا کر ربوہ تشریف لائیں اور وہ سات بجے شام سے ۱۰ بجے رات تک ربوہ میں گھوم پھر کر دکھا دیں یا رات وہاں کسی ہوٹل پر بسر کر لیں اور دوسرے روز زندہ سلامت رہ جائیں تو ہم انہیں اپنا دنیاوی لیڈر اور حاکم تو مانتے ہیں، روحانی پیشوا بھی مان لیں گے۔ حالت یہ ہے کہ آپ ربوہ میں داخل ہوں تو آپ کے پیچھے ربوہ کی انٹیلی جنس لگ جائے گی۔ وہ آپ کا برابر پیچھا کرے گی۔ یہاں تک وہ آپ کو ربوہ سے بہ لطائف الحیل نکلنے پر مجبور کر دے گی۔

آج کل تو کچھ پوزیشن اور بھی زیادہ عجیب ہے۔ ۲۷؍ مئی ۱۹۷۴ء کے خفیہ فیصلوں پر عملدرآمد کرنے کے لئے رات ۱۰ بجے سے صبح ۴ بجے تک وہاں مکمل ناکہ بندی اور کرفیو ہوتا ہے۔ خدا جانے رات کی تاریکی میں پچھلے پندرہ روز سے ربوہ میں کیا ہوتا ہے؟ جس کی پردہ دری کی جا رہی ہے۔ ربوہ کے اندر لوگ اس فسطائی گروہ سے اتنے تنگ ہیں کہ منہ سے اف تک نہیں نکال سکتے۔ اب معلوم ہوا ہے کہ مشکوک لوگوں کی ایک فہرست بن رہی ہے۔ کم از کم ایک صد افراد ایسے ہیں جن کے خلاف تحقیقات اور دوسری کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔ بہت جلد ان کا اخراج از ربوہ عمل میں آنے والا ہے۔ ہم صدر مملکت جناب ذوالفقار علی بھٹو اور جناب غلام مصطفیٰ کھر سے دوبارہ عرض کریں گے کہ جو کچھ ہم نے تحریر کیا ہے، وہ اس کی تصدیق کریں۔ اگر یہ درست ہے تو ربوہ کو پاکستان میں شامل کرنے اور اس باغی گروہ کی بیخ کنی کے لئے کوشش کریں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ پہلی فرصت میں اپنے ذاتی نمائندوں کو ربوہ بھیجیں گے۔ بشرطیکہ وہ ان کے ذاتی نمائندے مرزائی نہ ہوں۔ بلکہ خود صدر صاحب اور گورنر صاحب کی طرح مسلمان ہوں۔“

(ہفت روزہ لولاک مورخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۷۴ء)

ادارہ تحقیقات اسلامی کا سربراہ

”گزشتہ ہفتے ایک نجی کام سے راولپنڈی جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ ”ہر جا کہ رفتیم آسمان پیدا بود“ کے مصداق وہاں بھی لوگ مرزائیوں ہی کی جان کو رو رہے تھے۔ ہوا یہ کہ حکومت نے دائرۂ تحقیقات اسلامی پاکستان، اسلام آباد کے ڈائریکٹر جناب ڈاکٹر صغیر حسن معصومی کو اچانک معطل کر دیا اور ان کی جگہ ایک رسوائے زمانہ افسر شیخ محمود احمد کو لگایا۔ یہ شیخ محمود احمد جنہیں پنڈی کے لوگ مرزائیوں کی فہرست میں شمار کر کے ان کا ماتم کر رہے تھے خدا جانے مرزائی ہیں یا پرویزی۔ وہی صاحب ہیں جنہوں نے کچھ عرصہ پہلے ڈائریکٹر تعلیمات ہوتے ہوئے آزاد کشمیر میں زکوٰۃ کی شرح میں ترمیم کی تجویز پیش کی تھی اور سارے ملک میں احتجاج ہوا تھا۔ یہ صاحب وہاں سے نکالے گئے اور پھر وزارت امور کشمیر میں آ گئے اور اب وہاں سے ادارہ تحقیقات اسلامی میں ڈائریکٹر کی حیثیت سے سابق بدنام زمانہ ڈائریکٹر فضل

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۵۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

الرحمٰن کے صحیح جانشین بن گئے ہیں۔ حکومت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ کس ادارے کا سربراہ کس شخص کو بنا دیا ہے۔ یہ تقرری ایسی ہے جیسے چنوں کی ڈھیری کا رکھوالا کسی گدھے کو رکھ لیا جائے۔ دکھ ہوتا ہے کہ جن لوگوں کا اسلام سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوتا ، ملک کے کروڑوں مسلمان ان کو گمراہ اور وہ کروڑوں مسلمان کو گمراہ سمجھتے ہیں۔ حکومت انہیں کیوں ایسے اداروں کی سربراہی سپرد کر دیتی ہے۔ جن اداروں کا تعلق اسلام سے ہے۔

ادارہ تحقیقات اسلامی کی سربراہی پر شیخ محمود احمد جیسے بددین آدمی کی تقرری اور جناب معصومی صاحب کی معطلی کا پس منظر یہ بتایا گیا ہے کہ مرزائیوں نے اپنے خاص اثر ورسوخ کو استعمال کر کے وہاں ایسا آدمی مقرر کروایا ہے جو اسلامی قوانین اور اقتدار کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی مہارت رکھتا ہو اور خصوصاً مرزائیوں اور قتل مرتد کے مسئلے میں حالات سے تعاون کرنے والا ہو۔ چونکہ مستقل آئین میں پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام قرار پاچکا ہے اور اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے۔ دوسری طرف مرزائیت کی تحریک سراپا ارتداد ہے۔ اس لئے دیر یا سویر پاکستان میں یہ سوال پیدا ہوگا کہ مرتد کی سزا تعزیرات پاکستان میں قتل رکھی جائے۔ اس خطرے کی پیش بندی کے لئے مرزائیوں نے جسٹس ایس۔اے رحمان ریٹائرڈ جج سے ایک کتاب لکھوائی، جس میں جج صاحب نے یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ اسلام میں مرتد کی سزا قتل نہیں ہے۔ جج صاحب نے یہ کتاب ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر جناب ڈاکٹر صغیر حسن معصومی کو بھیجی کہ وہ اس پر اپنی رائے تحریر کر دیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی بے لاگ رائے لکھ دی کہ قرآن مجید ، سنت نبوی ﷺ اور اجماع صحابہ ؓ سے یہی ثابت ہے کہ اسلام سے پھر جانے والے مرتد کی سزا قتل ہے اور امت میں ہمیشہ یہی عقیدہ رہا ہے۔

ظاہر ہے کہ ڈاکٹر معصومی کا یہ جرم ناقابل معافی تھا۔ اس لئے وہ معتوب ہو گئے۔ انہیں نہ صرف یہ کہ معطل کر دیا گیا بلکہ ان پر جھوٹے اور فرضی الزامات کے تحت مقدمے بنانے کی افواہیں بھی گرم کی جارہی ہیں۔ ڈائریکٹر ادارہ تحقیقات اسلامی کے منصب پر ایک بے دین کو لگا دیا گیا ہے تاکہ جسٹس ایس۔اے رحمان کی کتاب پر حسب منشاء تبصرہ لکھوایا جاسکے اور پھر وہ کتاب وزارت قانون کو بھجوائی جائے تاکہ کہیں قتل مرتد کی سزا تعزیرات پاکستان میں شامل نہ ہوسکے۔ اس پس منظر میں یہ ساری کارروائی کی گئی ہے۔ پچھلے جمعہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے خطیب صاحبان نے اس ظلم عظیم کے خلاف زبردست احتجاج کیا اور حکومت کے اس فعل کی زبردست مذمت کرتے ہوئے جناب حفیظ پیرزادہ صاحب مرکزی وزیر تعلیم و انچارج اعلیٰ ادارہ تحقیقات اسلامی پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ اس ناانصافی کا فوری طور پر ازالہ کیا جائے۔ جناب ڈاکٹر معصومی صاحب کو جنہیں یقیناً سازش کا شکار بنایا گیا ہے، اپنے عہدہ پر بحال کیا جائے اور اس رسوائے زمانہ دہریئے کو جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، ادارہ تحقیقات اسلامی سے الگ کیا جائے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس ناانصافی کے خلاف پورے ملک میں احتجاج کیا جارہا ہے اور قراردادیں منظور کر کے جناب حفیظ پیرزادہ مرکزی وزیر تعلیم اور صدر بھٹو کو بھیجی جارہی ہیں۔ خدا کرے حکومت اس غلطی کی فوری طور پر تلافی کرے اور عوام میں اپنی پوزیشن کو خراب ہونے سے بچائے۔‘‘

(ہفت روزہ لولاک مؤرخہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۴ء)

مرزائی سلطنت کے خواب

’’ربوہ سے آمد اطلاعات کے مطابق مرزائی جماعت ربوہ میں چار ایکڑ رقبہ پر بہت لمبا چوڑا تہ خانہ تیار کر رہی ہے۔ اس کثیر المقاصد عظیم بلڈنگ کے لئے کھدائی کا کام شروع ہوچکا ہے۔ اس عظیم منصوبہ کے اخراجات کو کیموفلاج کرنے کے لئے ’’عمل صالح‘‘ کے نام

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۵۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پر مرزائیوں سے رضا کارانہ خدمات بھی حاصل کی جارہی ہیں۔ جس میدان کو تہ خانہ کی شکل دی جائے گی۔ وہاں فی الحال ”انٹرنیشنل پریس“ کا بورڈ لگایا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ربوہ میں ایشیاء کا سب سے بڑا پریس قائم کیا جائے گا۔ اس انٹرنیشنل پریس کا میکانیز سسٹم کے ذریعہ تمام دنیا کے ساتھ براہ راست رابطہ ہوگا۔ یہ پریس یہاں سے اپنی حکمت عملی کی ٹکسال میں ڈھلی ہوئی خبریں دنیا بھر کو بھیجے گا اور دنیا بھر سے آمدہ خبروں کو اپنے الفاظ کا جامہ اوڑھا کر یہاں اشاعت کے لئے ریلیز کرے گا۔ اس انٹرنیشنل پریس پر مرزائی پہلے کروڑوں روپے خرچ کریں گے اور پھر سیاسی مفادات کے علاوہ اس کے ذریعہ کروڑوں روپے کمائیں گے۔

اس سے پہلے ربوہ میں اسلحہ بنانے کی ایک فیکٹری بھی تہ خانہ ہی میں کام کر رہی ہے۔ یہ فیکٹری مبینہ طور پر دراصل ایک نالی بندوق کی مرمت کے لائسنس کی آڑ میں قائم ہے۔ اس تہ خانہ میں اس قسم کی مشینری اور خراد وغیرہ بتائے جاتے ہیں۔ جن کے ذریعہ رائفل اور دوسرا خطرناک اسلحہ بھی تیار کیا جاسکتا ہے۔ وہاں کیا بنتا ہے؟ وہ کہاں جاتا ہے؟ یہ سب ایک سنگین راز ہے۔ ربوہ کے مخصوص ماحول میں جہاں سوائے ایک عقیدہ کے لوگوں کے کوئی دوسرا شخص رہائش ہی اختیار نہیں کر سکتا۔ اس راز سے کون آگاہ ہو سکتا ہے؟

اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کامرس بینک کے زیادہ حصے مرزائیوں نے خرید لئے ہیں اور اب یہ بینک تقریباً مرزائیوں کا ملکیتی بینک ہو چکا ہے۔ اس کے بڑے بڑے عہدوں پر مرزائی فائز ہیں۔ تمام نئے آفیسرز مرزائی بھرتی ہورہے ہیں۔ پچھلے دنوں حکومت نے ملک بھر کی بیمہ کمپنیوں کو بھی اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ ان تمام بیمہ کمپنیوں کو ایک نظم میں ملا کر اس کا انچارج ایک کٹر مرزائی کو لگا دیا گیا۔ اس نے تقریباً اس سارے سلسلہ پر مرزائیوں کا قبضہ کرا دیا ہے۔ اس وقت بیمہ کمپنیوں کا کاروبار چوپٹ ہو کر رہ گیا ہے۔ ۱۹۷۰ء، بیمہ کی آمدنی کے لحاظ سے بدترین سال تھا۔ لیکن اس سال مرزائی افسروں کی بدولت بیمہ کمپنیوں کا کاروبار ۱۹۷۰ء کے مقابلے میں صرف ۲۵ فیصد رہ گیا ہے۔ یہ بربادی برداشت کی جارہی ہے۔ لیکن ان مرزائی افسروں سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ تمہارے منہ میں کتنے دانت ہیں۔ ملک کے دوسرے بڑے بڑے شہروں کے بڑے بڑے بینکوں میں بھی مرزائیوں نے روپیہ جمع کروا رکھا ہے اور اس روپیہ کے معاوضہ میں سود کے علاوہ مرزائی نوجوانوں کو اچھے اچھے عہدوں پر بھرتی کروایا گیا ہے۔ یہ روپیہ کہاں سے آیا ہے؟ یہ نہ کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ کسی کو بتانے کی ضرورت ہے۔ پبلک اور دوسرے بڑے بڑے مالیاتی منصوبے پراجیکٹ، بڑے بڑے ٹھیکے اور درآمد و برآمد کے کاروبار میں مرزائی اہم ترین مفادات پر چھائے ہوئے ہیں۔ گویا ملک کی اقتصادیات پر ان کا تقریباً قبضہ ہو چکا ہے۔

حالیہ فوجی سازش یا فوجی بغاوت میں کافی تعداد مرزائی افسروں کی بھی ہے۔ یہ لوگ گرفتار ہوئے ہیں اگر یہ گرفتار نہ ہوتے اور یہ سازش پکڑی نہ جاتی تو یہ لوگ مبینہ طور پر صدر بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دینا چاہتے تھے۔ ایک طرف مرزائی منافقانہ طور پر صدر بھٹو کی معیت اور ان سے تعاون کا دم بھرتے ہیں۔ لیکن اندر ہی اندر کسی دوسری طاقت سے مل کر صدر بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر اس طاقت کو برسر اقتدار لانا چاہتے ہیں۔ اگرچہ صدر بھٹو نے انہیں بڑی رعایتیں دے رکھی ہیں۔ لیکن صدر صاحب کا غالباً جرم یہ ہے کہ وہ ان کے ہم عقیدہ نہیں ہیں اور وہ ملکی مفاد کو چھوڑ کر سو فیصد ان کے اشارے پر چلنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

پہلے مرزائیوں نے ملک کی تقسیم کے وقت باؤنڈری کمیشن کے سامنے مسلم لیگ اور کانگریس سے الگ اپنا موقف پیش کر کے پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا۔ گورداسپور کا ضلع جو پاکستان کو مل چکا تھا ہندوستان کے حوالے کر دیا گیا۔ ہندوستان کو گورداسپور سے کشمیر کے لئے راستہ مل گیا اور اس طرح ہمارے ہاتھوں سے کشمیر جاتا رہا۔ پھر سر ظفر اللہ خان قادیانی نے اپنی وزارت خارجہ کے زمانے میں پاکستان کو

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۵۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

امریکہ و برطانیہ کا دم چھلا بنا کر ایشیائی ممالک خصوصاً روس، چین اور افغانستان سے دور کر دیا اور پاکستان کے لئے بے پناہ مشکلات اور مسائل پیدا کر دیئے ۔ اگر بعد میں ذوالفقار علی بھٹو بطور وزیر خارجہ نہ آتے تو پاکستان انگریزوں اور امریکیوں کی ایک گونہ نو آبادی بن چکا ہوتا۔ اس کی آزادی کالعدم ہوگئی ہوتی ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو آزاد خارجہ پالیسی دی اور اپنے ہمسایہ ممالک خصوصاً چین جیسے عظیم ملک سے مخلصانہ تعلقات قائم ہو گئے جو آج بھی ہماری ملکی سالمیت اور آزادی کی ضمانت کہلا سکتے ہیں۔

ظفر اللہ خان قادیانی کے بعد مرزائیوں کے دوسرے اہم مہرے ایم۔ ایم احمد قادیانی تھے۔ وہ ملک کی اقتصادی منصوبہ بندی کے انچارج تھے ۔ وہ اپنے مخصوص عقائد کی روشنی میں ملک کی ایسی اقتصادی پالیسی بناتے رہے۔ جس سے بنگالیوں میں احساس محرومی پیدا ہوتا رہا اور مسلسل بڑھتا رہا۔ نظر بہ ظاہر یہ کشمکش سیاسی رہی۔ لیکن اندرونی طور پر بنگالیوں کا زخم اقتصادی بدحالی اور پس ماندگی تھا۔ یہ زخم ایم۔ ایم احمد کا لگایا ہوا تھا جو کارگر ثابت ہوا اور بالآخر بنگالی ہم سے ایم ۔ ایم احمد کی منشاء اور مساعی کے عین مطابق علیحدہ ہو گئے۔

اب ایم۔ ایم احمد کے بعد نئے مہرے کام کر رہے ہیں۔ ملک کی اقتصادیات پر قبضہ، اطلاعات پر قبضہ، سیاسیات میں متعد بہ مداخلت، فوجی سازشوں کے ذریعہ حکومت کا تختہ الٹنے کی مساعی اور مستقبل میں امریکہ، برطانیہ اور ان کے ایجنٹوں کی معرفت ایک مرزائی سلطنت کے خواب دیکھ رہے ہیں۔“

(ہفت روزہ لولاک،مؤرخہ ۱۰؍ اکتوبر ۱۹۷۳ء)

(۱) مرزا ناصر کا دورۂ لندن (۲) حکومت وضاحت کرے

(مرزائیوں کا پروپیگنڈہ کہ وہ بھٹو صاحب کی دعوت پر لندن گئے ہیں)

”جب سے پاکستان کا مستقل دستور منظور ہوا ہے اور اس میں مسلمان کی تعریف شامل ہو گئی ہے۔ اس وقت سے مرزائی جماعت اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی ہے۔ اس وقت سے عجیب و غریب پراسرار حرکتوں میں مصروف ہے۔ اس کی عجیب و غریب حرکتوں میں سے ایک حرکت یہ ہے کہ وہ مسلسل یہ پروپیگنڈا کروا رہی ہے کہ اب یہاں ان کی حکومت قائم ہونے والی ہے۔ بعض ناسمجھ مرزائی، ربوہ کے شاہی خاندان کے پروپیگنڈا سے اتنے متاثر ہیں کہ وہ کھلے بازاروں کہتے پھرتے ہیں کہ بہت جلد ہماری حکومت بن جانے والی ہے۔

ویسے تو مرزائیوں کا سارا کاروبار ہی دجل، جھوٹ، فریب اور ایک طلسم ہوشرباء طرز کا ہے۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے، کھاتے پیتے، بظاہر عقل سمجھ رکھنے والے لوگ ان کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں اور اس پر فریب نعرہ میں آئے ہوئے ہیں کہ احمدیت کل دنیا پر چھا جائے گی اور پاکستان کی حکومت تو اب ہمارے قدموں میں ہے۔ پھر بعض مرزائی اس چکر میں یوں بھی پھنس جاتے ہیں کہ انگریزوں نے مرزائیوں کی سروسز میں ایسی میخیں گاڑ دی ہیں کہ وہ پاکستان میں فوج اور سول کی تقریباً تمام اہم ترین پوسٹوں پر قابض ہو گئے ہیں۔ یہ چیز ربوہ کے شاہی خاندان کے حکومت پر قبضہ کے متعلق پروپیگنڈا کو قرین قیاس بناتی ہے اور ایک چکر در چکر چلتا جا رہا ہے۔ پچھلے دنوں اس سلسلہ میں ایسے اہم واقعات سامنے آئے ہیں کہ اگر حکومت کا دماغ سوجھ بوجھ سے عاری نہ ہوتا تو مرزائی اب تک ٹھکانے لگ گئے ہوتے ۔ ۲۷؍ مئی ۱۹۷۳ء کو ربوہ میں مرزائیوں کا جو خفیہ اجلاس ہوا اور اس میں جو فیصلے ہوئے اس کے بعد مرزائیوں کا وہی حشر ہونا چاہئے تھا جو کبھی ایران کی حکومت نے بہائیوں کا کیا تھا۔ لیکن حکومت کے اعضاء و جوارح مرزائیت کی تکنیک، اس کے دعاوی اور اس کے عزائم کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ صدر بھٹو ذہین آدمی ہیں۔ لیکن ان تک کوئی صحیح بات غالباً پہنچتی ہی نہیں ہے۔

اب معلوم ہوا ہے کہ مرزا ناصر احمد بہ لطائف الحیل اپنے بارہ ہمراہیوں سمیت ملک سے باہر جانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ وہ

www.amtkn.com

ameer@khatm-e-nubuwwat.com

www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۵۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۱۲؍جولائی ۱۹۷۴ء کو ربوہ سے چپکے سے نکل گئے تھے۔ لیکن الفضل نے ان کی روانگی کو بالکل خفیہ رکھا۔ یہاں تک کہ جب وہ ۱۶؍جولائی کو ملک سے باہر پرواز کر جانے میں کامیاب ہو گئے تو الفضل نے ان کے لندن روانہ ہو جانے کی خبر شائع کی۔ مرزائیوں کو علم تھا کہ اگر مسلمانوں کو معلوم ہوتا کہ مرزا ناصر احمد ملک سے باہر جا رہے ہیں تو ان کے خلاف مظاہرے ہونے تھے اور مطالبہ کیا جانا تھا کہ ملک سے باہر نہ جانے دیا جائے۔ اس سلسلہ میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ مرزا ناصر احمد جس طرح سے گئے ہیں، وہ بھی حکومت کے لئے قابل غور ہے۔ مرزائیوں نے ملک بھر میں اس خبر کو خوب خوب مشہور کیا کہ جب صدر بھٹو روم پہنچے اور انہیں خبر ہوئی کہ ان کا دورہ امریکہ منسوخ ہو گیا ہے تو صدر بھٹو نے ربوہ سے رابطہ قائم کر کے مرزا ناصر احمد خلیفہ ربوہ کو روم آنے کی دعوت دی۔ مرزا ناصر احمد نے وہاں جانے سے انکار کر دیا اور بہانہ کے طور پر بتایا کہ وہ بیمار ہیں۔ صدر بھٹو نے ایم ایم احمد اور سر ظفر اللہ خان کی معرفت مرزا ناصر قادیانی کو یورپ آنے پر آمادہ کیا، لیکن مرزا ناصر قادیانی نے کہا کہ میں روم میں نہیں بلکہ لندن میں ان سے ملاقات کروں گا۔ چنانچہ مرزا ناصر احمد، صدر بھٹو سے لندن میں ملاقات کرنے کے لئے گئے ہیں۔ یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ صدر بھٹو کا دورہ امریکہ تو مرزائیوں کی صدر بھٹو سے ناراضگی کے باعث منسوخ ہوا ہے۔ یہ سب بلیک میلنگ تھی، حیلے بہانے تھے اور ان حیلوں بہانوں سے مرزا ناصر قادیانی ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اب حکومت کا فرض ہے کہ وہ لندن میں مرزائیوں اور ان کے خلیفہ کی سرگرمیوں کی نگرانی کریں۔ ان کے اور ان کے آقایان ولی نعمت انگریز بہادر کی سرگوشیوں کو سننے کی کوشش کریں۔‘‘

(ہفت روزہ لولاک، مورخہ ۲۸؍جولائی ۱۹۷۴ء)

لندن ایئرپورٹ پر قادیانیوں کا ذکر

’’صدر مملکت جناب ذوالفقار علی بھٹو نے لندن کے ہوائی اڈہ پر استقبال کرنے والے پاکستانیوں کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں دو دن کے لئے حکومت برطانیہ کی دعوت پر آیا ہوں۔ یہاں اگر میں فلاں ہوٹل میں قیام کروں تو لوگ کہیں گے کہ حکومت احمدیوں کی ہو گئی ہے۔ لندن کے ہوائی اڈے کی اس تقریر میں صدر بھٹو نے بعض دوسری جماعتوں کے نام بھی لئے مگر سب سے پہلے انہوں نے قادیانیوں ہی کا تذکرہ کیا۔ صدر بھٹو کے طنزیہ انداز خطاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی حکومت کے بارے میں بعض جذباتی رہنماؤں کی طرف سے یہ جو پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور جمع تفریق کر کے یہ نتیجہ نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ بھٹو کی حکومت قادیانی ہو گئی ہے۔ کسی طور بھی صحیح نہیں ہے۔

صدر بھٹو کی زبان سے لندن کے ہوائی اڈے پر قادیانیوں کا تذکرہ اور ان سے دامن کشی کا اظہار اس لئے بھی مفید رہا کہ برطانیہ، قادیانیت کی جنم بھومی اور ان کا ملجا و ماویٰ ہے اور برطانیہ میں رہائش پذیر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے مرزائی عموماً اس قسم کا غلط پراپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان میں ان کا بڑا عمل دخل ہو رہا ہے اور عنقریب وہاں ان کی مکمل حکومت قائم ہونے والی ہے۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کے عظیم اجتماع میں اس ملک کے سربراہ کی زبان سے اس قسم کے تاثرات کا اظہار کہ وہ کسی قادیانی احمدی ہوٹل میں قیام کو نہ خود پسند کرتے ہیں نہ عوام، قادیانیوں سے عوامی نفرت اور صدر کی اپنی ناپسندیدگی کا آئینہ دار ہے۔‘‘

(ہفت روزہ خدام الدین، مورخہ ۲؍اگست ۱۹۷۴ء)

مرزائی آفیسر میاں افضل اور ٹریننگ کالج لائل پور

’’اس سے پہلے ہم یہ بیان کر چکے ہیں کہ جناب میاں محمد افضل صاحب اپنی سرکاری حیثیت کے بل بوتے پر کس طرح اپنے کالج (گورنمنٹ ٹریننگ کالج) میں احمدیت کے مسلک کو فروغ دینے میں سرگرم عمل ہیں اور دوسرے سرکاری کالجوں کے طلباء و اساتذہ کو بھی

صفحہ ۴۵۴

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سیر وتفریح کے بہانے ربوہ لے جارہے ہیں اور ان کی شدھی کر رہے ہیں۔ اب ہم درج ذیل حقائق وشواہد کی روشنی میں یہ ثابت کریں گے کہ میاں محمد افضل صاحب ایک طرف اپنی سرکاری ذمہ داریوں کو پس پشت ڈال کر مختلف حربوں سے دولت کمانے میں مصروف ہیں اور دوسری طرف احمدیت کے مسلک کو پھیلانے میں اپنی تمام فکری وعملی توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔

زراندوزی اور جمع دولت

عرصہ دراز سے میاں صاحب کئی سرکاری مناصب اور عہدے اپنی ذات میں جمع کئے ہوئے ہیں جو ان کی سوچ زرطلبی کے آئینہ دار ہیں اور ان کے اثر ورسوخ کے دائرے کو وسیع سے وسیع تر کر رہے ہیں۔ میاں محمد افضل صاحب سرگودھا انٹرمیڈیٹ کے انگریزی کے صدر ممتحن ہیں اور یونیورسٹی لاہور میں ”بی۔اے“ اور ”بی۔ایڈ“ کے صدر ممتحن بنے ہوئے ہیں۔ پھر آنجناب ہی سرگودھا بورڈ اور لاہور یونیورسٹی دونوں کی طرف سے انٹرمیڈیٹ اور بی۔اے وغیرہ کے امتحانات کے ناظر (انسپکٹر) مقرر ہوتے ہیں۔ وہ سیکنڈری بورڈ آف ایجوکیشن کی سلیبس کمیٹی کے رکن اور نئی تعلیمی اصلاحات کی کمیٹی کے عہدیدار بھی ہیں (جس کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا کرتا ہے) پچھلے دنوں صاحب موصوف فلپائن (منیلا) تشریف لے گئے۔ جہاں بین الممالک ماہرین تعلیم کا اجلاس منعقد ہوا تھا۔ اس طرح صاحب موصوف تین چار ہفتے تک اپنے کالج سے غیر حاضر رہے۔ ادھر حکومت پاکستان نے لائل پور کے جو پرائیویٹ کالج اپنی تحویل میں لئے ہیں۔ ان کے نگران اعلیٰ (لیزون آفیسر) وہی ہیں۔

مزید برآں میاں افضل صاحب ہی ڈائریکٹر محکمہ تعلیم سرگودھا ریجن کے ایماء پر لائل پور کے تمام پرنسپل صاحبان کا اجلاس طلب کرتے ہیں جسے ڈائریکٹر صاحب کو خطاب فرمانا ہوتا ہے۔ اتنا ہی نہیں تمام گورنمنٹ کالجوں کے (مسائل سلجھانے کی غرض سے) پرابلم آفیسر مقرر کئے گئے ہیں۔ عنایات خسروانہ کی بارش ہے کہ جو ان پر دن رات ہو رہی ہے۔ بی۔ایڈ کے عملی امتحانات کا عملی منصوبہ (پلان) وہی بناتے ہیں اور اس کے ممتحن اعلیٰ بھی وہی ہوتے ہیں۔ اس طرح صاحب موصوف کالج کے تعلیمی وتنظیمی کاموں میں دلچسپی لینے کی بجائے، دوسرے مسائل میں اپنی صلاحیتیں کھپا دیتے ہیں۔ جن سے ان کی دوسروں پر بالا دستی قائم رہے اور دولت کی ندی بھی ان کے گھر کی طرف رواں دواں رہے۔

مرزائیت کی تبلیغ، پروفیسر امان اللہ قادیانی

میاں محمد افضل صاحب کے کالج میں دست راست پروفیسر امان اللہ قریشی ہیں جو معروف قسم کے احمدی ہیں اور مرزائیت کے فروغ میں میاں صاحب سے چند قدم آگے ہیں۔ میاں صاحب نے کالج کے تمام اہم عہدے اور شعبے ان کو سونپ دیئے ہیں تاکہ دوسرے اسٹاف ممبران ان کے انگوٹھے کے نیچے رہیں۔ یہ امان اللہ صاحب ایک طرف اسٹاف سیکرٹری بنا دیئے گئے ہیں تاکہ تمام اسٹاف پر ان کی نگرانی رہے۔ دوسری طرف انہیں داخلہ کمیٹی کے ریکارڈ کا محافظ اور نگران بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ احمدی لڑکوں اور لڑکیوں کو داخلہ دلوانے کے لئے سرکاری ریکارڈ میں ”جو گڑ بڑ کرنا چاہیں“ کر سکیں۔ ویسے بھی میاں افضل صاحب کو بحیثیت پرنسپل بیس فیصد طلباء وطالبات کو داخلہ دینے کا امتیاز حاصل ہے۔ وہ سارے کے سارے مرزائیوں کے داخلہ کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ اگر محکمہ تعلیم کی طرف سے اعلیٰ اختیارات کا حامل تحقیقاتی کمیشن بٹھایا جائے تو کالج میں داخلہ کے سلسلہ میں بہت سی بدعنوانیوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے جو لڑکوں اور لڑکیوں کے داخلہ کے وقت اس کالج میں بہت بڑے پیمانے پر کی جاتی ہیں اور جس کے باعث بہت سے مستحق طلباء داخلہ وتعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ معلوم رہے کہ میاں افضل صاحب کی موجودہ خلیفہ ربوہ ناصر احمد سے قریبی رشتہ داری ہے اور ربوہ کی ہدایات کے تحت بڑے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۵۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پیمانے پر احمدی طلباء وطالبات کو داخلہ دیا جارہا ہے تاکہ تعلیمی اداروں کی راہ سے بھی مرزائیت کو مسلط کیا جاسکے یا کم از کم ختم نبوت کے بارے میں نئی نسلوں کے ذہنوں میں خلفشار پیدا کردیا جائے۔

گزشتہ سال جو مرزائی طالب علم داخل ہوئے ان کی فہرست درج ذیل ہے۔ امسال جن مرزائی طلباء وطالبات کو داخلہ دیا گیا ان کی فہرست بھی جلد شائع کردی جائے گی۔ جن مرزائی طلباء کو گزشتہ سال داخلہ دیا گیا۔ ان میں سے چند کے نام یہ ہیں۔ (۱) سردار ارشد، (۲) انعام اللہ بٹ، (۳) ریاض احمد بھٹہ، (۴) فضل احمد شاہد، (۵) مبارک احمد چیمہ، (۶) نصیر احمد خاں، (۷) عبدالمنان فیاض، (۸) چوہدری رفیق، (۹) ارشاد احمد، (۱۰) محمد ظریف، (۱۱) عرفان اللہ شیخ۔

جناب میاں افضل صاحب نے امان اللہ قریشی صاحب کو ہی افسر انتخابات (الیکشن کمشنر) مقرر فرمادیا ہے تاکہ انتخابات میں اپنے ڈھب کے طلباء کو کامیاب کرواسکیں۔ خصوصاً مرزائی طلباء کو یونین کے عہدے حاصل کرنے میں مدد کرسکیں۔ اگرچہ چند نیک دل استاذوں کی کوششوں سے مرزائی امیدوار سابقہ برس انتخابات میں ناکام رہے۔ لیکن مسٹر فروغ عندلیب کو نمائندہ بنوانے میں انہیں پوری کامیابی ہوئی۔ نیز میاں صاحب نے امان اللہ صاحب کو ہی دارالاقامۃ (ہوسٹل) کا نگران اعلیٰ مقرر فرمادیا ہے تاکہ ان کے زیر سایہ مرزائی طلباء اور مرزائی مبلغین کھلے بندوں کام کرسکیں۔ چونکہ طالبات، لڑکوں کی نسبت زیادہ آسانی سے اثر قبول کرتی ہیں۔ اس لئے ان میں بڑی تیزی سے مرزائیت کی تبلیغ کی جارہی ہے۔ گزشتہ برس غیر احمدی اساتذہ کے علاوہ طلباء کا بھی ایک وفد ربوہ شدھی کے لئے لے جایا گیا تھا۔ اس مرتبہ لڑکیوں کا ایک وفد ربوہ لے جانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ امان اللہ صاحب اور میاں افضل صاحب ہر دو کی بیگمات ان طالبات پر خصوصی توجہ دیتی ہیں اور وہ کسی طرح بھی تبلیغی سرگرمیاں دکھانے میں اپنے شوہروں سے پیچھے نہیں۔ پچھلے سال ہوسٹل میں طالبات کی نگران اعلیٰ (ہیڈ گرل) ایک مرزائی طالبہ ہی مقرر کی گئی تھی جو بڑے جوش وخروش سے کام کرتی رہی اور طالبات میں وسیع پیمانے پر لٹریچر تقسیم کرتی رہی۔ بہرحال ایسی تمام سرگرمیوں کی روح رواں، جناب میاں محمد افضل صاحب کی ذات گرامی ہی ہے جو بہت سے کلیدی تعلیمی مناصب کو سمیٹے ہوئے ہے جو دنیوی منافع حاصل کرنے کے رنگ ڈھنگ میں بڑی مہارت رکھتے ہیں اور مرزائیت کے ”روحانی عملیات“ کے کاروبار کو خاصی کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ اگرچہ کالج میں چند سنی و شیعہ پروفیسر صاحبان موجود ہیں۔ لیکن ان میں ایک بڑا گروپ میاں صاحب سے ”شریفانہ معاہدہ“ کئے ہوئے ہے کہ وہ کالج کی طالبات کے ساتھ انہیں ناجائز تعلقات استوار کرنے پر گرفت نہ کریں تو وہ میاں صاحب کو مرزائیت کے پروپیگنڈے کرنے پر قابل مواخذہ نہ سمجھیں گے اور ان کے راستے میں بالکل مزاحم نہ ہوں گے۔

اس طرح کالج میں دو امور میں سرگرمی دکھائی جارہی ہے۔ ایک مرزائیت کی تبلیغ اور دوسرے طالبات کی عزت و ناموس کے ساتھ کھیلنے کا مشغلہ، طلباء وطالبات بھی اپنے استادوں کی دیکھا دیکھی نہ صرف اپنے ایمان کو بچانے سے قاصر ہیں بلکہ وہ بھی شرافت نفسی سے عاری ہوچکے ہیں۔ تعلیم و تعلم کی طرف نہ میاں صاحب کی توجہ ہے اور نہ ہی اساتذہ کی۔ اسی کا ثمرہ ہے کہ امسال ٹریننگ کالج لائل پور کا نتیجہ تقریباً چالیس فیصد رہا۔ جب کہ گزشتہ برسوں میں اسی تعلیمی ادارے کا اسی نوے فیصد نتیجہ آتا تھا۔ محکمہ تعلیم کے ارباب بست و کشاد سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اعلیٰ سطح پر تحقیقاتی کمیشن قائم کریں جو پورے کالج کی تحقیقات کرے۔ خصوصاً داخلوں کا احتساب کرے کہ کس طرح غیر مستحق مرزائی طلباء وطالبات کو کالج میں چور دروازے سے داخلہ مل رہا ہے اور میاں افضل صاحب پرنسپل، ان کے دست راست امان اللہ قریشی کا بلاتاخیر تبادلہ کرے تاکہ اساتذہ کی تربیت کے اس ادارے میں اچھی روایات کی حوصلہ افزائی ہو اور فحاشی اور بدعقیدگی کا قلع قمع ہو سکے۔“

(ہفت روزہ المنبر لائل پور)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۵۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

فوج میں قادیانی سازش

”پشاور: ۷؍ اگست ۱۹۷۳ء جنرل کورٹ مارشل نے پاک فضائیہ کے چودہ افسروں کے خلاف مبینہ سازش کے الزام میں مقدمہ کی سماعت ۱۶؍ اگست تک ملتوی کر دی ہے۔ آج عدالت نے وکلاء صفائی کی درخواست پر یہ فیصلہ کیا ہے۔ وکلاء صفائی نے درخواست میں دس روز کے لئے مقدمہ کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔ ایئر وائس مارشل سی.آر نواز نے عدالت کی صدارت کی ۔ قبل ازیں وکیل صفائی جناب ایم انور نے کہا کہ فوجی افسروں کے مقدمے کے گواہوں کا اس مقدمہ میں بھی پیش ہونے کا امکان ہے اور فوجی مقدمہ میں گواہوں کے خلاف شہادت کی بنیاد پر اپنے دفاع کی تیاری کے لئے مقدمہ کی سماعت ملتوی کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقدمہ کی ابتداء میں جو گواہ پیش کئے جائیں گے ان کے متعلق قیاس کیا جاتا ہے کہ وہ سازش کے آغاز، اس میں ملوث افسروں کی گرفتاری اور اگر اس مقدمہ کی ایف.آئی.آر ہو تو اس کے متعلق بتائیں گے ۔ چونکہ فوجی مقدمہ اور فضائیہ کے مقدمہ کا ایک ہی سازش سے تعلق ہے۔ اس لئے قلعہ اٹک کے مقدمہ کے خلاف شہادت میں بیان کردہ حقائق سے متعلق ایک متوازی کہانی حاصل ہوگی۔ وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ ملزموں کی جانب سے پیش کردہ درخواست پر پی. اے. ایف ایکٹ کی دفعہ ۱۶۰ کے تحت طلب کرنے والی اتھارٹی نے تین یا چار روز میں ہر ملزم کو فوجی مقدمہ کی شہادت کی دو نقول فراہم کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ اس لئے وکلاء صفائی کو مقدمات کی تیاری کے سلسلے میں تقریباً ۶ دن دیئے جانے چاہئیں ۔ دوسرے تمام وکلاء صفائی نے اس درخواست کی حمایت کی۔ قبل ازیں ۲؍ اگست کو مبینہ سازش کے ملزموں نے جنرل کورٹ مارشل میں اپنے بیانات میں کہا ہے کہ ہم پر ناقابل بیان اور روح فرسا مظالم ڈھائے گئے ۔ سکویڈرن لیڈر وحید نے تشدد اور ایذاء رسانی میں گسٹاپو کو مات کر دیا ہے ۔ گروپ کیپٹن عبد القادر نے اپنے بیان میں کہا کہ میں نے صدر کو ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی قادیانی سازش سے باخبر کیا تھا۔ اس لئے فضائیہ اور فوج کے اعلیٰ افسروں کے اشارے پر مجھے مقدمہ میں پھانس لیا گیا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ میری کوٹھڑی اور کمرے کے باہر مسلح محافظ تعینات کئے گئے ۔ جب مجھے تفتیش کے لئے مقرر کردہ جونیئر افسروں کی گالیوں دھمکیوں سے مہلت ملتی تھی۔ یہ محافظ تمام وقت میرے کمرے کے اندر جھانکتے رہتے تھے۔ یہ عمل اس وقت بھی جاری رہتا تھا جب میں کوٹھڑی کے اندر رکھا ہوا کموڈ استعمال کرتا تھا۔ تحقیقات کی آڑ میں مجھے شرمناک طریقے پر ذلیل اور رسوا کیا گیا ۔ مجھے گندے برتنوں میں انتہائی گھٹیا اور خراب خوراک کی قلیل مقدار دی جاتی تھی۔ مجھے کئی دن اور رات جگایا جاتا تھا۔ مجھے کمزور اور تکلیف دہ حالت میں جونیئر افسروں کے ذریعے گالیوں اور بے عزتی کا شکار بنایا جاتا تھا۔ میرے ہاتھوں اور آنکھوں پر پٹی باندھی جاتی تھی۔ بستر کے ساتھ باندھ دیا جاتا تھا اور اس پر بھی مزید خراب سلوک کی دھمکی دی جاتی تھی۔ مجھے بتایا گیا کہ میری بیوی کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے اور مجھ سے اس بات کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا گیا کہ بچوں کو اپنی ساس کی تحویل میں دینے کی اجازت دے دوں ۔ مجھے بتایا گیا کہ اگر میں نے اپنے ہاتھ سے اقبالیہ بیان تحریر کر کے اس پر دستخط نہ کئے تو میری بیوی کے ساتھ کمانڈر کی بیوی جیسا سلوک کیا جائے گا ۔ جب اسے اس کے شوہر کے برابر کوٹھڑی میں بند کیا گیا تھا۔ باری باری لوگ اس کے کمرے میں داخل ہوتے تھے اور کمانڈر، عبرت سے اس کی چیخوں کی آواز سنتے تھے۔ مجھ سے کہا گیا تھا کہ اگر میں نے اپنی تحریر میں مطلوبہ بیان دے دیا تو نہ صرف خود میری بلکہ میرے خاندان کی جان بھی بچ جائے گی۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۵۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مجھے یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اٹک کے قلعے میں ایذاء رسانی کا معیاری طریقہ یہ ہے کہ جسم کے نازک پوشیدہ اعضاء کے ساتھ وزن لٹکا کر گھنٹوں کھڑا رکھا جاتا ہے۔ جب میں نے مطلوبہ بیان دے دیا تو ایذاء رسانی میں کچھ کمی ہو گئی اور مجھے افسروں کی معیت میں لایا گیا۔ مگر قید تنہائی میں رکھا گیا۔ دھمکیوں اور تشدد کے ذریعے دو ٹائپ شدہ بیانات پر مجھ سے دستخط بھی لئے گئے۔ گواہوں کے بیانات میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ میں نے مجسٹریٹ کے سامنے اقبالیہ بیان دیا تھا۔ یہ قطعی جھوٹا الزام ہے۔ میں نے کسی مجسٹریٹ کے سامنے رضا کارانہ طور پر اقبالی بیان نہیں دیا۔ اقبالی بیان پر دستخط حاصل کرنے کے بعد مجھے حفاظتی دستے کی نگرانی میں اپنی بیوی اور سالے سے ملاقات کی اجازت دی گئی اور ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی گئی کہ اگر میں نے اپنی گرفتاری اور دوسرے واقعات کے بارے میں کوئی بات کی تو ملاقات فوراً ختم کر دی جائے گی اور مجھے قلعہ اٹک کی اس کوٹھڑی میں بھیج دیا جائے گا۔ جہاں سے مجھے لایا گیا ہے مجھ سے پورے عرصے میں یہ وعدہ بھی لیا گیا کہ اگر میں مطلوبہ اعتراف کرلوں تو مجھے رہا کر دیا جائے گا۔ کیونکہ بہت سے افسروں کو رہا کیا جا چکا ہے۔ میرے ساتھ جو کچھ کیا گیا ہے عدالت میں کھڑے ہوئے ملزمان کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا ہے۔ میں انصاف اور اس فضائیہ کے نام پر جس کی تعمیر ہم نے سچائی بہادری اور انسانی وقار کی بنیادوں پر کی ہے۔ آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ فاضل عدالت تمام معاملات اور ان ہتھکنڈوں کی اچھی طرح چھان بین کرے جن سے نام نہاد اقبالی بیانات حاصل کئے گئے ہیں۔ گواہوں کی ابتدائی فہرست اور ۲۸؍ جولائی کو فراہم کردہ ترمیم شدہ فہرست عدالت کے سامنے واقعات کی صحیح تصویر پیش نہیں کرتی۔ تحقیقات میں شامل کئی افسروں کے نام گواہوں میں موجود ہیں۔ فاضل عدالت کو مزید افسروں کو گواہوں کے طور پر طلب کرنا چاہئے۔ ان کے نام یہ ہیں۔ ایئر کموڈور مفتی، ونگ کمانڈر سرور ملک، گروپ کیپٹن کے ایم طارق، گروپ کیپٹن اے۔ ایچ قریشی، گروپ کیپٹن افضل، ایئر کموڈور ایم۔ زیڈ بٹ، سکویڈرن لیڈر ایم۔ آئی قریشی، لیفٹیننٹ کرنل عزیز، میجر کریم، سیکنڈ لیفٹیننٹ چغتائی، قلعہ اٹک کے ڈاکٹر، ونگ کمانڈر ایم۔ ایم عالم، ونگ کمانڈر اعجاز الدین، سکویڈرن لیڈر آفتاب عالم، سکویڈرن لیڈر امان اللہ خان، فلائٹ لیفٹیننٹ خٹک، فلائٹ لیفٹیننٹ باجوہ، کارپورل نواز اور کارپورل امیر حسین، فاضل عدالت کو ان تمام افراد کو بھی طلب کرنا چاہئے۔ جنہیں میں نہیں جانتا مگر میں نے انہیں اپنی نظر بندی کے دوران دیکھا تھا۔ یہ افراد تمام واقعات کے عینی شاہد ہیں۔ میں پہلے الزام کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہوں۔ اس کے بعد باقی تمام ملزموں نے بھی پہلے الزام کے بارے میں اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے اس قسم کے بیان دیئے۔

نوٹ: اس کے بعد ملزموں پر الزامات ۲ تا ۳۳ فرداً فرداً عائد کئے گئے۔ تمام ملزموں نے اپنے متعلقہ الزامات کو فرداً فرداً مسترد کر دیا۔

شاہینوں کی رہائی

بڈبیر میں پاک فضائیہ کے مشہور مقدمے کے سلسلہ میں اعلیٰ اختیارات کی عدالت نے مبینہ سازش کیس میں پاک فضائیہ کے ۹ افسروں کو رہا کرتے ہوئے انہیں اپنے عہدوں پر بحال کر دیا ہے۔ صرف ۴ افسروں کو مختلف المیعاد سزائیں دی گئیں ہیں۔ سزا پانے والوں میں سکویڈرن لیڈر غوث محمد (قادیانی) بھی شامل ہیں۔ ہمیں انتہائی مسرت ہوئی ہے کہ فاضل عدالت نے بے گناہ افسروں کو رہا کر دیا ہے اور غلط فہمیوں کے وہ تمام بادل چھٹ گئے ہیں جو کسی سازش گروہ کی طرف سے بروئے کار لائے گئے تھے۔ ہم صدق دل سے رہا ہونے والے پاک فضائیہ کے بہادر جیالے شاہینوں کو مبارک باد عرض کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی امان اور سلامت میں رکھے اور آزمائش میں جو ذہنی جسمانی اور مالی تکلیف انہیں پہنچی ہے۔ اس کی تلافی کی صورت پیدا کرے۔

(لولاک)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۵۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

فوج میں قادیانی سازش

روزنامہ نوائے وقت لاہور اشاعت ۸؍ اگست ۱۹۷۳ء میں پاکستان ایئرفورس کے ان افسروں کے بیانات شائع ہوئے ہیں جو کسی مبینہ سازش کیس میں گرفتار ہیں اور جن پر ایک اعلیٰ اختیارات کی فوجی عدالت میں مقدمہ کی سماعت ہورہی ہے۔ انہی افسروں میں گروپ کیپٹن عبدالقادر کا بیان بھی شائع ہوا ہے۔ گروپ کیپٹن موصوف نے اپنے بیان میں عدالت پر واضح کیا ہے کہ اس نے کچھ عرصہ قبل جناب ذوالفقار علی بھٹو کو اس بات کی اطلاع دی تھی کہ قادیانی ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کر رہے ہیں۔ فوج میں اعلیٰ قادیانی افسروں نے اس بات کا انتقام لینے کے لئے اسے اس مقدمہ میں پھنسا دیا ہے۔ ہم اس مقدمہ پر کوئی تنقید یا تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ اوّل اس لئے کہ زیر بحث معاملہ کا فوج سے تعلق ہے اور فوج ملک کا وہ سرمایہ ہے جس کے معاملے میں زبان اور قلم دونوں کے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ دوم اس لئے کہ یہ مقدمہ ایک قابل احترام عدالت میں زیر سماعت ہے۔ جس پر ہمیں پورا پورا اعتماد ہے اور زیر سماعت مقدمہ کے متعلق کچھ کہنا یا کچھ لکھنا احترام عدالت کے خلاف اور آداب صحافت کے منافی ہے۔ اس لئے اس مقدمہ پر کوئی تنقید یا تبصرہ نہیں کرتے۔ البتہ ایک اور بات کی طرف ملک کے وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ وہ یہ کہ کیپٹن عبدالقادر نے عدالت موصوف میں جو بیان دیا ہے عدالت یقیناً اس پر غور کرے گی اور انصاف کے تقاضے پورے کرے گی۔ لیکن گروپ کیپٹن عبدالقادر موصوف کے بیان میں جناب بھٹو صاحب کا تذکرہ آ گیا ہے کہ انہوں نے بھٹو صاحب کو قادیانی سازش سے آگاہ کیا تھا۔ اب یہ بھٹو صاحب کا فرض ہے کہ وہ گروپ کیپٹن موصوف کے بیان کی یا تو تردید کریں اور یا تصدیق۔ جناب بھٹو صاحب نے ابھی تک اس بیان کی تردید نہیں کی اور ہم اپنی معلومات کی بناء پر بھی کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ یہ بیان بالکل درست ہے۔ گروپ کیپٹن موصوف نے فوجی افسروں کے ڈنر کے موقعہ پر جناب غلام مصطفیٰ کھر گورنر پنجاب کے توسط سے یہ بات جناب بھٹو سے علیحدگی میں کی تھی۔ اس لئے یقیناً جناب بھٹو صاحب اس بیان کی تردید نہیں کریں گے۔ اگر جناب بھٹو صاحب گروپ کیپٹن موصوف کے بیان کی تردید نہیں کرتے تو یقیناً عوام کے نزدیک یہ بیان سچا ہوگا۔ ایسی صورت میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب گروپ کیپٹن صاحب نے ملکی مفاد کے پیش نظر اور خصوصاً بھٹو صاحب کی ذات اور ان کی حکومت کے مفاد کے پیش نظر انہیں ایک سازش اور خطرہ سے آگاہ کیا تھا تو جناب بھٹو صاحب نے اس نوجوان کو قادیانیوں کے انتقام سے تحفظ کیوں نہ دیا؟ کیا صدر مملکت حال وزیر اعظم کا یہ فرض نہ تھا کہ اس کا ایک وفادار اور ملک کا ایک نمک حلال افسر اگر اسے ایک خطرہ سے آگاہ کر رہا ہے اور مرزائیوں جیسے منظم سازشی گروہ کی سازش سے خبردار کر رہا ہے تو وہ اس کے جان و مال اور آبرو کی حفاظت کریں؟ ایسی اطلاع کی بھٹو صاحب کو تصدیق کرنا چاہئے تھی۔ اگر اطلاع سچی تھی تو قادیانی گرفتار ہونے چاہئیں تھے اور جو سلوک آج ملت کے ان جگر گوشوں کے ساتھ کیا گیا ہے، وہ دراصل مرزائی افسروں اور سازشی عناصر کے خلاف ہونا چاہئے تھا اور اگر گروپ کیپٹن صاحب نے بھٹو صاحب کو غلط انفارمیشن دی تھی تو وہ خود ان کے خلاف کارروائی کرتے۔

بھٹو صاحب نہ تو خود مرزائی ہیں اور نہ ان مرزائی افسروں کے ماتحت ہیں، بلکہ یہ تمام افسر، ان کے ماتحت ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک محسن کو کیوں بھلا دیا اور مرزائیوں کو یہ موقع کیوں دیا کہ وہ اس بیچارے کے ساتھ جو سلوک چاہیں کریں۔ آئندہ وہ کون مائی کا لال ہوگا جو اس ساری صورت حال کو دیکھ کر جناب بھٹو صاحب کو کسی نازک صورت حال سے یا کسی ملکی اور قومی خطرہ سے آگاہ کرنے کی جرأت کرے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۵۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گا۔ بھٹو صاحب کو خدا نے بہت بڑا بلند مقام عطاء فرمایا ہے۔ انہیں اپنے محسن کے ساتھ نیک سلوک کرنا چاہئے تھا۔ اسے ملک اور بھٹو صاحب کی خیر خواہی کا یہ صلہ دیا گیا کہ اسے مبینہ طور پر شرمناک قسم کی اذیتوں کا شکار بنایا گیا ہے۔ ہم اب بھی جناب بھٹو صاحب سے درخواست کریں گے کہ وہ اس معاملہ پر نظر ثانی کریں۔ موجودہ عدالت جو اس مقدمہ کی سماعت کر رہی ہے۔ اس کے اختیارات اور اس کا دائرہ کار بڑھا دیا جائے تا کہ وہ نہ صرف اس مبینہ سازش کی تحقیقات کرے بلکہ اس مرزائی سازش کی بھی تحقیقات کرے جس کی نشاندہی گروپ کیپٹن عبد القادر نے کی تھی۔ اب یہ کوئی راز نہیں ہے۔ ملک کا بچہ بچہ چیخ چیخ کر اس خطرہ کی نشاندہی کر رہا ہے کہ مرزائی ملک اور اسلام دونوں کے غدار ہیں اور وہ ایک قد آور سیاسی لیڈر کے ساتھ مل کر بھٹو صاحب کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ وہ جناب بھٹو صاحب سے ختم نبوت کے عقیدہ کے سلسلہ میں آئین میں شامل ہونے والی مسلمان کی تعریف سے سخت ناخوش ہیں۔ وہ بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر اس کی جگہ ایک دوسرے لیڈر کو اوپر سے ملک پر مسلط کرانا چاہتے ہیں۔

اس لئے ملک، اسلام اور خود بھٹو صاحب کے مفاد کا تقاضا ہے کہ اس مرزائی سازش کو بے نقاب کیا جائے۔ بے گناہوں پر ظلم کو روکا جائے اور ملکی مفاد کی خاطر مرزائیوں کی مخالفت کرنے والوں کو ضروری تحفظ دیا جائے۔“

(ہفت روزہ لولاک مؤرخہ ۲۱/ اگست ۱۹۷۴ء)

حرم میں شرکت کا منصوبہ (ربوہ کی مشاورت کا فیصلہ)

ایک معتمد دوست نے خبر دی ہے کہ ایوان محمود میں جماعت احمدیہ کے گیارہ رکنی ہائی کمانڈ نے اپنے سیاسی منصوبہ کو پروان چڑھانے کے لئے بعض فوجی اور سول افسروں کے علاوہ دو ایک وزیروں کے حرم میں رفیقہ حیات کے طور پر داخلہ کے لئے پندرہ قادیانی دوشیزاؤں کا انتخاب کیا ہے۔ اپنے سر بر آوردہ اصحاب کو ہدایت کی ہے کہ اس غرض سے پیشکش کریں۔ چنانچہ پندرہ دوشیزاؤں کی فہرست تیار ہو چکی ہے۔ مزید فہرست ایک ماہ کے اندر اندر تیار کی جائے گی۔ اس سوال پر بھی غور کیا گیا کہ بعض ممتاز افراد کے، سیکرٹریٹ میں اپنے افراد، کیونکر کھپائے جاسکتے ہیں؟ نیشنلائز کئے ہوئے بینکوں میں ان کو بھرتی کرنے کے سوال پر بھی غور کیا گیا اور بینک کے عہدیدار کی خفیہ رپورٹ پر اس سلسلہ میں غور کیا گیا۔

دارالامان پیپلز کالونی لائل پور میں مرزائیت کی تبلیغ

”حکومت پنجاب کے محکمہ بلدیات و سماجی بہبود کی طرف سے پیپلز کالونی لائل پور میں عورتوں کے لئے ایک دارالامان قائم کیا گیا ہے۔ جس میں ان دنوں لاوارث عورتیں اور ۱۷/ بچے بچیاں داخل ہیں۔ جو سب کے سب مسلمان ہیں۔ اس ادارہ کی سپرنٹنڈنٹ مسماۃ اصغری الہ بخش اور مذہبی تعلیم دینے والی لیڈی ٹیچر قادیانی ہیں۔ لیڈی ٹیچر اس ادارہ میں داخل عورتوں اور بچوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر ان کو مرزائیت کی تبلیغ بھی کر رہی ہے۔ جس سے ان کے ایمان کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے اور گزشتہ دنوں ربوہ میں سالانہ جلسہ پر بھی کچھ عورتوں کو لے جایا گیا ہے۔“

(روزنامہ امروز، مؤرخہ ۱۱/ جنوری ۱۹۷۴ء)

محمد شریف جنجوعہ کا وعدہ (۲۰/ لاکھ روپے جوبلی فنڈ میں)

سرکار نے لائف انشورنس کمپنیوں کو تحویل میں لے کر اس کے اے یونٹ کو جو سب سے بڑا یونٹ ہے اور کئی کمپنیوں پر مشتمل ہے۔ ایک میٹرک فیل یا پاس (تحقیق نہیں ہوسکی) شخص شریف جنجوعہ کے سپرد کیا ہے۔ جنجوعہ اس یونٹ کا جنرل منیجر ہے۔ اس نے قادیانی امت کی

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۶۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ترقی و استحکام کے لئے کئی ایک ہم عقیدہ افراد کو ترقی دے کر بڑے بڑے عہدوں پر فائز کیا اور بہت سے قادیانی لڑکے بھرتی کئے ہیں۔ جنجوعہ کے متعلق یونٹ کے مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت میں زبردست اضطراب ہے۔ جنجوعہ نے پریشان ہو کر اپنے آقا مرزا ناصر احمد سے رجوع کیا۔ اس نے استحکام کی ضمانت لے لی۔ جنجوعہ نے مرزا ناصر قادیانی سے جوبلی فنڈ میں ۲۰لاکھ جمع کر کے دینے کا پختہ وعدہ کیا ہے۔ یہ روپے کیونکر جمع ہوں گے؟

سی آئی ڈی میں سازش ”میرزائی امت کا ایک پلان“

”با اعتماد ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ میرزائی امت مرکزی انٹیلی جنس بیورو اور صوبائی سی آئی ڈی کے آلودہ نفس اور جلب منفعت کے عادی افسروں کو ڈھب پر لانے کے لئے ابتداً دس لاکھ روپیہ مخصوص کر کے اپنے حریفوں کے خلاف قید و بند کی صعوبتیں فراہم کرنا چاہتی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سرکاری رپورٹوں کی معرفت ان علماء کے خلاف پیپلز پارٹی کی حکمران جماعت کو مشتعل کیا جائے جو قادیانی امت کا محاسبہ کرتے اور اس کو مسلمانوں سے الگ کر دینے کی آواز اٹھاتے ہیں۔“

(ہفت روزہ چٹان لاہور)

انٹرنیشنل پریس ربوہ

”ہم نے ۲۱؍ اپریل ۱۹۷۴ء کے لولاک میں ”مرزائی سلطنت کے خواب“ کے عنوان سے ایک اداریہ تحریر کیا تھا۔ اس اداریہ میں ہم نے اعلان کیا تھا کہ مرزائی ربوہ میں ایک عظیم الشان کثیر المقاصد بلڈنگ بنا رہے ہیں۔ جس کی زیر زمین تہہ خانہ کی کھدائی شروع ہے۔ اس وسیع و عریض قطعۂ زمین پر انٹرنیشنل پریس کا بورڈ لگایا گیا ہے۔ لولاک میں ”مرزائی سلطنت کے خواب“ والا اداریہ چھپنے اور انٹرنیشنل پریس کی اجمالی معلومات کے انکشاف پر مرزائیوں نے وہ بورڈ غائب کر لیا ہے اور کھدائی کا کام بند کر دیا ہے۔

ہم نے نمائندہ لولاک کی اس اطلاع پر اس معاملہ کی مزید وضاحت دریافت کی تو معلوم ہوا کہ مرزائی اس معاملہ میں بھی پراسرار حرکتیں کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ روایتی دجل سے کام لیتے ہوئے وسط جون کے الفضل کے کسی شمارہ میں ایک فرضی کارروائی شائع کر دی۔ اس کارروائی کا خلاصہ یہ ہے کہ وسط مارچ میں مرزا ناصر احمد خلیفہ صاحب نے ربوہ میں جدید پریس کا سنگ بنیاد رکھا تھا اور یہ تقریر کی تھی اور آگے ایک بنی بنائی تقریر درج کر دی۔ ہم حیران تھے کہ جس الفضل کو اپنے تازہ پرچہ میں یہ بات بھی شائع کرنا پڑتی ہو کہ: ”حضور نے رات بے خوابی کے عالم میں تین مرتبہ کروٹ بدلی جس سے حضور کی طبیعت ناساز ہوگئی۔ لہٰذا احباب جماعت احمدیہ حضور کی صحت کے لئے دعا کریں۔“ اس الفضل کو یہ جرأت کیسے ہوگئی کہ وہ حضور خلیفہ ربوہ کی وسط مارچ کی تقریر وسط جون میں تین ماہ کے بعد اتنی تاخیر سے شائع کرے۔ ہمیں شبہ ہوا کہ دال میں کچھ کالا کالا ہے۔ اب مصیبت یہ ہے کہ ربوہ کے رہنے والے بہت کچھ بتانا چاہتے ہیں۔ لیکن کیا کریں مجبور ہیں۔ ان میں عبدالرحمن مصری، عبدالرب برہم، مظہر ملتانی، مولوی صدر دین اور علی محمد ماہی بننے کی ہمت نہیں ہے۔ چنانچہ ہمیں انٹرنیشنل پریس کے متعلق جو کچھ معلوم ہوا ہے وہ ہم نے شائع کر دیا کہ اس کے دو حصے ہوں گے۔ ایک میں پرنٹنگ پریس ہوگا۔ دوسرے میں نیوز ایجنسی پریس ہوگا جو ساری دنیا سے رابطہ قائم کئے ہوئے ہوگا۔

اب غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق یہ شبہ کیا جا رہا ہے کہ مرزائی اس تہہ خانہ کے کسی حصہ میں خفیہ ریڈیو اسٹیشن قائم کر رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چھ ماہ سے وہ زبردست افواہیں پھیلا رہے تھے کہ احمدی نائیجیریا میں ریڈیو اسٹیشن لگا رہے ہیں۔ پھر افواہ پھیلائی گئی کہ نائیجیریا میں ایسا ہو رہا ہے۔ پھر خبر آئی کہ مراکش کے دارالخلافہ رباط میں احمدیوں کا ریڈیو اسٹیشن لگایا جا رہا ہے۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ شاید

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۶۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کہیں بھی ایسا نہیں ہو رہا۔ محض لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے ایسا کیا جا رہا تھا۔ درحقیقت کوئی چیز ربوہ میں لگائی جارہی تھی۔ اب اس غیر مصدقہ اطلاع کے پیش نظر حکومت کا فرض ہے کہ وہ احتیاطاً اس تمام مشینری کو جو موقعہ پر موجود ہو یا جو مشینری ادھر ادھر کر لی گئی ہو اسے برآمد کر کے اپنے قبضہ میں کر لے اور اس امر کی چھان بین کرے کہ کہیں سچ مچ کوئی طاقتور ٹرانسمیٹر وغیرہ پریس کی مشینری کی آڑ میں درآمد تو نہیں کر لیا گیا۔ کیونکہ ہمارے ملک میں ایسا ہونا ممکن ہے۔ اگر کتابوں کے بکسوں کے بہانے عراقی اسلحہ ہوائی جہازوں کے ذریعہ پاکستان میں آسکتا ہے تو پریس کی مشینری کے بہانے ریڈیو اسٹیشن کے ٹرانسمیٹر وغیرہ بھی بحری جہاز کے ذریعہ درآمد ہو سکتے ہیں۔

پھر یہ ۲۷؍ مئی ۱۹۷۴ء سے ربوہ میں ایک خاص قسم کا پراسرار ماحول پیدا کیا گیا ہے۔ شام سے ہی سائیکل سواروں کی گشت، رات ۱۰؍ بجے سے ۴؍ بجے تک مکمل ناکہ بندی اور کرفیو کی کیفیت بلاوجہ تو نہیں ہے۔ آخر کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔‘‘

(ہفت روزہ لولاک، مورخہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۴ء)

ایس.پی شیخوپورہ کی خدمت میں

ہمیں مانانوالہ بار ضلع شیخوپورہ سے ایک خط موصول ہوا ہے جس میں تحریر ہے کہ مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کی طرف سے آمدہ ایک اشتہار میں مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزا بشیر الدین محمود کے حوالہ جات کے بعد مفکر اسلام علامہ اقبال کی رائے کے مطابق مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ درج تھا۔ یہ اشتہار مانانوالہ کے ایک دوکاندار نے اپنی دوکان پر لگا رکھا تھا۔ سب انسپکٹر پولیس مانانوالہ نے وہاں کے مقامی مرزائی ایم.پی.اے کے ایماء پر اس دوکاندار کو تھانے بلوا کر دھمکی دی کہ آئندہ ایسا اشتہار اگر لگایا گیا تو گرفتار کیا جائے گا۔ ہماری اطلاع کے مطابق مانانوالہ بار بھی پاکستان کے اندر واقع ہے۔ جب ایک اشتہار سارے ملک میں لگایا جاسکتا ہے اور اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو ملک کے قانون کے برخلاف ہے تو سب انسپکٹر پولیس مانانوالہ کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں اور اختیارات سے تجاوز کر کے مرزائی ایم.پی.اے کو خوش کرنے کے لئے ۷ کروڑ مسلمانوں کے حقوق کو مملکت پاکستان میں برباد کرے۔

مسلمانوں کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ مرزائیوں کے کفریہ عقائد مسلمانوں پر واضح کریں اور حکومت سے پرامن مطالبہ کریں کہ انہیں ان کے عقائد کی روشنی میں اقلیت قرار دیا جائے۔ امید ہے شیخوپورہ کے روشن ضمیر ایس.پی اس سب انسپکٹر پولیس کو ایک دفعہ پھر اپنے فرائض منصبی کی حدود سے خبردار فرمائیں گے۔

کیمبل پور انتظامیہ کی مرزائی نوازی

(کیمبل پور: ۲۷؍ اپریل ۱۹۷۴ء) آج نماز جمعہ پر مرکزی جامع مسجد میں مولانا قاری خلیل احمد نے کہا کہ ختم نبوت کا مسئلہ اسلام کا بنیادی مسئلہ ہے۔ انہوں نے مقامی انتظامیہ کے اس رویئے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا کہ مقامی انتظامیہ نے شہر کی مشہور انجمن رد مرزائیت و مسیحیت کے اراکین کے ساتھ انتہائی ذلت آمیز سلوک کیا اور انجمن کا تبلیغی بورڈ بغیر کسی تحریری نوٹس کے اٹھوا لیا گیا۔ جامعہ مدینہ کے خطیب قاضی محمد زاہد الحسینی نے بھی انتظامیہ کے اس رویئے پر شدید احتجاج کیا۔ علاوہ ازیں مولانا قاری محمد سعید الرحمن علوی خطیب مرکزی جامع مسجد حضرو نے بھی انتظامیہ کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ایسے ہتھکنڈوں سے باز آجائے۔ علمائے کرام نے مندرجہ ذیل قرارداد مختلف مساجد میں پیش کی، جسے مسلمانوں نے متفقہ طور پر منظور کیا۔

مسلمانان کیمبل پور کا یہ اجتماع عام ضلعی انتظامیہ کے اس رویئے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے کہ اس نے رد مرزائیت

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۶۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مسیحیت کا تبلیغی بورڈ بغیر کسی نوٹس کے اٹھوا لیا۔ ایک مرتبہ تو انجمن کے منتظم حضرات کو بورڈ واپس کر دیا گیا۔ جب کہ دوسری مرتبہ پھر اٹھوا لیا گیا اور کہا گیا کہ ضلعی افسران سے رابطہ قائم کیا جائے۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مین بازار میں عرصہ سات سال سے عیسائی حضرات کا دارالمطالعہ قائم ہے۔ اس کے علاوہ وہ گلی گلی کوچہ کوچہ لٹریچر تقسیم کرتے ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے اپنے دارالمطالعہ کے سامنے تبلیغی بورڈ رکھا ہوا ہے۔ اسی طرح فرقہ مرزائیہ جمعہ کے دن اپنی عبادت گاہ کے سامنے تبلیغی بورڈ رکھتے ہیں۔ کفر کے افکار ونظریات کے پرچار کی اس کھلی اجازت کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ یہ ترجیحی سلوک انتہائی ناقابل افسوس ہے۔ حکام ضلع کو چاہئے کہ وہ اس سلسلہ میں اپنی پوزیشن واضح کر کے سواد اعظم کو مطمئن کریں۔

درج بالا قرارداد ذیل کے علماء نے نماز جمعہ کے اجتماعات پر پیش کی۔

ادارہ لولاک اس واقعہ پر اپنی رائے محفوظ رکھتا ہے اور کیمبل پور کی انتظامیہ سے استدعا کرتا ہے کہ وہ اصلاح اعمال کی صورت پیدا کرے۔‘‘

(لولاک، مورخہ ۱۴/ دسمبر ۱۹۷۳ء)

ربوہ سازشوں کا مرکز

۱۹۷۴ء کے آخر میں ربوہ سازشوں کی آماجگاہ بن گیا تھا۔ اس موقعہ پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما مولانا تاج محمود نے حکومت کو اس طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا: ”اب ربوہ خالص مرزائی آبادی کا شہر ان کا دارالخلافہ ہے۔ جہاں مرزا ناصر احمد خلیفہ کہلاتا ہے۔ چالیس لاکھ روپیہ ماہوار کے قریب جماعت احمدیہ کی چندوں کی آمدنی ہے۔ ۱۳۶۰۰۰ ایکڑ زرعی اراضی ان کی صرف سندھ میں ہے۔ ملک بھر میں اوقاف وصایا اور ملکیتی جائیدادیں اس کے علاوہ ہیں۔ کامرس بینک پر انہوں نے تقریباً مکمل قبضہ کر لیا ہے۔ حبیب بینک، یونائیٹڈ بینک میں بھی ان کا بے حساب روپیہ ہے۔ بیمہ کمپنیاں اگرچہ حکومت کی تحویل میں آگئی ہیں۔ لیکن زون بی پر مرزائیوں کا مکمل کنٹرول ہے۔ پیپلز فنانس کارپوریشن جس کا کروڑوں روپیہ سرمایہ ہے۔ یہ سرکاری ادارہ بھی مرزائیوں کے مکمل قبضہ میں ہے۔ ربوہ اور سرگودھا ڈویژن میں تعلیم حاصل کرنے والے مرزائی طلباء کو فرسٹ ڈویژن اور بہترین نمبر دلانے کے لئے سرگودھا ایجوکیشن بورڈ پر مرزائیوں کا مکمل قبضہ ہے۔ فوج میں جنرل ٹکا خان کے بعد ان کے کئی جرنیل اور سینئر آفیسر ہیں۔ ایئر فورس کا ہیڈ مرزائی اور نیوی کے متعلق بھی ایسی ہی افواہیں ہیں۔

صفحہ ۴۶۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ربوہ میں ایک پورا نظام حکومت اور اس کا سیکرٹریٹ موجود ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہیڈ آف دی سٹیٹ کو یہ صدر یا پرائم منسٹر نہیں کہتے۔ خلیفہ کہتے ہیں دس وزارتیں جنہیں یہ نظارت کا نام دیتے ہیں، نظارت تعلیم، نظارت زراعت، نظارت تجارت، نظارت امور عامہ وغیرہ موجود ہیں۔ اس سال انہوں نے آزاد کشمیر اور بلوچستان میں بغاوتیں اور فسادات کروائے۔ تحریف شدہ قرآن مجید چھاپ کر تقسیم کئے گئے اور مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کیا گیا۔ ہم نے سینکڑوں قرآن مجید کی ایسی آیات کی نشاندہی کر دی ہے، جنہیں مرزا غلام احمد نے بدل دیا تھا اور اب قرآن مجید کی آیات کے مسلمہ اور متداولہ تراجم میں تحریف اور تبدیلی کی جارہی ہے۔ حال ہی میں ان کی ایک اور جسارت کا ثبوت مل گیا ہے کہ انہوں نے کلمہ بھی بدل دیا ہے اور ”لا اله الا الله احمد رسول الله “ کا کلمہ جاری کر دیا ہے۔ ان کی اس جسارت کا ثبوت خود ان کی کتابوں سے نائیجیریا کی ان کی ایک عبادت گاہ کے مینار پر کندہ کلمہ کے مذکورہ الفاظ سے مہیا ہوا ہے۔ ہر پہلی حکومت سے انہوں نے فائدہ اٹھایا اور بالآخر اسے دھوکہ دیا اور نئی حکومت میں شامل ہو گئے۔ ہر حکومت ان کی پرورش کرتی رہی اور ان کے خلاف دلائل سے خطرات کی نشاندہی کرنے والوں کو دباتی رہی۔

موجودہ حکومت کے معاملہ میں بھی یہ لوگ بلیک میلنگ کرتے رہتے ہیں اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس حکومت کا سب کچھ گویا انہی کے ہاتھوں میں ہے۔ ۱۹۵۳ء میں تمام مسلمانوں نے مل کر مسلم لیگ کی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے تاکہ ان کے حقوق اور فرائض متعین ہو جائیں اور جو خطرات ان کی وجہ سے اسلام یا ملک کو درپیش ہیں، ان کا سدباب ہو جائے۔ لیکن مسلم لیگ کی حکومت نے اپنے عوام کی رائے کو ٹھکرا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اگرچہ مسلم لیگ کی حکومت نے ظلم اور زبردستی سے ان کے خلاف تحریک کو وقتی طور پر دبا دیا۔ لیکن خود بھی رائے عامہ کے غضب کا شکار ہو گئی اور آج تک پھر اپنے اعتماد کو عوام میں بحال نہ کر سکی۔

موجودہ حکومت سے ہمیں اختلاف ہو سکتا ہے۔ خود مرزائیوں کے مسئلہ میں بھی ہم حکومت کے رویہ سے مطمئن نہیں ہیں۔ لیکن تاہم اس نے عوام کی رائے کا احترام کیا اور آئین میں مسلمان کی تعریف شامل کر دی ہے۔ اس کے علاوہ صدر اور وزیر اعظم کے لئے ضروری قرار دے دیا ہے کہ وہ اپنے عہدہ کا حلف اٹھاتے وقت اس بات کا اعلان کریں کہ وہ مسلمان ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ خدا وحدہ لا شریک ہے۔ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو گا اور قرآن مجید آخری کتاب ہے۔

آئین منظور ہوا اور خدا کا شکر ہے کہ بالاتفاق منظور ہو گیا ہے۔ اس آئین پر جب سے مولانا مفتی محمود اور ان کے ساتھیوں نے، مولانا شاہ احمد نورانی اور ان کے ساتھیوں نے، پروفیسر غفور احمد اور ان کے ساتھیوں نے دستخط کئے ہیں۔ اس وقت سے مرزائی بھٹو صاحب کے خلاف ہو چکے ہیں۔ لیکن ان کی مخالفت بھی ان کی جھوٹی نبوت کی طرح ایک مکر اور دجل سے کم نہیں۔ بظاہر سب اچھا ہے۔ مفادات حاصل کئے جا رہے ہیں۔ جو کچھ حاصل ہے، اسے ہضم کیا جا رہا ہے۔ لیکن اندرونی طور پر ناراض ہیں اور اس لئے ناراض ہیں کہ انہیں توقع تھی کہ سوشلزم کا پرچار کرنے والا بھٹو ان کی توقع کے مطابق ملک کو سیکولر آئین دے گا تاکہ اس سیکولر فضا میں یہ اپنی دکانداری قائم رکھ سکیں۔ لیکن ان کی توقع کے خلاف پاکستان کے سات کروڑ عوام کی رائے کے احترام میں بھٹو صاحب نے جو آئین دیا، اس میں خامیاں بھی ہوں گی۔ لیکن بہر حال اس پر دینی اتھارٹیز نے دستخط کر دیئے ۔ اس میں مسلمان کی تعریف شامل کر دی گئی۔ بس اس بات سے وہ موجودہ حکومت سے اندرونی طور پر ناراض ہو گئے۔ چنانچہ انہوں نے ۲۷؍ مئی ۱۹۷۳ء کو ربوہ میں ایک خفیہ میٹنگ کی۔ جس کی تفصیلات ہمیں خود ربوہ سے موصول ہوئیں اور ہم نے انہیں شائع کر دیا۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۶۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس میٹنگ میں بھٹو صاحب کے خلاف ایک قد آور سیاسی شخصیت جو سابق ایئر مارشل ہیں، ان کی حمایت کا فیصلہ کیا گیا۔ موجودہ حکومت کو بدنام کرانے کے لئے متعدد سیاسی رہنماؤں کو قتل کرانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا۔‘‘

(لولاک، مؤرخہ ۱۴؍ دسمبر ۱۹۷۴ء)

قادیانیوں نے ’’دینی معلومات‘‘ نامی ایک پمفلٹ مجلس خدام احمدیہ ربوہ کی جانب سے شائع کیا۔ اس میں مرزا قادیانی کو انبیاء علیہم السلام میں آخری نمبر پر شمار کیا گیا اور غلام احمد قادیانی کی بجائے اسے ’’احمد علیہ السلام‘‘ لکھا گیا۔ چٹان سے بمعہ تبصرہ پیش خدمت ہے۔

مرزا غلام احمد کا نام قرآن پاک میں (مرزائیوں کی شوخ چشمانہ جسارت)

ہمارے سامنے بہ عنوان دینی معلومات (بطرز سوال و جواب) ایک کتابچہ ہے جو ربوہ کی مجلس خدام الاحمدیہ نے شائع کیا ہے۔ یہ کتابچہ ۲۰×۳۰/۸ سائز کے ۵۶ صفحات پر ہے۔ عنوان یہ ہیں:

صفحہ چھ اور سات پر سوال و جواب ہے۔

سوال۲۱: قرآن کریم میں جن انبیاء کے اسماء کا ذکر ہے، بیان کریں۔

جواب: حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت لوط، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت یوسف، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت شعیب، حضرت موسیٰ، حضرت ہارون، حضرت داؤد، حضرت سلیمان، حضرت الیاس، حضرت یونس، حضرت ذوالکفل، حضرت الیسع، حضرت ادریس، حضرت ایوب، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ، حضرت لقمان، حضرت عزیر، حضرت ذوالقرنین علیہم السلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور احمد علیہ السلام۔

واضح رہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے متبعین نے پاکستان بن جانے کے بعد ان کے نام Purify کرنے کی مہم کے تحت غلام کا لفظ حذف کر دیا اور صرف احمد بنا دیا ہے اور اس کے ڈانڈے قرآن پاک سے اس طرح ملا رہے ہیں کہ پاکستان کے سادہ دل عوام کو بدراہ کرسکیں۔ صدر بھٹو اور گورنر کھر یہ کتابچہ منگوا کر ملاحظہ فرمالیں کہ قرآن پاک میں تحریف اور حضور کی ختم المرسلینی کے خلاف مرزائی امت کیا کیا گل کھلا رہی اور آیات ربانی کو کیسے کیسے مجروح کر رہی ہے؟

مرزائیوں کے اس حوصلہ پر ہم کیا لکھیں؟ ماتم کیجئے! انہیں یہ آزادی پاکستان نے دی ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!

قادیانیوں کی اس جسارت سے بھی مسلمانوں میں اشتعال پھیلا۔

مرزائیوں کی اسلام دشمن اور ملک دشمن سرگرمیوں سے پاکستان کے عوام سخت پریشان ہیں۔ عوام کی بے چینی اور پریشانی کی ایک وجہ یہ ہے کہ مرزائی اپنی اس ملک اور مذہب دشمنی کے باوجود پاکستان کے اہم ترین سول اور فوجی مناصب پر قابض ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کی دولت اور بہترین وسائل معاش پر ان کا کنٹرول اور قبضہ ہے۔ باہر سے امریکہ اور برطانیہ جیسی سامراجی طاقتوں کی انہیں یہودیوں کی طرح

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۶۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تائید اور سپورٹ حاصل ہے۔ ایسے حالات میں انہیں کھل کر اپنے اصلی روپ میں سامنے آنے کی جسارت ہوئی ہے۔ انہوں نے قرآن مجید میں تحریف شروع کی۔ قرآن مجید کے ڈیڑھ ہزار سالہ مسلمہ معانی کو بدل کر وہ اپنی جھوٹی نبوت کے حق میں قرآن مجید کی آیات کے معانی اور تفسیر کرنے لگے ہیں۔ اب انہوں نے دیدہ دلیری کی انتہاء کر دی ہے۔ چنانچہ انہوں نے کلمہ طیبہ کو بدل دینے کی جسارت شروع کر دی ہے۔

ہفت روزہ چٹان لاہور نے اپنی اشاعت ۱۰؍دسمبر ۱۹۷۴ء کے صفحہ ۱۰ پر مرزائیوں کی ایک مطبوعہ کتاب سے ایک ایسی تصویر شائع کی ہے۔ جس نے مرزائیوں کے دجل وفریب اور تحریف کے تمام پردے چاک کر دیئے ہیں۔ یہ تصویر نائیجیریا میں احمدیہ سنٹرل قادیانی عبادت گاہ کے مینار کی ہے۔ جس پر کلمہ طیبہ کو بدل کر ”لا اله الا الله احمد رسول الله“ کندہ کیا ہوا دکھایا گیا ہے۔ مرزائی مرزا غلام احمد کا نام بھی آہستہ آہستہ بدل کر اب احمد رکھنے لگے ہیں۔ چنانچہ اس تصویر میں احمد رسول اللہ سے ان کی مراد غلام احمد قادیانی ہی ہیں۔

اس امر کا واضح ثبوت اس سے بھی ملتا ہے کہ حال ہی میں انہوں نے ایک کتاب دینی معلومات شائع کی ہے۔ جس کے صفحہ ۵۶ پر انہوں نے انبیائے قرآن مجید کے زیرعنوان ان نبیوں کی فہرست شائع کی ہے۔ جن کا تذکرہ قرآن مجید میں موجود ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس کتاب میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبیوں کے نام لکھنے شروع کئے اور آخر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، حضرت محمد ﷺ اور احمد کے نام درج کئے ہیں جن سے ان کی مراد غلام احمد ہے۔

قادیانی حج کا مقصد، حجاز میں قادیانی داخلہ؟

مولانا میر محمد سعید صاحب ساکن حیدرآباد دکن نے (مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان سے) ملاقات کی۔ مولانا کا عزم امسال حج بیت اللہ کا ہے اور اس سفر پر جانے سے پہلے آپ یہاں آئے ہیں۔ سفر حج کے ذکر پر مولوی ( محمد سعید ) صاحب نے کہا کہ: ”عرب کی سرزمین اب تک احمدیت سے خالی ہے۔ شاید خدا تعالیٰ یہ کام مجھ سے کرائے۔“ اس پر حضرت خلیفہ المسیح نے فرمایا: ”میرا مدت سے خیال ہے کہ اگر عرب میں احمدیت پھیل جائے تو تمام اسلامی دنیا میں پھیل جائے گی۔“ مولانا نے عرض کیا کہ: ”عرب میں تبلیغ کا کیا طریقہ ہونا چاہئے۔“ (مرزا محمود احمد نے) فرمایا: ”ان سے بحث کا طریقہ مضر ہے۔ کیونکہ وہ لوگ حکومت کے زیادہ زیر اثر نہیں۔ جلد اشتعال میں آجاتے ہیں اور جو جی چاہے کر گزرتے ہیں۔“ مولانا نے عرض کیا: ”میرا خود بھی خیال ہے کہ ان کا استاد بن کر نہیں بلکہ شاگرد بن کر ان کو تبلیغ کی جائے۔“ (مرزا محمود احمد نے) فرمایا: ”میں نے وہاں تبلیغ شروع کی اور خدا نے اپنے فضل خاص سے میری حفاظت کی۔ اس وقت حکومت ترکی کا وہاں چنداں اثر نہ تھا۔ اب تو شاہ حجاز کے گورنمنٹ انگریزی کے زیر اثر ہونے کے باعث ہندوستان سے بدسلوکی نہیں ہوسکتی۔ مگر اس وقت یہ حالت نہ تھی۔ اس وقت تو جس کو چاہتے گرفتار کر سکتے تھے۔ مگر میں نے تبلیغ کی اور کھلے طور پر کی۔ لیکن جب ہم وہ مکان چھوڑ کر واپس ہوئے تو دوسرے دن اس مکان پر چھاپہ مارا گیا اور مالک مکان کو پکڑ لیا گیا کہ اس قسم کا کوئی شخص یہاں تھا؟“

(مرزا محمود احمد قادیانی خلیفہ کی ڈائری مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ۷؍مارچ ۱۹۲۱ء)

”حضرت مولانا محمد سعید قادری امیر جماعت ہائے احمدیہ حیدرآباد دکن بعد حصول اجازت حضرت اقدس خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تبلیغ کا مبارک مقصد لے کر ۳۰؍اپریل ۱۹۲۱ء کو بمبئی سے ہمایوں نامی جہاز میں مدینہ شریف روانہ ہو گئے۔ آپ کا خیال ایک دراز مدت تک مدینہ شریف کو مرکز تبلیغ بنا کر ملک عرب میں تبلیغ کرنے کا ہے۔ ان شاء اللہ! اس مبارک دور خلافت ثانیہ میں بطفیل حضرت اولوالعزم فضل عمر (مرزا محمود احمد ) یورپ و امریکہ میں جب کہ اسلام کا بول بالا ہو رہا ہے، ضرور تھا کہ وہ مقدس سرزمین عرب کہ جس

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۶۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے انوار نورانی سے سارا جہاں منور ہو گیا تھا دوبارہ اس سر زمین کی منور چوٹیوں سے وہ نور چمک اٹھے تا کہ سیدنا مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا یہ الہام پوری آب و تاب کے ساتھ دنیا پر ظاہر ہو جائے کہ مسلمان را مسلمان باز کردند۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۱۲؍ مئی ۱۹۲۱ء)

ایک وقت تھا جب سعودی حکمران مرزائی عقائد سے پوری طرح باخبر نہ ہونے کے باعث ان کو حدود حرم میں مسلمان سمجھ کر داخل ہونے کی اجازت دے دیتے تھے۔ لیکن الحمد للہ ! مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ اپنی تمام تر مساعی کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری مرحوم نے شاہ فیصل مرحوم سے ملاقات کی اور حکومت سعودیہ کی طرف سے حجاز مقدس میں قادیانیوں کی قانوناً داخلہ بندی کا مطالبہ کیا۔ شاہ فیصل مرحوم نے فرمایا کہ آپ اپنی حکومت پاکستان سے کہیں کہ وہ پاسپورٹ پر قادیانیوں کو قادیانی لکھ دیں۔ اس کے بعد کوئی قادیانی سعودیہ کی حدود میں داخل ہو تو میں مجرم ہوں گا۔ کسی کی پیشانی پر تو نہیں لکھا کہ یہ قادیانی ہے۔ ہمیں کیا معلوم؟ آپ کی حکومت ان کو مسلمان لکھ دیتی ہے۔ وہ آ جاتے ہیں۔ اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟ شیخ بنوری مرحوم آب دیدہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ فیصل مرحوم نے یہ کیفیت دیکھی تو پریشان ہو گئے۔ وجہ پوچھی ، شیخ بنوری نے فرمایا کہ : ”اے شاہ فیصل ! میں آپ کو رحمت عالم ﷺ کے دین اور حرمین کی عزت و ناموس کا پاسبان سمجھ کر آیا تھا۔ آپ مجھے پاکستان کی حکومت کے پاس بھیجتے ہیں۔ اگر وہ میری بات مان لیتے تو میں آپ کے پاس کاسۂ گدائی لے کر رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کی بھیک مانگنے کے لئے نہ آتا۔‘‘ یہ سن کر شاہ فیصل مرحوم پر گریہ کی کیفیت طاری ہو گئی اور آبدیدہ ہو کر اس نے کہا کہ اے شیخ بنوری! میں آپ کی مشکلات سے باخبر نہ تھا۔ آپ تشریف لے جائیں۔ آج کے بعد جس آدمی کے متعلق معلوم ہو کہ یہ قادیانی ہے ، مجھے آپ اپنے لیٹر پیڈ فارم پر خط لکھ دیں اور سعودی کونسل خانہ و سفارت خانہ کو کراچی یا اسلام آباد اطلاع دے دیں۔ میری حکومت اس شخص ( قادیانی ) کو حدود سعودیہ میں داخل نہیں ہونے دے گی ۔ چاہے پاکستان کا وزیر اعظم اس کی سفارش کیوں نہ کرے ۔ چنانچہ اس کے بعد شاہ فیصل مرحوم نے حدود حرم میں قادیانیوں کا داخلہ بند کرنے کے احکام جاری کئے۔ پاکستان میں اپنے سفارت خانہ و کونسل خانہ کو شیخ بنوری مرحوم کی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی۔

ایک دفعہ شب قدر پشاور میں ایک قادیانی ڈاکٹر داؤد احمد نے حج کے لئے درخواست دی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو معلوم ہوا۔ اس کی درخواست ( جو بحری راستہ سے تھی ) مسترد کرا دی ۔ اس نے نیا پاسپورٹ ، ویزا ، شناختی کارڈ نام پتہ تبدیل کیا اور ہوائی جہاز کے ذریعہ جانے میں کامیاب ہو گیا ۔ شیخ بنوری ان دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ میں شرکت کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے ۔ پشاور کی جماعت نے صورتحال عرض کی کہ آج اتنے بجے وہ جہاز کے ذریعہ کراچی سے روانہ ہو رہا ہے ۔ کراچی کونسل خانہ سے رابطہ کرتے کرتے جہاز روانہ ہو گیا ۔ اس کے بعد شیخ بنوری کا سعودیہ سے رابطہ ہو گیا ۔ چنانچہ جہاز کے جدہ ایئر پورٹ پر لینڈ کرتے ہی سعودی سیکورٹی نے جہاز میں اندر جا کر پہلے اس قادیانی کو گرفتار کیا اور پھر باقی سواریوں کو اترنے کی اجازت دی ۔ دوسری فلائٹ جو کراچی آ رہی تھی اس کے ذریعہ قادیانی کو سعودی حکومت نے پاکستان واپس بھیج دیا ۔ ہفت روزہ لولاک مورخہ ۵؍ فروری ۱۹۷۴ء میں مرزائی مذکور کی خبر شائع ہوئی ۔

حدود حرم میں تمہارا داخلہ ممنوع ہے، قادیانی مبلغ کو جدہ سے واپس کر دیا گیا

ڈھیری شب قدر (بذریعہ ڈاک ) ڈھیری شب قدر ضلع پشاور کے قادیانی ڈاکٹر داؤد احمد کو حکومت سعودی عربیہ نے یہ کہہ کر کہ تم مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار کافر ہو، تم حدود حرم میں داخل نہیں ہو سکتے ، جدہ ائیر پورٹ سے واپس پاکستان بھیج دیا۔ واقعات کے مطابق

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۶۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قادیانی مبلغ داؤد احمد اس سال مرزائیت کی تبلیغ کے لئے حج کے بہانے مکہ مکرمہ جانے کے لئے کراچی سے جدہ پہنچے۔ پہلے داؤد احمد کے متعلق سفارت خانے کو آگاہ کر دیا گیا تھا اور اس طرح مرزائی مذکور جدہ ایئرپورٹ سے واپس کر دیا گیا۔ اب مرزائی داؤد احمد، مسلمانان علاقہ سے منہ چھپائے روپوش پھرتا ہے۔ مسلمانان علاقہ کی دعوت پر مجلس پشاور کے ناظم اعلیٰ مولانا نور الحق نور نے گزشتہ جمعہ جامع مسجد میں تقریر کی۔ جس سے مرزائیت کے ناپاک عزائم کی قلعی کھل گئی۔ مختلف علاقوں سے آئے ہوئے مسلمانوں نے مولانا کو علاقہ بھر کا تفصیلی دورہ کرنے کی دعوت دی۔ مولانا نے دعوت کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ ان شاء اللہ تعالیٰ مجلس کے خدام عنقریب علاقہ بھر کا دورہ کریں گے۔ مولانا نے اس سلسلے میں جناب رحیم شاہ صاحب کلاتھ مرچنٹس ڈھیری بازار کو پروگرام بنانے کی دعوت دی اور ان شاء اللہ تعالیٰ علاقہ بھر کے علماء کرام کے تعاون سے پروگرام بنایا جا رہا ہے۔

مرزائی حج پر نہ جا سکے

محترمی آغا صاحب السلام علیکم

یہ امر قابل صد مبارک ہے کہ حکومت سعودی عرب کے اعتراض پر حسب ذیل مرزائی حج پر نہ جا سکے اور انہیں ۴؍اکتوبر کو روانہ ہونے والے جہاز سے اتار دیا گیا ہے۔ ان کی روانگی کی اطلاع اہل جہلم نے بروقت شاہ فیصل کو بھیج دی تھی۔ سیٹھی فضل حق، سیٹھی عزیز الرحمٰن، سیٹھی خلیل الرحمٰن، سیٹھی محمد اسماعیل، مبارک، بیگم برکت بی بی، عزیز بیگم اور فاطمہ بیگم۔

امید ہے باقی مرزائی بھی حج پر نہ جاسکیں گے۔ حافظ محمد اکرم زاہد، جہلم۔

(چٹان مؤرخہ ۱۴؍نومبر ۱۹۷۴ء)

یہ صرف دو واقعات عرض کئے ہیں۔ ورنہ اس قسم کی بیسیوں مثالیں ہیں کہ قادیانی حج کے لئے جانا چاہتے تھے۔ مگر سعودی حکومت یا اس کی خواہش اور ان کے قانون کے باعث پاکستانی حکومت نے ان کو جانے سے روک دیا۔ یہ تمام تر اقدامات کہ قادیانیوں کو پاکستان وبیرون پاکستان میں عملاً غیر مسلم سمجھا جائے۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک سے پہلے ہو چکے تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے امت محمدیہ کی کاوشوں کے باعث قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تحریک سے پہلے گراؤنڈ تیار کی جاچکی تھی۔ صرف پاکستان کے مرزائیوں کا سعودی عرب میں داخلہ بند نہ ہوا بلکہ پوری دنیا میں جہاں کہیں سعودی سفارت خانے تھے، ان کو حکومت نے سرکلر جاری کیا کہ حدود حرم میں مرزائیوں کا داخلہ شرعاً جائز نہیں۔ لہٰذا کسی مرزائی کو حج وعمرہ ویزا نہ دیا جائے۔ جیسا کہ ذیل کی خبر سے واضح ہے۔

قادیانی ارتداد کی مجنونانہ ظالمانہ اور بشریٰ فاطمہ ژوب کا سفاکانہ قتل کی ایک مثال

گزشتہ ہفتہ پولیس نے بشریٰ فاطمہ شہید کے قادیانی قاتل کو ساہیوال سے گرفتار کر کے کوئٹہ پہنچا دیا۔ ملزم طارق سعید عرصہ نو ماہ سے مفرور تھا۔ بعض اطلاعات کے مطابق کوئٹہ کے ایک شخص نے ملزم طارق سعید قادیانی کو ساہیوال میں دیکھ کر پہچان لیا۔ جس پر ساہیوال پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے کوئٹہ پولیس کو اطلاع دی اور مقامی پولیس کا ایک خصوصی دستہ میر عبدالمنان سب انسپکٹر کی زیر قیادت ملزم کو اپنی حراست میں کوئٹہ لے آیا۔

ملزم طارق سعید قادیانی نے تین سال قبل خضدار میں اپنی سوتیلی بہن بشریٰ فاطمہ کو آہنی ہتھوڑے کی پے در پے ضربوں سے شہید کر دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ملزم نے اپنی سوتیلی بہن بشریٰ فاطمہ کو مسلمان مذہب چھوڑ کر قادیانی ہونے کی ترغیب دی۔ لیکن بشریٰ نے مذہب تبدیل کرنے اور مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت پر ایمان لانے سے انکار کر دیا۔ جس پر ملزم نے بشریٰ پر حملہ کر کے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۶۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اسے شہید کر دیا۔ ملزم کے خلاف مقامی عدالت میں مقدمہ زیر سماعت تھا۔ اسے ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ میں رکھا گیا تھا۔ بعد میں ملزم کو ہسپتال کی جیل وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔ جہاں سے ۱۴؍مارچ ۱۹۷۴ء کو ملزم طارق سعید مبینہ ایک قادیانی سازش کے تحت فرار ہو گیا۔ گزشتہ دنوں ساہیوال پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے کوئٹہ پہنچا دیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے ناظم جناب منظور احمد مغل، مرکزی مبلغ مولانا عبداللطیف اور دیگر ممتاز علماء دین بلوچستان نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کی سخت نگرانی کی جائے۔ کیونکہ ملزم کو کئی اعلیٰ عہدوں پر فائز قادیانیوں کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ملزم کو فرار کرنے والے افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔ علماء نے کہا کہ ملزم کو قانون کے مطابق تختہ دار تک پہنچایا جائے۔ علماء نے ساہیوال پولیس کو بھی اس گرفتاری پر مبارک باد پیش کی۔ بلوچستان کے سینئر وکیل جناب مرزا منور احمد ایڈووکیٹ، جناب ریاض الحسن ایڈووکیٹ، جناب مقیم انصاری اور دیگر ممتاز وکلاء نے مجلس تحفظ ختم نبوت کو اپنی اعزازی خدمات پیش کر دی ہیں۔‘‘

(چٹان مؤرخہ ۱۷؍دسمبر ۱۹۷۴ء)

’’اللهم صل علی محمد‘‘ (درود شریف) میں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی اولاد کا حوالہ ذیل میں ضیاء الاسلام پریس قادیان کے مطبوعہ رسالہ درود شریف کے ص ۴۴ کا فوٹوسٹیٹ حاضر ہے۔ دوسری سطر کے آخری دو لفظوں سے لے کر تیسری چوتھی پانچویں سطر پڑھ لیجئے اور محمد واحمد کے ساتھ آل محمد واحمد بھی دیکھ لیجئے۔ اس کے بعد فرمائیے۔ اس کی نشاندہی کرنے پر خطاوار کون ہے؟

ایک لحظہ سوچئے کہ اسلام کو غصب کرنے کی مہم کا آغاز کہاں سے ہوا اور آل ابراہیم و آل محمد کے مقابلہ میں کس کی آل لائی جا رہی ہے؟ آغا شورش کاشمیری نے چٹان مؤرخہ ۱۵؍جنوری ۱۹۷۴ء کے شمارہ میں یہ شائع کر کے مسلمانوں کو باخبر کیا کہ کس طرح مرزا غلام احمد قادیانی کو غلام احمد سے احمد بنا کر درود شریف میں شامل کر کے محمد و آل محمد کی توہین کا ارتکاب کیا جارہا ہے۔ قادیانیوں کی اس قسم کی حماقتیں مسلمانوں میں اضطراب کا باعث بنتی گئیں اور وہ مرزائیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ ایک اقلیت قرار دلوانے کے مطالبہ کے حق میں منظم ہوتے گئے۔

سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور ان کے گرامی قدر رفقاء نے قادیانیت کو قادیان میں جا کر للکارا۔ پاکستان بننے کے بعد ربوہ میں ایک سازش کے تحت قادیانی گروہ کو آباد کیا گیا۔ ربوہ خالصتاً قادیانی آبادی پر مشتمل تھا۔ وہاں کسی مسلمان کو جلسہ تو درکنار آنے جانے کی اجازت تک نہ تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ربوہ کے قریب چنیوٹ میں مرزائیوں کے سالانہ جلسے کے مقابلہ میں آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس کی داغ بیل ڈالی۔ ذیل میں ۲۱ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ کے آخری اجلاس کی کارروائی آپ ملاحظہ فرمائیں۔ اس کا آپ کے پیش نظر رہنا اس لئے ضروری ہے کہ یہ ۲۶، ۲۷، ۲۸؍دسمبر ۱۹۷۳ء کو کانفرنس منعقد ہوئی اور اس کے بعد ۱۹۷۴ء کے اوائل میں تحریک ختم نبوت شروع ہوگئی۔ نیز یہ کہ آپ اندازہ فرمائیں کہ کس طرح عالمی مجلس ختم نبوت نے تسلسل کے ساتھ اس جہاد کو جاری رکھا۔ صرف اس ایک اجلاس کی کارروائی سے آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ کانفرنس کتنی اہمیت کی حامل تھی اور صرف اس ایک کانفرنس کے ذریعہ کس طرح عالمی مجلس نے ہزاروں مسلمانوں کے ایمان کو جلا بخشی اور کس طرح ان کو قادیانیوں کے دست و برد سے بچایا اور کس طرح قادیانیت کے ارتدادی سیلاب کے سامنے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے بند باندھا؟ کارروائی یہ ہے۔

چنیوٹ: مؤرخہ ۲۸؍دسمبر ۱۹۷۳ء مجلس تحفظ ختم نبوت کانفرنس کا ۲۱واں اجلاس تین دن کی بہت سی نشستوں کے بعد ایک بجے شب بخیر و خوبی ختم ہو گیا۔ آخری اجلاس کی صدارت مولانا عبدالستار خان نیازی نے فرمائی۔ اس اجلاس میں آخری تقریر آغا شورش کاشمیری

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۶۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۴۶۹ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نے کی۔ مولانا مفتی محمود، مولانا عبداﷲ درخواستی، مولانا تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری، سردار عبدالقیوم صدر آزاد کشمیر، میجر محمد ایوب ممبر اسمبلی آزاد کشمیر، جناب غلام احمد رضا، طالب علم رہنماؤں حافظ وصی محمد (زرعی یونیورسٹی لائل پور)، مسٹر محمد سلیم (زرعی یونیورسٹی لائل پور)، مسٹر احمد علی، سید انتظار حسین شاہ، مسٹر آصف علی وغیرہ نے خطاب کیا اور مسٹر حنیف رضا نے اپنے ولولہ انگیز کلام سے داد سخن حاصل کی۔ تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی طلباء جماعت کے صدر محمد رفیق باجوہ نے جو پہلے نسل در نسل قادیانی تھے اور اب قادیانیت سے منحرف ہو چکے ہیں۔ ربوہ کے راز ہائے درون پردہ کا انکشاف کیا۔

حضرت مولانا عبداﷲ درخواستی نے اپنی تقریر کے سوز و گداز سے عوام کو رلا دیا۔ آپ نے فرمایا: انگریزوں کے زمانہ میں قادیانی اس طرح کھل کے سامنے آنے کا حوصلہ نہ کرتے تھے۔ اب وہ کھل کے اپنے مشئومہ اغراض کو پروان چڑھا رہے ہیں اور ہمیں ان عزائم کا توڑ پیدا کرنا اور انہیں مسلمانوں کی، اسلام کے نام سے بنی ہوئی اس مملکت میں، کھونٹے پر باندھنا ہے۔ میجر محمد ایوب نے کہا کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں قادیانی امت کو اقلیت قرار دینے کی قرارداد پیش کرنے اور پاس کرانے کی سعادت انہیں حاصل ہوئی ہے اور وہ قادیانی امت کے مہلک عزائم اور ان کی دسیسہ کاریوں کے نشیب و فراز سے کما حقہ آگاہ ہیں۔ حکومت آزاد کشمیر کے ایک وزیر غلام احمد رضا نے کہا کہ مشرقی پاکستان کا سانحہ اور مغربی پاکستان کی سیاسی فضا میں تقسیم مزید کی لہریں قادیانی امت کی استعماری سازشوں کا نتیجہ ہیں اور ہم ان سے کما حقہ باخبر ہیں۔

سردار عبدالقیوم صدر آزاد کشمیر نے اپنی مجاہدانہ تقریر میں فرمایا کہ:

واپس لو، ورنہ حکومت چھوڑنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ وزیر تھا خان عبدالقیوم مرد آہن مسلم لیگ (انا ﷲ وانا الیہ راجعون) میں نے وزیر کو جواب دیا، میں پیدائشی مسلمان ہوں، ناموس رسالت ﷺ کے مقابلہ میں اقتدار کو جوتی کی نوک پر رکھتا ہوں۔

مسٹر حنیف رضا نے نائیجیریا میں قادیانی مسجد کی پیشانی پر کلمہ طیبہ کی تحریف کا دستاویزی ثبوت پیش کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس قسم کے تمام دل آزار گندے لٹریچر کو ضبط کیا جائے۔ طالب علم رہنماؤں نے اپنی شباب آور تقاریر میں اعلان کیا کہ ہم مٹ جائیں گے۔ لیکن حضور سرور کائنات ﷺ کی ختم المرسلینی پر آنچ نہ آنے دیں گے اور یہی ہمارا عزم صمیم ہے۔ وقت اس کا ثبوت مہیا کر دے گا کہ ہم کیا ہیں اور کیا نہیں؟ ایک اجلاس کی صدارت پیپلز پارٹی کے ایم۔ پی۔ اے سید الطاف حسین شاہ نے کی۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۷۰

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گورنمنٹ تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے طلباء کی انجمن کے صدر مسٹر محمد رفیق باجوہ نے، جو اب قادیانی جبر و استبداد کے ہاتھوں مجروح ہو کر سیالکوٹ میں تعلیم پارہے ہیں اور ان کی جرأت کے باعث ان کے والدین کو بھی ربوہ سے نکال دیا گیا ہے۔ اپنی معرکۃ الآراء تقریر میں کہا کہ:

کی جاتی ہیں۔

آخری اجلاس میں مولانا عبد الستار نیازی نے اپنی خوبصورت تقریر میں فرمایا کہ: مسلمانوں کے تمام فرقے شیعہ، سنی، اہل حدیث، مقلد، غیر مقلد، دیو بندی، بریلوی، ختم نبوت کے مسئلہ میں ایک ہیں اور ان سب کے نزدیک قادیانی امت ملت اسلامیہ سے خارج ہے۔ آپ نے کہا کہ فروری ۱۹۷۴ء تک مرکزی حکومت کا فرض ہے کہ قادیانی امت کو ایک الگ اقلیت قرار دے۔ ورنہ ہم مجبور ہوں گے کہ تمام علمائے کرام کی کانفرنس بلا کر قادیانی امت کے سوشل بائیکاٹ کا فیصلہ کریں۔ مولانا نے فرمایا کہ وہ پیپلز پارٹی کے زمانہ اقتدار میں قادیانی امت کے پھلنے پھولنے کی رفتار کو اسلام اور مسلمان، دونوں کے لئے خطرناک سمجھتے ہیں۔

بہر حال قادیانی کتنے ہی پرزے لگا کر اڑیں، ہم ان کے کس بل نکال دینے کا تہیہ کر چکے ہیں اور انہیں پاکستان میں مسلمانوں کے زمرہ سے الگ کراکے ہی دم لیں گے۔ کیونکہ وہ محمد ﷺ کی باغی امت ہیں۔ آغا شورش کاشمیری پنڈال میں وارد ہوئے تو ہال مجاہد ختم نبوت زندہ باد اور خطیب پاکستان زندہ باد کے نعرہ ہائے فلک شگاف سے گونج اٹھا۔ آغا صاحب نے اس کانفرنس کی مختلف نشستوں کے بہت سے مقررین میں سب سے زیادہ لمبی تقریر فرمائی۔ تقریر کیا، الفاظ و معانی کا بحرِ ذخار تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ آغا صاحب اپنے عنفوانِ شباب کی خطابت کے جوہر دکھا رہے ہیں۔ عوام نعرہ ہائے تکبیر بلند کرتے، کبھی ہنستے، کبھی روتے اور کبھی لوٹ پوٹ ہو جاتے۔ آغا صاحب تقریر ختم کر چکے تو اجلاس کے آخر میں لوگوں سے نعرۂ تکبیر کے علاوہ اسلام زندہ باد، پاکستان زندہ باد، قائدِ اعظم زندہ باد اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری زندہ باد کے باطن شکن نعرے لگوائے۔ جن کی آواز قادیانی روایت کے مطابق ربوہ تک پہنچی اور ایک واقف حال کا بیان ہے کہ مرزا ناصر ان نعروں کی گونج سے ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھے اور ان کے مسلح محافظ چوکنا ہو گئے۔ مبادا وہ کسی قیامت کی آغوش میں جا رہے ہیں۔

آغا صاحب نے فرمایا:

اس وقت بھی ربوہ میں متوازی حکومت قائم کر کے بیٹھے ہیں۔

عزائم کی زمین کاشت کر رہے ہیں۔

ثبوت ہے بلکہ مرزائیوں کی دوسری کتابوں سے بھی ضمنی شہادت مہیا کی جاسکتی ہے۔ مثلاً ”دینی معلومات“ قادیانی تالیف میں لکھا ہے کہ قرآن مجید میں جن انبیاء کے نام آتے ہیں، ان میں مرزا غلام احمد بھی شامل ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۷۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

وآل محمد“ کے بعد ”احمد و آل احمد“ کا اضافہ کر دیا ہے۔

کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتے۔ ان کے راز چراتے اور اسرائیل کی نمک خواری کرتے ہیں۔

آغا صاحب کی تقریر میں مطالبات کا پہلو بھی تھا اور وہ باغ و بہار ہو جاتے تھے۔ فرمایا:

ہوں۔ ناصر قادیانی مرزا محمود کا بیٹا اور مرزا غلام احمد کا پوتا ہے۔ میرے مقابلہ میں آئے، خطابت کے میدان میں، صحافت کے میدان میں اور سیاست کے میدان میں۔ ان شاء اللہ ! ”نبی زادہ“ کو اڑنگے پر لا کر ایسی پٹخنی دوں گا کہ دن میں تارے نظر آئیں گے۔

کا ذرہ برابر پاس نہیں اور اہل بیت کی رتی بھر حیا نہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا مغل خاندان اپنے تئیں اہل بیت لکھتا اور کہلاتا ہے اور تم برداشت کرتے ہو۔ آغا صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا اگر یہ اہل بیت ہیں تو ان کے لئے میں ان شاء اللہ کربلا پیدا کروں گا اور یہ آوارہ قہقہے کی طرح پاکستان کی دینی فضا میں تحلیل ہو جائیں گے۔

اس کانفرنس کے ایک اجلاس سے حضرت مفتی محمود نے خطاب کیا اور اپنی بصیرت افروز تقریر میں مرزائیت کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے فرمایا کہ اس فرقہ کی بیخ کنی کے لئے اپنے سیاسی حریفوں کی کفش برداری تک کرنے کو تیار ہوں۔ کیونکہ مسئلہ ننگ و ناموس محمد ﷺ کا ہے۔ مولانا تاج محمود نے آخری اجلاس میں اپنے فکر انگیز حالات کا اظہار کرتے ہوئے نوجوان طلباء سے کہا کہ اس غرض سے وہ لاہور میں ایک کانفرنس کا انعقاد کریں تاکہ مرزائی امت سے متعلق نئی پود کے غیرت مندانہ خیالات، حکومت کے گوش حق نیوش تک پہنچ سکیں۔ گوجرانوالہ سے مشہور مسلم لیگی رہنما علامہ عزیز انصاری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرزائی امت کے معاشی دانہ و دام کی تفصیلات پیش کیں اور بتایا کہ امریکہ کے یہودیوں کی طرح قادیانی، پاکستان میں اپنا معاشی جال پھیلا کر ملک کو سیاسی طور پر شکار کرنا چاہتے ہیں۔

آپ نے سٹیٹ لائف کارپوریشن پنجاب زون کی روئیداد بیان کرتے ہوئے کہا کہ : محمد شریف جنجوعہ اس قسم کا قادیانی ہے کہ اس کا بغیر کسی کوالیفکیشن کے تقرر ہی اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ قادیانی امت حکومت میں کیونکر دخیل ہے اور اس کے ہاتھوں اسلام پر کیا بیت رہی ہے اور پاکستان کس طرف جا رہا ہے؟

(ہفت روزہ چٹان لاہور)

آپ نے اس کارروائی سے اندازہ کر لیا ہو گا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا لال حسین اختر، مولانا ظفر علی خان، علامہ اقبال، پیر مہر علی شاہ،

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۷۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سید انور شاہ کشمیری اور دوسرے حضرات کے نقش قدم پر چل کر امت محمدیہ کے تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا رکھا۔ دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ، سیاسی ودینی رہنما، طالب علم، دانشور، حکومتی ارکان و نمائندگان کو کس طرح کانفرنس کے اس اسٹیج پر لا کر مرزائیت کے خلاف تحریک ختم نبوت کے الاؤ کو روشن رکھا۔

ذرا خیال تو فرمائیے کہ مولانا مفتی محمود، مولانا محمد عبداللہ درخواستی، مولانا تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا عبدالستار خان نیازی، آغا شورش کاشمیری، آزاد کشمیر کے صدر سردار عبدالقیوم، ان کی کابینہ کے رکن غلام رضا، ان کی اسمبلی کے رکن محرک قرارداد ختم نبوت جناب میجر ایوب اور طالب علم رہنما ایک ہی وقت میں ایک اسٹیج پر بیان کرتے ہوں تو کیا منظر ہوگا؟ یادرہے کہ یہ ایک اجلاس کی کارروائی ہے۔ ورنہ اسی کانفرنس میں مولانا غلام غوث ہزاروی، علامہ احسان الہی ظہیر، بھٹو کی کابینہ کے رکن میاں عطاء اللہ اور آج تحریر ہذا کے وقت موجودہ وفاقی وزیر اطلاعات جناب احمد سعید اعوان، عزت مآب نوابزادہ نصراللہ خان، سید مظفر علی شمسی، صاحبزادہ سید افتخار الحسن، مولانا محمد شریف بہاول پوری، مولانا عبدالرحمٰن میانوی، مولانا سید محمد یوسف بنوری سبھی حضرات نے اس کانفرنس سے خطاب کیا تھا اور امت محمدیہ کو قادیانیت کی زہرناکیوں سے باخبر کیا۔

اللہ رب العزت مولانا محمد شریف جالندھری اور مولانا تاج محمود کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں۔ وہ کتنے بیدار مغز لوگ تھے کہ ۲۹/ اپریل ۱۹۷۳ء کو سردار عبدالقیوم اور ان کے ممبر جناب میجر ایوب صاحب مرزائیوں کو کشمیر میں غیر مسلم اقلیت قرار دے چکے تھے۔ کوشش کر کے ان حضرات کو اس کانفرنس دسمبر ۱۹۷۳ء میں چنیوٹ لائے تا کہ ختم نبوت کی یہ تحریک آزاد کشمیر اسمبلی کی طرح پاکستان کی نیشنل اسمبلی میں زیر بحث لانے کے لئے راہیں ہموار ہوں۔ ان حضرات کی بیدار مغزی، کوشش و کاوش کو دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ لوگ کس طرح اپنے بزرگوں کے صحیح معنوں میں جانشین تھے۔ بہرحال اس کانفرنس نے قادیانیوں کے خلاف امت محمدیہ ﷺ کو متحدہ پلیٹ فارم مہیا کیا اور ختم نبوت کی تحریک کو آب و دانہ فراہم کیا۔ ۱۹۷۳ء کی کانفرنس کا ذیل میں اشتہار ملاحظہ کریں جس سے آپ مدعوین کا اندازہ کرسکیں گے۔ کانفرنس کی اہمیت آپ پر واضح ہوگی۔

اکیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس

۲۶، ۲۷، ۲۸/ دسمبر ۱۹۷۳ء بدھ، جمعرات، جمعہ پبلک پارک چنیوٹ ضلع جھنگ میں منعقد ہو رہی ہے۔

مندرجہ ذیل حضرات کانفرنس سے خطاب فرمائیں گے

شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری، شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی، حضرت مولانا عبدالحق (ایم۔این۔اے، اکوڑہ خٹک)، حضرت مولانا مفتی محمود (ایم۔این۔اے)، حضرت مولانا صدر الشہید (ایم۔این۔اے)، حضرت مولانا غلام اللہ خان، حضرت مولانا سید نور الحسن شاہ بخاری، حضرت مولانا شمس الدین (ایم۔پی۔اے)، حضرت مولانا عبدالکریم (سندھ)، حضرت مولانا محمد حیات (امیر مرکزیہ)، جناب اسماعیل بام جی (کراچی)، حضرت مولانا نور الحق نور (پشاور)، حضرت مولانا شاہ احمد نورانی (ایم۔این۔اے)، حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی، جناب خواجہ سلیمان تونسوی (ایم۔این۔اے)، حضرت مولانا محمد ذاکر (ایم۔این۔اے)، حضرت مولانا عبدالقادر روپڑی، مداح آل رسول جناب سید اظہر حسن زیدی، مداح اہل بیت جناب سید مظفر علی شمسی، حضرت مولانا سید متین ہاشمی (جامعہ محمدی)، حضرت مولانا عبدالشکور دین پوری، حضرت مولانا نذیر اللہ (گجرات)، حضرت مولانا سید محمود شاہ (گجرات)، حافظ وصی محمد (زرعی یونیورسٹی)، مجاہد اوّل سردار

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۷۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عبدالقیوم (صدر آزاد کشمیر)، مجاہد ختم نبوت جناب آغا شورش کاشمیری، جناب بریگیڈیئر گلزار احمد، حضرت مولانا تاج محمود (مدیر لولاک)، جناب میجر محمد ایوب (ممبر اسمبلی آزاد کشمیر)، جناب منظر مسعود (سپیکر اسمبلی آزاد کشمیر)، جناب ابوالاثر حفیظ جالندھری، جناب احسان دانش، جناب حنیف رضا، جناب عبدالرحمٰن یعقوب باوا (مشرقی پاکستان)، جناب رفیق احمد باجوہ، جناب قاضی محمد ادریس۔

نوٹ

مجلس استقبالیہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ ضلع جھنگ

۱۹۷۳ء کے اواخر میں، جوں ہی مرزائی جارحیت نے جنون کی کیفیت اختیار کی۔ اس کے توڑ کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ملک بھر میں کانفرنسوں کا جال بچھا دیا۔ علاقائی کانفرنسوں کے علاوہ اکتوبر ۱۹۷۳ء میں فیصل آباد مؤرخہ ۱۱/نومبر ۱۹۷۳ء کو کوئٹہ، نومبر کے اواخر میں آزاد کشمیر، مؤرخہ ۱۶/دسمبر کو گل رعنا کلب کراچی اور پشاور میں کانفرنسیں منعقد کی گئیں۔ مجلس کے امیر محترم شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا تاج محمود، آغا شورش کاشمیری اور مجلس کے دوسرے رہنماؤں نے خطاب کیا۔ آخر میں اسلام آباد دفتر ختم نبوت میں ممبران قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر کے ان کو مرزائیت کا کیس سمجھایا۔ اس اجلاس کی رپورٹ یہ ہے:

دفتر ختم نبوت اسلام آباد میں اجلاس

گزشتہ ہفتہ مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کا ایک خصوصی اجلاس مجلس کے دفتر میں منعقد ہوا۔ مولانا غلام حیدر انچارج دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کی خصوصی دعوت پر جماعتی کارکنوں کے علاوہ قائد جمعیتہ مولانا مفتی محمود (ایم. این. اے)، مولانا صدر الشہید (ایم. این. اے)، مولانا نعمت اللہ (ایم. این. اے)، مولانا عبدالمصطفیٰ ازہری (ایم. این. اے)، خطیب اسلام مولانا غلام اللہ خان، مولانا حافظ عزیز الرحمٰن خلف الرشید مولانا محمد علی جالندھری مرحوم اور دوسرے مقامی علمائے اور زعماء نے اجلاس میں شرکت کی۔ تمام اکابر نے مولانا غلام حیدر اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی مساعی کو سراہا اور اپنی اپنی جماعتوں کی طرف سے اس محاذ پر پورے پورے تعاون کا یقین دلایا۔ اجلاس میں جمعیتہ العلماء پاکستان کے نمائندہ مولانا ازہری (ایم. این. اے) نے خصوصیت سے تمام اکابر اور مجلس کے کارپردازان کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ مرزائیوں کے پاس اس وقت بے پناہ مالی وسائل ہیں اور انہوں نے ان وسائل سے ہر شعبہ کار کے لئے تعلیم یافتہ اور ٹرینڈ لوگ حاصل کر کے انہیں ارتدادی سرگرمیوں اور سازشی کارکردگیوں کے لئے وقف کیا ہوا ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت اور دوسری ایسی تنظیمیں جو اس سازش اور مرتد گروہ کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ ان کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ باصلاحیت، اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی اس محاذ پر ضروری تربیت کے بعد ان کی خدمات سے فائدہ اٹھائیں۔ مولانا ازہری صاحب نے اسلام آباد کے بعض اداروں کا خاص طور پر ذکر کیا کہ ان پر مرزائیوں کا مکمل قبضہ ہے۔ ایسے ادارے جو قوم کے خون پسینہ کی کمائی سے حاصل کردہ ٹیکسوں اور روپوں سے چل رہے ہیں اور ان کا صرف مرزائیوں کے قبضہ میں چلے جانا انتہائی افسوسناک ہے۔ مولانا غلام حیدر نے مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کی طرف سے معزز مدعوین کا شکریہ ادا کیا اور ان مختلف مکاتب فکر کے بزرگوں کی طرف سے مسئلہ ختم نبوت کے سلسلہ میں جو تعاون اور سرپرستی ہو رہی ہے۔ اس کا کھلے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۷۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دل سے اعتراف کرتے ہوئے اظہار تشکر کیا۔ بعد میں مجلس کی طرف سے تمام مہمانوں کی چائے سے تواضع کی گئی۔ حضرت مولانا شاہ احمد نورانی صاحب کسی ضروری مصروفیت کی وجہ سے اس اجلاس میں نہ آسکے۔ ان کی نمائندگی بھی مولانا مصطفیٰ الازہری (ایم۔ این۔ اے) نے کی۔

(لولاک مؤرخہ دسمبر ۱۹۷۳ء)

اس خبر میں سے اتنی بات ذہن میں رہے کہ مرزائی جارحیت کے قانونی طور پر توڑ کے لئے عالمی مجلس نے بھی اپنی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کردیا۔

۱۹۷۳ء کا آئین پاکستان اور مسلمان کی تعریف

جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی نیکیوں میں سے ایک نیکی یہ بھی ہے کہ اس نے پاکستان قوم کو ایک متفقہ آئین دیا۔ جو ۱۹۷۳ء کا آئین کہلاتا ہے۔ آئین سازی کے کام کا افتتاح ۱۴؍ اگست ۱۹۷۲ء کو بھٹو کی اسمبلی کی تقریر سے ہوا۔ مسودہ آئین بحث کے لئے اسمبلی میں ۲۲؍ فروری ۱۹۷۳ء کو پیش ہوا اور قومی اسمبلی نے ۱۱؍ اپریل ۱۹۷۳ء کو متفقہ طور پر اس کو پاس کیا۔ اس آئین میں مولانا مفتی محمود، مولانا عبدالحق، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر عبدالغفور اور دوسرے حضرات کی کوششوں سے یہ بات طے ہوگئی اور آئین میں شامل کر دیا گیا کہ صدر پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان مسلمان ہوں گے۔ آئین کی متعلقہ دفعات یہ ہیں۔

باب اوّل

صدر

(۴۱) صدر

ہونے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

آئین ۱۹۷۳ء کے باب اوّل دفعہ ۴۱ کی شق نمبر ۲ میں جب یہ صراحت ہے کہ دستور کے مطابق صدر مسلمان ہوگا۔ اب یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ مسلمان کون ہوگا۔ مسلمان کی تعریف شامل کرنے کے لئے متذکرہ حضرات نے بڑی جوانمردی سے اسمبلی میں لڑائی لڑی۔ پیپلز پارٹی میں کمیونسٹ عناصر تو ایک طرف رہے، کوثر نیازی ایسے بزرجمہر بھی آڑے آئے۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کی انکوائری میں رسوائے زمانہ مسٹر جسٹس منیر آنجہانی یہ رولنگ دے چکا تھا کہ علماء مسلمان کی تعریف پر متفق نہیں ہیں۔ بقول آغا شورش کاشمیری کہ ان سے مسٹر جسٹس جاوید اقبال نے اپنے یورپی دورۂ کے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہودی، عیسائی لابی جسٹس منیر کی رولنگ کو وجہ جواز بنا کر اسلام پر سب سے بڑا یہ اعتراض کرتی ہے کہ پاکستان ایسی مملکت جو اسلام کے نام پر حاصل کی گئی تھی، اس کے علماء مسلمان کی تعریف پر متفق نہیں ہیں۔ یہ ایسی دستاویز ہے جس سے غیر مسلموں نے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف اپنے دل کا غبار نکالنے کے لئے جی بھر کر وار کیا۔ قومی اسمبلی میں جب علماء نے مسلمان کی تعریف کا مطالبہ کیا تو کوثر نیازی نے وہی کردار ادا کیا جو عدالت میں جسٹس منیر ادا کر چکا تھا۔ اس کا اگلا ہوا لقمہ کوثر نیازی نے منہ میں ڈالا تو کمیونسٹ اور سیکولر لابی کی باچھیں کھل گئیں تو تکار کا ماحول پیدا ہوا۔ اللہ رب العزت کروڑوں رحمتیں فرمائے۔ مولانا عبدالحق (اکوڑہ خٹک)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۷۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

شیخ الحدیث پر انہوں نے اس چیلنج کو قبول کیا۔ بیٹھے بیٹھے مسلمان کی تعریف لکھ کر مولانا مفتی محمود کے سپرد کی۔ انہوں نے وہ تعریف پڑھی۔ مولانا شاہ احمد نورانی اور دوسرے علماء اٹھ کھڑے ہوئے کہ یہ ہم سب کی طرف سے مشترکہ طور پر مسلمان کی تعریف ہے۔ اسے آئین کا حصہ بنایا جائے۔ کوثر نیازی ایسے حضرات کا منصوبہ ناکام ہوا اور خود نامراد ہوئے اور آئین میں مسلمان کی تعریف شامل ہو گئی، جو یہ ہے:

جدول سوم ...... حلف

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

صدر (دفعہ نمبر ۴۲)

”میں ...... قسم کھاتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں اور خدا پر میرا یقین کامل ہے اور اس کتاب قرآن پاک جو کہ آخری کتاب ہے۔ آخری نبی محمد ﷺ (جن پر خدا کی رحمت ہو) جن کے بعد کوئی رسول نہیں آئے گا۔ قیامت کے دن پر، رسول ﷺ کی سنت حدیث پر، قرآن پاک کے احکامات پر، میں پاکستان کا وفادار رہوں گا۔ میں پاکستان کا صدر ہونے کی حیثیت سے قسم کھاتا ہوں کہ میں اپنے فرائض احسن طریقے سے پوری قابلیت سے وفاداری سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین اور قانون کی رو سے اور ہمیشہ پاکستان کے اقتدار اعلیٰ ہونے کی حیثیت سے ملک کی سالمیت، استحکام، اچھائی اور خوشحالی کے لئے کام کروں گا۔ میں اسلامی نظریہ حیات کے لئے کمر بستہ رہوں گا جو کہ وجود پاکستان کی بنیاد ہے۔ میں اپنے قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دوں گا۔

میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی پوری حفاظت کروں گا۔ قانون کی رو سے ہر فرد سے ہر حال میں برابر کا سلوک کروں گا۔ بغیر کسی ڈر، لالچ کے ذاتی مفاد و پیار و محبت یا ذاتی انتقام لینے کے لئے قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنے فرائض منصبی کو پورا کروں گا۔ میں براہ راست یا بالواسطہ کچھ نہیں بتاؤں گا۔ جن کا مجھے علم ہو گا یہ کہ مجھے صدر ہوتے ہوئے جن باتوں کا علم ہو گا پھر ان کاموں پر پاکستان کا صدر ہونے کی حیثیت سے دسترس رکھتا ہوا اپنے فرائض بخوبی سر انجام دوں گا۔“

وزیر اعظم دفعہ ۹۱ (۴)

”میں قسم کھاتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں۔ خدا اور اس کی کتاب قرآن مجید پر مجھے پورا یقین ہے اور ان پر میں ایمان رکھتا ہوں کہ نبی اکرم ﷺ آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ قیامت پر، رسول ﷺ کی سنت پر، قرآن پاک کے احکامات پر۔

میں پاکستان کا وفادار رہوں گا۔ میں پاکستان کا وزیر اعظم ہونے کی حیثیت سے قسم کھاتا ہوں کہ اپنے فرائض کو احسن طریقہ سے اور پوری قابلیت اور وفاداری سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین اور قانون کی رو سے سر انجام دوں گا اور ہمیشہ ملکی استحکام، سالمیت، بہتر اور خوشحالی کے لئے کام کروں گا۔ میں اسلامی نظریہ حیات کے لئے کمر بستہ رہوں گا جو کہ وجود پاکستان کی بنیاد ہے۔ میں اپنے قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دوں گا۔ میں ہر حال میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی پوری حفاظت کروں گا۔ میں قانون کی رو سے ہر فرد سے ہر حال میں برابر کا سلوک کروں گا۔ بغیر کسی ڈر یا لالچ کے، ذاتی مفاد و پیار و محبت یا ذاتی انتقام لینے کے لئے قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنے فرائض منصبی کو پورا کروں گا۔

میں براہ راست یا بالواسطہ کچھ نہیں بتاؤں گا، جن کا مجھے علم ہو گا، یہ کہ مجھے وزیر اعظم ہوتے ہوئے جن باتوں کا علم ہو گا۔ پھر ان

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۷۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کاموں پر دسترس رکھتا ہوا اپنے فرائض بخوبی سرانجام دوں گا ۔‘‘

(اسلامی جمہوریہ پاکستان آئین از سید امتیاز الحق ایڈووکیٹ ص ۱۳۰، ۱۳۱)

دستور پاکستان میں مسلمان کی تعریف شامل کرانے کے لئے اسمبلی میں چوہدری ظہور الہی نے کیا فرمایا ملاحظہ فرمائیں:

قومی اسمبلی میں چوہدری ظہور الہی نے کہا

’’اور آگے چلیں اور اس آئین کی اسلامی دفعات کو دیکھیں۔ ان میں صرف یہ مناسب سمجھا گیا ہے کہ صدر اور وزیر اعظم ہی مسلمان ہوں اور سب غیر مسلم ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ مسلمان ہونے کی شرط ان ہی دو حضرات کے لئے ہے۔ صدر اور وزیر اعظم کے لئے، انہیں کتنی گنجائش دے دی گئی ہے۔ آپ ذرا حلف کو ملاحظہ فرمائیں۔

ایک طرف حلف میں یہ لکھا ہے کہ قرآن و سنت کی پابندی کریں گے اور دوسری طرف یہ کہ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کو آخری نبی مانیں گے۔ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ جب میں اسلام پر کچھ کہنے لگتا ہوں تو مجھے اپنے ناقص علم کا احساس ہو جاتا ہے۔ اگر یہ مسئلہ قادیانیوں کے لئے ہے تو یہاں جو علماء کرام بیٹھے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ اس سے یہ اختلافی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ قادیانی بھی کہتے ہیں کہ رسول اکرم خاتم النبیین ہیں۔ اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ حلف کے ساتھ یہ الفاظ بڑھا دیئے جائیں کہ حضور کے بعد کوئی نیا نبی تشریعی یا غیر تشریعی ، ظلی یا بروزی نہیں آئے گا۔ یہ حلف صرف صدر اور وزیر اعظم ہی کے لئے نہ ہو بلکہ عام مسلمان وزراء کے لئے بھی ہو۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کے لئے بھی، ہوائی فوج، بری فوج اور بحری فوج کے سربراہوں کے لئے بھی ہو۔ یہ حلف صرف اس قدر نہ ہو بلکہ اس میں ایک اور شرط کا اضافہ کرنا پڑے گا کہ صدر اور وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ قومی و صوبائی اسمبلی کے مسلمان ارکان کے لئے بھی لازمی ہو کہ سب کے لئے کم از کم اسلام کے پانچ ارکان کی پابندی لازمی ہوگی۔ اگر ہم ان ارکان کی پابندی نہ کریں تو پاکستان کا کوئی شہری بھی اس کا حقدار ہو کہ وہ عدالت میں جاکر کہے کہ ہمارے حاکم، ہمارے نمائندے، یہ ہمارے صدر یا وزیر اعظم شراب پیتے ہیں۔ زانی ہیں۔ بدمعاش اور بدکردار ہیں۔ نماز نہیں پڑھتے۔ روزے نہیں رکھتے۔ زکوٰۃ نہیں دیتے۔ ان کو توفیق ہے لیکن حج نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ کی توحید کے قائل نہیں۔ اپنے آپ کو خدا سمجھتے ہیں اور ایسا آدمی عدالت کی طرف رجوع کر کے آئین کے مطابق فیصلہ حاصل کر سکے اور اس شخص کو جو ان ارکان کی پابندی نہ کرتا ہو اپنے آفس سے علیحدہ ہونا پڑے گا۔‘‘

محترم چوہدری ظہور الہی مرحوم کا یہ خدشہ کہ اس سے قادیانیوں کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ سو فیصد صحیح تھا مگر اسمبلی میں موجود علماء کرام یہ چاہتے ہیں کہ سب کچھ نہ ملنے سے کچھ ملنا اچھا ہے۔ جتنا ہو جائے غنیمت ہے۔ باقی رہا چوہدری صاحب کا یہ کہنا کہ ممبران اسمبلی و سینٹ اور ہائیکورٹ، سپریم کورٹ و فوجی افسروں کے لئے بھی مسلمان ہونا شرط قرار دیا جائے۔ یہ مطالبہ اپنی جگہ صحیح ہے مگر جو ممبران اسمبلی صرف وزیر اعظم کے لئے مسلمان ہونے کی شرط نہیں مان رہے تھے، وہ سب کے لئے کیسے مان جاتے؟ تو ہمارے حضرات نے یہی مناسب سمجھا کہ جتنا مقصد حاصل ہو جائے غنیمت ہے۔ باقی کے لئے کوشش اور موقع کی تلاش جاری رکھنی چاہئے۔ صدر مملکت و وزیر اعظم پاکستان کے مسلمان ہونے اور مسلمان کی تعریف پر مشتمل حلف، داخل آئین ہونے پر مرزائیوں اور مرزا ناصر کے دل پر جو گزری اس کا اندازہ اس خبر سے لگایا جاسکتا ہے۔

’’ربوہ سے آمدہ اطلاعات کے مطابق آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد کا مرزائیوں پر سخت ردعمل ہوا ہے اور انہیں اپنے مستقبل کے متعلق سخت تشویش لاحق ہوگئی ہے۔ دراصل مرزائی پاکستان کے آئین میں مسلمان کی تعریف شامل ہو جانے کی وجہ سے ہی سخت پریشان

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۷۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ دستور میں مسلمان کی جامع مانع تعریف شامل ہو جانے کے بعد وہ درحقیقت غیر مسلم قرار دیئے جاچکے ہیں۔ دریا سو یہ ان کے غیر مسلم ہونے کا صرف اعلان ہی باقی رہ گیا ہے ۔ جب دستور بن رہا تھا مرزا ناصر احمد مسلسل کئی ماہ تک اسلام آباد میں مقیم رہے اور ریشہ دوانیوں میں مصروف رہے ۔ مرزائی نواز ممبروں کی معرفت ایسے لوگوں سے ملتے جلتے رہے جو مرزائی مسئلہ کو نہیں سمجھتے تھے یا مادی منافع کی خاطر ڈھل مل یقین رکھتے تھے ۔ چنانچہ مرزا ناصر احمد کی استدعا اور انہیں کے اخراجات پر مرتب ہونے والے بعض وفود بھی بھٹو صاحب سے ملے اور ان سے درخواست کی کہ وہ دستور سے خاتم النبیین اور آخری نبی کے الفاظ اور اسی طرح حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں کے الفاظ نکال دیں۔ لیکن بھٹو صاحب نے قرآن وسنت کے ان الفاظ کو دستور سے نکالنے سے صاف انکار کر دیا۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جب مرزائیوں کی یہ کوشش ناکام ہوگئیں تو انہوں نے سازشوں کے ذریعہ صدر بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی راہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ۔ چنانچہ حالیہ فوج سازشوں میں جو گرفتاریاں ہوئی ہیں ان میں متعدد مرزائی فوجی افسر بھی گرفتار کئے گئے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صدر بھٹو جو ایک ذہین ترین صدر مملکت ہیں اس ساری صورتحال کو بھانپ چکے ہیں اور اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں کہ وہ اس مسئلہ سے کس طرح عہدہ برآ ہوں۔ کیونکہ صدر بھٹو کا ایک کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے ملک کو متفقہ دستور دیا ہے اور مرزائیوں کی کوشش یہ ہے کہ چونکہ اس دستور میں ان کا مستقبل محفوظ نہیں ہے۔ لہٰذا یہ دستور نافذ ہی نہ ہونے پائے ۔ اب ان کی یہ کوشش ہے کہ کوئی نہ کوئی صورت ایسی نکل آئے کہ بھٹو صاحب کی حکومت ختم ہو جائے اور فلاں صاحب کی حکومت آجائے جو ان کے اگر ہم مسلک نہیں تو ہمدرد ضرور ہیں۔ ان کی مرزائیوں کے ساتھ رشتہ داریاں بھی ہیں۔ لیکن بھٹو صاحب ان خطرات سے آگاہ ہیں۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آزاد کشمیر، اسمبلی کی قرارداد کے بعد ربوہ میں ایک خاص میٹنگ ہوئی اور ایک وفد ترتیب دیا گیا جو صدر بھٹو سے ملاقات کرے گا اور انہیں سردار عبدالقیوم کے خلاف اکسانے کی پوری پوری کوشش کرے گا۔ دوسری طرف سردار عبدالقیوم کو غیر فانی مقبولیت حاصل ہوگئی ہے۔ آزاد کشمیر کے جن لوگوں نے سردار صاحب کے خلاف سازشوں کے تانے بانے تیار کئے تھے وہ سب ٹوٹ ٹاٹ کر ملیا میٹ ہوگئے ۔ آزاد کشمیر کی پیپلز پارٹی، علیحدگی پسندوں کے ایچ خورشید کا گروپ اور مرزائی یہ تینوں گروہ سردار صاحب کو ختم کرتے کرتے اب خود ختم ہو کر رہ گئے ہیں بلکہ پیپلز پارٹی کے رہنما یہ سوچ رہے ہیں کہ آزاد کشمیر کے مرزائیوں اور علیحدگی پسندوں نے اپنی بندوق کے لئے ان کا کندھا استعمال کیا ہے۔

اب خان عبدالقیوم خان کی معرفت سردار صاحب کو رام کرنے کی بھی کوششیں ہو رہی ہیں۔

(لولاک)

مسلمان کی تعریف شامل آئین کرانے کے لئے حضرات علماء کرام کو کیا کچھ کرنا پڑا۔ اس کی تفصیل مولانا مفتی محمود مفکر اسلام کی زبانی سنئے ۔ ذیل میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی اکیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ دسمبر ۱۹۷۳ء کے ایک اجلاس میں مولانا مفتی محمود صاحب کی تقریر دی جا رہی ہے۔ جس میں مسلمان کی تعریف شامل کرانے کی جدوجہد پر روشنی پڑتی ہے۔ اوّل میں مولانا تاج محمود صاحب کے خیر مقدمی کلمات ہیں۔ پھر حضرت مفتی صاحب کی تقریر، خیر مقدمی کلمات کا تو اس عنوان سے تعلق نہیں، مگر چونکہ اصل موضوع ۱۹۷۴ء کی تحریک لکھنا ہے ۔ اس خیر مقدمی کلمات میں اصل موضوع سمجھنے کے لئے خاصا مواد ہے۔ وہ یہ کہ آنے والے حالات کا رخ دیکھ کر مولانا تاج محمود صاحب نے اس کانفرنس میں مولانا مفتی محمود کو مسئلہ ختم نبوت کے لئے امت کی قیادت کرنے کی درخواست کی۔ قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ ٹھیک پانچ ماہ بعد تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء شروع ہوئی تو قومی اسمبلی میں مفتی محمود صاحب نے امت کی قیادت و ترجمانی کا فریضہ سرانجام دیا۔ ذیل میں ہر دو حضرات کے بیانات ملاحظہ ہوں:

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۷۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خطاب مولانا تاج محمود

آج خطیب پاکستان قاضی احسان احمد شجاع آبادی ہم میں موجود نہیں ہیں۔ مولانا محمد علی جالندھری ہم میں نہیں ہیں۔ حضرت شاہ صاحب جیسے سرپرست ہم میں نہیں ہیں، لیکن اللہ پاک پروردگار عالم اپنے دین کا محافظ ہے۔ لغاری خاندان کے چشم و چراغ جو اتنے بڑے رئیس اور اتنے بڑے خاندان کے آدمی ہیں۔ درویش اور فقیر منش شکل کے اندر آپ کے سامنے اس محاذ کے رضا کار کی حیثیت سے آئے ہیں۔ بریگیڈیئر گلزار جن کا نام پاکستان اور بیرون پاکستان قابل فخر طور پر لیا جاتا ہے۔ محمد مصطفیٰ ﷺ کے غلاموں میں ختم نبوت کے رضا کاروں میں نام لکھوانے کے لئے آپ کے سامنے آئے ہیں۔ حضرت مفتی صاحب سے درخواست کرتا ہوں کہ حضرت مفتی صاحب یہ محاذ اگرچہ ایک غیر سیاسی محاذ ہے اس کا Politics کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کا سیاسی آلودگیوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن جہاں تک اس ملک میں اسلام کی حفاظت کا تعلق ہے اور جہاں تک محمد مصطفیٰ کی آبرو کا تعلق ہے ہم امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا جھنڈا آپ کے سپرد کرتے ہیں اور آپ کے ادنیٰ رضا کار کی حیثیت سے آپ کے چشم و آبرو کے اشارے کے منتظر ہیں۔ ہم آپ کی قیادت پر اور آپ کی سیادت پر اور آپ کی رہنمائی پر اور آپ کی بصیرت پر اور آپ کی بہادری پر اور آپ کی شجاعت پر اور آپ کے اہل حق ہونے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اور آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اپنے مرحوم رہنما سر پرست اور جماعت کے بانی حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری کی وصیت کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ ہم آپ کے رضا کار ہیں۔ یتیم بچے ہیں، بے کس ہیں، ناتواں ہیں۔ لیکن بحمد اللہ! جب کوئی شخص اپنے ایمان کی قوت کے ساتھ محمد مصطفیٰ ﷺ کی غلامی کے لئے قربانی دینے کے لئے آمادہ ہو جائے تو وہ بے پناہ ہو جایا کرتا ہے۔

ہم اپنی ان تمام حقیر خدمات کے ساتھ آپ کو اپنے رضا کار ہونے کا، آپ کے تابع فرمان ہونے کا اور ختم نبوت کے محاذ پر آپ کے چشم و آبرو کے اشارے پر ہر قربانی دینے کا یقین دلاتے ہیں۔ ( ان الفاظ پر مولینا کی آواز بھر آ گئی اور تمام مجمع پر عجیب سکتہ کا عالم طاری ہو گیا۔ عقیدت و محبت کے جذبات کے اظہار کا یہ منظر قابل دید تھا ) حضرت امیر شریعت کے اس قافلے کی، ان سپاہیوں کی، ان رضا کاروں کی اور محمد مصطفیٰ ﷺ کے غلاموں کے اس گروہ کی سرپرستی کریں۔ ختم نبوت کے مسئلہ پر مرزائیت کے حل کے مسئلہ پر جو بھی آپ کی ہدایت ہوگی اس پر ہماری جانیں ، ہمارا مال ، ہماری اولاد اور ہمارا سب کچھ یوں سمجھئے کہ کسی دستاویز پر دستخط کر کے آپ کی خدمت میں پیش کر دیا ہے۔ ان الفاظ کے ساتھ حضرت مفتی اعظم کی خدمت میں درخواست کرتا ہوں کہ وہ تشریف لا کر ہماری سرپرستی فرمائیں۔ ہماری رہنمائی فرمائیں اور ختم نبوت کے اس سٹیج سے اپنے خیالات کا اظہار فرمائیں۔

خطاب حضرت مولانا مفتی محمود صاحب

بعد از خطبہ مسنونہ فرمایا: جناب صدر محترم ، علمائے کرام ، بزرگان ملت ، دوستو اور عزیز بھائیو!

اس مبارک اجتماع میں گزشتہ سال کی غیر حاضری کو میں شدت سے محسوس کر رہا تھا۔ آج اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس مبارک اجتماع میں شرکت کی سعادت سے نوازا ہے۔ یہ قافلہ ختم نبوت کے رضا کاروں کا ، یہ عظیم قافلہ ہے۔ جس کے سپہ سالار امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری تھے۔ مجھے ان کے ساتھ اپنی نسبت قائم کرنے پر بھی فخر محسوس ہوتا ہے۔ اس قافلے کو آپ یہ نہ سمجھیں کہ یہ چند مبلغین کا قافلہ ہے، چند علماء نے یہ تحریک شروع کی ہوئی ہے۔ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے کروڑوں عوام اس مسئلہ میں چل کر اس مسئلے کو حل کرنے میں ہر قربانی کے لئے تیار ہیں۔ آج آپ کے بالمقابل دریا کے اس پار وہاں بھی اجتماع ہے۔ وہ لوگ آج پاکستان

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۷۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میں بلکہ تمام عالم اسلام میں جناب نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت پر حملہ آور نظر آتے ہیں۔ انہیں شاید یہ علم نہیں کہ ایک ادنیٰ سا مسلمان بھی نبی کریم ﷺ کی عزت پر اپنی جان قربان کرنے کو سعادت سمجھتا ہے۔ مجھے اپنی مصروفیات کا شدید احساس ہے۔ میں اگرچہ اس جماعت میں ایک مبلغ کی حیثیت سے باقاعدہ کام نہیں کر سکتا۔ لیکن میں اس جماعت کے ارباب حل وعقد کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اس مسئلے کے سلسلے میں آپ کی کوششوں کو اور آپ کی جدوجہد کو ایک عظیم جدوجہد سمجھتا ہوں اور آپ کی خدمت کو اپنے لئے سعادت سمجھتا ہوں۔ اس مسئلے کے حل کرنے میں ایک ادنیٰ مسلمان کی حیثیت سے اگر میری جان بھی قربان ہو، ایک جان نہیں ہزار جانیں بھی میری قربان ہو جائیں تو میرے لئے توشۂ آخرت ہے۔ میں مجلس کے ارباب حل وعقد کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اس قابل نہیں کہ آپ کی سرپرستی کروں۔ مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ آپ مجھے حکم دیں کہ اس ملک سے قادیانی فتنے کو ختم کرنے کے لئے تم نے آگے چل کر تختہ دار پر لٹکنا ہے تو میں لٹکوں گا۔ میں مرزائیوں کو مرزا غلام احمد کی امت کو کچھ بھی نہیں سمجھتا۔ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ ان کی حیثیت میرے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے۔ یہ کیا چیزیں ہیں ان کی کیا حقیقت ہے۔ دلائل کی دنیا میں ان کی کوئی حیثیت نہیں اور مجھے یقین ہے کہ اس سیرت کے آدمی کے نبی ہونے کے لئے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ یہ فتنہ صرف مذہبی فتنہ نہیں ہے بلکہ ایک سیاسی فتنہ ہے۔

آپ نے دیکھا کہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ میری دعوت کے دو جزو ہیں۔ ایک اللہ کی اطاعت کرنا اور دوسرے انگریز کی اطاعت کرنا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ کی اطاعت کو اس نے لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے استعمال کیا ہے۔ اللہ کی اطاعت کے ساتھ انگریز کی اطاعت جمع نہیں ہو سکتی۔ انگریزوں کا خود کاشتہ پودا۔ جب انگریز نے دیکھا کہ ہندوستان اور پاکستان اس برصغیر کے مسلمان جہاد کے جذبے سے سرشار ہیں اور وہ فرنگی سامراج کے لئے ایک بہت بڑا ہتھیار جہاد کے نام سے استعمال کر سکتے ہیں اور ان کا جہاد کا جذبہ فرنگی سامراج کو یہاں نہیں ٹکنے دے گا تو انہوں نے اس جذبۂ جہاد کو فرو کرنے کے لئے مرزا قادیانی کو مبعوث کیا تھا۔ مرزا قادیانی کی خود کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ ایک عظیم سیاسی فتنہ ہے۔ جہاں تک مذہب کی بات ہے قرآن کریم کی آیت میں نے آپ کے سامنے پڑھی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ارشاد فرمایا: ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ کہ جناب محمد ﷺ تم میں سے کسی بالغ مرد کے باپ نہیں ہیں۔ لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں۔ آگے دیکھیں کہ بظاہر اس کا کوئی جوڑ نہیں لگتا کہ کسی بالغ مرد کے باپ نہیں ہیں اور وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ باپ کا اور رسول کا کیا جوڑ تھا کہ باپ تو تمہارے نہیں ہیں۔ لیکن اللہ کے رسول ہیں۔ حقیقت میں ”ابوت“ باپ ہونا دو قسم پر ہے۔ ایک روحانی طور پر اور ایک جسمانی طور پر۔ انسان جسم اور روح کا مرکب ہے۔ انسان کے جسم کے لئے باپ ہوتا ہے۔ جس سے اس کی تخلیق ہوتی ہے اور انسان کی روح کے لئے اس امت کا پیغمبر باپ ہوتا ہے۔ گویا اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ تمہارے جسمانی باپ تو نہیں ہیں، لیکن تمہارے روحانی باپ ہیں۔ ”ولکن رسول الله وخاتم النبيين“ وہ تمہارے روحانی باپ ہیں۔ روحانی باپ کا درجہ جسمانی باپ سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ روح اصل ہے اور جسم فرع ہے۔ روح مخدوم ہے اور جسم خادم ہے۔ روح متبوع ہے اور جسم تابع ہے۔ روح حاکم ہے اور جسم محکوم ہے۔ روح کا مقام جسم سے بلند وبالا ہے روحانیت سے ہی ایک انسان حیوانیت سے بڑھ کر ایک عظیم انسان کہلاتا ہے۔

حضور ﷺ خاتم النبیین ہیں

میرے محترم دوستو! یہ بھی فرما دیا کہ رسول اللہ کے ہیں اور ساتھ یہ کہ وہ خاتم النبیین ہیں۔ یہاں پر شاید کوئی شخص یہ کہے کہ بسا

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۸۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اوقات ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص خاتم المقررین ہے۔ فلاں شخص خاتم المحدثین ہے۔ ہم کہتے ہیں فلاں شخص خاتم المتکلمین ہے۔ خاتم العلماء ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں تو ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ تمام مفسرین کے آخر میں یہ آیا ہے۔ یہ آخری محدث ہے۔ اس کے بعد اس درجے کا کوئی محدث نہیں ہوگا۔ جو ہم کہتے ہیں کہ آخری مفسر ہے قرآن کا اس کے بعد اب اس سے اوپر کا کوئی اور مفسر نہیں آئے گا لیکن ہمارا علم، وہ محدود ہوتا ہے۔ اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ علامہ انور شاہ کشمیری خاتم المحدثین ہیں۔ ان کے بعد ایسا محدث پیدا نہیں ہوگا۔ ہمارا علم محدود ہم نے اپنے علم کی حد تک یہ بات کہی تھی، ہو سکتا ہے کہ علامہ انور شاہ کشمیری کے بعد اس سے بھی بڑا کوئی محدث آجائے ہمارا علم محدود ہے۔ یہاں آپ کہیں گے حضور خاتم النبیین ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ بعد میں اور بھی کوئی نبی آجائے تو اللہ نے راستہ بند کر دیا۔ فرما دیا: ”وکان اللہ بکل شئ علیما“ کہ تمہارا علم محدود ہے جب میں نے فیصلہ کر دیا کہ آپ آخری نبی ہیں تو اس کے بعد اگر کوئی نبی آتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں العیاذ باللہ کوئی قصور ہے۔ اللہ کا علم کامل نہیں ہے۔ ہمارا یقین ہے۔ ”وکان اللہ بکل شئ علیما“ اس لئے اس فیصلے کے بعد کوئی بھی نبی نہیں آسکتا۔

یہ فیصلہ ہے میرے محترم دوستو! یہ اتنا واضح فیصلہ ہے کہ اس پر جناب نبی کریم ﷺ کی احادیث۔ آپ کے فرمودات شاہد عدل ہیں۔ بہت سی صحیح حدیثیں اس مضمون کی تصدیق پر پیش کی جاسکتی ہیں۔ میں یہ کہتا ہوں کہ آج کوئی بھی شخص دلیل کی بنیاد پر مرزائی نبوت کا قائل نہیں ہوسکتا۔ یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ در حقیقت مسئلہ سیاسی ہے۔ آپ نے دیکھا کہ اس فرقے کا مقصد عظیم یہ ہے کہ وہ پاکستان میں چھوٹے پاکستان میں یا اس کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کر کے ایک اور چھوٹا پاکستان بنائیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایک تھوڑی سی جگہ بھی ہمیں دنیا میں ایسی مل جائے کہ جہاں ہم حکومت کریں۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ جیسے عرب دنیا کے وسط میں ایک اسرائیل جو یورپ اور امریکہ کے ممالک کے لئے آلہ کار ہے جس سے تمام عرب دنیا کو مشکلات میں پھنسایا ہوا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہاں برصغیر میں اور مشرق بعید میں بھی اس طریقے کا ایک اسرائیل یا مرزائیل قائم کیا جائے تاکہ اس کے ذریعے یہاں کے مسلمانوں کی سیاسی قوت کو مضمحل کرنے کے لئے کام کیا جاسکے۔ یہ مقصد ہے اور اس مقصد کے لئے وہ جا رہے ہیں ایک راستے پر۔

میرے محترم دوستو! آپ آج یہ دیکھتے ہیں کہ آپ کی فوج میں مسلح طاقتوں میں ان کو آگے بڑھایا جارہا ہے اور پاکستان کا مسلمان آج یہ بجا طور پر محسوس کرتا ہے کہ شاید فوجی طاقت کے ذریعے سے وہ اس ملک پر مسلط ہو جائیں۔ لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مرزائی کسی وقت بھی پاکستان کے مسلمانوں پر مسلط نہیں ہوسکیں گے۔ ہم زندہ ہوں۔ ہماری زندگی کس مقصد کے لئے ہے۔ ہم زندہ ہوں اور مرزائی یہاں حکومت کریں۔ اگر یہاں پر مرزائی حکومت قائم ہوئی تو سب سے پہلے میں اس کی بغاوت کروں گا۔ مرزائی حکومت یہاں برداشت نہیں ہو سکتی۔ مرزائی حکومت کے لئے کوئی جگہ یہاں نہیں ہے۔ اگر ان کو اپنا آقائے فرنگ لندن میں بھیج دے۔ وہاں ان کے لئے حکومت کی کوئی صورت بنائیں۔ بنالیں لیکن میں پھر کہوں گا کہ لندن میں بھی اور دنیا کے کسی خطے میں بھی ان کی حکومت ہم نہیں بننے دیں گے۔ ان کا تعاقب کریں گے۔ آخر انہوں نے کیا سمجھا ہے۔ مسلمان کتنا بھی ادبار کا، بدبختی اور پستی کا شکار ہو جائے لیکن وہ جناب نبی کریم ﷺ کی نبوت کے منکرین کو ختم نبوت کے منکرین کو کسی صورت میں برداشت نہیں کر سکتا۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے اگرچہ یہ سٹیج سیاسی نہیں ہے اور میں ایک سیاست دان کی حیثیت سے اس میں شرکت نہیں کر رہا۔ لیکن بہر حال اس مسئلے کو سیاست سے الگ نہیں رکھا جاسکتا۔ اس لئے مجھے لازماً سیاسی حیثیت سے بھی اس پر کچھ کہنا ہوگا۔ آپ جانتے ہیں کہ ملک پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور یہ نعرے لگائے جارہے تھے کہ پاکستان کا مطلب کیا ”لا الہ الا اللہ“ اور مسلمانوں کی ملی غیرت مرزائیوں کی نمائندگی سے انکار کر رہی تھی۔ زمانہ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۸۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گزرا۔ ۱۹۷۰ء کے انتخابات تک ہزارہا کوششوں کے باوجود کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ایک بھی مرزائی اسمبلی کا ممبر نہیں بن سکا تھا۔ لیکن آج میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ ۱۹۷۰ء کے عام انتخابات میں بہت سے مرزائی اسمبلیوں کے ممبر بنے ہیں۔ آج قومی اسمبلی میں بھی کچھ شکلیں نظر آتی ہیں۔ صوبائی اسمبلیوں میں بھی۔ پنجاب کی اسمبلی میں بالخصوص کچھ صورتیں نظر آتی ہیں۔ لیکن وہ اتنے مرعوب ہیں کہ وہ اپنی مرزائیت کا واضح اعلان نہیں کر سکتے۔ انہیں یقین ہے کہ ممبر بن جانے کے باوجود بھی، دھوکہ دے کر منافقت کی بنیاد پر ممبر بن جانے کے باوجود بھی اگر قوم کے سامنے یہ بات واضح ہو جائے تو قوم انہیں کسی قیمت پر بھی برداشت نہیں کرے گی۔ یہاں پر تحریکیں چلیں۔ ۱۹۵۳ء میں ایک عظیم تحریک پاکستان میں چلی تھی۔ اسی وقت جب تحریک چلی تھی تو ظفر اللہ خان پاکستان کے یوم تاسیس سے لے کر تحریک کے وقت تک وزیر خارجہ تھا۔ میں نے اس دن اسمبلی میں بھی خارجہ پالیسی پر بحث کرتے ہوئے یہ بات کہی تھی۔ میں نے کہا کہ سارے مسلمان پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات کیوں درست نہیں ہیں اور خاص کر افغانستان جو ہمارا پڑوسی مسلمان ملک ہے۔ اس کے ساتھ ہمارے تعلقات کیوں کشیدہ ہیں۔ میں نے یہ کہا تھا کہ ظفر اللہ خان جتنا عرصہ وزیر خارجہ رہا اس نے ایک مرتبہ بھی افغانستان کا دورہ نہیں کیا اور اس کی وجہ اس کی وہ مذہبی نفرت تھی۔ افغانستان سے ان کی مذہبی عداوت تھی۔ اس لئے کہ افغانستان کے حکمرانوں نے ان کے دو مبلغوں کو قتل کر دیا تھا اور توپ کے دہانے کے ساتھ باندھ دیا تھا۔ وہاں پر انہوں نے جا کر اس وقت کے فرمانروا امیر عبدالرحمن خان سے کہا تھا کہ مسلمان علماء کو بلاؤ ہمارے ساتھ مناظرہ کریں۔ اس نے کہا کس بات کا مناظرہ۔ انہوں نے کہا اس بات کا مناظرہ کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی اور شخص نبی بن سکتا ہے یا نہیں۔ امیر عبدالرحمن خان نے ان سے کہا کہ تیرہ سو سال گزر چکے ہیں۔ تیرہ سو سال میں تمام مسلمان امت مسلمہ، تمام علماء دنیا بھر کے علماء، تمام عالم کے فضلاء اس پر متفق رہے ہیں کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں ہو سکتا۔ آج میں تیرہ سو سال کے متفقہ فیصلے کو مجروح کرنے کے لئے قطعاً تیار نہیں ہوں۔ اگر آج مناظرہ ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ مسئلہ جو تیرہ سو سال تک طے شدہ مسئلہ تھا۔ آج وہ پھر متنازعہ مسئلہ بن گیا۔ میں اس بات پر مناظرہ کرنے کے لئے قطعاً تیار نہیں ہوں اور ان کے لئے سزائے قتل تجویز کرتا ہوں۔ ان دو مبلغین کے بعد ایک بھی مرزائی مبلغ افغانستان کی حدود میں داخل نہیں ہوا۔ زمانہ گزر گیا ہے ایک صحیح فیصلہ جو وہاں کی حکومت نے کیا ہے۔ اس کا اثر یہ ہوا ہے کہ ایک بھی مرزائی خواہ پاکستان کا وزیر خارجہ کیوں نہ ہو وہ افغانستان میں داخل نہیں ہو سکتا۔

مرزائیوں کے متعلق سعودی حکومت کا فیصلہ

میرے محترم دوستو! آج آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ عالم اسلام کے مرکز میں سعودی حکومت میں یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ قادیانی فرقے کا کوئی شخص بھی مسلمان نہیں ہے اور کوئی قادیانی حرمین شریفین زادہم اللہ شرفاً و کرامتاً ان میں داخل نہیں ہو سکتا۔ میں ملک فیصل کو ان کے اس عظیم فیصلے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ میں نے گزشتہ سال حج کے موقع پر شیخ عبدالعزیز ابن صالح جو مدینہ طیبہ کے امام ہیں اور وہاں پر مدینہ طیبہ میں محکمہ شریعہ کے رئیس ہیں۔ قاضی القضاۃ ہیں۔ ان سے بات کی انہوں نے فرمایا کہ اگر ہمیں یہ کوئی بتا دے کہ فلاں شخص قادیانی فرقے سے مرزائی گروہ سے متعلق ہے۔ اتنی بات اگر ثابت ہو جائے تو آگے تفصیلات کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کو ہم یہاں سے نکال دیتے ہیں۔ انہوں نے خود وہاں سے کچھ آدمیوں کو نکالا تھا۔ انہوں نے مجھے بتایا تھا آج ان کی پالیسی یہ ہے کہ حج کے موقع پر اگر کوئی مرزائی وہاں پہنچتا ہے اور یہاں سے مصدقہ اطلاع انہیں پہنچ جاتی ہے تو اس کو فوراً واپس کر دیتے ہیں اور حرمین کے داخلے کی اجازت اس کو نہیں دیتے۔ یہ اور بات ہے کہ حکومت پاکستان کی کمزوری سے اور دین کے مسئلے میں بے باکی سے ایک شخص ان کا پاسپورٹ لے کر اس پر

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۸۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لکھتا ہے۔ مذہب اسلام اور مذہب اسلام کے نام سے ایک شخص پاسپورٹ لے کر داخل ہو جاتا ہے اور انہیں علم نہیں ہوتا یہ اور مسئلہ ہے۔ کاش کہ پاکستان کی حکومت بھی ان کے پاسپورٹ پر یہ لکھے کہ ان کا مذہب اسلام نہیں ہے۔ یہ مرزائی فرقے سے متعلق ہیں۔ جیسے کہتے ہیں کہ عیسائی، ہندوان کے پاسپورٹ پر یہ لکھا ہو یہ عیسائی ہے۔ اس طرح اگر اس فرقے کے پاسپورٹ پر یہ لکھا جاتا کہ یہ مرزائی ہے تو اس کا داخلہ پہلے سے حرمین میں بند ہو جاتا۔ لیکن پاکستان کی گورنمنٹ سے ۱۹۵۳ء کی تحریک میں ہمارا سب سے بڑا مطالبہ یہ تھا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ یہ مطالبہ ہمارا، میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ بڑا کمزور اور معتدل قسم کا مطالبہ تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ مرتد کی سزا کیا ہے اسلام میں، قتل، ہم نے یہ مطالبہ نہ کیا تھا۔ اس وقت ہم نے انہیں کہا کہ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور اقلیتوں کے حقوق انہیں دیئے جائیں۔ ہم نے تو نیچے اتر کر، اپنے مقام سے نیچے اتر کر یہ مطالبہ کیا تھا۔ لیکن پاکستان کی حکومت اس مطالبے کے ماننے پر بھی راضی نہ ہوئی تھی۔ واضح بات ہے کہ ایک جمہوری ملک میں جہاں انتخاب ہو چکے ہوں۔ وہاں عوام کا مطالبہ غلط ہو تو درست ہوتا ہے اور درست ہو تو درست ہوتا ہے۔ عوام کے مطالبے کے سامنے جمہوری حکومت ہمیشہ سر تسلیم خم کرتی ہے۔ لیکن پاکستان میں، میں یہ کہنے سے باز نہیں آتا کہ اسلام کے نام سے غیر اسلامی طرز زندگی اور جمہوریت کے نام سے آمریت اور سوشلزم کے نام سے سرمایہ داری یہاں الفاظ کچھ ہوتے ہیں اور ان کے معانی کچھ ہوتے ہیں ہمیشہ منافقانہ صورت حال کے ساتھ ہمارا تعلق رہا ہے۔

میرے محترم دوستو! ہمارا مطالبہ آج بھی وہی ہے ہم آج بھی یہ کہتے ہیں کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ اس مطالبے کو مانے بغیر پاکستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم نے ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں یا اس سے پہلے جب بھی ہم اسمبلی میں گئے ہیں۔ ہم نے اسلام کی سربلندی کے لئے ووٹ حاصل کئے ہیں لوگوں نے ہم پر اعتماد کیا تھا کہ ہم اسلام کے لئے وہاں لڑیں گے اور اسلامی نظام کو لائیں گے۔

آئین میں مسلمان کی تعریف

آپ کو معلوم ہوگا جب ایوب خان کی آمریت کو ہم نے چیلنج کیا تھا اور اس وقت ایوب خان نے ہمارے ساتھ مسائل حل کرنے کے لئے گول میز پر بیٹھنا منظور کر لیا تھا۔ گول میز کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔ اس میں آئین میں ترمیم کی بحث تھی کہ آئین میں ترمیم کی جائے۔ مختلف مطالبات آئے تھے اس گول میز پر میں نے آئین میں ترمیم کے لئے دو مطالبے پیش کئے تھے۔ میرا ایک واضح مطالبہ یہ تھا کہ آئین میں مسلمان کی تعریف کی جائے کہ مسلمان کون ہوتا ہے۔ اس وقت کے صدر ایوب خان نے مجھ سے کہا کہ مسلمان کی تعریف کی کیا ضرورت ہے۔ میں نے کہا اس لئے کہ آئین میں ایک دفعہ ہے کہ پاکستان کا صدر مسلمان ہوگا۔ یہ دفعہ آئین ۱۹۶۲ء میں موجود تھا۔ میں نے کہا جب آئین میں یہ موجود ہے کہ پاکستان کا صدر مسلمان ہوگا تو آگے اس دفعہ کا تقاضا ہے کہ بتایا جائے کہ مسلمان کون ہوتا ہے۔ اس نے کہا کہ کیا آپ نہیں جانتے کہ مسلمان کون ہوتا ہے؟ میں نے کہا ہم تو نہیں جانتے۔ میں نے کہا آج ایک شخص خدا کا منکر ہوتا ہے۔ کمیونسٹ ہوتا ہے۔ دہریہ ہوتا ہے اور وہ اپنا نام عبداللہ ظاہر کرتا ہے تو کیا وہ مسلمان ہوتا ہے؟ خدا کے انکار کرنے والا خدا کے وجود تک کا انکار کرنے والا وہ کس طرح مسلمان ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ اپنے آپ کو نام کی وجہ سے مسلمان کہلاتا ہے۔ ایک شخص رسالت کا منکر ہے۔ اس کا نام عبدالرحمن ہے۔ ایک شخص حضور ﷺ کی ختم نبوت کا منکر ہے۔ اس کا نام عبدالرحیم ہوتا ہے۔ اس لئے یہ پیچیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لئے یہ لازم ہے کہ تعریف کی جائے کہ مسلمان کون ہوتا ہے۔ لیکن وہ گول میز کانفرنس ناکام ہو گئی اور اس کی ناکامی کے نتیجے میں ایوب خان کو بھی کرسی چھوڑنی پڑی۔ ہمارا

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.

صفحہ ۴۸۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مطالبہ موجود تھا اب ۷۰ء کے انتخاب کے بعد جو اسمبلی بنی۔ آپ جانتے ہیں کہ اس اسمبلی میں آئین پر بحث ہوئی۔ آئین کے لئے کمیٹی بنی، نیشنل اسمبلی کے پچیس ممبروں کی کمیٹی بنی تھی تاکہ وہ دستور کا مسودہ تیار کرے۔ لیکن اس مسودے سے قبل بھٹو صاحب سے جو اس وقت کے صدر تھے۔ آج کے وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے ایک کانفرنس بلائی تاکہ آئین کے اہم نکات پر فیصلہ ہو جائے اور پھر کمیٹی اپنا آئین تیار کرے۔ جب ہم بیٹھے رمضان کا مہینہ تھا تو اس بحث میں جہاں دوسرے مسائل آئے وہاں پر میں نے یہ مسئلہ بھی پیش کیا کہ مسلمان کی تعریف کو آئین میں شامل کیا جائے۔ مسئلہ واضح تھا ہم یہ چاہتے تھے کہ جب تعریف مسلمان کی ہو جائے گی تو یہ واضح ہو جائے گا کہ مرزائی مسلمان نہیں ہے۔ اس پر بہت سے وزراء جو اس میز پر بیٹھے تھے وہ چیں بجبیں ہوئے۔ چیخے اور عبدالقیوم خان صاحب نے کہا کہ دیکھو اگر آپ نے یہ بات کر لی تو ہر شخص کے مسلمان ہونے میں شبہات ہوں گے۔ کورٹ میں مسئلہ جائے گا عدالتوں میں اس شخص کے مسلمان ہونے کے فیصلے نفاذ پذیر ہو سکیں گے اور مرتے دم تک یہ مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہو سکے گا۔ کیسے ثابت کریں گے کہ یہ مسلمان ہے یا غیر مسلم۔ میں نے ایک جواب تو انہیں یوں بطور مزاح کے دیا۔ میں نے کہا کہ قیوم خان اگر اس کے مرنے تک عدالتوں میں یہ فیصلہ نہ ہو سکا تو میں یقین دلاتا ہوں کہ مرنے کے بعد فوراً فیصلہ ہو جائے گا۔ دیر نہیں لگے گی اور پھر میں نے کہا کہ کسی شخص کے مسلمان ہونے کی بات کورٹ میں نہیں جائے گا۔ یہ مقدمہ عدالت میں نہیں جائے گا۔ ہم ایک تعریف کرتے ہیں جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ میں اس تعریف کو قبول کرتا ہوں۔ اسے ہم کہیں گے کہ یہ شخص مسلمان ہے۔ دل کی بات ہم خدا کے حوالے کرتے ہیں۔ زبان سے کہہ دے کہ میں اس تعریف کو قبول کرتا ہوں۔ ہم اسے مسلمان سمجھیں گے۔

مسلمان کی تعریف پر مخالفین کے اعتراضات

ہمارے جے۔ اے رحیم صاحب ایک عجیب آدمی ہیں۔ وہ یوں گنگنانے لگے، وہ چوں چوں کرتے ہیں۔ ان کی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو یہ کیا حق حاصل ہے کہ آپ میرے مسلمان ہونے کا فیصلہ کریں۔ میں نے کہا مجھے حق حاصل ہے جب آپ آئین میں یہ شرط لگواتے ہیں کہ پاکستان کا صدر مسلمان ہوگا تو پھر ہمیں یہ حق پہنچتا ہے کہ ہم دیکھیں کہ یہ شخص جو صدر بننا چاہتا ہے یہ جو امیدوار ہے صدارت کا، یہ مسلمان ہے یا نہیں۔ ہمیں یہ تحقیق کرنی پڑے گی۔ ان کا یہ خیال تھا کہ شاید یہ مسلمان کی تعریف پیش نہیں کر سکیں گے اور علماء کا اس پر اتفاق نہیں ہو سکے گا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ۱۹۵۳ء کی تحریک کے بعد جب اس تحریک کے سلسلے میں انکوائری ہوئی تھی اور اس کی منیر رپورٹ شائع ہوئی تھی۔ اس رپورٹ میں منیر صاحب نے بڑی خیرہ چشمی کے ساتھ یہ بات لکھی ہے کہ مسلمان علماء مسلمان کی تعریف پر متفق نہیں ہو سکے اور یہی بات آج کے وزیر حج واوقاف نے ہمیں اسمبلی میں کہی۔ اس نے کہا میں چیلنج کرتا ہوں۔ تم مسلمان علماء جو اسمبلی میں بیٹھے ہو تم ایک تعریف پر متفق ہو جاؤ تو میں قبول کر لوں گا۔

چنانچہ اس کمیٹی نے بھی اس کانفرنس میں اس میز پر مجھ سے یہ مطالبہ کیا کہ آپ متفقہ تعریف پیش کر سکتے ہیں؟ میں نے کہا کر سکتا ہوں اور اسمبلی کے تمام ممبران جو علماء کہلاتے ہیں۔ اس پر متفق ہوں گے۔ خواہ وہ دیوبندی علماء ہوں، بریلوی علماء ہوں، اہل حدیث علماء ہوں، جماعت اسلامی کے علماء ہوں، کوئی بھی ہوں، اس پر سب متفق ہیں۔ انہوں نے کہا آپ تعریف قرآن کریم سے پیش کریں۔ انہوں نے شرط لگائی۔ انہیں یقین تھا کہ شاید یہ قرآن کریم سے تعریف پیش نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا قرآن سے پیش کرو۔ میں نے کہا میں یہ چیلنج قبول کرتا ہوں۔ میں قرآن سے پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا پیش کرو۔ میں نے قرآن کریم سے سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات پڑھیں۔ ”الذین یؤمنون بالغیب ویقیمون الصلوٰۃ ومما رزقنھم ینفقون والذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۸۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

من قبلك وبالآخرة هم يوقنون “ میں نے کہا یہ مسلمان کی تعریف ہے۔ آگے ہے : ”هدى للمتقين“ میں نے کہا متقین سے یہاں مسلمان ہی مراد ہیں۔ انہوں نے کہا اس میں تو آپ کا مسئلہ نہیں آیا۔ میں نے کہا کون سا کہنے لگے ختم نبوت کا مسئلہ۔ چور کی داڑھی میں تنکا۔ میں نے تو ایسی بات کہی ہی نہیں تھی۔ لیکن وہ سمجھ رہے تھے کہ میں کس مقصد کے لئے یہ تعریف کرانا چاہتا تھا۔ میں نے کہا بات تو آ گئی اس میں۔ کیسے آگئی ہے؟ میں نے کہا اس میں یہ ہے: ” اللذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك “ اور ”وما انزل من بعدک “ تو اس میں ہے نہیں۔ ”ما انزل اليك وما انزل من قبلك “ میں نے کہا دو باتیں ثابت ہوئیں۔ اس سے ایک بات یہ ہوئی کہ صرف حضور ﷺ کی طرف اتری ہوئی وحی آپ کی طرف اتری ہوئی کتاب فقط اس پر ایمان لانا مسلمان ہونے کے لئے کافی نہیں۔ جب تک کہ تمام پیغمبروں پر اتری ہوئی وحی پر ایمان نہ لایا جائے ۔ ورنہ پھر تو ”وما انزل اليك “ کافی تھا۔ ” وما انزل من قبلك “ کی کیا ضرورت تھی۔ معلوم ہوا کہ صرف حضور ﷺ پر اتری ہوئی وحی پر ایمان لانا مسلمان ہونے کے لئے کافی نہیں ہے۔ جب تک تمام پیغمبروں پر اتری ہوئی وحی پر ایمان نہ لایا جائے۔ یہ بات ثابت ہوئی۔ پھر میں نے کہا جب سب پر ایمان لانا مسلمان ہونے کی شرط قرار دے دی گئی تو پھر اگر حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوتا یا وحی اترنے کی گنجائش ہوتی تو ساتھ یہ بھی ہوتا۔ ” وما انزل من بعدک “ آپ پر جو وحی نازل ہوئی اس پر ایمان لائے اور آپ ﷺ سے پہلے جو وحی نازل ہوئی اس پر بھی ایمان لائے تو پھر اگر حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو سکتا تھا یا آپ کے بعد بھی کوئی وحی نازل ہو سکتی تھی تو اس پر بھی ایمان لانا فرض ہوتا۔ اسلام کی شرط ہوتی تو ”وما انزل من بعدک“ فرمایا جاتا۔

(لولاک، مورخہ ۱۲/ مارچ ۱۹۷۴ء)

اس حصہ کے اختتام سے قبل تین خبریں ملاحظہ ہوں۔

مسلمان کی تعریف پر تمام علماء کا اتفاق ہے

عبوری آئین پر رائے شماری سے کچھ دیر قبل قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ العلماء اسلام کے ممتاز راہنما مولانا عبدالحق ایم این اے آف اکوڑہ خٹک نے آئین کے بنیادی اصولوں پر تقریر کرتے ہوئے کہا۔ اس معزز ایوان پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ایک اللہ کی طرف سے جو حاکم اعلیٰ اور حاکمیت کا سرچشمہ ہے۔ دوم مخلوق کی طرف سے کہ آپ پر انہوں نے اس لئے اعتماد کیا ہے کہ ان کو تکالیف، مظالم اور مصائب سے نکالیں۔ اب اللہ ہمیں یہاں بٹھا کر آزما رہا ہے کہ میرے بندے دو سو برس کی غلامی کے بعد آزاد ہو کر میری بندگی اور شکر گزاری کا کیا حق ادا کرتے ہیں۔ جب اقتدار اعلیٰ صرف اللہ کا ہے تو ہمارا کام صرف اس کے احکام کی تنفیذ ہے نہ کہ اس میں تحریف تبدیلی اور گریز ۔ مولانا نے فرمایا کہ جہاں آئین میں صدر کا مسلمان ہونا ضروری سمجھا گیا ہے۔ وہاں مسلمان کی تعریف بھی نہایت ضروری ہے۔ مگر اب کہا جا رہا ہے کہ اس کی تعریف ہو ہی نہیں سکتی تو یہ ایک مہمل اور بے معنی لفظ رہ جائے گا اور دنیا کے کروڑوں مسلمان ایک مہمل لفظ کے مصداق ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مسلمان وہ ہے جو کتاب وسنت اور ضروریات دین کو ان تشریحات کے ساتھ قبول کرتا ہو۔ جو حضور ﷺ سے لے کر خیر القرون میں اور پھر اب تک سمجھے جا رہے ہیں۔ مثلاً نماز اور زکوۃ کو نئے مفہوم پہنانے والے کو مسلم نہیں کہا جا سکتا۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ حضور ﷺ کو آخری نبی سمجھیں ۔ بایں معنی کہ حضور ﷺ کے بعد کسی شخص کو نہ ظلی نہ بروزی نہ مستقل یعنی کسی قسم کی نبوت نہیں مل سکتی اور ایسا دعویٰ کرنے والا کافر ہے۔ اگر شعائر اسلامی کے منافی کوئی نشانی بھی پائی جائے تو اس شخص کو بھی مسلمان نہیں کہا جا سکتا ہے۔ نیز

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۸۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تمام ضروریات دین کی صحیح معنوں میں تصدیق کرے۔ اس معزز ایوان کو اللہ نے بڑی آزمائش میں ڈال دیا ہے اور آج ہم اس میں کامیاب ہو کر ملک کو نجات دے سکتے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مسلمان کی تعریف پر علماء کا اتفاق نہیں ہو سکتا تو یہ محض ایک مغالطہ ہے۔ کیونکہ اس ایوان میں موجود مختلف مکاتب فکر کے تمام علماء مسلمان کی تعریف پر متفق ہیں۔

مولانا غلام غوث ہزاروی

قومی اسمبلی کے رکن اور جمعیۃ علماء اسلام کے رہنما مولانا غلام غوث ہزاروی نے (وزیر اطلاعات مولانا کوثر نیازی کی طرف سے اٹھائے گئے سوال کہ مسلمان کی تعریف پر علماء کا اتفاق نہیں ہے) کا جواب دیتے ہوئے نہایت مدلل انداز میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ مختلف احادیث میں خود رسول اللہ ﷺ نے مسلمان کی تعریف کر دی ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور حضرت محمد ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لائے وہ مسلمان ہے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص توحید و رسالت کا انکار کرے گا۔ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ تمام دنیا کے مسلمان اس تعریف مسلم پر متفق ہیں۔ سوائے مرزائی جماعت کے۔

(خدام الدین مورخہ ۵؍ مئی ۱۹۷۴ء)

مناظر اسلام سرزمین اسلام آباد میں

مولانا لال حسین صاحب اختر امیر مرکزیہ کی قیادت میں مجلس کا پانچ رکنی وفد ۱۰؍اپریل ۱۹۷۴ء کو اسلام آباد پہنچا۔ ان دنوں قومی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا تھا۔ اسمبلی ہال کے قریب وفد نے سٹال لگایا۔ جس کو رد مرزائیت کی رنگا رنگ کتب سے سجایا گیا اور ختم نبوت کے عقیدہ کے اظہار کے لئے گوناگوں بینر اور جاذب نظر کتبوں سے دیدہ زیب بنایا گیا۔ معزز اراکین اسمبلی کی آمد و رفت عموماً اسی شاہراہ پر ہوتی تھی۔ وہ خود بھی سٹال پر تشریف لاتے رہتے اور اپنا مقصد واضح کرتے رہتے۔ وفد نے معزز اراکین اسمبلی کی قیام گاہوں پر حاضر ہو کر فرداً فرداً بھی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے ایام میں پاکستان کے گوشے گوشے سے آئے ہوئے لوگ بہت دلچسپی لیتے تھے اور اپنی خواہش کے مطابق تردید مرزائیت کا لٹریچر حاصل کر کے مسرور ہوتے تھے۔ اس طرح پورے ملک میں مجلس کی آواز پہنچی اور لٹریچر بھی پہنچا۔ عوام نے اور بالخصوص اخبارات نے وفد کی کارگزاری کا بہترین انداز میں ذکر کیا اور اخبارات میں فوٹو شائع کئے اور اسمبلی کے اندر بھی اس کا خاطر خواہ اثر ہوا۔ چنانچہ مولانا مفتی محمود وزیر اعلیٰ اور مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا شاہ احمد نورانی ممبران قومی اسمبلی نے اسلام اور ختم نبوت کی وکالت کا خوب حق ادا کیا۔ فجزاهم اللہ خيراً!

صدر مملکت ذوالفقار علی بھٹو اور مرزا طاہر احمد

ربوہ سے آمدہ اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ جن دنوں دستور بن رہا تھا اور دستور میں مسلمان کی تعریف شامل ہو چکی تھی۔ ان دنوں ربوہ کے مرزا طاہر احمد جو مرزائیوں اور پیپلز پارٹی کے درمیان اپنے آپ کو رابطہ آفیسر بتاتے ہیں۔ ایک وفد لے کر صدر مملکت سے ملنے گئے اور مطالبہ کیا کہ جناب دستور سے یہ لفظ نکال دیئے جائیں کہ: ”حضور اکرم ﷺ آخری نبی ہیں“۔ معلوم ہوا ہے کہ صدر مملکت نے مرزا طاہر احمد کو فرمایا کہ یہ لفظ اب دستور سے نہیں نکالا جاسکتا۔ مزید یہ کہ صدر مملکت نے کہا کہ دستور بننے سے پہلے ہم نے یہ بات تم لوگوں سے دریافت کر لی تھی۔ لیکن اس وقت تم لوگوں نے کہا کہ ہم بھی حضور اکرم ﷺ کو ”خاتم النبیین“ مانتے ہیں۔ تمہارے کہنے کے بعد ہم نے مسلمانوں کا مطالبہ تسلیم کر لیا اور مسلمانوں کی تعریف میں یہ الفاظ شامل کر لئے۔ اب تم آگئے ہو کہ یہ الفاظ نکال دیئے جائیں کہ ”حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے“۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۸۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزا طاہر احمد نے کہا کہ جناب ہم بھی حضور ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔ لیکن حضور ﷺ کے بعد تشریعی نبی نہیں آسکتا۔ مرزا قادیانی ظلی بروزی نبی تھے۔ صدر مملکت جو بہر حال ایک نہایت ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان ہیں انہوں نے کہا مسٹر طاہر احمد تمہاری ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تم حضور ﷺ کو خاتم النبیین محض زبانی ہی مانتے ہو۔ کوئی گڑ بڑ ضرور ہے جس کی وجہ سے مسلمان تم سے مشتعل ہوتے ہیں اور ملک میں امن وامان کا مسئلہ بنا رہتا ہے۔ میں تمہارا یہ مطالبہ نہیں مان سکتا۔ اسلام کی تعلیمات کی رو سے یہ ایک بنیادی بات ہے کہ یہ تسلیم کیا جائے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ صدر مملکت سے مایوسی اور مسلمان کی جامع مانع تعریف اور پھر آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد جیسی چیزوں نے ہی مرزائیوں کا دماغی توازن خراب کیا۔

اور وہ ایسی اشتعال انگیز باتیں کرتے پھرتے ہیں جنہیں کوئی باغیرت مسلمان برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انہی وجوہات سے مرزائی غیر جمہوری ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں اور سازشی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ لیکن مسلمان اب بیدار ہیں۔ حکومت عوامی اور ہوشیار ہے۔ ان شاء اللہ! سازشی ملک اور اسلام کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔

(لولاک ، مؤرخہ ۲۱ مئی ۱۹۷۴ء)

رابطہ عالم اسلامی کی قرارداد

جدہ : مؤرخہ ۲۶؍ اپریل۔ گزشتہ دنوں ۸؍ اپریل ۱۹۷۴ء کو مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام دنیا بھر کی ایک سو سے زائد مقتدر اسلامی تنظیموں کی مشترکہ مؤتمر منعقد ہوئی۔ جس میں دوسری اہم قراردادوں کے علاوہ ایک بنیادی قرارداد نمبر ۹ قادیانی امت کے متعلق منظور کی گئی۔ قرارداد کا متن روزنامہ ”الندوہ“ (سعودی عربیہ) ۱۴؍ اپریل ۱۹۷۴ء کے حوالے سے درج ذیل ہے۔ اس قرارداد کے حق میں تمام اسلامی ممالک کے شرکاء نے ، جن میں حکومتوں کے وزراء اور اعلیٰ سرکاری افسر شامل تھے، ووٹ دیا۔ لیکن افسوس ہے کہ پاکستان کی وزارت اوقاف کے سیکرٹری ٹی۔ ایچ ہاشمی نے گریز کیا اور حق وباطل کے اس مرحلہ میں غیر جانبدار ہو گئے ۔ آپ نے صرف یہ کہا کہ قادیانیوں کی مذہبی حیثیت کے مؤقف سے مجھے اتفاق ہے۔ لیکن انہیں، اسلامی ممالک میں ملازمتیں نہ دیئے جانے کی تجویز سے اتفاق نہیں ۔ تعجب ہے کہ پاکستان میں اس قرارداد کو گم سم کر دیا گیا۔ کسی ایجنسی کو توفیق نہ ہوئی اور نہ کسی اخبار میں آسکی۔ فاعتبروا یا اولی الابصار! قرارداد کا متن حسب ذیل ہے۔

قرار داد

قادیانیت وہ باطل مذہب ہے جو اپنے ناپاک اغراض ومقاصد کی تکمیل کے لئے اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے۔ اس کی اسلام دشمنی ان چیزوں سے واضح ہے۔

قادیانیت برطانوی استعمار کی پروردہ ہے اور اس کے زیر سایہ سرگرم ہے۔ قادیانیوں نے امت مسلمہ کے مفادات سے ہمیشہ غداری کی ہے اور استعمار اور صیہونیت سے مل کر اسلام دشمن طاقتوں سے تعاون کیا ہے اور یہ طاقتیں بنیادی اسلامی عقائد میں تحریف وتبدل اور ان کی بیخ کنی میں مختلف طریقوں سے مصروف عمل ہیں۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۸۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مصروف ہیں اور قادیانی مختلف زبانوں میں قرآن پاک کے تحریف شدہ ترجمے شائع کر رہے ہیں۔ ان خطرات کے پیش نظر کانفرنس نے درج ذیل قرارداد منظور کی ہے۔

میں مشغول ہیں۔ ان کا محاسبہ کریں اور ان کے پھیلائے ہوئے جال سے بچنے کے لئے عالم اسلام کے سامنے ان کو پوری طرح بے نقاب کیا جائے۔

سے شادی بیاہ کرنے سے اجتناب کیا جائے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے۔

لگائی جائے اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ نیز ان کے لئے اہم سرکاری عہدوں کی ملازمتیں ممنوع قرار دی جائیں۔

جائے اور ان تراجم کی ترویج کا سدباب کیا جائے۔

اس کانفرنس میں اسرائیل میں قادیانی مشن کی پراسرار سرگرمیوں پر اظہار تشویش کیا گیا۔ ایک سوالیہ نشان پیدا ہوا کہ جب حکومت پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی تو حیفا میں قادیانی مشن کیا معنی رکھتا ہے؟

۲۹ / اپریل ۱۹۷۳ء آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد

آزاد کشمیر اسمبلی کے رکن جناب (ریٹائرڈ) میجر محمد ایوب صاحب حجاز مقدس، فریضہ حج کے لئے تشریف لے گئے۔ روضۂ طیبہ پر جاتے وقت مسجد نبوی ﷺ میں اچانک ان کے دل میں داعیہ پیدا ہوا کہ میں کس منہ سے رحمت عالم ﷺ کے حضور مواجہہ شریف پر سلام عرض کرنے کے لئے جا رہا ہوں؟ حالانکہ ہمارے ملک میں آپ ﷺ کے دشمن دندنا رہے ہیں۔ یہ خیال دل میں آیا اور مصمم ارادہ کر لیا کہ اپنی اسمبلی سے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کے لئے میں قرارداد پیش کروں گا۔ حج سے واپس آئے تو انہوں نے آزاد کشمیر اسمبلی کے ایوان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی ۲۹ / اپریل ۱۹۷۳ء کو قرارداد پیش کر دی۔ جو بالاتفاق پاس ہو گئی۔

اس قرارداد کا دوست دشمن سب کو علم اس وقت ہوا، جب پاس ہو کر دوسرے دن اخبارات کی شہ سرخیوں کے ساتھ شائع ہو گئی۔ کراچی سے خیبر تک اس کا خیر مقدم ہوا۔ مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ملتان، فیصل آباد، لاہور اور کراچی وغیرہ میں خیر مقدمی کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ ۸؍ مئی ۱۹۷۳ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ایک وفد مولانا تاج محمود کی سربراہی میں سردار عبدالقیوم سے ملاقات کے لئے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۸۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

آزاد کشمیر کے سفر پر روانہ ہوا۔ وفد میں حکیم عبدالرحمن، چوہدری غلام نبی (گوجرانوالہ)، سید محمود ترمذی (ٹوبہ)، مولانا مقبول احمد (ساہیوال)، مولانا نور الحق نور (پشاور)، حاجی بلند اختر نظامی (لاہور)، مولانا غلام حیدر (اسلام آباد)، مولانا محمد رمضان (راولپنڈی)، حاجی سیف الرحمن (بہاول پور)، ارتضیٰ خان (کراچی) شامل تھے۔ ملک بھر سے ٹیلی گراموں اور ٹیلی فون کا تانتا بندھ گیا۔ مرزائیت پر اوس پڑ گئی۔ ان کی پریشانی قابل دید تھی۔ مرزا ناصر نے آگ بگولہ ہوکر ربوہ کے ایک خطبہ میں اول فول بکا۔ آزاد کشمیر قادیانی جماعت کے صدر منظور نے اس پر کتابچہ لکھ مارا۔ اس کے پمفلٹ کا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما مولانا تاج محمود نے جواب لکھا۔ منظور کشمیری کے پمفلٹ کا جواب معروف سکالر جناب غلام جیلانی برق نے بھی تحریر کیا۔ مرزائیوں نے جس شدت کے ساتھ غصہ کا اظہار کیا۔ اس سے کہیں زیادہ ردعمل میں اس پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔

’’مرزائیوں نے عوام میں اپنے مؤقف کی پذیرائی نہ دیکھ کر حکومت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے قدم چومے۔ ان کی بلائیں لیں۔ ان کو ۱۹۷۰ء کے الیکشن میں اپنی امداد و معاونت کا احسان یاد دلایا۔ بھٹو صاحب مرحوم کو ان کی بھیگی بلی کی صورت پر رحم آ گیا۔ انہوں نے جناب سردار عبدالقیوم خان کو آزاد کشمیر سے بلوایا اور ان سے قرارداد واپس لینے کے متعلق گفتگو کی کہ اس قرارداد کی توثیق نہ کرنا۔ سردار قیوم کے بس سے باہر کی بات تھی۔ کیونکہ وہ اپنی ذات اور کسی کی مشکلات یا مجبوریوں پر عوام کی خواہشات اور عوام کی ترجمان اسمبلی کے وقار کو نظر انداز نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ ۲۵؍مئی ۱۹۷۳ء کو صدر آزاد کشمیر نے عوام کے مسلسل مطالبہ کے سامنے سپر انداز ہوتے ہوئے اس قرارداد کی توثیق کر دی اور جیسا کہ خیال تھا، اس کے ساتھ ہی قرارداد کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش کرنے والے عناصر اور تیز ہو گئے۔ سردار قیوم کے خلاف ان کی سرگرمیوں میں شدت پیدا ہو گئی اور اس میں انہیں مرکزی حکومت کے بعض اعضاء و جوارح کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اس توثیق کے بعد قادیانی گروہ جنون کی حد تک سردار عبدالقیوم کے خلاف ہو گیا۔ اس سے پہلے بھی جب مئی کے اوائل میں سردار عبدالقیوم کوٹلی گئے تو وہاں پر قادیانی ایک ہنگامہ کراچکے تھے۔ قادیانی ہنگاموں اور توڑ پھوڑ کے ذریعہ حکومت اور عوام کو بلیک میل کرنا چاہتے تھے۔ اس شر انگیز مظاہروں کی قیادت قادیانی جماعت آزاد کشمیر کا امیر منظور کر رہا تھا۔ انہوں نے حکومت کو مشتعل کرنے کے لئے فحش حرکات کیں۔ شرابی غنڈے سڑک پر جلوس کے سامنے برہنہ ہو گئے۔ قادیانی منظور، علیم الدین، محمود احمد، نثار احمد شاہ، سلیم ملک، عاشق حسین وغیرہ شامل تھے۔ جلسہ شروع ہوا تو شرابی غنڈوں نے سٹیج پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ جلسہ انتظامیہ کی بھرپور مزاحمت سے پسپا ہوئے تو پتھراؤ اور حملہ شروع کر دیا۔ صدر آزاد کشمیر کے معاون غلام احمد رضا، سردار ابراہیم، صدر مسلم کانفرنس، افتخار بٹ ایڈووکیٹ زخمی ہو گئے۔ قادیانی غنڈوں نے اس کے بعد بازار میں لوٹ مار کی۔ اسلامی جمعیۃ کے دفتر کو آگ لگا دی۔ ایک بس اور ایک کار پھونک ڈالی۔ اس غنڈہ گردی کے لئے قادیانیوں نے غنڈوں میں دس ہزار روپیہ تقسیم کیا۔‘‘

(ہفت روزہ بے باک مظفرآباد، مؤرخہ ۱۹؍مئی ۱۹۷۴ء)

صدر آزاد کشمیر نے بڑے تحمل سے جلسہ سے خطاب کیا اور کہا: ہر چند کہ اقلیت کے حقوق کی نگہداشت ہماری ذمہ داری ہے۔ مگر فسادی یاد رکھیں کہ جو لوگ ہمارے جلسہ پر پتھراؤ کرتے ہیں وہ نہ بھولیں کہ اس قسم کی صورت حال ربوہ میں پیدا ہو سکتی ہے۔ اس لئے ان کو اپنی حدود میں رہنا چاہئے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو خیبر سے کراچی تک مسلمانوں کو قابو میں رکھنا مشکل ہوگا۔

(ایضاً)

اس قسم کے ہتھکنڈوں سے وہ سردار عبدالقیوم کو اپنی کابینہ میں اس قرارداد کی توثیق سے باز رکھنا چاہتے تھے۔ لیکن جب قرارداد کی توثیق ہو گئی تو قادیانی گروہ کے جنون میں اضافہ ہو گیا۔ اس سے قبل وہ خورشید حسن میر اور خان عبدالقیوم خان ایسے وزراء کے ذریعہ پا پڑ بیل

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۸۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چکے تھے۔ خورشید حسن میر اور خان عبدالقیوم وزیر داخلہ کی منافقانہ روش اور سردار عبدالقیوم کے خلاف ان کی انتقامی کارروائی کو سمجھنے کے لئے ذیل کا اقتباس کافی ہوگا۔ ہمیں اس بات کا بھی احساس ہے کہ حکومت نے سردار قیوم کو خوفزدہ کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے اور اس کے لئے جو ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، ان کا اندازہ سردار ابراہیم کے اس انکشاف سے ہوتا ہے کہ: ”پاکستان سے آزاد کشمیر کے تار اور ٹیلی فون رابطے گزشتہ تین روز سے منقطع ہیں اور وزارت امور کشمیر نے حکومت آزاد کشمیر کے تمام افسروں کو عدم تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے۔“

اس کے علاوہ سردار قیوم صاحب کا یہ انکشاف کہ میرا ٹیلی فون کاٹ دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ان کے بھائی سردار عبدالغفار کی راولپنڈی سے بنگالیوں کی مبینہ سمگلنگ کے الزام میں ڈرامائی گرفتاری، مرکز کے عزائم کے بارے میں بہت کچھ کہے دیتی ہے۔ سردار قیوم کا کہنا ہے کہ: ”مجھے دھمکی دی گئی کہ استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں گرفتار کر لیا جائے گا۔ لیکن میں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ چونکہ مجھے پچیس لاکھ انسانوں نے منتخب کیا ہے اور وہی مجھے الگ کر سکتے ہیں۔ ویسے ہی صدر بھٹو کو چار مرتبہ پیشکش کر چکا ہوں کہ اگر ملک کے مفاد کے لئے ضروری ہے تو میں ان کی خواہش پر استعفیٰ دے سکتا ہوں۔ لیکن خان قیوم خان کی خواہش پر استعفیٰ نہیں دے سکتا کہ یہ میرے رائے دہندگان کی عزت، غیرت اور وقار کا سوال ہے۔“

تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ آزاد مسلم کانفرنس کے سربراہ چوہدری نورحسین نے بھی سردار ابراہیم کے اس الزام کی تصدیق کر دی ہے کہ صدر آزاد کشمیر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر وزارت امور کشمیر میں دستخط کرائے گئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آزاد کشمیر کی منتخب حکومت کے خلاف یوسف پچ، خان قیوم خان اور خورشید حسن میر سازش کر رہے ہیں۔ ان تینوں نے مجھے سردار ابراہیم اور مسٹر کے ایچ خورشید کو وزارت امور کشمیر میں بلایا اور کشمیر میں امن وامان کی ”بگڑی ہوئی صورت حال“ کے بہانے کچھ اور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ جب میں نے کہا کہ سردار قیوم کو اپنی مدت پوری کرنے دی جائے، تو خان قیوم نے کہا: ”اگر آپ جمہوریت چاہتے ہیں تو ارکان اسمبلی ہمارے ساتھ تعاون کریں اور سردار قیوم کو ہٹا دیں۔ ورنہ ہم خود ہٹا دیں گے اور سردار قیوم کو برطرف کر کے جیل میں ڈال دیں گے۔“

چوہدری نورحسین نے کہا کہ میں نے اس کے بعد مظفر آباد سے چار میل دور ایک ریسٹ ہاؤس میں سردار قیوم سے صدر منتخب ہونے کے بعد پہلی مرتبہ ملاقات کی۔ سردار قیوم نے کہا: میں یہ قربانی دینے کو تیار ہوں۔ بشرطیکہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی ختم کر دی جائے اور اس اقدام پر عمل، مسلم کانفرنس، آزاد مسلم کانفرنس اور لبریشن لیگ کے سربراہوں کی موجودگی میں صدر بھٹو سے ملاقات کے بعد ہوگا۔ لیکن وزارت امور کشمیر نے اس تجویز کو رد کر دیا۔ پھر طویل مذاکرات کے بعد وزارت امور کشمیر کے دفتر میں ارکان اسمبلی سے اور بعض سے ان کے نمائندوں کی حیثیت سے قرار داد عدم اعتماد پر دستخط کرائے گئے۔ جب کہ میں وہاں سے دستخط کئے بغیر بھاگ آیا۔ سردار ابراہیم نے الزام عائد کیا کہ خان قیوم نے مجھ سے ملاقات میں ایکٹ ۱۹۷۰ء کو جسے آزاد کشمیر کے آئین کی حیثیت حاصل ہے، ہاتھ میں لہراتے ہوئے کہا کہ یہ کاغذ کا ٹکڑا ہے۔ اگر ضروری ہوا تو میں اس ایکٹ کو پھاڑنے کے لئے تیار ہوں۔ وزارت امور کشمیر کے اختیارات ایکٹ ۱۹۷۰ء کے نفاذ کے بعد ختم ہو چکے ہیں۔ وہ چاہتی ہے کہ یہ ایکٹ ختم ہو جائے تاکہ وہاں دوبارہ اپنی آلہ کار حکومت قائم کی جاسکے۔

دریں اثناء آزاد کشمیر کے وزیر قانون مسٹر اقبال بٹ نے انکشاف کیا ہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی کے سپیکر شیخ منظر مسعود کو اغوا کر لیا گیا ہے تاکہ ان پر دباؤ ڈال کر ان سے یہ بیان دلواسکیں کہ آزاد کشمیر کے صدر سردار عبدالقیوم نے انہیں اپنا استعفیٰ دے دیا ہے۔

(چٹان لاہور، مورخہ ۴؍ جون ۱۹۷۳ء)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۹۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ادھر خورشید حسن میر ایسے کمیونسٹ، خان عبدالقیوم خان وزیر داخلہ ایسے منافق اور منظور و ناصر ایسے قادیانی مرتد اس کوشش میں تھے کہ کسی طرح سردار عبدالقیوم کو اس قرارداد کی پاداش میں ایسا سبق سکھا دیا جائے کہ آئندہ ایسی قرارداد قادیانیوں کے خلاف کوئی بھی اسمبلی میں لانے کا تصور بھی نہ کر سکے۔ ادھر سردار عبدالقیوم اور ان کے رفقاء کے حوصلے کا عالم دیکھئے، جو ذیل کے ایک خط میں آپ کو نمایاں نظر آئے گا۔ وہ ایمان پرور خط یہ ہے:

وزیر قانون آزاد کشمیر کا مکتوب

ایسی ہزاروں حکومتیں ہم رسول پاک ﷺ کی ناموس پر قربان کر سکتے ہیں۔ وزیر قانون، بحالیات و تعمیر عامہ آزاد کشمیر کا ایڈیٹر چٹان کے نام خط محترمی و مکرمی مدیر صاحب چٹان

السلام علیکم ! آزاد کشمیر میں مرزائیت کی بندش اور مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کے بارہ میں آپ نے جن جذبات کا اظہار فرمایا ہے اس سے ہماری بڑی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے رسول پاک ﷺ کے صدقے اس حوصلہ افزائی کی جزا دے۔ پاکستان اسلام کی قدریں بحال کرنے اور ان اسلامی قدروں کو زندگی کے ہر شعبہ پر محیط کرنے کی خاطر معرض وجود میں آیا تھا۔ آزاد کشمیر کی موجودہ مسلم کانفرنس کی تشکیل کردہ عوامی حکومت نے ان اسلامی قدروں کو آزاد کشمیر کے چھوٹے سے خطہ میں بحال کرنے کی بھرپور کوشش جاری کر دی ہے۔ اس میں اسلامی قوانین کا نفاذ اور اسلامی نظام کا اجراء شامل ہیں۔ ہم رات دن اس کوشش میں مصروف ہیں کہ رسول پاک ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر اپنی ساری قوم کو ساتھ لے کر چل پڑیں۔ لیکن سر زمین پاک کے بااثر طبقہ کو ہمارے خلاف یہ شکایت ہے کہ: ’’اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں۔‘‘

برادرم محترم ! اس کا علاج یا تدارک آپ ہی کر سکتے ہیں۔ جہاں تک ہمارا معاملہ ہے، یہ موجودہ حکومت کیا، ایسی ہزاروں حکومتیں ہم رسول پاک ﷺ کی ناموس محترم پر ایک ٹھوکر سے قربان کر سکتے ہیں۔ ہماری طرف سے تشفی رکھیں کہ اس مقدس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ہم آخری سانس تک اپنا عمل جاری رکھیں گے۔ امید اور توقع ہے کہ تمام احباب کو میرا مذکورہ بالا پیغام آپ پہنچائیں گے اور عامتہ المسلمین کو بھی آزاد کشمیر کی موجودہ حقیر سی کوشش سے باخبر رکھیں گے۔ والسلام !

آپ کا خیر اندیش: خواجہ محمد اقبال بٹ، وزیر قانون آزاد کشمیر

(چٹان لاہور، مورخہ ۱۵؍ جون ۱۹۷۳ء)

پاکستان میں تمام مسلمانوں کی طرف سے خیر مقدم اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے ملک بھر میں ہونے والی ختم نبوت کانفرنسوں نے سردار عبدالقیوم خان اور ان کے رفقاء کو بڑا سہارا دیا۔ اس موقعہ پر مولانا تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا مفتی محمود ان تینوں حضرات نے باہم مشورہ کے ساتھ اس قادیانی سازش کو ناکام بنانے کے لئے مؤثر کردار ادا کیا۔ شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کو اس طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے فوراً اپنا اجلاس منعقد کیا۔ ان کے جنرل سیکرٹری کی طرف سے اخبارات کو ذیل کا خیر مقدمی بیان جاری ہوا۔

صفحہ ۴۹۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آزاد کشمیر اسمبلی کو رابطہ عالم اسلامی کی مبارک باد

رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کی طرف سے درج ذیل بیان جاری ہوا۔ عالمی اخبارات اور خبر رساں ایجنسیوں نے اس متفقہ قرارداد کی خبر شائع کی ہے۔ جسے کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے پاس کیا ہے اور جس میں قادیانیوں کو (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں ) غیر مسلم قرار دیا ہے۔

”رابطہ عالم اسلامی اس دانشمندانہ فیصلے کی حمایت کرتا ہے۔ جسے آزاد کشمیر کی حکومت نے سردار عبدالقیوم کی سربراہی میں صادر کیا ہے۔ رابطہ عالم اسلامی، صدر آزاد کشمیر اور قانون ساز اسمبلی کے ارکان کو اس تاریخی قرارداد پر مبارک باد پیش کرتا ہے۔ رابطہ، اسلامی ممالک کو دعوت دیتا ہے کہ وہ بھی آگے بڑھیں اور اس قسم کا مبارک قدم اٹھائیں اور اس گمراہ فرقہ کا قلع قمع کریں اور اسے یہ موقع نہ دیں کہ وہ اپنے باطل اور گمراہ کن عقائد کو مسلمانوں کے اندر پھیلا سکیں۔ اللہ ہی توفیق دینے والا ہے اور وہی صحیح راستے کی راہنمائی کرنے والا ہے۔“

سیکرٹری جنرل رابطہ عالم اسلامی مکہ محمد صالح قزاز

اس کے ساتھ ہی رابطہ عالم اسلامی کے ترجمان ہفتہ وار اخبار ”العالم الاسلامی“ مکہ مکرمہ میں جناب صالح قزاز کی طرف سے بیان شائع ہوا۔ جس کا ترجمہ کراچی کے اخبارات نے شائع کیا جو یہ ہے:

کراچی: رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکرٹری محمد صالح القزاز نے دنیا کی تمام اسلامی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ملکوں میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیں اور مسلمان ملکوں میں اس گمراہ فرقے کو اپنا شر پھیلانے کی اجازت نہ دی جائے۔ رابطہ کے ترجمان ”اخبار العالم الاسلامی“ کی ۱۱؍ جون ۱۹۷۳ء کی اشاعت میں رابطہ کے سیکرٹری کا یہ بیان شائع ہوا ہے۔ اس میں حکومت آزاد کشمیر کی اسمبلی نے قادیانیوں کے بارے میں جو قرارداد منظور کی ہے۔ اس کی تعریف کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ قرارداد تمام مسلمان ملکوں کے لئے لائق تقلید ہے اور اس پر صدر آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم اور ان کی پارٹی کے ارکان قابل مبارک باد ہیں۔ ”اخبار العالم الاسلامی“ نے اپنے ادارتی کالم میں آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیانی پاکستان کے اتحاد و سالمیت کو پارہ پارہ کرنے میں برابر کے شریک رہے ہیں۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ پاکستان کا اتحاد اور اس کی سالمیت ان کے عزائم کی تکمیل کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ اس فرقے کے لوگ حکومت پاکستان کی کلیدی آسامیوں پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں اور محکمہ دفاع اور محکمہ خارجہ میں ان کو اہم عہدے حاصل ہیں۔ اس لئے حکومت پاکستان کا خاموش رہنا اتنا ہی خطرناک ہے۔ جتنا کہ ہندوستان کا پاکستان کی سرزمین کو ہڑپ کرنے کا شوق خطرناک ہے۔ اس پس منظر میں حکومت آزاد کشمیر کی یہ قرارداد بے حد اہمیت رکھتی ہے اور نہ صرف پاکستان بلکہ تمام اسلامی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ قادیانیوں کو صاف صاف غیر مسلم اقلیت قرار دیں۔

اسی طرح مکہ مکرمہ کے با اثر روز نامہ ”الندوہ“ نے قادیانیوں کے بارے میں سعودی اور دیگر اسلامی ممالک کے ممتاز اور مقتدر علماء کا ایک مشترکہ بیان شائع کیا۔ جس میں ان علماء نے قادیانیت اور صہیونیت کے درمیان خفیہ رابطہ کا انکشاف کیا اور کہا کہ اس رابطے کی بنیاد پر اسرائیل میں قادیانیوں کا ایک بہت بڑا مرکز کام کر رہا ہے۔ مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ برطانوی استعمار نے مسلمانوں میں اختلاف و افتراق پیدا کرنے کی غرض سے قادیانیت کو جنم دیا تھا۔ اسرائیل کے زیر قبضہ مصری، شامی اور اردنی علاقوں میں بھی قادیانیوں

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۹۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے مراکز قائم ہیں اور وہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے کروڑوں روپے صرف کر رہے ہیں۔ قادیانیوں نے حال ہی میں ایک مرکز افریقہ میں منتقل کیا ہے۔ ان علماء نے اسلامی حکومتوں کے سربراہوں اور جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیں اور اپنے ممالک میں اس گمراہ فرقے کو کام کرنے کی اجازت نہ دیں۔ اس بیان پر نائیجیریا کے الشیخ السید امین کینیتی ، الشیخ حسن مشاط ، الشیخ محمد نور سیف ، الشیخ حسنین المخلوف سابق مفتی مصر، الشیخ ابوبکر جرمی، سعودی عرب کے الشیخ محمد علوی المالکی ، الشیخ اسماعیل زین ، الشیخ محمد ندیم الطرازی اور الشیخ عبداللہ بن سعد شامل ہیں۔

رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکرٹری ، نائیجیریا، مصر، سعودی علماء کے ان بیانات نے حکومت پاکستان کے وجود میں اعضاء شکنی کی کیفیت پیدا کر دی۔ ذوالفقار علی بھٹو بڑے کایاں انسان تھے۔ ان کی دنیا کے بدلتے ہوئے حالات پر نہ صرف نظر تھی بلکہ وہ بدلتے ہوئے تیور دیکھ کر اپنے لئے راستہ تلاش کر لیتے تھے۔ انہوں نے عالم اسلام کی قادیانیت کے متعلق بیداری ، عرب ممالک کی دلچسپی اور پاکستان میں رائے عامہ کا صحیح تجزیہ کیا۔ ۳۰؍ مئی ۱۹۷۴ء کو براہ راست سردار عبد القیوم سے ملاقات کر کے اسی شام پریس کانفرنس کر کے آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد سے پیدا شدہ قادیانی بحران پر قابو پا لیا اور یوں قادیانیوں کا منہ کالا ہوا اور قادیانی سازش اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ اس سلسلہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت نے جو خدمات سرانجام دیں۔ ان کا تذکرہ کئے بغیر یہ باب نہ مکمل ہوگا۔ ان خدمات کی اجمالی رپورٹ یہ ہے۔

مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان ، جلسہ عام

ملتان: مؤرخہ ۴؍ مئی ۱۹۷۴ء بعد نماز عشاء باغ قاسم قلعہ کہنہ پر مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے اسلامیان ملتان کا ایک عظیم الشان جلسہ زیر صدارت قائد جمعیۃ مولانا مفتی محمود ایم. این. اے، سابق وزیر اعلیٰ صوبہ سرحد منعقد ہوا۔ جلسہ میں ختم نبوت کے متعدد علماء کرام نے آزاد کشمیر اسمبلی کے ممبران کو خراج تحسین پیش کیا اور صدر آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم کو پرجوش طور پر مبارک باد پیش کی۔ جن کی پارٹی نے یہ جرات مندانہ ، ایمان افروز اور فیصلہ کن قرارداد منظور کی ہے۔ مولانا عبد الرحیم اشعر، مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی اللہ یار نے مجلس کی طرف سے سردار صاحب موصوف کو ہدیہ تبریک پیش کیا۔ مولانا عبد الرشید صدیقی نے قادیانیوں کی مختصر تاریخ بیان کرتے ہوئے ثابت کیا کہ یہ تحریک انگریزوں نے مسلمانوں کو برباد کرنے کے لئے اٹھائی تھی اور اس نے ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کو برباد کرنے والی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور مسلمانوں کی بربادی پر چراغاں کئے۔

مولانا تاج محمود نے آزاد کشمیر اسمبلی اور صدر آزاد کشمیر کو عوام کی طرف سے مبارک باد پیش کی کہ انہوں نے ملک اور اسلام کی لاج رکھ لی ہے اور ایک ایسی قرارداد منظور کر دی ہے جو پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔ مولانا نے کہا کہ آزاد کشمیر اسمبلی نے یہ فیصلہ پاکستان کے دستور میں مسلمانوں کی جامع اور مانع تعریف کی بنیاد پر کیا ہے۔ میں اس موقعہ پر صدر جلسہ حضرت مولانا مفتی محمود کی خدمت میں بھی مبارک باد پیش کرتا ہوں جن کی مساعی جمیلہ سے دستور میں مسلمان کی تعریف اور بعض دوسری اسلامی دفعات شامل ہوئی ہیں۔ مولانا نے کہا کہ میں مفتی محمود صاحب کے توسط سے حضرت مفتی صاحب کے دوسرے ساتھیوں مولانا شاہ احمد نورانی ، پروفیسر غفور احمد ، مولانا عبد الحکیم ، مولانا غلام غوث ہزاروی اور دوسرے اپوزیشن رہنماؤں کی خدمت میں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ جنہوں نے حضرت مفتی صاحب کا اس مسئلہ میں ساتھ دیا اور یہ دفعات آئین میں شامل ہو گئی ہیں۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۹۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا تاج محمود نے کہا کہ میں بعض لوگوں سے معافی چاہتا ہوا پوری نیشنل اسمبلی اور صدر بھٹو کو بھی ہدیہ تبریک پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ جنہوں نے بالآخر حضرت مفتی صاحب اور دوسرے اپوزیشن رہنماؤں کی ترامیم کو مان لیا اور یہ آئین بن گیا۔ جس کی روشنی میں آزاد کشمیر اسمبلی نے یہ جرات کر دی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ آئین میں مسلمان کی تعریف شامل ہو جانے کے بعد کہ مسلمان وہ ہے جس کا اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان ہو۔ حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی مانے اور یہ یقین سے کہے کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں پیدا ہوگا اور قرآن مجید کو اللہ کی آخری کتاب مانے، کتاب وسنت کی تعلیمات کو سچا جانے ، اس تعریف کے بعد دراصل مرزائی خود بخود غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جاچکے ہیں ۔ اب تو صرف صدر بھٹو کا اعلان کر دینا باقی ہے۔

مولانا نے مرزائیوں کی سیاسی سرگرمیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ سر ظفر اللہ خان نے مرزائیوں کی آبادکاری کرائی اور انہیں اندرون ملک اور بیرون ملک مستحکم کیا ۔ انہیں بے شمار بڑی بڑی نوکریاں دلوائیں۔ ایم ۔ایم احمد نے مرزائیوں کو کروڑوں پتی بنوایا اور پیپلز پارٹی میں تھوڑی سی سیاسی ہوا کھا کر وہ ملک پر قبضہ کے خواب دیکھنے لگے ہیں ۔ حال ہی میں فوجی سازشیں پکڑی گئی ہیں ۔ یہ لوگ موجودہ حکومت کا مبینہ طور پر تختہ الٹنا چاہتے تھے۔ بڑے بڑے مرزائی افسروں نے اپنے امام جماعت احمدیہ کے مشورہ اور اجازت سے اس سازش میں شرکت کی ہے۔ ہم صدر بھٹو کی جماعت میں نہیں اور حضرت مفتی صاحب اور ان کی جماعت کے ساتھ جناب بھٹو نے جو بدسلوکی کی ہے۔ اس کا چرکا اور زخم ہمارے دلوں پر ابھی تازہ ہے۔ صدر بھٹو نے سرحد اور بلوچستان میں جمہوریت کے نام پر جمہوریت کو قتل کروایا ہے اور کئی باتوں میں ہمارا ان سے اختلاف ہے۔ لیکن ان اختلافات اور رنجشوں کے باوجود ہم نہیں چاہتے کہ غیر جمہوری طور پر ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے یا وہ قتل کر دیئے جائیں ۔ جن کوششوں میں مرزائی مصروف نظر آتے ہیں ۔ ہم ساری زندگی عدم تشدد کے قائل رہے ہیں اور تشدد کے حق میں نہیں رہے ہیں ۔ مرزائیوں کی جان مال کی حفاظت اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ان کو شہری حقوق دینا چاہتے ہیں ۔ لیکن میں آج اعلان کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر مرزائیوں نے سازش کر کے کوئی غیر جمہوری انقلاب برپا کرنے کی کوشش کی ۔ میرے قائد مولانا مفتی محمود کی ذات کو ، مجاہد اوّل سردار عبدالقیوم کی ذات کو ، کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی یا صدر بھٹو کو قتل کر کے یا انقلاب بپا کر کے اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو ہم مرزائیوں کا وہ علاج کریں گے ۔ جس علاج کے وہ قابل ہیں ۔ ہم پھر عدم تشدد کے پرستار نہیں رہیں گے۔

ہمارا ملک آدھا ان کی سازشوں کی بدولت ہمارے سامنے ڈوب گیا اور باقی آدھے کو برباد کرنے کی یہ کوشش کرنا چاہتے ہیں ۔ اس آدھے کی بربادی کے بعد تو ہمارے پاس یہ خطہ ہے۔ اس کی بربادی کے بعد ہم کہاں جاسکتے ہیں ۔ ہم اپنے برباد ہونے سے پہلے انہیں برباد کردیں گے۔ آخر میں مولانا نے برسر اقتدار جماعت کو کہا کہ وہ یقین کرے کہ مرزائی ان کے ساتھ نہیں ہیں وہ کسی اور کے ساتھ ہیں اور حکومت کو نقصان پہنچانے میں شریک ہیں ۔ حکومت جاگ جائے ۔ بروقت اقدام کرے اور جو مبارک باد کی تاریں آج سردار عبدالقیوم کو دی جا رہی ہیں۔ وہ خود وصول کرنے کے لئے مرزائیوں کو جرات کے ساتھ غیر مسلم اقلیت قرار دے دے۔

آخر میں صدر جلسہ حضرت مولانا مفتی محمود نے صدارتی خطاب فرمایا اور وہ تمام تفصیلات بتائیں کہ کس طرح صبر آزما طریقہ اور مشکلات سے انہوں نے یہ اسلامی دفعات آئین میں شامل کرائیں۔ حالانکہ حکمران طبقہ انہیں شامل کرنا نہیں چاہتا تھا۔ مفتی صاحب نے آزاد کشمیر اسمبلی کو مبارک باد دی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فوری طور پر اعلان کر دے۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۴۹۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

راولپنڈی کی تمام مساجد میں

اہالیان راولپنڈی کا یہ عظیم الشان اجتماع جمعۃ المبارک آزاد کشمیر اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے پر صدر آزاد کشمیر اور اراکین اسمبلی آزاد کشمیر کو ہدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے مجاہد اوّل سردار عبدالقیوم خان کو مکمل تعاون کا یقین دلاتا ہے۔ یہ اجتماع عظیم، حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھی آزاد کشمیر کی اسمبلی کی تقلید کرتے ہوئے پاکستان میں بھی قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے۔ کیونکہ پاکستان کی سلامتی اس میں مضمر ہے اور یہ اجتماع عظیم ان سازشی عناصر کو خبردار کرنا چاہتا ہے جو اس قرارداد کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں کہ ایسے عناصر کو عوام سختی سے کچل دیں گے۔

صدر آزاد کشمیر کے نام تاریں

آزاد کشمیر اسمبلی کے فیصلے کی خبر اخبارات میں پڑھتے ہی ملک بھر سے بے شمار لوگوں نے فخر ایشیاء مجاہد اوّل سردار عبدالقیوم خان کو بذریعہ تار مبارک باد کے پیغامات ارسال کئے ہیں۔ صدر آزاد کشمیر کے علاوہ آزاد کشمیر سپیکر اسمبلی اور اسمبلی کے ممبران کو بھی تہنیت نامے بھیجے جارہے ہیں۔

لائل پور میں جلسہ تبریک

۴؍مئی ۱۹۷۳ء بعد نماز عشاء کارخانہ بازار لائل پور میں اسلامیان لائل پور کا ایک عظیم الشان جلسہ زیر اہتمام مجلس احرار اسلام لائل پور منعقد ہوا۔ جس میں شہر کی دینی، سیاسی، سماجی اور تجارتی انجمنوں کے نمائندگان نے آزاد کشمیر اسمبلی کو، اس کے مرزائیوں کے غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر مبارک باد پیش کی۔ مولانا عبیداللہ احرار، مولانا محمد اسماعیل، مولانا محمد شریف اشرف، مولانا طفیل محمد ضیاء، ملک رب نواز اور دوسرے مقررین نے صدر آزاد کشمیر جناب سردار عبدالقیوم خان کو بھی زبردست خراج محبت پیش کیا۔ تمام مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت پاکستان مرزائیوں کے عقائد کی روشنی میں انہیں ایک غیر مسلم اقلیت قرار دے۔ عوام میں زبردست جوش وخروش پایا جاتا تھا۔ پنڈال اللہ اکبر، ختم نبوت زندہ باد، مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دو۔ پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجتا رہا۔

صدر مجلس احرار اسلام کا تار

مولانا عبیداللہ احرار صدر مجلس احرار اسلام پاکستان نے سردار عبدالقیوم صدر آزاد کشمیر، میجر محمد ایوب خان، عبدالقیوم خان وزیر داخلہ اور صدر مملکت ذوالفقار علی بھٹو کو تار روانہ کئے ہیں۔ انہیں آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد پر مبارک باد دی ہے اور ان سے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی اپیل کی ہے۔

چنیوٹ میں عظیم الشان جلسہ

۳؍مئی ۱۹۷۳ء منڈی باوا لال چنیوٹ میں اسلامیان چنیوٹ کا ایک آل پارٹیز جلسہ عام منعقد ہوا۔ ایک درجن مقررین نے جلسہ سے خطاب کیا۔ جن میں مولانا خلیل الرحمٰن مبلغ ختم نبوت، ملک رب نواز، جناب زکریا بھٹی، ملک اللہ دتہ، مسٹر محمد ادریس، مولانا محمد یعقوب اور بار ایسوسی ایشن کے نمائندے شامل تھے۔ آخر میں مولانا تاج محمود اور حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی نے خطاب کیا۔ تمام مقررین نے شاندار الفاظ میں مجاہد اوّل سردار عبدالقیوم صدر آزاد کشمیر اور ان کی اسمبلی کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۹۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حکومت پر زور دیا کہ وہ بھی اس فیصلہ کے مطابق پورے پاکستان میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا اعلان کر دے اور انہیں کلیدی آسامیوں سے علیحدہ کر دے۔ اسی طرح ان کی پر اسرار اور خطرناک سیاسی سرگرمیوں کا محاسبہ کیا جائے۔

گوجرانوالہ میں جلسہ

آزادکشمیر اسمبلی کی قرارداد کی خبر پڑھتے ہی گوجرانوالہ کے مسلمانوں نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان جلسہ کا اہتمام کیا۔ شہر کی تمام جماعتوں کے نمائندوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے آزادکشمیر اسمبلی کے ممبران کو پر جوش مبارک باد پیش کی اور مجاہد اوّل سردار عبدالقیوم خان کے لئے پر خلوص دعائیں مانگی گئیں اور انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ جلسہ ایک بجے رات تک جاری رہا۔

پشاور میں قراردادیں

آزادکشمیر اسمبلی نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی جو قرارداد پاس کی، اس قرارداد کی وجہ سے ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور ساری مسلمان قوم کے ایمانوں میں تازگی پیدا ہو گئی ہے۔ اس سلسلہ میں پشاور کے دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ وغیرہ کی طرف سے ایک مشترکہ پوسٹر میں صدر آزادکشمیر اور ارکان اسمبلی کو ہدیہ تبریک پیش کیا گیا۔ گزشتہ جمعہ کے روز پشاور شہر کی جملہ مساجد کے علماء نے مسئلہ ختم نبوت پر روشنی ڈالی اور اپنی تقریروں میں آزادکشمیر کی حالیہ قرارداد پر ان کو ہدیہ تحسین پیش کیا۔ مولانا عبدالقیوم صاحب پوپلزئی، مولانا فضل حسن صاحب، مولانا محمد اشرف قریشی، مولانا فضل الرحمٰن صاحب، مولانا محمد حسین صاحب، مولانا محمد امین صاحب، مولانا فضل احمد صاحب، حافظ عبدالمجید صاحب، مولانا محمد یوسف صاحب قریشی، مولانا مظفر شاہ صاحب، مولانا عبداللہ جان صاحب اور سینکڑوں مساجد میں اسی قسم کی تقریریں ہوئیں۔

اسلام آباد کی مساجد میں قراردادیں

گزشتہ جمعہ میں جمعیۃ الائمہ والمؤذنین اسلام آباد نے اپنی تمام مساجد میں حسب ذیل قرارداد منظور کی ہے۔ ”مسجد کے جمعتہ المبارک کا یہ عظیم الشان اجتماع قادیانیوں کو (مرتد) غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو اور مجاہد اوّل سردار عبدالقیوم صدر آزادکشمیر و اراکین اسمبلی آزادکشمیر کو تہہ دل سے ہدیہ تبریک پیش کرتا ہے۔ آزادکشمیر کی یہ قرارداد مسلمانان پاکستان کے دل کی آواز ہے۔ پاکستان مسلم عوام کے دیرینہ عوامی مطالبہ کا پورا ہونا قائد عوام ذوالفقار علی کی عظیم فتح ہے اور ہم قائد عوام صدر پاکستان اور صدر آزادکشمیر سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس قرارداد کو فوراً قانونی شکل دے کر ملک کے دیگر حصوں میں بھی نافذ کیا جائے۔“

مدیر ”لولاک“ کا تار صدر آزادکشمیر کے نام

مولانا تاج محمود مدیر ”لولاک“ نے مجاہد اوّل سردار عبدالقیوم صدر آزادکشمیر کو مبارک باد کا تار بھیجا ہے۔ تار میں کہا گیا ہے کہ آپ کی سرپرستی میں مرزائیوں کے متعلق جو تاریخی فیصلہ کیا گیا ہے اس سے نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کا ایک متفقہ اور دیرینہ مطالبہ پورا ہوا ہے بلکہ نظریہ پاکستان کے تحفظ کا زندہ جاوید کارنامہ بھی سرانجام پا گیا ہے۔ خدا آپ کا محافظ ہو۔

آزادکشمیر کے صدر گرامی قدر کے نام مدیر ”لولاک“ کا مکتوب

آزادکشمیر اسمبلی نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد پاس کی اور یہ خبر جب اخبارات میں چھپی تو اسلامیان

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۹۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پاکستان کے جذبات میں ایک طوفان سا آ گیا۔ نہ صرف باہمی مبارک بادوں کا سلسلہ شروع ہو گیا بلکہ صدر آزاد کشمیر اور ان کی اسمبلی کے اراکین کے نام مبارک باد کے بے شمار تاروں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا جو ابھی تک جاری ہے۔ مولانا تاج محمود مدیر ”لولاک“ نے صدر محترم کو تار بھی دیا اور ایک مکتوب بھی تحریر کیا۔ اس مکتوب کا متن یہ ہے۔

مخدومی ومکرمی جناب سردار صاحب زید مجدکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ مزاج گرامی

آپ کی اسمبلی نے پاکستان کے دستور کی روشنی میں جو قرارداد منظور کی ہے۔ وہ ایک ایسا عظیم کارنامہ ہو گیا ہے۔ جس نے پوری ملت اسلامیہ کے دل موہ لئے ہیں۔ اس بے مثال اور جرأت مندانہ کارنامے کو جو مقبولیت نصیب ہوئی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ اگر میرے اللہ کو پاکستان بچانا منظور ہے تو وہ یقیناً اپنے مقبول اور مجاہد بندوں کو اس طرح کے عظیم کارنامے سرانجام دینے کی توفیق ارزاں فرمائے گا۔ اس قرارداد کی تکمیل بہت ضروری ہے۔ قبولیت عامہ اور تائید ایزدی یقیناً اس فیصلہ کے شامل حال ہو گی۔ ہم اصالتاً بھی بصورت وفد حاضر ہو رہے ہیں۔ درخواست اور دعا یہی ہے کہ جو عزت وقبولیت اور سعادت اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے مقدر کر دی ہے۔ وہ اب کسی حاسد یا کسی صاحب غرض کی کسی کوشش سے چھینی نہ جاسکے۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔ آپ کا، تاج محمود مدیر ”لولاک“ لائل پور

صدر آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم خان صاحب کا مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے استقبالیہ میں خطاب

۱۵؍جنوری ۱۹۷۴ء مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیو ملتان کے دارالحدیث میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے ایک استقبالیہ سردار عبدالقیوم خان صاحب صدر آزاد کشمیر کے لئے ترتیب دیا گیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے جملہ اراکین، علماء، طلباء اور معززین جماعت نے شرکت فرمائی۔ سردار میر عالم خان صاحب لغاری مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مقامی امیر نے مجلس کی طرف سے سپاسنامہ پیش فرماتے ہوئے صدر آزاد کشمیر کی آزاد کشمیر میں اسلامی خدمات کو سراہا۔ بالخصوص مسئلہ قادیانیت جو مدت دراز سے مسلمانوں کے قلوب کی آواز تھی، شرعی نقطۂ نگاہ سے حل کرنے پر مبارک باد دی۔ سپاسنامہ کا جواب دیتے ہوئے سردار عبدالقیوم خان صاحب نے جواباً فرمایا کہ آزاد کشمیر کی حکومت نے اسمبلی کی قرارداد کو منظور فرما کر آخری شکل دے دی ہے۔ اب وہاں جملہ قادیانی قانوناً ایک غیر مسلم گروہ کی حیثیت سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ صدر آزاد کشمیر نے پرجوش انداز میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ عقیدۂ ختم نبوت وہ مرکزی نقطہ ہے جس کے بغیر میری وہ آرزوئیں اور تمنائیں شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتی تھیں جو میں اپنی حکومت میں اسلامی نقطۂ نگاہ سے کرنا چاہتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میرے متعدد ارادوں کے بغیر، سب سے پہلے رب کریم نے ہم سے یہ کام کروایا۔ آپ نے اس مرکزی عقیدہ کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کی اپیل کی۔ آخر میں یہ اجلاس دعا پر ختم ہوا۔ اس اجلاس کی کامیابی کے لئے اور سردار عبدالقیوم خان صاحب کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے استقبالیہ میں شرکت کرنے کے لئے مولانا محمد شریف احرار مرکزی مبلغ تحفظ ختم نبوت کی کوشش بے حد اہمیت کی حامل ہے۔

مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا آزاد کشمیر اسمبلی کا عظیم اسلامی کارنامہ ہے

چکوال: خدام اہل سنت والجماعت چکوال کا ایک خصوصی اجلاس زیر صدارت حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب امیر خدام اہل سنت والجماعت صوبہ پنجاب منعقد ہوا۔ جس میں آزاد کشمیر اسمبلی کے حالیہ شرعی فیصلوں کی روشنی میں حسب ذیل قراردادیں منظور کیں۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۹۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جناب سردار عبدالقیوم خان کو مبارک باد پیش کرتا ہے۔ صدر موصوف کی قیادت میں مسئلہ ختم نبوت کی بنیاد پر آزاد کشمیر اسمبلی کا یہ ایک ایسا مجاہدانہ تاریخی فیصلہ ہے جس کا تعلق نبی کریم، رحمت للعالمین، خاتم النبیین، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مقدسہ سے ہے اور ان کا یہ عظیم اسلامی کارنامہ ان شاء اللہ موجودہ دور کی تاریخ میں زندہ و تابندہ رہے گا اور دوسرے مسلم ممالک کے لئے بھی قابل تقلید ثابت ہوگا۔ جنہوں نے ابھی تک مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں کو غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیا ہے۔

قانوناً ممنوع اور ناقابل ضمانت جرم قرار دیا ہے اور شراب پینے والوں کے لئے شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ کے تحت کوڑوں کی سزا تجویز کی ہے۔

صدیق، حضرت عمر، حضرت عثمان ذوالنورین اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم اور تمام اصحاب رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ کی اسلامی عظمت کو بھی قانونی تحفظ دیا جائے جو سرور کائنات ﷺ کے منصب ختم نبوت کے اولین محافظ ہیں اور جنہوں نے مسیلمہ کذاب وغیرہ کی جھوٹی نبوتوں کا استیصال کر کے عالم اسلامی میں پرچم ختم نبوت بلند کیا تھا۔ اب جمیع صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم، ازواج مطہرات اور اولاد رسول اللہ ﷺ کی تنقیص وتوہین کو بھی ناقابل ضمانت جرم قرار دے کر مجرم کو سزا دی جائے۔

غیر مسلم اقلیت قرار دے اور ملک وملت کو قادیانیوں کی اس جھوٹی نبوت کے فتنے سے بچانے کی کوشش کرے۔

وما علینا الا البلاغ

خدام اہل السنّت والجماعت چکوال، ضلع جہلم

پاکستان عزیز ہے، مرزائی نہیں

”اس وقت پاکستان میں کم وبیش ۸۰ فیصد لوگ سنی العقیدہ ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ (فداہ ابی وامی) نبی آخر الزمان ہیں۔ لیکن ان کے برعکس مرزائی امت جو عقیدہ رکھتی ہے، اسے دنیا بھر کے مسلمان جانتے ہیں۔ پاکستان میں جب بھی کسی سنی نے مرزائیت کے بارے میں کچھ لکھا یا کوئی بات کی تو اس کے خلاف ملک کے سب سے بڑے قانون ڈیفنس آف پاکستان رولز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ حالانکہ حکومت جانتی ہے کہ مرزائی کیا کر رہے ہیں اور کیا چاہتے ہیں؟ دوسری طرف اگر سنی العقیدہ لوگوں کے خلاف مرزائی کچھ بھی کہتے پھریں یا لکھیں، ان پر نہ جانے کیوں تعزیر واجب نہیں ہوتی۔ کیا اس لئے کہ بڑے بڑے مرزائی افسر اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں؟ یا ان کی رسائی اونچے ایوانوں تک ہے۔ مرزائیوں نے اپنے رسائل میں مسلمانوں کے خلاف جو بیہودہ زبان استعمال کی ہے، شاید کسی بدطینت انگریز نے بھی اتنی گندی زبان استعمال نہیں کی ہوگی۔ پھر ان کے لئے ڈیفنس آف پاکستان رولز یا تحفظ امن عامہ آرڈیننس کسی نے بنتے نہیں دیکھا۔ ہم اپنی حکومت سے پوچھتے ہیں کہ مرزائی مسلمانوں کو ”جنگل کے سور“ اور ”عورتیں کتیوں سے بدتر“ کہتے پھریں، مرزائی حضرت سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی دختر نیک اختر اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی زوجہ مطہرہ کے بارے میں لکھیں کہ انہوں نے بیداری کی حالت میں آکر مرزا غلام احمد قادیانی کی ران پر سر رکھ دیا۔ نعوذ باللہ من ذالک ! ہم اپنی حکومت سے گزارش کریں گے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۹۸

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کہ اگر وہ عوام کی بالا دستی تسلیم کرتی ہے تو اسے عوام کے پرزور مطالبہ پر مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا چاہئے۔ ہمیں پاکستان عزیز ہے۔ پاکستان کے لئے ہمیں اگر اپنے خون کا آخری قطرہ بھی دینا پڑا تو ہم دریغ نہیں کریں گے۔ ملک کی فوج ہمارے لئے قابل احترام ہے۔ لیکن ہم مرزائیوں کا تسلط (کہیں بھی) برداشت نہیں کریں گے۔ خدا شاہد ہے کہ یہ لوگ پاکستان کے خیر خواہ نہیں۔ ”ایک رویا کی تعبیر“ اور ربوہ میں بڑے مرزائیوں کے قبرستان میں لگے ہوئے ”کتبے“ بھی اگر حکومت کو ہوا کا رخ نہیں بتا سکتے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔“

(سفر، مورخہ ۸؍ جون ۱۹۷۳ء)

ہفت روزہ چٹان نے لکھا: ”حقیقت یہ ہے کہ اس خبر سے سارے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے کہ ۲۹؍ اپریل ۱۹۷۳ء کو آزاد کشمیر اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد پاس کی ہے جس کی رو سے قادیانی امت کو اسلام سے خارج قرار دیتے ہوئے ایک غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور اس پر تبلیغ عقائد کی پابندی لگا دی ہے۔“

نیشنل اسمبلی کا فرض تھا

اصلاً پاکستان کی نیشنل اسمبلی کو لازم تھا کہ وہ قادیانی امت کا محاسبہ کرتی اور انہیں مسلمانوں سے الگ اقلیت قرار دیتی۔ لیکن قیام پاکستان سے لے کر آج دن تک جتنی حکومتیں قائم ہوئیں کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ وہ سب سے بڑی اسلامی سلطنت کی حکمران ہو کر اس فرض کو پورا کرتی۔ خدا نے مدۃ العمر کے بعد یہ توفیق بخشی تو آزاد کشمیر کی اسمبلی کے ارکان کو ...... ادھر ہم اس فرض کو بجا لانے سے قاصر رہے۔

مرزائیوں کی چالاکی

مرزائیوں کی چالاکی یہ ہے کہ جب بھی ان سے متعلق جمہور المسلمین سے محاسبہ کی آواز اٹھتی ہے، وہ نہ صرف ان کو لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ بنا دیتے ہیں۔ بلکہ دنیا بھر کو یہ تاثر دینے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں کہ پاکستان کی اکثریت ان کی مٹھی بھر اقلیت کو جینے کا حق نہیں دیتی اور ان کی جان و آبرو کے درپے ہے۔ حالانکہ یہ دونوں صورتیں غلط ہیں۔ مسلمان نہ تو مرزائیوں کی جان کے دشمن ہیں، نہ آبرو کے اور نہ ان کا مسئلہ پاکستان کا لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے۔ سوال عقائد کا ہے۔ مرزائی ایک نئی امت ہیں۔ ان کی عیاری یہ ہے کہ وہ محمد عربی ﷺ کی امت میں نقب لگا کر بقول علامہ اقبال اپنی امت پیدا کرتے اور اس طرح ایک مجرمانہ حرکت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کا مطالبہ یہ ہے کہ مرزائی جب اپنے عقائد کی رو سے، نہ تو مذہبی طور پر اور نہ معاشرتی طور پر مسلمانوں میں شامل ہیں تو پھر وہ سیاسی طور پر مسلمانوں میں رہنے پر مصر کیوں ہیں؟ کیا اس لئے کہ اس طرح وہ جمہور المسلمین کے حقوق ہتھیاتے اور ان کے مناصب پر قبضہ کرتے ہیں۔

مطالبہ ان کا اپنا ہے

قادیانی کتب میں یہ بات موجود ہے کہ جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نہیں مانتا وہ فاحشہ عورتوں کی اولاد ہے اور کتیا کی ذریت ہے۔ اب اگر مسلمانوں کو اتنی بڑی گالی دے کر کافر کہنے والی جماعت کو، مسلمانوں کا سواد اعظم، اپنی جماعت سے الگ اقلیت قرار دیتا ہے تو وہ گویا انہی کی بات پوری کرتا ہے کہ تم ہم میں سے نہیں اور ہم تم میں سے نہیں۔ اگر مرزا غلام احمد قادیانی کی ذریت، انہیں تسلیم نہ کرنے پر مسلمانوں کو کافر کہہ سکتی ہے اور یہ اعلان مرزا غلام احمد قادیانی و مرزا محمود احمد کی کتابوں میں موجود ہے تو مسلمانوں سے یہ خواہش کیوں کی جائے کہ وہ انہیں سینہ سے لگا کر رکھیں اور مسلمان قرار دیں؟

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۴۹۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مطالبہ واضح ہے

مطالبہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ مرزائیت ہر قسم کے آئینی تحفظات لے کر پاکستان میں رہ سکتی ہے۔ لیکن بطور اقلیت، نہ کہ مسلمانوں کا لیبل لگا کر ان کے معاشی و سیاسی حقوق پر قبضہ کے لئے۔ اس کے علاوہ ہماری ان سے کوئی لڑائی نہیں۔ وہ بہائی مذہب کی طرح الگ کیوں نہیں ہو جاتے؟ کیا وہ سکھوں کی طرح اس انتظار میں ہیں کہ ایک مضبوط اقلیت ہو کر اسی طرح احمدی صوبہ کا مطالبہ کریں۔ جس طرح سکھوں نے بھارتی پنجاب میں سکھ صوبہ تسلیم کرایا؟ لیکن مرزائیوں کا مطمع نظر اس سے مختلف ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کی تبلیغی چشمے کا پانی خشک ہو چکا ہے اور اب کسی مسلمان کا مرزائی ہونا محال ہے۔ وہ پاکستان کے سیاسی حالات سے فائدہ اٹھا کر مستقبل کے پنجاب میں احمدی+سکھ حکومت کا خواب دیکھ رہے ہیں اور قادیان لوٹنے کے متمنی ہیں۔ (اس کے مضمرات پر ان شاء اللہ آئندہ قلم اٹھایا جائے گا۔ راقم)

مستحسن و مبارک فیصلہ

آزاد کشمیر اسمبلی کا فیصلہ، دراصل پاکستان کے ضمیر کی آواز ہے۔ فیصلہ غلط ہوتا تو اب تک مرزائی نواز عناصر شور و غل کر رہے ہوتے، لیکن دانشوروں کی وہ کھیپ جو دین سے نابلد ہے یا باغی۔ صرف اس لئے منقار زیر پر ہے کہ اس بارے میں، سواد اعظم کے عقیدہ و مزاج کی توانائی سے واقف ہے۔ سرکاری اخبار یہی کر سکتے تھے کہ اس فیصلہ کو چھپا کے چھاپتے ٹیلی ویژن اور ریڈیو خبر نہ دیتے۔ یہی ہوا لیکن اس سے عوام کی آواز پر خط تنسیخ نہیں کھینچا جاسکتا۔ عوام سے شاید کئی غلط فیصلے منوائے جاسکتے ہیں، لیکن کوئی لیڈر، کوئی جماعت، کوئی حکومت یہ نہیں منوا سکتی کہ مرزائی مسلمان ہیں یا آزاد کشمیر کے ارکان اسمبلی نے غلط قرارداد پاس کی ہے۔

معیار عوام ہیں تو اس کی وجوہ ہیں کہ ملک کی عنان اختیار عموماً ان ہاتھوں میں رہی ہے جو اس مسئلہ میں نابلد رہے۔ جب اس دور میں ہر چیز کو عوام سے منسوب کیا جاتا ہے اور جو عوام کہیں گے اس کو مانا جائے گا، کی نوید سنائی جاتی ہے تو پھر پیپلز پارٹی کو بھی عوام سے پوچھ لینا چاہئے کہ وہ مرزائیوں کو اسلام میں شامل سمجھتے ہیں یا نہیں؟ یہی مشورہ اپوزیشن کے لئے ہے کہ وہ مرزائیوں کے خطرے کو معمولی نہ سمجھے۔ یہ ایک سرطان ہے جو قومی آزادی کے لئے جاں گسل ہے۔ علامہ اقبال نے اسی خطرے کو محسوس کرتے ہوئے جواہر لال نہرو کو لکھا تھا کہ: ’’قادیانی، اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔‘‘

علامہ اقبال کے فرمودات

مرزائیوں نے اپنے خلاف مزاحمتی تحریک کو احرار کے سر مڑھ کر ہمیشہ سرکاری قلعہ میں پناہ لی ہے۔ جب تک انگریز تھے احرار کے خلاف قادیانی امت کا الزام تھا کہ وہ حکومت انگلشیہ کے باغی ہیں۔ انگریز چلے گئے تو قادیانی امت کا الزام ہے کہ احرار تحریک پاکستان کے خلاف تھے۔ بلاشبہ احرار نے قادیانی امت کے تبلیغی دروازے ہمیشہ کے لئے بند کر ڈالے۔ لیکن مسلمانوں میں ان کے خلاف جو تحریک یا تخیل موجود ہے، وہ اسلام کا پیدا کیا ہوا ہے اور ہر وہ شخص جو ختم نبوت کے مضمرات سے آگاہ ہے، قادیانی نبوت کا محاسب ہے۔ علامہ اقبال احراری نہیں تھے، پاکستان کا تصور ان سے منسوب ہے۔ پروفیسر آربری کے نزدیک اقبال کو پاکستان سے نکال دیا جائے تو فہم و فراست کے اعتبار سے پاکستان صحرا ہو جاتا ہے۔ حیرت ہے کہ علامہ اقبال کے افکار و نظریات کا حوالہ دینے والے قادیانی امت سے متعلق ان کے آخری نظریات کا ذکر کیوں نہیں کرتے؟ جن لوگوں کو اقبال کے ہاں کسی ایک لفظ یا بیان میں اسلامی سوشلزم کا لفظ مل جائے تو اس کو پورا پاکستان بنائے پھرتے ہیں اور جو آج تک علامہ اقبال کی معذرت کے باوجود مولانا حسین احمد مدنی سے متعلق دیوبند حسین احمد ایں چہ بوالعجبی

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۰۰

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

امت کو طرۂ گفتار سمجھتے ہیں۔ علامہ اقبال کے ان خیالات کا ذکر نہیں کرتے جو قادیانی امت سے متعلق روح اسلام کے مطالبہ کی حیثیت رکھتے اور اپنے دور کی سب سے بڑی دینی سچائی کا طرۂ عنوان ہیں۔

بنیادی سوال

علامہ فرماتے ہیں:

لئے کیوں مضطرب ہیں؟

مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے۔

نظر انداز کرنا مشکل کہ ان کا اجتماعی وجود اس کے باعث خطرہ میں ہے۔

(بجواب نہرو)

آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد پر مرزا ناصر کی حواس باختگی ملاحظہ ہو: ”مرزائیوں کے خلاف فتنہ کھڑا کیا گیا تو پاکستان قائم نہیں رہے گا“ مرزا ناصر کی دھمکی: ہنگامہ بڑھ گیا تو گیدڑ بھبکیاں دینے والے خسارے میں رہیں گے۔ احمدیوں نے اپنی افرادی طاقت سے پیپلز پارٹی کو کامیاب بنایا۔

شیر کی دھاڑ سے بزدل جانور کانپ اٹھیں گے، ربوہ میں مرزائیوں کے خلیفہ مرزا ناصر کا خطبہ ”تم (مسلمان) لومڑی کا لبادہ اوڑھ کر اور گیدڑ کی کھال پہن کر چیختے اور چنگھاڑتے ہو اور ہمیں (احمدیوں کو) خدا نے شیر کا رعب دیا ہے۔“

مرزا ناصر احمد

ملتان: مورخہ ۷؍مئی (سٹاف رپورٹر) ربوہ سے شائع ہونے والے احمدیوں کے روزنامہ ”الفضل“ نے اپنے خلیفہ مرزا ناصر کے اس خطبہ کو شائع کیا ہے جو انہوں نے ربوہ میں چار مئی کو دیا تھا۔ خلیفہ نے آزاد کشمیر اسمبلی میں پاس کی گئی اس قرارداد پر تنقید کی ہے۔ جس میں مرزائیوں کو کافر قرار دینے کی سفارش کی گئی تھی۔ خطبہ میں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اگر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے کر یہاں اقلیت کے طور پر نام رجسٹرڈ کرانے کے لئے کہا جائے تو کوئی احمدی اپنا نام رجسٹر نہ کرائے۔ وہ خود کو غیر مسلم نہیں سمجھتے۔ الفضل کے مطابق خطبہ میں کہا گیا ہے: ”اگر کسی وقت ملک دشمن عناصر نے اس حلف نامہ کو وجہ فساد بنا کر ملک میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کی تو اس وقت دنیا کو پتہ لگ جائے گا کہ حقیقت کیا ہے اور شنید کیا ہے؟ اس دن تمہارے بڑے اور تمہارے چھوٹے بھی، تمہارے مرد بھی اور تمہاری عورتیں بھی یہ مشاہدہ کریں گے کہ تمہارے دل میں اس دنیا کی زندگی اور عیش سے جو محبت ہے، اس سے کہیں زیادہ ہمیں خدا کی راہ میں جان دینے سے محبت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں کچھ لوگ اس بات کا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ صدر اور وزیر اعلیٰ کے حلف کے الفاظ یہ بتاتے ہیں کہ احمدی مسلمان نہیں، لیکن جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ اس لئے اب میاں طفیل محمد نے پریس کانفرنس میں یہ اعلان کر دیا ہے کہ آزاد کشمیر

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۰۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

والوں نے بڑا معرکہ مارا ہے۔ پاکستان کی حکومت کو بھی یہ قانون پاس کرنا چاہئے کہ احمدی غیر مسلم اقلیت ہیں۔ مگر تم کہہ رہے تھے کہ حلف کے الفاظ نے ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ اب کہتے ہیں کہ نہیں قانون پاس کرو۔ تمہارا یہ مطالبہ کرنا بتاتا ہے کہ تم جب یہ کہتے تھے کہ حلف کے الفاظ سے احمدی غیر مسلم اقلیت بنتے ہیں تو تم جھوٹ بول رہے تھے۔ کل تو تم یہ کہتے تھے، آج یہ کہہ رہے ہو۔‘‘

مرزا ناصر نے اپنے خطبہ میں احمدیت کے خلاف تحریک چلانے والے افراد سے مخاطب ہو کر کہا ہے: ”تم لومڑی کا لبادہ اوڑھ کر اور گیدڑ کا لباس پہن کر باہر نکلتے ہو اور چیختے اور چنگھاڑتے ہو اور سمجھتے ہو کہ ہم تم سے مرعوب ہو جائیں گے۔ مگر ہمیں تو خدا تعالیٰ نے شیر کی جرأت عطاء کی ہے۔ ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے شیر کے رعب سے زیادہ رعب عطاء فرمایا ہے۔ شیر کی دھاڑ سے میلوں تک بزدل جانور کانپ اٹھتے ہیں۔ ہم بھلا تم سے ڈریں گے؟ ہم تو ساری دنیا سے نہیں ڈرتے۔ جب انگریز سمجھتا تھا کہ اس کی دولت مشترکہ پر سورج غروب نہیں ہوتا، اس وقت اس نے احرار کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا، اس وقت بھی ہم یہاں ڈرے نہ ہمیں کوئی نقصان پہنچا۔‘‘

جماعت احمدیہ کی تعداد کے بارے میں انہوں نے بتایا: ”الیکشن کے دنوں میں ہمارے مخالفین کا اپنا انداز یہ تھا کہ اکیس لاکھ احمدی نوجوان پیپلز پارٹی کی خدمت کرتے رہے۔ اگرچہ یہ مبالغہ ہے۔ تاہم اکیس لاکھ بالغ احمدی ہیں اور نوجوان اس سے بھی کم ہیں اور ان میں سے بھی دو چند رضا کارانہ طور پر کام کرنے کی فرصت ملی اور پیپلز پارٹی کے حق میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اسمبلی میں صدر یا وزیر اعظم کی حیثیت میں اٹھائے جانے والے حلف کے الفاظوں پر رائے زنی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احمدی آنحضرت ﷺ کے بعد نہ کسی نئے نبی کے قائل ہیں اور نہ کسی پرانے نبی کے۔ حلف میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ کوئی پرانا نبی نہیں آ سکتا۔ میں نے اس حلف کے الفاظ پڑھے ہیں اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ احمدی کے راستے میں اس حلف کے اٹھانے میں کوئی روک نہیں۔‘‘

(ندائے ملتان مورخہ ۱۷؍مئی ۱۹۷۴ء)

صرف مرزا ناصر نہیں بلکہ پورے ملک کے مرزائی زیر آتش پا تھے

ڈیرہ غازی خان (وقائع نگار خصوصی) متحدہ جمہوری محاذ، جماعت اسلامی، جمعیۃ علماء پاکستان، جمعیۃ علماء اسلام، تحفظ ختم نبوت اور مجلس احرار اسلام نے ضلع ڈیرہ غازی خان کے دو مرزائی وکلاء کے بیان کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہی حلقوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ بھی کیا ہے کہ حکومت کو مرزائیوں کی سرگرمیوں پر گہری نظر ثانی رکھنی چاہئے۔ واضح رہے کہ ضلع ڈیرہ غازی خان کے دو مرزائی وکلاء کا بیان روزنامہ ”جمہور“ لاہور کی ۳؍ جون ۱۹۷۴ء کی اشاعت میں شائع ہوا ہے۔ جس میں ایک مرزائی وکیل نے کہا کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کی قراردادیں منظور کرنے والوں کو جلد ہی نتائج کا علم ہو جائے گا۔ ایک دوسرے مرزائی وکیل جو ڈیرہ غازی خان بار ایسوسی ایشن کے رکن ہیں اور عوام کا تاثر ہے کہ وہ راجن پور میں مرزائیت کی تبلیغ کرتے ہیں، کے بارے میں اخبار نے لکھا ہے کہ اس نے کہا کہ ۳۵ مرزائی، مرکزی و صوبائی سیکرٹری کے عہدوں پر فائز ہیں اور صدر بھٹو کو برسر اقتدار بھی مرزائی لائے ہیں۔ اخبار نے لکھا ہے کہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ چند دن میں برسر اقتدار آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب آزاد کشمیر اسمبلی نے قرارداد منظور کی تو ہماری خواہش پر ملک کے بیشتر حصوں میں دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ کر دیا گیا۔

تادم تحریر مرزائیوں کی طرف سے اس کی تردید موصول نہیں ہوئی۔ ڈیرہ غازی خان میں تحفظ ختم نبوت کے مبلغ صوفی اللہ وسایا نے مرزائی وکلاء کے ان بیانات کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ مرزائی کچھ بھی کہتے پھریں، ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی اور اگر ہم مرزائیوں کے بارے میں حقائق بھی بیان کریں تو تعزیر واجب ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں بھی مرزائیوں کو

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۰۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ان کو فوج اور دوسری کلیدی آسامیوں پر تعینات نہ کیا جائے تاکہ یہ کسی قسم کی سازش نہ کر سکیں۔

(ساحل، ۷؍جون ۱۹۷۳ء)

قومی اسمبلی میں ایک قرارداد بھجوائی گئی جس کا یہ حشر ہوا

قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے خلاف قرارداد مسترد

ایک خبر کے مطابق شیخ الحدیث مولانا عبدالحق اور مولانا عبدالحکیم ممبران قومی اسمبلی نے، اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی قرارداد پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نیشنل اسمبلی کے سیکرٹری کے نام حسب ذیل قرارداد شامل کرنے کا تحریری نوٹس بھیجا تھا۔

’’اس اسمبلی کی رائے ہے کہ پاکستان میں مرزائی جماعت اور اس کے تمام افراد (قادیانی اور لاہوری ہر دو جماعتوں) کو قرآن وسنت اور اجماع امت کے متفقہ فیصلہ کی بناء پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ ان کی تمام تبلیغی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے اور انہیں تمام شعبوں میں اپنا علیحدہ تشخص قائم کرنے کی اجازت دی جائے۔ یہ اسمبلی آزادکشمیر اسمبلی کی قرارداد کی تحسین اور تائید کرتی ہے۔ جس میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور ان کی رجسٹریشن کرانے پر زور دیا گیا ہے۔ نیز آئندہ کے لئے حضور نبی کریم ﷺ کے بعد کسی قسم کا دعویٰ نبوت کرنے یا ایسے کسی مدعی کی پیروی کرنے والوں کے ساتھ مرتد کا سلوک کیا جائے۔‘‘

قومی اسمبلی کے سپیکر کی طرف سے ڈپٹی سیکرٹری نے ۲۴؍مئی ۱۹۷۳ء کو تحریری جواب میں یہ کہتے ہوئے اس نوٹس کو مسترد کر دیا کہ ایسی کوئی قرارداد اسمبلی کے قواعد اور طریق کار پر پوری نہیں اترتی۔ اس لئے اسے زیر بحث نہیں لایا جاسکتا۔ اس خبر کی اشاعت ہی کافی ہے۔ قارئین خود ہی اندازہ فرمائیں کہ قادیانیوں کا اثر ونفوذ کس قدر ہے۔

قادیانی فوجی بغاوت

گزشتہ سے پیوستہ ہفتہ ہم نے لولاک میں یہ خبر شائع کی تھی کہ پاکستان کے مستقل دستور میں مسلمان کی تعریف اور آزادکشمیر اسمبلی میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد سے مرزائی سخت برہم ہیں۔ انہوں نے ۲۷؍مئی ۱۹۷۳ء کو ربوہ میں اپنی مجلس شوریٰ کا ایمرجنسی اور ارجنٹ اجلاس بلایا اور اس میں خوفناک فیصلے کئے۔ جن میں اپنی فوجی اور نیم فوجی تنظیموں کی وساطت سے ملک کی اہم شخصیتوں کو قتل کرنا اور ملک میں وسیع پیمانہ پر گڑبڑ پھیلا کر اقتدار پر قبضہ کر لینا شامل ہے۔ مرزائیوں نے اس اجلاس میں بھٹو کی حکومت کے خلاف یہ فیصلے اس لئے کئے ہیں کہ صدر بھٹو، ان کی توقعات پوری نہیں کر سکے۔ مرزائی اور کمیونسٹ دونوں بھٹو صاحب کے ساتھ اس یقین کے ساتھ آئے تھے کہ وہ ملک کو ایک سیکولر آئین دیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ چنانچہ اب ان دونوں گروہوں نے ایئر مارشل اصغر خاں سے تعاون کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایئر مارشل صاحب نے ایک بیان میں فرما دیا ہے کہ اگر میں برسراقتدار آیا تو پاکستان کے مجوزہ آئین کو منسوخ کردوں گا۔ یہی کچھ اس وقت مرزائی اور کمیونسٹ چاہتے ہیں۔ چنانچہ ملک کے مشہور قانون دان میاں محمود علی قصوری اور ان کے گروپ کے ایئر مارشل کے ساتھ شمولیت اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ اگر وزیر آباد کے ریلوے اسٹیشن پر بم کارگر ہو جاتا تو اپوزیشن کے کئی لیڈر اس وقت قتل ہو چکے ہوتے۔ نام پیپلز پارٹی کا بدنام ہوتا۔ لیکن اندرونی طور پر یہ کام مرزائیوں کے فوجی جوانوں کا ہوتا۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۰۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گزشتہ ہفتہ مولانا عبدالحکیم صاحب ایم.این.اے نے قومی اسمبلی میں ایک تحریک التواء پیش کرتے ہوئے مرزائیوں کی پرائیویٹ فوج فرقان فورس کی طرف ایوان کی توجہ مبذول کرائی۔ مولانا کی فرقان فورس کے متعلق معلومات بالکل درست تھیں۔ لیکن وزیر داخلہ (خان عبدالقیوم خان) جو آزاد کشمیر کے بحران میں بھی مرزائیوں کا کھل کر ساتھ دے چکے ہیں اور مبینہ طور پر مرزائیوں کے انقلاب کی صورت میں ایئر مارشل اصغر خان کے علاوہ وہ بھی سربراہ مملکت کے عہدہ کے امیدوار بتائے جاتے ہیں۔

انہوں نے فرقان فورس کی اطلاع کو غلط قرار دیا اور کہا کہ میں نے حکومت پنجاب کے چیف سیکرٹری سے دریافت کیا ہے اور انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ ربوہ میں ایسی کوئی تنظیم نہیں۔ ہم وزیر داخلہ کے اس غلط بیان کو چیلنج کرتے ہیں اور دلائل اور حوالہ جات سے ثابت کرتے ہیں کہ فرقان فورس اب بھی موجود ہے اور وہ خالص مرزائیوں کی ایک مسلح فوجی تنظیم ہے۔ لیکن وہ پیپلز گارڈ یا خاکسار جیوش کی طرح نہیں بلکہ ایک انتہائی منظم مسلح اور ایک انتہائی خفیہ تنظیم ہے۔ یہ بات ہر پاکستانی کو ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ مرزائی جماعت صہیونی تحریک کی بنیادوں پر ایک خوفناک منظم جماعت ہے۔ اس تنظیم کی متعدد شاخیں ہیں۔ ہر مرزائی، جماعت احمدیہ کا ممبر ہے اور اپنی آمدنی کا کم از کم دسواں حصہ جماعت کو چندہ دیتا ہے۔ پھر ۱۵ سال تک کے بچے اطفال الاحمدیہ تنظیم کے ممبر ہیں۔ اس کے چندے اور نظام الگ ہیں۔ پھر ۱۶ سال سے ۴۰ سال تک کے مرزائی خدام الاحمدیہ کے ممبر ہوتے ہیں اور ۴۰ سال سے زائد عمر کے مرزائی انصار الاحمدیہ کے ممبر ہیں۔ عورتوں کی تنظیم لجنہ اماء اللہ ہے۔ ہر احمدی عورت اس کی ممبر ہے۔ اسی طرح ایک تنظیم فرقان فورس ہے۔

یہ سب فرقان فورس کے ممبر ہیں۔ خدام الاحمدیہ کے ممبران کو بھی کئی قسم کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ وہ جلسوں کا انتظام، پہرہ، رضاکارانہ ڈیوٹیاں ادا کرتے ہیں۔ لیکن فرقان فورس ایک خالص فوجی تنظیم ہے جو کسی خاص وقت اور خاص مشن کے لئے تیار کی گئی ہے۔ ہم حکومت، قومی اسمبلی اور پوری قوم کی اطلاع کے لئے مصدقہ حوالوں سے فرقان فورس کے وجود کو ثابت کر رہے ہیں اور مرزائیوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ ثابت کریں کہ انہوں نے اس تنظیم کو کبھی توڑا ہے یا حکومت پاکستان سے حاصل کیا ہوا اسلحہ واپس کیا ہے؟

(۱) فرقان فورس کی تشکیل

جب کشمیر میں جنگ آزادی شروع ہوئی اور کشمیری مجاہدوں نے ڈوگروں سے ایک وسیع و عریض علاقہ آزاد کرالیا تو اس کے بعد پاکستان سے رضا کار اور تجربہ کار فوجی بھی اور بعد میں پاکستان کی باقاعدہ افواج بھی اس جنگ آزادی میں شریک ہو گئیں۔ اس وقت مرزائیوں نے پاکستان کے کمانڈر انچیف جنرل گریسی سے ساز باز کر کے مرزائی نوجوانوں کی ایک بٹالین قائم کر لی۔ اس کا سربراہ مرزا ناصر احمد تھا۔ جس کا خفیہ نام عالم کباب تھا۔ جنرل گریسی کے حکم سے اس بٹالین کو اسلحہ، پاکستان کی فوج نے مہیا کیا اور یہ بٹالین محاذ جنگ پر موجود رہی۔ انہی دنوں ریاست بہاول پور کا ایک نوجوان مرزائیوں کے ہتھے چڑھ کر مرزائی ہو گیا۔ وہ بھی فرقان بٹالین میں شامل تھا۔ وہ کسی نہ کسی طرح وہاں سے فرار ہو کر ریاست بہاول پور اپنے گھر پہنچا۔ مرزائیت سے تائب ہوا اور اس نے احرار لیڈر مولانا محمد علی جالندھری مرحوم کو یہ راز بتایا کہ کشمیر کے محاذ پر مرزائیوں کی ایک علیحدہ فوج موجود ہے۔ جو فوجی ٹریننگ لے رہی ہے۔ بٹالین کے جوانوں کی

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۰۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نفری، تعداد اور نام وہی رہتے ہیں لیکن ہر نوجوان تین ماہ ٹریننگ لے کر واپس آ جاتا ہے اور اس کی جگہ نیا آدمی جا کر ٹریننگ لیتا ہے۔ مولانا مرحوم نے اس کی تحقیق کرنا شروع کر دی تو بات درست ثابت ہوئی کہ ”مرزائی فرقان بٹالین“ کشمیر کی جنگ میں امداد کی آڑ میں فوج ٹریننگ لے رہے ہیں اور اسلحہ حاصل کر رہے ہیں۔

(۲) کشمیری رہنما کا انکشاف

انہی دنوں مسلم کانفرنس کشمیر کے جنرل سیکرٹری سردار آفتاب احمد خان نے اخبارات میں ایک بیان دیا۔ جس سے نہ صرف فرقان بٹالین کی تصدیق ہوئی بلکہ مرزائیوں کے عزائم کا پردہ بھی چاک ہو گیا۔ سردار آفتاب احمد خان صاحب کا اصل بیان درج ذیل ہے۔

”اس فرقان بٹالین نے جو کچھ کیا اور ہندوستان کی جو خدمات سرانجام دیں، مسلم مجاہدین کی جوانیوں کا جس طرح سودا چکایا، اگر اس پر خون کے آنسو بھی بہائے جائیں تو کم ہیں۔ جو سکیم بنتی، ہندوستان پہنچ جاتی۔ جہاں مجاہدین مورچے بناتے، دشمن کو پتہ چل جاتا۔ جہاں مجاہدین ٹھکانا کرتے، ہندوستان کے ہوائی جہاز پہنچ جاتے۔“

حوالہ کے لئے دیکھئے: ٹریکٹ عنوان: سردار آفتاب احمد کو آخر اپنے بیان کی تردید کرنی پڑی۔ شائع کردہ: صدر انجمن احمدیہ ربوہ ضلع جھنگ

مسلم کانفرنس کشمیر کے ایک ذمہ دار لیڈر کے اس بیان سے سارے ملک میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ احرار رہنماؤں نے فرقان بٹالین کے خلاف سارے ملک میں زبردست احتجاج کیا۔ بالآخر جنرل گریسی نے بہتری اسی میں دیکھی کہ فرقان بٹالین کو توڑ دیا جائے۔ لیکن مرزائیوں کی ساکھ بچانے کے لئے کشمیری رہنماؤں پر دباؤ ڈلوایا گیا کہ سردار آفتاب احمد خان اپنے بیان کی تردید کر دیں اور معافی مانگ لیں۔ لیکن سردار آفتاب احمد خان نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ البتہ کچھ نرم رویہ اختیار کر لیا اور گریسی نے فرقان بٹالین کو توڑ دیا۔ لیکن ساتھ ہی ان پر سابقہ تعلقات کی بناء پر یہ مہربانی فرمائی کہ انہیں سندات وغیرہ دے کر فارغ کر دیا۔

اس موقعہ پر ہم مرزا محمود خلیفہ ربوہ کی تقریر یہاں درج کئے دیتے ہیں۔ جس سے ساری صورت حال بھی واضح ہوتی ہے اور یہ بھی کہ مرزائی کس طرح گریسی کی آڑ میں ڈھٹائی کا ثبوت دے رہے تھے اور اپنی بے گناہی کا سرٹیفکیٹ، اپنے انگریز آقا و مولیٰ جنرل گریسی سے لے رہے تھے۔

(۳) مرزا محمود کی تقریر

”تقریر جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا احرار کہتے رہتے ہیں کہ کشمیر کے معاملہ میں احمدیوں نے غداری کی ہے۔ لاہور میں ایک تقریر کے دوران میں سردار آفتاب احمد صاحب جنرل سیکرٹری مسلم کانفرنس کشمیر نے کہا کہ احمدیوں نے غداری کے طور پر فرقان فورس بھیجی۔ یہ لوگ خفیہ خبریں ہندوستانی فوج تک پہنچاتے تھے اور دشمن کے جہاز پاکستانی فوجی کی پوزیشنوں پر حملہ آور ہوتے تھے۔ یہ بیان پنجاب کے مشہور اخبارات میں چھپا۔ ہم نے اس کے خلاف شکایت کی کہ اگر ہم غدار تھے تو حکومت نے آخر ہمیں دو سال تک وہاں کیوں بٹھائے رکھا۔ چنانچہ گورنمنٹ کی طرف سے سردار آفتاب احمد کو کہا گیا کہ معافی مانگے اور کشمیر منسٹری کی طرف سے ایک مسودہ تیار کر کے کراچی بھیجا گیا کہ سردار صاحب ان الفاظ میں تردید کریں گے۔ لیکن وہ تردید راولپنڈی کے ایک قلیل الاشاعت اخبار ”تعمیر“ میں کی گئی اور

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۰۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پھر ان الفاظ میں بھی نہ کی گئی جو مسودہ میں، کراچی ارسال کئے گئے تھے۔ پھر جب کچھ وقت گزر گیا تو سردار صاحب نے ایک ماہ ہوا۔ پھر وہی اعتراض شائع کر دیا۔ خدا تعالیٰ نے ان کو جھوٹا کرنے کے سامان کئے۔ سر اون ڈکسن ثالث کی حیثیت سے پاکستان آئے اور ضرورت ہوئی کہ والنٹیر فوجیں نکال دی جائیں۔ چنانچہ فرقان بٹالین بھی واپس کی گئی۔ اسے فارغ کرتے ہوئے کمانڈر انچیف نے جو اعلان کیا وہ سردار آفتاب احمد اور دیگر احراری کارکنوں کے الزام کی دھجیاں اڑا رہا تھا۔ یہ اعلان صرف غیر جانبدار اخباروں نے شائع کیا۔ دشمن اخباروں نے شائع نہیں کیا۔ سردار آفتاب احمد کی تردید میں کمانڈر انچیف نے لکھا کہ سردار آفتاب احمد نے فرقان فورس پر جو الزام لگایا ہے میں اپنے بہترین علم کے ماتحت کہہ سکتا ہوں کہ اس میں ایک شوشہ بھی سچائی کا نہیں اور یہ الزام سارے کا سارا جھوٹا ہے۔ فرقان فورس نے اس سارے عرصہ میں نہایت شاندار خدمت کی ہے۔ پھر بغیر معاوضہ کے کی ہے۔‘‘

(مندرجہ اخبار الفضل مورخہ ۲؍ جنوری ۱۹۵۱ء)

مرزا محمود کے بیان سے یہ بھی واضح ہوا کہ فرقان بٹالین کشمیر میں دو سال تک جاسوسی کے فرائض سرانجام دیتی رہی تھی اور اپنے زیادہ سے زیادہ کارکنوں کو فوجی ٹریننگ دلاتی رہی اور ان کے لئے اسلحہ حاصل کرتی رہی۔ جب گریسی نے فرقان بٹالین کو توڑ دیا تو ستم یہ کیا کہ جو اسلحہ مرزائیوں کو دیا گیا تھا، وہ ان سے واپس نہ لیا بلکہ مبینہ طور پر وہ مرزائی کرنل حیات جو اب ربوہ میں رہائش پذیر ہے، گاڑی بھر کر ربوہ لے آئے اور اسے غتر بود کر لیا۔ کچھ عرصہ بعد اس اسلحہ کے متعلق تحقیقات ہوئی، لیکن مرزائیوں نے آئیں بائیں شائیں کر کے ہضم کر لیا اور ایک رائفل یا ایک گولی تک واپس نہ کی بلکہ ربوہ کے قبرستان میں دفن کر کے اسے محفوظ کر لیا گیا۔

(۴) ربوہ کے قبرستان میں اسلحہ

۱۹۵۸ء میں جب مارشل لاء نافذ ہوا تو اس وقت سرگودھا ڈویژن کے انچارج ایک بریگیڈیئر صاحب تھے جو آج بھی خدا کے فضل سے زندہ موجود ہیں اور اس امر کی تصدیق کریں گے کہ انہیں یہ مخبری ہوئی تھی کہ ربوہ کے قبرستان میں اسلحہ دفن ہے۔ بریگیڈیئر موصوف ریڈ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن انہیں جنرل اعظم خان نے یہ ریڈ کرنے کی اجازت نہ دی۔ بعد میں انہیں یہ اطلاع بھی ملی کہ مرزائیوں نے وہاں سے اسلحہ نکال کر ادھر ادھر کر لیا ہے۔

(۵) ربوہ خالص احمدی قصبہ

۱۹۵۳ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت کی تحقیقاتی کمیٹی جو جسٹس منیر اور جسٹس کیانی پر مشتمل تھی انہوں نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں فرقان فورس کے متعلق لکھا ہے: ”احمدی ایک متحد و منظم جماعت ہیں۔ ان کا صدر مقام ایک خالص احمدی قصبے میں واقع ہے۔ جہاں ایک مرکزی تنظیم قائم ہے۔ جس کے مختلف شعبے ہیں۔ مثلاً شعبہ امور خارجہ، شعبہ امور داخلہ، شعبہ امور عامہ اور شعبہ نشر و اشاعت۔ یعنی وہ شعبے جو ایک باقاعدہ سیکرٹریٹ کی تنظیم میں ہوتے ہیں وہ سب یہاں موجود ہیں۔ ان کے پاس رضا کاروں کا ایک جیش بھی ہے۔ جس کو خدام الاحمدیہ کہتے ہیں۔ ’فرقان بٹالین‘ اسی جیش سے مرکب ہے اور یہ خالص احمدی بٹالین ہے جو کشمیر میں خدمت انجام دے چکی ہے۔“

(منیر تحقیقاتی رپورٹ ۱۹۵۳ء ص ۲۱۱)

غور کیجئے فرقان فورس کے متعلق اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مرزائی کہتے ہیں کہ فرقان فورس ۱۹۵۴ء میں توڑ دی گئی تھی۔ اگر وہ یہ موقف اختیار کرتے ہیں تو یہ ان کا ایک بہت بڑا جھوٹ ہوگا۔ اس لئے کہ خود مرزائیوں نے ۱۹۶۶ء میں فرقان بٹالین کے مرزائی جوانوں کے نام پیغام بھیجا تھا۔ حوالہ جات ملاحظہ ہوں:

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۰۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(۶) فرقان فورس کے مجاہدین فوری توجہ دیں

”حکومت کی طرف سے ۲؍مئی ۱۹۴۸ء سے ۳۱؍ دسمبر ۱۹۴۸ء کے درمیان ایک مدت معینہ تک جہاد کشمیر میں حصہ لینے والوں کے لئے ”تمغہ“ دفاع کشمیر ۱۹۴۸ء میں ”کلاسپ“ منظور ہوا ہے۔ لہٰذا وہ مجاہدین جنہوں نے فرقان فورس کو ابتداء سے ۳۱؍ دسمبر ۱۹۴۸ء کے درمیان جہاد میں حصہ لیا ہے، وہ اپنی اپنی درخواست (مخاطب کرنے والی جگہ چھوڑ دیں) یہ مطالبہ کرتے ہوئے مجھے بھجوا دیں کہ فلاں وجہ کی بناء پر خود راولپنڈی آکر اپنا میڈل حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ لہٰذا بذریعہ ڈاک ان کو بھجوا دیا جائے۔ اپنے نام کے ساتھ ولدیت کا بھی ذکر کریں تا کہ ریکارڈ میں نام تلاش کرنے میں سہولت رہے۔“ خاکسار محمد رفیق (ملک) دارالصدر غربی لف ربوہ

(الفضل مورخہ ۵؍ دسمبر ۱۹۶۵ء)

اسی اعلان کو دوبارہ شائع کیا گیا۔

(۷) فرقان فورس کے مجاہدین توجہ فرماویں

کشمیر میڈل کے بارہ میں دسمبر ۱۹۶۵ء میں الفضل میں اعلان کیا گیا تھا کہ اس سلسلہ میں جو پتہ جات موصول ہوئے۔ اس کی اطلاع متعلقہ دفتر کو راولپنڈی کر دی گئی تھی۔ امید ہے ان کی طرف سے تمغہ جات پہنچ چکے ہوں گے۔ جن احباب کو ابھی تک تمغہ نہیں ملا وہ اس کے حصول کے لئے تبدیل شدہ طریق کار اختیار کریں۔ اب اس تمغہ کے مجاز مجاہدین یعنی جنہوں نے فائر بندی کی تاریخ ۳۱؍ دسمبر ۱۹۴۸ء تک ۴۵ دن فرقان فورس میں خدمت کی ہو، وہ مندرجہ ذیل نمونہ کے مطابق رسید تیار کر کے اور اس پر اپنے دستخط کر کے (نام وہی ہو جو فرقان میں لکھوایا تھا، کمی بیشی نہ ہو) اور گواہ کے طور پر پریذیڈنٹ یا متعلقہ امیر مقامی کے دستخط ثبت کرا کے خاکسار کو بھجوا دیں، یہ رسیدات اکٹھی ہونے پر راولپنڈی بھجوا کر تمغہ جات یہاں، ربوہ منگوائے جائیں گے۔ یہاں پہنچنے پر الفضل کے ذریعہ سب کو اطلاع دی جائے گی۔ اس صورت میں احباب اپنے اپنے تمغہ جات یہاں سے حاصل کر سکیں گے۔ رسیدات بھجوانے کی وہی احباب تکلیف فرماویں۔ جنہوں نے ۳۱؍ دسمبر ۱۹۴۸ء تک پورے ۴۵ دن خدمت کی ہو۔ نیز ان رسیدات کے ساتھ کوائف بھجواتے وقت اپنے نمبر، ولدیت اور جہاں سے فرقان میں شامل ہوئے تھے۔ اس پتہ سے بھی ضروری اطلاع دیں۔ نمونہ رسید درج ذیل ہیں۔ ملک محمد رفیق دارالصدر غربی ربوہ

Receipt Received Tamgha-i-Difa with Clasp Kashmir I, No --- Rank --- Name --- 1948 with Ribbon Date of --- Signature Signature of Witness Unit From

(روزنامہ الفضل مورخہ ۲۳؍ مارچ ۱۹۶۶ء رجسٹرڈ ایل نمبر ۵۲۰۲)

(۸) فرقان فورس کیا بلا ہے؟

الفضل کے اس پراسرار اور حیران کن فرقان بٹالین کے نام سرکلر پر ہم نے لولاک کی اشاعت ۱۹۶۶ء میں ایک اداریہ تحریر کیا۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۰۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جس کا عنوان تھا: ”یہ فرقان فورس کیا بلا ہے“ اس اداریہ میں ہم نے پاک فوج کی طرف سے فرقان فورس کے ساتھ کئے جانے والے امتیازی سلوک پر احتجاج کیا اور لکھا کہ فوج کی تقدیس اور عظمت کو خراب نہ کیا جائے۔

(لولاک، مورخہ ۱۰؍ مئی ۱۹۶۶ء)

(۹) مرزائیوں کی پرائیویٹ فوج

مولانا مرتضیٰ خان میکش نے اپنی کتاب ”پاکستان اور مرزائیت“ کے ص۴۳، ۴۴ پر فرقان بٹالین پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ایک مرزائیوں کی پرائیویٹ فوج تیار کی جا رہی ہے جو ٹریننگ کے علاوہ اسلحہ گولہ بارود وغیرہ حاصل کر رہی ہے۔ جس کا مقصد مرزائیوں کے متوازی نظام حکومت کے سلسلہ میں کام آنا ہے۔

(۱۰) فرقان بٹالین

خود مرزائیوں کی اپنی مصدقہ تاریخ جو حال ہی میں ان کے ایک ذمہ دار مؤرخ مولوی دوست محمد شاہد نے کئی جلدوں میں تاریخ احمدیت کے نام سے لکھی ہے۔ اس کے صفحہ ۶۷۷ پر فرقان بٹالین کے وجود کی تصدیق کر دی ہے۔

ان تمام حوالہ جات سے واضح ہے کہ مرزائیوں کی یہ پرائیویٹ مسلح فوج آج تک موجود ہے اور مرزائیوں کے خطرناک سیاسی عزائم کے پیش نظر اس کا وجود ملک کے لئے انتہائی خطرات کا حامل ہے۔ اس تنظیم کا انچارج ملک محمد رفیق آف ربوہ اور انچارج اعلیٰ مرزائیوں کے شاہی خاندان کا ایک فرد مرزا منصور احمد ہے۔

اپیل

صدر مملکت، چیف آف آرمی سٹاف، ارباب حزب اقتدار اور حزب اختلاف سے درخواست ہے کہ مرزائیوں کی ان، فوجی اور نیم فوجی تنظیموں کو خلاف قانون قرار دیا جائے۔ مرزائیوں کی ۲۷ مئی ۱۹۷۳ء کی میٹنگ میں جو فیصلے ہوئے ہیں۔ ان کو ناکام بنانے کے لئے بھر پور انسدادی کارروائی کی جائے۔“

(لولاک، مورخہ ۲۱؍ جون ۱۹۷۳ء)

یہ ربوہ کے جھنڈے

”جیسا کہ ہم اس سے پہلے کسی اشاعت میں یہ انکشاف کر چکے ہیں کہ مرزائیوں نے ربوہ میں اپنے سیکرٹریٹ پر اپنی جماعت کے پانچ جھنڈے لہرا دیئے ہیں۔ یہ جماعت کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایسا کیا گیا ہے۔ ہم اس تفصیل سے لکھ چکے ہیں کہ ان جھنڈوں کے لہرانے کا مطلب کیا ہے۔ مرزائیوں کی پانچ وزارتیں ہیں اور پانچ ہی جھنڈے لہرائے گئے ہیں۔ گویا یہ ایک خفیہ متوازی حکومت ہے۔ جس کا فیصلہ ۲۷ مئی ۱۹۷۳ء کے اجلاس میں ہوا ہے۔

اوّل تو ربوہ میں پہلے ہی مرزائیوں کی ریاست قائم ہے۔ حکومت پاکستان کا وہاں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ اس کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ پچھلے ماہ وہاں ایک سبزی فروش محمد علی کو قتل کیا گیا۔ اس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے۔ پاکستان کی پولیس اس قتل کا سراغ لگانے اور ملزموں کو گرفتار کرنے میں بے بس ہے۔ قتل کا سراغ لگانا اور ملزموں کو گرفتار کرنا تو درکنار، اس مقتول کی بیوہ اور اس کے آٹھ یتیم بچے اپنی مرضی سے پولیس کو بیان نہیں دے سکتے۔ ربوہ کی مرزائی حکومت کے اشارہ کے بغیر وہ بیچاری عورت اف نہیں کر سکتی۔ جب مقتول کے وارث ہی کچھ نہیں بول سکتے۔ گواہوں اور شہادتوں کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔ گویا ربوہ پاکستان کا حصہ نہیں بلکہ علاقہ غیر کی

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۰۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

طرح بن گیا ہے۔ مولانا غلام رسول جنڈیالوی لائل پور کے معروف صحافی اور ایک بے باک لیڈر ہیں۔ ان کا جواں سال لڑکا چند سال پہلے ربوہ میں گیا اسے بڑی بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ اتنے بڑے با رسوخ آدمی کا جواں سال بیٹا قتل ہوا اور کچھ نہ ہوسکا۔ بہر حال ان جھنڈوں کے سلسلہ میں حکومت کا فرض ہے کہ وہ پوری پوری تحقیقات کرے کہ ان کی حقیقت کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ مرزائی اس امر کا اقرار فی الحال نہیں کریں گے کہ یہ متوازی حکومت کے جھنڈے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ وہ یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ ہماری جماعت کے جھنڈے ہیں۔ پرانے تجویز کردہ ہیں۔ شوریٰ نے لہرا دینے کا فیصلہ کیا ہے اور انہیں لہرا دیا گیا۔ اس کی وہ مثال یہ دیتے ہیں کہ جب ملک کی دوسری جماعتوں کے جھنڈے ہیں اور وہ ان کے دفاتر پر لہرارہے ہیں تو اگر ہماری جماعت کے دفاتر پر ہماری جماعت کے جھنڈے لہرا دیئے گئے ہیں تو اس میں کون سی تعجب یا جرم کی بات ہے۔ بظاہر یہ بات بڑی معقول معلوم ہوتی ہے۔ لیکن درحقیقت یہ بالکل غلط اور گمراہ کن جواب ہے۔

بلاشبہ ملک میں دوسری جماعتوں کے اپنے اپنے جھنڈے ہیں۔ لیکن وہ سیاسی جماعتیں ہیں اور یہ بات قانون میں تسلیم شدہ ہوتی ہے کہ ہر سیاسی جماعت اپنا مجوزہ جھنڈے اپنے دفاتر وغیرہ پر لہراسکتی ہے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جماعت احمدیہ سیاسی جماعت ہے؟ اگر مرزائی اعتراف کرلیں اور اعلان کر دیں کہ جماعت احمدیہ ایک سیاسی جماعت ہے تو ہمارا اعتراض اور شبہ ختم۔ ایسی صورت میں بے شک انہیں حق حاصل ہوگا کہ وہ پانچ نہیں پانچ سو جھنڈے لہرادیں۔ لیکن غضب یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو سیاسی جماعت تسلیم ہی نہیں کرتے۔ وہ اپنے آپ کو مذہبی جماعت کہتے ہیں۔ ابھی ۱۳؍مئی ۱۹۷۴ء کو مرزا ناصر احمد نے اپنے خطبہ میں اعلان کیا ہے کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہم ایک مذہبی جماعت ہیں۔ اگر جماعت احمدیہ ایک مذہبی جماعت ہے تو یہ جھنڈے کیسے ہیں؟ کیونکہ مذہبی جماعتوں کے کوئی جھنڈے نہیں ہوتے۔ ملک میں دیوبندی، بریلوی، شیعہ، سنی، اہل حدیث مذہبی فرقے ہیں۔ ان کا کوئی مذہبی جھنڈا نہیں ہے۔ مسلمانوں کے فرقوں کو چھوڑئیے پاکستان میں ہندو ہیں، عیسائی ہیں، پارسی ہیں۔ کسی مذہبی جماعت کا کوئی جھنڈا نہیں ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب کے برعکس مرزائی جماعت کے جھنڈے اور ان جھنڈوں کو اپنے جماعت کے سیکرٹریٹ پر لہرانے کا کیا مطلب ہے؟

ہم مرزائیوں سے بھی کہیں گے کہ اب ہیرا پھیری چھوڑ دو۔ معاملہ بالکل موڑ پر آ گیا ہے یا سیاسی جماعت ہونے کا اقرار کرو اور مذہبی ڈھونگ کو ختم کرو۔ اس صورت میں ہم اپنا اعتراض واپس لے لیتے ہیں۔ بلکہ تمہارا ہمارا جھگڑا ختم اور یا مذہبی جماعت کی بات پر پکے رہو۔ اپنے عقائد کی روشنی اور جمہور مسلمانوں کے فیصلے کے مطابق مسلمانوں سے الگ اقلیت کی پوزیشن قبول کرو۔ یہ صورت اختیار کرو یا وہ صورت بناؤ۔ اونٹ بنو اور بوجھ اٹھاؤ یا پرندہ ہونے کا دعویٰ کر کے اڑ کے دکھاؤ۔ اب تمہیں یہ شتر مرغ کی پالیسی چھوڑنا ہوگی۔ تقریباً ایک صدی تم نے اسلام میں فتور ڈالے رکھا ہے۔ انگریزوں اور انگریز زادوں کی بدولت تم نے یہ پوزیشن اختیار کرلی ہے۔ لیکن اب زمانہ بدل گیا۔ تمہیں اپنے متعلق کوئی فیصلہ کرنا ہو گا اور جمہور مسلمانوں کے فیصلے کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ تیسری کوئی صورت بغاوت، متوازی حکومت اور قسمت آزمانے کی ہے۔ تم نے ۲۷؍مئی کو شوریٰ کے خفیہ اجلاس میں غور کیا ہے اور کچھ فیصلے کئے ہیں۔ یہ صورت تمہاری موت، تباہی اور بربادی کی صورت ہوگی جو مسلمانوں کی طرف سے نہیں بلکہ خود تمہارے اپنے ہاتھوں تم پر نازل ہوگی۔‘‘

(ہفت روزہ لولاک، مورخہ ۲۱؍جون ۱۹۷۴ء)

ربوہ میں یہ پہرہ کیسا؟

۲۷؍مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ میں مرزائیوں کی جماعت کی مجلس شوریٰ کا اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس صبح ۶ بجے سے بعد دوپہر تک جاری رہا۔ اس اجلاس کو مرزائیوں نے غیر معمولی طریقہ سے اہمیت دی۔ لائل پور، لاہور، سرگودھا اور دوسرے شہروں سے فرقان فورس کے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۰۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رضا کار ربوہ بلائے گئے تھے۔ جب تک اجلاس جاری رہا نہ صرف محمود ہال کے اردگرد کڑا پہرہ رہا بلکہ ربوہ کے دوسرے اہم ناکوں پر بھی پہرہ لگایا گیا۔ غالباً ارادۃً یہ بتانا مقصود تھا کہ اجلاس میں کوئی اہم فیصلہ ہونے والا ہے۔ دوسری طرف شوریٰ کے ممبروں سے حلف لئے گئے کہ کارروائی کو صیغۂ راز میں رکھیں۔ ابتداءً بنی بنائی ایک رپورٹ باہر بھیجی گئی کہ سچ بولنے کی تلقین کی گئی ہے اور کسی کو گالی نہ دی جائے۔ یعنی یہ سمجھا گیا کہ دنیا میں سارے لوگ بے وقوف بستے ہیں جو دھوکہ کھا جائیں گے اور حقیقت حال کا اندازہ نہ لگاسکیں گے ہفت روزہ لولاک نے جب اس پر اسرار میٹنگ اور اس کے خفیہ فیصلوں کے متعلق کچھ انکشافات کئے تو ربوہ میں اعلان کرا دیا گیا کہ عنقریب ایک پمفلٹ شائع کیا جا رہا ہے۔ جس میں خلیفہ صاحب کی تقریر جو مجلس شوریٰ کے اجلاس میں ہوئی تھی، چھاپ دی جائے گی۔ حالانکہ پہلے بلیٹن کی طرح یہ دوسرا بلیٹن بھی مصنوعی اور غیر اصلی ہوگا۔ اگر کارروائی بعد میں شائع ہونا ہی تھی تو شرکائے اجلاس سے حلف لینے اور سارے ربوہ کے گلی کوچوں میں پہرہ لگانے کی کیا ضرورت تھی؟

اب ایک نیا ڈرامہ ہو رہا ہے۔ ہر روز رات کے ۱۰؍ بجے سے صبح کے ۴؍ بجے تک ربوہ میں رضا کاروں کا کڑا پہرہ ہوتا ہے اور شہر کی مکمل ناکہ بندی کی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ غیر معمولی نوعیت کے پہرے اور رات بھر شہر کی ناکہ بندیاں بلاوجہ نہیں ہیں۔ ربوہ پر کسی غنیم یا دشمن کے حملہ کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ نہ ہی کسی پاکستان کے شہر کا ایسا پروگرام ہے۔ مسلمانوں کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ جب تم نے نبوت الگ بنالی اور معاشرتی طور پر یعنی نکاح بیاہ اور موت مرگ بھی مسلمانوں سے جدا کر لی تو براہ کرم ایک غیر مسلم اقلیت کی پوزیشن قبول کرو۔ اپنے شہری حقوق حاصل کرو۔ تمہارے مال جان کی حفاظت ہوگی تو ایسے حالات میں کوئی ایسا خطرہ نہیں ہے جو ربوہ یا اہل ربوہ کو لاحق ہو۔ پھر یہ پہرے کیسے ہیں؟ حکومت کا فرض ہے کہ اس پہرے کی حقیقت کا پتہ لگائے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ کڑے پہرے لگا کر اور ناکہ بندیاں کر کے رات کی تاریکی میں اسلحہ وغیرہ کو ادھر سے ادھر کیا جا رہا ہو۔

اس کے علاوہ ایک اور حیرت انگیز ڈرامہ یہ ہے کہ مرزا ناصر احمد پر بھی پہرہ بہت سخت کر دیا گیا ہے۔ پہرہ داروں اور اسلحہ برداروں کی تعداد زیادہ کر دی گئی ہے۔ حالانکہ ناصر احمد کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اصل میں اس پہرے، ناکہ بندی اور اسلحہ برداری کے ڈھونگ سے جو کچھ ہم سمجھ سکے ہیں، وہ یہ ہے کہ ۲۷؍ مئی ۱۹۷۴ء کی شوریٰ میں یہ فیصلہ کیا جا چکا ہے کہ ملک کی اہم شخصیتوں کو مرزائی نیم فوجی تنظیموں کی معرفت قتل کرایا جائے۔ اس فیصلہ کے بعد ایک نفسیات کے ماہر کی حیثیت سے خواہ مخواہ اپنے کو شدید خطرہ میں ظاہر کیا جا رہا ہے اور لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے یہ ساری کارروائی کی جا رہی ہے۔

ہم نے یکم؍ جون ۱۹۷۴ء کے جمعہ میں اعلان کیا تھا کہ مرزائیوں نے بعض اہم شخصیتوں کو قتل کرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ہماری یہ پیش گوئی ۶؍ جون ۱۹۷۴ء کو ہی پوری ہو جاتی۔ وہ تو خدا کا فضل شامل حال ہو گیا کہ مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، عبدالولی خان، نوابزادہ نصر اللہ خان اور چوہدری ظہور الٰہی وغیرہ اکابر میں سے کوئی آدمی وزیر آباد کے اسٹیشن پر شہید نہیں ہو گیا۔ ورنہ پروگرام کے مطابق بم تو مار دیئے گئے تھے۔ ہم حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اس سیاسی کشمکش اور غنڈہ گردی میں درحقیقت مرزائی کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کریں گے جو مصیبت بن جائے گی۔ ہمیں یہ کہنے دیجئے کہ حزب اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف مظاہرے اور غنڈہ گردی برسر اقتدار جماعت کے منشاء کے مطابق ہوتی ہے۔ لیکن ہم یہ تسلیم نہیں کر سکتے کہ برسر اقتدار پارٹی کا کوئی ذمہ دار رکن کسی کو یہ کہے کہ کسی سیاسی لیڈر کو خدانخواستہ قتل کر دیا جائے۔ یقین مانئے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کا کندھا استعمال ہوگا۔ لیکن ان میں مرزائی شامل ہو کر کوئی نہ کوئی واردات کر دیں گے۔ جو نہ صدر بھٹو چاہتے ہوں گے اور نہ گورنر کھر...... لیکن مرزائی اپنا کام کر کے ایک طرف بیٹھ جائیں

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۱۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گے ۔ کسی کو معلوم تک نہیں ہو گا کہ یہ کام کون کر گیا ۔ لیکن بدنامی و رسوائی اور ذمہ داری ارباب اقتدار کے سر ہو گی۔

انٹرنیشنل پریس کا بورڈ

ہم نے لولاک کی کسی گزشتہ اشاعت میں ایک اداریہ ”مرزائی سلطنت کے خواب“ تحریر کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ ربوہ میں مرزائی چار ایکڑ کے وسیع وعریض رقبہ میں ایک تہ خانہ کھود رہے ہیں۔ جس میں بہت بڑا پریس لگانے کی تجویز ہے۔ یہ پریس ایشیاء کا عظیم ترین پریس ہوگا۔ اس میں بے شمار زبانوں میں چھپائی کے علاوہ دنیا بھر سے خبریں وصول کرنے ، ان پر اپنا رنگ چڑھا کر پھیلانے اور یہاں کی خبریں اپنی مصلحت کی ٹکسال میں ڈھال کر باہر بھجوانے کا انتظام بھی ہوگا۔ جہاں کھدائی ہو رہی تھی وہاں ایک بورڈ لگایا گیا تھا جس پر لکھا تھا : ” انٹرنیشنل پریس“ اس بورڈ میں اس سارے منصوبہ کا نقشہ بھی بنایا گیا تھا۔ لیکن لولاک میں یہ خبر شائع ہوتے ہی خدا جانے مرزائیوں نے کیا خطرہ محسوس کیا کہ وہ انٹرنیشنل پریس بورڈ بھی اتار لیا گیا ہے اور کھدائی بھی بند کر دی گئی ۔ اس طرح لوگوں سے ” وقار عمل“ کے نام پر جو بیگار لی جاتی ہے اس کا سلسلہ بھی فی الحال بند ہو گیا ہے۔ ہمارے ربوہ کے ذرائع کے مطابق ممکن ہے یہ التواء پریشانی کے باعث پیدا ہوا ہو جو ۲۷؍ مئی ۱۹۷۳ء کی شوریٰ کے اجلاس کے فیصلوں کی روشنی میں پیدا ہو گئی ہے۔ بہر حال کام کا التواء تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن بورڈ کا اکھاڑ لینا سمجھ میں نہیں آرہا۔ شاید یہ ساری کارروائی اس فیصلہ کا کوئی حصہ ہو جس میں کہا گیا ہے کہ شاید جماعت کا ہیڈ کوارٹر افریقہ میں منتقل کرنا پڑے۔ مرزائیوں کے لٹریچر میں کچھ اس قسم کی پیش گوئیاں بھی ہیں۔ چنانچہ مرزا محمود کا ایک ” رؤیا“ جسے مرزائیوں نے بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کیا تھا، موجود ہے۔ مرزا محمود نے خواب میں دیکھا کہ گویا وہ کوئی مکان بنوارہے ہیں۔ اتنے میں ان کی بہن آگئیں اور انہوں نے مرزا محمود صاحب سے کہا کہ بھائی جان پاکستان میں یہ مکان کیوں بنوارہے ہو، کہتے ہیں کہ قادیان واپسی ہونے والی ہے۔ غالباً مرزا محمود کا یہ خواب سچا ہی ہو جائے اور ایسا وقت آجائے کہ مرزائیوں کو یہاں بلڈنگوں، مکان کی تعمیر کے منصوبے ملتوی کر کے یہاں سے کہیں جانا پڑے البتہ ہر بات محل نظر ہے کہ واپسی قادیان کو ہوتی ہے یا نہیں۔

مرزائی جواب دیں

ربوہ کے شاہی خاندان کے ثناء خوان خصوصی مولوی اللہ دتہ ابوالعطاء جالندھری نے جو کسی زمانہ میں صرف تین صد روپیہ ماہوار کے متبادل روزگار پر احمدیت سے تائب ہونے کے لئے تیار تھے۔ اپنے تازہ رسالہ ماہنامہ الفرقان ربوہ میں لکھا ہے کہ : ”ایڈیٹر لولاک نے ربوہ میں ہونے والی ۲۷؍ مئی ۱۹۷۳ء کی مجلس شوریٰ کی کارروائی غلط شائع کی ہے اور کہا ہے کہ مرزا ناصر احمد نے ۲۷؍ مئی کے اجلاس میں کوئی ایسی تقریر نہیں کی۔ جس میں حالیہ سازش میں گرفتار مرزائی فوجیوں کی رہائی کا مسئلہ، سردار عبدالقیوم خان صدر آزاد کشمیر حکومت کا تختہ الٹنے کی تجاویز ملک کے مستقل دستور کو منسوخ کرانے کے لئے ملک میں وسیع پیمانہ پر گڑ بڑ ، اہم لیڈروں کا قتل اور جماعت کی صفوں سے بددلی دور کرنے کی تجاویز وغیرہ زیر بحث آئی ہوں ۔ اس کے علاوہ ابوالعطاء صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ ہم یہ وضاحت محض اس لئے کر رہے ہیں تا کہ کل کو دوسرے اخبارات عدم تردید کا بہانہ بنا کر مزید شگوفے نہ چھوڑنا شروع کر دیں ۔“

(ماہنامہ الفرقان ربوہ جولائی ۱۹۷۴ء)

۲۷؍ مئی کو ربوہ میں مرزائیوں کی شوریٰ کی کارروائی کے متعلق لولاک کے دفتر میں ربوہ سے آمدہ اطلاعات ہم نے کئی شماروں میں شائع کی ہیں۔ ابوالعطاء صاحب نے اس کارروائی کی تردید کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہم الفرقان کے ایڈیٹر ابوالعطاء صاحب سے کہیں گے کہ وہ بڑے پرانے صحافی ہیں۔ کم از کم انہیں اخباری روایات کا اتنا علم تو ہے کہ لولاک نے ۲۷؍ مئی ۱۹۷۳ء کے اجلاس کی جو کارروائی شائع

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۱۱

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء

کی ہے اس کا تعلق براہ راست مرزا ناصر احمد اور ان کی شوریٰ سے ہے۔ اگر لولاک کی رپورٹ غلط ہے اور اس کی تردید کرنا ضروری ہے تو مرزا ناصر احمد کا فرض ہے کہ وہ اپنی طرف غلط منسوب ہونے والی بات کی تردید کریں یا کم از کم جماعت احمدیہ کے ناظر امور عامہ، جماعت کی صفائی میں بولیں۔ یہ تیسری جگہ ابوالعطاء صاحب ایڈیٹر ماہنامہ الفرقان کو کیا حق حاصل ہے کہ وہ خلیفہ ربوہ کی جگہ تردید کر رہے ہیں۔ جس پر الزام ہے وہ انکار الزام کرے یہ ایک اصولی چیز ہے۔ اب ہم ابوالعطاء صاحب سے سوال کرتے ہیں کہ آیا ۲۷؍مئی کی مجلس شوریٰ کے موقعہ پر درج ذیل باتیں ہوئی ہیں یا نہیں۔

ایمرجنسی سیشن کے طور پر ممبران شوریٰ کو ارجنٹ دوبارہ بلایا گیا۔

اہم ناکوں پر سخت مسلح پہرہ لگایا گیا تھا۔ اس مقصد کے لئے ربوہ کے خدام الاحمدیہ کے جوانوں کے علاوہ ایک ہزار مسلح جوان دوسرے شہروں سے بھی بلائے گئے تھے۔

بھگو بھگو کر انہیں دے رہی تھیں اور وہ ان تولیوں کو نچوڑ نچوڑ کر گردنوں پر رکھ رہے تھے۔ بعض نوجوان پہاڑیوں پر دور بین لگا کر بھی بیٹھے نگرانی کر رہے تھے۔

مندرجہ بالا دس حقائق کی تردید ربوہ کا کوئی شخص نہیں کر سکتا۔ اب ان دس مسلمہ باتوں کے ہوتے ہوئے اس اجلاس کی جو کارروائی الفضل نے شائع کی ہے، اسے اور جو کچھ لولاک نے ربوہ سے آمدہ اطلاعات کی بناء پر لکھا ہے، دونوں کو دنیا کے کسی ذی شعور انسان کے سامنے پیش کر کے فیصلہ لے لیا جائے کہ ”الفضل“ کی رپورٹ قرین قیاس ہے یا ”لولاک“ کی۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اندر سے باہر آ کر بعض مرزائیوں نے ایک رٹی رٹائی بات کہی ہے۔ مرزا ناصر قادیانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی مخالف کو گالی نہ دو۔ دعائیں کرتے رہو۔ جماعت احمدی خدائی جماعت ہے۔ اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ کیا یہ چھ گھنٹے کی تقریر کا مواد ہے؟ کیا ان باتوں کے لئے دوبارہ ایمرجنسی شوریٰ کا اجلاس بلایا گیا تھا؟ کیا ان باتوں کے لئے دو ہزار مسلح جوانوں کا پہرہ بازاروں، گلیوں، اہم ناکوں اور چھتوں پر لگایا گیا؟ کیا ان باتوں کے اعزاز میں جماعت کے پانچ جھنڈے سیکرٹریٹ پر لگائے گئے ہیں؟

ہم جناب ابوالعطاء جالندھری صاحب ایڈیٹر ”الفرقان“ سے دوبارہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم خود ربوہ کے اجلاس میں موجود نہ تھے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۱۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور نہ ہی ہمیں علم غیب ہے۔ اس اجلاس کی جو روئیداد اور تفصیلات ہمیں معلوم ہوئیں، وہ ان لوگوں سے حاصل ہوئیں جو آپ کے ہیں اور یہ سارا ڈرامہ دیکھ رہے تھے اور جن کا اجلاس کے اندر شامل لوگوں سے رابطہ تھا۔ جو رپورٹ ہمیں موصول ہوئی، ہماری بہترین معلومات کے مطابق، وہ درست ہے۔ قرین قیاس ہے۔ ہمیں جھوٹ بولنے اور افتراء باندھنے کی کیا ضرورت ہے۔ البتہ اس بات کا امکان ہے کہ جن کی نبوت جھوٹی، ان کی باقی باتیں بھی جھوٹی ہوں۔ جنہوں نے اللہ پر افتراء باندھا اور ایک غلام احمد کو احمد بنا ڈالا اور ایسے انسانوں کو جن کی شرافت اور اخلاقی حالت متنازع فیہ ہو، انہیں مسیح موعود اور مصلح موعود ثابت کرنے پر زندگیاں وقف کر رکھی ہوں، انہوں نے ۲۷؍مئی ۱۹۷۳ء کی رپورٹ بھی جھوٹی اور جعلی شائع کی ہو اور اندر کچھ کیا اور کہا ہو اور باہر آ کر کچھ اور ہی بک دیا ہو۔

ربوہ کے ۲۷؍مئی ۱۹۷۳ء کے اجلاس کی روئیداد جو لولاک نے شائع کی، اس کے سچے ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ ملک بھر کے مرزائی اب برملا کہتے پھرتے ہیں، بھٹو جاوے ای جاوے اور ایئر مارشل آوے ای آوے۔

لولاک کی رپورٹ کے سچے ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ ایئر مارشل اصغر خان نے بیان دیا ہے کہ اگر میں برسر اقتدار آیا تو آئین کو تبدیل کر دوں گا۔ لولاک کی رپورٹ کے سچے ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ مرزائی ہر ممکن طریقہ سے ایئر مارشل اصغر خان کا اسی طرح کا امیج بنا رہے ہیں۔ جیسے کل انہوں نے بھٹو صاحب کا امیج بنانے میں بھرپور حصہ لیا تھا اور یہ بات مرزائیوں کے علاوہ صدر بھٹو بھی جانتے ہیں کہ ایک زمانہ میں مرزائی اپنے آپ کو صدر ایوب خان کا وفادار ظاہر کر رہے تھے۔ لیکن درپردہ وہ جناب بھٹو صاحب کی معاونت کا فیصلہ کر چکے تھے۔ صدر ایوب خان کے چلے جانے کے بعد انہوں نے دامے درمے قدمے سخنے پیپلز پارٹی کی بمطابق خطبہ مرزا ناصر احمد کھل کر مدد کی۔ بعینہ اسی طرح آج مرزائی بظاہر صدر بھٹو کے ساتھ ہیں۔ لیکن ۲۷؍مئی ۱۹۷۳ء سے وہ ایئر مارشل صاحب کی معاونت کا اپنے بستر بدلنے کی عادت کے مطابق فیصلہ کر چکے ہیں۔‘‘

(لولاک، مؤرخہ ۲۸؍جون ۱۹۷۳ء)

آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد کے حکومتی سطح پر اثرات

آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد منظور ہونے پر جہاں مرزائیوں کو صدمہ ہوا وہاں مسلمانوں کو بے پناہ خوشی حاصل ہوئی۔ چنانچہ حکومتی سطح پر بعض نیک دل ممبران اسمبلی بھی یہ سوچنے لگے کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت دلوانے کے لئے ہمیں سلسلہ جنبانی کرنا چاہئے۔ چنانچہ ایک خبر ملاحظہ ہو۔ ’’معلوم ہوا ہے کہ وہاڑی کے میاں خورشید انور جن کا تعلق کونسل مسلم لیگ سے ہے۔ پنجاب اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تحریک پیش کر رہے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ تمام ممبران ان کا ساتھ دیں گے اور ان کی قرارداد متفقہ طور پر منظور ہو جائے گی۔‘‘

سندھ اسمبلی میں مرزائیوں کے اقلیت کی قرارداد

سندھ اسمبلی کے ممبر جناب ظہور الحسن بھوپالی نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا نوٹس دیا تھا۔ لیکن اس قرارداد کو اسمبلی کے ایجنڈے پر نہ لایا گیا اور کہا گیا کہ یہ قرارداد اسمبلی کے قواعد وضوابط کے خلاف ہے۔ گزشتہ روز جناب ظہور الحسن بھوپالی نے اسمبلی میں ایک تحریک التواء پیش کرنا چاہی، جس میں وہ اس امر پر بحث کرنا چاہتے تھے کہ مرزائیوں کے متعلق اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟ لیکن اسپیکر اسمبلی نے تحریک التواء بھی پیش کرنے کی اجازت نہ دی۔ جس پر بھوپالی صاحب نے اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔ جناب ظہور الحسن بھوپالی کا تعلق جمعیۃ العلمائے پاکستان سے ہے، جس کے رہنما مولانا شاہ احمد نورانی ہیں۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ 514

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۱۹۵۳ء سے ۱۹۷۴ء تک مجلس کے اقدامات و کاوشیں

۱۹۵۳ء کی تحریک مقدس ختم نبوت کو سنگینوں اور گولیوں کے زور سے دبا دیا گیا۔ مگر اس حقیقت سے انکار کرنا کسی بھی مؤرخ کے لئے ممکن نہیں کہ اسی تحریک کے باعث قادیانیت نے اپنے خلاف عوام کا شدید ردعمل دیکھ کر عوامی محاذ کو ترک کیا اور وہ حکومتی سطح پر کلیدی آسامیوں پر قبضہ کے ذریعہ مرزائی انقلاب کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنے لگے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے قادیانیوں کی، اس تبدیل شدہ پالیسی کے پیش نظر یہ لائحہ عمل اختیار کیا کہ حکومت میں گھس کر جہاں قادیانیوں کے فوائد ہیں، ان کا محاسبہ کیا جائے اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کے لئے عوام احتساب کو مزید سخت بنایا جائے۔

جب کہ رسل و رسائل کے وسائل کی بہتات ہے، آج بھی ہم جس قریہ میں جاتے ہیں تو یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ آج سے اتنے سال قبل پیدل دور دراز کا سنگلاخ، دشوار گزار راستہ طے کر کے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، قاضی احسان احمد، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد شریف بہاول پوری، مولانا محمد حیات، مولانا عبدالرحمن میانوی یہاں تشریف لائے تھے۔ ان حضرات نے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر اتنی محنت کی، جس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ مولانا محمد علی جالندھری ہی کو لیجئے۔ سندھ کے کسی اسٹیشن پر پہنچ گئے۔ اسٹیشن سے تانگہ کیا۔ دس گیارہ میل کا سفر تھا۔ تانگہ خراب ہو گیا تو سپیکر کی بیٹری سر پر اٹھائی اور پیدل چل پڑے۔ واپسی پر سفر پیدل کر کے ٹرین پکڑی اور اگلے سفر پر تشریف لے گئے۔ پیدل، تانگہ، گدھا، گھوڑا، ریڑھا، سائیکل غرضیکہ جس طرح بھی ممکن تھا اس عمل اور سفر کو جاری رکھا۔

ایک پوسٹ کارڈ کے ذریعہ آگاہ کیا جائے۔ ہم وہاں پہنچ کر قادیانیت کی اصل کتب سے حوالہ جات دکھا کر مسلمان کے ایمان کو بچائیں گے۔ چنانچہ تبلیغ و مناظرہ و مباہلہ کے میدان میں مجلس نے قادیانیت کا پورے ملک میں ناطقہ بند کر دیا۔ سینکڑوں واقعات اور ایمان پرور داستانیں اس سلسلہ میں مجلس کے ان کارناموں کی پیش کی جاسکتی ہے مگر یہ اس کا محل نہیں۔

آسٹریلیا میں مسلسل ساڑھے تین سال تک کام کیا۔ یہ سفر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مشرقی پاکستان میں جماعت نے نہ صرف اپنے دفاتر قائم کئے بلکہ اپنے مبلغ مقرر کئے اور خود مولانا محمد علی جالندھری ومولانا عبدالرحیم اشعر نے مشرقی پاکستان کے تبلیغی دورے کئے۔

ہو۔ مرزائیوں نے اس تحریک کا مقابلہ کرنے اور اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنے کی غرض سے اصرار و ضد کے ساتھ مسلمانوں کے قبرستانوں میں اپنے مردے دفن کئے۔ مجلس کی تحریک پر مسلمانوں نے وہ مردے نکالے اور مرزائیوں کو عملاً غیر مسلم ثابت کیا۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۱۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۱۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۷۴ء

کے

حالات وواقعات

www.facebook.com/amtkn313

ameer@khatm-e-nubuwwat.com

www.amtkn.com

صفحہ ۵۱۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چک جھمرہ کے اسٹیشن پر مرزائیوں کی پٹائی

۱۹۷۴ء میں مرزائیت کی جارحیت میں جہاں اضافہ ہوا۔ وہاں مسلمانوں کی قوت برداشت بھی جواب دے گئی۔ مسلمان بھی جواب آں غزل کے طور پر تیار ہو گئے۔ ذیل کی خبر ملاحظہ ہو:

چک جھمرہ سے آمدہ اطلاعات کے مطابق ۲۵؍دسمبر ۱۹۷۳ء شام ساڑھے سات بجے مرزائیوں کی ایک سپیشل ٹرین لاہور سے ربوہ کے لئے جب اسٹیشن پر پہنچی تو مرزائیوں نے معمول کے خلاف نعرہ بازی کی۔ مرزا غلام احمد کی جے اور احمدیت زندہ باد وغیرہ کے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔ چک جھمرہ کے چند نوجوان جو اس وقت اسٹیشن پر موجود تھے۔ انہیں دیکھ کر مرزائیوں نے جوش وخروش کا مظاہرہ شروع کر دیا۔ نوجوانوں نے انہیں منع کیا کہ یہ مسلمانوں کا شہر ہے۔ آرام سے گزر جاؤ۔ اشتعال انگیزی نہ کرو۔ لیکن ان کے دماغ پر مرزائیت کا بھوت سوار تھا وہ گاڑی سے اتر کر نوجوانوں سے جھگڑنے لگے۔ جس پر نوجوانوں نے ان کے چند پرجوش مبلغوں اور جنونیوں کو پکڑ لیا اور پلیٹ فارم پر ہی ان کی خوب مرمت کر دی۔ جب ان کے ہوش وحواس درست ہوئے اور بھوت سر سے اتر گیا تو انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اچھا ہم کافر ہیں۔ مہربانی کر کے ہماری جان بخشی کی جائے۔ تمام نعرہ باز خاموش ہو گئے اور ڈرائیور سے درخواست کر کے گاڑی بھگا کر پلیٹ فارم سے دور کراسنگ پر لے گئے۔ ریلوے حکام نے بھی مرزائیوں کو اشتعال انگیزی اور شرارت کرنے سے منع کیا۔ ٹھیک کہا ہے کسی نے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔‘‘

(لولاک، مؤرخہ ۱۱؍جنوری ۱۹۷۴ء)

قائد کا قادیانی مردہ

قائدآباد عید سے ایک روز پہلے یہاں کا ایک مرزائی مرگیا۔ اس کے لواحقین نے اسے خواہ مخواہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا۔ اسلامیان قائدآباد کو معلوم ہوا اور مقامی علمائے کرام مولانا عبدالرحمن صاحب اور مولانا محمد شریف صاحب نے اس پر احتجاج کیا تو کسی باغیرت مسلمان نے مرزائی کو قبر سے نکال کر باہر پھینک دیا۔ اگلے روز پولیس نے مولانا عبدالرحمن صاحب اور مولانا محمد شریف کے خلاف مقدمہ درج کر لیا اور پولیس کی نگرانی میں مرزائی کو دوبارہ اسی قبرستان میں دفن کرا دیا۔

اسلامیان قائدآباد کو جب معلوم ہوا کہ ایس۔ ایچ۔ او قائدآباد نے ارتداد نوازی کا ثبوت دیتے ہوئے نہ صرف یہ کہ اس مردار کو دوبارہ پولیس کی نگرانی میں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرا دیا ہے بلکہ ان کے مقتدر علمائے کرام کے خلاف مقدمے بھی درج کر لئے ہیں تو ان میں سخت اشتعال اور ناراضگی پیدا ہوگئی اور انہوں نے شہر میں ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ شہر اور گردونواح دیہات کے مسلمانوں کا زبردست اجتماع ہو گیا۔ پولیس کے رویّہ کے خلاف زبردست احتجاج کیا گیا۔ اگلی رات کسی غیرت مند مسلمان نے مرزائی کی میت کو دوبارہ قبر سے نکال کر باہر پھینک دیا۔ ہڑتال احتجاج جاری رہا۔ ضلع سرگودھا کے ایس۔ پی صاحب ڈپٹی کمشنر صاحب موقعہ پر پہنچ گئے۔ انہوں نے صورت حال کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے ایس۔ ایچ۔ او کی کارروائی کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا اور قبرستان کے متصل علیحدہ ایک جگہ مرزائی کی میت کو دفن کرا دیا۔ مسلمانوں کے قبرستان اور مرزائی کی اس قبر کے درمیان ایک دیوار بنوا دی اور ایک ایسی صورت بنا دی گئی۔ جیسے تقسیم سے قبل بعض دیہات میں مسلمانوں کے قبرستان اور ہندوؤں کے سیوے جہاں وہ چتا بنا کر اپنی میتوں کو جلایا کرتے تھے متصل ہوا کرتے تھے۔ درمیان میں بعض دفعہ دیوار بھی نہیں ہوا کرتی تھی۔ بلکہ کانٹوں کی باڑ حد فاصل کا کام دیا کرتی تھی۔ جیسے اب بھی بعض جگہ مسلمانوں کے قبرستان کے ایک پہلو میں عیسائیوں کا قبرستان علیحدہ بنا دیا جاتا ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ 517

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ضلعی حکام کے اس فیصلہ کو قائد آباد کے مسلمانوں نے تسلیم کر لیا۔ مقدمے واپس لے لئے گئے اور اس طرح ملک میں اس ہنگامہ کو پھیلنے اور بڑھنے سے روک دیا گیا۔ اصل میں ایس ایچ او قائد آباد کی عاقبت نااندیشی کے باعث یہ مسئلہ الجھ کر بگڑ گیا ہے۔ ورنہ نوبت اس حد تک نہ پہنچنے پاتی، مرزائیوں نے بھی حماقت سے کام لیا اور خواہ مخواہ اپنی میت کی بے حرمتی کرائی اور مرنے والے کے لواحقین کے غم اور اندوہ کو کئی گناہ بڑھا دیا۔ مسلمان آبادیوں میں رہنے والے یہ مرزائی اس حقیقت کو نہیں سوچتے کہ وہ جب مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں ان کے معصوم بچوں تک کی نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوتے۔ انہیں رشتے ناطے بغیر فارم پر کروائے نہیں دیتے۔ ان کی مساجد میں نہیں جاتے ان کی عبادت گاہوں میں مسلمانوں کا آنا جانا نہیں تو ایسے حالات میں مسلمانوں کے قبرستان میں اپنی میت کو دفن کرنے پر کیوں اصرار کیا جاتا ہے؟ انہیں چاہئے کہ عیسائیوں، پارسیوں اور دوسرے غیر مسلم پاکستانیوں کی طرح وہ بھی اپنے آپ کو اقلیت قرار دلوائیں اور انہی کی طرح اپنے لئے الگ دفن ہونے کا انتظام بھی کردیں۔

یہ مسئلہ ایسا ہے کہ انگریزوں نے بھی مرزائیوں کے حمایتی ہونے کے باوجود اس مسئلے میں مرزائیوں کی کبھی طرف داری نہیں کی تھی۔ مولانا عبد الحمید سالک کے والد مرزائی تھے۔ بٹالے میں ان کی وفات ہوئی۔ مرزائیوں نے مسلمانوں کے قبرستان میں انہیں دفن کرنے پر اصرار کیا۔ مسلمان اڑ گئے۔ جھگڑا ہو گیا۔ ڈپٹی کمشنر اور ایس پی دونوں انگریز تھے۔ مرزائی ناظر امور عامہ ولی اللہ وغیرہ انہیں اپنی کاروں میں سوار کر کے موقعہ پر لائے۔ جب دیکھا کہ علاقہ بھر کے مسلمان وہاں مرنے مارنے پر تیار ہیں۔ علاوہ ازیں مجلس احرار کے سینکڑوں باوردی رضا کار وہاں پہنچ گئے تھے تو انہوں نے کہا کہ ولی اللہ تم ہم کو یہ کہہ کر لائے تھے کہ کسی گاؤں کے قبرستان کا مسئلہ ہے یہ تو گاؤں کا مسئلہ نہیں ہے یہ تو پورے ہندوستان کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ میں ہم آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔ چنانچہ مرزائی ان دونوں انگریز افسروں سے اتنے مایوس ہوئے کہ واپسی پر انہیں اپنی کار میں بھی نہ لائے۔ دونوں انگریز افسر بعد میں تانگہ میں سوار ہو کر آئے اور مرزائی میت کو قادیان لے گئے۔

وہ پرانی بات ہے۔ یہاں مرزائیوں نے جو رویہ مسلمانوں کے خلاف اختیار کر رکھا ہے اس پر غور کیا جائے ربوہ مرزائیوں کا خالص مرزائی شہر ہے۔ مرزائیوں کے یہاں آباد ہونے سے پہلے دور دراز مقامات تک کے اردگرد کے دیہات کا یہاں قبرستان تھا۔ دریائے چناب کا کنارہ ہے۔ دریا کے کنارے کی آبادیوں کو طغیانیاں اور سیلابوں کا ہمیشہ خطرہ درپیش رہتا ہے۔ اس لئے وہ بیچارے یہاں اونچی جگہ اور پہاڑوں کی اوٹ میں اپنی میتیں دفن کیا کرتے تھے اور مرزائیوں نے بھی اس قبرستان کے پہلو میں اپنا قبرستان شروع کیا اور یہیں نام نہاد بہشتی مقبرہ بنایا۔ آج تک اس حدود میں انہوں نے کسی مسلمان میت کو دفن نہیں ہونے دیا۔ جب ان کا رویہ یہ ہے تو وہ خودان قصبات، دیہات میں جہاں خالصتاً مسلمانوں کی آبادیاں ہیں، مسلمانوں سے کس سلوک کی توقع رکھتے ہیں۔

(لولاک، ۱۱؍جنوری ۱۹۷۴ء)

سرحد، بلوچستان حکومتیں اور مرزائی سازش

ذوالفقار علی بھٹو کے برسر اقتدار آتے ہی نیپ اور جمعیۃ علماء اسلام کا پیپلز پارٹی سے سمجھوتہ ہوا۔ جس کے باعث سرحد میں مولانا مفتی محمود اور بلوچستان میں عطاء اللہ مینگل کی حکومت قائم ہوئی۔ کمیونسٹ اور قادیانی، نیشنلسٹ مسلمانوں کے اقتدار کو برداشت نہ کر سکے۔ زخمی سانپ کی طرح تلملانے لگے۔ سازشوں کے جال بنے گئے۔ ان حکومتوں کے خلاف پنجاب اور کراچی میں جو مخالفانہ پروپیگنڈہ ہوا۔ اس کی عقلی و مالی اساس میں قادیانی برابر کے شریک تھے۔ مشرقی پاکستان کو ایم ایم احمد قادیانی اور اس کی پارٹی نے مغربی پاکستان سے علیحدہ کر دیا

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۱۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تھا۔ وہ سرحد اور بلوچستان میں بھی حکومتوں کو ختم کرا کر ایسے حالات پیدا کرانے کے لئے پر تول رہے تھے کہ یہ دو صوبے بھی پاکستان سے علیحدگی اختیار کر لیں۔ سندھ کا نقشہ دریائے سندھ کے دونوں کناروں سے مختلف ہو جائے۔ اس کے بعد پنجاب پر قادیانی قبضہ ہو جائے۔ اس غرض سے بین الاقوامی سیاست کے تابع قادیانی جڑواں سیاسی بھائی سکھوں کی اعانت سے پنجاب کے حکمران ہونا چاہتے تھے۔ جس طرح سکھ ہندوؤں کے لئے کبھی مخلص نہیں ہو سکتے ، اسی طرح قادیانی بھی مسلمانوں کے لئے مخلص نہیں ہو سکتے۔ ہندوؤں کے سکھ خالصے ہیں اور مسلمانوں کے سکھ قادیانی۔ یہ دونوں اپنے اپنے نقطۂ نظر سے پنجاب کی بندر بانٹ کے درپے ہیں۔ چنانچہ سرحد و بلوچستان کی حکومتوں کے خاتمہ کے لئے ایسے سرکاری دوائر میں کمیونسٹ اور قادیانی لابی نے بڑا بھر پور کردار ادا کیا۔ جس سے مسلمانوں میں اشتعال پھیلا۔

ربوہ میں ظالمانہ قتل

گزشتہ ہفتہ ربوہ کے ایک سبزی فروش دوکاندار کو انتہائی سفاکی سے پراسرار طور پر قتل کر دیا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس بدنصیب مقتول کو قتل کرنے سے پہلے چھ گھنٹے تک سخت قسم کی اذیتیں پہنچائی گئیں اور بالآخر اسے قتل کر دیا گیا۔ اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے۔ پولیس تفتیش کر رہی ہے۔ لیکن ربوہ ایک ایسا شہر ہے جہاں تفتیش کا لفظ سرے سے بے معنی ہے۔ کیونکہ وہاں خلیفہ ربوہ کے محکوم اور مجبور غلام قسم کے لوگ رہتے ہیں جو خلیفہ ربوہ کی مرضی کے بغیر سانس تک نہیں لے سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قتل کے ملزموں کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ ربوہ سے آمدہ اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سبزی فروش دوکاندار پر خلافت ربوہ کو شبہ تھا کہ اس کا تعلق جماعت کے مخالف لوگوں سے تھا اور یہ شخص ربوہ کے اندرونی حالات کی مخبری کیا کرتا تھا۔ یہ بھی معلوم ہے کہ اس شخص نے ان عورتوں کو نازیبا حرکات سے منع کیا تھا۔ جو فیملی پلاننگ کے پردے میں ربوہ میں مقیم ہیں اور ناشائستہ طرز زندگی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ بہر حال ربوہ میں ظلم کی چکی چل رہی ہے اور یہ بیچارا سبزی فروش بھی اسی ظلم کی چکی میں پس گیا ہے۔ اس سے پہلے کئی قتل ہو چکے ہیں۔ جن کی کوئی داد فریاد نہیں سنی گئی۔ روزنامہ ’’ایام‘‘ لائل پور کے ایڈیٹر مولانا غلام رسول جنڈیالوی کا جواں سال بیٹا بھی ربوہ ہی میں بے دردی اور وحشیانہ طور پر قتل کیا گیا تھا اور مارنے کے بعد اس کے متعلق فضول کہانی بیان کر دی گئی تھی۔

ربوہ میں ظلم اور آمریت کا یہ عالم ہے کہ اگلے روز گورنمنٹ تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے ایک احمدی طالب علم کو جو مرزا ناصر احمد کی بچیوں کو ٹیوشن پڑھاتا ہے۔ ربوہ کے گسٹاپو نے پکڑ لیا اور انتہائی سفاکانہ طور پر زدوکوب کیا۔ اس کو دھمکایا کہ اگر آئندہ تم قصر خلافت میں پڑھانے کے لئے گئے تو تمہیں ختم کر دیا جائے گا۔ اس غریب طالب علم کی سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ ماجرا کیا ہے۔ اس طرح کے واقعات سے ربوہ کے گلی کوچے بھرے پڑے ہیں۔ لیکن سوال یہی ہے کہ آخر اس کا حل کیا ہے۔ سیدھی بات یہی ہے کہ اس کا صحیح حل یہ ہے کہ ربوہ سے مرزائیوں کی مناپلی توڑ دی جائے۔

(لولاک، فیصل آباد)

مرزائی سازش ایک نظر میں

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۱۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزا ناصر احمد کو پاکستان ایئر فورس نے سلامی دی، حکومت پاکستان تحقیقات کرے

دسمبر ۱۹۷۳ء اس دفعہ مرزائیوں نے ربوہ میں جو اپنا سالانہ جلسہ کیا ہے۔ اس میں انہوں نے شرکائے جلسہ کو یہ تاثر دینے کی زبردست کوشش کی ہے کہ پاکستان کا اقتدار اب ان کی جھولی میں آ کر گرنے ہی والا ہے اور موجودہ حکومت بھی ان کی دست بستہ غلام ہے۔ انہوں نے ایک دھاندلی تو وہ کی جس کا ذکر تفصیل سے ہم نے گزشتہ شمارہ میں کر دیا ہے کہ اس غریب قوم کے خون پسینے کی کمائی کا تقریباً دو لاکھ روپیہ ربوہ کے لنگر خانے کے چولہوں کے لئے سوئی گیس کے انڈسٹریل کنکشن پر خرچ کروا دیا اور بغیر میٹر کے سوئی گیس چالو کروالی۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ انہیں سوئی گیس اور حکومت پر کس قدر قابو اور اختیار حاصل ہے۔

دوسری بات جو ہمیں معلوم ہوئی ہے اور اب زبان زد خاص و عام ہو رہی ہے۔ وہ یہ ہے کہ جب سالانہ جلسہ میں ناصر احمد تقریر کرنے کے لئے سٹیج پر آئے تو مائیک کے سامنے پہنچ کر خاموش کھڑے ہو گئے اور تقریر شروع نہیں کر رہے تھے۔ جیسا کہ انہیں کسی چیز کا انتظار ہو۔ اتنے میں ایک ہوائی جہاز جلسہ گاہ پر سے ڈپ مار کر گزرا۔ اس کے گزر جانے کے بعد بھی مرزا صاحب خاموش کھڑے رہے۔ گویا انہیں ابھی کسی اور چیز کا بھی انتظار تھا۔ اتنے میں دو اور جہاز جلسہ گاہ سے جھک کر گزرے اور اس طرح مبینہ طور پر مرزا ناصر احمد کو پاکستان ایئر فورس کی سلامی مکمل ہو گئی۔ اس پر جلسہ گاہ میں نعرہ لگایا گیا۔ ”مرزا غلام احمد کی جے، مرزا غلام احمد کی جے“ اس کے بعد مرزا ناصر احمد کی تقریر ہوئی اور اس تقریر میں انہوں نے اعلان کیا کہ ہمارا ایک ریڈیو اسٹیشن نائیجیریا میں لگایا جا رہا ہے۔ اسی جلسہ میں مرزا ناصر احمد نے حاصل تقریر بلکہ حاصل جلسہ اپیل کی کہ ربوہ میں پریس لگانے کے لئے اڑھائی کروڑ روپیہ چندہ دیا جائے جس میں سے ایک کروڑ روپیہ انگلستان کی جماعت نے وعدہ کیا اور باقی ڈیڑھ کروڑ روپیہ باقی جماعت پیش کرے۔ ہم زیر بحث مقالہ میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ مرزائی کروڑوں نہیں اربوں روپیہ معلوم اور نامعلوم ذرائع سے حاصل کر چکے ہیں۔ یہ اعلان اور یہ چندہ سازی محض اس روپیہ کو کیموفلاج کرنے اور ڈکار مارنے کے مترادف ہے۔ ویسے اب وہ اس پوزیشن میں بھی ہیں کہ پاکستان کے بڑے بڑے مالی وسائل ان کے قبضہ میں ہیں۔ اڑھائی کروڑ روپیہ جمع کرنا ان کے لئے کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ جب کہ مرزائیوں کو جلسہ گاہ سے کھلی آنکھوں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ پاکستان ایئر فورس ان کے خلیفہ کو سلامی دے رہی ہے۔ برسر اقتدار لوگ ان کے دست بستہ غلام ہو چکے ہیں اور ملک کا اقتدار اب ان کے قدم چومنے ہی والا ہے۔ ایسے حالات میں جب مرزائیوں کی جیب میں پیسہ بھی ہو اور انہیں اپنا مستقبل بھی روشن نظر آ رہا ہو تو اڑھائی کروڑ روپیہ کا جمع ہونا کیا حقیقت رکھتا ہے۔ اس وقت زیر بحث چیز یہ ہے کہ ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر تحقیقات کرے کہ آیا یہ واقعہ درست ہے کہ مرزا ناصر احمد کو پاکستان ایئر فورس نے ربوہ کے سالانہ جلسہ میں سلامی دی ہے؟ اگر یہ واقعہ درست ہے تو یہ انتہائی قابل اعتراض ہے اور کسی بہت بڑے ملکی اور قومی سانحے اور حادثے کے رونما ہونے کے خطرے کا سگنل ہے۔

پاکستان ایئر فورس ہمارا ایک قابل فخر قومی اور ملکی ادارہ ہے۔ اس میں چند مرزائی افسروں کو چھوڑ کر اکثریت سنی شیعہ شاہینوں کی ہے۔ کبھی کسی سنی پائلٹ نے حضرت داتا گنج بخش، حضرت بابا فرید گنج شکر، حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے عرسوں کے موقعہ پر وہاں کے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۲۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سجادہ نشین حضرات کے خطاب سے پہلے انہیں پاکستان ایئرفورس کے جہاز کے ذریعہ سلامی نہیں دی۔ کراچی، لاہور بعض دوسرے شہروں میں شیعہ حضرات کے تاریخی اجلاس ہوتے ہیں۔ محرم کے مہینہ میں ان کی مجالس اور تعزیہ داری کے جلوس ہوتے ہیں۔ کبھی کسی شیعہ پائلٹ نے اپنے مذہبی جذبات کے تحت پاکستان ایئرفورس کے جہاز کے ذریعہ ایسی کوئی سلامی نہیں دی ہے۔ یہی حال ملک کی دوسری بڑی بڑی دینی جماعتوں کے اجتماعات اور اہم ترین تقریبات کا ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ ان کے کسی ہم عقیدہ پائلٹ نے اپنے عقیدہ کے لوگوں کے اجتماع پر پرواز کر کے یوں سلامی دی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایئرفورس کا کوئی بھی مظاہرہ صرف قومی، ملکی اور خالص سرکاری نوعیت کی تقاریب میں ہی ہوا کرتا ہے۔ یہی حال بری افواج اور نیوی کا ہے۔ افواج پاکستان خواہ ان کا تعلق فضائیہ سے ہو۔ خواہ بحریہ اور بریہ سے ہو۔ ہمارے لئے قابل تعظیم اور قابل احترام ہیں۔ انہیں فرقہ وارانہ سطح پر لانا خود افواج پاکستان کے مقام و احترام کے منافی ہے۔ مرزائی جماعت اس سے پہلے فرقان فورس کے قضیہ میں ملوث ہے۔ اس نے فرقان بٹالین کے متعلق الفضل میں ایسے اعلانات شائع کئے تھے جو پاکستان کی مسلح افواج کی سخت توہین کے مترادف تھے۔ اب غالباً یہ مرزائی پائلٹ ہوں گے جنہوں نے مذہبی جنون کے تحت یہ بہانہ سازی کی ہوگی اور مرزا ناصر احمد سے اپنی عقیدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان ایئرفورس کو استعمال کیا ہوگا۔ اس معاملہ کی انکوائری اس لئے بھی ضروری ہے کہ فضائیہ کا سربراہ ظفر چوہدری مرزائی جماعت سے تعلق رکھتا ہے۔ ظفر چوہدری کے خلاف اس سے پہلے بھی عوام میں مطالبہ ہوتا رہتا ہے کہ اس مشکوک فرقے سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ شخص کو افواج پاکستان کے کسی شعبے کا سربراہ نہیں ہونا چاہئے۔ ہم آخر میں ایک دفعہ پھر حکومت پاکستان اور وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس واقعہ کی فوری طور پر تحقیقات کرائیں۔ اگر یہ واقعہ ہوا ہے تو اس کے ذمہ دار حضرات کو پاکستان ایئرفورس سے علیحدہ کر دیا جائے اور مرزائیوں سے ملک کو درپیش خطرات کے پیش نظر مرزائیت کی کلیدی آسامیوں پر گرفت اور اجارہ داری کو ختم کر دیا جائے۔‘‘

(لولاک، مؤرخہ ۱۸؍جنوری ۱۹۷۴ء)

یہ اداریہ شائع ہوتے ہی مولانا مفتی محمود مرحوم نے قومی اسمبلی میں تحریک التواء پیش کر دی جس کی تفصیل یہ ہے:

خورشید حسن میر نے غلط فرمایا

گزشتہ ہفتہ مولانا مفتی محمود ایم۔ این۔ اے نے قومی اسمبلی میں ایک تحریک التواء پیش کرنا چاہی جس کے ذریعہ وہ اس بات کو قومی اسمبلی میں بحث کے لئے پیش کرنا چاہتے تھے کہ مرزائیوں کے سالانہ جلسہ کے موقعہ پر پاک فضائیہ کے طیاروں نے مرزا ناصر کو سلامی دی تھی۔ مولانا مفتی محمود صاحب اس کے حوالہ کے لئے ہفتہ وار لولاک کا اداریہ قومی اسمبلی میں پڑھنا چاہتے تھے۔ لیکن خورشید حسن میر صاحب جو ہمیشہ مرزائیت کے تحفظ کے سلسلہ میں پیش پیش رہتے ہیں۔ آڑے آگئے اور انہوں نے اعتراض کیا کہ اس اداریہ کا قومی اسمبلی میں پڑھا جانا ملکی مفاد کے خلاف ہے۔ وہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ کیا ہوا ہے۔ لیکن خورشید حسن میر صاحب کے واویلا کرنے پر یہ تفصیل پیش نہ ہو سکی۔ خورشید حسن میر نے ہاؤس کو بتایا کہ پاک فضائیہ نے مرزا ناصر احمد کو سلامی نہیں دی بلکہ سرگودھا کے ہوائی اڈے پر ہوائی جہاز مشقیں ہوتی رہتی ہیں، جنہیں غلطی سے سلامی سمجھ لیا گیا ہے۔

ہم ایک بار پھر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ خورشید حسن میر صاحب نے مرزائیوں کی غلط صفائی دی ہے۔ اگر تحقیقات کرائی جائے تو یہ ثابت ہوگا کہ مرزا ناصر احمد کو جلسہ میں سلامی دی گئی۔ ربوہ کی پہاڑیوں پر جہازوں کی مشقوں کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

(ہفتہ وار لولاک مؤرخہ ۱۲؍فروری ۱۹۷۴ء)

صفحہ ۵۲۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بھٹو حکومت کے خلاف ایک مرزائی سازش، غلام مصطفیٰ کھر کی برطرفی

گزشتہ سال بھٹو حکومت کے خلاف مبینہ فوجی سازش ہوئی۔ کئی افسر گرفتار ہوئے۔ گرفتار ہونے والوں میں کئی بے گناہ بھی پکڑے گئے۔ فضائیہ سے گرفتار ہونے والے افسروں کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ بے گناہ باعزت رہا کر دئیے گئے ہیں جو سازش میں ملوث ثابت پائے گئے۔ انہیں مختلف سزائیں دی جاچکی ہیں۔ سزا پانے والوں میں سکوارڈن لیڈر غوث محمد قادیانی بھی ہے جو اس سازش میں سرغنہ تھا۔ اسے چودہ سال سزا ہوئی ہے۔ بری فوج کے افسروں کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔ یقین کامل ہے کہ ان میں سے بھی بے گناہ بری ہوں گے اور گنہگار سزا پائیں گے۔ بری افواج سے گرفتار ہونے والوں میں مشہور قادیانی جنرل اختر حسین ملک آنجہانی کا بیٹا اور حال کور کمانڈر قادیانی جنرل عبدالعلی کا بھتیجا اور داماد میجر سعید اختر ملک۔ اسی طرح مشہور ریٹائرڈ میجر جنرل آدم خان قادیانی کے دولڑکے میجر فاروق اور میجر افتخار (یہ دونوں بھائی ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خاں کے بھائی طارق کے سالے ہیں) اسی طرح کرنل ایف۔ بی علی اور کرنل آفریدی جیسے لوگ شامل ہیں۔

چونکہ مقدمہ ابھی زیر سماعت ہے۔ ہم اس کے متعلق قبل از وقت کچھ کہنا احترام عدالت اور آداب صحافت کے منافی سمجھتے ہیں۔ لیکن ایک حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی کہ اس فوجی سازش کی بنیاد مرزائی تھے جیسا کہ فضائیہ کے ایک قابل احترام افسر میاں عبدالستار گروپ کیپٹن نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے بھٹو حکومت کے خلاف کی جانے والی قادیانی سازش کا انکشاف بھی کیا تھا۔ اب مرزائیوں نے بھٹو حکومت کے خلاف اپنی سازشانہ کوششوں سے ایک اور بغاوت کرا دی ہے۔ ہماری اطلاع کے مطابق چکوال سے صوبائی اسمبلی کے ممبر راجہ منور احمد قادیانی صوبائی کابینہ میں بحیثیت وزیر شامل ہونے کے سخت متمنی تھے۔ بلکہ انہوں نے اپنے ربوائی سرپرستوں کی یقین دہانی پر مبارک بادیں بھی وصول کر لی تھیں۔ مخصوص یونیفارم تو انہوں نے مدت سے بنوائی ہوئی تھی۔ ممکن ہے وہ وزیر لے لئے جاتے۔ لیکن وزیراعظم نے قادیانیوں کے متعلق عوامی جذبات کے پیش نظر ان کا پتہ کاٹ دیا اور ان کی جگہ ضلع جہلم کے بریگیڈیئر صاحب داد کو صوبائی کابینہ میں شامل کرنے کی ہدایت کردی۔ راجہ منور احمد اور مرزائیوں کے لئے یہ دوسرا بڑا صدمہ تھا۔ پہلا صدمہ یہ تھا کہ مسلمان کی تعریف آئین میں شامل کر لی گئی اور اب یہ کہ ایک مرزائی وزیر بنتا بنتا رہ گیا۔ چنانچہ ربوہ سرکار کی ہدایت پر راجہ منور احمد نے بھٹو حکومت کے خلاف ایک سول بغاوت کا آغاز کیا۔ اپنی قماش کے بعض ایم۔ پی۔ اے صاحبان کو ساتھ ملا لیا اور وزیراعلیٰ غلام مصطفیٰ کھر اور بھٹو صاحب کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنے اور لڑائی کرانے کی مساعی شروع کردیں۔

گزشتہ دنوں جب بھٹو صاحب سندھ کے دورہ پر تھے تو پنجاب کے ان مرزائیت گزیدہ اور راجہ منور احمد کی سازش کا شکار ایم۔ پی۔ اے صاحبان کا ایک وفد انہیں لاڑکانہ ملا اور کھر صاحب کے متعلق انہیں بدگمان کرنے کی کوشش کی۔ بھٹو صاحب نے انہیں یقین دلایا کہ اگر آپ لوگوں کی شکایات درست ہوئیں تو وزیراعلیٰ کے خلاف ضرور کارروائی کی جائے گی۔ راجہ منور نے پنجاب کے ان باغی ارکان کو یقین دلایا کہ بھٹو صاحب نے اپنے بھائی ممتاز بھٹو کو وزارت اعلیٰ کے عہدے سے علیحدہ کر دیا ہے تو کھر صاحب کو یقیناً علیحدہ کردیں گے۔ چنانچہ میٹنگیں اور سازشیں شروع ہو گئیں اور جو لوگ کھر سے اپنی اغراض کے تحت ناراض تھے وہ سب اس سازش میں شریک ہو گئے۔ ۳۱؍ جنوری ۱۹۷۴ء کو جب بھٹو صاحب لاہور آئے تو مرزائی حسب عادت پس پردہ رہے۔ راجہ منور بھی خود سامنے نہ آئے اور بعض دوسرے افراد کو آگے کر کے ایک محضر نامہ بھٹو صاحب کے پیش کیا گیا۔ جس پر متعدد ایم۔ پی۔ اے کے دستخط ثبت کرائے گئے تھے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۲۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شکایت کھر صاحب کے علاوہ ممتاز کاہلوں ، مختار اعوان اور حاکمین خان کے خلاف کی گئی تھی۔ اگرچہ اب وزیر اعلیٰ کھر صاحب نے ان باغی ایم ۔ پی صاحبان کے خلاف جہاد شروع کر دیا ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اصل مجرم ابھی تک گرفت میں نہیں آ سکے۔ راجہ منور احمد جو غلام مصطفیٰ کھر کو اپنی ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی سمجھتے تھے، اب بھی ربوہ کی سرکار کی امداد کے بل بوتے پر اکڑے ہوئے ہیں۔ ہمیں اس روز کا انتظار ہے جس روز ذوالفقار علی بھٹو اپنے حقیقی دشمنوں کو پہچانیں گے اور انہیں کسی مضبوط کھونٹے سے باندھ کر ملک کی بہت بڑی خدمت سرانجام دیں گے۔

(لولاک، مورخہ ۱۹؍فروری ۱۹۷۴ء)

مولانا تاج محمود کا یہ انکشاف جنوری ۱۹۷۴ء کا ہے۔ اس کے بعد کیا ہوا سب کو معلوم ہے کہ کھر اور بھٹو صاحب کی لڑائی کرا دی گئی۔ ان کی جگہ رامے صاحب آ گئے۔ مرزائی فسادات کرانے اور مسلمانوں کے جذبات کا امتحان لینے کے لئے تلے ہوئے تھے کہ اگر مسلمان چپ رہیں تو حکومت واقتدار پر قبضہ کا منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں ان کو کسی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ کھر صاحب سخت گیر تھے۔ مرزائی شرارت کرتے تو مرزائیوں کو لینے کے دینے پڑ جاتے۔ وہ رامے صاحب کو لائے۔ رامے مرزائیوں کے نہ صرف ڈھب کے آدمی تھے بلکہ ان کے کئی پہلو سے مرزائیت سے روابط تھے۔ اس لئے مرزائیوں نے ۱۹۷۴ء کی تحریک سے پہلے ایک یہ کھیل کھیلا کہ کھر صاحب اور بھٹو صاحب میں علیحدگی کرا دی۔

چوہدری رفیق احمد باجوہ اور مرزائی جارحیت

چوہدری رفیق احمد باجوہ قادیانی جماعت کے پیدائشی چشم و چراغ تھے۔ کالج میں پڑھتے تھے کہ بھٹو دور حکومت میں تمام پرائیویٹ ادارے حکومت کی تحویل میں لے لئے گئے۔ یہ بات مرزائی قیادت کے لئے سخت ناگوار تھی۔ انہوں نے ابتداً اسے قبول نہ کیا۔ رفیق احمد باجوہ نے تعلیم الاسلام کالج ربوہ کو گورنمنٹ تعلیم الاسلام کالج ربوہ ہونے کے ناتے مہروں اور کاغذات میں تکمیل کی درخواست کی تو مرزائی قیادت ان کے خلاف ہو گئی۔ انہوں نے اس پر قاتلانہ حملہ کرایا۔ زخمی کیا۔ مجھے (فقیر راقم اللہ وسایا) آج تک یاد ہے کہ وہ منظر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جب رفیق احمد باجوہ نے فیصل آباد کے پریس کلب میں صحافیوں کو اپنے خون آلود کپڑے دکھائے۔ مرزائی ظلم وستم کی یہ روئیداد اخبارات میں شائع ہوئی تو مرزائی زخمی سانپ کی طرح بل کھانے لگے۔ رفیق باجوہ نے طلباء کا ایک وفد لے کر وزیر تعلیم، وزیر اعلیٰ معراج خالد، گورنر پنجاب ملک غلام مصطفیٰ کھر سے ملاقات کی۔ مرزائیوں نے اس کے احتجاج کو ختم کرانے کے لئے اس کے گھر کا گھیراؤ کیا۔ رات کے وقت ہمسایوں کی مدد سے وہ جان بچا کر بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے روح رواں مولانا تاج محمود مرحوم سے باجوہ اپنے رفقاء سمیت ملاقات کے لئے حاضر ہوئے۔ مولانا نے شفیق باپ کی طرح ان کو گلے لگایا۔ ذیل میں ۲۸؍دسمبر ۱۹۷۳ء کے ہفتہ وار لولاک کا ایک مضمون: ’’اور مجھ پر مرزائیت کی حقیقت منکشف ہو گئی۔‘‘ جناب رفیق احمد باجوہ کا لکھا ہوا مطالعہ فرمائیں۔ جو یہ ہے:

’’میرے دادا چوہدری رحمت خان باجوہ سفید پوش ضلع سیالکوٹ ، دوسرے کئی لوگوں کی طرح مرزائیت کا شکار ہوئے اور انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے ہاتھ پر بیعت کی۔ میرے والد چوہدری بشیر احمد باجوہ نے پیدائشی قادیانی ہونے کے مذہبی عقیدت کے جوش اور جنون میں مرزا بشیر الدین محمود کی اپیل پر بہترین سرکاری ملازمت چھوڑ کر مرزائیت کے لئے زندگی وقف کر دی اور معمولی تنخواہ پر گزر اوقات کرنا قبول کر لیا۔ میرے والد اور والدہ دونوں کے خاندان مرزائیت سے متعلق تھے۔ پھر میری پیدائش بھی خالص مرزائی ماحول ربوہ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۲۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میں ۱۹۵۲ء میں ہوئی۔ ظاہر ہے کہ میرا مرزائی ہونا ایک قدرتی بات تھی۔ میرے گھر والوں کے کہنے کے مطابق میرا نام بھی مرزا بشیر الدین محمود ہی نے تجویز کیا تھا۔

ایسے حالات میں اکیس برس تک گزارنے کے دوران میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ میں مرزائیت سے تائب ہو جاؤں گا اور یہ بات میرے وہم و گمان میں بھی نہ آسکتی تھی۔ اسی لئے میں ایک مخلص مرزائی طالب علم ہونے کی حیثیت سے مذہبی اور جماعتی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگا۔ پہلے اطفال الاحمدیہ جو مرزائی بچوں کی مذہبی اور جماعتی تنظیم ہے، اس کا ممبر رہا۔ اس کے بعد مرزائی نوجوان رضا کاروں خدام الاحمدیہ میں سرگرم رکن رہا۔ میں جماعتی سرگرمیوں میں جیسے جیسے زیادہ حصہ لینے لگا ویسے ویسے مجھے ربوہ کے ماحول کو ہمہ گیر طور پر دیکھنے اور سمجھنے کا موقعہ ملا۔ میں بھی دوسرے اندھے مقلدوں کی طرح اگرچہ مرزائیت کا بڑا فدائی تھا۔ لیکن جب میں دیکھتا کہ دوسرے لوگوں اور مرزا قادیانی کے خاندان کے لوگوں میں نمایاں فرق روا رکھا جاتا ہے تو ہلکی سی خراش میرے دل و دماغ پر آجاتی۔ جس کی تکلیف اور کڑھن میں محسوس کر کے سوچ میں پڑ جاتا۔

ہر بچے کے جذبات اپنے ماں باپ کے متعلق نازک ہوتے ہیں۔ قدرتی طور پر مجھے بھی اپنے والدین سے بے پناہ محبت ہے۔ جب کہ میں ان کا اکلوتا بیٹا ہوں اور انہوں نے مجھے بڑے پیار محبت اور شفقت سے پالا۔ میرا اپنے والدین پر اس لئے بھی دل دکھتا کہ وہ ایک زمیندار گھرانے کے چشم و چراغ ہوتے ہوئے محض جماعت کے لئے نہایت عسرت اور قناعت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ جب میں اپنے والد صاحب سے شاہی خاندان کے افسروں کا تحکمانہ سلوک دیکھتا تو میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔ لیکن میں پھر اپنے دل کو تسلی دیتا کہ وہ ہمارے مذہبی پیشوا ہیں۔ ان میں روحانیت ہے اور وہ جماعت کے لئے قابل احترام ہیں۔ اس لئے خاموش رہتا۔ مرزا قادیانی کے خاندان کے افراد کا اپنے آپ کو شاہی خاندان قرار دینا اور ربوہ کے دوسرے تمام مکینوں کا اپنے آپ کو خاندان غلاماں تصور کر لینا میرے دل میں ہر وقت کھٹکتا رہتا۔ پھر جب کہ میرے کانوں میں اس شاہی خاندان کے بعض شہزادوں کے ناگفتہ بہ حالات بھی پہنچنے لگے۔ میں میٹرک میں پڑھتا تھا کہ ایک روز مجھے ربوہ کے ہی ایک دوست نے ایک کتابچہ ”کمالات محمودیہ“ پڑھنے کے لئے دیا۔ معلوم ہوا کہ جماعت کے بعض لوگ مرزا محمود کے خلاف بغاوت کرنے پر مجبور ہوئے اور وہ اس طرح کہ ان کے پاس خلیفہ صاحب کے بعض رنگین اور سنگین راز پہنچنے کی وجہ سے ان کی عقیدت خلیفہ صاحب سے ختم ہو گئی۔ مرزا محمود نے ان رنگین اور سنگین رازوں کے افشاء کے ڈر سے ان صاحبان پر قاتلانہ حملے کرائے اور انہیں قادیان اور ربوہ سے نکلنا پڑا۔ میرے ذہن میں یہ جستجو شروع ہوئی کہ رنگین اور سنگین راز کیا تھے۔ جن کی وجہ سے عبد الرحمن مصری اور میاں عبد المنان جیسی عظیم شخصیتوں کی عقیدت خلیفہ صاحب سے ٹوٹ گئی اور خلیفہ صاحب نے جماعت کے اتنے بڑے بڑے ستونوں کو قتل کروانے کی کوشش کی اور وہ جانیں بچا کر مرزائیت کے مراکز سے چلے گئے۔ میں نے اس سلسلہ میں بہت کوشش کی لیکن میں بھی دوسرے مرزائیوں کی طرح ربوہ کے مخصوص ماحول میں کنوئیں کا مینڈک ہی تھا۔ اس لئے کوئی مجھے کچھ کہہ دیتا اور کوئی مصلحت آمیز نصیحت کر کے خاموش کرا دیتا اور میں پھر خاموش ہو گیا۔ ماں باپ کی جماعت کے ساتھ جو عقیدت تھی اس کے پیش نظر بھی اور ان کے احترام اور خوف کی وجہ سے بھی ان کے سامنے اپنے یہ خدشات نہ ظاہر کرتا تھا۔ اگرچہ میری جماعت کے متعلق سرگرمیاں جاری رہیں۔ لیکن میں ربوہ کے پورے ماحول میں گھل مل کر اس کا مزید مشاہدہ اور مطالعہ کرتا رہا۔

اب میں تعلیم الاسلام کالج کا طالب علم تھا۔ اپنی افتاد طبع کے باعث میری سرگرمیاں طالب علموں کے لئے بھی خیر خواہانہ اور رفاہی

صفحہ ۵۲۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تھیں ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ طالب علموں میں نمایاں اور ممتاز تھا۔ انہی دنوں مجھے ربوہ کے ایک اور دوست نے ایک اور کتاب پڑھنے کے لئے دی ۔ یہ کتاب مظہر ملتانی کی لکھی ہوئی تھی ۔ مظہر ملتانی قادیان کے رہنے والے جماعت کے ایک فخر الدین ملتانی کے بیٹے ہیں ۔ وہ بھی قادیان کے ماحول میں رہتے رہتے اور خلافتی ماحول کے قریب ہو کر بعض رنگین اور سنگین رازوں سے آگاہ ہو گئے اور اب پاکستان میں انہوں نے یہ کتاب ’’تاریخ محمودیت‘‘ شائع کی ہے جو کئی بار شائع ہو چکی ہے ۔ جس کے متعلق یہ بھی بتایا گیا کہ مرزائیوں نے حکومت میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے اس کتاب پر پابندی لگوا کر اسے خلاف قانون قرار دلوا دیا ہے اور اب یہ کتاب چوری چھپے لوگوں کے پاس پہنچتی ہے اور لوگ اسے پڑھتے ہیں ۔ یہ باتیں سن کر میری اس کتاب سے دلچسپی بڑھ گئی اور میں نے بھی اسے چوری چوری اوّل سے آخر تک پڑھا ۔ اس کتاب میں لگ بھگ تیس معتبر اور خالص با اثر مرزائیوں کی مرزا محمود احمد خلیفہ ربوہ کے کردار کے متعلق مؤکد بعذاب اللہ شہادتیں درج تھیں ۔ اس کے علاوہ عبدالرحمن مصری صاحب کا دل ہلا دینے والا مرزا محمود احمد خلیفہ کے نام خط درج تھا ۔ یہ کتاب پڑھ کر مجھ پر ساری حقیقت حال واضح ہو گئی ۔ میں بھی دوسرے مرزائیوں کی طرح اس کتاب کو غلط اور گمراہ کن کہہ دیتا ۔ لیکن بعض چیزیں اور باتیں میرے علم میں مسلسل آچکی تھیں ۔ جن کا مجھ کو بالکل یقین حاصل ہو چکا تھا۔ میرے ان خیالات کا سلسلہ اس کتاب کے مندرجات سے بالکل جڑ گیا اور میرا ذہن بالکل صاف ہو گیا ۔ شاہی خاندان کی ساری روحانیت اور پیشوائیت مجھ پر روشن ہو گئی ۔ مجھے بالکل یقین ہو گیا کہ یہ شاہی خاندان کے افراد کی فرعونیت دوسرے لوگوں پر ان کی مذہبی اور روحانی برتری یا کمتری کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ لوگ صرف دولت اور ربوہ میں اپنی طاقت کے بل بوتے پر خدائی کر رہے ہیں اور یہاں رہنے والے لوگ محض پیٹ کی مجبوریوں کی وجہ سے ذلت اور غلامی پر مجبور ہیں ۔ اب میرا ذہن بالکل بغاوت پر آمادہ ہو گیا ۔ اس لئے کہ میری طبیعت پیٹ کی خاطر یا محض اپنے والدین کی مجبوری کی خاطر جھوٹ کو سچ ، سیاہ کو سفید کہنے کے لئے آمادہ نہ تھی ۔

اسی دوران پیپلز پارٹی کی تحریک شروع ہوئی اور بھٹو صاحب نے سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ کا نعرہ رستاخیز بلند کیا ۔ یہ نعرہ میرے جذبات کے عین مطابق تھا ۔ کیونکہ میں بھی ؎

جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

کا قائل تھا ۔ چنانچہ میں نے اپنے مکان پر پیپلز پارٹی کا جھنڈا ربوہ کے خداؤں کی مرضی کے خلاف لہرا دیا ۔ ربوہ کے شاہی خاندان اور اس کے کاسہ لیس حواریوں نے بہت کوشش کی ۔ لیکن میں نے جھنڈا اتارنے سے انکار کر دیا ۔ یہ میری ربوہ کے خداؤں کے خلاف پہلی بغاوت تھی ۔ مرزا ناصر احمد خلیفہ ربوہ اس سے پہلے اپنے سالانہ جلسہ میں سوشلزم کے خلاف فتویٰ صادر کر چکے تھے ۔ کسی مرزائی کو ربوہ میں کیسے جرأت ہو سکتی تھی کہ خلیفہ صاحب کی مرضی کے خلاف دم مار سکے لیکن میں نے پیپلز پارٹی کی عوامی تحریک کے لئے یہ جھنڈا لہرائے رکھا اور ہمارے مکان چھوڑنے کے آخری دن تک یہ جھنڈا وہاں لہراتا رہا ۔ پیپلز پارٹی برسر اقتدار آگئی اور اس سے پہلے ہی مرزا ناصر احمد صاحب اور ان کے حواری بھی بھٹو صاحب کے آستانہ عالیہ پر حسب عادت سجدہ ریز ہو چکے تھے ۔ کیونکہ ہر چڑھتے سورج کی پوجا کرنا اسے ’’ھذا ربی‘‘ کہنا ان کی عادت ہے ۔

تعلیم الاسلام کالج ربوہ کو حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیا اور میں حکومت کے اس اقدام سے خوش تھا کہ کم از کم کالج کی فضا تو مرزائیت کی آمریت سے آزاد ہوگی اور یہاں ہم آزادی کی فضا میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گے ۔ لیکن ربوہ نے اپنی آہنی گرفت کالج پر مضبوط کی ہوئی تھی ۔ وہ اندر ہی اندر حکومت کے اس اقدام پر کڑھ رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ طلباء سے کالج کے واجبات اور ہوسٹل کے بقایا

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۲۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جات وصول کر کے ہڑپ کر رہے تھے۔ میں نے طلباء سے مل کر اس ظلم کے خلاف آواز بلند کی کہ اب کالج حکومت کی تحویل میں ہے اور اب یہ سرکاری ادارہ ہے۔ ربوہ والوں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ طلباء سے پچھلے بقایا جات وصول کر کے ہڑپ کریں۔ یہ سرکاری فنڈ ہیں۔ انہیں سرکاری خزانہ میں جمع ہونا چاہئے لیکن پرنسپل ایک تو مرزائی اور دوسرا ان کا زرخرید۔ تیسرا اپنے بعض عیوب کی وجہ سے ان کا خوشامدی۔ وہ ٹس سے مس نہ ہوا بلکہ اس نے ایک روز طلباء سے خطاب کرنے کے دوران مرزائی غنڈوں سے مجھ پر حملہ کرادیا۔ کالج کے تمام طلباء مرزائی غنڈوں کی اس حرکت سے مشتعل ہو گئے اور انہوں نے کالج میں ہڑتال کردی۔

اور پرنسپل صاحب کے حواس گم ہو گئے۔ انہوں نے کالج میں جوڑ توڑ شروع کر دیئے۔ لیکن وہ طلباء کے اتحاد کو توڑنے میں ناکام ہوئے۔ اگلے روز تمام طلباء جن میں احمدی اور غیر احمدی سب شامل تھے، نے بیٹھ کر فیصلہ کیا کہ اس ظلم کے خلاف آواز بلند کی جائے اور پریس کے ذریعہ حکومت کے نوٹس میں یہ معاملہ لایا جائے۔ چنانچہ طلباء کا ایک وفد دوسرے روز چنیوٹ پہنچا اور انہوں نے پریس کلب چنیوٹ میں قومی اخبارات کے نمائندگان کی ایک پریس کانفرنس طلب کی۔ یہ ناخوشگوار فریضہ طلباء نے میرے ذمہ سپرد کیا کہ میں ان کی طرف سے کالج میں روا رکھی جانے والی تمام بے قاعدگیوں اور دھاندلیوں پر روشنی ڈالوں۔ میں نے پریس میں وہ تمام چیزیں دے دیں۔ جو کالج کے قومی تحویل میں آجانے کے بعد مرزائیوں کی بے جا مداخلت خیانت ، خرد برد وغیرہ کی صورت میں کی جارہی تھیں۔

تیسرے روز اخبارات میں ہماری پریس کانفرنس کی روئیداد شائع ہو گئی۔ پھر کیا تھا ایوان خلافت ربوہ میں زلزلہ آگیا۔ ایک طوفان بدتمیزی برپا ہو گیا۔ احمدی طلباء کے والدین کی پیشیاں شروع ہو گئیں۔ ان سے پوچھ گچھ شروع ہو گئی۔ سفارتی اور نظارتی سطح پر انکوائریاں شروع ہو گئیں اور بعض طالب علموں کے متعلق کالج سے اخراج اور دوسری سزاؤں کے فیصلے ہونے لگے۔ چوتھے روز ہمیں معلوم ہوا کہ ڈاکٹر عبدالخالق وزیر تعلیم پنجاب لائل پور آ رہے ہیں۔ ہمارا ایک نمائندہ وفد ان کی خدمت میں لائل پور پہنچا اور انہیں بتایا کہ تعلیم الاسلام کالج کس طرح فسطائیت کی زد میں ہے۔ حکومت کے قومی ملکیت میں لینے کی پالیسی کی مٹی پلید کی جارہی ہے۔ طلباء کے خلاف مختلف سزاؤں کے فیصلے ہو رہے ہیں اور خوف و ہراس کی فضاء پیدا کی جارہی ہے۔ ڈاکٹر عبدالخالق نے طلباء کی شکایات سن لیں اور گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے غالباً ربوہ کے لفظ سے مرعوب ہو کر ٹال دیا۔ وہاں سے واپسی پر طلباء نے لاہور جاکر گورنمنٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگلے روز سو طلباء کا ایک نمائندہ وفد گورنمنٹ ہاؤس پہنچا اور اپنے مطالبات پہنچائے اور حکومت کو بتایا کہ تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے پرنسپل صاحب ربوہ کے مذہبی دکانداروں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ گورنمنٹ کی نیشنلائزیشن کی پالیسی کی مٹی پلید کر رہے ہیں۔ خدارا حکومت کو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ دوسرے روز وفد وزیر اعلیٰ سے بھی ملا اور ان کے سامنے بھی ربوہ میں طلباء کے خلاف کی جانے والی زیادتیوں پر احتجاج کیا۔ وزیر اعلیٰ نے طلباء کے تحریری مطالبات پر پرنسپل صاحب کے نام پرزور دار نوٹ لکھا اور طلباء کو دے دیا۔ وفد ربوہ واپس پہنچ گیا۔ معلوم ہوا کہ پرنسپل صاحب تمام رہنما طلباء کے خلاف تعزیری کارروائی کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ ادھر ربوہ کی ہامانی سرکار بد سے بدتر قسم کے فیصلے کر رہی ہے۔ جونہی طلباء نے وزیر اعلیٰ پنجاب کا وہ حکم نامہ پرنسپل صاحب کو پیش کیا پرنسپل صاحب آپے سے باہر ہو گئے اور اس حکم نامہ کو پھاڑ کر پھینک دیا۔

اب طلباء نے سوچا کہ اس غنڈہ گردی اور ظلم سے بچنے کا اور کیا طریقہ ہو سکتا ہے۔ طے پایا کہ طلباء کا ایک وفد مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا تاج محمود ایڈیٹر لولاک لائل پور کو ملے اور ان واقعات سے انہیں باخبر کیا جائے تاکہ وہ عوامی احتجاج کے ذریعہ ان ظالموں کو

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۲۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ظلم کرنے سے باز رکھیں۔ چنانچہ ایک وفد میری سرکردگی میں لائل پور مولانا کی خدمت میں پہنچا۔ اس وفد میں نصف احمدی طلباء اور نصف غیر احمدی طلباء شامل تھے۔ مولانا تاج محمود کے پاس جب وفد پہنچا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے آپ لوگوں کی کانفرنس کی رپورٹ اخبارات میں پڑھ کر اندازہ کر لیا تھا کہ اب آپ کی خیر نہیں ہے۔ ربوہ کے مذہبی آمروں کے خلاف ربوہ کے اندر سے صدائے احتجاج بلند ہو اور پھر اس میں احمدی لڑکے شامل ہوں۔ مرزائیوں کے نزدیک قیامت سے کم نہیں ہے اور مرزائی اس قیامت پر کوئی بڑی قیامت بپا کریں گے۔ انہوں نے ہمیں بڑی شفقت اور پیار سے یہ باور کرایا کہ ہمارا یہ طریقہ جذبات اور محض جوش میں آجانے کا طریقہ ہے اور اس راہ میں ہمارے لئے بڑے خطرات ہیں۔ بہتر یہ تھا کہ آپ اس طرح احتجاج نہ کرتے۔ تھوڑا صبر سے کام لیتے تو شاید آپ لوگوں کو زیادہ پریشانی نہ ہوتی۔ پھر ہماری دل جوئی کے لئے اٹھے اور اپنا ایک فائل ہمیں دکھایا کہ میں نے آپ لوگوں کو پریس کانفرنس پڑھ کر ہی گورنر صاحب، صدر مملکت اور دوسرے متعلقہ وزراء اور حکام کو تارے دے دیئے تھے۔ یہ تار بڑے نپے تلے الفاظ میں مفصل قسم کے تار تھے۔ حکومت کو فوری طور پر مداخلت کرنے اور طلباء کے حقوق کے تحفظ کی طرف متوجہ کیا ہوا تھا۔

مولانا بڑے با اخلاق طریقہ سے پیش آئے اور نصیحت کی کہ ہم اب بھی احتجاج کا انداز چھوڑ کر اپنی تعلیم کی طرف متوجہ ہوں۔ ورنہ نقصان کا خدشہ زیادہ ہے۔ اس دو گھنٹہ کی ملاقات میں جو بات میں نے خاص طور پر نوٹ کی۔ وہ یہ تھی کہ مولانا جماعت احمدیہ کے سخت خلاف ہونے کے باوجود یہ کوشش نہیں کر رہے تھے کہ ان طلباء کو مرزائیوں کے خلاف بھڑکا کر استعمال کیا جائے۔ انہیں ہماری جانوں اور تعلیم اور ہمارے مستقبل کی فکر زیادہ تھی۔ جب انہیں بتایا گیا کہ اس وفد میں احمدی طلباء بھی شامل ہیں تو انہوں نے بڑی شفقت سے فرمایا کہ آپ سب لوگ میری اولاد ہیں۔ ملک کا سرمایہ ہیں اور اس قوم کی متاع عزیز ہیں۔ جب وفد نے انہیں یقین دلایا کہ یہ سب احمدی طلباء مرزائیوں کے اس وقت سخت خلاف ہیں تو انہوں نے پھر بھی یہی کہا کہ ٹھیک ہے۔ یہ لوگ وقتی طور پر ان کے مخالف ہیں۔ لیکن میں انہیں مرزائیوں سے لڑا کر انہیں قتل کرانے کا گناہ اپنے سر لینے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ میں مرزائیوں کا مخالف ہوں۔ لیکن میری مخالفت ذاتی نہیں مذہبی اور دینی عقیدوں کی وجہ سے ہے۔ میں اس مخالفت کو اصولوں کی بنیاد پر انسانیت، شرافت اور خود دین کی حدود میں رکھ کر جاری رکھے ہوئے ہوں۔

پھر مولانا نے نصیحت آمیز لہجہ میں فرمایا کہ عزیزو! تم دراصل مرزائیوں کی تصویر کے اس رخ سے آگاہ نہیں ہو کہ وہ اپنی تنظیم میں اختلاف رائے رکھنے والوں سے کیا سلوک روا رکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے ان کی ایک مستقل تاریخ ہے۔ جس کی تفصیل میں میں نہیں جانا چاہتا۔ کیونکہ آپ میرے مہمان ہیں اور میں آپ کی دل آزاری کرنا نہیں چاہتا۔ البتہ یہ ضرور کہوں گا کہ اگر تم اس تاریخ سے واقف ہوتے تو تم اس طرح پریس کانفرنس اور مظاہرے نہ کرتے اور اختلاف رائے کا یا بیزاری کا کوئی اور طریقہ اختیار کرتے۔ میں چونکہ مرزائیوں کی اس تاریخ سے آگاہ ہوں۔ اس لئے تمہیں یہ مشورہ دے رہا ہوں۔ پھر مولانا نے کہا کہ عجیب بات ہے کہ خود مرزائی مسلمان معاشرے میں انتہائی اختلاف رائے رکھنے کا حق مانگتے ہیں۔ مسلمانوں کی دل آزاری کرتے ہیں۔ اشتعال انگیز عقیدوں کا اظہار اور عبارتوں کا پرچار کرتے ہیں اور ان کے اس اختلاف کے پیش نظر یا ان کی اس مردم آزاری کے پیش نظر انہیں کچھ کہا جائے تو آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں کہ دیکھو مسلمان کتنے ظالم ہیں۔ ہمیں اختلاف رائے اور اختلاف عقیدہ کا حق نہیں دیتے۔ حکومت اور عوام میں مظلوم بننے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ لیکن قادیان میں اور اب ربوہ میں اگر ان کے عقیدے رکھنے کے باوجود ان کا ممبر اور وفادار ہونے کے باوجود کوئی ذرا سا اختلاف کر

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۲۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دے تو فوراً بائیکاٹ، اخراج، قتل وغیرہ پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔

مولانا یہ باتیں کر رہے تھے اور میں اس سوچ میں تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی خدا جانے کیسی بھیانک تصویر ہمیں ربوہ میں دکھائی جاتی رہی ہے۔ بہر حال میں مولانا کی باتوں سے بہت متاثر ہوا۔ دوسرے ساتھی بھی بڑے مطمئن ہوئے اور ہم یہ فیصلہ کر کے کہ ہڑتال ختم کر دیں گے اور اپنی تعلیم کی طرف متوجہ ہوں گے اور اب آئندہ مرزائیوں کے خلاف اپنے اتحاد کو قائم رکھتے ہوئے اخلاقی جنگ لڑیں گے۔ جوش اور جنون کے بغیر تحریک آزادی کو جاری رکھیں گے۔ مولانا نے ہمارے ایک ایک کے نام اور پتے دریافت کئے اور تحریر کر لئے اور ہمارے ساتھ جو غیر احمدی طلباء تھے۔ انہیں فرمایا کہ تم اپنی اس تحریک میں اپنے ساتھی احمدی طلباء کے مذہبی جذبات کا احترام رکھتے ہوئے وہاں کام کریں۔ بڑی محبت سے چائے وغیرہ پلائی اور رخصت کر دیا۔

واپسی پر میں سارے راستے یہ سوچتا گیا کہ یہ لوگ ہیں جن کا نقشہ ہمیں کچھ کا کچھ بتایا جاتا رہا ہے اور ہم بھی انہیں خدا جانے کیا سمجھتے ہیں۔ لیکن آج معلوم ہوا کہ یہ کتنے بلند اخلاق اور کشادہ ذہن لوگ ہیں اور جنہیں ہم پیشوا، مقتداء اور نبی زادے سمجھتے رہے ہیں۔ ان کا اخلاق و کردار کیا ہے؟ ربوہ واپسی ہوئی۔ شام ہو گئی تھی۔ میں اپنے گھر پہنچا تو گھر کے سب لوگ پریشان تھے۔ یہ ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۲ء کی شام تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ ہمارے ساتھ کچھ ہونے والا ہے۔ کیونکہ صبح سے ہی ہمارے گھر کے اردگرد ربوہ کی سیکورٹی فورس گھیرا ڈالے ہوئے تھی۔ تھوڑی دیر گزری تو خدام الاحمدیہ اور ناظر امور عامہ کے پانچ سو غنڈوں نے میرے گھر کا گھیراؤ کر لیا۔ ان غنڈوں کی قیادت مرزا ناصر احمد خلیفہ ربوہ کا ایک بیٹا مرزا لقمان احمد کر رہا تھا۔ غنڈوں کی صف اوّل میں ظہور احمد باجوہ ناظر امور عامہ، رشید غنی پروفیسر تعلیم الاسلام کالج ربوہ، عزیز ساجد پرنسپل طبیہ کالج ربوہ، حمید اللہ صدر خدام الاحمدیہ مرکزیہ ربوہ شامل تھے۔ یہ غنڈے بندوقوں، پستولوں، کلہاڑیوں اور ڈنڈوں سے مسلح تھے۔

غنڈوں کے ایک بڑے سرغنہ سمیع اللہ چوہان یا سیال ہیں۔ انہوں نے غنڈوں کو للکارا کہ اگر یہ لوگ کنڈا نہیں کھولتے تو دیواریں پھلانگ کر گھر میں داخل ہو جاؤ اور رفیق باجوہ کو قتل کر دو۔ غنڈے گھر کی چار دیواری پر چڑھ گئے جس پر گھر کی باپردہ خواتین نے بے پردہ ہو کر چیخ و پکار کی اور غنڈوں کا مقابلہ کیا۔ کسی احمدی مومن کو ہم پر ترس نہ آیا۔ غنڈے دیواروں سے اتر گئے۔ مجھے میری والدہ نے گھر میں کہیں چھپایا ہوا تھا۔ محاصرہ جاری رہا۔ کسی نے جب پولیس چوکی میں اس غنڈہ گردی کی اطلاع دی تو پولیس نے مداخلت کرنے سے معذوری کا اظہار کر دیا۔ لالیاں تھانہ میں پولیس سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی تو معلوم ہوا ربوہ کے اپریٹر نے فون کا رابطہ لالیاں سے کاٹ رکھا ہے۔ آخر رات ۲؍ بجے کسی نہ کسی طریقہ سے میں گھر سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا اور دسمبر کی سردی میں ربوہ سے دور ایک بستی میں جا کر رات کا بقیہ حصہ گزارا اگرچہ میں تو ربوہ سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا اور غنڈوں کے ہاتھ آنے اور قتل کئے جانے سے بچ گیا۔ لیکن جب غنڈوں کو معلوم ہوا کہ میں اندر نہیں ہوں اور نکلنے میں کامیاب ہو گیا ہوں تو انہوں نے ہمارے گھر کا سارا سامان مکان سے نکال کر دروازے کے باہر لا کر رکھ دیا۔ گھر والوں کو اندر سے نکال کر باہر کر دیا۔ مکان کے دروازے مقفل کر دیئے گئے اور میرے والد کو جو پیدائشی احمدی اور اس بڑھاپے کی عمر تک مفلسانہ اور مخلصانہ زندگی بسر کر کے احمدیت کے لئے وقف تھے ربوہ سے فوراً نکل جانے کا حکم دے دیا گیا۔ والد صاحب بے چارے کہیں سے ٹرک لائے اور سامان لاد کر اپنے آبائی گھر چونڈہ میں بال بچوں کو لے کر چلے گئے ۔ جب مجھے یہ اطلاع ملی کہ میرے والدین کے ساتھ یہ سلوک ربوہ کے جھوٹے نبی زادوں نے روا رکھا ہے تو میں نے دل میں سوچا کہ اگر کوئی خطا ہو سکتی تھی تو میری

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۲۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تھی لیکن میرے ماں باپ نے کیا قصور کیا تھا کہ ان سے یہ سلوک روا رکھا گیا ان کا قصور صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو قتل کرنے کے لئے غنڈوں کے سپرد نہیں کیا۔ اب مجھے یقین اور بالکل یقین حاصل ہو گیا کہ یہ ربوہ اور اس کی نبوت مسیحیت اور روحانیت وغیرہ سب فراڈ اور خالص دوکانداری ہے۔ مجھ پر مرزائیت کی ساری حقیقت واضح ہو گئی۔ مجھے مولانا تاج محمود کی باتیں ایک ایک کر کے یاد آنے لگیں کہ وہ کہتے تھے کہ آپ لوگ اس جماعت کی تاریخ سے آگاہ نہیں ہیں۔

میں نے اگلے روز مولانا تاج محمود صاحب کو ایک چٹھی لکھی اور ایک آدمی کے ذریعہ پہنچائی اور تمام واقعات سے آگاہ کیا اور دل میں فیصلہ کیا کہ ان جھوٹوں کو اب ہمیشہ کے لئے چھوڑ دینا ہے۔ مرزائیت سے توبہ کر لینی ہے اور آئندہ زندگی مرزائیت کے اندھے کنوئیں کی بجائے عالمگیر سچائی کے علمبردار اسلام کی رہنمائی میں بسر کرنی ہے۔ جب اس مرد درویش مولانا صاحب کو میری مصیبت کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے مجھے جواباً درج ذیل دستی خط تحریر کیا۔

۱۶؍ دسمبر ۱۹۷۲ء

عزیزی رفیق باجوہ صاحب طولعمرہٗ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ! آپ کا خط ملا۔ خدا کی قدرت ہے آپ کا خط ملنے سے پہلے ہی میں سخت بے چین تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ آپ کی جان بچ گئی۔ مجھے انتہائی دکھ ہے کہ آپ اور آپ کے والدین سے اس نام نہاد جماعت نے انتہائی ناروا سلوک کیا ہے۔ بدقسمتی سے میری اور آپ کی ملاقات چنیوٹ کی پریس کانفرنس کے بعد ہوئی۔ اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں آپ کو پریس کانفرنس نہ کرنے دیتا بلکہ یہ پریس کانفرنس ہم کسی اور ذریعہ سے کر لیتے۔ خیر جو اللہ کو منظور تھا ہوا۔ مجھے خصوصاً آپ کے والدین کی پریشانی کا بھی بہت رنج ہوا ہے جو خواہ مخواہ ان ظالموں کے ظلم کا نشانہ بن گئے ہیں۔ ظہیر چٹھہ دو رات سے میرے پاس ٹھہرے ہوئے ہیں۔ وہ زخمی ہوئے اسی طرح غضنفر علی کو ضربات آئیں ان دونوں کی طرف سے لالیاں تھانہ میں رپورٹ درج ہو گئی ہے۔ ایک وفد آج اسی معاملہ کو لے کر ملک معراج خالد سے بھی ملا ہے۔ رات میری ایس۔ پی جھنگ سے فون پر بات ہوئی ہے۔ آج ڈپٹی کمشنر صاحب چنیوٹ، ربوہ پہنچا ہوا ہے۔ انہیں کہلوا کر بھیجا ہے کہ پہلے پرنسپل کو تبدیل کیا جائے۔ (۲) طلباء کو تحفظ دیا جائے۔ جنہیں ضربات پہنچی ہیں ان کے مقدمات درج کئے جائیں اور مجرموں کو سزائیں دلوائی جائیں۔

کل صبح ظہیر چٹھہ معہ اپنے دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ لائل پور میں پریس کانفرنس کر کے سارے حالات پریس میں لا رہا ہے۔ آپ کے لئے دل مضطرب ہے۔ لیکن آپ اپنے والدین کے اطمینان کے بغیر نہ آئیں۔ ویسے میرے پاس آئیں تو آپ ان شاء اللہ! حفاظت میں ہوں گے۔ ظہیر صاحب وغیرہ بھی آپ کو ملنا چاہتے ہیں۔ جواب سے ضرور مطلع کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو سرفراز فرمائے اور آپ کی مدد فرمائے۔

والسلام!

دعاگو: تاج محمود

مولانا کا یہ خط پڑھ کر کچھ دنوں بعد میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت تک لالیاں کی پولیس، چنیوٹ کے حکام اور ضلع جھنگ کے افسران بالا ربوہ نوازی کا حق ادا کر چکے تھے۔ سرکاری کالج کے ربوائی پرنسپل نے چن چن کر لڑکوں کو کالج سے نکال دیا۔ ظہیر چٹھہ کو ہمدردی کے شیشہ میں اتارا اور ربوہ کالج چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ دے دیا۔ اسلم وڑائچ نے گجرات کالج میں اور انور دیو نے سرگودھا کالج میں

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۲۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

داخلہ لے لیا اور میں نے سیالکوٹ کالج میں مائیگریشن کرالی۔ مولانا نے بہت شفقت اور اخلاق سے اپنا گرویدہ کر لیا۔ میں نے ان کے ”لولاک“ میں اپنے اسلام قبول کر لینے اور مرزائیت کو ترک کر دینے کا اعلان بھی کر دیا۔ مولانا نے نصیحت کی کہ میں چونڈہ میں اپنے ماں باپ کی خدمت بجالاؤں اور اپنی تعلیم کی تکمیل کروں اب میں اپنے ماں باپ کی خدمت کرتا ہوں اور اپنی تعلیم کی تکمیل میں ہمہ تن مصروف ہوں۔

میرے چونڈہ میں جانے سے وہاں اللہ نے ایک چھوٹی سی مسجد کو مرزائیوں کے ناپاک وجود سے پاک کر دیا ہے۔ میں اس میں بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیتا ہوں۔ ان میں جذبہ جہاد اور حب وطن اجاگر کرتا ہوں۔ اس مسجد میں چونڈہ کے علمائے کرام کا باری باری درس قرآن مجید ہوتا ہے۔ اللہ نے اس طرح مجھ پر مرزائیت کی حقیقت واضح کر دی اور مجھے حلقہ بگوش اسلام بنا دیا ہے۔

(لولاک، مؤرخہ ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء)

اس مضمون سے یہ باتیں ثابت ہوئی ہیں۔

کر کے مرزائی شیطانیت سے بچنے کی ہدایت کی۔

مکان چھین لیا گیا اور ان کو سردی کی رات میں ربوہ بدر کر دیا گیا۔

اب مرزائیوں نے چونڈہ میں بھی رفیق باجوہ سے انتقام لینے کا پروگرام بنایا۔ جس کی تفصیل ہفتہ وار لولاک فیصل آباد ۲۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء صفحہ آخر سے ملاحظہ ہو۔

صفحہ ۵۳۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزائیت سے تائب طالب علم رفیق باجوہ پر قاتلانہ حملہ

مرزائیوں نے مسجد میں داخل ہو کر قرآن پاک کی بے حرمتی کی

چونڈہ: مرزائیت سے تائب اور متحدہ انجمن طلباء کے صدر اور امیر جماعت خدام الاسلام چونڈہ چوہدری رفیق احمد گزشتہ دنوں مسجد جٹاں محلہ مہندوال میں مرزائیوں کے قاتلانہ حملہ سے بال بال بچ گئے۔

رفیق باجوہ کے والد چوہدری بشیر احمد باجوہ نے زندگی وقف کی ہوئی ہے اور ان کے دادا چوہدری رحمت خان جنہوں نے مرزا غلام احمد کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ ۲۱ سال سے ربوہ میں مقیم تھے اور خاندانی ماحول اور عقائد کے باعث کٹر مرزائی تھے۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے اسلام کے گہرے مطالعہ اور ختم نبوت کے مسئلہ کی اہمیت کو سمجھنے اور مرزائیوں کی اسلام اور ملک دشمن سرگرمیوں سے باخبر ہونے کے بعد مرزائیت سے توبہ کر کے حلقہ بگوش اسلام ہو گئے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے نومبر ۱۹۷۲ء میں ربوہ تعلیم الاسلام کالج میں انجمن احمدیہ کے عمل دخل اور طلباء پر ظلم و تشدد کے خلاف طلباء کی ایک تنظیم متحدہ انجمن طلباء کے نام سے قائم کی اور مرزائیت کی تاریخ میں پہلی بار مرزائیت کے قلعہ میں خلیفہ ربوہ کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ تعلیم الاسلام کالج میں ہڑتال کروائی اور مرزائیوں کے کالے قوانین کو چیلنج کیا۔ جس کی پاداش میں مرزائیوں نے رفیق باجوہ کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا۔ ان پر قاتلانہ حملے کئے اور انہیں شدید زخمی کر دیا۔ آخر کار رفیق باجوہ مجبور ہو کر ربوہ سے نکل آئے۔ ربوہ بدر ہونے کے بعد رفیق باجوہ اپنے آبائی گاؤں میں چلے گئے اور انہوں نے اسلام کی تبلیغ شروع کر دی۔ گھر کے بھیدی نے جب راز سے پردہ اٹھایا تو چونڈہ کے مرزائی بوکھلا اٹھے اور انہوں نے رفیق باجوہ کو طرح طرح سے پریشان کرنا شروع کر دیا۔ چند روز قبل جب وہ چونڈہ کی ایک مسجد میں مسلمان بچوں کو قرآن پاک کا درس دے رہے تھے تو مرزائیوں نے ان پر ہلہ بول دیا۔ حملہ آوروں نے قرآن مجید کی سخت بے حرمتی کی۔ چونڈہ کے مسلمانوں اور علمائے دین نے مرزائیوں کی اس اشتعال انگیز کارروائی اور رفیق باجوہ پر حملہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملزموں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔ جناب رفیق باجوہ پر اس قاتلانہ حملہ کے خلاف پولیس نے حسب عادت معاملہ گول کر دیا۔ اس سے مرزائیوں کے حوصلے بلند ہوئے۔

انہوں نے ۲۵؍ جنوری ۱۹۷۴ء کو جناب رفیق باجوہ اور مولانا محمد خان مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ پر چونڈہ میں ایک اور قاتلانہ حملہ کیا جس کی تفصیلی رپورٹ ہفتہ وار لولاک مورخہ ۵؍ فروری ۱۹۷۴ء سے پیش خدمت ہے۔

مرزائیوں نے قرآن مجید کی توہین کے بعد رفیق باجوہ مولانا محمد صدیق اور نہتے مسلمانوں کو زخمی کر دیا

بھٹو حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے امن وامان کو تہ و بالا کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ رفیق احمد باجوہ اب مرے کالج سیالکوٹ میں سال چہارم کے طالب ہیں۔ پچھلے دنوں لولاک میں ان کا ایک مضمون ’’اور مجھ پر مرزائیت کی حقیقت منکشف ہو گئی‘‘ شائع ہوا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے دسمبر کے آخری ہفتہ میں ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ کے سٹیج سے ایک زبردست تقریر کی اور ریاست ربوہ کے راز ہائے درون پردہ بیان کئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب چیزیں ربوہ کے مذہبی نما سیاسی آمروں کو ناگوار گزریں اور انہوں نے رفیق باجوہ کو اس کی سزا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

چونڈہ میں ان پر اس سے پہلے بھی ایک دفعہ مرزائیوں نے قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ لیکن وہ خدا کے فضل سے محفوظ رہے۔ اب ۱۸؍ جنوری ۱۹۷۴ء کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت محمود نامی ایک مرزائی مبلغ چونڈہ پہنچے اور انہوں نے احمدیہ عبادت گاہ میں لاؤڈ سپیکر لگا

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۳۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کر ایک اشتعال انگیز تقریر کی اور دوران تقریر مسلمانوں کو چیلنج کیا کہ وہ ایک ہزار روپیہ انعام دیں گے جو فلاں مسائل کا ثبوت پیش کرے۔ ۲۵؍ جنوری ۱۹۷۴ء کی صبح کو نماز فجر کے بعد مولانا محمد خان صاحب مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ مسلمانوں کی ایک مسجد میں قرآن مجید کا درس دے رہے تھے کہ اچانک مرزائی مسجد میں داخل ہو کر مولانا صاحب پر حملہ آور ہو گئے۔ ایک مرزائی نے قرآن مجید کو پاؤں کی ٹھوکر سے گرا دیا۔ جس پر نمازیوں میں اشتعال پیدا ہو گیا۔ لیکن وہ پرامن رہے۔ درس بند کر دیا گیا اور قرآن مجید کی توہین اور مولانا صاحب پر حملہ کرنے کے واقعہ کو تھانہ میں رپورٹ درج کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ سب لوگ جب اکٹھے ہو کر تھانے جا رہے تھے تو مرزائی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت راستے میں بندوقوں، پستولوں، تلواروں اور خنجروں سے مسلح ہو کر ان پر حملہ آور ہو گئے۔ فائرنگ کی گئی۔ خنجروں سے مولانا محمد صدیق اور رفیق احمد پر قاتلانہ وار کئے گئے۔ لوگوں نے ان دونوں رہنماؤں پر اپنے کمبل ڈال کر ان کی جانیں بچائیں۔ اس ہولناک منظر کو دیکھ کر مکانوں کی چھتوں سے عورتوں نے مرزائیوں پر پتھر پھینک کر انہیں بھگایا۔ مسلمان نہتے تھے۔ مرزائی سازش اور منصوبہ کے تحت حملہ آور ہوئے تھے۔ زخمیوں کو تھانے پہنچایا گیا۔ ۸؍ بجے صبح سے لے کر ۵؍ بجے شام تک انہیں تھانے میں روکے رکھا گیا۔ انہیں مرعوب کیا گیا۔ ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ ان پر مرزائیوں کی طرف سے ڈاکے اور آتشزنی وغیرہ کے مقدمے بنائے جائیں گے۔ بہتر ہے کہ وہ صلح کر لیں۔

مسلمان مایوس ہو گئے اور انہوں نے تمام واقعات لکھ کر دینے کے بعد تحریر کر دیا کہ ان حالات میں انتظامیہ کے کہنے پر ہم مصالحت کرتے ہیں۔ مسلمانوں پر اس کا بہت برا اثر پڑا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان اور مجھے (مولانا تاج محمود) لائل پور میں اس حادثے کی اطلاع موصول ہوئی۔ مولانا اللہ وسایا مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت فوراً چونڈہ روانہ ہو گئے۔ انہوں نے وہاں پہنچ کر سرسری حالات کی رپورٹ بذریعہ فون دی۔ میں اگلے روز مولانا محمد خان صاحب، مولانا یعقوب شاہ صاحب، جناب حنیف رضا صاحب، سائیں محمد حیات صاحب کے ہمراہ چونڈہ پہنچ گیا۔ وہاں مختلف لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ حالات معلوم کئے بہت دکھ ہوا کہ مرزائیوں نے غنڈہ گردی اور دیدہ دلیری کی انتہاء کر دی ہے۔ درس قرآن مجید دیتے ہوئے ایک عالم دین کو زدوکوب کرنے کی کوشش کی۔ قرآن مجید کو پاؤں کی ٹھوکر سے گرا کر اس کی توہین کی۔ پرامن تھانے جاتے ہوئے نمازیوں اور دوسرے مسلمانوں پر مسلح غنڈوں نے حملہ کیا۔ گولیاں چلائیں اور ناجائز اسلحہ کی نمائش کی۔ نہتے مسلمانوں کو زخمی کر دیا۔ اس سے زیادہ دکھ وہاں کی انتظامیہ اور پولیس کے رویے پر ہوا جنہوں نے اتنے سنگین واقعہ کی نزاکت سے چشم پوشی کرنے کی کوشش کی اور الٹا مسلمانوں کو مایوس کرنے اور انہیں دبا کر ایک مصالحت کی صورت پیدا کر دی۔ اس سے بڑھ کر ظلم یہ ہوا کہ اہل سنت والجماعت کی اس مسجد پر بعض ناروا پابندیاں عائد کر دی گئیں اور اس میں داخل ہو کر مرزائیوں کو بھی نماز پڑھنے کا حق تحریر کرایا گیا جو آئندہ چل کر خطرناک نتائج کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔

چونڈہ کے لوگوں نے ایس. ایچ. او چونڈہ کو اس سلسلہ میں بے بس اور مجبور بتایا۔ چونڈہ کے دو چھوٹے تھانیداروں اور پسرور سے جانے والے پولیس افسروں کو مرزائیوں سے ملی بھگت کرنے کا مجرم قرار دیا۔ جنہوں نے اس سارے خونی ڈرامے پر پردہ ڈالنے اور اے. سی پسرور کو غلط راہ پر ڈالنے کا پارٹ ادا کیا۔ ان سب تکلیف دہ حادثات میں اس بات پر اطمینان ہوا کہ مسلمانوں نے ضبط و تحمل سے کام لیا۔ کوئی قانون شکنی نہیں کی اور اشتعال میں آ کر کوئی غلط اقدام نہیں کیا۔

چونڈہ میں دوسری بات جس سے انتہائی خوشی اور اطمینان ہوا۔ وہاں کے علماء اور مختلف مکاتب فکر کے مسلمانوں کا اتفاق اور اتحاد ہے۔ مولانا محمد صدیق صاحب کے ہاں پچاس ساٹھ نمائندہ حضرات کی میٹنگ ہوئی۔ جس میں یہی طے پایا کہ بہرحال ضبط و تحمل کے دامن کو

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۳۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔ مرزائی اسلامی سربراہوں کی کانفرنس سے پہلے پہلے ملک کے امن و امان کو آگ لگا دینا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے وہ سائنٹفک طریقوں سے ایسی حرکتیں کر رہے ہیں جن کے ردعمل اور نتیجہ میں وسیع پیمانے پر ملک میں کوئی گڑ بڑ پیدا ہو سکتی ہے۔ وہ بھٹو صاحب سے اس بات کا انتقام لینے پر تلے ہوئے ہیں کہ مسٹر بھٹو نے ملک کو سیکولر آئین کیوں نہیں دیا بلکہ ایک ایسا آئین کیوں دے دیا ہے۔ جس میں مسلمان کی تعریف شامل کر دی گئی ہے اور یہ بات لازم قرار دے دی گئی ہے کہ ملک کے صدر صاحب اور وزیراعظم صاحب حلف میں یہ بھی اقرار کریں گے کہ وہ حضرت محمد ﷺ کے بعد یقین رکھتے ہیں کہ کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ اس لئے وہ جگہ جگہ پیٹرول ڈال کر امن و امان کو جلا دینے اور بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ بعد کی اطلاعات سے معلوم ہوا کہ ۲۸ جنوری ۱۹۷۴ء کو سیالکوٹ کے تمام کالجز کے طالب علموں نے چونڈہ کے واقعہ پر ہڑتال کر دی۔ زبردست جلوس نکالا اور ڈپٹی کمشنر صاحب سیالکوٹ سے مطالبہ کیا کہ اس حادثے کی تحقیقات کرائی جائے اور مجرموں کو سزائیں دلوائی جائیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملک بھر سے وزیراعظم بھٹو اور وزیراعلیٰ کھر کو اس مضمون کے تار دیئے گئے ہیں کہ اس ظلم کے خلاف تحقیقات کرائی جائیں اور انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں۔

۲۹ جنوری ۱۹۷۴ء کو ڈپٹی کمشنر صاحب سیالکوٹ چونڈہ پہنچ گئے اور موقعہ پر جا کر حالات معلوم کئے۔ چنانچہ انہوں نے مبینہ طور پر خورشید انور صاحب مجسٹریٹ سیالکوٹ کو اس واقعہ کی تحقیقات پر مامور کیا ہے کہ وہ صحیح حالات کی تحقیقات کے بعد ڈپٹی کمشنر صاحب کو رپورٹ پیش کریں۔ دریں اثناء انہوں نے امن کمیٹی بھی بنادی ہے تاکہ قصبہ کے امن کو بحال رکھا جائے۔ کیونکہ مرزائی انتظامیہ کی مصالحت کرانے کے باوجود شرارتیں کر رہے تھے۔ زنانہ سکول میں مرزائی طالبات نے مسلمان بچیوں کو طعنے دیئے کہ تمہارے مسلمانوں کی خوب پٹائی ہوئی ہے۔ جس پر طالبات میں باہم فساد ہوا۔ شہر میں مسلمانوں پر مرزائی غنڈے آوازے کستے رہے اور رفیق احمد باجوہ کے گھر کے ارد گرد پستول لے کر گھومتے پھرتے رہے۔ چونڈہ سے آمدہ اطلاعات کے مطابق مسلمانوں نے مجسٹریٹ صاحب کی تحقیقات کا خیر مقدم کیا ہے اور ان سے ہر طرح کا تعاون کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مولانا تاج محمود مرحوم نے چونڈہ سے واپس آ کر ملک عزیز کے نامور صحافی آغا شورش کاشمیری کو ذیل کا مکتوب گرامی تحریر کیا جو آغا صاحب نے اپنے جریدہ ”چٹان“ میں اسے مضمون کی شکل میں شائع کر دیا جو یہ ہے۔

چونڈہ کے مرزائیوں کی داستان ستم

رفیق احمد باجوہ حال سٹوڈنٹ سال چہارم مرے کالج سیالکوٹ گزشتہ سے پیوستہ سال تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی سٹوڈنٹس یونین کے صدر تھے۔ کالج مذکورہ کو حکومت نے قومی تحویل میں لیا تو کالج کی سابقہ سربراہ انجمن احمدیہ نے مرزائی پرنسپل کی ملی بھگت سے حکومت کی پالیسی کے خلاف بے ضابطگیاں کیں۔ جس پر طلباء کی یونین نے احتجاج کیا۔ قادیانیوں نے طلباء کے اس احتجاج کو اپنے خلاف بغاوت پر محمول کرتے ہوئے رفیق احمد باجوہ کو کالج کے اندر طلباء کے سامنے زد و کوب کرایا جس پر تمام طلباء مشتعل ہو گئے اور انہوں نے کالج میں مکمل ہڑتال کر دی۔ جس میں مرزائی اور مسلمان طلباء نے حصہ لیا۔ کالج کے طلباء کا ایک سہ رکنی وفد رفیق احمد باجوہ کی قیادت میں جناب ملک غلام مصطفی کھر گورنر اور جناب معراج خالد وزیراعلیٰ پنجاب تک اپنی شکایات لے کر پہنچا۔ گورنر صاحب نے معاملہ وزیراعلیٰ کے سپرد کیا۔ معراج خالد نے پرنسپل کو چٹھی لکھی کہ وہ حکومت کے قواعد و ضوابط کا احترام کرے اور کالج کے طلباء سے ناجائز سلوک چھوڑ دے۔ پرنسپل نے وہ چٹھی

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ 533

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۵۳۳ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پھاڑ کر پھینک دی۔ قادیانیوں نے ایک رات رفیق احمد باجوہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور اس کے والدین سے کہا کہ وہ اپنے لڑکے کو ان کے حوالے کر دے۔ رات ۲ بجے قادیانیوں کے خوفناک حملہ سے جان بچا کر رفیق احمد باجوہ ربوہ سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا اور اگلی صبح اس کے والدین کو ربوہ سے نکال دیا گیا۔ جو اپنے بال بچوں کو لے کر آبائی گاؤں چونڈہ چلے گئے۔ رفیق احمد باجوہ نے مرزائیوں کے ان مظالم کو دیکھتے ہوئے مرزائیت سے تائب ہونے اور اسلام قبول کر لینے کا اعلان کر دیا۔ گزشتہ ماہ اس نے لائل پور کے ایک ہفتہ وار دینی پرچہ میں اپنا ایک مضمون شائع کرایا جس کا عنوان تھا: ”اور مجھ پر مرزائیت کی حقیقت منکشف ہو گئی ۔“ اس مضمون میں اس نے مرزائیوں کی ریاست ربوہ کے خدوخال واضح کئے اور وہاں کے مجبور انسانوں کی کہانی تفصیل سے لکھی۔ اسی طرح دسمبر ۱۹۷۳ء کے آخری ہفتہ میں رفیق احمد باجوہ نے ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ کے سٹیج پر ایک تقریر کرتے ہوئے ربوہ کے راز ہائے درون پردہ سے پردہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اپنے مسلمان ہونے کے واقعات بیان کئے۔

ان تمام باتوں سے ربوہ کے مذہبی آمر رفیق احمد باجوہ کی جان لینے پر تل گئے اور انہوں نے ۲۵/ جنوری ۱۹۷۴ء بروز جمعہ ص ۸ بجے چونڈہ کے کھلے بازار میں اپنے مسلح غنڈوں سے اس پر حملہ کر دیا۔ لیکن اسے قتل کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ واقعات کے مطابق ۱۸/ جنوری کے جمعہ میں محمود نامی ایک مرزائی مبلغ نے لاؤڈ سپیکر لگا کر احمدیہ عبادت گاہ چونڈہ میں ایک اشتعال انگیز تقریر کی اور متنازعہ فیہ مسائل کے متعلق چونڈہ کے علمائے کرام اور دیگر مسلمانوں کو چیلنج کیا کہ وہ ان مسائل کے خلاف اگر کوئی دلیل پیش کریں تو میں ایک ہزار روپیہ نقد انعام دوں گا۔ ۲۵/ جنوری جمعہ کی صبح کو مولانا محمد خان صاحب کی مسجد میں بعد نماز فجر قرآن مجید کا درس دے رہے تھے اور ان مسائل کے متعلق قرآن مجید اور حدیث پاک کے حوالے دے رہے تھے کہ اتنے میں دس پندرہ قادیانی مسجد میں داخل ہوئے اور انہوں نے مولانا محمد خان صاحب کو زدوکوب کرنا شروع کیا۔ ایک مرزائی کے پاؤں کی ٹھوکر سے قرآن مجید بھی گر گیا۔ جس پر مسلمان مشتعل ہو گئے۔ بڑی مشکل سے مرزائیوں کو مسجد سے نکالا گیا۔ اس حملہ اور قرآن مجید کی توہین کے واقعہ کی رپورٹ لکھوانے کے لئے فیصلہ کیا گیا کہ تمام نمازی تھانے چل کر اس اشتعال انگیز کارروائی کی رپورٹ درج کرائیں۔ وہ لوگ پرامن طریقہ سے تھانے جا رہے تھے کہ راستے میں کوئی پچیس تیس مرزائی غنڈوں نے تلواروں ، خنجروں ، پستولوں اور لوہے کی سلاخوں سے مسلح ہو کر ان پر حملہ کر دیا۔ فائرنگ کی گئی۔ تلواریں لہرائی گئیں۔ رفیق احمد باجوہ، مولانا محمد صدیق اور کئی دوسرے لوگوں کو زخمی کر دیا گیا۔

عام مسلمانوں کی مزاحمت اور مداخلت کے باعث رفیق احمد باجوہ اور مولانا محمد صدیق شہید ہونے سے بال بال بچ گئے۔ ۹ بجے کے قریب زخمیوں کو اٹھا کر تھانے پہنچا دیا گیا اور شہر کے مسلمانوں کا ہجوم بھی تھانے پہنچ گیا۔ یہ لوگ ۹ بجے سے ۲ بجے بعد دوپہر تک تھانے والوں سے مطالبہ کرتے رہے کہ ہمارا مقدمہ درج کیا جائے۔ غنڈوں کو گرفتار کیا جائے۔ جس میں بعض غنڈے بستہ الف کے بدمعاش بھی ہیں۔ بعض وہ ہیں جن کا پولیس مقابلہ میں چالان ہو چکا ہے اور بعض غنڈہ ایکٹ میں گرفتار بھی رہ چکے ہیں۔ لیکن پولیس نے رپورٹ درج نہ کی اور وہ برابر ٹالتی رہی۔ ۲ بجے مسلمانوں سے کہا گیا کہ وہ زخمیوں کو میڈیکل کے لئے بھیج رہی ہے۔ تم سب لوگ جمعہ کی نماز ادا کرو اور ہم کارروائی کر رہے ہیں۔ اس اثناء میں چونڈہ کا سابق تھانیدار جو مرزائیوں کا کٹر حامی بتایا جاتا ہے پسرور سے پہنچ گیا اور اس نے قادیانیوں سے ملی بھگت کر کے انہیں بچانے کی کوشش شروع کر دی۔ چونڈہ کے دو چھوٹے تھانیدار ملک اعظم اور مقصود بھی مرزائیوں کے ہاتھوں کھیلتے رہے۔ ادھر ۵ بجے شام تک مسلمانوں کو پریشان اور سخت مایوس کیا گیا۔ ادھر اپنی مرضی کے لوگ ڈال کر اے سی اور علاقہ مجسٹریٹ کے

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۳۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۵۳۴ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

روبرو مصالحت کا ڈول ڈالا۔ مسلمانوں کو دھمکایا کہ الٹا تمہارے خلاف مقدمے بن جائیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ مصالحت کر لو۔ عام مسلمانوں کو تھانے کے اندر آنے سے روک دیا گیا۔ غرض مجرموں کی پشت پناہی کرتے ہوئے اس طرح انہیں بچایا گیا۔ چونڈہ کے مسلمانوں کو قرآن مجید کی توہین، ایک عالم دین کی اہانت اور رفیق باجوہ کے زخمی ہونے اور انتظامیہ کی طرف داری کا سخت صدمہ ہے۔ دوسری زیادتی ان سے یہ کی گئی کہ ان کی مسجد کے درس پر ناروا پابندیاں عائد کر دی گئیں اور مسلمانوں کے ساتھ مرزائیوں کو اس مسجد میں انفرادی طور پر داخل ہو کر نماز پڑھنے کی اجازت دے دی گئی جو آئندہ ایک مستقل بنا فساد ثابت ہو سکتی ہے۔ وفد کو بتایا گیا کہ اگلے روز مرزائی طالبات نے زنانہ سکول میں ہنگامہ کیا اور مسلمان طالبات کو زدوکوب کیا۔ بعض مرزائی پستول لے کر رفیق احمد باجوہ کے گھر کے ارد گرد منڈلاتے رہے اور عام مسلمانوں پر طعن و تشنیع کر کے انہیں مشتعل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

”ہم وہاں جا کر اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ مرزائی ملک میں پٹرول چھڑک کر امن عامہ کو آگ لگانے کی فکر میں ہیں اور ایسی حرکتیں کرتے پھرتے ہیں جن کے ردعمل کے طور پر خدانخواستہ پورے ملک میں ہنگامے شروع ہو جانے کا امکان ہے۔ مرزائی غالباً ان ہنگاموں کو برپا کرنے کے اس لئے بھی متمنی ہیں کہ مسٹر بھٹو سے اس بات کا انتقام لینے پر تلے ہوئے ہیں کہ انہوں نے ملک کو سیکولر آئین کی بجائے ایک ایسا آئین دے دیا ہے۔ جس کی روشنی میں قادیانیوں کو اپنا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے۔“

ان حالات میں حکومت سے یہ مطالبہ کرنا ضروری ہو گیا ہے کہ وہ چونڈہ کے خونی اور افسوس ناک حادثہ کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائے۔ جن مرزائی غنڈوں نے قرآن مجید اور مسجد کی توہین کی۔ نہتے اور پرامن مسلمانوں پر گولیاں چلائیں۔ مسلح حملہ کیا اور بے گناہ مسلمانوں کو زخمی کیا۔ ان کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں اور جن افسروں نے اس خونی ڈرامے کی سازش میں حصہ لیا یا اپنے فرائض میں کوتاہی کا ارتکاب کیا ہے۔ ان کے خلاف حسب ضابطہ کارروائی کی جائے۔“

(چٹان مؤرخہ ۴؍فروری ۱۹۷۴ء)

مرزائیوں کے مسلسل حملوں اور بدسلوکیوں اور اخلاق باختہ حرکات سے متنفر ہو کر رفیق باجوہ اور اس کی ہمشیرہ نے قادیانیت سے توبہ کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے مرزا ناصر کو جو خطوط لکھے وہ یہ ہیں۔

بشریٰ باجوہ چونڈہ کا مرزا ناصر کے نام خط

میرے دادا چوہدری رحمت خان صاحب باجوہ سابق سفید پوش چونڈہ نے مرزا غلام احمد کے ہاتھ پر بیعت کی اور میرے والد صاحب نے مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی اپیل پر سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے کر زندگی وقف کی۔ ربوہ میں آپ کی سیاسی اور مذہبی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے ہزاروں مواقع میسر آئے۔ شروع سے ہی ربوہ میں رہنے کے باعث ایک ہی قسم کا لٹریچر پڑھائے جانے کی وجہ سے ہمیں حقیقت حال سے بالکل بے خبر رکھا جاتا تھا۔ وہاں کی سیاسی اور مذہبی سرگرمیوں میں ”احمدیت“ کی تبلیغ کی جاتی اور حضرت رسول اکرم خاتم النبیین ﷺ کی شان میں تقریبات میں شاذ و نادر ہی سرگرمی ہوتی جو محض اخباری کارروائی کے لئے منعقد کی جاتی تھیں۔

تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں طلباء کی تنظیم بنانے پر آپ کے حکم پر ۱۲؍دسمبر ۱۹۷۲ء کو تقریباً تین صد غنڈوں نے ربوہ میں میرے بھائی رفیق احمد باجوہ پر قاتلانہ حملہ کر دیا۔ کچھ غنڈوں نے باپردہ گھر کی چہار دیواری پھاندی۔ آپ (مرزا ناصر) کہ جن کا دعویٰ ہے کہ آپ کی جماعت تمام دنیا کی اصلاح کے لئے اور اسلام کی اشاعت کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے بنائی گئی ہے بالکل غلط ثابت ہوا۔ آپ کا کام محض لوگوں کو مذہب کی آڑ لے کر بے وقوف بنانا اور بلیک میلنگ اور ہٹلر کے نقش قدم پر چل کر ان پر تسلط قائم رکھنا ہے۔ اس پر میں نے پھر سے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۳۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جماعت احمدیہ کے لٹریچر کا مطالعہ کیا اور اس کے ساتھ اسلامی تعلیمات کا موازنہ کیا تو مجھ پر یہ حقیقت کھل گئی کہ آپ ایک جھوٹے مذہب کے علمبردار ہیں۔ مورخہ ۲۰/ جنوری ۱۹۷۴ء کو واشگاف الفاظ میں اعلان کرتے ہوئے مرزائیت سے توبہ کر کے حلقہ بگوش اسلام ہو رہی ہوں ۔ بشریٰ باجوہ بنت بشیر احمد باجوہ صاحب ، محلہ مہندوال چونڈہ ضلع سیالکوٹ

رفیق احمد باجوہ کا مرزا ناصر کے نام خط

محترمی مرزا ناصر احمد صاحب امام جماعت احمدیہ، آداب

میرے دادا چوہدری رحمت خان صاحب باجوہ ، سابق سفید پوش چونڈہ نے مرزا غلام احمد کے ہاتھ پر بیعت کی اور والد صاحب نے مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی اپیل پر ملازمت سے استعفاء دے کر زندگی وقف کی ۔ میری پیدائش بھی ربوہ ہی میں ہوئی ۔ اطفال الاحمدیہ اور رضا کاروں کی تنظیم خدام الاحمدیہ کا سرگرم رکن رہا۔ آپ کی سیاسی اور مذہبی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے کئی مواقع میسر آئے۔ آپ کے حکم سے ۱۲/دسمبر ۱۹۷۲ء کے دن تین صد غنڈوں نے مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا ۔ والد صاحب کے گھر کی چار دیواری پھاندی اور چوبیس گھنٹے تک محاصرہ کئے رکھا۔ وغیرہ وغیرہ ! مجھے افسوس سے کہنا پڑا ہے کہ اس قدر ذلیل حرکت تو گھٹیا قسم کے لوگ بھی نہیں کرتے جو آپ کے حکم سے کی گئی ۔ اگر طاقت کی آزمائش کرنی تھی تو ایبٹ آباد میں کیوں نہ کی؟ یا گورنمنٹ تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی حدود کے اندر کیوں نہ کی؟ آپ کا دعویٰ تو تمام دنیا کی اصلاح کرنا ہے۔ کیا یہ اصلاح کا طریقہ تھا۔ میں آپ کی انہی حرکتوں کی وجہ سے ۱۲/دسمبر ۱۹۷۲ء ہی سے آپ کے مذہب سے علیحدہ ہو گیا تھا ۔ لیکن اب آپ کو تحریری طور پر مطلع کر رہا ہوں ۔ رفیق احمد باجوہ

(چٹان ، مورخہ ۶/ اگست ۱۹۷۳ء)

یاد رہے کہ ان حضرات کو مولانا تاج محمود مرحوم نے ایک دن بھی مرزائیت کے خلاف لیکچر نہ دیا ۔ بلکہ مولانا مرحوم ان نامساعد حالات میں ان کی امداد، انسانیت کے ناتے کرتے رہے ۔ ایک مبلغ اسلام اور دین کے خادم کے اس اخلاق کو دیکھ کر یہ لوگ مسلمان ہو گئے ۔ مجھے جہاں تک یاد پڑتا ہے رفیق احمد باجوہ کے والد صاحب بھی مسلمان ہو گئے تھے ۔ رفیق باجوہ تعلیم مکمل کر کے کینیڈا چلے گئے ۔ خط و کتابت سے انہوں نے مولانا مرحوم سے رابطہ رکھا۔ ان کے والد بشیر احمد باجوہ بھی مولانا سے ملنے کے لئے آیا کرتے تھے ۔ بشریٰ باجوہ کا مرزائیت کے زمانہ میں ایک قادیانی کرنل سے مرزا ناصر نے رشتہ طے کر دیا تھا۔ مسلمان ہونے کے بعد وہ نکاح ختم ہوا ۔ بشریٰ کا اس کے والد نے پھر ایک مسلمان سے رشتہ کیا ۔ حضرت مولانا تاج محمود کو نکاح پڑھانے کے لئے دعوت دی۔ اس سفر میں فقیر (اللہ وسایا) کو آپ کی خدمت و ہمراہی کا شرف حاصل رہا ۔ مولانا جب تشریف لے گئے بارات آچکی تھی ۔ دلہا اور دلہن کے مہمانوں میں اکثریت مرزائی رشتہ داروں کی تھی ۔ وہ بھی بارات اور نکاح کی تقریب میں کرسیوں پر براجمان تھے ۔ قدرت کا کرشمہ دیکھئے کہ بشریٰ کا مرزائیت کے زمانہ کا نکاح مرزا ناصر نے پڑھایا اور آج اسلام لانے کے بعد ان کا نکاح پڑھانے کے لئے مولانا تاج محمود تشریف لائے ۔ مولانا تاج محمود مرزائیت کے صف اوّل کے دشمن تھے ۔ جب سٹیج پر تشریف لائے ۔ مرزائی رشتہ دار جو اس تقریب میں شریک تھے ان کی گردنیں مارے شرم کے جھک گئیں۔ فقیر کو یہ منظر یاد ہے کہ مولانا نے خطبہ نکاح سے قبل ، فلسفہ نکاح پر ایک جامع تقریر فرمائی ۔ خدا گواہ ہے ایسے معلوم ہوتا تھا کہ کوثر و تسنیم سے دھلے ہوئے موتی مولانا کی زبان مبارک سے نکل کر اپنی ضیاء پاشی سے سامعین کے دلوں میں گھر کر رہے ہیں ۔ مولانا نے نکاح

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۳۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پڑھایا۔ بچی کے والد صاحب کی درخواست پر (زنان) خانہ میں تشریف لے گئے۔ بچی کے سر پر ہاتھ رکھا۔ دلہا اور دلہن کو اپنی جیب خاص سے سلامی دی۔

اس کہانی کو ختم کرنے سے پہلے ایک بار پھر قارئین مولانا تاج محمود مرحوم کے ان الفاظ کو اپنے ذہن میں تازہ کریں جو آپ نے آغا شورش کاشمیری کو اپنے مکتوب میں تحریر فرمائے تھے: ”ہم وہاں جا کر اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ مرزائی ملک میں پیٹرول چھڑک کر امن عامہ کو آگ لگانے کی فکر میں ہیں اور ایسی حرکتیں کرتے پھرتے ہیں۔ جن کے ردعمل کے طور پر خدانخواستہ پورے ملک میں ہنگامے شروع ہو جانے کا امکان ہے۔ مرزائی غالباً ان ہنگاموں کو برپا کرنے کے اس لئے بھی متمنی ہیں کہ مسٹر بھٹو سے اسی بات کا انتقام لینے پر تلے ہوئے ہیں کہ انہوں نے ملک کو سیکولر آئین کی بجائے ایک ایسا آئین دے دیا ہے۔ جس کی روشنی میں قادیانیوں کو اپنا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے۔“

دسمبر ۱۹۷۲ء سے جنوری ۱۹۷۴ء تک کے ایک واقعہ ”رفیق احمد باجوہ اور قادیانی جارحیت“ کی تفصیل سے آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ ۱۹۷۴ء میں قادیانی جارحیت زوروں پر تھی۔ اپنے مخالفین پر قاتلانہ حملے ان کا معمول بن گئے تھے۔ پولیس ان کے خلاف قانونی اقدام سے ہچکچاتی تھی اور قادیانی بے لگام گھوڑے یا مست ہاتھی کی طرح آپے سے باہر ہو رہے تھے۔ جوں جوں قادیانی جارحیت بڑھتی گئی، توں توں رائے عامہ قادیانیت کے خلاف منظم ہوتی گئی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے اس صورتحال کو قابو میں رکھا اور رائے عامہ کو منظم کر کے آنے والے حالات سے نمٹنے کے لئے عوام کی ذہنی سازی کرتے رہے، تا آنکہ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت شروع ہو کر مرزائیت کے غیر مسلم اقلیت دلوانے پر منتج ہوئی۔

مرزائیوں نے مسلمان نابالغ لڑکی کو اغواء کر لیا

جھنگ میں سخت اضطراب اور اشتعال پیدا ہو گیا

ضلع جھنگ کے دینی سماجی اور سیاسی رہنماؤں نے ملک میں مرزائیوں کی بڑھتی ہوئی شرانگیزیوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ مرزائی خاص طور پر اسلامی کانفرنس کے موقع پر ناخوشگوار فضا پیدا کر کے حکومت کو اسلامی ملکوں میں بدنام کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ مقامی رہنماؤں نے اس تاثر کا اظہار اس وقت کیا جب وہ ایک مسلمان نابالغ لڑکی جو مسلم شیخ برادری سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کو مرزائیوں کی طرف سے اغواء کئے جانے کے حالیہ واقعہ پر احتجاج کر رہے تھے۔ واقعات کے مطابق جماعت احمدیہ جھنگ کے امیر میاں بشیر احمد کے لڑکے حمید اور جھنگ کے ڈائریکٹر بنیادی جمہوریت مشتاق باجوہ اور اس کے ملازم تینوں نے مل کر ۱۷؍ جنوری ۱۹۷۴ء کو ایک مسلم شیخ کی نابالغ لڑکی کو سیٹلائٹ ٹاؤن جھنگ سے اغواء کر لیا۔ بتایا گیا ہے کہ مشتاق باجوہ سیشن کورٹ سے عبوری ضمانت کرا چکا ہے۔ جب کہ دوسرے دونوں ملزم روپوش ہیں۔ پولیس نے ۲۴؍ جنوری ۱۹۷۴ء کو زیر دفعہ ۳۶۳ کیس رجسٹر کیا۔

دریں اثناء اتفاق یونین نے احتجاجی ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔ جھنگ کے مسلمانوں میں اس واقعہ سے سخت اضطراب اور اشتعال پیدا ہو گیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سوشل ڈیپارٹمنٹ جھنگ کی تین لیڈی سوشل ورکرز طلعت سعیدہ رحمان اور امۃ القیوم جو مرزائی ہیں اس معاملہ میں ان کی سرگرمیاں سخت قابل اعتراض ہیں۔ یہ بتایا گیا ہے کہ امۃ القیوم مشتاق باجوہ کی منگیتر ہے۔ جھنگ میں قادیانیوں کی اس جرات اور حرکت سے لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ مسلمان رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر نابالغ لڑکی کی بازیابی کے بعد مجرموں کو سخت سزا دے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۳۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جھنگ میں طلباء کا مظاہرہ

جھنگ میں تین ربوائی سیرت مرزائیوں کی کرتوت کی تفصیل پچھلے لولاک میں شائع ہوچکی ہے۔

جھنگ کے کوارٹر نمبر ۷ میں اپنے والدین کے ہمراہ رہتی تھی۔ مبینہ طور پر اغواء کیا اور بہاول پور وغیرہ لے جا کر اس کے ساتھ منہ کالا کرتے رہے۔ ۲۴ جنوری ۱۹۷۴ء کو جھنگ پولیس نے پرچہ درج کیا اور اب مغویہ لڑکی بھی برآمد کرلی ہے۔ مشتاق باجوہ اور عبدالحمید نے ضمانت قبل از گرفتاری کرالی ہے۔ ملازم گرفتار ہے۔ مشتاق باجوہ اور عبدالحمید اس مقدمہ اور اس کی سنگین سزا سے بچنے کے لئے اثر و رسوخ کو استعمال کر رہا ہے۔ چنانچہ ۵ فروری ۱۹۷۴ء کو جھنگ کے کالجز کے طلباء نے مکمل ہڑتال کر دی اور ایک زبردست جلوس نکالا۔ انتظامیہ کے سربراہوں سے مطالبہ کیا۔

ہے۔ یہ سب مل کر دراصل ایک بدکردار لوگوں کا گینگ بتایا جاتا ہے۔ جنہوں نے اپنے عہدوں کی آڑ میں گندگی پھیلا رکھی ہے۔

انتظامیہ نے طلباء کے مطالبات پر ہمدردی سے غور کرنے اور ان کی شکایات کا ازالہ کرنے کا یقین دلایا ہے۔

(لولاک، مورخہ ۱۰؍ فروری ۱۹۷۴ء)

محکمہ تعلیم اور قادیانی ....... رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی جواب دیں

ہمارے پاس مصدقہ اطلاع پہنچی ہے کہ پنجاب یونیورسٹی سینٹ کی انتخابی رکنیت کے لئے مرزا ناصر احمد نے تمام قادیانی گریجوایٹس کو ممبر بن کر اپنے نمائندہ مسلط کرانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ افسوس ہے کہ اس سلسلہ میں یونیورسٹی کے رجسٹرار نے مرزائی امت کو یکمشت ایک ہزار فارم عنایت کئے ہیں ...... کیا وہ اس کے مجاز تھے؟ ہم نہیں جانتے، لیکن ہمیں معلوم ہے کہ مرزائی، لادین مسلمانوں، سیکولر مسلمانوں، روادار مسلمانوں اور ماتحت مسلمانوں سے فائدہ اٹھانے اور یونیورسٹی کو اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے منصوبوں کی تکمیل کے لئے سرگرم جہد ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی، یونیورسٹی یونین کے صدر اور دوسرے عہدیداروں سے التماس ہے کہ وہ اس بدعنوانی کا جائزہ لیں اور اس قسم کی فضاء پیدا کر دیں کہ کوئی مسلمان، مرزائی امیدوار کو ووٹ نہ دے۔ مرزائی مختلف اداروں پر قابض ہو کر اپنے اقتدار کی راہیں صاف کر رہے ہیں۔ افسوس ان مسلمانوں پر ہے جو ان سے رواداری برتتے، رواداری کی تلقین کرتے اور مسلمانوں کے لئے مرزا غلام احمد کا زہر بھرا جام گردش میں لاتے ہیں۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۳۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آخری اطلاع کے مطابق سینٹ کی ممبر سازی کی تاریخ ۱۵؍فروری ۱۹۷۴ء تک بڑھا دی گئی ہے۔ لیکن رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی فارم جاری کرنے سے گریزاں ہیں۔ حتیٰ کہ انہوں نے یونیورسٹی کے بعض تدریسی شعبوں کے سربراہوں کو فارم دینے سے انکار کیا ہے۔ اس کے برعکس لادین اور سیکولر ماتحتوں کو فارم کے اجراء میں بڑی فراخ دلی دکھائی ہے۔ ہم ان سے یہ پوچھتے کہ کیا کسی فیکلٹی کے ڈین کی حیثیت پرنسپل یا صدر شعبہ جتنی نہیں ہیں عامتہ المسلمین کی مختلف انجمنوں کو دو اڑھائی سو فارموں کے اصرار سے انہیں کیوں گریز ہے۔ جب کہ وہ ربوہ والوں کو یکمشت ایک ہزار فارم بھجوا چکے ہیں۔‘‘

(چٹان، مورخہ ۴؍فروری ۱۹۷۴ء)

ایک ہزار نہیں ساڑھے تین ہزار فارم

’’گزشتہ ہفتہ معلوم ہوا تھا کہ مرزائیوں نے اقبال حسین رجسٹرار یونیورسٹی سے ملی بھگت کر کے سینٹ کے انتخابات کے سلسلہ میں ایک ہزار بیلٹ پیپر ناجائز طور پر حاصل کر لیا ہے۔ اب مزید معلوم ہوا ہے کہ ربوہ کو ایک ہزار نہیں ساڑھے تین ہزار فارم عنایت فرما دیا گیا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کا ہر فارغ التحصیل اور سند یافتہ بی۔اے پاس گریجوایٹ دس روپے ادا کر کے یہ بیلٹ پیپر یونیورسٹی سے حاصل کر کے اپنی مرضی کے امیدوار کو ووٹ دے سکتا ہے۔ لیکن صورت حال یہ ہے کہ پنجاب بھر میں کسی گریجوایٹ کو معلوم ہی نہیں ہے کہ کوئی ایسا انتخاب ہو رہا ہے جس میں وہ یہ فارم حاصل کر کے بذریعہ ڈاک ووٹ دے سکتا ہے۔ اس کے برعکس مرزائیوں نے روایتی سازشی طریقہ سے ساڑھے تین ہزار فارم حاصل کر کے سینٹ کی پانچوں نشستوں پر قبضہ جمانے کی کوشش کی ہے۔‘‘

(لولاک مورخہ ۱۲؍فروری ۱۹۷۴ء)

سرگودھا بورڈ، ربوہ کی جاگیر

جب سرگودھا بورڈ قائم ہوا ان دنوں بورڈ کا چیئرمین غالب احمد قادیانی تھا۔ اس نے بورڈ کو قادیانی عملہ سے بھر دیا۔ ہر اہم عہدہ پر قادیانی فائز تھے۔ نمبر شماری و نتائج کے لئے ہر سال ربوہ سے ایک کھیپ بلائی جاتی جو صدر انجمن احمدیہ کے مختلف محکموں کی ملازم ہوتی تھی۔ ہر اہم پوسٹ پر قادیانی تھے۔ ربوہ سکول کے سابق ہیڈ ماسٹر میاں ابراہیم کو بورڈ میں سیکریسی برانچ کا سپرنٹنڈنٹ مقرر کیا گیا۔ افریقہ کے ایک قادیانی مبلغ کو چنیوٹ سنٹر کا انچارج بنایا گیا۔ حالانکہ وہ بورڈ کے کسی سکول و کالج سے متعلق نہ تھا۔ انجینئرنگ اور میڈیکل کالجوں میں قادیانی طلباء کی تعداد دیکھ کر تمام طلباء الزام لگاتے تھے کہ ربوہ کالج کے پرچے دیکھنے کے لئے مخصوص افراد کے پاس جاتے ہیں۔ جس سے زیادہ نمبر لگائے جاتے ہیں۔ رہی سہی کسر سیکریسی برانچ میں نمبر شماری اور نتائج تیار کرتے وقت پوری کر لی جاتی تھی۔ اس سے انجینئرنگ و میڈیکل کالجوں میں دوسرے طلباء کی حق تلفی کر کے قادیانی زیادہ نشستیں حاصل کر لیتے۔ یہ سب کچھ پلاننگ کے تحت ہو رہا تھا۔ مڈل، میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں زیادہ سنٹروں میں قادیانی انچارج ہوتے تھے۔ ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے سرگودھا بورڈ نے امتحانات کا ٹھیکہ ربوہ سرکار کو دے رکھا ہے۔ ذیل میں ایک مراسلہ ملاحظہ فرمائیے۔

’’کنٹرولر امتحانات شفیق الرحمٰن و ڈپٹی کنٹرولر مرزا طاہر احمد ربوہ اسٹیٹ کے اشارہ پر کھلم کھلا دھاندلیاں کر رہے ہیں اور برملا کہتے ہیں: حکومت اور چیئرمین بورڈ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ چیئرمین بورڈ (جن کے تبادلے کے لئے قادیانی جدوجہد کر رہے ہیں) بااختیار ہوتے ہوئے بھی بے بس ہیں اور مرزا طاہر کے ہاتھوں میں کھیلنے پر مجبور ہیں۔ تمام تقرریاں مرزا طاہر اور ربوہ کی سفارش پر ہوتی ہیں۔ بورڈ میں مختلف تقرریوں کے لئے پہلے ہی فہرستیں تیار ہیں۔ جن میں بورڈ کے تین عہدیداروں، کنٹرولر امتحانات شفیق الرحمٰن، ڈپٹی کنٹرولر مرزا طاہر اور اسسٹنٹ کنٹرولر گل محمد (یہ سخت قسم کا مرزائی نواز ہے) کے آدمیوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ بلکہ تمام امیدواران ہی کی دی ہوئی فہرستوں سے لئے جاتے ہیں۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۳۹

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تقرریاں، قابلیت اور تجربہ کی بناء پر نہیں۔ سفارش اور مندرجہ بالا عہدیداروں کی منشاء کے مطابق کی جاتی ہیں۔ اس دفعہ انٹر میڈیٹ کے امتحانات میں میانوالی سنٹر سے چنیوٹ کے لیکچرار مسٹر انعام الٰہی پر بے بنیاد الزامات عائد کر کے محض قادیانی سپرنٹنڈنٹ کی تقرری کے لئے ہٹا دیا گیا اور اس کی جگہ خالد شریف قادیانی کو مقرر کیا گیا ہے جس کا کسی سکول یا کالج سے تعلق نہیں ہے۔ اسی طرح مختلف سنٹروں میں چیکنگ کے لئے انسپکٹرز، مرزا طاہر احمد نے اپنے خاص افراد کو مقرر کیا۔ یہ قابلِ نوٹ بات ہے کہ گوجرخان، تلہ گنگ کے سنٹروں کی چیکنگ کے لئے لائل پور کے لیکچرار اور لائل پور گوجرہ کے سنٹروں کی چیکنگ کے لئے تلہ گنگ کا لیکچرار مقرر کیا گیا ہے۔ جن کے لئے ان سنٹروں میں پہنچنا ہی ممکن نہیں۔ بورڈ کے ارباب اختیار نے تقرریوں کے وقت فاصلوں کو نظر انداز کر دیا۔ اس طرح کامرس انٹر میڈیٹ کے پرچے مرتب کرنے کے لئے ایسے افراد کو مقرر کیا گیا، جنہیں انٹر کامرس کورس کا معلوم ہی نہیں۔ انٹر میڈیٹ اکنامکس (کامرس) کا پرچہ مرتب کرنے والے صاحب نے آرٹس کا پرچہ کامرس کو دے دیا۔ اسی طرح اکاؤنٹنگ (Accounting) کے پرچہ کو کورس کے مطابق مرتب نہیں کیا گیا۔ اس قسم کی بے ضابطگیاں محض اس وجہ سے ہو رہی ہیں کہ مرتب کنندہ سفارشی ہیں اور کالجز سے متعلق نہیں ہیں۔‘‘ صوفی محمد صادق، کندیاں ضلع میانوالی

یہ صرف محکمہ تعلیم کے ایک بورڈ میں قادیانی افسران کی ظالمانہ ارتدادی مہم انتقامی کارروائی، سازشی ذہن، فتنہ پردازی کی مثال ہے۔ باقی تمام محکموں میں قادیانی افسران کی روش کو آپ اس پر قیاس کر سکتے ہیں۔

راجہ غالب احمد

راجہ غالب احمد کو چیئرمین ٹیکسٹ بورڈ پنجاب کے عہدہ سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔ ’’لولاک‘‘ نے ان کی مرزائیت نوازی اور دھاندلیوں کی طرف حکومت کو متوجہ کرایا تھا۔

(لولاک مورخہ ۲۶؍فروری ۱۹۷۴ء)

اساتذہ اور طلباء کی غیرت ملی کو چیلنج

گورنمنٹ ٹریننگ کالج لائل پور کے موجودہ پرنسپل میاں محمد افضل ہیں جو کہ مرزائی ہیں اور اپنے فرقہ کے پرجوش مبلغ ہیں۔ میاں افضل صاحب اپنی سرکاری حیثیت سے فائدہ اٹھا کر طلباء میں اپنے مسلک کی تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ یہ انہی کی کوششوں کا ثمرہ ہے کہ گورنمنٹ ٹریننگ کالج میں احمدیہ میموریل ایسوسی ایشن بڑے طمطراق سے قائم کی گئی اور اب میاں افضل صاحب نے اساتذہ کو مرزائی بنانے کی زور دار تحریک چلائی ہے۔ چنانچہ احمدیہ میموریل ایسوسی ایشن کے صدر محمد سرور ارشد نے ایک فصیح و بلیغ انگریزی دعوت نامہ جاری کیا جس کا ترجمہ یہ ہے۔

’’یہ امر ہمارے لئے باعث فخر ہو گا۔ اگر آپ اس دلچسپ سفر میں شرکت فرمائیں۔ قیام و طعام کا بندوبست کیا جائے گا۔ پروگرام میں مرزا ناصر احمد سے ملاقات مسجد اقصیٰ اور بہشتی مقبرے کی زیارت، صاحبزادہ طاہر احمد سے ملاقات اور دریائے چناب میں کشتی کی سیر شامل ہے۔‘‘

میاں صاحب کے اشارے پر مرزائی اساتذہ ہفتہ بھر مختلف سرکاری کالجوں میں کنوینسنگ کرتے رہے اور اساتذہ کو ربوہ جانے کی ترغیب دیتے رہے۔ آخر کار ہفتہ کے روز بتاریخ ۲۶؍جنوری ۱۹۷۴ء معماران قوم کا ایک کارواں ربوہ کی منزل کی طرف بڑھا جس میں

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۴۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

ٹریننگ کالج کے تقریباً تمام اساتذہ اور کلرک سٹاف نے شرکت کی۔ گورنمنٹ انٹر کالج، گورنمنٹ ڈگری کالج اور زرعی یونیورسٹی سے بھی چند اساتذہ شریک سفر ہوئے۔ وفد کے قائد میاں محمد افضل صاحب کے صاحبزادے محمد کلیم صاحب تھے۔ ربوہ پہنچنے پر چائے نوشی کے بعد مرزا ناصر احمد خلیفہ ثالث کے ساتھ سارے گروپ کا فوٹو لیا گیا۔ بعد ازاں خلیفہ صاحب نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اشتراکی ممالک میں تبلیغ اسلام ممکن نہیں۔ غیر اشتراکی ممالک میں اس کے امکانات روشن ہیں۔ دو بڑی طاقتیں خصوصاً روس پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا ہے۔ لیکن ہمارا یقین ہے کہ اسلام ایک زبردست قوت کی حیثیت سے ابھرے گا۔ فرقہ مرزائیہ نے تبلیغ اسلام کی بڑی وقیع خدمات انجام دی ہیں۔ ہمارے پاس فنڈز کی کوئی کمی نہیں۔ گزشتہ سال ہم نے پچیس لاکھ کے چندے کی اپیل کی تھی۔ ہمیں باون لاکھ روپے وصول ہوئے۔ فرقہ احمدیہ کی گولڈن جوبلی منانے کے لئے ہم نے اڑھائی کروڑ روپیہ کا بجٹ بنایا ہے۔ توقع ہے کہ ہمیں پانچ کروڑ روپیہ مل جائے گا۔ اساتذہ کے اس گروپ نے کھانا دار الضیافت میں کھایا اور رات وہیں گزاری۔ اگلے دن مؤرخہ ۲۷؍ جنوری ۱۹۷۴ء کو ناشتہ کے بعد اساتذہ کرام کو تحریک جدید کے دفتر لے جایا گیا جو پچاس سے زائد کمروں پر مشتمل ہے۔ اس میں کئی شعبے ہیں۔ مثلاً شعبہ تاریخ برائے ممالک افریقہ اور شعبہ تبلیغ برائے ممالک یورپ صبح دس بجے تمام شرکاء سفر کو لائبریری وغیرہ دکھا کر ابو العطاء جالندھری نے فرقہ احمدیہ کے چار بنیادی عقائد بیان کئے۔

بعض سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا مرزا قادیانی پر چار زبانوں میں وحی نازل ہوتی تھی۔ (اردو، پنجابی، انگریزی، عربی) مرزا قادیانی غیر تشریعی نبی تھے۔ انہوں نے شریعت محمدی میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ مرزا قادیانی کے بعد نیا نبی آنے کا امکان موجود ہے۔ مرزا قادیانی نے جہاد بالسیف کو منسوخ نہیں کیا تھا۔ البتہ جہاد بالقلم پر زیادہ زور دیا تھا۔ اس کے بعد گروپ کے افراد کو مختلف تعلیمی اداروں کے دفاتر کی سیر کرائی گئی اور عبادت گاہ اقصیٰ دکھائی گئی جو کسی احمدی نے پندرہ لاکھ کے صرفہ سے تیار کرائی۔ پھر معماران قوم کو تعلیم الاسلام کالج کا سائنسی شعبہ دکھایا گیا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد تحریک احمدیہ کے دفتر میں علی برادران کے بڑے بھائی ذوالفقار علی کے صاحبزادے اور محمد علی جوہر کے بھتیجے سے ملوایا گیا۔ جنہوں نے نصف گھنٹہ کی تقریر میں بیان کیا کہ ہم نے ٹھوک بجا کر فرقہ احمدیہ کی تعلیم کو قبول کیا ہے۔ عیسیٰ ابن مریم فوت ہو چکے ہیں۔ مرزا غلام احمد مسیح موعود تھے۔ فرقہ احمدیہ کے ماننے والے افراد کی تعداد ایک کروڑ سے متجاوز ہوچکی ہے۔ اس سفر کی درج ذیل خصوصیات قابل توجہ ہیں:

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۴۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سے مطالبہ کر رکھا ہے کہ احمدی طلباء کا کھانا الگ کیا جائے۔

(لولاک مؤرخہ ۱۲؍ مارچ ۱۹۷۴ء)

اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

جمہوریہ افغانستان، جمہوریہ الجزائر، عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش، جمہوریہ چاڈ، عرب جمہوریہ مصر، جمہوریہ گیبون، گمبیا، جمہوریہ گنی، گنی بساؤ، جمہوریہ انڈونیشیاء، دولت ایران، سلطنت ہاشمیہ اردن، مملکت مراکش، مملکت سعودی عرب، مملکت کویت، جمہوریہ لبنان، عرب جمہوریہ لیبیا، ملائیشیاء، مالی، اسلامی جمہوریہ ماریطانیہ، جمہوریہ نائیجیریا، سلطنت اومان، اسلامی جمہوریہ پاکستان، عوامی جمہوریہ یمن، مملکت قطر، سینیگال، جمہوریہ صومالیہ، جمہوریہ سوڈان، عرب جمہوریہ شام، جمہوریہ تیونس، جمہوریہ ترکی، جمہوریہ یوگنڈا، متحدہ عرب امارتیں، عرب جمہوریہ یمن کے سربراہ مملکت اور نمائندوں نیز فلسطین (تحریک آزادی فلسطین) اور جمہوریہ عراق کے نمائندوں نے جو مبصر کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ دوسرے اسلامی سربراہ کانفرنس میں شرکت کی۔ یہ کانفرنس لاہور میں ۲۲؍ فروری سے ۲۴؍ فروری ۱۹۷۴ء تک ہوئی۔ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل، موتمر عالم اسلامی کا وفد اور رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل مہمان کی حیثیت سے کانفرنس میں شریک ہوئے۔ یہ کانفرنس جناب ذوالفقار علی بھٹو کی کوششوں سے منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کے دوران جمعہ کا دن آنا تھا۔ کانفرنس کے مہمانوں نے ایک ساتھ جمعہ شاہی مسجد لاہور میں ادا کرنا تھا۔ اخبارات میں خبر آئی کہ خطبہ جمعہ و امامت کے فرائض حکومت سعودیہ کے سربراہ عالم اسلام کے ممتاز فرزند جناب شاہ فیصل انجام دیں گے۔ ان دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری مرحوم افریقی ممالک کے تبلیغی سفر سے واپسی پر عمرہ کے لئے سعودیہ تشریف لارہے تھے۔ پاکستان سے عالمی مجلس نے اپنے ایک نمائندہ جناب سردار میر عالم لغاری کو سعودیہ بھجوایا۔ لغاری صاحب نے شیخ بنوری سے ملاقات کر کے درخواست کی کہ آپ شاہ فیصل سے ملیں اور ان کو فرمائیں کہ اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقعہ پر خطبہ جمعہ میں ’’قادیانیت‘‘ کے کفر کی بات کریں۔ اس سے ہماری تحریک کو تقویت ہوگی۔ شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری کی شاہ فیصل سے ملاقات ہوئی۔ شاہ فیصل مرحوم نے وعدہ فرمایا: اس کے بعد کیا ہوا۔ ہفتہ وار لولاک مؤرخہ ۱۲؍ مارچ ۱۹۷۴ء کی تفصیلی رپورٹ ملاحظہ ہو:

’’اس عظیم اور کامیاب ترین کانفرنس کے موقع پر کچھ ایسے سانحے بھی وقوع پذیر ہوئے جنہیں ناخوشگوار ہی نہیں افسوس ناک کہنا بجا ہوگا۔ جہاں کانفرنس کی کامیابی کی انتہائی خوشی ہے۔ وہاں ان سانحوں کا بے انتہاء صدمہ اور قلق بھی ہوا ہے۔

مسجد لاہور میں جمعہ کا خطبہ اور نماز پڑھائیں گے۔ ریڈیو پاکستان نے بھی اسے اپنے رسالہ آہنگ میں شائع کر دیا تھا۔ اخبارات میں بھی یہ خبر شائع ہوتی رہی۔ ملک کے گوشے گوشے سے لاکھوں مسلمان یہ آرزو لے کر بادشاہی مسجد میں پہنچے ہوئے تھے کہ کم

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۴۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

از کم زندگی میں ایک نماز خادم الحرمین الشریفین کے پیچھے ادا کرلیں گے۔ اس کے فصیح و بلیغ خطبہ کو سن کر اپنے ایمان تازہ کرلیں گے۔ اس غرض کے لئے لوگوں نے انتہائی تکلیفیں اٹھائیں۔ ڈنڈے کھائے۔ ہجوم میں اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر وہاں پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ بعض لوگ تو اپنی جانیں قربان کر گئے۔ بعض زخمی ہو گئے۔ لیکن وہ اس سعادت سے محروم رہ گئے۔ اس سلسلہ میں جو باتیں سننے میں آرہی ہیں وہ تکلیف دہ ہی نہیں انتہائی افسوس ناک ہیں۔

خبر ملی ہے کہ کمیونسٹوں اور قادیانیوں کو یہ معلوم ہوا کہ شاہ فیصل بادشاہی مسجد لاہور کے خطبہ میں یہودیوں، کمیونسٹوں، مرزائیوں اور مغربی ملحدوں کے خلاف تقریر کرنے والے ہیں۔ اس اندیشے کے پیش نظر مرزائیوں اور کمیونسٹوں نے جو پہلے ہی یہاں دینی قوتوں کے خلاف متحدہ محاذ بنائے ہوئے ہیں۔ شاہ فیصل کو خطبہ دینے سے روکنے کے لئے ایک سازش تیار کی اور مبینہ طور پر اس کام کے لئے گوجرانوالہ کے ایک صاحبزادہ صاحب (اللہ کرتا کہ وہ ایوب خان کے زمانہ میں جو حادثے ہوئے تھے ان کے صدمہ سے مر گئے ہوتے) کی خدمات حاصل کی گئیں۔ معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے کانفرنس کی انتظامیہ کو تاریں دیں کہ شاہ فیصل وہابی عقائد کے ہیں۔ ان کے پیچھے ہماری نمازیں نہیں ہوتیں۔ اس لئے وہ نماز جمعہ نہ پڑھائیں۔ غالباً صاحبزادہ صاحب کی آڑ میں ملک بھر سے مرزائیوں سے زیادہ سے زیادہ ایسے تار دے دیئے ہوں گے۔ کیونکہ ان مرتدوں اور آستین کے سانپوں کے نام بھی مسلمانوں جیسے ہی ہیں۔ یہ بات مرزائی افسر کسی نہ کسی طرح سعودی سفیر کے نوٹس میں لے آئے۔ جب اس بات کا علم شاہ فیصل کو ہوا تو اس نے جمعہ پڑھانے سے انکار کر دیا۔ اس طرح شاہ فیصل کے خطبہ کی سعادت سے بادشاہی مسجد، اس کے لاکھوں نمازیوں اور پورے پاکستان کو محروم کر دیا گیا۔ مرزائیوں نے یہ بندوق بریلویوں کے کندھے پر رکھ کر چلائی۔ حالانکہ ہمارا یقین ہے کہ ملک کے بریلویوں کو اس سازش کی خبر تک بھی نہیں ہوگی۔

خطبہ سن رہی تھی۔ خطیب صاحب نے اتحاد امت کے موضوع پر کنز العمال کی اس حدیث شریف کے یہ الفاظ تو پڑھے: ”یا ایہا الناس ان ربکم واحد و اباکم واحد و دینکم واحد“ لیکن یہ الفاظ: ”ونبیکم واحد لا نبی بعدی“ چھوڑ دیئے۔ اسی طرح خاتم النبیین کے الفاظ کہے گئے اور ”لا نبی بعدی“ کے الفاظ چھوڑ دیئے گئے۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ ایسا خطیب صاحب نے بھول کر کیا یا کسی مرزائیت نواز اتھارٹی نے مرزائیوں کو خوش کرنے کے لئے یہ الفاظ سنسر کر دیئے۔ بہرحال عرب و عجم میں ہر وہ مسلمان جو صاحب علم تھا اسے اس کا بہت صدمہ اور قلق ہوا اور یہ مرزائیت نوازی کی ایک بدترین مثال قائم کی گئی۔

کے سلسلہ میں کام کر رہے ہیں۔ انہیں اس موقع پر انتہائی مسرت تھی کہ جب یہ سربراہ مل بیٹھیں گے، دنیا بھر کے مسلمانوں کے سیاسی اور اقتصادی الجھے ہوئے مسائل پر غور کریں گے تو انہیں اس بات کی طرف بھی متوجہ کیا جائے گا کہ وہ اس اسلام کی حفاظت اور اشاعت کی طرف بھی متوجہ ہوں۔ جس اسلام کی بدولت ان کی سلطنتیں اور ان کے یہ تمام جاہ و جلال قائم ہیں۔ چنانچہ یہاں کی بعض دینی جماعتوں نے ایسے کتابچے اور محضر نامے وغیرہ تیار کرائے اور اس بات کو مدنظر رکھ کر تیار کرائے کہ ان میں کوئی بات ایسی نہ ہو جو ملک کے مفاد کے خلاف ہو یا مہمانوں کے لئے کسی پریشانی کا باعث اور آداب میزبانی کے منافی ہو۔ لیکن انتہائی دکھ کی بات ہے کہ حکومت نے عملاً ایسی تدابیر اختیار کر لیں کہ ان سربراہان ممالک اسلامیہ تک دینی حلقوں کا کوئی وفد کوئی محضر نامہ، کوئی کتابچہ کوئی خیر مقدم پہنچ نہیں سکا۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۲۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس سے زیادہ دکھ اور صدمے کی بات یہ ہے کہ مرزائی افسروں کے ذریعہ مہمان وفود میں مرزائیوں کا لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ مثلاً گنی کے وفد کو فلیٹی ہوٹل میں ایک مرزائی اعلیٰ افسر نے مرزائیوں کا لٹریچر دیا۔ گنی کے اس وفد میں حیدر محمد الامین بھی شامل تھے جو گنی کی طرف سے مصر میں سفیر ہیں۔ انہیں مرزائیوں کے خلیفہ مرزا محمود کی تصنیف تفسیر صغیر دی گئی۔ اسی طرح ملائیشیاء کے وفد کے ممبران محمد صالح حمزہ اور عبدالرحمٰن کو ایشیاء ہوٹل میں ٹی۔وی سروس کے ایک مرزائی افسر نے مرزائیوں کے انگریزی لٹریچر کا فل سیٹ تقسیم کیا۔

کانفرنس کے دنوں میں بعض علمائے کرام کے ٹیلی فون بند رہے تاکہ وہ کہیں بیرونی مہمانوں سے رابطہ نہ قائم کرلیں ۔ یہ طرزِ عمل سنگ را بستن وسگ را کشادن کے مصداق تھا۔ مرزائی پہلے ہی بیرونی ممالک میں یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان میں ہماری حکومت ہے۔ اب اس کانفرنس کے موقعہ پر مرزائیوں کا اسلامی وفود سے رابطہ اور دوسرے دینی حلقوں کا رابطہ نہ ہونا اس شبہ کو مزید تقویت پہنچانے کا باعث ہوگا۔

قیام پر زور دیا گیا۔ ہمیں خوشی ہے کہ ایسا کیا گیا کیونکہ یہ ہر مسلمان کا فرض ہے۔ لیکن فلسطینی مسلمانوں ہی کی طرح لاکھوں کلمہ گو کشمیری مسلمان جو بھارت کے استبداد کا شکار ہیں اور آزادیِ کشمیر کے لئے ربع صدی سے لڑ رہے ہیں۔ ظلم واستبداد کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ان کا نام تک کسی نے نہیں لیا بلکہ اس سلسلہ میں آزاد کشمیر کے صدر سردار محمد عبدالقیوم خاں کو خاطر خواہ کام نہیں کرنے دیا گیا۔ وہ صرف ایک پریس کانفرنس کر سکے۔ لیکن وہ بھی بڑی رکاوٹوں اور مشکلات کے بعد جن کا ذکر کرنا بہتر نہیں ہے۔ اندرا گاندھی نے کانفرنس سے پہلے ہی تنبیہ کر دی تھی کہ اس کانفرنس میں کوئی متنازعہ بات نہ کی جائے۔ کم از کم غیرت اسلامی کا اتنا ثبوت تو دے دیا جاتا جس سے اندرا گاندھی کے چیلنج کا جواب ہو جاتا۔ کانفرنس میں کشمیر کا تذکرہ تو کجا بادشاہی مسجد کے جمعہ میں کشمیری مسلمانوں کی آزادی کے لئے دعا تک نہیں کی گئی۔

دے رہا ہے وہ بھی مسلم بینک کے سپرد کر دیا جائے۔ کیونکہ عالمی بینک پر یہودیوں کا قبضہ ہے۔ وہ اسلامی ملکوں کی امداد پر حسب ضرورت روپیہ خرچ نہیں کرتا۔

اور عراق میں بھی اپنا وفد بھیجے اور ان دونوں اسلامی ملکوں کی صلح کرائے ۔

لیکن افسوس ہے کہ عدی امین کی انتہائی اہم تجاویز کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اسلامی سربراہوں میں سے سب سے بڑے مجاہد اور اسلام دوست سربراہ کرنل قذافی نے لاہور میں اعلان کیا کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور تمام دنیا کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اسلام کے اس قلعہ کی حفاظت کرے۔ لیکن اسلام کے سب سے بڑے قلعہ میں

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۵۴۴ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ضیافتوں کے موقعہ پر کلچرل شو کی آڑ میں کمیونسٹوں کی خواہش کے مطابق رقیہ ، ثریا جیسی کنجریوں کے ڈانس ہوئے اور بعض ایسی باتیں بھی ہوئیں جو اسلامی ثقافت اور آداب میزبانی کے منافی تھیں ۔ یہی وجہ ہوئی کہ شیش محل کی دعوت کے بعد کنجریوں کے ڈانس کے وقت جلالتہ الملک شاہ فیصل دعوت سے اٹھ گئے ۔ بلکہ بعض سربراہان ممالک اسلامیہ ان دعوتوں میں شریک ہی نہیں ہوئے ۔ میزبانی میں اس بات کا لحاظ رکھا جانا ضروری تھا کہ کانفرنس کا نام اسلامی کانفرنس ہے اور شرکاء اسلامی ممالک کے سربراہ اور راہنما ء ہیں ۔ ضیافتوں کے موقعہ پر کلچرل شو کو ہاضم چورن کے طور پر استعمال کرنا اسلامی نہیں بلکہ غیر اسلامی رسم ورواج ہے۔

ایک اور حماقت ...... شیزان ریستوران ہی کیوں؟

میاں طفیل محمد امیر جماعت اسلامی کے ایک بیان سے معلوم ہوا کہ شیزان ریستوران کو، اس ہونے والی اسلامی کانفرنس کے مہمانوں کے کھانے پینے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے ۔ ہم نے یہ خبر انتہائی دکھ سے پڑھی ہے ۔ نہ جانے کس ”فراخ دل‘‘ کی نگہ انتخاب یہاں تک پہنچی ہے، جس نے بھی شیزان کا انتخاب کیا ۔ اس نے مسلمانوں کے جذبات کو آگ لگائی ہے ۔ ہم جیسے مسلمانوں کے نزدیک شیزان کا کھانا حرام ہے ۔ یہ مرزائی امت کا ایک ایسا ریستوران ہے جس کی آمدنی کا مقررہ حصہ ربوہ میں استحکام قادیانیت کے لئے جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک اس کی سر پرستی کرنا گناہ کبیرہ ہے اور وہ مسلمان جو بڑے خاندانوں کے لاڈلے ہو کر اس کی رونق بڑھاتے اور وہاں کھاتے پیتے ہیں ، وہ حلال نہیں حرام کھاتے ہیں ۔ کیا حکومت کے لئے دوسرا کوئی انتظام ناممکن تھا ۔ ہماری اندرونی معلومات کے مطابق شیزان ہوٹل خاص خاص مہمانوں کے لئے سکہ بند قادیانی ملازموں کا انتظام کر رہا ہے ۔ ان کے سپرد خفیہ معلومات کی فراہمی کے علاوہ یہ خدمت بھی ہوگی کہ وہ قادیانی امت کا خاص لٹریچر جو آج کل دھڑا دھڑ چھپ رہا ہے، مہمانوں تک پہنچائے گا اور اس لٹریچر کو ہضم کر جائے گا جو ان کے خیال میں ان سے متعلق کوئی جماعت یا تحریک تقسیم کرے گی ۔

(چٹان، مورخہ ۴؍ فروری ۱۹۷۴ء)

قارئین اندازہ فرمائیں کہ شاہ فیصل مرحوم ایسے فرزند اسلام کا خطبہ منسوخ کر دیا گیا تا کہ وہ مرزائیت اور کمیونسٹوں کے خلاف کچھ نہ کہہ پائیں ۔

مستثنیٰ تھی ۔

پنجاب نے ختم کرا دیں ۔ یوں مسلمانوں کے احتجاج پر مرزائیت کے نرغہ سے اسلامی سربراہوں کو بچا لیا گیا ۔ اس قسم کے واقعات نے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ بھٹو حکومت پر مرزائیت کی ایسی گہری چھاپ ہے کہ اگر اس کا بروقت مداوا نہ کیا گیا تو آنے والے حالات میں مرزائیت کو لگام دینا اور زیادہ مشکل و دشوار ہو جائے گا ۔ ان نا مساعد حالات میں بھی جب کہ عملاً ملک کی پالیسی مرزائیت کی جیب میں تھی ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنے سفر کو جاری رکھا ۔ ذیل کی خبر سے اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

اسلامی سربراہی کانفرنس اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات

اسلامی کانفرنس کے موقعہ پر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے وفود مولانا محمد شریف جالندھری کی قیادت میں لاہور پہنچے ہوئے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۴۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تھے۔ یہ وفود مختلف حلقوں میں اپنا تبلیغی فریضہ سرانجام دیتے رہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے بیرونی ممالک سے آئے ہوئے وفود نمائندگان پریس کو اپنا یہ پیغام پہنچایا کہ اس وقت عالم اسلام کے خلاف چار بڑے فتنے سرگرم عمل ہیں۔ یہودیت، مرزائیت، اشتراکیت اور الحاد مغرب البتہ اسلامی ممالک کے سربراہان سے مجلس کے نمائندگان نے کوئی واسطہ پیدا نہیں کیا۔ کیونکہ حکومت پاکستان چاہتی تھی کہ کوئی جماعت بھی ان سے براہ راست رابطہ قائم کر کے سربراہی کانفرنس کے موقعہ پر کوئی خلفشار یا پریشانی کی صورت پیدا نہ کرے۔ مناسب یہی سمجھا گیا۔ اس مسئلہ میں حکومت کے لئے کوئی پریشانی نہ پیدا کی جائے۔ حالانکہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے لٹریچر میں کوئی بات ایسی نہ تھی جو سربراہی کانفرنس کے مقاصد کے منافی ہو یا جس سے کسی صاحب ایمان کو کوئی اختلاف ہو۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے اسلامی سربراہی کانفرنس کا زبردست خیر مقدم کیا گیا۔ روزنامہ نوائے وقت لاہور میں ۲۲ اور ۲۳؍ فروری ۱۹۷۴ء کو عربی زبان میں اور پاکستان ٹائم ۲۲؍ فروری ۱۹۷۴ء میں انگریزی زبان میں اشتہارات کے ذریعہ مسلم سربراہوں کو خوش آمدید کہا گیا اور ان کو عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی طرف توجہ دلائی گئی۔ پچاس ہزار عربی زبان میں شائع شدہ پمفلٹ تقسیم کئے گئے۔ اس کے علاوہ عربی اور انگریزی زبان میں مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت اور فتنہ مرزائیت کے تعارف پر مشتمل دیدہ زیب کتابچے اہم شخصیتوں میں تقسیم کئے گئے۔

ان دنوں مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے دفتر میں بڑی چہل پہل رہی۔ حضرت مولانا عبدالرحمٰن میانوی، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا غلام محمد بہاول پوری، چوہدری خلیل احمد گجرات، مولانا عبدالحمید آزاد لاہور، مولانا حکیم عبدالرحمٰن آزاد، مجاہد ختم نبوت غلام نبی، میاں محمد امین گوجرانوالہ، جناب بلند اختر نظامی، شبیر حسین شاہ لاہور، محمد اسحاق صاحب، حافظ محمد صادق صاحب، مولانا کریم بخش صاحب لاہور، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا اللہ وسایا صاحب، شیخ منظور حسین صاحب چنیوٹی اور مولانا عبدالرؤف نے دن رات محنت سے ختم نبوت کا پیغام دنیائے اسلام کے کونے کونے سے آئے ہوئے وفود اور اخبار نویسوں اور دوسرے حضرات تک پہنچا دیا۔

انارکلی بازار میں جب وفود کے ممبران خرید وفروخت کے لئے آئے تو مجلس کے وفود ان سے ملاقاتیں کر کے انہیں عقیدہ ختم نبوت اور رد مرزائیت کے متعلق لٹریچر پیش کرتے تو وہ اسے ایک نظر دیکھتے ہی خوش ہو کر کہتے، ہم اس فتنہ عمیا کے متعلق ضرور یہ کتابیں پڑھیں گے اور مجلس کے کارکنوں کو جزاک اللہ اور بارک اللہ کی دعائیں دیتے تھے۔ لاہور کے مسلمانوں کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں کی ان خاموش بے لوث اور مؤثر خدمات کو دیکھ کر بڑی خوشی ہوتی رہی۔ لوگ آپس میں کہتے تھے کہ یہ بڑا ضروری تھا کہ مرزائیوں کا پورے عالم اسلام میں تعارف کرا دیا جائے۔ کیونکہ یہ لوگ وہاں جا کر اسلام کے نام پر ارتداد پھیلاتے اور اسلام کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔

(ہفتہ وار لولاک مؤرخہ ۱۲؍ مارچ ۱۹۷۴ء)

پاکستان میں مرزائی ریاست ابھر رہی ہے

(بینک، ریلوے، محکمہ تعلیم، سوئی گیس اور مرزائی اللے تللے)

”کامرس بینک اب تقریباً مرزائیوں کا ملکیتی بینک ہے۔ لائل پور زون کے زونل منیجر مبشر احمد قادیانی نے اپنے ماتحت تمام بینکوں کے مسلمان افسروں کو ادھر ادھر کر کے ان کی جگہ مرزائی منیجر مقرر کر دیئے ہیں۔ حمید بٹ آخری مسلمان افسر تھے جو اس زون میں میانوالی کامرس بینک کے منیجر تھے۔ ان کی جگہ بھی مرزائی منیجر کو بھیجا جا رہا ہے۔ ہم نے لولاک میں بار بار لکھا ہے کہ مرزائی، ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ ربوہ ان کا خالص اپنا شہر ہے۔ وہاں کے سرکاری اداروں میں بھی کوئی مسلمان ملازم نہیں ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۴۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزائی ملازمین تعینات کرائے جاتے ہیں۔ شاید کسی محکمہ میں کوئی مجبوری سے آنکھیں بند کر کے دن پورے کر رہا ہو۔ ریلوے، تعلیم، پولیس غرضیکہ ہر محکمہ مرزائیوں کے سامنے عاجز ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی مرکز لائل پور ہے۔ اہالیان لائل پور کا بار بار کا مطالبہ یہ ہے کہ راولپنڈی تک سفر کرنے کے لئے کوئی تیز رفتار گاڑی چلائی جائے۔ لیکن محکمہ ریلوے نے چناب ایکسپریس کو وزیر آباد کے شارٹ کٹ راستہ سے محض ربوہ کے لئے ہٹایا۔ اب وہ بذریعہ برانچ لائن ربوہ سے ہو کر پورے ۱۲ گھنٹے میں پہنچتی ہے۔ اسی طرح اب ایک ریل کار لائل پور اور پنڈی کے درمیان چلائی گئی ہے۔ لیکن وہ بھی ربوہ سے ہو کر تقریباً ساڑھے گیارہ گھنٹے میں پنڈی پہنچتی ہے۔ جب کہ بس کا سفر سات گھنٹے کا ہے۔ چنانچہ عوام بسوں میں سفر کرنے اور بسوں کے حادثات میں ہڈیاں تڑوانے اور سڑکوں پر مرنے پر مجبور ہیں۔ محکمہ ریلوے کی مجال نہیں ہے کہ ربوہ کو نظر انداز کر کے کوئی تیز رفتار گاڑی پاکستان کے اسی اہم تجارتی مرکز اور ملک کے دارالخلافہ کے درمیان چلا سکے۔ اس طرح محکمہ تعلیم کا سن لیجئے۔ ربوہ کے مردانہ اور زنانہ دونوں کالج گورنمنٹ کی تحویل میں آچکے ہیں۔ لیکن وہاں مرزائیوں کی انجمن کا قبضہ ہے۔ انجمن احمدیہ کا عمل دخل ختم کیا جائے۔ اس پر پرنسپل اور انجمن احمدیہ کے غنڈوں نے ساز باز کر کے ان طلباء کو پٹوایا۔ حالانکہ ان میں احمدی لڑکے بھی شامل تھے۔ رفیق باجوہ کو جو ایک احمدی خاندان کے فرد تھے، قتل کرا دینے کی کوشش کی گئی۔ بہت سے طلباء کو ربوہ سے زبردستی نکال دیا گیا۔ وہ کالج چھوڑنے پر مجبور ہو گئے اور اس دفعہ روزنامہ الفضل ربوہ نے بار بار اشتہار شائع کیا کہ تعلیم الاسلام کالج میں احمدی لڑکے داخلہ لیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ علاقہ کے مسلمان بچوں کو داخلہ نہیں دیا جائے گا۔ اس طرح کالج کو باقاعدہ ایک مرزائی کالج بنا دیا گیا۔ جناب ڈاکٹر عبدالخالق صوبائی وزیر تعلیم اور جناب حفیظ پیرزادہ مرکزی وزیر تعلیم یہاں بالکل بے بس اور مجبور محض ہیں۔ انہیں اتنے بھی اختیارات نہیں کہ وہ وہاں پر پرنسپل کو یا کسی مرزائی لیکچرار کو تبدیل کر سکیں۔

اس سے بھی بڑھ کر بد نصیبی کی بات یہ ہے کہ سرگودھا سیکنڈری بورڈ پر مرزائیوں کا مکمل قبضہ ہے۔ مرزا غالب احمد قادیانی نے سرگودھا ریجن میں بھی ایک قادیانی ریاست قائم کر دی ہے۔ چیئرمین وہ خود، سیکرٹری مرزائی، رجسٹرار مرزائی، اکثر افسر مرزائی اور اکثر عملہ مرزائی، اکثر ممتحن مرزائی، اکثر امتحانات کے نگران مرزائی، یہاں تک سکھا شاہی کہ بعض ربوہ کے مبلغوں کو امتحانات کا ممتحن اور نگران بنایا جاتا رہا ہے اور سنئے اب غالب احمد کی اس سے بھی زیادہ اہمیت کی جگہ یعنی آپ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئرمین ہو کر چلے گئے ہیں اور سرگودھا سیکنڈری بورڈ کا چیئرمین ایک مسلمان کو لگایا گیا ہے جو بے چارا مجبور محض ہے۔ کوئی کام اپنی مرضی اور صوابدید سے نہیں کر سکتا اور مکمل مرزائی مشینری میں ایک مجبور پرزے کی حیثیت سے عنقریب ٹوٹنے والا ہے۔

یہ سرگودھا بورڈ پر قبضہ اس لئے ہے کہ ربوہ اور اس بورڈ کی تعلیمی مرزائی ریاست کی حدود میں جتنے مرزائی لڑکے پڑھتے ہیں، انہیں بہترین نمبروں پر پاس کیا جائے تاکہ میڈیکل، نان میڈیکل کے داخلے انہیں بغیر کسی حیل و حجت کے مل جائیں۔ فوج کی اعلیٰ آسامیوں کے لئے وہ بھرتی ہو سکیں اور مسلمان لڑکے داخلہ نہ ملنے کے سبب دھکے کھائیں اور ذلیل ہوتے پھریں۔ پولیس کی شان میں کیا گستاخی کریں، پولیس کا یہ حال کہ حال ہی میں وہاں دن دہاڑے ایک سبزی فروش محمد علی قتل ہوا۔ پولیس کی اتنی مجال نہیں کہ وہ اس مقتول کی مظلوم بیوہ اور اس کے آٹھ یتیم بچوں کا بیان ان کی حسب خواہش قلم بند کر سکے۔ ملزموں کا گرفتار ہونا، سزا پانا تو دور کی باتیں ہیں اور بیسیوں نا گفتنی چیزیں ہیں جو ربوہ میں ہو رہی ہیں۔ لیکن پولیس کے ملازمین بس صرف اس لئے وہاں ہیں کہ وہاں رہیں اور کوئی بات ملک اور ملت کے مفاد میں سرانجام نہیں دے سکتے۔ سوئی گیس کے محکمہ کا ذکر سن لیجئے۔ سوئی گیس ابھی لائل پور میں مکمل طور پر مہیا نہیں کی جاسکی۔ لیکن اچانک وہاں سے اچھل اچھل کر ربوہ پہنچ گئی۔ کروڑوں پتی سیٹھوں کا شہر چنیوٹ راستے میں چھوڑ گئی۔ سرگودھا نہیں پہنچ سکی بس ربوہ پہنچ گئی

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۴۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور معدودے چند کنکشنوں اور محدود آمدنی کی خاطر لاکھوں روپے کے خرچ سے پہنچائی گئی اور اب ربوہ کا نخرہ یہ ہے کہ ۲ رانچ پائپ کی بجائے ۴ رانچ والا پائپ ربوہ کے لئے تبدیل کیا جائے۔ یعنی ابھی کروڑوں روپیہ مزید ضائع کیا جائے۔ سوئی گیس کا ذکر آیا ہے تو ذرا اس محکمہ کی کچھ اور باتیں بھی سن لیں۔ شاید ارباب اختیار میں سے کسی کو کچھ احساس ہو جائے۔ جس کی اگر چہ کوئی توقع نہیں ہے۔ پاکستان کی گزشتہ تاریخ میں جتنے بدقسمتی کے واقعات ہوئے ہیں، انہیں اگر جمع کیا جائے تو سب سے بڑے بدقسمتی کے دو حادثے ہیں۔ پہلا سر ظفر اللہ خان کا اس مملکت اسلامیہ کا پہلا وزیر خارجہ ہونا، دوسرا ایم۔ ایم احمد کا اقتصادی مشیر بن جانا، ان دونوں حادثوں نے پاکستان کو نڈھال اور نیم جان کر دیا ہے۔ ایم۔ ایم احمد ملک کی اقتصادیات کے سربراہ تھے۔ جتنی آزاد اور خود مختار کارپوریشنیں ہیں، وہ بھی ان کی تحویل میں تھیں۔ سوئی گیس کا محکمہ بھی انہیں کے تابع تھا۔ انہوں نے اپنے ایک بھانجے کو اس محکمہ کے مالیات کا سربراہ مقرر کرا دیا۔ اب ان بھانجے صاحب نے ایک اور چھلانگ لگائی ہے اور خیر سے سوئی گیس کے محکمہ کے سربراہ اعلیٰ بن گئے ہیں۔ جب سے ان کی ترقی ہوئی ہے، مرزائیوں نے مطالبہ شروع کر دیا ہے کہ ربوہ کی سوئی گیس کی ۲ رانچ والی پائپ کی جگہ ۴ رانچ والی پائپ تبدیل کر دی جائے چونکہ ملک کا مالک اللہ ہی ہے۔ کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ غالب یقین یہی ہے کہ اس غریب قوم اور ملک کے لاکھوں روپے مزید ربوہ کے لئے خرچ کر دیئے جائیں گے۔

اب مسئلہ ایک کامرس بینک کا نہیں ہے۔ پورے ملک کا ہے۔ بینکوں کے سب سے بڑے حصہ دار مرزائی ہیں۔ حکومت نے اب تک یہ بھی تکلیف نہیں کی کہ کم از کم یہ معلومات جمع کرے کہ ملک میں ان کے پاس کل سرمایہ کتنا جمع ہے؟ کن کن بینکوں میں ہے اور اتنا پیسہ مرزائیوں کے پاس کہاں سے آ گیا ہے؟ آمدنی کے علاوہ ان کے اخراجات کی تفصیل کیا ہے؟ کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ افسروں کا مزاج ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جہاں کہیں کوئی معاملہ مرزائیوں کے متعلق آ جائے تو یہ کہہ کر گول ہو جاتے ہیں کہ ان کے اوپر بڑے لوگ ہیں۔ انہیں کچھ نہیں کہا جا سکتا اور اگر کوئی سر پھرا ہمت کرے تو الٹا اس کی گردن توڑ دی جاتی ہے۔“

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد، مؤرخہ ۲۸؍جنوری ۱۹۷۴ء)

سندھ کا ہوم سیکرٹری کنور ادریس

”پنجاب میں ایک صاحب عزیز الدین باجوہ ایک زمانہ میں غالباً سیشن جج تھے۔ پھر سبکدوش ہوئے اور مرزائیت کے رسوخ کی معرفت ایڈیشنل کسٹوڈین ہو کر لاہور میں ٹکے رہے۔ قادیانی امت کے لئے ان کا وجود نعمت عظمیٰ تھا اور ہے، ان کی عدالت میں جو قادیانی گیا، کامیاب رہا۔ سیٹلمنٹ بحالیات کا کام ٹھپ ہو گیا تو ایئر مارشل ظفر چوہدری کے والد بشیر احمد نے انہیں پیاک میں جہاں وہ ڈائریکٹر تھے اور لاہور میں ان کا چارج تھا، لیگل ایڈوائزر مقرر کیا اور وہ اپنی ہڈیوں کے جواب دینے تک ٹکے رہے۔ ان کے دو بیٹے ہیں، ایک کنور محمد ادریس (سی۔ ایس۔ پی) پہلے کراچی کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ آج کل سندھ گورنمنٹ کے ہوم سیکرٹری ہیں۔ کراچی میں قادیانیوں کے لئے بعض اہم عہدوں کی فضاء پیدا کر کے انہوں نے ایک ربوہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک صاحب فوج سے سبکدوش ہو کر کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔ وزراء کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے ان کے جائز و ناجائز احکام بجالانا آپ کا پرم دھرم ہے۔ وہ اپنے افسروں کی ملی بھگت سے کراچی میں بعض وسیع پلاٹ ”چھوٹا ربوہ“ آباد کرنے کے لئے مرزائی امت کی خانہ ساز کمپنیوں، کارپوریشنوں، اداروں اور طائفوں کو سونپ رہے ہیں کہ مرزائی ایک جتھہ بند اقلیت کے طور پر کراچی میں مضبوط (Cell) بنا سکیں۔ مسلمان ان سے غافل ہیں۔ حکومت کو احساس نہیں اور سندھ کے وزراء کی ان پر نگاہ نہیں۔ کنور ادریس (ہوم سیکرٹری) ہی کی عقل عیار کا شوشہ ہے کہ پچھلے دنوں کراچی میں ختم نبوت کے سلسلہ میں جلسہ کا انعقاد منسوخ کیا گیا اور عذر یہ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۴۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تراشا گیا کہ دوسرا فرقہ (یعنی قادیانی امت) کے مشتعل ہو کر فضا کے خراب ہونے کا امکان ہے۔ گویا اب ختم نبوت کے مسئلہ سے بھی فضاء خراب ہوتی ہے۔“

(چٹان مؤرخہ ۳؍ جون ۱۹۷۴ء)

ساڑھے نو کروڑ کا مصرف کیا ہوگا

”پاکستان کے مذہبی بیت الخلاء ربوہ میں جماعت احمدیہ کی ۵۵ ویں مجلس مشاورت کے اجلاس کو (۲۹؍ مارچ ۱۹۷۴ء، ۴؍ بجے سہ پہر) مرزا ناصر احمد (خلیفہ ثالث) نے خطاب کرتے ہوئے بیان کیا کہ: ”صد سالہ احمدیہ جوبلی فنڈ میں جماعت کے ۹ کروڑ ۵۴ لاکھ کے وعدے ہوئے ہیں اور بیرون پاکستان کے ۲۰ ممالک کی احمدی جماعتوں کے وعدے آچکے ہیں۔ اس وقت ۵۰ ملکوں میں احمدی جماعتیں قائم ہیں اور وہاں احمدی بستے ہیں۔ غیر ملکی جماعتوں کے وعدے ۴ کروڑ ۲۱ لاکھ ۴۵ ہزار چار سو ستاون روپے ہیں۔ پاکستانی جماعتوں کے وعدے ۵ کروڑ ۳۲ لاکھ تین ہزار ایک سو باون روپے کے ہیں۔“

(الفضل ربوہ مؤرخہ ۳۱؍ مارچ ۱۹۷۴ء)

کسی دور میں کسی جماعت نے حتیٰ کہ عیسائیوں کی فرمانروایانہ بالادستی کے اس عہد میں جب کہ استعماری طاقتیں تمام تر عیسائی ہیں، کسی عیسائی ادارے نے تبلیغی غرض سے اتنی بڑی رقم جمع کرنے کا اعلان نہیں کیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ:

ہیں اور مرزائی فاقہ کش کتنے ہیں؟

کے ۴ کروڑ ۱۲ لاکھ ۴۵ ہزار ۴ سو ۵۷ روپے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وہ کس طرح آئے گا؟ وہاں یہ روپیہ کون دے گا؟

حقیقت یہ ہے کہ جوبلی فنڈ کی فراہمی محض دھوکے کی ٹٹی ہے۔ تمام روپیہ ان امپریلسٹ طاقتوں کے دفاتر خارجہ مہیا کریں گے جو پاکستان کے حصے بخرے کرنا چاہتے ہیں اور اسلام کی عالمی وحدت کو توڑ کر مرزا غلام احمد کی امت سے مسلمان ریاستوں میں جاسوسی کے علاوہ تخریبی کام لے رہی ہیں۔ محض روپے کو قانونی شکل دینے کے لئے احمدی معطیوں اور احمدی جماعتوں کا نام لیا جا رہا ہے۔

ہماری اطلاعات کے مطابق ابتدائی قسط کے طور پر چار کروڑ روپے حکومت اسرائیل نے دینے کا وعدہ کیا ہے۔ مقصود اس روپے سے مغربی پاکستان میں استعماری منصوبوں کو پروان چڑھانا اور پنجاب کو احمدیوں کے لئے عجمی اسرائیل بنا کر ان کی حکومت قائم کرنا ہے۔ مرزا ناصر احمد نے اپنے مشیروں کی طویل نشست کے بعد بعض وزیروں، مدیروں، آفیسروں، تاجروں، ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں کی خرید و فروخت کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس روپے میں سے ابتدائاً ایک کروڑ روپیہ اس خرید و فروخت میں صرف ہوگا۔“

(ہفت روزہ چٹان، مؤرخہ ۷؍ اپریل ۱۹۷۴ء)

براڈ کاسٹنگ ان دی ربوہ

”ربوہ میں قادیانیوں کے حالیہ سالانہ اجلاس کے موقع پر اپنی ایک پریس کانفرنس میں قادیانی امت کے سربراہ مرزا ناصر احمد

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۴۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نے جن عزائم کا اظہار کیا ہے۔ ان کی تفصیلات اخبارات میں آ چکی ہیں اور یہ پاکستان ہی نہیں دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے ایک لمحہ فکریہ مہیا کرتی ہیں۔ مرزا ناصر احمد نے اعلان کیا ہے کہ قادیانیت کی تبلیغ واشاعت کے لئے ۲۵ کروڑ روپے کا ایک عظیم منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ جس میں اندرون و بیرون ملک تبلیغی مشنوں کے قیام کے علاوہ ربوہ میں ایک بہت بڑے طاقتور براڈ کاسٹنگ سٹیشن کا قیام بھی شامل ہے۔ گویا ریاست کے اندر ایک دوسری ریاست قائم کی جا رہی ہے۔ مقام حیرت ہے کہ وہ حکومت جس نے ملک کو دفعہ ۱۴۴ اور ہنگامی حالات کا نفاذ کر کے ایک قبرستان بنا رکھا ہے اور جو مساجد میں خطبہ جمعہ کے لئے بھی آزادیٔ اظہار کو برداشت نہیں کر سکتی ہے۔ ایک اقلیتی فرقہ کی طرف سے ملک کے اندر ایک پرائیویٹ براڈ کاسٹنگ اسٹیشن کے قیام کے منصوبہ کے اعلان پر کیوں خاموش ہے؟

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

کاش! حضور خاتم النبیین ﷺ کے نام لیوا، خصوصاً علمائے کرام، اسلام اور عالم اسلام کو درپیش اس عظیم چیلنج کی سنگینی کا صحیح اندازہ کرنے اور اس کا جواب دینے کی طرف توجہ دیں۔ کاش! پاکستان کے ارباب حل وعقد کو اس حقیقت کے ادراک کی توفیق ہوتی کہ ختم نبوت کے قلعہ میں شگاف ڈالنے والا گروہ خود ان کے لئے مار آستین ثابت ہوگا۔ صرف موقعہ ملنے کی دیر ہے۔‘‘

(چٹان، مورخہ ۱۸؍مارچ ۱۹۷۴ء)

نائیجیریا کے قادیانی العقیدہ، حرمین شریفین میں داخل نہیں ہو سکتے

روزنامہ کویت ٹائمز ۲۷؍جنوری ۱۹۷۴ء کی ایک خبر:

’’کویت کے ممتاز انگریزی روزنامہ ’’کویت ٹائمز‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی حکومت نے مرزائی امت کے سعودی عرب میں داخلہ پر جو پابندی عائد کی ہے اور انہیں حج کی اجازت نہ دینے کا جو فیصلہ کیا ہے، مرزائی قائدین نے اس کے خلاف سعودی حکومت سے احتجاج کرنے اور اس غرض سے ایک وفد سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ انکشاف کویت ٹائمز نے ۲۷؍جنوری ۱۹۷۴ء کی اشاعت میں کیا ہے۔ اس شمارہ میں لاگوس (نائیجیریا) کی Date Line اور عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹر کے حوالے سے ایک خبر شائع ہوئی ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ سعودی حکومت سے احتجاج کرنے کی غرض سے نائیجیریا کے احمدی رہنما ایک وفد سعودی عرب بھجوانے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ احمدیوں کے اپنے دعوے کے مطابق نائیجیریا میں ان کی تعداد ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق امسال نائیجیریا سے ۳۰ ہزار مسلمانوں نے فریضہ حج ادا کیا ہے۔ لیکن لاگوس میں سعودی سفارت خانے نے دو سو کے قریب احمدیوں کو حج ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔ جس پر ۱۹؍دسمبر ۱۹۷۳ء کو احمدیوں نے سعودی سفارت خانہ کے سامنے زبردست مظاہرہ کیا۔ اس خبر میں بتایا گیا ہے کہ نائیجیریا کے سرکاری حکام اور احمدی رہنماؤں کی مداخلت نے مشتعل احمدیوں کے ہاتھوں سعودی سفارت خانہ کو تباہ ہونے سے بچا لیا۔

سعودی سفارت خانہ نے احمدیوں کو ویزا جاری کرنے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ لیکن باخبر ذرائع کے مطابق احمدیوں کے نائیجیریا میں دو گروہ ایسے ہیں جو سرور کائنات حضرت محمد ﷺ کی نبوت اور خاتم النبیین سے منکر ہیں۔ نائیجیریا میں تحریک احمدیہ کے صدر شفیع عیدو نے ایک اخبار کو بتایا۔ اب تک ہم اسے محض افواہ سمجھتے تھے کہ احمدیوں کے سعودی عرب جانے پر پابندی ہے۔ لیکن اب ہم ایک مؤثر وفد سعودی عرب بھیجیں گے تاکہ احمدیوں کے مکہ جانے پر جو پابندی ہے اس کی وجہ معلوم ہو سکے۔ ہم نے اپنی اس خواہش سے سعودی سفیر کو مطلع کر دیا ہے۔ جیسے ہی انتظامات ہو گئے، یہ وفد سعودی عرب روانہ ہو جائے گا۔ سعودی سفارت خانہ کی طرف سے احمدیوں کو ویزا نہ دیئے جانے پر احمدیوں کے دونوں گروہوں نے زبردست احتجاج کیا ہے۔ تحریک کے ایک ممتاز امام الحاج وائی. پی. پی نے سعودی سفارت خانہ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۵۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے اس اقدام کو نائیجیریا کے داخلی معاملات میں ”غیر ضروری مداخلت“ قرار دیا ہے اور دوسرے گروہ کے قائد احمدیہ مسلم مشن کے چیئرمین جسٹس اے۔ آر بقرہ نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب سفارت خانہ نے اس طرح ملک کے لوگوں کو مختلف گروہوں میں بانٹنے کی کوشش کی ہے اور اگر اس پر کوئی کارروائی نہ کی گئی تو کسی بھی ملک کا سفارت خانہ اس انتشار و افتراق کو ہوا دے سکتا ہے۔ لیکن نائیجیریا کے غیر احمدی مسلمانوں (نائیجیریا میں غیر احمدی مسلمان جو آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں) کے ترجمان نے سعودی حکومت کی طرف سے لگائی جانے والی پابندی کا خیر مقدم کیا ہے۔

مسلم انٹرنیشنل ریلیف آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل الحاج جماع عثمان نے اعلان کیا ہے کہ اگر احمدیوں کی حوصلہ شکنی نہ کی گئی تو یہ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ احمدیہ تحریک، اسلام کے لئے سرطان کی حیثیت رکھتی ہے اور اسے پھلنے پھولنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جانی چاہئے۔ اس ممتاز عالم دین نے کہا کہ احمدیہ تحریک نے نام اپنے بانی مرزا غلام احمد سے لیا ہے اور اس کا ہیڈ کوارٹر پاکستان میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نائیجیریا میں احمدیہ تحریک نے آج سے ساٹھ سال قبل چند تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ذریعہ بنیاد رکھی تھی۔ اس تحریک کے ماننے والوں میں اگرچہ باہم اختلافات ہیں۔ لیکن ملک کے بعض دانشور فنی ماہرین اور سر آوردہ تاجر اسی گروہ سے متعلق ہیں اور تحریک نے ملک بھر میں تعلیمی اداروں کے علاوہ عبادت گاہ کا جال بچھا رکھا ہے۔ وہ اپنے جداگانہ رجحانات اور اسلام کے اساسی اعتقاد سے انحراف کی بناء پر نائیجیریا کے دوسرے مسلمانوں سے الگ تھلگ ہیں۔

نائیجیریا کے ممتاز جریدہ سنڈے ٹائمز میں ممتاز عالم دین اور عربی و اسلامیات کے فاضل ڈاکٹر اسماعیل بالوگن نے ایک مضمون میں کہا ہے کہ احمدی لوگ جب تک اپنے غیر اسلامی عقائد سے تائب نہیں ہوتے اور مسلمانوں سے الگ تھلگ رہنے کی پالیسی ترک نہیں کرتے، انہیں مسلمان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ فرقہ غلام احمد قادیانی کو نبی مانتا ہے۔ غیر احمدی امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا اور اپنی لڑکیوں کی غیر احمدیوں میں شادی کرنے کو گناہ سمجھتا ہے۔‘‘

(چٹان، مورخہ ۱۴؍فروری ۱۹۷۴ء)

افواج پاکستان اور مرزائی

۱۹۷۰ء کے عام انتخابات اور پھر سقوط مشرقی پاکستان (جس کے بارے میں ایم۔ ایم احمد صاحب کا کردار اخبارات میں آتا رہا ہے) کے بعد مسلمانوں کے خلاف قادیانیوں کا رویہ بہت جارحانہ ہو گیا ہے۔ پاکستان ایئر فورس سے جھوٹے مقدمے بنا کر جس طرح مسلمان افسروں کو نکالا گیا اور ایئر فورس کو قادیانی فورس بنانے کی کوشش کی گئی اور بالآخر وزیر اعظم کو خود اس میں مداخلت کرنی پڑی۔ وہ اب ایک کھلا راز ہے۔ اگرچہ پاکستان ایئر فورس کے چیف آف اسٹاف ایئر مارشل ظفر چوہدری کو اسی بناء پر ریٹائرڈ کر دیا گیا ہے۔ تاہم ابھی تک بہت سے قادیانی سینئر افسران ایئر فورس میں کلیدی آسامیوں پر موجود ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ گروپ کیپٹن سجاد حیدر پاکستان ایئر فورس ہیڈ کوارٹرز پشاور اس سازش کے بارے میں بہت معلومات رکھتے ہیں۔ اسی طرح بری اور بحری فوج میں بھی قادیانیوں نے بڑے پیمانے پر نفوذ کیا ہے۔ بہت ساری کلیدی آسامیوں پر فائز ہیں۔ ذیل میں نمونے کے طور پر کچھ نام دیئے جا رہے ہیں۔

بری فوج (ARMY)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۵۱

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بحری فوج

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۵۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بہت سارے لوگ چیف آف نیول اسٹاف وائس ایڈمرل ایچ.ایچ احمد کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ وہ قادیانی ہیں۔ ان فہرستوں سے یہ نہ سمجھا جائے کہ صرف یہی قادیانی افسر کلیدی آسامیوں پر ہیں۔ یہ نام محض نمونے کے طور پر دیئے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ اور بے شمار قادیانی افسران بری اور بحری افواج میں ہیں۔ قادیانیوں نے پاکستانی افواج میں یہ پوزیشن باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت حاصل کی ہے۔ جیسا کہ ان کے خلیفہ کے حسب ذیل بیان سے واضح ہے۔ ”پاکستان میں اگر ایک لاکھ احمدی سمجھ لئے تو نو ہزار احمدیوں کو فوج میں جانا چاہئے۔ فوجی تیاری نہایت اہم چیز ہے۔ جب تک آپ جنگی فنون نہیں سیکھیں گے، کام کس طرح کریں گے۔“

(الفضل مورخہ ۱۱؍ اپریل ۱۹۵۰ء)

اصل سوال

کیا سرکاری ذرائع روزنامہ ”الفضل“ ربوہ کا بالاستیعاب تجزیاتی مطالعہ کرتے ہیں؟ کیا سراغرسانی کے ان دیوتاؤں کو معلوم ہے کہ ربوہ کی ناپاک سرزمین پاکستان کے دل میں ناسور ہوتی جا رہی ہے۔ ہم حکومت پاکستان سے سوال کرتے ہیں کہ آخر اس کا پس منظر کیا ہے کہ ”الفضل“ خاص اضلاع میں فوجی بھرتی کے اشتہار ”پاکستان ٹائمز“ وغیرہ سے ترجمہ کر کے ناظر امور عامہ کی طرف سے شائع کرتا ہے۔ کیا ہم اس خیال میں حق بجانب نہیں کہ ان اضلاع کے قادیانیوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ جاؤ اور بھرتی ہو جاؤ کہ بھرتی کرنے والا تمہارا ہے۔ ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ پنجاب میں جتنے قادیانی ہیں، سب کے پاس اسلحہ ہے اور اسلحہ انہیں انفرادی حیثیت سے ضلعی حکام نے دیا ہے۔ جن کے پاس اسلحہ نہیں ان کے لئے ربوہ میں اسلحہ کا ڈھیر ہے یا متمول قادیانی، حفاظت ذات کے نام پر ضرورت سے زیادہ اسلحہ جمع رکھتے ہیں تا کہ بوقت ضرورت تقسیم کر دیں۔ ایک اقلیت کے پاس اس قدر اجتماعی اسلحہ محکمہ سراغرسانی کے نزدیک کسی خطرے کا باعث نہیں؟ ہماری معلومات کے مطابق قادیانی امت کے تیسرے خلیفہ ناصر احمد ۷؍ مارچ ۱۹۷۴ء کو لاہور وارد ہوئے اور انہوں نے لاہور کے سرغنہ قادیانیوں سے قادیانی امت کے مقامی اسلحہ کا انداز و حساب کیا۔ پھر بعض ہدایات دے کر رخصت ہوگئے۔ سی.آئی.ڈی کہاں تھی؟ کیا وہ صرف اصغر خان اور ابوالاعلیٰ مودودی کے لئے رہ گئی ہے۔

۵؍ مارچ کے الفضل میں ص ۷ پر مرزا ناصر احمد کی وہ تقریر ہے جو اس نے ربوہ کی گھوڑ دوڑ ٹورنامنٹ میں کی ہے۔ یہ تقریر سیاسی مسلمانوں کے علاوہ سرکاری مسلمانوں کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے اور کہاں ہیں مسجدوں کے ملا؟ مرزا ناصر احمد نے گھوڑ دوڑ ٹورنامنٹ کا اجراء کس غرض سے کیا؟ کیا پیغمبری ارشاد ہے یا کوئی ملہمانہ تحریک۔ کیا پیغمبر یا ان کے خلیفہ اس قسم کے ٹورنامنٹ رچایا کرتے تھے؟ کیا یہ لہو ولعب نہیں؟ اگر مظاہرہ طاقت ہے تو کن کے لئے؟ کس غرض سے؟ اور کیوں؟

”الفضل“ کی بددیانتی ہے کہ اس نے اس ٹورنامنٹ کے تین ہلاک شدگان کا ذکر نہیں کیا۔ صرف دو سو گھوڑے تھے۔ ایک گھوڑ سوار دوڑ میں مر گیا۔ اس کے علاوہ ایک شخص اور اس کی بچی نیچے آ کر ہلاک ہوگئے۔ لیکن الفضل نے خبر تک نہیں دی۔ ہماری اطلاع یہ ہے کہ جو شخص بچی سمیت مر گیا، اس سے مرزا ناصر احمد خفا تھا۔ شاید اسی وجہ سے اس کی موت کرائی گئی۔ واللہ اعلم!

آئندہ سال ٹورنامنٹ کے لئے مرزا ناصر نے کہا کہ: ”میں نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ جماعت کے پاس دس ہزار گھوڑے ہونے چاہئیں۔ چنانچہ سال کے اندر دس ہزار گھوڑوں کی ٹورنامنٹ کا انتظام کر لینے پر خوشخبری دی ہے کہ آئندہ ہر دو ضلع جس کے

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۵۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ستر سے زیادہ گھوڑے اس مقابلہ میں شامل ہوں گے۔ اس ضلع کو ایک ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا اور ہر وہ گاؤں جس کے دس سے زیادہ گھوڑے اس مقابلہ میں شامل ہوں گے۔ ان میں سے جو سب سے زیادہ گھوڑے بھیجنے والا گاؤں ہو گا اس کو سونے کا تمغہ دیا جائے گا۔“

ہماری اطلاع کے مطابق اس غرض سے بعض ریٹائرڈ قادیانی فوجی افسر اس مشن پر لگائے گئے ہیں اور جنگی گھوڑوں کی طرح دم کاٹنے اور یال کے بال تراشنے سے منع کیا ہے۔ انعام کمیٹی میں چوہدری بشیر احمد شیخوپورہ اور میاں عبدالسمیع نون سرگودھا شامل ہیں۔ اس کا صدر مرزا طاہر احمد کو بنایا گیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ صوبائی گورنمنٹ کے دو وزیر، خود تو نہیں، لیکن ان کا کنبہ قادیانی ہے اور وہ قادیانی خلیفہ کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں۔ ہم مرکزی ہیئت حاکمہ میں بھی قادیانی رسوخ سے آگاہ ہیں۔ ہم عاجز سہی لیکن ختم المرسلین کا عشق ایک ایسی طاقت ہے جس نے ہمارے دل سے خوف خدا کے سوا ہر خوف نکال دیا ہے۔ ہم وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور صوبائی وزیر اعلیٰ غلام مصطفیٰ کھر سے نہایت عاجزی کے ساتھ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ ان کے سینہ میں بھی دل ہے اور اس دل میں حضورﷺ کی محبت ہے۔ خدا کے لئے وہ دس ہزار گھوڑوں کی تیاری کا منصوبہ معلوم کریں۔ ایک طرف تو سیاسی جماعتوں کے رضا کارانہ نظام پر پابندی لگائی جاتی ہے اور ملک کے لئے ان کے وجود کو خطرناک قرار دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف قادیانی امت اس طریق سے تیاری کر رہی ہے۔ کیا اس کا نام دین ہے؟ اور حکومت مداخلت فی الدین کی مرتکب نہیں ہونا چاہتی۔ ہم ممنون ہوں گے اگر یہ بتایا جائے کہ دس ہزار گھوڑوں کی تیاری سیاسی نہیں تو کس رعایت سے تبلیغی ہے؟

بالآخر ہم مرزا ناصر احمد کا ایک فقرہ نقل کرتے ہیں جو ہم تک ایک معتمد دوست کی معرفت پہنچا ہے کہ ناصر احمد نے لاہور میں پانچ سر آوردہ قادیانیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، پنجاب میں سیاسی طور پر اپوزیشن حکمران پارٹی نے مفلوج کر دی ہے اور غیر احمدی عوام میں کس بل نہیں رہا، وہ بے حوصلہ ہو چکے ہیں۔ ہمارے لئے اب تیاری کرنا اور اس قسم کی منتشر و بزدل اکثریت کو شکست دینا مشکل نہیں ہے۔

(چٹان لاہور)

ذوالفقار علی بھٹو زندہ باد...... ظفر چوہدری کی علیحدگی

”آج ۱۶؍اپریل ۱۹۷۴ء کو لاہور کے کوچہ و بازار میں بے شمار ٹکڑیوں کی زبان پر ایک ہی کلمہ استحسان تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو زندہ باد! سبب کیا تھا یہ کہ پاک فضائیہ کے چیف آف سٹاف ایئر مارشل ظفر۔ اے چوہدری جو خاندانی اعتبار سے غالی قسم کے قادیانی ہیں اور اپنے موجودہ منصب کو خلیفہ ربوہ ناصر احمد علیہ ماعلیہ کے اشاروں پر استعمال کرتے تھے۔ ۱۵؍اپریل ۱۹۷۴ء کو سبکدوش کر دیئے گئے۔ ہم ایک حد تک جانتے ہیں اور کسی حد تک نہیں جانتے کہ ان کی سبکدوشی کے اسباب کیا ہیں؟ لیکن ہمارے لئے بہرحال اطمینان کا پہلو یہ ہے کہ ایک قادیانی جس کی رگوں میں مرزا غلام احمد قادیانی کی خانہ ساز نبوت کا خون دوڑتا تھا۔ بالآخر رخصت پا گیا۔ اس کے ذہن میں یہ غلط قسم کا غرور تھا کہ وہ دور دراز کے استعماری رشتوں کی بدولت اپنے موجودہ منصب سے نہیں ہٹ سکتا۔ کیونکہ مرزا غلام احمد کے سفید فام آقایان ولی نعمت قادیانی امت کے سرپرست ہیں اور قادیانی امت پاکستان کے اقتدار کا پس منظر ہے۔ اس نشہ ہی میں اس نے فضائیہ کے بعض نامور فرزندوں کو نشانہ ہدف بنا کر ان پر مقدمہ بنوا دیا۔ عوام کے علم میں ہے کہ ۱۹۶۵ء کی جنگ کے مشہور ہیرو مسٹر ایم۔ ایم عالم جو اقبال کے شاہین تھے اور جنہوں نے اپنی ایک ہی پرواز میں دشمن کے بے شمار طیارے گرا دیئے تھے۔ ظفر چوہدری کے غضب کا نشانہ ہو گئے اور انہیں ملک سے

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۵۴

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نکالنے کے لئے کورٹ مارشل تک کی دھمکی دی گئی۔ وجہ صرف یہ تھی کہ ان کو نکال دینے کے بعد کئی مرزائی پائلٹوں کی ترقی کا راستہ صاف ہوتا تھا۔ مسٹر بھٹو مبارک باد کے واقعی مستحق ہیں کہ انہوں نے اسلام کے دل کا کانٹا نکال دیا۔ مسٹر بھٹو مستحق داد ہیں کہ انہوں نے پچھلے سیاست دانوں کی اس کمزوری کا ازالہ کر دیا کہ وہ عسکریت سے خوفزدہ رہتے تھے۔ بلاشبہ عسکریت ہماری آبرو ہے۔ ہمیں اس پر ناز ہے۔ لیکن میدان جنگ کو اس کی راہنمائی میں جیتا جاسکتا ہے۔ ملک کے سیاسی مستقبل کو صرف سیاست دان ہی حل کر سکتے ہیں۔

ہم وزیر اعظم بھٹو سے عرض کرتے اور یقین دلاتے ہیں کہ وہ قادیانی العقیدہ جرنیل یا مارشل کی بلیک میلنگ کو اپنے جوتے کی مٹی کے برابر درجہ نہ دیں۔ اس مسئلہ میں ساری قوم ان کے ساتھ ہے۔ اگر وہ اپوزیشن کے باوقار لیڈروں کے ساتھ مل کر ملک کے لئے سیاسی سکون پیدا کرلیں گے تو یہ نہ صرف ان کی طاقت میں اضافہ کا باعث ہوگا بلکہ وہ ہر اس خطرے سے محفوظ ہو جائیں گے جو استعماری طاقتیں مختلف گوشوں میں ان کے لئے تیار کرتی ہیں۔ لیکن قدرت نے ان طاقتوں کے مقدر میں ناکامی لکھ دی ہے۔‘‘

(چٹان لاہور، مؤرخہ ۲۲؍اپریل ۱۹۷۴ء)

قادیانی اور فوج

’’ہم نے چٹان کی اشاعت بابت یکم؍اپریل ۱۹۷۴ء میں قادیانی روزنامہ الفضل ربوہ سے متعلق سوال کیا تھا کہ اس میں پاکستان آرمی سے متعلق ریکروٹنگ کے اشتہارات کس مصلحت کے تابع شائع ہوتے ہیں۔ ہم نے یہ سوال جنرل ٹکا خان سے انتہائی احترام کے ساتھ کیا تھا۔ لیکن معلوم ہوتا ہے قادیانی امت کچھ ایسا رسوخ رکھتی ہے کہ اس کے لئے ہر ڈھٹائی غلام احمد کی سنت کا خاصا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ آرمی میں ریکروٹنگ کے اشتہارات الفضل میں انتخاب کر کے شائع ہوتے ہیں۔ مثلاً ۲۲؍مئی کے الفضل میں ص۵ پر پاکستان آرمی میں ریگولر کمیشن کا اشتہار ناظم تعلیم کی طرف سے شائع ہوا ہے۔ کیا ہم یہ سمجھیں کہ آرمی ایجوکیشن کور کی سلیکشن کے لئے جن افراد کو مقرر کیا جائے گا وہ قادیانی العقیدہ ہوں گے اور امیدوار علامتی نشانی دکھا کر منتخب کر لئے جائیں گے؟ ہم وزیر اعظم بھٹو اور جنرل ٹکا خان سے رسول اللہ ﷺ کے نام پر درخواست کرتے ہیں کہ وہ قادیانی امت کی اس خفیہ جتھہ بندی کے ظالمانہ نتائج سے پاکستان کو محفوظ کریں۔ اسلام ان کا شکر گزار ہوگا۔‘‘

(چٹان مؤرخہ ۳؍جون ۱۹۷۴ء)

........... ۞ ........... ۞ ........... ۞ ...........

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۵۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

باب دوم

مجلس تحفظ ختم نبوت کے قیام سے سانحہ ربوہ ۱۹۷۴ء تک

مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی شوریٰ کے اجلاسوں کی کارروائیاں

جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام ۱۹۴۹ء میں عمل میں آیا۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک میں مجلس کا مرکزی دفتر محلہ قدیر آباد ملتان، مدرسہ عبیدیہ کے قریب تھا جو حکومت نے سیل کر دیا۔ تمام تر ریکارڈ ضبط کر لیا گیا اور بعد میں پولیس نے اسے جلا دیا اور دفتر میں ایک پولیس آفیسر نے رہائش اختیار کر لی۔ دوبارہ اپریل ۱۹۵۴ء میں سیاسی و مذہبی کام علیحدہ علیحدہ کر کے حضرت امیر شریعت اور آپ کے رفقاء نے اپنے لئے راہ عمل متعین کر لی۔ ۴، ۵؍ ستمبر ۱۹۵۴ء کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مجلس کا دوبارہ تاسیسی اجلاس منعقد ہوا۔ اس کی روشنی میں ۱۳؍ دسمبر ۱۹۵۴ء، مطابق ۱۸؍ ربیع الثانی ۱۳۷۴ھ کو حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر اوّل قرار پائے اور پھر تادم حیات اس کے امیر رہے۔

۴، ۵؍ ستمبر ۱۹۵۴ء سے ۲۹؍ مئی ۱۹۷۴ء تک مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے کل ۳۹؍ اجلاس منعقد ہوئے۔ جن میں سے ۶؍ اجلاس جنرل کونسل کے تھے۔ ان اجلاسوں کی تمام تر کارروائی مجلس کے مرکزی مجلس شوریٰ کے رجسٹر میں محفوظ ہے۔ ان تمام اجلاسوں کی تفصیل بقید تاریخ، مقام اور صدر اجلاس کے پیش خدمت ہے۔ ان اجلاسوں کی کارروائیاں محفوظ ہیں۔ کارروائیوں کا جو حصہ قابل اشاعت ہے، اسے آپ آئندہ سطور میں ملاحظہ فرمائیں گے۔ بعض میں نمبرات کی ترتیب آپ کو نہیں ملے گی۔ مثلاً کارروائی کا ریزولیوشن نمبر ۲ اور پھر نمبر ۷ یا گیارہ ہے اور باقی موجود نہیں پائیں گے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ حصے اور ریزولیوشن ناقابل اشاعت تھے۔ یہ تفصیل اس لئے درج کر دی ہے کہ آپ حضرات کے علم میں ہو کہ ۱۹۵۳ء کے بعد ۱۹۷۴ء تک، ختم نبوت کے مقدس مشن کی کن مقدس روحوں نے آبیاری کی اور کن مراحل سے گزر کر ہم ۱۹۷۴ء میں کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔

پہلا مرکزی دفتر

مجلس تحفظ ختم نبوت کا پہلا مرکزی دفتر موجودہ سٹینڈرڈ بیکری کچہری روڈ ملتان کے بالاخانہ پر تھا۔ اس کے بعد ۱۹۵۳ء کی تحریک کے وقت محلہ قدیر آباد ملتان، ۱۹۵۴ء میں لوہاری دروازہ ملتان، اس کے بعد اپنا ملکیتی دفتر تغلق روڈ ملتان ۱۹۶۶ء میں قائم ہوا۔ اب مرکزی دفتر حضوری باغ روڈ ملتان پر ۱۹۷۸ء سے قائم ہے۔

نمبر شمار مقام اجلاس تاریخ صدر اجلاس ۱ ٹوبہ ٹیک سنگھ ۴، ۵؍ ستمبر ۱۹۵۴ء، مطابق ۴، ۵؍ محرم ۱۳۷۴ھ حضرت مولانا محمد علی جالندھری ۲ مرکزی دفتر ملتان (جنرل کونسل) ۱۳؍ دسمبر ۱۹۵۴ء، مطابق ۱۸؍ ربیع الثانی ۱۳۷۴ھ حضرت مولانا محمد علی جالندھری ۳ جناح کالونی لائل پور ۱۳؍ جون ۱۹۵۵ء، مطابق ۲۱؍ شوال ۱۳۷۴ھ حضرت امیر شریعت ۴ برمکان حضرت امیر شریعت، ملتان ۱۱؍ فروری ۱۹۵۶ء، مطابق ۲۸؍ جمادی الثانی ۱۳۷۵ھ حضرت امیر شریعت

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۵۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۵ برمکان حضرت امیر شریعت، ملتان ۵، ۶ جنوری ۱۹۵۷ء،مطابق ۳، ۴؍ جمادی الاوّل ۱۳۷۶ھ حضرت امیر شریعت

۶ برمکان حضرت امیر شریعت، ملتان ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۵۷ء،مطابق ۱۶؍ ربیع الاوّل ۱۳۷۷ھ حضرت امیر شریعت

۷ برمکان حضرت امیر شریعت، ملتان ۱۳؍ اگست ۱۹۵۸ء،مطابق ۲۷؍ محرم ۱۳۷۸ھ حضرت امیر شریعت

۸ دفتر مرکزیہ ملتان ۲؍ نومبر ۱۹۵۸ء،مطابق ۱۹؍ ربیع الثانی ۱۳۷۸ھ حضرت امیر شریعت

۹ دفتر مرکزیہ ملتان ۱۸؍ اپریل ۱۹۵۹ء،مطابق ۹؍ شوال ۱۳۷۸ھ حضرت امیر شریعت

۱۰ دفتر مرکزیہ ملتان ۷؍ جولائی ۱۹۶۰ء،مطابق ۱۲؍ محرم ۱۳۸۰ھ حضرت مولانا محمد علی جالندھری

۱۱ دفتر مرکزیہ ملتان ۲۱؍ مارچ ۱۹۶۱ء،مطابق ۳؍ شوال ۱۳۸۰ھ حضرت مولانا محمد علی جالندھری

۱۲ برمکان شاہ محمد کچھی ملتان ۵، ۶؍ اکتوبر ۱۹۶۱ء،مطابق ۲۴، ۲۵؍ ربیع الثانی ۱۳۸۱ھ حضرت مولانا محمد علی جالندھری

۱۳ برمکان شاہ محمد کچھی ملتان ۷؍ اکتوبر ۱۹۶۱ء،مطابق ۲۶؍ ربیع الثانی ۱۳۸۱ھ حضرت مولانا محمد علی جالندھری

۱۴ دفتر مرکزیہ ملتان ۱۵، ۱۶؍ جولائی ۱۹۶۲ء،مطابق ۱۲، ۱۳؍ صفر ۱۳۸۲ھ حضرت مولانا محمد علی جالندھری

۱۵ دفتر مرکزیہ ملتان ۱۳؍ جنوری ۱۹۶۳ء،مطابق ۱۶؍ شعبان ۱۳۸۲ھ حضرت مولانا محمد علی جالندھری

۱۶ دفتر مجلس بیرون دہلی دروازہ لاہور (جنرل کونسل) ۹؍ مارچ ۱۹۶۳ء،مطابق ۱۲؍ شوال ۱۳۸۲ھ حضرت مولانا محمد علی جالندھری

۱۷ دفتر مرکزیہ ملتان ۱۴؍ جون ۱۹۶۳ء،مطابق ۲۱؍ محرم ۱۳۸۳ھ حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادی

۱۸ دفتر مرکزیہ ملتان ۲۳؍ جولائی ۱۹۶۳ء،مطابق یکم؍ ربیع الاوّل ۱۳۸۳ھ حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادی

۱۹ دفتر مرکزیہ ملتان ۱۱؍ جنوری ۱۹۶۴ء،مطابق ۲۵؍ شعبان ۱۳۸۳ھ حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادی

۲۰ دفتر مرکزیہ ملتان ۱۱؍ جون ۱۹۶۴ء،مطابق ۲۹؍ محرم ۱۳۸۴ھ حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادی

۲۱ دفتر مرکزیہ ملتان ۳۰، ۳۱؍ دسمبر ۱۹۶۴ء،مطابق ۲۵، ۲۶؍ رجب ۱۳۸۴ھ حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادی

۲۲ دفتر مرکزیہ ملتان ۲، ۳؍ دسمبر ۱۹۶۵ء،مطابق ۸، ۹؍ شعبان ۱۳۸۵ھ حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادی

۲۳ دفتر مرکزیہ ملتان ۱۱؍ مارچ ۱۹۶۶ء،مطابق ۱۸؍ ذیقعدہ ۱۳۸۵ھ حضرت مولانا محمد عبداللہ رائے پوری

۲۴ دفتر مرکزیہ ملتان ۱۰؍ دسمبر ۱۹۶۶ء،مطابق ۲۶؍ شعبان ۱۳۸۶ھ حضرت مولانا محمد علی جالندھری

۲۵ بہاول پور ۹؍ مارچ ۱۹۶۷ء،مطابق ۲۷؍ ذیقعدہ ۱۳۸۶ھ حضرت مولانا محمد علی جالندھری

۲۶ بہاول پور (جنرل کونسل) ۹؍ مارچ ۱۹۶۷ء،مطابق ۲۷؍ ذیقعدہ ۱۳۸۶ھ حضرت مولانا محمد علی جالندھری

۲۷ دفتر مرکزیہ ملتان ۱۵؍ اگست ۱۹۶۷ء،مطابق ۲۷؍ ربیع الثانی ۱۳۸۷ھ حضرت مولانا خیر محمد جالندھری

۲۸ مدرسہ عربیہ خیر المدارس ملتان ۲۰؍ ستمبر ۱۹۶۸ء،مطابق ۲۶؍ جمادی الثانی ۱۳۸۸ھ حضرت مولانا خیر محمد جالندھری

۲۹ دفتر مرکزیہ ملتان ۱۲؍ اپریل ۱۹۶۹ء،مطابق ۲۲؍ محرم ۱۳۸۹ھ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری

۳۰ دفتر مرکزیہ ملتان ۳۰؍ اکتوبر ۱۹۷۰ء،مطابق ۲۸؍ شعبان ۱۳۹۰ھ حضرت مولانا خیر محمد جالندھری

۳۱ چنیوٹ (جنرل کونسل) ۲۹؍ دسمبر ۱۹۷۰ء،مطابق ۲۹؍ شوال ۱۳۹۰ھ حضرت مولانا محمد علی جالندھری

۳۲ دفتر مرکزیہ ملتان ۲۸؍ اپریل ۱۹۷۱ء،مطابق ۲؍ ربیع الاوّل ۱۳۹۱ھ حضرت مولانا محمد عبداللہ رائے پوری

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۵۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۳۳ بہاول پور (جنرل کونسل) یکم ؍اکتوبر ۱۹۷۱ء، مطابق ۱۰؍شعبان ۱۳۹۱ھ حضرت مولانا لال حسین اختر ۳۴ دفتر مرکزیہ ملتان ۱۶؍مارچ ۱۹۷۲ء، مطابق ۲۹؍محرم ۱۳۹۲ھ حضرت مولانا لال حسین اختر ۳۵ دفتر مرکزیہ ملتان ۱۷؍جون ۱۹۷۳ء، مطابق ۱۵؍جمادی الاوّل ۱۳۹۳ھ مولانا محمد حیات / مولانا محمد عبداللہ درخواستی ۳۶ دفتر مرکزیہ ملتان ۲۹؍ستمبر ۱۹۷۳ء، مطابق ۲۸؍شعبان ۱۳۹۳ھ حضرت مولانا محمد حیات ۳۷ اسلام آباد ۱۹؍دسمبر ۱۹۷۳ء، مطابق ۲۲؍ذیقعدہ ۱۳۹۳ھ حضرت مولانا مفتی محمود ۳۸ دفتر مرکزیہ ملتان یکم ؍مارچ ۱۹۷۴ء، مطابق ۶؍صفر ۱۳۹۴ھ حضرت مولانا محمد عبداللہ رائے پوری ۳۹ دفتر مرکزیہ ملتان (جنرل کونسل) ۹؍اپریل ۱۹۷۴ء، مطابق ۱۵؍ربیع الاوّل ۱۳۹۴ھ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوری

امیر اوّل: امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری

دوشنبہ ۱۳؍دسمبر ۱۹۵۴ء تا ۲۱؍اگست ۱۹۶۱ء مطابق ۱۸؍ربیع الثانی ۱۳۷۴ھ تا ۹؍ربیع الاوّل ۱۳۸۱ھ۔

مدت امارت: ۶؍سال، ۸؍ماہ، ۹؍دن۔

نوٹ: ۲۲؍اگست ۱۹۶۱ء سے ۸؍مارچ ۱۹۶۳ء تک کے عبوری امیر مولانا محمد علی جالندھری رہے۔

امیر ثانی: خطیب پاکستان قاضی احسان احمد شجاع آبادی

۹؍مارچ ۱۹۶۳ء تا ۲۳؍نومبر ۱۹۶۶ء، مطابق ۱۲؍شوال ۱۳۸۲ھ تا ۹؍شعبان ۱۳۸۶ھ۔

مدت امارت: ۳؍سال، ۸؍ماہ، ۲۷؍دن۔

امیر ثالث: مولانا محمد علی جالندھری

۲۴؍نومبر ۱۹۶۶ء تا ۲۱؍اپریل ۱۹۷۱ء، مطابق ۹؍شعبان ۱۳۸۶ھ تا ۲۴؍صفر ۱۳۹۱ھ۔

مدت امارت: ۴؍سال، ۴؍ماہ، ۲۹؍دن۔

امیر رابع: مولانا لال حسین اختر

۲۱؍اپریل ۱۹۷۱ء تا ۱۱؍جون ۱۹۷۳ء، مطابق ۲۴؍صفر ۱۳۹۱ھ تا ۹؍جمادی الاوّل ۱۳۹۳ھ۔

مدت امارت: ۲؍سال، ۱؍ماہ، ۲۱؍دن۔

امیر خامس: شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری

۹؍اپریل ۱۹۷۴ء تا ۱۷؍اکتوبر ۱۹۷۷ء، بمطابق ۱۵؍ربیع الاوّل ۱۳۹۴ھ تا ۳؍ذیقعدہ ۱۳۹۷ھ۔

مدت امارت: ۳؍سال، ۷؍ماہ، ۱۷؍دن، ۱۷؍گھنٹے۔

نوٹ: مولانا لال حسین اختر مرحوم کی وفات (۱۱؍جون ۱۹۷۳ء) سے حضرت بنوری کی تقرری (۹؍اپریل ۱۹۷۴ء) تک مولانا محمد حیات مرحوم قائم مقام امیر رہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۵۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۵۵۸ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(۱) ۱۹۵۴ء میں مرکزی شوریٰ کے دو اجلاس منعقد ہوئے

پہلا اجلاس: ۴، ۵؍ ستمبر ۱۹۵۴ء، مطابق ۴، ۵؍ محرم ۱۳۷۴ھ کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں منعقد ہوا۔

صدر اجلاس: مولانا محمد علی صاحب جالندھری۔

شرکاء: (۱) حضرت مولانا قاضی احسان احمد صاحب، (۲) حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری، (۳) مولانا عبدالرحمن صاحب میانوی، (۴) مولانا لال حسین صاحب اختر، (۵) مولانا تاج محمود صاحب، (۶) سائیں محمد حیات صاحب پسروری، (۷) مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر، (۸) مولانا محمد لقمان صاحب علی پوری، (۹) مولانا قاضی عبداللطیف صاحب، (۱۰) مولانا غلام محمد صاحب، (۱۱) مولانا خلیل الرحمن صاحب، (۱۲) مولانا مجاہد الحسینی صاحب، (۱۳) مولانا محمد شریف بہاول پوری، (۱۴) چوہدری بشیر احمد صاحب شیخوپورہ، (۱۵) مولانا محمد صدیق مریدکے، (۱۶) مولانا احمد صاحب میاں علی ضلع شیخوپورہ، (۱۷) حافظ احمد الدین صاحب احمد پور شرقیہ، (۱۸) مولانا محمد شریف جالندھری۔

کارروائی ۴؍ ستمبر ۱۹۵۴ء بعد نماز عصر شروع ہوئی۔ مولانا عبدالرحمن صاحب میانوی نے قرآن کریم کی تلاوت فرمائی۔ ازاں بعد حضرت مولانا محمد علی صاحب نے پالیسی کی وضاحت فرمائی۔ حضرت مولانا نے وضاحت کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ: ”آئندہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہ ہوگا اور نہ ہی یہ جماعت کسی دوسری جماعت کے ماتحت ہوگی۔ جماعت کا کام محض تبلیغ دین ہوگا۔ فرمایا کہ اکابرین نے یہ فیصلہ ۲۰، ۲۱؍ اپریل ۱۹۵۳ء کو حضرت امیر شریعت کے مکان پر کیا ہے جو حضرات سیاسی کام کرنا چاہتے ہیں، وہ علیحدہ ہو گئے ہیں۔ اگر آپ میں سے کوئی صاحب جماعت کی پالیسی سے متفق نہ ہو تو اسے بھی اپنی پسند کی سیاسی جماعت میں کام کرنا چاہئے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت محض تبلیغی جماعت رہے گی۔ آپ کے بعد حضرت خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد صاحب نے قیام پاکستان کے بعد کے کام کا جائزہ لیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اندریں حالات ملک میں تبلیغی ادارہ کا قیام از بس ضروری ہے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد ہمارے اکابر نے دین اسلام کے تحفظ کے لئے مدارس دینیہ کا قیام ضروری خیال فرمایا تھا اور ان حضرات نے مدارس اسلامیہ کے ذریعہ دین کی خدمت سرانجام دی۔ اب مدارس اسلامیہ کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہے جس کا کام محض تبلیغ دین ہو۔ ادارے کے مبلغین مہذب اور تعلیم یافتہ دنیا میں تبلیغ دین کے ساتھ ہی ایسے دور دراز علاقوں میں جائیں، جہاں کی اکثریت غیر تعلیم یافتہ اور دین سے بے خبر ہے۔ ازاں بعد مبلغین نے اپنی اپنی مشکلات اور کام کی رفتار کا ذکر کیا اور مذکورہ ذیل کارروائی بالاتفاق آراء سرانجام ہوئی۔

ہدایات

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۵۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

منوانا میرے فرائض میں داخل نہیں۔

اس نیک مقصد کے لئے نئے کارکن پیدا کرنے کی سعی کریں۔

حاصل کریں۔ لیکن تبلیغ دین میں منافرت کا رنگ نہ ہو۔

کر مجاہد صاحب کو دکھلائیں تا کہ وہ ادبی اصلاح فرماسکیں۔ ثانوی درجہ پر جو حضرات انگریزی زبان کو سیکھنے کی سعی فرمائیں گے جماعت ان کے کاغذ، کتاب، قلم وغیرہ کے اخراجات کی کفیل ہوگی۔

اوقات نماز اور احکام دین کی پابندی ضروری ہے جو صاحب جس جگہ جائیں اگر کوئی صاحب وہاں عالم دین، روحانی پیشوا ہوں تو ان کی خدمت میں ضرور حاضر ہوں۔ اپنا مقصد عرض کر کے دعا اور اعانت کی درخواست کریں۔

سر انجام دیں تا کہ تجربہ اور تدین میں اضافہ ہو۔

دی جائے اور تبلیغ کی طرف متوجہ کیا جائے۔

ٹھنڈے دل و دماغ سے دین کے ہر مسئلہ کو پہنچانا مبلغ کے فرائض میں داخل ہے۔ جماعت کے مبلغ کی روش مملکت پاکستان کے فرقوں میں نفرت کا باعث نہ ہو۔ کسی کی دل شکنی نہ ہو۔ کسی کو اعتراض کا موقعہ نہ دیا جائے۔

تجاویز

پورے ہوسکیں۔

فہرست اور ان کے پتے درج ہوں۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۶۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دوسرے میں عوام شریک ہوں۔

کوئی اخبار یا رسالہ ایسا کرے تو اس کی تین کاپیاں خرید کر مرکزی دفتر کو اطلاع دی جائے۔

چیز کسی صاحب کو ہدیۃً پیش کی جاوے تو اسے لینے کا حق ہوگا جو مبلغین حضرات اہل وعیال سمیت اپنے حلقہ میں قیام فرمائیں اور فصل کے موقعہ پر وہاں کے ساتھی ان کی ضروریات کے لئے غلہ وغیرہ دیں تو اس کی اطلاع مرکزی دفتر میں پہنچانا ضروری ہے اور وہ صاحب مرکز کی منظوری کے بعد ایسا غلہ اپنے تصرف میں لاسکیں گے۔

جماعت کا کام کریں۔ طے شدہ بات کی مخالفت نہ ہو۔

الحسینی مقرر ہوئے ہیں، جلد دستور مرتب کریں اور آئندہ اجلاس میں جس کی دعوت مولانا لال حسین نے سرگودھا کے لئے دی ہے، دستور پیش کریں۔ مذکورہ حضرات کو اگر ضرورت ہو تو وہ مزید رکن اپنے ساتھ تجویز فرمالیں۔

اشکالات اور ان کا حل

جماعت اسلامی کی طرف سے مخالفت، بہتان والزامات اور ان کا حل:

ہے۔ تاہم ان کی غلط باتوں کا باقاعدہ جواب اس وقت تک نہ دیا جائے جب تک حضرت امیر شریعت مدظلہ سے اس سلسلہ میں ہدایت نہ حاصل کر لی جائے۔

تحریک ختم نبوت سے قبل اور بعد کے تمام حوالہ جات جمع کر کے دفتر کے حوالے کر دیں۔ دفتر ان کی نقول تمام مبلغین کو بہم پہنچائیں۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۶۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جواب: بحمد للہ اس معاملہ میں ہماری دیانت انکوائری کورٹ کی رپورٹ میں روز روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے۔ جج صاحبان نے حکومت کے اعلیٰ افسران کی ان رپورٹوں کی روشنی میں جو ہماری نسبت تحقیقاتی عدالت میں پیش کی گئیں، اپنی رپورٹ میں اس بات کی تصریح کر دی ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کو صرف اپنی جماعت کے چند معزز اشخاص سے مالی امداد ملتی رہی ہے۔ حکومت اپنے تمام تر ذرائع کے باوجود تحقیقاتی عدالت میں ہمارے خلاف ایسا کوئی بہتان نہیں لگا سکی۔ اس لئے ہمیں تبلیغی جماعت کے منصب کو سامنے رکھتے ہوئے صحیح طریق سے صرف دین کی تبلیغ کرتے رہنا چاہئے اور ایسے الزامات کی طرف کوئی توجہ نہیں کرنی چاہئے۔

نور محمد غفر لہ بہاولپوری عفا اللہ عنہ

(۲) دوسرا اجلاس اور مجلس کے دستور کی منظوری و انتخاب

دوسرا اجلاس ساڑھے آٹھ بجے صبح ۱۳؍دسمبر ۱۹۵۴ء، مطابق ۱۸؍ ربیع الثانی ۱۳۷۴ھ مرکزی دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان شہر منعقد ہوا۔ یہ اجلاس مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت کا دستور مرتب کرنے کے لئے منعقد ہوا۔ اس کے بعد کے اجلاس کی کارروائی باقاعدہ مرکزی مجلس شوریٰ کے نامزد اراکین کی ہے۔

صدر اجلاس: مولانا محمد علی صاحب جالندھری۔

شرکاء: (۱) حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری، (۲) حضرت مولانا لال حسین صاحب سرگودھا، (۳) حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب میانی، (۴) حضرت مولانا تاج محمود صاحب لائل پوری، (۵) مولانا حبیب اللہ صاحب منٹگمری، (۶) مولانا سعید احمد صاحب مظفر گڑھ، (۷) مولانا محمد شریف بہاول پور، (۸) ماسٹر اختر حسین ملتان، (۹) حافظ محمد شریف ملتان، (۱۰) مستری دین محمد صاحب ملتان، (۱۱) مولانا غلام محمد صاحب مبلغ مجلس، (۱۲) مولانا خلیل احمد صاحب مبلغ، (۱۳) مولانا محمد لقمان صاحب علی پوری، (۱۴) مولانا محمد حیات صاحب سیالکوٹ، (۱۵) مولانا علاؤالدین صاحب سرحد، (۱۶) مولانا نذیر حسین صاحب پنوں عاقل سندھ، (۱۷) مولانا محمد رمضان صاحب میانوالی، (۱۸) مولانا محمد شاہ صاحب میانوالی، (۱۹) مولانا قاضی عبداللطیف صاحب مبلغ گوجرانوالہ، (۲۰) مولانا عبدالرحیم صاحب بہاول پور، (۲۱) ڈاکٹر محمد عبداللہ صاحب جتوئی، (۲۲) مولانا عبدالقادر صاحب مکھیانہ، (۲۳) مولانا عتیق الرحمن صاحب چنیوٹ، (۲۴) سائیں محمد حیات پسرور، (۲۵) مولانا محمد شریف جالندھری، (۲۶) حضرت مولانا محمد یوسف صاحب مجاہد الحسینی، (۲۷) مولانا شیخ احمد صاحب بوریوالہ، (۲۸) جناب عبدالغفور صاحب انوری، (۲۹) مولانا محمد یاسین صاحب ملتان۔

مولانا تاج محمود صاحب کی تحریک پر بالاتفاق حضرت مولانا محمد علی صاحب نے اجلاس کی صدارت فرمائی۔ مولانا محمد شاہ صاحب

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۶۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میانوالی نے تلاوت قرآن پاک سے اجلاس کا افتتاح فرمایا۔ مولانا محمد علی صاحب نے مجلس تحفظ ختم نبوت کا دستور مرتب کرنے کی وجوہات بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ جماعت مستقل تبلیغی جماعت ہوگی۔ اس کا کسی دوسری جماعت سے تعلق نہ ہوگا۔ فرمایا کہ مدعو حضرات کو بحیثیت ایک کنوینر کمیٹی کے حضرت امیر شریعت کے مشورہ سے دعوت دی گئی ہے۔ مرتبہ دستور جس کی ترتیب پہلے اجلاس کے مقرر کردہ حضرات نے کی ہے۔ حضرت امیر شریعت نے سن کر تائید و ترمیم فرمائی ہے۔ میٹنگ میں دستور حضرت کی شرکت پر ان کی طرف سے پڑھا جانا تھا۔ لیکن دفتر میں تشریف آوری میں ان کی صحت مانع ہے اور ان کے مکان پر اجلاس کا انتظام مشکل ہے۔ اب ان ہی کی طرف سے پیش کیا جا رہا ہے جو ترمیم ہوگی وہ موصوف کے ہاں پیش کر دی جائے گی۔ مولانا تاج محمود صاحب نے مرتبہ دستور پڑھا۔ ایک بجے برائے طعام و نماز ظہر اجلاس برخاست ہوا اور دو بجے دوسرا اجلاس شروع ہوا۔ بعض ترامیم کے ساتھ دستور پیش ہو کر پاس ہوا اور نماز عصر کے لئے اجلاس برخاست ہو گیا۔ بعض حضرات مولانا محمد علی صاحب کی معیت میں حضرت امیر شریعت کے مکان پر ترامیم کی منظوری کے لئے تشریف لے گئے۔ تیسرا اجلاس بعد نماز مغرب شروع ہوا۔

مولانا محمد علی صاحب نے ارشاد فرمایا کہ موجودہ حضرات کو پرانے ساتھی سمجھ کر دعوت دی گئی تھی۔ اب جو حضرات مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے نصب العین سے متفق ہیں۔ وہ میثاق رکنیت پر دستخط کر دیں۔ مندرجہ ذیل حضرات نے دستخط کئے۔ حضرت امیر شریعت کا اسم گرامی ان کی منظوری سے سر فہرست درج کیا گیا۔

(۱) حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری، (۲) مولانا محمد علی صاحب جالندھری، (۳) مولانا لال حسین صاحب اختر، (۴) مولانا عبدالرحمٰن صاحب میانوی، (۵) مولانا شیخ احمد، (۶) مولانا تاج محمود صاحب، (۷) مولانا سعید احمد صاحب، (۸) مولانا علاؤ الدین صاحب سرحد، (۹) مولانا محمد شریف بہاول پوری، (۱۰) محمد شریف جالندھری، (۱۱) مولانا نذیر حسین سندھ، (۱۲) مولانا محمد رمضان صاحب میانوالی، (۱۳) مولانا عبدالقادر صاحب مکھیانہ، (۱۴) ملک عبدالغفور صاحب انوری، (۱۵) مولانا محمد یوسف صاحب مجاہد الحسینی۔

مولانا تاج محمود نے تحریک پیش کی کہ عارضی انتخاب کیا جائے جو بالاتفاق منظور ہوئی۔ حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری کی تجویز پر حضرت امیر شریعت بالاتفاق صدر مقرر ہوئے۔ جو ملک میں اراکین کی رکنیت منظور فرما کر جماعت کا انتخاب اور تشکیل عمل میں لائیں گے۔ یہ عارضی انتخاب ذی الحجہ ۱۳۷۴ھ کے اواخر تک رہے گا۔ ازاں بعد منظور شدہ اراکین عہدیداران کا انتخاب کریں گے۔

پہلی شوریٰ کے نامزد اراکین

(۱) حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری، (۲) مولانا عبدالرحمٰن صاحب میانوی، (۳) مولانا لال حسین صاحب اختر، (۴) مولانا تاج محمود صاحب لائل پوری، (۵) مولانا محمد یوسف صاحب مجاہد مظفر گڑھ، (۶) مولانا محمد رمضان صاحب میانوالی، (۷) مولانا نذیر حسین صاحب، پنوں عاقل سندھ، (۸) مولانا علاؤ الدین صاحب ڈیرہ اسماعیل خان، (۹) حافظ محمد شریف صاحب ملتان، (۱۰) ماسٹر اختر حسین صاحب ملتان۔

حضرت امیر شریعت نے عارضی انتخاب کے دوران میں حضرت مولانا محمد علی جالندھری کو ناظم اعلیٰ نامزد فرمایا۔

دستخط محمد علی جالندھری غفرلہ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۶۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(۳) ۱۹۵۵ء میں شوریٰ کا صرف ایک اجلاس منعقد ہوا

۸ بجے صبح ۱۳؍ جون ۱۹۵۵ء، مطابق ۲۱؍ شوال ۱۳۷۴ھ جناح کالونی لائل پور (فیصل آباد)

شرکاء: (۱) حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری، (۲) حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری ناظم اعلیٰ، (۳) مولانا لال حسین صاحب اختر، (۴) مولانا نذیر حسین صاحب پنوں عاقل، (۵) حافظ محمد شریف صاحب ملتان، (۶) ماسٹر اختر حسین صاحب ملتان، (۷) مولانا تاج محمود صاحب لائل پور، (۸) حضرت مولانا محمد رمضان صاحب میانوالی، (۹) حضرت مولانا علاؤ الدین صاحب ڈیرہ اسماعیل خان۔

اجلاس حضرت صدر مرکزیہ کی صدارت میں شروع ہوا۔ حضرت مولانا محمد علی صاحب نے تلاوت قرآن کریم ارشاد فرمائی۔ نیز گزشتہ اجلاس دسمبر ۱۹۵۴ء سے لے کر آج تک کے حالات و مشکلات مالی نظام کا جائزہ پیش فرمایا۔ حضرت موصوف نے مجلس شوریٰ کے اراکین کی خدمت میں عرض کیا کہ دفتر مرکزی باوجود مختلف قسم کی پابندیوں کے بفضلہ تعالیٰ اس قابل ہو گیا ہے کہ وہ اراکین شوریٰ کی خدمت میں مزید چھ سو روپے ماہوار خرچ کی پیشکش کرتا ہے کہ آپ حضرات مجلس کی تبلیغی توسیع کے لئے اور اس کے اغراض و مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے چھ صد روپے ماہوار کے مزید اخراجات کا نقشہ تیار کرلیں۔

فیصلے اور تجویزیں

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۶۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور اپنی رائے تحریر کریں۔

کے علاوہ ۲۵ رخصتیں با تنخواہ ہر مبلغ حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن سال گزر جانے کے بعد اس سال کی بقایا رخصتیں کوئی صاحب اگلے سال حاصل نہ کر سکیں گے۔ دستخط

(۴) ۱۹۵۶ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کا ایک اجلاس منعقد ہوا

جس کی کارروائی کا ضروری حصہ یہ ہے

اجلاس مجلس شوریٰ مؤرخہ ۱۱/فروری ۱۹۵۶ء، مطابق ۲۸/ جمادی الثانی ۱۳۷۵ھ بمکان حضرت امیر شریعت

(۱) امیر شریعت مولانا السید عطاء اللہ شاہ بخاری، (۲) حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری، (۳) حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر، (۴) حضرت مولانا تاج محمود صاحب لائل پوری، (۵) حضرت مولانا عبدالرحمٰن صاحب میانوی، (۶) حضرت مولانا محمد یوسف صاحب مجاہد الحسینی، (۷) حضرت مولانا نذیر حسین صاحب، (۸) حکیم محمد ابراہیم صاحب جالندھری بہاول پور۔

یہ اجلاس ۱۱/بجے دن حضرت امیر شریعت مدظلہ کے مکان پر ان ہی کی صدارت میں شروع ہوا اور حسب ذیل کارروائی عمل میں آئی۔ مطالبہ اقلیت، دستور اسلامی، جدا گانہ انتخاب پر بحث ہوتی رہی اور اجلاس پانچ بجے کے بعد برخاست ہوا۔ نماز ظہر اجلاس کے دوران ہی ادا کی گئی۔ دوسرا اجلاس دفتر مرکزیہ میں بعد نماز عشاء شروع ہوا۔ صدارت کے فرائض حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری نے سر انجام دیئے۔

مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مطالبات

ملتان ۱۲/فروری مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی مجلس شوریٰ کا دو روزہ اجلاس زیر صدارت حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری صدر مرکزیہ منعقد ہوا جس میں مندرجہ ذیل قراردادیں منظور کی گئیں۔

مسلمانان پاکستان کے سات سالہ پیہم مطالبات، مسلسل جد و جہد اور عظیم قربانیوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیا جا رہا ہے۔ حالانکہ مرزائی عالم اسلام کے تیرہ سو سالہ اجماعی عقیدہ اور عمل کے مطابق دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۶۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لہٰذا یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور انہیں کلیدی آسامیوں سے برطرف کر کے ملت اسلامیہ کا شدید اضطراب دور کیا جائے۔ نیز یہ اجلاس واضح الفاظ میں اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ جس دستور میں مرزائیوں کے متعلق مطالبات نہ تسلیم کئے گئے، وہ دستور ہرگز ہرگز اسلامی دستور نہ ہوگا۔

مملکت مسلمان ہوگا۔

یہ اجلاس مجلس دستور ساز سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے اس اعلان کی روشنی میں ”مسلمان“ کی تعریف کرے۔

کو تبلیغ ارتداد کی اجازت دینا آئیڈیل اسلامی حکومت کے نقطۂ نظر سے بغاوت کے ہم معنی ہے۔

دستخط

(۵) ۱۹۵۷ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے دو اجلاس منعقد ہوئے ،

پہلے اجلاس کی کارروائی یہ ہے

اجلاس مجلس شوریٰ مؤرخہ ۵، ۶؍ جنوری ۱۹۵۷ء، مطابق ۳، ۴؍ جمادی الاول ۱۳۷۶ھ

شرکاء: (۱) حضرت امیر شریعت زید مجدہم، (۲) حضرت مولانا محمد علی صاحب ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، (۳) حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر، (۴) حضرت مولانا تاج محمود صاحب لائل پور، (۵) حضرت مولانا محمد رمضان صاحب میانوالی، (۶) حضرت مولانا علاؤالدین صاحب ڈیرہ اسماعیل خان، (۷) حضرت مولانا محمد یوسف صاحب مجاہد الحسینی ایڈیٹر روزنامہ نوائے پاکستان، (۸) جناب حکیم محمد ابراہیم صاحب جالندھری بہاول پور، (۹) جناب ماسٹر اختر حسین صاحب صدر مجلس ملتان، (۱۰) جناب حافظ محمد شریف صاحب۔

اجلاس کی صدارت حضرت صدر مرکزیہ نے فرمائی۔ افتتاح تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔

تجاویز

حضرت مولانا شیخ احمد صاحب بورے والا، مولانا لطف اللہ صاحب جالندھری (ساہیوال)، مولانا محمد علی صاحب قصوری کی وفات حسرت آیات کو ملک وملت کا نا قابل تلافی نقصان سمجھتے ہوئے دعائے مغفرت کی گئی۔

کسی شقی القلب کے قاتلانہ حملہ کی مذمت کرتا ہے اور ملک کے عوام وخواص سے پرزور اپیل کرتا ہے کہ وہ مسلمان فرقوں کے درمیان صلح و آشتی کی فضا قائم کریں۔ یہ اجلاس خدا کا شکر ادا کرتا ہے کہ حضرت مولانا اس حملہ میں محفوظ رہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۶۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۵۶۶ ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

مسلمان فرقوں میں نفرت پھیلتی ہے۔ حالانکہ حکومت آج تک کسی مبلغ کی ایسی تقریر عدالت میں نہیں لاسکی، جس سے کسی مسلمان فرقہ کی دل آزاری ہوتی ہو، تو ایسے شرپسند مقرروں پر کیوں پابندی عائد نہیں کی جاتی جو مسلمان فرقوں کے اکابر کے خلاف دشنام طرازی اور الزام تراشی کو اپنا وطیرہ بنائے ہوئے ہیں۔

مجلس عمل کے احیاء کا سامان پیدا کریں۔

ہر سیٹ پر مسلمانوں سے اپیل کی جائے گی کہ وہ ایسے امیدوار کو ووٹ دیں جو مرزائیوں کو اسلام سے خارج سمجھتا ہو اور کامیابی کے بعد مطالبہ کی تائید کرے اور اس کے پاس جس جماعت کا ٹکٹ ہو، اس کا لیڈر بھی یہ اعلان کرے۔

عطاء اللہ

(۶) دوسرا اجلاس

۱۱؍اکتوبر ۱۹۵۷ء، ۱۶؍ربیع الاول ۱۳۷۷ھ کو حضرت امیر شریعت کی زیر صدارت ان کے مکان پر ملتان منعقد ہوا۔ جس میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری مرکزی صدر مجلس، مولانا محمد علی جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ، مولانا عبدالرحمن میانوی، حافظ محمد شریف، مولانا مجاہد الحسینی، مولانا علاؤ الدین ڈیرہ اسماعیل خان، ماسٹر اختر حسین ملتان، حکیم محمد ابراہیم بہاول پور، مولانا محمد شریف جالندھری شریک ہوئے۔

عطاء اللہ

اجلاس کی کارروائی انتہائی اہم مگر انتظامی امور سے متعلق ہے۔

(۷) ۱۹۵۸ء میں مرکزی مجلس شوریٰ کے دو اجلاس منعقد ہوئے

پہلے اجلاس کی کارروائی یہ ہے:

اجلاس مجلس شوریٰ ۱۳؍اگست ۱۹۵۸ء، مطابق ۱۷؍محرم ۱۳۷۸ھ صبح بمکان حضرت امیر شریعت مدظلہ، زیر صدارت، حضرت موصوف مدظلہ۔

شرکاء: (۱) حضرت امیر شریعت مدظلہ، (۲) حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری، (۳) مولانا نذیر حسین صاحب پنوں عاقل، (۴) مولانا محمد رمضان صاحب میانوالی، (۵) مولانا علاؤ الدین صاحب ڈیرہ اسماعیل خان، (۶) حکیم محمد ابراہیم صاحب بہاول پور، (۷) مولانا تاج محمود صاحب لائل پور، (۸) ماسٹر اختر حسین ملتان (بعد ظہر)، (۹) مولانا لال حسین صاحب، (۱۰) مولانا عبدالرحمن صاحب میانوی بھی تشریف لے آئے۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۶۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تجاویز

لیکن پنجاب اور سرحدی علاقوں میں ماہ اکتوبر تک تنظیم کا کام ملتوی رکھا جاوے۔

کہ ایک صاحب جماعت کے لئے وقف کرتے ہیں۔ وقف کرائی جاوے۔ اس کے علاوہ جو قیمتاً ملتی ہے وہ خرید لی جائے۔ مقامی معززین کے مشورہ سے تعمیر کا کام شروع کیا جائے۔ مرکزی فنڈ سے پانچ ہزار سے زائد خرچ نہ کیا جاوے۔ اگر اس سے زائد ضرورت ہو تو شوریٰ سے اس کی منظوری ضروری ہے۔

جھاوریاں ضلع سرگودھا پر مشتمل ایک سب کمیٹی بنائی گئی۔ یہ کمیٹی اکتوبر ۱۹۵۸ء کے اجلاس تک اپنی رپورٹ پیش کرے۔ دستخط

(۸) دوسرے اجلاس کی کارروائی

اجلاس مجلس شوریٰ تحفظ ختم نبوت پاکستان ۲؍ نومبر ۱۹۵۸ء، مطابق ۱۹؍ ربیع الثانی ۱۳۷۸ھ دفتر مرکزیہ تحفظ ختم نبوت ملتان پاکستان دس بجے صبح دفتر میں شروع ہوا۔

شرکاء: مولانا محمد علی صاحب جالندھری، حکیم محمد ابراہیم بہاول پوری، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا نذیر حسین پنوں عاقل، مولانا محمد رمضان میانوالی، مولانا علاؤالدین صاحب ڈیرہ اسماعیل خان، حافظ محمد شریف، ماسٹر اختر حسین صاحب ملتان۔

کی طرف سے ۲۱؍ اکتوبر کی ارسال کردہ تجاویز معزز اراکین کی خدمت میں پیش کی۔ کافی بحث وتمحیص غوروفکر کے بعد مولانا علاؤالدین صاحب کی طرف سے تجویز پیش ہوئی جو کہ بالاتفاق آراء منظور کر لی گئی۔

لئے مرکزی قیادت کو زیادہ سے زیادہ سکون خاطر کی ضرورت ہے۔ ”مجلس تحفظ ختم نبوت ایسی تبلیغی جماعت کے بعض دفاتر کی سیل کے خلاف کوئی آواز اٹھانا پسند نہیں کرتا۔“

لال حسین صاحب اور مولانا میانوی کو بالخصوص مبارک باد پیش کرتا ہے کہ انہوں نے آج تک مجلس شوریٰ کی ہدایات کے تحت تبلیغ دین نشر واشاعت اسلام کا کام احسن طریقوں سے انجام دیا۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۶۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عطاء اللہ

نوٹ: چونکہ ملک میں ایوب خان کا مارشل لاء نافذ تھا اس لئے مجلس کے بزرگ رہنماؤں نے قادیانیت کے خلاف کام کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام کی بجائے مدرسہ تعلیم القرآن کے نام سے کام کو جاری رکھنے کا فیصلہ فرمایا۔ آج کل میرے ایسے کند ذہن لوگوں کو دین کا کام کرنے کے لئے سوچنا چاہئے کہ ان حضرات کا کتنا پر مغز اور دور رس نتائج کا حامل یہ فیصلہ تھا کہ غرض کام سے ہے، وہ جس نام سے بھی ہو۔ پھر جب تک مارشل لاء کی سختی رہی، کام مدرسہ کے نام سے ہوتا رہا۔ حالات سازگار ہوتے ہی پھر مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام سے کام شروع ہو گیا۔

(۹) ۱۹۵۹ء میں مجلس شوریٰ مدرسہ تعلیم القرآن لوہاری دروازہ ملتان کا ایک اجلاس

۱۸؍ اپریل ۱۹۵۹ء، مطابق ۹؍ شوال ۱۳۷۸ھ کو منعقد ہوا

شرکاء: حضرت امیر شریعت صدر، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین اختر، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا نذیر حسین، مولانا علاؤالدین، حکیم محمد ابراہیم، مولانا تاج محمود، حافظ محمد شریف، ماسٹر اختر حسین، مولانا محمد شریف جالندھری تھے۔ کارروائی اہم مگر انتظامی امور سے متعلق ہے۔

عطاء اللہ

(۱۰) ۷؍ جولائی ۱۹۶۰ء، مطابق ۱۲؍ محرم ۱۳۸۰ھ کو مدرسہ تعلیم القرآن لوہاری دروازہ ملتان شہر میں

مجلس شوریٰ کا ایک اجلاس منعقد ہوا

شرکاء: مولانا محمد علی جالندھری، حکیم محمد ابراہیم، مولانا نذیر حسین، مولانا محمد رمضان میانوالی، مولانا علاؤ الدین، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا لال حسین اختر، ماسٹر اختر حسین، مولانا محمد شریف جالندھری تھے۔

بندہ محمد علی جالندھری

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۶۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(۱۱) ۱۹۶۱ء میں مجلس شوریٰ کا اجلاس مدرسہ تعلیم القرآن ملتان

۲۱ / مارچ ۱۹۶۱ء، مطابق ۳ / شوال ۱۳۸۰ھ کو منعقد ہوا

شرکاء: حضرت محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین اختر، مولانا نذیر حسین، مولانا حکیم محمد ابراہیم، مولانا محمد شریف جالندھری تھے۔

کارروائی اہم مگر انتظامی امور سے متعلق ہے۔

بحوالہ ڈائری مولانا محمد علی جالندھری

(۱۲) دوسرا اجلاس اکتوبر ۱۹۶۱ء میں ہوا

چونکہ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے سانحہ ارتحال (۲۱؍اگست ۱۹۶۱ء) کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کا یہ پہلا اجلاس تھا۔ اس لئے اسے وسیع پیمانے پر منعقد کیا گیا۔ اس اجلاس میں مستقل انتخاب تک امارت کے فرائض حضرت مولانا محمد علی جالندھری کے سپرد کئے گئے۔

مجلس مشاورت ۵، ۶ / اکتوبر ۱۹۶۱ء، مطابق ۲۴، ۲۵ / ربیع الثانی ۱۳۸۱ھ بمکان مہر شاہ محمد کچھی۔ مہر شاہ محمد کا مکان (اجتماعات کے لئے) تین دن کے لئے حاصل کیا گیا۔

شرکاء: بعض اہم حضرات کے نام یہ ہیں:

ملتان: مولانا خیر محمد مہتمم مدرسہ خیر المدارس ملتان، مفتی محمد عبداللہ ڈیروی شیخ الحدیث ملتان، مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مہتمم قاسم العلوم، مولانا مفتی محمود مدرس قاسم العلوم، حکیم سید محمد انور شاہ صاحب، شیخ محمد یعقوب، شیخ قمر الدین، مولوی عبد الرحمن دہلی دروازہ، مولانا محمد علی صاحب جالندھری، ماسٹر اختر حسین، مولانا حافظ عطاء المنعم، چوہدری نواب علی دیہات، صوفی عبید اللہ محبت پور، عابد میلسی، جان محمد رام کلی، مولانا محمد امین شاہ صاحب مخدوم پور، مولانا سید پیر خورشید احمد شاہ صاحب، حافظ علاؤ الدین چک نمبر ۸۴۔

بہاول پور: حکیم محمد ابراہیم صاحب جالندھری، حاجی عبد التواب، مولوی عماد الدین، عبد الرحمن، عبد الرشید، صوفی عبد الرزاق فورٹ عباس، مولانا غلام احمد، احمد پور شرقیہ، مستری محمد صدیق صادق آباد، ڈاکٹر محمد شریف حاصل پور، صوفی بشیر احمد چشتیاں، مرزا عبد الحمید چشتیاں، خیر الدین فروٹ مرچنٹ چشتیاں، صوفی اللہ رکھا چشتیاں، مولانا قطب الدین ہارون آباد۔

میانوالی: مولانا محمد رمضان، مولانا صوفی فیض رسول، محمد شریف خاں، صوفی عبد الرحیم موسیٰ خیل، مولانا نور محمد خاں موسیٰ خیل، صوفی محمد عمر موسیٰ خیل، غلام رسول خان موسیٰ خیل، محمد خواجہ موسیٰ خیل، مولانا محمد عبد اللہ بھکر، صوفی مشتاق احمد بھکر، صاحبزادہ محمد جان دریا خان، حاجی اللہ دتہ مکھیانہ، مولانا غلام قادر جھنگ۔

ڈی جی خان: مولانا غلام محمد مہتمم مدرسہ قاسم العلوم، مولانا جندوڈا صاحب، میاں سوہارہ، حاجی محمد رمضان، صوفی محمد رمضان، حاجی محمد، مولانا عبد الحئی جام پور، صوفی کریم بخش جام پور۔

مظفر گڑھ: سردار فیض محمد خاں، مولانا فقیر اللہ جتوئی، مولانا سعید احمد جھگی والا، مولانا عبد الرحمن کلروالی، سردار مقبول احمد بڈانی خیر پور سادات، مولانا حکیم نور محمد مظفر گڑھ، شیخ غلام سرور مظفر گڑھ۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۷۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

منٹگمری: مولانا حبیب اللہ جامعہ رشیدیہ، مولانا محمد عبداللہ جامعہ رشیدیہ، مولانا عبدالحنان اوکاڑہ، مولانا عبدالحمید اوکاڑہ، چوہدری غلام نبی اوکاڑہ، شیخ غلام نبی اوکاڑہ، شیخ اللہ رکھا چیچہ وطنی، میاں محمد شفیع چک نمبر ۱۰۱ کسووال۔

سرگودھا: مولانا سید فضل الرحمن سلانوالی، میاں محمد عارف سرگودھا، شیخ منظور احمد بھلوال۔

لائل پور: مولانا ضیاء القاسمی لائل پور شہر، مولانا محمد علی سمندری، مولانا سید منظور حسین، سید ممتاز الحسن شاہ، مولانا تاج محمود لائل پور۔

گوجرانوالہ: مولانا عبد الواحد مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ، مولانا عبد القیوم ہزاروی، مرزا عبد الغنی، مولانا محمد سعید صاحب۔

لاہور: سلطان محمد ہوشیار پوری، حکیم محمد سلیمان، عبد الحمید، احمد سعید، منور علی قریشی، حاجی محمد اشرف، نواب احمد، بشیر احمد چوہدری چوہان، مرزا غلام نبی جانباز۔

جہلم: مولانا عبد اللطیف جامعہ حنفیہ، محمد انور پاشا جہلم شہر، مولانا قاضی مظہر حسین چکوال۔

راولپنڈی: مولانا عبد الحنان، مولانا قاضی شمس الدین ٹیکسلا۔

سندھ: مولانا نذیر حسین پنوں عاقل، واحد بخش دادوالی میر پور، غلام محمد گمبٹ ضلع خیر پور، حضرت اعلیٰ گدی نشین بابجی شریف۔

سیالکوٹ: سائیں محمد حیات پسروری، حاجی رحمت اللہ۔

شیخوپورہ: سید محمد امین گیلانی۔

گجرات: میاں فضل کریم، مولانا حنیف شاہ صاحب۔ بندہ محمد جان نعمانی غفرلہ

نوٹ: ۵، ۶/اکتوبر ۱۹۶۱ء کو مجلس مشاورت کا اور ۷/اکتوبر کو مجلس شوریٰ کا اجلاس ہوا جس کی کارروائی یہ ہے۔

(۱۳) اجلاس شوریٰ ۷/اکتوبر ۱۹۶۱ء، مطابق ۲۶/ربیع الثانی ۱۳۸۱ھ بمقام قیام گاہ مدعوین تبلیغی اجتماع ملتان

شرکاء: مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین صاحب، مولانا عبد الرحمٰن میانوی، مولانا نذیر حسین پنوں عاقل، حکیم محمد ابراہیم بہاول پوری، مولانا علاؤ الدین ڈیرہ اسماعیل خان، حضرت مولانا حافظ سید ابوذر بخاری صاحب، مولانا مفتی زین العابدین صاحب لائل پور، صوفی عبد الرحمٰن صاحب موسیٰ خیل، حضرت حافظ الحدیث والقرآن مولانا درخواستی صاحب۔

تجویز

غلام مصطفیٰ بہاول پوری ان کے معاون ہوں۔

تین وظیفے دیئے جایا کریں۔

حافظ ابوذر بخاری، حضرت حافظ الحدیث مولانا درخواستی بنائی جاتی ہے۔ ان حضرات کو اختیار ہوگا کہ کسی دوسرے سے بھی مشورہ کریں۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۷۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا درخواستی ۲۳، ۲۴؍اکتوبر ۱۹۶۱ء کو خان پور سالانہ تبلیغی اجتماع کے جلسہ پر بات کریں۔

مطلب صحیح بیان کر سکے۔

مجلس شوریٰ انہیں سر بلند دیکھنا چاہتی ہے تاکہ علماء حق اور عوام میں ان کا معیار بلند ہو۔

تحریری، تقریری استعداد کو ترقی دے کر اپنے آپ کو اس معیار کے مطابق ثابت کریں۔ اس کام کے لئے ضروری کتب کا مطالعہ ان کے لئے ضروری ہے۔

نور محمد کاتب بہاولپوری غفرلہ

(۱۴) ۱۹۶۲ء میں مجلس شوریٰ کا ایک اجلاس منعقد ہوا

اجلاس مجلس شوریٰ منعقدہ ۱۵، ۱۶؍ جولائی ۱۹۶۲ء، مطابق ۱۲، ۱۳؍ صفر ۱۳۸۲ء

شرکاء: مولانا محمد علی صاحب، مولانا لال حسین، حکیم محمد ابراہیم بہاول پور، ماسٹر اختر حسین، حافظ محمد شریف ملتان، مولانا محمد یوسف صاحب مجاہد الحسینی، مولانا تاج محمود لائل پور، مولانا علاؤ الدین صاحب ڈیرہ اسماعیل خان، مولانا محمد رمضان میانوالی، مولانا نذیر حسین پنوں عاقل، مولانا حافظ عطاء المنعم بخاری۔

۱۶؍ جولائی کا اجلاس مدرسہ احرار اسلام میں منعقد ہوا اور حضرت درخواستی مدظلہ نے بھی شرکت فرمائی۔ ۱۵ کی طے شدہ باتیں حضرت کی خدمت میں عرض کی گئی جو انہوں نے پسند فرمائیں۔

دفتر مرکزیہ ملتان، مورخہ ۱۶؍ جولائی صبح

تلاوت کلام پاک: مولانا محمد رمضان صاحب

تجاویز

عبدالرحیم اشعر کو کام سمجھنے اور سیکھنے کے لئے ناظم جماعت مقرر کیا جاوے، منظور کی جاتی ہیں۔

سلطان فاؤنڈری اور مولانا محمد حیات سے عرض کیا جاوے کہ وہ حسب ضابطہ مجلس مرکزیہ میں تشریف لے آویں۔ اگر ضرورت ہو تو ایسی درخواست حضرت اقدس رائے پوری مدظلہ کی خدمت میں بھی پیش کی جاوے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۷۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اراضی خرید کر کے مرکزی دفتر بنایا جاوے اور ملتان کے قرب وجوار میں کسی ایسی جگہ جہاں کی ٹریفک کی آسانیاں میسر ہوں۔ آدھ مربع اراضی خرید لیا جائے۔

مہیا کی جاویں۔

محمد امیر خان نے جو مستحسن اقدام کیا ہے اور اسلامیان پاکستان کے عموماً اور اسلامیان سرگودھا کے خصوصاً اسلامی اور مذہبی جذبات کا جو احساس کیا ہے، مجلس مرکزیہ کی شوریٰ کا یہ اجلاس گورنر موصوف کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرتا ہے۔

اسلامیان سرگودھا کے ساتھ ہوگی۔

نئے صدر مرکزیہ کا انتخاب عمل میں نہیں لایا جاسکا۔ مجلس شوریٰ دستور العمل کی دفعہ ۶ شق ۴ کی روشنی میں مولانا محمد علی جالندھری کو صدر آل پاکستان مجلس تحفظ ختم نبوت منتخب کرتی ہے۔ مولانا محمد علی صاحب دستور کی روشنی میں ۶ ماہ کے اندر اندر جدید انتخاب کرائیں۔ ملک بھر میں رکن ومعاون سازی کا کام ہو اور جماعت کی تشکیل وتنظیم کی جاوے۔

صاحب، مولانا محمد یوسف صاحب مجاہد الحسینی اور حضرت حافظ الحدیث زید مجدہم بنائی جاتی ہے۔ مولانا لال حسین اور مجاہد صاحب تحریری کام کے لئے متعین کئے جاتے ہیں۔ جو لٹریچر بھی شائع ہوگا وہ بورڈ کی منظوری سے ہوگا۔ تحریر وتصنیف کا کام دفتر ملتان میں ہوگا۔ مجاہد صاحب اپنے ملتان آنے کے متعلق جلد از جلد دفتر مرکزیہ کو مطلع کریں جب مجاہد صاحب دفتر ملتان آئیں تو مولانا لال حسین صاحب مستقلاً دفتر مرکزیہ میں قیام فرمائیں۔

کی جاوے۔ ایسے سجادہ نشینان حضرات کی فہرست تیار کی جائے۔ جن سے جماعت کی سرپرستی کی درخواست کی جاوے۔

دستخط مولانا محمد علی جالندھری

(۱۵) ۱۹۶۳ء میں مرکزی مجلس شوریٰ کے چار اجلاس منعقد ہوئے

پہلا اجلاس (۳؍جنوری ۱۹۶۳ء، مطابق ۱۶؍شعبان ۱۳۸۲ھ)

شرکاء: مولانا محمد علی جالندھری، مولانا تاج محمود، مولانا مجاہد الحسینی، مولانا عبدالرحمٰن میانوی، مولانا علاؤ الدین، ماسٹر اختر حسین، حکیم محمد ابراہیم تھے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۷۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پائے۔ اس لئے دو ماہ کی معیاد بڑھائی جاتی ہے۔ ۹؍مارچ ۱۹۶۳ء تک ہونے لازمی ہیں۔

پر اصرار کرتے ہیں۔ اس لئے پہلی تجویز کہ دارالمبلغین ملتان میں ہو، منسوخ کی جاتی ہے۔ دستخط ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت

(۱۶) دوسرا اجلاس (جنرل کونسل)

کارروائی جنرل کونسل مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان مقام لاہور

مورخہ ۹؍ مارچ ۱۹۶۳ء، مطابق ۱۲؍ شوال ۱۳۸۲ھ، بروز شنبہ تحفظ ختم نبوت کی جنرل کونسل کا اجلاس لاہور دفتر میں زیر صدارت مولانا محمد علی صاحب جالندھری صدر مجلس تحفظ ختم نبوت و ناظم اعلیٰ منعقد ہوا۔

حاضری حسب ذیل:

ملتان: چوہدری نواب علی، محمد بخش، محمد شاہ۔

بہاول پور: حکیم محمد ابراہیم صاحب، عبدالرشید، عمردین، حاجی محمد، حاجی فقیر محمد، رفیق محمد

عارف والہ: عبدالرزاق صاحب، محمد عبداللہ۔

للہ شریف: حاجی فضل محمد، چوہدری محمد وارث صاحب، فیاض حسین، محمد فضل الرحمٰن صاحب، محمد عبداللہ

گجرات: چوہدری محمد خلیل، عبدالغفار، عبدالحمید، ڈاکٹر عبدالقادر۔

مخدوم پور: مولانا سید محمد امین شاہ صاحب۔

موسیٰ خیل: صوفی عبدالرحیم۔

لائل پور: مولانا تاج محمود، مجاہد الحسینی، شیخ محمد بشیر، شیخ عبدالحمید، محمد شریف، مولانا محمد یعقوب نورانی، قاضی عبدالرحمٰن، شیخ محمد عظمت، محمد عالم بٹالوی۔

اوکاڑہ: چوہدری غلام نبی، خدا بخش جالندھری، بشیر احمد رضوانی، مولانا رحمت اللہ۔

سرگودھا: محمد عارف، حافظ محمد صادق، عبدالعزیز۔

بھلوال: شیخ منظور احمد، محمد یعقوب۔

چنیوٹ: ظہور احمد، ملک نذر محمد، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا عتیق الرحمٰن چنیوٹی۔

ڈی جی خان: حاجی محمد رمضان، سید امیر علی شاہ، محمد رمضان چشتی۔

شجاع آباد: مولانا قاضی احسان احمد، محمد افضل

جلال پور: مولوی حسین احمد، شیر محمد، حافظ منظور احمد۔

لاہور: شیخ حسام الدین، چوہدری محمد سلطان، حکیم ذوالقرنین، برکت علی سعدی پارک، مولوی منظور احمد۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۷۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گوجرانوالہ: حافظ ارشاد احمد، عبدالغنی، غلام نبی، مولوی محمد سعید۔ کھیالی: حاجی یوسف علی۔ پنوعاقل: مولانا نذیر حسین، رضا محمد۔ سیالکوٹ: حافظ محمد صادق، محمد اسماعیل، شیخ احمد الدین۔ جہلم: مولانا عبداللطیف۔ پنڈ دادن: محمد رمضان، راجہ محمد صادق، عطاء محمد، ولی محمد۔ سمندری: غلام حسین۔ چیچہ وطنی: شیخ اللہ رکھا۔ مظفر گڑھ: مولانا سعید احمد جتوئی، مقبول احمد خیر پور، محمد عمر کہر فقیراں۔ خان پور: عبدالرحمن۔ راولپنڈی: مولانا عبدالحنان، ماسٹر محمد موسیٰ، قاری محمد امین، مولوی فضل حق۔

اس کے علاوہ مولانا لال حسین صاحب اختر، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولوی عبدالرحیم، مولوی عبدالرحیم صدیقی، مولوی محمد عبداللہ بھکر و دیگر بہت سے حضرات شریک ہوئے۔

کارروائی

صدارت کا عہدہ خالی تھا۔ جماعت کے دستور کے دفعہ نمبر ۶ شق نمبر ۴ کی روشنی میں مجلس مرکزیہ نے احقر کو صدر مقرر کر دیا تھا۔ آج میں نے صدر مرکزیہ کے انتخابات کے لئے جنرل کونسل کا اجلاس طلب کیا ہے، آپ حضرات جن کو چاہیں صدر منتخب کر سکتے ہیں۔ لیکن میری درخواست ہے کہ آپ حضرات امیر شریعت کے بعد مجلس مرکزی کا صدر ایسے صاحب کو منتخب کریں جو اس عہدہ کا اہل ہو اور اچھا خاصہ تجربہ رکھتا ہو۔ اب آپ حضرات اپنی اپنی تجاویز فرمادیں۔

انتخاب صدر مرکزیہ

فرمائی اور اس پر بہت سے نمائندگان نے مزید تائید کی۔ چنانچہ بالاتفاق حضرت قاضی صاحب صدر مرکزیہ قرار پائے۔

مرکزیہ کے سپرد کرتے ہوئے دوسری جگہ بیٹھ کر فرمایا۔ اب اجلاس ہذا کی صدارت حضرت مولانا قاضی احسان احمد صاحب فرمائیں گے۔

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۷۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء

ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

سے عوارض کی بناء پر کمزور ہوں ۔ میرے ناتواں کندھے اس بوجھ کے متحمل نہیں ہیں۔ آپ کی اعانت اور مشوروں کا محتاج ہوں۔ ہمارے مخالفین کو اپنی تنظیم رسائل و جرائد لٹریچر پر ناز ہے۔ آپ میرے ساتھ پورا تعاون فرمائیں گے تو میں کوئی خدمت کر سکوں گا۔ بہر حامیں اپنی حسب استطاعت رضا کارانہ خدمات جماعت کے لئے وقف کرتا ہوں۔

ہے کہ مسلمان کثرت سے ہماری رکنیت قبول کریں ۔ جب ہم ہر ابتدائی رکن پر یہ پابندی لگاتے ہیں کہ وہ سیاست میں حصہ نہ لے گا تو ہماری رکنیت محدود ہو جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے تمام سیاسی جماعتیں ہماری رکنیت قبول کر لیں ۔ اس لئے اگر عام اراکین کے لئے یہ پابندی دور کر دی جائے تو بہتر ہوگا۔ ہماری جماعت غیر سیاسی ہی رہے گی۔ یہ پابندی جملہ عہدیداران پر ہونی چاہئے نہ کہ ہر ابتدائی رکن پر ۔ اس لئے جنرل کونسل سابقہ دستور میں نظر ثانی کر کے مناسب ترمیم کرے یا پھر یہ مجلس مرکزیہ کو اختیار دے دے کہ مرکزی مجلس شوریٰ دستور موجودہ میں مناسب ترامیم کرے ۔ جنرل کونسل نے بالاتفاق جدید مرکزی مجلس شوریٰ کو سابقہ دستور میں حسب ضرورت مناسب ترامیم کرنے کی اجازت دے دی۔

نوٹ یہ کارروائی بخط محمد علی جالندھریؒ

(۱۷) تیسرا اجلاس

مؤرخہ ۱۴؍جون ۱۹۶۳ء، مطابق ۲۱؍محرم ۱۳۸۳ھ بعد نماز عشاء دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان ، مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس منعقد ہوا۔

شرکاء: مولانا سراج الدین ڈیرہ اسماعیل خان ، مولانا عبد الرحمن میانوی ، مولانا عبد اللہ ساہیوال ، ماسٹر اختر حسین ، مولانا تاج محمود ، مولانا محمد علی ، مولانا قاضی احسان احمد ، حکیم محمد ابراہیم ، مولانا نذیر حسین ۔

صدارت صدر مرکزیہ مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ۔

مولانا مفتی محمود رکن قومی اسمبلی کا ایک خط موصول ہوا ۔ جس کا مضمون حسب ذیل ہے۔

مکرم و محترم مولانا محمد علی صاحب جالندھری و مولانا قاضی احسان احمد صاحب ، السلام علیکم!

ایجنڈا

کہ ہماری جماعتوں کی تعداد کم سے کم ہو جائے ۔ محمود عفا اللہ عنہ مدرس مدرسہ قاسم العلوم ملتان ۔

www.amtkn.com

ameer@khatm-e-nubuwwat.com

www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۷۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۵۷۶ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ارکان خمسہ ہو، وہ کوشش کرے کہ زیادہ سے زیادہ اتحاد ہو سکے، لیکن ہماری جماعت چونکہ صرف تبلیغی ہے اس لئے ہم اس تبلیغی اتحاد میں شریک ہوں گے۔ سیاسی اتحاد کی گفتگو وہ جماعتیں کریں، جنہوں نے سیاسی کام کرنا ہے۔

اگر دوسری جماعتیں بالخصوص تنظیم اہل سنت ہماری جماعت میں شامل ہونا قبول نہ کریں تو پھر دونوں جماعتوں کی ایک جماعت بنالیں اور نام ایسا تجویز کیا جائے ، جس میں لفظ ختم نبوت باقی رہے۔

نمائندگان شریک ہوں۔

قاضی احسان احمد

(۱۸) چوتھا اجلاس

۲۳؍ جولائی ۱۹۶۳ء، مطابق یکم ربیع الاوّل ۱۳۸۳ھ، دفتر مرکزیہ ملتان

شرکاء: حضرت مولانا قاضی احسان احمد صدر اجلاس وصدر مجلس، مولانا سراج الدین، ماسٹر اختر حسین، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد علی جالندھری ومحمد ابراہیم۔ دیگر امور کے علاوہ فیصلہ ہوا کہ ارکان جماعت پر سیاست میں شمولیت کی پابندی ختم ، اب صرف عہدیداران سیاست میں حصہ نہ لے سکیں گے۔

اخراجات رجسٹری، چھیالیس ہزار پانچ سو تینتیس روپیہ ہے۔ منظوری دی گئی۔

قاضی احسان احمد

(۱۹) ۱۹۶۴ء میں مجلس شوریٰ کے تین اجلاس منعقد ہوئے

پہلا اجلاس دفتر مرکزیہ ملتان ۱۱؍ جنوری ۱۹۶۴ء، مطابق ۲۵؍ شعبان ۱۳۸۳ھ

شرکاء: حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی امیر مرکزیہ وصدر اجلاس مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا لال حسین اختر، مولانا سراج الدین، حکیم محمد ابراہیم، مولانا محمد علی جالندھری۔

گئی اور ان کو مکمل اختیارات سونپے گئے۔ ماتحت مجالس جو کتب شائع کریں، کمیٹی سے منظوری حاصل کریں۔ ماتحت مجالس فری تقسیم کے لئے جو کتب و رسائل شائع کریں۔ اس کا ۱/۴ دفتر مرکزیہ روانہ کریں۔ القادیانی والقادیانیہ عربی جو حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری کے حکم پر مولانا ابوالحسن ندوی نے لکھی۔ مجلس کی طرف سے عرب ممالک میں مفت تقسیم کی گئی اس کے اخراجات کی منظوری دی گئی۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۷۷

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قاضی احسان احمد

(۲۰) دوسرا اجلاس

دفتر مرکزیہ ملتان: مورخہ ۱۱؍ جون ۱۹۶۴ء، مطابق ۲۹؍ محرم ۱۳۸۴ھ

شرکاء: مولانا قاضی احسان احمد امیر مرکزیہ صدر اجلاس، مولانا محمد عبداللہ شیخ الحدیث، مولانا عبدالرحمٰن میانوی، حکیم محمد ابراہیم، مولانا سراج الدین، مولانا نذیر حسین، ماسٹر اختر حسین، مولانا محمد علی جالندھری۔

قاضی احسان احمد

(۲۱) تیسرا اجلاس

دفتر مرکزیہ ملتان مورخہ ۳۰، ۳۱؍ دسمبر ۱۹۶۴ء، مطابق ۲۵، ۲۶؍ شعبان ۱۳۸۴ھ

شرکاء: حضرت قاضی احسان احمد صدر اجلاس و امیر مرکزیہ، مولانا لال حسین اختر، مولانا عبدالرحمٰن میانوی، مولانا سراج الدین، مولانا محمد علی جالندھری، ماسٹر اختر حسین، حکیم محمد ابراہیم۔

www.amtkn.com

ameer@khatm-e-nubuwwat.com

www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۷۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ناظم اعلیٰ

(۲۲) ۱۹۶۵ء میں صرف ایک اجلاس شوریٰ منعقد ہوا

دفتر مرکزیہ ملتان، مورخہ ۳۰، ۳۱/دسمبر ۱۹۶۵ء، مطابق ۸، ۹/شعبان ۱۳۸۵ھ

شرکاء: حضرت قاضی احسان احمد امیر مرکزیہ و صدر اجلاس، مولانا محمد علی جالندھری، ماسٹر اختر حسین، مولانا نذیر حسین، مولانا لال حسین اختر، مولانا سراج الدین، مولانا محمد عبداللہ شیخ الحدیث، مولانا عبدالرحمٰن میانوی۔

ناظم اعلیٰ

(۲۳) ۱۹۶۶ء میں مرکزی شوریٰ کے دو اجلاس منعقد ہوئے ...... پہلا اجلاس

مقام دفتر مرکزیہ، مورخہ ۱۱/مارچ ۱۹۶۶ء، مطابق ۱۸/ذیقعدہ ۱۳۸۵ھ

شرکاء: شیخ الحدیث مولانا عبداللہ صدر اجلاس، مولانا سراج الدین، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین اختر، مولانا عبدالرحمٰن میانوی۔

نوٹ: اس اجلاس میں حضرت امیر مرکزیہ، اپنی علالت کے باعث تشریف نہ لا سکے۔

عبدالرحمٰن میانوی (رکن شوریٰ)

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۷۹

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(۲۴) دوسرا اجلاس

اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ ختم نبوت مؤرخہ ۱۰؍ دسمبر ۱۹۶۶ء، مطابق ۲۶؍ شعبان ۱۳۸۶ھ، ہفتہ بوقت ۸ بجے صبح واقع دفتر مرکزیہ ملتان

شرکاء: مولانا محمد علی صاحب، شیخ الحدیث محمد عبداللہ ساہیوال، مولانا لال حسین اختر، مولانا نذیر حسین صاحب پنوں عاقل سندھ، مولانا سراج الدین ڈیرہ اسماعیل خان، ماسٹر اختر حسین صاحب ملتان (مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا محمد شریف جالندھری)

تلاوت: حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ ساہیوال نے فرمائی۔

حضرت امیر مرکزیہ قدس سرہ کے وصال کی وجہ سے پہلی تجویز بغیر صدارت منظور ہوئی۔

کی وفات حسرت آیات پر اپنے افسوس و غم کا اظہار کرتا ہے۔ مرحومین کے لئے دعا مغفرت کرتا ہے۔ مجلس اور تحریک ختم نبوت کو جو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ یہ اجلاس بدست دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس خلاء کو پورا کرنے کے لئے پردہ غیب سے امداد فرمائے۔

صدر منتخب ہو جانے کے بعد مجلس شوریٰ کا اجلاس مولانا کی صدارت میں باقاعدگی سے شروع ہوا اور حسب ضابطہ کارروائی ہوئی۔

برابر کی شریک ہے۔ یہ صدمہ ان کے خاندان اور جماعت ختم نبوت کا ہی نہیں بلکہ مرحوم کی موت پوری ملت اسلامیہ پاکستان کے لئے سانحہ عظیم ہے۔ مجلس اہل خانہ کو اپنے ہمہ قسم تعاون کا یقین دلاتی ہے اور درخواست کرتی ہے کہ وہ جب کبھی مجلس کو یاد کریں گے تو مجلس کو اپنے مرحوم قائد کے رفقاء کی حیثیت سے حاضر پائیں گے۔

مولانا مفتی محمد شفیع سرگودھا، حضرت مولانا عبدالحنان راولپنڈی، حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالخالق کبیر والہ، خادم ختم نبوت ملک اللہ وسایا جابہ ضلع سرگودھا، مولوی خلیل الرحمن برادر حضرت مولانا عبدالرحمن میانوی کی وفات حسرت آیات کو ملت اسلامیہ کے لئے عظیم خلا محسوس کرتا ہے۔ ان کی مغفرت اور بلند درجات کے لئے دعا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس عطاء فرمائے اور پسماندگان کو صبر کی توفیق دے۔ اجلاس طے کرتا ہے کہ مرحومین کے پسماندگان کو اس ریزولیوشن کی ایک ایک کاپی ارسال کی جائے۔

ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزائیوں نے کھلم کھلا تبلیغ شروع کر دی ہے اور جا بجا مرزائی اہل اسلام کو مناظرہ کی دعوت دے رہے ہیں۔ اس وجہ سے ملک میں کام بہت وسعت اختیار کر گیا ہے۔ جس سے عہدہ برا ہونے کے لئے مجلس شوریٰ صاحب صدر و ناظم اعلیٰ کو مزید سات مبلغ اپنی صوابدید پر رکھ لینے کی اجازت دیتی ہے۔ جن میں سے مولوی خان محمد جہلمی ، مولوی بشیر احمد جھنگوی، مولانا

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۸۰

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

محمد شریف جالندھری جو کام کر رہے ہیں، ان کی منظوری دی جاتی ہے۔ مزید چار علماء لئے جانے کی اجازت دیتی ہے۔

میں کہ جس جگہ جماعت کا مقامی دفتر موجود ہو اور وہاں کے کارکن دارالمطالعہ کھولنے کی درخواست دیں تو وہ یک صد روپے دفتر مرکزیہ کو ارسال کریں۔ دفتر مرکزیہ یک صد روپے اپنی طرف سے ملا کر دو صد روپے کی تردید مرزائیت و فرق باطلہ کے علاوہ ایسی کتابیں خرید کر ارسال کرے جو کہ اصلاح معاشرہ واخلاق میں معاون ہوں۔ دفتر مرکزیہ ایسے مراکز کی نگرانی کرے۔

اجازت دیتا ہے۔

انتخابات کے لئے بہاول پور کی جماعت کی درخواست کو منظور کیا جاتا ہے۔

مہر دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت بہاولپور

(۲۵) ۱۹۶۷ء میں مرکزی شوریٰ کے دو اجلاس منعقد ہوئے

پہلا اجلاس: مورخہ ۹؍ مارچ ۱۹۶۷ء، مطابق ۲۷؍ ذیقعدہ ۱۳۸۶ھ، جمعرات گیارہ بجے قبل دوپہر بہاول پور میں منعقد ہوا۔

شرکاء: مولانا محمد علی صاحب جالندھری، مولانا لال حسین صاحب اختر، مولانا عبدالرحمن میانوی، ماسٹر اختر حسین صاحب ملتان، مولانا علاؤ الدین صاحب ڈیرہ اسماعیل خان، مولانا نذیر حسین صاحب پنواں عاقل سندھ، مولانا عبدالرحیم اشعر صاحب۔

تلاوت: مولانا سراج الدین صاحب۔

صدارت: مولانا محمد علی صاحب امیر مرکزیہ۔

تجاویز

انگریزی فیصلہ کے پچاس نسخے جو چوہدری بشیر احمد چوہان کے ذریعے حجاز میں برائے تقسیم ارسال کئے گئے ہیں ان کی قیمت اخراجات میں درج کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ’’القادیانی‘‘ کے عربی نسخہ جات جو چوہدری صاحب کے ہاتھ اور جو جماعت کی خرید کردہ کتب سے ہیں۔ مولانا محمد انور کے ذریعے عربی وانگریزی فیصلہ جس کی قیمت جماعت کوئٹہ نے ادا کی، کے حجاز مقدس ارسال کئے جانے پر دلی مسرت کا اظہار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرکزی جماعت کے اس کام کو شرف قبولیت بخشے۔

چونکہ ۲۶؍ شعبان ۱۳۸۶ھ، مطابق ۱۰؍ دسمبر ۱۹۶۶ء کو حضرت مولانا محمد علی صاحب کی امارت عارضی تجویز ہوئی تھی۔ مستقل صدارت کے لئے جنرل کونسل کا اجلاس بہاول پور ہی طلب کیا ہوا ہے۔ چونکہ جن حضرات سے مثلاً مولانا محمد یوسف بنوری صاحب، مولانا شمس الحق افغانی سے حضرت امیر نے بات کی۔ ان کی طرف سے معذرت وصول ہو چکی ہے۔ اس لئے طے ہوا کہ جنرل کونسل کے سامنے کسی کا نام تجویز کر کے رائے طلب نہ کی جائے۔ بلکہ فیصلہ ہاؤس کی صوابدید پر چھوڑا جائے۔

مہر دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت بہاولپور

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۸۱

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(۲۶) اجلاس جنرل کونسل

منعقدہ مؤرخہ ۹؍ مارچ ۱۹۶۷ء، مطابق ۲۷؍ ذیقعدہ ۱۳۸۶ھ، دو بج کر پچاس منٹ بعد ظہر جمعرات بہاول پور

شرکاء: شکار پور، سکھر، صادق آباد، رحیم یار خان، ملتان، لائل پور، بہاول پور، بہاول نگر، لاہور وغیرہ کے اضلاع سے ایک صد پچیس نمائندگان ختم نبوت نے شرکت فرمائی۔ دستور کے دفعہ ۶، شق ۴ کے ذریعے چھ ماہ کے اندر اندر نئے صدر کا انتخاب ضروری ہے۔

حضرت اقدس مولانا محمد علی صاحب جالندھری زید مجدہم نے عارضی صدارت سے استعفیٰ پیش کیا تاکہ جنرل کونسل نئے صدر کا انتخاب کر سکے۔

جنرل کونسل کے اجلاس کی صدارت کے لئے ڈاکٹر مناظر حسین نظر لاہور نے مولانا محمد علی صاحب کا اسم گرامی پیش کیا۔ مولانا لال حسین صاحب نے اس کی تائید کی۔ جنرل کونسل کا اجلاس مولانا محمد علی صاحب کی صدارت میں شروع ہوا۔

مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر نے تفصیل سے بہاول پور کی جماعت کا تعارف کرایا کہ کس طرح مقامی جماعت نے خاموشی کے ساتھ حکیم محمد ابراہیم مرحوم کی زیرنگرانی دو مدارس عربیہ کا نظام عرصہ دس سال سے کیا ہوا ہے اور حکیم صاحب مرحوم کے بعد جماعت کے موجودہ اراکین اور عہدیداران نے کس خلوص اور ایثار سے کام کو آگے بڑھایا اور مرکزی دفتر سے آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس بہاول پور میں منعقد کرنے کی درخواست پیش کی۔ جسے مجلس شوریٰ نے ۲۶؍ شعبان کے اجلاس میں منظور کیا۔ افسوس کا مقام ہے کہ مقامی حکام نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر کانفرنس کے کھلے اجلاس پر پابندی عائد کر دی۔ حالانکہ تمام مسلمان فرقوں کے وفود نے مقامی حکام کو یقین دہانی کرائی کہ ختم نبوت کا مسئلہ ہم سب فرقوں کا متحدہ مسئلہ ہے۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن مقامی حکام نے باوجود مقامی کارکنوں کی کوشش کے، کانفرنس کی اجازت نہ دی۔ جس کی وجہ سے دور دراز کے علاقوں سے آئے ہوئے ختم نبوت کے پروانوں کو مایوسی سے واپس ہونا پڑا۔

مولانا لال حسین صاحب نے ارشاد فرمایا کہ ۲۶؍ شعبان ۱۳۸۶ھ مجلس شوریٰ کے اجلاس ملتان نے بالاتفاق عارضی طور پر مولانا محمد علی صاحب کو امیر مرکزیہ منتخب کیا تھا۔ اب قاعدہ کی رو سے آپ حضرات مستقل صدر کے انتخاب کے لئے تشریف لائے ہیں۔ مجلس شوریٰ کے گزشتہ اجلاس نے مولانا بنوری اور مولانا افغانی سے گزارش کی تھی اور مولانا محمد علی کے ذمہ تھا کہ وہ ان حضرات سے بات کریں۔ دونوں بزرگوں نے معذرت کر دی ہے۔ اب ہاؤس کی صوابدید پر منحصر ہے۔ ہم سب ساتھیوں کو سوچ اور سمجھ سے کام کرنا ہے۔ آنے والے وقت کا تقاضا ہے کہ صدارت پر کسی آزمودہ کار اور ایثار پیشہ بزرگ چنا جائے۔

مولانا محمد علی صاحب جالندھری نے ارشاد فرمایا کہ آپ حضرات کے سامنے مولانا لال حسین صاحب نے اجلاس کی غرض وغایت بیان کر دی ہے۔ جماعت ختم نبوت کے بانی حضرت امیر شریعت قدس سرہ تھے، وہی امیر تھے۔ ان کے تشریف لے جانے کے بعد سب کی نگاہ ان کے جانشین حضرت مولانا قاضی احسان احمد مرحوم کی طرف اٹھی۔ اس کے وہی احق تھے۔ وہ حضرت امیر شریعت کے اقرب اور رفیق تھے۔ انہوں نے صدارت قبول فرمائی۔ دوبارہ انتخاب میں پھر وہی صدر منتخب ہوئے۔ اب وہ بھی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ عروج کے وقت نئے آدمی پیدا ہوتے ہیں۔ تنزل کے وقت قحط الرجال ہوتا ہے۔ قرب قیامت کی یہی نشانی ہے۔ گزشتہ چھ برس میں بہت سے اکابر چلے گئے۔ مسلمان قوم یتیم ہوتی جا رہی ہے۔ جو جاتا ہے، اس کی جگہ پوری نہیں ہوتی۔ جیسے سیاسی طور پر مسٹر جناح اور لیاقت علی خان کا قائمقام کوئی نہ پیدا ہوا۔ اسی طرح حضرت لاہوری، حضرت امیر شریعت، حضرت مفتی محمد حسن، مفتی محمد شفیع اور قاضی احسان احمد شجاع آبادی

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۸۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کی جگہ ان سا کوئی نہیں۔ تحریک کے بعد حضرت امیر شریعت مرحوم ومغفور نے رفقاء کو اکٹھا کیا۔ فرمایا کہ ملک کی آزادی کے لئے مجلس احرار کا قیام عمل میں آیا تھا۔ آزادی کے بعد ہمارا کام ختم ہوگیا۔ اب ملک چلانے کے لئے مسلم لیگ کو موقع ملنا چاہئے۔ مجلس احرار تبلیغ کا کام کرے۔ کچھ دوستوں نے کہا کہ ہم لوگ تو محض مذہبی کام نہیں کرسکتے۔ چنانچہ جماعت کے احباب تقسیم ہوگئے۔ شاہ صاحب اور قاضی صاحب نے مجلس تحفظ ختم نبوت میں شرکت کی۔ ماسٹر صاحب، شیخ صاحب اور نوابزادہ نصر اللہ خان نے مجلس احرار کو سیاسیات میں کام کرنے کے لئے منتخب کیا۔ نوابزادہ صاحب نے شاہ صاحب سے عرض کیا کہ مولانا محمد علی جالندھری ہمیں دے دیئے جائیں۔ حضرت نے فرمایا کہ پھر میرا ساتھی کون ہے۔ ہم اب بھی حضرت امیر شریعت کی رائے پر قائم ہیں۔ الیکشن میں حصہ نہیں لیتے۔ اپنا ووٹ اپنی پسند کے آدمی کو دے سکتے ہیں، ہم اسی پر قائم ہیں۔ قاضی صاحب کے بعد مجھے عارضی صدر بنایا گیا۔ چھ ماہ کے اندر حسب دستور مستقل صدر کا چناؤ ضروری تھا۔ مرزائیوں کے مقابلہ میں ہمارا کام تھوڑا ہے۔ ہر مرزائی جماعت کا کام کرتا ہے۔ لیکن مسلمان نہیں کرتا۔ بلکہ مبلغ کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ تین سال سے مرزائی کھلم کھلا ارتداد کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ۱۹۵۲ء میں ایک مرزائی نے مولانا احتشام الحق سے کہا تھا کہ آپ کو مجبوراً ہماری کتب پڑھنا ہوں گی۔ اب ربوہ میں دو طالب علموں کو ۸۰، ۸۰ درے مارے ہیں اور یہ لکھوا لیا کہ ہم نے تمہاری لڑکیوں کو چھیڑا تھا۔ اس لئے ہمیں مارا گیا ہے۔ شاید وہ وقت ہے کہ پتھر پڑیں اور صبر کیا جائے۔ گوجرانوالہ میں ایک مبلغ کو ایک جگہ تقریر نہیں کرنے دی گئی۔ لاؤڈسپیکر چھین لیا ہے۔ اپنوں اور غیروں کی طرف سے مصائب آئیں گے۔ صبر کرنا ہوگا۔ حضرت خاتم المحدثین مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری نے دارالعلوم کے اساتذہ اور طلباء کے سامنے ارشاد فرمایا کہ اگر شفاعت کی تمنا ہے تو ختم نبوت کا کام کرو۔ آج کل تبلیغ نہیں ہورہی۔ وعظ کے نام پر فرقہ وارانہ لڑائی ہورہی ہے۔ وقت نازک ہے۔ حضور سرور کائنات ﷺ نے صحابہ کرام علیہم السلام سے ارشاد فرمایا کہ اگر تم نو حصے دین پر عمل کرو، ایک حصہ چھوڑ دو تو ہلاک ہو جاؤ۔ ایک دور آئے گا کہ نو حصے چھوڑ کر ایک پر عمل کرنے والے ناجی ہوں گے۔ کیونکہ ان میں، میں نہ ہوں گا۔ صحابہؓ کی طرح سب کچھ قربان کرو گے تو دین کا کام ہوگا۔ سب کچھ قربان کرنے سے کچھ کام ہوتا ہے۔ کچھ کام کرنے سے کوئی کام نہیں ہوتا۔

تحریک کے بعد مرزائی خاموش تھے۔ اب تین سال سے جارحانہ کارروائی کر رہے ہیں۔ ملک کے کونے کونے میں اودھم مچا رکھا ہے۔ جیسے انہیں کسی کا ڈر نہیں رہا۔ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو مرزا غلام احمد قادیانی کا انتقال ہوا۔ آج تک کسی مرزائی وعیسائی نے حضور ﷺ کے متعلق وہ کلمات نہ کہے جواب مرزائی کہہ رہے ہیں۔ کرونڈی ضلع خیر پور میرس کا واقعہ تفصیل سے بیان فرمایا کہ ایسے کلمات کہنے کی انگریزی کے زمانہ میں مرزائی کو جرأت نہ ہوئی۔ اب ہورہی ہے۔

آپ صدارت کے لئے جمع ہوئے ہیں میں کچھ نہیں کہتا۔ یہ آپ کا کام ہے۔ مولانا لال حسین اختر نے اٹھ کر صدارت مرکزیہ کے لئے مولانا محمد علی صاحب جالندھری زید مجدہم کا اسم گرامی پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت امیر شریعت قدس سرہ کے رفقاء میں آپ ہی کی شخصیت سب سے اہم اور ان کے قریب تر ہے۔ آپ ہی آج تک مجلس کے روح رواں ہیں۔ آپ کی موجودگی میں کوئی صاحب اس عہدہ جلیلہ کا حق دار نہیں۔ سردار غلام قاسم خان نے تائید کی۔ ہاؤس نے متفقہ طور پر پرجوش خیر مقدم کیا۔ کسی نے بھی کسی دوسرے کا نام پیش نہیں کیا۔ اس طرح حضرت اقدس مولانا محمد علی صاحب جالندھری زید مجدہم جماعت کے امیر مرکزیہ منتخب ہوئے۔

سید محمد عبد اللہ غفرلہ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۸۳

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(۲۷) دوسرا اجلاس

دفتر مرکزیہ ملتان، مورخہ ۵؍ اگست ۱۹۶۷ء، مطابق ۲۷؍ ربیع الثانی ۱۳۸۷ھ

شرکاء: استاذ العلماء مولانا خیر محمد جالندھری صدر اجلاس، استاذ العلماء مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا محمد عبداللہ ساہیوال، مولانا محمد علی جالندھری امیر مرکزیہ، مولانا عبدالحیٰ گھوٹکی، مولانا محمد شریف بہاول پوری، مولانا نذیر حسین، مولانا عبدالوحید ڈھڈیاں شریف، مولانا عبدالحکیم راولپنڈی، (مولانا محمد یوسف لدھیانوی اعزازی)

رقمہ ظفر احمد رحمہ

(۲۸) ۱۹۶۸ء میں مرکزی شوریٰ کا صرف ایک اجلاس منعقد ہوا

مقام مدرسہ خیر المدارس مورخہ ۲۰؍ ستمبر ۱۹۶۸ء، مطابق ۲۶؍ جمادی الثانی ۱۳۸۸ھ

شرکاء: استاذ العلماء مولانا خیر محمد جالندھری صدر اجلاس، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا عبدالحیٰ، مولانا سراج الدین۔

مولانا عبدالحکیم صاحب نے دستور کی خلاف ورزی کر کے ایک سیاسی جماعت کا عہدہ قبول کیا۔ اس لئے انہیں شوریٰ کی رکنیت سے فارغ کر دیا گیا۔ مولانا لال حسین اختر کی غیر ممالک میں عظیم خدمات پر ان کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور ان کو بذریعہ ڈاک اطلاع دی گئی کہ پاکستان میں کام ٹھیک ہو رہا ہے۔ آپ اطمینان و دل جمعی سے غیر ممالک میں کام جاری رکھیں۔

رقمہ ظفر احمد رحمہ

(۲۹) ۱۹۶۹ء میں صرف ایک اجلاس منعقد ہوا

اجلاس مجلس شوریٰ آل پاکستان تحفظ ختم نبوت منعقدہ مورخہ ۱۲؍ اپریل ۱۹۶۹ء، مطابق ۲۴؍ محرم ۱۳۸۹ھ

بروز ہفتہ دفتر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان صبح ۱۰ بجے

شرکاء: مولانا خیر محمد، مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا عبدالوحید، مولانا عبداللہ، مولانا عبدالحیٰ حسینی، مولانا نذیر حسین، مولانا محمد شریف، مولانا عبدالرحیم اشعر۔

صدارت: حضرت مولانا محمد یوسف بنوری دامت برکاتہم صاحب۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۸۴

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تلاوت: حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب ساہیوال۔

حضرت مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب اختر کے کام بیرون ممالک کی روداد تفصیل سنائی۔ ووکنگ مسجد کے امام کی مرزائیت سے توبہ، اہل اسلام کا قبضہ، فجی روانگی، لاہوریوں سے کامیاب مناظرہ، تیس لاکھ کی مسلم آبادی میں مولانا کی کوششوں سے پہلے مدرسہ تعلیم القرآن کا قیام، علاوہ ازیں مشرقی پاکستان میں کام کی رفتار جسے معزز ارکان نے دلچسپی سے سنا اور مولانا لال حسین صاحب کے لئے دعائے خیر فرمائی اور جماعت کے کام کو بنظر استحسان دیکھا۔

تجویز

کالجوں کی بڑی جماعتوں کے طالب علموں کے لئے کم کرایہ، کم خرچ خوراک پر رہائش کا انتظام کیا جائے۔ اس اقامت گاہ میں نماز پنجگانہ اور درس قرآن وحدیث بطور خاص اہتمام ہو۔ طالب علموں سے لئے گئے خرچ سے زائد جو رقم خرچ ہو، اس کی اجازت دے دی جائے۔

خریدی جائیں تاکہ کتب خانہ زیادہ سے زیادہ مفید ہو۔

جاسکے۔ اس کے لئے اگر اراضی قیمتاً خریدنے کی ضرورت ہو تو اجازت ہے۔

القرآن کو بھی چلا رہی ہے۔ اس لئے دفتر مرکزیہ سے بہاول پور جماعت کی مدد کی اجازت دی جاتی ہے۔

محمد یوسف بنوری عفی عنہ

(۳۰) ۱۹۷۰ء میں مجلس شوریٰ کے دو اجلاس منعقد ہوئے

پہلا اجلاس : منعقدہ دفتر مرکزیہ مؤرخہ ۲۱؍اکتوبر ۱۹۷۰ء، مطابق ۱۹؍شعبان ۱۳۹۰ھ

شرکاء: مولانا خیر محمد صاحب جالندھری صدر اجلاس، مولانا لال حسین اختر، مولانا عبدالرحمٰن میانوی، مولانا سراج الدین، مولانا عبدالحئی، مولانا نذیر حسین، مولانا محمد شریف بہاول پوری، مولانا محمد علی جالندھری، شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ نائب امیر۔

نوٹ: ناظم اعلیٰ حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر غیرملکی سفر کے بعد پہلے اجلاس میں شریک ہوئے۔ حضرت مولانا خیر محمد صاحب جالندھری نور اللہ مرقدہ نے ۱۹؍شعبان ۱۳۹۰ھ، بمطابق ۲۱؍اکتوبر ۱۹۷۰ء کو اجلاس میں شرکت وصدارت فرمائی۔ قبل از مغرب اجلاس ختم کر کے خیرالمدارس تشریف لے گئے۔ ۲۰؍شعبان ۱۳۹۰ھ، مطابق ۲۲؍اکتوبر ۱۹۷۰ء قبل از دوپہر انتقال فرمایا۔

احقر خیر محمد عفی عنہ

صفحہ ۵۸۵

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(۳۱) دوسرا اجلاس

اجلاس جنرل کونسل کل پاکستان تحفظ ختم نبوت بمقام چنیوٹ مؤرخہ ۲۹؍ دسمبر ۱۹۷۰ء، مطابق ۲۹؍ شوال ۱۳۹۰ھ جنرل کونسل کا اجلاس چنیوٹ کانفرنس کے موقع پر منعقد ہوا۔ ملک بھر سے اراکین مجلس کی بھاری تعداد نے شرکت کی۔ مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر صاحب کی تحریک اور حضرت مولانا عبدالرحیم کی تائید سے بالاتفاق مولانا محمد علی جالندھری امیر مرکزیہ منتخب ہوئے۔ حضرت امیر مدظلہ نے آئندہ مجلس شوریٰ کے لئے مندرجہ ذیل حضرات کے نام تجویز فرمائے اور ۲؍ ربیع الاول ۱۳۹۱ھ، مطابق ۲۸؍ اپریل ۱۹۷۱ء، بروز بدھ مجلس شوریٰ کا اجلاس ملتان دفتر میں طلب فرمایا۔

اسمائے گرامی مجلس شوریٰ

(۱) شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف صاحب بنوری (کراچی)، (۲) شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ (ساہیوال)، (۳) شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد شریف صاحب کاشمیری (خیرالمدارس ملتان)، (۴) مولانا تاج محمود صاحب، (۵) مولانا قاضی عبداللطیف صاحب، (۶) مولانا محمد رمضان صاحب (راولپنڈی)، (۷) مولانا فضل احمد (تلہ گنگ)، (۸) مولانا غلام احمد صاحب (احمد پور شرقیہ)، (۹) مولانا انیس الرحمن لدھیانوی (لائل پور)، (۱۰) مولانا عبدالرحمن میانوی، (۱۱) مولانا عبدالوحید (ڈھڈیاں شریف)، (۱۲) مولانا سراج الدین صاحب (ڈیرہ اسماعیل خان)، (۱۳) مولانا نذیر حسین (پنوعاقل)، (۱۴) مولانا لال حسین اختر صاحب، (۱۵) حاجی محمد ذکراللہ صاحب (بہاول پور)

خطوط کے جواب میں حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف صاحب بنوری نے بوجہ علالت طبع و کثرت کار منظوری سے معذرت فرمائی۔ باقی حضرات نے قبول فرما کر شرکت اجلاس کی اطلاع دی۔

۹، ۱۰؍ صفر ۱۳۹۱ھ کی درمیانی شب حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم سلانوالی ضلع سرگودھا میں حکیم شریف الدین صاحب کی دعوت پر تقریر فرما رہے تھے۔ ساڑھے گیارہ بجے شب قلب میں درد کا دورہ پڑا۔ بیہوشی تک نوبت پہنچی۔ ۱۱؍ صفر براستہ سرگودھا، لائل پور سے بذریعہ ہوائی جہاز ملتان تشریف لائے۔ گیارہ بارہ کی درمیانی شب ملتان دفتر میں درد قلب کا دورہ پڑا۔ ساری رات انتہائی تکلیف میں گزری۔ جمعہ کے دن نماز جمعہ کے وقت افاقہ ہوا۔ علاج جناب ڈاکٹر عبدالرشید سیال نے فرمایا۔ ڈاکٹر افتخار احمد صاحب نشتر کالج بھی تشریف لائے۔ افاقہ ہوا۔ طبیعت بحال ہوئی۔ ۲۴؍ صفر ۱۳۹۰ھ، بمطابق ۲۱؍ اپریل ۱۹۷۱ء ڈیڑھ بجے بعد دوپہر شدید قلب میں درد کا دورہ پڑا۔ ڈاکٹر صاحب کو بلایا گیا۔ دو بجے ڈاکٹر صاحب تشریف لائے۔ دو بج کر دس منٹ پر حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری پاک و ہند میں پچاس برس تک جن کے فہم و تدبیر، جہد مسلسل، بے مثل خطابت کا دور دورہ رہا اس جہان فانی سے تشریف لے گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! نور اللہ مرقدہ وبرد مضجعہ

(۳۲) ۱۹۷۱ء میں مجلس شوریٰ کے دو اجلاس منعقد ہوئے

پہلا اجلاس مجلس شوریٰ تحفظ ختم نبوت پاکستان، مؤرخہ ۲۸؍ اپریل ۱۹۷۱ء، مطابق ۲؍ ربیع الاول ۱۳۹۱ھ بروز بدھ شرکاء: مولانا سراج الدین، مولانا لال حسین اختر، مولانا فضل احمد، مولانا عبداللہ، مولانا محمد شریف کاشمیری، مولانا عبدالوحید، مولانا

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۸۶

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

انیس الرحمٰن، مولانا غلام احمد، مولانا عبدالرحیم، مولانا محمد شریف، مولانا عزیز الرحمٰن۔

صدارت: حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب شیخ الحدیث جامعہ رشیدیہ ساہیوال۔

تلاوت: حضرت مولانا انیس الرحمٰن صاحب لائل پوری۔

کا اجلاس حضرت کی مقرر کردہ تاریخ ۲؍ ربیع الاوّل ۱۳۹۱ھ کو ہو رہا ہے۔ تاسیس جماعت کے بعد یہ پہلا اجلاس ہے جس میں مجاہد ملت، مفکر اسلام، حضرت مولانا محمد علی صاحب مرحوم شریک نہیں ہیں۔ یہ اجلاس حضرت مولانا محمد علی صاحب مرحوم کی وفات کو ایک سانحہ عظیم قرار دیتا ہے اور مرحوم کی وفات سے ان کے اہل خانہ کو جو صدمہ عظیم پہنچا ہے، مجلس ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ یہ صدمہ ان کے خاندان اور مجلس تحفظ ختم نبوت ہی کا نہیں بلکہ مرحوم کی وفات پوری ملت اسلامیہ کے لئے ناقابل تلافی سانحہ ہے اور ان کو ملک وملت کی خدمات جلیلہ انجام دینے پر خراج تحسین پیش کرتا ہے اور بدرگاہ مجیب الدعوات دعا گو ہے کہ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں بلند درجات عطاء فرمائے۔

چنوں)، حضرت مولانا حمید اللہ صاحب لاہوری، حضرت مولانا محمد صاحب لائل پوری، حضرت مولانا مفتی محمد نعیم صاحب لدھیانوی، حضرت مولانا عبدالغفور ہزاروی کی وفات حسرت آیات کو ملت اسلامیہ کے لئے عظیم خلاء محسوس کرتا ہے۔ اللہ رب العزت کے حضور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں اور جنت الفردوس میں جگہ عطاء فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل سے نوازے۔

۱۴؍ اراکین مجلس شوریٰ نے حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری مرحوم کے مشن کو جاری رکھنے کا عزم کیا اور مندرجہ ذیل انتخاب چھ ماہ کے لئے عارضی طور پر عمل میں لایا گیا۔

امیر، حضرت مولانا لال حسین اختر صاحب، نائب امیر حضرت مولانا عبداللہ صاحب (ساہیوال)، ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر صاحب، ناظم تبلیغ حضرت مولانا محمد شریف صاحب بہاول پوری، ناظم حضرت مولانا محمد شریف جالندھری صاحب، ناظم دفتر و خازن حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری صاحب۔

عبدالرحیم اشعر لائل پوری (سیکرٹری)

(۳۳) دوسرا اجلاس

یکم؍ اکتوبر ۱۹۷۱ء، مطابق ۱۰؍ شعبان ۱۳۹۱ھ، اجلاس جنرل کونسل کل پاکستان مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام بہاول پور

صدارت: مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب اختر۔

شرکاء: مولانا لال حسین صاحب اختر، مولانا عبدالرحیم اشعر، میاں صابر علی، مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا عبدالحلیم، مولانا ارشاد احمد، مولانا محمد شریف، مولانا قاضی اللہ یار، مولانا عبدالحق، مولانا حسین احمد، مولانا امیر الدین، مولانا نور محمد، مولانا محمد علی جانباز، مولانا محمد موسیٰ، مولانا غلام احمد، مولانا منظور احمد، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد یعقوب، مولانا محمد بشیر احمد، مولانا محمد اشرف ہمدانی، مولانا خدا بخش، مولانا محمد انور، صوفی اللہ یار، قاری عبدالرزاق، مولانا خلیل الرحمٰن، منظور احمد، محمد امین، غلام حیدر، محمد اختر، ڈاکٹر عبیدالرحمٰن، مولانا محمد اشرف، مولانا غلام

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۸۷

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حسین، مولانا حسین احمد شاہ، حاجی رحیم بخش گوڈڑی، مولانا عطاء محمد، مولانا علم الدین، مولانا عبدالرحمٰن، مولانا اللہ بخش، مولانا سراج الدین، مولانا نور محمد مجاہد آبادی، مولانا فیض احمد، مولانا عطاء الرحمٰن، صوفی سیف الرحمٰن، سعید احمد خان، مولانا غلام محمد، ڈاکٹر اقبال احمد، مولانا سید محمد امین شاہ کے علاوہ مندرجہ ذیل جماعتوں نے تحریری طور پر اپنی رائے کا اظہار مولانا لال حسین اختر کے حق میں کیا۔

کراچی، چک چٹھہ گوجرانوالہ، چک نمبر ۲۶۹ ساہیوال، لاہور شہر، کمالیہ، انگہ، تلہ گنگ، شورکوٹ، فورٹ سنڈیمن، لالیاں، چک نمبر ۲۵۶ پھلور، ٹوبہ ٹیک سنگھ، دریا خان، لائل پور، سمندری، ماموں کانجن، چک نمبر ۴۷۳، جڑانوالہ، گوجرہ، تاندلیانوالہ، چک نمبر ۲۱۲، بہاول نگر۔

(دستخط : ۴۰ اراکین)

کارروائی

میں کوئی دوسرا نام پیش نہیں کیا گیا۔ اس لئے مولانا موصوف بالاتفاق رائے امیر مرکزیہ منتخب ہوئے۔

ہوئے۔ مولانا محمد شریف صاحب بہاول پوری نے اپنا نام واپس لے لیا۔ چنانچہ حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب ساہیوال بالاتفاق رائے نائب امیر مرکزیہ منتخب ہوئے۔

جس میں اراکین اور مبلغین کو مفید نصائح کیں اور فرمایا کہ یہ کام اکابر کا تھا جو اب میرے کمزور کندھوں پر ڈالا گیا ہے، اس کام کی اہمیت آپ حضرات پر واضح ہے اور ہمارا مقابلہ ایک شاطر اور کافر جماعت سے ہے۔ گو یہ کام مجھے ایسے ناتواں کے لئے مشکل ہے، لیکن آپ حضرات کے تعاون اور دعاؤں سے اس راہ کی مشکلات پر قابو پانا میرے لئے آسان ہو جائے گا۔ مجھے امید ہے کہ آپ حسب سابق محنت اور جانفشانی سے اس تبلیغی مشن کو روز افزوں ترقی سے ہمکنار کریں گے۔

لال حسین اختر

(۳۴) ۱۹۷۲ء میں صرف ایک اجلاس منعقد ہوا

اجلاس مجلس شوریٰ تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان، مؤرخہ ۱۶؍ مارچ ۱۹۷۲ء، مطابق ۲۹؍ محرم ۱۳۹۲ھ، بروز جمعرات صبح ۸ بجے

شرکاء: مولانا لال حسین اختر، مولانا عبدالوحید، مولانا محمد رمضان علوی، مولانا عبداللہ، مولانا نذیر حسین، مولانا محمد شریف کشمیری مدظلہ، سراج الدین، مولانا فضل احمد، الحاج ذکر اللہ، صوفی ایاز خان، قاضی عبداللطیف اختر، الحاج بلند اختر، مولانا غلام احمد۔

لال حسین اختر

(۳۵) ۱۹۷۳ء میں مجلس شوریٰ کے تین اجلاس منعقد ہوئے

اجلاس اوّل مجلس شوریٰ تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان، منعقدہ دفتر تحفظ ختم نبوت ملتان

مؤرخہ ۱۷؍ جون ۱۹۷۳ء، مطابق ۱۵؍ جمادی الاوّل ۱۳۹۳ھ، بروز اتوار

شرکاء: مولانا عبداللہ، مولانا محمد حیات، مولانا عبدالرحمٰن میانوی، مولانا محمد شریف کشمیری، مولانا عبدالوحید، مولانا تاج محمود، مولانا محمد

www.facebook.com/amtkn313 ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.amtkn.com

صفحہ ۵۸۸

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۵۸۸ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رمضان علوی، مولانا عزیز الرحمٰن، مولانا نذیر حسین، مولانا ذکر اللہ، مولانا سراج الدین، مولانا غلام احمد، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا محمد عبداللہ درخواستی۔

پہلا اجلاس ۹ بجے صبح منعقد ہوا صدارت: حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب نائب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان تلاوت: حضرت مولانا عبدالرحمٰن میانوی

۱۳۹۲ھ، بمطابق ۱۱؍ جون ۱۹۷۴ء کو دفتر تحفظ ختم نبوت لاہور میں بوقت ساڑھے دس بجے رات پیش آیا) کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے اور بارگاہ رب العزت میں دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ آں مرحوم کو اپنی رحمتوں سے نوازے۔ ان کی کوتاہیوں سے درگزر فرمائے۔ ان کے مدارج میں ترقی عطاء فرمائے۔ مولانا مرحوم مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانیوں سے تھے اور حضرت امیر شریعت، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد علی جالندھری کے رفیق کار اور معتمد تھے۔ مولانا مرحوم ادیان باطلہ کے مقابلہ میں صداقت اسلام کی برہان تھے۔ مناظرہ میں بے مثل اور شعلہ بیان خطیب تھے۔ مرحوم نے خدمت اسلام میں اپنے اکابر خصوصاً شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری، حکیم الامت حضرت تھانوی، شیخ العرب والعجم حضرت مدنی قدس سرہ سے ہمیشہ دعائیں لیں۔ زمانہ صدارت سے قبل پہلے امراء صاحبان کے احکام کی اطاعت میں کمال ادب و احترام کا مظاہرہ کیا۔ بالخصوص حضرت مولانا محمد علی جالندھری صاحب قدس سرہ کے زمانہ صدارت میں بیرون ملک یورپ اور بلاد اسلامیہ میں تبلیغ دین کے لئے تشریف لے گئے۔ اپنی صدارت کے دور میں بے پناہ عزیمت اور ایثار کا ثبوت دیا اور جماعت میں اپنے سے چھوٹوں کے ساتھ ہمیشہ محبت و پیار سے پیش آئے۔ یہ اجلاس مولانا مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کے ساتھ ہی دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ جماعت میں ان کے بعد کام کرنے والوں کو خلوص نیت اور عزم و ثبات کی نعمت سے نوازے۔

سید بشیر احمد شاہ صاحب مہتمم و صدر مدرس سراج العلوم لودھراں، مولانا عبدالکریم ملتان اور علامہ دوست محمد صاحب قریشی کے برادر بزرگ کی وفات حسرت آیات پر دلی غم و الم کا اظہار کرتے ہوئے ان سب مرحومین کے لئے رفع درجات و مغفرت کی دعا کرتا ہے اور دفتر مرکزی ملتان کو ہدایت کرتا ہے کہ ان مرحومین کے پسماندگان کی خدمت میں مجلس شوریٰ کی طرف سے تعزیت کے خطوط لکھے۔

تک پہنچ چکا ہے اور اب ختم ہیں۔ دوبارہ اشاعت میں ان کا سلسلہ نمبر شمار نمبر ۱ سے شروع کیا جائے اور تقسیم رسید بک کا رجسٹر نیا لگایا جائے۔

مجاز ہے۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ 589

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تک ملک بھر سے واپس ملتان منگوائے۔ قرطاس رکنیت پرشدہ ہوں یا سالم، سب کا واپس آنا ضروری ہے۔ (ب) اجلاس ہدایت کرتا ہے کہ جماعت کے کام کو مربوط اور منظم کرنے کے لئے ممبر سازی کی باقاعدہ مہم ۱۵؍شعبان ۱۳۹۳ھ سے ہمہ گیر طریقے پر شروع کی جائے۔

(وقفہ برائے طعام، قیلولہ و نماز ظہر)

دوسرا اجلاس بعد نماز ظہر شروع ہوا، اس میں یادگار سلف حضرت حافظ القرآن والحدیث مولانا درخواستی دامت برکاتہم نے بطور خاص شرکت فرمائی۔

کے عزائم پر تفصیل سے گفتگو فرمائی اور اس نازک وقت میں مناظر اسلام مولانا لال حسین مرحوم کی رحلت کو ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔ آں مرحوم کے لئے مغفرت و ترقی درجات کی دعا فرمائی۔ اس مرحلہ پر بالاتفاق اراکین شوریٰ دستور تحفظ ختم نبوت کی دفعہ نمبر ۶ ، شق نمبر ۴ کے تحت فاتح قادیان مولانا محمد حیات کو امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان منتخب کیا اور نظامت کی ذمہ داریاں بدستور مولانا عبدالرحیم اشعر کے سپرد کیں۔ چونکہ دستور کی روشنی میں یہ انتخاب ۶ ماہ کے لئے ہوگا۔ اس لئے یہ اجلاس ناظم اعلیٰ کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ نئی ممبر سازی کے بعد ابتداء ذیقعدہ ۱۳۹۴ھ میں مرکزی انتخاب کا انتظام کریں۔ مولانا درخواستی زید مجدہم بذریعہ کوئٹہ ایکسپریس خان پور تشریف لے گئے۔ حضرت موصوف اس اجلاس میں شرکت ہی کے لئے تشریف لائے تھے۔

محمد شفیق درخواستی

تیسرا اجلاس اسی روز بعد نماز عصر بصدارت مولانا محمد حیات صاحب منعقد ہوا۔

(۳۶) اجلاس دوم

اجلاس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان دفتر مرکزیہ ملتان مؤرخہ ۲۸، ۲۹؍ستمبر ۱۹۷۴ء، مطابق ۲۷، ۲۸؍شعبان ۱۳۹۳ھ، بروز منگل، بدھ

شرکاء: مولانا سعید احمد، مولانا محمد حیات، مولانا تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا عبداللہ، مولانا سراج الدین، مولانا غلام احمد، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری۔

پہلا اجلاس بعد نماز ظہر ۲۷؍شعبان بروز منگل زیر صدارت مولانا محمد حیات صاحب منعقد ہوا

تلاوت: مولانا عبدالرحمٰن صاحب میانوی

۲۸؍شعبان تا ظہر متعدد اجلاس ہوئے، کارروائی حسب ذیل عمل میں آئی۔

شوریٰ کا رکن نامزد فرمایا۔

ہوں تو صدر مرکزی دستخط کریں۔ خازن صاحب کی منظوری ہر حال ضروری ہے۔ ایسے بل جو معمول کے مطابق نہیں، مذکورہ

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۹۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۵۹۰ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مصارف کے علاوہ ہیں۔ ان بلوں کو اس وقت درج کیا جائے۔ جب ناظم اعلیٰ، خازن اور امیر مرکزی دستخط کریں۔ کسی خاص صورت میں ان حضرات کے علاوہ مولانا محمد شریف جالندھری بھی دستخط کریں گے۔

کے ساتھ خط و کتابت کی جائے۔ وہ وہاں سے مناسب آدمی تجویز کریں یا ادھر سے بلائیں۔ موجودہ حالات غیر تسلی بخش ہیں۔ مولانا محمد عبداللہ صاحب بذریعہ مولانا محمد مقبول صاحب مثبت اقدام کریں۔ ووگنگ مسجد کی آبادی نیز عالم اسلام میں قادیانیت کے انسداد کے لئے مدینہ طیبہ میں مرکز کے قیام کے متعلق مولانا تاج محمود مناسب اقدام کریں۔

لئے ان کا نام شوریٰ کی رکنیت سے خارج کیا جاتا ہے۔

محمد حیات

(۳۷) اجلاس سوم

بتاریخ ۱۹؍ دسمبر ۱۹۷۳ء، مطابق ۲۲؍ ذیقعدہ ۱۳۹۳ھ، بمقام اسلام آباد زیرصدارت مفکر اسلام مولانا مفتی محمود منعقد ہوا

شرکاء: مولانا مفتی محمود، مولانا عبدالرحیم اشعر ناظم اعلیٰ، مولانا محمد حیات امیر مرکزیہ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری خازن، مولانا غلام حیدر مبلغ اسلام آباد۔

صحیح

(۳۸) ۱۹۷۴ء میں مجلس شوریٰ کے تین اجلاس منعقد ہوئے

پہلا اجلاس: یکم؍ مارچ ۱۹۷۴ء، مطابق ۶؍ صفر ۱۳۹۴ھ، دفتر ملتان

شرکاء: مولانا محمد عبداللہ شیخ الحدیث، مولانا سراج الدین، الحاج ذکر اللہ، مولانا تاج محمود، مولانا نذیر حسین، مولانا محمد شریف بہاول پور، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا محمد حیات امیر مرکزیہ، مولانا فضل احمد، مولانا عبدالرحیم اشعر، الحاج بلند اختر نظامی، مولانا محمد رمضان علوی، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، سردار میر عالم لغاری، مولانا عبدالوحید ڈھڈیاں شریف۔

چونکہ حضرت مولانا لال حسین اختر کی وفات کے بعد فاتح قادیان مولانا محمد حیات کو قائم مقام امیر مرکزیہ عارضی نامزد کیا گیا تھا۔ چھ ماہ کی مدت مکمل ہو گئی مگر ملکی حالات کے باعث مجلس کا مرکزی انتخاب نہ ہو سکے۔ اس لئے دیگر اہم فیصلوں کے علاوہ اس اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری کو کنوئینر بنایا جاتا ہے۔ وہ چالیس دنوں کے اندر مجلس کے مرکزی انتخاب کرائیں۔

عبدالرحیم اشعر ناظم اعلیٰ

(۳۹) دوسرا اجلاس

اجلاس جنرل کونسل مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان دفتر مرکزیہ ملتان مؤرخہ ۹؍ اپریل ۱۹۷۴ء، مطابق ۱۵؍ ربیع الاول ۱۳۹۴ھ بروز منگل بعد نماز ظہر

اس اجلاس میں مرکزی جنرل کونسل کے تین سو بارہ ارکان شامل ہوئے۔ جن میں خاص خاص نام یہ ہیں: (۱) مولانا محمد یوسف

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۹۱

تحریک ختم نبوت جلد(۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ۵۹۱ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بنوری، (۲) سردار میر عالم لغاری، (۳) مولانا محمد حیات، (۴) مولانا عبدالرحمٰن میانوی، (۵) مولانا محمد شریف جالندھری، (۶) مولانا محمد شریف بہاول پوری، (۷) مولانا محمد شریف کشمیری، (۸) مولانا غلام احمد، (۹) مولانا محمد امین (مخدوم پور پہوڑاں ضلع ملتان)، (۱۰) مولانا محمد عبدالحی (ڈیرہ غازیخان)، (۱۱) مولانا غلام محمد (ڈیرہ غازیخان)، (۱۲) مولانا محمد حسین (ڈیرہ غازیخان)، (۱۳) مولانا حسین علی (منڈی واربرٹن ضلع شیخوپورہ)، (۱۴) مولانا مشتاق احمد (مظفرگڑھ)، (۱۵) مولانا بشیر احمد (سکھر)، (۱۶) حاجی محمد ابراہیم (سکھر)، (۱۷) قاضی محمد اللہ یار (چیچہ وطنی)، (۱۸) مولانا محمد یونس، (۱۹) مولانا بشیر احمد (کہروڑ پکا)، (۲۰) مولانا غلام حسین (قائم پور)، (۲۱) مولانا عبدالحق (فقیروالی)، (۲۲) صوفی نور محمد (لودھراں)، (۲۳) مولانا خدا بخش (بہاول نگر)، (۲۴) مولانا بشیر احمد (چشتیاں)، (۲۵) قاری عبدالسلام (بہاول پور)، (۲۶) جناب محمد حسن (بہاول پور)، (۲۷) عبدالغفور (ملتان شہر)، (۲۸) محمد انور، (۲۹) غلام رسول رحمانی (بہاول پور)، (۳۰) فضل احمد (تلہ گنگ)، (۳۱) نور الحق نور (پشاور)، (۳۲) تاج محمد (فقیروالی ضلع بہاول نگر)، (۳۳) چوہدری محمد خلیل (گجرات)، (۳۴) حافظ غلام قادر (ڈیرہ غازیخان)، (۳۵) حافظ عطاء الرحمٰن (ضلع ڈیرہ غازیخان)، (۳۶) ضیاء الدین آزاد (مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ)، (۳۷) نور احمد (چوک شہیداں ملتان)، (۳۸) محمد امین (ملتان)، (۳۹) مولانا عبدالخالق آزاد (مظفرگڑھ)، (۴۰) عبدالرؤف (محلہ غریب آباد ملتان)، (۴۱) محمد یحییٰ، (۴۲) صالح محمد، (۴۳) شیخ عبدالجبار (ملتان)، (۴۴) حمید، (۴۵) محمد اسلم خان نیازی (ملتان)، (۴۶) یقین محمد (ڈیرہ غازیخان)، (۴۷) محمد اسلم جلبانی، (۴۸) غوث بخش، (۴۹) خان میر، (۵۰) شیخ منظور احمد (چنیوٹ)، (۵۱) اللہ وسایا (لائل پور)، (۵۲) عبدالرحیم (خانقاہ شریف بہاول پور)، (۵۳) محمد عبداللہ (بھکر ضلع میانوالی)، (۵۴) غلام فرید (دریا خان ضلع میانوالی)، (۵۵) غلام رسول (دریا خان ضلع میانوالی)، (۵۶) ڈاکٹر محمد عبداللہ اختر (بہاول پور)، (۵۷) رحیم بخش (دنیا پور)، (۵۸) اللہ وسایا (ڈیرہ غازیخان)، (۵۹) اللہ بچایا، (۶۰) عطاء الرحمٰن (بہاول پور)، (۶۱) حافظ عبدالکریم، (۶۲) رانا شمس الدین (کوٹ طاہر تحصیل جام پور ضلع ڈیرہ غازیخان)، (۶۳) حاجی فتح محمد، (۶۴) شیخ ظہور احمد (چنیوٹ)، (۶۵) عبدالغنی (ڈیرہ غازیخان)، (۶۶) مولانا غلام احمد (تحصیل میلسی)، (۶۷) مولانا محمد شریف بہاول پوری، (۶۸) سید منظور اللہ شاہ کہروڑوی (ملتان)، (۶۹) مولانا غلام حیدر (اسلام آباد)

مذکورہ بالا حضرات نمائندگان مجلس تحفظ ختم نبوت کا اجلاس دفتر مرکزیہ ملتان میں ہوا۔

صدارت: حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری دامت برکاتہم

تلاوت: حضرت مولانا عبدالرحمٰن میانوی

محرک برائے امارت مرکزی مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر نے حضرت شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری کا اسم گرامی برائے صدارت پیش کیا۔

مؤید: حضرت مولانا محمد شریف بہاول پوری، مولانا سید محمد امین شاہ (مخدوم پور پہوڑاں)، ملک عبدالغفور انوری۔ بعد ازاں کل ہاؤس نے بالاتفاق حضرت کی امارت کی تائید کی۔

حضرت شیخ الاسلام نے اپنی بے پناہ مصروفیت اور عدیم الفرصتی کا ارشاد فرمایا لیکن تمام حاضرین نے بصد عاجزی التماس کی تو حضرت نے امارت مرکزیہ کا عہدہ قبول فرمالیا۔

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

صفحہ ۵۹۲

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۵۳ء تا ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

انتخاب نائب امارت

محرک : مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر نے پیر طریقت حضرت مولانا خان صاحب کندیاں شریف کا اسم گرامی پیش کیا۔ مؤید: مولانا محمد عبداللہ صاحب دارالہدیٰ بھکر میانوالی کی تائید کے بعد ہاؤس نے بالاتفاق منظور کیا۔ حضرت شیخ الاسلام امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے ناظم اعلیٰ کے عہدہ کے لئے مولانا محمد شریف جالندھری کو نامزد فرمایا اور حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر کو ناظم تبلیغ نامزد فرمایا۔ دستور میں بعض ضروری ترامیم پر دوبارہ غور وخوض کے لئے جنرل کونسل نے ملک عبدالغفور انوری کی تجویز پر سب کمیٹی منظور کی، جن کے اسماء گرامی یہ ہیں: (۱) مولانا محمد شریف صاحب جالندھری، (۲) مولانا تاج محمود صاحب، (۳) ملک عبدالغفور انوری، (۴) سردار میر عالم خان لغاری، (۵) مولانا غلام حیدر۔

فہرست اراکین مجلس شوریٰ جو حضرت شیخ الاسلام مدظلہ نے نامزد فرمائے ۔ (۱) مولانا محمد عبداللہ صاحب شیخ الحدیث ( جامعہ رشیدیہ ساہیوال) ، (۲) مولانا محمد انور صاحب (مدرسہ انوار العلوم سکھر سندھ) ، (۳) الحاج سیف الرحمن گولڈ سمتھ ( مچھلی بازار بہاول پور)، (۴) مولانا قاری سعید الرحمن صاحب (دارالعلوم اسلامیہ مری روڈ راولپنڈی)، (۵) مولانا تاج محمود صاحب (خطیب جامع مسجد ریلوے لائل پور)، (۶) الحاج بلند اختر (ویسٹ پاک ٹریڈرز بیرون شاہ عالمی لاہور)، (۷) الحاج قاضی فیض احمد (کمیشن ایجنٹس غلہ منڈی ٹوبہ ٹیک سنگھ ضلع لائل پور)، (۸) مولانا محمد حیات صاحب ( دفتر تحفظ ختم نبوت ملتان) ، (۹) مولانا عبدالرحمٰن میانوی ( دفتر تحفظ ختم نبوت ملتان)، (۱۰) مولانا حافظ عزیز الرحمٰن صاحب (فیروزہ)، (۱۱) الحاج حافظ عزیز الرحمٰن (معرفت دفتر تحفظ ختم نبوت کراچی)، (۱۲) الحاج سردار میر عالم لغاری (معرفت مدرسہ اسلامیہ نیوٹاؤن کراچی)، (۱۳) مولانا عبدالواحد (مدرسہ مطلع العلوم کوئٹہ)، (۱۴) مولانا نور الحق نور (پشاور)، (۱۵) مولانا منظور احمد (چنیوٹ)، (۱۶) مولانا فضل احمد (تلہ گنگ)، (۱۷) امیر مرکزیہ، (۱۸) نائب امیر، (۱۹) ناظم اعلیٰ، (۲۰) ناظم تبلیغ، (۲۱) ناظم دفتر مرکزی، (۲۲) خازن۔

تیسرا اجلاس چونکہ نومبر ۱۹۷۴ء میں دستوری ترمیم کے بعد ہوا، اس لئے وہ اس کتاب کا موضوع نہیں ہے۔

محمد یوسف بنوریؒ

............. ۞ ............. ۞ ............. ۞ .............

www.amtkn.com ameer@khatm-e-nubuwwat.com www.facebook.com/amtkn313

PDF 594

تحریک ختم نبوت پر ایک تاریخی دستاویز

نابغہ و عبقری شخصیت کے مالک حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کو تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر ایک جری، دلیر اور تہور پیشہ سپہ سالار کی حیثیت حاصل ہے۔ تقریر و تحریر ہو یا مباحثہ و مناظرہ، دونوں میں انہیں لاثانی خداداد ملکہ حاصل ہے۔ مطالعہ و تحقیق اور تصنیف و تالیف ان کے محبوب و مرغوب مشاغل ہیں۔ ان کی گرانقدر مطبوعہ کتب ”قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ، چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگارنگ، دروس و بیانات ختم نبوت، آئینہ قادیانیت، یاد دلبراں اور قادیانی شبہات کے جوابات“ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ یہ ایک غیر مختتم سلسلۃ الذہب ہے۔ ؎ اللہ کرے یہ مرحلہ شوق نہ ہو طے

حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی نئی کتاب ”تحریک ختم نبوت“ نہایت مبسوط، مدلل، مربوط، جامع اور تحقیقی کتاب ہے۔ ۱۸۹۷ء کی ختم نبوت کانفرنس قادیان سے دسمبر ۲۰۱۹ء تک تحریک ختم نبوت جن مراحل سے گزرتی رہی اس کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ کو جمع کر دیا گیا ہے، دس ضخیم جلدوں کے ساڑھے چھ ہزار صفحات پر مشتمل قریباً ایک صدی کی عشق و محبت کی داستان لازوال جو ایمان پرور، جہاد آفرین بھی ہے اور حقائق افروز بھی۔ اس کی ترتیب و تہذیب اور تالیف و تدوین بڑی عرق ریزی، دقت نظر اور حسن عقیدت سے کی گئی ہے۔ انداز نگارش ایسا سحر انگیز ہے کہ اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے جیسے مولانا خود ان تمام حالات و واقعات کے عینی شاہد ہیں۔

یہ کتاب کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے ایک دستور العمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں ایمان پرور واقعات، اکابرین کے ولولہ انگیز خطابات، پس پردہ حقائق، ہوش ربا انکشافات، حکمرانوں کی قادیانیت نوازی اور مختلف اعلیٰ عدالتی فیصلوں کا بھرپور تذکرہ ہے جس کے مطالعہ سے دلوں میں عقیدت و محبت کی ایک برقی رو دوڑ جاتی ہے۔ دینی غیرت و حمیت کی ایسی پرسوز و گداز کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ خون جوش مارتا اور آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔ ایسی کیفیات اور احساسات کو جاننے اور سمجھنے کے لیے اس تاریخی کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ امید ہے کہ یہ کتاب کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے انمول سوغات اور سدا بہار گلدستہ ثابت ہوگی۔ مزید برآں اس اہم موضوع پر ریسرچ کرنے والے سکالرز اور طالب علموں کے لیے بھی چراغ راہ کا کام کرے گی۔ دعا ہے کہ رب کائنات حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی ہمت کو جواں اور ان کے قلم کو رواں دواں رکھے۔ آمین

محمد متین خالد لاہور